ماہنامہ محدث — مسئلہ توہین رسالت نمبر · ڈاکٹر حافظ حسن مدنی
Muhaddis · Dr Hafiz Hassan Madani
PDF 1

مدیر اعلیٰ حافظ عبدالرحمن مدنی

ملت اسلامیہ کا علمی و اصلاحی مجلہ ماہنامہ محدث لاہور پاکستان

مدیر ڈاکٹر حافظ حسن مدنی only for SMS 0333-4213525

جلد ۴۳ ؍ شمارہ ۸ ----- رمضان المبارک ۱۴۳۲ھ ----- اگست ۲۰۱۱ء

اشاعت خاص 'مسئلہ توہین رسالت: قانونی و فقہی تناظر'

مدیر معاون کامران طاہر 0302 4424736

زر سالانہ =/۳۰۰ روپے فی شمارہ =/۳۰ روپے

بیرون ملک زر سالانہ =/۲۰ ڈالر فی شمارہ =/۲ ڈالر

Monthly Muhaddis A/c No:984-8 UBL-Model Town Bank Squre Market, Lahore.

دفتر کا پتہ 99 جے، ماڈل ٹاؤن لاہور 54700

042-35866476 35866396 35839404 Email: mkamrantahir@gmail.com Publisher: Hafiz Abdur Rahman Madni Printer: Shirkat Printing Press, Lahore Designing (Abdul Wasea) Crystal Art Lahore 0323-7471862-1

فکر ونظر

قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ! ڈاکٹر حافظ حسن مدنی ۲

تحقیق وتنقید

حنفیّت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! ڈاکٹر حافظ حسن مدنی ۲۳

فقه واجتهاد

گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف علامہ خلیل الرحمن قادری ۷۳

اعتذار

اشاعت خاص اور شمارہ ہذا کی تاخیر ادارہ ۷۲

Islamic Research Council

محدث کتاب و سنت کی روشنی میں آزاد بحث و تحقیق کا حامی ہے ادارہ کا مضمون نگار حضرات سے کلی اتفاق ضروری نہیں!

صفحہ ۲

فکر و نظر بسم اللہ الرحمن الرحیم

(ڈاکٹر حافظ حسن مدنی)

قانونِ امتناعِ توہینِ رسالت میں ترمیم کا مطالبہ؟

کسی ریاست کے یوں تو اسلامی ہونے کے متعدد معیارات اور پیمانے ہیں، تاہم ان میں سب سے نمایاں داخلی پیمانہ یہ ہے کہ وہاں اللہ کی شریعت نافذ ہو اور اس کی بنا پر لوگوں کے فیصلے کئے جاتے ہوں۔ اسی مقصد کے لئے پاکستان کو حاصل کیا گیا اور اسلامی احکامات کے فروغ کے ساتھ ساتھ شرعی قوانین کے نفاذ کے لئے یہاں بہت سے پرمشقت اور صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑا۔

قیامِ پاکستان سے قبل ہی متحدہ ہندوستان میں دین اسلام سے نکاح و طلاق کے بعض قوانین رائج تھے، ۱۹۶۱ء میں اُن میں ’عائلی قوانین‘ کے نام سے متعارف کردہ اصلاحات کے ذریعے بہت سی خلافِ اسلام چیزیں شامل کر دی گئیں۔ ۱۹۷۳ء کے آئین میں بطورِ خاص قانون کو اسلامی بنانے کے لئے ’اسلامی نظریہ کونسل‘ کا وجود عمل میں لایا گیا۔ بعد ازاں صدر ضیاء الحق مرحوم کا دور اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ اس میں وفاقی شرعی عدالت، حدود قوانین اور آخری سالوں میں قانون توہین رسالت بھی متعارف کرایا گیا۔ اسی دور میں جاری شدہ عدالتی عمل کے نتیجے میں قصاص و دیت اور شفعہ کے شرعی قوانین کتابِ قانون کا حصہ بنتے رہے۔ ضیاء الحق کا دور اس لحاظ سے دیگر تمام ادوار پر فائق ہے کہ انہی سالوں میں دیگر حکومتوں کے برعکس اسلام کے لئے بہت سے عملی اقدامات کئے گئے جبکہ بعد کے سالوں میں ان قوانین کو دوبارہ واپس کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔ حتیٰ کہ ضیا دور کا شریعت بل کا نعرہ، آخر کار جب ۱۹۹۱ء میں نواز حکومت نے عملاً منظور کیا تو اس میں اسلام کے بارے خوبصورت جذبات اور نیک خواہشات کے علاوہ عملی طور پر کوئی قدم شامل نہ تھا۔ گزشتہ برسوں میں وطن عزیز میں حدود قوانین کو غیر مؤثر کرنے کی بھر پور مہم چلائی گئی جس کی شدت اور نوعیت سے باخبر لوگ بخوبی آگاہ ہیں، اس کے نتیجے میں حقوق نسواں بل متعارف ہوا جس کی بعض دفعات کے غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ بھی انہی دنوں سامنے آ چکا

اگست 2011

صفحہ ۳

ماہنامہ محدث قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ !

ہے۔ حال ہی میں امتناع توہین رسالت کے قانون پر آسیہ مسیح کیس اور سلمان تاثیر کے قتل کے دوران شدید دباؤ دیکھنے میں آیا لیکن اس حساس موضوع پر دینی حلقوں کے جذبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومتِ وقت نے اس معاملہ کو فوری طور پر ٹال دیا۔ الحاد و بے دینی کے اس دور میں قانونِ توہین رسالت کا یوں تحفظ بہر حال خوش آئند ہے!!

بظاہر تو یہ معاملہ فی الحال سرد پڑ چکا ہے، اور اس بارے میں حکومت و عوام کے مابین کوئی سرگرمی دکھائی نہیں دیتی، حتیٰ کہ بعض دینی رہنما مبارکبادی مضامین لکھ کر معاملے کو نمٹا بھی چکے ہیں لیکن پنجاب کے بعض علمی حلقوں نے اس قانون کو تاحال خصوصی دلچسپی کا موضوع بنایا ہوا ہے۔ ان کی کتب و جرائد میں یہ موضوع ایک مرغوب عنوان بن کر نت نئی تحقیقات سے وافر حصہ پا رہا ہے۔ یاد رہے کہ توہین رسالت کا موضوع مغرب میں جاری اہانت آمیز خاکوں اور قرآن مجید کے اوراق وغیرہ جلائے جانے، مزید برآں پاکستان میں مغرب زدہ این جی اوز کی دلچسپیوں اور گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے بعد مزید حساسیت اختیار کر گیا ہے اور اس بارے میں بڑے محتاط انداز میں گفتگو کی جاتی ہے۔ اس تناظر میں بعض لوگ تو اس قانون کو سرے سے معطل کرنا چاہتے ہیں اور بعض ایسے اقدامات اور سفارشات تجویز کرتے ہیں جن کے نتیجے میں یہ قانون غیر مؤثر ہو کر رہ جائے۔

ماضی میں جب امتناع توہین رسالت کا قانون متعارف ہوا تو اس کی زمینی ضرورتوں اور واقعاتی وجوہ کے ساتھ ساتھ اس کو اس مرحلے تک لانے میں کم و بیش آٹھ برس کا عرصہ صرف ہوا تھا اور یہ پاکستان کے اہل علم کے متحدہ موقف کا ہی اعجاز تھا کہ ضیاء دور کی پارلیمنٹ کو باوجود کوشش کے اس قانون میں رخنہ رکھنے کا کوئی موقع نہ مل سکا۔ محض یاد دہانی کے لئے یہ اشارہ کرنا مناسب ہے کہ ۱۹۸۵ء کی پارلیمنٹ کے وفاقی وزیر قانون اقبال احمد خاں جب وفاقی شرعی عدالت کے مطالبے اور اسمبلی میں پیش کردہ بل کے بعد اس امر پر مجبور ہو گئے کہ امتناع توہین رسالت کا قانون ’۲۹۵سی‘ لے کر آئیں تو اُنہوں نے اس میں عمر قید کی سزا کا امکان بھی پیدا کر دیا جس کو بعد میں چھ سالہ مسلسل محنت کے بعد دوبارہ وفاقی شرعی عدالت نے حکومت کو نوٹس دے کر حذف کرایا اور ۱۹۹۲ء کی پارلیمنٹ سے ڈرامائی انداز میں اس پورے قانون کی تائید ہوئی۔

پاکستان میں جاری اسلامی قانون سازی کے بارے میں ہمارا اصولی موقف، جو عرصۂ دراز سے محدث کے صفحات میں شائع ہو رہا ہے، یہ ہے کہ ”حدود قوانین کو حدود اللہ بنایا جائے ۔“

اگست 2011

صفحہ ۴

قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ ! ماہنامہ محدث

وضاحت اس اجمال کی یہ ہے کہ یہ حق صرف قرآن وحدیث یعنی ’وحی الٰہی‘ کو ہی حاصل ہے کہ اس کی پابندی کو اللہ ربّ العزت کا منشا قرار دے کر عامّۃ المسلمین پر نافذ کیا جائے۔ کتاب وسنت ہی معصوم ہیں ، ان میں غلطی کا کوئی امکان نہیں اور کتاب وسنت ہی قیامت تک غیر متبدل اور دائمی شریعت ہیں ، ہر قسم کے معاشرے اور ہر دور میں ان کی پیروی کرنا مسلمانوں پر فرض ہے جبکہ کتاب وسنت سے مستنبط بہتر سے بہترین قانون یا فقہ اسلامی بھی، چاہے وہ ائمہ اسلاف کی مرتب کردہ ہو، عصمت کا مقام و مرتبہ نہیں پاسکتی۔ فقہائے عظام کی فقہی آرا میں تعدد واختلاف اس امر کی دلیل ہے کہ ان میں سے حق اور منشائے الٰہی کسی ایک موقف کے ساتھ ہے، اور تمام فقہی آرا بیک وقت حق نہیں ہیں۔ ائمہ فقہا کی آمد اور فقہی جہود و مساعی سے قبل بھی خیر القرون میں کتاب وسنت پر ہی عمل ہوتا تھا۔ اس لحاظ سے شریعتِ اسلامیہ کے کسی بھی موقف کو پہلے قانونی الفاظ کی شکل دے کر نافذ کرنا دراصل شریعتِ اسلامیہ کے نام پر بعض ایسے فاضل انسانوں کی شرعی رائے (فقہ) کو نافذ کرنا ہے جن سے غلطی کا صدور ہو سکتا ہے۔ ایسے قوانین کبھی غلطی سے کلی طور پر پاک نہیں ہو سکتے اور ان پر تمام مسلم اہل علم کا حقیقی اور کلی اتفاق امر محال ہے جس پر مسلمانوں میں قانون سازی کی مختصر تاریخ شاہد عدل ہے۔ الغرض ضرورت اس بات کی ہے کہ کتاب وسنت کو براہِ راست نافذ کیا جائے اور اس کے لئے ماہرین شریعت کو تیار کیا جائے۔ یہ ماہرین شریعت کتاب وسنت کے معنی و مفہوم کے تعین کے لئے فقہائے عظام کی تحقیق و تدقیق سے آزادانہ استفادہ کریں، لیکن کسی شخص کو سزا و جزا، کسی انسان یا بعض انسانوں کے متعین کردہ قانونی دفعہ کی بجائے ، اللہ ربّ العزت کے قول و مراد (قرآن وحدیث) کی بنا پر ہی دی جائے۔ اسی میں تقدس ہے اور یہی قرآنی حکم ﴿لَمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ ...﴾ کا تقاضا ہے!!

مزید برآں ہمارے مروّجہ جمہوری نظام کو کسی شرعی حکم کو قانون قرار دینے کے پیچھے جو قوت کار فرما ہے، وہ ’دلیل شرعی‘ کی بجائے ووٹنگ کی قوت پر استوار ہے۔ اس بنا پر پاکستانی معاشرے میں زکوٰۃ دینا یا شراب کا ممنوع ہونا اس پر موقوف نہیں کہ یہ قرآن وسنت کا حکم ہے، بلکہ اس بنا پر ممنوع ہے کہ عوامی نمائندوں کی اس اکثریت نے اس قانون کو پاس کیا ہے جو شریعتِ اسلامیہ سے ناواقف ہے۔ اس بنا پر ان بظاہر شرعی قوانین کی اطاعت کیا اللہ کی اطاعت شمار ہو گی یا جمہوریت کے عوامی نمائندوں اور نظام کی؟ ظاہر ہے کہ اسلامی قوانین کی

اگست 2011

صفحہ ۵

ماہنامہ الحق قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ !

تاثیر اور نفاذ کا یہ پہلو بھی خصوصیت سے توجہ کا متقاضی ہے !!

اسلامی قوانین میں اختلاف رائے کا مسئلہ

اس موقف کو پیش نظر نہ رکھنے کا نتیجہ ماضی میں بھی یہ نکلتا رہا کہ وہ حدود قوانین جنہیں بڑے خلوص کے ساتھ علمائے کرام اور قانونی ماہرین نے مرتب کیا تھا، ان کی تعبیر اور درست ہونے پر آج تک متعدد آراء پائی جاتی ہیں۔ ہر کسی عالم و فقیہ کی تعبیر دوسرے صاحب علم کے رجحان سے میل نہیں کھاتی اور وہ اس سے اختلاف کر بیٹھتا ہے !!

اُن میں شریعتِ محمدیہ پر عمل کرنے کا داعیہ اور جذبہ موجود ہے، اس لئے اصولی طور پر ان کی تائید ہونی چاہئے، نہ کہ اس بنا پر کہ یہ اسلام کے عین مطابق ہیں۔

اسلامی قوانین میں ترمیم کے داعی ہیں جبکہ ماضی میں یہ قوانین انہی حضرات کے کبار علمائے کرام کی مشاورت اور تائید سے مرتب ہوئے ہیں۔

پاکستان میں مروّج اسلامی قوانین کا شرعی تشخص قابلِ غور ہے اور ان کی بنا پر شرعی آثار مرتب ہونے میں ایک سے زیادہ آرا ہو سکتی ہیں کیونکہ یہ قوانین کون سے اللہ کے الفاظ ہیں؟ یہ بھی تو ہماری طرح انسانوں کی ہی تعبیر ہیں جن میں کمی بیشی اور غلطی کا امکان موجود ہے۔ اس بنا پر ان قوانین کو ہدفِ تنقید بنانا یا انہیں ’سیاہ قانون‘ قرار دینے سے کونسا شریعتِ اسلامیہ پر حرف آتا ہے؟

اُترے ہیں، وہ ماضی میں ہونے والی ایسی کاوشوں کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں: ”جنرل پرویز مشرف کے دور میں حدود قوانین میں ترمیم کی ضرورت کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں بحث مباحثہ کا میدان سجایا گیا تو مذہبی حلقوں نے ابتدا میں سارا زور یہ ثابت کرنے پر صرف کیا کہ یہ قوانین اعلیٰ سطحی اسلامی ماہرین نے بہت گہرے غور و فکر اور مشاورت کے بعد بنائے ہیں اور ان میں جو خلا یا نقائص بتائے جاتے ہیں، وہ بے بنیاد ہیں، اس لئے ان میں کسی ترمیم کی ضرورت نہیں۔ تاہم آخر

اگست 2011

صفحہ 6

قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ ! ماہنامہ المحدث

کہ علما کی ایک کمیٹی نے ان میں سے بعض قوانین کو شرعی لحاظ سے قابل اصلاح تسلیم کرتے ہوئے خود ان میں ترمیم کے لئے تجاویز پیش کیں۔ اس سارے عمل سے ذہنوں میں ایک سوال تو یہ پیدا ہوا کہ اگر قانون میں خامیاں موجود تھیں تو گزشتہ تیس سال میں مذہبی حلقوں نے ان کی اصلاح کے لئے کوشش کیوں نہیں کی اور ہر موقع پر یہ اصرار کیوں کیا جاتا رہا کہ ان قوانین کو چھیڑنا حدود اللہ اور احکام شرعیہ میں مداخلت کے مترادف ہے۔“ ۱

قانون توہین رسالت میں تجویز کردہ ترامیم

اس تحریر کے مصنف نے اس اساس پر اپنے تئیں قانون توہین رسالت کے ضمن میں ایک متبادل موقف پیش کرنے کی سعی کی ہے جو ان کے تفصیلی مضامین اور ان کے زیر ادارت مجلہ کے صفحات پر پھیلی نظر آرہی ہے۔ اپنے مضمون کے آخر میں اُنہوں نے واضح الفاظ میں اس ساری تحقیقی جدوجہد کا ہدف بھی واضح کر دیا ہے، لکھتے ہیں:

”توہین رسالت سے متعلق حالیہ قانون چند بنیادی اور اہم پہلوؤں سے نظر ثانی کا محتاج ہے، اس لئے جید اور ذمہ دار علما کی راہ نمائی میں مذہبی جماعتیں درج ذیل اُمور کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک ترمیم شدہ اور جامع مسودۂ قانون پارلیمنٹ میں پیش کریں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ

(۱) جو شخص بھی دانستہ اسلام یا پیغمبر اسلام کی توہین کرے، اس کو پاکستان کے شہری حقوق سے محروم کر دیا جائے۔ (۲) اس جرم میں افراد کی بجائے پاکستان کی ریاست کو مدعی ہونا چاہئے۔ (۳) پہلی مرتبہ جرم سرزد ہونے پر مجرم کو توبہ، معذرت اور معافی کا موقع دیا جائے، اگر اس کی بدنیتی ثابت ہو جائے اور اصلاح احوال نہ ہو تو اُس کی توبہ کو قبول نہ کیا جائے۔ (۴) جرم کی نوعیت اور اثرات کے پیش نظر کم تر سزاؤں کی گنجائش رکھی جائے اور موت کی سزا، اس جرم کی انتہائی صورت میں اُسی وقت ہی دی جائے جب جرم کا سدباب اور اس کے اثرات کا ازالہ اس کے بغیر نہ ہوتا ہو۔“ ۲

۱ ماہنامہ 'الشریعہ' گوجرانوالہ ... شمارہ جون ۲۰۱۱ء : ص ۵۳ ۲ ایضاً: ص ۵۵ ملخصاً

اگست 2011

صفحہ 7

ماہنامہ محدث قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ !

یہ ہے ناموس رسالت کے مسئلہ پر کئی ماہ سے جاری بحث مباحثہ کا حاصل اور مدعا۔ مذکورہ بالا ترمیمی کاوش پر ہماری معروضات حسب ذیل ہیں:

حدود قوانین پر قومی بحث مباحثے کا نتیجہ ؟

ناموس رسالت کے تحفظ اور سزا کے جائزہ سے قبل، حدود قوانین کے سلسلے میں مضمون نگار نے جس بحث مباحثہ کا حوالہ دیا ہے، پہلے ہم اس کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہیں کیونکہ اس سے زیر بحث مسئلہ پر مفید رہنمائی حاصل ہو گی۔ یہ درست ہے کہ حدود قوانین سو فیصد اسلامی نہیں بلکہ اس میں بہت سی خامیاں ہیں، تاہم اس قانون کو ترتیب دینے والے علما کے پیش نظر یہ تھا کہ پاکستانی معاشرے میں اینگلو سیکسن سزاؤں کی بجائے شرعی سزائیں جاری کی جائیں جو پاکستان کے قیام کا مقصد بھی ہے۔ اسی بنا پر علما کی طرف سے اس کی تائید کی جاتی رہی جبکہ محقق موصوف جیسے بہت سے سکالر اُس وقت قوم کو حدود اسلامی پر مروّجہ موقف اور اس قانون کی خامیاں گنوانے میں لگے ہوئے تھے۔ ابھی قارئین کو وہ دور بھولا نہیں ہو گا جب جاوید احمد غامدی اور ان کے رفقا جنگ گروپ کے ’ذرا سوچئے‘ ایجنڈے کے زیر عنوان ’محققانہ سوچ‘ کو پروان چڑھانے میں مصروف تھے۔ غامدی صاحب کے اس انتشار فکری اور محققانہ سرگرمی کا یہ نتیجہ تو کہیں برآمد نہیں ہوا کہ مشرف حکومت نے اُن سے مشاورت کر کے حدود قوانین میں وہ اصلاح کر دی جو اُن کا منشا تھی، تاہم حکومت اور سیکولر طبقے نے اُن کی تحقیق سے یوں استفادہ کیا کہ عوام الناس میں انتشار اور علمائے کرام کو فکری ہزیمت سے دوچار کرنے کے لئے اُن کے ٹی وی پروگراموں اور مضامین کو بڑھا چڑھا کر نشر کیا اور اس کے نتیجے میں ’ویمن پروٹیکشن بل‘ کے نام سے ایسا بل لے آئے جو حدود قوانین سے کہیں زیادہ غیر اسلامی تھا۔ اس بل کے غیر اسلامی ہونے پر پاکستان کے تمام معروف و مسلمہ دینی حلقے متفق و متحد تھے۔ اب یا تو جاوید احمد غامدی اور ان کے رفقا اس بل کے عین اسلامی یا کم از کم حدود قوانین کی بہ نسبت اسلام سے قریب تر ہونے کا دعویٰ کریں تو ان کو حقیقت کا آئینہ دکھایا جائے اور غامدی محققین کے لئے آج توہین رسالت کے قانون کے لئے ویسی ہی محققانہ سرگرمی کا جواز قبول کیا جائے۔ ہمارے خیال میں غامدی محققین حدود قوانین کے مرحلے پر سیکولر مقاصد اور مغرب نواز ایجنڈے کے لئے اس بری طرح استعمال ہوئے کہ اُس کو کم از کم الفاظ میں شرم ناک اور عبرت آموز قرار دیا جا سکتا ہے۔ آج پاکستانی قوم پر

اگست 2011

صفحہ 8

قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ ! ماہنامہ محدث

ویمن پروٹیکشن بل کی صورت میں جو شرم ناک قانون مسلط ہے، اس کو نافذ کرنے کے سلسلے میں جاوید غامدی کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور وہ عنداللہ اس کی مسئولیت سے بری نہیں ہوں گے، کیونکہ مروّجہ حدود قوانین کی خامیاں پیش کرنے میں جو نکتہ رسیاں انہوں نے دکھائی تھیں، اس میں کوئی دوسرا حلقہ اُن کا سہیم و شریک نہیں تھا۔

حالیہ مباحثے سے مطلوبہ اصلاح کیونکر برآمد ہوگی؟

قانون توہین رسالت میں اصلاح ممکن ہے اور ہم بھی اس میں بعض اصلاحات پیش کرسکتے ہیں، مثلاً اس میں توہین کی یہ سزا صرف ذاتِ گرامی ﷺ کی حد تک خاص ہے، جبکہ شریعتِ اسلامیہ کا تقاضا ہے کہ یہ سزا تمام انبیائے کرامؑ کی اہانت تک وسیع ہو اور وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں اس نکتہ کو شامل بھی کیا تھا، لیکن چونکہ اس وقت پاکستان میں مروّجہ قانون، وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ کی ۱۹۹۲ء میں پاس کردہ قانون سازی کی بنا پر نافذ العمل ہے، اس لئے یہ پہلو اس میں موجود نہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ قانون توہین رسالت کا اصل اعتبار اور اعتماد، ضیاء دور کی اسمبلی اور وفاقی شرعی عدالت کی بجائے ۱۹۹۲ء کی اسمبلی اور سینٹ کے متفقہ فیصلے پر ہے اور یہ خالص جمہوری تقاضے پورے کرنے والا ملکی قانون ہے۔

اصلاح کے بعض نکات کو اپنے تئیں تلاش کر لینا اور اس کو مشتہر کرنا، جبکہ وہ اصلاح بھی در حقیقت اصلاح کی بجائے إفساد ہی ہو، کوئی ایسا مشکل امر نہیں۔ لیکن اگر مجلہ 'الشریعہ' کے مدیر محترم پاکستان میں شرعی قوانین کا فروغ چاہتے ہیں تو انہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ حکمران اور یہ دور اس مقصد کے لئے قطعاً موزوں نہیں۔ ان کی یہ 'فاضلانہ کوششیں' صرف مروّجہ قانون اور معروف موقف کو، جو اُمتِ مسلمہ کی ایک عظیم اکثریت بلکہ قرآن وسنت کا براہِ راست منشا بھی ہے، متاثر کرنے کا ہی سبب بنیں گی اور ان کی دانشورانہ سرگرمیاں ان لوگوں کے لئے تحقیقی غذا کا کام دیں گی جو اس قانون کو مسخ کر کے آخر کار بے اثر کر دینا چاہتے ہیں۔ وہ حکومت سے بڑی معصومیت سے یہ مطالبہ اس اعتماد کی بنا پر کر رہے ہیں، گویا ان کی نظر میں ہماری حکومت کی منشا و مراد بھی یہ ہے کہ وہ اسلامی احکامات کو نافذ کریں۔ کیا انہیں اس حکومت کا جناب صوفی محمد کی نظام عدل کی تحریک کے ساتھ کیا گیا حشر یاد نہیں یا وہ اس حکومت کی امریکہ نوازی اور اسلام دشمنی کے تمام اقدامات کو مبنی بر انصاف سمجھتے ہیں جو

اگست 2011

صفحہ ۹

ماہنامہ محدث قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ !

اُن سے یہ معصومانہ توقع رکھتے ہیں؟

محقق موصوف کے علم میں ہونا چاہئے کہ ۱۹۹۲ء کے واضح جمہوری فیصلے اور عدالتی احکامات کے بعد جب پاکستانی حکومتوں کے لئے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ قانون امتناع توہین رسالت کو بدل سکیں تو پہلی بے نظیر حکومت نے اس قانون کے اجرا میں ہر ممکن روڑے اٹکائے۔ ۱۹۹۲ء میں اس کو پولیس کی ذمہ داری (یعنی ریاست کے خلاف جرم) سے نکال کر سیشن کورٹ یا مجسٹریٹ کے پاس بطور استغاثہ درج کرنے کا تنگ راستہ مقرر کیا گیا۔ دوسرے لفظوں میں حکومت کو توہین رسالت کے جرم سے کوئی سروکار نہ رہا، اور یہ عوام پاکستان کا مسئلہ قرار پایا کہ اگر وہ پریشانی محسوس کریں تو سیشن جج یا مجسٹریٹ کے پاس جاکر فریاد کناں ہوں۔ پھر دوسری نواز شریف حکومت نے ۱۹۹۸ء میں اس جرم کے اندراج کے لئے ایسے چھ افراد پر کمیٹی بھی ضروری قرار دے دی جس میں دو عیسائی افراد اور ایک ڈپٹی کمشنر اور ایک ایس ایس پی شامل ہوں۔ پھر مشرف حکومت نے ۲۰۰۴ء میں اس جرم کی تفتیش کے لئے ضروری قرار دیا کہ ایس پی سے نچلے درجے کا کوئی افسر اس کیس کی تفتیش کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔ ان تمام تر تبدیلیوں کے باوجود بھی جب توہین رسالت کا کوئی وقوعہ پوری شدت سے رونما ہو جاتا ہے تو اُس وقت اسی حکومت کا مدار المہام صدر زرداری اپنے نمائندے سلمان تاثیر کو شاتمہ رسول کے لئے یہ بشارت سنانے بھیجتا ہے کہ تمہیں بے فکر ہو جانا چاہئے۔ حکومتوں کے انہی رجحانات اور بعض اقدامات کا نتیجہ ہے کہ آج ۱۹ برس گزر جانے کے باوجود بھی پاکستان میں توہین رسالت کے کسی ایک مجرم کو بھی سزائے موت نہیں ہوسکی۔ تاریخ کی ان مستند گواہیوں کے بعد بھی حکومت کے رجحانات میں خوش فہمی کی توقع رکھنا، اس کو ترمیم کی دعوت دینا اور اس سے اصلاح احوال کی اُمید رکھنا نری سادگی ہے !

مجوزہ ترامیم پر ایک ناقدانہ نظر

یوں تو مضمون نگار کی موجودہ قانون میں مجوزہ تبدیلیاں ہی ان کے رخ کا بخوبی پتہ دے رہی ہیں لیکن اس جرم میں حکومت کو مدعی بنانا تو بالکل نامناسب ہے۔ اس کے غلط مضمرات یہ ہوں گے کہ حکومت وقت جب چاہے گی اس جرم کی نوعیت میں ترمیم و تبدیلی کرسکے گی یا اپنے دعوی سے دستبردار ہوجائے گی اور یہ جرم معاشرے میں ہوتا رہے گا۔

موصوف اس جرم کو جس ہلکے پھلکے انداز میں لے رہے ہیں، اسے بھی کم سے کم الفاظ

اگست 2011

صفحہ 10

قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ ! مباحثے

میں افسوس ناک ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ مجرم کے شہری حقوق کا خاتمہ کوئی بڑی سزا نہیں، کیا پاکستان کے دیگر شہریوں کے حقوق پوری طرح ادا ہو رہے ہیں جو اسے اب ایک سزا کے طور پر متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ اور توبہ کے انکار کے باوجود مجرم کو سزائے موت نہ دینا بھی نرا مذاق ہے۔ موصوف تو سزائے موت کو صرف اُسی حالت میں گوارا کر رہے ہیں، جب یہ جرم انتہائی درجے میں وقوع پذیر ہو اور اس جرم کے انسداد کی اس کے سوا کوئی اور صورت نہ ہو۔ توہین رسالت کی یہ مجوزہ سزا شرع اسلامی میں کہیں نہیں پائی جاتی...!!

اہل دین کو چاہئے کہ اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جو کچھ موجود ہے، اسی کو غنیمت جانیں۔ نہ کہ پہلے سے حاصل کردہ کامیابیوں میں 'مزید اصلاح کے جذبے سے' خامیاں نکالنا شروع کر دیں جس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے حکومت وقت اُنہیں اس سے بھی محروم کر دے۔

جرم کو قابلِ توبہ قرار دے کر مجرم کے تکرار اور شدتِ جرم کا انتظار کیا جائے۔ اس دور میں پیغمبرِ اسلام کی اہانت کو جس بڑے پیمانے پر معمول بنالیا گیا ہے اور دنیا بھر کا میڈیا اور حکومتیں اسے اظہارِ رائے کا حق جتانے پر تلی ہوئی ہیں، اس تناظر میں اس جرم کی روک تھام پوری شدت سے ہونی چاہئے۔ کم از کم مسلمانوں کے ممالک میں تو حرمتِ رسولؐ کی پاسداری اشد ضروری ہے۔ آج مسلم ممالک میں جو بدبخت توہین رسالت کا ارتکاب کرتا ہے، اس کو غیر معمولی پروٹوکول دیا جاتا اور اس کو این جی اوز سپانسر کرتی ہیں، دنیا بھر سے اس کی حمایت میں بیانات جاری کئے جاتے ہیں۔ آسیہ مسیح یا مختاراں مائی کی اس کے سوا کیا اہمیت ہے کہ ایک نے رسولِ رحمت ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے اور دوسری پاکستان کو رسوا کر رہی ہے اور اسی جرم کی بدولت عالمی چرچ اور دنیا بھر کے میڈیا کی آنکھوں کا تارا بنی ہوئی ہیں۔ الغرض جب بھی اسلام کے نام پر کسی جرم کی سزا کا مسئلہ درپیش ہو تو دنیا بھر کی دلچسپیاں اس میں دیدنی ہوتی ہیں۔

قبولیت کے مابین جو اختلاف پایا جاتا ہے، اس میں اُن کے ادوار اور موجودہ ادوار کا فرق

اگست 2011

صفحہ ۱۱

ماہنامہ محدث قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ !

بھی ملحوظ رہنا چاہئے۔ غلبہ اسلام یا خلافت اسلامیہ کی موجودگی میں کوئی بدبخت اگر اہانتِ رسول کا ارتکاب کرتا تو اہل اسلام اس کا سدباب کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، جبکہ آج کھلم کھلا اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول ﷺ کی ناموس کو پامال کیا جاتا ہے اور مسلمانوں کے بے غیرت حکمران اس پر اک حرف مذمت بھی ادا نہیں کرتے۔ مسلم ممالک میں غیر مسلم لوگ، اسلامی شعائر کو پامال کر کے، اسے اپنے مابین عزت وافتخار کا وسیلہ بناتے ہیں اور دنیا بھر کا کفر ان کی پشت پر جمع ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس دور میں توبہ کی گنجائش میسر کر دینا، تو نبی اسلام ﷺ کی ناموس کو غیروں کے ہاتھ میں کھلونا بنا دینے کے مترادف ہے۔

ہمارے مخاطب چونکہ حنفی علماے کرام ہیں اور ان کے ہاں توہین رسالت کے ایسے مجرم کے لئے جو ذمی ۱ ہو، قانونی رعایت کے موقف کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اس بنا پر مصر کے ایک حنفی محقق زاہد الکوثری کا موقف ملاحظہ فرمائیے کہ انہوں نے ایسے حالات میں فقہ حنفی کا منشا یہ قرار دیا ہے کہ جب ذمیوں کی ایسی حالت ہو تو اس وقت امام ابو حنیفہ کے نزدیک بھی ان کا عہد ذمہ ٹوٹ جائے گا اور وہ واجب القتل ہوں گے، لکھتے ہیں:

إن أبا حنيفة يرى أن لا انتقاض لعهد أهل الذمة بشيء من ذلك إلا أن يكون لهم منعة يقدرون معها على المحاربة أو أن يلتحقوا بدار الحرب فمتى انتقض عهدهم أبيح قتلهم متى قدر عليهم ٢

”امام ابو حنیفہ کی رائے میں اس جرم کے ارتکاب سے اہل ذمہ کا معاہدہ نہیں ٹوٹتا۔ وہ صرف اس وقت ٹوٹتا ہے جب وہ ایسی جتھہ بندی کرلیں جس کے بل بوتے پر انہیں جنگ کی قوت حاصل ہو جائے یا دار الحرب میں چلے جائیں۔ چنانچہ جب ان کا معاہدہ ٹوٹ جائے تو جب بھی ان پر قدرت حاصل ہو، انہیں قتل کرنا مباح ہوگا۔“

اسی سے ملتی جلتی بات امام مرغینانی کی ’الہدایہ‘ میں بھی ان الفاظ میں موجود ہے:

ولا ينتقض العهد إلا أن يلتحق بدار الحرب أو يغلبوا على موضع فيحاربوننا

۱ دارالاسلام میں ادائیگی جزیہ کی بنا پر امان یافتہ غیر مسلم ۲ النكت الطريفة: ص ۱۳۳ بحوالہ کتابچہ ’توہین رسالت کا مسئلہ‘: ص ۵۸

اگست 2011

صفحہ ۱۲

قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ! ماہنامہ محدث

”معاہدہ اس وقت ٹوٹ جائے گا جب ذمی دار الحرب میں چلا جائے یا اہل ذمہ کسی علاقے پر قبضہ کر کے ہمارے خلاف برسر پیکار ہو جائیں۔“ ۱

فی زمانہ توہین رسالت کے مرتکبین کو فوری طور پر مغربی ریاستیں اپنے پاس اس تیزی سے بلا لیتی ہیں کہ مسلمانوں کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی، جیسے نواز شریف کے اوّل دور میں جرمنی میں دو شاتمانِ رسول کرامت اور سلامت مسیح کو تحفظ دیا گیا اور سلمان رشدی کو لندن میں تاحال تحفظ ملا ہوا ہے۔ اور پورا مغربی میڈیا اور حکومتیں، مع عالمی عیسائی چرچ ان کی تائید کے لئے اہل اسلام کے خلاف معنوی جنگ برپا کر دیتے ہیں۔ ایسے بدبختوں کی خصوصی مہمان نوازی کی جاتی اور ان کے تحفظ پر لاکھوں ڈالر صرف کئے جاتے ہیں۔

موجودگی میں پیش کئے گئے اور ان کی بنا پر ایسے مجرمین کی رعایت کا موقف اپنانا درست نہیں کیونکہ شرعی احکام کا اطلاق مختلف افراد اور حالات کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے بھی صورت حال کی رعایت کرتے ہوئے

رخص في القبلة للشيخ وهو صائم، ونهى عنها الشاب وقال: «الشيخ يملك إربه، والشاب يفسد صومه» ۲

”نبی کریم ﷺ نے بوڑھے شخص کو روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینے کی اجازت دی اور نوجوان کو اس سے منع کر دیا اور فرمایا: کیونکہ بوڑھا شخص اپنی شہوت پر قابو رکھتا ہے اور نوجوان اس بنا پر اپنے روزے کو فاسد کر بیٹھے گا۔“

امام سبکی نے امام مالک کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے یہی بات بیان کی ہے:

وقد يحصل بمجموع أمور حكم لا يحصل لكل واحد منهما وهذا معنى قول مالك: يحدث للناس أحكام بقدر ما يحدث لهم من الفجور فلا نقول إن الأحكام تتغير بتغير الزمان بل باختلاف الصورة الحادثة فإذا حدثت صورة على صفة خاصة علينا أن ننظر

اگست 2011

۱ الہدایہ: ۱۶۳/۲ ۲ السنن الصغير للبیہقی: ج ۴، ص ۲۶۶، صحیح بخاری: ۱۹۲۷، سنن ابن ماجہ... علامہ عبد الرحمٰن مبارکپوری نے بھی تحفۃ الاحوذی میں زیر حدیث ۷۲۹، اسی موقف کو ترجیح دی ہے۔

صفحہ ۱۳

مکالمہ قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ !

فيها فقد يكون مجموعها يقتضي الشرع له حكماً ۱

”بسا اوقات متعدد اُمور کے مجموعہ پر جو شرعی حکم لگتا ہے، وہ حکم اس کے ہر ہر جز پر صادق نہیں آ رہا ہوتا اور یہی امام مالک کے اس قول کا مفہوم ہے کہ جوں جوں لوگ فسق و فجور میں مبتلا ہوتے جائیں گے، ان کے لئے احکام میں تبدیلی ہوتی جائے گی۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ شرعی احکام زمانے کی تبدیلی کی بنا پر بدل جاتے ہیں، بلکہ نئی پیدا شدہ صورتحال کی بنا پر احکام کے اطلاق میں تبدیلی ہو جاتی ہے۔ جب بھی کوئی مخصوص صورت حال پیدا ہو تو ہمیں چاہئے کہ اس میں از سر نو غور کریں کیونکہ بعض اوقات حالات کا نیا مجموعہ شریعت کے دوسرے حکم کا متقاضی ہوتا ہے۔“

پاکستان کے غیر مسلم، شرعی ذمی کا مصداق نہیں!

متعلقہ مجلہ میں شائع کئے جانے والے مضامین سے پتہ چلتا ہے کہ بعض حنفی فقہا کے نزدیک توہین رسالت کی سزا ذمی کے لئے وہ نہیں جو اس وقت مروّجہ قانون میں متعارف کرائی گئی ہے۔ بالفرض اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ فقہ حنفی کے بعض فقہا کا موقف یہی ہے کہ ذمی کے سلسلے میں ضروری ہے کہ اس کو موت کی سزا شرعاً نہ دی جائے بلکہ عوام المسلمین اور سیاسی مصالح کے پیش نظر دی جائے تو اس سے ہمارے پیش نظر حالات میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ فقہائے کرام نے جس دور میں یہ تقسیم کی تھی، وہ دارالاسلام اور دار الکفر/الحرب/العہد وغیرہ کا دور تھا۔ جبکہ پاکستان میں بسنے والے غیر مسلم، جنہیں ذمی قرار دے کر ان کے بارے میں رعایت کا موقف پیش کیا جا رہا ہے، نہ تو شرعی معنوں میں ذمی ہیں کیونکہ وہ جزیہ ادا نہیں کرتے، اور نہ ہی وہ کمتر حیثیت کے شہری بننے پر قانع ہیں بلکہ وہ تو برابر کے شہری ہونے کے دعویدار ہیں۔ ذمی، معاہد اور مسلم ہونے کی تقسیم تو اُن ریاستوں میں ہوتی ہے جو اسلامی ڈھانچے اور نظریاتی اساس پر قائم ہوں، ان میں خلافت و عدالت سمیت تمام اسلامی نظام جاری و ساری ہوں، جبکہ موجودہ ریاستیں وطنی اساس پر جدید نیشنل سٹیٹس ہیں جن میں مغرب کا جمہوری نظام کار فرما ہے۔ اس جمہوری نظام کی بنا پر ہی ہمارے ہاں غیر مسلم حضرات ذمی کا تشخص اپنانے پر آمادہ نہیں ہیں۔ موصوف کے مضمون میں ہی ذمی کے بارے میں یہ فقہی جزئیہ بھی پیش کیا گیا ہے جس سے حنفی فقہا کا منشا بخوبی معلوم ہوتا

۱ فتاویٰ سبکی: ۲/ ۵۷۲ اگست 2011

صفحہ 14

قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ ! ماہنامہ تحفظ

ہے، نامور حنفی فقیہ علامہ زین الدین ابن نجیم لکھتے ہیں:

ولا ينتقض عهد بالإباء عن الجزية والزنا بمسلمة وقتل مسلم وسب النبي ﷺ لأن الغاية التي ينتهي بها القتال التزام الجزية ١

”ذمی اگر جزیہ دینے سے انکار کرے یا کسی مسلمان عورت کے ساتھ بدکاری کرے، یا کسی مسلمان کو قتل کر دے، یا نبی ﷺ کی توہین کرے، تو اس سے اس کا معاہدہ نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ وہ غایت جس پر قتال رک جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ذمی جزیہ ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کر لے۔“

علامہ ابن نجیم نے جس ذمی کو یہ ساری گنجائشیں عطا کرنے کا موقف پیش کیا ہے وہ اُس کا جزیہ ادا کرنے کی پابندی کو قبول کرنا ہے۔ اب کیا پاکستان میں موجود غیر مسلم جزیہ ادا کرتے ہیں؟ قرآن کریم نے بھی جزیہ کا یہ واضح اصول بیان کیا ہے:

﴿حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ﴾

”حتیٰ کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں اور چھوٹے بن کر رہیں۔“

فاضل شہیر ڈاکٹر محمود احمد غازی بھی یہی رائے رکھتے ہیں کہ ماضی کی دار الاسلام اور دار الکفر یعنی نظریاتی ریاستوں کے دور کی بحثوں کو موجودہ وطنی ریاستوں کے دور میں از سر نو دیکھنا ضروری ہے کہ اب ان اصطلاحات کے معانی اور اطلاقات بدل چکے ہیں۔

لہٰذا پاکستان میں بسنے والے غیر مسلموں پر شرع اسلامی کے وہ احکام لاگو ہوں گے جو کافر کے بارے میں ہیں، اور کافر کے بارے میں احادیث نبویہ کی دلالت واضح ہے کہ آپ کے دور میں کئی یہودیوں اور مشرکین کے علاوہ یہودی عورت کو بھی شتم رسول کی بنا پر سزائے موت دی گئی۔ اور کافر شاتم کے بارے فقہ حنفی میں بھی کوئی اختلاف نہیں، بعض احناف کا اختلاف تو ذمیوں کے بارے میں ہے۔ جیسا کہ صاحب ’درمختار‘ علامہ حصکفی حنفی نے واضح کیا ہے:

و (الكافر بسب نبي) من الأنبياء فإنه يقتل حدًّا ولا تقبل توبته مطلقًا ولو سبّ الله تعالى قبلت لأنه حق الله تعالى والأول حق عبد لا يزول بالتوبة ومن شك في عذابه وكفره كفر

اگست 2011

١ البحر الرائق: ۱۲۳/۵

صفحہ ۱۵

مقالہ قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ !

”جہاں تک شاتم نبوت یا کسی اور نبی کے گستاخ کافر کا تعلق ہے تو اس کو بطور حد قتل کیا جائے گا، اور مطلقاً اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ تاہم اگر وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرے تو اس کی توبہ مقبول ہو سکتی ہے کیونکہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے جبکہ پہلے جرم میں بندے کا حق بھی شامل ہے جو توبہ سے زائل نہیں ہوتا۔ جو شخص کافر کی اس سزا اور اسکے کفر میں شک کرے تو وہ بھی کافر ہو جاتا ہے۔“ ۱

جہاں تک پاکستان میں مروّجہ قانون کا تعلق ہے تو اس کی رو سے تو جو شخص جس علاقے میں ہو، اس پر اس وقت وہی قانون نافذ ہوتا ہے۔ گویا قانون کا تعلق نظریہ و عقیدہ کی بجائے علاقہ و زمین سے جوڑ دیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ فرانس میں بسنے والے مسلمانوں پر، ان کے شرعی اعتقاد کے برعکس فرانس کا امتناع حجاب کا جمہوری قانون نافذ ہوتا ہے اور پاکستان آنے والے غیر ملکیوں پر پاکستان کا قانون۔ اس بنا پر پاکستان میں جمہوری تقاضوں کے مطابق بننے والا یہ اسلامی قانون ملک کے تمام شہریوں پر بلا امتیاز لاگو ہوتا ہے، جن میں مسلمان اور ذمیوں کا کوئی فرق موجود نہیں۔

مروّجہ قانونی نظام میں توبہ کا مصرف ؟

مذکورہ بالا نکتہ کو یہ بات بھی تقویت دیتی ہے کہ جرم و سزا کے پاکستان میں مروّجہ مغربی تصور کی رو سے، ریاست کو گناہ کی روک تھام سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہئے؛ یہ فرد اور اللہ کا باہمی معاملہ ہے۔ ریاست کا کام ہے جرائم کی روک تھام... جس پر کنٹرول کے سلسلے میں توبہ کا کوئی عمل دخل نہیں، بلکہ جرم کی دنیوی سزا ہی اس کو روک سکتی ہے۔ پاکستانی ریاست جرم و سزا کو اللہ اور بندے کے شرعی تعلق کی بجائے جمہوری نمائندوں کے طے کردہ انسانی قانون کے تناظر میں دیکھتی ہے جس میں توبہ کا کوئی مصرف نہیں۔ اس بنا پر مضمون نگار کا یہ قرار دینا کہ اہانت کے مجرم کو توبہ کا موقع فراہم کیا جائے، موجودہ قانونی تصور میں سرے سے ایک بے معنیٰ سفارش ہے۔

پھر کیا ایسا ممکن ہے کہ پاکستان میں چوری کرنے والا توبہ کے بعد مال واپس کر کے اپنی سزا ختم کروا لے۔ جب کسی دوسرے جرم کے ضمن میں ایسی کوئی بات موجود نہیں تو پھر اللہ

۱ الدر المختار از حصکفی : ۴/ ۲۳۲

اگست 2011

صفحہ ۱۶

قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ ! ماہنامہ ندائے خلافت

کے رسول ﷺ کی ناموس ہی اتنی ارزاں کیوں ہے؟ قانون توہین رسالت کو یہاں مروجہ دستوری تقاضوں کے عین مطابق نافذ کیا گیا ہے، اور یہ اس وقت پاکستان کا منظور شدہ مروجہ قانون ہے جس کی پابندی ہر شہری کو کرنا ضروری ہے۔

آجانے کے بعد، توبہ کی بنا پر اُس کی دنیوی سزا سے معافی کا کوئی امکان نہیں ہے، جیسا کہ یہ بات صریح احادیث سے ثابت ہے، حتیٰ کہ مضمون نگار جو اس جرم کی اساس اہانت کی بجائے محاربہ کو قرار دیتے ہیں — جیسا کہ آگے آرہا ہے — کے سلسلے میں قرآن کریم کا حکم تو بالکل واضح الفاظ میں موجود ہے، کہ محاربہ میں توبہ کی بنا پر معافی کی گنجائش مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهِمْ سے مشروط ہے۔ اسلام میں عدالت کے علم میں آجانے کے باوجود توبہ کی گنجائش تو صرف ارتداد کے جرم میں ہے اور ارتداد ایک حد ہے جس کو توہین رسالت کی سزا کی اساس کے طور پر بھی مضمون نگار تسلیم نہیں کرتے بلکہ توہین رسالت کی سزا کی علت جرم محاربہ کو قرار دیتے ہیں، پھر نامعلوم کس بنا پر ایسے مجرم کو توبہ کی گنجائش کا موقف اختیار کیا جارہا ہے؟

جاری نظامِ جرم و سزا اور مروّجہ قانون کے ہوتے ہوئے تو اہانتِ رسول کے حقیقی مجرم کے لئے کسی گنجائش کا کوئی امکان نہیں۔ تاہم اگر اس قانون کو فکری انتشار اور علمی بحران کا شکار کر کے نظر ثانی کے لئے بھیج دیا جاتا ہے تو نئی قانون سازی میں ان سفارشات کو پیش نظر لایا جائے گا اور اس بنا پر نئی قانون سازی کی جائے گی۔ راقم نے یہ ساری بحث اسی بنا پر فقہی تناظر کی بجائے قانونی اور معاشرتی تناظر میں کی ہے کہ اصل قانون تو اس وقت نافذ ہے جو ہر مجرم پر جاری ہے۔ توہین رسالت پر نئی بحثیں شائع کرنے کا اس کے سوا کوئی فائدہ نہیں کہ قانون تبدیل کروانے کی فضا سازگار کی جائے، اس کے بعد یہ فقہی بحثیں قانون کی صورت میں مؤثر ہو کر سامنے آئیں گی۔ غرض یہ سفارشات اور فقہی مباحث مروّجہ قانون میں تبدیلی کے نقطہ نظر سے پیش کی گئی ہیں جس کے نتیجے میں حکومتِ وقت اس قانون کی اصلاح کے نام پر حدود قوانین کی طرح اس کو مسخ اور ناقابلِ سزا بنا کر چھوڑے گی، اس کا جواب زیادہ مشکل نہیں ہے۔ اس تناظر میں فقہ اسلامی کے نام پر کی جانے والی یہ متجددانہ کاوش

اگست 2011

صفحہ 17

ماہنامہ محدث

قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ !

انتہائی قابلِ افسوس ہے! 1

اس باب میں فقہ حنفی کا معتبر موقف کیا ہے؟

راقم نے بغور ان مضامین کا مطالعہ کیا ہے جنہیں زیرِ نظر مجلہ میں شائع کیا جاتا رہا۔ ان مضامین میں کتاب وسنت کی ترجمانی کی بجائے فقہ حنفی کے تاریخی موقف کی تحقیق پیش کی گئی ہے کہ وہ امر واقعہ میں کیا تھا اور کیا نہیں؟ بہت مناسب ہوتا کہ اصل مسئلہ پر اتنی غور و خوض کرنے کی بجائے یہی توجہ قرآن مجید اور احادیث نبویہ سے استدلال پر صرف کی جاتی تاکہ یہ محنت جملہ اہل اسلام کے لئے مفید و بامقصد ہوتی۔ یا کم از کم فقہ حنفی کے دلائل اور جرم اہانتِ رسول کے سلسلے میں حنفی فقہا کے تجزیۂ جرم کو ہی پیش کر دیا جاتا ہے، لیکن اس کی بجائے صرف فقہ حنفی کے موقف کا تاریخی تعین ایک بہت جزوی نکتہ ہے۔ جہاں تک حنفی موقف کی بات ہے تو اس کے تعین میں خود مضمون نگار نے بے انتہا اضطراب کی نشاندہی کی ہے حتی کہ بعض حنفی فقہا میں اس معاملے پر واضح تضاد بھی نظر آتا ہے۔ یہ اضطراب اس موضوع پر لکھی جانے والی کتب سے لے کر مضامین و مقالات میں بھی موجود ہے۔

مزید برآں جب قومی سطح کی کسی قانون سازی کی بات ہو تو اس میں محض فقہ حنفی کی بناء پر قانون کی نظر ثانی کا مطالبہ فکری ترجیح اور فقہی جبر کا شائبہ دیتا ہے۔

فقہ حنفی کے حقیقی یا معتبر موقف کے بارے میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ وہ اس سے بالکل مختلف ہے جسے مضمون نگار نے اپنے مضامین میں پیش کیا ہے، جیسا کہ اس پر راقم کا ایک تفصیلی مضمون اسی شمارے میں شائع ہو رہا ہے۔

1 قانون امتناع توہین رسالت کے بارے میں حکومتی رجحان اور تازہ اقدام اس خبر سے واضح ہوتا ہے جو روزنامہ 'ڈان' میں ۲۲ جون ۲۰۱۱ء کو شائع ہوئی کہ "حکومت پاکستان نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں اقوام متحدہ کے کنونشن برائے عدم تشدد ' UN Convention against Torture کی دفعات ۱۶، ۱۳، ۱۲، ۶، ۴، ۳ کے خلاف اپنے تحفظات واپس لے کر ان کے نفاذ اور پابندی کی منظوری دے دی ہے۔ واضح رہے کہ دفعہ نمبر ۶ پاکستان میں توہین رسالت پر سزائے موت کے نفاذ پر بعض سنجیدہ رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے جبکہ دفعہ نمبر ۳ کے ذریعے پاکستان میں خاندانی نظام کے ڈھانچہ کو محدود کرنے، مروجہ قانون شہادت اور صدر کے لئے مسلمان ہونے کی شرط وغیرہ پر اثرات عائد ہوتے ہیں۔ اسی طرح قادیانیوں کے پاکستان میں اسلامی تشخص وغیرہ پر بھی نظر ثانی کی توقع ہے۔" معلوم ہوا کہ حکومت خود عالمی اداروں سے توہین رسالت کی سزائے موت دینے کے خلاف معاہدے کر رہی ہے۔ اس کے بعد ہماری آنکھیں کھل جانی چاہئیں!

اگست 2011

صفحہ ۱۸

قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ ! ماہنامہ محدث

اولاً، تو آج سے بیس برس قبل اس قانون کی تشکیل کے موقع پر وفاقی شرعی عدالت اور جمہوری رہنماؤں کے سامنے پاکستان کے تمام مکاتب فکر کا جو نمائندہ موقف پیش کیا گیا تھا، اس میں کسی اختلاف کا کوئی شائبہ نہ تھا، وگرنہ حکومت اس قدر واضح قانون سازی کرنے پر کبھی مجبور نہ ہوتی۔

اس وقت حنفی علما کی اس قانون سے اختلاف نہ کرنے کی وجہ اس کے سوا کوئی نظر نہیں آتی کہ بعض علمائے احناف کے ہاں دیگر اہل علم سے اگر کوئی اختلاف پایا جاتا ہے تو وہ فقط ذمی کے مسئلے میں ہے اور چونکہ ذمی کا ہونا اس دور میں متحقق نہیں اور نہ ہی پاکستان کے غیر مسلموں پر ذمی کا حکم لگایا جاسکتا ہے، اس بنا پر علمائے احناف نے بھی اُس سے کوئی اختلاف نہیں کیا تھا۔ اور یہ کہنا کہ حنفی اکابر فقہ حنفی کے اس اختلافی جزئیہ سے بے خبر یا غافل تھے، ایک طرف ان کے علمی مقام پر تہمت ہے تو دوسری طرف تاریخی حقائق سے بھی اس کی تصدیق نہیں ہوتی۔ اس سے قبل ۱۹۳۰ء میں توہین رسالت کے مشہور غازی علم دین کیس کے موقع پر یہ بحثیں متحدہ ہندوستان میں اُٹھ چکی ہیں، جیسا کہ اس کی تفصیل مولانا عبد الماجد دریا بادی کے مضمون مطبوعہ ۱۹۳۲ء میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

۲۵ برس قبل موقر حنفی مدرسہ جامعہ اشرفیہ کے شیخ الحدیث مولانا عبد المالک کاندھلوی نے اپنا موقف ان الفاظ میں شرعی عدالت کے سامنے پیش کیا تھا:

"اُمت کے تمام فقہا اور ائمہ مفسرین و محدثین کا فیصلہ ہے کہ توہین رسول اللہ کی سزا موت ہے۔ ۔۔۔ علامہ شامی نے اس پر اُمت مسلمہ کا اجماع ذکر کیا ہے کہ جو بھی شخص آں حضرت ﷺ کی شان میں توہین کرے ، اس کی سزا قتل ہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ ائمہ اربعہ کا مذہب ہے۔ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب اور سفیان ثوری ، شام و عراق اور مصر کے تمام قاضیوں اور مفتیوں کا یہی فتویٰ عدالتوں میں نافذ و جاری رہا۔ توہین رسالت کے مرتکب شخص کے بارے میں تاریخ اسلام میں کبھی کوئی اختلاف نہیں پایا گیا اور صحابہ کے عمل سے بھی اس بات کا ثبوت ملا کہ اُنہوں نے ایسے مجرم کو سزائے موت دی اور آں حضرت ﷺ نے اس کی توثیق فرمائی۔ اس موقع پر ہم یہ بات واشگاف الفاظ میں کہنا چاہتے ہیں کہ اگر عدالتی سطح پر کسی ایک عدالت کا کسی مقدمہ میں فیصلہ نظیر قرار دیا جاتا ہے اور اسے عدالتیں نظیر قرار دے کر فیصلے کرتی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اُمت مسلمہ کا اجماع ، تمام ائمہ کا اجماع ،

اگست 2011

صفحہ ١٩

ماہنامہ مظہر قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ !

اور سب سے بڑھ کر بارگاہِ رسول ﷺ سے صادر شدہ فیصلہ ہماری عدالت نہ مانے اور اس کے مطابق اس جرم کی سزا، سزائے موت تسلیم نہ کرے.... قرآن کریم کی سورۃ المنافقون کی آیت نمبر ۸ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی منافق تنہائی میں بھی آں حضرت کے متعلق صرف اتنی سی بات کرے کہ پیغمبر اور اس کے ساتھی ذلیل ہیں، عزت والے نہیں تو اُس کو مستحق قتل شمار کیا گیا۔‘‘۱

کراچی کے معروف جامعہ علوم اسلامیہ، بنوری ٹاؤن کے ترجمان ماہنامہ ’بینات‘ کے مدیر مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے اسی موقف پر ان الفاظ میں اپنا موقف پیش کیا:

’’اسلامی قانون کی رو سے توہین رسالت کا مرتکب سزائے موت کا مستحق ہے اور اس مسئلہ پر تمام صحابہ و تابعین متفق ہیں۔ انگریز کے دورِ اقتدار میں ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لئے کوئی قانون نہ تھا لیکن راجپال جیسے ازلی بدبختوں نے آں حضرت ﷺ کی عزت پر ناپاک حملے کئے اور وہ غازی علم الدین شہید جیسے فدائیانِ رسالت کے ہاتھوں کیفر کردار کو پہنچے...‘‘۲

مجاہد ناموس رسالت جناب محمد اسمعیل قریشی کی کتاب ’ناموسِ رسول اور قانونِ توہین رسالت‘ جو اس قانون کی تشکیل [۱۹۸۲ء تا ۱۹۹۲ء] کی مستند تاریخی دستاویز ہے، میں درجنوں علمائے کرام کے فرامین اور اقوال کو درج کیا گیا ہے اور اس موقع پر کسی مکتبِ فکر نے اُمتِ اسلامیہ کے اس مرکزی موقف سے سرمو انحراف نہیں کیا۔ جس کا اس کے سوا کیا مفہوم ہے کہ وہ سب اہل علم اس قانون کے اطلاق کو وسیع مانتے تھے اور موجودہ زمانے کے غیر مسلموں کو فقہی موشگافیوں کی بنا پر اس میں کوئی رعایت دینا انہیں گوارا نہیں تھا۔

ثانیاً، احناف کے اختلافی، کلاسیکی یا تاریخی موقف سے قطع نظر، جن کی روایات میں بھی اختلاف موجود ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ احناف کے پاکستان میں مفتی بہ قول کو پیشِ نظر رکھا جائے۔ احناف کے مفتی بہ قول کی روشنی میں ماضی میں پاکستان میں فیصلہ دیا جاچکا اور حال میں بھی پاکستان کے احناف کی اکثریت اسی کی قائل ہے، جیسا کہ نامور حنفی علما کا موقف اوپر بیان ہوچکا۔ علاوہ ازیں بریلوی مکتب فکر، جو حنفی فقہ پر ہی عمل پیرا ہے، کا اپنی

۱ ’ناموس رسول اور قانون توہین رسالت‘ از محمد اسمعیل قریشی: ص ۱۶۳، ۱۶۴ ۲ ایضاً: ص ۱۵۳

اگست 2011

صفحہ ۲۰

قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ ! ماہنامہ محدث

بھر پور عددی اکثریت کے ساتھ موقف آج بھی وہی ہے جو پہلے تھا، اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ حتیٰ کہ دیوبندی مکتب فکر جو حنفی فقہ کا ہی پیروکار ہے، کی اکثریت کا موقف بھی آج تک یہی ہے جسے اب تحقیق کے نام پر متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نامور بریلوی عالم مولانا احمد سعید کاظمی لکھتے ہیں:

”کتاب وسنت، اجماعِ اُمت اور تصریحاتِ ائمہ دین کے مطابق توہین رسول کی سزا صرف قتل ہے۔ رسول ﷺ کی صریح مخالفت، توہین رسول ہے۔ قرآن مجید نے اس جرم کی سزا قتل بیان کی ہے، اسی بنا پر کافروں کے قتل کا حکم دیا گیا ہے... فتاویٰ قاضی خاں کے مطابق کسی شے میں حضور ﷺ پر عیب لگانے والا کافر ہے اور اسی طرح بعض علما نے فرمایا کہ اگر کوئی حضور ﷺ کے بال مبارک کو شعر کی بجائے ’شعیر‘ (بصیغہ تصغیر) کہہ دے تو وہ کافر ہو جائے گا اور امام ابو حفص الکبیر حنفیؒ سے منقول ہے کہ اگر کسی نے حضور ﷺ کے کسی ایک بال مبارک کی طرف بھی عیب منسوب کیا تو وہ کافر ہو جائے گا۔“۲

فاضل مضمون نگار نے ماضی میں جس طرح حدود قوانین کی نئی تعبیر پر ایک مستقل کتاب لکھ دی تھی، جسے بعد میں ’متجدد‘ اسلامی نظریہ کونسل نے شائع بھی کر دیا تھا، ان کی اس تحقیق سے سیکولر طبقات یا منکرین حدیث کے سوا معروف و نمائندہ اہل علم کو کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا، جیسا کہ اس کے بعد جامعہ مدنیہ لاہور کے مفتی ڈاکٹر عبد الواحد حفظہ اللہ اور مولانا عبد القیوم حقانی سمیت وفاق المدارس العربیہ کے ترجمان ماہ نامہ ’وفاق المدارس‘ ملتان میں اس کے خلاف تردیدی مضامین شائع کئے گئے۔ ان حضرات نے حدود قوانین پر اس متجددانہ موقف کی پر زور تردید کی تھی، پتہ چلا ہے کہ اب بھی مفتی صاحب موصوف اس مسئلہ پر مفصل تردید لکھ رہے ہیں۔ بہر طور حنفیت کی یہ تازہ تحقیق بھی وقت گزرنے کے ساتھ اپنی حیثیت واضح کر لے گی کہ کیا یہی پاکستان کے احناف کا مفتیٰ بہ قول ہے یا نہیں؟ سر دست اسے حنفیت کے نام پر ایک ’محققانہ ندرت‘ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔

انہی دنوں جناب مضمون نگار کے سگے چچا مولانا عبد القدوس قارن بن مولانا سرفراز خاں

۱ دیکھئے محدث شمارہ فروری ۲۰۱۱ء میں شائع شدہ مضمون: ’مسئلہ توہین رسالت پر علمائے احناف کا موقف‘ از علامہ محمد تصدق حسین اور کتابچہ ’گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف‘ از مؤلفِ مذکور

۲ ’ناموس رسول اور قانون توہین رسالت‘ از محمد اسمعیل قریشی: ص۱۵۶، ۱۵۸

اگست 2011

صفحہ ۲۱

ماہنامہ محدث قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ!

صفدر کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں حقیقت کی اس نادر تحقیق کی بھر پور دلائل کے ساتھ تردید کی گئی ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں کہ ”احناف کے نزدیک اس کی حد قتل نہیں ہے، پاکستان میں اکثریت احناف کی ہے، اس لئے ان کے نظریہ کے مطابق اس کی حد قتل نہیں ہونی چاہئے ۔ “ مولانا قارن رقم طراز ہیں:

” یہ اعتراض مکر و فریب کا جال اور احناف کے مسلک سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔ اس مسئلہ میں احناف کی بعض عبارات کو لے کر تحفظ ناموس رسالت قانون میں تبدیلی کرنے والے مفاد پرستوں کو کبھی خیال نہیں آیا کہ ۱۹۵۶ء سے نافذ ’عائلی قوانین‘ بھی تو احناف کے نظریے کے خلاف ہیں، ان کو تبدیل کروانے کے لئے کیوں آواز نہیں اُٹھائی جاتی حالانکہ ان میں سے بعض مسائل میں نوبت واضح حرام کے ارتکاب تک جا پہنچتی ہے۔ پھر یہ بھی غلط بیانی ہے کہ گستاخ رسول کی حد قتل کی صورت میں احناف کے نظریہ کے خلاف ہے۔ اس پر یہی دلیل کافی ہے کہ اس قانون کو منظور کروانے والوں میں حنفی دیوبندی مکتب فکر کے جید عالم دین استاذ المحدثین حضرت مولانا عبد الحق صاحب، اکوڑہ خٹک والے بھی تھے جن کی تدریسی خدمات نصف صدی سے زائد ہیں اور ان کے سینکڑوں شاگرد شیخ الحدیث اور استاذ الحدیث کے مناصب پر فائز ہیں۔ اور حنفی بریلوی مکتب فکر کے نامور عالم دین علامہ عبد المصطفیٰ ازہری تھے جو اپنے طبقہ میں مایہ ناز مدرس اور مفتی تھے۔ پھر ان کو اپنے اپنے طبقہ کے تمام علماے کرام کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اگر یہ قانون حنفی نظریہ کے مخالف ہوتا تو اس کو حنفی علما کی حمایت حاصل نہ ہوتی جبکہ کسی ایک قابل شمار عالم کی مخالفت میری نظر سے نہیں گزری۔ موجودہ دور کے احناف سے پہلے بھی فقہاے احناف گستاخ رسول کے قتل کا ہی نظریہ رکھتے تھے۔“

یاد رہے کہ مجلہ ’الشریعہ‘ کے شمارہ جون میں پاکستانی احناف کے انتہائی معتمد عالم مولانا مفتی رفیع عثمانی کا ایک مضمون بھی شائع کیا گیا تھا جس میں مولانا نے ذمی کے ساتھ ساتھ توہین رسالت کے مجرم کے لئے توبہ کی گنجائش کا امکان پیش کیا تھا۔ لیکن مجلہ مذکور کے شمارۂ اگست میں مولانا عثمانی نے اس موقف کی اپنی طرف نسبت پر تردّد کا اظہار بایں الفاظ کیا ہے،

١ ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ شمارہ اپریل ۲۰۱۱ء اور مجلّہ صفدر گجرات، شمارہ نمبر ۵، ص ۲۱

اگست 2011

صفحہ ۲۲

قانون امتناع توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ ! ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک

جس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ مجلہ مذکور میں شائع ہونے والے موقف سے متفق نہیں :

”آپ حضرات کی ذمہ داری ہے کہ آئندہ شمارے میں اس بات کی واضح تردید کر دی جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ یہ مضمون غلطی سے حضرت کے نام سے شائع کیا گیا ہے اور حضرت کو اس مضمون سے مکمل اتفاق بھی نہیں ہے۔“۱

راقم نے علمائے احناف کے حقیقی اور کامل موقف کی وضاحت کے لئے ایک مستقل مضمون ترتیب دیا ہے جسے مستقل طور پر عنقریب شائع کیا جائے گا۔ جہاں تک مضمون نگار کے توہین رسالت پر بیان کردہ موقف کا تعلق ہے تو وہ کسی طرح حنفیت کی ترجمانی نہیں کرتا، بلکہ وہ سراسر جاوید احمد غامدی کے موقف کی نمائندگی پر مبنی ہے جس کی تفصیلات اسی شمارے میں مستقل طور پر شائع کر دی گئی ہیں۔

غامدی فرقے نے آسیہ مسیح کیس کے موقع پر سات ماہ قبل حنفی موقف میں اضطراب کا شوشہ چھوڑا تھا، اور اس کے بعد جاوید غامدی کے اپنے قلم سے اس موضوع پر تین مضامین کے علاوہ مجلہ اشراق میں متعدد ایسے مضامین بھی شائع ہو چکے ہیں جن میں حنفی موقف کی من مانی تحقیق کو اُچھالا جارہا ہے۔ عین انہی دنوں مجلہ الشریعہ میں بھی نہ صرف نصف درجن کے قریب اسی موضوع پر مضامین شائع ہوئے، بلکہ مدیر مجلہ نے ایک تفصیلی تحقیق مستقل کتابچہ کی صورت میں بھی شائع کر دی ہے جس کو بعد ازاں روزنامہ پاکستان نے بڑے پیمانے پر شائع بھی کیا ہے۔ اس موقع پر اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے بعض پروفیسر صاحب حنفیت کی اسی تحقیق کو انگریزی زبان میں ترجمہ کرنے کی ’دینی خدمت‘ بھی سرانجام دے رہے ہیں۔ جاوید غامدی کے توجہ دلانے سے قبل ماضی میں حنفیت کے نام پر یہ تحقیق کہیں نظر نہیں آتی، اس سے بھی اس سارے منظر نامے کے مقاصد و رجحانات کا بخوبی علم ہو جاتا ہے۔ ان تمام کاوشوں کا اس کے سوا کوئی مقصد نہیں کہ جاوید غامدی کے الحادی موقف کو مسلمانان پاکستان کے اتفاقی موقف کے بعد، نام نہاد تحقیق کے ذریعے مسلط کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ اہل اسلام کو اس سازش کو سمجھنے اور اس کا مداوا کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین !

اگست 2011

۱ مراسلہ از مولانا عبدالرؤف سکھروی، مورخہ ۲۳ جون ۲۰۱۱ء، مطبوعہ زیر عنوان ’مکاتیب‘

صفحہ ۲۳

تحقیق و تنقید

ڈاکٹر حافظ حسن مدنی

’مسئلہ توہین رسالت‘ پر متجدّدانہ موقف کا جائزہ

حنفیت کے نام پر غامدیت کا پرچار

ماہ نامہ ’الشریعہ‘ کے شمارہ جون ۲۰۱۱ء میں قانون توہین رسالت کے بارے میں بعض ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ ان ترامیم کی اشاعت سے قبل، اسی مجلہ کے متعدد مضامین میں فقہ حنفی کے موقف کے بارے میں جدید تحقیق بھی شائع ہوئی ہے۔ جبکہ مجلہ ہذا کے مدیر محترم بھی ’توہین رسالت کا مسئلہ‘ کے نام سے ایک مستقل کتابچے میں اس معاملے پر فقہ حنفی کی تفصیلی تحقیق پیش کر چکے ہیں۔

اس مضمون میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ فقہ حنفی کی نئی تحقیق کی اساس جن نظریات کو بنایا گیا ہے، کیا وہ فقہ حنفی کا مقصد و مدعا ہیں بھی یا نہیں؟ اور اپنی تحقیق میں انہوں نے اس موضوع کے حوالے سے جو بعض دعوے کئے ہیں، کیا وہ دعوے تحقیقی طور پر درست ہیں؟ مزید برآں آخر میں اس امر کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ اگر یہ ترامیم فقہ حنفی سے ماخوذ نہیں تو پھر پیش کی جانے والی ان ترامیم کا اصل مصدر و ماخذ کیا ہے اور اس کے مجوّز محترم کے پیش نظر وہ کونسے رجحانات ہیں جنہوں نے انہیں یہ موقف شائع کرنے پر مجبور کیا۔ دوسرے لفظوں میں مضمون نگار کے اپنے موقف کی اساس کیا ہے اور وہ کس نقطہ نظر کے حامی ہیں جس کی بنا پر وہ ایسی ترامیم متعارف کرا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ان ترامیم کی اشاعت سے قبل انہوں نے حنفی موقف میں اضطراب کی اشاعت کی اور اسے اپنے مخصوص نقطہ نظر سے دیکھنے کی کوشش کی۔ حالانکہ مضمون نگار کا اصل موقف جو انہوں نے اپنے کتابچہ میں صراحت سے لکھا ہے، احناف کی موجودہ تعبیر و توجیہ سے بہر حال مختلف ہے۔ ان ترامیم میں وہ احناف کے نمائندہ ہونے کی بجائے اس گروہ کی نمائندگی کرتے ہیں جو رجم کو بھی حد شرعی ماننے سے منکر ہے۔ حد رجم کی شرعی حیثیت سے انکار پر مبنی منکرین حدیث کے اس موقف کی ماضی میں بھی علمائے احناف سمیت جمیع اہل علم قوی دلائل سے تردید کر چکے ہیں اور اس پر کئی کتب منظر عام پر آچکی ہیں۔

اگست 2011

صفحہ ۲۴

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! ماہنامہ محدث

مضمون نگار کا موقف، اُن کے الفاظ میں

مضمون نگار کا موقف یہ ہے کہ توہین رسالت کی شریعتِ اسلامیہ میں کوئی مقررہ سزا نہیں بلکہ اسے بھی حد حرابہ کے ضمن میں لایا جائے۔ اپنے رسالہ میں وہ لکھتے ہیں:

”اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو جو اپنے قول و فعل سے آپ کی حیثیت رسالت کو چیلنج کریں اور اس کے مقابلے میں سرکشی اور بغاوت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کریں، سورۃ المائدۃ کی آیت نمبر ۳۳ میں سخت اور سنگین سزاؤں کا مستحق قرار دیا ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت کی رو سے نبی ﷺ کو ہر اس شخص یا گروہ کے خلاف اقدام کا حق حاصل تھا، جو اسلام کے بارے میں محاربہ اور معاندت کا رویہ اختیار کرے اور جسے سزا دینا آپ موقع و محل کی رو سے مناسب سمجھیں۔ ظاہر ہے کہ جن افراد نے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں اپنے خبثِ باطن کا اظہار کرنے کے لئے آپ کی توہین و تنقیص، ہجو گوئی اور سبّ و شتم کا رویہ اختیار کیا اور اسے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنی معاندانہ مہم میں ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا، وہ بدیہی طور پر محاربہ کے مرتکب تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسی اختیار کے تحت ایسے بہت سے افراد پر موت کی سزا نافذ فرمادی۔“۱

ایک اور مقام پر احادیثِ نبویہ میں سے توہین رسالت کے بہت سے واقعات ذکر کرنے کے بعد نتیجہ کے طور پر لکھتے ہیں:

”مذکورہ تمام مجرموں کو دی جانے والی سزا دراصل اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاربہ کی سزا تھی، اور نبی کریم ﷺ کے حینِ حیات میں اس جرم کا ارتکاب کرنے والے بدیہی طور پر اس سزا کے زیادہ مستحق تھے، اس لئے ان واقعات میں عقل و منطق کے سادہ اصول کے مطابق یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ محض سبّ و شتم کے مجرم کو ہر حال میں قتل کرنا لازمی ہے۔“۲

یہ ہے مقالہ نگار موصوف کا وہ موقف جو اُنہوں نے توہین رسالت کا مسئلہ‘ نامی اپنے کتابچہ میں تفصیل سے لکھا ہے، جسے مکتبہ امام اہل سنت، گوجرانوالہ نے شائع کیا ہے۔ اُن کی اس موقف کی جھلک ان کے ترمیمی مطالبوں ۳ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے، جس میں وہ ایسے

اگست 2011

۱ کتابچہ ’توہین رسالت کا مسئلہ‘ : ص ۱۰ ۲ ایضاً: ص ۴۸ ۳ ترمیمی تجاویز کے لئے دیکھئے ادارتی صفحات میں شائع ہونے والا مضمون، ص ۶

صفحہ ۲۵

ماہنامہ محدث حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی !

مجرم کو حتی الامکان معاف کرنے کے رجحان پر گامزن ہیں، اور توہین رسالت کے مرتکب کے لئے سزائے موت کو صرف ایسی انتہائی سزا کے طور پر اجازت دینے کے روادار ہیں جب اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ موقف فقہائے احناف کا نہیں جو اہانتِ رسول کو ایسا جرم سمجھتے ہیں جس کی سزا شریعتِ اسلامیہ میں مقرر شدہ ہے۔

موصوف کا اس جرم کو سرکشی اور عناد کی انتہائی حد کے ساتھ نتھی کر دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ اکیلی توہین رسالت کو مستقل بالذات جرم نہیں سمجھتے۔ یہ ویسا ہی موقف ہے جیسے متجددین کا یہ موقف ہے کہ رجم شادی شدہ زانی کی مستقل بالذات سزا نہیں ہے، تاہم وہ رجم کو زنا کے بدترین اور عادی مجرم کی انتہائی سزا کے طور پر گوارا کرتے ہیں۔ ان کے موقف کی مزید وضاحت رسالہ کے صفحہ نمبر ۳۶ پر ملاحظہ ہو جسے انہوں نے فقہ حنفی کے حوالے سے لکھا ہے:

”جہاں تک توہین رسالت کے جرم پر سزائے موت کے حد یا تعزیر ہونے کا تعلق ہے تو اس حوالے سے فقہائے احناف کے موقف اور صحابہ و تابعین اور ائمہ مجتہدین کے مابین کوئی اختلاف نہیں [کہ یہ حد نہیں ہے]۔ یہ تمام اہل علم اسے ایک تعزیری سزا ہی سمجھتے ہیں، البتہ جمہور کے نزدیک اس جرم پر ترجیحاً یہی [موت کی] سزا دی جانی چاہئے جبکہ احناف کا زاویۂ نگاہ یہ ہے کہ عمومی قانون کے طور پر سزائے موت کے بجائے کم تر سزاؤں کا نفاذ زیادہ قرین قیاس و مصلحت ہے۔“

ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ

”فقہائے احناف اور جمہور فقہا کے مذکورہ اختلاف کی تعبیر عام طور پر یوں کر دی جاتی ہے کہ جمہور اہل علم توہین رسالت پر سزا کو ’حد‘ یعنی شریعت کی مقرر کردہ لازمی سزا سمجھتے ہیں جبکہ احناف کے نزدیک یہ سزا ایک تعزیری اور صوابدیدی سزا

۱ مولانا امین احسن اصلاحی کا رجم کے بارے موقف ملاحظہ ہو: ”رجم یعنی سنگسار کرنا ہمارے نزدیک [سزائے محاربہ:] تقتيل کے تحت داخل ہے۔ اس وجہ سے وہ گنڈے اور بدمعاش جو شریفوں کی عزت اور ناموس کے لئے خطرہ بن جائیں، جو اغوا اور زنا کو پیشہ بنالیں، جو دن دیہاڑے لوگوں کی عزت و آبرو پر ڈاکے ڈالیں، کھلم کھلا زنا بالجبر کے مرتکب ہوں، ان کیلئے رجم کی سزا اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہے۔“ (تدبر قرآن ۲/ ۲۷۷)

”جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن میں رجم کی سزا کا کوئی ذکر نہیں ہے، ان کا خیال بالکل غلط ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ یہ سزا ہر قسم کے زانیوں کے لئے نہیں ہے بلکہ صرف ان زانیوں کے لئے ہے جو معاشرے کے عزت و ناموس کے لئے خطرہ بن جائیں۔“ (تدبر قرآن: ۲/ ۵۰۵)

۲ بریکٹوں میں کی جانے والی صراحت راقم کی طرف سے ہے، کیونکہ پوری عبارت اور اگلے اقتباسات سے یہی متبادر ہوتا ہے۔ اس صراحت سے قاری کو مفہوم سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔

اگست 2011

صفحہ ۲۶

حنفیّت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! محدث

ہے۔ ہماری رائے میں یہ تعبیر بالکل غلط اور اختلاف کی نوعیت پر بالکل غور نہ کرنے یا شدید قسم کے سوء فہم کا نتیجہ ہے۔ فقہا کے مابین اختلاف اس کے حد ہونے یا نہ ہونے میں نہیں اور احناف کی طرح جمہور صحابہ و تابعین، جمہور ائمہ مجتہدین اور جمہور محدثین بھی اس کو ’تعزیر‘ ہی سمجھتے ہیں۔‘‘۱

آگے چل کر لکھتے ہیں کہ

”ہماری تحقیق کے مطابق سب سے پہلے جس عالم نے توہین رسالت پر سزائے موت کو شریعت کی مقرر کردہ حد قرار دینے پر اصرار کر کے تعبیر کی اس غلطی کو بنیاد فراہم کی، وہ آٹھویں صدی کے عظیم مجدد امام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد امام ابن قیم رحمہما اللہ ہیں۔ ممکن ہے بعد کے دور کے بعض فقہا نے اس اختلاف کو کسی جگہ محض تجوزاً اور توسعاً حد ماننے یا نہ ماننے کے اختلاف سے تعبیر کر دیا ہو لیکن جہاں تک صحابہ و تابعین، جمہور محدثین اور ائمہ مجتہدین میں سے بالخصوص امام مالک، امام شافعی اور امام احمد کا تعلق ہے تو یہ بات پورے اطمینان سے کہی جاسکتی ہے کہ اُنہوں نے اس سزا کو ہرگز شرعی حد کے طور پر بیان نہیں کیا اور نہ فقہی مذاہب کی اُمہات کتب میں اس سزا کو اس حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔‘‘۲

اپنی بحث کے اختتام میں خلاصہ کے طور پر لکھتے ہیں:

”اس جرم کے ارتکاب پر سزائے موت کو حد قرار دینے کے لئے قرآن یا حدیث میں کوئی قطعی یا صریح دلیل موجود نہیں۔ اس کا ماخذ عام طور پر ایسے واقعات کو بنایا گیا ہے جن میں ایسے افراد کو قتل کیا گیا جنہوں نے صرف سبّ و شتم کا نہیں، بلکہ اس کے علاوہ دیگر سنگین جرائم کا بھی ارتکاب کیا تھا یا سبّ و شتم کو مستقل روش کے طور پر اختیار کیا تھا۔‘‘۳

اب اُن کی زبانی فقہ حنفی کا موقف بھی ملاحظہ فرمائیے:

”جمہور فقہائے احناف کی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی شخص وقتی کیفیت کے تحت اس جرم کا ارتکاب کرے، اور پھر اس پر اصرار کے بجائے معذرت کا رویہ اختیار کرے تو اس سے درگزر کرنا یا ہلکی پھلکی سزا پر اکتفا کرنا مناسب ہے۔ البتہ اگر دیدہ دانستہ کیا جائے یا معمول کی صورت اختیار کرلے تو عدالت کو قتل کی سزا دینے کا اختیار

۱ کتابچہ ’توہین رسالت کا مسئلہ‘ : ص ۱۶ ۲ کتابچہ ’توہین رسالت کا مسئلہ‘ : ص ۲۰ ۳ ایضاً: نکتہ نمبر ۳، ص ۶۵

اگست 2011

صفحہ ۲۷

مُکالمات حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

بھی حاصل ہے۔“ ۱

موصوف کے بیان کردہ موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ

علم اسے ایک تعزیری سزا ہی سمجھتے ہیں۔

کرتا اور سب سے پہلے اسے حد قرار دینے کی غلطی امام ابن تیمیہ سے سرزد ہوئی۔

تر سزاؤں کا نفاذ زیادہ قرین قیاس و مصلحت ہے۔ فقہائے احناف کے نزدیک پہلے پہل مجرم سے درگزر کرنا اور اس کو ہلکی پھلکی سزا دینے پر اکتفا کرنا مناسب ہے۔

معاشرے میں فساد یعنی محاربہ کے نقطۂ نظر سے دی ہے۔

مضمون نگار کے ان اقتباسات کے فوری بعد اگر جاوید احمد غامدی کے مسئلہ توہین رسالت کے بارے میں موقف کا مطالعہ ۲ کیا جائے تو اس سے دونوں کے مابین گہرے اتفاق واشتراک کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، بلکہ ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ جاوید غامدی کا موقف اس مسئلہ پر زیادہ صریح و واضح ہے جبکہ مضمون نگار کا موقف قدرے پیچیدہ اور اُلجھا ہوا نظر آتا ہے، کیونکہ وہ بہت سی باتیں واضح الفاظ میں نہیں کہہ سکتے جبکہ دونوں کا مقصد و نتیجہ ایک ہی ہے۔ یہاں دونوں موقفوں کے تقابلی مطالعے کی بجائے ذیل میں ہم شریعت اسلامیہ اور فقہ حنفی سے ان دعووں کا جائزہ لینے کے بعد جاوید غامدی کے موقف کا تذکرہ کریں گے۔

توہین رسالت کی شرعی سزا

موصوف کے یہ دعوے سراسر غلط ہیں۔ کیونکہ احادیث نبویہ کے نہ صرف درجنوں واقعات بلکہ صریح احادیث میں اُصولی طور پر شتم رسول کی سزا کو قتل ہی قرار دیا گیا ہے۔ اگست 2011 راقم الحروف نے احادیث میں توہین رسالت کے حوالے سے آنے والے ڈیڑھ درجن

۱ ایضاً: نکتہ نمبر ۴، ص ۶۵ ۲ جاوید غامدی کے تحریری اقتباسات اس مضمون کے آخری صفحات میں ملاحظہ فرمائیں۔

صفحہ 28

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! ماہنامہ محدث

واقعات پر مشتمل ایک تفصیلی مضمون کچھ عرصہ قبل تحریر کیا تھا، تفصیل کے شائقین اس کی طرف رجوع کریں۔ ان احادیث کی رو سے شاتمانِ رسول: کعب بن اشرف، عبد اللہ بن خطل، اس کی لونڈیاں، مقیس بن صبابہ، عبد اللہ بن سرح اور ابو رافع یہودی وغیرہ کی طرف آپ ﷺ نے خود مہمات روانہ کیں اور اپنی دعاؤں اور نگرانی میں انہیں بھیجا۔ سیدنا خالد بن ولید، سیدنا زبیر اور سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہم وغیرہ کو رسول کریم ﷺ نے باقاعدہ یہ کہہ کر شاتمانِ رسول کو قتل کرنے کی دعوت دی کہ میرے دشمن سے کون مجھے بچائے گا؟ نابینا صحابی، عمیر بن اُمیہ، عمر فاروق، عمیر بن عدی خطمی اور ابن قانع وغیرہ کے معاملات آپ کے سامنے آئے اور شتمِ رسول کی بنا پر آپ نے ان واقعات میں مقتولین کے خون کو نہ صرف رائیگاں قرار دیا بلکہ صحابہ کی تعریف بھی کی۔ پیچھے ذکر کردہ شبہات کے تناظر میں مسئلہ شتمِ رسول کی شرعی حیثیت بالاختصار ملاحظہ فرمائیے:

سُنن نسائی کی کتاب تحريم الدم کے باب حكم في من سبّ النبی ﷺ میں سیدنا ابو برزہ اسلمی سے اس واقعہ کو روایت کیا ہے:

قَالَ غَضِبَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَجُلٍ غَضَبًا شَدِيدًا حَتّٰى تَغَيَّرَ لَوْنُهُ قُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللّٰهِ ! وَاللّٰهِ لَئِنْ أَمَرْتَنِي لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ فَكَأَنَّمَا صُبَّ عَلَيْهِ مَاءٌ بَارِدٌ فَذَهَبَ غَضَبُهُ عَنِ الرَّجُلِ قَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَبَا بَرْزَةَ وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ

”ایک بار سیدنا ابو بکر ایک شخص پر انتہائی ناراض ہوئے، حتی کہ آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا۔ میں نے کہا : اے رسول اللہ کے خلیفہ ! واللہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ [ یہ بات سن کر ] گویا ان [ ابو بکر صدیق ] پر ٹھنڈا پانی بہا دیا گیا ہو اور اس شخص سے آپ کا غصہ جاتا رہا اور فرمانے لگے : ابو برزہ! تیری ماں تجھے گم پائے ، رسول ﷺ کے بعد کسی کی گستاخی پر اس کو قتل کرنے کی سزا نہیں۔“

دوسری روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ یہ بات کہہ کر ابو برزہ گھر کو چلے گئے۔ سیدنا ابو بکر نے ان کو گھر سے بلایا اور پوچھا کہ اگر میں تمہیں حکم دیتا تو تم اس کو قتل کر دیتے؟

اگست 2011

۱ دیکھئے ماہنامہ محدث ، شمارہ مارچ ۲۰۰۸ء 'احادیث میں توہینِ رسالت کے واقعات اور گستاخِ رسول کی سزا' جلد ۴۰ / عدد ۳ ... ص ۶۱ تا ۷۵

صفحہ 29

ماہنامہ محدث حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! اگست 2011

فَقَالَ: لَوْ أَمَرْتَنِي لَفَعَلْتُ قَالَ أَمَا وَالله مَا كَانَتْ لِبَشَرٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ١ تو ابو برزہ نے جواب دیا: بالکل، تب ابو بکر صدیق نے فرمایا: ہر گز نہیں! بخدا محمد ﷺ کے بعد کسی شخص کیلئے یہ سزا جائز نہیں (کہ اس کی گستاخی پر قتل کر دیا جائے)

بن اشرف یہودی اور ابو رافع یہودی کے واقعات قابل ذکر ہیں، تاہم مذکورہ بالا حدیث میں ایک بار رسول کریم ﷺ کی گستاخی کرنے والے کے لئے بھی یہ سزا اُصولی طور پر بیان ہوئی ہے، اس لئے ہم نے اس کو یہاں ذکر کر دیا ہے۔ کعب بن اشرف کو قتل کرنے کی وجہ زبانِ رسالت سے یہ بیان ہوئی ہے:

«من لكعب بن الأشرف؟ فإنه قد آذى الله ورسوله»٢ ’’کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف واذیت سے دوچار کیا ہے۔‘‘

ابن قیم الجوزیہ نے اس موضوع پر بڑا مختصر لیکن جامع موقف پیش کیا ہے:

فہٰذا قضاؤہ ﷺ وقضاء خلفائه من بعده ولا مخالف لهم من الصحابة وقد أعاذهم الله من مخالفة هذا الحكم. وفي ذلك بضعة عشر حديثًا ما بين صحاح وحسان ومشاهير وهو إجماع الصحابة... والآثار عن الصحابة بذلك كثيرة وحكي غير واحد من الأئمة: الإجماع على قتله. قال شيخنا: وهو محمول على إجماع الصدر الأول من الصحابة والتابعين والمقصود: إنما هو ذكر

١ سنن أبي داؤد (٤٣٦٣)، سنن النسائي (٤٠٧٣)، ذخيرة العقبى في شرح المجتبى:٣٢ /٢٧، السنن الكبرى للنسائي(٣٥٢٠ تا ٣٥٢٦)، مسند أحمد(٥٤) ٤٤٦-٤٤٨، المستدرك :٤ /٣٥٤، كتاب المختارة (٢٠تا٢٦)، مسند أبي بكر الصديق للمروزي (٦٦،٦٧)، مسند أبي يعلى (٧٤-٧٧) وفي نسخة (٨١،٨٢)، مسند أبي داؤد الطيالسي(٤)، مسند البزار (٤٩)، تهذيب الكمال:٤٤٣/١٥، مسند حميدي (٦) امام حاکم نے اسے شیخین کی شرط پر صحیح کہا اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔

٢ صحيح البخاري (٤٠٣٧، ١٣٠٣، ٢٥١٠)، صحيح مسلم (١٨٠١)، سنن أبي داود (٢٧٦٨) السنن الكبرى للبيهقي:٤٠/٧ و٨١/٩، شرح السنة للبغوي:٤٣/١١: ٢٦٩٢، المستدرك للحاكم:٣ / ٤٣٤ (٥٨٤١)

صفحہ 30

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! ماہنامہ محدث

حكم النبي ﷺ وقضائه فيمن سبه. وأما تركه ﷺ قتل من قدح في عدله ﷺ بقوله: "اعدل فإنك لم تعدل" وفي حكمه ﷺ بقول: "أن كان ابن عمتك." وفي قصده ﷺ بقوله: "إن هذه قسمة ما أريد بها وجه الله" أو في حكومته ﷺ بقوله: "يقولون إنك تنهى عن الغي وتستحلي به فذلك أن الحق له فله أن يستوفيه وله أن يتركه وليس لأمته ترك استيفاء حقه ﷺ. وأيضًا فإن كان هذا في أول الأمر حيث كان ﷺ مامورًا بالعفو والصفح وأيضًا فإنه كان يعفو عن حقه لمصلحة التاليف وجمع الكلمة ولئلا ينفر الناس عنه ولئلا يتحدثوا أنه يقتل أصحابه وكل هذا يختص بحياته ﷺ ۱

”نبی کریم ﷺ اور آپ کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا یہی فیصلہ ہے جس کا صحابہ کرام میں سے کوئی بھی مخالف نہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس حکم کی مخالفت سے بچائے رکھا۔ اس ضمن میں دس سے اوپر احادیث مبارکہ وارد ہوئی ہیں جن میں صحیح، حسن اور مشہور احادیث شامل ہیں اور اس مسئلہ پر اجماع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہے۔ اس باب میں صحابہ کرام سے مروی آثار تو بہت زیادہ ہیں اور ایک سے زائد ائمہ اسلاف سے شاتم کے سزائے قتل پر اجماع کی صراحت بھی منقول ہے۔ ہمارے استاد شیخ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ یہ سب اُمور صدرِ اوّل میں صحابہ کرام اور تابعین کے اجماع پر دلالت کرتے ہیں۔ ہمارا یہاں آپ کو سبّ و شتم کرنے والے بدبخت کے لئے آپ ﷺ کا حکم اور فیصلہ کو بیان کرنا ہی مقصود ہے۔ جہاں تک آپ ﷺ کا اس بدبخت کو چھوڑ دینا ہے جس نے آپ کے وصفِ عدل میں یہ کہہ کر الزام تراشی کی تھی کہ ”آپ ﷺ انصاف فرمائیے، آپ نے انصاف نہیں کیا۔“ اور جس نے آپ کے فیصلہ میں یہ کہہ کر بد اعتمادی ظاہر کی تھی کہ ”یہ اس لئے آپ نے کیا ہے کہ وہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے، [اس لئے آپ کا فیصلہ اس کے حق میں ہے]“ اور جس نے آپ کے ارادہ میں یہ کہہ کر عیب جوئی کی تھی کہ ”آپ ﷺ نے اس تقسیم کے ذریعے اللہ کی رضا پوری نہیں کی ۔“ اور جس نے آپ کی خلوت پر یوں طعنہ طرازی کی تھی کہ ”آپ تو گمراہی سے روکتے ہیں لیکن خود اس کو گوارا کرتے ہیں۔“ تو ان گستاخیوں کو نظر انداز کرنے

۱ زاد المعاد از علامہ ابن قیم جوزیہ : ۵۹/۵

اگست 2011

صفحہ ۳۱

ماہنامہ الحدیث حنفیّت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی !

کا سبب یہ تھا کہ اپنی توہین کو معاف کر دینا آپ کا ہی حق تھا، آپ چاہتے تو اس کا پورا بدلہ لیتے اور چاہتے تو اسے چھوڑ دیتے، تاہم آپ کی اُمت کے لئے آپ کے حق کی تکمیل چھوڑنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ مزید برآں اس جیسے واقعات اولین دور کے ہیں جب آپ ﷺ معافی اور درگزر کرنے کا حکم دیے گئے تھے۔ اس وقت آپ تالیف قلب، کلمہ اسلام کو مجتمع رکھنے اور لوگوں کے متنفر ہو جانے کے ڈر سے معافی کا راستہ اختیار کیا کرتے اور اس لئے بھی کہ دشمن یہ نہ کہتے پھریں کہ آپ تو اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ الغرض شتم رسول پر تمام قسم کی معافیاں آپ کی حیاتِ طیبہ سے ہی مخصوص ہیں۔“

اس بنا پر شاتمِ رسول کے لئے قرآن وحدیث میں سزائے موت ایک مقرر سزا کے طور پر بیان ہوئی ہے۔ اس مسئلہ پر صحابہ سے لے کر آج تک اجماع اُمت چلا آتا ہے، اور واضح ہے کہ اجماع کی ان عبارتوں میں کہیں اس سزا کے لئے تکرار وغیرہ کی شرط کا کوئی تذکرہ نہیں اور نہ ہی کوئی ہلکی پھلکی سزائیں پیش کی گئی ہیں۔

کیا اس کو سب سے پہلے امام ابن تیمیہ نے حد قرار دیا !

مضمون نگار کا دعویٰ ہے کہ آٹھویں صدی میں علامہ ابن تیمیہ نے سب سے پہلے شتم رسول کو حد قرار دے کر تعزیر کی غلطی کو بنیاد فراہم کی۔ مزید برآں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ شاتم رسول کی مقررہ سزا نہ ہونے پر اُمتِ اسلامیہ میں اتفاق ہے۔ ان کے یہ دونوں دعوے سراسر غلط ہیں۔ کیونکہ

ہو چکا تھا، جیسا کہ حافظ ابن قیم اور حنفی عالم مولانا یوسف لدھیانوی کے ذریعے اس کی صراحت پیچھے گزر چکی ہے۔ اجماعِ صحابہ ؓ کی یہ صراحت امام ابن تیمیہ، قاضی ابن عابدین شامی ۱ اور قاضی عیاض نے بھی کی ہے۔ قاضی عیاض (متوفی: ۵۴۴ھ) لکھتے ہیں:

اعلم - وفقنا الله وإياك - أن جميع من سب النبي ﷺ، أو عابه، أو ألحق به نقصاً في نفسه، أو نسبه، أو دينه، أو خصلة من خصائله، أو عرض به، أو شبهه بشيء على طريق السب له، أو الإزراء

۱ قاضی شامی اور ابن تیمیہ کی اجماعِ صحابہ پر دال عبارتیں آگے بالترتیب نمبر ۱۰ اور ۱۳ کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔

اگست 2011

صفحہ ۳۲

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

ماہنامہ محدث

عليه، أو التصغير لشأنه، أو الغض منه، والعيب له، فهو ساب له، والحكم فيه حكم الساب، وكذلك من لعنه، أو دعا عليه، أو تمنى مضرة له، أو نسب إليه ما لا يليق على طريق الذم، أو عبث في جهته العزيزة بسخف من الكلام وهجر، ومنكر من القول وزور، أو عيره بشيء مما جرى من البلاء والمحنة عليه، أو غمصه ببعض العوارض البشرية الجائزة والمعهودة لديه، وهذا كله إجماع من الصحابة وأئمة الفتوى من لدن الصحابة رضوان الله عليهم إلى هلم جرا.... ولا نعلم خلافاً في استباحة دمه - يعني ساب الرسول ﷺ - بين علماء الأمصار وسلف الأمة، وقد ذكر غير واحد الإجماع على قتله وتكفيره١

”جان لیجئے، اللہ مجھے اور آپ کو توفیق دے کہ ہر وہ بدبخت جو نبی کریم ﷺ کو گالی دے، عیب جوئی کرے، آپ کی ذات مبارکہ سے کوئی نقص منسلک کرے، یا آپ کے نسب شریف میں، یا آپ کے دین میں یا آپ کی کسی عادت مبارکہ میں، یا ان چیزوں کو پیش کرے، یا آپ کو ان میں سے کسی سے ازراہ گستاخی تشبیہ دے یا آپ کی تحقیر کرے، یا آپ کے مقام کو کم کرے یا گرائے، یا ان میں کوئی عیب لگائے تو وہ آپ کا گستاخ ہے۔ اس کی سزا گستاخ کی سزا ہے۔ اس میں وہ بدبخت بھی شامل ہے جو آپ ﷺ پر لعنت کرے، آپ کو بد دعا دے یا آپ کو نقصان پہنچنے کی دعا کرے، یا ازراہ مذمت شان مبارکہ کی طرف غیر مناسب چیز منسوب کرے یا مقام مقدس کی طرف ہلکی بات یا غلط اور جھوٹی بات منسوب کرے۔ یا دعوت دین کے سلسلے میں جو مشقتیں آپ کو برداشت کرنا پڑیں ان سے آپ کی شرمندگی کا سامان پیدا کرے، یا بعض بشری ممکنہ عوارض کی بنا پر آپ شان میں کمی کرے۔ ایسے شاتم کے خون کے مباح ہونے میں ہمارے علم کے مطابق کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ جملہ صحابہ اور فتویٰ کے ائمہ کا ان کے کفر اور قتل پر آج تک اجماع چلا آ رہا ہے۔“

آگے لکھتے ہیں: ”ایسے بدبخت یعنی شاتم رسول کے خون حلال ہونے میں دور حاضر

اگست 2011

١ الشفاء بتعريف حقوق المصطفىٰ للقاضی عیاض: ۹۳۳/۲

صفحہ 33

ماہنامہ مکالمات حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

کے علما اور اسلاف امت میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اور ایک سے زائد ائمہ نے اس شاتم کے قتل اور کافر ہو جانے پر اجماع کا تذکرہ کیا ہے۔“

ہونے پر اُمتِ اسلامیہ کا اجماع نقل کیا ہے:

أجمع عوام أهل العلم على أن حدّ من سبّ النبي ﷺ القتل وممن قاله مالك والليث وأحمد وإسحٰق وهو مذهب الشافعي١

”اہلِ علم کا اجماع ہے کہ جو آدمی نبی ﷺ کو گالی دیتا ہے، اس کی حد قتل کرنا ہے۔ اور اسی بات کو امام مالک، امام لیث، امام احمد، امام اسحاق نے بھی اختیار فرمایا ہے اور امام شافعی کا بھی یہی مذہب ہے۔“

أجمع العلماء على أن شاتم النبي ﷺ والمنتقص له كافر والوعيد جاء عليه بعذاب الله له وحكمه عند الأمة القتل ومن شكّ في كفره وعذابه كفر٢

”علما کا اس پر اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ کا شاتم اور نقص گوئی کرنے والا کافر ہے۔ اور اس پر اللہ کے عذاب کی وعید آئی ہے۔ اُمت کے ہاں اس کی سزا قتل ہے۔ جو شخص بھی اس کے کفر وعذاب میں شک کرے، وہ کافر ہو جاتا ہے۔“

أجمع المسلمون على أن من سبّ الله أو سبّ رسوله ﷺ أو دفع شيئًا مما أنزل الله عزوجل أو قتل نبيا من أنبياء الله عزوجل أنه كافر بذلك٣

”مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا گستاخ، یا اللہ کی

۱ الصارم المسلول: ص ۳، طبع نشر السنہ، ملتان؛ الاشراف علی مذاہب اہل العلم از ابن المنذر: ۱۲۰/۳، طبع دار الفکر

۲ نهایة السؤل فی خصائص الرسول: ص ۲۶۱ بحوالہ السیف المسلول از سبکی اور الصارم المسلول: ۱/۹ ... یاد رہے کہ

امام محمد بن سحنون کی اسی عبارت کو مولانا انور شاہ کشمیری نے اپنے موقف کے بیان کے لئے پسند کیا ہے، جیسا کہ آگے ان کا موقف آرہا ہے۔

۳ التمہید لابن عبد البر: ۲۲۶/۴، الصارم المسلول ص ۳۲

اگست 2011

صفحہ ۳۴

حقیقت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! ماہنامہ محدث

نازل کردہ شے کو رد کرنے والا، یا انبیاء اللہ سے کسی نبی کو قتل کا ارتکاب کرنے والا اس فعل پر کافر ہو جاتا ہے۔“

أجمعت الأمة على أن من سب النبي يقتل حدًا ۱ ”اس پر اجماع امت ہے کہ نبی ﷺ کا شاتم و گستاخ حد کے طور پر قتل کر دیا جائے“ اسی بات کو صحیح بخاری کی شرح فتح الباری میں حافظ ابن حجر نے یوں لکھا ہے: ونقل أبو بكر الفارسي أحد أئمة الشافعية في كتاب الإجماع: أن من سب النبي ﷺ مما هو قذف صريح كفر باتفاق العلماء، فلو تاب لم يسقط عنه القتل؛ لأن حدّ قذفه القتل، وحد القذف لا يسقط بالتوبة ... فقال الخطابي لا أعلم خلافًا في وجوب قتله إذا كان مسلمًا ”ائمہ شافعیہ میں سے امام ابو بکر نے کتاب الاجماع میں نقل کیا ہے کہ جس نے نبی ﷺ کو گالی دی جس سے صریح تہمت ظاہر ہوتی تھی تو ایسا شخص اجماع علماء کی رو سے کافر قرار پائے گا۔ اگر توبہ بھی کرلے تو اس سے قتل ساقط نہیں ہو گا۔ کیونکہ اس کی اس تہمت کی حد قتل ہے۔ اور تہمت یعنی قذف کی حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ خطابی فرماتے ہیں: اگر وہ مسلم ہے تو اس کے واجب القتل ہونے میں مجھے کوئی مخالف نظر نہیں آیا۔“ ۲

ہے ، جب کہ امام خطابی کے اپنے الفاظ یہ ہیں: ان السب منه الرسول الله ﷺ ارتداد عن الدين ولا أعلم أحدًا من المسلمين اختلفوا في وجوب قتله ۳ ”نبی کریم ﷺ کو دشنام طرازی کرنا دین سے ارتداد ہے۔ اور میں مسلمانوں میں سے کسی کو نہیں جانتا جس نے اس کے واجب القتل ہونے پر اختلاف کیا ہو۔“

۱ 'اسلام اور احترام نبوت' از مفتی محمد خاں قادری (اُردو ترجمہ السیف المسلول از امام سبکی): ص ۹۶ ۲ فتح الباری: ۲۸۱/۱۲ ۳ معالم السنن: ۲۹۶/۳

اگست 201 2011

صفحہ ۳۵

مقالات

حقیقت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

ومن أوجب شيئًا من النكال على رسول الله ﷺ أو وصفه، وقطع عليه بالفسق، أو بجرحه في شهادته فهو كافر مشرك مرتد كاليهود والنصارى حلال الدم والمال، بلا خلاف من أحد من المسلمين ۱

”جس بدبخت نے نبی کریم ﷺ کی رسوائی کا ارتکاب کیا یا آپ کو اس سے منسوب کیا اور آپ پر فسق کا الزام لگایا یا آپ کی شہادت میں جرح کی تو یہود و نصاریٰ کی طرح وہ کافر و مشرک مرتد ہے، اس کا مال و خون حلال ہے۔ اس بارے میں مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔“

أجمعت الأمة على قتل منتقصه من المسلمين وسابه ۲

”امت کا نبی کریم کی تنقیص کرنے والے اور شاتم کو قتل کرنے پر اجماع ہے۔“

وقد ذكرت في كتابي المسمى بالسيف المسلول أن الضابط أن ما قصد به أذى النبي ﷺ فهو موجب للقتل كعبد الله بن أبي وما لم يقصد به أذى النبي ﷺ لا يوجب القتل كمسطح وحمنة. أما سب النبي ﷺ فالإجماع منعقد على أنه كفر والاستهزاء به كفر ۳

”میں نے اپنی کتاب ’السیف المسلول‘ میں یہ اصول پیش کیا ہے کہ جو شخص کسی فعل سے نبی کریم ﷺ کو اذیت دینا چاہتا ہو تو ایسا بدبخت واجب القتل ہے، جیسا کہ عبد اللہ بن ابی تھا اور جس شخص کا یہ ارادہ نہ ہو تو اس صورت میں اس کی سزا قتل نہیں ہو گی جیسا کہ مسطح اور حمنہ کا معاملہ ہے [جنہوں نے سیدہ عائشہ پر افک میں شرکت کی تھی] جہاں تک شتم رسول کی بات ہے تو اس فعل کے کفر ہونے پر اجماع منعقد ہو چکا ہے اور آپ ﷺ کا تمسخر اڑانا بھی کفر ہی ہے۔“

اگست 2011

۱ المحلی از ابن حزم: ۲/ ۳۳۰

۲ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی: ص۲۵، الصارم المسلول: ۱/ ۹

۳ فتاویٰ سبکی: ۲/ ۵۷۴

صفحہ ۳۶

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! ماہنامہ محدث

اس عبارت میں امام موصوف نے بیانِ اجماع کے ساتھ ساتھ نیت و ارادہ گستاخی پر ایک اُصول بھی پیش کیا ہے جو قابلِ توجہ ہے، اسکی مزید تفصیل آگے علامہ ابن تیمیہ کے قول میں

فَعُلِم أن المراد من نقل الإجماع على قتله قبل التوبة ثم قال وبمثله قال أبو حنيفة وأصحابه ۱

”اگر کسی نے نبی کریم ﷺ کو گالی دی تو توبہ سے پہلے اس کو قتل کرنے پر اجماع ہے۔ یہی نظریہ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا ہے۔“

ایک اور مقام پر صحابہ کے اجماع کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وهذه نقول معتضدة بدليلها وهو الإجماع، ولا عبرة بما أشار إليه ابن حزم الظاهري من الخلاف في تكفير المستخف به ۲ فإنه شيء لا يعرف لأحد من العلماء، ومن استقرأ سير الصحابة تحقق إجماعهم على ذلك، فإنه نقل عنهم في قضايا مختلفة منتشرة يستفيض نقلها ولم ينكره أحد، وما حكي عن بعض الفقهاء من أنه إذا لم يستحل لا يكفر زلة عظيمة، وخطأ عظيم لا يثبت عن أحد من العلماء المعتبرين، ولا يقوم عليه دليل صحيح، فأما الدليل على كفره فالكتاب والسنة والإجماع والقياس ۳

”جو ہم کہہ رہے ہیں، اس کا اعتماد وانحصار اجماع پر ہے۔ اور اس اجماع کو ابن حزم ظاہری کا یہ کہنا متاثر نہیں کرتا جہاں اُنہوں نے آپ ﷺ کا استخفاف کرنے والے کی تکفیر پر اختلاف کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ وہ شے ہے جس کو علما میں سے کوئی بھی نہیں جانتا۔ اور جس نے صحابہ کے حالات کا مطالعہ کیا ہے، اس پر ان کا اجماع واضح ہے۔ یہ چیز ان کے مختلف فیصلوں میں منقول و مشہور ہے جس کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ اور بعض فقہا سے جو یہ نقل کیا گیا ہے کہ جب وہ یہ کام حلال سمجھ کر نہ کرے تو کافر نہیں ہو گا، یہ بہت بڑی لغزش اور غلطی ہے جو معتبر علما میں سے کسی سے ثابت نہیں

اگست 2011

۱ رد المحتار (حاشیہ ابن عابدین): ۳۵۷/۶، دوسرا نسخہ ۲۸۵/۱۶ ۲ المحلى از ابن حزم: ۴۹۹/۱۳، ۵۰۰ ۳ مجموعہ رسائل ابن عابدین ”تنبيه الولاة والحكام على احكام شاتم خير الانام“: ۳۱۶/۱

صفحہ ۳۷

ماہنامہ محدث حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

ہے۔ اور اس پر کوئی صحیح دلیل بھی قائم نہیں ہے۔ ایسے بدبخت کے کفر پر کتاب وسنت اور اجماع و قیاس واضح دلیل ہیں۔“

اور لکھا ہے کہ وہ کہیں بھی ہو، اسے قتل کر دیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے۔۱

درست نہیں۔ اس سلسلے میں بطور مثال امام نسائی (متوفی ۳۰۳ھ) کی سنن نسائی کو پیش کیا جاسکتا ہے جہاں انہوں نے تحریم الدم کے نام سے کتاب کا عنوان قائم کر کے، اس میں ان جرائم کا تذکرہ کیا ہے جن سے خون کی حرمت ختم ہو کر، متعلقہ مجرم کا خون مباح ہو جاتا ہے۔ اس کتاب کے تحت انہوں نے باب حکم من سب رسول اللہ کی احادیث بیان کیں۔ اسی کتاب کے تحت باب سب وشتم سے قبل محاربہ کی احادیث بھی لائے ہیں اور بعد میں ساحر و جادوگر کے قتل کی احادیث کا تذکرہ کیا ہے۔

وأما إجماع الصحابة فلأن ذلك نقل عنهم في قضايا متعددة ينتشر مثلها ويستفيض، ولم ينكرها أحد منهم فصارت إجماعاً ۲

”جہاں تک اجماع صحابہ کی بات ہے تو وہ یوں کہ صحابہ ؓ سے اس مسئلہ میں بہت سے فیصلے منقول ہیں جو مشہور و معروف ہیں۔ صحابہ میں سے کسی نے اس کے خلاف فیصلہ نہیں کیا، اس بنا پر اس مسئلہ میں اجماع صحابہ ہے۔“

قد اتفقت نصوص العلماء من جميع الطوائف على أن التنقص له كفر مبيح للدم ... ولا فرق في ذلك بين أن يقصد عيبه لكن المقصود شيء آخر حصل السب تبعاً له، أو لا يقصد شيئاً من ذلك، بل يهزل ويمزح، أو يفعل غير ذلك ۳

”تمام گروہوں کے علما کی عبارات کی مراد اس پر متفق ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تنقیص کفر اور خون کو حلال کرنے والی ہے۔ اس میں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ

۱ ناموس رسول اور قانون توہین رسالت‘ : ص ۱۸۵

۲ الصارم المسلول علی من سب الرسول ﷺ: ص ۴۷۱ بہ اختصار

۳ الصارم المسلول: ص ۴۶۵... اختصار کے لئے دیکھیں: ص ۱۹۵

اگست 2011

صفحہ ۳۸

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! ماہنامہ محدث

آپ کی عیب جوئی کا ارادہ کرے لیکن مراد دوسری چیز لے، اور اس سے تبعاً گستاخی لازم آجائے یا وہ ایسا ارادہ نہ کرے بلکہ مذاق میں ایسا کرے یا اس کے علاوہ مقصد کچھ اور ہو۔“

مضمون نگار کا علامہ ابن تیمیہ کو اس ضمن میں پہلا شخص قرار دینا سراسر غلط ہے کیونکہ اوّل تو شتم رسول کی سزائے موت ہونے پر صحابہ کرام کا اجماع ہے۔ ثانیاً، امام ابن تیمیہ (متوفی ۷۲۸ھ) سے کئی سو برس قبل علامہ ابن المنذر ۱ (متوفی ۳۱۹ھ) توہین رسالت کی مقررہ سزا پر نہ صرف اجماع کا دعویٰ کر چکے ہیں بلکہ اسی موقف کو اُنہوں نے امام مالک، احمد، لیث، اسحٰق، اور امام شافعی کے حوالے سے بھی بیان کیا ہے۔ اوپر جتنے بھی علما نے اس موضوع پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے، وہ سب ہی امام ابن تیمیہ سے پہلے گزر چکے ہیں۔ جبکہ امام ابن تیمیہ کے بعد اس مسئلہ پر اجماع کا دعویٰ کرنے والے امام سبکی اور حنفی علمائے کرام میں سے قاضی ابن عابدین شامی، امام سرخسی، علامہ انور شاہ کشمیری، مولانا عبد المالک کاندھلوی، مولانا یوسف لدھیانوی اور مولانا رفیع عثمانی قابل ذکر ہیں جن میں بعض کے حوالے آگے آرہے ہیں۔

ولا خلاف بين المسلمين أن من قصد النبي ﷺ بذلك فهو ممن ينتحل الإسلام أنه مرتد فهو يستحق القتل ۲

”تمام مسلمان اس پر متفق ہیں کہ جس شخص نے نبی کریم ﷺ کی اہانت اور ایذا رسانی کا قصد کیا، وہ مسلمان کہلاتا ہو تو بھی وہ مرتد اور مستحقِ قتل ہے۔“

مذکورہ ائمہ کرام نے مختلف کتب میں توہین رسالت کی سزائے قتل ہونے پر اجماعِ اُمت کی صراحت کی ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ اس میں تکرار یا عدم تکرار وغیرہ کی کوئی تفصیل نہیں ہے اور یہی اُمتِ اسلامیہ کا اجماعی موقف ہے۔ پھر یہ کہنا کہ مسلمانوں میں سے

۱ نامور فقیہ و مجتہد علامہ ابن المنذر اجماع کے مستند بیان میں بڑی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا اس کو حد قرار دینا بہت سی کتب میں بیان ہوا ہے جن میں سے علامہ ابن تیمیہ کی بیان کردہ عبارت کو ہم نے ذکر کیا ہے۔ علامہ ابن تیمیہ نے ہی سب سے پہلے حنفی موقف کو پورے شرح وبسط سے پیش کیا اور حنفی موقف کے بیان کے سلسلے میں حنفی فقہا انہی پر اعتماد کرتے ہیں جیسا کہ قاضی ابن عابدین لکھتے ہیں: وقوله: وإن أسلم بعد أخذه، لم أر من صرح به عندنا، لكنه نقله عن مذهبنا وهو ثبت فيُقبل (ردّ المحتار على الدرّ المختار: ۴/ ۲۳۳)

۲ احکام القرآن: ۱۱۲/۳

اگست 2011

صفحہ ۳۹

ماہنامہ الْحَقِّ حنفیّت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

کوئی اس کی مقررہ سزا بیان نہیں کرتا اور یہ آٹھویں صدی میں امام ابن تیمیہ کی غلطی کا نتیجہ ہے، سراسر بے اصل اور غلط دعویٰ ہے۔

توہین رسالت پر اجماع کے اس بیان میں دو باتیں قابل توجہ ہیں:

اوّل، تو ان میں کسی مقام پر کمتر سزا کا تذکرہ موجود نہیں اور ان میں بعض فقہا نے مباح الدم یعنی اس کے خون حلال ہونے کا جو اُسلوب بیان اختیار کیا ہے، وہ اس کے واجب قتل ہونے کی سزا کو ہی بیان کرتا ہے، جیسا کہ اس کی صراحت بعض دیگر فقہا نے واجب القتل کے الفاظ سے بھی کی ہے، دیکھئے نمبر ۳، ۵، ۶، ۸، ۹ اور ۱۰ اور بعض عبارتوں میں اس پر 'حد' کا لفظ بھی بولا گیا ہے جیسے نمبر ۱۲ اور ۱۳ اور آگے آنے والے بہت سے اقوال۔

اس صراحت سے واضح ہو جاتا ہے کہ ایسے مجرم کی سزا یہ ہے کہ اس کو قتل کی سزا دینا واجب ہے۔ اجماع کی یہ عبارات بتاتی ہیں کہ توہین رسالت کی شریعتِ اسلامیہ میں مقررہ سزا یعنی حد ہونے پر اُمتِ مسلمہ میں اتفاق پایا جاتا ہے۔

دوم، متعدد مستند علما کی زبانی اُمت کے اجماع کے دعوے سے پتہ چلا کہ فقہائے احناف بھی اس اجماع میں شامل ہیں اور توہین رسالت کی مقررہ سزا ہونا ہی ان کے ہاں اصل اور قدیمی موقف ہے، وگرنہ اجماع کا تقاضا ہی پورا نہیں ہوتا؟ بالخصوص کسی مسلمان شاتم پر سزائے قتل واجب ہونے کے بارے میں اجماع کی یہ عبارات احناف کے موقف پر صریح دلیل ہیں۔ یہی اصل مسئلہ ہے اور اس باب میں دیگر حنفی جزئیات استثنائی حیثیت رکھتی ہیں۔

فقہ حنفی میں توہین رسالت کی سزائے قتل

جہاں تک علمائے احناف کے موقف کی بات ہے تو اُن میں بھی اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ توہین رسالت کی سزا قتل ہی ہے۔ ان میں یہ اختلاف تو ہے کہ شاتم رسول کی سزا بطور حد قتل ہے یا یہ جرم حدِ ارتداد کو مستلزم ہونے کی بنا پر مستوجب قتل ہے۔ یعنی جرم کی تعبیر و توجیہ میں اختلاف موجود ہے لیکن جرم کی سزا میں کوئی اختلاف نہیں۔ اس بنا پر یہ کہنا کہ علمائے احناف کے ہاں اس کی سزا موت نہیں بلکہ تعزیر ہی ہے، درست نہیں۔ 'حد' کی تعریف فقہ حنفی کی مستند کتاب کنز الدقائق کی شرح البحر الرائق میں یوں ہے کہ

اگست 2011

صفحہ ۴۰

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! ماہنامہ محدث

الْحَدُّ عُقُوبَةٌ مُقَدَّرَةٌ لِلّٰهِ تَعَالَىٰ بَيَانٌ لِمَعْنَاهُ شَرْعًا فَخَرَجَ التَّعْزِيرُ لِعَدَمِ التَّقْدِيرِ ١

”حد وہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہے۔ یہ اس کے شرعی معنی کی وضاحت ہے۔ طے شدہ سزا نہ ہونے کی بنا پر تعزیر اس سے نکل گئی۔“

اب دیکھئے کہ کیا معتمد حنفی علما نے توہین رسالت کی مقرر سزا کو بیان کیا ہے؟ یا اس کو مسلمان حاکم کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے، خط کشیدہ الفاظ ملاحظہ فرمائیے:

أجمع المسلمون على أن شاتمه ﷺ كافر ومن شكّ في عذابه وكفره كفر ... أجمع عوام أهل العلم على أن من سبّ النبي ﷺ يقتل ...٢

”ملت اسلامیہ کا اس امر پر اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ کا گستاخ کافر ہے۔ اور جو اس کی سزا یا کافر ہونے میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے۔ اور اہل علم کا اس پر بھی اجماع ہے کہ نبی کریم کو سبّ و شتم کرنے والے کو قتل کیا جائے گا۔“

”یہ مسئلہ تو اتفاقی ہے کہ اگر کوئی مسلمان شخص آں حضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کرے اور توہین رسالت کا مرتکب ہو جائے تو اس سے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا، اور جرم ثابت ہونے پر اس کو قتل کیا جائے گا۔ یہ شق اجماعی ہے اور اس کے دلائل نہایت واضح ہیں۔ اور خود یہ عمل آں حضرت ﷺ کے عمل سے ثابت ہے کہ آپ نے اپنی حیات مبارکہ میں کئی ایسے بدبختوں کو موت کی سزا دی جن کے قصے کتب حدیث اور سیرت میں مشہور ہیں۔“٣

شتم رسول کی سزا کے قتل ہونے پر مولانا عبد المالک کاندھلوی اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے اقتباسات بھی انہی صفحات ۴ میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں جن میں مولانا کاندھلوی نے اس کی سزا موت بیان کرتے ہوئے اسے اجماع امت اور اجماع ائمہ قرار دیا

١ البحر الرائق: ١٣/١

٢ إكفار الملحدين ص ۵۴، ۶۲

٣ مجلہ الشریعہ، گوجرانوالہ ... شمارہ جون ۲۰۱۱ء: ص ۱۸

٤ شمارہ ہذا: دیکھئے صفحہ نمبر ۱۹، ۱۸

اگست 2011

صفحہ ۴۱

مباحث حقیقت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

ہے۔ پھر مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے توہین رسالت کی سزا کے قتل ہونے پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع بھی نقل کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ احناف کے ہاں نہ تو اس جرم کی سزا کے قتل ہونے میں اختلاف ہے اور نہ ہی جرم کی تکرار یا کمی بیشی کے لحاظ سے ان کے ہاں اس کی سزا میں کوئی فرق پیش نظر رکھا گیا ہے۔ یہ بات احناف پر ایک الزام ہے کہ وہ اسے ایک تعزیر سمجھتے ہیں یا چھوٹی موٹی سزاؤں سے شاتم کی تادیب کا رجحان رکھتے ہیں۔

وحكم الساب يقتل ۱

”نبی ﷺ کو دشنام طرازی کرنیوالے کی سزا یہ ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے۔“

قال ابو يوسف: وأيما رجل مسلم سب رسول الله ﷺ أو كذبه أو عابه أو تنقصه فقد كفر بالله تعالى وبانت منه امرأته فإن تاب وإلا قتل وكذلك المرأة إلا أن أبا حنيفة قال: لا تقتل المرأة وتجبر على الإسلام ۲

”قاضی ابو یوسف کہتے ہیں کہ کوئی بھی مسلمان جو رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے، یا ان کی تکذیب و تنقیص کرے، یا ان کی عیب جوئی کرے تو اس نے اللہ تعالیٰ سے کفر کیا اور اس کی بیوی طلاق یافتہ ہو گئی۔ اگر وہ توبہ کرے تو درست وگرنہ اس کو قتل کر دیا جائے۔ یہی حکم عورت کا ہے، تاہم امام ابو حنیفہ کا کہنا ہے کہ عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا اور اسے اسلام کی طرف آنے پر مجبور کیا جائے گا۔“

حنفی (متوفی ۸۶۱ھ) لکھتے ہیں:

كل من أبغض رسول ﷺ بقلبه كان مرتدًا، فالسباب بطريق أولى ثم يقتل حدًا عندنا فلا تقبل توبته في إسقاط القتل. قالوا هذا مذهب أهل الكوفة ومالك ونقل عن أبي بكر الصديق رضي الله

۱ حاشیہ سندھی بر سنن نسائی: ۲/ ۱۵۳

۲ کتاب الخراج: ص ۱۸۲، دار المعرفہ، بیروت ۱۹۷۹ء

اگست 2011

صفحہ ۴۲

حنفیّت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! محدث

عنه ولا فرق بين أن يجيء تائبًا من نفسه أو شهد عليه بذلك بخلاف غيره من المكفرات فإن الإنكار فيها توبة فلا تعمل الشهادة معه حتى قالوا يقتل وإن سب سكران ولا يعفى عنه ۱

”جس شخص نے بھی رسول اللہ ﷺ سے دلی طور پر بغض رکھا، وہ مرتد ہو جاتا ہے تو گالی دینے والا تو بالاولیٰ مرتد ہو گا۔ اور پھر ایسا شخص ہمارے نزدیک بطور حد قتل کیا جائے گا اور سزائے قتل کے بارے میں اس کی کوئی توبہ قبول نہیں ہو گی۔ اُنہوں نے کہا کہ اہل کوفہ اور امام مالک کا یہی مذہب ہے اور سیدنا ابو بکر صدیق والی حدیث سے یہی پتہ چلتا ہے۔ اور اس امر میں کوئی فرق نہیں کہ وہ خود توبہ کر کے آئے یا اس کے خلاف کسی دوسرے نے گواہی دی ہو بر خلاف دیگر کفریہ اعمال کے کیونکہ ان کا انکار کر دینا ہی توبہ ہے، اس میں دوبارہ گواہی کا بھی کوئی اعتبار نہیں حتیٰ کہ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے گا، اگرچہ نشہ کی حالت میں گالی دی ہو، اسے معاف نہیں کیا جائے گا۔“

”اس بات پر فقہا کا اجماع ہے کہ اگر مسلمان کہلانے والا شخص رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کرے اور اس فعل سے توبہ نہ کرے تو اس کی سزا بطور حد موت ہے۔“۲

اور مولیٰ خسرو وغیرہ نے بھی توہین رسالت کی سزائے قتل کو حدّ قرار دیا ہے، جیسا کہ اس کے تفصیلی حوالے مجلہ ہٰذا کے صفحہ نمبر ۸۱،۸۲ میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔

قتل ہونے کو حد قرار دیا ہے اور قاضی عیاض (متوفی ۵۴۴ھ) نے جمہور فقہا، ائمہ اسلاف، امام مالک اور ان کے متبعین کا یہ موقف بتایا ہے: مذهب مالك وأصحابه وقول السلف وجمهور العلماء قتله حدًا مذکورہ بالا اقتباسات میں سے پہلے چار میں علی الاطلاق شاتم رسول کی سزا قتل قرار دی

۱ شرح فتح القدیر: ۵/ ۳۳۲، طبع جدید: ۲۰۷/۴ ۲ اُردو تلخیص از پروفیسر محمد مشتاق احمد: مجلّہ الشریعہ، جون ۲۰۱۱ء: ص ۲۶

اگست 2011

صفحہ ۴۳

محدث حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

گئی ہے اور اس کی کوئی فقہی توجیہ نہیں کی گئی جبکہ آخری چار اقتباسات میں اس جرم کو براہ راست حد (مقررہ سزا والا جرم) بتایا گیا ہے۔ دراصل اس جرم کو براہ راست حد بنانے یا حد ارتداد کو لازم ہونے سے اگلے مسائل مثلاً ذمی کے لئے سزا کے تعین اور توبہ کی قبولیت وغیرہ کے بارے میں فرق پیدا ہوتا ہے، اس بنا پر فقہا کے مابین جرم ہذا کی تعلیل وتوجیہ میں تو اختلاف ہے، تاہم اس فرق کی بنا پر مسلمان شاتم کے لئے اس کی سزائے قتل میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ جبکہ علمائے احناف میں ایسے فقہا بھی ہیں جنہوں نے اس جرم کو ارتداد ہونے کی بنا پر سزائے موت کے قابل بتایا ہے:

وَهُوَ مُقْتَضَى قَوْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَلَا تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ عِنْدَ هَؤُلَاءِ وَبِمِثْلِهِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَأَصْحَابُهُ وَالثَّوْرِيُّ وَأَهْلُ الْكُوفَةِ وَالْأَوْزَاعِيُّ فِي الْمُسْلِمِ، لَكِنَّهُمْ قَالُوا هِيَ رِدَّةٌ. وَرَوَى مِثْلَهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِم عَنْ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ وَحَكَى الطَّبَرِيُّ مِثْلَهُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَصْحَابِهِ فِيمَنْ يُنْقِصُهُ ﷺ أَوْ يَبْرَئُ مِنْهُ أَوْ كَذَّبَهُ ۱

”[ امام ابن المنذر کے بیان کردہ دعوائے اجماع ۲ کے بعد قاضی عیاض فرماتے ہیں:] اور یہی سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کے فرمان کا تقاضا ہے ۔ مذکورہ بالا تمام ائمہ کے نزدیک شاتم رسول کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، یہی موقف مسلمان کے بارے میں امام ابو حنیفہ ، ان کے متبعین، ثوری، اہل کوفہ اور امام اوزاعی کا ہے، تاہم انہوں نے اس جرم کو ارتداد قرار دیا ہے۔ ولید بن مسلم نے امام مالک کا بھی یہی موقف بیان کیا ہے جبکہ طبری نے امام ابو حنیفہ اور ان کے متبعین کا اس بد بخت کے بارے میں بھی جو آپ ﷺ کی تنقیص کرے ، آپ سے براءت کا اظہار کرے یا آپ کی تکذیب کرے، یہی موقف بیان کیا ہے۔“

امام ابو حنیفہ کے بارے میں یہی بات علامہ ابن نجیم حنفی (م ۹۷۰ھ) نے بھی لکھی ہے: فَعُلِمَ أَنَّ قَوْلَهُ "وَبِمِثْلِهِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ" أَيْ قَالَ: أَنَّهُ يُقْتَلُ لَكِنْ

۱ الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ للقاضی عیاض: ۲۱۵/۲ ۲ امام ابن المنذر کے اس دعوائے اجماع کی عبارت پیچھے نمبر ۲ کے تحت گزر چکی ہے۔

اگست 2011

صفحہ ۴۴

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! محدث

قَالُوا: أَنَّهُ رِدَّةٌ ”ان کے قول: وَبِمِثْلِهِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ سے معلوم ہوا کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک اسے قتل تو کیا جائے گا لیکن وہ ارتداد کی بنا قتل ہوگا۔“ ⑩ شتم رسول کے حد ارتداد کو مستلزم قرار دینے والے حنفی فقہا یہ بھی ہیں:

وَقَدْ نَقَلَ ابْنُ أَفْلَاطُونَ زَادَه فِي كِتَابِهِ الْمُسَمَّى بِمُعِينِ الْحُكَّامِ أَنَّهَا رِدَّةٌ حَيْثُ قَالَ مَعْزِيًّا إِلَى شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ مَا صُورَتُهُ مَنْ سَبَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَوْ بَغَضَهُ كَانَ ذَلِكَ مِنْهُ رِدَّةً وَحُكْمُهُ حُكْمُ الْمُرْتَدِّينَ. وَفِي النَّتْفِ مَنْ سَبَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَإِنَّهُ مُرْتَدٌّ وَحُكْمُهُ حُكْمُ الْمُرْتَدِّ وَيُفْعَلُ بِهِ مَا يُفْعَلُ بِالْمُرْتَدِّ

اوپر کے اقتباسات میں پہلے آٹھ حنفی فقہا کے موقف شاتم رسول کی سزاے قتل ہونے پر گزرے ہیں جبکہ سزاے قتل کی کوئی توجیہ انہوں نے نہیں کی، جبکہ پانچ مزید حنفی علما (ابن ہمام، قاضی ابن عابدین، ابن بزاز، رملی اور مولیٰ خسرو) نے اس جرم کی سزا بطور مستقل حد، سزاے موت ذکر کی ہے اور آخری تین اقتباسات میں امام ابو حنیفہ کے بارے قاضی عیاض نے اور امام طحاوی حنفی کے بارے ابن افلاطون زادہ نے اور النتف میں کسی نسبت کے بغیر، شاتم رسول کی سزا کو بطور ارتداد قتل قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح ۱۶ حنفی فقہا کے موقف، مسلمان شاتم رسول کی سزاے موت پر یہاں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔

مذکورہ بالا فقہاے احناف میں، حوالہ دیئے گئے نامور حنفی علما کے اقوال کا انتخاب اس بنا پر کیا گیا ہے کہ فقہ حنفی کے دورِ اوّل کے امام ابو حنیفہ اور قاضی ابو یوسف سے لے کر، اس زمانہ کے نامور حنفی فقہا تک، سب کو احناف کے اس موقف میں کوئی تردّد یا اضطراب نظر نہیں آیا اور ان کا موقف بالکل واضح ہے کہ مسلمان شاتم کی سزا قتل ہی ہے، چاہے مستقل بالذات جرم گستاخی کی بنا پر ہو یا حد ارتداد کے لزوم کی بنا پر۔ تو اب اس میں تحقیق کے نام پر یہ نیا موقف کیوں کر پیش کرنے کی گنجائش ہو سکتی ہے کہ ”علماے احناف کے ہاں اس جرم کی سزا یا حد مقرر ہونے میں کوئی اختلاف نہیں اور یہ محض ایک تعزیری جرم ہے۔“ یا

۱ البحر الرائق ۱۳/ ۴۹۷

۲ البحر الرائق: ۱۳/ ۴۹۶

اگست 2011

صفحہ ۴۵

ماہنامہ محدث

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

”احناف کا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ عمومی قانون کے طور پر سزائے موت کی بجائے کمتر سزاؤں کا نفاذ زیادہ قرین قیاس و مصلحت ہے۔“ ظاہر ہے کہ فقہائے احناف کے موقف کی تعبیر کرنے کا اصل حق انہی معتمد حنفی علمائے کرام کو ہی حاصل ہے۔

مذکورہ بالا عبارتوں میں خط کشیدہ الفاظ ملاحظہ کریں کہ کیا ان میں توہین رسالت کی مقررہ سزا کو بیان کیا گیا ہے یا اسے حاکم کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اگر اس کی سزا کو مقرر طور پر پیش کیا گیا ہے جیسا کہ اوپر ثابت ہوچکا ہے تو پھر توہین رسالت کی سزا کو محض اس بنا پر حد قرار دینے سے رک جانا کہ بعض فقہا نے حدود کی لسٹ میں اُس کو درج نہیں کیا، ایک کوتاہی سے زیادہ نہیں۔ بعض فقہا کا اس کو حدود کی لسٹ میں درج کرنا یا نہ کرنا، ایک فنی اور تدوینی امر ہے، تاہم فقہی موقف اس باب میں بالکل واضح ہے۔ اور اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں کہ حنفی فقہا کا اس کے مقررہ حد نہ ہونے پر اتفاق کا دعویٰ کرنا سراسر باطل ہے۔

کتاب أهل الملل والردة والزنادقة میں کتاب الحدود میں ’باب فیمن شتم النبی ﷺ‘ کا تذکرہ کر کے اس کو حدود میں شمار کیا ہے۔۱

احناف کے ہاں ذمّی شاتم رسول کی سزائے قتل

حنفیہ کے ہاں شاتم رسول کا واجب القتل ہونا مسلمان مجرم کی حد تک تو اتفاقی ہے جس کی صراحت مذکورہ بالا عبارتوں کے علاوہ اجماع امت کی درجنوں تصریحات سے بھی ہورہی ہے جن میں احناف کی حد تک اجماع کا محل مسلم شاتم کی سزائے قتل تک تصریح شدہ ہے۔

تاہم اُن میں یہ اختلاف موجود ہے کہ بعض احناف کے نزدیک قتل کی یہ سزا ذمیوں (دار الاسلام میں امان یافتہ غیر مسلم) کو شرعاً نہیں دی جائے گی، بلکہ سیاسۃً (مصلحتاً) دی جائے گی۔ لیکن اس سلسلے میں بھی اس جرم کی اساس حنفیہ میں محاربہ وغیرہ کو قرار نہیں دیا گیا۔

”[جہاں تک ذمّی کا تعلق ہے تو] امام مالک، اہل مدینہ، امام احمد بن حنبل، فقہائے حدیث، خود امام شافعی کے نزدیک ذمّی کو بھی مسلمان کی طرح توہین رسالت کی وجہ

۱ اہل الملل والردۃ از امام خلال: ۲/ ۳۳۹

اگست 2011

صفحہ ۴۶

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! ماہنامہ محدث

سے قتل کیا جائے گا۔ امام شافعی کے اصحاب کے اس میں مختلف اقوال ہیں۔ جہاں تک امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا مذہب ہے تو وہ یہ کہ توہین رسالت کا مرتکب اگر ذمی ہے تو پہلی دفعہ اس کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ امام اس پر مناسب تعزیر جاری کرے گا، البتہ اگر وہ جرم کا ارتکاب مکرر کرے، تو اس صورت میں اس کو قتل کیا جائے گا۔“ ۲

ہے، جسے نامور حنفی فقیہ قاضی ابن عابدین شامی نے بھی ذکر کیا ہے: وأما أبو حنيفة وأصحابه فقالوا: لا ينتقض العهد بالسبّ، ولا يقتل الذمي بذلك، لكن يعزر على إظهار ذلك... وحكاه الطحاوي عن الثوري ”امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگردوں کا کہنا ہے کہ ذمی کا عہد نبی ﷺ کو گالی دینے سے نہیں ٹوٹتا اور اس بنا پر ذمی کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ تاہم اس کی سزا اس کو دی جائے گی.... اور یہی موقف طحاوی نے ثوری سے بھی نقل کیا ہے۔“ ۳

قاضی ابن عابدین شامی ذمی کو قتل کرنے کا جواز پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وهو يدلّ على جواز قتله زجراً لغيره إذ يجوز الترقي في التعزير إلىٰ القتل ۴ ”اور یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دوسروں کو ڈرانے کے لئے اس کو قتل کرنا جائز ہے، اس لئے کہ تعزیر قتل تک ہو سکتی ہے۔“

بلکہ سیاسۃً (مصلحت عامہ یا حاکم کے اختیار) کے طور پر اس کو قتل کیا جائے گا۔ یہ موقف اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بعض حنفی علما کے نزدیک توہین رسالت کا جرم، ذمی کا

صریح ہے، تاہم یہ موضوع ہمارے دائرہ بحث سے باہر ہونے کی بنا پر ایک مستقل بحث کا متقاضی ہے۔

اگست 2011

صفحہ ۴۷

ماہنامہ محدث حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی !

معاہدۂ امان نہیں توڑتا، لیکن یاد رہے کہ اوّل تو متعدد حنفی علما کے نزدیک ذمّی کا معاہدہ امان اس سے ٹوٹ جاتا ہے، ثانیاً معاہدۂ امان نہ ٹوٹنے کا لازمہ یہ نہیں کہ اُس کو قتل نہ کیا جائے، بلکہ معاہدۂ امان ٹوٹ جانے سے ان بعض احناف کی مراد یہ ہے کہ حربی شخص کی طرح اس ذمّی کا مال، مالِ غنیمت اور ذمّی خواتین، لونڈیاں نہیں بن جاتیں، بلکہ ذمّی کے جرمِ سرقہ کی طرح اس کی سزا اکیلے مجرم ذمّی کو ہی دی جائے گی، اس کے اموال و خاندان کو نہیں، اس بنا پر اس جرم کو ذمّی کے مال و کنبہ کے معاہدہ امان ٹوٹنے کے مترادف نہ سمجھا جائے۔ جیسا کہ خیر الدین رملی حنفی لکھتے ہیں: لا يلزم من عدم النقض عدم القتل ۱ "عہد امان نہ ٹوٹنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس ذمّی کو سزائے قتل نہیں دی جائیگی۔"

لا ينبغي أن يفهم من عدم الانتقاض أنه لا يقتل فإن ذلك لا يلزم ۲ "معاہدہ نہ ٹوٹنے سے اس کا قابلِ قتل نہ ہونے کا مفہوم لینا درست نہیں، نقضِ عہد کا یہ لازمہ نہیں۔"

کرتے ہوئے، معاہدہ امان نہ ٹوٹنے کے نکتہ کی مزید وضاحت کرتے ہیں: فإن النبي لم يجعل أموال هؤلاء فيئًا للمسلمين ۳ "نبی کریم نے [ذمّی] شاتمان کے اموال کو مسلمانوں کے لئے مال غنیمت نہیں بنایا۔"

غرض جس شخص نے حنفیہ کے اس موقف سے یہ سمجھا ہے کہ احناف کے ہاں ذمّی شاتمِ رسول کی سزا قتل نہیں، اس نے بڑی غلطی کی ہے، جیسا کہ اس کی پر زور تردید علامہ ظفر احمد عثمانی نے اپنی کتاب 'اعلاء السنن' میں امام ابن حزم کا جواب دیتے ہوئے کی ہے۔ یاد رہے کہ علامہ عثمانی تھانوی کی کتاب 'اعلاء السنن' پاکستان میں علمائے دیوبند کے انتہائی معتمد عالم مولانا اشرف علی تھانوی کے افادات سے ماخوذ ہے۔ علامہ عثمانی کا یہ موقف بلا تبصرہ

۱ رد المحتار علی الدر المختار یعنی حاشیہ ابن عابدین: ۴/ ۲۱۵

۲ البحر الرائق: ۱۳/ ۴۵۸

۳ اعلاء السنن: ۱۲/ ۵۰۷

اگست 2011

صفحہ ۴۸

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! مکالمہ ۱۲

حسب ذیل ہے:

وممن فهم من عدم الانتقاض عدم القتل محدث الأندلس - العلامة ابن حزم الظاهري - فنسب إلى الحنفية القول بعدم القتل من سبّ الله ورسوله وجعل يطعنهم ويرميهم بكل سوء. ولم يدر أن الآفة في ذلك من عنده لا من عندهم، وهذا هو اللائق بظاهريته حيث قال: "وقال سفيان وأبو حنيفة وأصحابه: إن سب الذمي الله تعالى أو رسوله ﷺ بأي شيء سبه فإنه لا يقتل لكن ينهى عن ذلك وقال بعضهم: يعزر (٤١٥/١١)" فقوله: "إنه لا يقتل" كذب عليهم، وإنما قالوا: لا ينتقض العهد به ولا يلزم منه عدم القتل وكذا قوله: "وقال بعضهم: يعزر" خطأ فإنهم صرحوا قاطبة بأنه يعزر على ذلك ويؤدب كما مرّ. والتعزير عندنا يعمّ الضرب والقتل جميعًا وهو مفوّض إلى رأي الإمام، ويسمّي القتل سياسةً وإن سلمنا أنهم قالوا: لا ينتقض العهد بذلك ولا يقتل به فليس معناه أن يتركهم الأمام وهم يسبون الله والرسول ويطعنون في ديننا، في دارنا. كما فهمه ابن حزم وغيره من أهل الظاهر من قلة فهمهم وعدم تدبرهم في كلام علمائنا. بل معناه: أن العهد لا ينتقض بذلك وعلى الإمام أن ينبذ إليهم على سواء إذا آذونا في الله وفي الرسول وطعنوا في ديننا فإن الجهاد ماض إلى يوم القيامة، صرح به الشامي نقلا عن أئمتنا (٤٣٠/٣)١

”محدثِ اندلس علامہ ابن حزم ظاہری نے جو ذمی کے معاہدۂ امن نہ ٹوٹنے سے اس کی سزائے قتل کا نہ ہونا مراد لیا ہے اور اس موقف کو حنفیہ کی طرف منسوب کر دیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے شاتم کو قتل کی سزا نہیں دیتے اور اس بنا پر اُنہوں نے حنفیہ کو مطعون کیا اور برا بھلا کہا ہے۔ حالانکہ وہ حنفی موقف کو سمجھے ہی نہیں، یہ موقف اُن کے سوءِ فہم کا نتیجہ ہے نہ کہ حنفیہ کی غلطی کا۔ اور ان کی ظاہریت کو یہی لائق ہے جب اُنہوں نے یہ بات کہی کہ ”سفیان، ابو حنیفہ اور ان

اگست 2011

١ اعلاء السنن: ۵۰۶/۱۲

صفحہ ۴۹

ماہنامہ محدث حنفیّت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

کے متبعین کا کہنا ہے کہ ذمی کا اللہ اور اس کے رسول کو گالی دینا، جس چیز سے بھی وہ دشنام طرازی کرے، تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کو اس فعل بد سے روکا جائے گا، اور بعض نے کہا کہ اس جرم کی اس کو سزا دی جائے گی۔“

امام ابن حزم کا یہ کہنا کہ ذمی کو قتل نہیں کیا جائے گا، حنفیہ پر تہمت ہے۔ حنفیہ نے تو یہ کہا کہ اس سے ذمی کا عہد ٹوٹتا نہیں ہے اور نہ ہی اس سے عدمِ قتل لازم آتا ہے۔ اسی طرح ابن حزم کا یہ کہنا کہ بعض حنفیہ نے کہا کہ اس کو سزا دی جائے گی، بھی غلط ہے کیونکہ ان تمام نے یہ صراحت کی ہے کہ اس کو تعزیر بھی دی جائے گی اور اس کی تادیب بھی ہو گی جیسا کہ پیچھے گزرا ہے۔ یاد رہے کہ تعزیر حنفیہ کے ہاں ضرب اور قتل دونوں کو شامل ہے۔ البتہ یہ حاکم کی رائے پر موقوف ہے۔ اور اسے سیاسۃً قتل کرنا کہتے ہیں۔ اور بالفرض ہم مان لیں کہ ہم (حنفیہ) نے کہا ہے کہ اس سے عہد امان نہیں ٹوٹے گا اور نہ ہی اسے قتل کیا جائے گا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حاکم انہیں آزاد چھوڑ دے گا کہ وہ اللہ ، اس کے رسول اور ہمارے دین میں طعنہ زنی کرتے پھریں جیسا کہ ابن حزم اور دیگر علمائے ظاہر نے قلتِ فہم اور ہمارے علما کی رائے پر عدمِ تدبر کی بنا پر ہمارا یہ موقف سمجھ لیا ہے۔ بلکہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس بنا پر ان کا عہد نہیں ٹوٹے گا، اور حاکم اسلام کو چاہئے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور ان کے دین کے بارے میں طعنہ زنی کریں تو حاکم ان سے پوری طرح نمٹے [یعنی جنگ کرے] کیونکہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔ یہ ہے وہ موقف جس کی صراحت امام ابن عابدین شامی نے ہمارے ائمہ حنفیہ سے کی ہے۔“

شتم رسول کا ارتکاب کرے تو اس کو سزائے قتل دی جائے۔ ابن کمال پاشا لکھتے ہیں:

والحق أنه يقتل عندنا إذا أعلن بشتمه ﷺ صرح به في سير الذخيرة حيث قال: واستدل محمد لبيان قتل المرأة إذا أعلنت بشتم الرسول ﷺ بما روي أن عمير بن عدي ... مدحه على ذلك ۱

’’حق بات یہ ہے کہ ہمارے نزدیک ذمی کو قتل کیا جائے گا، جبکہ وہ نبی کریم ﷺ کو

۱ اعلاء السنن: ۵۰۵/۱۲

اگست 2011

صفحہ ۵۰

حنفیّت کے نام پر غامدیّت کی ترجمانی! محدث

علانیہ گالی دے، اور ’سیر الذخیرہ‘ میں اس کی صراحت مصنف نے یوں کی ہے کہ امام محمدؒ نے علانیہ شتم رسول کی مرتکب عورت کو قتل کرنے میں عمیر بن عدی کے عصماء بنت مروان کو رات کے وقت قتل کرنے سے استدلال کیا ہے۔“ ۱

قال محمد في السير الكبير وكذلك إن كانت تعلن بشتم رسول الله ﷺ فلا بأس بقتلها ۲ ”امام محمدؒ نے السیر الکبیر میں فرمایا ہے کہ اور اسی طرح عورت رسول اللہ کو علانیہ گالی دے تو اس کے قتل میں کوئی حرج نہیں۔“

”جب ذمی علانیہ گستاخی کا ارتکاب کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔“

وبالجملة فلا خلاف بين العلماء في قتل الذمي أو الذمية إذا أعلن بشتم الرسول أو طعن في الإسلام طعناً ظاهراً ۴ ”مذکورہ بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ ذمی مرد یا ذمیہ عورت جب نبی کریم ﷺ کو علانیہ گالی دے یا دین اسلام میں طعن کرے تو فقہائے احناف میں اس کی سزائے قتل میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔“

گویا شتم رسول کو ذمی کے لئے نقض عہد نہ ماننے والے سزائے قتل کو رفع نہیں کرتے، جبکہ شتم رسول کا اظہار کرنے والے ذمی کی سزائے قتل پر جملہ فقہائے احناف کا اتفاق ہے۔ اور یہ بات واضح ہے کہ شتم رسول جب تک دو مسلمان گواہوں کے سامنے نہ ہو اور کمرے کے اندر خاموشی سے ہو تو شتم رسول کا جرم ہی ثابت نہیں ہوا، جب یہ جرم ظاہر ہو کر دو مسلمانوں کے علم میں آجائے اور مسلم عدالت میں پہنچ جائے تو یہ شتم رسول کا اظہار ہے۔

۱ رسائل ابن عابدین: ص ۲۵۵

۲ اعلاء السنن: ۱۲/ ۵۰۵

۳ حاشیہ تبیین الحقائق: ص ۲۸۱

۴ اعلاء السنن: ۱۲/ ۵۰۵

اگست 2011

صفحہ ۵۱

مُکالمات حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

اور اس ثبوت جرم کے بغیر کوئی بھی شتم رسول کے مبینہ ملزم کو سزا دینے کا قائل نہیں ہے۔ اوپر کی بحث سے واضح ہوا کہ ذمی کے بارے میں ان احناف کا موقف جو اسے نقضِ عہد نہیں مانتے، تعبیر کی حد تک ہی مختلف ہے، اگر اسے ان دونوں نکات (سزائے قتل کا عدم رفع اور اظہار سے مشروط) کو مانا جائے تو پھر ذمی کے باب میں ان کا موقف پوری اُمت کے ساتھ ہی ہے۔ مزید یہ بھی پتہ چلا کہ مسلمان شاتم کے واجب القتل ہونے کی حد تک تو ویسے ہی احناف اجماع امت میں داخل ہیں۔ اور ذمی کے بارے میں، اگر پاکستان کے غیر مسلموں کو بالفرض ذمی مان بھی لیا جائے تو ان کو سزائے قتل نہ دینا فقہ حنفی کے خلاف ہرگز نہیں ہے کیونکہ فقہ حنفی میں ذمی کے لئے بھی سزائے قتل موجود ہے جیسا کہ مذکورہ اقوال اور مولانا ظفر احمد عثمانی کی علامہ ابن حزم پر تنقید سے بالکل واضح ہے۔

مانتے، لیکن احناف میں اکثریت اُن کی ہے جو اُسے نقض عہد تسلیم کرتے ہیں، چنانچہ ایسے حنفیہ کے موقف میں اساس کے لحاظ سے ہی جمہور علما کے ساتھ کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ یہ اکثر و نامور حنفی فقہا جمہور اہل علم کی طرح اسی بات کے قائل ہیں کہ ذمّی کو بھی تعزیر کی بجائے قتل کی سزا ہی دی جائے اور اس فعلِ بد سے اُس کا عہد امان ٹوٹ جائے گا جیسا کہ امام ابو بکر جصاص حنفی (م ۳۷۰ھ) لکھتے ہیں:

وقال الليث في المسلم يسب النبي ﷺ إنه لا يُناظر ولا يُستتاب ويُقتل مكانه... وظاهر الآية يدل على أن من أظهر سبّ النبي ﷺ من أهل العهد فقد نقض عهده۱

”لیث بن سعد نے آپ ﷺ کو گالی دینے والے مسلمان کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مناظرہ و مباحثہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا بلکہ اسے اسی جگہ قتل کر دیا جائے گا۔۔۔ آیتِ مذکورہ ﴿وَ اِنْ نَّكَثُوْا اَیْمَانَهُمْ...﴾ کا ظاہر اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ معاہدین میں جس شخص نے نبی کریم ﷺ کی گستاخی کو ظاہر کیا، گویا اس نے اپنا عہد توڑ دیا۔“

۱ احکام القرآن: ۲۷۵/۴

اگست 2011

صفحہ ۵۲

حقیقت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! ماہنامہ محدث

ولكِنّ أنا معه في جواز قتل الساب مطلقاً ١ ”تاہم میں مطلقاً ہر شاتم رسول کو قتل کرنے کے حق میں ہوں۔“ واختياري في السب أن يقتل٢ وتبعه ابن الهمام٣ ”میرے نزدیک راجح یہی ہے کہ حضور ﷺ کو گالی دینے والے کو قتل کیا جائے۔ اور اس موقف میں ان کی پیروی ابن ہمام نے بھی کی ہے۔“ امام ابو بکر جصاص اور علامہ بدرالدین عینی کے دیگر اقوال اسی شمارے کے صفحہ نمبر ۷۹، ۸۳ پر بھی ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔

والقول بأن أهل الذمة يقرون على كفرهم الأصلي بالجزية وذا ليس بأعظم منه فيقرون عليه بذلك أيضًا وليس هو من الطعن المذكور في شيء ليس من الانصاف في شيء. ويلزم عليه أن لا يعزّروا أيضًا كما لا يعزرون بعد الجزية علي الكفر الأصلي ولعمري بيع يتيمة الوجود ﷺ بثمن بخس٤ ”یہ کہنا کہ چونکہ جزیہ کی ادائیگی کے بعد اہل ذمہ کو ان کے کفر اصلی پر قائم رہنے کی اجازت دی جاتی ہے اور سبّ و شتم اس کفر سے بڑا نہیں ہے، اس لئے انہیں اس پر بھی قائم رہنے دیا جائے گا، انصاف سے بالکل بعید بات ہے۔ اس صورت میں تو یہ لازم آئے گا کہ جیسے انہیں جزیہ ادا کرنے کے بعد انکے کفر اصلی پر کوئی تعزیر نہیں کی جاتی، اسی طرح سبّ و شتم پر بھی کوئی تعزیر نہ کی جائے۔ واللہ! یہ تو کائنات کے درّ یتیم ﷺ کو نہایت حقیر قیمت کے عوض فروخت کر دینے کے مترادف ہے۔“

وَالَّذِي عِنْدِي أَنَّ سَبَّهُ ﷺ أَوْ نِسْبَةَ مَا لَا يَنْبَغِي إِلَى اللهِ تَعَالَى إِنْ كَانَ

١ عمدۃ القاری: ۱۷۱/۱۳، دوسرا نسخہ: ۳۳۸/۱۹ ٢ ردّ المحتار: ۳۳۴/۶ ٣ اعلاء السنن: ۵۱۲/۱۲ ٤ روح المعانی: ۵۸،۵۹/۱۰

اگست 2011

صفحہ ۵۳

محدث حقیقت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

مِمَّا لَا يَعْتَقِدُونَهُ كَنِسْبَةِ الْوَلَدِ إِلَى اللّٰهِ تَعَالٰى وَتَقَدَّسَ عَنْ ذٰلِكَ إِذَا أَظْهَرَهُ يُقْتَلُ بِهِ وَيُنْتَقَضُ عَهْدُهُ١

”میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ ذمی نے اگر حضور ﷺ کی اہانت کی یا اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی طرف غیر مناسب چیز منسوب کی جو ان کے اعتقادات سے خارج ہے۔ جب وہ ان چیزوں کا اظہار کرے تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا اور اسے قتل کر دیا جائے گا۔“

علامہ ابن ہمام کا ایک قول پیچھے نمبر ۵ کے تحت بھی گزر چکا ہے، وہاں اُنہوں نے اس جرم کو مستقل حد قرار دیتے ہوئے واجب القتل قرار دیا اور اس کی توبہ کی عدم قبولیت کا موقف پیش کیا تھا، اسی بنا پر وہ یہاں ذمی کے لئے اس جرم کو نقض عہد اور وجوب قتل کی بنیاد قرار دے رہے ہیں۔ اظہار کا مفہوم یہاں وہی ہے جو ثبوت جرم کا تقاضا ہے۔

إِذَا سَبَّ الرسول ﷺ أو واحدًا من الأنبياء فإنه يقتل حدًّا فلا توبة له أصلًا سواءً بعد القدرة عليه والشهادة أو جاء تائبًا من قبل نفسه كالزنديق لأنه حد وجب فلا يسقط بالتوبة كسائر حقوق الآدميين كحد القذف لا يسقط بالتوبة بخلاف ما إذا سب الله تعالى ثم تاب لأنه حق الله تعالى ولأن النبي عليه السلام بشر والبشر جنس يلحقهم المعرة إلا من أكرمهم الله تعالى والباري منزه عن جميع المعايب وبخلاف الارتداد لأنه معنى يتفرد المرتد لا حق فيه لغيره من الآدميين ولكنا قلنا إذا شتمه عليه الصلوة والسلام لا يعفى ويقتل أيضا حدًّا وهذا مذهب أبي بكر الصديق رضي الله عنه والأمام الأعظم والثوري وأهل الكوفة والمشهور من مذهب مالك وأصحابه٢

”جب کوئی بدبخت رسول کریم ﷺ یا کسی نبی کی گستاخی کرے، تو اس کو بطور حد قتل کر دینا واجب ہے۔ اس کی اصلاً کوئی توبہ قابل قبول نہیں، چاہے اس کو پکڑ کر لایا

اگست 2011

١ شرح فتح القدیر: ۲۰۵/۱۳، دوسرا نسخہ ۳۰۳/۵ ٢ فتاویٰ بزازیہ: ۳۲۲/۴

صفحہ ۵۴

حنفیّت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! ماہنامہ محدث

جائے، یا اس کے خلاف گواہی دی جائے یا وہ خود توبہ کر کے آپہنچے، مثل زندیق کے۔ کیونکہ اس پر حد واجب ہوگئی جو انسانوں کے دیگر حقوق کی طرح محض توبہ سے ختم نہیں ہوجاتی۔ جیسا کہ تہمت طرازی کی حد ہے جو توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ بر خلاف اللہ کی گستاخی کے، کیونکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کا ہی حق ہے۔ جبکہ نبی بشر ہیں اور بشر کو شرم و عار لاحق ہو سکتی ہے مگر جسے اللہ تعالیٰ عزت دے اور باری تعالیٰ خود تو ہر قسم کے عیوب و نقائص سے بالاتر ہیں۔ اور بر خلاف ارتداد کے بھی کیونکہ ارتداد میں انسان کسی دوسرے انسان کا حق متاثر نہیں کرتا۔ اسی بنا پر ہم کہتے ہیں کہ جب کوئی نبی کریم ﷺ کو سبّ و شتم کرے گا، اس کو معاف نہیں کیا جائے گا اور اس کو حد کے طور پر قتل کر دیا جائے گا۔ یہی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، امام اعظم، ثوری، اہل کوفہ کا موقف ہے اور امام مالک اور ان کے شاگردوں سے مشہور موقف بھی یہی ہے۔“

أما إذا سبّ رسول الله ﷺ أو واحدًا من الأنبياء عليهم السلام يقتل حدًّا ولا توبة له أصلا سواء بعد القدرة والشهادة أو جاء تائبًا من قبل نفسه كالزنديق لأنه حد وجب فلا يسقط بالتوبة كسائر حقوق الآدميين وكحد القذف لا يزول بالتوبة بخلاف من سبّ الله تعالى ثم تاب لأنه حق الله تعالى والبارى تعالى منزه عن جميع المعايب وبخلاف الارتداد لأنه يتفرد به المرتد لا حق فيه لغيره من الآدميين ولهذا قلنا إذا شتمه ﷺ لا يُعفَى ويُقتل أيضًا حدًّا وهذا مذهب أبي بكر الصديق رضي الله عنه والإمام الأعظم والثوري وأهل الكوفة رضوان الله عليهم والمشهور من مذهب مالك وأصحابه رحمهم الله۱

”جو شخص بھی رسول اللہ یا کسی نبی کو دشنام طرازی کرے، تو اس کو حد کے طور پر

۱ تعارف کے لئے دیکھیں: کشف الظنون از حاجی خلیفہ ۱/ ۱۱ ۲ منیۃ المفتین از قاضی عبد المعالی بن خواجہ البخاری من علماء القرن العاشر الہجری: ۲/ ۳۳۶

اگست 2011

صفحہ ۵۵

انی! مکالمات ين أن يجيء تائبًا من نفسه أو شهد عليه بذلك من المكفرات فإن الإنكار فيها توبة فلا تعمل ني قالوا يقتل وإن سب سكران ولا يعفى عنه١ نا رسول اللہ ﷺ سے دلی طور پر بغض رکھا، وہ مرتد ہو جاتا ہے لاولیٰ مرتد ہو گا۔ اور پھر ایسا شخص ہمارے نزدیک بطور حد قتل ئے قتل کے بارے میں اس کی کوئی توبہ قبول نہیں ہو گی۔ اُنہوں اور امام مالک کا یہی مذہب ہے اور سیدنا ابو بکر صدیق والی حدیث ۔ اور اس امر میں کوئی فرق نہیں کہ وہ خود توبہ کر کے آئے یا دوسرے نے گواہی دی ہو بر خلاف دیگر کفریہ اعمال کے کیونکہ کا توبہ ہے، اس میں دوبارہ گواہی کا بھی کوئی اعتبار نہیں حتیٰ کہ ب کہا ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے گا، اگرچہ نشہ کی حالت میں اف نہیں کیا جائے گا۔“

نامی فرماتے ہیں کہ ماع ہے کہ اگر مسلمان کہلانے والا شخص رسول ﷺ کی شان میں یا فعل سے توبہ نہ کرے تو اس کی سزا بطور حد موت ہے۔“٢

فی فقہا میں سے امام کر دری عرف ابن بزاز، امام خیر الدین رملی ہ نے بھی توہین رسالت کی سزاے قتل کو حدّ قرار دیا ہے، جیسا کہ الے مجلہ ہذا کے صفحہ نمبر ۸۲، ۸۱ میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔

ر بن سحنون مالکی (متوفی ۲۵۶ھ) نے بھی توہین رسالت کی سزاے قرار دیا ہے اور قاضی عیاض (متوفی ۵۴۴ھ) نے جمہور فقہا، ائمہ پر ان کے متبعین کا یہ موقف بتایا ہے: أصحابه وقول السلف وجمهور العلماء قتله حدًا میں سے پہلے چار میں علی الاطلاق شاتم رسول کی سزا قتل قرار دی

، طبع جدید: ۲۰۰۷/۴ شتاق احمد : مجلہ الشریعہ، جون ۲۰۱۱ء : ص ۲۶

مکالمات حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! قتل کیا جائے گا اور اس کی کوئی توبہ نہیں، چاہے پکڑے جانے کے بعد ہو یا گواہوں کے بعد یا وہ ازخود توبہ تائب ہو کر پیش ہو جائے، زندیق کی طرح۔ کیونکہ اس پر حد واجب ہو گئی جو اکیلی توبہ سے ساقط نہیں ہوگی، جس طرح انسانوں کے دیگر حقوق کا معاملہ ہے اور جس طرح تہمت کی حد کا مسئلہ ہے جو توبہ سے ختم نہیں ہو جاتی۔ برخلاف اس شخص کے جس نے اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کی تو اللہ سے توبہ کر کے وہ اللہ کے حق کو ادا کر دیتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ در حقیقت تمام عیوب سے مبرا و منزہ ذات باری ہے (یعنی اللہ کی گستاخی کرنے والا توبہ کر کے اپنے آپ سے دنیوی حد کو ساقط کر سکتا ہے)۔ اور بر خلاف اس شخص کے بھی جو مرتد ہو گیا [تو وہ توبہ کر کے اپنے آپ سے سزا کو ساقط کر سکتا ہے] کیونکہ ارتداد میں انسانوں کا کوئی حق مجروح نہیں ہوا۔ اسی بنا پر ہم کہتے ہیں کہ جس نے نبی کریم کی گستاخی کی اسے معاف نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اب آپ کا حق معاف نہیں ہو سکتا۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، امام اعظم ابو حنیفہ، امام ثوری، اہل کوفہ رحمہم اللہ کا یہی موقف ہے اور امام مالک اور ان کے متبعین کا بھی یہی موقف مشہور ہے۔“

أكثر العلماء على أن من سب النبي ﷺ من أهل الذمة أو عرض واستخف بقدره أو وصفه بغير الوجه الذي كفر به فإنه يقتل١

”اکثر علما کا کہنا ہے کہ اہل ذمہ میں سے جو شخص نبی ﷺ کو گالی دے یا تعریض کرے یا آپ کی قدر ہلکی جانے یا اپنے کفر کے علاوہ کسی چیز سے آپ کو موصوف کرے تو اسے قتل کیا جائے گا۔ ہم اسے ذمہ یا عہد و پیمان نہیں دے سکتے۔“

اوپر کے چار اقوال نمبر ۵ تا ۸ میں نہ صرف یہ کہ ذمی کے لئے شتم رسول کے بعد نقض عہد کے موقف اختیار کیا گیا ہے بلکہ بعد میں ۹ تا ۱۱؍ اقوال میں اس جرم کو براہ راست حد قرار دیتے ہوئے، اُس کے ناقابل معافی ہونے کی شرعی توجیہات بھی پیش کی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ آخری موقف جس حنفی فقیہ نے اختیار کیا ہے اور اسے امام ابو حنیفہ سے بھی منسوب قرار دیا ہے، ان کا زمانہ پانچویں صدی ہجری کا وسط ہے۔ اور بعد میں خیر الدین رملی

١ الجامع لأحكام القرآن: ۵۲/۸

اگست 2011

صفحہ ۵۶

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

محدث

اور ابن بزاز نے جن الفاظ میں اسے اختیار کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے استدلال و رجحان کا محور یہی موقف ہے جو پانچویں صدی ہجری سے فقہ حنفی میں مشہور ہے۔

دراصل شتم رسول کے بارے میں یہ نکتہ اساسی حیثیت رکھتا ہے کہ یہ جرم ارتداد وعقوق والدین وغیرہ کی طرح محض گناہ نہیں بلکہ زنا، سرقہ اور تہمت جیسے جرائم کی طرح ایک قابل سزا جرم بھی ہے۔ کیونکہ اس میں ذات نبوت ﷺ پر اتہام طرازی کی گئی ہے جو ان پر جنایت (زیادتی) کے مترادف ہے۔ ذات نبوت پر جنایت کے ذریعے پوری اُمت اسلامیہ کے دل بھی چھلنی کئے گئے ہیں۔ اس لحاظ سے شتم رسول کے جرم میں اللہ کا حق، رسول اللہ کا حق اور اُمت کا حق، متاثر ہوتے ہیں۔ ١

آخری اقوال میں نہ صرف اس کی قانونی علت پیش کی گئی بلکہ اس جرم کے براہ راست ارتداد نہ ہونے اور اس کے کلی مماثل نہ ہونے کی نفی بھی کی گئی ہے اور یہی شرع اسلامی کا اصل و حقیقی موقف ہے۔ یعنی یہ سنگین جرم پہلے حق نبوت میں ڈاکہ زنی کی بنا پر قابل سزا شرعی حد ہے۔ اس کے بعد اس کی شناعت و شدت کا یہ عالم ہے کہ شاتم کو ارتداد کی طرف لے جاتا ہے۔ جن علما نے اس کو سیدنا ابو بکر صدیق کے موقف کی طرح براہ راست حد اور قابل سزا بتایا، ان کا موقف کھرا ہے اور جنہوں نے اس کو ارتداد قرار دیا ہے، ان کے موقف میں قدرے گنجائش پائی جاتی ہے۔ پھر وہ اسے محض ارتداد بنا کر، مرتد کی توبہ کا مسئلہ لے آتے یا ذمی کا معاملہ کھول لیتے ہیں کیونکہ مرتد کی سزا مسلمان کے لئے ہی ہوتی ہے اور ذمی پر لاگو نہیں ہوتی۔

واضح رہے کہ شتم رسول کے مسئلہ میں ارتداد سے انکار نہیں بلکہ یہ ارتداد کی بدترین صورت ہے کیونکہ اس میں ارتداد سے قبل ذات گرامی ﷺ پر زیادتی بھی ہے۔ اس بنا پر ایسے مجرم کا کفر عام ارتداد سے زیادہ بڑا، زیادہ قبیح اور زیادہ شدید ہے، جیسا کہ علامہ ابن تیمیہ نے السب أعظم من جرم المرتد ٢، قاضی ابن عابدين نے إن كفره أشنع، علامہ ابن

١ تفصیل کے لئے دیکھیں: ’مسئلہ توہین رسالت پر چند سوالات‘ از راقم: ’محدث‘ فروری ۲۰۱۱ء ٢ امام ابن تیمیہ کے الفاظ ہیں: لم يُقتل لمجرّد الردّة، وإن السابّ وإن ارتدّ فليس بمنزلة المرتد المحض، ان کی کتاب الصارم المسلول کے بعض عناوین ملاحظہ ہوں: سبّ الرسول أعظم من الردة،

اگست 2011

محدث

ہے۔ پھر مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے توہین رسالت کی کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع بھی نقل کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا جرم کی سزا کے قتل ہونے میں اختلاف ہے اور نہ ہی جرم کی نـ کے ہاں اس کی سزا میں کوئی فرق پیش نظر رکھا گیا ہے۔ یہ با وہ اسے ایک تعزیر سمجھتے ہیں یا چھوٹی موٹی سزاؤں سے شاتم کی

وحكم الساب يقتل ’نبی ﷺ کو دشنام طرازی کرنیوالے کی سزا یہ ہے کہ اسـ‘

قال أبو يوسف : وأيما رجل مسلم سب رسـ أو عابه أو تنقصه فقد كفر بالله تعالى وبانت منـ قتل وكذلك المرأة إلا أن أبا حنيفة قال: لا الإسلام ٢ ”قاضی ابو یوسف کہتے ہیں کہ کوئی بھی مسلمان جو رسـ گستاخی کرے، یا ان کی تکذیب و تنقیص کرے، یا اُن کی اللہ تعالیٰ سے کفر کیا اور اس کی بیوی طلاق یافتہ ہو گئی ۔ وگرنہ اس کو قتل کر دیا جائے ۔ یہی حکم عورت کا ہے، تا عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا اور اسے اسلام کی طرف

حنفی (متوفی ۸۶۱ھ) لکھتے ہیں: كل من أبغض رسول ﷺ بقلبه كان مرتداً ثم يقتل حدًا عندنا فلا تعمل توبته في إسـ مذهب أهل الكوفة ومالك ونقل عن أبي حـ

١ حاشیہ سندھی بر سنن نسائی: ۱۵۳/۲ ٢ کتاب الخراج: ص ۱۸۲، دار المعرفہ، بیروت ۱۹۷۹ء

صفحہ ۵۸

مقالات

حنفیّت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی !

بات درست نہیں کیونکہ

سے روایت کیا ہے، گویا امام محمد سے ہی یہ موقف احناف میں چلا آرہا ہے۔ اور صدرِ اوّل سے ہی احناف میں دو موقف موجود ہیں جیسا کہ اس بات کا تذکرہ قاضی شامی نے اپنی کتاب ’العقود الدریہ‘ میں بھی کیا ہے: أَنَّ مَنْ سَبَّ النَّبِيَّ ﷺ يَكْفُرُ فَإِنْ تَابَ تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ وَلَا يُقْتَلُ عِنْدَهُ وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، خِلَافًا لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ ”جو بھی نبی کریم کو سبّ و شتم کرے گا، وہ کافر ہوجائے گا، تاہم اگر وہ توبہ کر لے تو امام ابو حنیفہ اور قاضی ابو یوسف کے ہاں اس کی توبہ قابل قبول ہوگی اور اس کو قتل نہیں کیا جائے گا، جبکہ امام محمد بن حسن نے اس موقف سے اختلاف کیا ہے۔“ عدم قبولیت توبہ پر امام محمد کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ حنفیہ میں یہ اختلاف روزِ اوّل سے چلا آرہا ہے، نہ کہ یہ امام ابن بزاز کی روایت پر ہی موقوف ہے۔

احناف میں اس موقف کا خالق ابن بزاز (م ۸۲۷ھ) کو ہی سمجھا جائے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان سے پانچ صدیاں قبل ابو بکر جصاص حنفی (م ۳۷۰ھ) نے ذمی کے نقض عہد کا موقف کہاں سے اختیار کیا؟ ان سے چار صدیاں قبل امام ناطفی (م ۴۴۶ھ) حنفی نے کیسے کہہ دیا کہ توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ ایسے ہی ابن بزاز سے کہیں زیادہ معروف ان کے معاصرین امام عینی (م ۸۵۵ھ) اور ابن ہمام (م ۸۶۱ھ) کو بھی کیا ضرورت پڑی تھی کہ حنفی موقف خود دیکھنے کی بجائے وہ اپنے ایک معاصر کی رائے پر اکتفا کریں، جبکہ ابن ہمام کا تو لقب ہی احناف کے ہاں ’خاتمۃ المحققین‘ ہے۔ اسی طرح ابن نجیم جنہیں احناف میں ’ابو حنیفہ ثانی‘ کا لقب دیا گیا ہے، انہیں کیوں کر یہ عظیم غلطی لگی؟ ظاہر ہے کہ یہ ان کے فہم اور تفقہ دین کی صلاحیت اور علمی مقام پر طعن طرازی ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔

١ العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: ۲/ ۱۸۴

اگست 2011

مقالات کوئی اس کی مقررہ سزا بیان نہیں کرتا اور ہے، سراسر بے اصل اور غلط دعویٰ ہے۔

توہین رسالت پر اجماع کے اس بیان اوّل، تو ان میں کسی مقام پر کمتر سزا کا الدم یعنی اس کے خون حلال ہونے کا جوا ہونے کی سزا کو ہی بیان کرتا ہے، جیسا ک کے الفاظ سے بھی کی ہے، دیکھئے نمبر ۳، ۵ کا لفظ بھی بولا گیا ہے جیسے نمبر ۱۲ اور ۱۳ اور آ اس صراحت سے واضح ہوجاتا ہے ک واجب ہے۔ اجماع کی یہ عبارات بتاتی ہیں سزا یعنی حد ہونے پر اُمّت مسلمہ میں اتفاق

دوم، متعدد مستند علما کی زبانی اُمّت کے بھی اس اجماع میں شامل ہیں اور توہین رسا قدیمی موقف ہے، وگرنہ اجماع کا تقاضا سزائے قتل واجب ہونے کے بارے میں دلیل ہیں۔ یہی اصل مسئلہ ہے اور اس بات

فقہ حنفی میں توہین رسالت کی سزا

جہاں تک علمائے احناف کے موقف اختلاف نہیں کہ توہین رسالت کی سزا قتل کی سزا بطور حد قتل ہے یا یہ جرم حد ارتداد جرم کی تعبیر و توجیہ میں اختلاف موجود ہ یہ کہنا کہ علمائے احناف کے ہاں اس کی سز کی تعریف فقہ حنفی کی مستند کتاب کنز الد

صفحہ ۵۷

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی ! ماہنامہ محدث

نجیم حنفی نے ’ارتدادِ مغلظ‘ اور قاضی عیاضؒ ’السبّ أقبح الثلاثۃ‘ کے الفاظ استعمال کر کے اس کی نشاندہی کی ہے اور اسی کو ’ردہ عامہ‘ یا ’ردہ خاصہ‘ سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شتم رسول کو مستقل حد قرار دینا یا بعض احناف کے اسے ارتداد قرار دینے میں باہم مطابقت نکل آتی ہے اور بعد کے فقہائے احناف کی اس صراحت کے ذریعے حنفیہ کے ہاں اس سزا کی توجیہ و تعلیل میں موجود ظاہری اختلاف بھی رفع ہو جاتا ہے۔

في شفاء القاضي عن أصحابنا وغيرهم من المذاهب الحق أن توبته لم تقبل وقتل بالإجماع ۱

”قاضی عیاض کی ’الشفاء‘ میں ہمارے حنفی ساتھیوں اور دیگر فقہی مذاہب کا یہ موقف حق بیان ہوا ہے کہ اجماعی طور پر شاتم کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، اور اس کو قتل کیا جائے گا۔“

شاتم کی قبولیتِ توبہ کا مسئلہ

یہاں تک ہونے والی بحث میں ذمی کے لئے نقض عہد کا مسئلہ پیش کیا گیا کہ جو حنفی فقہا اس کو نقض عہد قرار نہیں دیتے، وہ بھی ثبوت جرم کے بعد سزائے قتل کے رفع کے قائل نہیں ہیں اور جو اسے نقض عہد سمجھتے ہیں وہ تو بالاولی شاتم ذمی کو واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ اس کے بعد دوسرا مسئلہ توبہ کی قبولیت و عدم قبولیت کا پیدا ہوتا ہے، اس بارے میں حنفی علما : بزازی، رملی، ابن نجیم اور ابن ہمام رحمہم اللہ کا موقف شاتم کی عدم قبول توبہ کا ہے جس کی فقہی اساسات بھی گزر چکی ہیں۔

قاضی ابن عابدین شامی نے کہا ہے کہ احناف میں فتاویٰ بزازیہ کے مؤلف شیخ محمد بن شہاب المعروف ابن البزاز (متوفی ۸۲۷ھ) نے شاتم رسول کی توبہ کے مسئلے میں غلطی کھائی ہے اور اُنہوں نے حنفیوں کا موقف غلط ذکر کر دیا ہے، اور اس کے بعد اُن کی اس غلطی پر بعد میں آنے والے علمائے احناف نے اسی غلط موقف کو اختیار کر لیا، حالانکہ قاضی شامی کی یہ

الدليل على أن السب جناية مفردة، إن السب جناية زائدة على كونه كفرًا وحربًا

۱ حسب المفتیین از قاضی عبد المعالی بن خواجہ البخاری : ۲ / ۳۳۷

اگست 2011

صفحہ 59

ماہنامہ محدث حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

جائے تو اس سے بھی اس الزام کی تائید نہیں ہوتی، کیونکہ اُنہوں نے اس موقف کو یا تو براہ راست استدلال کی بنا پر اختیار کیا ہے یا صدرِ اول سے چلے آنے والے اختلاف کی بنا پر... نامور حنفی فقہا مثلاً امام ابن ہمام (م ۸۶۱ھ)، ابن نجیم (م ۹۷۰ھ)، علامہ خسرو (م ۸۸۵ھ)، علامہ تمرتاشی اور شیخ خیر الدین الرملی وغیرہ نے اس موقف کو امام محمد سے لیا ہے۔ اور امام خیر الدین رملی اور امام آلوسی نے زبردست شرعی دلائل کی بنا پر اس فقہی موقف کو اختیار کیا ہے اور امام ابن ہمام نے بھی توبہ کی عدم قبولیت کی واضح صراحت کی ہے۔ یہ فقہا اس موقف کو امام ابو حنیفہ اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے فرمان کے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔ الغرض اس باب میں حنفی فقہا کی عظیم اکثریت جمہور علماء اُمت کے ہی ساتھ ہے۔

حنیفہ کسی صحابی کے قول کے خلاف رائے دینے کے قائل نہیں۔ جبکہ اس معاملہ میں صحابہ کا اجماع ہے، بالخصوص سیدنا ابو بکر صدیق اور متعدد صحابہ کا شتم رسول پر ذمی کے نقض عہد کے بارے میں صریح فرمان موجود ہے۔

مرتکب کی توبہ قبول نہیں، جب احناف کا موقف شیخین کے بارے میں اس قدر واضح ہے تو سید المرسلین ﷺ کے بارے میں بھی احناف کا موقف اس قدر پختہ ہی ہونا چاہئے۔ امام ابن نجیم حنفی کتاب السیر کے ’باب الردۃ‘ میں لکھتے ہیں:

كل كافر تاب فتوبته مقبولة في الدنيا والآخرة إلا جماعة: الكافر بسب نبي وبسب الشيخين أو أحدهما1

”ہر کافر کی توبہ دنیا اور آخرت میں قبول ہو سکتی ہے، مگر ایسا کافر جو نبی کریم ﷺ یا شیخین رضی اللہ عنہم کی گستاخی کر کے کافر ہو تو اس کی توبہ قابلِ قبول نہیں۔“

1 الاشباہ والنظائر: ۱/ ۲۱۵

اگست 2011

صفحہ ۶۰

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! ماہنامہ محدث

ذمیوں کی بجائے اگر غیر مسلموں کا لفظ استعمال کریں تو اس کو بھی حنفی موقف کی درست ترجمانی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ بعض احناف کے موقف میں ذمیوں کے لئے تو فرق پایا جاتا ہے غیر مسلموں کے لئے نہیں۔ غیر مسلم یعنی کفار کے لئے فقہائے احناف کا موقف بڑا واضح ہے جو ان الفاظ میں صاحب ’در مختار‘ علامہ حصکفی حنفی نے بیان کیا ہے:

و (الكافر بسب نبي) من الأنبياء فإنه يقتل حدًّا ولا تقبل توبته مطلقًا ولو سبّ الله تعالى قبلت لأنه حق الله تعالى والأول حق عبد لا يزول بالتوبة ومن شك في عذابه وكفره كفر ۱

”جہاں تک شاتم نبوت یا کسی اور نبی کے گستاخ کافر کا تعلق ہے تو اس کو بطور حد قتل کیا جائے گا، اور مطلقاً اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ تاہم اگر وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرے تو اس کی توبہ مقبول ہو سکتی ہے کیونکہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے جبکہ پہلے جرم میں بندے کا حق بھی شامل ہے جو توبہ سے زائل نہیں ہوتا۔ جو شخص کافر کی اس سزا اور اسکے کفر میں شک کرے تو وہ بھی کافر ہو جاتا ہے۔“

قاضی ابن عابدین شامی بھی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

وَالْكَافِرُ بِسَبِّ نَبِيٍّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ حَدًّا وَ لَا تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ مُطْلَقًا

”جہاں تک کسی کافر شاتم رسول کا معاملہ ہے تو اس کو حد کے طور پر قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ مطلقاً قبول نہیں کی جائے گی۔“

☜ یہاں یہ بھی یاد رہنا چاہئے کہ اگر بعض حنفی علما کے ذمیوں کے بارے میں موقف کو اختیار کیا جائے تو اس سے مسلم ممالک کی موجودہ صورتحال میں فقہی طور پر کوئی فرق واقع نہیں ہوتا کیونکہ فی زمانہ پاکستان میں غیر مسلم حضرات اپنے آپ کو ذمی نہیں مانتے، وہ اس حیثیت کو قبول کرنے کی بجائے مساوی مقام کے دعویدار ہیں، اس بنا پر ان میں سے کوئی ایک بھی ذمہ ادا کرنے کے سوال سے ہی بھڑک اٹھتا ہے، جیسا کہ یہ بات واضح ہے۔ ان پر شرعاً کافر کے احکامات کا ہی اطلاق ہو گا جس کی سزا آپ اوپر ملاحظہ کر چکے ہیں۔

نوٹ: مذکورہ بالا فقہی اقوال میں استدلال کے لئے جب بعض عبارتوں کو پیش کیا گیا تو ان

۱ الدر المختار از حصکفی : ۴/ ۲۳۴

۲ رد المحتار علی الدر المختار : ۱۶/ ۲۸۱

اگست 2011

صفحہ 61

ماہنامہ محدث حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی !

میں بعض دوسرے جزوی رجحانات بھی نظر آتے ہیں جس سے قاری کو تشویش پیدا ہوتی ہے۔ دراصل کتاب وسنت، جو کلام و مراد الٰہی ہیں، میں یہ جزوی تعارض اس بنا پر آخر کار رفع ہو جاتے ہیں کہ وہ اصل شریعت ہیں اور وحی الٰہی پر مبنی ہیں، جبکہ فاضل اہل علم کی آرا کو کسی ایک مسئلہ پر بالکل یکجان کر کے پیش کرنا بعض اوقات ممکن نہیں ہوتا کیونکہ مختلف اشخاص سے صادر ہونے کی بنا پر ان کے رجحانات اور توجیہات میں حقیقی فرق موجود ہوتا ہے۔ ہر فقیہ اپنے طور پر کسی مسئلہ کی توجیہ کرتا اور اس میں ترجیح قائم کرتا ہے، اس لئے کتاب وسنت کے متون و معانی جیسا کلّی فکری اتحاد فقہی عبارتوں میں تلاش کرنا مشکل ہے۔

کیا توہین رسالت کی سزا کی اساس محاربہ ہے؟

جملہ محدثین کرام، فقہائے عظام اور مضمون نگار کے موقف میں جو بنیادی فرق ہے، وہ یہ ہے کہ اُمتِ مسلمہ کے ہاں مسلمان شاتم رسول کی سزا کے قتل ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور اس کی یہ سزا بالاجماع ہے، اس میں کمی بیشی اور تکرار و اظہار کا کوئی فرق نہیں ہے۔ تاہم ذمی کے بارے میں بعض حنفی فقہا نے یہ تفصیل ضرور پیش کی ہے کہ تکرار واظہار کی بنا پر سیاسۃً و مصلحتاً اس کی سزا قتل ہوگی، لیکن اس موقف میں آگے بڑی تفصیل ہے۔

جبکہ دوسری طرف مضمون نگار سرے سے اس جرم کی مقررہ سزا ہی نہیں مانتے بلکہ وہ موقف جو ذمی حضرات کے بارے میں بعض حنفی فقہا کی طرف منسوب ہے، اس کو اس مسئلہ میں اصل قرار دیتے ہوئے، اسی مسئلہ کو مسلمان و غیر مسلم تمام کے لئے یکساں سمجھتے ہیں۔ اس بنا پر مضمون نگار کا یہ موقف اُمتِ مسلمہ کے اجماع سے صریح انکار کے مترادف ہے۔ اس موقف کو اختیار کرنے کی وجہ احادیثِ رسول اور اجماع صحابہ کی دلالت کو نظر انداز کرتے ہوئے، ان کی یہ تاویل کرنا ہے کہ احادیث میں یہ سزائیں تکرار جرم یا توہین رسالت کے ساتھ مزید جرائم مل جانے کی بنا پر یا جنگی سیاق میں دی گئی ہیں، ظاہر ہے کہ احادیث کے بارے میں ان کی یہ تاویل قطعاً درست نہیں۔

الغرض بعض حنفی علما نے ذمیوں کے لئے علیحدہ مسئلہ بیان کیا ہے لیکن موصوف نے اس فرق کو ذمیوں کے لئے مخصوص رہنے کی بجائے اس کو اصل مسئلہ کے تعین میں اساس کی حیثیت دے لی ہے اور ذمیوں کا موقف مسلمانوں کے ساتھ خلط ملط کر کے، اضطراب

اگست 2011

صفحہ ٦٢

ماہنامہ محدث حنیفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی !

وانتشار دکھا کر پورے مسئلہ کو ہی تبدیل کر دینے کی کوشش کی ہے۔

جب ان کے ہاں ایک استثنائی موقف، اصل مرکزی مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے تو اس نتیجہ تک پہنچنے کے لئے احادیث کی دلالت ختم کرنا اور ان کی توجیہ و تاویل کئے بنا کوئی چارہ نہیں تھا۔ چنانچہ ان کے نزدیک شتم رسول بذات خود کوئی جرم نہیں بلکہ اس جرم کی سزا معاشرے میں انتشار و افتراق اور سماجی مصلحت کے پیش نظر ہی دی جائے۔ اس لئے اُنہوں نے اس کو محاربہ کی قبیل سے قرار دیا ہے جو دراصل فساد فی الارض کی روک تھام کے لئے ہوتا ہے۔

اس کو محاربہ قرار دینے کا ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ اس طرح یہ جرم حدود سے نکل گیا کیونکہ محاربہ میں جرم کی نوعیت و کیفیت کے پیش نظر ایک سے زائد سزائیں موجود ہیں اور ایک مقررہ سزا نہ ہونے کی بنا پر بعض فقہا کے نزدیک محاربہ حد کے ذیل میں نہیں آتا۔ دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ محاربہ کی سزا کے ضمن میں محض جلاوطنی جیسی بے ضرر سزا بھی شامل ہے، جسے ان کے الفاظ میں ’شہری حقوق سے محرومی‘ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ محاربہ کی صورت میں آسان سزائیں بھی ممکن ہیں۔ تیسرا فائدہ یہ ہوا کہ محاربہ کے تحت آنے کی بنا پر اس میں قرآن کریم سے توبہ کی گنجائش میسر آگئی۔ حالانکہ یاد رہنا چاہئے کہ محاربہ میں توبہ کی گنجائش قرآنی الفاظ کی رو سے مجرم کے عدالتی گرفت میں آنے سے پہلے پہل ہے، تاہم اس کے باوجود وہ اہانتِ رسول کو محاربہ قرار دے کر، بعد از گرفت بھی اس کو توبہ کا موقع دینے کی تجویز دے رہے ہیں جس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

کہیں بھی اس جرم کی سزا کے لئے اصولی طور تکرار وفساد کی شرط (ماسوائے ذمی) عائد نہیں کی گئی اور یہی بات سیدنا ابو بکر کے مذکورہ اُصولی واقعہ سے ثابت ہوتی ہے۔

اگست 2011

وقت کبھی کسی حدیث میں محاربہ کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ نہ ہی پیچھے مذکور اقوال میں اسے محاربہ قرار دیا گیا ہے۔ محاربہ کی سزائیں تو ٹکڑے کر دیا جانا یا سولی دیا جانا، یا مخالف سمت سے ہاتھ پاؤں کاٹ دینا یا جلاوطن کرنا ہیں۔ ظاہر ہے کہ توہین رسالت کے درجن سے زائد واقعات میں کہیں بھی ان میں سے کوئی سزا نہیں دی گئی بلکہ اُن کو موت کے گھاٹ

صفحہ ۶۳

ماہنامہ محدث حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

اُتارا گیا ہے۔ اس لئے اس کو فساد فی الارض میں شامل کر کے محاربہ کا دعویٰ کرنا بالکل فضول سی بات ہے۔

کے فیصلہ کو تسلیم نہ کرنے والے منافق کی گستاخی کی سزا، اس کو قتل کر کے دی تھی: لا تعجلا حتى أخرج إليكما فدخل فاشتمل على السيف وخرج فقتل المنافق ثم قال: هكذا أقضي بين من لم يرض بقضاء رسول الله. فأتى جبريل رسول الله ﷺ فقال: إن عمر قد قتل الرجل وفرق الله بين الحق والباطل على لسان عمر. فسمّي الفاروق١ ”میرے آنے سے قبل نکل مت جانا۔ پھر حضرت عمر تلوار لے کر آئے اور منافق کو قتل کر دیا، پھر فرمایا: اس کے بارے میرا فیصلہ یہ ہے جو رسول اللہ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا۔ پھر حضرت جبریل نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ عمر نے اس کو قتل کر دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان سے حق اور باطل کا فیصلہ کر دیا ہے۔ اس بنا پر عمر کا نام 'فاروق' رکھ دیا گیا۔“

یہ واقعہ ابن لہیعہ کے ضعیف طریق کے علاوہ ابو مغیرہ اور شعیب بن شعیب کے صحیح طریق سے بھی مروی ہے٢، اس بنا پر حافظ ابن کثیر اور امام احمد بن حنبل وغیرہ نے اسے قابلِ اعتبار قرار دیا ہے، علامہ ابن تیمیہ اپنی کتاب میں اس واقعہ کے تذکرہ کے بعد لکھتے ہیں: و هذا المرسل له شاهد من وجه آخر يصلح للاعتبار٣ ”دیگر شواہد کی بنا پر اس مرسل روایت پر اعتبار کرنا درست ہے۔“٤

دیکھئے کہ اس واقعہ میں بھی شانِ نبوت میں گستاخی کی سزا کے لئے تکرار کی کوئی شرط پیش نہیں کی گئی اور اس سے مزعومہ موقف کی بخوبی تردید ہوتی ہے۔

١ یاد رہے کہ جب مولانا اصلاحی نے رجم کا انکار کر کے اس کو محاربہ کے تحت داخل کیا تھا تو انہوں نے سنگساری کو

تقتيل کا مصداق قرار دیا تھا۔ (تدبر قرآن: ۲ / ۴۷۷)، لیکن مضمون نگار تک آتے آتے اب اس تاویل کی بھی

شاید کوئی ضرورت باقی نہیں رہ گئی۔

٢ الدر المنثور: ۲ / ۵۸۶، عمدة القاری: ۱۲ / ۲۰۳ فقال النبي لعمر: « أنت الفاروق» (تفسیر رازی: ۵ / ۲۵۸)

٣ مسند الفاروق: ۲ / ۷۸۶ بحوالہ اقضیۃ الخلفاء الراشدین: ۲ / ۱۱۸۸

٤ الصارم المسلول: ۱ / ۴۳

اگست 2011

صفحہ ۶۴

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی !

ماہنامہ محدث

اُصولی فرامین بھی موجود ہیں، جن کی اسنادی حیثیت معیاری نہیں، تاہم ان سے شریعت کے رجحان کا علم ضرور ہوتا ہے:

أُتِي عمر برجل سبّ النبي ﷺ فقتله، ثم قال عمر: من سبّ الله أو سبّ أحداً من الأنبياء فاقتلوه ۱

"حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی کی تھی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور کسی بھی نبی کی شان میں گستاخی کرے تو اس کو قتل کر دیا جائے۔"

«من سبّ نبياً قُتِل ومن سبّ أصحابه جُلِد» ۲

"جس نے کسی نبی کو گالی دی تو اسے قتل کیا جائے گا اور جس نے آپ کے صحابہ کو گالی دی تو اسے کوڑے لگائے جائیں گے۔"

"جس نے رسول اللہ ﷺ کی توہین کی، اس کی گردن مار دی جائے۔" ۳

أن غلمانا من أهل البحرين خرجوا يلعبون بالصوالجة، وأسقف البحرين قاعد فوقعت الكرة على صدره فأخذها، فجعلوا يطلبونها منه فأبى، فقال غلامهم: سألتك بحق محمد ﷺ إلا رددتها علينا، فأبى -لعنه الله- وسب رسول الله، فأقبلوا عليه بصوالجهم، فما زالوا يخبطونه حتى مات، فرفع ذلك إلى عمر بن الخطاب، فوالله ما فرح بفتح ولا غنيمة كفرحه بقتل الغلمان

اگست 2011

۱ کنز العمال ۳۳۵۴۶ وسندہ صحیح، الصارم المسلول: ۲۰۱

۲ الصارم المسلول: ۹۸/۱

۳ مصنف عبدالرزاق: ۳۰۸/۵

صفحہ ۶۵

ماہنامہ محدث حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

لذلك الأسقف، وقال: الآن عز الإسلام، إن أطفالا صغارًا شتم نبيهم، فغضبوا له وانتصروا ”اہالیانِ بحرین کے بچے باہر نکل کر صوالجہ (ہاکی جیسا) کھیل رہے تھے اور بحرین کا بڑا پادری وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک گیند اس کے سینے پر جا لگا تو اس نے اسے پکڑ لیا، بچے اس سے گیند مانگنے لگے، اس نے دینے سے انکار کر دیا اور نبی کریم کو بھی گالی دی۔ سارے بچے مل کر اپنی کھیل کی لاٹھیوں کے ساتھ اس پر پل پڑے اور اس کو اس وقت زدوکوب کرتے رہے حتیٰ کہ وہ مر گیا۔ یہ قضیہ عمر بن خطاب کی طرف بھیجا گیا تو بخدا آپ فتح یا مالِ غنیمت سے اس قدر خوش نہیں ہوئے جتنے بچوں کے اس بشپ کو قتل کرنے پر مسرور ہوئے۔ اور آپ نے کہا کہ آج اللہ نے اسلام کو عزت دے دی ہے کہ بچوں نے اپنے نبی کی گستاخی پر غیض و غضب کا مظاہرہ کیا اور انہوں نے انتقام لے لیا۔“۱

بھی مروی ہیں، جن کا تذکرہ باعث طوالت ہو گا۔

اوقات شامل ہو سکتی ہے جبکہ جرم میں سنگینی اور شدت و تکرار اس قدر زیادہ ہو کہ فساد فی الارض واقع ہو لیکن شتم رسول کی ہر صورت کو محاربہ قرار دینا یا محاربہ سے کمتر صورتوں میں شتم رسول کی سزا ہی رفع کر دینا بہر حال غلطی ہے۔

مذکورہ بالا واضح دلائل اور جلیل القدر فقہا و علما کے صریح فرامین کو نظر انداز کرتے ہوئے مضمون نگار لکھتے ہیں کہ

”یہ بات تو سبھی فقہی مکاتب فکر کے ہاں متفق علیہ ہے کہ شتم رسول کی سزا کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک اجتہادی مسئلہ ہے اور قرآن و سنت میں اس جرم پر ’حد‘ کے طریقے پر کوئی مخصوص سزا مقرر نہیں کی گئی۔“۲

یہاں یہ بھی یاد رہنا چاہئے کہ مضمون نگار اپنے موقف کی تائید کے لئے حنفی فقہ کو پیش

۱ المستظرف: ۵۰۷/۲، أقضية الخلفاء الراشدين از ڈاکٹر آر کی نور محمد ۲ کتابچہ: توہین رسالت کا مسئلہ: ص ۵۳

اگست 2011

صفحہ ٦٦

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی ! ماہنامہ محدث

کرتے ہیں، جبکہ نامور حنفی فقہا کا موقف تو ایک طرف رہا، موصوف تو امتِ اسلامیہ کے اجماعی موقف کے بھی قائل نہیں، جیسا کہ اس قبل حدودِ قوانین کے موضوع پر اپنی تصنیف کے ردّ میں جامعہ مدنیہ لاہور کے مفتی ڈاکٹر عبدالواحد حفظہ اللہ کا جواب دیتے ہوئے آپ صراحت کے ساتھ لکھ چکے ہیں:

”یہ حقیقت اپنی جگہ بالکل واضح ہے کہ علمی و فقہی تعبیرات کے دائرے میں اجماع کا تصور ایک علمی افسانہ ہے جس کا حقیقت کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔“١

اجماع جیسی مسلمہ دلیل شرعی کے بارے میں اس موقف کے بعد انہیں فقہ حنفی کا حوالہ دے کر، اس کی بنا پر اپنے موقف کو قائم کرنے کا تاثر دینے سے اخلاقاً گریز کرنا چاہئے۔

مضمون نگار کی غامدیت نوازی

اس بنا پر حنفی موقف کی حقیقت جو کچھ بھی ہو، اسے صرف مطلب براری کے لئے ہی پیش کرنا مقصود ہے۔ مضمون نگار کا موقف اس ضمن میں وہی ہے جو جاوید احمد غامدی نے اپنے متعدد مضامین میں بڑی صراحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ جاوید غامدی کے یہ مضامین ماہنامہ اشراق کے مئی، جون اور جولائی ٢٠١١ء کے تین شماروں میں شائع ہو چکے ہیں۔ جو صاحبِ علم بھی ان مضامین کو پڑھیں گے تو وہ ممدوح مضمون نگار کی تحقیق اور ان مضامین میں پائی جانے والی مماثلت پر حیران ہو جائیں گے۔

”توہینِ رسالت کی سزا کا جو قانون ریاستِ پاکستان میں نافذ ہے، اس کا کوئی ماخذ قرآن و حدیث میں تلاش نہیں کیا جاسکتا... آیت میں یحاربون کا لفظ تقاضا کرتا ہے کہ آیت میں جو سزائیں بیان ہوئی ہیں، وہ اسی صورت میں دی جائیں جب مجرم سرکشی کے ساتھ توہین پر اصرار کرے؛ فساد انگیزی پر اتر آئے؛ دعوت و تبلیغ، تلقین و نصیحت اور بار بار کی تنبیہ کے باوجود باز نہ آئے بلکہ مقابلے کے لئے کھڑا ہو جائے۔ آدمی الزام سے انکار کرے یا اپنی بات کی وضاحت کردے اور اس پر اصرار نہ کرے تو لفظ کے کسی مفہوم میں بھی اسے

١ مفتی عبدالواحد کی تنقیدات کا ایک جائزہ : ص ١٣

اگست 2011

صفحہ ۶۷

ماہنامہ محدث حنفیّت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

محاربہ یا فساد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ریاست پاکستان میں احناف کی اکثریت ہے لیکن باعثِ تعجب ہے کہ قانون سازی کے موقع پر ان کی رائے یکسر نظر انداز کر دی گئی ہے۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ قانون قرآن کے بھی خلاف ہے، حدیث کے بھی خلاف ہے اور فقہائے احناف کی رائے کے بھی خلاف ہے، اسے لازماً تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔“ ۱

”فقہا یہ کہتے ہیں کہ مسلمان اگر توہین رسالت کا ارتکاب کرے گا تو مرتد ہو جائے گا، اور مرتد کی سزا قتل ہے... فقہا کے نزدیک سزا کی بنیاد یہی ہے لیکن قرآن و حدیث پر تدبر سے واضح ہو جاتا ہے کہ دور صحابہ کے بعد یہ بنیاد ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکی ہے۔ ہم نے اپنی کتابوں میزان اور برہان میں پوری طرح مبرہن کر دیا کہ ارتداد کی سزا انہی لوگوں کے ساتھ خاص تھی جن پر رسول اللہ ﷺ نے براہِ راست اتمام حجت کیا اور آپ پر ایمان لانے کے بعد وہ کفر کی طرف پلٹ گئے... منکرین حق کے خلاف جنگ اور اس کے نتیجے میں مفتوحین پر جزیہ عائد کر کے انہیں محکوم اور زیر دست بنا کر رکھنے کا حق بھی ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔ قیامت تک کوئی شخص اب نہ دنیا کی کسی قوم پر اس مقصد سے حملہ کر سکتا ہے اور نہ کسی مفتوح کو محکوم بنا کر اس پر جزیہ عائد کرنے کی جسارت کر سکتا ہے۔ مسلمان ریاستوں کے غیر مسلم شہری نہ اصلاً مباح الدم ہیں، نہ ذمی ہیں اور نہ کسی امان کے تحت رہ رہے ہیں جس کے اُٹھ جانے کی صورت میں ان کے بارے میں قتل کا حکم دیا جائے۔ یہ سب چیزیں قصہ ماضی ہیں۔“ ۲

جاوید غامدی کی ان تحریروں میں کیا کیا گوہر افشانیاں کی گئی ہیں اور دونوں موقفوں میں کیا کیا مماثلتیں نکلتی ہیں، اس کا جائزہ ہم ذی بصیرت قارئین کی ذہانت کے سپرد کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔

۱ ماہنامہ اشراق، مئی ۲۰۱۱ء... ص ۳، ۱۴ ۲ ماہنامہ اشراق، جولائی ۲۰۱۱ء... ص ۲

اگست 2011

صفحہ ۶۸

حنفیّت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی! ماہنامہ تحفظ

اساس غامدیت کے اصولوں میں یوں بیان ہوئی ہے: ”موت کی سزا قرآن کی رو سے قتل اور فساد فی الارض کے سوا کسی جرم میں نہیں دی جاسکتی۔“۱

”ہمارے فقہا کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے قرآن وسنت کے باہمی ربط سے اس حدیث کا مدعا سمجھنے کی بجائے اسے عام ٹھہرا کر ہر مرتد کی سزا موت قرار دی اور اس طرح اسلام کے حدود و تعزیرات میں ایک ایسی سزا کا اضافہ کر دیا جس کا وجود ہی شریعت اسلامیہ میں ثابت نہیں ہے۔“۲

سے محروم کر دیا جائے۔“ تو یہ سزا بھی فرقہ غامدیہ کے استاذ امام مولانا امین احسن اصلاحی کی ہی تجویز کردہ ہے۔ اس سے بھی موصوف کے فکری ماخذوں کا پتہ چلتا ہے، مولانا اپنی تفسیر میں آیت ﴿وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهِ﴾ کی تشریح میں لکھتے ہیں: ”ہمارے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص مرتد ہو جاتا ہے، وہ اسلامی ریاست میں جملہ شہری حقوق سے محروم ہو جاتا ہے۔“۳

ازاں وہ مجلہ الشریعہ میں شائع ہوئے ہیں اور توہینِ رسالت کا حالیہ مسئلہ بھی مئی جون جولائی کے جن تین مہینوں میں ماہنامہ اشراق میں بحث مباحثہ کا موضوع بنایا گیا ہے، عین مارچ، اپریل اور جون ۲۰۱۱ء کے مہینوں میں مجلہ الشریعہ نے بھی اس پر چھ عدد مضامین شائع کئے ہیں۔ دونوں مجلات میں ایام کی یہ مناسبت بھی مشترکہ اہداف کی غمازی کر رہی ہے، بالخصوص جاوید غامدی نے اپنی تحریر کے آخر میں علمائے احناف کو

۱ میزان از جاوید احمد غامدی... طبع دوم: ص ۲۸۳... طبع سوم: ص ۶۱۱

۲ برہان از جاوید احمد غامدی... طبع چہارم: ص ۱۴۳

۳ تفسیر تدبر قرآن زیر آیت سورۃ البقرۃ: ۲۱۷

اگست 2011

صفحہ ۶۹

ماہنامہ محدث حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی !

غیرت دلانے کی جو کوشش کی ہے، اس کے تناظر میں الشریعہ کے جون کے شمارے میں ان مضامین کی معنویت بالکل واضح ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ فقہ حنفی میں تو ذمی کے حوالے سے اُمت مسلمہ سے معمولی اختلاف پایا جاتا ہے جبکہ غامدی حلقہ نہ تو ذمی کا قائل ہے اور نہ ارتداد کا، نہ اجماع کا اور نہ ہی رجم کا، اس کے باوجود حنفی موقف میں ذمی کی بحث کو اُچھالنا صرف اضطراب کو پیدا کرنے کے لئے ہے تاکہ اس کے بعد تاویل و توجیہ کا راستہ کھولا جاسکے۔

ان فکری رجحانات کی تصدیق

شمارہ نمبر ۵ میں شائع شدہ ان کے مضمون پر جامعہ ابوہریرہ کے مہتمم اور مدیر ماہنامہ القاسم مولانا عبد القیوم حقانی نے اپنی فکر مندی کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے: ’’اب کے بار جو مقالہ پڑھا تو رونگٹے کھڑے ہو گئے اور یقین نہیں آرہا تھا کہ کیا واقعتاً بھی عمار خاں ناصر جیسے ذی علم، ذی استعداد اور صاحب فضل و کمال ایسی بات لکھ سکتے ہیں۔ اگر یہ بات کسی پرویزی، کسی غامدی، کسی قادیانی، کسی بے دین کالم نویس نے لکھی ہوتی تو کبھی کڑھن نہ ہوتی اور نہ اس سلسلہ میں کچھ لکھنے کی ہمت ہوتی کہ برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے۔ میرے خیال میں آں عزیز کی تحریری کاوشوں سے ملحدوں، دہریوں اور نفاذِ اسلام کی جدوجہد کے خلاف کام کرنے والے دین دشمنوں بالخصوص قادیانیوں کی مذموم تحریکات کو تقویت ملتی بلکہ ان کی ترجمانی ہوتی ہے۔‘‘ ۱

الراشدی اس سے قبل ان الفاظ میں کراچکے ہیں کہ ’’جاوید احمد غامدی سے ان کا شاگردی کا تعلق ہے، اُن کے ادارے سے ان کی جزوی وابستگی ہے اور ان کے بعض افکار سے وہ متاثر بھی ہے۔‘‘ ۲

۱ ’عمار خاں ناصر؛ کس راستے پر چل نکلے؟‘ شائع شدہ ماہنامہ القاسم، نوشہرہ ۲ ماہنامہ ’الشریعہ‘ مئی جون ۲۰۰۹ء : ص ۹

اگست 2011

صفحہ ۷۰

ماہنامہ محدث

حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

ان کے اس تعارف پر حنفی / دیوبندی حلقے میں بہت لے دے ہوچکی ہے اور موصوف نے ابھی تک کوئی تشفی بخش جواب یا پیش قدمی نہیں کی۔ جو صاحب اس سلسلہ مضامین سے مزید واقفیت حاصل کرنے کے متمنی ہوں، وہ نوشہرہ کے ماہنامہ القاسم کے شمارہ جون، جولائی اور اگست ۲۰۰۹ء میں چھپنے والی مراسلت کا مطالعہ کریں۔

ملتان ۲۰۰۹ء میں ان کے رجحانات پر شائع ہونے والا مضمون بھی بصیرت افروز ہے۔

بھی اس قانون پر اپنے بے اعتمادی کا اظہار ان الفاظ میں کرچکے ہیں: ”اس کے علاوہ عملاً جن قوانین مثلاً قادیانیوں کے خلاف امتناعی قوانین یا توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا پر عمل درآمد پر اصرار کیا گیا، ان کے پس منظر میں زیادہ تر عوامی سطح پر پائے جانے والے جذبات کار فرما تھے جبکہ حقیقی معاشرتی اصلاح کا پہلو اُن میں نمایاں نہ تھا۔“۱

مذکورہ بالا معروضات سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ مجلہ الشریعہ میں حنفی موقف کی تحقیق کے نام پر جو مضامین شائع کئے گئے ہیں اور اس کے بعد مدیر مجلہ نے جو ترامیم تجویز کی ہیں، ان کا تعلق فقہ حنفی کی بجائے جناب جاوید احمد غامدی کے افکار سے ہے۔ فقہائے حنفیہ کا موقف اس باب میں بالکل واضح ہے کہ وہ توہین رسالت کی سزاے قتل ہونے کے قائل و داعی ہیں اور شریعتِ اسلامیہ میں اس کی مقررہ سزا کے معترف ہیں۔ حنفی علما نے بھی اس مسئلہ کے بارے میں اُمت کے اجماعی موقف کو ہی اختیار کیا ہے۔ اُنہوں نے سزاے موت کا انکار کرتے ہوئے اس جرم کو محاربہ کے تحت لانے کا موقف بالکل نہیں اپنایا۔ جبکہ مضمون نگار فقہائے اُمت کے برعکس اس کو اس بنا پر حد قرار نہیں دیتے کیونکہ وہ غامدی صاحب کی طرح حد ارتداد کے اس دور میں ناقابل عمل ہونے کے قائل ہیں، اسی بنا پر اُنہیں کتاب وسنت میں اس کی کوئی اساس نظر نہیں آتی اور اس کی کوئی حد دکھائی دینے کی بجائے محض

۱ مجلہ ’اجتہاد‘ اسلام آباد... شمارہ نمبر ۵، بابت ماہِ مئی ۲۰۰۹ء، ص۸

اگست 2011

صفحہ ۷۱

ماہنامہ محدث حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی!

محاربہ کی سزا ہی نظر آتی ہے۔ حنفیت کے نام پر جاوید احمد غامدی کی یہ ہم نوائی اور ان کے ملحدانہ افکار کے لئے حنفیت سے دلائل نکال کر کے پیش کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ اگر علمائے احناف میں سے بعض کا موقف قدرے مختلف بھی ہے تو اس کی توجیہ و تحلیل اور مقصد و ہدف اس سے بالکل مختلف ہے جو غامدی پیش نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہمیں اُمید واثق ہے کہ بعض ظاہری یا جزوی اشتراکات سے بالغ نظر علمائے احناف قطعاً مغالطہ نہیں کھائیں گے بلکہ مقصد و نتیجہ پر ہی نظر رکھیں گے۔

آخر میں مضمون نگار سے ہمارا سوال ہے کہ

پاکستان میں کوئی وجود نہیں ہے

موت کو آپ کی طرح اس جرم کی آخری حد کے طور پر ’گوارا‘ نہیں کیا

تو پھر اس امتِ محمدیہ کے سامنے وہ کس بنا پر ان ترامیم کو تجویز کر رہے ہیں جس سے مذکورہ بالا سب باتوں کی نفی ہوتی ہے۔ کیا اس طرح وہ اپنے آپ کو مغالطہ دے رہے ہیں، یا اُمت کے باشعور، صاحب ایمان اور مسندِ علم کے حاملین کو !؟

علمائے اسلام کو چاہئے کہ پیش کی جانے والی ترامیم کی نوعیت اور رجحان کو پیش نظر رکھتے ہوئے اُمتِ اسلامیہ کے اجماعی موقف کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ جو قانون ۲۵ برس قبل پاکستان کے تمام علمائے کرام کے اتفاق و اتحاد کے ساتھ توہینِ رسالت کے امتناع کے لئے بنایا گیا تھا، وہ کتاب و سنت اور فقہائے اُمت کے موقف کی عین ترجمانی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی حفاظت اور اس پر عمل درآمد کرانے کی توفیق مرحمت فرمائے اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لئے اپنی خدمات پیش کرنے کی ہمت دے۔ آمین!

اگست 2011

صفحہ 72

اعتذار ماہنامہ محدث

اشاعتِ خاص اور شمارہ ہذا کی تاخیر؟

گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے بعد، فروری ۲۰۱۱ء میں جب محترم محمد عمار خاں ناصر نے مسئلہ توہینِ رسالت پر کتابچہ تحریر کیا تو راقم کو تبصرہ کے لئے ارسال کیا، بعد میں جب یہ کتابچہ روزنامہ ’پاکستان‘ میں شائع ہوا تو بعض دوستوں نے اس کا جواب لکھنے کا مطالبہ کیا، لیکن راقم نے جب بھی اس تحریر کا مطالعہ کرنا چاہا تو اس میں بیان کردہ توجیہات و تاویلات کی کثرت اور سزا میں کمی کی ہر ممکنہ کوشش کو محسوس کرتے ہوئے مطالعہ سے طبیعت مکدر ہو جاتی رہی۔ مئی کے مہینے میں حضرۃ مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے راقم کو اس طرف متوجہ کیا اور اس کی وضاحت لکھنے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی جون ۲۰۱۱ء میں اس کتابچہ کی تائید میں مجلہ الشریعہ میں تین کے قریب مضامین شائع ہوئے تو ناموسِ رسالت کے تحفظ کی خاطر قلم اُٹھائے بنا چارہ نہ رہا۔ ایک مختصر جوابی تحریر سے کام شروع کیا تو یہ تحقیق و تنقید تین تفصیلی مضامین تک پھیلتی چلی گئی۔ ڈیڑھ ماہ قبل یہ مضامین تیار ہوچکے تھے لیکن جواب پر نظر ثانی کے لئے انہیں مولانا اثری کو ارسال کر دیا گیا، مولانا نے اتفاق کرتے ہوئے کمالِ شفقت سے دو تین حوالہ جات کا اضافہ بھی فرمایا۔

مزید برآں راقم نے فقہائے احناف کے موقف کو نکھارنے کے لئے لاہور میں معروف بریلوی عالم مفتی محمد خاں قادری صاحب سے ملاقات کرکے یہ مضامین اُن کو بھی دیے۔ مفتی صاحب سے معلوم ہوا کہ ان کے جامعہ کے ناظمِ محترم علامہ خلیل الرحمٰن قادری اسی کتابچہ کا جواب لکھ رہے ہیں۔ راقم نے اس ارادے سے کہ تحفظِ ناموسِ رسالت کی خاطر لکھے جانے والے مضامین ’محدث‘ کے ایک ہی شمارے میں یکجا شائع ہوں، اُن سے جوابی مضمون کا مطالبہ کر دیا۔ اسی اثنا میں علم ہوا کہ موقر جریدہ ’ساحل‘ کراچی کے مدیرِ شہیر جناب خالد جامعی صاحب بھی اس کتابچہ کے بارے کچھ لکھنا چاہتے ہیں۔ علامہ موصوف کا مضمون ۲۰ دن کے انتظار کے بعد ملا اور جناب جامعی صاحب کا مضمون مکمل ہونے میں ابھی مزید تاخیر تھی تو راقم کو محدث کا شمارہ جولائی از سرِ نو ترتیب دے کر اشاعت کے لئے بھیجنا پڑا جو قارئین کو کافی تاخیر سے موصول ہوا۔

اب ’محدث‘ کے حالیہ شمارے میں علامہ قادری صاحب کی تنقید تو شائع ہو رہی ہے لیکن فاضل مدیر ’ساحل‘ کا مضمون شمارے کی ضخامت بڑھ جانے کی وجہ سے فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔ یوں تو مسئلہ توہین رسالت پر راقم اور قادری صاحب کے مضامین مختلف مناسبتوں سے لکھے گئے ہیں، راقم نے اسے ذمی کی سزا اور قادری صاحب نے شاتم کی توبہ کے حوالے سے لکھا ہے، لیکن موضوع اور مخاطب ایک ہونے کی وجہ کئی عبارات میں تکرار و توارد محسوس ہوتا ہے جس کو کم کرنے کے لئے بعض مقامات پر حوالوں پر اکتفا کیا گیا ہے جبکہ دونوں مضامین کی ایک ایک بحث حذف کر دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس علمی کاوش کو خالص اپنی رضا کے لئے قبول و منظور فرمائے۔ [ح م]

اگست 2011

صفحہ ۷۳

تحقیق و تنقید

علامہ محمد خلیل الرحمن قادری

گستاخِ رسول کی سزا اور احناف کا موقف

[شاتمِ رسول کی قبولیتِ توبہ کا مسئلہ]

چند ماہ قبل جب ملعونہ آسیہ مسیح کے ساتھ سابقہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے جیل میں ملاقات کی تو قانون توہین رسالت پر ہرزہ سرائی کرنے والے نام نہاد دانشوروں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو ایک اور موقع مل گیا کہ وہ اس قانون کو تبدیل کروانے کا معاملہ پھر سے اُٹھا سکیں۔ اس دفعہ ان حضرات کی پشت پناہی ایک نام نہاد مذہبی سکالر جاوید غامدی نے کی۔ اُنہوں نے قانون توہین رسالت پر احناف کے موقف کے حوالے سے اضطراب پیدا کرنے کی سر توڑ کوشش کی۔ دراصل اُن کا مقصد یہ تھا کہ وہ قانون توہین رسالت پر ہرزہ سرائی اور اس میں تبدیلی کا مطالبہ کرنے والوں کو بزعم خویش علمی بنیادیں فراہم کریں تاکہ اہل مغرب ہمارے حکمرانوں پر دباؤ ڈال سکیں کہ اس قانون کو تبدیل کرنا اسلام کے اعتبار سے بھی ناگزیر ہے جبکہ جاوید غامدی کی اس خدمت کے عوض خود اُنہیں اہل مغرب کی خوشنودی اور مزید قرب حاصل ہو جائے یا کم از کم وہ ان کا حق نمک ہی ادا کر دیں۔

ان کی ان کاوشوں کے تسلسل میں ان کے ایک شاگرد محمد عمار خان ناصر نے ایک کتابچہ شائع کر دیا جس کا عنوان ہے : ’توہین رسالت کا مسئلہ ؛ چند اہم سوالات کا جائزہ‘ اُنہوں نے اس کتابچہ میں متعدد مقامات پر دروغ گوئی اور کتمانِ حق سے بھی اجتناب نہیں کیا۔ راقم ناچیز اس زہر ناک کتابچہ کا تفصیلی ردّ لکھ رہا ہے تاہم سردست زیرِ نظر مضمون میں ان کی وہ آرا زیرِ بحث ہیں جو اُنہوں نے احناف کے موقف کے حوالے سے اضطراب پیدا کرنے کے لئے تحریر کیں۔ اُنہوں نے اپنے اس کتابچہ میں ایک مقام پر لکھا ہے:

”جمہور فقہائے احناف کی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی شخص وقتی کیفیت کے تحت اس جرم کا ارتکاب کرے اور پھر اس پر اصرار کے بجائے معذرت کا رویہ اختیار کرے تو اس سے درگزر کرنا یا ہلکی سزا دینے پر اکتفا کرنا مناسب ہے۔ البتہ اگر توہین رسالت کا عمل سوچے

ناظم جامعہ اسلامیہ، ٹھوکر نیاز بیگ، لاہور

اگست 2011

صفحہ ۷۴

گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف ماہنامہ محدث

سمجھے منصوبے کے تحت اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی نیت سے دیدہ و دانستہ کیا جائے یا وہ ایک معمول کی صورت اختیار کرلے تو عدالت کو قتل کی سزا دینے کا اختیار بھی حاصل ہے۔" ١

جمہور فقہائے احناف کا موقف کیا ہے؟

جمہور فقہائے احناف کے حوالے سے اُنہوں نے جو مذکورہ بالا موقف اختیار کیا ہے، اس کا حقیقت کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ جمہور فقہائے احناف یہ موقف رکھتے ہیں کہ گستاخ مسلمان ہو یا کافر، اسے لازماً قتل کیا جائے گا۔ اس سے قبل کہ جید حنفی فقہا کی تصریحات پیش کی جائیں، یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ احناف کا اس مسئلہ پر جمہور فقہا کے ساتھ، جو گستاخ رسول کو حداً قتل کرنے کا موقف رکھتے ہیں، کیا کوئی اختلاف ہے بھی یا نہیں؟ اور اگر اختلاف ہے بھی تو اس کی نوعیت کیا ہے؟ اور اس کا محل کیا ہے؟

جمہور فقہا تو مسلمان اور ذمی یا معاہد گستاخ دونوں کے لئے یہ موقف رکھتے ہیں کہ انہیں حداً قتل کیا جائے گا اور نہ تو اُن سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔ وہ اسے گستاخی کی حد قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ ایسے ملعون کو قتل کرنے کے لئے گستاخی کو ایک مستقل علت قرار دیتے ہیں جبکہ احناف بھی یہی موقف رکھتے ہیں کہ اسے حداً قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، البتہ وہ مسلمان گستاخ کی صورت میں اس پر حدِ ارتداد و کفر کا حکم بھی لگاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا موقف دیگر مذاہب کے مقابلے میں اور بھی سخت ہو جاتا ہے کیونکہ حنابلہ اور موالک کا موقف اتنا ہی ہے کہ گستاخ مسلمان ایک دین سے دوسرے دین میں داخل نہیں ہوا بلکہ اس نے گستاخی رسول کی صورت میں ایک ایسا جرم کیا ہے جس کی سزا ان کے نزدیک یہ ہے کہ اسے حداً قتل کر دیا جائے جبکہ احناف اس پر حد ارتداد کا حکم بھی لگاتے ہیں لیکن وہ گستاخی کی وجہ سے اسے ’ردّۃ عامہ‘ نہیں بلکہ ’ردّۃ خاصہ‘ قرار دیتے ہیں اور ان کے نزدیک ’ردّۃ خاصہ‘ کے مرتکب کا حکم زندیق کی طرح ہے کہ اسے لازماً قتل کیا جائے گا اور اُس کی توبہ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ امام مالک کے نزدیک گستاخ مسلمان دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوا، اس لیے دنیا میں سزائے موت کے بعد وہ آخرت میں بخشش کا امیدوار ہے اور اس کی تکفین و

اگست 2011

١ کتابچہ : توہین رسالت کا مسئلہ : ۶۵

صفحہ ۷۵

مقالات ٢ گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف

تدفین بھی مسلمان کی طرح ہی ہو گی۔ جبکہ امام اعظمؒ کے نزدیک وہ خاص ارتداد کا مرتکب اور زندیق ہونے کے باعث قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں ہے۔ اگر وہ تجدید اسلام کے بغیر مرتا ہے تو وہ بخشش کا اُمیدوار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی حد کے اجرا کے بعد اس کی تکفین و تدفین مسلمان کی طرح ہو گی۔

امام محمد بن سحنونؒ کی تصریح

امام محمد بن سحنونؒ (وفات ۲۶۵ھ) نے موالک کے مذہب کو یوں واضح کیا:

لم يزل القتل عن المسلم بالتوبة من سبه عليه السلام ،لأنه لم ينتقل من دين إلى دين، وإنما فعل شيئًا حدّه عندنا القتل، لا عفو فيه لأحد كالزندیق ، لأنه لم ينتقل من ظاهر إلى ظاهر ۱

”نبی علیہ السلام کی گستاخی سے مسلمان کا قتل توبہ سے زائل نہیں ہوتا کیونکہ وہ ایک دین سے دوسرے دین کی طرف نہیں منتقل ہوا جبکہ اس نے ایک ایسا عمل کیا، ہمارے نزدیک جس پر قتل بطور حد ہے اور اسے کوئی معاف نہیں کر سکتا، جیسے زندیق کو کیونکہ یہ بھی ظاہر سے ظاہر کی طرف منتقل نہیں ہوا۔“

قاضی عیاضؒ کی تصریح

قاضی عیاضؒ نے امام اعظمؒ اور ان کے اصحاب کے موقف کو جمہور فقہا کے موقف ہی کے مثل قرار دیتے ہوئے یہ فرق بیان کیا ہے کہ احناف گستاخِ رسول کو مرتد بھی قرار دیتے ہیں جبکہ سب کے نزدیک دنیا میں تو اس کی سزا بہر حال یہی ہے کہ اس کی توبہ قبول کیے بغیر اسے قتل کر دیا جائے۔ امام سبکیؒ نے ان کا یہ قول یوں نقل کیا ہے:

وقد قال القاضي عياض رحمه الله بعد أن حكى قتله عن جماعة ثم قال: ولا تقبل توبته عند هؤلاء، وبمثله قال أبو حنيفة وأصحابه، والثوري وأهل الكوفة والأوزاعي في المسلم كلهم قالوا: هى ردة وروى مثله الوليد بن مسلم عن مالك وقال بعد ذلك: ذكرنا الإجماع على قتله، ومشهور مذهب مالك وأصحابه وقول السلف وجمهور العلماء قتله حدًا لا كفرًا إن أظهر التوبة ولهذا لا تقبل التوبة عندهم

”قاضی عیاض ایک جماعت سے حکمِ قتل نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں، ان کے ہاں ان کی

۱ السيف المسلول: ۱۶۳، ۱۶۴

اگست 2011

صفحہ ۷۶

گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف ماہنامہ تحفظ

توبہ قبول نہیں۔ اسی کی مثل امام ابو حنیفہ، ان کے اصحاب، امام ثوری، اہل کوفہ اور اوزاعی نے مسلمان گستاخ کے بارے میں کہا اور ان تمام نے فرمایا: یہ ارتداد ہے۔ اس طرح کی بات ولید بن مسلم (ت ۱۹۵ھ) نے امام مالک سے بھی نقل کی۔ امام مالک اور ان کے اصحاب کا مشہور مذہب، قول سلف اور جمہور علما کہتے ہیں کہ یہ قتل بطور حد ہے نہ کہ بطور کفر، اگرچہ وہ توبہ کا اظہار کرے اور اسی لئے ان کے ہاں توبہ قبول نہیں۔ ۱۷۷

فقہائے احناف کی تصریحات

اب ہم فقہائے احناف کی تصریحات پیش کرتے ہیں:

’اجناس ناطفی‘ میں لکھا ہے جسے دسویں صدی ہجری کے عظیم حنفی امام قاضی عبد العالی بن خواجہ بخاری نے اپنی کتاب فتاویٰ ’حسب المفتیین‘ میں ذکر کیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں: أما اذا سبَّ رسول الله ﷺ أو واحداً من الأنبياء عليهم السلام يقتل حدًّا ولا توبة له أصلاً سواءً بعد القدرة والشهادة أو جاء تائباً من قبل نفسه كالزنديق لأنه حدٌّ وجب فلا يسقط بالتوبة كسائر حقوق الآدميين وكحدِّ القذف وبخلاف الارتداد لأنه يتفرد به المرتد لا حَقَّ فيه لغيره من الآدميين و لهذا قلنا إذا شتمه ﷺ سكران لا يعفى ويقتل أيضًا حدًّا

”جب کسی نے رسول اللہ ﷺ یا کسی بھی نبی کو گالی دی تو اُس کو حداً قتل کیا جائے گا خواہ حراست میں لیے جانے یا گواہی کے بعد وہ گستاخ توبہ کرے یا خود بخود توبہ کے لئے پیش ہو جائے، اسے زندیق کی طرح ہر حال میں قتل کر دیا جائے گا کیونکہ یہ قتل اس گستاخ کی حد ہے پس توبہ سے ساقط نہیں ہو گی جیسا کہ آدمیوں کے باقی حقوق جس کا حق ہو، اس کی توبہ سے ساقط نہیں ہوتے اور جیسا کہ حد قذف ہے۔

گستاخ کا مسئلہ عام مرتد جیسا نہیں ہے کیونکہ عام مرتد کا فعل اسکا انفرادی فعل ہے جس سے کسی آدمی کا کوئی حق متاثر نہیں ہوتا (لہذا اس کی توبہ قبول ہے مگر گستاخ کی توبہ قبول نہیں ہے کیونکہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا حق متاثر ہوا ہے) اسی لیے کسی نے حالت نشہ میں گستاخی کی پھر بھی اسے معاف نہیں کیا جائے گا اور حداً ہی قتل کیا جائے گا۔“

اس کے بعد اُنہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے:

اگست 2011

۱ السيف المسلول: ۱۵۶، ۱۵۵

صفحہ ۷۷

ماہنامہ گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف

هذا مذهب أبي بكر الصديق رضى الله تعالى عنه والإمام الأعظم ”یہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔“ ۱ اسی مقام پر امام عبد المعالی بخاریؒ نے علامہ علم الہدیٰ کی ’البحر المحیط‘ سے نہایت قابلِ غور اقتباس نقل کیا ہے: مَن شاتم النبي ﷺ أو أهانه أو عاب في أمور دينه وفي شخصه أو في وصف من أوصاف ذاته سواءً كان الشاتم مثلاً من أمته أو من غيرها، وسوآء كان من أهل الكتاب أو غيره، ذميًّا كان أو حربيًّا، وسوآء كان من أهل الكتاب الشتم أو الإهانة أو العيب صادرًا عنه عمدًا أو قصدًا أو سهوًا وغفلةً أو جدًّا أو هزلاً فقد كفر خلودًا بحيث إن تاب لم تقبل توبته أبدًا لا عند الله ولا عند الناس وحكمه في الشريعة المطهرة عند متاخري المجتهدين إجماعًا وعند أكثر المتقدمين القتل قطعًا. ولا يداهن السلطان أو نائبه في حكم قتله، فإن فات في قتله وانعدامه المصالح الدنيوية كقتل القضاة والولاة والعمال وإن أهملوا فقد رضوا بما صدر عنه من الشتم مثلًا وهو كفر فهم رضوا بالكفر والراضي بالكفر والرضى بالكفر كفر فهم كافرون

”جس بندے نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی یا آپ کی اہانت کی یا آپ کے دین، شخصیت یا اوصاف میں سے کسی وصف کو عیب والا بتایا خواہ یہ گالی دینے والا آپ کی اُمت سے ہو یا غیر، اہل کتاب سے ہو یا غیر، ذمی ہو یا حربی خواہ اس نے گالی / اہانت یا عیب لگانے کی بات عمداً یا قصداً کی ہو یا سہواً غفلت سے کی ہو، سنجیدگی سے کی ہو یا مذاق میں۔ پس اُس نے ہمیشہ کا کفر کیا یعنی اگر وہ توبہ کرے تو کبھی بھی اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی، نہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور نہ ہی بندوں کے نزدیک ۔ متاخرین مجتہدین کے نزدیک بالاجماع اور اکثر متقدمین کے نزدیک شریعت میں اس کا حکم قتل ہے۔ بادشاہ یا اس کا نائب اس گستاخ کے قتل میں رعایت سے کام نہ لیں اگرچہ اس گستاخ کو قتل کرنے کی پاداش میں بہت سے دینی مصالح بھی فوت ہو جائیں جیسا کہ قاضیوں، والیوں اور سرکاری اہلکاروں کا قتل ہے، پھر بھی بادشاہ اسے زندہ نہ چھوڑے اور اگر حکومت نے اسے زندہ چھوڑ دیا تو حکمران اس کے کفر پر راضی ہو گئے یعنی جو اس سے توہین کا صدور ہوا تھا، یہ کفر ہے اور کفر پر راضی

١ فتاویٰ خلاصة المفتین: ۲/ ۳۳۷

اگست 2011

صفحہ ۷۸

گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف ماہنامہ محدث

ہونے والا بھی کافر ہوتا ہے پس وہ بھی کافر ہوں گے۔“ ١

فإذا ثبت ذلك كان من أظهر سب النبي ﷺ من أهل العهد ناقضًا للعهد إذ سبّ رسول الله ﷺ من أكثر الطعن في الدين٢

”جب یہ ثابت ہو گیا کہ ذمی شخص نبی کریم ﷺ کو گالیاں دے تو وہ عہد توڑنے والا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینا دین میں طعن کرنے سے زیادہ برا ہے۔“

الاطلاق کہا جاتا ہے، اپنی کتاب 'فتح القدیر' میں فرماتے ہیں:

كل من أبغض رسول الله ﷺ بقلبه كان مرتدًا فالساب بطريق أولى ثم يقتل حدًا عندنا فلا تقبل توبته في إسقاط القتل... وإن سب سكران ولا يعفى عنه٣

”ہر وہ شخص جو رسول اللہ ﷺ سے دل میں بغض رکھے۔ وہ مرتد ہے اور آپ کو سب و شتم کرنے والا تو بدرجہ اولیٰ مرتد ہے اسے بطور حد قتل کیا جائے گا، سزائے قتل کے اسقاط میں اس کی توبہ کا کوئی اعتبار نہیں۔ اگرچہ حالتِ نشہ میں کلمہ گستاخی بکا، جب بھی معاف نہ کیا جائے گا۔“

امام ابن الہمامؒ نے گستاخ ذمی اور معاہد کا عہد ٹوٹ جانے اور اُس کے مباح الدم ہونے کا قول بھی کیا ہے:

والذي عندي أن سبه عليه السلام أو نسبة ما لا ينبغي إلى الله تعالى إن كان مما لا يعتقدونه كنسبة الولد إلى الله تعالى وتقدس عن ذلك إذا أظهر يقتل به وينتقض عهده٤

”میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ (ذمی) نے اگر حضور ﷺ کی اہانت کی یا اللہ تعالیٰ کی طرف غیر مناسب چیز منسوب کی جو کہ (مسلمانوں) کے معتقدات سے خارج ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرنا، حالانکہ وہ اس سے پاک ہے، جب وہ اس کا اظہار

اگست 2011

۱ فتاویٰ عمدۃ المفتین: ۳۳۶/۲، ۳۳۷ ۲ احکام القرآن للجصاص: ۲۷۵/۴ ۳ فتح القدیر: ۹۱/۶ ۴ فتح القدیر: ۵۹/۶

صفحہ ۷۹

ماہنامہ محدث گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف

کرے تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا اور اسے قتل کر دیا جائے گا۔“

روشنی ڈالی ہے۔ فرماتے ہیں:

وزال عنه موجب الكفر والارتداد وهو القتل إلا إذا سبّ الرسول ﷺ أو واحد من الانبياء عليهم الصلوة والسلام فإنه يقتل حدًّا ولا توبة له أصلاً سواء بعد القدرة عليه الشهادة أو جاء تائبًا من قبل نفسه كالزنديق لأنه حدّ وجب فلا يسقط بالتوبة كسائر حقوق الآدميين، وكحد القذف لا يسقط بالتوبة بخلاف ما إذا سبّ الله تعالىٰ ثم تاب لأنه حق الله تعالىٰ ولأن النبى عليه السلام بشر والبشر جنس يلحقهم المعرة إلا من أكرمهم الله تعالىٰ والباري منزه عن جميع المعايب، وبخلاف الارتداد لأنه معنى يتفرد المرتد لا حق فيه لغيره من الآدميين. ولكنه قلنا إذا شتمه عليه السلام سكران لا يعفى ويقتل أيضًا حدًّا وهذا مذهب أبي بكر الصديق رضى الله عنه والإمام الأعظم والثورى وأهل الكوفة والمشهور من مذهب مالك وأصحابه.

”(عام) مرتد سے کفر اور ارتداد کا موجب زائل ہو جائے گا مگر جب کسی نے رسول اللہ ﷺ یا کسی بھی نبی علیہ السلام کو گالی دی تو اس کو حدًا قتل کیا جائے گا خواہ حراست میں لیے جانے یا گواہی کے بعد وہ گستاخ توبہ کرے یا خود بخود توبہ کے لئے پیش ہو جائے، اسے زندیق کی طرح ہر حال میں قتل کر دیا جائے گا کیونکہ یہ قتل اس گستاخ کی حد ہے، پس توبہ سے ساقط نہیں ہوگی جیسا کہ آدمیوں کے باقی حقوق، جس پر حق ہو اس کی توبہ سے ساقط نہیں ہوتے اور جیسا کہ حد قذف ہے۔ بخلاف اس صورت کے جب اللہ تعالیٰ کی گستاخی کی پھر توبہ کر لی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور نبی علیہ السلام انسان ہیں اور انسان کی جنس کو عار لاحق ہوتی ہے، البتہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے معزز بنایا، باری تعالیٰ ان تمام عیوب سے منزہ ہے، بخلاف ارتداد کے کیونکہ اس میں محض وہی مرتد ہوتا ہے جس میں کسی آدمی کا حق متعلق نہیں ہو سکتا۔ البتہ ہم کہتے ہیں کہ جب کسی نے حالت نشہ میں گستاخی کی تو اسے معاف نہیں کیا جائے گا، اسے بھی حدًا قتل کیا جائے گا۔ یہی مذہب ابو بکر صدیقؓ، امام اعظمؒ، ثوری اور اہل کوفہ کا ہے اور یہی مالک اور انکے اصحاب کا مشہور مذہب ہے۔“

اگست 2011

صفحہ ۸۰

گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف ماہنامہ محدث

إذا سب الرسول ﷺ أو واحدًا من الانبياء عليهم السلام فإنه يقتل حدًا ولا توبة له أصلاً.... ولا يتصور فيه خلاف لأحد لأنه حق تعلق به حق العبد فلا يسقط بالتوبة كسائر حقوق الآدميين ... هٰذا مذهب أبي بكر الصديق رضى الله عنه والإمام الأعظم والثوري وأهل الكوفة و المشهور من مذهب مالك وأصحابه ١

”جس نے رسول اللہ ﷺ اور انبیاء علیہم السلام سے کسی نبی کی گستاخی کی تو اسے بطور حد قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ مقبول نہیں .... اس بارے میں کسی کا اختلاف متصور نہیں ہو سکتا کیونکہ اس سے حق بندہ متعلق ہے تو وہ بندوں کے دوسرے حقوق کی طرح توبہ سے ساقط نہیں ہو گا.... یہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ ، امام اعظم ابو حنیفہ ؒ ، اہل کوفہ کا مذہب ہے اور یہی امام مالک اور آپ کے اصحاب کا مشہور مذہب ہے۔“

النبی‘ کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی:

لا تصح ردة السكران إلا الردة بسب النبی فإنه يقتل ولا يعفى عنه كذا في البزازية. كل كافر تاب فتوبته مقبولة في الدنيا والآخرة إلا جماعة الكافر بسب النبى، وإذا مات أو قتل على ردته لم يدفن في مقابر المسلمين، ولا أهل ملته وإنما يلقى في حفيرة كالكلب ٢

”نشہ کی حالت میں ارتداد صحیح نہ مانا جائے گا مگر حضور ﷺ کی اہانت حالت نشہ میں بھی کی جائے تو اسے معافی نہ دی جائے گی جیسا کہ بزازیہ میں ہے۔ ہر کافر کی توبہ دنیا و آخرت میں مقبول ہے مگر کافروں کی وہ جماعت جس نے حضور ﷺ کو گالی دی اُس کی توبہ قبول نہیں.... جب وہ شخص مر جائے یا مرتد کے طور پر قتل کر دیا جائے اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنے کی اجازت نہیں، نہ اہل ملت (یہودی، نصرانی) کے گورستان میں، بلکہ اسے کتے کی طرح گڑھے میں پھینک دیا جائے گا۔“

كل مسلم ارتد فتوبته مقبولة إلا الكافر بسب نبی ﷺ ٣

١ فتاویٰ خیریہ : ۱۷۰

٢ الاشباہ والنظائر : ۲۱۹،۲۲۰

٣ تنویر الابصار : ۳۴۵

اگست 2011

صفحہ 81

ماہنامہ تحفظ گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف

”جو مسلمان مرتد ہو جائے اس کی توبہ مقبول ہے مگر توہین کرنے والے کافر کی توبہ قبول نہیں جائے گی۔“

(كل مسلم ارتد فتوبته مقبولة إلا) جماعة: من تكررت ردته على ما مرّ و(الكافر بسبّ نبي) من الأنبياء فإنه يقتل حدًا ولا تقبل توبته مطلقًا١

”ہر مرتد مسلمان کی توبہ مقبول ہے مگر ان لوگوں کی نہیں جن کا ارتداد دوبارہ ہو اور کسی نبی کی گستاخی کرنے کی وجہ سے ہونے والا کافر کیونکہ اسے بطور حد قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ کسی حال میں قبول نہیں کی جائے گی۔“

إذا سبه أو واحدا من الأنبياء صلوات الله عليهم أجمعين مسلم فإنه يقتل حدًا ولاتوبة له أصلا سواء بعد القدرة عليه والشهادة أو جاء تائبًا من قبل نفسه كالزنديق لأنه حد وجب فلا يسقط بالتوبة ولا يتصور خلاف لأحد لأنه حدّ تعلق به حق العبد فلا يسقط بالتوبة كسائر الآدميين وكحد القذف لايزول بالتوبة قلنا إذا شتمه سكران لايعفى و يقتل أيضًا حدًا وهذا مذهب أبي بكر الصديق رضى الله عنه و الإمام الأعظم والثوري وأهل الكوفة والمشهور من مذهب مالك وأصحابه٢

”جو شخص نبی کریم ﷺ یا انبیائے کرام میں سے کسی کی اہانت کا مرتکب ہو وہ مسلمان کہلاتا ہو، اسے بطورِ حد قتل کیا جائے گا، اس کی توبہ کا کوئی اعتبار نہیں، وہ تائب ہو کر آئے یا گرفتار ہونے کے بعد توبہ کرے، زندیق کی طرح اس کی توبہ قبول نہیں اس لیے کہ حد واجب ہے اور توبہ سے ساقط نہیں ہوتی اس میں اختلاف نہیں، اس لیے کہ یہ ایسا حق ہے جو حقِ عبد کے ساتھ متعلق ہے اور دیگر حقوق العباد کی طرح توبہ سے ساقط نہیں ہو گا، جیسے حدِ قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی، اگر کوئی حالتِ نشہ میں بھی تنقیص کرے تو معافی نہ دی جائے گی، اور اسے بطور حد قتل کیا جائے گا، یہی مذہب حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا

١ الدر المختار: ۳۴۵ ٢ الدرر الحکام: ۱/ ۳۰۰

اگست 2011

صفحہ ۸۲

گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف

ماہنامہ محدث

ہے اور امام اعظم، ثوری، اہل کوفہ، امام مالک اور ان کے اصحاب کا بھی یہی موقف ہے۔“

ولكن أنا معه في جواز قتل الساب مطلقاً ١ ”تاہم میں مطلقاً ہر شاتم رسول کو قتل کرنے کے حق میں ہوں۔“

اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ”توہین رسالت کی وجہ سے مومن کا ایمان نہیں رہتا تو ذمی کے لئے امان کیسے باقی رہ جائے گی؟ کیونکہ مسلمان جب رسول اللہ ﷺ کو گالی دے تو کافر ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر حاکم بھی ایسا کرے تو اسے بھی قتل کر دیا جائے گا جو ویسے ہی مجرم اور دین کا دشمن ہو یعنی ذمی اگر وہ توہین کرے تو اسے کیسے چھوڑ دیا جائے گا؟“ ۲

إذا سبه ﷺ أو واحدا من الأنبياء مسلم ولا سكران فلا توبة له أصلا لا تنجيه كالزنديق ومن شك في عذابه وكفره فقد كفر ۳ ”جو مسلمان کہلا کر نبی کریم ﷺ یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے، اگرچہ حالتِ نشہ میں ہو، تو زندیق کی طرح اس کی توبہ کو بھی قبول نہیں کیا جائے گا جو اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے وہ خود بھی کافر ہے۔“

”گستاخ رسول کی سزا کے بارے میں جو ہم تک معتبر روایات پہنچی ہیں، وہ فتاویٰ ذخیرہ میں ہیں۔ ان میں یہ ہے کہ گستاخ رسول کوئی بھی ہو خواہ مسلمان ہو یا ذمی اس کی شرعی حد یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے گا اور اس کے لئے توبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اُنہوں نے اسے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب قرار دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: هو مذهب أبي بكر والإمام الأعظم ۴ ”یہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور امام اعظمؒ کا مذہب ہے۔“ ان کے علاوہ بھی کئی احناف فقہا نے یہی مذہب اختیار کیا ہے اور اسے اختیار کرنے کی

۱ عمدة القاری: ۱۹ / ۴۳۸

۲ رمز الحقائق شرح کنز الدقائق: ۱ / ۲۸۵

۳ مجمع الانہار: ۱ / ۶۷۷

۴ غایۃ الحواشی: ۲۴۰

اگست 2011

صفحہ ۸۳

مقدمہ گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف

وجہ بھی بیان فرما دی ہے کہ یہ مذہب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ طوالت کے خوف سے تفصیلی عبارات کی بجائے ان میں سے بعض کے محض تذکرہ پر اکتفا کرتے ہیں۔ مثلاً علامہ حسن شرنبلالیؒ اور علامہ یوسف اخی اور علامہ ابو عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہم نے یہی موقف اختیار کیا ہے کہ گستاخ رسول کا حکم عام مرتد کی طرح نہیں کیونکہ اس کی توبہ کسی صورت میں بھی قبول نہیں کی جائے گی۔

حنفی مفسرین کی تصریحات

اب دو جلیل القدر حنفی مفسرین کے حوالہ جات بھی ملاحظہ فرمالیں:

مَن آذى رسول الله ﷺ بطعن في شخصه أو دينه أو نسبه أو صفته من صفاته أو بوجه من وجوه الشين فيه صراحة أو كناية أو تعريضًا أو إشارة كفر ولعنة الله في الدنيا والآخرة وأعد له عذاب جهنم، وهل يقبل توبته؟

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت، دین، نسب یا حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صفت پر طعن کرنا اور صراحتاً یا کنایۃً یا اشارۃً یا بطور تعریض آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نکتہ چینی کرنا اور عیب نکالنا کفر ہے۔ ایسے شخص پر دنیا و آخرت میں اللہ کی لعنت اور اس کے لیے عذاب جہنم ہے، کیا اس کی توبہ قبول ہوگی؟‘

اس کے بعد اُنہوں نے ابن الہمام اور امام خطابی کے اقوال نقل کر کے تصریح کی ہے کہ اسے حداً قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ مقبول نہیں ہے۔

واعلم أنه قد اجتمعت الأمة على أن الاستخفاف بنبينا وبأى نبى كان من الأنبياء، كفر سواء فعله فاعل ذلك استحلالا أم فعله معتقدًا بحرمته ليس بين العلماء خلاف في ذلك والقصد للسب وعدم القصد سواء إذ لا يعذر أحد في الكفر بالجهالة ولا بدعوى زلل اللسان إذا كان عقله في فطرته سليما

”تمام علمائے امت کا اجماع ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا کوئی اور نبی علیہ السلام ہوں،

۱ تفسیر مظہری: ۷ / ۳۸۲

اگست 2011

صفحہ ۸۴

گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف ماہنامہ تحفظ

ان کی ہر قسم کی تنقیص و اہانت کفر ہے، اس کا قائل اسے جائز سمجھ کر گستاخی کرے یا اسے حرام سمجھے ، قصد گستاخی کرے یا بلا قصد، ہر طرح اس پر کفر کا فتویٰ ہے۔ شان نبوت کی گستاخی میں لاعلمی اور جہالت کا عذر نہیں سنا جائے گا، سبقت لسانی کا عذر بھی قابل قبول نہیں، اس لیے کہ اس کی عقل فطرت سلیمہ پر ہے۔“ ۱

مذکورہ بالا تصریحات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ احناف فقہا کی اکثریت گستاخ رسول کو خاص مرتد اور زندیق سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے یہ فقہائے کرام نہ تو ایسے ملعون کو معاف کرنے اور نہ ہی اسے قتل سے کم سزا دینے کا موقف رکھتے ہیں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ جناب عمار خان ناصر نے کون سے جمہور فقہائے احناف کی یہ رائے لکھی ہے کہ ”اگر کوئی شخص وقتی کیفیت کے ساتھ اہانت رسول کا ارتکاب کرے اور پھر اس پر اصرار کی بجائے معذرت کا راستہ اختیار کرے تو اس پر درگزر کرنا اور اسے ہلکی سزا دینا مناسب ہے اور یہ کہ اگر توہین رسالت کا عمل سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے لئے دیدہ و دانستہ کیا جائے اور وہ ایک مستقل معمول کی صورت اختیار کرلے تو عدالت کو قتل کی سزا دینے کا اختیار بھی حاصل ہے۔“ ان کی اس تحریر کی ایک ایک سطر میں کئی مغالطے پنہاں ہیں۔

قتل سے کم تر سزا کہاں سے ثابت ہے؟

موصوف کا یہ کہنا کہ عدالت اسے قتل تک کی سزا دے سکتی ہے، بھی نہایت مغالطہ انگیز ہے، اس کی سزا قتل ہونے پر تو اُمت کا اجماع ہے۔ پھر حضور ﷺ کی ظاہری حیات مبارکہ میں گستاخ رسول کے بارے میں دو قسم کے رد عمل دکھائی دیتے ہیں یا تو اس جرم پر حضور ﷺ نے سزائے موت دی یا پھر مجرم کو معاف کر دیا، موت سے کم تر سزا دینے پر موصوف کے پاس اگر حضور ﷺ کا کوئی قولی یا فعلی حکم ہو تو اسے ضرور سامنے لائیں۔ ہاں معافی دینے کی مثالیں موجود ہیں اور اس کا سبب بالکل واضح ہے کیونکہ حضور ﷺ کو اختیار تھا کہ وہ کسی مجرم کو سزا دیں یا معاف فرمائیں، اسی طرح فقہائے کرام میں سے کسی ایک نے بھی مسلمان گستاخ رسول کو قتل کرنے سے کم تر سزا کا موقف پیش نہیں کیا۔

اگست 2011

ہاں ان چند فقہائے احناف نے جنہوں نے گستاخی رسول کے مرتکب پر ردۃ عامہ کا

۱ روح البیان: ۵۰۳/۳ ۲ تفصیل کے لئے دیکھیں شمارہ ہٰذا کا صفحہ نمبر ۳۲ تا ۳۸

صفحہ ۸۵

ماہنامہ تحفظ گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف

اطلاق کیا، اُنہوں نے اس کی توبہ قبول کرنے کی بات بھی کی۔ کیونکہ وہ ایسی بات کرنے میں حق بجانب تھے لیکن اُنہوں نے بھی یہ واضح کر دیا کہ اگر وہ توبہ نہیں کرتا تو اسے قتل کیا جائے گا۔ البتہ ان سے تسامح ہوا کہ اُنہوں نے اسے ردۃ عامہ سمجھا حالانکہ امام اعظمؒ کے مذہب کے مطابق یہ ردۃ خاصہ تھی جس کا حکم زندیق کی طرح ہے اور اسے ہر حال میں قتل کیا جائے گا اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی۔

امام شامیؒ کے چند تناقضات

چنانچہ امام ابن عابدین شامی سے پہلے درجن سے زائد جید فقہائے احناف نے، جن کا تذکرہ ہم نے اوپر کیا ہے، ردۃ عامہ اور ردۃ خاصہ میں فرق کرتے ہوئے امام اعظمؒ کے اصل موقف کو اجاگر کیا اور تقریباً سبھی نے یہ تصریح کی کہ یہی امام اعظمؒ کا مذہب ہے۔

ہم نے جو فقہائے احناف کی عبارتیں اوپر نقل کی ہیں، ان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ گستاخ رسول کی سزا کو حد ماننے اور گستاخ معاہد کا نقض عہد تسلیم کرنے کا موقف متقدمین فقہاء احناف سے چلا آرہا ہے جیسا کہ امام محمد بن ناطفی حنفیؒ اور امام ابو بکر جصاص حنفیؒ بلکہ خود امام محمدؒ کی عبارت سے واضح ہو رہا ہے:

ذكره (الإمام محمد) في السير الكبير فيدل على جواز قتل الذمي المنهى عن قتله بعقد الذمة إذا أعلن بالشتم أيضا، و استدل لذلك في شرح السير الكبير بعدة أحاديث، منها حديث أبي إسحق الهمداني قال: جاء رجل إلى رسول الله ﷺ وقال سمعت امرأة من يهود وهى تشتمك والله يا رسول الله إنها لمحسنة إلي فقتلتها فأهدر النبى ﷺ دمها١

”امام محمدؒ نے ’السیر الکبیر‘ میں لکھا کہ اس میں دلالت ہے کہ ذمی کو بوجہ عہدِ ذمہ قتل سے امان مل چکی تھی جب وہ اعلانیہ حضور نبی کریم ﷺ کی اہانت و تنقیص کا مرتکب ہو تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اس پر شرح السیر الکبیر میں کئی احادیث سے ذمی کے قتل پر استدلال کیا۔ ان میں ایک ابو اسحٰق ہمدانی کی روایت ہے ،ایک شخص حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی! یا رسول اللہ ﷺ! ایک یہودی عورت میری محسنہ تھی لیکن وہ آپ کو سبّ و شتم کرتی تھی، میں نے اسے قتل کر دیا حضور ﷺ نے اس کے خون کو ضائع

اگست 2011

١ رد المحتار: ۳۳۴/۶

صفحہ ٨٦

گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف ماہنامہ محدث

قرار دیا۔“

فقہائے احناف کی مذکورہ بالا تصریحات کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ بات بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ امام ابن عابدین شامیؒ کا یہ قول بھی درست نہیں کہ احناف میں سے گستاخ مسلمان یا کافر کی توبہ قبول نہ کرنے اور اسے حداً قتل کرنے کا موقف سب سے پہلے امام ابن بزاز نے اختیار کیا کیونکہ وہ تو ٨٢٧ھ کے فقیہ ہیں جب کہ اوپر نقل کردہ متقدمین احناف کی عبارتوں سے یہ بخوبی واضح ہو رہا ہے کہ یہ موقف امام ابن بزاز سے پہلے کئی متقدمین احناف نے بھی اختیار فرمایا۔ اسی طرح امام شامی کا یہ فرمانا بھی دراصل ان کا تسامح ہے کہ احناف میں سے امام ابن بزاز نے یہ موقف سب سے پہلے اختیار کیا اور بعد میں آنے والے فقہائے احناف نے بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے اس غلط موقف کو اختیار کر لیا۔ کیونکہ اگر ان کی یہ بات درست مان لی جائے تو امام ابن الہمام اور علامہ بدر الدین عینی جیسے حنفی علماء جو کہ ابن بزاز کے ہم عصر تھے، ان کے بارے میں یہ بدگمانی پیدا ہوتی ہے کہ اُنہوں نے بلا تحقیق اپنے ہی ایک ہم عصر کی تحقیق کو قبول کر لیا حالانکہ امام ابن الہمام کو احناف محقق علی الاطلاق کہتے ہیں اور بلاشبہ ان کا علمی پایہ امام ابن بزاز سے بلند تر ہے، اسی طرح اس بدگمانی کا سلسلہ بعد میں آنے والے فقہائے کرام تک بھی جا پہنچتا ہے جن میں ابن نجیم جیسے محقق بھی شامل ہیں جنہیں ہم ابو حنیفہ ثانی کا لقب دیتے ہیں پھر امام عبد اللہ بن محمد سلیمان حنفی، حضرت ملا خسرو، امام عبد العالی بخاری، امام حصکفی، امام عبد اللہ تمرتاشی، امام خیر الدین رملیؒ جیسے جلیل القدر فقہائے احناف کے بارے میں کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس حساس مسئلے پر بلا تحقیق مکھی پر مکھی مارتے رہے۔ (العیاذ باللہ) جبکہ اُنہوں نے اپنے اپنے انداز میں بڑی مدلل گفتگو کی ہے اور حسبِ ضرورت امام اعظم اور متقدمین فقہاء احناف کے موقف ہی کی توضیح و تشریح بھی کی ہے۔ ان کی کتب سے جو مذکورہ بالا اقتباسات پیش کیے گئے ہیں، ان سے ایک عام قاری بھی بخوبی یہ بات اخذ کر سکتا ہے کہ ان جید فقہائے احناف نے محض تقلید کے طور پر نہیں بلکہ کتاب و سنت کے دلائل اور تحقیق کی روشنی میں اسے سیدنا ابو بکرؓ اور امام اعظمؒ کا موقف سمجھتے ہوئے اختیار فرمایا۔

امام ابن عابدین شامی کا یہ کہنا بھی ان کے تسامح پر دلالت کرتا ہے کہ امام ابن بزاز نے حنابلہ اور موالک والا مذہب اختیار کر لیا اور ان کی پیروی کرتے ہوئے بعد میں آنے والے فقہاء: علامہ خسرو، ابن الہمام، ابن نجیم، تمر تاشی اور علامہ خیر الدین وغیرہ نے بھی یہی موقف

اگست 2011

صفحہ ۸۷

ماہنامہ تحفظ گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف

اپنا لیا۔ کیونکہ ان تمام جید فقہائے کرام نے احناف کے اصل موقف سے سرمو بھی اختلاف نہیں کیا۔ ان کے فتاویٰ ہم نے اوپر نقل کر دیے ہیں جن سے چند امور بالکل واضح ہو جاتے ہیں:

انہوں نے احناف کے اصل موقف کے مطابق اس پر ردّۃ خاصہ کا اطلاق کیا ہے۔

اس کی توبہ قبول نہ کرنے کا موقف اختیار کیا ہے جبکہ موالک اور حنابلہ اس لیے توبہ کو قبول نہیں کرتے اور اسے لازماً قتل کرنے کا موقف رکھتے ہیں کیونکہ وہ اسے گستاخی پر ایک الگ اور مستقل حدّ قرار دیتے ہیں جو توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔

حقِ آدمی متعلق ہے، اس لیے بندوں کے دوسرے حقوق کی طرح یہ سزا توبہ سے ساقط نہیں ہو گی۔ اور یہی امام اعظم اور امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ کا مذہب ہے۔ ان کا اس سزا کو حدّ قرار دینا موالک اور حنابلہ کی طرز پر نہیں ہے بلکہ وہ اسے حدّ ارتداد و کفر ہی قرار دیتے ہیں لیکن ردّۃ خاصہ کی بنا پر چونکہ گستاخ ملعون زندیق ہو جاتا ہے اور اس سے حق آدمی متعلق ہو جاتا ہے، اس لیے اس کی توبہ مقبول نہیں اور اسے عام مرتدّ کے برعکس ہر حال میں قتل کیا جائے گا تو گویا یہ حدّ کفر و ارتداد ہوئی۔

صاحب نسیم الریاض کی تصریح ملاحظہ فرمائیں:

(لكن لمعنى يرجع) ويعود (إلى تعظيم حرمته) وحفظ مقامه باحترامه وتوقيره يرجع إلى (زوال المعرة) والنقص اللاحق (به وذلك لاتسقطه التوبة) لأنه متعلق بعرضه فهو حق له كحقوق الآدميين ولهذا هو القول الصحيح عند أبي حنيفة والشافعي وغيرهما ۱

”البتہ ایسے معنی کی وجہ سے جو آپ ﷺ کی حرمت کی تعظیم اور آپ ﷺ کے مقام کے احترام اور توقیر کی طرف اور آپ ﷺ کے عیب اور لاحق نقص کے زوال کی طرف لوٹتا ہے، اس چیز کو توبہ ساقط نہیں کرتی۔ کیونکہ یہ آپ کی عزت کے

۱ نسیم الریاض: ۲۷۹/۶

اگست 2011

صفحہ ۸۸

گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف ماہنامہ محدث

ساتھ متعلق ہے اور یہ آپ ﷺ کا دیگر آدمیوں کے حقوق کی طرح حق ہے اور یہی امام ابو حنیفہ اور امام شافعی ودیگر کا صحیح قول ہے۔“

نہیں بلکہ اسے امام اعظم کا مذہب سمجھ کر اختیار کیا ہے۔

بعد الاخذ توبہ بالاتفاق قبول نہیں!

اب ان چند فقہائے احناف کے موقف کے بارے میں بھی بات کرتے ہیں جنہیں تسامح ہوا اور اُنہوں نے گستاخ رسول پر ردۃ عامہ کا اطلاق کیا اور اس بنا پر اسکی توبہ کی قبولیت کی طرف گئے ۔ ان سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ گستاخ ملعون کی بعد الاخذ توبہ قبول نہیں کی جائے گی، البتہ قبل الاخذ اس کی توبہ قبول کی جاسکتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں مفتی ابو السعود حنفیؒ کی تصریح:

فبعد أخذه لا تقبل توبته اتفاقاً فيقتل. وقبله اختلف في قبول توبته وعند أبي حنيفة تقبل فلا يقتل وعند بقية الأئمة لا تقبل ويقتل حدّاً ۱ ’’گستاخ رسول کی توبہ بعد الاخذ بالاتفاق وبالاجماع قبول نہیں کی جائے گی بلکہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔ قبل الاخذ اس کی توبہ کے قبول ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔ امام اعظم کے نزدیک اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور اسے قتل نہیں کیا جائے گا جبکہ باقی ائمہ کے نزدیک اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور اسے بطور حد قتل کر دیا جائے گا ۔“

پھر قبل الاخذ توبہ کی قبولیت کا موقف رکھنے والے بھی دو طرح کے ہیں: ایک کا موقف یہ ہے کہ گستاخ رسول کی حد توبہ اور تجدید اسلام سے ساقط ہو جائے گی اور مجرم کو چھوڑ دیا جائے گا، جبکہ دوسرا موقف یہ ہے کہ اس کی توبہ سے حد ساقط نہیں ہو گی اور اسے لازماً قتل کیا جائے گا۔ البتہ اگر وہ گستاخ حد کے اجرا سے پہلے تائب ہو جائے اور دائرہ اسلام میں داخل ہو جائے تو حد کے اجرا کے بعد اس کے ساتھ مسلمانوں والا معاملہ کیا جائے گا (یعنی اسکے کفن، دفن اور وراثت کے معاملات ) اور اگر وہ اپنے کفر پر قائم رہے تو اسے کفر و ارتداد کی وجہ سے قتل کیا جائے گا اور قتل کے بعد اس پر مشرکین کے احکام جاری ہوں گے۔

اگست 2011

۱ ردالمحتار : ۳۶۲/۶

صفحہ ۸۹

ماہنامہ محدث گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف

توبہ سے قتل کی سزا ساقط نہیں ہو گی

گویا اس موقف کے مطابق توبہ اور تجدید اسلام کے بعد بھی وہ قتل ہی کیا جائے گا لیکن اسے دو فوائد حاصل ہوں گے ایک تو یہ کہ قتل کے بعد اس پر کفن و دفن اور وراثت کے حوالے سے مسلمان جیسے احکام کا ہی اطلاق ہو گا اور ثانیاً وہ آخرت میں بخشش کا امیدوار بھی ہو گا۔ در حقیقت یہ موقف معنوی اعتبار سے کثیر احناف کے مذکورہ بالا موقف کے قریب ہے کیونکہ دونوں کے نزدیک اس کی سزا ساقط نہیں ہو گی اور اسے لازماً قتل کیا جائے گا جبکہ مؤخر الذکر حضرات نے قبل الاخذ اس کی توبہ کو قبول کیا ہے تاکہ اگر وہ خلوص دل کے ساتھ تائب ہو کر تجدید اسلام کرلے تو حد کے اجرا کے بعد اس کے ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ کیا جاسکے اور وہ آخرت میں بخشش کا امیدوار بھی رہے۔ اس موقف کی وضاحت امام اسماعیل حقیؒ نے کی ہے، ملاحظہ فرمائیں:

فالمختار أن من صدر منه ما يدل على تخفيفه عليه السلام بعمد وقصد من عامة المسلمين يجب قتله ولا تقبل توبته بمعنى الخلاص من القتل وإن أتى بكلمتى الشهادة والرجوع والتوبة لكن لو مات بعد التوبة أو قتل حدًا مات ميتة الاسلام في غسله وصلاته ودفنه و لو أصرّ على السب وتمادى عليه وأبى التوبة منه فقتل على ذلك كان كافرًا وميراثه للمسلمين ولا يغسل ولا يصلى عليه ولا يكفن بل تستر عورته ويوارى كما يفعل بالكفار 1

”مذہب مختار یہی ہے کہ مسلمانوں میں سے جس شخص سے حضور ﷺ کی شانِ اقدس میں جان بوجھ کر عمداً کوئی ایسا کلمہ صادر ہو جائے جو اہانت و استخفاف اور تحقیر پر دلالت کر تا ہو تو ایسے شخص کو اس گستاخی کے ارتکاب پر قتل کرنا (اُمتِ مسلمہ پر) واجب ہے اور اس کی توبہ بایں معنی قبول نہ ہو گی کہ اسے سزائے قتل سے چھٹکارا مل جائے) اگرچہ وہ توبہ ورجوع کرے اور توحید ورسالت کی گواہی دیتا پھرے۔ ہاں مگر وہ توبہ کرنے کے بعد مر گیا یا بعد از توبہ اس پر حد قتل کا نفاذ ہو گیا تو پھر اس کی موت (بعض احکام میں) مسلمانوں کی ہی سمجھی جائے گی، غسل دینے، نماز جنازہ پڑھنے اور دفن کرنے میں۔ اس کے برعکس اگر وہ گستاخی پر مصر رہے اور اس پر مسلسل کاربند رہے اور اس بنا پر قتل کر دیا جائے تو وہ

1 روح البیان: ۵۰۲،۵۰۳/۳

اگست 2011

صفحہ 90

گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف ماہنامہ تحفظ

کافر ہو جائے گا اور اس کی میراث مسلمانوں کے لئے ہو گی، اسے غسل نہیں دیا جائے گا۔ اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی جائے گی اور نہ ہی اسے کفن دیا جائے گا۔ ہاں اس کا ستر ڈھانپ دیا جائے گا اور اسے پیوند خاک کر دیا جائے گا جیسے کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے۔“ لہٰذا جن چند احناف نے گستاخ رسول پر ردۃ عامہ کا اطلاق کرتے ہوئے اس کی قبل الاخذ توبہ کی قبولیت کو مانا ہے، ایک تو ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ پھر وہ بھی بعد الاخذ توبہ کو نہیں مانتے جبکہ در حقیقت توبہ اور اس کی قبولیت کا معاملہ تو بعد الاخذ ہی شروع ہوتا ہے۔ گویا احناف کے مابین اختلافات کی حدیں سمٹ جاتی ہیں اور نتیجۃً تمام احناف ہی گستاخ مسلمان کی توبہ کو قبول نہیں کرتے اور اسے لازماً قتل کرنے کا ہی موقف رکھتے ہیں۔

امام اعظمؒ کے دو اقوال

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مفتی ابو السعود حنفیؒ کے مذکورہ بالا قول سے امام اعظمؒ کا یہ موقف سامنے آتا ہے کہ گستاخ مسلمان کی توبہ قبول کی جائے گی اور اسے قتل نہیں کیا جائے گا جبکہ کثیر فقہائے احناف نے امام اعظمؒ کا دوسرا قول ذکر کیا ہے جسے ان کی اپنی عبارتوں میں اوپر نقل کر دیا گیا ہے جس کے تحت گستاخ رسول کی توبہ قبول نہیں ہے اور اسے لازماً قتل کیا جائے، لہٰذا یہ بات بالکل واضح اور آشکار ہے کہ اس مسئلہ پر امام اعظمؒ سے دو متعارض اقوال نقل کیے گئے ہیں، اگرچہ اوّل الذکر قول کو بہت کم احناف نے نقل کیا ہے جبکہ کثیر احناف نے ثانی الذکر قول ہی نقل کیا ہے۔

امام ابن ابی جمرہؒ کی تطبیق

ان دونوں اقوال میں امام ابن ابی جمرہؒ نے یوں تطبیق فرمائی ہے: ”اس سے بہت کم گستاخی پر بھی ایسے شخص کے قتل پر اجماع ہے البتہ جو امام شافعی اور امام اعظم ابو حنیفہ سے دوسرا قول یہ مروی ہے کہ یہ ارتداد ہے اور ایسے شخص کا قتل لازم ہے مگر یہ کہ وہ توبہ کر لے اور اسی کی مثل امام مالک سے ایک ضعیف قول منقول ہے اور ان کا یہ مشہور مذہب نہیں، ان کا مشہور مذہب قتل ہے اور اس سے توبہ کا مطالبہ بھی نہیں کیا جائے گا۔“ پھر فرماتے ہیں:

وهنا بحث وهو لا يخلو ما نقل من الإجماع أن يكون قبل ما ذكر من الخلاف المتقدم عمن ذكر أو يكون الخلاف متقدما على الإجماع فان كان الخلاف منهم قبل ثم رجعوا إلى الإجماع فلا تاثير

اگست 2011

صفحہ ۹۱

ماہنامہ محدث گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف

لذلك الخلاف وتحقق الإجماع وإن كان الخلاف منهم وقع بعدالإجماع لا يعبأ به والذي نقل الإجماع في قتله جماعة منهم صاحب الاستذكار وصاحب الكافي والتلمساني وابن سبوع وابن رشد وابن أبي زيد وسحنون والليث والقاضي عياض وابن العربي رحمهم الله تعالى جماعة ممن يقرب من هولاء في الشهرة انسيتهم في الوقت ١

”یہاں یہ بحث ہے کہ جو اجماع نقل کیا گیا ہے، اس کے بارے میں سوال یہ ہے کہ وہ سابقہ مذکورہ اختلاف سے پہلے ہے یا یہ اختلاف اجماع پر مقدم ہے۔ اگر اختلاف پہلے تھا پھر وہ اجماع کی طرف لوٹ آئے تو اب یہ اختلاف غیر مؤثر ہے اور اجماع ثابت ہو جائے گا اور اگر ان کا اختلاف اجماع کے بعد ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ گستاخ کے قتل کے بارے میں اجماع پوری جماعت نے نقل کیا ہے ان میں سے صاحب الاستذکار ،صاحب الکافی ، امام تلمسانی ، امام ابن سبوع ، امام ابن رشد ، امام ابن ابی زید ، امام سحنون ، امام لیث ، قاضی عیاض اور ابن العربی رحمہم اللہ تعالیٰ اور ایک پوری جماعت جو شہرت میں ان لوگوں کے قریب ہے، اس وقت میں ان کے نام بھول گیا ہوں۔“

امام اعظمؒ اجماعِ صحابہ کی پیروی کرتے ہیں

امام اعظمؒ کے اسی قول پر ایک اور پہلو سے بات کرتے ہیں۔ ہم مذاہب اربعہ کے جید ائمہ سے یہ بات سامنے لاچکے ہیں کہ گستاخِ رسول کو حداً قتل کرنے یا ارتدادِ خاص کی وجہ اس کی توبہ قبول کیے بغیر اسے قتل کرنے پر اُمت کا اجماع ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اس اجماع اُمت میں صحابہ کرام بھی شامل ہیں۔ کئی علمائے امت نے تو اس مسئلہ پر صحابہ کرام کا اجماع ۲ بطورِ خاص نقل کیا ہے۔ جیسا کہ قاضی عیاض مالکیؒ (ت ۵۴۴ھ) فرماتے ہیں:

وهذا كله اجماع من العلماء وأئمة الفتوى من لدن الصحابة رضوان الله عليهم إلى هلم جراً ٣

”اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم سے لے کر آج تک اہل علم اور ائمہ فتویٰ کا اجماع ہے۔“

١ بھجۃ النفوس: ۱۶۱/۲ ٢ تفصیل کے لئے دیکھئے شمارہ ہذا کا صفحہ نمبر ۳۲ ٣ الشفاء: ۲/ ۹۳۳

اگست 2011

صفحہ ۹۲

گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف مُحَدِّث

اب غور طلب معاملہ یہ ہے کہ حنفی مذہب کے بانی سراج الامہ حضرت امام ابو حنیفہؒ نے خود فرمایا ہے کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع کی پیروی کرتے ہیں۔

امام اعظمؒ نے اپنے اس مذہب کی خود تصریح فرمائی ہے جیسا کہ جب خلیفہ ابو جعفر المنصور نے امام اعظمؒ کو خط لکھا اور ان سے دریافت کیا کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ قیاس کو حدیث پر ترجیح دیتے ہیں تو اُنہوں نے خلیفہ کو جواباً یہ فرمایا:

ليس الأمر كما بلغك يا أمير المومنين إنما أعمل أولا بكتاب الله ثم بسنة رسول الله، ثم بأقضية أبي بكر وعمر وعثمان وعلي رضى الله عنهم ثم بأقضية بقية الصحابة ثم أقيس بعد ذلك إذا اختلفوا ۱

”اے امیر المومنین! بات ایسے نہیں جس طرح آپ تک پہنچی ہے۔ بلاشبہ میں سب سے پہلے کتاب اللہ پر عمل کرتا ہوں پھر رسول اللہ ﷺ کی سنت پر پھر حضرت ابو بکر، پھر حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے فیصلوں پر پھر دیگر صحابہ کے فیصلوں پر اور اس کے بعد اگر صحابہ میں اختلاف ہو تو قیاس کرتا ہوں۔“

ایک اور مقام پر امام اعظمؒ فرماتے ہیں:

آخذ بكتاب الله فما لم أجد فبسنة رسول الله ﷺ فإن لم أجد في كتاب الله ولا سنة رسول الله ﷺ أخذت بقول أصحابه، آخذ بقول من شئت منهم، و أدع من شئت منهم ولا أخرج من قولهم إلى قول غيرهم ۲

”مجھے جب کوئی حکم خدا کی کتاب سے مل جاتا ہے تو میں اسی کو تھام لیتا ہوں اور جب اُس میں نہیں ملتا تو رسول اللہ ﷺ کی سنت کو تھام لیتا ہوں اور جب کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ (دونوں) میں نہیں ملتا تو میں صحابہ کے قول (اجماعِ صحابہ) کی پیروی کرتا ہوں اور ( ان کے اختلاف کی صورت میں) جس صحابی کا قول چاہتا ہوں قبول کر لیتا ہوں اور جس کا چاہتا ہوں چھوڑ دیتا ہوں مگر ان سب کے اقوال سے باہر جا کر کسی کا قول نہیں لیتا۔“

امام اعظمؒ کے ان اقوال سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ صحابہ کرام کے اجماع کی پیروی کرتے تھے، اس لیے ان سے یہ بات ممکن نہیں کہ وہ اجماعِ صحابہ کے خلاف قول کریں۔ چنانچہ امام اعظمؒ کا اس مسئلہ پر وہی قول معتبر قرار پاتا ہے جو کثیر متاخرین احناف نے

۱ کتاب المیزان: ۱/ ۲۲۶ ، مطبوعہ اولیٰ بیروت ۱۴۰۹ ۲ تاریخ بغداد: ۳۶۵/۱۳

اگست 2011

صفحہ ۹۳

ماہنامہ محدث گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف

تواتر کے ساتھ نقل کیا ہے اور انہوں نے اپنی رائے کی بنیاد امام اعظم کے اسی قول پر رکھی ہے۔ کثیر متاخرین احناف نے امام اعظم کے اس قول کے علاوہ متقدمین احناف سے بھی تائید حاصل کی ہے جن میں ۴۴۶ھ کے امام ناطفی حنفیؒ اور امام ابو بکر جصاص (ت ۳۷۰ھ) نمایاں طور پر شامل ہیں۔ تفصیلی اقتباسات پہلے نقل کر دیئے گئے ہیں۔

کیا جید فقہائے احناف نے کلاسیکی حنفی موقف سے انحراف کیا؟

جناب عمار خاں ناصر نے ان متاخرین احناف کے بارے میں لکھا ہے: ”ہمارے ہاں چونکہ ایک خاص جذباتی فضا میں بہت سے حنفی اہل علم بھی فقہ حنفی کے کلاسیکی موقف کو بعض متاخرین کے فتووں کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، اسلئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس ضمن میں بعض مستند تصریحات نقل کر دی جائیں۔“ ۱

ان کا یہ موقف بھی بالکل غلط ہے کیونکہ جن متاخرین کی وہ بات کر رہے ہیں ان کے اقوال ہم نے اوپر نقل کر دیئے ہیں جن میں انہوں نے تصریح کر دی ہے کہ یہ مذہب سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور امام اعظمؒ کا ہے۔ یہ متاخرین احناف جن میں ابن الہمام اور ابن نجیم جیسے جید فقہائے احناف شامل ہیں، ان کے بارے میں موصوف کیا یہ گمان رکھتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات بلا تحقیق کر دی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر موصوف کے بقول احناف کا کلاسیکی موقف ان کی آرا سے مختلف تھا تو اُنہوں نے یہ بات کیسے لکھ دی کہ یہ حضرت ابو بکر صدیقؓ اور امام اعظمؒ کا مذہب ہے؟ کیا اُنہوں نے غلط بیانی سے کام لیا؟ اتنے بڑے حنفی مجتہد اور فقیہ ہونے کے باوجود اُنہوں نے احناف کے کلاسیکی موقف (بقول موصوف) سے کیوں انحراف کیا؟ اور موصوف جو آج کل کے احناف پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ وہ فقہ حنفی کے کلاسیکی موقف کو بعض متاخرین احناف کے فتووں کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اگر موصوف کی یہ بات درست ہے تو اُنہیں چاہیے تھا کہ وہ آج کل کے ان اہل علم حضرات کو مطعون کرنے کی بجائے ان متاخرین احناف پر یہ الزام عائد کرتے کہ انہوں نے موصوف کے بقول احناف کے کلاسیکی موقف سے انحراف کیا ہے لیکن شاید پندرہویں صدی کے نام نہاد محقق کو آسمانِ علم کے ان درخشندہ ستاروں کی بابت کچھ کہنے کی جرأت نہ

اگست 2011

۱ توہین رسالت کا مسئلہ: ۵۲

صفحہ ۹۴

ماہنامہ مکالمہ گستاخِ رسول کی سزا اور احناف کا موقف

ہو سکی اور موصوف نے ان کی عبارتیں نقل کرنے والوں کو مورد الزام ٹھہرا کر اپنے دل کی بھڑاس نکال لی۔ اب موصوف کی ان مستند تصریحات کا بھی جائزہ لیتے ہیں جو اُنہوں نے یہ ثابت کرنے کے لئے پیش کی ہیں کہ احناف کے کلاسیکی موقف کو بعض متاخرین کے فتووں کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

موصوف کا ایک اور کرشمہ

سب سے پہلے تو لفظ ’بعض‘ سے ان کی خیانت آشکار کرتے ہیں کیونکہ ہم نے درجن سے زائد متاخرین فقہائے احناف کے اقوال اوپر نقل کر دیے ہیں، کیا ان کثیر فقہائے کرام پر لفظ ’بعض‘ صادق آتا ہے؟ ان کثیر فقہائے احناف کے مقابلے میں کئی صدیاں بعد کبھی امام شامیؒ تنہا نظر آتے ہیں۔ یہ ہے اصل صورتحال لیکن موصوف کا اعجاز دیکھیں کہ اُنہوں نے کثیر فقہائے کرام کو بعض قرار دیدیا اور امام شامی جو تنہا کھڑے ہیں، انہیں کثیر بنادیا۔ اور یہ بھی نہیں دیکھا کہ امام محمدؒ کیا فرماتے ہیں؟

اب ان کی طرف سے پیش کردہ ان مستند تصریحات کا بھی جائزہ لیتے ہیں جو اُنہوں نے بزعم خویش احناف کے کلاسیکی موقف کو اجاگر کرنے کیلئے نقل کی ہیں۔ یہ تمام تصریحات معاہد گستاخ کے بارے میں ہیں۔ سب سے پہلے اُنہوں نے امام طحاوی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ”ہمارے فقہا کے مطابق اگر کوئی مسلمان نبی ﷺ کو برا بھلا کہے یا آپؐ کی تنقیص کرے تو وہ مرتد ہو جاتا ہے اور اگر وہ ذمی ہو تو اسے سزا تو دی جائے گی لیکن قتل نہیں کیا جائے گا۔“

امام طحاوی بلاشبہ ۳۲۱ھ کے جید فقیہ ہیں۔ ان کی کتاب اختلاف العلماء کا اختصار معروف حنفی ابن جصاص الرازی (۳۸۰ھ) نے کیا ہے جو ’مختصر اختلاف العلماء‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ امام ابو بکر احمد بن علی الجصاصؒ فرماتے ہیں کہ ذمی اگر نبی کریم ﷺ کو گالیاں دے تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ رسول ﷺ کو گالیاں دینا دین میں طعن کرنے سے زیادہ برا ہے۔ اُنہوں نے لیث کا قول بھی نقل کیا ہے کہ ساب النبی سے نہ مناظرہ کیا جائے اور نہ

اگست 2011

توبہ کا مطالبہ کیا جائے بلکہ اسے موقع پر ہی قتل کر دیا جائے اور اسی حکم کا اطلاق یہودی اور نصرانی گستاخ پر بھی ہو گا، لیث ۱۷۵ھ کے عالم ہیں۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ امام طحاویؒ کے اس موقف کو تو ان کی کتاب کا اختصار کرنیوالے حنفی فقیہ نے بھی قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد انہوں نے علامہ کاسانی کی یہ تصریح پیش کی ہے کہ اگر ذمی نبی کو بھلا برا کہے تو

صفحہ ۹۵

ماہنامہ محدث گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف

اُس سے اس کا معاہدہ نہیں ٹوٹے گا۔ کیونکہ ایسا کر کے اُس نے سابقہ کفر پر مزید کفر کا اضافہ کیا ہے۔ چونکہ معاہدہ اصل کفر کے باوجود قائم رہتا ہے اس لیے کفر میں اضافے پر بھی برقرار رہے گا۔ امام طحاوی اور علامہ کاسانی کا یہ موقف کئی وجوہ کی بنیاد پر احناف کے ہاں مقبول نہیں:

کیا۔ علامہ کاسانی (۵۸۷ھ) کے بعد علامہ بدر الدین عینی (۸۵۵ھ) فرماتے ہیں کہ توہین رسالت کی وجہ سے مؤمن کا ایمان نہیں رہتا، ذمی کی امان کیسے باقی رہ جائے گی؟ کیونکہ مسلمان جب رسول اللہ ﷺ کو گالی دے تو کافر ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اگر حاکم ایسا کرے تو اسے بھی قتل کر دیا جائے گا۔ اور جو ویسے ہی مجرم اور دین کا دشمن ہو وہ توہین کرے تو اسے کیسے چھوڑ دیا جائے گا؟

اسی طرح محقق علی الاطلاق امام ابن الہمام فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ ذمی نے اگر حضور ﷺ کی اہانت کی یا اللہ تعالیٰ کی طرف غیر مناسب بات منسوب کی اگر وہ مسلمانوں کے عقائد سے خارج ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت یہ یہود و نصاریٰ کا عقیدہ ہے جب وہ ان چیزوں کا اظہار کرے گا تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا اور اسے قتل کر دیا جائے گا۔ ان کے علاوہ بھی تقریباً تمام متاخرین احناف نے ذمی کا عہد ٹوٹنے کا قول کیا ہے۔ ان عبارات کے حوالہ جات ہم نے اوپر نقل کر دیئے ہیں۔ حق بات تو یہ ہے کہ علامہ بدر الدین عینیؒ کا یہ قول سونے کے ساتھ تولنے کے قابل ہے کہ جب توہین رسالت کی وجہ سے مؤمن کا ایمان نہیں رہتا تو ذمی کے لئے امان کیسے باقی رہ سکتی ہے۔

موصوف کی ایک اور علمی خیانت

جناب عمار خاں ناصر نے پرلے درجے کی بد دیانتی کرتے ہوئے امام ابن الہمام کا ایک قول نقل کیا ہے اور اس کے ترجمہ میں بین القوسین (سبّ وشتم کی صورت میں) کا اضافہ اپنی طرف سے کر دیا ہے اور یوں اُنہوں نے جو حکم باغی اور سرکش ذمی کے بارے میں لگایا جو شاتم رسول نہیں ہے، اسے اُنہوں نے علمی خیانت کرتے ہوئے اسے ایسے باغی ذمی پر منطبق کر دیا ہے جو کہ شاتم بھی ہے، اُنہوں نے جو ترجمہ کیا ہے، ہم اسے اصل عبارت کے ساتھ پیش کرتے ہیں:

اگست 2011

صفحہ ۹۶

گستاخ رسول کی سزا اور احناف کا موقف مُکالمات

”علامہ ابن الہمام فرماتے ہیں: ھذا البحث منا يوجب أنه إذا استعلى على المسلمين على وجه صار متمرداً عليهم حل للإمام قتله أو يرجع إلى الذل والصغار ”ہماری اس بحث کا تقاضہ یہ ہے کہ اگر ذمی (سب وشتم کی صورت میں) مسلمانوں کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے ہوئے باغیانہ روش اختیار کر لے تو حکمران کے لیے اسے قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے، الا یہ کہ وہ دوبارہ ذلت اور پستی کی حالت قبول کرنے پر آمادہ ہو جائے۔“۱

حالانکہ امام ابن الہمام کا موقف ہم نے پہلے نقل کر دیا ہے کہ وہ ذمی کی طرف سے اہانت رسول پر نقض عہد اور اس کے قتل کا موقف رکھتے ہیں۔ موصوف نے خود بھی اپنی تالیف میں امام ابن الہمام کا یہی موقف بیان کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں:

”جمہور فقہا اور احناف کے مابین ایک اختلافی نکتہ یہ ہے کہ آیا اہل ذمہ کی طرف سے سب وشتم کے ارتکاب کی صورت میں معاہدۂ ذمہ برقرار رہتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے۔ جمہور فقہا اسے ناقض عہد مانتے ہیں اور احناف میں سے امام ابو بکر الجصاص اور ابن الہمام کا رجحان بھی یہی ہے کہ سب وشتم کو نقض عہد کے ہم معنی قرار دینا چاہیے۔“۲

اس کے بعد اُنہوں نے ابن عابدین شامیؒ کا ایک قول نقل کیا ہے۔ اصولاً تو ابن عابدین شامیؒ کے کسی قول سے متقدمین کے موقف پر دلالت نہیں ہوتی جبکہ ان سے پہلے متعدد احناف امام اعظمؒ اور متقدمین احناف ہی کی پیروی میں احناف کے کلاسیکی موقف کو واضح کر چکے ہیں پھر انکے اس اقتباس سے یہ معلوم بھی نہیں ہوتا کہ احناف کا کلاسیکی موقف کیا تھا؟

حاصل کلام کے طور پر عرض ہے کہ پوری اُمت گستاخ رسول خواہ کافر ہو یا مسلمان اس کے وجوبِ قتل پر متفق ہے اور احناف کا مفتی بہ قول یہی ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں اور اسے لازماً قتل کیا جائے گا۔ احناف اور جمہور فقہا کے مابین عملی نتیجہ کے اعتبار سے کوئی بنیادی اختلاف نہیں ہے۔ ہمیں اس مسئلہ پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حنفیت کی آڑ میں ناموس رسالت کے مجرموں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کرنے کی خاطر دور کی کوڑی لانے کی بجائے احناف سمیت جمہور فقہا کے موقف کے مطابق پاکستان میں رائج قانون توہین رسالت کو دل وجان کے ساتھ قبول کر لینا چاہیے اور طاغوت کا آلہ کار بننے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

اگست 2011

۱ فتح القدیر: ۶/ ۶۲، ۶۳ بحوالہ توہین رسالت کا مسئلہ : ۵۷ ۲ توہین رسالت کا مسئلہ : ۵۳