احتساب قادیانیت جلد 44 · مولانا سید محمد ہاشم شمسی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 44 · Maulana Syed Mohammad Hashim Shamsi
PDF 1

رَدِّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

جلد ٤٤

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4783486-061

PDF 2

رَدّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

٤٤

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

نام کتاب / : احتساب قادیانیت جلد چوالیس (٤٤) مصنفین : حضرت مولانا سید محمد ہاشم شمسی مکرم ومحترم جناب ڈاکٹر اسرار احمدؒ جناب مولانا امان اللہ گجراتیؒ جناب مکرم ومحترم عبدالرحیم عاجز امرتسری حضرت مکرم ومحترم مولانا عبدالرحیم ڈیرویؒ حضرت مولانا بہاء الحق قاسمی امرتسری جناب مکرم ومحترم ماسٹر محمد ابراہیمؒ حضرت مولانا محمد موسیٰ صاحب لودھراں مسلمانان ڈاور صاحبان حضرت مولانا محمد نعیم آسی سیالکوٹی جناب حاجی محمد مسلم صاحب دیوبندی

صفحات : ٦٤٠ قیمت : ٣٥٠ روپے مطبع : ناصر زین پریس لاہور طبع اوّل : اپریل ٢٠١٢ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فہرست رسائل مشمولہ.......١

عرض مرتب

صفحہ ٣

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فہرست رسائل مشمولہ...... احتساب قادیانیت جلد ٤٤

عرض مرتب حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ ٤ ١....... عالمگیر نبوت حضرت مولانا سید محمد ہاشم صاحب شمسی ١٣ ٢....... قادیانی مسئلہ اور اس کا نیا اور پیچیدہ تر مرحلہ جناب ڈاکٹر اسرار احمد صاحب ٨١ ٣....... مرزا کی کہانی اس کی اپنی زبانی جناب امان اللہ صاحب ٩٩ ٤....... قادیانی دجل جناب عبدالرحیم عاجز صاحب امرتسری ١٤١ ٥....... مرزائیوں کے خطرناک ارادے حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب ڈیروی ١٤٥ ٦....... مرزائیوں کا اصلی چہرہ 〃 〃 〃 ١٥٧ ٧....... مرزائیوں کی خوفناک سیاسی چالیں 〃 〃 〃 ١٧١ ٨....... مطالبہ حق حضرت مولانا بہاء الحق صاحب قاسمی ١٨٣ ٩....... گستاخ مرزا 〃 〃 〃 ٢٠٧ ١٠....... مرزائی لٹریچر میں توہین انبیاء وصلحاء 〃 〃 〃 ٢١٥ ١١....... غذائے مرزا 〃 〃 〃 ٢٢٥ ١٢....... ابن مریم زندہ ہیں حق کی قسم جناب ماسٹر محمد ابراہیم صاحب ٢٣٣ ١٣....... لودھراں شہر میں مرزائیوں کی یلغار اور مسلمانان لودھراں کی فریاد حضرت مولانا محمد موسیٰ صاحب ٢٥١ ١٤....... فرقہ غلام احمدی (مرزائیت) کی حقیقت 〃 〃 〃 ٢٥٥ ١٥....... مقام محمدیت اور دجل مرزائیت 〃 〃 〃 ٢٦٣ ١٦....... خاتم الانبیاء کی عدالت میں مرزا غلام احمد کو سزا اور حقیقت 〃 〃 〃 ٢٦٧ ١٧....... آنجہانی مرزا قادیانی ، کرشن تھا یا دجال؟ 〃 〃 〃 ٣١٩ ١٨....... آنجہانی مرزا قادیانی ، مرد تھا عورت؟ 〃 〃 〃 ٣٢٣ ١٩....... مرزائیوں کی شکست فاش کا دلچسپ نظارہ اور ان کے نزدیک ایک مناظرہ مسلمانان ڈلور ٣٢٧ ٢٠....... اقبال اور قادیانی حضرت مولانا نعیم آسی صاحب ٣٣٥ ٢١....... قادیانی مسئلہ اسمبلی ترمیم کے مطابق قانون سازی کا تقاضہ کرتا ہے 〃 〃 〃 ٤٣١ ٢٢....... اسلامیہ پاکٹ بک جناب حاجی محمد مسلم صاحب دیوبندی ٤٤٩ ٢٣....... حقیقت مرزا 〃 〃 〃 ٥٨٩

صفحہ ٥

بسم الله الرحمن الرحيم!

عرض مرتب

الحمد لله وكفى وسلام على سيد الرسل وخاتم الانبياء، اما بعد! قارئین کرام ! لیجئے اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے احتساب قادیانیت کی جلد نمبر چوالیس (٤٤) پیش خدمت ہے۔

وفات ١٥؍اگست ١٩٨٨ء، حیدرآباد) کے نامور عالم دین تھے۔ آپ نے ١٩٧٥ء میں ایک کتاب اپنے عزیزوں کی خواہش پر تحریر کی۔ قرآنی آیات اور احادیث نبویہؐ سے ختم نبوت کے مسئلہ پر دلائل جمع کئے۔ آپ نے اس کا نام تجویز کیا ۔

ہوا اور ہمیں نہ مل سکا یا کہ سرے سے شائع ہی نہیں ہوا۔ اس پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم حصہ اوّل میں بھی بہت اچھا مواد جمع کیا ہے۔ زیادہ تر مواد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کی کتاب ختم نبوت کامل سے لیا گیا ہے۔ اس کتاب کو حضرت مولانا شاہ احمد نورانی صاحبؒ کے خسر جناب ڈاکٹر فضل الرحمن انصاری قادریؒ کے ادارہ ورلڈ فیڈریشن آف اسلامک مشنز کراچی نے شائع کیا۔ اس جلد میں اسے شامل کیا گیا ہے۔

اسلامی کے بانی نے ١٩٨٤ء میں ایک مقالہ تحریر فرمایا۔ ہوا یہ کہ ١٩٨٤ء میں امتناع قادیانیت آرڈینینس کے نفاذ کے بعد ساہیوال میں قادیانیوں کے ہاتھوں، حافظ بشیر احمدؒ اور طالب علم رہنما محمد رفیقؒ صاحب کی شہادت نے ماحول میں سخت کشیدگی کے حالات پیدا کر دیئے۔ امتناع قادیانیت آرڈینینس کو ناکام بنانے کے لئے قادیانیوں نے جدوجہد شروع کی۔ ادھر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس آرڈینینس کو مؤثر بنانے اور عمل درآمد کے لئے بھرپور منظم جدوجہد کا آغاز

کیا۔ لٹریچر کی تیاری، لاکھوں بندگان خدا تک پہنچانے، عامہ بیدار ہوئی۔ قادیانیوں کو ہمیشہ کی طرح اب بھی پسپائی نے قادیانیوں کی حمایت میں اخبار جنگ میں ایک مضمون اور فقیر راقم کا جواب ایک ساتھ دونوں مضامین اخبار جناب ڈاکٹر اسرار احمد صاحبؒ نے یہ مقالہ تحریر فرمایا۔ جس

صاحب کے رسالہ خدام القرآن میں شائع ہوا۔ پھر شائع کیا۔ اس جلد میں اسے شائع کرنے کی اللہ رب العزت

قادیانیت ایسی لعنت کے اثرات دیکھ کر کڑھتے۔ آپ نے دیا۔ جس میں (١) ثابت کیا کہ دور اوّل کے جھوٹے مدعیان میں مماثلت، اس بات کی دلیل ہے کہ ان تمام ملعونوں (٢) مرزا قادیانی باپ، مرزا محمود قادیانی بیٹا دونوں کو اپنے کلام میں تضاد کے دلائل اس مختصر کتابچہ میں آ رسالہ کا نام تجویز کیا:

شامل کیا گیا ہے۔

امرتسر، وفات یکم مئی ١٩٥٣ء، لاہور) اپنے دور کے اور جناب سائیں محمد حیات پسروریؒ آپ سے اصلا کی پنجابی زبان کی دو نظمیں:

صفحہ ٥

کیا۔ لٹریچر کی تیاری، لاکھوں بندگان خدا تک پہنچانے کے لئے اس کی تقسیم عام کا فائدہ ہوا۔ رائے عامہ بیدار ہوئی۔ قادیانیوں کو ہمیشہ کی طرح اب بھی پسپائی اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ حنیف رامے نے قادیانیوں کی حمایت میں اخبار جنگ میں ایک مضمون لکھا۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور فقیر راقم کا جواب ایک ساتھ دونوں مضامین اخبار جنگ میں شائع ہوئے۔ اس صورتحال پر جناب ڈاکٹر اسرار احمد صاحبؒ نے یہ مقالہ تحریر فرمایا۔ جس کا نام:

صاحب کے رسالہ خدام القرآن میں شائع ہوا۔ پھر آپ نے اسے علیحدہ پمفلٹ کی شکل میں شائع کیا۔ اس جلد میں اسے شائع کرنے کی اللہ رب العزت نے توفیق رفیق فرمائی۔

قادیانیت ایسی لعنت کے اثرات در آئے۔ آپ نے ان کو سمجھانے کے لئے ایک رسالہ ترتیب دیا۔ جس میں (١) ثابت کیا کہ دورِ اوّل کے جھوٹے مدعیانِ نبوت اور مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت میں مماثلت، اس بات کی دلیل ہے کہ ان تمام ملعونین کے دل آپس میں ملے ہوئے تھے۔ (٢) مرزا قادیانی باپ، مرزا محمود قادیانی بیٹا دونوں کی تحریرات میں تضاد۔ (٣) مرزا قادیانی کے اپنے کلام میں تضاد کے دلائل اس مختصر کتابچہ میں آپ نے اچھوتے انداز میں جمع کئے اور اس رسالہ کا نام تجویز کیا:

شامل کیا گیا ہے۔

امرتسر، وفات یکم مئی ١٩٥٣ء، لاہور) اپنے دور کے نامور شاعر تھے۔ جناب مرزا غلام نبی جانبازؒ اور جناب سائیں محمد حیات پسروریؒ آپ سے اصلاح لیتے تھے۔ جناب عبدالرحیم عاجز امرتسریؒ کی پنجابی زبان کی دو نظمیں:

صفحہ ٧

ان کو شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

مفتی محمد عبداللہ صاحبؒ اور حضرت مولانا عبدالرحیم صاحبؒ نے ملتان آکر ”کتب خانہ“ قائم کیا۔ جس کا نام مکتبہ صدیقیہ رکھا۔ یہ دونوں حضرات بھائی تھے۔ حضرت مولانا مفتی محمد عبداللہ صاحبؒ بہت بڑے عالم ربانی تھے۔ آپ جامعہ خیرالمدارس اور قاسم العلوم ملتان میں استاذ الحدیث بھی تھے۔ اخلاص وتقویٰ کا پیکر تھے۔ آپ کو اللہ رب العزت نے دردمند عالم دین کا دل نصیب فرمایا تھا۔ آپ نے مکتبہ صدیقیہ سے، بہت سی درسی اور دیگر کتب شائع کیں۔ آپ نے ملتان سے ماہنامہ ”الصدیق“ بھی جاری کیا۔ جو اپنے دور میں نامور دینی، ادبی ومعلوماتی رسائل میں شمار ہوتا تھا۔ آپ کے برادر حضرت مولانا عبدالرحیمؒ ڈیروی نے ”الصدیق“ میں شائع ہونے والے ردقادیانیت پر اہم مضامین کو پمفلٹوں ورسائل کی شکل میں شائع کرنا شروع فرمایا تھا۔ ہمیں آپ کے تین رسائل ملے ہیں۔

کی اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ ”مرزائیوں کے خطرناک ارادے“ ماہنامہ الصدیق ملتان ماہ جمادی الاول ١٣٧١ھ میں شائع ہوا تھا۔ اس میں قادیانیوں کے سیاسی خطرناک عزائم کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ یہ رسالہ باسٹھ سال بعد شائع ہو رہا ہے۔ دوسرا رسالہ ”مرزائیوں کا اصلی چہرہ“ اس میں قادیانیوں کے خلاف اسلامی عقائد کو بیان کیا گیا ہے۔ تیسرا رسالہ ”مرزائیوں کی خوفناک سیاسی چالیں“ کا موضوع، نام سے واضح ہے۔ پڑھیں کہ ہمارے بزرگوں کی محنت ہے۔

حضرت مولانا پیر غلام مصطفےٰ صاحبؒ قاسمی تھے۔ ا صاحبؒ قاسمی کے شاگردوں میں حضرت امیر شریعت شامل بھی تھے۔ مولانا غلام مصطفےٰ قاسمی کے صا (ولادت یکم مئی ١٩٠٠ء، امرتسر، وفات ٢؍فروری ١٩ کے کالم نگار مخدومی ومخدوم زادہ جناب عطاء الحق قا صاحبزادے ہیں۔ مولانا بہاء الحق صاحب قاسمی نے ا ہمیں صرف چار ملے ہیں:

جداگانہ اقلیت قرار دیئے جانے اور سرظفراللہ کو وزار مطالبہ کے دلائل پر مشتمل مختصر رسالہ ”مطالبہ ح کیا۔“ تاریخ اشاعت یکم ذیقعدہ ١٣٧١ھ مطابق ٢٤

مباہلہ امرتسر نے شائع کیا تھا۔ انجمن مباہلہ کے با کتب ورسائل ہم احتساب قادیانیت کی کسی سابقہ جل

ہے۔ جسے انجمن مباہلہ امرتسر نے شائع کیا تھا۔

اخبار اہل حدیث امرتسر میں شائع ہوا۔ بعد میں ط امرتسریؒ نے اسے کتابچہ کی شکل میں شائع کر دیا۔ ا ردقادیانیت پر رشحات قلم ہیں جن تک رسائی سے ا اللہ تعالیٰ کا لاکھوں لاکھ شکر بجالاتے ہیں۔

صفحہ ٧

۞...... مشرقی پنجاب کے مردم خیز خطہ امرتسر کے نامور عالم دین اور مذہبی رہنما، پیر طریقت حضرت مولانا پیر غلام مصطفےٰ صاحب قاسمی تھے۔ جو امرتسر کے مفتی تھے۔ مولانا غلام مصطفےٰ صاحب قاسمی کے شاگردوں میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری بانی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھی تھے۔ مولانا غلام مصطفےٰ قاسمی کے صاحبزادے پیرزادہ مولانا محمد بہاء الحق قاسمی (ولادت یکم مئی ١٩٠٠ء، امرتسر، وفات ٢/فروری ١٩٨٧ء، لاہور) تھے۔ آج کل روزنامہ جنگ کے کالم نگار مخدومی ومخدوم زادہ جناب عطاء الحق قاسمی حضرت مولانا بہاء الحق قاسمی صاحب کے صاحبزادہ ہیں۔ مولانا بہاء الحق صاحب قاسمی نے رد قادیانیت پر کئی کتابچے تحریر فرمائے ہیں۔ ہمیں صرف چار ملے ہیں:

جداگانہ اقلیت قرار دیئے جانے اور سر ظفر اللہ کو وزارت خارجہ کے عہدہ سے علیحدہ کئے جانے کے مطالبہ کے دلائل پر مشتمل یہ مختصر رسالہ ’مطالبہ حق‘ جو ادارہ قاسمیہ وزیر آباد پنجاب نے شائع کیا۔“ تاریخ اشاعت یکم ذوالقعدہ ١٣٧١ھ مطابق ٢٤/جولائی ١٩٥٢ء درج ہے۔

مباہلہ امرتسر نے شائع کیا تھا۔ انجمن مباہلہ کے بانی مبانی مولانا عبدالکریم مباہلہ تھے۔ جن کی کتب ورسائل ہم احتساب قادیانیت کی کسی سابقہ جلد میں شائع کر چکے ہیں۔

ہے۔ جسے انجمن مباہلہ امرتسر نے شائع کیا تھا۔

اخبار اہل حدیث امرتسر میں شائع ہوا۔ بعد میں مولانا حبیب اللہ امرتسری اور مولانا ثناء اللہ امرتسری نے اسے کتابچہ کی شکل میں شائع کر دیا۔ اس کے علاوہ بھی مولانا بہاء الحق قاسمی کے رد قادیانیت پر رشحات قلم ہیں جن تک رسائی سے ہم محروم رہے۔ ان چار رسائل کی اشاعت پر اللہ تعالیٰ کا لاکھوں لاکھ شکر بجالاتے ہیں۔

صفحہ ٩

...... کسی زمانہ میں مڈھ رانجھا تحصیل بھلوال ضلع سرگودھا میں ”انجمن تبلیغ الاسلام“ قائم تھی۔ تقسیم ہند کے بعد مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر بھی ابتداءً مڈھ رانجھا میں آ کر قیام پذیر رہے۔ غالباً یہ اس زمانہ میں آپ نے قائم فرمائی تھی۔ بعد میں اس مڈھ رانجھا کے جناب ماسٹر محمد ابراہیم صاحب نے انجمن تبلیغ اسلام کے کام کو سنبھالا۔ دسمبر ١٩٦٣ء میں آپ نے ایک رسالہ تحریر فرمایا۔ جس کا نام تھا:

......١٢ ابن مریم زندہ ہیں حق کی قسم: اس رسالہ کو شائع کرنے کی سعادت پر اللہ رب العزت کے حضور شکر بجالاتے ہیں۔ ملعون قادیان نے ایک شعر کہا جس میں تھا:

حق کی قسم مر گیا ابن مریم

اس مصرعہ کے جواب کو اس کتابچہ کا عنوان بنایا گیا۔ قارئین کرام! یہ جان کر خوشی محسوس کریں گے۔ عجیب اتفاق ہے کہ فقیر آج ١٤ اپریل ٢٠١٢ء کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس پھالیہ میں شرکت کے سلسلہ میں پھالیہ میں قیام پذیر ہے اور پھالیہ میں یہ سطور لکھی جارہی ہیں۔ پھالیہ مڈھ رانجھا کے بہت قریب ہے۔ انہیں حضرات کی ان محنتوں کے صدقہ میں جہاں اللہ رب العزت نے اس کتابچہ کو شائع کرنے کی توفیق دی۔ وہاں ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کی بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو توفیق سے سرفراز فرمایا۔ پاکستان بننے کے بعد اس علاقہ میں یہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس پھالیہ پہلی بار اتنے بڑے پیمانہ پر منعقد ہورہی ہے کہ اس پر جتنا اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ اس کانفرنس میں گجرات، جہلم، منڈی بہاء الدین کے تین اضلاع سے عوام شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس اپنی نوعیت کی مثالی کانفرنس ہے۔ حق تعالیٰ اسے کامیابی سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!

...... لودھراں شہر کسی زمانہ میں ملتان کی تحصیل ہوا کرتا تھا۔ آج خود ضلع ہے۔ لودھراں شہر میں حضرت مولانا محمد موسیٰ مرحوم (ولادت ٢٠ جولائی ١٩٢٩ء، وفات ٢٦ فروری ٢٠٠٣ء) ہوتے تھے۔ مولانا محمد موسیٰ بن محمد حسین بن حاجی محمد بن میاں پیرن بن مولانا غلام حسین بن حافظ نور محمد۔ حافظ نور محمد صاحب ڈسوری اڈہ ضلع لیہ کے رہائشی تھے۔ وہاں ہی آپ کا مزار مبارک بھی ہے۔ ان

کے بیٹے مولانا غلام حسینؒ صاحب لیہ سے بہاولپور آ گئے خاص میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کی قبر مبارک ملوک شاہ قبـ نے ان کو ایک مربعہ زمین دی تھی جو دریا برد ہوگئی تو الا لودھراں، بہاولپور ایک دوسرے کے ہمسایہ شہر ہیں۔ مرز پائی ایوب خان نے ایسے سمجھدار فوجی حکمران نے انڈیا کو ا علاقہ کو بھی ریگستان میں تبدیل کر دیا۔ میاں پیرن کے بـ بیٹے مولانا محمد موسیٰ ہمارے ممدوح ہیں۔ ابتدائی تعلیم اپنـ حاصل کی۔ دورہ حدیث شریف جامعہ خیر المدارس ملتان محمد جالندھریؒ، مولانا محمد شریف کشمیریؒ، مولانا مفتی محمد شفیعؒ ، مولانا عبداللہ رائے پوریؒ ایسے اکابر تھے۔ مولانا محمد موسیٰ ؒ قائم کیا اور لودھراں میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی داغ بیل ڈ جب مجلس تحفظ ختم نبوت کے سرپرست حضر حافظ غلام رسولؒ ناظم اعلیٰ مولانا محمد موسیٰ، خازن صوفی غلا تھے۔ وفات تک لودھراں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ا پرچم بلند کئے رکھا۔ مولانا محمد موسیٰ صاحب بہت ہی جفاکش ا اس لئے ہر باطل سے ٹکرانا آپ کا شیوہ تھا۔ قادیانیت سـ تھے۔ قادیانی کتب پر بھر پور عبور تھا۔ جہاں قادیانیت ہیـ وہاں جا نمودار ہوتے۔ مولانا محمد موسیٰ واقعتاً لودھراں میں موسیٰ کا مصداق تھے۔ لودھراں کے قرب وجوار میں جـ آبادی، مولانا قاضی محمد اللہ یار خانؒ کو بلوا کر ختم نبوت جمعیت علماء اسلام کے قیام اور اس کے پروگرام کو آگے

صفحہ ٩

کے بیٹے مولانا غلام حسینؒ صاحب لیہ سے بہاولپور آ گئے۔ یہاں نواب آف بہاولپور کے خدام خاص میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کی قبر مبارک ملوک شاہ قبرستان بہاولپور میں ہے۔ نواب صاحب نے ان کو ایک مربعہ زمین دی تھی جو دریا برد ہوگئی تو ان کے بیٹے میاں پیرن لودھراں آ گئے۔ لودھراں، بہاولپور ایک دوسرے کے ہمسایہ شہر ہیں۔ صرف درمیان میں دریائے ستلج ہے۔ جس کا پانی ایوب خان جیسے سمجھدار فوجی حکمران نے انڈیا کو فروخت کر کے ریاست بہاولپور کے زرعی علاقہ کو بھی ریگستان میں تبدیل کر دیا۔ میاں پیرن کے بیٹے حاجی محمد ان کے بیٹے محمد حسین ان کے بیٹے مولانا محمد موسیٰ ہمارے ممدوح ہیں۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی مولانا محمد حسین صاحب سے حاصل کی۔ دورہ حدیث شریف جامعہ خیر المدارس ملتان سے کیا۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا خیر محمد جالندھریؒ، مولانا محمد شریف کشمیریؒ، مولانا مفتی محمد عبداللہ ڈیرویؒ، مولانا جمال الدینؒ، مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ ایسے اکابر تھے۔ مولانا محمد موسیٰ صاحبؒ نے لودھراں میں مدرسہ خیرالعلوم قائم کیا اور لودھراں میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی داغ بیل ڈالی۔ یہ ١٩٥٨ء کی بات ہے۔

تب مجلس تحفظ ختم نبوت کے سرپرست حضرت مولانا سید بشیر احمد شاہ کاظمیؒ تھے۔ امیر حافظ غلام رسولؒ ناظم اعلیٰ مولانا محمد موسیٰ، خازن صوفی محمد علی صاحبؒ مقرر ہوئے۔ تب سے لے کر وفات تک لودھراں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جھنڈا کو حضرت مولانا محمد موسیٰ صاحبؒ نے بلند کئے رکھا۔ مولانا محمد موسیٰ صاحب بہت ہی جفاکش عالم دین تھے۔ دین اسلام کی سربلندی کے لئے ہر باطل سے ٹکرانا آپ کا شیوہ تھا۔ قادیانیت کے خلاف اللہ رب العزت کی بے نیام تلوار تھے۔ قادیانی کتب پر بھرپور عبور تھا۔ جہاں قادیانیت سر نکالتی، یہ قادیانی کتب سائیکل پر رکھتے اور وہاں جا نمودار ہوتے۔ مولانا محمد موسیٰ واقعتاً لودھراں میں قادیانیت کے فرعون کے سامنے لکل فرعون موسیٰ کا مصداق تھے۔ لودھراں کے قرب و جوار میں مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، مولانا خدا بخش شجاع آبادیؒ، مولانا قاضی محمد اللہ یار خانؒ کو بلوا کر ختم نبوت کی صداؤں کو بلند کرتے تھے۔ آپ نے جمعیت علماء اسلام کے قیام اور اس کے پروگرام کو آگے بڑھانے میں یادگار اسلاف حضرت مولانا

صفحہ ١١

سید بشیر احمد شاہ صاحب کاظمی کے دست و بازو کے طور پر مثالی خدمات سرانجام دیں۔ غرض ایک مخلص عالم دین میں جو خوبیاں ہونی چاہئیں وہ آپ میں علیٰ وجہ الاتم موجود تھیں۔ مولانا محمد موسیٰ صاحبؒ کے چار رسائل اور دو اشتہارات رد قادیانیت پر ہمیں میسر آئے جن کے نام یہ ہیں:

یہ چار رسائل اور دو اشتہار حضرت مولانا مرحوم کے رشحات قلم فقیر کو دستیاب ہوئے۔ اس جلد میں شامل کرنے پر دلی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ الحمد للہ!

٭...... ١٠؍ اپریل ١٩٦٥ء کو ڈاور نزد چناب نگر (ربوہ) میں مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ اور قادیانی مناظر قاضی نذیر سے ختم نبوت پر مناظرہ ہوا۔

دوسرے مناظرہ کے لئے ٢٠؍ اپریل ١٩٦٥ء کی تاریخ طے تھی کہ حیات مسیح علیہ السلام اور کذب مرزا پر مناظرہ ہوگا۔ پہلے مناظره میں قادیانیوں کو مولانا لال حسین اخترؒ نے ایسی ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا کہ ٢٠؍ اپریل ١٩٦٥ء کو قادیانیوں کو میدان مناظرہ میں آنے کی جرأت نہ ہو پائی۔ اس مناظرہ کی چند صفحاتی رپورٹ مسلمانان ڈاور نے شائع کی۔ جس میں اس مناظرہ میں مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا سید احمد شاہ چوکیڑہؒ، علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا محمد نافع جامع محمدی، مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ، مولانا خدا بخش بھیرویؒ، مولانا عبدالمالک خان حال شیخ الحدیث منصورہ شریک ہوئے۔ اس مناظرہ کی مختصر رپورٹ پر مشتمل یہ رسالہ:

اس جلد میں شائع کرنے پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہیں۔

٭...... سیالکوٹ کی ایک مرنجاں مرنج دینی ش ١٩٤٩ء، وفات ٩؍ نومبر ١٩٩٠ء سیالکوٹ) تھے جو شیخ مدنیہ لاہور کے مرید خاص تھے۔ مولانا نعیم آسیؒ نے کیا۔ آپ بہت اچھے معیاری لکھاری تھے۔ آپ کے میں آغا شورش کاشمیریؒ شائع کیا کرتے تھے۔ مولا روح رواح تھے اور ایک مسجد کے خطیب بھی تھے رد قادیانیت پر ایک کتاب اور ایک رسالہ ہمیں دستیا

کا نام ہے:

رسالہ فروری ١٩٧٨ء میں شائع ہوا۔ مولانا نعیم آسیؒ قلم کو شائع کرنے پر دل مسرتوں سے لبریز ہے ک حضرت خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد ح تعالیٰ رحمۃ واسعۃ!

٭...... کراچی کے درویش صفت ایک بزرگ اللہ ،ٹھٹھائی کمپاؤنڈ کراچی میں کپڑا کی تجارت کر سعید دہلویؒ کی تفسیر و ترجمہ کشف الرحمٰن دو جلدوں زمانہ میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد شفیعؒ و آپ ہفتہ وار لولاک فیصل آباد کے مستقل قاری حضرت مولانا نور محمد صاحب پنیا لویؒ کی کتب سے مرتب کر کے شائع کیں۔

صفحہ ١١

❁ ...... سیالکوٹ کی ایک مرنجاں مرنج دینی شخصیت حضرت مولانا نعیم آسیؒ (ولادت ١٩٤٩ء، وفات ٩ نومبر ١٩٩٠ء سیالکوٹ) تھے جو شیخ الحدیث حضرت مولانا حامد میاںؒ بانی جامعہ مدنیہ لاہور کے مرید خاص تھے۔ مولانا نعیم آسیؒ نے مسلم اکادمی کے نام پر سیالکوٹ میں ادارہ قائم کیا۔ آپ بہت اچھے معیاری لکھاری تھے۔ آپ کے مضامین اس زمانہ میں ہفت روزہ چٹان لاہور میں آغا شورش کاشمیریؒ شائع کیا کرتے تھے۔ مولانا نعیم آسیؒ جمعیت علماء اسلام سیالکوٹ کے روح رواں تھے اور ایک مسجد کے خطیب بھی تھے۔ خوب علم دوست انسان تھے۔ آپ کی رد قادیانیت پر ایک کتاب اور ایک رسالہ ہمیں دستیاب ہوئے۔ کتاب کا نام ہے:

کا نام ہے:

رسالہ فروری ١٩٧٨ء میں شائع ہوا۔ مولانا نعیم آسیؒ جوانی میں جاں بحق ہوئے۔ ان کے رشحات قلم کو شائع کرنے پر دل مسرتوں سے لبریز ہے کہ وہ فقیر کے بہت اچھے دوست تھے۔ ہماری حضرت خواجہؒ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کے منظور نظر تھے۔ رحمۃ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ!

❁ ...... کراچی کے درویش صفت ایک بزرگ تھے جناب الحاج محمد مسلم دیو بندی بن برکت اللہ ، ٹھٹھائی کمپاؤنڈ کراچی میں کپڑا کی تجارت کرتے تھے۔ آپ نے سبحان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ کی تفسیر و ترجمہ کشف الرحمٰن دو جلدوں میں شائع کر کے مفت تقسیم کی۔ آپ کے اس زمانہ میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد شفیع صاحب کراچی سے نیاز مندانہ تعلقات تھے۔ آپ ہفتہ وار لولاک فیصل آباد کے مستقل قاری تھے۔ رد قادیانیت پر مختلف رسائل لولاک اور حضرت مولانا نور محمد صاحب پنیالویؒ کی کتب سے بہت سارا مواد لے کر اپنی ترتیب سے دو کتابیں مرتب کر کے شائع کیں۔

صفحہ ١٢

اشاعت ہیں۔ خلاصہ یہ کہ اس جلد میں:

..................................................

گویا گیارہ حضرات کے کل ٢٣ رسائل و کتب اس جلد میں شامل ہیں۔ اگلی جلد کی آمد تک کے لئے دعاؤں کی درخواست کے ساتھ اجازت۔

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ٢١/جمادی الاول ١٤٣٣ھ، بمطابق ١٤/اپریل ٢٠١٢ء

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

عالمگیر نبوت

حضرت مولانا سید محمد ہاشم

PDF 14

لد نمبر ٤٤ میں شامل کتاب رسالہ رسالہ رسالہ رسائل رسائل کتابچہ رسائل رسالہ رسائل کتب

٢٢ رسائل و کتب یں کی درخواست کے

فقیر اللہ وسایا! طابق ١٤ اپریل ٢٠١٢ء

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

عالمگیر نبوت

حضرت مولانا سید محمد ہاشمؒ فاضل شمسی

صفحہ ١٥

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

انتساب

١٩٥٣ء اور ١٩٧٤ء کے ان شہیدوں کے نام! جنہوں نے اپنا خون دے کر ختم نبوت کی تحریک کو پروان چڑھایا اور بالآخر حضور خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کے عشق میں اپنی قربانیاں پیش کر کے پاکستان کی قومی اسمبلی سے یہ تاریخی فیصلہ منوالیا کہ مرزائی غیر مسلم اقلیت ہیں اور اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

بندہ آثم سید محمد ہاشم عفی عنہ!

وجہ تالیف

قرآن مجید کی ایک ایک آیت حضور سید المرسلین ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر دلالت کرتی ہے اور سینکڑوں احادیث مبارکہ اس عنوان پر موجود ہیں۔ میرے چند عزیزوں نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ ختم نبوت پر ایک ایسی کتاب لکھوں۔ جس میں مختصراً آیات واحادیث کے حوالوں کے علاوہ عقلی دلائل سے اس مضمون کو سمجھایا جائے۔ چنانچہ پیش نظر کتاب، الحمد للہ کہ اسی طرز پر لکھی گئی ہے۔ امید کہ قارئین پسند فرمائیں گے اور اس گنہگار کو دعائے خیر میں یاد رکھیں گے۔

بندہ آثم سید محمد ہاشم عفی عنہ ١٥/ ذی الحجہ ١٣٩٤ھ حیدر آباد

٢

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد لله رب العلمين والصلوة وال محمد وعلى اله واصحابه وامته اجمعين۔ لا ن

نور و ظلمت، ایمان وکفر، آدمؑ و ابلیس، صادق ہوگئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدمؑ کا فیصلہ کیا اور آدمؑ کو خ سلسلہ جنگ ختم کائنات اور قیام قیامت تک جاری رہے اس کی رسی دراز کی اور قیامت تک اس کو چھوٹ دے د شیطان کو یہ قدرت ملی کہ وہ ظاہر ہو کر اور چھپ کر دلوں میں ہے۔ عقل و دانائی اور مال و دولت کے غرور میں مبتلا کرتا ہ ہے۔ الغرض شیطان ایک مداری ہے۔ دنیا اس کی بندریا کے کرتب اور دنیا کی کشش کی طرف متوجہ ہو کر خدا سے غ صراط مستقیم سے دور ہوا۔ غفلت سے جگانے شیطان سے اللہ رب العزت ابتدا ہی سے رسولوں کو بھیجتا اور کتابیں نازل کی طرف آئیں اور اللہ سے غافل اپنے برے انجام کی ط ہوتی ہے۔ علوم الہیہ اور وحی ان کا نور ہے۔ جس سے روش قدم اٹھایا جاتا ہے۔ جب نبی نگاہ انسانی سے اوجھل ہو رہنما ہوتی ہے۔ گویا ظہور نبی کی حالت میں کتاب الہی کے پردہ فرمانے کی صورت میں کتاب ظاہر رہتی ہے اور اور کتاب کا باطن نبی۔ ابتدائے اسلام میں جب کہ پورا اللہ کی حجت کامل تھی اور آج قرآن کی صورت میں ال ادھوری تھی اور نہ آج ادھوری۔

آدم علیہ السلام سے نوع بشر کا آغاز ہے ا جوں جوں نسل آدم پھیلتی گئی۔ نبیوں کی آمد کا سلسلہ بڑھتا گیا۔ کو معلوم ہے۔ یقین کے ساتھ ان کی گنتی نہیں بتائی جاسکت

٣

صفحہ ١٥

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد لله رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علٰی خاتم النبیین سیدنا محمد وعلٰی آلہ واصحابہ وامتہ اجمعین۔ لا نبی بعدہ!

نور وظلمت، ایمان وکفر، آدمؑ وابلیس، صادق وکاذب کی جنگ اس دن سے شروع ہوگئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدمؑ کا فیصلہ کیا اور آدمؑ کو خلیفہ اور پہلا نبی بنا کر زمین پر اتارا اور یہ سلسلہ جنگ ختم کائنات اور قیام قیامت تک جاری رہے گا۔ اللہ نے شیطان کو بہت طاقتور بنایا۔ اس کی رسی دراز کی اور قیامت تک اس کو چھوٹ دے دی۔ آدم وبنی آدم کو بہکانے کے لئے شیطان کو یہ قدرت ملی کہ وہ ظاہر ہوکر اور چھپ کر دلوں میں اتر کر رگوں میں دوڑ کر انسانوں کو بہکاتا ہے۔ عقل ودانائی اور مال ودولت کے غرور میں مبتلا کرتا ہے۔ عیش وعشرت کی رنگینیوں میں پھنساتا ہے۔ الغرض شیطان ایک مداری ہے۔ دنیا اس کی بندریا اور انسان تماشائی، جونہی انسان شیطان کے کرتب اور دنیا کی کشش کی طرف متوجہ ہوکر خدا سے غافل ہوا۔ اس کی گرہ کٹی، پاؤں پھسلا اور صراط مستقیم سے دور ہوا۔ غفلت سے جگانے شیطان سے بچانے اور راہ ہدایت دکھانے کے لئے اللہ رب العزۃ ابتدا ہی سے رسولوں کو بھیجتا اور کتابیں نازل کرتا رہا۔ تاکہ اللہ کے چاہنے والے اللہ کی طرف آئیں اور اللہ سے غافل اپنے برے انجام کی طرف بڑھیں۔ نبی کی ذات منارۂ ہدایت ہوتی ہے۔ علوم الہیہ اور وحی ان کا نور ہے۔ جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور راہ حق کی طرف قدم اٹھایا جاتا ہے۔ جب نبی نگاہ انسانی سے اوجھل ہوتے ہیں تو ان کی لائی ہوئی کتاب ہادی ورہنما ہوتی ہے۔ گویا ظہور نبی کی حالت میں کتاب الٰہی ان کی ذات میں پنہاں ہوتی ہے اور نبی کے پردہ فرمانے کی صورت میں کتاب ظاہر رہتی ہے اور نبی اس میں پوشیدہ، نبی کا باطن کتاب ہے اور کتاب کا باطن نبی۔ ابتدائے اسلام میں جب کہ پورا قرآن نازل نہ ہوا تھا۔ نبی کی صورت میں اللہ کی حجت کامل تھی اور آج قرآن کی صورت میں اللہ کی حجت کامل ہے۔ نہ اللہ کی حجت کل ادھوری تھی اور نہ آج ادھوری۔

آدم علیہ السلام سے نوع بشر کا آغاز ہے اور ان سے نبوت کی بھی ابتداء ہے۔ جوں جوں نسل آدم پھیلتی گئی۔ نبیوں کی آمد کا سلسلہ بڑھتا گیا۔ دنیا میں کتنے نبی آئے ان کی صحیح تعداد اللہ کو معلوم ہے۔ یقین کے ساتھ ان کی گنتی نہیں بتائی جاسکتی۔

٣

صفحہ ١٧

جس طرح تخلیق انسانی اللہ کا کرم اور اس کا ذاتی فیصلہ ہے۔ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں۔ آدم و اولاد آدم کو اسی اللہ نے پیدا کیا۔ اللہ رب العزۃ کی خدائی انسان کی خالق ہے اور اس کی ربوبیت پالنہار ہے۔ نومولود کی پیدائش سے پہلے ماں کے سینے میں اس کی غذا مہیا کر دیتی ہے۔ اس میں نہ ماں کو دخل ہے اور نہ باپ کو اختیار نہ کسی دوسری مخلوق کو، اسی طرح روحانی پرورش اور ایمانی تربیت کے لئے اللہ جل شانہ خود اپنی طرف سے نبی بھیجتا ہے۔ اس میں نہ نبی اور رسول کی اپنی کوشش اور طلب کو دخل ہے اور نہ یہ کسی اور مخلوق کی کوشش کا نتیجہ ہے۔ نبوت اللہ کی ذاتی عطا اور اپنا فیصلہ ہے۔ انسانوں کی ہدایت کے لئے اللہ خود نبی کو مبعوث کرتا ہے۔ جس طرح کوئی مخلوق اپنی ذاتی کوششوں سے آدمی نہیں بن سکتی۔ اسی طرح کوئی انسان اپنی ذاتی کوششوں سے نبی بھی نہیں بن سکتا۔ قرآن مجید میں اللہ کا اعلان یہی ”اللہ اعلم حیث یجعل رسالته“ اللہ خوب جانتا ہے کہ رسالت کس کے سپرد کرے گا اور جس کو رسول بنانا چاہتا ہے۔ پیشتر ہی سے ان کی پیدائش اور تربیت کا اہتمام فرماتا ہے۔ چنانچہ ہر نبی اپنی قوم کے مقبول اور محترم گھرانے میں پیدا ہوئے اور شروع سے ان کی تربیت اس انداز پر ہوئی کہ جب وہ نبوت کا اعلان کریں تو شرافت اور اخلاق کے معیار میں کسی سے کم نہ ہوں۔ بلکہ اپنی قوم میں سبھوں سے ممتاز رہیں اور سبھوں کی امیدوں کا مرکز مانے جائیں۔ قرآن مجید انبیاء علیہم السلام کی یہی شان بیان کرتا ہے کہ کفار بھی نبیوں کی عظمت و شرافت اور ان کے مرجع امید ہونے کا اقرار کرتے رہے۔ عقل کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ نبی اگر اپنے تمام اہل زمانہ سے اعلیٰ انسانی خصائل اور خاندانی شرافت میں ممتاز نہ ہوں گے تو ان کے دعواےٰ نبوت کو لوگ حقارت سے ٹھکرا دیں گے۔ نبی کو انسانیت کا آفتاب ہونا چاہئے۔ ذاتی عظمت و برتری ہونی چاہئے۔ نبوت کے لئے ظاہری ساز و سامان کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ انسانی کمالات اور اخلاق فاضلہ سے آراستگی ضروری ہے۔ نبوت کا سلسلہ جو آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تو عیسیٰ ابن مریم علیہم السلام تک برابر جاری رہا۔ ایک نبی کا دور ختم ہوتا دوسرے نبی کا دور شروع ہوتا۔ ایک کتاب اٹھتی دوسری کتاب کھلتی۔ نبوت کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ تشریعی نبوت رہے اور ہر کتاب ایک نئی شریعت پیش کرے۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی نبوت میں مختلف مضامین ہوتے ہیں۔ ان میں ایک مضمون شریعت بھی ہے۔ تشریعی نبی کی وحی میں شریعت بھی ہوتی ہے۔ ورنہ قصص، امثال، مواعظ، بشارت، نذارت، وعظ، وعید اور فتاویٰ۔ ہر طرح کے مضامین وحی کا موضوع ہیں۔ مقصود امت کی تعلیم اور ہدایت ہے۔ وہ جس عنوان سے مناسب وقت و مطابق حال نظر آیا۔ اللہ نے اپنے نبی کی طرف وحی فرمائی۔

٤

عیسیٰ علیہ السلام کے بعد سلسلۂ نبوت میں انقـ جو حضرت محمد ﷺ کی ولادت کے لحاظ سے پانچ سو ستر سـ اعتبار سے چھ سو دس سال تک قائم رہا۔ گویا بعثت ورسالـ قانون میں کوئی عظیم انقلاب آنے والا ہے اور واقعہ بھی یـ پچھلے تمام نبیوں کا دور ختم ہو گیا۔ اجرائے نبوت کا سلسلـ اللہ کو نبوت جاری رکھنا مقصود ہوتا تو یہ چھ سو سال کے انقـ من بعده بالرسل (البقرة:٨٧) ”ایک نبی کے بـ بدلنا محض فضول ہوتا۔ اس انقطاع اور التواء کو جسے قرآن نـ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے سلسلۂ نبوت کا حقیقی خاتمہ ہـ

ان کے اس اعلان نبوت کے ساتھ کہ: ”لا نبی بعد الى یوم القيامة “ میرا دور نبوت روزِ قیامت تک کرنے والے، نبیوں کے آخر اور مہر ہیں۔

”اليوم اكملت لکم دینکم واتممـت میں نے تمہارے لئے دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمـ

”کنتم خير امة اخرجت للناس امت ہو جو نوعِ انسانی کے لئے خلق ہوئی اور جو اس قـ الا نبی محمد رسول اللہ ﷺ کی تابعداری کرے۔ وہ آخـ پانے والا ہے۔

محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور قرآن مجـ اور نہ کوئی عمل مطلوب ہے اور نہ نئے عقیدۂ وحکم کے لـ ہے۔ یہی نبوت آخر ہے اور یہی قرآن مبین محافظ ۔ دینِ کامل کی حدیں توڑی جائیں گی اور نہ خیر امت ( جائے گا۔ بلکہ جو کچھ قرآن حکیم نے عقائد واعمال بتا بھی نہیں۔ اب ہمیشہ قرآن کے منکر کو قرآن کی طرف استوار کرنے کی نصیحت کی جائے گی۔ نہ کوئی نیا نبی آئـ

٥

صفحہ ١٧

عیسیٰ علیہ السلام کے بعد سلسلۂ نبوت میں التواء پیدا ہوا۔ فضا پر ایک سکوت طاری ہوا جو حضرت محمد ﷺ کی ولادت کے لحاظ سے پانچ سو ستر سال اور آپ ﷺ کے اعلان نبوت کے اعتبار سے چھ سو دس سال تک قائم رہا۔ گویا بعثت ورسالت کے نظام اور وحی والہام کے ضابطے اور قانون میں کوئی عظیم انقلاب آنے والا ہے اور واقعہ بھی یہی ہے۔ پچھلی تمام کتابیں تہہ ہوگئیں اور پچھلے تمام نبیوں کا دور ختم ہوگیا۔ اجزائے نبوت کا سلسلہ ختم اور بعثت ووحی کا دفتر سر بمہر ہوگیا۔ اگر اللہ کو نبوت جاری رکھنا مقصود ہوتا تو یہ چھ سو سال کے التواء اور انقطاع کی ضرورت نہ تھی۔ ”قفينا من بعده بالرسل (البقرة: ٨٧)“ ایک نبی کے متصلاً بعد دوسرے نبی کی بعثت کے اصول کو بدلنا محض فضول ہوتا۔ اس انقطاع اور التواء کو جسے قرآن مجید کی اصطلاح میں فترت کہتے ہیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے سلسلۂ نبوت کا حقیقی خاتمہ ہوگیا۔ حضور محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت اور ان کے اس اعلان نبوت کے ساتھ کہ: ”لا نبي بعدي “ ”میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ ”عهدي الى يوم القيامة “ ”میرا دور نبوت روز قیامت تک ہے خاتم النبین ۔ آپ ﷺ نبیوں کے ختم کرنے والے، نبیوں کے آخر اور مہر ہیں۔

”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى (المائده: ٣) “ ﴿آج میں نے تمہارے لئے دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی۔﴾

”كنتم خير امة اخرجت للناس (آل عمران: ١١٠) “ تم سب سے بہتر امت ہو جو نوع انسانی کے لئے خلق ہوئی اور جو اس کتاب قرآن کی تصدیق کرے اور ان نبی الامی محمد رسول اللہ ﷺ کی تابعداری کرے۔ وہ آخرت میں فلاح یاب، نجات یافتہ اور انعام پانے والا ہے۔

محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور قرآن حکیم کے فرامین سے آگے نہ کوئی عقیدہ ہے اور نہ کوئی عمل مطلوب ہے اور نہ نئے عقیدہ و حکم کے ذریعے کوئی آزمائش ہوگی۔ یہی دین کامل ہے۔ یہی نبوت آخر ہے اور یہی قرآن مہیمن محافظ ہے۔ نئے نبی کو بھیج کر نئی وحی نازل کر کے نہ دین کامل کی حدیں توڑی جائیں گی اور نہ خیر امت (بہترین امت) کو کفر کے خطرات میں ڈالا جائے گا۔ بلکہ جو کچھ قرآن حکیم نے عقائد واعمال بتائے ہیں یہی سب کچھ ہیں۔ ان کے آگے کچھ بھی نہیں۔ اب ہمیشہ قرآن کے منکر کو قرآن کی طرف بلایا جائے گا اور مومن کو قرآن پر عقیدہ و عمل استوار کرنے کی نصیحت کی جائے گی۔ نہ کوئی نیا نبی آئے گا۔ نہ وحی آئے گی۔ جس سے قرآن کے

٥

صفحہ ١٩

مؤمن اور محمد رسول اللہ ﷺ کے پیرو انکار واقرار کی آزمائش میں پڑ کر خیر امت کہلانے کا تاج سر پر رکھے ہوئے کافر قرار پائیں اور جہنم میں داخل ہوں۔

ختم نبوت

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر سلسلۂ نبوت ختم ہو گیا۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ حضور علیہ السلام سے لے کر آج تک تمام مسلمانوں کا یہ اجماعی اور متفقہ عقیدہ کسی رائے واجتہاد کی بناء پر نہیں ہے۔ بلکہ روایت وعقل دونوں بنیادوں پر مسلمانوں کا یہ عقیدہ حق اور درست ہے۔ اس کے خلاف ہر عقیدہ اور خیال کفر و گمراہی ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد یوں تو مختلف لوگ نبوت کا دعویٰ لے کر کھڑے ہوئے۔ مگر ان کے دعوے سے اسلامی عقیدہ، قرآنی ہدایت، حدیثوں کی تعلیم اور امت مسلمہ کا اجماع نہیں ٹوٹ سکتا۔ وحی نبوت کا دعویٰ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ جب کہ دنیا میں خدائی کے دعویدار ربوبیت اور الوہیت کے مدعی بھی گذرے ہیں اور آج بھی پیدا ہورہے ہیں اور بہتیرے لوگوں نے ان مدعیوں کو خدا مانا اور ان کی عبادت بھی کی۔ یا آج کروڑوں انسان ہیں جو سرے سے خدا کو مانتے ہی نہیں۔ حالانکہ ان کے سر پر اتنا بڑا آسمان اور آسمانی موجودات ان کے پاؤں کے نیچے اتنی وسیع عریض زمین، سمندر اور زمینی مخلوقات پھیلے ہوئے ہیں۔ جن میں سے کوئی چیز کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔ انسان جو تمام مخلوقات میں زیادہ علم وعقل والا ہے۔ ابھی تک کسی ایک ذرے کی پوری حقیقت بھی معلوم نہ کر سکا۔ خالقیت اور آفریدگاری بڑی چیز ہے۔

قرآن اور ختم نبوت

سب سے پہلے ہم قرآن کی روشنی میں ختم نبوت کے مسئلے کو دیکھیں۔ کیونکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا یقین وایمان ہے کہ قرآن کے برابر کوئی اور بیان سچا نہیں ہوسکتا۔ بالخصوص نبوت کا مسئلہ، نبی، اللہ کی طرف سے مقرر ہوتے ہیں۔ اپنی سعی وکوشش ریاضت وعبادت سے کوئی نبی نہیں ہوتا اور نہ دنیا والوں کی رائے اور مشورے سے یا ان کی تائید وتعریف سے کوئی نبی بن جاتا ہے۔ نبی کا تقرر و انتخاب ارسال و بعثت تمام تر اللہ رب العزت کے اپنے فیصلے پر موقوف ہے۔

قرآن مجید اسی اللہ کا کلام ہے جو نبی مقرر کرتا ہے۔ اگر قرآن مجید کا یہ اعلان ہو کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد نبی کی ضرورت نہیں اور ان پر نبوت ختم ہوگئی تو پھر قرآن کی تصدیق کرنے والے کے لئے اس کی گنجائش نہیں رہتی کہ حضور علیہ السلام کے بعد اپنے حق میں نبوت کا ٦

دعویدار ہو یا کسی اور کو آپ ﷺ کے بعد نبی مانے، دونو سے کفر وارتداد ہوں گی۔ مدعی اور اس کا پیرو دونوں کافر د

قرآن مجید کا پہلا اعلان

"اتبعوا ما انزل اليكم من رب (الاعراف:٣) "پیروی کرو جو کچھ تمہارے رب کی طر کے سوا دوستوں کی۔ یہ حکم تمام مؤمنین کے لئے ہے چاہتا ہے۔ اس کے لئے محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل شدہ وحی نہیں۔ بلکہ وحی محمدی کے علاوہ ہر کسی کی اتباع ممنوع ہے وحی کا ذکر کرے مؤمن کا فرض ہے کہ اسے ٹھکرا دے۔ کیو وحی کے سوا نہ معتبر ہے نہ مقبول۔ اگر کوئی شخص وحی محمدی ک کسی وحی کا دعویدار نہیں ہے تو وہ حضور ﷺ کا متبع ہے۔ نبوت کا بھی مدعی نہیں ہے۔ کیونکہ وحی ونبوت لازم وملزو صاحب وحی ہے وہ نبی ہے۔ یہاں وحی سے مراد اصط برگزیدہ انسان کو براہ راست یا فرشتے کے واسطے سے فرمائے۔ ایسی وحی کے حامل نبی کہلاتے ہیں۔ مخلوقات ک ودیعت ہو یا کسی قلب میں کوئی بات ناگہانی پیدا ہو جا وحی کہتے ہیں۔ مگر یہ بات وحی نبوت سے علیحدہ امر ہے۔ کی صفت کو وحی نہیں۔

قرآن مجید کا دوسرا اعلان

"قل يآايها الناس انى رسول السموت والارض لا اله الا هو يحيى وي الامى الذى يؤمن بالله وكلمته واتبعو اے نبی آپ ﷺ کہہ دیں اے انسانو! بے شک میں ال کی بادشاہت تمام آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اس وہی موت دیتا ہے۔ تم سب اللہ پر ایمان لاؤ اور اس پر اس کے حکموں پر اور تم سب ان کی پیروی کرو۔ امید ٧

صفحہ ١٩

دعویدار ہو یا کسی اور کو آپ ﷺ کے بعد نبی مانے، دونوں باتیں قرآن کے خلاف ہونے کی وجہ سے کفر و ارتداد ہوں گی۔ مدعی اور اس کا پیرو دونوں کافر و مرتد ہوں گے۔

قرآن مجید کا پہلا اعلان

"اتبعوا ما انزل اليكم من ربكم ولا تتبعوا من دونه اولياء (الاعراف:٣) "پیروی کرو جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر اتارا گیا اور نہ پیروی کرو اس کے سوا دوستوں کی۔" یہ حکم تمام مومنین کے لئے ہے جو کوئی ایمان کا مدعی ہے اور مؤمن کہلانا چاہتا ہے۔ اس کے لئے محمد مصطفےٰ ﷺ پر نازل شدہ وحی کے سوا اور کسی وحی کی پیروی کی ضرورت نہیں۔ بلکہ وحی محمدی کے علاوہ ہر کسی کی اتباع ممنوع ہے۔ اگر کوئی شخص وحی محمدی کے علاوہ اپنی کسی وحی کا ذکر کرے مؤمن کا فرض ہے کہ اسے ٹھکرا دے۔ کوئی اور وحی، محمد رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی وحی کے سوا نہ معتبر ہے نہ مقبول۔ اگر کوئی شخص وحی محمدی کو پڑھ کر سنائے۔ چونکہ وہ اپنی طرف سے کسی وحی کا دعویدار نہیں ہے تو وہ حضور ﷺ کا متبع ہے۔ وہ جب اپنے لئے وحی کا مدعی نہیں ہے تو نبوت کا بھی مدعی نہیں ہے۔ کیونکہ وحی و نبوت لازم وملزوم ہیں۔ جو نبی ہے وہ صاحب وحی ہے جو صاحب وحی ہے وہ نبی ہے۔ یہاں وحی سے مراد اصطلاحی وحی ہے۔ یعنی اللہ رب العزۃ کسی برگزیدہ انسان کو براہ راست یا فرشتے کے واسطے سے پیغام دے کر انسانوں کی ہدایت پر مقرر فرمائے۔ ایسی وحی کے حامل نبی کہلاتے ہیں۔ مخلوقات کی کسی نوع کی فطرت میں کوئی خاص صفت ودیعت ہو یا کسی قلب میں کوئی بات ناگہانی پیدا ہو جائے۔ عام لغوی معنی کے لحاظ سے اس کو بھی وحی کہتے ہیں۔ مگر یہ بات وحی نبوت سے علیحدہ امر ہے۔ جیسے شہد کی مکھیوں کی فطرت میں شہد بنانے کی صفت کو وحی کہیں۔

قرآن مجید کا دوسرا اعلان

"قل يآايها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً الذى له ملك السمٰوت والارض لا اله الا هو يحيى ويميت فامنوا بالله ورسوله النبى الامى الذى يؤمن بالله وكلمته واتبعوه لعلكم تهتدون (الاعراف:١٥٨)" اے نبی آپ ﷺ کہہ دیں اے انسانو! بے شک میں اللہ کا رسول تم سب کی طرف ہوں۔ جس اللہ کی بادشاہت تمام آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی حیات دیتا ہے وہی موت دیتا ہے۔ تم سب اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول نبی امی پر ۔ جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اس کے حکموں پر اور تم سب ان کی پیروی کرو۔ امید ہے تم سب ہدایت پا جاؤ۔

٧

صفحہ ٢١

آیت مذکورہ پر غور فرمائیے۔ اس سے پہلے مختلف پیغمبروں کا تذکرہ ہے۔ ان کے مخاطب محدود تھے۔ ان کی تبلیغ کا دائرہ محدود تھا۔ اپنی آبادی کو یا قوم کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں اور تبلیغ کے حدود متعین کر رہے ہیں۔ ان کے بعد حضور علیہ السلام کا ذکر آتا ہے۔ ”قل“ کہہ کر حضور ﷺ کی شان بڑھائی جاتی ہے اور انبیاء علیہم السلام کے متعلق اللہ رب العزۃ صرف یہ خبر دیتا ہے کہ ہم نے ان کو فلاں قوم اور فلاں علاقے کی طرف بھیجا اور انہوں نے ان لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ لیکن حضور ﷺ کی نبوت کے تذکرے میں اللہ نے پہلا انداز بیان بدل دیا۔ اپنی کامل نمائندگی اور نیابت عطا فرمائی۔ حاکمانہ حیثیت دے کر حاکمانہ انداز میں اعلان کرنے اور فرمان دینے کی شان ظاہر فرمائی اور اس اعلان کا حق و اختیار خود آنحضور ﷺ کو دیا کہ آپ خود کہہ دیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ کیوں نہ ہو۔ آپ ﷺ وہ صادق و امین ہیں کہ آپ ﷺ کی تصدیق سے دوسرے انبیاء کی نبوتیں ثابت ہوتی ہیں۔ لہٰذا اپنے حق میں آپ ﷺ کا اعلان نبوت کافی و وافی ہے اور حضور ﷺ کے اعلان و فرمان کا مخاطب کوئی خاص علاقہ یا آبادی نہیں۔ بلکہ تمام انسانیت کو بحکم الٰہی آپ ﷺ اپنا مخاطب بنا رہے ہیں اور اپنے دائرہ رسالت میں لے رہے ہیں۔ اگرچہ ”الناس“ کے لفظ میں تمام انسان تا قیامت داخل ہو گئے۔ پھر بھی ”جمیعاً“ کہہ کر اپنی عالمگیر رسالت کی سرحدیں اور فصیلیں مضبوط کر دیں کہ کوئی انسان کسی طرح اس دائرہ رسالت سے باہر نہ جاسکے۔

اور اس کائنات گیر اور یونیورسل رسالت کی تائید میں بطور تمہید اللہ رب العزت نے اپنی کائناتی بادشاہت و ملکیت کا اعلان کیا۔ باالفاظ دیگر قرآن مجید کے اسلوب بیان میں بتا دیا کہ جس طرح آسمان و زمین کی کوئی چیز اللہ جل شانہ کی ملکیت سے باہر نہیں۔ اسی طرح نوع انسانی کا کوئی فرد رسالت محمدی کے حدود سے باہر نہیں ہے۔ جہاں تک اللہ کی ملکیت و بادشاہت ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی حدیں بھی وہاں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ آسمان اور زمین کے حدود میں اگر کوئی شخص خدائی کا دعویٰ کرے تو وہ مجرم ہوگا۔ اسی طرح آسمان اور زمین کے حدود میں اگر کوئی شخص قرآن مجید کے مذکورہ اعلان کے بعد دعوائے نبوت و رسالت کرے مجرم ہو جائے گا۔ نہ کوئی لا الہ الا اللہ کی حدیں توڑ کر الوہیت اور خدائی میں شریک ہو سکتا ہے اور نہ حضور علیہ السلام کی آمد اور اس اعلان کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کی حدیں توڑ کر نبوت و رسالت میں شریک ہو سکتا ہے۔ وہ تمام مدعیان نبوت جو کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ اور آیت کریمہ ”یا ایها الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا“ کے اعلان کے بعد ظاہر

٨

ہوئے۔ وہ سب دائرہ ایمان سے باہر کلمہ طیبہ کے مخالف مدعیان نبوت نہ آسمان والوں کی طرف نبی اور رسول ہوں کیونکہ یہ تمام علاقے اللہ کی ملکیت، محمد ﷺ کی رسالت اور ا رسول اللہ“ کے احاطے میں ہیں۔ جو کوئی بھی ”السّما محمد ﷺ کے دائرہ نبوت میں خطاباً شامل رہے گا۔ لہٰذا مسیلمہ بھی اپنی نبوت کا دعویدار ہے وہ رسالت محمدی ﷺ کا باغی رسالت محمدی کے باغی کا بھی برا انجام ہوگا۔ کیونکہ رسول کی سے اختلاف اللہ کی مخالفت ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس کائنا ہے اور نہ ظہور محمدی علیہ السلام کے بعد دعوائے رسالت کا حوصلہ رکھتے ہیں انہیں چاہئے کہ اللہ کی اس کائنات اور اللہ جا کر نبوت کا دعویٰ کریں۔ اگر یہ ممکن نہیں اور ہرگز ممکن دعوے سے باز آئیں اور کلمہ توحید ”لا الہ الا اللہ محمد اقرار کر کے رسالت محمدی علیہ السلام کے آگے سرجھکا دیں

اللہ رب العزۃ نے مذکورہ اعلان میں تمام انسان ایمان لائیں اور ان کی پیروی کریں۔ یہ اعلان قیامت تک کامل دین ہے۔ کسی اور شخص کے لئے اس کی گنجائش نہیں اپنی اتباع کی طرف بلائے جو کوئی اپنی نبوت کا مدعی ہے اور وہ قرآن کے اس اعلان کا منکر نجات کی راہ سے بھٹکا ہو والا ہے۔

قرآن مجید کا تیسرا اعلان

”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت دیناً (المائدہ:٣) ”آج کے دن میں نے تمہارے نعمت تمام کر دی اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے دین اس مجموعہ قوانین و ہدایت کا نام ہے جو ہوئے ہوں۔ دین اور اس کے بنیادی مسائل انسانی ذہن اس کے محسوس و غیر محسوس شعوری و غیر شعوری جذبات سے

٩

صفحہ ٢١

ہوئے۔ وہ سب دائرہ ایمان سے باہر کلمہ طیبہ کے مخالف اور قرآن کے باغی ہیں۔ کیونکہ وہ مدعیان نبوت نہ آسمان والوں کی طرف نبی اور رسول ہو سکتے ہیں اور نہ زمین والوں کی طرف۔ کیونکہ یہ تمام علاقے اللہ کی ملکیت ، محمد ﷺ کی رسالت اور کلمہ طیبہ ”لا اله الا الله محمد رسول اللہ“ کے احاطے میں ہیں۔ جو کوئی بھی ”الناس“ میں شمار ہوگا وہ اللہ کا مملوک اور محمد ﷺ کے دائرہ نبوت میں خطاباً شامل رہے گا۔ لہٰذا مسیلمہ کذاب سے لے کر قیامت تک جو کوئی بھی اپنی نبوت کا دعویدار ہے وہ رسالت محمدی ﷺ کا باغی ہے اور توحید الوہیت کے باغی کی طرح رسالت محمدی کے باغی کا بھی برا انجام ہوگا۔ کیونکہ رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور رسول سے اختلاف اللہ کی مخالفت ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس کائنات میں نہ کسی کو دعوائے خدائی کا حق ہے اور نہ ظہور محمدی علیہ السلام کے بعد دعوائے رسالت کا حق ہے۔ جو لوگ نبی بننے یا کہلانے کا حوصلہ رکھتے ہیں انہیں چاہئے کہ اللہ کی اس کائنات اور اللہ کے پیدا کئے ہوئے انسانوں سے باہر جا کر نبوت کا دعویٰ کریں۔ اگر یہ ممکن نہیں اور ہرگز ممکن نہیں ہے تو پھر اپنے کافرانہ اور باغیانہ دعوے سے باز آئیں اور کلمہ توحید ”لا اله الا الله محمد رسول اللہ“ کا دل اور زبان سے اقرار کر کے رسالت محمدی علیہ السلام کے آگے سر جھکادیں اور اپنے دعوائے نبوت سے توبہ کریں۔

اللہ رب العزۃ نے مذکورہ اعلان میں تمام انسانوں کو سیدھی راہ دکھا دی کہ وہ نبی امی پر ایمان لائیں اور ان کی پیروی کریں۔ یہ اعلان قیامت تک کے لئے نجات کی واحد راہ ہے۔ یہی کامل دین ہے۔ کسی اور شخص کے لئے اس کی گنجائش نہیں ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرے اور دوسروں کو اپنی اتباع کی طرف بلائے جو کوئی اپنی نبوت کا مدعی ہے اور اپنی اتباع کے لئے دوسروں کو بلاتا ہے وہ قرآن کے اس اعلان کا منکر نجات کی راہ سے بھٹکانے والا اور اپنے ساتھ جہنم میں لے جانے والا ہے۔

قرآن مجید کا تیسرا اعلان

”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت لكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا (المائده: ٣)“ آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے سے راضی ہو گیا۔

دین اس مجموعہ قوانین و ہدایت کا نام ہے جو عقائد و اعمال کے تمام مسائل کو گھیرے ہوئے ہوں۔ دین اور اس کے بنیادی مسائل انسانی ذہن کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ کیونکہ انسانی فیصلے اس کے محسوس و غیر محسوس شعوری و غیر شعوری جذبات سے متاثر ہو سکتے ہیں اور قوانین مستقبل کے

٩

صفحہ ٢٣

لئے بنائے جاتے ہیں اور انسان مستقبل سے ناواقف ہوتا ہے۔ لہٰذا انسان صحیح قانون نہیں بنا سکتا۔ بلکہ اللہ رب العزت کی طرف سے قوانین نازل ہوتے ہیں اور قوانین الٰہیہ کی تعلیم کے لئے نبی بھیجے جاتے ہیں کہ وہ اللہ جل مجدہ سے احکام و ہدایات لیں اور بندوں تک پہنچائیں۔ ”ما على الرسول الا البلاغ (المائدہ:٩٩)“ پیغمبر پر ہدایات الٰہی پہنچانے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ ”فانما عليك البلاغ وعلينا الحساب (الرعد:٤٠)“ آپ پر صرف احکام پہنچانا ہے اور ہمارے ذمے حساب و محاصبہ، نبی کے ذمہ یہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ان احکام پر عمل کرنے اور دین حق قبول کرنے پر مجبور کرے۔ ”لست عليهم بمصيطر (الغاشية:٢٢)“ آپ لوگوں پر جابر و مسلط نہیں ہیں کہ ان سے زبردستی عمل کرائیں جو کوئی نبی کے لائے ہوئے دین کو بخوشی قبول کرے گا۔ اس کا اپنا فائدہ ہے جو انکار کرے گا۔ اپنا نقصان کرے گا۔ اللہ ان سب سے قیامت میں حساب لے گا۔ بلکہ نبی کا کام یہ ہے کہ حق پہنچا کر یہ اعلان کر دیں۔ ”فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر (الکهف:٢٩)“ جو چاہے ایمان لائے جو چاہے کافر رہے۔ لیکن ”من تولى وكفر فيعذبه الله العذاب الاكبر (الغاشية:٢٣،٢٤)“ جو کوئی نبی کی زبانی اللہ کا پیغام سن کر پیٹھ پھیرے اور انکار کرے گا۔ اللہ اس کو سخت عذاب دے گا۔ بہرحال اسلام کا تبلیغی اصول یہ ہے۔ ”لا اكراه في الدين (البقرة:٢٥٦)“ دین میں جبر و زبردستی نہیں ہے۔

آیت مذکورہ عنوان میں اللہ رب العزۃ نے دن اور تاریخ کی قید کے ساتھ اعلان کر دیا کہ آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا۔ ”اليوم“ کہہ کر اللہ نے یہ معاشرتی حقیقت بتا دی کہ جس اعلان اور دستخط کے ساتھ ان پر تاریخ درج نہ ہو۔ انتظامی معاملات میں وہ قانون و اعلان نامکمل ہوتا ہے اور معتبر نہیں ہوتا۔ یہ اعلان ایک لاکھ سے زیادہ صحابہؓ کے سامنے ہوا۔ یعنی عرفات کے میدان میں جمعہ کے دن ۔ ٩ ذی الحجہ ١٠ھ کو۔ لہٰذا دنیا وآخرت کے تمام نظام انتظام کی روشنی میں یہ فرمان بھی ہر اعتبار سے کامل و معتبر ہے۔

اس اعلان کے بعد کسی لحاظ سے بھی دین کے اندر کمی بیشی یا تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ کیونکہ ان میں سے ہر بات کمال کے خلاف ہے اور اللہ کا علم ماضی، حال اور مستقبل تمام زمانوں کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ لہٰذا کسی تغیر کی گنجائش نہ حال میں ممکن ہے، نہ مستقبل میں، نہ اللہ کا علم غلط ہو سکتا ہے اور نہ اس کا اعلان جھوٹ ہو سکتا ہے۔

دین مجموعہ ہے۔ اعمال و عقائد کا، لہٰذا دین کے کامل ہو جانے کے بعد نہ اعتقادی مسائل میں کمی بیشی یا تبدیلی ہو سکتی ہے اور نہ عملی احکام میں کوئی ردو بدل کمی یا اضافہ ہو سکتا ہے۔

١٠

”اليوم اكملت لكم دينكم“ کے اعلان کے وقت کی خوشنودی حاصل کرنے کے، وہ کامل ذرائع ہیں۔ جو رضائے الٰہی اور آخرت کی نجات کا صحیح وسیلہ ہے۔ جو کوئی کرتا ہے۔

اگر اللہ کے اس اعلان کے بعد کسی نبی یا کسی دو اہم خرابیاں پیدا ہوں گی۔ اوّل یا تو خدا کا اعلان غلط ا منکر دین کامل پر رہتے ہوئے جہنم میں داخل ہوگا۔ کیونکہ کمال دین کے ساتھ کفر کی آلودگی کا خیال جنون و دیوان اور کفر جہنم میں دھکیلے گا۔

نئے نبی کی حیثیت

دین کے کامل ہونے کے بعد کسی نئے نبی کی نئے صاحب کس مقصد کے تحت آئیں گے؟ اور جو ڈ ہوگی؟

نئے نبی کی وحی اگر دین سے متعلق ہے تو دین گنجائش رہتی ہے؟ اور اس کا کیا مقام ہے؟ یہ وحی اگر ا پھر اس طرح دین کامل نہیں رہا۔ بلکہ اسلام کے بتائے کی گنجائش باقی تھی۔ ایسا خیال قرآن کے سراسر خلاف کوئی ترمیم و اصلاح کرتی ہے تو بھی محمد رسول اللہ ﷺ اس کے عملی احکام میں ابھی ردو بدل کی گنجائش تھی۔ لہٰذا نزدیک عقائد و احکام کے سلسلے میں کسی نئی وحی کا سوال اسلام سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے جو تعلیمات اور ہدایا ہے۔ لہٰذا نئی وحی کے ذریعے نیا نبی اسلامی تعلیمات م وحدیث، اجماع امت اور عقل کے خلاف ہے۔ کیون جب کہ اعتقادی اور عملی تمام احکام واضح ہو کر محکم ہو نشست میں بہ تمام و کمال شروع سے آخر تک پڑھ ک نازل ہوا۔ تا کہ صحابہ کرامؓ عقیدہ و عمل سے متعلق اسلا

١١

صفحہ ٢٣

"اليوم اكملت لكم دينكم" کے اعلان کے وقت جو کچھ عقائد و اعمال بتائے جا چکے تھے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے، وہ کامل ذرائع ہیں۔ دین کی تکمیل کا اعلان ہو گیا تو یہی دین رضائے الٰہی اور آخرت کی نجات کا صحیح وسیلہ ہے۔ جو کوئی اس دین کو قبول کرتا ہے کامل دین کو قبول کرتا ہے۔

اگر اللہ کے اس اعلان کے بعد کسی نبی یا کسی نئے حکم کی گنجائش مان لی جائے تو اس سے دو اہم خرابیاں پیدا ہوں گی۔ اوّل یا تو خدا کا اعلان غلط اور جھوٹ ہوگا۔ دوم نئے آنے والے نبی کا منکر دین کامل پر رہتے ہوئے جہنم میں داخل ہوگا۔ کیونکہ اس نے اللہ کے نبی کا انکار کیا جو کفر ہے۔ کمال دین کے ساتھ کفر کی آلودگی کا خیال جنون و دیوانگی ہے۔ کمال دین جنت میں لے جائے گا اور کفر جہنم میں دھکیلے گا۔

نئے نبی کی حیثیت

دین کے کامل ہونے کے بعد کسی نئے نبی کی آمد اگر ممکن ہو تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نئے صاحب کس مقصد کے تحت آئیں گے؟ اور جو وحی ان کی طرف آئے گی اس کی کیا حیثیت ہوگی؟

نئے نبی کی وحی اگر دین سے متعلق ہے تو دین کے کامل ہونے کے بعد اس نئی وحی کی کیا گنجائش رہتی ہے؟ اور اس کا کیا مقام ہے؟ یہ وحی اگر اعتقادی امور میں ترمیم و اصلاح کرتی ہے تو پھر اس طرح دین کامل نہیں رہا۔ بلکہ اسلام کے بتائے ہوئے کامل عقیدے میں بھی ترمیم و اصلاح کی گنجائش باقی تھی۔ ایسا خیال قرآن کے سراسر خلاف ہے اور اگر یہ وحی اسلام کے عملی احکام میں کوئی ترمیم و اصلاح کرتی ہے تو بھی محمد رسول اللہ ﷺ کا لایا ہوا دین اسلام کامل نہیں رہا۔ کیونکہ اس کے عملی احکام میں ابھی ردوبدل کی گنجائش تھی۔ لہٰذا جو لوگ قرآن کو حق تسلیم کرتے ہیں ان کے نزدیک عقائد و احکام کے سلسلے میں کسی نئی وحی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر یہ کہا جائے کہ پیغمبر اسلام سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے جو تعلیمات اور ہدایات دی ہیں۔ ان میں اجمال اور پیچیدگی باقی ہے۔ لہٰذا نئی وحی کے ذریعے نیا نبی اسلامی تعلیمات کی وضاحت کرے گا۔ تو یہ خیال بھی قرآن و حدیث، اجماع امت اور عقل کے خلاف ہے۔ کیونکہ دین کے کمال کا مفہوم اسی وقت صحیح ہوگا جب کہ اعتقادی اور عملی تمام احکام واضح ہو کر محکم ہو جائیں۔ چنانچہ وہ قرآن جو ایک حافظ ایک نشست میں بہ تمام و کمال شروع سے آخر تک پڑھ کر سنا دیتا ہے۔ کئی سال کی طویل مدت میں نازل ہوا۔ تا کہ صحابہ کرام عقیدہ و عمل سے متعلق اسلام کی تمام ہدایات کو پوری وضاحت سے سیکھ

١١

صفحہ ٢٥

لیں اور اس کے مطابق عمل کریں۔ قرآن کی وضاحت اور بیان کا منصب بھی اللہ رب العزۃ نے محمد ﷺ ہی کو عطا فرمایا اور خود اپنی طرف اس بیان کو منسوب بھی کیا۔ ” ان عـلـیـنـا بـیـانـه (القيامة: ١٩)“ ﴿بیشک ہمارے ہی ذمہ قرآن کی وضاحت ہے۔﴾ ” لتبین للناس ما نزل الیهم (النحل:٤٤)“ ﴿تاکہ آپ ﷺ وضاحت کریں لوگوں کے لئے جو ہدایت اللہ کی طرف سے ان کے لئے نازل کی گئیں۔﴾ ” فانما علی رسولنا البلاغ المبین (تغابن:١٢)“ ﴿ہمارے رسول کے ذمے احکام الٰہی کو کھول کر پہنچانا ہے۔﴾

نیز اسلامی تعلیمات میں اگر کوئی ایسی پیچیدگی یا اجمال تسلیم کیا جائے۔ جس کے حل کے لئے کسی نئی وحی اور نئے نبی کی ضرورت باقی تھی اور حضرت محمد ﷺ کے بعد جو نبوت کے دعویدار پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی تازہ وحی سے اس اجمال کو حل کر دیا تو لازمی طور پر یہ ماننا پڑے گا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر آج تک تمام صحابہ اور تمام مؤمنین صحیح اور واضح دین سے محروم تھے اور وہ لوگ تازندگی اجمال و پیچیدگی میں مبتلا رہے۔ یہاں تک کہ بعد میں آنے والے مدعی نبوت نے اس اجمال کو دور کر دیا۔ صحابہ کرام اور حضور علیہ السلام پر یہ ایک ایسا الزام ہے۔ جس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ قرآن وحدیث نے صحابہ کے دین، ایمان اور عمل کو کسوٹی بنایا اور سراہا ہے۔ لہٰذا ان کے دین میں کسی کمی کی گنجائش نہیں۔ بلکہ ساری انسانیت کے لئے صحابہ کا ایمان معیار اور کسوٹی ہے۔ اگر صحابہ کا دین اجمال و پیچیدگی رکھتا ہے تو اللہ اسی سے راضی ہے اور اگر صحابہ کا دین کامل و واضح ہے تو اللہ کو وہی پسند ہے۔ ” فان آمنوا بمثل ما آمنتم به (البقره:١٣٧) “ یہاں تک کہ لوگ اے اصحاب رسول تمہارے جیسا ایمان لائیں۔ لہٰذا قرآن مجید کی تفسیر کے لئے کسی نئی وحی اور نئے نبی کی بھی گنجائش نہیں ہے۔ بلکہ یہ قرآن، حضور علیہ السلام کی زبان و عمل سے واضح ہو چکا۔ اس میں کسی پیچیدگی اور اجمال کے حل کے لئے نئی وحی اور نئے نبی کی ضرورت باقی نہیں ہے اور نہ گزشتہ نبیوں کے انداز پر اسلام میں کسی نئے نبی کی گنجائش ہے۔ کیونکہ اسلام سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا کیا اصول تھا۔ نہ قرآن نے ہمیں بتایا اور نہ جاننے کا حکم دیا۔ ہاں قرآن میں غور وفکر سے جو نتیجہ نکالا جاسکتا ہے اس کی روشنی میں بھی نئی وحی اور نئے نبی کی ضرورت اسلام میں نہیں ہے۔ سابق زمانے میں انسانی آبادی نخلستانوں کی طرح جابہ جا اور منتشر تھی اور ان منتشر آبادیوں کو ملانے کے لئے وسائل مواصلات اور حمل و نقل کے ذرائع جو آج پائے جاتے ہیں مفقود تھے۔ لہٰذا ہر خطہ آبادی اور ہر قوم میں جدا گانہ نبی بھیجے جاتے رہے۔ تاکہ اللہ کی حجت پوری ہو اور انسانوں تک اللہ کا پیغام ہدایت پہنچے یا جب گذشتہ نبی کی تعلیمات

١٢

مٹ جاتیں اور ان کی لائی ہوئی کتاب جعلسازی اور تحریف من مانوں کو دین بنا لیا جاتا تو اللہ تعالیٰ کوئی نبی بھیج کر اپنی کامل ہونے کا اعلان کر کے اللہ نے اس خطرے کو بھی خ انجیل کی طرح تحریف قبول کرنے والی کتاب نہیں ہے ب نقطہ نقطہ کے ساتھ محفوظ ہے اور اللہ نے اس کی حفاظت انتشار و بے تعلقی ہے کہ مختلف آبادیوں کے لئے جدا گان کی پیش گوئی کے مطابق اس طرح سمٹتی جارہی ہے کہ نس دکھائی دینے لگی۔ گذشتہ زمانے میں نئے نبی کی ضرور پیشرو نبی کے کام کو پورا کریں۔ جیسے سیدنا یوشع علیہ السل اور بنی اسرائیل کو اپنی قیادت میں جہاد کے لئے وادی وعدہ کی سرزمین میں آباد کیا۔

اسلام میں اس مقصد کے لئے بھی نئے نب اسلام کے دین کامل ہونے کے اعلان کے وقت اللہ پہلوؤں کو یہاں تک کہ تنظیم اور نفاذ حکومت کو بھی قا پائی تو وہ مسلمانوں کے امیر بھی تھے۔ جج بھی تھے۔ سپہ س بھی تھے اور اللہ کے آخری نبی بھی۔ حضور علیہ السلام کی تکمیل کے لئے کسی نئے نبی اور نئی وحی کی ضرورت بھی ب

ایک مسلمان کے لئے اس کے سوا کوئی چا اور آیت مذکورہ بالا کی بنیاد پر اسلام کو ہر پہلو سے کامل میں کسی نئی وحی اور نئے نبی اور ردو بدل کی گنجائش نہیں دین کے اصول وارکان میں کسی نئے عقیدہ کی شمولی اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ نبی کے اقرار کے بغیر ایما نبوت میں شک کرنا بھی کفر ہے۔ چونکہ نبوت دین کا نبوت کو نبی ماننا یا اس کے جھوٹے دعوے کے انکار میں

اسلام کے دین کامل ہونے کے بعد جب اسلام کے ماننے والے دین کامل پر تسلیم کرلئے گئے ۔

١٣

صفحہ ٢٥

مٹ جاتیں اور ان کی لائی ہوئی کتاب جعلسازی اور تحریف سے مشتبہ ہو جاتی۔ یہاں تک کہ علماء کی من مانیوں کو دین بنالیا جاتا تو اللہ تعالیٰ کوئی نبی بھیج کر اپنی کتاب کی تجدید فرمادیتا۔ اسلام کے دین کامل ہونے کا اعلان کر کے اللہ نے اس خطرے کو بھی دور کر دیا۔ کیونکہ قرآن مجید، تورات اور انجیل کی طرح تحریف قبول کرنے والی کتاب نہیں ہے۔ بلکہ نازل ہونے کے دن سے آج تک نقطہ نقطہ کے ساتھ محفوظ ہے اور اللہ نے اس کی حفاظت کا خود ذمہ لیا اور نہ انسانی آبادی میں وہ انتشار و بے تعلقی ہے کہ مختلف آبادیوں کے لئے جدا گانہ نبی کی ضرورت ہو۔ بلکہ انسانیت قرآن کی پیش گوئی کے مطابق اس طرح سمٹتی جارہی ہے کہ نسل انسانی ایک قوم اور ساری زمین ایک وطن دکھائی دینے لگی۔ گذشتہ زمانے میں نئے نبی کی ضرورت اس لئے بھی ہوتی تھی کہ نئے نبی اپنے پیشرو نبی کے کام کو پورا کریں۔ جیسے سیدنا یوشع علیہ السلام نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا کام پورا کیا اور بنی اسرائیل کو اپنی قیادت میں جہاد کے لئے وادئ تیہہ سے باہر لائے اور فلسطین فتح کر کے وعدہ کی سرزمین میں آباد کیا۔

اسلام میں اس مقصد کے لئے بھی نئے نبی اور نئی وحی کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام کے دین کامل ہونے کے اعلان کے وقت اللہ رب العزت نے انسانی معاشرت کے تمام پہلوؤں کو یہاں تک کہ تنظیم اور نفاذ حکومت کو بھی قائم کر دیا۔ حضور علیہ السلام نے جب وفات پائی تو وہ مسلمانوں کے امیر بھی تھے۔ جج بھی تھے۔ سپہ سالار بھی تھے۔ مسجد کے امام بھی تھے۔ مفتی بھی تھے اور اللہ کے آخری نبی بھی۔ حضور علیہ السلام کی تعلیمات کا کوئی گوشہ نامکمل نہیں تھا۔ جس کی تکمیل کے لئے کسی نئے نبی اور نئی وحی کی ضرورت باقی رہ جائے۔

ایک مسلمان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ قرآن کو حرف بہ حرف سچا جانے اور آیت مذکورہ بالا کی بنیاد پر اسلام کو ہر پہلو سے کامل و مکمل یقین کرے۔ جب اسلام کی تفصیلات میں کسی نئی وحی اور نئے نبی اور رد و بدل کی گنجائش نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام دین کامل ہے تو اس کامل دین کے اصول و ارکان میں کسی نئے عقیدہ کی شمولیت کا کیا راستہ نکل سکتا ہے؟ نبی پر ایمان عقیدہ اسلامی کا بنیادی رکن ہے۔ نبی کے اقرار کے بغیر ایمان کا دعویٰ فضول و عبث ہے۔ بلکہ کسی نبی کی نبوت میں شک کرنا بھی کفر ہے۔ چونکہ نبوت دین کا اتنا اہم رکن ہے۔ اس لئے کسی جھوٹے مدعی نبوت کو نبی ماننا یا اس کے جھوٹے دعوے کے انکار میں پس و پیش کرنا بھی برابر کا جرم اور کفر ہے۔

اسلام کے دین کامل ہونے کے بعد جب نبوت کی راہیں ہر طرف سے بند ہوگئیں اور اسلام کے ماننے والے دین کامل پر تسلیم کر لئے گئے۔ ”یؤمنون بما انزل الیک وما انزل

١٣

صفحہ ٢٧

من قبلك (البقرہ: ٤) ”سچے مسلمان اور متقی وہ لوگ ہیں جو آپﷺ پر نازل شدہ وحی پر ایمان رکھتے ہیں اور آپﷺ سے پہلے پیغمبروں پر نازل شدہ وحی کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ لہٰذا آئندہ یعنی مستقبل میں کسی وحی اور نبی پر ایمان لانا ہدایت وتقویٰ کی شرط نہیں نہ نجات وفلاح کی بنیاد ہے۔ دین کامل ہو چکا ہے محمد رسول اللہﷺ کے سکھائے اور بتلائے ہوئے ایمان وعمل کو جسے اسلام کہتے ہیں مان کر اللہ کی کامل اور پوری نعمت حاصل کی جائے گی۔

”اتممت علیکم نعمتی“ کا جملہ بھی بہت بلیغ ہے اور آئندہ کے لئے نئی وحی اور نئے نبی کی گنجائش کو ختم کر دیتا ہے۔ آیت مذکورہ کے نزول کے وقت سے لے کر آج تک تمام مؤمن اللہ کے اس انعام کے مخاطب ہیں اور ہر ایک کے حق میں اتمام نعمت کا اعلان ہے۔ جو کوئی اللہ کا پسندیدہ دین قبول کرتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے تو لا ریب وہ دین کامل پر ہے اور اللہ کی نعمت اس کے حق میں مکمل اور تمام ہو جاتی ہے۔ اگر نعمت سے مراد مقام نبوت لیا جائے۔ جیسا کہ بعض لوگ خود بھی مغالطے میں مبتلا ہو کر سیدھے سادھے مسلمان کو یہ کہہ کر مغالطے میں ڈالتے ہیں کہ ہم سب لوگ روزانہ اللہ سے دعا کرتے ہیں۔ ”اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم (الفاتحہ :٦،٥) ”اے اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلا۔ ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا۔ انعام پانے والوں کے سلسلے میں وہ لوگ ۔﴾

ایک دوسری آیت پیش کرتے ہیں۔”فأولئك مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن اولئك رفيقاً (النساء:٦٩)“ ﴿اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے والے ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا وہ انبیاء ہیں صدیقین ہیں، شہداء ہیں اور صالحین ہیں اور یہ لوگ بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔﴾ لہٰذا ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ جب اس صراط المستقیم پر چل کر ہم صالحین میں شہداء میں صدیقین میں داخل ہو سکتے ہیں تو نبیین کی صف میں کیوں داخل نہیں ہوں گے؟ نعمت وانعام کی یہ تشریح اور اس سے نبی بن جانے کا حوصلہ محض قرآن نہ سمجھنے اور زبان و ادب کے شرائط وقواعد کو نظر انداز کرنے سے پیدا ہوا ہے۔

دلیل کا یہ طریقہ بالکل وہی ہے۔ جیسے کوئی کہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”یحذرکم الله نفسہ (آل عمران:٢٨) ”اللہ اپنے نفس سے تم کو ڈراتا ہے اور دوسری جگہ اسی قرآن میں ہے: ”کل نفس ذائقۃ الموت (آل عمران:١٨٥) ”ہر نفس موت کا مزہ چکھے گا۔ لہٰذا اللہ نے جب

١٤

اپنے آپ کو نفس کہا تو اس کو موت کا مزہ چکھنا ہوگا۔ معاذ اللہ کہ انعام پانے والوں میں نبی بھی ہیں اور امتی بھی۔ لہٰذا امتی اگر ﷺ کی تشریف آوری اور دین کے کامل ہونے کے بعد ”انعمت علیھم“ اور ”یحذرکم اللہ غلطیاں ہوئیں۔ ان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ کلام کے کلام و گفتگو کا مقصد اپنے موقع ومحل اور شرائط وقواعد کے لحاظ نہیں ہے کہ جدھر چاہا گھما دیا۔

ہم اس آیت کی تفسیر آئندہ سطروں میں بیان کر آیت مبارکہ ”اتممت علیکم نعمتی“ کے مخاطب مسلمان ہیں۔ اتمام نعمت کے معنی اگر مقام نبوت پر فائز ہو عمل کو قرآن نے سراہا اور دوسروں کے لئے معیار اور کسوٹی ہو چکی ہے اور وہ سب قادیانیوں کے بیان کے مطابق نبی مؤمن نبی ہوں گے؟ گویا دین کامل اسلام کا ہر متبع نبی ہے خصوصیت رہی؟ انہوں نے اپنے حق میں نبوت کا دعویٰ وتابعینؒ سے آج تک کے مقام نبوت کا انکار کیا تو اس سے اپنی جیسی نبوت تمام مسلمانوں کے حق میں تسلیم کرتے ہیں تو بے حقیقت اور مذاق بن جاتا ہے۔ الغرض اسلام دین کا گنجائش نہیں ہے۔ یاد رہے رفاقت سے متعلق یہ آیت یعنی کا تعلق آخرت کے انعام سے ہے۔ دنیاوی انعام سے اس کا دعویٰ دنیاوی زندگی سے متعلق ہے۔ لہٰذا وہ انعامات نعمتوں میں شامل کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی شخص اپنے بار

اتمام نعمت

خوشی اور فراخی کے اسباب خوشحالی اور فارغ البالی۔ ہو، دنیاوی ہو۔ مالی ہو جسمانی ہو مادی ہو یا روحانی ہو۔ اللہ ہوتی ہیں۔ اجتماعی اور قومی بھی۔ اجتماعی اور قومی نعمتوں انعام یافتہ قرار دیا جاتا ہے اور قوم کا وہ فرد و شخص جو قومی نعمت

١٥

صفحہ ٢٧

اپنے آپ کو نفس کہا تو اس کو موت کا مزہ چکھنا ہوگا۔ معاذ اللہ! یہ انداز فکر بالکل غلط اور سراسر کفر ہے کہ انعام پانے والوں میں نبی بھی ہیں اور امتی بھی۔ لہٰذا امتی بھی نبی ہو جاتے ہیں اور وہ بھی حضور اکرم ﷺ کی تشریف آوری اور دین کے کامل ہونے کے بعد۔

”انعمت علیہم“ اور ”یحذرکم اللہ نفسہ“ کے سلسلے میں لوگوں سے جو غلطیاں ہوئیں۔ ان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ کلام کے ان اصولوں سے غافل ہو گئے کہ ہر کلام و گفتگو کا مقصد اپنے موقع و محل اور شرائط و قواعد کے لحاظ سے متعین ہوتا ہے۔ یہ اندھے کی لاٹھی نہیں ہے کہ جدھر چاہا گھما دیا۔

ہم اس آیت کی تفسیر آئندہ سطروں میں بیان کریں گے۔ یہاں صرف یہ بتا دینا ہے کہ آیت مبارکہ ”اتممت علیکم نعمتی“ کے مخاطب اوّل صحابہؓ اور ان کے بعد عہد بہ عہد تمام مسلمان ہیں۔ اتمام نعمت کے معنی اگر مقام نبوت پر فائز ہونا ہے تو کم از کم تمام صحابہؓ جن کے ایمان و عمل کو قرآن نے سراہا اور دوسروں کے لئے معیار اور کسوٹی بنایا۔ ان پر تو لامحالہ اللہ کی نعمت تمام ہو چکی ہے اور وہ سب قادیانیوں کے بیان کے مطابق نبی ہو گئے ہوں گے؟ اور ان کے بعد تمام مؤمن نبی ہوں گے؟ گویا دین کامل اسلام کا ہر متبع نبی ہے تو اس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی کیا خصوصیت رہی؟ انہوں نے اپنے حق میں نبوت کا دعویٰ کر کے اور دوسرے تمام مؤمن صحابہؓ و تابعینؒ سے آج تک کے مقام نبوت کا انکار کیا تو اس سے انکار نبوت کا جرم ان پر آتا ہے اور اگر اپنی جیسی نبوت تمام مسلمانوں کے حق میں تسلیم کرتے ہیں تو پھر یہ اعلان اور دعویٰ ایک بے حیثیت، بے حقیقت اور مذاق بن جاتا ہے۔ الغرض اسلام دین کامل ہے۔ نئی وحی اور نئے نبی کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یاد رہے رفاقت سے متعلق یہ آیت یعنی ”انعم اللہ علیہم من النبیین“ کا تعلق آخرت کے انعام سے ہے۔ دنیاوی انعام سے اس کا تعلق نہیں۔ نبی کی آمد اور نبوت و وحی کا دعویٰ دنیاوی زندگی سے متعلق ہے۔ لہٰذا وہ انعامات جن کا تعلق آخرت سے ہو ان کو دنیاوی نعمتوں میں شامل کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی شخص اپنے باغ کو جنت الفردوس قرار دے دے۔

اتمام نعمت

خوشی اور خوشی کے اسباب خوشحالی اور خوشحالی کے اسباب کو نعمت کہتے ہیں۔ یہ نعمت دینی ہو، دنیاوی ہو۔ مالی ہو جسمانی ہو مادی ہو یا روحانی ہو۔ اللہ کی نعمت ہے۔ نعمتیں انفرادی اور شخصی بھی ہوتی ہیں۔ اجتماعی اور قومی بھی۔ اجتماعی اور قومی نعمتوں میں ہر شخص کو قوم کے فرد کی حیثیت سے انعام یافتہ قرار دیا جاتا ہے اور قوم کا وہ فرد و شخص جو قومی نعمت کا مرکز و مظہر ہوتا ہے اس کے حق میں

١٥

صفحہ ٢٩

یہ نعمت ذاتی اور شخصی بھی ہوتی ہے اور قومی اور اجتماعی بھی۔ قومی نعمتوں میں ہر شخص بالذات اور براہ راست صاحب نعمت نہیں ہوتا۔ بلکہ صاحب نعمت کی ذات اور مظہر نعمت کا وجود فیضانِ قوم کے حق میں نعمت ہے۔ مثلاً اہل پاکستان انگریزوں کی غلامی میں تھے۔ اللہ رب العزۃ نے غیروں کی غلامی سے نجات دی اور پاکستانیوں کو ہندوؤں کی ماتحتی سے بچالیا۔ اللہ رب العزۃ کا یہ کرم تمام مسلمانانِ پاکستان کے حق میں نعمت ہے اور پوری قوم انعام یافتہ ہے۔ اگرچہ ہر پاکستانی کے سر پر اقتدارِ حکومت کا تاج نہیں رکھا گیا ہے اور نہ یہ ممکن ہے۔ پھر بھی پوری قوم آزادی کی نعمت سے بہرہ ور اور انعام یافتہ ہے۔ اللہ رب العزۃ نے فرمایا: ”واذ قال موسى لقومه ياقوم اذكروا نعمة الله عليكم اذ جعل فيكم انبياء وجعلكم ملوكاً (المائده: ٢٠) “ اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم یاد کرو اللہ کی نعمت کو جو تم پر ہوئی کہ تم لوگوں میں انبیاء پیدا کئے اور تم لوگوں کو بادشاہ بنایا۔“ اس نعمت کی مخاطب موسیٰ علیہ السلام کی پوری قوم یعنی بنی اسرائیل ہیں۔ لیکن ان میں ہر فرد نہ نبی ہوا اور نہ ہر فرد بادشاہ ہوا۔ یہ نعمتِ نبوت اور نعمتِ بادشاہت چونکہ قومی اور اجتماعی نعمت ہے۔ لہٰذا تمام بنی اسرائیل کو اللہ کی ان نعمتوں کا احسان مند ٹھہرایا جارہا ہے اور ان کی یادآوری ہر ایک کا فرض ہے۔ اسی طرح اللہ رب العزۃ نے سورۂ جاثیہ میں ارشاد فرمایا کہ:

”ولقد آتينا بنى اسرائيل الكتاب والحكم والنبوة (الجاثيه: ١٦) “ بے شک ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب حکم اور نبوت عطاء کی۔“ مخاطب تو تمام بنی اسرائیل ہیں۔ اگرچہ حکم اور نبوت چند افراد کو ملی۔ مگر تمام بنی اسرائیل نعمت کش اور احسان مند ہیں۔ کیونکہ یہ نعمتیں قومی اور اجتماعی ہیں۔ ان کا نفع چند افراد میں محدود نہیں ہے۔ اسی طرح سورۂ بقرہ پہلے پارہ میں اللہ رب العزۃ نزولِ قرآن کے وقت کے بنی اسرائیل کو ان نعمتوں کا مخاطب اور احسان مند قرار دے رہا ہے۔ جو نعمتیں نزولِ قرآن کے زمانے سے سینکڑوں ہزاروں سال پہلے ان کے آباؤ اجداد بنی اسرائیل پر ہوئی تھی۔ قرآن مجید کی مخاطبت یہ ہے۔ ”یابنی اسرائيل اذكروا نعمتي التي انعمت عليكم (البقره: ٤٠)“

”یا بنی اسرائيل اذكروا نعمتي التي انعمت عليكم (البقره: ٤٧)“ وغیرہ آیات قرآنی۔ چونکہ یہ تمام نعمتیں قومی واجتماعی تھیں۔ ہر اسرائیلی کو تاقیامت ان کی یاد منانی چاہئے اور ان کا شکرگزار ہونا چاہئے۔ ہر اسرائیلی ان نعمتوں کا انعام یافتہ قرار دیا جارہا ہے۔ حالانکہ ظہورِ اسلام کے وقت بنی اسرائیل میں نہ کوئی نبی تھا نہ کوئی بادشاہ، نہ وہ فرعون کی غلامی سے نجات پانے والوں میں تھے، نہ من و سلویٰ کھانے والے اور نہ فلسطین کے حکمران۔ ١٦

نعمت واِتمام کی اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد واتممت علیکم نعمتی “ کا مقصد سمجھنا دشوار نہیں۔

تو بلاشبہ یہ نعمت تمام ہوگئی۔ اس نعمت کے تمام ہونے پر ہو گیا۔ کیونکہ گزشتہ زمانوں میں جہاں نعمت کے تمام ہوئے ہیں۔ مثلاً سورۂ یوسف ”وكذلك يجتبيك ربك ويتم نعمته عليك وعلى آل يعقوب كما اتمها عليك (يوسف: ٦) ” اور اسی طرح تجھے تیرا رب برگزیدہ کرے اپنی نعمت تجھ پر تمام کرے گا اور یعقوب کی اولاد (اس تیرے باپ ابراہیم اور اسحاق پر۔ ان کلمات سے ظاہر ہوا ہوئی۔ ان سبھوں کو کامل نبوت ملی۔ ناقص نبوت نہیں ملی حضرات کامل نبی تھے۔ ان کے مقابلے میں پیش نظر آیت خاص افراد کو نہیں ہے۔ بلکہ ساری امتِ محمدیہ تاقیامت اس و صحابیاتؓ ہیں جو تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار کی تعداد میں کے موقع پر آیت نازل ہوتے وقت حاضر تھے۔ صحابہؓ ا مگر صحابہؓ تو مرد تھے اور اس اتمامِ نعمت کے مخاطب اوّلین حالانکہ اتمامِ نعمت کا اعلان ان سبھوں کے حق میں ہوا تابعین اور اتباعِ تابعین سے آج تک اور قیامت تک دعویدار تھے اور نہ حضور اکرم ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کے قائل تھے۔ بلکہ حضور محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت استثناء مرتد و کافر سمجھتے اور ان سے قتال کو فرض قرار دیتے اللہ ﷺ کا لایا ہوا دین کامل ہے۔ جس میں ترمیم و تنسیخ محمد ﷺ کی ذات سے امت کے حق میں قیامت تک پوری حق میں اجتماعی وقومی نعمت ہوتی ہے اور وہ تمام وکمال امت کے حق میں ظہورِ نبی کی گنجائش رہتی ہے انفرادی نعمت کے حصول کا امکان ہے تو سوال پیدا ہوگا کہ امت ١٧

صفحہ ٢٩

نعمت و اتمام کی اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی “ کا مقصد سمجھنا دشوار نہیں ہے۔ اگر نعمت سے مراد نعمت نبوت لی جائے تو بلاشبہ یہ نعمت تمام ہوگئی۔ اس نعمت کے تمام ہونے کے بعد آئندہ کے لئے نبوت کا دروازہ بند ہوگیا۔ کیونکہ گزشتہ زمانوں میں جہاں نعمت کے تمام ہونے کا ذکر ہے وہاں مخاطب خاص افراد ہیں۔ مثلاً سورۂ یوسف ”وکذلک یجتبیک ربک ویعلمک من تاویل الاحادیث ویتم نعمتہ علیک وعلیٰ آل یعقوب کما اتمھا علیٰ ابویک من قبل ابراہیم واسحق (یوسف: ٦) “ اور اسی طرح تجھے تیرا رب برگزیدہ کرے گا اور تجھ کو باتوں کی تعبیر سکھائے گا اور اپنی نعمت تجھ پر تمام کرے گا اور یعقوب کی اولاد (اسرائیلی انبیاء) پر جیسا نعمت کو تمام کیا پیشتر تیرے باپ ابراہیم اور اسحاق پر۔ ان کلمات سے ظاہر ہے کہ جن خاص افراد کے حق میں نعمت تمام ہوئی۔ ان سبھوں کو کامل نبوت ملی۔ ناقص نبوت نہیں ملی اور نبوت ناقص ہوتی بھی نہیں ہے۔ یہ حضرات کامل نبی تھے۔ ان کے مقابلے میں پیش نظر آیت ”اتممت علیکم نعمتی “ کا خطاب خاص افراد کو نہیں ہے۔ بلکہ ساری امت محمدیہ تاقیامت اس کی مخاطب ہے۔ پہلے مخاطب تمام صحابہؓ وصحابیاتؓ ہیں جو تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار کی تعداد میں میدان عرفات میں ”حجة الوداع “ کے موقع پر آیت نازل ہوتے وقت حاضر تھے۔ صحابیات عورتیں تھیں اور وہ نبی نہیں ہو سکتی تھیں۔ مگر صحابہؓ تو مرد تھے اور اس اتمام نعمت کے مخاطب اوّل تھے۔ پھر بھی ان میں کوئی نبی نہیں ہوا۔ حالانکہ اتمام نعمت کا اعلان ان سبھوں کے حق میں ہو رہا ہے۔ اتمام نعمت کا یہ اعلان عہد بہ عہد تابعین اور اتباع تابعین سے آج تک اور قیامت تک قائم ہے۔ تمام صحابہؓ نہ شخصی نبوت کے دعویدار تھے اور نہ حضور اکرم ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کے وسیلے سے اجتماعی اتمام نعمت یعنی نبوت کے قائل تھے۔ بلکہ حضور محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کے ہر نئے دعویدار اور اس کے متبعین کو بلا استثناء مرتد و کافر سمجھتے اور ان سے قتال کو فرض قرار دیتے تھے۔ قرآن کا اعلان واضح ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا لایا ہوا دین کامل ہے۔ جس میں ترمیم و تنسیخ اور ردو بدل نہیں ہو سکتا اور نبوت کی نعمت محمد ﷺ کی ذات سے امت کے حق میں قیامت تک پوری اور تمام ہوگئی۔ نبوت کی نعمت امت کے حق میں اجتماعی و قومی نعمت ہوتی ہے اور وہ تمام و کامل ہوگئی۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی اگر امت کے حق میں ظہور نبی کی گنجائش رہتی ہے انفرادی و اجتماعی طور پر نئے نبی کے وسیلے سے نئی نعمت کے حصول کا امکان ہے تو سوال پیدا ہو گا کہ امت کے حق میں نبوت کی یہ نئی نعمت ناتمام

١٧

صفحہ ٣١

و ناقص یا تمام و کامل ہے یا پہلی نعمت سے افضل و اعلیٰ ہے۔ یہ تینوں صورتیں باطل ہیں۔ کیونکہ نئی نبوت کی نعمت اگر اتممت علیکم نعمتی کی نعمت سے افضل و اعلیٰ ہے۔ تو قرآن کا اعلان غلط ہوتا ہے اور اللہ رب العزۃ کا فرمان جھوٹا ہوتا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی حیثیت ناقص و کم رتبہ قرار پاتی ہے۔ اگر نبوت کی نئی نعمت، محمدی نبوت کے مقابلے میں ناقص ناتمام، ادھوری، اور کم رتبہ ہے تو اللہ رب العزت کا نئے نبی بھیجنے کا فعل حکمت و دانائی کے خلاف ہے کہ ہفت اقلیم کے بادشاہ کو ایک ناقص سکہ یا ایک ایکڑ زمین انعام دے اور اپنے احسان جتائے اور اگر نئی نبوت کی نعمت پہلی نعمت کی طرح تمام و کامل ہے تو اللہ رب العزۃ کا یہ فعل فضول و عبث ہو جاتا ہے اور یہ نبوت تحصیل حاصل کہلائے گی۔ جو محال ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ”اتممت علیکم نعمتی“ کے اعلان کے بعد امت کے حق میں کسی نئے نبی کی آمد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ کیونکہ علیکم (تم سب پر) کی مخاطب پوری امت محمدیہ تا قیامت ہے اور محمد ﷺ ”كافة للناس بشيراً ونذيراً (سباء:٢٨)“ ﴿تمام کے تمام انسانوں کے لئے خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے ہیں۔﴾ لہٰذا نوع انسانی میں اب کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا۔

انعمت علیہم

بہتر ہے کہ نعمت کی تشریح کے سلسلے میں ”اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت علیہم“ کی بھی تفسیر کر دی جائے تا کہ تمام وسوسوں اور شبہات کے چور دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں۔ اللہ رب العزۃ نے ہر مؤمن کو حکم دیا کہ ہر نماز اور اس کی ہر رکعت میں ”سورۃ فاتحہ“ تلاوت کریں اور اللہ سے سیدھی راہ پر چلنے کی دعائیں مانگیں۔ سیدھی راہ یعنی صراط مستقیم کی وضاحت بھی ساتھ ہی کر دی گئی ہے۔ وہ راہ جس راہ پر چلنے والے اللہ تعالیٰ کے انعام کے مستحق ہیں۔ اللہ کے غضب سے محفوظ ہیں اور منزل و راہ منزل سے بھٹکنے والے نہیں ہیں۔

یہ ایک جامع اور کامل دعا ہے۔ اس دعا کی اہمیت اسی سے ظاہر ہے کہ عام مؤمن ہی نہیں بلکہ خواص مؤمن جن میں نبی، صدیق، شہید، صالح، شامل ہیں۔ اس دعا کے پابند ہیں۔ مؤمن مرد، مؤمن عورتیں اور خود حضور اکرم ﷺ اپنی ہر نماز میں یہ دعا دہراتے رہے اس دعا کا مقصد اس میں مذکورہ دو برائیوں سے بچاؤ اور حفاظت ہے۔ یعنی اللہ کے غضب سے محفوظ رہنا اور گمراہی سے دور رہنا۔ ان دونوں برائیوں سے محفوظ رہنے کا لازمی نتیجہ اللہ کی نعمتوں کا حقدار ہونا

١٨

ہے۔ اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہو کہ اس دعائے نعمت سے مراد کے مقامات کا حصول ہے تو پھر محمد رسول اللہ ﷺ نہ صرف رب العزۃ کے بعد تمام موجودات سے افضل تھے۔ اسی ط حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور مؤمن عورتوں کو بھی اس دعا کا النساء کی آیت ”ومن يطع الله والرسول فاولئـ النبيين والصديقين والشهداء والصالـ (النساء: ٦٩)“ ﴿اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی گے جن پر اللہ نے انعام کیا۔ یعنی انبیاء اور صدیقین اور شـ رفیق اور ساتھی ہیں۔﴾ سورۃ النساء کی اس آیت میں انعا سرفہرست ہیں۔ اللہ اور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرما ہوگا۔ اپنے عالیشان جنتی محل میں نہ وہ قید و نظر بندی میں رہـ لوگ ہوں گے۔ دنیا میں گناہ و گمراہی کا اندیشہ ہے اور یہ انـ رہتا ہے۔ جو کوئی مطیع و فرمانبردار رہ کر اس دنیا سے رخصت اور ان ہی نعمتوں میں سے نبیین، صدیقین، شہداء و صالحـ زندگی میں بے شمار مؤمن کاملین نے ہر دور میں اپنی طویل دیں۔ پھر بھی تمام نبیین تو کجا ایک نبی کی بھی رفاقت بلکہ در صحبت میسر آئی نہ تمام شہداء کی رفاقت حاصل ہوئی۔ نہ انـ ملی۔ البتہ قیامت میں فرمانبردار مؤمن تمام انبیاء تمام صدیـ میں بے روک ٹوک شریک ہوں گے اور رفیق بنیں گے۔ نبیوں کی رفاقت ہمارا ایمانی حق ہے۔ تمام عباد صالحین کے ان کی رفاقت ہمارا حق ہے۔

نبیین جمع کا صیغہ ہے۔ (ال) سے مراد استغرا یہی حال صدیقین، شہداء اور صالحین کا ہے۔ ان پر بھی الـ شہید اور تمام صالحین ہیں۔ قیامت میں یہ استغراق وعمو ہے۔ جب کہ دنیا میں کسی دور میں کسی امت یا امتی کو یہ

١٩

صفحہ ٣١

ہے ۔اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہو کہ اس دعائے نعمت سے مراد نبوت ،صدیقیت، شہادت اور صالحیت کے مقامات کا حصول ہے تو پھر محمد رسول اللہ ﷺ نہ صرف نبی تھے بلکہ تمام انبیاء کے سردار اور اللہ رب العزۃ کے بعد تمام موجودات سے افضل تھے ۔ اسی طرح عورتیں نبوت پر فائز نہیں ہوتیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور مؤمن عورتوں کو بھی اس دعا کا پابند بنانا بالکل لغو و غلط بات ہوگی ۔سورۂ النساء کی آیت "وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقاً (النساء : ٦٩) " ﴿اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو وہ ساتھ ہو گا ان لوگوں کے جن پر اللہ نے انعام کیا ۔یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور یہ لوگ کیا ہی اچھے رفیق اور ساتھی ہیں ۔ ﴾سورۃ النساء کی اس آیت میں انعام پانے والوں کی فہرست ہے اور انبیاء سرفہرست ہیں ۔اللہ اور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمانبردار قیامت میں ان لوگوں کے ساتھ ہوگا ۔ اپنے عالیشان جنتی محل میں نہ وہ قید و نظر بندی میں رہے گا اور نہ اس کے رفیق اور ساتھی برے لوگ ہوں گے ۔ دنیا میں گناہ و گمراہی کا اندیشہ ہے اور یہ اندیشہ زندگی کے آخری سانس تک موجود رہتا ہے ۔ جو کوئی مطیع و فرمانبردار رہ کر اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ وہ لازوال انعام کا حقدار ہو گیا اور ان ہی نعمتوں میں سے نبیین ، صدیقین ، شہداء وصالحین کی رفاقت و صحبت بھی ہے ۔دنیاوی زندگی میں بے شمار مؤمن کاملین نے ہر دور میں اپنی طویل عمریں فرمانبرداری واطاعت میں گزار دیں۔ پھر بھی تمام نبیین تو کجا ایک نبی کی بھی رفاقت بلکہ دیدار تک میسر نہ آیا ۔ نہ تمام صدیقین کی صحبت میسر آئی نہ تمام شہداء کی رفاقت حاصل ہوئی ۔ نہ از آدم تا ایں دم ۔تمام صالحین کی ہم نشینی ملی ۔البتہ قیامت میں فرمانبردار مؤمن تمام انبیاء تمام صدیقین، تمام شہداء اور تمام صالحین کی محفل میں بے روک ٹوک شریک ہوں گے اور رفیق بنیں گے ۔تمام انبیاء پر ہم ایمان لائے ہیں۔تمام نبیوں کی رفاقت हमारा ایمانی حق ہے ۔ تمام عباد صالحین کے حق میں ہم ہمیشہ دعا وسلام بھیجتے ہیں۔ ان کی رفاقت ہمارا حق ہے۔

نبیین جمع کا صیغہ ہے۔ (ال) سے مراد استغراق ہے یعنی تمام نبی اگر مخالف قرینہ نہ ہو یہی حال صدیقین ، شہداء اور صالحین کا ہے ۔ان پر بھی ال ہے۔اس سے مراد تمام صدیق تمام شہید اور تمام صالحین ہیں۔قیامت میں یہ استغراق وعموم تابعدار یا فرمانبردار ہر مؤمن کو حاصل ہے۔جب کہ دنیا میں کسی دور میں کسی امت یا امتی کو یہ کبھی حاصل نہیں ہوا کہ تمام نبیوں تمام

١٩

صفحہ ٣٣

صدیقوں اور تمام شہیدوں اور تمام صالحوں کا وہ رفیق بنے۔ خود حضور محمدﷺ کے صحابہ کو صرف ایک ہی نبی کی رفاقت حاصل ہوئی ہے اور وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات تھی۔

(مع) عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے معنی ساتھ کے ہیں۔ اردو میں بھی ساتھ ہی کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ جیسے مع اہل وعیال یعنی اہل وعیال کے ساتھ اسی مع سے معیت کا لفظ ہے۔ جس کے معنی ساتھ اور رفاقت ہے۔ قرآن مجید نے اسی مع کے معنی کو آیت کے آخر میں رفیقاً کہہ کر مزید واضح کر دیا۔ عربی میں مع کے معنی من (یعنی ”سے“ کے نہیں ہیں)

قرآن مجید میں ہے۔ : ”ان اللہ مع المتقین (البقرہ:١٩٤)“ ﴿اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔﴾ اس آیت کے معاذ اللہ ہرگز یہ معنی نہیں ہیں کہ اللہ خود متقیوں میں سے ہے۔ اللہ کس سے خوف کھائے گا اور کس کے ڈر سے تقویٰ اختیار کرے گا۔ اسی طرح ”وهو معكم اینما کنتم“ اور اللہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو، معاذ اللہ! اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ اللہ تم میں سے ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کے کلمات ”وتوفنا مع الابرار“ بھی قیامت سے متعلق ہے۔ ”توفی“ کے متعدد معنی ہیں۔ ان میں سے ایک معنی کامل کرنا اور شمار کرنا بھی ہے۔ ترجمہ ہوگا۔ اے اللہ قیامت میں کامل اور ابرار کے ساتھ ہمیں شمار کر۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ (مع) کے معنی عربی زبان میں ساتھ کے ہیں۔ ”من“ یعنی ”سے“ نہیں ہے۔ ”توفنا مع الابرار (آل عمران:١٩٣)“ میں توفی کے معنی موت دینے کے لئے جائیں جو اس لفظ توفی کا حقیقی ولغوی معنی نہیں ہے۔ بلکہ مجازی معنی ہے۔ جیسے انتقال کے معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا لیکن مجازی معنی موت کے بھی لئے جاتے ہیں۔ اسی طرح (توفا) کے معنی اگر موت دینے کے لئے جائیں تو ان دعائیہ کلمات کے معنی ہوں گے۔ اے اللہ ابرار کے ایمان وعمل کے ساتھ ہمیں موت عطا کر۔ عربی واردو میں اختصار کے لئے اکثر مضاف کا ذکر نہیں کرتے۔ قرآن مجید میں بھی یہ اکثر جگہ ہے۔ مثلاً ”فسئل القرية“ یا ”فسئل العیر“ لفظی معنی ہوئے۔ قریہ سے پوچھ لو۔ لیکن اہل کا لفظ یہاں مذکور نہیں ہے۔ اصل آیت ”فسئل العیر“ اصل میں ”فسئل اهل العیر“ یعنی قافلہ والوں سے پوچھ لو اسی طرح ”مع الابرار“ اصل میں ”مع اعمال الابرار“ ہے۔ یعنی ابرار کے اعمال نیک، ایمان وعمل کے ساتھ ہمیں موت عطا کر۔

قادیانی کہتے ہیں کہ مع من کے معنی میں ہے۔ ”توفنا مع الابرار“ کے معنی ان کے نزدیک ہوگا۔ اے اللہ ہمیں ابرار سے موت دے ان کے اس ترجمہ میں بھی الفاظ پوشیدہ ماننا

٢٠

پڑے گا اور دو خرابیاں تو کھلی ہوئی ہوں گی۔ ایک تو یہ کہ مع کو من کے خلاف ہے اور یہ ایک طرح کی دھاندلی اور تحریف ہوگی۔ دو موت قرار دینے سے ترجمہ درست نہیں ہوگا۔ بلکہ مع کا اصلی ضرورت پڑتی ہے اور مع کے معنی من یعنی ”سے“ کہنے کی صور پڑے گی۔ کلام میں محذوفات کی زیادتی کلام کی خوبی نہیں۔ لہٰذا کا بھی حقیقی معنی لینا چاہئے۔ اس صورت میں کسی حذف کی ض ساتھ مراد لیں اور توفی کا مجازی معنی موت مراد لیں تو کم حذف معنی عربی لغت کے خلاف من یعنی ”سے“ لیا جائے اور توفی کا مج قادیانی کہتے ہیں تو اس صورت میں زیادہ محذوفات کی ضرور کلام کے لئے عیب ہے۔ قرآن اللہ کا کلام ہے اور ہر عیب سے

سورۃ النساء کی اس آیت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ صراط کی راہ پر چلنا ہے۔ لہٰذا وہ صالح، شہید، صدیق ہو سکتا ہے تو ا ہے۔ سراسر غلط ہے۔ کیونکہ اس آیت میں اللہ اور رسول کی ف پانے والے کے لئے ان چاروں انعام یافتگان کی رفاقت وم ہے کہ اللہ اور رسول کی فرمانبرداری سے فرمانبردار کو کیا مرتب دوسرے مقامات پر وضاحت کر دی گئی ہے کہ ایمان وعمل صال ہو سکتا ہے۔ سورۂ العنکبوت میں ہے: ”والذین آمنوا وع الصالحین (العنکبوت:٩)“ ﴿جو لوگ ایمان لائیں اور کے گروہ میں داخل کریں گے۔﴾

اسی طرح سورۃ الحدید میں ہے : ”والذین آمنوا الصديقون والشهداء عند ربهم لهم اجرهم ونور اللہ پر ایمان لائے اور اس کے رسولوں پر، یہی لوگ صدیقین نزدیک ان کے لئے ان کا اجر ہے اور ان کا نور ہے۔﴾

مومن کے حق میں صدیقین شہداء اور صالحین قرآن مجید میں موجود ہے۔ مگر ایمان وعمل صالح کے نتیجے میں

٢١

صفحہ ٣٣

پڑے گا اور دو خرابیاں تو کھلی ہوئی ہوں گی۔ ایک تو یہ کہ مع کو من کا ہم معنی قرار دینا جو عربی زبان کے خلاف ہے اور یہ ایک طرح کی دھاندلی اور تحریف ہوگی۔ دوسرے حذف کے بغیر توفی کے معنی موت قرار دینے سے ترجمہ درست نہیں ہوگا۔ بلکہ مع کا اصلی معنی ساتھ لینے میں حذف کی کم ضرورت پڑتی ہے اور مع کے معنی من یعنی ”سے“ کہنے کی صورت میں زیادہ محذوفات کی ضرورت پڑے گی۔ کلام میں محذوفات کی زیادتی کلام کی خوبی نہیں۔ لہٰذا مع کے اصلی معنی لینا چاہئے اور توفی کا بھی حقیقی معنی لینا چاہئے۔ اس صورت میں کسی حذف کی ضرورت نہیں ہے۔ مع کا حقیقی معنی ساتھ مراد لیں اور توفی کا مجازی معنی موت مراد لیں تو کم حذف کی ضرورت پڑے گی اور اگر مع کا معنی عربی لغت کے خلاف من یعنی ”سے“ لیا جائے اور توفی کا مجازی معنی موت لیا جائے۔ جیسا کہ قادیانی کہتے ہیں تو اس صورت میں زیادہ محذوفات کی ضرورت پڑے گی۔ محذوفات کی زیادتی کلام کے لئے عیب ہے۔ قرآن اللہ کا کلام ہے اور ہر عیب سے پاک ہے۔

سورۂ النساء کی اس آیت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ صراط مستقیم پر چلنے والا انعام پانے والوں کی راہ پر چلتا ہے۔ لہٰذا وہ صالح، شہید، صدیق ہو سکتا ہے تو اپنے کسب ومحنت سے نبی بھی ہو سکتا ہے۔ سراسر غلط ہے۔ کیونکہ اس آیت میں اللہ اور رسول کی فرمانبرداری سے قیامت میں انعام پانے والے کے لئے ان چاروں انعام یافتگان کی رفاقت و معیت کا ذکر ہے۔ اس کا تذکرہ نہیں ہے کہ اللہ اور رسول کی فرمانبرداری سے فرمانبردار کو کیا مرتبے حاصل ہو سکتے ہیں۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر وضاحت کر دی گئی ہے کہ ایمان و عمل صالح کے نتیجے میں صالحین میں داخل ہو سکتا ہے۔ سورۃ العنکبوت میں ہے: ”والذین آمنوا وعملوا الصلحت لندخلنہم فی الصالحین (العنکبوت:٩)“ ﴿جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں البتہ ہم ان کو صالحین کے گروہ میں داخل کریں گے۔﴾

اسی طرح سورۃ الحدید میں ہے: ”والذین آمنوا باللہ ورسولہ اولئک ہم الصدیقون والشہداء عند ربہم لہم اجرہم ونورہم (الحدید:١٩)“ ﴿اور جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کے رسولوں پر، یہی لوگ صدیقین میں اور شہداء میں اپنے رب کے نزدیک ان کے لئے ان کا اجر ہے اور ان کا نور ہے۔﴾

مومن کے حق میں صدیقین شہداء اور صالحین کے مقامات اور مراتب ملنے کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔ مگر ایمان وعمل صالح کے نتیجے میں نبوت ملنے کا ذکر قرآن مجید میں کہیں

٢١

صفحہ ٣٥

بھی نہیں ہے اور قرآن کے اعلانات کی بناء پر ایسا ممکن بھی نہیں ہے۔ کیونکہ:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”الله اعلم حيث يجعل رسالته (الانعام:١٢٥)“ ﴿اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس کو نبوت سپرد کرے گا۔﴾

”الله يصطفى من الملئكة رسلاً ومن الناس (الحج:٧٥)“ ﴿اللہ خود منتخب کرتا ہے فرشتوں میں رسول اور انسانوں میں سے رسول۔﴾

نبیوں کے گروہ میں شامل ہوتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ سب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام کس نبی کی پیروی سے نبی ہوئے؟ اور سب سے آخر نبی محمد رسول اللہ ﷺ بھی اسی دور میں اس قوم میں اور اس سرزمین میں پیدا ہوئے اور نبی ہوئے۔ جہاں نہ پہلے سے کوئی نبی تھے نہ کوئی شریعت و کتاب تھی اور نہ کوئی پیغمبرانہ ماحول و معاشرہ تھا۔ آدم علیہ السلام بھی اللہ کی عطاء سے کسب و محنت کے بغیر نبی ہوئے اور محمد ﷺ بھی اللہ کی عطا سے نبی ہوئے۔ کسی رسول کی فرمانبرداری کر کے ان دونوں اوّل و آخر نبیوں نے مقام نبوت نہیں حاصل کیا۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے: ”وماکنت ترجوا ان يلقی الیک الکتاب الا رحمة من ربك (القصص:٨٦)“ ﴿اے نبیؐ! آپ کو کوئی امید نہ تھی کہ آپ پر کتاب نازل کی جائے گی۔ یہ نبوت تو صرف آپ کے رب کی رحمت ہے۔﴾

دوسری جگہ ارشاد ہے: ”ماکنت تدری ماالکتاب ولا الايمان“ ﴿آپ تو یہ بھی نہ جانتے تھے کتاب کیا ہے اور کتاب پر ایمان کیا ہے۔﴾ لہٰذا نبوت صرف اللہ کی عطاء ہے۔ اس میں بندے کے کسب و محنت کو کوئی دخل نہیں ہے۔

اسی طرح قرآن مجید کے بیان کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام نے بچپن ہی میں گہوارے سے اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ”قالوا كيف نكلم من كان فى المهد صبيا قال انى عبدالله آتنى الكتاب وجعلنى نبيا (مریم:٢٩، ٣٠)“ ﴿یہودیوں نے کہا ہم گود کے بچے سے کس طرح گفتگو کریں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام نے کہا بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اللہ نے مجھے کتاب دی اور مجھے نبی بنایا۔﴾

بچپن میں نبوت کا اعلان بہرحال کسب و محنت کا نتیجہ تو نہیں ہو سکتا۔ قرآن مجید کے اس

٢٢

صریح بیان میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں ہے۔ بلاضرو العزت کے کلام میں جعل و تحریف کرنا اللہ کی طرف سے ظاہری معنی میں تاویل اس وقت کی جاتی ہے جب کوئی آیـ یا کسی دوسرے زیادہ واضح اور محکم آیت کے خلاف ہو۔ ا کے لئے ظاہر قرآن کا معنی بدلتا ہے تو وہ رجیم و ملعون اور زنـ

آیت مذکورہ عنوان میں نبیوں کے علاوہ شہید چاہئے کہ دنیاوی زندگی میں شہیدوں کی رفاقت کا سوال ہونے والے کو شہید کہتے ہیں۔ شہید قتل ہو کر دنیا والوں نکل کر عالم برزخ میں مقیم ہوتے ہیں۔ لہٰذا زندہ مؤمن ہوتی ہے۔ آخرت میں مؤمنین کو شہیدوں کی رفاقت اور لوگوں کو حضور علیہ السلام نے شہید کہا ہے وہ ان کی شـ مبارک و سعید حضرات اس بشارت و پیشین گوئی کے وقـ ساتھ ان کے رہن سہن کو شہداء کی رفاقت کہا جائے۔ لہٰذ اس کا تعلق نہیں ہے کہ نادانی سے کوئی شخص انعام پانے جائے۔ انعام آخرت میں ملے گا اور نبیوں، صدیقوں، آئے گی۔

ایک شبہ کا ازالہ

آیت کریمہ: ”الله يصطفى من الملئـ ﴿اللہ منتخب کرتا ہے فرشتوں میں سے رسول اور انسانوں

اس آیت میں یصطفی کا کلمہ مضارع کا صیـ جاتا ہے۔ اوّل حال، دوم مستقبل کہ اللہ منتخب کرے ہے فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے رسول۔ یـ ہے۔ یہودیوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا اسرائیل کے خاندان میں ہوئے بنی اسماعیل میں کوئی اس باطل خیال کی اصلاح فرمائی اور ان کے رد میں نہیں یہ کوئی خاندانی وراثت پر موقوف نہیں ہے۔

٢٣

صفحہ ٣٥

صریح بیان میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں ہے۔ بلا ضرورت تاویل جعل و تحریف ہے۔ اللہ رب العزت کے کلام میں جعل و تحریف کرنا اللہ کی طرف سے لعنت کا موجب ہے۔ قرآن مجید کے ظاہری معنی میں تاویل اس وقت کی جاتی ہے جب کوئی آیت اسلام کے مسلمہ عقائد کے خلاف ہو یا کسی دوسرے زیادہ واضح اور محکم آیت کے خلاف ہو۔ اگر کوئی شخص اپنی کسی نفسانی غرض کی تکمیل کے لئے ظاہر قرآن کا معنی بدلتا ہے تو وہ رجیم و ملعون اور زندیق و کافر ہے۔

آیت مذکورہ عنوان میں نبیوں کے علاوہ شہیدوں کی رفاقت کا بھی ذکر ہے۔ غور کرنا چاہئے کہ دنیاوی زندگی میں شہیدوں کی رفاقت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ کیونکہ اللہ کی راہ میں قتل ہونے والے کو شہید کہتے ہیں۔ شہید قتل ہو کر دنیا والوں سے جدا ہو جاتے ہیں اور عالم ناسوت سے نکل کر عالم برزخ میں مقیم ہوتے ہیں۔ لہٰذا زندہ مومن اور شہید کی رفاقت دنیاوی زندگی میں نہیں ہوتی ہے۔ آخرت میں مؤمنین کو شہیدوں کی رفاقت اور یکجائی کی سعادت حاصل ہوگی۔ جن زندہ لوگوں کو حضور علیہ السلام نے شہید کہا ہے وہ ان کی شہادت کی پیشین گوئی اور بشارت تھی۔ یہ مبارک و سعید حضرات اس بشارت و پیشین گوئی کے وقت شہید نہیں تھے کہ اس وقت زندوں کے ساتھ ان کے رہن سہن کو شہداء کی رفاقت کہا جائے۔ لہٰذا یہ آیت آخرت سے متعلق ہے۔ دنیا سے اس کا تعلق نہیں ہے کہ نادانی سے کوئی شخص انعام پانے والوں میں اپنے آپ کو شمار کر کے نبی بن جائے۔ انعام آخرت میں ملے گا اور نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صلحاء کی رفاقت بھی وہاں میسر آئے گی۔

ایک شبہ کا ازالہ

آیت کریمہ: ”الله يصطفى من الملئكة رسلاً ومن الناس (الحج:٧٥)“ ﴿اللہ منتخب کرتا ہے فرشتوں میں سے رسول اور انسانوں میں سے۔﴾

اس آیت میں یصطفی کا کلمہ مضارع کا صیغہ ہے۔ فعل مضارع کا مفہوم تین طرح پر لیا جاتا ہے۔ اوّل حال، دوم مستقبل کہ اللہ منتخب کرے گا رسول، سوم استمرار تجددی یعنی اللہ منتخب کرتا ہے فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے رسول۔ یہ سنت الہیہ کا بیان ہے اور یہودیوں کی تردید ہے۔ یہودیوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا انکار کیا اور کہا کہ اس سے پہلے تمام نبی بنو اسرائیل کے خاندان میں ہوئے بنی اسماعیل میں کوئی نبی نہیں آئے۔ اللہ رب العزت نے ان کے اس باطل خیال کی اصلاح فرمائی اور ان کے رد میں فرمایا کہ نبوت بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص نہیں یہ کوئی خاندانی وراثت پر موقوف نہیں ہے۔ بلکہ نبی کی بعثت کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ رب

٢٣

صفحہ ٣٦-٣٧

العزت جس کو چاہتا ہے اپنی طرف سے منتخب کر کے نبی بناتا ہے اور یہ طریقہ اس وقت تک ہے جب تک اللہ جل شانہ کی حکمت ومصلحت کا تقاضا ہو۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیج کر اور خاتم النبیین بنا کر نبی بھیجنے کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ اب نہ بنی اسرائیل میں نبی پیدا ہوں گے نہ بنی اسماعیل میں اور نہ کسی اور انسانی گھرانے میں۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ بھیجی ہوئی کتاب کا خود اللہ محافظ ہو گیا۔ اگر یصطفیٰ کا معنی مستقبل کا لیا جائے اور یہ ترجمہ کیا جائے کہ اللہ فرشتوں میں سے رسول بھیجے گا اور انسانوں میں سے رسول بھیجے گا۔ تو یہ ترجمہ اس لئے غلط ہوگا کہ اس آیت کریمہ کے نزول سے پہلے جو انبیاء کرام آئے ان کی نبوت اللہ کے اس اعلان سے خارج ہوگئی یا تو وہ نبی نہ تھے یا اللہ نے ان کو نبی منتخب نہیں کیا تھا۔ خود محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت معاذ اللہ اس سنت الٰہیہ کے مطابق نہ رہی اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعوائے نبوت صحیح نہیں رہا۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا تعلق ماضی اور حال سے ہے۔ جب کہ آیت مذکورہ میں مستقبل میں نبی بھیجنے کا اعلان ہو رہا ہے۔ لہٰذا اس آیت کا تعلق مستقبل سے نہیں ہے۔ بلکہ یہودیوں کے اعتراض کے جواب میں اللہ رب العزت کے اپنے اختیار و قدرت اور اپنی منشاء کے مطابق نبی بھیجنے کے طریقہ کا اعلان ہے۔

قرآن مجید کا چوتھا اعلان

”کنتم خیر امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر (آل عمران: ١١٠) “ نوع انسانی کے لئے تم بہترین امت ہو۔ بھلائی کا حکم دیتے ہو۔ بری و ناپسندیدہ باتوں سے منع کرتے ہو۔

مذکورہ بالا کلمات جو امت محمدیہ علی صاحبہا صلوٰۃ اللہ وسلامہ کی توصیف وتعریف میں ہیں ۔ اس امت کی عظمت واہمیت بیان کر رہے ہیں اور اس حقیقت کا برملا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ امت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کسی قید زمان ومکان کے بغیر تمام نسل انسانی کی رہنما ہے۔ تمام دوسری امتوں سے بہتر ہے۔ آئیے ذرا کلمات قرآنی کی تشریح کر کے آیت شریفہ پر غور کریں۔ خیر کا لفظ جب مضاف ہو تو اس کا معنی اسم تفضیل اور مقابلے میں ترجیح کے ہوں گے۔ جیسے ”خیر من الف شھر “ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے یا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ”خیر القرون قرنی “ میرا زمانہ تمام زمانوں سے بہتر ہے۔ اسی طرح اس آیت میں ”خیر“ کا لفظ مضاف ہے اور ”امة“ مضاف الیہ ہے۔ اس کا معنی ہوا کہ تمام امتوں کے مقابلہ میں سب سے بہتر امت محمد رسول اللہ ﷺ کی امت ہے۔ چونکہ خیر اور بھلائی کی نسبت امت کی طرف ہے۔ کسی ٢٤ فرد اور شخص کی طرف نہیں ہے۔ لہٰذا یہ امت اپنی اجتماعی مطابق ہمیشہ خیر وخوبی نیکی وبہتری کے مقام پر رہے گی و اجتماعی حیثیت میں معصوم، گناہوں سے پاک اور گمرا سے آراستہ نہیں کہلا سکتی۔ اس سے کوئی حرج ونقصان نہی میں معصوم نہیں ہے۔ گناہ وخطا، غلطی و ناراستی کا اندیشہ ا لوہے کے باریک تار جدا جدا کمزور اور بودے ہوت ومضبوط، اسی طرح افراد امت اپنی شخصی و انفرادی حیثیت میں امت بن کر معصوم اور گناہوں سے پاک ہیں۔ کیو رب العزت کے اعلان کے مطابق ہمیشہ خیر ہیں اور د ہیں۔ حدیث شریف میں بھی اس مضمون کو واضح کر دیا گ الضلالة“ میری امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی۔

امت مسلمہ اپنی اِجماعی و اجتماعی صورت میں عصمت کی وارث ہے۔ دنیا کبھی امت محمدیہ علیہ الصلوٰۃ کہ قیامت کی آخری نشانی ظاہر ہو جائے اور زمین الہ تک دینِ اسلام قائم ہے۔ قرآن موجود ہے امت مس ساتھ باقی ہے۔ گویا معصوم نبی کا معصوم جانشین باقی وتاثیرات کے ساتھ قیامت تک موجود ہے۔ جیسا کہ القيامة“ دور نبوت قیامت تک ہے۔ تو کسی نئے نبوت کا تصور ایک شیطانی فتنہ اور قرآن کی کھلی مخالفت خیر امة یعنی بہترین امت قرار دیا اور فرائضِ نبوت اس ہے۔ اسی خیر امت میں نئے نبی کی آمد سے اللہ تعالیٰ اللہ ثم معاذ اللہ ) اور امت کو جو فضیلت بخشی گئی وہ فضیلت ایک فرد یعنی نئے نبی کے مقابلے میں ختم ہو ہو یا خود امت محمدیہ ﷺ کا فرد ہو۔ اجتماعی فضیلت ختم

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ایک دین لائے دیا۔ جس میں کسی عقیدہ اور کسی عملی حکم میں تبدیلی کی ٢٥

صفحہ ٣٧

فرد اور شخص کی طرف نہیں ہے۔ لہٰذا یہ امت اپنی اجتماعی صورت میں اللہ کے فیصلے اور اعلان کے مطابق ہمیشہ خیر و خوبی، نیکی و بہتری کے مقام پر رہے گی۔ دوسرے لفظوں میں یہ امت اپنی اجتماعی و اجتماعی حیثیت میں معصوم، گناہوں سے پاک اور گمراہوں سے محفوظ ہے۔ ورنہ پھر یہ خیر و خوبی سے آراستہ نہیں کہلا سکتی۔ اس سے کوئی حرج و نقصان نہیں ہے کہ امت اپنی انفرادی و شخصی صورت میں معصوم نہیں ہے۔ گناہ و خطا، غلطی و ناراستی کا اندیشہ اور گنجائش اس میں موجود ہے۔ دھاگے اور لوہے کے باریک تار جدا جدا کمزور اور بودے ہوتے ہیں۔ مگر اجتماعی صورت میں بہت قوی و مضبوط، اسی طرح افراد امت اپنی شخصی و انفرادی حیثیت میں غیر معصوم ہیں۔ لیکن اجتماعی حیثیت میں امت بن کر معصوم اور گناہوں سے پاک ہیں۔ کیونکہ امت محمدیہ اپنی جماعتی حیثیت سے اللہ رب العزت کے اعلان کے مطابق ہمیشہ خیر ہیں اور دنیا کی تمام امتوں کے مقابلہ میں خیر و افضل ہیں۔ حدیث شریف میں بھی اس مضمون کو واضح کر دیا گیا ہے۔ "لَا تَجْتَمِعُ أُمَّتِيْ عَلَى الضَّلَالَةِ" میری امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی۔

امت مسلمہ اپنی اجتماعی و اجتماعی صورت میں معصوم ہے۔ نبی کی جانشین ہے۔ ان کی عصمت کی وارث ہے۔ دنیا کبھی امت محمدیہ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے خالی نہیں ہو سکتی۔ یہاں تک کہ قیامت کی آخری نشانی ظاہر ہو جائے اور زمین اللہ اللہ کہنے والوں سے محروم ہو جائے۔ جب تک دین اسلام قائم ہے۔ قرآن موجود ہے امت مسلمہ بھی باقی ہے۔ اپنی عصمت و خیریت کے ساتھ باقی ہے۔ گویا معصوم نبی کا معصوم جانشین باقی ہے۔ نبوت محمدیہ جب اپنے تمام اثرات و تاثیرات کے ساتھ قیامت تک موجود ہے۔ جیسا کہ محمد ﷺ نے فرمایا: ”عَهْدِيْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ“ دور نبوت قیامت تک ہے۔ تو کسی نئے نبی کی گنجائش کا کیا سوال رہ جاتا ہے۔ بلکہ نئی نبوت کا تصور ایک شیطانی فتنہ اور قرآن کی کھلی مخالفت ہوگی۔ جس امت کو اللہ رب العزت نے خیر امۃ یعنی بہترین امت قرار دیا اور فرائض نبوت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس کے سپرد کیا ہے۔ اسی خیر امت میں نئے نبی کی آمد سے اللہ تعالیٰ کا اعلان غلط اور جھوٹ ہو جائے گا۔ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) اور امت کو جو فضیلت بخشی گئی وہ ختم ہو جائے گی۔ اجتماعی عظمت اور اجتماعی فضیلت ایک فرد یعنی نئے نبی کے مقابلے میں ختم ہو جائے گی۔ خواہ وہ نیا نبی کسی دوسری امت کا فرد ہو یا خود امت محمدیہ ﷺ کا فرد ہو۔ اجتماعی فضیلت شخص معین میں منحصر ہو جائے گی۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ایک دین لائے جس کو اللہ رب العزت نے دین کامل قرار دیا۔ جس میں کسی عقیدہ اور کسی عملی حکم میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عقائد و اعمال سے متعلق

٢٥

صفحہ ٣٩

ہر ترمیم و تنسیخ اس اعلان کمال سے پہلے ہو چکی۔ اس دین کو قبول کر کے انسان دین کامل پر قائم ہو جاتا ہے اور مومن کامل کہلاتا ہے اور اس دین کی پیروی و اتباع کے بدلے میں آخرت کی فلاح و کامیابی بھی اللہ رب العزت کے وعدے کے مطابق یقینی ہے اور اس دین کامل کے ماننے والے اپنی اجتماعی حیثیت میں امتی سے امت بن کر عصمت کے مرتبے پر فائز ہوتے ہیں اور گمراہی سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ امت کا اجماع دین کامل میں شریعت کے لئے بنیادی دلیل ہے۔ اب اگر حضور محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد اس خیر امۃ اس معصوم امۃ نبی کی جانشین امۃ کے درمیان کوئی نیا نبی ظاہر ہو گا تو لامحالہ مسلمانوں میں اس نئے نبی کے اقرار و انکار کی جداگانہ راہیں پیدا ہوں گی۔ کچھ لوگ اس نئے نبی کی تصدیق کریں گے اور کچھ لوگ اس کا انکار کریں گے۔

نبوت ایمان کا رکن ہے۔ سچے نبی کے اقرار میں تذبذب و شک کفر ہے اور جھوٹے نبی کے انکار میں پس و پیش بھی کفر ہے۔ نیا آنے والا نبی اگر سچا ہی ہو تو بھی تمام امت مسلمہ جسے اللہ تعالیٰ نے خیر امۃ کہا ہے۔ سب کے سب اس کی تصدیق نہیں کریں گے۔ کیونکہ سابق میں ہمیشہ یہ تجربہ رہا ہے کہ گزشتہ نبی کے ماننے والے ہر نئے نبی کی آمد پر دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک تصدیق کرنے والا گروہ، دوسرا انکار کرنے والا گروہ۔ دین اسلام کے کامل ہو جانے اور امت مسلمہ کے خیر امت کا خطاب پالینے اور اجتماعی حیثیت میں معصوم ہونے اور انفرادی ایمان و عمل کی صورت میں اخروی فلاح و نجات کی سند اللہ تعالیٰ سے حاصل کر لینے کے بعد اگر مسلمان کے سامنے کوئی نیا نبی پیدا ہوتا ہے تو مسلمانوں کا ایک گروہ انکار کرے گا جو ایمان کے دائرے سے فوراً نکل جائے گا۔ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ایک نبی کا انکار کیا ہے۔ جب کہ نبی کا اقرار ایمان کا رکن ہے۔ اس نئے نبی کی آمد سے اللہ تعالیٰ کے نظام ہدایت اور اس کے بار بار کے اعلانات میں عجیب افراتفری پھیل جائے گی۔ نبی کا انکار کافر بنا کر جہنم میں لے جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جگہ جگہ اعلان کر دیا ہے کہ ہر گناہ کی معافی کی امید کی جاسکتی ہے۔ لیکن شرک و کفر کی کبھی معافی نہیں ہوگی اور نبی کا انکار صریح کفر ہے۔ لہٰذا ایک سچا صالح اور متقی مسلمان نئے نبی کا انکار کر کے کافر ہو جائے گا۔ دوسری طرف اسی اللہ رب العزت کا یہ بھی اعلان ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعے دین کامل ہو گیا اور نعمت تمام ہو گئی۔ اسلام پر اللہ تعالیٰ نے اپنی رضامندی کی مہر لگا دی۔ اس دین کے پیرو نجات یافتہ ہیں۔ ”اولٰئک علی ھدی من ربھم واولٰئک ھم المفلحون (البقرۃ:٥)“ ”یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں۔ یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں اور خیر امت کے افراد ہیں۔“

٢٦

یہ اور اس مضمون کے دوسرے قرآنی اعلانا جنت کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ اللہ رب العزۃ کے ہے۔ صحابہ کرام سے لے کر تیرھویں صدی ہجری کے دو امت اور متبع ان کا دین، دین کامل رہا۔ انہی صحابہ کرام ایمان کا معیار بنایا۔ ”فان امنوا بمثل ما امنتم (البا اے صحابہ رسول اسی کا ایمان مقبول ہوگا۔ جو ا کے راستے کو سبیل المؤمنین کہہ کر نجات کا راستہ قرار دیا۔ ”و ماتبین لہ الھدیٰ ویتبع غیر سبیل المؤم وسأت مصیراً (النساء:١١٥)“ ”جو کوئی رسول علیہ کے کہ اس پر ہدایت واضح ہو چکی اور وہ مؤمنوں سے الگ دیں گے اور اس کو جہنم میں جھونک دیں گے جو برا ٹھکانہ ہے

اس امت میں بھی اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہدایت واضح ہو گئی ہے۔ اس پر چلنے والے ہی صحیح مؤمن ہ جو راہ ہے وہی اللہ کی راہ اور صحیح راہ ہے۔ جو کوئی مؤمنین ک در حقیقت رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتا ہے۔ جس کی سزا ج چنانچہ اسی راہ پر صحابہ، تابعین، اتباع تابعین ا جو دین صحابہ سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک جاری ر نجات و فلاح کا دین ہے۔ اس دین میں نہ کسی حکم کی ضرو نبی کے آنے کا انتظار ہے۔ نہ ان آئندہ نبی پر ایمان بالغ میں جو کوئی تبدیلی لاتا ہے خواہ نبی بن کر رکن ایمان میں تبد میں تبدیلی لائے وہ اللہ تعالیٰ کے مستند و پسندیدہ مؤمنین ک اللہ ﷺ کی مخالفت کی ہے۔ لہٰذا وہ جہنم میں جائے گا۔

حاصل کلام امت محمدیہ ﷺ خیر امت ہے۔ ل لقب غلط ہو جائے گا اور نہ اللہ تعالیٰ نیا نبی بھیج کر اپنے ہی ا محمدی کی پیروی سے خیر امۃ بھی رہیں اور نئے نبی کے انک

٢٧

صفحہ ٣٩

یہ اور اس مضمون کے دوسرے قرآنی اعلانات مسلمانوں کو مؤمن کامل قرار دے کر جنت کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ اللہ رب العزۃ کے اس وعدہ فلاح سے پورا قرآن بھرا ہوا ہے۔ صحابہ کرام سے لے کر تیرہویں صدی ہجری کے وسط تک تمام مسلمان از روئے قرآن خیر امت اور صلح ان کا دین، دین کامل رہا۔ انہی صحابہ کرام کے دین اور اتباع دین کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کا معیار بنایا۔ ”فان آمنوا بمثل ما أمنتم (البقرہ:١٣٧)“

اے صحابہ رسول اسی کا ایمان مقبول ہوگا۔ جو تمہارے جیسا ایمان لائے۔ انہی صحابہ کے راستے کو سبیل المؤمنین کہہ کر نجات کا راستہ قرار دیا۔ ”ومن يشاقق الرسول من بعد ماتبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ماتولى ونصله جهنم وسأت مصيراً (النساء:١١٥)“ ﴿جو کوئی رسول علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کرے بعد اس کے کہ اس پر ہدایت واضح ہو چکی اور وہ مؤمنوں سے الگ راستے پر چلے ہم اس کو اسی راہ پر چلنے دیں گے اور اس کو جہنم میں جھونک دیں گے جو برا ٹھکانہ ہے۔﴾

اس امت میں بھی اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ محمدﷺ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی ہدایت واضح ہو گئی ہے۔ اس پر چلنے والے ہی صحیح مؤمن ہیں اور اجتماعی صورت میں ان مؤمنین کی جو راہ ہے وہی اللہ کی راہ اور صحیح راہ ہے۔ جو کوئی مؤمنین کی اس اجتماعی راہ سے الگ ہوتا ہے۔ وہ در حقیقت رسول اللہﷺ کی مخالفت کرتا ہے۔ جس کی سزا جہنم ہے۔

چنانچہ اسی راہ پر صحابہ، تابعین، اتباع تابعین اور عہد بعد امت مسلمہ چلی آرہی ہے۔ جو دین صحابہ سے لے کر تیرہویں صدی ہجری تک جاری رہا۔ وہی دین سبیل المؤمنین دین کامل اور نجات وفلاح کا دین ہے۔ اس دین میں نہ کسی حکم کی ضرورت ہے اور نہ گنجائش اور نہ کسی نئے نبی کے آنے کا انتظار ہے۔ نہ ان آئندہ نبی پر ایمان بالغیب ہے۔ اس تیرہ سو سال پرانے دین میں جو کوئی تبدیلی لاتا ہے خواہ نبی بن کر رکن ایمان میں تبدیلی لائے یا شارع بن کر اس کے احکام میں تبدیلی لائے وہ اللہ تعالیٰ کے مستند و پسندیدہ مؤمنین کی راہ سے ہٹ گیا ہے۔ اس نے رسول اللہﷺ کی مخالفت کی ہے۔ لہٰذا وہ جہنم میں جائے گا۔

حاصل کلام امت محمدیہﷺ خیر امت ہے۔ لہٰذا وہ جہنم میں نہیں رہے گی۔ ورنہ خیر کا لقب غلط ہو جائے گا اور نہ اللہ تعالیٰ نیا نبی بھیج کر اپنے ہی اعلانات اور وعدوں کو جھٹلائے گا کہ دین محمدی کی پیروی سے خیر امت بھی رہیں اور نئے نبی کے انکار سے کافر بھی ہو جائیں۔ بلکہ یہ امت

٢٧

صفحہ ٤١

اخری امت ہے۔ سب امتوں سے بہتر امت ہے۔ اجتماعی حیثیت میں معصوم امت ہے اور محمدﷺ کی جانشین بن کر نبوت کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ کی پابند ہے۔ بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا جو نبیﷺ اور دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کا کام تھا وہ اب امت محمدﷺ کا فریضہ ہے۔ دین اسلام قرآن وسنت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق محفوظ ہے اور امت اس کی تبلیغ واشاعت کی پابند ہے نہ تو نبی داروغہ ہوتے ہیں کہ زبردستی لوگوں کو اسلام کا پابند بنائیں اور نہ ان کا جانشین داروغہ ہے کہ بزور وجبر دوسروں پر اسلام کو مسلط کرے۔ اللہ کی صفت رحم اور صفت عدل کی علامت یہ ہے کہ نبوت کے خاتمہ کے بعد کتاب و دین محفوظ رہیں۔ ورنہ اللہ کے عدل کے خلاف ہوتا کہ دین و کتب بھی محفوظ نہ رہیں۔ محرف ومشکوک ہو جائیں اور نبی و ہادی بھی غائب ہوں۔

ایک نکتہ

اگر آنے والے نئے نبی اور صاحب الہام امام کی آمد سے محمد رسول اللہﷺ کے لائے ہوئے دین میں جو تیرہ سو سال سے چلا آ رہا ہے نہ کسی عقیدے میں تبدیلی ہوتی ہے اور نہ کسی حکم میں۔ بلکہ امت مسلمہ اگر آنے والے نئے نبی وصاحب الہام ہادی کا انکار کر دے پھر بھی وہ خیر امت اور نجات وفلاح والی امت ہے اور اگر نئے نبی وصاحب الہام کا اقرار کرے تو بھی خیر امت اور مفلح ہے تو پھر یہ نیا آنے والا نبی نہیں ہے اور نہ اللہ کا فرستادہ و نامزد ہے۔ نہ منصوص من اللہ ہادی ہے۔ کیونکہ نبی ایمان کا رکن ہوتا ہے اور اللہ کے مقرر کردہ منصوص کو قبول کرنے میں تذبذب بھی کفر ہے۔

قرآن مجید کا پانچواں اعلان

”یؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالآخرة هم يوقنون (البقرة: ٤)“ ہدایت یافتہ لوگوں کی توصیف بیان کی گئی کہ فلاح و ہدایت والے وہی لوگ ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔ محمدﷺ پر نازل کردہ وحی و کتاب پر اور ان وحی و کتاب پر جو آپﷺ سے پہلے نازل ہوئیں اور قیامت و دار آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہاں دو باتیں ذہن نشین رہنی چاہئیں۔

اوّل ...... حضرت محمدﷺ پر اللہ رب العزت نے وحی نازل کی اور آپﷺ سے پہلے نبیوں پر وحی نازل کی۔ محمدﷺ کے بعد وحی اترنے کا نہ کوئی ذکر ہے اور نہ فلاح و ہدایت کے لئے ایسی کسی وحی کی گنجائش ہے۔ ورنہ گزشتہ وحیوں کے ساتھ آپﷺ کے بعد آنے والی وحی کی طرف اشارہ

٢٨

کر کے مومنین کو ہدایت دی جاتی۔ پیشین گوئی اور آپﷺ کے بعد آنے والی وحی کا ذکر کر دیا جاتا۔ جـ غائبانہ ایمان کا اقرار کر لیا تھا۔ بلکہ قرآن مجید نے بالآخـ تصور ہی ختم کر دیا اور صاف صاف یہ بتا دیا کہ آپﷺ بلکہ آپﷺ کے بعد دار آخرت یعنی قیامت کی منزل کی گنجائش تھی اور وحی آئی۔ آپﷺ کے بعد وحی نہیں شریف میں بھی یہی ہے۔ ’انا والساعة كهاتیـ شہادت کو ملا کر فرمایا کہ میں اور قیامت ان دونوں انگلیو میرے بعد قیامت ہے کوئی نبی آ کر درمیان میں حائل نبیوں اور وحیوں پر ایمان رکھنے والے ہی ہدایت پر ہیـ وحی کی گنجائش اور نہ ان پر ایمان لانا ہدایت و فلاح ہے

یہ یاد رہے کہ لفظ ”آخرۃ“ مؤنث کا آخرت سے مراد کوئی مرد نہیں ہو سکتا اور نہ یہ لفظ آخر میں ”وحی“ کا لفظ بھی مذکر ہے۔ جیسے قرآن مجید میـ ”آخرۃ“ کا لفظ وحی کی صفت بھی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ جـ ہے۔ اسی طرح ”آخرۃ“ کا لفظ بھی مؤنث ہے۔ گھر اور دار آخرت، آخرت کا گھر، عام شہرت اور سے پہلے موصوف یعنی ”دار“ کا لفظ نہیں بولتے۔ ” کیونکہ عربی زبان میں کتاب کا لفظ بھی مذکر ہے۔ اس ریب فیہ“ آیا ہے۔ ذلک بھی مذکر ہے اور فیہ میـ جگہ دنیا سے مراد دار دنیا اور آخرت سے مراد دار آخـ اور اکثر ”دار“ کے لفظ کے بغیر صرف آخرت اور د

قرآن مجید کا چھٹا اعلان

”ما كان محمد ابا احد من رجا وكان الله بكل شئ عليما (الاحزاب: ٠

٢٩

صفحہ ٤١

کر کے مومنین کو ہدایت دی جاتی۔ پیشین گوئی اور غائبانہ ایمان کے بطور پر اجمالاً ہی سہی آپ ﷺ کے بعد آنے والی وحی کا ذکر کر دیا جاتا۔ جیسا کہ محمد ﷺ کے متعلق گزشتہ نبیوں نے غائبانہ ایمان کا اقرار کر لیا تھا۔ بلکہ قرآن مجید نے بالآخرہ کہہ کر آئندہ کسی نئے نبی و وحی کی آمد کا تصور ہی ختم کر دیا اور صاف صاف یہ بتا دیا کہ آپ ﷺ کے بعد کسی نبی و وحی کی گنجائش نہیں ہے۔ بلکہ آپ ﷺ کے بعد دار آخرت یعنی قیامت کی منزل ہے۔ آنحضرت محمد ﷺ سے پہلے نبی و وحی کی گنجائش تھی اور وحی آئی۔ آپ ﷺ کے بعد وحی نہیں آئے گی۔ بلکہ قیامت آئے گی اور حدیث شریف میں بھی یہی ہے۔ ”أنا والساعة كهاتين“ حضور ﷺ نے درمیانی اور انگشت شہادت کو ملا کر فرمایا کہ میں اور قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ملے ہوئے اور متصل ہیں۔ یعنی میرے بعد قیامت ہے کوئی نبی آ کر درمیان میں حائل نہیں ہوگا اور نہ فاصلہ بنے گا۔ محمد ﷺ تک نبیوں اور وحیوں پر ایمان رکھنے والے ہی ہدایت پر ہیں اور فلاح پانے والے ہیں۔ آئندہ نہ کسی وحی کی گنجائش اور نہ ان پر ایمان لانا ہدایت و فلاح ہے۔

یہ یاد رہے کہ لفظ ”آخرة“ مؤنث کا صیغہ ہے اور نبی مذکر یعنی مرد ہوتے ہیں۔ لہٰذا آخرت سے مراد کوئی مرد نہیں ہو سکتا اور نہ یہ لفظ آخرت کسی مرد کی صفت بن سکتا ہے۔ عربی زبان میں ”وحی“ کا لفظ بھی مذکر ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے۔ ”ان هو الا وحی یوحى“ لہٰذا ”آخرة“ کا لفظ وحی کی صفت بھی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ جس طرح دنیا کا لفظ مؤنث ہے اور دار کی صفت ہے۔ اسی طرح ”آخرة“ کا لفظ بھی مؤنث ہے۔ ”دار“ کی صفت ہے معنی ہیں دار دنیا، پستی کا گھر اور دار آخرت، آخرت کا گھر، عام شہرت اور کثرت استعمال کی وجہ سے اکثر دنیا و آخرت سے پہلے موصوف یعنی ”دار“ کا لفظ نہیں بولتے۔ ”بالآخرة“ سے مراد کتاب بھی نہیں ہے۔ کیونکہ عربی زبان میں کتاب کا لفظ بھی مذکر ہے۔ اسی رکوع کے شروع میں ”ذلك الكتاب لا ريب فيه“ آیا ہے۔ ذلک بھی مذکر ہے اور فیہ میں ”ہ“ بھی مذکر ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہر جگہ دنیا سے مراد دار دنیا اور آخرت سے مراد دار آخرت ہے۔ کہیں ”دار“ کا لفظ بھی مذکور ہوا ہے اور اکثر ”دار“ کے لفظ کے بغیر صرف آخرت اور دنیا کے الفاظ آئے ہیں۔

قرآن مجید کا چھٹا اعلان

”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما (الاحزاب:٤٠)“ حضرت محمد ﷺ تم میں سے کسی بالغ مرد

٢٩

صفحہ ٤٣

کے باپ نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے یا مہر یا خاتم ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کے بارے میں پہلے ہی سے خوب علم والا ہے۔ ﴾

اس آیت کریمہ کے بنیادی نکتے یہ ہیں:

کوئی ناگہانی اور نیا فیصلہ نہیں ہے۔

عربی زبان کے قواعد و بلاغت کے لحاظ سے آیت مبارکہ میں غور کیجئے۔ مندرجہ ذیل باتیں واضح ہوں گی۔ ”لکن“ حرف استدراک ہے۔ ”نبیین“ جمع سالم ہے۔ اس پر ”ال“ ہے اور اللہ تعالیٰ کے علیم ہونے کا اعلان ”کان“ کے لفظ سے ہورہا ہے جو ماضی بعید کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ تینوں نکتے بلاغت وقواعد کے لحاظ سے قابل غور ہیں۔ اس اعلان خداوندی پر تفصیل سے غور کریں۔ عربی زبان اور اس کی فصاحت، بلاغت اور محاورے کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ قرآن مجید عربی زبان میں عربی محاورے میں عربی فصاحت و بلاغت کے اصول وقواعد پر نازل ہوا ہے۔

اللہ رب العزت نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو بالغ مرد کا باپ نہیں بنایا۔ یہ ایک امر واقعہ اور کھلی ہوئی حقیقت ہے۔ اس آیت کریمہ کے نزول سے پہلے جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے صاحبزادے حضرت قاسمؓ کی وفات پر کفار مکہ نے آپ کو مقطوع النسل اور ابتر ہونے کا طعنہ دیا تھا اور جناب ابراہیمؑ کے بعد آپﷺ کے یہاں کوئی نرینہ فرزند بھی پیدا نہیں ہوا۔ دنیاوی اصول اور انسانی انداز فکر کے لحاظ سے تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ اگر حضور علیہ السلام اللہ کے محبوب اور پیارے تھے تو کافروں کے طعنوں کا جواب یہ تھا کہ آپﷺ کے یہاں بکثرت بیٹے پیدا ہوتے جو بڑے ہو کر بڑے بڑے خاندانوں کے مورث بنتے۔ لیکن ہوا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے طعنے سنے۔ مگر آپﷺ کے یہاں اولاد ذکور کو پیدا نہیں کیا۔ وجہ ظاہر ہے قرآن مجید کے فیصلے کے مطابق مال و اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں ”المال والبنون زينة الحيوة الدنيا“ مال و اولاد بشری ارمانوں کا ظہور ہیں۔ نوعی بقا کا ذریعہ اور فانی یادگار کا سبب ہیں۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام

٣٠

اس دنیا میں مردم شماری میں اضافہ کے لئے نہیں آئے۔ آ تھا۔ مال کے معاملے میں آپﷺ نے فقر و مسکینی پسند آپﷺ کی امتیازی شان ہی یہ بتائی کہ آپﷺ کے نرینہ اولاد کا باپ بنا کر آپﷺ کی تخلیق و بعثت کا مقصـ شان ظاہر نہیں ہوگی۔ آپﷺ کی آمد نوع بشر میں کسی اور اولاد کی صورت میں آپﷺ کے حق میں پورے ۔ سے نوع بشری اصلاح مقصود تھی۔ اس لئے آپﷺ کـ کے ساتھ پیدا کیا گیا۔ اگر زمین میں فرشتے آباد ہوتے اصلاح کے لئے فرشتے کو نبی بنا کر بھیجا جو وہیں کچھ کھا ۔ اور وہی کچھ پہنتے جو زمین میں آباد فرشتوں کا لباس ہوتا ۔ فی الارض ملئکة يمشون مطمئنين لنزلنا اسرائيل:٩٥) ” آپ کہہ دیں اگر زمین میں فرشـ فرشتہ کو رسول بنا کر اتارتے۔ جب کہ زمین پر انساـ اصلاح و ہدایت کے لئے نبی بنا کر بھیجا جاتا تو وہ بھی انـ ساتھ آتے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے۔ ”ولو جعلـ عليهم ما يلبسون (الانعام:٩) ”اگـ بناتے۔ ﴾

حضور اکرم محمد رسول اللہﷺ کی تخلیق کا مـ ہیں اور خاتم النبیین یعنی تمام نبیوں کے خاتم، آخری رسول اللہ کا کلمہ اس لئے آیا ہے تا کہ آئندہ اگر کوئی کرے تو محمدﷺ کی رسالت میں کوئی شک و شبہ نہ ر شدہ چیز کے علاوہ اور اس کی غیر ہوتی ہے۔ حاصل کـ مقاصد کے لئے ہوتی ہے۔ رسالت اور ختم نبوت ا بلکہ آنحضرتﷺ کے لئے اولاد ذکور کا وجود ان ۔ اگر اولاد ذکور ہوتی تو وہ یا تو معاذ اللہ نالائق نا خلف

٣١

صفحہ ٤٣

اس دنیا میں مردم شماری میں اضافہ کے لئے نہیں آئے۔ آپ ﷺ کا دل بشری ارمانوں کا گھر نہیں تھا۔ مال کے معاملے میں آپ ﷺ نے فقر و مسکینی پسند کی اور اولاد کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی امتیازی شان ہی یہ بتائی کہ آپ ﷺ کے لئے مرد کا باپ ہونا مناسب نہیں ہے۔ نرینہ اولاد کا باپ بنا کر آپ ﷺ کی تخلیق و بعثت کا مقصد پورا نہیں ہوگا اور آپ ﷺ کی خصوصی شان ظاہر نہیں ہوگی۔ آپ ﷺ کی آمد نوع بشر میں کسی بشر کا اضافہ نہیں ہے کہ بشری تقاضے مال اور اولاد کی صورت میں آپ ﷺ کے حق میں پورے کئے جائیں۔ بلکہ آپ ﷺ کی بعثت و آمد سے نوع بشر کی اصلاح مقصود تھی۔ اس لئے آپ ﷺ کو بشری پیکر میں ذاتی طور پر بشری صفات کے ساتھ پیدا کیا گیا۔ اگر زمین میں فرشتے آباد ہوتے تو اللہ رب العزت فرشتوں میں سے ان کی اصلاح کے لئے فرشتے کو نبی بنا کر بھیجتا جو وہی کچھ کھاتے جو زمین پر آباد فرشتوں کی خوراک ہوتی اور وہی کچھ پہنتے جو زمین میں آباد فرشتوں کا لباس ہوتا۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے۔ ”قل لو كان فی الارض ملئكة يمشون مطمئنين لنزلنا عليهم من السماء ملكا رسولا (بنی اسرائیل:٩٥)“ ”آپ کہہ دیں اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے بستے تو ہم ان پر آسمان سے فرشتہ کو رسول بنا کر اتارتے۔ جب کہ زمین پر انسان آباد ہیں۔ اگر کسی فرشتے کو انسانوں کی اصلاح و ہدایت کے لئے نبی بنا کر بھیجا جاتا تو وہ بھی انسانی پیکر میں انسانی صفات و ضروریات کے ساتھ آتے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے۔ ”ولو جعلناه ملكا لجعلناه رجلاً وللبسنا عليهم ما يلبسون (الانعام:٩)“ ”اگر ہم فرشتے کو پیغمبر بناتے تو اس کو بھی ایک مرد بناتے۔ ﴾

حضور اکرم محمد رسول اللہ ﷺ کی تخلیق کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین یعنی تمام نبیوں کے خاتم، آخری نبی ہیں۔ یادرہے کہ خاتم النبیین کے ساتھ رسول اللہ کا کلمہ اس لئے آیا ہے تا کہ آئندہ اگر کوئی شخص خاتم کے معنی محاورۂ عرب کے خلاف مہر کرے تو محمد ﷺ کی رسالت میں کوئی شک و شبہ نہ پیدا ہو۔ کیونکہ جس چیز سے مہر کرتے ہیں وہ مہر شدہ چیز کے علاوہ اور اس کی غیر ہوتی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی تخلیق جن دو مقاصد کے لئے ہوتی ہے۔ رسالت اور ختم نبوت ان کے لئے اولاد نرینہ کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کے لئے اولاد ذکور کا وجود ان مقاصد کی راہ میں رکاوٹ اور مانع ہے۔ کیونکہ اگر اولاد ذکور ہوتی تو وہ یا تو معاذ اللہ نالائق ناخلف اور نا اہل ہوتی جو آپ علیہ السلام کے حق میں

٣١

صفحہ ٤٥

ایک المناک اور بری نسبت بنتی اور دشمنوں کے طعن واعتراض کا سبب ہوتا۔ حالانکہ حضور اکرم ﷺ کی خوشی اللہ تعالیٰ کو پسند ومحبوب ہے اور اگر وہ اولاد پسندیدہ لائق فائق خلف الصدق اور اہل ہوتی تو ان کی طرف وراثتًا نبوت کا خیال جاتا اور لوگ گمراہ ہوتے۔ گزشتہ انبیاء علیہم السلام میں موروثی نبوت کا ثبوت صحف قدیمہ اور قرآن مجید میں موجود ہے۔ اگرچہ نبی کا تقرر اللہ کا ذاتی فعل وانتخاب ہے۔ پھر بھی باپ کے بعد بیٹے اور پوتے کی نبوت میں وراثت کی صورت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے اولاد نرینہ کی گنجائش نہیں تھی۔ اللہ جل مجدہ آپ ﷺ پر رسالت تمام کر کے آپ ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ ہی بند کرنے کا فیصلہ اپنے علم قدیم میں کر چکا تھا۔ ”وکان اللہ بکل شئٍ علیما (الاحزاب:٤٠) “ ﴿اللہ ہر چیز کو ہمیشہ جانتا ہے۔ لہٰذا دین بھی آپ ﷺ پر کامل کر دیا۔ رسالت بھی تمام کر دی اور نبوت بھی آپ ﷺ پر ختم ہو گئی اور یہ سب کچھ اللہ رب العزت کے ازلی علم اور ازلی فیصلے کے مطابق ہوا۔﴾

اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو بیٹی دے کر اور بچپن ہی میں اولاد نرینہ کو وفات دے کر یہ بتا دیا کہ آپ ﷺ اپنی ذات میں بشری کمالات وقوت میں کوئی کمی یا نقص نہیں رکھتے اور بیٹیاں رسالت ونبوت پر فائز نہیں ہوتیں۔ ”وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیھم (النحل:٤٣) “ اور ہم نے آپ ﷺ سے پہلے مردوں ہی کو رسول بنایا اور ان کی طرف وحی کی۔ کیونکہ عورتیں اپنی فطری کمزوریوں کی وجہ سے فرائض رسالت انجام نہیں دے سکتیں اور اولاد نرینہ دے کر اللہ رب العزت نے بچپن ہی میں ان کو اپنی طرف بلا لیا۔ کیونکہ فرائض نبوت جوانی کے بعد سپرد ہوتے ہیں۔ بالغ مرد کا باپ نہ ہونا۔ ایک کھلی نشانی تھی کہ آپ ﷺ پر رسالت ونبوت ختم ہورہی ہے۔ کوئی شخص وراثت کی بنیاد پر آپ ﷺ کے بعد نبوت کا مدعی نہیں ہو سکتا اور نص واعلان کی بنیاد پر بھی کسی اور خاندان کا کوئی شخص آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویدار نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد یوشع علیہ السلام نص ونامزدگی کی بنیاد پر نبی تسلیم کئے گئے۔ قرآن میں خاتم النبیین اور حدیث میں ”لا نبی بعدی“ کے اعلان نے محمد ﷺ کے بعد نص ونامزدگی کی راہ بند کر دی۔

چنانچہ مرد بالغ کے باپ ہونے کی نفی کر کے ”لکن“ حرف استدراک لا کر یہ بتا دیا گیا کہ محمد ﷺ کا مقصد تخلیق صرف اللہ کا رسول اور خاتم النبیین ہوتا ہے۔ استدراک کے معنی ہیں ایک سابقہ معلومات میں نئی معلومات کا اضافہ جو گزشتہ بیان کے ابہام وخفاء کو دور کر دے اور

٣٢

گزشتہ مفہوم کے لئے سبب وعلت کا کام دے۔ اللہ رب العزت نے وخاتم النبیین ”کہا“ ولکن نبی اللہ و خاتم النبیین ”نہیں“ کو سمجھنے کے لئے یہ جان لینا ضروری ہے کہ نبی ہر اس برگزیدہ انسان کو کہتے ہیں جو اللہ کا فرشتہ کوئی پیغام لے کر آئے۔ خواہ وہ وحی کامل شریعت ہو یا نہ ہو۔ خواہ وہ وحی سے علیحدہ کوئی خاص ہدایت وخبر ہو۔ لہٰذا ہر صاحب وحی نبی ہے۔ اور جو رسول اللہ کی طرف سے آئی ہوئی وحی دوسروں تک پہنچانے پر مامور ہو وہ رسول ہے۔ گویا علماء کے نزدیک صاحب کتاب نبی کو رسول کہتے ہیں۔ نبی انسانوں میں سے بھی ہوتے ہیں اور فرشتوں دونوں میں اللہ نے مقرر فرمائے ہیں۔ ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں کیونکہ فرشتوں میں رسول تو ہیں نبی نہیں ہیں۔ نبی صرف انسان ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جو رسول ہیں وہ بہرحال نبی بھی ہیں۔ کیونکہ نبی وہ ہے جس کو اللہ رب العزت سے غیب کی اطلاع بذریعہ وحی اور ملکہ نبوت حاصل ہو اور جو صاحب کتاب ہو وہ رسول ہے۔

بغیر انسان کے حق میں رسالت کا مفہوم ممکن نہیں۔ خواہ اس کی طرف احکام الٰہی بھیجے لئے جائیں یا اللہ رب العزت کی طرف سے بذریعہ فرشتہ اطلاع دی جائے یا کوئی پیغام پانے والے کو نبی کہا جائے۔ مکمل کتاب پانے والے کو رسول کہتے ہیں۔ بعض روایات میں جب کہ نبیوں کی تعداد ہزار اور لاکھ میں ہے۔ اگر قران کریم میں وخاتم النبیین کی بجائے خاتم المرسلین یا خاتم الرسل ہوتا تو اس کا مفہوم یہ ہوتا کہ آئندہ کوئی رسول نہیں آئے گا۔ کتاب اور نہ کوئی رسول آئیں گے۔ مگر عام نبی جو مکمل کتاب اور شریعت نہ لائے اس کی آمد ممکن ہے۔ اللہ رب العزت نے خاتم النبیین کہہ کر اس بات کو واضح کر دیا کہ اب وحی وصاحب وحی کی گنجائش نہیں ہے اور اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ وحی کا دروازہ مستقل طور پر رسول، شریعت، کتاب اور صحیفہ ہر ایک بات کا اختتام ہو گیا۔ رسالت، نبوت میں داخل ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ نبی کی نفی سے رسول کی نفی خود بخود ہوگئیں۔ جمع سالم پر ال سے استغراق کا فائدہ ہوتا ہے لہٰذا خاتم النبیین کے معنی یہاں تو تمام قرینے تمام تصریحات تمام نصوص نبوت کی نفی کر رہے ہیں۔

نبی بعدی، الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد کوئی بھی صاحب وحی نہیں آئے گا۔

٣٣

صفحہ ٤٥

گزشتہ مفہوم کے لئے سبب وعلت کا کام دے۔ اللہ رب العزت نے ’’ولکن رسول الله وخاتم النبیین‘‘ کہا ’’ولکن نبی الله وخاتم المرسلین‘‘ نہیں کہا۔ اس نکتہ بلاغت کو سمجھنے کے لئے یہ جان لینا ضروری ہے کہ نبی ہر اس برگزیدہ انسان کو کہتے ہیں۔ جن کے پاس اللہ کا فرشتہ کوئی پیغام لے کر آئے۔ خواہ وہ وحی کامل شریعت ہو کوئی جزوی حکم ہو یا احکام شرعیہ سے علیحدہ کوئی خاص ہدایت وخبر ہو۔ لہٰذا ہر صاحب وحی نبی ہوتے ہیں۔ جب وہ وحی اللہ کی طرف سے آئی ہوئی وحی دوسروں تک پہنچانے پر مامور ہوں تو رسول کہلائیں گے۔ بعض علماء کے نزدیک صاحب کتاب نبی کو رسول کہتے ہیں۔ نبی انسانوں میں ہوتے ہیں اور رسول انسانوں اور فرشتوں دونوں میں اللہ نے مقرر فرمائے ہیں۔ ہر نبی رسول ہے لیکن ہر رسول نبی نہیں ہے۔ کیونکہ فرشتوں میں رسول تو ہیں نبی نہیں ہیں۔ نبی صرف انسانوں میں مقرر ہوئے۔ انسانوں میں جو رسول ہیں وہ بہر حال نبی بھی ہیں۔ کیونکہ نبی کا مفہوم عام ہے۔ جب تک اللہ رب العزت سے غیب کی اطلاع بذریعہ وحی اور ملکہ نبوت نہیں پاتے۔ نبی نہیں ہوتے اور نبوت کے بغیر انسان کے حق میں رسالت کا مفہوم ممکن نہیں۔ خواہ رسول کے معنی مستقل کتاب والے نبی لئے جائیں یا اللہ رب العزت کی طرف سے بذریعہ فرشتہ وحی جزوی حکم یا کوئی اور ہدایت وخبر پانے والے کو نبی کہا جائے۔ مکمل کتاب پانے والے نبی جن کو رسول کہتے ہیں چند حضرات ہیں جب کہ نبیوں کی تعداد ہزار اور لاکھ میں ہے۔ اگر قرآن مجید میں خاتم النبیین کے بدلے خاتم المرسلین یا خاتم الرسل ہوتا تو اس کا مفہوم یہ ہوتا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نہ کوئی کتاب آئے گی اور نہ کوئی رسول آئیں گے۔ مگر عام نبی جو مکمل کتاب والے اور صاحب شریعت نہ ہوں۔ ان کی آمد ممکن ہے۔ اللہ رب العزت نے خاتم النبیین کہہ کر واضح کر دیا کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی وحی وصاحب وحی کی گنجائش نہیں ہے اور اب کوئی نبی نہیں آسکتا۔ نبوت کے ختم ہونے سے لازمی طور پر رسول، شریعت، کتاب اور صحیفہ ہر ایک بات کا اختتام ہو گیا۔ النبیین جمع سالم ہے۔ اس پر ال داخل ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ نبی کی تمام قسمیں ساری کی ساری محمد ﷺ پر ختم ہو گئیں۔ جمع سالم پر ال سے استغراق کا فائدہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی استثناء نہ ہو یا مخالف قرینہ نہ ہو یہاں تو تمام قرینے تمام تصریحات تمام نصوص نبوت کے کلی اختتام کی تائید کرتی ہیں۔ مثلاً ’’لا نبی بعدی الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی وغیرہ‘‘ لہٰذا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد کوئی بھی صاحب وحی نہیں آئیں گے۔

٣٣

صفحہ ٤٧

اللہ کی طرف سے وحی آنا، نبی ہونا ، ختم ہو گیا۔ رہی یہ بات کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد تبلیغ دین کا فریضہ امر بالمعروف نہی عن المنکر کا سلسلہ جاری ہے۔ منصب نبوت برقرار ہے تو اس سے ختم نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: "عهدى الى يوم القيامة" "میرا دور قیامت تک ہے اور نبی تو ان کو کہتے ہیں جن کی طرف اللہ رب العزت وحی بھیجے۔ وہ براہ راست اللہ سے ہدایت لیں اور تبلیغ کے لئے اللہ سے بذریعہ وحی احکام لیتے ہوں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نبوت ختم ہو گئی۔ لہٰذا اب اللہ کی طرف سے نہ وحی آئے گی نہ کوئی تبلیغ دین کے لئے نبی مقرر ہوگا۔ بلکہ نبوت کی تمام ذمہ داریاں اور تبلیغ کے سارے فرائض بلا تعیین و تخصیص تمام امت پر ہیں۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ لیکن وارث مورث نہیں کہلاتا۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے۔

"كنتم خير امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر (آل عمران : ١١٠) " تم بہترین امت ہو جو بنی نوع انسان کے لئے وجود میں لائے گئے۔ بھلائی کا حکم دیتے ہو برائی سے روکتے ہو ۔ "

"ولتكن منكم امة يدعون الى الخير ويأمرون بالمعروف وينهون عن المنکر (آل عمران: ١٠٤) " تم میں ایک ایسی جماعت ضرور رہے جو بھلائی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔"

مذکورہ بالا دونوں آیتوں سے معلوم ہو گیا کہ نبوت کی ذمہ داریاں اور فرائض تبلیغ شخص واحد سے منتقل ہو کر جماعت و امت کے سپرد ہو گئیں۔ بہ الفاظ دیگر نبوت کی وراثت و مقام شخصی نہیں ہے۔ بلکہ اجتماعی ہے۔ کوئی خاص فرد نبی کا وارث و نائب نہیں ہے۔ بلکہ پوری امت خیر امت کی حیثیت سے اجتماعی صورت میں نبی کی وراثت اور قائم مقام ہے۔ لہٰذا مقام نبوت کی عصمت میری امت کو اپنی اجتماعی حیثیت میں حاصل ہے۔ جو کچھ فیصلہ بھی یہ امت اپنے اجماع و اجتماع سے کرے گی۔ اس فیصلہ میں معصوم ہوگی اور وہ فیصلہ مقام عصمت کا فیصلہ ہوگا۔ حدیث میں بھی اس مضمون کی وضاحت ہے۔ "لا تجتمع امتى على الضلالة" میری امت گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوگی۔ اسی لئے شریعت مطہرہ میں اجماع حجت ہے۔ شیعوں کی مستند و معتبر کتاب نہج البلاغۃ میں بھی حضرت علی مرتضیٰ کا یہ اعلان موجود ہے۔ "الزموا السواد الاعظم فان

٣٤

ید الله على الجماعة" "بڑی جماعت کو مضبوط پکڑو البلاغۃ میں ہے۔ "جماعة يد الله عليها وغض جماعت پر ہے اور اللہ کا غضب جماعت کے مخالف پر۔

امت مسلمہ کی اجتماعی حیثیت کی اہمیت جس کی حضرت علی مرتضیٰ کے اعلان نے بھی اس کی تصدیق کی کہ ابو بکر و عمر و عثمان کی خلافت تمام مسلمانوں کے لئے واجب التبعہ ہے یہ اعلان اسی نہج البلاغۃ میں موجود ہے۔ جناب معاویہ کو ا

بیعتی لزمتک وانت بالشام فانه بایعنی القوم الذین بایعوا ابا بکر وعمر وعثمان على ما بايعواهم عليه فلم يكن للا شاهد ان یختار ولا للغائب ان یرد وانما الشورى للمهاجرين والانصار فان اجتمعوا على رجل وسموه اماما كان لله رضى فان خرج منه خارج بطعن او بدعة ردوه الى ما خرج منه فان ابی قاتلوه على اتباعه غير سبيل المؤمنين ولاہ اللہ ما تولی وسأت مصیراً " اما بعد! بے شک میری بیعت ان لوگوں نے کی ہے کیونکہ میری بیعت اس قوم نے کی جنہوں نے ابو بکر و عمر اور عثمان کی بیعت کی جن شرائط پر اس قوم نے ان لوگوں کی بیعت کی تھی۔ لہٰذا حاضر کے لئے اختیار نہیں اور غائب کے لئے انکار، مشاورت کا حق مہاجرین و انصا کو ہے اگر وہ کسی شخص پر اجماع کریں اور متفق ہو جائیں اور اس کو امام نامزد کر دیں تو وہ اللہ کی رضا ہے اگر کوئی شخص طعن و اعتراض کر کے یا نئی بات کہہ کر ان کے ا جماع کی طرف واپس لاؤ۔ اگر انکار کرے تو اس کے ساتھ لڑو کیونکہ وہ مسلمانوں کی راہ کے خلاف گیا ہے۔ اللہ اس کو جہنم میں ڈالے گا۔" جو لوگ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد کسی کو اللہ رب العزت کی طرف سے نامزد و منصوص قرار دیتے ہیں وہ اجماع امت کا انکار کرتے ہیں۔ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ن امزد کردہ خواہ وہ رسول ہو یا امام ہو۔ اس پر ایمان لانا دین کا رکن اور ا

٣٥

صفحہ ٤٧

یداللہ علی الجماعة ”بڑی جماعت کو مضبوط پکڑو۔ کیونکہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور اسی نہج البلاغۃ میں ہے ۔ ”جماعة یدالله علیها وغضب الله علی من خالفها “ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور اللہ کا غضب جماعت کے مخالف پر ہے۔

امت مسلمہ کی اجتماعی حیثیت کی اہمیت جس طرح قرآن وحدیث سے ثابت ہوئی۔ حضرت علی مرتضیٰ کے اعلان نے بھی اس کی تصدیق کر دی اور اجماع کے اس اصول پر ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ کی خلافت تمام مسلمانوں کے لئے واجب القبول قرار پائی۔ چنانچہ حضرت علیؓ کا ایک دوسرا اعلان اسی نہج البلاغۃ میں موجود ہے۔ جناب معاویہؓ کو خطاب فرماتے ہیں: ”اما بعد فان بیعتی لزمتک وانت بالشام فانه بایعنی القوم الذین بایعوا ابابکر وعمر وعثمان علی مابایعواهم علیه فلم یکن للشاهد ان یختار ولا للغائب ان یرد وانما الشوری للمهاجرین والانصار فان اجتمعوا علی رجل وسموه اماما کان لله رضی فان خرج منه خارج بطعن اوبدعة ردوه الی ماخرج منه فان ابیٰ قاتلوه علی اتباعه غیر سبیل المؤمنین وولاه الله ماتولیٰ وصلاه جهنم وساءت مصیراً “ (اما بعد! بے شک میری بیعت تم پر لازم ہوگئی۔ درآں حالیکہ تم شام میں تھے۔ کیونکہ میری بیعت اس قوم نے کی جنہوں نے ابوبکر، عمر اور عثمان کی بیعت کی اور انہی شرائط پر میری بیعت کی جن شرائط پر اس قوم نے ان لوگوں کی بیعت کی۔ لہٰذا نہ حاضر کو اختیار ہے اور نہ غائب کے لئے انکار، مشاورت کا حق مہاجرین وانصار کو ہے۔ اگر یہ مہاجرین وانصار کسی شخص پر اجماع کریں اور متفق ہوجائیں اور اس کو امام نامزد کریں تو اسی میں اللہ کی رضامندی ہے۔ اگر کوئی شخص طعن واعتراض کر کے یا نئی بات کہہ کر ان کے اجماع سے باہر نکل جائے ۔ تو اس کو اجماع کی طرف واپس لاؤ۔ اگر انکار کرے تو اس کے ساتھ خون ریزی اور قتال کرو۔ کیونکہ ایسا شخص مسلمانوں کی راہ کے خلاف گیا ہے۔ اللہ اس کو جہنم میں داخل کرے گا۔ جو برا ٹھکانا ہے۔)

جو لوگ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد ہدایتِ خلق کے لئے کسی فرد خاص کو اللہ رب العزت کی طرف سے نامزد و منصوص قرار دیتے ہیں وہ اسلام کو اس کی بنیاد سے اکھیڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے جو کوئی بھی نامزد ہوگا۔ خواہ اس کا لقب نبی ہو۔ رسول ہو یا امام ہو۔ اس پر ایمان لانا دین کا رکن اور اصول دین میں شامل ہوگا اور اس کا انکار صریح

٣٥

صفحہ ٤٩

کفر ہوگا۔ حالانکہ قرآن ہمارے پاس موجود ہے۔ دین کے تمام بنیادی عقائد اور اس کے اصول اس میں درج ہیں۔ یہ کامل ہدایت کی کتاب ہے۔ قرآن کا ہر حرف اور ہر نقطہ اللہ کا کلام ہے۔ سیدنا ومولانا محمد رسول اللہ ﷺ سے لے کر آج تک لفظ ومعنی کے ساتھ محفوظ چلا آ رہا ہے۔ ”ذلك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين (البقرہ: ٢) ”یہی وہ کتاب ہے جس میں ذرہ برابر کچھ بھی شک وشبہ نہیں ہے۔ متقیوں کے لئے ہدایت ہے۔“

اس کتاب کا اقرار ایمان ہے۔ اس کا انکار و شک کفر ہے۔ اگر حضور محمد ﷺ کے بعد کوئی شخصیت پیدا ہو کر ایمان کا رکن بننے والی ہوتی تو اللہ رب العزت نے جس طرح اصولِ دین میں توحید رسالت اور قیامت کی وضاحت کر دی ہے۔ آنے والی نبوت یا نامزد امامت کی بھی وضاحت فرما دیتا۔ حالانکہ قرآن کسی آنے والے نبی یا نامزد امام کے ذکر سے خالی ہے۔ کسی نامزد امام ونبی کے ذکر و نام سے قرآن کا خاموش ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ نامزدگی کا عقیدہ اسلام سے باہر اور قرآن سے خارج ہے جو باتیں قرآن سے خارج ہوں گی وہ عقیدہ نہیں بن سکتیں۔ کیونکہ عقیدہ کی بنیاد یقین واذعان قطعیات ویقینیات پر ہونا چاہئے۔ قرآن کے سوا کوئی کتاب یقین وعقیدہ کی اساس وبنیاد کے لائق نہیں ہے۔ قرآن کے سوا ہر کتاب میں شک وشبہ کی گنجائش ہے۔ اسی لئے حدیثیں عقیدہ کی وضاحت تو کرتی ہیں۔ بطور خود کسی عقیدہ کی بنیاد نہیں بنتی ہیں۔

حدیثوں سے عملی احکام کی بجا آوری کے طریقے معلوم ہوتے ہیں۔ اعمال کی ترتیب معلوم ہوتی ہے۔ اس حد تک حدیثیں مفید وراہنما ہیں۔ اگر چہ عملی احکام کی بنیاد بھی قرآن ہی ہے۔ حدیثیں قرآن مجید کی تفسیر اور فروع و تفصیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ البتہ مجتہد کے لئے اجتہاد کی بنیاد ہیں اور مجتہد کا فیصلہ عقیدہ نہیں قرار دیا جاتا۔ اسی لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس فرمان پر شیعہ وسنی متفق ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد حدیثیں گھڑی جائیں گی۔ تم ان کو قرآن پر پیش کرنا جو حدیث قرآن کے خلاف ہو اسے رد کر دینا۔ وہ میری حدیث نہیں ہے۔ حدیثیں کسوٹی کی محتاج ہیں اور قرآن ان کے لئے کسوٹی ہے۔ تجربہ بھی یہی ہے۔ جن لوگوں نے قرآن سے ہٹ کر عقیدہ کی بنیاد رکھی قرآن سے دور ہوتے گئے اور غلط راہ پر پڑ کر گمراہ ہوتے چلے گئے۔ اہل سنت میں اصول عقائد کا باہم کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے عقائد کے مسائل میں قرآن کو کافی ووافی سمجھا اور قرآن کے اعلان کے مطابق امت مسلمہ کی جماعتی حیثیت میں معصوم اور ہدایت پر

٣٦

تسلیم کیا۔ لیکن جن لوگوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسل نامزدگی کا عقیدہ اختیار کیا۔ ان کا یہ عقیدہ قرآن سے آج تک ان میں سیکڑوں فرقے پیدا ہوتے رہے ا نامزد کردہ امام علیحدہ مانا اور اپنی اپنی روایتیں اس سلس اللہ وجہہ الشریف کے ماننے والے اور ان کے شیع آپس ہی میں ایک دوسرے کو عقیدہ امامت کی بناء پر اور ہیں، خوجے اسماعیلی کے امام اور ہیں۔ بوہرے ا ہیں۔ کیسانیوں کے امام اور ہیں۔ الغرض شیعوں کے سبب اس لئے ہوا کہ ان جماعتوں نے قرآن کو چھو زیادہ یقین کیا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اماموں پر تقیہ بجائے منافقت برتتے رہے۔ تقیہ منافقت اور جھوٹ یا منافقت کا ادنیٰ شبہ بھی ہو اس کی کوئی بات قابلِ یقی وایمان کی بنیاد بنائیں۔ راوی اگر تقیہ کا قائل ہو تو ر ہے اور کون سی روایت تقیہ کی بناء پر ہے ناممکن اور ن کے بعد کسی فرد معین کی نامزدگی کا تصور گمراہی ہے

”ذلك الكتاب لا ريب فيه“ یہی وہ کتاب ہے

صرف قرآن کی صفت ہے: ”لا یاتی (حم السجدہ: ٤٢) ”یہ قرآن میں باطل زمانے میں اور نہ آپ کے بعد۔ یہ صرف قرآن اسرائیل: ٩) ”یہ قرآن راہ دکھاتا ہے جو سیدھی قرآن ہی امام مبین ہے۔ قرآن کو یہ الذكر وانا له لحافظون (الحجر: ٩) ”ہم کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ لہٰذا کسی نبی ک بات ہے۔ اثنا عشری شیعہ بارہ اماموں کو اللہ کی

٧

صفحہ ٤٩

تسلیم کیا۔ لیکن جن لوگوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد اللہ جل سبحانہ کی طرف سے شخصی نامزدگی کا عقیدہ اختیار کیا۔ ان کا یہ عقیدہ قرآن سے علیحدہ ہوکر تھا۔ لہٰذا حضرت علیؓ کے بعد سے آج تک ان میں سیکڑوں فرقے پیدا ہوتے رہے اور ہر فرقے نے اپنا منصوص من اللہ یعنی اللہ کا نامزد کردہ امام علیحدہ مانا اور اپنی اپنی روایتیں اس سلسلے میں بیان کیں۔ اس طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ الشریف کے ماننے والے اور ان کے شیعہ کہلانے والے مختلف گروہوں میں تقسیم ہوکر آپس ہی میں ایک دوسرے کو عقیدۂ امامت کی بناء پر گمراہ اور کافر ٹھہرانے لگے۔ اثنا عشری کے امام اور ہیں، خوجے اسماعیلی کے امام اور ہیں۔ بوہرے اسماعیلی کے امام اور ہیں۔ زیدیوں کے امام اور ہیں۔ کیسانیوں کے امام اور ہیں۔ الغرض شیعوں کے بڑے بڑے ایک سو بیس فرقے بن گئے۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ ان جماعتوں نے قرآن کو چھوڑ کر اپنی اپنی مخصوص روایتوں پر قرآن سے زیادہ یقین کیا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اماموں پر تقیہ کا الزام بھی رکھا کہ یہ امام حق کو ظاہر کرنے کے بجائے منافقت برتتے رہے۔ تقیہ منافقت اور جھوٹ کا دوسرا نام ہے۔ جس شخص کے متعلق جھوٹ یا منافقت کا ادنیٰ شبہ بھی ہو اس کی کوئی بات قابل یقین نہیں ہوسکتی۔ چہ جائیکہ اس کی بات کو عقیدہ و ایمان کی بنیاد بنائیں۔ راوی اگر تقیہ کا قائل ہو تو یہ فیصلہ کرنا کہ اس کی کون سی روایت اصل و حق ہے اور کون سی روایت تقیہ کی بناء پر ہے ناممکن اور محال ہے۔ لہٰذا سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی فرد معین کی نامزدگی کا تصور گمراہی ہے۔ خلاف قرآن ہے۔ اسلام کی بیخ کنی ہے۔ ’’ذلك الكتاب لا ريب فيه‘‘ یہی وہ کتاب ہے جس میں کوئی شبہ تک نہیں۔

صرف قرآن کی صفت ہے: ’’لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ (حم السجدۃ:٤٢) ‘‘﴿قرآن میں باطل نہ سامنے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے نہ حضور کے زمانے میں اور نہ آپ کے بعد۔﴾ صرف قرآن کی شان ہے: ’’یہدی للتی ہی اقوم (بنی اسرائیل:٩)‘‘ ﴿قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے۔﴾

قرآن ہی امام مبین ہے۔ قرآن کو یہ خصوصیت حاصل ہے: ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (الحجر:٩)‘‘ ﴿اور ہم نے ہی قرآن نازل کیا اور بیشک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔﴾ لہٰذا کسی نبی کی آمد اور کسی امام کی نامزدگی قرآن سے باہر کی بات ہے۔ اثنا عشری شیعہ بارہ اماموں کو اللہ کی طرف سے نامزد مانتے ہیں اور ان بارہ پر ایمان

٣٧

صفحہ ٥١

رکھنا ان کے اصول دین میں ہے۔ مگر ان میں سے کسی کا نام اور نہ عقیدہ امامت کا ذکر قرآن میں ہے۔ اس عقیدہ کے گھڑنے والوں نے سمجھا تھا کہ بارہ اماموں پر دنیا ختم ہو جائے گی اور قیامت آجائے گی۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ مجبوراً بارھویں امام کے بارے میں یہ ایک نیا عقیدہ اور گھڑا کہ وہ زندہ ہیں۔ مگر لوگوں سے غائب اور انسانوں کی رسائی سے باہر ہیں۔ نتیجہ کے لحاظ سے تقررامام کی افادیت ختم ہوگئی۔ غائب امام اپنے مؤمنین کی نہ دنیاوی امور میں کوئی امداد کر سکتے ہیں اور نہ دینی امور میں ان کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ اگر امام غائب سے پہلے کے اماموں ہی کی پیروی کرنی ہے تو پھر اللہ رب العزت کی محفوظ کتاب قرآن مجید اور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سنت میں کیا خرابی اور کمی ہے کہ اس کی پیروی نہ کی جائے۔ امام کے غائب ہونے سے عدل کا عقیدہ بھی بے معنی ہو گیا کہ شیطان تو پہلے کی طرح آج بھی بہکانے کی پوری قدرت رکھتا ہے اور بہکا رہا ہے۔ مگر اللہ کی حجت غائب اور امام کی رہنمائی ختم۔

خاتم

مذکورہ بالا آیات کی روشنی میں یہ مسئلہ دوپہر کے آفتاب سے زیادہ روشن ہو گیا کہ اسلام کے بعد کوئی دین، قرآن کے بعد کوئی وحی و کتاب، اور رسول اللہ ﷺ کے بعد اللہ کی طرف سے کسی نئے نامزد رہنما کی گنجائش نہیں ہے۔ شخصی نامزدگی کی جگہ اجتماعی نامزدگی سے امت محمدیہ نے اپنی اجماعی واجتماعی حیثیت میں اللہ رب العزت کی طرف سے فریضہ رسالت اور عصمت نبوت حاصل کر لیا ہے۔ ختم رسالت کے ثبوت کے لئے مندرجہ بالا آیتیں ہی نہیں ہیں۔ بلکہ قرآن مجید اس مدعا کے اثبات کے لئے بار بار اور بار ہا اعلان کرتا ہوا ہدایت کرتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ ”والذی جاء بالصدق وصدق بہ اولئک ھم المتقون (الزمر:٣٣) ”جو سچائی اور صداقت کے ساتھ آئے اور نبی کی ہدایت کی تصدیق کرے وہی لوگ متقی ہیں ۔“

گویا دل میں سچائی کی طلب ہو۔ منافقانہ تصدیق واقرار نہ ہو۔ قرآن سے ہدایت وانتفاع کی شرط تقویٰ ہے۔ جس کا دل صدق سے خالی ہے۔ وہ تقویٰ سے محروم رہے گا اور تقویٰ سے محروم، قرآن کے نور سے حجاب میں ہے اور جس کو قرآن کی روشنی میں ہدایت نہیں ملی۔ وہ فلاح پانے والوں میں نہیں ہے۔ بلکہ قیامت کے دن عذاب شدید میں مبتلا ہوگا۔ چنانچہ قرآن نے اپنی ابتداء ہی میں افادیت ونفع کی شرط ”ھدی للمتقین“ بتائی ہے اور انہی متقیوں کے لئے فلاح

٣٨

کی تخصیص کر دی ہے۔ اہل صدق کے لئے قرآن کی ایک کے لئے ایک ہزار آیتیں بھی بے اثر ہیں جو لوگ قرآن طرف سے کسی نامزد ہادی کا انتظار خلاف قرآن ہے۔ ن اللہ امام۔

خاتم کا معنی لغت میں

عربی زبان میں خاتم بالکسر (ت کی زیر) کے تک پہنچانے والا، اس کا مصدر ختم ہے۔ اسی سے اختتام پہنچنا۔ اس لحاظ سے خاتم النبیین کے معنی ، نبیوں کے ختم ک کو پہنچانے والے، یعنی نبیوں کا سلسلہ جو آدم علیہ السلام پہنچ گیا تمام ہو گیا۔

خاتم کا دوسرا معنی مہر کرنے والا اس معنی کے معنی مہر ہیں۔ قرآن مجید میں ہے۔ ”ختامہ مسك کو جو مشروب ملے گا وہ سر بمہر ہوگا اور ان بھری ہوئی بھری ہوئی بوتلوں کا یا مشروب کا آخری سرا مشک ہے۔ نہ باہر سے کوئی چیز اندر داخل ہو گی۔ خاتم بالفتح (ت پر ز بر) کے لازمی معنی کسی چیز کو اپنی آخری حد پر پہنچا کر اس خاتم (زیر) خاتم (زبر) سے مہر کرنے والا کوئی چیز اپنی آخری حد و انتہاء کو پہنچ جائے اور اس پر ہوگی اور نہ اندر کی چیز باہر آئے گی۔ کسی چیز پر مہر اس و توڑے بغیر کوئی چیز نہ اندر داخل ہوگی اور نہ اندر سے ک محمد ﷺ نبیوں کے خاتم ہیں۔ یعنی ختم ک والے۔ دوسرا معنی نبیوں کے لئے مہر ہیں یا مہر کرنے اب نہ کوئی نیا شخص بعد میں آ کر نبیین میں داخل ہو النبیین سے خارج ہو سکتا ہے۔ قرآن مجید میں ختم یعنی مفہوم مراد ہے۔ ”ان الذین کفروا سواء علیھ ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم وعلی

٣٩

صفحہ ٥١

کی تخصیص کر دی ہے۔ اہل صدق کے لئے قرآن کی ایک ہی آیت کافی ہے اور صدق سے محروم کے لئے ایک ہزار آیتیں بھی بے اثر ہیں جو لوگ قرآن پر اعتماد کرتے ہیں۔ ان کے لئے اللہ کی طرف سے کسی نامزد ہادی کا انتظار خلاف قرآن ہے۔ نہ کوئی نبی آ سکتا ہے اور نہ کوئی منصوص من اللہ امام۔

خاتم کا معنی لغت میں

عربی زبان میں خاتم بالکسر (ت کی زیر) کے معنی ختم کرنے والا، تمام کرنے والا، انتہاء تک پہنچانے والا، اس کا مصدر ختم ہے۔ اسی سے اختتام ہے۔ کسی چیز کا اپنی آخری حد اور انتہاء کو پہنچنا۔ اس لحاظ سے خاتم النبیین کے معنی ، نبیوں کے ختم کرنے والے، تمام کرنے والے، حد وانتہاء کو پہنچانے والے، یعنی نبیوں کا سلسلہ جو آدم علیہ السلام سے شروع ہوا محمدﷺ پر ختم ہو گیا۔ آخر کو پہنچ گیا تمام ہو گیا۔

خاتم کا دوسرا معنی مہر کرنے والا اس معنی کے لحاظ سے خاتم کا مصدر ختام ہے۔ جس کے معنی مہر ہیں۔ قرآن مجید میں ہے۔ ”ختامہ مسك “ ﴿اس کی مہر مشک ہے۔﴾ یعنی جنتیوں کو جو مشروب ملے گا وہ سر بمہر ہو گا اور ان بھری ہوئی بوتلوں پر مشک کی مہر ہو گی۔ لازمی معنی ان بھری ہوئی بوتلوں کا یا مشروب کا آخری سرا مشک ہے۔ مہر کی وجہ سے نہ اندر کی چیز باہر آئے گی اور نہ باہر سے کوئی چیز اندر داخل ہو گی۔ خاتم بالفتح (ت پر زبر) کے معنی آلہ مہر یعنی جس سے کسی چیز پر مہر کریں لازمی معنی کسی چیز کو اپنی آخری حد پر پہنچا کر اس سے اختتام مہر لگادی جائے۔

خاتم (زیر) خاتم (زبر) سے مہر کرنے والا یا مہر مراد لیں نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے۔ جب کوئی چیز اپنی آخری حد و انتہاء کو پہنچ جائے اور اس پر مہر لگ جائے۔ اب نہ باہر کی چیز اندر داخل ہوگی اور نہ اندر کی چیز باہر آئے گی۔ کسی چیز پر مہر اس وقت لگتی ہے جب وہ اپنی حد کو پہنچ چکی ہو۔ مہر توڑے بغیر کوئی چیز نہ اندر داخل ہوگی اور نہ اندر سے کسی چیز کا اخراج ممکن ہو گا۔

محمدﷺ نبیوں کے خاتم ہیں۔ یعنی ختم کرنے والے ہیں۔ ان پر نبیین کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ دوسرا معنی نبیوں کے لئے مہر ہیں یا مہر کرنے والے ہیں۔ لازمی طور پر نبیوں کے آخر میں اب نہ کوئی نیا شخص بعد میں آ کر نبیین میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ گزشتہ نبیوں میں سے کوئی نبی النبیین سے خارج ہو سکتا ہے۔ قرآن مجید میں ختم یعنی مہر کے معنی میں جب یہ لفظ آیا ہے تو وہاں بھی مفہوم مراد ہے۔ ”ان الذين كفروا سواء عليهم أأنذرتهم ام لم تنذرهم لا يؤمنون ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى ابصارهم غشاوة ولهم عذاب عظيم

صفحہ ٥٣

(البقرة : ٦) ”بے شک جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے یکساں ہے۔ آپ ﷺ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ مہر کر دی ہے اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔“

جب ان کافروں کے دلوں اور کانوں پر مہر لگ گئی تو اب نہ ان کے اندر سے کفر نکلے گا اور نہ باہر سے ایمان داخل ہوگا۔ ان کے حق میں پیغام الٰہی پہنچانا اور نہ پہنچانا برابر ہے۔ قرآن مجید کی اس آیت سے یہ محاورہ بھی معلوم ہوا کہ ختم کا لفظ جب مہر کے معنی میں استعمال ہوگا تو اس کے مفعول پر علیٰ کا لفظ آئے گا۔ جیسے ”علیٰ قلوبہم وعلیٰ سمعہم“ ”ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر۔“ اور ختم کا لفظ خاتم اور اختتام کے معنی ہو تو علیٰ نہیں لاتے ۔ جیسے ختمت الکتاب میں نے کتاب ختم کی، کتاب تمام کی، اور اگر یہ کہنا ہو میں نے کتاب پر مہر لگائی تو کہیں گے ختمت علی الکتاب ۔ قرآن مجید کے کلمات خاتم النبیین میں خاتم کا لفظ اگر مہر کے معنی میں ہوتا تو آیت مبارکہ ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ نہیں ہوتی ۔ بلکہ ”ولکن رسول الله وخاتما علی النبیین“ ہوتی۔ کیونکہ ختم کا لفظ اور اس کے مشتقات جب مہر کے معنی میں ہوں تو مفعول پر ”علیٰ“ آتا۔ ”علیٰ قلوبہم وعلیٰ سمعہم“

عربی زبان کا دوسرا محاورہ یہ ہے کہ لفظ خاتم (زیر یا زبر) اگر جماعت گروہ اور قوم کی طرف مضاف ہو تو اس کا معنی مہر نہیں ہوتا۔ بلکہ آخر اور انتہاء ہوتا ہے۔ جیسے خاتم القوم، قوم کا آخری فرد، خاتم الکتب آخری کتاب، خاتم الادیان آخری دین، خاتم المذاہب آخری مذہب، اسی طرح خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین یعنی نبیوں میں سب سے آخری نبی۔ چنانچہ اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ سے لے کر آج تک بلا استثناء ہر مسلمان کا یہی عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی شخص نبوت کا مدعی ہو تو وہ مرتد وکافر۔ اسلام سے خارج ہے اور اس مدعی نبوت کو ماننے والا بھی مرتد و کافر خارج اسلام ہے۔ دوسرے لفظوں میں حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے میں شک کرنے والا بھی مؤمن نہیں ہے۔ کافر ہے۔ اسی لئے بعض شیعہ جو حضرت علیؓ کو رسالت محمدی میں شریک قرار دیتے ہیں اور اپنے عقیدہ پر حدیث نبوی ”یا علی الا ترضی ان تكون منی بمنزلة هارون من موسى الا لا نبی بعدی“ سے دلیل لاتے ہیں۔ ”اے علیؓ کیا تم خوش نہیں ہو کہ میرے لئے ویسے رہو جیسے ہارون موسیٰ کے لئے تھے۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“

٤٠

شیعوں کا یہ عقیدہ درست نہیں ہے اور اس لئے تمام مسلمانوں نے ایسے شیعوں کو کافر قرار دیا جو سید ہیں۔ کیونکہ اس باطل عقیدہ کی بناء پر حضرت محمد ﷺ خاتم محمد ﷺ محض ایک شریک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ محمد ﷺ ہوئی۔ بلکہ نبوت کے ایک شریک کی وفات ہوئی۔ ہاں جب آخری شریک نے وفات پائی۔ حالانکہ تمام مسلمان کسی بالاتفاق محمد ﷺ کو آخری نبی خاتم النبیین تسلیم کرتے ہیں شیعہ عقیدہ شراکت کا ابطال کر دیا گیا ہے۔ ”لا نبی بعـ کلمات سے یہ حقیقت روشن ہو گئی۔ حضرت علیؓ کو حضرت دی گئی ہے۔ بلکہ نبوت کے علاوہ دوسری باتیں ہیں۔ بلکہ لئے مشبہ اور مشبہ بہ تمام باتوں میں مطابقت ضروری نہیں اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ شیر کی طرح دانت، پنجے، خونخـ مشابہت و شرکت ہے اور ”بمنزله هارون من مو ہے ۔ ”لا نبی بعدی“ کہہ کر حضور خاتم النبیین ﷺ السلام کی مشابہت سے حضرت علیؓ کو نبی یا شریک نبوت بعد حضرت علیؓ کو نبی نہ قرار دے۔ بلکہ اس حدیث مجیـ فضیلت واہمیت بیان ہوئی۔ دوسری طرف یہ اشارہ کیـ بعد ان کے خلیفہ نہیں ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ کی حیا دین کی خدمت ہوگی۔ مگر جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نہیں ملی بلکہ موسیٰ علیہ السلام کے گھرانے سے ہوگئی۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام کے جانشین یوشع علیہ السلا خاندان سے قریش کے دوسرے خاندان میں خلافت پشتوں کا فرق موسیٰ علیہ السلام اور یوشع علیہ السلام صدیقؓ میں ہے۔

عربی زبان کے تمام ماہرین واہل لغت کـ

٤١

صفحہ ٥٣

شیعوں کا یہ عقیدہ درست نہیں ہے اور اس حدیث سے استدلال بھی غلط ہے۔ اسی لئے تمام مسلمانوں نے ایسے شیعوں کو کافر قرار دیا جو سیدنا علیؓ کو رسالت محمدی میں شریک ٹھہراتے ہیں۔ کیونکہ اس باطل عقیدہ کی بناء پر حضرت محمدﷺ خاتم النبیین اور آخری نبی نہیں رہتے۔ حضرت محمدﷺ محض ایک شریک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ محمدﷺ کی وفات خاتم النبیین کی وفات نہیں ہوئی۔ بلکہ نبوت کے ایک شریک کی وفات ہوئی۔ ہاں جب سیدنا علیؓ نے وفات پائی تو نبوت کے آخری شریک نے وفات پائی۔ حالانکہ تمام مسلمان سنی، شیعہ، معتزلی، خارجی وغیرہ بالیقین اور بالاتفاق محمدﷺ کو آخری نبی خاتم النبیین تسلیم کرتے ہیں۔ حق تو یہ ہے کہ اس حدیث پاک میں شیعہ عقیدہ شراکت کا ابطال کر دیا گیا ہے۔ ”لا نبی بعدی“ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے کے کلمات سے یہ حقیقت روشن ہو گئی۔ حضرت علیؓ کو حضرت ہارون علیہ السلام سے نبوت میں تشبیہ نہیں دی گئی ہے۔ بلکہ نبوت کے علاوہ دوسری باتیں ہیں۔ بلاغت کے مسلمات میں سے ہے کہ تشبیہ کے لئے مشبہ اور مشبہ بہ تمام باتوں میں مطابقت ضروری نہیں ہے۔ اگر کسی انسان کو شیر سے تشبیہ دیں تو اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ شیر کی طرح دانت، پنجے، خوں خواری اور چارپائگی وغیرہ تمام باتوں میں مشابہت و شرکت ہے اور ”بمنزلہ ہارون من موسیٰ“ میں بمنزلہ کا لفظ تو پوری تشبیہ بھی نہیں ہے۔ ”لا نبی بعدی“ کہہ کر حضور خاتم النبیینﷺ نے واضح کر دیا کہ کوئی شخص ہارون علیہ السلام کی مشابہت سے حضرت علیؓ کو نبی یا شریک نبوت نہ سمجھے اور خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کے بعد حضرت علیؓ کو نبی نہ قرار دے۔ بلکہ اس حدیث میں ایک طرف حضرت علیؓ کی قرابت نسبی کی فضیلت واہمیت بیان ہوئی۔ دوسری طرف یہ اشارہ کر دیا گیا کہ حضرت علیؓ محمد رسول اللہﷺ کے بعد ان کے خلیفہ نہیں ہوں گے۔ رسول اللہﷺ کی حیات ظاہری میں جو کچھ ممکن ہو حضرت علیؓ سے دین کی خدمت ہوگی۔ مگر جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد خلافت حضرت ہارون علیہ السلام کو نہیں ملی بلکہ موسیٰ علیہ السلام کے گھرانے سے بنی اسرائیل کے دوسرے خاندان میں منتقل ہوگئی۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام کے جانشین یوشع علیہ السلام ہوئے۔ اسی طرح محمد رسول اللہﷺ کے خاندان سے قریش کے دوسرے خاندان میں خلافت منتقل ہوئی۔ یعنی بنی ہاشم سے بنی تیم میں جتنی پشتوں کا فرق موسیٰ علیہ السلام اور یوشع علیہ السلام میں تھا وہی فرق محمد رسول اللہﷺ اور ابوبکر صدیقؓ میں ہے۔

عربی زبان کے تمام ماہرین واہل لغت کا اس پر اتفاق ہے کہ ختم، خاتم، ختام کے معنی

٤١

صفحہ ٥٥

آخر انتہاء اور اختتام ہے۔ مہر کا معنی لینے کی صورت میں بھی آخر وانتہاء کا مفہوم بنیادی رہے گا۔ کیونکہ مہر بھی ہر چیز کے خاتمہ اور آخر ہونے پر لگاتے ہیں۔ خاتم النبیین کا معنی اگر نبیوں کی مہر بھی قرار دیں پھر بھی حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی سچے نبی کی گنجائش نہیں رہتی۔ گویا اللہ رب العزت نے اعلان کر دیا کہ جب تک محمد ﷺ دنیا میں مبعوث نہیں ہوئے تھے۔ نبیوں کی یہ مہر اللہ علیم و خبیر کے پاس تھی۔ انبیاء کرام صداقت کی مہر سے مزین ہو کر آتے رہے۔ اب جب کہ اللہ جل مجدہ نے خود اپنی مہر کو زمین پر بھیج دیا تو اب اللہ جل شانہ کے یہاں سے مہر تصدیق والے کوئی نبی نہیں آئیں گے۔ اب جو بھی مدعی نبوت پیدا ہوگا مہر تصدیق کے بغیر ہوگا اور جس فرمان پر مہر نہ ہو وہ معتبر نہیں ہوتا۔ لہٰذا جھوٹا اور کاذب ہوگا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ نبیوں اور نبوت کا خاتم ومہر زمین والوں کے پاس ہے۔ زمین والے اس سے کام لیں گے اور نبی مقرر کریں گے تو یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ نبی و رسول اللہ رب العزت مقرر کرتا ہے۔ نبی و رسول کا تقرر مخلوق کے اختیار سے باہر ہے۔ قرآن مجید میں بار بار اعلان کیا گیا ہے۔ اللہ نے نبی بنایا۔ اللہ نے رسول بنایا۔ اللہ ہی جانتا ہے کس کو وہ رسالت سپرد کرے گا۔ قرآن مجید میں ہے: ”الله اعلم حيث يجعل رسالته (الانعام: ١٢٤) “ اللہ خوب جانتا ہے کہاں اپنی رسالت تفویض کرے گا۔ ”الله يصطفیٰ من الملئكة رسلا ومن الناس (الحج: ٧٥)“ ﴿اللہ ہی چنتا ہے فرشتوں میں سے رسول اور انسانوں میں سے۔﴾

عربی زبان کے تمام قدیم وجدید مستند ماہرین مسلم و غیر مسلم سبھوں کا اتفاق ہے۔ خاتم النبیین (زبر، زیر) کا معنی آخری نبی جن کے بعد کوئی نبی نہیں۔ چنانچہ منتہی الارب، صراح، کلیات ابوالبقاء، قاموس، تاج العروس، لسان العرب، صحاح جوہری، مفردات امام راغب، مجمع البحار، محکم ابن سیدہ، تہذیب ازہری، المنجد، اقرب الموارد، لین عربک انگلش لیکسیکن کے حوالے کافی ہیں۔

مفسرین کی تحقیق

قرآن مجید کے تمام مفسرین کرام بھی خاتم النبیین کا معنی آخری نبی قرار دیتے ہیں۔ حوالہ کے لئے یہ چند اہم تفسیریں کافی ہیں۔ تفسیر کشاف، تفسیر روح المعانی، تفسیر روح البیان، تفسیر کبیر امام رازی، تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، تفسیر خازن، تفسیر مدارک، تفسیر جلالین، تفسیر مظہری، تفسیر بیضاوی وغیرہ۔

آیت خاتم النبیین کے آخری کلمات ”وکان الله بکل شئ عليما “ ﴿اور اللہ ہر چیز کو ہمیشہ سے جاننے والا ہے۔﴾ کا تعلق ماقبل کے مضمون سے قابل غور ہے۔ انسان ہمیشہ ٤٢

رہنمائی کا محتاج ہے تا قیامت ہادی ورہنمائی کا محتاج رہ کی طرف سے بشیر ونذیر (خوشخبری دینے والے اور ڈ ومولانا محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہونے کے بعد ب رہنمائی وہدایت کی کیا صورت ہوگی۔ اللہ رب العزت ک عدل وانصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ گمراہ کرنے والا شیط ہے تو انسان کی راہ مستقیم کی طرف رہنمائی وہدایت ک وانصاف کا تقاضہ تھا کہ اللہ رب العزت حضرت محمد مصط جیسا کہ قرآن مجید کا اعلان ہے۔ ”ثم ارسلنا رس اپنے پیغمبر لگا تار بھیجتے رہے۔﴾ ”وقفينا من بعده بالرسل “ ﴿او ”ان الله اصطفى آدم ونوحا و العالمين (آل عمران: ٣٣)“ ﴿بیشک اللہ نے آ والوں میں فریضہ نبوت کے لئے چن لیا۔﴾ ”انا اوحينا اليك كمآ اوح (النساء: ١٦٣) “ ﴿بیشک ہم نے آپ کی طرف و طرف وحی بھیجی ۔﴾

الغرض یہ مضمون کہیں اجمال کے ساتھ ا قرآن مجید میں بار بار دہرایا گیا ہے۔ حدیثوں میں بھ جانشین کوئی اور نبی مقرر ہوتے ۔ نبوت کا یہ سلسلہ عی سے پہلے یحییٰ علیہ السلام ان سے پہلے زکریا علیہ الس متصل رہا۔ زمین کبھی حجت خدا سے خالی نہیں رہی۔ ا درمیانی وقفہ میں جس کو قرآن مجید کی اصطلاح میں ف آئے ۔ اگلے انبیاء کی ہدایات وتعلیمات اور ان ک ہو گئیں۔ ابتلاء تو یہ ہے کہ وہ زبانیں بھی جن میں و ہو گئیں۔ بعض زبانیں مٹ گئیں جیسے سریانی زبا مواعظ کلمات تھے۔ اصل زبان اور اصل زبان میں ٣

صفحہ ٥٥

رہنمائی کا محتاج ہے تاقیامت ہادی اور رہنمائی کا محتاج رہے گا۔ کبھی ان سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ اللہ کی طرف سے بشیر و نذیر (خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے) کی ضرورت ہے۔ سیدنا ومولانا محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہونے کے بعد دنیا میں اگر نسل انسانی باقی رہتی ہے تو اس کی رہنمائی و ہدایت کی کیا صورت ہوگی۔ اللہ رب العزت عادل ہی نہیں بلکہ رحمن و رحیم بھی ہے۔ عدل و انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ گمراہ کرنے والا شیطان اپنی قوت و توانائی کے ساتھ قائم وزندہ ہے تو انسان کی راہ مستقیم کی طرف رہنمائی و ہدایت کرنے والا بھی کوئی موجود رہے۔ اسی عدل وانصاف کا تقاضہ تھا کہ اللہ رب العزت حضرت محمد مصطفے ﷺ سے پہلے، نبی کے بعد نبی بھیجتا رہا۔ جیسا کہ قرآن مجید کا اعلان ہے۔ ”ثم ارسلنا رسلنا تترا (المؤمنون:٤٤)“ ﴿پھر ہم اپنے پیغمبر لگاتار بھیجتے رہے۔﴾

”وقفينا من بعده بالرسل“ ﴿اور ہم نے ان کے پیچھے رسول بھیجے۔﴾

”ان الله اصطفى آدم ونوحاً وآل ابراهيم وآل عمران على العالمین (آل عمران:٣٣)“ ﴿بیشک اللہ نے آدم، نوح ، آل ابراہیم اور آل عمران کو جہاں والوں میں فریضہ نبوت کے لئے چن لیا۔ ﴾

”انا اوحينا اليك كما اوحينا الى نوح والنبيين من بعده (النساء:١٦٣)“ ﴿بیشک ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی جیسے نوح اور ان کے بعد تمام نبیوں کی طرف وحی بھیجی ۔ ﴾

الغرض یہ مضمون کہیں اجمال کے ساتھ اور کہیں نبیوں کے ناموں کی تفصیل کے ساتھ قرآن مجید میں بار بار دہرایا گیا ہے۔ حدیثوں میں بھی ہے۔ جب کسی نبی کی وفات ہوتی ان کے جانشین کوئی اور نبی مقرر ہوتے ۔ نبوت کا یہ سلسلہ عیسیٰ علیہ السلام پر آکر رک گیا۔ عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے یحییٰ علیہ السلام ان سے پہلے زکریا علیہ السلام وغیرہ سلسلہ انبیاء آدم علیہ السلام تک جاری ومتصل رہا۔ زمین کبھی حجت خدا سے خالی نہیں رہی ۔ عیسیٰ علیہ السلام اور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے درمیانی وقفہ میں جس کو قرآن مجید کی اصطلاح میں دور فترت (التواء) کہتے ہیں۔ کوئی نبی نہیں آئے۔ اگلے انبیاء کی ہدایات وتعلیمات اور ان کی لائی ہوئی کتابیں بھی محرف، مشکوک اور گم ہوگئیں۔ انتہاء تو یہ ہے کہ وہ زبانیں بھی جن میں وہ تعلیمات تھیں اور کتابیں نازل ہوئی تھیں مردہ ہوگئیں ۔ بعض زبانیں مٹ گئیں جیسے سریانی زبان جس میں انجیل تھی اور عیسیٰ علیہ السلام کے مواعظ کلمات تھے۔ اصل زبان اور اس زبان میں اصل انجیل آج ناپید ہے۔ یونانی زبان سے

٤٣

صفحہ ٥٦

لے کر دنیا کی ہر زبان میں انجیل نام کی کتابیں ہیں۔ مگر خود اصلی انجیل اپنی اصلی زبان میں معدوم ہے۔ اسی طرح توریت اور قدیم اسرائیلی انبیاء کے صحیفے اور کتابیں جو عبرانی زبان میں تھیں اعتماد واعتبار کے قابل نہیں ہیں۔ کیونکہ قدیم عبرانی زبان جس میں انبیاء علیہم السلام کی کتابیں تھیں۔ حروف علت (Vowel) اور اعراب (زیر، زبر، پیش، تشدید، جزم) سے خالی تھی۔ صرف حروف صحیح لکھے جاتے تھے۔ پڑھنے والا حروف علت اور اعراب اپنی طرف سے ملاتا تھا۔ تورات اور دیگر صحف انبیاء، قرآن کی طرح سینوں میں محفوظ نہیں ہوتے تھے۔ اگر پڑھنے پڑھانے والا وحی والہام سے محروم ہو تو اصل کتاب کبھی سامنے لائی جائے تو صحیح نہیں پڑھی جاسکتی۔ اپنی طرف سے حروف علت اور اعراب لگانے سے پڑھنے میں بھی اختلاف ہوگا اور معنی میں بھی آسمان وزمین کا فرق ہو جائے گا۔ اسی لئے اللہ رب العزت نے عدل وانصاف کے تقاضے کو یہ کہہ کر پورا کیا : ”وما كنا معذبين حتى نبعث رسولا (الاسراء: ١٥) ”ہم کسی پر عذاب کرنے والے نہیں ہیں۔ جب تک رسول نہ بھیج دیں۔“

محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئیں گے۔ نسل انسانی باقی ہے۔ قیامت تک باقی رہے گی۔ معلوم نہیں قیامت آنے میں کتنی مدت ہے۔ لہٰذا اللہ کے عدل وانصاف اور رحمت و رافت کا تقاضہ پورا ہونا چاہئے ۔ ”وكان الله بكل شئ عليما “ ﴿اور اللہ ہر چیز کو پہلے سے خوب جاننے والا ہے۔﴾ ختم نبوت کا فیصلہ علیم و خبیر خدا کی طرف سے ہے۔ قیامت تک اب کسی نبی کی آمد منقطع اور ختم ہو گئی۔ اواگون یعنی تناسخ کا عقیدہ کہ روحیں ایک جسم سے نکل کر دوسرے نئے جسم میں پیدا ہوتی ہیں۔ عقل کے بھی خلاف ہے اور اسلام کے بھی خلاف ہے اور سراسر کفر و باطل ہے۔ گذشتہ انبیاء علیہم السلام ایک مرتبہ وفات پانے کے بعد دوبارہ نئے جنم کے ذریعے کسی نئے جسم میں اس دنیا میں نہیں آسکتے اور نہ از سر نو سلسلہ نبوت قائم ہو سکتا ہے۔ اللہ رب العزت اگر علیم تھا اور علیم ہے تو ختم نبوت کا یہ فیصلہ اور اس فیصلہ کے اعلان کے بعد آنے والی انسانی نسلوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے کوئی یقینی قابل اعتماد اور مستند تدبیر ضرور کی ہوگی تا کہ اس کے عدل وانصاف رحمت و رافت پر کوئی حرف نہ آئے۔ اللہ کی حجت و دلیل زمین پر قائم رہے۔ شیطان کے مقابلے کے لئے رحمن کی طرف سے کسی ہادی کا وجود ضروری ہے۔ اس عالم میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ ہوگا اللہ رب العزت کو پہلے سے اس کا علم ہے۔ ختم نبوت کا فیصلہ بھی اللہ جل شانہ کے علم اور مقررہ منصوبے کے مطابق ہے۔ یہ فیصلہ کوئی ناگہانی اور اچانک فیصلہ نہیں ہے۔

٤٤

صفحہ ٥٧

شیعوں کے مختلف فرقوں نے نبوت کا خلا پر کرنے کے لئے امامت کا عقیدہ ایجاد کیا۔ امامت کا عقیدہ محض لفظوں کا پھیر ہے اور اصطلاح کی تبدیلی ہے۔ ورنہ شیعوں کے نزدیک امامت کا مفہوم اور امام کی جو تعریف و صفات ہیں وہ بلافرق نبوت و نبی کے مرادف ہم معنی اور مساوی ہے۔ لفظ بدل گیا ہے ورنہ نبی و امام ایک ہیں۔ شیعوں کے ہر فرقے کے نزدیک امامت کا اپنا ایک خاص سلسلہ ہے جو دوسرے فرقے کے سلسلہ امامت سے قطعاً مختلف ہے۔ ہر فرقہ اپنے اماموں کو اللہ رب العزت کی طرف سے متعین و نامزد قرار دیتا ہے۔ ان اماموں پر ایمان اصول دین اور رکن عقیدہ معین کرتا ہے۔ منکرین امامت کو مؤمن تسلیم نہیں کرتا۔ قاعدہ کے مطابق شیعوں کو یہی کہنا چاہئے۔ کیونکہ اللہ رب العزت کی طرف سے کسی نامزد ہادی کا انکار کفر ہوگا۔ اس نامزد ہادی کو نبی کے نام سے پکاریں یا امام کے نام سے ، اصطلاح و نام کی تبدیلی سے حقیقت نہیں بدلتی۔ جب کہ امام کی تعریف و صفات اور ان کے فرائض و اختیارات بھی وہی ہوں گے جو نبی کے متعلق الہامی مذاہب اور اسلام کا عقیدہ ہے۔ مثلاً نبی معصوم، امام معصوم، نبی کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتے آتے ہیں۔ امام کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتے آتے ہیں۔ نبی سابقہ شریعت میں اللہ کے حکم سے حلال و حرام اور دیگر احکام میں ردو بدل اور ترمیم و تنسیخ کر سکتے ہیں۔ امام شریعت محمدی حلال و حرام اور دیگر احکام میں ردو بدل اور ترمیم و تنسیخ کر سکتے ہیں۔ مزید برآں اگر کوئی امام کسی ایسے فعل کا مرتکب ہو جو شریعت محمدی میں گناہ ہے۔ پھر بھی وہ امام گنہگار و خطاکار نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ گناہ عبادت کا مقام حاصل کر لے گا۔ کیونکہ امام معصوم ہے اور معصوم سے گناہ نہیں ہوتا۔ اس کا ہر فعل عین عبادت ہے۔

اسماعیلی خوجہ کے اماموں کے سلسلے میں آغا خاں سلطان محمد تھے۔ ان کے بعد آغا خاں کریم ہیں۔ ان دونوں کے حالات زندگی سبھوں کے سامنے ہیں اور قرآن و احکام قرآنی بھی دنیا میں زندہ و تابندہ ہیں۔ کریم آغا نے فجر و عشاء کی نمازیں معاف کر دیں۔ ان کے پیروؤں سے معاف ہوگئیں۔ بہرحال آغا خانی سلسلۂ امامت سے ان کے پیروؤں کو دینی فائدہ حاصل ہو یا نہ ہو قرآن و سنت کے مطابق ان کے عقائد و اعمال ہوں یا نہ ہوں۔ لیکن دنیاوی لحاظ سے یہ گروہ مرفہ الحال و خوش حال ہے۔ ان کا امام تنظیم کا مرکز ہے۔ خود بھی خوشحال، خوشباش و خوش گزران ہے۔ ان کے پیرو بھی اجتماعی زندگی کے فوائد و منافع سے مالا مال ہیں۔ دوسرا گروہ اسماعیلی بوہروں کا ہے۔ ان کے امام آغا خانیوں سے مختلف ہیں۔ امام تو مستور و موہوم شخصیت ہے۔ ان کے اخلاق و کردار کو کوئی جان ہی نہیں سکتا۔ موہوم و لامعلوم امام کے نام سے داعیوں کی حکومت کا

٤٥

صفحہ ٥٩

سلسلہ قائم ہے۔ ان کے عقیدے میں بھی امام معصوم ہیں۔ ان کے اختیارات بھی وہی ہیں جو نبی کے اختیارات ہیں۔ الفاظ بدلے ہوئے ہیں۔ لیکن معنی اور حقیقت نبی و امام کی ایک ہی ہے۔ شیعہ فرقوں میں سب سے بڑا گروہ اثنا عشری کا ہے۔ اس گروہ کا عقیدہ امامت دوسرے شیعہ فرقوں کے مقابلے میں زیادہ قابل غور ہے۔ اس گروہ کے تمام ائمہ جن کی کل تعداد بارہ ہے۔ ہر امام محمدﷺ کے سوا تمام نبیوں سے افضل ہیں۔ معصوم ہیں۔ حلال وحرام میں ترمیم و تنسیخ کا اختیار رکھتے ہیں۔ آدم علیہ السلام کے بعد بلا استثناء تمام انبیاء علیہم السلام عام بشری قاعدے کے مطابق فطرت کے مقررہ راستے سے پیدا ہوئے۔ لیکن وہ راستہ نجاست کا راستہ ہے۔ لہذا یہ بارہ امام اس معروف راستے سے نہیں پیدا ہوئے۔ بلکہ اپنی ماؤں کی ران سے پیدا ہوئے۔ معصوم ہونے میں اگرچہ نبیوں کے برابر ہیں۔ مگر طہارت میں نبیوں سے زیادہ سمجھے جاتے ہیں۔

قادیانی مذہب کے بانی نے امامت کا عقیدہ اور اس کے دلائل کو شیعوں سے حاصل کیا اور ہمت کر کے اس لفظی ہیر پھیر کو ختم کر دیا۔ مجددیت و امامت کے دعوے سے ترقی کر کے نبوت کے مدعی ہو گئے۔ ختم نبوت کا واضح و روشن اعلان قرآن مجید میں موجود تھا۔ لہذا شروع میں مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے نبوت کی ایک نئی قسم بروزی و ظلی نکالی اور خاتم النبیین کے مفہوم میں تاویل سے آگے بڑھ کر جعل و تحریف کی راہ اختیار کی۔ حالانکہ اسلام و قرآن میں شیعوں کی خود ساختہ امامت اور قادیانی کی بروزی و ظلی نبوت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن حکیم کے کلمات خاتم النبیین اور حضرت محمد مصطفےٰﷺ کے اعلان ”لا نبی بعدی“ نے اس طرح کے توہمات کی راہیں ہمیشہ کے لئے بند کردیں۔

تاویل و تحریف میں فرق یہ ہے کہ تاویل متشابہات میں کی جاتی ہے۔ یعنی وہ کلمات والفاظ جن کے معنی دینی مسلمات اور دوسری صریح آیات و منصوصات کے خلاف ہوں۔ تاویل کے ذریعے ان کو ہم آہنگ اور قریب المعنی بناتے ہیں۔ لیکن واضح و صریح الفاظ کو ان کے اصلی معنی سے پھیرنا اور دینی مسلمات کے خلاف لے جانا تحریف و جعل ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے: ”ید اللہ“ ﴿اللہ کا ہاتھ﴾ اسلام کے مسلمات میں سے ہے کہ اللہ رب العزت جسم، اعضائے جسم جسمانیت اور زمان ومکان سے پاک ہے اور کسی مخلوق سے کس بات میں مشابہ نہیں ہے۔ ایسے الفاظ کو متشابہ کہتے ہیں۔ علماء حق تو یہ کہتے ہیں کہ الفاظ پر ایمان رکھیں اور معنی کی حقیقت اللہ پر چھوڑیں۔ اللہ کی ذات و حقیقت انسانی عقل میں نہیں سماسکتی۔ کمہار کو مٹی کے برتنوں کے مشابہ نہیں قرار دیا جاسکتا۔ پھر بھی اگر کوئی شخص ”ید اللہ“ کے معنی قدرت و رحمت کرے تو اس کو گمراہ نہیں

٤٦

کہیں گے۔ کیونکہ قرآن مجید کی دوسری آیتوں کے مطابق جو الفاظ واضح و صریح ہیں دینی مسلمات کے موافق ہیں تحریف ہے۔ مثلاً خاتم النبیین لانبی بعدی کہ ان کے معنی ک قید لگانا سراسر تحریف و جعل سازی ہے۔ قرآن مجید میں لفظ ہے۔ اللہ رب العزت نے یہودیوں کو تورات میں تحریف ک

رہی یہ بات کہ حضور سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ سبیل کیا ہے تو بار بار علیم و خبیر اللہ نے قرآن مجید میں اعلان فيه هدى للمتقین ” اس کتاب قرآن میں کسی شک کے لئے ہدایت ہے ۔ ”لا یاتیه الباطل من بین ی حکیم حمید (حم السجده:٤٢) ” اس کتاب میں ب پیچھے سے۔ اس کا نزول حکمت والے، حمد والے، اللہ کی طر وانا له لحافظون “ ﴿ہمیں نے قرآن نازل کیا اور ہ ہیں ۔﴾ اس کتاب کا انداز بیان واضح زبان بہت آسان ہ حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کتاب میں معمۂ چیستان اور ک تضاد اور الجھاؤ ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے ۔”لقد يسرن (القمر:٢٢) ”﴿بے شک ہم نے قرآن کو ہدایت و نص نصیحت پکڑنے والا۔﴾

”انا انزلناه قرآنا عربيا لعلكم تع قرآن کو واضح عربی میں اتارا تا کہ تم لوگ سمجھو۔﴾ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ کوئی مخلوق تنہا یا س عاجز ہیں۔ اسلام آخری دین ہے۔ نبوت، وحی، کتاب و قیامت تک اللہ کی حجت قائم رکھنے کے لئے اور انس قرآن کی حفاظت اپنے ذمہ لے لی اور تمام الہامی کتا لاکھوں انسانوں کے سینے میں محفوظ ہے اور خلق کو ہدای میں بھی بطور پیش گوئی محمدﷺ اور ان کی لائی ہوئی کتاب ک محفوظ ہونا بتایا گیا ہے اور اس علامت کو دیکھ کر یہود و نصا

٤٧

صفحہ ٥٩

کہیں گے۔ کیونکہ قرآن مجید کی دوسری آیتوں کے مطابق اور مسلمات دین کے موافق ہے۔ لیکن جو الفاظ واضح وصریح ہیں دینی مسلمات کے موافق ہیں۔ ان کے معنی کو اصل لغت سے پھیرنا تحریف ہے۔ مثلاً خاتم النبین لانبی بعدی کہ ان کے معنی کو اصل لغت سے پھیرنا یا ظلی و بروزی کی قید لگانا سراسر تحریف و جعلسازی ہے۔ قرآن مجید میں لفظی تحریف کی طرح معنوی تحریف بھی کفر ہے۔ اللہ رب العزت نے یہودیوں کو تورات میں تحریف کرنے کی وجہ سے ملعون ولعنتی قرار دیا۔

رہی یہ بات کہ حضور سیدنا ومولنا محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نوع انسانی کی ہدایت کی سبیل کیا ہے تو بار بار علیم و خبیر اللہ نے قرآن مجید میں اعلان کر دیا کہ: ”ذلك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين“ اس کتاب قرآن میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے اور یہ کتاب متقیوں کے لئے ہدایت ہے۔”لا ياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حکیم حمید (حم السجدہ: ٤٢)“ اس کتاب میں باطل کا گزر نہ سامنے سے ہوسکتا ہے اور نہ پیچھے سے۔ اس کا نزول حکمت والے، حمد والے، اللہ کی طرف سے ہے۔”نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون “﴿ہمیں نے قرآن نازل کیا اور بیشک ہمیں اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔﴾ اس کتاب کا انداز بیان واضح زبان بہت آسان ہے۔ اس سے ہدایت بہت آسانی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کتاب میں معمہ چیستان اور پہیلیاں نہیں ہیں۔ نہ اس کے بیان میں تضاد اور الجھاؤ ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے۔”ولقد يسرنا القرآن للذكر فهل من مدكر (القمر: ٢٢)“﴿بے شک ہم نے قرآن کو ہدایت و نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔﴾

”انا انزلناه قرآنا عربیا لعلکم تعقلون (یوسف: ٢)“﴿بیشک ہم نے قرآن کو واضح عربی میں اتارا تا کہ تم لوگ سمجھو۔﴾

قرآن اللہ کا کلام ہے۔ کوئی مخلوق تنہا یا سب مل کر اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز ہیں۔ اسلام آخری دین ہے۔ نبوت، وحی، کتاب، شریعت، سب اس پر ختم ہوگئیں۔ لہٰذا قیامت تک اللہ کی حجت قائم رکھنے کے لئے اور انسانوں کی ہدایت کے لئے اللہ جل مجدہ نے قرآن کی حفاظت اپنے ذمہ لے لی اور تمام الہامی کتابوں میں قرآن کو یہ امتیاز عطا کیا کہ یہ لاکھوں انسانوں کے سینے میں محفوظ ہے اور خلق کو ہدایت کے لئے کافی ووافی ہے یہ تورات وانجیل میں بھی بطور پیش گوئی محمد ﷺ اور ان کی لائی ہوئی کتاب کی صداقت کی پہچان اس کا سینوں میں محفوظ ہونا بتایا گیا ہے اور اس علامت کو دیکھ کر یہود و نصاریٰ کو ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔

٤٧

صفحہ ٦١

قرآن مجید کا ساتواں اعلان

”وحيث ماكنتم فولوا وجوهكم شطره لئلا يكون للناس عليكم حجة الا الذين ظلموا منهم فلا تخشوهم واخشونى ولاتم نعمتى عليكم ولعلكم تهتدون كما ارسلنا فيكم رسولا منكم (البقره: ١٥٠،١٥١) ”اور جہاں کہیں جس زمانے میں تم ہو اپنا منہ کعبہ کی طرف کرو تا کہ لوگوں کو تمہارے خلاف حجت نہ رہے۔ مگر وہی لوگ ان میں سے جنہوں نے ظلم کیا (کفار) تو تم کافروں سے نہ ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرو اور یہ (قبلہ) اس لئے کہ میں تم لوگوں (مسلمانوں) پر اپنی نعمت تمام کر دوں اور تم (کعبہ کو قبلہ) بایں امید اختیار کرو کہ ہدایت پر رہو۔ جیسا کہ ہم نے تم میں رسول بزرگ بھیجا۔ تمہیں میں سے کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت کریں اور تمہیں پاک وصاف کریں اور تم کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیں اور تمہیں وہ تعلیم دیں جو تم نہیں جانتے تھے۔﴿

اللہ رب العزت نے اپنے اس ابدی کلام میں دوسرے پارے کے آغاز سے قبلہ کی اہمیت کو تفصیل سے بیان کرنا شروع کیا اور بالآخر قیامت تک کے لئے یہ حکم دے دیا کہ مسلمان جہاں کہیں بھی اور جس زمانے میں بھی ہوں کعبہ کی طرف رخ کریں اور ہمیشہ کے لئے کعبہ کو قبلہ بنالیں۔ کعبہ ان کا دائمی قبلہ ہے جو کبھی بدلا نہ جائے گا۔ ”حيث ماكنتم“ میں ”حيث“ کا کلمہ (لفظ) ظرف کے لئے ہے۔ زمان و مکان دونوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ قبلہ کی ابدیت اسلام کے دوام وابدیت کی دلیل ہے اور تمام مسلمانان عالم کی وحدت کا مرکز اور ایک ملت ہونے کا روشن و تابندہ ثبوت ہے۔ قبلہ میں تغیر و تبدل کی گنجائش رہے گی تو کافروں ظالموں کو مسلمانوں کی وحدت دینی وملی اور ایک امت ہونے کے خلاف بحث وحجت کا موقع ملے گا۔ جو کوئی امت مسلمہ کی اس وحدت کو توڑے یا اس وحدت کو دیکھ کر بھی طعنہ زن ہو وہ ظالم ہے۔

اللہ رب العزت اس عالمی غیر متبدل قبلہ کو بھی ہم مسلمانوں کے لئے اپنا عظیم احسان بتارہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ عالمی و دائمی قبلہ اس لئے عطاء کیا تا کہ ”لا تم نعمتي عليكم ولعلكم تهتدون“ تم پر اپنی نعمت تمام کر دوں اور تا کہ اس آخری قبلہ سے وابستہ رہ کر تم ہدایت پر رہو۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ایک دوسرا اعلان ہوتا ہے کہ: ”كما ارسلنا فيكم رسولاً منكم“ جیسا ہم نے تم میں ایک رسول تم میں سے بھیجا۔ ”کما“ کا کلمہ تشبیہ کے لئے ہے۔ یعنی جس طرح ایک دائمی وابدی قبلہ عطاء کر کے ہم نے تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور اسی قبلہ کی وابستگی سے تم ہمیشہ ہدایت پر رہو گے۔ یہ آخری قبلہ ہے۔ اس کے بعد کسی اور قبلہ کا تصور ظلم و کفر ہے۔ اسی

٤٨

طرح ہم نے تم میں ایک ابدی دائمی عالمی ہر زمانی و ہر مکا تمام کر دی۔ ان رسول کے ذریعے تمہیں کتاب و حکمت ب رسول کے بعد کوئی رسول نہیں اور نہ اس کتاب و حکمت ک جب رسول کی آمد بند ہوگئی تو کتاب و حکمت کا نزول بھی ہے اور محمد ﷺ ہر زمانے کے لئے رسول ہیں۔ قبلہ کی نعم قرآن پر تمام ہوئی۔ دین کی نعمت اسلام پر تمام ہوئی۔ اس نعمتوں اور واضح اعلانات کو قبول نہ کرے اور اس کے خلا

قرآن مجید کا آٹھواں اعلان

”وما ارسلنك الا كافة للناس بشي نہیں بھیجا آپ ﷺ کو مگر تمام انسانوں کے لئے خوشخبری

اس آیت میں ”ما“ نفی کا حرف ہے اور ”ا اجتماع سے حصر وتخصیص پیدا ہوئی۔ یہ حصر و تخصیص بشیر ون مجید دوسرے مقامات پر واضح کر چکا ہے کہ ہر نبی بشیر و نذیر واحدة فبعث الله النبيين مبشرين ومن (البقره:٢١٣) ”لوگ ایک امت تھے تو اللہ نے نبی والے اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری۔﴿

”وما نرسل المرسلين الا مبش نہیں بھیجتے ہیں رسولوں کو مگر خوشخبری دینے والے اور ڈرا

لہٰذا نبوت کی یہ دونوں صفتیں محمد رسول اللہ ﷺ وصف آنحضرت ﷺ کی نبوت میں منحصر ہیں۔ لا محال (تمام نوع انسانی) کے ساتھ ہے۔ یعنی آپ ﷺ دوس آپ کی نبوت اور بشارت و نذارت کل کی کل تمام نو کے لئے خاص ہے۔ آپ ﷺ کے سوا اور کسی نبی کو جب تک علاقائی اور خاندانی نبوت کی گنجائش تھی انبیا کے مالک آگئے تو نبوت کا خاتمہ ہو گیا۔ کیونکہ اب عا نبوت محمد ﷺ کی خصوصیت ہے۔

٤٩

صفحہ ٦١

طرح ہم نے تم میں ایک ابدی دائمی عالمی ہر زمانی و ہر مکانی رسول بھیجا۔ رسالت کی نعمت بھی تم پر تمام کر دی۔ ان رسول کے ذریعے تمہیں کتاب و حکمت بخشی۔ نہ اس قبلہ کے بعد قبلہ ہے۔ نہ ان رسول کے بعد کوئی رسول ہیں اور نہ اس کتاب و حکمت کے بعد کوئی کتاب و حکمت ہے۔ کیونکہ جب رسول کی آمد بند ہو گئی تو کتاب و حکمت کا نزول بھی ختم ہو گیا۔ یہی قبلہ ہر زمانہ کے لئے قبلہ ہے اور محمد ﷺ ہر زمانے کے لئے رسول ہیں۔ قبلہ کی نعمت کعبہ پر تمام ہوئی۔ وحی و کتاب کی نعمت قرآن پر تمام ہوئی۔ دین کی نعمت اسلام پر تمام ہوئی۔ اب کوئی شخص اللہ رب العزت کی ان کامل نعمتوں اور واضح اعلانات کو قبول نہ کرے اور اس کے خلاف حجت کرے تو وہ ظالم و کافر ہے۔

قرآن مجید کا آٹھواں اعلان

”وما ارسلنك الا كافة للناس بشيرا ونذیرا (سبا:٢٨)“ ﴿اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ کو مگر تمام انسانوں کے لئے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا۔﴾

اس آیت میں ”ما“ نفی کا حرف ہے اور ”الا“ حرف استثناء۔ ان دونوں حرفوں کے اجتماع سے حصر و تخصیص پیدا ہوئی۔ یہ حصر و تخصیص بشیر ونذیر کے مفہوم میں نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن مجید دوسرے مقامات پر واضح کر چکا ہے کہ ہر نبی بشیر ونذیر ہوتے ہیں۔ ”كان الناس امة واحدة فبعث الله النبيين مبشرين ومنذرين وانزل معهم الكتاب بالحق (البقره:٢١٣)“ ﴿لوگ ایک امت تھے تو اللہ نے نبیوں کو بھیجا بشارت دینے والے اور ڈرانے والے اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری۔﴾

”وما نرسل المرسلين الا مبشرين ومنذرين (کہف:٥٦)“ ﴿اور ہم نہیں بھیجتے ہیں رسولوں کو مگر خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے۔﴾

لہٰذا نبوت کی یہ دونوں صفتیں محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے خاص نہیں ہیں اور نہ یہ دونوں وصف آنحضرت ﷺ کی نبوت میں منحصر ہیں۔ لامحالہ ”ما“ اور ”الا“ کا حصر و تخصیص كافة للناس (تمام نوع انسانی) کے ساتھ ہے۔ یعنی آپ ﷺ دوسرے تمام نبیوں کی طرح بشیر ونذیر ہیں۔ مگر آپ کی نبوت اور بشارت و نذارت کل کی کل تمام نوع انسانی کے لئے ہے۔ یہ نبوت آپ ﷺ کے لئے خاص ہے۔ آپ ﷺ کے سوا اور کسی نبی کو عالمی و ہمہ انسانی نبوت حاصل نہیں ہوئی۔ جب تک علاقائی اور خاندانی نبوت کی گنجائش تھی انبیاء آتے رہے۔ جب نوعی و ہمہ انسانی نبوت کے مالک آگئے تو نبوت کا خاتمہ ہو گیا۔ کیونکہ اب علاقائی نبوت کی ضرورت نہیں رہی اور عالمی نبوت محمد ﷺ کی خصوصیت ہے۔

٤٩

صفحہ ٦٣

قرآن مجید کا نواں اعلان

”واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما آتيتكم من كتب وحكمة ثم جاء كم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه قال أقررتم واخذتم على ذلكم إصرى قالوا اقررنا قال فاشهدوا وانا معكم من الشهدين فمن تولى بعد ذلك فاؤلئك هم الفاسقون (آل عمران: ٨١، ٨٢)“ ﴿اور یاد کرو جب اللہ نے تمام نبیین سے مضبوط عہد لیا کہ جب میں تم سبھوں کو کتاب و حکمت دے چکوں اور تم نبیوں کے بعد وہ رسول آئے جو تمہاری کتاب حکمت اور نبوت (جو کچھ تمہارے پاس ہے) کی تصدیق کرے تو تم ضرور بالضرور اس رسول پر ایمان رکھو گے اور ضرور بالضرور اس رسول کی مدد کرو گے۔ (اللہ نے) کہا کیا تم سبھوں نے اقرار کیا اور میرے عہد کو ان شرطوں پر قبول کیا۔ سبھوں نے کہا ہم نے اقرار کیا (اللہ نے) کہا تو تم سب گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں تو جو کوئی اس عہد و گواہی کے بعد پھر جائے تو وہی لوگ دین سے نکلنے والے ہیں۔﴾

یہ آیت کریمہ اور ان کے کلمات آپ کے سامنے ہیں۔ کیا ان کی موجودگی میں محمدﷺ کے بعد کسی نبی کی کوئی گنجائش رہتی ہے۔ ہر گز نہیں۔ آنحضرتﷺ تمام نبیوں میں آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں مبعوث ہوں گے۔ ”النبیین“ میں تمام نبی داخل ہیں۔ کیونکہ صیغہ جمع سالم ہے۔ اس پر ”ال“ ہے۔ جو استغراق کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی تمام انبیاء ان میں سے کوئی ایک بھی باہر نہیں ہے۔ جیسے رب العالمین میں اللہ تمام عالم کا رب ہے۔ عالمین جمع سالم ہے۔ ”ال“ اس پر داخل ہے۔ استغراق کو ظاہر کرتا ہے۔ کوئی عالم بھی اللہ کی ربوبیت و خدائی سے باہر نہیں ہے۔ ”لما اتیتکم من کتاب وحکمة“ ﴿کہ جب میں تم سبھوں کو کتاب و حکمت دے چکوں۔﴾ کے کلمات بتا رہے ہیں کہ یہ اقرار و عہد عالم ارواح یعنی روز ازل تمام نبیوں سے ایک ساتھ لیا گیا۔ عہد کے وقت کتاب و حکمت کسی کو نہیں ملی تھی۔ کتاب و حکمت عطاء کرنے سے پہلے یہ عہد و اقرار لیا جا رہا ہے۔ کتاب و حکمت تو دنیا میں آنے کے بعد ہر نبی کو اپنے اپنے زمانے میں عطاء ہوا۔ ثم (بعد ازاں) کا لفظ تراخی کے لئے آتا ہے۔ یعنی تمام نبیوں کی بعثت اور کتاب و حکمت ملنے کے بعد طویل وقفے اور زمانی فاصلے کے بعد تصدیق کرنے والا رسول آئے گا۔ ثم کے لفظ سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ تمام نبیوں کی تصدیق کرنے والا رسول، سبھوں کے بعد ایک طویل وقفے اور زمانی فاصلے کے بعد آئے گا۔ وہاں یہ بات بھی ظاہر ہوگئی کہ اس تصدیق کرنے والے رسول کے زمانے میں کوئی نبی کتاب وحکمت کے ساتھ کسی انسان کی ہدایت کے لئے روئے زمین ٥٠

پر کہیں نہیں ہوں گے۔ تصدیق کرنے والے رسول یکہ و تنہا اور تمام نبیوں کے لئے مصدق (تصدیق کرنے والے) ہوگی کہ یہ مصدق رسول جس طرح تمام نبیوں کے عرصہ درا والے ہوں گے۔ اسی طرح ان مصدق رسول کے بعد کوئی انبیاء علیہم السلام کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول مسلسل نبی آتے رہے اور کبھی تو ایک ہی دور میں متعدد ا کے بعد محمد رسول اللہﷺ تک کوئی نبی نہیں آئے۔ یہاں سو ستر سال بعد محمدﷺ تشریف لائے۔ صلی اللہ علی احمد المجتبیٰ و محمد ا الغرض محمدﷺ تمام نبیین کے مصدق ہیں۔ ان گواہ ہیں۔ تمام انبیاء مدعی نبوت بن کر آئے اور سب کے پہلے آئے۔ تصدیق و گواہ بعد میں آئے۔ قرآن مجید میں ا

(النساء: ٤١)

﴿ہم آپ کو اے (محمدﷺ) پیغمبر تمام ن

قرآن مجید کا دسواں اعلان

”تبارك الذى نزل الفرقان على

(الفرقان: ١)

﴿برکت والی ہے وہ ذات جس نے اپن مجید نازل کیا۔ تاکہ تمام عالمین کے لئے نذیر، ڈر سنانے وا العالمین سے قیامت تک تمام عالم داخل عال عالم اور جو کچھ ان میں ہے مراد ہیں۔ فرقان مجید جس طری تک تمام عالمین کے لئے نذیر و ہادی ہے۔ نہ اس کا کوئی ق قادیانی نے تیر و تلوار سے جہاد کا حکم بدل دیا اور دینی قتال حکم قرآن وحدیث میں ہے۔ قادیانی خاتم النبیین کے معن اور قادیانی تحریف کے مطابق بعد میں آنے والے نبیوں زیب عنوان نے بڑی وضاحت سے قادیانی تحریف کا درا تمام ”نبیین“ کے طویل زمانے کے بعد ان کی تصدی نبیوں کی تصدیق کریں گے اور ان کی نبوت و کتاب پر م قانون معاشرہ اور قانون معاملہ میں ہمیشہ سے یہی رائج ہ ٨١

صفحہ ٦٣

پر کہیں نہیں ہوں گے۔ تصدیق کرنے والے رسول یہ وجہا تمام انسانیت کے لئے رسول ہوں گے اور تمام نبیوں کے لئے مصدق (تصدیق کرنے والے) ہوں گے۔ اسی طرح یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ یہ مصدق رسول جس طرح تمام نبیوں کے عرصہ دراز بعد اور ان سبھوں کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔ اسی طرح ان مصدق رسول کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ چنانچہ قرآن مجید اور انبیاء علیہم السلام کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام تک مسلسل نبی آتے رہے اور کبھی تو ایک ہی دور میں متعدد انبیاء مبعوث ہوئے۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ تک کوئی نبی نہیں آئے۔ یہاں تک کہ عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے پانچ سو ستر سال بعد محمد ﷺ تشریف۔ صلی اللہ علی احمد المجتبیٰ ومحمد المصطفیٰ وعلیٰ آلہ واصحابہ وبارک وسلم! الغرض محمد ﷺ تمام نبیین کے مصدق ہیں۔ ان کو مہر صداقت دینے والے ہیں۔ ان پر گواہ ہیں۔ تمام انبیاء مدعی نبوت بن کر آئے اور سب کے آخر میں محمد ﷺ آئے۔ دعویٰ اور مدعی پہلے آئے۔ تصدیق وگواہ بعد میں آئے۔ قرآن مجید میں ”وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھَؤُلَاءِ شَهِیداً (النساء:٤١)“ ﴿ہم آپ کو اے (محمد ﷺ) پیغمبر تمام نبیوں پر گواہ بنا کر لائیں گے۔﴾

قرآن مجید کا دسواں اعلان

”تبارک الذی نزل الفرقان علٰی عبده لیکون للعالمین نذیرا (الفرقان:١)“ ﴿برکت والی ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے (محمد ﷺ) پر فرقان حمید قرآن مجید نازل کیا۔ تا کہ تمام عالمین کے لئے نذیر، ڈر سنانے والا ہو۔﴾

العالمین سے قیامت تک تمام عالم واہل عالم مراد ہیں۔ جیسے رب العالمین سے تمام عالم اور جو کچھ ان میں ہے مراد ہیں۔ فرقان حمید جس طرح دنیا میں ہے کمی بیشی کے بغیر قیامت تک تمام عالمین کے لئے نذیر و ہادی ہے۔ نہ اس کا کوئی حرف بدلے گا نہ اس کا کوئی حکم بدلے گا۔ قادیانی نے تیر و تلوار سے جہاد کا حکم بدل دیا اور دینی قتال کو منسوخ قرار دیا۔ حالانکہ جہاد و قتال کا حکم قرآن و حدیث میں ہے۔ قادیانی خاتم النبیین کے معنی مہر صداقت لگانے والے مراد لیتے ہیں اور قادیانی تحریف کے مطابق بعد میں آنے والے نبیوں کے لئے مہر ترجمہ کرتے ہیں۔ آیت زیب عنوان نے بڑی وضاحت سے قادیانی تحریف کا دروازہ بند کر دیا۔ کیونکہ آیت کا معنی ہوا کہ تمام ”نبیین“ کے طویل زمانے کے بعد ان کی تصدیق کرنے والے رسول آئیں گے۔ جو ان نبیوں کی تصدیق کریں گے اور ان کی نبوت و کتاب پر مہر صداقت لگائیں گے۔ قانون مذہب، قانون معاشرہ اور قانون معاملہ میں ہمیشہ سے یہی رائج ہے کہ پہلے مدعی اور اس کا دعویٰ ہوتا ہے۔

٨١

صفحہ ٦٤

پھر مہر صداقت، تصدیق، مصدق اور گواہ کی باری آتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ مدعی اور اس کے دعوے کا تو کوئی نشان پتہ نہیں ہے اور پہلے ہی مہر، صداقت اور گواہ پیش ہو جائیں۔

دیکھو قرآن مجید میں عیسیٰ علیہ السلام کا اعلان ہے: ”واذ قال عيسى بن مريم يا بنی اسرائيل انی رسول الله اليكم مصدقا لما بين يدى من التوراة ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمه احمد فلما جاءهم بالبينت قالوا هذا سحر مبين (الصف: ٦)“ ﴿اے پیغمبر اور یاد دلا جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا۔ اے بنی اسرائیل بے شک میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور تصدیق کرنے والا (مصدق) ہوں توراۃ کا جو مجھ سے پہلے ہے اور خوشخبری دینے والا ہوں اپنے بعد آنے والے رسول کی جن کا نام احمد ہے تو جب وہ (احمد) ان لوگوں کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آ گئے تو لوگوں نے کہا یہ صاف جادو ہے۔﴾

سورہ صف کی اس آیت میں مصدق کا مفہوم اور زمانہ بتا دیا گیا۔ توراۃ عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے نازل ہو چکی تھی۔ اس لئے توراۃ کے حق میں عیسیٰ علیہ السلام مصدق یعنی تصدیق کرنے والے ہیں۔ احمد مجتبیٰ ﷺ اس وقت تک نہیں آئے تھے۔ اس لئے عیسیٰ علیہ السلام کو محمد ﷺ کے حق میں مبشر خوشخبری دینے والا کہا گیا۔ مصدق یعنی تصدیق کرنے والا نہیں کہا گیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کو محمد ﷺ کے لئے مصدق اس وقت کہا جاتا جب عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے محمد ﷺ مبعوث ہو چکے ہوتے اور قرآن نازل ہو گیا ہوتا۔ اللہ اللہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ اللہ ماضی، حال، مستقبل تمام زمانوں کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اللہ علیم و خبیر کو معلوم تھا کہ آئندہ چل کر کوئی غلام غداری کر کے مالک کی جگہ کا دعویدار ہوگا اور غلام احمد سے خود احمد بن بیٹھے گا اور اس آیت کریمہ میں اسمہ احمد میں تحریف و جعلسازی کرے گا۔ لہذا ضمناً ”فلما جاءهم بالبينت“ ﴿تو جب کھلی کھلی نشانیوں کے ساتھ ان کے پاس احمد آگئے۔﴾ کہہ کر قادیانی جعل و تحریف کا راستہ بند کر دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت و پیش گوئی کو زمانہ مستقبل پر معلق نہیں رکھا۔ بلکہ احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی آمد کو ماضی کے صیغے میں بیان کر کے آئندہ کا دروازہ بند کر دیا۔ قرآن نے اعلان کر دیا کہ جن احمد کے آنے کی خبر عیسیٰ ابن مریم نے دی تھی وہ قرآن لے کر آ گئے۔ لیکن کافروں نے قرآن کو قبول نہیں کیا اور اس کی ولادت با سعادت اور چھ سو سال بعد بعثت ہوئی۔ قرآن مجید نے اس طویل وقفہ کا نام فترت یعنی التوا رکھا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ولادت و بعثت سے پہلے ہی نبیوں کی آمد کا سلسلہ روک دیا گیا۔ تاکہ ختم نبوت کا مفہوم بالکل واضح ہو جائے اور آنحضرت ﷺ کے عہد میں کسی دوسرے نبی کی زمانی شرکت بھی نہ ہو۔ جیسا کہ فرزند نرینہ کی نفی سے ختم نبوت کی تکمیل

٥٢

صفحہ ٦٥

مقصود تھی۔ ”ثم جاء کم“ (بعد ازاں تمہارے پاس آئیں۔) سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ انبیاء کی وفات ظاہری ہوتی ہے جو محض دور تبلیغ کے خاتمے کی علامت ہے۔ ورنہ ان کا شمار اموات میں نہیں ہوتا اور نہ وفات کی وجہ سے ان کا اعزاز نبوت ختم ہو جاتا ہے۔ حدیث شریف میں بھی ہے۔ ”الانبیاء احیاء فی قبورہم یصلون“ (انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔ نماز پڑھتے ہیں۔) قرآن مجید کی ایک دوسری آیت بھی اس مفہوم کی تائید کرتی ہے۔ جس طرح انبیاء علیہم السلام کے ذمے محمد ﷺ پر ایمان لانا اور ان کی نصرت کا عہد ہے۔ اسی طرح حضور علیہ السلام کو بھی خطاب ہوا۔ ”وسئل من ارسلنا من قبلك من رسلنا (زخرف:٤٥)“ (اور اے رسول (محمد ﷺ) تجھ سے پہلے جو ہم پیغمبر بھیج چکے ہیں ان سے پوچھ لے۔) ”مصدق لما معکم“ (جو کچھ تمہارے پاس ہیں ان کی تصدیق کرنے والا کتاب، حکمت، نبوت۔) میں مصدق کا لفظ بھی سلسلہ بیان میں اس طرح آیا ہے کہ جس سے ختم نبوت کا واضح اعلان ہورہا ہے اور قرآن تمام عالمین تاقیامت کے لئے اللہ کا آخری فرمان و کتاب ہے۔

قرآن مجید کا گیارہواں اعلان

”وما ارسلنك الا كافۃ للناس بشيرا ونذير ولكن اكثر الناس لايعلمون (سبا:٢٨)“ (اور اے پیغمبر (محمد ﷺ) ہم نے تجھ کو نہیں بھیجا مگر بلا استثناء تمام انسانوں کے لئے بشیر (خوشخبری دینے والا) اور نذیر (ڈرانے والا) پر بیشتر لوگ نہیں جان رہے ہیں۔) اس آیت میں کافۃ للناس میں اللہ رب العزت نے واضح کر دیا کہ محمد ﷺ کے وقت سے لے کر آئندہ جو کوئی بھی انسان آئے گا اس کے لئے رسول، بشیر نذیر آپ ﷺ ہی ہیں۔ کوئی اور رسول نہیں ہے۔ دسویں اعلان میں قرآن مجید تمام عالمین کے لئے تا قیامت نذیر و ہادی ہے۔ قرآن کے بعد کوئی کتاب ہدایت نہیں ہے۔ اسی طرح نوع انسانی کے لئے تا قیامت محمد ﷺ بشیر و نذیر اور رسول ہیں اور کوئی رسول بشیر نذیر نہیں ہے۔ فرقان حمید کا فرمان آخری فرمان اور محمد ﷺ کا اسوۂ وسنت آخری اسوۂ ہدایت ہے۔ نہ فرقان حمید کے جہاد و قتال کا حکم بدلا جا سکتا ہے اور نہ محمد ﷺ کا اسوۂ جہاد و قتال منسوخ ہو سکتا ہے۔

قرآن مجید کا بارہواں اعلان

”ياايها النبی انا ارسلنك شاهدا ومبشرا ونذيرا وداعيا الی الله باذنه وسراجا منيرا (احزاب:٤٤،٤٥)“ (اے نبی (محمد ﷺ) بے شک ہم نے آپ ﷺ کو بھیجا۔ گواہ، مبشر (بشارت دینے والا) اور نذیر (ڈرانے والا) بنا کر اور اللہ کی طرف

٥٣

صفحہ ٦٧

اس کے حکم سے بلانے والا اور روشن کرنے والا چراغ۔ ﴾ اس آیت کریمہ میں محمد ﷺ کی متعدد حیثیتوں کو اور ان کے اہم مراتب کو ایک جگہ اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ ان کے آگے کوئی اور ایسی حیثیت باقی نہیں رہی۔ جس کے لئے آئندہ نبی کی ضرورت ہو یا کوئی نبی آسکے۔

اوّل ...... آنحضرت ﷺ کو نبی کہہ کر مخاطب کیا۔

دوم ...... ”انا ارسلنك“ کہہ کر آپ ﷺ کی رسالت کا منصب واضح کر دیا۔ دوسرے لفظوں میں اللہ کی نسبت سے جس سے براہ راست احکام لیتے ہیں نبی ہیں، اور قوم کی نسبت سے جس کی طرف بھیجے گئے اور جن کو اللہ کے احکام پہنچانے پر مامور ہیں، رسول ہیں۔ گویا ہر نبی رسول ہوتے ہیں۔ اگر نبوت ختم ہو جائے تو رسالت لازمًا ختم ہو جائے گی۔

سوم ...... ”شاهدًا“ شہادت دینے والے گواہ۔ گواہی وشہادت کسی خاص دعویٰ اور امر کے لئے ہوتی ہے۔ اسی طرح شہادت و گواہی کسی خاص مدعی یا مدعی علیہ کے سلسلے میں ہوتی ہے۔ پیش نظر آیت میں محمد ﷺ کو شاہدًا کہا گیا۔ مدعی، مدعی علیہ اور دعوٰی کا سرے سے ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا یہ مطلق عام اور ہمہ گیر شہادت ہے۔ اللہ رب العزت کی ذات وصفات کے شاہد ہیں۔ تمام انبیاء کی نبوت ورسالت کے شاہد مصدق اور گواہ ہیں۔ انبیاء کی کتابوں اور صحیفوں کے گواہ ہیں۔ فرشتوں کے گواہ ہیں۔ تمام مؤمنین کے ایمان جو دل میں ہوتا ہے اور ان کے اعمال کے گواہ ہیں (قرآن مجید میں ہے: ”ویکون الرسول علیکم شهیدا “ اے مؤمنین رسول محمد ﷺ تم سبھوں پر گواہ ہوں گے) کافروں کے کفر پر گواہ ہیں۔ منافقین کے نفاق پر جو دل میں ہوتا ہے گواہ ہیں۔ جنت، جہنم، میزان، صراط کے شاہد و گواہ ہیں۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار یا جتنے بھی انبیاء آئے ہر ایک نے اللہ کی ذات وصفات اور دیگر تمام عقائد واحکام کی تعلیم وحی نبوت کے ذریعے لی اور انسانوں کو پہنچائی۔ ان کی تعلیمات و ہدایات یعنی مشاہدے پر مبنی نہ تھیں۔ وہ شاہد نہ تھے۔ اللہ رب العزت نے محمد ﷺ کو شب معراج اپنی ذات سے لے کر امور آخرت جنت وجہنم کی تفصیلات تک مشاہدہ کرا دیا اور حضور اکرم ﷺ قیامت تک ہر انسان کے لئے شاہد بن گئے۔ مشاہد اور شہید کے آجانے کے بعد زبانی نبوت کی کیا ضرورت رہی۔ لہٰذا شاہد وگواہ رسول کے بعد کسی الہامی نبی کی آمد کا تصور لغو اور فضول ہے۔

چہارم ...... مبشرا خوشخبری دینے والے، محمد ﷺ کی اس حیثیت کو شاہدًا کے ساتھ ملائیے تو معنی یہ ہوئے کہ آپ علیہ السلام نے جن چیزوں کی بشارت دی ان کے مشاہدہ کرنے والے اور شاہد ہیں

٥٤

اور جن لوگوں کے حق میں بشارت دی ان کے لئے بھی شاہد

پنجم ...... نذیرا ڈرانے والے جن عذابوں اور سزاؤں سے ان کے شاہد ہیں اور جن لوگوں کے حق میں ڈرانے والے ہ

ششم ...... ”وداعیا الی الله باذنه “ اور اللہ کی طر ارسلنك “ سے معلوم ہو چکا کہ نبی ورسول، اللہ مقرر کرت ونبی نہیں ہوتا۔ اسی طرح نبی بھی اللہ کی طرف اپنی خواہش بلکہ اللہ کے حکم سے تبلیغ رسالت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حدیث اور دیگر مذاہب کے الہامی صحائف وکتب می مذکور ہیں۔ کسی ایک نبی کے واقعات میں آپ کو یہ بات نہ ملے گی کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرے اور جب لوگ اس پ بگڑیں۔ تو وہ اپنے دعویٰ سے پھر جائے۔ الغرض کسی نبی کے ہ ہاں یہ بات نہیں ملے گی کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرے اور کبھی سختی سے انکار کرے اور کبھی اقرار کرے۔ کبھی نبی بن جائے اور کبھی نبی کا امتی بن جائے۔ جب تک اللہ رب العزت کی طرف سے اس کو نبوت کا منصب نہیں مل جاتا وہ اپنی نبوت سے ناواقف اور بے خبر ہوتا ہے۔ لیکن جب اللہ کی طر سے اس کو نبی نامزد کر دیا گیا تو پہلے ہی خطاب میں وہ نبی ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہ وہ ساری عمر اقرار وانکار کے دلدل می پھنسا رہے۔ ایسا تو کسی نبی کے ہاں نہیں ملے گا کہ وہ نبوت ک انکار کرے اور اپنے آپ کو کسی نبی کا امتی و غلام کہے۔ پھر نبوت کا دعویٰ کر دے۔ پھر نبوت کا انکار کرتے ہوئے اپنے آ کو محدث کہے۔ پھر آپ کو مثیل مسیح، پھر پکا مسیح، پھر نبی ک سایہ اور ان کا بروز کہے۔ پھر اپنے آپ کو نبی کہے اور اس ک معنی یہ بتائے کہ شریعت تو اصلی و حقیقی نبی کی ہے۔ خود اپن آپ کو نبی کا تابع نبی کہے اور مقصد یہ بتائے کہ میرا کام تو شریع کی اشاعت ہے۔ اس طرح سینکڑوں اتار چڑھاؤ اقرار انکا میں مبتلا رہے۔ اور پھر ایک دن مستقل نبی بن جائے اور ک تک جن کو آقا نبی کہتا تھا۔ ان کی شریعت اور ان کے احکام بدلن اور منسوخ کرنے لگے اور آقا نبی کے ماننے والے مسلمانوں ک کافر قرار دینے لگے۔ نبیوں میں اس قسم کی بے ہنگم ناہموار نبو نہیں ملے گی۔ نبی مقرر ہوتے ہیں اور اللہ کے حکم سے اعلان نبو اور تبلیغ و دعوت کرتے ہیں۔

٥٥

صفحہ ٦٧

اور جن لوگوں کے حق میں بشارت دی ان کے لئے بھی شاہد اور گواہ ہیں۔

پنجم ...... نذیراً ڈرانے والے جن عذابوں اور سزاؤں سے ڈرانے والے ہیں۔ آنحضرتﷺ ان کے شاہد ہیں اور جن لوگوں کے حق میں ڈرانے والے ہیں ان کے کفر و نفاق کے بھی شاہد ہیں۔

ششم ...... ”وداعیا الی اللہ باذنہ “ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والے ”انا ارسلنک“ سے معلوم ہوچکا کہ نبی و رسول، اللہ مقرر کرتا ہے اور کوئی شخص اپنی کوشش سے رسول و نبی نہیں ہوتا۔ اسی طرح نبی بھی اللہ کی طرف اپنی خواہش سے لوگوں کو دعوت اور بلاوا نہیں دیتے۔ بلکہ اللہ کے حکم سے تبلیغ رسالت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں انبیاء مبعوث ہوئے۔ قرآن حدیث اور دیگر مذاہب کے الہامی صحائف و کتب میں بہتیرے انبیاء کے حالات و واقعات مذکور ہیں۔ کسی ایک نبی کے واقعات میں آپ کو یہ نرالی بات نہیں نظر آئے گی کہ وہ ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے نبی بن گئے ہوں۔ آج کچھ کہا کل کچھ اور بات کہی، پرسوں کوئی دعویٰ لے کر اٹھے۔ الغرض ہر صبح ایک نیا خواب اور نیا دعویٰ، کسی نبی کے حالات میں آپ یہ نہیں دیکھیں گے کہ انہوں نے اپنے حق میں علانیہ طور پر نبوت کا سختی سے انکار کیا ہو۔ پھر چپکے چپکے قدم بقدم کبھی اقرار، کبھی انکار کے ساتھ نبی بنے ہوں۔ جب تک اللہ رب العزت کی طرف سے ان کو نبی ہونے کی اطلاع نہیں دی گئی اقرار و انکار تو کجا وہ اپنی نبوت سے بے خبر تھے اور جب اللہ کی طرف سے ان کو نبی نامزد کیا گیا تو پہلے ہی خطاب میں وہ نبی تھے۔ یہ نہیں کہ سینکڑوں الہام و وحی کے بعد بھی اقرار و انکار کے دلدل میں پھنسے رہے۔ ایسا تو کسی نبی کے ساتھ نہیں ہوا کہ پہلے وہ اپنی نبوت کا انکار کرے اور اپنے آپ کو کسی نبی کا امتی و غلام کہے۔ پھر نبوت سے انکار کرتے ہوئے اپنے آپ کو مجدد کہے۔ پھر نبوت کا انکار کرتے ہوئے اپنے آپ کو مہدی کہے۔ پھر نبوت کا انکار کرتے ہوئے آپ کو مثیل مسیح، پھر پکا مسیح، پھر نبی کا سایہ اور ان کی تجلیوں کا مظہر یعنی ظلی و بروزی اور امتی نبی کہے اور اس کا معنی یہ بتائے کہ شریعت تو اصلی و حقیقی نبی کی قائم غیر مبدل اور ناقابل منسوخی ہے۔ خود اپنے آپ کو نبی کا تابع نبی کہے اور مقصد یہ بتائے کہ اپنے آقا نبی کی شریعت کو فروغ دینا اس کا کام ہے۔ اس طرح سینکڑوں اتار چڑھاؤ اقرار انکار اور سخن سازیوں کے بعد خود ہی پکا نبی بن جائے اور کل تک جن کو آقا نبی کہتا تھا۔ ان کی شریعت میں بھی اپنا عمل و دخل جاری کرے اور احکام بدلنے اور منسوخ کرنے لگے اور آقا نبی کے ماننے والوں کو کافر کہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں میں اس قسم کی بے ہنگم ناہموار نبوت نہیں ملے گی۔ نبی ہمیشہ اللہ رب العزت کے حکم سے نبی ہوئے اور اللہ کے حکم سے اعلان نبوت اور تبلیغ و دعوت کرتے ہیں۔ اللہ جن کو چاہتا ہے بیک فرمان

٥٥

صفحہ ٦٩

نبی بنا دیتا ہے۔ اللہ رب العزت کو سخن سازی کی حاجت نہیں ہے۔ سچے اور جھوٹے نبی میں یہی نمایاں فرق ہے۔ محمدﷺ کے بعد تو کسی نبی کی آمد کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ نہ اللہ کے فرمان سے کوئی نبی ہوگا اور سخن سازی والی نبوت تو ہمیشہ کی طرح جھوٹ ہے۔

ہفتم ...... ”سراجاً منیرا“ روشن رکھنے والا چراغ ، دنیا مادیت کی تاریکی میں لپٹی ہوئی ہے۔ شیطان نے کفر و معصیت کا غلاف چڑھا رکھا ہے۔ خواہشات نفس، آخرت کے لئے حجاب ہیں اللہ رب العزت نے انبیاء اور صحائف کو ان تاریکیوں میں نور ہدایت کے لئے نازل کیا۔ قرآن مجید نور ہے۔ ”وانزلنا الیکم نورا مبینا (النساء:١٧٥)“ ﴿اور ہم نے تمہارے لئے جگمگاتا نور اتارا۔﴾ اور یہ نور خود مبین اور واضح ہے۔ قیامت تک محفوظ رہے گا۔ دوسری کوئی کتاب نہیں نازل ہوگی۔ اسی طرح محمدﷺ چراغ ہیں۔ جو بجھنے اور جھلملانے سے محفوظ ہیں۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے اس چراغ کو نور دینے والا کہا۔ ورنہ چراغ تو روشن ہوتا ہے۔ منیر کے معنی یہ کہ کبھی اس چراغ کی روشنی ختم نہیں ہوگی۔ محمدﷺ کے بعد کوئی اور چراغ کوئی اور نبی نہیں ہے۔

قرآن مجید کا تیرہواں اعلان

”واوحی الی هذا القرآن لانذركم به ومن بلغ (انعام:١٩)“ اور میری طرف اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی یہ قرآن نازل کیا گیا ہے تاکہ میں خود تم کو اور ان تمام لوگوں کو جن کو یہ قرآن قیامت تک پہنچے بد اعمالیوں سے برے انجام سے ڈراؤں۔

اس آیت مبارکہ میں ایک طرف قرآن مجید کی ہمہ گیری کا اعلان ہے۔ تا قیامت یہ قرآن جس آخری انسان تک پہنچے۔ اس کے لئے اللہ کی طرف سے پیغام ہدایت ہے۔ اب قیامت تک کسی اور کتاب و پیغام کی گنجائش و ضرورت نہیں ہے۔ دوسری طرف ”لا نذركم به ومن بلغ“ ﴿میں محمدﷺ تم کو ڈراؤں اور میں ان لوگوں کو بھی ڈراؤں جن کو قرآن پہنچے۔﴾ کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ تاقیامت قرآن کے ذریعے ڈرانے کا کام بھی میرے (محمدﷺ) ذمے ہے۔ اس کی دو ہی صورتیں ہیں کہ محمد رسول اللہﷺ تاقیامت قرآن کے ساتھ اسی ظاہری اور حسی وجسمانی طور پر رہیں۔ جیسے صحابہؓ کے درمیان تھے۔ مگر یہ صورت نہیں رہی۔ بلکہ محمدﷺ کی وفات ہوگئی۔ اس آیت کی دوسری صورت یہ ہے کہ ظاہری وحسی طور پر حضورﷺ نہ رہیں۔ بلکہ نبی کی حیثیت سے باطنی طور پر ہمیشہ قرآن کے ساتھ رہیں۔ یعنی نہ قرآن بدلا جائے اور نہ محمدﷺ کا دور نبوت ختم ہو۔ قرآن آخری کتاب اور محمدﷺ آخری نبی رہیں اور یہی قرآن کا مقصود اور تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔

٥٦

خلاصہ: یوں تو پورا قرآن مجید محفوظ رہ کر ا صراحت کے ساتھ اور اشارے کنائے میں سیکڑوں آ ختم ہونے اور آپﷺ کے بعد نبی کی آمد کا سلسلہ ہ مجید میں جہاں کہیں بھی دوسرے نبی و وحی کا ذکر آیا ہے رسالت کا مفہوم واضح کر دیا ہے۔ پورے قرآن میں ”بعدک“ کا لفظ نہیں آیا ہے۔ اشارۃً بھی آپ علیہ گنجائش نہیں رکھی ہے۔

قرآن مجید کی ان آیتوں سے قادیانی صا باب اور بہاء اللہ کے پیرو بہائی صاحبان اور دوسرے تما لئے بھی ان آیتوں میں کامل رہنمائی ہے۔

حدیثیں قرآن کی توضیح وتفسیر کرتی ہیں۔ م متعلق قرآن مجید کی بے شمار آیتیں صریح واضح ہیں۔ ا سے تواتر کا درجہ رکھتی ہیں۔ درج کی جاتی ہیں تاکہ حس

الیهم (النحل:٤٤) ”اے نبی آپﷺ پر جو کچھ ہوئی ہے۔ آپﷺ خود ان کی وضاحت وتفسیر کردیں آیات کا کیا مفہوم ہے اور خود قرآن لانے والے نے لے کر آج تک تمام امت محمدیہ علی صاحبہا صلوٰۃ اللہ وس کہ محمدﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ آنحضرتﷺ کذاب ودجال ہے۔ قرآنی آیات، نبوی تفسیر (حدی محمدﷺ کے آخری نبی ہونے میں کوئی شک وشبہ باقی صحابہ کرامؓ بالخصوص مہاجر صحابہ برحق اور صادق مومن (الحجرات:١٥)“

”اولئك هم المؤمنون حقا (الانف اور انہی کی راہ سبیل المؤمنین ہے۔ جو کوئی المؤمنين نوله ماتولى ونصليه جهنم وساء اور جہنم برا ٹھکانا ہے۔

٥٧

صفحہ ٦٩

خلاصہ: یوں تو پورا قرآن مجید محفوظ رہ کر محمد ﷺ کی ختم نبوت پر گواہ ہے۔ پھر بھی صراحت کے ساتھ اور اشارے کنائے میں سیکڑوں آیتیں سرکار مدینہ ﷺ پر، نبوت ورسالت ختم ہونے اور آپ ﷺ کے بعد نبی کی آمد کا سلسلہ بند ہو جانے کا اعلان کر رہی ہیں۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی دوسرے نبی و وحی کا ذکر آیا ہے۔ اللہ نے ”من قبلك“ کے لفظ سے ختم رسالت کا مفہوم واضح کر دیا ہے۔ پورے قرآن میں کسی ایک جگہ بھی نبوت و وحی کے سلسلے میں ”بعدك“ کا لفظ نہیں آیا ہے۔ اشارۃً بھی آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد کسی نبی کی آمد کی گنجائش نہیں رکھی ہے۔

قرآن مجید کی اُن آیتوں سے قادیانی صاحبان بھی ہدایت حاصل کر سکتے ہیں۔ محمد علی باب اور بہاء اللہ کے پیرو بہائی صاحبان اور دوسرے تمام آئندہ مدعیان نبوت اور ان کے پیرو کے لئے بھی ان آیتوں میں کامل رہنمائی ہے۔

حدیثیں قرآن کی توضیح و تفسیر کرتی ہیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے آخری نبی ہونے کے متعلق قرآن مجید کی بے شمار آیتیں صریح واضح ہیں۔ پھر بھی چند حدیثیں جو کثرت روایت کی وجہ سے تواتر کا درجہ رکھتی ہیں۔ درج کی جاتی ہیں تاکہ حسب فرمان الٰہی ”لتبين للناس ما نزل اليهم (النحل: ٤٤)“ اے نبی آپ ﷺ پر جو کچھ لوگوں کی ہدایت کے لئے وحی و کتاب نازل ہوئی ہے۔ آپ ﷺ خود ان کی وضاحت و تفسیر کر دیں۔ معلوم ہو تا کہ نبوت کے سلسلے میں قرآنی آیات کا کیا مفہوم ہے اور خود قرآن لانے والے نے کیا ارشاد فرمایا ہے۔ چنانچہ صحابی اول سے لے کر آج تک تمام امت محمدیہ علی صاحبہا صلوٰۃ اللہ وسلامہ کا عقیدہ اجماع اور عمل اس پر رہا اور ہے کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد اور جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرے کذاب ودجال ہے۔ قرآنی آیات، نبوی تفسیر (حدیث) اور اجماع امت کے قول و عمل کے بعد محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا اور اللہ کے اعلان کے مطابق کہ صحابہ کرام بالخصوص مہاجر صحابہ برحق اور صادق مؤمن ہیں۔ ”اولئك هم الصادقون (الحجرات: ١٥)“

”اولئك هم المؤمنون حقا (الانفال: ٧٤)“

اور انہی کی راہ سبیل المؤمنین ہے۔ جو کوئی ان کی راہ سے ہٹا۔ ”ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ماتولى ونصليه جهنم وساءت مصيرا (النساء: ١١٥)“ وہ جہنمی ہے اور جہنم برا ٹھکانا ہے۔

٥٧

صفحہ ٧١

احادیث شریفہ

قرآن مجید نے آئندہ کے لئے ایک مستقل قانون اور قاعدہ کلیہ بتا دیا۔ ”يــــــا ايهـــــــا الذين امنوا اطيعوا الله واطيعوا الرسول واولى الامرمنكم (النساء:٥٩)“ ﴿اے مومنین اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اولی الامر کی۔ رسول کے بعد اولی الامر کی اطاعت ہے۔ کسی آئندہ نبی ورسول کی آمد کا تصور ختم کر دیا گیا۔﴾

حدیث اوّل

”كانت بنواسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبي خلفه نبى وانه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء فيكثرون (بخاری ج ١ ص ٤٩١، مسلم ج ٢ ص ١٢٦، مسند امام احمد ج ٢ ص ٢٩٧) “ ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کا نظام انبیاء چلاتے تھے جب کوئی نبی وفات پاتے دوسرے نبی ان کے جانشین ہو جاتے اور اب شان یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ خلفاء ہوں گے اور وہ بڑی تعداد میں ہوں گے۔﴾

اس حدیث نے گزشتہ آیت کی مزید توضیح کر دی کہ اولی الامر سے مراد خلفاء ہیں۔

امت محمدیہ علی صاحبہا صلوٰۃ اللہ وسلامہ کو دین کے سلسلے میں کسی نئے حکم کی ضرورت نہیں ہوگی کہ نیا نبی آئے اور نئی وحی نازل ہو۔ بلکہ صرف نظام جماعت کے قیام اور شرعی احکام کے نفاذ کے ادارے کی ضرورت ہوگی اور یہ کام اولی الامر و خلفاء انجام دیں گے۔ جن کی تعداد معیّن نہیں ہے۔ کثیر تعداد میں ہوں گے۔ ایک زمانہ میں بھی ان کی تعداد کثیر ہو سکتی ہے اور قیامت تک ملا کر بھی ان کی تعداد کثیر ہو سکتی ہے۔ حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد جو لوگ نبوت کے دعویدار ہوں گے وہ قرآن وحدیث کی مخالفت کی وجہ سے کافر ومرتد ہوں گے۔ اگر یہ لوگ نبوت کے مدعی نہ ہوتے قرآن کے اعلان ”اكملت لكم دينكم“ ﴿ہم نے تمہارے دین کو کامل کر دیا۔﴾ ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ ﴿محمد ﷺ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے آخر ہیں۔﴾ اور حدیث ”لا نبى بعدى“ ﴿میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔﴾ کا اقرار ولحاظ کرتے ہوئے نبوت کے دعوے کے بدلے اولی الامر اور خلیفہ ہونے کو اپنے لئے عزت وفخر سمجھتے تو نہ خود کافر و مرتد ہوتے اور نہ دوسروں کو کافر و مرتد بناتے اور گمراہ کرتے۔

حدیث دوم

”قال رسول الله ﷺ وانه سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم

٥٨

يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين (ابوداؤد ج ٢ ص ٤٥ ) “ ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں ٣٠ کذاب پیدا ہوں گے ان میں ہر ایک اپنے آپ کو اللہ کا نبی قرار دے گا اور حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔﴾

اس حدیث میں دو باتیں غور کرنے کی ہیں ایک یہ کہ آپ ﷺ نے اپنی امت کی تقسیم فرمائی ہے۔ ایک امت دعوت یعنی وہ قوم وامت جس کی طرف نبی کی بعثت ہوتی ہے۔ چاہے وہ اس کی دعوت کو قبول نہ کرے۔ بلکہ کافر رہے۔ تمام نوع انسانی قیامت تک حضور ﷺ کی امت میں شامل ہے۔ اسی لئے ہر انسان سے اس کے مرنے کے بعد قبر میں آپ ﷺ کے بارے میں اور دین اسلام کے بارے میں قبر (عالم برزخ) میں سوال ہوگا۔ اگر آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی ورسول ہوتا تو قبر میں اس نئے نبی ورسول کی امت ہونے کا سوال ہوتا۔ چونکہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی ورسول نہیں ہیں۔ اس لئے قیامت تک ہر انسان سے آپ ﷺ کی نبوت ورسالت کے متعلق سوال ہوتا رہے گا۔ امت کی دوسری قسم ”امت اجابت“ یعنی وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائیں تمام انسان تا قیامت محمد ﷺ کی امت دعوت ہیں اور جو ایمان لے آئے وہ امت اجابت ہیں۔ حدیث میں امت کا لفظ عام ہے۔ دونوں کو شامل ہے۔ امت دعوت کی صریح دلیل یہ ہے کہ وہ محمد ﷺ کا منکر تھا اور آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویدار تھا۔ بہاء اللہ ایرانی اور اب عبد اللہ اور مرزا قادیانی ہیں جو پہلے محمد ﷺ کی امت اجابت میں شامل تھے بعد میں کافر ومرتد پھر اپنی اپنی نبوت کے جھوٹے دعویدار ہوئے۔

حدیث سوم

”عن ابى ذر قال رسول الله ﷺ انا اول الانبياء خلقا و آخرهم محمد (كنزالعمال) “ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوذر آدم علیہ السلام سب سے پہلے نبی ہیں اور محمد ﷺ تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی

اس حدیث میں ابتداء اور انتہاء کی حد بیان فرما دی گئی ہے۔ اور جس طرح آدم علیہ السلام سے پہلے کسی نبی کا تصور ناممکن ہے۔ کیونکہ نبی انسان ہوتا ہے اور آدم علیہ السلام پہلے انسان ہیں۔ اسی طرح انتہاء میں محمد ﷺ کے بعد نبوت کا تصور ناممکن ہے۔

حدیث چہارم

٩؍ذی الحجہ ١٠ھ بروز جمعہ عرفات کے میدان میں جبل رحمت کے پاس آپ نے

٥٩

صفحہ ٥٩

٧١

يزعم انه نبي الله وانا خاتم النبيين لانبي بعدي (ابوداؤد، ترمذي ج٢ ص٤٥) ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس سخت جھوٹے ظاہر ہوں گے۔ ان میں ہر ایک اپنے آپ کو اللہ کا نبی قرار دے گا اور حال یہ ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“

اس حدیث میں دو باتیں غور کرنے کی ہیں۔ اوّل امت کا لفظ امت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک امت دعوت یعنی وہ قوم و امت جس کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا۔ خواہ وہ قوم نبی کی دعوت قبول کرے یا قبول نہ کرے۔ بلکہ کافر رہے۔ تمام نوع انسانی تاقیامت محمد ﷺ کی امت دعوت میں شامل ہے۔ اسی لئے ہر انسان سے اس کے مرنے کے بعد اللہ کی ربوبیت، محمد ﷺ کی رسالت، اور دین اسلام کے بارے میں قبر (عالم برزخ) میں سوال ہوتا ہے۔ محمد ﷺ کے بعد اگر کوئی اور نبی و رسول ہوتا تو قبر میں اس نئے نبی و رسول کی نبوت ورسالت کے متعلق سوال ہوتا۔ چونکہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی و رسول نہیں ہیں۔ اس لئے قیامت تک ہر انسان سے محمد ﷺ ہی کی نبوت ورسالت کے متعلق سوال ہوتا رہے گا۔ امت کی دوسری قسم امت اجابت ہے۔ یعنی وہ لوگ جو نبی پر ایمان لائیں تمام انسان تاقیامت محمد ﷺ کی امت دعوت ہیں اور ان میں مسلمان امت اجابت ہیں۔ حدیث میں امت کا لفظ عام ہے۔ دونوں کو شامل ہے۔ پہلی قسم کی امت میں مسیلمہ کذاب ہے کہ وہ محمد ﷺ کا منکر تھا اور آپ ﷺ کے بعد نبوت کا مدعی ہوا۔ دوسری قسم میں محمد علی باب، بہاء اللہ اور مرزا قادیانی ہیں جو پہلے محمد ﷺ کی امت اجابت میں تھے اور آنحضرت پر ایمان رکھتے تھے پھر اپنی اپنی نبوت کے جھوٹے دعویدار ہوئے۔

حدیث سوم

”عن ابی ذرؓ قال رسول اللہ ﷺ یا اباذرؓ اول الانبیاء آدم وآخرھم محمد (کنز العمال)“ حضرت ابوذر غفاریؓ سے روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوذر آدم علیہ السلام سب سے پہلے نبی ہیں اور محمد ﷺ سب سے آخری نبی ہیں۔

اس حدیث میں ابتداء اور انتہاء کی حدیں بیان کر دی گئیں۔ جس طرح آدم علیہ السلام سے پہلے کسی نبی کا تصور ناممکن ہے۔ کیونکہ نبی انسانوں میں ہوتے ہیں اور آدم علیہ السلام پہلے انسان ہیں۔ اسی طرح انتہاء میں محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند اور نبی کی آمد ختم ہوگئی۔

حدیث چہارم

٩؍ ذی الحجہ ١٠ھ بروز جمعہ عرفات کے میدان میں حجۃ الوداع کے موقع پر تمام نوع

صفحہ ٧٣

انسانیت کو قیامت تک کے لئے ایک منشور عطا فرمایا۔ اللہ کے آخری رسول و نبی محمد ﷺ نے ایک لاکھ سے زیادہ حاضرین کے اجتماع میں اعلان کیا۔ ”يا ايها الناس انه لا نبی بعدی ولا امة بعدکم “ اے انسانو! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں ہے۔

(مسند امام احمد ج٢ ص٣٩١)

قرآن مجید میں اپنی جگہ پر اعلان ہو چکا ہے کہ امت نبی کی نسبت سے وجود میں آتی ہے اور جب محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے تو لازمی طور پر امت محمدیہ یعنی مسلمانوں کے بعد کوئی امت نہیں ہے۔ محمد ﷺ کے بعد اگر کوئی شخص نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور لوگ اس کو نبی تسلیم کر لیں تو بلاشبہ وہ نبی مسلمانوں کے گروہ سے نکل جائے گا۔ اسی طرح اس کے پیرو بھی امت محمدیہ اور مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہو جائیں گے۔ بلکہ مسلمان کہلانے کے بجائے وہ نئے نبی کی نسبت سے نئی امت کہلائیں گے۔ ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو ربوہ (چناب نگر) کے فساد میں قادیانیوں نے محمدیت مردہ باد کا نعرہ لگایا اور مسلمانوں پر سخت مظالم ڈھائے۔

واقعہ بھی یہی ہے۔ مرزا قادیانی کو نبی ماننے کے بعد قادیانیوں کا نہ محمدیت سے تعلق رہا اور نہ امت مسلمہ سے ان کا رشتہ باقی ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ ”كان الناس امة واحدة فبعث الله النبیین مبشرین ومنذرین“ لوگ ایک امت تھے۔ پھر اللہ نے بشیر و نذیر بھیجے۔ ایک گروہ ایمان لایا۔ دوسرا منکر ہو گیا اور دو امتیں مؤمن و کافر بن گئیں۔ اسی طرح قرآن مجید میں ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف رسول بن کر آئے۔ ایک گروہ ایمان لایا اور عیسائی کہلایا۔ دوسرا گروہ منکر رہا وہ اپنے پہلے لقب سے یہودی کہلاتا رہا۔

حالانکہ تورات، صحف قدیمہ اور انبیاء سلف پر دونوں ایمان رکھتے ہیں۔ اسی طرح سیدنا ومولانا محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد اگر سچے نبی کی گنجائش رہتی اور کوئی نبی آتے تو ان کو قبول کرنے والے اور ان کا انکار کرنے والے دو گروہ ہو جاتے۔ ایمان لانے والے اپنے نئے نبی کی نسبت سے نئے نام و لقب سے پکارے جاتے اور نئی امت کہلاتے۔ انکار کرنے والے اپنے قدیم نبی کی نسبت سے قدیم لقب سے پکارے جاتے۔ مرزا قادیانی اگر سچا نبی بھی ہوتا پھر بھی اس کے ماننے والے قدیم لقب مسلمان کے نام سے نہیں پکارے جا سکتے ہیں۔ امر واقعہ تو یہ ہے کہ قرآن مجید کے مسلسل اعلانات اور احادیث رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بار بار توضیحات اور صحابہ سے لے کر آج تک تمام مسلمانوں اور ان کے تمام فرقوں کے اجماع کے بعد کسی نئے سچے نبی کی آمد کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ بلکہ محمد ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کذاب و دجال ہے۔ لہٰذا کسی کذاب و دجال کی

٦٠

نبوت پر ایمان رکھنے والا محمد ﷺ کی امت میں شمار ہو کر مسلـ

حدیث پنجم

”عن انس قال رسول الله ﷺ

(بخاری) ”حضرت انسؓ سے روایت ہے۔ محمد ﷺ ساتھ ملا کر فرمایا کہ میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیو دونوں انگلیوں کے درمیان کوئی اور انگلی یا عضو نہیں ہے۔ کوئی اور نبی نہیں ہے۔ مسند امام احمد اور کنز العمال کی روایـ دی گئی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ ”لوکا اتباعی “ بالفرض اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو بھی میر خود مستقل شریعت والے نبی ہیں) حضور علیہ الصلوٰۃ و فرمایا: ”لواتاکم یوسف فاتبعتموه وترکتم السلام تمہارے درمیان آ جائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان پـ یعنی محمد ﷺ کے بعد موسیٰ علیہ السلام کی طرح صاحب کتـ ربوہ کے فسادات میں محمدیت مردہ باد کے نعرے کے بـ محمد ﷺ کا پیرو اور امتی کہنا محض دھوکہ اور فریب ہے۔

حدیث ششم

”قال علیہ السلام لعلی انت منی

لا نبی بعدی (بخاری، مسلم ج٢ ص٢٧٨) ”حضـ فرمایا کہ تم میرے لئے ایسے ہو جیسے ہارون (علیہ السلام یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اسی طرح ترمذی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عمر فاروقؓ کے لکان عمر “ بالفرض اگر میرے بعد کوئی نبی ہو سکتا تو والسلام پر نبوت ختم ہو چکی۔ اس لئے حضرت عمرؓ نبی نہیں

حدیث ہفتم

(بخاری ج١ ص٥٠١، مسلم ج٢ ص٢٤٨) میں روا ومثل الانبیاء کمثل قصر احسن بنیا

٦١

صفحہ ٧٣

نبوت پر ایمان رکھنے والا محمدﷺ کی امت میں شمار ہو کر مسلمان نہیں کہلا سکتا۔

حدیث پنجم

”عن انس قال رسول اللهﷺ بعثت انا والساعة كهاتين (بخاری) ”حضرت انسؓ سے روایت ہے، محمدﷺ نے انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی کو ایک ساتھ ملا کر فرمایا کہ میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ملے ہوئے ہیں۔ جس طرح دونوں انگلیوں کے درمیان کوئی اور انگلی یا عضو نہیں ہے۔ اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ہے۔ مسند امام احمد اور کنز العمال) روایتوں میں اس حدیث کی مزید وضاحت کر دی گئی ہے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔ ”لو كان موسى حيا ما وسعه الا اتباعی“ بالفرض اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کے سوا چارہ نہ ہوتا۔ (حالانکہ وہ خود مستقل شریعت والے نبی ہیں) حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ”لواتاكم يوسف فاتبعتموه وتركتمونى لضللتم “ بالفرض اگر یوسف علیہ السلام تمہارے درمیان آ جائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کے پیرو ہو جاؤ۔ تو یقیناً گمراہ ہو جاؤ گے۔ یعنی محمدﷺ کے بعد موسیٰ علیہ السلام کی طرح صاحب کتاب و شریعت نبی کسی کی گنجائش نہیں ہے۔ ربوہ کے فسادات میں محمدیت مردہ باد کے نعرے کے بعد کسی مرزائی کا اپنے آپ کو مسلمان اور محمدﷺ کا پیرو اور امتی کہنا محض دھوکہ اور فریب ہے۔

حدیث ششم

”قال عليه السلام لعلى انت منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبی بعدی (بخاری، مسلم ج ٢ ص ٢٧٨) ”حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تم میرے لئے ایسے ہو جیسے ہارون (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہیں۔ لیکن یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اسی طرح ترمذی شریف (حدیث کی کتاب) میں روایت ہے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت عمر فاروقؓ کے متعلق فرمایا۔ ”لوكان بعدى نبى لكان عمر“ بالفرض اگر میرے بعد کوئی نبی ہو سکتا تو عمرؓ نبی ہو سکتے۔ لیکن حضور اکرم علیہ الصلوۃ والسلام پر نبوت ختم ہو چکی۔ اس لئے حضرت عمرؓ نبی نہیں ہو سکتے۔

حدیث ہفتم

(بخاری ج ١ ص ٥٠١، مسلم ج ٢ ص ٢٤٨) میں روایت ہے۔ ”قال رسول الله مثلى ومثل الانبياء كمثل قصر احسن بنيانه ترك منه موضع لبنة فطاف به ٦١

صفحہ ٧٥

النظار يتعجبون من حسن بنيانه الا موضع تلك اللبنة فكنت انا سددت موضع اللبنة ختم بي البنيان وختم بي الرسل وفى رواية اخرى فانا اللبنة وانا خاتم النبيين وفى رواية فانا موضع اللبنة جئت فختمت الانبياء عليهم السلام وفى رواية فيقولون هلا وضعت هذه اللبنة فيتم بنيانك فقال محمد ﷺ فكنت انا سدرت وانا اللبنة“ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میری اور تمام نبیوں کی تمثیل ایک ایسے محل کی ہے۔ جس کی تعمیر بہت حسین و شاندار ہوئی۔ مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی۔ نظارہ کرنے والے اس محل میں ہر طرف گھومتے اور اس کے حسن تعمیر پر تعجب کرتے۔ مگر اس ایک اینٹ کی خالی جگہ سے حیران رہ جاتے تو میں نے اپنی نبوت سے اس خالی جگہ کو بھر دیا۔ مجھ سے اس محل کی تعمیر مکمل ہو گئی اور مجھ پر رسولوں کا خاتمہ ہو گیا۔ ایک دوسری آیت میں ہے تو وہ (آخری) اینٹ میں ہوں اور میں ہی (آخری نبی) خاتم النبیین ہوں۔ ایک اور روایت میں ہے تو اس آخری اینٹ کی جگہ میں ہوں۔ میں آیا اور نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا۔ ایک دوسری روایت میں ہے۔ نظارہ کرنے والے (تعمیر کے مالک سے) کہنے لگے کہ تم نے اس جگہ اینٹ کیوں نہیں لگائی۔ تاکہ تمہاری تعمیر مکمل اور پوری ہو جاتی۔ محمد ﷺ نے فرمایا کہ وہ آخری اینٹ میں ہوں۔﴾

اس حدیث میں تمثیل کے ذریعے ختم نبوت کے مفہوم کی وضاحت کر دی گئی۔ محمد ﷺ کی ذات اور نبوت سے اس محل کی تعمیر مکمل و تمام ہو گئی ہے۔ جب تک اس تمثیلی محل سے کوئی اینٹ اکھاڑی نہ جائے نئی اینٹ یعنی نئی نبوت کی گنجائش نہیں ہے۔

حدیث ہشتم

(مسلم شریف ج ١ ص ١٩٩) میں ہے: ”قال رسول الله ﷺ فضلت على الانبياء بست اعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب واحلت لي الغنائم وجعلت لي الارض مسجداً وطهوراً وارسلت الى الخلق كافة وختم بي النبيون “

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تمام انبیاء پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ مجھے کلمات جامعہ ملے۔ دشمنوں (کافروں) کے دلوں میں رعب ڈال کر میری مدد کی گئی۔ میرے لئے مال غنیمت حلال کیا گیا۔ (اسلام سے پہلے نبیوں اور ان کی امتوں پر مال غنیمت حرام تھا) میرے لئے ساری زمین مسجد بنا دی گئی۔ (جہاں چاہیں نماز ادا کریں) اور ساری زمین پاک کرنے والی

٦٢

بنائی گئی۔ (غسل و وضو کے لئے پانی نہ ہو تو تیمم کر کے رسول بنا کر بھیجا گیا اور مجھ پر تمام نبیوں کا سلسلہ ختم کر

حدیث نہم

(ترمذی ج ٢ ص ٥٣، مسند امام احمد) میں حضر والسلام نے فرمایا: ”ان الرسالة والنبوة قد ان بے شک رسالت اور نبوت ختم ہو چکی۔ لہذا میرے بعد

حدیث دہم

(ابن ماجہ ص ٢٩٧، حاکم، ابن خزیمہ) میں ہے اخر الامم “ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں آخری اس حدیث میں جہاں محمد ﷺ کے آخری کے بعد کسی نبی کے نہ آنے کا واضح اعلان ہے۔ وہاں سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ نبی کی تبدیلی سے امت بھی ماننے والے نہ مسلمان کہلا سکتے ہیں اور نہ امت مسلمہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہیں اور م تسلیم کریں۔ جس طرح مرزا قادیانی کا دعوائے نبو قادیانیوں کا دعوائے اسلام بھی دجل جھوٹ اور فریب مرزائیوں کو احمدی کہلانے کا بھی حق نہیں احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کے نام ہیں۔ اسی طرح مرزا ہے۔ اس کے پیروؤں کو اس کا حق نہیں ہے کہ وہ اس نام سے ایک دوسری امت پہلے سے موجود ہے۔ قادیانیوں کو چاہئے کہ اپنے آپ کو مرزا کے بانی نے اپنا ایک خاص نام ”مرزا قادیانی“ بتایا۔ کہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا پورا نام غلام احمد تھا اور الیہ میں اصل مضاف ہوتا ہے۔ مضاف الیہ تو محض نسب

٦٣

صفحہ ٧٥

بنائی گئی۔ (غسل و وضو کے لئے پانی نہ ہو تو تیمم کر کے پاک ہو جائیں) میں تمام مخلوقات کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا اور مجھ پر تمام نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔

حدیث نہم

(ترمذی ج٢ ص ٥٣، مسند امام احمد) میں حضرت انسؓ سے روایت ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ”ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی“ بے شک رسالت اور نبوت ختم ہو چکی۔ لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی۔

حدیث دہم

(ابن ماجہ ص ٢٩٧، حاکم ، ابن خزیمہ ) میں ہے۔ ”انا اخر الانبیاء وانتم اخر الامم“ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔

اس حدیث میں جہاں محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے اور ان پر نبوت ختم ہونے اور ان کے بعد کسی نبی کے نہ آنے کا واضح اعلان ہے۔ وہاں ”اخر الامم“ (آخری امت) کے لفظ سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ نبی کی تبدیلی سے امت بھی بدل جاتی ہے۔ لہٰذا محمد ﷺ کے بعد کسی کو نبی ماننے والے نہ مسلمان کہلا سکتے ہیں اور نہ امت مسلمہ میں ان کا شمار ہو سکتا ہے۔ قادیانیوں کو اس کا حق نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہیں اور محمد ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی بھی تسلیم کریں۔ جس طرح مرزا قادیانی کا دعوائے نبوت دجل فریب اور جھوٹ ہے۔ اسی طرح قادیانیوں کا دعوائے اسلام بھی دجل جھوٹ اور فریب ہے۔

مرزائیوں کو احمدی کہلانے کا بھی حق نہیں ہے۔ کیونکہ احمد اور محمد خاتم النبیین آخر الانبیاء احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کے نام ہیں۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو مسیح موعود قرار دیا ہے۔ اس کے پیروؤں کو اس کا حق نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی وقت بھی مسیحی کہیں۔ کیونکہ اس نام سے ایک دوسری امت پہلے سے موجود ہے۔

قادیانیوں کو چاہئے کہ اپنے آپ کو مرزائی کہیں۔ قادیانی نہ کہیں۔ کیونکہ ان کے مذہب کے بانی نے اپنا ایک خاص نام ”مرزا قادیانی“ بتایا ہے۔ یا پھر اپنے آپ کو غلامی کہیں یا غلام احمدی کہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا پورا نام غلام احمد تھا اور غلامی اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ مضاف مضاف الیہ میں اصل مضاف ہوتا ہے۔ مضاف الیہ تو محض نسبت اور پہچان کے لئے آتا ہے۔

٦٣

صفحہ ٧٧

حدیث یازدہم

(کنز العمال ج ٥ ص ٢٩٠) میں ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا: "یا ایها الناس ان ربكم واحد واباكم واحد ودينكم واحد ونبيكم واحد لا نبی بعدی" اے انسانو! بیشک تمہارا رب ایک ہے۔ تمہارے باپ ایک ہیں اور تمہارا دین ایک ہے اور تمہارے نبی ایک ہیں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ حدیث کی کتاب جمع الجوامع کی روایت اس کے ساتھ ملا لیجئے تو ختم نبوت کا مسئلہ اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا۔ "انما انا لكم مثل الوالد" میں تمہارے لئے باپ کی طرح ہوں۔ دوسرے لفظوں میں جس طرح جسمانی باپ دو نہیں ہوتے ہیں۔ میں تمہارا روحانی و ایمانی باپ ہوں۔ اب کوئی دوسرا روحانی و ایمانی باپ نہیں ہو سکتا۔ اس حدیث میں "انما" کا لفظ حصر و تخصیص کے لئے ہے۔ یعنی روحانی و ایمانی باپ ہونے کا مرتبہ اس امت کے لئے صرف محمد رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہے۔ کوئی دوسرا روحانی و ایمانی باپ نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے قرآن مجید میں وضاحت سے اعلان کر دیا۔ "وازواجہ امهاتهم (احزاب:٦)" محمد ﷺ کی بیویاں مومنین کی مائیں ہیں اور سب کی سب ام المؤمنین ہیں۔

مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو نبی کہا۔ اپنے پیروؤں کا روحانی و ایمانی باپ بنا اور اپنی بیوی کو ام المؤمنین کہلایا۔ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے قادیانیوں کا کوئی رشتہ محمد رسول اللہ ﷺ سے نہ روحانی رہا اور نہ ان کی بیویوں سے کوئی ایمانی رشتہ رہا۔ اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہیں اور محمد ﷺ کے روحانی فرزند بنیں۔ کتنا غلط ہے اور کتنا بڑا جھوٹ ہے۔ بے چارے سیدھے سادھے مسلمانوں کو اسلام سے پھیر کر مرتد بنانے کے سوا اور کیا ہے۔

حدیث دوازدہم

اس حدیث کے مضمون سے تمام مسلمان پڑھے، ان پڑھے، عالم، جاہل سبھی واقف ہیں کہ مرنے کے بعد ہر میت سے خواہ مؤمن ہو منافق ہو یا کافر ہو۔ منکر نکیر نامی دو فرشتے قبر میں سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے۔ تیرے نبی کون ہیں۔ تیرا دین کیا ہے۔ تیری کتاب کیا ہے۔ مؤمن جواب دیتا ہے۔ میرا رب اللہ ہے۔ نبی محمد ﷺ ہیں۔ دین اسلام ہے کتاب قرآن ہے۔ یہ سوالات ہر انسان سے اس کی قبر میں قیامت تک ہوتے رہیں گے اور انہی جوابات پر قبر کی راحت اور عذاب کا انحصار ہے۔ اگر محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی اور نبی کی آمد ہوتی۔ یہ سوال و جواب قیامت تک کے لئے نہ ہوتے۔ بلکہ محمد ﷺ کے بعد آنے والے نبی کے آجانے کے بعد

٦٤

جواب بدل جاتا۔ نکیرین جب نبی کے متعلق سوال کر نام لیتا۔ مگر حدیثوں میں وضاحت ہے اور تمام مسلمانو ہیں اور قیامت تک انہی کی نبوت کے بارے میں سوال قادیانی بھائیو! دو روزہ دنیا کے آرام و راح ابدی آخرت کو تباہ نہ کرو۔ دنیا کی زندگی کسی نہ کسی طر آخرت کی زندگی ہمیشگی کی زندگی ہے۔ وہاں کی راحت چھٹکارا نہیں ہے۔

ختم نبوت اور اجماع امت

قرآن مجید میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہ وعملوا الصلحت ليستخلفنهم في الار ولیمکنن لهم دينهم الذي ارتضى لهم ولـ وننی لا یشرکون بی شیئا (النور : ٥٥) اللہ اور عمل صالح کئے۔ البتہ ضرور ان کو زمین میں اقتدار ا خلافت عطا کی اور (اللہ کا وعدہ ہے) ضرور بالضرور ان سے قائم کرے گا۔ وہ دین جسے اللہ نے خود ان کے لئے امن سے بدل دے گا۔ لوگ اللہ کی عبادت کریں گے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت کے اولین مخاطب صحابہؓ ہیں جو نزول آیت کے وقت موجو وعدہ یہ ہے کہ ان مؤمنین صالحین کو اللہ رب العزت خلافت کا وعدہ جماعت صحابہؓ سے ہے۔ حالانکہ خلیفہ تو مفہوم یہی ہوگا کہ ظاہری خلیفہ تو فرد ہوگا۔ لیکن معنوی و ا اس فرد کی خلافت میں شریک ہوں گے۔ یہ اسی صور اور اجماعی ہو۔ ان میں جو خلیفہ کہلائے گا وہ اپنی پور ہوگا۔ اس آیت میں دوسرا وعدہ یہ ہے کہ ان مؤمنین ص کا پسندیدہ مقبول و منظور ہے۔ اللہ رب العزت صحابہؓ کرے گا۔ یعنی اقتدار بھی ان کو ملے گا اور ان کا دین

٦٥

صفحہ ٧٧

جواب بدل جاتا۔ نکیرین جب نبی کے متعلق سوال کرتے تو محمد ﷺ کے بعد آنے والے نئے نبی کا نام لیتا۔ مگر حدیثوں میں وضاحت ہے اور تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور قیامت تک انہی کی نبوت کے بارے میں سوال و جواب ہوگا۔

قادیانی باسیو ! دوروزہ دنیا کے آرام وراحت عیش وعشرت دولت واقتدار کے لئے ابدی آخرت کو تباہ نہ کرو۔ دنیا کی زندگی کسی نہ کسی طرح آرام یا تکلیف سے گزر جائے گی۔ مگر آخرت کی زندگی ہمیشگی کی زندگی ہے۔ وہاں کی راحت کبھی ختم نہ ہوگی اور وہاں کی مصیبت سے چھٹکارا نہیں ہے۔

ختم نبوت اور اجماع امت

قرآن مجید میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ”وعد الله الذين امنوا منكم وعملوا الصلحت ليستخلفنهم فى الارض كما استخلف الذين من قبلهم وليمكنن لهم دينهم الذي ارتضى لهم وليبدلنهم من بعد خوفهم امنا يعبد وننى لا يشركون بي شيئا (النور: ٥٥) “ ”اللہ نے وعدہ کیا تم لوگوں سے جو ایمان لائے اور عمل صالح کئے۔ البتہ ضرور ان کو زمین میں اقتدار خلافت عطا کرے گا۔ جیسے اگلے لوگوں کو خلافت عطا کی اور (اللہ کا وعدہ ہے) ضرور بالضرور ان کے لئے ان کے دین کو زمین میں مضبوطی سے قائم کرے گا۔ وہ دین جسے اللہ نے خود ان کے لئے پسند فرمایا ہے اور البتہ ضرور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ لوگ اللہ کی عبادت کریں گے۔ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔“

اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت کے متعدد وعدوں کا اعلان ہے اور وعدوں کے اولین مخاطب صحابہؓ ہیں جو نزولِ آیت کے وقت موجود تھے اور کلمہ (منکم) کے مخاطب تھے۔ پہلا وعدہ یہ ہے کہ ان مؤمنین صالحین کو اللہ رب العزت زمین میں خلافت واقتدار عطا فرمائے گا۔ خلافت کا وعدہ جماعت صحابہؓ سے ہے۔ حالانکہ خلیفہ تو ان میں سے کوئی ایک فرد ہوگا۔ لہٰذا اس کا مفہوم یہی ہوگا کہ ظاہری خلیفہ تو فرد ہوگا۔ لیکن معنوی و حقیقی خلافت تمام صحابہؓ کی ہوگی اور تمام صحابہؓ اس فرد کی خلافت میں شریک ہوں گے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ خلافت شورائی جمہوری اور اجتماعی ہو۔ ان میں جو خلیفہ کہلائے گا وہ اپنی پوری جماعت صحابہؓ کا نمائندہ اور ترجمان وامام ہوگا۔ اس آیت میں دوسرا وعدہ یہ ہے کہ ان مؤمنین صالحین یعنی جماعت صحابہؓ کا دین ومذہب اللہ کا پسندیدہ مقبول و منظور ہے۔ اللہ رب العزت صحابہؓ کے اسی منظور و پسندیدہ دین کو قائم وراسخ کرے گا۔ یعنی اقتدار بھی ان کو ملے گا اور ان کا دین بھی مضبوطی سے قائم ہوگا۔ نہ ان کے دین

٦٥

صفحہ ٧٩

وعقیدہ میں کوئی خرابی آئے گی اور نہ یہ کسی غیر کے ماتحت وغلام ہوں گے۔ اللہ رب العزت کا تیسرا وعدہ اس آیت میں یہ ہے کہ خوف و ہراس کی حالت کو امن وامان سکون و چین کے ماحول سے بدل دے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایک پیش گوئی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد لوگ سخت ہولناک وخوفناک حالات میں مبتلا ہو جائیں گے۔ مگر اللہ رب العزت خوف و ہراس کو امن و بیخوفی سے بدل دے گا۔

آیت مبارکہ میں صدیق اکبرؓ کی خلافت کی تصدیق وحقانیت کا اعلان ہے۔ اجماع کے حجت ہونے کی سند ہے۔ صحابہ کرامؓ کے برحق ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ انہی صحابہ کے عقیدہ دین کو اللہ رب العزت کی قبولیت و پسند کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ تمام فرقے جو صحابہ کرامؓ کی تکفیر، تفسیق یا تحقیر کرتے ہیں۔ وہ دراصل اللہ رب العزت کے فرمان کے مخالف ہیں۔ صحابہ کرامؓ کا جو دین وعقیدہ تھا وہی اہل سنت و جماعت کا دین وعقیدہ ہے۔ وہ ابو بکر صدیقؓ کو بھی اپنا امام وامیر اور خلیفہ سمجھتے ہیں۔ علی ابن ابی طالبؓ کو بھی اپنا آقا مولیٰ اور امام مانتے ہیں۔ قرآن کی صداقت دیکھئے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہؓ تھے۔ مگر ان میں سے کوئی ایک فرد بھی کسی غیر مسلم حکومت کا مطیع محکوم اور رعایا نہیں بنا اور ان کا جو دین و عقیدہ تھا وہی آج تک غالب چلا آرہا ہے۔ صحابہ کرامؓ کو یا ان کی راہ پر چلنے والوں ان کے دین و عقیدہ پر قائم رہنے والوں کو کبھی تقیہ کے ذریعے اپنا عقیدہ چھپانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ اللہ نے ان کے دین کو مضبوطی سے قائم کرنے اور تمکین واقتدار کا وعدہ کیا تھا۔ وہ ہمیشہ ظاہر رہا نہ کہ تقیہ اور تاویل کے پردوں میں چھپایا گیا۔ مرزائیوں کی طرح نئے مدعی نبوت کی پیروی کے باوجود اسلام کا نقاب اوڑھ کر منافقانہ زندگی گزارنے کی کبھی ضرورت نہ پڑی۔

خوف کو امن سے بدلنے کا جو وعدہ الٰہی تھا اس کا ایفاء تو سورج سے زیادہ روشن تاریخی حقیقت ہے۔ صحابہؓ کا دین وعقیدہ کیا تھا۔ اس کی حفاظت کے لئے ان کا متفقہ اقدام وعمل کیا تھا۔ وہ کن حالات میں مبتلا ہوئے اور اللہ کی تائید نے ان کے ساتھ کیا کیا تاریخ دانوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔ حضور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد مسیلمہ، اسود، سجاح، طلیحہ نے اپنے اپنے قبیلوں میں نبوت کا دعویٰ کیا اور ہزاروں ہزار افراد ان کے پیچھے ہولئے۔ تنہا مسیلمہ کے پاس چالیس ہزار مسلح فوج تھی۔ ان جھوٹے نبیوں کے ماننے والوں کے علاوہ منکرین زکوٰۃ کی بہت بڑی جماعت تھی۔ مسلمانوں کے لئے خوف ہراس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ مدینہ طیبہ سے باہر اسلام کا اقتدار گویا ختم ہو چکا تھا۔ ہر لمحہ یہ خوف بڑھتا جا رہا تھا کہ مرتدین مدینہ پاک پر حملہ کیا ہی چاہتے

٦٦

ہیں۔ دوسری طرف رومی شہنشاہیت اور ایرانی شہنشاہیت تھیں۔ ان پر ہول حالات میں اللہ رب العزت کی صحابہ کرام کے اجماع واتفاق سے اسلام کو بچایا اور ہمہ تن و ہم زبان ہو کر تمام مدعیان نبوت اور ان کے تھا کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں جو نبوت کا دعویٰ کرے ہیں مرتد ہیں، کافر ہیں۔

عقل کا تقاضہ بھی یہی ہے نبوت ختم ہو گئی۔ صدیق اکبر اور صحابہ کرامؓ کی صورت میں نبی نے سنبھالی۔ انسان کی دنیاوی زندگی میں بالکل نیا جانشینی غیر نبی کو کرنی پڑی۔ مگر ابو بکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ ہوتے ہوئے نبی کے تمام فرائض خلیفہ و جانشین بن کو بچایا، پھیلایا اور اسی طرح عہد بعہد چودہ سو سال چودہ سو سال سے انجام دیتے آرہے ہیں۔ پھر ان کے آمد فضول و عبث ہے اور اللہ رب العزت کا کوئی کام ہو گیا اور چودہ سو سال سے قائم و باقی ہے۔ اب اس کسی نبی کی آمد کیوں؟ اگر شریعت اسلامی میں نسخ غلط ہوگا۔ قرآن نے اسلام کو دین کامل کہا ہے۔ قرآن جھوٹے ہیں۔

اجماع صحابہؓ

ختم نبوت پر تمام صحابہؓ عقیدہ وعمل کے لحاظ ہے نہ وحی ہے۔ حضور علیہ السلام کے صحابہؓ متفق ہو کر یہ صحابہ کرامؓ سے مروی جتنے اقوال بھی ہیں ہے۔ اس عقیدے کے منکر کو کافر و مرتد قرار دے دیا ہے۔ چنانچہ حضرات صدیق اکبرؓ، عمر فاروقؓ، عثمانؓ صدیقہؓ، زبیر بن عوامؓ، سعد بن ابی وقاصؓ، عبداللہ بن ابو سعید خدریؓ، عباسؓ، انسؓ، اسماء بنت عمیسؓ، زید بن

٦٧

صفحہ ٧٩

ہیں۔ دوسری طرف رومی شہنشاہیت اور ایرانی شہنشاہیت اسلام کو مٹانے کے لئے پر تول رہیں تھیں۔ ان پر ہول حالات میں اللہ رب العزت کی تائید ہی تھی۔ جس نے ابوبکرؓ کی امامت اور صحابہ کرامؓ کے اجماع و اتفاق سے اسلام کو بچایا اور خوف کو امن سے بدل دیا۔ تمام صحابہؓ نے ہمہ دست و ہم زبان ہو کر تمام مدعیان نبوت اور ان کے پیروؤں کو فنا کر دیا اور ان سبھوں کا عقیدہ یہی تھا کہ محمدﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں جو نبوت کا دعویٰ کرے۔ وہ اور اس کے پیرو، کشتنی و گردن زدنی ہیں مرتد ہیں، کافر ہیں۔

عقل کا تقاضہ بھی یہی ہے نبوت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی اور محمدﷺ پر ختم ہو گئی۔ صدیق اکبر اور صحابہ کرامؓ کی صورت میں نبی و وحی کی ذمہ داری غیر نبی و غیر صاحب وحی نے سنبھالی۔ انسان کی دنیاوی زندگی میں بالکل نیا موڑ بلکہ ایک نیا راستہ آگیا۔ وحی ختم اور نبی کی جانشینی غیر نبی کو کرنی پڑی۔ مگر ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ نے دوسرے مؤمنین کے تعاون سے غیر نبی ہوتے ہوئے نبی کے تمام فرائض خلیفہ و جانشین بن کر ادا کئے۔ اسلام کا جھنڈا اونچا رکھا۔ اسلام کو بچایا، پھیلایا اور اسی طرح عہد بعہد چودہ سو سال سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔ جن فرائض کو غیر نبی چودہ سو سال سے انجام دیتے آ رہے ہیں۔ پھر ان فرائض کو انجام دینے کے لئے کسی نئے نبی کی آمد فضول و عبث ہے اور اللہ رب العزت کا کوئی کام عبث نہیں ہوتا۔ لہٰذا محمدﷺ پر دین کامل ہو گیا اور چودہ سو سال سے قائم و باقی ہے۔ اب اسلامی احکام میں نہ تبدیلی ہو گی نہ نسخ ہوگا۔ پھر کسی نبی کی آمد کیوں؟ اگر شریعت اسلامی میں نسخ و تبدیلی کا امکان ہے تو اسلام کو کامل دین کہنا غلط ہوگا۔ قرآن نے اسلام کو دین کامل کہا ہے۔ قرآن سچا ہے اور قرآن کے خلاف بولنے والے جھوٹے ہیں۔

اجماع صحابہؓ

ختم نبوت پر تمام صحابہ عقیدہ و عمل کے لحاظ سے متفق ہیں۔ یعنی محمدﷺ کے بعد نہ نبوت ہے نہ وحی ہے۔ حضور علیہ السلام کے صحابہ متفق ہو کر مدعیان نبوت سے لڑے اور ان کو فی النار کیا۔ صحابہ کرامؓ سے مروی جتنے اقوال بھی ہیں۔ ان میں محمدﷺ پر نبوت ختم ہونے کا اعلان ہے۔ اس عقیدے کے منکر کو کافر و مرتد قرار دے کر اس کے خلاف قتال، دینی فریضہ تسلیم کیا گیا ہے۔ چنانچہ حضرات صدیق اکبرؓ، عمر فاروقؓ، عثمان ذی النورینؓ، علی المرتضیٰؓ، ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ، زبیر بن عوامؓ، سعد بن ابی وقاصؓ، عبداللہ بن عمرؓ، امام حسنؓ، سلمان فارسیؓ، معاذ بن جبلؓ، ابوسعید خدریؓ، عباسؓ، انسؓ، اسماء بنت عمیسؓ، زید بن حارثہؓ، زید بن ثابتؓ، حذیفہ بن یمانؓ،

٦٧

صفحہ ٨٠

عبداللہ بن عباسؓ اور ان کے علاوہ تقریباً اسی (٨٠) صحابہ کرامؓ کی تصریحات موجود ہیں۔ جن میں ان سب نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ حضرت محمدﷺ آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد نہ نبی ہیں اور نہ وحی ہے اور جو کوئی بھی حضرت محمدﷺ کے بعد نبوت اور وحی کا دعویٰ کرے وہ دجال کذاب اور مفتری ہے۔ اس سے اور اس کے پیروؤں سے قتال کرنا چاہئے۔ یہاں تک کہ وہ توبہ کرے یا قتل ہو جائے۔

صحابہؓ سے لے کر آج تک تمام تابعین اتباع تابعین، مفسرین، محدثین، فقہاء، علماء خواص وعوام تمام مسلمانوں کا متفقہ بنیادی عقیدہ ہے کہ حضرت محمدﷺ آخری نبی ہیں۔ انہی کی نبوت قیامت تک قائم ہے اور انہی کا کلمہ قیامت تک جاری ہے۔ جیسا کہ سیدنا ومولانا محمد رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”عہدی الی یوم القیامۃ “ میرا دور نبوت قیامت تک ہے۔ ”لا نبی بعدی “ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ نبوت محمدی (علیہ الصلوٰۃ والسلام) دوپہر کے آفتاب کی طرح کائنات پر ضیابار ہے۔ یہاں تک کہ پہلے سے چمکنے والے ستارے اس کے نور میں چھپ گئے۔ کسی نئے ستارے کے طلوع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہاں اللہ رب العزت کے فرمانے کے مطابق ”ان الشیاطین لیوحون الی اولیائھم (الانعام:١٢١)“ ﴿شیاطین اپنے دوستوں کی طرف وحی کرتے ہیں۔﴾

یا (جھوٹے نبی وحی الٰہی کا دعویٰ کریں گے۔ حالانکہ ان کی طرف وحی نہیں کی گئی ہے) حدیثوں میں بھی قرآن مجید کے ان اعلانات کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ حضور سیدنا محمد رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ میرے بعد فریب دینے والے جھوٹے ظاہر ہوں گے اور نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ حالانکہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

لہٰذا قرآن مجید، احادیث صحیحہ، اجماع امت اور دور صحابہؓ سے لے کر آج تک مدعیان نبوت کے خلاف جہاد وقتال کے واقعات کی روشنی میں ختم نبوت کا مسئلہ واضح اور روشن ہے۔ جس میں کسی تاویل، تحریف اور ہیر پھیر کی گنجائش نہیں ہے۔ عقیدہ توحید کا منکر اور حضرت محمدﷺ کے بعد اجرائے نبوت کا قائل یکساں مرتد ہے۔ جس طرح عقیدہ توحید میں کسی تاویل وتذبذب کی گنجائش نہیں ہے۔ محمدﷺ پر ختم نبوت کا عقیدہ بھی ہر تاویل وشک سے مبرا اور پاک ہے۔ جو لوگ مؤمن رہنا چاہتے ہیں اور مؤمن مرنا چاہتے ہیں ان کے لئے ”لا الہ الا الله محمد رسول اللہ“ کے کلمے کے سوا کسی اور کلمہ کی گنجائش نہیں ہے۔ بہائی ہوں یا مرزائی۔ دونوں غیر مسلم اور مرتد ہیں۔

٦٨

خاتم النبیین

قادیانی

اور اس

نیا اور پیچید

مکرم ومحترم جناب

PDF 82

خَاتَمَ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانی مسئلہ

اور اس کا

نیا اور پیچیدہ تر مرحلہ

مکرم ومحترم جناب ڈاکٹر اسرار احمدؒ

صفحہ ٨٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کچھ عرصہ سے مسلسل اطلاعات مل رہی تھیں کہ قادیانیوں نے فرضی ناموں سے نہایت درد بھری مظلومانہ فریاد پر مشتمل خطوط کی مہم پورے زور شور سے جاری کی ہوئی ہے۔ جس کے ذریعے سادہ دل اور معاملے کی اصل نوعیت سے بے خبر مسلمانوں کے جذبات ایمانی اور جذبہ رحم سے اپیل کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ دیکھئے! کیسا ظلم ہے کہ ہمیں کلمہ پڑھنے سے روکا جا رہا ہے اور ہماری ”مسجدوں“ سے کلمہ طیبہ اور آیات قرآنیہ کو جبراً مٹایا جا رہا ہے۔ ...... اس ضمن میں چند بار مجھ سے اجتماعات جمعہ میں بھی استفسار کیا گیا۔ جس پر میں نے معاملے کی اصل نوعیت کی مختصر وضاحت کر دی۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ مجھے ہرگز اندازہ نہ تھا کہ اس قسم کی مصنوعی اور جذباتی اپیل سے حنیف رامے صاحب ایسے دانشور سیاستدان اور جناب اعتزاز احسن ایسے منجھے ہوئے قانون دان بھی متاثر ہو جائیں گے۔ میں خود پچھلے دنوں مسلسل سفر میں رہا۔ جس کی وجہ سے اخبارات کے ساتھ رابطہ نہ رہا۔ واپسی پر جناب حنیف رامے کا مکمل بیان اور اس کا مولانا اللہ وسایا صاحب کی جانب سے مفصل جواب نظر سے گزرا تو اندازہ ہوا کہ وہ قادیانی مسئلہ جو ہمارے جسد ملی میں ناسور کی حیثیت رکھتا ہے ایک نئے اور پیچیدہ تر مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ جس نے اس مسئلے کی پیچیدگی میں ایک نہایت خطرناک پہلو (Dimension) کا اضافہ کر دیا ہے اور وہ یہ کہ مولانا محمد اسلم کی گمشدگی اور پھر حادثہ ساہیوال سے قادیانیوں کے جن جارحانہ عزائم کا ظہور شروع ہوا تھا انہوں نے کلمہ طیبہ کے بیج سینوں پر سجا کر باہر نکلنے اور گرفتاریاں دینے کی صورت میں ایک مستقل، مظاہرے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ تاحال تو غنیمت ہے کہ معاملہ قادیانی نوجوانوں اور ملک کی انتظامی مشینری کے مابین ہے۔ لیکن اگر خدانخواستہ معاملہ آگے بڑھا اور قادیانی جارحیت کے جواب میں عوامی ردعمل شروع ہو گیا تو صورت بہت خوفناک ہو جائے گی۔

جہاں تک حنیف رامے اور ان کی طرز پر سوچنے والے حضرات کا معاملہ ہے۔ میں ان سے صرف یہ درخواست کرتا ہوں کہ براہ کرم اس سوال پر غور فرمائیں کہ وہ کیا سبب تھا۔ جس کے باعث محمد رسول اللہ ﷺ فداہ آباءنا و امہاتنا ایسی شفیق و ودود اور رؤف و رحیم ہستی نے ایک نام نہاد ٢

مسجد یعنی منافقین کی تعمیر کردہ مسجد ضرار کو مسمار کرنے کا حکم جس کی بناء پر حضرت عمرؓ نے اپنے عہد خلافت میں غیر مسلم کرنے سے روک دیا تھا؟

ظاہر ہے کہ اس سوال کا صرف ایک جواب ممکن کے مطابق صرف ایک مذہب نہیں ہے۔ بلکہ دین یعنی مکمل صرف بندے اور رب کے مابین ایک نجی تعلق کی حد تک معاشرے اور قومیت کی صورت اختیار کرتا ہے اور اس ریاست قائم کرنی چاہتا ہے۔ بنابریں اس کے نظام میں انف مابین ایک حسین توازن موجود ہے اور بعض معاملات میں ایسے اقدامات لازمی ہوتے ہیں جو نظام انفرادی آزا آنحضور ﷺ اور حضرت عمرؓ کے متذکرہ بالا اقدامات بھی موجودہ حکومت کا یہ فیصلہ بھی کہ قادیانی کوئی ایسی نشانی یا علا استعمال میں نہیں لا سکتے۔ جس سے عوام کو ان کے مسلمان ہو ہے۔ آنجہانی غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کا، جس کی نزدیک وہ سب لوگ کافر قرار پائے۔ جنہوں نے ان کو نہیں والسلام کے نزدیک ان لوگوں کے کفر اور ارتداد میں ہرگز ک بھی حیثیت سے انہیں مان لیا۔

اب غلام احمد قادیانی اور ان کی ذریت صلبی و مع وہ تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور ان کے حق میں گالیاں استعمال کرنے میں بھی کوئی باک محسوس نہیں کرتے حتیٰ کہ اس نئی امت کا ایک مشہور و معروف وسر براہ مملکت قائد اعظم محمد علی جناح تک کی نماز جنازہ پڑ کہ: ”مجھے خواہ ایک مسلمان ملک کا غیر مسلم وزیر قرار دے مسلمان وزیر۔ لیکن ہمارے دانشوروں اور سیاستدانوں کی ٣

صفحہ ٨٣

مسجد یعنی منافقین کی تعمیر کردہ مسجد ضرار کو مسمار کرنے کا حکم دے دیا تھا؟ اسی طرح وہ کیا سبب تھا جس کی بناء پر حضرت عمرؓ نے اپنے عہد خلافت میں غیر مسلموں کو مسلمانوں کی سی وضع قطع اختیار کرنے سے روک دیا تھا؟

ظاہر ہے کہ اس سوال کا صرف ایک جواب ممکن ہے اور وہ یہ کہ چونکہ اسلام عرف عام کے مطابق صرف ایک مذہب نہیں ہے۔ بلکہ دین یعنی مکمل نظام زندگی ہے۔ لہٰذا اس کا دائرہ کار صرف بندے اور رب کے مابین ایک نجی تعلق کی حد تک محدود نہیں رہتا۔ بلکہ وہ اوّلاً ایک معاشرے اور قومیت کی صورت اختیار کرتا ہے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنی حکومت اور ریاست قائم کرنی چاہتا ہے۔ بنابریں اس کے نظام میں انفرادی آزادی اور اجتماعی مصلحتوں کے مابین ایک حسین توازن موجود ہے اور بعض معاملات میں قومیت اور ریاست کے تحفظ کے لئے ایسے اقدامات لازمی ہوتے ہیں جو بظاہر انفرادی آزادی پر قدغن نظر آتے ہیں۔ چنانچہ آنحضورﷺ اور حضرت عمرؓ کے متذکرہ بالا اقدامات بھی ...... اسی کے ذیل میں آتے ہیں۔

موجودہ حکومت کا یہ فیصلہ بھی کہ قادیانی کوئی ایسی نشانی یا علامت تقریراً یا مرئی نقوش کے ذریعے استعمال میں نہیں لاسکتے۔ جس سے عوام کو ان کے مسلمان ہونے کا دھوکا لگے اور یہ لازمی منطقی نتیجہ ہے۔ آنجہانی غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کا، جس کی بناء پر ان کے ماننے والے لوگوں کے نزدیک وہ سب لوگ کافر قرار پائے۔ جنہوں نے ان کو نہیں مانا اور پوری امت محمد علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے نزدیک ان لوگوں کے کفر اور ارتداد میں ہرگز کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ جنہوں نے کسی بھی حیثیت سے انہیں مان لیا۔

اب غلام احمد قادیانی اور ان کی ذریت صلبی و معنوی کی ”پختہ زناری“ کا عالم تو یہ ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور ان کے حق میں لچر سے لچر زبان اور گھٹیا سے گھٹیا مذہبی گالیاں استعمال کرنے میں بھی کوئی باک محسوس نہیں کرتے۔

حتیٰ کہ اس نئی امت کا ایک مشہور و معروف فرد اپنے محسن و مربی اور بانی ریاست و سربراہ مملکت قائد اعظم محمد علی جناح تک کی نماز جنازہ پڑھنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیتا ہے کہ: ”مجھے خواہ ایک مسلمان ملک کا غیر مسلم وزیر قرار دے دیا جائے ۔ خواہ ایک غیر مسلم حکومت مسلمان وزیر۔ لیکن ہمارے دانشوروں اور سیاستدانوں کی رقت قلب اور وسعت قلبی کا عالم یہ ہے

٣

صفحہ ٨٥

کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کے جان و مال اور عزت و آبرو کو پورا تحفظ دینے اور انہیں عقیدہ و عبادات کے ضمن میں پوری آزادی دینے کے بعد صرف ان کی جارحانہ پیش قدمی کی روک تھام کے لئے کچھ ناگزیر اقدامات کئے جاتے ہیں تو ان کا ”جذبۂ رحم“ اور ”داعیۂ حمایت مظلوم“ جوش میں آ جاتا ہے۔

دیکھ کعبے میں شکست رشتہ تسبیح شیخ
بتکدے میں برہمن کی پختہ زناری بھی دیکھ

جناب رامے اور ان کے ہم خیال حضرات کے لئے طے کرنے کی اصل بات یہ ہے کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم سمجھتے ہیں یا مسلمان؟ اگر خدانخواستہ بات دوسری ہے تو انہیں ہیر پھیر کا راستہ چھوڑ کر اور خواہ مخواہ کی جذباتی دلیلوں اور اپیلوں کا سہارا لینے کی بجائے خم ٹھونک کر میدان میں آنا چاہئے اور اپنا موقف صاف صاف بیان کرنا چاہئے اور اگر بات پہلی ہے اور ان کا دل اس پر ٹکتا ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں تو پھر انہیں اپنے سینے پر پتھر رکھ کر اس کے منطقی نتیجے کو کھلے دل سے قبول کر لینا چاہئے کہ قادیانیوں کو تشبہ بالمسلمین سے روکا جائے تاکہ وہ سادہ لوح اور ناواقف مسلمانوں کو اپنے دامِ تزویر میں پھنسا کر مرتد نہ کر سکیں۔

اس موقعہ پر میں قادیانی حضرات کی خدمت میں بھی یہ گذارش ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ کے حق میں ١٩٧٤ء کا فیصلہ نرم ترین اور مناسب ترین ہے۔ جسے آپ لوگوں کو کھلے دل کے ساتھ قبول کرنا چاہئے۔ اس لئے کہ اس کے ذریعے آپ لوگوں کو ایک تسلیم شدہ اقلیت (Recognised Minority) کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ جس سے آپ کو وہ جملہ مذہبی، سماجی اور اقتصادی حقوق حاصل ہو گئے ہیں جو دوسری تمام اقلیتوں کو حاصل ہیں۔ اب خود آپ کی اپنی مصلحت کے اعتبار سے آپ کے لئے بہترین لائحہ عمل یہ ہے کہ مسلمان ممالک (بشمول پاکستان) کی حد تک اس مرتبہ اقلیت (Minority Status) پر قناعت کریں اور اپنی دعوتِ تبلیغ کے جملہ حوصلے اور ارمان غیر مسلم ممالک میں نکال لیں۔ پاکستان میں اگرچہ تاحال دوسری غیر مسلم اقلیتوں کی تبلیغی سرگرمیوں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تاہم اس وقت عالمی سطح پر احیائے اسلام کی جو تحریک برسرکار ہے۔ اس کے پیش نظر وہ دن زیادہ دور نہیں ہے۔ جب مسلمان ممالک میں پورا پورا شرعی نظام قائم ہوگا اور اس کے نتیجے میں غیر مسلموں کی تبلیغی سرگرمیوں پر مکمل

٤

پابندی بھی عائد ہو کر رہے گی اور ارتدادی سزا بھی نافذ سوڈان میں سامنے آ بھی چکی ہیں۔

پھر آپ لوگوں کے معاملے میں ایک اضاف مسلمان نہیں کہتا اور جب وہ تبلیغ کرتا ہے تو مسلمانوں اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ جب کہ آپ اپنے آ خویش کفر سے تائب ہو کر اپنے خود ساختہ اسلام میں وا کہ آج تک پاکستان میں نہ کوئی گرجا مسمار کیا گیا نہ م گاہ بھی کراچی میں ثابت و سالم کھڑی ہے۔ لیکن آپ ہے۔ بنابریں مصلحت اسی میں ہے کہ آپ اپنی عباد اختیار کر لیں اور ان کے لئے نام بھی نیا تجویز کر لیں ب واقع عبادت گاہ کا نام دارالذکر ہے ) اور ان کے باہر کریں۔ اس کے بعد آپ آزاد ہیں۔ اندر آپ جو چاہیں عبادت کریں۔ بصورت دیگر اگر آپ لوگوں رکھا۔ بلکہ اس میں قوت کے مظاہرے کا عنصر مزید ش ربوہ ( چناب نگر ) ریلوے اسٹیشن کی جارحیت آپ پاکستان کے مسلمان حکومت سے یہ مطالبہ کرنے پ سنت سے ثابت اور اجتماع امت پر مبنی سزا کو فی الف مؤثر بند باندھا جا سکے۔

اس سلسلے میں اگر قادیانی حضرات کا ط جانے اور پھر ان کے لئے اسلامی علامات اختیا مصلحت کی خاطر کرا دیئے ہیں اور کسی آئندہ حکوم وہ بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ اس لئے کہ اِقلی ایک ایسی حکومت کے دور میں ہوا تھا۔ جس سے زیا تک نہیں کیا جا سکتا اور اب جو اسی فیصلہ کے مطابق

٥

صفحہ ٨٥

پابندی بھی عائد ہوکر رہے گی اور ارتدادی سزا بھی نافذ ہو کر رہے گی۔ جس کی مثالیں ایران اور سوڈان میں سامنے آ بھی چکی ہیں۔

پھر آپ لوگوں کے معاملے میں ایک اضافی پیچیدگی یہ ہے کہ کوئی عیسائی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتا اور جب وہ تبلیغ کرتا ہے تو مسلمانوں کو صاف صاف اسلام ترک کر کے عیسائیت اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ جب کہ آپ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کو بزعم خویش کفر سے تائب ہو کر اپنے خود ساختہ اسلام میں داخلے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج تک پاکستان میں نہ کوئی گرجا مسمار کیا گیا نہ صلیب توڑی گئی۔ حتیٰ کہ یہودیوں کی عبادت گاہ بھی کراچی میں ثابت و سالم کھڑی ہے۔ لیکن آپ کی عبادت گاہوں کے خلاف اقدام ہو رہا ہے۔ بنا بریں مصلحت اسی میں ہے کہ آپ اپنی عبادت گاہوں کے لئے تعمیر کا ڈیزائن بھی کوئی نیا اختیار کر لیں اور ان کے لئے نام بھی نیا تجویز کر لیں۔ (جیسے مثلاً آپ کی علامہ اقبال روڈ لاہور پر واقع عبادت گاہ کا نام دارالذکر ہے ) اور ان کے باہر کلمہ طیبہ اور آیات قرآنیہ لکھنے سے بھی احتراز کریں۔ اس کے بعد آپ آزاد ہیں۔ اندر آپ جو چاہیں لکھیں جو چاہیں پڑھیں اور جس طرح چاہیں عبادت کریں۔ بصورت دیگر اگر آپ لوگوں نے اپنی جارحانہ دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ بلکہ اس میں قوت کے مظاہرے کا عنصر مزید شامل کر لیا تو یاد رکھئے کہ جس طرح ١٩٧٤ء کی ربوہ (چناب نگر) ریلوے اسٹیشن کی جارحیت آپ لوگوں کو بہت مہنگی پڑی تھی۔ اسی طرح اب پاکستان کے مسلمان حکومت سے یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ قتل مرتد کی کتاب وسنت سے ثابت اور اجماع امت پر مبنی سزا کو فی الفور نافذ کیا جائے۔ تاکہ فتنہ ارتداد کے آگے مؤثر بند باندھا جا سکے۔

اس سلسلے میں اگر قادیانی حضرات کا خیال یہ ہو کہ ان کے غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے اور پھر ان کے لئے اسلامی علامات اختیار کرنے پر پابندی لگنے کے فیصلے کسی نے وقتی مصلحت کی خاطر کرا دیئے ہیں اور کسی آئندہ حکومت کے لئے یہ ممکن ہو گا کہ انہیں تبدیل کرا سکے تو وہ بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ اس لئے کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخ ساز فیصلہ تو ایک ایسی حکومت کے دور میں ہوا تھا۔ جس سے زیادہ سیکولر مزاج حکومت کا پاکستان کے لئے تصور تک نہیں کیا جا سکتا اور اب جو اسی فیصلہ کے مطابق اگلا منطقی قدم اٹھایا گیا ہے تو یہ بھی کسی فرد واحد

٥

صفحہ ٨٦

کے مذہبی مزاج کا نتیجہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ اگر ایسا ہوتا تو یہ اقدام بہت پہلے ہو جاتا۔ بلکہ یہ دونوں اقدام ملکی سطح پر مسلسل عوامی دباؤ اور پورے عالم اسلام میں حالات کے احیاء اسلام کے رخ پر پیش قدمی کا نتیجہ ہیں۔ جو اگرچہ نہایت سست رفتار بھی ہے اور ہماری کوتاہیوں اور نا اہلیوں کے باعث وقتی اور فوری ردعمل اور اس کے نتیجے میں عارضی پسپائی کا شکار بھی۔ بایں ہمہ اس میں ہرگز کوئی شک نہیں کہ اب وہ دن بہت زیادہ دور نہیں ہیں۔ جب خالص اور ٹھیٹھ دین محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو عالمی غلبہ حاصل ہوگا اور کوئی مثیل مسیح نہیں بلکہ اصل اور حقیقی مسیح عیسیٰ ابن مریم نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے اور ایک جانب موجودہ نام نہاد عیسائیت کو ختم کر دیں گے اور دوسری جانب یہودیوں اور ان کے معاونین کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ لہٰذا قادیانیوں کے لئے صحیح راہ ہدایت تو یہ ہے کہ وہ جھوٹے مدعی نبوت سے کامل انقطاع اور اظہار برأت کر کے ؎

آملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک

کے مصداق دوبارہ اصل امت محمد علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں شامل ہو جائیں۔ بصورت دیگر کم از کم عافیت کی راہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک میں غیر مسلم اقلیت کی حیثیت کو دل سے قبول کر کے اپنی دعوت و تبلیغ کا رخ غیر مسلم ممالک کی جانب موڑ دیں۔

١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت

قرار دینے کے فیصلے پر تبصرہ

از: ڈاکٹر اسرار احمد (ماخوذ از میثاق، نومبر ١٩٧٤ء)

اگرچہ جس وقت میثاق کا یہ شمارہ طبع ہو کر قارئین کے ہاتھوں میں پہنچے گا، اس وقت تک قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا فیصلہ خاصہ پرانا ہو چکا ہوگا۔ تاہم جی نہیں مانتا کہ میثاق کے صفحات اللہ تعالیٰ کے اس احسان عظیم پر اس باری تعالیٰ کی جناب میں ہدیہ تشکر و امتنان پیش کرنے کی سعادت سے بالکل محروم رہ جائیں جو اس فیصلے کی صورت میں پوری ملت اسلامیہ پر ہوا ہے۔ اس لئے کہ اگرچہ عالم اسباب میں اس تاریخی فیصلہ کے بہت سے عوامل ہیں۔ تاہم واقعہ یہ ہے کہ فی الحقیقت یہ سب کچھ ایک خالص خدائی تدبیر کے نتیجے میں ہوا۔ جس نے جملہ اسباب

٦

صفحہ ٨٧

عوامل کو طوعاً و کرہاً اس طرح ایک ہی رخ میں پھیر دیا کہ اس فیصلے سے فرار کی کوئی راہ کسی کے لئے کھل ہی نہیں رہی اور بالکل معجزانہ طور پر وہ کٹھن مرحلہ طے ہو گیا۔ جس کے طے ہونے کا کوئی امکان آج سے چھ ماہ قبل کسی بڑے سے بڑے سیاسی پنڈت کو بھی نظر نہ آ سکتا تھا۔ لہٰذا اگرچہ آنحضور ﷺ کے اس فرمان مبارک کے مطابق کہ ”من لم یشکر الناس لا یشکر اللہ“ پوری ملت اسلامی کی جانب سے مبارکباد اور شکرئے کے مستحق ہیں۔ وہ عوام بھی جنہوں نے دینی غیرت اور حمیت کا بھرپور ثبوت بھی دیا اور صبر و تحمل اور نظم و ضبط کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوڑا اور علماء کرام اور دینی وسیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن بھی جنہوں نے نہایت منظم طریقے پر عوام کے جذبات کی ترجمانی کا فرض سرانجام دیا اور اس سلسلے میں سخت محنت اور مشقت بھی برداشت کی اور ہر طرح کے خطرات بھی مول لئے۔ یہاں تک کہ قید وبند کی صعوبتیں بھی جھیلیں۔ خصوصاً مولانا محمد یوسف بنوریؒ جنہوں نے علالت و پیرانہ سالی اور ضعف و نقاہت کے باوجود ایسی شدید مشقت برداشت کی جس کا تحمل صحت مند اور تنومند نوجوانوں کے لئے بھی مشکل ہو۔ پھر مبارک باد اور شکریے کے مستحق ہیں۔ ممبران اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ بھی جنہوں نے عوام کے جذبات کا بھی پورا لحاظ کیا اور خود بھی دیانت دارانہ اور حقیقت پسندانہ روش اختیار کی اور حکومت وقت بھی جس نے نہ اسے اپنے وقار کا مسئلہ بنایا۔ نہ نوشتہ دیوار کو پڑھنے سے انکار کیا۔ خصوصاً مسٹر بھٹو جو سیاسی تدبر اور فہم و فراست کے اس کڑے امتحان سے کامیابی کے پھریرے اڑاتے ہوئے نکلے۔ لیکن ہمارے شکر و سپاس کا اصل حقدار اور ہمارے تشکر و امتنان کا سزاوار حقیقی ہے۔ اللہ رب العالمین جو ”فعال لما یرید“ بھی ہے اور ”غالب علی امرہ“ بھی اور جس کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ تمام اسباب و علل اور جملہ وسائل وعوامل ”فلله الحمد في السموات والارض وله الحمد في الدنيا والآخرة“

جیسا کہ قارئین، میثاق کو معلوم ہے۔ راقم الحروف ٢٤؍ مئی سے ٣٠؍ جون (١٩٧٤ء) تک تقریباً مسلسل لاہور سے باہر رہا۔ پہلے کچھ بحالی صحت اور کچھ بعض معاملات ومسائل پر گوشہ تنہائی میں غور وفکر کے پیش نظر ایک سفر ایبٹ آباد اور وادی کاغان کا ہوا۔ پھر ایک طویل دورہ کراچی اور سندھ کے بعض دوسرے شہروں کا رہا۔ اسی دوران میں جب حادثہ ربوہ (چناب نگر) کی خبر پڑھی تو فوراً جو خیال دل میں پیدا ہوا وہ یہ تھا کہ غالباً تقدیر الٰہی میں فتنہ قادیانیت کی جس قدر

٧

صفحہ ٨٨

مہلت ملے تھی۔ وہ پوری ہوچکی اور یہ رسی جتنی دراز ہونی مقدر تھی وہ ہوچکی۔ آج سے اس کے زوال کا آغاز ہوگیا۔ گویا ایک انگریزی محاورے کے مطابق ( This is the beginning of their end ) تبھی تو ان کی عقل ماری گئی اور ایسے ہوشیار اور مکار و شاطر گروہ کے ہاتھوں اتنی بڑی حماقت کا ارتکاب ہو گیا۔ چنانچہ اثنائے سفر میں نجی گفتگوؤں میں بھی راقم اپنے اس تاثر کا اظہار کرتا رہا اور جب ٢٨؍ جون کو سکھر کی نئی تعمیر شدہ لیکن قدیم بادشاہی طرز کی عظیم جامع مسجد میں اجتماع جمعہ سے خطاب کا موقعہ ملا تو وہاں بھی راقم نے اپنے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ ایک خالص خدائی تدبیر ہے اور اس بار یہ مسئلہ انشاء اللہ العزیز ضرور تسلی بخش طریقے پر طے ہو جائے گا اور پھر جب تقریباً ڈیڑھ ماہ کی غیر حاضری کے بعد راقم نے ٥؍ جولائی کو جامع مسجد خضراء سمن آباد لاہور میں پہلا جمعہ پڑھایا تو اس موقعہ پر بھی ایک مفصل تقریر میں پھر اسی توقع کا اظہار کیا۔ یہ تقریر جو اتفاقاً ٹیپ کر لی گئی تھی۔ رفقاء و احباب نے اپنے حسن ظن کے باعث بہت پسند کی اور محترم شیخ جمیل الرحمن صاحب نے سخت محنت جھیل کر اسے صفحہ قرطاس پر بھی منتقل کر لیا۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ اسے میثاق میں شائع کر دیا جائے۔ لیکن اس وقت سفر کی پابندی کے باعث ان کی یہ خواہش پوری نہ کی جاسکی۔ ذیل میں اس کا ابتدائی حصہ درج کیا جارہا ہے۔ تاکہ ایک تو ان کی خواہش پوری ہو جائے اور ان کی محنت بار آور ہو اور دوسرے یہ نہ کہا جا سکے کہ ہمارے یہ خیالات وقوعہ کے پیش آچکنے کے بعد کی خیال آرائیوں کے قبیل سے ہیں۔

"حمد و ثنا اور تلاوت آیات کے بعد عرض کیا گیا:"

حضرات! ٢٤؍ مئی ١٩٧٤ء کے بعد آج ٥؍ جولائی ١٩٧٤ء کو ملاقات ہو رہی ہے۔ عجیب اتفاق یہ ہے کہ ادھر تو جمعہ کے ان اجتماعات میں میرے خطابات کا سلسلہ عارضی طور پر لاہور سے باہر جانے کے سبب سے معطل ہوا اور ادھر ملک میں ایک نہایت ہیجان انگیز واقعہ پیش آ گیا۔ یعنی حادثہ ربوہ (چناب نگر) اور اس کے بعد پوری شدت کے ساتھ اس مسئلے نے سر اٹھا لیا جو اگرچہ موجود تو تقریباً ایک صدی سے ہے۔ لیکن جس کا شدت کے ساتھ احساس آج سے تقریباً اکیس سال قبل ١٩٥٣ء میں ہوا تھا۔ لیکن ١٩٥٣ء کے حوادث کے بعد یہ مسئلہ دوبارہ بالکل دب گیا تھا اور بجز اس کے کہ بعض افراد جیسے جناب شورش کاشمیریؒ اور ہمارے بزرگ حکیم عبدالرحیم اشرفؒ اس کی فتنہ سامانی کی طرف توجہ دلاتے رہتے تھے یا بعض ادارے وقتاً فوقتاً کچھ کتابچے اور پمفلٹ

٨

صفحہ ٨٩

اس کے بارے میں شائع کرتے رہتے تھے۔ کوئی عوامی تحریک اس مسئلے کے بارے میں موجود نہ تھی۔ اب ربوہ کے اس حادثہ نے اس کو ازسر نو زندہ کر دیا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلی مرتبہ اس کی حقیقی فتنہ انگیزی اس کی سازشی فطرت اور اس کی مکاری کا ملک گیر احساس اجاگر ہوا اور ایوان حکومت سے لے کر خواص و عوام سب کی توجہ ادھر مبذول ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس مرتبہ جو یہ مسئلہ اٹھا تو وہ کسی سیاسی پارٹی کی کوشش اور محنت سے نہیں اٹھا۔ بلکہ میں نے جہاں تک حالات کا تجزیہ کیا ہے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ خالص ایک خدائی تدبیر ہے کہ اس طائفے کی عقل ماری گئی اور اس نے خود ہی اپنے ایک انتہائی غلط اقدام سے اس مسئلے کو زندہ کر دیا۔

یہ فتنہ اپنے سازشی کردار اور خاموشی لیکن انتہائی مہارت اور مشاقی کے ساتھ جسد ملت میں سرطان کے پھوڑے کی طرح جڑیں جمانے کے اعتبار سے پوری ملت اسلامیہ کی تاریخ میں منفرد مقام رکھتا ہے اور عام طور پر اس کی ہلاکت انگیزی کا لوگوں کو اندازہ نہ تھا۔ بلکہ تعلیم یافتہ حضرات میں سے بھی اکثر لوگ اس سے بالکل ناواقف تھے یا اس کے بارے میں گوناگوں غلط فہمیوں میں مبتلاء تھے۔ اس مرتبہ جو یہ مسئلہ اٹھا ہے تو اگر چہ قادیانیوں نے اس کا کریڈٹ بھٹو صاحب کو دینے کی کوشش کی ہے۔ تاہم اسے بھی ان کی سابقہ مکاریوں کا ایک تتمہ یا ضمیمہ ہی سمجھنا چاہئے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس دفعہ اس مسئلہ کے ابھرنے اور اٹھنے میں نہ حکومت کا کوئی عمل دخل ہے نہ کسی اپوزیشن پارٹی کا ہاتھ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ علماء کی کسی تنظیم یا جماعت کا بھی اس میں کوئی دخل نہیں ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس بار اس کے کریڈٹ کا کوئی شخص اور کوئی سیاسی پارٹی دعویٰ نہیں کر سکتی۔ بلکہ جیسا کہ میں نے عرض کیا۔ اس مرتبہ یہ مسئلہ ایک خالص خدائی تدبیر کے تحت اٹھا ہے اور اس کا کریڈٹ اگر کسی کو پہنچتا ہے تو وہ صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات گرامی ہے۔

میرے اس یقین کی بنیاد یہ حقیقت ہے کہ اس مرتبہ قادیانیوں کی طرف سے ربوہ (چناب نگر) سٹیشن پر جو اقدام ہوا وہ ان کے اپنے اساسی فلسفے، بنیادی طریق کار اور اپنے سابق طرز عمل سے بالکل مختلف ہے۔ ان کا رویہ اور طریقہ ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ حکومت وقت کو سلام کرو اور اس کی کاسہ لیسی، مدح سرائی اور اس کی ثناء خوانی کر کے اس سے مراعات حاصل کرو اور ان مراعات کے تحت غیر محسوس طور پر اندر ہی اندر اپنی جڑیں پھیلاؤ۔ امت مسلمہ سے براہ راست تصادم سے ہمیشہ کنی کترانا ان کا وطیرہ رہا ہے۔ یہی ان کا ابتداء سے فلسفہ ہے۔ یہی ان کا طریق

٩

صفحہ ٩٠

کار رہے۔ انہوں نے نہ کبھی سیاسی میدان میں خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی کسی موقع پر جارحیت کا کوئی انداز اختیار کیا۔ اس لئے کہ سیاست کا مبتدی طالب علم بھی یہ بات جانتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی جمعیتیں اور جماعتیں یا فرقے اور گروہ کسی ملک میں بھی جارح ہو کر نہیں جی سکتے۔ مظلوم و مجروح ہو کر رہنے میں تو پھر بھی ان کے زندہ رہنے کا امکان رہتا ہے۔ جارحیت کی صورت میں تو سوائے خاتمے کے اور کوئی صورت ہی نہیں۔ یہی فلسفہ تھا جس کے سہارے یہ آج تک پنپتے رہے ہیں۔ اسی فلسفے پر وہ انگریزی دور میں پوری طرح کار بند رہے۔ حکومت برطانیہ کی قصیدہ گوئی، اس کی خوشامد، اس کو رحمت خداوندی قرار دے کر، اس کو بقاء و ترقی کی دعائیں دے کر، اس کے مقاصد و مفادات میں ممد و معاون ہو کر، اس کے زیر سایہ اور زیر عاطفت رہ کر، اور اس سے مراعات حاصل کر کے جسد ملت میں یہ سرطان کے مانند اپنی جڑیں پھیلاتے رہے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی یہ اسی طریق کار پر عمل پیرا رہے ہیں کہ خواہ کوئی بھی حکومت ہو اور کوئی بھی شخص یا جماعت برسر اقتدار ہو۔ خود کو اس کا وفادار ثابت کریں اور خوشامد کے ذریعے مراعات پر مراعات حاصل کرتے چلے جائیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ نہ صرف ان کی طرف سے جارحیت کا ارتکاب ہوا۔ بلکہ انہوں نے اس جارحیت کو وقت کی حکمران سیاسی پارٹی سے منسوب کرنے کی حماقت کر کے حکومت وقت کو اپنے مدمقابل لا کھڑا کیا۔ گویا ان کی حماقت کے نتیجے میں حکومت اور عوام دونوں ایک صف میں کھڑے ہو گئے اور حکومت اور عوام بلکہ حکمران جماعت اور اپوزیشن کے مابین کسی قسم کی سیاسی غلط فہمی کے پیدا ہونے کا امکان ختم ہو گیا۔ لہٰذا ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ایک طرف تو یہ مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا۔ دوسری طرف خود بخود حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ حکومت اور عوام سیاسی پارٹیوں کی باہمی کشاکش کی نوبت آئے بغیر یہ امید ہو چلی ہے کہ اس مرتبہ انشاء اللہ اس مسئلہ کا ایسا حل ضرور نکل آئے گا جو امت کے لئے قابل قبول ہو۔ اس سے پہلے کبھی ایسی صورت حال رونما نہیں ہوئی کہ اس مسئلے کے حل کی طرف کوئی ادنیٰ سا اقدام بھی ہوا ہو۔ لیکن اس مرتبہ تائید ایزدی سے ایسے حالات خود بخود پیدا ہو گئے ہیں کہ انشاء اللہ العزیز اس بار یہ مسئلہ کھٹائی میں نہیں پڑ سکے گا۔ اس لئے کہ بحمد اللہ اس حد تک معاملہ آ گیا ہے کہ ایک طرف ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی عدالت کا تقرر ہوا ہے۔ جس کے (Terms of Reference) کافی وسیع کر دیئے گئے ہیں۔ تمام معاملات اس عدالت کے سامنے لائے جا رہے ہیں۔ اگر یہ عمل جاری رہا تو اس گروہ کا گھناؤنا ١٠

کردار اس تحقیقی عدالت کے سامنے آجائے گا اور اس گروہ کا مقام دائرہ ملت کے اندر نہیں بلکہ باہر با اختیار ادارے یعنی ملک کی اسمبلی اور پارلیمنٹ ہے۔ یہ دونوں صورتیں اس مسئلہ کے صحیح حل کے سے بالکل قطع نظر کر لیجئے کہ اس مسئلہ کے حل کے چاہتی ہے اور اپوزیشن پارٹیاں کیا چاہتی ہیں۔ الغرض عرض کرتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے شکر کا مقام ہے طور پر جو صحیح اقدامات کئے جاسکتے ہیں وہ کر لئے مسئلہ انشاء اللہ ضرور حل ہو جائے گا۔ البتہ اس موقع احتیاط تو عوام کو کرنی چاہئے کہ معاملہ کسی صورت اختیار نہ کرنے پائے۔ اس لئے کہ یہ قادیانیوں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ١٩٥٣ء میں بھی قادیانیوں لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی یہ کوشش بھی تھی کہ عوام کے مابین شدید نوعیت کا تصادم پیدا ہو جائے لگ گیا تو وہ جو چاہتے تھے وہ ہو گیا اور ان کی انگیزی کی جارہی ہے۔ اب تک جہاں بھی فساد وہاں ابتداء ان ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور اسے خیز اور دھماکہ خیز صورت بنا دیا جائے اور حالات (Law & Order) کا گھمبیر مسئلہ اٹھ کھڑا ہو جائے۔ نتیجتاً موجودہ دستوری اور آئینی نظام میں خلل واقع ہو جائے۔ فوج کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ خالص انتظامی معاملہ ہر قسم کی بدامنی اور ہنگامے کو فرو کر دینا اپنا فرض عافیت نظر آتی ہے کہ ملک میں بڑے پیمانے

صفحہ ٩١

کردار اس تحقیقی عدالت کے سامنے آجائے گا اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گی کہ اس گروہ کا مقام دائرہ ملت کے اندر نہیں بلکہ باہر ہے۔ دوسری طرف اس ملک کے اعلیٰ ترین بااختیار ادارے یعنی ملک کی اسمبلی اور پارلیمنٹ میں بھی اس مسئلے پر باقاعدہ غور و فکر شروع ہو گیا ہے۔ یہ دونوں صورتیں اس مسئلہ کے صحیح حل کے لئے نہایت مناسب ہیں۔ اس وقت اس بات سے بالکل قطع نظر کر لیجئے کہ اس مسئلہ کے حل سے کس کا کیا مفاد وابستہ ہے۔ حکمران پارٹی کیا چاہتی ہے اور اپوزیشن پارٹیاں کیا چاہتی ہیں۔ ان سب سے صرف نظر کرتے ہوئے میں یہ بات عرض کرتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے شکر کا مقام ہے کہ اس مسئلہ کے حل کے لئے قانون اور دستوری طور پر جو صحیح اقدامات کئے جاسکتے ہیں وہ کر لئے گئے ہیں اور یہ امید پیدا ہو چلی ہے کہ اس مرتبہ یہ مسئلہ انشاء اللہ ضرور حل ہو جائے گا۔ البتہ اس موقعہ پر تین احتیاطوں کی سخت ضرورت ہے۔ ایک احتیاط تو عوام کو کرنی چاہئے کہ معاملہ کسی صورت میں بھی ہنگامہ، ایجی ٹیشن اور دنگے فساد کی شکل اختیار نہ کرنے پائے۔ اس لئے کہ یہ قادیانیوں کے جال میں پھنسنے کے مترادف ہوگا۔ یعنی معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ١٩٥٣ء میں بھی قادیانیوں نے پاکستان سے نقل مکانی کا فیصلہ کر لیا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی یہ کوشش بھی تھی کہ کسی طرح ہنگامہ کی صورت پیدا ہو اور حکومت اور عوام کے مابین شدید نوعیت کا تصادم پیدا ہو جائے اور جب وہ اس میں کامیاب ہو گئے اور مارشل لاء لگ گیا تو وہ جو چاہتے تھے وہ ہو گیا اور ان کے قدم جم گئے۔ اب بھی ان کی طرف سے اشتعال انگیزی کی جارہی ہے۔ اب تک جہاں بھی فساد اور لوٹ مار کا معاملہ ہوا یا فائرنگ تک نوبت پہنچی وہاں ابتداء ان ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور انہوں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس کو ایک ہنگامہ خیز اور دھماکہ خیز صورت بنا دیا جائے اور حالات کا رخ اس طرف پھیر دیا جائے کہ ملک میں (Law & Order) کا گمبھیر مسئلہ اٹھ کھڑا ہو، تاکہ حکومت اور عوام میں خوفناک تصادم ہو جائے۔ نتیجتاً موجودہ دستوری اور آئینی نظام درہم برہم ہو جائے اور اختیارات فوج کے ہاتھوں میں منتقل ہو جائیں۔ فوج کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو کسی سیاسی یا دینی مسئلہ کی تائید یا مخالفت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ خالص انتظامی معاملہ سمجھ کر (Law & Order) قائم کرنے کے لئے ہر قسم کی بدامنی اور ہنگامے کو فرو کر دینا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔ لہٰذا قادیانیوں کو اسی میں اپنی عافیت نظر آتی ہے کہ ملک میں بڑے پیمانہ پر لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ کھڑا کر دیا جائے۔ عوام اور

١١

صفحہ ٩٣

حکومت میں کسی طرح شدید تصادم کرا دیا جائے۔ آپ نے بھی سنا ہو گا کہ ربوہ میں کسی جگہ نمایاں طور پر یہ عبارت لکھی گئی تھی کہ خدا اپنی فوجوں کے ساتھ آ رہا ہے۔ گویا انہوں نے اپنی طرف سے اس بات کا پورا اہتمام کر لیا تھا کہ کسی طرح ملک میں سول ایڈمنسٹریشن فیل ہو جائے اور فوج حکومت کے اختیارات اپنے ہاتھ میں سنبھال لے۔ تا کہ ایک طرف دستور معطل ہو جائے اور دوسری طرف وہ اپنے سازشی طور طریقوں سے فوج کو متاثر کر کے فائدہ اٹھا سکیں۔ لہٰذا اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ عوام ہر قسم کی اشتعال انگیزی پر ضبط و تحمل اور صبر سے کام لیں اور کسی وقت بھی کوئی ایسی صورتحال پیدا نہ ہونے دیں۔ جس سے (Law & Order) کا مسئلہ کھڑا ہو جائے۔ اگر اس موقعہ پر قادیانیوں کی اشتعال انگیزی کے جواب میں ہماری جانب سے بھی اسی قسم کا معاملہ ہو گیا ۔ تو درحقیقت یہ قادیانیوں کی تدبیر کی کامیابی ہوگی اور گویا ہم خود ان کے جال میں پھنس جائیں گے۔

دوسری احتیاط تمام سیاسی اور دینی پارٹیوں کو یہ کرنی چاہئے کہ اس مسئلہ کے اٹھانے اور اس کے حل کا کریڈٹ لینے کی کوشش سے بھر پور اجتناب کیا جائے۔ کسی سیاسی پارٹی کی جانب سے اس مسئلے سے سیاسی مفاد حاصل کرنے کی ادنیٰ سی کوشش بھی پورے معاملہ کو خراب کر سکتی ہے۔ لہٰذا اس سے دامن بچانا از حد ضروری ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس موقعہ پر کسی پارٹی کی جانب سے اس رجحان کا اظہار کہ یہ معاملہ اس کی کوششوں سے اٹھا ہے اور اس کی کامیابی کا سہرا اس کے سر بندھنا چاہئے ۔ انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

تیسری احتیاط یہ ہونی چاہئے کہ کسی موقع پر بھی اس معاملہ کو حکومت اور حزب اختلاف کے مابین طاقت آزمائی کا رنگ نہ دیا جائے۔ ماضی میں ایسا ہو چکا ہے کہ اس مسئلے سے بعض گروہوں اور سیاسی پارٹیوں نے سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی اور اس کو حکومت (Versus) حزب اختلاف کا مسئلہ بنا دیا۔ جس کے نتیجہ میں مسئلہ حل ہونے کے بجائے لاینحل بن گیا۔ اس موقع پر یہ صورتحال پیدا نہیں ہونی چاہئے۔ اس سلسلے میں یہ بات نہایت امید افزا اور اطمینان بخش ہے اور گویا ایک نہایت نیک شگون کا درجہ رکھتی ہے کہ اس بار متحدہ مجلس عمل ( تحفظ ختم نبوت) کی قیادت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کو سونپی گئی ہے۔ جو ایک خالص غیر سیاسی شخصیت ہیں اور چاہے ملک کے ہر شہری کی طرح ان کے بھی کچھ مخصوص سیاسی نظریات ہوں۔ بہر حال وہ

١٢

عملی سیاست کے میدان سے بالکل علیحدہ رہتے ہوئے ص مصروف ہیں۔ مجھے قوی امید ہے کہ مولانا کی قیادت میں جائے گی اور معاملہ حکومت بمقابلہ حزب اختلاف کا نہیں ب اگر مسئلے کے حل کا کریڈٹ حکمران پارٹی لینا چاہتی ہو تو دو اس سے ہونی چاہئے کہ اس مرتبہ کسی طرح یہ مسئلہ ہمیشہ ہ مطابق حل ہو جائے۔ میں اسی بات کو سکھر کے ایک اجتماع سے اپنی یہ گزارشات علماء کرام اور سیاسی جماعتوں کے رہ اس کا اظہار کر رہا ہوں کہ اس مرتبہ یہ مسئلہ خود قادیانیوں سے اٹھا ہے۔ اس مسئلہ کے اٹھانے میں کسی سیاسی پارٹی تدبیر ہے۔ اللہ نے ہمیں موقع عطا فرمایا ہے کہ ہم اس م نے کفرانِ نعمت کیا تو کہیں کہا جا سکتا کہ یہ مسئلہ کتنے طویل ا جائے۔ اس مسئلہ کو نئے سرے سے اٹھانا آسان نہیں ہوگا دب گیا تھا وہ آپ کو معلوم ہے۔ لہٰذا اس موقع پر ہمیں پور اور ہر قسم کی اشتعال انگیزی پر ضبط و تحمل کا ثبوت دیتے ہو رکھنا چاہئے۔ دلائل سے اپنی بات منوانے کی کوشش کر چاہئے۔ اس کو حکومت اور حزب اختلاف کے مابین نزاعی اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش سے ہر سیاسی پارٹی بالخصو خاص طور پر پیش نظر رکھنی چاہئے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ م ہوا ہے اور بڑی اعلیٰ سطح پر یہ احساس اجاگر ہوا ہے کہ اس م حل تلاش کرنے کی واقعتاً ضرورت ہے۔ یہ صورتحال بڑ چاہئے کہ ایوان نمائندگان پر امن فضا میں اس مسئلہ کو اپ مسلمہ کے لئے قابلِ قبول ہو۔

جہاں تک اس مطالبہ کا تعلق ہے کہ قادیانیوں یہ ہے کہ مولانا امین احسن اصلاحی کے بقول اس سے زیا

١٣

صفحہ ٩٤

عملی سیاست کے میدان سے بالکل علیحدہ رہتے ہوئے صرف علمی اور تدریسی مشاغل میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ مجھے قوی امید ہے کہ مولانا کی قیادت میں یہ تحریک سیاست کی نذر ہونے سے بچ جائے گی اور معاملہ حکومت بمقابلہ حزب اختلاف کا نہیں بنے گا۔ بلکہ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ اگر مسئلے کے حل کا کریڈٹ حکمران پارٹی لینا چاہتی ہو تو وہ بے شک لے لے۔ ہمیں ساری دلچسپی اس سے ہونی چاہئے کہ اس مرتبہ کسی طرح یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کے مطالبے کے مطابق حل ہو جائے۔ میں اسی بات کو سکھر کے ایک اجتماع میں بھی بیان کر چکا ہوں۔ مختلف ذرائع سے اپنی یہ گزارشات علماء کرام اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں تک بھی پہنچا چکا ہوں اور آج پھر اس کا اظہار کر رہا ہوں کہ اس مرتبہ یہ مسئلہ خود قادیانیوں کی حماقت سے اٹھا ہے۔ پورے زور شور سے اٹھا ہے۔ اس مسئلہ کے اٹھانے میں کسی سیاسی پارٹی کا کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ خالص خدا کی تدبیر ہے۔ اللہ نے ہمیں موقع عطا فرمایا ہے کہ ہم اس صورتحال سے صحیح فائدہ اٹھالیں۔ اگر ہم نے کفران نعمت کیا تو نہیں کہا جا سکتا کہ یہ مسئلہ کتنے طویل عرصے کے لئے دوبارہ سرد خانے میں چلا جائے۔ اس مسئلہ کو نئے سرے سے اٹھانا آسان نہیں ہوگا۔ ١٩٥٣ء کے بعد سے یہ مسئلہ جس طرح دب گیا تھا وہ آپ کو معلوم ہے۔ لہٰذا اس موقع پر ہمیں پورے دینی اور سیاسی فہم کا ثبوت دینا چاہئے اور ہر قسم کی اشتعال انگیزی پر ضبط و تحمل کا ثبوت دیتے ہوئے پرامن ذرائع سے اپنا مطالبہ جاری رکھنا چاہئے۔ دلائل سے اپنی بات منوانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ہنگامہ آرائی سے دامن بچانا چاہئے۔ اس کو حکومت اور حزب اختلاف کے مابین نزاعی مسئلہ بنانے سے پہلو تہی کرنی چاہئے اور اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش سے ہر سیاسی پارٹی بالخصوص اپوزیشن کو بچنا چاہئے۔ ہم کو یہ بات خاص طور پر پیش نظر رکھنی چاہئے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت کی سطح پر اس فتنہ پر تشویش کا اظہار ہوا ہے اور بڑی اعلیٰ سطح پر یہ احساس اجاگر ہوا ہے کہ اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اس کا صحیح حل تلاش کرنے کی واقعتاً ضرورت ہے۔ یہ صورتحال بڑی اطمینان بخش ہے۔ لہٰذا ہمیں موقع دینا چاہئے کہ ایوان نمائندگان پرامن فضا میں اس مسئلہ کو اس صحیح حل تک پہنچا سکے۔ جو پوری امت مسلمہ کے لئے قابل قبول ہو۔

جہاں تک اس مطالبہ کا تعلق ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ مولانا امین احسن اصلاحی کے بقول اس سے زیادہ نرم کوئی اور مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ اس لئے

١٣

صفحہ ٩٥

کہ کسی کمیونٹی (Community) کو باقاعدہ اقلیت (Minority) تسلیم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اسے بہت سے قانونی حقوق اور تحفظات دے دیئے جائیں۔ یہ گویا ایک اعتبار سے اس کی قانونی حیثیت کا اقرار (Recognition) اور بین الاقوامی سطح پر اس کے حقوق کا اعتراف ہے۔ اگر کوئی ملک کسی کمیونٹی کو اپنے ہاں اقلیت (Minority Community) کی حیثیت سے تسلیم کر لے تو گویا یونائیٹڈ نیشنز کے تمام ادارے اس کے پیش پناہ ہو گئے۔ یو۔این۔او اس کی کسٹوڈین بن گئی۔ بین الاقوامی عدالت اس کے معاملات میں مداخلت کی مجاز ہو گئی۔ بحیثیت اقلیت ان کے حقوق آپ کو باقاعدہ طے کرنے ہوں گے اور ان کو اپنی کتاب دستور میں مندرج کرنا ہوگا۔ ان حقوق کی ادائیگی کی آپ کو ضمانت دینی ہوگی اور آپ کے ملک کی عدالت عالیہ ان حقوق کی نگہداشت کرے گی۔ قادیانیوں کے لئے اس سے زیادہ فیاضانہ سلوک کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ ختم نبوت کا عقیدہ امت مسلمہ کا ایک ایسا اجماعی عقیدہ ہے کہ اس میں کسی اعتبار سے رخنہ ڈالنا یا دراڑ پیدا کرنا ہمیشہ سے ارتداد کی ایک پختہ اور متفق علیہ بنیاد رہی ہے۔ دوسری طرف قتل مرتد اور خصوصاً منظم مرتدین کے ساتھ قتال کے مسئلے پر بھی ہمیشہ سے امت کا اجماع ہے۔ یہ تو اس دور کی برکات ہیں۔ بقول اکبر الہ آبادی مرحوم کہ:

گورنمنٹ کی خیر یارو مناؤ گلے میں جو آئیں وہ تانیں اڑاؤ
کہاں ایسی آزادیاں تھیں میسر انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ

کہ جس نے جو چاہا کہہ دیا اور جو جی میں آیا دعویٰ کر دیا اور اسے کوئی فکر نہیں کہ میرا حشر کیا ہوگا اور میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟ مرزا قادیانی کے تمام دعاوی برٹش راج میں ہوئے۔ یہ دعاوی برطانوی سامراج کے اپنے مفاد میں تھے۔ پھر مسلمانوں میں انتشار فکر و نظر اس کو عین مطلوب تھا۔ لہٰذا وہ کیوں ان کا نوٹس لیتا۔ اس نے تو ان کی سرپرستی کی اور خوب سرپرستی کی۔ اس کی سرپرستی اور نگہداشت میں یہ پودا نہیں، جھاڑ جھنکار نشو و نما پاتا رہا۔ اگر کہیں خلافت راشدہ کا دور ہوتا یا کوئی بھی اسلامی حکومت ہوتی تو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جاتا۔ ایسا دعویٰ کرنے والے کا مقام دار و رسن ہوتا یا پھر اس دعویٰ کو ماننے والوں کے ساتھ باقاعدہ قتال ہوتا، ان کی جان اور ان کا مال مسلمانوں کے لئے مباح قرار پاتا اور ان کے ساتھ معاملہ وہی کیا جاتا جو محارب کفار اور مشرکین کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے۔

١٤

حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ کا سینہ بڑا کشاد ہی نازک مسئلہ سمجھا گیا ہے۔ عام طور پر جو یہ بات مشہو بہت بڑا مغالطہ ہے۔ ہمارے ہاں تکفیر کا معاملہ بہت کم ہ مختلف عقائد اور مختلف اعمال پر لگتا رہا ہے۔ متعین افرا ہے۔ آپ کو کتنی ہی مثالیں ایسی ملیں گی کہ کسی اسلامی ح جماعت کی تکفیر کر کے اس کو جسد ملت سے کاٹ پھینکا ساتھ کیا گیا ہے کہ جن کے قول اور عقیدہ کی کوئی تاویل ا یا کفر کا ایسا ثبوت فراہم ہو گیا ہو جس کی تردید ممکن نہ ہو۔ قتل سے قبل پوری طرح افہام و تفہیم کا طریقہ اختیار کیا تاریخ آپ کو بتائے گی کہ کتنی معمولی، چھوٹی اور بالکل سزائیں دی جاتی تھیں اور کس طرح بے دریغ ان کو موس مزاج اس کے بالکل برعکس رہا ہے۔ لیکن قادیانیوں کا ہے کہ اگر اس سے صرف نظر کیا گیا تو ملت کی شیرازہ در حقیقت وہ رخنہ اور فتنہ ہے کہ جس سے وہ بنیاد ہی منہ ہے۔ نبوت سے کم تر درجہ کے بہت سے فتنے ہمار برداشت کیا ہے۔ لیکن نبوت کا دروازہ وہ دروازہ ہے ک طور پر امت میں تفریق کا ایک مسلسل عمل شروع ہو جائے ہے کہ اگر کوئی دعویٰ نبوت کرے تو لازماً اس کے دو نتائج اور اس کا انکار کرنے والا کافر قرار پائے گا۔ نبی ایک و ایمان کا معیار بن کر آتا ہے جو اس کو نہ مانے چاہے و خدا کو مانتا ہو اور خالص توحید کے ساتھ مانتا ہو۔ وہ آخ مانتا ہو۔ جن کی خبر انبیاء و رسل دیتے چلے آئے ہیں۔ و سے پہلے آنے والے تمام نبیوں اور رسولوں کو مانتا ہو مانتا ہو۔ زاہد ہو، عابد ہو، بڑا ہی متقی ہو۔ لیکن مجرد اس با اس پر کفر کا ٹھپہ لگ جائے گا اور وہ مؤمن نہیں بلکہ کاف نتیجہ تفریق ہے۔ غور کیجئے کہ یہود اور نصاریٰ کے مابین

١٥

صفحہ ٩٥

حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ کا سینہ بڑا کشادہ رہا ہے۔ ہمارے ہاں تکفیر کا مسئلہ بہت ہی نازک مسئلہ سمجھا گیا ہے۔ عام طور پر جو یہ بات مشہور ہے کہ تکفیر ایک آسان سا معاملہ ہے تو یہ بہت بڑا مغالطہ ہے۔ ہمارے ہاں تکفیر کا معاملہ بہت کم ہوا ہے۔ عام طور پر ہمارے ہاں کفر کا فتویٰ مختلف عقائد اور مختلف اعمال پر لگتا رہا ہے۔ متعین افراد گروہوں کی باقاعدہ تکفیر شاذ ہی کبھی ہوئی ہے۔ آپ کو گنتی کی مثالیں ہی ملیں گی کہ کسی اسلامی حکومت نے متعین طور پر کسی متعین شخص یا جماعت کی تکفیر کر کے اس کو جسد ملت سے کاٹ پھینکا ہو۔ ارتداد یا تکفیر کا معاملہ انہی افراد کے ساتھ کیا گیا ہے کہ جن کے قول اور عقیدہ کی کوئی تاویل اور توجیہہ ممکن ہی نہ رہی ہو اور صریح ارتداد یا کفر کا ایسا ثبوت فراہم ہو گیا ہو جس کی تردید ممکن نہ ہو۔ پھر ایسے افراد کے ساتھ بھی انتہائی سزا یعنی قتل سے قبل پوری طرح افہام وتفہیم کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں عیسائیت کی تاریخ آپ کو بتائے گی کہ کتنی معمولی، چھوٹی اور بالکل فروعی باتوں پر کیسی کیسی بہیمانہ اور وحشیانہ سزائیں دی جاتی تھیں اور کس طرح بے دریغ ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا۔ ہمارا اجتماعی مزاج اس کے بالکل برعکس رہا ہے۔ لیکن قادیانیوں کا معاملہ یہ ہے کہ انہوں نے وہ رخنہ پیدا کیا ہے کہ اگر اس سے صرف نظر کیا گیا تو ملت کی شیرازہ بندی ممکن ہی نہیں رہے گی۔ دعویٰ نبوت در حقیقت وہ رخنہ اور فتنہ ہے کہ جس سے وہ بنیاد ہی منہدم ہو جاتی ہے۔ جس پر اسلام کا قصر کھڑا ہے۔ نبوت سے کم تر درجہ کے بہت سے فتنے ہمارے ہاں اٹھتے رہے اور امت نے انہیں برداشت کیا ہے۔ لیکن نبوت کا دروازہ وہ دروازہ ہے کہ اگر اس کو ایک ہی بار کھول دیا گیا تو منطقی طور پر امت میں تفریق کا ایک مسلسل عمل شروع ہو جائے گا۔ جس کی کوئی حد مقرر نہیں ہو سکتی۔ ظاہر ہے کہ اگر کوئی دعویٰ نبوت کرے تو لازماً اس کے دو نتائج مرتب ہوں گے۔ اس کو ماننے والا مؤمن اور اس کا انکار کرنے والا کافر قرار پائے گا۔ نبی ایک میزان اور فرقان بن کر آتا ہے۔ وہ کفر وایمان کا معیار بن کر آتا ہے جو اس کو نہ مانے چاہے وہ دیگر تمام باتوں کو مانتا ہو یہاں تک کہ وہ خدا کو مانتا ہو اور خالص توحید کے ساتھ مانتا ہو۔ وہ آخرت کو مانتا ہو اور ان تمام تفاصیل کے ساتھ مانتا ہو۔ جن کی خبر انبیاء ورسل دیتے چلے آئے ہیں۔ وہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اس نبی سے پہلے آنے والے تمام نبیوں اور رسولوں کو مانتا ہو۔ تمام صحیفوں اور کتابوں کو مانتا ہو۔ ملائکہ کو مانتا ہو۔ زاہد ہو، عابد ہو، بڑا ہی متقی ہو۔ لیکن مجرد اس بات سے کہ اس نے ایک نبی کا انکار کر دیا۔ اس پر کفر کا ٹھپہ لگ جائے گا اور وہ مؤمن نہیں بلکہ کافر قرار پائے گا۔ گویا نبوت کا لازمی اور منطقی نتیجہ تفریق ہے۔ غور کیجئے کہ یہود اور نصاریٰ کے مابین آخر کیا چیز مابہ الاختلاف ہے؟ عیسائی اب ١٥

صفحہ ٩٧

مقابلہ میں اپنی رائے پیش بھی کر سکتے ہیں اور اس پر عمل بھی کر دفتراً کفر نہیں ہوتا۔ لیکن اس کے برعکس جہاں کسی کو نبی مان لیا گیا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ یہ امر واقعہ ہے کہ اس برصغیر میں قادیانیوں نہیں ہے اور اس کا سبب یہی نبوت کا تصور ہے۔ یہ فائدہ نبوت ہی نہیں تھا۔

پھر انہوں نے نبوت کے لازمی اور منطقی نتیجہ کو عملی پیش کر دیا۔ عامۃ المسلمین سے ان کی مساجد علیحدہ ، نمازیں علیحدہ میں شرکت نہیں کریں گے۔ حد یہ ہے کہ وہ ہمارے بچوں کے گئے۔ یہ بات باقاعدہ سوال و جواب کی صورت میں ان کے محمود سے پوچھا گیا کہ بچے تو معصوم ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر ہم شرکت کر لی جائے تو کیا حرج ہے؟ جواب دیا گیا کہ کیا آپ میں شرکت کر سکتے ہیں؟ اسی طرح انہوں نے کسی غیر احمدی اور غیر احمدی کی لڑکی سے احمدی کا نکاح جائز قرار دیا۔ دلیل یہ نکاح جائز۔ لیکن ان کو لڑکی دینا ناجائز ہے۔ کتنی عجیب بات قادیانی خود پہنچائیں۔ اس کے جملہ مضمرات کو کھول کر وہ خود عملی نتیجہ نکلنا چاہئے۔ یعنی یہ کہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے

آخر کیا معقولیت ہے؟ خوب اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ اعتبار علیحدہ امت قرار دے چکے ہیں۔ لیکن وہ اس کے مقدرات ہیں کہ اس طرح ان کے توسیع پسند عزائم میں رکاوٹ پیدا ہو جس طرح ہر قسم کے مادی فوائد سے متمتع ہو رہے ہیں۔ اس ہونے کے باعث وہ حکومت کے تمام کلیدی مناصب سے کے دفاتر اور محکمہ جات کی ملازمتوں میں تناسب تعداد کے اسلام کے نام سے جو زر مبادلہ کثیر مقدار میں وہ ہر سال حاصل گی۔ مسلمانوں میں شامل رہنے کے سبب سے فوج، سفارتخانوں

١؎ مشہور ہے کہ چودھری سر ظفر اللہ خان صاحب نے وزیر امور خارجہ تھے۔ اپنے محسن اور مربی اور بانی پاکستان محمد علی جناح

صفحہ ٩٧

مقابلہ میں اپنی رائے پیش بھی کر سکتے ہیں اور اس پر عمل بھی کر سکتے ہیں۔ چونکہ یہاں معاملہ ایمان وکفر کا نہیں ہوتا۔ لیکن اس کے برعکس جہاں کسی کو نبی مان لیا گیا ہو۔ وہاں ان تمام امکانات کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ یہ امر واقعہ ہے کہ اس برصغیر میں قادیانیوں کی تنظیم سے بہتر اور مضبوط کوئی تنظیم نہیں ہے اور اس کا سبب یہی نبوت کا تصور ہے۔ یہ فائدہ نبوت کے دعویٰ کے بغیر حاصل ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔

پھر انہوں نے نبوت کے لازمی اور منطقی نتیجہ کو خود ہی لوگوں کے سامنے واضح کر کے پیش کر دیا۔ عامۃ المسلمین سے ان کی مساجد علیحدہ، نمازیں علیحدہ یہاں تک کہ وہ ہمارے جنازے میں شرکت نہیں کریں گے۔ حد یہ ہے کہ وہ ہمارے بچوں کے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوں گے۔ ١؎ یہ بات باقاعدہ سوال و جواب کی صورت میں ان کے لٹریچر میں موجود ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود سے پوچھا گیا کہ بچے تو معصوم ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر غیر احمدی بچوں کے جنازہ کی نماز میں شرکت کر لی جائے تو کیا حرج ہے؟ جواب دیا گیا کہ کیا آپ عیسائیوں کے بچوں کے نماز جنازہ میں شرکت کر سکتے ہیں؟ اسی طرح انہوں نے کسی غیر احمدی لڑکے سے احمدی لڑکی کا نکاح ناجائز اور غیر احمدی کی لڑکی سے احمدی کا نکاح جائز قرار دیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ اہل کتاب کی لڑکیوں سے نکاح جائز۔ لیکن ان کو لڑکی دینا ناجائز ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ اس معاملہ کو منطقی انتہاء تک تو قادیانی خود پہنچائیں۔ اس کے جملہ مضمرات کو کھول کر وہ خود واضح کریں اور اس کے بعد اس کا جو عملی نتیجہ نکلنا چاہئے۔ یعنی یہ کہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے تو یہ اس پر واویلا کریں۔ اس میں آخر کیا معقولیت ہے؟ خوب اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ اعتقادی طور پر وہ اپنے آپ کو خود ہی ایک علیحدہ امت قرار دے چکے ہیں۔ لیکن وہ اس کے مقدرات کو اس لئے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ اس طرح ان کے توسیع پسند عزائم میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ امت مسلمہ میں شامل رہ کر وہ جس طرح ہر قسم کے مادی فوائد سے متمتع ہو رہے ہیں۔ اس میں خلل واقع ہوتا ہے۔ غیر مسلم اقلیت ہونے کے باعث وہ حکومت کے تمام کلیدی مناصب سے محروم کر دیئے جائیں گے۔ نیز حکومت کے دفاتر اور محکمہ جات کی ملازمتوں میں تناسب تعداد کے لحاظ سے ان کا کوٹا مقرر ہو جائے گا۔ تبلیغ اسلام کے نام سے جو زر مبادلہ کثیر مقدار میں وہ ہر سال حاصل کرتے ہیں۔ اس پر قدغن لگ جائے گی۔ مسلمانوں میں شامل رہنے کے سبب سے فوج سفارت خانوں اور دیگر محکموں کے اعلیٰ عہدوں

١؎ مشہور ہے کہ چودھری سر ظفر اللہ خان صاحب نے جو لیاقت علی خان مرحوم کی کابینہ میں اس وقت وزیر امور خارجہ تھے۔ اپنے محسن اور مربی اور بانی پاکستان محمد علی جناح مرحوم کے نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی تھی۔

١٧

صفحہ ٩٨

تک ان کو جو پہنچ اور دسترس حاصل ہے۔ اس پر پابندی عائد ہو جائے گی۔ یہ نقصانات وہ ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ آکاس بیل کی طرح شجر ملت سے لپٹے رہیں۔ تاکہ اسی سے غذا حاصل کرتے رہیں اور اسی کی بربادی کا باعث ہوں۔ اسی لئے وہ واویلا مچا رہے ہیں اور خود کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے اپنے روایتی دجل وفریب سے کام لے رہے ہیں۔

حالانکہ انہوں نے خود اپنے اختیار کردہ مؤقف کے اعتبار سے اپنے علاوہ بقیہ تمام مسلمانوں کو کافر قرار دے کر بحیثیت ایک جدا گانہ امت اپنا تشخص تین چوتھائی صدی قبل ہی علیحدہ کر لیا تھا۔ ان حالات کی بناء پر ہر معقول اور انصاف پسند شخص اس نتیجہ پر بلا تامل پہنچ جاتا ہے کہ قادیانیوں کو ایک جدا گانہ غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے اور جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ یہ انتہائی نرم، معقول اور ہلکا، نیز ان کے حق میں مفید فیصلہ ہے اور اس طرح ان کو بین الاقوامی سطح پر (Minority Community) کا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ اگر یہاں فی الواقع دینی نظام نافذ ہوتا تو ان پر جو کچھ بیتی اور ان کو نئی نبوت کے اجراء اور اس کو ماننے کے جو نتائج بھگتنے پڑتے وہ ان کے لئے کہیں زیادہ سخت ہوتے۔ یہ تو لادینیت کا دور ہے اور ملک میں ابھی تک بالفعل انگریزی دور کا نظام معمولی حک واضافہ کے ساتھ نافذ ہے۔ اسی لئے ان کے ساتھ انتہائی نرم سلوک کا مطالبہ ہے۔ ورنہ ان کے ساتھ معاملہ وہ ہوتا جو حضرت ابو بکر صدیق کے زمانے میں ہوا اور خلافت راشدہ کے بعد بھی اسلامی سلطنت میں ارتداد کی جو سزائیں دی جاتی رہیں۔ ان کا ان سزاؤں سے واسطہ پڑتا۔ یہ تو اکبر الہ آبادی مرحوم کے بقول اس دور کی برکت ہے کہ انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ۔ کتنے ہی لغو اور مضحکہ خیز دعاوی کئے گئے۔ حتیٰ کہ نبوت کے قلعے میں بھی رخنہ ڈال دیا گیا اور نئی نبوت کے ٹھاٹھ بالفعل جما دیئے گئے۔ اپنے علاوہ عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دے دیا۔ ان کے بچوں کی بھی تکفیر کر ڈالی۔ لیکن نہ صرف یہ کہ ان کا کچھ نہ بگڑ سکا۔ بلکہ وہ مسلمانوں میں شامل رہ کر تمام حقوق سے استفادہ کرتے رہے اور اپنے خالص سازشی کردار اور انجمن امداد باہمی کے طرز پر کام کرتے ہوئے اپنے جائز حقوق سے کہیں بڑھ کر سہولتیں اور مراعات حاصل کیں۔ بہرحال جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ نرم ترین اور انتہائی وسعت قلبی کا سلوک ہے۔ جو امت مسلمہ ان کے ساتھ روا رکھنا چاہتی ہے۔ یعنی یہ کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کے حقوق و فرائض متعین کر دیئے جائیں اور ان کو ہمیشہ کے لئے جسد ملت اسلامی سے علیحدہ کر دیا جائے۔

١٨

خاتم النبیین

مرزا کی کہا

اس کی اپنی

جناب مولانا امان

PDF 100

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

ترجمہ : میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

مرزا کی کہانی

اس کی اپنی زبانی

جناب مولانا امان اللہ گجراتی

صفحہ ١٠١
”كذلك قال الذين من قبلهم مثل قولهم تشابهت قلوبهم“
﴿یوں ہی پہلی قوموں نے کہا تھا پس ان تمام کفار کے دل آپس میں ملے ہوئے ہیں۔﴾

دیباچہ

ناظرین کرام! و معزز حضرات! بدقسمتی سے میرے رشتہ دار اکثر مرزائیت کے جال میں آچکے ہیں۔ وہ مکمل طور پر کوشاں رہتے ہیں کہ مجھ کو بھی اس جال میں داخل کر لیں۔ کبھی تو زبانی تبادلہ خیالات کرتے رہتے ہیں اور کبھی خطوط وغیرہ بھی لکھتے ہیں۔ لیکن ان اندھوں کو معلوم نہیں کہ جن کا دامن گیر خاتم النبین محمدﷺ ہوا ہے۔ وہ سراپا رحمت کو چھوڑ کر کس طرح سراپا ضلالت میں داخل ہوسکتا ہے؟ آخر میں نے خیال کیا کہ کوئی مختصری کتاب مرزا قادیانی کی کتابوں میں سے مرتب کرنی چاہئے۔ جس میں ان چند امور کا لحاظ رکھا جائے۔

دجالوں سے لیا گیا ہے۔ جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ان سب کے دل آپس میں ملے ہوئے ہیں۔

ٹھہرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی توفیق سے یہ بھی مکمل ہوگیا ہے۔ اگرچہ میں نے پبلک کے سامنے کوئی جدید شے نہیں لائی۔ لیکن تحریر نرالی لایا ہوں۔ امید ہے کہ تمام مسلمان اس کو بغور پڑھ کر احقر کو دعائے خیر سے یاد فرمائیں گے۔

آخر میں اپنے رشتہ داروں کے لئے دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ میری اس ناچیز کتاب کو ان کے لئے ہدایت کا سبب بنادے اور عام مسلمانوں کو کسی بھی دجال کے قبضہ میں آنے سے اس کتاب کو سدراہ بنادے اور میرے لئے اس کتاب کو سبیل نجات بنادے۔ آمین!

وأخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين!
احقر: امان اللہ شاہ دولہ گیٹ گجرات
٢
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّ

ناظرین! مرزا قادیانی کا دعویٰ عالم سے ش مہدی، کرشن، دگوپال، نبی، بروزی اور ’امتی ن ج٢ ص٨٩) بلکہ اس سے متعدد مراتب طے کرتا ہوا مر وانـــــا منك“ (حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧ معکوس عقل انسان ملتے گئے۔ مرزا قادیانی کے خیالا کی کہ ابن اللہ بن بیٹھے اور قرآن شریف کے حکم کی ناف (الاخلاص:٣) ”کا حکم ہوتے ہوئے ”انت منی دیا۔ جناب من! یہ ایسے خدا کی وحی تھی جس کی تعری فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین (یعنی خدا) ایک ا عضو اس کثرت سے ہیں کہ تعداد سے خارج اور لا اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں۔“

قرآن کریم میں اپنی شان میں اللہ تعالیٰ بے شک بے ادب (مرزا قادیانی) اللہ کی شان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام تصانیف ک پیش گوئیاں، ذاتی تعلقات، سرکار کی مدح سرائی، ا کی تشریحات پائی جاتی ہیں۔ خاص کر اپنی نبوت کی لاہوری اور قادیانی دونوں جماعتوں میں جو تاوی مرزا قادیانی خود بھی نہ سمجھ سکے کہ میں کس قسم کا نبی ہ قادیانی پارٹی کا خیال ہے۔ بلکہ میاں ١٩٠١ء میں تبدیلی عقیدہ کی تھی۔ (حقیقت النبوۃ ص دعویٰ کی سمجھ ہی نہیں آئی۔“ گویا کہ ١٨٨٣ء سے صریح الفاظ میں انکار کرتے رہے اور بجائے اس ک کافر اور ملعون کہتے رہے۔ اس سے تو یہ ثابت ہوت

صفحہ ١٠١

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ناظرین! مرزا قادیانی کا دعوٰی عالم سے شروع ہوتا ہوا مناظر، امام، مجدد، محدث، مسیح، مہدی، کرشن، گوپال، نبی، بروزی اور ”انت منی بمنزلة ولدی“ (حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) بلکہ اس سے متعدد مراتب طے کرتا ہوا مرزا قادیانی کی وفات سے قبل ”انت منی وانا منك“ (حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧) پر منتہی ہوتا ہے۔ جس قدر اس سلسلہ میں معکوس عقل انسان ملتے گئے۔ مرزا قادیانی کے خیالات رذیلہ ترقی کرتے گئے۔ یہاں تک ترقی کی کہ ابن اللہ بن بیٹھے اور قرآن شریف کے حکم کی نافرمانی یعنی ”لم یلد ولم یولد (الاخلاص:٣)“ کا حکم ہوتے ہوئے ”انت منی بمنزلة ولدی“ اپنی کتاب میں درج کر دیا۔ جناب من! یہ ایسے خدا کی وحی تھی جس کی تعریف میں مرزا قادیانی یوں رقمطراز ہیں: ”ہم فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین (یعنی خدا) ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بیشمار ہاتھ، پیر اور عضو اس کثرت سے ہیں کہ تعداد سے خارج اور لا انتہاء عرض طول رکھتا ہے۔ تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں۔“

(توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)

قرآن کریم میں اپنی شان میں اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ہیں کہ: ”میری مثل کوئی نہیں۔“ بے شک بے ادب (مرزا قادیانی) اللہ کی شان میں گستاخی کرتا ہوا شرماتا بھی نہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام تصانیف میں زیادہ تر مخالفین کے حق میں بدزبانی، فرضی پیش گوئیاں، ذاتی تعلقات، سرکار کی مدح سرائی، اپنی وفاداری، چندہ کی طلب اور نبوت و رسالت کی تشریحات پائی جاتی ہیں۔ خاص کر اپنی نبوت کی تشریح تو اس قدر مبہم اور پیچیدہ بنا رکھی ہے کہ لاہوری اور قادیانی دونوں جماعتوں میں جوتم پیزار ہوتا رہتا ہے۔ جس سے پایا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی خود بھی نہ سمجھ سکے کہ میں کس قسم کا نبی ہوں اور نہ ہی سمجھا سکے۔

قادیانی پارٹی کا خیال ہے۔ بلکہ میاں محمود احمد یوں رقمطراز ہیں کہ مرزا قادیانی نے ١٩٠١ء میں تبدیلی عقیدہ کی تھی۔ (حقیقت النبوۃ ص ١٢١) ”یعنی حضرت صاحب کو ١٩٠١ء تک اپنے دعوٰی کی سمجھ ہی نہیں آئی۔“ گویا کہ ١٨٨٤ء سے ١٩٠١ء تک برابر ١٧ سال نبوت کے دعوٰی سے صریح الفاظ میں انکار کرتے رہے اور بجائے اس کے محدثیت کا دعوٰی کر کے مدعی نبوت کو کذاب، کافر اور ملعون کہتے رہے۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے صرف دعوٰی نبوت ہی میں غلطی

٣

صفحہ ١٠٢

نہیں کھائی۔ ممکن ہے کہ دعویٰ مہدویت میں بھی غلطی کھائی ہو جو یقینی ہے۔ پھر ایسا شخص جو ٧١ سال خدا تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتا رہا ہو اور جس پر بارش کی طرح شب و روز وحی آتی رہی ہو۔ اس نافرمان کو آپ کیا سمجھیں گے۔ کیا وہ مسلمان ہونے کا بھی مستحق ہے؟

قادیانی گروہ کے باطل عقائد اور عجیب و غریب تحریرات اور غلو کی انتہاء جیسے ایک مداری رنگ برنگ کا دھاگا اپنے منہ سے نکال کر عوام کو دھوکا دیتا ہے۔ ویسے ہی مختلف اقوال اپنی کتابوں میں درج کئے جو وقتاً فوقتاً تبدیل کر کے عوام کو موقعہ کے مطابق سمجھا جائے۔ جس طرح سید محمد جونپوری مرزا علی محمد باب وغیرہ نے کئے جو آئندہ کئی صفحات میں درج ہیں۔

مرزا قادیانی کا یہ خیال کہ جس بلند پایہ اخلاق کا میں ہوں۔ اس کی مثال سوائے آپ کے مقتداء حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی ذات بابرکات کے دنیا کے کسی انسان کی زندگی میں نہیں ملتی۔ واقعی انسانیت کا معیار یقیناً ایک آدمی کے اخلاق و عادات کا امتحان ہے۔ جس قدر کسی کے خصائل اور اخلاق پسندیدہ اور لائق تحسین ہوں گے۔ اسی قدر وہ مرتبہ انسانیت پر بدارج بلند تر سمجھا جائے گا۔ یہی وہ کلیہ قاعدہ ہے۔ جس کے پیش نظر ہم ایک عام اور معمولی حیثیت کے انسان اور بلند مرتبہ اولو العزم رسول میں امتیاز کر سکتے ہیں۔ مرزا قادیانی بھی معیار فضیلت اسی کو قرار دیتے ہیں جو ذیل میں چند حوالہ جات ناظرین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

ہے۔ اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے۔ تاکہ ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر بھی اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت باتوں کا متحمل نہ ہو سکے۔ جو شخص ایسی کچی طبیعت کا ہو کہ ادنیٰ سی بات سے منہ میں جھاگ آ جائے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہو جائیں۔ وہ کسی طرح امام الزمان نہیں ہو سکتا۔“

(ضرورۃ الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)

اس کے ان پیاروں کے لئے اخیر کوئی کام دکھا دیتی ہے۔ پس اپنی زبان کی چھری سے کوئی اور چھری بدتر نہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ١٥ حاشیہ، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٦، ٣٨٧)

(چشمہ معرفت ص ١٥ حاشیہ، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٦، ٣٨٧)

٤

صفحہ ١٠٣
بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بدزبان ہے
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء یہی ہے

(در ثمین اردو ص ١٢، قادیان کے آریہ اور ہم ص ٦١، خزائن ج ٢٠ص ٢٥٨)

ہم بھی اس قاعدہ کے صحیح ہونے میں ان سے متفق ہیں کہ یقیناً ایک شریف آدمی سختی کے مقابلہ پر نرمی اختیار کرتا ہے۔ جب ایک عام حیثیت کے شریف الاخلاق آدمی کا یہ شیوہ ہو تو پھر ایک مدعی نبوت کے لئے تو لازم ہے کہ وہ سختی کا جواب تحمل سے دے اور بد زبانی اور اخلاق رذیلہ کے مقابلہ میں اخلاق عظیم اور غایت درجہ کی نرمی پیش کرے اور قرآن پاک بھی یہی شناخت بتاتا ہے۔"والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس (آل عمران:١٣٤)"﴿یعنی وہ غصہ کو پی جاتے ہیں اور قصوروں کو معاف کر دیتے ہیں۔﴾

اب ہم دیکھتے ہیں کہ خود مرزا قادیانی کہاں تک ان کے مقرر کردہ معیار شرافت پر پورے اترے۔ ان کی تصانیف کا مطالعہ کرنے سے جو معلوم ہوتا ہے وہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

اور بار بار کہے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اسے ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں ہے۔ حرامزادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے اور ظلم اور نا انصافی کی راہ کو اختیار کرے۔"

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

نہیں مانتی۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٨،٥٤٧)

کا شوق ہے۔"

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)

رہیں گے۔ کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے

٥

صفحہ ١٠٥

سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

ناظرین! اب آپ ہی انصاف سے فرمائیں کہ جو اس آزادی اور بے باکی سے گالیاں دینے کی عادت رکھتا ہو تو پھر اسے اس پستی سے نکال کر بلندی نبوت تک لے جانا کتنی بڑی غلطی ہے۔

اب ہم آپ کو اس درسگاہ کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ جہاں سے مرزا قادیانی نے تعلیم حاصل کر کے اپنی امت کو مائل کیا اور جو اپنے استادوں کی تصانیف سے ماخوذ کیا۔ جس میں ہر قسم کی اغلاط ان کی تحریروں میں موجود ہے۔ وہ ملاحظہ فرما کر عبرت حاصل کریں۔

ڈاکٹر ایچ ڈی گرس رولڈ نے لکھا کہ: ”جہاد سے دست بردار ہونا اور جس سلطنت کے زیر سایہ ہوں۔ اس کے حق میں وفاداری اور خیر خواہی کا اظہار کرنا وغیرہ ایسے امور ہیں۔ جن میں ایران کے موجودہ بابی اور ہندوستان کے مرزائی حد درجہ کی مشابہت اور موافقت رکھتے ہیں۔ بلکہ یہ مشابہت اس حد تک بڑھی ہوئی ہے کہ خواہ مخواہ بھی خیال پیدا ہوتا ہے کہ دوسرا فرقہ پہلے کی نقل ہے۔“

(مرزا غلام احمد قادیانی مؤلفہ ڈاکٹر گرس رولڈ ص ٤٣)

ذیل میں چند اقتباس پیش کئے جاتے ہیں۔ جس سے معلوم ہوگا کہ مرزائیت اور بابیت ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی

مرزا علی محمد باب

(١) مرزا قادیانی نے ایک الہام کی رو سے پیش گوئی کی کہ: ”بادشاہ میرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٨٧، خزائن ج ٢١ ص ١١٤)

(١) ملا محمد حسین بشرویہ نے کہا کہ مشرق اور مغرب کے تمام سلاطین ہمارے سامنے خاضع و سر بسجود ہوں گے۔

(نقطۃ الکاف ص ١٦٢)

(٢) ”مسیح موعود نے کہا کہ ساری دنیا میں احمدیت ہی احمدیت پھیل جائے گی۔“

(الفضل مورخہ ٢٠ اگست ١٩٢٣ء)

مرزا محمود احمد نے کہا۔ ”مجھے تو ان غیر احمدی مولویوں پر رحم آتا ہے۔ جب میں خیال کرتا

(٢) ”کتاب بیان میں پہلے سے وہ احکام و دستور العمل درج کر دیئے گئے ہیں۔ جن پر مستقبل کی بابی سلطنت کا عمل درآمد ہوگا اور بیان میں صریحاً مذکور ہے کہ وہ وقت ضرور آئے گا کہ سارا ایران بابی ہو جائے گا اور وہاں کے

٦

آئین و قانون کتاب بیان کا قانون ہوگا۔ مقدمہ نقطۃ الکاف کہ حضرت باب یہ باطنی و روحانی سلطنت کے حکمران ہیں اور ضرور ہے کہ ظاہری سلطنت بھی ان کی پہنچے گی۔ گو ہزار سال ہی کیوں نہ لگ جائے۔“

(نقطۃ الکاف ص ١٨٢،١٨٣)

(٣) مرزا علی محمد باب نے کہا: ”محمد نقطہ فرقان ہیں اور مرزا علی محمد باب نقطہ بیان ہے اور پھر دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔“

(دیباچہ نقطۃ الکاف)

(٤) ”تمام انبیاء کرام امی تھے اور مرزا علی محمد باب بھی امی تھا۔“

(نقطۃ الکاف ص ١٠٩)

(٥) مرزا علی محمد باب نے کہا۔ ”علماء علم و عمل میں مستور اور حب ریاست میں گرفتار ہیں۔ ان لوگوں نے گوش طلب کو نہ کھولا اور نظر انصاف سے نہ دیکھا۔ بلکہ اس کے برعکس اور اعراض کی زبان کھول دی۔ ان حرمان نصیبوں نے کہا۔ جو کچھ کہا اور کیا جو کچھ کیا۔“

(نقطۃ الکاف ص ١٠٨، ١٠٩)

ہوگا گا ال کے وقت ؟“ (٣ ایک یہاں کوئی (٤) نام ہے“ قرآ ہوگا (٥) بات میں نے تھم (از سحا دیکر خواہ مولا

٧

صفحہ ١٠٥

آئین و قانون کتاب بیان کا قانون ہوگا۔ مقدمہ نقطۃ الکاف کہ حضرت باب باطنی و روحانی سلطنت کے حکمران ہیں اور ضرور ہے کہ ظاہری سلطنت بھی ان کی پہنچے گی۔ گو ہزار سال ہی کیوں نہ لگ جائے۔“ (نقطۃ الکاف ص ١٨٢، ١٨٣)

ہوں کہ جب خدا تعالیٰ احمدیوں کو حکومت دے گا احمدی بادشاہ تختوں پر بیٹھیں گے۔ الفضل کے پرانے فائل نکال کر پیش ہوں گے تو اس وقت ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا۔“

(الفضل مورخہ ١٥؍ اکتوبر ١٩٢٣ء)

ہیں اور مرزا علی محمد باب نقطہ بیان ہے اور پھر دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔“ (دیباچہ نقطۃ الکاف)

ایک بات میں وجود محمدی میں مجھے داخل کر دیا۔ یہاں تک کہ یہ بھی نہ چاہا کہ یہ کہا جائے کہ میرا کوئی الگ نام ہو یا کوئی الگ قبر ہو۔“

(نزول المسیح ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١)

باب بھی امی تھا۔“ (نقطۃ الکاف ص ١٠٩)

نام جو مہدی رکھا گیا ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن وحدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔“ (ایام الصلح ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٤)

میں مستور اور حب ریاست میں گرفتار ہیں۔ ان لوگوں نے گوش طلب کو نہ کھولا اور نظر انصاف سے نہ دیکھا۔ بلکہ اس کے برعکس اور اعراض کی زبان کھول دی۔ ان حرمان نصیبوں نے کہا۔ جو کچھ کہا اور کیا جو کچھ کیا۔“

(نقطۃ الکاف ص ١٠٨، ١٠٩)

بات کی شیخی مارتے ہیں۔ ہم بڑے متقی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ نفاق کی زندگی بسر کرنا انہوں نے کہاں سے سیکھ لیا ہے۔ کتاب الٰہی کی غلط تفسیروں نے انہیں بہت خراب کیا ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٦٧٩، خزائن ج ٣ ص) ”یہ لوگ سچائی کے پکے دشمن ہیں۔ راہ راست کے جانی دشمن کی طرح مخالف ہیں۔“ (کشتی نوح ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ٨) اور لکھا۔ ”اے بدذات فرقہ مولویاں۔ اے یہودی خصلت۔“

(انجام آتھم ص ٢١١، خزائن ج ١١ ص ٢١)

٧

صفحہ ١٠٧

دریافت کیا کہ تمہارے والد محترم کا حضرت حق (مرزا علی محمد باب) کے متعلق کیا خیال ہے۔ سید یحییٰ نے جواب دیا کہ وہ اس وقت تک اظہار توقف کر رہا ہے۔ اس کے بعد کہا میں ذات اقدس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر میرا والد باوجود اس جلالت قدر کے اس ظہور باہر النور پر ایمان نہ لایا تو میں سبیل محبوب میں اپنے ہاتھ سے اس کی گردن اڑا دوں گا۔“

(نقطۃ الکاف ص ١٢٢)

مسلمان نہ سمجھیں۔“ (انوار خلافت ص٩٠) ”اگر کسی احمدی کے والدین غیر احمدی ہوں اور وہ مرجائیں تو ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔“ (الفضل مورخہ ٢؍ مارچ ١٩١٥ء) ”اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ بھی مرجائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔“ (فتاویٰ احمدیہ ص ٣١٣) ”مسیح قادیان کا ایک بیٹا فوت ہو گیا۔ جو زبانی طور پر ان کی تصدیق کرتا تھا۔ لیکن مسیح موعود نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔“

(فتاویٰ احمدیہ ص ٣٨١)

”قرآن کی ہر آیت میرے دعوؤں کی تصدیق کرتی ہے۔“

(نقطۃ الکاف ص ١٤٤)

کرتا ہوں کہ قرآن شریف میری سچائی کا گواہ ہے۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٤٢، خزائن ج ٢٠ص ٤٢)

لکھا: ”تم لوگ یہود کی تقلید نہ کرو۔ جنہوں نے مسیح علیہ السلام کو دار پر چڑھایا اور نصاریٰ کی بھی پیروی نہ کرو۔ جنہوں نے محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام سے انکار کیا اور اسلام کی بھی پیروی نہ کرو جو ہزار سال سے مہدی موعود کے انتظار میں سراپا شوق بنے بیٹھے ہیں۔ لیکن جب ظاہر ہوا تو اس سے انکار کر دیا۔“

(دیباچہ نقطۃ الکاف)

میں وہ لوگ جا بجا یہ وعظ کرتے تھے کہ چودھویں صدی میں امام مہدی یا مسیح موعود آئے گا اور کم سے کم یہ کہ ایک بڑا مجدد پیدا ہوگا۔ لیکن جب چودھویں صدی کے سر پر وہ مجدد پیدا ہوا اور خدا تعالیٰ کے الہام نے اس کا نام مسیح موعود رکھا تو اس کی سخت تکذیب کی اور اگر خدا تعالیٰ کے فضل سے گورنمنٹ برطانیہ کی اس ملک ہند میں سلطنت نہ ہوتی تو مدت سے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے معدوم کر دیتے۔“

(کتاب ایام الصلح ص ٢٦، خزائن ج ١٤ص ٢٥٥)

٨

باب) کا ظہور بھی جناب محمد رسول اللہ کی رجعت ہے۔“

(نقطۃ الکاف ص ٢٧٣)

کہ اور

سارا قرآن حضرت قائم علیہ السلام (مرزا علی محمد باب) کی عظمت شان کی باطنی تفسیر ہے۔“

(نقطۃ الکاف ص ٢٧٢)

تو

ہے۔ اس لئے اس کے مصداق کو نہیں پاتے۔ حالانکہ وہاں اس کا باطن مراد ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باطن تک پہنچنا ہر بے سروپا کا کام نہیں۔ بلکہ یہ ایک جلیل القدر منصب ہے۔ جس کا مقام فرشتہ یا نبی یا مؤمن ممتحن سے قرین ہے اور آج کل مؤمن ممتحن ہی کہاں ملتا ہے اور یہ کس کی مجال ہے کہ اتنا بڑا دعویٰ کرے۔ پس ظہور مہدی علیہ السلام کی جو علامتیں حدیثوں میں مذکور ہیں۔ ان سے ان کا باطن مراد ہے اور چونکہ اکثر اہل آخر الزمان ظاہر بین واقع ہوتے ہیں۔ اس لئے حدیثوں کا مطلب نہیں سمجھتے۔“

(نقطۃ الکاف ص ١٨٢،١٨٣)

صفحہ ١٠٧

(٩) ”حضرت قائم علیہ السلام (مرزا علی محمد باب) کا ظہور بھی جناب محمد رسول اللہ کی رجعت ہے۔“

(نقطۃ الکاف ص ٢٧٣)

(٩) مرزا قادیانی نے لکھا۔ ”میری طرف سے کوئی نیا دعویٰ نبوت و رسالت کا نہیں۔ بلکہ میں نے محمدی نبوت کی چادر کو ہی ظلی طور پر اپنے اوپر لیا ہے۔“

(نزول المسیح ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١)

(١٠) ”عارف باللہ اور عبد منصب کے لئے تو سارا قرآن حضرت قائم علیہ السلام (مرزا علی محمد باب) کی عظمت شان کی باطنی تفسیر ہے۔“

(نقطۃ الکاف ص ٢٧٣)

(١٠) مسیح قادیان نے لکھا۔ ”میں زور سے دعویٰ کرتا ہوں کہ قرآن شریف میری سچائی کا گواہ ہے۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٤٢، خزائن ج ٢٠ ص ٤٢)

(١١) ”اہل ظاہر کی ظاہری الفاظ پر نظر ہوتی ہے۔ اس لئے اس کے مصداق کو نہیں پاتے۔ حالانکہ وہاں اس کا باطن مراد ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باطن تک پہنچنا ہر بے سروپا کا کام نہیں۔ بلکہ یہ ایک جلیل القدر منصب ہے۔ جس کا مقام فرشتہ یا نبی یا مومن ممتحن سے قرین ہے اور آج کل مؤمن ممتحن ہی کہاں ملتا ہے اور کس کی مجال ہے کہ اتنا بڑا دعویٰ کرے۔ پس ظہور مہدی علیہ السلام کی جو علامتیں حدیثوں میں مذکور ہیں۔ ان سے ان کا باطن مراد ہے اور چونکہ اکثر اہل آخرالزمان ظاہر بین واقع ہوتے ہیں۔ اس لئے حدیثوں کا مطلب نہیں سمجھتے۔“

(نقطۃ الکاف ص ١٨٢، ١٨٣)

(١١) مسیح قادیان نے لکھا۔ ”لیکن مشکل تو یہ ہے کہ روحانی کوچہ میں ان (علماء) کو دخل ہی نہیں۔ یہودیوں کے علماء کی طرح ہر ایک بات کو جسمانی قالب میں ڈھالتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن ایک دوسرا گروہ (مرزائیوں) کا بھی ہے۔ جن کو خدا تعالیٰ نے یہ بصیرت اور فراست عطا کی ہے اور وہ آسمانی باتوں کو آسمانی قانون قدرت کے موافق سمجھنا چاہتے ہیں اور استعارات اور مجازات کے قائل ہیں۔ لیکن افسوس کہ وہ بہت تھوڑے ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ٨٢، خزائن ج ٣ ص ١٤٥) ”ہر ایک استعارہ کو حقیقت پر حمل کر کے ہر ایک مجاز کو واقعیت کا پیرایہ پہنا کر ان حدیثوں کو ایسے دشوار گزار راہ کی طرح بنایا گیا۔ جس پر کسی محقق معقول پسند کا قدم نہ ٹھہر سکے۔“

(ایام الصلح ص ٤٩، خزائن ج ١٤ ص ٢٨١)

٩

صفحہ ١٠٩

(١٢) ”بابی لوگ مرزا علی محمد باب کی تالیفات کو خرق عادت یعنی معجزہ یقین کرتے ہیں۔“

(مقالہ سیاح ص ٥)

(١٢) مسیح صاحب لکھتے ہیں۔ میری کلام نے وہ معجزہ دکھلایا کہ کوئی مقابلہ نہیں کر سکا۔

(نزول المسیح ص ١٣٢، خزائن ج ١٨ ص ٥١٠)

(١٣) مرزا علی محمد باب نے لوگوں کو اپنی مہدویت قبول کرنے کی دعوت دی۔ یعنی قاصد اسلامی بلاد کو روانہ کئے اور سلاطین عالم اور علماء کے نام مراسلے ارسال کئے اور اطراف عالم میں نوشتے بھیجے۔“

(نقطۃ الکاف ص ٢٠٩، ٢١٢)

(١٣) مسیح قادیان نے کہا۔ ”بارہ ہزار کے قریب اشتہارات دعوت اسلام رجسٹری کرا کر تمام قوموں کے پیشواؤں، امیروں اور والیان ملک کے نام روانہ کئے۔ شاہ زادہ ولی عہد اور وزیر اعظم انگلستان گلیڈسٹون اور جرمن وزیر اعظم پرنس بسمارک کے نام بھی روانہ کئے۔“

(ازالہ اوہام ص ١١٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٥٦)

بہائی چشمہ زندہ سے سیرابی

ڈاکٹر گرس ووڈل نے لکھا ہے کہ : ”بہائیوں کے نزدیک بہاء اللہ ہی مسیح موعود ہے۔ جو اپنے وعدے کے موافق دوسری دفعہ آیا ہے اور چونکہ اس کے نزدیک رجعت ثانی ظہورِ اوّل سے زیادہ فاضل ہوتی ہے۔ اس لئے بہاء اللہ مسیح سے افضل و اعلیٰ ہے۔“ بہر حال مرزا غلام احمد قادیانی نے بہاء اللہ کے بیانات و دعاوی سے جو اکتساب کیا وہ ذیل میں ملاحظہ ہوں۔

بہاء اللہ

مرزا غلام احمد قادیانی

(١) ”اگر کوئی خدا پر افتراء باندھے، کسی اپنی کلام کو اس کی طرف منسوب کرے تو خدا تعالیٰ اس کو جلد پکڑتا ہے اور ہلاک کر دیتا ہے اور مہلت نہیں دیتا اور اس کے کلام کو زائل کر دیتا ہے۔ چنانچہ سورۂ مبارکہ حاقہ میں فرماتا ہے: ”اور اگر یہ پیغمبر ہماری طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑتے۔

(١) ”میرے دعویٰ الہام پر تیس سال گزر گئے اور مفتری کو اس قدر مہلت نہیں دی جاتی۔ چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے: ”اور اگر یہ پیغمبر ہماری طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑتے۔ پھر ان کی رگ جان کاٹ ڈالتے۔“ پھر کیا یہی خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ ایسے کذاب بیباک مفتری کو جلد نہ

١٠

پھر ان کی رگ جان کاٹ ڈالتے۔“

(کتاب الفرائد ص ١٨٦)

(٢) حضرت بہاء اللہ نے علمائے آخر الزمان کے متعلق فرمایا ہے: ”شـــر تـحــت أديــم السماء منهم خرجت الفتن وإليهم تعود“ علماء آسمان کے نیچے سب سے برے لوگ ہیں۔ انہی سے فتنے اٹھے اور انہی کی طرف عود کریں گے۔“

(مقالہ سیاح ص ١٣٢)

(٣) ”خدا کے مظہر برابر آتے رہیں گے۔ کیونکہ فیض الہی کبھی معطل نہیں رہا اور نہ رہے گا۔“ (مقدمہ نقطۃ الکاف) ”قرآن پاک کی آیت ”يا بني آدم إما يأتينكم رسل منكم يقصون عليكم آياتي“ میں صراحتاً مستقبل کی خبر دی ہے۔ کیونکہ لفظ ”یاتینکم“ کو نون تاکید سے ذکر کیا ہے اور فرمایا کہ تمہارے پاس ضرور رسول آتے رہیں گے۔“ (کتاب الفرائد ص ٣١٤) ”و بالآخرة هم يوقنون“ یعنی اس وحی پر بھی یقین رکھتے ہیں جو اخیر زمانہ میں نازل ہو گے۔“

(بحوالہ ایقان ص ١٤١)

(٤) صحیح بخاری کی حدیث میں ہے: ”ويضع الحرب“ یعنی مسیح آ کر جہاد کو برطرف کرے

صفحہ ١٠٩

پکڑے۔ یہاں تک کہ اس افتراء پر تئیس سال سے زیادہ عرصہ گزر جائے۔ توریت اور قرآن دونوں گواہی دے رہے ہیں کہ خدا پر افتراء کرنے والا جلد تباہ ہو جاتا ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٤٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٢، ٤٣٣)

پھر ان کی رگ جان کاٹ ڈالتے۔“

(کتاب الفرائض ١٨٦)

ہے کہ اس زمانہ کے مولوی اور محدث اور فقیران تمام لوگوں سے بدتر ہوں گے جو روئے زمین پر رہتے ہوں گے۔“

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٢١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٥٣)

کے متعلق فرمایا ہے: ”شرّ تحت أديم السماء منهم خرجت الفتن وإليهم تعود“ علماء آسمان کے نیچے سب سے برے لوگ ہیں۔ انہی سے فتنے اٹھے اور انہی کی طرف عود کریں گے۔“ (مقالہ سیاح ص ١٤٣)

آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایاتی“ اے بنی آدم تمہارے پاس ضرور رسول آتے رہیں گے۔ یہ آیت آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی۔ اس میں تمام انسانوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ یہاں یہ نہیں لکھا کہ ہم نے گذشتہ زمانہ میں یہ کہا تھا۔ سب جگہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے بعد کے زمانہ کے لوگ مخاطب ہیں۔ غرض ”یاتینکم“ کا لفظ استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ ”وبالآخرة هم یوقنون“ اس وحی پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ جو آخری زمانہ میں مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر نازل ہوگی۔“ (سیرۃ المہدی ج ٢ ص ٨٣)

کیونکہ فیض الٰہی کبھی معطل نہیں رہا اور نہ رہے گا۔“ (مقدمہ نقطہ الکاف) ”قرآن پاک کی آیت ”یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی“ میں صراحتاً مستقبل کی خبر دی ہے۔ کیونکہ لفظ ”یاتینکم“ کو نون تاکید سے ذکر کیا ہے اور فرمایا کہ تمہارے پاس ضرور رسول آتے رہیں گے۔“ (کتاب الفرائض ١٤١) ”وبالآخرة هم یوقنون“ یعنی اس وحی پر بھی یقین رکھتے ہیں جو اخیر زمانہ میں نازل ہو گے۔“

(بحر العرفان ص ١٤١)

اب چھوڑو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کیلئے حرام ہے اب جنگ و قتال

الحرب“ یعنی مسیح آ کر جہاد کو برطرف کرے

١١

صفحہ ١١١
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبی کی حدیث کو
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو
کیوں بھولتے ہو تم یضع الحرب کی خبر
کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧، ٧٨)

”میں کسی خونی مہدی اور خونی مسیح کے آنے کا منتظر نہیں۔“

(تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١٩٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٣١)

گا۔“ (عمدۃ اصح ص ٨٨) ”بہاء اللہ کے مرید جہاد کے قائل نہیں اور نہ کسی غازی مہدی پر ایمان رکھتے ہیں۔“ (القلم مورخہ ٣١ مئی ١٩٠٥ء ص ٥) بہا اللہ نے قتل کو حرام لکھا ہے۔ (حضرت بہاء اللہ کی تعلیمات ص ٢٢) بہاء اللہ نے لکھا ہے۔ ”اے اہل توحید کمر ہمت مضبوط باندھ کر کوشش کرو کہ مذہبی لڑائی (جہاد) دنیا سے محو ہو جائے۔ حبللہ اور بندگان خدا پر رحم کر کے اس امر خطیر پر قیام کرو اور اس نار عالم سوز سے خلق خدا کو نجات دو۔“

(مقالہ سیاح ص ٩٤)

(٥) میرا ایک الہام ہے۔ ”خذ والتوجید التوحید یا انباہ الفارس “ توحید کو پکڑو توحید کو پکڑو، اے فارس کے بیٹو! دوسرا الہام ”لوکان الایمان معلقاً بالثریا لناله رجل من فارس “ اگر ایمان ثریا سے بھی معلق ہوتا تو یہ مرد جو فارسی الاصل ہے (مرزا قادیانی) اس کو وہیں جا کر لے لیتا۔“

(کتاب البریہ ص ١٤٤، ١٤٥ حاشیہ در حاشیہ، خزائن

ج ١٣ ص ١٦٢، ١٦٣)

(٥) ”لوکان الایمان معلقاً بالثریا“ والی حدیث صاف طور پر حضرت بہاء اللہ کے متعلق ہے۔ کیونکہ وہ ایران کے دارالسلطنت طہران کے قریب ایک موضع میں جس کا نام نور ہے، پیدا ہوئے۔ موضع نور میں ایران کے کیانی بادشاہوں کی نسل میں ایک خاندان آباد تھا۔ بہاء اللہ اسی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔“

(کوکب ہند)

خرمن مہدویہ سے خوشہ چینی

مندرجہ ذیل اقتباسات سے آپ کو معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی نے اپنے ذخیرہ میں پیروان سید محمد جونپوری کے خرمن الحاد سے بھی بہت کچھ خوشہ چینی کی اور یہ کہ بہت سے امور میں آج کل کی مرزائیت مہدویت کا صحیح چربہ ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

١٢

مہدوی اقوال

(١) مہدوی کہتے ہیں: ”خاتم النبیین“ سے یہ مراد ہے کہ کوئی پیغمبر صاحب شریعت جدیدہ آنحضرت کے بعد پیدا نہ ہوگا اور اگر نبی متبع شریعت محمدیہ پیدا ہو تو منافی آیت: ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کا نہیں ہے اور سید محمد جونپوری پیغمبر متبع ہیں۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ٢٨)

(١) نا نبی آ م گا “

(٢) ”پنج فضائل وغیرہ کتب مہدویہ میں مذکور ہے کہ سید محمد جونپوری کا نواسہ سید محمود ملقب بہ حسین ولایت شہید کربلا امام حسینؓ کے برابر ہے یا بہتر ہے۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ٣٤)

(٢) نہ ج “

(٣) شواہد الولایت میں لکھا ہے کہ: ”سید محمد جونپوری نے فرمایا کہ حق تعالیٰ نے بندہ کو جملہ موجودات کے احوال اس طرح معلوم کرا دیئے ہیں کہ جیسے کوئی رائی کا دانہ ہاتھ میں رکھتا ہو اور ہر طرف پھرا کر کما حقہ پہنچائے۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ٢٩)

(٣) جملہ یہ ر “

صفحہ ١١١

مہدوی اقوال

مرزا غلام احمد قادیانی اقوال

(١) مہدوی کہتے ہیں: ”خاتم النبیین“ سے یہ مراد ہے کہ کوئی پیغمبر صاحب شریعت جدیدہ آنحضرت کے بعد پیدا نہ ہوگا اور اگر نبی متبع شریعت محمدیہ پیدا ہو تو منافی آیت: ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ کا نہیں ہے اور سید محمد جونپوری پیغمبر متبع ہیں۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ٢٨)

(١) ”خاتم النبیین“ سے یہ مراد ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی صاحب شریعت نبی پیدا نہیں ہوگا اور کوئی غیر تشریعی نبی ظاہر ہو تو آیت ”خاتم النبیین“ کے منافی نہیں اور مرزا قادیانی غیر تشریعی نبی تھے۔“

(ریویو آف ریلیجنز ج ٢١ ص٩)

(٢) ”پنج فضائل وغیرہ کتب مہدویہ میں مذکور ہے کہ سید محمد جونپوری کا نواسہ سید محمود ملقب بہ حسین ولایت شہید کربلا امام حسینؓ کے برابر ہے یا بہتر ہے۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ٣٣)

(٢) مسیح قادیانی نے (نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) میں لکھا۔

کربلائے است سیر ہر آنم
صد حسین است درگریبانم

اور (نزول المسیح ص٤٥، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٤) پر لکھتا ہے: ”بعض نادان شیعہ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ کیونکر ممکن ہے کہ یہ شخص امام حسینؓ سے افضل ہو۔ لیکن کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن اور حدیث اور تمام نبیوں کی شہادت سے مسیح موعود حسین سے افضل ہے۔“

(٣) شواہد الولایت میں لکھا ہے کہ: ”سید محمد جونپوری نے فرمایا کہ حق تعالیٰ نے بندہ کو جملہ موجودات کے احوال اس طرح معلوم کرا دیئے ہیں کہ جیسے کوئی رائی کا دانہ ہاتھ میں رکھتا ہو اور ہر طرف پھرا کر کماحقہ پہچانے۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ٢٩)

(٣) مرزائے قادیانی نے لکھا کہ: ”مجھے علم غیب پر اس طرح قابو ہے جس طرح سوار کو گھوڑے پر ہوتا ہے۔“

(ضرورت الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣)

١٣

صفحہ ١١٣

وہی مہدی ہیں۔ جن کے ظہور کی آنحضرت ﷺ نے بشارت دی۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ١٦)

نبی اپنی پیش گوئیوں کے ذریعہ سے میری گواہی دیتا ہے تو اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو۔“

(ایام الصلح ص ٩١، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٨، ٣٢٩)

جونپوری) نے ایک سنگریزہ ہاتھ میں لے کر مہاجرین وخلفائے مہدی کے مجمع میں کہا۔ دیکھو یہ کیا ہے۔ سب نے جواب دیا سنگریزہ ہے۔ کہا اس کو مہدی موعود علیہ السلام نے جوہر بے بہا کہا ہے۔ تمام مہاجرین و خلفاء نے کہا آمنا وصدقنا ہمارے دیکھنے کا کیا اعتبار ہے کہ جو کوئی فرمان مہدی میں شک کرے یا تاویل کرے وہ ان مہدی میں سے نہیں ہے۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ١٨)

کہ یہ تو صرف نبوت کی بات ہے۔ میرا تو ایمان ہے کہ اگر مسیح موعود صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآن شریف کو منسوخ قرار دیں تو بھی مجھے انکار نہ ہو۔ کیونکہ جب ہم نے آپ کو واقعی صادق اور منجانب اللہ پایا ہے تو اب جو بھی آپ فرمائیں گے وہی حق ہوگا اور ہم سمجھ لیں گے کہ آیت خاتم النبیین کے کوئی اور معنی ہوں گے۔“

(سیرۃ المہدی ج ١ ص ٨١، ٨٢)

مہدویت نے کس قدر آیت قرآنیہ کے معنی احادیث صحیحہ اور تفسیرات صحابہ اور جمہور مفسرین کے خلاف کئے ہیں۔ چنانچہ سورۂ جمعہ میں ”وآخرین منهم لما يلحقوا بهم“ کو خاص اپنے فرقہ مہدویہ پر محمول کیا ہے۔

(ہدیہ مہدویہ ص ١٢٤)

وضاحت سے آنے والے مسیح کی خبر دیتی ہے۔ ”وآخرین منهم لما يلحقوا بهم وهو العزيز الحکیم“ یعنی ایک گروہ اور ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ وہ بھی اوّل تاریکی اور گمراہی میں ہوں گے اور علم اور حکمت اور یقین سے دور ہوں گے۔ تب خدا ان کو بھی صحابہ کے رنگ میں لائے گا۔ یعنی جو کچھ صحابہ نے دیکھا وہ ان کو بھی دکھایا جائے گا۔ یہاں تک کہ ان کا صدق اور یقین بھی صحابہ کے صدق اور یقین کی مانند ہو جائے گا اور یہ مسیح موعود کا گروہ ہے۔“

(ایام الصلح ص ٧٠، ٧١، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٤، ٣٠٥)

١٤

سے بوجہ فرضیت اور استطاعت کے منع کیا کرتے تھے اور اپنے خلیفہ میاں دلاور کے حجرہ کو بمنزلہ کعبہ کے ٹھہرایا تھا کہ اس کے تین طواف کعبۃ اللہ کے سات طواف بلکہ تمامی ارکان حج کے قائم مقام ہے قرار دیتے تھے۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ٢٠٨)

سے کر آجا تیر قرآ کے ” قاد

کہ: ”وہ دار دنیا میں حق تعالیٰ کو عیاناً سر کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ١٣٩)

دعو بہشت پاک دیئے

اس پر اتفاق ہے کہ محمد ﷺ اور حضرت مہدی موعود (سید محمد جونپوری) ایک ذات ہیں۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ٢٧٩)

میں ٤١

برس تک امر الٰہی ہوتا رہا اور مہدی جونپوری وسوسۂ نفس و شیطان سمجھ کر حکم خدا ٹالتے رہے۔ آخر خطاب باعتاب ہوا کہ ہم روبرو سے فرماتے ہیں تو اس کو غیر اللہ سمجھتا ہے۔ اس کے

بارہ ندری رہے۔ سے کے

١٥

صفحہ ١١٣

کرنے والے کے لئے اگر یہ بات پیش آجائے کہ وہ اس مسیح موعود کو دیکھ لے جس کا تیرہ سو برس سے انتظار ہے تو بموجب نص صریح قرآن اور احادیث کے وہ بغیر اس کی اجازت کے حج کو نہیں جاسکتا۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٤٧، خزائن ج ٢٠ ص ٤٩)

”ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ خدا نے قادیان کو اس کام حج کے لئے مقرر کیا ہے۔“

(از برکات خلافت ص ٥)

سے بوجود فرضیت اور استطاعت کے منع کیا کرتے تھے اور اپنے خلیفہ میاں دلاور کے حجرہ کو بمنزلہ کعبہ کے ٹھہرایا تھا کہ اس کے تین طواف کعبۃ اللہ کے سات طواف بلکہ تمامی ارکان حج کے قائم مقام قرار دیتے تھے۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ٢٠٨)

دعویٰ کرتے ہوئے لکھا کہ: ”خدا تعالیٰ مجھ سے بہت قریب ہو جاتا ہے اور کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرے سے جو نور محض ہے اتار دیتا ہے۔“

(ضرورۃ الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٤)

کہ: ”وہ دار دنیا میں حق تعالیٰ کو عیاناً سر کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔“ (ہدیہ مہدویہ ص ١٤٩)

میں اور رسول اللہ ﷺ میں کچھ فرق سمجھا نہ تو اس نے مجھے پہچانا اور نہ مجھے دیکھا۔ میرا وجود عین رسول اللہ کا وجود ہو گیا۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩)

اس پر اتفاق ہے کہ محمد ﷺ اور حضرت مہدی موعود (سید محمد جونپوری) ایک ذات ہیں۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ٢٧٩)

ج ١٩ ص ١١٣) میں لکھا۔ ”قریباً بارہ برس جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑے شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا۔“ اور (سیرۃ المہدی ص ٣١،

برس تک امر الٰہی ہوتا رہا اور مہدی جونپوری وسوسہ نفس و شیطان سمجھ کر حکم خدا ٹالتے رہے۔ آخر خطاب باعتاب ہوا کہ ہم روبرو سے فرماتے ہیں تو اس کو غیر اللہ سمجھتا ہے۔ اس کے

١٥

صفحہ ١١٥

بعد بھی شیخ موصوف اپنی عدم لیاقت وغیرہ کا عذر پیش کر کے آٹھ برس اور ٹالتے رہے۔ بیس برس کے بعد خطاب با عتاب ہوا کہ قضا الہی جاری ہوچکی ۔ اگر قبول کرے گا ماجور ہوگا ورنہ مجبور ہوگا۔

(ہدیہ مہدویہ ص٢٤)

روایت ٤٦) میں ہے کہ : ”وہ الہام جس میں مسیح موعود کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اصلاح خلق کے لئے صریح طور پر مامور کیا گیا۔ مارچ ١٨٨٢ء میں ہوا۔ لیکن باوجود امر الہی کے اس وقت سلسلہ بیعت شروع نہیں فرمایا۔ بلکہ (مزید حکم تک توقف ہوا۔ حکم الہی کو ٹالتے رہے۔ چنانچہ جب فرمان الہی نازل ہوا تو آپ نے) بیعت کے لئے ١٨٨٨ء میں یعنی پہلے حکم کے چھ سال بعد بیعت لینی شروع کی۔“

اگرچہ کیسی ہی روایات صحیحہ سے مروی ہوں۔ لیکن مہدی جونپوری کے بیان واحوال سے مطابق کر کے دیکھیں۔ اگر مطابق ہوں تو صحیح۔ ورنہ غلط جانیں۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ١٧)

کر آیا ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کرے۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٥١)

”جو حدیث ہمارے الہام کے خلاف ہوا سے ہم ردی میں پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٣١، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

ابراہیم، موسیٰ وعیسیٰ، نوح، آدم اور دوسرے تمام انبیاء ومرسلین سے افضل ہیں۔“

(ہدیہ مہدویہ ص٢٤)

بہت سے محدثوں کے ایک نے نبوت کا درجہ بھی پایا ہے اور نہ صرف نبی تھا بلکہ اپنے مطاع کے کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر کے بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گئے۔

(حقیقت النبوت ص٢٥٧)

اپنے والد سید محمد جونپوری سے روایت کی کہ

الفاظ بیان کیا۔ ”میں نے خواب میں دیکھا کہ

١٦

میراں جی نے فرمایا کہ نہ میں کسی سے جنا گیا اور نہ میں نے کسی کو جنا اور ایک روز ان کے خلیفہ دلاور کے سامنے یوسف نام ایک شخص نے بوقت وعظ سورۂ اخلاص پڑھی۔ جب وہ ’لم یلد ولم یولد‘ پر پہنچا تو دلاور نے کہا نہیں ’لم یلد ویولد‘ یوسف نے کہا نہیں ’لم یلد ولم یولد‘ دلاور نے کہا ’یلد ویولد‘ عبدالمالک نے یوسف سے کہا بھائی خاموش رہو۔ میاں جی ولایت کا شرف بیان کرتے ہیں۔ جو کہتے ہیں سو حق ہے۔“

(ہدیہ مہدویہ ص٢٤٩)

میں بعینہ میں اللہ بعینہ خد دنیا کا کو اور نئی ن اور آسما ترتیب تفرق موافق تیں ای ہوں۔ ”انا پھر میں ہیں۔“ ص٦٤

کے خلیفہ شاہ نظام نے اپنا ایک طویل کشف ظاہر کیا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کبھی اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندہ کو سرفراز کرنا چاہتا ہے تو مجھ سے دریافت کرتا ہے کہ اگر تو کہے تو یہ درجہ اس کو دوں ورنہ ہرگز نہ دوں۔ پس میں سفارش کر کے اس کو درجہ دلا دیتا ہوں۔“

(ہدیہ مہدویہ ص٢٥٠)

وانا میں تخ مجھ کی ط کی ط میرے ہوگا ا

جس طرح مرزا غلام احمد قادیانی مہدویت اسی طرح انہوں نے نیچریت کے گھاٹ سے بھی بھر

١٧

صفحہ ١١٥

میں ہے کہ : ”وہ الہام جس میں مسیح تائی کی طرف سے اصلاح خلق کے ور پر مامور کیا گیا۔ مارچ ١٨٨٢ء ن با وجود امر الہی کے اس وقت شروع نہیں فرمایا۔ بلکہ (مزید حکم ہوا۔ حکم الہی کو ٹالتے رہے۔ چنانچہ لبی نازل ہوا تو آپ نے ) بیعت ٨ء میں یعنی پہلے حکم کے چھ سال ں شروع کی ۔“ دیانی لکھتے ہیں کہ : ”جو شخص حکم ہو اس کو اختیار ہے کہ حدیثوں کے س انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم “

میر تحفہ گولڑویہ ص ١٠ ، خزائن ج ١٧ ص ٥١)

ہمارے الہام کے خلاف ہوا سے پھینک دیتے ہیں ۔“

اعجاز احمدی ص ٣١ ، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

یم کے شاگردوں میں سے علاوہ توں کے ایک نے نبوت کا درجہ بھی صرف نبی تھا بلکہ اپنے مطاع کے ظلی طور پر حاصل کر کے بعض ں سے بھی آگے نکل گئے۔

( حقیقت النبوت ص ٢٥٧)

قادیان نے اپنا ایک کشف بدین یا۔ ”میں نے خواب میں دیکھا کہ

میں بعینہ اللہ ہوں اور میں نے یقین کر لیا کہ میں اللہ ہی ہوں۔ اسی حال میں جب کہ میں بعینہ خدا تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہم دنیا کا کوئی نیا نظام قائم کریں۔ یعنی نیا آسمان اور نئی زمین بنائیں۔ پس میں نے پہلے زمین اور آسمان اجمالی شکل میں بنائے۔ جن میں کوئی ترتیب اور تفریق نہیں تھی۔ پھر میں نے ان میں تفریق کر دی اور جو ترتیب درست تھی اس کے موافق ان کو مرتب کیا۔ اس وقت میں اپنے تئیں ایسا پاتا تھا کہ گویا میں ایسا کرنے پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا ”انا زینا السماء الدنیا بمصابیح“ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی سے بناتے ہیں ۔“ (آئینہ کمالات ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥

ص ٥٦٤، ٥٦٥)

میراں جی نے فرمایا کہ نہ میں کسی سے جنا گیا اور نہ میں نے کسی کو جنا اور ایک روز ان کے خلیفہ دلاور کے سامنے یوسف نام ایک شخص نے بوقت وعظ سورۂ اخلاص پڑھی۔ جب وہ ’لم یلد ولم یولد‘ پر پہنچا تو دلاور نے کہا نہیں۔ ”یلد ویولد“ یوسف نے کہا نہیں ’لم یلد ولم یولد‘ دلاور نے کہا ”یلد ویولد“ عبدالمالک نے یوسف سے کہا بھائی خاموش رہو۔ میاں جی ولایت کا شرف بیان کرتے ہیں۔ جو کہتے ہیں سو حق ہے۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ٢٤٩)

(١٣) ”مسیح قادیان کو الہام ہوا۔ ”انت منی وانا منک اے مرزا تو مجھ میں سے پیدا ہوا اور میں تجھ سے پیدا۔“ (حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧) مسیح قادیان نے لکھا۔ ”مجھے خدا کی طرف سے دنیا کو فنا کرنے اور پیدا کرنے کی طاقت دی گئی۔ میں خاتم الاولیاء ہوں۔ میرے بعد کوئی ولی نہ ہوگا۔ مگر وہی جو مجھ سے ہوگا اور میرے عہد پر ہوگا۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٧٠)

(١٤) ”پنج فضائل میں ہے کہ سید محمد جونپوری کے خلیفہ شاہ نظام نے اپنا ایک طویل کشف ظاہر کیا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کبھی اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندہ کو سرفراز کرنا چاہتا ہے تو مجھ سے دریافت کرتا ہے کہ اگر تو کہے تو یہ درجہ اس کو دوں ورنہ ہرگز نہ دوں۔ پس میں سفارش کر کے اس کو درجہ دلا دیتا ہوں۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ٢٥٠)

جس طرح مرزا غلام احمد قادیانی مہدویت اور بابیت کے سمندر سے سیراب ہوتا رہا۔ اسی طرح انہوں نے نیچریت کے گھاٹ سے بھی دہریت کی پیاس بجھائی تھی۔ نیچر مذہب کے بانی

١٧

صفحہ ١١٦

سرسید احمد خان علی گڑھی تھے۔ جن مسئلوں میں مرزا قادیانی اور ان کے پیرو نیچریت کے زیر بار احسان ہیں۔ ان میں سے چند مسائل ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔

سرسید احمد خان

مرزا قادیانی اور مرزائی

(١) ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیماروں پر دم ڈالتے اور برکت دیتے تھے۔ لوگ ان کے ہاتھوں کو برکت لینے کے لئے چومتے تھے۔ یہ خیال غلط ہے کہ اس طرح کرنے سے اندھے آنکھوں والے اور کوڑھے اچھے ہوجاتے تھے۔ دوسرے انسان میں ایک ایسی قوت رکھی ہے جو دوسرے انسان میں اور دوسرے انسان کے خیال میں اثر کرتی ہے۔ اس سے ایسے امور ظاہر ہوتے ہیں جو نہایت ہی عجیب وغریب معلوم ہوتے ہیں۔ اسی قوت پر اس زمانہ میں ان علوم کی بنیاد قائم ہوتی ہے جو مسمریزم اور اسپریچولیزم کے نام سے مشہور ہے۔ مگر جب کہ وہ ایک قوت ہے۔ قوائے انسانی میں سے اور ہر ایک انسان میں بالقوہ موجود ہے تو اسی کا کسی انسان سے ظاہر ہونا معجزہ میں داخل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ تو فطرت انسانی میں سے انسان کی ایک فطرت ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تمام لوگوں کو کوڑھے ہوں یا اندھے۔ خدا کی بادشاہت میں داخل ہونے کی منادی کی تھی۔ یہی ان کوڑھیوں اور اندھوں کو اچھا کرنا تھا۔“

(تفسیر احمدی ج ٢ ص ١٦٠ تا ١٦٣)

(١) ”مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اس کو طاقت بخشی گئی تھی۔ وہ ایک فطری طاقت تھی جو ہر ایک فرد بشر کی فطرت میں موجود ہے۔ مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں۔ چنانچہ اس بات کا تجربہ اس زمانہ میں ہو رہا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے مسمریزم سے وہ مردے جو زندہ ہوتے تھے وہ بلا توقف چند منٹ میں مرجاتے تھے۔ کیونکہ بذریعہ عمل الترب (مسمریزم) روح کی گرمی اور زندگی صرف عارضی طور پر ان میں پیدا ہو جاتی تھی۔ عمل التراب یعنی مسمریزم میں مسیح بھی کسی درجے تک مشق رکھتے تھے۔ سلب امراض کرنا اپنی روح کی گرمی جماد میں ڈالنا اور حقیقت یہ سب عمل مسمریزم کی شاخیں ہیں۔ ہر ایک زمانہ میں ایسے لوگ ہوتے رہتے ہیں اور اب بھی موجود ہیں جو اس روحانی عمل کے ذریعہ سے سلب امراض کرتے رہتے تھے اور مفلوج و نیز برص و دقوق وغیرہ ان کی توجہ سے اچھے ہوتے رہتے تھے ۔“ (ازالہ اوہام طبع پنجم ص ٣٠٥ تا ٣٠٩ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦، ٢٥٧)

١٨

٧

(٢) ”یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پھونکنے کے بعد درحقیقت وہ پرندوں کی مورتیں جو مٹی سے بناتے تھے جاندار ہو جاتی تھیں اور اڑنے بھی لگتی تھیں۔ یہ کوئی امر وقوعی نہ تھا۔ بلکہ صرف حضرت مسیح کا خیال زمانہ طفولیت میں بچوں کے ساتھ کھیلنے میں تھا۔ سورتیں بنا کر پوچھنے والے سے کہتے تھے کہ میرے پھونکنے سے وہ پرند ہو جائیں گے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ کہنا ایسا ہی تھا جیسے کہ بچے اپنے کھیلنے میں ہمچشموں سے اس قسم کی باتیں کیا کرتے ہیں۔“

(تفسیر احمدی ج ٢ ص ١٥٢ تا ١٥٦ ملخص)

(٣) ”رفع کے لفظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم کا آسمان پر اٹھا لینا مراد نہیں۔ بلکہ ان کی قدرومنزلت مراد ہے۔ حضرت عیسیٰ اپنی موت سے مرے اور خدا نے ان کے درجے اور مرتبہ کو مرتفع کیا۔“

(تفسیر احمدی ج ٢ ص ٤٢)

(٤) ”وما قتلوه وما صلبوه“ پہلے ما نافیہ سے قتل کا سلب مراد ہے اور دوسرے سے صلب کا۔ کیونکہ صلیب پر چڑھانے کی تکمیل اسی وقت تھی جب صلیب کے سبب موت واقع ہوتی۔ حالانکہ صلیب پر موت واقع نہیں ہوئی۔“

(تفسیر احمدی ج ٢ ص ٤٥)

(٥) ”جس دن حضرت عیسیٰ صلیب پر چڑھائے گئے وہ جمعہ کا دن اور یہودیوں کی عید

صفحہ ١١٧

ن کے پیرو نیچریت کے زیر بار

قادیانی اور مرزائی

ایسے عجائب کاموں میں اس کو ا۔ وہ ایک فطری طاقت تھی جو فطرت میں موجود ہے۔ مسیح موجب نہیں۔ چنانچہ اس بات ہ میں ہو رہا ہے۔ حضرت مسیح مریزم سے وہ مردے جو زندہ توقف چند منٹ میں مرجاتے یہ عمل الترب (مسمریزم) زندگی صرف عارضی طور پر ان ا۔ عمل الترب یعنی مسمریزم رہے تک مشق رکھتے تھے۔ اپنی روح کی گرمی جماد میں سب عمل مسمریزم کی شاخیں میں ایسے لوگ ہوتے رہتے جود ہیں جو اس روحانی عمل ب امراض کرتے رہتے تھے ں و دقوق وغیرہ ان کی توجہ رہتے تھے۔" (ازالہ طبع پنجم خزائن ج ٣ ص ٢٥٦، ٢٥٧)

(٢) "یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پھونکنے کے بعد درحقیقت وہ پرندوں کی مورتیں جو مٹی سے بناتے تھے جاندار ہو جاتی تھیں اور اڑنے بھی لگتی تھیں۔ یہ کوئی امر وقوعی نہ تھا۔ بلکہ صرف حضرت مسیح کا خیال زمانہ طفولیت میں بچوں کے ساتھ کھیلنے میں تھا۔ مورتیں بنا کر پوچھنے والے سے کہتے تھے کہ میرے پھونکنے سے وہ پرند ہو جائیں گے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ کہنا ایسا ہی تھا جیسے کہ بچے اپنے کھیلنے میں بمقتضائے عمر اس قسم کی باتیں کیا کرتے ہیں۔"

(تفسیر احمدی ج ١ ص ١٥٢ و ١٥٦ ملخص)

(٢) "کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دی ہو۔ جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو۔ جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔ کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز عمل الترب سے بطور لہو ولعب ظہور میں آسکیں۔ جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں۔" (ازالہ اوہام ص ٣٠٣ تا ٣٠٥ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤ تا ٢٥٦)

(٣) "رفع کے لفظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم کا آسمان پر اٹھا لینا مراد نہیں۔ بلکہ ان کی قدر ومنزلت مراد ہے۔ حضرت عیسیٰ اپنی موت سے مرے اور خدا نے ان کے درجے اور مرتبہ کو مرتفع کیا۔"

(تفسیر احمدی ج ٢ ص ٢٤)

(٣) "رافعک الی" کے یہ معنی ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے تو ان کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔" (ازالہ اوہام ص ٢٦٦، خزائن ج ٣ ص ٢٣٤) "رافعک الی" کے یہ معنی ہیں کہ عزت کے ساتھ اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔" (ازالہ اوہام ص ٣٨٦، خزائن ج ٣ ص ٢٩٩)

(٤) "وما قتلوہ وما صلبوہ" پہلے ما نافیہ سے قتل کا سلب مراد ہے اور دوسرے سے صلب کا۔ کیونکہ صلیب پر چڑھانے کی تکمیل اسی وقت تھی جب صلیب کے سبب موت واقع ہوتی۔ حالانکہ صلیب پر موت واقع نہیں ہوئی۔" (تفسیر احمدی ج ٢ ص ٢٥)

(٤) قرآن کریم کا منشاء "وما صلبوہ" سے یہ ہرگز نہیں کہ مسیح صلیب پر نہیں چڑھایا گیا۔ بلکہ منشاء یہ ہے کہ جب صلیب پر چڑھانے کا اصل مدعا تھا یعنی قتل کرنا اس سے خدا نے مسیح کو محفوظ رکھا۔"

(ازالہ اوہام ص ٣٧٨، خزائن ج ٣ ص ٢٩٤)

(٥) "جس دن حضرت عیسیٰ صلیب پر چڑھائے گئے وہ جمعہ کا دن اور یہودیوں کی عید

(٥) "حضرت مسیح بروز جمعہ بوقت عصر صلیب پر چڑھائے گئے۔ جب وہ چند گھنٹہ کیلوں کی

١٩

صفحہ ١١٩

فصح کا تہوار تھا۔ دوپہر کا وقت تھا۔ جب ان کو صلیب پر چڑھایا گیا ان کی ہتھیلیوں میں کیلیں ٹھوکی گئیں۔ عید فصح کے دن کے ختم ہونے پر کا سبت شروع ہونے والا تھا اور یہودی مذہب کی رو سے ضرور تھا کہ مقتول یا مصلوب کی لاش قبل ختم ہونے دن کے یعنی قبل شروع ہونے سبت کے دفن کر دی جائے۔ مگر صلیب پر انسان اس قدر جلدی نہیں مرسکتا تھا۔ اس لئے یہودیوں نے درخواست کی کہ حضرت مسیح کی ٹانگیں توڑ دی جائیں۔ تاکہ وہ فی الفور مر جاویں۔ مگر حضرت عیسیٰ کی ٹانگیں توڑی نہیں گئیں اور لوگوں نے جانا کہ وہ اتنی ہی دیر میں مر گئے۔ جب لوگوں نے غلطی سے جانا کہ حضرت درحقیقت مر گئے ہیں تو یوسف نے حاکم سے ان کے دفن کر دینے کی درخواست کی۔ وہ نہایت متعجب ہوا کہ ایسے جلد مر گئے۔ یوسف کو دفن کرنے کی اجازت مل گئی اور حضرت عیسیٰ صرف تین چار گھنٹہ صلیب پر رہے۔ یوسف نے ان کو ایک لحد میں رکھا اور اس پر ایک پتھر ڈھانک دیا۔ حضرت عیسیٰ صلیب پر مرے نہ تھے۔ بلکہ ان پر ایسی حالت طاری ہوگئی تھی کہ لوگوں نے ان کو مردہ سمجھا تھا۔ رات کو وہ لحد میں سے نکال لئے گئے اور وہ مخفی اپنے مریدوں کی حفاظت میں رہے۔ حواریوں نے ان کو دیکھا اور پھر کسی وقت موت سے مر گئے۔ بلاشبہ ان کو یہودیوں کی عداوت کے خوف سے نہایت مخفی

تکلیف اٹھا کر بیہوش ہو گئے اور خیال کیا گیا کہ مر گئے تو ایک دفعہ سخت آندھی اٹھی۔“ (نزول المسیح ص ١٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٦ حاشیہ) ”مسیح کو یہودیوں کے حوالے کیا گیا اور اس کو تازیانے لگائے اور جس قدر گالیاں سننا اور طمانچہ کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے سے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا۔ سب نے دیکھا آخر صلیب دینے کے لئے تیار ہوئے۔ یہ جمعہ کا دن تھا اور عصر کا وقت تھا۔ اتفاقاً یہ یہودیوں کی عید فصح کا دن بھی تھا اور ایک شرعی تاکید تھی کہ سبت میں کوئی لاش صلیب پر لٹکی نہ رہے۔ تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح کو صلیب پر چڑھا دیا تھا۔ شام سے پہلے ہی لاش اتاری جائے۔ مگر اتفاق سے اسی وقت آندھی آ گئی۔ جس سے سخت اندھیرا ہو گیا۔ یہودیوں کو یہ فکر پڑی کہ کہیں شام نہ ہو جائے۔ اس لئے لاش کو صلیب پر سے اتار لیا۔ عید فصح کی کم فرصتی عصر کا تھوڑا سا وقت اور آگے سبت کا خوف اور پھر آندھی کا آجانا ایسے اسباب پیدا ہو گئے۔ جس کی وجہ سے چند منٹ میں ہی مسیح کو صلیب پر سے اتار لیا گیا۔ جب مسیح کی ہڈیاں توڑنے لگے تو ایک سپاہی نے یوں ہی ہاتھ رکھ کر کہہ دیا کہ یہ تو مر چکا ہے۔ ہڈیاں توڑنے کی ضرورت نہیں۔ اس طور سے مسیح زندہ بچ گیا۔“ (ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٨٢، ٣٨٠، خزائن ج ٣ ص ٢٩٥ تا ٢٩٧) ”اس کے کچھ عرصہ بعد مسیح کشمیر چلا آیا اور یہیں انتقال کیا۔ چنانچہ

٢٠

طور پر کسی نامعلوم مقام میں دفن کر دیا ہوگا۔ جواب تک نامعلوم ہے۔“

(تفسیر احمدی ج ٢ ص ٣٨ تا ٤١)

به قبل موتہ ویوم القیمۃ یکون علیہم شہیدا “ اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر یہ کہ یقین کرے ساتھ اس کے (یعنی حضرت عیسیٰ کے صلیب پر مارے جانے کے) قبل اپنی موت کے وہ جان لے گا کہ صلیب پر حضرت عیسیٰ کا مرنا غلط تھا اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ ان پر گواہ ہوں گے۔ یعنی اہل کتاب کو اپنی زندگی میں جو عقیدہ تھا اس کے برخلاف گواہی دیں گے۔“ (تفسیر احمدی ج ٢ ص ١٠٧)

میاں محمود احمد خلیفہ قادیان اور ان کی جماعت تفاسیر سے اختلاف کے چند نمونے جو درج ذیل ہیں۔

فرمان مرزا غلام احمد قادیانی

نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور جو آیت ’و لکن رسول اللہ و خاتم النبیین‘ کو خدا کی کلام یقین رکھتا ہے۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کے بعد نبی اور رسول ہوں۔“

(انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

سری نگر قبل ہے۔

به قـ علیہم سے ایسـ ایمان لـ پر ایمان یعنی ہم کتاب درحقیقـ (ازالـ جماعـ دیں گے

بلکہ نـ ٤٤ م مسلـ روک نے عقید ثابت

٢١

صفحہ ١١٩

طور پر کسی نامعلوم مقام میں دفن کر دیا ہوگا۔ جو اب تک نامعلوم ہے۔“

(تفسیر احمدی ج ٢ ص ٣٨ تا ٤١)

سری نگر میں شہزادہ یوزاسف کے نام کی جو مشہور قبر ہے وہ اس کی ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ١٠٠)

(٦) ”وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيدا“ اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر یہ کہ یقین کرے ساتھ اس کے (یعنی حضرت عیسیٰ کے صلیب پر مارے جانے کے) قبل اپنی موت کے وہ جان لے گا کہ صلیب پر حضرت عیسیٰ کا مرنا غلط تھا اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ ان پر گواہ ہوں گے۔ یعنی اہل کتاب کو اپنی زندگی میں جو عقیدہ تھا اس کے برخلاف گواہی دیں گے۔“

(تفسیر احمدی ج ٢ ص ١٠٧)

(٦) ”وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيداً“ فرمایا کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ بالا پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لائے جو مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا۔ یعنی ہم جو پہلے بیان کر آئے ہیں کہ کوئی اہل کتاب اس بات پر دلی یقین نہیں رکھتا کہ در حقیقت مسیح مصلوب ہو گیا۔“

(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٧٢، خزائن ج ٣ ص ٢٩١)

میاں محمود احمد خلیفہ قادیان اور ان کی جماعت کا مسلک اور مرزا غلام احمد قادیانی کی تفاسیر سے اختلاف کے چند نمونے جو درج ذیل ہیں۔

فرمان مرزا غلام احمد قادیانی

حکم میاں محمود احمد

(١) ”کیا ایسا بد بخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور جو آیت ’ولكن رسول الله وخاتم النبيين‘ کو خدا کی کلام یقین رکھتا ہے۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کے بعد نبی اور رسول ہوں۔“

(انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(١) ”خاتم النبیین ہے یعنی نہ صرف نبی ہے۔ بلکہ نبی گر ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٢٥٧)

”آنحضرت ﷺ کے بعد بعثت انبیاء کو بالکل مسدود قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا اور آپ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس انعام کو بند کر دیا۔ اب بتاؤ کہ اس عقیدے سے آنحضرت ﷺ رحمۃ للعالمین ثابت ہوتے ہیں یا ان کے برخلاف۔“ نعوذ

٢١

صفحہ ١٢١

بالله من ذالك“ اگر اس عقیدہ کو تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آپ نعوذ باللہ دنیا کے لئے ایک عذاب کے طور پر آئے اور جو شخص ایسا خیال کرتا ہے۔ وہ لعنتی اور مردود ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٨٦، ١٨٧)

قادیانی کی کسی محمودی میں یہ جرأت نہ ہوئی کہ جناب خلیفہ صاحب کس کو زد مار رہے ہیں۔ جو برملا اپنے والد صاحب کو لعنتی اور مردود بنا رہے ہیں۔

محدث اپنے وجود میں قوت اور استعداد نبی ہو جانے کی رکھتا ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٣٨، خزائن ج ١٥ص ایضاً)

لئے یہ شرط ہے کہ وہ نئی شریعت لائے یا پہلے احکام میں کچھ منسوخ کرے یا بلاواسطہ نبوت پائے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٣٢)

کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفادہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔“

(الحکم مورخہ ١٧؍اگست ١٨٩٩ء)

بے شرمی کا ستیاناس۔ خلیفہ صاحب دوسرا جھوٹ بول گیا۔ مگر پھر بھی کوئی محمودی ٹس سے مس نہ ہوا۔

دوسرے نبی کا متبع نہیں ہوسکتا اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہ فرماتا ہے کہ ”ومـا ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله“

(حقیقت النبوۃ ص ١٥٥)

اور جو شخص کامل طور پر رسول کہلاتا ہے۔ اس کا کامل طور پر دوسرے نبی کا مطیع بننا اور امتی ہو جانا نصوص قرآنیہ واحادیث کی رو سے بکلی ممتنع ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله“ یعنی ہر ایک رسول مطاع اور امام بنانے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا کہ کسی دوسرے

٢٢

کا مطیع اور تابع ہو۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧)

مسیح کی کم علمی اور نادانی کا نقشہ جو محمود صاحب نے خود فرمائیں۔

سے غور فرمائیں۔

سکتا۔ کیونکہ نبوت کاملہ تامہ محمدیہ کی اس میں ہتک ہے۔ ہاں امتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اس پر صادق آسکتے ہیں۔“

(الوصیت ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣١١)

آپ کا آنحضرت ہیں ا جو کفر

گویا الفضل کے نزدیک مسیح کفر عظیم کے مرتکب تھا؟

سبقتنی“ کہ ہائے تو مارا کرد گستاخ۔ اے میرے خدا، اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کر دیا۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، ٥٥٦ حاشیہ نمبر ٣،

خزائن ج ١ ص ٦٦٢ تا ٦٦٤)

کہ

خلاف ورزی کرنا میاں صاحب کے داہنے

(٨) برتر گمان و وہم سے احمد کی شان ہے
جس کا غلام دیکھو مسیح زمان ہے

(درثمین اردو ص ٩٢)

ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمدﷺ ہے (ہزار ہزار درود اور سلام ان پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی

ش

٢٣

صفحہ ١٢١

کا مطیع اور تابع ہو۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧)

مسیح کی کم علمی اور نادانی کا نقشہ جو محمود صاحب نے کھینچا ہے۔ اس کو آپ ہی انصاف سے غور فرمائیں۔

(٦) ”نیز مسیح موعود کو احمد نبی اللہ نہ تسلیم کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا یا امتی گروہ میں سمجھنا گویا آنحضرت ﷺ کو جو سیدالمرسلین اور خاتم النبیین ہیں امتی قرار دینا اور امتیوں میں داخل کرنا ہے جو کفر عظیم ہے اور کفر بعد کفر۔“

(الفضل مورخہ ٢٩؍ جون ١٩١٥ء)

(٦) ”مگر اس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ نبوت کاملہ تامہ محمدیہ کی اس میں ہتک ہے۔ ہاں امتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اس پر صادق آسکتے ہیں۔“

(الوصیت ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣١١)

گویا الفضل کے نزدیک مسیح کفر عظیم کے مرتکب تھے۔ کیا واقعی محمودیوں کا نبی ایسا ہی تھا؟

(٧) ”گستاخ ہے وہ شخص جس نے کہا۔ کہ ہائے تو ما را کرد گستاخ“

(الفضل مورخہ ٢٣؍ جنوری ١٩١٧ء)

(٧) ”مسیح موعود کا الہام ’ایلی ایلی لما سبقتنی‘ کہ ہائے تو ما را کرد گستاخ۔ اے میرے خدا، اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کر دیا۔“ (براہین احمدیہ ص ٥٥٥، ٥٥٦ حاشیہ نمبر ٤،

خزائن ج ١ ص ٦٦٢ تا ٦٦٣)

خلاف ورزی کرنا میاں صاحب کے داہنے پاؤں کا کام ہے۔

(٨) ؎

برتر گمان و وہم سے احمد کی شان ہے
جس کا غلام دیکھو مسیح زمان ہے

(درثمین اردو ص ٩٢)

(٩) ”دیکھو آنحضرت ﷺ کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے : ”انا ارسلنا الیکم رسولاً شاھداً علیکم کما ارسلنا الی فرعون

(٩) ”پس میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ﷺ ہے (ہزار ہزار درود اور سلام ان پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی

٢٣

صفحہ ١٢٣

ہے ۔ اس کے عالی مقام کا انتہاء معلوم نہیں ہوسکتا۔ اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہوچکی تھی۔ وہی ایک پہلوان ہے۔ جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا اور اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی انتہاء درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔ اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا۔ اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے۔ بلکہ ذریت شیطان ہے۔ کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطاء کیا گیا ہے جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری کیا حقیقت ہے۔ ہم کافر نعمت ہوں گے۔ اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اس کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں۔ اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔ اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے

٢٤

رسولاً“ حالانکہ آنحضرت ﷺ حضرت موسیٰ سے بہت بڑا درجہ رکھتے تھے۔ تو مثل کبھی عین ہوتا ہے کبھی اعلیٰ اور کبھی ادنیٰ ، تو خدا تعالیٰ نے بجائے اس کے کہ ایک ایسا لفظ رکھا جو تین پہلو رکھتا تھا۔ جس کا ادنیٰ درجہ لے کر مسیح موعود کی ہتک کی جاتی۔ ایسا لفظ رکھ دیا کہ جس سے کوئی اور پہلو نکل ہی نہیں سکتا یعنی خدا تعالیٰ نے اس آنے والے نبی کو مثیل بدھ نہیں کہا۔ بلکہ بدھ ہی کہا ہے۔ مثیل کرشن نہیں کہا۔ بلکہ کرشن ہی کہا ہے۔ مثیل مسیح نہیں کہا۔ بلکہ مسیح ہی کہا ہے اور اسی طرح ”آخرین منهم لما يلحقوا بھم“ میں مثیل محمد ﷺ قرار نہیں دیا۔ بلکہ محمد ہی قرار دیا ہے۔ تا کہ آپ کے درجہ کے کم کرنے والے آپ کے کمالات کا انکار نہ کر بیٹھیں۔ غرض یہ ایک بڑی حکمت تھی۔ جس کے لئے مثیل نہیں کہا گیا۔ بلکہ اصل نبی کا نام دیا گیا ۔“

(انوار خلافت ص ١٧٣، ١٧٤)

اور اسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١١٦ خزائن ج ٢٢ ص ١١٩)

دیکھا خلیفہ صاحب کس شان سے مرزا قادیانی

مراقی نبی کے تناقض کے چند حوالہ جات

دیکھیں بیسویں صدی کے مجدد کی شان انبیاء و دونوں باتیں مرتبہ کمال کو پہنچی ہوئی ہیں۔ ذیل میں شواہد در لطف اٹھائیں۔

اقوال مرزا غلام احمد قادیانی

غلو و

المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوگئی۔“ (اشتہار ٢ اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)

”میں ک نبی آ سکتے ہ کے بی

ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح ابن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک دوسرے سے بشد ومد مناسبت ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٢)

کر ہوں نبی و نبوت انسا

وقت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی

تاخ

٢٥

صفحہ ١٢٣

اور اسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١١٦، خزائن ج ٢٢ ص ١١٩)

دیکھا خلیفہ صاحب کس شان سے مرزا قادیانی کو نبی بتا رہے ہیں۔

مراقی نبی کے تناقض کے چند حوالہ جات

دیکھیں بیسویں صدی کے مجدد کی شان انبیاء سے بھی بلند نظر آتی ہے۔ مبالغہ اور تعلی دونوں باتیں مرتبہ کمال کو پہنچی ہوئی ہیں۔ ذیل میں شواہد درج کئے جاتے ہیں۔ ناظرین پڑھیں اور لطف اٹھائیں۔

اقوال مرزا غلام احمد قادیانی

غلو واختلاف مرزا غلام احمد قادیانی

المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفی ﷺ پر ختم ہوگئی۔“ (اشتہار ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)

”میں کوئی نیا نبی نہیں۔ مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آچکے ہیں۔ جن دلائل سے کسی نبی کو سچا کہہ سکتے ہیں۔ وہی دلائل میرے صادق ہونے کے ہیں۔ میں بھی منہاج نبوت پر آیا ہوں۔“

(اخبار الحکم مورخہ ١٠؍اپریل ١٩٠٨ء)

ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح ابن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک دوسرے سے بشدومد مناسبت ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٤)

کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبیوں پر تقسیم کئے جائیں تو ان سے ان کی بھی نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔ پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

وقت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی

تائید کی ہے کہ بہت سے نبی کم نبی گزرے ہیں۔

٢٥

صفحہ ١٢٤

ایک معنی سے نبی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں۔ مگر تاہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا شرف رکھتا ہے اور امور غیبیہ اس پر ظاہر ہوتے ہیں۔

(توضیح المرام ص ١٧، خزائن ج ٣ ص ٦٠)

جن کی یہ تائید کی گئی ہو۔ لیکن جن کے دلوں پر مہریں ہیں وہ خدا کے نشانوں سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨٧)

پر لعنت بھیجتے ہیں اور 'لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ' کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت ہے۔ جو زیر سایہ نبوت محمدیہ اور بہ اتباع آنجناب ﷺ اولیاء کو ملتی ہے۔ اس کے ہم قائل ہیں۔ غرض کہ نبوت کا دعویٰ اس طرف سے بھی نہیں۔ صرف ولایت اور محدث کا دعویٰ ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات حصہ دوم ص ٢٩٧، ٢٩٨)

بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“ (گویا از ١٨٩١ء تا ١٩٠٨ء ہر روز چھ نشان ظاہر ہوئے)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٩٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

قرآن کے وہ کذب الحادوزندقہ ہے۔ پھر میں کس طرح نبوت کا دعویٰ کروں۔ جب کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔“

(حمامتہ البشریٰ ص ١٤١، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

ہیں۔“

(ملفوظات ج ١٠ ص ٤٢٧)

جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔“

(ازالہ اوہام طبع اول ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)

سے نشان دکھا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں دکھائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)

٢٦

٢٥

گے اور محدث بمعنی یہاں وہ لوگ ہیں۔ جن سے مکالمات ومخاطبات الٰہیہ ہوتے ہیں۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٤٨ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٥٥)

حضرت سید المرسلین ﷺ پر فضیلت طلبی

ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے مجھے چوتھی تجلی فرمائی۔“

اگر یہ اقتباس کافی نہ ہو تو دوسرا ملاحظہ ہو

بوجہ موجود نہ ہونے کسی نمونہ کے جو معمہ منکشف نہ کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج و ماجوج کی عمیق الارض“ کی ماہیت کما حقہ ہی ظاہر فرمائی گئی۔

شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں

تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں اور میں یہ بات خدا کی

غالباً اس قدر اقتباسات میرے دعویٰ

تو اور ملاحظہ ہوں۔

صفحہ ١٢٥

گے اور محدث بفتحہ دال وہ لوگ ہیں۔ جن سے مکالمات ومخاطبات الٰہیہ ہوتے ہیں۔“ (براہین احمدیہ ص ٥٤٨ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٥٥)

جن کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے خواہش کی تھی۔ اس لئے اب ایمانوں کو خوب مضبوط کرو۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٠٠، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٤)

حضرت سید المرسلین ﷺ پر فضیلت ظلی اور بروزی کا بھی پردہ اٹھا دیا۔ ملاحظہ ہو:

ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہاء نہ تھا۔ بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے مجھے چھ ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧٧، خزائن ج ١٦ ص ٢٦٦)

اگر یہ اقتباس کافی نہ ہو تو دوسرا ملاحظہ فرمائیں۔

بوجہ موجود نہ ہونے کسی نمونہ کے ہو بہو منکشف نہ ہوئی اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصلی کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج و ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ ”دابۃ الارض“ کی ماہیت کماحقہ ہی ظاہر فرمائی گئی۔

(ازالۃ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)

شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ سو وہ میں ہوں۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص ١١٧)

(تحفہ گولڑویہ ص ٦٧، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں اور میں یہ بات خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں۔

(حقیقۃ الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)

غالباً اس قدر اقتباسات میرے دعویٰ کے اثبات کے لئے کافی ہوں گے۔ اگر کمی سمجھو تو اور ملاحظہ ہوں۔

٢٧

صفحہ ١٢٧

٦ ...... (خطبہ الہامیہ ص ١٨٠، ١٨٥، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٠ تا ٢٧٧) کا خلاصہ۔ جس طرح پہلی رات کا چاند کم روشنی کی وجہ سے ہلال اور چودھویں کا کمال روشنی کی وجہ سے بدر کہلاتا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ صدی اوّل میں ہلال اور میں چودھویں صدی میں بدر منیر ہوں۔

٧ .......

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

کیا میں مرزائی صاحبان سے دریافت کر سکتا ہوں کہ یہی شان رسول اللہ ﷺ کی آپ لوگوں کی نظروں میں ہے۔ صاف کیوں نہیں کہتے کہ مرزا قادیانی تو اللہ تعالیٰ کی بیوی تھے۔ نبی کا درجہ زیادہ ہے یا عورت کا۔ جس طرح ایک کشف میں حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) نے ایک دفعہ اپنی یہ حالت ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت میں آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ (مرزا قادیانی) عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔ (یعنی آپ کے ساتھ ہم بستری کی)

روایت قاضی یار محمد صاحب قادیانی رسالہ اسلامی قربانی مصنفہ قاضی یار محمد موصوف

تناقض ہی تناقض

مراق کی حالت مرزا قادیانی

غور طلب حالت

کوئی ایسا عقیدہ نہیں جو ہمارے ایمانیات کا کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ (ازالہ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)

اور اس کے باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارہ میں خدا اور اس کے رسول نے تاکید کی ہے۔

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

٢٨

کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں۔ بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی پایہ ثبوت نہیں پہنچتا ہے اور نہ درحقیقت ان کا زندہ ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٣٠٧، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦)

طور ہے اور

کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔

(ازالہ اوہام ص ٣٠٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)

سے

وہ جسم خاکی کے ساتھ دوسرے آسمان میں بغیر حاجت طعام کے یونہی فرشتوں کی طرح زندہ ہے۔ درحقیقت خدا تعالیٰ کے کلام پاک سے روگردانی ہے۔ (ازالہ اوہام ص ١٤٤، خزائن ج ٣ ص)

نازل خوائ سے

فوت ہو گیا۔

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)

سرگ

السلام) کا مزار ہے۔

(ایام الصلح ص ١١٨، خزائن ج ١٤ ص ٣٥٦)

کے پر آ ہے

ھل کنت الا بشرا رسولا‘‘ یعنی کفار کہتے ہیں تو (اے محمد) آسمان پر چڑھ کر ہمیں دکھلا

میں مع

٢٩

صفحہ ١٢٧

طور پر ان کا پرواز کرنا قرآن کریم سے ثابت ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام ص٦٨ خزائن ج٥ ص٦٨)

کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں۔ بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا اور نہ درحقیقت ان کا زندہ ہوجانا ثابت ہوتا ہے۔ (ازالہ اوہام ص٣٠٧، خزائن ج٣ ص٢٥٦)

سے افضل ہوں جو بے باپ تھے۔

(ازالہ اوہام ص٢٧٣، خزائن ج٣ ص٢٩٤)

کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔

(ازالہ اوہام ص٣٠٣ حاشیہ، خزائن ج٣ ص٢٥٤)

نازل ہوں گے۔ (براہین احمدیہ ص٤٩٨ تا ٥٠٥، خزائن ج١ ص٥٩٣ تا ٦٠١)

وہ جسم خاکی کے ساتھ دوسرے آسمان میں بغیر حاجت طعام کے یونہی فرشتوں کی طرح زندہ ہے۔ درحقیقت خداتعالیٰ کے کلام پاک سے روگردانی ہے۔ (ازالہ اوہام ص١٤٣، خزائن ج ص)

سری نگر محلہ خانیار میں اس کی قبر ہے۔

(کشتی نوح ص١٥، خزائن ج١٩ ص١٦)

فوت ہوگیا۔

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص٤٧٣، خزائن ج٣ ص٣٥٣)

کے گرجامیں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجاؤں سے بڑا ہے۔ اس کے اندر حضرت عیسیٰ کی قبر ہے۔ (اتمام الحجۃ ص٢١ حاشیہ، خزائن ج٨ ص٢٩٩)

السلام) کا مزار ہے۔

(ایام الصلح ص١١٨، خزائن ج١٤ ص٣٥٦)

میں یعنی اس بارہ میں کہ وہ جسم کے ساتھ شب معراج آسمان کی طرف اٹھائے گئے تھے۔

هل كنت الا بشرا رسولا‘ یعنی کفار کہتے ہیں تو (اے محمدؐ) آسمان پر چڑھ کر ہمیں دکھلا

٢٩

صفحہ ١٢٩

تب ہم ایمان لائیں گے۔ ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس سے پاک تر ہے کہ اس دار ابتلاء میں یعنی کھلے کھلے نشان دکھا دے اور میں بجز اس کے کچھ نہیں ہوں کہ ایک آدمی ہوں۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفار نے آنحضرت ﷺ سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تھا اور انہیں صاف جواب ملا کہ یہ عادت اللہ کی نہیں کہ کسی جسم خاکی کو آسمان پر لے جاوے۔

(ازالہ اوہام ص ٦٢٥ خزائن ج ٣ ص ٤٣٧)

تقریبا تمام صحابہ کا یہی اعتقاد تھا۔

(ازالہ اوہام ص ٢٨٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٧)

حضرت ایلیا کا رفع جسمی ملاحظہ ہو۔ (سلاطین ٢، باب ٢ آیت ١) اور مسیح کا رفع جسمانی (لوقا باب ٢٤ آیت ٥٠ اعمال باب ١)

ہیں ۔ ”وان الظن لا یغنی من الحق شیئاً“

(ازالہ اوہام ص ٦٥٢ خزائن ج ٣ ص ٤٥٣)

نبویہ کے ذریعہ سے ملی ہیں۔ نماز، زکوٰۃ کے احکام کی تفاصیل معلوم کرنے کے لئے ہم بالکل احادیث نبویہ کے محتاج ہیں۔ اسلامی تاریخ کا مبدا اور منبع بھی احادیث ہیں۔ اگر احادیث کے بیان پر بھروسہ نہ کیا جائے تو پھر ہمیں اس بات کو بھی یقینی طور پر نہیں ماننا چاہئے کہ درحقیقت حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ آنحضرت ﷺ کے اصحاب تھے۔ (شہادت القرآن ص ٢، خزائن ج ٦ ص ٢٩٩) اگر یہ سچ ہے کہ احادیث کچھ چیز نہیں تو پھر مسلمانوں کے لئے ممکن نہ ہوگا کہ آنحضرت ﷺ کی پاک سوانح میں سے کچھ بھی بیان کر سکیں۔

(شہادت القرآن ص ٤، خزائن ج ٦ ص ٣٠٠)

٣٠

نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح ہوں ۔ بلکہ اس مدت تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں۔

(ازالہ اوہام ص ٦٨٣ ، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩)

زمانہ میں بھـ کے طور پر

(حقیقت الـ

اللہ نے ١٩ تھا اور ٤٠٩

معنی میرے پر نہیں کھلے۔

(ایام الصلح ص ١٤١ حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ٣٦١)

کہ انسان کسی اور سکتا۔ کیو ایسے الہا بالاتر ہے

عیسیٰ علیہ السلام کی موت کو ہی چاہتا ہے۔

(ایام الصلح طبع دوم ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢)

ہوں۔

(براہین

تو کیا اس سے آپ کا یہ مطلب تھا کہ جناب کی مرگئے یا یہ کہ آپ کے بعد کوئی اور لڑکی لڑکا آپ کے والد مراد ہیں۔ جیسا کہ خود آپ نے اس کے بعد اس کے معنی بخـ کے تشریف لانے سے پہلے نبیوں میں سے اگر کوئی موجو عقیدہ یہ ہے کہ سابقہ نبیوں میں سے ایک کیا اگر سب کے

٣١

صفحہ ١٢٩

نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح ہوں۔ بلکہ اس مدت تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں۔

(ازالہ اوہام ص ٦٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩)

زمانہ میں بعض ناپاک طبع لوگوں نے محض افتراء کے طور پر مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ (حقیقۃ الوحی ص ٣٤٠، خزائن ج ١٨ ص ٣٥٣) بہاء اللہ نے ١٢٦٩ھ میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور ١٣٠٩ھ تک زندہ رہا۔

(الحکم ٢٤؍اکتوبر ١٩٠٤ء)

معنی میرے پر نہیں کھلے۔

(ایام الصلح ص ١٢١ حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ٣٦١)

کہ انسان کی اصلی زبان تو اور ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا۔ جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔

(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

عیسیٰ علیہ السلام کی موت کو ہی چاہتا ہے۔

(ایام الصلح طبع دوم ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢)

ہوں۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٨٦، خزائن ج ٢١ ص ١١٣)

تو کیا اس سے آپ کا یہ مطلب تھا کہ جناب کی پیدائش سے آپ کے بہن بھائی سب مر گئے یا یہ کہ آپ کے بعد کوئی اور لڑکی لڑکا آپ کے والدین کے ہاں پیدا نہ ہوا۔ یقیناً پچھلے معنی مراد ہیں۔ جیسا کہ خود آپ نے اس کے بعد اس کے معنی بھی لکھے ہیں تو پھر اسی طرح خاتم الانبیاء کے تشریف لانے سے پہلے نبیوں میں سے اگر کوئی موجود ہو تو اس کا مرنا لازم نہیں آتا۔ ہمارا تو عقیدہ یہ ہے کہ سابقہ نبیوں میں سے ایک کیا اگر سب کے سب بھی بفرض محال زندہ ہوں تو بھی ختم

٣١

صفحہ ١٣٠

نبوت میں فرق نہیں آتا۔ کیونکہ آپ سب سے آخری نبی بنے۔ ہاں کسی اور آدمی کا رسول پاک کے بعد ماں کے پیٹ سے پیدا ہو کر نبی بننا یہ ختم نبوت کے منافی ہے۔ جیسا کہ بعد آپ کے آپ کے (مرزا قادیانی) کی والدہ کے پیٹ سے کسی اور بچہ کا پیدا ہونا آپ کے خاتم الولد ہونے کے منافی ہے۔

(تریاق القلوب طبع دوم ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩) پر آپ نے یوں لکھا: ”میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی۔ جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد میں اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر اور کوئی لڑکا لڑکی نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الولد تھا۔“

اب ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے خاتم الولد ہونے سے ان کے سابقہ بہن بھائیوں کی موت لازم نہیں آتی۔ بلکہ ان کی ماں کے پیٹ سے اور اولاد ہونے کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ اسی طرح خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ رسول پاک کی بعثت کے ساتھ ہی نئے نبیوں کی پیدائش کا سلسلہ بند ہو گیا نہ کہ پہلے زندہ نبیوں کی موت کا باعث ہو گیا۔ آیت ”میثاق النبیین“ تو تمام نبیوں کی موجودگی میں حضرت رسول کریم ﷺ کی بعثت کو بھی ختم نبوت کے منافی نہیں بتلاتی۔ بلکہ ان میں سے بعض کی زندگی کا ثبوت بہم پہنچاتی ہے۔

(برق آسمانی)

خود رسول پاک ﷺ نے فرمایا کہ اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو یقیناً میری اطاعت کرتے۔ یہ نہیں فرمایا کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو میرے آنے سے مر جاتے۔

نیز خیال کیجئے۔ اس تقریر نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر قدرے روشنی ڈال دی ہے۔

”والسلام علی من اتبع الہدیٰ“

احقر: امان اللہ شاہ دولہ گیٹ گجرات

٣٢

خاتم النبیین

قادیانی

جناب مکرم و محترم عبدا

PDF 132

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانی دجل

جناب مکرم ومحترم عبدالرحیم عاجزؔ امرتسری

صفحہ ١٣٣

قادیانی دجل

حق کہن توں باز نہ آواں گے
ہندوستان دی دنیا دے اندروں قادیانی دجل نوں مٹاواں گے
حق کہن توں باز نہ آواں گے
اے پنجاب دا نبی مداری کردا رہیا کی کی عیاری
کس طرح اس نے عمر گزاری دنیا نوں کھول سناواں گے
حق کہن توں باز نہ آواں گے
قید کرن بھاویں بید لگاون کالے پانی بھی بھاویں سانوں پہنچاون
ساڈے لئی پھانسیاں لٹکاون پینگاں سمجھ چڑھ جاواں گے
حق کہن توں باز نہ آواں گے
ہووے جے حملہ دین مبین تے یا کہ پیارے رسول امین تے
یاد رکھو اسی شمع اے دین تے پروانیاں وانگ جل جاواں گے
حق کہن توں باز نہ آواں گے

٢

مال متاع گھر بار لٹا کے وانگ
کربل ہند دی زمین بنا کے عرب
حق کہن توں باز نہ آو
وانگ بلال پتھراں تے لٹاون سانوں
زکریا وانگ آرہ چلواون سراں
حق کہن توں باز نہ آو
جے دتی رب سانوں زندگانی دھرتی
نہ مل سی ایہدی کتے نشانی دنیا
حق کہن توں باز نہ آو
دنگا فساد اسیں کرنا نائیں نہاں
اس دے بس مریداں تائیں توڑ
حق کہن توں باز نہ آو
امیر شریعت دی بانہہ پھڑ کے کیوں
عاجزاں وانگر نہیں نہیں کر کے نہ

٣

صفحہ ١٣٣
مال متاع گھر بار لٹا کے وانگ اماماں خاندان کوہا کے
کربل ہند دی زمین بنا کے عزت نبی دی بچاواں گے
حق کہن توں باز نہ آواں گے
وانگ بلال پتھراں تے لٹاون شمس دے وانگ کھل کھچواون
زکریا وانگ آرہ چلواون پچھاں نہ قدم ہٹاواں گے
حق کہن توں باز نہ آواں گے
جے دتی رب سانوں زندگانی دہر م رہے گا نہ قادیانی
نہ مل سی ایہدی کتے نشانی دنیا نوں جلد دکھاواں گے
حق کہن توں باز نہ آواں گے
دنگا فساد اسیں کرنا نائیں نہ خلیفہ نوں، دینی ایزائیں
اس دے سب مریداں تائیں توڑ کے کلمہ پڑھاواں گے
حق کہن توں باز نہ آواں گے
امیر شریعت دی بانہہ پکڑ کے کیوں رہئے فیر کسے توں ڈر کے
عاجزاں وانگر میں میں کر کے نہ اپنی جان بچاواں گے

٣

صفحہ ١٣٤
حق کہن توں باز نہ آواں گے
قادیانی دجل نوں مٹاواں گے

بدزبان مرزا

ٹلنے والا ہے جہاں توں مرزائیو نام تہاڈا ہوون والا ہے برا دنیا تے انجام تہاڈا
دنیا کی چیز ہے آج عرش تے بھی معاذ اللہ چرچا توہین رسالت دا ہویا عام تہاڈا
جے رہی زندگی ساڈی تے تسیں دیکھ لینا سونا بہنا اسیں کر دیاں گے حرام تہاڈا
جس دی جی چاہے تسیں رل کے اچھالو پگڑی رہیا مڈھ توں ہی رویہ ایہ صبح شام تہاڈا
تساں انسان، پیغمبراں تے خدا نوں بھنڈیا کیوں کرے فیر کوئی دنیا تے احترام تہاڈا
آرزو ایہ کدے ہو سکتی نہیں تہاڈی پوری لکھ پئے بھار ونڈاون بھاویں حکام تہاڈا
اسیں کی چیز پیغمبر نہ کوئی ایسا دسدا جس تے لگا نہ ہووے ظالموں الزام تہاڈا
ایہ ہے گنبد دی صدا جو کہو سن لو گے اوہی بدزبانی دے اندر فرقہ ہے بدنام تہاڈا
کیتے اوہ کم تساں دنیا دے اندر آکے
ہویا شیطاں بھی عاجز جد آیا نام تہاڈا

٤

PDF 136

خاتم النبیین ﷺ لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

مرزائیوں

کے

خطرناک ارادے

حضرت مکرم ومحترم مولانا عبدالرحیم ڈیروی

صفحہ ١٣٧

مرزائی جماعت

خطرناک قسم کا سیاسی گروہ ہے

(ماخوذ از ماہنامہ الصدیق ملتان، بابت ماہ جمادی الاولی ١٣٧١ھ)

الصدیق کی گذشتہ اشاعت میں ہم نے الفضل کے حوالہ جات سے ان جائدادوں کا ذکر کیا تھا۔ جو مرزائیوں کو سستے داموں عنایت ہوئیں۔ جن کا اظہار مرزائیوں کے امام نے الفضل مورخہ ٢٠/ دسمبر ١٩٥١ء کے خطبہ جمعہ نمبر ٤٤ میں اظہار کیا تھا کہ سندھ کے اندر ہم نے ٤٠٠ مربعہ زمین تیس لاکھ روپیہ کی خرید کی ہے۔ پنجاب کی زمینوں کے نرخوں کے لحاظ سے بحساب دو ہزار روپیہ فی ایکڑ اس کی قیمت دو کروڑ روپیہ ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں اس ساری زمین کی قیمت بحساب ٣٠٠ روپے فی ایکڑ ادا کرنی پڑی۔

واضح رہے کہ مرزائیوں کے روپیہ میں بہت سا چندہ مسلمانوں کا بھی شامل ہے۔ جو تبلیغ اسلام کے نام سے عام مسلمانوں کو فریب اور دھوکہ دے کر وصول کیا جاتا ہے۔ چنانچہ الفضل مورخہ ١٣/ جنوری ١٩٥٢ء کے پرچہ میں چندہ امداد درویشاں قادیان کے عنوان سے جو رقوم جمع کی جارہی ہیں۔ اس میں سب سے پہلے ایک غیر احمدی (مسلمان) کا چندہ مبلغ پچاس روپیہ درج فہرست ہے۔ آج کی صحبت میں ہم مرزائیوں کی تبلیغ کی حقیقت واضح کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے تبلیغ کے عنوان سے جو ڈھونگ رچایا ہوا ہے۔ اس کی اصلیت کیا ہے۔ اس سے مسلمانوں کو ان سازشوں اور سرگرمیوں کا علم بھی ہو جائے گا۔ جن کے ذریعہ سے مسلمانوں کے متاع ایمانی پر ڈاکہ ڈال کر پھر ان کی جیبوں کو بھی خالی کرا کے خسر الدنیا والاخرۃ کا مصداق بنا دیا جاتا ہے۔

بائیکاٹ اور سزائیں

ہوتے ہیں بائیکاٹ اور مقاطعہ کی سزاؤں کا اعلان کر دیتے ہیں۔ جو شخص بھی قادیانی خلیفہ پر تنقید کرے یا ان کی کسی حرکت پر لب کشائی کرے وہ مستحق سزا اور خارجی سمجھا جاتا ہے۔ پھر جب تک وہ بیچارہ اپنے ضمیر کے خلاف مرزا محمود قادیانی کی خوشامد نہ کرے اور گڑگڑا کر توبہ نہ کرے۔ اسے معاف نہیں کیا جاتا۔ الفضل کے اندر آئے دن اس قسم کے اعلان شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اندرونی حالات کا علم تو انہی لوگوں کو ہے جن پر بیت رہی ہے۔ ہم ان کے اعلانات ہی سے نقل

٢

کر رہے ہیں۔ جن کو وہ بہت ہی سوچ سمجھ کر شائع کر اعلان سزا مقاطعہ و بائیکاٹ ومقاطعہ برائے سید منظور احمد ، افضـ ومقاطعہ برائے محمد شفیع) کیا آج تک کسی خالص مذہبی بائیکاٹ ہوئے ہیں؟

خصوصی کاموں کے لئے صرف پنج سالہ اور جو جماعتیں خالص مذہبی اور تبلیغ ہوتی ہیـ تقرر عمل میں نہیں لائے جاتے۔ سازشی گروہوں کا یہ کارکن منتخب کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ موجودہ خلیفہ مر ١٥٠٠ ایسے رضا کار طلب کئے ہیں جو پرانے پانچ سا سفارش جماعت کا پریذیڈنٹ بھی کرے۔

ملاحظہ ہو (الفضل مورخہ ٢٠/ دسمبر ١٩٥١ء) مگر

اطلاع دیں۔ کیونکہ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے۔ کر ہوں یا نسلی احمدی ہوں اور جن کے متعلق پریذیڈنٹ کریں کہ وہ ہر قسم کی قربانی اور محنت سے کام کر ارتکاب نہیں کریں گے۔"

تعجب کا مقام ہے کہ اعلان ایک ایسے اور مذہبی ہے۔ پھر وہ ایسے مقام پر ہورہا ہے۔ جـ ہے۔ زمین، جائیدادیں، مکانات سب انگریز گور ان کو خوش قسمتی سے کوڑیوں کے بھاؤ مل گئی تھیں۔ نگرانی۔ اس کے لئے پنج سالہ احمدی اور نسلی احمدی بے اعتمادی کیوں؟ ان شرائط کو پڑھ کر بھی کیا کو ہے۔ جس کا کام صرف تبلیغ ہے؟ جس جماعت ـ نہیں اس کو مذہبی جماعت تو بجائے خود صرف جما

صفحہ ١٤٧

کر رہے ہیں۔ جن کو وہ بہت ہی سوچ سمجھ کر شائع کرتے ہیں۔ (دیکھو الفضل مورخہ ١١ جنوری ١٩٥٢ء اعلان سزا مقاطعہ و بائیکاٹ و مقاطعہ برائے سید منظور احمد، الفضل مورخہ ١٥ جنوری ١٩٥٢ء اعلان سزا و بائیکاٹ و مقاطعہ برائے محمد شفیع) کیا آج تک کسی خالص مذہبی جماعت میں بھی اس قسم کے مقاطعے اور بائیکاٹ ہوئے ہیں؟

خصوصی کاموں کے لئے صرف پنج سالہ اور نسلی احمدی مخصوص ہیں

جو جماعتیں خالص مذہبی اور تبلیغی ہوتی ہیں۔ ان میں خاص کاموں کے لئے خصوصی تقرر عمل میں نہیں لائے جاتے۔ سازشی گروہوں کا یہ کام ہوتا ہے کہ خصوصی کاموں کے لئے علیحدہ کارکن منتخب کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ موجودہ خلیفہ مرزا میاں محمود نے اپنے جلسہ سالانہ کی خاطر ١٥٠٠ ایسے رضا کار طلب کئے ہیں جو پرانے پانچ سالہ احمدی ہوں یا نسلی احمدی ہوں۔ پھر ان کی سفارش جماعت کا پریذیڈنٹ بھی کرے۔

ملاحظہ ہو (الفضل مورخہ ٢٠ دسمبر ١٩٥١ء) مگر شرط یہ ہوگی کہ کوئی احمدی خادم ایسا نہ ہو۔ جو پانچ سال پہلے کا احمدی نہ ہو یا کسی احمدی کی نسل سے نہ ہو اور پھر اس کی سفارش جماعت کا پریذیڈنٹ کرے اور لکھے کہ یہ شخص اعتماد کے قابل ہے۔ اسے حفاظت کے کام پر لگایا جائے۔

اطلاع دیں۔ کیونکہ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے۔ مگر آدمی وہی ہوں۔ جو کم سے کم پانچ سالہ احمدی ہوں یا نسلی احمدی ہوں اور جن کے متعلق پریذیڈنٹ، سیکرٹری اور زعیم تینوں اس بات کی تصدیق کریں کہ وہ ہر قسم کی قربانی اور محنت سے کام کریں گے اور کسی قسم کی غفلت، سستی یا غداری کا ارتکاب نہیں کریں گے۔“

(الفضل مورخہ ٢٣ دسمبر ١٩٥١ء)

تعجب کا مقام ہے کہ اعلان ایک ایسے جلسہ کا ہے۔ جس کی نوعیت ان کے نزدیک تبلیغی اور مذہبی ہے۔ پھر وہ ایسے مقام پر ہورہا ہے۔ جہاں مرزائیوں نے اپنا ایک الگ شہر آباد کیا ہوا ہے۔ زمین، جائیدادیں، مکانات سب انگریز گورنر کے زمانہ میں انہوں نے خرید کر لی تھیں۔ جو ان کو خوش قسمتی سے کوڑیوں کے بھاؤ مل گئی تھیں۔ پھر کام صرف اتنا ہے جلسہ کا انتظام، حفاظت اور نگرانی۔ اس کے لئے پنج سالہ احمدی اور نسلی احمدی کی شرط کیوں؟ اپنی جماعت کے ہی آدمیوں پر بے اعتمادی کیوں؟ ان شرائط کو پڑھ کر بھی کیا کوئی شخص باور کر سکتا ہے کہ یہ ایک مذہبی جماعت ہے۔ جس کا کام صرف تبلیغ ہے؟ جس جماعت کے امام اور امیر کو اپنے آدمیوں کا اعتماد بھی حاصل نہیں اس کو مذہبی جماعت تو بجائے خود صرف جماعت ہی نہیں کہا جاسکتا۔

٣

صفحہ ١٣٩

مرزا بشیر الدین محمود اپنی خلافت کو نبوت کا تمہ سمجھتے ہیں

اور اسے کسی طرح چھوڑنے کے لئے تیار نہیں

واضح رہے کہ موجودہ خلیفہ قادیانی نے اخبار ”الرحمت“ اور الفضل میں ایک سلسلہ مضامین شروع کر رکھا ہے۔ جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ قادیانی اپنی جماعت پر کچھ ایسے بری طرح مسلط ہو چکے ہیں کہ اب ان کی جماعت میں خلیفہ قادیانی کو خلافت سے معزول کر دیئے جانے کے مشورے ہونے لگے ہیں۔ خلیفہ قادیانی کی نوعیت اگر یہی ہے کہ ایک جماعت تبلیغ اسلام کر رہی ہے اور یہ اس کے امام و پیشوا ہیں۔ پھر وہ ان کو معزول کر کے کسی اور صالح آدمی کو امام بنانا چاہتی ہے تو خلیفہ قادیانی گھبراتے کیوں ہیں۔ جو کچھ الزامات ان پر عائد کئے جاتے ہیں۔ ان کو برسرمنبر لا کر ان سے اپنی برأت اور صفائی کا اظہار کر دیں اور اپنے کیرکٹر و دیانت پر مخالفوں کو نہ سہی تو کم از کم اپنے آدمیوں کو ہی تنقید کا موقعہ بخشیں۔ مگر خلیفہ قادیانی اپنے متعلق کسی بات کو زیر بحث آنے ہی نہیں دیتے۔ بلکہ اس سے اپنا پہلو صاف بچا کر اپنی جماعت کو دوسری بحثوں میں الجھا دیتے ہیں کہ اسلام میں خلیفہ معزول نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ خلیفہ قادیانی اپنے اعمال کو جو گھناؤنی تصویر زیر عبا چھپائے ہوئے ہیں۔ اس کے برسرعام آجانے سے تھر تھر کانپتے ہیں اور ایک دنیاوی گدی جو مرزا غلام احمد قادیانی نے قائم کی تھی اسے کسی طرح چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ بلکہ آئندہ بھی اپنی اولاد کو اسی پر قائم رکھنے اور مالک بنانے کے لئے ابھی سے اپنے بیٹوں کو ”ہوالناصر“ کہہ کر بڑھا رہے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ سندھ میں جو زمین خریدی گئی ہے۔ اگر وہ تبلیغ کے مقصد کے لئے ہے تو محمود آباد، ناصر آباد کے نام سے ان کو ریاستی شکل کیوں دی جارہی ہے؟

موجودہ خلیفہ قادیانی نے کمال چالاکی سے موافق اور مخالف لوگوں کو اس بحث میں الجھا رکھا ہے کہ: ”خلیفہ معزول ہو سکتا ہے یا نہیں ۔“ ہمارے بعض اخبارات بھی اس بحث میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ امر زیر بحث آنا چاہئے کہ موجودہ خلیفہ قادیانی خلیفہ بھی ہے یا نہیں اور جس نبی کا خلیفہ ہے اور اس نبی کی نبوت کیسی ہے۔ پھر اس کو اس کی اپنی مرزائی جماعت نے ہی کب انتخاب کیا تھا؟ اور وہ کون سے مرزائی تھے جو اس کے خلیفہ ہونے کے انتخاب میں شریک ہوئے۔ مولوی محمد علی لاہوری اور ان کی پارٹی تو پہلے دن سے چیخ رہی ہے کہ ہم بشیر الدین محمود کو اپنا خلیفہ نہیں مانتے۔

٤

بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جس قوت اور طاقت نے مرزا اسی نے ہی مرزا غلام احمد قادیانی کے لڑکے کو خلافت بھی عطا کی اس خلافت کی داغ بیل رکھ گئے تھے۔ چنانچہ یہ چھوٹے مرزا آگے پیش کر کے اپنی خلافت پر استدلال فرماتے ہیں۔ چنانچہ حوالہ نقل کر کے لکھتے ہیں: ”پس خلافت دراصل نبوت کے نظام کرالوری یا سپلیمنٹ کہتے ہیں۔ کیونکہ جیسا کہ مسیح موعود علیہ السل خلافت کے بغیر تکمیل کو نہیں پہنچتا۔“

ہم اپنے ناظرین کو آگاہ کرتے ہیں کہ غلام احمد قادی (تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥) میں مرزا اکثر حصہ اس سلطنت (انگریزی حکومت) کی تائید اور حمایت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچایا ہے۔ م سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں۔“

ظاہر ہے کہ اس برطانوی قسم کی نبوت کے مقاصد سکتی ہے۔ جب تک برطانیہ عظمیٰ کی منظوری حاصل نہ ہو۔ موجو سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ عزل خلافت کی بحثیں بیکار ہیں۔ لیکن دیکھئے کہ اپنے تنقید کرنے والوں کو خوب ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہ میں معزول ہو سکتا ہے تو یقیناً حضرت علیؓ مجرم ہیں۔ کیونکہ ان کی دیا تھا کہ ہم آپ کو خلافت سے معزول سمجھتے ہیں۔ لیکن حضرت ہزار باغیوں کو قتل کر کے رکھ دیا۔“

لے یہ حضرت علیؓ پر صریح بہتان ہے کہ انہوں نے انہوں نے حضرت علیؓ سے معزولیت کا مطالبہ کیا تھا۔ بلکہ وہ تھے۔ اس لئے قتال کیا گیا۔

٥

صفحہ ١٣٩

بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جس قوت اور طاقت نے مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت بخشی تھی۔ اسی نے ہی مرزا غلام احمد قادیانی کے لڑکے کو خلافت بھی عطا کی ہے اور بڑے مرزا قادیانی خود ہی اس خلافت کی داغ بیل رکھ گئے تھے۔ چنانچہ یہ چھوٹے مرزا انہی الہامات کو اپنی جماعت کے آگے پیش کر کے اپنی خلافت پر استدلال فرماتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کتاب الوصیت سے حوالہ نقل کر کے لکھتے ہیں: ”پس خلافت دراصل نبوت کے نظام کا تتمہ ہے جسے انگریزی میں کرالوری یا سپلیمنٹ کہتے ہیں۔ کیونکہ جیسا کہ مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ کسی نبوت کا کام خلافت کے بغیر تکمیل کو نہیں پہنچتا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٥؍نومبر ١٩٥١ء)

ہم اپنے ناظرین کو آگاہ کرتے ہیں کہ غلام احمد قادیانی کی نبوت کا مقصد کیا تھا۔

(تریاق القلوب ص١٥، خزائن ج١٥ ص١٥٥) میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت (انگریزی حکومت) کی تائید اور حمایت میں گذرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں۔ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچایا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں۔“

ظاہر ہے کہ اس برطانوی قسم کی نبوت کے مقاصد کی تکمیل بھی برطانوی خلافت ہی کر سکتی ہے۔ جب تک برطانیہ عظمیٰ کی منظوری حاصل نہ ہو۔ موجودہ مرزا قادیانی کے معزول ہونے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ عزل خلافت کی بحثیں بیکار ہیں۔ لیکن پھر بھی مرزا قادیانی کی ہمت کی داد دیجئے کہ اپنے تنقید کرنے والوں کو خوب ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اگر خلیفہ اسلام میں معزول ہو سکتا ہے تو یقیناً حضرت علیؓ مجرم ہیں۔ کیونکہ ان کی اپنی جماعت کے ایک حصہ نے کہہ دیا تھا کہ ہم آپ کو خلافت سے معزول سمجھتے ہیں۔ لیکن حضرت علیؓ نے تلوار میان سے نکال لی اور ہزارہا خارجیوں کو قتل کر کے رکھ دیا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٥؍نومبر ١٩٥١ء)

١؎ یہ حضرت علیؓ پر صریح بہتان ہے کہ انہوں نے خوارج سے اس لئے لڑائی کی تھی کہ انہوں نے حضرت علیؓ سے معزولیت کا مطالبہ کیا تھا۔ بلکہ وہ مرتد ہو کر اسلام سے خارج ہو چکے تھے۔ اس لئے قتال کیا گیا۔

٥

صفحہ ١٤١

جو مرزائی مرزا محمود قادیانی کو معزول کرنا چاہتے ہیں ان کو اپنا انجام بد معلوم کر لینا چاہئے ۔ ہم مزید بحث میں پڑے بغیر مسلمان بھائیوں سے استفسار کرنا چاہتے ہیں کہ کیا موجودہ مرزا کی ان تصریحات کے باوجود وہ اپنی جماعت کے لئے صرف تبلیغی پیشوا سمجھے جائیں گے جو اپنے معزول کرنے والوں کو اس قسم دھمکیاں سناتے ہیں۔ کیا کسی احمدی سے اس خلیفہ کی اس قسم کی اندھی بیعت کے بعد کہ جس میں اسے معزول کرنے اور تنقید کرنے کا حق بھی نہ دیا جائے اور اس کو خلیفہ صاحب کی ہر بات بلا دلیل ماننے کے لئے تیار کیا جائے ۔ کسی اسلامی ریاست اور اسٹیٹ کا وفادار رہ سکنے کی امید کی جاسکتی ہے۔

حکومت کے تمام محکموں میں گھس جانے کا حکم

خلیفہ قادیان مرزا محمود کے شائع شدہ خطبہ جمعہ میں اپنی جماعت کو خطاب کرتے ہوئے حکم دیتے ہیں کہ ہمارا تناسب فوج میں دوسرے محکمہ جات سے تو بہت زیادہ ہے۔ لیکن پھر بھی ہمارے حقوق کی حفاظت پوری طرح نہیں ہو سکتی۔ اس لئے محکمہ جات پولیس، ریلوے، فنانس، اکاؤنٹس، کسٹمز، انجینئرنگ وغیرہ تمام محکموں میں ہمارے آدمیوں کو گھس جانا چاہئے۔ یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ پاکستان کی ملازمتوں پر دھاوا بول کر اقتدار حاصل کرنے کی سکیم ہے یا تبلیغ اسلام ہے؟ اصل عبارت ملاحظہ ہو۔ ”بھیڑ چال کے طور پر نوجوان ایک ہی محکمہ میں چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ متعدد محکمے ہیں جن کے ذریعہ سے جماعت اپنے حقوق حاصل کرسکتی ہے اور اپنے آپ کو شر سے بچاسکتی ہے۔ جب تک ان کے سارے محکموں میں ہمارے آدمی موجود نہ ہوں۔ ان سے جماعت پوری طرح کام نہیں لے سکتی۔ ( یہ جملہ قابل غور ہے کہ جماعت ان ملازمان سرکاری سے کیا کام لیتی ہے؟) مثلاً موٹے موٹے محکموں میں سے فوج ہے، پولیس ہے، ایڈمنسٹریشن ہے، ریلوے ہے، فنانس ہے، اکاؤنٹس ہے، کسٹمز ہے، انجینئرنگ ہے۔ یہ آٹھ دس موٹے موٹے صیغے ہیں۔ جن کے ذریعہ سے ہماری جماعت اپنے حقوق محفوظ کر سکتی ہے۔ ہماری جماعت کے نوجوان فوج میں لئے جاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہماری نسبت فوج میں دوسرے محکموں کی نسبت سے بہت زیادہ ہے اور ہم اس سے اپنے حقوق کی حفاظت کا فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔ باقی محکمے خالی پڑے ہیں۔ بے شک آپ لوگ اپنے لڑکوں کو نوکری کرائیں۔ لیکن وہ نوکری اس طرح کیوں نہ کرائی جائے۔ جس سے جماعت فائدہ اٹھا سکے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١١؍ جنوری ١٩٥٢ء)

٦

اس اقتباس کو بار بار پڑھیں۔ وہ کون ملازمتوں سے کرائی جاتی ہے اور وہ کون سے جماعتی مد نظر رکھا جاتا ہے؟

دراصل بات یہ ہے کہ مرزائی صاحبان اپنی ہم نے مرزائیوں کو صرف مذہبی جماعت سمجھ رکھا ہے اور کو بھی دخل ہے کہ وہ ہمارے مفکرین کو حیلۃً وبہانۃً سح مقصد یہ نہیں کہ اس پہلو پر بالکل بحث نہ کی جائے۔ بلکہ اقتدار پر قبضہ پا کر اور سرکاری ملازمتوں پر فائز ہو کر جو ہر سرکاری محکمہ مرزائیوں کے مکمل کنٹرول میں آجا۔ جائے۔ کیا اس قسم کی اسکیموں کے ہوتے ہوئے بھی جاسکتی ہے؟

ہمارا مقصد صرف اتنا ہے کہ مرزائی مبلغین کرتے ہیں کہ ہم اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں اور عیسائی ہیں۔ پاکستانی ملازمتوں میں کون سے عیسائی افسران میدان میں چھا جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ خلیفہ قادیانی کے شائع شدہ خطبہ کے آ خلیفہ قادیانی نے اپنی جماعت کو دیا ہے۔ اس سے پ قوم کی رہنمائی فرمائی ہے وہ بھی ملاحظہ ہو۔

مرزائیوں کو ١٥، ١٦؍ جنوری تک ایک پلین

موجودہ خلیفہ قادیانی اپنی جماعت کو حکم د کریں تا کہ ہم ان کو پورا نہ کرنے پر گرفت کر سکیں چاہئے کہ جسے واقعات کے لحاظ سے پکڑا جا سکے۔ بڑے زور شور سے تبلیغ کریں گے تو زور شور ایسی چیز جاسکے۔ پلین اور تجویز یہ ہے کہ ہم نے اس سال

٧

صفحہ ١٤١

اس اقتباس کو بار بار پڑھیں۔ وہ کون سے حقوق ہیں جن کی حفاظت سرکاری ملازمتوں سے کرائی جاتی ہے اور وہ کون سے جماعتی مفاد ہیں جن کو سرکاری ملازمتوں میں مدنظر رکھا جاتا ہے؟

دراصل بات یہ ہے کہ مرزائی صاحبان اپنی ملازمتوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہم نے مرزائیوں کو صرف مذہبی جماعت سمجھ رکھا ہے اور اس میں زیادہ تر مرزائیوں کے پروپیگنڈہ کو بھی دخل ہے کہ وہ ہمارے مفکرین کو حیات و ممات مسیح کی بحثوں میں الجھائے رکھتے ہیں۔ میرا مقصد یہ نہیں کہ اس پہلو پر بالکل بحث نہ کی جائے۔ بلکہ اس جماعت کا جو اہم پہلو ہے وہ یہ ہے کہ اقتدار پر قبضہ پا کر اور سرکاری ملازمتوں پر فائز ہو کر جماعت کو فائدہ پہنچایا جائے۔ گویا اس طرح ہر سرکاری محکمہ مرزائیوں کے مکمل کنٹرول میں آجائے۔ یا کم از کم ان کو مؤثر رسوخ حاصل ہو جائے۔ کیا اس قسم کی اسکیموں کے ہوتے ہوئے بھی مرزائیوں کی جماعت صرف مذہبی تصور کی جاسکتی ہے؟

ہمارا مقصد صرف اتنا ہے کہ مرزائی مبلغین روزانہ مسلمانوں میں گلا پھاڑ پھاڑ کر وعظ کرتے ہیں کہ ہم اسلام کی تبلیغ کررہے ہیں اور عیسائیت کا مقابلہ کر کے اسلام کی خدمت کررہے ہیں۔ پاکستانی ملازمتوں میں کون سے عیسائی افسران فائز ہیں جن کو گرانے کے لئے آپ اس میدان میں چھا جانے کی کوشش کررہے ہیں۔

یہ خلیفہ قادیانی کے شائع شدہ خطبہ کے آخری اقتباس ہیں اور یہ آخری مشورہ ہے جو خلیفہ قادیانی نے اپنی جماعت کو دیا ہے۔ اس سے پہلے جن قیمتی مشوروں اور ناطق احکام سے اپنی قوم کی رہنمائی فرمائی ہے وہ بھی ملاحظہ ہو۔

مرزائیوں کو ١٥، ١٦؍ جنوری تک ایک پلین اور واضح پروگرام پیش کرنے کا حکم

موجودہ خلیفہ قادیانی اپنی جماعت کو حکم دیتے ہیں کہ ١٩٥٢ء کی تبلیغ کا واضح پروگرام پیش کریں تاکہ ہم ان کو پورا نہ کرنے پر گرفت کرسکیں۔ الفاظ یہ ہیں: ’’وہ پلین اور تجویز ایسی ہونی چاہئے کہ جسے واقعات کے لحاظ سے پکڑا جاسکے۔ مثلاً اگر دعوۃ تبلیغ والے کہیں کہ ہم اس سال بڑے زور شور سے تبلیغ کریں گے تو زور شور ایسی چیز نہیں جس کی وجہ سے وقت گزرنے پر انہیں پکڑا جاسکے۔ پلین اور تجویز یہ ہے کہ ہم نے اس سال فلاں تحصیل، فلاں تھانے، فلاں گروہ کو اپنے

٧

صفحہ ١٤٢

ساتھ کر لینا ہے۔ (آخر میں فرماتے ہیں) بس میں ہر صیغہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے کام کے لئے ایک خاص پلین اور تجویز بنائے اور ١٥ / ١٦ جنوری تک اسے پیش کر دے۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ١١؍ جنوری ١٩٥٢ء)

تمام ملک (پاکستان، صوبہ جات، ضلعے، تحصیلیں، دفاتر وغیرہ) کا جائزہ لو۔ پھر تبلیغ کرو۔ کس طرح؟ لاکھوں کی تعداد میں اشتہارات شائع کرو۔ جس سے ملک میں تہلکہ مچ جائے۔ تعلیم یافتہ اور مغرور قسم کے لوگوں میں کتابیں تقسیم کرو۔

ملاحظہ ہو (الفضل قادیان مورخہ ١١؍ جنوری ١٩٥٢ء) ”ہمیں اپنے ملک کا پوری طرح جائزہ لینا چاہئے کہ ملک میں کس حد تک تقریروں کے ذریعہ تبلیغ کی ضرورت ہے۔ کس حد تک لٹریچر کے ذریعہ تبلیغ کی ضرورت ہے۔ کون سے گروہ ایسے ہیں جن میں پمفلٹ زیادہ مقبول ہو سکتے ہیں اور کون سے گروہ ایسے ہیں جن میں کتابیں زیادہ مقبول ہو سکتی ہیں۔ اس وقت نظارت دعوت وتبلیغ پمفلٹ کے ذریعہ تبلیغ کرتی ہے۔ لیکن پمفلٹ ایک چیز ہے جس کا بوجھ زیادہ دیر تک نہیں اٹھایا جاسکتا۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے زمانہ میں تبلیغ اشتہارات کے ذریعہ ہوتی تھی۔ وہ اشتہارات دو چار صفحات پر مشتمل ہوتے تھے اور ان سے ملک میں تہلکہ مچا دیا جاتا تھا۔ ان کی کثرت سے اشاعت کی جاتی تھی۔ اس زمانہ کے لحاظ سے کثرت کے معنی ایک دو ہزار کی تعداد کے ہوتے تھے۔ بعض اوقات دس دس ہزار کی تعداد میں بھی اشتہارات پچاس پچاس ہزار بلکہ لاکھ لاکھ کی تعداد میں شائع ہوں۔ پھر دیکھو کہ یہ اشتہار کس طرح لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ اگر اشتہارات پہلے سال میں بارہ دفعہ شائع ہوتے تھے تو اب خواہ انہیں سال میں تین دفعہ کر دیا جائے اور صفحات دو چار پر لے آئیں۔ لیکن وہ لاکھ لاکھ دو دو لاکھ کی تعداد میں شائع ہوں تو پتہ لگ جائے گا کہ انہوں نے کس طرح حرکت پیدا کی ہے۔ یہ کتابی حصہ ہے جو تعلیم یافتہ اور مغرور قسم کے لوگ ہیں۔ انہیں کتابیں پیش کی جائیں۔ مرکزی اور صوبائی جماعت کے لوگ ان کے پاس جائیں اور انہیں کتابیں دیں۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١١؍ جنوری ١٩٥٢ء)

مقام تعجب ہے کہ پاکستان میں لاکھوں اشتہار اور پمفلٹ شائع کرنے کا کیا مقصد ہے۔ کیا ان اشتہاروں میں تبلیغ اسلام ہوگی؟ ہمارے خیال میں ان اشتہاروں کے اندر وہ مضامین ہوں گے جو روزانہ شیعہ، سنی تفریق کے عنوان سے الفضل میں شائع ہوتے ہیں اور جن میں

٨

صفحہ ١٤٣

پاکستان بننے سے قبل کی مردہ بحثیں زندہ کر کے مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر انگریزوں کے ہاتھوں کو مضبوط اور ان کے دل کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ بہرحال مسلمانوں سے التماس ہے کہ مرزائیوں کے اشتہارات اور گمراہ کن مضامین سے متاثر نہ ہوں۔ جن کو شائع کرنے کی خلیفہ قادیانی اپنی جماعت کو ترغیب اور تاکید مزید کر رہے ہیں۔

١٩٥٢ء مسلمانان پاکستان کے لئے سخت صبر آزما ہے

بہرحال ١٩٥٢ء مسلمانوں کے لئے سخت صبر آزما ہوگا۔ مرزائی اپنی سکیم کو عملی جامہ پہنائیں گے۔ اشتہارات اور پمفلٹ شائع کرنے کی سکیم بھی منظر عام پر آ چکی ہے۔ حکومت کے محکموں پر قبضہ کرنے اور اس سے جماعتی فوائد حاصل کرنے کا حکم بھی مرزائیوں کو مل چکا ہے۔ مسلمانوں کو اشتہار کے مقابلہ میں اشتہار، پمفلٹ کے مقابلہ میں پمفلٹ بھی شائع کرنے چاہئیں اور حکومت سے اس معقول مطالبہ کو منوا لینا چاہئے کہ مرزائیوں کو ایک اقلیت تسلیم کر کے ملکی عہدوں خصوصاً فوج اور پولیس وغیرہ میں ان کی تعداد مقرر کر دی جائے۔ تا کہ مملکت پاکستان میں یہ نیا فتنہ پیدا نہ ہو۔ ورنہ مرزائی اب حکومت اور اقتدار کے رعب اور دھونس سے مرزائی بنانا چاہتے ہیں اور وزارت خارجہ سے جہاں تک جلد ہو سکے چودھری ظفر اللہ کو خارج کر کے کسی مسلمان وزیر کا تقرر عمل میں لایا جائے۔ (الفضل قادیان مورخہ ١٦ جنوری ١٩٥٢ء) کا مندرجہ ذیل اعلان قابل غور ہے۔

١٩٥٢ء اور فریضہ تبلیغ

اگر ہم محنت کریں اور تنظیم کے ساتھ محنت سے کام کریں تو ١٩٥٢ء میں ہم ایک عظیم انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ ہر خادم کو اس عزم سے اس سال تبلیغ کرنی چاہئے کہ اس سال احمدیت کی ترقی نمایاں طور پر دشمن (مسلمان) بھی محسوس کرنے لگے۔ آپ اگر اپنے کاموں پر فریضہ تبلیغ کو مقدم کریں گے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ کے ذریعہ بھولے ہوئے مسلمان ہدایت نہ پا جائیں۔ اپنے ارادوں کو بلند کیجئے۔ ہمتیں مضبوط کیجئے کہ خدا کے فرشتے آپ کے کاموں میں آپ کی مدد کے لئے بے تاب کھڑے ہیں۔ (یعنی نوکریوں اور ملازمتوں کے دروازے آپ کے لئے کھلے ہوئے ہیں۔ الصدیق) صرف اور صرف دیر آپ کی طرف سے ہو رہی ہے۔ ١٩٥٢ء کو گزرنے نہ دیجئے۔ جب تک احمدیت کا رعب دشمن اس رنگ میں محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت مٹائی نہیں جاسکتی اور وہ مجبور ہو کر احمدیت کی آغوش میں آ گرے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٦ جنوری ١٩٥٢ء)

٩

صفحہ ١٤٥

مندرجہ بالا بیان محتاج نہیں۔ ان الفاظ میں صاف طور پر حکم دے دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو مرزائی بننے پر مجبور کر دیا جائے۔ پس اندریں حالات مسلمان رہنماؤں کا فرض ہے کہ مسلمانوں کو مرزائیوں کی دستبرد، جبر واکراہ سے بچانے کے لئے ایک مؤثر پروگرام بنائیں اور مرزائیوں کو ایک مذہبی جماعت تصور کرنے سے باز آئیں۔ بلکہ مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ نے مرزائیوں کے متعلق جو انتباہ پیش کیا تھا اس کو زیر نظر رکھتے ہوئے ان کو جدا گانہ اقلیت قرار دینے کی سعی کریں۔

ہمارے سفارت خانے اور مرزائی

(ماخوذ از ماہنامہ الصدیق ملتان، بابت ماہ جمادی الثانی ١٩٥١ء) وزارت خارجہ کے اثر کو سر ظفر اللہ کی وجہ سے کس طرح مرزائی اپنی مرزائیت کی تبلیغ میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ملاحظہ ہو۔ واشنگٹن کے مرزائی مبلغ کی سالانہ رپورٹ میں سے جو ٨/جنوری ١٩٥٢ء کے الفضل میں چھپی ہے۔ ایک اقتباس ہے۔

پر بلایا۔ اس موقعہ پر ان کو تبلیغ کی گئی اور مسئلہ فلسطین کے متعلق پاکستانی نقطہ نگاہ کے متعلق بحث کی گئی۔“

ساتھ اس لنچ کی تقریب پیدا ہوئی اس موقعہ پر دو گھنٹے تک تعلیم اسلام اور حیات النبیﷺ پر گفتگو ہوئی اور لٹریچر پیش کیا گیا۔“

خدمات سے واقف کیا گیا۔ کیا ہمارے ارباب اقتدار اب بھی بیدار نہیں ہوں گے اور مرزائیت وارتداد کی تبلیغ کو اپنے سفارت خانوں سے دور رکھنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

اس کے ساتھ ہی سپین کے مبلغ کی تقریر بھی ملاحظہ فرمائیے۔

(الفضل مورخہ ٢٢/جنوری ١٩٥٢ء) ”آراگون علاقا کے چوٹی کے اخبار Heralads) (Aragon نے خاکسار کے فوٹو کے ساتھ ایک مختصر سا آرٹیکل شائع کیا۔ دراصل جرنلسٹ نے

١٠

نمائندہ سے دوران گفتگو میں بعض سیاسی حالات پر تبادلہ خیال ہوا مصر اور ایران کے تعلق میں انگریزوں کے سلوک کا ذکر تھا مگر حقیقی رہنما امام جماعت احمدیہ نے ہندو پاکستان کی آزادی کے انگلستان کے لئے یہ بہتر ہوگا کہ انگلینڈ ان ملکوں کو جو غلام ہیں دس لاکھ سپاہی اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہوئے از خود کمیونزم کا مقابلہ

کیا ہمارے ارباب اقتدار کو سوچنا چاہئے کہ مرزائی کہتے پھرتے ہیں کہ دنیا کا حقیقی رہنما مرزا محمود ہے اور حقیقت میں بھی ہمارے ارباب اقتدار سے زیادہ مرزا محمود کے فرامین ایسی حالت برداشت کی جائے گی؟

مرزائی حکومت کے کوائف

(ماخوذ از ماہنامہ الصدیق ملتان بابت ماہ رجب مرزائی حکومت کے ذکر کئے جاتے ہیں۔ جس کی بنیاد پاکستان مرزا محمود صاحب اپنی اسی حکومت کے بل بوتے پر فرماتے ہیں تمہارا اکثریت میں ہونے کا غرور ٹوٹ جائے گا۔ تو خواہ تم سے بھی بہر حال یوسف والا سلوک کیا جائے گا۔“

مرزائیوں کا دارالخلافہ

ضلع جھنگ میں ١٠٣٤/ ایکڑ زمین پنجاب گورنمنٹ کوڑیوں کے بھاؤ مرزائیوں کو دی تھی۔ تا کہ وہ ایک الگ دارالخلافہ بنائیں۔ اس کے کوائف اخبار میں سے نقل کر کے درج کئے جاتے ہیں۔

دریائے چناب کے پار لائل پور سرگودھا کے عین وسط میں واقع ہے

باب الابواب، دار النصر، دار البرکات، دارالرحمت، دارالامان

١١

صفحہ ١٤٥

بندہ سے دورانِ گفتگو میں بعض سیاسی حالات پر تبادلہ خیالات کیا تھا۔ جس چیز کا ذکر کیا۔ اس میں مصر اور ایران کے تعلق میں انگریزوں کے سلوک کا ذکر تھا۔ بندہ نے انہیں بتایا کہ دنیا کے موجودہ حقیقی رہنما امام جماعت احمدیہ نے ہندو پاکستان کی آزادی سے قبل انگلستان کو یہ مشورہ دیا تھا کہ انگلستان کے لئے یہ بہتر ہوگا کہ انگلینڈ ان ملکوں کو جو غلام ہیں آزاد کر دے تا کہ ان ملکوں کے کئی لاکھ سپاہی اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہوئے از خود کمیونزم کا مقابلہ کر سکیں۔‘‘

ہمارے ارباب اقتدار کو دیکھنا چاہئے کہ مرزائی مبلغ ساری دنیا کو یہ یقین دلاتے پھرتے ہیں کہ دنیا کا حقیقی رہنما مرزا محمود ہے اور حقیقت میں دیکھا جائے تو ہماری وزارت خارجہ بھی ہمارے ارباب اقتدار سے زیادہ مرزا محمود کے فرامین کے تابع ہے۔ آخر یہ دو عملی کب تک برداشت کی جائے گی؟

مرزائی حکومت کے کوائف

(ماخوذ از ماہنامہ الصدیق ملتان بابت ماہ رجب ١٣٧١ھ) اب ذیل میں چند کوائف مرزائی حکومت کے ذکر کئے جاتے ہیں۔ جس کی بنیاد پاکستان میں رکھی جا چکی ہے اور بشیر الدین محمود صاحب اپنی اسی حکومت کے بل بوتے پر فرماتے ہیں: ”میں بھی کہتا ہوں کہ اس دن جب تمہارا اکثریت میں ہونے کا غرور ٹوٹ جائے گا۔ تو خواہ اس وقت میں ہوں یا میرا قائم مقام تم سے بھی بہر حال یوسف والا سلوک کیا جائے گا ۔“

(الفضل مورخہ ٣؍جنوری ١٩٥٢ء)

مرزائیوں کا دارالخلافہ

ضلع جھنگ میں ١٠٣٤ ایکڑ زمین پنجاب کے انگریز گورنر (مسٹر موڈی) نے کوڑیوں کے بھاؤ مرزائیوں کو دی تھی۔ تاکہ وہ ایک الگ دارالخلافہ بنالیں۔ جس کے کوائف الفضل وغیرہ سے نقل کر کے درج کئے جاتے ہیں۔

چناب کے پار لائل پور سرگودھا کے عین وسط میں واقع ہے۔“

(بحوالہ مرزائی اخبار الرحمت ٢١؍نومبر ١٩٤٩ء)

باب الابواب، دارالنصر، دارالبرکات، دارالرحمت، دارالصدر، دارالفضل۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٨؍ستمبر ١٩٥١ء)

١١

صفحہ ١٤٧

٣...... ٢٥ مارچ ١٩٤٩ء کے الفضل میں اعلان ہوا ہے کہ ربوہ کے لئے ہالٹنگ ریلوے اسٹیشن منظور ہو گیا۔ چنانچہ یکم اپریل ١٩٤٩ء کی صبح کو سات بجے سب سے پہلی گاڑی وہاں ٹھہری۔ ریلوے لائن اسی علاقہ سے گزرتی ہے جو مرزائیوں کو دی گئی ہے۔ (الرحمت مورخہ ٢١ نومبر ١٩٤٩ء)

٤...... ”سب سے پہلا اسٹیشن ماسٹر احمدی مقرر کیا گیا ۔“ (اخبار الرحمت ٢١ نومبر ١٩٤٩ء)

٥...... اس شہر میں مرزائیوں نے دارالقضاء قائم کیا ہوا ہے۔ ”جس میں پچاس پچاس ہزار روپے کی ڈگریاں اور بارہ ہزار روپے تک کے ہرجانے کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٦ ستمبر ١٩٥١ء ص ٧)

٦...... جو شخص جماعتی فیصلوں کو نہ مانے اسے سزائیں دی جاتی ہیں۔ بائیکاٹ اور مقاطعے کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ الفضل میں روزانہ آئے دن بائیکاٹ اور مقاطعے کی سزائیں درج کی جاتی ہیں۔

٧...... مرزائی دارالخلافہ میں مندرجہ ذیل وکالتوں کے دفتر اور محکمے قائم ہو چکے ہیں۔ وکالت علیا افسر اعلیٰ چودھری مشتاق احمد وکالت تبشیر افسر اعلیٰ چودھری مشتاق احمد وکالت مال افسر اعلیٰ چودھری برکت علی وکالت قانون افسر اعلیٰ چوہدری غلام مرتضیٰ وکالت تجارت و صاحبزادہ برکت احمد وکالت تعلیم افسر اعلیٰ میاں عبدالرحیم احمد صنعت بحوالہ الفضل ٢٨ ستمبر ١٩٥١ء

سوالات

ربوہ کے متعلق یہ کوائف الفضل اور الرحمت سے لئے گئے ہیں۔ اب مندرجہ ذیل امور قابل دریافت ہیں۔ جس کے متعلق کوئی واقف حال صاحب روشنی ڈالیں تو زیادہ بہتر ہوگا اور معلومات میں اضافہ ہو جائے گا۔ مگر بات وہ ہو جو محقق اور مدلل ہو۔

١...... ربوہ میں تھانہ ہے اور پولیس ہے یا نہیں؟ اگر تھانہ بھی اور پولیس بھی ہے تو کیا اس کے افراد مرزائی ہیں یا مسلمان؟ اگر مسلمان ہیں تو کیا وہ مرزائیوں کے زیر اثر تو نہیں؟

٢...... مرزائیوں کے دارالخلافہ میں اگر کوئی عامی مسلمان چلا جائے تو اس کی حفاظت کا کیا

١٢

انتظام ہے؟ اگر اسے کوئی لوٹ یا مار دے تو کوئی اس کو آبادی مرزائیوں کی ہے اور اگر تھانے میں رپورٹ درج ک جب کہ وہ خاص مرزائی دارالخلافہ کا تھانہ ہے اور رپورٹ در آسکتا ہے؟

٣...... اگر کوئی مرزائی جو ربوہ کا باشندہ ہے اپنی خوش اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہے۔ تو کیا وہ اپنی جائیداد بائیکاٹ اور مقاطعہ کے ہوتے ہوئے زندگی گزارتا ہ جب الفضل ١١؍ جنوری ١٩٥٢ء میں مسلمانوں کو مرعوب م

یہ سوال بطور نمونہ پیش کئے گئے ہیں جو ہر آ مخصوص ماحول کے متعلق پیدا ہوتے ہیں۔ اسی قسم کے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اسی بناء پر تو مجلس احرار چیخ و پکا ریشہ دوانیوں کا نوٹس لیں۔ کیا یہ فرض صرف مجلس ا مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟

مرزائی فوج

جس طرح مرزائیوں نے اپنا دارالخلافہ ال ایک فوج بنالی ہے۔ اس کا نام رکھا ہے۔ خدام الاحمدیہ ا

(خدام الاحمدیہ کا ایک عہد ) خلاصہ درج ف ١...... خدام الاحمدیہ تحریک جدید کی فوج ہے۔ م فوج میں داخل ہوں گے۔ ٢...... جو شخص خدام الاحمدیہ میں بھرتی ہو جائے اس میں ہر احمدی کو اس میں شریک ہونے کی تحریک کروں گا

١٣

صفحہ ١٤٧

انتظام ہے؟ اگر اسے کوئی لوٹ یا مار دے تو کوئی اس کو چھڑانے والا بھی ہو سکتا ہے؟ جب کہ تمام آبادی مرزائیوں کی ہے اور اگر تھانے میں رپٹ درج کرے تو کیا اس کی رپٹ درج ہو سکتی ہے؟ جب کہ وہ خاص مرزائی دارالخلافہ کا تھانہ ہے اور رپٹ درج ہونے کے بعد کیا اسے کوئی گواہ بھی میسر آسکتا ہے؟

اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہے۔ تو کیا وہ اپنی جائیداد پر قابض رہ سکتا ہے اور کیا اس کے لئے بائیکاٹ اور مقاطعہ کے ہوتے ہوئے زندگی گزارنا ممکن ہو سکتا ہے؟ خصوصاً ایسے حالات میں جب الفضل ١١؍جنوری ١٩٥٢ء میں مسلمانوں کو برعب مرزائی بنانے کی سکیم منظر عام پر آچکی ہے۔

یہ سوال بطور نمونہ پیش کئے گئے ہیں جو ہر مسلمان کے دل میں اسی مخصوص آبادی اور مخصوص ماحول کے متعلق پیدا ہوتے ہیں۔ اسی قسم کے اور بہت سے شبہات ہر پاکستانی کے دل میں پیدا ہوتے ہیں۔ اسی بناء پر تو مجلس احرار چیخ و پکار کر رہی ہے کہ مسلمان جاگیں اور ان خفیہ ریشہ دوانیوں کا نوٹس لیں۔ کیا یہ فرض صرف مجلس احرار اسلام کا ہے؟ مسلم لیگ اور دوسرے مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟

مرزائی فوج

جس طرح مرزائیوں نے اپنا دارالخلافہ الگ بنالیا ہے۔ اسی طرح مرزائیوں نے اپنی ایک فوج بنالی ہے۔ اس کا نام رکھا ہے :۔ خدام الاحمدیہ اس کی تفصیل کے لئے مطالعہ فرمائیں۔

(الفضل مورخہ ١٩؍ستمبر ١٩٥١ء)

(خدام الاحمدیہ کا ایک عہد) خلاصہ درج ذیل ہے۔

فوج میں داخل ہوں گے۔

میں ہر احمدی کو اس میں شریک ہونے کی تحریک کروں گا۔ (سرکاری ملازم بھی اس میں داخل ہوں گئے)

١٣

صفحہ ١٤٨

ہے۔

(الفضل قادیان مورخہ ٢٧ ستمبر ١٩٥١ء ص٢، عنوان خادم کا سامان)

(سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خادم کو غلیل رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا اپنے مخالفین کو تختہ مشق بنانے کا ارادہ ہے۔ کیا یہ قرائن فوجی جماعت قائم کرنے کے لئے دلیل نہیں ہیں؟)

کاموں میں نہیں لگایا جاسکتا۔ (٢) مخصوص سپاہی جن کے لئے مندرجہ ذیل شرائط ہیں:

کہ یہ شخص قابل اعتماد ہے۔ کسی قسم کی غفلت، سستی، غداری کا ارتکاب نہیں کرے گا۔

(الفضل قادیان مورخہ ٢٠، ٢٢ دسمبر ١٩٥١ء)

سرکاری ملازمت کے پردہ میں تبلیغ مرزائیت

مرزائی امت پہلے اپنے خلیفہ کے اشارے سے فوج میں اپنے نوجوانوں کو دھڑا دھڑ بھرتی کر رہی تھی۔ جب فوج میں ان کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی۔ ہر معزز عہدہ پر مرزائی نظر آنے لگا تو خلیفہ قادیانی نے ١١ جنوری ١٩٥٢ء کے خطبہ میں حکم دیا۔

”بھیڑ چال کے طور پر نوجوان ایک ہی محکمہ میں چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ متعدد محکمے ہیں۔ جن کے ذریعہ سے جماعت اپنے حقوق حاصل کر سکتی ہے اور اپنے آپ کو شر سے بچا سکتی ہے۔ جب تک ان سارے محکموں میں ہمارے آدمی موجود نہ ہوں۔ ان سے جماعت پوری طرح کام نہیں لے سکتی۔ (یہ جملہ قابل غور ہے کہ جماعت ان ملازمان سرکار سے کیا کام لیتی ہے؟) مثلاً موٹے موٹے محکموں میں سے فوج ہے، پولیس ہے، ایڈمنسٹریشن ہے، ریلوے ہے، فنانس ہے، اکاؤنٹس ہے، کسٹمز ہے، انجینئرنگ ہے۔ یہ آٹھ موٹے موٹے صیغے ہیں جن کے ذریعے سے ہماری جماعت اپنے حقوق محفوظ کر سکتی ہے۔ ہماری جماعت کے نوجوان فوج میں لئے جاتے ہیں

١٤

صفحہ ١٤٩

اس کے نتیجہ میں ہماری نسبت فوج میں دوسرے محکموں کی نسبت سے بہت زیادہ ہے اور ہم اسے اپنے حقوق کی حفاظت کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ باقی محکمے خالی پڑے ہیں۔ بیشک آپ لوگ اپنے لڑکوں کو نوکری کرائیں۔ لیکن وہ نوکری اس طرح کیوں نہ کرائی جائے۔ جس سے جماعت فائدہ اٹھا سکے۔"

(الفضل قادیان مورخہ ١١؍ جنوری ١٩٥٢ء)

اس عبارت میں مرزائی ملازمین کو حکم دیا گیا ہے کہ تنخواہ تو پاکستان کے خزانہ سے وصول کرو۔ لیکن کام اور مقصد تبلیغ مرزائیت ہو۔ اصل میں ملازمت سے مقصود تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ اس کے ذریعہ سے ملک کی خدمت کی جاتی۔ جس شعبہ میں گورنمنٹ کو ضرورت ہوتی۔ اس میں ملازمت کرنے کا مشورہ دیا جاتا۔ مگر خلیفہ قادیان یہ حکم دیتے ہیں کہ جس شعبہ میں تمہاری تعداد کم ہے اس میں گھس جاؤ اور جماعتی مفاد کی خاطر ملازمت کر لو۔ یہ اعلان کھلے بندوں الفضل میں شائع ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سرکاری محکمہ میں تبلیغ مرزائیت زور شور سے ہورہی ہے۔ بیچارے مرزائی ملازم بھی مجبور ہیں۔ ان کو یہ حکم ہوتا ہے کہ ہر سال کے اندر کم از کم ایک آدمی کو ضرور مرزائی بنا کر اپنا کارنامہ دکھاؤ۔ پھر یہ حکم بھی ہوتا ہے کہ ہر ماہ کے پہلے عشرہ میں ماہوار تبلیغی رپورٹوں کا پہنچنا ضروری ہے۔

(الفضل قادیانی مورخہ ٣؍ اپریل ١٩٥٢ء)

ذیل میں ناظر دعوت و تبلیغ ربوہ کی ١٩٥٢ء کی ڈائری سے مرزائی سرکاری ملازموں کے نام نقل کئے جاتے ہیں۔ تاکہ ہمارے وزیر اعظم اور دوسرے رہنماؤں کو معلوم ہو جائے کہ اس معصوم جماعت کے کارکن کس طرح ہر محکمے میں مسلمان ملازمین کو تنگ کرتے ہیں اور بجائے سرکاری کام کرنے کے مرزائی بنانے کے درپے رہتے ہیں۔

نوٹ: واضح رہے کہ یہ ڈائری ناظر دعوت و تبلیغ ربوہ نے شائع کی ہے۔ اس کی تعریف ناظر دعوت و تبلیغ الفضل ١١؍ جنوری ١٩٥٢ء ص ٦ میں یوں لکھتے ہیں: ”گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی نظارت ہذا نے عمدہ کاغذ پر خوبصورت رنگین اردو ٹائپ میں ١٩٥٢ء کا یومیہ شائع کیا ہے۔ جس میں علاوہ جملہ امراء و صدر صاحبان جماعت ہائے احمدیہ اندرون و بیرون پاکستان کے پتوں کے بعض دیگر ضروری اور روزمرہ کے کام کرنے والی مفید معلومات درج کر دی گئی ہیں۔ جملہ امراء و صدران

١٥

صفحہ ١٥١

جماعت کے پاس اس یومیہ کا ہونا از بس ضروری ہے۔ صیغہ نشر واشاعت سے طلب فرمادیں۔“

اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ اس ڈائری میں مرزائی جماعت کے صرف صدر اور سیکرٹریوں کے مکمل پتہ جات درج ہیں۔ بطور نمونہ چند اہم اسماء درج کئے جاتے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ ان میں سے کتنے ملازم ہیں اور کتنے غیر ملازم۔

اسماء صدر یا سیکرٹری جماعت مرزائیہ نام عہدہ سرکاری

١٦

فہرست بہت طویل ہے۔ یہ چند اسماء مرزائی صاح کئے گئے ہیں۔ کلرک، ٹیچر، افسر اعلیٰ، پٹواری، نمبردار، پروفیس داعی مبلغ اور ان کی انجمنوں کے صدر، ناظم بنے ہوئے ہیں۔ آ نے اپنا جال بچھا رکھا ہے اور کیوں نہ ہو جب انہیں سرکار مرزا آپ لوگ اپنے لڑکوں کو نوکری کرائیں۔ لیکن وہ نوکری اس طر جماعت فائدہ اٹھا سکے۔“

”اور جب تک ان سارے (٨) محکموں میں ہما جماعت پوری طرح کام نہیں لے سکتی۔“

سوالات

کے مفاد کے لئے استعمال کرتی ہے وہ مسلم لیگ کے اندر داخل اور کیا وہ مسلم لیگ کو ملک اور قوم کی خدمت میں مشغول کر ترقی کے لئے آلہ کار نہ بنائے گی؟

فوراً اخراج عمل میں لایا جائے تاکہ محض کارکنوں کی مدد سے ملکی

یہ مطالبے ایسے ہیں کہ ہر پاکستانی کو ان کی طرف اور سنئے جہاں لالچ دینے اور نرمی کرنے سے کام سے ایسے حالات پیدا کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے کہ ایک

١٧

صفحہ ١٥١

(١٨) ماسٹر غلام محمد خان پرائمری سکول بستی مندرانی ڈاکخانہ تونسہ (١٩) ماسٹر اللہ بخش خاں غازی تونسہ شریف (٢٠) منشی غلام محمد مدرس براستہ کنجاہ

فہرست بہت طویل ہے۔ یہ چند اسماء مرزائی صاحبان کی تبلیغی ڈائری سے بطور نمونہ نقل کئے گئے ہیں۔ کلرک، ٹیچر، افسر اعلیٰ، پٹواری، نمبردار، پروفیسر ہر قسم کے عہدیدار مرزائیت کے داعی مبلغ اور ان کی انجمنوں کے صدر، ناظم بنے ہوئے ہیں۔ جس دفتر میں قدم رکھو مرزائی مبلغین نے اپنا جال بچھا رکھا ہے اور کیوں نہ ہو جب انہیں سرکار مرزائیت سے حکم یہی ملتا ہے کہ: ”بیشک آپ لوگ اپنے لڑکوں کو نوکری کرائیں۔ لیکن وہ نوکری اس طرح کیوں نہ کرائی جائے۔ جس سے جماعت فائدہ اٹھا سکے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١١؍جنوری ١٩٥٢ء)

”اور جب تک ان سارے (٨) محکموں میں ہمارے آدمی موجود نہ ہوں ان سے جماعت پوری طرح کام نہیں لے سکتی۔“

(الفضل مورخہ ١١؍جنوری ١٩٥٢ء)

سوالات

کے مفاد کے لئے استعمال کرتی ہے وہ مسلم لیگ کے اندر داخل ہو کر اس کے انتشار کا باعث نہ ہوگی اور کیا وہ مسلم لیگ کو ملک اور قوم کی خدمت میں مشغول کرنے کے بجائے اپنے مفاد اور جماعتی ترقی کے لئے آلہ کار نہ بنائے گی؟

فوراً اخراج عمل میں لایا جائے تاکہ مخلص کارکنوں کی مدد سے ملک ترقی کی طرف قدم اٹھائے؟

یہ مطالبے ایسے ہیں کہ ہر پاکستانی کو ان کی طرف توجہ دینی لازم ہے۔ اور سنئے جہاں لالچ دینے اور نرمی کرنے سے کام نہ چلے وہاں رعب اور تشدد کے ذریعہ سے ایسے حالات پیدا کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے کہ ایک مسلمان مجبور ہو کر مرزائی بن جائے۔

١٧

صفحہ ١٥٣

اس امر کی شہادت کے لئے مندرجہ ذیل اقتباس کافی ہے۔ ’’اگر ہم محنت کریں اور تنظیم کے ساتھ محنت سے کام کریں تو ١٩٥٢ء میں ہم ایک عظیم الشان انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ ہر خادم کو اس عزم سے اس سال تبلیغ کرنی چاہئے کہ اس سال احمدیت کی ترقی نمایاں طور پر دشمن (مسلمان) بھی محسوس کرنے لگے۔ اگر آپ اپنے کاموں پر فریضہ تبلیغ مقدم کریں گے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ کے ذریعہ بھولے ہوئے مسلمان ہدایت نہ پا جائیں۔ اپنے ارادوں کو بلند کیجئے۔ ہمتیں مضبوط کیجئے کہ خدا کے فرشتے آپ کے کاموں میں آپ کی مدد کے لئے بیتاب کھڑے ہیں اور صرف دیر آپ ہی کی طرف سے ہو رہی ہے۔ ١٩٥٢ء کو گذرنے نہ دیجئے۔ جب تک احمدیت کا رعب دشمن اس رنگ میں محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت مٹائی نہیں جاسکتی اور وہ مجبور ہو کر احمدیت کی آغوش میں آگرے۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ١٦؍ جنوری ١٩٥٢ء)

ہمارے معزز رہنمایان قوم! مدیران جرائد! یہ پس منظر ہے جس کی بناء پر مجلس احرار اور مسلم لیگ کا ہر درد مند اور حساس مسلمان چیخ اٹھا ہے۔ یہ صرف مجلس احرار کی آواز نہیں ہے بلکہ پاکستان کے ٧ کروڑ مسلمانوں کی آواز ہے۔ یہ آواز مسلم لیگ کے اندرون قلب سے نکل رہی ہے۔ اس کا صرف ایک حل ہے۔ وہی جو علامہ اقبال مرحوم نے پاکستان بننے سے پہلے اپنی دور رس نگاہوں سے بھانپ کر پیش کر دیا تھا۔ یعنی:

١٨

تو یہ قوم بھی الگ ہے۔ ان کو اقلیت قرار جائے۔ مسلمان جیسے دوسری اقلیتوں سے رواداری ک رواداری کریں گے۔

بغداد پر انگلستانی فرنگی

قادیان میں چراغاں او

ماخوذ از الصدیق ملتان، بابت

مرزائیوں کو اسلام اور اہل اسلام سے کہا واقعہ اس پر پوری طرح روشنی ڈالتا ہے۔ اسلام کا مرکز اور خلفائے بنو عباس کا دارا پہلے ترکی قلمرو میں داخل تھا۔ اس آشوب عالم میں اس چراغاں ہوا اور ہر طرح سے خوشیاں منائی گئیں۔ الفضل بیان کرتے ہوئے لکھا: ”میں اپنے احمدی بھائیوں کو ایک مژدہ سناتا ہوں کہ بصرہ و بغداد کی طرف جو حکومت) کے لئے فتوحات کا دروازہ کھول دیا ہے۔ ہوئی۔ بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں برسوں کی خوشخبریا ١٣٣٥ھ میں ظاہر ہو کر ہمارے سامنے آ گئیں۔ اس لیکن اگر غور کریں تو اس میں ناراضگی کی کوئی بات نہیں

روئے زمین پر مرزائی

مرزائی سلاطین مسلمانوں

ماخوذ از الصدیق ملتان بابت

یہ کوئی الزام تراشی اور افتراء پردازی نہیں مدت سے نہ صرف پاکستان اور دوسرے اسلامی مما جانے کے خواب دیکھ رہی ہے اور انہیں کامل یقین سلاطین اور رنگ ہائے سلطنت پر بیٹھ کر سیاسیات و

١٩

صفحہ ١٥٣

تو یہ قوم بھی الگ ہے۔ ان کو اقلیت قرار دیا جائے اور تمام مسلمانوں پر مسلط نہ کیا جائے۔ مسلمان جیسے دوسری اقلیتوں سے رواداری کا سلوک کرتے ہیں اور ان کے ساتھ بھی رواداری کریں گے۔

بغداد پر انگلستانی فرنگیوں کا تسلط

قادیان میں چراغاں اور جشن مسرت

ماخوذ از الصدیق ملتان، بابت ماہ ذیقعدہ ١٣٧١ھ

مرزائیوں کو اسلام اور اہل اسلام سے کہاں تک ہمدردی اور تعلق و ربط ہے۔ مندرجہ ذیل واقعہ اس پر پوری طرح روشنی ڈالتا ہے۔

اسلام کا مرکز اور خلفائے بنو عباس کا دارالخلافہ بغداد ١٩١٤ء-١٩١٨ء کی عالمگیر جنگ سے پہلے ترکی قلمرو میں داخل تھا۔ اس آشوب عالم میں اس پر اہل صلیب کا قبضہ ہوا۔ اس پر قادیان میں چراغاں ہوا اور ہر طرح سے خوشیاں منائی گئیں۔ الفضل نے جشن مسرت اور چراغاں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا: ”میں اپنے احمدی بھائیوں کو جو ہر بات میں غور و فکر کرنے کے عادی ہیں ایک مژدہ سناتا ہوں کہ بصرہ و بغداد کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے ہماری محسن گورنمنٹ (انگریز حکومت) کے لئے فتوحات کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اس سے ہم احمدیوں کو معمولی خوشی حاصل نہیں ہوئی۔ بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں برسوں کی خوشخبریاں جو الہامی کتابوں میں چھپی ہوئی تھیں آج ١٣٣٥ھ میں ظاہر ہو کر ہمارے سامنے آ گئیں۔ اس بات سے غیر احمدی بھائی ناراض ہوں گے۔ لیکن اگر غور کریں تو اس میں ناراضگی کی کوئی بات نہیں ۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٠؍اپریل ١٩١٧ء)

روئے زمین پر مرزائی تسلط کے خواب

مرزائی سلاطین مسلمانوں سے انتقام لیں گے

ماخوذ از الصدیق ملتان بابت ماہ ذیقعدہ ١٣٧١ھ

یہ کوئی الزام تراشی اور افتراء پردازی نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ مرزائے قادیان کی امت مدت سے نہ صرف پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک پر بلکہ دنیا کی ہر اقلیم پر مرزائی پرچم لہرائے جانے کے خواب دیکھ رہی ہے اور انہیں کامل یقین ہے کہ ایک ایسا وقت آنے والا ہے جبکہ مرزائی سلاطین اورنگ ہائے سلطنت پر بیٹھ کر سیاسیات عالم کے مالک ہوں گے۔ الفضل رقم طراز ہے

١٩

صفحہ ١٥٥

کہ: ”امیر عبدالرحمن خاں نے مولوی عبد الرحمن کو ، امیر حبیب اللہ خاں نے مولوی عبد اللطیف رئیس خوست کو اور شاہ امان اللہ خان نے مولوی نعمت اللہ کو محض احمدیت قبول کرنے کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکا دیا تھا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٥ اکتوبر ، ٤ ستمبر ١٩٢٤ء)

خلیفۃ المسیح مرزا محمود احمد نے فرمایا کہ: ”جب روئے زمین میں ہماری سلطنت قائم ہو گی تو احمدی اس کا انتقام لیں گے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٥ اکتوبر ١٩٢٣ء)

اب میں اپنے دعوے کے ثبوت میں مرزائی بیانات درج ذیل کرتا ہوں۔

ساری دنیا کو مرزائی بنانے کا حوصلہ

”مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو وحی ہوئی کہ روئے زمین کے مسلمانوں کو دین واحد پر جمع کرو۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢١ اگست ١٩٢٤ء)

”مسیح موعود نے پیشین گوئی کی تھی کہ عیسائی مذہب تین سو سال میں احمدیت میں تبدیل ہو جائے گا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٠ ستمبر ١٩٢٤ء)

”مسیح موعود نے فرمایا کہ ساری دنیا میں احمدیت ہی احمدیت پھیل جائے گی۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٨ اگست ١٩٢٤ء)

مرزا محمود احمد نے ایٹ ہوم کے مضمون میں بیان کیا کہ: ”حضرت مسیح موعود دنیا کو دین واحد پر جمع کرنے کے لئے آئے تھے اور یہ عظیم الشان مقصد ہے۔ حضرت مسیح موعود کے مقصد اتحاد میں لاشرقیہ ولا مغربیہ کی شان ہے۔ وہاں مشرق مغرب نہیں بلکہ کل دنیا کو ایک دین پر جمع کرنا ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٧ ستمبر ١٩٢٤ء)

”مورخہ ٤ ستمبر ١٩٢٤ء کو خلیفۃ المسیح مرزا محمود نے دو احمدی مبلغوں کو لندن کے ترکی سفیر کے پاس احمدیت کی تبلیغ کے لئے بھیجا۔ سفیر خود تو موجود نہیں تھا۔ البتہ نائب سفیر موجود تھا۔ مبلغوں نے اسی کو احمدیت کی دعوت دینی شروع کر دی۔ جب اس کو یورپ اور دیگر ممالک مغربیہ میں سلسلہ احمدیہ کی اشاعت کی پیش گوئی اور ان میں حکومت احمدیہ کے قائم ہو جانے کی پیش گوئی سنائی گئی تو اسے تعجب ہوا۔ مغربی ممالک میں اسلام پھیل جانے کے متعلق اس نے دریافت کیا کہ کتنے عرصے میں ہوگا تو مسیح موعود کی تحریروں کی بنا پر اسے بتایا گیا کہ تین صدیوں میں اس کا کامل ظہور ہو جائے گا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٧ اکتوبر ١٩٢٤ء)

٢٠

انگلستان پر قبضہ کرنے کا تفاول

الفضل کا نامہ نگار جو مرزا محمود احمد کی سیاحت لندنی مکتوب میں رقم طراز ہے کہ: ”خلیفۃ المسیح کو ایک کنارے ایک مقام پر اترے ہیں اور انہوں نے لکڑی کے اور کامیاب جرنیل کی طرح چاروں طرف نظر کی ہے یہ ا فاتح ) اس رؤیا کے پورا کرنے کے لئے حضرت خلیفۃ الـ آدمیوں کو ساتھ لے کر خلیج پیونسی کے کنارے پہنچے اور ا جہاں ولیم فاتح اترا تھا۔ کشتی کو چھوڑ کر قریب ہی ایک مقا اسی شکل و ہیئت میں ایک لکڑی پر دایاں پاؤں رکھ کر ایک طرف نظر کی۔ اس کے بعد دعا کی۔ پھر نماز قصر کر کے اکڑوں بیٹھ کر پتھر کے سنگریزوں کی مٹھیاں بھریں اور کـ گئی تو صحابی نے مبارک فال لیا کہ کسرٰی کا ملک مل گیا ا صحابہ کو دے دی۔ اس مبارک فال پر خلیفۃ المسیح کے دو بھر کر جیب میں ڈال لیں۔ خلیفۃ المسیح اس وقت بھی دو کی آئندہ عظمت و شان اور نبی کریم ﷺ کے جلال کے تھیں۔ جن کی قبولیت میں احمدیت کا مستقبل مخفی ہے فاتح حقیقی معنوں اس مقام پر نزول کرے۔“

شیخ چلی کے سے منصوبے

”خلیفۃ المسیح مرزا محمود احمد نے فرمایا کہ ہے۔ جب میں خیال کیا کرتا ہوں کہ ان کی تو اب فـ نے ہمیں قوت اور سطوت عطاء کرنی ہے۔ یہ لوگ زیا گزارہ کر سکیں گے۔ پھر جب خدا تعالیٰ احمدیوں کو گے۔ الفضل کے پرانے فائل نکال کر پیش ہوں گے خطرہ ہے کہ اس وقت کے احمدی ان کے مظالم کو پڑ کے حالات کو دیکھ کر ان سے کیا سلوک کریں گے؟“

٢٠

صفحہ ١٥٥

انگلستان پر قبضہ کرنے کا تفاول

الفضل کا نامہ نگار جو مرزا محمود احمد کی سیاحت انگلستان میں ان کا رفیق سفر تھا۔ اپنے لندنی مکتوب میں رقم طراز ہے کہ: ”خلیفۃ المسیح کو ایک رؤیا میں دکھایا گیا تھا کہ وہ سمندر کے کنارے ایک مقام پر اترے ہیں اور انہوں نے لکڑی کے ایک کندے پر پاؤں رکھ کر ایک بہادر اور کامیاب جرنیل کی طرح چاروں طرف نظر کی ہے۔ اتنے میں آواز آئی ”ولیم دی کنکرر“ (ولیم فاتح) اس رؤیا کے پورا کرنے کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح ١٢؍اکتوبر ١٩٢٤ء کی صبح کو دس بجے تین آدمیوں کو ساتھ لے کر خلیج پیونسی کے کنارے پہنچے اور ایک کشتی لے کر اس مقام کی طرف چلے جہاں ولیم فاتح اترا تھا۔ کشتی کو چھوڑ کر قریب ہی ایک مقام پر کھڑے ہو گئے۔ گویا وہاں اترے اور اسی شکل و ہیئت میں ایک لکڑی پر دایاں پاؤں رکھ کر ایک فاتح جرنیل کی طرح آپ نے چاروں طرف نظر کی۔ اس کے بعد دعا کی۔ پھر نماز قصر کر کے پڑھی اور اس میں لمبی دعا کی اور زمین پر اکڑوں بیٹھ کر پتھر کے سنگریزوں کی مٹھیاں بھریں اور کہا کسریٰ کے دربار میں ایک صحابی کو مٹی دی گئی تو صحابی نے مبارک فال لیا کہ کسریٰ کا ملک مل گیا اور لے کر رخصت ہوا اور خدا نے وہ سرزمین صحابہ کو دے دی۔ اس مبارک فال پر خلیفۃ المسیح کے دو ساتھیوں نے ان سنگریزوں کی دو دو مٹھیاں بھر کر جیب میں ڈال لیں۔ خلیفۃ المسیح اس وقت بھی دعا میں ہی گویا مصروف تھے۔ یہ سلسلہ احمدیہ کی آئندہ عظمت و شان اور نبی کریمﷺ کے جلال کے واحد ذریعہ احمدیت کی کامیابی کی دعائیں تھیں۔ جن کی قبولیت میں احمدیت کا مستقبل مخفی ہے۔ اللہ تعالیٰ وہ دن قریب کرے کہ ہمارا ولیم فاتح حقیقی معنوں اس مقام پر نزول کرے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٠؍نومبر ١٩٢٤ء)

شیخ چلی کے سے منصوبے

”خلیفۃ المسیح مرزا محمود احمد نے فرمایا کہ مجھے تو ان غیر احمدی مولویوں پر رحم آیا کرتا ہے۔ جب میں خیال کیا کرتا ہوں کہ ان کی تو اب ذلت و رسوائی کے سامان ہو رہے ہیں اور خدا نے ہمیں قوت اور سطوت عطاء کرنی ہے۔ یہ لوگ زیادہ سے زیادہ سو سال تک بمشکل اس رنگ میں گزارہ کر سکیں گے۔ پھر جب خدا تعالیٰ احمدیوں کو حکومت دے گا احمدی بادشاہ تختوں پر بیٹھیں گے۔ الفضل کے پرانے فائل نکال کر پیش ہوں گے تو اس وقت ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا؟ مجھے خطرہ ہے کہ اس وقت کے احمدی ان کے مظالم کو پڑھ پڑھ کر اور ان کے قتل اور سنگساری کے جرائم کے حالات کو دیکھ کر ان سے کیا سلوک کریں گے؟“

(الفضل قادیان مورخہ ١٥؍اکتوبر ١٩٢٤ء)

٢

صفحہ ١٥٦

مرزائیوں کی طرف سے مسلمان علماء کو قتل کی دھمکی

سب سے آخر میں مرزائیوں کے خصوصی اخبار الفضل کے تازہ دو اقتباس درج کئے جاتے ہیں۔ جس میں اس نے مسلمان علماء کو قتل کی دھمکی دی ہے۔ اس اقتباس کے پڑھنے سے معلوم ہو جائے گا کہ مرزائی کہاں تک سازشیں کر رہے ہیں؟

(روزنامہ الفضل لاہور مورخہ ١٥؍ جولائی ١٩٥٢ء) "خونی ملا کے آخری دن" کے عنوان کے ماتحت لکھتا ہے: "ہاں آخری وقت آن پہنچا ہے۔ ان تمام علمائے حق کے خون کا بدلہ لینے کا جن کو شروع سے لے کر آج تک یہ خونی ملا قتل کرواتے آئے ہیں۔ ان سب سے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔"

(الفضل لاہور مورخہ ٢٩؍ جولائی ١٩٥٢ء ص ٦) میں تازہ خطبہ مرزا محمود کا ملاحظہ فرمائیں اور آخری جملے غور سے پڑھیں۔ "اپنا یا بیگانہ کوئی اعتراض کرے۔ پروا نہیں۔ ہونا وہی ہے جو میں نے کہا ہے اور وہی ایک دن ہم کر کے رہیں گے۔"

(خطبہ مرزا محمود)

مندرجہ بالا حالات و کوائف سے معلوم ہوگیا ہوگا کہ مرزائی جماعت صرف مذہبی حیثیت سے مسلمانوں کے لئے خطرہ کا باعث نہیں۔ بلکہ سیاسی حیثیت سے بھی ایک خطرناک گروہ ہے۔ لہٰذا حکومت اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ حالات کا صحیح اندازہ لگاویں اور اس گروہ کی اندرونی کاروائیوں کی ابھی سے روک تھام کریں۔ ورنہ بعد میں کف افسوس ملنا پڑے گا۔

پھر پچھتائے کیا ہوت
جب چڑیاں چگ گئیں کھیت
وما علینا الا البلاغ !

والسلام!

دعا طلب: احقر عبدالرحیم غفرلہ ملتان ٢٢

PDF 158

خاتم النبیین لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ

سب سے آخری نبی حضور سیدنا محمد ﷺ

مرزائیوں

کا

اصلی چہرہ

حضرت مکرم و محترم مولانا عبدالرحیمؒ ڈیروی

صفحہ ١٥٩

پیش لفظ

”مرزائیوں کے خطرناک ارادے“ چند صفحات کا ایک مختصر سا ٹریکٹ شائع کیا جا چکا ہے۔ جس میں مرزائیوں کے عزائم اور جو سازشیں وہ پاکستان میں کرنا چاہتے ہیں ان کے اخبار ”الفضل“ سے جمع کر کے مسلمانوں کے سامنے پیش کی جا چکی ہیں۔ بحمدہ تعالیٰ یہ ٹریکٹ ہزاروں کی تعداد میں چھپ کر اطراف پاکستان میں پھیل چکا ہے۔ اس کی قیمت صرف ایک آنہ رکھی گئی ہے اور مفت تقسیم کرنے والوں اور تاجر حضرات کو صرف دو پیسے میں دیا جاتا ہے۔ اب دوسرا ٹریکٹ ”مرزائیوں کا اصلی چہرہ نمبر ١“ پیش کیا جارہا ہے۔ جس میں مرزائیوں کے مذہب اور غلام احمد قادیانی کے عقائد کو ان کی کتابوں سے زیر بحث لایا گیا ہے۔ اگر ”مرزائیوں کے خطرناک ارادے“ کے پڑھنے سے مرزائیوں کی سیاسی سکیموں کا علم ہوگا تو ”مرزائیوں کا اصلی چہرہ نمبر ١“ کے مطالعہ سے ان کے مذہب کا پتہ چلے گا۔ اس کی قیمت بھی معمولی رکھی گئی ہے۔ یعنی صرف ایک آنہ مفت تقسیم کرنے والوں کو دو پیسے میں دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ خداوند کریم خلوص نیت سے دین کی خدمت کا موقعہ عنایت فرماویں۔ آمین۔ وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم !

ضروری نوٹ

آج کل مرزائی ایک اور دجل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کتابوں کے نئے ایڈیشن کی طباعتوں میں سائز کے اختلافات کی وجہ سے حوالے آگے پیچھے کر دیئے ہیں۔ اس لئے اگر ان کے تازہ ایڈیشنوں میں سہولت سے کوئی حوالہ نہ ملے تو مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کے پتہ پر خط لکھ دیا جاوے۔ مجلس مذکورہ کے ارکان مرزائیوں کی ان کتابوں سے جو پرانے ایڈیشن کی کتب کا ذخیرہ ان کے پاس موجود ہے۔ فوراً لکھ کر بھیج دیں گے۔ فقط!

دعا طلب: احقر عبدالرحیم غفرلہ

٢

آج کل مرزائیوں نے مسلمانوں کو ایک اور آنحضورﷺ کو خاتم النبیین تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ ا ٢٧ جولائی ١٩٥٢ء کو اپنے اخبار ”الفضل“ کا ”خاتم النبیین میں مفت تقسیم کیا ہے۔ تاکہ سیدھے سادے مسلمان ان کے مگر واضح رہے کہ مرزائیوں کا یہ کہنا بھی دجل و کی اشاعت کے بعد حال کے اخبار (الفضل قادیان مورخہ الفضل کے ایڈیٹر نے تسلیم کیا ہے کہ واقعی مرزا قادیانی ن ہونے کی وجہ سے ملی ہے۔ اصل عبارت ملاحظہ ہو۔ ”خود ق ہے کہ میں (نبی تو ضرور ہوں مگر) امتی نبی ہوں۔ مجھ کو یہ م ہوا ہے۔“

الفضل کے اس تازہ بیان سے صاف ظاہر ہو بھی نبی مانتے ہیں اور حضورﷺ کو ان کا خاتم النبیین کہنا صر مرزائیو! جب آپ آنحضورﷺ کو خاتم النبیین کا کیا معنی؟ جب نبوت حضورﷺ پر ختم ہو چکی ہے تو پھر م کی امت میں آجائیے۔

غلام احمد قادیانی نے انگریزوں کے اشار انبیاء علیہم السلام خصوصاً آنحضورﷺ و عیسیٰ علیہ السلام محسوس کی۔

رسول اللہ پر (معاذ اللہ ) سور کی چربی کھانے

اصل عبارت ملاحظہ ہو: ”رسول کریم عیسائ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔“

٣

صفحہ ١٥٩

(١) مرزائی، مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں

آج کل مرزائیوں نے مسلمانوں کو ایک اور دھوکہ دینا شروع کر دیا ہے کہ ہم بھی آنحضورﷺ کو خاتم النبیین تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ اس چیز کو ظاہر کرنے کے لئے مورخہ ٢٧؍جولائی ١٩٥٢ء کو اپنے اخبار ”الفضل“ کا ”خاتم النبیین نمبر“ نکال کر کافی تعداد میں مسلمانوں میں مفت تقسیم کیا ہے۔ تاکہ سیدھے سادے مسلمان ان کے اس دام فریب میں پھنس جاویں۔

مگر واضح رہے کہ مرزائیوں کا یہ کہنا بھی دجل وفریب سے کم نہیں ہے۔ چنانچہ اس نمبر کی اشاعت کے بعد حال کے اخبار (الفضل قادیان مورخہ ١٣؍اگست ١٩٥٢ء) کے افتتاحیہ میں خود الفضل کے ایڈیٹر نے تسلیم کیا ہے کہ واقعی مرزا قادیانی نبی ہیں اور انہیں یہ نبوت فنا فی الرسول ہونے کی وجہ سے ملی ہے۔ اصل عبارت ملاحظہ ہو۔ ”خود مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کا دعویٰ یہ ہے کہ میں (نبی تو ضرور ہوں مگر) امتی نبی ہوں۔ مجھ کو یہ مقام فنا فی الرسول ہونے کی وجہ سے عطاء ہوا ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٣؍اگست ١٩٥٢ء ص ٣)

الفضل کے اس تازہ بیان سے صاف ظاہر ہو گیا ہے کہ مرزائی غلام احمد قادیانی کو اب بھی نبی مانتے ہیں اور حضورﷺ کو ان کا خاتم النبیین کہنا صرف مسلمانوں کو دھوکہ دینا ہے۔

مرزائیو! جب آپ آنحضورﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہو تو پھر مرزا قادیانی کو نبی ماننے کا کیا معنی؟ جب نبوت حضورﷺ پر ختم ہو چکی ہے تو پھر مرزا قادیانی کو چھوڑیئے اور آنحضورﷺ کی امت میں آجائیے۔

(٢) مرزاغلام احمد قادیانی نے سرکار مدینہﷺ کی توہین کی ہے

غلام احمد قادیانی نے انگریزوں کے اشارے سے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو تمام انبیاء علیہم السلام خصوصاً آنحضورﷺ و عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرنے میں ذرا بھی جھجک نہیں محسوس کی۔

رسول اللہ پر (معاذ اللہ) سور کی چربی کھانے کا بہتان

اصل عبارت ملاحظہ ہو: ”رسول کریم عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٢؍فروری ١٩٣٢ء)

٣

صفحہ ١٦٠

خدا نے میرا نام محمد رکھا ہے (مرزا قادیانی کا دعویٰ)

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)

”خدا نے میرا نام محمد واحمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“

میرے معجزات رسول کریم ﷺ کے معجزات سے زیادہ ہیں (غلام احمد قادیانی کا دعویٰ)

”نبی کریم ﷺ کے معجزات کی تعداد تین ہزار ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

(مگر مرزا قادیانی نے) اپنے معجزات کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ بتلائی ہے۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)

مرزائیو! جب تم نے اپنا نبی علیحدہ بنا رکھا ہے جو اپنے آپ کو رسول کریم ﷺ سے بھی (معاذ اللہ) بڑھ کر بتاتا ہے۔ پھر تم مسلمانوں کے ساتھ کیوں ملنا چاہتے ہو۔ جنہوں نے صرف رسول کریم ﷺ کا دامن پکڑا ہوا ہے اور مرزا قادیانی کو نبی تو کیا ایک مسلمان بھی نہیں تسلیم کرتے۔ غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے والو! جب تم مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئے تو پھر مسلمانوں کے اندر کیوں گھسنا چاہتے ہو؟

میں محمد رسول اللہ کے برابر ہوں (مرزا قادیانی کا دعویٰ)

مرزائی ہمیشہ یہ کہہ کر دھوکہ دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ ہمارا مرزا قادیانی رسول کریم ﷺ کا خادم ہے۔ مگر مرزا قادیانی خود کہتا ہے کہ میں تو نبی کریم کے ساتھ پہلو بہ پہلو کھڑا ہوں۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیے۔

(کلمۃ الفصل ص ١١٢)

”(مرزا غلام احمد قادیانی کی) ظلی نبوت نے مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا۔ بلکہ آگے بڑھایا کہ نبی کریم (ﷺ) کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کر دیا ۔“ واہ رے انگریزوں کے خود کاشتہ پودے اور رسول کریم ﷺ کی برابری کرنے والے! کہاں سید الانبیاء اور کہاں قادیان کا ایک دہقان ۔

محمد ﷺ بشکل غلام احمد قادیانی قادیان میں واپس آ گئے ہیں (مرزا کا ایک مرید)

مرزا قادیانی کا ایک مرید جس کا تخلص اکمل ہے۔ کہتا ہے۔

٤

محمد پھر اتر آ
اور آگے سے ہیں
محمد دیکھنے ہوں
غلام احمد کو

تف بر تو اے جہل دوں تفو! کجا آ ہمارے حضور، اور کہاں یہ دجال۔

ذرا مرزا قادیانی کے فرزند کا ارشاد بھی

”قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد

ہر شخص (مرزا وغیرہ) محمد رسول اللہ ﷺ

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٧؍جولا

اور) ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑھ سکتا ہے۔“

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضور کوئی بھی آپ کا ہمسر نہیں ہے۔

بعد از خدا بز آپ ﷺ کی شان ہے۔ مگر مرزا کر ہیں۔ (معاذ اللہ)

انبیاء علیہم الصلوٰ

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے۔

صفحہ ١٦١
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار بدر نمبر ٤٣، ج ٢، مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)

تف بر تو اے اجہل دوں تفو! کجا آنحضورﷺ اور کجا مرزا جیسا ناپاک آدمی! کہاں ہمارے حضور، اور کہاں یہ دجال۔

ذرا مرزا قادیانی کے فرزند کا ارشاد بھی سنئے

”قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمدﷺ کو اتارا تاکہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٠٥)

ہر شخص (مرزا وغیرہ) محمد رسول اللہﷺ سے بڑھ سکتا ہے (مرزا بشیر الدین کا فتویٰ)

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٧؍جولائی ١٩٢٢ء) ”یہ بالکل صحیح بات ہے۔ (مرزا قادیانی اور) ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضورﷺ سیدالاولین والآخرین ہیں۔ مخلوقات میں سے کوئی بھی آپ کا ہمسر نہیں ہے۔

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

آپﷺ کی شان ہے۔ مگر مرزائیوں کے نزدیک مرزا قادیانی محمدﷺ سے بھی بڑھ کر ہیں۔ (معاذ اللہ)

انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے۔

٥

صفحہ ١٦٣
زندہ شد ہر نبی بآمدنم
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم

(نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨، درثمین فارسی ص ١٦٨)

ترجمہ: ”میری (مرزا قادیانی کی) آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہو گیا۔ ہر رسول میری (مرزا قادیانی کی) قمیص میں چھپا ہوا ہے۔“

واہ رے مرزا قادیانی! دعویٰ تو یہ کہ تمام رسول تیری قمیص میں چھپے ہیں اور ہر نبی تیرے آنے سے زندہ ہو گیا۔ مگر یہ معلوم نہیں ہے کہ تمام نبیوں نے اپنے زمانے کی باطل حکومتوں کے ساتھ مقابلہ کیا اور تو نے اسلام کی سب سے بڑی مخالف طاقت حکومت برطانیہ کی نہ صرف اطاعت کی ہے۔ بلکہ اس کی تعریف میں کئی الماریاں کتابوں کی لکھ ماری ہیں۔

(٢) اور سنئے

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمترم زکسے
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ است لعین

(درثمین فارسی ص ١٧١،١٧٠)

ترجمہ شعر اوّل: گرچہ نبی (دنیا میں) کافی آئے ہیں۔ مگر میں (مرزا قادیانی) بھی عرفان (اور نبوت) میں کسی سے کم نہیں۔ (یعنی سب نبیوں سے بڑھ کر ہوں)

ترجمہ شعر دوم: جس خدا نے ہر نبی کو (نبوت کا) پیالہ دیا۔ اس نے مجھے یہ پیالہ پورا پورا کر دیا ہے۔ (یعنی باقی نبیوں کی نبوت کا پیالہ تو ادھورا تھا اور میری نبوت کا پیالہ بھرا ہوا ہے۔ واہ رے مرزا صدقے تیرے بول توں)

٦

ترجمہ شعر ثالث: ان سب نبیوں سے کم نہیں جو شخص (میری) اس بات کو غلط کہتا ہے۔ وہ

گویا مرزائیوں کے نزدیک دنیا کے سچے نہ جانیں اور باقی رسولوں سے بڑھ کر نہ مانیں وہ لعنتی مرزائیو! جب تم مسلمانوں کو لعنتی کہتے ہو

حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ

دیکھئے (کشتی نوح حاشیہ ص ٧٣، خزائن ج ١٩ نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

مرزائیو! ذرا بتاؤ نبی کو شرابی کہنے والا مسل

میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بڑھ کر ہوں

ابن مریم کے
اس سے بڑھ کر

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جھوٹ بولنے کی ملاحظہ فرمائیں: ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ عادت تھی۔“

آگے آگے دیکھئے مرزا غلام احمد کے نزدیک حضرت عیسیٰ عل تین دادیاں اور تین نانیاں زانی عورتیں

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١

٧

صفحہ ١٦٣

ترجمہ شعر ثالث: ان سب نبیوں سے میں یقین کے ساتھ (کسی صورت میں بھی) کم نہیں جو شخص (میری) اس بات کو غلط کہتا ہے۔ وہ (خود) لعنتی اور جھوٹا ہے۔ گویا مرزائیوں کے نزدیک دنیا کے پچاس کروڑ مسلمان جب تک مرزا قادیانی کو نبی نہ جانیں اور باقی رسولوں سے بڑھ کر نہ مانیں وہ لعنتی ہیں۔ مرزائیو! جب تم مسلمانوں کو لعنتی کہتے ہو تو پھر ان میں کیوں گھسنا چاہتے ہو؟

حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توہین

دیکھئے (کشتی نوح حاشیہ ص٧٣، خزائن ج١٩ ص٧١) ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

مرزائیو! ذرا بتاؤ نبی کو شرابی کہنے والا مسلمان بھی رہ سکتا ہے؟

میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بڑھ کر ہوں (مرزا قادیانی)

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بڑھ کر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص١٣، خزائن ج١٨ ص٢٣٣)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی (مرزائیوں کا نبی)

ملاحظہ فرماویں: ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص٥، خزائن ج١١ ص٢٨٩)

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

مرزا غلام احمد کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین دادیاں اور تین نانیاں زانی عورتیں تھیں (العیاذ باللہ)

ملاحظہ فرماویں: ”آپ (حضرت عیسیٰ

(ضمیمہ انجام آتھم ص٧ حاشیہ، خزائن ج١١ ص٢٩١)

٧

صفحہ ١٦٤

علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور تین نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ (یعنی جن کے خون سے حضرت عیسیٰ پیدا ہوا)“

مرزائیو! جب تمہارے نبی کا عقیدہ اس قسم کا ہے تو یقیناً تمہارا عقیدہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ پھر تم مسلمانوں کے ساتھ ملنے کی کوشش کرتے ہو؟

ضروری نوٹ

یہاں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ مرزائی کہتے ہیں کہ غلام احمد قادیانی نے یہ گالیاں یسوع نامی شخص کو دی ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں دیں۔ مگر واضح رہے کہ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ حضرت یسوع اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی شخص ہے۔ اصل عبارت ملاحظہ ہو۔ ”مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“

(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

توہین اہل بیت

مرزائیوں کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاں تمام انبیاء علیہم السلام اور آنحضور ﷺ کی توہین کی ہے۔ وہاں اس نے اہل بیت کی ہتک کرتے ہوئے کچھ بھی شرم نہیں محسوس کی۔ حضرت حسینؓ کی (معاذ اللہ) توہین کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

ترجمہ: کربلا تو میرے لئے ہر وقت سیر کی جگہ ہے اور سو حسین میری جیب میں پڑے ہیں۔ استغفر اللہ ! مسلمانو! بتائیے یہ حضرت حسینؓ کی ہتک نہیں ہے۔ رسول کریم ﷺ کے نواسے جس کو خود حضور کریم ﷺ بہشت کے جوانوں کا سردار کہیں اور جنہوں نے اسلام کے زندہ کرنے کے لئے اپنا سر تو دے دیا۔ مگر یزید جیسے فاسق آدمی کی بیعت قبول نہ کی۔

٨

صفحہ ١٦٥
سر داد دست نہ داد در دست یزید
حقا کہ بنائے لا الہ ہست حسینؓ

ان کی ہتک مرزا غلام احمد قادیانی اس طریقے سے کرے کہ معاذ اللہ حضرت حسینؓ جیسے سینکڑوں مرزا غلام احمد قادیانی کی جیب میں پڑے ہیں۔ بتائیے ایسا آدمی اور ایسے آدمی کی امت مرزائیہ مسلمانوں کے ساتھ کیسے مدغم ہو سکتی ہے؟

مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں: ”اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کر کہ حسینؓ تمہارا منجی (نجات دینے والا) ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ لکھتا ہوں کہ آج تم میں سے ایک (مرزا غلام احمد) ہے جو حسینؓ سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

مرزا قادیانی! ایسے کہتے ہوئے شرم بھی نہ آئی۔ ساری عمر یزید جیسے پلید انگریزوں کا خیر خواہ رہا اور ان کی تعریف میں ہی پچاس الماریاں لکھ ماری ہیں۔ اب اپنے آپ کو حضرت حسینؓ رسول کریم ﷺ کے نواسے سے بھی بڑھ کر بتاتا ہے۔

شرم تم کو مگر نہیں آتی

حضرت فاطمۃ الزہراؓ جگر گوشہ رسول ﷺ کی توہین

حضرت فاطمۃ الزہراؓ نے میرا سر اپنی ران پر رکھا (مرزا قادیانی کی بکواس) لکھتے ہوئے جرأت نہیں ہوتی۔ مگر کیا کروں نقل کفر کفر نہ باشد! مجبوراً مرزا قادیانی کے حالات لکھنے پڑتے ہیں۔ تاکہ مسلمانوں کو مرزا قادیانی کی حقیقت کا علم ہو جائے کہ اس نے کس طریقے سے اہل بیت کی توہین کی ہے۔

(ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣) میں مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”ایک دن جب میں (مرزا غلام احمد قادیانی) عشاء کی نماز سے فارغ ہوا۔ اس وقت نہ تو مجھ پر نیند طاری تھی اور نہ ہی اونگھ رہا تھا اور نہ ہی کوئی بیہوشی کے آثار تھے۔ بلکہ میں بیداری کے عالم میں تھا۔ اچانک سامنے ایک آواز آئی۔ آواز کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹانے لگا۔ تھوڑی دیر میں دیکھتا ہوں کہ دروازہ کھٹکھٹانے والے جلدی جلدی میرے قریب آ رہے ہیں۔ بیشک یہ پنج تن پاک تھے۔ یعنی علی

٩

صفحہ ١٦٧

(کرم اللہ وجہہ) ساتھ اپنے دونوں بیٹوں کے اور دیکھتا کیا ہوں کہ فاطمۃ الزہرا نے میرا سر (مرزا قادیانی کا سر) اپنی ران پر رکھ دیا۔“ (استغفر اللہ ) شرم شرم، مرزا قادیانی شرم! مسلمانو! تعجب ہوتا ہے جو آدمی حضرت فاطمۃ الزہرا کے متعلق اس قسم کی باتیں بکے کہ (معاذ اللہ معاذ اللہ ) حضرت فاطمہؓ نے میرا سر اپنی رانوں پر رکھ لیا اور اس طرح بیداری میں ہوا ہے۔ بھلا ایسا آدمی مسلمان کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے اور ایسے آدمی کو نبی ماننے والی امت مرزائیہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ ہم بھی مسلمان ہیں۔ مسلمانو! اس سے زیادہ آنحضورﷺ کے اہل بیتؓ کی کیا ہتک ہوگی؟

جس قدر ہتک انگریزوں کے زمانے میں انگریز کے اشارے سے مرزا غلام احمد قادیانی نے کی اور اب مرزائی جس کو مسیح موعود لکھتے ہوئے نہیں تھکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی ہندو، کسی سکھ، کسی اور کافر آدمی نے اس طرح حضورﷺ کے اہل بیتؓ کی ہتک نہ کی ہوگی۔ جس طرح اس کافر اعظم مرزا نے کی ہے۔ اب مرزا قادیانی کو ماننے والے مرزائی کہتے ہیں کہ ہم بھی مسلمان ہیں۔ ہمیں مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت نہ قرار دیا جاوے۔ جب ان کے مرزا کی یہ حالت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے اہل بیت کے متعلق دریدہ دہنی سے اس قسم کی بیہودہ بکواس اور فحش گوئی کرتا ہے۔ بھلا انہیں کیا حق ہے کہ مسلمانوں کی جماعت میں اپنے کو شمار کریں۔

اس کے بعد اب مرزا قادیانی خدا بننے لگے

ملاحظہ ہو: ”میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں۔“

(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

مسلمانوں کے خداوند کریم تو زندہ ہیں اور کبھی ان پر موت نہیں آئے گی۔ لیکن مرزائیوں کے خدا (غلام احمد قادیانی) مرچکے ہیں اور واللہ اعلم! مشہور یہی ہے کہ دستوں میں آپ نے جان دی تھی۔

ٹھہریئے ! مرزا قادیانی خدا کا بیٹا بننے لگے

مرزا قادیانی کا الہام ملاحظہ ہو: ”انت منى بمنزلة اولادى (تذکره ص ٧٧٢)“ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے مرزا تو گویا میرے بیٹوں کی طرح ہے۔

(اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)

١٠

مرزا قادیانی ! کبھی تو تو خدا بننے لگا اور کرشن جی مہراج اور کبھی جے سنگھ بہادر۔ عجیب معجو قسمیں ہیں؟

مرزا قادیانی کـ

اصل عبارت ملاحظہ ہو

ان العدى صارو ا
ونساء هم من دو

ترجمہ: بیشک (مرزا قادیانی کے نہ ماننے اور ان کی عورتیں کتیا ہیں۔

کیوں جناب سر ظفر اللہ خاں باقی امت ذرا ٹھنڈے دل سے غور تو کرو

آپ ہی اپنے ذرا ا
ہم اگر عرض کریں گے

و وزیر حکام و رعیت سب کنجریوں کی اولاد

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص

دعوتى الاذرية البغايا ”سوائے کنجریوں کـ دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے۔

دنیا اور پاکستان کے مسلمانو! اور وزیرو! ا جو مجھے نبی نہیں مانتا وہ کنجری کی اولاد ہے اور خنزیر وسو نہ ہو کتیا ہے۔ مرزائی امت ایسے مرزا پر ایمان رکھتی

١١

صفحہ ١٦٧

مرزا قادیانی! کبھی تو تو خدا بننے لگا اور کبھی خدا کا بیٹا اور کبھی نبی، کبھی حسینؓ، کبھی کرشن جی مہاراج اور کبھی جے سنگھ بہادر۔ عجیب معجون مرکب ہے تو بھی مرزا! اور یا یہ سب تیری قسمیں ہیں؟

مرزا قادیانی کے اخلاق

اصل عبارت ملاحظہ ہو۔

ان العدى صاروا اخنازير الفلا
ونساءهم من دونهن الاكلب

(نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ص ٥٣)

ترجمہ: بیشک (مرزا قادیانی کے نہ ماننے والے) دشمن جنگلوں کے خنزیر اور سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیا ہیں۔

کیوں جناب سر ظفر اللہ خاں باقی امت مرزائیہ! کیا نبی کے یہی اخلاق ہوتے ہیں؟ ذرا ٹھنڈے دل سے غور تو کرو۔

آپ ہی اپنے ذرا جور و جفا کو دیکھو
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

و وزیر حکام و رعیت سب کنجریوں کی اولاد ہیں (مرزائیوں کے امام کا فتویٰ)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٨) ”كل مسلم يقبلنى ويصدق دعوتى الاذرية البغايا“ سوائے کنجریوں کی اولاد کے ہر مسلمان مجھے مانتا ہے اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے۔

دنیا اور پاکستان کے مسلمانو! اور وزیرو! اور پنجاب کے حاکمو! مرزا قادیانی کا فتویٰ ہے جو مجھے نبی نہیں مانتا وہ کنجری کی اولاد ہے اور خنزیر و سور ہے اور اس کی عورت خواہ سید زادی ہی کیوں نہ ہو کتیا ہے۔ مرزائی امت ایسے مرزا پر ایمان رکھتی ہے۔ اب سچ بتاؤ تمام دنیا کے مسلمان ایران،

١١

صفحہ ٩

مصر، ترکی، عرب، عراق، یمن ۔ دیگر اسلامی ممالک وغیرہ کی کل مسلمان آبادی مرزائیوں کے نزدیک ان کے اس امام کے فتویٰ کے مطابق کیا ہوئی؟ مرزائیوں کے نزدیک اسلامی دنیا کے کروڑہا مسلمان خواہ انہوں نے مرزا قادیانی کا نام بھی نہ سنا ہو۔ نہ صرف کافر ہیں۔ بلکہ کنجریوں کی اولاد ہیں۔ ان کی عورتیں کتیا ہیں۔

اب اس سے یہ بات بھی صاف ظاہر ہو گئی کہ مرزائی امت تمام اسلامی ممالک کی حکومتوں اور پاکستان کی حکومت کو کافروں کی حکومت سمجھتی ہے۔ اس لئے تو یہ امت مرزائیہ پاکستان کی جڑیں کاٹنے کے لئے مختلف قسم کے ہتھیاروں سے تیاریاں کر رہی ہے۔

ملاحظہ ہو: (آئینہ صداقت ص ٣٥) ”سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح مرزا قادیانی کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔“

مرزائیوں کے نزدیک مسلمان کافر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ظفر اللہ خاں نے اپنے خلیفہ بشیر الدین کے حکم سے قائد اعظم مرحوم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا۔ کیونکہ صرف قائد اعظم تو کیا تمام تر دنیا کے مسلمان ان کے نزدیک کافر ہیں۔

(ریویو آف ریلیجنز ج ١٤ ص ١٠٠ نمبر ٣)

نہ صرف کافر۔ بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

(کلمتہ الفصل ص ١١٠)

جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢)

گویا دنیا کے پچاس کروڑ مسلمان جو رسول کریم ﷺ پر تو ایمان لاتے ہیں اور مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ وہ مرزائیوں کے نزدیک کافر ٹھہرے اور یہ چند مرزائی جن کا جھوٹا نبی انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے۔ صرف مسلمان ہیں۔

١٢

یہ تو مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ جو مرزا محمود کا ارشاد ملاحظہ ہو: ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نز قادیانی) کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے اس

کیوں جی مرزا محمود قادیانی! آپ وزیر اعظم پاکستان، میاں غلام محمد گورنر جنرل پا اسماعیل چندریگر گورنر پنجاب، سردار عبدالرب مشتاق احمد گورمانی و باقی اسلامی ممالک کے وزرا نہیں مانتے یا ان حضرات سے آپ نے اپنے با

(انوار خلافت ص ٩٣) کو دیکھیں: ” اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے ۔“

شیطان ہیں جو مجھے نہیں مانتے (قادیا ”خدا نے مجھے ہزار ہا نشانات ( میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔“

ہم مرزا قادیانی کے نہ ماننے والے (مس (تحفۃ الاذہان ج ٦ ص ١٥١) دیکھیں: ہے اور ہم لوگ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیا منکروں (مسلمانوں کو) کافر سمجھتے ہیں ۔“

ناظرین حضرات! گو مرزائیوں کی ہیں کہ جس میں خانہ کعبہ، قرآن کریم اور انب

صفحہ ١٦٩

(٥) بڑے میاں بڑے میاں، چھوٹے میاں سبحان اللہ

یہ تو مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ پکا کافر ہے۔ اب ان کے بیٹے مرزا محمود کا ارشاد ملاحظہ ہو: ”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں (مسلمانوں) کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی (مرزا غلام احمد قادیانی) کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کو اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے ۔“

(انوار خلافت ص ٩٠)

کیوں جی مرزا محمود قادیانی! آپ کے نزدیک یہ سب حضرات الحاج خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان، میاں غلام محمد گورنر جنرل پاکستان، میاں ممتاز دولتانہ وزیر اعظم پنجاب، میاں اسماعیل چندریگر گورنر پنجاب، سردار عبدالرب نشتر، سردار عبدالقیوم خاں وزیر اعظم سرحد ومیاں مشتاق احمد گورمانی و باقی اسلامی ممالک کے وزراء حکام کافر ٹھہرے؟ کیونکہ وہ آپ کے باپ کو نبی نہیں مانتے یا ان حضرات سے آپ نے اپنے باپ کی نبوت منوانی ہے؟

(انوار صداقت ص ٩٣) کو دیکھیں: ”پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے ۔“

شیطان ہیں جو مجھے نہیں مانتے (قادیانی نبی کا ارشاد)

”خدا نے مجھے ہزار ہا نشانات (معجزات) دیئے ہیں۔ لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

ہم مرزا قادیانی کے نہ ماننے والے (مسلمانوں) کو کافر سمجھتے ہیں (مرزائیوں کا خلیفہ)

(تحفۃ الاذہان ج ٦ ص ١٥١) دیکھیں: ”قرآن شریف میں انبیاء کے منکرین کو کافر کہا گیا ہے اور ہم لوگ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نبی اللہ مانتے ہیں۔ اس لئے ہم آپ کے منکروں (مسلمانوں کو) کافر سمجھتے ہیں ۔“

ناظرین حضرات! گو مرزائیوں کی اکثر کتابیں اس قسم کے لٹریچر اور عقائد سے بھر پور ہیں کہ جس میں خانہ کعبہ، قرآن کریم اور انبیاء علیہم السلام کی توہین اور مسلمانوں کی تکفیر کی گئی

١٤

صفحہ ١٧٠

ہے ۔ مگر اس مختصر سے ٹریکٹ کے پڑھنے سے بھی آپ کو بخوبی علم ہو گیا ہوگا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کیسا آدمی ہے کہ نہ تو اس نے انبیاء علیہم السلام کو گالیاں دینے میں شرم محسوس کی اور نہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہتک کرتے وقت خدا کے عذاب سے ڈرا۔ یہاں تک کہ خود رسول کریم ﷺ سے بڑھنے کا دعویٰ کیا اور حضرت حسینؓ اور حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے متعلق تو جس قسم کی بکواس اس نے کی ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کے دل ازحد زخمی ہوئے ہیں بلکہ تمام دنیا کی مسلمان آبادی مرزا قادیانی کی اس قسم کی ہرزہ سرائی پر تڑپ اٹھی ہے اور لعنت و پھٹکار کر رہی ہے۔

کیا یہ مرزا؟ اور پھر اس کی امت اس قابل ہے کہ انہیں مسلمان کہا جاوے اور پھر یہ مرزائی! جو تمام دنیا کے مسلمانوں کو نہ صرف کافر کہتے ہیں بلکہ اپنے امام کی پیروی کرتے ہوئے مسلمانوں کو کنجری کی اولاد اور جنگلوں کے سور کہتے ہیں اور ان کی عورتوں (کو خواہ سید زادیاں ہی کیوں نہ ہوں) کتیا کہتے ہوئے ذرا نہیں شرماتے ۔ کیوں نہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جاوے؟ اور پھر ظفر اللہ جس نے قائد اعظمؒ کو کافر کہتے ہوئے ان کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا۔ کیا اس قابل ہو سکتا ہے کہ وہ مسلمانوں کا یا پاکستان کا وزیر خارجہ رہ سکے؟

یقینی بات ہے کہ مرزائی مسلمانوں کے نزدیک نہ صرف کافر ہیں۔ بلکہ مرتد اور خارج از اسلام ہیں۔ ان کا قطعاً قطعاً مسلمانوں کے ساتھ تعلق نہیں۔ وہ علیحدہ قوم ہیں اور اس لئے انہیں مسلمانوں سے جدا قوم سمجھا جاوے۔ یہ ہے وہ بنیادی مطالبہ جس پر تمام دنیا کی مسلمان آبادی اس وقت متفق ہے اور اس کو تسلیم کرنا حکومت کا فرض ہے۔ والسلام!

ضروری بات

ایک اور پمفلٹ ”مرزائیوں کی خوفناک سیاسی چالیں“ چھپ کر منظر عام پر آ چکا ہے۔ وہ ضرور مطالعہ کریں۔ اس کے مطالعہ سے آپ کو مرزائیوں کی موجودہ خطرناک سازشوں کا علم ہوگا۔ قیمت صرف ایک آنہ برائے تقسیم ہے۔

دعاطلب: احقر عبدالرحیم غفرلہ

١٤

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

مرزائی کی

خوفناک سیا

حضرت مکرم و محترم مولا

PDF 172

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

مرزائیوں

کی

خوفناک سیاسی چالیں

حضرت مکرم و محترم مولانا عبدالرحیم ڈیروی

صفحہ ١٧٣

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اس سوال کا جواب تو آپ کو آئندہ صفحات کے پڑھنے سے معلوم ہو جائے گا کہ مرزائی کس قسم کی سازشیں کر رہے ہیں اور ان کی یہ ”سیاسی چالیں“ کب سے ہیں؟ انگریزوں نے جس دن سے امت مرزائیہ کو جنم دیا ہے۔ اسی دن سے یہ جماعت اپنے جھوٹے نبی (مرزا غلام احمد قادیانی) کی پیروی کرتے ہوئے انگریزوں کی خیر خواہی پورے طور سے کر رہی ہے۔ ان چند اوراق کے پڑھنے سے جہاں آپ کو مرزائیوں کی سازشوں کا علم ان کے اپنے بیانات کی روشنی میں ہو جائے گا۔ وہاں یہ بات بھی پورے طور سے منکشف ہو جائے گی کہ مرزائیوں کا یہ دعویٰ (کہ ہماری جماعت مسکین بے ضرر اور مذہبی جماعت ہے اور بیرون ممالک میں صرف تبلیغ دین کے لئے جاتی ہے) کس قدر جھوٹا غلط اور فریب دہ ہے۔

آئندہ صفحات جن پر اکثر مرزائیوں کے اپنے بیانات (بلا تبصرہ وغیر مربوط) درج کئے گئے ہیں۔ صاف بتا رہے ہیں کہ مرزائی فرقہ ایک خطرناک قسم کا سیاسی گروہ ہے جو کہ اپنی حکومت کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اگر حکومت پاکستان نے اس فرقہ کی کڑی نگرانی نہ کی تو بہت ممکن ہے کہ یہ فرقہ آگے چل کر (خدانخواستہ) پاکستان کے لئے کسی ایسی مصیبت کا سبب بن جائے۔ جس کی تلافی پھر ناممکن ہو جائے۔ وما علینا الا البلاغ!

”مرزائیوں کا اصلی چہرہ“ اور ”مرزائیوں کے خطرناک ارادے“

یہ ہر دو پمفلٹ بھی چھپ چکے ہیں۔ اگر مرزائیوں کی حقیقت معلوم کرنی ہو تو انہیں ضرور پڑھیئے۔

والسلام! دعا طلب: احقر عبدالرحیم غفرلہ

مرزائیوں کی خوفناک سیاسی چالیں

ملاحظہ ہو: (الفضل قادیان مورخہ ١٦ جنوری ١٩٥٢ء) ”اگر ہم ہمت کریں اور تنظیم کے ساتھ محنت سے کام کریں تو ١٩٥٢ء میں ہم ایک انقلاب برپا کر سکتے ہیں ...... (لہٰذا) ١٩٥٢ء کو گزرنے نہ دیجئے۔ جب تک کہ احمدیت (مرزائیت) کا رعب دشمن (مسلمان) اس رنگ میں محسوس نہ کر لے کہ اب احمدیت (مرزائیت) مٹائی نہیں جاسکتی اور مجبور ہو کر احمدیت کے آغوش میں آ گرے۔“

٢

اصل عبارت دیکھیں: ”جب تک سارے م سے جماعت (مرزائیت) پوری طرح کام نہیں لے سکتی ہے۔ پولیس ہے۔ ایڈمنسٹریشن ہے، ریلوے ہے، ف انجینئرنگ ہے۔ یہ آٹھ دس موٹے موٹے صیغے ہیں جن حقوق محفوظ کراسکتی ہے۔ پیسے بھی اس طرح کمائے جا ہوں اور ہر طرح ہماری آواز پہنچ سکے۔“

”تم (مرزائی) اس وقت تک امن میں نہیں نہ ہو۔“

(خلیفہ قادیانی کا مرزائیوں کو حکم)

”احمدیوں (مرزائیوں) کے پاس چھوٹے چھ (مرزائی ہی مرزائی) ہوں۔ کم از کم ایک علاقہ کو مرکز بنا غیر (دوسرا مسلمان) نہ ہو اس وقت تم اپنے مطالبہ کے م

واضح رہے کہ الفضل کی کسی اور اشاعت م مقصد کے لئے صوبہ بلوچستان پر ہے۔

اصل عبارت ملاحظہ ہو: ”(جو) ہماری فت اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ۔“

”ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ جب ی کرنے کو تیار ہو جاویں گے۔ اس وقت حکومت احمدی

٣

صفحہ ١٧٣

اصل عبارت دیکھیں: ”جب تک سارے محکموں میں ہمارے آدمی موجود نہ ہوں ان سے جماعت (مرزائیت) پوری طرح کام نہیں لے سکتی۔ مثلاً موٹے موٹے محکموں میں سے فوج ہے۔ پولیس ہے۔ ایڈمنسٹریشن ہے، ریلوے ہے، فنانس ہے، اکاؤنٹس ہے، کسٹمز ہے، انجینئرنگ ہے۔ یہ آٹھ دس موٹے موٹے صیغے ہیں جن کے ذریعے جماعت (مرزائیہ) اپنے حقوق محفوظ کر سکتی ہے۔ پیسے بھی اس طرح کمائے جاسکتے ہیں کہ ہر صیغے میں ہمارے آدمی موجود ہوں اور ہر طرح ہماری آواز پہنچ سکے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١١ جنوری ١٩٥٢ء)

”تم (مرزائی) اس وقت تک امن میں نہیں ہو سکتے۔ جب تک تمہاری اپنی بادشاہت نہ ہو۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٥ اپریل ١٩٤٠ء)

(خلیفہ قادیانی کا مرزائیوں کو حکم)

”احمدیوں (مرزائیوں) کے پاس چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا نہیں۔ جہاں احمدی ہی احمدی (مرزائی ہی مرزائی) ہوں۔ کم از کم ایک علاقہ کو مرکز بنالو اور جب تک ایسا مرکز نہ ہو جس میں کوئی غیر (دوسرا مسلمان) نہ ہو اس وقت تم اپنے مطالبہ کے امور جاری نہیں کر سکتے۔“

(الفضل قادیان مارچ ١٩٢٢ء)

واضح رہے کہ الفضل کی کسی اور اشاعت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ قادیان کی نظر اس مقصد کے لئے صوبہ بلوچستان پر ہے۔

(جو) ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا وہ حلال زادہ نہیں (مرزائیوں کا امام)

اصل عبارت ملاحظہ ہو: ”(جو) ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

”ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ جب ١/١٠ حصہ تو کنچنیاں (کنجریاں) بھی داخل کرنے کو تیار ہو جاویں گی۔ اس وقت حکومت احمدیت (مرزائیت) کی ہوگی۔“

(ضمیمہ الوصیت ص ٢٧)

٣

صفحہ ١٧٥

”ہمارے ہاتھ حکومت آ جاوے گی۔ احمدی امراء اور بادشاہ ہوں گے تو اس وقت ١٠/١ حصہ کی وصیت کافی نہ ہوگی۔“

(ضمیمہ الوصیت ص ٢٦)

تو ہم ایک دن کے اندر عبرتناک سزا دیں (خلیفہ قادیانی) ”حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ ان لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا مسولینی کی طرح جو شخص ہمارے حکموں کی تعمیل نہ کرے اس کو ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سننے اور عمل کرنے پر تیار نہ ہو اس کو عبرتناک سزا دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو ہم ایک دن کے اندر اندر یہ کام کر لیتے۔“

(تقریر خلیفہ قادیانی الفضل قادیان مورخہ ٢؍ جون ١٩٣٦ء ج ٢٤ نمبر ٢٨٦)

پکڑے ہوئے پیش ہوں گے (خلیفہ محمود) ”وقت آنے والا ہے جب یہ لوگ (مسلمان) مجرموں کی حیثیت میں ہمارے سامنے پیش ہوں گے۔“

(تقریر خلیفہ محمود سالانہ جلسہ دسمبر ١٩٥١ء)

”ہم نے یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی اور اب بھی کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ تقسیم (پاکستان بننا) اصولاً غلط ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٢؍ اپریل ١٩٤٨ء، ١٣؍ اپریل ١٩٤٧ء)

مسٹر گاندھی جب ہندوستان میں مارے گئے تو مرزائیوں کے امام نے پاکستان سے پنڈت نہرو کو پیغام بھیجا۔ اس میں لکھا اور قسم کھا کر لکھا: ”خدا جانتا ہے کہ باوجود اس کے کہ ہمارے مقدس مرکز (قادیان) سے زبردستی نکالا گیا ہے۔ ہم آپ کے اور آپ کی حکومت کے خیر خواہ ہیں۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢؍ فروری ١٩٤٨ء)

”پنڈت نہرو سے خیر خواہی اس لئے ہے کہ مرزا محمود ابھی تک قادیان جانے کے لئے از حد بیتاب ہے۔“

(ملاحظہ ہو پیغام مرزا محمود بر موقعہ جلسہ سالانہ منعقدہ دسمبر ١٩٤٩ء قادیان)

پاکستان کے قادیانی قادیان آنے کے لئے بیتاب ہیں۔ ٤

پاکستان و ہندوستان پھر ایک ہو جا عبارت ملاحظہ ہو: ”میں قبل ازیں بتا چکا ہو رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے ہے۔ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔“ (مرزا

مرزائی اخبار الفضل خود کہتا ہے کہ ہم م مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور مسلمان اسے نبی نہیں علیحدہ فرقہ ہیں۔ اصل عبارت ملاحظہ ہو: ”جب کوئ والوں سے علیحدہ ہونا پڑا۔ اگر تمام انبیاء ماسبق کا یہ فی الزام دینے والے انصاف کریں کہ اس مقدس ذات پس جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آواز تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت مصطفیٰ ﷺ کی آواز اسلام کا صور تھا۔ اس طرح آج آواز ہے۔“

(اخبار

الفضل کہتا ہے کہ قادیان میں ایک مسلمانوں نے اسے نہیں مانا۔ ہم (مرزائیوں) نے فرقہ ہیں۔

عبارت ملاحظہ ہو: ”اسی ایجی ٹیشن (ت احمدیوں (مرزائیوں) کو مسلم لیگ کا ساتھ نہ دینا چا

اصل عبارت ملاحظہ فرماویں: ”میں ( ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلا بھیجا تھا کہ پار ٥

صفحہ ١٧٥

(١٢) ہم کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح

پاکستان و ہندوستان پھر ایک ہو جاویں (مرزائیوں کا اخبار الفضل)

عبارت ملاحظہ ہو: ”میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے یہ اور بات ہے۔ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔“

(مرزا بشیر الدین، الفضل قادیان مورخہ ١٦ مئی ١٩٤٧ء)

(١٣) مسلمان اور ہیں ہم مرزائی اور (مرزائیوں کے اخبار الفضل کا مطالبہ)

مرزائی اخبار الفضل خود کہتا ہے کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ نہیں مل سکتے۔ کیونکہ ہم مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور مسلمان اسے نبی نہیں مانتے۔ اس لئے ہم مسلمانوں سے جدا اور علیحدہ فرقہ ہیں۔ اصل عبارت ملاحظہ ہو: ”جب کوئی مصلح آیا تو اس کے ماننے والوں کو نہ ماننے والوں سے علیحدہ ہونا پڑا۔ اگر تمام انبیاء ماسبق کا یہ فعل قابل ملامت نہیں تو مرزا غلام احمد قادیانی کو الزام دینے والے انصاف کریں کہ اس مقدس ذات (مرزا غلام احمد قادیانی) پر الزام کس لئے؟ پس جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں موسیٰ علیہ السلام کی آواز اسلام کی آواز تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں عیسیٰ علیہ السلام کی اور سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ ﷺ کی آواز اسلام کا صور تھا۔ اس طرح آج قادیان سے بلند ہونے والی آواز اسلام کی آواز ہے۔“

(اخبار الفضل قادیان ج ٧، نمبر ٩٠، مورخہ ٢٧ مئی ١٩٢٠ء)

الفضل کہتا ہے کہ قادیان میں ایک نبی (مرزا قادیانی) نے آواز بلند کی ہے۔ مسلمانوں نے اسے نہیں مانا۔ ہم (مرزائیوں) نے مان لیا ہے۔ اس لئے ہم مسلمانوں سے علیحدہ فرقہ ہیں۔

(١٤) مرزائی مسلم لیگ کا ساتھ نہ دیں (مرزائیوں کے خلیفہ محمود کا حکم)

عبارت ملاحظہ ہو: ”اسی ایجی ٹیشن (تحریک پاکستان) قانون شکنی اور سٹرائیک میں احمدیوں (مرزائیوں) کو مسلم لیگ کا ساتھ نہ دینا چاہئے۔“

(خطبہ محمود، یکم فروری ١٩٤٧ء)

(١٥) ہمیں اقلیت قرار دیا جائے (مرزائیوں کا مطالبہ)

اصل عبارت ملاحظہ فرماویں: ”میں (مرزا بشیر الدین) نے اپنے نمائندہ کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلا بھیجا تھا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی

٥

صفحہ ١٧٦

تسلیم کئے جاویں۔ جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ ہو۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق تسلیم کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے بھی تسلیم کئے جاویں۔ تم ایک پارسی پیش کرو میں اس کے مقابلے میں دو دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٣؍نومبر ١٩٣٦ء)

(١٦) مرزائیوں کا انگریزوں کے ساتھ گٹھ جوڑ

مرزائیوں کا امام مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں اور حکومت برطانیہ کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرتے ہوئے اپنی امت کو حکم دیتا ہے کہ انگریزوں کی اطاعت اور تابعداری میں کوئی کسر باقی نہ رہے اور خدا تعالیٰ کی طرح انگریز کی اطاعت بھی فرض اور واجب ہے۔ یہی وجہ ہے سر ظفر اللہ خاں ہمیشہ انگریزوں کی پاس خاطر کرتا رہتا ہے اور مصر و ایران کے معاملے میں مسلمان حکومتوں کے مفاد کو ٹھکرا دیتا ہے۔ ملاحظہ ہو:

ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت (برطانیہ) کا جس نے امن قائم کیا ہو جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص ٨٥، خزائن ج ٦ ص ٣٨١)

اطاعت کرنا ہر ایک (مرزائی) مسلمان کا فرض ہے۔“

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٦٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٦٦، ٣٦٧، برکات خلافت ص ٦٥)

(١٧) مرزائی جماعت حکومت برطانیہ کی جاسوس جماعت ہے

(حکومت جرمنی بحوالہ الفضل)

ملاحظہ فرماویں اخبار الفضل مرزائیوں کا اخبار : ”ایک دن برلن (جرمنی) میں احمدیوں (مرزائیوں) نے ایک پارٹی کا انتظام کیا اور بڑے بڑے آفیسروں کو پارٹی میں شمولیت کے لئے دعوت نامے بھیجے اور ایک جرمن وزیر بھی اس پارٹی میں شامل ہوا تو حکومت جرمنی نے اس جرمن وزیر سے جواب طلبی کی کہ برطانیہ کی جاسوس جماعت (جماعت مرزائی) کی پارٹی میں کیوں شامل ہوئے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٣؍اپریل ١٩٣٣ء)

٦

صفحہ ١٧٧

”حکومت افغانستان نے دو احمدیوں (مرزائیوں) پر مقدمہ چلایا کہ وہ برطانیہ کے جاسوس ہیں۔“

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣؍ مارچ ١٩٢٠ء)

ہونا وہی ہے جو میں نے کہا ہے اور وہی ایک دن ہم کر کے رہیں گے۔ (مرزا محمود کا تازہ خطبہ) الفضل لاہور مورخہ ٢٩؍ جولائی ١٩٥٢ء ص٦ میں تازہ خطبہ مرزا محمود کا ملاحظہ فرماویں اور آخری جملے غور سے پڑھیں۔

”اپنا یا بیگانہ کوئی اعتراض کرے پروا نہیں۔ ہونا وہی ہے جو میں نے کہا ہے اور وہی ایک دن ہم کر کے رہیں گے۔“

(خطبہ مرزا محمود)

مرزا بشیر الدین کو پاکستان کا بادشاہ ظاہر کرتا ہے

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٨؍ نومبر ١٩٥١ء) کی مندرجہ ذیل خبر پڑھئے: ”لیک سس ٦؍ نومبر عرب ڈیلی گیشن نے امریکہ سے بذریعہ تار حضرت امام جماعت (مرزائیہ) احمدیہ (مرزا بشیر الدین) کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان ڈیلی گیشن کے لیڈر چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں کو مسئلہ فلسطین کے تصفیہ تک یہیں ٹھہرنے کی اجازت دی۔“

مندرجہ بالا حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ سر ظفر اللہ مرزائی وزارت خارجہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزائیت کا پروپیگنڈا کر رہا ہے اور بیرونی ممالک میں یہ ظاہر کرنے کی ناپاک سازش کی گئی کہ پاکستان کا بادشاہ اور امیر مرزا بشیر الدین ہے۔ اگر ایسا نہیں تھا تو شکریہ کا تار حکومت پاکستان کی بجائے مرزا بشیر الدین کو کس حیثیت میں ظفر اللہ نے دلوایا۔ یہ ایک سیدھا سادا سوال ہے۔ جس کے جواب کے لئے مسلمان مضطرب ہیں۔ وہ حیران ہیں کہ یہ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟

مرزا بشیر الدین کی اجازت کے بغیر امریکہ مزید قیام کرنے سے معذور ہیں

مندرجہ ذیل خبر پڑھئے اور اندازہ لگائیے کہ ظفر اللہ خاں پاکستان کے وزیر خارجہ کس

٧

صفحہ ١٧٨

قدر ہیں اور ان کے دل میں حکومت پاکستان کی وقعت کتنی ہے۔ وہ خلیفہ بشیر الدین کے حکم کے مقابلے میں حکومت پاکستان کے حکم کو پس پشت ڈالنے کے لئے تیار ہیں۔ اصل عبارت ملاحظہ ہو:

”آپ یہ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے سر ظفر اللہ خان کو ایک خط لکھا گیا کہ پاکستان کا ایک مقتدر افسر امریکہ آ رہا ہے۔ آپ کو اس کے امریکہ پہنچنے تک امریکہ میں ٹھیرنا چاہیے۔ لیکن سر ظفر اللہ نے جواب دیا کہ وہ امیر المؤمنین یعنی مرزا بشیر الدین محمود کی اجازت کے بغیر امریکہ مزید قیام کرنے سے معذور ہیں۔ اگر حکومت (پاکستان) چاہتی ہے کہ میں کچھ عرصہ امریکہ میں ٹھہروں تو اسے (حکومت پاکستان کو) مرزا بشیر الدین محمود سے اس کی اجازت لینی چاہئے۔“

(زمیندار مورخہ ١٨؍جولائی ١٩٥٢ء ص١)

یعنی حکومت پاکستان اگر خلیفہ بشیر الدین سے اجازت مانگے اور خلیفہ قادیانی امریکہ میں سر ظفر اللہ کو مزید ٹھہرنے کا حکم دے تب تو میں ٹھہر سکوں گا۔ ورنہ میں حکومت پاکستان کی التجاء پر مزید قیام نہیں کر سکتا۔

اندازہ لگائیے حکومت پاکستان کا ایک ملازم پاکستان کو کیسا کورا اور صاف جواب دے رہا ہے۔

(٢٢) اگر تم مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے تو

تمہارے اسلام کا درخت خشک ہے (مفہوم تقریر سر ظفر اللہ)

٢٨؍مئی ١٩٥٢ء کو جہانگیر پارک کراچی میں مرزائیوں کی دوروزہ کانفرنس میں سر ظفر اللہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا۔ (واضح رہے یہی وہ کانفرنس ہے جس کے دوسرے روز کے اجلاس پر وزیر اعظم پاکستان و دیگر ایک مقتدر وزیر کی طرف سے سر ظفر اللہ خاں کو تقریر کرنے سے روکا گیا۔ مگر وہ باز نہ آئے تھے) ”اگر نعوذ باللہ! آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) کے وجود کو درمیان سے نکال دیا جاوے تو اسلام کا زندہ مذہب ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح ایک خشک درخت شمار کیا جائے گا اور اسلام کی برتری دیگر مذاہب سے ثابت نہیں ہو سکتی۔“

(منقول از الفضل قادیان مورخہ ٣١؍مئی ١٩٥٢ء ص ٥ کالم ٢)

اندازہ لگائیے! سر ظفر اللہ کے نزدیک اگر مسلمان غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے تو ان کا اسلام زندہ مذہب نہیں بلکہ مردہ مذہب ہے۔ گویا پاکستان کے تمام مسلمانوں کا مذہب تو مردہ ہے اور ان انگریزوں کے تابعداروں (مرزائیوں) کا مذہب زندہ ہے۔

٨

صفحہ ١٧٩

(٢٣) امریکہ میں رسول کریم ﷺ کی تصویر کی اشاعت پر پاکستانی سفارتخانہ کا

احتجاج مگر ظفر اللہ خان کی وزارت خارجہ کا اس احتجاج پر سخت ناراضگی کا اظہار

”سر ظفر اللہ جو مسلمانوں کے مذہب کو تو مردہ کہتے ہیں اور اپنے مذہب کو زندہ کہتے ہیں۔ آنحضورﷺ کے ساتھ اس کی دشمنی ملاحظہ ہو کہ حال ہی میں امریکہ کے ایک ہفتہ وار رسالے میں آنحضورﷺ کی ایک فرضی تصویر شائع ہوئی ہے اور امریکہ میں پاکستان کا سفارتخانہ اس پر احتجاج کرتا ہے۔ مگر سر ظفر اللہ خان کی وزارت خارجہ اس احتجاج پر از حد ناراض ہوئی اور اسے تنبیہ کرتی ہے کہ آئندہ بلا اجازت ایسے (نیک) کام نہ کیا کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سر ظفر اللہ اور مرزائیوں کی عقیدت آنحضورﷺ سے تو کچھ بھی نہیں۔ ہاں مرزا قادیانی پر جان نثار کرنے کے لئے تیار ہیں۔“

(روزنامہ امروز لاہور مورخہ ١٩؍جون ١٩٥٢ء ص٢)

امریکہ کے کثیر الاشاعت ہفتہ وار رسالہ ”ٹائم“ نے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں رسول کریم ﷺ کی تصویر چھاپی تھی اور پاکستان کے گوشہ گوشہ سے اس کی سخت مذمت کی گئی۔ چونکہ اس سے پہلے بھی اس قسم کے واقعات پیش آچکے ہیں اور پاکستان ان پر سفارتی احتجاج کر رہا ہے۔ اس لئے اس مرتبہ بھی واشنگٹن کے (پاکستانی) سفارتخانے نے فوراً ہی امریکی حکومت سے احتجاج کیا۔ لیکن ہماری وزارت خارجہ (سر ظفر اللہ خاں وغیرہ) کا رویہ چونکہ اب بدل چکا ہے۔ اس لئے اسے جیسے ہی یہ پتہ چلا تو پاکستانی سفارتخانے کو فوراً ہی ایک سخت ہدایت نامہ بھیجا گیا کہ پاکستان اسلام کے وقار کا تنہا محافظ نہیں ہے...... آئندہ اس قسم کے احتجاج نہ کئے جاویں۔

(٢٤) سر ظفر اللہ خاں (مرزائی) کا پاکستان کے وزیر اعظم بن جانے کا کھٹکا

(اخبار الفضل)

سر ظفر اللہ خاں نے یہاں تک اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں کہ بہت سے حضرات کو یہ خطرہ ہے کہ کہیں یہ وزیر اعظم نہ ہو جاویں۔ ملاحظہ ہو مرزائی اخبار

(الفضل قادیان مورخہ ٢٩؍ اگست ١٩٥٢ء ص٨ بحوالہ اخبار سنگرام)

”جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بہترین وزیر خارجہ ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے بیرونی ممالک میں بہت نام پیدا کیا ہے اور پاکستان کے اندر بھی انہیں بہت بڑی عزت حاصل ہے۔ اسی وجہ سے خود کابینہ پاکستان کے بعض مقتدر ممبروں کو بھی یہ کھٹکا لگ رہا ہے کہ بین الاقوامی شہرت اور قومی عزت کی وجہ سے جلد یا بدیر چوہدری ظفر اللہ خاں پاکستان کے وزیر اعظم بن جائیں گے۔“

٩

صفحہ ١٨١

(٢٥) اگر مجھے وزارت سے علیحدہ کیا گیا تو میں پاکستان میں نہ ٹھہروں گا

بلکہ کسی اور ملک میں چلا جاؤں گا (ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ)

”ظفر اللہ خاں نے حال ہی میں ایک تقریر کرتے ہوئے صاف کہہ دیا ہے کہ اگر مجھے وزارت سے علیحدہ کیا گیا تو میں پاکستان میں نہ ٹھہروں گا۔ بلکہ کسی اور جگہ چلا جاؤں گا۔ خدا معلوم وہ کون سا ملک ہے جہاں چوہدری صاحب جانے کے لئے تیار ہیں اور جہاں سے چوہدری صاحب کے دوست انہیں بلا رہے ہیں۔“

تقریر ملاحظہ ہو: ”اگر یہ صورت (وزارت سے علیحدہ ہونے کی) پیش آئی تو میں فوراً وزارت خارجہ سے کنارہ کش ہو جاؤں گا اور پھر یہاں (پاکستان) میں ٹھہروں گا بھی نہیں۔ میرے ایک دوست نے حال ہی میں مجھے ایک خط لکھا ہے کہ تم ...... یہاں چلے آؤ۔“

(تقریر ظفر اللہ خاں اخبار زمیندار مورخہ ١٣؍اگست ١٩٥٢ء)

فرمائیے! گویا پاکستان میں چوہدری ظفر اللہ خاں تب رہ سکتے ہیں اگر انہیں وزیر رکھا جائے اور اگر مسلمان ظفر اللہ خاں کی نااہلی کی وجہ سے اس کے غیر مسلم ہونے کے باعث وزارت سے ہٹائیں گے تو مسٹر منڈل کی طرح یہ بھی پاکستان کو چھوڑ دیں گے۔

(٢٦) خلیفہ قادیانی کے تازہ خواب ہم قادیان میں جانے والے ہیں (الفضل)

(الفضل قادیان مورخہ ١٧؍اگست ١٩٥٢ء ص ٣، ٤)

میں خلیفہ بشیر الدین محمود کے خواب چھپے ہیں۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ خلیفہ صاحب کو ہر وقت قادیان (ہندوستان) جانے کی فکر لگی ہوئی ہے۔ اس لئے تو بار بار اسی قسم کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

خواب نمبر: ١

”دو چار دن کے بعد اسی طرح دعا کر کے میں سویا تو میں نے دیکھا کہ گویا ہم قادیان ہیں۔“

خواب نمبر: ٢

”میں نے دیکھا کہ گویا ہم قادیان میں ہیں اور رات کا وقت ہے۔“

خواب نمبر: ٣

”آج رات میں نے رؤیا (خواب) میں دیکھا کہ ہم کہیں ربوہ سے باہر کسی شہر میں

١٠

ہیں ...... عزیزم چوہدری ظفر اللہ خاں سلمہ اللہ تعالیٰ بھی وہاں

(٢٧) خواب کی تعبیر، اب مرزا

بہت زیادہ قربانی کا وقت پہنچ گیا

ملاحظہ ہو (الفضل قادیان مورخہ ١٧؍اگست ١٩٥٢ء

سلسلہ (مرزائیت) کے لئے بہت زیادہ قربانی کا وقت آ گیا

(٢٨) سالار فدائیان (فوج) قادیان و ربوہ کی

علی خاں مرزائی ہو جاؤ ورنہ لیاقت علی خاں کی طرح

(الفضل قادیان مورخہ ١٥؍جولائی ١٩٥٢ء) میں مرزا

نام لے کر قتل کی دھمکی دی گئی تھی کہ: ”خونی ملاؤں کے (....) خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اب ایک اور خط مو و ربوہ کی طرف سے موصول ہوا ہے۔ جس میں حضرت م صاف طور پر کہا گیا ہے کہ آپ مرزائی ہو جاویں۔ ورنہ خاں مرحوم وزیر اعظم پاکستان کی طرح ہوگا۔ وہ خط ملاحظہ

”مولانا اختر علی و ظفر علی صاحب! تم کو حکم جماعت) میں شامل ہو کر مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مولویوں کا حشر لیاقت علی جیسا ہوگا۔ تمام وزیروں کو قادیان والفاروق لاہور و ربوہ، اب ہوشیار ہو جاؤ۔ ٥٢

(٢٩) چار من سکہ اور ایک من س

ربوہ (مرزائیوں کا دارالخلافہ

ملاحظہ ہو (اخبار زمیندار مورخہ ١٢؍اگست ٥٢

میاں ممتاز دولتانہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گیا۔ جب پولیس نے تحقیقات کی اسے مرزا بشیر ا

١١

صفحہ ١٨١

ہیں .... عزیزم چوہدری ظفر اللہ خاں سلمہ اللہ تعالیٰ بھی وہاں (میرے ساتھ ہیں)“

(الفضل قادیان مورخہ ١٧ اگست ١٩٥٢ء)

(٢٧) خواب کی تعبیر، اب مرزائیت کی خاطر

بہت زیادہ قربانی کا وقت پہنچ گیا ہے (مرزا محمود)

ملاحظہ ہو (الفضل قادیان مورخہ ١٧ اگست ١٩٥٢ء ص ٤) ”پہلی دورؤیا سے معلوم ہوتا ہے کہ سلسلہ (مرزائیت) کے لئے بہت زیادہ قربانی کا وقت آگیا ہے۔“

(٢٨) سالار فدائیان (فوج) قادیان و ربوہ کی طرف سے قتل کی دھمکی مولانا اختر

علی خاں مرزائی ہو جاؤ ورنہ لیاقت علی خاں کی طرح تم اور باقی مولوی قتل ہو جاؤ گے

(الفضل قادیان مورخہ ١٥ جولائی ١٩٥٢ء) میں مرزائیوں کی طرف سے مشہور مسلمان علماء کو نام لے کر قتل کی دھمکی دی گئی تھی کہ: ”خونی ملاؤں کے آخری دن“ آن پہنچے ہیں اور ان سب کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اب ایک اور خط مولانا اختر علی خاں کو سالار فدائیان قادیان و ربوہ کی طرف سے موصول ہوا ہے۔ جس میں حضرت مولانا اختر علی خاں اور مولانا ظفر علی خاں کو صاف طور پر کہا گیا ہے کہ آپ مرزائی ہو جاویں۔ ورنہ تمہارا اور باقی مولویوں کا حشر لیاقت علی خاں مرحوم وزیر اعظم پاکستان کی طرح ہوگا۔ وہ خط ملاحظہ ہو۔

(اخبار زمیندار مورخہ ٢١ اگست ١٩٥٢ء ص ٥)

”مولانا اختر علی وظفر علی صاحب! تم کو حکم دیا جاتا ہے کہ فوراً جماعت احمدیہ (مرزائی جماعت) میں شامل ہو کر مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانو۔ ورنہ تمہارا اور ان تمام بڑے بڑے مولویوں کا حشر لیاقت علی جیسا ہوگا۔ تمام وزیروں کو بھی اطلاع کر دی گئی ہے۔ سالار فدائیان قادیان والفاروق لاہور و ربوہ، اب ہوشیار ہو جاؤ۔ ١٩٥٢ء ختم نہ ہوگا ۔“

(سالار فدائیان قادیان لاہور و ربوہ)

(٢٩) چار من سکہ اور ایک من ١٧ سیر بارود پچھلے دنوں

ربوہ (مرزائیوں کا دارالخلافت) میں کیوں پہنچ گیا

ملاحظہ ہو (اخبار زمیندار مورخہ ١٦ اگست ١٩٥٢ء ص ٢) آخر میں آپ (شاہ صاحب) نے میاں ممتاز دولتانہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دنوں ایک من ١٧ سیر بارود ربوہ کیوں گیا۔ جب پولیس نے تحقیقات کی اسے مرزا بشیر الدین نے بتایا کہ ہمارے رضا کاروں نے

١١

صفحہ ١٨٢

تربیت حاصل کرنی تھی۔ میں پوچھتا ہوں کہ رضا کاروں کی اس تربیت کے کیا معنی ہیں۔۔۔۔۔ چار من سکہ حال ہی میں چونیاں سے ربوہ لے جایا گیا۔ آخر اس سکہ کی ضرورت کیا تھی۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اس کی تحقیقات کی جائے کہ ان تیاریوں کے پس پردہ کیا جذبہ اور کیا پروگرام کارفرما ہے۔ تصویر کے نقاب کو ذرا تو سرکائیے۔

صرف ایک سوال، آخر یہ کیا ہو رہا ہے؟

ناظرین حضرات! اس مختصر سے ٹریکٹ میں تفصیل کے ساتھ مرزائیوں کی سیاسی چالیں اور جو وہ پاکستان کو نقصان دینے والی سازشیں کر رہے ہیں۔ مکمل درج نہیں کی جاسکتیں۔ لیکن پھر بھی اجمالی طور پر صفحات گذشتہ میں مرزائیوں کے سیاسی عزائم کا جو خلاصہ درج کیا گیا اس کے پڑھنے سے دل میں طبعاً ایک سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ مرزائی جماعت جو کہ اپنے آپ کو غریب جماعت کہلاتی ہے۔ اس قسم کے عزائم اور سیاسی خیالات کیوں رکھتی ہے؟ ربوہ میں سکہ اور بارود کیوں جمع کیا جا رہا ہے؟ ١٩٥٢ء میں کون سے انقلاب برپا کرنے کا ارادہ ہے؟ یہ پاکستان کے تمام تر محکموں پر قبضہ کس لئے؟ اور پھر پاکستان ہی میں ایک علیحدہ ٹکڑا اپنے لئے کیوں؟ یہ حکومت کے خواب کیسے؟ اور یہ مرزائی بادشاہوں کی پیش گوئی کیسی؟ نیز باہر کے ملکوں سے سرظفر اللہ خاں حکومت پاکستان کی بجائے مرزا محمود کو شکریئے کے تار کیوں دلاتے ہیں؟ مسلمان علماء اخبارات کے ایڈیٹروں اور مولویوں کو قتل کی دھمکیاں کیوں ہیں؟ مسلمانوں کو مرعوب کر کے مرزائی بنانے کے کیوں منصوبے ہورہے ہیں؟ مسلمانوں کو مجرموں کی طرح اپنے سامنے پیش کرنے کے کیا معنی؟ اور پنڈت نہرو کی حکومت سے خیر خواہی کس قسم کی؟ سرظفر اللہ وزارت کے بعد کس ملک میں جانا چاہتے ہیں؟ یہ مرزا محمود قادیان کے کیوں (خواب دیکھ رہے ہیں اور پھر خواب کی تعبیر میں قربانی طلب کرنے کے کیا معنی؟) یہ اور اس قسم کے چند اور سوالات اور شبہات ہیں جو مسلمانوں کے دلوں میں لامحالہ پیدا ہو رہے ہیں۔ جن کا ازالہ حکومت کی طرف سے از حد ضروری ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ اگر اس فتنہ عظیمہ کو ابھی سے نہ روکا گیا تو بہت ممکن ہے کہ پاکستان کی سالمیت خطرے میں نہ پڑ جائے۔

وما علینا الا البلاغ. واللہ المستعان!

دعا طلب: احقر عبدالرحیم غفرلہ

١٢

خاتم النبیین

مطالبہ

حضرت مولانا بہاء

PDF 184

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

مطالبۂ حق

حضرت مولانا بہاء الحق قاسمیؒ امرتسری

صفحہ ١٨٤

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اگر مرزائی حکومت قائم ہو جائے تو مرزا محمود ہٹلر اور مسولینی کے نقش قدم پر

مرزا محمود خلیفہ قادیانی آج کل حکومت کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ وہ اس میں کامیاب ہو جائیں تو وہ اپنے حکم سے سرتابی کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ اس کا جواب خود مرزا محمود ہی کی ایک تقریر میں موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں:

’’حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ ان لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا مسولینی کی طرح جو شخص ہمارے حکموں کی تعمیل نہ کرے اسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سنے اور ان پر عمل کرنے پر تیار نہ ہو، اسے عبرتناک سزا دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو ہم ایک دن کے اندر اندر یہ کام کر لیتے۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ج ٢٣ نمبر ٢٧٩)

(خدا گنجے کو ناخن نہ دے)

مسلمانان پاکستان اور حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ مرزا محمود کے عزائم کو سمجھیں اور قبل اس کے کہ یہ فتنہ قیامت بن جائے۔ اس کے استیصال کی طرف فوری توجہ کریں۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبى بعده. وعلى اله واصحابه اجمعين!

حمد وصلوٰۃ کے بعد ناچیز مؤلف قارئین کرام کی خدمت میں گذارش کرتا ہے کہ آج کل پاکستان کے ہر گوشہ سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کی امت کو مسلمانوں سے جداگانہ اقلیت قرار دیا جائے۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی آنجہانی نے جو ’’دین‘‘ پیش کیا ہے وہ اس دین حق سے بالکل مغائر ہے۔ جسے حضور سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ نے پیش فرمایا تھا۔ یہ مطالبہ اس حیثیت سے بہت دیرینہ ہے کہ مرزا قادیانی آنجہانی نے جب کھل کر نبوت وپیغمبری کا دعویٰ کیا اور بعض اولوالعزم پیغمبروں کو گالیاں دیں اور بعض ضروریات دین کا انکار اور بعض کا استخفاف کیا تو اسی زمانہ میں ہر مکتب خیال اور ہر مسلک ومشرب کے علماء کرام نے یہ متفقہ فتویٰ دے دیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک برابر دیتے چلے آئے ہیں کہ نہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی بلکہ ان کو نبی، مسیح اور مجدد ماننے والے تمام مدعیان اسلام بھی کافر ومرتد اور خارج از اسلام

٢

صفحہ ١٨٥

ہیں ۔ ان سے رشتہ ناتہ اور موالات حرام ہے۔ فرق اس قدر ہے کہ اس فتویٰ کے مخاطب عامۃ اہل اسلام تھے اور موجودہ مطالبہ حکومت پاکستان سے کیا جا رہا ہے کہ وہ اس متفقہ فتویٰ بلکہ خود مرزائیوں کے مسلمات کے مطابق بھی ان کو آئینی طور پر مسلمانوں سے جدا گانہ اقلیت قرار دے کر مسلمانوں کو مطمئن کرے۔ اس مطالبہ پر مرزائی صاحبان کو بگڑنا نہ چاہئے تھا۔ اس لئے کہ ان کو اور ان کے مقتداء (مرزا قادیانی آنجہانی) کو یہ تسلیم ہے کہ ان کا اور مسلمانوں کا دین، ایمان اور اسلام جدا ہے اور سب مسلمان بوجہ مرزا قادیانی آنجہانی کو نہ ماننے کے کافر اور خارج از اسلام ہیں۔ یہ امر بھی مرزائی لٹریچر سے ثابت ہے۔ مرزائی صاحبان کو مسلمانوں کے مطالبہ کی تائید کرنی چاہئے تھی۔ لیکن وہ اس مطالبہ کی مخالفت محض اس لئے کر رہے ہیں کہ یہ مطالبہ اگر منظور ہو گیا تو انہیں ان بیشمار حقوق ملازمت وغیرہ سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ جن پر وہ ”مسلمان“ کے نام سے غاصبانہ قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔

ثابت ہوا کہ مسلمانوں کے اس مطالبہ کی مخالفت میں مرزائی صاحبان مخلص نہیں ہیں۔ بلکہ یہ مخالفت دنیاوی اغراض کی بناء پر ہے اس لئے اس باب میں مرزائی صاحبان کو مخاطب کرنا بے سود معلوم ہوتا ہے۔ البتہ ارباب اقتدار اور ان مسلمانوں کو جو مرزائی لٹریچر سے بے خبری کے باعث مسلمانوں کے مطالبہ کو تسلیم کرنے میں متامل ہیں۔ صورتحال سے روشناس کرانا ضروری ہے۔ اسی نقطہ نظر سے یہ مختصر مضمون ہدیہ ناظرین کرام کیا جا رہا ہے۔

میں نے اس مضمون میں اس حقیقت کے صرف چند گوشوں کو مرزائی لٹریچر ہی کی روشنی میں بے نقاب کیا ہے کہ اسلام اور ملت اسلامیہ سے مرزائی امت کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لئے آئینی طور پر بھی ان کو جدا ہی رکھنا چاہئے۔ میں نے اپنی طرف سے زیادہ حاشیہ آرائی کی ضرورت نہیں سمجھی۔ حساس مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس مضمون کو دستور ساز اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں اور ڈسٹرکٹ بورڈ اور میونسپل کمیٹیوں کے ممبروں اور سیاسی لیڈروں اور دیگر ذی اثر مسلمانوں کے ہاتھوں میں پہنچائیں تاکہ وہ اس مطالبہ کی معقولیت کو سمجھ سکیں اور ہمارا فرض ادا ہو جائے۔

میں نے یہ مضمون بہت عجلت میں لکھ کر کاتب کے حوالے کر دیا ہے۔ حوالوں کی زیادہ جانچ پڑتال کا موقع نہیں ملا۔ اس لئے اگر کہیں کوئی غلطی ہو گئی ہو تو مجھے مطلع کر کے ممنون فرمایا جاوے۔ غلطی کی اصلاح طبع دوم میں انشاء اللہ کر دی جائے گی۔

مسلمانوں سے بنیادی اختلافات

مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کے بیٹے اور خلیفہ دوم مرزا محمود ایں جہانی نے اپنے ایک

٣

صفحہ ١٨٦

خطبہ میں کہا: ”حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں (یعنی مسلمانوں) سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا چند اور مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔“

(اخبار الفضل قادیان ج ١٩ نمبر ١٣، مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٣١ء)

مسلمانوں کا اسلام اور، مرزائیوں کا اور؟

مرزا محمود ہی نے اپنے والد (غلام احمد قادیانی) کا بیان دوسرے مقام پر ان الفاظ میں نقل کیا ہے: ”ان (مسلمانوں) کا اسلام اور ہے اور ہمارا اور ہے۔ ان کا خدا اور ہے اور ہمارا خدا اور۔ ہمارا حج اور ہے ان کا اور۔ اسی طرح ہر بات میں (مسلمانوں سے) اختلاف ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢١؍ اگست ١٩١٧ء ص ٨)

جس اسلام میں مرزا قادیانی کا ذکر نہ ہو وہ اسلام نہیں

”عبداللہ نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی آنجہانی) کی زندگی میں ایک مشن قائم کیا۔ بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ مسٹر ویپ نے امریکہ میں ایسی اشاعت شروع کی۔ مگر آپ (مرزا قادیانی آنجہانی) نے ان کو پائی کی مدد نہ کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس اسلام میں آپ (مرزا قادیانی آنجہانی) پر ایمان لانے کی شرط نہ ہو اور آپ کے سلسلہ کا ذکر نہیں اسے آپ اسلام ہی نہ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نور دین آنجہانی) نے اعلان کیا تھا کہ ان (مسلمانوں) کا اسلام اور ہے اور ہمارا اسلام اور ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٣١ دسمبر ١٩١٣ء)

مسلمانوں کے اسلام کی تحقیر

مرزا محمود کا ایک بیان ملاحظہ فرمائیے: ”تم ایک برگزیدہ نبی (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کو مانتے ہو اور تمہارے مخالف (مسلمان) اس کا انکار کرتے ہیں۔ حضرت صاحب (مرزا قادیانی آنجہانی) کے زمانے میں ایک تجویز ہوئی کہ احمدی اور غیر احمدی مل کر تبلیغ کریں۔ مگر حضرت صاحب نے فرمایا کہ تم کون سا اسلام پیش کرو گے۔ کیا تمہیں جو خدا نے نشان دیئے وہ چھپاؤ گے۔“

(آئینہ صداقت ص ٥٣، اخبار بدر قادیان مورخہ ١٩؍ جنوری ١٩١١ء)

مرزا قادیانی آنجہانی کے اسلام کے دو بنیادی اصول

مسلمانوں کے اسلام کے دو بنیادی اصول ہیں۔ ایک توحید دوسری رسالت۔ لیکن

٤

صفحہ ١٨٧

مرزا غلام احمد قادیانی کے اسلام کے بنیادی اصول مرزا قادیانی ہی کی زبان سے سنئے: ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایک محسن (یعنی انگریز) کی بدخواہی کرنا حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہوتا ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کر چکا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ سو وہ سلطنت برطانیہ ہے۔“

(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ص ٣، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

مرزا قادیانی کی دوسری کتاب شہادۃ القرآن میں ہے: ”میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہے۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔ اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

مرزائی لٹریچر میں خدا کا تصور

مرزا قادیانی اور مرزائی صاحبان جس ”اسلام“ کو مانتے ہیں۔ اس میں ”خدا“ کا جو تصور پیش کیا گیا ہے وہ حسب ذیل ہے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں: ”ہم فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہاء عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود اعظم (خدا) کی تاریں بھی ہیں۔“

(توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)

دوسرے مقام پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”انت منى بمنزلة ولدی“ خدا کہتا ہے کہ اے مرزا تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔

(تذکرہ ص ٤٤٢، حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

”اسمع ولدی“ اے میرے بیٹے (مرزا قادیانی) سن۔

(البشریٰ ج اول ص ٤٩)

”انت من ماء نا“ اے مرزا تو ہمارے پانی سے ہے۔

(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٦)

یہ اور اس قسم کی مزخرفات حق تعالیٰ کی طرف مرزا قادیانی نے بکثرت منسوب کی ہیں۔ جن کو حضرت محمد رسول اللہﷺ کا لایا ہوا اسلام ایک سیکنڈ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ ان مزخرفات کی تاویلیں کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے عیسائی تثلیث اور ابنیت مسیح (علیہ السلام) کے مسئلہ میں کیا کرتے ہیں۔

٥

صفحہ ١٨٨

مرزائیوں کا کلمہ

مسلمان ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھتے ہیں تو محمد رسول اللہ سے حضرت فخر الاولین والآخرین سیدنا محمد عبداللہ القرشی الہاشمی المکی المدنی ﷺ کی ذات مبارک مراد لیتے ہیں۔ لیکن خود مرزا قادیانی آنجہانی اور ان کے متبعین محمد رسول اللہ (ﷺ) کے الفاظ بول کر ان سے کیا مراد لیتے ہیں؟ اسے ذیل سے ملاحظہ کیجئے۔ خود مرزا قادیانی آنجہانی نے لکھا: ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم“ اس وحی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص١٣، خزائن ج١٨ ص٢٠٧)

اب مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم۔اے کے ملفوظات بھی سنئے: ”مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی آنجہانی) کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص١٥٨)

مرزائیوں کا قرآن

قرآن پاک کی وہ آیات جو آنحضرت ﷺ کی شان میں نازل ہوئیں۔ ان میں سے اکثر و بیشتر آیات کی نسبت مرزا قادیانی آنجہانی نے لکھا ہے کہ وہ میرے متعلق ہیں۔ نمونہ کے لئے مرزا قادیانی کی حسب ذیل تصانیف اٹھا کر دیکھئے۔ (براہین احمدیہ ص٤٩٨، البشریٰ ج٢ ص٥٦، اعجاز احمدی، ضمیمہ نزول المسیح ص٧، اربعین نمبر٢ ص٢٣، ٢٥، اربعین نمبر٣ ص٢٤) وغیرہ وغیرہ۔ اسی بناء پر

مرزا محمود نے صاف صاف کہہ دیا کہ: ”اب کوئی قرآن نہیں سوائے اس قرآن کے جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی آنجہانی) نے پیش کیا ہے اور کوئی حدیث نہیں سوائے اس حدیث کے جو حضرت مسیح موعود کی روشنی میں نظر آئے۔ اگر حدیثوں کو اپنے طور پر پڑھیں گے تو وہ مداری کے پٹارے سے زیادہ وقعت نہ رکھیں گی۔ حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ حدیثوں کی مثال تو مداری کے پٹارے کی ہے جس طرح مداری جو چاہتا ہے اس میں سے نکال لیتا ہے۔ اسی طرح ان میں سے جو چاہو نکال لو۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٥ جولائی ١٩٢٨ء)

مرزائیوں کی حدیث

احادیث رسول اللہ ﷺ کی نسبت مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی اور مرزا محمود ایں جہانی کا خیال و اعتقاد تو آپ اوپر ملاحظہ فرماچکے۔ یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ جب قرآن کے مقابلہ میں قرآن تصنیف کرلیا گیا تو حدیث کے مقابلہ میں ”حدیث“ نہ ہوتی۔ چنانچہ مرزا بشیر احمد ایم۔اے

٦

٩

نے ’سیرۃ المہدی‘ کے نام سے کتاب لکھی۔ ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ حضور سرور دو عالم ﷺ کی کے مقدس صحابہؓ ہیں۔ جن کی دیانت وامانت ا نے بکرات ومرات دی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے روایت کیا ہے۔ جن کے متعلق خود مرزا قادیا سے یہ تذکرہ کرچکے ہیں کہ ہماری جماعت کے ا اور پاک دلی اور پرہیزگاری اور للہی محبت پیدا ہو

(اشتہار انعقاد جلسے ٢٧دسم

اس کے بعد خود مرزا قادیانی نے اپ نہیں کہ ایسے اخلاق باختہ اور ننگ انسانیت مرز گنڈاسنگھ اور جھنڈا سنگھ ایسے مؤمنین قائلین بھی کہ سیرۃ المہدی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے)

مرزائیوں کا کعبہ اور ارض حرم

اسلام، ایمان، کلمہ اور قرآن وحدیث اللہ تعالیٰ نے کعبۃ اللہ کی یہ صفت بیان فرمائی ہ میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”بیت الفکر سے کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور آخری فقرہ مذکورہ میں بیان فرما ہے۔“

قادیانی کی مسجد کو ”من دخلہ ک مرزا قادیانی نے پوری سرزمین قادیان دارالعلو (درثمین ص٥٦) میں کہتے ہیں۔

زمین قادیان اب محترم ہے

مرزائیوں کا حج

کعبہ اور ارض حرم کے لئے حج لاف دوم مرزا محمود نے یہ کہہ کر اس کمی کو پورا کردیا ک

صفحہ ١٨٩

نے ”سیرۃ المہدی“ کے نام سے کتاب لکھی۔ جس میں اپنے ابا جان کی ”احادیث“ جمع کی گئی ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ حضور سرور دو عالمﷺ کی احادیث مبارکہ کو روایت کرنے والے حضورﷺ کے مقدس صحابہؓ ہیں۔ جن کی دیانت وامانت اور جن کے دین وتقویٰ کی شہادت خود اللہ و رسول نے بکثرات ومرات دی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی ”احادیث“ کو آپ کے مریدوں کے اس گروہ نے روایت کیا ہے۔ جن کے متعلق خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ : ”اخی مکرم مولوی نور دین بار ہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت وتہذیب اور پاک دلی اور پرہیز گاری اور للہٰی محبت پیدا نہیں کی۔“

(اشتہار التوائے جلسہ ٢٧ دسمبر ١٨٩٢ء ، ملحقہ شہادۃ القرآن ص ٢، خزائن ج ٦ ص ٣٩٥)

اس کے بعد خود مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کو خوب صلواتیں سنائی ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ ایسے اخلاق باختہ اور ننگ انسانیت مرزائی مرزا قادیانی کی احادیث کے راوی ہیں۔ بلکہ گنڈا سنگھ اور جھنڈا سنگھ ایسے مؤمنین قائلین بھی راویان حدیث کے زمرہ میں شامل ہیں۔ (جیسا کہ سیرۃ المہدی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے) انا للہ وانا الیہ راجعون!

مرزائیوں کا کعبہ اور ارض حرم

اسلام، ایمان، کلمہ اور قرآن وحدیث کے بعد اب مرزائیوں کے کعبہ کا قصہ بھی سنئے۔ اللہ تعالیٰ نے کعبۃ اللہ کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ ”ومن دخله كان آمنا“ اس کے مقابلہ میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”بیت الفکر سے اس جگہ مراد وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور آخری فقرہ مذکورہ بالا ”من دخله كان آمنا“ اسی مسجد کی صفت میں بیان فرما ہے۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٥٥٩، خزائن ج ١ ص ٦٦٧)

قادیانی کی مسجد کو ”من دخله كان آمنا“ کہہ کر کعبہ قرار دینے کے ساتھ ساتھ مرزا قادیانی نے پوری سرزمین قادیان دار الطغیان کو ”ارض حرم“ کھلے لفظوں میں کہہ دیا۔ چنانچہ (دُرّثمین ص ٥٢) میں کہتے ہیں ؎

زمین قادیان اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

مرزائیوں کا حج

کعبہ اور ارض حرم کے لئے حج لازمی امر تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی کے بیٹے اور خلیفۂ دوم مرزا محمود نے یہ کہہ کر اس کمی کو پورا کر دیا کہ: ”ہمارا (سالانہ) جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ حج

٧

صفحہ ١٩٠

خدا تعالیٰ نے مومنوں کی ترقی کے لئے مقرر کیا تھا۔ آج احمدیوں کے لئے دینی لحاظ سے تو حج مفید ہے ۔ مگر اس سے جو اصل غرض یعنی قوم کی ترقی تھی ۔ وہ انہیں حاصل نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضے میں ہے جو احمدیوں کو قتل کرنا بھی جائز سمجھتے ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے۔“

”جیسا حج میں رفث، فسوق اور جدال منع ہیں۔ ایسا ہی اس جلسہ میں بھی منع ہیں۔“

(مجموعہ تقاریر مرزا محمود جلسہ سالانہ ١٩١٢ء مندرجہ برکات خلافت ص ٧٧)

”جیسے احمدیت کے بغیر پہلا یعنی حضرت مرزا (قادیانی) کو چھوڑ کر جو اسلام باقی رہ جاتا ہے وہ خشک اسلام ہے۔ اسی طرح اس ظلی حج کو چھوڑ کر مکہ والا حج بھی خشک حج رہ جاتا ہے۔“

(اخبار پیغام صلح ج ٢١ نمبر ٢٢)

اس حج کا مقصد

سوال یہ ہے کہ وہ کون سا مقصد ہے جو ”مکہ والے حج“ سے پورا نہیں ہوتا بلکہ قادیان والے حج سے پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ (اور آج کل ”ربوہ والے حج“ سے یہ مقصد پورا ہورہا ہے) تو اس کا جواب کلیجہ پر ہاتھ رکھ کر پڑھئے اور مرزائی دھرم کی داد دیجئے۔

”جماعت احمدیہ کا سب سے پہلا جلسہ باقاعدہ اجتماع جو ١٨٩٢ء میں منعقد ہوا۔ اس کی کیفیت آئینہ کمالات اسلام میں درج ہے۔ اسی کیفیت میں لکھا ہے کہ آئندہ بھی اس جلسہ کے یہی مقاصد ہوں گے کہ اس گورنمنٹ برطانیہ کا شکر گزار اور قدردان بننے کی کوشش اور تدبیریں کی جائیں۔“

(پیغام صلح ص ٦ مورخہ ١٥؍ دسمبر ١٩٣٢ء)

مرزائیوں کی مسجد اقصیٰ

کعبہ کے بعد مسلمانوں کے قبلہ اوّلین (مسجد اقصیٰ) کی کمی رہ گئی تھی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے مرزا آنجہانی نے ٢٨؍ مئی ١٩٠٠ء میں ایک اشتہار شائع کیا جو تبلیغ رسالت جلد نہم میں درج ہے۔ اس میں مرزا قادیانی نے بغیر کسی ایچ پیچ کے پوری دیدہ دلیری کے ساتھ لکھا کہ:

”پس اس پہلو کی رو سے جو اسلام کے انتہاء زمانہ تک آنحضرتﷺ کا سفر کشفی ہے۔ مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے۔“

پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”سبحان الذی اسرٰی بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٨)

٨

صفحہ ١٩١

”اور اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول میں ”سبحان الذی اسریٰ بعبدہٖ“ اور مسجد اقصیٰ وہی ہے جس کو بنایا مسیح موعود نے۔“ ”اس مسجد کی تکمیل کے لئے ایک اور تجویز قرار پائی ہے اور وہ یہ ہے کہ مسجد کی شرقی طرف جیسا کہ احادیث رسول اللہ ﷺ کا منشاء ہے۔ ایک نہایت اونچا منارہ بنایا جائے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٢)

مرزا قادیانی آنجہانی کے فرشتے

نبوت و پیغمبری اور کعبہ و مسجد اقصیٰ کا اثبات ناتمام رہتا۔ اگر فرشتوں کی آمد و رفت ثابت نہ کی جاتی۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے متعدد فرشتوں کا ذکر کیا ہے جن کے نام یہ ہیں۔

پہلا فرشتہ آئل

”جاء نی ائیل (اس جگہ آئل خدا تعالیٰ نے جبریل کا نام رکھا ہے۔ اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔ حاشیہ) اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگل کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا۔ پس مبارک وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ کی طرف سے آئل یعنی جبرائیل کا آنا اور بشارت دینا تحریر کیا ہے اور (ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢) میں لکھتے ہیں کہ: ”رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبریل حاصل کرے۔“ تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کو رسول ہونے کا دعویٰ تھا۔ لاہوری مرزائیوں کو اس پر غور کرنا چاہئے۔

دوسرا فرشتہ ٹیچی ٹیچی

مرزا قادیانی نے اپنے پاس آنے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کا نام ٹیچی ٹیچی لکھا ہے۔ اس ”فرشتہ“ کا ”شان نزول“ مرزا قادیانی ہی کے الفاظ میں یہ ہے: ”بوقت قلت آمدنی میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص آیا ہے۔ مگر انسان نہیں بلکہ فرشتہ معلوم ہوتا ہے اور اس نے بہت سا روپیہ میری جھولی میں ڈال دیا ہے۔ میں نے اس کا نام پوچھا تو اس نے کہا نام کچھ نہیں میں نے کہا۔ آخر کچھ نام تو ہوگا۔ اس نے کہا میرا نام ”ہے ٹیچی ٹیچی۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)

٩

صفحہ ١٩٣

تیسرا فرشتہ انگریز بہادر

مرزا قادیانی کے پاس ایک اور فرشتہ کثرت سے آیا جایا کرتا تھا۔ جو انگریز تھا اور حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے مذہب ان کی نبوت و پیغمبری اور ان کی مسیحیت و مجددیت سب اسی انگریز فرشتہ ہی کی کارستانی کا نتیجہ ہے۔ اس انگریز فرشتہ کا ذکر خیر مرزا قادیانی یوں فرماتے ہیں: ”ایک دفعہ کی حالت یاد آئی کہ انگریزی میں اوّل یہ الہام ہوا (اس کے بعد چند انگریزی الہامات لکھے ہیں) اور اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا ہوا بول رہا ہے اور باوجود پردہشت ہونے کے پھر اس میں ایک لذّت تھی۔ جس سے روح کو تسلی معلوم کرنے سے پہلے ہی ایک تسلی اور تشفی ملتی تھی اور یہ انگریزی زبان کا الہام اکثر ہوتا رہتا ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٨٠، ٤٨١، خزائن ج١ ص ٥٧١، ٥٧٢)

چوتھا فرشتہ مٹھن لال

مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص مٹھن لال جو کسی زمانہ میں بٹالہ میں اسسٹنٹ تھا کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اور گرد اس کے عملہ کے لوگ ہیں۔ میں نے جا کر کاغذ اس کو دیا اور کہا کہ یہ میرا پرانا دوست ہے۔ اس پر دستخط کر دو۔ اس نے بلا تامل اس وقت دستخط کر دیئے۔ یہ جو مٹھن لال دیکھا گیا ہے مٹھن لال سے مراد ایک فرشتہ تھا۔“

(تذکرہ ص ٥٦٠، الحکم ج ٩ نمبر ٣١)

پانچواں فرشتہ خیراتی

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”تین فرشتے آسمان کی طرف سے ظاہر ہو گئے۔ جن میں سے ایک کا نام خیراتی تھا۔“

(تریاق القلوب ص ٩٤، خزائن ج ١٥ ص ٣٥١)

چھٹا فرشتہ شیر علی

”میں نے کشف میں دیکھا کہ ایک شخص جو مجھے فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر خواب میں محسوس ہوا کہ اس کا نام شیر علی ہے۔“

(تریاق القلوب ص ٩٥، خزائن ج ١٥ ص ٣٥٢، تذکرہ ص ١٨)

ایک اور انگریز فرشتہ

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”ایک فرشتہ کو میں نے بیس برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا۔ صورت اس کی مثل انگریزوں کے تھی اور میز کرسی لگائے بیٹھا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا ہاں میں درشنی آدمی ہوں۔“

(تذکرہ ص ٣١)

١٠

مسلمان اب تک تو جبرائیل، میکائیل، ا مقرب فرشتوں کے نام سنتے چلے آئے ہیں۔ لیکن انگریز، مٹھن لال، خیراتی اور ٹیچی ٹیچی فرشتے پیش کر ”جیسی روح ویسے فرشتے۔“

ام المؤمنینؓ اور صحابہؓ

ایک آخری گستاخی اور بے ادبی جو مرزا میں روا رکھی یہ ہے کہ سیدنا صدیق اکبرؓ کے مقابلہ فاروق اعظمؓ کے مقابلہ میں مرزا محمود ایں جہانی کو مرزائیوں کو رکھ کر ان کو وہی درجہ دیا۔ جو حضرات شیخین خود کاشتہ پودے کو حضرات شیخینؓ و دیگر صحابہؓ کے پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ اور کے مقابلہ میں مرزا قادیانی آنجہانی کی بیوی کو بھی غرض اسلام کا وہ کون سا مسئلہ ہے۔ جس کو اس جماع سی اصطلاح ہے۔ جس کی عظمت اور وقعت کو اس نہیں کی؟ کیا ان واقعات کی موجودگی میں کوئی کہہ فرقہ ہے۔ جب کہ اس فرقہ کی ہر چیز چودہ سو سال مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے دونوں خلیفوں کو بھ

مرزائی بحیثیت ایک مستقل قوم کے

مسلمانوں سے مرزائیوں کا ہر بنیادی ہے کہ وہ ایک جدا قوم ہے خواہ وہ الگ قوم ہو احمد قادیانی کا تو یہ اقرار بھی موجود ہے کہ ان کی ”دھوپ میں جلنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چشمے اور تاریکی میں بیٹھنے والے عیسائی ہیں۔ جنہو جن کے لئے دیوار بنائی گئی وہ میری جماعت ہے

صفحہ ١٩٣

مسلمان اب تک تو جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل علیہم السلام جیسے مقدس اور مقرب فرشتوں کے نام سنتے چلے آئے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی نے ان کے مقابلہ میں درشنی، انگریز، مٹھن لال، خیراتی اور ٹپچی ٹپچی فرشتے پیش کر کے اس مشہور ضرب المثل کی تصدیق کر دی کہ ”جیسی روح ویسے فرشتے۔“

ام المؤمنینؓ اور صحابہؓ

ایک آخری گستاخی اور بے ادبی جو مرزائی امت نے اسلام اور بزرگان اسلام کی شان میں روا رکھی یہ ہے کہ سیدنا صدیق اکبرؓ کے مقابلہ میں حکیم نور دین بھیروی آنجہانی کو اور سیدنا فاروق اعظمؓ کے مقابلہ میں مرزا محمود ایں جہانی کو اور دوسرے حضرات صحابہؓ کے مقابلہ میں عام مرزائیوں کو رکھ کر ان کو وہی درجہ دیا۔ جو حضرات شیخین و دیگر صحابہؓ کو حاصل تھا۔ حالانکہ ”انگریز کے خود کاشتہ پودے“ کو حضرات شیخینؓ و دیگر صحابہؓ کے ساتھ کیا نسبت؟ چہ نسبت خاک را بعالم پاک! پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور دوسری امہات المؤمنینؓ کے مقابلہ میں مرزا قادیانی آنجہانی کی بیوی کو بھی ”حضرت ام المؤمنین“ کہا اور لکھا جارہا ہے۔ غرض اسلام کا وہ کون سا مسئلہ ہے۔ جس کو اس جماعت نے مسخ نہیں کیا اور شریعت مطہرہ کی وہ کون سی اصطلاح ہے۔ جس کی عظمت اور وقعت کو اس دشمن اسلام جماعت نے کم کرنے کی سعی باطل نہیں کی؟ کیا ان واقعات کی موجودگی میں کوئی کہہ سکتا ہے کہ مرزائی جماعت مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ ہے۔ جب کہ اس فرقہ کی ہر چیز چودہ سو سالہ اسلام سے بالکل جدا اور انوکھی ہے؟ اور خود مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے دونوں خلیفوں کو بھی اس کا اقرار و اعتراف ہے۔

مرزائی بحیثیت ایک مستقل قوم کے

مسلمانوں سے مرزائیوں کا ہر بنیادی عقیدہ میں اختلاف کرنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ایک جدا قوم ہے خواہ وہ الگ قوم ہونے کا اقرار کریں یا نہ کریں۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کا تو یہ اقرار بھی موجود ہے کہ ان کی جماعت ایک قوم ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”دھوپ میں جلنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں میں سے مجھے قبول نہیں کیا اور کیچڑ کے چشمے اور تاریکی میں بیٹھنے والے عیسائی ہیں۔ جنہوں نے آفتاب کو نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا اور وہ قوم جن کے لئے دیوار بنائی گئی وہ میری جماعت ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٩، خزائن ج ٢١ ص ٣١٢)

١١

صفحہ ١٩٥

اسی طرح دوسرے مقام پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کو ”تیسری قوم“ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”اب ایک تیسری قوم ہے جس نے ذوالقرنین سے التماس کی کہ یاجوج ماجوج کے درے بند کردے تاکہ وہ ان کے حملوں سے محفوظ ہوجاویں۔ وہ ہماری قوم ہے جس نے اخلاص اور صدق دل سے مجھے قبول کیا۔“

(زندہ نبی اور زندہ مذہب ص ٥٥، تقریر مرزا قادیانی بر جلسہ سالانہ قادیان ١٩٠١ء)

ان دونوں عبارتوں میں مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کو مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں ایک الگ قوم قرار دے کر زیر بحث مسئلہ کو بالکل صاف کردیا ہے اور کوئی الجھن باقی نہیں رہنے دی۔

اصول وعقائد کے بعد نام بھی الگ

ایک مستقل اور الگ قوم ہونے کا لازمی نتیجہ یہی ہونا چاہئے کہ اس قوم کا نام بھی پہلی قوم سے علیحدہ ہو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مرزا قادیانی نے لکھا: ”مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام ”فرقہ احمدیہ“ رکھا جائے۔“

(تریاق القلوب ص ٣٩٩، خزائن ج ١٥ ص ٥٢٧)

صرف جماعتی کاروبار اور نجی معاملات ہی میں مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کو مسلمان کہنے کی بجائے ”احمدی قوم“ نہیں کہا۔ بلکہ سرکاری مردم شماری میں بھی اپنی جماعت کو حکم دیا کہ وہ اپنے نام کے ساتھ ”احمدی“ لکھوائیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”چونکہ اب مردم شماری کی تقریب پر سرکاری طور پر اس بات کا التزام کیا گیا ہے کہ ہر ایک فرقہ جو دوسرے فرقوں سے اپنے اصول کے لحاظ سے امتیاز رکھتا ہے۔ علیحدہ خانہ میں اس کی خانہ پری کی جائے اور جس نام کو اس فرقہ نے پسند اور تجویز کیا ہے۔ وہی نام سرکاری کاغذات میں اس کا لکھا جائے۔ اس لئے ایسے وقت میں قرین مصلحت سمجھا گیا ہے کہ اپنے فرقہ کی نسبت ان دونوں باتوں کو گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں یاد دلایا جائے اور نیز اپنی جماعت کو ہدایت کی جائے کہ وہ مندرجہ ذیل تعلیم کے موافق استفسار کے وقت لکھوائیں۔“

(تریاق القلوب ص ٣٨٩، خزائن ج ١٥ ص ٥١٧)

اس عبارت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں اور مرزائیوں میں اصولی اختلاف ہے۔ اسی بناء پر مرزا قادیانی نے قرین مصلحت سمجھا کہ اپنی جماعت کا نام مسلمانوں سے الگ لکھوایا جائے۔

١٢

تمام مسلمانوں کو بالکلی ترک کرنا پڑے گا۔ یہاں تک تو مرزائی لٹریچر سے صرف اس کی امت نے اعتقاد اور قول کے درجہ میں مسلمانوں چاہتا ہوں کہ یہ لوگ شروع سے اب تک تمام دینی ا سے بالکل الگ تھلگ رہنے کی مستقل پالیسی پر کار بند حکم کے ماتحت ہے۔ جو انہوں نے اپنی امت کو دیا تھا ”تمہیں (مخاطب مرزائی ہیں) دوسرے کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ پس تم تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہوجائیں اور تم

اس پالیسی کے متعین ہونے کے بعد م سے مکمل علیحدگی کے چند واقعات پڑھئے۔

اشاعت قرآن کے کام میں شرکت سے ا

قادیانی جماعت کے بڑے معتمد علیہ م ص ٤٢) میں لکھا ہے: ”کیا غیر احمدیوں کے ساتھ سی آپ اپنی ساری زندگی میں نہ غیروں کی کسی انجمن کا ممبر بنایا اور نہ کبھی ان سے چندہ مانگا۔ حتیٰ کہ ایک سے ایک انجمن بنائی گئی اور وہاں کے سیکرٹری صاح خادم اور ماہر قرآن مجید ہیں۔ لہٰذا ہم چاہتے ہیں ک بھی کچھ شریک ہوں۔ مگر باوجود جناب مولانا م کوشش کے حضور (مرزا قادیانی آنجہانی) نے ا مانگنے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے۔ یہاں تک کہ ( (مرزا قادیانی آنجہانی) نے شرکت سے انکار ف انگریزی جاری کیا ہوا تھا۔“

صفحہ ١٩٥

تمام مسلمانوں کو بکلی ترک کرنا پڑے گا......مرزائیوں کو مرزا قادیانی کا حکم

یہاں تک تو مرزائی لٹریچر سے صرف اس قدر ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کی امت نے اعتقاد اور قول کے درجہ میں مسلمانوں سے مکمل علیحدگی اختیار کر رکھی۔ اب میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ لوگ شروع سے اب تک تمام دینی اور دنیوی معاملات و اعمال میں بھی مسلمانوں سے بالکل الگ تھلگ رہنے کی مستقل پالیسی پر کاربند ہیں۔ یہ پالیسی مرزا قادیانی کے حسب ذیل حکم کے ماتحت ہے۔ جو انہوں نے اپنی امت کو دیا تھا۔

”تمہیں (مخاطب مرزائی ہیں) دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔“

(اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)

اس پالیسی کے متعین ہونے کے بعد مثال کے طور پر نماز تبلیغ رشتہ ناتہ میں مسلمانوں سے مکمل علیحدگی کے چند واقعات پڑھئے۔

اشاعت قرآن کے کام میں شرکت سے انکار

قادیانی جماعت کے بڑے معتمد علیہ مولوی سرور شاہ نے اپنی کتاب (کشف الاختلاف ص ٤٢) میں لکھا ہے: ”کیا غیر احمدیوں کے ساتھ سیدنا حضرت مسیح موعود کا عمل درآمد کسی پر مخفی ہے۔ آپ اپنی ساری زندگی میں نہ غیروں کی کسی انجمن کے ممبر ہو سکے اور نہ ان میں سے کسی کو اپنی انجمن کا ممبر بنایا اور نہ کبھی ان سے چندہ مانگا۔ حتیٰ کہ ایک دفعہ علی گڑھ میں قرآن مجید کی اشاعت کی غرض سے ایک انجمن بنائی گئی اور وہاں کے سیکرٹری صاحب نے ایک خاص خط بھیجا کہ چونکہ آپ لوگ خادم اور ماہر قرآن مجید ہیں۔ لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اس انجمن میں آپ صاحبان میں سے بھی کچھ شریک ہوں۔ مگر باوجود جناب مولانا مولوی عبد الکریم صاحب (مرزائی آنجہانی) کی کوشش کے حضور (مرزا قادیانی آنجہانی) نے انکار ہی فرمایا۔ پھر سر سید صاحب کے چندہ مدرسہ مانگنے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک روپیہ تک بھی مانگتے رہے۔ لیکن حضور (مرزا قادیانی آنجہانی) نے شرکت سے انکار ہی فرمایا۔ حالانکہ (مرزا قادیانی) خود مدرسہ انگریزی جاری کیا ہوا تھا۔“

١٣

صفحہ ٩٧

مسلمانوں کے پیچھے نماز قطعاً حرام ہے

خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

اور اس میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے۔“

(اخبار الحکم مورخہ ١٠؍اگست ١٩٠١ء)

کہ کسی مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم سے ہو۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)

مرزا محمود لکھتے ہیں کہ: ”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں (مسلمانوں) کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٩٠)

مسلمانوں کے بچوں کی نماز جنازہ بھی جائز نہیں

مرزا محمود کہتے ہیں کہ: ”غیر احمدی (مسلمانوں) کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ حتیٰ کہ غیر احمدی معصوم بچے کا بھی جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔“

(انوار خلافت ص ٩٣)

مسلمانوں سے رشتہ ناطہ کرنا جائز نہیں

مرزا محمود کی کتاب (انوار خلافت ص ٩٣، ٩٤) میں ہے: ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی آنجہانی) نے اس احمدی (مرزائی) پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی (مسلمان) کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو۔ لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ (مرزا قادیانی) کی وفات کے بعد اس (شخص) نے غیر احمدیوں (مسلمانوں) کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نور دین) نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجودیکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“

مسلمانوں سے دینی اور دنیوی دونوں قسم کے تعلقات حرام

مرزا بشیر احمد ایم۔اے (ابن مرزا غلام احمد) نے اپنی کتاب کلمۃ الفصل میں خوب صفائی سے لکھ دیا ہے کہ مسلمانوں سے مرزائیوں کے دینی اور دنیوی دونوں قسم کے تعلقات حرام ہیں۔ وہ لوگ جو مرزائیوں کو مسلمانوں سے الگ قوم قرار دینے میں متأمل و مذبذب ہیں۔ اس

١٤

عبارت کو غور سے پڑھیں۔

”غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا کام کر سکتے ہیں؟ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں، م سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعل ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے ہیں۔“ (کلمۃ الف

مسلمانوں سے قطع تعلق کی بنیادی علت

مرزائی اخبار (اخبار الفضل ٢٤؍مئی ١٩٢٠ء بنیادی علت یوں بیان کی گئی ہے: ”جب کوئی شخ سے علیحدہ ہونا پڑا۔ مگر تمام انبیاء ماسبق کا یہ فعل قادیانی کو الزام دینے والے انصاف کریں کہ اگ کس لئے؟“

مرزا قادیانی کی انجیلی تمثیل

مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی نے ہوئے ایک تمثیل لکھی ہے۔ ذرا اسے بھی سن لیجئے

”یہ جو ہم نے دوسرے مدعیان اسلا سے تھا نہ اپنی طرف سے اور دوسرے وہ لوگ (م حد سے بڑھ گئے ہیں اور ان لوگوں کو ایسی حالت تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں کیڑے پڑ گئے ہوں۔“

اس رسالہ میں شروع سے یہاں تک پر نظر غائر ڈالنے کے بعد آپ اس سے حسب ذی

فروعی قطعاً نہیں۔

معاملات میں بھی الگ رہنا ان کی مستقل پالیسی

صفحہ ١٩٧

عبارت کو غور سے پڑھیں۔

”غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا جو ہم ان (مسلمانوں) کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں؟ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرے دنیاوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے ۔“

(کلمۃ الفصل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ص ١٥٩، ١٦٩ نمبر ٣ ج ١٤)

مسلمانوں سے قطع تعلق کی بنیادی علت

مرزائی اخبار (اخبار الفضل ٢٧ مئی ١٩٢٠ء) میں مسلمانوں سے مرزائیوں کے قطع تعلق کی بنیادی علت یوں بیان کی گئی ہے: ”جب کوئی مصلح آیا تو اس کے ماننے والوں کو نہ ماننے والوں سے علیحدہ ہونا پڑا۔ مگر تمام انبیاء ماسبق کا یہ فعل قابل ملامت نہیں اور ہرگز نہیں تو مرزا غلام احمد قادیانی کو الزام دینے والے انصاف کریں کہ اس مقدس ذات (مرزا قادیانی آنجہانی) پر الزام کس لئے؟“

مرزا قادیانی کی انجیلی تمثیل

مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی نے مسلمانوں سے علیحدگی کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے ایک تمثیل لکھی ہے۔ ذرا اسے بھی سن لیجئے۔

”یہ جو ہم نے دوسرے مدعیان اسلام سے قطع تعلق کیا ہے۔ اوّل تو یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے تھا نہ اپنی طرف سے اور دوسرے وہ لوگ (مسلمان) ریا پرستی اور طرح طرح کی خرابیوں میں حد سے بڑھ گئے ہیں اور ان لوگوں کو ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں۔ جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔“

(تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٨)

اس رسالہ میں شروع سے یہاں تک جس قدر مواد مرزائی لٹریچر سے نقل کیا گیا ہے اس پر نظر غائر ڈالنے کے بعد آپ اس سے حسب ذیل نتائج اخذ کر سکتے ہیں:

فروعی قطعاً نہیں۔

معاملات میں بھی الگ رہنا ان کی مستقل پالیسی ہے۔

١٥

صفحہ ١٩٩

ہے۔

والے، نہ ماننے والوں سے کٹ جاتے ہیں اور دونوں الگ الگ قومیں بن جاتی ہیں۔

ان حالات میں حکومت پاکستان کو مسلمانوں کا یہ مطالبہ ماننے میں قطعاً تامل نہ کرنا چاہئے کہ مرزائیوں کو مسلمانوں سے جداگانہ اقلیت قرار دے دیا جائے۔ مرزائی صاحبان کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے لٹریچر کی روشنی میں مسلمانوں کے اس مطالبہ کی حمایت کریں۔

مرزا محمود کا مطالبہ ہمیں اقلیت قرار دیا جائے

آخر میں مرزا محمود کا ایک بیان نقل کر کے اس رسالہ کو ختم کرتا ہوں۔ مرزا محمود کہتے ہیں: ”میں نے اپنے ایک نمائندہ کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلا بھیجا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں۔ جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ ، اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے بھی کئے جائیں تم ایک پارسی پیش کرو اس کے مقابلہ میں دو دو احمدی (مرزائی) پیش کرتا جاؤں گا۔“

(الفضل مورخہ ١٣ نومبر ١٩٤٦ء منقول از روزنامہ احسان لاہور، مورخہ ١٢ جولائی ١٩٥٢ء)

سر ظفر اللہ کی وزارت خارجہ سے علیحدگی کا مطالبہ اور اس کے دلائل

مسلمانان پاکستان اس وقت دو مطالبے حکومت سے کر رہے ہیں۔ ایک مرزائیوں کو جداگانہ اقلیت قرار دیا جائے۔ دوسرے ظفر اللہ وزیر خارجہ کو ان کے عہدہ سے برطرف کیا جائے۔ پہلے مطالبہ کے دلائل آپ اوپر ملاحظہ فرما چکے ہیں : ”دوسرے مطالبہ کے دلائل اس اداریہ میں مذکور ہیں۔ جسے ملک کے مشہور اہل قلم مولانا ماہر القادری نے اپنے ماہنامہ فاران کراچی بابت ماہ جولائی ١٩٥٢ء میں سپرد قلم فرمایا ہے۔“

اس کو ذیل میں نقل کیا جاتا ہے: ”مسلمانوں کے تمام فرقے اس پر متفق ہیں کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی پر نبوت ختم ہوگئی اور اب قیامت تک کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔ قرآن پاک احادیث رسول اور خود امت کا ساڑھے تیرہ سو سالہ اجماع اس پر شاہد ہے۔ امت مسلمہ پر کیسے کیسے نازک وقت آئے ہیں۔ عقائد و اعمال کے خود مسلمانوں میں کیسے کیسے شدید فتنے اٹھے ہیں۔ دین اسلام کو کس کس مظلومیت کے دور سے گزرنا پڑا ہے۔ ان حالات میں دین کی

١٦

تجدید و احیاء کے لئے حضرت عمر بن عبدالعزیز، حضر حضرت امام غزالی، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی، حضر حضرت شاہ ولی اللہ جیسے صلحاء امت پیدا ہوئے۔ جنہو کاموں کی بدولت اسلام کو غلبہ نصیب ہوا اور گمراہیوں بزرگ نے کسی قسم کی ظلی یا بروزی نبوت کا دعویٰ نہیں پیدا کرنے اور امت کو متفرق کرنے کیلئے نہیں۔ بلکہ فریضہ انتشار نہیں اجتماع تھا۔ ان کی ڈیوٹی ہی یہ تھی ک دیں۔ رسول اللہ ﷺ کے نقش قدم کو ان بزرگوں نے نبوی ہی کو معیار حق و صداقت سمجھا۔

ایک طرف مجددین اور صلحا امت کی یہ ر کے وسط میں ”مرزا غلام احمد“ نام کا ایک شخص پنجاب کی چوٹ پر اعلان کرتا ہے اور اپنے متبعین اور ماننے خارج دین کہتا ہے۔ کچھ لوگ دین اسلام سے ارتداد لیتے ہیں اور محمد رسول اللہ کی امت کے توڑ پر ایک ہے۔ یہ انگریزی حکومت کی مہربانی کا دورہ ہے۔ اس سے بڑی صفت یہ ہونی چاہیے تھی کہ وہ انگریزی حکو دیتا ہے۔ مگر اس کے برخلاف مرزا غلام احمد کو ہم انگر وکٹوریہ کی شان میں قصیدہ خوانی کی جاتی ہے اور انگ جاتی ہے۔

مسلمانوں کے تمام فرقے متفقہ طور پر ا ہیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے امتیوں میں ایک عام ب طرفداری اور سفلہ پروری اس برہمی کے لئے سپر امت ہر حکومت کو کہاں میسر آتی ہے۔

عیسائیت کی خوشی کے مارے باچھیں کھ نبوت کی مخالفت اور آپ کی امت کی دشمنی میں صلی ”قادیان“ کے نبی (؟) نے انجام دے دیا۔ یہاں

١٧

صفحہ ١٩٩

تجدید و احیاء کے لئے حضرت عمر بن عبدالعزیز، حضرت امام شافعی، حضرت امام احمد بن حنبل، حضرت امام غزالی، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی، حضرت امام ابن تیمیہ، حضرت مجدد الف ثانی اور حضرت شاہ ولی اللہ جیسے صلحاء امت پیدا ہوئے۔ جنہوں نے دین کو زندہ کیا اور جن کے تجدیدی کاموں کی بدولت اسلام کو غلبہ نصیب ہوا اور گمراہیوں اور بدعتوں کا زور ٹوٹ گیا۔ ان میں سے کسی بزرگ نے کسی قسم کی ظلی یا بروزی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ اس لئے کہ یہ نفوس قدسیہ دین میں فتنہ پیدا کرنے اور امت کو متفرق کرنے کیلئے نہیں۔ بلکہ دین کی خدمت کے لئے آئے تھے۔ ان کا فریضہ انتشار نہیں اجتماع تھا۔ ان کی ڈیوٹی ہی یہ تھی کہ ملت کے بکھرے ہوئے شیرازہ کو مجتمع کر دیں۔ رسول اللہ ﷺ کے نقش قدم کو ان بزرگوں نے چراغ ہدایت جانا اور کتاب اللہ کے بعد سنت نبوی ہی کو معیار حق و صداقت سمجھا۔

ایک طرف مجددین اور صلحاء امت کی یہ روش اور دوسری طرف انیسویں صدی عیسوی کے وسط میں ”مرزا غلام احمد“ نام کا ایک شخص پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔ جو اپنی ”نبوت“ کا ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کرتا ہے اور اپنے متبعین اور ماننے والوں کے سوا دوسرے مسلمان کو کافر اور خارج دین کہتا ہے۔ کچھ لوگ دین اسلام سے ارتداد اختیار کر کے اس ”مدعی نبوت“ کے ساتھ ہو لیتے ہیں اور محمد رسول اللہ کی امت کے توڑ پر ایک دوسری (قادیانی) ”امت“ ظہور میں آجاتی ہے۔ یہ انگریزی حکومت کی مہربانی کا پودہ ہے۔ اس زمانہ کے مجدد اور مامور من اللہ مصلح کی سب سے بڑی صفت یہ ہونی چاہیے تھی کہ وہ انگریزی حکومت کی مخالفت میں اپنی تمام قوتیں صرف کر دیتا ہے۔ مگر اس کے برخلاف مرزا غلام احمد کو ہم انگریزی حکومت کا مداح خواں پاتے ہیں۔ ملکہ وکٹوریہ کی شان میں قصیدہ خوانی کی جاتی ہے اور انگریز کی وفاداری اور نیاز مندی کی تلقین فرمائی جاتی ہے۔

مسلمانوں کے تمام فرقے متفقہ طور پر اس ”مدعی نبوت“ کے دعویٰ کی تردید کرتے ہیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے امتیوں میں ایک عام برہمی پائی جاتی ہے۔ مگر انگریز کی پشت پناہی، طرفداری اور سفلہ پروری اس برہمی کے لئے سپر بن جاتی ہے۔ ایسا نیاز مند نبی اور اتنی وفادار امت ہر حکومت کو کہاں میسر آتی ہے۔

عیسائیت کی خوشی کے مارے باچھیں کھلی جارہی ہیں کہ محمد عربی (فداہ ابی وامی) کی نبوت کی مخالفت اور آپ کی امت کی دشمنی میں صلیبی جنگیں جو کام انجام نہ دے سکی تھیں وہ کام ”قادیان“ کے نبی (؟) نے انجام دے دیا۔ یہاں تک کہ قادیانی امت کا یہ پودا انگریز کے سایہ

١٧

صفحہ ٢٠١

عاطفت میں پروان چڑھا بلکہ برگ و بار لایا۔

مسلمانوں کے تمام فرقوں کا اعلان تھا کہ وہ لوگ جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں ۔ ہم میں سے نہیں ہیں ۔ یہ ایک بالکل جداگانہ فرقہ ہے۔ امت نبوت سے بنتی ہے۔ جب مرزا غلام احمد نبی ٹھہرے تو ان کے ماننے والے محمد رسول اللہ ﷺ کی امت میں کیسے شمار کئے جاسکتے ہیں ۔ مگر انگریز کی پالیسی یہ تھی کہ قادیانیوں کو مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھا جائے۔ چنانچہ انگریز نے اسی اسکیم کے ماتحت چودھری ظفر اللہ خاں کو حکومت ہند کی کابینہ میں شامل کر لیا اور اس نے اس کے لئے فضا پیدا کر دی کہ لوگ ایسا سمجھنے لگیں کہ چودھری صاحب کو ایک مسلمان وزیر کی حیثیت سے کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ انگریز امت مسلمہ کو نقصان پہنچانے کے طریقوں میں مہارت رکھتا تھا اور اپنے اس فرض سے آج بھی غافل نہیں ہے۔

انگریز شخصیتوں کے گرانے اور چڑھانے کے فن میں بھی یدطولیٰ رکھتا تھا۔ اس نے لوگوں کے ذہن وفکر کو مرعوب کر دیا کہ چودھری ظفر اللہ خان ”قانون“ اور ”دستور“ کے معاملات میں اپنا جواب نہیں رکھتے ۔ چنانچہ اسی مرعوبیت کا نتیجہ تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کی سرحدوں کے تصفیہ کے لئے جو باؤنڈری کمیشن مقرر ہوا۔ اس میں سرظفر اللہ خاں (بلقابہ) پاکستان کی نمائندگی اور وکالت کرتے نظر آتے ہیں۔ مسٹر ریڈ کلف کے سامنے جب یہ مسئلہ پیش تھا تو پاکستان کے شہید وزیر اعظم جناب لیاقت علی خان مرحوم سے ان کے ایک رفیق کار نے کہا تھا کہ ضلع گورداسپور جس میں ”قادیان“ واقع ہے ۔ پاکستان میں نہیں رہ سکتا۔ یہ بظاہر ایک نہایت ہی بعید از قیاس پیش گوئی تھی ۔ مگر اس کو کیا کیجئے کہ یہ پیش گوئی ایک حقیقت بن کر رہی۔ ضلع گورداسپور کی بعض تحصیلوں میں مسلمانوں کی غالب اکثریت ہونے کے باوجود اس ضلع کو پاکستان سے علیحدہ ہونا پڑا ..... اور ہو جانا نہیں پڑا۔ ایسا کرایا گیا ۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے تھے اور چلتے چلاتے مسلمانوں کو نقصان پہنچانا مقصود تھا اور پاکستان کی طرف سے وکالت خود انگریزوں کے نیاز مند چودھری ظفر اللہ خاں فرما رہے تھے۔ لہٰذا وہی نتیجہ ظہور میں آیا۔ جس کی اس قسم کی نمائندگی سے امید ہو سکتی تھی ۔

”ریڈ کلف ایوارڈ“ سے لے کر اب تک جتنے معاملات میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے نمائندگی کی ہے ان میں سے کوئی معاملہ بھی سلجھتا تو کیا اور الجھتا اور بگڑتا ہی چلا جا رہا ہے۔ فلسطین کے مسئلہ میں ان کی تقریروں کی کیا دھوم تھی۔ کیا پروپیگنڈا تھا کہ چوہدری صاحب نے اتنی اتنی دیر تک تقریریں کیں کہ مجلس اقوام کے گذشتہ ریکارڈ کو توڑ دیا۔ مگر فلسطین تقسیم ہو کر رہا۔

١٨

دنیا کے مسلمانوں کے علی الرغم یہودیوں کی حکومت بنوا دی کشمیر کا مسئلہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ ا برکات (؟) حاصل ہیں۔ جس نمائندگی نے ریڈ کلف کمیشن پر کمیشن آتے چلے جا رہے ہیں ۔ لیکن یہ گتھی الجھایا گیا ہے۔ جتنی تاخیر ہو رہی ہے۔ اسی قدر بھارت کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

یہ بھی ہماری وزارت خارجہ کا کارنامہ ہے کہ اور کشیدہ ہیں ۔ افغانستان جس سے ہمیں مساعدت کی آمادہ ہے۔ اس کشیدگی کا آخر کون ذمہ دار ہے؟ اور اس مغربی طاقت اپنی طرفدار نظر نہیں آتی ۔ انگلستان اور وہی کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ وہ کوئی راز نہیں ہے، خارجی معاملات روز بروز الجھتے چلے جا رہے ظفر اللہ خان بہادر مسلط ہیں ۔ خارجی مسائل پیچیدہ بڑے خطرے میں گھرا ہوا ہے۔ اس دام ہم رنگ زمین اوپر کہا جا چکا ہے اور ہم نے اپنی طرف اس پر گواہ ہیں کہ مرزا قادیانی کی نبوت کا آغاز ہی ا اس فرقہ کو برطانیہ اور نصرانیوں کی سدا سر پرستی حاصل لے کر ربوہ تک یہ جال پھیلا ہوا ہے ..... پتہ چل ا قادیان کی برکت اور دعائیں اور چوہدری ظفر اللہ اور کٹھ بندھن نے پاکستان کے خارجی مسائل کو عجیب سب جانتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے آخری نبی جناب محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ جن پر ا بنے گا یا بن رہا ہے اور جسے عوام مسلمان قبول کریں سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی کے قول وفعل نہیں وافعال مراد ہیں تو ایک قادیانی اس مملکت سے کس لئے جدوجہد کر سکتا ہے۔ جس کا دستور اس کے پیش

١٩

صفحہ ٢٠١

دنیا کے مسلمانوں کے علی الرغم یہودیوں کی حکومت بنوائی گئی۔ کشمیر کا مسئلہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ اس مسئلہ میں بھی پاکستان کو اسی نمائندگی کی برکات (؟) حاصل ہیں۔ جس نمائندگی نے ریڈ کلف ایوارڈ میں اس کو نہایت کاری زخم پہنچایا۔ کمیشن پر کمیشن آتے چلے جارہے ہیں۔ لیکن یہ گتھی نہیں سلجھ رہی ہے۔ سلجھے کس طرح؟ اس کو الجھایا گیا ہے۔ جتنی تاخیر ہورہی ہے۔ اسی قدر بھارت کی پوزیشن مضبوط اور پاکستان کا موقف کمزور ہوتا جارہا ہے۔

یہ بھی ہماری وزارت خارجہ کا کارنامہ ہے کہ افغانستان سے ہمارے تعلقات نا خوشگوار اور کشیدہ ہیں۔ افغانستان جس سے ہمیں مساعدت کی توقع تھی اور بجا توقع تھی وہ ہماری مخالفت پر آمادہ ہے۔ اس کشیدگی کا آخر کون ذمہ دار ہے؟ اور افغانستان ہی پر کیا موقوف ہے۔ ہمیں تو کوئی مغربی طاقت اپنی طرفدار نظر نہیں آتی۔ انگلستان اور امریکہ جس طرح سے بھارت کی دل دہی کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ وہ کوئی راز نہیں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ کیا ہورہا ہے؟

خارجی معاملات روز بروز الجھتے چلے جارہے ہیں اور جب تک وزارت خارجہ پر چوہدری ظفر اللہ خان بہادر مسلط ہیں۔ خارجی مسائل پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہی ہوتے رہیں گے۔ پاکستان بڑے خطرے میں گھرا ہوا ہے۔ اس دام ہم رنگ زمین کے حلقوں کو مضبوط تر بنایا جارہا ہے۔

اوپر کہا جا چکا ہے اور ہم نے اپنی طرف سے نہیں کہا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں اس پر گواہ ہیں کہ مرزا قادیانی کی نبوت کا آغاز ہی انگریز کی وفاداری اور نیازمندی سے ہوا ہے۔ اس فرقہ کو برطانیہ اور نصرانیوں کی سدا سر پرستی حاصل رہی ہے اور آج بھی لندن اور واشنگٹن سے لے کر ربوہ تک یہ جال پھیلا ہوا ہے...... چرچل اور ٹرومین کی ہدایات مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان کی برکت اور دعائیں اور چوہدری ظفر اللہ کی دستوری قابلیت اور سیاسی بصیرت اسی اتحاد اور گٹھ بندھن نے پاکستان کے خارجی مسائل کو عجیب چیز بنادیا ہے۔

سب جانتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے۔ اس اسلام کے نام پر جس کے آخری نبی جناب محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ جن پر اللہ تعالیٰ نے نبوت کو ختم فرما دیا۔ یہاں جو دستور بنے گا یا بن رہا ہے اور جسے عوام مسلمان قبول کریں گے۔ اس کی بنیاد کتاب وسنت ہوگی اور سنت سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی کے قول وفعل نہیں۔ بلکہ حضرت سیدنا محمد عربی ﷺ کے اقوال وافعال مراد ہیں تو ایک قادیانی اس مملکت سے کس طرح خوش ہوسکتا ہے اور اس کی سربلندی کے لئے جدوجہد کر سکتا ہے۔ جس کا دستور اس کے پیشوا کی نبوت کی قطعا نفی کرتا ہو۔

١٩

صفحہ ٢٠٣

مرزا غلام احمد کو نبی ماننے والا شخص ہندو، عیسائی، یہودی، بودھ، پارسی اور چینی کو نہیں محمد رسول اللہ (ہماری جانیں آپ پر قربان ہوں) کے امتیوں کو اپنا اصلی حریف سمجھتا ہے۔ قادیانی اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلمان ان کو کافر سمجھتے ہیں اور "قادیانی جماعت" مسلمانوں کا کوئی فرقہ نہیں ہے۔ وہ ایک الگ امت ہے۔ جس کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔ اس لئے ان کے صحابہ، ام المؤمنین اور خلفاء بھی دوسرے ہی افراد ہیں۔ ان عقائد کی موجودگی میں چوہدری ظفر اللہ خان سے پاکستان کی فلاح و سربلندی کے لئے جدوجہد کرنے کی توقع رکھنا ہی حماقت ہے۔ ان کی ذات سے پاکستان کو نقصان تو البتہ پہنچ سکتا ہے اور پہنچ رہا ہے۔ مگر فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔

چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب اور وزارت خارجہ کے علاوہ قادیانی مذہب کی تبلیغ کا فرض بھی انجام دیتے ہیں۔ اس طرح غریب پاکستان دو گونہ عذاب میں مبتلا ہے۔ یہ چودہ مہینوں ممالک غیر میں جا کر رہتے ہیں تو اس سیر و سیاحت اور نقل و حرکت کا بہت بڑا حصہ قادیانیت کی تبلیغ میں صرف ہوتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ایک قادیانی کی حیثیت سے جو کچھ وہ کرتے ہیں درست کرتے ہیں۔ ان کو اپنے مذہب اور اپنے نبی سے عشق ہے۔ ان کو ایک وفادار اور مخلص قادیانی، مرزائی یا احمدی کی حیثیت سے یہی کچھ کرنا چاہئے تھا۔ پاکستان کے گورنر جنرل وزیر اعظم یا کابینہ کے احکام کو مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان کے احکام پر وہ ترجیح کس طرح دے سکتے ہیں۔ نہیں دے سکتے یہ ان کے مذہب ایمان اور آخرت کے بنے بگڑنے کا معاملہ ہے۔

یہ وہ شواہد، حقائق اور واقعات ہیں جن کی بنیاد پر ہم حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ چوہدری ظفر اللہ خاں کو جلد از جلد وزارت خارجہ کے عہدے سے سبکدوش کر دیا جائے۔ اس معاملہ میں جتنی تاخیر ہوگی اتنی ہی مضرتیں بڑھتی اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔

یہ بھی محض پروپیگنڈا ہے کہ چوہدری صاحب "قانون و دستور" کے ماہر ہیں۔ اگر یہ بات اپنی جگہ درست بھی ہو تو ہم ایسی قانونی مہارت اور دستوری قابلیت کو لے کر کیا کریں۔ جس نے پاکستان کی سیاست خارجہ میں مشکلات پیدا کر دی ہوں اور جس نے ہمارے معاملات کو سنوارنے کے بجائے اور بگاڑ دیا ہو۔ اس عذاب کو سہتے سہتے پانچ سال ہو گئے۔ بہت تجربے کر کے دیکھ لئے اب تو اس سے قوم اور ملک کو چھٹکارا مل جانا چاہئے۔

یہ درست ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان برطانیہ اور امریکہ کے محبوب ہیں۔ مگر اس محبوبیت کے لئے کیا ہم اپنا خرابہ کر لیں۔ آخر ہم کب تک برطانیہ اور امریکہ کی ناز برداریاں کرتے رہیں گے۔ ہمیں جرأت کے ساتھ قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس عالم جدوجہد میں

٢٠

نیاز مندی اور احساس کمتری سے کام نہیں چلتا۔ ہما قوی تر سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکی پاکستان کے مسلم عوام کا یہ مطالبہ ہے۔ کی آواز ہے۔ اس مطالبہ کو احتجاج کی حد تک پہنچن چاہئے۔ اسلام اور پاکستان کا مفاد ہر شخصیت کے مق تمت با

مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت و رسالت

مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہ

تمام پیغمبروں سے افضل ہونے کا دعویٰ

"سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے۔

حضور ﷺ سے افضل ہونے کا دعویٰ

معجزات کی تعداد صرف تین ہزار لکھی ہے اور اپنے

ترجمہ یہ ہے کہ: "آنحضرت ﷺ کے لئے تو دونوں کو۔ پس کیا تو اس (فضیلت) کا انکار کر

مرزا محمود کی زبان درازی اور گستاخی

صفحہ ٢٠٣

نیاز مندی اور احساس کمتری سے کام نہیں چلتا۔ یہاں وہ کمزور ہی زندہ رہ سکتے ہیں جو اپنے سے قوی تر سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکیں۔

پاکستان کے مسلم عوام کا یہ مطالبہ ہے۔ یہ محمد رسول اللہﷺ کے ایک ایک امتی کے دل کی آواز ہے۔ اس مطالبہ کو احتجاج کی حد تک پہنچنے سے پہلے ہی حکومت پاکستان کو اپنا فرض پہچاننا چاہئے۔ اسلام اور پاکستان کا مفاد ہر شخصیت کے مفاد سے بلند ہے۔

تمت بالخیر!

مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت و رسالت

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

تمام پیغمبروں سے افضل ہونے کا دعویٰ

”سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثنیٰ ہمارے نبیﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٢)

حضورﷺ سے افضل ہونے کا دعویٰ

معجزات کی تعداد صرف تین ہزار لکھی ہے اور اپنے نشانات (معجزات) کی تعداد دس لاکھ بتائی ہے۔

ترجمہ یہ ہے کہ: ”آنحضرتﷺ کے لئے تو صرف چاند کو گہن لگا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کو۔ پس کیا تو اس (فضیلت) کا انکار کرتا ہے؟“

مرزا محمود کی زبان درازی اور گستاخی

٢١

صفحہ ٢٠٥

سے زیادہ تھا۔ اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ذہنی استعدادوں کا پورا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا اور نہ قابلیت تھی۔

(ریویو قادیان مئی ١٩٢٥ء)

ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء ص ٥)

ناقابل برداشت دریدہ دہنی

اکمل مرزائی نے ایک مرتبہ ایک ناپاک نظم لکھی جو غلام احمد قادیانی کے سامنے پڑھی گئی اور قادیانی صاحب نے اکمل کو جزاک اللہ کہا اور اس نظم کو بہت پسند کیا۔ اس نظم کے چند شعر یہ ہیں ؎

غلام احمد ہے عرش رب اکرم مکاں اسکا ہے گویا لامکاں میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق شرف پایا ہے نوع انس وجاں میں
غلام احمد مسیحا سے ہے افضل بروز مصطفیٰ ہوکر جہاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء ص ١٤)

نقل کفر کفر نباشد

تمت

حاشیہ جات

”لا الہ الا الله محمد رسول اللہ میں خود مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا اقرار آ جاتا ہے۔ اس لئے جو شخص مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا منکر ہے منہ سے ”لا الہ الا الله محمد رسول اللہ“ کہتا رہے وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔“

کیجئے۔ حدیث رسول اللہ ﷺ سے یہ گستاخی اس لئے ہے کہ پورا ذخیرہ حدیث مرزا قادیانی کا

٢٢

مکذب ہے۔ حدیث کی تصریحات کے سامنے مرزا قادیانی کہ جب مرزا قادیانی کو خسوف کسوف اور مہدویت ہوتے تھے تو ضعیف سے ضعیف روایتوں کو بھی قطعیت ”مداری کا پٹارہ“ کہنے والا وہ شخص ہے جس کی اپنی نبوت کا دعویٰ بھی موجود ہے اور اس سے انکار بھی حیـ بھی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین بھی آپ کو ملے گئی ہے اور ان کو الہامی اور آسمانی کتب بھی قرار دیا بھی کہا گیا ہے اور حضور ﷺ کا ہم مرتبہ بلکہ حضور ﷺ کاش مرزا قادیانی نے احادیث رسول اللہ ﷺ کو ر طرف جھانک کر دیکھ لیا ہوتا۔

المقدس کی مسجد کو از روئے قرآن قادیان میں بتایا جا ”بے شک وشبہ“ قادیان کا ذکر ہے۔ اسی ایک طـ حقیقت آشکارا ہو جاتی ہے۔

کرتے تھے اور عبارت منقولہ بالا میں احادیث فرمارہے ہیں۔ ”لاحول ولا قوۃ الا باللہ“

پر بھیک دینے والے سے پوچھتا ہے۔ بابو جی! آسـ

جھوٹ بولا یا بعد میں۔ بہرحال اس کے جھوٹا ہوـ ہے کہ جس متنبّی کا فرشتہ کاذب اور جھوٹا ہو وہ خود کیا

ہم اگر عرض کریں

یہ آخری لذت کیوں نہ ہوتی انگریز صر

صفحہ ٢٠٥

مکذب ہے۔ حدیث کی تصریحات کے سامنے مرزا قادیانی کا کوئی ہیر پھیر کام نہیں دیتا۔ لطف یہ کہ جب مرزا قادیانی کو خسوف کسوف اور مہدویت وغیرہ کے متعلق بلند بانگ دعاوی کرنے ہوتے تھے تو ضعیف سے ضعیف روایتوں کو بھی قطعیت کا درجہ دینے سے نہ چوکتے تھے۔ حدیثوں کو ”مداری کا پٹارہ“ کہنے والا وہ شخص ہے جس کی اپنی تصانیف ”مداری کا پٹارہ“ ہیں۔..... اس میں نبوت کا دعویٰ بھی موجود ہے اور اس سے انکار بھی حیات مسیح کا عقیدہ بھی ملتا ہے اور وفات مسیح کا بھی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین بھی آپ کو ملے گی اور تعریف بھی۔ ویدوں کی مذمت بھی کی گئی ہے اور ان کو الہامی اور آسمانی کتب بھی قرار دیا گیا ہے۔ اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا غلام بھی کہا گیا ہے اور حضور ﷺ کا ہم مرتبہ بلکہ حضور ﷺ سے افضل و برتر ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ کاش مرزا قادیانی نے احادیث رسول اللہ ﷺ کو ”مداری کا پٹارہ“ کہنے سے پہلے اپنے پٹارہ کی طرف جھانک کر دیکھ لیا ہوتا۔

المقدس کی مسجد کو از روئے قرآن قادیان میں بتایا جارہا ہے۔ پھر نہیں معلوم وہ قرآن کون سا ہے۔ ”بے شک و شبہ“ قادیان کا ذکر ہے۔ اسی ایک مثال سے مرزا قادیانی کے ایمان بالقرآن کی حقیقت آشکارا ہو جاتی ہے۔

کرتے تھے اور عبارت منقولہ بالا میں احادیث کو آڑ بنا کر ان سے منارہ کی ضرورت ثابت فرمارہے ہیں۔ ”لاحول ولا قوة الا بالله“

پر بھیک دینے والے سے پوچھتا ہے۔ بابو جی! آپ کا نام کیا ہے۔ آپ کہاں رہتے ہیں؟

جھوٹ بولا یا بعد میں۔ بہرحال اس کے جھوٹا ہونے میں شبہ نہیں۔ اب یہ نتیجہ نکالنا ناظرین کا کام ہے کہ جس متنبی کا فرشتہ کاذب اور جھوٹا ہو وہ خود کیا اور کیسا ہوگا۔ ع

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

٢٣

صفحہ ٢٠٦

زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

اب آپ ہی فرمائیے کہ مرزا قادیانی کی زبان تو پنجابی تھی اور ”الہامات“ انگریزی وغیرہ زبانوں میں ہوئے۔ کیا یہ غیر معقول اور بیہودہ امر نہیں؟

٩؎ یہ الفاظ خود مرزا قادیانی نے اپنے اور اپنی جماعت کے لئے استعمال کئے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”غرض یہ (مرزائی) ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ ہے اور مورد مراحم گورنمنٹ ہے۔ سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار ثابت کر چکی ہے۔ اس ”خود کاشتہ پودے“ کی نسبت نہایت احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ کر کے مجھے اور میری جماعت کو خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)

١٠؎ اس اصولی اختلاف کی وضاحت نہج المصلے فتاویٰ احمدیہ ص ٢٧٤ میں یوں کی گئی ہے: ”یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ ہمارے اور غیر احمدیوں (مسلمانوں) کے درمیان کوئی فروعی اختلاف ہے...... کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ ہمارے مخالف مرزا قادیانی کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا؟“

١١؎ غور فرمائیے مسلمانوں کو صاف لفظوں میں غیر قرار دیا جارہا ہے۔

١٢؎ ابتداء میں تو مرزا قادیانی مدت تک مسلمانوں سے خوب خوب چندے بٹورتے رہے۔ بلکہ مسلمانوں ہی کے چندہ سے جھوٹی نبوت کا پھندا تیار کیا گیا۔ البتہ یہ درست ہے کہ مسلمانوں کے فائدہ کے لئے مرزا قادیانی نے کبھی پھوٹی کوڑی بھی نہیں دی۔

١٣؎ اے جناب! اسی انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ آپ مسلمانوں سے کلی طور پر علیحدہ ہو جائیے اور مسلمانوں کے مطالبہ کی حمایت کیجئے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، رشتہ ناتہ ایمان اسلام غرض ہر چیز میں مسلمانوں سے علیحدہ رہنا اور ملازمتوں کے لئے مسلمانوں میں گھسے رہنا آپ ہی بتائیے آخر یہ کہاں کا انصاف ہے؟

١٤؎ اس شعر میں علاوہ اس کے کہ حضور ﷺ پر اپنی افضلیت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حضور کے معجزہ شق القمر کو گہن کہہ کر اس معجزہ کا انکار بھی موجود ہے۔

٢٤

گستا

حضرت مولانا

PDF 208

خاتم النبيين لا نبي بعدي

مسجد آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوٹلہ ظفر لاہور

گستاخ مرزا

حضرت مولانا بہاء الحق قاسمی امرتسری

صفحہ ٢٠٩

بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم

یوں تو مہدی بھی ہو، عیسیٰ بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

ضلع گورداسپور (پنجاب) کے قصبہ قادیان میں ایک شخص مرزا غلام احمد نامی گزرے ہیں ۔ جنہوں نے مہدی ، عیسیٰ ، نبی ، رسول بلکہ تمام انبیاء عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے افضل ہونے کا نہ صرف دعویٰ کیا۔ بلکہ غضب یہ کہ حضرات انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام واہل بیت ذوی الاحترام کی شانِ اقدس میں سخت اشتعال انگیز اور بدترین گستاخیاں کر کے ان بزرگوں کے کروڑوں ماننے والوں کے دلوں کو مجروح کیا۔

انبیاء کی توہین خالص کفر ہے

قرآن پاک نے جہاں سرور کائنات ﷺ کی عزت وتوقیر کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو کافر کا خطاب دیا ہے۔ وہاں دوسرے انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کا ادب واحترام کرنے کی بھی تعلیم دی ہے اور ان میں سے کسی ایک کی شان میں گستاخی کرنے والے کو بھی کافر ٹھہرایا ہے۔ تمام حضرات انبیاء علیہم السلام واجب العزت ہیں اور اس لحاظ سے ان میں تفریق روا رکھنا صریح کفر ہے۔ "لا نفرق بین احد من رسلہ" خود یہ حضرات بھی ایک دوسرے کی تصدیق و تعظیم پر مامور تھے۔ لیکن چودھویں صدی کا قادیانی نام نہاد نبی عجیب واقع ہوا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام و دیگر مقبولانِ بارگاہِ الٰہی کو فحش اور بازاری گالیاں دیتا ہے۔ لیکن پھر بھی اس کی نبوت میں کچھ فرق نہیں آتا۔

بانیان مذاہب کے احترام کا فریب

اسی قادیانی نبی کے کلمہ گو اور پیرو کار عرصہ سے ہر سال ہر مقام پر سیرۃ رسول اللہ ﷺ کے متعلق جلسے کیا کرتے ہیں۔ جن میں اہل اسلام اور غیر مسلم مقررین کو بھی مدعو کیا جاتا ہے اور اس

٢

کا مقصد یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس طرح تمام بانیانِ الحقیقت ان جلسوں کا مقصد مرزا قادیانی کی نام نہاد بنانے اور لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے سوا اور میں بانیان مذاہب کے احترام کی سچی تڑپ موجود ہ کبھی اور کسی حالت میں بھی ایمان نہ لاتے۔ جس مشق بنانے میں کمال ہی کر دیا ہے۔

گورنمنٹ کا فرض

قبل اس کے کہ میں مرزا قادیانی آنجہا نہیں رہ سکتا کہ آج کل حکومت مرزائیوں کی حد سے گولہ ”عرف“ رد مرزا” میں اس کو قادیانی نبی کی توہ کارکنانِ مباہلہ کو صرف اس جرم میں کہ انہوں نے پر نکتہ چینی کی تو مصائب میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ لیک مرزا قادیانی آنجہانی نے مقدس انبیاء اور دیگر بزر کئے۔ جس سے تقریباً تمام مذاہب کے ماننے والو منہ میں گھنڈیاں ڈالے بیٹھی رہی اور اب تک ا دعویٰ انصاف میں حق بجانب ہے تو اس کا فرض کتابوں کو بھی فوراً ضبط کرے۔ جن میں مختلف بزر حضرت مسیح علیہ السلام کی دل آزار وش یوں تو مرزا قادیانی کے طعن و تشنیع اور حتیٰ کہ سردار دو جہاں ﷺ کی ہجو ملیح بلکہ تنقیص م (اس مضمون کو متعدد نمبروں میں مکمل کروں گا) ل السلام کو تو پانی پی پی کر کوسا ہے۔ حضرت ممدوح

صفحہ ٢٠٩

کا مقصد یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس طرح تمام بانیان مذاہب کا احترام قائم ہو جائے گا۔ حالانکہ فی الحقیقت ان جلسوں کا مقصد مرزا قادیانی کی نام نہاد نبوت کی اشاعت کے لئے فضا کو ہموار و موافق بنانے اور لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ ورنہ اگر ان لوگوں کے دلوں میں بانیان مذاہب کے احترام کی سچی تڑپ موجود ہوتی تو وہ ایسے شخص کی مصنوعی نبوت و مسیحیت پر کبھی اور کسی حالت میں بھی ایمان نہ لاتے۔ جس نے تمام بزرگان مذاہب کو اپنی بد زبانی کا تختہ مشق بنانے میں کمال ہی کر دیا ہے۔

گورنمنٹ کا فرض

قبل اس کے کہ میں مرزا قادیانی آنجہانی کی گستاخانہ عبارتیں نقل کروں۔ یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آج کل حکومت مرزائیوں کی حد سے زیادہ ناز برداری کر رہی ہے۔ رسالہ ”محمدی گولا“ عرف ”رد مرزا“ میں اس کو قادیانی نبی کی توہین نظر آتی ہے۔ تو اس کو فوراً ضبط کر لیتی ہے۔ کارکنان مباہلہ کو صرف اس جرم میں کہ انہوں نے مدعی الہام مرزا محمود آف قادیان کے چال چلن پر نکتہ چینی کی تو مصائب میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن کس قدر شدید بے انصافی اور غضب ہے کہ مرزا قادیانی آنجہانی نے مقدس انبیاء اور دیگر بزرگوں پر ناپاک دلخراش اور ناقابل برداشت حملے کئے۔ جس سے تقریباً تمام مذاہب کے ماننے والوں کے کلیجے یکساں طور پر چھلنی ہوئے اور حکومت منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھی رہی اور اب تک اس کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ اگر گورنمنٹ دعویٰ انصاف میں حق بجانب ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ مرزا قادیانی آنجہانی کی اس ناپاک کتابوں کو بھی فوراً ضبط کرے۔ جن میں مختلف بزرگان مذاہب کی توہین، بے حرمتی کی گئی ہے۔

حضرت مسیح علیہ السلام کی دل آزار و شرمناک توہین

یوں تو مرزا قادیانی کے طعن و تشنیع اور گالی گلوچ سے دنیا کا کوئی بزرگ بھی نہیں بچ سکا۔ حتیٰ کہ سردار دو جہاں ﷺ کی ہجو ملیح بلکہ تنقیص صریح میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ (میں انشاء اللہ اس مضمون کو متعدد نمبروں میں مکمل کروں گا) لیکن اس نے بالخصوص حضرت سیدنا عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو تو پانی پی پی کر کوسا ہے۔ حضرت ممدوح علیہ السلام کو وہ بے نقط سنائی ہیں اور ایسی ایسی

صفحہ ٢١١

شرمناک گالیاں دی ہیں کہ اس میدان میں کوئی دشمن اسلام بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

اس نمبر میں حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین پر مشتمل عبارات نقل کرتا ہوں۔ پبلک اور گورنمنٹ دونوں غور سے ملاحظہ کریں اور سوچیں کہ وہ کتابیں جن میں یہ ناپاک عبارتیں موجود ہیں۔ ضبط کئے جانے کے قابل ہیں یا نہیں؟ اور کیا ایسے گستاخ شخص پر ایمان لانے والی امت کے دل میں بانیان مذاہب کے احترام کا سچا جوش اور جذبہ پایا جا سکتا ہے؟

توہین آمیز عبارتیں

مرزا قادیانی اپنی کتاب (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، ٥، ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ تا ٢٩١) پر لکھتے ہیں (نقل کفر کفر نباشد ) کہ:

کیوں نام رکھا۔ محض یہودیوں کے تنگ کرنے سے اور جب معجزہ مانگا گیا تو یسوع صاحب فرماتے ہیں کہ حرام کار اور بدکار لوگ مجھ سے معجزہ مانگتے ہیں۔ ان کو کوئی معجزہ دکھایا نہیں جائے گا۔ دیکھو یسوع کو کیسی سوجھی اور کیسی پیش بندی کی۔ اب کوئی حرام کار اور بدکار بنے تو اس سے معجزہ مانگے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ جیسا کہ ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی۔ لوگوں میں یہ مشہور کیا کہ میں ایک ایسا ورد بتا سکتا ہوں۔ جس کے پڑھنے سے پہلی رات میں خدا نظر آجائے گا۔ بشرطیکہ پڑھنے والا حرام کی اولاد نہ ہو۔ اب بھلا کون حرام کی اولاد بنے اور کہے کہ مجھے وظیفہ پڑھنے سے خدا نظر نہیں آیا۔ آخر ہر ایک دغلی کو یہی کہنا پڑتا تھا کہ ہاں صاحب نظر آ گیا۔ سو یسوع کی بندشوں اور تدبیروں پر قربان ہی جائیں۔ اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے کیسا داؤ کھیلا۔ یہی آپ کا طریق تھا۔ ایک مرتبہ کسی یہودی نے آپ کی قوت شجاعت آزمانے کے لئے سوال کیا کہ اے استاد! قیصر کو خراج دینا روا ہے یا نہیں؟ آپ کو یہ سوال سنتے ہی اپنی جان کی پڑ گئی کہ کہیں باغی کہلا کر پکڑا نہ جاؤں۔“

چند سطروں کے بعد مرزا قادیانی کس شان ”معصومیت“ سے لکھتے ہیں۔ ”ہاں آپ کو گالیاں دینی (کیا فصیح اردو ہے۔ قاسمی) اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ

٤

آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں پا جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تے یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی

پھر چند سطروں کے بعد کہتے ہیں: ”تم جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب تالمو گویا یہ میری تعلیم ہے۔ لیکن جب یہ چوری پکڑی اس لئے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی اور کا کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہ آپ نے توریت کو سبقا سبقا پڑھا تھا۔ معلوم ہو بہت حصہ نہیں دیا تھا اور یا استاد کی شرارت ہے آپ علمی و عملی قوی میں بہت کچے تھے۔ اسی وج گئے۔ آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے کا باقاعدہ علاج ہو۔ خدا تعالیٰ شفا بخشے۔ عیسائیو حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا

”آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور ک خدا بنا رہے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلا ج درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک ج پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائے

صفحہ ٢١١

آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“ (حوالہ بالا نمبر ١)

پھر چند سطروں کے بعد کہتے ہیں۔ ”نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔ لیکن جب یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت اس لئے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں۔ لیکن آپ کی اس بے جا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں عقل اور کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔ آپ کا ایک یہودی استاد تھا۔ جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو زیرکی سے کچھ بہت حصہ نہیں دیا تھا اور یا استاد کی شرارت ہے کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا۔ بہر حال آپ علمی و عملی قوی میں بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔ آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفا خانہ میں آپ کا با قاعدہ علاج ہو۔ خدا تعالیٰ شفا بخشے۔ عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“ اس کتاب کے ص ٧ کے حاشیہ پر لکھتے ہیں۔ ”آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس

٥

صفحہ ٢١٢

کے پیروں پر پڑے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں۔ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“

(حوالہ بالا نمبر ١)

مرزا قادیانی کا عذر گناہ بدتر از گناہ

منقولہ بالا عبارات میں حضرت یسوع مسیح علیہ السلام کو مرزا قادیانی نے جو گندی گالیاں دی ہیں اور ان کے متعلق آپ نے جو عذر پیش کئے ہیں میں ان سے بھی ناظرین کرام کو بے خبر نہیں رکھنا چاہتا۔

آپ اسی کتاب (ضمیمہ انجام آتھم ص ٨) کے حاشیہ پر فرماتے ہیں: ”بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔ انہوں نے ناحق ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے بارے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢)

پھر مسلمانوں کا منہ بند کرنے کے لئے ص ٩ کے حاشیہ پر لکھتے ہیں: ”اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی، کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ کا نام ڈاکو اور بٹمار رکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکار کیا اور کہا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔ پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

الزامی طور پر بھی کسی نبی کی توہین جائز نہیں

مرزا قادیانی کا پہلا عذر یہ ہے کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے عیسائی پادریوں کے شرارت آمیز طرز عمل سے مجبور ہو کر لکھا ہے۔ لیکن یہ عذر اس قدر لغو ہے کہ آپ اس کی تائید میں قرآن پاک کی کوئی آیت یا حضور ﷺ کا عمل پیش نہیں کر سکتے۔ بلکہ یہ عذر حکم خداوندی ”ولا یجرمنکم شنان قوم على ألا تعدلوا (المائدہ:٨)“ وغیرہ آیات قرآنیہ کے صریح خلاف ہے۔

اسلام اس امر کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ عیسائی حضور ﷺ کو گالیاں دے کر اپنے خبث باطن کا ثبوت دیں تو اس کے جواب میں مسلمان حضرت مسیح علیہ السلام کو گالیاں دے کر اپنی

٦

صفحہ ٢١٣

عاقبت خراب کریں۔ حضورﷺ کو بھی عیسائیوں سے ”الوہیت مسیح“ کے مسئلہ پر گفتگو کا موقع ملا۔ لیکن آپﷺ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی شان میں کوئی نامناسب لفظ استعمال نہیں فرمایا۔ بلکہ آپﷺ کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ مجھے کسی نبی پر اس رنگ میں فضیلت بھی نہ دو کہ ان کی شان میں فرق آئے۔ (سبحان اللہ کیا پاکیزہ تعلیم ہے۔ یہ ہے نبوت کا معیار)

پس جو شخص حضورﷺ کی محبت کی آڑ میں حضرت مسیح علیہ السلام یا کسی اور نبی کی توہین کرتا ہے۔ وہ یقیناً خود حضورﷺ کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے اور اسے کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ حضورﷺ کی محبت کا دعویٰ کرے۔

بتوں کو بھی گالیاں دینے کی اجازت نہیں

دوسرا عذر لنگ مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے۔ اس یسوع کے متعلق لکھا ہے۔ جس کا قرآن میں ذکر نہیں۔ اوّل تو یہ جھوٹ ہے جیسا کہ اوپر مرزا قادیانی ہی کی تحریر سے لکھ کر ثابت کرچکا ہوں اور انشاء اللہ آئندہ نمبر میں اس پر مفصل بحث کروں گا۔ لیکن تھوڑی دیر کے لئے اگر مان بھی لیا جائے کہ یسوع اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو مختلف شخصوں کے نام ہیں اور عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں بلکہ کسی یسوع نامی شخص کو خدا مانتے ہیں (اگرچہ ایسا تسلیم کرنا قرآن مجید کی تصریحات اور تاریخی شہادت بلکہ خود مرزا قادیانی کے مسلمات کے بھی خلاف ہے) لیکن آخر یسوع عیسائیوں کا معبود اور مقتداء تو ہے اور یہ ظاہر ہے کہ قرآن مجید نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ تم مشرکین کے معبودوں اور بتوں کو بھی گالیاں نہ دو۔ ورنہ وہ تمہارے معبود برحق کو گالیاں دیں گے تو اس صورت میں بھی مرزا قادیانی نے اسلام اور ہادی اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کوئی خدمت انجام نہیں دی۔ بلکہ ان کے احکام کی مخالفت کرکے دنیا اور آخرت کا وبال خریدا۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

٧

صفحہ ٢١٤

حاشیہ جات

١؂ تعجب ہے کہ مرزا قادیانی حضرت یسوع مسیح علیہ السلام پر کس منہ سے بزدلی کا الزام لگاتے ہیں۔ حالانکہ وہ خود اس قدر بزدل اور خوشامدی تھے کہ گورنمنٹ کے خوف سے انہوں نے اعلان کیا کہ اگر مجھ کو گورنمنٹ کے اغراض و مقاصد کے خلاف الہام ہوگا تو اس کو شائع نہیں کروں گا۔ ملاحظہ ہو

(اربعین نمبر ١ ص ١ ذیل حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٣)

٢؂ آپ کو تو قطعاً نہیں۔ (قاسمی)

٣؂ اس عبارت کے ساتھ مرزا قادیانی کی مندرجہ ذیل عبارت کو ملا کر پڑھئے تو یہ امر بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک یسوع اور عیسیٰ ایک ہی شخص کے نام ہیں۔ آپ جس قدر گالیاں تصنیف فرما رہے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں کہ: ”حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے۔ حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی سے تمام توریت پڑھی تھی۔“

(ایام الصلح ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٤)

٤؂ مراق اور ذیابیطس کی بیماریاں کسے تھیں؟

٥؂ یہاں تو آپ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی اور (انجام آتھم ص ٤٠، خزائن ج ١١ ص ٤٠) کے حاشیہ پر آپ لکھ چکے ہیں کہ: ”یسوع کا رتبہ اس سے ذرہ زیادہ نہیں جو قرآن نے اس کی نسبت لکھا ہے۔“ اس سے بڑھ کر مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔ (قاسمی)

٨

PDF 216

خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِيْ

میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

مرزائی لٹریچر

میں

توہین انبیاء و صلحاء

حضرت مولانا بہاء الحق قاسمیؒ امرتسری

صفحہ ٢١٦

بسم الله الرحمن الرحیم

کاش گورنمنٹ اپنا فرض ادا کرے

میں نے گذشتہ نمبر میں گورنمنٹ سے شکوہ کیا تھا کہ وہ مرزائیوں کی خاطر رسالہ ”محمدی گولہ عرف رد مرزا“ کو تو فوراً ضبط کر لیتی ہے اور کارکنان ”مباہلہ“ کو مصائب میں جکڑ سکتی ہے۔ لیکن اسی گورنمنٹ کی موجودگی میں مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی اور ان کی امت نے ایسے رسائل و کتب اور اخبارات کثرت سے شائع کئے ہیں۔ جن میں قریباً تمام بزرگان مذاہب کی عموماً اور حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی خصوصاً نہایت ہی اشتعال انگیز، دل آزار اور شرمناک توہین کی۔ ان کو بازاری اور فحش گالیاں دیں۔ ان پر ناپاک اور دلخراش تہمتیں تراشیں۔ ان بزرگوں کے کروڑوں عقیدت مندوں اور نام لیواؤں کا دل دکھایا اور اس طرح بہت بڑا فتنہ ملک میں بپا کیا۔ مگر با ایں ہمہ عدل و انصاف کی دعویدار حفظ امن کی ذمہ دار اور یسوع مسیح پر ایمان کے مدعی افراد کی حکومت اب تک خاموش ہے۔ اگر ایسے رسائل ضبط کئے جاسکتے ہیں۔ جن میں مرزا قادیانی کے دعاوی و عقائد پر آزادانہ نکتہ چینی کی گئی ہو تو کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کی وہ ناپاک کتابیں اور تحریریں ضبط نہ کی جائیں۔ جن میں انبیاء کرام علیہم السلام اور دیگر مقبولان بارگاہ الٰہی پر بدترین سوقیانہ اور اشتعال انگیز الزامات لگائے گئے ہیں؟ اس حقیقت کی طرف گورنمنٹ اور پبلک کو توجہ دلانے کی غرض سے یہ سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ کاش گورنمنٹ آنکھیں کھول کر ہمارے ان ٹریکٹوں کو دیکھے اور اپنا فرض ادا کر کے عملی طور پر ثابت کرے کہ وہ مرزائیوں اور مسلمانوں کے مابین تفریق روا نہیں رکھتی۔ وما علینا الا البلاغ!

عنوان کی تبدیلی

ان ٹریکٹوں کا عنوان مضمون کے ساتھ مطابقت اور اختصار کے باعث میں نے گستاخ مرزا تجویز کیا تھا۔ جو عام طور پر بے حد پسند کیا گیا۔ لیکن لاہور اور دہلی کے بعض دردمندان ملت کے خطوط دفتر مباہلہ میں موصول ہوئے ہیں۔ جن میں عنوان کی تبدیلی کا بدیں وجہ مشورہ دیا گیا ہے کہ یہ عنوان بعض عامی مرزائیوں کو ان ٹریکٹوں کے مطالعہ سے روکنے کا باعث ہوگا اور چونکہ اس سلسلہ کے جاری کرنے سے ہمارا یہ مقصد بھی ہے کہ مرزائیوں کے سامنے مرزائیت کی اصل صورت پیش کی جائے اور وہ ان ٹریکٹوں کو پڑھیں۔ اس لئے آج سے اس سلسلہ کا عنوان گستاخ

٢

٢١٧

مرزا کی بجائے مرزائی لٹریچر میں توہین انبیاء و صلحاء کا ثب نمبر تصور کیا جائے۔

بسم الله الرحمن الحمد لله وحده والصلوۃ والسلا

مرزائی لٹریچر میں توہین

مرزا قادیانی کے حافظہ کی کمزوری

میں نے سابق نمبر میں حضرت مسیح علیہ ال کی گستاخانہ عبارتیں نقل کرنے کے بعد عرض کیا تھا کہ جو اعذار باردہ پیش کئے ہیں ان میں سے ایک یہ شریف میں سچّی خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔“

گویا مرزا قادیانی نے جو گالیاں دی ہیں یسوع نامی کو دی گئی ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی اسی کتا کہ نجاشی بادشاہ نے بھی جو عیسائی تھا قسم کھا کر کہا کہ نے اس کی نسبت لکھا ہے۔“

اب ان دونوں عبارتوں کو دیکھئے کہ ایک لئے لکھتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن کتاب کے دوسرے مقام پر حضرت یسوع علیہ الس ہیں۔ میں اس اختلاف بیانی کو کس حقیقت پر محمو سنئے وہ کیا فرماتے ہیں: ”ایک دل سے دو متناقض انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“

یسوع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا نام انجام آتھم ص ٤٠ کی عبارت منقولہ ب کے لئے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی یسوع ح خامہ فرسائی کروں۔ لیکن چونکہ گذشتہ نمبر میں اس

صفحہ ٢١٧

مرزا کی بجائے مرزائی لٹریچر میں توہین انبیاء و صلحاء قائم کیا گیا ہے۔ ٹریکٹ ہذا کو اس سلسلہ کا دوسرا نمبر تصور کیا جائے۔ محمد بہاء الحق قاسمی عفا اللہ عنہ امرتسر ، مورخہ ٣٠ ستمبر ١٩٣٦ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبی بعده!

مرزائی لٹریچر میں توہین انبیاء و صلحاء نمبر :٢

مرزا قادیانی کے حافظہ کی کمزوری

میں نے سابق نمبر میں حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق مرزا قادیانی آنجہانی کی گستاخانہ عبارتیں نقل کرنے کے بعد عرض کیا تھا کہ ان عبارتوں کے جواب میں مرزا قادیانی نے جو اعذار باردہ پیش کئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ: ”خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

گویا مرزا قادیانی نے جو گالیاں دی ہیں وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں بلکہ کسی اور یسوع نامی کو دی گئی ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی اسی کتاب (انجام آتھم) میں لکھ چکے ہیں کہ: ”جیسا کہ نجاشی بادشاہ نے بھی جو عیسائی تھا قسم کھا کر کہا کہ یسوع کا رتبہ اس سے ذرہ زیادہ نہیں جو قرآن نے اس کی نسبت لکھا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٠ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٢٤)

اب ان دونوں عبارتوں کو دیکھئے کہ ایک جگہ تو مسلمانوں کے اعتراض سے بچنے کے لئے لکھتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور اسی کتاب کے دوسرے مقام پر حضرت یسوع علیہ السلام کے رتبہ کا قرآن میں مذکور ہونا تسلیم کرتے ہیں۔ میں اس اختلاف بیانی کو کس حقیقت پر مبنی ٹھہراؤں؟ یہ میرا کام نہیں۔“ مرزا قادیانی ہی کی سنئے وہ کیا فرماتے ہیں: ”ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“

(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢)

یسوع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا نام ہے

انجام آتھم ص ٤٠ کی عبارت منقولہ کے بعد ضرورت تو نہیں رہی کہ میں یہ ثابت کرنے کے لئے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی یسوع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا نام ہے۔ اس پر مزید خامہ فرسائی کروں۔ لیکن چونکہ گذشتہ نمبر میں اس پر تفصیلی بحث کا وعدہ کر چکا ہوں۔ اس لئے چند

٣

صفحہ ٢١٩

اور حوالے پیش خدمت ہیں۔

مرزا قادیانی کی اقراری عبارات

آپ لکھتے ہیں کہ:

ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں ۔“

(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

(راز حقیقت ص ١٩، خزائن ج ١٤ ص ١٧١)

کو جو یسوع ہے یسوعو بولتے ہیں یعنی بغیر عین کے اور یہ ایک ایسا گندہ لفظ ہے جس کا ترجمہ کرنا ادب سے دور ہے۔ (کیا کہنے ہیں آپ کے ادب کے۔ قاسمی) اور میرے دل میں گزرتا ہے کہ قرآن شریف نے جو حضرت مسیح علیہ السلام کا نام عیسیٰ رکھا وہ اسی مصلحت سے ہے کہ یسوع کے نام کو یہودیوں نے بگاڑ دیا تھا۔“

(اخبار الحکم قادیان مورخہ ٢٤؍ جولائی ١٩٠٢ء ص ١٦ کالم نمبر ٣)

بزرگوں نے مریم کا یوسف نامی ایک نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دوماہ کے بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا۔ وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔“

(چشمہ مسیحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٦)

کہتے ہیں۔ تیس برس تک موسیٰ رسول اللہ کی شریعت کی پیروی کر کے خدا کا مقرب بنا۔“

(چشمہ مسیحی ص ٤٨ حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨١)

جس کا نام انہوں نے یسوع مسیح رکھا ہوا ہے۔ بڑے مبالغہ سے سچا خدا سمجھتے ہیں اور عیسائیوں کے خدا کا حلیہ یہ ہے کہ وہ ایک اسرائیلی آدمی مریم بنت یعقوب کا بیٹا ہے۔“

(ست بچن ص ١٥٩، خزائن ج ١٠ ص ٢٨٣)

نجار) سے نکاح کرا دیا اور مریم (علیہا السلام) کو ہیکل سے رخصت کر دیا۔ تا کہ خدا کے مقدس گھر پر نکتہ چینیاں نہ ہوں۔ کچھ تھوڑے دنوں کے بعد ہی وہ لڑکا پیدا ہو گیا۔ جس کا نام یسوع رکھا گیا۔“

(اخبار الحکم مورخہ ٢٤؍ جولائی ١٩٠٢ء ص ١٦ کالم ص ٣،٢)

٤

بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“

عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا دوسرا نام یسوع ہے اور عبارات نمبر السلام کا بیٹا قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ اس سے حضرت عیسیٰ

ہے کہ مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کو یوسف نجار آپ اپنی دوسری متعدد تحریروں میں حضرت مسیح علیہ السلام ہیں۔ (ملاحظہ ہو ازالۃ اوہام حصہ دوم ص ٧٣، اخبار الحکم مورخہ ١٩٠٢ء، ص ١٣ کالم اول والحکم ٢٤؍ نومبر ص ٥، کالم ١٩٠٢ء) اختلاف بیانی سے پر ہیں۔ تحریریں کیا ہیں۔ مداری کا

خوشامد نامہ کی عبارتیں

جلسہ جوبلی شصت سالہ کی تقریب پر مرزا تھا۔ اس رسالہ میں چونکہ قیصرہ ہند ملکہ انگلستان کی حضرت یسوع علیہ السلام کی تعریف کی اور اپنے آپ سفیر ظاہر کیا۔ چند عبارات بطور نمونہ ملاحظہ ہوں۔

طرح کی بدعتوں سے دنیا کو چھڑانے کے لئے آیا ہے

روح میرے اندر رکھی تھی۔ اس لئے ضرور تھا کہ م مشابہت ہوتی۔“

پیارے اور نیک بندوں میں سے ہیں۔“

”حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد کے پائے جاتے ہیں کہ گویا ایک بھاری افتراء جوان کے روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت

٥

صفحہ ٢١٩

بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔"

(کشتی نوح ص ١٧ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ١٨)

نوٹ نمبر : ١....... عبارات نمبر ١ تا ٥ میں مرزا قادیانی کو کھلے لفظوں میں اعتراف ہے کہ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا دوسرا نام یسوع ہے اور عبارات نمبر ٦ تا ٨ میں آپ نے یسوع کو حضرت مریم علیہا السلام کا بیٹا قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوا اور کوئی مراد نہیں ہو سکتا۔

نوٹ نمبر : ٢....... اس کے ساتھ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عبارت نمبر ٨ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کو یوسف نجار کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ (معاذ اللہ) حالانکہ آپ اپنی دوسری متعدد تحریروں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت کو بغیر باپ کے تسلیم کر چکے ہیں۔ (ملاحظہ ہو ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٢٧٣، اخبار الحکم مورخہ ٣٠؍اکتوبر ١٩٠٢ء ص ١٠، اخبار الحکم مورخہ ١٠؍دسمبر ١٩٠٢ء ص ١٣ کالم اول و الحکم ٢٤؍دسمبر ص ٥، کالم ٢، ٢٤؍ ١٩٠٢ء وغیرہ) مرزا قادیانی کی تمام تحریریں اسی طرح اختلاف بیانی سے پر ہیں۔ تحریریں کیا ہیں۔ مداری کا پٹارہ ہے۔ جو چاہو ان سے نکال لو۔

خوشامد نامہ کی عبارتیں

جلسہ جوبلی شصت سالہ کی تقریب پر مرزا قادیانی نے ایک رسالہ بعنوان تحفہ قیصریہ لکھا تھا۔ اس رسالہ میں چونکہ قیصرہ ہند ملکہ انگلستان کی خوشامد مقصود تھی۔ اس لئے اس میں جابجا حضرت یسوع علیہ السلام کی تعریف کی اور اپنے آپ کو حضرت یسوع کی صفات کا مظہر اور ان کا سفیر ظاہر کیا۔ چند عبارات بطور نمونہ ملاحظہ ہوں۔

طرح کی بدعتوں سے دنیا کو چھڑانے کے لئے آیا ہے۔"

(تحفہ قیصریہ ص ١، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٣)

روح میرے اندر رکھی تھی۔ اس لئے ضرور تھا کہ گم گشتہ ریاست میں بھی مجھے یسوع مسیح کے ساتھ مشابہت ہوتی ۔"

(تحفہ قیصریہ ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢)

پیارے اور نیک بندوں میں سے ہیں۔"

"حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفارہ اور تثلیث اور الوہیت ہے۔ ایسے متنفر پائے جاتے ہیں کہ گویا ایک بھاری افتراء جو ان پر کیا گیا ہے۔ وہ یہی ہے میں وہ ہوں جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی ہے۔"

٥

صفحہ ٢٢٠

میں حضرت یسوع مسیح کی طرف سے ایک سچے سفیر کی حیثیت میں کھڑا ہوں۔

(تحفہ قیصریہ ص ٢٠ تا ٢٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢ تا ٢٧٤)

مان نہ مان میں تیرا مہمان۔ قاسمی! و....... ”جس قدر عیسائیوں کو حضرت یسوع سے محبت کرنے کا دعویٰ ہے وہی دعویٰ مسلمانوں کو بھی ہے۔ گویا آنجناب کا وجود عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک مشترکہ جائیداد کی طرح ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٣ ، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٥)

شیخ بھی خوش رہے شیطان بھی بیزار نہ ہو

ناظرین کرام! غور فرمائیے کہ جس یسوع کے متعلق مرزا قادیانی کہتا تھا کہ اس کی قرآن نے خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور جس یسوع کی نسبت (نقل کفر کفر نباشد) مرزا قادیانی لکھ چکا ہے کہ: ”ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

اسی یسوع کو اپنے خوشامد نامہ (تحفہ قیصریہ) میں خدا کا پیارا ”نیک بندہ“ عقائد باطلہ سے متنفر، عیسائیوں اور مسلمانوں کی مشترکہ جائیداد اور اپنے آپ کو ان کا سفیر قرار دیتے ہیں اور اس وقت ان کو جوش خوشامد میں یہ قطعاً یاد نہیں رہتا کہ میں یسوع کی نسبت کیا کچھ لکھ چکا ہوں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟

حق بر زبان جاری

اس سوال کا جواب بھی خود مرزا قادیانی ہی سے سنئے۔ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ”کسی سچے راستباز اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر پاگل اور مجنون یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو۔ اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔“

(کتاب ست بچن ص ٣٥، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢)

نتیجہ

تحفہ قیصریہ کی عبارات منقولہ سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کی مراد یسوع مسیح کے لفظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی ذات مقدسہ ہے۔ پس آپ کی تمام منقولہ بالا عبارات و تحریرات سے ثابت ہو گیا کہ یسوع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا دوسرا نام ہے نہ کسی اور فرضی شخص کا۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک!

٦

صفحہ ٢٢١

مرزا قادیانی کا اقرار کہ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دیں

اب میں اس سے بھی زیادہ صاف، واضح اور فیصلہ کن عبارت پیش کرتا ہوں۔ جس میں مرزا قادیانی صاف طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی شان کے خلاف لکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ: ”ہماری قلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو کچھ خلاف شان ان کے نکلا ہے وہ الزامی جواب کے رنگ میں ہے اور وہ دراصل یہودیوں کے الفاظ ہم نے نقل کئے ہیں۔ افسوس اگر پادری صاحبان تہذیب اور خدا ترسی سے کام لیں اور ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں نہ دیں تو دوسری طرف مسلمانوں کی طرف سے بھی ان سے بیس حصے زیادہ ادب کا خیال رہے۔“

(مقدمہ چشمہ مسیحی ص ب حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦)

یہاں مرزا قادیانی یہ عذر نہیں کرتے کہ : ”میں نے یسوع نامی شخص کو گالیاں دی ہیں۔ جس کا قرآن میں ذکر نہیں بلکہ یہ عذر لنگ فراموش کر کے بغیر کسی ایچ پیچ کے اب تو صاف صاف اقرار کرتے ہیں کہ میں نے جو کچھ لکھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی نسبت لکھا ہے۔ پس مرزا قادیانی کے اپنے اقرار کے بعد کوئی مرزائی یہ کہنے کی جرأت نہیں کر سکتا کہ مرزا قادیانی نے جو کچھ لکھا ہے حضرت عیسیٰ کی نسبت نہیں بلکہ کسی یسوع نامی شخص کے خلاف ہے۔“

کسی نبی کے خلاف بدزبانی الزاماً بھی کفر ہے

ہاں اس عبارت میں مرزا قادیانی یہ بھی لکھتے ہیں کہ: ”میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان کے خلاف جو کچھ لکھا ہے وہ الزامی جواب کے رنگ میں ہے اور وہ دراصل یہودیوں کے الفاظ نقل کئے ہیں ۔“ اس کے جواب میں عرض ہے کہ اوّل تو جہاں جہاں مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دی ہیں۔ وہاں اکثر انداز کلام قطعاً الزامی نہیں بلکہ تحقیقی ہے۔ ( میں اس چیز کو آئندہ نمبروں میں انشاء اللہ تفصیل سے عرض کروں گا ) اور کہیں اگر یہودیوں کے کلام کا حوالہ بھی دیا ہے تو طرز تحریر سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اس معاملہ میں یہود کے ہمنوا ہیں اور اس سے قطع نظر کر کے گذارش کرتا ہوں کہ یہ کہاں کا ایمان واسلام ہے کہ اگر پادری حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دے کر دو جہاں کی رسوائی خریدیں تو مسلمان یہود نامسعود کے اقوال کی آڑ لے کر حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توہین کریں۔ میں گذشتہ نمبر میں اس طرز عمل کو قرآن وحدیث کے خلاف ثابت کر چکا ہوں۔ اس وقت اپنی تائید میں خود مرزا قادیانی کی تحریر پیش کرتا ہوں ۔ آپ لکھتے ہیں کہ : ” مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی ﷺ کو

٧

صفحہ ٢٢٣

گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے۔“

(رسالہ حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست ص ٥، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٤٢)

یہ امر واضح رہے کہ چونکہ اس رسالہ میں بھی ”تحفہ قیصریہ“ کی طرح گورنمنٹ کی خوشامد اور چاپلوسی مقصود تھی۔ جیسا کہ اس رسالہ کے نام سے ظاہر ہے۔ اس لئے یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الزامی طور پر بھی توہین سے بیزاری کا اظہار فرمارہے ہیں۔ حالانکہ مقدمہ ”چشمہ مسیحی“ کے ص ب والی منقولہ عبارت میں آپ اس طرز عمل کو جائز قرار دے چکے ہیں۔

ہم بھی قائل تیری نیرنگی کے ہیں یاد رہے
او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے

غرض رسالہ عاجزانہ درخواست والی عبارت پکار پکار کر یہ بتارہی ہے کہ عیسائیوں کے خرافات کے جواب میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دینے والا مسلمان نہیں ہو سکتا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اخلاق پر حملہ

میں نے گستاخ مرزا میں وہ عبارتیں نقل کی تھیں۔ جن میں مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یسوع کے نام سے گالیاں دی ہیں اور ٹریکٹ ہذا میں یہاں تک یہ ثابت کیا گیا ہے کہ یسوع سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ اب ذیل میں کچھ نمونہ ان عبارات کا بھی ملاحظہ فرمائیے۔ جن میں مرزا قادیانی نے حضرت ممدوح علیہ السلام پر حملے کئے ہیں اور ان کی صریح توہین کی ہے اور ستم پر ستم یہ کہ ان عبارات میں یسوع کا لفظ نہیں بلکہ عیسیٰ علیہ السلام اور مسیح کے الفاظ استعمال کئے ہیں: ”تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اس پر بددعا کی اور دوسروں کو دعا کرنا سکھلایا اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو۔ مگر خود اس قدر بد زبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور برے برے نام رکھے۔ اخلاقی معلم کا فرض یہ ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھاوے۔ پس کیا ایسی تعلیم ناقص جس پر انہوں نے آپ بھی عمل نہ کیا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے؟“

(چشمہ مسیحی ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٦)

حضرت مسیح علیہ السلام کو (معاذ اللہ) شرابی قرار دینا

٨

علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی

(کشتی نوح ص ٧٣، خزائن

مرزا قادیانی کو چونکہ مرض ذیابیطس تھا دیا۔ اس پر آپ یوں گہر فشانی کرتے ہیں کہ:

کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیو ان تینوں عبارتوں میں ”یسوع“ کا لفظ نہی علاوہ بریں یہاں یہود کے اقوال کا بھی ذکر نہیں اور

قادیانیوں کے زہر یلے عقائد

کیا حسب ذیل عقائد کے معتقد گروہ جاسکتی ہے؟ (جن کتب کے حوالہ جات اس اشتہار مرزا محمود کی تصنیف کردہ ہیں)

رسول عربی ﷺ کی نعوذ باللہ روح موجو ”دنیا میں نماز تھی۔ مگر نماز کی روح نہ تھی دنیا میں زکوٰۃ تھی۔ مگر زکوٰۃ کی روح نہ تھی۔ دنیا م تھا۔ مگر اسلام کی روح نہ تھی۔ دنیا میں قرآن تھا۔ مگ محمد ﷺ بھی موجود تھے۔ مگر محمد ﷺ کی روح موجو

(خطبہ خلیفہ

مرزا قادیانی (معاذ اللہ) سردار دو جہاں ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فض آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ کی کے نہ ہوا اور نہ قابلیت تھی۔

ختم نبوت سے صریح انکار

”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوا

صفحہ ٢٢٣

علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(کشتی نوح ص ٧٣، خزائن ج ١٩ ص ٧١، اخبار الحکم مورخہ ١٧؍ اکتوبر ١٩٠٢ء ص ٣)

مرزا قادیانی کو چونکہ مرض ذیابیطس تھا۔ اس لئے کسی نے ان کو افیون کھانے کا مشورہ دیا۔ اس پر آپ یوں گہرفشانی کرتے ہیں کہ:

کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“

(نسیم دعوت ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٥)

ان تینوں عبارتوں میں ’یسوع‘ کا لفظ نہیں بلکہ عیسیٰ علیہ السلام اور مسیح کے الفاظ ہیں۔ علاوہ بریں یہاں یہود کے اقوال کا بھی ذکر نہیں اور نہ انداز کلام الزامی ہے بلکہ تحقیقی ہے۔“

قادیانیوں کے زہریلے عقائد

کیا حسب ذیل عقائد کے معتقد گروہ سے اسلام اور مسلمانوں کی کسی بھلائی کی امید کی جاسکتی ہے؟ (جن کتب کے حوالہ جات اس اشتہار میں درج ہیں۔ وہ مرزا قادیانی یا ان کے خلیفہ مرزا محمود کی تصنیف کردہ ہیں)

رسول عربی ﷺ کی نعوذ باللہ روح موجود نہیں

”دنیا میں نماز تھی۔ مگر نماز کی روح نہ تھی۔ دنیا میں روزہ تھا۔ مگر روزہ کی روح نہیں تھی۔ دنیا میں زکوٰۃ تھی۔ مگر زکوٰۃ کی روح نہ تھی۔ دنیا میں حج تھا مگر حج کی روح نہ تھی۔ دنیا میں اسلام تھا۔ مگر اسلام کی روح نہ تھی۔ دنیا میں قرآن تھا۔ مگر قرآن کی روح نہ تھی اور اگر حقیقت پر غور کرو۔ محمدﷺ بھی موجود تھے۔ مگر محمدﷺ کی روح موجود نہ تھی۔“

(خطبہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ١١؍ مارچ ١٩٣٠ء)

مرزا قادیانی (معاذ اللہ) سردار دوجہاں سے افضل ہے

”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔ اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا اور نہ قابلیت تھی۔

(قادیانی ریویو بابت ماہ جون ١٩٢٩ء)

ختم نبوت سے صریح انکار

”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے یہ کہا جائے کہ تم کہو

٩

صفحہ ٢٢٤

کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے۔ کذاب ہے۔“

(انوار خلافت ص ٦٥)

تمام مسلمان حرامزادے ہیں

”جو (مسلمان ہماری پیشین گوئی آتھم کی تصدیق کر کے) ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

تمام اہل اسلام کافر خارج از دائرہ اسلام ہیں

”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“ (آئینہ صداقت ص ٣٥)

کسی مسلمان کے پیچھے نماز جائز نہیں

”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔“

(انوار خلافت ص ٩٠)

مسلمانوں سے رشتہ و ناطہ جائز نہیں

”حضرت مسیح موعود کا زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کولڑکی نہ دے۔“

(برکات خلافت ص ٧٥)

غیر احمدی کے بچے کا بھی جنازہ مت پڑھو

”پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔“

(انوار خلافت ص ٩٣)

مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارنا

”اب زمانہ بدل گیا ہے۔ دیکھو پہلے مسیح جو آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا۔ مگر اب مسیح اس لئے آیا کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارے۔“ (عرفان الہی ص ٩٤، ٩٥)

مخالفین کو سولی پر لٹکانا

”خدا تعالیٰ نے آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام عیسیٰ رکھا ہے۔ تاکہ پہلے عیسیٰ علیہ السلام کو تو یہودیوں نے سولی پر لٹکایا تھا۔ مگر آپ اس زمانہ کے یہودی صفت لوگوں کو سولی پر لٹکائیں۔“

(تقدیر الہی ص ٢٩)

١٠

PDF 226

خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

غذائے مرزا

حضرت مولانا بہاء الحق قاسمی امرتسری

صفحہ ٢٢٦

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عقائد مرزا

مرزا غلام احمد قادیانی نے جو شاندار اور عظیم الشان دعوے کئے وہ کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ از آنجملہ اُن کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ میں رسول اکرمﷺ کے تمام کمالات کا بروزی رنگ میں جامع ہوں۔

ہر پہلو سے کمالات محمدیہ کے جامع ہونے کا دعویٰ

مثلاً وہ لکھتے ہیں۔ ”بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدی کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢، بحوالہ حقیقت النبوۃ ص ٢٦٦)

پھر اسی کتاب (حقیقت النبوۃ ص ٢٦٧) پر ہے کہ آپ فرماتے ہیں: ”آنحضرتﷺ کا صرف یہ مقصود تھا کہ وہ فرزندوں کی طرح اس (نبیﷺ) کا وارث ہوگا۔ اس کے نام کا وارث اور ہر ایک پہلو سے اپنے اندر اس کی تصویر دکھلائے گا اور وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ سب کچھ اس سے لے گا اور اس میں فنا ہو کر اس کے چہرہ کو دکھائے گا۔ پس جیسا کہ ظلی طور پر اس کا نام لے گا۔ اس کا خلق لے گا۔ اس کا علم لے گا، ایسا ہی اس کا نبی لقب بھی لے گا۔ کیونکہ بروزی تصویر پوری نہیں ہوسکتی۔ جب تک یہ تصویر ہر ایک پہلو سے اپنے اصل کے کمال اپنے اندر نہ رکھتی ہو۔“

اس دعویٰ کی حقیقت

ان دونوں عبارتوں اور ان جیسی متعدد عبارات سے واضح ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو حضور رسول اکرمﷺ کے تمام کمالات کا ہر پہلو سے جامع قرار دیتے ہیں اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مقدس و مطہر زندگی کی پوری اور مکمل تصویر اپنے وجود میں دکھانے کے دعویدار ہیں۔

میں اس وقت اس دعوے کے صرف ایک گوشہ کو مرزائی لٹریچر ہی کی روشنی میں بے نقاب کرنا چاہتا ہوں۔ واللہ ولی التوفیق!

٢

صفحہ ٢٢٧

حضورﷺ کی مقدس اور سادہ ترین زندگی کا ایک نمونہ

”آنحضرتﷺ کے پاس ایک مرتبہ حضرت عمرؓ آئے۔ آپﷺ حجرے میں تشریف رکھتے تھے۔ حضرت عمرؓ اجازت لے کر اندر گئے تو دیکھا کہ ایک کھجور کی چٹائی بچھی ہوئی ہے۔ جس پر لیٹنے سے پہلوؤں پر ان پتوں کے نشان ہو گئے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے گھر کی جائیداد کی طرف نگاہ کی تو صرف ایک تلوار ایک گوشہ میں لٹکتی ہوئی نظر آئی۔ یہ دیکھ کر ان کے آنسو جاری ہو گئے۔ آنحضرتﷺ نے رونے کی وجہ پوچھی تو عرض کیا کہ خیال آیا ہے۔ قیصر و کسریٰ جو کافر ہیں ان کے لئے کس قدر تنعم ہے اور آپﷺ کے لئے کچھ بھی نہیں۔ فرمایا میرے لئے دنیا کا اسی قدر حصہ کافی ہے کہ جس میں حرکت و سکون کر سکوں۔“

(منقول از اخبار الفضل قادیان، خاتم النبیین نمبر مورخہ ٦؍ نومبر ١٩٣٢ء ص ٧، کالم ٣)

حضور علیہ السلام کے اہل بیت کی حالت

رہنے کے لئے اعلیٰ درجہ کے محلات بنوا لیتے۔ اپنے گھروں کو قیمتی اسباب سے آراستہ رکھتے۔ لیکن آپ نے باوجود استطاعت اور باوجود عرب کے سب سے بڑے بادشاہ اور سردار ہونے کے فقیری کو امیری پر ترجیح دی۔ دنیا کا مال و دولت جمع کرنا اور اپنے گھروں میں رکھنا اپنے درجہ اور مقام کی ہتک خیال فرمایا۔“

(اخبار مذکور ص ٤٠، کالم ١)

بیٹی) کے گھر میں اس وقت تک کہ آپ نے اس جہاں سے انتقال فرمایا کسی نے متواتر تین دن تک پیٹ بھر کر کھانا نہ کھایا۔“

(اخبار مذکور ص ٤٠ کالم ٢)

مرزا قادیانی کی پر تکلف اور دنیا دارانہ زندگی

حضور رسول اکرمﷺ اور آپﷺ کے اہل بیت کی سادہ زندگی کا یہ نہایت ہی مختصر خاکہ ہے۔ جو الفضل کی محولہ بالا سطور میں پیش کیا گیا ہے۔ ورنہ ایسے ایسے واقعات احادیث میں

٣

صفحہ ٢٢٩

ملتے ہیں کہ ان کو پڑھ کر انسان کا دل ہل جاتا ہے۔ لیکن اگر اس اسوۂ حسنہ کو قادیانی متنبتی اور اس کی بیوی وصاحبزادی ودیگر افراد خاندان کی زندگیوں میں تلاش کیا جائے تو کہنا پڑے گا کہ چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں؟ بلکہ اس کے خلاف مرزائی لٹریچر ہی سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی اور اس کے گھر کے لوگوں کی زندگی عام دنیا دار لوگوں کی طرح تکلفات اور عیش ونشاط کے مادی سامانوں میں گزری جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ ﷺ کے اہل بیت کی فقیرانہ اور زاہدانہ زندگی کے بالکل خلاف ہے۔

مشک خالص کے آرڈروں کی بھرمار

میرے سامنے اس وقت ١٤ صفحات کا ایک رسالہ ہے جس کا عنوان ہے ”خطوط امام بنام غلام“ اس میں ایک مرزائی حکیم محمد حسین قریشی نامی نے اپنی دکان کو مرزائیوں میں مقبول بنانے اور چمکانے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کے بعض خطوط فخر کے ساتھ شائع کئے ہیں۔ جن میں مرزا قادیانی نے حکیم کی معرفت وقتاً فوقتاً مشک خالص زیورات و پارچات وغیرہ اشیاء کے آرڈر دیئے۔ چند خطوط کے اقتباسات ناظرین کرام کے تفنن طبع کی خاطر ذیل میں درج کرتا ہوں۔

میں ارسال ہیں۔ آپ دو تولہ مشک خالص دوشیشیوں میں علیحدہ علیحدہ یعنی تولہ تولہ ارسال فرماویں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٢، ٣)

دیں۔ جلد بھیج دیں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٣)

بہتر ورنہ اپنی ذمہ داری پر بھیج دیں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٥)

٤

تازہ وخوشبودار ہو۔ بذریعہ وی پی ارسال فرمائیں۔ کیونکہ چھچھڑا نہ ہو، چھچھڑا نہ ہو

تولہ مشک خالص جس میں چھچھڑا نہ ہو اور بخوبی جیسا کہ دیں۔ جس قدر قیمت ہو مضائقہ نہیں۔ مگر مشک اعلیٰ درجہ مشک میں تیز خوشبو ہوتی ہے۔ وہی اس میں ہو۔“

مفرح عنبری

حکیم صاحب مذکور لکھتے ہیں: ”میں اپنے بے اندازہ فخر وبرکت کا موجب سمجھتا ہوں کہ حضور ( مفرح عنبری کا بھی استعمال فرماتے تھے۔“

شاندار خیمے

”وحی الٰہی کی بناء پر مکان ہمارا خطرناک لئے بھیجتا ہوں۔ چاہیے کہ آپ اور چند دوستداروں کے قناتوں اور دوسرے سامانوں کے بہت جلد روانہ فرما نہ ہو کہ کسی نواب صاحب نے یہ خیمہ خریدا ہے۔ کیونکہ ہیں۔“

عمدہ بستر

”کل کے خط میں سہو سے میں ایک بستر

٥

صفحہ ٢٢٩

تازہ وخوشبودار ہو۔ بذریعہ وی پی ارسال فرمائیں۔ کیونکہ پہلی مشک ختم ہو چکی ہے۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٦)

چھچڑا نہ ہو، چھچڑا نہ ہو

تولہ مشک خالص جس میں چھچڑا نہ ہو اور بخوبی جیسا کہ چاہئے خوشبودار ہو۔ ضرور وی پی کرا کر بھیج دیں۔ جس قدر قیمت ہو مضائقہ نہیں۔ مگر مشک اعلیٰ درجہ کی ہو۔ چھچڑا نہ ہو اور جیسا کہ عمدہ اور تازہ مشک میں تیز خوشبو ہوتی ہے۔ وہی اس میں ہو۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٦)

(خطوط امام بنام غلام ص ٦)

مفرح عنبری

حکیم صاحب مذکور لکھتے ہیں: ”میں اپنے مولا کریم کے فضل سے اس کو بھی اپنے لئے بے اندازہ فخر و برکت کا موجب سمجھتا ہوں کہ حضور (مرزا قادیانی آنجہانی) اس ناچیز کی تیار کردہ مفرح عنبری کا بھی استعمال فرماتے تھے۔“

شاندار خیمے

”وحی الٰہی کی بناء پر مکان ہمارا خطرناک ہے۔ اس لئے ٢٦٠ روپے خیمہ خریدنے کے لئے بھیجتا ہوں۔ چاہیے کہ آپ اور چند دوستداروں کے ساتھ جو تجربہ کار ہوں۔ بہت عمدہ خیمہ معہ قناتوں اور دوسرے سامانوں کے بہت جلد روانہ فرماویں اور کسی کو بیچنے والوں میں سے یہ خیال پیدا نہ ہو کہ کسی نواب صاحب نے یہ خیمہ خریدنا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ نوابوں سے دوچند سہ چند مول لیتے ہیں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٤)

عمدہ بستر

”کل کے خط میں سہو سے میں ایک بستر کی رسید بھیجنا بھول گیا۔ جو آپ نے بڑی

٥

صفحہ ٢٣١

محبت اور اخلاص کی راہ سے بھیجا تھا۔ درحقیقت وہ بستر اس سخت سردی کے وقت میرے لئے نہایت عمدہ اور کارآمد چیز ہے۔“

(خطوط امام بنام غلام ص٣)

عمدہ بیگمی پان اور انگریزی پاخانہ

”پان عمدہ بیگمی اور ایک انگریزی وضع کا پاخانہ جو ایک چوکی ہوتی ہے اور اس میں ایک برتن ہوتا ہے۔ اس کی قیمت معلوم نہیں آپ ساتھ لاویں، قیمت یہاں سے دی جاوے گی۔ مجھے دوران سر کی بہت شدت سے مرض ہو گئی ہے۔ پیروں پر بوجھ دے کر پاخانہ پھرنے سے مجھے سر کو چکر آتا ہے۔“

(خطوط امام بنام غلام ص٦)

کابلی گرم پوستین

”اور اگر کوئی پشمی پوستین نئی اور گرم ہو اور کشادہ ہو جو کابل کی طرف سے آتی ہے۔ مل سکے تو اس کی قیمت سے اطلاع دیں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص٧)

تانبے کے حمام

”حماموں کی قیمت مع کرایہ وغیرہ مولوی محمد علی صاحب کو دیئے گئے ہیں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص٨)

کلاک

”ہمارا پہلا کلاک یعنی گھنٹہ بگڑ گیا ہے۔ اس لئے ایک کلاک عمدہ خرید کرنے کے لئے مبلغ نو روپیہ بھیجتا ہوں۔ یہ کلاک بخوبی امتحان کر کے ارسال فرماویں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص٥)

فینسی چیزیں خریدنے کے لئے ام المرزائین کا لاہور میں ورود

”اس وقت والدہ محمود احمد ہوا کی تبدیلی کے لئے لاہور آتی ہیں۔ غالباً انشاء اللہ تعالیٰ دس دن تک لاہور میں رہیں گی اور بعض چیزیں پارچہ جات وغیرہ خریدیں گی۔ اس لئے اس کی خدمت کا ثواب حاصل کرنے کے لئے آپ سے بہتر اور کسی شخص کو میں نہیں دیکھتا۔ لہٰذا اس غرض سے آپ کو یہ خط لکھتا ہوں کہ آپ جہاں تک ہو سکے اس خدمت کے ادا کرنے میں (بیگم

صاحب) کی خوشنودی حاصل کریں اور خود تکلیف اٹھا ک

نبی زادی کے لئے ریشمی کپڑے اور جالی کا

”اس وقت بموجب تاکید والدہ محمود لکھتا ہ قمیص ریشمی یا جالی کی جو چھ روپے قیمت سے زیادہ نہ ہو، بھیج دیں۔ قیمت اس کی کسی کے ہاتھ بھیج دی جاوے گی۔“

زیورات

”٣ یا ٤ دانہ طلائی زیور پہنچیاں تا کہ ڈا بدست حامل ہذا بھیج دیں۔“

ٹانک وائن (ولایتی شراب) کا آرڈر

”خطوط امام بنام غلام“ جو حکیم محمد حسین م نے حمیدیہ سٹیم پریس میں چھپوا کر شائع کئے۔ ص٥ کا

بسم الله الرحم نحمده ونصلی عل محبّی اخویم حکیم محمد حسین ص السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! اس وقت خود خرید دیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دک کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام!

ارباب انصاف سے اپیل

ناظرین کرام! ایک طرف حضور سید ال

صفحہ ٢٣١

صاحب) کی خوشنودی حاصل کریں اور خود تکلیف اٹھا کر عمدہ چیزیں خرید دیں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٤)

نبی زادی کے لئے ریشمی کپڑے اور جالی کی قمیص

”اس وقت بموجب تاکید والدہ محمود لکھتا ہوں کہ آپ مبارکہ میری لڑکی کے لئے ایک قمیص ریشمی یا جالی کی جو چھ روپے قیمت سے زیادہ نہ ہو اور گوٹا لگا ہوا ہو۔ عید سے پہلے تیار کرا کر بھیج دیں۔ قیمت اس کی کسی کے ہاتھ بھیج دی جاوے گی۔ رنگ کوئی ہو۔ مگر پارچہ ریشمی یا جالی ہو۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٥،٤)

زیورات

”٣٤ دانہ طلائی زیور پہنچیاں تاگہ ڈالنے کے لئے بھیجتا ہوں۔ آپ تاگہ ڈلوا کر بدست حامل ہذا بھیج دیں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٣)

ٹانک وائن ( ولایتی شراب) کا آرڈر

”خطوط امام بنام غلام“ جو حکیم محمد حسین مرزائی قریشی مالک کارخانہ رفیق الصحت لاہور نے حمیدیہ سٹیم پریس میں چھپوا کر شائع کئے۔ ص ٥ کالم ١ پر ہے۔

بسم الله الرحمن الرحيم!

نحمده ونصلی علی رسوله الكريم!

محبی اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خوردنی خود خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خرید دیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام! مرزا غلام احمد عفی عنہ

ارباب انصاف سے اپیل

ناظرین کرام! ایک طرف حضور سید المرسلین وامام المتقین ﷺ اور آپ کے اہل بیت

٧

صفحہ ٢٣٢

کی متوکلانہ، زاہدانہ، فقیرانہ اور سادہ زندگی کا ایمان افروز نمونہ ملاحظہ فرماچکے ہیں اور اس کے مقابلہ میں چودھویں صدی کے قادیانی متنبی اور اس کے گھر والوں کے تکلفات اور دنیا دارانہ اخراجات اور امیرانہ ٹھاٹھ کا نہایت سرسری خاکہ دیکھ چکے ہیں اور یہ اس شخص کے ہاں کی کیفیت ہے جو نہایت ڈھٹائی کے ساتھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تمام کمالات کا ہر پہلو سے جامع اور حامل کہلاتا ہے۔ لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تمام ضروریات زندگی پر ساری عمر میں جس قدر رقم صرف ہوئی ہو گی اس سے غالباً کئی گنا زیادہ رقم مرزا قادیانی کی صرف ”مشک خالص“ پر صرف ہوچکی ہے۔ ان کی گھڑیوں، کلاکوں، قالینوں، مفرح جات و کشتہ جات و پارچات و فروٹ اور مکھن، گھی، انڈوں، کیک، بسکٹوں، قیموں اور قتلموں اور پتیسوں واورکوٹوں اور انگریزی پاخانوں اور پان الائچی وغیرہ تکلفات پر خدا ہی کو معلوم ہے کہ کس قدر رقم خرچ ہوئی ہوگی۔ پھر ان کی بیوی اور صاحبزادی اور ”خاندان نبوت“ کی دیگر مستورات کے ریشمی کپڑوں، جالیوں، زیوروں اور فینسی چیزوں پر نہ معلوم کتنی دولت لٹائی گئی ہے اور یہ تو آج سے چوتھائی صدی پیشتر کے قصے ہیں۔ مرزا قادیانی کے صاحبزادہ اور موجودہ خلیفہ مرزا محمود نے ان تکلفات نبوت میں جو جو اصلاحات آج کل نافذ کر رکھی ہیں اور قادیان شریف کو ہر پہلو سے پیرس کا پورا نمونہ بنانے کے لئے جو لاکھوں روپے نہایت فیاضی کے ساتھ صرف کر دیئے ہیں۔ ان کا تو ذکر ہی کیا ہے؟ پس ان تمام حالات کو سامنے رکھ کر انصاف پسند حضرات ہی فیصلہ کر کے بتائیں کہ کیا متنبی قادیان اور اس کے خاندان کو حضور رسول مقبول ﷺ اور ان کے اہل بیت کے ساتھ وہ نسبت بھی حاصل ہے یا نہیں۔ جو زمین کے ذرے کو آفتاب کے ساتھ ہو سکتی ہے؟“

مسلمانو! قادیان کے دکاندار اور دنیا پرست متنبی اور اس کے عیار ایجنٹوں کے دام فریب سے بچو!

حق پہ رہ ثابت قدم باطل کا شیدائی نہ ہو
تجھ کو گر ایمان پیارا ہے تو مرزائی نہ ہو

٨

PDF 234

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

ابن مریم

زندہ ہیں حق کی قسم

جناب مکرم و محترم ماسٹر محمد ابراہیمؒ

صفحہ ٢٣٥

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد لله الذي رفع المسيح ابن مريم حياً فهو عنده في السماء وينزل من السماء في آخر الزمان وصل الله تعالى على خير خلقه محمد خاتم الرسل والانبياء وعلى آله واصحابه صل الله عليه وسلم!

اما بعد! برادران اسلام!! مرزائیوں کے مقابلہ میں حیات و وفات حضرت مسیح علیہ السلام پر بحث کرنی اصل بحث تو نہیں۔ بلکہ ان کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی ذات پر بحث کرنی زیادہ مناسب ہے۔ مگر چونکہ مرزائی حضرات نے مسئلہ حیات و وفات حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی عمارت کا بنیادی پتھر بنا رکھا ہے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بجسم خاکی آسمان پر جانا، اب تک آسمان میں زندہ رہنا اور قرب قیامت آسمان سے نازل ہونا، قرآن، حدیث اور اجماع امت سے ثابت کیا جاتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دلائل کو میرے گم گشتہ اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے بھائیوں کے لئے ذریعہ ہدایت بنائے۔ آمین!

پہلی دلیل

"قال سبحانه وتعالى اذ قال الله يعيسى اني متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة (آل عمران:٥٥) "﴿ (از شاہ عبد القادر صاحب محدث دہلویؒ ) جس وقت کہا اللہ تعالیٰ نے اے عیسیٰ میں تجھ کو بھرلوں گا اور اٹھالوں گا اپنی طرف اور پاک کروں گا کافروں سے اور جنہوں نے تیری پیروی کی۔ انہیں ان پر جنہوں نے انکار کیا، فوقیت دینے والا ہوں قیامت کے دن تک۔ ﴾

حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ نے اپنے ترجمہ اور تفسیر میں زیر آیت ہٰذا تحریر فرمایا ہے کہ: "اے عیسیٰ ہر آئینہ من برگیرندہ تو ام یعنی ازیں جہاں وبردارندہ تو ام بسُوئے خود۔"

٢

یہ آیت مبارکہ اس بات پر زبردست اور بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ کیونک فقط جسم ہے اور نہ ہی فقط روح۔ بلکہ جسم مع الروح بھ خطاب کا مخاطب وہی ایک عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہ تقدیم عطف و تاخیر ربط اس آیت کا مطلب ی تابعین) قیامت سے پہلے پہلے بعینہ حضرت عیسیٰ ع اسم فاعل آئندہ زمانے کے لئے بکثرت استعمال لجاعلون ما عليها صعيداً جرزاً (کہ ہے ہموار میدان سبزہ سے خالی بنانے والے ہیں۔ نیز مرزا قادیانی کو بھی اس آیت مبارک تھا۔ (براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٥٥٧، خزائن ج تقریباً ٢٣، ٢٤ سال زندہ رہے۔ اگر توفی کا معن رہے۔ ان پر موت کیوں وارد نہ ہوئی؟ جب ک ترجمہ یہ لکھتے ہیں کہ: "اے عیسیٰ میں تجھ کو پوری ن

دوسری جگہ اسی براہین احمدیہ میں ا میں تجھ کو کامل اجر بخشوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤ

امام فخر الدین رازیؒ نے اپنی تفسی موت، دوسری نوم، تیسری اصعاد الی السماء ہے۔

توفی کے حقیقی معنی ایک چیز کو پو ہیں۔ وہ بطور کنایہ کے ہیں۔ قرآن مجید میں وہاں قرینہ موجود ہے۔ توفی ایک جنس ہے۔ ا

صفحہ ٢٣٥

یہ آیت مبارکہ اس بات پر زبردست اور محکم دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ کیونکہ آیت مبارکہ میں لفظ عیسیٰ علیہ السلام سے مراد فقط جسم ہے اور نہ ہی فقط روح۔ بلکہ جسم مع الروح یعنی زندہ عیسیٰ علیہ السلام اور ہر چہار ضمیروں کے خطاب کا مخاطب وہی ایک عیسیٰ علیہ السلام زندہ بعینہ ہے۔ کیونکہ ضمیر خطاب معرفہ ہے اور بوجہ تقدیم عطف و تاخیر ربط اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ چاروں واقعات (توفی، رفع، تطہیر، غلبہ تابعین) قیامت سے پہلے پہلے بعینہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ کے ساتھ ہو جائیں گے اور صیغہ اسم فاعل آئندہ زمانے کے لئے بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے۔ ”وانا لجاعلون ما عليها صعيداً جرزاً (كهف:٨)“ ﴿یعنی ہم یقینا اسے جو اس (زمین) پر ہے ہموار میدان سبزہ سے خالی بنانے والے ہیں۔﴾

نیز مرزا قادیانی کو بھی اس آیت مبارکہ ”یا عیسٰی انی متوفیک“ کا الہام ہوا تھا۔ (براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٥٥٧، خزائن ج ١ ص ٦٦٤) حالانکہ مرزا قادیانی اس الہام کے بعد تقریباً ٢٣، ٢٤ سال زندہ رہے۔ اگر توفی کا معنی موت ہی ہے تو مرزا قادیانی اتنا عرصہ کیوں زندہ رہے۔ ان پر موت کیوں وارد نہ ہوئی؟ جب کہ توفی کا الہام بھی ہو چکا تھا اور مرزا قادیانی اس کا ترجمہ یہ لکھتے ہیں کہ: ”اے عیسیٰ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ ص ٥٥٥، خزائن ج ١ ص ٦٦٥)

دوسری جگہ اسی براہین احمدیہ میں اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں: ”اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھ کو کامل اجر بخشوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٥٥٧، خزائن ج ١ ص ٦٦٥)

امام فخر الدین رازیؒ نے اپنی تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ توفی کی تین نوعیں ہیں۔ ایک موت، دوسری نوم، تیسری اصعاد الی السماء۔ یعنی آسمان پر اٹھانا۔ اس جگہ آسمان پر اٹھانا مراد ہے۔

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧١)

توفی کے حقیقی معنی ایک چیز کو پورا پورا لینا ہے۔ جس جگہ بھی موت کے معنی لئے گئے ہیں۔ وہ بطور کنایہ کے ہیں۔ قرآن مجید میں جس جگہ بھی توفی کا لفظ موت کے معنوں میں آیا ہے وہاں قرینہ موجود ہے۔ توفی ایک جنس ہے۔ لہٰذا اس کے تعین کے لئے کسی قرینہ کی حاجت ہوگی۔

٣

صفحہ ٢٣٦

اس جگہ اللہ تعالیٰ نے رفع مع توفی کا ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ امام فخر الدین رازیؒ فرماتے ہیں: ”ان التوفى اخذ الشئ وافياً ولما علم الله ان من الناس من يخطر بباله ان الذى رفعه الله هو روحه لا جسده ذكر هذا الكلام ليدل على انه عليه الصلوٰة والسلام رفع بتمامه الى السماء بروحه وجسده“

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٢)

یعنی توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو پورا پورا لے لینا اور اللہ تعالیٰ کو اپنے علم قدیم سے اس بات کا علم تھا کہ کسی شخص کے دل میں یہ خیال بھی گزرے گا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صرف روح کو اٹھایا تھا اور جسم کو نہیں اٹھایا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ کلام ”انى متوفيك ورافعك الى“ فرمایا۔ تا کہ اس امر پر دلالت کرے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بتمامہ مع جسم اور روح کے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔

اسی طرح علامہ علاؤ الدین بغدادی، صاحب تفسیر الخازن فرماتے ہیں: ”ان معنى التوفى اخذ الشئ وافياً ولما علم الله تعالى ان من الناس من يخطر بباله ان الذى رفعه الله اليه هو روحه دون جسده كما زعمت النصارى ان المسيح رفع لاهوته يعنى روحه وبقى فى الارض ناسوته يعنى جسده فرد الله عليهم بقوله انى متوفيك ورافعك الى فاخبر الله انه رفع بتمامه الى السماء بروحه وجسده جميعاً“

(تفسیر الخازن ج ١ ص ٢٥٦)

یعنی توفی کا معنی ہے کسی چیز کو پورا پورا لے لینا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ بعض لوگوں کے دل میں شیطان یہ وسوسہ ڈالے گا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صرف روح اٹھائی ہے۔ جسم نہیں اٹھایا۔ جیسا کہ نصاریٰ کا گمان ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی روح اٹھائی گئی ہے اور جسم زمین پر باقی رہ گیا ہے۔ پس اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کا (اور ان کے مقلدین مرزائیہ کا) رد فرما دیا اور بتا دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بتمامہ اٹھا لئے گئے ہیں۔ یعنی روح اور جسم دونوں کے ساتھ نہ صرف روح کے ساتھ۔

سبحان اللہ! قرآن مجید کیسا معجز کلام ہے۔ لیکن ہر دو مفسرین بھی قرآن مجید کے کیسے رمز شناس ہیں کہ جو بات مرزا قادیانی کئی صدیاں بعد کہنے والے تھے اس کی تردید پہلے ہی فرمادی۔ یہ ایک عظیم الشان پیش گوئی ہے۔ جو پوری پوری واقع ہوئی۔ ”سبحان ما اصدق كلامه“

٤

٢٣٧

آگے چل کر امام رازیؒ فرماتے ہیں: ”قولہ التوفى وهو جنس تحته انواع بعضها بالموت فلما قال بعده ورافعك الى كان هذا تعييناً لا

یعنی خدا تعالیٰ کا قول ”انی متوفيك“ جب خدائے تعالیٰ نے اس کے بعد ورافعك الیٰ فرما کے لئے۔

اسی طرح قاضی بیضاویؒ نے بذیل آیت ” توفيتنى بالرفع الى السماء لقوله تعالى اخذ الشئ وافياً والموت نوع منه قال ال موتها والتى لم تمت فى منامها“

یعنی فلما توفیتنی کے معنی یہ ہیں کہ ر ”انی متوفیک ورافعک الیٰ“ کیونکہ توفی کے اس کی ایک نوع ہے۔ چنانچہ خداوند تعالیٰ نے فرمایا: ” موت لینا معنی مجازی ہے۔ ”ومن المجازا در کتا جہاں حقیقت متعذر ہو۔ مجاز کی طرف جب ہی رجوع اور ممتنع ہو جائے۔ ورنہ جب تک حقیقت پر عمل ممکن نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ شروع عقائد نسفی میں ہے۔ تحمل على ظواهرها وصرف النصوص کسی دلیل قطعی کے عدول کرنا ناجائز اور حرام ہے۔ میں توفی کے حقیقی معنی لئے جائیں گے اور موت کے

پس اس آیت مبارکہ سے یہ ثابت ہوا ک بالعنصری زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور قرآن مجید میں ” جسمانی کو ظاہر فرمایا۔

٥

صفحہ ٢٣٧

آگے چل کر امام رازیؒ فرماتے ہیں: ”قوله انی متوفيك يدل على حصول التوفی وهو جنس تحته انواع بعضها بالموت وبعضها بالاصعاد الى السماء فلما قال بعده ورافعك الى كان هذا تعييناً للنوع ولم يكن تكراراً“

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٢)

یعنی خدا تعالیٰ کا قول ”انی متوفيك“ صرف حصول توفی پر دلالت کرتا ہے۔ پس جب خدائے تعالیٰ نے اس کے بعد ورافعك الیٰ فرما دیا تو یہ نوع کی تعیین کے لئے ہوا نہ کہ تکرار کے لئے۔

اسی طرح قاضی بیضاویؒ نے بذیل آیت ”فلما توفیتنی“ فرمایا ہے: ”فلما توفيتنى بالرفع الى السماء لقوله تعالى انى متوفيك ورافعك الى والتوفى اخذ الشئ وافياً والموت نوع منه قال الله تعالى الله يتوفى الانفس حين موتها والتي لم تمت في منامها“

(تفسیر بیضاوی ج ١ ص ١٤٠)

یعنی فلما توفیتنی کے معنی یہ ہیں کہ خدایا جب تو نے مجھے آسمان پر اٹھا لیا۔ بدلیل ”انی متوفيك ورافعك الیٰ“ کیونکہ توفی کے معنی ہیں کسی شے کو پورا پورا لے لینا اور موت اس کی ایک نوع ہے۔ چنانچہ خداوند تعالیٰ نے فرمایا: ”الله يتوفى الانفس“ توفی سے مراد موت لینا معنی مجازی ہے۔ ”ومن المجاز ادركته الوفاة“ اور معنی مجازی لینا وہاں جائز ہے جہاں حقیقت متعذر ہو۔ مجاز کی طرف جب ہی رجوع کیا جاتا ہے کہ جب معنی حقیقی کا ارادہ ناجائز اور ممتنع ہو جائے۔ ورنہ جب تک حقیقت پر عمل ممکن ہوگا اس وقت تک مجاز کی طرف ہرگز رجوع نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ شرح عقائد نسفی میں ہے۔ ”النصوص من الكتاب والسنة تحمل على ظواهرها وصرف النصوص عن ظواهرها الحاد“ ظاہر نص سے بلا کسی دلیل قطعی کے عدول کرنا ناجائز اور حرام ہے۔ بلکہ الحاد اور زندقہ ہے۔ لہٰذا اس آیت مبارکہ میں توفی کے حقیقی معنی لئے جائیں گے اور موت کے معنی میں اس جگہ یہ لفظ استعمال نہیں ہو سکتا۔

پس اس آیت مبارکہ سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بجسدہ العنصری زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور قرآن مجید میں ”رفع“ اور ”التوفی“ سے ان کے رفع جسمانی کو ظاہر فرمایا۔

٥

صفحہ ٢٣٨

مرزائی اعتراض

ہونے اور وفات حضرت مسیح علیہ السلام کے الہام سے پہلے کے ہیں۔

(تعلیقات بخاری) پس حضرت ابن عباسؓ کے قول کے مقابلہ میں کسی کی تفسیر معتبر نہیں ہے۔ کیونکہ حضور اکرم ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی تھی اور یہ قول اس کتاب میں ہے جو ”أصح الکتب بعد کتاب الله“ ہے۔

(ابن کثیر ج ٢ ص ١٥٠)

عیسیٰ علیہ السلام تین گھنٹے یا سات گھنٹے فوت ہو گئے تھے۔

الجواب

کے مدعی تھے۔ (ایام الصلح ص ٧٥، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٩) اور ”الرحمٰن علم القرآن“ کا انہیں الہام ہو چکا تھا۔ نیز (براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٢٣٨، خزائن ج ١ ص ٢٦٥) حضور اکرم ﷺ کے دربار میں پیش ہو کر رجسٹرڈ ہو گئی تھی۔ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے۔

ناظرین کرام! جب کشف میں (بقول مرزا قادیانی) براہین احمدیہ رسول اکرم ﷺ کے دربار میں پیش ہو کر قبولیت حاصل کر رہی تھی۔ کیا اس وقت ”توفی“ کی بحث جس کے معنی ”میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا“ لئے گئے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کی نظر مبارک سے نہ گزرے؟ اگر گزرے تھے تو بقول مرزا یہاں غلط ہونے کی وجہ سے رسول اکرم ﷺ نے انہیں کاٹ کیوں نہ دیا؟ انصاف!

اور سنئے! مرزا قادیانی اپنی کتاب ”سراج منیر“ لکھنے کے وقت مدعی رسالت اور حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے۔ چنانچہ مرزا قادیانی مذکورہ کتاب میں اس الہام ”یا عیسیٰ انی متوفیک“ کے متعلق لکھتے ہیں کہ: ”الہام کے معنی یہ ہیں کہ میں تجھے ایسی ذلیل اور

(سراج منیر ص ٢١، خزائن ج ١٢ ص ٢٣)

لعنتی موتوں سے بچاؤں گا۔“

پس ثابت ہوا کہ متوفیک کے معنی موت سے بچانے کے ہیں نہ کہ موت۔ لہٰذا مرزائیوں کو کوئی حق حاصل نہیں کہ اس جگہ توفی کے معنی موت مراد لیں۔

٦

صفحہ ٢٣٩

(تفسیر ابن کثیر ج اول ص ١٥٠) میں نقل کیا ہے۔ اس میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرنے والے راوی کا نام طلحہ ہے۔ یہ ضعیف الحدیث اور منکر الحدیث ہونے کے علاوہ حضرت ابن عباسؓ سے اس کا سماع بھی ثابت نہیں۔ اس نے حضرت ابن عباسؓ کو دیکھا بھی نہیں۔ پس یہ روایت روایات صحیحہ کے مقابلہ میں پیش نہیں ہوسکتی۔

اگر "متوفیک" کے معنی "ممیتک" مانے جائیں تو وہ اس وقت ہیں۔ جب کہ آیت مبارکہ میں تقدیم و تاخیر مانی جائے۔ چنانچہ تفسیر خازن و تفسیر کبیر میں تحت آیت ہٰذا مرقوم ہے۔

"ان فی الآیۃ تقدیماً وتأخیراً انی رافعک الی ومطھرک من الذین کفروا ومتوفیک بعد انزالک الی الارض"

(تفسیر خازن ج ١ ص ٢٥٥، تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٢)

یعنی حضرت ابن عباسؓ نے "متوفیک" کے جو معنی "ممیتک" کئے ہیں۔ وہ اس وقت ہیں۔ جب کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر مانی جائے۔ جس کا مطلب یہ ہوگا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا۔ اے عیسیٰ! میں تجھ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھ کو آسمان سے زمین پر اتارنے کے بعد فوت کرنے والا ہوں۔ آخر میں امام رازیؒ نے یہ بھی لکھا ہے کہ: "ومثلہ من التقدیم والتاخیر کثیر فی القرآن" جیسا کہ آیت مبارکہ "یمریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع الراکعین" میں تقدیم و تاخیر ہے۔

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٣)

اسی طرح علامہ نسفیؒ اور صاحب تفسیر ابی السعود فرماتے ہیں: "متوفیک ای ممیتک فی وقتک بعد النزول من السماء ورافعک الآن"

(تفسیر مدارک بہامش تفسیر خازن ج ١ ص ٢٥٥، تفسیر ابی السعود مصری بہامش تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧١)

یعنی اب تو تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور آسمان سے اترنے کے بعد تیری موت کے وقت تجھے ماروں گا۔

بعض مفسرین کرامؒ نے ایک اور معنی بھی کئے ہیں۔ چنانچہ قاضی بیضاویؒ اور علامہ نسفیؒ صاحب تفسیر المدارک فرماتے ہیں: "متوفیک ای ممیتک عن الشھوات العائقۃ العروج الی عالم الملکوت"

(تفسیر بیضاوی ج ١ ص ١٤٠، تفسیر ابی السعود مصری بہامش تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧١)

٧

صفحہ ٢٤١

یعنی نصاریٰ کا یہ گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے م رکھا اور پھر زندہ کر کے آسمان پر اٹھا لیا اور اس قول کے متعل یہ نصاریٰ کے گمان میں ہے اور ”ما ھو الافتراء وبھ عظیم ہے۔

مفسرین کرام کا تو اتفاق ہے کہ: ”قال الف رفعه من غير وفاة ولا نوم كما قال الحسن وهو الصحيح عن ابن عباس“

یعنی حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علی اٹھا لیا۔ جیسا کہ حضرت حسنؓ اور حضرت ابن زیدؓ نے کہا ا اور یہ معنی صحت کے ساتھ حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہ سبحان اللہ! مرزا قادیانی اور ان کے مقلد ناطق فیصلہ ہے۔ مگر وہ قوم جو خالق کے کلام سے منکر ہے ا

ناظرین کرام! قابل غور یہ امر ہے کہ یہودی تھے۔ قتل کا سامان تیار تھا۔ اسی وقت خداوند کریم نے سے توفی اور رفع کا وعدہ فرمایا۔ اب اگر بقول مرزائیاں ا مطلب یہ ہوگا کہ یہودی مارنے کے درپے تھے۔ حضر کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا کہ میں تجھے مارنے والا ہ قرآن مجید میں اس جگہ موت کے معنی کرنے سے کلام محافظ حقیقی بھی مارنے پر آمادہ ہو چکا ہو اور حضرت مسیح موقع ہو سکتا تھا۔ پس اس جگہ موت کے معنی لینا قواعد ع کی قید کے ہوتے ہوئے کسی طرح جائز نہیں۔

نیز قرآن مجید میں توفی کے ساتھ رفع کا ذک الیہ“ کے مطابق رفع فتنہ صلیبی کے وقت ہوا۔ اگر یہود کا قول ”انا قتلنا المسيح“ ثابت ہوتا ہے۔

٩

صفحہ ٢٤١

یعنی نصاریٰ کا یہ گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو سات گھنٹہ مردہ رکھا اور پھر زندہ کر کے آسمان پر اٹھا لیا اور اس قول کے متعلق کہ ”انها من زعم النصارى “ یہ نصاریٰ کے گمان میں ہے اور ”ماھو الافتراء وبهتان عظیم “ اور یہ افتراء اور بہتان عظیم ہے۔

مفسرین کرام کا تو اتفاق ہے کہ: ” قال القرطبى والصحيح ان الله تعالى رفعه من غير وفاة ولا نوم كما قال الحسن وابن زيد وهو اختيار الطبری وهو الصحيح عن ابن عباس “

(تفسیر ابی السعود ج ٢ ص ٣٤)

یعنی حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو بغیر وفات اور نیند کے آسمان پر اٹھا لیا۔ جیسا کہ حضرت حسنؓ اور حضرت ابن زیدؓ نے کہا اور اسی کو علامہ ابن جریر طبریؒ نے اختیار کیا اور یہ معنی صحت کے ساتھ حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے۔

سبحان اللہ! مرزا قادیانی اور ان کے مقلدین مرزائیہ کے لئے مفسرین کرام کا یہ کتنا ناطق فیصلہ ہے۔ مگر وہ قوم جو خالق کے کلام سے منکر ہے وہ مخلوق کے کلام کو کیا جانے۔

ناظرین کرام! قابل غور یہ امر ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے درپے تھے۔ قتل کا سامان تیار تھا۔ اسی وقت خداوند کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تسلی کے لئے ان سے توفی اور رفع کا وعدہ فرمایا۔ اب اگر بقول مرزائیاں توفی کے معنی موت کے لئے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہودی مارنے کے درپے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے التجاء کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا کہ میں تجھے مارنے والا ہوں۔ بتائیے! اس میں کون سی تسلی ہے اور قرآن مجید میں اس جگہ موت کے معنی کرنے سے کلام میں کون سی خوبی پیدا ہوتی ہے۔ جب کہ محافظ حقیقی بھی مارنے پر آمادہ ہو چکا ہو اور حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے تسلی واطمینان کا کون سا موقع ہو سکتا تھا۔ پس اس جگہ موت کے معنی لینا قواعد عربیت، سیاق وسباق، قرآن مجید اور رافعک کی قید کے ہوتے ہوئے کسی طرح جائز نہیں۔

نیز قرآن مجید میں توفی کے ساتھ رفع کا ذکر ہے اور آیت مبارکہ ”بـــل رفـعـــه الله الیـــــه “ کے مطابق رفع فتنہ صلیبی کے وقت ہوا۔ اگر اس جگہ توفی کے معنی موت کے لئے جائیں تو یہود کا قول ”انـــا قتلنا المسيح “ ثابت ہوتا ہے۔ موت کا سامان اس وقت وہی تھا جو یہودیوں

٩

صفحہ ٢٤٣

نے اس وقت تیار کر رکھا تھا۔ اب اگر سوائے قتل کے موت کا اور ذریعہ تسلیم کیا جائے تب بھی ماننا پڑے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فتنہ صلیبی کے وقت فوت ہوگئے تھے۔ اس سے بزعم مرزا قادیانی کشمیر کی ٨٧ سالہ زندگی کا قصہ باطل ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ مرزائی حضرات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فتنہ صلیبی کے بعد کشمیر میں ٨٧ سال زندہ رہنے کے قائل ہیں۔

(دیکھو نور القرآن و راز حقیقت ص ٣٩، خزائن ج ١٤ص ٢٧٧ وغیرہ)

لہٰذا مرزائیوں کے عقیدہ کے مطابق بھی اس جگہ توفی کے معنی موت کے نہیں لئے جاسکتے۔ اگر لئے جائیں تو ٨٧ سالہ زندگی کہاں سے ثابت ہوگی؟ (خدارا سوچئے)

دوسری دلیل

مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے:

آنے والا ہے۔ جس کا نام عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔ جس قدر طریق متفرقہ کی رو سے احادیث نبویہ اس بارے میں مدون ہو چکی ہیں۔ ان سب کو یک جائی نظر کے ساتھ دیکھنے سے اس تواتر کی قوت اور طاقت ثابت ہوتی ہے۔“

(شہادت القرآن ص ٢، خزائن ج ٦ص ٢٩٨)

مریم اسی عصری وجود سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور پھر وہ کسی زمانہ میں آسمان سے اتریں گی۔“

(توضیح مرام ص ٣، خزائن ج ٣ص ٥٢)

کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جن کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔ ان دونوں کی نسبت عہد قدیم اور جدید کے بعد صحیفے بیان کررہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے۔ ان ہی کتابوں سے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔“

(توضیح مرام ص ٤، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

(مرادہ) لان اللّٰہ تعالیٰ اراد اخفائہ فغلب قضاءہ ومکرہ وابتلاءہ علی

١٠

الافہام فصرف وجوھہم عن الحقیقة الربا فكانوا بھا من القانعین وبقی ھذا الخبر مـ في السنبلة قرنا بعد قرن حتى جاء فاخبرنى ربى ان النزول روحانى لا جسما

(آئینہ کما

ترجمہ: نزول اپنے اصل مفہوم میں حق ہے سمجھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اخفاء کا ارادہ کیا۔ رہی۔ اس لئے ان کے دلوں کو حقیقت روحانی سے خیا قانع رہے اور یہ لکھی ہوئی خبر ان کے پاس خوشہ کے ا کہ ہمارا زمانہ آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ حقیقت ک نزول روحانی ہے جسمانی نہیں۔

کلہ (الصف:١٠)“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ د آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس د دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہی

حصیراً “ وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علی گے۔“

(حمام

کلہ“ اس آیت کی نسبت ان متقدمین کا اتفاق ہے موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔“

صفحہ ٢٤٣

الافهام فصرف وجوههم عن الحقيقة الروحانية الى الخيالات الجسمانية فكانوا بها من القانعين وبقى هذا الخبر مكتوباً مسطوراً عندهم كالحب فى فى السنبلة قرنا بعد قرن حتى جاء زماننا فكشف الله الحقيقة علينا فاخبرنى ربى ان النزول روحانى لا جسمانى“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٥٢، ٥٥٣ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ترجمہ : نزول اپنے اصل مفہوم میں حق ہے۔ لیکن مسلمانوں نے اس کی اصل مراد کو نہیں سمجھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اخفاء کا ارادہ کیا۔ پس اس کی تدبیر ابتلاء و قضا فہموں پر غالب رہی۔ اس نے ان کے دلوں کو حقیقت روحانی سے خیالات جسمانی کی طرف پھیر دیا اور وہ اسی پر قانع رہے اور یہ لکھی ہوئی خبر ان کے پاس خوشہ کے اندر دانہ کی طرح مخفی رہی۔ کئی زمانوں تک حتیٰ کہ ہمارا زمانہ آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ حقیقت کھول دی اور مجھے میرے رب نے خبر دی کہ نزول روحانی ہے جسمانی نہیں۔

كله (الصف : ٩) “ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

حصيراً “ وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور غضب اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٥٠٥، خزائن ج ١ ص ٦٠١)

كله “ اس آیت کی نسبت ان متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔“

(چشمہ معرفت ص ٨٣، خزائن ج ٢٣ ص ٩١)

١١

صفحہ ٢٤٤

کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آ گیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔ تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔"

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

ناظرین کرام! مندرجہ بالا عبارتوں پر غور کرنے سے حسب ذیل نتائج واضح ہوتے ہیں:

عقیدہ یہ رہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور ان کا یہ عقیدہ انہیں احادیث کی بناء پر تھا۔ جنہیں تواتر کا درجہ حاصل تھا۔ بائبل اور اخبار سے بھی اس عقیدہ کی تائید ہوتی ہے۔

(ملاحظہ ہو نمبر ٣)

اس کا ارادہ اخفاء کا تھا۔ اس کی قضا اور تدبیر غالب رہی۔ اس نے ان کے دلوں کو حقیقت روحانی کی طرف سے پھیر کر رفع جسمانی کی طرف کر دیا اور مرزا قادیانی کے زمانہ تک یہ حقیقت خوشہ کے اندر دانہ کی طرح مخفی رہی۔ پھر مرزا قادیانی کو الہام کے ذریعہ وفات مسیح کی حقیقت سے مطلع کیا گیا۔

(ملاحظہ ہو نمبر ٤)

کے عقیدہ کے پابند رہے۔ بلکہ قرآن مجید کی آیات سے بھی یہی سمجھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور مرزا قادیانی تو حیات مسیح علیہ السلام کا استدلال قرآن مجید سے دنیا کے سامنے پیش کرتے رہے۔ پھر ٥٢ سال کی عمر میں ان کو تواتر سے الہام ہوا۔ جس کی بناء پر انہوں نے عقیدہ تبدیل کر لیا۔

(ملاحظہ ہو نمبر ٥ تا ٨)

اب تمام بحث و تمحیص سے ثابت ہوا کہ قرآن مجید، احادیث نبویہ، آثار صحابہؓ، اقوال سلف صالحین اور اجماع امت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہوتی ہے۔ اسی لئے تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ رہا۔ مرزا قادیانی بھی قرآن وحدیث، آثار صحابہؓ، اقوال سلف صالحین اور اجماع امت کے ماتحت اسی عقیدہ کے پابند رہے۔ عالم قرآن ہو کر بھی انہیں قرآن سے بھی یہی

١٢

صفحہ ٢٤٥

عقیدہ صحیح معلوم ہوا۔ لہٰذا مرزائیوں کا کوئی حق نہیں کہ وفات مسیح علیہ السلام پر کوئی آیت، کوئی حدیث یا کوئی قول پیش کریں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو اقرار ہے کہ انہوں نے یہ عقیدہ صرف اپنے الہام کی بناء پر تبدیل کیا ہے۔ اس کے سوا عقیدہ کی تبدیلی کسی اور چیز پر مبنی نہیں ہے۔

یاد رکھیئے کہ مرزا قادیانی کا الہام مرزائیوں کے لئے تو حجت ہو سکتا ہے۔ مگر مسلمانوں کے لئے ان کا الہام حجت نہیں ہو سکتا۔ اب جو آیات مبارکہ مرزائی حضرات وفات حضرت مسیح علیہ السلام پر پیش کیا کرتے ہیں یہ پہلے بھی موجود تھیں۔ اگر ان کا تعلق کسی قسم کی وفات حضرت مسیح علیہ السلام سے ہوتا تو مرزا قادیانی ”الرحمن علم القرآن“ کا الہام پا کر قرآن مجید کی آیات مبارکہ کو حیات حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے بطور دلیل پیش نہ کرتے۔

مرزائی اعتراض

اوّل مرزا قادیانی کی یہ عبارتیں اس وقت کی ہیں جب کہ پہلے پہل مسلمانوں کے رسمی عقیدہ کے پابند تھے اور ان کا یہ عقیدہ الہام سے پہلے کا تھا۔ الہام کے بعد یہ عقیدہ منسوخ ہو گیا۔ جس طرح نبی کریم ﷺ پہلے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ لیکن جب وحی آ گئی تو بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے لگے۔ اسی طرح مرزا قادیانی بھی الہام کے پابند تھے۔

دیگر ! براہین احمدیہ دعویٰ نبوت سے پہلے کی ہے۔ اس کے بعد مرزا قادیانی کو الہام ہوا اور عقیدہ تبدیل کر لیا۔

الجواب

قرآن مجید، احادیث نبویہ، آثار صحابہؓ، اقوال سلف صالحین اور اجماع امت کی موجودگی میں مرزا قادیانی حیات حضرت مسیح علیہ السلام کے قائل رہے اور ان کے ذریعہ انہیں وفات مسیح علیہ السلام کا علم نہ ہو سکا۔ پس ہمارا مقصد بھی یہی ہے کہ مرزا قادیانی کے عقیدہ کی تبدیلی قرآن وحدیث کی بناء پر نہیں بلکہ الہام کی بناء پر ہوئی۔

پس مابہ النزاع امر صرف یہی رہا کہ آیا مرزا قادیانی دعویٰ اور الہام میں سچے تھے یا جھوٹے۔ تو سنئے ! حضور نبی کریم ﷺ کامل ومکمل شریعت لے کر آئے تھے۔ آپ ﷺ نے سابقہ شریعتوں کو منسوخ کر دیا۔ چونکہ سابقہ شریعتوں میں نماز بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی

١٣

صفحہ ٢٤٧

جاتی تھی۔ لیکن "فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ" کی آیت مبارکہ نازل ہونے سے سابقہ احکام منسوخ ہو گئے۔

اب مرزائی اعتراض سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی ناسخ شریعت محمدیہ تھے۔ یعنی جو امر شریعت محمدیہ سے ثابت تھا وہ مرزا قادیانی کے الہام سے بدل گیا۔ دوسرا امر یہ ہے کہ نسخ عقائد و اخبار میں بھی ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام پہلے زندہ تھے اور مرزا قادیانی پر الہام کے وقت فوت ہو گئے تھے؟ تیسرا امر یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی وہ نمازیں جن میں بیت المقدس کو قبلہ بنایا گیا تھا درست تھیں۔ اسی طرح مرزائیوں کو یہ ماننا پڑے گا کہ مرزا قادیانی کا عقیدہ الہام سے پہلے درست اور صحیح تھا۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود تھے۔ اس کے بعد اگر ان کی وفات ہوئی ہو تو اس کا بار ثبوت ان کے ذمہ ہوگا۔

دیگر بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا عملیات میں سے ہے۔ عقائد میں سے نہیں۔ ان میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ لیکن عقائد میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ مثلاً ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا ایک ہے۔ اگر ان کو الہام ہوتا کہ دو خدا ہیں۔ (نعوذ باللہ) تو کیا ہم دو خدا تسلیم کرتے؟

نیز مرزا قادیانی کے نزدیک حیاتِ مسیح علیہ السلام کا عقیدہ یہودیا نہ، مرتدانہ اور مشرکانہ عقیدہ ہے۔ (ملاحظہ ہو ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٢٣٦، تحفہ گولڑویہ ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٩٨، دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥) نیز مرزا قادیانی کے نزدیک حیاتِ مسیح علیہ السلام کا عقیدہ فاسدانہ عقیدہ ہے۔ (دیکھو تریاق القلوب ص ٣٧٥، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٥) حالانکہ سابقہ انبیاء میں سے کسی ایک کی مثال بھی نہیں ملتی کہ جو پہلے ان عقائد کا حامل رہا ہو ...... اور بعد میں نبوت کے عہدہ پر فائز ہو گیا ہو۔

ناظرین کرام! انبیاء کے آنے کی غرض و غایت ہی مشرکانہ عقائد کو مٹانا ہے۔ اگر وہ خود ہی (نعوذ باللہ) شرک میں مبتلا ہو جائیں تو ان کے آنے کا مقصد کیا؟

یاد رکھیے کہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا شرک نہ تھا۔ لہٰذا مرزائیوں کی یہ مثال بالکل بے محل ہے۔

دیگر! مرزا قادیانی بقول خود براہین احمدیہ کی تصنیف کے وقت نبی اور رسول تھے۔ (ایام الصلح ص ٧٥، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٩) ١٤

اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے مرضی کے مطابق تھا۔ کیونکہ فرمانِ الٰہی ہے کہ "وَمَا یُّوْحٰی" اس میں اجتہادی غلطی کا اثر نہیں ہو سکتا۔

نیز براہین احمدیہ کی تصنیف سے پہلے القرآن" یعنی خدا تعالیٰ نے تمام علومِ قرآن وما مور ہو کر بغرض اصلاح تالیف کی۔ (ملاحظہ ہو ا ص ٢٧، اور سرمہ چشم آریہ، خزائن ج ٢ ص ٣١٩) پھر دربار میں پیش ہو کر منظور ہوئی اور اس کا نام عا کتاب قطب ستارے کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم

نیز بقول مرزا قادیانی حضرت علی کرم

(ملاحظہ ہو

پس مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ سے لے کر ملہم و مامور اور نبی و رسول ہو کر براہین اکرم ﷺ کے دربار میں پیش ہو کر منظور ہو چکی ذیل مسائل ایسے تھے جو قطبی ستارے کی طرح غ علیہ السلام جیسا مشرکانہ عقیدہ اس میں کیسے باق سے آیات مبارکہ بھی نقل ہوئیں اور وہ آیات ( کرتے ہیں) مرزا قادیانی کی نگاہ سے غائب ر

اب مرزائیوں کے لئے دو راستے الہام اور علم قرآن وغیرہ میں کاذب اور جھوٹے مجید کی رو سے صحیح تسلیم کر لیں۔ کیونکہ اس عقید ہو چکی ہے اور وہ اسماء اسی کتاب میں درج ہے اور مستحکم ہیں۔

دیگر مرزائیوں کا یہ کہنا کہ مرزا ق

صفحہ ٢٤٤

اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے جو کچھ براہین احمدیہ میں لکھا تھا وہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق تھا۔ کیونکہ فرمانِ الٰہی ہے کہ ”وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحیٰ“ اس میں اجتہادی غلطی کا اثر نہیں ہو سکتا تھا۔

نیز براہین احمدیہ کی تصنیف سے پہلے مرزا قادیانی کو الہام ہوا تھا۔ ”الرحمٰن علّم القرآن“ یعنی خدا تعالیٰ نے تمام علومِ قرآن کا علم انہیں عطاء کیا تھا اور بقول خود مصنف نے ملہم و مامور ہو کر بغرضِ اصلاح تالیف کی۔ (ملاحظہ ہو اشتہار براہین احمدیہ ملحقہ آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج ٥ ص ٢٥٧ اور سرمہ چشم آریہ، خزائن ج ٢ ص ٣١٩) پھر یہ کتاب بقول مرزا قادیانی حضور اکرم ﷺ کے دربار میں پیش ہو کر منظور ہوئی اور اس کا نام عالمِ رؤیا میں قطبی رکھا گیا۔ اس مناسبت سے کہ یہ کتاب قطب ستارے کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے۔

(ملاحظہ ہو براہین احمدیہ حاشیہ ص ٢٤٨، خزائن ج ١ ص ٢٧٥)

نیز بقول مرزا قادیانی حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے انہیں کتاب تفسیر دی تھی۔

(ملاحظہ ہو براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٥٠٣، خزائن ج ١ ص ٥٩٩)

پس مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ سے علمِ قرآن سیکھ کر حضرت علی المرتضیٰؓ سے کتاب تفسیر لے کر ملہم و مامور اور نبی و رسول ہو کر براہین احمدیہ کو تالیف کیا اور بعد تالیف یہ کتاب حضور اکرم ﷺ کے دربار میں پیش ہو کر منظور ہو چکی اور اس کا نام قطبی رکھا گیا۔ کیونکہ اس میں مندرجہ ذیل مسائل ایسے تھے جو قطبی ستارے کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم تھے۔ پس تعجب ہے کہ حیاتِ مسیح علیہ السلام جیسا مشرکانہ عقیدہ اس میں کیسے باقی رہا اور اس مشرکانہ عقیدہ کی تائید میں قرآن مجید سے آیاتِ مبارکہ بھی نقل ہوئیں اور وہ آیات (جو اب مرزائی حضرات وفاتِ مسیح علیہ السلام پر پیش کرتے ہیں) مرزا قادیانی کی نگاہ سے غائب رہیں۔ خدارا سوچئے!

اب مرزائیوں کے لئے دو راستے ہیں یا تو تسلیم کر لیں کہ مرزا قادیانی اپنے دعاویٰ الہام اور علمِ قرآن وغیرہ میں کاذب اور جھوٹے تھے یا حیاتِ حضرت مسیح علیہ السلام کا عقیدہ قرآن مجید کی رو سے صحیح تسلیم کر لیں۔ کیونکہ اس عقیدہ پر قرآن مجید اور حضور اکرم ﷺ کی تصدیق حاصل ہو چکی ہے اور وہ اسماء اسی کتاب میں درج ہے جو بموجب الہام قطبی ستارے کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہیں۔

دیگر مرزائیوں کا یہ کہنا کہ مرزا قادیانی رسمی عقیدہ کے طور پر حیاتِ حضرت مسیح علیہ

١٥

صفحہ ٢٤٩

السلام کے قائل رہے ۔ یہ بھی دو وجوہ سے بالکل باطل ہے۔

اوّل ..... اس لئے کہ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں اپنا یہ عقیدہ ایک الہام کے ضمن میں بیان کیا ہے اور اس الہام کا مفاد یہ بتایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سیاسی حیثیت سے ان منکروں کی سرکوبی کے لئے دوبارہ تشریف لائیں گے۔

دوم ...... اس لئے کہ مرزا قادیانی نے رسمی عقیدہ کے طور پر تو لکھ دیا۔ لیکن جب یہ کتاب بقول مرزا قادیانی حضور اکرم ﷺ کے دربار میں پیش ہو کر قبولیت حاصل کر رہی تھی۔ کیا اس وقت یہ تمام بیانات جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات، رفع آسمانی اور نزول ثانی مرقوم تھے۔ ان کا اخراج عمل میں آیا تھا؟ حالانکہ ان بیانات کی موجودگی میں یہ کتاب حضور اکرم ﷺ سے تصدیق حاصل کر چکی ہے۔

الحاصل! براہین احمدیہ والا عقیدہ یقیناً صحیح ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کی آیات مبارکہ اس کی بناء ہیں۔ محض رسمی عقیدہ نہیں تھا اور احادیث صحیحہ اس کی تائید کرتی ہیں۔

تیسری دلیل

"قال سبحانه وتعالى ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ماتولى ونصله جهنم وساءت مصيرا (النساء:١١٥) " ﴿جو کوئی رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ اس پر ہدایت واضح اور ظاہر ہو چکی اور مومنوں کے رستے کے سوا دوسرے رستے کی پیروی کرے گا۔ ہم اسے اسی طرف پھیرے رکھیں گے۔ جس طرف وہ پھرا اور اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔﴾

ناظرین کرام! اس آیت مبارکہ میں حضور نبی کریم ﷺ کے طریقہ کی مخالفت کرنے والے ایک گروہ کی ایک علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ سبیل المومنین کے سوا کسی اور راستہ پر چلے گا اور ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم میں بتایا گیا ہے۔

چنانچہ مرزا قادیانی کو تسلیم ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے زمانہ سے لے کر تیرہ سو سال تک امت محمدیہ میں سے کسی شخص نے بھی وفات حضرت مسیح علیہ السلام کا اقرار نہیں کیا۔ بلکہ تمام امت محمدیہ کا حیات حضرت مسیح علیہ السلام پر اجماع رہا۔ جیسا کہ دوسری دلیل کے ضمن میں مرزا قادیانی کی کتابوں کے حوالوں سے ثابت کیا گیا ہے۔ پس حیات حضرت مسیح علیہ السلام کے خلاف عقیدہ

١٧

رکھنے والے حضرات اس آیت مبارکہ کے مطابق

چوتھی دلیل

"قال سبحانه وتعالى وما اختلفوا فيه (النحل:٦٤) " ﴿اور ہم نے ان کو کہ جس میں جھگڑ رہے ہیں۔﴾

"وانزلنا اليك الذكر لتبين اتارا ہم نے آپ کی طرف قرآن تاکہ آپ طرف ۔﴾

ناظرین کرام! اللہ تبارک وتعالیٰ گمراہی و بدعت کا قلع قمع فرمادیں اور قرآن سمجھائیں۔ اس لئے ناممکن تھا کہ حضور اکرم ﷺ یا گمراہی پھیلنے کا خطرہ ہو سکتا۔ حضور اکرم ﷺ عليكم " اور " رؤف ورحيم " فرمایا گیا۔

"علمك مالم تكن تعلم وكان اکرم ﷺ کے وسعت علم پر دال ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے بیشمار احاد نبویہ میں مسیح ابن مریم، عیسیٰ ابن مریم یا ابن م دفعہ بھی غلام احمد ابن چراغ بی بی نہیں فرمایا! ہے کہ کسی ضعیف سے ضعیف حدیث بلکہ کسی عیسیٰ علیہ السلام تو فوت ہو چکے ہیں۔ نزول

مرزائیو !

نہ خنجر اٹھے
یہ بازو مرے

ناظرین کرام! صحابہ کرامؓ جو د سنتے رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن م

صفحہ ٢٤٩

رکھنے والے حضرات اس آیت مبارکہ کے مطابق پکے گمراہ اور جہنمی ہیں۔

چوتھی دلیل

”قال سبحانه وتعالى وما انزلنا عليك الكتاب الا لتبين لهم الذى اختلفوا فيه (النحل:٦٤)“ ﴿اور ہم نے اتاری آپ پر کتاب اسی واسطے کہ کھول کر سنا دیں ان کو کہ جس میں جھگڑ رہے ہیں۔﴾

”وانزلنا اليك الذكر لتبين للناس ما نزل اليهم (النحل:٤٤)“ ﴿اور اتارا ہم نے آپ کی طرف قرآن تاکہ آپ بیان کردیں لوگوں کو جو کچھ نازل کیا گیا ان کی طرف۔﴾

ناظرین کرام! اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو دنیا میں اس لئے بھیجا تاکہ ہر گمراہی و بدعت کا قلع قمع فرمادیں اور قرآن مجید کی آیات مبارکہ کے مفہوم مطالب واضح کر کے سمجھائیں۔ اس لئے ناممکن تھا کہ حضور اکرم ﷺ کوئی ایسی بات فرماتے جس سے کسی قسم کی غلط فہمی یا گمراہی پھیلنے کا خطرہ ہوسکتا۔ حضور اکرم ﷺ کو قرآن مجید میں مؤمنین کے لئے ”حـــریـــص علیکم“ اور ”رؤف و رحیم“ فرمایا گیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ اپنی امت پر رفیق و شفیق تھے اور ”علمك مالم تكن تعلم وكان فضل الله عليك عظيما“ کی آیت مبارکہ حضور اکرم ﷺ کے وسعت علم پر دال ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے بیشمار احادیث میں فرمایا کہ مسیح ابن مریم نازل ہوگا۔ احادیث نبویہ میں مسیح ابن مریم، عیسیٰ ابن مریم یا ابن مریم تین قسم کے الفاظ موجود ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ایک دفعہ بھی غلام احمد ابن چراغ بی بی نہیں فرمایا؟ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے تھے تو کیا وجہ ہے کہ کسی ضعیف سے ضعیف حدیث بلکہ کسی موضوع حدیث میں بھی کسی صحابی کا یہ سوال کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو فوت ہوچکے ہیں۔ نزول مسیح سے کیا مراد ہے؟ منقول نہیں ہے۔

مرزائیو!

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار تم سے
یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں

ناظرین کرام! صحابہ کرام جو دین کے معاملہ میں بہت محتاط تھے، کیا وجہ ہے کہ تمام عمر یہ سنتے رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہوں گے۔ مگر کسی

١٧

صفحہ ٢٥٠

موقع پر بھی انہیں اس کی حقیقت معلوم کرنے کا اشتیاق پیدا نہ ہوا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور تمام صحابہ کرام کا عقیدہ یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہی آخری زمانہ میں نازل ہوں گے۔ دین ایک معمہ نہیں ہے اور حضور اکرم ﷺ نے اپنی امت کے سامنے معمے پیش نہیں کئے۔ بلکہ کھول کھول کر تمام مسائل بیان فرمائے ہیں۔

ناظرین کرام! مذکورہ دلائل (مشت نمونہ از خروارے) سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنی نبوت کی دھند سے پہلے قرآن، حدیث اور اجماع امت سے یہی سمجھتے رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں بجسدہ العنصری (بہ جسم خاکی) زندہ موجود ہیں۔ دوبارہ نزول فرمائیں گے اور یہ عبارات بصیغہ اخبار ہیں اور یہ مسئلہ قرآن، حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ اخبار میں نسخ ناجائز ہے۔ کیونکہ نسخ فی الاخبار کی حالت میں مخبر کی جہالت ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ تفسیر کبیر تحت آیت مبارکہ ”للہ ما فی السمٰوت وما فی الارض“ موجود ہے کہ ”ان نسخ الخبر لا يجوز انما الجائز هو نسخ الاوامر والنواهى“ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٣٧٣) پس عبارت مذکورہ سے بالصریح ثابت ہو گیا کہ نسخ فی الاخبار کسی صورت میں بھی جائز نہیں اور ایسے نسخ کی مثال قرآن اور حدیث سے ملنا محال ہے۔

پس حوالہ جات مذکورہ مرزا قادیانی سے بھی حیات مسیح ”الیٰ الان“ اور نزول ثانی من السماء ثابت ہے اور ان عبارات کو منسوخ کہنے سے جیسا کہ مرزائی صاحبان ہانکتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی جہالت اور بطالت اظہر من الشمس ثابت ہوتی ہے۔

خلاصۃ الکلام

آیات قرآنیہ، احادیث نبویہ واجماع امت اور اقوال مرزا قادیانی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بجسد خاکی آسمان کی طرف زندہ اٹھایا جانا اور ابھی تک آسمان میں زندہ رہنا اور اخیر زمانہ میں آسمان سے نازل ہونا روز روشن کی طرح ثابت ہے جو شخص حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات الیٰ الان اور آپ علیہ السلام کے نزول من السماء کا منکر ہے وہ دراصل قرآن، حدیث اور اجماع امت کا منکر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

فقط والسلام! خادم اسلام: ماسٹر محمد ابراہیم مڈھ رانجھا ضلع سرگودھا ٦؍دسمبر ١٩٦٣ء

١٨

PDF 252

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

لودھراں شہر میں

مرزائیوں کی یلغار

اور

مسلمانان لودھراں کی فریاد

حضرت مولانا محمد موسیٰ صاحبؒ لودھراں

صفحہ ٢٥٢

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم !

برادران اسلام اور ناظرین کرام! ہماری محترم حکومت پاکستان نے جب سے قادیانیوں کو غیر مسلم، مرتد اور کافر قرار دے کر دائرہ اسلام سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اسی روز سے ہی یہ مرزائی حکومت پاکستان اور مسلمانان عالم کے خلاف ہر وقت غلط پروپیگنڈہ اور سازشوں میں پہلے سے زیادہ مشغول ہیں اور شب و روز اشتعال انگیزی، فتنہ و فساد وغیرہ ان کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔ جیسا کہ بیرون ملک اسرائیل وغیرہ اور پاکستان کے تقریباً تمام شہروں میں ان کی شرارتیں وغیرہ اخبارات وغیرہ سے ظاہر ہیں اور اسی طرح لودھراں شہر کو بھی ان لوگوں نے اپنا قادیانی مرکز بنا دیا ہے۔ خاص طور پر سرکاری دفاتر تو ان کے تبلیغی اڈے ہیں۔ بلکہ تمام قادیانی منصوبے اور مشورے وغیرہ بھی ان سرکاری دفاتر ہی میں طے ہوتے ہیں اور یہ قادیانی افسران اپنے مسلمان ملازمین کو ہر وقت پریشان اور تنگ کرتے رہتے ہیں۔

اس پمفلٹ میں ان سرکاری محکموں کی تفصیل درج کی گئی ہے۔ جن میں مرزائی متعین ہیں اور اپنے مذہب کا پرچار کرتے ہیں۔

مرزائیت مارکیٹ کمیٹی و محکمہ زراعت میں

بھی ہے۔ صبح سے شام تک اپنے سرکاری دفتر میں خود مرزائیت کی تبلیغ کرتا ہے۔ جس کے ساتھ لودھراں، دنیا پور کا مرزائی اور قادیانی مربی بھی شریک ہوتا ہے۔ ان کی اس تبلیغ مرزائیت اور خلاف اسلام پروپیگنڈہ سے مسلمان ملازمین کے خصوصاً اور دوسرے مسلمانوں کے عموماً مذہبی عقائد مجروح ہوتے ہیں۔

اسی منظور احمد شریف نے اپنے ہم عقیدہ خلیل احمد قادیانی کا تبادلہ دنیا پور سے رکوا کر قادر بخش صاحب انسپکٹر کو دنیا پور بھیج دیا۔ کیونکہ قادر بخش مسلمان ہے اور اسی منظور احمد شریف نے

٢

صفحہ ٢٥٣

گذشتہ ایام میں ایک نیک نیت اور نیک سیرت چپڑاسی کو بھی برطرف کر دیا۔ کیونکہ وہ بھی ایک مسلمان ہے۔

وغیرہ کے چند مقدمات عدالت میں زیرسماعت بھی ہیں اور منظور احمد شریف غلط کاروائی سے افسران اعلیٰ کو ناجائز مشورہ دے کر اس کی مدد کر رہا ہے۔

اور مظفر احمد کے ساتھ مل کر مذکورہ بالا خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

مرزائیت میونسپل کمیٹی میں

ظہور الدین محمود چنگی جو کہ اپنی ڈیوٹی کے دوران قادیانی عقائد کی تبلیغ سے گریز نہیں کرتا اور قبل اس کے ملک محمد موسیٰ قادیانی بھی اپنی مرزائیت کی تبلیغ کرتا رہا ہے۔

مرزائیت ہسپتال میں

سول ہسپتال میں دائی محمودہ اور سنٹر ہسپتال میں بشریٰ مبارک بھی مسلمان عورتوں میں مرزائیت کا بہترین ذریعہ ہیں۔

مرزائیت نیشنل و خانیوال بینک میں

سیف اللہ سیفی قادیانی (جس کا والد تحصیلدار لودھراں بھی مرزائی تھا) کلرک نیشنل بینک اور عبدالستار قادیانی خانیوال بینک لودھراں میں بھی مرزائیت کے سرگرم کارکن ہیں۔

مرزائیت دستکاری سکول میں

مجیداں زوجہ احمد بخش سابق انسپکٹر پولیس قادیانی جو کہ دستکاری سکول میں مسلمان عورتوں اور بچیوں کو اپنے مرزائی عقائد کی ہر وقت دعوت دیتی رہتی ہے۔

مرزائیت ریلوے میں

مختیار احمد طارق ٹکٹ کلکٹر ، مقبول احمد خالد ٹرین کلرک ، یہ دونوں حقیقی بھائی قادیانی ہیں اور ان کے والد ہائی سکول کے سابق مدرس محمد عاشق بھی مرزائی اور قادیانی ہے۔ یہ دونوں بھائی

٣

صفحہ ٢٥٤

بھی ریلوے محکمہ میں مرزائیت کو فروغ دے رہے ہیں۔

مرزائیت خاندانی منصوبہ بندی میں

بشیر احمد ملک بھی اپنے ہم عقیدہ قادیانیوں کے ساتھ مل کر تمام کارروائی سرانجام دیتا ہے۔

مرزائیت گرلز ہائی سکول میں

لودھراں کے گرلز ہائی سکول میں امت اللہ پروین، مسرت پروین، منزہ پروین جو کہ حقیقی بہنیں اور دائی محمودہ کی لڑکیاں ہیں اور مقامی جماعت مرزائی کے مبلغ کی زوجہ نصرت جہاں یہ چاروں قادیانی عقیدہ رکھتی ہیں۔ چند روز ہوئے کہ ان چاروں نے حکومت پاکستان اور وزیر اعظم اور دوسرے تمام مسلمان عوام اور علماء کے خلاف ناشائستہ کلمات بھی سکول میں استعمال کئے ہیں۔ جن کے خلاف احتجاج کیا گیا اور قرارداد پاس کی گئی۔ مگر کچھ بھی اثر نہ ہوا۔

اس سے بڑھ کر نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ گرلز ہائی سکول میں مسلمان بچیوں کو دینیات کا سبق مقامی مربی عزیز احمد کی زوجہ نصرت جہاں پڑھاتی ہے اور دیگر تمام مضامین بھی پڑھاتی ہے اور جماعت انچارج بھی ہے۔

جب کہ نصرت جہاں مرتدہ کافرہ ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عقیدہ رکھتی ہے اور اس کا قرآن مجید اور احادیث رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول مانتی ہے اور خود اسلام کے خلاف ہے۔ اس کا دینیات پڑھانا درحقیقت مرزائیت کی تعلیم اور اسلام کے خلاف مسلمان بچیوں کا ذہن بدلنا ہے۔ مسلمانان لودھراں کو ایک چیلنج کرنے کے مترادف اور مسلمانوں کی غیرت اسلامی کو للکارنا ہے۔

نوٹ: علاقہ لودھراں میں مرزائیوں کے تقریباً ١٥، ١٦ خاندان اور گھر ہیں اور ملازمین کی تعداد مندرجہ بالا سولہ ہے۔ اگر تناسب آبادی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو تحصیل لودھراں میں ایک مرزائی ملازم بھی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ضلع ملتان میں صرف ایک مرزائی ملازم حقدار ہے۔

٤

PDF 256

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

فرقہ غلام احمدی

(مرزائیت)

کی حقیقت

حضرت مولانا محمد موسیٰ صاحب لودھراں

صفحہ ٢٥٦

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ وکفیٰ وسلام علیٰ عبادہ الذی اصطفیٰ خصوصاً علیٰ

سیدنا محمدن المجتبیٰ!

یوں تو مہدی بھی ہو عیسیٰ بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

دنیا میں بہت سے گمراہ فرقے پیدا ہوئے۔ لیکن مرزائی فرقہ عجیب معمہ ہے کہ اس کے دعوے اور عقیدے کا پتہ آج تک خود مرزائیوں کو بھی نہیں لگا۔ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کا وجود ایک معجون مرکب ہے۔ جس کا حل کرنا خود ان کی امت غلام احمدی کے لئے بھی مصیبت ہے اور مرزا قادیانی نے اپنی تصانیف میں جو کچھ اپنے متعلق لکھا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ تعین کرنا بھی دشوار ہے کہ مرزا قادیانی کیڑا ہیں یا اینٹ پتھر۔ مرد ہیں یا عورت، مسلمان ہیں یا ہندو، مہدی ہیں یا نبی۔ فرشتے ہیں یا دیو، ولی ہیں یا رسول، جیسا کہ مندرجہ رسالہ ہذا سے معلوم ہوتا ہے۔

مرزا قادیانی کی جماعت

”اور چاہئے کہ صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعا میں لگے رہیں۔“

(الوصیت ص ٨، خزائن ج ٢٠ ص ٣٠٦)

مرزا قادیانی کس جماعت کی بھلائی کے لئے کھڑا ہوا

”اور میں خادموں کی طرح اس کام کے لئے اسلامی جماعت ( قادیانی لاہوری وغیرہ) کے کمزوروں کے لئے کھڑا ہوا۔ کیونکہ میری دعوت کے قبول کرنے میں ان کے زن ومرد کی بھلائی ہے۔“

(نجم الہدیٰ ص ٤، خزائن ج ١٤ ص ١٨)

٢

صفحہ ٢٥٧

مرزا قادیانی کا اخلاق اور تہذیب اور تمام مسلمانوں پر سب وشتم

زمین کے رہنے والو تم ہرگز نہیں ہو آدمی
کوئی ہے روبہ کوئی خنزیر اور کوئی مار

(درثمین ص١٠٣)

”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔“

(نجم الہدیٰ ص١٠، خزائن ج١٤ ص٥٣)

مرزا قادیانی کی حقیقت انسانیت نہیں

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(درثمین ص١١٦، براہین احمدیہ ج٥ ص٩٧، خزائن ج٢١ ص١٢٧)

مرزائی مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے کہتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کا اور ہمارا خدا، رسول، قرآن، تمام انبیاء کی وحی، بیت اللہ، حجر اسود اور مکہ شریف ایک ہیں۔ ان میں سے کسی میں بھی اختلاف نہیں۔ بلکہ اتفاق ہے۔ حالانکہ یہ تمام اقوال غلط ہیں۔ اب ناظرین کے سامنے چند مختصر حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔ جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ لوگ جن کو خدا اور رسول وغیرہ کا مرتبہ دیتے ہیں اور ان پر ایمان رکھتے ہیں مسلمانوں کا ان میں سے کسی پر بھی ایمان نہیں ہے۔

مرزائیوں کا خدا

”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص٥٦٤، خزائن ج٥ ص٥٦٤)

”يوم يأتي ربك في ظلل من الغمام اس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا۔

٣

صفحہ ٢٥٩

یعنی انسانی مظہر (مرزا قادیانی) کے ذریعہ اپنا جلال ظاہر کرے گا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨)

مرزائی محمد رسول اللہ کس کو جانتے ہیں

”میں (مرزا قادیانی) احمد اور محمد ہوں۔“

(تریاق القلوب ص٤، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)

”اور میں رسول ہوں۔“

(نزول مسیح ص ٣ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١)

”پھر مجھے محمد ﷺ ٹھہرا کر ”تبت یدا ابی لھب وتب“ فرما دیا۔“

(نزول مسیح ص ١٥٢، خزائن ج ١٨ ص ٥٣٠)

مرزائیوں کا قرآن

”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“

(تذکرہ ص ٧٧)

مرزائیوں کی وحی لانے والا فرشتہ

”میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا میں نے اس کا نام پوچھا۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی ٹیچی۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)

مرزائیوں کا بیت اللہ

”خدا نے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٥ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٥)

مرزائیوں کا حجر اسود

”یکے پائے من مے بوسید و من میگفتم کہ حجر اسود منم“

(تذکرہ ص ٣٦، طبع سوم)

مرزائیوں کا حرم مکہ

زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین اردو ص ٥٢)

٤

مرزائیوں کی بہشت

”اور ایک جگہ (قادیان) مجھے دکھلائی

مرزا قادیانی کن کا بیٹا ہے

”خدا کا بیٹا ہوں۔“

”خدا کا نطفہ ہوں۔“

مرزا قادیانی کن کا باپ ہے

”میں خدا کا باپ ہوں۔“

”میرا بیٹا مثل خدا ہے۔ گویا خدا ہے

مرزا قادیانی کن کا مثل ہے

”خدا کی مانند ہوں۔“

”مثل ابوبکر ہوں۔“

مرزا قادیانی کس کا جانشین ہے

”خدا کا جانشین ہوں۔“

مرزا قادیانی کس سے بولتا ہے

”خدا کی روح سے بولتا ہوں۔“

مرزا قادیانی کی نسل

صفحہ ٢٥٩

مرزائیوں کی بہشت

”اور ایک جگہ (قادیان) مجھے دکھلائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا۔“

(الوصیت ص ١٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣١٦)

مرزا قادیانی کن کا بیٹا ہے

”خدا کا بیٹا ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

”خدا کا نطفہ ہوں۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٥)

مرزا قادیانی کن کا باپ ہے

”میں خدا کا باپ ہوں۔“

(حقیقت الوحی استفتاء ص ٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٦)

”میرا بیٹا مثل خدا ہے۔ گویا خدا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)

مرزا قادیانی کن کا مثل ہے

”خدا کی مانند ہوں۔“

(اربعین حاشیہ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)

”مثل ابوبکر ہوں۔“

(خطبہ الہامیہ ص ز، خزائن ج ١٦ ص ٣٢٩)

مرزا قادیانی کس کا جانشین ہے

”خدا کا جانشین ہوں۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٦، خزائن ج ١٧ ص ٦٢)

مرزا قادیانی کس سے بولتا ہے

”خدا کی روح سے بولتا ہوں۔“

(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)

مرزا قادیانی کی نسل

(تحفہ گولڑویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ١١٥)

(حقیقت الوحی ص ٧٧، خزائن ج ٢٢ ص ٨٠)

٥

صفحہ ٢٦١

(تحفہ گولڑویہ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ١١٨)

(تحفہ گولڑویہ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ١١٨)

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ١٢٧)

(اربعین نمبر ٤ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٦٥ حاشیہ)

(تریاق القلوب ص ١٥٩، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٧)

مرزا قادیانی نے کیا کیا دعویٰ کیا

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٢، تحفہ گولڑویہ ص ٩٨، نزول المسیح ص ٥)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٢، تحفہ گولڑویہ ص ٩٨، نزول المسیح ص ٥)

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)

(اربعین نمبر ٢ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٠)

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

(خطبہ الہامیہ ص ٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٦٠)

(خطبہ الہامیہ ص ذ، خزائن ج ١٦ ص ٣٤٤)

(خطبہ الہامیہ ص و، خزائن ج ١٦ ص ٣٤٣)

(نزول المسیح ص ٢١، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٩)

(حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

٦

صفحہ ٢٦١

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

(حقیقۃ الوحی حاشیہ ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

(نزول مسیح ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٦)

(نزول مسیح ص ٤ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢)

(نزول مسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

(تریاق القلوب ص ١٥٩، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٣)

٧

صفحہ ٢٦٢

(نزول المسیح ص ٤٨ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٦)

(اربعین نمبر ٤ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٢)

(خطبہ الہامیہ ص ٨، خزائن ج ١٦ ص ٧٠)

(ازالہ اوہام ص ١٥٤، خزائن ج ٣ ص ١٧٩)

(ازالہ اوہام ص ٣٩١، خزائن ج ٣ ص ١٢٢)

(تذکرۃ الشہادتین ص ٢، خزائن ج ٢٠ ص ٤)

(حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)

(حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٥)

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)

(نزول المسیح ص ١٠١، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٩)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

(تحفہ گولڑویہ ص ١٣١ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٣١٧ حاشیہ)

(تحفہ گولڑویہ ص ١٣١ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٣١٧)

(حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠١)

نوٹ: اگر کوئی مرزائی یہ ثابت کر دے کہ یہ حوالہ جات مرزا قادیانی کی کتب سے نہیں ہیں تو فی حوالہ یک صد روپیہ انعام۔

٨

PDF 264

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

مقام محمدیت

اور

دجل مرزائیت

حضرت مولانا محمد موسیٰ صاحبؒ لودھراں

صفحہ ٢٦٥

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ناظرین کرام ! چند روز ہوئے کہ قادیانیوں کی طرف سے ایک ٹریکٹ مقام محمدیت کے نام سے تقسیم کیا گیا ۔ جس میں بجز دجل وفریب کے اور کچھ بھی نہیں تھا ۔ لہٰذا سید الاولین ولآخرین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بلند مقام ختم نبوت کے متعلق دجل مرزائیت کا بیان خود مرزا قادیانی کی تحریرات کے رو سے نمبر وار ملاحظہ فرمائیں ۔

دعویٰ مرزا قادیانی

ٹریکٹ مطبوعہ ربوہ (چناب نگر)

”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“

(تذکرہ ص ٧٧)

”روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔“

”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول (غلام احمد ) بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

”تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول نہیں مگر محمد ﷺ۔“

”سچا شفیع میں (مرزا قادیانی) ہوں۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

”اب کوئی شفیع نہیں۔ مگر محمد مصطفیٰ ﷺ۔“

”آنحضرت ﷺ کے تین ہزار معجزات ہیں۔ (تحفہ گولڑویہ ص ٦٧، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) اور میرے نشان (معجزات) دس لاکھ سے زیادہ ہیں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)

”اس (نبی ﷺ) کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو۔“

”اس لئے اس (مرزا قادیانی) کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد کی نبوت آخر مجھ کو ہی ملی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٨)

”ہمارے سید و مولیٰ ﷺ سب سے اعلیٰ مرتبہ آسمان میں جس سے بڑھ کر اور کوئی مرتبہ نہیں۔“

منم مسیح زماں و منم کلیم خدا۔ منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد۔

(تریاق القلوب ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)

”اور اس کے نام محمد واحمد سے مسمی ہو کر میں ”ہم انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ وہی نبیوں کا سردار۔ رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا تاج جس کا نام محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ ہے۔“

٢

”اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء محمد ﷺ ہیں۔“ رسو میں اور

”یہ عربی نبی جس کا نام محمد ﷺ ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہاء معلوم نہیں ہو سکتا۔“ آ ف ڈ

”وہ مبارک حضرت خاتم الانبیاء ﷺ ہیں۔“

”اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے۔“

صفحہ ٢٦٥

رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج١٨ ص ٢١١) ”آنحضرتﷺ ہوں اور مجھے آنحضرتﷺ کا وجود قرار دیا گیا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج١٨ ص ٢١٢)

”اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید ومولیٰ سیدالانبیاء محمدﷺ ہیں۔“

”تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ میں منعکس ہیں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج١٨ ص ٢١٢) مرزا کے مرید نے مندرجہ ذیل اشعار خود مرزا کو سنائے تو مرزا نے پسند کیا۔

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٥/ اکتوبر ١٩٠٦ء)

”یہ عربی نبی جس کا نام محمدﷺ ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہاء معلوم نہیں ہوسکتا۔“

منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد۔

(تریاق القلوب ص٤، خزائن ج١٥ ص ١٣٢)

محمد واحمد کے نام سے مسمی ہوکر میں رسول ہوں۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص٧، خزائن ج١٨ ص ٢١١)

”وہ مبارک حضرت خاتم الانبیاءﷺ ہیں۔“

”آنحضرتﷺ ہوں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج١٨ ص ٢١٢) ”وہی خاتم الانبیاء ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج١٨ ص ٢١٢)

”اللہ جل شانہ نے آنحضرتﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے۔“

”یعنی محمدﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبیﷺ کے بعد کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔“

(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج٣ ص ٤٣١)

٣

صفحہ ٢٦٦

”خدا اس شخص سے پیار کرتا ہے جو اس کی کتاب قرآن شریف کو اپنا دستورالعمل قرار دیتا ہے۔“

”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“ (تذکرہ ص ٧٧) اس عبارت میں مرزا قادیانی نے اپنی کتب ہی کو قرآن کہا ہے۔

”خدا اس سے پیار کرتا ہے جو اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کو درحقیقت خاتم الانبیاء سمجھتا ہے۔“

”وہی خاتم الانبیاء ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

”نجات یافتہ کون ہے جو یقین رکھتا ہے کہ خدا سچ ہے۔“

”میں نے کشف میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور یقین کیا وہی ہوں۔“

(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

”جو یقین رکھتا ہے کہ محمد ﷺ شفیع ہے۔“

”سچا شفیع میں ہوں۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

”عقیدہ کی رو سے جو خدا تم سے چاہتا ہے کہ وہ یہی ہے کہ خدا ایک ہے۔“

”میں خدا ہوں۔ یقین کیا کہ وہی ہوں۔“

(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

”یہ عقیدہ بھی کہ محمد ﷺ اس کا نبی ہے اور خاتم الانبیاء ہے۔“

”وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

”میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)

”اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں۔ مگر وہی جس پر بروزی طور پر محمدیت کی چادر پہنائی گئی۔“

مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزہ پرندوں کے متعلق کہا کہ ان میں صرف ظلی، مجازی (بروزی) جھوٹی حیات نمودار ہو جاتی تھی۔

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٣١٨، خزائن ج ٣ ص ٢٦٢)

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے ظلی وغیرہ کو جھوٹی حیات قرار دے کر اپنی نبوت ظلی بروزی کو بھی جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔

خاتم کی عدا مرزا غا سزا او حضرت مولانا مح

PDF 268

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

سچا آخر کا نبی طوبیٰ جسے ہو باوری

خاتم الانبیاء

کی عدالت میں

مرزا غلام احمد کو

سزا اور حقیقت

حضرت مولانا محمد موسیٰ صاحبؒ لودھراں

صفحہ ٩

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قارئین کرام! آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے اسلام کے خلاف ایک نئے فرقہ کی بنیاد رکھی اور اس فرقہ کا امام، نبی، رسول، مہدی، کرشن وغیرہ بن کر مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہوا۔ اپنی جماعت کے ارکان کو بھی مرتد اور گمراہ کیا۔ ان لوگوں کی ہدایت کے لئے یہ رسالہ ترتیب دیا گیا ہے تا کہ یہ لوگ مرزا قادیانی کی تحریرات کو پڑھ کر اسلام میں داخل ہوں۔ مرزا اور اس کی امت مرتدہ کو چھوڑ دیں۔ اگر ان حوالہ جات کو دیکھ کر بھی مرزائیت کو ترک نہ کیا تو یہ ان کی بدبختی اور بے وقوفی ہی ہوگی نہ کہ عقلمندی۔ اولاً مرزا قادیانی کا ایک تحریری الہام نقل کیا جاتا ہے تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ مرزا دین اسلام کا کس قدر خیر خواہ یا بدخواہ تھا؟

آنجہانی مرزا قادیانی اور دین کی جڑیں

مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ ایک بار مجھے الہام ہوا کہ کوئی شخص میری طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ:

”یہ شخص دین کی جڑ اکھاڑتا ہے۔“

(ملفوظات ج٣ ص٧٢)

مرزا غلام احمد قادیانی کے الہام سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی اسلام کی جڑ کاٹ رہا ہے اور اپنی امت کو بھی اسی کام پر معمور کیا ہوا ہے۔ عقلمند آدمی اس الہام کے بعد توبہ کرے گا۔

آنحضرت ﷺ کی عدالت میں آنجہانی مرزا قادیانی

آپ حضرات کے سامنے مرزا کی کتاب ”تحفہ گولڑویہ“ سے ایک خواب نقل کرتے ہیں جس سے مرزا کے متعلق آپ اندازہ فرمالیں گے کہ حضور علیہ السلام کے نزدیک مرزا کیا ہے؟ ملاحظہ فرمائیں:

مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”ایک بزرگ اپنے ایک واجب التعظیم مرشد کا ایک خواب جس کو اس زمانہ کا قطب الاقطاب اور امام الابدال خیال کرتے ہیں۔ یہ بیان کیا کہ انہوں نے اپنے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ تخت پر جلوہ افروز تھے۔ گرد اگرد تمام علمائے پنجاب اور ہندوستان گویا بڑی تعظیم کے ساتھ کرسیوں پر بٹھائے گئے تھے۔ اور تب شخص جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کہلاتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے آکھڑا ہوا جو نہایت کریہہ شکل اور میلے کچیلے کپڑوں میں تھا آپؐ نے فرمایا یہ کون ہے۔ تب ایک عالم ربانی اٹھا شاید محمود شاہ یا محمد علی بوپڑی اور عرض کیا کہ یا حضرت یہی شخص مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔

٢

آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو دجال ہے۔ تب آپؐ شروع ہوئے کہ جن کا کچھ حساب اور اندازہ نہ بہت تعریف کی۔ جنہوں نے اس شخص کو کافر اور د کہ یہ ہیں میرے علمائے ربانی جن کے وجود سے

محترم حضرات! آپ نے مرزا کا تعل نے مرزا قادیانی کو دجال فرمایا اور اپنی موجو مرزائیت ترک نہ کرے۔ بلکہ دجال کو مان کر د لے کہ وہ بھی بمعہ اپنے دجال غلام قادیانی کے بھائیو! اگر کچھ عقل ہے تو مرزائیت کو چھوڑ کر اسلا ناظرین کرام! مرزا غلام احمد قادیان ص٢٢٨) پر لکھا ہے کہ: ”میں ہندؤوں کے لئے کہ ہندو اپنے مذہب کو دھرم کہتے ہیں اور گناہ اس کے مذہب کو دھرم، گناہ کو پاپ اور غسل ک میں سوال جواب کی بجائے مسلمان اور قادیانی (حضرت مولانا محمد موسیٰ صاحب) عفا

مسلمان اور قادیانی کی گفتگو

مسلمان....... ایک شخص سے سوال کرتا ہے کہ آ قادیانی....... جواب دیتا ہے کہ: ”میں قادیانی مسلمان....... قادیانی اور احمدی کس کو کہتے ہیں قادیانی....... جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو جاتا ہے۔ مسلمان....... مرزا غلام احمد کون تھا اور کہاں پ قادیانی....... مرزا غلام احمد، مرزا غلام مرتضیٰ پیدا ہوا۔

صفحہ ٢٦٩

آپﷺ نے فرمایا یہ تو دجال ہے۔ تب آپﷺ کے فرمانے پر اس کے سر پر جوتے برسنے شروع ہوئے کہ جن کا کچھ حساب اور اندازہ نہ تھا۔ نیز آپ نے ان تمام علماء پنجاب اور ہند کی بہت تعریف کی۔ جنہوں نے اس شخص کو کافر اور دجال ٹھہرایا۔ اور آپ بار بار پیار کرتے اور فرماتے کہ یہ ہیں میرے علمائے ربانی جن کے وجود سے مجھے فخر ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٣، خزائن ج١٧ ص ١٧٦)

محترم حضرات! آپ نے مرزا کا نقل کردہ خواب مبارک ملاحظہ فرمایا کہ نبی علیہ السلام نے مرزا قادیانی کو دجال فرمایا اور اپنی موجودگی میں جوتوں کی سزا بھی دلائی۔ اب بھی کوئی مرزائیت ترک نہ کرے۔ بلکہ دجال کو مان کر دجالی بنے اور دجال کے فرقہ میں داخل رہے تو سمجھ لے کہ وہ بھی بمعہ اپنے دجال غلام قادیانی کے جہنم میں جائے گا۔ جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ بھائیو! اگر کچھ عقل ہے تو مرزائیت کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو جاؤ۔

ناظرین کرام! مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (لیکچر سیالکوٹ ص ٢٦، خزائن ج٢٠ ص ٢٢٨) پر لکھا ہے کہ: ”میں ہندوؤں کے لئے اوتار اور راجہ کرشن ہوں۔“ آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ ہندو اپنے مذہب کو دھرم کہتے ہیں اور گناہ کو پاپ۔ لہٰذا اس رسالہ میں بعض جگہ مرزا کو کرشن اور اس کے مذہب کو دھرم، گناہ کو پاپ اور غسل کو اشنان کے لفظ سے تعبیر کیا جائے گا۔ اور اس رسالہ میں سوال جواب کی بجائے مسلمان اور قادیانی کہا جائے گا۔ احقر الانام: (حضرت مولانا محمد موسیٰ صاحب عفا اللہ عنہ، مہتمم مدرسہ خیر العلوم حسینیہ لودھراں (ملتان))

مسلمان اور قادیانی کی گفتگو

مسلمان...... ایک شخص سے سوال کرتا ہے کہ آپ کون ہیں؟ قادیانی...... جواب دیتا ہے کہ: ”میں قادیانی احمدی اور مرزائی ہوں“ مسلمان...... قادیانی اور احمدی کس کو کہتے ہیں؟ قادیانی...... جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی، رسول اور مہدی وغیرہ مانے اسکو احمدی قادیانی کہا جاتا ہے۔ مسلمان...... مرزا غلام احمد کون تھا اور کہاں پیدا ہوا؟ قادیانی...... مرزا غلام احمد، مرزا غلام مرتضیٰ کا بیٹا تھا۔ ہندوستان کے شہر قادیان ضلع گورداسپور میں پیدا ہوا۔

٣

صفحہ ٢٧٠

مسلمان ...... مرزا قادیانی کس قوم اور نسل سے تھا؟

قادیانی ...... مرزا قادیانی کی ایک نسل نہیں بلکہ بے شمار نسلوں سے آپ کا وجود ہوا۔

مسلمان ...... ایک انسان جب ایک ہی نسل سے ہو تو حلالی اگر ایک باپ اور ایک نسل سے نہ ہو بلکہ بیشمار نسلوں کا مرکب ہو تو وہ حلالی نہ ہوا۔ کیا مرزا نے کسی اپنی کتاب میں اپنے سلسلۂ نسب کے متعلق تحریر کیا ہے؟

قادیانی ...... ہاں اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا ایک شعر ملاحظہ فرماویں۔

میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)

مرزا قادیانی مزید کہتے ہیں کہ میں :

”چینی الاصل ہوں“

(چشمہ معرفت ص ٣١٦، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣١)

”اسرائیلی ہوں“

(تحفہ گولڑویہ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ١١٨)

”فارسی الاصل ہوں“

(چشمہ معرفت ص ٣١٦، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣١)

مسلمان ...... جب کہ مرزا قادیانی کی ایک نسل نہیں تو مرزا کو کیا کہا جائے گا؟

قادیانی ...... اس کے متعلق مرزا قادیانی نے خود لکھا ہے کہ میں

”معجون مرکب ہوں ۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٩، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٧)

”مرکب الوجود بھی ہوں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ١١٨)

مسلمان ...... کیا مرزا قادیانی حشرات الارض کی نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔

قادیانی ...... اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں۔

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧)

فائدہ ...... اس شعر میں مرزا کرشن قادیانی نے زمین کی گندگی کا کیڑا ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ مگر انسان ہونے کا انکار کیا ہے بلکہ حیوانات میں سے اپنی نسل ثابت کی ہے۔ مزید یہ کہ انسان کی جائے نفرت یعنی انسان کی وہ چیز جس کا نام ...... لینے میں مجھے کیا ہر شریف انسان کو شرم و حیا آتی ہے۔

صفحہ ٢٧١

مسلمان...... مرزا کرشن قادیانی کی ولادت کس طرح ہوئی ؟ قادیانی...... مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ ”میری ولادت اس طرح ہوئی کہ میرے ساتھ ایک لڑکی بھی پیدا ہوئی جس کا نام جنت تھا۔ پہلے وہ نکلی بعد میں میں نکلا۔“

(تریاق القلوب ص ٣٥١، خزائن ج ١٥ص٤٧٩)

”اور میرا سر اس دختر کے پیروں سے ملا ہوا تھا۔“

(تریاق القلوب ص ٣٥٢، خزائن ج ١٥ص٤٨٢)

فائدہ ...... مرزا قادیانی کے بیان اور تہذیب پر غور فرمائیں کہ: ”پہلے وہ نکلی بعد میں میں نکلا۔“ کیا یہ دونوں اس میں داخل کئے گئے تھے کہ ماں کی خاص جگہ سے نکلے اور مرزا نے اپنے سر کے زور سے اپنی بہن کو بلڈوزر کی طرح دھکیل کر باہر نکالا۔ مرزا اپنی ماں چراغ بی بی کی شرمگاہ کو بھی دیکھ رہے تھے؟ بلکہ اس خاص مقام کا غور سے مشاہدہ کیا اس سے بڑھ کر اور کون سی بے حیائی اور بے شرمی ہو سکتی ہے؟ مرزا کو ماننے والے بہت ہی بے شرم، بے حیاء اور بے غیرت ہیں کہ ایسے شخص کو نبی، رسول اور مہدی مانتے ہیں۔

مسلمان...... مرزا کرشن قادیانی کس لیاقت کا مالک تھا؟ قادیانی...... مرزا قادیانی کی لیاقت ان اپنے ہی درج ذیل شعر سے عیاں ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتے قبول
میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگہ میں بار

(براہین احمدیہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ص١١٧)

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی شریر بھی تھا؟ قادیانی...... اس کے جواب میں مرزا قادیانی کا ایک شعر حاضر ہے۔

پھر یہ عجب غفلت رب قدیر ہے
دیکھے ہے ایک کو کہ وہ ایسا شریر ہے

(نصرت الحق ص ١١، خزائن ج ٢١ص ٤١)

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی بدکار بھی تھے؟ قادیانی...... مرزا قادیانی کے فارسی کلام میں اس سوال کا یوں جواب ملتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔

٥

صفحہ ٢٧٢
پارہ پارہ کن من بدکار را
شاد کن ایں زمرہ اغیار را

(حقیقۃ المہدی ص ٨، خزائن ج ١٤ ص ٤٣٢)

آنجہانی مرزا کرشن قادیانی مرد تھا یا عورت:

مسلمان ...... مرزا غلام احمد قادیانی کو ہم مرد جانتے ہیں۔ کیا وہ مرد تھا یا عورت؟ قادیانی ...... مرزا قادیانی نے مسمات مریم ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے کہ: ”اوائل میں میرا نام مریم رکھا گیا۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٨٤، خزائن ج ١ ص ١١٠)

مسلمان ...... کیا امت مرزائیہ کی یہ نبیہ کنواری لڑکی تھی؟ قادیانی ...... آپ کے اس سوال کا جواب مرزا قادیانی کے درج ذیل فارسی کلام میں ہے۔

ہم چوں بکرے یافتم نشو و نما
از رفیق راہ حق نا آشنا !

یعنی کنواری لڑکی کی طرح پرورش پائی۔

(حقیقۃ الوحی ص ٣٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٢)

امت مرزائیہ کی نبیہ کو حیض

مسلمان ...... جب کہ نبیہ مریم ہے تو کیا بوقت بلوغ حیض بھی آیا؟ قادیانی ...... اللہ تعالیٰ نے مرزائیہ صاحبہ کو فرمایا کہ: ”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے۔ تجھ (مرزا قادیانی) میں حیض نہیں بلکہ بچہ ہو گیا ہے جو کہ بمنزلہ اطفال اللہ یعنی خدا کا بیٹا ہے۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

فائدہ ...... ہر امتی اپنے نبی کی سنت پر عمل کرتا ہے۔ تو امت مرزائیہ کے ہر مرد کو بھی حیض آنا لازم ہے تاکہ اپنی نبیہ کے پورے پیروکار اور متبع ثابت ہو کر ثواب حاصل کریں۔

امت مرزائیہ کی نبیہ سے قوت رجولیت

مسلمان ...... ہر لڑکی کا بوقت بلوغ کسی مرد سے نکاح کر دیا جاتا ہے۔ کیا امت مرزائیہ کی مسماۃ نبیہ کا کسی سے ازدواجی تعلق قائم ہوا؟ قادیانی ...... مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید فرماتے ہیں کہ: ”حضرت (مرزا قادیانی) نے ایک موقع پر اپنی حالت کا یوں اظہار فرمایا کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے (مرزا صاحبہ سے) رجولیت کی قوت کا (یعنی جماع کا) اظہار

٦

صفحہ ٢٧٣

فرمایا۔"

(اسلامی قربانی ص ١٢)

فائدہ ...... امت مرزائیہ کے مردوں پر لازم ہے کہ مرزا صاحبہ کی سنت کے مطابق کسی مرد سے قوت رجولیت کا شرف حاصل کیا کریں تاکہ کرشن قادیانی کے دھرم کے مطابق پن یعنی ثواب کے مستحق ہوں، نیز اگر کسی عورت کا نکاح کسی مرد سے گواہوں کی موجودگی میں پڑھا جائے اور وہ مرد جماع کرے تو حلال ورنہ حرام اور زنا ہوتا ہے۔ امت مرزائیہ کی نبیہ سے اللہ تعالیٰ نے رجولیت کا اظہار فرمایا تو کیا یہ نکاح ہوا تھا اور گواہ بھی تھے یا نہ؟ اس کا ثبوت اور گواہان کے نام بتائیں۔ (العیاذ باللہ)

امت مرزائیہ کی نبیہ کو حمل

مسلمان ...... جب کہ مرزائیوں کی نبیہ سے جماع کیا گیا تو کیا حمل کا شرف بھی حاصل ہوا؟ قادیانی ...... مسماۃ زوجہ خداوند قدوس (العیاذ باللہ ) لکھتی ہے کہ : ”مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا۔ بالآخر کئی ماہ کے بعد جو دس ١٠ ماہ سے زیادہ نہیں۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

مسلمان ...... کیا امت مرزائیہ کی نبیہ کو دردزہ بھی ہوا؟ قادیانی ...... مسماۃ مرزابی بی لکھتی ہے کہ : ”پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے درد زہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی۔"

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥١)

مسلمان ...... کیا امت مرزائیہ کی نبیہ نے بچہ بھی جنا؟ اگر جنا تو اس کا کیا نام رکھا گیا؟ قادیانی ...... مسماۃ بیگم نبیہ لکھتی ہے کہ: ”وہ عیسیٰ جو مریم (مرزا قادیانی) کے پیٹ میں تھا۔ وہ عیسیٰ (خود مرزا قادیانی) پیدا ہو گیا۔ اس لحاظ سے عیسیٰ بن مریم کہلایا۔“

(کشتی نوح ص ٤٥، خزائن ج ١٩ ص ٤٩)

مسلمان ...... کیا امت مرزائیہ کی نبیہ مسمات مرزا بیگم صاحبہ اپنے سے آپ پیدا ہو کر عیسیٰ بن مریم کہلائی؟ قادیانی ...... قادیان کی یہ خاتون لکھتی ہے کہ : ”گویا مریمی حالت سے عیسیٰ پیدا ہو گیا۔ اس طرح میں خدا کے کلام میں مریم کہلایا۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٣٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٠)

فائدہ ...... امت مرزائیہ کے مردوں کو بھی اپنی نبیہ کی طرح حیض، حمل، دردزہ کا ہونا اور بچہ جننا لازم ہے تاکہ اس کی سنت پر عمل پیرا ہو سکیں۔ نیز اپنے دھرم کے خلاف پاپ کے مستحق نہ ہوں مزید یہ کہ مرزا قادیانی نے اپنے سے آپ پیدا ہو کر اپنی امت کو بیوقوف اور احمق بنایا اور عورتوں کی تمام صفات سے متصف ہو کر گرگٹ کی طرح مختلف رنگوں سے رنگین ہوا۔ معلوم نہیں کہ مرزا کی اپنی

٧

صفحہ ٢٧٥

عورتوں کو کیوں کر آباد رکھتے ہیں۔ جب کہ ان کا کام تو بغیر عورتوں کے ہی چل سکتا ہے اور یہ بھی معلوم نہیں کہ بوقت دروزہ کسی دائی یا لیڈی ڈاکٹر نے اس خدمت کو سرانجام دیا کیا اب بھی کوئی مرد مرزائی لیڈی ڈاکٹر کو رات کے وقت اس خدمت کے لئے بلائے تو مرزا صاحبہ کی سنت کے مطابق وہ آئے گی تاکہ اس خدمت سے بہت بڑے پن سے مستفید ہو۔؟

مسلمان....... جب کہ اللہ تعالیٰ نے (العیاذ باللہ ) مرزا قادیانی سے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا تو مرزا خدا کی بیوی ہوئی اور جب خود ہی اس حمل سے پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بھی ہوا؟ قادیانی....... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ خدا چاہتا ہے کہ وہ لڑکا جو اس خون (حیض) سے بنا میرے (قوت رجولیت سے پیدا ہوا) اس لئے ”تو (اے مرزا قادیانی ) مجھ سے بمنزلہ اولاد کے ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)

وہ بچہ جو خون حیض سے پیدا ہوا بمنزلہ اطفال اللہ (اللہ کا بیٹا ہے )

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

فائدہ....... مرزا قادیانی خدا کی بیوی، خدا کا بیٹا، خدا کا نبی ورسول اور لوگوں کے سامنے مرد وعورت، گندگی کا کیڑا وغیرہ ہو کر اپنی امت کو بیوقوف بنا کر گمراہ اور مرتد کیا۔ جن کی نہ عقل رہی اور نہ ہی شکل بلکہ ”کالانعام بل هم اضل“ ہو کر جہنم کا حقدار ہوا۔

آنجہانی مرزا قادیانی کے اوصاف

مسلمان....... قادیانی کتے نے جب مرزا کا کھانا کھایا تو مرزا کہاں تھا؟ قادیانی....... مرزا قادیانی لکھ رہے تھے کہ: ”خادمہ نے کھانا لا کر سامنے رکھ کر کہا کہ کھانا حاضر ہے۔ آپ نے کہا کہ خوب کیا مجھے بھوک لگ رہی تھی۔ پھر لکھنے میں مصروف ہو گئے اتنے میں (قادیانی) کتا آیا اور بڑی فراغت سے سامنے بیٹھ کر کھانا کھایا اور برتنوں کو خوب صاف کیا (تاکہ آئندہ مرزا قادیانی ان برتنوں میں کھانا کھائیں) اور بڑے سکون اور وقار سے (مرزا قادیانی سے) چلا گیا۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٦، ١٧، از عبدالکریم قادیانی سیالکوٹی)

فائدہ....... مرزا قادیانی ایسا اندھا تھا کہ کتا اس کے سامنے رکھا ہوا کھانا کھاتا رہا مگر اس کو نظر نہ آیا؟ ”وهم لا يعقلون اور وهم لا يشعرون“

آنجہانی مرزا قادیانی کی سنت

مسلمان....... کھانا کھانے کی سنت قادیانی کیا ہے؟

٨

قادیانی....... مرزا قادیانی ”صرف روکھی روٹی کا نوالہ پا میں تر کر کے زبان سے چھوا دیا کرتے تاکہ لقمہ نمکین ہو جا فائدہ....... امت مرزائیہ مرزا کی اس سنت پر عمل کریں تو پاپ کے مستحق ہو کر گنگا کا اشنان لازم ہو جائے گا۔

آنجہانی مرزا قادیانی کا سالن

مسلمان....... مرزا کرشن قادیانی روٹی پر کیا رکھ کر کھایا کرتے قادیانی....... مرزا قادیانی نے ”اپنی والدہ صاحبہ سے ما کوئی چیز شاید گڑ بتایا لے لو۔ حضرت نے کہا نہیں یہ حضرت صاحب نے پھر وہی جواب دیا۔ وہ اس وقت تو جاڑ راکھ سے روٹی کھالو تو حضرت صاحب روٹی پر راکھ رکھ

فائدہ....... مرزا قادیانی نے اپنی روٹی پر جو راکھ رکھی تھ گھوڑا، گائے، بھینس گوبر سے تھی۔ جو کہ امت مرزائی میں ان کو ثواب ملتا ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور خراب کھانا

مسلمان....... خراب، گندے اور بے کار کھانے میں مز قادیانی....... مرزا قادیانی کی بیوی نے چاول پکائے جو خراب ہو گئے۔ جب مرزا قادیانی نے ”یہ چاول آ مزاج کے مطابق ہیں اور مجھے زیادہ گڑ والے چاول پس فائدہ....... چاولوں میں چار گنا گڑ کسی انسان کے لی سکتا ہے۔ بلکہ یہ خراب اور بیکار ہوتے ہیں۔ مگر حیوا بچہ جنتی ہے تو اس کو تقریباً اتنا ہی گڑ کھلاتے ہیں۔ ممکن اس وقت یہ کھایا ہو۔ اتنا گڑ جانور کو اس لئے کھلایا اتنا گڑ استعمال کیا تا کہ اپنی امت مرزائیہ کو اتنا بدھو ب

ولا قوة الا بالله!

صفحہ ٢٧٥

قادیانی......مرزا قادیانی ”صرف روکھی روٹی کا نوالہ منہ میں ڈال لیا کرتے اور پھر انگلی کا سر شوربہ میں تر کر کے زبان سے چھوا دیا کرتے تاکہ لقمہ نمکین ہو جائے۔“

(سیرت المہدی ص ١٣١ ج٢)

فائدہ......امت مرزائیہ مرزا کی اس سنت پر عمل کریں ورنہ مرزا کرشن قادیانی کے دھرم کے مطابق پاپ کے مستحق ہو کر گنگا کا اشنان لازم ہو جائے گا۔

آنجہانی مرزا قادیانی کا سالن

مسلمان......مرزا کرشن قادیانی روٹی پر کیا رکھ کر کھایا کرتے تھے جو کہ سنت قادیانی ہے؟

قادیانی......مرزا قادیانی نے ”اپنی والدہ صاحبہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا۔ انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا لے لو۔ حضرت نے کہا نہیں یہ میں نہیں لیتا۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی حضرت صاحب نے پھر وہی جواب دیا۔ وہ اس وقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھی سختی سے کہا کہ جاؤ راکھ سے روٹی کھا لو تو حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے۔“

(سیرت المہدی ج١ ص ٢٤٥)

فائدہ......مرزا قادیانی نے اپنی روٹی پر جو راکھ رکھی تھی نا معلوم کس جانور کے گوبر سے تھی گدھا، گھوڑا، گائے، بھینس گوبر سے تھی۔ جو کہ امت مرزائیہ کے لئے متبرک تحفہ ہے جس کے کھانے میں ان کو ثواب ملتا ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور خراب کھانا

مسلمان......خراب، گندے اور بے کار کھانے میں سنت قادیانی کیا ہے؟

قادیانی......مرزا قادیانی کی بیوی نے چاول پکائے جس میں چار گنا گڑ ڈال دیا جس سے چاول خراب ہو گئے۔ جب مرزا قادیانی نے ”یہ چاول کھائے تو کہا یہ بہت ہی اچھے ہیں اور میرے مزاج کے مطابق ہیں اور مجھے زیادہ گڑ والے چاول ہی پسند ہیں۔“

(ذکر حبیب مبارک احمد ص ١٣)

فائدہ......چاولوں میں چار گنا گڑ کسی انسان کے استعمال کے قابل نہیں رہتا اور نہ ہی انسان کھا سکتا ہے۔ بلکہ یہ خراب اور بیکار ہوتے ہیں۔ مگر حیوانات میں سے گائے، بھینس، بکری وغیرہ جب بچہ جنتی ہے تو اس کو تقریباً اتنا ہی گڑ کھلاتے ہیں۔ ممکن ہے کہ مرزا قادیانی نے جس وقت بچہ جنا تھا اس وقت یہ کھایا ہو۔ اتنا گڑ جانور کو اس لئے کھلاتے ہیں تاکہ دودھ زیادہ دے۔ مرزا قادیانی نے اتنا گڑ استعمال کیا تاکہ اپنی امت مرزائیہ کو اتنا دودھ دے کہ ان سب کو پورا ہو جائے؟ لا حول ولا قوۃ الا باللہ!

صفحہ ٢٧٦

آنجہانی مرزا قادیانی کے کھانا کھانے کی سنت

مسلمان ...... مرزا کرشن قادیانی کی سنت کھانا بیٹھ کر کھانا سنت ہے یا کھڑے ہو کر؟ قادیانی ...... مرزا قادیانی کی سنت چلتے پھرتے کھانا سنت ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو ”پکوڑے بڑے پسند تھے مسجد میں منگا کر ٹہلتے ٹہلتے کھایا کرتے تھے۔“

(سیرت المہدی ص ١٨١ ج ١ روایت نمبر ١٦٧)

فائدہ ...... اہل اسلام کے مذہب میں نبی علیہ السلام کی سنت ہے کہ مسلمان بیٹھ کر کھائے پیئے۔ کھڑے ہو کر یا چلتے پھرتے کھانا نا جائز اور سنت کے خلاف ہے مگر مرزا کرشن قادیانی کی سنت چلتے چلتے کھانا ہے جیسا کہ حیوان چرتے بھی رہتے ہیں اور چلتے بھی۔ نیز چلتے چلتے پیشاب بھی کرتے جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی انسان نہیں بلکہ کرم خاکی ہیں اس لئے یہ طریقہ ان کے لئے مناسب ہے۔ مرزائیوں کو بھی اسی سنت پر عمل کرنا چاہئے۔ ایسے کافروں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ”ویأکلون کما تأکل الانعام“ یہ لوگ ایسا کھاتے ہیں جیسا کہ چوپائے یعنی حیوانات۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی بٹن لگانے میں سنت

مسلمان ...... مرزا قادیانی کی واسکٹ یا کوٹ میں بٹن لگانے کی سنت کیا ہے؟ قادیانی ...... مرزا قادیانی واسکٹ وکوٹ کے بٹن نیچے کے حصوں میں بند کرتے تھے جس سے بالآخر رفتہ رفتہ سب ہی ٹوٹ جاتے ایک دن تعجب سے فرمانے لگے کہ بٹن کا لگانا بھی تو آسان کام نہیں۔ ہمارے سارے بٹن جلد ہی ٹوٹ جاتے ہیں۔“

(سیرت مسیح موعود ص ٢٤)

فائدہ ...... جس شخص کو اپنے کوٹ یا واسکٹ کے بٹن بند کرنے کی تمیز نہ ہو یعنی نچلا بٹن اوپر کے کاج میں لگائے وہ صرف بیوقوف اور پاگل شخص ہی ہو سکتا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ مرزا قادیانی ایک پاگل اور بالکل فاطر العقل شخص تھا۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی صدری اور کوٹ

مسلمان ...... مرزا قادیانی کی صدری اور کوٹ کے بٹن بند کرنے میں سنت کیا تھی؟ قادیانی ...... ”مرزا قادیانی کو بارہا دیکھا گیا کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے میں لگے ہوتے تھے بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگائے ہوئے دیکھے گئے۔“

(سیرت المہدی ج ٢ ص ٥٨، بروایت نمبر ٣٧٥)

١٠

صفحہ ٢٧٧

فائدہ ...... صدری کے بٹن کوٹ میں لگانا سنت قادیانی ہے تمام امت مرزائیہ کے لئے لازم ہے کہ اس پر باقاعدگی سے عمل پیرا ہو۔ بصورت دیگر پاپ کے حق دار ہو کر گنگا میں اشنان کرنا ہوگا۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی سنت بوٹ اور جوتا

مسلمان...... مرزا قادیانی کی بوٹ اور جوتا پہننے میں کیا سنت ہے؟

قادیانی...... مرزا قادیانی جوتے کی ایڑھی بٹھا لیتے جب کہ تنگ ہوتی۔

(سیرت المہدی ص ١٢٧ج٢)

مسلمان...... بوٹ کے متعلق قادیانی سنت کیا ہے؟

قادیانی...... ”بعض اوقات کوئی دوست حضور (مرزا قادیانی) کے لئے گرگابی ہدیہ لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں پاؤں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں دائیں میں۔ یعنی الٹی پہنتے تھے۔“

(سیرت المہدی ج ٢ ص ٥٨، بروایت نمبر ٣٧٥)

”ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گرگابی لے آیا آپ نے پہن لی۔ مگر اس کے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا۔ کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے پھر تکلیف ہوتی تھی بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے ان کی کوئی چیز اچھی نہیں ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کیلئے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کیلئے نشان لگا دیئے مگر اس کے باوجود آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے۔“

(بروایت نمبر ٥٣ سیرت المہدی ص ٦٧ ج ١)

الٹی سمجھ کسی کو بھی ہر گز خدا نہ دے
دے آدمی کو موت پر یہ بد ادا نہ دے

فائدہ ...... چونکہ مرزا قادیانی آنکھوں سے کانا تھا اس لئے اسے کچھ بھی نظر نہ آتا تھا ایسی حالت میں اسے جوتے پر لگائے ہوئے نشان کیونکر دکھائی دیتے۔

بنے کیونکر کہ ہے سب کار الٹا
ہم الٹے بات الٹی یار الٹا

آنجہانی مرزا قادیانی اور چابیاں

مسلمان ...... چابیوں کے رکھنے کے متعلق مرزا قادیانی کی سنت کیا ہے؟

قادیانی...... مرزا قادیانی اکثر کنجیاں آزار بند میں باندھ کر رکھتے۔

(سیرت المہدی ص ١٤٨ ج ٢)

”مرزا صاحب چابیاں آزار بند کے ساتھ باندھتے تھے جو بوجہ بوجھ بعض اوقات لٹک

١١

صفحہ ٢٧٩

آتا تھا۔“

(روایت نمبر ٦٥ سیرت المہدی ص ٥٥ ج١)

فائدہ...... مرزائیوں کا چابیاں جیب میں ڈالنا قادیانی سنت کے بالکل خلاف ہے انہیں چاہئے کہ اپنی چابیوں کو ٹانگوں کے درمیان باندھ دیا کریں تاکہ لٹکتی ہوئی محسوس ہوں جس طرح کہ مرزا قادیانی کرتے تھے۔ جیسا کہ بھیڑیں اور بکریاں چرانے والے چرواہے بھی مرزا قادیانی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے بکرے اور چھترے کے عضو تناسل کے ساتھ دھاگا باندھ دیتے ہیں نیچے سے لٹکتا رہتا ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور رومال ونقدی

مسلمان...... رومال ونقدی رکھنے میں مرزا قادیانی کی سنت کیا ہے؟

قادیانی...... ”مرزا قادیانی نقدی وغیرہ رومال میں باندھ لیا کرتے تھے اور رومال کا دوسرا کنارہ واسکٹ کے ساتھ سلوا لیا کرتے تھے یا کاج میں بندھوا لیا کرتے تھے۔“

(سیرت المہدی ج١ ص ٥٥، روایت نمبر ٦٥)

فائدہ...... مرزائیوں پر لازم ہے کہ مرزا قادیانی کی سنت کے مطابق رومال کرتہ وغیرہ سے ایسے باندھ لیا کریں جیسے کہ شکاری لوگ اور بندر ریچھ والے رومال یا کپڑا اپنے کتے بندر وغیرہ کے گلے میں ڈال لیا کرتے ہیں۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور جرابیں

مسلمان...... مرزا قادیانی کی جرابوں کے استعمال میں کیا سنت ہے؟

قادیانی...... ”بعض دفعہ مرزا قادیانی جراب پہنتے تو اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی۔“

(سیرت المہدی ج٢ ص ٥٨، روایت نمبر ٣٧٥)

”بعض اوقات زیادہ سردی میں مرزا قادیانی دو، دو جرابیں پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی کبھی تو سر آگے لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑھی کی جگہ پیر کی پشت پر آجاتی کبھی ایک جراب سیدھی دوسری الٹی ہوتی تھی۔“

(سیرت المہدی ج٢ ص ١٢٧)

فائدہ...... مرزا قادیانی کے دھرم میں جرابیں، الٹی، جوتا الٹا کھانا پینا الٹا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی عقل الٹی، مذہب الٹا غرض یہ کہ تمام کام الٹے تھے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا دماغ دوران سر، مراق، مرگی کی وجہ سے خراب تھا۔ اس کی امت کی بھی عقلیں الٹی اور دلائل بھی الٹے، سمجھ بھی الٹی۔

١٢

وہ الٹے ہیں، ہے ان
اتاریں گے فرشتے

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”گھڑی“

مسلمان...... مرزا کرشن قادیانی اپنی گھڑی پر وقت کس طر

قادیانی...... مرزا قادیانی جب وقت دیکھتے تو ایک کے لگاتے تھے اور انگلی رکھ کر ہند سے گنتے تھے اور منہ سے نہ پہچان سکتے۔“

فائدہ...... جس بیوقوف کو گھڑی دیکھنے کی تمیز اور عقل ن دعویٰ کرے اور وہ ایک پاگل اور مجنون ہے۔ جب ایسا کرے تو یہ پاگل نشہ کی بیہوشی میں رسول تو کیا خدائی روز مرہ ایسے پاگلوں اور نشہ خوروں کو دیکھتے رہتے ہیں

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”پرنالہ“

مسلمان...... مرزا کرشن قادیانی کی زبان اور کلام کیسے تھ

قادیانی...... ”مرزا قادیانی کو لکنت تھی اسی وجہ سے پرنا

فائدہ...... جس کی نہ آنکھ، نہ عقل، نہ شکل اور نہ زبان وغیرہ کا دعویدار ہو وہ شیطانی تو ہو سکتا ہے رحمانی نہیں۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”حجامت“

مسلمان...... قرآن مجید ، حدیث رسول ﷺ سے مرزا قادیانی کی اس میں سنت کیا ہے؟

قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”میں سر منڈ خارجیوں کی سنت ہے۔“

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”عقیقہ“

مسلمان...... جب کہ مرزا قادیانی کے نزدیک سر منڈ منڈایا؟

١٣

صفحہ ٢٧٩
وہ الٹے ہیں، ہے ان کی چال الٹی
اتاریں گے فرشتے کھال الٹی

آنجہانی مرزا قادیانی اور ’’گھڑی‘‘

مسلمان ...... مرزا کرشن قادیانی اپنی گھڑی پر وقت کس طرح دیکھتے تھے؟

قادیانی ...... مرزا قادیانی جب وقت دیکھتے تو ایک کے ہندسے یعنی عدد سے گن کر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ کر ہندسے گنتے تھے اور منہ سے بھی گنتے جاتے تھے۔ گھڑی دیکھتے ہی وقت نہ پہچان سکتے۔‘‘

(سیرت المہدی ج١ ص١٨٠، بروایت نمبر ١٦٥)

فائدہ ...... جس بیوقوف کو گھڑی دیکھنے کی تمیز اور عقل نہیں وہ احمق اور نالائق مہدویت یا نبوت کا دعویٰ کرے اور وہ ایک پاگل اور مجنون ہے۔ جب ایسا شخص مراقی ہو اور افیون وغیرہ بھی استعمال کرے تو یہ پاگل نشہ کی بیہوشی میں رسول تو کیا خدائی کا دعویٰ کرے تو کوئی نئی چیز نہیں۔ کیونکہ ہم روزمرہ ایسے پاگلوں اور نشہ خوروں کو دیکھتے رہتے ہیں۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور ’’پرنالہ‘‘

مسلمان ...... مرزا کرشن قادیانی کی زبان اور کلام کیسی تھی؟

قادیانی ...... ’’مرزا قادیانی کو لکنت تھی اسی وجہ سے پرنالے کو پنالہ فرمایا کرتے تھے۔‘‘

(سیرت المہدی ج١ ص٢٥)

فائدہ ...... جس کی نہ آنکھ، نہ عقل، نہ شکل اور نہ زبان صحیح بلکہ مراقی و پیشابی ہو اور نبوت ومہدویت وغیرہ کا دعویدار ہو وہ شیطانی تو ہو سکتا ہے رحمانی نہیں۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور ’’حجامت‘‘

مسلمان ...... قرآن مجید، حدیث رسول ﷺ سے سر منڈوانا ثابت اور سنت رسول ﷺ ہے مگر مرزا قادیانی کی اس میں سنت کیا ہے؟

قادیانی ...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ’’میں سر منڈانے کو بہت ناپسند دیکھتا ہوں اور سر منڈانا خارجیوں کی سنت ہے۔‘‘

(سیرت المہدی ج٢ ص٩٥، بروایت نمبر ٤٢٠)

آنجہانی مرزا قادیانی اور ’’عقیقہ‘‘

مسلمان ...... جب کہ مرزا قادیانی کے نزدیک سر منڈوانا جائز نہیں تو کیا مرزا قادیانی نے سر کبھی نہ منڈایا؟

١٣

صفحہ ٢٨٠

قادیانی..... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”ہمارے سر کے بال عقیقہ کے بعد نہیں مونڈے گئے۔“

(سیرت المہدی ج ١ ص ٩٥، بروایت نمبر ٢٦٠)

فائدہ ..... جب کہ مرزا کرشن قادیانی کے دھرم میں سرمنڈوانا جائز نہیں تو امت مرزائیہ اپنے سروں کو نہ منڈوائیں بلکہ تمام سر اور بدن کے بال بڑھائیں جیسا کہ ملنگ اور سکھ لوگ بڑھاتے ہیں یہ طریقہ گرونانک کی امت یعنی دیدار سنگھ، تارا سنگھ اور غلام سنگھ وغیرہ کا ہے۔ نیز مرزا قادیانی بھی تو سکھوں کے اوتار ”جے سنگھ بہادر“ ہی ٹھہرے اس لئے تمام مرزائی سکھ اور گرونانک کی امت ہی تو ہوئے۔ بغیر ختنہ اور حجامت کے رہنا ان کا دھرم ہے۔ بدیں وجہ ان کی عبادت گاہ دھرم سالہ اور گردوارہ کہلائے گی۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی ”بیٹھک و چوک“

مسلمان ..... مسلمانوں کے مذہب اسلام میں صفائی لازم ہے اسے ایمان کا ایک جزو قرار دیا گیا ہے مسلمان اپنے جسم و پوشاک کو صاف رکھنے کے علاوہ جہاں بیٹھے گا اس جگہ کو بھی صاف رکھے گا۔ کیا مرزا قادیانی کی سنت میں صفائی کا کوئی عمل دخل ہے؟

قادیانی..... مرزا قادیانی ”گرمیوں میں اپنے تخت پر بیٹھتے جس پر مٹی پڑی ہوتی اور میلا ہوتا جب بھی آپ نے نہیں پوچھا۔“

(سیرت مسیح موعود ص ٢٤)

فائدہ ..... مٹی پر بیٹھنا اور صفائی وغیرہ نہ کرنا سنت قادیانی ہے تو مرزائیوں پر لازم ہے کہ زمین پر ہی بغیر کرسی وغیرہ کے بیٹھا کریں اور سویا کریں۔ جیسے پاگل اور مجنون آدمی اپنے تمام بدن اور منہ پر مٹی غلاظت وغیرہ لگا کر مٹی پر بیٹھا خوش ہوتا ہے بلکہ ننگا پڑا ہوا بھی فخر محسوس کرتا ہے۔ امت مرزائیہ پر بھی اس سنت قادیانی پر عمل پیرا ہونا لازمی ہے۔ کتا ایک ناپاک اور نجس جانور ہوتے ہوئے بھی اپنی دم سے جگہ صاف کر کے بیٹھتا ہے مگر مرزا قادیانی اس سے بھی گئے گزرے ہیں۔ ہندو بھی اپنے چوک کو ہر وقت صاف رکھتے ہیں۔

آنجہانی مرزا کرشن قادیانی اور ”پنکھا“

مسلمان ..... موسم گرما میں کمرہ کے اندر پنکھا لگانے کی سنت قادیانی پر کچھ روشنی ڈالیں۔

قادیانی..... مرزا قادیانی نے کہا: ”ہم تو وہاں کام کرنا چاہتے ہیں جہاں گرمی کے مارے لوگوں کا تیل نکلتا ہو۔“

(سیرت المہدی ج ٢ ص ٧٣، بروایت نمبر ٣٩٧)

فائدہ ..... پاگل مجنون آدمی جب کہ بیمار ہو اسے گرمی محسوس نہیں ہوتی اگر چہ پسینہ سے شرابور ہی کیوں نہ ہو۔ ”وھم لا یشعرون“ میں داخل ہوتا ہے امت مرزائیہ پر بھی سنت قادیانی لازم ہے۔

١٤

صفحہ ٢٨١

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”بورا، نمک“

مسلمان ..... کیا مرزا قادیانی کو کھانڈ اور بورا یعنی نمک کی تمیز بھی تھی؟

قادیانی ..... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”میں بغیر پوچھے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جلیبیوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈالی پھر کیا تھا میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔“

(سیرت المہدی ج ١ ص ١٣٤، بروایت نمبر ٢٤٤)

فائدہ ..... کرشن قادیانی کو اتنی تمیز بھی نہ تھی کہ نمک اور چینی میں تمیز کر سکتا۔ بلکہ اتنا حریص کہ مٹھی بھر کر منہ میں بھی ڈال لی، موت سے بچ گیا۔ ”ويمدهم في طغيانهم يعمهون“ اللہ تعالیٰ نے اسے ڈھیل دے دی تا کہ وہ اپنی سرکشیوں میں حیران رہیں۔ کمال ہے ان مرزائیوں کا کہ ایسے بیوقوف اور احمق کو مہدی مسیح موعود اور نبی وغیرہ مان لیا۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”آگ“

مسلمان ..... مرزا قادیانی کے کپڑوں کو آگ لگی تو کیا اسے کچھ خبر ہوئی؟

قادیانی ..... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”ایک مرتبہ میرے دامن کو آگ لگی تھی مجھے خبر نہ ہوئی۔“

(سیرت المہدی ج ١ ص ٢٣٩، بروایت نمبر ٢٤٦)

فائدہ ..... جب مرزا قادیانی کے دامن کو آگ لگی تو اسے خبر تک نہ ہوئی اگر خدا چاہتا تو دنیا کی آگ ہی میں جلا کر اسے راکھ کر دیتا لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک وقت تک کرشن قادیانی کو مہلت دے دی تاکہ دنیا میں عبرتناک موت دے کر آخرت میں جہنم کی آگ میں ”ابــــد الابــــاد“ تک معذب رکھے۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور تحفہ خراب

مسلمان ..... مرزا کرشن قادیانی اپنے تحفہ کی چیز کو کھاتے تھے یا خراب ہو جاتا تھا؟

قادیانی ..... ”بارہا ایسا ہوا کہ مرزا قادیانی کے پاس تحفہ میں کوئی چیز کھانے کی آئی یا خود کوئی چیز آپ نے ایک وقت میں منگوائی پھر خیال نہ رہا اور وہ صندوق میں پڑی پڑی سڑ گئی یا خراب ہوگئی اور اسے سب کا سب پھینکنا پڑا۔“

(سیرت المہدی ج ٢ ص ١٣٥، بروایت نمبر ٣٤٤)

مسلمان ..... کیا مرزا کرشن قادیانی کا دماغ خراب تھا کہ وہ بھول جاتا تھا؟

قادیانی ..... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”میرا حافظہ اچھا نہیں، یاد نہیں رہتا۔“

(نسیم دعوت ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٩)

١٥

صفحہ ٨٣

فائدہ ...... مرزا قادیانی کا دعویٰ مہدویت، نبوت، وحی دانی کا، مگر کوئی چیز یاد نہیں رہتی جو وحی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے وہ حکم خداوندی ہوتا ہے وہ بھول نہیں جاتا جب کہ اللہ کی مرضی ہی یہی ہو۔ اگر الہام شیطانی ہو تو شیطان اس جیسی شیطانی وحی لاتا ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور ’چونڈھیاں‘

مسلمان ...... کیا مرزا قادیانی کو شعور تھا یا بے حس و بے شعور تھے؟ قادیانی ..... ”کسی مرید نے مرزا قادیانی کے پاؤں پر چونڈھیاں بھرنی شروع کر دیں مگر آپ خاموشی سے برداشت کرتے رہے۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٥٣، روایت نمبر ٨٦٦)

فائدہ ...... مرزا کرشن قادیانی اتنے بے حس و بے شعور تھے کہ چونڈھیاں برداشت کرتے رہے لیکن منع نہ کیا بایں وجہ کہ آپ کی حس ختم ہو چکی تھی۔ بلکہ سن ہو چکے تھے کیونکہ بندر یا کتے کو بھی ذرا چھیڑا جائے تو وہ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ مگر مرزا قادیانی کو ان جیسا بھی شعور نہ تھا۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور ’اینٹ‘

مسلمان ...... مرزا قادیانی کی جیب میں اینٹ کا کیا واقعہ ہے؟ قادیانی ..... ”جاڑے کا موسم تھا۔ محمود نے جو اس وقت بچہ تھا آپ کی واسکٹ کی جیب میں ایک بڑی اینٹ ڈال دی جب آپ لیٹنے تو وہ اینٹ آپ کو چبھتی۔ میں موجود تھا آپ نے حامد علی سے فرمایا حامد علی! چند روز ہوئے ہماری پسلی میں درد ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز چبھتی ہے۔ وہ حیران ہوا اور آپ کے جسد مبارک پر ہاتھ پھیرنے لگا اور آخر اس کا ہاتھ اینٹ سے جا لگا۔ جھٹ سے جیب سے نکال لی اور عرض کیا کہ یہ اینٹ تھی جو آپ کو چبھتی تھی۔ مسکرا کر فرمایا۔ اوہو! چند روز ہوئے محمود نے میری جیب میں ڈالی تھی اور کہا تھا اسے نکالنا نہیں۔“

(سیرت مسیح موعود ص ٢٥)

فائدہ ...... گدھا بھی اگر اینٹیں اٹھاتا ہے مگر وہ پورا دن نہیں بلکہ کچھ وقت، اگر مالک دیر کرے تو کود کر گرا دیتا ہے یا بیٹھ کر گرا دیتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی اس گدھے سے بھی بڑھ گیا ہے کہ کئی روز تک اینٹ کو اٹھائے رکھا۔ سب سے بڑی بیوقوفی یا پاگل پن یہ ہے کہ سوتے ہوئے چبھتی رہی مگر نکالنے کی عقل تک نہیں کی۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”اسرار غیب“

مسلمان ...... کیا مرزا کرشن قادیانی کو غیب دانی کا بھی دعویٰ تھا؟ قادیانی ..... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”ہمارا ذاتی تجربہ ہمارے ہاتھ میں ہے قریباً ہر روز خدا ہم

١٦

سے کلام کرتا ہے اور اپنے اسرار غیب اور علوم معرفت

فائدہ ...... مرزا قادیانی کا دعویٰ غیب دانی، مگر اپن علم نہیں اپنے ہاتھ سے رکھی ہوئی چیز خراب ہو جاتی مرزا کرشن قادیانی، عقل کے اندھے، آنکھ کے کور

آنجہانی مرزا قادیانی اور چھتری

مسلمان ...... مرزا قادیانی کو اپنی چھتری کی پہچان تھ قادیانی ..... مرزا قادیانی نے ”چھتری ایک دفعہ با ہے۔ عرض کیا گیا حضور کی ہے جو حضور اپنے ہات سمجھا کہ یہ میری نہیں ہے حالانکہ وہ چھتری مدت

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”ساتھی“

مسلمان ...... کیا مرزا قادیانی اپنے ساتھی کو پہچان قادیانی ..... مرزا قادیانی ”میر کو جاتے ہوئے ا علم نہ ہوتا اور نہ پہچان ہوتی۔ کسی کے جتلانے پر

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”چوزہ“

مسلمان ...... کیا مرزا کرشن قادیانی کو چوزہ ذبح قادیانی ..... ”مرزا قادیانی چوزہ کو ہاتھ میں لے چھری پھیرنے کی غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈا فائدہ ...... مرزا قادیانی کی اتنی عقل بھی نہ تھی پر چھری پھیر کر کاٹ ڈالی اس سے معلوم ہوت مقابلہ میں تلوار لے کر آتے دشمن کی گردن پر اس وجہ سے جہاد کو حرام قرار دے کر جہنم رسید ہ

صفحہ ٢٨٣

سے کلام کرتا ہے اور اپنے اسرار غیب اور علوم معرفت سے مطلع فرماتا ہے۔“

(نسیم دعوت ص٧٠، خزائن ج١٩ص٤٣٠)

فائدہ ..... مرزا قادیانی کا دعویٰ غیب دانی، مگر اینٹ جیب میں ہے پتہ نہیں، لاٹھی اپنی رکھی ہوئی کا علم نہیں اپنے ہاتھ سے رکھی ہوئی چیز خراب ہو جاتی اور باہر پھینک دی جاتی مگر دعویٰ علم غیب، یہ ہیں مرزا کرشن قادیانی، عقل کے اندھے، آنکھ کے کورے مرزائیوں کے مہدی، نبی وغیرہ۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور چھتری

مسلمان ..... مرزا قادیانی کو اپنی چھتری کی پہچان تھی؟ قادیانی ..... مرزا قادیانی نے ”چھتری ایک دفعہ ہاتھ میں لے کر اسے دیکھا اور فرمایا یہ کس کی چھتری ہے۔ عرض کیا گیا حضور کی ہے جو حضور اپنے ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں آپ نے فرمایا اچھا میں تو سمجھا کہ یہ میری نہیں ہے حالانکہ وہ چھتری مدت سے آپ کے ہاتھ میں رہتی تھی۔“

(روایت نمبر ٣٣٦ سیرت المہدی ج ١ ص ٢٤٥)

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”ساتھی“

مسلمان ..... کیا مرزا قادیانی اپنے ساتھی کو پہچان لیا کرتے تھے؟ قادیانی ..... مرزا قادیانی ”سیر کو جاتے ہوئے اپنے خادم کو جو کہ آپ کے ساتھ ہوتا آپ کو اس کا علم نہ ہوتا اور نہ پہچان ہوتی۔ کسی کے جتلانے پر آپ کو پتہ چلتا کہ وہ شخص آپ کے ساتھ ہے۔“

(روایت نمبر ٤٠٣ سیرت المہدی ج ٢ ص ٧٧)

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”چوزہ“

مسلمان ..... کیا مرزا کرشن قادیانی کو چوزہ ذبح کرتے وقت اسکی گردن نظر آتی تھی یا نہ؟ قادیانی ..... ”مرزا قادیانی چوزہ کو ہاتھ میں لے کر خود ذبح کرنے لگے مگر بجائے چوزہ کی گردن پر چھری پھیرنے کے غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈالی۔“

(روایت نمبر ٣٠٧ سیرت المہدی ج ٢ ص ٤٤)

فائدہ ..... مرزا قادیانی کی اتنی عقل بھی نہ تھی کہ چوزہ کی گردن پر چھری پھیرتے بلکہ اپنی ہی انگلی پر چھری پھیر کر کاٹ ڈالی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کتنے طاقتور تھے اگر دشمن کے مقابلہ میں تلوار لے کر آتے دشمن کی گردن پر تلوار چلانے کی بجائے اپنی ہی گردن پر تلوار چلاتے اس وجہ سے جہاد کو حرام قرار دے کر جہنم رسید ہو چکے ہیں۔

١٧

صفحہ ٢٨٥

آنجہانی مرزا قادیانی اور چڑیاں

مسلمان...... چڑیاں پکڑنا مرزا قادیانی کے دھرم میں کیا حکم رکھتا ہے؟ قادیانی...... ”ایک دفعہ میاں یعنی خلیفہ ثانی دالان کے دروازے بند کر کے چڑیاں پکڑ رہے تھے کہ حضرت (مرزا قادیانی) صاحب نے نماز کے لئے باہر جاتے ہوئے دیکھ لیا فرمایا۔ میاں گھر کی چڑیاں نہیں پکڑا کرتے جس میں رحم نہیں اس میں ایمان نہیں ۔“

(سیرۃ المہدی ج ١ ص ١٩٢، بروایت نمبر ١٧٨)

فائدہ...... جب چڑیاں مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ثانی پکڑ رہے تھے تو مرزا قادیانی نے خلیفہ ثانی کو بے ایمان اور خارج از اسلام قرار دے دیا۔

آنجہانی مرزا قادیانی کا ماتھا

مسلمان...... مرزا قادیانی آنکھوں سے کیسے تھے؟ قادیانی...... مرزا قادیانی کی ” آنکھوں میں مائی اوپیا تھا اسی وجہ سے پہلی رات کا چاند نہ دیکھ سکتے تھے۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١١٩، بروایت نمبر ٤٧٤)

آنجہانی مرزا قادیانی اور آنکھیں بند

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کی آنکھیں کھلی رہتی تھیں یا بند؟ قادیانی...... ”ایک دفعہ حضرت (مرزا قادیانی) معہ چند خدام کے فوٹو کھنچوانے لگے تو فوٹو گرافر نے کہا حضور ذرا آنکھیں کھول کر رکھیں ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی۔ آپ نے اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلیف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح بند ہو گئیں۔“

(سیرت المہدی ج ٢ ص ٧٧، بروایت نمبر ٤٠٤)

مسلمان...... مرزا قادیانی کی آنکھوں میں یہ خرابی کب سے تھی؟ قادیانی...... مرزا قادیانی کی ”دور کی نظر ابتدا سے کمزور ہی تھی۔“

(تاریخ احمدیت ج ٣ ص ٥٨٥)

آنجہانی مرزا قادیانی کی نظر پر ”شہادت“

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کی نظر نہ ہونے پر کوئی شہادت ہے؟ قادیانی...... ”کئی دفعہ حضرت (مرزا قادیانی) کے گھر عورتوں کو آپس میں یہ باتیں کرتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت (مرزا قادیانی) صاحب کی تو آنکھیں ہی نہیں ہیں کہ ان کے سامنے سے کوئی عورت کسی طرح سے گزر جائے ان کو پتہ نہیں لگتا۔“

(سیرت المہدی ج ٢ ص ٧٧، بروایت نمبر ٤٠٣)

١٨

آنجہانی مرزا قادیانی کی ”اولاد کی نظر“

مسلمان...... مرزا قادیانی کی اولاد کی نظر کیسی تھی؟ قادیانی...... مرزا قادیانی کی وراثت ”آنکھوں کی یہ آئی کہ دور کی نظر کمزور ہے۔ مسلمان...... مرزا قادیانی کے مریدوں کی نظر کیسے تھی؟ قادیانی...... مرزا قادیانی کے مرید خاص عبدالکریم بھی خلل تھا۔“

فائدہ...... مرزا غلام احمد قادیانی کا کانا نمبر بڑھ کر یعنی کانا اور لنگڑا، یہ تمام گھرانہ ہی اندھا کانے، لولے، لنگڑے ہوتے دکھائی دیتے ہیں کہ دی امت کانی اور اس کی اولاد و مرید خاص ہی اندھے بھی زیادہ اندھی ہوگی۔ شکل میں اور عقل میں۔”و اندھے۔ پس وہ نہ لوٹیں گے اور ان کی آنکھوں پر

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”گول ولمبا

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کو گول منہ والی لڑکی پس قادیانی...... ”جب میاں ظفر احمد کپور تھلوی کی پہل تھی تو ایک دفعہ حضرت (مرزا قادیانی) نے ان کو لاتا ہوں آپ ان کو دیکھ لیں۔ پھر ان میں سے چنانچہ حضرت صاحب گئے اور ان دو لڑکیوں کو بلا باہر کھڑی ہیں آپ جاکے اندر سے دیکھ لیں۔ چن نے ان کو رخصت کر دیا۔ اور اس کے بعد میاں ظف لڑکی پسند ہے وہ نام تو کسی کا جانتے نہ تھے۔ اس ہے۔ اس کے بعد حضرت صاحب نے میری را دیکھا۔ پھر آپ خود فرمانے لگے کہ ہمارے خیال پھر فرمایا جس کا چہرہ لمبا ہوتا ہے وہ بیماری وغی خوبصورتی قائم رہتی ہے۔“

صفحہ ٢٨٥

آنجہانی مرزا قادیانی کی ”اولاد کی نظر“

مسلمان...... مرزا قادیانی کی اولاد کی نظر کیسی تھی؟

قادیانی...... مرزا قادیانی کی وراثت ”آنکھوں کی یہ حالت تھی کہ حضرت صاحب کی تمام اولاد میں آئی کہ دور کی نظر کمزور ہے۔

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١٢٠ روایت نمبر ٦٧٤)

مسلمان...... مرزا قادیانی کے مریدوں کی نظر کیسے تھی؟

قادیانی...... مرزا قادیانی کے مرید خاص عبدالکریم کی ”ایک ٹانگ میں کمزوری اور بصارت میں بھی خلل تھا۔“

(تحفہ غزنویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٥ ص ٥٥٧)

فائدہ...... مرزا غلام احمد قادیانی کانا اور اندھا، اس کی اولاد کانی مرید عبدالکریم ایک نمبر بڑھ کر یعنی کانا اور لنگڑا، یہ تمام گھرانہ ہی اندھا کانا تھا۔ جیسے کہ بازاروں میں گداگر اندھے، کانے، لولے، لنگڑے کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ دیدے بابا راہ خدا تیرا اللہ ہی بوٹا لاوے گا۔ جس امت کا نبی اور اس کی اولاد و مرید خاص ہی اندھے، کانے اور لنگڑے ہوں اس کی امت تو ان سے بھی زیادہ اندھی ہوگی۔ شکل میں اور عقل میں۔ ”وعلیٰ ابصارہم غشاوة“ بہرے گونگے اندھے۔ پس وہ نہ لوٹیں گے اور ان کی آنکھوں پر پردے ہیں۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”گول و لمبا منہ“

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کو گول منہ والی لڑکی پسند تھی؟

قادیانی...... ”جب میاں ظفر احمد کپور تھلوی کی پہلی بیوی فوت ہوگئی اور ان کو دوسری بیوی کی تلاش تھی تو ایک دفعہ حضرت (مرزا قادیانی) نے ان سے کہا کہ ہمارے گھر میں دو لڑکیاں رہتی ہیں ان کو لاتا ہوں آپ ان کو دیکھ لیں۔ پھر ان میں سے جو آپ کو پسند ہو اس سے شادی کر دی جاوے۔ چنانچہ حضرت صاحب گئے اور ان دو لڑکیوں کو بلا کر کمرے کے باہر کھڑا کر دیا اور پھر اندر آ کر کہا وہ باہر کھڑی ہیں آپ جا کے اندر سے دیکھ لیں۔ چنانچہ میاں ظفر احمد نے ان کو دیکھ لیا اور پھر حضرت نے ان کو رخصت کر دیا۔ اور اس کے بعد میاں ظفر احمد سے پوچھنے لگے کہ اب بتاؤ کہ تمہیں کون سی لڑکی پسند ہے وہ نام تو کسی کا جانتے نہ تھے۔ اس لئے انہوں نے کہا کہ جس کا منہ لمبا ہے وہ اچھی ہے۔ اس کے بعد حضرت صاحب نے میری رائے لی۔ میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے تو نہیں دیکھا۔ پھر آپ خود فرمانے لگے کہ ہمارے خیال میں تو دوسری لڑکی بہتر ہے جس کا منہ گول ہے۔ پھر فرمایا جس کا چہرہ لمبا ہوتا ہے وہ بیماری وغیرہ کے بعد عموماً بد نما ہو جاتا ہے لیکن گول چہرہ کی خوبصورتی قائم رہتی ہے۔“

(سیرت المہدی ج ١ ص ٢٥٩ روایت نمبر ٢٦٨)

١٩

صفحہ ٢٨٦

آنجہانی مرزا قادیانی اور ننگی مریدنی

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کے سامنے ننگی عورتیں غسل کرتی تھیں؟

قادیانی...... ”حضرت مسیح موعود کے اندرخانہ ایک نیم دیوانی سی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی ایک دفعہ اس نے کیا حرکت کی کہ جس کمرہ میں حضرت صاحب بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے وہاں ایک کونے میں گھڑا تھا جس کے پاس پانی کے گھڑے رکھے تھے وہاں اپنے کپڑے اتار کر اور ننگی بیٹھ کر نہانے لگ گئی۔ حضرت صاحب اپنے کام تحریر میں مصروف رہے اور کچھ خیال نہ کیا کہ وہ کیا کرتی ہے۔ جب وہ نہا چکی تو ایک خادمہ اتفاقاً آگئی اس نے اس نیم دیوانی کو ملامت کی کہ حضرت صاحب کے کمرہ میں اور موجودگی میں تو نے یہ کیا حرکت کی تو اس نے ہنس کر جواب دیا ”انہوں کچھ دیدا ہے“ یعنی اسے کیا دکھائی دیتا ہے۔ حضور کی عادت غض بصر کی تھی جو وہ ہر وقت مشاہدہ کرتی تھی۔ اس کا اثر اس دیوانی عورت پر بھی ایسا تھا کہ وہ خیال کرتی تھی کہ حضور کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اس واسطے حضور سے کسی پردہ کی ضرورت ہی نہیں۔“

(ذکر حبیب صادق ص ٣٨، ٣٩)

فائدہ...... مرزا کرشن قادیانی کو گول اور لمبے منہ والی لڑکی تو نظر آتی ہے کہ غور سے دیکھ کر کہا کہ لمبے منہ والی کا چہرہ خراب اور بدصورت ہو جاتا ہے۔ مگر ننگی عورت کی شرمگاہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ ننگی عورت کو دیکھ کر انسان کی خواہشات نفسانی اختیار سے باہر ہو جاتی ہے جیسا کہ مرزا قادیانی کو جب بھانو دباتی تھی تو مرزا قادیانی کے متعلق کہا کہ آپ کی ٹانگیں لکڑی کی طرح سخت ہورہی ہیں۔ جب کہ وہ مرزا قادیانی کو لحاف کے اوپر سے دبا رہی تھی۔ کیا ننگی عورت کی شرمگاہ دیکھ کر سکون سے رہا ہوگا۔ یہ عورت بے حیا اور اس کی حالت کو دیکھنے والا بڑا بے حیا، بے غیرت اور اس کو مہدی وغیرہ ماننے والے بہت ہی بڑے بے حیا، بے شرم اور خبیث ہیں۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”پاخانہ“

مسلمان...... مرزا قادیانی نے پاخانہ کے متعلق کیا کہا؟

قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”میرا تو یہ حال ہے کہ پاخانہ پیشاب پر بھی مجھے افسوس ہوتا ہے کہ اتنا وقت ضائع ہو جاتا ہے یہ (وقت پیشاب، پاخانہ) کسی دینی (مرزائیت کے) کام میں لگ جائے۔“

(سیرت مسیح موعود ص ٢٥)

فائدہ...... مرزا قادیانی کو پیشاب پاخانہ پر افسوس ہوتا، خدا نے بھی بطور سزا مرزا قادیانی کو دستوں کی بیماری لاحق کردی تا کہ اس حالت ہیضہ میں موت واقع ہو نیز اس عبرتناک انجام سے لوگوں کو عبرت و ہدایت حاصل ہو۔

٢٠

٢٨٧

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”پاخانہ پر عورت“

مسلمان...... مرزا قادیانی کے پاخانہ کی خدمت پر کون متع

قادیانی...... ”مرزا قادیانی کے پیشاب پاخانہ کی خدمت رکھتی تھی۔“

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”علم“

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کے نزدیک علم دین اچھا تھا

قادیانی...... مرزا قادیانی نے کہا: ”بیٹا تو بہ کرو نہ علم اچھا

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”گرم پانی“

مسلمان...... مرزا قادیانی اپنی خادمہ سے جو کہ پاخانہ پ

قادیانی...... مرزا قادیانی استنجا میں گرم پانی استعمال کر میں رکھ دیا تو مرزا قادیانی نے وہ گرم پانی خادمہ کے ہا

فائدہ...... مرزا قادیانی کا اپنے پیشاب پاخانہ کیلئے ہے۔ جب کہ وہ غیر محرم ہے، مرزا گرم پانی برداشت ن ڈال کر جلا دیا۔ کیا مہدی اور امام نبی کے یہی اخلاق ہو بہت بڑی بداخلاقی ہے۔ اگر قصاص یعنی بدلہ لینا بھی ”الفرج بالفرج بالماء الحميم“

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”افیون“

مسلمان...... اسلام میں نشہ آور چیز مثلاً افیون وغیرہ حرا

قادیانی...... مرزا قادیانی دوائی میں افیون استعمال کر

آنجہانی مرزا قادیانی اور بھنگ و دھتورا

مسلمان...... مسلمان تو بھنگ و دھتورا کو حرام جانتے ہے یا حلال؟

٢١

صفحہ ٢٨٧

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”پاخانہ پر عورت“

مسلمان...... مرزا قادیانی کے پاخانہ کی خدمت پر کون مقرر تھا؟

قادیانی...... ”مرزا قادیانی کے پیشاب پاخانہ کی خدمت پر ایک عورت مقرر تھی جو کہ پاخانہ میں لوٹا رکھتی تھی۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٤٣ روایت نمبر ٨٤٧)

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”علم“

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کے نزدیک علم دین اچھا تھا؟

قادیانی...... مرزا قادیانی نے کہا : ”بیٹا توبہ کرو نہ علم اچھا ہے، نہ دولت خدا کا فضل اچھا ہے۔“

(ذکر حبیب مبارک احمد ص ٣١)

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”گرم پانی“

مسلمان...... مرزا قادیانی اپنی خادمہ سے جو کہ پاخانہ پر مقرر تھی اس سے کیا رویہ اختیار کرتے تھے؟

قادیانی...... مرزا قادیانی استنجا میں گرم پانی استعمال کرتے تھے۔ ”خادمہ نے زیادہ گرم پانی پاخانہ میں رکھ دیا تو مرزا قادیانی نے وہ گرم پانی خادمہ کے ہاتھ پر ڈال دیا۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٤٣ روایت نمبر ٨٤٧)

فائدہ...... مرزا قادیانی کا اپنے پیشاب پاخانہ کیلئے عورت کا مقرر کرنا بے حیائی اور بے غیرتی ہے۔ جب کہ وہ غیر محرم ہے، مرزا گرم پانی برداشت نہ کر سکا۔ بلکہ انتقاماً خادمہ کے ہاتھ پر گرم پانی ڈال کر جلا دیا۔ کیا مہدی اور امام نبی کے یہی اخلاق ہیں؟ بلکہ برے سے برا انسان ایسا نہیں کرتا یہ بہت بڑی بداخلاقی ہے۔ اگر قصاص یعنی بدلہ لینا بھی تھا تو برابر کا لیتے تا کہ معاملہ برابر کا ہو جاتا۔

”الفرج بالفرج بالماء الحمیم“

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”افیون“

مسلمان...... اسلام میں نشہ آور چیز مثلاً افیون وغیرہ حرام ہے مرزا قادیانی کے دھرم میں کیا حکم ہے؟

قادیانی...... مرزا قادیانی دوائی میں افیون استعمال کرتے تھے۔

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٥١ روایت نمبر ٥٦٩)

آنجہانی مرزا قادیانی اور بھنگ و دھتورا

مسلمان...... مسلمان تو بھنگ و دھتورا کو حرام جانتے ہیں کیا مرزا کرشن قادیانی کے دھرم میں حرام ہے یا حلال؟

٢١

صفحہ ٢٨٨

قادیانی ..... ”مرزا قادیانی برائے گولی سل دق افیون، بھنگ اور دھتورا جائز فرماتے ہیں۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١١١ بروایت نمبر ٦٥٥)

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”شرابی“

مسلمان ...... اسلام میں شرابی کو حد کی سزا دی جاتی ہے کیا مرزا کرشن قادیانی کے دھرم میں سزا ہے؟ قادیانی ...... مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ: ”اپنی جماعت کے شرابی سے بھی ہمدردی ہونی چاہئے۔ اگر ہمارا کوئی دوست ہو اور اس کے متعلق ہمیں اطلاع ملے کہ وہ گلی میں شراب کے نشہ میں مدہوش پڑا ہے تو ہم کسی شرم کے اور روک کے وہاں جا کر اسے اپنے مکان پر اٹھا لائیں اور پھر جب اسے ہوش آنے لگے تو اس کے پاس سے اٹھ جائیں تاکہ ہمیں دیکھ کر وہ شرمندہ نہ ہو۔“

(سیرت المہدی ج ٢ ص ٩٣، بروایت نمبر ٤١٨)

فائدہ ...... امت مرزائیہ کو اپنی عقل سے سوچنا چاہئے کہ اگر نشہ خور افیونی، بھنگی، دھتوری اور شرابی وغیرہ نبی ہوتا تو تمام ملنگ اور شرابی وغیرہ بڑے نبی ہوتے۔ یہ سعادت صرف امت مرزائیہ کو ہی حاصل ہے کہ شرابی، بھنگی، افیونی، دھتوری نبی ان کے حصہ میں آئے۔ یہ تمام ناپاک غذائیں اسی شیطانی نبی کے حصہ میں رکھ دی ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کی ذات پاک کی طرف سے محولہ بالا تمام اشیاء کے علاوہ بھی ہر وہ چیز جس سے انسان کو نشہ محسوس ہو حرام قرار دیا گیا۔ ایسی نشہ آور اشیاء استعمال کرنے والے کو نشہ کی حالت میں ماں، بہن، بیٹی اور بیوی تک کی تمیز نہیں رہتی۔ صرف بے غیرت انسان ہی ایسی اشیاء کو استعمال کرنے کے علاوہ حلال بھی قرار دے سکتا ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور ہندو کی شیرینی

مسلمان ...... کیا مرزا کرشن قادیانی ہندو کافر کے ہاتھ کی ناپاک شیرینی وغیرہ کھا لیا کرتے تھے؟ قادیانی ...... ”مرزا قادیانی ہندو و غیر مسلم کافروں کا کھانا کھا پی لیتے تھے۔ ہنود کا تحفہ بھی از قسم شیرینی وغیرہ بھی قبول فرما لیتے تھے اور کھاتے بھی تھے۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٧٧، بروایت نمبر ٩٢١)

فائدہ ...... ایک متقی، ایماندار مسلمان شخص بے نماز مسلمان کے ہاتھ کا کھانا وغیرہ بھی نہیں کھاتا۔ مگر مرزا قادیانی ہندو، کافر و مشرک کے گھر کی شیرینی وغیرہ اس لئے کھاتے تھے کہ مرزا کرشن ہیں نہ کہ مسلمان اور ہندو کرشن کے پجاری ہیں۔

٢٢

صفحہ ٢٨٩

آنجہانی مرزا قادیانی اور الہامی حقہ شیطانی

مسلمان ...... کیا مرزا کرشن قادیانی کو کبھی حقہ کے متعلق بھی الہام ہوا؟

قادیانی ...... مرزا قادیانی نے کہا: ” آج میں نے خواب میں دیکھا کہ مسجد ( قادیان) میں دو حقے پڑے ہیں۔“

(تذکرہ ص ٨٠٩)

فائدہ ...... جیسے مرزا قادیانی نبی تھے الہام اور خواب بھی ایسے نظر آتے تھے کہ قادیان کی مساجد میں ہر وقت حقہ، نڑی، تمباکو اور چلم وغیرہ جیسے تبرکات محراب میں مزین رہتے نیز اس کے ساتھ آگ بھی لازماً ہوگی کیونکہ آگ کے بغیر حقہ بے سود تو اس الہام کی برکت سے قادیانیوں کی عبادت گاہوں میں حقہ شریف کی گڑگڑ کی رونق ہوتی ہوگی یا ہونی چاہئے۔ اگر قادیانی مرزا کی اس سنت موکدہ پر عمل پیرا نہ ہوں گے تو پاپ کبیرہ کے مستحق ہوں گے ان کو گنگا جل میں بھی لازماً اشنان کرنا ہوگا۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”بندر“

مسلمان ...... کیا بندروں کا کھیل اور بے ہودہ قصہ جات مرزا قادیانی کو پسند تھے یا نہ؟

قادیانی ...... ”مرزا قادیانی افریقہ کے بندروں اور افریقن لوگوں کے لغو قصے خندہ پیشانی سے سنتے تھے۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢١٥، بروایت نمبر ٧٩٠)

فائدہ ...... بندروں والے گداگر لوگ بندروں کو نچانے اور ان کی ناجائز حرکات اور غلط قصہ جات بیان کر کے خود خوش ہوتے ہیں اور لوگوں کو بھی خوش کر کے ان سے بھیک مانگتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اپنی امت کو بندروں کی طرح نچا کر خوش کیا اور ان سے بھی بہشتی مقبرہ کے نام پر کئی دوسرے قسم کے چندہ وغیرہ وصول کر کے قصر غلاظت وغیرہ بنائے۔ کیا ایسا شخص مہدی ہے یا بندروں والا گداگر؟ امت مرزائیہ کو اپنی عقل سے سوچنا چاہئے۔ اگر عقل نہیں تو علاج کرائیں۔ ورنہ ہوش کے ناخن لیں۔ بصورت دیگر یہ جماعت بندر اور اس کا بانی بندروں والا فقیر۔

”جیسی روح ویسے فرشتے“

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”ختنہ“

مسلمان ...... کیا مرزا قادیانی کے دھرم میں ختنہ کرانا ضروری ہے؟

٢٣

صفحہ ٢٩٠

قادیانی ...... ”مرزا قادیانی کا ایک سکھ مرید ہوا تو مرزا قادیانی نے کہا یہ ختنہ سنت ہے جو کہ بڑی عمر میں ضروری نہیں ۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٤٢ بروایت نمبر ٨٤٢)

فائدہ ...... ختنہ مسلم کا کیا جاتا ہے نہ کہ غیر مسلم کافر کا، مرزا قادیانی کیونکہ کرشن ہونے کی بناء پر ہندوؤں کے پنڈت اور سکھوں کے گرو جے سنگھ بہادر تھے۔ اس لئے اس کی تمام امت پر ختنہ لازم نہیں بلکہ یہ بغیر ختنہ ہی کے اپنے دھرم میں رہ کر ”وقود النـار “ ہی بنیں گے۔ جیسا کہ ہندو، یہود، عیسائی اور سکھ وغیرہ۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”طوائف“

مسلمان ...... مسلمانوں کے مذہب اسلام میں شادی وغیرہ کے موقع پر نیک لوگ اپنے اقرباء کے علاوہ نیک لوگوں یعنی علماء صلحاء اور بزرگان دین کو مدعو کرنا ہی باعث برکت خیال کرتے ہیں۔ ان مواقع پر بدمعاشوں، بے دینوں، کنجروں اور طوائفوں کو بلانا مذہب اسلام میں حرام اور ناجائز ہے۔ مگر مرزا قادیانی کے دھرم میں اس کا کیا حکم ہے؟

قادیانی ...... مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ مرزا قادیانی کے بڑے بھائی کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی اور کئی دن تک جشن ہوتا رہا اور ٢٢ طائفے (کنجر) ارباب نشاط (ڈھول سرنگی وغیرہ) کے جمع تھے۔

(سیرت المہدی ج ١ ص ٢٥٣)

فائدہ ...... شریف اور نیک عوام اپنی خوشیوں کے موقع پر شرفاء اور نیک کردار لوگوں کو مدعو کر کے اپنی نیک سیرت وخواہشات کا اظہار کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں مگر شریر طبع بدمعاش اور بدکردار لوگ طوائفوں، کنجروں بے دینوں اور بے غیرت لوگوں کو بلا کر خوش ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے والد نے کیا۔ امت مرزائیہ کو بھی اپنے نبی کے باپ کی سنت پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”آتش بازی“

مسلمان ...... شب برأت کو مرزا قادیانی کی سنت کے مطابق کیسے عبادت کرنا ثواب ہے؟

قادیانی ...... ”ڈاکٹر محمد اسماعیل کہتے ہیں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں گھر کے بچے کبھی شب برأت وغیرہ کے موقع پر یونہی تفریح کے طور پر گھر میں آتشبازی کے انار وغیرہ منگا کر چلا لیا کرتے تھے اور بعض اوقات اگر حضرت (مرزا قادیانی) موقع پر موجود ہوتے تو یہ آتشبازی چلتی ہوئی آپ خود بھی

٢٤

صفحہ ٢٩١

دیکھ لیتے تھے اور مرزا قادیانی منع نہ فرماتے بلکہ بعض دفعہ ان چیزوں کے منگانے کیلئے ہم حضرت (مرزا قادیانی) سے پیسے مانگتے تو آپ دے دیتے تھے۔"

(سیرت المہدی ج٢ص٥٦،روایت نمبر٣٧٠)

فائدہ...... کرشن قادیانی کے دھرم میں شب برأت جیسی متبرک رات میں آتشبازی چلانا اور کھیل تماشا کرنا ہی عبادت ہے، جیسا کہ مرزا قادیانی نے پیسے دے کر اہل خانہ سے یہ ثواب وعبادت کا کام کرایا جو کہ مذہب اسلام میں بالکل ناجائز اور حرام ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور مال حرام

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کے دھرم میں سود حرام ہے؟

قادیانی...... مرزا قادیانی نے کہا کہ سود کا پیسہ اشاعت دین (مرزائیت) اور دینی (تبلیغ مرزائیت کے) کام میں استعمال کرنا جائز ہے۔

(سیرت المہدی ج٢ص١١٣بروایت نمبر٣٤٩)

آنجہانی مرزا قادیانی اور ’’زنا کاری‘‘

مسلمان...... زانیہ بدکار کسبی عورت کا مال حرام مرزا قادیانی کے دھرم میں کیسا ہے؟

قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ بچی (زانیہ عورت) کا کمایا ہوا مال اسلام (مرزائیت) کی خدمت میں خرچ کرنا ہے۔

(سیرت المہدی ج١ص٢٦١بروایت نمبر٢٧٢)

آنجہانی مرزا قادیانی اور قبروں کے کپڑے،

مسلمان...... مسلمانوں کے قبرستان سے کپڑے چوری کر کے مرزا قادیانی کے دھرم میں کہاں خرچ کرنا چاہئے؟

قادیانی...... اللہ دین فلاسفر اور مولوی یار محمد نے قبروں کے کپڑے اتار کر کچھ روپیہ جمع کیا تو مرزا قادیانی نے اشاعت اسلام (مرزائیت) پر خرچ کرنے کا حکم دیا۔

(سیرت المہدی ج٣ص٢٦٤،بروایت نمبر٨٨٩)

فائدہ...... مرزا کرشن قادیانی کے دھرم میں سود، زنا کاری اور قبروں سے کپڑے چرا کر اس کے پیسوں سے مرزائیت پر خرچ کرنا جائز ہے یعنی حرام مال مرزائیت پر صرف کرنا عبادت پن اور ثواب ہے۔ جیسا مرزا کا دین حرامی تھا ویسا ہی مال حرام خرچ کرنا ثواب ہے۔ ’’الخبیثات للخبیثین‘‘ جیسا مذہب ویسی خوراک (مال حرام بود بجائے حرام رفت)

٢٥

صفحہ ٢٩٣

آنجہانی مرزا قادیانی اور اس کا باپ

مسلمان ...... کیا مرزا غلام احمد قادیانی کا باپ نماز پڑھتا تھا؟

قادیانی ...... ”مرزا سلطان احمد کہتے ہیں کہ ایک بغدادی مولوی صاحب نے دادا صاحب سے کہا کہ مرزا صاحب آپ نماز نہیں پڑھتے۔ دادا نے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا جبکہ آپ کی عمر ٧٥ سال تھی۔“

(سیرت المہدی ج ١ ص ٢٣١ بروایت نمبر ٢٢٣)

فائدہ ...... مرزا قادیانی کا باپ بے نماز، خود مرزا بھنگ نوش افیونی اور دھتورا خور یہ تمام کے تمام جہنم کے مستحق ہوئے جب کہ مرزا قادیانی ہیضہ اور دستوں کی وجہ سے پاخانہ میں مرا۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”استغفار“

مسلمان ...... اسلام میں مسلمان پر استغفار کرنا لازم ہے کیا مرزا قادیانی نے کبھی استغفار کیا؟

قادیانی ...... ”مرزا قادیانی کو استغفار پڑھتے کبھی نہیں سنا گیا۔“

(سیرت المہدی ج ١ صفحہ ٢ بروایت نمبر ١)

فائدہ ...... مسلمان اس لئے استغفار کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دے۔ مگر مرزا قادیانی اور اس کی امت مرتد اور کافر ہے۔ عقائد کفریہ، شرکیہ اور مرتد کے گناہ معاف نہیں ہوتے۔ بدیں وجہ مرزا قادیانی نے کبھی استغفار کا ارادہ ہی نہ کیا۔ جیسا کہ فرعون، شداد، ہامان اور ابو جہل وغیرہ کے دلوں میں کبھی استغفار اور توبہ تک کا خیال ہی نہ آیا اور جہنم رسید ہوئے۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور حج

مسلمان ...... رئیس قادیان اور مالدار ہوتے ہوئے کیا مرزا قادیانی نے اپنی زندگی میں حج کیا؟

قادیانی ...... ”مرزا قادیانی نے اپنی زندگی میں حج نہیں کیا تھا۔“

(سیرت المہدی ج ١ ص ٥٠، بروایت نمبر ٥٥)

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”اعتکاف“

مسلمان ...... مسلمان نمازی روزہ دار رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھتا ہے۔ کیا مرزا قادیانی نے اپنی زندگی میں اعتکاف بھی کیا؟

قادیانی ...... ”مرزا قادیانی نے اعتکاف نہیں کیا۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١١٩، بروایت نمبر ٦٧٢)

فائدہ ...... حج اور اعتکاف کا سلسلہ صرف مسلمان کے لئے ہے جو بارگاہ رب العزت سے سابقہ گناہوں کی معافی طلب کرتا اور آئندہ گناہوں سے توبہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس مرزا قادیانی اور اس کی جماعت چونکہ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اس لئے خداوند قدوس کی منشاء کیخلاف

٢٦

ان کی توبہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بریں بنا حج اور اعتکاف رب بے نیاز نے ایسے گروہ کا ٹھکانہ جہنم بنا رکھا ہے جس میں

آنجہانی مرزا قادیانی اور زکوٰۃ

مسلمان ...... مرزا قادیانی بہت بڑا مال دار تھا کیا اس نے ک

قادیانی ...... ”مرزا قادیانی نے کبھی بھی زکوٰۃ ادا نہیں کی بل

فائدہ ...... مسلمان زکوٰۃ اس لئے ادا کرتا ہے کہ مال خوشنودی بھی حاصل ہو۔ چونکہ مرزا قادیانی مرتد اور کا پاک ہوگا اور نہ ہی گناہ معاف ہوں گے۔ چونکہ اس کا تو کر کے اپنا مال کیوں برباد کرتا؟

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”استنجا“

مسلمان ...... مسلمان نبی علیہ السلام کی سنت کے مطابق مرزا قادیانی کا دھرم اس سلسلہ میں کیا کہتا ہے؟

قادیانی ...... مرزا قادیانی نے پیشاب کر کے پانی استعما

فائدہ ...... یہ سنت صرف اہل اسلام کیلئے ہے نہ کہ مر پیدا ہوتے۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی بیوی پلیٹ فارم پر

مسلمان ...... مسلمان عورت کے لئے پردہ لازم اور ضرو

قادیانی ...... ”مرزا قادیانی اپنی بیوی کے ساتھ اسٹیشن عبد الکریم نے کہا حضور بہت سے لوگ اور پھر غیر لوگ الگ جگہ پر بٹھا دیں۔ مرزا قادیانی نے کہا جاؤ جی میں ا

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”پردہ“

مسلمان ...... مومن عورت پر تو پردہ لازم ہے کیا مرزا ق

٢٧

صفحہ ٢٩٣

ان کی توبہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بریں بنا حج اور اعتکاف ان کیلئے فضول اور بے کار ہے نیز رب بے نیاز نے ایسے گروہ کا ٹھکانہ جہنم بنا رکھا ہے جس میں وہ ابدالاباد تک رہیں گے۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور زکوٰۃ

مسلمان ...... مرزا قادیانی بہت بڑا مال دار تھا کیا اس نے کبھی اپنے مال کی زکوٰۃ بھی ادا کی؟ قادیانی ...... ”مرزا قادیانی نے کبھی بھی زکوٰۃ ادا نہیں کی۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١١٩، بروایت نمبر ٦٧٢)

فائدہ ...... مسلمان زکوٰۃ اس لئے ادا کرتا ہے کہ مال پاک ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی بھی حاصل ہو۔ چونکہ مرزا قادیانی مرتد اور کافر تھا اس لئے وہ جانتا تھا کہ نہ اس کا مال پاک ہوگا اور نہ ہی گناہ معاف ہوں گے۔ چونکہ اس کا توبہ کرنے کا ارادہ نہ تھا۔ اس لئے زکوٰۃ ادا کر کے اپنا مال کیوں برباد کرتا؟

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”استنجا“

مسلمان ...... مسلمان نبی علیہ السلام کی سنت کے مطابق بوقت استنجا ڈھیلہ ضرور استعمال کرتا ہے۔ مرزا قادیانی کا دھرم اس سلسلہ میں کیا کہتا ہے؟ قادیانی ...... مرزا قادیانی نے پیشاب کر کے پانی استعمال کیا مگر ڈھیلہ کبھی بھی استعمال نہ کیا۔

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٣٣ بروایت نمبر ٨٤٤)

فائدہ ...... یہ سنت صرف اہل اسلام کیلئے ہے نہ کہ مرتد کافر کیلئے کہ مرزا قادیانی اس سنت پر عمل پیرا ہوتے۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی بیوی پلیٹ فارم پر

مسلمان ...... مسلمان عورت کے لئے پردہ لازم اور ضروری ہے کیا مرزا قادیانی کی بیوی کو پردہ تھا؟ قادیانی ...... ”مرزا قادیانی اپنی بیوی کے ساتھ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہل رہے تھے تو مولوی عبدالکریم نے کہا حضور بہت سے لوگ اور پھر غیر لوگ ادھر ادھر پھرتے ہیں۔ بیوی صاحبہ کو ایک الگ جگہ پر بٹھا دیں۔ مرزا قادیانی نے کہا جاؤ جی میں ایسے پردے کا قائل نہیں ۔“

(سیرت المہدی ج ١ ص ٦٣ بروایت نمبر ٧٧)

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”پردہ“

مسلمان ...... مومن عورت پر تو پردہ لازم ہے کیا مرزا قادیانی عورت کے پردہ کا قائل تھا؟

٢٧

صفحہ ٢٩٥

قادیانی ...... مرزا قادیانی نے کہا کہ: ”پردہ جو گھروں میں بند ہو کر بیٹھنے والا ہے یہ امہات المومنین سے خاص تھا دوسری مومنات کے لئے ایسا پردہ نہیں ہے۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٣٥١، بروایت نمبر ٨٦١)

فائدہ ...... فائدہ مرزا کرشن قادیانی اپنی بیوی اور مرزائیوں کی ماں کو گھر کی چار دیواری سے نکال کر پلیٹ فارم پر لائے اور گھر کا پردہ ناجائز فرمایا تو امت مرزائیہ پر سنت ہے۔ قادیانی کے مطابق لازم ہے کہ اپنی بیویوں کو شام کے وقت پلیٹ فارموں اور سڑکوں وغیرہ پر بغیر پردہ کے سیر وتفریح کیلئے بھیج دیا کریں تا کہ عوام کو ان سے استفادہ ہو اور مرزائی عورتیں عوام سے مستفید ہو سکیں۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”غیر محرم عورتیں“

مسلمان ...... کیا مرزا کرشن قادیانی غیر محرم عورتوں سے بوقت بیعت ہاتھ ملاتے تھے؟

قادیانی ...... ”مرزا قادیانی عورتوں کی بیعت صرف زبانی لیتے تھے ہاتھ میں ہاتھ نہیں لیتے تھے کیونکہ غیر محرم عورت سے لمس (ہاتھ لگانا) کی بھی ممانعت آئی ہے۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١٥، بروایت نمبر ٤٧٧)

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”بھانو“

مسلمان ...... مرزا قادیانی کے دھرم میں رات کو غیر محرم عورت سے ٹانگیں دبوانا کیسا ہے؟

قادیانی ...... مرزا قادیانی ”ایک رات اپنی ملازمہ بھانو سے دبواتے تھے جب کہ خوب سردی تھی۔ وہ لحاف کے اوپر سے دبا رہی تھی اس لئے اسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس کو دبا رہی ہوں وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے تھوڑی دیر بعد مرزا قادیانی نے کہا: بھانو آج بڑی سردی ہے۔ بھانو کہنے لگی ”ہاں جی ٹھنڈے تے تہاڈیاں لتاں لکڑی وانگر ہویاں ہویاں این یعنی جی ہاں جبھی تو آج آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہو رہی ہیں۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢١٠، بروایت نمبر ٧٨٠)

فائدہ ...... مرزا قادیانی کی دورنگی ملاحظہ فرماویں کہ بیعت کے وقت ہاتھ لگانا منع ہے مگر الگ ایک کمرہ میں غیر محرم عورت سے رات کو ٹانگیں دبوانا پھر لحاف کے اوپر سے کسی چیز کو دبانا جس کا اسے علم ہی نہ ہو سکے کہ وہ کیا چیز ہے جس کو وہ ہاتھوں سے دبا رہی ہے۔ کیا یہ شرافت ہے یا بے حیائی و بے شرمی و بے غیرتی؟ مرزا قادیانی کو اس سے شرم اور حیا نہ آئی بلکہ اس بات کو فخر سمجھا کہ ایک غیر محرم عورت اس کی ٹانگوں کے درمیان لیٹی ہوئی چیز کو دبا رہی تھی۔ ایک کم سے کم عقل انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ وہ کیا ہے؟ جس کو سردیوں میں دبوانے سے مرزا قادیانی لطف اندوز ہو کر فخر محسوس کر رہے تھے۔ میرے خیال میں ایک بہت ہی بے شرم انسان اپنی منکوحہ عورت کو بھی ایسا

٢٨

کرنے کو نہیں کہے گا۔ قادیانی امت کو چاہئے کہ اب بھی ملاحظہ کرتے ہوئے توبہ کرے۔ شرم و حیا بازار کا سودا ن اللہ تعالیٰ ہی کی دین ہے جسے چاہے عطاء کرے۔

حیا و شرم و ندامت
تو ہم بھی لیتے ذرا مرزا

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”مائی فتو“

مسلمان ...... مرزا قادیانی جب اپنے گھر کے ایک ک عورت؟

قادیانی ...... ”مائی رسول بی بی نے بیان کیا کہ ایک د اہلیہ بادشاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں۔ ان ایام می دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بادشاہ دین ہوتی تھی۔“

فائدہ ...... مرزا کرشن قادیانی رات کو مردوں کی بجا قادیانی الگ جگہ غیر محرم عورتوں سے رات کو خدم مرزائیہ کے نبی کی غیرت ہے یا بے غیرتی، حیا ہے یا صرف مرزا قادیانی ہی کی صفت ہے نہ کہ کسی شریف

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”زینب کو نصف

مسلمان ...... مرزا قادیانی جب رات کو کسی غیر محر کیفیت ہوتی؟

قادیانی ...... ”زینب بیگم نے بیان کیا کہ میں تین م ہوں۔ گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خ رات کو یا اس سے بھی زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گز وتکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی بلکہ خوشی سے دل بھر اور نہ تھکان معلوم ہوتی بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھ

فائدہ ...... جب یہ عورت علیحدگی میں مرزا قادیا کر کے خدمت کرتی تو اسے خوشی اور سرور حاصل خوشی اور سرور خود بخود پیدا ہو ہی جاتا ہے۔ مل

٩

صفحہ ٢٩٥

کرنے کو نہیں کہے گا۔ قادیانی امت کو چاہئے کہ اب بھی ہوش سنبھالے اور آنجہانی مرزا کے کردار کا ملاحظہ کرتے ہوئے توبہ کرے۔ شرم و حیا بازار کا سودا نہیں کہ کسی کے لئے خرید کر لیا جائے یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی دین ہے جسے چاہے عطاء کرے۔

حیا و شرم و ندامت اگر کہیں بکتیں
تو ہم بھی لیتے ذرا مرزا قادیانی کے لئے

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”مائی فجو“

مسلمان...... مرزا قادیانی جب اپنے گھر کے ایک کمرہ میں رات کو سوتے تو پہرہ کون دیتا مرد یا عورت؟

قادیانی...... ”مائی رسول بی بی نے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے وقت میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں۔ ان ایام میں عام طور پر پہرہ دار مائی فجو عثمانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھی۔“

(سیرت المہدی ج٣ ص٢١٣، بروایت نمبر ٧٨٦)

فائدہ...... مرزا کرشن قادیانی رات کو مردوں کی بجائے عورتوں سے پہرا دلاتے تھے حالانکہ مرزا قادیانی الگ جگہ غیر محرم عورتوں سے رات کو خدمت لیتے اور پہرہ بھی، کیا مرزا آنجہانی امت مرزائیہ کے نبی کی غیرت ہے یا بے غیرتی، حیا ہے یا بے حیائی؟ تمام رات غیر محرم عورتوں میں رہنا صرف مرزا قادیانی ہی کی صفت ہے نہ کہ کسی شریف آدمی کی۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”زینب کو نصف رات کو سرور“

مسلمان...... مرزا قادیانی جب رات کو کسی غیر محرم عورت سے خدمت لیتے تو اس عورت کی کیا کیفیت ہوتی؟

قادیانی...... ”زینب بیگم نے بیان کیا کہ میں تین ماہ کے قریب مرزا قادیانی کی خدمت میں رہی ہوں۔ گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات کو یا اس سے بھی زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی مجھ کو اس اثناء میں کسی قسم کی تھکان و تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند نہ غنودگی اور نہ تھکان معلوم ہوتی بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔“

(سیرت المہدی ج٣ ص٢٧٣، بروایت نمبر ٩١١)

فائدہ...... جب یہ عورت علیحدگی میں مرزا قادیانی سے رات کے وقت شرف ملاقات حاصل کر کے خدمت کرتی تو اسے خوشی اور سرور حاصل نہ ہوتا تو اور کیا حاصل ہوتا؟ بلکہ ایسے مواقع پر خوشی اور سرور خود بخود پیدا ہو ہی جاتا ہے۔ ملاحظہ ہوں امت مرزائیہ کے نبی اور مہدی کی

٢٩

صفحہ ٢٩٧

کارستانیاں کہ غیر محرم عورتوں سے رات کو ملاقات کا شرف بخشتے ہوئے ان کے دلوں میں خوشی وسرور پیدا فرما دیتے ایسی عورت جو کہ اپنے نبی (مرزا قادیانی آنجہانی) سے رات کو رنگ رلیاں منا رہی ہو اسے نیند کب آسکتی ہے۔ یہ ہیں امت مرزائیہ کے نبی کرشن قادیانی۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی چادریں

مسلمان...... آنجہانی مرزا قادیانی کی متبرک چادریں کیا تھیں؟

قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”مجھے دو مرض دامن گیر ہیں ایک جسم کے اوپر کے حصہ میں دردسر دوران سر اور دوسرے جسم کے نیچے حصہ میں کہ پیشاب کثرت سے آتا اور دست آتے رہنا سو یہ وہی دو زرد رنگ کی چادریں ہیں۔“

(نسیم دعوت ص٧٥، ٧٦، خزائن ج١٩ ص٤٣٥)

فائدہ...... جیسا مرزا قادیانی تھا چادریں بھی ویسی پسند کیں اور اللہ تعالیٰ نے بھی اسے ویسی چادریں دیں اوپر سر درد (مراق) نیچے دست، دست اور پیشاب جن کی رنگت زرد، امت مرزائیہ کا نبی ایسی چادریں پہنا کرتا تھا تو مرزائیوں کو چاہئے کہ وہ بھی ایسی چادریں استعمال میں لائیں، تاکہ سنت قادیانی پر عمل کر کے ثواب حاصل کرسکیں یہ ہیں مرزائیوں کے پیشابی اور دستوں میں غرقابی نبی (العیاذ باللہ)

آنجہانی مرزا قادیانی اور پیشاب

مسلمان...... مرزا قادیانی کو روزانہ کتنی بار پیشاب آتا تھا؟

قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”مجھے بعض اوقات سو سو دفعہ ایک دن میں پیشاب آتا ہے۔“

(نسیم دعوت ص٧٤، خزائن ج١٩ ص٤٣٤)

فائدہ...... مرزا قادیانی کو دن میں ١٠٠ بار اور رات میں ١٠٠ بار پیشاب آتا یعنی چوبیس ٢٤ گھنٹے میں آنجہانی کرشن کو دو سو ٢٠٠ بار پیشاب کرنا پڑتا اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرزا قادیانی کے دربان ہی پیشاب تھا۔

عاصی بخشے گئے قیامت میں
مرزا کہتا رہا پیشاب پیشاب

ٹوٹے ہوئے لوٹے کی طرح مرزا قادیانی سے پیشاب بہتا رہتا تھا۔ جو شخص افیون، بھنگ، دھتورا وغیرہ استعمال کرے اور ان سے ہر وقت پیشاب اور دست بھی بہتے رہتے ہوں وہ بھنگی، افیونی، پیشابی اور مجنون مرکب حشیشی تو ہو سکتا ہے مگر خدا کا نبی اور مہدی ہرگز نہیں ہو سکتا۔

٣٠

آنجہانی مرزا قادیانی اور سر میں خرابی

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی کے سر میں کسی قسم کی خرا

قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”میرے اوپر کے ہے۔“

فائدہ...... جس شخص کو ہر وقت درد سر اور دوران سر یعنی خرابی کی وجہ سے پاگل اور مجنون تو کہا جائے گا نہ کہ ولی و دماغ کو ملاحظہ کریں کہ وہ پاگل، مجنون، پیشابی اور بد و مہدی وغیرہ مانتے ہیں۔

آنجہانی مرزا قادیانی کو ذیابیطس و شوگر

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کو ذیابیطس اور شوگر بھی تھی

قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”میرے نیچے ک

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی کو شوگر کا بھی مرض تھ

قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”مجھے پیشاب

آنجہانی مرزا کرشن قادیانی کو خارش

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی کو خارش کی بیماری

قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”مجھے خارش

فائدہ...... مرزا قادیانی کہتے ہیں روح امراض میں سے ایک مرض خارش بھی تھا جیسا کہ لکڑی وغیرہ سے اپنی خارش کا دفاع کرتا ہے۔ مرز یحمل اسفاراً“ امت مرزائیہ کا خارش نبی اور م

آنجہانی مرزا قادیانی اور دست

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی ہمیشہ اور ہر وقت

١

صفحہ ٢٩٧

آنجہانی مرزا قادیانی اور سر میں خرابی

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی کے سر میں کسی قسم کی خرابی تھی؟ قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”میرے اوپر کے حصہ میں ہمیشہ سر درد اور دوران سر رہتا ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠)

فائدہ...... جس شخص کو ہر وقت درد سر اور دوران سر یعنی ہر وقت سر چکراتا رہتا ہو اسے دماغ کی خرابی کی وجہ سے پاگل اور مجنون تو کہا جائے گا نہ کہ ولی وغیرہ لیکن مرزائیوں کے پاگل پن اور خرابی دماغ کو ملاحظہ کریں کہ وہ پاگل، مجنون، پیشابی اور بدکردار اور بدصورت آدمی کو من گھڑت نبی ومہدی وغیرہ مانتے ہیں۔

آنجہانی مرزا قادیانی کو ذیابیطس وشوگر

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کو ذیابیطس اور شوگر بھی تھی؟ قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”میرے نیچے کے بدن میں بیماری ذیابیطس ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی کو شوگر کا بھی مرض تھا؟ قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”مجھے پیشاب میں شوگر ہے۔“

(نسیم دعوت ص ٧٤، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٤)

آنجہانی مرزا کرشن قادیانی کو خارش

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی کو خارش کی بیماری بھی تھی؟ قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”مجھے خارش کا عارضہ بھی ہے۔“

(نسیم دعوت ص، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٤)

فائدہ...... مرزا قادیانی کئی روحانی اور جسمانی امراض کا مرکب الوجود تھا۔ ان امراض میں سے ایک مرض خارش بھی تھا جیسا کہ گدھا کو خارش ہو تو وہ کودتا آواز دیتا اور دوڑ کر کسی لکڑی وغیرہ سے اپنی خارش کا دفاع کرتا ہے۔ مرزا قادیانی بھی ایسے تھے۔ ”کمثل الحمار یحمل اسفارا“ امت مرزائیہ کا خارشی نبی اور مرکب الوجود، پیشابی اور بھنگی نبی۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور دست

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی ہمیشہ اور ہر وقت دستوں کے مرض میں مبتلا رہتا تھا؟

٣١

صفحہ ٢٩٩

قادیانی...... مرزا بشیر الدین محمود کہتے ہیں کہ: ”مرزا غلام احمد قادیانی کو ہمیشہ دستوں کی شکایت رہتی تھی۔“

(سیرت مسیح موعود ص ٧٥)

مرزا قادیانی کہتا ہے: ”مجھے اکثر دست آتے رہتے ہیں۔“

(نسیم دعوت ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ٣٤٥)

فائدہ ...... انگریزی حکومت نے ایک ایسے شخص کو نبی ومہدی بنایا جو ان کا بہت بڑا خیر خواہ ثابت ہوا کیونکہ اس میں سے ہمہ وقت پیشاب اور گوبر جیسی غلاظت خارج ہوتی رہتی تھی جو ان کے بہشتی مقبرہ کی اور امت مرزائیہ کی اراضی کو زرخیز بنانے اور سیراب کرنے میں خوب ممد ومعاون ثابت ہوتی ہوگی۔ نیز مرزا قادیانی کے کثرت پیشاب اور اسہال نے مرزائیوں کو ٹیوب ویل، نہری پانی اور ولایتی کھاد کی خرید سے بے نیاز کر دیا ہوگا۔

مذکورہ بالا نقائص کی بناء پر ایسا شخص نبی تو کیا (جس کا کائنات میں بہت بڑا مقام ہے) معمولی انسان بھی نہیں ہو سکتا۔

چہ نسبت خاک را بعالم پاک

خدائے بزرگ و برتر نے تمام انبیاء علیہم السلام کو ان عیوب و نقائص سے پاک پیدا فرمایا۔

آنجہانی مرزا قادیانی کو ”ہسٹیریا“

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی کو ہسٹیریا کی بیماری کا دورہ بھی پڑتا تھا؟ قادیانی...... مرزا قادیانی کو پہلی دفعہ دورانِ سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اول کی وفات پر ہوا تھا۔

(سیرت المہدی ج ١ ص ١٢ روایت نمبر ١٩)

آنجہانی مرزا قادیانی کو ”مرگی“

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کو مرگی کا دورہ بھی پڑتا تھا؟ قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مجھے دوران سر بھی لاحق ہو گیا ہے۔ طبیبوں نے لکھا ہے کہ ان عوارض کا آخری نتیجہ مرگی ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٣٩٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧٦)

آنجہانی مرزا قادیانی کو ”مرگی کا دورہ“

مسلمان...... مرزا کرشن قادیانی کو مرگی کا دورہ کس طرح ہوتا تھا؟ قادیانی...... مرزا قادیانی کی بیوی کہتی ہے کہ: ”میں پردہ کرا کر مسجد میں چلی گئی تو آپ (مرزا قادیانی

٣٢

کرشن) لیٹے ہوئے تھے۔ جب پاس گئی تو فرمایا میری طبیعت خراب ہے، میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میری تک چلی گئی ہے پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت کے بعد قادیانی کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔“

آنجہانی مرزا قادیانی کو مرگی کا دورہ نمبر : ٢

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کو پھر بھی مرگی کا دورہ ہوا؟ قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”ایک دفعہ عالم کشف ایک چارپائے کی شکل پر جو بھیڑ کے قد کی مانند اس کا قد تھا بڑے پنجے تھے میرے پر حملہ کرنے لگی اور میرے دل میں یقین

فائدہ ...... آج تک کوئی نبی اور ولی ایسا نہیں آیا جو کہ مرگی دجال ہی ہے جو کہ امت مرزائیہ کو نصیب ہوا انہیں چاہیے حاصل کریں۔

آنجہانی مرزا قادیانی کو ”مراق“

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی کو مراق بھی تھا؟ قادیانی...... مرزا قادیانی سے کئی دفعہ سنا ہے کہ: ”مجھے مراق فرمایا کرتے تھے۔“ ١)

آنجہانی مرزا قادیانی کی بیوی کو مراق

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کی بیوی کو مراق تھا؟ قادیانی...... مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”میری بیوی کو مراق

آنجہانی مرزا قادیانی کے خلیفہ ثانی کو ”مراق“

مسلمان...... کیا امت مرزائیہ کے خلیفہ ثانی کو بھی مراق قادیانی...... حضرت خلیفہ الثانی نے فرمایا کہ: ”مجھ کو بھی مراق ١)

٣٣

صفحہ ٢٩٩

کرشن) لیٹے ہوئے تھے۔ جب پاس گئی تو فرمایا میری طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی۔ لیکن اب افاقہ ہے ۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہو گئی ۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد قادیانی کو با قاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔“

(سیرت المہدی ج ١ ص ١٧، روایت نمبر ١٩)

آنجہانی مرزا قادیانی کو مرگی کا دورہ نمبر : ٢

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کو پھر بھی مرگی کا دورہ ہوا؟

قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ : ”ایک دفعہ عالم کشف میں مجھے دکھائی دیا کہ بلا ایک سیاہ رنگ چارپائے کی شکل پر جو بھیڑ کے قد کی مانند اس کا قد تھا اور بڑے بڑے بال تھے اور بڑے بڑے پنجے تھے میرے پر حملہ کرنے لگی اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی (صرع ) مرگی ہے۔“

(تذکرہ ص ٦٩٠)

فائدہ...... آج تک کوئی نبی اور ولی ایسا نہیں آیا جو کہ مرگی کا مریض ہو یہ صرف قادیانی و شیطانی دجال ہی ہے جو کہ امت مرزائیہ کو نصیب ہوا انہیں چاہئے کہ ٹھنڈے دل سے سوچ کر عبرت حاصل کریں۔

آنجہانی مرزا قادیانی کو ”مراق“

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی کو مراق بھی تھا؟

قادیانی...... مرزا قادیانی سے کئی دفعہ سنا ہے کہ : ” مجھے ہسٹیریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔“

(سیرت المہدی ج ٢ ص ٥٥ روایت نمبر ٣٦٩)

آنجہانی مرزا قادیانی کی بیوی کو مراق

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کی بیوی کو مراق تھا ؟

قادیانی...... مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ : ”میری بیوی کو بھی مراق کی بیماری ہے۔“

(منظور الٰہی ص ٣٤٤)

آنجہانی مرزا قادیانی کے خلیفہ ثانی کو ”مراق“

مسلمان...... کیا امت مرزائیہ کے خلیفہ ثانی کو بھی مراق تھا ؟

قادیانی...... حضرت خلیفہ الثانی نے فرمایا کہ : ”مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“

(رسالہ ریویو قادیان ص ١١ بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء)

٣٣

صفحہ ٣٠١

آنجہانی مرزا قادیانی کے مرید کو ’مراق‘

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کے مریدوں کو بھی مراق تھا؟ قادیانی..... ”ایک دن کا ذکر ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح اول نے مسیح موعود سے فرمایا کہ حضور غلام نبی کو مراق ہے تو حضور نے فرمایا کہ ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے (العیاذ باللہ) اور مجھے بھی مراق ہے۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص٣٠٤، روایت نمبر ٩٦٩)

فائدہ..... امت مرزائیہ کو مبارک ہو کہ ان کو ایسا نبی ملا کہ جو تمام عالم کی بری سے بری بیماریوں کا مرکب الوجود تھا۔ خود مراقی، بیوی مراقی، بیٹا مراقی اور مرید بھی مراقی یعنی تمام اہل خاندان مراقی، امت مرزائیہ کو چاہئے کہ وہ اپنے خاندان نبوت کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے عبرت حاصل کرے اور بارگاہ خداوندی میں سر بسجود ہو کر توبہ کرے۔

آنجہانی مرزا قادیانی بے استاد

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی نے کسی استاد سے علم حاصل کیا؟ قادیانی..... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ : ”میں نے علم و معرفت کسی استاد سے حاصل نہیں کی۔“

(براہین احمدیہ پنجم ص ١٤٦، خزائن ج ٢١ ص٣٠٣)

آنجہانی مرزا قادیانی کا ”جھوٹ“

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کا کوئی استاد نہ ہونا صحیح ہے؟ قادیانی..... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ : ”میرے چار استاد ہیں فضل الٰہی، گل علی شاہ، فضل احمد، مرزا غلام مرتضیٰ ۔“

(کتاب البریہ ص١٦٢، خزائن ج١٣ ص١٨٠)

مسلمان...... مرزا کرشن قادیانی نے ان چار اساتذہ سے کون سے اسباق پڑھے تھے؟ قادیانی..... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ : ”میں نے فضل الٰہی سے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں پڑھیں ۔ دس برس کی عمر میں فضل احمد سے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے، سترہ اٹھارہ برس کی عمر میں گل علی شاہ سے نحو اور منطق حکمت وغیرہ علوم مروجہ حاصل کئے اور اپنے والد سے بعض طباعت کی کتابیں پڑھیں۔

(کتاب البریہ ص١٦٢، خزائن ج١٣ ص١٨٠، ١٨١)

آنجہانی مرزا قادیانی ”مجنون و پاگل“

مسلمان...... مرزا قادیانی اپنی کتاب (براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٩٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”میں نے کسی استاد

٣٤

سے علم حاصل نہیں کیا مگر کتاب البریہ کے ص ١٨٠، ١٨١ تفصیل سے ذکر کیئے۔ تو مرزا قادیانی کے اس کلام میں میں تناقض و اختلاف ہو تو مرزا قادیانی اس کے متعلق کیا قادیانی..... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”پاگل مجنون، مـ

فائدہ..... بقول مرزا کرشن قادیانی خود ہی منافق، پاگل بھی نہیں ہوتا بلکہ وہ اکثر ننگا پھرتا اور بے ہودہ بکواس ڈھیروں میں بیٹھ کر ہاتھ مارتا اور راہگیروں کو گالیاں دیتا پرواہ نہیں کرتے اور اس سے مخاطب ہونا بے کار تصور ”نجم الہدیٰ“ نور الحق میں تمام انسانوں کو گالیاں دیں بکواس پر اسے پاگل و مجنون سمجھا، اس کے برعکس امت کو اپنا نبی و مہدی گردانا۔

آنجہانی مرزا قادیانی امتحان میں ”فیل“

مسلمان...... جب مرزا قادیانی نے اپنے اساتذہ امتحان میں شریک ہو کر کامیابی نصیب ہوئی؟ قادیانی..... مرزا قادیانی نے مختاری کا امتحان دیا مگر کـ دوسرا امتحان وکالت اس وقت دیا جب نہ ہوئے۔

فائدہ..... امت مرزائیہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ جس سے کچھ بھی علم حاصل نہیں کیا بلکہ براہ راست اللہ حاصل کئے اور ان حضرات کے علوم کو محفوظ رکھنا اور مرزا کرشن قادیانی نے اپنے اساتذہ کے ناکامی ہوئی۔ مرزا قادیانی نے تمام علوم بقول خود کو یاد بھی نہ رکھ سکے اور فیل ہوتے رہے۔

٣٥

صفحہ ٣٠١

سے علم حاصل نہیں کیا مگر کتاب البریہ کے ص ١٨٠، ١٨١ پر اساتذہ اور ان سے جو اسباق پڑھے تھے تفصیل سے ذکر کئے۔ تو مرزا قادیانی کے اس کلام میں تناقض و اختلاف ہوا جس شخص کے کلام میں تناقض واختلاف ہو تو مرزا قادیانی اس کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ قادیانی ...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”پاگل مجنون، منافق کے کلام میں تناقض ہوتا ہے۔“

(ست بچن ص ٣٠، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢)

فائدہ ...... بقول مرزا کرشن قادیانی خود ہی منافق، پاگل و مجنون ہوا۔ مجنون و پاگل آدمی کو اپنا ہوش بھی نہیں ہوتا بلکہ وہ اکثر ننگا پھرتا اور بے ہودہ بکواس کرتا رہتا ہے۔ خیال آئے تو گندگی کے ڈھیروں میں بیٹھ کر ہاتھ مارتا اور راہگیروں کو گالیاں دیتا رہتا ہے اور راہ گیر اسے پاگل سمجھ کر اس کی پرواہ نہیں کرتے اور اس سے مخاطب ہونا بے کار تصور کرتے ہیں جیسا کہ مرزا قادیانی نے کتاب ”نجم الہدیٰ“ نور الحق میں تمام انسانوں کو گالیاں دی ہیں۔ اہل اسلام نے اس کی ایسی بیہودہ بکواس پر اسے پاگل و مجنون سمجھا ، اس کے برعکس امت مرزائیہ نے ایسے پاگل مجنون اور غلیظ آدمی کو اپنا نبی ومہدی گردانا۔

آنجہانی مرزا قادیانی امتحان میں ”فیل“

مسلمان ...... جب مرزا قادیانی نے اپنے اساتذہ کا انکار کیا اور ان کی توہین کی تو کیا اسے کسی امتحان میں شریک ہو کر کامیابی نصیب ہوئی؟ قادیانی ...... مرزا قادیانی نے مختاری کا امتحان دیا مگر کامیاب نہ ہوئے یعنی فیل ہوگئے۔

(سیرت المہدی ج ١ ص ١٥٦، بروایت نمبر ١٥٠)

دوسرا امتحان وکالت اس وقت دیا جب کہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں کلرک تھے تو کامیاب نہ ہوئے۔

(سیرت المہدی ج ١ ص ١٧٩ بروایت نمبر ١٥٩)

فائدہ ...... امت مرزائیہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام نے دنیا میں کسی انسان سے کچھ بھی علم حاصل نہیں کیا بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ ہی سے بذریعہ وحی وغیرہ علوم ومعارف حاصل کئے اور ان حضرات کے علوم کو محفوظ رکھنا اور بیان کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ مرزا کرشن قادیانی نے اپنے اساتذہ کا انکار کر کے جھوٹ بولا جو گناہ کبیرہ ہے اور سزا ناکامی ہوئی۔ مرزا قادیانی نے تمام علوم بقول خود انسانوں سے حاصل کئے جو کہ بوقت امتحان ان کو یاد بھی نہ رکھ سکے اور فیل ہوتے رہے۔

٣٥

صفحہ ٣٠٣

آنجہانی مرزا قادیانی کی ”بیوی کی شادی نامرد سے“

مسلمان...... مرزا قادیانی کی جب شادی ہوئی تو ان کی کیا حالت تھی؟

قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”ایک ابتلا مجھ کو اس شادی کے وقت آیا کہ باعث اس کے میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا۔ اس لئے میری حالت مردی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔“

(تریاق القلوب ص ٧٥، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٣)

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی کی ایسی حالت میں شادی پر کسی نے اظہار خیال بھی کیا؟

قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”میری اس نامردی کے وقت شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا۔“

(تریاق القلوب ص ٧٥، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٣)

مسلمان...... کیا کسی حکیم نے بھی مرزا قادیانی کو شادی کے لائق نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی دیا؟

قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”مجھے حکیم محمد شریف کی زبانی معلوم ہوا کہ آپ باعث سخت کمزوری کے اس (شادی) کے لائق نہ تھے۔“

(تریاق القلوب ص ٧٥، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٣)

آنجہانی مرزا قادیانی بعد از شادی بیوی سے الگ

مسلمان...... مرزا قادیانی نے نامردی کی حالت میں جب شادی کی تو کیا رات کو اپنی بیوی کے پاس گئے؟

قادیانی...... مرزا بشیر احمد ”مرزا قادیانی“ کے متعلق لکھتے ہیں کہ: ”جب حضرت (مرزا قادیانی) صاحب کی دوسری شادی ہوئی تو ایک عمر تک تجرد میں رہے اور مجاہدات کرنے کی وجہ سے آپ نے اپنی قویٰ میں ضعف محسوس کیا۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٥٠، روایت نمبر ٥٦٩)

فائدہ...... مرزا قادیانی نے شادی کے بعد اپنی بیوی سے فرائض ہمبستری خود ادا نہ کئے بلکہ بیوی سے الگ رہنا پسند کیا۔ معلوم نہیں کہ مرزا قادیانی کی منکوحہ (بیوی) مسماۃ نصرت جہاں بیگم کے ساتھ پہلی رات کس نے گزاری اور رنگ رلیاں منائیں جس سے خلیفہ ثانی معرض وجود میں آیا کیونکہ مرزا قادیانی تو اپنی بیوی سے عمر کا کافی حصہ الگ رہے اور اپنی امت کو دھوکہ دینے کی خاطر یہ فریب دیا کہ مجھے بعد از قبول دعا ایک نسخہ الہام ہوا ہے جو کہ بالکل جھوٹ ہے کیونکہ اسے تو کسی بیماری سے نجات نہ ملی جن میں وہ عمر بھر مبتلا رہا۔ بالآخر ہیضہ جیسے مرض میں مبتلا رہ کر عبرتناک موت سے اپنے برے انجام کو پہنچا۔

٣٦

آنجہانی مرزا قادیانی کی ”دعا“

مسلمان...... مرزا کرشن قادیانی کی دعا برائے شفاء کیا

قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”ایک دفعہ جائیں تو جواب ملا کہ ایسا نہیں ہوگا۔“

آنجہانی مرزا قادیانی کا ”بچہ“

مسلمان...... مرزا قادیانی کا بچہ مرزا کی جوانی میں ہو

قادیانی...... مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں کہ: ”مرزا قادیا ہوگئے۔“

آنجہانی مرزا قادیانی کی عبرتناک موت

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی نے اپنے انجام

قادیانی...... مرزا قادیانی نے کہا کہ: ”اگر یہ عاجز جعلسازی ہے تو انجام بہتر نہ ہوگا اور خدا تعالیٰ ذلت لعن طعن کا نشانہ بنائے رکھے گا۔“

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”لیکھرام“

مسلمان...... ہندو لیکھرام نے مرزا کرشن قادیانی پر

قادیانی...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”لیکھرام

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”ڈاکٹر عبدالحکیم

مسلمان...... ڈاکٹر عبدالحکیم نے مرزا قادیانی کے م

قادیانی...... ڈاکٹر عبدالحکیم نے ٨؍مئی ١٩٠٨ء کے تک مرض مہلک میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جائے گا۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی ”موت“

مسلمان...... مرزا قادیانی کس دن فوت ہوئے کیا

قادیانی...... مرزا قادیانی منگل کے روز فوت ہوا،

٣٧

صفحہ ٣٠٣

آنجہانی مرزا قادیانی کی ”دعا“

مسلمان ..... مرزا کرشن قادیانی کی دعا برائے شفاء کیا منظور ہوئی؟

قادیانی ..... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ : ”ایک دفعہ میں نے دعا کی کہ یہ بیماریاں بالکل دور کر دی جائیں تو جواب ملا کہ ایسا نہیں ہوگا۔“

(نسیم دعوت ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٥)

آنجہانی مرزا قادیانی کا ”بچہ“

مسلمان ..... مرزا قادیانی کا بچہ مرزا کی جوانی میں ہوا یا بچپن میں؟

قادیانی ..... مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں کہ: ”مرزا قادیانی ابھی گویا بچہ ہی تھے کہ مرزا سلطان احمد پیدا ہوگئے۔“

(سیرت المہدی ج ١ ص ٥٣ بروایت نمبر ٥٩)

آنجہانی مرزا قادیانی کی عبرتناک موت اور برا انجام

مسلمان ..... کیا مرزا کرشن قادیانی نے اپنے انجام اور جھوٹے ہونے کے متعلق کچھ کہا ہے؟

قادیانی ..... مرزا قادیانی نے کہا کہ: ”اگر یہ عاجز خدا کی طرف سے نہیں ہے اور صرف افتراء اور حیلہ سازی ہے تو انجام بہتر نہ ہوگا اور خدا تعالیٰ ذلت کے ساتھ ہلاک کرے گا اور پھر ابدالدہر تک لعن طعن کا نشانہ بنائے رکھے گا۔“

(شہادت القرآن ص ٧٢، خزائن ج ٦ ص ٣٦٨)

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”لیکھرام“

مسلمان ..... ہندو لیکھرام نے مرزا کرشن قادیانی کے متعلق کیا پیشگوئی کی تھی؟

قادیانی ..... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ : ”لیکھرام نے کہا کہ مرزا قادیانی ہیضہ سے مرے گا۔“

(نسیم دعوت ص ٩٢، خزائن ج ١٩ ص ٤٥٢)

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”ڈاکٹر عبدالحکیم“

مسلمان ..... ڈاکٹر عبدالحکیم نے مرزا قادیانی کے متعلق کیا پیشگوئی کی تھی؟

قادیانی ..... ڈاکٹر عبدالحکیم نے ٨ مئی ١٩٠٨ء کے خط میں اعلان کیا کہ : ”مرزا ١٤ اگست ١٩٠٨ء تک مرض مہلک میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جائے گا۔“

(تذکرہ ص ٧٣٩)

آنجہانی مرزا قادیانی کی ”موت“

مسلمان ..... مرزا قادیانی کس دن فوت ہوئے کیا وہ دن اچھا تھا؟

قادیانی ..... مرزا قادیانی منگل کے روز فوت ہوا جو کہ اچھا نہ تھا۔

(سیرت المہدی ج ١ ص ٨، بروایت نمبر ١١)

٤٧

صفحہ ٣٠٤

فائدہ ....... مرزا قادیانی اچھا نہیں بلکہ برا تھا تو اسے دن بھی برا نصیب ہوا۔ جیسا تھا ویسا ہی دن ملا۔ مرزا کو نہ دن اچھا ملا اور نہ ہی موت اچھی ملی۔

آنجہانی مرزا قادیانی کو ”ہیضہ“

مسلمان ....... مرزا کرشن قادیانی کس بیماری میں فوت ہوئے اور آخری وقت میں اس کی کونسی بیماری میں اضافہ ہو گیا ؟ (ہیضہ، دست اور قے آنے کو کہتے ہیں) قادیانی ....... مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں کہ : ”مسیح موعود آخری بیماری میں بیمار ہوئے کہ ٢٥ مئی ١٩٠٨ یعنی پیر کی شام کو بعد نماز عشاء میں نے دیکھا کہ آپ والدہ صاحبہ کے ساتھ پلنگ پر بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے میں اپنے بستر پر جا کر لیٹ گیا۔ پھر صبح کے قریب مجھے جگایا گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود اسہال کی بیماری سے سخت بیمار ہیں۔“

(سیرت المہدی ج ١ ص ٩، بروایت نمبر ١٢)

آنجہانی مرزا قادیانی کو دست ہی دست

مسلمان ....... کیا مرزا قادیانی کو کھانا کھاتے وقت بھی دست آتے تھے؟ قادیانی ....... مرزا بشیر احمد کہتے ہیں کہ : ”والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھاتے وقت آیا تھا۔“

(سیرت المہدی ج ١ ص ١١ بروایت نمبر ١٢)

آنجہانی مرزا قادیانی اور ”پاخانہ“

مسلمان ....... کیا مرزا کرشن قادیانی کو اور بھی دست آئے تھے؟ قادیانی ....... ”کچھ دیر کے بعد قادیانی کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کیلئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا اور آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چار پائی پر ہی لیٹ گئے اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔“

(سیرت المہدی ج ١ ص ١١، بروایت نمبر ١٢)

آنجہانی مرزا قادیانی کی موت اور انتظام پاخانہ

مسلمان ....... مرزا قادیانی کے ضعف، کمزوری اور اسہال کی زیادتی کی وجہ سے بیت الخلاء تک نہ پہنچ سکتے تھے پر اس کی رفع حاجت کے لئے کیا انتظام کیا گیا؟ قادیانی ....... مرزا قادیانی کی بیوی کہتی ہے کہ: ”آپ کو اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ میں نہ جاسکتے تھے اس لئے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا۔ آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست

٣٨

صفحہ ٣٠٥

آیا۔“

(سیرت المہدی ج١ص١١، بروایت نمبر ١٢)

آنجہانی مرزا قادیانی کو ”قے“

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی کو قے بھی آئی؟ نیز موت کس حالت میں ہوئی؟

قادیانی...... مرزا قادیانی کی بیوی کہتی ہے کہ: ”پھر جب آپ کو ایک قے آئی اور آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرا گیا اور حالت دیگرگوں ہوگئی۔“

(سیرت المہدی ج١ص١١، بروایت نمبر ١٢)

”حتیٰ کہ آپ نے ایک لمبا سانس لیا اور آپ کی روح رفیق اعلیٰ کی طرف پرواز کرگئی۔“

(سیرت المہدی ج١ص١١، بروایت نمبر ١٢)

فائدہ...... جب کہ مرزا قادیانی کو متعدد بار دست اور قے وغیرہ آئی اور اس طرح سے موت کا وقت قریب آ گیا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ مرزا قادیانی ہیضہ کی موت مرے اور پنڈت لیکھرام کی پیش گوئی پوری ہوئی۔ نیز ڈاکٹر عبدالحکیم نے ٤ اگست ١٩٠٨ء تک مرزا کی موت مہلک مرض سے ہونے کی پیش گوئی کی تھی۔ جو ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو مرزا قادیانی کی موت واقع ہونے پر پوری ہوئی اور مرزا کے جھوٹ پر یہ واضح دلیل قائم ہوئی۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی ”موت اور جھوٹ“

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی نے اپنی موت پر جھوٹے ہونے کی وضاحت یا پیش گوئی کی تھی؟

قادیانی...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”اگر یہ عاجز خدا کی طرف سے نہیں ہے اور صرف افترا اور جعلسازی ہے تو انجام بہتر نہ ہوگا۔ اور خدا تعالیٰ ذلت کے ساتھ ہلاک کرے گا اور پھر ابد الدھر تک لعن طعن کا نشانہ بنائے رکھے گا۔“

(شہادت القرآن ص٧٢، خزائن ج٦ ص٣٩٨)

مسلمان...... کیا مرزا کرشن قادیانی نے جھوٹے ہونے کے متعلق کوئی شعر بھی لکھا ہے؟

قادیانی...... مرزا قادیانی نے ایک شعر لکھا ہے۔

مفتری ہوتا ہے آخر اس جہاں میں روسیاہ
جلد تر ہوتا ہے برہم افتراء کا کاروبار

(براہین احمدیہ پنجم ص١١٢، خزائن ج٢١ ص١٤٢)

مسلمان...... مرزا قادیانی کی موت ایسے کیوں ہوئی؟

٣٩

صفحہ ٣٠٧

قادیانی...... کیونکہ مرزا قادیانی نے لکھا تھا کہ: ”اگر یہ عاجز خدا کی طرف سے نہیں ہے اور صرف افتراء اور جعلسازی ہے تو انجام بہتر نہ ہوگا۔“

(شہادت القرآن ص ٧٦، خزائن ج ٦ ص ٣٦٨)

اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایسی موت دی جیسا کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا۔

فائدہ ...... جب کہ مرزا قادیانی نے کہا کہ اگر میں مفتری اور جھوٹا ہوں تو انجام بہتر نہ ہوگا۔ بریں بنا اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی اس دعا کو قبول فرما کر اور مرزا قادیانی کا سر چارپائی سے ٹکرا کر مٹی میں گرا دیا اور حضرت عزرائیل علیہ السلام کے کارندوں نے اس کی روح وہیں قبض کر لی تا کہ ابد الدھر تک لوگوں کے سامنے جھوٹے ہونے کی دلیل رہے اور مرزا جھوٹ کا نشانہ بنا رہے اور ”عندالله معذب فی النار ھو“

آنجہانی مرزا قادیانی یا ”مرزائیوں کا جنازہ“

مسلمان...... کیا مرزائیوں نے مرزا قادیانی کا جنازہ اس کے مرنے کے بعد پڑھا؟

قادیانی...... ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو نورالدین نے مرزا قادیانی کا جنازہ پڑھایا اور دوپہر کے وقت آپ دفن کئے گئے۔“

(سیرت مسیح موعود بشیر الدین ص ٧٩)

مسلمان...... کیا مرزا قادیانی نے اپنی امت کا جنازہ بھی پڑھا تھا؟

قادیانی...... مرزا قادیانی نے ایک دن کہا کہ : ” آج ہم نے اپنی ساری جماعت کا جنازہ پڑھ لیا ہے۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢١، بروایت نمبر ٣٩٦)

فائدہ...... مرزا کرشن قادیانی نے اپنی تمام امت مرزائیہ کا جنازہ اپنی اور امت کی زندگی میں ہی پڑھ لیا۔ حالانکہ جنازہ مرنے کے بعد ہوتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی کے دھرم میں زندہ کا جنازہ پڑھنا بھی ثواب ہے۔ اگرچہ مرزا قادیانی نے اپنی زندگی میں تمام مرزائیوں کا جنازہ نکال دیا۔ اب گلے سڑے مرزائیوں کے مردوں کا جنازہ کرشن کے دھرم کے مطابق آگ میں جلا کر راکھ بنانا ہے۔ جیسے مرزا قادیانی نے اپنی چتا پر رکھ کر جلایا تا کہ وہ گاندھی، نہرو اور اندرا گاندھی کے جون میں داخل ہو کر ان کے ساتھ چین میں رنگ رلیاں منا سکے۔ جب کہ قادیان کا تمام علاقہ بھی ہندو کرشن یعنی نہرو خاندان کی حکومت میں شامل ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی کا جھوٹ اور جھوٹا ہونا

امت مرزائیہ خود دھوکہ کی شکار ہے اور دوسروں کو بھی دھوکہ دیتی ہے۔ جیسا کہ مرزا

٤٠

غلام احمد قادیانی تھا۔ لہٰذا ان تمام لوگوں کی ہدایت کیلئے خود مرزا معیار کے مطابق ان کی اپنی کتب سے ہی جھوٹا ہونا ثابت کرنے کہ: ” ہمارا صدق کذب جانچنے کو ہماری پیشین گوئی سے بڑھ کر

(آئینہ کمالات

آنجہانی مرزا قادیانی کی پیشنگوئی اور جھوٹ نمبر ١

مرزا غلام احمد قادیانی نے احمد بیگ کی لڑکی ”محمدی ب بیگ پکا مسلمان تھا اس نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا تو مرزا ق ہر ایک روک دور کر کے انجام کار اس عاجز (مرزا غلام احمد ) کے مزید لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے الہام میں فرمایا کہ اے مرزا غلام احم بیگم دختر احمد بیگ ) تمہاری طرف لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی

آنجہانی مرزا قادیانی کی پیشن گوئی کا جھوٹا ہونا

جب مرزا قادیانی کو علم ہوا کہ احمد بیگ نے اپنی لڑ ہے تو مرزا قادیانی نے دوسرا الہام اور پیشین گوئی کر دی کہ: ” سے کرنے سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت برا ہو گا۔ وہ روز نکاح سے اڑھائی سال اور ایسا ہی والد اس کا تین سال

(آئینہ کم

احمد بیگ نے دوسری جگہ نکاح کر دیا

”احمد بیگ صاحب نے اپنی دختر محمدی بیگم مر سلطان احمد صاحب ساکن پٹی لاہور سے کر دیا۔“ (آئینہ ک

آنجہانی مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ کو مر گیا

مرزا قادیانی محمد بیگم سے عقد نہ ہونے اور اپ کاذب ہونیکا دلی درد و رنج لیکر کف افسوس ملتا ہوا ٢٦ م مرحومہ ١٩ نومبر ١٩٦٦ء کو ١٢ لڑکے وغیرہ چھوڑ کر جنت الفرد

٤١

صفحہ ٣٠٧

غلام احمد قادیانی تھا۔ لہٰذا ان تمام لوگوں کی ہدایت کیلئے خود مرزا قادیانی کے صدق اور کذب کے معیار کے مطابق ان کی اپنی کتب سے ہی جھوٹا ہونا ثابت کرتے ہیں کیونکہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”ہمارا صدق کذب جانچنے کو ہماری پیشین گوئی سے بڑھ کر اور کوئی امتحان نہیں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)

آنجہانی مرزا قادیانی کی پیشگوئی اور جھوٹ نمبر ١

مرزا غلام احمد قادیانی نے احمد بیگ کی لڑکی ”محمدی بیگم“ مرحومہ کا نکاح طلب کیا مگر احمد بیگ پکا مسلمان تھا اس نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا تو مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی کہ خدا تعالیٰ ہر ایک روک دور کر کے انجام کار اس عاجز (مرزا غلام احمد ) کے نکاح میں لائے گا۔ اس کے آگے مزید لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے الہام میں فرمایا کہ اے مرزا غلام احمد قادیانی انجام کار اس کی لڑکی (محمد بیگم دختر احمد بیگ ) تمہاری طرف لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)

آنجہانی مرزا قادیانی کی پیشن گوئی کا جھوٹا ہونا

جب مرزا قادیانی کو علم ہوا کہ احمد بیگ نے اپنی لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کر نیکا وعدہ کر لیا ہے تو مرزا قادیانی نے دوسرا الہام اور پیشین گوئی کر دی کہ: ”اگر احمد بیگ نے محمدی بیگم کا نکاح مجھ سے کرنے سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت برا ہوگا۔ جس دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال اور ایسا ہی والد اس کا تین سال تک فوت ہو جائے گا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦، خزائن ج ٥ ص ٢٨٦)

احمد بیگ نے دوسری جگہ نکاح کر دیا

”احمد بیگ صاحب نے اپنی دختر محمدی بیگم مرحومہ کا نکاح ١٧ اپریل ١٨٩٢ء کو مرزا سلطان احمد صاحب ساکن پٹی لاہور سے کر دیا۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٠، خزائن ج ٥ ص ٢٨٠)

آنجہانی مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ کو مر گیا

مرزا قادیانی محمد بیگم سے عقد نہ ہونے اور اپنی جھوٹی پیش گوئی ہی سے جھوٹے اور کاذب ہونیکا دلی درد و رنج لیکر کف افسوس ملتا ہوا ٢٦ مئی ١٩٠٨ کو واصل جہنم ہوا مگر محمدی بیگم مرحومہ ١٩ نومبر ١٩٦٦ء کو ١٢ لڑکے وغیرہ چھوڑ کر جنت الفردوس میں داخل ہوئی۔ اسکا خاوند سلطان

٤١

صفحہ ٣٠٩

احمد صاحب مرحوم ٤٠، ٣٠ سال مرزا کے مرنے کے بعد راہی ملک عدم ہو کر مرزا کے لئے جھوٹ اور کذاب ہونیکا نشان چھوڑ گیا۔ تاکہ آئندہ لوگوں کو ہدایت نصیب ہو ان دونوں مرحومین نے مرزا کو کاذب ثابت کر دیا۔

مرزائیوں سے ایک سوال

اگر آپ مرزا قادیانی کو سچا جانتے ہیں تو مرزا قادیانی اپنی اس پیشن گوئی میں جھوٹا کیوں ثابت ہوا؟ بلکہ مرزا قادیانی نے تو اپنے سچے اور جھوٹے ہونے کے لئے پیشن گوئیوں کو بطور ثبوت پیش کیا جو کہ بالکل جھوٹی نکلیں۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی پیش گوئی ”لڑکا“ جھوٹ نمبر ٢

مرزا قادیانی نے ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء کو اپنی بیوی حاملہ کے متعلق پیشین گوئی کی کہ لڑکا ہوگا۔

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١)

٨؍ اپریل ١٨٨٦ء دوبارہ الہام کا ذکر کیا کہ ایک لڑکا بہت قریب ہونے والا ہے۔

(تذکرہ ص ١٤٤ حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١٧)

١٥؍ اپریل ١٨٨٦ء کو لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام عصمت رکھا گیا۔

(تذکرہ ص ١٤٤ حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٧)

فائدہ ..... اوّل پیشین گوئی میں مرزا نے مسماۃ محمدی بیگم سے نکاح کا دعویٰ کیا مگر خدا تعالیٰ نے اسے مرتے دم تک اس سے محروم رکھا اور تاقیامت جھوٹا کاذب قرار دیدیا گیا جبکہ مرزا ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو مر گیا۔ اس کے برعکس محمدی بیگم مرحومہ ١٩؍ نومبر ١٩٦٦ء اور اسکا خاوند مسمی سلطان احمد مرزا کے مرنے کے ٤٠، ٣٠ سال بعد راہی ملک عدم ہوا اور مرزا کے جھوٹے ہونے پر واضح دلیل پیش کر دی۔ دوسری پیشن گوئی میں دعویٰ کیا کہ لڑکا ہوگا مگر اللہ تعالیٰ نے مرزا کو جھوٹا کر دکھایا کہ لڑکی پیدا ہوئی۔

آنجہانی مرزا قادیانی کا دجل وفریب

جب مرزا قادیانی اس پیشین گوئی میں جھوٹا نکلا تو ایک فریب اور دجل یہ کیا کہ: ”اگر ہزار لڑکی کے بعد بھی لڑکا پیدا ہوا تو پھر بھی پیش گوئی پوری ہوگی۔“

(سراج منیر ص ٧٣، خزائن ج ١٢ ص ٧٥)

٤٢

عقلمند تو کیا ہر کم سے کم عقل مند انسان بھی جان سکتا ہے کہ پیشن گوئی اس حمل قریب کے تھی جب کہ ”اس کے بعد جب بھی ہزار لڑکی کے بعد لڑکا ہو مرزائیہ کے مہدی و نبی اور مجنون مرکب اور مجہول النسـ

آنجہانی مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشین گو

مرزا قادیانی کا ١٨٩٣ء میں عیسائیوں کے ہوتا رہا مرزا قادیانی کو شکست ہوئی تو اس شرمندگی کـ گوئی کی کہ: ”میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشن گو جھوٹ پر ہے۔ ١٥ماہ کے عرصہ میں آج ٥ جون ٩٣ ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں، مجھ کو ذ میں رسہ ڈال کر مجھے پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک با کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا ہی کریگا ضرور کریگا۔ زمین

اس فریق سے مراد اور اول توجہ صرف اسی کو اصل مصداق پیشن گوئی کا سمجھتے ہیں۔ عبداللہ آتھم مقررہ میعاد میں نہ مرا۔ بلکہ مسٹر عبداللہ آتھم بچ گیا۔

آنجہانی مرزا قادیانی کا ”دجل و دھوکہ

مرزا قادیانی مہا کذاب کی جب یہ لیتے ہوئے کہتا ہے کہ: ”آتھم فوت ہو چکا میعاد

بعض نادان بھی کہتے ہیں کہ آتھم مر تو گیا..... پیشن گوئی کا میعاد کے اندر پورا ہو

صفحہ ٣٠٩

عقلمند تو کیا ہر کم سے کم عقل مند انسان بھی مرزا کے اس دجل و فریب اور دھوکہ کو بخوبی جان سکتا ہے کہ پیشین گوئی اس حمل قریب کی تھی جب لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہوئی تو پھر یہ کہہ دیا کہ ”اس کے بعد جب بھی ہزار لڑکی کے بعد لڑکا ہو تو میری پیشین گوئی سچی ہوگی“ یہ ہیں امت مرزائیہ کے مہدی و نبی اور معجون مرکب اور مجہول النسب مجدد۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشین گوئی نمبر ٣

مرزا قادیانی کا ١٨٩٣ء میں عیسائیوں کے ساتھ امرتسر میں مباحثہ ہوا۔ جو کہ ١٥ دن تک ہوتا رہا مرزا قادیانی کو شکست ہوئی تو اس شرمندگی کو دور کرنے کیلئے مباحثہ کے آخری روز پیشین گوئی کی کہ: ”میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ ١٥ ماہ کے عرصہ میں آج ٥ جون ١٨٩٣ء سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں، مجھ کو ذلیل کیا جاوے، روسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال کر مجھے پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کیلئے تیار ہوں، میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا ہی کریگا ضرور کریگا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی ۔“

(جنگ مقدس ص ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)

اس فریق سے مراد اور اول توجہ صرف آتھم (عبداللہ آتھم) کی طرف رہی اور اب تک اسی کو اصل مصداق پیشین گوئی کا سمجھتے ہیں۔

(کتاب البریہ ص ٢٣٧ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢٨٤)

عبداللہ آتھم مقررہ میعاد میں نہ مرا۔

بلکہ مسٹر عبداللہ آتھم بچ گیا۔

(انوار الاسلام ص ٢، خزائن ج ٩ ص ٢)

آنجہانی مرزا قادیانی کا ”دجل و دھوکہ“

مرزا قادیانی مہا کذاب کی جب یہ پیشین گوئی بھی جھوٹی نکلی تو دجل و دھوکہ سے کام لیتے ہوئے کہتا ہے کہ: ”آتھم فوت ہو چکا میعاد کے اندر یا میعاد کے باہر آخر مر تو گیا۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٢)

بعض نادان بھی کہتے ہیں کہ آتھم اپنی میعاد کے اندر نہیں مرا لیکن وہ جانتے ہیں کہ آخر مر تو گیا ...... پیشین گوئی کا میعاد کے اندر پورا ہونا ضروری نہیں۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١١٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٥٢)

٤٣

صفحہ ٣١١

فائدہ ..... اولاً میعاد مقرر کی اور اس کی قسم کھا کر کہا کہ اگر اس میعاد میں نہ مرا تو میں جھوٹا ہوں مجھے سزا دی جائے۔ جب اس میں جھوٹا ہوا تو پھر یہ کہا کہ میعاد کے اندر ہونا ضروری نہیں آخر مر تو گیا یہ کیا بے وقوفی اور دجل ہے آخر مرنا تو ہر ایک نے ہے۔ کیا یہ پیشین گوئی ہے یا شرارت اور دجل ودھوکہ، جو کہ ناظرین کرام بخوبی جان سکتے ہیں۔

امت مرزائیہ کو چاہئے کہ اطمینان قلب کے ساتھ اپنے مکار مرزا قادیانی، کذاب کے دجل وفریب کا بغور مطالعہ کرتے ہوئے اسے کافر ودجال مانیں، نیز حضور پاکﷺ کے لائے ہوئے اسلام میں داخل ہو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سربسجود ہوتے ہوئے اپنی سابقہ کوتاہیوں کا اعتراف کریں اور توبہ کرتے ہوئے معافی کی درخواست کریں۔ خدا تعالیٰ بہت غفور الرحیم ہے اور اس کی بخشش کا خزانہ لامحدود ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشین گوئی نمبر ٤

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ”قرآن مجید نے میری گواہی دی ہے“

(تحفۃ الندوہ ص ٨، خزائن ج ١٩ ص ٩٦)

نامعلوم مرزا قادیانی کا وہ کونسا قرآن ہے جس میں اس ملعون کا ذکر آیا ہے؟ جب کہ اہل اسلام کے قرآن پاک میں نہ اس کا ذکر آیا ہے اور نہ ہی اس کے قادیان کا، بلکہ غلام احمد قادیانی کے بڑوں یعنی شیطان وہامان کا ذکر ضرور ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشین گوئی نمبر ٥

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ”پہلے تمام نبیوں نے میرے آنے کا زمانہ متعین کر دیا“

(تحفۃ الندوہ ص ٨، خزائن ج ١٩ ص ٩٦)

نامعلوم اس قادیانی دجال کے زمانے کا تعین کس حدیث اور کون سی آیت میں ہے بلکہ یہ کذب ہے اور افتراء ہے۔ البتہ قریب قیامت تیس (٣٠) دجالوں کا ذکر ہے جس میں یہ بھی شامل ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشین گوئی نمبر ٦

مرزا قادیانی پیشین گوئی کرتا ہے: ”قرآن مجید میں میرے آنے کا زمانہ مقرر کر دیا گیا ہے“

(تحفۃ الندوہ ص ٨، خزائن ج ١٩ ص ٩٦)

٤٤

یہ بھی دجل وفریب ہے قرآن مجید کی کسی آیت میں قادیانی کا ذکر نہیں لہٰذا اس حوالہ سے بھی مرزا قادیانی کا کذب اور جھوٹ ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشین گوئی نمبر ٧

مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ: ”میرا نام قرآن مجید نے ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں“

قرآن مجید نے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا ہے نہ قرآن میں نہ حدیث میں یہ صرف مرزا قادیانی کا دجل و فریب ہے کہ قرآن میں اس کا ذکر ہے جبکہ مرزا قادیانی کی ماں کا نام چراغ بی بی ہے۔ یعنی غلام احمد ابن چراغ بی بی

آنجہانی مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشین گوئی نمبر ٨

”آنحضرتﷺ نے فرمایا آخری زمانہ میں جو مسیح پیدا ہوگا وہ میں ہی ہوں“

مرزا قادیانی کی موت لاہور میں ہیضہ کی بیماری سے ہوئی اور قادیان میں دفن کیا گیا جس سے مرزا دجال کا کذب واضح ہو گیا اگر سچا ہوتا تو اس کی قبر روضہ رسول پاکﷺ میں ہوتی۔ مگر خداوند قدوس نے اس ملعون کو وہاں قدم نہیں رکھنے دیا تا کہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ مرزا قادیانی جھوٹا اور دجال ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشین گوئی نمبر ٩

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ”ہم مکے میں مریں گے یا مدینہ میں“

رب کریم نے مرزا قادیانی کو ہیضہ جیسے موذی مرض میں مبتلا کر کے لاہور میں موت دیدی اور پھر قادیان میں لے جا کر دفن کیا گیا نہ مکہ میں نہ مدینہ میں مرا اور اللہ تعالیٰ نے موت بھی ایسی جگہ دی کہ خدا کی پناہ۔

مرزائیو! ذرا ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرو کیا ان جھوٹی پیشین گوئیوں کو سچے اور جھوٹے ہونے کا معیار بنایا جو کہ تم پر اور پوری دنیا پر دن کی روشنی کی طرح واضح ہو گیا۔

خود مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”کسی انسان کا اپنی پیشین گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے“

٤٥

صفحہ ٣١١

یہ بھی دجل وفریب ہے قرآن مجید کی کسی آیت میں اس کا ذکر نہیں بلکہ یہ کہنا مرزا قادیانی کا کذب اور جھوٹ ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشین گوئی نمبر ٧

مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ : ”میرا نام قرآن مجید میں ابن مریم رکھا ہے۔ اگر قرآن مجید نے ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں ۔“

(تحفۃ الندوہ ص ١٠، خزائن ج ١٩ص٩٨)

قرآن مجید نے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہی ابن مریم فرمایا ہے مگر مرزا قادیانی کا ذکر نہ قرآن میں نہ حدیث میں یہ صرف مرزا قادیانی کا دھوکہ ، کذب وفریب ہے کیونکہ مرزا قادیانی کی ماں کا نام چراغ بی بی ہے۔ یعنی غلام احمد ابن چراغ بی بی نہ کہ ابن مریم ۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشین گوئی نمبر ٨

”آنحضرتﷺ نے فرمایا آخری زمانہ میں جو مسیح موعود آئے گا وہ میری قبر میں دفن ہوگا وہ میں ہی ہوں ۔“

(کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ص١٦)

مرزا قادیانی کی موت لاہور میں ہیضہ کی بیماری سے ہوئی اور اسے قادیان کے قبرستان میں دفن کیا گیا جس سے مرزا دجال کا کذب واضح ہوگیا۔ اگر سچا ہوتا تو اس کی قبر مدینہ منورہ میں روضہ رسول پاکﷺ میں ہوتی ۔ مگر خداوند قدوس نے تا مرگ مرزا کو سرزمین حجاز میں قدم نہیں رکھنے دیا تا کہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ مرزا قادیانی جھوٹا ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشین گوئی نمبر ٩

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ : ”ہم مکے میں مریں گے یا مدینہ میں ۔“

(تذکرہ ص ٥٩١)

رب کریم نے مرزا قادیانی کو ہیضہ جیسے مہلک مرض (اسہال وغیرہ ) کے ساتھ ہی لاہور میں موت دیدی اور پھر قادیان میں لے جا کر دفن کیا نہ مکہ میں مرا نہ مدینہ میں بلکہ لاہور میں مرا اور اللہ تعالیٰ نے موت بھی ایسی جگہ دی کہ خدا کی پناہ اور عبرت کی جگہ ہے۔

مرزائیو ! ذرا ٹھنڈے دل ودماغ سے غور و فکر کر کے سوچو کہ مرزا قادیانی نے اپنی پیشن گوئیوں کو سچے اور جھوٹے ہونے کا معیار بنایا جو کہ جھوٹی نکلیں ۔ جس سے مرزا کا جھوٹا ہونا روز روشن کی طرح واضح ہوگیا۔

خود مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ : ”کسی انسان ( خاص کر مدعی الہام ) کا اپنا پیشن گوئیوں میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔“

(تریاق القلوب ص ١٠٧، خزائن ج ١٥ص٣٨٢)

٤٥

صفحہ ٣١٣

(ہندوستان) میں دفن ہوا، اب چند حوالہ جات کتب فرمادیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ: ”میرا نام محمد ”اور رسول بھی اور محمد رسول اللہ۔“

مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا لکھتا ہے کہ: ”م یہ خود محمد رسول اللہ ہیں۔“

اور مرزا غلام احمد قادیانی ”مسیح موعود خود محمد ضرورت نہیں۔“

جب مرزائی ”لا اله الا الله محمد رسو رسول اللہ مرزا غلام احمد قادیانی ہی ہوتا ہے۔ الفاظوں میں کوئی فرق نہیں بلکہ صرف اراد

آنجہانی مرزا قادیانی اور اس کی امت کا دھو

امت مرزائیہ ایک اور دھوکہ اور فریب د ہیں۔ یہ بھی جھوٹ ہے جیسا کہ مذکورہ حوالہ جات میں بھی کچھ لکھا جاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔

مقابلہ

سچا امام مہدی

(ازالہ اوہام ص ٥٧٢ ، خزائن ج ٣ ص ٤٠٩)

ہوگا۔“ (ازالہ اوہام ص ٥٧٢، خزائن ج ٣ ص ٤٠٩)

خلق اور خلق میں میری مانند ہوگا۔ ”يواطئ اسمه اسمى واسم ابيه ا

٤٧

صفحہ ٣١٣

(ہندوستان) میں دفن ہوا، اب چند حوالہ جات کتب مرزائیہ سے تحریر کئے دیتا ہوں ملاحظہ فرماویں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ: ”میرا نام محمد رکھا گیا ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)

”اور رسول بھی اور محمد رسول اللہ ۔“

(ملفوظات ص ٤٦٠ ج ٣)

مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا لکھتا ہے کہ: ”مرزا غلام احمد قادیانی یہ کوئی اور نبی نہیں بلکہ یہ خود محمد رسول اللہ ہیں ۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٥٨)

اور مرزا غلام احمد قادیانی ”مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٥٨)

جب مرزائی ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ پڑھتا ہے تو ان کے نزدیک محمد رسول اللہ مرزا غلام احمد قادیانی ہی ہوتا ہے۔

الفاظوں میں کوئی فرق نہیں بلکہ صرف ارادہ اور مراد میں فرق ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور اس کی امت کا دھوکہ

امت مرزائیہ ایک اور دھوکہ اور فریب دیتی ہے کہ ہم مرزا قادیانی کو مہدی مانتے ہیں۔ یہ بھی جھوٹ ہے جیسا کہ مذکورہ حوالہ جات میں واضح کیا گیا ہے کہ اب امام مہدی کے متعلق بھی کچھ لکھا جاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔

مقابلہ

سچا امام مہدی جھوٹا مہدی مرزا قادیانی ١...... ”امام مہدی کا نام محمد ہوگا۔“ مرزا کا نام غلام احمد قادیانی ہے۔ (ازالۃ اوہام ص ٥٧٢، خزائن ج ٣ ص ٤٠٩) ٢...... ”امام مہدی کے والد کا نام عبداللہ مرزا کے باپ کا نام غلام مرتضیٰ ہے۔ ہوگا۔“ (ازالۃ اوہام ص ٥٧٢، خزائن ج ٣ ص ٤٠٩) ٣...... آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ امام مہدی مرزا کا نام غلام احمد اور اس کے والد کا نام غلام خلق اور خلق میں میری مانند ہوگا۔ مرتضیٰ ہے ”يواطى اسمه اسمى واسم ابيه

٤٧

صفحہ ٣١٤

اسم ابی“ یعنی میرے نام (محمد) جیسا اس کا نام ہوگا اور میرے باپ (عبداللہ) کے نام کی طرح اس کے باپ کا نام ہوگا۔ حدیث رسول ﷺ

(ازالہ اوہام ص ١٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٧٥)

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

مرزا غلام احمد قادیانی، مغل فارسی الاصل شخص اور چینی الاصل ہے۔ (چشمہ معرفت ص ٣١٦، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣١، تحفہ گولڑویہ ص ٢٢، خزائن ج ١٧ ص ١١٦)

ہوگا۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٥، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٦)

مرزا غلام احمد کی والدہ کا نام چراغ بی بی جس سے مرزا قادیانی ہے۔

(سیرت المہدی ص ٢٣٤ ج ١ روایت نمبر ٢٣٣)

مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے وہاں سے مکہ مکرمہ میں تشریف لا کر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان لوگوں سے بیعت لیں گے۔

(مشکوٰۃ شریف ج ٢ ص ٤٧١)

مرزا غلام احمد قادیان میں پیدا ہوا اور لدھیانہ میں ہی بیعت ارتداد لی بالآخر حج وعمرہ اور زیارت حرمین شریفین کے بغیر مرا اور قادیان میں دفن ہوا اس قادیانی سے عرب وحجاز کو اللہ تعالیٰ نے پاک وطیب رکھا اور اس ناپاک جسم کو قریب تک نہ آنے دیا۔

محترم حضرات! امام مہدیؓ جو کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سچا ہے اور جس کا احادیث میں نام، ولدیت، قومیت، مقام پیدائش اور بیعت کا بھی مفصل ذکر ہے جس کو مرزا قادیانی نے بھی ذکر کیا اگر چہ ان احادیث کا انکاری ہے۔ ان مذکورہ حوالہ جات وغیرہ کا موازنہ فرمائیں کہ کیا مرزا قادیانی کسی بات میں بھی سچے امام مہدی سے موافقت اور نسبت رکھتا ہے؟ جب مرزا قادیانی کسی طرح بھی امام مہدی سے نسبت نہیں رکھتا۔ تو اس سے روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ مرزا قادیان ہر لحاظ سے اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔ اگر چہ امت مرزائیہ اس کو ہرگز تسلیم نہ کرے جیسا کہ چمگادڑ سورج اور دن کو نہ مانتا ہے نہ دیکھتا ہے۔ عقل مند انسان مندرجہ بالا حوالہ جات کے بعد مرزا قادیانی کو ان کے اپنے دعویٰ میں جھوٹا جانے اور مانے گا۔

٤٨

صفحہ ٣١٥

آنجہانی مرزا قادیانی کا دھوکہ اور کذب

امت مرزائیہ یہ دھوکہ بھی دیتی ہے کہ ہمارا اور مسلمانوں کا قرآن ایک ہے یہ بھی بالکل جھوٹ اور کذب ہے۔ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ: ”قرآن مجید خدا کی کتاب اور میری منہ کی باتیں ہیں۔“

(تذکرہ ص ٩٩)

یعنی مرزا قادیانی کی باتیں جو کہ کتابوں کی صورت میں موجود ہیں۔ مرزائیوں کا قرآن ہے اور مرزائیوں کے ”قرآن میں قادیان کا ذکر ہے۔“

(تذکرہ ص ٧٦٣)

مگر مسلمانوں کے قرآن وحدیث اور فقہ وغیرہ میں نہ قادیان کا ذکر ہے اور نہ قادیانی کا، تو اہل اسلام کے قرآن کے ساتھ نہ مرزائیوں کے قرآن کا کچھ واسطہ ہے اور نہ ہی مرزائیوں کا اس پر ایمان ہے۔ یہ صرف اہل اسلام کو دھوکہ اور فریب دینے کی خاطر کہتے ہیں کہ ہمارا اس قرآن پر ایمان ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور اس کی امت مرزائیہ کا مکہ اور مدینہ

مرزائی ایک اور دھوکہ بھی دیتے ہیں وہ یہ کہ مسلمانوں کا اور ہمارا مکہ مدینہ ایک ہے۔ اس میں کوئی فرق نہیں۔ یہ بھی دھوکہ ہے کیونکہ مرزا بشیر الدین ولد مرزا غلام احمد لکھتا ہے کہ: ”قادیان مکہ اور مدینہ کا درجہ رکھتا ہے۔“

(منصب خلافت ص ٣٣)

اس سے واضح ہو گیا کہ مرزائیوں کا مکہ اور مدینہ قادیان ہے نہ کہ وہ مکہ اور مدینہ جو کہ سر زمین حجاز مقدس میں ہے۔

آنجہانی مرزا قادیانی اور اس کی امت کا بیت اللہ

مرزائیوں نے ایک اور جھوٹ اور دھوکہ مسلمانان اسلام کو دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا اور ہمارا بیت اللہ ایک ہے یہ بھی بالکل جھوٹ ہے کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی دجال لکھتا ہے کہ: ”میرا نام بیت اللہ رکھا گیا ہے۔“

(تذکرہ ص ٣٦، اربعین نمبر ٤ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٥ حاشیہ)

اس سے ظاہر ہوا کہ امت مرزائیہ کا بیت اللہ خود مرزا قادیانی ہی ٹھہرا نہ کہ مکہ معظمہ واقع بیت اللہ شریف جس کا تعلق صرف اہل اسلام سے ہے نہ کہ مرتدین (مرزائیوں) سے

٤٩

صفحہ ٣١٧

آنجہانی مرزا قادیانی اور اس کی امت کا ”حج“

مرزائیوں کا ایک اور دھوکہ اور جھوٹ ، وہ یہ کہ مسلمانوں کا حج اور ہم قادیانیوں کا حج مکہ معظمہ حجاز و عرب میں ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک جھوٹ ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ:”نفلی حج قادیان میں افضل ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٥٢، خزائن ج ٥ ص ٣٥٢)

زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین ص٥٢)

آنجہانی مرزا قادیانی اور اس کی امت کا حجر اسود

جب کہ مرزا غلام احمد قادیانی مرزائیوں کا بیت اللہ ہے تو مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”حجر اسود بھی میں ہوں“ یکے پائے من مے بوسید و من مے میگفتم کہ حجر اسود منم ۔

(تذکرہ ص ٣٦)

آنجہانی مرزا قادیانی کی ”نمازیں“

مرزائیوں کی یہ نمازیں صرف دکھاوے کی ہیں جو کہ کسی طرح بھی افضل نہیں۔ بلکہ مرزائیوں کے کام ہی نماز سے افضل ہیں۔ جیسا کہ مرزا کو اللہ تعالیٰ ایک الہام میں فرماتا ہے کہ اے مرزا ”تیری نمازوں سے تیرے کام افضل ہیں ۔“

(تذکرہ ص ٨٠٦)

آنجہانی مرزا قادیانی کی امت کا ”خدا“

مرزائیوں کا خدا بھی اور ہے کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ : ”میں نے کشف میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں ۔“

(کتاب البریہ ص ١٠٣، خزائن ج ١٣ ص ایضاً)

مرزا غلام احمد قادیانی خود خدا اور ”آگ دوسرا خدا۔“

(سراج منیر ٦٢، خزائن ج ١٢ ص ٦٤)

”نیا خدا بھی۔“

(تریاق القلوب ص ٣٢٩)

”روٹی بھی خدا ، پانی بھی خدا، ٹھنڈی ہوا بھی خدا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ١٤٢)

ناظرین حضرات !

مذکورہ بالا حوالہ جات، کتب مرزا قادیانی سے ثابت ہوا کہ مرزائیوں کا قرآن، خدا، رسول، مکہ و مدینہ، بیت اللہ حجر اسود، حج، نماز، کلمہ وغیرہ اور ہیں، نیز مسلمانوں کے اور ، تو اس سے ظاہر ہوا کہ مرزائی صرف دھوکہ، جھوٹ اور فریب سے کام لے کر مسلمانوں کو مرتد بنانے کی ناکام

٥٠

کوشش کرتے ہیں، اسی وجہ سے حیات مسیح و اجراء نبوت الجھا کر دین کے ان مسائل سے ناواقف مسلمانوں کے

احقر الانام، محمد موسیٰ عفاہ اللہ عنہ ریلوے عید گاہ جڑ

بزرگ ہا

جناب خواجہ عبدالحمید بٹ صاحب سابق جنرل سیکرٹری اپنی قیمتی اور گرانمایہ رائے تحریر فرماتے ہی طائرانہ نظر سے پڑھا ہے کتاب ہذا میں مصنف کی محن کی ابتدائی زندگی پر جو کہ مرزا مسیلمہ پنجاب کی اس تحریروں سے مدلل طور پر واضح کیا ہے کہ مرزا کی کوئی پر وہ بعد میں کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق اور فو بے معنی اور لا طائل تاویل باطل نہ کی ہو۔

مولانا موصوف نے مرزا کی ابتدائی زند اس کی بیماریوں کو پاگل پن مراق غش کو اس کی تحری مرد تھا یا عورت اس کو عشق کا جنون تھا یا قوت مردی جس سے دن رات ١٠٠ ، ١٠٠ دفعہ پیشاب آتا ہو ط لاپرواہی کی وجہ سے اس کو مراق تھا، ہسٹیریا ہوا ہو کی دین اسلام سے بغاوت اور اسلام پر گستاخیوں کو، اسلام کی ایک پاکباز عفت دار بیٹی محترمہ محم ناپاک کوشش کی اور خدا کی طرف سے جھوٹی وحی من آفرین اور شاباش ہے محمدی بیگم کے وارثان پر کہ کے دجلانہ جال بچھانے میں نہ پھنسے اور مرزا کی طرح ٹھکرا کر اس کو ذلیل کیا۔ مولانا نے مختصر اور قلعی کھولی ہے۔ مصنف نے کتاب میں بڑی محن علاوہ اس کے خاندان کو بھی ان کی اپنی تحریرات ۔

صفحہ ٣١٧

کوشش کرتے ہیں، اسی وجہ سے حیات مسیح اجراء نبوت، رفع عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ کی بحث میں الجھا کر دین کے ان مسائل سے ناواقف مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے اور مرتد بناتے ہیں۔ احقر الانام محمد موسیٰ عفاء اللہ ولوالدیہ صدر انجمن مدرسہ عربیہ خیر العلوم حسینیہ ریلوے عید گاہ جامع مسجد لودھراں (ملتان)

بزرگ رہنما

جناب خواجہ عبدالحمید بٹ صاحب سابق جنرل سیکرٹری مجلس احرارالاسلام قادیان ضلع گرداسپور اپنی قیمتی اور گرانمایہ رائے تحریر فرماتے ہیں۔ ”حضرت مولانا محمد موسیٰ کی اس کتاب کو طائرانہ نظر سے پڑھا ہے کتاب ہذا میں مصنف کی محنت قابل داد ہے۔ مصنف نے مسیلمہ پنجاب کی ابتدائی زندگی پر جو کہ مرزا مسیلمہ پنجاب کی اس کی اپنی تحریروں سے اور اس کے حقیقی پسران کی تحریروں سے مدلل طور پر واضح کیا ہے کہ مرزا کی کوئی تحدی اور دعویٰ کی کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر وہ بعد میں کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق اور فوری اس کی تردید نہ کی ہو یا شرمندگی کے طور پر بے معنی اور لا طائل تاویل باطل نہ کی ہو۔

مولانا موصوف نے مرزا کی ابتدائی زندگی کے آوارگی کے واقعات پر خوب تبصرہ کیا اور اس کی بیماریوں کو پاگل پن مراق حیض کو اس کی تحریروں سے ثابت کیا ہے کہ نہ پتہ چلتا ہے کہ مرزا مرد تھا یا عورت اس کو عشق کا جنون تھا یا قوت مردی اور جماع کی کثرت سے اس کا مثانہ کمزور تھا جس سے دن رات ١٠٠، ١٠٠ دفعہ پیشاب آتا ہو مرزا جب ابتدائی طور پر ہی مختل دماغ تھا تو پھر لاپرواہی کی وجہ سے اس کو مراق تھا، ہسٹیریا ہوا ہو، یہ اس کے حالت کے موافق و مطابق تھا۔ مرزا کی دین اسلام سے بغاوت اور اسلام پر گستاخیوں کو بھی واضح کیا گیا۔ پھر اس کے عاشقانہ مزاج کو، اسلام کی ایک پاکباز عفت دار بیٹی محترمہ ومکرمہ محمدی بیگم کو دھوکا کر اپنے نکاح میں لانے کی ناپاک کوشش کی اور خدا کی طرف سے جھوٹی وحی منسوب کر کے اس کو اور اس کے وارثان کو ڈرایا مگر آفرین اور شاباش ہے محمدی بیگم کے وارثان پر کہ انہوں نے مرزا کو کذاب اور فریب کار سمجھ کر اس کے دجلانہ جال و جھانسے میں نہ پھنسے اور مرزا کی درخواست پر انکار کیا اور مرزا کے لالچ کو بری طرح ٹھکرا کر اس کو ذلیل کیا۔ مولانا نے مختصر اور مدلل طور پر مرزا کی خود اپنی تحریروں سے مرزا کی قلعی کھولی ہے۔ مصنف نے کتاب میں بڑی محنت شاقہ اور جانفشانی سے کام لیا ہے اور مرزا کے علاوہ اس کے خاندان کو بھی ان کی اپنی تحریرات سے ثابت کیا ہے اور اس کو قدرتی سزا خود اپنی تجویز

٥١

صفحہ ٣١٨

کردہ مہلک مرض ہیضہ سے موت ثابت کی ہے اور مرزا کو افیونی و شرابی ثابت کیا ہے اور مرزا کا مرتے وقت اپنے خسر میر ناصر نواب سے یہ کہنا کہ: ”میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے جو حیات ناصر ص ٢٤ پر درج شدہ ہے۔“ پھر مرزا کی موت ہیضہ سے ہوئی تو پنجاب کے علاوہ اس مسیلمہ پنجاب کی موت ہیضہ کی خبر غیر ممالک میں بھی فوراً پہنچی۔

کتاب ہٰذا اگر چہ مختصر ہے مگر یہ ابتدائی قاریوں، نوجوانوں کو مرزائیت کے فریبوں سے فوری واقفیت کروا دیتی ہے۔ بہر حال کتاب کیا ہے کوزہ میں دریا بند کیا ہے۔ یہ کتاب ہر نوجوان طالبعلم کے ہاتھ میں ہونی چاہئے۔

تاکہ ہمارا نوجوان طبقہ مرزائیت کی دجالی حقیقت کو سمجھ سکے اور گمراہی کے جال سے بچے۔ مصنف کتاب کی محنت قابل داد ہے کہ انہوں نے اپنے والد حضرت مولانا محمد حسینؒ مرحوم کے نقش قدم پر ثابت قدم رہ کر خدمت اسلام کی ہے باوجود کمی سرمائے کے اس کے مضبوط ارادے تردید مرزائیت میں کوئی لغزش نہیں آئی اور وہ علمی موتی بکھیرنے میں بہت فیاضی سے کام لے رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ وہ ختم نبوت کی حمایت میں تقریر و تحریر سے عوام کو آگاہ و مستفیض کریں یہ کتاب نوجوانوں کو خصوصاً زیر مطالعہ رکھنی چاہئے اللہ تعالیٰ مصنف کو جزائے خیر دے اور اس کی محنت قبول فرمائے۔ (آمین)

خادم ختم نبوت (جناب) خواجہ عبدالحمید بٹ (صاحب) آف قادیان سابق صدر میونسپل کمیٹی لودھراں وسیکرٹری نشرواشاعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لودھراں ضلع ملتان

جناب صوفی محمد علی صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لودھراں ضلع ملتان

حضرت مولانا محمد موسیٰ مصنف کتاب ہٰذا نے اپنی کتاب میں قادیانیت کا آپریشن کیا ہے۔ وہ قابل ستائش ہے۔ یہ کتاب ہر نوجوان کے پاس ہونی چاہئے۔

اور اس کا مطالعہ نئی نسل کے لئے خاص طور پر ضروری ہے۔ عام مسلمانوں کے لئے بھی بہت ہی مفید ہے۔ مولانا موصوف نے اس کتاب کو محنت اور جانفشانی سے ترتیب دیا ہے۔ بندہ دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا کو اس سعی کا اجر عظیم دے۔

جناب صوفی محمد علی صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لودھراں ضلع ملتان

٥٢

PDF 320

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

آنجہانی مرزا قادیانی

کرشن تھا یا دجال؟

حضرت مولانا محمد موسیٰ صاحبؒ لودھراں

صفحہ ٣٢١

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ!

ایسی مرزا کی گت بنائیں گے
سارے الہام بھول جائیں گے
خاتمہ ہووے گا نبوت کا
پھر فرشتے کبھی نہ آویں گے

(مرقع قادیانی ١٩٠٨ء)

ناظرین کرام! تیرہ سو سال سے آج تک تمام مسلمانان عالم کا اس پر اتفاق چلا آتا ہے کہ ہمارے نبی خاتم النبیین ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد ظلی بروزی کسی قسم کا نیا نبی پیدا نہیں ہوگا۔ بلکہ ایسا مدعی نبوت دائرہ اسلام سے خارج ہوگا۔

(آسمانی فیصلہ ص ٤، خزائن ج ٣ ص ٣١٤ ملخص)

"اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دنیا کے آخیر تک قریب تیس دجال پیدا ہوں گے۔"

(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

"اور ان سب کا دعویٰ نبوت ہی ہوگا۔ (جن میں سے مرزا غلام احمد قادیانی چودھویں صدی کا مدعی نبوت بھی ہے) اسی کے متعلق نبی کریم ﷺ نے ایک بڑی علامت ارشاد فرمائی ہے کہ دجال مشرق سے خروج کرے گا۔ یعنی ملک ہند (قادیان) سے۔"

(ازالہ اوہام ص ٥٩٢، خزائن ج ٣ ص ٤١٩ ملخص)

اس لئے مرزا قادیانی نے بزعم خود جب اپنی چند خوابوں کو سچا دیکھا جس طرح کہ:

"فاسق فاجر کی سچی خوابیں نکلتی ہیں۔"

(چشمہ معرفت ص ٣٠١، خزائن ج ٢٣ ص ٣١٦)

تو شیطانی دھوکہ میں نبوت، مسیحیت، مہدویت وغیرہ کا دعویٰ کر دیا۔ کیونکہ ”اکثر لوگوں کو سچی خوابیں شروع ہو جاتی ہیں۔ الہام بھی ہونے لگتے ہیں۔ اسی دھوکہ سے جھوٹے نبی اپنی حد سے بڑھ کر نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔"

(چشمہ معرفت ص ٣٠١ حاشیہ، خزائن ج ٢٣ ص ٣١٥)

مزید برآں مرزا قادیانی کے دجال ہونے پر چند مختصر حوالہ جات کے ساتھ ایک ولی اللہ کا مبارک کشف بھی خود مرزا قادیانی کی کتب سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے بھی مرزا قادیانی کو دجال فرمایا۔

فرمانِ نبی کہ مرزا دجال ہے

"ایک بزرگ اپنے مرشد اور قطب الاقطاب کی خواب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے پیغمبر خدا ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ایک تخت پر بیٹھے ہوئے تھے اور گردا گرد تمام علماء پنجاب اور ہندوستان کو بڑی تعظیم کے ساتھ کرسیوں پر بٹھائے گئے تھے اور تب یہ شخص جو (مرزا قادیانی) مسیح موعود کہلاتا ہے

٢

آنحضرت ﷺ کے سامنے کھڑا ہوا جو نہایت کریہہ شکل فرمایا یہ کون ہے۔ تب ایک عالم ربانی اٹھا اور اس نے عرض دعویٰ کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو دجال ہے۔"

مرزا قادیانی کو جوتے بھی لگے

"تب آپ کے فرمانے سے اسی وقت اس ہوئے۔ جن کا کچھ حساب اور اندازہ نہ رہا اور آپ نے تعریف کی جنہوں نے اس شخص کو کافر دجال ٹھہرایا۔"

اور مرزا قادیانی عیسائیوں کو دجال قرار عیسائیوں کے دجل کی گواہی دی ہے۔ تو کیا وجہ ہے کہ

"عیسائی دجال اکبر ہیں۔"

اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کے ذیل عنوان بھی اسی کے مطابق قائم کئے گئے ہیں۔ ملا

مرزا قادیانی کا نصف دجال

"پہلے سے لکھا گیا تھا کہ جو آخری زمانہ یعنی دجالی شان کا ہوگا۔ سو وہی میں ہوں۔"

مرزا دجال کا خود کاشتہ پودہ

مرزا قادیانی ایک انگریز دجال گورنر کی

"آپ اس خودکاشتہ پودا کی نسبت نہایت جزم اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔"

مرزا دجال کی اطاعت جہاد کی ممانعت

مرزا قادیانی دجال انگریز کی خوشامد میں یعنی دجال کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں

صفحہ ٣٢١

آنحضرت ﷺ کے سامنے آ کھڑا ہوا جو نہایت کریہہ شکل اور میلے کچیلے کپڑوں میں تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون ہے۔ تب ایک عالم ربانی اٹھا اور اس نے عرض کی کہ یا حضرت یہی شخص مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو دجال ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٣، خزائن ج ١٧ ص ١٧٦)

مرزا قادیانی کو جوتے بھی لگے

”تب آپ کے فرمانے سے اسی وقت اس (مرزا قادیانی) کے سر پر جوتے لگنے شروع ہوئے۔ جن کا کچھ حساب اور اندازہ نہ رہا اور آپ نے ان تمام علماء پنجاب اور ہندوستان کی بہت تعریف کی جنہوں نے اس شخص کو کافر دجال ٹھہرایا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٣، خزائن ج ١٧ ص ١٧٦)

اور مرزا قادیانی عیسائیوں کو دجال قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ نے عیسائیوں کے دجل کی گواہی دی ہے۔ تو کیا وجہ ہے کہ وہ دجال کے نام سے موسوم نہ ہوں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٤٩٧)

”عیسائی دجال اکبر ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٤)

اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک عیسائی انگریز ہی دجال ہیں۔ مندرجہ ذیل عنوان بھی اسی کے مطابق قائم کئے گئے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔

مرزا قادیانی کا نصف دجال

”پہلے سے لکھا گیا تھا کہ جو آخری زمانہ میں پیدا ہوگا اس کے وجود کا آدھا حصہ عیسوی یعنی دجالی شان کا ہوگا۔ سو وہی میں ہوں۔“

(ایام الصلح ص ١٦٠، خزائن ج ١٤ ص ٤٠٨)

مرزا دجال کا خود کاشتہ پودہ

مرزا قادیانی ایک انگریز دجال گورنر کو اپنی درخواست میں اپنی نسبت لکھتے ہیں کہ: ”آپ اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ اور خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“

(کتاب البریہ ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٣٥٠)

مرزا دجال کی اطاعت جہاد کی ممانعت

مرزا قادیانی دجال انگریز کی خوشامد میں لکھتے ہیں کہ: ”میں نے ممانعت جہاد اور انگریز یعنی دجال کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں۔ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

٣

صفحہ ٣٢٢

مرزا قادیانی کی زندگی دجال کی حمایت میں

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی یعنی دجال کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

مرزا قادیانی کی زبانی جھوٹے نبی

جھوٹے نبیوں کا سلسلہ آنحضرتﷺ کے بعد ہی سے شروع ہو گیا تھا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”نبیﷺ کی وفات کے بعد کئی جھوٹے پیغمبر کھڑے ہو گئے تھے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٨، خزائن ج ١٧ ص ١٨٥)

”اور چند شریر لوگوں نے پیغمبری کا دعویٰ کر دیا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٦٠، خزائن ج ١٧ ص ١٨٧)

”ہمارے نبیﷺ کا نور جب زمین پر روشن ہو گیا۔ تب مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی اور ابن صیاد وغیرہ جھوٹے نبی ظاہر ہوئے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٠١ حاشیہ، خزائن ج ٢٣ ص ٣١٥)

جھوٹے نبیوں کی فہرست

مرزا غلام احمد قادیانی اسرائیلی۔

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٠، خزائن ج ١٧ ص ١١٨)

”ابن صیاد اور اسود عنسی، مسیلمہ کذاب، طلیحہ بن خویلد، سجاح بنت الحارث وغیرہ۔“

(سر الخلافہ ص ٦٥، خزائن ج ٨ ص ٣٩٤)

مرزا قادیانی کی زبانی جھوٹے نبیوں کی سزا

”مرتد کی سزا قتل ہی ہوتی ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مفسدوں اور جھوٹے نبیوں کو خدا سے قدر اور جلال پا کر قتل کیا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٩، خزائن ج ١٧ ص ١٨٦)

”اسی طرح بہت سے مفسد اور جھوٹے پیغمبر حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ سے مارے گئے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٨، خزائن ج ١٧ ص ١٨٥)

درشت الفاظ کا استعمال فرض ہے

”بلکہ ایسے درشت الفاظ کا اپنے محل پر بقدر ضرورت و مصلحت استعمال میں لانا ہر مبلغ اور واعظ کا فرض ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٣، خزائن ج ٣ ص ١٢٠)

”ورنہ وہ تلخ الفاظ جو اظہار حق کے لئے ضروری ہیں اور اپنے ساتھ ثبوت رکھتے ہیں بلکہ واجبات سے ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٤، خزائن ج ٣ ص ١١٤)

٤

تاجدار ختم نبوت زندہ باد

خاتم النبیین

آنجہانی مر

مرد تھا یا ع

حضرت مولانا محمد موسیٰ

PDF 324

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میرے آخری نبی ہونے کی وجہ سے میرے بعد کوئی نبی نہیں

آنجہانی مرزا قادیانی

مرد تھا یا عورت؟

حضرت مولانا محمد موسیٰ صاحبؒ لودھراں

صفحہ ٣٤٥

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

ناظرین کرام! حضرت آدم علیہ السلام سے ہمارے نبی خاتم النبیین ﷺ تک اللہ تعالیٰ کے جتنے انبیاء کرام علیہم السلام اور مجددین تشریف لائے۔ تمام کے تمام انسانوں میں سے مرد ہی تھے اور آخری زمانہ میں پیدا ہونے والے حضرت امام مہدی علیہ الرضوان بھی مرد ہی ہوں گے اور کسی اللہ کے رسول اور نبی نے آج تک عورت ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ مگر انگریز کے خود کاشتۂ پودا مرزاغلام احمد قادیانی چودھویں صدی کے مدعی نبوت نے تو صرف عورت ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کیا۔ بلکہ عورت کے جملہ لوازمات حیض، حمل، درد زہ، بچہ جننے وغیرہ کو بھی اپنے لئے ثابت کیا ہے۔ جیسا کہ ان مختصر اور چند حوالہ جات سے بخوبی ان کے دعویٰ کا ثبوت ملتا ہے۔

مرزا قادیانی مریم تھا

"آں خدائے قادر و رب العباد، در براہین نام من مریم نہاد، ہم چو بکرے یافتم نشو و نما از رفیق راہ حق نا آشنا۔"

(حقیقت الوحی ص ٣٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٢)

بقول مرزا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایک الہام میں فرماتے ہیں: "يَا مَرْيَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ"

(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)

ترجمہ...... "اے مریم (مرزا قادیانی) تو اور تیری بیوی بہشت میں داخل ہو۔"

(اربعین نمبر ٤ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٦٤)

سوال...... امت مرزائیہ سوچے کہ یہ کیسا احمقانہ خیال اور شیطانی الہام ہے کہ مرزا قادیانی خود ہی مریم پھر مریم کی بیوی، کیا عورت کی بیوی بھی ہوا کرتی ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٧٢ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٤)

(حقیقت الوحی ص ٣٣٨ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥١)

(حقیقت الوحی ص ٣٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥١)

(حقیقت الوحی ص ٣٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٢)

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

٢

مرزا قادیانی کو حیض

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: "اللہ تعالیٰ ہے کہ تیرا حیض دیکھے۔"

(مرزا قادیانی) میں دیکھنا چاہتے ہیں۔"

مرزا قادیانی کو حمل ہو گیا

"بعد ازاں قادر و رب مجید، روح عیسیٰ

مہینے سے زیادہ نہیں۔"

لڑکا بنا دیا۔"

ہوگئی اور اب ظاہر ہے کہ اس امت میں بجز میرے کسی رکھا اور پھر مریم (مرزا قادیانی) میں عیسیٰ کی روح پھونک امت میں کوئی اس کا مصداق ہو اور خوب غور کر کے آیت کا بجز میرے کوئی دنیا میں مصداق نہیں۔"

مریم (مرزا قادیانی) کے پیٹ میں عیسیٰ کی روح

میں سچائی کی روح پھونک دی۔ گویا یہ مریم سچائی

سوال...... اب مرزائیوں سے پوچھا جائے کہ اپنے پر لازم سمجھتا ہے اور اس پر چلتا ہے تو اسی

صفحہ ٣٢٥

مرزا قادیانی کو حیض

ہے کہ تیرا حیض دیکھے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

(مرزا قادیانی) میں دیکھنا چاہتے ہیں۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)

مرزا قادیانی کو حمل ہو گیا

”بعد ازاں قادر وہب مجید، روحِ عیسیٰ اندر آن مریم دمید۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٢)

مہینے سے زیادہ نہیں۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

لڑکا بنا دیا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

ہو گئی اور اب ظاہر ہے کہ اس امت میں بجز میرے کسی نے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ میرا نام خدا نے مریم رکھا اور پھر مریم (مرزا قادیانی) میں عیسیٰ کی روح پھونک دی ہے اور خدا کا کلام باطل نہیں۔ ضرور ہے کہ اس امت میں کوئی اس کا مصداق ہو اور خوب غور کر کے دیکھ لو اور دنیا میں تلاش کر لو کہ قرآن شریف کی اس آیت کا بجز میرے کوئی دنیا میں مصداق نہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٠، ٣٥١)

مریم (مرزا قادیانی) کے پیٹ میں عیسیٰ کی روح جا پڑی۔“

(کشتی نوح ص ٤٥، خزائن ج ١٩ ص ٤٩)

میں سچائی کی روح پھونک دی۔ گویا یہ مریم سچائی کی روح سے حاملہ ہوئی۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٢)

اپنے پر لازم سمجھتا ہے اور اس پر چلتا ہے تو اسی طرح امتِ مرزائیہ کے مردوں کو حیض، حمل وغیرہ

٣

صفحہ ٣٢٦

ہونا لازمی ہے۔ تاکہ اپنے مرشد اور رہبر و نبی کی پیروی میں کامل امتی ثابت ہوسکیں۔

مرزا کو درد زہ

آئی۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ص ٥١)

سوال...... اس وقت کون سی لیڈی ڈاکٹر یا کمپوڈر زنے یہ خدمت سرانجام دی۔

مرزا قادیانی کا وضع حمل

”پس بخش رنگ دیگر شدمیاں۔ ز اوزان مریم مسیح ایں زماں۔ زیں سبب شد ابن مریم نام من زانکہ مریم بود اوّل گام من۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٢)

مرزا قادیانی اپنے ایک اور الہام میں مریم حاملہ کی صورت میں کہتے ہیں کہ: ”گویا مریمی حالت سے عیسیٰ پیدا ہو گیا اور اس طرح میں خدا کے کلام میں ابن مریم کہلایا۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٢ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٥)

مرزا قادیانی سے خدا کا بیٹا

بقول مرزا قادیانی کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایک الہام میں فرماتے ہیں کہ: ”تجھ میں حیض نہیں بلکہ بچہ ہو گیا ہے جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔ یعنی خدا کا بیٹا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

پیدا ہوا۔ اس لئے تو مجھ (اللہ) سے بمنزلہ اولاد کے ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)

سوال...... جب کہ مرزا قادیانی نے اپنے کو اس الہام میں خدا کی اولاد ثابت کیا ہے تو لامحالہ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ مرزا قادیانی نے اپنے کو خدا کا بیٹا یا بیٹی بھی قرار دیا۔ علاوہ ازیں جب کہ مرزا قادیانی نے خدا کا بیٹا جنا تو خدا کی بیوی بھی اپنے ثابت کیا اور اپنا نام مریم رکھا تو اس طرح مرزا قادیانی خدا کی بیوی مسمات مریم نے خدا کے بیٹے عیسیٰ کو جنم دیا اور خدا کا بیٹا بن کر معجون مرکب قادیانی نبی بنا، العیاذ باللہ !

مرزا قادیانی کو سزا

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”اللہ تعالیٰ نے حضرت حوا کو سخت سزا دی۔ مرد کا محکوم بنایا اور اس کا دست نگر کر دیا اور حمل کی مصیبت اور بچے جننے کا دکھ اس کو دیا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٧٣)

اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو حمل اور بچہ جننے وغیرہ کی سخت سزا دے کر مجرم بھی قرار دیا ہے۔

٤

PDF 328

خاتم النبیین لا نبی بعدی

مرزائیوں کی شکست فاش کا دلچسپ نظارہ

ربوہ کے نزدیک

ایک مناظرہ

مسلمانان ڈاور

صفحہ ٣٢٨

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ جاء الحق وزهق الباطل

مرزائیوں کی شکست فاش کا دلچسپ نظارہ

قاضی نذیر احمد اور دیگر مرزائی مناظرین کا مناظرہ اور مباہلہ سے ”روایتی“ فرار

حضرات! موضع ڈاور مرکز مرزائیت چناب نگر (ربوہ) سے تقریباً تین میل کے فاصلہ پر ہے۔ وہاں کا ایک زمیندار مہر محمد حیات کھوکھر جو ایک عرصہ سے قادیانی مذہب اختیار کئے ہوئے ہے۔ اپنی تبلیغ سے عوام الناس کو بہکانے کی ناکام کوشش کرتا رہتا ہے۔ اس کے اصرار کرنے پر ملک فتح اللہ صاحب جو وہاں کے ذمہ دار اور ایک بااثر زمیندار ہیں۔ ان کے اور مہر محمد حیات کے درمیان ”ختم نبوت“ کے موضوع پر مناظرہ طے ہو گیا۔ جس کی باقاعدہ تحریر فریقین نے ایک دوسرے کو دے دی۔

مرزا قادیانی کی سیرت و کریکٹر کا موضوع اور اس سے مرزائیوں کا گریز

ملک فتح اللہ اور حاجی خضر حیات وغیرہ شروع سے کہتے تھے کہ مرزا قادیانی کے صدق و کذب کے موضوع پر مناظرہ کرنا چاہئے تا کہ پہلے یہ دیکھیں کہ آیا مرزا قادیانی اپنی تحریرات کی رو سے ایک شریف، دیانتدار، سچا اور صحیح العقل انسان بھی ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں؟ لیکن مہر محمد حیات مرزائی اس موضوع سے گریز کرتا رہا۔ آخر مجبور ہوکر وعدہ کیا کہ پہلے مسئلہ ختم نبوت پر مناظرہ ہو جائے۔ پھر ہم مرزا قادیانی کی سیرت کے عنوان پر اسی دن یا اگلے دن مناظرہ کر لیں گے۔ چنانچہ مقررہ تاریخ مورخہ ١٠؍ اپریل ١٩٦٥ء کو ہر دو فریق کے علماء مقام مناظرہ پر پہنچ گئے۔ مناظرہ شروع کرنے سے قبل مولانا منظور احمد چنیوٹی نے قادیانی فریق سے دونوں مناظروں کے لئے وقت اور دیگر شرائط طے کرنے کے لئے گفتگو شروع کی تو قادیانی جماعت نے شور برپا کر دیا کہ ہم تو صرف مسئلہ ختم نبوت پر مناظرہ کریں گے اور کسی مضمون پر ہم مناظرہ کرنے کو ہرگز تیار نہیں۔ اس پر علماء

٢

صفحہ ٣٢٩

مسلمانوں اور علاقہ کے بااثر زمینداروں نے مطالبہ کیا کہ تمہیں اپنے وعدہ کے مطابق دوسرے مضمون پر مناظرہ کرنا پڑے گا۔ تم مرزا قادیانی کو چھپا کر کیوں رکھتے ہو؟ اسے دنیا کے سامنے پیش کرو تا کہ لوگ اس کے عمل وکردار کو دیکھ کر صحیح فیصلہ کرسکیں۔

٢٠؍ اپریل ١٩٦٥ء کو دوسرا مناظرہ طے ہوا

آخر دو تین گھنٹہ کی بحث و تکرار کے بعد جب راہ فرار کے لئے کوئی چارہ کارگر نہ ہوا تو ”مرتا کیا نہ کرتا“ کے مصداق مہر محمد حیات نے اپنے مناظرین سے مشورہ کر کے یہ تحریر دی کہ ٢٠؍ اپریل ١٩٦٥ء صبح ٩ بجے اسی جگہ پر دوسرا مناظرہ ہوگا۔ جس میں دو مسئلے ہوں گے۔ پہلا مسئلہ ”حیات عیسیٰ علیہ السلام“ اس میں مدعی مسلمان ہوں گے۔ دوسرا صدق وکذب مرزا قادیانی (مرزا قادیانی کی سیرت وکردار) اس میں مدعی جماعت قادیانی ہوگی۔ فریقین کے دستخطوں سے یہ تحریر ہر دو فریق کے علماء کے سپرد کردی گئی۔

ختم نبوت کے موضوع پر پہلا مناظرہ

اس تصفیہ کے بعد ختم نبوت کے موضوع پر اسی دن مورخہ ١٠؍ اپریل ١٩٦٥ء ٹھیک سوا بارہ بجے مناظرہ شروع ہوگیا۔ مسلمانوں کی طرف سے اس مناظرہ کے صدر فاتح ربوہ حضرت مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی اور مناظر : مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر مقرر ہوئے۔ مرزائیوں کی طرف سے صدر مولوی احمد خان نسیم اور مناظر قاضی نذیر احمد لائل پوری مقرر ہوئے۔ یہ مناظرہ پانچ گھنٹے کے قریب نہایت پرامن طریق سے جاری رہا۔ چوکی ربوہ (چناب نگر) کی پولیس جن کو مرزائی منظوری لے کر لائے تھے موجود تھی۔ سی آئی ڈی کے نمائندے بھی موجود تھے۔

مرزائی مناظر کی بے بسی اور بدحواسی

اس مناظرہ میں مرزائی مناظر کی جو ذلت اور رسوائی ہوئی اور جس طرح اس نے بری شکست کھائی یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس دوسرے مناظرہ کے لئے انہیں میدان میں آنے کی ہمت نہ

٣

صفحہ ٣٣١

جرات نہیں ہوسکی۔ قاضی صاحب کی بے بسی و بدحواسی کے افسانے ہر خاص و عام کی زبان پر جاری ہیں۔ چنانچہ ایک حوالہ پر جب قاضی نذیر قادیانی کو قسم کے لئے مجبور کیا گیا تو قاضی صاحب نے ان الفاظ میں قسم اٹھائی: ”مجھے اُس اللہ کی ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان نہیں۔“

” لاحول ولا قوة الا باللہ “ کی آوازیں۔

مولانا لال حسین صاحب اختر نے پانچ پانچ صد روپیہ انعام کا بارہا چیلنج کیا۔ لیکن قاضی صاحب کو میز پر پڑی ہوئی انعامی رقم اٹھانے کی ہمت نہ ہوسکی۔ اس کے برعکس ایک دفعہ قاضی صاحب غلطی سے انعام کا چیلنج کر بیٹھے۔ پیچھے سے ان کے ایک مخلص معتقد نے پانچ پانچ روپے کے دو نوٹ نکال کر بطور انعام پیش کر دیئے۔ مولانا نے حوالہ دکھانے سے قبل جب وہ دس روپے کسی ثالث کے پاس رکھنے کو کہا تو قاضی صاحب نے فوراً وہ دس روپے جیب میں ڈال لئے۔ اس وقت قادیانی جماعت کی حالت قابل دید تھی۔ اس مسئلہ میں مدعی مولانا لال حسین صاحب اختر تھے۔ چنانچہ آخری تقریر پر مناظرہ ختم ہوا۔

٢٠؍ اپریل ١٩٦٥ء کے دوسرے مناظرہ اور اس کے بعد مباہلہ کا اعلان

اختتام مناظرہ پر مولانا منظور احمد چنیوٹی نے لاؤڈ سپیکر پر ٢٠؍ اپریل کے دوسرے مناظرے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا گیا کہ اس دوسرے مناظرہ کے اختتام پر اسی میدان میں دعائے مباہلہ ہوگی۔ خلیفہ ربوہ کی طرف سے جو صاحب بھی سند نمائندگی لائیں گے ان سے مباہلہ ہوگا۔ مولانا موصوف نے اپنی سندات نمائندگی جو ملک کی چار مشہور جماعتوں کی طرف سے حاصل ہیں پڑھ کر سنائیں۔ جن کی مصدقہ نقول مولوی ابوالعطاء اللہ دتہ جالندھری قادیانی کے مطالبہ پر خلیفہ ربوہ کو بذریعہ رجسٹری روانہ کی جا چکی تھیں۔

١٩؍ اپریل ١٩٦٥ء کو علماء اسلام کی آمد

چنانچہ اس اعلان کے مطابق مسلمانوں کی طرف سے مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر، مفکر اسلام علامہ خالد محمود صاحب پروفیسر ایم۔ اے او کالج لاہور، فاتح ربوہ مولانا منظور احمد

٤

صاحب چنیوٹی، امام پاکستان سید احمد شاہ صاحب بخار بخش صاحب بھیروی، فاضل بارع مولانا محمد نافع صاح عبدالمالک خان صاحب مدرس جامعہ عربیہ (حال شخ پاکستان لاہور) اور دیگر بہت سے علماء اپنی کتابیں لے کر پہنچ گئے۔ مرزائیوں کی طرف سے اس وقت تک کوئی منا

دفعہ نمبر ١٤٤ کی آڑ

عشاء کے قریب مہر محمد حیات مرزائی ہمارے کہ دفعہ نمبر ١٤٤ نافذ کر دی گئی ہے اور اگر دفعہ نافذ کر دی گ صبح جا کر دفتر سے معلوم کروں گا۔ علماء نے کہا کہ: ”آ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ابھی حکومت کی طرف سے نوٹس موصول ہوا ہے۔ تم نے قبل از مرگ واویلا شروع ک آؤ اور اپنا اور ہمارا وقت ضائع نہ کرو۔ اگر صبح ٩ بجے ۔ آ گیا تو ہم اس نوٹس کو دیکھ کر جو صورت بھی قانون کے دا کریں گے۔ مناظرہ بہر حال ضرور ہوگا۔

مناظرہ کے لئے دو متبادل صورتیں اور محمد حیا

چنانچہ اس کے لئے دو متبادل صورتیں پیش ک میں بند مکان کے اندر گفتگو کر لیں گے۔ جس پر قانون کی کے ضلع سرگودھا کی حد میں جو وہاں سے سات آٹھ می گے۔ لیکن افسوس کہ محمد حیات مرزائی کسی صورت میں بھ صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ آپ ہماری شکست و فرار شائع کسی صورت میں بھی مناظرہ نہیں کریں گے۔

صفحہ ٣٣١

صاحب چنیوٹی، امام پاکستان سید احمد شاہ صاحب بخاری، شیخ الحدیث والفقہ حضرت مولانا خدا بخش صاحب بھیروی، فاضل بارع مولانا محمد نافع صاحب مدظلہ جامعہ محمدی، فاضل نوجوان مولانا عبدالمالک خان صاحب مدرس جامعہ عربیہ (حال شیخ الحدیث منصورہ مرکز جماعت اسلامی پاکستان لاہور) اور دیگر بہت سے علماء اپنی کتابیں لے کر ١٩؍اپریل شام کو مقام مناظرہ موضع ڈاور پہنچ گئے۔ مرزائیوں کی طرف سے اس وقت تک کوئی مناظر نہیں پہنچا تھا۔

دفعہ نمبر ١٤٤ کی آڑ

عشاء کے قریب محمد حیات مرزائی ہمارے علماء کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ معلوم ہوا کہ دفعہ نمبر ١٤٤ نافذ کر دی گئی ہے اور اگر دفعہ نافذ کر دی گئی تو ہم مناظرہ ہرگز نہیں کریں گے۔ میں صبح جا کر دفتر سے معلوم کروں گا۔ علماء نے کہا کہ: ”آ بیل مجھے مار“ کے مطابق تمہیں جا کر کرید کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ابھی حکومت کی طرف سے نہ کوئی اعلان ہوا ہے اور نہ ہی کوئی تحریری نوٹس موصول ہوا ہے۔ تم نے قبل از مرگ واویلا شروع کر دیا ہے۔ تم اپنے علماء کو حسب وعدہ لے آؤ اور اپنا اور ہمارا وقت ضائع نہ کرو۔ اگر صبح ٩ بجے سے پہلے حکومت کی طرف سے کوئی نوٹس آ گیا تو ہم اس نوٹس کو دیکھ کر جو صورت بھی قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے ممکن ہو سکی اس پر عمل کریں گے۔ مناظرہ بہر حال ضرور ہوگا۔

مناظرہ کے لئے دو متبادل صورتیں اور محمد حیات مرزائی کا ان سے انکار

چنانچہ اس کے لئے دو متبادل صورتیں پیش کی گئیں کہ اگر پابندی لگ گئی تو محدود تعداد میں بند مکان کے اندر گفتگو کر لیں گے۔ جس پر قانون کی کوئی زد نہیں پڑتی یا اپنی تحصیل کی حد پار کر کے ضلع سرگودھا کی حد میں جو وہاں سے سات آٹھ میل کے فاصلہ پر ہے جا کر مناظرہ کر لیں گے۔ لیکن افسوس کہ محمد حیات مرزائی کسی صورت میں بھی مناظرہ کرنے کو تیار نہ تھا۔ بلکہ اس نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ آپ ہماری شکست و فرار شائع کر دیں۔ ہم دفعہ ١٤٤ نافذ ہونے کے بعد کسی صورت میں بھی مناظرہ نہیں کریں گے۔

٥

صفحہ ٣٣٣

مرزائیوں کی شکست وفرار کا اعلان

صبح ٩ بجے سٹیج لگا دیا گیا۔ آدھ گھنٹہ تک ہمارے علماء نے انتظار کیا اس وقت تک مرزائیوں کا کوئی مناظر نہیں پہنچا تھا۔ مرزائیوں کا سٹیج خالی تھا۔ جس پر کوئی مرزائی نظر نہیں آتا تھا اور وہ ان کی ذلت ورسوائی پر ماتم کر رہا تھا۔ ساڑھے نو بجے آدھ گھنٹہ کی انتظار کے بعد مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی نے مرزائیوں کے وقت مقررہ پر حاضر نہ ہونے کی وجہ سے ان کی شکست وفرار کا اعلان کر دیا۔ اس وقت تمام مسلمان اس میدان میں اپنی فتح و کامیابی سے خوش خوش شادماں پھر رہے تھے اور مرزائی اپنے گھروں میں چھپے ذلت ورسوائی کی موت کا شکار ہو چکے تھے۔

ربوہ کی نئی جیپ اور دفعہ نمبر ١٤٤

پونے دس بجے کے قریب اے ایس آئی چوہدری عبداللہ خان (لاہوری مرزائی) تھانہ لالیاں ربوہ کی ایک نئی جیپ نمبر S.G 1934 جس کا ڈرائیور بھی مرزائی تھا چند سپاہیوں کے ساتھ پہنچ گئے۔ ان کے پاس ایس ڈی ایم چنیوٹ کا ایک حکم نامہ تھا۔ جس کی رو سے پندرہ یوم کے لئے تحصیل چنیوٹ میں دفعہ نمبر ١٤٤ کے تحت جلسہ جلوس اور مناظرہ ڈبیٹ کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ مناظرہ تو قادیانی فریق کے نہ پہنچنے کی بناء پر پہلے ہی ختم ہو چکا تھا۔ چنانچہ دس بجے کے قریب فریقین کے نمائندوں ملک فتح اللہ اور مہر محمد حیات کو بلا کر اس آرڈر پر تعمیل کرائی گئی اور ہماری فتح کے جلسہ کو روک دیا گیا۔ اس کے بعد مہر محمد حیات مرزائی سے کہا گیا کہ اب پندرہ دن کے بعد کی تاریخ مقرر کرلیں۔ جس دن یہ پابندی ختم ہو۔ اس سے اگلے روز اسی جگہ پر طے شدہ مناظرہ کرلیا جائے اور فریقین مل کر اس پندرہ دن کے وقفہ میں ڈی سی صاحب سے تحریری اجازت طلب کر لیں۔ بصورت دیگر اگر پابندی لگے تو اسی روز تحصیل چنیوٹ کی حد پار کر کے کسی دوسری تحصیل میں جا کر مناظرہ کر لیا جائے۔ لیکن مہر صاحب کسی صورت میں بھی مناظرہ کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ ان بیچاروں نے بڑی کوشش سے دفعہ نمبر ١٤٤ لگوا کر اپنی جان بچانے کی صورت پیدا کی تھی۔ بھلا دوبارہ وہ اس مصیبت میں کیسے پھنستے؟

٦

مرزائی زہر کا پیالہ پی سکتا ہے لیکن.....

مرزائیوں کی اس پہلوتہی اور مناظرہ سے اخر اور مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی کی اس بات ذلت برداشت کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ زہر کا پیالہ پی سکتا بیٹے خلیفہ بشیر الدین محمود کے صدق وکذب اور سیرت کر سکتا۔ نیز مولانا منظور احمد چنیوٹی کی یہ پیش گوئی اصرار کیا تھا کہ دوسرا مناظرہ بھی آج ١٠ اپریل کو یا ١٠ رکھا گیا تو مرزائی مناظر ہرگز میدان میں نہیں آئیں قدیمہ کے مطابق اس وقفہ میں دفعہ نمبر ١٤٤ لگوادیں ہیں۔ ورنہ اب جب کہ مناظرین بھی موجود ہیں اور سے کیا چیز مانع ہے؟

مؤکد بعذاب قسم کا چیلنج

چنانچہ مولانا موصوف نے دفعہ نمبر ١٤٤ ا کو مسجد میں قرآن کریم سر پر اٹھا کر اپنی اور اپنی تمام قسم اٹھائی کہ ہماری طرف سے اگر اس مناظرہ کو رکا اللہ تعالیٰ کی لعنت اور عذاب ہم پر نازل ہو اس کے دیگر ذمہ دار حضرات کو چیلنج دیا کہ وہ بھی اسی طرح م برأت ثابت کریں کہ ہم صدق دل سے مناظرہ بالواسطہ یا بلاواسطہ مناظرہ رکوانے کی کوشش نہیں کی

٧

صفحہ ٣٣٣

مرزائی زہر کا پیالہ پی سکتا ہے لیکن......

مرزائیوں کی اس پہلو تہی اور مناظرہ سے انکار نے حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر اور مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی کی اس بات کی تصدیق کر دی کہ مرزائی بڑی سے بڑی ذلت برداشت کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ زہر کا پیالہ پی سکتا ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے بیٹے خلیفہ بشیر الدین محمود کے صدق و کذب اور سیرت و کریکٹر کے مضمون پر مناظرہ اور مباہلہ نہیں کر سکتا۔ نیز مولانا منظور احمد چنیوٹی کی یہ پیش گوئی بھی سچی ثابت ہوئی۔ جب کہ انہوں نے اصرار کیا تھا کہ دوسرا مناظرہ بھی آج ١٠؍اپریل کو یا دوسرے دن ہو جائے۔ اگر درمیان میں وقفہ رکھا گیا تو مرزائی مناظر ہرگز میدان میں نہیں آئیں گے اور وہ اپنی روایات سابقہ اور عادت قدیمہ کے مطابق اس وقفہ میں دفعہ نمبر ١٤٤ لگوادیں گے اور یہ وقفہ محض اسی خاطر مانگ رہے ہیں۔ ورنہ اب جب کہ مناظرین بھی موجود ہیں اور کتابیں بھی موجود ہیں تو انہیں مناظرہ کرنے سے کیا چیز مانع ہے؟

مؤکد بعذاب قسم کا چیلنج

چنانچہ مولانا موصوف نے دفعہ نمبر ١٤٤ کے تصفیہ کے لئے کہ یہ کس نے لگوائی ہے رات کو مسجد میں قرآن کریم سر پر اٹھا کر اپنی اور اپنی تمام مسلمان جماعت کی طرف سے مؤکد بعذاب قسم اٹھائی کہ ہماری طرف سے اگر اس مناظرہ کو رکوانے کی کسی صورت میں بھی کوشش کی گئی ہو تو اللہ تعالیٰ کی لعنت اور عذاب ہم پر نازل ہو اس کے بعد مولانا نے مہر محمد حیات مرزائی اور ربوہ کے دیگر ذمہ دار حضرات کو چیلنج دیا کہ وہ بھی اسی طرح مؤکد بعذاب قسم اٹھا کر اپنی اور اپنی جماعت کی برأت ثابت کریں کہ ہم صدق دل سے مناظرہ کرنا چاہتے تھے اور ہم میں سے کسی نے بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ مناظرہ رکوانے کی کوشش نہیں کی۔ دیدہ باید! (لیکن وہ قسم پر آمادہ نہ ہوئے)

٧

صفحہ ٣٣٤

منگل کا منحوس دن اور مرزائیوں کی رسوائی

اس مناظرہ کے لئے علاقہ کے علاوہ سرگودھا، جھنگ، لائل پور اور لاہور کے اضلاع سے سینکڑوں افراد پہنچ چکے تھے۔ جو مرزائیوں کی اس بری شکست اور ذلت ورسوائی کے تذکرے کرتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے۔ حسن اتفاق یا مرزائیوں کے لئے سوئے اتفاق سمجھئے کہ ٢٠؍اپریل کو منگل کا دن تھا۔ جس کو مرزا قادیانی (سیرت المہدی حصہ اوّل ص ٨، بروایت نمبر١١) ہمیشہ منحوس سمجھتے تھے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی ایک لڑکی اس دن پیدا ہو رہی تھی۔ آپ نے دعا کر کے ایک دن رکوالی اور پھر وہ بدھ کے روز پیدا ہوئی اور اسی منگل کے دن مرزا قادیانی کو وبائی ہیضہ ہوا تھا۔ چنانچہ آپ (سیرت المہدی حصہ اوّل ص ١١، بروایت نمبر ١٢) کو ایک بہت بڑا دست آیا اور آپ کی حالت دگرگوں ہوگئی اور آپ کی روح پرواز کرگئی۔ ٢٠؍اپریل کو منگل کا ہی منحوس دن تھا۔ جو مرزائیوں کے لئے ذلت ورسوائی اور نحوست کا سبب بنا کہ اب وہ علاقہ میں منہ دکھلانے کے قابل نہیں رہے۔

اعلان حق اور دعائے فاتحہ

ہم لوگوں پر یہ بات روز روشن سے زیادہ واضح ہوچکی ہے کہ مرزائی کافر اور پرلے درجے کے جھوٹے انسان ہیں اور ہم نے دیکھ لیا ہے کہ یہ ہر ذلت ورسوائی برداشت کر سکتے ہیں۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے بیٹے کی صداقت ثابت کرنے کے لئے میدان مناظرہ اور مباہلہ میں نہیں آسکتے۔ اللہ تعالیٰ اس جھوٹی اور کافر جماعت کے وسوسوں اور دھوکوں سے تمام مسلمانوں کو محفوظ رکھیں۔ آمین ثم آمین!

المشتہرین: ملک فتح اللہ، ملک شیر نمبردار، مولوی احمد بخش، عمر حیات، مہر محمد شیر، حاجی خضر حیات، حاجی برخوردار، محمد انور مہاجر، مہر پالک، نومسلم، ملک سکندر حیات، مفتی عبدالرشید، عبدالحکیم مہاجر۔

٨

PDF 336

اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

اقبال

اور

قادیانی

حضرت مولانا محمد نعیم آسیؔ سیّالکوٹی

صفحہ ٣٣٦

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سخنہائے گفتنی

نہ میں ادیب ہوں، نہ مصنف، نہ مؤلف۔ محض ایک طالب علم ہوں اور یہ کتاب میری اولین طالب علمانہ کاوش۔ جس میں حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ کی ان تمام تحریروں کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو انہوں نے قادیانیت پر نقد و نظر کرتے ہوئے وقتاً فوقتاً شائع فرمائیں۔

قادیانیت محض ایک مذہبی مسئلہ ہی نہیں جیسا کہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں یہ اپنے مخصوص احوال وظروف کے پیش نظر ایک ایسا قومی وملی، سیاسی و اجتماعی اور تہذیبی و معاشرتی مسئلہ ہے جو براہ راست ہمارے آئین اور دستور سے تعلق رکھتا ہے۔ اس مجموعہ کی ترتیب کی غرض وغایت صرف اس قدر ہے کہ اس ملی وقومی مسئلے پر حضرت علامہؒ کے بصیرت افروز خیالات کا اظہار و اجتماع ہو جائے کہ آج تک کسی نے اس پہلو کی طرف توجہ نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ میری اس حقیر سعی کو قبول فرمائیں اور اس میں خیر اور افادہ عام کا جوہر زیادہ کریں۔ ”وما توفیقی الا بالله عليه توكلت وهو حسبى ونعم الوكيل“

یہ مسئلہ مسلمانوں کی حیات ملی کے لئے جس قدر اہمیت رکھتا ہے۔ افسوس اس سے اتنی ہی زیادہ بے اعتنائی برتی گئی اور مجرمانہ تغافل روا رکھا گیا۔

اس کتاب کی ترتیب کے دوران بلا مبالغہ بیسیوں کتابیں میری نظر سے گزریں۔ ان میں اکثر کا تعلق اقبالیات سے تھا۔ مگر یہ دیکھ کر سخت تعجب ہوا کہ حضرت علامہؒ کے نام پر چلنے والے اداروں نے علامہ مرحوم پر اب تک جتنی کتابیں شائع کی ہیں۔ ان میں کوئی بھی ”اقبال اور قادیانیت“ ایسے اہم موضوع پر کوئی روشنی نہیں ڈالتی۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے جان بوجھ کر اس مسئلہ کو نظر انداز کیا گیا۔ اس کے برعکس ایسی کتابیں میری نظر سے ضرور گزری ہیں۔ جن میں قادیانی نبوت کی تعریف کا پہلو نکلتا یا قادیانیوں کے بارے میں حضرت علامہؒ کے خیالات و افکار کی غلط تعبیر ہوتی یا پھر ان میں نقب لگائی جاتی ہے۔ کم از کم میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ ایسا کیوں ہے؟ اگر اس میں قادیانی رسوخ کو دخل ہے تو یہ بات اور زیادہ افسوسناک بلکہ شرمناک ہے اور اقبال اکادمیوں کو اس کی جرأت نہ ہونی چاہئے۔

٢

صفحہ ٣٣٧

یہ مجموعہ چار ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں حضرت علامہؒ کے قلم سے ختم نبوت کی تہذیبی وثقافتی اور سیاسی ومذہبی قدر وقیمت کا تذکرہ ہے۔ اسی باب میں حضرت علامہؒ کا وہ مکتوب بھی ہے جس کا مکمل متن پہلی دفعہ منظر عام پر آ رہا ہے۔ یہ خط اگرچہ آج سے سات برس پیشتر اقبال اکادمی، کراچی کی ”انوار اقبال“ نامی کتاب میں بھی چھپ چکا ہے۔ مگر کتاب مذکور کے مرتب اور اقبال اکادمی کراچی کے ڈائریکٹر جناب بشیر احمد ڈار نے ستم یہ ڈھایا کہ اس کا وہ اہم ترین حصہ ہی متن سے غائب کر دیا جس میں حضرت علامہؒ نے منکر ختم نبوت کو واجب القتل قرار دیا تھا۔ مکمل متن کی اشاعت کی سعادت شاید میرے مقدر میں تھی جو اس کتاب کی ترتیب واشاعت سے میرے حصہ میں آئی۔ فالحمد للہ علی ذالك!

دوسرا باب ان مضامین وبیانات پر مشتمل ہے جو حضرت علامہؒ نے جون ١٩٣٣ء سے جنوری ١٩٣٦ء تک قادیانیت کے رد میں شائع فرمائے۔ اس باب کے سب سے اہم مضمون اسلام اور احمدیت میں ایک تاریخی غلطی تھی۔ جس کی حضرت علامہؒ ہی کے حوالے سے تصحیح کر دی گئی ہے۔ (دیکھئے ص ) اسی طرح ایک اور اہم سہو کی بھی اصلاح کی گئی ہے۔ (دیکھئے ص ) قادیانی اور جمہور مسلمان اور اسٹیٹس مین کے جواب میں اس باب کے نہایت اہم مضامین ہیں۔ قادیانی اور جمہور مسلمان ہی میں حضرت علامہؒ نے فرنگی حکمرانوں سے یہ مشہور عام مطالبہ کیا تھا کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے ایک الگ اقلیت قرار دیا جائے۔

تیسرے باب میں علامہ مرحوم کے وہ خطوط ہیں جو انہوں نے وقتاً فوقتاً مختلف علمی وسیاسی شخصیتوں کو لکھے۔ پنڈت جواہر لال نہرو کے نام خط اس باب کا انتہائی اہم خط ہے۔ میری معلومات کے مطابق یہ خط خود پنڈت جواہر لال نہرو کے مرتبہ مجموعہ (A Bunch of old Letters) کے ص ١٨١ اور عبدالمجید قریشی، ایم اے، ایل ایل بی کے کچھ پرانے خط، (اردو ترجمہ A Bunch of old Letters) کے صفحہ ٢٩٣ پر چھپ چکا ہے۔ میں نے یہ خط جناب سید عبدالواحد معینی کے انگریزی مجموعے (Thoughts and Reflections of Iqbal) سے لیا ہے۔ مولانا سید سلیمان ندویؒ کے نام حضرت علامہؒ کے خطوط بھی اس سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہیں۔ علامہ مرحوم نے ختم نبوت کے موضوع پر جن شخصیتوں سے علمی استفادہ کیا۔ ان میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور مولانا سید سلیمان ندویؒ سر فہرست ہیں۔ اوّل الذکر کو مرحوم دنیائے اسلام کے جید ترین محدثین میں شمار کرتے اور موخر الذکر کو علوم اسلام کی جوئے شیر کا فرہاد

٣

صفحہ ٣٩

اور مولانا شبلی نعمانی کے بعد استاذ الکل سمجھتے تھے۔ ٣؍ اپریل ١٩١٩ء کے ایک خط میں مولانا ندویؒ کو لکھتے ہیں: ”میری خامیوں سے مجھے ضرور مطلع کیا کیجئے۔ آپ کو زحمت تو ہوگی لیکن مجھے فائدہ ہوگا۔“

علامہ انور شاہ کشمیریؒ سے علامہ مرحوم کی جو مراسلت ہوئی اس کا کہیں سراغ نہیں ملتا۔ علامہ انور شاہ صاحبؒ کے صاحبزادے مولانا انظر کشمیری یا دارالعلوم دیوبند کے مہتمم جناب قبلہ قاری محمد طیب صاحبؒ اس سلسلہ میں کچھ سعی فرمائیں (تب دونوں بزرگ حیات تھے) تو شاید اس خط و کتابت کا بھی کچھ پتہ نشان مل جائے۔ البتہ سید سلیمان ندویؒ کے نام لکھے گئے خطوط جناب شیخ عطاء اللہ کے مرتبہ مجموعہ، ”مکاتیب اقبال“ میں موجود ہیں۔

حضرت علامہ نے ١٩٢٢ء سے ١٩٣٦ء تک مولانا ندویؒ کو جو خطوط لکھے ان کی اکثریت علمی سوالات واستفسارات پر مشتمل ہے۔ قادیانی ان طالب علمانہ سوالات میں حسب عادت کتر بیونت کر کے اکثر انہیں اپنے اعتقادات کے سانچے میں ڈھالنے کی سعی نامشکور کرتے ہیں۔ اس کھلی ہوئی بددیانتی کا جواب سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ حضرت علامہؒ کے استفسارات اور ان جوابات کو جو سید سلیمان ندویؒ کے قلم سے ہیں ایک ساتھ چھاپ دیا جائے۔ یہی میں نے کیا ہے۔ جس سے حضرت علامہؒ کے خطوط کی اہمیت اور افادیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔ چوتھے باب میں حضرت علامہؒ کے وہ توضیحی بیانات ہیں جو انہوں نے مختلف سوالات کے جواب میں ارشاد فرمائے۔ اس میں سن رائز کے جواب میں اور مولانا حسین احمد مدنیؒ کے نام، دو نہایت اہم تحریریں ہیں۔

حضرت علامہؒ کی ان چار ابواب پر مشتمل تحریروں سے پیشتر دو تین عنوانات کے تحت اس گنہگار نے بھی قلم درازی کی ہے۔ پہلا عنوان ہے ”قادیانیت، تاریخی وسیاسی پس منظر“ اس میں قادیانیت کے اصل محرکات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسرا عنوان ”قادیانیت اور اقبال“ ہے۔ اس میں قادیانیت پر حضرت علامہؒ نے جو کچھ لکھا اس پر ایک طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے اور چند ذیلی عنوانات کے تحت بعض ایسے حقائق و واقعات درج کئے گئے ہیں جو بجائے خود، انکشافات کا درجہ رکھتے ہیں۔ سب سے آخر میں چند شبہات اور ان کا ازالہ کے تحت تین قادیانی اعتراضات کا جواب شافی عرض کیا گیا ہے۔

مجھے اس کتاب کی ترتیب میں سب سے زیادہ مدد جناب لطیف احمد شروانی کی ”حرفِ اقبال“ جناب شیخ عطاء اللہ ایم۔اے کی ”مکاتیبِ اقبال“ اور جناب سید عبدالواحد معینی کے

٤

انگریزی مجموعے 'ections of Iqbal' افکار و خیالات) سے ملی۔ جس کے لئے میں ان ازیں میں ان تمام احباب کا بھی شکر گزار ہوں جن بھی تعاون کیا۔ خاص طور پر حضرت بشیر کنور کا سے اس کتاب کا سرورق تیار کیا۔ میں ریاست کا بھی ممنون ہوں کہ کتابوں کے سلسلہ میں انہوں سیالکوٹ، ١٥؍ مئی ١٩٧٤ء

قاد

تاریخی وسیاسی پس منظر

برصغیر ہندوستان پر مسلمانوں نے پھریرا لہرایا۔ اس سرزمین نے جہاں محمود غزنویؒ عظمتیں دیکھیں وہاں محمد شاہ رنگیلا ایسی پستیاں حاصل کر لیتی ہیں تو پھر ان کا زوال قریب آ جا اور انگریز جو تاجروں کا روپ دھار کر اغلباً جہا اقتدار بڑھتا گیا۔ انگریزوں کی ابلیسی سیاست بدولت خاصی مشہور بھی ہوئی اور خاصی بدنام بھ کہا ہے کہ دریائے قلزم کی پہنائیوں میں اگر م بھی انگریزی سیاست کارفرما ہوگی۔ میرے م (Divide and Rule) کی مکروہ پالیسی میں بے نقاب کیا ہے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ انگ نے بڑی بڑی سلطنتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ مسلمان ازلی وابدی اسلام دشمنی یہی چاہتی تھی۔ آج دیکھیں گے کہ پاکستان سے الجزائر وسوڈان مربوط و منسلک ہیں۔ مگر کیا وجہ ہے کہ اس تمام

صفحہ ٣٣٩

انگریزی مجموعے ”Thoughts and Reflections of Iqbal“ (اقبال کے افکار و خیالات) سے ملی۔ جس کے لئے میں ان فاضل مرتبین کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ علاوہ ازیں میں ان تمام احباب کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کتاب کی تدوین میں مجھ سے ذرا سا بھی تعاون کیا۔ خاص طور پر حضرت بشیر کنور کا بے حد ممنون ہوں جنہوں نے کمال محبت اور محنت سے اس کتاب کا سرورق تیار کیا۔ میں ریاست علی صاحب چودھری (لائبریرین اقبال لائبریری) کا بھی ممنون ہوں کہ کتابوں کے سلسلہ میں انہوں نے مجھ سے بہت تعاون کیا۔ سیالکوٹ، ١٥؍مئی ١٩٧٤ء نعیم آسی

قادیانیت

تاریخی و سیاسی پس منظر

برصغیر ہندوستان پر مسلمانوں نے قریب قریب ایک ہزار برس تک اپنے اقتدار کا پھریرا لہرایا۔ اس سرزمین نے جہاں محمود غزنوی، شہاب الدین غوری اور اورنگزیب عالمگیرؒ کی ایسی عظمتیں دیکھیں وہاں محمد شاہ رنگیلا ایسی پستیاں بھی مشاہدہ کیں۔ قومیں جب حد سے زیادہ عروج حاصل کر لیتی ہیں تو پھر ان کا زوال قریب آ جاتا ہے۔ اورنگزیب کے بعد مغلوں کے ساتھ یہی ہوا اور انگریز جو تاجروں کا روپ دھار کر اغلباً جہانگیر کے عہد میں ہندوستان وارد ہوئے تھے ان کا اقتدار بڑھتا گیا۔ انگریزوں کی ابلیسی سیاست کی ایک دنیا معترف ہے۔ یہ قوم اپنی اس خوبی کی بدولت خاصی مشہور بھی ہوئی اور خاصی بدنام بھی۔ مصر کے مرحوم صدر جمال عبدالناصر نے کیا خوب کہا ہے کہ دریائے قلزم کی پہنائیوں میں اگر دو مچھلیاں بھی آپس میں لڑتی ہیں تو باور کیجئے اس میں بھی انگریزی سیاست کارفرما ہوگی۔ میرے خیال میں صدر ناصر نے اس تمثیل میں انگریزوں کی (Divide and Rule) کی مکروہ پالیسی کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ اور بڑے بلیغ انداز میں بے نقاب کیا ہے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ انگریز کی ”پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو“ کی اس پالیسی نے بڑی بڑی سلطنتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ مسلمان خاص طور پر اس کی سازشوں کا نشانہ بنے کہ اس کی ازلی و ابدی اسلام دشمنی یہی چاہتی تھی۔ آج مسلمان ملکوں کا دنیا کے نقشہ پر مطالعہ کیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ پاکستان سے الجزائر وسوڈان تک تمام مسلمان ملک ایک دوسرے سے کس طرح مربوط و منسلک ہیں۔ مگر کیا وجہ ہے کہ اس تمام تر جغرافیائی پیوستگی اور نظریاتی وابستگی کے باوجود برصہا

٥

صفحہ ٣٤١

برس سے یہ سب باہم کٹے پھٹے اور جدا جدا ہیں۔ عملاً ابھی تک ایک نہیں ہو سکے؟ واقعہ یہ ہے کہ یہ سب فرنگی سیاست کے برگ و بار اور مسلمانوں کی سادہ لوحی کا نتیجہ ہے۔ انگریز جانتا تھا (اور مغربی استعمار بلکہ ہر قسم کے استعمار کی سوچ اب بھی یہی ہے) کہ اگر مسلمانوں میں نظریاتی و جغرافیائی اتحاد کے ساتھ ساتھ سیاسی اتحاد بھی ہو گیا تو یہ کتنی بڑی طاقت بن جائیں گے۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ مسلمان دنیا میں سمٹنے کے لئے نہیں، پھیلنے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ اس کے برٹش ایمپائر کے سنہرے و توسیع پسندانہ خواب کی تعبیر میں دنیائے اسلام ایک بڑی بلکہ سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ اسنے یہ سب کچھ سامنے رکھ کر مسلمانوں کو فنا کرنے کی تدابیر سوچیں اور اپنی طے شدہ پالیسی کے مطابق فیصلہ کیا کہ مسلمانوں میں انتشار پسند اور حریص عناصر کی حوصلہ افزائی کر کے انہیں اندر سے کھوکھلا کیا اور مختلف گروہوں میں بانٹا جائے۔ ان کے درمیان ایسے مسائل اور ایسی تحریکیں پیدا کی جائیں کہ وہ کبھی ایک عظیم طاقت بن کر نہ ابھر سکیں۔ سلطنت عثمانی کی شکست و ریخت ہو یا چھوٹی چھوٹی عرب ریاستوں کا قیام، اعلان بالفور ہو یا ریڈکلف ایوارڈ، ایران کا بہائی فتنہ ہو یا ہندوستان کا قادیانی فتنہ، اس نے وہی چال چلی اور وہی مہرے چنے جن میں اس کا فائدہ اور مسلمانوں کا نقصان زیادہ سے زیادہ تھا۔

سلطان ٹیپو ہندوستان کے مسلمانوں کی آخری امید تھا اور اس نے مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو واپس لانے کی خاطر بڑی بہادری سے جنگیں لڑیں۔ مگر اس کی شہادت کے ساتھ یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان اور روما کی عظمت کا چراغ گل ہو گیا اور نتیجتاً انگریزی استبداد کا دیو بوتل کے جن کی طرح کھل کر سامنے آ گیا۔ ١٨٥٧ء سے پہلے ہندوستان پر انگریز تاجروں کی حکومت تھی اور وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے لوٹ کھسوٹ کر رہے تھے۔ بظاہر ان کے لئے خطرے کی کوئی بات نہ تھی۔ مگر ١٨٣١ء میں سید احمد شہیدؒ کی تحریک جہاد نے ان کے کان کھڑے کر دیئے۔ ابھی اس تحریک کے اثرات و نتائج کو وہ زائل نہ کر سکے تھے کہ ١٨٥٧ء میں ان پر براہ راست وار ہو گیا۔ دہلی، لکھنؤ، میرٹھ، کانپور، اودھ، روہیل کھنڈ، بندیل کھنڈ اور گوالیار انگریزوں کے خلاف آتش فشاں بن گئے۔ اگرچہ آخری مغل تاجدار بہادر شاہ میں جان نہ تھی تاہم اس کا نام ہندوستان بھر میں گونجنے لگا۔ انگریزوں کے لئے یہ بڑا کٹھن وقت تھا اور اگر اس وقت انہیں ہندوستان کے غداران ازلی کا تعاون حاصل نہ ہو جاتا اور مسلمان اور ہندو باہم سوچ سمجھ کر جنگ کرتے اور اتحاد عمل کا ثبوت دیتے تو انگریزی اقتدار کی بساط الٹی جا چکی تھی۔ مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا۔

٦

مسلمان اور آزادی پسند ہندو آج بھی اس کرتے اور ان کے ١٨٥٧ء کے شہداء کے لئے احترام کے زلزلہ یا اس کو ”غدر“ ایسا غیر حقیقت پسندانہ خطاب د ایسٹ انڈیا کمپنی کی بجائے تاج برطانیہ کے ماتحت ہو گیا کی مٹھی سے باہر نکل آئے۔ انگریزوں نے اقتدار کی اس لئے وہ زیادہ خائف و بدگمان بھی انہی سے تھے۔ اب معاملہ چونکہ تاج برطانیہ کے وقار و استحکام کا ہو گیا ساتھ جو کچھ کیا وہ افسوسناک بھی ہے اور شرمناک بھی۔ کے دن تھے۔ انگریزوں کے مظالم دیکھ کر ہندوستا بکھیرے، آنسوؤں نے ہالہ بنا، آہوں نے دم توڑا شاہزادوں کی گردن کٹی، عورتیں کھلونا بنیں۔ اس ہندوستان نے پھر ایک ٹیپو سلطان دیکھا اور ٹیپو نے می یوں کہو پورا ہندوستان مظلوم و مجبور بہادر گیا۔ جس کا مطلع ہے؎

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں، نہ
جو کسی کے کام نہ آسکے میں

مسلمانوں کی وحدت واخوت اور انہیں کی خاطر انگریزوں نے ہر حربہ استعمال کیا۔ ہندو تھے۔ انگریز نے سب سے پہلا وار انہیں پر کیا۔ کربلا میں ان علماء پر کیا گزری؟ مسلمانوں کی انگریزوں کو مسلمانوں کے اندر ہر شعبہ حیات میں ہوں اور اس کی ”پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو“ کی ش قومیں جب اپنے دور انحطاط میں ہو حال مسلمانوں کا تھا۔ انگریز کو ہر قسم کے لوگ میسر آ نے ہلا بول دیا۔ ہندوستان کے مسلمان کو مذہب مناظروں اور مباحثوں کا اکھاڑہ رچا دیا۔ پہلے مسلما

صفحہ ٣٤١

مسلمان اور آزادی پسند ہندو آج بھی اس لڑائی کو جدوجہد آزادی کے نام سے یاد کرتے اور ان کے سر اس کے شہداء کے لئے احترام کے ساتھ جھک جاتے ہیں۔ مگر انگریز اور اس کے زلہ ربا اس کو ’غدر‘ ایسا غیر حقیقت پسندانہ خطاب دیتے ہیں۔ بہر حال اس لڑائی کے بعد اقتدار ایسٹ انڈیا کمپنی کی بجائے تاج برطانیہ کے ماتحت ہو گیا۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ شکاری دھوکے کی ٹٹی سے باہر نکل آئے۔ انگریزوں نے اقتدار کی عنان چونکہ مسلمانوں کے ہاتھ سے چھینی تھی۔ اس لئے وہ زیادہ خائف و بدگمان بھی انہی سے تھے۔ اس جنگ نے ان کے اس تاثر کو اور گہرا کیا۔ اب معاملہ چونکہ تاج برطانیہ کے وقار و استحکام کا ہو گیا تھا۔ اس لئے انگریزوں نے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ افسوسناک بھی ہے اور شرمناک بھی۔ یہ ہندوستان میں مسلمانوں کی انتہائی مظلومی کے دن تھے۔ انگریزوں کے مظالم دیکھ کر ہندوستان کا ذرہ ذرہ اشکبار ہو گیا۔ اداسی نے بال بکھیرے، آنسوؤں نے ہالہ بنا، آہوں نے دم توڑا، سسکیاں ہچکیوں میں بدلیں، شاہ گدا ہوئے، شاہزادوں کی گردن کٹی، عورتیں کھلونا بنیں۔ اپنے بیگانے ہوئے۔ بیگانے یگانے ہوئے۔ ہندوستان نے پھر ایک ٹیپو سلطان دیکھا اور ٹیپو نے میر صادق۔ وقت بدلا کردار وہی رہے۔ یوں کہو پورا ہندوستان مظلوم و مجبور بہادر شاہ کی اس مشہور غزل کی صدائے بازگشت بن گیا۔ جس کا مطلع ہے:

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں، نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آسکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

مسلمانوں کی وحدت واخوت اور انہیں برق تپاں بنانے والے جذبہ جہاد کو سرد کرنے کی خاطر انگریزوں نے ہر حربہ استعمال کیا۔ ہندوستانی علماء، قافلہ حریت و جہاد کے جگر دار سپاہی تھے۔ انگریز نے سب سے پہلا وار انہیں پر کیا۔ یہ میرا موضوع نہیں، ورنہ میں بتاتا کہ انگریزی کربلا میں ان علماء پر کیا گزری؟ مسلمانوں کی شمشیر زن قوم کو ٹھنڈی لاش بنانے کے لئے انگریزوں کو مسلمانوں کے اندر ہر شعبہ حیات میں ایسے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کے وفادار ہوں اور اس کی ”پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو“ کی شیطانی پالیسی میں ممد و معاون ثابت ہوسکیں۔

قومیں جب اپنے دور انحطاط میں ہوتی ہیں تو ان میں فروختنی مال بڑھ جاتا ہے۔ یہی حال مسلمانوں کا تھا۔ انگریز کو ہر قسم کے لوگ میسر آ گئے۔ ادھر یہ مسئلہ حل ہوا۔ ادھر عیسائی پادریوں نے ہلا بول دیا۔ ہندوستان کے مسلمان کو مذہب کا پرستار دیکھ کر انگریز نے کمال چالاکی سے مناظروں اور مباحثوں کا یدھ رچا دیا۔ پہلے مسلمانوں اور عیسائیوں، پھر عیسائیوں اور ہندوؤں اور

٧

صفحہ ٣٤٢

پھر مسلمانوں اور ہندوؤں کے مابین بحث مباحثے کا میدان گرم ہوا اور سب سے آخر میں مسلمان، مسلمان سے بھڑ گئے۔ پہلے صداقت مذاہب بحث کا موضوع تھی۔ اب امکان نظیر اور امتناع نظیر ایسے مسائل اٹھ کھڑے ہوئے اور شاہ اسماعیل شہیدؒ ایسے مرد مجاہد پر کفر کا آرا چل گیا۔ جس نے اپنی جان تک راہ حق میں لٹادی اور اپنے پاک خون سے بالاکوٹ کی سر زمین کو لالہ زار کیا تھا۔ یوں وہابی، سنی، کشمکش پیدا (Create) کی گئی۔ ہندو، مسلم امتیاز ونزاع پہلے ہی پیدا ہوچکا تھا۔ مگر ان تمام تر مذہبی مناقشات اور داخلی کشمکش کے باوصف بھی جذبۂ جہاد کی چنگاری اپنی لو دے جاتی اور اسی سے انگریز کی جان جاتی تھی۔ انگریز مصنفین نے برصغیر ہندوستان میں مسلمانوں کی لگاتار کامیابیوں کے جو اسباب گنوائے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ: ”مسلمانوں میں وہابی سرگرمی بھی کام کرتی تھی۔ کہتے تھے کہ فتح پائی تو غازی مرد کہلائے۔ حکومت حاصل کی، مر گئے تو شہید بنے۔ اس لئے مرنا یا مارڈالنا بہتر ہے اور پیٹھ دکھانا بیکار۔“

(تاریخ برطانوی ہند ص ٣٠٢، مطبوعہ ١٩٣٥ء)

معلوم نہیں اس بات میں کہاں تک صداقت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مطبوعہ برطانوی دستاویز The Arrival of British Empire in India میں درج ہے کہ: ”١٨٦٩ء میں انگلینڈ سے برطانوی مدبروں اور مسیحی رہنماؤں کا ایک وفد اس بات کا جائزہ لینے کے لئے ہندوستان پہنچا کہ ہندوستانی باشندوں میں برطانوی سلطنت سے وفاداری کا بیج کیوں کر بویا جاسکتا اور مسلمانوں کو رام کرنے کی صحیح ترکیب کیا ہو سکتی ہے؟ اس وفد نے ١٨٧٠ء میں دو رپورٹیں پیش کیں۔ جن میں کہا گیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی رہنماؤں کی اندھا دھند پیروکار ہے۔ اگر اس وقت ہمیں کوئی ایسا آدمی مل جائے جو اپاسٹالک پرافٹ (حواری نبی) ہونے کا دعویٰ کرے تو بہت سے لوگ اس کے گرد اکٹھے ہو جائیں گے۔ لیکن مسلمانوں میں ایسے کسی شخص کو ترغیب دینا مشکل نظر آتا ہے۔ یہ مسئلہ حل ہو جائے تو پھر ایسے شخص کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں بطریق احسن پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔ اب کہ ہم پورے ہندوستان پر قابض ہیں تو ہمیں ہندوستانی عوام اور مسلمان جمہور کی داخلی بے چینی اور باہمی انتشار کو ہوا دینے کے لئے اسی قسم کے عمل کی ضرورت ہے۔“

(عجمی اسرائیل ص ١٩، مرتبہ آغا شورش کاشمیریؒ)

اصل کتاب ابھی تک میری نظر سے نہیں گزری۔ بہرحال واقعات کا تسلسل بتاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت اور تنسیخ جہاد کے اعلان نے ایک اہم برطانوی ضرورت کو پورا کیا۔ بقول حضرت علامہؒ: ”قادیانی تحریک فرنگی انتداب کے حق میں الہامی سند بن کر سامنے آئی۔“

(حرف اقبال ص ١٤٥، لطیف احمد شروانی، ایم، اے)

٨

صفحہ ٣٤٣

اور بیچارے مسلمان پچاس سال تک اسی فتنہ کو فرو کرنے میں لگے رہے۔ قادیانیت کے اس کردار کا اعتراف خود اس کے بانی نے بڑے کھلے لفظوں میں اور بڑے فخر کے ساتھ کیا ہے۔ مثلاً اپنی ایک کتاب ”تریاق القلوب“ میں ایک مقام پر وہ لکھتا ہے: ”میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

ستارہ قیصرہ میں لکھا ہے: ”مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلام میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں اور یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکے اور مدینہ میں بھی بخوشی شائع کر دیں اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیئے جو نا فہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا۔“

(ستارہ قیصره ص ٣، ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)

”آج کی تاریخ تک تین ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ میرے ساتھ جماعت ہے۔ جو برٹش انڈیا کے متفرق مقامات میں آباد ہے اور ہر شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانے میں جہاد قطعاً حرام ہے۔ کیونکہ مسیح آچکا خاص کر میری تعلیم کے لحاظ سے اس گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیر خواہ اس کو بننا پڑتا ہے۔“

(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ضمیمہ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٨)

”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ کہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)

٩

صفحہ ٣٤٥

اور اسی کتاب میں ذرا آگے چل کر بالفاظ صریح اپنی جماعت کو ”انگریز کا خودکاشتہ پودا“ ( تبلیغ رسالت ج٧ ص١٩، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢١) قرار دیا ہے۔ بانی قادیانیت کے خاندانی حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ انگریزوں کا پرانا نمک خوار و وفادار خاندان تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے الفاظ میں: ”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ١٨٥٧ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔“

(کتاب البریہ ص ٣، خزائن ج ١٣ ص ٤)

اس کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے ان خطوط کا تذکرہ کیا ہے جو انگریزی حکام نے وقتاً فوقتاً ان کے باپ اور بڑے بھائی مرزا غلام قادر کو اپنی خوشنودی کے اظہار اور ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر لکھے۔ چونکہ ان خطوط سے مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان کے انگریزوں کے ساتھ مخصوص تعلقات پر روشنی پڑتی ہے اور یہ ایک دستاویزی ثبوت ہے۔ اس لئے میں ان کا فوٹوسٹیٹ چھاپ کر اس دستاویزی ثبوت کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر رہا ہوں۔ خطوط یہ ہیں:

میں نے آپ کی اس درخواست کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ جس میں آپ نے اپنی اور اپنے خاندان کی خدمات اور اس کے حقوق کی یاد دہانی کرائی ہے۔ میں خوب جانتا ہوں، بلاشبہ آپ اور آپ کا خاندان سرکار انگریزی کا جانثار، وفادار اور ثابت قدم خدمت گار رہا ہے اور آپ کے حقوق یقیناً لائق توجہ ہیں۔ آپ بہرنوع تسلی و تشفی رکھیں۔ برٹش گورنمنٹ آپ کے خاندان کے حقوق و خدمات کو ہرگز فراموش نہ کرے گی اور جیسے ہی کوئی مناسب موقع نکلا ان پر پوری توجہ دی جائے گی۔ آپ کو چاہئے کہ آپ بدستور حکومت کے جانثار و وفادار رہیں کہ حکومت کی خوشنودی اور آپ کی بہبودی کا راز یہی ہے۔

(کتاب البریہ ص٤، ٥، خزائن ج ١٣ ص ایضاً)

المرقوم:مورخہ ١١؍ جون ١٨٤٩ء، لاہور

آپ نے ١٨٥٧ء کی بغاوت کے دوران سوار اور گھوڑے مہیا کر کے سرکار دولتمدار کی

١٠

جو خدمت کی اور اس کے آغاز سے اب تک جس ط سرکار حاصل کی۔ اس کے اعتراف واظہار کے طور پر ہے۔ علاوہ ازیں چیف کمشنر کے مراسلہ نمبر ٥٧٦، مو کے مطابق پروانہ ہذا آپ کی وفاداری و نیک نامی پر کے نام روانہ کیا جاتا ہے۔

ue to be faitful and devoed satisfaction of the govt, and 11-6-1849 lahore. ............................. obert Casts Certificate.

am Murtaza Khan chief of ed great help in enlisting s to Govt in the mutiny of alty since its beginning up d the favor of Govt a khilat ed to you in recognition of ward for your loyalt. rdance with the wishes of onveryed in his no 576 of

van is addressed to you as Govt for your fidelity and

صفحہ ٣٤٥

جو خدمت کی اور اس کے آغاز سے اب تک جس طرح اپنی وفاداری کو برقرار رکھا اور خوشنودی سرکار حاصل کی۔ اس کے اعتراف واظہار کے طور پر مبلغ دوصد روپیہ کا خلعت، آپ کو عطاء کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں چیف کمشنر کے مراسلہ نمبر ٥٧٦، مورخہ ١٠؍اگست ١٨٥٨ء میں ظاہر کی گئی خواہش کے مطابق پروانہ ہذا آپ کی وفاداری و نیک نامی پر حکومت کے اعتماد کو ظاہر کرنے کے لئے آپ کے نام روانہ کیا جاتا ہے۔

(کتاب البریہ ص ٩ خزائن ج ١٣ص ایضاً)

مرقومہ ٢٠؍ستمبر ١٨٥٨ء

You must continue to be faitful and devoed subjects as In it lies the satisfaction of the govt, and your welfare. 11-6-1849 lahore.

...................................................................................

Translation of Mr. Robert Custs Certificate.

To,

Mirza Ghulam Murtaza Khan chief of Qadian. As you rendered great help in enlisting sowars & suppling horses to Govt in the mutiny of 1857 and maintained loyalty since its beginning up to date ane there by gained the favor of Govt a khilat worth Rs.200/- is presented to you in recognition of good services and as a reward for your loyalt.

Moreover in accordance with the wishes of chief Commissioner as converyed in his no 576 of 10th.

August 58 this Parwan is addressed to you as a token of satisfaction of Govt for your fidelity and repute.

11

صفحہ ٤٧

نقل مراسلہ

(رابرٹ کسٹ صاحب بہادر کمشنر لاہور) تہور و شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان بعافیت باشند! از آنجا کہ ہنگام مفسدہ ہندوستان موقوعہ ١٨٥٧ء از جانب آپ کے رفاقت و خیر خواہی و مدد دہی سرکار دولتمدار انگلیشیہ در باب نگاہداشت سواران و بہم رسانی اسپان بخوبی بمنصہ ظہور پہنچی اور شروع مفسدہ سے آج تک آپ بدل ہوا خواہ سرکار رہے اور باعث خوشنودی سرکار ہوا۔ لہٰذا بصلہ دہی اس خیر خواہی اور خیر سگالی کے خلعت مبلغ دو صد روپیہ کا سرکار سے آپ کو عطاء ہوتا ہے اور حسب منشاء چٹھی صاحب چیف کمشنر بہادر نمبر ٥٧٦، مورخہ ١٠؍ اگست ١٨٥٨ء پروانہ ہذا باظہار خوشنودی سرکار و نیکنامی و وفاداری بنام آپ کے لکھا جاتا ہے۔

(کتاب البریہ ص ٦، خزائن ج ١٣ ص ایضاً)

(مرقومہ تاریخ ٢٠؍ ستمبر ١٨٥٨ء)

Translation of Sir. Robert Egerton Financial Commr,s Murasala. 29 June 1876 My dear friend Ghulam Qadir. I have persued your Letter of the 2nd instant deeply regret the death of your father Mirza Ghulam Murtaza who was a great well wisher and faithful chief of Govt. In consideration of your family services I will esteem you with the same respect as that bestowed on your Loyal father. I will keep in mind the restoration and wellfare of your family when a favourable opportunity occurs.

نقل مراسلہ فنانشل کمشنر پنجاب

مشفق مہربان دوستان مرزا غلام قادر رئیس قادیان حفظہ! آپ کا خط ٢؍ ماہ حال کا لکھا ہوا ملاحظہ حضور اینجانب میں گزرا۔ مرزا غلام مرتضیٰ صاحب

١٢

آپ کے والد کی وفات سے ہم کو بہت افسوس ہوا اور وفادار رئیس تھا۔ ہم آپ کی خاندانی لحاظ سے ا باپ وفادار کی کی جاتی تھی۔ ہم کو کسی اچھے موقعہ کے خیال رہے گا۔

الرقوم ٢٩؍ جون ١٨٧٦ء، الراقم سرا ٣....... سر رابرٹ ایجرت

مرزا غلام قادر ولد مرزا

میرے پیارے دوست غلام قادر! میں نے آپ کا خط جو اس ماہ کی ٢ مرزا غلام مرتضیٰ کی وفات کا از حد افسوس ہوا۔ تھے۔ ہم آپ کی خاندانی لحاظ سے اسی طرح ع کی جاتی تھی۔ کوئی مناسب موقع نکلنے پر ہمیں آ گا۔

ان خطوط کے تذکرہ کے بعد مر وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خد مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوئے۔“

اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیق اس اسلام دشمن جماعت نے گھی کے چراغ جانبدارانہ رپورٹ کے باعث عام طور پر پہلی جنگ عظیم میں جس میں ترکوں کو شکست اس فتح پر جشن مسرت منایا گیا۔

صفحہ ٣٤٧

آپ کے والد کی وفات سے ہم کو بہت افسوس ہوا۔ مرزا غلام مرتضیٰ سرکار انگریزی کا اچھا خیر خواہ اور وفادار رئیس تھا۔ ہم آپ کی خاندانی لحاظ سے اسی طرح پر عزت کریں گے جس طرح تمہارے باپ وفادار کی کی جاتی تھی۔ ہم کو کسی اچھے موقعہ کے نکلنے پر تمہارے خاندان کی بہتری اور پابجائی کا خیال رہے گا۔

المرقوم ٢٩؍ جون ١٨٧٦ء، الراقم سر رابرٹ ایجرٹن صاحب بہادر فنانشل کمشنر پنجاب

(کتاب البریہ ص ١٧٧ خزائن ج ١٣ ص ایضاً)

٣...... سر رابرٹ ایجرٹن فنانشل کمشنر پنجاب

بنام

مرزا غلام قادر ولد مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان

میرے پیارے دوست غلام قادر! میں نے آپ کا خط جو اس ماہ کی ٢ تاریخ کا لکھا ہوا ہے، پڑھا۔ مجھے آپ کے باپ مرزا غلام مرتضیٰ کی وفات کا از حد افسوس ہوا۔ وہ سرکار انگریزی کے اچھے خیر خواہ اور وفادار رئیس تھے۔ ہم آپ کی خاندانی لحاظ سے اسی طرح عزت کریں گے۔ جس طرح آپ کے وفادار والد کی کی جاتی تھی۔ کوئی مناسب موقع نکلنے پر ہمیں آپ کے خاندان کی بہتری اور پابجائی کا خیال رہے گا۔

المرقوم ٢٩؍ جون ١٨٧٦ء

(کتاب البریہ ص ١٧٧ خزائن ج ١٣ ص ایضاً)

ان خطوط کے تذکرہ کے بعد مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور جب تمو کی رہگزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک ہوئے۔“

(کتاب البریہ ص ١٥ خزائن ج ١٣ ص ١٥)

اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیائے اسلام پر جب کبھی کوئی افتاد پڑی۔ اس اسلام دشمن جماعت نے گھی کے چراغ جلائے اور یہ بات تو جسٹس منیر نے بھی جنہیں ان کی جانبدارانہ رپورٹ کے باعث عام طور پر کچھ زیادہ اچھا نہیں سمجھا جاتا، ریکارڈ کی ہے کہ: ”جب پہلی جنگ عظیم میں جس میں ترکوں کو شکست ہوگئی تھی بغداد پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا تو قادیان میں اس فتح پر جشن مسرت منایا گیا۔“

(تحقیقاتی رپورٹ ص ٢٠٨، ٢٠٩، مرتبہ جسٹس محمد منیر)

١٣

صفحہ ٣٤٨

یہ بات بھی جسٹس منیر ہی نے لکھی ہے کہ: ”بانی قادیانیت نے اسلامی ممالک کا انگریزی حکومت کے ساتھ توہین آمیز انداز میں مقابلہ و موازنہ کیا۔“

(تحقیقاتی رپورٹ ص ٢٠٨، مرتبہ جسٹس منیر)

ملاحظہ فرمایا آپ نے؟..... بانی قادیانیت نے ممانعت جہاد اور اطاعت انگریزی پر مبنی ہزار ہا کتابیں لکھیں۔ انہیں بلادِ اسلام میں پھیلایا۔ انگریزی اقتدار کے بقاء و استحکام کی دعائیں کیں۔ اسے مسلمان حکومتوں سے افضل ٹھہرایا۔ دنیائے اسلام کی شکست و ریخت پر مسرت کے شادیانے بجائے اور......... اور وہ سب کچھ کیا جو اسلام اور مسلمانوں کی ایک غدار اور مغربی استعمار کی ایجنٹ و آلہ کار جماعت ہی کر سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز جہاں تہاں گیا اس نے اس تحریک کی آبیاری کی۔ افریقہ دنیا کا وہ واحد براعظم ہے جس کا پنڈ برٹش ایمپائر نے سب سے بعد میں چھوڑا اور جہاں ابھی تک کچھ علاقے برطانوی اثرات کے تابع ہیں اور قارئین کو یہ جان کر یقیناً حیرت ہو گی کہ یہیں قادیانی تحریک کے پاؤں سب سے زیادہ مضبوط ہیں۔ حتیٰ کہ ایک افریقی ملک کا سربراہ تک قادیانی گورکھ دھندے میں الجھا ہوا ہے۔ حال ہی میں قادیانیوں نے ”افریقہ سپیکس“ (Africa Speaks) کے نام سے اپنی جماعت کے موجودہ سربراہ مرزا ناصر احمد (پوتا مرزا غلام احمد قادیانی) کے دورہ افریقہ کی جو روداد چھاپی ہے وہ افریقہ میں قادیانی اثر و نفوذ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس میں یہ عبارت قابل غور ہے۔

One of the main points of Ghulam Ahmad's has been its rejection of "Holy Wars" and forcible conversion. (Africa speaks p:93, Published by Majlis Nusrat jahan Tahrik-e-Jadid Rabwah)

کہ غلام احمد کے بڑے معتقدات میں سے ایک مقدس جنگ، (جہاد) اور بالجبر عقیدہ منوانے کا انکار ہے۔ اس عبارت پر اس کے سوا کیا تبصرہ کیا جائے کہ اگر افریقہ ابھی تک مکمل طور پر فرنگی شاطروں کے پنجہ استبداد سے نجات حاصل نہیں کر سکا تو اس کی ایک وجہ اسلام اور دنیائے اسلام کی یہ غدار جماعت ہے۔ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھ کا کانٹا ہیں۔ مگر قادیانی مشن ہے کہ وہاں قائم ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے مابین اب تک تین جنگیں ہوئیں۔ قادیان عین پاک بھارت سرحد پر واقع ہے۔ ہندوستان نے ان ٣١٣ قادیانی درویشوں کو جو قادیان میں رہائش پذیر ہیں اور جن کا ربوہ سے باقاعدہ رابطہ

١٤

صفحہ ٣٤٩

ہے ہمیشہ قادیان ہی میں رہنے دیا۔ اس خصوصی رعایت کا سبب؟ حجاز میں قادیانیوں کے لئے جگہ نہیں۔ مصر ان کا وجود گوارا نہیں کرتا۔ شام میں ان کے خلاف ایکشن ہوا۔ ترکی انہیں ناپسند کرتا ہے۔ افغانستان انہیں سنگسار کرچکا۔ خود پاکستان کا مسلمان ان کے خلاف ہے اور سخت خلاف، ١٩٥٣ء میں قادیانیوں کے خلاف تمام ملک میں زبردست ایجی ٹیشن ہوا اور سینکڑوں مسلمانوں نے مطالبات منوانے کے لئے اپنی جانیں قربان کیں۔ حال ہی میں مکہ معظمہ میں رابطہ اسلامی کے زیر اہتمام دنیا بھر کی ایک سو سے زائد اسلامی تنظیموں نے قادیانیوں کے خلاف اپنے شدید ردعمل اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔ آخر اس تمام تر نفرت کا سبب؟ ظاہر ہے یہ قادیانیوں کا سازشی کردار ہی ہے۔ جو انہیں دنیائے اسلام میں اس نفرت وحقارت کا نشانہ بنواتا ہے۔ اگر وہ مغربی استعمار کی ایجنٹی اور اسلام وعالم اسلام کی شکست وریخت سے باز آجائیں تو پھر ان کے خلاف احتجاج کیوں ہو؟ اور یہی قادیانیت کا تاریخی وسیاسی پس منظر ہے۔

شاید میں اس قدر طویل پس منظر جسے مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریروں نے اور زیادہ بوجھل کر دیا ہے نہ لکھتا مگر گزارش احوال واقعی اور The Arrival of British Empier in India. کی روایت کی تنقیح کی خاطر یہ ناگزیر سا معلوم ہوا۔ بہر حال میں نے قارئین کے سامنے دستاویزی شواہد کے ساتھ حقائق وواقعات کا آئینہ رکھ دیا ہے۔ قادیانیت کے حقیقی خدوخال کا تعین وہ خود کر سکتے ہیں۔

قادیانیت اور اقبال

قادیانی جماعت نے برصغیر پاک و ہند کے اندر اور باہر جس برطانوی ضرورت کو پورا کیا اور دنیائے اسلام کو جس قدر نقصان پہنچایا اس کا حال پیچھے گزر چکا ہے۔ ظاہر ہے مسلمان اپنی حیات اجتماعی پر کلہاڑا کیسے چلنے دیتے؟ ختم نبوت ایسے اصول اتحاد کے ساتھ گلی ڈنڈا کھیلنے کی اجازت دینے کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں نے اپنی موت کے پروانے پر دستخط کر دیئے۔ یہ ناممکن تھا۔ چنانچہ انگریز کی ساختہ وپرداختہ اس جماعت کا تعاقب ہوا اور خوب ہوا۔

قادیانیت کے خط وخال واضح کرنے اور اس کے مضمرات کی نشاندہی میں اگرچہ علامہ انور شاہ کشمیریؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ، سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا ظفر علی خاںؒ، چوہدری افضل حقؒ، سید ابوالحسن علی ندویؒ، الیاس برنیؒ اور سر ظفر علی وغیرہ مشاہیر واکابر نے بڑی قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔ مگر قادیانیت کو نقد ونظر کے ترازو میں جس طرح شاعر

١٥

صفحہ ٣٥١

مشرق حکیم امت اور مصور پاکستان اقبالؒ نے تو واقعہ یہ ہے کہ یہ انہی کا حق تھا۔ یہ الگ بات کہ آج ان کی تصویر...... پاکستان...... میں یہ رنگ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔

نظریہ خاتمیت کو جدید رنگ میں پیش کرنے کا شرف سب سے پہلے حضرت علامہ ہی کو حاصل ہوا۔ انہوں نے قادیانیت کو نہ صرف ہندوستان میں بے نقاب کیا۔ بلکہ یورپ میں بھی اس کے خلاف آواز سب سے پہلے حضرت علامہ ہی نے اٹھائی۔

ختم نبوت کا مسئلہ مسلمانوں کے دل و دماغ کا مسئلہ ہے اور اس کے لئے مسلمان شروع ہی سے بڑا حساس رہا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کی نسبت امام موفق بن احمد المکیؒ لکھتے ہیں کہ ان کے زمانہ میں کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنے سچا ہونے کی نشانیاں دکھلانے کی خاطر مہلت چاہی، امام صاحبؒ نے سنا تو فرمایا۔ جس کسی نے اس متنبّی سے کوئی علامت طلب کی کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ اس طرح نبی کریم ﷺ (فداہ ابی و امی) کے فرمان ”لا نبی بعدی“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) کی تکذیب لازم آتی ہے۔

(مناقب موفق ج ١ ص ١٦١، مطبوعہ حیدرآباد دکن)

امام المورخین علامہ ابن خلدونؒ کے مطابق مسلمانوں میں سب سے پہلا اجماع اسی نظریہ کے تحفظ پر ہوا۔

(خاتم النبیین ص ٣٣، علامہ انور شاہ کشمیریؒ)

اور حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ خلافت میں سینکڑوں صحابہؓ و تابعینؒ نے جن کی اکثریت حفاظ قرآن پر مشتمل تھی اپنے مقدس خون کا نذرانہ دے کر اس پردہ ناموس دین مصطفیٰ اور سر وحدت ملت کی محافظت کا فرض ادا کیا۔

(تاریخ طبری، البدایہ والنہایہ اور تاریخ ابن خلدون)

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

حضرت علامہ بلاشبہ اس دور کے ایک عظیم مسلمان مفکر و فلسفی تھے۔ تاریخ اسلام اور قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ پر ان کی گہری نظر تھی اور وہ خوب جانتے تھے کہ قوموں کا شیرازہ کیسے مجتمع ہوتا اور کیونکر بکھر جاتا ہے۔ ان کے نزدیک اسلامی وحدت دو چیزوں سے عبارت تھی:

الف....... توحید۔ ب....... ختم نبوت۔

اور بقول ان کے: ”دراصل عقیدہ ختم نبوت ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس امر کے لئے فیصلہ کن کہ (فلاں) فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں؟“

(حرف اقبال ص ١٣٦)

چنانچہ جب ”فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں“ کا نغمہ الاپنے اور ”لا نبی بعدی“ کو حفظ سر وحدت ملت قرار دینے والے نے قادیانیت کا بغور مطالعہ و تجزیہ کیا تو بے

١٦

ساختہ پکار اٹھا۔

n my mind that the ahmadis n and to India. (Thoughts and y Syed Abdul Wahid.)

کہ ”میں اپنے ذہن میں اس امر کے ہندوستان (تب ہندوستان ایک تھا) دونوں کے غد ”حکومت قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کر اور مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا ہے۔“

اور کہا: ”ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پ جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسل مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔“

اگر اقتدار حضرت علامہؒ کے ہاتھ میں میں یوں جکڑتے کہ وہ بالکل بے دست و پا ہو کر رہ بس چلا، انہوں نے جکڑا بھی۔ انجمن حمایت اسلا جب تک بھرے اجلاس سے نکلوا نہ دیا کرسی صدارت

اور جب بقول عاشق حسین بٹالوی اح نے اپنے حلف نامے میں یہ شق رکھی کہ: ”میں اقرا میں نامزد ہو کر کامیاب ہو گیا تو اسلام اور ہندو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت قرار دیئے جانے کے

تو حضرت علامہؒ نے بحیثیت صدر پ سیاسی سطح پر ایک اور ضرب کاری لگائی۔ (اگر چہ تاریخی حقیقت کو مسخ کر کے قادیانیت کو سپورٹ کر

٧

صفحہ ٣٥١

ساختہ پکار اٹھا۔

I have no doubt in my mind that the ahmadis are traitors both to Islam and to India. (Thoughts and Reflections of Iqbal P:306, By Syed Abdul Wahid.)

کہ ”میں اپنے ذہن میں اس امر کے متعلق کوئی شبہ نہیں پاتا کہ قادیانی اسلام اور ہندوستان (تب ہندوستان ایک تھا) دونوں کے غدار ہیں۔“ اور بانگ دہل یہ مطالبہ کر دیا کہ: ”حکومت قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کرے یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا اور مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا جیسی وہ باقی مذاہب کے معاملہ میں اختیار کرتا ہے۔“

(حرف اقبال ص ١٢٩)

اور کہا: ”ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔“

(حرف اقبال ص ١٣٨)

اگر اقتدار حضرت علامہ کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ قادیانیت کو آئینی احتساب کے شکنجے میں یوں جکڑتے کہ وہ بالکل بے دست و پا ہو کر رہ جاتی اور یہ تو امر واقعہ ہے کہ جہاں تہاں ان کا بس چلا، انہوں نے جکڑا بھی۔ انجمن حمایت اسلام کا ریکارڈ گواہ ہے کہ اس کے مرزائی ارکان کو جب تک بھرے اجلاس سے نکلوا نہ دیا کرسی صدارت پر تشریف فرما نہ ہوئے۔

(چٹان لاہور ص٢، مورخہ ٢٤؍جولائی ١٩٦٧ء)

اور جب بقول عاشق حسین بٹالوی احرار کے اصرار پر مسلم لیگ کے پارلیمینٹری بورڈ نے اپنے حلف نامے میں یہ شق رکھی کہ: ”میں اقرار صالح کرتا ہوں ۔ اگر میں آئندہ پنجاب اسمبلی میں نامزد ہو کر کامیاب ہو گیا تو اسلام اور ہندوستان کے مفاد کی خاطر مرزائیوں کو دوسرے مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت قرار دیئے جانے کے لئے انتہائی کوشش کروں گا۔“

(اقبال کے آخری دو سال ص ٣٤١، عاشق حسین بٹالوی)

تو حضرت علامہؒ نے بحیثیت صدر پنجاب مسلم لیگ اس کی توثیق فرما کر قادیانیت کو سیاسی سطح پر ایک اور ضرب کاری لگائی۔ (اگرچہ ”اقبال کے آخری دو سال“ کے مؤلف نے اس تاریخی حقیقت کو مسخ کر کے قادیانیت کو سپورٹ کرنے کی بے حد کوشش کی ہے۔ مگر بات بنی نہیں۔

١٧

صفحہ ٣٥٣

عاشق حسین بٹالوی ہوں یا عبدالمجید سالک، حضرت م ش ہوں یا کوئی اور کسی میں اتنا بوتا نہیں کہ قادیانیوں کو مسلمانوں میں شامل کر سکے۔ مرتب) سچ تو یہ ہے کہ حضرت علامہ قادیانیت سے اس درجہ نفرت کرنے لگ گئے تھے کہ ان کے نزدیک اس سے بڑا معاشرتی ناسور کوئی نہ تھا۔ یہ ١٩٣٠ء یا اس سے کچھ پہلے کی بات ہے”۔ حضرت علامہ کے بڑے بھائی (شیخ عطاء محمد صاحب) نے اپنی ایک لڑکی کی شادی کے سلسلہ میں ان سے ایک رشتہ کا ذکر کیا اور ان کی رائے دریافت کی۔ لڑکا اور اس کے والدین ختم نبوت کے منکرین میں سے تھے۔ آپ نے جواب دیا: ”بھائی صاحب! اگر میری اپنی بیٹی ہوتی تو میں ہرگز ہرگز یہاں شادی نہ کرتا۔“

یہ تھی حضرت علامہ کی دینی حمیت، ملی غیرت اور سیاسی بصیرت۔ حیرت ہے اس کے باوجود اقبال کے نام پر روٹیاں توڑنے والے بزعم خود قادیانیت کے بارے میں مداہنت کرتے، سیاسی جماعتیں پہلو بچاتیں اور لیڈر کنی کتراتے ہیں۔ سچ کہا تھا اقبال نے: ”علماء میں مداہنت آگئی ہے۔ یہ گروہ حق کہنے سے ڈرتا ہے۔ صوفیاء اسلام سے بے پروا اور حکام کے تصرف میں ہیں۔ اخبار نویس اور آج کل کے تعلیم یافتہ لیڈر خود غرض ہیں اور ذاتی منفعت وعزت کے سوا کوئی مقصد ان کی زندگی کا نہیں ۔“

(چوہدری نیاز علی کے نام خط مورخہ ٢٠ جولائی ١٩٣٧ء، مندرجہ مکاتیب اقبال ج ١ ص ٢٥٠، شیخ عطاء اللہ)

قادیانی اکثر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان کا جنونی مسلمان مذہب کے پردے میں ان کے مال و جان اور آبرو کے درپے ہے۔ لیکن یہ درست نہیں، قادیانیوں کا واویلا صرف اس لئے ہے کہ وہ احتساب سے بچے رہیں۔ مگر حضرت علامہ کے افکار و خیالات کی روشنی میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ کوئی مسلمان بھی قادیانیوں کا بحیثیت انسان مخالف نہیں۔ نہ ان کی عزت و آبرو کا دشمن ہے۔ البتہ ان کی مضرت سے بچنا اپنا قدرتی حق خیال کرتا ہے۔ اگر جمہور مسلمانوں کے اس حق کا احترام کرتے ہوئے قادیانیوں کو جداگانہ اقلیت قرار دے دیا جائے تو یہ ایک ایسا عمل ہوگا جو کئی ایک مفاسد کی روک تھام کرے گا۔ قادیانیوں کو حضرت علامہ کے اٹھائے ہوئے اس مطالبہ پر غور کرنا چاہئے۔ یہ ان کے فائدے کی بات ہے اور پھر جب ان کے پیغمبر اور اس کے جانشینوں کے نزدیک بھی وہ جمہور مسلمانوں سے ایک الگ امت ہی ہیں۔

تو پھر آئینی طور پر اس علیحدگی میں انہیں کیا قباحت نظر آتی ہے؟ مسلمانوں کا یہ مطالبہ ہر لحاظ سے نہایت معقول ہے کہ جب قادیانی مذہب اور معاشرتی طور پر مسلمانوں سے الگ ہیں تو

١٨

پھر سیاسی حیثیت میں بھی انہیں مسلمانوں سے علیحدہ ہو پھر حکومت کو اپنی ذمہ داری اور معاملے کی نزاکت کا احسا

اب میں حضرت علامہ کے اٹھائے ہوئے بھ توجہ مبذول کرانا چاہوں گا۔ اس ضمن میں بعض انتہائی تذکرہ ناگزیر ہے۔ اگرچہ مجھے پتہ ہے کہ اس سے بعض ہوں گے۔ مگر کیا کروں ان حقائق کو نظر انداز کرنا میرے ودیعت ہوئی اور جو میں قوم کو لوٹا رہا ہوں۔ چل میرے خا

١....... قادیانیت، یہودیت کی طرف رجوع

حضرت علامہ نے آج سے اڑتیس برس پ سب سے پہلے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ: ”اس کا کے لئے لاتعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں۔ اس کا نبا علیہ السلام کے تسلسل کا عقیدہ وغیرہ یہ تمام چیزیں اپنے گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔“

مگر تب (١٩٣٦ء میں) یہ محض ایک نظری ممکن ہے۔ مگر یہاں ایک بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی عمل کے میدان تک قادیانیت کا یہودیت کے مماثل کے روابط وتعلقات کا موجود ہونا۔

برطانوی وزیر خارجہ مسٹر بالفور کے ١٩١٧ء بڑی ہوشیاری کے ساتھ فلسطین کی سرزمین پر قابلِ فخ عربوں کی یہ سرزمین تھی وہ سب چن چن کر باہر نکال عطاء ہوا کہ وہ بلاخوف و خطر اور بصد تسلی و اطمینان وہا چنانچہ خود مرزا بشیر الدین محمود (جنہیں قادیانی اپنے دیتے ہیں) نہایت فخریہ انداز میں اس کا اعتراف کر بے شک ہمیں اس قسم کی اہمیت حاصل نہیں۔ جیسی ا بھی ایک طرح کی اہمیت ہمیں حاصل ہو گئی ہے اور رہے ہیں تو وہ صرف احمدی ہیں۔“ (ر

١٩

صفحہ ٣٥٣

پھر سیاسی حیثیت میں بھی انہیں مسلمانوں سے علیحدہ ہو جانا چاہئے اور اگر وہ خود ایسا نہیں چاہتے تو پھر حکومت کو اپنی ذمہ داری اور معاملے کی نزاکت کا احساس کرنا چاہئے۔

اب میں حضرت علامہ کے اٹھائے ہوئے بعض نہایت اہم نکات کی جانب قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہوں گا۔ اس ضمن میں بعض انتہائی تلخ حقائق اور کچھ افسوسناک واقعات کا تذکرہ ناگزیر ہے۔ اگرچہ مجھے پتہ ہے کہ اس سے بعض جبینیں شکن آلود اور کچھ چہرے غضبناک ہوں گے۔ مگر کیا کروں ان حقائق کو نظر انداز کرنا میرے بس میں نہیں۔ یہ قوم کی امانت تھی جو مجھے ودیعت ہوئی اور جو میں قوم کو لوٹا رہا ہوں۔ چل میرے خامے بسم اللہ!

١...... قادیانیت، یہودیت کی طرف رجوع ہے؟

حضرت علامہ نے آج سے اڑتیس برس پیشتر قادیانی تحریک کا تجزیہ کرتے ہوئے سب سے پہلے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ: ”اس کا حاسد خدا کا تصور کہ جس کے پاس دشمنوں کے لئے لاتعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں۔ اس کا نبی کے متعلق نجومی کا تخیل اور اس کا روح مسیح علیہ السلام کے تسلسل کا عقیدہ وغیرہ یہ تمام چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں۔ گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔“

(حرف اقبال ص ١٢٣)

مگر تب (١٩٣٦ء میں) یہ محض ایک نظری بحث تھی۔ جس پر مزید رائے زنی اب بھی ممکن ہے۔ مگر یہاں ایک بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی اور وہ ہے فکر و خیال کے دائرے سے حرکت و عمل کے میدان تک قادیانیت کا یہودیت کے مماثل اور پھر ان دونوں کے مابین ایک خاص قسم کے روابط و تعلقات کا موجود ہونا۔

برطانوی وزیر خارجہ مسٹر بالفور کے ١٩١٧ء کے اعلان کے مطابق جب ١٩٤٨ء میں بڑی ہوشیاری کے ساتھ فلسطین کی سرزمین پر قابلِ نفرین اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا تو جن عربوں کی یہ سرزمین تھی وہ سب چن چن کر باہر نکال دیئے گئے۔ یہ شرف صرف قادیانیوں ہی کو عطاء ہوا کہ وہ بلا خوف و خطر اور بصد تسلی و اطمینان وہاں رہیں۔ ان سے کوئی تعرض نہ کیا جائے گا۔ چنانچہ خود مرزا بشیر الدین محمود (جنہیں قادیانی اپنے عقیدے کے مطابق، مصلح موعود کا خطاب دیتے ہیں) نہایت فخریہ انداز میں اس کا اعتراف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”عربی ممالک میں بے شک ہمیں اس قسم کی اہمیت حاصل نہیں۔ جیسی ان (یورپی اور افریقی) ممالک میں ہے۔ پھر بھی ایک طرح کی اہمیت ہمیں حاصل ہو گئی ہے اور وہ یہ کہ فلسطین کے عین مرکز میں اگر مسلمان رہے ہیں تو وہ صرف احمدی ہیں۔“

(روزنامہ الفضل لاہور ص ٥، مورخہ ٣٠ اگست ١٩٥٠ء)

١٩

صفحہ ٣٥٥

اور تب سے اب تک قادیانیوں کے اسرائیـ صیہونیت کے علمبردار ہیں۔ نہایت گہرے دوستانہ تعلقات زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے وہ اسے سازش اور جارحیت کی پیداوار قرار دیتے ہیں۔ پاکسـ سب سے بڑا حمایتی ہے اور اس نے اس عرب دوستی کی بھار جائے کہ پاکستان کا سب سے بڑا دشمن اسرائیل ہے تو بے گوریان کی وہ تقریر جو اس نے اگست ١٩٦٧ء میں ساربو ثبوت ہے۔

بن گوریان نے کہا: ”پاکستان دراصل ہمارا صیہونی تحریک کو کسی طرح بھی پاکستان کے بارے میں غـ پاکستان کے خطرے سے غفلت کرنی چاہئے۔ پاکستانی یہودیوں سے نفرت اور عربوں سے یہ محبت خود عربوں سے کے خلاف جلد سے جلد قدم اٹھانا چاہئے۔ پاکستان میں آگے چل کر سخت مصیبت کا باعث بن سکتا ہے۔ لہٰذا ہندوسـ ہمیں اس تاریخی عناد و نفرت سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ بـ ہے۔ یہ تاریخی عناد و نفرت ہمارا سرمایہ ہے۔ ہمیں پور ذریعے سے بڑی طاقتوں میں اپنے نفوذ واثر سے کام لـ پاکستان پر بھر پور ضرب لگانے کا انتظام کرنا چاہئے۔ یـ منصوبوں کے تحت انجام دینا چاہئے۔“

(یروشلم پوسٹ ، ٩ اگست ١٩٦٧ء بحوالہ روزنامہ نوائے وقت لاہـ

اس پس منظر میں یہ بات اور زیادہ اہم اور ایک ایسی جماعت کو آخر کیوں اپنے سینے سے لگا رکھا ہے چیلنج پاکستان میں واقع ہے اور جس کا سربراہ اور دیگر منصـ کیا کرتے ہیں؟ قادیانیوں کا مفروضہ یہ ہے کہ وہ تبلیغ اسـ کس کو تبلیغ کرتے ہیں؟ کیا ان یہودیوں کو جو اپنی تمام تـ مملکت کا استحکام اور اس کی توسیع چاہتے ہیں؟ ظاہر ہے

٢١

صفحہ ٣٥٥

اور تب سے اب تک قادیانیوں کے اسرائیلی یہودیوں کے ساتھ جو بین الاقوامی صہیونیت کے علمبردار ہیں۔ نہایت گہرے دوستانہ تعلقات چلے آتے ہیں اور اس میں سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے نزدیک اسرائیل کا وجود ہی غلط ہے۔ وہ اسے سازش اور جارحیت کی پیداوار قرار دیتے ہیں۔ پاکستان، اسرائیل کے مقابلہ میں عربوں کا سب سے بڑا حمایتی ہے اور اس نے اس عرب دوستی کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اسی طرح اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کا سب سے بڑا دشمن اسرائیل ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ اسرائیل کے بانی ڈیوڈ بن گوریان کی وہ تقریر جو اس نے اگست ١٩٦٧ء میں ساربون یونیورسٹی پیرس میں کی وہ اس کا بین ثبوت ہے۔

بن گوریان نے کہا: ”پاکستان دراصل ہمارا آئیڈیالوجیکل چیلنج ہے۔ بین الاقوامی صہیونی تحریک کو کسی طرح بھی پاکستان کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہئے اور نہ ہی پاکستان کے خطرے سے غفلت کرنی چاہئے۔ پاکستانی عوام عربوں سے محبت کرتے ہیں اور یہودیوں سے نفرت اور عربوں سے یہ محبت خود عربوں سے زیادہ خطرناک ہے۔ لہٰذا ہمیں پاکستان کے خلاف جلد سے جلد قدم اٹھانا چاہئے۔ پاکستان میں فکری سرمایہ اور جنگی قوت ہمارے لئے آگے چل کر سخت مصیبت کا باعث بن سکتا ہے۔ لہٰذا ہندوستان سے گہری دوستی ضروری ہے۔ بلکہ ہمیں اس تاریخی عناد و نفرت سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ جو ہندوستان، پاکستان کے خلاف رکھتا ہے۔ یہ تاریخی عناد و نفرت ہمارا سرمایہ ہے۔ ہمیں پوری قوت سے بین الاقوامی دائروں کے ذریعے سے بڑی طاقتوں میں اپنے نفوذ و اثر سے کام لے کر ہندوستان کی مدد کرنی چاہئے اور پاکستان پر بھرپور ضرب لگانے کا انتظام کرنا چاہئے۔ یہ کام نہایت راز داری کے ساتھ اور خفیہ منصوبوں کے تحت انجام دینا چاہئے۔“

(یروشلم پوسٹ، ٩ اگست ١٩٦٧ء بحوالہ روزنامہ نوائے وقت لاہور ص ١، مورخہ ٢٢ مئی ١٩٧٢ء، ٣ ستمبر ١٩٧٣ء)

اس پس منظر میں یہ بات اور زیادہ اہم اور تعجب خیز ہو جاتی ہے کہ اسی اسرائیل نے ایک ایسی جماعت کو آخر کیوں اپنے سینے سے لگا رکھا ہے جس کا ہیڈ کوارٹر ہی اس کے آئیڈیالوجیکل چیلنج پاکستان میں واقع ہے اور جس کا سربراہ اور دیگر منصب دار سب پاکستانی ہیں۔ آخر قادیانی وہاں کیا کرتے ہیں؟ قادیانیوں کا مفروضہ یہ ہے کہ وہ تبلیغ اسلام کے لئے وہاں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کس کو تبلیغ کرتے ہیں؟ کیا ان یہودیوں کو جو اپنی تمام عصبیتوں کے تحت وہاں اکٹھے ہیں اور اپنی مملکت کا استحکام اور اس کی توسیع چاہتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں تو پھر کیا ان عربوں کو مسلمان

٢١

صفحہ ٣٥٦

بنانے کے لئے یہ مشن قائم ہے جو پہلے ہی رسولِ عربیؐ کے حلقہ بگوش ہیں۔ عرب احمد (ﷺ) کو چھوڑ کر غلام احمد کے متبع بن جائیں گے؟ ناممکن، تو پھر معاملہ کیا ہے؟

ایک مشہور یہودی فوجی ماہر پروفیسر ہرٹز کا کہنا ہے: ”پاکستانی فوج اپنے رسول محمد (ﷺ) سے غیر معمولی عشق رکھتی ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس نے پاکستان اور عربوں کے باہمی رشتے مستحکم کر رکھے ہیں۔ یہ صورتحال عالمی یہودیت کے لئے شدید خطرہ رکھتی ہے اور اسرائیل کی توسیع میں حائل ہورہی ہے۔ لہٰذا یہودیوں کو چاہئے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے پاکستانیوں کے اندر سے حب رسول کا خاتمہ کریں۔“

(روزنامہ نوائے وقت ص ٦، مورخہ ٢٢ مئی ١٩٧١ء)

اگر پروفیسر ہرٹز کی مذکورہ رائے، ڈیوڈ بن گوریان کی تقریر ”International Zionism“ کے طرز عمل اور قادیانیت کے مخصوص تاریخی و سیاسی پس منظر جس کی ایک گونہ تشریح پیچھے ہو چکی ہے کی روشنی میں دیکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی جماعت بین الاقوامی صہیونیوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی ہے اور وہ اس سے اپنے حسب منشاء کام لیتے ہیں۔ بالخصوص دنیائے اسلام کے قلعہ، پاکستان کے خلاف اس کا کردار بڑا گھناؤنا دکھائی دیتا ہے اور اس تاثر کو موجودہ وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے اس بیان سے اور زیادہ تقویت ملتی ہے جس میں انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ پاکستان کے عام انتخابات (١٩٧٠ء) میں اسرائیلی روپیہ پاکستان آیا اور انتخابی مہم میں اس کا استعمال ہوا۔ آخر وہ روپیہ کس کے توسط سے پاکستان آیا؟ پاکستان کے وجود کے خلاف تل ابیب میں تیار کی گئی سازش (جس کا انکشاف خود وزیر اعظم بھٹو نے الاہرام کے ایڈیٹر مسٹر حسنین ہیکل کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کیا)

(نوائے وقت لاہور ص ١، ١٧ اپریل ١٩٧٤ء)

کیسے پروان چڑھی؟ پاکستان میں بین الاقوامی صہیونیوں کی آلہ کاری کس نے کی؟ ان سب سوالات کا تمام تر جزئیات سمیت جواب تو جناب وزیر اعظم بھٹو ہی دے سکتے ہیں۔ لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ قادیانی جماعت کے ایک مشہور چہرے اور پاکستان کی بیورو کریسی کے ایک رکن رکین (یہ صاحب آج کل ورلڈ بینک کے ایک اونچے عہدہ پر فائز ہیں۔ یہ بینک اقوام متحدہ کی ایک ذیلی شاخ کی حیثیت رکھتا اور اس پر بین الاقوامی صہیونیوں کا اثر غالب ہے) پر یہ الزام تو کئی ایک ذمہ دار حلقوں نے بار ہا عائد کیا کہ اس نے ایوب خان کی گول میز کانفرنس کو ناکام بنانے اور مارشل لاء کا راستہ ہموار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا اور اس کے پس پردہ یہودی اثرات کارفرما تھے۔ پاکستان کے ایک مشہور اور قابل احترام سیاستدان مولوی فرید احمد نے اپنی کتاب (The Sun behind the Clouds) میں اس شخص کا نام لے کر لکھا ہے کہ ایوب

٢٢

صفحہ ٣٥٧

خان کی گول میز کانفرنس کے دوران یہودیوں نے اسے استعمال کیا۔

(ابر آلود سورج، از مولوی فرید احمد)

حیرت ہے کہ آج تک پاکستان کی کسی حکومت نے بھی ان تعلقات کا نوٹس نہیں لیا۔ بلکہ ستم تو یہ ہے کہ پاکستان کا لاکھوں روپے کا زرمبادلہ بیرونی ملکوں میں تبلیغ اسلام کے نام پر قادیانیوں کے سپرد کر دیا جاتا رہا۔ کیا تصور پاکستان کے خالق کی روح اس پر ماتم نہ کرتی ہوگی۔ جنہوں نے فرمایا تھا کہ: ”ہمیں دنیائے اسلام سے متعلق قادیانیوں کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔“

(حرف اقبال ص ١٣٧)

بہر حال میرا مقصد حضرت علامہؒ کے ایک اہم نکتے اور اس کی تشریح میں بعض ناقابل تردید حقائق کا بیان تھا جو میں نے کر دیا۔ اس سے آگے ذمہ داری میری نہیں، کسی اور کی ہے۔

٢...... قادیانی اور کمیونسٹ

یہ بڑی عجیب بات ہے کہ کمیونسٹ تحریک سے ہمدردی رکھنے اور مذہب کو افیون قرار دینے والے عناصر قادیانی تحریک کے بارے میں زبان نہیں کھولتے۔ بلکہ ان کی اکثر کوشش یہی ہوتی ہے کہ قادیانیوں کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھے۔ وہ ہر مقام پر قادیانیوں کی مخالفت سے گریز کرتے اور اس ایماندارانہ ، مسئلہ کو فرقہ وارانہ جھگڑا کہہ کر ٹال جاتے ہیں۔

پنڈت جواہر لال نہرو اپنے آپ کو سوشلسٹ کہتے اور مذہبًا دہریہ تھے۔ علامہ اقبالؒ نے قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے اس کے خلاف اپنے بیانات چھپوائے تو پنڈت جواہر لال اپنی تمام تر دہریت مآبی کے باوجود قادیانیت کی حمایت پر اتر آئے اور ماڈرن ریویو، کلکتہ میں مسلمان اور احمدزم کے عنوان سے یکے بعد دیگرے تین مضمون لکھ مارے۔ ایسا کیوں ہے؟ یا ایسا کیوں ہوا؟ میرے خیال میں حضرت علامہؒ نے اس ضمن میں جو کچھ لکھا وہی قادیانیوں اور کمیونسٹوں کے درمیان نقطۂ اتصال ہے۔

آپ فرماتے ہیں: ”(ہندوستان میں) مذہبی مدعیوں کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مذہب سے بالعموم بیزار ہونے لگتے اور بالآخر مذہب کے اہم عنصر کو اپنی زندگی سے علیحدہ کر دیتے ہیں۔“

(حرف اقبال ص ١٢٧)

ظاہر ہے اس طرح ایک طرف مذہب پر زد پڑتی اور دوسری طرف کمیونزم کے فلسفہ کے لئے راستہ ہموار ہوتا ہے اور یہی مقصود ہے۔ جس کے حصول کی خاطر ایک کمیونسٹ، ایک نام نہاد نبی ، کی نبوت کو گوارا کرتا یا اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور ویسے بھی ایک فلسفہ ربوبیت کا باغی،

٢٣

صفحہ ٣٥٩

دوسرا خود محمد ﷺ کا باغی۔ بھلا یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے اپنے دل میں نرم گوشہ کیوں نہ رکھیں؟

حضرت علامہؒ نے اس حقیقت کی نشاندہی آج سے اڑتیس برس پیشتر کی۔ تب سے اب تک بالخصوص تقسیم کے بعد، برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں پر جو بیتی اسے قادیانی، کمیونسٹ ارتباط کے پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ اڑتیس برس اس کی تفسیر نظر آئیں گے۔ اے کاش! ہمارے دانشور اور ہمارے فرمانروا اس پر غور کریں۔

٣...... قادیانی مسلمان کہلانے پر اصرار کیوں کرتے ہیں؟

حضرت علامہؒ نے اس بات پر بھی بڑی خوبی کے ساتھ بحث کی ہے کہ قادیانی مسلمانوں کا جزو بنے رہنے پر اصرار کیوں کرتے ہیں؟ ان کے خیال میں ایسا صرف اس لئے ہے: ”کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو، تا کہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔“

(حرف اقبال ص ١٣٧)

ان کے خیال میں اور اس خیال کی صداقت آج روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے: ”قادیانی حکومت سے کبھی علیحدگی کا مطالبہ کرنے میں پہل نہیں کریں گے۔“

(حرف اقبال ص ١٣٨)

اور اس کی وجہ وہی ”سیاسی فوائد“ جن کی طرف میں نے ابھی حضرت علامہؒ کے حوالے سے اشارہ کیا اور میرے خیال میں حضرت علامہؒ کی یہ عبارت ان سیاسی فوائد کی بڑی اچھی تشریح کرتی ہے۔ جس میں وہ کہتے ہیں: ”اس امر کو سمجھنے کے لئے کسی خاص ذہانت یا غور وفکر کی ضرورت نہیں ہے کہ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں رہنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟ علاوہ سرکاری ملازمتوں کے فوائد کے ان کی موجودہ آبادی جو ٥٦٠٠٠ (چھپن ہزار) ہے۔ انہیں کسی اسمبلی میں ایک نشست بھی نہیں دلا سکتی اور اس لئے انہیں سیاسی اقلیت کی حیثیت بھی نہیں مل سکتی۔ یہ واقعہ اس امر کا ثبوت ہے کہ قادیانیوں نے اپنی جداگانہ سیاسی حیثیت کا مطالبہ نہیں کیا۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مجالس قانون ساز میں ان کی نمائندگی نہیں ہو سکتی۔“

(حرف اقبال ص ١٣٧، ١٣٨)

مخلوط طریق انتخاب کے باوجود آج بھی پوزیشن قریب قریب وہی ہے جو آج سے اڑتیس برس پیشتر تھی۔ اگر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے تو ایک طرف ان کی وہ تمام کلیدی ملازمتیں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ جن کے سہارے قادیانیت کے بھیانک سائے تیزی کے ساتھ ارضِ پاک پر پھیل رہے ہیں۔ دوسری طرف اسمبلیوں میں انہیں بمشکل ایک آدھ نشست ملتی ہے۔ جب کہ مسلمانوں میں شمولیت کا ڈھونگ رچا کر پنجاب اسمبلی سے سینٹ تک وہ کئی ٢٤

نشستوں پر قبضہ جما چکے اور پاکستان کی سیاست میں ایک غیر محسوس انداز میں اپنا نقش جما رہے ہیں اور یقیناً یہی ط نت نئی تاویلیں گھڑتے اور مسلمانوں کا جزو بنے رہنے ک ثالث نے صدر اور وزیراعظم کے حلف نامے میں عقیدہ خ پر یونہی تو یہ بیان نہیں دیا تھا کہ: ”میں نے اس حلف نامہ ک اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ایک احمدی کے راستہ میں اس حلف ن

(آزاد کشمیر اسمبلی کی ایک قرارداد پر تبصرہ ص ٦، بقلم مرزا ناصر احمد

ظاہر ہے حضور رسالت مآب ﷺ کو آخری ن رسالت مآب ﷺ کی اتباع میں نبوت کا سلسلہ جاری و ظل و بروز کا جامہ اوڑھ کر برقرار رہتی اور سب سے بڑھ ک تعبیر ہو کر قادیانی معتقدات کے مطابق ربوہ دنیوی لحا بھلا یہ حلف نامہ ایک قادیانی کی راہ میں روک کیسے ہو؟

٤...... مذہب میں عدم مداخلت کی پالیسی

حضرت علامہؒ کے نزدیک ہندوستان میں ب میں مداخلت نہ کریں گے۔ ہندوستان میں بسنے والے ل ان سب کی بقاء ان کے اندرونی استحکام کے ساتھ وا حکومت مذہبی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پ قدم نہیں اٹھاتی تو ظاہر ہے اس جماعت کی سالمیت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اس پالیسی نے ہندوستا ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہے۔ جتنا حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں یہود بھی یہ دعویٰ تھا کہ وہ مذہب کے معاملہ میں غیر جانبدا اغراض کی خاطر ایک نئی جماعت کھڑی کر سکتا ہے ذرہ بھر پروا نہیں کرتی۔ بشرطیکہ یہ مدعی اسے اپنی اد مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروؤں نے کیا رہیں۔“

صفحہ ٣٥٩

نشستوں پر قبضہ جما چکے اور پاکستان کی سیاست میں ایک اہم عنصر کی حیثیت سے بڑے مخصوص اور غیر محسوس انداز میں اپنا نقش جما رہے ہیں اور یقیناً یہی وہ سیاسی اغراض ہیں جن کی خاطر قادیانی نت نئی تاویلیں گھڑتے اور مسلمانوں کا جزو بنے رہنے پر اصرار کرتے ہیں۔ مرزا ناصر احمد خلیفہ ثالث نے صدر اور وزیر اعظم کے حلف نامے میں عقیدہ ختم نبوت کا اقرار ضروری قرار دیئے جانے پر یونہی تو یہ بیان نہیں دیا تھا کہ: ”میں نے اس حلف نامہ کے الفاظ پر بڑا غور کیا ہے اور میں بالآخر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ایک احمدی کے راستہ میں اس حلف کے اٹھانے میں کوئی روک نہیں۔“

(آزاد کشمیر اسمبلی کی ایک قرارداد پر تبصرہ ص ٦، مبصر مرزا ناصر احمد، خلیفہ ثالث، شائع کردہ نظارت اشاعت لٹریچر)

ظاہر ہے حضور رسالت مآب ﷺ کو آخری نبی مان کر بھی قادیانیوں کے نزدیک حضور رسالت مآب ﷺ کی اتباع میں نبوت کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت ظل و بروز کا جامہ اوڑھ کر برقرار رہتی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہوس اقتدار کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہو کر قادیانی معتقدات کے مطابق ربوہ دنیوی لحاظ سے بھی ایک اہم مقام بن جاتا ہے۔ پھر بھلا یہ حلف نامہ ایک قادیانی کی راہ میں روک کیسے ہو؟ سچ فرمایا آپ نے ، مرزا قادیانی سچ فرمایا۔

٤.......مذہب میں عدم مداخلت کی پالیسی اور ہم

حضرت علامہ کے نزدیک ہندوستان میں انگریزوں کی یہ پالیسی کہ وہ کسی کے مذہب میں مداخلت نہ کریں ہندوستان میں بسنے والے تمام مذاہب کے لئے ضرر رساں تھی۔ کیونکہ ان سب کی بقاء ان کے اندرونی استحکام کے ساتھ وابستہ تھی اور اگر اندرونی استحکام کو ٹھیس لگتی اور حکومت مذہبی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اس کے تحفظ کی خاطر کوئی قدم نہیں اٹھاتی تو ظاہر ہے اس جماعت کی سالمیت کو ضرور ضرر پہنچے گا۔ چنانچہ وہ اس امر پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اس پالیسی نے ہندوستان ایسے ملک پر بدقسمتی سے بہت برا اثر ڈالا ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ مسلم جماعت کا استحکام اس سے کہیں کم ہے۔ جتنا حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں یہودی جماعت کا رومن کے ماتحت تھا۔ (رومن کا بھی یہ دعویٰ تھا کہ وہ مذہب کے معاملہ میں غیر جانبدار ہے) ہندوستان میں کوئی مذہبی شعبدہ باز اپنی اغراض کی خاطر ایک نئی جماعت کھڑی کر سکتا ہے اور یہ لبرل حکومت اصل جماعت کی وحدت کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتی۔ بشرطیکہ یہ مدعی اسے اپنی اطاعت اور وفاداری کا یقین دلا دے (جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروؤں نے کیا) اور اس کے پیرو حکومت کے محصول ادا کرتے رہیں۔“

(حرفِ اقبال ص ١٢٥)

٢٥

صفحہ ٣٦٠

آج بھی اگر کسی ملک کی حکومت اس نام نہاد، عدم مداخلت کی پالیسی پر کار بند رہتی ہے تو ظاہر ہے اس کا یہ عمل اس ملک میں بسنے والے مذاہب کے لئے مہلک ہی ثابت ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ انگریز اگر اس پالیسی کو اختیار نہ کرتے تو کون سی پالیسی اختیار کرتے؟ ظاہر ہے اگر وہ اس کے برعکس مداخلت کی پالیسی اپناتے تو خود ان کے اقتدار کو دھچکا لگتا۔ لہٰذا انہوں نے وہ پالیسی اپنائی جس سے اس ملک میں بسنے والے مذاہب واقوام کی وحدت پر زد پڑتی۔ مگر اس کا اقتدار استحکام پکڑتا تھا اور یہ بھی اس نے اس حد تک ہی اپنائی جس حد تک کہ اس کو فائدہ پہنچاسکتی تھی۔

دراصل انگریز کی پالیسیاں کسی طے شدہ اخلاقی سانچوں میں ڈھلی ہوئی نہ ہوتی تھیں۔ وہ تو اس کے مفاد کے تابع تھیں۔ گویا ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ کسی مذہب میں مداخلت نہ کرنے کا نعرہ لگانے والے انگریز نے جب دیکھا کہ ہندوستان کی مختلف قومیں آپس میں ایکا کر کے اس کے اقتدار کا تختہ الٹ دینا چاہتی ہیں تو اس نے مذہب میں مداخلت کرنے سے بھی گریز نہ کیا اور یہ حقیقت تو الم نشرح ہے کہ سکھ ١٩١٩ء تک ہندوؤں ہی کا ایک حصہ شمار ہوتے تھے۔ لاہور ہائی کورٹ نے بھی فیصلہ کیا تھا کہ سکھ، ہندو ہیں۔ سکھوں کی طرف سے علیحدگی کا کوئی مطالبہ بھی نہیں کیا گیا تھا۔ مگر انگریز نے اپنی مشہور زمانہ ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ کی پالیسی کے ماتحت ١٩١٩ء میں سکھوں کو ہندوؤں سے جداگانہ جماعت قرار دیا۔

(حرف اقبال ص ١٣٥، ١٣٦ ملخص)

- یہ دوسری بات کہ اس نے یہی فیصلہ مسلم قادیانی نزاع میں نہ کیا اور یہ بھی (Divide and Rule) کے عین مطابق تھا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اقبال کے پاکستان میں کون سی پالیسی اختیار کی جانی چاہئے؟ ہمارے ہاں یوں تو مذہبی معاملات میں اکثر ٹانگ اڑائی جاتی ہے۔ مگر جب بعض اندرونی و بیرونی اسلام دشمن تحریکوں کے انسداد یا ان کی مخصوص حرکات پر گرفت کی باری آتی ہے تو ہمارے مسلمان حکمران عجیب شان بے نیازی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بلکہ ١٩٥٣ء میں تو ایسا بھی ہوا کہ حب رسولؐ کے جذبہ سے سرشار اور ناموس مصطفیٰ ﷺ کا تحفظ چاہنے والے بے گناہ مسلمانوں کے سینے گولیوں سے چھلنی کر دیئے گئے۔ حالانکہ ایک مسلمان حکومت ہر لحاظ سے اس امر کی پابند ہے کہ وہ مسلمانوں کی ملی وحدت کا تحفظ کرے اور ظاہر ہے اس کے لئے سر وحدت کی حفاظت شرط اوّلین ہے کہ؎

حفظ سر وحدت ملت ازو

٢٦

صفحہ ٣٦١

اور میرے نزدیک تو معاملہ اب صرف جدا گانہ اقلیت یا ملی وحدت کے تحفظ ہی کا نہیں رہا۔ بلکہ اپنے مخصوص احوال و ظروف کے ماتحت جن کی کسی قدر تشریح پیچھے ہوچکی ہے۔ خود ہمارے ملک کی بقاء و سلامتی سے جا کر مل گیا ہے۔ گویا عقیدۂ ختم نبوت کا آئینی تحفظ اب صرف سر وحدت ملت ہی کا تحفظ نہیں۔ بلکہ وحدت ارض پاک کی بقاء و سلامتی کا راز بھی یہی ہے۔

٥...... ختم نبوت اور روادار مسلمان

بعض سمجھدار لوگ جان بوجھ کر یہ ناسمجھی کی بات کرتے ہیں کہ ملت اسلامیہ کی وحدت کا تحفظ چاہنا یا قادیانیوں کے احتساب کا مطالبہ کرنا، فرقہ وارانہ منافرت پھیلانا ہے اور یہ کہ مسلمانوں کو فرقہ پرست نہیں ہونا چاہئے۔ حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ ایک سچا مسلمان کبھی فرقہ پرست نہیں ہوتا۔ ’’ واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا‘‘ ہر وقت اس کے پیش نظر رہتا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایک ایماندارانہ مسئلہ، خواہ مخواہ، فرقہ وارانہ، قرار دے دیا جائے۔ شاید یہ لوگ اپنے آپ کو روادار ثابت کرنے کے لئے اس قسم کی باتیں ضروری سمجھتے ہیں۔ اگر حقیقت یہی ہے تو پھر مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ وہ رواداری کا حقیقی مفہوم بالکل نہیں سمجھتے۔ ان کے لئے حضرت علامہؒ کی یہ عبارت سرمہ بصیرت کی حیثیت رکھتی ہے۔

’’اس قسم کے معاملات میں جو لوگ رواداری کا نام لیتے ہیں وہ لفظ رواداری کے استعمال میں بے حد غیر محتاط ہیں۔ رواداری کی روح ذہن انسانی کے مختلف نقاط نظر سے پیدا ہوتی ہے۔ گبن کہتا ہے کہ ایک رواداری فلسفی کی ہوتی ہے۔ جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر صحیح ہیں۔ ایک رواداری مؤرخ کی ہے۔ جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر غلط ہیں۔ ایک رواداری مدبر کی ہے۔ جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر مفید ہیں۔ ایک رواداری ایسے شخص کی ہے جو ہر قسم کے فکر و عمل کے طریقوں کو روا رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ ہر قسم کے فکر و عمل سے بے تعلق ہوتا ہے۔ ایک رواداری کمزور آدمی کی ہے جو محض کمزوری کی وجہ سے ہر قسم کی ذلت کو جو اس کی محبوب اشیاء یا اشخاص پر کی جاتی ہے۔ برداشت کر لیتا ہے یہ ایک بدیہی بات ہے کہ اس قسم کی رواداری اخلاقی قدر سے معرا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اس سے اس شخص کے روحانی افلاس کا اظہار ہوتا ہے جو ایسی رواداری کا مرتکب ہوتا ہے۔ حقیقی رواداری عقلی اور روحانی وسعت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ رواداری ایسے شخص کی ہوتی ہے جو روحانی حیثیت سے قوی ہوتا ہے اور اپنے مذہب کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے دوسرے مذاہب کو روا رکھتا ہے اور ان کی قدر کر سکتا ہے۔ ایک سچا مسلمان ہی اس قسم کی رواداری کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘

(حرف اقبال ص ١٤٣، ١٤٤)

٢٧

صفحہ ٣٦٢

حضرت علامہ کو اس بات کا ہمیشہ افسوس رہا کہ قادیانی فتنہ کو سمجھنے کی تعلیم یافتہ مسلمانوں نے کوئی کوشش نہیں کی۔ بقول ان کے مغربیت کی ہوا نے ان لوگوں کو حفظ نفس کے جذبہ سے بھی عاری کر دیا ہے۔

(حرف اقبال ص ١٢٤)

اس کے مضمرات کو اگر کسی نے سمجھا یا اس کے خلاف سرگرمی دکھائی تو بقول حضرت علامہؒ وہ عام مسلمانوں کا طبقہ تھا جسے تعلیم یافتہ مسلمان ملا زدہ کا خطاب دیتا ہے ..... اور اگر آج پڑھا لکھا طبقہ اس نئی امت اور اس کے مفاسد کو کچھ کچھ سمجھ رہا ہے تو یہ برس ہا برس کی جدوجہد اور بہت سے تلخ تجربات و مشاہدات کا ثمر ہے۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ یہ طبقہ عالمی استعمار کے اس مہرے کے خلاف زبان کھولنے سے اب بھی ہچکچاتا اور منہ موڑتا ہے۔ بہر حال اگر ہمارے تعلیم یافتہ طبقے یا نام نہاد روادار مسلمان نے اپنا یہ طرز عمل تبدیل نہ کیا تو وقت انہیں خود ایسا کرنے پر مجبور کر دے گا۔

چند شبہات اور ان کا ازالہ

قادیانی میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو، کے مصداق سادہ لوح مسلمانوں کو یہ کہہ کر اکثر دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ علامہ اقبال تو قادیانی تحریک کو ٹھیٹھ اسلامی تہذیب کا نمونہ سمجھتے تھے۔ دیکھو ان کا خطبہ علی گڑھ ١٩١٠ء فلاں صفحہ فلاں سطر اور ٢٩ ستمبر ١٩٠٠ء کی فلاں تحریر میں انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو جدید ہندی مسلمانوں کا سب سے بڑا دینی مفکر قرار دیا۔ قادیانیوں کے پاس لے دے کر یہی دو حوالے ہیں جن کی مدد سے وہ حضرت علامہ کو قادیانی تحریک کا ہمنوا ثابت کرتے ہیں۔

اب سنئے! اس کی حقیقت کیا ہے؟ پہلی عبارت تو واقعتاً حضرت علامہ کی ایک ترجمہ شدہ کتاب ملت بیضاء پر ایک عمرانی نظر میں موجود ہے۔ دوسری جو رسالہ انڈین اینٹی کویری کے حوالہ سے پیش کی جاتی ہے۔ ابھی تک میری نظروں سے نہیں گزری اور قادیانیوں پر اس بارے میں زیادہ اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ بہر حال عبارت پہلی ہو یا دوسری (قطع نظر اس بات کے کہ یہ صحیح ہے یا نہیں) اوّل تو ان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا اثبات نہیں۔ دوسرا جب وہ خود ان کی نفی کر چکے ہیں تو پھر ان سے دلیل پکڑنا یا انہیں حجت ٹھہرانا کیسا؟ مثلاً وہ اپنی ١٩١٠ء کی عبارت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”جہاں تک مجھے یاد ہے یہ تقریر میں نے ١٩١١ء یا اس سے قبل کی تھی اور مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں کہ اب سے ربع صدی پیشتر مجھے اس تحریک سے اچھے نتائج کی امید تھی۔ اس تقریر سے بہت پہلے مولوی چراغ علی مرحوم نے جو مسلمانوں میں کافی سر برآوردہ تھے اور انگریزی میں اسلام پر بہت سی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ بانی تحریک کے

٢٨

صفحہ ٣٦٣

ساتھ تعاون کیا اور جہاں تک مجھے معلوم ہے کتاب موسومہ براہین احمدیہ میں انہوں نے بیش قیمت مدد بہم پہنچائی۔ لیکن کسی مذہبی تحریک کی اصل روح ایک دن میں نمایاں نہیں ہو جاتی۔ اچھی طرح ظاہر ہونے کے لئے برسوں چاہئیں۔ تحریک کے دو گروہوں کے باہمی نزاعات اس امر پر شاہد ہیں کہ خود ان لوگوں کو جو بانی تحریک کے ساتھ ذاتی رابطہ رکھتے تھے۔ معلوم نہ تھا کہ تحریک آگے چل کر کس راستہ پر پڑ جائے گی؟ ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا تھا جب ایک نئی نبوت، بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی۔ جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ درخت جڑ سے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر میرے موجودہ رویہ میں کوئی تناقض ہے تو یہ بھی ایک زندہ اور سوچنے والے انسان کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے بدل سکے۔ بقول ایمرسن صرف پتھر اپنے آپ کو نہیں جھٹلا سکتے۔‘‘

(حرف اقبال ص ١٣١، ١٣٢)

دراصل حضرت علامہ کی پہلی رائے قادیانیت کے ظاہری خول اور اس کے پروپیگنڈے پر مبنی تھی اور اگر اس دور کے پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ کوئی ایسی تعجب خیز بات نہیں۔ یہ تو ایک عمومی تاثر تھا جو آریوں اور عیسائیوں کے ساتھ مرزا غلام احمد کے اس وقت کے نام نہاد مناظروں اور مباحثوں سے پیدا ہو گیا اور ایک حضرت علامہ ہی پر کیا موقوف تب پنجاب کے اکثر مسلمان اسی غلط فہمی کا شکار تھے۔ وہ ایک پرجوش مبلغ و مناظر کی حیثیت سے مرزا غلام احمد قادیانی کو اسلام کا مخلص اور مسلمانوں کا بہی خواہ خیال کرتے۔ خود حضرت علامہ کے گردو پیش حتیٰ کہ ان کے والد (شیخ نور محمد) اور بڑے بھائی (شیخ عطاء محمد) تک مرزا غلام احمد قادیانی سے متاثر تھے۔ بلکہ شیخ نور محمد صاحب نے تو مرزا قادیانی کی بیعت بھی کی ہوئی تھی۔ مگر جب مرزا غلام احمد قادیانی کے مخفی عزائم و دعاوی بے نقاب ہوئے تو مسلمانوں کا سواد اعظم ان سے الگ ہو گیا نہ صرف الگ ہو گیا بلکہ قادیانی تحریک کو اپنی وحدت ملی کے خلاف ایک سازش سمجھتے ہوئے اس کی زبردست مزاحمت بھی کرنے لگا۔ ان حالات کا حضرت علامہ اور ان کے گردو پیش پر اثر انداز ہونا ناگزیر تھا۔ چنانچہ حضرت علامہ نے اپنی اس رائے سے جو محض قادیانی تحریک کے ظاہر سے متاثر ہو کر قائم کی گئی تھی رجوع کر لیا۔ ان کے والد شیخ نور محمد نے بھی قادیانی تحریک سے اپنی وابستگی ختم کر دی۔ بڑے بھائی بھی بیزار ہو گئے اور پھر وہ وقت بھی آیا جب حضرت علامہ نے قادیانیت کو برگ حشیش، غارت گر اقوام و ملّت بیضا، قوتِ فرعون کی درپردہ مرید، یہودیت کا پرتو، انتشار کا

٢٩

صفحہ ٣٦٤

منبع فرنگی انتداب کے حق میں الہامی سند، مرزا غلام احمد قادیانی کو چنگیز اور قادیانیوں کو اسلام اور ملک کا غدار قرار دے کر مسلمانوں سے الگ کر دینے کا پرزور مطالبہ کیا اور یورپ تک اس فتنے کا تعاقب کیا۔

یہاں میں قارئین کی توجہ مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند اور قادیانی تحریک کے ایک اہم ستون مرزا بشیر احمد ایم اے کی اس تحریر کی جانب مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہوں۔ جس میں وہ کہتے ہیں: ”ڈاکٹر سر محمد اقبال جو سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ ان کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا۔ شیخ نور محمد صاحب نے غالباً ١٨٩١ء یا ١٨٩٢ء میں مولوی عبدالکریم مرحوم اور سید حامد شاہ صاحب مرحوم کی تحریک پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت کی تھی۔ ان دنوں سر محمد اقبال سکول میں پڑھتے تھے اور اپنے باپ کی بیعت کے بعد وہ بھی اپنے آپ کو احمدیت میں شمار کرتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معتقد تھے۔ چونکہ سر اقبال کو بچپن سے شعر و شاعری کا شوق تھا۔ اس لئے ان دنوں میں انہوں نے سعد اللہ لدھیانوی کے خلاف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں ایک نظم بھی لکھی تھی۔ مگر اس کے چند سال بعد جب سر اقبال کالج میں پہنچے تو ان کے خیالات میں تبدیلی آگئی اور انہوں نے اپنے باپ کو سمجھا بجھا کر احمدیت سے منحرف کر دیا۔ چنانچہ شیخ نور محمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط لکھا۔ جس میں یہ تحریر کیا کہ آپ میرا نام اس جماعت سے الگ رکھیں۔ اس پر حضرت صاحب کا جواب میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے نام گیا۔ جس میں لکھا تھا کہ شیخ نور محمد کو کہہ دیویں کہ وہ جماعت سے ہی الگ نہیں بلکہ اسلام سے بھی الگ ہیں۔ ڈاکٹر سر محمد اقبال اپنی زندگی کے آخری ایام میں (احمدیت کے) شدید طور پر مخالف رہے اور ملک کے نو تعلیم یافتہ طبقہ میں احمدیت کے خلاف جو زہر پھیلا ہوا ہے اس کی بڑی وجہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کا مخالفانہ پروپیگنڈا تھا ۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٣٩، ٢٥٠، روایت نمبر ٨٥٨)

فرمائیے! اس کے بعد ١٩٠٠ء کی کسی عبارت یا خطبہ علی گڑھ کے سہارے قائم کئے گئے کسی استدلال میں کیا وزن رہ جاتا ہے؟ حیرت ہے کہ جس دور کو حضرت علامہ اپنا دور جاہلیت قرار دیتے رہے۔ اس کی ایک آدھ تحریر تو قادیانیوں کے لئے حجت اور سند کا درجہ رکھتی ہے۔ مگر جس عمر میں وہ پختہ ہو کر مسلمانوں کی محبوب فکری متاع بن چکے تھے۔ اس عمر کی متاع فکر سے گریز و فرار اختیار کیا جاتا یا صریحاً انکار کر دیا جاتا ہے۔ یا للعجب!

٣٠

صفحہ ٣٦٥

خالصتاً مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی خاطر اٹھنے والی تحریک ...... تحریک کشمیر ١٩٣١ء کی صدارت انہوں نے حضرت امام جماعت احمدیہ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد قادیانی کو کیوں پیش کی؟ اور پھر اس جھوٹ پہ جھوٹ گھڑا کرتے ہوئے کہا جاتا ہے۔ یہ بات علامہ کے ان گہرے روابط اور اس موانست کو ظاہر کرتی ہے جو وہ جماعت احمدیہ سے رکھتے تھے۔

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا؟

حالانکہ نہ حضرت علامہؒ نے مرزا محمود کا نام تجویز کیا اور نہ ہی وہ قادیانیوں سے کوئی ربط یا انس رکھتے تھے۔ قادیانی جو چاہیں کہیں، حضرت علامہؒ نے قادیانیت پر جو ضرب کاری لگائی قادیانی آج تک اسے نہیں بھلا سکے ہیں اور عبدالمجید سالک کو بھی اپنی تمام تر قادیانیت نوازی کے باوجود یہ لکھنا پڑا ہے کہ رد قادیانیت میں حضرت علامہؒ نے بعض ایسے نکات پیش کئے جن کا جواب اب تک کسی سے نہیں ہوسکا۔

(ذکر اقبال ص ٤١١، عبدالمجید سالک)

واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت علامہؒ نے کشمیر کمیٹی میں شمولیت اختیار کی تو ان کے سامنے صرف اور صرف مظلومین کشمیر کا مسئلہ تھا۔ جو برسہا برس سے ڈوگرا حکمرانوں کے ظلم و ستم اور جبر و تشدد کا شکار تھے۔ وہ قادیانی نبوت یا خلافت پر مہر تصدیق ثبت کرنا نہیں چاہتے تھے۔ حضرت علامہؒ کو چونکہ خطۂ کشمیر سے قلبی لگاؤ تھا اور یہ ارض چنار ان کے آباؤ اجداد کا وطن تھی۔ اس لئے کشمیریوں کے ساتھ جذبات ہمدردی کی شدت میں وہ مرزا بشیر الدین محمود کے سیاسی عزائم کو نہ بھانپ سکے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اور ان کی طرح دیگر مسلمان عمائدین قادیانیوں کے انگریزوں کے ساتھ خصوصی تعلقات کے پیش نظر یہ امید بھی کرتے ہوں کہ قادیانی خلیفہ اپنے آقاؤں سے کشمیری مسلمانوں کو بعض حقوق دلانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ مگر جب انہوں نے دیکھا کہ مرزا محمود نے اپنے لامحدود اختیارات، لامحدود اس لئے کہ جب کمیٹی کی تشکیل ہوئی تو یہ خیال کرتے ہوئے کہ اس کا قیام عارضی ہوگا۔ سرے سے اس کا کوئی دستور ہی نہ بنایا گیا اور بقول حضرت علامہؒ صدر (مرزا محمود) کو آمرانہ اختیارات دے دیئے گئے۔

(حرف اقبال ص ٢٤١)

مرزا محمود نے ان اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کشمیر کمیٹی کو قادیانیوں کی ذیلی شاخ بنا کر رکھ دیا اور عام مسلمانوں کے چندے سے قادیانی مبلغ سارے کشمیر میں پھیلا دیئے۔ (چنانچہ یہ اسی زمانے کی جدوجہد کا ثمر ہے کہ آج بھی کشمیر میں اس جماعت کے اچھے خاصے اثرات پائے جاتے ہیں) اور نہ صرف طول و عرض کشمیر بلکہ پوری دنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹا کہ تمام اسلامی ہند نے اسے اپنا لیڈر مان کر اس کے باپ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کی تصدیق کر دی ہے اور اس کے

٣١

صفحہ ٣٦٦

ساتھ ہی جب یہ بات ان کے علم میں آئی کہ کشمیر کمیٹی کے صدر (مرزا محمود) اور سیکرٹری (عبدالرحیم) دونوں وائسرائے اور دیگر اعلیٰ برطانوی حکام کو خفیہ اطلاعات بہم پہنچانے کا نیک کام بھی کرتے ہیں۔

(پنجاب کی سیاسی تحریکیں ص ٢١٠، عبداللہ ملک)

تو انہوں نے اس کا انتہائی سختی سے نوٹس لیا اور مرزا محمود کو کمیٹی کی صدارت چھوڑ دینے پر مجبور کر دیا۔ قادیانیوں کی منافقت کے ہاتھوں عاجز آکر خود استعفاء دے دیا۔ کمیٹی تک توڑ ڈالی۔ اس موقع پر حضرت علامہؒ نے جو بیان جاری کیا اس کا یہ حصہ خاص طور پر بڑا دلچسپ اور اہم ہے: ’’بدقسمتی سے کمیٹی میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے مذہبی فرقے کے امیر کے سوا کسی دوسرے کی اتباع کرنا سرے سے گناہ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ قادیانی وکلاء میں سے ایک صاحب نے جو میر پور کے مقدمات کی پیروی کر رہے تھے۔ حال ہی میں اپنے ایک بیان میں واضح طور پر اس خیال کا اظہار کر دیا۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ وہ کسی کشمیر کمیٹی کو نہیں مانتے اور جو کچھ انہوں نے یا ان کے ساتھیوں نے اس ضمن میں کیا وہ ان کے امیر کے حکم کی تعمیل تھی۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں نے ان کے اس بیان سے اندازہ لگایا کہ تمام قادیانی حضرات کا یہی خیال ہوگا اور اس طرح میرے نزدیک کشمیر کمیٹی کا مستقبل مشکوک ہو گیا۔ میں کسی صاحب پر انگشت نمائی نہیں کرنا چاہتا۔ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دل و دماغ سے کام لے اور جو راستہ پسند ہو اسے اختیار کرے۔ حقیقت میں مجھے ایسے شخص سے ہمدردی ہے جو کسی روحانی سہارے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے کسی مقبرہ کا مجاور یا کسی زندہ نام نہاد پیر کا مرید بن جائے۔ ..... ان حالات کے پیش نظر مجھے اس امر کا یقین ہے کہ کمیٹی میں اب ہم آہنگی کے ساتھ کام نہیں ہو سکتا اور ہم سب کا مفاد اسی میں ہے کہ موجودہ کشمیر کمیٹی کو ختم کر دیا جائے۔‘‘

(حرف اقبال ص ٢٢١، ٢٢٢)

قادیانیوں نے حضرت علامہؒ کی ایک تجویز جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیری بھائیوں کی مدد کے لئے ایک کھلے عام اجلاس میں ایک نئی کشمیر کمیٹی کی تشکیل کر لی جائے۔

(حرف اقبال ص ٢٢٣)

کا سہارا لے کر کشمیر کمیٹی کے نام سے پھر دام ہمرنگ زمین بچھانا چاہا۔ اس کی صدارت کی پیش کش کر کے حضرت علامہؒ کو پھانسنا چاہا۔ مگر انہوں نے نہایت سختی و حقارت سے اسے بھی مسترد کر دیا۔ فرمایا: ’’مجھے صرف صدارت کے قبول کرنے ہی سے اصولی اختلاف نہیں۔ بلکہ میں تو ایسی پیشکش کے متعلق سوچنا ہی غلط سمجھتا ہوں اور میرے اس رویہ کی وجوہات وہی ہیں جن کی بناء پر میں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی نئی تشکیل ہونی چاہئے۔ ..... میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان حالات کے پیش نظر ایک مسلمان کس طرح ایک ایسی تحریک میں شامل ہو سکتا ہے۔ جس

٣٢

صفحہ ٣٦٧

کا اصل مقصد غیر فرقہ داری کی ہلکی سی آڑ میں کسی مخصوص جماعت کا پروپیگنڈا کرنا ہے۔“

(حرف اقبال ص ٢٢٤، ٢٢٥)

اور واقعہ یہ ہے کہ یہیں سے حضرت علامہ کی قادیانیت کے خلاف کھلی کھلی لڑائی کا آغاز ہوا۔ بقول محمد احمد خاں: ”علامہ اقبال نے کشمیر کمیٹی کے دوران قادیانیوں کی سرگرمیوں کا گہری نظر سے جائزہ لیا تھا اور کشمیر کمیٹی کے یہ واقعات اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ ان ہی واقعات کے بعد ڈاکٹر صاحب نے قادیانی تحریک کی سختی سے مخالفت کرنی شروع کی۔“

(احرار اور تحریک کشمیر ص ١٦١، بحوالہ اقبال کا سیاسی کارنامہ از محمد احمد خاں)

ذرا سے گریز کے ساتھ میں یہ کہنے کی بھی اجازت چاہوں گا کہ آیا کبھی پاکستان کے مسلمانوں نے اس امر پر غور کیا ہے کہ ہر پاک بھارت جنگ کے دوران کشمیر و قادیان سے ملحق سرحدات کی کمان قادیانی جرنیلوں ہی کے ہاتھ میں کیوں رہی ہے؟ ١٩٦٥ء کی جنگ سے پہلے سر ظفر اللہ خاں (پاکستان کے سابق وزیر خارجہ) نے حضرت علامہ اقبالؒ کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال (جو آج کل پنجاب ہائی کورٹ میں جسٹس کے عہدہ پر فائز ہیں) کی معرفت اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں (مرحوم) کو یہ پیغام کیوں بھیجا کہ یہ وقت کشمیر پر چڑھائی کے لئے موزوں ہے۔ پاکستان کی فوج ضرور کامیاب ہوگی۔ جہاں تک ہندوستان کے ہاتھوں بین الاقوامی سرحد کے آلودہ ہونے کا تعلق ہے۔ ایسی کوئی چیز نہ ہوگی۔ (عجمی اسرائیل ص ٣٥)

اور مشہور قادیانی جرنیل لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین ملک (موجودہ) لیفٹیننٹ جنرل عبدالعلی ملک کے بڑے بھائی جو انقرہ میں کسی حادثہ میں ہلاک ہو گئے اور جن کی نعش وہاں سے لاکر (ربوہ) چناب نگر دفن کی گئی تھی۔ یہ انتہائی خواہش و کوشش کس غرض سے تھی کہ اس وقت کے گورنر ملک امیر محمد خان صدر ایوب کو اس بات پر آمادہ کریں کہ یہ وقت کشمیر پر چڑھائی کے لئے بہترین ہے۔ یقین ہے کہ ہم کشمیر حاصل کر پائیں گے۔ (عجمی اسرائیل ص ٣٤)

صرف یہی نہیں بلکہ قادیانی مصلح موعود کی یہ پیشین گوئی بھی ان دنوں نہایت اہتمام کے ساتھ آزاد کشمیر میں پھیلا دی گئی کہ ریاست جموں و کشمیر آزاد ہوگی اور اس کی فتح و نصرت قادیانیت کے ہاتھوں ہوگی اور قادیانی اب بھی یہی پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ کشمیر قادیانی سورماؤں ہی کے ہاتھوں فتح ہوگا۔ آخر یہ سب کیا ہے؟ ظاہر ہے قادیانی ایک وقت میں کئی کھیل کھیلتے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی دائرے میں بہر حال سیاسی اقتدار چاہتے ہیں یا پھر انہیں سیکولر گورنمنٹ ہی برداشت کر سکتی ہے۔ بصورت دیگر وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانی سیاست

٣٣

صفحہ ٣٦٨

مذکورہ دوائر میں حرکت کرتی ہے۔ کشمیر پر قادیانیوں کی نظر اسی لئے ہے کہ اس طرح وہ کشمیر میں پہلے سے موجود قادیانی اثرات سے فائدہ اٹھا کر اپنا اقتدار قائم کر سکتے ہیں اور پھر کشمیر میں ان کے پیغمبر کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر بھی ہے۔ (کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦) جسے وہ اپنے تئیں مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت کا ایک بڑا نشان سمجھتے ہیں۔ پھر اسی ریاست سے ہم آغوش ان کے پیغمبر کی جائے پیدائش ہے۔ جسے وہ دارالامان کہتے (بلدۃ الامین مکہ مکرمہ اور دارالہجرت مدینہ منورہ کا ہم پلہ بلکہ ان سے بھی افضل قرار دیتے)

(الفضل قادیان مورخہ ١١؍دسمبر ١٩٣٢ء، حقیقت الرؤیا ص ٤٦)

اور اپنی جماعت کا خدا تعالیٰ کی طرف سے ٹھہرایا ہوا دائمی مرکز سمجھتے ہیں۔

(انوار خلافت ص ١١٧)

اور ان کا خیال ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئی کے مطابق قادیان قادیانیوں کو ضرور ملے گا۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ذہنوں میں بھی یہی بات راسخ کرتے ہیں۔ چنانچہ راہ ایمان کے نام سے قادیانی بچوں کے لئے ابتدائی دینی معلومات کے مجموعہ کے ص ٩٨ پر قادیان سے ہجرت کی پیش گوئی کے زیرعنوان لکھا ہے: ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد قادیانی) کو خدا نے الہام اور خواب کے ذریعے بتایا تھا کہ کسی زمانے میں جماعت احمدیہ کو قادیان سے نکلنا پڑے گا اور خشک پہاڑیوں والے ایک اونچے علاقہ میں اسے اپنا دوسرا مرکز بنانا پڑے گا۔ یہ حالت عارضی ہوگی۔ آخر ایک وقت آئے گا کہ قادیان جماعت احمدیہ کو واپس مل جائے گا۔ پیش گوئی کا ایک حصہ ١٩٤٧ء میں پورا ہوگیا...... اور ہر احمدی کا ایمان ہے کہ پیش گوئی کا آخری حصہ بھی ضرور پورا ہوگا اور قادیان جماعت احمدیہ کو انشاء اللہ ضرور واپس ملے گا۔‘‘

قارئین! خود اندازہ فرمائیں کہ یہ کس طرح ممکن ہوگا؟ کیا حیدرآباد، جونا گڑھ، مناور اور کشمیر کو ہڑپ کرنے والا بھارت قادیان دے گا؟ قادیانی بزور بازو فتح کریں گے؟ یا بڑی طاقتوں کی معرفت یہ پیش گوئی پوری ہوگی؟ آخر قادیان قادیانیوں کو کس طرح ملے گا؟ بہرحال قادیانیوں کے یہی وہ سیاسی عزائم تھے جنہیں کشمیر موومنٹ نے بے نقاب کیا اور حضرت علامہؒ انہیں اسلام اور ملک کا غدار قرار دینے پر مجبور ہوگئے۔

’’اپنی عمر کے آخری حصہ میں علامہ اقبالؒ نے جماعت احمدیہ سے اختلاف کیا۔ لیکن اہل بصیرت جانتے ہیں کہ اس کے وجوہ سیاسی تھے۔‘‘

(احمدیت علامہ اقبال کی نظر میں ص ١٤)

٣٤

صفحہ ٣٦٩

وہ سیاسی وجوہ کیا تھے؟ الفضل لکھتا ہے: ”چوہدری ظفر اللہ خان ایک خاص عہدے پر نہ لیے جاتے تو یہ تحریریں کبھی ہرگز وجود میں نہ آتیں ۔“

(الفضل ربوہ مورخہ ٢٣؍جون ١٩٦٧ء)

حالانکہ جب حضرت علامہؒ حیات تھے تو کسی قادیانی کو اس کی جرات نہ ہوئی۔ بلکہ تب قادیانی جماعت کے مصلح موعود مرزا بشیر الدین محمود یہ توجیہہ کیا کرتے تھے: ”اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے ماتحت جماعت احمدیہ کے مخلصین کے اخلاص کو اور بھی زیادہ ظاہر کرنے کے ارادے سے نئے نئے لوگوں کو ہمارے مخالفوں کی صف میں لا کھڑا کر رہا ہے۔ پہلے احراری اٹھے ...... پھر امراء ...... پھر پیروں، گدی نشینوں اور اخبار نویسوں کی ایک جماعت ...... ہندوستان کے سیاسی لیڈر ابھی تک خاموش تھے ...... اسی طرح اعلیٰ عہدہ دار خاموش تھے یا کم از کم ظاہر میں خاموش تھے۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ یہ طوفانِ مخالفت فرو ہونے میں نہیں آتا اور بڑھتا ہی چلا جاتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم پیچھے کیوں رہیں؟ اس خیال کا آنا تھا کہ سر مرزا ظفر علی صاحب نے ایک بیان شائع کر دیا۔ پھر ڈاکٹر سر اقبال کو خیال آ گیا کہ میں پیچھے کیوں رہوں؟“

(الفضل قادیان مورخہ ٣٠؍مئی ١٩٣٥ء، بحوالہ پنجاب کی سیاسی تحریکیں ص ٢١٧، ٢١٨)

گویا اس وقت قادیانی جماعت یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی تھی کہ حضرت علامہؒ کی مخالفت دوسروں کی دیکھا دیکھی محض فیشن کے طور پر ہے اور بس۔ حالانکہ یہ بات بھی درست نہیں۔ حضرت علامہؒ نے قادیانیت کے بارے میں جو کچھ لکھا اس میں ان کے ذاتی تجربے، مشاہدے، مطالعے اور تجزیے کو دخل تھا۔ الفضل نے جو راگنی چھیڑی ہے اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان کو (ان کے اپنے بیان کے مطابق) ١٩٣٢ء میں چند ماہ کے لئے عارضی طور پر سر فضل حسین نے اپنی جگہ ایگزیکٹو کا ممبر نامزد کیا۔ مستقل تقرر ١٩٣٣ء کے اواخر میں ہوا۔

(تحدیثِ نعمت ص ٢٩٨، ٢٩٩، ٣٤٧)

جب کہ قادیانیت کی بابت حضرت علامہؒ کے خیالات میں تبدیلی اس سے بہت پیشتر آ چکی تھی اور وہ اس تحریک سے بیزاری کا اظہار کرنے لگ گئے تھے۔ خود قادیانیوں کے قمر الانبیاء، مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے کہ: ”١٨٩١ء، ١٨٩٢ء کے چند سال بعد جب سر اقبال کالج میں پہنچے تو ان کے خیالات میں تبدیلی آگئی اور انہوں نے اپنے باپ کو بھی سمجھا بجھا کر احمدیت سے منحرف کر دیا۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٣٩، روایت نمبر ٨٥٨)

١٩٣٣ء میں حضرت علامہؒ کی مخالفت میں اگر انتہائی شدت پیدا ہوئی تو اسے اس دور

٣٥

صفحہ ٣٧١

کے پس منظر بالخصوص تحریک کشمیر کے حالات و واقعات کی روشنی میں دیکھنا چاہئے۔ کشمیر کمیٹی کی آڑ میں قادیانیوں نے جو کچھ کیا وہ ایک حضرت علامہ کیا سب مسلمان رہنماؤں کے لئے تشویش کا موجب تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک کشمیر کے بعد قادیانیوں کی مخالفت شدید سے شدید تر ہوگئی۔ اس میں مسلمانوں کی سیاسی بیداری اور اپنے حقوق کے تحفظ کے احساس اور جذبے کو بھی دخل تھا۔ قادیانی جو چاہیں کہیں۔ حقیقت یہی ہے اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ظفر اللہ خاں نہ تو حضرت علامہ کے کبھی حریف رہے نہ رقیب۔ پھر حضرت علامہ ان باتوں سے ماوراء قسم کے انسان تھے۔ ایگزیکٹو کونسل کی رکنیت ظفر اللہ خاں کے لئے کوئی اعزاز ہو تو ہو۔ حضرت علامہ کے نزدیک پرکاہ کے برابر حیثیت نہ رکھتی تھی۔ حضرت علامہ نے قادیانی فتنے کا احتساب ١٩٣٣ء سے اپنی وفات تک برابر جاری رکھا۔ مگر اس دوران کی کسی ایک تحریر کے کسی ایک حرف سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ انہیں سر ظفر اللہ خان سے کوئی ذاتی پرخاش تھی یا وہ ان کے ایگزیکٹو کا ممبر بن جانے کے باعث قادیانیت کی مخالفت تک پہنچ گئے۔ بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے ایک مضمون ”قادیانی اور جمہور مسلمان“ (مطبوعہ ١٩٣٥ء) میں لکھتے ہیں: ”اگر کوئی گروہ جو اصل جماعت کے نقطۂ نظر سے باغی ہے۔ حکومت کے لئے مفید ہے تو حکومت اس کی خدمات کا صلہ دینے کی پوری طرح مجاز ہے۔ دوسری جماعتوں کو اس سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہوسکتی۔ لیکن یہ توقع رکھنی بیکار ہے کہ خود جماعت ایسی قوتوں کو نظر انداز کر دے جو اس کے اجتماعی وجود کے لئے خطرہ ہیں۔“

اور اگر بالفرض مسلمانوں کے حقوق پامال ہوتے دیکھ کر (کیونکہ سر ظفر اللہ خاں کو سر فضل حسین کی جگہ ایگزیکٹو کا رکن لیا گیا تھا۔ جو ایگزیکٹو میں مسلمانوں کے نمائندہ کی حیثیت سے شامل تھے) وہ اس تقرر پر احتجاج کرتے یا قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کرتے (تاکہ مسلمان کہلا کر وہ اسلامیان ہند کے حقوق سے متمتع نہ ہوسکیں) تو کیا یہ غلط ہوتا؟

بہر حال حضرت علامہ کی لڑائی اصولی تھی، ذاتی نہ تھی اور ویسے بھی وہ گھٹیا سیاسی مفاد کی خاطر مذہب کو آڑ بنانے کے قائل نہ تھے۔ انہوں نے محض ملک وملت کے بہترین مفاد کو سامنے رکھ کر قادیانیت کی مخالفت کی اور ایسا کرنا ان کے لئے ناگزیر تھا۔

(اب آپ جو کچھ پڑھیں گے وہ سب حضرت علامہ کے اپنے قلم سے ہے۔ ہاں متن کے ساتھ ساتھ جملہ حواشی میرے قلم کی زیادتی ہیں۔ مرتب!)

٣٦

باب اوّل ...... فلسفہ خت

قوم را سرمایہ قو
حفظ سر وحدت

”ختمِ نبوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد اسلا ہوتا ہے اور میری جماعت میں داخل نہ ہونے والا کافر ہے مسیلمہ کذاب کو اسی بناء پر قتل کیا گیا۔ حالانکہ جیسا طبری لکھ کی نبوت کا مصدق تھا اور اس کی اذان میں حضور رسالتم تھی۔“

ہی اہم اور بنیادی تصور ...... میرا مطلب ہے عقیدۂ ختم نبوت رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبی محمد (ﷺ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ لیکن ثقافتی قدر و قیمت پورے طور پر ذہن نشین کرلی جائے۔

ایک اعتبار سے نبوت کی تعریف یوں بھی کی ہے۔ جس میں واردات اتحاد اپنے حدود سے تجاوز کر ج از سر نو تشکیل کے وسائل ڈھونڈتی ہیں جو حیاتِ اجتماعیہ ک زندگی کا متناہی مرکز (انسانی خودی ۔ مترجم) اپنے لامتن مبداء وجود سے اتصال کی بدولت ۔ مترجم) تو اس لی سکے۔ وہ ماضی (یعنی انسان جس راستے پر چل رہا تھا۔ م اس پر منکشف کر دیتا ہے (تاکہ ایک نئی ہیئتِ اجتماعیہ ا وجود کی اساس سے انسان کا یہ تعلق کچھ اسی ق استعمال جن معنوں میں کیا ہے۔ ان سے تو یہی ثابت ہ عام جیسے زندگی۔ یہ دوسری بات ہے کہ جوں جوں اس جیسے جیسے وہ ارتقاء اور نشو ونماء حاصل کرتی ہے۔ ویسے

٣٧

صفحہ ٣٧١

باب اول ...... فلسفہ ختم نبوت

قوم را سرمایہ قوت ازو
حفظ سر وحدت ملت ازو

(اسرار و رموز)

”ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد اسلام اگر یہ دعویٰ کرے کہ مجھے الہام وغیرہ ہوتا ہے اور میری جماعت میں داخل نہ ہونے والا کافر ہے تو وہ شخص کاذب ہے اور واجب القتل، مسیلمہ کذاب کو اسی بناء پر قتل کیا گیا۔ حالانکہ جیسا طبری لکھتا ہے وہ حضور رسالت مآب (ﷺ) کی نبوت کا مصدق تھا اور اس کی اذان میں حضور رسالت مآب (ﷺ) کی نبوت کی تصدیق تھی۔“

”......بنا بریں اس سے پہلے کہ ہم اپنی بحث میں آگے بڑھیں ضروری ہے کہ اسلام کے ایک نہایت ہی اہم اور بنیادی تصور..... میرا مطلب ہے عقیدہ ختم نبوت ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین (الاحزاب:٤٠)“ (حضرت) محمد (ﷺ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ لیکن اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔“ کی ثقافتی قدر و قیمت پورے طور پر ذہن نشین کر لی جائے۔

ایک اعتبار سے نبوت کی تعریف یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ یہ شعور ولایت کی وہ شکل ہے۔ جس میں واردات اتحاد اپنے حدود سے تجاوز کر جاتیں اور ان قوتوں کی پھر سے رہنمائی یا ازسرنو تشکیل کے وسائل ڈھونڈتی ہیں جو حیات اجتماعیہ کی صورت گر ہیں۔ گویا انبیاء کی ذات میں زندگی کا متناہی مرکز (انسانی خودی۔ مترجم) اپنے لامتناہی اعماق میں ڈوب جاتا ہے۔ (اپنے مبداء وجود سے اتصال کی بدولت۔ مترجم) تو اس لئے کہ پھر ایک تازہ قوت اور زور سے ابھر سکے۔ وہ ماضی (یعنی انسان جس راستے پر چل رہا تھا۔ مترجم) کو مٹاتا اور پھر زندگی کی نئی نئی راہیں اس پر منکشف کر دیتا ہے (تاکہ ایک نئی ہیئت اجتماعیہ کی تعمیر ہوسکے۔ مترجم) لیکن اپنی ہستی اور وجود کی اساس سے انسان کا یہ تعلق کچھ اسی کے لئے مخصوص نہیں۔ قرآن مجید نے لفظ وحی کا استعمال جن معنوں میں کیا ہے۔ ان سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ وحی خاصۂ حیات ہے اور ایسا ہی عام جیسے زندگی۔ یہ دوسری بات ہے کہ جوں جوں اس کا گزر مختلف مراحل سے ہوتا یا یوں کہئے کہ جیسے جیسے وہ ارتقاء اور نشو و نما حاصل کرتی ہے۔ ویسے ہی اس کی ماہیت اور نوعیت بھی بدلتی رہتی

٣٧

صفحہ ٣٧٣

ہے ۔ یا کسی پودے کا زمین کی پہنائیوں میں آزادانہ سر نکالنا یا کسی حیوان میں ایک نئے ماحول کے مطابق کسی نئے عضو کا نشوونما پانا انسان کا خود اپنی ذات اور وجود میں زندگی کی گہرائیوں سے نور اور روشنی حاصل کرنا ۔ یہ سب وحی کی مختلف شکلیں ہیں۔ جو اس لئے بدلتی چلی گئیں کہ اس کا تعلق جس فرد سے تھا یا جس نوع میں اس کا شمار ہوتا تھا۔ اس کی مخصوص ضروریات کچھ اور تھیں ۔ اب بنی نوع انسان کے عالم صغر سنی میں ایسا بھی ہوا کہ اس کی نفسی توانائی کا نشوونما ( جس کا اظہار غور و فکر ارادہ اختیار ، ادراک و تعقل ، حکم ، تصدیق یعنی اعمال ذہنی میں ہوتا ہے ۔ مترجم ) شعور کی وہ صورت اختیار کر لے جسے ہم نے شعور نبوت سے تعبیر کیا ہے اور جس کے معنی یہ ہیں کہ اس شعور کی موجودگی میں نہ تو افراد کو خود کسی چیز پر حکم لگانا پڑے گا۔ نہ ان کے سامنے یہ سوال ہوگا کہ ان کی پسند کیا ہو اور ناپسندیدگی کیا ؟ انہیں یہ بھی سوچنے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ وہ اپنے لئے کیا راہ عمل اختیار کریں ؟ یہ سب باتیں گویا پہلے ہی سے طے شدہ ہوں گی ۔ یہ نہیں کہ انہیں اس بارے میں خود اپنے فکر اور انتخاب سے کام لینا پڑے۔ (معروف ومنکر، امر اور نہی کی تعیین میں’لقد ارسلنا رسلنا بالبینت وانزلنا معهم الكتب والميزان ليقوم الناس بالقسط (الحديد:٢٥)“

ہم نے بھیجے ہیں اپنے رسول نشانیاں دے کر اور اتاری ان کے ساتھ کتاب اور ترازو تا کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔ ﴿شعور نبوت کو گویا کفایت فکر اور انتخاب سے تعبیر کرنا چاہئے۔ (کیونکہ اس طرح ہمیں فرداً فرداً ان امور کا فیصلہ نہیں کرنا پڑتا ۔ صرف ایک فرد کا حکم اور انتخاب ہماری رہنمائی کے لئے کافی ہوتا ہے ۔ مترجم) لیکن جہاں عقل نے آنکھ کھولی (تاکہ ذہن انسانی کو خود اپنی بصیرت ، فہم اور تدبر سے کام لینے کا موقع ملے ۔ یہ امر بھی منجملہ ان مقاصد کے ہے جو نبوت کے پیش نظر ہوتے ہیں ۔ مترجم) اور قوت تنقید بیدار ہوئی تو پھر زندگی کا مفاد اسی میں ہے کہ ارتقائے انسانی کے اولین مراحل میں ہماری نفسی توانائی کا اظہار جن ماورائے عقل طریقوں سے ہوا تھا۔ ان کا ظہور اور نشوونما رک جائے ۔ انسان جذبات کا بندہ ہے اور جبلتوں سے مغلوب رہتا ہے۔ (جن کو اگر ٹھیک راستے پر نہ ڈالا جائے تو ایک دوسرے سے رقابت اور فساد اخلاق کو تحریک ہوتی ہے ۔ جس کا انجام ہے ہلاکت ۔ مترجم ) وہ اپنے ماحول کی تسخیر کر سکتا ہے تو عقل استقرائی کی بدولت (جس میں وہ اصول علم کی بناء پر عالم خارجی کا مطالعہ کرتا ہے ۔ مترجم) لیکن عقل استقرائی اس کے اپنے حاصل کرنے کی چیز ہے (تجربے اور امتحان ، مشاہدے اور تحقیق و تجسس کی حدود سے۔ مترجم) جسے ایک دفعہ حاصل کر لیا جائے تو پھر مصلحت اسی میں ہے کہ حصول علم کے اور جتنے بھی طریق ہیں ان پر ہر پہلو سے بندشیں عائد کر دی جائیں تا کہ مستحکم کیا جائے تو صرف عقل

٣٨

استقرائی کو ( عالم فطرت کی تسخیر اور زندگی کو واقعیت کی نظر سے کوئی شک نہیں کہ دنیائے قدیم نے بڑے بڑے عظیم نظامات سے باہر محض حکیمانہ غور و فکر کی بدولت۔ مثلاً ارض یونان یا قدیم وقت جب انسان اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل سے گزر رہا ا (یعنی وہ اپنی عقل اور سمجھ کی بجائے وہی کچھ کرنے لگتا تھا جو دوس کے یہ فلسفیانہ نظامات مجرد فکر کی بناء پر مرتب ہوئے۔ لیکن مجرد سکتے ہیں تو یہ کہ مذہبی عقائد اور مذہبی روایات میں تھوڑا بہت ب عملی زندگی میں ہمیں جن احوال سے فی الواقع گزرنا پڑتا ہے اس کا فیصلہ فکر مجرد کی بناء پر نہیں کیا جا سکتا۔ (اور یہی فی الحقیق بھی راستہ اختیار کیا جائے ۔ مترجم) اس لحاظ سے دیکھا اسلام ﷺ کی ذات گرامی کی حیثیت دنیائے قدیم اور ج (جس کا ظہور آپ کی تعلیمات کی بدولت ہوا ۔ مترجم) پر اتم دنیائے قدیم سے ہے۔ (جس کی آپ نے رہنمائی کی۔ دنیائے جدید سے ۔ یہ آپ ہی کا وجود ہے کہ زندگی پر علم و ح جو اس کے آئندہ رخ کے عین مطابق تھے۔ (یعنی جن کی مترجم) لہذا اسلام کا ظہور جیسا کہ آگے چل کر خاطر خواہ ظ عقل کا ظہور ہے۔

اسلام میں نبوت چونکہ اپنے معراج کمال کو پہ اسلام نے خوب سمجھ لیا تھا کہ انسان ہمیشہ سہاروں پر زندگ تکمیل ہوگی تو یونہی کہ وہ خود اپنے وسائل سے کام لینا سیکھے ہے۔ مترجم) یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اگر دینی پیشوائی نہیں رکھا یا بار بار عقل اور تجربے پر زور دیا یا عالم فطرت ا تو اس لئے کہ ان سب کے اندر یہی نکتہ مضمر ہے (کہ ان قوائے فکر و عمل بیدار ہوں اور وہ اپنے اعمال وافعال کا خ سب تصور خاتمیت ہی کے مختلف پہلو ہیں۔ لیکن یہاں ی باطن سے، جو باعتبار نوعیت (ان معنوں میں کہ اس کا

٣٩

صفحہ ٣٧٣

استقرائی کو (عالم فطرت کی تسخیر اور زندگی کو واقعیت کی نظر سے دیکھنے کی خاطر۔ مترجم) اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیائے قدیم نے بڑے بڑے عظیم نظامات فلسفہ پیدا کئے۔ (تعلیمات نبوت سے باہر محض حکیمانہ غور و فکر کی بدولت۔ مثلاً ارض یونان یا قدیم ہندوستان میں۔ مترجم) مگر یہ اس وقت جب انسان اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل سے گزر رہا اور اس پر ایماء اور اشارے کا غلبہ تھا۔ (یعنی وہ اپنی عقل اور سمجھ کی بجائے وہی کچھ کرنے لگتا تھا جو دوسرے کرتے تھے۔ مترجم) لہٰذا ماضی کے یہ فلسفیانہ نظامات مجرد فکر کی بناء پر مرتب ہوئے۔ لیکن مجرد فکر کی بناء پر ہم زیادہ سے زیادہ کچھ کر سکتے ہیں تو یہ کہ مذہبی عقائد اور مذہبی روایات میں تھوڑا بہت ربط و ترتیب پیدا کردیں۔ رہا یہ امر کہ عملی زندگی میں ہمیں جن احوال سے فی الواقع گزرنا پڑتا ہے۔ ان پر قابو حاصل کیا جائے تو کیسے؟ اس کا فیصلہ فکر مجرد کی بناء پر نہیں کیا جاسکتا۔ (اور یہی فی الحقیقت مسئلہ ہے زندگی کا خواہ اس میں کوئی بھی راستہ اختیار کیا جائے۔ مترجم) اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یوں نظر آئے گا جیسے پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات گرامی کی حیثیت دنیائے قدیم اور جدید کے درمیان ایک واسطہ کی ہے۔ (جس کا ظہور آپ کی تعلیمات کی بدولت ہوا۔ مترجم) بہ اعتبار اپنے سرچشمہ وحی کے آپ کا تعلق دنیائے قدیم سے ہے۔ (جس کی آپ نے رہنمائی کی۔ مترجم) لیکن بہ اعتبار اس کی روح کے دنیائے جدید سے۔ یہ آپ ہی کا وجود ہے کہ زندگی پر علم و حکمت کے وہ تازہ سرچشمے منکشف ہوئے جو اس کے آئندہ رخ کے عین مطابق تھے۔ (یعنی جنہیں زندگی کی رہنمائی کے لئے ضرورت تھی۔ مترجم) لہٰذا اسلام کا ظہور جیسا کہ آگے چل کر خاطر خواہ طریق پر ثابت کر دیا جائے گا۔ استقرائی عقل کا ظہور ہے۔

اسلام میں نبوت چونکہ اپنے معراج کمال کو پہنچ گئی۔ لہٰذا اس کا خاتمہ ضروری ہو گیا۔ اسلام نے خوب سمجھ لیا تھا کہ انسان ہمیشہ سہاروں پر زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ اس کے شعور ذات کی تکمیل ہوگی تو یونہی کہ وہ خود اپنے وسائل سے کام لینا سیکھے۔ (جیسا کہ تعلیمات قرآنی کا مقصود بھی ہے۔ مترجم) یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اگر دینی پیشوائی کو تسلیم نہیں کیا یا موروثی بادشاہت کو جائز نہیں رکھا یا بار بار عقل اور تجربے پر زور دیا یا عالم فطرت اور عالم تاریخ کو علم انسانی کا سرچشمہ ٹھہرایا تو اس لئے کہ ان سب کے اندر یہی نکتہ مضمر ہے (کہ انسان اپنے وسائل سے کام لے۔ اس کے قوائے فکر و عمل بیدار ہوں اور وہ اپنے اعمال و افعال کا آپ جواب دہ ٹھہرے۔ مترجم) کیونکہ یہ سب تصور خاتمیت ہی کے مختلف پہلو ہیں۔ لیکن یہاں یہ غلط فہمی نہ ہو کہ حیات انسانی اب واردات باطن سے، جو باعتبار نوعیت (ان معنوں میں کہ اس کا تعلق ادراک بالحواس سے نہیں۔ مترجم)

٣٩

صفحہ ٣٧٥

انبیاء کے احوال و واردات سے مختلف نہیں۔ ہمیشہ کے لئے محروم ہو چکی ہے۔ قرآن مجید نے آفاق وانفس کے دونوں کو علم کا ذریعہ ٹھہرایا ہے اور اس کا ارشاد ہے کہ آیات الہیہ کا ظہور محسوسات ومدرکات (محسوسات، یعنی ہماری واردات شعور، ہمارے داخلی احوال اور تجربات اور مدرکات، یعنی ہمارے وہ مشاہدات جن کا تعلق عالم فطرت کے مطالعہ سے ہے۔ مترجم) میں خواہ ان کا تعلق خارج کی دنیا سے ہو یا داخل کی۔ ہر کہیں ہو رہا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہر پہلو کی قدر و قیمت کا کما حقہ، اندازہ کریں اور دیکھیں کہ اس سے حصول علم میں کہاں تک مدد مل سکتی ہے۔ (لہٰذا اس کی تنقید لازم ٹھہری۔ مترجم) حاصل کلام یہ کہ تصور خاتمیت سے یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہئے کہ زندگی میں اب صرف عقل ہی کا عمل دخل ہے۔ جذبات کے لئے اس میں کوئی جگہ نہیں۔ یہ بات نہ کبھی ہو سکتی ہے، نہ ہونی چاہئے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ واردات باطن کی کوئی بھی شکل ہو ہمیں بہر حال حق پہنچتا ہے کہ عقل اور فکر سے کام لیتے ہوئے اس پر آزادی کے ساتھ تنقید کریں۔ اس لئے کہ اگر ہم نے ختم نبوت کو مان لیا تو گویا عقیدۃً یہ بھی مان لیا کہ اب کسی شخص کو اس دعوے کا حق نہیں پہنچتا کہ اس کے علم کا تعلق چونکہ کسی مافوق الفطرت سرچشمے سے ہے۔ لہٰذا ہمیں اس کی اطاعت لازم آتی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو خاتمیت کا تصور ایک طرح کی نفسیاتی قوت ہے۔ جس سے مقصود یہ ہے کہ انسان کی باطنی واردات اور احوال کی دنیا میں بھی علم کے نئے نئے راستے کھل جائیں (اور ہم ان کا مطالعہ عقل وفکر اور تعلیمات نبوت کی روشنی میں کریں۔ مترجم) بعینہ جس طرح اسلامی کلمہ "لا اله الا الله محمد رسول الله" کے جزو اوّل نے انسان کے اندر یہ نظر پیدا کی کہ عالم خارج کے متعلق اپنے محسوسات ومدرکات (بالفاظ دیگر مظاہر فطرت یا قوائے طبیعیہ۔ مترجم) کا مطالعہ نگاہ تنقید سے کرے اور قوائے فطرت کو الوہیت کا رنگ دینے سے باز رہے۔ (یعنی ان کو دیوی دیوتا تصور نہ کرے۔ مترجم) جیسا کہ قدیم تہذیبوں کا دستور تھا۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ صوفیانہ واردات کو خواہ ان کی حیثیت کیسی بھی غیر معمولی اور غیر طبعی کیوں نہ ہو۔ ایسا ہی فطری اور طبعی سمجھیں۔ جیسے اپنی دوسری واردات اور اس لئے ان کا مطالعہ بھی تنقید و تحقیق کی نگاہوں سے کریں۔ آنحضرت ﷺ کا طرز عمل بھی یہی تھا۔ (تشکیل جدید الہیات اسلامیہ ص ١٩٠)

نہیں ۔ برعکس اس کے مسلمانوں کے نزدیک ان بنیادی تصورات کی اساس چونکہ وحی وتنزیل پر ہے۔ جس کا صدور ہی زندگی کی انتہائی گہرائیوں سے ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ اپنی ظاہری خارجیت (بمقابلہ ہماری ذات کے۔ مترجم) کو ایک اندرونی حقیقت میں بدل دیتی ہے۔ (کیونکہ اس سے

٤٠

در حقیقت ہماری فطرت ہی کی ترجمانی ہوتی ہے۔ "ذالک (الصف: ١١)" اگر تم جانو تو یہی تمہارے لئے بہتر ہے روحانی اساس ایمان ویقین کا معاملہ ہے۔ جس کی خاطر ایک اپنی جان دے دے گا۔ پھر اسلام کے اس بنیادی تصور کے بند ہے۔ لہٰذا اب کوئی ایسی وحی نہیں کہ ہم اس کے مکلف ٹھہر ہونی چاہئے جو روحانی اعتبار سے سب سے زیادہ استحکام سے زیادہ استحکام یا نجات یافتہ قوموں میں ہونی چاہئے سے زیادہ استحکام یافتہ قوم ہیں۔ یعنی روحانی اعتبار سے کسی قوم کو حاصل نہیں اور یہی فی الحقیقت حضرت علامہ مح کے مسلمانوں کو جنہوں نے ایشیائے قبل۔ اسلام کی روحا کے اس بنیادی تصور (خاتمیت۔ مترجم) کی ٹھیک ٹھیک چاہئے آج اپنے اس موقف کو سمجھیں (کہ باب نبوت مترجم) اور اپنی حیاتِ اجتماعیہ کی از سر نو تشکیل اسلام تا آنکہ اس کی وہ غرض وغایت جو ابھی تک صرف جزواً جمہوریت کا نشو و نما جو اس کا مقصود و منتہا ہے۔ تکمیل کو پ

اس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے خیالات کی تر نبوت کے دو اجزاء ہیں:

کی جاتی ہے۔ (مقامِ تصوف اسلام میں ایک اصطلاح

اس Institution کا قیام گو ایک نئی اخلاقی فضا ک کمالات تک پہنچتا ہے اور جو فرد اس نظام کا ممبر نہ ہو یا ہو جاتا ہے۔ اس محرومی کو مذہبی اصطلاح میں کفر کہتے کا منکر کافر ہے۔

٤١

صفحہ ٣٧٥

در حقیقت ہماری فطرت ہی کی ترجمانی ہوتی ہے۔ ”ذالكم خير لكم ان كنتم تعلمون (الصف: ١١) “ اگر تم جانو تو یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ (مترجم) ہمارے لئے تو زندگی کی روحانی اساس ایمان ویقین کا معاملہ ہے۔ جس کی خاطر ایک غیر تعلیم یافتہ مسلمان بھی برضا و رغبت اپنی جان دے دے گا۔ پھر اسلام کے اس بنیادی تصور کے پیش نظر کہ وحی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہے۔ لہٰذا اب کوئی ایسی وحی نہیں کہ ہم اس کے مکلف ٹھہریں۔ ہماری جگہ دنیا کی ان قوموں میں ہونی چاہئے جو روحانی اعتبار سے سب سے زیادہ استخلاص حاصل کر چکی ہیں۔ (ہماری جگہ سب سے زیادہ استخلاص یافتہ قوموں میں ہونی چاہئے۔ یعنی بحالت موجودہ ۔ لیکن ہم خود سب سے زیادہ استخلاص یافتہ قوم ہیں۔ یعنی روحانی اعتبار سے جو آزادی اور حریت ہمیں حاصل ہے اور کسی قوم کو حاصل نہیں اور یہی فی الحقیقت حضرت علامہ کا مطلب بھی ہے۔ مترجم) شروع شروع کے مسلمانوں کو جنہوں نے ایشیائے قبل-اسلام کی روحانی غلامی سے نجات حاصل کی تھی۔ اسلام کے اس بنیادی تصور (خاتمیت۔ مترجم) کی ٹھیک ٹھیک حقیقت سمجھنے سے قاصر رہے۔ لیکن ہمیں چاہئے آج اپنے اس مؤقف کو سمجھیں (کہ باب نبوت ہر نوع اور ہر جہت سے مسدود ہے۔ مترجم) اور اپنی حیات اجتماعیہ کی از سر نو تشکیل اسلام کے بنیادی اصولوں کی رہنمائی میں کریں۔ تا آنکہ اس کی وہ غرض وغایت جو ابھی تک صرف جزواً ہمارے سامنے آئی ہے۔ یعنی اس روحانی جمہوریت کا نشو و نما جو اس کا مقصود و منتہاء ہے۔ تکمیل کو پہنچ سکے۔

(تشکیل جدید الہیات اسلامیہ ص ٢٧٦)

میں اپنے خیالات کا اظہار کیجئے۔ ان کے خیالات کی تردید ضروری نہیں۔

نبوت کے دو اجزاء ہیں:

کی جاتی ہے۔ (مقام، تصوف اسلام میں ایک اصطلاح ہے)

اس Institution کا قیام گویا ایک نئی اخلاقی فضا کی تخلیق ہے۔ جس میں پرورش پا کر فرد اپنے کمالات تک پہنچتا ہے اور جو فرد اس نظام کا ممبر نہ ہو یا اس کا انکار کرے۔ وہ ان کمالات سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس محرومی کو مذہبی اصطلاح میں کفر کہتے ہیں۔ گویا اس دوسرے جزو کے اعتبار سے نبی کا منکر کافر ہے۔

٤١

صفحہ ٣٧٧

دونوں اجزاء موجود ہوں تو نبوت ہے۔ صرف پہلا جزو موجود ہو تو تصوف اسلام میں اس کو نبوت نہیں کہتے۔ اس کا نام ولایت ہے۔

ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد اسلام اگر یہ دعویٰ کرے کہ مجھ میں ہر دو اجزاء نبوت کے موجود ہیں۔ یعنی یہ کہ مجھے الہام وغیرہ ہوتا ہے اور میری جماعت میں داخل نہ ہونے والا کافر ہے تو وہ شخص کاذب ہے اور واجب القتل۔ مسیلمہ کذاب کو اسی بناء پر قتل کیا گیا۔ حالانکہ طبریؒ لکھتا ہے۔ وہ رسالت مآب (ﷺ) کی نبوت کا مصدق تھا اور اس کی اذان میں حضور رسالت مآب (ﷺ) کی نبوت کی تصدیق تھی۔

لیڈنگ سٹرنگز سے مراد لیڈنگ سٹرنگز آف ریلیجن نہیں۔ بلکہ لیڈنگ سٹرنگز آف فیوچر پرافٹس آف اسلام ہے۔ یا یوں کہیے کہ ایک کامل الہام و وحی کی غلامی قبول کر لینے کے بعد کسی اور الہام اور وحی کی غلامی حرام ہے۔ بڑا اچھا سودا ہے کہ ایک کی غلامی سے باقی سب غلامیوں سے نجات ہو جائے اور لطف یہ کہ نبی آخر الزمان (ﷺ) کی غلامی، غلامی نہیں بلکہ آزادی ہے۔ کیونکہ اس کی نبوت کے احکام دین فطرت ہیں۔ یعنی فطرت صحیحہ ان کو خود بخود قبول کرتی ہے۔ فطرت صحیحہ کا انہیں خود بخود قبول کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ احکام زندگی کی گہرائیوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس واسطے عین دین فطرت ہیں۔ ایسے احکام نہیں جن کو ایک مطلق العنان حکومت نے ہم پر عائد کر دیا ہے اور جن پر ہم محض خوف سے عمل کرنے پر مجبور ہیں۔ اسلام کو دین فطرت کے طور پر Realise (ثابت) کرنے کا نام تصوف ہے اور ایک اخلاص مند مسلمان کا فرض یہ ہے کہ وہ اس کیفیت کو اپنے اندر پیدا کرے۔ اس کیفیت کو میں نے لفظ Emancipation (نجات) سے تعبیر کیا ہے۔

علوم کے ماخذ انسان کے حواس اندرونی و بیرونی ہیں۔ عقل ان حواس ظاہری و معنوی کے انکشافات کی تنقید کرتی ہے اور یہی تنقید اس کا حقیقی Function (منشاء، غرض وغایت) ہے اور بس۔ مثلاً آفتاب مشرق سے طلوع کرتا ہے اور مغرب کی طرف حرکت کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ یہ حواس ظاہری کا انکشاف ہے۔ عقل کی تنقید کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ حواس کا انکشاف درست نہ تھا۔

کہ وحی تھوڑے وقت میں ایسے حقائق کا انکشاف کر دیتی ہے۔ جن کا مشاہدہ برسوں میں بھی نہیں کر سکتا۔ گویا وحی حصول علم میں جو Time (وقت) کا عنصر ہے اس کو خارج کرنے کی ایک ترکیب

٤٢

ہے۔ انسان کی ترقی کے ابتدائی مراحل میں اس ذریعہ علم مراحل میں انسان کو ان مقامات کے لئے تیار کیا جا رہا تھا خود اپنی محنت سے علم حاصل کرے۔

محمد عربی (ﷺ) کی پیدائش انسانی ارتقاء استقرائی علم سے روشناس کرانا مقصود تھا۔ میرے عقیدہ کی محض ثانوی ہے۔ سلسلہ تو الہام کا جاری ہے۔ مگر الہام ب کہ ہر اس شخص کے لئے جس کو الہام ہوا ہو۔ بالفاظ دیگر ی (کسی ایک ذات سے تعلق رکھنے والی حقیقت) ہے۔ اس ک وقعت نہیں ہے۔

میں نے پچھلے خط میں لکھا تھا کہ نبوت Political Institution (سماجی و سیاسی مکتب وحی محمدی کسی کا الہام یا وحی ایسے Institution (مکت اسلام کا یہی مذہب ہے۔ محی الدین عربی (شیخ اکبر محی مشہور صوفی بزرگ جو چھٹی صدی ہجری میں پیدا ہوئے اس کا نام ولی رکھتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ اسلام سے پہ ہوئی تھی۔ اسلام نے انسان کی توجہ علوم استقرائی کی ط الوجود کامل ہوا اور اپنی ذاتی محنت سے حاصل کردہ علم ک ہو۔ غرضیکہ بعد وحی محمدی میرے عقیدہ کی رو سے الہام ہے اس کے لئے حجت ہو تو ہو۔ اوروں کے لئے نہی بالمشافہ حضور رسالت مآب (ﷺ) سے مل کر دریا طرف منسوب کرتے ہیں۔ آپ کا ہے یا نہیں؟ اور مکاشفہ اس شخص کے لئے حجت ہوگا۔ تمام عالم اسلا تمام عالم اسلام کے لئے حجت قرار دیا جائے تو عام روایت و درایت استقرائی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

٥......

پس خدا برما شریعت ختم کرد

٤٣

صفحہ ٣٧٧

ہے۔ انسان کی ترقی کے ابتدائی مراحل میں اس ذریعہ علم کی بے انتہاء ضرورت تھی۔ کیونکہ ان مراحل میں انسان کو ان مقامات کے لئے تیار کیا جارہا تھا جن پر پہنچ کر وہ قوائے عقلیہ کی تنقید سے خود اپنی محنت سے علم حاصل کرے۔ محمد عربی (ﷺ) کی پیدائش انسانی ارتقاء کے اس مرحلے پر ہوئی۔ جب کہ انسان کو استقرائی علم سے روشناس کرانا مقصود تھا۔ میرے عقیدہ کی رو سے بعد وحی محمدی کے الہام کی حیثیت محض ثانوی ہے۔ سلسلہ تو الہام کا جاری ہے۔ مگر الہام بعد وحی محمدی حجت نہیں۔ سوائے اس کے کہ ہر اس شخص کے لئے جس کو الہام ہوا ہو۔ بالفاظ دیگر بعد وحی محمدی الہام ایک پرائیویٹ Fact (کسی ایک ذات سے تعلق رکھنے والی حقیقت) ہے۔ اس کا کوئی سوشل (معاشرتی و سماجی) مفہوم یا وقعت نہیں ہے۔

میں نے پچھلے خط میں لکھا تھا کہ نبوت کی دوسری حیثیت ایک Socio- Political Institution (سماجی و سیاسی مکتب فکر) کی ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ بعد وحی محمدی کسی کا الہام یا وحی ایسے Institution (مکتب فکر) کی بناء قرار نہیں پاسکتا۔ تمام صوفیہ اسلام کا یہی مذہب ہے۔ محی الدین عربی (شیخ اکبر محی الدین ابن عربی اسلامی اندلس کے ایک مشہور صوفی بزرگ جو چھٹی صدی ہجری میں پیدا ہوئے) تو الہام پانے والے کو نبی کہتے ہی نہیں۔ اس کا نام ولی رکھتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ اسلام سے پہلے بنی نوع انسان میں شعور ذات کی تکمیل نہ ہوئی تھی۔ اسلام نے انسان کی توجہ علوم استقرائی کی طرف مبذول کی تا کہ انسانی فطرت فی کل الوجوہ کامل ہو اور اپنی ذاتی محنت سے حاصل کردہ علم کے ذریعہ سے انسان میں اعتماد علی النفس پیدا ہو۔ غرضیکہ بعد وحی محمدی میرے عقیدہ کی رو سے الہام کی حیثیت محض ثانوی ہے۔ جس شخص کو ہوتا ہے اس کے لئے حجت ہو تو ہو۔ اوروں کے لئے نہیں ہے۔ اگر آج کوئی شخص کہے کہ میں نے بالمشافہ حضور رسالت مآب (ﷺ) سے مل کر دریافت کیا ہے کہ فلاں ارشاد جو محدثین آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ آپ کا ہے یا نہیں؟ اور مجھے حضور (ﷺ) نے کہا ہے کہ نہیں تو ایسا مکاشفہ اس شخص کے لئے حجت ہوگا۔ تمام عالم اسلام کے لئے نہیں۔ اگر اس قسم کے مکاشفات کو تمام عالم اسلام کے لئے حجت قرار دیا جائے تو عام تنقیدی تاریخ کا خاتمہ ہو جاتا ہے یا بالفاظ دیگر روایت و درایت استقرائی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

٥.......

(انوار اقبال ص ٤٤ تا ٤٩)

پس خدا برما شریعت ختم کرد بر رسول ما رسالت ختم کرد

٤٣

صفحہ ٣٧٩
رونق از ما محفل ایام را او رسل را ختم و ما اقوام را
خدمت ساقی گری با ما گذاشت داد مارا آخرین جامے کہ داشت
لا نبی بعدی زاحسان خدا است پردۂ ناموس دین مصطفے است
قوم را سرمایہ قوت ازو حفظ سر وحدت ملت ازو
حق تعالیٰ نقش ہر دعوٰی شکست تا ابد اسلام را شیرازہ بست
دل زغیر اللہ مسلماں برکند نعرۂ لا قوم بعدی می زند

ترجمہ:

جہاں کی رونق ہم سے ہے۔

ہم ہی انجام دیں گے۔

سے ایک بڑا احسان ہے۔ دین مصطفے (ﷺ) کی عزت و ناموس کا محافظ بھی یہی ہے۔

تحفظ کا راز پوشیدہ ہے۔

ہمیشہ کے لئے مجتمع کر دیا ہے۔

کے بعد کوئی امت نہیں، کا نعرہ بلند کرتا ہے۔

(نوٹ: یہ نظم حضرت علامہ کی مشہور مثنوی رموز بے خودی سے لی گئی ہے۔ ملاحظہ ہو)

باب دوم ...... فتنہ قادیانیت اور مضامین اقبالؒ

محکوم کے الہام سے اللہ بچائے
غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز

(ضرب کلیم)

٤٤

”حکومت، قادیانیوں کو (مسلمانوں سے) قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا اور مسلمان ان سے وہ باقی مذاہب کے معاملہ میں اختیار کرتا ہے۔“

قادیانی اور جمہور مسلمان

قادیانیوں اور جمہور مسلمانوں کی نزاع نے نہا کے مسلمانوں نے حال ہی میں اس کی اہمیت کو محسوس کرنا ایک کھلی چٹھی کے ذریعہ اس مسئلہ کے معاشرتی اور سیاسی پ صحت نے ساتھ نہ دیا۔ البتہ ایک ایسے معاملہ کے متعلق زندگی سے وابستہ ہے۔ میں نہایت مسرت سے کچھ عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ میں کسی مذہبی بحث میں الجھنا نہیں چ کا نفسیاتی تجزیہ کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی چیز عام مسلمانوں کے لئے ہندوستان میں ابھی وقت نہیں آیا۔

ہندوستان کی سرزمین پر بے شمار مذاہب ملے مذاہب کی نسبت زیادہ گہرا ہے۔ کیونکہ ان مذاہب کی نسلی، اسلام نسلی تخیل کی سراسر نفی کرتا ہے اور اپنی بنیاد م بنیاد صرف دینی ہے۔ اس لئے وہ سراپا روحانیت ہے ہے۔ اسی لئے مسلمان ان تحریکوں کے معاملہ میں زیا خطرناک ہیں۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے خطرہ تصور کر نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔

انسانیت کی تمدنی تاریخ میں غالباً ختم نبو اندازہ مغربی اور وسط ایشیاء کے موبدانہ تمدن کی تاریخ زرتشتی، یہودی، نصرانی اور صابی تمام مذاہب شامل ہ تخیل نہایت لازم تھا۔ چنانچہ ان پر مستقل انتظار کی حظ کا باعث تھی۔

٤٥

صفحہ ٣٧٩

”حکومت، قادیانیوں کو (مسلمانوں سے) ایک الگ جماعت تسلیم کر لے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا اور مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا۔ جیسی وہ باقی مذاہب کے معاملہ میں اختیار کرتا ہے۔“

قادیانی اور جمہور مسلمان

قادیانیوں اور جمہور مسلمانوں کی نزاع نے نہایت اہم سوال پیدا کیا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے حال ہی میں اس کی اہمیت کو محسوس کرنا شروع کیا۔ میرا ارادہ تھا کہ انگریز قوم کو ایک کھلی چٹھی کے ذریعہ اس مسئلہ کے معاشرتی اور سیاسی پہلوؤں سے آگاہ کروں۔ لیکن افسوس کہ صحت نے ساتھ نہ دیا۔ البتہ ایک ایسے معاملہ کے متعلق جو تمام ہندی مسلمانوں کی پوری قومی زندگی سے وابستہ ہے، میں نہایت مسرت سے کچھ عرض کروں گا۔ لیکن میں آغاز ہی میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں کسی مذہبی بحث میں الجھنا نہیں چاہتا اور نہ ہی میں قادیانی تحریک کے بانی کا نفسیاتی تجزیہ کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی چیز عام مسلمانوں کے لئے کچھ دلچسپی نہیں رکھتی اور دوسری کے لئے ہندوستان میں ابھی وقت نہیں آیا۔

ہندوستان کی سرزمین پر بے شمار مذاہب بستے ہیں۔ اسلام دینی حیثیت سے ان تمام مذاہب کی نسبت زیادہ گہرا ہے۔ کیونکہ ان مذاہب کی بناء کچھ حد تک مذہبی ہے اور ایک حد تک نسلی، اسلام نسلی تخیل کی سراسر نفی کرتا ہے اور اپنی بنیاد محض مذہبی تخیل پر رکھتا ہے اور چونکہ اس کی بنیاد صرف دینی ہے۔ اس لئے وہ سراپا روحانیت ہے اور خونی رشتوں سے کہیں زیادہ لطیف بھی ہے۔ اسی لئے مسلمان ان تحریکوں کے معاملہ میں زیادہ حساس ہے جو اس کی وحدت کے لئے خطرناک ہیں۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو لیکن اپنی بناء نئی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے، مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے خطرہ تصور کرے گا اور یہ اس لئے کہ اسلامی وحدت ختم نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔

انسانیت کی تمدنی تاریخ میں غالباً ختم نبوت کا تخیل سب سے انوکھا ہے۔ اس کا صحیح اندازہ مغربی اور وسط ایشیاء کے موبدانہ تمدن کی تاریخ کے مطالعہ سے ہوسکتا ہے۔ موبدانہ تمدن میں زرتشتی، یہودی، نصرانی اور صابی تمام مذاہب شامل ہیں۔ ان تمام مذاہب میں نبوت کے اجراء کا تخیل نہایت لازم تھا۔ چنانچہ ان پر مستقل انتظار کی کیفیت رہتی تھی۔ غالباً یہ حالت انتظار نفسیاتی حظ کا باعث تھی۔

٤٥

صفحہ ٣٨٠

عہد جدید کا انسان روحانی طور پر موبد سے بہت زیادہ آزاد منش ہے۔ موبدانہ رویہ کا نتیجہ یہ تھا کہ پرانی جماعتیں ختم ہوتیں اور ان کی جگہ مذہبی عبارتی جماعتیں لا کھڑی کرتے۔ اسلام کی جدید دنیا میں جاہل اور جوشیلے ملانے پریس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قبل اسلامی نظریات کو بیسویں صدی میں رائج کرنا چاہا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ اسلام، جو تمام جماعتوں کو ایک رسی میں پرونے کا دعویٰ رکھتا ہے۔ ایسی تحریک کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں رکھ سکتا جو اس کی موجودہ وحدت کے لئے خطرہ ہو اور مستقبل میں انسانی سوسائٹی کے لئے مزید افتراق کا باعث بنے۔

اس سے قبل اسلامی موبدیت نے حال ہی میں جن دو صورتوں میں جنم لیا ہے میرے نزدیک ان میں بہائیت قادیانیت سے کہیں زیادہ مخلص ہے۔ کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے۔ لیکن مؤخرالذکر اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے۔ لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے۔ اس کا حاسد خدا کا تصور کہ جس کے پاس دشمنوں کے لئے لاتعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں۔ اس کا نبی کے متعلق نجومی کا تخیل اور اس کا روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں۔ گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔ روح مسیح کا تسلسل یہودی باطنیت کا جزو ہے۔ یہودی صوفی بال شیم Beal Shem کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر بوبر Buber کہتا ہے کہ مسیح کی روح پیغمبروں اور صالح آدمیوں کے واسطے سے زمین پر اتری، اسلامی ایران میں موبدانہ اثر کے ماتحت ملحدانہ تحریکیں اٹھیں اور انہوں نے بروز، حلول اور ظل وغیرہ اصطلاحات وضع کیں۔ تاکہ تناسخ کے اس تصور کو چھپا سکیں۔ ان اصطلاحات کا وضع کرنا اس لئے لازم تھا کہ وہ مسلم قلوب کو ناگوار نہ گزریں۔ حتیٰ کہ مسیح موعود کی اصطلاح بھی اسلامی نہیں بلکہ اجنبی ہے اور اس کا آغاز بھی اس موبدانہ تصور میں ملتا ہے۔ یہ اصطلاح ہمیں اسلام کے دور اوّل کی تاریخ اور مذہبی ادب میں نہیں ملتی۔ اس حیرت انگیز واقعہ کو پروفیسر ونسنک Wensinck نے اپنی کتاب موسومہ، ”احادیث میں ربط میں نمایاں“ کیا ہے۔ یہ کتاب احادیث کے گیارہ مجموعوں اور اسلام کے تین اوّلین تاریخی شواہد پر حاوی ہے اور یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ اسلاف نے اس اصطلاح کو کیوں استعمال نہیں کیا؟ یہ اصطلاح انہیں غالباً اس لئے ناگوار تھی کہ اس سے تاریخی عمل کا غلط نظریہ قائم ہوتا تھا۔ خاکی ذہن وقت کو مدور حرکت تصور کرتا تھا۔ مسیح تاریخی عمل کو بحیثیت ایک تخلیقی حرکت کے ظاہر کرنے کی سعادت عظیم مسلمان مفکر اور مورخ یعنی ابن خلدون کے حصہ میں تھی۔

٤٦

ہندی مسلمانوں نے قادیانی تحریک جدید اجتماعیات کے طالبعلم پر واضح ہے۔ عالـ ایک صاحب نے ”ملازدہ“ کا خطاب دیا تھاـ ہے۔ اگرچہ اسے ختم نبوت کے عقیدہ کی پورـ کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا اور مغربیت کی ہے۔ بعض ایسے ہی نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمـ ہے۔ اگر سر ہربرٹ ایمرسن (تب گورنر پنجاـ معذور سمجھتا ہوں۔ کیونکہ موجودہ زمانے کے پائی ہو۔ اس کے لئے اتنی گہری نظر پیدا کرـ کے اہم مسائل کو سمجھ سکے۔

ہندوستان میں حالات بہت بقاء اپنے استحکام کے ساتھ وابستہ ہے۔ کے سوا چارہ نہیں کہ مذہب کے معاملہ میں ایسے ملک پر بدقسمتی سے بہت برا اثر ڈالـ مسلم جماعت کا استحکام اس سے کہیں کم جماعت کا روس کے ماتحت تھا۔ ہندوسـ جماعت کھڑی کرسکتا ہے اور یہ لبرل حکوـ بشرطیکہ یہ مدعی اسے اپنی اطاعت اور وفـ ادا کرتے رہیں۔ اسلام کے حق میں اـ بھانپ لیا تھا۔ جب اس نے اپنے مزاـ گورنمنٹ انا الحق میں قدامت پسند ہندوـ انہوں نے نئے دستور میں مذہبی طرف سے پہلے پیش ہونا چاہئے تھا نہیں دیتے۔

صفحہ ٣٨١

ہندی مسلمانوں نے قادیانی تحریک کے خلاف جس شدت احساس کا ثبوت دیا ہے وہ جدید اجتماعیات کے طالب علم پر واضح ہے۔ عام مسلمان جسے پچھلے دن ”سول اینڈ ملٹری گزٹ“ میں ایک صاحب نے ”ملا زدہ“ کا خطاب دیا تھا۔ اس تحریک کے مقابلہ میں حفظ نفس کا ثبوت دے رہا ہے۔ اگرچہ اسے ختم نبوت کے عقیدہ کی پوری سمجھ نہیں۔ نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختم نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا اور مغربیت کی ہوا نے انہیں حفظ نفس کے جذبہ سے بھی عاری کر دیا ہے۔ بعض ایسے ہی نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کو رواداری کا مشورہ دیا ہے۔ اگر سر ہربرٹ ایمرسن (تب گورنر پنجاب) مسلمانوں کو رواداری کا مشورہ دیں تو میں انہیں معذور سمجھتا ہوں۔ کیونکہ موجودہ زمانے کے فرنگی کے لئے جس نے بالکل مختلف تمدن میں پرورش پائی ہو۔ اس کے لئے اتنی گہری نظر پیدا کرنی دشوار ہے کہ وہ ایک مختلف تمدن رکھنے والی جماعت کے اہم مسائل کو سمجھ سکے۔

ہندوستان میں حالات بہت غیر معمولی ہیں۔ اس ملک کی بے شمار مذہبی جماعتوں کی بقاء اپنے استحکام کے ساتھ وابستہ ہے۔ کیونکہ جو مغربی قوم یہاں حکمران ہے۔ اس کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ مذہب کے معاملہ میں عدم مداخلت سے کام لے۔ اس پالیسی نے ہندوستان ایسے ملک پر بدقسمتی سے بہت برا اثر ڈالا ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے۔ یہ مبالغہ نہ ہوگا کہ مسلم جماعت کا استحکام اس سے کہیں کم ہے۔ جتنا حضرت مسیح (علیہ السلام) کے زمانہ میں یہودی جماعت کا رومن کے ماتحت تھا۔ ہندوستان میں کوئی مذہبی شعبدہ باز اپنی اغراض کی خاطر ایک نئی جماعت کھڑی کر سکتا ہے اور یہ لبرل حکومت اصل جماعت کی وحدت کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتی۔ بشرطیکہ یہ مدعی اسے اپنی اطاعت اور وفاداری کا یقین دلاوے اور اس کے پیرو حکومت کے محصول ادا کرتے رہیں۔ اسلام کے حق میں اس پالیسی کا مطلب ہمارے شاعر عظیم اکبر نے اچھی طرح بھانپ لیا تھا۔ جب اس نے اپنے مزاحیہ انداز میں کہا۔

گورنمنٹ کی خیر یارو مناؤ
انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ

میں قدامت پسند ہندوؤں کے اس مطالبہ کے لئے پوری ہمدردی رکھتا ہوں۔ جو انہوں نے نئے دستور میں مذہبی مصلحین کے خلاف پیش کیا ہے۔ یقیناً یہ مطالبہ مسلمانوں کی طرف سے پہلے پیش ہونا چاہئے تھا۔ جو ہندوؤں کے برعکس اپنے اجتماعی نظام میں نسلی تخیل کو دخل نہیں دیتے۔

٤٧

صفحہ ٣٨٣

حکومت کو موجودہ صورتحال پر غور کرنا چاہیے اور اس معاملہ میں جو قومی وحدت کے لئے اشد اہم ہے۔ عام مسلمانوں کی ذہنیت کا اندازہ لگانا چاہئے۔ اگر کسی قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے لئے اس کے سوا چارہ کار نہیں رہتا کہ وہ معاندانہ قوتوں کے خلاف مدافعت کرے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ مدافعت کا کیا طریقہ ہے؟ اور وہ طریقہ یہی ہے کہ اصل جماعت جس شخص کو ”تلعب بالدین“ کرتے پائے۔ اس کے دعاوی کو تحریر و تقریر کے ذریعہ جھٹلایا جائے۔ پھر کیا یہ مناسب ہے کہ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے۔ حالانکہ اس کی وحدت خطرہ میں ہو اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو۔ اگر چہ وہ تبلیغ دشنام سے لبریز ہو۔

اگر کوئی گروہ، جو اصل جماعت کے نقطہ نظر سے باغی ہے۔ حکومت کے لئے مفید ہے تو حکومت اس کی خدمات کا صلہ دینے کی پوری طرح مجاز ہے۔ دوسری جماعتوں کو اس سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہو سکتی۔ لیکن یہ توقع رکھنی بیکار ہے کہ خود جماعت ایسی قوتوں کو نظر انداز کر دے جو اس کے اجتماعی وجود کے لئے خطرہ ہیں۔ اس مقام پر یہ دہرانے کی غالباً ضرورت نہیں کہ مسلمانوں کے بیشمار فرقوں کے مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی مسائل پر کچھ اثر نہیں پڑتا جن مسائل پر سب فرقے متفق ہیں۔ اگر چہ وہ ایک دوسرے پر الحاد کے فتوے ہی دیتے ہوں۔

ایک اور چیز بھی حکومت کی خاص توجہ کی محتاج ہے۔ ہندوستان میں مذہبی مدعیوں کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مذہب سے بالعموم بیزار ہونے لگتے ہیں اور بالآخر مذہب کے اہم عنصر کو اپنی زندگی سے علیحدہ کر دیتے ہیں۔ ہندوستانی دماغ ایسی صورت میں مذہب کی جگہ کوئی اور بدل پیدا کرے گا۔ جس کی شکل روس کی دہری مادیت سے ملتی جلتی ہوگی۔ لیکن پنجابی مسلمانوں کی پریشانی کا باعث محض مذہبی سوال نہیں ہے۔ کچھ جھگڑے سیاسی بھی ہیں۔ جن کی طرف سر ہربرٹ ایمرسن نے انجمن حمایت اسلام کے سالانہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے اشارہ کیا ہے۔ یہ اگر چہ خالص سیاسی جھگڑے ہیں۔ لیکن ان کی اہمیت بھی مذہبی سوال سے کسی طرح کم نہیں۔ جہاں مجھے حکومت کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ اسے پنجابی مسلمانوں کی وحدت کا احساس ہے۔ وہاں میں حکومت کو احتساب خویش کا مشورہ بھی دوں گا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ شہری اور دیہاتی مسلمان کی تمیز کے لئے کون ذمہ دار ہے؟ جس کی بدولت مسلمان جماعت دو گروہوں میں تقسیم ہو گئی ہے اور دیہاتی حصہ خود بہت سے گروہوں میں بٹ گیا ہے۔ جو ہر دم آپس میں برسر پیکار رہتے ہیں؟

٤٨

سر ہربرٹ ایمرسن پنجابی مسلمانوں کی اے کاش! وہ سمجھ سکتے کہ حکومت کی اس شہری دیہاتی کے ذریعہ برقرار رکھتی ہے۔ جماعت کو ناقابل ہٹ میں اس حربہ کا استعمال ہی اس غرض سے کیا گیا ہے ایمرسن صحیح رہنما کی عدم موجودگی کا رونا روتے ہ ایسے رہنما کی پیدائش کو ناممکن بنا دیا ہے۔

ضمیمہ ٢

مجھے معلوم ہوا ہے کہ میرے بیان نے خیال کیا جا رہا ہے کہ میں نے حکومت کو یہ دلیل دی۔ میرا یہ مدعا ہر گز نہ تھا۔ میں نے اس امر کی پالیسی ہی ایک ایسا طریقہ ہے۔ جسے ہندوستان علاوہ کوئی پالیسی ممکن ہی نہیں۔ البتہ مجھے یہ احسا کے خلاف ہے۔ اگر چہ اس سے بچنے کی راہ کوئی کرنی پڑے گی۔

میری رائے میں حکومت کے لئے ب جماعت تسلیم کر لے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی ک سے کام لے گا۔ جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملہ

اسٹیٹس مین کے جواب میں

میرے بیان مطبوعہ ١٤ مئی پر آپ ممنون ہوں۔ جو سوال آپ نے اپنے مضمو مسرت ہے کہ آپ نے اس سوال کی اہمیت نظر انداز کر دیا تھا۔ کیونکہ (میں سمجھتا ہوں کہ نے مذہبی اور معاشرتی معاملات میں ایک ق فرض ہے کہ وہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے اٹھائے) اور اس کا انتظار نہ کرے کہ مسلمہ حکومت کے محکموں کے متعلق رویہ سے اور ہم

صفحہ ٣٨٣

سر ہربرٹ ایمرسن پنجابی مسلمانوں کی صحیح قیادت کی عدم موجودگی کا گلہ کرتے ہیں۔ اے کاش! وہ سمجھ سکتے کہ حکومت کی اس شہری دیہاتی تمیز نے، جسے وہ خود غرض سیاسی حیلہ بازوں کے ذریعہ برقرار رکھتی ہے۔ جماعت کو نا قابل بنا دیا ہے کہ وہ صحیح رہنما پیدا کر سکے۔ میرے خیال میں اس حربہ کا استعمال ہی اس غرض سے کیا گیا ہے۔ تا کہ کوئی صحیح رہنما پیدا نہ ہو سکے۔ سر ہربرٹ ایمرسن صحیح رہنما کی عدم موجودگی کا رونا روتے ہیں اور میں اس نظام کا رونا روتا ہوں۔ جس نے ایسے رہنما کی پیدائش کو ناممکن بنا دیا ہے۔

(حرف اقبال ص ١٤٨)

ضمیمہ ٧

مجھے معلوم ہوا ہے کہ میرے بیان سے بعض حلقوں میں غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں اور یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ میں نے حکومت کو یہ دقیق مشورہ دیا ہے کہ وہ قادیانی تحریک کا بہ جبر انسداد کر دے۔ میرا یہ مدعا ہرگز نہ تھا۔ میں نے اس امر کی وضاحت کر دی تھی کہ مذہب میں عدم مداخلت کی پالیسی ہی ایک ایسا طریقہ ہے۔ جسے ہندوستان کی موجودہ حکمران قوم اختیار کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی پالیسی ممکن ہی نہیں۔ البتہ مجھے یہ احساس ضرور ہے کہ یہ پالیسی مذہبی جماعتوں کے فوائد کے خلاف ہے۔ اگر چہ اس سے بچنے کی راہ کوئی نہیں۔ جنہیں خطرہ محسوس ہو، انہیں خود اپنی حفاظت کرنی پڑے گی۔

میری رائے میں حکومت کے لئے بہترین طریق کار یہ ہو گا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کر لے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہو گا اور مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا۔ جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملہ میں اختیار کرتا ہے۔

(حرف اقبال ص ١٤٨، ١٤٩)

اسٹیٹس مین کے جواب میں ٨

میرے بیان مطبوعہ ١٤؍ مئی پر آپ نے تنقیدی اداریہ لکھا۔ اس کے لئے میں آپ کا ممنون ہوں۔ جو سوال آپ نے اپنے مضمون میں اٹھایا ہے وہ فی الواقعہ بہت اہم ہے اور مجھے مسرت ہے کہ آپ نے اس سوال کی اہمیت کو محسوس کیا ہے۔ میں نے اپنے بیان میں اسے نظر انداز کر دیا تھا۔ کیونکہ (میں سمجھتا ہوں کہ قادیانیوں کی تفریق کی پالیسی کے پیش نظر جو انہوں نے مذہبی اور معاشرتی معاملات میں ایک نئی نبوت کا اعلان کر کے اختیار کی ہے۔ خود حکومت کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے بنیادی اختلافات کا لحاظ رکھتے ہوئے آئینی اقدام اٹھائے) اور اس کا انتظار نہ کرے کہ مسلمان کب مطالبہ کرتے ہیں اور مجھے اس احساس میں حکومت کے سکھوں کے متعلق رویہ سے اور بھی تقویت ملی۔ سکھ ١٩١٩ء تک آئینی طور پر علیحدہ سیاسی

٤٩

صفحہ ٣٨٤

جماعت تصور نہیں کئے جاتے تھے۔ لیکن اس کے بعد علیحدہ جماعت تسلیم کر لئے گئے۔ حالانکہ انہوں نے کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔ بلکہ لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا تھا کہ سکھ ہندو ہیں۔

اب چونکہ آپ نے یہ سوال پیدا کیا ہے۔ میں چاہتا ہوں اس مسئلہ کے متعلق، جو برطانوی اور مسلم دونوں زاویۂ نگاہ سے نہایت اہم ہے۔ چند معروضات پیش کروں۔ آپ چاہتے ہیں کہ میں واضح کروں کہ حکومت جب کسی جماعت کے مذہبی اختلافات کو تسلیم کرتی ہے تو میں اسے کس حد تک گوارا کر سکتا ہوں۔ سو عرض ہے کہ:

اولاً ....... اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے۔ جس کے حدود مقرر ہیں۔ یعنی وحدت الوہیت پر ایمان، انبیاء پر ایمان اور رسول کریم (ﷺ) کی ختم رسالت پر ایمان دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے کہ فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں؟ مثلاً برہمو خدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریم (ﷺ) کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں۔ لیکن انہیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعہ وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول کریم (ﷺ) کی ختم نبوت کو نہیں مانتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کرسکا۔ ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بحیثیت دین کے خدا کی طرف سے ظاہر ہوا۔ لیکن اسلام بحیثیت سوسائٹی یا ملت کے رسول کریم (ﷺ) کی شخصیت کا مرہون منت ہے۔ میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دوراہیں ہیں یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں اور ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلادیں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ قبول کر لیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقۂ اسلام میں ہو۔ تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔

ثانیاً ...... ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ بابی تحریک نے ملت اسلامیہ کو سڑے ہوئے دودھ سے تشبیہہ دی تھی اور اپنی جماعت کو تازہ دودھ سے اور اپنے مقلدین کو ملت اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا تھا۔ علاوہ بریں ان کا بنیادی اصولوں سے انکار، اپنی جماعت کا نیا نام (احمدی) مسلمانوں کی قیام نماز سے قطع تعلق، نکاح وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور ان سب سے بڑھ کر یہ اعلان کہ دنیائے اسلام کافر ہے۔ یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں۔ بلکہ واقعہ

٥٠

صفحہ ٣٨٥

یہ ہے کہ وہ اسلام سے اس سے کہیں دور ہیں۔ جتنے سکھ ہندوؤں سے کیونکہ سکھ ہندوؤں سے باہمی شادیاں کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ مندروں میں پوجا نہیں کرتے۔

ثالثاً ..... اس امر کو سمجھنے کے لئے کسی خاص ذہانت یا غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے کہ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رہنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟ علاوہ سرکاری ملازمتوں کے فوائد کے ان کی موجودہ آبادی جو ٥٦٠٠٠ (چھپن ہزار) ہے۔ انہیں کسی اسمبلی میں ایک نشست بھی نہیں دلا سکتی اور اس لئے انہیں سیاسی اقلیت کی حیثیت بھی نہیں مل سکتی۔ یہ واقعہ اس امر کا ثبوت ہے کہ قادیانیوں نے اپنی جداگانہ سیاسی حیثیت کا مطالبہ نہیں کیا۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مجالس قانون ساز میں ان کی نمائندگی نہیں ہو سکتی۔ نئے دستور میں ایسی اقلیتوں کے تحفظ کا علیحدہ لحاظ رکھا گیا ہے۔ لیکن میرے خیال میں قادیانی حکومت سے کبھی علیحدگی کا مطالبہ کرنے میں پہل نہیں کریں گے۔ ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔ کیونکہ وہ ابھی اس قابل نہیں کہ چھوٹی جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کی برائے نام اکثریت کو ضرب پہنچا سکے۔ حکومت نے ١٩١٩ء میں سکھوں کی طرف سے علیحدگی کے مطالبہ کا انتظار نہ کیا۔ اب وہ قادیانیوں سے ایسے مطالبہ کے لئے کیوں انتظار کر رہی ہے۔

(حرف اقبال ص ١٣٦ تا ١٣٨)

اسلام اور احمدیت

ماڈرن ریویو، کلکتہ میں پنڈت جواہر لال نہرو کے تین مضامین شائع ہونے کے بعد مجھے اکثر مسلمانوں نے جو مختلف مذہبی و سیاسی مسلک رکھتے ہیں متعدد خطوط لکھے ہیں۔ ان میں سے بعض کی خواہش ہے کہ میں قادیانیوں کے بارے میں مسلمانان ہند کے طرزعمل کی مزید توضیح کروں اور اس طرزعمل کو حق بجانب ثابت کروں۔ بعض یہ دریافت کرتے ہیں کہ میں قادیانیت میں کس مسئلہ کو تنقیح طلب سمجھتا ہوں۔ اس بیان میں میں ان مطالبات کو پورا کرنا چاہتا ہوں۔ جن کو میں بالکل جائز تصور کرتا ہوں اور اس کے بعد ان سوالات کا جواب دینا چاہتا ہوں۔ جو پنڈت جواہر لال نہرو نے اٹھائے ہیں۔ بہرحال مجھے اندیشہ ہے کہ اس بیان کا ایک حصہ پنڈت جی کے لئے دلچسپ نہ ہوگا۔ لہٰذا ان کا وقت بچانے کے لئے میرا یہ مشورہ ہے کہ وہ ایسے حصوں کو نظر انداز کر دیں۔

یہ بیان کرنا میرے لئے ضروری نہیں کہ پنڈت جی کو مشرق کے، بلکہ ساری دنیا کے

٥١

صفحہ ٣٨٦

ایک عظیم الشان مسئلے سے جو دلچسپی ہے، میں اس کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ میری رائے میں یہ پہلے ہندوستانی قوم پرست قائد ہیں۔ جنہوں نے دنیائے اسلام کی موجودہ روحانی بے چینی کو سمجھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس بے چینی کے مختلف پہلوؤں اور ممکن ردعمل کے مدنظر ہندوستان کے ذی فکر سیاسی قائدین کو چاہئے کہ اس وقت قلب اسلام میں جو چیز ہیجان پیدا کر رہی ہے اس کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

بہر حال میں اس واقعہ کو پنڈت جی اور قارئین سے پوشیدہ رکھنا نہیں چاہتا کہ پنڈت جی کے مضامین نے میرے ذہن میں احساسات کا ایک دردناک ہیجان پیدا کر دیا۔ یہ جانتے ہوئے کہ پنڈت جی ایک ایسے انسان ہیں جو مختلف تہذیبوں سے وسیع ہمدردی رکھتے ہیں۔ میرا ذہن اس خیال کی طرف مائل ہے کہ جن سوالات کو وہ سمجھنے کی خواہش رکھتے ہیں وہ بالکل خلوص پر مبنی ہے۔ تاہم جس طریقے سے انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے ایسی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے جس کو پنڈت جی سے منسوب کرنا میرے لئے دشوار ہے۔ میں اس خیال کی طرف مائل ہوں کہ میں نے قادیانیت کے متعلق جو بیان دیا تھا (جس میں ایک مذہبی نظریہ کی محض جدید اصول کے مطابق تشریح کی گئی تھی) اس سے پنڈت جی اور قادیانی دونوں پریشان ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف وجوہ کی بناء پر دونوں اپنے دل میں مسلمانان ہند کے مذہبی اور سیاسی استحکام کو پسند نہیں کرتے۔ یہ ایک بدیہی بات ہے کہ ہندوستانی قوم پرست جن کی سیاسی تصوریت نے حقائق کو کچل ڈالا ہے۔ اس بات کو گوارا نہیں کرتے کہ شمال مغربی ہند کے مسلمانوں میں احساس خود مختاری پیدا ہو۔ میری رائے میں ان کا یہ خیال غلط ہے کہ ہندوستانی قومیت کے لئے ملک کی مختلف تہذیبوں کو مٹا دینا چاہئے۔ حالانکہ ان تہذیبوں کے باہمی عمل واثر سے ہندوستان ایک ترقی پذیر اور پائیدار تہذیب کو نمو دے سکتا ہے۔ ان طریقوں سے جو تہذیب نمو پائے گی اس کا نتیجہ بجز باہمی تشدد اور تلخی کے اور کیا ہوگا ؟ یہ بات بھی بدیہی ہے کہ قادیانی بھی مسلمانان ہند کی سیاسی بیداری سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ مسلمانان ہند کے سیاسی نفوذ کی ترقی سے ان کا یہ مقصد یقیناً فوت ہو جائے کہ پیغمبر عرب (ﷺ) کی امت سے ہندوستانی پیغمبر کی ایک نئی امت تیار کریں۔ حیرت کی بات ہے کہ میری یہ کوشش کہ مسلمانان ہند کو اس امر سے متنبہ کروں کہ ہندوستان کی تاریخ میں جس دور سے وہ گزر رہے ہیں۔ اس میں ان کا اندرونی استحکام کس قدر ضروری ہے اور ان انتشار انگیز قوتوں سے محترز رہنا کس قدر ناگزیر ہے۔ جو اسلامی تحریکات کے بھیس میں پیش ہوتی ہیں۔ پنڈت جی کو یہ موقع دیتی ہے کہ ایسی تحریکوں سے ہمدردی کریں۔

٧ بہر کیف میں پنڈت جی کے محرکات جو لوگ قادیانیت کے متعلق عام مسلمانوں کے طر لئے میں ڈیورنٹ (Derant) کی کتا Philosophy) کا اقتباس پیش کرتا ہوں کہ قادیانیت میں امر تنقیح طلب کیا ہے۔ ڈیورنٹ جماعت بدر کئے جانے سے متعلق یہودی نقطہ نظ قارئین یہ خیال نہ کریں کہ اس اقتباس کے پیش میں کسی قسم کا موازنہ کرنا ہے۔ عقل و سیرت ۔ خدا مست اسپانوزا نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ نہ لائے یہودیت سے خارج ہے۔ اسپانوزا ب عبارت یہودیوں کے طرز عمل پر اس قدر من مسلمانوں کے طرز عمل پر ہوتی ہے۔ یہ عبارت کہ ایمسٹرڈم (Amsterdam) میں ان کا واحد ذریعہ مذہبی وحدت ہے اور یہودیوں کی اور ان میں اتفاق پیدا کرنے کا آخری ذریعہ قانون اور دنیاوی قوت وطاقت کے ادارے استحکام حاصل کر سکتے تو وہ زیادہ روادار ہو حب الوطنی بھی۔ ان کا معبد ان کی عبادت کا ا بھی مرکز تھا۔ ان حالات کے ماتحت انہوں نے ایمسٹر ڈم میں یہودیوں کی حیثیت انتشار انگیز ہستی سمجھنے میں حق بجانب تھے ۔ طرح مسلمانان ہند یہ سمجھنے میں حق بجانب ہی دیتی ہے اور اس سے معاشرتی مقاطعہ کرتی اس مابعد الطبیعات سے زیادہ خطرناک ہے مسلمانان ہند ان حالات کی مخصوص نوعیت کی میں گھرے ہوئے ہیں اور دوسرے ممالک

صفحہ ٣٨٧

بہر کیف میں پنڈت جی کے محرکات کی تحلیل کے ناگوار فرض کو جاری رکھنا نہیں چاہتا۔

جو لوگ قادیانیت کے متعلق عام مسلمانوں کے طرز عمل کی توضیح چاہتے ہیں۔ ان کے استفادہ کے لئے میں ڈیورنٹ (Durant) کی کتاب ”افسانہ فلسفہ“ (Story of Philosophy) کا اقتباس پیش کرتا ہوں۔ جس سے قارئین کو واضح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ قادیانیت میں امر تنقیح طلب کیا ہے۔ ڈیورنٹ نے فلسفی اعظم اسپائنوزا (Spinoza) کے جماعت بدر کئے جانے سے متعلق یہودی نقطہ نظر کو اختصار کے ساتھ چند جملوں میں بیان کیا ہے۔ قارئین یہ خیال نہ کریں کہ اس اقتباس کے پیش کرنے سے میرا مطلب اسپائنوزا اور بانی قادیانیت میں کسی قسم کا موازنہ کرنا ہے۔ عقل و سیرت کے لحاظ سے ان دونوں کے مابین بعد عظیم ہے۔ خدا مست اسپائنوزا نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ کسی جدید تنظیم کا مرکز ہے جو یہودی اس پر ایمان نہ لائے یہودیت سے خارج ہے۔ اسپائنوزا کے جماعت بدر کئے جانے کے متعلق ڈیورنٹ کی عبارت یہودیوں کے طرز عمل پر اس قدر منطبق نہیں ہوتی۔ جس قدر کہ قادیانیت کے متعلق مسلمانوں کے طرز عمل پر ہوتی ہے۔ یہ عبارت حسب ذیل ہے: ”علاوہ بریں اکابر یہود کا خیال تھا کہ ایمسٹرڈم (Amsterdam) میں ان کی جو چھوٹی سی جماعت تھی ان کو انتشار سے بچانے کا واحد ذریعہ مذہبی وحدت ہے اور یہودیوں کی جماعت کو جو دنیا میں بکھری ہوئی ہے۔ برقرار رکھنے اور ان میں اتفاق پیدا کرنے کا آخری ذریعہ بھی یہی ہے۔ اگر ان کی اپنی کوئی سلطنت، کوئی ملکی قانون اور دنیاوی قوت و طاقت کے ادارے ہوتے جن کے ذریعہ وہ اندرونی استحکام اور بیرونی استحکام حاصل کر سکتے تو وہ زیادہ روادار ہوتے۔ لیکن ان کا مذہب ان کے لئے ایمان بھی تھا اور حب الوطنی بھی۔ ان کا معبد ان کی عبادت کا اور مذہبی رسوم کے علاوہ ان کی سماجی اور سیاسی زندگی کا بھی مرکز تھا۔ ان حالات کے ماتحت انہوں نے الحاد کو غداری اور رواداری کو خود کشی تصور کیا۔“

ایمسٹرڈم میں یہودیوں کی حیثیت ایک اقلیت کی تھی۔ اس لحاظ سے وہ اسپائنوزا کو ایسی انتشار انگیز ہستی سمجھنے میں حق بجانب تھے۔ جس سے ان کی جماعت بکھر جانے کا اندیشہ تھا۔ اس طرح مسلمانان ہند یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ تحریک قادیانیت جو تمام دنیائے اسلام کو کافر قرار دیتی ہے اور اس سے معاشرتی مقاطعہ کرتی ہے۔ مسلمانان ہند کی حیات ملی کے لئے اسپائنوزا کی اس مابعد الطبیعات سے زیادہ خطرناک ہے جو یہود کی حیات ملی کے لئے تھی۔ میرا خیال ہے کہ مسلمانان ہند ان حالات کی مخصوص نوعیت کو جبلی طور پر محسوس کرتے ہیں۔ جن میں کہ وہ ہندوستان میں گھرے ہوئے ہیں اور دوسرے ممالک کے مقابلہ میں انتشار انگیز قوتوں کا قدرتی طور پر زیادہ

٥٣

صفحہ ٣٨٨

احساس رکھتے ہیں۔ ایک اوسط مسلمان کا یہ جبلی ادراک میری رائے میں بالکل صحیح ہے اور اس میں شک نہیں کہ اس احساس کی بنیاد مسلمانان ہند کے ضمیر کی گہرائیوں میں ہے۔ اس قسم کے معاملات میں جو لوگ رواداری کا نام لیتے ہیں وہ لفظ رواداری کے استعمال میں بے حد غیر محتاط ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ اس لفظ کو بالکل نہیں سمجھتے۔ کوہن کہتا ہے کہ ایک رواداری فلسفی کی ہوتی ہے۔ جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر صحیح ہیں۔ ایک رواداری مؤرخ کی ہے جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر غلط ہیں۔ ایک رواداری مدبر کی ہے جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر مفید ہیں۔ ایک رواداری ایسے شخص کی ہے جو ہر قسم کے فکر وعمل کے طریقوں کو روا رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ ہر قسم کے فکر و عمل سے بے تعلق ہوتا ہے۔ ایک رواداری کمزور آدمی کی ہے۔ جو محض کمزوری کی وجہ سے ہر قسم کی ذلت کو جو اس کی محبوب اشیاء یا اشخاص پر کی جاتی ہے برداشت کر لیتا ہے۔ یہ ایک بدیہی بات ہے کہ اس قسم کی رواداری اخلاقی قدر سے معرا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اس سے اس شخص کے روحانی افلاس کا اظہار ہوتا ہے۔ جو ایسی رواداری کا مرتکب ہوتا ہے۔ حقیقی رواداری عقلی اور روحانی وسعت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ رواداری ایسے شخص کی ہوتی ہے جو روحانی حیثیت سے قوی ہوتا ہے اور اپنے مذہب کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے دوسرے مذاہب کو روا رکھتا ہے اور ان کی قدر کر سکتا ہے۔ ایک سچا مسلمان ہی اس قسم کی رواداری کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خود اس کا مذہب اختلافی ہے۔ اس وجہ سے وہ بآسانی دوسرے مذاہب سے ہمدردی رکھ سکتا ہے اور ان کی قدر کر سکتا ہے۔ ہندوستان کے شاعر اعظم امیر خسرو نے ایک بت پرست کے قصہ میں اس قسم کی رواداری کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ اس کی بتوں سے بے اندازہ محبت کے تذکرہ کے بعد شاعر اپنے مسلمان قارئین کو یوں مخاطب کرتا ہے۔

اے کہ ز بت طعنہ بہ ہندو بری
ہم زوے آموز پرستش گری

ترجمہ: اے ہندیوں کی بت پرستی پر طعن کرنے والے تو ان سے پرستش کا طریقہ سیکھ۔

خدا کا ایک سچا پرستار ہی عبادت و پرستش کی قدر و قیمت کو محسوس کر سکتا ہے۔ خواہ اس پرستش کا تعلق ایسے ارباب سے ہو جن پر وہ اعتقاد نہیں رکھتا۔ رواداری کی تلقین کرنے والے اس شخص پر عدم رواداری کا الزام لگانے میں غلطی کرتے ہیں۔ جو اپنے مذہب کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اس طرز عمل کو وہ غلطی سے اخلاقی کمتری خیال کرتے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ (اس) طرز عمل میں حیاتیاتی قدر و قیمت مضمر ہے۔ جب کسی جماعت کے افراد جبلی طور یا کسی عقلی دلیل کی بناء

٥٢

٨٩ پر محسوس کرتے ہوں کہ اس جماعت کی اجتماعی کے مدافعانہ طرز عمل کو حیاتیاتی معیار پر جانچنا چاہ کرنی چاہئے کہ اس میں حیات افروزی کس قد متعلق جو طے قرار دیا گیا ہو ۔ کسی فرد یا جماعت کا کہ یہ حیات افروز ہے یا حیات کش؟ پنڈت ج اصولوں پر قائم ہوئی ہے وہ محکمہ احتساب کے قیا صحیح ہو سکتی ہے۔ لیکن تاریخ اسلام پنڈت جی اسلامی کے گزشتہ تیرہ سو سال میں اسلامی ہیں۔ قرآن واضح طور پر ایسے ادارے کی ممانع اور بھائیوں کی چغلی نہ کھاؤ ۔ (ولا تجسس الحجرات: ١٢) ’’پنڈت جی کو تاریخ اسلام اپنے وطن کے مذہبی تشدد سے تنگ آ کر اسلام تخلیقی عمارت قائم ہے۔ وہ اس قدر سادہ ہیں اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

یہ سچ ہے کہ جب کوئی شخص ایسے ا خطرہ میں پڑ جاتا ہو ۔ تو ایک آزادانہ اسلام صورت میں ریاست کا فعل سیاسی مصلحتوں بات کو اچھی طرح محسوس کرتا ہوں کہ پنڈت جماعت میں ہوئی ہو جس کی سرحدیں متعین اس امر کا بمشکل اندازہ کر سکتا ہے کہ ایک مذ جو حکومت کی جانب سے عوام کے عقائد کی نیومن (Cardinal Newman) جی پیش کر کے حیرت کرتے ہیں کہ میں کا سمجھتا ہوں؟ میں ان سے یہ کہنا چاہتا ہوں میں اختلاف عظیم ہے۔ کیتھولک مسیحیت کثرت نے، جیسا کہ تاریخ مسیحیت سے

صفحہ ٣٨٩

پر یہ محسوس کرتے ہوں کہ اس جماعت کی اجتماعی زندگی خطرہ میں ہے۔ جس کے یہ رکن ہیں تو ان کے مدافعانہ طرز عمل کو حیاتیاتی معیار پر جانچنا چاہئے۔ اس سلسلہ میں ہر فکر عمل کی تحقیق اس لحاظ سے کرنی چاہئے کہ اس میں حیات افروزی کس قدر ہے؟ یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ ایسے شخص کے متعلق جو ملحد قرار دیا گیا ہو۔ کسی فرد یا جماعت کا رویہ اخلاقاً صائب ہے یا غیر صائب؟ سوال یہ ہے کہ یہ حیات افروز ہے یا حیات کش؟ پنڈت جواہر لال نہرو خیال کرتے ہیں کہ جو جماعت مذہبی اصولوں پر قائم ہوئی ہے وہ محکمہ احتساب کے قیام کو مستلزم ہے۔ تاریخ مسیحیت کے متعلق یہ بات صحیح ہو سکتی ہے۔ لیکن تاریخ اسلام پنڈت جی کی منطق کے خلاف یہ ثابت کرتی ہے کہ حیات اسلامی کے گزشتہ تیرہ سو سال میں اسلامی ممالک محکمہ احتساب سے بالکل نا آشنا رہے ہیں۔ قرآن واضح طور پر ایسے ادارے کی ممانعت کرتا ہے: ’’دوسروں کی کمزوریوں کی تلاش نہ کرو اور بھائیوں کی چغلی نہ کھاؤ۔ (ولا تجسسوا ولا يغتب بعضكم بعضاً، الحجرات: ١٢)‘‘ پنڈت جی کو تاریخ اسلام کے مطالعہ سے معلوم ہو جائے گا کہ یہودی اور عیسائی اپنے وطن کے مذہبی تشدد سے تنگ آ کر اسلامی ممالک میں پناہ لیتے تھے۔ جن دو قضایا پر اسلام کی تعقلی عمارت قائم ہے۔ وہ اس قدر سادہ ہیں کہ ان میں ایسا الحاد ناممکن ہے۔ جس سے ملحد دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

یہ سچ ہے کہ جب کوئی شخص ایسے ملحدانہ نظریات کو رواج دیتا ہے۔ جن سے نظام اجتماعی خطرہ میں پڑ جاتا ہو۔ تو ایک آزادانہ اسلامی ریاست یقیناً اس کا انسداد کرے گی۔ لیکن ایسی صورت میں ریاست کا فعل سیاسی مصلحتوں پر مبنی ہوگا۔ نہ کہ خالص مذہبی اصولوں پر۔ میں اس بات کو اچھی طرح محسوس کرتا ہوں کہ پنڈت جی ایسا شخص، جس کی پیدائش اور تربیت ایک ایسی جماعت میں ہوئی ہو جس کی سرحدیں متعین نہیں ہیں اور جس میں اندرونی استحکام بھی مفقود ہے۔ اس امر کا بمشکل اندازہ کر سکتا ہے کہ ایک مذہبی جماعت ایسے محکمہ احتساب کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے جو حکومت کی جانب سے عوام کے عقائد کی تحقیقات کے لئے قائم کیا جاتا ہے۔ یہ بات کارڈنل نیومین (Cardinal Newman) کی اس عبارت سے بالکل واضح ہو جاتی ہے جو پنڈت جی پیش کر کے حیرت کرتے ہیں کہ میں کارڈنل کے اصولوں کو کس حد تک اسلام پر قابل اطلاق سمجھتا ہوں؟ میں ان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسلام کی اندرونی ہیئت ترکیبی اور کیتھولک مسیحیت میں اختلاف عظیم ہے۔ کیتھولک مسیحیت کی پیچیدگی اس کی فوق العقلی نوعیت اور حکمی عقائد کی کثرت نے، جیسا کہ تاریخ مسیحیت سے ظاہر ہوتا ہے۔ ملحدانہ تاویلات کے لئے راستہ کھول دیا

٥٥

صفحہ ٣٩٠

ہے ۔ اسلام کا سیدھا سادہ مذہب دو قضایا پر مبنی ہے۔ خدا ایک ہے اور محمد ﷺ اس سلسلۂ انبیاء کے آخری نبی ہیں جو وقتاً فوقتاً ہر ملک اور ہر زمانے میں اس غرض سے مبعوث ہوتے تھے کہ نوع انسان کی رہنمائی صحیح طرزِ زندگی کی طرف کریں۔ جیسا کہ بعض عیسائی مصنفین خیال کرتے ہیں کہ کسی حکمی عقیدے کی تعریف اسی طرح کی جانی چاہئے کہ وہ ایک فوق العقلی قضیہ ہے اور اس کو مذہبی استحکام کی خاطر اور اس کا مابعد الطبیعی مفہوم سمجھے بغیر مان لینا چاہئے تو اس لحاظ سے اسلام کے ان دو سادہ قضایا کو حکمی عقیدے سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ان دونوں کی تائید نوع انسان کے تجربہ سے ہوتی ہے اور ان کی عقلی توجیہ بخوبی کی جاسکتی ہے۔ ایسے الحاد کا سوال جہاں یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ آیا اس کا مرتکب دائرۂ مذہب میں ہے یا اس سے خارج ہے؟ ایسی مذہبی جماعت میں جو ایسے سادہ قضایا پر مبنی ہو، اس صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ جب کہ طاعن قضایا میں سے کسی ایک یا دونوں سے انکار کر دے۔ تاریخ اسلام میں ایسا واقعہ شاذ ہی وقوع پذیر ہوا ہے اور ہونا بھی یہی چاہئے۔ کیونکہ جب اس قسم کی کوئی بغاوت پیدا ہوتی ہے تو ایک اوسط مسلمان کا احساس قدرتی طور پر شدید ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی ایران کا احساس بہائیوں کے خلاف اس قدر تھا اور یہی وجہ ہے کہ مسلمانان ہند کا احساس قادیانیوں کے خلاف اس قدر شدید ہے۔

یہ سچ ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی فرقے فقہ اور دینیات کے فروعی مسائل میں اختلاف کی وجہ سے اکثر و بیشتر، ایک دوسرے میں الحاد کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ دینیات کے فروعی مسائل کے اختلاف میں اور نیز الحاد کی ایسی انتہائی صورتوں میں جہاں ملحد کو جماعت سے خارج کیا جاتا ہے۔ لفظ کفر کے غیر محتاط استعمال کو آج کل کے تعلیم یافتہ مسلمان، جو مسلمانوں کے دینیاتی مناقشات کی تاریخ سے بالکل ناواقف ہیں ۔ ملت اسلامیہ کے اجتماعی و سیاسی انتشار کی علامت تصور کرتے ہیں۔ یہ ایک بالکل غلط تصور ہے۔ اسلامی دینیات کی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ فروعی مسائل کے اختلاف میں ایک دوسرے پر الحاد کا الزام لگانا باعث انتشار ہونے کی بجائے دینیاتی تفکر کو متحد کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ پروفیسر ہر گرؤنج (Hurgronje) کہتے ہیں کہ جب ہم فقہ اسلامی کے نشو و نما کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ ایک طرف تو ہر زمانے کے علماء خفیف سے اشتعال کے باعث ایک دوسرے کی مذمت، یہاں تک کرتے ہیں کہ ایک دوسرے پر کفر کا الزام عائد ہو جاتا ہے اور دوسری طرف یہی لوگ زیادہ سے زیادہ اتحاد عمل کے ساتھ اپنے پیشروؤں کے اختلاف رفع کرتے ہیں۔ اسلامی دینیات کا معلم جانتا ہے کہ مسلم فقہاء اس قسم کے الحاد کو اصطلاحی زبان میں کفر دون کفر سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی ایسا کفر جس میں

٥٦

صفحہ ٣٩١

مرتکب جماعت سے خارج نہیں ہوتا۔ بہرحال یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ملاؤں کے ذریعے جن کا عقلی تعطل دینیاتی تفکر کے ہر اختلاف کو قطعی سمجھتا ہے اور اختلاف میں اتحاد کو دیکھ نہیں سکتا۔ خفیف سا الحاد فتنۂ عظیم کا باعث ہو جاتا ہے۔ اس فتنہ کا انسداد اس طرح ہو سکتا ہے کہ مدارس دینیات کے طلباء کے سامنے اسلام کی اخلاقی روح کا واضح ترین تصور پیش کریں اور ان کو یہ بتلائیں کہ منطقی تضاد دینیاتی تفکر میں اصول حرکت کا کام کرتا ہے۔ یہ سوال کہ الحاد کبیرہ کس کو کہتے ہیں؟ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ کسی مفکر یا مصلح کی تعلیم مذہب اسلام کی سرحدوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے قادیانیت کی تعلیم میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ یہاں یہ بتلادینا ضروری ہے کہ تحریک قادیانیت دو جماعتوں میں منقسم ہے۔ جو قادیانی اور لاہوری جماعتوں کے نام سے موسوم ہیں۔ اوّل الذکر جماعت بانی قادیانیت کو نبی تسلیم کرتی ہے۔ آخرالذکر نے اعتقاداً یا مصلحتاً قادیانیت کی شدت کو کم کر کے پیش کرنا مناسب سمجھا۔ بہرحال یہ سوال کہ آیا بانی قادیانیت ایک نبی تھا اور اس کی تعلیم سے انکار کرنا الحاد کبیرہ کو مستلزم ہے؟ ان دونوں جماعتوں میں متنازعہ فیہ ہے۔ قادیانیوں کے ان گھریلو مناقشات کے محاسن کو جانچنا میرے پیش نظر مقصد کے لئے غیر ضروری ہے۔ میرا یقین ہے جس کے وجوہ میں آگے چل کر بیان کروں گا کہ ایسے نبی کا تصور جس کے انکار کرنے سے منکر خارج (از) اسلام ہو جاتا ہے۔ قادیانیت کا ایک لازمی عنصر ہے اور لاہوری جماعت کے امام کے مقابلہ میں قادیانیوں کے موجودہ پیشوا تحریک قادیانیت کی روح سے بالکل قریب ہیں۔

ختم نبوت کے تصور کی تہذیبی قدر و قیمت کی توضیح میں نے کسی اور جگہ کر دی ہے۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو اس کتاب کا باب اوّل) اس کے معنی بالکل سلیس ہیں۔ محمد ﷺ کے بعد جنہوں نے اپنے پیروؤں کو ایسا قانون عطاء کر کے جو ضمیر انسان کی گہرائیوں سے ظہور پذیر ہوا ہے آزادی کا راستہ دکھا دیا ہے۔ کسی اور انسانی ہستی کے آگے روحانی حیثیت سے سر نیاز خم نہ کیا جائے۔ دینیاتی نقطۂ نظر سے اس نظریہ کو یوں بیان کر سکتے ہیں کہ وہ اجتماعی اور سیاسی تنظیم جسے اسلام کہتے ہیں مکمل اور ابدی ہے۔

محمد ﷺ کے بعد کسی ایسے الہام کا امکان ہی نہیں ہے جس سے انکار کفر کو مستلزم ہو۔ جو شخص ایسے الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ اسلام سے غداری کرتا ہے۔ قادیانیوں کا اعتقاد ہے کہ تحریک قادیانیت کا بانی ایسے الہام کا حامل تھا۔ لہٰذا وہ تمام عالم اسلام کو کافر قرار دیتے ہیں۔ خود بانی قادیانیت کا استدلال جو قرونِ وسطیٰ کے متکلمین کے لئے زیبا ہو سکتا ہے۔ یہ ہے کہ اگر کوئی دوسرا نبی نہ پیدا ہو سکے تو پیغمبر اسلام کی روحانیت نامکمل رہ جائے گی۔ وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیغمبر

٥٧

صفحہ ٣٩٢

اسلام کی روحانیت میں پیغمبر خیز قوت تھی۔ خود اپنی نبوت کو پیش کرتا ہے۔ لیکن آپ اس سے پھر دریافت کریں کہ محمد (ﷺ) کی روحانیت ایک سے زیادہ نبی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ یہ خیال اس بات کے برابر ہے کہ محمد (ﷺ) آخری نبی نہیں۔ میں آخری نبی ہوں۔ اس امر کے سمجھنے کی بجائے کہ ختم نبوت کا اسلامی تصور نوع انسان کی تاریخ میں بالعموم اور ایشیاء کی تاریخ میں بالخصوص کیا تہذیبی قدر رکھتا ہے۔ بانی قادیانیت کا خیال ہے کہ ختم نبوت کا تصور ان معنوں میں کہ محمد (ﷺ) کا کوئی پیرو نبوت کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔ خود محمد (ﷺ) کی نبوت کو نامکمل پیش کرتا ہے۔ جب میں بانی قادیانیت کی نفسیات کا مطالعہ ان کے دعویٰ نبوت کی روشنی میں کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیغمبر اسلام کی تخلیقی قوت کو صرف ایک نبی یعنی تحریک قادیانیت کے بانی کی پیدائش تک محدود کر کے پیغمبر اسلام کے آخری نبی ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس طرح یہ نیا پیغمبر چپکے سے اپنے روحانی مورث کی ختم نبوت پر متصرف ہو جاتا ہے۔

اس کا دعویٰ ہے کہ میں پیغمبر اسلام کا بروز ہوں۔ اس سے وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ پیغمبر اسلام کا بروز ہونے کی حیثیت سے اس کا خاتم النبیین ہونا دراصل محمد (ﷺ) کا خاتم النبیین ہونا ہے۔ پس یہ نقطہ نظر پیغمبر اسلام کی ختم نبوت کو مسترد نہیں کرتا۔ اپنی ختم نبوت کو پیغمبر اسلام کی ختم نبوت کے مماثل قرار دے کر بانی قادیانیت نے ختم نبوت کے تصور کے زمانی مفہوم کو نظر انداز کر دیا ہے۔ بہر حال یہ ایک بدیہی بات ہے کہ بروز کا لفظ مکمل مشابہت کے مفہوم میں بھی اس کی مدد نہیں کرتا۔ کیونکہ بروز ہمیشہ اس شئے سے الگ ہوتا ہے۔ جس کا یہ بروز ہوتا ہے۔ صرف اوتار کے معنوں میں بروز اور اس شئے میں عینیت پائی جاتی ہے۔ پس اگر ہم بروز سے روحانی صفات کی مشابہت مراد لیں تو یہ دلیل بے اثر رہتی ہے۔ اگر اس کے برعکس اس لفظ کے آریائی مفہوم میں اصل شئے کا اوتار مراد لیں تو یہ دلیل بظاہر قابل قبول ہوتی ہے۔ لیکن اس خیال کا موجد مجوسی بھیس میں نظر آتا ہے۔

ہسپانیہ کے برگزیدہ صوفی محی الدین ابن العربیؒ کی سند پر یہ مزید دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایک مسلمان ولی کے لئے اپنے روحانی ارتقاء کے دوران میں اس قسم کا تجربہ حاصل کرنا ممکن ہے جو شعور نبوت سے مختص ہے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ شیخ محی الدین ابن العربیؒ کا یہ خیال نفسیاتی نقطۂ نظر سے درست نہیں۔ لیکن اگر اس کو صحیح فرض کر لیا جائے تو تب بھی قادیانی استدلال شیخ کے موقف کی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ شیخ ایسے تجربہ کو ذاتی کمال تصور کرتے ہیں۔ جس کی بناء پر کوئی ولی یہ اعلان نہیں کر سکتا کہ جو شخص اس پر (یعنی ولی پر) اعتقاد نہیں رکھتا۔ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

٥٨

صفحہ ٣٩٣

اس میں شک نہیں کہ شیخ کے نقطہ نظر سے ایک ہی زمانہ اور ملک میں ایک سے زیادہ اولیاء موجود ہو سکتے ہیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ نفسیاتی نقطہ نظر سے ایک ولی کا شعور نبوت تک پہنچنا اگر چہ ممکن ہے۔ تاہم اس کا تجربہ اجتماعی اور سیاسی اہمیت نہیں رکھتا اور نہ اس کو کسی نئی تنظیم کا مرکز بناتا ہے اور یہ استحقاق عطا کرتا ہے کہ وہ اس نئی تنظیم کو پیروان محمد (ﷺ) کے ایمان یا کفر کا معیار قرار دے۔

اس صوفیانہ نفسیات سے قطع نظر کر کے فتوحات کی متعلقہ عبارتوں کو پڑھنے کے بعد میرا یہ اعتقاد ہے کہ ہسپانیہ کا یہ عظیم الشان صوفی محمد (ﷺ) کی ختم نبوت پر اسی طرح مستحکم ایمان رکھتا ہے۔ جس طرح کہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان رکھ سکتا ہے۔ اگر شیخ کو اپنے صوفیانہ کشف میں یہ نظر آجاتا کہ ایک روز مشرق میں چند ہندوستانی جنہیں تصوف کا شوق ہے شیخ کی صوفیانہ نفسیات کی آڑ میں پیغمبر اسلام کی ختم نبوت سے انکار کر دیں گے تو یقیناً علماء ہند سے پہلے مسلمانان عالم کو ایسے غداران اسلام سے متنبہ کر دیتے۔

اب قادیانیت کی روح پر غور کرنا ہے۔ اس کے ماخذ اور اس امر کی بحث کہ قبل اسلام مجوسی تصورات نے اسلامی تصوف کے ذریعہ بانی قادیانیت کے ذہن کو کس طرح متاثر کیا؟ مذاہب مقابلہ کی نظر سے بے حد دلچسپ ہو گی۔ لیکن میرے لئے اس بحث کو اٹھانا ممکن نہیں۔ یہ کہہ دینا کافی ہے کہ قادیانیت کی اصل حقیقت قرون وسطیٰ کے تصوف اور دینیات کے نقاب میں پوشیدہ ہے۔ علماء ہند نے اس کو محض ایک دینیاتی تحریک تصور کیا اور دینیاتی حربوں سے اس کا مقابلہ کرنے نکل آئے۔ بہر حال میرا خیال ہے کہ اس تحریک کا مقابلہ کرنے کے لئے یہ طریقہ موزوں نہیں تھا۔ اس وجہ سے علماء کو کچھ زیادہ کامیابی نہیں ہوئی۔ بانی قادیانیت کے الہامات کی اگر دقیق النظری سے تحلیل کی جائے تو یہ ایک ایسا مؤثر طریقہ ہوگا۔ جس کے ذریعہ سے ہم اس کی شخصیت اور اندرونی زندگی کا تجزیہ کر سکیں گے۔ اس سلسلہ میں میں اس امر کو واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ منظور الٰہی نے بانی قادیانیت کے الہامات کا جو مجموعہ شائع کیا ہے۔ اس میں نفسیاتی تحقیق کے لئے متنوع اور مختلف مواد موجود ہے۔ میری رائے میں یہ کتاب بانی قادیانیت کی سیرت اور شخصیت کی کنجی ہے اور مجھے امید ہے کہ کسی دن نفسیات جدید کا کوئی متعلم اس کا سنجیدگی سے مطالعہ کرے گا۔ اگر وہ قرآن کو اپنا معیار قرار دے (اور چند وجوہ سے اس کو ایسا کرنا ہی پڑے گا۔ جن کی تشریح یہاں نہیں کی جاسکتی) اور اپنے مطالعہ کو بانی قادیانیت اور اس کے ہم عصر غیر مسلم صوفیاء جیسے رام کرشنا بنگالی کے تجربوں تک پھیلائے تو اس کو اس تجربہ کی اصل ماہیت کے متعلق بڑی حیرت ہوگی۔ جس کی بناء پر بانی قادیانیت نبوت کا دعویدار ہے۔

٥٩

صفحہ ٣٩٤

عام آدمی کے نقطہ نظر سے ایک اور مؤثر اور مفید طریقہ یہ ہے کہ ١٧٩٩ء سے ہندوستان میں اسلامی دینیات کی جو تاریخ رہی ہے۔ اس کی روشنی میں قادیانیت کے اصل محرک کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ دنیائے اسلام کی تاریخ میں ١٧٩٩ء بے حد اہم ہے۔ اس سال ٹیپو کو شکست ہوئی۔ اس کی شکست کے ساتھ مسلمانوں کو ہندوستان میں سیاسی نفوذ حاصل کرنے کی جو امید تھی اس کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ اسی سال ”جنگ نوارینو“ وقوع پذیر ہوئی۔ جس میں ترکی کا بیڑہ تباہ ہو گیا۔ جو لوگ سرنگا پٹم گئے ہیں۔ ان کو ٹیپو کے مقبرے پر یہ تاریخ وفات کندہ نظر آئی ہوگی۔ ”ہندوستان اور روم کی عظمت ختم ہو گئی ۔“

ان الفاظ کے مصنف نے پیش گوئی کی تھی۔ پس ١٧٩٩ء میں ایشیاء میں اسلام کا انحطاط انتہاء کو پہنچ گیا تھا۔ لیکن جس طرح جینا میں جرمنی کی شکست کے بعد جدید جرمن قوم کا نشو و نما ہوا۔ کہا جا سکتا ہے کہ اسی طرح ١٧٩٩ء میں اسلام کی سیاسی شکست کے بعد جدید اسلام اور اس کے مسائل معرض ظہور میں آئے۔ اس امر پر میں آگے چل کر بحث کروں گا۔ فی الحال میں قارئین کی توجہ چند مسائل کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ جو ٹیپو کی شکست اور ایشیاء میں مغربی شہنشاہیت کی آمد کے بعد اسلامی ہند میں پیدا ہو گئے ہیں۔

کیا اسلام میں خلافت کا تصور ایک مذہبی ادارے کو مستلزم ہے؟ مسلمانان ہند اور وہ مسلمان جو ترکی سلطنت سے باہر ہیں۔ ترکی خلافت سے کیا تعلق رکھتے ہیں؟ ہندوستان دارالحرب ہے یا دارالاسلام؟ اسلام میں نظریہ جہاد کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ قرآن کی آیت خدا رسول اور تم میں سے اولی الامر کی اطاعت کرو۔ ”اطیعوا الله واطیعوا الرسول واولی الامر منكم (النساء:٥٩)“ میں الفاظ تم میں سے کا کیا مفہوم ہے؟ احادیث سے آمد مہدی کی جو پیشین گوئی کی جاتی ہے۔ اس کی نوعیت کیا ہے؟ اور اسی قبیل کے دوسرے سوالات جو بعد میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق بداہتاً صرف مسلمانان ہند سے تھا۔ اس کے علاوہ مغربی شہنشاہیت کو بھی جو اس وقت اسلامی دنیا میں سرعت کے ساتھ تسلط حاصل کر رہی تھی۔ ان سوالات سے گہری دلچسپی تھی۔ ان سوالات سے جو مناقشات پیدا ہوئے وہ اسلامی ہند کی تاریخ کا ایک باب ہیں۔ یہ حکایت دراز ہے اور ایک طاقتور قلم کی منتظر، مسلمان ارباب سیاست جن کی آنکھیں واقعات پر جمی ہوئی تھیں۔ علماء کے ایک طبقہ کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ وہ دینیاتی استدلال کا ایک ایسا طریقہ اختیار کریں جو صورتحال کے مناسب ہو۔ لیکن محض منطق سے ایسے عقائد پر فتح پانا آسان نہ تھا۔ جو صدیوں سے مسلمانان ہند کے قلوب پر حکمران تھے۔ ایسے حالات میں منطق یا

٦٠

صفحہ ٣٩٥

تو سیاسی مصلحت کی بناء پر آگے بڑھ سکتی ہے یا قرآن وحدیث کی نئی تفسیر کے ذریعہ ہر دو صورتوں میں استدلال عوام کو متاثر کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ مسلمان عوام کو جن میں مذہبی جذبہ بہت شدید ہے۔ صرف ایک ہی چیز قطعی طور پر متاثر کر سکتی ہے اور وہ ربانی سند ہے۔ راسخ عقائد کو مؤثر طریقہ پر مٹانے اور متذکرہ صدر سوالات جن میں دینیاتی نظریات مضمر ہیں۔ ان کی نئی تفسیر کرنے کے لئے جو سیاسی اعتبار سے موزوں ہو۔ ایک الہامی بنیاد ضروری سمجھی گئی۔ اس الہامی بنیاد کو قادیانیت نے فراہم کیا۔ خود قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ برطانوی شہنشاہیت کی یہ سب سے بڑی خدمت ہے۔ جو انہوں نے انجام دی ہے۔ پیغمبرانہ الہام کو ایسے دینیاتی خیالات کی بنیاد قرار دینا جو سیاسی اہمیت رکھتے ہیں۔ گویا اس بات کا اعلان کرنا ہے کہ جو لوگ مدعی نبوت کے خیالات کو قبول نہیں کرتے۔ اوّل درجہ کے کافر ہیں اور ان کا ٹھکانہ نار جہنم ہے۔ جہاں تک میں نے اس تحریک کے منشاء کو سمجھا ہے۔ قادیانیوں کا یہ اعتقاد ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کی موت ایک عام فانی انسان کی موت تھی اور رجعت مسیح (علیہ السلام) گویا ایسے شخص کی آمد ہے جو روحانی حیثیت سے اس کا مشابہ ہے۔ اس خیال سے اس تحریک پر ایک طرح کا عقلی رنگ چڑھ جاتا ہے۔ لیکن یہ ابتدائی مدارج ہیں۔ اس تصور نبوت کو جو ایسی تحریک کے اغراض کو پورا کرتا ہے۔ جن کو جدید سیاسی قوتیں وجود میں لائی ہیں۔ ایسے ممالک میں جو ابھی تمدن کی ابتدائی منازل میں ہیں۔ منطق سے زیادہ سند کا اثر ہوتا ہے۔ اگر کافی جہالت اور زود اعتقادی موجود ہو اور کوئی شخص اس قدر بے باک ہو کہ حامل الہام ہونے کا دعویٰ کرے۔ جس سے انکار کرنے والا ہمیشہ کے لئے گرفتار لعنت ہو جاتا ہے تو ایک محکوم اسلامی ملک میں ایک سیاسی دینیات کو وجود میں لانا اور ایک ایسی جماعت کو تشکیل دینا آسان ہو جاتا ہے۔ جس کا مسلک سیاسی محکومیت ہو۔ پنجاب میں مبہم دینیاتی عقائد کا فرسودہ جال اس سادہ لوح دہقان کو آسانی سے مسخر کر لیتا ہے۔ جو صدیوں سے ظلم و ستم کا شکار رہا ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو مشورہ دیتے ہیں کہ تمام مذاہب کے راسخ العقیدہ لوگ متحد ہو جائیں اور اس چیز کی مزاحمت کریں۔ جس کو وہ ہندوستانی قومیت سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ طنز آمیز مشورہ اس بات کو فرض کر لیتا ہے کہ قادیانیت ایک اصلاحی تحریک ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ جہاں تک ہندوستان میں اسلام کا تعلق ہے۔ قادیانیت میں اہم ترین مذہبی اور سیاسی امور تنقیح طلب مضمر ہیں۔ جیسا کہ میں نے اوپر تشریح کی ہے۔ مسلمانوں کے مذہبی تفکر کی تاریخ میں قادیانیت کا وظیفہ ہندوستان کی موجودہ سیاسی غلامی کی تائید میں الہامی بنیاد فراہم کرنا ہے۔ خالص مذہبی امور سے قطع نظر سیاسی امور کی بناء پر بھی پنڈت جواہر لال نہرو کے شایان شان نہیں کہ وہ مسلمانان ہند پر رجعت پسند اور

٦١

صفحہ ١٦١

قدامت پسند ہونے کا الزام لگائیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ قادیانیت کی اصل نوعیت کو سمجھ لیتے تو مسلمانان ہند کے اس رویہ کی ضرور تعریف و تحسین کرتے جو ایک ایسی مذہبی تحریک کے متعلق اختیار کیا گیا ہے۔ جو ہندوستان کے تمام آفات و مصائب کے لئے الہامی سند پیش کرتی ہے۔

پس قارئین کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ اسلام کے رخساروں پر اس وقت قادیانیت کی جو زردی نظر آ رہی ہے۔ وہ مسلمانان ہند کے مذہبی تفکر کی تاریخ میں کوئی ناگہانی واقعہ نہیں ہے۔ وہ خیالات جو بالآخر اس تحریک میں رونما ہوئے ہیں۔ بانی قادیانیت کی ولادت سے پہلے دینیاتی مباحث میں نمایاں رہ چکے ہیں۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ بانی قادیانیت اور اس کے رفقاء نے سوچ سمجھ کر اپنا پروگرام تیار کیا ہے۔ میں یہ ضرور کہوں گا کہ بانی قادیانیت نے ایک آواز سنی۔ لیکن اس امر کا تصفیہ کہ یہ آواز اس خدا کی طرف سے تھی۔ جس کے ہاتھ میں زندگی اور طاقت ہے یا لوگوں کے روحانی افلاس سے پیدا ہوئی۔ اس تحریک کی نوعیت پر منحصر ہونا چاہئے۔ جو اس آواز کی آفریدہ ہے اور ان افکار و جذبات پر بھی جو اس آواز نے اپنے سننے والوں میں پیدا کئے ہیں۔ قارئین یہ نہ سمجھیں کہ میں استعارات استعمال کر رہا ہوں۔ اقوام کی تاریخ حیات بتلاتی ہے کہ جب کسی قوم کی زندگی میں انحطاط شروع ہو جاتا ہے تو انحطاط ہی الہام کا ماخذ بن جاتا ہے اور اس قوم کے شعراء فلاسفہ، اولیاء، مدبرین اس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور مبلغین کی ایک ایسی جماعت وجود میں آجاتی ہے۔ جس کا مقصد واحد یہ ہوتا ہے کہ منطق کی سحر آفرین قوتوں سے اس قوم کی زندگی کے ہر اس پہلو کی تعریف وتحسین کرے جو نہایت ذلیل وقبیح ہوتا ہے۔ یہ مبلغین غیر شعوری طور پر مایوسی کو امید کے درخشاں لباس میں چھپا دیتے ہیں۔ کردار کے روایتی اقدار کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اس طرح ان لوگوں کی روحانی قوت کو مٹا دیتے ہیں جو ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی قوت ارادی پر ذرا غور کرو۔ جنہیں الہام کی بنیاد پر یہ تلقین کی جاتی ہے کہ اپنے سیاسی ماحول کو اٹل سمجھو۔

پس میرے خیال میں وہ تمام ایکٹر جنہوں نے قادیانیت کے ڈرامہ میں حصہ لیا ہے۔ زوال اور انحطاط کے ہاتھوں میں محض سادہ لوح کٹھ پتلی بنے ہوئے تھے۔ ایران میں بھی اسی قسم کا ایک ڈرامہ کھیلا گیا تھا۔ لیکن اس میں نہ وہ سیاسی اور مذہبی امور پیدا ہوئے اور نہ ہو سکتے تھے۔ جو قادیانیت نے اسلام کے لئے ہندوستان میں پیدا کئے ہیں۔ روس نے بابی مذہب کو روا رکھا اور بابیوں کو اجازت دی کہ وہ اپنا پہلا تبلیغی مرکز عشق آباد میں قائم کریں۔ انگلستان نے بھی قادیانیوں کے ساتھ رواداری برتی اور ان کو اپنا پہلا تبلیغی مرکز دوکنگ میں قائم کرنے کی اجازت دی۔ ہمارے لئے اس امر کا فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ آیا روس اور انگلستان نے ایسی رواداری کا اظہار

٦٢

صفحہ ٣٩٧

شہنشاہی مصلحتوں کی بناء پر کیا یا وسعت نظر کی وجہ سے۔ اس قدر تو بالکل واضح ہے کہ اس رواداری نے اسلام کے لئے پیچیدہ مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔ اسلام کی اس ہیئت ترکیبی کے لحاظ سے جیسا کہ میں نے اس کو سمجھا ہے۔ مجھے یقین کامل ہے کہ اسلام ان دشواریوں سے جو اس کے لئے پیدا کی گئی ہیں زیادہ پاک وصاف ہو کر نکلے گا۔ زمانہ بدل رہا ہے۔ ہندوستان کے حالات ایک نیا رخ اختیار کر چکے ہیں۔ جمہوریت کی نئی روح جو ہندوستان میں پھیل رہی ہے۔ وہ یقیناً قادیانیوں کی آنکھیں کھول دے گی۔ انہیں یقین ہو جائے گا کہ ان کی دینیاتی ایجادات بالکل بے سود ہیں۔

اسلام قرون وسطیٰ کے اس تصوف کی تجدید کو بھی روا نہ رکھے گا۔ جس نے اپنے پیروؤں کے صحیح رجحانات کو کچل کر ایک مبہم تفکر کی طرف ان کا رخ موڑ دیا۔ اس تصوف نے گزشتہ چند صدیوں میں مسلمانوں کے بہترین دماغوں کو اپنے اندر جذب کر کے اور سلطنت کو معمولی آدمیوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا۔ جدید اسلام اس تجربہ کو دہرا نہیں سکتا اور نہ وہ پنجاب کے اس تجربے کے اعادے کو روا رکھ سکتا ہے۔ جس نے مسلمانوں کو نصف صدی تک ایسے دینیاتی مسائل میں الجھائے رکھا۔ جن کا زندگی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اسلام جدید تفکر اور تجربے کی روشنی میں قدم رکھ چکا ہے اور کوئی ولی یا پیغمبر اس کو قرون وسطیٰ کے تصوف کی تاریکی کی طرف واپس نہیں لے جاسکتا۔

اب میں پنڈت جواہر لال کے سوالات کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ پنڈت جی کے مضامین سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسلام یا انیسویں صدی کے اسلام کی مذہبی تاریخ سے بالکل ناواقف ہیں۔ انہوں نے شاید میری تحریرات کا مطالعہ بھی نہیں کیا ہے۔ جن میں ان کے سوالات پر بحث کی گئی ہے۔ میرے لئے یہاں ان تمام خیالات کا اعادہ کرنا ممکن نہیں۔ جن کو میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ انیسویں صدی کے مسلمانوں کی مذہبی تاریخ کو پیش کرنا بھی یہاں ممکن نہیں۔ جس کے بغیر دنیائے اسلام کی موجودہ صورتحال کو پوری طرح سمجھنا دشوار ہے۔ ترکی اور جدید اسلام کے متعلق سینکڑوں کتابیں اور مضامین لکھے گئے ہیں۔ اس لٹریچر کے بیشتر حصہ کا مطالعہ کر چکا ہوں اور غالباً پنڈت جواہر لال نہرو بھی اس کا مطالعہ کر چکے ہوں گے۔ بہر حال میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ ان میں سے ایک مصنف نے بھی ان نتائج یا ان اسباب کی اصل ماہیت کو نہیں سمجھا جو ان نتائج کا باعث ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کے تفکر کے خصوصی رجحانات کو جو انیسویں صدی کے ایشیاء میں پائے جاتے ہیں۔ اجمالی طور پر بیان کر دینا ضروری ہے۔

میں نے اوپر بیان کیا ہے کہ ١٧٩٩ء میں اسلام کا سیاسی زوال اپنی انتہاء کو پہنچ چکا تھا۔ بہر حال اسلام کی اندرونی قوت کا اس واقعہ سے بڑھ کر کیا ثبوت مل سکتا ہے کہ اس نے فوراً ہی

٦٣

صفحہ ٣٩٩

محسوس کر لیا کہ دنیا میں اس کا کیا موقف ہے؟ انیسویں صدی میں سرسید احمد خان ہندوستان میں، سید جمال الدین افغانی افغانستان میں اور مفتی عالم جان روس میں پیدا ہوئے۔ یہ حضرات غالباً محمد بن عبدالوہاب سے متاثر ہوئے تھے۔ جن کی ولادت ١٧٠٠ء میں بمقام نجد ہوئی تھی اور جو اس نام نہاد وہابی تحریک کے بانی تھے۔ جس کو صحیح طور پر جدید اسلام میں زندگی کی پہلی تڑپ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ سرسید احمد خان کا اثر بحیثیت مجموعی ہندوستان ہی تک محدود رہا۔ غالباً یہ عصر جدید کے پہلے مسلمان تھے۔ جنہوں نے آنے والے دور کی جھلک دیکھی تھی اور یہ محسوس کیا تھا کہ ایجابی علوم اس دور کی خصوصیت ہے۔ انہوں نے نیز روس میں مفتی عالم جان نے، مسلمانوں کی پستی کا علاج جدید تعلیم کو قرار دیا۔ مگر سرسید احمد خان کی حقیقی عظمت اس واقعہ پر مبنی ہے کہ یہ پہلے ہندوستانی مسلمان ہیں۔ جنہوں نے اسلام کو جدید رنگ میں پیش کرنے کی ضرورت محسوس کی اور اس کے لئے سرگرم عمل ہو گئے۔ ہم ان کے مذہبی خیالات سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ لیکن اس واقعہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کی حساس روح نے سب سے پہلے عصر جدید کے خلاف ردعمل کیا۔

مسلمانان ہند کی انتہائی قدامت پرستی جو زندگی کے حقائق سے دور ہو گئی تھی۔ سرسید احمد خاں کے مذہبی نقطہ نظر کے حقیقی مفہوم کو نہ سمجھ سکی۔ ہندوستان کے شمال مغربی حصہ میں جو ابھی تہذیب کی ابتدائی منزل میں ہے اور جہاں دیگر اقطاع ہند کے مقابلہ میں پیر پرستی زیادہ مسلط ہے۔ سرسید کی تحریک کے خلاف قادیانیت کی تحریک شروع ہوئی۔ اس تحریک میں سامی اور آریائی تصوف کی عجیب و غریب آمیزش تھی اور اس میں کسی فرد کا روحانی احیاء قدیم اسلامی تصوف کے اصولوں کے مطابق نہیں ہو سکتا تھا۔ بلکہ مسیح موعود کی آمد کو پیش کر کے عوام کی کیفیت کو تشفی دی جاتی تھی۔ اس مسیح موعود کا فرض یہ نہیں تھا کہ فرد کو موجودہ پستی سے نجات دلائے بلکہ اس کا کام یہ تعلیم دینا ہے کہ لوگ اپنی روح کو غلامانہ طور پر پستی اور انحطاط کے سپرد کر دیں۔ اس رد عمل ہی کے اندر ایک نازک تضاد مضمر ہے۔ یہ تحریک اسلام کے ضوابط کو برقرار رکھتی ہے۔ لیکن اس قوت ارادی کو فنا کر دیتی ہے۔ جس کو اسلام مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

مولانا سید جمال الدین افغانی کی شخصیت کچھ اور ہی تھی۔ قدرت کے طریقے بھی عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ مذہبی فکر و عمل کے لحاظ سے ہمارے زمانہ کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ مسلمان افغانستان میں پیدا ہوتا ہے۔ جمال الدین افغانی دنیائے اسلام کی تمام زبانوں سے واقف تھے۔ ان کی فصاحت و بلاغت میں سحر آفرینی ودیعت تھی۔ ان کی بے چین روح ایک اسلامی ملک سے دوسرے اسلامی ملک کا سفر کرتی رہی اور اس نے ایران، مصر اور ترکی کے ممتاز

٦٣

ترین افراد کو متاثر کیا۔ ہمارے زمانے کے بعض جلیل افراد جو آگے چل کر سیاسی قائد بن گئے۔ جیسے مصر سے تھے۔ انہوں نے لکھا کم اور کہا بہت اور اس حاصل ہوا۔ چھوٹے چھوٹے جمال الدین بنادیا۔ ا پھر بھی ہمارے زمانے کے کسی شخص نے روح اس انہوں نے کی تھی۔ ان کی روح اب بھی دنیائے اس کی انتہاء کہاں ہوگی؟

بہرحال اب یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ جواب یہ ہے کہ انہوں نے دنیائے اسلام میں تحر خلاف بغاوت پیدا کرنے کے لئے اپنی پوری طاقت

کے مرور کے بعد خاص کر زوال بغداد کے زمانہ ۔ اجتہاد (یعنی قانونی امور میں آزاد رائے قائم انیسویں صدی کے مفکرین اسلام کے لئے حوصلہ اس جمود کے خلاف، پس انیسویں صدی کے مص تفسیر کی جائے اور بڑھتے ہوئے تجربے کی روشنی کی جائے۔

تھیں۔ جس نے عوام کی قوت عمل کو ضعیف کر دی تصوف اپنے اس اعلیٰ مرتبہ سے جہاں وہ روحا جہالت اور زود اعتقادی سے فائدہ اٹھانے کا ذری پر مسلمانوں کی قوت ارادی کو کمزور اور اس قدر مردہ کی کوشش کرنے لگے تھے۔ انیسویں صدی کے بغاوت بلند کر دیا اور مسلمانوں کو عصر جدید کی ر پرست تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان اسلام کرنے کی بجائے اس کی تسخیر کی کوشش کرتی ہے

صفحہ ٣٩٩

ترین افراد کو متاثر کیا۔ ہمارے زمانے کے بعض جلیل القدر علماء جیسے مفتی محمد عبدہ اور نئی پود کے بعض افراد جو آگے چل کر سیاسی قائد بن گئے۔ جیسے مصر کے زغلول پاشا وغیرہ انہیں کے شاگردوں میں سے تھے۔ انہوں نے لکھا کم اور کہا بہت اور اس طریقہ سے ان تمام لوگوں کو جنہیں ان کا قرب حاصل ہوا۔ چھوٹے چھوٹے جمال الدین بنادیا۔ انہوں نے کبھی نبی یا مجدد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ پھر بھی ہمارے زمانے کے کسی شخص نے روح اسلام میں اس قدر تڑپ پیدا نہیں کی جس قدر کہ انہوں نے کی تھی۔ ان کی روح اب بھی دنیائے اسلام میں سرگرم عمل ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ اس کی انتہاء کہاں ہوگی؟

بہر حال اب یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ ان جلیل القدر ہستیوں کی غایت کیا تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے دنیائے اسلام میں تین مخصوص قوتوں کو حکمران پایا اور ان قوتوں کے خلاف بغاوت پیدا کرنے کے لئے اپنی پوری طاقت کو مرتکز کر دیا۔

کے مرور کے بعد خاص کر زوال بغداد کے زمانہ سے وہ بے حد قدامت پرست بن گئے اور آزادی اجتہاد (یعنی قانونی امور میں آزاد رائے قائم کرنا) کی مخالفت کرنے لگے۔ وہابی تحریک جو انیسویں صدی کے مصلحین اسلام کے لئے حوصلہ افروز تھی درحقیقت ایک بغاوت تھی۔ علماء کے اس جمود کے خلاف، پس انیسویں صدی کے مصلحین اسلام کا پہلا مقصد یہ تھا کہ عقائد کی جدید تفسیر کی جائے اور بڑھتے ہوئے تجربے کی روشنی میں قانون کی جدید تعبیر کرنے کی آزادی حاصل کی جائے۔

تھیں۔ جس نے عوام کی قوت عمل کو ضعیف کر دیا تھا اور ان کو ہر قسم کے توہم میں مبتلا کر رکھا تھا۔ تصوف اپنے اس اعلیٰ مرتبہ سے جہاں وہ روحانی تعلیم کی ایک قوت رکھتا تھا۔ نیچے گر کر عوام کی جہالت اور زود اعتقادی سے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بن گیا تھا۔ اس نے بتدریج اور غیر محسوس طریقہ پر مسلمانوں کی قوت ارادی کو کمزور اور اس قدر نرم کر دیا تھا کہ مسلمان اسلامی قانون کی سختی سے بچنے کی کوشش کرنے لگے تھے۔ انیسویں صدی کے مصلحین نے اس قسم کے تصوف کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور مسلمانوں کو عصر جدید کی روشنی کی طرف دعوت دی۔ یہ نہیں کہ یہ مصلحین مادہ پرست تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان اسلام کی اس روح سے آشنا ہو جائیں جو مادہ سے گریز کرنے کی بجائے اس کی تسخیر کی کوشش کرتی ہے۔

٦٥

صفحہ ٤٠٠

مفاد کی حفاظت کے لئے وہ اپنے ملک کو بیچنے میں پس و پیش نہیں کرتے تھے۔ سید جمال الدین افغانی کا مقصد خاص یہ تھا کہ مسلمانوں کو دنیائے اسلام کے ان حالات کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا جائے۔

مسلمانوں کی فکر و نظر کی دنیا میں ان مصلحین نے جو انقلاب پیدا کیا ہے۔ اس کا تفصیلی بیان یہاں ممکن نہیں۔ بہرحال ایک چیز بہت واضح ہے۔ ان مصلحین نے زغلول پاشا، مصطفیٰ کمال اور رضا شاہ ایسی ہستیوں کی آمد کے لئے راستہ تیار کر دیا۔ ان مصلحین نے تعبیر و تفسیر، توجیہہ توضیح کی۔ لیکن جو افراد ان کے بعد آئے اگرچہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نہ تھے۔ تاہم اپنے صحیح رجحانات پر اعتماد کر کے جرأت کے ساتھ میدان عمل میں کود پڑے اور زندگی کی نئی ضرورت کا جو تقاضا تھا اس کو جبر و قوت سے پورا کیا۔ ایسے لوگوں سے غلطیاں بھی ہوا کرتی ہیں۔ لیکن تاریخ اقوام بتلاتی ہے کہ ان کی غلطیاں بھی بعض اوقات مفید نتائج پیدا کرتی ہیں۔ ان کے اندر منطق نہیں بلکہ زندگی ہیجان برپا کر دیتی ہے اور اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے مضطرب اور بے چین رکھتی ہے۔ یہاں یہ بتلا دینا ضروری ہے کہ سرسید احمد خان، سید جمال الدین افغانی اور ان کے سینکڑوں شاگرد جو اسلامی ممالک میں تھے۔ مغرب زدہ مسلمان نہیں تھے۔ بلکہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے قدیم مکتب کے ملاؤں کے آگے زانوئے ادب تہ کیا تھا اور اس عقلی و روحانی فضا میں سانس لیا تھا۔ جس کو وہ از سر نو تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ جدید خیالات کا اثر ضرور پڑا ہے۔ لیکن جس تاریخ کا اجمالی طور پر اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی میں جو انقلاب ظہور پذیر ہوا اور جو جلد یا بدیر دوسرے اسلامی ممالک (میں) بھی ظہور پذیر ہونے والا ہے۔ بالکل اندرونی قوتوں کا آفریدہ تھا۔ جدید دنیائے اسلام کو جو شخص سطحی نظر سے دیکھتا ہے وہی شخص یہ خیال کر سکتا ہے کہ دنیائے اسلام کا موجودہ انقلاب محض بیرونی قوتوں کا مرہون منت ہے۔

کیا ہندوستان سے باہر دوسرے اسلامی ممالک خاص کر ترکی نے اسلام کو ترک کر دیا ہے؟ پنڈت جواہر لال نہرو خیال کرتے ہیں کہ ترکی اب اسلامی ملک نہیں رہا۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس بات کو محسوس نہیں کرتے کہ یہ سوال کہ آیا کوئی شخص یا جماعت اسلام سے خارج ہوگئی۔ مسلمانوں کے نقطۂ نظر سے ایک خالص فقہی سوال ہے اور اس کا فیصلہ اسلام کی ہیئت ترکیبی کے لحاظ سے کرنا پڑے گا۔ جب تک کوئی شخص اسلام کے دو بنیادی اصولوں پر ایمان رکھتا ہے۔ یعنی توحید اور ختم نبوت تو اس کو ایک راسخ العقیدہ ملا بھی اسلام کے دائرہ سے خارج نہیں کر سکتا۔ خواہ فقہ

٦٦

صفحہ ٤٠١

اور آیات قرآنی کی تاویلات میں وہ کتنی ہی غلطیاں کرے۔ غالباً پنڈت جواہر لال نہرو کے ذہن میں وہ مفروضہ یا حقیقی اصلاحات ہیں جو اتاترک نے رائج کی ہیں۔ اب ہم تھوڑی دیر کے لئے ان کا جائزہ لیں گے۔ کیا ترکی میں ایک عام مادی نقطہ نظر کا نشو ونما اسلام کے منافی ہے؟ مسلمانوں میں ترک دنیا کا بہت رواج رہ چکا ہے۔ مسلمانوں کے لئے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ حقائق کی طرف متوجہ ہوں۔ مادیت، مذہب کے خلاف ایک بڑا حربہ ہے۔ لیکن ملا اور صوفی کے پیشوں کے استحصال کے لئے ایک موثر حربہ ہے جو عام لوگوں کو اس غرض سے گرفتار حیرت کر دیتے ہیں کہ ان کی جہالت اور زود اعتقادی سے فائدہ اٹھائیں۔ اسلام کی روح مادہ کے قرب سے نہیں ڈرتی۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ تمہارا دنیا میں جو حصہ ہے اس کو نہ بھولو، ایک غیر مسلم کے لئے اس کا سمجھنا دشوار ہے۔ گزشتہ چند صدیوں میں دنیائے اسلام کی جو تاریخ رہی ہے اس کے لحاظ سے مادی نقطہ نظر کی ترقی تحقق ذات کی ایک صورت ہے۔ کیا لباس کی تبدیلی یا لاطینی رسم الخط کا رواج اسلام کے منافی ہے؟ اسلام کا بحیثیت ایک مذہب کے کوئی وطن نہیں اور بحیثیت ایک معاشرت کے اس کی نہ کوئی مخصوص زبان ہے اور نہ کوئی مخصوص لباس، قرآن کا ترکی زبان میں پڑھا جانا تاریخ اسلام میں کوئی نئی بات نہیں۔ اس کی چند مثالیں موجود ہیں۔ ذاتی طور پر میں اس کو فکر ونظر کی ایک سنگین غلطی سمجھتا ہوں۔ کیونکہ عربی زبان و ادب کا متعلم اچھی طرح جانتا ہے کہ غیر یورپی زبانوں میں اگر کسی زبان کا مستقبل ہے تو وہ عربی ہے۔ بہر حال اب یہ اطلاعیں آ رہی ہیں کہ ترکوں نے ملکی زبان میں قرآن پڑھنا ترک کر دیا ہے۔ تو کیا کثرت ازدواج کی ممانعت یا علماء پر لائسنس حاصل کرنے کی قید منافی اسلام ہے؟ فقہ اسلام کی رو سے ایک اسلامی ریاست کا امیر مجاز ہے کہ شرعی اجازتوں کو منسوخ کر دئے۔

بشرطیکہ اس کو یقین ہو جائے کہ یہ اجازتیں، معاشرتی فساد پیدا کرنے کی طرف مائل ہیں۔ رہا علماء کا لائسنس حاصل کرنا، آج مجھے اختیار ہوتا تو یقیناً میں اسے اسلامی ہند میں نافذ کر دیتا۔ ایک اوسط مسلمان کی سادہ لوحی زیادہ تر افسانہ تراش ملا کی ایجادات کا نتیجہ ہے۔ قوم کی مذہبی زندگی سے ملاؤں کو الگ کر کے اتاترک نے وہ کام کیا جس سے ابن تیمیہ یا شاہ ولی اللہ کا دل مسرت سے لبریز ہو جاتا۔ رسول کریم ﷺ کی ایک حدیث مشکوٰۃ میں درج ہے۔ جس کی رو سے وعظ کرنے کا حق صرف اسلامی ریاست کے امیر یا اس کے مقرر کردہ شخص یا اشخاص کو حاصل ہے۔ خبر نہیں اتاترک اس حدیث سے واقف ہیں یا نہیں؟ تاہم یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ اس کے اسلامی ضمیر کی روشنی نے اس اہم ترین معاملہ میں اس کے میدان عمل کو کس طرح منور کر دیا

٢٦

صفحہ ٤٠٤

ہے ۔ سوئس قانون (مراد ہے سوئٹزرلینڈ کا ضابطہ قانون) اور اس کے قواعد وراثت کو اختیار کر لینا ضرور ایک سنگین غلطی ہے ۔ جو جوش اصلاح کی وجہ سے سرزد ہوئی ہے اور ایک ایسی قوم میں جو سرعت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے ایک حد تک قابل معافی ہے ۔ پیشوایان مذہب کے پنجہ استبداد سے نجات حاصل کرنے کی مسرت ایک قوم کو بعض اوقات ایسی راہ عمل کی طرف کھینچ لے جاتی ہے ۔ جس کا اس قوم کو کوئی تجربہ نہیں ہوتا ۔ ترکی اور نیز تمام دنیائے اسلام کو اسلامی قانون وراثت کے ان معاشی پہلوؤں کو ابھی منکشف کرنا ہے جن کو وان کر یمر (Vonkremer) فقہ اسلام کی بے حد اچھی شاخ سے تعبیر کرتا ہے۔ کیا تنسیخ خلافت یا مذہب و سلطنت کی علیحدگی منافی اسلام ہے؟ اسلام اپنی روح کے لحاظ سے شہنشاہیت نہیں ہے ۔ اس خلافت کی تنسیخ جو بنو امیہ کے زمانے سے عملاً ایک سلطنت بن گئی تھی ۔ اسلام کی روح اتاترک کے ذریعہ کارفرما رہی ہے۔ مسئلہ خلافت میں ترکوں کے اجتہاد کو سمجھنے کے لئے ہمیں ابن خلدون کی رہنمائی حاصل کرنا پڑے گی ۔ جو اسلام کا ایک جلیل القدر فلسفی، مورخ اور تاریخ جدید کا ابوالآبا گزرا ہے ۔ میں اپنی کتاب اسلامی تفکر کی تشکیل جدید (مراد ہے) کا اقتباس پیش کرتا ہوں۔

ابن خلدون اپنے مشہور مقدمہ تاریخ میں عالمگیر اسلامی خلافت سے متعلق تین ممتاز نقاط نظر پیش کرتا ہے۔

آخرالذکر خیال کو خارجیوں نے اختیار کیا تھا۔ جو اسلام کے ابتدائی جمہوریین تھے۔ ترکی پہلے خیال کے مقابلہ میں دوسرے خیال کی طرف مائل ہے ۔ یعنی معتزلہ کے اس خیال کی طرف کہ عالمگیر خلافت محض اقتضائے وقت سے تعلق رکھتی ہے ۔ ترکوں کا استدلال یہ ہے کہ ہم کو اپنے سیاسی تفکر میں اپنے ماضی کے سیاسی تجربے سے مدد لینی چاہئے ۔ جو بلاشک و شبہ اس واقعہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ عالمگیر خلافت کا تفکر و تخیل عملی صورت اختیار کرنے سے قاصر رہا۔ یہ تخیل اس وقت قابل عمل تھا جب کہ اسلامی ریاست برقرار تھی ۔ اس ریاست کے انتشار کے بعد کئی آزاد سلطنتیں وجود میں آگئی ہیں ۔ اب یہ تخیل بے اثر ہو گیا ہے اور اسلام کی تنظیم جدید میں ایک زندگی بخش عنصر کی حیثیت سے کارگر نہیں ہو سکتا۔

مذہب و سلطنت کی علیحدگی کا تصور بھی اسلام کے لئے غیر مانوس نہیں ہے ۔ امام کی

٦٨

صفحہ ٤٠٣

غیبت کبریٰ کا نظریہ ایک مفہوم میں ایک عرصہ پہلے شیعی ایران میں اس علیحدگی کو رو بہ عمل لا چکا ہے۔ ریاست کے مذہبی و سیاسی وظائف کی تقسیم کے اسلامی تصور کو کلیسا اور سلطنت کے مغربی تصور سے مخلوط نہ کرنا چاہئے۔ اوّل الذکر تو محض وظائف کی ایک قسم ہے۔ جیسا کہ اسلامی ریاست میں شیخ الاسلام اور وزراء کے عہدوں کے تدریجی قیام سے واضح ہو جاتا ہے۔ لیکن آخر الذکر روح اور مادہ کی مابعد الطبعی ثنویت پر مبنی ہے۔ مسیحیت کا آغاز ایک نظام رہبانیت سے ہوتا ہے۔ جسے دنیوی امور سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسلام ابتداء ہی سے ایک نظام معاشری رہا ہے۔ جس کے قوانین بالطبع معاشری ہیں۔ اگرچہ ان کا ماخذ الہامی ہے۔ مابعد الطبعی ثنویت نے جس پر مذہب وسلطنت کی علیحدگی کا مغربی تصور مبنی ہے مغربی اقوام میں تلخ ثمرات پیدا کئے۔ کئی سال ہوئے امریکہ میں ایک کتاب لکھی گئی تھی۔ جس کا عنوان تھا ”اگر مسیح شکاگو آئیں“ (If Christ came to Chicago) اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک امریکی مصنف کہتا ہے: ”مسٹر سٹیڈ (Mr. Stead) کی کتاب سے ہمیں جو سبق حاصل کرنا ہے یہ ہے کہ اس وقت نوع انسان جن برائیوں میں مبتلا ہے وہ ایسی برائیاں ہیں جن کا ازالہ صرف مذہبی تاثرات ہی کر سکتے ہیں۔ ان برائیوں کا ازالہ ایک بڑی حد تک ریاست کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ لیکن خود ریاست فساد انگیز سیاسی مشینوں میں دب گئی ہے۔ یہ مشین ان برائیوں کا ازالہ کرنے کے لئے نہ صرف تیار نہیں بلکہ وہ اس قابل نہیں ہے۔ پس کروڑہا انسانوں کو تباہی اور خود ریاست کو انحطاط سے بچانے کے لئے بجز اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ شہریوں میں اپنے اجتماعی فرائض کا مذہبی احساس پیدا کیا جائے۔“

مسلمانوں کے سیاسی تجربے کی تاریخ میں مذہب وسلطنت کی علیحدگی محض وظائف کی علیحدگی ہے نہ کہ عقائد کی۔ اسلامی ممالک میں مذہب وسلطنت کی علیحدگی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ مسلمانوں کی قانون سازی عوام کے ضمیر سے بے تعلق ہو جائے۔ جو صدیوں سے اسلامی روحانیت کے تحت پرورش و نمو پاتا رہا ہے۔ تجربہ خود بتلادے گا کہ یہ تخیل جدید ترکی میں کس طرح عملی صورت اختیار کرتا ہے۔ ہم صرف یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ یہ ان برائیوں کا باعث نہ ہوگا جو یورپ اور امریکہ میں پیدا ہوگئی ہیں۔

متذکرہ الصدر اصلاحات پر میں نے جو اجمالی بحث کی ہے اس میں میرا روئے سخن پنڈت جواہر لال نہرو سے زیادہ مسلمانوں کی طرف تھا۔ پنڈت نہرو نے جس اصلاح کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ترکوں اور ایرانیوں نے نسلی اور قومی نصب العین اختیار کر لیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ایسا نصب العین اختیار کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ترکوں اور

٦٩

صفحہ ٤٠٤

ایرانیوں نے اسلام کو ترک کر دیا ہے۔ تاریخ کا معلم اچھی طرح جانتا ہے کہ اسلام کا ظہور ایسے زمانے میں ہوا جب کہ وحدت انسانی کے قدیم اصول جیسے خونی رشتہ اور ملوکیت ناکام ثابت ہو رہے تھے۔ پس اسلام نے وحدت انسانی کا اصول گوشت اور پوست میں نہیں بلکہ روح انسانی میں دریافت کیا۔ نوع انسان کو اسلام کا اجتماعی پیغام یہ ہے کہ نسل کے قیود سے آزاد ہو جاؤ یا باہمی لڑائیوں سے ہلاک ہو جاؤ۔ یہ کہنا کوئی مبالغہ نہیں کہ اسلام فطرت کی نسل سازی کو ٹیڑھی نظر سے دیکھتا ہے اور اپنے مخصوص اداروں کے ذریعہ ایسا نقطہ نظر پیدا کر دیتا ہے۔ جو فطرت کی نسل ساز قوتوں کی مزاحمت کرتا ہے۔ انسانی برادری قائم کرنے کے سلسلہ میں اسلام نے جو اہم ترین کارنامے ایک ہزار سال میں انجام دیئے۔ وہ مسیحیت اور بدھ مت نے دو ہزار سال میں بھی انجام نہیں دیئے۔ یہ بات ایک معجزے سے کم نہیں کہ ایک ہندی مسلمان نسل اور زبان کے اختلاف کے باوجود مراکشی کو اجنبیت محسوس نہیں کرتا۔ تاہم یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اسلام نسل کا سرے سے مخالف ہے۔ تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام نے معاشری اصلاح کو زیادہ تر اس امر پر مبنی رکھا کہ بتدریج نسلی عصبیت کو مٹایا جائے اور ایسا راستہ اختیار کیا جائے۔ جہاں تصادم کا کم سے کم امکان ہو۔ قرآن کا ارشاد ہے۔ ہم نے تم کو قبائل میں اس لئے پیدا کیا کہ تم پہچانے جاسکو۔ لیکن تم میں سے وہی شخص خدا کی نظر میں بہترین ہے۔ جس کی زندگی پاک ہے۔ "یٰایھا الناس انا خلقنکم من ذکر و انثی وجعلنکم شعوبا وقبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند الله اتقکم (الحجرات:١٣)" اگر اس امر کو مدنظر رکھا جائے کہ مسئلہ نسل کس قدر زبردست ہے اور نوع انسان سے نسلی امتیاز مٹانے کے لئے کس قدر وقت درکار ہے؟ تو مسئلہ نسل کے متعلق صرف اسلام ہی کا نقطہ نظر (یعنی خود ایک نسل ساز عصر بنے بغیر نسلی امتیازات پر فتح پانا) معقول اور قابل عمل نظر آئے گا۔ سر آرتھر کیتھ (Sir Arther Keith) کی چھوٹی سی کتاب مسئلہ نسل میں ایک دلچسپ عبارت ہے۔ جس کا اقتباس یہاں پیش کرنا نامناسب نہ ہوگا۔

"اب انسان میں اس قسم کا غور پیدا ہو رہا ہے کہ فطرت کا ابتدائی مقصد یعنی نسل سازی جدید معاشی دنیا کی ضروریات کے منافی ہے اور وہ اپنے دل سے پوچھتا ہے کہ مجھ کو کیا کرنا چاہئے؟ کیا نسل سازی کو ختم کر کے جس پر فطرت اب تک عمل پیرا تھی دائمی امن حاصل کیا جائے یا فطرت کو اجازت دی جائے کہ وہ اپنی قدیم راہِ عمل اختیار کرے۔ جس کا لازمی نتیجہ جنگ ہے؟ انسان کو کوئی ایک راہِ عمل اختیار کرنا پڑے گی۔ کوئی درمیانی راستہ ممکن نہیں؟"

لہٰذا اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر اتا ترک اتحاد تورانیت سے متاثر ہے تو وہ روح

٧٠

اسلام کے خلاف اس قدر نہیں جا رہا۔ جس قدر ضروری سمجھتا ہے تو اس کو عصر جدید کی روح کہ روح اسلام کے مطابق ہے۔ بہر حال ذاتی ط سے متاثر نہیں ہے۔ میرا یقین ہے کہ اس کا ا اتحاد المانویت یا اتحاد اینگلو سیکسن کا۔

اگر مندرجہ بالا عبارت کا مفہوم اچھ اسلام کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں دشواری نہ ہوگی لئے جان تک قربان کرنے کے ہیں تو اسکی قومیت کا اسلام سے اس وقت تصادم ہوتا ہ انسانی کا بنیادی اصول ہونے کا دعویٰ کرتی ہ مظہر میں چلا جائے اور قومی زندگی میں ایک ایران، مصر اور دیگر اسلامی ممالک میں قو مسلمانوں کی زبردست اکثریت ہے اور یہا قانون کی رو سے یا تو اہل کتاب ہیں یا اہل تعلقات قائم کرنا اسلامی قانون کے لحاظ س صرف ان ممالک میں پیدا ہوتا ہے۔ جہاں اپنی ہستی کو مٹا دیں۔ جن ممالک میں مسلما کر لیتا ہے۔ کیونکہ یہاں اسلام اور قومیت میں ہیں۔ (وہاں) مسلمانوں کی یہ کوشش ا کی جائے۔ حق بجانب ہوگی۔ دونوں صورت

سطور بالا میں دنیائے اسلام کی کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو یہ امر واضح ہ بیرونی یا اندرونی قوت متزلزل نہیں کر سکتی مشتمل ہے اسلام کے دو بنیادی عقائد پ چاہئے۔ وحدت اسلامی کے یہ اساسی عقائ ہیں۔ گو حال میں بہائیوں نے ایران اور

صفحہ ٤٠٥

اسلام کے خلاف اس قدر نہیں جا رہا۔ جس قدر کہ روح عصر کے خلاف۔ اگر وہ نسلوں کے وجود کو ضروری سمجھتا ہے تو اس کو عصر جدید کی روح شکست دے دے گی۔ کیونکہ عصر جدید کی روح بالکل روح اسلام کے مطابق ہے۔ بہرحال ذاتی طور پر میں خیال کرتا ہوں کہ اتاترک اتحاد تورانیت سے متاثر نہیں ہے۔ میرا یقین ہے کہ اس کا اتحاد تورانیت ایک سیاسی جواب ہے۔ اتحاد اسلاف یا اتحاد المانویت یا اتحاد اینگلو سیکسن کا۔

اگر مندرجہ بالا عبارت کا مفہوم اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو قومی نصب العین سے متعلق اسلام کے نقطۂ نظر کو سمجھنے میں دشواری نہ ہوگی۔ اگر قومیت کے معنی حب الوطنی اور ناموس وطن کے لئے جان تک قربان کرنے کے ہیں تو ایسی قومیت مسلمانوں کے ایمان کا ایک جزو ہے۔ اس قومیت کا اسلام سے اس وقت تصادم ہوتا ہے جب کہ وہ ایک سیاسی تصور بن جاتی ہے اور اتحاد انسانی کا بنیادی اصول ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اسلام شخصی عقیدے کے پس منظر میں چلا جائے اور قومی زندگی میں ایک حیات بخش عنصر کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔ ترکی، ایران، مصر اور دیگر اسلامی ممالک میں قومیت کا مسئلہ پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ ان ممالک میں مسلمانوں کی زبردست اکثریت ہے اور یہاں کی اقلیتیں جیسے یہودی، عیسائی اور زرتشتی اسلامی قانون کی رو سے یا تو اہل کتاب ہیں یا اہل کتاب سے مشابہ ہیں۔ جن سے معاشی اور ازدواجی تعلقات قائم کرنا اسلامی قانون کے لحاظ سے بالکل جائز ہے۔ قومیت کا مسئلہ مسلمانوں کے لئے صرف ان ممالک میں پیدا ہوتا ہے۔ جہاں وہ اقلیت میں ہیں اور جہاں قومیت کا یہ تقاضا ہو کہ وہ اپنی ہستی کو مٹا دیں۔ جن ممالک میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ اسلام قومیت سے ہم آہنگی پیدا کر لیتا ہے۔ کیونکہ یہاں اسلام اور قومیت عملاً ایک ہی چیز ہے۔ جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ (وہاں) مسلمانوں کی یہ کوشش کہ ایک تہذیبی وحدت کی حیثیت سے خود مختاری حاصل کی جائے، حق بجانب ہوگی۔ دونوں صورتیں اسلام کے بالکل مطابق ہیں۔

سطور بالا میں دنیائے اسلام کی صحیح صورتحال کو اجمالی طور پر پیش کر دیا گیا ہے۔ اگر اس کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو یہ امر واضح ہو جائے گا کہ وحدت اسلامی کے بنیادی اصولوں کو کوئی بیرونی یا اندرونی قوت متزلزل نہیں کر سکتی۔ وحدت اسلامی، جیسا کہ میں نے پہلے توضیح کی ہے۔ مشتمل ہے اسلام کے دو بنیادی عقائد پر۔ جن میں پانچ مشہور ارکان شریعت کا اضافہ کر لینا چاہئے۔ وحدت اسلامی کے یہ اساسی عناصر ہیں جو رسول کریم (ﷺ) زمانے سے اب تک قائم ہیں۔ گو حال میں بہائیوں نے ایران اور قادیانیوں نے ہندوستان میں ان عناصر میں انتشار پیدا

٧١

صفحہ ٤٠٦

کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وحدت دنیائے اسلام میں یکساں روحانی فضا پیدا کرنے کی ضامن ہے۔ یہی وحدت اسلامی ریاستوں میں سیاسی اتحاد قائم کرنے میں سہولت پیدا کرتی ہے۔ خواہ یہ اتحاد عالمگیر ریاست (مثالی) کی صورت اختیار کرے یا اسلامی ریاستوں کی جمعیت کی ایک صورت یا متعدد آزاد ریاستوں کی صورت جن کے معاہدات اور میثاقات خالص معاشی و سیاسی مصلحتوں پر مبنی ہوں گے۔ اس طرح اس سیدھے سادھے مذہب کی تعقلی ہیئت ترکیبی رفتار زمانہ سے ایک تعلق رکھتی ہے۔ اس تعلق کی گہرائی قرآن کی چند آیتوں کی روشنی میں سمجھ میں آسکتی ہے۔ جن کی تشریح پیش نظر مقصد سے ہٹے بغیر یہاں ممکن نہیں۔ سیاسی نقطہ نظر سے وحدت اسلامی صرف اس وقت متزلزل ہو جاتی ہے۔ جب کہ اسلامی ریاستیں ایک دوسرے سے جنگ کرتی ہیں اور مذہبی نقطہ نظر سے اس وقت متزلزل ہو جاتی ہے۔ جب کہ مسلمان بنیادی عقائد یا ارکان شریعت کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔ اس ابدی وحدت کی خاطر اسلام اپنے دائرے میں کسی باغی جماعت کو روا نہیں رکھتا۔ اسلام کے دائرے سے باہر ایسی جماعت کے ساتھ دوسرے مذاہب کے پیروؤں کی طرح رواداری برتی جاسکتی ہے۔ میرے خیال میں اس وقت اسلام ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ وہ سیاسی وحدت کی ایک صورت سے کسی دوسری صورت کی طرف جو ابھی متعین نہیں ہوئی ہے۔ اقدام کر رہا ہے۔ دنیائے جدید میں حالات اس سرعت کے ساتھ بدل رہے ہیں کہ مستقبل کے متعلق پیشین گوئی تقریباً ناممکن ہے۔ اگر دنیائے اسلام سیاسی وحدت حاصل کرے۔ (اگر ایسا ممکن ہو) تو غیر مسلموں کے ساتھ مسلمانوں کا رویہ کیا ہوگا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب صرف تاریخ ہی دے سکتی ہے۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ جغرافی حیثیت سے یورپ اور ایشیاء کے درمیان واقع ہونے کے لحاظ سے اور زندگی کے مشرقی و مغربی نصب العین کے ایک امتزاج کی حیثیت سے اسلام کو مشرق و مغرب کے مابین ایک طرح کا نقطۂ اتصال بننا چاہئے۔ لیکن اگر یورپ کی نادانیاں اسلام کو ناقابل مفاہمت بنادیں تو کیا ہوگا؟ یورپ کے روزمرہ کے حالات جو صورت اختیار کر رہے ہیں۔ ان کا اقتضاء یہ ہے کہ یورپ اپنے طرز عمل کو کلیۃً بدل دے جو اس نے اسلام کے متعلق اختیار کیا ہے۔ ہم صرف یہ توقع کر سکتے ہیں کہ سیاسی بصیرت پر معاشی لوٹ اور شہنشاہی ہوس کا پردہ نہیں پڑے گا۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے۔ میں یقین کامل کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مسلمانان ہند کسی ایسی تصوریت کا شکار نہیں بنیں گے۔ جو ان کی تہذیبی وحدت کا خاتمہ دے گی۔ اگر ان کی تہذیبی وحدت محفوظ ہو جائے تو ہم اعتماد کر سکتے ہیں کہ وہ مذہب اور حب الوطنی میں ہم آہنگی پیدا کر لیں گے۔

٧٢

ہز ہائینس آغا خاں کے متعلق مجھ معلوم کرنا دشوار ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو ی ہیں کہ قادیانی اور اسماعیلی ایک ہی زمرے میں اسماعیلیوں کی دینیاتی تاویلات کتنی ہی غلط ہو رکھتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اسماعیلی تسلسل وامام نہیں ہوتا ہے۔ وہ محض قانون کا مضمر ہوتا ہے اپنے پیروؤں کو حسب ذیل الفاظ سے مخاطب ک ”گواہ رہو کہ اللہ ایک ہے اور مح ہے۔ کعبہ سب کا قبلہ ہے۔ تم مسلمان ہو اور السلام علیکم کہہ کر ملو۔ اپنے بچوں کے اسلامی ن پڑھو۔ پابندی سے روزے رکھو۔ اسلامی قانو سے اپنے بھائیوں کی طرح برتاؤ کرو۔“

اب پنڈت جواہر لال نہرو کو اس کی نمائندگی کر رہے ہیں (مرتب) یا نہیں؟

کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ

کشمیر کمیٹی میں میری صدارت غیر متوقع واقعات کے اچانک رونما ہونے وقت یہ خیال تھا کہ اس قسم کی کمیٹی کی ضرور مرتب نہیں کیا تھا اور صدر کو آمرانہ اختیارات

یہ خیال کہ کشمیر کمیٹی کی ایک مستقل پیدا ہونے والے واقعات نے غلط ثابت کر

ایک باقاعدہ نظام ہونا چاہئے اور عہدیدارو کے طریق کار کے متعلق کچھ لوگوں کے اشک ہوگا۔ اس خیال کی مزید تائید کی۔ چنانچہ کثی

(مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ ثانی مرزا غلام احم پچھلے ہفتہ کے آخری دنوں میں

صفحہ ٤٠٧

ہزہائینس آغا خاں کے متعلق میں دو ایک لفظ کہنا چاہتا ہوں۔ میرے لئے اس امر کا معلوم کرنا دشوار ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے آغا خاں پر کیوں حملے کئے؟ شاید وہ خیال کرتے ہیں کہ قادیانی اور اسماعیلی ایک ہی زمرے میں شامل ہیں۔ وہ اس بات سے بداہتہً بے خبر ہیں کہ اسماعیلیوں کی دینیاتی تاویلات کتنی ہی غلط ہوں۔ پھر بھی وہ اسلام کے بنیادی اصولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اسماعیلی تسلسل و امامت کے قائل ہیں۔ لیکن ان کے نزدیک امام حامل وحی نہیں ہوتا ہے۔ وہ محض قانون کا مفسر ہوتا ہے۔ کل ہی کی بات ہے کہ ہزہائینس آغا خان نے اپنے پیروؤں کو حسب ذیل الفاظ سے مخاطب کیا تھا۔

(دیکھو اسٹار الہ آباد مورخہ ١٢ مارچ ١٩٣٤ء)

”گواہ رہو کہ اللہ ایک ہے اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ کعبہ سب کا قبلہ ہے۔ تم مسلمان ہو اور مسلمانوں کے ساتھ زندگی بسر کرو۔ مسلمانوں سے السلام علیکم کہہ کر ملو۔ اپنے بچوں کے اسلامی نام رکھو۔ مسلمانوں کے ساتھ مسجد میں باجماعت نماز پڑھو۔ پابندی سے روزے رکھو۔ اسلامی قانون نکاح کے مطابق اپنی شادیاں کرو۔ تمام مسلمانوں سے اپنے بھائیوں کی طرح برتاؤ کرو۔“

اب پنڈت جواہر لال نہرو کو اس امر کا تصفیہ کرنا چاہئے کہ آیا آغا خاں اسلامی وحدت کی نمائندگی کر رہے ہیں (مرتب) یا نہیں؟

(حرف اقبال ص ١٣٨ تا ١٧٢)

کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفاء

کشمیر کمیٹی میں میری صدارت محض عارضی تھی۔ یاد رہے کہ کمیٹی کی تشکیل کشمیر میں غیر متوقع واقعات کے اچانک رونما ہونے پر صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے ہوئی تھی اور اس وقت یہ خیال تھا کہ اس قسم کی کمیٹی کی ضرورت بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ اس لئے کمیٹی کا کوئی نظام مرتب نہیں کیا تھا اور صدر کو آمرانہ اختیارات دے دیئے گئے تھے۔

یہ خیال کہ کشمیر کمیٹی کی ایک مستقل ادارہ کی حیثیت سے ضرورت نہ ہوگی۔ ریاست میں پیدا ہونے والے واقعات نے غلط ثابت کر دیا۔ بہت سے ممبران نے اس لئے یہ سوچا کہ کمیٹی کا ایک با قاعدہ نظام ہونا چاہئے اور عہدیداروں کا نیا انتخاب ہونا چاہئے۔ کمیٹی کے ارکان اور اس کے طریق کار کے متعلق کچھ لوگوں کے اختلاف نے جس کے اسباب کا یہاں ذکر کرنا مناسب نہ ہوگا۔ اس خیال کی مزید تائید کی۔ چنانچہ کمیٹی کا ایک اجلاس طلب کیا گیا۔ جس میں کمیٹی کے صدر (مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ ثانی مرزا غلام احمد قادیانی) نے اپنا استعفاء پیش کیا اور وہ منظور ہو گیا۔ پچھلے ہفتہ کے آخری دنوں میں کمیٹی کا ایک اور جلسہ ہوا۔ اس میں ممبران کے سامنے

٧٣

PDF 409

نظام کا مسودہ پیش کیا گیا۔ جس کی غرض وغایت یہ تھی کہ کمیٹی کی حیثیت ایک نمائندہ جماعت کی سی ہو۔ لیکن کچھ ممبران نے اس سے اختلاف ظاہر کیا۔ بعد کے بحث ومباحثہ اور گفتگو سے مجھے یہ پتہ لگا کہ یہ لوگ دراصل کمیٹی کو دو ایسے حصوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ جن میں اتحاد صرف برائے نام ہی ہوگا۔ چنانچہ میں نے اپنا استعفا پیش کرنے سے پہلے ممبران کو اپنی اس رائے سے اچھی طرح آگاہ کر دیا تھا۔ بدقسمتی سے کمیٹی میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے مذہبی فرقے کے امیر کے سوا کسی دوسرے کا اتباع کرنا سرے سے گناہ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ قادیانی وکلاء میں سے ایک صاحب نے جو میر پور کے مقدمات کی پیروی کر رہے ہیں۔ حال ہی میں اپنے ایک بیان میں واضح طور پر اس خیال کا اظہار کر دیا۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ وہ کسی کشمیر کمیٹی کو نہیں مانتے اور جو کچھ انہوں نے یا ان کے ساتھیوں نے اس ضمن میں کیا وہ ان کے امیر کے حکم کی تعمیل تھی۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں نے ان کے اس بیان سے اندازہ لگایا کہ تمام قادیانی حضرات کا یہی خیال ہوگا اور اس طرح میرے نزدیک کشمیر کمیٹی کا مستقبل مشکوک ہو گیا۔ میں کسی صاحب پر انگشت نمائی نہیں کرنا چاہتا۔ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دل و دماغ سے کام لے اور جو راستہ پسند ہو اسے اختیار کرے۔ حقیقت میں مجھے ایسے شخص سے ہمدردی ہے جو کسی روحانی سہارے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے کسی مقبرہ کا مجاور یا کسی زندہ نام نہاد پیر کا مرید بن جائے۔ جہاں تک مجھے علم ہے کشمیر کمیٹی کی عام پالیسی کے متعلق ممبران میں کسی قسم کا اختلاف نہیں۔ پالیسی سے اختلاف کی بناء پر کسی نئی پارٹی کی تشکیل پر اعتراض کرنے کا کسی کو حق نہیں پہنچتا۔ لیکن جہاں تک میں نے حالات کا جائزہ لیا ہے کشمیر کمیٹی کے چند ارکان کو جو اختلافات ہیں وہ بالکل بے تکے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر مجھے اس امر کا یقین ہے کہ کمیٹی میں اب ہم آہنگی کے ساتھ کام نہیں ہو سکتا اور ہم سب کا مفاد اسی میں ہے کہ موجودہ کشمیر کمیٹی کو ختم کر دیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مسلمانان کشمیر کی رہنمائی اور مدد کے لئے برطانوی ہند میں ایک کشمیر کمیٹی ضرور ہونی چاہئے۔ اس لئے اگر برطانوی ہند کے مسلمان اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو وہ مجاز ہیں کہ ایک کھلے عام اجلاس میں ایک نئی کشمیر کمیٹی کی تشکیل کر لیں۔ موجودہ حالات کے پیش نظر مجھے صرف یہی ایک راستہ دکھائی دیتا ہے۔ میں نے اپنے ان احساسات کو آپ کے سامنے کھلے الفاظ میں پیش کر دیا ہے۔ جنہوں نے مجھے استعفاء دینے پر مجبور کیا۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ صاف گوئی کسی شخص کو ناگوار نہ گزرے گی۔ کیونکہ میرا مقصد نہ کسی کی برائی کرنا ہے اور نہ کسی پر انگلی اٹھانا۔

(حرف اقبال ص ٢٢٠ تا ٢٢٣)

٧٢

تحریک کشمیر کی صدارت کی پیشکش آ

آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا صدر ہو ممبران کو اس پر رائے زنی کا موقعہ دیئے بغی پیش کی گئی تھی۔ میں نے ڈاکٹر مرزا یعقوب اخبارات کے بعض اہل قلم اصحاب نے جو پر مجھے پیش کردہ صدارت کے قبول کرنے کر دینا چاہتا ہوں کہ مجھے صرف صدارت ایسی پیشکش کے متعلق سوچنا ہی غلط سمجھتا ہ پر میں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ آل انڈیا ک یہ پیشکش جو مجھے کی گئی ہے با متعلق یقین دلانا ہے کہ سابقہ کشمیر کمیٹی قا جماعت کی حیثیت سے موجود ہے اور یہ کہ شخص کی رہنمائی میں کام کرنے کے لئے لیکن ان کی یہ چال کہ وہ اسباب جن کی ہو گئے ہیں نہ تو مجھے قائل کر سکتی ہے اور نہ آ قادیانی ہیڈ کوارٹرز سے ابھی کے کسی مسلم ادارہ میں شریک ہونے کی ج سے تو یہ امر بالکل واضح ہو گیا ہے کہ وہ ا کرتے ہیں اور جس میں بقول قادیانی اجازت دی گئی تھی۔ اغراض و مقاصد پ قادیانی جماعت کے امیر کی جانب سے ہیں (غیر قادیانی کشمیری ہونے کی وجہ س تحریک کشمیر کے چند پوشیدہ اغراض کا انک میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تحریک میں شامل ہو سکتا ہے جس کا اصلاً کا پروپیگنڈا کرنا ہے۔

صفحہ ٤٠٩

تحریک کشمیر کی صدارت کی پیشکش کا استرداد

آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا صدر ہوتے ہوئے میں نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ میں کمیٹی کے ممبران کو اس پر رائے زنی کا موقعہ دیئے بغیر اس خط کا جواب دے دوں۔ جس میں مجھے صدارت پیش کی گئی تھی۔ میں نے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کو بھی اس امر سے مطلع کر دیا تھا۔ میرے خط سے اخبارات کے بعض اہل قلم اصحاب نے جو اغلباً قادیانی ہیں یہ غلط مطلب اخذ کیا ہے کہ اصولی طور پر مجھے پیش کردہ صدارت کے قبول کرنے میں کوئی اعتراض نہیں۔ لہٰذا میں جلد از جلد یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ مجھے صرف صدارت کے قبول کرنے ہی سے اصولی اختلاف نہیں بلکہ میں تو ایسی پیشکش کے متعلق سوچنا ہی غلط سمجھتا ہوں اور میرے اس رویہ کی وجوہات وہی ہیں جن کی بناء پر میں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی نئی تشکیل ہونی چاہئے۔

یہ پیشکش جو مجھے کی گئی ہے یقیناً ایک فریب ہے اور اس کا مقصد لوگوں کو اس امر کے متعلق یقین دلانا ہے کہ سابقہ کشمیر کمیٹی حقیقت میں ختم نہیں ہوئی بلکہ نئی کمیٹی کے پہلو بہ پہلو ایک جماعت کی حیثیت سے موجود ہے اور یہ کہ وہ لوگ جنہیں نئی کمیٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ وہ اب اس شخص کی رہنمائی میں کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جو کمیٹی کی نئی تشکیل کا سب سے بڑا محرک تھا۔ لیکن ان کی یہ چال کہ وہ اسباب جن کی بناء پر میں نے کشمیر کمیٹی کی از سر نو تشکیل کرائی۔ اب ختم ہو گئے ہیں نہ تو مجھے قائل کر سکتی ہے اور نہ مسلم عوام کو۔

قادیانی ہیڈ کوارٹرز سے ابھی اس مقصد کا کوئی واضح بیان شائع نہیں ہوا کہ قادیانیوں کے کسی مسلم ادارہ میں شریک ہونے کی صورت میں ان کی اطاعت دو طرفہ نہ ہوگی۔ بلکہ واقعات سے تو یہ امر بالکل واضح ہو گیا ہے کہ وہ ادارہ جس کو قادیانی اخبارات تحریک کشمیر کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور جس میں بقول قادیانی اخبار ”الفضل“ مسلمانوں کو صرف رسمی طور پر شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔ اغراض و مقاصد کے لحاظ سے آل انڈیا کشمیر کمیٹی سے بالکل مختلف ہے۔ قادیانی جماعت کے امیر کی جانب سے کئی چٹھیاں جو انہوں نے اپنے کشمیری بھائیوں کے نام لکھی ہیں (غیر قادیانی کشمیری ہونے کی وجہ سے انہیں مسلمان کی بجائے بھائی کہا گیا ہے) اس قادیانی تحریک کشمیر کے چند پوشیدہ اغراض کا انکشاف کرتی ہے۔

میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان حالات کے پیش نظر ایک مسلمان کس طرح ایک ایسی تحریک میں شامل ہو سکتا ہے جس کا اصل مقصد غیر فرقہ واری کی ہلکی سی آڑ میں کسی مخصوص جماعت کا پروپیگنڈا کرنا ہے۔

(حرف اقبال ص ٢٢٣ تا ٢٢٥)

٧٥

صفحہ ٤١١

باب سوم ...... فتنہ قادیانیت اور مکاتیب اقبالؒ

ہو اگر قوت فرعون کی در پردہ مرید
قوم کے حق میں ہے لعنت وہ کلیم الہی

(ضرب کلیم)

احمدی اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں

پنڈت جواہر لال نہرو کے نام خط

٢١ جون ١٩٣٦ء ڈیئر پنڈت جواہر لال! کل آپ کا مراسلہ خط ملا۔ جس کے لئے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ میں نے جب آپ کے تحریر کردہ مضامین کا جواب لکھا تو میرا گمان تھا کہ آپ کو احمدیوں کے سیاسی رویہ کا علم نہیں۔ میرے ان جوابات کے لکھنے کی بنیادی وجہ فی الحقیقت اس بات کو ظاہر کرنا اور خاص طور سے آپ پر یہ واضح کرنا تھا کہ مسلمانوں کے اندر جذبات وفاداری کیسے پیدا ہوئے اور یہ کہ قادیانیت نے ان کے لئے الہامی بنیاد کس طرح فراہم کی؟ ان مضامین کی اشاعت کے بعد میرے لئے یہ انکشاف انتہائی حیران کن تھا کہ خود مسلمانوں کا پڑھا لکھا طبقہ بھی ان تاریخی وجوہات سے ناواقف ہے۔ جنہوں نے احمدی تعلیمات کو تشکیل کیا۔

علاوہ ازیں پنجاب اور دوسرے علاقوں میں بسنے والے آپ کے ساتھی بھی آپ کے ان مضامین کے باعث بے چینی محسوس کرتے تھے۔ کیونکہ ان کے خیال میں آپ کی ہمدردیاں احمدیہ تحریک کے ساتھ تھیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آپ کے ان مضامین سے احمدی ازحد خوشی محسوس کرتے تھے (اور) احمدی پریس خاص طور پر آپ کے خلاف اس غلط فہمی کو پھیلانے کا موجب تھا۔ بہر حال مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میری آپ کے متعلق رائے غلط تھی۔ میں بذات خود مذہبی معاملات میں نہیں الجھتا۔ مگر احمدیوں سے خود انہیں کے میدان میں مقابلہ کرنے کی خاطر مجھے اس بحث میں حصہ لینا پڑا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان مضامین کو لکھتے وقت ہندوستان اور اسلام کی بہتری میرے پیش نظر تھی اور میں اپنے ذہن میں اس امر کے متعلق کوئی شبہ نہیں پاتا کہ احمدی اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں۔

٧٦

مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ میں بے ان دنوں اتنا بیمار تھا کہ اپنے کمرہ سے باہر نہ ج ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہوں۔ آئندہ آپ کریں۔ کیا آپ کو میرا شہری آزادی کے متعلق کے ملنے کی اطلاع نہیں دی۔ اس لئے مجھے خدشہ

مولانا سید سلیمان

......٣٣ ......١ لاہور، مورخہ ٢٠ اپریل ١٩٢٢ء مخدومی !

ایک عرصہ سے آپ کو خط لکھنے کا قصد

کہ خدا تعالیٰ کی رویت ممکن ہے۔ یہ بحث کہاں ہ

ہر کجا ہنگا
رحمۃ للعالمینی

حال کے ہیئت دان کہتے ہیں کہ بعض کی آبادی ممکن ہے۔ اگر ایسا ہو تو رحمۃ للعالمین از کم محمدیت کے لئے تناسخ یا بروز لازم آتا ہے کے اس عقیدہ کی وجہ یہی تو نہ تھی؟ میں نفوس ک کچھ افاقہ ہوا ہے۔ امید کہ آپ کا مزاج بخیر ہو

......٢ لاہور، مورخہ ٦ ستمبر ١٩٣٣ء مخدومی مولانا!

صفحہ ٤١١

مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ میں نے لاہور میں آپ سے ملنے کا موقعہ گنوا دیا۔ میں ان دنوں اتنا بیمار تھا کہ اپنے کمرہ سے باہر نہ نکل سکتا تھا۔ میں اپنی بیماری کے باعث تقریباً ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہوں۔ آئندہ آپ جب لاہور آئیں تو مجھے اپنی آمد سے ضرور مطلع کریں۔ کیا آپ کو میرا رجسٹری شدہ خط مل گیا ہے؟ چونکہ آپ نے اپنے خط میں اس کے ملنے کی اطلاع نہیں دی۔ اس لئے مجھے خدشہ ہے کہ وہ خط آپ تک پہنچ نہیں پایا۔ آپ کا مخلص محمد اقبال

مولانا سید سلیمان ندویؒ کے نام خطوط

لاہور، مورخہ ٢٠؍ اپریل ١٩٢٢ء مخدومی! السلام علیکم! ایک عرصہ سے آپ کو خط لکھنے کا قصد کر رہا تھا۔ دو باتیں دریافت طلب ہیں:

کہ خدا تعالیٰ کی رویت ممکن ہے۔ یہ بحث کہاں ملے گی؟ میں اس مضمون کو دیکھنا چاہتا ہوں۔

ہر کجا ہنگامہ عالم بود
رحمۃ للعالمینے ہم بود

حال کے ہیئت دان کہتے ہیں کہ بعض سیاروں میں انسان یا انسانوں سے اعلیٰ تر مخلوق کی آبادی ممکن ہے۔ اگر ایسا ہو تو رحمۃ للعالمین کا ظہور وہاں بھی ضروری ہے۔ اس صورت میں کم از کم محمدیت کے لئے تناسخ یا بروز لازم آتا ہے۔ شیخ اشراق تناسخ کی ایک شکل کے قائل تھے۔ ان کے اس عقیدہ کی وجہ یہی تو نہ تھی؟ میں نقرس کی وجہ سے دو ماہ کے قریب صاحب فراش رہا۔ اب کچھ افاقہ ہوا ہے۔ امید کہ آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔ والسلام! مخلص محمد اقبال

(مکاتیب اقبال ج ١ ص ١١٦، مرتبہ شیخ عطاء اللہ ایم، اے)

لاہور، مورخہ ٦؍ ستمبر ١٩٢٣ء مخدومی مولانا! السلام علیکم!

٧٧

صفحہ ٤١٢

یہ خط اعظم گڑھ کے پتہ پر لکھتا ہوں۔ معلوم نہیں کہ آپ ابھی علی گڑھ ہی میں ہیں یا وہاں سے واپس آگئے۔ راغب اصفہانی نے مفردات میں لفظ نبی کی تشریح میں لکھا ہے کہ لفظ نبی کے دو معنی ہیں۔ خبر دینے والا اور بلند مقام پر کھڑا ہونے والا۔ اوّل الذکر نبی ہمزہ کے ساتھ اور دوسرا بغیر ہمزہ کے، اس ضمن میں راغب نے ایک حدیث بھی نقل کی ہے۔ یعنی حضور رسالت مآب (ﷺ) نے فرمایا کہ میں نبی بغیر ہمزہ کے ہوں۔ یہ حدیث صحاح ستہ میں ہے یا نہیں؟ قرآن شریف میں جن انبیاء کا ذکر ہے ان میں سے کون سے نبی باہمزہ ہیں اور کون سے بغیر ہمزہ؟ یا سب بغیر ہمزہ ہیں؟ یہ سوال بڑا اہم ہے۔ کیونکہ اگر قرآنی انبیاء یا حضور رسالت مآب نبی بغیر ہمزہ ہیں تو لفظ نبی کا انگریزی ترجمہ Prophet جس کے معنی خبر دینے والا کے ہیں۔ کیونکر درست ہو سکتا ہے؟ امید کہ آپ کا مزاج بخیر و عافیت ہوگا۔

(مکاتیب اقبال ص ١٨٦، طبع عطاء اللہ ایم۔ اے)

والسلام! مخلص محمد اقبال

بھوپال، شیش محل ، مورخہ ١٩ جولائی ١٩٣٥ء مخدوم و مکرم جناب قبلہ مولوی صاحب! السلام علیکم! میں گلے کے برقی علاج کے لئے کچھ مدت کے لئے بھوپال میں مقیم ہوں۔ اس خط کا جواب یہیں مذکورہ بالا پتہ پر عنایت فرمائیے۔

تو اس کی تعزیر کیا ہے؟ (تعزیر حسب رائے امام قید سے لے کر قتل تک۔ ندوی)

مآب (ﷺ) پر جزوی فضیلت حاصل ہے۔ اس واسطے کہ مرزا قادیانی ایک زیادہ متمدن زمانہ میں پیدا ہوئے ہیں تو کیا ایسا شخص توہین رسول کے جرم کا مرتکب ہے؟ بالفاظ دیگر اگر توہین رسول جرم قابل تعزیر ہے تو عقیدہ مذکور توہین رسول کی حد میں آتا ہے یا نہیں؟

فرمائیے۔ کتاب کا حوالہ بقید صفحہ تحریر فرما کر ممنون فرمائیے۔ ٧٨

صفحہ ٤١٤

امید ہے کہ اس عریضہ کا جواب جلد ملے گا۔ زیادہ کیا عرض کروں، میری صحت پہلے سے بہتر ہے۔ امید ہے کہ اس دفعہ کے علاج سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ (مکاتیب اقبال ج ١ ص ١٨٨)

والسلام! مخلص: محمد اقبال (لاہور) حال وارد بھوپال

٤......

بھوپال، شیش محل، مورخہ یکم اگست ١٩٣٥ء

مخدوم مکرم جناب مولانا! السلام علیکم!

آپ کا والا نامہ مجھے ابھی ملا ہے۔ جس کے لئے سراپا سپاس ہوں۔ چند امور اور بھی دریافت طلب ہیں۔ ان کے جواب سے بھی ممنون فرمائیے۔

رسالت مآب (ﷺ) کو خاتم النبیین کہو۔ لیکن یہ نہ کہو کہ ان کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہوگا۔ مہربانی کر کے کتاب دیکھ کر یہ فرمائیے کہ آیا اس قول کے اسناد درج ہیں اور اگر ہیں تو آپ کے نزدیک ان اسناد کی حقیقت کیا ہے؟ ایسا ہی قول درمنثور، ج ٥ ص ٢٠٤ میں ہے۔ اس کی تصدیق کی بھی ضرورت ہے۔ میں نے یہاں بھوپال میں یہ کتب تلاش کیں۔ افسوس اب تک نہیں ملیں۔

”من قال بسلب نبوته کفر حقاً“ اس قول کی آپ کے نزدیک کیا حقیقت ہے؟

نووی اسے معتبر نہیں جانتا۔ ملا علی قاری کے نزدیک معتبر ہے۔ کیا اس کے اسناد درست ہیں؟

کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے سے مسلمانوں کو کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ جس وقت وہ آئیں گے مسلمانوں کا امام خود مسلمانوں میں سے ہوگا۔

فرمائیے۔ زیادہ کیا عرض کروں۔ امید کہ مزاج بخیر ہوگا۔ (مکاتیب اقبال ج ١ ص ١٩١ تا ١٩٤)

والسلام مخلص: محمد اقبال

٧٩

صفحہ ٤١٤

......٥ بھوپال، مورخہ ٢٣؍ اگست ١٩٣٥ء مخدوم مکرم جناب مولانا! السلام علیکم! ایک عریضہ لکھ چکا ہوں۔ امید کہ پہنچ کر ملاحظہ عالی سے گذرا ہوگا۔ ایک بات دریافت طلب رہ گئی تھی۔ یہاں عرض کرتا ہوں۔ کیا علمائے اسلام میں کوئی ایسے بزرگ بھی گزرے ہیں جو حیات ونزول مسیح ابن مریم (علیہما السلام) کے منکر ہوں؟ یا اگر حیات کے قائل ہوں تو نزول کے منکر ہوں؟ معتزلہ کا عام طور پر اس مسئلہ میں کیا مذہب ہے؟ امید کہ آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔ میں ٢٨؍ اگست کی شام کو رخصت ہو جاؤں گا۔ علاج کا کورس اس روز صبح ختم ہو جائے گا۔ اس خط کا جواب لاہور کے پتہ پر ارسال فرمائیے۔ والسلام! مخلص: محمد اقبال

(مکاتیب اقبال ج١ ص١٩٦، مرتبہ شیخ عطاء اللہ ایم۔اے)

......٦ لاہور، مورخہ ٧؍ اگست ١٩٣٦ء مخدومی! السلام علیکم! والا نامہ ابھی ملا ہے۔ آپ کی صحت کی خبر پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ خدا تعالیٰ آپ کو دیر تک زندہ و سلامت رکھے۔ میری صحت کی حالت بہ نسبت سابق بہتر ہے۔ گو آواز میں کوئی خاص ترقی نہیں ہوئی۔ انشاء اللہ موسم سرما میں وہ انگریزی کتاب لکھنا شروع کروں گا۔ جس کا وعدہ میں نے اعلیٰ حضرت نواب صاحب بھوپال سے کر رکھا ہے۔ اس میں آپ کے مشورہ کی ضرورت ہے۔ بدور البازغہ بھی اسی مطلب کے لئے منگوائی ہے۔ اس کتاب میں زیادہ تر قوانین اسلام پر بحث ہوگی کہ اس وقت اسی کی ضرورت ہے ٥٢؎ ۔ اس کے متعلق جو جو کتب آپ کے ذہن میں ہیں۔ مہربانی کر کے ان کے ناموں سے مجھے آگاہ فرمائیے اور یہ بھی فرمائیے کہ کہاں کہاں سے دستیاب ہوں گی؟ الحمدللہ! کہ اب قادیانی فتنہ پنجاب میں رفتہ رفتہ کم ہورہا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی دو تین بیان چھپوائے ہیں ٥٣؎ ۔ مگر حال کے روشن خیال علماء کو ابھی بہت کچھ لکھنا باقی ہے۔ اگر آپ کی صحت اجازت دے تو آپ بھی اس پر ایک جامع و نافع بیان شائع فرمائیے۔ میں بھی تیسرا بیان انشاء اللہ جلد لکھوں گا۔ اس کا موضوع ہوگا۔ ’’بروز‘‘ لفظ بروز کے متعلق اگر کوئی نکتہ آپ کے

٨٠

صفحہ ٤١٥

ذہن میں ہو یا کہیں صوفیہ کی کتابوں میں اس پر بحث ہو تو اس کا پتہ دیجئے۔ نہایت شکر گزار ہوں گا۔ والسلام !مخلص محمد اقبال

(مکاتیب اقبال ج ١ ص ١٩٩،٢٠٠،مرتبہ شیخ عطاءاللہ ایم۔اے)

سید الیاس برنی (ناظم دارالترجمہ عثمانیہ یونیورسٹی) کے نام خط

لاہور، مورخہ ٦/ جون ١٩٣٦ء

مخدومی جناب پروفیسر صاحب !

آپ کا والا نامہ ابھی ملا ہے۔ کتاب ”قادیانی مذہب“ اس سے بہت پہلے موصول ہو گئی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب بے شمار لوگوں کے لئے چراغ ہدایت کا کام دے گی اور جو لوگ قادیانی مذہب پر مزید لکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے تو یہ ضخیم کتاب ایک نعمت غیر مترقبہ ہے۔ جس سے ان کی محنت و زحمت بہت کم ہو گئی ہے۔ میں آپ کی خدمت میں مفصل خط لکھتا۔ مگر دو سال سے بیمار ہوں اور بہت کم خط و کتابت کرتا ہوں۔ امید کہ آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔

حضور نظام (نظام حیدر آبادی) کا خط میری نظر سے گزرا تھا۔ لیکن میں نے سنا ہے کہ جو روپیہ ان کی گورنمنٹ کی طرف سے پنجاب میں آتا ہے وہ یا تو پارٹی پالیٹکس پر صرف ہوتا ہے یا ان اخباروں پر جو قادیانیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ بات کہاں تک درست ہے؟ میں نے یہ بات آپ کو بصیغہ راز لکھ دی ہے۔

(مکاتیب اقبال ج ١ ص ٢٤١، مرتبہ شیخ عطاء اللہ ایم ۔اے)

والسلام! مخلص محمد اقبال

جاوید منزل، مورخہ ٢٧/مئی ١٩٣٧ء

جناب پروفیسر صاحب! السلام علیکم!

آپ کی کتاب ”قادیانی مذہب“ کی نئی ایڈیشن جو آپ نے بکمال عنایت ارسال فرمائی ہے، مجھے مل گئی ہے۔ جس کے لئے بے انتہا شکرگزار ہوں۔ میں نے سید نذیر نیازی ایڈیٹر ”طلوع اسلام“ سے سنا ہے کہ یہ کتاب بہت مقبول ہورہی ہے۔ آپ کی محنت قابل داد ہے کہ اس سے عامۃ المسلمین کو بے انتہاء فائدہ پہنچا ہے اور آئندہ پہنچتا رہے گا۔ اب ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے جو کہ آپ کے ذاتی افکار کا نتیجہ ہو۔ آپ کے قلم سے مسلمان ایسی توقع رکھنے کا حق

٨١

صفحہ ٤١٦

رکھتے ہیں۔ قادیانی تحریک یا یوں کہیے کہ بانی تحریک کا دعویٰ مسئلہ بروز پر مبنی ہے۔ مسئلہ مذکور کی تحقیق تاریخی لحاظ سے از بس ضروری ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے یہ مسئلہ عجمی مسلمانوں کی ایجاد ہے اور اصل اس کی آرین ہے۔ نبوت کا سامی تخیل اس سے بہت اعلیٰ وارفع ہے۔ میری رائے ناقص میں اس مسئلہ کی تاریخی تحقیق قادیانیت کا خاتمہ کرنے کے لئے کافی ہوگی۔

(مکاتیب اقبال ج ١ ص ٤١٩، ٤٢٠، مرتبہ شیخ عطاء اللہ ایم ۔ اے)

والسلام! مخلص: محمد اقبال

مولانا مسعود عالم ندوی مرحوم کے نام خط

لاہور، مورخہ ٥ر فروری ١٩٣٦ء

مخدومی مولانا! السلام علیکم!

پنڈت جواہر لال نہرو کے جواب میں میں نے جو کچھ لکھا تھا اس کی ایک کاپی آپ کی خدمت میں بھجوائی گئی تھی۔ مہربانی کر کے مطلع فرمائیے کہ وہ پمفلٹ آپ تک پہنچا یا نہیں؟ اخباروں میں مولانا سید سلیمان کی صحت کی خبر پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ خدا تعالیٰ ان کو دیر تک سلامت رکھے۔ ان کا وجود اس ملک میں غنیمت ہے۔ میری طرف سے بہت بہت سلام ان کی خدمت میں عرض کیجئے۔ کسی گذشتہ خط میں (جو اس وقت نہیں مل سکا ) انہوں نے مجھے لکھا تھا کہ ایک اسلامی ملک کے امیر کو اختیار ہے کہ اگر کسی ایسے امر میں جس کی شرع نے اجازت دی ہو فساد پیدا ہو تو اس اجازت کو Revoke کر لے۔ اس کی مثالیں بھی مولانا نے خلافت راشدہ کے زمانہ کی لکھی تھیں۔ اس قول کے لئے حوالے کی ضرورت ہے۔ مہربانی کر کے آپ خود مولانا موصوف سے دریافت کر کے تحریر فرمائیں۔ میں نے خود ادھر ادھر سے تفحص کر کے حوالہ نکالا تھا مگر افسوس کہ اب وہ کاغذ جس پر یہ سب کچھ نوٹ کیا تھا نہیں ملتا۔ امید کہ آپ کے مزاج بخیر ہوں۔ مولانا کی خدمت میں سلام شوق عرض کریں۔

(مکاتیب اقبال ج ١ ص ٤٠٣، شیخ عطاء اللہ ایم ۔ اے)

مخلص: محمد اقبال

اس خط کے جواب کی طرف جلد توجہ فرمائیے تو ممنون ہوں گا۔

سید نعیم الحق ایڈووکیٹ پٹنہ کے نام خط

لاہور مورخہ ٩ر فروری ١٩٣٤ء

مائی ڈیر مسٹر نعیم الحق!

٨٢

صفحہ ٤١٧

نوازش نامہ موصول ہوا۔ جس کے لئے سراپا سپاس ہوں۔ جس مقدمہ کی پیروی کے لئے میں نے آپ سے درخواست کی تھی اس کی پیروی چوہدری ظفر اللہ خاں (یہ وہی ظفر اللہ خاں ہیں جنہیں بعد از تقسیم پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا) کریں گے۔ عبدالحمید صاحب نے مجھے یہ اطلاع دی ہے اور میں نے ضروری سمجھا کہ آپ کو ہر قسم کی زحمت سے بچانے کے لئے مجھے فی الفور آپ کو مطلع کرنا چاہئے۔

چوہدری ظفر اللہ خاں کیونکر اور کس کی دعوت پر وہاں جارہے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں، شاید کشمیر کانفرنس کے بعض لوگ ابھی تک قادیانیوں سے خفیہ تعلقات رکھتے ہیں۔ میں اس تمام زحمت کے لئے جو آپ برداشت کر رہے ہیں اور اس تمام ایثار کے لئے جو آپ گوارا فرما رہے ہیں بے حد ممنون ہوں۔ امید ہے آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔

(مکاتیب اقبال ج١ص٣٣٥)

مخلص: محمد اقبال

باب چہارم ...... توضیحات

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ

(ضرب کلیم)

لائٹ کے جواب میں

لائٹ نے اپنے الزام کی بنیاد میرے اس شعر پر رکھی ہے۔

ہم کلامی ہے غیریت کی دلیل
خامشی پر مٹا ہوا ہوں میں

یہ سلیس اردو ہے۔ جس کا مطلب محض یہ ہے کہ انسان کی روحانی زندگی میں ہم کلامی سے آگے بھی ایک منزل ہے۔ لیکن شعر کو وحی کے دینی معانی سے کچھ تعلق نہیں۔ اس سلسلہ میں لائٹ کی توجہ اپنی کتاب تشکیل نو کی طرف مبذول کراؤں گا۔ جہاں ص٢١ پر میں نے لکھا ہے کہ: ”احساس اور تخیل کے فطری رشتہ سے وحی کے متعلق اس اختلاف کی روشنی پڑتی ہے۔ جس نے مسلم مفکرین کو کافی پریشان کیا تھا۔ غیر واضح احساس اپنے منبع کو تخیل کے اندر پاتا ہے اور خود تخیل لباس مجاز میں آنے کی سعی کرتا ہے۔ یہ محض استعارہ نہیں ہے کہ تخیل اور لفظ دونوں بیک وقت بطن احساس سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگرچہ ادراک انہیں وجود میں لا کر خود اپنے لئے یہ دشواری پیدا کرتا

٨٣

صفحہ ٤١٨

ہے کہ انہیں ایک دوسرے سے مختلف قرار دے اور ایک معنی میں لفظ بھی الہام ہوتا ہے۔“

(حرف اقبال ص ١٢٩، ١٣٠)

کرتی ہے۔ میں اگرچہ انسان کے روحانی امکانات اور روحانی آدمیوں کی پیدائش کا قائل ہوں تاہم مجھے یقین نہیں کہ اس تاریخی عمل کا حساب ویسے ہی لگایا جاسکتا ہے۔ جیسے لائٹ کا خیال ہے۔ ہم بآسانی اعتراف کرسکتے ہیں کہ تاریخی عمل کا شعور ہماری حسی سطح سے بہت بلند ہے۔ میں منفی رنگ میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ اس طرح مقرر اور حسابی نہیں ہے۔ جیسے لائٹ نے سمجھا ہے۔ میں ابن خلدون کی رائے سے بہت حد تک متفق ہوں۔ جہاں وہ تاریخی عمل کو ایک آزاد تخلیقی تحریک تصور کرتا ہے۔ نہ کہ ایسا عمل جو پہلے سے متعین کیا جاچکا ہو۔ موجودہ دور میں برگساں نے اسی نظریہ کو زیادہ صحت اور عمدہ مثالوں کے ساتھ پیش کیا ہے۔ لائٹ نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے۔ وہ غالباً جلال الدین سیوطی نے مشہور کی تھی اور اسے زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی۔ بخاری و مسلم میں اس حدیث کا کہیں پتہ نہیں چلتا۔ اس میں چند بزرگوں کے تاریخی عمل کے نظریہ کی جھلک ہو تو ہو۔ لیکن افراد کے ایسے رؤیا کوئی دلیل نہیں بن سکتے۔ تمام محدثین نے اسی اصول کی پیروی کی ہے۔

(حرف اقبال ص ١٣٠، ١٣١)

سن رائز کے جواب میں ٥٦؎

مجھے افسوس ہے کہ میرے پاس نہ وہ تقریر اصل انگریزی میں محفوظ ہے اور نہ اس کا اردو ترجمہ جو مولانا ظفر علی خاں نے کیا تھا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے یہ تقریر میں نے ١٩١١ء یا اس سے قبل کی تھی اور مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں کہ اب سے ربع صدی پیشتر مجھے اس تحریک سے اچھے نتائج کی امید تھی۔ اس تقریر سے بہت پہلے مولوی چراغ مرحوم نے، جو مسلمانوں میں کافی سربرآوردہ تھے اور انگریزی میں اسلام پر بہت سی کتابوں کے مصنف بھی تھے، بانی تحریک کے ساتھ تعاون کیا اور جہاں تک مجھے معلوم ہے کتاب موسومہ ”براہین احمدیہ“ میں انہوں نے بیش قیمت مدد بہم پہنچائی۔ لیکن کسی مذہبی تحریک کی اصل روح ایک دن میں نمایاں نہیں ہو جاتی۔ اسے اچھی طرح ظاہر ہونے کے لئے برسوں چاہئیں۔ تحریک کے دو گروہوں کے باہمی نزاعات اس امر پر شاہد ہیں کہ خود ان لوگوں کو جو بانی تحریک کے ساتھ ذاتی رابطہ رکھتے تھے۔ معلوم نہ تھا کہ تحریک آگے چل کر کس راستہ پر پڑ جائے گی۔ ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا تھا۔ جب ایک نئی نبوت (بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت) کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی۔ جب میں نے تحریک کے ایک رکن

٨٤

صفحہ ٤١٩

کو اپنے کانوں سے آنحضرت (ﷺ) کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ درخت جڑ سے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر میرے موجودہ رویہ میں کوئی تناقض ہے تو یہ بھی ایک زندہ اور سوچنے والے انسان کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے بدل سکے۔ بقول ایمرسن صرف پتھر اپنے آپ کو نہیں جھٹلا سکتے۔

(حرف اقبال ص ١٣١، ١٣٢)

میں نے لکھا ہے: ”ختم نبوت سے یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ زندگی کی انتہاء بس یہ ہو کہ عقل، جذبات کی قائم مقام ہو جائے۔ یہ چیز نہ ممکن ہے نہ مستحسن۔ اس عقیدہ کی عقلی افادیت اتنی ہے کہ اس سے باطنی واردات کو آزاد تنقیدی رنگ ملتا ہے۔ کیونکہ اس یقین سے یہ لازم آتا ہے کہ انسانی تاریخ میں فوق الفطرت سرچشمہ کا منصب ختم ہو چکا۔ یہ یقین ایک نفسیاتی قوت ہے۔ جو ایسے منصب کی پیدائش کو روکتا ہے اور اس خیال سے انسان کے اندرونی تجربات میں علم کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ”لا الا“ فطرت کی تمام قوتوں سے الوہیت کا لباس اتارتا ہے اور انسان کے بیرونی تجربات میں تنقیدی مشاہدہ کی روح پیدا کرتا ہے۔ باطنی واردات خواہ وہ کشفی غیر فطری اور غیر معمولی ہو، مسلمان کے لئے بالکل فطری تجربہ ہے۔ جو دوسرے تجربات کی طرح تنقید کی زد میں آتا ہے اور یہ چیز رسول کریم (ﷺ) کے رویہ سے اور بھی روشن ہو جاتی ہے۔ جو انہوں نے ابن صیاد (حرف اقبال میں ابن سید ترجمہ کیا گیا جو صحیح نہیں) کی نفسیاتی واردات کے لئے اختیار فرمایا۔ اسلام میں تصوف کا مقصد انہی باطنی واردات کو منظم کرنے کا ہے۔ اگر چہ یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ابن خلدون ہی ایک ایسا شخص گزرا ہے جس نے اسے اصولی طریقے پر جانچا۔“

پہلے فقرہ سے صاف طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ نفسیاتی معانی میں اولیاء یا ان جیسی صفات کے لوگ ہمیشہ ظاہر ہوتے رہیں گے۔ یہ ایک الگ سوال ہے کہ مرزا قادیانی بھی اس زمرہ میں شامل ہیں یا نہیں؟ جب تک عالم انسانیت کی روحانی اہلیتیں برداشت کر سکتی ہیں۔ ایسے لوگ تمام قوموں اور ملکوں میں پیدا ہوں گے تاکہ وہ انسانی زندگی کی بہتر اقدار کا پتہ دے سکیں۔ اس کے خلاف قیاس کرنا تو انسانی تجربہ کو جھٹلانا ہوگا۔ فرق محض اس قدر ہے کہ اب ہر شخص کو حق پہنچتا ہے کہ وہ ان باطنی واردات پر تنقیدی نظر ڈال سکے اور باتوں کے علاوہ ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ روحانی زندگی میں، جس کے انکار کی سزا جہنم ہے ذاتی سند ختم ہو چکی ہے۔

مولانا حسین احمد مدنی کے نام

مولانا حسین احمد یا ان کے دیگر ہم خیالوں کے افکار میں نظریہ وطنیت ایک معنی میں وہی

٨٥

صفحہ ٤٢٠

حیثیت رکھتا ہے جو قادیانی افکار میں انکار خاتمیت کا نظریہ، وطنیت کے حامی بالفاظ دیگر یہ کہتے ہیں کہ امت مسلمہ کے لئے ضروری ہے کہ وقت کی مجبوریوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر اپنی حیثیت کے علاوہ جس کو قانون الٰہی ابدالاباد تک متعین و متشکل کر چکا ہے۔ کوئی اور حیثیت بھی اختیار کرے۔ جس طرح قادیانی نظریہ ایک جدید نبوت کی اختراع سے قادیانی افکار کو ایسی راہ پر ڈال دیتا ہے کہ اس کی انتہاء نبوت محمدیہ کے کامل و اکمل ہونے سے انکار کی راہ کھولنا ہے۔ بظاہر نظریہ وطنیت سیاسی نظریہ ہے اور قادیانی انکار خاتمیت الہیات کا ایک مسئلہ ہے۔ لیکن ان دونوں میں ایک گہرا معنوی تعلق ہے۔ جس کی توضیح اس وقت ہو سکے گی۔ جب کوئی دقیق النظر مسلمان مورخ ہندی مسلمانوں اور بالخصوص ان کے بعض بظاہر مستعد فرقوں کے دینی افکار کی تاریخ مرتب کرے گا۔

دینِ شا کے جواب میں:

مجھے اس کے متعلق کچھ عرض نہیں کرنا ہے۔ سوائے اس کے کہ مجھے ان کے مرکزی خیال سے پورا اتفاق ہے۔ یعنی اسلام کی ظاہری اور باطنی تاریخ میں ایرانی عنصر کو بہت زیادہ دخل حاصل ہے۔ یہ ایرانی اثر اس قدر غالب رہا ہے کہ سپنگلر Spengler نے اسلام پر موبدانہ رنگ دیکھ کر اسلام کو ہی ایک موبد مذہب سمجھ لیا تھا۔ میں نے اپنی کتاب ”تشکیلِ نو“ میں کوشش کی ہے کہ اسلام پر سے اس موبدانہ خول کو دور کر دوں اور مجھے امید ہے کہ اسی سلسلے میں میں اپنی کتاب قرآنی تعلیم کا مقدمہ میں مزید کام کر سکوں گا۔ موبدانہ تخیل اور مذہبی تجربہ مسلمانوں کی دینیات، فلسفہ، اور تصوف کے رگ و پے میں سرایت کئے ہوئے ہیں۔ بہت سا مواد ایسا موجود ہے جس سے ظاہر ہو سکتا ہے کہ تصوف کے چند اسکولوں نے جو اسلامی سمجھے جاتے ہیں، اس موبدانہ حالتِ واردات کو ہی زندہ کیا ہے۔ میں موبد تمدن کو انسانی تمدن کے بے شمار مظاہرات میں سے ایک مظاہرہ سمجھتا ہوں۔ میں نے اس لفظ کو برے معنی میں استعمال نہیں کیا تھا۔ اس کے پاس بھی حکومت کا تصور تھا، فلسفیانہ مباحث تھے، حقائق بھی تھے اور غلطیاں بھی۔ لیکن جب تمدن پر زوال آتا ہے تو اس کے فلسفیانہ مباحث، تصورات اور دینی واردات کی اشکال میں انجماد اور سکون آ جاتا ہے۔ جب اسلام کا ظہور ہوا تو موبد تمدن پر یہی حالت طاری تھی اور تمدنی تاریخ کو جس طرح میں سمجھتا ہوں، اسلام نے اس تمدن کے خلاف احتجاج کیا۔ خود قرآن کے اندر شہادت موجود ہے کہ اسلام نہ محض ذہنی بلکہ مذہبی واردات کے لئے بھی نئی راہ پیدا کرنی چاہتا تھا۔ لیکن ہماری مغانہ وراثت نے اسلام کی زندگی کو کچل ڈالا اور اس کی اصل روح اور مقاصد کو ابھرنے کا موقع نہ دیا۔

(حرفِ اقبال ص ١٣٤، ١٣٥)

٨٦

حاشیہ

ظاہر فرمائی۔ ملاحظہ ہو انوار اقبال ص ٢٥٥، مر

صاحب صوفی (مرتب، اقبال درونِ خانہ) صوفی صاحب کی والدہ زید مجدہا شیخ عطاء ا چھوٹی دختر ہیں اور جس لڑکی کی شادی کا ذکر ہ

شماری کے وقت ان کی جماعت اور ان کے ہ ملاحظہ ہو اشتہار واجب الاظہار، منجانب مرزا

مقام (ربوہ) دنیوی لحاظ سے بھی ایک اہم ا نامی قادیانی روزنامے سے منقول ہے۔ م لاہور سے شائع ہوتا تھا۔

کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیت

کہا وہ سب انگریزی اقتدار کے استحکام کی اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سے دوسر

صفحہ ٤٢١

حاشیہ جات

ظاہر فرمائی۔ ملاحظہ ہو انوار اقبال ص ٢٥٥، مرتبہ بشیر احمد ڈار

صاحب صوفی (مرتب، اقبال درون خانہ) نے اپنی والدہ مکرمہ مدظلہا سے پوچھ کر مجھے بتائی۔ صوفی صاحب کی والدہ زید مجدہا شیخ عطاء محمد صاحب (برادر اکبر حضرت علامہؒ) کی سب سے چھوٹی دختر ہیں اور جس لڑکی کی شادی کا ذکر ہے وہ موصوفہ سے کوئی دو تین برس بڑی تھیں۔ مرتب

شماری کے وقت ان کی جماعت اور ان کے پیروؤں کا نام عام مسلمانوں سے الگ رجسٹر کیا جائے۔ ملاحظہ ہو اشتہار واجب الاظہار، منجانب مرزا غلام احمد قادیانی مطبوعہ ٤؍نومبر ١٩٠٠ء

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٣٥٦)

مقام (ربوہ) دنیوی لحاظ سے بھی ایک اہم مقام بن جاوے گا۔ اس عبارت کا ایک ایک لفظ الفضل نامی قادیانی روزنامے سے منقول ہے۔ ملاحظہ ہو اشاعت بابت ٧؍فروری ١٩٥١ء تب یہ اخبار لاہور سے شائع ہوتا تھا۔

کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتا ہے۔ ثانی الذکر مرزا غلام احمد کو مجدد تسلیم کرتا ہے۔

کہا وہ سب انگریزی اقتدار کے استحکام کی غرض سے تھا۔ چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں: ”ہاں میں اس کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مباحثات بھی کیا کرتا ہوں اور

٨٧

صفحہ ٤٢٣

ایسا ہی پادریوں کے مقابل پر بھی مباحثات کی کتابیں شائع کرتا رہا ہوں اور میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جب کہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہو گئی...... تو یہ اندیشہ (میرے) دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے تا سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بے امنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ میرے کانشنس نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں۔ ان کے غیظ و غضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریق کافی ہوگا۔ کیونکہ عوض معاوضہ کے بعد کوئی گلہ باقی نہیں رہتا۔"

(ضمیمہ تریاق القلوب ص ٣٢،٣١، خزائن ج ١٥ ص ٣٩٠،٣٨٩)

؂١ یہ مضمون تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ سے اخذ کیا گیا ہے۔ جو حضرت علامہ کے ان مایہ ناز انگریزی خطبات کا اردو ترجمہ ہے۔ جو انہوں نے مدراس مسلم ایسوسی ایشن کی دعوت پر ١٩٢٨ء، ١٩٢٩ء میں مدراس، حیدرآباد اور علی گڑھ میں ارشاد فرمائے۔ یہ خطبات فلسفیانہ رنگ میں اپنے موضوع پر ایک اچھوتی تخلیق ہیں۔

؂١ حضرت علامہ نے انگریزی میں آفاق و انفس کا مرادف Self and World لکھا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ The Reconstruction of Religious Thought in Islam, p:120, By Sir Muhammad Iqbal 2nd Edition 1934

؂٢ نمبر ٤،٣ کے ذیل میں دی گئی تحریریں ١٩٣٥ء میں حضرت علامہ نے سید نذیر نیازی، سب ایڈیٹر طلوع اسلام، دہلی کے نام لکھیں۔ ان کا شان نزول خود انہی کی زبانی سنئے: ”(ان) کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ١٩٣٥ء میں انجمن احمدیہ اشاعت اسلام، لاہور کے انگریزی ہفت روزہ لائٹ نے بلاوجہ حضرت علامہ کے انگریزی خطبات بالخصوص پانچویں خطبے پر اظہار خیال کرتے ہوئے یہ رائے ظاہر کی کہ یہ جو حضرت علامہ کہتے ہیں کہ باب نبوت مسدود ہے۔ یہ دراصل مغرب سے مرعوبیت کا نتیجہ ہے۔ حضرت علامہ نے کہیں ، عقل استقرائی کا ذکر کر

٨٨

دیا تھا۔ مدیر لائٹ اس کا صحیح مفہوم تو سمجھ نہ سکے۔ ا ترجیح دیتا ہے۔ یہ مغرب زدگی نہیں تو اور کیا ہے؟ انگریزی زبان ہی میں مدیر لائٹ کے نام ایک خط معقول طریقے سے کی گئی تھی۔ اتفاق سے لاہور میں آ گیا۔ میں نے عرض کیا یہ پرچہ چونکہ ایک انجمن مجھے اس کا ترجمہ اردو میں شائع کر دینا چاہئے۔ حضـ پھر جب ضمناً بعض دوسرے مسائل کی وضاحت ہو بارے میں مشورہ کیا تو انہوں نے ازراہ عنایت ( ص ٣٠٠) یہ طویل اقتباس صرف اس لئے درج کیـ سے پوری طرح آگاہ ہو سکیں۔"

؂٣ یہ عبارت وہی ہے جسے بشیر ا حذف کر دیا ہے۔ جب کہ علامہ مرحوم کی تحریر کے ہے۔

؂٤ ابی جعفر محمد بن جریر الطبری تیسـ اور مفسر۔

؂٥ علامہ طبری کے الفاظ یہ ہیں: ”کـ ان محمدا رسول الله وكان الذي يؤ يقيم له حجير ابن عمير ويشهد له ( قال صرح حجير فيزيد في صوت ويـ کہ نبی کریم ﷺ کے لئے اذان دیتا تھا کہ محمد عبداللہ بن النواحہ دیتا اور اقامت حجیر بن عمیر کـ اے حجیر خوب زور سے کہو (یعنی شہادت بلند آو حجیر آواز کو بلند کرتا۔ اس طرح مسیلمہ اپنی تصدیـ

صفحہ ٤٢٣

دیا تھا۔ مدیر لائٹ اس کا صحیح مفہوم تو سمجھ نہ سکے۔ انہوں نے فرمایا یہ دیکھئے۔ اقبال عقل کو نبوت پر ترجیح دیتا ہے۔ یہ مغرب زدگی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ مضمون شائع ہوا تو راجہ حسن اختر صاحب نے انگریزی زبان ہی میں مدیر لائٹ کے نام ایک خط لکھا۔ جس میں ان کے غلط خیال کی تردید بڑے معقول طریقے سے کی گئی تھی۔ اتفاق سے لاہور میں راجہ صاحب سے لائٹ کے اس مضمون کا ذکر آگیا۔ میں نے عرض کیا یہ پرچہ چونکہ ایک انجمن کا ہے۔ جس کی ایک مخصوص دعوت ہے۔ لہٰذا مجھے اس کا ترجمہ اردو میں شائع کر دینا چاہئے۔ حضرت علامہؒ نے بھی اس خیال سے اتفاق فرمایا۔ پھر جب ضمناً بعض دوسرے مسائل کی وضاحت ضروری نظر آئی اور میں نے حضرت علامہؒ سے اس بارے میں مشورہ کیا تو انہوں نے ازراہ عنایت (یہ) دو تحریریں مرحمت فرمائیں۔ (مکتوبات اقبال ص ٣٠٠) یہ طویل اقتباس صرف اس لئے درج کیا گیا ہے کہ تاکہ آپ ان تحریروں کے پس منظر سے پوری طرح آگاہ ہوسکیں۔‘‘

حذف کر دیا ہے۔ جب کہ علامہ مرحوم کی تحریر کے عکسی متن میں یہ موجود ہے اور صاف پڑھی جاتی ہے۔

اور مفسر۔

ان محمدا رسول الله وكان الذى يؤذن له عبدالله ابن النواحة وكان الذى يقيم له حجير ابن عمير ويشهد له وكان مسيلمة اذا دنا حجير من الشهادة قال صرح حجير فيزيد فى صوته ويبالغ التصديق نفسه“

(تاریخ طبری ج٢ ص ٢٧٦)

کہ نبی کریم ﷺ کے لئے اذان دیتا تھا کہ محمد...... اللہ کے رسول ہیں۔ (مسیلمہ کے لئے) اذان عبداللہ بن النواحہ دیتا اور اقامت حجیر بن عمیر کہتا اور جب حجیر شہادت کے قریب پہنچتا تو مسیلمہ کہتا اے حجیر خوب زور سے کہو (یعنی شہادت بلند آواز سے کہو تاکہ لوگوں کو اچھی طرح سنائی دے) پس حجیر آواز کو بلند کرتا۔ اس طرح مسیلمہ اپنی تصدیق میں مبالغہ کرتا۔

٨٩

صفحہ ٤٤٤

استعفاء کے بعد یہ بیان حضرت علامہ کی طرف سے قادیانیت کے خلاف کھلا ہوا اعلان جنگ تھا۔ یہی وہ بیان ہے جس نے ایوان قادیانیت کے دروبام کو ہلا کر رکھ دیا اور قادیانی حلقے پر پورے پنجاب میں بے بھاؤ کی پڑنے لگیں۔ اس بیان کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ اس دور کے تقریباً تمام قابل ذکر انگریزی، اردو اخبارات نے اسے شائع کیا اور اکثر و بیشتر نے اس پر آرٹیکل لکھے (مکتوبات اقبال ص٣١٣، مرتبہ سید نذیر نیازی) خود حضرت علامہ اپنے ایک خط میں تحریر فرماتے ہیں۔ (یہ بیان) قریباً تمام انگریزی اخباروں میں شائع ہوا۔ ایسٹرن ٹائمز لاہور ٹریبیون لاہور سٹیٹس مین دہلی سٹار آف انڈیا کلکتہ۔ علاوہ اس کے اردو اخباروں میں اس کا ترجمہ بھی شائع ہوا ہے۔

(مکتوبات اقبال ص٢٧٢ مرتبہ سید نذیر نیازی شائع کردہ اقبال اکادمی کراچی)

قادیانی کی ٢٠x٣٠/١٦ سائز کی خود نوشت سوانح حیات کے ص١٢ سے اخذ کیا گیا ہے۔

مسلمان آسانی کے ساتھ نگل سکیں۔ یہ بالکل وہی تکنیک ہے۔ جو بقول حضرت علامہ یہودانہ اثر کی بدولت ایران میں پیدا ہونے والی ملحدانہ تحریکوں نے اختیار کی۔ انہوں نے بھی یہودیوں کے عقیدہ تناسخ کو مشرف باسلام کرنے کے لئے اس کو بروز، حلول اور ظل وغیرہ کا نام دیا اور ان اصطلاحات کا وضع کرنا اس لئے لازم تھا کہ وہ مسلم قلوب کو ناگوار نہ گزریں۔

احتجاج کر رہے ہیں جو اس وقت کی انگریزی حکومت نے قادیانیوں کی مخالفت کرنے پر مولانا ظفر علی خان، ان کے اخبار، زمیندار اور جماعت احرار پر عائد کر دی تھیں۔

بعض لوگ اس سے یہ سمجھے کہ شاید حضرت علامہ نے حکومت کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ قادیانی جماعت کو بہ جبر ختم کر دے۔ اس پر علامہ مرحوم نے مذکورہ وضاحت فرمائی۔

٩٠

بیان ”قادیانی اور جمہور مسلمان“ شائع کیا او مضمون دراصل اسی اداریہ کا جواب ہے۔ جو

ہم منکر اور دائرہ اسلام سے خارج ک آنحضرت (ﷺ) کو خاتم الانبیاء مان کر آ لیا تو اس کا خاتم الانبیاء کا اقرار باطل ہو گیا ضروری نہیں۔ کسی نئے نبی کا اقرار بھی آدمی

قادیانیت میں ایک زلزلہ برپا ہو گیا۔ گویا خاطر قادیانیوں سے ہمدردی رکھتے تھے۔ گئے۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی اسلا ولہجہ میں ماڈرن ریویو کلکتہ میں تین مضمو جماعت نے لاہور ریلوے اسٹیشن پر ان حضرت علامہ کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ نے اپنی شدید علالت کے باوجود مندرجہ طبع ہوا۔ حالانکہ انہیں آرام کی ضرورت تھی۔ (مکتوبات اقبال ص٣١٣،٣١٤، مرتبہ سے اس قدر دلچسپی تھی کہ احباب کو خط (مکتوبات اقبال ص ٣١٧) یورپ تک اپ ایڈیشن شائع کیا۔

کے عقائد مذہبی کی تحقیق و تفتیش کرتا تھا

صفحہ ٤٢٥

بیان ”قادیانی اور جمہور مسلمان“ شائع کیا اور ساتھ ہی اس پر ایک تنقیدی اداریہ بھی لکھا۔ مذکورہ مضمون دراصل اسی اداریہ کا جواب ہے۔ جو ١٠؍جون ١٩٣٥ء کو اخبار مذکور میں طبع ہوا۔

٢٣ قادیانی یہ استدلال کرتے ہیں کہ ہم تو حضور (ﷺ) کو خاتم الانبیاء مانتے ہیں۔ ہم منکر اور دائرہ اسلام سے خارج کیسے ہوئے؟ مگر واقعہ یہ ہے کہ جب کسی نے آنحضرت (ﷺ) کو خاتم الانبیاء مان کر آپ (ﷺ) کے بعد کسی اور نئے نبی کی نبوت کو تسلیم کر لیا تو اس کا خاتم الانبیاء کا اقرار باطل ہوگیا۔ گویا دائرہ اسلام سے نکلنے کے لئے حضورﷺ کا انکار ضروری نہیں۔ کسی نئے نبی کا اقرار بھی آدمی کو اسلام کے دائرے سے باہر نکال دیتا ہے۔

٢٤ حضرت علامہؒ کے بیان ”قادیانی اور جمہور مسلمان“ کا شائع ہونا تھا کہ ایوانِ قادیانیت میں ایک زلزلہ برپا ہوگیا۔ گویا کسی نے بم پھینک دیا ہو۔ وہ سب لوگ جو اپنے مفاد کی خاطر قادیانیوں سے ہمدردی رکھتے تھے، لنگر لنگوٹ کس کر حضرت علامہؒ کے خلاف صف آراء ہو گئے۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت کے باوجود نہایت ناگوار لب ولہجہ میں ماڈرن ریویو کلکتہ میں تین مضمون گھسیٹ ڈالے۔ ان کا مفاد کیا تھا؟ اور تب قادیانی جماعت نے لاہور ریلوے اسٹیشن پر ان کا پرجوش استقبال کیوں کیا؟ یہ بات اپنی جگہ ہے۔ مگر حضرت علامہؒ کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ پنڈت جی کے جواب میں خاموشی اختیار کر لیتے۔ انہوں نے اپنی شدید علالت کے باوجود مندرجہ بالا طویل بیان جاری کیا جو (تخمیناً) ١٩؍جنوری ١٩٣٦ء کو طبع ہوا۔ حالانکہ انہیں آرام کی ضرورت تھی اور اطباء نے دماغی محنت سے احتراز کی ہدایت کر رکھی تھی۔ (مکتوبات اقبال ص٣١٣،٣١٤، مرتبہ سید نذیر نیازی) علامہ مرحوم کو اس بیان اور اس کی اشاعت سے اس قدر دلچسپی تھی کہ احباب کو خط لکھ لکھ کر دریافت فرماتے رہے کہ ان تک پہنچا یا نہیں؟ (مکتوبات اقبال ص٣١٧) یورپ تک اپنی آواز پہنچانے کے لئے اپنے اس مضمون کا ایک الگ ایڈیشن شائع کیا۔

(مکتوبات اقبال ص٣١٧)

٢٥ قرونِ وسطیٰ میں Inquisition کے نام سے ایک محکمہ قائم ہوا تھا۔ جو لوگوں کے عقائد مذہبی کی تحقیق و تفتیش کرتا تھا۔ برونو وغیرہ ایسے علماء سائنس کو اس محکمہ نے نذرِ آتش کیا۔

(حرفِ اقبال)

٢٦ جنگِ نوارینو ١٧٩٩ء میں نہیں، ١٨٢٧ء میں وقوع پذیر ہوئی تھی۔ حضرت علامہؒ

٩١

PDF 427

نے سید نذیر نیازی کے نام اپنے ایک خط میں اس کی تصحیح بھی فرمادی تھی اور سید صاحب موصوف کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان کے مضمون کا اردو ترجمہ کرتے ہوئے اس غلطی کو درست کردیں۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو

(مکتوبات اقبال ص٣٢٢)

٢٧ یہاں حضرت علامہ کو سہو ہو گیا ہے۔ اجازت تنسیخ کی نہیں۔ التواء کی ہے اس کا اندازہ سید سلیمان ندویؒ کے نام ان کے ایک خط سے بھی ہوتا ہے۔ جس میں حضرت علامہؒ سید موصوف کو ان کے ایک خط کی عبارت یاد دلاتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ایک خط میں آپ نے یہ لکھا ہے کہ اسلامی ریاست کے امیر کو اختیار ہے کہ جب اسے معلوم ہو کہ بعض شرعی اجازتوں میں فساد کا امکان ہے تو ان اجازتوں کو منسوخ کردے۔ عارضی طور پر یا مستقل طور پر، بلکہ بعض فرائض کو بھی منسوخ کر سکتا ہے۔ اس وقت آپ کا خط میرے سامنے نہیں ہے۔ حافظے سے لکھ رہا ہوں۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟ اسی خط کے حاشیہ میں سید سلیمان ندویؒ کے یہ الفاظ درج ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے حافظہ نے غلطی کی ہے۔ ملتوی کی جگہ منسوخ لکھ گئے ہیں۔ ملاحظہ ہو مکاتیب اقبال ج١ ص١٨٢، مرتبہ شیخ عطاء اللہ ایم۔اے

٢٨ یہ اشارہ ہے اس عقیدے کی طرف کہ امام مہدی امام آخر الزمان ہیں۔ ایک ہزار برس سے زیادہ مدت ہوئی کہ وہ سامرا کے ایک غار میں روپوش ہوگئے۔ وہ زندہ ہیں۔ گو ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔

(مکتوبات اقبال ص٣١٧، مرتبہ سید نذیر نیازی)

٢٩ یہ بیان ٢٠؍ جون ١٩٣٣ء کے اخبارات میں شائع ہوا۔ تب حضرت علامہ کشمیر کمیٹی کے عارضی صدر تھے۔

٣٠ یہ تاریخی خط جیسا کہ اس کی تاریخ سے ظاہر ہے، ٢١؍ جون ١٩٣٢ء کو پنڈت جواہر لال نہرو کے نام لکھا گیا۔ اس خط میں حضرت علامہؒ نے ”اسلام اور احمدیت“ کے عنوان سے پنڈت جی کے جواب میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون کے مقاصد تحریر کو واضح کیا ہے۔ اصل خط حضرت علامہؒ نے انگریزی زبان میں لکھا تھا۔

٣١ حضرت علامہؒ کا اصل خط چونکہ انگریزی میں ہے۔ اس لئے ہم اس مقام پر ان کی انگریزی عبارت بھی نقل کئے دیتے ہیں۔ تاکہ قارئین حضرت علامہؒ کے مافی الضمیر کا صحیح صحیح اندازہ کرسکیں۔

٩٢

y mind that the Ahmadis nd to India, (Thoughts and Syed Abdul Wahid)

٣٢ حضرت علامہؒ ان دنوں خستہ کر سکتے تھے۔ جو ان دنوں اتفاق سے لاہور نے لاہور ریلوے اسٹیشن پر پنڈت جواہر لا محبوب قوم خوش آمدید کے نعرے لگائے۔ -

٣٣ حضرت علامہؒ کے ان خطوں

٣٤ اس معنی کا ایک اثر بھی تم ہے۔ اس اثر کی تاویل و تشریح میں مولانا مح مولانا عبدالحی صاحب فرنگی محلی کا ایک م (ندوی)

٣٥ یہ وجہ نہیں، شیخ اشراق ایرا تھا۔ دیکھئے شرح حکمة الاشراق، مقالہ خامسہ

٣٦ یہ حدیث صحاح میں نہیں لغت کی رو سے منصب دار نبوت کے لئے

٣٧ یقیناً سب کے سب نبی ا

٣٨ حضور ﷺ پر کسی کو جزو توہین نبی کا باعث ہے۔ البتہ مقتضائے فضیلت حقیقت میں فضیلت کے شمار میں نہیں۔ کیونکہ خود تمدن نہ کوئی دینی فضیلت دنیا زیادہ متمدن ہو جائے تو اس زمانے اگر یہ امر باعث فضیلت ہو تو غلام احمد ہے۔ بلکہ غلام احمد سے زیادہ۔ کیونکہ م آزمایا نہیں۔

صفحہ ٤٢٧

I have no doubt in my mind that the Ahmadis are traitors both to Islam and to India, (Thoughts and Reflections' of Iqbal page:306, by Syed Abdul Wahid)

٣٢ حضرت علامہ ان دنوں سخت بیمار تھے اور اسی سبب سے پنڈت جی سے ملاقات نہ کر سکے تھے۔ جو ان دنوں اتفاق سے لاہور آئے ہوئے تھے۔ یہ وہی موقعہ ہے جب قادیانیوں نے لاہور ریلوے اسٹیشن پر پنڈت جواہر لال نہرو کا شاندار استقبال کیا اور جواہر لال زندہ باد، محبوب قوم خوش آمدید کے نعرے لگائے۔

(بحوالہ الفضل قادیان مورخہ ٣١ مئی ١٩٣٦ء)

٣٣ حضرت علامہ کے ان خطوط کا پس منظر ”تمہیدے گفتنی“ میں گزر چکا ہے۔

٣٤ اس معنی کا ایک اثر بھی تفسیروں میں مروی ہے جو اثر ابن عباسؓ کے نام سے ہے ۔ اس اثر کی تاویل و تشریح میں مولانا محمد قاسم صاحب کا رسالہ تحذیر الناس فی اثر ابن عباسؓ اور مولانا عبدالحی صاحب فرنگی محلی کا ایک مضمون ہے جو اس بحث میں دیکھنے کے قابل ہے۔

(ندوی)

٣٥ یہ وجہ نہیں، شیخ اشراق ایرانی فلسفہ سے متاثر تھے اور وہاں سے یہ خیال ان تک پہنچا تھا۔ دیکھئے شرح حکمة الاشراق، مقالہ خامسہ ۔

٣٦ یہ حدیث صحاح میں نہیں۔ آپ (ﷺ) نے اس لئے نبی کہنے سے منع فرمایا کہ لغت کی رو سے منصب دار نبوت کے لئے ”نبی“ لفظ ہے ”نبیئ“ نہیں۔ (ندوی)

٣٧ یقیناً سب کے سب نبی بلا ہمزہ کے ہیں۔ (ندوی)

٣٨ حضور ﷺ پر کسی کو جزوی فضیلت حاصل ہونا جائز ہے اور ایسا کہنا نہ کفر ہے نہ توہین نبی کا باعث ہے۔ البتہ مقتضائے محبت کے خلاف ہے اور پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ یہ جزوی فضیلت حقیقت میں فضیلت کے شمار میں ہے بھی؟ مثلاً زیادہ متمدن زمانہ میں ہونا کوئی فضیلت نہیں ۔ کیونکہ خود تمدن نہ کوئی دینی فضیلت ہے نہ اخلاقی نہ عقلی۔ بلکہ ممکن ہے کہ اس کے بعد اور بھی دنیا زیادہ متمدن ہو جائے تو اس زمانے کے آدمی پر بھی اس زمانہ کے آدمی کو فوقیت ہو جائے اور اگر یہ امر باعث فضیلت ہو تو غلام احمد قادیانی کیا اقبال سیالکوٹی کو بھی یہ جزوی فضیلت حاصل ہے۔ بلکہ غلام احمد سے زیادہ۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے صرف اس کو دور سے دیکھا ہے۔ چکھا اور آزمایا نہیں۔

(ندوی)

٩٣

صفحہ ٤٢٨

(ندوی)

لیکن اس کی سند مذکور نہیں جو روایت کی صحت و ضعف کا پتہ لگایا جائے اور اگر صحیح ہو بھی تو یہ حضرت عائشہؓ کی محض رائے ہے۔ کیونکہ رسول اللہ (ﷺ) نے بار بار خود فرمایا ہے۔ ”لا نبی بعدی“ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ حضرت عائشہؓ نے اپنے خیال میں اس لئے ایسا کہنے سے منع کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کا انکار اس سے لوگ نہ سمجھنے لگیں۔ بہرحال یہ ان کا خیال ہے۔ جس کا صحیح ہونا ضروری نہیں۔ خصوصاً ایسی صورت میں جب خود حضور (ﷺ) کے قول کے خلاف ہو۔ ندوی

نسبت پہلے لکھ چکا ہوں۔ (ندوی)

(علیہ السلام) کی آمد ثانی بصفت نبوت ہوگی یا بلا صفت نبوت۔ اس باب میں علماء کا اختلاف ہے۔ نواب صاحب کی رائے یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ بصفت نبوت ہوگی۔ اس لئے وہ لکھتے ہیں کہ جو لوگ ان کی آمد ثانی میں ان کی صفت نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ وہ مرتکب کلمہ کفر ہیں۔ بہرحال یہ رائے ہے۔ (ندوی)

ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ فرضا ہے واقعہ نہیں۔ کیونکہ لو فرض عدم وقوع کے لئے آتا ہے۔ اسی سے معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہ (ﷺ) کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ اس لئے ابراہیم بن محمد کو بچپن ہی میں اٹھا لیا گیا۔ چنانچہ دوسری روایتوں میں یہی مذکور ہے۔ چنانچہ خود ابن ماجہ میں اور بخاری میں ہے۔ ”ولو قضی ان یکون بعد محمد نبی لعاش ابنه ولکن لا نبی بعده“ (ابن ماجہ، جنائز، بخاری، انبیاء) یعنی یہ کہ اگر فیصلہ الہی یہ ہوتا ہے کہ محمد (ﷺ) کے بعد کوئی نبی ہو تو آپ کے صاحبزادہ زندہ رہتے۔ لیکن یہ فیصلہ الہی ہو چکا تھا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ملا علی قاری نے اس کو موضوعات میں لیا ہے۔ اس کو معتبر نہیں کہا ہے۔ ضعیف کہا ہے۔ اس میں ابو شیبہ ابراہیم راوی ضعیف ہے۔ بلکہ وہ متروک الحدیث، منکر الحدیث باطل گو اور دروغگو تک کہا گیا ہے۔

صفحہ ٤٢٩

اس کے بعد بشرط صحت علامہؒ نے اس کی تاویل کی ہے۔ بہرحال اس حدیث کا وہی مطلب ہے جو اس حدیث کا ہے۔ ”لو کان بعدی نبینا لکان عمر“ (مسند احمد، ترمذی) یعنی یہ کہ اگر میرے بعد نبی ہونا ممکن ہوتا تو عمرؓ بن خطاب نبی ہوتے۔ لیکن چونکہ ممکن نہیں اس لئے نہ وہ اور نہ کوئی اور نبی ہو سکتا ہے۔ (ندوی)

عیسائیوں پر حجت ہوں گے اور مسلمانوں کی تائید فرمائیں گے۔ مسلمانوں کا امام الگ ہوگا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نہ ہوں گے۔ (ندوی)

کتابیں نہیں ملتیں جو حال معلوم ہو۔ البتہ ابن حزم وفات مسیح (علیہ السلام) کے قائل تھے۔ ساتھ ہی نزول کے بھی۔ (ندوی)

آسکی۔

ہیں۔ اگر کسی صاحب کے پاس موجود ہوں تو وہ مطلع فرمائیں۔ مرتب ان کا شکر گزار ہوگا۔

استیصال سے کس قدر گہری دلچسپی تھی۔

اصطلاحی معنی ملاحدہ عجم کی پیداوار ہیں۔ ملاحظہ ہو۔

(مکاتیب اقبال ج١ ص١٩٩ حاشیہ)

ارادے کو بھی عملی جامہ نہ پہنا سکے تھے۔ بہرحال اس سے یہ ضرور معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کے پیش نظر قادیانی فتنے کے سبھی چہرے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ایک ایک کرکے ان تمام سے نقاب الٹ دی جائے۔

پروفیسر الیاس برنی مرحوم نے ”قادیانی مذہب“ کے نام سے قادیانی معتقدات کا ایسا پوسٹ مارٹم کیا کہ وہ بالکل ننگا ہو کر سامنے آگیا۔ اس کتاب کا ایک نسخہ مرحوم نے حضرت علامہؒ کی خدمت میں بھی بھیجا اور شاید اس پر حضرت علامہؒ کی رائے چاہی۔ جواب میں آپ نے مذکورہ خط لکھا۔

٩٥

صفحہ ٤٣٠

٥٣ علامہ اقبالؒ اور مجلس احرار کی بروقت مداخلت اور کامیاب مزاحمت کے سبب قادیانیوں نے ١٩٣١ء کی تحریک کشمیر کو اپنے ہاتھوں سے نکلتا ہوا دیکھ کر اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ جس طرح اس تحریک کو ناکام بنانا چاہا ۔ مندرجہ بالا خط اس کی پوری پوری نشاندہی کرتا ہے ۔ حضرت علامہ نے یہ خط پٹنہ کے ایک معروف وکیل جناب سید نعیم الحق صاحب کے نام لکھا ۔ جنہوں نے اس دور میں مظلومین کشمیر کی بلا معاوضہ قانونی معاونت کی تھی ۔

٥٤ حضرت علامہؒ کے بیان قادیانی اور جمہور مسلمان پر تنقید کرتے ہوئے ایک قادیانی ہفتگی لائٹ لاہور نے لکھا کہ اور بہت سے بڑے مفکروں کی مانند ڈاکٹر اقبال بھی الہام پر یقین نہیں رکھتے ۔ اس اتہام کے متعلق جب ایک پریس کے نمائندہ نے حضرت علامہؒ سے سوال کیا تو آپ نے مذکورہ وضاحت فرمائی ۔

٥٥ جب حضرت علامہؒ سے اس حدیث کے متعلق استفسار کیا گیا ۔ جس کا لائٹ نے حوالہ دیا تھا اور جس میں ہر صدی کے آغاز میں ایک مجدد کے آنے کی خبر دی گئی ہے تو آپ نے مندرجہ بالا جواب ارشاد فرمایا ۔

٥٦ جب حضرت علامہؒ کی توجہ ایک دوسرے قادیانی ہفت نامے سن رائز Sun Rise لاہور کے ایک خط کی طرف مبذول کرائی گئی جس میں علامہ مرحوم کی ایک ١٩١٠ء ، ١٩١١ء کی تقریر کا حوالہ دے کر ان پر ”تناقض خود‘Inconsistency’ کا الزام لگایا گیا تھا تو آپ نے مذکورہ توضیح ..........................................

٥٧ سوال یہ تھا الہام اور مصلحین کے آنے کے امکانات کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

٥٨ حضرت علامہؒ کی زندگی کے آخری دنوں میں ان کے اور مولانا حسین احمد صاحب مدنیؒ کے مابین اسلام اور وطنیت کے موضوع پر ایک غلط فہمی کے باعث زبردست بحث چھڑ گئی تھی ۔ جس کا اختتام حضرت علامہؒ کے اس خط پر ہوا ۔ جو انہوں نے ایڈیٹر احسان لاہور کو لکھا ۔ یہ خط اس بحث سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کو ضرور مطالعہ کرنا چاہئے ۔ اس بحث کے دوران حضرت علامہؒ کا ایک طویل جوابی مضمون روزنامہ احسان لاہور میں شائع ہوا ۔ مولانا حسین احمد مدنیؒ کے نام اقتباس اسی مضمون سے ماخوذ ہے ۔

٥٩ جب ایک پارسی مسٹر دین شا کے ایک خط کے متعلق جو ”سٹیٹس مین“ دہلی میں شائع ہوا ۔ حضرت علامہؒ سے پوچھا گیا تو آپ نے مذکورہ جواب دیا ۔

٩٦

سبحٰن الذی اسریٰ بعبدہ

قادیانی

آئینی ترمیم

قانون سازی

حضرت مولانا محمد

PDF 432

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانی مسئلہ

آئینی ترمیم کے مطابق

قانون سازی کا تقاضہ کرتا ہے

حضرت مولانا محمد نعیم آسیؔ سیالکوٹی

صفحہ ٤٣٢

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تقديم!

١٩٧٧ء کے ہفت روزہ ”چٹان“ (لاہور) میں شائع ہوا۔ انہی دنوں مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کے کار پردازان اور میرے مکرم ومخلص ملک منظور الٰہی صاحب قریشی نے ایک کتابچے کی شکل میں اس کی اشاعت کا عزم ظاہر کیا اور کتابت شروع کرادی۔ جو کام بظاہر دسمبر ١٩٧٧ء میں ہو جانا چاہئے تھا۔ وہ اب کہ سن ١٩٧٨ء کا نصف فروری گزر چکا انجام پا رہا ہے۔ سچ ہے ”كــل امــر مرهون باوقاتها“ ہر کام اپنے وقت پر ہی ہوتا ہے۔

کا مضمون ہر مسلمان کے دل کی آواز ہے۔ اس ضمن میں مجھے صرف اس قدر کہنا ہے کہ ہر کارڈ پڑھنے والا اس پر اپنا نام و پتہ لکھ کر اسے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جناب جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کے نام پوسٹ کر دے۔ اس معاملہ میں ملت اسلامیہ پاکستانیہ کے ایمان افروز جذبات کی ایسی بھر پور عکاسی ہونی چاہئے کہ چشم فلک بھی عش عش کر اٹھے۔ میں ملک کی تمام دینی تنظیموں سے بھی یہی درخواست کروں گا وہ ہر ممکن ذریعے سے اس آواز کو جنرل صاحب تک پہنچائیں اور اپنا دینی وملی فریضہ ادا کریں۔

مقصد حاصل ہو اور وہ تمام لوگ سرفراز وبامراد ہوں جو ناموس مصطفیٰ ﷺ اور شعائر اسلام کے تحفظ کی اس تحریک میں ادنیٰ سا حصہ بھی لیں۔ میرا رواں رواں ایسے مردان نیک نام کو دعا دیتا ہے۔ ”ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم“

راقم آثم نعیم آسی سیالکوٹ سہ شنبہ ٦؍ ربیع الاول ١٣٩٨ھ جمعرات ٢٤؍ فروری ١٩٧٨ء....... بعد مغرب

٢

صفحہ ٤٣٤

قادیانی مسئلہ

( آئینی ترمیم کے مطابق قانون سازی کا تقاضا کرتا ہے )

قادیانیت محض ایک مذہبی مسئلہ ہی نہیں جیسا کہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں یہ اپنے مخصوص احوال وظروف کے پیش نظر ایک ایسا قومی وملی، سیاسی و اجتماعی اور تہذیبی و معاشرتی مسئلہ ہے جو براہ راست ہمارے آئین و دستور سے تعلق رکھتا ہے۔

یہ امر واقعہ ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں کہ اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے، جس کے حدود مقرر ہیں، یعنی وحدت الوہیت پر ایمان، انبیاء کرام پر ایمان اور حضرت رسول ﷺ کی ختم رسالت پر ایمان۔ دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس بات کے لئے فیصلہ کن کہ فلاں فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں؟ ...........مثال کے طور پر برہمو خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور حضرت رسول ﷺ کو خدا کا پیغمبر بھی مانتے ہیں مگر انہیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ (قادیانیوں کی طرح) انبیاء کے ذریعہ وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور حضرت رسول کریم ﷺ پر سلسلہ وحی ورسالت کو ختم نہیں جانتے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بحیثیت دین کے خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوا لیکن اسلام بحیثیت سوسائٹی یا ملت کے حضرت رسول کریم ﷺ کی شخصیت کا مرہون منت ہے۔ ہر شخص کو یہ معلوم ہے کہ ایک یہودی جب تک حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اعتقاد رکھے اس کا شمار امت موسویہ میں ہوتا ہے جب وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آتا ہے تو عیسائی کہلاتا ہے۔ گویا اس کی امت (سوسائٹی) تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر ایک یہودی یا عیسائی حضرت نبی کریم ﷺ پر ایمان لے آئے تو اس کا شمار امت محمدیہ میں ہوگا اگر آنجناب رسالت مآب ﷺ کے بعد وحی و نبوت کا دروازہ کھول دیا جائے تو ظاہر ہے امت محمدیہ کی وحدت پارہ پارہ ہو جائے گی۔

احساس ملت

عقیدہ ختم نبوت کی یہی وہ قوت آفرینی ہے جس کے باعث ملت اسلامیہ شروع ہی سے اس ضمن میں بڑی حساس رہی ہے۔ امام موفق بن احمد المکی نے امام ابو حنیفہ کے ”مناقب“ میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ان کے عہد میں کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنے صدق اور کذب کا معیار اپنے دلائل اور ”معجزات“ پر رکھا۔ اس پر امام صاحب سے مسئلہ پوچھا گیا تو اس متنبّی سے

٣

صفحہ ٤٣٤

دلائل اور معجزات طلب کرنا کیسا ہے؟۔ امام صاحب نے جواب لکھوایا: ”جو شخص اس متنبّی سے اس کی سچائی کی کوئی علامت (دلیل یا معجزہ) طلب کرے وہ کافر ہے۔ کیونکہ (اللہ کے ایک سچے پیغمبر) حضرت محمد کریمﷺ کا فرمان ہے میں خاتم الانبیاء ہوں اور میرے بعد نبی کوئی نہیں ۔“

(مناقب للامام الاعظم جلد ١ ص ١٦١ از امام موفق بن احمد المکی مطبوعہ حیدر آباد)

امام العصر محمد انور شاہ کشمیریؒ اپنی مایہ ناز فارسی تصنیف ”خاتم النبیین“ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اول اجماع کہ دریں امت منعقد شدہ اجماع برقتل مسیلمہ کذاب بودہ کہ بہ سبب دعوی نبوت بود شنائع دگرے صحابہؓ را بعد قتل وے معلوم شدہ چنانکہ ابن خلدون آوردہ“ کہ: ”پہلا اجماع جو اس امت میں منعقد ہوا وہ مسیلمہ کذاب کے قتل پر تھا۔ جو بہ سبب اس کے دعویٰ نبوت کے منعقد ہوا۔ اس کی دیگر برائیاں صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کو بعد میں معلوم ہوئیں۔ جیسا کہ ابن خلدون نے بیان کیا ہے۔“

(خاتم النبیین، صفحہ ٣٣ از علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری مطبوعہ ڈابھیل)

عمدۃ القاری (شرح بخاری) میں ان اصحاب رسولؐ کی تعداد گیارہ سو سے چودہ سو تک بیان کی گئی ہے جنہوں نے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ کے عہد میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کرتے ہوئے شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ ان میں سات سو سے زیادہ وہ اصحاب تھے جو قراء کہلاتے تھے۔ خود حضرت ابو بکرؓ کے صاحبزادے حضرت عبداللہؓ ، حضرت عمرؓ کے برادر اکبر حضرت زیدؓ بن الخطاب، خطیب الانصار حضرت ثابت بن قیسؓ ، مدرسہ نبوت کے سب سے بڑے قاری سالم مولیٰ ابی حذیفہؓ اور ان کے مولیٰ و مربی حضرت ابو حذیفہؓ ایسے بزرگ صحابہ شامل تھے۔

اقبال اور قادیانی

مکار انگریز جب تاجروں کے بھیس میں قزاقوں کا کردار ادا کر کے شب خون مار کر برصغیر ہندوستان پر قابض ہوا تو اس نے اپنے اقتدار کو استحکام و دوام بخشنے کے لئے Devide and Rule کی ابلیسی پالیسی پر بڑی ہنرمندی کے ساتھ عمل کیا۔ اس نے ہندوستانی اقوام کو باہم لڑانے کے لئے قسم قسم کے فتنے جگائے۔ ان میں ملت اسلامیہ ہند کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے سب سے بڑا فتنہ قادیانیت کا فتنہ تھا۔ انگریز خوب جانتا تھا کہ اگر اور کچھ نہ ہوا تو کم از کم ٤

اتنا تو ہر مسلمان سو ڈیڑھ سو سال اس فتنہ کی کی نظر بیک وقت قرآن وحدیث، تاریخ اقو اس کے لئے بھلا کیونکر ممکن تھا وہ قادیانیت کی

چنانچہ انہوں نے اس فتنہ کا محاک اعتقادی وفکری اعتبار ہی سے اس فتنہ کو ملت میں بھی قادیانیوں کے سخت خلاف تھے۔ ( مطالعہ کیا جائے)

ایک دفعہ ان کے بڑے بھائی آمدہ ایک رشتے کی بابت حضرت علامہ کی علامہؒ نے فرمایا بھائی صاحب اگر میری اپنی

(اقبال درون خانہ ص ١٨ از خالد نظیر صوفی)

چند یادیں چند باتیں‘ ‘ اس وقت میرے سا ہوا ہے۔ میاں صاحب موصوف حضرت عل (خدا تعالیٰ انہیں تادیر سلامت رکھے) آما کو (انجمن حمایت اسلام کے) اجلاس سے نبوت پر کامل یقین تھا اور یہ برداشت نہ کر

پنڈت جواہر لال نہرو 'tter وہ خط خود شائع کر چکے ہیں جس میں م Ahmadis are traitors nd to India" (page 18)

امر کے متعلق کوئی شبہ نہیں پاتا کہ احمدی ام پاکستانی پارلیمان کا قادیانیوں قادیانی فتنہ کی بابت جو جذا

صفحہ ٤٣٥

اتنا تو ہوا کہ مسلمان سو ڈیڑھ سو سال اس فتنہ کی سرکوبی میں لگا رہے۔ علامہ اقبالؒ ایسا مفکر انسان جس کی نظر بیک وقت قرآن وحدیث، تاریخ اقوام عالم اور قوموں کے اسباب عروج وزوال پر تھی۔ اس کے لئے بھلا کیونکر ممکن تھا وہ قادیانیت کی مضرت رسانی دیکھے اور چپ رہے۔ چنانچہ انہوں نے اس فتنہ کا محاکمہ کیا اور حق یہ ہے کہ حق محاکمہ ادا کر دیا۔ وہ نہ صرف اعتقادی وفکری اعتبار ہی سے اس فتنہ کو ملت اسلامیہ کے لئے سم قاتل سمجھتے تھے بلکہ عملی وملی زندگی میں بھی قادیانیوں کے سخت خلاف تھے۔ (تفصیل کے لئے راقم کی کتاب اقبال اور قادیانی کا مطالعہ کیا جائے)

ایک دفعہ ان کے بڑے بھائی شیخ عطاء محمد صاحب نے اپنی ایک بیٹی کے سلسلہ میں آمدہ ایک رشتے کی بابت حضرت علامہؒ کی رائے دریافت کی۔ یادرہے لڑکا قادیانی تھا۔ حضرت علامہؒ نے فرمایا بھائی صاحب اگر میری اپنی بیٹی ہوتی تو میں ہرگز ہرگز یہاں اس کی شادی نہ کرتا۔ (اقبال درون خانہ ص ١٨ از خالد نظیر صوفی) محترم میاں امیر الدین صاحب کا ”مضمون علامہ اقبال چند یادیں چند باتیں“ اس وقت میرے سامنے پڑا ہے جو آج ہی ”نوائے وقت“ لاہور میں شائع ہوا ہے۔ میاں صاحب موصوف حضرت علامہ کے بارے میں ایک نہایت مستند ”زندہ ماخذ“ ہیں۔ (خدا تعالیٰ انہیں تادیر سلامت رکھے) آپ لکھتے ہیں ایک بار ایک قادیانی رکن مرزا یعقوب بیگ کو (انجمن حمایت اسلام کے) اجلاس سے نکال دیا کہ مرزائی انجمن کا رکن نہیں ہو سکتا۔ آپ کو ختم نبوت پر کامل یقین تھا اور یہ برداشت نہ کر سکتے تھے کہ کوئی توہین رسالت کرے۔

(نوائے وقت ٩ دسمبر ١٩٧٧ء)

پنڈت جواہر لال نہرو ”A Bunch of old Letters" میں حضرت علامہ کا وہ خط خود شائع کر چکے ہیں جس میں حضرت علامہ کا یہ تاریخی فقرہ درج ہے: I have no doubt in my mind that the Ahmadis are traitors کہ میں اپنے ذہن میں اس both to Islam and to India" (page 18) امر کے متعلق کوئی شبہ نہیں پاتا کہ احمدی اسلام اور ہندوستان دونوں غدار ہیں۔

پاکستانی پارلیمان کا قادیانیوں کے خلاف فیصلہ

قادیانی فتنہ کی بابت جو جذبات حضرت علامہؒ کے تھے وہی تمام ملت اسلامیہ کے

٥

صفحہ ٤٣٦

تھے۔ یہی وجہ ہے تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد اس فتنہ کے احتساب میں مسلمانان ہند نے والہانہ جوش و جذبہ سے حصہ لیا۔ خاص اس موضوع پر ہمارے علما و فضلاء کی تصنیفات اگر جمع کی جائیں تو تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہوگی۔ قیام پاکستان کے بعد اسی مسئلہ پر دو زبردست تحریکیں چلیں۔ ایک ١٩٥٣ء میں دوسری ١٩٧٤ء میں پوری ملت اسلامیہ پاکستان نے بلالحاظ مسلک و مکتب ان میں بھر پور حصہ لیا۔ بالآخر حق کا بول بالا ہوا اور ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو پاکستانی پارلیمان نے دستور پاکستان کی دفعہ ٢٦٠ میں ایک تاریخی شق کا اضافہ کر کے آئین و قانون کے مقاصد کے ضمن میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔

دفعہ ١٠٦ میں غیر مسلم اقلیتوں عیسائیوں، ہندوؤں، سکھوں، بدھوں، پارسیوں اور اچھوتوں کے ساتھ قادیانیوں کا اضافہ کر کے ان کے لئے الگ اسمبلی نشستیں مخصوص کی گئیں۔ بھٹو حکومت نے تمام مسلمان جماعتوں پر مشتمل مجلس عمل کے ساتھ اس آئینی ترمیم کے مطابق قانون سازی کا الگ وعدہ کیا۔ مگر افسوس بھٹو صاحب اس عہد کو پورا کرنے سے قاصر رہے۔

لاہور ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ

حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ نے ڈیرہ غازیخان میں مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین ایک ”مسجد“ کے نزاع کے سلسلہ میں فیصلہ صادر کیا ہے۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور (١٢ نومبر ١٩٧٧ء) کی خبر سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزائیوں نے ڈیرہ غازیخان میں پاکستان بننے سے پہلے ایک مسجد تعمیر کرائی۔ پارلیمان کے قادیانیوں کے خلاف فیصلہ کے بعد (کہ وہ آئین وقانون کے ضمن میں مسلمان نہیں ہیں ) مسلمانوں نے سول جج ڈیرہ غازیخان کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا کہ مرزائی اسلامی قانون کی رو سے (اپنی عبادت گاہ کا نام ”مسجد“ نہیں رکھ سکتے۔ جس پر سول جج مذکور نے مسلمانوں کے حق میں حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے مرزائیوں کی عبادت گاہ کو ( جسے مرزائی ”مسجد“ کہتے ہیں ) سربمہر کر دیا۔ مرزائیوں نے ڈسٹرکٹ جج ڈیرہ غازیخان کی عدالت میں اس فیصلے کو چیلنج کیا۔ مگر ڈسٹرکٹ جج موصوف نے بھی اس حکم کو بحال رکھا۔ جس پر مرزائی یہ مقدمہ لاہور ہائی کورٹ میں لے گئے۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس مقدمہ کا فیصلہ جیسا کہ اوپر بیان ہوا قادیانیوں کے حق میں صادر کر دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کی وجہ اس قانون سازی کا نہ ہونا ہے۔ جو پارلیمنٹ کے فیصلے کے بعد ہونی چاہئے تھی۔

٦

٧ اسلامی قانون بہر حال موجودہ صور عبادت گاہ کو نہ تو مسجد کہہ کر پکار سکتے ہیں، نہ اذ وہ اپنی عبادت گاہ کی ایسی ہیئت و شکل بھی نہیں بعض دیگر مسائل و معاملات کی بھی ہے۔ اندریں حالات دیندار ماہرین ا صورتحال کا حل تلاش کرنا چاہئے۔ یہ صورتحال صاحب کی بھی فوری توجہ کی متقاضی ہے جن کی اگر ان کا مارشل لاء ریگولیشن دین کی کوئی خدم میں مستقبل کا کوئی قانون ساز ادارہ ان کے ربا

سال اقبال کا تقاضا

کسی بھی شخصیت کو خراج عقیدت ہوئی راہ پر چلے۔ یہ سال اقبال ہے اور یہ بات سب سے پہلے اقبال نے کھینچا۔ کیا ہم پر یہ بھریں۔ یعنی اس مملکت خداداد پاکستان میں ایک عظیم تر اور تابندہ تر اسلامی پاکستان بطور ا

نوٹ: اس کتابچہ کے مقدمہ میں ہر کتاب میں علیحدہ طور پر رکھا گیا۔ جو یہ ہے

باسم

لا نبی بعدی
پردہ ناموس ر

بخدمت جناب

چیف آف دی آرمی سٹاف السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

صفحہ ٤٣٧

اسلامی قانون بہرحال موجودہ صورتحال کو گوارا نہیں کرتا۔ از روئے اسلام قادیانی اپنی عبادت گاہ کو نہ تو مسجد کہہ کر پکار سکتے ہیں، نہ اذان دے سکتے ہیں، نہ جماعت کروا سکتے ہیں، حتیٰ کہ وہ اپنی عبادت گاہ کی ایسی ہیئت وشکل بھی نہیں بنا سکتے جو مسجد سے مماثل ومشابہہ ہو۔ یہی صورت بعض دیگر مسائل ومعاملات کی بھی ہے۔

اندریں حالات دیندار ماہرین قانون کو اس طرف فوری توجہ کرنا چاہئے اور اس صورتحال کا حل تلاش کرنا چاہئے۔ یہ صورتحال موجودہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق صاحب کی بھی فوری توجہ کی متقاضی ہے جن کی دینداری کا غائبانہ طور پر میں بہت ذکر سنتا ہوں۔ اگر ان کا مارشل لاء ریگولیشن دین کی کوئی خدمت کرسکے تو پوری ملت اسلامیہ ان کو دعا دے گی بعد میں مستقبل کا کوئی قانون ساز ادارہ ان کے ریگولیشن کو قانون کا درجہ دے سکتا ہے۔

سال اقبال کا تقاضا

کسی بھی شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سچا طریقہ یہ ہے کہ انسان ان کی دکھائی ہوئی راہ پر چلے۔ یہ سال اقبال ہے اور یہ بات کسے معلوم نہیں کہ پاکستان کا نقشہ واضح لفظوں میں سب سے پہلے اقبال نے کھینچا۔ کیا ہم پر یہ لازم نہیں کہ ہم ان کے نقشے میں ان کی پسند کا رنگ بھریں۔ یعنی اس مملکت خداداد پاکستان میں اسلام کو عملی طور پر نافذ کرکے پوری دنیا کے سامنے ایک عظیم تر اور تابندہ تر اسلامی پاکستان بطور نمونہ (Ideal) پیش کریں؟

بشکریہ ہفت روزہ چٹان لاہور...... ١٩؍ دسمبر ١٩٧٧ء

نوٹ: اس کتابچہ کے مقدمہ میں ایک مطبوعہ کارڈ کا ذکر ہے۔ وہ علیحدہ شائع کرکے ہر کتاب میں علیحدہ طور پر رکھا گیا ہے۔ جو یہ ہے:

باسمہ سبحانہ!

لا نبی بعدی زاحسان خداست
پردہ ناموس دین مصطفیٰ است

(علامہ اقبال)

بخدمت جناب جنرل محمد ضیاء الحق صاحب چیف آف دی آرمی سٹاف و چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پاکستان السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

٧

صفحہ ٤٣٨

جناب عالی! ٧؍ستمبر ١٩٧٤ء کو پاکستان کی پارلیمان نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ملت اسلامیہ کے ایک دیرینہ مطالبہ کی تکمیل کی۔ مگر بدقسمتی سے سابقہ حکومت محولہ پارلیمانی فیصلے کے مطابق قانون سازی نہ کر سکی۔ جس کی وجہ سے گوناگوں معاشرتی پیچیدگیاں اور مذہبی جھگڑے پیدا ہو رہے ہیں۔ اندریں حالات آپ سے ملتمس ہوں کہ آپ محولہ بالا آئینی ترمیم کے مطابق ایک مارشل لاء آرڈر یا آرڈیننس کے ذریعے ناموس رسول ﷺ اور شعائر اسلام کی حرمت کا تحفظ فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔ اس ضمن میں چند معروضات پیش خدمت ہیں۔

اسلام و خلاف ختم نبوت قادیانی لٹریچر ضبط کیا جائے اور ارتداد کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔

دینے، جماعت کرانے اور مسلم قبرستان استعمال کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔

قرار دی جائے اور پاسپورٹ و شناختی کارڈ پر قادیانیوں کے مذہب کا لازماً اندراج کیا جائے۔

اعلیٰ قادیانی سول و فوجی حکام کے تقرر، ترقیوں اور کارگذاریوں کی انکوائری کے لئے اعلیٰ عدالتی کمیشن قائم کیا جائے، تاکہ اس اسلام و پاکستان دشمن تنظیم کا کما حقہ احتساب ہو سکے۔

قادیانیوں کو الاٹ کی گئی جملہ اراضی و جائیداد کی مکمل انکوائری کرائی جائے اور تمام ناجائز الاٹمنٹیں منسوخ کی جائیں۔

کا دعویٰ کرے اس کو چھ ماہ قید سخت اور ٥٠٠٠ روپے جرمانہ کی سزا دی جائے۔

منجانب:..............................

٨

والسلام علی من اتبع الھدیٰ

مفت تقسیم کے لئے

اسلام

پاکٹ

جناب حاجی محمد مسلم

PDF 440

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

اسلامیہ

پاکٹ بک

جناب حاجی محمد مسلم صاحبؒ دیوبندی

صفحہ ٤٤٠

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تقریظ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مدظلہ مفتی اعظم پاکستان (کراچی)

الحمدلله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفی.....! مرزا غلام احمد قادیانی کے متضاد دعوے، متضاد بیانات اور بہت سے کھلے ہوئے اکاذیب ان کی کتابوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کو ان کے فتنہ سے بچانے کے لئے بہت سے حضرات نے مختلف عنوانات پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ حال میں ہمارے محترم حاجی محمد مسلم صاحب نے ان کے اکاذیب کو ان کی کتابوں کے حوالہ سے جمع کیا ہے۔ احقر اپنی مسلسل بیماری اور ضعف کے سبب اس رسالہ کو نہیں دیکھ سکا۔ بعض احباب نے متفرق مقامات سے دیکھا ہے۔ امید ہے کہ قادیانی مذہب کی حقیقت واضح کرنے کے لئے یہ رسالہ بھی کافی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ مؤلف سلمہ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور رسالہ کو نافع اور مفید بنائیں۔ والله الموفق والمعین ! بندہ محمد شفیع.....٢٠/رجب ١٣٩٥ھ

جناب ماسٹر تاج الدین صاحب انصاری مرحوم (اخبار لولاک لائل پور)

مولانا محمد علی جالندھری مرحوم کو جو اس وقت لاہور میں مقیم تھے۔ خط لکھا اور تلقین کی کہ وہ دیگر مکاتب فکر کے رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی سعی کریں۔ چنانچہ مولانا جالندھریؒ سب سے پہلے مولانا سید ابوالحسناتؒ کے پاس گئے اور عرض کی کہ مولانا : میری نظر میں آپ کی تین حیثیتیں ہیں۔ جن کی بناء پر آپ کے دروازے پر چل کر آیا ہوں۔ اولاً..... آپ اکثریتی فرقے کے مسلمہ رہنما ہیں۔ ثانیاً..... لاہور میں آپ کا حلقہ اثر سب سے زیادہ ہے۔ ثالثاً..... آپ آل رسول ہیں۔ بنا بریں آپ سے التماس کرتا ہوں کہ آپ ہمارے ساتھ مسئلہ ختم نبوت کے سلسلے میں تعاون فرمائیں۔ مولانا ابوالحسناتؒ کی قبر پر خدا ہزاروں رحمتیں نازل فرمائے۔ پہلے صاف انکار کر دیا اور فرمایا میں تو دیوبندیوں سے تعاون نہیں کر سکتا۔

مولانا محمد علی جالندھریؒ نے پینترا بدلا۔ جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے میں جا رہا ہوں۔ ہم نے سب سے پہلے جماعتی سطح پر نبوت کے سارقین کا تعاقب کیا تھا اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ مگر یہ یاد رکھیں کہ کل میدان حشر میں شافع محشرﷺ کا دامن تھام کر عرض کروں گا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! میں آپ کی نبوت کی حفاظت کے لئے ابوالحسنات کے پاس چل کر گیا تھا۔ مگر انہوں نے مجھے ٹھکرا دیا تھا۔ یہ مسئلہ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ سنی

٢

صفحہ ٤٤١

کا مسئلہ نہیں۔ یہ اسلام اور کفر کا مسئلہ ہے۔ آج آپ انکار کر رہے ہیں۔ کل شافع محشر ﷺ کو کیا جواب دیں گے۔ مولانا جالندھریؒ اپنی بات پوری نہ کر پائے تھے کہ مولانا ابوالحسناتؒ دوڑ کر ان سے لپٹ گئے اور فرمانے لگے بھائی محمد علیؒ تم امیر شریعت مولانا سید عطاء شاہ بخاریؒ کو جا کر کہہ دو کہ وہ جب اور جہاں فرمائیں گے۔ میں حاضر ہو جاؤں گا۔

(اخبار لولاک لائل پور)

دیباچہ طبع دوم

اما بعد! اسلامیہ پاکٹ بک الحمد للہ دوسری دفعہ طباعت کے لئے دی جا رہی ہے۔ تقریباً ٧ ماہ میں اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا جا رہا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ کسی مرزائی کو مجال نہ ہوئی کہ اس پر کسی طرح بھی لب کشائی کرتا۔ اب یہ کتاب تمام مرزائی جماعت کی ہی مصدقہ ہے کہ اس میں جو کچھ لکھا ہے۔ وہ بالکل حق و صحیح و نقل مطابق اصل ہے۔ پہلے بھی خدا کے فضل سے مسلمانوں کے لئے یہ رسالہ مفید ثابت ہوا۔ اور اب انشاء اللہ اور زیادہ مفید ہوگا۔ کیونکہ یہ کفریات تو مرزا قادیانی کے مسلم ہوگئے۔

مسلمانوں کا فرض

اگرچہ آج کل اہل اسلام چاروں طرف سے مصائب کے نرغے میں گھرے ہوئے ہیں اور بے شک ہماری یہ حالت ہے کہ: ”تن ہمہ داغ داغ شد پنبه کجا کجا نہم“ لیکن یہ یاد رکھیے کہ اندرونی دشمن بہ نسبت بیرونی دشمن کے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ دشمن سے لڑائی ہو رہی ہو اور خود گھر ہی کے آدمی دشمنوں سے ساز باز شروع کر دیں تو سب سے پہلے ان ہی کی سرکوبی کی جائے گی۔ اسی طرح اگر مرزائی جماعت مسلمانوں کی دشمن ہے اور یقیناً ہے۔ تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ان سے چشم پوشی نہ کریں اور اس فتنہ سے مسلمانوں کو بچانے کی طرف توجہ فرمائیں۔

تقسیم کار کی ضرورت

میرا یہ مطلب نہیں کہ سارے مسلمان فتنہ مرزائیت کے انسداد ہی کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ بلکہ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ ہر مسلمان جتنا بھی زیادہ سے زیادہ اس فتنہ کے انسداد کے لئے اپنا وقت صرف کر سکتا ہے۔ وہ ضرور کرے اور ان کے شر سے مسلمانوں کو بچانے کے لئے ہر وقت کمر بستہ رہے۔ مرزائیوں کے ہاں تنخواہ دار مبلغ، مناظر اور کارکن ہر وقت مل سکتے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں ایسا نظام کوئی نہیں۔ کیونکہ ہر مرزائی (قادیانی) مبلغ ہے اور اس کو ٹریننگ دے کر

٣

صفحہ ٤٤٢

تیار کیا جاتا ہے۔ اسی کے نہ ہونے سے مرزائیوں کو مسلمانوں کے ایمان اور ان کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مواقع میسر آتے ہیں۔ ان لوگوں کے زہریلے خیالات وعقائد اور ناپاک کارناموں سے تمام مسلمانوں کو اچھی طرح آگاہ کر دیا جائے اور ایسی فضا پیدا کر دی جائے کہ آئندہ کوئی اخبار یا شخص مرزائیت نوازی اور کفر دوستی کی جرأت نہ کر سکے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اور علمائے کرام اس فتنہ مرزائیت کی سرکوبی کے لئے ہمیشہ کام کرتے آئے ہیں اور برابر کر رہے ہیں۔ عام مسلمانوں کا فرض ہے کہ جب بھی کوئی اس قسم کی ضرورت پیش آئے۔ ان کی طرف رجوع کریں۔ ہمارا مذہبی فرض ہے کہ ہر مرزائی کو دعوت اسلام دیں اور پر امن طریقے سے ان کو سمجھائیں۔ غلط طریق اور اشتعال اور غیر قانونی حرکات سے پرہیز کریں۔ محمد مسلم......٢ مئی ١٩٧٦ء

پیش لفظ !

برادران اسلام میں نہ تو مصنف ہوں نہ ہی عالم ہوں۔ لیکن اس جذبہ کے ساتھ یہ اوراق لکھے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نہ سچے انسان ہیں۔ نہ ہی معاملہ دار۔ نہ ہی شریف انسان ہیں۔ کیا ایسا شخص مصلح موعود ہو سکتا ہے؟ اس کتاب کے مطالعہ سے آپ کو معلوم ہوگا۔ اس کتاب کی کوئی قیمت نہیں۔ قارئین کرام! اس کتاب کو پڑھ کر اس کی نشر و اشاعت کریں اور مرزائی جو دجل وفریب سے مسلمان بھائیوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ان کی پوری روک تھام کریں۔ مرزائی دوستوں سے خاص طور پر درخواست ہے کہ اس کو بنظر تحقیق ملاحظہ کریں اور انشاء اللہ یہ ان کے لئے بھی فائدہ مند ہوگی۔ صدق دل سے، باوضو، رو بہ قبلہ توجہ سے زیادہ تعداد میں درود شریف پڑھیں ۔ کم سے کم سو (١٠٠) مرتبہ اور ثواب دارین حاصل کریں۔ والسلام! (محمد مسلم)

اللهم صلی علی سیدنا محمد وعلی آل سیدنا محمد وبارك وسلم. اس کی برکت سے مرزا قادیانی کی حقیقت انشاء اللہ ظاہر ہو جائے گی۔ بشرطیکہ خلوص دل سے پڑھیں۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فرقہ مرزائیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی ١٨٣٩ء میں قادیان پنجاب میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ سلطنت مغلیہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھی۔ بالآخر ١٨٥٧ء میں مغلیہ حکومت ختم ہوگئی۔ جنگ آزادی ١٨٥٧ء میں ان کے خاندان نے کفر کا ساتھ دیا یا اسلام کا؟۔

٤

اگر ان کے خاندان نے کسی وجہ سے اسلام کا جذبات ہیں؟ اور ان کی آمد اور ان کے دعوے کیا ہے۔ پہلے مرزا قادیانی ایک باکمال م ہو گئی تو مرزا قادیانی مسیح موعود، مہدی موعود ان کی حیثیت کیا ہے؟ کیا مرزا قادیانی نے ہم ان کی تحریرات سے یہ ثابت کریں گے ہو سکتے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ کتا لوگ اس جال میں پھنس گئے ہیں۔ اس فرمائے۔ آمین۔

جھوٹ نمبر ١...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں ک علی گڑھ والہ نے میری نسبت یہ حکم قطعی ل ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ کاذب بہت جلد آپ ہی مر گئے ۔‘‘

کہاں ہیں یہ تالیفات۔ مرزا

جھوٹ نمبر ٢...... (اربعین نمبر ٣ ص ١٧) ح پیشین گوئیاں پوری ہوتیں جس میں لکھا تھ دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دا جائے گا۔‘‘

قرآن شریف دنیا میں موجو کی پیشانی سے یہ کلنک کا ٹیکہ مٹادے۔

جھوٹ نمبر ٣...... (شہادت القرآن ص ٣ اعتماد ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا ہوتی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں

صفحہ ٤٤٣

اگر ان کے خاندان نے کسی وجہ سے اسلام کا ساتھ نہیں دیا یا کفر کا ساتھ دیا تو ان کے کیا خیالات اور جذبات ہیں؟ اور ان کی آمد اور ان کے دعویٰ سے کیا فائدہ پہنچا اسلام اور مسلمانوں کو؟ ان کا دعویٰ کیا ہے۔ پہلے مرزا قادیانی ایک باکمال مصنف کی حیثیت میں پیش ہوتے ہیں۔ جب کامیابی ہوگئی تو مرزا قادیانی مسیح موعود، مہدی موعود، کرشن گوپال، نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کی حیثیت کیا ہے؟ کیا مرزا قادیانی سچے انسان اور معاملہ دار اور با اخلاق انسان ہو سکتے ہیں؟ ہم ان کی تحریرات سے یہ ثابت کریں گے کہ مرزا قادیانی کسی بھی حیثیت سے سچے انسان نہیں ہو سکتے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ کتاب اس کے بندوں کو اس فتنہ عظیم سے بچاوے اور جو لوگ اس جال میں پھنس گئے ہیں۔ اس سے نجات کا ذریعہ بنائے اور خادم کو ثواب دارین عطا فرمائے۔ آمین۔

جھوٹ نمبر ١...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”مولوی غلام دستگیر قصوری اور مولوی اسماعیل صاحب علی گڑھ والہ نے میری نسبت یہ حکم قطعی لگایا ہے کہ وہ اگر کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ کاذب ہے۔ مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے۔“

(اربعین ص ٣٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٩)

کہاں ہیں یہ تالیفات۔ مرزائیو! دکھاؤ۔

جھوٹ نمبر ٢...... (اربعین نمبر ٣ ص ١٧) میں فرماتے ہیں: ”لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف کی وہ پیشین گوئیاں پوری ہوتیں جس میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو گا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“

(اربعین نمبر ٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)

قرآن شریف دنیا میں موجود ہے۔ کوئی مرزائی ہمت کر کے دکھائے اور مرزا قادیانی کی پیشانی سے یہ کلنک کا ٹیکہ مٹادے۔

جھوٹ نمبر ٣...... (شہادت القرآن ص ١٤) میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اگر حدیث کے بیان پر اعتماد ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے۔ جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانے کے بعد خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی

٥

صفحہ ٤٤٤

ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جن کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی: ”هذا خليفة الله المهدى“ اب سوچو یہ حدیث کس پایہ یا مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو ”اصح الكتب بعد كتاب الله“ ہے۔

(شہادۃ القرآن ص ٤ خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

مرزائیو! کسی میں ہمت ہے صحیح بخاری موجود ہے۔ کیا دکھا سکتے ہو یہ حدیث۔ کیا مرزا قادیانی ایسی کذب بیانی کر کے مسیح موعود ہو سکتے ہیں؟

جھوٹ نمبر ٤ تا ٩ ...... ”یہ غیر معقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ لوگ نماز کے لئے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا اور شراب پیئے گا اور سور کھائے گا اور اسلام کے حلال وحرام کی کچھ پرواہ نہ کرے گا۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٩ خزائن ج ٢٢ ص ٣١)

اس عبارت میں چھ فقرے ہیں جو سب کے سب جھوٹے ہیں۔ مسلمانوں کا عقیدہ ١٤٠٠ برس سے یہ چلا آتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مکرر نزول کے بعد شریعت محمدی پر عمل کریں گے۔ پھر معلوم نہیں کہ اس کے خلاف مرزا قادیانی نے کس کتاب سے یہ فقرے نقل کر دیئے۔ کیا کوئی مرزائی بتا سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ پس یہ جھوٹی باتوں کا مجموعہ اور محض ہرزہ سرائی ہے۔

جھوٹ نمبر ١٠...... ”آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی؟ تو آپ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی۔“

(ازالہ ص ٢٥٢، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)

یہ صریح جھوٹ ہے۔ بہتان ہے۔ افترا ہے۔ کسی حدیث میں نہیں کہ تمام بنی آدم پر سو سال تک قیامت آجائے گی۔

جھوٹ نمبر ١١، ١٢...... ”انبیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر مہر لگادی ہے کہ وہ (مسیح موعود) چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔“

(اربعین نمبر ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢١)

کسی نبی کا ایسا کشف موجود نہیں جس میں یہ لکھا ہو۔

جھوٹ نمبر ١٣...... ”میرا دشمن ہلاک ہو گیا“

(تذکرہ ص ٧٠٩ طبع سوم)

یہ بھی بالکل غلط نکلا۔ کیونکہ ان ایام میں مرزا قادیانی کے بڑے دشمن ڈاکٹر عبدالحکیم خاں اور مولوی ثناء اللہ صاحبان تھے جن کی زندگی میں خود مرزا قادیانی ہی ہلاک ہو گئے۔

٦

جھوٹ نمبر ١٤ ...... ”ریاست کابل میں ٥ کابل میں اتنی اموات نہیں ہو تک۔ کس لڑائی میں یہ اموات ہوں گی؟ ا تک غلط ثابت ہوا ہے۔

جھوٹ نمبر ١٥...... مولوی ثناء اللہ صاحب ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨) میں لکھا کہ: ”خدا مگر مولوی صاحب نے ١٠ م کردی۔

جھوٹ نمبر ١٦...... ”ہم مکہ میں مریں گے یہ الہام بھی سراسر غلط ثابت ہ نصیب نہ ہوئی۔ لاہور میں مرے۔ خدا ہوئے۔

جھوٹ نمبر ١٧...... ”اور خواتین مبارکہ ا پائے گا۔ تیری نسل بہت ہوگی۔“ اس الہام کے بعد نہ کوئی نکا اولاد ہوئی۔ محمدی بیگم والا نکاح شاید اس دکھائے۔

جھوٹ نمبر ١٨...... ڈائری ٢٧ اگست ہیں اور بعض دفعہ بیہوشی تک نوبت پہنچ جات بخار ٹوٹ گیا ۔“ یعنی دعا قبول ہوگئی کہ اللہ

لڑکا ٦ ستمبر کو صبح کے وقت ف الہام غلط ہوا۔

جھوٹ نمبر ١٩...... (١) ”آپ کے لڑکا (٢) ”ایک حلیم لڑکے کی ہم تجھ کو خوشخبری مقام اور اس کا ہم شبیہہ ہوگا۔

صفحہ ٤٤٥

جھوٹ نمبر ١٤..... ”ریاست کابل میں ٨٥ ہزار آدمی مریں گے۔“

(تذکرہ ص٧٠٥، طبع سوم)

کابل میں اتنی اموات نہیں ہوئی۔ نہ یہ پتہ ہے کہ کتنے سال کے اندر اور کتنے دنوں تک۔ کس لڑائی میں یہ اموات ہوں گی؟ یا وباء سے؟ غرض عجیب گول مول الہام ہے۔ جو اب تک غلط ثابت ہوا ہے۔

جھوٹ نمبر ١٥..... مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے قادیان آنے کی بابت (رسالہ اعجاز احمدی ص٣٧، خزائن ج١٩ ص١٤٨) میں لکھا کہ: ”وہ ہرگز قادیان نہیں آئیں گے۔“ مگر مولوی صاحب نے ١٠ جنوری ١٩٠٣ء کو قادیان پہنچ کر یہ پیش گوئی غلط ثابت کردی۔

جھوٹ نمبر ١٦..... ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔“

(تذکرہ ص٥٩١ طبع سوم)

یہ الہام بھی سراسر غلط ثابت ہوا۔ مرزا قادیانی کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی ہوا بھی نصیب نہ ہوئی۔ لاہور میں مرے۔ خر دجال پر بار ہو کر قادیان لے جائے گئے اور وہیں دفن ہوئے۔

جھوٹ نمبر ١٧..... ”اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے بعض کو اس (نصرت جہاں) کے بعد پائے گا۔ تیری نسل بہت ہوگی۔“

(مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٠٢)

اس الہام کے بعد نہ کوئی نکاح ہوا۔ نہ خواتین مبارکہ یا نامبارکہ حاصل ہوئیں اور نہ اولاد ہوئی۔ محمدی بیگم والا نکاح شاید اس الہام کو سچ کر دیتا۔ مگر اللہ نے چاہا کہ جھوٹ کو سچ کر دکھائے۔

جھوٹ نمبر ١٨..... ڈائری ٢٧؍اگست ١٩٠٧ء صاحبزادہ مبارک احمد صاحب سخت تپ سے بیمار ہیں اور بعض دفعہ بیہوشی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ ان کی نسبت آج الہام ہوا: ”قبول ہو گئی۔ نو دن کا بخار ٹوٹ گیا۔“ یعنی دعا قبول ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ میاں موصوف کو شفا دے۔

(تذکرہ ص٧٢٨،٧٢٩ طبع سوم)

لڑکا ١٦؍ستمبر کو صبح کے وقت فوت ہو گیا۔ (دیکھو میگزین اکتوبر ١٩٠٧ء) اس لئے صحت کا الہام غلط ہوا۔

جھوٹ نمبر ١٩..... ”(١) آپ کے لڑکا ہوا ہے۔ ینزل منزل المبارک“

(تذکرہ ص٧٤٥)

(٢) ”ایک حلیم لڑکے کی ہم تجھ کو خوشخبری دیتے ہیں۔ جو بمنزلہ مبارک احمد کے ہوگا اور اس کا قائم مقام اور اس کا ہم شبیہ ہوگا۔

(تذکرہ ص٧٣٥ طبع سوم)

٧

صفحہ ٤٤٧

ان الہامات کے بعد کوئی لڑکا نہ ہوا اور مرزا قادیانی چل دیئے۔ اس لئے یہ دونوں الہام بھی غلط ثابت ہوئے۔

ناظرین! یہ چند الہام بطور نمونہ درج کئے گئے ہیں۔ جو قطعاً غلط ثابت ہوئے۔ بہت سے الہام فٹ بال کی طرح گول مول ہوتے تھے۔ جن کا سر نہ پیر۔ جہاں چاہو چسپاں کرلو اور جو چاہو معنی نکال لو۔ مثلاً

(تذکرہ ص ٣٣٦)

مرنے والوں کی حالت عموماً ایسی ہوا ہی کرتی ہے۔ اس میں الہام کی کیا بات ہے۔

(تذکرہ ص ٧٠١، طبع سوم)

نتیجہ نامعلوم۔

(تذکرہ ص ٦٩٦، طبع سوم)

نتیجہ ندارد۔

(تذکرہ ص ٧٤٤، طبع سوم)

کچھ پتہ نہیں الہام گولائی میں ضروری بکتا ہے۔

(تذکرہ ص ٧٦٥، طبع سوم)

ماہ حال کی نسبت کہا نہیں معلوم یہ شعبان مراد ہے یا کوئی اور شعبان۔ ٣٠ شعبان کو صاحبزادہ کا انتقال ہو گیا تو جھٹ کہہ دیا کہ الہام میں ١٣ تھا یا ٢٣ یا ٣٠ ٹھیک یاد نہیں۔

ان غلط اور جھوٹے الہاموں کا مرزا قادیانی کی عبارت ( تجلیات الہیہ ص، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٠) سے مقابلہ کر کے مرزائی صاحبان سے التماس ہے کہ کیا وہ ان الہاموں کو صحیح مانتے ہیں۔ اگر صحیح مانتے ہیں تو یہ غلط کیوں نکلے؟ اور اگر غلط مانتے ہو تو مرزا قادیانی پر ان کا ایمان کیوں ہے؟ اور کیوں بحکم آیت مندرجہ عنوان یہ جھوٹے الہامات القائے شیطانی نہیں سمجھے جاتے؟ اور ابن صیاد کی طرح مرزا قادیانی کو کیوں مدعی کاذب تصور نہیں کیا جاتا؟ دوستو! ان الہامات کو دل کی آنکھوں سے دیکھو۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ”حبك الشئ يعمي ويصم “ یعنی کسی چیز کی محبت آدمی کو اندھا اور بہرا کر دیتی ہے۔ جو اس کی برائیوں کو دیکھ اور سن نہیں سکتا۔ لیکن سمجھ کا مادہ اور عقل کا نور انسان کو اسی لئے عطاء ہوا ہے کہ اندھا دھند کام نہ کرے۔ خصوصاً دینی معاملات میں مولانا روم فرماتے ہیں:

اے بسا ابلیس آدم روئے ہست پس بہر دستے نباید داد دست

٨

لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ ورنہ گے ۔“

(ریویو ج ٩ ص ٣٦٥ ماہ ستمبر ١٩٠٧ء، اشتہار تابیہ

٢٣؍ اگست ١٩٠٧ء)

یہ بھی رسول ﷺ پر افتراء ہے۔“

پر محدثین کو اعتراض ہے۔ ابو ہریرہؓ میں نقل کرنے کی رکھتا تھا۔“ یہ بھی گندہ اور ناپاک جھوٹ ہے۔ ہر گز ا

چودھویں صدی کا امام ہوگا۔“ یہ بھی جھوٹ ہے کسی حدیث میں مسیح کا ا

پیشگوئیاں جو امن عامہ کے مخالف نہیں۔ پوری ہو چہ حالانکہ اس کے بعد ١٩٠١ء میں مرزا قاد لکھتے ہیں: ”پس میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں

کرتی ہے۔ کہ انہوں نے (حواریوں) نے فقط خا سے ضرور یہ حیلہ بازی کی ہوگی کہ رات کے وقت چہ قبر میں سے نکال کر کسی دوسری قبر میں رکھ دیا ہو گا ا دیا ہو گا۔ کہ بوجہ اتم درخواست کرتے تھے یسوع ب (بقول مرزا قادیانی) یہ قبر یروشلم میں ب

کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔

صفحہ ٤٤٧

جھوٹ نمبر ٢٤....... ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ ورنہ وہ خدا تعالیٰ سے لڑائی کرنے والے ٹھہریں گے۔“ (ریویو ج٩ ص ٣٦٥ ماہ ستمبر ١٩٠٧ء، اشتہار تمام مریدوں کے لئے عام ہدایت مندرجہ اخبار الحکم ٢٤ اگست ١٩٠٧ء)

یہ بھی رسول ﷺ پر افتراء ہے۔

جھوٹ نمبر ٢٥....... تفسیر ثنائی میں لکھا ہے کہ : ” ابو ہریرہؓ فہم قرآن میں ناقص تھا اور اس کی درایت پر محدثین کو اعتراض ہے۔ ابو ہریرہؓ میں نقل کرنے کا مادہ تھا اور درایت اور فہم سے بہت ہی کم حصہ رکھتا تھا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٣٣، خزائن ج ٢١ ص ٤١٠)

یہ بھی گندہ اور ناپاک جھوٹ ہے۔ ہرگز تفسیر ثنائی میں نہیں لکھا ہے۔

جھوٹ نمبر ٢٦....... ”احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور وہ چودھویں صدی کا امام ہوگا۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٨٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٩)

یہ بھی جھوٹ ہے کسی حدیث میں مسیح کا چودھویں صدی میں آنا نہیں لکھا۔

جھوٹ نمبر ٢٧....... ”تین ہزار بار یا اس سے بھی زیادہ۔ اس عاجز کے الہامات کی مبارک پیشگوئیاں جو امن عامہ کے مخالف نہیں۔ پوری ہوچکی ہیں۔“

(حقیقت المہدی ص ١٥، خزائن ج ١٤ ص ٤٣١)

حالانکہ اس کے بعد ١٩٠١ء میں مرزا قادیانی (ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠) پر لکھتے ہیں: ”پس میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پاکر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں۔“

جھوٹ نمبر ٢٨....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کے متعلق لکھتے ہیں کہ: ”اس بات کو عقل قبول کرتی ہے۔ کہ انہوں نے (حواریوں) نے فقط ندامت کا کلنک اپنے منہ پر سے اتارنے کی غرض سے ضرور یہ حیلہ بازی کی ہوگی کہ رات کے وقت جیسا کہ ان پر الزام لگا تھا۔ یسوع کی نعش کو اس کی قبر میں سے نکال کر کسی دوسری قبر میں رکھ دیا ہوگا اور پھر حسب مثل مشہور ہے کہ خواجہ کا گواہ ڈڈو کہہ دیا ہوگا۔ کہ لو جیسا تم درخواست کرتے تھے یسوع زندہ ہوگیا۔“ (ست بچن ١٦٢، خزائن ج ١٠ ص ٢٨٦) (بقول مرزا قادیانی) یہ قبر یروشلم میں ہے۔ جہاں حضرت یسوع مسیح کو صلیب ہوئی۔

جھوٹ نمبر ٢٩....... یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہوگیا۔ لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہوچکا تھا پھر زندہ ہوگیا۔

(ازالۃ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)

٩

صفحہ ٤٤٨

جھوٹ نمبر ٣٠...... ہاں بلاد شام میں حضرت عیسیٰ کی پرستش ہوتی ہے اور مقررہ تاریخوں پر ہزارہا عیسائی سال بہ سال اس قبر پر جمع ہوتے ہیں۔ (ست بچن حاشیہ در حاشیہ ص ١٦٤، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٩)

جھوٹ نمبر ٣١...... اور حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل گئے اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے۔ کشمیر میں جا کر وفات پائی اور اب تک کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے۔

(ست بچن حاشیہ در حاشیہ ص ١٦٤، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٣)

اب ناظرین ہر چہار اقوال پر غور کر کے خود ہی نتیجہ نکال لیں کہ مرزا قادیانی کی کون سی بات کو سچ مانا جائے۔ پہلے مسیح کی قبر یروشلم میں بتاتے ہیں۔ پھر ان کے اپنے وطن گلیل میں۔ پھر بلاد شام میں، اور پھر ان تینوں مقامات کو چھوڑ کر سری نگر کشمیر میں۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام چار جگہ مرے؟ اور چار مقامات پر مدفون ہیں؟ یہ مختلف باتیں الہامی دماغ سے منسوب ہو سکتی ہیں یا خلل دماغ ہے؟

جھوٹ نمبر ٣٢...... ”لہٰذا اب ان کو ہم خوشخبری دیتے ہیں کہ عبدالحق غزنوی کے مباہلہ کے بعد آٹھ ہزار تک ہماری تعداد پہنچ گئی ہے۔ گویا امت محمدیہ میں سے آٹھ ہزار آدمی کافر ہو کر اس دین سے خارج ہو گئے ۔“ یقین ہے کہ آئندہ سال تک اٹھارہ ہزار تک تعداد بڑھ جائے گی۔

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٩)

جھوٹ نمبر ٣٣...... (اعجاز احمدی ص ١، خزائن ج ١٩ ص ١٠٧) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ اگر میری ان پیش گوئیوں کے پورا ہونے کے تمام گواہ اکٹھے کئے جائیں تو میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ساٹھ لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے۔

آپ کی پیش گوئیوں کا حال جو ہوا ہے...... کتاب ہٰذا سے ظاہر ہے اور صدق و کذب کے معیار اور تحدی کی تو ایک پیشگوئی بھی پوری نہیں ہوئی۔ اول تو یہ جھوٹ ہے کہ غلط پیشگوئیوں کو پورا ہونا کہتے ہیں۔ دوسرے یہ ساٹھ لاکھ کی گپ بھی قابل داد ہے۔ خود اپنی کتاب (نزول مسیح ص ١٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٩٨) میں لکھتے ہیں کہ میرے مریدوں کی تعداد ستر ہزار ہے۔ اب ظاہر ہے کہ مرید ہی گواہ ہو سکتے ہیں۔ جب ساٹھ لاکھ مرید نہیں تو ساٹھ لاکھ گواہ کہاں سے ہو گئے؟۔

جھوٹ نمبر ٣٤...... (اعجاز احمدی ص ٢٨، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢) تاریخ طبع ١٥؍نومبر ١٩٠٢ء میں تعداد ایک لاکھ اور نزول مسیح طبع ١٩٠٢ء میں ستر ہزار تعداد لکھی ہے۔ دونوں کا سن ایک ہی ہے۔

جھوٹ نمبر ٣٥...... مجموعہ اشتہارات میں آپ اوسطاً آمد مریدین دس ہزار سالانہ تحریر کرتے ہیں۔ لیکن نزول المسیح اور اعجاز احمدی ایک ہی سال میں دونوں کتابیں طبع ہوئی ہیں۔ اوسط تیس ہزار چند ماہ میں کیسے ہو گیا۔

١٠

صفحہ ٤٤٩

جھوٹ نمبر ٣٦...... مرزا قادیانی مبالغہ گوئی میں اپنی مشاقی کا ثبوت دینے کے لئے یہ فرماتے ہیں: ”دیکھو زمین پر خدا کے حکم سے ہر روز ایک ساعت میں کروڑ ہا انسان مر جاتے ہیں اور کروڑ ہا اس کے حکم سے پیدا ہو جاتے ہیں۔“

(کشتی نوح ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ٤١)

اس قول میں حضرت قابض الارواح جل شانہ کی صفت ہلاک کا جس انتہائی مبالغہ آرائی سے اظہار کیا گیا ہے۔ اس کی نظیر انبیاء صادقین کی تحریروں میں تو کہاں ملے گی؟ کسی افسانہ گو شاعر کی تالیفات میں بھی شاذ ونادر نظر آئے گی۔ خدا نہ کرے کہ کسی وقت فی الواقع ارادہ الٰہی بموجب تحریر مرزا قادیانی ظہور کرے۔ اگر ایسا ہو جائے تو غالباً بلکہ یقیناً دو تین دن کے اندر ہی سب جانداروں کا صفایا ہو جائے گا۔ رہ جائیں دو دو تین تین دن کے چھوٹے چھوٹے بچے۔ سو وہ بھی ایک دو دن میں بلبلاتے ہوئے بحر فنا میں غرق ہو جائیں اور ربع مسکون پر ایک متنفس بھی جیتا جاگتا چلتا پھرتا نظر نہ آئے۔ پناہ بہ خدا!

مرزائیو! تم بلکہ تمہارے اعلیٰ حضرت بھی انجیل کے اس قول پر کہ: ”بہت سے کام میں جو یسوع نے کئے۔ اگر وہ جدا جدا لکھے جاتے تو میں گمان کرتا ہوں کہ کتابیں جو لکھی جاتیں دنیا میں نہ سما سکتیں۔“

(یوحنا ٢١/٢٥)

چٹخارے لے لے کر بڑی ترنگ میں جھوم جھوم کر زبان طعن اور آوازہ تضحیک دراز کیا کرتے ہو۔ خدارا کبھی اپنے ان مہمل اور بے معنی مبالغات پر بھی نظر ڈالا کرو۔ کیا وہی بات تو نہیں ہے کہ: ”ظالم کو اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔ پر غیر کی آنکھ کا تنکا بھی خار بن کر اس کے سینہ میں کھٹکتا ہے۔“

جھوٹ نمبر ٣٧...... مرزا قادیانی نے اپنی زندگی میں جو اشتہار دیئے وہ انگلیوں پر شمار ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ منشی قاسم علی احمدی نے تبلیغ رسالت جلد اول سے دس تک میں ان کو درج کیا ہے جن کی جملہ تعداد ٢٦١ ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے جس مبالغہ آرائی سے اس کا ذکر کیا ہے وہ قابل دید و شنید ہے‘ آپ لکھتے ہیں: ”میں نے چالیس کتابیں تالیف کی ہیں اور ساٹھ ہزار اپنے دعویٰ کے ثبوت کے متعلق اشتہارات شائع کئے ہیں۔ وہ سب میری طرف سے چھوٹے چھوٹے رسالوں کے ہیں۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٦٦)

مرزائیو! ایمان سے کہو (اگر تم میں کچھ ایمان باقی ہے) کہ یہ سچ ہے یا قادیانی دروغ بے دروغ؟ بصورت اثبات ان ساٹھ ہزار رسالوں کا ذرا ہمیں بھی درشن کرانا بصورت ثانیہ افترا اور جھوٹ کے وعید شدید ”انما یفتری الکذب الذین لا یومنون بایت اللہ“ سے ڈرو۔

١١

صفحہ ٤٥٠

جھوٹ نمبر ٣٨...... مرزا قادیانی نے اسی کے قریب کتابیں لکھی ہیں۔ ان سب کو اکٹھا کیا جائے تو بمشکل ایک الماری بھرے گی۔ مگر مرزا قادیانی اپنی جبلی عادت مبالغہ گوئی سے مجبور ہو کر فرماتے ہیں: ”میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

اس اظہار وفاداری پر حکومت کا مرزا قادیانی کو کوئی خطاب نہ دینا پرلے درجے کی ناقدرشناسی ہے:

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

حالانکہ مرزا قادیانی نے خطاب کی آرزو میں الہام بھی گھڑنا شروع کر دیئے کہ: ”لك خطاب العزت لك خطاب العزت“

(ضمیمہ تریاق القلوب ص ١، خزائن ج ١٥ ص ٥٠١)

تیرے لئے عزت کا خطاب تیرے لئے عزت کا خطاب!
مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

جھوٹ نمبر ٣٩...... (ریویو بابت ماہ ستمبر ١٩٠٢ء ص ٣٤٠) میں قول مرزا یوں مسطور ہے: ”اب تک میرے ہاتھ پر ایک لاکھ کے قریب انسان بدی سے توبہ کر چکے ہیں۔“ اس تحریر کے تین سال پانچ ماہ گیارہ دن بعد لکھتے ہیں۔

جھوٹ نمبر ٤٠...... ”میرے ہاتھ پر چار لاکھ کے قریب لوگوں نے معاصی سے توبہ کی۔“

(تجلیات الہیہ ص ٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣٩٧)

کس قدر مبالغہ ہے کہ ستمبر ١٩٠٢ء سے مارچ ١٩٠٦ء تک تین لاکھ انسانوں نے بیعت کی۔ یعنی مرزا قادیانی متواتر ساڑھے تین سال صبح ٦ سے شام ٦ بجے تک ہر روز لگاتار بیعت ہی لیتے رہے تھے جس کا حساب یوں لگایا جا سکتا ہے کہ آپ ہر ماہ میں ٧١٤٢ یا ہر دن میں ٢٣٨ یا فی گھنٹہ ١٩ یا ہر تین منٹ کے عرصہ میں دس شرائط بیعت سنا کر اور ان پر عمل کرنے کا وعدہ لے کر ایک مرید پھانستے رہے۔

جھوٹ نمبر ٤١...... مرزا قادیانی اپنے مرنے سے قریباً ساڑھے چار سال پہلے فرماتے ہیں: ”میں وہ شخص ہوں جس کے ہاتھ پر صد ہا نشان ظاہر ہوئے۔“ (تذکرۃ الشہادتین ص ٣٤، خزائن ج ٢٠ ص ٣٦)

١٢

صفحہ ٤٥١

جھوٹ نمبر ٤٢...... مگر مرزا قادیانی کی کتنی بڑی کرامت ہے کہ اس کے بعد انہوں نے دو تین منٹ کے اندر ہی اسی کتاب میں صرف دو سطر بعد ”صد ہا نشان“ کو دو لاکھ بنا ڈالا۔

(تذکرۃ الشہادتین ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣)

آگے اسی کتاب پر جو مشین مبالغہ کے کل پرزوں کو حرکت دی تو بیک جنبش قلم ”دس لاکھ“ تک نوبت پہنچادی۔

(تذکرۃ الشہادتین ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣)

جھوٹ نمبر ٤٣...... از مولوی ثناء اللہ صاحب، مرزا قادیانی نے مجھے اپنے مخالفوں میں سمجھ کر مجھ کو قادیان میں پہنچ کر گفتگو کرنے کی دعوت دی۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: ”مولوی ثناء اللہ اگر سچے ہیں تو قادیان میں آکر کسی پیش گوئی کو جھوٹا تو ثابت کریں اور ہر ایک پیش گوئی کے لئے ایک ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا اور آمد و رفت کا کرایا علیحدہ۔“

(اعجاز احمدی ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١٨)

”یادرہے کہ رسالہ نزول المسیح میں ڈیڑھ سو پیش گوئی میں نے لکھی ہیں تو گویا جھوٹ ہونے کی حالت میں پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ صاحب لے جائیں گے اور در بدر گدائی کرنے سے نجات ہوگی۔ بلکہ ہم پیش گوئیاں بھی معہ ثبوت ان کے سامنے پیش کر دیں گے اور اسی وعدہ کے موافق فی پیش گوئی دیتے جاویں گے۔ اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے پس اگر میں مولوی صاحب موصوف کے لئے ایک ایک روپیہ بھی اپنے مردوں سے لوں گا تب بھی ایک لاکھ روپیہ ہو جائے گا۔ وہ سب ان کی نذر ہوگا۔

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢)

جھوٹ نمبر ٤٤...... جس حالت میں وہ دو آنہ کے لئے در بدر خراب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا کا قہر نازل ہے اور مُردوں کے کفن اور وعظ کے پیسوں پر گزارہ ہے۔ ایک لاکھ روپیہ حاصل ہو جانا ان کے لئے ایک بہشت ہے۔ لیکن اگر میرے اس بیان کی طرف توجہ نہ کریں اور اس تحقیق کے لئے پابندی شرائط مذکورہ جس میں بشرط تصدیق ورنہ تکذیب دونوں شرط ہیں۔ قادیان میں نہ آئیں تو پھر لعنت ہے اس لاف گزاف پر جو انہوں نے موضع مد میں مباحثہ کے وقت کی اور سخت بے حیائی سے جھوٹ بولا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْم“ انہوں نے بغیر علم اور پوری تحقیق کے عام لوگوں کے سامنے تکذیب کی۔ کیا یہی ایمانداری ہے۔ وہ انسان کتوں سے بدتر ہوتا ہے جو بے وجہ بھونکتا ہے اور وہ زندگی لعنتی ہے جو بے شرمی سے گزرتی ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢)

پھر یہ بھی لکھا: ”واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعے سے عنقریب تین نشان میرے ظاہر ہوں گے۔“

١٣

صفحہ ٤٥٢

جھوٹ نمبر ٣٦...... (١) وہ قادیان میں تمام پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے اور سچی پیش گوئیوں کی اپنے قلم سے تصدیق کرنا ان کے لئے موت ہوگی۔

جھوٹ نمبر ٣٧...... (٢) اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق سے پہلے مرجائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے اور سب سے پہلے اس اردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلہ سے عاجز رہ کر جلدتر ان کی روسیاہی ثابت ہو جائے گی۔‘

(اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ص ١٤٨)

جھوٹ نمبر ٣٨...... انجام اس کا یہ ہوا کہ میں نے ١٠؍ جنوری ١٩٠٣ء مطابق ١٠؍ شوال ١٣٢٠ھ کو قادیان پہنچ کر مرزا قادیانی کو اطلاعی خط لکھا جو یہ ہے:

”بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم! بخدمت جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان۔ خاکسار آپ کی حسب دعوت مندرجہ (اعجاز احمدی ص ١١،١٢، خزائن ج ١٩ ص ١١٧) قادیان میں اس وقت حاضر ہے۔ جناب کی دعوت قبول کرنے میں آج تک رمضان شریف مانع رہا۔ ورنہ اتنا توقف نہ ہوتا۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے جناب سے کوئی ذاتی خصومت اور عناد نہیں۔ چونکہ آپ (بقول خود) ایک ایسے عہدہ جلیلہ پر ممتاز و مامور ہیں جو تمام بنی نوع کی ہدایت کے لئے عموماً اور مجھ جیسے مخلصوں کے لئے خصوصاً ہے اس لئے مجھے قوی امید ہے کہ آپ میری تفہیم میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں گے اور حسب وعدہ خود مجھے اجازت بخشیں گے کہ میں مجمع میں آپ کی پیش گوئیوں کی نسبت اپنے خیالات ظاہر کروں۔ میں مکرر آپ کو اپنے اخلاص اور صعوبت سفر کی طرف توجہ دلا کر اس کے عہدہ جلیلہ کا دیتا ہوں کہ آپ مجھے ضرور ہی موقع دیں۔

(راقم ابوالوفاء ثناء اللہ ١٠؍ جنوری ١٩٠٣ء، منقول از الہامات مرزا ص ١٢٩، ١٣٠)

مرزا قادیانی نے اس کا جواب دیا:

”بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ، نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم.“

از طرف عائذ باللّٰہ الصمد غلام احمد عافاہ اللّٰہ واید بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب آپ کا رقعہ پہنچا۔ اگر آپ لوگوں کی صدق دل سے یہ نیت ہو کہ اپنے شکوک و شبہات پیش گوئیوں کی نسبت یا ان کے ساتھ اور امور کی نسبت بھی جو دعویٰ سے تعلق رکھتے ہوں رفع کرا دیں تو یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہوگی اور اگرچہ میں کئی سال ہو گئے کہ اپنی کتاب ”انجام آتھم“ میں شائع کر چکا ہوں کہ میں اس گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہیں کروں گا۔ کیونکہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں اور اوباشانہ کلمات سننے کے اور کچھ ظاہر نہیں ہوا۔ مگر میں ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کے

١٤

صفحہ ٤٥٣

لئے تیار ہوں۔ اگر چہ آپ نے اس رقعہ میں دعویٰ تو کر دیا کہ میں طالب حق ہوں۔ مگر مجھے تامل ہے کہ اس دعویٰ پر آپ قائم رہ سکیں۔ کیونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ہر ایک بات کو کشاں کشاں بیہودہ اور لغو مباحثات کی طرف لے آتے ہیں اور میں خدائے تعالیٰ کے سامنے وعدہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں کے ساتھ مباحثات ہرگز نہیں کروں گا۔ سو وہ طریق جو مباحثات سے بہت دور ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ اس مرحلہ کو صاف کرنے کے لئے اول یہ اقرار کریں کہ آپ منہاج نبوت سے باہر نہیں جاویں گے اور وہی اعتراض کریں گے جو آنحضرتﷺ پر یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر یا حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یا حضرت یونس علیہ السلام پر عائد نہ ہو اور حدیث اور قرآن کی پیش گوئیوں پر زد نہ ہو۔ دوسری شرط یہ ہوگی کہ آپ زبانی بولنے کے ہرگز مجاز نہیں ہوں گے۔ صرف آپ مختصر ایک سطر یا دو سطر تحریر دے دیں کہ میرا یہ اعتراض ہے۔ پھر آپ کو عین مجلس میں مفصل جواب سنایا جاوے گا۔ اعتراض کے لئے لمبا لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ایک سطر یا دو سطر کافی ہیں۔ تیسری یہ شرط ہوگی کہ ایک دن میں صرف ایک ہی اعتراض آپ کریں گے۔ کیونکہ آپ اطلاع دے کر نہیں آئے چوروں کی طرح آ گئے ہیں۔ ہم ان دنوں بباعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹے سے زیادہ وقت خرچ نہیں کر سکتے۔ یاد رہے کہ یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ عوام کالانعام کے رو برو آپ وعظ کی طرح لمبی گفتگو شروع کر دیں۔ بلکہ آپ کو بالکل منہ بند رکھنا ہوگا جیسے صمٌّ بکمٌ ”اس لئے کہ تا گفتگو مباحثہ کے رنگ میں نہ ہو جائے۔ اول صرف ایک پیشگوئی کی نسبت سوال کریں۔ تین گھنٹے تک میں اس کا جواب دے سکتا ہوں اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو متنبہ کیا جاوے گا کہ اگر ابھی تسلی نہیں ہوئی تو اور لکھ کر پیش کرو۔ آپ کا کام نہیں ہوگا کہ اس کو سنا دیں۔ ہم خود پڑھ لیں گے۔ مگر چاہئے کہ دو تین سطر سے زیادہ نہ ہو۔ اس طرز میں آپ کا کچھ حرج نہیں ہے۔ کیونکہ آپ تو شبہات دور کرانے آئے ہیں۔ یہ طریق شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے۔ میں آواز بلند لوگوں کو سنا دوں گا کہ اس پیش گوئی کی نسبت مولوی ثناء اللہ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے اور اس کا یہ جواب ہے۔ اسی طرح تمام وسواس دور کر دیئے جائیں۔ لیکن اگر یہ چاہو کہ بحث کے رنگ میں آپ کو بات کا موقعہ دیا جائے تو یہ ہرگز نہیں ہوگا۔ ١٤؍جنوری ١٩٠٣ء تک میں اس جگہ ہوں۔ بعد میں ١٥؍جنوری ١٩٠٣ء کو ایک مقدمہ پر جہلم جاؤں گا۔ تو اگر چہ کم فرصتی ہے۔ مگر ١٤؍جنوری ١٩٠٣ء تک تین گھنٹہ تک آپ کے لئے خرچ کر سکتا ہوں۔ اگر آپ لوگ کچھ نیک نیتی سے کام لیں تو یہ ایک ایسا طریق ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہوگا ورنہ ہمارا اور آپ

١٥

صفحہ ٤٥٤

لوگوں کا آسمان پر مقدمہ ہے۔ خود خدا تعالیٰ فیصلہ فرمائے گا۔

سوچ کر دیکھ لو کہ یہ بہتر ہوگا کہ آپ بذریعہ تحریر جو سطر دو سطر سے زیادہ نہ ہو ایک گھنٹہ کے بعد اپنا شبہ پیش کرتے جاویں گے اور میں وسوسہ دور کرتا جاؤں گا۔ ایسے صدہا آدمی آتے رہتے ہیں اور وسوسے دور کرا لیتے ہیں۔ ایک بھلا مانس شریف آدمی ضرور اس بات کو پسند کرے گا۔ اس کو اپنے وساوس دور کرانے ہیں اور کچھ غرض نہیں لیکن وہ لوگ جو خدا سے نہیں ڈرتے ان کی تو نیتیں ہی اور ہوتی ہیں، بالآخر اس غرض کے لئے کہ اب آپ اگر شرافت اور ایمان رکھتے ہیں قادیان سے بغیر تصفیہ کے خالی نہ جاویں۔ دو قسموں کا ذکر کرتا ہوں۔ اول چونکہ میں رسالہ ”انجام آتھم“ میں خدا تعالیٰ سے قطعی عہد کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے کوئی بحث نہیں کروں گا۔ اس وقت پھر اس عہد کے مطابق قسم کھاتا ہوں کہ میں زبانی آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گا۔ صرف آپ کو یہ موقعہ دیا جائے گا کہ آپ اول ایک اعتراض جو آپ کے نزدیک سب سے بڑا اعتراض کسی پیشگوئی پر ہو۔ ایک سطر یا دو سطر حد تین سطر لکھ کر پیش کریں جس کا مطلب یہ ہو کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور منہاج نبوت کی رو سے قابل اعتراض ہے اور پھر چپ رہیں اور میں مجمع عام میں اس کا جواب دوں گا۔ جیسا کہ مفصل لکھ چکا ہوں۔ پھر دوسرے دن اسی طرح لکھ کر پیش کریں۔ یہ تو میری طرف سے خدائے تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس سے باہر نہیں جاؤں گا اور کوئی زبانی بات نہیں سنوں گا اور آپ کی مجال نہیں ہوگی کہ ایک کلمہ بھی زبانی بول سکیں اور آپ کو بھی خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ سچے دل سے آئے ہیں تو اس کے پابند ہو جائیں اور ناحق فتنہ و فساد میں عمر بسر نہ کریں اب ہم دونوں میں سے ان دونوں قسموں سے جو شخص انحراف کرے گا۔ اس پر خدا کی لعنت ہو اور خدا کرے کہ وہ اس لعنت کا پھل بھی اپنی زندگیوں میں دیکھ لے آمین۔ سو میں اب دیکھوں گا کہ آپ سنت نبوی کے موافق اس قسم کو پورا کریں گے یا قادیان سے نکلتے وقت اس لعنت کو ساتھ لے جاتے ہیں اور چاہیے کہ اول آپ مطابق اس عہد موکدہ بقسم کے آج ہی ایک اعتراض دو تین سطر لکھ کر بھیج دیں اور پھر وقت مقرر کر کے مسجد میں جمع کیا جائے گا اور آپ کو بلایا جائے گا اور عام مجمع میں آپ کے شیطانی وسواس دور کر دیئے جائیں گے۔ (مرزا غلام احمد بقلم خود) (مہر)

(منقول از الہامات مرزا ص ١٣٠ تا ١٣٣)

اس خط کو دیکھ کر چاہئے تھا کہ میں مایوس ہو جاتا مگر ارادہ کے مستقل آدمی سے یہ امید غلط ہے کہ وہ ایک آدھ مانع پیش آنے سے مایوس ہو جائے۔ اس لئے میں نے پھر ایک خط لکھا جو درج ذیل ہے:

١٦

صفحہ ٤٥٥

الحمد لله والسلام على عباده الذين اصطفى

اما بعد! از خاکسار ثناء اللہ، بخدمت غلام احمد صاحب!

آپ کا طولانی رقعہ مجھے پہنچا۔ افسوس کہ جو کچھ تمام ملک کو گمان تھا وہی ظاہر ہوا۔

جناب والا! جب کہ میں آپ کی حسب دعوت مندرجہ اعجاز احمدی ص ١١ و ٢٣ حاضر ہوا ہوں اور صاف لفظوں میں رقعہ اولیٰ میں انہی صفحوں کا حوالہ دے چکا ہوں تو پھر اتنی طول کلامی جو آپ نے کی ہے بجز العادة طبيعة ثانیہ کے اور کیا معنی رکھتی ہے۔ جناب من کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آپ اعجاز احمدی کے صفحات مذکورہ پر تو اس نیازمند کو تحقیق کے لئے بلاتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ میں (خاکسار) آپ کی پیشگوئیوں کو جھوٹی ثابت کروں تو فی پیشگوئی مبلغ ١٠٠ روپیہ انعام لوں اور اس رقعہ میں آپ مجھ کو ایک دو سطریں لکھنے کا پابند کرتے ہیں اور اپنے لئے تین گھنٹے تجویز کرتے ہیں۔ تلك اذا قسمة ضیزی ! بھلا یہ تحقیق کا طریق ہے کہ میں دو ایک سطریں لکھوں اور آپ تین گھنٹے تک فرماتے رہیں۔ اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ آپ مجھے دعوت دے کر پچھتا رہے ہیں اور اپنی دعوت سے انکاری ہیں اور تحقیق سے اعراض کرتے ہیں۔ جس کی بابت آپ نے مجھے (اعجاز احمدی ص ٢٣، خزائن ج ١٩ص ١٣٢) پر دعوت دی ہے۔ جناب والا! کیا انہیں ایک دو سطروں کے لکھنے کے لئے آپ نے مجھے در دولت پر حاضر ہونے کی دعوت دی تھی۔ جس سے عمدہ میں امرتسر میں ہی بیٹھا ہوا کر سکتا تھا اور کر چکا ہوں۔ مگر چونکہ میں اپنے سفر کی صعوبت کو یاد کر کے بلانیل و مرام واپس جانا کسی طرح مناسب نہیں جانتا۔ اس لئے میں آپ کی بے انصافی کو بھی قبول کرتا ہوں کہ میں دو تین سطریں ہی لکھوں گا اور آپ بلا شک تین گھنٹے تک تقریر کریں۔ مگر اتنی اصلاح ضرور ہوگی کہ میں اپنی دو تین سطریں مجمع میں کھڑا ہو کر سناؤں گا اور ہر ایک گھنٹہ کے بعد پانچ منٹ زیادہ سے زیادہ دس منٹ تک آپ کے جواب کی نسبت رائے ظاہر کروں گا اور چونکہ آپ مجمع عام پسند نہیں کرتے۔ اس لئے فریقین کے آدمی محدود ہوں گے جو پچیس پچیس سے زائد نہ ہوں گے۔ آپ میرا بلا اطلاع آنا چوروں کی طرح فرماتے ہیں۔ کیا مہمانوں کی خاطر اسی کو کہتے ہیں۔ اطلاع دینا آپ نے شرط نہیں کیا تھا۔ علاوہ اس کے آپ کو آسمانی اطلاع ہو گئی ہوگی۔ آپ جو مضمون سنائیں گے۔ وہ اس وقت مجھ کو دے دیجئے گا۔ کارروائی آج ہی شروع ہو جاوے۔ آپ کے جواب آنے پر میں اپنا مختصر سا سوال بھیجوں گا۔ باقی لعنتوں کی بابت وہی عرض ہے جو حدیث میں آیا ہے۔

(١١ جنوری ١٩٠٣ء، منقول از الہامات مرزا ص١٣٤، ١٣٥)

١٧

صفحہ ٤٥٦

اس کا جواب مرزا قادیانی نے خود نہیں لکھا۔ بلکہ آپ کی طرف سے مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے لکھا۔ جو درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم، حامداً ومصلیاً

مولوی ثناء اللہ صاحب! آپ کا رقعہ حضرت اقدس امام الزمان مسیح موعود ومہدی موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت مبارک میں سنا دیا گیا۔ چونکہ مضامین اس کے محض عناد و تعصب آمیز تھے جو طلب حق سے بعد المشرقین کی دوری اس سے صاف ظاہر ہوتی تھی۔ لہٰذا حضرت اقدس کی طرف سے آپ کو یہی جواب کافی ہے کہ آپ کو تحقیق حق منظور نہیں ہے اور حضرت انجام آتھم میں اور نیز آپ خط مرقومہ جواب رقعہ میں قسم کھا چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عہد کر چکے ہیں کہ مباحثہ کی شان سے مخالفین سے کوئی تقریر نہ کریں گے۔ خلاف معاہدہ الٰہی کے کوئی مامور من اللہ کیونکر کسی فعل کا ارتکاب کر سکتا ہے طالب حق کے لئے جو طریق حضرت اقدس نے تحریر فرمایا ہے کیا وہ کافی نہیں۔ لہٰذا آپ کی اصلاح جو بطرز شان مناظرہ آپ نے لکھی ہے وہ ہرگز منظور نہیں ہے اور یہ بھی منظور نہیں فرماتے کہ جلسہ محدود ہو، بلکہ فرماتے ہیں کہ کل قادیان وغیرہ کے اہل الرائے مجتمع ہوں تاکہ حق و باطل سب پر واضح ہو جائے۔ والسلام علٰی من اتبع الہدیٰ!

(١١؍جنوری ١٩٠٣ء، منقول از الہامات مرزا ص١٣٦)

محمدی بیگم کے نکاح کے متعلق چند افتراء

محمدی بیگم کے نکاح کے متعلق مرزا قادیانی نے بڑے پرزور صاف وصریح دعوے کئے تھے۔ ان دعووں کی بنیاد متعدد الہامات پر رکھی تھی۔ مگر مرزا قادیانی اس حسرت کو دل میں ہی لے کر اس دنیا سے چل دیئے اور محمدی بیگم بفضلہ تعالیٰ ان کے دام عقد میں نہ آئی...... اس پیش گوئی کے متعلق چند افتراء ملاحظہ فرمائیے:

نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر۔“

(اشتہار ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٥٧)

ایسا نہیں کہا تھا۔ اگر ایسا کہا ہوتا تو پورا بھی ہوتا۔ لہٰذا یہ افتراء ہے۔

نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لاوے گا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٥٨)

١٨

صفحہ ٤٥٧

یہ الہام بھی افتراء علی اللہ ثابت ہوا۔ خدا نے ہرگز ایسا مقرر نہیں کیا تھا۔ بلکہ یہ مرزا قادیانی کی خواہش نفسانی کے اثرات تھے۔

٣......”بلکہ اصل امر برحال خود قائم است وھیچکس باحیلۂ خود اورا نتوان کرد وایں تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است وعنقریب وقت آں خواهد آمد۔ پس قسم آں خدائیکہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ را برائے ما مبعوث فرمود۔ واورا بہتریں مخلوقات گردانید کہ ایں حق است۔ وعنقریب خواهی دید۔ ومن ایں را برائے صدق خود یا کذب خود معیار می گردانم۔ ومن نگفتم الا بعد ازانکه از رب خود خبر دادہ شدہ“

(انجام آتھم ص ٢٢٣ خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)

جھوٹ نمبر ٥٠...... (ترجمہ بروئے شرح مرزا قادیانی)”اصل بات اپنے حال پر قائم ہے۔ (یعنی احمد بیگ کے داماد کا مرزا قادیانی کے سامنے مرنا اور محمدی بیگم کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا) کوئی شخص کسی تدبیر سے اسے مٹا نہیں سکتا۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ تقدیر مبرم ہے۔ جو بغیر پوری ہوئے ٹل ہی نہیں سکتی اور اس کے پورا ہونے کا وقت عنقریب ہے۔ اس خدا کی قسم ہے جس نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ہمارا نبی کیا اور ساری مخلوقات سے انہیں بہتر بنایا جو میں کہہ رہا ہوں وہ حق ہے۔ عنقریب تو اسے دیکھ لے گا۔ یعنی احمد بیگ کے داماد کے مرنے میں جو کچھ تاخیر ہوئی۔ وہ ایک وجہ سے ہوئی۔ مگر میرے سامنے اس کا مرنا اس میں شبہ نہیں۔ عنقریب تو دیکھ لے گا کہ وہ میرے سامنے مرے گا اور میں اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کی کسوٹی اسے ٹھہراتا ہوں۔ اگر وہ میرے سامنے مرگیا تو میں سچا ہوں اور اگر ایسا نہ ہوا اور میں اس کے سامنے مر گیا تو میں جھوٹا ہوں اور جس امر کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے دی ہے وہی میں نے کہا ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں کہا۔“

مندرجہ بالا عبارت کی کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔ مرزا قادیانی کی یہ ساری الہامی عبارت جس میں اللہ تعالیٰ کی قسم بھی شامل ہے۔ بالکل غلط نکلی۔ پس یہ محض افتراء علی اللہ تھا اور اس کی کچھ اصلیت نہ تھی۔ احمد بیگ کا داماد ١٩٣٩ء تک زندہ رہا۔ محض مرزا قادیانی کا نفس اس کی موت چاہتا تھا۔ جو مرزا قادیانی پر ہی وارد ہوئی۔

”كذبوا بایاتی وكانوا بھا یستهزون فسیكفیكھم الله ویردھا الیك امر من لدنا انا كنا فاعلین زوجنا کھا“

١٩

صفحہ ٤٥٨

ترجمہ..... انہوں نے میری نشانیوں کی تکذیب کی۔ سو خدا ان کو تیری طرف سے کفایت کرے گا اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا۔ یہ امر واپس لانا ہماری طرف سے ہے اور ہم ہی اس کے کرنے والے ہیں۔ واپسی کے بعد ہم نے نکاح کر دیا۔

(انجام آتھم ص ٤٠، خزائن ج ١١)

ان الہامات کی عبارت صاف ہے۔ جس کا مطلب ایک ہی ہے کہ محمدی بیگم کا نکاح ضرور مرزا قادیانی سے ہوگا۔ بلکہ مرزا قادیانی کا خدا کہتا ہے کہ میں نے خود تیرا نکاح محمدی بیگم سے کر دیا۔ چونکہ مرزا قادیانی سے نکاح نہیں ہوا۔ اس لئے یہ سب الہامات بھی افترا علی اللہ ثابت ہوئے۔ ہاں یہ امر دریافت طلب ہے کہ آسمانی نکاح محمد بیگم کے نکاح (ہمراہ مرزا سلطان محمد بیگ) سے پہلے ہوا تھا یا بعد اگر پہلے ہوا تھا تو مرزا قادیانی کی وہ زوجہ مکرمہ معظمہ جس کا نکاح خود رب العزت نے پڑھایا اور الہام میں صاف فرما دیا کہ ”زوجناکھا“ (یعنی ہم نے نکاح کر کے محمدی بیگم کو تیری بیوی بنادیا) وہ بیوی مرزا قادیانی کی خدمت میں ایک دن بھی نہ آئی۔ تمام عمر دوسرا شخص ہی بقول مولانا ثناء اللہ صاحب مرزا قادیانی کی چھاتی پر مونگ دلتا رہا۔ یہ مرزا قادیانی جیسے رسول اور اس کی امت کے لئے بڑی شرم اور غیرت کا مقام ہے اور اگر محمدی بیگم کے نکاح سے بعد یہ آسمانی نکاح پڑھایا گیا تو کس شریعت اور قانون کی روح سے کسی کی منکوحہ بیوی سے نکاح جائز ہو سکتا ہے۔ کوئی مذہب بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ پھر مرزا قادیانی کا خدا ایک فعل عبث کا مرتکب ہوتا ہے جس کے نتیجہ سے وہ لاعلم تھا۔ سچے خدا کے تو یہ افعال نہیں ہو سکتے کہ اپنے رسول کو ساری عمر ایک عورت کے نکاح کا منتظر رکھ کر اخیر میں بے نیل مرام اس کا خاتمہ کر دے اور وہ رسول یہ شعر پڑھتا ہوا دنیا سے بصد حسرت و یاس سدھارے:

میں منتظر وصال وہ آغوش غیر میں قدرت خدا کی درد کہیں اور دوا کہیں

اصلی حالت کیا ہے؟ پہلی بیوی جس کے ساتھ جنت میں رہنے کا الہام تھا۔ اس سے تو آپ نے قطع تعلق۔ بلکہ اس کے بیٹوں مرزا سلطان احمد اور فضل احمد کو بھی عاق کر دیا۔ کیونکہ یہ لوگ محمدی بیگم کے حصول میں مرزا قادیانی کے ممد و معاون نہ بنے۔ بلکہ سد راہ ہو گئے۔

(دیکھو اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩ تا ٢٢١)

جب یہ بیوی بقول مرزا قادیانی بے دینی کی وجہ سے مطلقہ ہو چکی تو الہام اول غلط ہو گیا۔ کیونکہ اب مرزا قادیانی سے اس کی معیت نہیں ہو سکتی۔ اس کی بے دینی کی وجہ سے رسول نے اس کو مطلقہ ٹھہرا کر علیحدہ کر دیا۔ تو جنت میں وہ مرزا قادیانی کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہے۔ تیسری

٢٠

منتظرہ بیوی نے تو مرزا قادیانی کو ایسا رسوا بیوی کے ملنے سے محروم رہے۔

توہین انبیاء علیہم السلام کا اقراری

تم کہتے ہو میں نے حضرت مو یاد رکھو میرا مقصد یہ ہے کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی کی ہتک کرتا ہوں۔ ہم سب کی عزت کر شک ہو۔ میں نے جو دعاویٰ کئے وہ اپنی ع کی شان کی بلندی کے اظہار کے لئے کئے اسے کفر سمجھتے ہو تو مجھ جیسا کافر تم کو دنی قادیانی) کی اتباع میں میں بھی کہتا ہوں ک السلام کی ہتک ہوتی ہے۔ اگر رسول کری السلام یا کسی اور کی ہتک ہوتی ہو تو ہمیں سنگ سار کریں یا قتل کریں۔ آپ کی دھمک کرنے سے نہیں روک سکتے۔‘‘ (تقی

آج کل مخالفین سلسلہ حقہ شروع کی ہیں۔ ان میں سے ایک بات ہوئے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام وقت حضور کے پاس موجود تھے۔ حضرت سر اور اسہال کا مرض ہو جاتا تھا۔ چنانچہ کثرت دماغی محنت کے سبب آپ کی طبیع مرض کے علاج کے لئے جو ڈاکٹر بلایا گیا نے اس وقت بھی یہ شور مچایا تھا کہ آپ ک دیا کہ آپ کو ہیضہ نہیں ہوا، اور وفات ب اگر ہیضہ ہوتا تو ریل والے نعش مبارک ک حضور ہیضہ سے فوت ہوئے۔‘‘ (مفتی

صفحہ ٤٥٩

منتظرہ بیوی نے تو مرزا قادیانی کو ایسا رسوا اور بدنام کیا جس کی انتہا نہیں۔ دنیا کو معلوم ہے کہ وہ اس بیوی کے ملنے سے محروم رہے۔

توہین انبیاء علیہم السلام کا اقراری بیان

تم کہتے ہو میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہتک کی ہے یاد رکھو میرا مقصد یہ ہے کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی عزت قائم کروں۔ اول تو یہ ہے ہی غلط کہ میں کسی نبی کی ہتک کرتا ہوں۔ ہم سب کی عزت کرتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے میں کسی کی ہتک ہوتی ہے تو بے شک ہو۔ میں نے جو دعاوی کئے وہ اپنی عظمت و شان کے اظہار کے لئے نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کی شان کی بلندی کے اظہار کے لئے کئے ہیں۔ مجھے خدا کے بعد بس وہی پیارا ہے۔ لیکن اگر تم اسے کفر سمجھتے ہو تو مجھ جیسا کافر تم کو دنیا میں نہیں ملے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) کی اتباع میں میں بھی کہتا ہوں کہ مخالف لاکھ چلائیں کہ فلاں بات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہتک ہوتی ہے۔ اگر رسول کریم ﷺ کی عزت قائم کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا کسی اور کی ہتک ہوتی ہو تو ہمیں ہرگز اس کی پرواہ نہیں ہوگی۔ بے شک آپ لوگ ہمیں سنگ سار کریں یا قتل کریں۔ آپ کی دھمکیاں اور ظلم ہمیں رسول اللہ ﷺ کی عزت کے دوبارہ قائم کرنے سے نہیں روک سکتے۔‘‘

(تقریر میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل ٢٠ مئی ١٩٣٤ء)

آج کل مخالفین سلسلہ حقہ نے جو دروغ گوئی کے ساتھ ہمارے خلاف باتیں پھیلانی شروع کی ہیں۔ ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ حضرت مرزا قادیانی مرض ہیضہ سے فوت ہوئے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات لاہور میں ہوئی تھی اور میں اور دیگر احباب اس وقت حضور کے پاس موجود تھے۔ حضرت جب کبھی دماغی محنت کیا کرتے تھے تو عموماً آپ کو دوران سر اور اسہال کا مرض ہو جاتا تھا۔ چنانچہ لاہور جب حضور اپنے لیکچر کا مضمون تیار کر رہے تھے تو کثرت دماغی محنت کے سبب آپ کی طبیعت خراب ہو گئی اور دوران سر اور اسہال کا مرض ہو گیا اور مرض کے علاج کے لئے جو ڈاکٹر بلایا گیا تھا۔ وہ انگریز لاہور کا سول سرجن تھا اور چونکہ بعض مخالفین نے اس وقت بھی یہ شور مچایا تھا کہ آپ کو ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس لئے صاحب سول سرجن نے یہ لکھ دیا کہ آپ کو ہیضہ نہیں ہوا، اور وفات کے بعد آپ کی نعش مبارک ریل میں بٹالہ تک پہنچائی گئی۔ اگر ہیضہ ہوتا تو ریل والے نعش مبارک کو بک نہ کرتے۔ پس مخالفین کا یہ کہنا بالکل جھوٹ ہے کہ حضور ہیضہ سے فوت ہوئے۔‘‘

(مفتی محمد صادق ربوہ، ٢٢ جنوری ١٩٥١ء، الفضل ١١ فروری ١٩٥١ء ص ٥)

٢١

صفحہ ٤٦٠

قادیانی مفتی نے کس قدر جسارت اور دیدہ دلیری سے ایک مسلمہ حقیقت پر خاک ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ وہ مرزائی ہی کیا ہوا جو حق کو کذب بیانی کے پردے میں چھپانے کی کوشش نہ کرے۔ خود جھوٹ کا مرتکب ہوتا اور الزام دوسروں پر لگانا قادیانیوں کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ ان کی یہ چال بازیاں ان کے دجل و فریب اور کذب و افتراء کی غمازی کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ انگریزی نبوت کے گنبد میں بیٹھ کر قادیانی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مستور ہیں۔ ہمیں کوئی نہیں دیکھتا۔ جائز و ناجائز جو چاہیں کرتے چلے جائیں۔ انہیں کیا معلوم کہ مجلس احرار اسلام کے خدام مرزائیوں کے راز ہائے دروں پردہ کو مرزائیوں سے زیادہ جانتے ہیں:

جلوے مری نگاہ میں کون ومکاں کے ہیں مجھ سے کہاں چھپیں گے وہ ایسے کہاں کے ہیں

مرزا قادیانی کی مرض موت ہیضہ کو چھپانے کے لئے مفتی کاذب نے دوران سر اور اسہال کا لبادہ اوڑھا دیا اور یہ نہ سمجھا کہ ان کے حضرات کے اسہال ہی ہیضہ کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ مفتی صاحب نے اسہال کا ذکر تو کر دیا۔ لیکن ظلی و بروزی مصلحت کے پیش نظر اپنے مسیح موعود کی قے کو ہضم کر گئے۔ حالانکہ مرتے وقت مرزا قادیانی کے گرد قے اور دست دونوں نے گھیرا ڈال رکھا تھا۔ جیسا کہ خود مرزا کی اہلیہ اور مرزا محمود احمد خلیفہ قادیانی کی والدہ مکرمہ نے فرمایا۔ مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا۔ مگر اس کے تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لئے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد حضرت صاحب (مرزا قادیانی) نے بتایا تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف بڑھ گیا تھا کہ آپ پاخانہ نہ جا سکتے تھے۔ اس لئے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے، اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت زیادہ ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چار پائی پر گرے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہو گئی ۔“

(سیرت المہدی ج ١ ص ١١، بروایت نمبر ١٢)

٢٣

صفحہ ٤٦١

مرزائیو! بتاؤ کہ دست اور قے دونوں تھے یا نہیں؟ اگر آپ اس قادیانی معجون مرکب کو ہیضہ کے نام سے موسوم نہیں کرتے تو فرمائیے کہ مرزا کی نبوت کی اصطلاح میں دست و قے کی اس مہلک بیماری کا کیا نام ہے؟ رہا قادیانی مفتی صاحب کا یہ بیان کہ:

معلوم قادیانی مفتی نے بہتر سالہ عمر کس جنت الحمقاء میں بسر فرمائی ہے؟ ازراہ کرم تکلیف فرما کر اپنے امیر المومنین خلیفۃ المسیح ہی سے دریافت فرما لیتے کہ سفارشات اور رشوت سے کیسے کیسے کٹھن اور مشکل کام فوراً انجام پذیر ہو سکتے ہیں۔ معمولی قادیانیوں کا کیا ذکر جب ان کے بڑے حضرات نے محترمہ محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کروانے کے لئے محمدی بیگم کے حقیقی ماموں کو رشوت یا انعام کا لالچ دے کر نکاح کرانے سے دریغ نہ کیا۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد قادیانی ایم اے لکھتے ہیں: ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے ایک دفعہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب جالندھر جا کر قریب ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرا دینے کی کوشش کی تھی۔ مگر کامیاب نہ ہوا۔ ان دنوں کی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکے میں آیا جایا کرتا تھا اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا خواہاں تھا اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا۔ اس لئے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص١٩٢، ١٩٣ روایت نمبر ١٧٩)

یہ گھر کی شہادت بآواز بلند اعلان کر رہی ہے کہ محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کرانے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی محمدی بیگم کے ماموں کو انعام یا رشوت دینے کے لئے تیار تھے۔

مرزائیو! اللہ کے لئے غور کرو کہ پہلے اللہ تعالیٰ کے نام سے محمدی بیگم کے نکاح کی پیش گوئی شائع کرنا۔ بعدہٗ انعام، رشوت اور روپے کے لالچ سے نکاح کی کوشش کرنا۔ کسی راستباز انسان کا کام ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں جیسا کہ خود مرزا غلام احمد نے لکھا ہے: ”ہم ایسے مرشد کو اور ساتھ ہی ایسے مرید کو کتوں سے بدتر اور نہایت ناپاک زندگی والا خیال کرتے ہیں کہ جو اپنے گھر سے پیش گوئیاں بنا کر پھر اپنے ہاتھ سے اپنے مکر سے اپنے فریب سے ان کے پوری ہونے کے

٢٣

صفحہ ٤٦٢

لئے کوشش کرے اور کرواوے۔

(سراج منیر ص ٢٥، خزائن ج ١٢ ص ٢٧)

تو چھوٹے حضرتوں نے انگریزی ڈاکٹر اور انگریز اسٹیشن ماسٹر کو رشوت یا انعام دے کر مرزا قادیانی کی نعش کو دجال کے گدھے پر لدوادیا تو کون سے تعجب کی بات ہے؟ اگر ایسی ہی شہادتوں سے آپ اپنے مسیح موعود کی صداقت پیش کرنا چاہیں تو آپ کو دنیا میں ہزاروں فرنگی ایسے مل جائیں گے۔ جو انعام یا رشوت لے کر لاؤڈاسپیکروں کے ذریعے قادیانی مسیحیت کا ڈھنڈورا پیٹ دیں۔ مفتی جی! آپ اپنے مسیح موعود ام المومنین اور قادیانی خاندان نبوت کو چھوڑ کر فرنگی گواہوں کی پناہ کیوں لے رہے ہیں؟ عیسائیوں سے ساز باز تو نہیں کر رکھا؟ جب مرزا غلام احمد قادیانی کی اہلیہ صاحبہ فرماتی ہیں اور صاحبزادہ بشیر احمد مشتہر کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی آنجہانی کو موت دست و قے سے ہوئی تو کیا ہیضہ کے سرٹیفکیٹ ہوا کرتے ہیں؟ اگر لفظ ہیضہ کے بغیر آپ کی تسلی نہیں ہو سکتی تو لیجئے مرزا غلام احمد کے خسر مرزا محمود احمد کے نانا میر ناصر نواب کے واسطے سے خود مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی مرض موت کا نام ”ہیضہ“ تجویز فرمایا۔ قادیانی غلو کی عینک اتار کر مندرجہ ذیل عبارت پڑھئے اور سو بار سوچ کر بتائیے کہ مرزا غلام احمد کی موت ہیضہ سے ہوئی یا نہیں؟ مرزا غلام احمد کے خسر میر ناصر نواب خود نوشت سوانح حیات میں تحریر فرماتے ہیں: ”حضرت صاحب جب رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا۔ جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔ ایک طرف تو ہم پر آپ کے انتقال کی مصیبت پڑی تھی۔ دوسری طرف لاہور کے شورہ پشت اور بدمعاش لوگوں نے بڑا غل غپاڑہ اور شور و شر بپا کیا تھا اور ہمارے گھر کو گھیر رکھا تھا کہ ناگہاں سرکاری پولیس ہماری حفاظت کے لئے رحمت الٰہی سے آن پہنچی۔“

(حیات ناصر ص ١٤، ١٥)

کیا مرزائی، ان کا کاذب مفتی، ان کا خلیفہ اور ان کا اخبار الفضل اب بھی پرانی رٹ لگاتے رہیں گے کہ قادیانی مسیح موعود کی موت ہیضہ سے نہیں ہوئی۔ اب تو جادو سر پر چڑھ کر بول اٹھا ہے۔ مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا الفاظ اعلان کر رہے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کے لئے طاعون اور ہیضہ کی دعا کرتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے قبولیت دعا کا رخ مولانا ثناء اللہ صاحب کی بجائے خود متنبّی قادیان کی طرف پھیر دیا۔ ہیضہ

٢٤

نے مرزا قادیانی کو آ دبوچا اور وہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء

کسی زندہ دل شاعر نے مرزا قادیانی آنجہانی کی

یوں کہا کرتا تھا مرجائیں گے اور
اس کے بیماروں کا ہوگا کیا علاج

مرزا قادیانی کے ان اخلاق حسنہ کے نمک ادا کرتے ہیں ”اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ ذوق کے مطابق حضرت اقدس (مرزا قادیانی) کے اخلاق کا بھی ہے۔ جس بلند پایہ اخلاق کا متبوع و مقتدیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات ملتی۔

(ذکر حبیب از مصباح الدین

جن لوگوں کو ضرورتاً مرزا قادیانی کی تصانیف پڑھ مناظرہ میں فحش بیانی، سخت کلامی، بد زبانی بلکہ لے لیا ہے۔ آپ اس فن کے جگت استاد مانے دیکھتے ہیں۔ آپ کے دست و زبان سے کسی موق پروازی سے گبر و مسلمان کا چلن بگڑا۔

ہندوستان میں جو شخص دینی مباحثہ میں اپنی بد زب ہوا جس کی نسبت اہل الرائے کی یہ مستقل رائے کو اس نے رواج دیا جو اس فن کا استاد اور موجد

قادیانی کو قادیان کی ہی مٹی نصیب حدیث کی رو سے وہ ڈبل کاذب ثابت ہوئے کوشش کی کہ یہ نکاح کسی طرح ہو جائے۔ کیو قادیانی سچے انسان نہیں ہیں۔ اگر مرزا قاد کرتے۔ لیکن مرزا قادیانی نے ہر جائز و ناجا نکاح نہیں ہوا۔ ایک اشتہار مرزا قادیانی کا ہم

صفحہ ٤٦٣

نے مرزا قادیانی کو آ دبوچا اور وہ ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو ہیضہ سمیت اگلے جہان کی طرف کوچ کر گئے۔ کسی زندہ دل شاعر نے مرزا قادیانی آنجہانی کی تاریخ وفات لکھی ہے:

یوں کہا کرتا تھا مرجائیں گے اور اور تو زندہ ہیں خود ہی مرگیا
اس کے بیماروں کا ہوگا کیا علاج کالرہ سے خود مسیحا مر گیا

مرزا قادیانی کے ان اخلاق حسنہ کے ہوتے ہوئے بھی ان کے نمک خوار اس طرح حق نمک ادا کرتے ہیں ”انك لعلى خلق عظيم“ راقم مضمون ہذا (سردار مصباح الدین) کے ذوق کے مطابق حضرت اقدس (مرزا قادیانی) کے عظیم الشان معجزات میں سے ایک معجزہ حضور کے اخلاق کا بھی ہے۔ جس بلند پایہ اخلاق کا آپ سے ظہور ہوا اس کی مثال سوائے آپ کے متبوع و مقتدیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات بابرکت کے دنیا کے کسی انسان کی زندگی میں نہیں ملتی۔

(ذکر حبیب از مصباح الدین قادیانی مندرجہ اخبار الحکم قادیان مورخہ ٢١ مئی ١٩٣٣ء)

جن لوگوں کو ضرورتاً مرزا قادیانی کی تصانیف پڑھنے کا ناگوار اتفاق ہوا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ مناظرہ میں فحش بیانی، سخت کلامی، بد زبانی بلکہ گالی گلوچ کو بکنے کا مرزا قادیانی نے سرکار سے ٹھیکہ لے لیا ہے۔ آپ اس فن کے جگت استاد مانے جاتے ہیں۔ ہر مذہب کے بزرگوں کو ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ آپ کے دست و زبان سے کسی دشمن کو امان نہیں۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ آپ ہی کی انشاء پردازی سے گبر و مسلمان کا چلن بگڑا۔

ہندوستان میں جو شخص دینی مباحثہ میں اپنی بد زبانی اور دریدہ دہنی بلکہ فحش کلامی کے لئے شہرہ آفاق ہوا جس کی نسبت اہل الرائے کی یہ مستقل رائے ہے کہ دینی مناظرہ میں گندگی اور خباثت کے چلن کو اس نے رواج دیا جو اس فن کا استاد اور موجد ہے وہ مرزا قادیانی ہے۔

(رسالہ تجلی ١٩٢٧ء)

قادیانی کو قادیان کی ہی مٹی نصیب ہوئی۔ مدینہ طیبہ تک جانا بھی نصیب نہ ہوا۔ تو اس حدیث کی رو سے وہ ڈبل کاذب ثابت ہوئے۔ مرزا قادیانی نے اس نکاح کے سلسلہ میں ہر ممکن کوشش کی کہ یہ نکاح کسی طرح ہو جائے۔ لیکن خداوند تعالیٰ کو یہ ثابت کرنا تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی سچے انسان نہیں ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کو اپنے الہامات پر یقین ہوتا تو نتیجہ کا انتظار کرتے۔ لیکن مرزا قادیانی نے ہر جائز و ناجائز طریقے سے کوشش کی۔ خطوط لکھے۔ لیکن تب بھی نکاح نہیں ہوا۔ ایک اشتہار مرزا قادیانی کا ہم نقل کرتے ہیں۔ دیکھئے!

٢٥

صفحہ ٤٦٤

اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین

علی ملت ابراهیم حنیفاً

ناظرین کو یاد ہوگا کہ اس عاجز نے ایک دینی خصومت کے پیش آجانے کی وجہ سے ایک نشان کے مطالبہ کے وقت اپنے ایک قریبی میرزا احمد بیگ ولد میرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم والہام الہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ مقرر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے اور یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آوے۔ چنانچہ تفصیل ان کل امور مذکورہ بالا کی اس اشتہار میں درج ہے۔ اب باعث تحریر اشتہار ہذا یہ ہے کہ میرا بیٹا سلطان احمد نام جو نائب تحصیلدار لاہور میں ہے اور اس کی تائی صاحبہ جنہوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے۔ وہ اس مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہیں اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفانہ کارروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں داخل ہونے کی کیا ضرورت اور کیا غرض تھی۔ امر ربی تھا اور وہی اپنے فضل وکرم سے ظہور میں لاتا۔ مگر اس کام کے مدارالمہام وہ لوگ ہوگئے۔ جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی اور ہر چند سلطان احمد کو سمجھایا اور بہت تاکیدی خط لکھے کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں۔ ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا اور تمہارا کوئی حق نہیں رہے گا۔ مگر انہوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا۔ بلکہ مجھ سے بیزاری ظاہر کی کہ اگر ان کی طرف سے ایک تیز تلوار کا بھی مجھے زخم پہنچتا تو بخدا میں اس پر صبر کرتا۔ لیکن انہوں نے دینی مخالفت کر کے اور دینی مقابلہ سے آزار دے کر مجھے بہت ستایا اور اس حد تک میرے دل کو توڑ دیا کہ میں بیان نہیں کر سکتا اور عمداً چاہا کہ میں سخت ذلیل کیا جاؤں۔ سلطان احمد ان دنوں بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا۔ اول یہ کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرنی چاہی اور یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو اور یہ اپنی طرف سے اس نے ایک بنیاد رکھی ہے۔ اس امید پر کہ یہ جھوٹے ہو جائیں گے اور دین کی ہتک ہوگی اور مخالفوں کی فتح۔ اس نے اپنی طرف سے مخالفانہ تلوار چلانے میں کچھ فرق نہیں کیا اور اس نادان نے نہ سمجھا کہ خداوند قدیر و غیور اس دین کا حامی ہے اور اس عاجز کا بھی حامی۔ وہ اپنے بندے کو کبھی ضائع نہ کرے گا۔ اگر سارا جہان مجھے برباد کرنا چاہے تو وہ اپنی رحمت کے ہاتھ سے مجھ کو تھام لے گا۔ کیونکہ میں اس کا ہوں اور وہ میرا۔ دوم سلطان احمد نے مجھے جو میں اس کا باپ

٢٦

صفحہ ٤٦٥

ہوں سخت ناچیز قرار دیا اور میری مخالفت پر کمر باندھ لی اور قولی اور فعلی طور پر اس مخالفت کو کمال تک پہنچایا اور میرے دینی مخالفوں کو مدد دی اور اسلام کی ہتک بدل و جان منظور رکھی۔ سو اس نے چونکہ دونوں طور سے گناہوں کو اپنے اندر جمع کیا۔ اپنے خدا کا تعلق بھی توڑ دیا اور اپنے باپ کا بھی اور ایسا ہی اس کی دونوں والدہ نے کیا۔ سو جبکہ انہوں نے کوئی تعلق مجھ سے باقی نہ رکھا۔ اس لئے میں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی نہ رہے اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے میں مصیبت نہ ہو۔

لہٰذا میں آج کی تاریخ کہ دوسری مئی ١٨١٩ء ہے۔ عوام و خواص پر بذریعہ اشتہار ہذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناطہ اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کر رہے ہیں۔ اس کو موقوف نہ کر دیا اور جس شخص کو انہوں نے نکاح کے لئے تجویز کیا ہے۔ اس کو رد نہ کیا بلکہ اسی شخص کے ساتھ نکاح ہو گیا تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ کی بھانجی ہے۔ اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اس کو نکاح کی خبر ہو اور طلاق نہ دیوے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا اور آئندہ ان سب کا کوئی حق میرے پر نہیں رہے گا اور اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی و قرابت و ہمدردی دور ہو جائے گی اور کسی نیکی، بدی، رنج، راحت شادی اور ماتم میں ان سے شراکت نہیں رہے گی۔ کیونکہ انہوں نے آپ تعلق توڑ دیئے اور توڑنے پر راضی ہو گئے۔ سو اب ان سے کوئی تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمانی غیوری کے برخلاف اور ایک دیوثی کا کام ہے۔ مومن دیوث نہیں ہوتا:

چوں نہ بود خویش را دیانت و تقوی قطع رحم بہ از مودت قربی

(مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢١٩ تا ٢٢١)

جھوٹ نمبر ٥١...... مرزا قادیانی کا الہام ان کی عمر کے متعلق۔ یہ الہام کئی رنگ میں بیان کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو:

(ازالہ اوہام ص٣٤٥، خزائن ج٣ ص٤٤٣)

ترجمہ: خدا کہتا ہے کہ ہم تجھ کو اسی سال کی عمر دیں گے یا اس کے قریب۔

یا کچھ تھوڑا کم یا چند سال ٨٠ برس سے زیادہ عمر دوں گا۔

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٥٣)

٢٧

صفحہ ٤٦٦

پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم اور اس کا ضمیمہ ص٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٦)

عليه "

(اربعین نمبر ٣ ص ٣١، خزائن ج ١٧ ص ٤٨٠)

اس کا ترجمہ مرزا قادیانی نے (اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤) میں اس طرح کیا کہ میں اسی برس یا دو تین برس کم یا زیادہ تیری عمر کروں گا۔

(حقیقت الوحی ص ٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

اس پنج میل (پانچ مختلف) بیانات سے اصل الہام کی کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی عمر بقول ان کے ٧٤ سال سے کم اور ٨٦ سال سے زیادہ نہ ہونی چاہئے تھی۔ مرزا قادیانی ١٣٢٦ھ میں ٦٥ سال اور چند ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے اور ان سب الہاموں کو جھوٹا ثابت کر گئے۔ ان مریدوں خصوصاً خلیفہ نورالدین اور ایڈیٹر اخبار بدر نے اٹکل پچو بہتیرے ٹامک ٹویئے مارے اور ان کی عمر کو ربڑ کے تسمہ کی طرح خوب بڑھایا۔ پھر بھی ٨٦ تک نہ پہنچ سکے۔ حالانکہ ان کی تحریرات بمقابلہ تحریر مرزا قادیانی بالکل غلط لچر اور ناکارہ ہیں۔ چنانچہ ذیل میں مرزا قادیانی کے اقوال صریح ان کی عمر کے بابت درج کئے جاتے ہیں جس سے انہوں نے ایک مذہبی نشان کو ہی تقویت دی تھی۔ لکھتے ہیں کہ: ”جب میری عمر ٤٠ برس تک پہنچی تو خداوند تعالیٰ نے الہام اور کلام سے مجھے مشرف کیا اور یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میری عمر کے ٤٠ سال پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آ پہنچا۔ تب خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ مجھ سے ظاہر کیا کہ تو اس صدی کا مجدد ہے۔“

(تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣)

گویا چودھویں صدی کے شروع ہونے کے وقت (١٣٠١ھ) میں مرزا کی عمر پورے ٤٠ سال کی تھی۔ یہاں تخمیناً کا لفظ نہیں بولا ۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ سے مشابہت دکھلانی تھی۔ چونکہ یہ ایک خاص شرعی امر تھا۔ اس لئے اس میں شک وشبہ کو دخل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے الہام کا بھی حوالہ موجود ہے۔

پس جب حسب اقرار خود چودھویں صدی کے شروع میں آپ پورے ٤٠ سال کے تھے تو بوقت انتقال ماہ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ میں ٦٥ سال چار ماہ کے ہوئے جس سے عمر کے متعلق الہامات کا مجموعہ اور کشتم کشتا والا کشف اور مردان علی کا نذرانہ اور الہام مندرجہ ذیل بالکل غلط، جھوٹ ڈھکوسلہ ثابت ہوا۔

٢٨

خیز زلزلہ دکھاؤں گا۔ اس الہام کے بعد مرزا قاد کے لئے بھی اشتہار جاری کیا کہ وہ بھی خیموں مکان میں واپس آگئے۔ الہام کے الفاظ اور قادیانی کی زندگی میں آنا چاہئے تھا۔ چنانچہ لکھے نسبت جو میری پیش گوئی ہے۔ اس کو ایسا خیال خیال سراسر غلط ہے۔ کیونکہ بار بار وحی الٰہی نے میرے ہی ملک میں اور میرے ہی فائدے حادثہ میری زندگی میں ہی ظہور میں آئے ۔" چونکہ مرزا قادیانی کی حیات میں کو ثابت ہوا۔

وان كنتم فى ريب مما نزلنا ع زوجها و ريحا نها "یعنی تیری طرف نور جوانی کی قو گا۔ یعنی جوانی کی قوتیں دی جائیں گی ۔ تا خد اس نشان سے شک میں ہو تو اس شفاء کی نظیر جائے گی۔

اس کی تشریح میں کہتے ہیں کہ: " وقت ظہر عصر کی نماز کے لئے جا سکتا ہوں اور سر شروع ہو جاتا ہے اور دل ڈوبنے لگتا ہے میری بیوی دائم المریض امراض رحم و جگر میں دعا کی تھی۔ جس پر یہ الہام ہوا۔ ان کے معنی کہ خدا تعالیٰ ہمیں صحت عطا فرمائے گا اور کر سکوں ۔"

صفحہ ٤٦٧

جھوٹ نمبر ٥٢ ...... ”اريك زلزلة الساعة“ (حقیقت الوحی ص ٩٣، خزائن ج٢٢ ص ٩٦) تجھ کو قیامت خیز زلزلہ دکھاؤں گا۔ اس الہام کے بعد مرزا قادیانی مکان چھوڑ کر میدان میں جابیٹھے اور مریدوں کے لئے بھی اشتہار جاری کیا کہ وہ بھی خیموں میں رہیں۔ تھوڑے دنوں بعد جب زلزلہ نہ آیا تو مکان میں واپس آگئے۔ الہام کے الفاظ اور مرزا قادیانی کی تفہیم سے یہ قیامت خیز زلزلہ مرزا قادیانی کی زندگی میں آنا چاہئے تھا۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”اب ذرا کان کھول کر سنو کہ آئندہ زلزلہ کی نسبت جو میری پیش گوئی ہے۔ اس کو ایسا خیال کرنا کہ اس کے ظہور کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔ یہ خیال سراسر غلط ہے۔ کیونکہ بار بار وحی الٰہی نے مجھے اطلاع دی ہے کہ وہ پیشگوئی میری زندگی میں میرے ہی ملک میں اور میرے ہی فائدے کے لئے ظہور میں آئے گی ۔ کیونکہ ضروری ہے کہ یہ حادثہ میری زندگی میں ہی ظہور میں آئے ۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨)

چونکہ مرزا قادیانی کی حیات میں کوئی زلزلہ ایسا نہیں آیا لہٰذا یہ پیشگوئی اور الہام قطعا غلط ثابت ہوا۔

جھوٹ نمبر ٥٣ تا ٥٦ ...... ترد عليك انوار الشباب ۔ سياتي عليك زمن الشباب وان كنتم فى ريب مما نزلنا على عبدنا فاتوا بشفاء من مثله، رد عليها زوجها و ريحانها

(تذکرہ ص ٦١٧)

”یعنی تیری طرف نور جوانی کی قوتیں رد کی جائیں گی اور تیرے پر زمانہ جوانی کا آئے گا۔ یعنی جوانی کی قوتیں دی جائیں گی ۔ تا خدمت دین میں حرج نہ ہو اور اگر تم اے لوگو ہمارے اس نشان سے شک میں ہو تو اس شفاء کی نظیر پیش کرو اور تیری بیوی کی طرف بھی تروتازگی واپس کی جائے گی۔

(تذکرہ ص ٦١٧)

اس کی تشریح میں کہتے ہیں کہ : ”میری صحت تین چار ماہ سے بہت بگڑ گئی ہے۔ صرف دو وقت ظہر عصر کی نماز کے لئے جا سکتا ہوں اور نماز بھی بیٹھ کر پڑھتا ہوں۔ ایک سطر لکھنے سے دوران سر شروع ہو جاتا ہے اور دل ڈوبنے لگتا ہے۔ حالت خطرناک اور مسلوب القویٰ ہوں۔ ایسا ہی میری بیوی دائم المرض امراض رحم و جگر میں مبتلا ہے۔ پس میں نے اپنی اور بیوی کی صحت کے لئے دعا کی تھی۔ جس پر یہ الہام ہوا۔ ان کے معنی خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں صحت عطا فرمائے گا اور مجھے قوتیں عطاء کرے گا جن سے میں خدمت دین کرسکوں۔“

(تذکرہ ص ٦١٧)

٢٩

صفحہ ٤٦٨

مرزا قادیانی کی یہ حالت ان کی موت کا پیش خیمہ تھی۔ مگر وہ تو سو ١٠٠ سال کی امید باندھے بیٹھے تھے۔ ابھی محمدی بیگم کے نکاح کی لو لگی ہوئی تھی۔ اس لئے بڑھاپے میں جوانی کے خواب نظر آتے تھے۔ مگر اس الہام سے ٹھیک دو سال بعد چل بسے۔

جھوٹ نمبر ٥٧...... ”اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس (نصرت جہاں بیگم) کے بعد پائے گا۔ تیری نسل بہت ہوگی۔“

(اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٢)

اس الہام کے بعد نہ کوئی نکاح ہوا۔ نہ خواتین مبارکہ حاصل ہوئیں اور نہ اولاد۔ محمدی بیگم والا نکاح شاید اس الہام کو سچ کر دیتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ جھوٹ کو سچ کر دکھائے۔

جھوٹ نمبر ٥٨...... ڈائری ٢٧ اگست ١٩٠٧ء صاحبزادہ مبارک احمد صاحب سخت تپ سے بیمار ہیں اور بعض دفعہ بیہوش تک ہو جاتے ہیں۔ ان کی نسبت آج الہام ہوا: ”قبول ہوگئی تو دن کا بخار ٹوٹ گیا“ یعنی دعا قبول ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ میاں موصوف کو شفاء دے۔ (تذکرہ ص ٧٦٨) یہ لڑکا ١٦ ستمبر ١٩٠٧ء کو صبح کے وقت فوت ہو گیا۔

(تذکرہ حاشیہ ٧٢٩، دیکھو میگزین اکتوبر ١٩٠٧ء)

اس لئے صحت کا الہام غلط ہوا۔

جھوٹ نمبر ٥٩...... آپ کے لڑکا ہوا ہے۔ ”ینزل منزل المبارک“

(تذکرہ ص ٧٣٥)

”ایک حلیم لڑکے کی ہم تجھ کو خوشخبری دیتے ہیں جو بمنزلہ مبارک احمد کے ہوگا اور اس کا قائم مقام اور اس کا شبیہہ ہوگا۔“

(تذکرہ ٧٣٥، حاشیہ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٧)

ان الہامات کے بعد کوئی لڑکا نہ ہوا اور مرزا قادیانی چل دیئے اس لئے یہ دونوں الہامات بھی غلط ثابت ہوئے۔

مرزا قادیانی کی دس مردود دعائیں اور ان کا خود تجویز کردہ کفر

کبھی نصرت نہیں ملتی در مولا سے گندوں کو
کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو
دعائیں عجز اور اخلاص کی مقبول ہوتی ہیں
کبھی عزت نہیں ملتی وہاں پر خود پسندوں کو

مرزا قادیانی نے بڑے زور شور سے متحدیانہ پیش گوئی کی تھی کہ قادیان میں ہرگز طاعون نہ ہوگی۔ (دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥) اور پھر پیشگوئی کی تھی کہ میرے مرید طاعون سے محفوظ رہیں گے۔ (کشتی نوح ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ٢) لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے مرزا قادیانی کی یہ دونوں شیخیاں بھی دوسری پیشگوئیوں کی طرح بالکل غلط اور جھوٹ ثابت ہوئیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی سلطان القلمی کے گھمنڈ میں تمام علماء اور سجادہ نشینوں وانجمن ہائے اسلامیہ کو مخاطب کیا کہ وہ بھی پلیگ سے محفوظ رہنے کی دعا اور پیش گوئی کریں اور محفوظ رہیں۔ لیکن تم ہرگز ایسا نہیں

٣٠

صفحہ ٤٦٩

کر سکتے۔ چنانچہ انجمن حمایت اسلام لاہور کو ان الفاظ میں مخاطب کیا۔ جھوٹ نمبر ٦٠ تا ٦٣ ...... ”تم میرے منکر ہو۔ تمہاری دعائیں طاعون کے بارے میں قبول نہ ہوں گی۔ کیونکہ تمہارے حسب حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وما دعاء الکافرین الا فی ضلال

(دافع البلا ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٢)

اس قول میں مرزا قادیانی نے علمائے اسلام کو بوجہ انکار خود کافر قرار دے کر آیت قرآنی کا حوالہ دیا کہ کافروں کی دعائیں ہمیشہ ناقبول ومردود رہتی ہیں۔ بمقابلہ اس کے اپنی دعاؤں کی قبولیت کا مرزا قادیانی کو بڑا بھاری دعویٰ تھا اور نہ صرف دعویٰ۔ بلکہ اپنا معجزہ بتلایا کرتے تھے۔ چنانچہ ان کے الہام ہیں کہ:

اس کے سوا تمہاری اور سب دعائیں منظور کی جائیں گی۔

(تذکرہ ص ٤٦)

(الہام تذکرہ ص ١١٨)

(الہام مندرجہ حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)

مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین مولوی ثناء اللہ صاحب، ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب وغیرہ کے متعلق جو بھی دعا کی۔ اس میں مرزا قادیانی ناکامیاب ہوئے۔ اس کے معنی ہیں یہ سب دھوکہ وفریب ہے۔

ان ہر سہ الہامات سے واضح ہے کہ مرزا قادیانی الہامی اور اعجازی مستجاب الدعوات تھے۔ (ازالہ اوہام ص ١١٨، خزائن ج ٣ ص ١٥٨ حاشیہ) میں بھی اس کا کھلم کھلا دعویٰ ہے۔ گویا مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے نزدیک ان کا صاحب معجزہ استجابت دعا ہونا مسلمہ ہے اور مرزا قادیانی کے ہی قول کے مطابق علماء انجمن حمایت اسلام لاہور کی رو سے ان کا یہ بھی مسلمہ اصول بلکہ نص قرآنی ہے کہ کافروں کی دعائیں نامقبول اور مردود ہی رہتی ہیں۔

پس اگر ہم یہ ثابت کر دیں کہ یہ ادعائے قبولیت دعا بھی مرزا قادیانی کی ایک شوخانہ چالاکی اور نرا دعویٰ ہی دعویٰ تھا اور اس کے ثبوت میں مرزا قادیانی کی نامقبول اور مردود دعاؤں کی فہرست بھی پیش کر دیں۔ تو جس طرح مرزا قادیانی اپنے الہامات متذکرہ بالا کی رو سے اپنی امت میں الہامی مستجاب الدعوات مانے جاتے تھے۔ ہمارا بھی حق ہے کہ ہم ان کو بروئے نص قرآنی و نیز مسلمات مرزا قادیانی الہامی کافر کے نام سے موسوم کریں اور یہ ہمارا قصور نہیں بلکہ (بتقاضائے

٣١

صفحہ ٤٧٠

از ماست کہ بر ماست) مرزا قادیانی کا خود تراشیدہ اصول ہے۔ ذیل میں مرزا قادیانی کی مردود دعاؤں کے نمونے ملاحظہ ہوں۔

جھوٹ نمبر ٦٤...... مولوی عبدالکریم سیالکوٹی مرزائی مشن کے دست راست تھے جو بمرض کاربنکل پھوڑا بیمار ہوئے۔ ان کے علاج کے لئے جیسا کہ چاہئے تھا۔ سخت کوشش کی گئی اور علاج کے علاوہ دعائیں تو اتنی کی گئیں کہ غالباً مرزا قادیانی نے کسی دوسرے امر کے لئے نہیں کی ہوں گی۔ چنانچہ:

نیچے پشت پر ایک پھوڑا ہے۔ جس کو چیرا دیا گیا ہے۔ (مرزا قادیانی نے) فرمایا کہ میں نے ان کے واسطے رات دعا کی تھی۔ رؤیا میں دیکھا کہ مولوی نورالدین صاحب ایک کپڑا اوڑھے بیٹھے ہیں اور رو رہے ہیں (فرمایا) ہمارا تجربہ ہے کہ خواب کے اندر رونا اچھا ہوتا ہے اور میری رائے میں طبیب کا رونا مولوی صاحب کی صحت کی بشارت ہے۔“

ان کی حالت مایوسی خیز بلکہ قریب الموت بیان کرکے لکھتے ہیں کہ:

جھوٹ نمبر ٦٥...... ”اس دعا میں میں نے بہت تکلیف اٹھائی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بشارت نازل کی اور عبداللہ سنوری والا خواب دیکھا جس سے نہایت درجہ غمناک دل کو تسلی ہوئی۔“

(ملفوظات ج ٨ ص ٧)

کر کے الہام الٰہی کی بناء پر لکھتے ہیں کہ قضا و قدر تو ایسی ہی (مولوی صاحب کی موت کی) تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحم سے رد بلا کر دیا۔

جھوٹ نمبر ٦٦......

دعاؤں میں گزرتا تھا۔ (ص ٢ کالم ٣، ٤) اور کالم نمبر ٤ میں لکھا ہے کہ خدا کے مسیح کی دعائیں اس کے ساتھ ہیں اور اس کالم میں ٢١؍ ستمبر کا ایک الہام بھی درج ہے جو دعا کے بعد ہوا۔ طلع البدر علینا من ثنیات الوداع (یعنی ہم پر بدر طلوع ہوا پہاڑ کی گھاٹی سے)

(تذکرہ ص ٥٦٨)

جھوٹ نمبر ٦٧......

٣٢

صفحہ ٤٧١

گے مولوی صاحب کے لئے اور خود بھی ٢٨ کو صبح ہی باغ میں گئے اور کئی گھنٹے تک تخلیہ میں دعا کی۔

جھوٹ نمبر ٦٨...... مگر افسوس! کہ مرزا قادیانی کی یہ شبانہ روز کی سب دعائیں رد ہوگئیں اور ١١/اکتوبر ١٩٠٥ء کو مولوی صاحب اس دنیا سے کوچ کر گئے اور مرزا قادیانی کے ملہم نے اتنے دنوں تک ناحق ان کو بھٹکایا۔ یہاں تک کہ اسی اثناء میں دو تین بار قبولیت دعا اور صحت کی بشارتیں بھی ہوئیں۔ کئی الہام مایوسی بخش بھی تھے۔ کیا یہ صریح طور پر ابن صیاد کے الہاموں کی مثال نہیں؟

جھوٹ نمبر ٦٩...... مرزا قادیانی کا لڑکا مبارک احمد سخت بیمار ہوا۔ اس کی نسبت الہام ہوا۔ قبول ہوگئی نو دن کا بخار ٹوٹ گیا۔ (تذکرہ ص ٧٦٨) یعنی یہ دعا قبول ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے میاں صاحب موصوف کو شفاء دے دی (میگزین ستمبر ١٩٠٧ء) لیکن میگزین اکتوبر ١٩٠٧ء سے ظاہر ہے کہ میاں مبارک احمد کا ١٦/ستمبر ١٩٠٧ء کو انتقال ہوگیا۔ (تذکرہ ص ٧٢٩) اور قبولیت دعاء کا الہام صریح غلط ثابت ہوا۔ کیا یہ وعدہ رحمانی تھا؟ یا القائے شیطانی؟ ادھر ایک مخلص دوست مخدوم الملت مولوی عبدالکریم کے لئے دعائیں کی تھیں۔ ادھر الہامی فرزند ارجمند کی صحت کے لئے۔ مگر کوئی بھی قبول نہیں ہوئی۔ حالانکہ الہام قبولیت کے بھی ہوچکے تھے۔

جھوٹ نمبر ٧٠...... (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١) میں لکھتے ہیں کہ: خدا اس مہدی کی تصدیق کرے گا اور دور دور سے اس کے دوست جمع کرے گا جن کا شمار اہل بدر کے شمار کے برابر ہوگا۔ یعنی تین سو تیرہ اور ان کے نام بمعہ مسکن وخصلت چھپی ہوئی کتاب میں درج ہوں گے۔ اب ظاہر ہے کہ کسی شخص کو پہلے اس سے یہ اتفاق نہیں ہوا کہ وہ مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کرے اور اس کے پاس چھپی ہوئی کتاب ہو جس میں اس کے دوستوں کے نام ہوں۔ لیکن میں اس سے پہلے بھی آئینہ کمالات اسلام میں تین سو نام درج کرچکا ہوں اور اب دوبارہ اتمام حجت کے لئے تین سو تیرہ نام ذیل میں درج کرتا ہوں تاکہ ہر ایک منصف سمجھ لے کہ یہ پیش گوئی بھی میرے ہی حق میں پوری ہوئی اور بموجب منشائے حدیث کے یہ بیان کر دینا پہلے سے ضروری ہے کہ: ”یہ تمام اصحاب خصلت صدق وصفا رکھتے ہیں اور حسب مراتب جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ بعض بعض سے محبت اور انقطاع الی اللہ اور سرگرمی دین میں سبقت لے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اپنی رضا کی راہوں میں ثابت قدم کرے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٣٢٥)

آخری دعاء کے لئے دیکھنا ہے کہ قبول ہوئی یا نہیں۔ جن لوگوں کے لئے یہ دعا تھی اور جن کے لئے پہلے سے لکھ دیا تھا کہ یہ تمام اصحاب خصلت صدق وصفا رکھتے ہیں۔ ان میں سے کئی آدمی جیسے ڈاکٹر عبدالحکیم خاں وغیرہ مرزا قادیانی سے پھر گئے اور نہ صرف پھر ہی گئے۔ بلکہ مرزا

٣٣

PDF 473

قادیانی کی مخالفت میں عمر بھر کوشش کرتے رہے۔ اس لئے جہاں مرزا قادیانی کی یہ دعا نامقبول ٹھہری۔ وہاں یہ ١٣ سو ١٣ والا ڈھکوسلہ بھی باطل ثابت ہوا اور کم از کم جو پیشگوئی مرزا قادیانی نے اپنے اوپر چسپاں کی تھی۔ اس کی رو سے مرزا قادیانی مہدی ثابت نہ ہوئے۔

جھوٹ نمبر ٧١:...... سید امیر شاہ رسالدار میجر سے پانچ صد ٥٠٠ روپیہ پیشگی لے کر ان کے بیٹا ہونے کی دعا کی۔ جس کی میعاد ١٥ اگست ١٨٨٩ء کو ختم ہوئی۔ مگر یہ قیمتی دعا بھی مردود اور نامقبول ہوئی۔

(مرزا قادیانی کا خط ١٥ اگست ١٨٨٨ء مندرجہ عصائے موسیٰ ص ٤٢)

٢٠ جون ١٨٩٧ء سے ٢٢ جون تک تقریب جشن جوبلی ملکہ معظمہ قیصرہ ہند مرزا قادیانی نے بھی اپنے مریدوں کو جمع کر کے قادیان میں ایک جشن منایا اور دو تین دن خوب پر تکلف دعوتیں اڑائیں۔ غرباء کو کھانا کھلایا گیا۔ رات کو روشنی ہوئی۔ مبارکباد کے تار بخدمت وائسرائے صاحب بہادر صاحب روانہ کئے گئے اور ایک کتاب چھپوا کر بنام تحفۂ قیصریہ مقتدر حکام اور ملکہ معظمہ کی خدمت میں بھیجی گئی۔ ٢٠ جون ١٨٩٧ء کو خصوصیت سے بدرگاہ رب العزت، اردو، فارسی، عربی، پشتو، پنجابی، اور انگریزی زبانوں میں نہایت خشوع وخضوع سے گورنمنٹ کے اقبال ودولت کی ترقی کی دعائیں مانگی گئیں اور اخیر میں ملکہ معظمہ کے اسلام لانے کے لئے ان الفاظ میں دعا کی گئی کہ: ”اے قادر توانا ہم تیری بے انتہا قدرت پر نظر کر کے ایک اور دعا کے لئے تیری جناب میں جرأت کرتے ہیں۔ کہ ہماری محسنہ قیصرہ ہند کو مخلوق پرستی کی تاریکی سے چھڑا کر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر اس کا خاتمہ کر۔ اے مجیب قدرتوں والے۔ اے عمیق تصرفوں والے۔ ایسا ہی کر یا الہی یہ تمام دعائیں قبول فرما۔ تمام جماعت کہے کہ آمین۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٨٦ تا ٢٩٠ ملخص)

جھوٹ نمبر ٧٢:...... ”لیکن اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ہم عاجزانہ ادب کے ساتھ تیری حضور میں کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں کہ تو اس خوشی کے وقت میں جو شصت سالہ جوبلی کے وقت ہے۔ یسوع کے چھوڑنے کے لئے کوشش کر۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٥، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٧)

مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا چھ ٦ زبانوں والی دعا بھی بارگاہ الہی سے مردود ہوئی۔ جس کی قبولیت کا اپنی جماعت کو اطمینان دلایا تھا اور بقول خود دعا کے مردود ہو جانے سے منافق ثابت ہوئے اور رسالہ تحفہ قیصریہ میں جو مسلمانوں کی نسبت طرح طرح کے الزام واتہام لگا کر اور اپنی جماعت کی وفاداری جتا کر عجیب وغریب الفاظوں اور رنگ آمیزیوں سے اور عاجزانہ ادب کے ساتھ ملکہ معظمہ کے حضور میں کھڑے ہو کر عرض کی گئی تھی کہ وہ اسلام قبول کریں۔ یہ عرض بھی

٣٤

نامنظور ہوئی، حضور ملکہ معظمہ کو ایک سال پسند کریں۔ مگر انہوں نے ادھر بھی توجہ نہ جھوٹ نمبر ٧٣ تا ٧٥: ..... ٢١؍نومبر ١٨ کہ: ”میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی ہے ہے۔ اے میرے ذو الجلال پروردگار جیسا کہ محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ لفظ سے یاد کیا ہے اور جیسا کہ اس نے ١٠؍نومبر ١٨٩٨ء کو چھپا ہے۔ میرے فـ اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل و ١٥؍جنوری ١٩٠٠ء تک ذلت کی مار و عزت ہے تو میرے لئے یہ نشان ظا مصداق کر۔ آمین۔ ثم آمین۔“

اس کے آخر میں لکھتے ہیں ظالم کو ذلیل اور رسوا کروں گا۔ یہ خدا ہوگا۔ یہ فیصلہ چونکہ الہام کی بناء پر ہـ ہدایت کی راہ ان پر کھولے گا۔“

یہ دعا بھی بالکل بے نتیجہ پیش نہیں آیا۔ جو اس پیشگوئی کا مصدا ہوئے۔ اس پر صفائی یہ ہے کہ (حق محمد حسین اور ان کے ساتھیوں کے ہے؟ پھر دعویٰ ہے رسالت اور نبوت ٥؍نومبر ١٨٩٩ء کو ایک ا اب مجھے راہ بتلا ..... اگر میں تیری جـ اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک میرے لئے کوئـ نے کچلا ہے۔ دِکھا! میں تیری جناب حضور میں سچا ہوں۔ تو ان تین سالو

صفحہ ٤٧٣

نامنظور ہوئی، حضور ملکہ معظمہ کو ایک سال کے اندر نشان آسمانی دکھانے کے لئے بھی لکھا تھا۔ اگر وہ پسند کریں۔ مگر انہوں نے ادھر بھی توجہ نہ کی۔

جھوٹ نمبر ٧٣ تا ٧٥...... ٢١ نومبر ١٨٩٨ء کو مرزا قادیانی نے ایک اشتہار دیا جس میں درج تھا کہ: ”میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ مجھ میں اور محمد حسین میں آپ فیصلہ کرے اور وہ دعا یہ ہے۔ اے میرے ذوالجلال پروردگار۔ اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل، جھوٹا اور مفتری ہوں۔ جیسا کہ محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں بار بار مجھ کو کذاب دجال اور مفتری کے لفظ سے یاد کیا ہے اور جیسا کہ اس نے اور محمد بخش جعفر زٹلی، اور ابوالحسن بٹنی نے اس اشتہار میں جو ١٠؍ نومبر ١٨٩٧ء کو چھپا ہے۔ میرے ذلیل کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ تو اے میرے مولا اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل ہوں۔ تو مجھ پر ١٣ ماہ کے اندر یعنی ١٥؍ دسمبر ١٨٩٨ء سے ١٥؍ جنوری ١٩٠٠ء تک ذلت کی مار وارد کر................اور اگر تیری جناب میں مجھے وجاہت اور عزت ہے تو میرے لئے یہ نشان ظاہر فرما کہ ان تینوں کو ذلیل و رسوا اور ضربت علیہم الذلۃ کا مصداق کر۔ آمین۔ ثم آمین۔“

اس کے آخر میں لکھتے ہیں: ”یہ دعا تھی جو میں نے کی۔ جواب میں الہام ہوا کہ میں ظالم کو ذلیل اور رسوا کروں گا۔ یہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ فریقین میں سے جو کاذب ہے۔ وہ ذلیل ہوگا۔ یہ فیصلہ چونکہ الہام کی بناء پر ہے۔ اس لئے حق کے طالبوں کے لئے ایک کھلا کھلا نشان ہو کر ہدایت کی راہ ان پر کھولے گا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦٠، ٦١)

یہ دعا بھی بالکل بے نتیجہ اور مردود رہی۔ مرزا قادیانی کے ہر سہ مخالفین کو کوئی واقعہ عظیم پیش نہیں آیا۔ جو اس پیشگوئی کا مصداق بن سکے۔ نہ ہی وہ کسی ذلت کی موت سے تباہ و برباد یا رسوا ہوئے۔ اس پر صفائی یہ ہے کہ (حقیقت الوحی ص ١٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٥) پر لکھتے ہیں کہ: ”مولوی محمد حسین اور ان کے ساتھیوں کے لئے کوئی تاریخ مقرر نہ تھی۔“ اس کذب بیانی کی بھی کوئی حد ہے؟ پھر دعویٰ ہے رسالت اور نبوت کا!

٥؍ نومبر ١٨٩٩ء کو ایک اور اشتہار دیا جس میں درج ہے کہ: ”اے میرے مولا! قادر خدا! اب مجھے راہ بتلا...... اگر میں تیری جناب میں مستجاب الدعوات ہوں۔ تو ایسا کر کہ جنوری ١٩٠٠ء سے اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا اور اپنے بندے کے لئے گواہی دے جسے زبانوں نے کچلا ہے۔ دیکھ! میں تیری جناب میں عاجزانہ ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ تو ایسا ہی کر۔ اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں۔ تو ان تین سالوں میں کوئی ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالا تر ہو۔“

٣٥

صفحہ ٤٧٤

آخر میں لکھا کہ: ”میں نے اپنے لئے قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا مقبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود، ملعون، کافر، بے دین اور خائن ہوں جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ۔“ (مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٧٨) یہ دعا بھی نامقبول اور مردود ہوئی اور کوئی نشان تین سال تک میں ظاہر نہ ہوا۔

جھوٹ نمبر ٧٦...... مرزا قادیانی کی نسبت ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب نے موت کی پیش گوئی کی۔ اس کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی زبان پر الہامی طور سے یہ دعا جاری ہوئی: ” رب فرق بین صادق وكاذب انت ترى كل مصلح وصادق “ترجمہ: ”اے خدا سچے اور جھوٹے میں فرق کر کے دکھلا تو ہر ایک مصلح اور صادق کو جانتا ہے“

(حقیقت الوحی ص٩٨، خزائن ج٢٢ ص١٠١)

پھر مرزا قادیانی کو ان کے ملہم نے بشارت دی: ”خدا قاتل تو باد، مرا از شر تو محفوظ دارد۔ یعنی اے دشمن تو جو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ خدا تجھے تباہ کرے اور تیرے شر سے مجھے نگاہ رکھے۔

(حقیقت الوحی ص٩٨، خزائن ج٢٢ ص١٠١)

پھر بحوالہ الہام الٰہی لکھتے ہیں کہ: ”دشمن جو میری موت چاہتا ہے۔ وہ خود میری آنکھوں کے روبرو اصحاب الفیل کی طرح نابود و تباہ ہوگا ۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٩١)

یہ الہامی دعا بھی جس کی قبولیت کے الہام ہو چکے تھے۔ مرزا قادیانی کے نقطۂ خیال سے مردود ہوئی۔ کیونکہ مرزا قادیانی ڈاکٹر صاحب کی پیشگوئی کے مطابق مر گئے ۔ ہاں مسلمانوں کے خیال کے مطابق ضرور قبول ہوگئی۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اپنا کاذب ہونا ثابت کر دیا۔

ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب کے مقابلہ میں دو اور دعائیں الہامی طور پر مرزا قادیانی کی زبان پر جاری ہوئیں۔

الف...... رب كل شئ خادمك. رب فاحفظنی وانصرنی وارحمنی۔ یعنی اے میرے خدا ہر چیز تیری خادم ہے۔ اے میرے خدا شریر کی شرارت سے مجھے نگاہ میں رکھ اور میری مدد کر اور مجھ پر رحم کر۔“

(حقیقت الوحی ص٩٨، خزائن ج٢٢ ص١٠١)

ب...... اے ازلی ابدی خدا، بھیڑیوں کو پکڑ کے آ۔ اے ازلی ابدی خدا میری مدد کے لئے آ۔

(حقیقت الوحی ص١٠٤، خزائن ج٢٢ ص١٠٧)

افسوس کہ مرزا قادیانی کے خدا نے ان اپنی بتائی ہوئی (الہامی ) دعاؤں کا بھی کچھ خیال نہ کیا اور دعاؤں کو مردود کر کے اس شخص کو پٹخ دے دی۔ جو اپنے مسیح کو کذاب، مکار، شیطان، دجال، شریر، حرام خور، خائن، شکم پرست، نفس پرست، مفسد، مفتری وغیرہ کہتا تھا۔

٣٦

جھوٹ نمبر ٧٧....... ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ شائع ہوا صاحب کے مضامین کی جو مرزا قادیانی کی کہتے ہیں کہ: ”میں خدا سے دعا کرتا ہوں میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں پیارے مالک، میں عاجزی سے تیرے ح مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو او کامل اور صادق خدا۔ اگر مولوی ثناء اللہ ا سے تیرے حضور دعا کرتا ہوں کہ میری زند

اخیر میں پھر لکھتے ہیں کہ: ”ی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فر کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا

آخری سطروں میں تحریر کر میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے“۔

عبارت مذکور الصدر کی تشر اتنا گھمنڈ تھا کہ اخیر میں لکھ دیا: ”اب فیص لیکن اللہ تعالیٰ نے واقعی واق کر دیا۔ مولوی صاحب بفضلہ تعالیٰ ٢٨ مرزا قادیانی نے مئی ١٩٠٨ء میں بمرض کے نقطۂ خیال سے یہ مہتم بالشان دعا بھی مرزائی صاحبان مرزا قادی ملاحظہ کریں اور پھر مرزا قادیانی کے بیا فی ضلال ) پر غور کریں ۔ کہ مرزا لکارتے تھے کہ تم کافر ہو اس لئے تمہا

صفحہ ٤٧٥

جھوٹ نمبر ٧٧...... ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء کو مرزا قادیانی کا ایک اشتہار بعنوان مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ شائع ہوا۔ مضمون غیر ضروری طویل ہے۔ جس میں پہلے مولوی صاحب کے مضامین کی جو مرزا قادیانی کی تکذیب میں نکلتے رہے ہیں۔ شکایت کی ہے اور بالآخر کہتے ہیں کہ: ”میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے۔ جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا میرے نفس کا افترا ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افترا کرنا میرا کام ہے۔ تو اے میرے پیارے مالک، میں عاجزی سے تیرے حضور دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا۔ اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیرے حضور دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔“

اخیر میں پھر لکھتے ہیں کہ: ”یا اللہ! میں تیرے ہی تقدس کا دامن پکڑ کر تیرے حضور ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔“

آخری سطروں میں تحریر کرتے ہیں کہ: ”مولوی ثناء اللہ صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٩)

عبارت مذکور الصدر کسی تشریح کی محتاج نہیں۔ مرزا قادیانی کو اپنی اس دعا کی قبولیت پر اتنا گھمنڈ تھا کہ اخیر میں لکھ دیا: ”اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“

لیکن اللہ تعالیٰ نے واقعی سچا فیصلہ فرما دیا کہ جھوٹے کو سچے کی زندگی میں ہلاک کر دیا۔ مولوی صاحب بفضلہ تعالیٰ ١٩٤٨ء تک بدستور مرزائی ہفوات کی تردید فرماتے رہے اور مرزا قادیانی نے مئی ١٩٠٨ء میں بمرض ہیضہ صرف ١١ گھنٹے بیمار رہ کر مقام لاہور وفات پائی۔ ان کے نقطۂ خیال سے یہ مہتم بالشان دعا بھی نامقبول اور مردود ہوئی۔

مرزائی صاحبان مرزا قادیانی کی ان دس ١٠ عظیم الشان نامقبول و مردود دعاؤں کو ملاحظہ کریں اور پھر مرزا قادیانی کے بیان کردہ اصول و نص قرآنی (وما دعاء الكافرين الا فی ضلال) پر مکرر غور کریں۔ کہ مرزا قادیانی تو صرف طاعون کی دعا کے متعلق اپنے مخالفین علماء کو للکارتے تھے کہ تم کافر ہو اس لئے تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔ مگر یہاں مرزا قادیانی کی

٣٧

صفحہ ٤٧٦

نامقبول دعاؤں کا ایک مجموعہ دکھایا گیا ہے تو پھر اس اصول کی رو سے مرزا قادیانی کے کافر ہونے میں کیا شک ہے۔ جو ان کا خود مجوزہ ہے۔

دو بوتل برانڈی

”حضور مرزا قادیانی نے مجھے لاہور سے بعض اشیاء لانے کے لئے ایک فہرست لکھ دی جب میں چلنے لگا تو پیر منظور محمد صاحب نے مجھے روپیہ دے کر کہا کہ دو بوتل برانڈی میری اہلیہ کے لئے پلومر کی دکان سے لیتے آئیں۔ میں نے کہا کہ اگر فرصت ہوئی تو لیتا آؤں گا۔ پیر صاحب فوراً حضور اقدس کی خدمت میں گئے اور کہا کہ حضور مہدی حسین میرے لئے برانڈی کی بوتلیں نہیں لائیں گے۔ حضور ان کو تاکید فرمادیں۔ حقیقتاً میرا ارادہ لانے کا نہ تھا۔ اس پر حضور اقدس نے مجھے بلا کر فرمایا کہ میاں مہدی حسین جب تک تم برانڈی کی بوتلیں نہ لے لو لاہور سے روانہ نہ ہونا۔ میں نے سمجھ لیا کہ اب میرے لئے لانا لازمی ہے۔ میں نے پلومر کی کی دکان سے برانڈی کی دو بوتلیں غالباً چار روپیہ میں خرید کر پیر صاحب کو لا دیں۔ ان کی اہلیہ کے لئے ڈاکٹروں نے بتائی ہوں گی۔“

(اخبار الحکم قادیان ج ٢٩ نمبر ٢٥، مورخہ ٥ نومبر ١٩٢٦ء)

ٹانک وائن

محبی اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے آپ اشیاء خوردنی خود خرید دیں اور ایک بوتل ٹانک وائن پلومر کی دکان سے خرید دیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے باقی خیریت ہے۔ والسلام۔ مرزا غلام احمد عفی عنہ!

(خطوط امام بنام غلام ص ٥)

ٹانک وائن کی حقیقت لاہور میں پلومر کی دکان سے ڈاکٹر عزیز احمد صاحب کی معرفت معلوم کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب جواباً تحریر فرماتے ہیں۔ حسب ارشاد پلومر کی دکان سے دریافت کیا گیا۔ جواب حسب ذیل ملا: ”ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے سربند بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی قیمت ٨ صد ہے۔

(سودائے مرزا ص ٣٩ حاشیہ)

ٹانک وائن کا فتویٰ

پس ان حالات میں اگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) برانڈی اور رم کا استعمال بھی اپنے مریضوں سے کرواتے یا خود بھی مرض کی حالت میں کر لیتے تو وہ خلاف شریعت نہ تھا۔ چہ جائیکہ ٹانک وائن جو ایک دوا ہے۔ اگر اپنے خاندان کے کسی ممبر یا دوست کیلئے جو کسی لمبے مرض سے اٹھا

٣٨

صفحہ ٤٧٧

ہو اور کمزور ہو یا بالفرض محال خود اپنے لئے بھی منگوائی ہو اور استعمال بھی کی ہو تو اس میں کیا حرج ہو گیا۔ آپ کو ضعف کے دورے ایسے شدید پڑتے تھے کہ ہاتھ پاؤں سرد ہو جاتے تھے۔ نبض ڈوب جاتی تھی۔ میں نے خود ایسی حالت میں آپ کو دیکھا ہے کہ نبض کا پتہ نہیں ملتا تھا تو اطبا ڈاکٹروں کے مشورے سے آپ نے ٹانک وائن کا استعمال اندریں حالات کیا ہو تو عین مطابق شریعت ہے اور تمام دن تصنیفات کے کام میں لگے رہتے تھے۔ راتوں کو عبادت کرتے تھے۔ پڑھا نا بھی پڑتا تھا تو اندریں حالات اگر ٹانک وائن بطور علاج بھی پی لی ہو تو کیا قباحت لازم آگئی۔

(از ڈاکٹر بشارت احمد اخبار پیغام صلح ٤؍ مارچ ١٩٣٥ء و ج ٢٣ نمبر ٦٥، مورخہ ١١؍اکتوبر ١٩٣٥ء)

گھر کا بھیدی

مرزا شیر علی صاحب جو مرزا قادیانی کے سالے اور ان کے فرزند مرزا فضل احمد صاحب کے خسر تھے۔ انہیں لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جانے سے روکنے کا بڑا شوق تھا۔ راستہ میں ایک لمبی تسبیح لے کر بیٹھ جاتے۔ تسبیح کے دانے پھیرتے جاتے اور منہ سے گالیاں دیتے جاتے تھے۔ بڑا لٹیرا ہے۔ لوگوں کو لوٹنے کے لئے دکان کھول رکھی ہے۔ بہشتی مقبرہ کی سڑک پر دارالضعفاء کے پاس بیٹھے رہتے بڑی لمبی سفید داڑھی تھی سفید رنگ تھا۔ تسبیح ہاتھ میں لئے بڑے شاندار آدمی معلوم ہوتے تھے اور مغلیہ خاندان کی پوری یادگار رکھتے تھے۔ تسبیح کے لئے بیٹھے رہتے جو کوئی نیا آدمی آتا اسے اپنے پاس بلا کر بٹھا لیتے اور سمجھانا شروع کر دیتے کہ مرزا قادیانی سے میری قریبی رشتہ داری ہے۔ آخر میں نے کیوں نہ اسے مان لیا۔ اس کی وجہ یہی کہ میں اس کے حالات سے اچھی طرح واقف ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ ایک دوکان ہے جو لوگوں کو لوٹنے کے لئے کھولی گئی ہے۔ میں مرزا کے قریبی رشتہ داروں میں سے ہوں۔ اس کے حالات سے خوب واقف ہوں۔ اصل میں آمدنی کم تھی۔ بھائی نے جائیداد سے بھی محروم کر دیا۔ اس لئے یہ دکان کھول لی ہے۔ آپ لوگوں کے پاس کتابیں اور اشتہار پہنچ جاتے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں کتنا بڑا بزرگ ہوگا۔ پتہ تو ہم کو ہے جو دن رات اس کے پاس رہتے ہیں۔ یہ باتیں میں نے آپ کی خیر خواہی کے لئے آپ کو بتائی ہیں۔

(اخبار الفضل قادیان نمبر ٩١ ج ٢٤ مورخہ ١٨؍اپریل ١٩٣٦ء)

مرزا قادیانی کی حقیقت گھر کے بھیدی نے شائع کی ہے۔ تعجب و حیرت ہوتی ہے کہ ایسے شخص کے جال میں لوگ کیسے پھنس گئے۔ خداوند تعالیٰ محفوظ رکھے ہر مسلمان کو ہدایت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

٣٩

صفحہ ٤٧٨

تازیانہ عبرت

متنبی قادیان قانونی شکنجہ میں گورداسپور کے فوجداری مقدمات

مرتبہ: جناب مولوی محمد کرم الدین صاحب دبیر، رح، رئیس بھیں، ضلع جہلم! متنبی قادیان یعنی مرزا غلام احمد ولد مرزا غلام مرتضی ملک پنجاب قریہ قادیان میں مغلوں کے گھر پیدا ہوئے۔ اردو فارسی کے علاوہ کسی قدر عربی کی تعلیم بھی حاصل کی۔ علم طب میں بھی کچھ دخل تھا۔ پہلے آپ سیالکوٹ میں ایک ادنیٰ ملازمت (محرر جرمانہ) کی اسامی پر نوکر تھے۔ پھر آپ کو قانون پڑھ کر وکیل بننے کی ہوس ہوئی۔ قانونی کتب کی رٹ لگا کر امتحان مختاری میں شامل ہوئے۔ جس میں کامیابی نہ ہوئی۔ بالآخر بہت کچھ سوچ بچار کے بعد یہ بات سوچی کہ بحث ومباحثہ کا سلسلہ چھیڑ کر پہلے شہرت حاصل کی جائے۔ ازیں بعد ملہمیت مجددیت وغیرہ دعاویٰ کی اشاعت کر کے کچھ لوگ اپنے معتقد بنا لئے جائیں اور عوام کو دام تزویر میں پھنسا کر خوب لوٹا جائے۔ زمانہ آزادی کا تھا۔ شہرت و ناموری حاصل کرنے کے لئے پریس قوی ذریعہ موجود تھا۔ بحث و مباحثہ کی طرح ڈال کر آریائوں، عیسائیوں سے چھیڑ خانی شروع کر کے اشتہار بازی کی گئی۔

جب پبلک کی ادھر کسی قدر توجہ ہوئی تو ایک لمبا چوڑا اشتہار دیا کہ حقانیت اسلام کے متعلق ایک کتاب تصنیف کی گئی ہے۔ (براہین احمدیہ) جو تین سو جزو کی ہے اور اس میں تین سو زبردست دلائل صداقت اسلام کے لکھے گئے ہیں۔ اس کی قیمت فی جلد پچیس روپیہ مشتہر کی گئی۔ لوگ اشتہار دیکھ کر فریفتہ ہو گئے اور دھڑا دھڑ روپے آنا شروع ہو گئے۔ حتیٰ کہ تھوڑے دنوں میں دس ہزار روپیہ مرزا قادیانی کے پاس جمع ہو گیا۔ کتاب بمشکل پینتیس جزو کی لکھی جاسکی۔ لیکن دلائل نمبر ایک سے بڑھ نہ سکا اور یہ ٣٥ جزو بھی اس طرح پورے ہوئے کہ صفحہ پر جلی قلم سے چند سطور لکھ کر ص پورا کر دیا گیا۔ خریدار اس انتظار میں رہے کہ ضرور تین سو جزو کتاب میں تین سو زبردست دلائل حقانیت اسلام وافضیلت قرآن کریم کا مطالعہ کریں گے اور مرزا قادیانی لطائف الحیل سے وعدہ وعید بھی کرتے رہے۔ چنانچہ اپنی آخری کتاب (حقیقت الوحی ص ٤٣٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٧) میں لکھا کہ ٢٣ واں سال ختم نہ ہوگا کہ تین سو نشان لکھ دیئے جائیں گے۔ لیکن یہ سب کچھ دروغ بیانی اور طفل تسلی تھی۔ نہ کتاب کے تین سو جزو پورے ہوئے۔ نہ تین سو دلائل لکھے جاسکے۔ آخر دلائل کی جگہ ان نشانات نے لے لی جو حقیقت الوحی میں لکھے گئے ہیں کہ فلاں روز ہمیں اتنے روپے موصول ہوگئے۔ فلاں روز ہماری طبیعت علیل ہوگئی۔ فلاں دن لڑکے کا پائوں پھسل گیا۔ فلاں فلاں لڑکا حرم سرا میں پیدا ہو گیا۔ فلاں مقدمہ میں ہمیں جیت ہوگئی۔ وغیرہ ذالک من

٤٠

صفحہ ٤٧٩

الخرافات۔ (ان نشانات پر ہم کسی قدر روشنی ڈالیں گے) لیکن ان نشانات کا نمبر بھی ٢٠٥ تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ چنانچہ آخری یہی نمبر تتمہ حقیقت الوحی میں درج ہو کر خاتمہ ہو گیا۔

مناسب تو یہ تھا کہ مرزا قادیانی کی اس صریح دھوکہ بازی اور ابلہ فریبی کو دیکھ کر مسلمان ہوشیار ہو جاتے اور سمجھ لیتے کہ یہ سب دکانداری ہے اور روپیہ ٹکہ بٹورنے کا سامان ہے اور بس۔ لیکن دنیا میں بہت سے عقل کے اندھے ایسے بھی موجود ہیں کہ اپنی خوش اعتقادی سے ایسے ٹھگ بازوں کی دکان کی گرم بازاری کا باعث بنتے ہیں۔ چنانچہ کئی ایک اشخاص آپ کے حلقہ مریدی میں داخل ہو گئے۔ مرزا قادیانی کا اس سے حوصلہ بلند ہو گیا۔ وہ طرح طرح کے دعاوی کرنے لگے۔ پہلے صرف ملہمیت اور مجددیت کا دعویٰ کیا۔ پھر ظلی و بروزی نبی کے بھیس میں جلوہ گر ہوئے۔ بالآخر کامل و مکمل نبی و رسول ہونے کا دعویٰ فرمایا۔ بلکہ الوہیت کا جامہ پہن کر نیا آسمان اور نئی زمین کی خالقیت کا بھی دم بھرنے لگے اور ابن اللہ بلکہ معاذ اللہ ابو اللہ ہونے کے بھی الہام تراشے گئے۔ (ان کی تفصیل آگے آئے گی)

مرزا قادیانی کا ادعائے نبوت

مرزا قادیانی کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے لئے ان کا ادعائے نبوت ہی کافی دلیل ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بڑے بڑے جلیل القدر صحابی تھے۔ کسی نے نبوت کا دعویٰ کرنے کی جرأت نہ کی۔ آپ ﷺ کے بعد بڑے بڑے پائے کے اولیائے کرام حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ جیسے سرخیل اولیاء کرام ہو گزرے ہیں لیکن ختم نبوت کی مہر توڑنے کا کسی کو حوصلہ نہ ہوا۔ لیکن چودھویں صدی کا مغل زادہ جس کے حسب نسب کا پتہ ان کا ایک محرم راز ہم وطن حسب ذیل رباعی میں دیتا ہے۔ رباعی:

یک قاطع نسل و یک مسیحائے زماں یک مہتر لال بیگیاں دوراں
افتد چو گزر بقادیانت گاہے ایں خانہ تمام آفتاب است بداں

پہلے مبلغ اسلام کی حیثیت میں اٹھتا ہے۔ پھر ملہم و مجدد و محدث کا خطاب حاصل کر کے جھٹ مہدی، پھر مثل مسیح پھر یک لخت اصل مسیح بن جاتا ہے۔ پھر اس سے ترقی کر کے نبی ظلی بروزی کا جامہ پہنتا پھر کامل و مکمل نبی رسول بن کر دنیا کو للکارتا ہے کہ میری رسالت کا کلمہ پڑھو۔ ورنہ تم سب کافر ہو۔ کیا ادعائے نبوت کوئی معمولی دعویٰ ہے۔ اگر سلطنت اسلام ہوتی تو پہلے ہی روز اس مدعی رسالت کا قصہ تمام کر دیا جاتا۔ کیا مسیلمہ کذاب، اسود عنسی کلمہ توحید کے قائل نہ تھے۔ کیا سجاح نے کوئی اور جرم کیا تھا کہ سب کام چھوڑ کر حضرت صدیق اکبرؓ نے ان سے جہاد کی ٹھانی

٤١

صفحہ ٤٨٠

اور سیف اللہ الجبار خالد جرار کو ان مرتدین کے استیصال کے لئے روانہ کیا صرف ان لوگوں کا جرم ادعائے نبوت تھا۔ جس کی وجہ سے خلیفہ اول کو ان پر فوج کشی کرنی پڑی اور ان لوگوں کی طاقت مرزائے قادیان سے کم نہ تھی۔ نہ ان کی جماعت مرزا کی جماعت سے کمزور تھی۔ مرزا تو اپنی امت کی تعداد بلا ثبوت لکھولکھ بیان کرتا ہے۔ (اس کے متعلق کچھ آگے ذکر آئے گا)

لیکن مسیلمہ کذاب کے ماننے والوں کی تعداد فی الواقع لکھولکھ تھی۔ چنانچہ کتب تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جس وقت حضرت خالدؓ سے اس کی نبرد آزمائی ہوئی۔ اس وقت صرف مقدمہ الجیش میں مسیلمہ کے چالیس ہزار سوار کا شمار کیا گیا تھا۔ آخر کار ان مدعیانِ نبوت کا خاتمہ کیا جا کر آئندہ کے لئے ادعائے نبوت کا سدباب کر دیا گیا اور آج تک کسی بطال کو دعوائے نبوت کرنے کا حوصلہ نہیں ہوا۔ چونکہ یہ زمانہ کفر و الحاد کا ہے۔ نبی و رسول تو کیا کوئی الوہیت کا مدعی بھی ہو کوئی نہیں پوچھتا کہ تمہارے منہ میں کتنے دانت ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کو ادعائے نبوت کی جرأت ہوئی۔ چنانچہ اس لئے مرزا قادیانی حکومت وقت کے ہمیشہ مدح و ثناء میں رطب اللساں رہے۔

چنانچہ (ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣) میں رقمطراز ہیں: ”اس لئے ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنا چاہئے کہ انگریزوں کی فتح ہو۔ (خواہ سلطنت اسلامی سے مقابلہ کیوں نہ ہو۔ مصنف) کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسانات ہیں۔ (یہ کیا کم احسان ہے کہ آپ رسالت بلکہ الوہیت کے مدعی بن کر بھی صحیح وسلامت رہے۔ مصنف)

دوسری جگہ فرماتے ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اگر ہم ان کا شکریہ ادا نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے شکر گزار نہیں۔ کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا۔ (خلق خدا کو لوٹنا اور مزے اڑانے۔ مصنف) اور پا رہے ہیں۔ وہ ہم کسی اسلامی سلطنت میں نہیں پاسکتے۔

(ازالہ اوہام ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)

سچ ہے اسلامی گورنمنٹ کب گوارا کر سکتی تھی کہ آپ نبی و رسول کہلا کر اپنے مسکن کو دارالامان، اپنے کنبہ کو اہل بیت، اپنی مستورات کو امہات المومنین کے خطابات عطا کریں اور اپنی مسجد کو مسجد اقصیٰ سے تعبیر کریں۔ تمام انبیاء و رسل پر اپنا تفوق ظاہر کر کے لکھیں۔

آنکہ داد است ہر نبی را جام داد ایں جام را مرا بہ تمام

مرزا قادیانی پر فوجداری مقدمہ

اب ہم اس معرکہ کے مقدمے کا ذکر کرتے ہیں جو زیر دفعات ٥٠٠، ٥٠١، ٥٠٢

٤٢

صفحہ ٤٨١

تعزیرات ہند میری طرف سے مرزا قادیانی اور ان کے مخلص مرید حکیم فضل الدین بھیروی ثم القادیانی کیخلاف ازالہ حیثیت عرفی کا مواہب الرحمٰن کی عبارت مندرجہ ذیل (ص١٢٩،خزائن ج١٩ ص٣٥٠) کی بناء پر دائر کیا گیا تھا اور جس میں مرزا قادیانی دو سال تک سرگرداں اور پریشان رہے۔ آخر عدالت مہتمم آتمارام صاحب مجسٹریٹ درجہ اول گورداسپور نے مرید و مرشد کو سات سو روپیہ جرمانہ ورنہ چھ و پانچ ماہ قید کی سزاء ہوئی اور سینکڑوں روپے اپیل پر خرچ ہو کر بمشکل جرمانہ معاف ہوا۔

وجہ دائری مقدمہ

ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ مرزا قادیانی کی بد زبانی سے کسی ملت کسی فرقہ کا کوئی متنفس نہ بچا ہو گا جو کہ ان کی گالیوں کا نشانہ نہ بنا ہو۔ بعض نے آپ کو ترکی بہ ترکی سنائیں اور بعض سنجیدہ مزاجوں نے اپنی عالی وقاری سے مطلق سکوت کیا۔ جوں جوں دوسری طرف سے خاموشی ہوتی گئی۔ مرزا قادیانی کا حوصلہ بلند ہوتا گیا اور گالیوں میں مشاق ہوتے گئے۔ حتیٰ کہ گویا فن گالیوں کے آپ پورے امام بن گئے اور گالیوں کی ایجاد میں آپ نے وہ یدطولیٰ حاصل فرمایا کہ اس علم کے آپ استاد اور ادیب مانے جانے لگے اور دنیا قائل ہو گئی کہ کوئی شخص امام الزماں کا مقابلہ اس فن میں کرنے کے قابل نہیں رہا ہے۔ آخر رفتہ رفتہ یہ معاملہ حکام وقت کے سامنے پیش آیا اور مختلف مواقع پر آپ کی وہ تصنیفات جو مغلظات کا ایک مجموعہ تھیں۔ دفتر عدالت میں پیش ہو گئیں۔ چنانچہ بعض بیدار مغز حکام نے مرزا قادیانی کو ڈانٹا کہ مرزا قادیانی منہ کو سنبھالئے اور گورنمنٹ انگلشیہ کے اصول امن پسندی کو نظر انداز نہ فرمائیے۔ عامہ خلائق کی دل آزاری اور ایذاء رسانی سے باز آئیے۔ ورنہ معاملہ دگرگوں ہو جائے گا۔ وہاں مرزا قادیانی ، عدالت کے تیور دیکھ کر آئندہ کے لئے قسم کھانے لگے۔ کہ معاف کیجئے آئندہ ایسا نہ ہوگا۔

نقل فرد جرم بنام مرزا غلام احمد قادیانی

میں لالہ چندو لعل صاحب مجسٹریٹ اس تحریر کی رو سے تم مرزا غلام احمد ملزم پر حسب تفصیل ذیل الزام قائم کرتا ہوں کہ تم نے کتاب (مواہب الرحمٰن ص ١٢٩، خزائن ج١٩ ص٣٥٠) تصنیف کر کے شائع کی جس میں (مواہب الرحمٰن ص ١٢٩، خزائن ج ١٩ ص٣٥٠) میں مستغیث کی نسبت الفاظ لئیم، بہتان عظیم اور کذاب استعمال کئے جو اس کی توہین کرتے ہیں اور یہ کہ تم نے تاریخ ١٧؍ ماہ جنوری ١٩٠٣ء کو یا اس کے قریب موقعہ جہلم میں شائع کئے۔ لہٰذا تم اس جرم کے مرتکب ہوئے جس کی سزا مجموعہ تعزیرات ہند کی دفعہ ٥٠٠ و ٥٠١ و ٥٠٢ میں مقرر ہے اور جو میری سماعت کے لائق

٤٣

PDF 483
PDF 484
صفحہ ٤٨٤

جہلم مستغیث ۔ بنام مرزا غلام احمد و حکیم فضل دین مالک مطبع ضیاء الاسلام قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور مستغاث علیہم ۔ جرم زیر دفعہ ٥٠٠، ٥٠١، ٥٠٢ تعزیرات ہند ۔

یہ مقدمہ ٢٦؍ جنوری ١٩٠٣ء کو جہلم میں دائر کیا گیا تھا اور اس ضلع میں بموجب حکم چیف کورٹ ٢٩؍ جون ١٩٠٣ء کو منتقل ہوا۔ اس مقدمہ میں ایک غیر معمولی عرصہ تک طول کھینچا۔ کسی قدر تو مجسٹریٹوں کی تبدیلی کی وجہ سے طوالت ہوئی اور زیادہ تر فریقین کی کارروائی کی طوالت کے باعث یہ مقدمہ ازالہ حیثیت عرفی کا زیر دفعہ ٥٠٠ تعزیرات ہند ملزم نمبر ١ پر ہے اور زیر دفعہ ٥٠١، ٥٠٢ تعزیرات ہند ملزم نمبر ٢ پر۔ فریقین مسلمان ہیں اور مذہبی اختلاف کی وجہ سے شمشیر بکف ہیں۔ مستغیث اس فرقہ سے ہے جس کا سرپرست پیر مہر علی شاہ صاحب ساکن گولڑہ ضلع راولپنڈی میں ایک مشہور آدمی ہے۔ یہ فرقہ اپنے پرانے مذہبی اعتقادات کا پورا معتقد ہے۔ ملزم نمبر ١ ایک نئے فرقہ جس کا نام احمدی یا مرزائی کہتے ہیں۔ بانی اور مذہبی پیشوا ہے اور اس کے بہت سے مرید ہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ میں پیغمبر، مسیح موعود ہوں اور خدا تعالیٰ سے مجھے مکالمہ حاصل ہے اور مجھے الہام یا وحی اس کی طرف سے اترتی ہے اپنے اس دعویٰ کی تائید میں وہ وقتاً فوقتاً پیشگوئیاں کرتا رہتا ہے۔ ملزم نمبر ٢ ملزم نمبر ١ کے خاص مریدوں میں سے ہے نیز مطبع ضیاء الاسلام واقع قادیان ضلع گورداسپور کا مالک ہے۔ دوسرا فریق ملزم نمبر ١ اور اس کے معاونین کے دعویٰ کی تردید کرتا رہتا ہے۔ ١٩٠١ء میں ملزم نمبر ١ یعنی مرزا غلام احمد نے ایک کتاب عربی زبان میں جس کا نام اعجاز المسیح (مسیح کا معجزہ) ہے طبع کی اس میں اس نے کل دنیا کو مخاطب کیا کہ اس کی فصاحت کے برابر کوئی شخص کتاب لکھ دے اور ساتھ ہی بطور پیش گوئی کے یہ دھمکی دی کہ جو شخص ایسی کتاب لکھنے کا ارادہ کرے گا وہ زندہ نہیں رہے گا۔ مگر اس کے مقابلہ میں پیر مہر علی شاہ (صاحب) ساکن گولڑہ نے ایک کتاب مسمی بہ سیف چشتیائی ۔ (چشتی کی تلوار) تالیف کی اور شائع کی ۔ اس کی تردید میں مرزا غلام احمد نمبر ١ نے ایک کتاب لکھنی شروع کی جس کا نام نزول المسیح (مسیح کا اترنا) رکھا۔

١٤؍ جنوری ١٩٠٣ء کو مرزا غلام احمد ملزم نمبر ١ نے ایک اور کتاب شائع کی جس کا نام مواہب الرحمٰن ہے۔ جو ملزم نمبر ٢ کے مطبع واقع قادیان میں چھپی۔ یہ کتاب مقدمہ کی اصل بناء ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں مذہبی رنگ میں لکھی گئی ہے اور بین السطور فارسی میں ترجمہ کیا ہوا ہے۔ مضمون بالا (استغاثہ ص ١٢٩، خزائن ج ١٩ص ٣٥٠) پر درج ہے اور ذیل کا اقتباس جو لیا گیا ہے مضمون بنائے استغاثہ کو ظاہر کرتا۔ اس میں ملزم نمبر ١ اس طرح لکھتا ہے۔ میری نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے مجھے ایک لئیم آدمی اور اس کے بہتان عظیم سے اطلاع دی ہے

٣٦

صفحہ ٤٨٥

اور مجھے الہام کیا ہے کہ مذکورہ بالا آدمی میری عزت کو نقصان پہنچائے گا اور مجھے یہ خوشخبری بھی دی گئی تھی کہ وہ بدی لوٹ کر میرے دشمن پر پڑے گی۔ جو کہ الکذاب المہین ہے۔ لئیم اور بہتان عظیم کے الفاظ اس عربی کتاب کی پانچویں اور آٹھویں سطر میں ہیں۔ بیان کیا گیا ہے کہ یہ مستغیث کی ازالہ حیثیت عرفی کرتے ہیں اور ملزم نے مستغیث کی عزت کو نقصان پہنچانے کی نیت سے چھاپے ہیں۔

ملزم نمبر ١ نے اقرار کیا ہے کہ وہ اس کتاب کا مصنف ہے اور یہ کہ ١٤؍ جنوری ١٩٠٣ء کو چھاپی گئی اور ١٧؍ جنوری کو جہلم میں تقسیم کی گئی اور یہ بھی اقرار کیا ہے کہ الفاظ زیر بحث مستغیث کی نسبت استعمال کئے گئے ہیں اور یہ الفاظ بنفسہ مزیل حیثیت ہیں۔ ملزم نمبر ٢ تسلیم کرتا ہے کہ یہ کتاب اس کے مطبع میں اور اس کے زیر اہتمام چھاپی گئی اور اس نے اس کی جلدیں فروخت کیں۔ فرد قرار داد جرم بر خلاف ملزمان زیر دفعہ ٥٠٢، ٥٠١، ٥٠٠ تعزیرات ہند مرتب کی گئی۔ ہر دو ملزم ارتکاب جرم سے انکاری ہیں اور وہ حسب ذیل صفائی پیش کرتے ہیں:

جہلم کے مضمونوں میں جو اس نے ١٦ اور ١٣؍ اکتوبر ١٩٠٢ء کو اخبار مذکور میں دیئے۔ مشہور کرنے سے اپنی تمام عزت ضائع کر دی ہے اور یہ کہ اس کی جب کوئی عزت باقی نہیں تو مستغیث کا کوئی حق نہ تھا کہ وہ کہتا کہ عوام میں اس کی عزت ہو گئی ہے۔ کیونکہ کوئی عزت باقی نہ رہی تھی جو گم ہوتی۔

مستثنیات نمبر ١، ٣، ٦، ٩ دفعہ ٤٩٩ تعزیرات ہند ملزم کا یہ کام درست اور حق بجانب ہے۔

الاخبار میں استعمال کئے ہیں۔ آئندہ واقعات کے انکشاف اور مقدمہ کو آسان کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایک مختصر بیان ان واقعات کا لکھا جاوے جو فریقین کے درمیان واقعہ ہوئے نزول المسیح کی تالیف کے اثناء میں مرزا اور اس کے دومریدوں کو بھیں سے چند خطوط پہنچے جو مستغیث کی جائے سکونت ہے۔ جو خطوط ایک دوسرے مقدمہ کی مسل میں شامل ہیں۔ (فضل دین بنام کرم دین جرم زیر دفعہ ٤٢٠) تعزیرات ہند اور جو بظاہر ثابت ہوتا ہے کہ بعض تو اسی مستغیث کے لکھے ہوئے تھے اور کچھ مستغیث کے شاگرد شہاب الدین کے لکھے ہوئے تھے۔ (دیکھو فیصلہ عدالت ہذا بمقدمہ یعقوب علی بنام کرم دین و فقیر محمد )

٤٧

PDF 487
PDF 488
صفحہ ٤٨٨

کے لئے یا اپنے چال چلن کو ان الزاموں سے پاک کرنے کے لئے ضروری تھی۔ یہ بہت غیر اغلب ہے اگر غیر ممکن نہ ہو کہ مصنف بالکل کوئی اشارہ صریحاً یا ضمناً ان کی طرف یا ان خطوط کی طرف نہ کرتا جو الحکم میں شائع ہوئے۔

سوم....... اس کتاب کے ١٢٦، ١٢٧ ص پر (مواہب الرحمٰن، خزائن ج١٩، ص٢٢٧) مصنف نے محمد حسن فیضی کی موت کو بطور پیشگوئی کے بیان کیا ہے۔ لیکن ایسا بیان ممکن نہیں ہے کہ وہ لکھتا ہے اگر سراج الاخبار کا مضمون اس کے دل میں ہوتا۔ کیونکہ سراج الاخبار کے مضامین میں اس بیان کی تردید کی گئی تھی۔ دیکھو ملزم کا بیان جو اس نے ٢٩ اگست ١٩٠٣ء کو دیا ہے۔ جو اس مقدمہ کی مسل میں شامل ہے۔ جو زیر دفعہ ٤٢٠ تعزیرات ہند ہے۔

چہارم....... ملزم کو اس بات کا یقین نہ تھا کہ خطوط کے مضمون جو الحکم میں چھپے تھے اور وہ مضامین جو سراج الاخبار میں چھپے ہیں۔ درست ہیں۔ اپنے دل کی ایسی حالت میں مصنف کو ممکن نہ تھا۔ ایسے خیالات کے ظاہر کرنے کی جرات کرتا جو اس کتاب کے (ص ١٢٩، ١٣٠، خزائن ج١٩ ص ٣٥٠) میں ہیں جیسا کہ اس نے ظاہر کئے ہیں۔

پنجم....... ملزم نمبر ١ سراج الاخبار کے مضمونوں کی بناء پر کس طرح الزام لگا سکتا تھا۔ جب کہ ان مضمونوں کے مصنف کا قرار دینا بحث تھا اور یہ امر عدالت نے فیصلہ کرنا تھا جو ابھی عدالت نے نہ کیا تھا۔

ششم....... سراج الاخبار کے مضمون ماہ اکتوبر ١٩٠٢ء کے آغاز میں لکھے گئے۔ وہ صفحات جن میں مزیل حیثیت عبارت ہے۔ قریباً چار ماہ کے بعد نکلے اگر یہ صفحے ان مضامین کے جواب میں لکھے گئے تھے تو یہ ضروری تھا کہ اس سے بہت پہلے لکھے جاتے۔

ہفتم....... اب کتاب پر غور کرو اور دیکھو کہ وہ کیا کہتی ہے۔ یہ ملزم کے بیان کی تردید کرتی ہے۔ (ص ١٢٩، ١٣٠، خزائن ج١٩ ص ٣٥٠) کے متن سے اس امر کی کافی شہادت ملتی ہے کہ یہ سراج الاخبار کے خطوط کے جواب میں نہیں لکھی گئی۔ کیونکہ اس عبارت میں ان کی بابت کوئی ذرہ بھی اشارہ نہیں ہے۔ بلکہ ان مقدمات کی طرف اشارہ ہے جو مستغیث نے جہلم میں دائر کئے۔ (سطر ٥، ٦ ص ١٢٩، خزائن ج١٩ ص ٣٥٠) میں مقدمات کا صاف حوالہ ہے (عربی عبارت میں) جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ (ملزم نمبر ١) ایک عدالت میں گرفتاروں کی طرح حاضر ہوں گا۔ کیونکہ ملزم کے نام وارنٹ جاری ہوا تھا اور (سطر ٧، ٨ ص ١٣٠، خزائن ج١٩ ص ٣٥٠، ٣٥١) میں مستغیث نے جو مقدمہ دائر کرنے کی غرض منجانب مستغیث لکھی ہے اور اس ص کی سطر ٥ میں وکلاء کرنے کی غرض مندرج ہے اور

٥٠

استغاثوں کی فتح یابی سے جو نتائج ہونے ص ١٢٩ سطر ٧ میں بیان کی گئی ہے۔ کیو استغاثہ دائر کرنے کا وقت ایک سال ہ مقدمات ٩ دسمبر ١٩٠٢ء کو دائر کئے گئے ہے کہ وہ جیل خانہ میں نہیں جائے گا۔ او کرتا ہے کہ مستغیث کی اس حرکت سے

ہشتم....... ایک اور امر بھی ہے جو میر میں ٩ دسمبر ١٩٠٢ء کو دائر کئے اور ملز ١٤؍ جنوری ١٩٠٣ء کو تالیف کی اور یہ کت یعنی اس دن جب کہ مقدمات کی پیشی کتاب میں باہمی تعلق ہے۔ مستغیث ذریعہ گرفتار ہو کر عدالت جہلم میں حاض موجبات موجود تھے۔ ان سب امور کی

نہم....... مستغیث کے استغاثہ جو ہے۔ کہ کتاب کے ان صفحات اور سر جاوے اور اس غرض کے لئے دھمکانہ کہ گواہوں کے بیانات کے اختلاف الرحمٰن کی مزیل حیثیت عبارت اور م وجہ سے صفائی کا پہلا عذر بالکل خاک

اب دوسرے عذر کی بابت

تین، چھ، نو ہیں:

الف....... ان تمام مستغیثات پر ا جہلم کے مضامین کی بنیاد پر ہے اس پہنچتی جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے

ب....... پہلی استغاثہ کی بابت ی ہونی چاہئے اور اس سے پبلک کا

صفحہ ٤٨٩

استغاثوں کی فتح یابی سے جو نتائج ہونے ممکن تھے۔ ان کی طرف اشارہ ص ١٢٩ کی اخیر سطر میں اور ص ١٢٩ سطر ٧ میں بیان کی گئی ہے۔ کیونکہ مقدمے خارج ہو چکے تھے۔ ص ١٢٩ کے سطر ١٠ میں استغاثہ دائر کرنے کا وقت ایک سال بعد اس پیشین گوئی ٣١؍ نومبر ١٩٠١ء کو شائع کی گئی اور یہ مقدمات ٩؍ دسمبر ١٩٠٢ء کو دائر کئے گئے۔ ص ١٣٠ کی سطر ٧ میں مصنف بڑی خوشی سے شائع کرتا ہے کہ وہ جیل خانہ میں نہیں جائے گا۔ اور نہ ہی کالے پانی کو بھیجا جائے گا اور آخری سطر میں وہ تسلیم کرتا ہے کہ مستغیث کی اس حرکت سے اس کو غصہ آ گیا تھا۔

ہشتم...... ایک اور امر بھی ہے جو میرے نتیجہ کی تائید کرتا ہے۔ مستغیث نے اپنے مقدمات جہلم میں ٩؍ دسمبر ١٩٠٢ء کو دائر کئے اور ملزم نمبر ١ نے اپنی کتاب کے صفحات ١٢٩، ١٣٠۔ ١٢، ١٣ یا ١٤؍ جنوری ١٩٠٣ء کو تالیف کی اور یہ کتاب ١٤؍ تاریخ کو شائع کی اور ١٧؍ ماہ مذکور کو جہلم میں تقسیم کی یعنی اس دن جب کہ مقدمات کی پیشی تھی۔ یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ان مقدمات اور اس کتاب میں باہمی تعلق ہے۔ مستغیث کے مقدمات برخلاف ملزم دائر تھے۔ ملزم وارنٹ کے ذریعہ گرفتار ہو کر عدالت جہلم میں حاضر ہوا اور یہ توہین۔ تکلیف تردد۔ بے عزتی۔ ذلت وغیرہ کے موجبات موجود تھے۔ ان سب امور کی شکایت کی گئی ہے۔

نہم...... مستغیث کے استغاثہ جات جہلم کے جواب میں ملزم مضحکہ خیز اور سفلہ جرات کرتا ہے۔ کہ کتاب کے ان صفحات اور سراج الاخبار ٦، ١٤؍ اکتوبر ١٩٠٢ء کے درمیان تعلق ثابت کیا جاوے اور اس غرض کے لئے دھینگا زوری کی دور از قیاس تاویلات پیش کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا۔ کہ گواہوں کے بیانات کے اختلاف سے بہت قابل ذلت ناکامی کا منہ ملزم نے دیکھا مواہب الرحمٰن کی عدیم الحیثیت عبارت اور سراج الاخبار کے مضامین یا مخطوط میں مطلقاً تعلق نہ ہونے کی وجہ سے صفائی کا پہلا عذر بالکل خاک میں مل جاتا ہے۔

اب دوسرے عذر کی بابت ذکر ہوتا ہے جن مستغیثات پر بھروسہ کیا گیا ہے وہ ایک، تین، چھ، نو ہیں:

الف...... ان تمام مستغیثات پر اعتبار کرنے سے یہ فرض کرنا پڑتا ہے کہ ملزم کا فعل سراج الاخبار جہلم کے مضامین کی بنیاد پر ہے اس کے سواء اور کچھ نہیں۔ لیکن صفائی سے یہ بات پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچی جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔

ب...... پہلی استثناء کی بابت یہ ضرورت ہے کہ وہ عبارت جس میں الزام لگایا گیا ہے وہ سچی ہونی چاہئے اور اس سے پبلک کا فائدہ ہو۔ اس امر کو صفائی سے ملزم ثابت نہیں کر سکا جہلم کے٥ ا جہلم کے

٥١ کے

PDF 491
PDF 492
صفحہ ٤٩٢

نمبر ١ نے شہادت کے اثناء میں مقدمہ زیر دفعہ ٥٠٠ تعزیرات ہند میں بیان کیا کہ میں مستغیث کو صرف اس وقت سے جانتا ہوں کہ جب اس کو کمرہ عدالت میں دیکھا۔ یہ موقعہ پہلی دفعہ ١٧؍ جنوری ١٩٠٣ء کو بمقام جہلم ہوا۔ اس بیان سے پایا جاتا ہے کہ ملزم مستغیث سے اس تاریخ سے پہلے کوئی ذاتی واقفیت نہیں رکھتا تھا۔

١٤؍ جنوری ١٩٠٣ء کو جو اس کتاب کی تصنیف کی تاریخ ہے۔ اس کو کیوں کر معلوم ہوا کہ مستغیث لئیم بہتان عظیم الکذاب المہین تھا۔ البتہ نبوت اور وحی کی طاقت سے وہ اس بات کی واقفیت کا دعویٰ کر سکتا تھا۔ لیکن ایسا یہاں تک نہیں کیا گیا۔ ثابت کرنا تو کجا رہا۔ جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ باہم دشمنی ہے اور ملزم کو دفعہ ٤٩٩ تعزیرات ہند کی مستثنیات کے مفاد سے محروم ہوتا ہے۔ صفائی کا تیسرا عذر بھی پہلے عذر کے ساتھ خاک میں مل جاتا ہے۔ حسب تجویز بالا علاوہ ازیں یہ کہنا درست نہیں ہے کہ الفاظ زیر استغاثہ سراج الاخبار کے جواب میں لکھے گئے ہیں۔

کیونکہ یہ الفاظ وہاں واقع ہی نہیں ہیں۔ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مستغیث اپنے علاقہ میں ایک معزز آدمی ہے اور یہ کہ مولوی ہے۔ عربی علم ادب اور علوم دینیہ کا فاضل ہے اور جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کا مالک ہے اور حکام اس کی عزت کرتے ہیں۔ ایک مذہبی کتاب میں جو مسلمانوں کے استعمال کے واسطے چھاپی گئی ہے۔ اس کو ایک ایسے آدمی کے طور پر ظاہر کرنا جو پیدائشی کمینہ ہو۔ بڑا ہی عادی جھوٹا ہو، بڑا ہی بہتان لگانے والا۔ یہ ایک سخت قسم کا الزام ہے۔ جس سے اس پر ہمیشہ کے لئے دھبہ لگتا ہے کہ وہ کمینہ، بدچلن آدمی ہے۔ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جہاں الفاظ مزیل حیثیت استعمال کئے گئے ہیں اور جن سے ظاہراً جرم قائم ہو سکتا ہو تو ان کا چھاپنا ہی ظاہر کرتا ہے کہ باہم دشمنی تھی جو اصول استثناء نمبر ٤ میں قائم کیا گیا ہے۔ وہ مقدمہ ہذا کے متعلق نہیں۔ بلکہ ایسے موقع پر عائد ہو سکتا ہے جہاں کے الفاظ کے معنوں میں شک ہو۔

(الہ آباد ج ٩ ص ٣٠، تعزیرات ہند نیلسن ص ٥٨٨)

لیکن اس مقدمہ میں الفاظ استغاثہ کردہ کے معنوں کی بابت کوئی شبہ نہیں ہے۔ دفعہ ٤٩٩ کے بموجب صریح مزیل حیثیت ہیں اور یہ کہ جلدی یا غصہ میں لکھے گئے ہیں۔ ملزمان اس کے بالکل جواب دہ ہیں پھر ضابطہ فوجداری کے (ص ٦٧٢، ٦٧٣) میں لکھا ہے کہ جب کوئی آدمی کوئی تحریر چھاپے جو کہ درست نہ ہو جیسا کہ اس مقدمہ میں ہے تو قانون یہ خیال کرے گا کہ اس نے دشمنی سے ایسا کیا ہے اور یہ جرم ہوگا۔ یہ غیر ضروری ہے کہ اس بارے میں زیادہ ثبوت نیت کا دیا جائے۔

٥٤

تعزیرات ہند کے بموجب سے یا جان بوجھ کر یا اس بات کا یقین کیا۔ مین صاحب اپنی تعزیرات ہند کہ اپنے قدرتی اور معمولی کاموں کے ہوا تو قانون خیال کرے گا کہ ملزم نقصان پہنچے۔

پھر یہی مصنف ص ٩٠١ پر میں داخل نہیں۔ پبلک میں ثابت شد سے نکتہ چینی کرنا ایک اور بات ہے ہے۔ ”پھر رتن لال رام چند داس ا میں ذیل کے فقروں میں یہی لکھتا ہ کسی بنیاد کے نہیں ہونا چاہئے۔ یہ کہ تھا کہ الزام سچا ہے ۔“

ایک نکتہ چین کو ہر وقت لیکن اس کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کس تعزیرات ہند میں اس طور پر ذیل کی اپنی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو کے سامنے پیش کرے۔ ہر ایک آ روپے ہوں یا خیالات ہوں خواہ ا لکھتا ہے: ”اگر کوئی آدمی مستغیث کونٹر چارج ہو جاتا ہے اور اگر مز طرز سے نیک نیتی کا سوال پیدا ہو کر سکتا ہے۔ ذیل کے اقتباس میں ہے کہ: ”ایک سچا الزام یا جھوٹا لگا وہ بھی بوجہ طرز تشہیر و اخبارات لکھ بھی کہ جب کہ یہ تشہیر مفاد عام کے

صفحہ ٤٩٣

تعزیرات ہند کے بموجب یہ خیال کیا جائے گا کہ اس نے نقصان پہنچانے کے ارادہ سے یا جان بوجھ کر یا اس بات کا یقین کر کے کہ یہ مستغیث کی عزت کو ضرور نقصان پہنچائے گا ایسا کیا۔ مین صاحب اپنی تعزیرات ہند کے ص ٨٧٦ پر بیان کرتا ہے کہ ہر ایک آدمی قیاس کیا گیا ہے کہ اپنے قدرتی اور معمولی کاموں کے نتیجہ کا ذمہ دار ہوتا ہے اگر تشہیر کا میلان مستغیث کو نقصان دہ ہوا تو قانون خیال کرے گا کہ ملزم نے اس کے چھاپنے سے ارادہ کیا ہے کہ اس سے مستغیث کو نقصان پہنچے۔

پھر یہی مصنف ص ٩٠١ پر لکھتا ہے کہ : ”کسی کی ذاتیات اور پرائیویٹ رائے دفاع عام میں داخل نہیں۔ پبلک میں ثابت شدہ افعال پر رائے زنی کرنا یا سرکاری ملازم کی کارروائی پر سختی سے نکتہ چینی کرنا ایک اور بات ہے اور بدچلنی کے افعال کا اسے مجرم بیان کرنا ایک دوسری شے ہے۔“ پھر رتن لال رام چند داس اپنے قانون میں جو اس نے ٹارٹس پر لکھا ہے۔ اس کے ص ٢٠٢ میں ذیل کے فقروں میں یہی لکھتا ہے کہ : ”کوئی اشارہ کمینگی یا شریر منشاء کا یا نامعقول بدچلن کا بغیر کسی بنیاد کے نہیں ہونا چاہئے۔ یہ کوئی صفائی نہیں ہے کہ ملزم ایمانداری سے سچے طور پر یقین کرتا تھا کہ الزام سچا ہے۔“

ایک نکتہ چین کو ہر وقت اختیار ہے کہ وہ مصنف کی رائے یا خیالات پر نکتہ چینی کرے۔ لیکن اس کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی آدمی کے چال چلن پر ہتک آمیز ریمارک کرے۔ لعل چند اپنی تعزیرات ہند میں اس طور پر ذیل کی سطور میں لکھتا ہے۔ ”کسی آدمی کے افعال اچھے ہوں یا برے اپنی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب تک کہ وہ اس پر وارد نہ ہوں کسی کا حق نہیں ہے کہ ان کو لوگوں کے سامنے پیش کرے۔ ہر ایک آدمی قانونی حق رکھتا ہے کہ جو کچھ اس کے متعلق ہے۔ خواہ وہ رویے ہوں یا خیالات ہوں خواہ اخلاقی افعال ہوں۔“ آجر اپنے لائبل اور سلینڈر میں ص ٥٦ پر لکھتا ہے: ”اگر کوئی آدمی مستغیث کی ذاتیات پر بلاضرورت حملہ کرے تو وہ فیئر کمنٹ نہیں ہو سکتا۔ کونٹر چارج ہو جاتا ہے اور اگر مزیل حیثیت ہو تو لائبل ہو جاتا ہے۔“ ایک اخبار میں تشہیر کرنے کی طرز سے نیک نیتی کا سوال پیدا ہو سکتا ہے اور ملزم کو ان مستثنیات کی حفاظت کے مفاد سے محروم کر سکتا ہے۔ ذیل کے اقتباس میں بیان کیا گیا ہے۔ نیلسن اپنی تعزیرات ہند کے ص ٥٩١ میں لکھتا ہے کہ: ”ایک سچا الزام یا جھوٹا لگایا جاوے یا چھاپ دیا جاوے۔ جو پبلک کے فائدہ کے واسطے ہو تو وہ بھی بوجہ طرز تشہیر و اخبارات لکھنے والے کو مفاد مستثنیات سے محروم کر سکتا ہے۔ اس صورت میں بھی کہ جب کہ یہ تشہیر مفاد عام کے لئے ہو۔ یعنی یہ کہ عوام الناس کے ایک طبقہ کے مفاد کے لئے تو

٥٥

PDF 495
PDF 496
صفحہ ٤٦٦

کو حوالے باخدا کرتے ہیں۔ بلکہ آپ تو مجازی حکام کی عدالتوں کو ذریعہ حق الیقین سمجھتے ہیں اور اپنے تنازعات کو ”فردوہ الی اللہ ورسولہ“ کے مصداق بنانے کے بجائے عدالت حکام مجاز کو ہی مرجع و مآب قرار دیتے ہیں۔

آخر کار آپ نے بعدالت مسٹر ہری صاحب سیشن جج بہادر قسمت امرتسر ٥ نومبر ١٩٠٤ء کو اپیل داخل کیا اور اپیل میں علاوہ دیگر عذرات کے بڑی عاجزی سے اپنی کبرسنی اور واجب الرحم حالت جتا کر ان مصائب کا جو دوران مقدمہ میں آپ کو نصیب ہوئے۔ شکوہ کیا اور اس بات کا بہت کچھ رونا روئے کہ صاحب مجسٹریٹ نے دوران مقدمہ میں ان کے بڑھاپے پر کوئی رحم نہیں کیا اور طرح طرح صعوبات میں مبتلا رکھ کر آخر کار ایک سنگین سزا بھی دے دی۔ اپیل کی آخری پیشی ٧ جنوری ١٩٠٥ء کو قرار پائی۔ سیشن جج نے مستغیث کو بھی نوٹس دیدیا تھا۔ چنانچہ مستغیث اصالتاً اور ملزمان کی طرف سے مسٹر پینی صاحب ایڈووکیٹ و خواجہ کمال الدین قادیانی وکیل پیش ہوئے۔ جانبین کی بحث سننے کے بعد صاحب سیشن جج نے اپیل ملزمان منظور کی اور واپسی جرمانہ کا حکم دیا۔

لیکن جو ذلتیں قدرت کی طرف سے مقدر تھیں۔ وہ دوران مقدمہ میں حاصل ہوچکی تھیں اور وہ کبھی واپس نہیں ہوسکتی تھیں۔ نیز جیسا کہ پہلے لکھا جاچکا ہے۔ مرزا قادیانی بموجب اپنی اصطلاح کے جو تریاق القلوب میں کئی سال پہلے اپنے قلم سے لکھ چکے تھے سزا کی منسوخی اور جرمانہ کی واپسی سے لفظ بری کے مصداق نہیں ہوسکتے۔ گو سیشن جج اپنی اصطلاح میں ان کو بری ہی کیوں نہ لکھے۔ مرزا قادیانی لکھ چکے ہیں کہ بری وہ ہے جس کے ذمہ فرد جرم عائد نہ ہو اور پہلے ہی مخلصی حاصل کرلے۔ جس پر فرد جرم لگ گئی وہ ہرگز بری نہیں کہلاسکتا۔ زیادہ سے زیادہ اس کو مبرا کہہ سکتے ہیں۔ مقدمہ ہذا میں فرد جرم لگنے کے علاوہ سزا بھی ہوچکی تھی۔ پھر مرزا قادیانی کے مرید برخلاف تحریر مرشد کے (جو تریاق القلوب میں لکھی جاچکی ہے) کس منہ سے کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی بری ہوگئے اور یہ ان کا ایک معجزہ ظاہر ہوا۔ چونکہ فیصلہ اپیل کو قبل ازیں مرزائیوں نے کثرت سے چھاپ کر ملک میں شائع کردیا ہوا ہے اس لئے اب یہاں درج کرنا تحصیل حاصل ہے۔

پھر جن لوگوں نے فیصلہ مقدمہ ہذا کے روز مرزا کی حالت بچشم خود مشاہدہ کی۔ ان پر تو بالکل روشن ہوگیا کہ مرزا قادیانی ایک معمولی انسان جیسا بھی دل وگردہ نہیں رکھتے۔ ان کی سخت مضطربانہ حالت اور بدحواسی اس بات کا یقین دلاتی تھی کہ بزدلی میں مسیح الزماں کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ہونٹ خشک ہوتے جاتے تھے۔ چہرہ زرد تھا۔ بار بار پیشاب کی حاجت ہوتی تھی۔ چونکہ صاحب مجسٹریٹ نے اس روز انتظام یہ کیا تھا کہ ایک سالم گارڈ پولیس مع ایک سارجنٹ وڈپٹی

٥٨

صفحہ ٤٩٧

انسپکٹر کے بلوا لئے تھے جو کالی مہیب وردی پہنے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لئے کمرہ عدالت میں 9 بجے صبح سے ادھر ادھر ٹہل رہے تھے۔ مرزا قادیانی کیا ان کی ساری جماعت کو یقین ہو گیا تھا کہ حالت نازک ہے۔ بلکہ جہاں تک ہم نے سنا ہے۔ دروغہ جیل کو بھی بعض مرزائی مل آئے تھے کہ مسیح الزماں کی رونق افروزی پر ان کی رعایت کرنا۔ کیا اس روز تک یہ خبر وحی نے بند رکھی تھی کہ گھبراؤ نہیں ۔ جرمانہ ہوگا اور روپے تمہارے پاس کافی ہیں اور پھر اس وقت کی حالت بالخصوص مشاہدہ کے قابل تھی۔ جب اردلی نے مرزا قادیانی کو زور سے پکارا کہ مرزا غلام احمد حاضر ہو۔ مرزا قادیانی عدالت کی طرف جو چلے۔

ایک مجذوب فقیر

جن دنوں چیف کورٹ (لاہور) میں درخواست ہائے انتقال مقدمات جانبین سے گزری ہوئی تھیں۔ مرزائیوں کی طرف سے درخواست تھی کہ مقدمات گورداسپور میں ہوں اور ہماری درخواست تھی کہ جہلم میں ہوں۔ اتفاقاً انارکلی میں مجھے ایک مجذوب فقیر مل گئے جن کے بدن کے کپڑے میلے کچیلے ، پھٹے پرانے اور سر کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ مجھ سے السلام علیک کہہ کر پوچھنے لگے کہ جوان تم کون ہو۔ کہاں کے رہنے والے ہو۔ یہاں کیا کام ہے۔ چونکہ میں متفکر تھا۔ دوسرے روز چیف کورٹ میں پیشی تھی کچھ سادہ جواب دے کر ٹالنا چاہا کہ فقیر میں جہلم کا رہنے والا ہوں۔ یہاں کچھ کام ہے۔ فرمانے لگے کام ہے۔ ہم سے چھپاتے ہو۔ تمہارا قادیانی سے مقدمہ ہے۔ چیف کورٹ میں تمہاری درخواستیں ہیں۔ تم چاہتے ہو کہ مقدمہ جہلم میں ہو۔ وہ چاہتے ہیں گورداسپور میں ہو۔ تمہاری درخواست نامنظور ہوگی اور مقدمات گورداسپور میں ہوں گے۔ خدا کو منظور ہے کہ مفتری علی اللہ کو اس کے گھر میں ذلیل کیا جائے۔

یاد رکھو آخر کار تم فتح یاب ہوگے اس کو ذلت بعد ذلت ہوگی۔ اس وقت تمام اہل اللہ تمہارے لئے دست بدعا ہیں۔ یہ تمہارا اور مرزا کا مقابلہ نہیں۔ بلکہ اسلام و کفر کا مقابلہ ہے۔ دیکھو مرزا نہ نبی ہے، نہ مہدی ، نہ مجدد، نہ ولی۔ نبی کی تو شان تھی کہ وہ ایک چٹائی پر سوتا تھا اور اس کی بیوی دوسری چٹائی پر۔ مرزا کی بیوی سیکنڈ اور فرسٹ کلاس ریلوے میں سفر کرتی ہے۔ سونے کی خلخال پہنتی ہے۔ یہ دنیا طلبوں کا کام ہے۔ نبی اللہ کو یہ طاقت بخشی جاتی ہے کہ زمین و آسمان اس کا کہنا مانتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے دریا کو کہا پھٹ جا۔ پھٹ گیا۔ پھر جب اس میں فرعون داخل ہوا تو کہا مل جا۔ ایسا ہی ہوا۔ دشمن تباہ اور نبی اللہ معہ اپنے رفقاء کے صحیح و سلامت پار ہو گیا۔ مرزا کو طاقت ہو تو تمہارے دل پر قابو حاصل کرے۔ اس وقت وہ سخت تکلیف میں ہے۔

٥٩

صفحہ ٤٩٨

یہ بھی خیال مت کرو کہ وہ مہدی ہے۔ مہدی علیہ السلام جب آئیں گے تو پہلے ان کی آمد کی اطلاع اہل اللہ کو دی جائے گی۔ وہ سب ان کے ساتھ ہولیں گے۔ حفاظ وعلماء ان کے حلقہ میں ہوں گے۔ تم دیکھتے ہو سوائے نورالدین کے اس کے ساتھ کون ہے؟ مرزا بھی دنیا کا کیڑا اور نورالدین بھی۔ تمام اہل باطن اور علماء اسلام مرزا کے دعاوی کے مخالف ہیں۔ خبردار گھبرانا مت۔ تائید الہی تمہارے شامل حال رہے گی۔ تم کو کوئی تکلیف نہ ہوگی۔ مخالف طرح طرح کے مصائب میں مبتلا ہوگا۔ ایسا ہی ہوا۔ اسی اثناء میں مجھے بھی سر درد تک کا عارضہ لاحق نہ ہوا۔ مرزا قادیانی غش کھا کر کچہری میں گرے۔ فضل دین چارپائی پر اٹھا کر کچہری میں لایا:

”فاعتبروا یا اولی الابصار“

مذکورہ بالا واقعات تو جناب میرزائے قادیان کے دور حیات کے ہیں۔ ناانصافی ہوگی اگر ہم اپنے دوست کے حالات وفات سے ناظرین کو محرم رکھیں۔ اس لئے آپ کی وفات کے متعلق بھی کسی قدر خامہ فرسائی کی جاتی ہے۔

وفات مرزا

ہر چند مرزا قادیانی دوسروں کی وفات کی خبریں سن کر خوش ہوتے اور اپنے کسی مخالف شخص کی مرگ سے اپنے نشانات اور پیشگوئیوں کے نمبرات میں اضافہ فرمایا کرتے تھے۔ مگر آخر کار بحکم ”کل نفس ذائقة الموت“ ایک دن وہ بھی آ پہنچا کہ بڑے بڑے دعاوی کے مدعی (مرزا قادیانی) عین ایام غربت میں دارالامان قادیان سے دور فاصلہ (شہر لاہور) میں ایک مہلک بیماری کالرہ میں مبتلا ہو کر بہت ہی جلدی شکار چنگ اجل ہو گئے۔

کسی شخص کی نیکی یا بدی یا اس کی بزرگی وغیرہ کا ثبوت اس کی وفات کے بعد بھلی یا بری شہرت سے ملتا ہے۔ جو نیک ہوتے ہیں زبان خلق پر ان کی نیک شہادت ہوتی ہے۔ مقدس نفوس کی وفات کے بعد ان کی میت کی خاص عزت اور احترام ہوتی ہے۔ جس طرح زندگی میں ان سے فیض حاصل کرنے کے لئے مخلوق خدا حاضر ہو کر ان کے قدموں پر گرتی ہے۔ ان کی وفات پر ان کی میت کی زیارت کے لئے خلق خدا اطراف واکناف سے ٹوٹ پڑتی ہے۔ ان کے جنازہ میں شمولیت باعث سعادت سمجھی جاتی ہے اور ہر ایک زبان پر ان کا ذکر خیر جاری ہوتا ہے اور ہر ایک آنکھ ان کے غم میں خون کے آنسو بہاتی ہے۔

فہرست عقائد مرزا قادیانی

مشمولہ مسل فوجداری بعدالت رائے چندولال صاحب مجسٹریٹ درجہ اول گورداسپور

٦٠

مولوی محمد

بنام مرزا غلام احمد

جھوٹ نمبر ٨٨ تا نمبر ١٠٢ (١٠٥٠٠

عقائد مرزا غلام احمد قادیا

چڑھائے گئے تھے اور غشی کی حالت ہی اتارے گئے تھے۔

عنصری نہیں گئے۔

اتریں گے اور نہ قوم سے وہ لڑائی کر

عیسائیوں اور دوسرے مذہب و جنگ کرے گا اور غیر اسلامی اقوام اسلام کو غلبہ دے گا۔

پھیلانے کے لئے لڑائی کرنا بالکل

صلیبوں کو توڑتا اور سوروں کو مارتا ہو

امام الزماں اور مجدد وقت اور ظلی طور ہوں اور مجھ پر خدا کی وحی نازل ہوتی

اولیاء سے افضل ہے۔

صفحہ ٤٩٩

مولوی محمد کرم الدین ساکن بھیں مستغیث

بنام مرزا غلام احمد قادیانی وحکیم فضل الدین ساکن قادیان

جھوٹ نمبر ٨٨ تا نمبر ١٠٢ ( ٥٠٠، ٥٠١ تعزیرات ہند )

عقائد مرزا غلام احمد قادیانی

مستغیث کا جواب

حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں

نہیں ۔

گئے۔

آسمان سے اتریں گے جہاد کریں گے۔ دجال اور کفار سے کامیاب ہونگے۔

مہدی علیہ الرضوان آئیں گے اور ایسے زمانہ میں آئینگے جب بدامنی اور فساد دنیا میں پھیلا ہوا ہوگا۔ فسادیوں کو مٹا کر امن قائم کریں گے۔

جہاد اسلامی فریضہ ہے۔

یہ مسئلہ بحث طلب ہے۔

میں نہیں مانتا۔

مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں اور نہ وہ کسی سے افضل ہے۔

٧١

صفحہ ٥٠٠

مرزا قادیانی نہ مسیح موعود ہیں اور نہ ان میں اوصاف نبوت میں سے کوئی ہیں۔ ١٠..... مسیح موعود میں خدا نے تمام انبیاء کے اوصاف اور فضائل جمع کر دیئے ہیں۔

بحث طلب ہے۔ ١١..... کافر ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہیں گے۔

مہدی موعود قریش کے خاندان سے ہوگا۔ ١٢..... مہدی موعود قریش کے خاندان سے نہیں ہونا چاہئے۔

مسیح ایک ہے اور وہ اسرائیلی ہے۔ ١٣..... امت محمدیہ کا مسیح اور اسرائیلی مسیح دو الگ الگ شخص ہیں اور مسیح محمدی اسرائیلی مسیح سے افضل ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مردے زندہ کئے ہیں۔ ١٤..... حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کوئی حقیقی مردہ زندہ نہیں کیا۔

آنحضرت کا معراج جسم عنصری کے ساتھ ہوا۔ ١٥..... آنحضرت ﷺ کا معراج جسم عنصری کے ساتھ نہیں ہوا۔

منقطع ہوئی۔ ١٦..... خدا کی وحی حضرت ﷺ کے ساتھ منقطع نہیں ہوئی۔

مرزا قادیانی کی وہ چٹھی جو انہوں نے اخبار عام میں شائع کرائی تھی نقل کی جاتی ہے۔ کیونکہ بیان میں اس چٹھی کا حوالہ ہے۔ یہ چٹھی پڑھنے کے قابل ہے۔ اس کے پڑھنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ مرزا جی محض ایک نفسانی شخص ہوا و ہوس کے بندے ہیں اور یہی چاہتے ہیں کہ ہر وقت ان ہی کی تعریفیں ہوتی رہیں۔ اس چٹھی میں مرزا قادیانی نے بہت سے ایسے جھوٹ لکھے ہیں جن کی تکذیب ان کے مریدان باصفا کی تحریرات بلکہ ان کے بیان مصدقہ عدالت سے بھی ہوتی ہے۔ اس چٹھی کے لکھنے کی ضرورت آپ کو اس لئے عائد ہوتی ہے۔ کہ سراج الاخبار جہلم مطبوعہ ١٩ جنوری ١٩٠٣ء کے پرچہ لوکل میں ایک مختصر مضمون حسب ذیل شائع ہوا تھا۔

”١٧ جنوری کو جہلم میں اس معرکہ کے مقدمہ کی پیشی تھی جس میں مولوی محمد کرم الدین صاحب مستغیث اور مرزا غلام احمد قادیانی وغیرہ مستغاث علیہ تھے۔ مرزا قادیانی کی جماعت ١٦ جنوری کو ١٢ بجے کی گاڑی سے پہنچ گئے ہوئے تھے۔ اس مقدمہ کو سننے کے لئے بے حد خلق خدا جہلم میں جمع ہوگئی تھی۔ بازاروں اور سڑکوں پر آدمی ہی آدمی نظر آتا تھا۔ مولوی محمد کرم الدین

٦٢

صفحہ ٥٠١

صاحب مع اپنے معزز گواہوں کے ١٠ بجے بگھی کی سواری میں بہ ہمراہی چودھری غلام قادر خان سب رجسٹرار جہلم و راجہ محمد خاں صاحب رئیس سنگھوئی کچہری کی طرف روانہ ہوئے۔ خلق خدا شہر سے شروع ہو کر کچہری تک دو رویہ صف بستہ مولوی صاحب موصوف کے دیدار کے لئے کھڑی ہوئی تھی۔ سب لوگ آپ کی زیارت سے مشرف ہوتے رہے۔“

اس مضمون کی نقل اخبار عام مطبوعہ ٢٧؍جنوری میں شائع ہوئی اور مرزا قادیانی اس میں اپنے فریق مقابل مولوی محمد کرم الدین صاحب کا ذکر پڑھ کر نار حسد سے ایسے جل بھن گئے کہ ایڈیٹر اخبار عام کے نام اپنے دستخطی ایک چٹھی لکھی کہ آپ نے یہ بے نظیر جھوٹ شائع کیا ہے کہ جہلم میں لوگ مقدمہ سننے کے لئے جمع ہوئے تھے اور کرم الدین کے دیدار کو بھی لوگ آتے تھے۔ بلکہ یہ سب لوگ تو میرے دیکھنے کے لئے آئے تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔

اب ناظرین خیال فرماویں کہ جو لوگ اہل اللہ ہوں۔ وہ ایسے خواہشات نفسانیہ کے کب مغلوب ہوتے ہیں۔ وہ تو محض بے نفس ہوتے ہیں اور دنیوی اعزاز کو وہ بمقابلہ اس سچی عزت کے جو بارگاہ الٰہی میں ان کو حاصل ہوتی ہے۔ بالکل ہیچ سمجھتے ہیں۔ خودستائی اور تعلی ان سے کبھی سرزد نہیں ہوتی۔ لیکن مرزا قادیانی ہی وہ شخص ہیں جو چاہتے ہیں کہ دینی اور دنیوی عزتیں ان ہی کو حاصل ہوں اور ان کے سامنے کسی دوسرے شخص کا نام تک نہ لیا جائے۔ امید ہے کہ ناظرین اس چٹھی کو غور سے پڑھ کر اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ مرزا قادیانی کو روحانیت سے مس تک نہیں اور وہ نفسانیت کے زنجیر میں از سرتا پا جکڑے ہوئے ہیں۔

مرزا قادیانی کی چٹھی اخبار عام

مقدمہ جہلم کی غلط فہمی۔ ایڈیٹر صاحب بعد ماوجب آج آپ کے پرچہ اخبار عام مورخہ ٢٧؍جنوری میں وہ خبر پڑھ کر جو جہلم کے اخبار سے آپ نے لکھی ہے۔ سخت افسوس ہوا ہے۔ ہم نے آپ کے اخبار کا خریدنا اس خیال سے منظور کیا تھا کہ اس میں سچائی کی پابندی ہوگی۔ مگر آج کے اخبار میں جس قدر صریح (جھوٹ نمبر ١٠٤) کو آپ نے شائع کیا ہے۔ شاید دنیا میں اس کی کوئی نظیر ہو یا نہ ہو۔ اخبار نویس کا فرض ہے کہ گو ہو منقولات کچھ درج کرے۔ تاہم جہاں تک ممکن ہو اس کی تحقیق کر لے۔ کیونکہ ہر ایک روایت قابل اعتبار نہیں۔ خاص کر اس زمانہ میں جبکہ اکثر لوگ دہریہ طبع ہو گئے ہیں۔ ہر ایک راست پسند کا فرض ہے کہ بے تحقیق خلاف واقعہ لکھ کر اپنے اخبار کی عزت پر بٹہ نہ لگاوے۔ اب میں آپ پر ظاہر کرتا ہوں کہ حال واقعی یہ ہے کہ کرم الدین جس کو جہلم کے خودغرض اخبار نے اس قدر اوپر چڑھایا ہے کہ ایک معمولی آدمی

٦٣

صفحہ ٥٠٢

جھوٹ نمبر ١٠٥......نہ گورنمنٹ میں اس کو کرسی ملتی ہے اور نہ قوم نے اس کو اپنا امام جھوٹ نمبر ١٠٦......یا سردار مانا ہوا ہے۔ محض عام لوگوں میں سے ایک شخص ہے۔ ہاں اپنے گاؤں میں مولوی کر کے مشہور ہے۔ جس طرح امرتسر لاہور وغیرہ میں بھی بہت سے لوگ مولوی کر کے پکارے جاتے ہیں۔ ہر ایک مسجد کے ملا یا واعظ کو لوگ مولوی کہہ دیا کرتے ہیں۔ یا واعظ کو لوگ مولوی کہہ دیا کرتے ہیں۔

مگر بقول جہلم کے اخبار کے گویا ہزار ہا مخلوق کرم دین کے دیدار اور زیارت کے لئے اور مقدمہ کے تماشہ کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔ یہ ایک بے نظیر جھوٹ ہے۔ (جھوٹ نمبر ١٠٧) اصل واقعہ یہ ہے کہ یہ تمام لوگ جو تخمیناً تیس ہزار یا چونتیس ہزار کے قریب ہوں گے۔ (جھوٹ نمبر ١٠٨) یہ سب محض تماشے دیکھنے کے لئے آئے تھے۔ (جھوٹ نمبر ١٠٩) جب لاہور سے آگے میرا گزر ہوا تو صدہا لوگ میں نے ہر اسٹیشن پر جمع پائے۔ (جھوٹ نمبر ١١٠) اندازہ کیا گیا ہے کہ جہلم کے اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے چالیس ہزار کے قریب لوگ میرے راہ گزر اسٹیشنوں پر جمع ہوئے ہوں گے اور پھر جہلم میں سردار ہری سنگھ صاحب کی کوٹھی میں اترا اور سات سو کے قریب میرے ساتھ میرے مخلص دوست تھے تب جہلم اور گجرات اور دوسرے اضلاع سے اس قدر مخلوق میرے دیکھنے کے لئے جمع ہوئی ۔کہ جن لوگوں نے بہت غور کر کے اندازہ لگایا۔

وہ بیان کرتے ہیں کہ چونتیس ہزار یا تیس ہزار کے قریب لوگ ہوں گے۔ جب میں کچہری جاتا تھا اور جب کوٹھی آتا تھا تو وہ لوگ ساتھ ہوتے تھے۔ چنانچہ حکام نے اس کثرت کو دیکھ کر دس ١٠ یا پندرہ کانسٹیبل اس خدمت پر مقرر کر دیئے تھے کہ کوئی امر مکروہ واقع نہ ہو اور خاص جہلم کا تحصیل دار حیدر خاں اس خدمت میں سرگرم ہے اور دیوی سنگھ صاحب ڈپٹی انسپکٹر بھی اس خدمت پر لگے ہوئے تھے۔

ان لوگوں میں سے قریباً (جھوٹ نمبر ١١١) باراں سو آدمی یہیں بیعت میں داخل ہوئے یعنی میرے مرید ہوئے اور باقی کل مریدان کی طرح تھے اور نذریں دیتے تھے اور نماز پیچھے پڑھتے تھے۔ (جھوٹ نمبر ١١٢) آخر جب مقدمہ پیش ہوا تو میں اپنے وکیلوں کے ساتھ گیا اس وقت میں نے ایک شخص سیاہ لنگی سر پر حاکم عدالت کے سامنے کھڑا ہوا دیکھا معلوم ہوا کہ وہی کرم دین ہے مگر تعجب ہے کہ حاکم نے مجھے دیکھتے ہی کرسی دی۔ (جھوٹ نمبر ١١٣) لیکن وہ شخص جو بقول اخبار جہلم اس قدر معزز تھا کہ ہزاروں آدمی اس کو سجدہ کرتے تھے۔ اس کو قریباً چار گھنٹے تک حاکم نے اپنے سامنے کھڑا رکھا اور آخر دونوں مقدمے اس کے خارج کئے۔ (جھوٹ نمبر ١١٤)

٦٢

صفحہ ٥٠٣

اور پھر غلام حیدر خان نے حاکم عدالت کو وہ ہزار ہا آدمی دکھلائے جو میرے دیکھنے کے لئے موجود تھے۔ (جھوٹ نمبر ١١٥) جب میں واپس کوٹھی میں آیا وہ سب میرے ساتھ تھے۔ گویا میری کوٹھی کے ارد گرد ایک لشکر اترا ہوا تھا اور سردار ہری سنگھ صاحب نے سات سو آدمی کی دعوت سے جو نہایت مکلف دعوت تھی ثواب کا بڑا حصہ لیا۔ (جھوٹ نمبر ١١٦) یہ واقعات ہیں جن کو عمداً چھپایا گیا ہے۔ آپ پر اعتراض صرف اس قدر ہے کہ آپ نے فراست سے کام نہ لیا کہ کرم دین اس قدر شہرت کا آدمی تھا تو آپ کو ایک مدت سے اس کا حال معلوم ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ جس کو ہزار ہا انسان سجدہ کرتے ہیں وہ چھپ نہیں سکتا۔

جھوٹ نمبر ١١٧..... اخبار جہلم نے بڑا گندا جھوٹ بولا ہے اور واقعات کو عمداً چھپایا ہے، آپ کو چاہئے کہ اس جھوٹی نقل کا کچھ تدارک کریں۔ میرے نزدیک اس طرح پورے یقین تک پہنچ سکتے ہیں کہ آپ بلا توقف جہلم چلے جائیں اور غلام حیدر خان ڈپٹی انسپکٹر و ہری سنگھ صاحب اور منشی سنسار چند صاحب ایم اے مجسٹریٹ جن کے پاس مقدمہ تھا اور صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع اور تمام پولیس کے سپاہیوں اور شہر کے معزز رئیسوں اور بازار کے معزز مہاجنوں سے دریافت فرماویں کہ اس قدر مخلوقات کس کے لئے جمع ہوئی تھی۔ تب آپ پر اصل حقیقت کھل جائے گی اور میں آپ کو اگر آپ جہلم جائیں آمد و رفت کا کرایہ اپنی گرہ سے دے دوں گا۔

انٹرمیڈیٹ کے حساب سے جو کرایہ ہوگا آپ کو بھیج دوں گا اور اگر آپ پوری تحقیقات کے بعد اس خبر کو رد نہیں کریں گے تو پھر آپ کے اخبار سے ہمیں دست کش ہونا پڑے گا۔ آپ پر واضح ہو کہ ایڈیٹر اخبار جہلم اس گروہ میں سے ہے جو مجھ سے سخت دشمنی رکھتا ہے۔ دوسرے حال میں میری جماعت نے اس پر ایک نالش فوجداری کر رکھی ہے اس لئے قابل شرم جھوٹ اس نے شائع کیا ہے۔ تعجب ہے کہ جس روز کرم دین نے جہلم میں نالش کی اس دن اس کی زیارت کے لئے کوئی نہ آیا اور پھر جس دن بذریعہ وارنٹ وہ جہلم ہی میں پکڑا گیا۔ اس دن بھی ایک آدمی نے بھی اس کو سجدہ نہ کیا اور کئی بار وہ جہلم میں آیا مگر کسی نے نہ پوچھا۔ لیکن جس دن میں جہلم میں پہنچا تب ہزار ہا آدمی اس کو سجدہ کرنے کے لئے موجود ہو گئے۔ حالانکہ وہ جہلم کے ضلع کا باشندہ ہے اور اکثر ضلع میں رہتا ہے۔ اب میں ختم کرتا ہوں اور منتظر رہوں گا کہ آپ اس جھوٹ کا دفعیہ کس پختہ طریق سے کرتے ہیں۔ آپ کا ہمدرد و خیر خواہ مرزا غلام احمد ٢٨؍ جنوری ١٩٠٣ء

نقل بیان مرزا غلام احمد قادیانی

مقدمہ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر و مالک اخبار الحکم بنام ابوالفضل مولوی کرم دین دبیر،

٦٥

صفحہ ٥٠٤

ومولوی فقیر محمد مالک سراج الاخبار۔

مرزا غلام احمد ولد مرزا غلام مرتضیٰ مغل عمر ٦٥(جھوٹ نمبر ١١٩) سال پیشہ زمینداری سکنہ قادیان۔ بجواب کرم دین۔ میں مستغیث کو دس یا گیارہ سال سے جانتا ہوں وہ میرا مرید ہے۔ الحکم اخبار مستغیث کی ہے اس کے اپنے پریس سے نکلتا ہے۔ (جھوٹ نمبر ١٢٠) اس پریس کا نام معلوم نہیں ہے۔ (الحکم ٣١؍مئی ١٩٠٢ء دکھایا گیا) یہ اخبار مطبع انوار احمدیہ سے نکلتا ہے یہ مطبع میرے نام پر منسوب ہے۔ بحیثیت مسیح ومہدی کے میرا لقب حکم بھی ہے نام اخبار میں وہی الفاظ ہیں۔

(روئداد جلسہ مورخہ ٢٧؍دسمبر ١٨٩٢ء مثل نمبر ١٣ مقدمہ دفعہ ٤٢٠ ص ٥٣ دکھایا گیا)

اس کی سطر ١٣ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی اخبار جاری کرنے کی تجویز ہوئی تھی۔ نیز مطبع کے ص ٢٠ سے ظاہر ہے کہ مطبع کے لئے چندہ جمع ہوا تھا۔ ص ١٩ سے ظاہر ہے کہ ایک پرچہ اخبار بھی شائع ہوا کرے گا۔ اس تجویز کے بعد الحکم قادیان سے جاری ہوا، اور بعدہ البدر یا نہیں کتنا عرصہ بعد الحکم کے البدر جاری ہوا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ البدر کو جاری ہوئے کتنا عرصہ گزرتا ہے۔

جھوٹ نمبر ١٢١..... نوٹ: پہلے گواہ نے کہا تھا کہ شاید آج سے دو سال پیشتر البدر جاری ہوا تھا۔

جھوٹ نمبر ١٢٢..... معلوم نہیں الحکم کا مطبع کبھی میرے مکان میں رہا ہو۔

جھوٹ نمبر ١٢٣..... کسی بھی پریس واقع قادیان سے میرا ذاتی تعلق نہیں ہے۔ الحکم سے میرا کسی طرح کا تعلق نہیں ہے۔ میں الحکم میں الہامات شائع نہیں کرتا۔ عام طور پر لوگ شائع کر دیتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی مضمون میں بھی کبھی شائع کر دیتا ہوں۔ (مواہب الرحمٰن ص ١٢٩، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٠ دکھایا گیا) میں درج ہے کہ میں نے شائع کیا جو مجھ پر خواب آئی اور مجھے الہام ہوا۔

اس کے ظہور سے پہلے اخبار الحکم میں میں اخبار نویسی کو معزز اور راست بازی کا پیشہ سمجھتا ہوں۔ کسی ایڈیٹر کی نسبت جس نے کوئی امر خلاف واقعہ نہیں لکھا یہ کہنا کہ اس نے جھوٹ لکھا ہے اس سے اس کی توہین ہوتی ہے اور اگر خلاف واقعہ لکھا ہے تو یہ کہنا کہ اس نے خلاف واقعہ لکھا ہے اس کی کوئی توہین نہیں ہے جو ایڈیٹر سچے واقعات لکھتا ہے اور دوسرا جھوٹے واقعات لکھتا ہے دونوں کی حیثیت میں فرق ہوگا۔

اول الذکر قابل عزت ہوگا آخر الذکر قابل عزت نہیں ہے۔ جو ایڈیٹر جھوٹے واقعات عموماً لکھنے میں شہرت پا چکا ہے اس کی نسبت یہ کہنا کہ تو نے جھوٹے واقعات لکھے ہیں اس کی توہین نہیں ہوتی۔ یہ مقدمہ غالباً میرے مشورہ سے دائر ہوا ہوگا گو اچھی طرح یاد نہیں ہے۔ دینی امور میں میرے مشورہ سے کام کرتے ہیں۔ خانگی امور میں اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں۔

٦٦

صفحہ ٥٠٥

میں نے اس مقدمہ کے لئے کوئی چندہ اپنی طرف سے نہیں دیا۔ لیکن جو چندہ اس سلسلہ میں وصول ہوتا ہے۔ اس میں سے کسی نے دیدیا ہو تو مجھے خبر نہیں ہے۔ اس امید پر کہ مستغیث میرا مرید ہے میں نے لکھا ہے کہ وہ مقدمہ داخل دفتر کرانے کی بابت میرا کہنا مان لے گا۔ اشتہار ١٤؍جون ١٩٠٤ء مدخلہ ملزم میری طرف سے ہے۔ اس نے میرے اوپر جہلم میں مقدمہ کیا تھا۔ اس میں مستغیث حال بھی ملزم تھا۔ میں نے سنا تھا کہ غلام حیدر تحصیل دار واسطے انتظام کے بحکم صاحب ڈپٹی کمشنر آیا تھا۔ میری دانست میں دس ہزار آدمی جمع ہوئے تھے۔ کئی سو آدمی مرد و عورت جہلم میں میرے مرید ہو گئے تھے۔ غلام حیدر مرید نہیں ہوا۔ مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ غلام حیدر نے عدالت کو میرے مرید دکھائے تھے یا نہیں (اخبار عام ٢؍ فروری ١٩٠٤ء) اس کے (ص٤، ٥) پر مضمون جہلم کی غلط فہمی میرا ہے۔ اس میں یہ فقرہ لکھا ہے کہ پھر تحصیلدار غلام حیدر نے حاکم عدالت کو وہ ہزار ہا آدمی دکھلائے جو میرے دیکھنے کے لئے موجود تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ قریباً ٣٠ ہزار کے آدمی ہوں گے۔ اس وقت میرے مرید دولاکھ سے زائد ہوں گے۔ (تحفہ غزنویہ ص ١٧، خزائن ج ١٥ ص ٥٤٧) اس کے ص ١٧ پر درج ہے کہ ٣٠ ہزار آدمی کی جماعت اب میرے ساتھ ہے۔ یہ کتاب میری تصنیف ہے۔ (تحفہ گولڑویہ مطبوعہ ستمبر ١٩٠٢ء ص ٥٣، خزائن ج ١٧ ص ٧٧ دکھایا گیا) اس میں لکھا ہے کہ میری امت میں سے تیس ہزار کا نام کافر دجال رکھا ہے اس وقت ٣٠ ہزار آدمی میرے مرید تھے۔ (تحفۃ الندوہ مطبوعہ ٦؍اکتوبر ١٩٠٢ء) کا (ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٧) دکھایا گیا۔

اس میں لکھا ہے کہ تعداد مریدان ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ مختلف مقامات میں یہ کتاب بھی میری تصنیف ہے نیز تحفہ گولڑویہ (مواہب الرحمٰن ص ١٢٠، خزائن ج ١٩ ص ٣٤٠ دکھایا گیا) اس میں لکھا ہے کہ جماعت ہماری ان تین برسوں میں ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ ١٤؍جنوری ١٩٠٣ء کی ہے اور میری تصنیف ہے۔ (الحکم ٢٤؍اکتوبر ١٩٠٢ء کا ص دس دکھایا گیا)۔ اس میں بروئے مردم شماری کے کاغذات کے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت تین سو تیرہ یا ایک لاکھ کے قریب ہے میں نے کاغذات نہیں دیکھے میں نے اندازاً کہا ہے۔ (الحکم ٧؍مئی ١٩٠٣ء ص ١ دکھایا گیا) اس میں لکھا ہے کہ ١٠؍فیصدی بھی الحکم لینے والے ہوں تو دولاکھ کی جماعت میں الحکم کی اشاعت ٢٠ ہزار ہونی چاہئے۔ (الحکم ١٠؍جولائی ١٩٠٣ء ص ٨ دکھایا گیا) اس میں تعداد ہماری جماعت کی قریباً تین لاکھ لکھی ہے۔ (الحکم مذکور دکھایا گیا) اس میں بطور تقریر میری کے لکھی ہے۔

(ایک واقعہ کا اظہار دکھایا گیا) اس میں تعداد مریدان دولاکھ سے زیادہ لکھی ہے۔ یہ ١٤؍جنوری ١٩٠٣ء کی تصنیف میری ہے۔ میرے پاس کوئی رجسٹر مریدان نہیں ہے۔ لیکن مولوی

٦٧

صفحہ ٥٠٦

عبدالکریم نے ایک ایسا رجسٹر چند ماہ سے بنوایا تھا شاید ٦ ماہ سے بنوایا ہے۔ مریدان آمدہ سے تعداد معلوم ہوتی ہے۔ مسمی شہاب الدین موضع بھیں میں میری مریدی ظاہر کرتا ہے۔ وہ ملزم کا شاگرد ہے۔ میں نے صرف سنا ہے کہ شہاب الدین مریدی کے خط بنام مولوی عبدالکریم بھیجتا ہے۔ شہاب الدین قادیان میں ہرگز نہیں آیا۔ نہ اس نے مجھے مریدی کا خط لکھا ہے۔ (الحکم مورخہ ٣٠؍ جولائی ١٩٠١ء) ص ١٦ دکھایا گیا ہے۔ اس میں شہاب الدین سکنہ بھیں کا نام زیر بیعت درج (الحکم ٧؍ مئی ١٩٠٣ء ص ١٦ دکھایا گیا) اس میں چند نام سکنہ بھیں کے درج ہیں جن کو میں نہیں جانتا۔ دستخط حاکم ٦؍ جولائی ١٩٠٤ء

الحکم ١٧؍ اکتوبر ١٩٠٢ء ص ١١ کالم اول پر جس خط کا ذکر ہے معلوم نہیں کہ خط میرے نام آیا تھا یا مولوی عبدالکریم کے نام۔ (پہلے کہا تھا کہ یہ خط مجھے پہنچا تھا) مجھے یاد نہیں کہ یہ میں نے کہا یا نہیں کہ اس کو کہہ دو کہ تمہاری دھمکی تم پر ہی پڑے گی۔ یا دوسرے مولویوں پر جو دوسرے مولویوں پر پڑا ہے۔ وہی تم پر پڑے گا۔ (الحکم ٣١؍ اکتوبر ١٩٠١ء) ص ٦ پر جو واقعہ درج ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ صحیح ہے یا نہیں۔ میں سراج الاخبار کا خریدار نہیں ہوں۔ ٣٠؍ ٣١ اکتوبر ١٩٠٢ء کے سراج الاخبار کے پرچے یعقوب علی کے نام پہنچے تھے اور میرے نام لکھا تھا جو ٢١؍ جولائی ١٩٠٢ء کا تھا کہ پیر مہر علی شاہ نے جو کتاب سیف چشتیائی بنائی ہے۔ وہ مولوی محمد حسن بھیں کے نوٹ چرا کر بنائی گئی ہے۔ اب ١٦؍ اکتوبر ١٩٠٢ء کا مضمون جو کرم دین نے شائع کیا۔ ایسا ہی ١٣؍ اکتوبر ١٩٠٢ء کا اس میں یہ لکھا گیا تھا کہ وہ خطوط جعلی ہیں۔ میری طرف سے نہیں ہیں۔ جو کرم دین کے نام سے وہ مضمون تھا تو یقین کیوں نہ ہوتا مجھے کوئی نظیر یاد نہیں کہ ایک اخبار کا ایک شخص نامہ نگار بھی ہو اور ہفتہ وار اخبار بھی پہنچتی ہو۔

پھر دوسرا شخص اس کے نام پر مضمون چھپا دے اور وہ اس حال تک خاموش رہے۔

کتاب حقیقت المہدی میری بنائی ہوئی ہے (ص ٥، خزائن ج ١٤ ص ٤٣٣) اس کا میں نے دیکھ لیا ہے۔ عبارت ذیل اس میں درج ہے اور گندی گالیوں کے مضمون اپنے ہاتھ سے لکھے اور محمد بخش جعفر زٹلی لاہوری اور ابوالحسن تتئی کے نام سے چھپوا دیئے۔ ایسا کرنے والا محمد حسین تھا۔ (نزول المسیح ص ٦٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٥) پر عبارت ذیل حاشیہ پر درج ہے میں نے بھی اسی قدر مضمون لکھا تھا کہ مجھے آج ٢٦؍ جولائی ١٩٠٢ء کو موضع بھیں سے میاں شہاب الدین دوست مولوی محمد حسن بھیں کا خط ملا۔ اس خط کا لفافہ مولوی عبدالکریم کے نام تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ یہ خط مولوی عبدالکریم نے مجھے دیا یا نہیں پڑھا گیا تھا۔ (نزول المسیح ص ٧٢، خزائن ج ١٨ ص ٤٥٠) پر درج ہے کہ شہاب الدین کچھ ارادات رکھتا ہے۔

٦٨

صفحہ ٥٠٧

اس لئے پیر مہر علی کے سرقہ برآمد کرانے کے لئے کوشش کی اس خط کے علاوہ میرے نام اور کوئی خط نہیں آیا۔ مجھے یاد نہیں ہے۔ ملزم کرم دین کا خط میرے نام آیا تھا اور اس کا لفافہ میرے نام تھا وہ خط پڑھ کر مولوی کرم دین کو دیدیا۔ سراج الاخبار مورخہ ٦؍ اکتوبر ١٩٠٢ء ص ٦ کالم اول میں راقم مضمون لکھتا ہے۔ کہ الحکم کا پرچہ ایڈیٹر نے اس کے پاس نہیں بھیجا۔ اس بات سے نتیجہ نکلتا ہے کہ جھوٹے اور فرضی خط میرے اور میرے شاگرد میاں شہاب الدین کے نام سے اس اخبار میں درج کئے ہیں۔ اسی اخبار کے ص ٦ سطر ٣ میں لفظ اور کا کلمہ ابتداء کے واسطے ہے۔ عطف کے واسطے نہیں پچھلے فقرے کے ساتھ اور کسی بعد کے فقرے کا تعلق ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اور کس قسم کا ہے اور اور کا کلمہ عطف کا ہو تو اس کے مابعد کا جملہ معطوف علیہ ہوگا۔

ہر حال میں معطوف تابع معطوف علیہ کا نہیں ہوتا۔ سطر تین میں اور کے لفظ کے مابعد کا جملہ پہلے جملہ کا تابع نہیں ہے مابعد والے میں زیادہ بیان ہے۔ ماقبل میں کم جھوٹ اور افترا کلام کے مفہوم سے تعلق رکھتا ہے جو انہیں الفاظ سے نکالا جاتا ہے۔ اخبار سراج الاخبار ١٣؍ اکتوبر ١٩٠٢ء ص ٥ میں شعر کچھ جھوٹے خطوط گھڑ کے خود ہی

یہ بات ہے ملک میں اڑائی پہنچے ہیں خطوط مجھ کو کہیں سے
فیضی کی ہے ہتک جن میں پائی

میں ان خطوط کا ذکر ہے جن سے فیضی کی ہتک پائی گئی۔ ان دو شعروں میں انہیں دو خطوط کا گھڑنا لکھا ہے ص ٥ میں جو اشعار ہیں ان میں صرف انہیں خطوط کا ذکر ہے جن میں فیضی کی ہتک پائی جاتی ہے۔ (سوال) جو خط شہاب الدین کا ١٣؍ اکتوبر ١٩٠٢ء کے سراج الاخبار ص ٦ میں چھپا ہوا ہے کہ مجھ کو نہایت افسوس ہے۔

کہ کسی فتنہ باز نے محض شرارت سے یہ چالبازی کی تھی۔ خداوند کریم کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں اس قسم کی عادت سے بیزار ہوں۔ میں نے کوئی خط نہیں لکھا۔ جس میں یہ لکھا گیا ہو کہ مولوی صاحب مرحوم کی موت ایسی ہوئی تو اس عبارت میں راقم خط نے اس خط کو چالبازی قرار دیا اور اس کے لکھنے سے انکار کرتا ہے۔ جو الحکم میں فیضی کی ہتک کے متعلق چھپایا نہیں ۔(وکیل استغاثہ اس سوال کی نسبت اعتراض کرتا ہے مگر جو حوالہ پیش کیا گیا ہے اس کی تائید میں وہ اس کی قطعی ممانعت نہیں کرتا۔ اس لئے سوال پوچھنے کی اجازت دے دی گئی۔

(حوالہ ج ١٦ البدر ص ٢٢)

٦٩

صفحہ ٥٠٨

(جواب) اس خط میں شہاب الدین اس بات سے انکار کرتا ہے کہ کوئی خط میرا بھیجا گیا ہو جو الحکم میں درج کیا گیا۔ جس میں مولوی محمد حسن کی ہتک لکھی گئی ہو یا نہیں کہ جس وقت مضمون نظم سنایا گیا تھا۔ اس وقت خط بھی سنایا گیا تھا کہ نہیں۔ میں نے شہاب الدین کو ملزم گردانے جانے کا مشورہ نہیں دیا۔ دستخط حاکم۔

نوٹ: اب پانچ بج گئے ہیں۔ اس لئے پرسوں یہ مقدمہ پیش ہو۔

(١٨ جولائی ١٩٠٤ء دستخط حاکم)

ناظرین کرام! مرزا قادیانی کے یہ جھوٹ ١٣٨ شائع ہو رہے ہیں اس کے علاوہ اور سینکڑوں جھوٹ ہیں۔ کیا ایسا شخص جو کذب بیانی میں اپنا جواب نہ رکھتا ہو۔ کیا اونچی سوسائٹی میں کوئی مقام حاصل کر سکتا ہے۔ چہ جائیکہ مجدد یا ولی یا معاذ اللہ نبی ہو سکتا ہے اس کا فیصلہ انصاف کی رو سے آپ کیجئے اور مرزائیوں سے اجتناب کریں۔

(حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کو دعوت مقابلہ۔ مرزا قادیانی کی طرف سے)

مناظرہ کا چیلنج دے کر خود نہ پہنچنا اور پیر صاحب کو مفرور قرار دینا۔ یہ ڈھٹائی قابل افسوس ہے۔

جھوٹ نمبر ١٢٩، ١٣٠...... اس دعوت کے مطابق پیر گولڑہ صاحبؒ بغرض مقابلہ اگست ١٩٠٠ء کو بمقام لاہور پہنچ گئے۔ لیکن پیر صاحب نے چالیس علماء کی شرط کو فضول سمجھا اور مقابلہ تفسیر نویسی کے لئے بذات خود پیش ہوئے مگر مرزا قادیانی تشریف نہ لائے بلکہ قادیان سے ایک اشتہار بھیج دیا کہ پیر صاحب گولڑہ مقابلہ سے بھاگ گئے۔

عجیب نظارہ

جس روز پیر صاحب گولڑہ لاہور میں آئے بغرض امداد حق اردگرد سے علماء اور غیر علماء بھی وارد لاہور ہوئے تھے۔ مولوی عبدالجبار صاحب غزنویؒ اور خاکسار وغیرہ بھی شریک تھے۔ قرار پایا تھا کہ جامع مسجد لاہور میں صبح کے وقت جلسہ ہوگا۔ پیر صاحب مع شائقین مسجد موصوف کو جا رہے تھے۔ راستے میں بڑے بڑے موٹے حرفوں میں لکھے ہوئے اشتہار دیواروں پر چسپاں تھے جن کی سرخی یوں تھی۔

پیر مہر علی کا فرار

جو لوگ پیر صاحب کو لاہور میں دیکھ کر یہ اشتہار پڑھتے وہ بزبان حال کہتے: ”ایں چہ

؎ مے بینیم بہ بیداری ست یارب یا بخواب“

٧٠

صفحہ ٥٠٩

ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب پٹیالوی

ڈاکٹر صاحب موصوف عرصہ بیس سال تک مرزا قادیانی کے مرید رہے۔ آخر ان سے علیحدہ ہوئے اور مرزا قادیانی کے برخلاف قدم اٹھایا۔ بلکہ دعویٰ الہام سے بھی مقابلہ کی ٹھہری۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے اپنا آخری الہام مرزا قادیانی کی موت کے متعلق شائع کیا۔ جس کا ذکر مرزا قادیانی نے مع جواب خود ان لفظوں میں کیا ہے جو درج ذیل ہیں:

”ایسا ہی کئی اور دشمن مسلمانوں میں سے میرے مقابل پر کھڑے ہو کر ہلاک ہوئے اور ان کا نام و نشان نہ رہا۔ ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے۔ جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ٤؍ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جاؤں گا اور یہ اس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا۔ یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور مجھے دجال اور کافر اور کاذب قرار دیتا ہے پہلے اس نے بیعت کی اور برابر بیس سال تک میرے مریدوں میں اور میری جماعت میں داخل رہا۔ پھر ایک نصیحت کی وجہ سے جو میں نے محض للہ اس کو کی تھی مرتد ہو گیا۔ نصیحت یہ تھی کہ اس نے یہ مذہب اختیار کیا تھا کہ بغیر قبول اسلام اور پیروی آنحضرت ﷺ کے نجات ہو سکتی ہے گو کوئی شخص آنحضرت ﷺ کے وجود کی خبر بھی رکھتا ہو۔ چونکہ یہ دعویٰ باطل تھا اور عقیدہ جمہور کے بھی برخلاف اس لئے میں نے منع کیا مگر وہ باز نہ آیا۔ آخر میں نے اس کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔ تب اس نے یہ پیشگوئی کی کہ میں اس کی زندگی میں ہی ٤؍ اگست ١٩٠٨ء تک اس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر خدا نے اس کی پیش گوئی کے مقابلہ پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا ہو جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس پر اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے خدا اس کی مدد کرے گا۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦)

اس مقابلہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا قادیانی ڈاکٹر صاحب کی بتائی ہوئی مدت کے اندر اندر ہی (٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء) کو فوت ہو گئے اور ڈاکٹر صاحب ١٩٣٢ء تک زندہ رہے۔ آئندہ اللہ اعلم!

مولوی محمد حسین صاحب بٹالویؒ

مرزا قادیانی نے ایک پیش گوئی حضرت مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی کے متعلق بھی کر رکھی تھی کہ: ”ہم اس کے ایمان سے ناامید نہیں ہوئے بلکہ امید بہت ہے اسی طرح خدا کی وحی خبر دے رہی ہے (اے مرزا) تجھ پر اللہ تعالیٰ تیرے دوست محمد حسین کا مقسوم ظاہر کر دے گا۔ سعید

٧١

صفحہ ٥١٠

ہے پس روزِ مقدر اس کو فراموش نہیں کرے گا اور خدا کے ہاتھوں سے زندہ کیا جاوے گا اور خدا قادر ہے اور رشد کا زمانہ آئے گا اور گناہ بخش دیا جائے گا۔ پس پاکیزگی اور طہارت کا پانی اسے پلائیں گے اور نسیم صبا خوشبو لائے گی اور معطر کر دے گی۔ میرا کلام سچا ہے میرے خدا کا قول ہے جو شخص تم میں سے زندہ رہے گا دیکھ لے گا۔

(اعجاز احمدی ص ٥٠، ٥١، خزائن ج ١٩ ص ١٦٢)

الفاظ مرقومہ بالا سے صاف عیاں ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ایک نہ ایک دن ضرور مرزا قادیانی پر ایمان لائیں گے۔ حالانکہ یہ پیش گوئی قطعا بالکل غلط نکلی۔

عذر۔ مرزائی کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب استفتاء کے ص ٢٢، خزائن ج ١٢ ص ١٣٠ پر لکھا ہے کہ: ”معلوم نہیں کہ وہ ایمان (محمد حسین کا) فرعون کی طرح ہوگا یا پرہیزگار لوگوں کی طرح۔“

جواب ...... یہ تحریر ١٨٩٧ء کی ہے۔ بیشک اس وقت مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کو دورنگی میں ڈھالا تھا۔ مگر اس کے بعد جبکہ انہوں نے صاف اور واضح الفاظ میں بوحی اللہ تعین کر دی ہے کہ محمد حسین کا ایمان سعید لوگوں کی طرح ہوگا۔ جیسا کہ اوپر کی عبارت جو ١٩٠٣ء کی ہے۔ میں موجود ہے تو آپ ایک سابقہ مردودہ تحریر کو پیش کر کے فریب دینا بعید از شرافت ہے۔

مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ

بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔ مدت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے گالیوں اور تہمتوں اور ان الفاظوں سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہوسکتا۔

اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہے تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں

٧٢

صفحہ ٥١١

کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ سنت اللہ کے موافق مکذبین کی سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشگوئی نہیں بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر وقدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔

اگر یہ دعوٰیٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے وہ کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے۔ جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین!

میں ان کے ہاتھوں بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر گئی وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بدزبانیوں میں آیت ”لا تقف ما لیس لک بہ علم“ پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص درحقیقت مفسد ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بدکار آدمی ہے۔ سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بداثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہی تہمتوں کے ذریعے سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتے ہیں اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے

٧٣

PDF 513

اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کرے۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین۔ ”ربنا افتح بیننا وبين قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین آمین“ بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب یہ فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ الراقم: عبداللہ الصمد میرزا غلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ وایدہ!“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٦ تا ٥٧٩)

اس اشتہار کی اشاعت کے بعد ٢٥؍ اپریل ١٩٠٧ء کے اخبار بدر قادیان میں مرزا قادیانی کی روزانہ ڈائری یوں چھپی: ”ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں۔ بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا کہ ”اجیب دعوۃ الداع“ صوفیا کے نزدیک بڑی کرامت، استجابت دعا ہی ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں ہیں۔ (مرزا)

(ملفوظات ج٩ ص٢٦٨)

نتیجہ یہ ہوا کہ جناب مرزا قادیانی ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء مطابق ٢٤؍ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ کو انتقال کر گئے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب۔ چالیس یا پچاس سال زندہ رہے اور برابر مرزائیت کی تردید کرتے رہے اور لدھیانہ میں مرزائیوں سے مباحثہ کیا اور تین سو روپیہ انعام حاصل کیا۔

اشتہار بغرض استعانت واستظہار از انصار دین محمد مختار صلی اللہ علیہ وعلیٰ الآبرار

اخوان دیندار و مومنین غیرت شعار و حامیان دین اسلام و متبعین سنت خیر الانام پر روشن ہو کہ اس خاکسار نے ایک کتاب متضمن اثبات حقانیت قرآن و صداقت دین اسلام ایسی تالیف کی ہے جس کے مطالعے کے بعد طالب حق سے بجز قبولیت اسلام اور کچھ نہ بن پڑے اور اس کے جواب میں قلم اٹھانے کی کسی کو جرأت نہ ہوسکے۔ اس کتاب کے اس مضمون کا ایک اشتہار دیا جائے گا۔ کہ جو شخص اس کتاب کے دلائل کو توڑ دے و مع ذالک اس کے مقابلہ میں اسی قدر دلائل یا ان کے نصف یا ثلث یا ربع خمس سے اپنی کتاب کا (جس کو وہ الہامی سمجھتا ہے) حق ہونا یا اپنے دین کا بہتر ہونا ثابت کر دکھائے اور اس کے کلام یا جواب کو میری شرائط مذکورہ کے موافق تین منصف (جن کو مذہب فریقین سے تعلق نہ ہو) مان لیں تو میں اپنی جائیداد تعدادی دس ہزار روپیہ سے (جو میرے قبضہ و تصرف میں ہے) دستبردار ہو جاؤں گا اور سب کچھ اس کے حوالہ کر دوں گا۔ اس باب میں جس طرح کوئی چاہے اپنا اطمینان کر لے۔ مجھ سے تمسک لکھالے یا رجسٹری کرالے اور میری جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو آکر بچشم خود دیکھ لے۔

٧٤

باعث تصنیف

اس کتاب کے پنڈت د کے نام سے مشہور کر رہے ہیں اور بجا مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں سمجھتے ہیں اور ان مقدس نبیوں کے حق ایک صاحب نے ان میں سے اخبار نام اشتہار بھی جاری کیا ہے۔ اب ہ کر دیا اور صداقت قرآن و نبوت کو ب میں تصنیف کیا۔ بغرض تکمیل تمام ضرو تعداد کتاب ڈیڑھ سو جزو ہوگی۔ ہر صرف ہوتے ہیں۔ پس کل حصص کتا

از انجا کہ ایسی بڑی کتاب مشکل امر ہے اور ایسے اہم کام میں ا مخفی نہیں۔ لہٰذا اخوان مومنین سے در میں معاونت کریں۔ اغنیاء لوگ اگر کتاب بسہولت چھپ جائے گی۔ وسعت بہ نیت خریداری کتاب پا جیسی جیسی کتاب چھپتی جائے گی ان غرض انصار اللہ بن کر ا کتاب کا ”براہین الاحمدیہ علیٰ حقیق کو مبارک کرے اور گمراہوں کو اس

مرزا قادیانی بڑی جدو ایسی کتاب شائع کروں گا اور ہنوز لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وعدہ تھا پچا

صفحہ ٥١٣

باعث تصنیف

اس کتاب کے پنڈت دیانند صاحب اور ان کے اتباع ہیں جو اپنی امت کو آریہ سماج کے نام سے مشہور کر رہے ہیں اور بجز اپنے وید کے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ مسیح اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اور نعوذ باللہ توریت۔ زبور۔ انجیل۔ فرقان مجید کو محض افترا سمجھتے ہیں اور ان مقدس نبیوں کے حق میں ایسے توہین کے کلمات بولتے ہیں کہ ہم سن نہیں سکتے۔ ایک صاحب نے ان میں سے اخبار سفیر ہند میں بطلب ثبوت حقانیت فرقان مجید کئی مرتبہ ہمارے نام اشتہار بھی جاری کیا ہے۔ اب ہم نے اس کتاب میں ان کا اور ان کے اشتہاروں کا کام تمام کر دیا اور صداقت قرآن و نبوت کو بخوبی ثابت کیا۔ پہلے ہم نے اس کتاب کا ایک حصہ پندرہ جزو میں تصنیف کیا۔ بغرض تکمیل تمام ضروری امروں کے نو حصے اور زیادہ کر دیئے۔ جن کے سبب سے تعداد کتاب ڈیڑھ سو جزو ہو گئی۔ ہر ایک حصہ اس کا ایک ایک ہزار نسخہ چھپے، تو چورانوے روپیہ صرف ہوتے ہیں۔ پس کل حصص کتاب نو سو چالیس روپے سے کم میں چھپ نہیں سکتے۔

از انجا کہ ایسی بڑی کتاب کا چھپ کر شائع ہونا بجز معاونت مسلمان بھائیوں کے بڑا مشکل امر ہے اور ایسے اہم کام میں اعانت کرنے میں جس قدر ثواب ہے وہ ادنیٰ اہل اسلام پر بھی مخفی نہیں۔ لہٰذا اخوان مومنین سے درخواست کہ اس کار خیر میں شریک ہوں اور اس کے مصارف طبع میں معاونت کریں۔ اغنیاء لوگ اگر اپنے مطبع کے ایک دن کا خرچ بھی عنایت فرمائیں گے تو یہ کتاب بسہولت چھپ جائے گی۔ ورنہ یہ مہر درخشاں چھپا رہے گا۔ یا یوں کریں کہ ہر ایک اہل وسعت بہ نیت خریداری کتاب پانچ پانچ روپیہ معہ اپنی درخواستوں کے راقم کے پاس بھیج دیں۔ جیسی جیسی کتاب چھپتی جائے گی ان کی خدمت میں ارسال ہوتی رہے گی۔ غرض انصار اللہ بن کر اس نہایت ضروری کام کو جلد تر بپایہ انجام پہونچاویں اور نام اس کتاب کا ”البراہین الاحمدیہ علیٰ حقیقت کتاب اللہ القرآن والنبوۃ المحمدیہ“ رکھا گیا ہے۔ خدا اس کو مبارک کرے اور گمراہوں کو اس کے ذریعہ اس سے اپنے سیدھے راہ پر چلاوے۔ آمین! المشتہر: خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ملک پنجاب

(مجموعہ اشتہارات ج ١، ص ١٠ تا ١٢)

مرزا قادیانی بڑی جدوجہد کے ساتھ اشتہار شائع کرتے ہیں کہ اسلام کی حقانیت پر ایسی کتاب شائع کروں گا اور جنوری فروری ١٨٨٠ء میں شائع اور تقسیم ہونی شروع ہوجائے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وعدہ تھا پچاس ٥٠ حصوں کا۔ لیکن پہلا حصہ ١٨٨٠ء میں شائع کیا۔ دوسرا

٧٥

صفحہ ٥١٤

١٨٨١ء میں اور تیسرا ١٨٨٢ء میں اور چوتھا ١٨٨٤ء میں شائع ہوا۔

(سیرت مسیح موعود از مرزا بشیر الدین ص ٢٦)

حیرت اور افسوس کی چیز ہے کہ مرزا قادیانی کس وعدہ پر مسلمانوں سے چندہ وصول کرتے ہیں اور کتاب حسب وعدہ شائع نہیں کرتے کیا یہی دیانت و ایمان داری ہے۔ غور کیجئے پانچواں حصہ ١٩٠٥ء میں چھپا اور پھر اعلان کر دیا کہ پچاس اور پانچ میں صرف ایک ہندسہ کا فرق ہے۔ یہ مسلمانوں کے ساتھ مرزا قادیانی کیا برتاؤ کر رہے ہیں۔ کیا مرزائی صاحبان اس کے لئے تیار ہیں کہ کسی مسلمان کو پچاس ہزار روپیہ قرض دیں اور اس کی وصول یابی مرزا قادیانی کی سنت کے مطابق ہو اور پانچ ہزار دے کر وہ یہ کہہ دے کہ صرف ایک ہندسہ کا فرق ہے۔ مطابق سنت مرزا قادیانی کیا یہ حساب برابر ہو جائے گا۔ جو شخص دیانت وامانت میں پورا نہ اترے وہ کسی بھی اونچی سوسائٹی میں بیٹھنے کا مستحق نہیں ہے۔

”ان صاحبوں کے جو قیمت ادا کر چکے ہیں یا ادا کرنے کا وعدہ ہو چکا ہے قیمت اس کتاب کی بجائے پانچ روپیہ کے دس روپیہ تصور فرماویں۔ مگر واضح رہے کہ اگر بعد معلوم کرنے قدر و منزلت کتاب کے کوئی امیر عالی ہمت محض فی سبیل اللہ اس قدر اعانت فرمادیں گے کہ جو کسر کی قیمت کی ہے اس سے پوری ہو جائے گی۔ تو پھر بہ تجدید اعلان وہی پہلی قیمت کہ جس میں عام مسلمانوں کا فائدہ ہے قرار پا جائے گی اور ثواب اس کا اس محسن کو ملتا رہے گا اور یہ وہ خیال ہے کہ جس سے ابھی میں ناامید نہیں اور اغلب ہے کہ بعد شائع ہونے کتاب اور معلوم ہونے فوائد اس کے، کہ ایسا ہی ہو اور انشاء اللہ یہ کتاب جنوری ١٨٨٠ء میں زیر طبع ہو کر اس کی اجراء اسی مہینہ یا فروری میں شائع اور تقسیم ہونا شروع ہو جائے گی۔ مکرر یہ کہ میں اس اعلان میں مندرجہ حاشیہ صاحبان کا تہ دل مشکور ہوں کہ جنہوں نے سب سے پہلے اس کتاب کی اعانت کے لئے بنیاد ڈالی اور خریداری کتب کا وعدہ فرمایا۔ (مورخہ ٣؍دسمبر ١٨٧٩ء) مرزا غلام احمد قادیان ضلع گورداسپور، پنجاب

(مجموعہ اشتہارات ج١ ص ١٤)

(١) ایفائے عہد اور حصول زر

قرآن کریم اور احادیث شریف ایفائے عہد کی تاکیدوں سے پر ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”اوفوا بالعہد (بنی اسرائیل: ٣٤) (وعدے پورے کیا کرو) اوفوا بالعقود (مائدہ: ١) (اقرار پورے کیا کرو) ان العہد کان مسئولا (بنی اسرائیل: ٣٤) (عہد واقرار کے (ایفا کی) بابت قیامت کے دن سوال ہوگا) وغیرہ“

٧٦

صفحہ ٥١٥

احادیث صحیحہ میں بھی قرار وعہد پورا کرنے کی تاکیدیں فرمائی گئی ہیں۔ چنانچہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے منافق کی علامات میں ایک علامت یہ ارشاد فرمائی ہے کہ: ”اذا عاهد غدر“ (یعنی منافق کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ بدعہدی کرتا ہے) اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایفائے عہد کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین!

مرزا قادیانی کے ایفائے عہد کی حالت دیکھنے کے لئے ان کی کتاب براہین احمدیہ کا قصہ ہی قابل غور ہے۔ ابتداء مرزا قادیانی ضلع سیالکوٹ کے دفتر میں پندرہ روپیہ ماہوار کے ملازم تھے۔ تنخواہ کم تھی۔ گزارہ نہیں ہوتا تھا تو مختاری کا امتحان دیا۔ مگر فیل ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوست نے ان کو مشورہ دیا کہ آپ کو مذہبی مطالعہ کا شوق رہا ہے بہتر ہے کہ مذہب کی تردید میں کتابیں لکھ کر فروخت کرو۔ چین کرو گے۔ اس رائے سے اتفاق کر کے مرزا قادیانی سیالکوٹ سے لاہور آ کر مسجد چینیاں والی میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے ملے اور ارادہ ظاہر کیا۔ کہ میں ایک ایسی کتاب لکھنا چاہتا ہوں جو کل ادیان کا بطلان کرے اور حقیقت اسلام اس سے ظاہر ہو۔ مولوی صاحب نے بھی ان کی رائے کو پسند کیا۔ بلکہ عملاً مدد کو مستعد ہو گئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے ایک اشتہار جاری کیا کہ صداقت اسلام پر ایک کتاب لکھی جائے گی۔ جس میں تین سو دلائل حقانیت اسلام پر ہوں گے اور قیمت اس کی پانچ روپیہ اور دس روپیہ پیشگی ہوگی۔

اسلام کے ہمدردوں اور شیدائیوں نے خدمت اسلام کو اپنا فرض سمجھ کر مدد دینی اور روپیہ بھیجنے شروع کئے۔ چاروں طرف سے روپیہ کی بارش ہونے لگی۔ مرزا قادیانی مالا مال ہو گئے اور قرضہ بھی اتر گیا۔ چنانچہ خود فرماتے ہیں کہ: ”جہاں مجھے دس روپیہ ماہوار کی امید نہ تھی۔ لاکھوں تک نوبت پہنچی۔“

بعض مسلمانوں نے بڑی بڑی رقمیں بھی دیں۔ مثلاً خلیفہ سید محمد حسن خان صاحب وزیر اعظم پٹیالہ پانچ صد روپیہ۔ بابو الٰہی بخش صاحب اکاؤنٹینٹ دو صد روپیہ وغیرہ۔ کتاب بھی جزوی طریق پر نکلنی شروع ہوگئی۔ مگر اس کتاب کے لکھتے لکھتے مرزا قادیانی کو مجدد۔ مہدی۔ مثیل۔ مسیح اور نبوت ورسالت کے خواب آنے لگے اور انہوں نے اس کی جلد چہارم کے اخیر میں اشتہار دے دیا کہ اب براہین کی تکمیل خدا نے اپنے ذمہ لے لی ہے۔ اس فقرہ کے معنی عملاً یہ ہوئے کہ کتاب کی اشاعت بند کر دی۔

(دیکھئے خزائن ج ١ ص ٦٧٣)

اس کتاب کی پہلی جلد تو صرف اشتہار ہی ہے۔ دوسری اور تیسری جلد میں مقدمہ اور چوتھی جلد میں مقدمہ اور تمہیدات کے بعد باب اول شروع ہی ہوا تھا کہ اشاعت ملتوی کر دی گئی۔

٧٧

صفحہ ٥١٦

کل کتاب کے ٥١٢ صفحے ہوئے اور تیسری جلد کے اخیر پر اشتہار تھا کہ کتاب سو جز تک پہنچ گئی ہے اور اس دوران میں قیمت کتاب بھی دس روپے اور پچیس روپے کر دی۔ جتنی کتاب تیار ہوگئی تھی۔ یہ بھی کئی بار چھپی اور ہزار ہا جلدیں اس کی فروخت ہوئیں۔

پیشگی قیمت دینے والوں نے تقاضا کیا کہ جس کتاب کا وعدہ کیا تھا خریداروں کے پاس پہنچنی چاہئے۔ ان لوگوں کو خاموش کرنے کے لئے ایک عجیب وغریب اشتہار شائع کیا گیا۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ’’اس توقف کو بطور اعتراض پیش کرنا محض لغو ہے۔ قرآن کریم بھی باوجود کلام الہی ہونے کے ٢٣ برس میں نازل ہوا۔ پھر اگر خدا تعالیٰ کی حکمت نے بعض مصالح کی غرض سے براہین کی تکمیل میں توقف ڈال دی تو اس میں کون سا حرج ہے۔ اگر یہ خیال کیا جائے کہ بطور پیشگی خریداروں سے روپیہ لیا ہے تو ایسا خیال کرنا بھی حمق اور ناواقفی ہے کیونکہ اکثر براہین احمدیہ کا حصہ مفت تقسیم ہوا ہے اور بعض سے پانچ روپیہ اور بعض سے آٹھ آنہ تک قیمت لی گئی ہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ جن سے دس روپے لئے گئے ہیں اور پچیس روپیہ لئے گئے ہوں۔ وہ تو صرف چند ہی انسان ہیں اور پھر باوجود اس قیمت کے جو ان حصص براہین احمدیہ کے مقابل جو طبع ہوکر خریداروں کو دیئے گئے کچھ عجب نہیں۔ بلکہ عین موزوں ہے۔ اعتراض کرنا سراسر کمینگی اور سفاہت ہے۔ پھر بھی ہم نے بعض جاہلوں کے ناحق شور وغوغا کا خیال کرکے دو مرتبہ اشتہار دے دیا۔ کہ جو شخص براہین احمدیہ کی قیمت واپس لینا چاہے وہ ہماری کتابیں ہمارے پاس روانہ کر دے اور اپنی قیمت واپس لے لے۔ چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس قسم کی جہالت اپنے اندر رکھتے ہیں انہوں نے کتابیں واپس کر دیں اور قیمت لے لی اور بعض کتابوں کو بہت خراب کرکے بھیجا۔ مگر ہم نے قیمت دے دی۔ کئی دفعہ ہم لکھ چکے ہیں کہ ہم ایسے کمینہ طبعوں کی ناز برداری نہیں کرنا چاہتے اور ہر ایک وقت قیمت دینے پر تیار ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایسے دنی الطبع لوگوں سے خدا نے ہم کو فراغت بخشی۔‘‘

(البدر ٩ اگست ١٩٠٦ء)

ناظرین! کیا آپ مرزا قادیانی کے عقلی معجزہ کی داد نہ دیں گے؟ فرمائیے اس اشتہار کو پڑھ کر کون شریف اور باحیا آدمی احمق، ناواقف، کمینہ، سفیہہ، جاہل، کمینہ طبع اور دنی الطبع کہلا کر واپسی قیمت کا مطالبہ کرسکتا تھا۔ مختصراً تو یہی کافی ہے کہ مرزا قادیانی نے جس غرض کے لئے روپیہ لیا تھا وہ پوری نہ کی اور اس روپیہ کو بے جا طور پر اپنے صرف میں لائے۔ یہ حلال تھا یا حرام؟ اس کا فیصلہ ناظرین کر سکتے ہیں۔ لیکن مزید توضیح کے لئے مرزا قادیانی کے اس اعلان پر کچھ اور روشنی ڈالی جاتی ہے۔

٧٨

دیانت کا تقاضا یہ تھا کہ مرزا قا کر دیتے۔ یا افسوس کے ساتھ اعل لیں اور یا اس روپیہ کو بمعہ امداد واپ طور پر ایسے لوگوں کو احمق، کمینہ، سفی یہ فائدہ ہوا کہ بہت کم لوگوں نے ہیں۔ اس لئے انہوں نے قیمت

کچھ روپیہ اپنے احباب سے جم حضرت امام حسینؓ کی توہین کی قادیانی نے یہ روپیہ واپس دے

اشاعت کے التوا کا بار اللہ تعالیٰ

کی کہ کتنے لوگوں کو کتاب مفت پیشگی قیمت دینے والوں کو تو پور

کو ایفائے عہد کہہ سکتے ہیں؟

پیشگی یا مابعد قیمت بھی تو نہیں براہین کے تین سو بے نظیر دلائل تجارت کو قرآن شریف کے نز

یتیمی اور احرام سے آپ اسی ح کی تعداد اور کل وصول شدہ ر کتابیں مفت گئیں اور کس قد

صفحہ ٥١٧

دیانت کا تقاضا یہ تھا کہ مرزا قادیانی حصہ رسدی قیمت رکھ کر باقی روپیہ خریداروں کو واپس کردیتے۔ یا افسوس کے ساتھ اعلان کر دیتے کہ جو صاحب اپنا روپیہ واپس لینا چاہیں واپس لے لیں اور یا اس روپیہ کو بمداد او اشاعت اسلام منتقل کردیں۔ لیکن بجائے اس کے پیش بندی کے طور پر ایسے لوگوں کو احمق، کمینہ، سفیہہ، جاہل، دنی الطبع وغیرہ کے نام سے مخاطب کیا گیا۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ بہت کم لوگوں نے ایسے خطاب قبول کئے۔ قیمتی کتابیں عموماً اہل ثروت ہی خریدتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے قیمت واپس لے کر کیوں کمینہ اور احمق اور جاہل وغیرہ بننا تھا۔

کچھ روپیہ اپنے احباب سے جمع کر کے بمدد براہین احمدیہ دیا تھا۔ بعد میں جب مرزا قادیانی نے حضرت امام حسینؓ کی توہین کی تو وہ ان سے بیزار ہو گئے اور اپنا روپیہ کا مطالبہ نہیں کیا۔ کیا مرزا قادیانی نے یہ روپیہ واپس دے دیا تھا؟

اشاعت کے التوا کا بار اللہ تعالیٰ کے ذمہ ڈال دینا مرزا قادیانی کو کہاں تک بری الذمہ کرتا ہے۔

کی کہ کتنے لوگوں کو کتاب مفت دی گئی اور کتنے خریداروں کو ٨ قیمت پر۔ لیکن اگر ایسا کیا بھی گیا تو پیشگی قیمت دینے والوں کو تو پوری کتاب ملنی ضروری تھی کیا یہ بدعہدی نہیں؟

کو ایفائے عہد کہہ سکتے ہیں؟

پیشگی یا ما بعد قیمت بھی تو نہیں لی گئی تھی۔ نہ اس کے حجم کا کوئی وعدہ تھا کہ اتنا ہوگا۔ لیکن آپ کی براہین کے تین سو بے نظیر دلائل یا تین سو جز قبر میں آپ کے ساتھ ہی چلے گئے۔ پھر اپنی اس دنیوی تجارت کو قرآن شریف کے نزول سے تشبیہ دینا کہاں کی ایمانداری ہے؟

یہ تھی اور الزام سے آپ اسی صورت میں بری ہو سکتے تھے کہ کل شائع شدہ اور فروخت شدہ کتابوں کی تعداد اور کل وصول شدہ رقم کی فہرست شائع کرتے اور اس کے ساتھ تفصیل دیتے کہ کس قدر کتابیں مفت گئیں اور کس قدر آٹھ آنہ پر۔ کتنے لوگوں نے کتابیں واپس کر کے قیمت واپس لی اور

٧٩

صفحہ ٥١٨

کتنے لوگوں کا کتنا روپیہ امانتاً باقی رہ گیا اور وہ کس مصرف میں آیا۔ کیا کوئی مرزائی ہمت کر کے اپنے مرشد کا ڈیفنس پیش کر سکتا ہے؟

یہی تین سو جزو ہو گیا ہے تو اس کے شائع نہ ہونے کی کیا وجوہات تھیں؟ حقانیت اسلام کو شائع ہونے سے روکنا خدا کا کام ہے۔ یا شیطان کا؟ اور کیا اس التوا کو خدا کے ذمہ ڈال دینا ایسا ہی نہیں جیسا کہ کوئی چور یا خونی گرفتار ہونے پر کہہ دے۔ کہ خدا کو ایسا ہی منظور تھا۔ میں نے تو کوئی جرم نہیں کیا۔

کی قیمت پانچ روپیہ سے پچیس روپیہ تک وصول کرنا پیغمبری ہے یا دکانداری؟

دس ہزار روپیہ انعام دیا جاوے گا۔ بعد میں اس دیباچہ اور تمہید پر معراج الدین عمر مرزائی نے اشتہار دے دیا کہ ٢٧ سال سے کتاب شائع ہو چکی ہے۔ کسی کو جواب دینے اور انعام حاصل کرنے کا حوصلہ نہیں ہوا۔ کیا یہی تین سو بے نظیر دلائل تھے۔ جن پر انعام مشتہر کیا گیا تھا۔ یا تین سو دلائل کا وعدہ محض جھوٹ اور نمائشی تھا؟

براہین احمدیہ کے علاوہ ایک کتاب سراج منیر مفت شائع کرنے کا اعلان کر کے چودہ سو روپیہ چندہ مانگا اور بہت سا روپیہ وصول بھی ہوا۔ مگر بعد میں جب یہ کتاب چھپی تو قیمتاً دی گئی۔

پھر ایک رسالہ ماہواری ”قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ“ چھپوانے کا اشتہار دیا گیا کہ وہ ٢٠/ جون ١٨٨٥ء سے ماہوار نکلے گا۔ پھر (نشان آسمانی ص ٤٢، ٤٣، خزائن ج ٤ ص ٣٥٧ تا ٣٥٩) میں باہمت دوستوں سے مدد چاہی کہ اے مردان بکوشید و برائے حق جوشید اور ہر ایک کتاب کی اشاعت کے لئے امداد کی درخواست کی اور لکھا کہ ذی مقدرت لوگ مد زکوٰۃ سے میری کتابیں خرید کر تقسیم کریں اور میری اور بھی تالیفات ہیں۔ جو نہایت مفید ہیں۔ مثلاً رسالہ احکام القرآن، اربعین فی علامات المقربین، سراج منیر، تفسیر کتاب عزیز، پھر جلسہ دسمبر ١٨٩٣ء میں پریس کے لئے اڑھائی سو روپیہ ماہوار کی ضرورت پیش کی اور فرمایا کہ ہر ایک دوست اس میں بلا توقف شریک ہو اور ماہوار چندہ تاریخ مقررہ پر بھیجتا رہے۔ اس سے بقیہ براہین اور اخبار اور آئندہ رسائل کا کام جاری رہ سکتا ہے۔ یہ انتظام سب کچھ ہو گیا۔ مگر تفسیر کتاب عزیز، براہین احمدیہ، اور رسائل ماہوار سب کتم عدم میں ہی رہے اور چندہ جو وصول ہوا سب بلا ڈکار ہضم کیا گیا۔ کیا یہ بد عہدی اور شکم پروری نبوت اور رسالت کی علامتیں ہیں؟ اور کیا اس روپیہ کا جو خدمت اسلام کے

٨٠

صفحہ ٥١٩

لئے اور مخصوص کتابوں اور رسالوں کے لئے لیا گیا تھا۔ اپنی ذاتی ضروریات میں صرف کرنا اور اس سے اپنی جائیداد بنانا مرزا قادیانی کیلئے جائز اور حلال تھا؟

اس بارہ میں مرزا قادیانی کے خسر میر ناصر نواب دہلوی کے چند اشعار قابل ملاحظہ ہیں۔

منقول از اشاعۃ السنہ

اور کہیں تصنیف کے ہیں اشتہار یہ ہی لوگوں نے کیا ہے روزگار
پیشگی قیمت مگر لیتے ہیں وہ خلق کو اس طرح دم دیتے ہیں وہ
بعض کھا جاتے ہیں قیمت سب کی سب اس طرح کا پڑ گیا یارو غضب
قیمتیں کھا کر نہیں لیتے ڈکار جیسے آتا تھا انکا ادھار
جو کوئی مانگے وہ بے ایمان ہے وہ بڑا ملعون اور شیطان ہے
بدگمانی کا اسے آزار ہے سارے بد بختوں کا وہ سردار ہے
ایک تو پلہ سے اس نے زر دیا دوسرے بدنام اپنے کو کیا
کھا گیا جو مال وہ اچھا رہا کچھ گھٹا ہرگز نہ اس کا اتقاء

مرزا قادیانی کا توکل علی اللہ، تزکیہ باطن اور نفس کشی

کہنے کو مرزا قادیانی فنا فی الرسول، فنا فی اللہ اور اس سے بھی وراء الورے مدارج کے مدعی تھے اور کل پیغمبروں کے کمالات کا عطر مجموعہ۔ جیسا کہ کہتے ہیں:

آدم نیز احمد مختار دربرم جامہ ہمہ ابرار
آنچہ دادست ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بتمام

(خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

لیکن حالات یہ ہیں جو اوراق گزشتہ میں ذکر ہوئے۔ اس ضمن میں مرزا قادیانی کے الہامات اور توکل علی اللہ اور نفس کشی کا مزید نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین نے گزشتہ اوراق میں پڑھ لیا ہے کہ مرزا قادیانی کے نکاح آسمانی کے متعلق کس زور وشور کے الہام ہیں۔ جن میں شک وشبہ کو دخل بھی نہیں ہو سکتا۔ لیکن ان الہامات کے ساتھ خارجی اور دنیاوی تدابیر سے بھی مرزا قادیانی بے فکر نہیں تھے اور زمینی اور آسمانی ہر قسم کی تدبیر و ان خطوط اور ان کے انجام سے نتائج ذیل مستنبط ہوتے ہیں۔۔

قسم کھا کر کہتے ہیں تو پھر ایسے خطوط لکھ کر الہام کو پورا کرانے کی کوشش کی کیا ضرورت تھی۔ نکاح جو

٨١

صفحہ ٥٢٠

آسمان پر ہو چکا تھا زمین پر بھی ضرور ہو جاتا۔

کیں۔ جو نہ صرف وقار نبوت کے منافی ہیں۔ بلکہ ایک عام شریف آدمی بھی ایسی بے حیائی نہیں کر سکتا۔

ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی منجانب اللہ نہیں تھے۔

دوسری جگہ کر چکا تھا تو اسے اس عہد کے توڑنے کے لئے کہا اور سمدھی اور سمدھن کو لکھا کہ ان سے یہ عہد توڑواویں۔ حالانکہ عہد شکنی کی اسلام میں سخت ممانعت ہے۔

بیگم کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ذیل میں ان کا ایک خط ملاحظہ ہو۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی۔ ٧٨ والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک محمدی مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا دو اور یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح تم سمجھا سکتی ہو اس کو سمجھاؤ اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نور الدین اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے اور اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آئے تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ ہم کو بھیج دے اور اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنا اس کو وارث نہ سمجھا جاوے اور ایک پیسہ اس کو وراثت کا نہ ملے۔ سو امید رکھتا ہوں کہ شرعی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا جائے گا۔ جس کا مضمون یہ ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ، محمدی بیگم کا غیر کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آوے تو پھر اس روز سے جو محمدی بیگم کا کسی دوسرے سے نکاح ہوگا۔ اس طرف عزیز بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔

تو یہ شرعی طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے۔ کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کر دوں گا۔ پھر وہ میری وراثت سے ایک

٨٢

ذرہ نہیں پاسکتا اور اگر آپ اس وق ہے کہ میں نے عزت بی بی کی بہت نیک بات ہو جاتی مگر تقدیر غالب اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں ؟ عزت بی بی کا کچھ باقی نہیں رہے گا (راقم مرزا غلا

ایک خط محمدی بیگم کے

محمدی بیگم سے میرا آسمان پر نکاح پ اللہ محمد رسول اللہ “ خدا کا کیا ہوا ضرور ہوگا۔ محمدی بیگم اسلام کی بڑی ہتک ہوگی۔ کیونکہ م

اگر آپ ناطہ نہ کریں چکا ہے۔ زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں ہیں۔ دوسری جگہ رشتہ ناطہ مت رشتہ سے انحراف نہ کریں جو آپ

ایک ایسا ہی خط اپنے

میں اپنی بے کسی، بے بسی ظاہر اپنے بھائی مرزا احمد بیگ (والد میں تمہاری لڑکی کو اپنے بیٹے فضل بیگ کو اس ارادہ سے منع کردیں کا ہوں۔ تو وہ مجھے بچالے گا۔

باوجود ان خطوط کے

اپنی بیوی کو طلاق نہ دی اور والد قسموں کے مطابق مرزا قادیانی تعلق کر لیا۔ (دیکھو اشتہار

صفحہ ٥٢١

ذرہ نہیں پا سکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا لو تو آپ کے لئے بہتر ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے عزت بی بی کی بہتری کے لئے ہر طرح کوشش کرنا چاہا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی مگر تقدیر غالب ہے۔ یادرہے کہ میں نے کوئی کچی بات نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ جس دن نکاح ہو گا اس دن عزت بی بی کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔‘‘

(رقم مرزا غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ٢ مئی ١٨٩١ء، منقول از کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٧)

ایک خط محمدی بیگم کے باپ مرزا احمد بیگ کو لکھا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے: ” آپ کی لڑکی محمدی بیگم سے میرا آسمان پر نکاح ہو چکا ہے اور مجھ کو اس الہام پر ایسا ایمان ہے جیسا ’لا اله الا الله محمد رسول الله‘ پر۔ مجھے خدا تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ یہ بات ان ٹل ہے۔ یعنی خدا کا کیا ہوا ضرور ہوگا۔ محمدی بیگم میرے نکاح میں آئے گی۔ اگر آپ کسی اور جگہ نکاح کریں گے تو اسلام کی بڑی ہتک ہوگی۔ کیونکہ میں دس لاکھ آدمیوں میں اس پیشگوئی کو مشتہر کر چکا ہوں۔

(ملخص منقول از کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٣)

اگر آپ ناطہ نہ کریں گے تو میرا الہام جھوٹا ہوگا اور جگ ہنسائی ہو گی جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے۔ زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا۔ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کو پورا کرنے کے معاون بنیں۔ دوسری جگہ رشتہ نامبارک ہوگا۔ میں نہایت عاجزی اور ادب سے التماس کرتا ہوں کہ اس رشتہ سے انحراف نہ کریں جو آپ کی لڑکی کے لئے گوناگوں برکتوں کا باعث ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ!

ایک ایسا ہی خط اپنے سمدھی مرزا علی شیر بیگ (والد عزت بی بی) کے نام بھی لکھا اور اس میں اپنی بے کسی، بے بسی ظاہر کر کے خواہش کی کہ اپنی بیوی (والدہ عزت بی بی) کو سمجھا دیں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ (والد محمدی بیگم) سے لڑ جھگڑ کر اسے اس ارادے سے روک دے۔ ورنہ میں تمہاری لڑکی کو اپنے بیٹے فضل احمد سے طلاق دلوا دوں گا۔ آپ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو اس ارادہ سے منع کر دیں۔ ورنہ مجھے خدا کی قسم کہ یہ سب رشتہ ناطہ توڑ دوں گا اور اگر میں خدا کا ہوں۔ تو وہ مجھے بچائے گا۔

(ملخصاً منقول از کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٣، ١٢٤)

باوجود ان خطوط کے بھی مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے نہ ہوا اور ادھر فضل احمد نے بھی اپنی بیوی کو طلاق نہ دی اور والد صاحب کا گھر بسانے کی مطلق پرواہ نہ کی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپنی قسموں کے مطابق مرزا قادیانی نے اپنی بیوی زوجہ اول اور دولڑکوں مرزا سلطان احمد و فضل احمد سے قطع تعلق کر لیا۔

(دیکھو اشتہار نصرت دین و تبلیغ حق از اقارب مخالف دین، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩ تا ٢٢١)

٨٤

صفحہ ٥٢٢

مرزا قادیانی نے بار بار اسے محروم الارث کرنے کی دھمکی دی۔ اس لئے شریعت کو منسوخ کرنے کا ارتکاب جرم کیا۔

٨...... تہذیب، اخلاق اور حیا کو بالائے طاق رکھ دیا۔ کہ اپنی مطلوبہ کی خاطر بیٹے کو مجبور کیا۔ کہ وہ اپنی محبوبہ بیوی کو طلاق دے دے۔ اس بیچارے نے اخلاقی جرأت سے کام لیا کہ اپنی بے گناہ اور عفیفہ بیوی کو طلاق نہیں دی۔ تو اس سے قطع تعلق کر لیا۔

٩...... اپنے نفس کی خواہش پوری نہ ہوتے دیکھ کر اللہ کی رضا پر راضی نہ رہے بلکہ اس غصہ میں آکر معمولی اہل دنیا کی طرح بیوی اور بیٹوں سے قطع تعلق کر لیا اور بندۂ نفس و شہوت ہونے کا پورا ثبوت دیا۔

١٠...... یہ سارے ڈھکوسلے ہی تھے۔ جنہیں الہام کے رنگ میں پیش کیا گیا اور اللہ تعالیٰ کی منظوری کے پروانے بھی دکھائے گئے۔ لیکن درحقیقت یہ صرف ایک نفسانی خواہش تھی جس کے لئے نہایت موزوں چالیں اور منصوبے اور تدبیریں کیں۔ جو ایک سچے اور حیادار مسلمان کی شان سے بھی بعید ہیں۔

اخیر میں ایک اور لطیفہ درج کیا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے سمدھی اور سمدھن کو اس امر کی تحریص دلائی کہ اگر یہ نکاح ہو گیا تو تمہاری لڑکی اور فضل احمد ہی میرے وارث ہوں گے اور اگر فضل احمد نہ مانے گا تو اسے محروم الارث کیا جائے گا۔ ادھر محمدی بیگم کے والد مرزا احمد بیگ کو بھی یہی لکھا کہ یہ نکاح تمہاری لڑکی کے لئے انواع و اقسام کی برکات کا موجب ہوگا۔ گویا سمدھی سمدھن بیٹے اور خسر موعود کو مال و جائیداد و وراثت کی طمع دلاتے ہیں۔ لیکن احادیث صحیحہ سے واضح ہے کہ نبیوں کا مال کسی کی میراث نہیں ہوتا۔ بعض احادیث کے الفاظ معہ ترجمہ اس طرح سے ہیں۔

الف....... ”النبی لا یورث انما میراثه فی فقراء المسلمين۔ والمساكين“ (امام احمد عن ابی بکر ) جناب رسالت مآب ﷺ فرماتے ہیں۔ کہ نبی کسی کو وارث نہیں چھوڑتے۔ ان کی میراث فقراء ومساکین کیلئے ہے۔

ب....... كل مال النبی صدقة الا ما اطعمه وكساهم انا لا نورث (ابوداؤد عن الزبیر ) نبی کا تمام مال فقراء کے لئے صدقہ ہے۔ مگر جس قدر اس کے اہل وعیال کھالیں کیونکہ ہم کسی کو وارث نہیں چھوڑتے۔

ج....... والله لا تقسم ورثتی دینارًا ما ترکت من شئ بعد نفقة نسائی

٨٤

صفحہ ٥٢٣

ومعونة عاملی فهو صدقة (بخاری، مسلم، ابوداؤد، امام احمد، عن ابی ہریرہ) خدا کی قسم میرے وارثو ں میں روپیہ کی تقسیم نہ ہوگی۔ جو کچھ میں چھوڑوں وہ میری بیویوں کے نان نفقہ اور عامل کی مزدوری کے بعد صدقہ ہے۔ (اس جگہ آنحضرت ﷺ نے قسم کھا کر تقسیم ترکہ کی ممانعت فرمائی ہے)

...... لا نورث ما تركنا صدقة (امام احمد بخاری مسلم) ہم کسی کو وارث نہیں بناتے۔ ہمارا ترکہ تو صدقہ بن جاتا ہے۔

ه...... نحن معاشر الانبياء لا نرث ولا نورث۔ ہم جملہ گروہ انبیاء کی سنت یہ ہے کہ نہ کسی مردے کا مال سمبھالتے ہیں اور نہ کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے۔

ادھر تو یہ احادیث ہیں۔ جن کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ نبیوں کا مال کسی کی میراث نہیں ہوتا۔ ادھر مرزا قادیانی وراثت پکار رہے ہیں اور پھر دعویٰ کرتے ہیں نبوت ورسالت کا پس ان ہی کے اقوال سے صاف طور پر ظاہر و ثابت ہے کہ وہ نبی نہ تھے اور نہ انہیں اپنی نبوت پر دلی ایمان ویقین تھا۔ ورنہ یہ میراث کا جھگڑا کیوں درمیان میں لاتے؟۔

ایک خط

”مرزا غلام احمد صاحب زادعنایہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! گرامی نامہ پہنچا غریب طبع یا نیک جو کچھ بھی آپ تصور کریں۔ آپ کی مہربانی ہے۔ ہاں مسلمان ضرور ہوں۔ مگر آپ کی خود ساختہ نبوت کا قائل نہیں ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے سلف صالحین کے طریقے پر ہی رکھے اور اس پر میرا خاتمہ بالخیر کرے۔ باقی رہا تعلق چھوڑنے کا مسئلہ تو بہترین تعلق خدا کا ہے۔ وہ نہ چھوٹے اور باقی اس عاجز مخلوق کا تعلق ہوا تو پھر کیا۔ نہ ہوا تو پھر کیا اور احمد بیگ کے متعلق میں کر ہی کیا سکتا ہوں۔ وہ ایک سیدھا سادھا مسلمان آدمی ہے۔ جو کچھ ہوا آپ کی طرف سے ہی ہوا۔ یہ ٹھیک ہے کہ خویش ہونے کی حیثیت سے آپ نے رشتہ طلب کیا۔ مگر آپ خیال فرمائیں کہ اگر آپ کی جگہ احمد بیگ ہوتا اور احمد بیگ آپ کی جگہ ہوتا تو خدا لگتی کہنا کہ تم کن کن باتوں کا خیال کر کے رشتہ دو گے۔ اگر احمد بیگ سوال کرتا اور وہ مجمع الامراض ہونے کے علاوہ پچاس سال سے زائد عمر کا ہوتا اور اس پر وہ مسیلمہ کذاب کے کان بھی کتر چکا ہوتا۔ (یعنی مسیلمہ کذاب کی طرح نبوت کا جھوٹا مدعی ہوتا للمولف برنی) تو آپ رشتہ دیتے؟ (انصاف تو یہ ہے کہ مرزا شیر علی بیگ کی حجت کا جواب مرزا قادیانی صاحب نہ دے سکے۔ للمولف برنی) آپ کو خط لکھتے وقت، یوں آپے سے باہر نہیں ہونا چاہئے۔ لڑکیاں سب ہی کے گھروں میں ہیں

٨٥

صفحہ ٥٢٤

اور نظام عالم ان ہی باتوں سے قائم ہے۔ کچھ حرج نہیں اگر آپ طلاق دلوائیں گے۔ تو یہ بھی ایک پیغمبری کی نئی سنت قائم کر کے بدزبانی کا سیاہ داغ مول لیں گے۔ باقی روٹی تو خدا اس کو بھی کہیں سے دے ہی دے گا۔ تر نہ سہی خشک۔ مگر خشک بہتر ہے۔ جو پسینہ کی کمائی سے پیدا کی جاتی ہے۔ (ہذا لطیف طنز ہے۔ المؤلف برنی)

- میں بھائی احمد بیگ کو خط لکھ رہا ہوں۔ بلکہ آپ کا خط بھی اس کے ساتھ شامل کر دیا ہے۔ مگر میں ان کی موجودگی میں کچھ نہیں کر سکتا اور میری بیوی کا کیا ہے۔ کہ وہ اپنی بیٹی کے لئے بھائی کی لڑکی کو ایک دائم المرض آدمی کو جو مراق سے خدائی تک پہنچ چکا ہے دینے کے لئے کس طرح لڑے۔ ہاں اگر وہ خود مان لیں تو میں اور میری بیوی حارج نہ ہوں گے۔ آپ خود ان کو لکھیں مگر درشت اور سخت الفاظ آپ کا قلم اگلنے کا عادی ہو چکا ہے۔ اس سے جہاں تک ہو سکے اعراض کریں اور منت سماجت سے کام لیں۔ خاکسار علی شیر بیگ از قادیان ٤؍ مئی ١٨٩١ء“

(منقول قادیانی مذہب ص ٤٦٢، ٤٦٣)

جب نکاح والی پیش گوئی کے پورا ہونے سے مرزا قادیانی مایوس ہو گئے اور قلبی صدمہ کے علاوہ مرزا قادیانی کو اعتراضوں کی بوچھاڑ اور خوف کا خیال ہوا تو آپ آخری وقت کی تصنیف (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠) میں لکھتے ہیں کہ: ”نکاح کے لئے ایک شرط تھی۔ جب ان لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا۔ تو نکاح فسخ ہو گیا۔ یا تاخیر میں پڑ گیا۔“

آگے چل کر کہتے ہیں کہ: ”کیا یونس علیہ السلام کی پیش گوئی نکاح پڑھنے سے کچھ کم تھی۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ ٤٠ دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہوگا مگر عذاب نازل نہ ہوا۔ حالانکہ اس میں کسی شرط کی تصریح نہیں تھی۔ پس وہ خدا جس نے ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کر دیا۔ اس پر مشکل تھا کہ اس طرح نکاح کو بھی منسوخ یا کسی وقت پر ٹال دے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)

اس قول میں مرزا قادیانی نے پیٹ بھر کر جھوٹ بولا ہے بلکہ ایک نہیں کئی جھوٹ بولے ہیں اس طرح (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) میں لکھ دیا ہے کہ: ”میں نے حدیثوں اور آسمانی کتابوں کو آگے رکھ دیا۔“ یعنی حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ حدیثوں اور آسمانی کتابوں سے نقل کیا گیا ہے۔ اب ذرا اس جھوٹ کی تفصیل ملاحظہ ہو۔

مرزا قادیانی کے نکاح کی پیش گوئی اور حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی میں زمین

٨٦

صفحہ ٥٢٥

آسمان کا فرق ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ آسمان پر فیصلہ ہو چکا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر چالیس دنوں تک عذاب نازل ہوگا۔ محض غلط ہے۔ اس فیصلہ کا ذکر نہ قرآن شریف میں ہے نہ کسی صحیح حدیث میں۔ نہ توریت وانجیل میں۔ پھر یہ قطعی فیصلہ مرزا قادیانی کی زبان درازی اور دروغ گوئی نہیں تو اور کیا ہے؟ جب اس فیصلہ کا ذکر کسی آسمانی کتاب میں نہیں اور کسی صحیح حدیث میں نہیں تو اس کے جھوٹ ہونے میں کیا تردد ہو سکتا ہے۔ اگر کسی غیر معتبر روایت میں اس کا ذکر ہو بھی تو اسے فیصلہ آسمانی کہا جاسکتا۔ یہ مرزا قادیانی کا صریح فریب ہے کہ اپنے جھوٹ پر پردہ ڈالنے کے لئے ایک بے اصل بات کو فیصلہ آسمانی سے موسوم کرتے ہیں اور اپنی تصانیف میں بار بار اس کا ذکر کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ میں نے حدیثوں اور آسمانی کتابوں کو آگے رکھ دیا۔

اسی طرح سے مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ یونس علیہ السلام کی پیشگوئی میں کوئی شرط نہ تھی صاف جھوٹ اور کذب ہے اول تو قطعی طور پر اس پیشگوئی کا ثبوت نہیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔ پھر شرطی اور غیر شرطی کا کیا مذکور اور اگر بعض روایتوں سے پیش گوئی کا حال معلوم ہوتا ہے تو شرطی ہونے کا ثبوت بھی وہیں سے ملتا ہے۔ چنانچہ وہ روایات حسب ذیل ہیں۔

کہ اپنی قوم سے کہیں کہ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب آئے گا۔ حضرت یونس علیہ السلام نے یہ پیغام الٰہی اپنی قوم کو پہنچا دیا اور ان کے انکار کے بعد ان کے پاس سے چلے گئے ۔“

کی کہ اپنی قوم سے کہو کہ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب آئے گا۔ انہوں نے یہ پیغام پہنچا دیا۔ مگر یہ لوگ ایمان نہ لائے۔ پس حضرت یونس علیہ السلام ان کے پاس سے چلے گئے۔ جب کفار نے ان کو نہ دیکھا تو اپنے انکار پر نادم ہوئے اور حضرت یونس علیہ السلام کی تلاش میں نکلے۔ مگر وہ نہ ملے۔“

اب ملاحظہ ہو کہ تین کتابوں سے حضرت یونس علیہ السلام کی پیشگوئی میں شرط دکھلا دی گئی۔ تفسیر کبیر مرزا قادیانی کے نزدیک بھی نہایت معتبر ہے اور انجام آتھم وغیرہ میں اس کے حوالے دیئے ہیں۔ پھر کس طرح جھوٹ کہے جاتے ہیں کہ پیش گوئی میں شرط نہیں تھی۔

باقی رہا یہ امر کہ نکاح والی پیش گوئی اور حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی برابر ہیں۔ یہ بھی سراسر جھوٹ ہے۔ بوجوہات ذیل

٨٧

صفحہ ٥٢٦

بھی وقتاً فوقتاً الہام اس کی تائید میں ہوتے رہے۔ جیسا کہ فصل گذشتہ میں ذکر ہو چکا ہے۔ برخلاف اس کے حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کا ثبوت نہ کسی الہامی کتاب سے ملتا ہے نہ احادیث صحیح سے۔ اس کا ماخذ بعض ضعیف روایات ہیں۔

الیک انا کنا فاعلین“

(انجام آتھم ص ٦٠ ،خزائن ج١١ ص ٦٠)

(اللہ ان مخالفوں کے مقابلہ میں کافی ہوگا اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا اور ہم ایسا ہی کریں گے) مگر حضرت یونس علیہ السلام کو اس طرح نہیں کہا گیا۔

(ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٦)

(یعنی اس عورت کا واپس ہوکر تیرے نکاح میں آنا حق ہے تو اس میں شک نہ کر) حضرت یونس علیہ السلام سے ایسا ارشاد نہیں ہوا۔

(انجام آتھم ص ٦٠ ، ٦١ ،خزائن ج ١١ ص ٦٠ ، ٦١)

(یعنی خدا کی باتیں بدلا نہیں کرتیں) حضرت یونس علیہ السلام کو اس معاملہ میں اس طرح کہنا کسی ضعیف روایات میں بھی مذکور نہیں۔

کے بعد اس لڑکی کو انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)

مگر حضرت یونس علیہ السلام نے ایسا نہیں فرمایا کہ پیش گوئی ہر حالت میں ضروری ظہور میں آئے گی۔

سکتا ہے۔ جس کے وقوع کی اسے پیشتر سے خبر دی گئی ہو اور اسے آسمان سے یقینی اطلاع مل چکی ہو۔ لیکن حضرت یونس علیہ السلام نے کوئی قسم نہیں کھائی۔ پس اس حلفیہ پیش گوئی کا پورا نہ ہونا مرزا قادیانی کے کذب کی صریح دلیل ہے۔

٨٨

صفحہ ٥٢٧

ان حالات میں ان دونوں پیش گوئیوں کو کسی صورت میں یکساں نہیں کہا جا سکتا اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ یونس علیہ السلام کی پیش گوئی ایک آسمانی فیصلہ تھا اور اس میں شرط نہ تھی اور میں نے آسمانی کتابوں اور حدیثوں کو آگے رکھ دیا۔ یہ تو بالکل جھوٹ اور صریح کذب ہے۔ مسٹر عبداللہ آتھم عیسائی کی موت کے متعلق ان الفاظ میں پیش گوئی تھی :۔

ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی ١٥ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔“

(جنگ مقدس ص ٢١٠، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢)

(حقیقت الوحی ص ١٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٢)

ان دونوں حوالوں کا مطلب یہ ہے کہ آتھم پندرہ ماہ کے اندر مر جائے گا۔ لیکن اس صاف صاف بیان کے برخلاف (کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦) پر تحریر کرتے ہیں : ”کہ پیش گوئی میں یہ بیان تھا کہ جو شخص اپنے عقیدے کی رو سے جھوٹا ہے۔ وہ پہلے مرے گا۔“ اب دیکھ لیجئے۔ کہاں پندرہ ماہ کا تعین اور کہاں جھوٹے کا سچے سے پہلے مرنا۔ یہ پچھلا فقرہ بالکل جھوٹ اس لئے تراشا گیا کہ آتھم میعاد مقررہ میں فوت نہیں ہوا۔

اللہ ! اللہ ! یا تو ان دو پیش گوئیوں کو عیسائیوں اور مسلمانوں کے لئے عظیم الشان نشان اور اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیتے تھے۔ یا اب متردد ہو کر اور برسوں منتظر رہ کر اس قدر کمزوری دکھاتے ہیں جو صریح دلیل کذب ہے حوالہ مذکور میں آگے چل کر کہتے ہیں کہ: ”اس کی مثال ایسی ہے کہ مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے اور حدیبیہ کی پیش گوئی کو بار بار ذکر کرے کہ وہ وقت انداز کردہ پر پوری نہ ہوئی۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

عبارت زیر خط حضرت رسالت مآب ﷺ پر ایسا کھلا کھلا حملہ اور ناپاک الزام ہے۔ جو قادیانی نبی کاذب کے منہ سے ہی نکل سکتا ہے۔ ورنہ آنحضرت ﷺ نے کوئی پیش گوئی بقید وقت نہیں فرمائی۔ جو اپنے وقت پر پوری نہ ہوئی ہو۔ چونکہ اس الزام دینے میں مرزا قادیانی نے بڑی چالاکی اور بے باکی سے اپنے ایمان کا نمونہ دکھایا ہے۔ اس لئے اصل قصہ ذرا وضاحت سے درج کیا جاتا ہے۔ تا کہ ناظرین حضرت نبی ﷺ کا صدق اور مرزا قادیانی کا کذب بخوبی دیکھ لیں۔

٨٩

صفحہ ٥٢٨

ذیقعدہ ٦ھ میں جناب رسالت مآب ﷺ نے عمرہ کا ارادہ فرمایا۔ اس وقت مکہ مکرمہ ابھی کفار کے ہی زیر قبضہ تھا۔ لیکن کفار مکہ اپنے مذہبی خیال سے کسی حج اور عمرہ کرنے والے کو نہیں روکتے تھے اور شوال، ذیقعد، ذی الحج اور رجب کے مہینوں میں لڑائی کو منع جانتے تھے۔ آپ عمرہ کے لئے تشریف لے چلے اور چودہ پندرہ سو صحابہ ساتھ ہوئے۔

حدیبیہ پہنچ کر یا روانگی سے قبل آپ نے خواب دیکھا کہ ہم معہ تمام اصحاب کے بلا خوف وخطر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں اور ارکان حج ادا کئے ہیں یہ آپ ﷺ کا خواب کوئی الہامی پیش گوئی نہیں نہ اس میں کوئی وقت مقرر کیا گیا ہے۔ یہ خواب آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے بیان فرمایا۔ چونکہ حضور ﷺ اس سال عمرہ کا ارادہ فرما رہے تھے اور انبیاء علیہم السلام کے خواب سچے ہوتے ہیں۔ اس لئے بعض اصحاب کو یقین ہوا کہ ہم اسی سال حج کریں گے۔ یہ خیال نہیں رہا کہ حضرت رسول ﷺ نے سال کا تعین نہیں فرمایا۔ حدیبیہ میں کفار مانع آئے۔ مگر کچھ شرائط کے ساتھ اس پر صلح ہوگئی۔ کہ اس سال نہ جائیں۔ آئندہ سال عمرہ کریں۔ جب حضور ﷺ نے حدیبیہ سے واپسی کا ارادہ فرمایا تھا۔ کہ ہم خانہ کعبہ جائیں گے اور طواف کریں گے۔ اسی پر حضرت رسالت مآب ﷺ نے فرمایا کہ ہاں میں نے کہا تو تھا مگر کیا یہ کہا تھا کہ اسی سال ہم داخل ہوں گے۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا۔ کہ نہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ خانہ کعبہ میں داخل ہوگے اور طواف کرو گے۔ یعنی ہمارے خواب کا ظہور کسی وقت ہوگا۔ (یہ روایت صحیح بخاری باب الشروط فی الجہاد میں ہے) خدا تعالیٰ نے آئندہ سال میں اس خواب کا ظہور دکھا دیا۔ پھر ایک سال بعد فتح مکہ ہوئی اور نہایت کامل طور سے اس کی صداقت کا ظہور ہوا۔ غرض دو سال کے اندر وہ خواب یا پیش گوئی کامل طور سے پوری ہوگئی۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ٦ھ میں حضرت رسالت مآب ﷺ نے عمرہ کا ارادہ اس خواب کی بناء پر کیا تھا یا صرف عمرہ کا شوق اور کفار مکہ کی حالت کا معلوم کرنا اس کا مقصود تھا۔ کامل تحقیق اس امر کی شہادت دیتی ہے۔ کہ عمرہ کرنے کا خیال اس سفر کا باعث ہوا تھا۔ کیونکہ کسی روایت سے ثابت نہیں ہوتا۔ کہ خواب کا دیکھنا موجب سفر ہوا صحیح روایت تو یہی ہے کہ حدیبیہ پہنچ کر حضور انور ﷺ نے وہ خواب دیکھا تھا۔ اس کی صحت بلحاظ راوی کے اور بااعتبار ناقلین کے ہر طرح ثابت ہوتی ہے۔ اس کے راوی مجاہدؒ ہیں جو حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے شاگرد رشید اور نہایت ثقہ ہیں اور اس روایت کو اکثر مفسرین اور محدثین نے نقل کیا ہے۔ تفسیر درمنثور میں اس روایت کو پانچ محدثین سے اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ:

٩٠

عن مجاهد قال ارى رسول الله وهو بالحديبية انه يدخل مك اصحابه امنين الخ (درمنث ص ٨٠)

على هذا تفسير ح الباری میں بھی اسی طرح ہے کہ یہ خواب جس روایت میں مدینہ شر ہے اور اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ حضور بہر حال اس بیان سے ظا الزام کہ حدیبیہ والی پیش گوئی وقت بقول مرزا قادیانی کوئی شریرالنفس خ جھوٹی پیش گوئیوں پر پردہ ڈالنے خواب کی صداقت ظاہر کی جاتی ہے الرؤيا بالحق (الفتح :٢٧) “

اب دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ تو ہے اور مرزا قادیانی رسول اللہ ﷺ کو ہیں۔ اس نص قرآنی کے مقابلہ میں خ پیش گوئی وقت انداز کردہ پر پوری نہیں

مرزا قادیانی نے اپنا ک رکھا۔ چنانچہ اس کتاب میں بائبل ا کئے گئے ہیں۔

(رسالہ ضرورۃ الامام ص ١٧

ایک مرتبہ ٤٠٠ نبی کو شیطانی الہام ہو تھا۔ ایک بادشاہ کی فتح کی پیش گوئی بڑی شکست ہوئی۔“

صفحہ ٥٢٩

عن مجاهد قال ارى رسول الله ﷺ مجاہد کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ میں وهو بالحديبية انه يدخل مكة هو و تشریف فرما تھے کہ آپ ﷺ نے خواب دیکھا اصحابه امنين الخ (درمنثور ج٦ کہ آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب بے خوف ص٨٠) و خطر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں۔

على هذا تفسير جامع البيان طبری۔ فتح الباری۔ عمدہ القاری اور ارشاد الساری میں بھی اسی طرح ہے کہ یہ خواب حدیبیہ میں دیکھا گیا۔

جس روایت میں مدینہ شریف میں اس خواب کا دیکھا جانا بیان کیا گیا ہے وہ ضعیف ہے اور اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ حضور انور ﷺ نے یہ سفر اس خواب کی وجہ سے اختیار فرمایا۔

بہر حال اس بیان سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کا حضور رسالت مآب ﷺ پر یہ الزام کہ حدیبیہ والی پیش گوئی وقت اندازہ کردہ پر پوری نہ ہوئی محض غلط اور جھوٹ ہے اور بقول مرزا قادیانی کوئی شریر النفس ہی ایسا کہہ سکتا ہے اور یہ جھوٹ مرزا قادیانی نے محض اپنی جھوٹی پیش گوئیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے تراشا ہے۔ آخیر میں قرآن شریف سے بھی اس خواب کی صداقت ظاہر کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "لقد صدق الله رسوله الرؤيا بالحق (الفتح: ٢٧)"

اب دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنے رسول ﷺ کے خواب کو تاکید کے ساتھ سچا بیان فرماتا ہے اور مرزا قادیانی رسول اللہ ﷺ کو اپنے جیسا خاطی اور غلط فہم (نعوذ باللہ منہا) قرار دیتے رہے ہیں۔ اس نص قرآنی کے مقابلہ میں خواب رسالت کی نسبت مرزا قادیانی کا یہ کہنا۔ کہ حدیبیہ والی پیش گوئی وقت انداز کردہ پر پوری نہیں ہوئی۔ کس قدر جسارت اور بے ایمانی کی بات ہے۔

مرزا قادیانی نے اپنا جھوٹ پھیلانے کے لئے آسمانی کتابوں کو بھی خالی نہیں رکھا۔ چنانچہ اس کتاب میں بائبل اور قرآن کریم کے متعلق مرزا قادیانی کے دو جھوٹ بیان کئے گئے ہیں۔

(رسالہ ضرورۃ الامام ص ١٧، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٨) پر لکھتے ہیں کہ: "بائبل میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ٤٠٠ نبی کو شیطانی الہام ہوا تھا اور انہوں نے الہام کے ذریعہ جو ایک سفید جن کا کرتب تھا۔ ایک بادشاہ کی فتح کی پیش گوئی کی۔ آخر وہ بادشاہ بڑی ذلت سے اس لڑائی میں مارا گیا اور بڑی شکست ہوئی۔"

٩١

صفحہ ٥٣٠

اس واقعہ کو نہ صرف ضرورۃ الامام میں بلکہ (ازالۃ اوہام ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩) میں بھی اسی طرح لکھا ہے اور اس سے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو بھی جھوٹے الہام ہو جاتے تھے۔ (معاذ اللہ عنہا) اگر نبیوں کو بھی شیطانی الہام ہوتے اور ان کی پیش گوئیاں اس طرح غلط نکلتیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں عموماً غلط نکلیں تو پھر نبیوں اور رمالوں اور پانڈوں میں کیا فرق رہا۔

لیکن ناظرین! مرزا قادیانی کے اس بیان میں صداقت کا ایک ذرہ بھی نہیں۔ یہ محض دھوکہ ہے اور صرف یہ ایک واقعہ ہی مرزا قادیانی کے کذب کی صریح دلیل ہے اور اگر مرزائی خوف خدا کو مد نظر رکھ کر اس پر غور کریں تو فوراً ان سے الگ ہو جائیں اور ان کی تعلیم کو خیر باد کہہ دیں۔

مرزا قادیانی نے محض بائبل میں لکھا ہے۔ تحریر کر دیا۔ ورنہ کوئی حوالہ نہیں دیا اور جھوٹ لکھنے کے لئے یہی عادت تھی کہ قرآن میں یوں لکھا ہے۔ حدیث میں یوں آیا ہے۔ بائبل سے ایسا ظاہر ہوتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ ! لکھ دیا کرتے تھے۔ ورنہ اصل واقعہ دیکھ کر فوراً ان کا جھوٹ ظاہر ہو جاتا۔

اب بائبل میں اس واقعہ کو تلاش کیا جاوے تو کتاب سلاطین اول باب ٢١ تا ٢٢ میں اس طرح سے لکھا ہے کہ یہ ٤٠٠ سو شخص بعل بت کے پجاری تھے۔ بادشاہ وقت کو جو بعل پرست تھا کسی دشمن سے مقابلہ پیش آیا۔ اس نے ان نبیوں سے دریافت کیا تو انہوں نے پیش گوئی کر دی کہ تو اس دشمن پر فتح یاب ہوگا۔ ان کے مقابلہ میں ایک سچا نبی بھی اس زمانہ میں موجود تھا۔ اس نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر اس بادشاہ سے کہا کہ تو شکست کھا کر مارا جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جیسا کہ اس حقانی نبی نے کہا تھا اور ان چار سو ٤٠٠ پجاریوں کا قول غلط نکلا۔ جس کو مرزا قادیانی ٤٠٠ نبیوں کا الہام بتاتے ہیں۔ ہاں اگر مرزا قادیانی اپنی نبوت کا سلسلہ بھی ان ٤٠٠ نبیوں کے ساتھ ملاتے ہیں تو ہم بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

الہامات

الناس“

(براہین احمدیہ حصہ سوم ص ٤٨٩، خزائن ج ١ ص ٥٨١)

ترجمہ: وہ مجھ سے بمنزلہ میری توحید وتفرید کے ہے۔ سو وہ وقت آگیا جو تیری مدد کی جائے اور تجھ کو لوگوں میں مشہور کیا جائے گا۔

٩٢

مقیاس دن ول یو گوٹو امرت سر۔“ (برا

(برا

(برا

گئی۔“ (برا

چاہوں گا۔“ نوٹ: (ان الہامات گویا ایک انگریز ہے۔ کہ جو سر پر ایک لذت تھی۔ جس سے روح

ہیں جو چاہیں گے۔“

صفحہ ٥٣١

مقیاس دن دل یو گو امرت سر۔“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٦٩ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٥٥٩)

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٧٢ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٥٦٣)

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٧٤ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٥٦٥)

گئی۔“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٧٥ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٥٦٧)

(براہین احمدیہ ص ٤٨٠، حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٧١)

(براہین احمدیہ ص ٤٨٠، حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٧١)

(براہین احمدیہ ص ٤٨٠، حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٧١)

چاہوں گا۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ٤٨٠، خزائن ج ١ ص ٥٧٢)

نوٹ: (ان الہامات ١ تا ٥ کے نزول کے وقت) ”ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے۔ کہ جو سر پر کھڑا ہوا بول رہا ہو اور باوجود پر دہشت ہونے کے پھر بھی اس میں ایک لذت تھی۔ جس سے روح کو معنی کرنے سے پہلے ہی ایک تسلی اور تشفی ملتی تھی۔“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٨٠ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٥٧٢)

ہیں جو چاہیں گے۔“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٨١ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٥٧٥)

٩٣

صفحہ ٥٣٢

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص٤٨٢ حاشیہ در حاشیہ نمبر٣، خزائن ج١ ص٥٧٣)

ہوں۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٨٣ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٧٥)

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٨٤ حاشیہ در حاشیہ نمبر٣، خزائن ج١ ص٥٧٥)

his Army, he is with you to kill enemy) خدائے تعالیٰ دلائل اور براہین کا لشکر لے کر چلا آتا ہے۔ وہ دشمن کو مغلوب اور ہلاک کرنے کے لئے تمہارے ساتھ ہے۔“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٨٤ حاشیہ در حاشیہ نمبر٣، خزائن ج١ ص٥٧٦)

مبارک کیا گیا ہے اور خدا نے تجھ میں برکت رکھی ہے۔ وہ حقانی طور پر رکھی ہے)

(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ٤٨٦، خزائن ج١ ص٥٧٩)

ہے)

(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ٤٨٦، خزائن ج١ ص٥٧٩)

معی“ (میں تجھ سے راضی ہوں۔ میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ زمین اور آسمان تیرے ساتھ ہیں۔ جیسے وہ میرے ساتھ ہیں۔ ھو کا ضمیر واحد بتاویل ما فی السموت والارض ہے۔ ان کلمات کا حاصل مطلب تلطفات اور برکات الہیہ ہیں جو حضرت خیر الرسل کی متابعت کی برکت سے ہر ایک کامل مومن کے شامل حال ہو جاتی ہے اور حقیقی طور پر مصداق ان سب عنایات کا آنحضرتﷺ ہیں اور دوسرے سب طفیلی ہیں اور اس بات کو ہر جگہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک مدح وثناء جو کسی مومن کے الہامات میں کی جائے۔ وہ حقیقی طور پر آنحضرتﷺ کی مدح ہوتی ہے اور وہ مومن بقدر اپنی متابعت کے اس مدح سے حصہ حاصل کرتا ہے اور وہ بھی محض خدائے تعالیٰ کے لطف واحسان سے نہ کسی اپنی لیاقت اور خوبی سے۔ پھر بعد اس کے فرمایا:

ہے۔ میں نے تجھے اپنے لئے اختیار کیا)

(براہین احمدیہ ص٤٨٧، ٤٨٩، خزائن ج١ ص٥٧٩ تا ٥٨١)

٩٤

الله وصدق رسوله وك اس الہام پر از معارف وحقائق اور بضرورت حقہ اترا ہے۔ خد جو کچھ خدا نے چاہا تھا وہ ہوتا ہی

کله“ یہ آیت جسمانی اور س کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں اقطار میں پھیل جائے گا۔

party of Islam. ایک بڑی جماعت اسلام کی

الذين كفروا الى يوم تجھے وفات دوں گا اور اپنی گا۔ پہلوں میں سے بھی ایک نام سے بھی یہی عاجز مراد

دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیک کرے گا۔”الفتنة ه اولوالعزم نبیوں کی طرح م

کرے گا تو انہیں پاش پا

کے لئے میری پیش گوئ

صفحہ ٥٣٣

الله وصدق رسوله وكان امر الله مفعولا " ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الہام پر از معارف وحقائق کو قادیان کے قریب اتارا ہے اور ضرورت حقہ کے ساتھ اتارا ہے اور بضرورت حقہ اترا ہے۔ خدا اور اس کے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی اور جو کچھ خدا نے چاہا تھا وہ ہونا ہی تھا۔

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

كله" یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دینِ اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دینِ اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

give you a large party of islam. میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میں تم کو ایک بڑی جماعت اسلام کی دوں گا۔

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٤)

الذين كفرو الى يوم القيمة ثلة من الاولين وثلة من الاخرين"۔ (اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تیرے تابعین کو منکروں پر قیامت تک غلبہ بخشوں گا۔ پہلوں میں سے بھی ایک گروہ ہے اور پچھلوں میں سے بھی ایک گروہ ہے) اس جگہ عیسیٰ کے نام سے بھی یہی عاجز مراد ہے۔

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، ٥٥٧، خزائن ج ١ ص ٦٦٤، ٦٦٥)

دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔ "الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولو العزم"۔ (اس جگہ ایک فتنہ ہے سو اولو العزم نبیوں کی طرح صبر کر)

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، ٥٥٧، خزائن ج ١ ص ٦٦٤ تا ٦٦٥)

کرے گا تو انہیں پاش پاش کر دے گا)

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦ تا ٥٥٧، خزائن ج ١ ص ٦٦٤ تا ٦٦٥)

کے لئے میری پیش گوئیاں ہی کافی ہیں۔

٩٥

صفحہ ٥٣٤

پیش گوئی میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی تو میں اقرار کروں گا کہ میں کاذب ہوں۔“

حضرات! مرزا قادیانی نے جب خود ہی ہمارے سامنے فیصلہ کی ایک آسان سی صورت اور اپنا قوی پہلو رکھ دیا ہے تو ہم مرزا قادیانی کو انہیں کے پسندیدہ اور انہی کے پیش کردہ ”معیار صداقت“ کے مطابق پرکھ لیتے ہیں۔ تاکہ قادیانی امت پر اتمام حجت ہو سکے۔

١٨٩٣ء سے شروع ہو ۔ ٥؍ جون ١٨٩٣ء تک ہوتا رہا۔ مرزا قادیانی نے اپنا آخری پرچہ ٥؍ جون ١٨٩٣ء کو دس بج کر تیس منٹ پر دے کر مباحثہ کو یوں ختم کر دیا کہ: ”آج رات مجھ پر کھلا ہے کہ عبداللہ آتھم آج کی تاریخ سے پندرہ ماہ کے اندر اندر مر جائے گا۔ اگر وہ پندرہ ماہ کے اندر اندر نہ مرے ۔“ تو مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:

(دیکھو جنگ مقدس ص ٢١١، ٢١٠، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)

حضرات! اب مرزا قادیانی کی تحریر کے مطابق پادری عبداللہ آتھم کی موت کا آخری دن ٥؍ ستمبر ١٨٩٤ء تھا۔ مرزا قادیانی خود اور آپ کی اہلیہ صاحبہ اور مریدین کا ایک جم غفیر پندرہ ماہ کے دوران نہایت تضرع اور ابتہال سے دعاؤں میں مصروف رہے کہ آتھم مر جائے۔ لیکن عبداللہ آتھم نے پندرہ ماہ کے دوران نہ مرنا تھا نہ مرا۔ جب آتھم کی میعاد میں ایک دن باقی رہ گیا تو مرزا قادیانی کے دو خاص مرید عبداللہ سنوری اور حامد علی ساری رات چنے کے دانوں پر وظیفہ پڑھتے رہے۔ پھر یہ دونوں صاحبان وہ دانے اٹھا کر قادیان کے شمال کی جانب ایک غیر آباد کنویں میں ڈال آئے۔

(سیرت المہدی ج ١ ص ١٧٨، روایت نمبر ١٦٠)

جس کا مطلب یہ تھا کہ مرزا قادیانی کے چنوں پر وظیفہ پڑھنے سے آتھم مر جائے گا۔ ٥؍ ستمبر کو جو کہ مرزا قادیانی کی تحریر کے مطابق آتھم کی زندگی کا آخری دن تھا اس دن بھی مرزا قادیانی نے فرمایا کہ آج سورج غروب نہیں ہوگا کہ آتھم مر جائے گا۔ لیکن مرزا قادیانی کی

٩٦

پیش گوئی۔ دعاؤں اور وظائف سے سے قریباً دو سال بعد ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء جھوٹی ثابت ہوئی۔

مرزا قادیانی اپنی کتاب (تریاق القلوب ہے کہ دو عورتیں میرے نکاح میں آئیں گی الہام کا حصہ ہے وہ پورا ہو گیا اور بیوہ (ضمیمہ انجام آتھم کے ص ١٤، خزائن ج ١١ ص ایک کنواری عورت سے ہوگی پھر ایک ہم قادیانی امت سے ص سے مرزا قادیانی کا نکاح ان کے م اور وہ کب فوت ہوا اور بیوہ عورت بھی ایسی نشاندہی کر دے اس کو پانچ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ مرزا ہی نہیں۔ مرزا قادیانی کی یہ پیش گو

نے مجھے بشارت دے کر کہا ہے کہ تیری نسل بہت ہوگی۔“

اس کے بعد مرزا قادیان عاجز نے اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ مجھے بشارت دے کر کہا کہ بعض پا اور ان سے اولاد پیدا ہوگی۔“

لیکن ١٨٨٦ء یا اس ایک عورت سے بھی نکاح نہ ہوا۔ جرأت کرے۔ جو اس اشتہار کے یہ پیش گوئی بھی غلط ثابت ہوئی۔

صفحہ ٥٣٥

پیش گوئی۔ دعاؤں اور وظائف سے آتھم نہ مرنا تھا نہ مرا۔ بلکہ مرزا قادیانی کی مقرر کردہ میعاد سے قریباً دو سال بعد ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو اپنی طبعی موت مرا۔ لیکن مرزا قادیانی کی پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوئی۔

مرزا قادیانی اپنی کتاب (تریاق القلوب کے ص ٣٤، خزائن ج ١٥ ص ٢٠١) پر لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک کنواری ہوگی اور دوسری بیوہ۔ کنواری کے متعلق جو الہام کا حصہ ہے وہ پورا ہو گیا اور بیوہ کے الہام کا انتظار ہے۔ مزید تاکید کے لئے مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم کے ص ١٤، خزائن ج ١١ ص ٢٩٨) پر لکھتے ہیں کہ مقدر یوں ہے کہ: ”میری پہلے شادی ایک کنواری عورت سے ہوگی پھر ایک بیوہ سے۔“

ہم قادیانی امت سے صرف یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ کون سی ایسی عورت بیوہ تھی جس سے مرزا قادیانی کا نکاح ان کے ”الہام“ کے مطابق ہوا اور اس بیوہ عورت کے خاوند کا نام کیا تھا اور وہ کب فوت ہوا اور بیوہ عورت مرزا قادیانی کی زوجیت میں کب آئی؟ قادیانی امت کا جو فرد بھی ایسی نشاندہی کر دے اس کو پانچ سو روپیہ انعام دیا جائے گا۔

ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا ان کی زندگی میں کسی بھی بیوہ عورت سے نکاح ہوا ہی نہیں۔ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بھی غلط ثابت ہوئی۔

نے مجھے بشارت دے کر کہا ہے کہ خواتین مبارکہ سے جن میں تو بعض کو اس اشتہار کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہوگی۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٢)

اس کے بعد مرزا قادیانی نے ایک دوسرے اشتہار واجب الاظہار میں لکھا ہے کہ اس عاجز نے اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں یہ پیش گوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی کہ اس نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ بعض بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد بھی تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا ہوگی۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٦)

لیکن ١٨٨٦ء یا اس کے بعد مرزا قادیانی کا بہت سی عورتوں سے نکاح ہونا تو کجا کسی ایک عورت سے بھی نکاح نہ ہوا۔ اگر ہوا ہو تو قادیانی امت کا کوئی فرد اس عورت کا نام بتانے کی جرأت کرے۔ جو اس اشتہار کے بعد ان کی ماں بنی ہو۔ ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بھی غلط ثابت ہوئی۔

٩٧

صفحہ ٥٣٦

ثبوت حیات مسیح علیہ السلام از احادیث نبویہ

پہلی حدیث...... ”عن جابر ان رسول الله ﷺ قال عرض على الانبياء فاذا موسى ضرب من الرجال كانه من رجال شنوءة ورايت عيسى ابن مريم فاذا اقرب من رأيت به شبها عروة بن مسعود“

(رواہ مسلم منقول از مشکوۃ باب بدء الخلق الفصل الاول ص ٥٠٨)

حضرت جابر آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ معراج کی رات انبیاء ؑ سے ملے۔ موسیٰ علیہ السلام تو دبلے پتلے تھے گویا قبیلہ شنوہ کے مردوں سے ملتے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام مشابہ تھے ساتھ عروہ بن مسعودؓ کے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام رسول اللہ جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا ہوا ہے۔ حضرت عروہ بن مسعودؓ سے مشابہ ہیں اسے ملحوظ رکھ کر دوسری حدیث ملاحظہ ہو۔

دوسری حدیث...... اسی مسلم شریف میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ نکلے گا دجال پس رہے گا (زمین پر) چالیس (راوی حدیث کہتا ہے) نہیں جانتا ہوں میں کہ چالیس کے لفظ سے سال مراد ہے یا مہینے یا دن۔ فرمایا آنحضرت ﷺ نے ”فیبعث الله عيسى ابن مريم كانه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلكه“۔ پس بھیجے گا اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم کو گویا وہ عروہ بن مسعود ہے پس وہ ڈھونڈیں گے دجال کو۔ پس ہلاک کریں گے اس کو۔

(مشکوۃ ص ٤٨١، باب لا تقوم الساعة)

پہلی حدیث میں جس مسیح ابن مریم کو آسمان پر دیکھا دوسری میں اسی کا نزول بتایا پس ثابت ہوا کہ وہی حضرت مسیح ابن مریم رسول اللہ تشریف لائیں گے نہ کہ کوئی دیہاتی مولود۔

تیسری حدیث...... ہم ثبوت حیات مسیح از قرآن میں بآیت ثابت کر آئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے تمام انبیاء کے لئے ازواج واولاد مقدر تھی حالانکہ حضرت مسیح کی نہ بیوی تھی نہ اولاد۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے بھی اس پر دستخط ہیں پس لازمی ہے کہ مسیح دوبارہ آئیں۔ آ کر شادی کریں۔ اس امر کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے۔

”حضرت ابوایوبؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا انبیاء کی چار سنتیں مشترکہ ہیں: ١......حیاء۔ ٢......ختنہ کرنا۔ ٣......خوشبو لگانی اور مسواک کرنی۔ ٤......والنکاح۔

(ترمذی، مشکوۃ باب السواک ص ٤٤)

٩٨

صفحہ ٥٣٧

چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق آنحضرت ﷺ نے اس سنت ضروریہ کا یوں اثبات فرمایا کہ: ”عن عبداللہ ابن عمر قال قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسی ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولدہ ویمکث خمسا واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری (مشکوۃ ص ٤٨٠)“ عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آئندہ زمانہ میں حضرت عیسیٰ بن مریم زمین پر اتریں گے اور نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی اور پینتالیس سال دنیا میں رہیں گے اور پھر فوت ہوں گے پس میرے پاس میرے مقبرے میں دفن ہوں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر آنحضرت ﷺ سے ملحق ہوگی اس لئے یہ کہنا درست ہے کہ وہ میری قبر میں دفن ہوں گے۔ اس کی مثال مرزا قادیانی کی تحریر میں بھی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کی قبریں آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہیں ان کے متعلق مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”ان کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرت ﷺ سے ایسے ملحق ہو کر دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے۔“

(نزول المسیح ص ٤٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٥)

جو مطلب و مراد اس تحریر کی ہے وہی آنحضرت ﷺ کی ہے فقرہ یدفن معی فی قبری کے اصلی معنی یہ ہیں کہ وہ (عیسیٰ علیہ السلام) میرے ساتھ ایک ہی روضہ میں دفن ہوں گے۔ جو حضرات عربی ادب سے ذوق رکھتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ ”فی“ سے مراد کبھی قرب بھی ہوتا ہے جیسے بورك من فی النار (نمل: ٨) یعنی موسیٰ علیہ السلام پر برکت نازل کی گئی جو آگ کے قریب تھے نہ کہ اندر۔

مرزا قادیانی بھی اس معنی کی تائید کرتے ہیں اور لکھتے ہیں ”اس حدیث کے معنی ظاہر پر ہی عمل کریں تو ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی آجائے جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔

(ازالۃ اوہام ص ٤٧٠، خزائن ج ٣ ص ٣٥٢)

ایسا ہی (مشکوۃ فضائل سید المرسلین فصل ثانی ص ٥١٥) میں حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا۔ تورات میں آنحضرت ﷺ کی صفت میں یہ مرقوم ہے کہ ”عیسی ابن مریم یدفن معہ قال ابو مودود قد بقی فی البیت موضع قبر “عیسیٰ آنحضرت ﷺ کے ساتھ مدفون ہوں گے۔ ابو مودود راوی حدیث جو صلحاء و فضلائے مدینہ شریف میں سے تھے فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے حجرے میں ابھی ایک قبر کی جگہ باقی ہے، یونہی (تفسیر ابن کثیر میں ج ٣ ص ٢٤٥) زیر آیت ان من اہل الکتب بروایت طبرانی، ابن عساکر، تاریخ

٩٩

صفحہ ٥٣٨

بخاری حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت ہے کہ حضرت مسیح آنحضرت ﷺ کے حجرہ میں دفن ہوں گے اور ان کی قبر چوتھی ہوگی۔ فیکون قبرہ رابعا

ان احادیث صحیحہ سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں جو زمین پر اتریں گے چالیس سال گزار کر پھر وفات پائیں گے اور حجرہ نبویہ میں مدفون ہوں گے۔ یہ روایت بالکل صحیح ہے چنانچہ مرزا قادیانی نے بھی مانا ہے بلکہ نکاح محمدی بیگم کے لئے اور لڑکے بشیر کے حق میں اسے دلیل قرار دیا ہے۔

(ملاحظہ ہو حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧، حاشیہ کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦)

امام ابو حنیفہؒ واحمد بن حنبلؒ

مذکورہ بالا ائمہ کرام کے متعلق بھی بلا ثبوت افترا کیا ہے کہ یہ سب اس مسئلہ میں خاموش تھے لہٰذا وفات مسیح کے قائل تھے۔

الجواب: ”نزول عیسیٰ علیہ السلام من السماء...... حق کائن“

(شرح فقہ اکبر ص ١٣٦)

قائل وفات گرداننا انتہائی ڈھٹائی ہے۔

مرزا قادیانی کے اخلاق

”آپ کا یہ خیال کہ گویا یہ عاجز براہین احمدیہ کی فروخت میں دس ہزار روپیہ لوگوں سے لے کر خورد برد کر گیا ہے۔ یہ اس شیطان نے آپ کو سبق دیا ہے جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتا ہے۔ آپ کو کیوں کر معلوم ہو گیا کہ میری نیت میں براہین کا طبع کرنا نہیں۔ اگر براہین طبع ہو کر شائع ہوگئی تو کیا اس دن شرم کا تقاضا نہیں ہوگا۔ آپ غرق ہو جائیں۔ ہر ایک دیر بدظنی پر مبنی نہیں ہو سکتی اور میں نے تو اشتہار بھی دے دیا تھا کہ ہر ایک مستعجل اپنا روپیہ واپس لے سکتا ہے اور بہت سا روپیہ واپس بھی کر دیا۔ قرآن کریم جس کی خلق اللہ کو بہت ضرورت تھی اور جو لوح محفوظ میں قدیم سے جمع تھا تئیس سال میں نازل ہوا اور آپ جیسے بدظنیوں کے مارے ہوئے اعتراض کرتے رہے کہ لولا نزل علیہ القرآن جملۃ واحدة (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٦، خزائن ج ٥ ص ٣٠٦)

قولہ...... ”جب سے آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ مشتہر کیا ہے اس دن سے آپ کی کوئی تحریر کوئی تقریر کوئی خط کوئی تصنیف جھوٹ سے خالی نہیں۔“

١٠٠

صفحہ ٥٣٩

اقول ...... اے شیخ نامہ سیاہ ۔ اس دروغ بے فروغ کے جواب میں کیا کہوں اور کیا لکھوں۔ خدائے تعالیٰ تجھ کو آپ ہی جواب دیوے کہ اب تو حد سے بڑھ گیا ہے۔ اے بدقسمت انسان تو ان بہتانوں کے ساتھ کب تک جئے گا۔ کب تک تو اس لڑائی میں جو خدائے تعالیٰ سے لڑ رہا ہے موت سے بچتا رہے گا۔ اگر مجھ کو تو نے یا کسی نے اپنی نابینائی سے دروغ گو سمجھا۔ تو یہ کچھ نئی بات نہیں آپ کے ہم خصلت ابو جہل اور ابولہب بھی خدا تعالیٰ کے نبی صادق کو کذاب جانتے تھے۔ انسان جب فرط تعصب سے اندھا ہو جاتا ہے تو صادق کی ہر ایک بات اس کو کذب ہی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن خدائے تعالیٰ صادق کا انجام بخیر کرتا ہے اور کاذب کے نقش ہستی کو مٹا دیتا ہے۔ ”ان اللہ مع الذین اتقو والذین هم محسنون“

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٠٦، ٣٠٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

قوله...... (آپ نے) بحث سے گریز کر کے انواع اتہام اور اکاذیب کا اشتہار دیا۔

اقول...... یہ سب آپ کے دروغ بے فروغ ہیں جو بہ باعث تقاضائے فطرت بے اختیار آپ کے منہ سے نکل رہے ہیں۔ ورنہ جو لوگ میری اور آپ کی تحریروں کو غور سے دیکھتے ہیں وہ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آیا اتہام اور کذب اور گریز اس عاجز کا خاصہ ہے یا خود آپ ہی کا۔ چالاکی کی باتیں اگر آپ نہ کریں تو اور کون کرے۔ ایک تو قانون گو شیخ ہوئے دوسرے چار حرف پڑھنے کا دماغ میں کیڑا ہے۔ مگر خوب یاد رکھو وہ دن آتا ہے کہ خود خداوند تعالیٰ ظاہر کر دے گا کہ ہم دونوں میں سے کون کاذب اور مفتر اور خدا تعالیٰ کی نظر میں ذلیل ورسوا ہے اور کس کی خداوند کریم آسمانی تائیدات سے عزت ظاہر کرتا ہے ذرا صبر کرو اور انجام کو دیکھو۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٧، خزائن ج ٥ ص ٣٠٧)

ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب:٤٠) يايها الناس ان ربكم واحد واباكم واحد ودينكم واحد ونبيكم واحد لا نبى بعدى

(كنز العمال ج٣ ص٩٣، حديث نمبر ٥٦٥٥)

اے میری امت کے لوگو! یاد رکھو تمہارا خدا ایک ہے، تمہارا باپ ایک ہے، تمہارا دین ایک ہے، تمہارا نبی بھی ایک ہی ہے، اور میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

معلوم ہوا کہ جب دوسرا نبی آجائے تو امت بھی اور ہو جاتی ہے۔ پہلے نبی کی امت نہیں رہتی۔ دوسرا نبی ماننا باعث اختلاف ہے۔

نوٹ: نبی کے لئے ضروری ہے کہ اس کی امت اور کتاب ہو، مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا اس دعویٰ میں ضروری ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار

١٠١

صفحہ ٥٤٠

کرے اور نیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے اور ایک امت بنادے جو اس کو نبی سمجھتی اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤٢، خزائن ج ٥ ص ٣٤٢)

نتیجہ ...... جو شخص مرزا کو مانے گا وہ محمدﷺ سے کوئی تعلق نہ رکھے گا۔ اگر چہ قرآن پاک میں بیسیوں آیات اور بھی موجود ہیں جو ختم نبوت پر روشنی ڈال رہی ہیں۔ مگر ہم انہی پر اکتفا کر کے چند احادیث نبویہ درج کرتے ہیں۔

پہلی حدیث ...... ”عن ابی هريرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم مثلی ومثل الانبياء كمثل قصرا حسن بنيانه ترك منه موضع لبنة فطاف به النظار يتعجبون من حسن بنيانه الا موضع تلك اللبنة فكنت انا سددت موضع اللبنه ختم بی البنيان وختم بی الرسل وفی رواية فانا اللبنة وانا خاتم النبيين“

(بخاری ج ١ ص ٥٠١، مسلم ج ٢ ص ٢٢٨، مشکوٰۃ)

(باب فضائل سید المرسلین) ابوہریرہؓ کہتے ہیں۔ فرمایا رسول ﷺ نے میری اور انبیاء کی مثال مانند ایک ایسے محل کے ہے کہ اچھی بنائی گئی ہو عمارت اس کی۔ مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہو لوگ گھومتے ہیں اس کے گرد اور تعجب کرتے ہیں اس کی حسن عمارت پر۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔ سو میں ہوں وہ مبارک اینٹ جس نے اس جگہ کو پر کیا۔ ختم ہو گیا میری ذات کے باعث نبوت کا محل۔ بدیں صورت ختم ہو گیا ہے میری ذات پر رسولوں کا سلسلہ۔

ایک روایت میں ہے کہ نبوت کی آخری اینٹ میں ہوں اور میں ہی نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں۔

دوسری حدیث ...... ”وعن ابی هريرة ان رسول الله ﷺ قال فضلت علی الانبياء بست اعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجد وطهورا و ارسلت الى الخلق كافة وختم بی النبيون“

(مسلم ج ١ ص ١٩٩، مشکوٰۃ)

آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں چھ باتوں میں جملہ انبیاء پر فضیلت دیا گیا ہوں:

١٠٢

صفحہ ٥٤١

تیسری حدیث....... "عن ثوبان قال قال رسول الله ﷺ ....... وانه سيكون فی امتی کذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبی الله انا خاتم النبيين لا نبي بعدی"

(ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧، ترمذی ج ٢ ص ٤٥)

ضرور میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ہر ایک ان میں کا اپنے تئیں نبی ٹھہرائے گا۔ حالانکہ میں نبیوں کو ختم کر چکا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔ معلوم ہوا کہ امت محمدیہ میں جو نبی پیدا ہوگا کذاب ہوگا۔ اسی باب میں دوسری روایت بخاری ومسلم میں ان دجالوں کذابوں کا قیامت تک ہونا فرمایا ہے۔

چوتھی حدیث....... "عن العرباض بن سارية عن رسول الله ﷺ انه قال انی عند الله مكتوب خاتم النبيين وان آدم لمنجدل فی طينة"

(شرح السنہ ج ١٤ ص ١٣، حدیث نمبر ٣٥٢٠، احمد در مشکوۃ باب فضائل سید المرسلین ص ٥١٣)

آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام جس زمانہ میں گوندھی ہوئی مٹی کی ہیئت میں تھے میں اس وقت بھی خدا کے نزدیک نبیوں کو ختم کرنے والا لکھا تھا۔

پانچویں حدیث....... "وعن جابر ان النبی ﷺ قال انا قائد المرسلين ولا فخر وانا خاتم النبيين ولا فخر"

(رواہ الدارمی، مشکوۃ ص ٥١٣، باب فضائل سید المرسلین)

فرمایا میں قائد انبیاء ہوں۔ میں خاتم الانبیاء ہوں یہ فخر سے نہیں کہتا ہوں۔

چھٹی حدیث....... "ان لی اسماء انا محمد وانا احمد الی قوله وانا العاقب والعاقب الذی لیس بعده نبی"۔ (بخاری، مسلم، مشکوۃ باب اسماء النبی ﷺ ص ٥١٥) فرمایا میرے کئی نام ہیں میں محمد ﷺ ہوں۔ احمد ﷺ ہوں۔ عاقب ہوں اور عاقب سے مراد یہ ہے کہ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

ساتویں حدیث....... "قال النبی ﷺ لو كان بعدی نبی لكان عمر بن الخطاب" (ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩، مشکوۃ باب مناقب عمر ص ٥٥٨) اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔

١٠٣

صفحہ ٥٤٢

آٹھویں حدیث ...... ”قال رسول اللہ ﷺ لعلی انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی“ (بخاری ج ٢ ص ٦٣٣، مسلم ج ٢ ص ٢٧٨، مشکوٰۃ باب مناقب علیؓ) اے علیؓ! تو مجھ سے ایسا ہے جیسا ہارون علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام سے۔ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

نویں حدیث ...... ”کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبياء کلما ہلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاً فیکثرون“ (بخاری ص ٤٩١ ج ١، مسلم کتاب الایمان ج ٢ ص ١٢٦، مسند احمد ج ١ ص ٢٩٧، ابن ماجہ وغیرہ) بنی اسرائیل کی عنان سیاست انبیاء کے ہاتھوں میں رہی۔ جب ایک نبی فوت ہوتا۔ اس کا جانشین نبی ہی ہوتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ عنقریب خلفاء کا سلسلہ شروع ہوگا پس بکثرت ہوں گے۔

اس حدیث کی تشریح قول مرزا سے یوں ہوتی ہے: ”وحی ورسالت ختم ہوگئی مگر ولایت وامامت وخلافت کبھی ختم نہ ہوگی ...... الخ۔“

(مکتوب مرزا اور تحیۃ الاذہان ج ١ نمبر ١ ص ١)

دسویں حدیث ...... ”ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی“

(ترمذی ج ٢ ص ٥١)

رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی ہے۔ پس میرے بعد کوئی رسول اور کوئی نبی نہیں ہوگا۔ سو اس کی بابت مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”ابھی ثابت ہوچکا ہے کہ اب وحی ورسالت تا بقیامت منقطع ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢، آئینہ کمالات ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ٣٧٧) پر لکھتے ہیں: ”وما کان الله ان یرسل نبیاً بعد نبینا خاتم النبیین وما کا یحدث سلسلۃ النبوۃ ثانیاً بعد انقطاعہا“

یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے نبی ﷺ خاتم النبیین کے بعد کسی کو بھی نبی کر کے بھیجے اور نہ یہ ہوگا کہ سلسلہ نبوت اس کے منقطع ہو جانے کے بعد پھر جاری کرئے“

(حمامۃ البشریٰ ص ٣٤، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”قد انقطع الوحی بعد وفاتہ ختم الله بہ النبیین“

بے شک آپ ﷺ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر نبیوں کا خاتمہ کر دیا ہے“

١٠٤

صفحہ ٥٤٣

”وان رسولنا خاتم النبيين وعليه انقطعت سلسلة المرسلين“

(حقیقت الوحی ص ١٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)

تحقیق ہمارے رسول ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ان پر رسولوں کا سلسلہ قطع ہو گیا۔ تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ مرزا غلام احمد اور ان کے متبعین ایک طرف مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور احادیث صحیحہ کی تاویل اپنی مرضی کے مطابق کرتے ہیں۔ مسلمان کا تو یہ ایمانی فرض ہے کہ قرآن وحدیث کے آگے سر خم کر دے اور بلا چون و چرا اس کو تسلیم کرے۔ تب تو وہ مسلمان ہے ورنہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ اب مرزا قادیانی کا احادیث اور اسلام کے متعلق عقیدہ و نظریہ ملاحظہ فرمائیے۔

”جو حدیث میرے الہام کے مخالف ہو ہم اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٠، ٣١ ملخص، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠ وازالہ اوہام وغیرہ)

آپ کے الہاموں کی جو حالت ہے۔ روشن ہے۔ جن کا سراسر غلط ہونا اس مختصر رسالہ میں بھی ثابت کیا جا چکا ہے اور فصل آئندہ خصوصیت سے قابل ملاحظہ ہے۔ بجائے اس کے کہ مرزا قادیانی حسب طریق سلف صالحین اپنے الہاموں کو قرآن وحدیث پر پیش کرتے۔ الٹا حدیثوں کو اپنے الہاموں پر پیش کرتے ہیں اور تقویٰ اور خوف خدا کو چھوڑ کر عجب وتکبر سے آنحضرت ﷺ پر فضیلت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور زبانی دعویٰ یہ ہے کہ میں فنا فی الرسول ہوں اور بوجہ کامل اتباع میں محمد ﷺ بن گیا ہوں۔ میرے وجود میں محمد کے سوائے کچھ نہیں ہے۔

(دیکھو اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)

خدا کی توہین

”یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ وحی رسالت تا بقیامت منقطع ہے۔“

(ازالہ اوہام ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)

مرزا قادیانی اس اعتقاد پر اعتراض کرتے ہیں: ”کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ اس زمانہ میں خدا سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں پھر بعد اس کے سوال ہوگا کہ کیوں نہیں بولتا؟ کیا زبان پر کوئی مرض لاحق ہو گئی؟“

(ضمیمہ ثمرۃ الحق ص ١٤٤، خزائن ج ٢١ ص ٣١٢)

”میں اپنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوں اور خدا نے میرے نفس کو ایسا بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے میرے نفس کو گندی گالیاں دیتا رہے آخر وہی شرمندہ ہوگا اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا۔“

(منظور الٰہی ص ١٩٨)

١٠٥

صفحہ ٥٤٤

قادیانی بھائیو! اس تحریر کو پڑھ کر ذرا اس تحریر پر نظر ڈالنا جس میں ایک آریہ نے صرف اتنا اعتراض کیا تھا: ”کہ آپ کوڑی کوڑی کو لاچار ہیں“ اور مرزا قادیانی نے اسے لڑکی دینے کا قصہ سنایا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین

(ضمیمہ ثمرۃ الحق ص ٢٠، خزائن ج٢١ ص ٢٧٥)

(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)

(اعجاز احمدی، ایضاً)

میں نقل کرنے کا مادہ تھا اور درایت اور فہم سے بہت ہی کم حصہ رکھتا تھا۔“

(ضمیمہ ثمرۃ الحق ص ٢٣٤، خزائن ج ٢١ ص ٣١٠)

مولوی عبدالحق غزنوی مرحوم

”بھائی مرا اس کی بیوہ کو اپنی طرف گھسیٹ لیا واہ رے شیخ چلی کے بھائی ۔“

(انوار الاسلام ص ٣٨، خزائن ج ٩ ص ٤٠)

”عبدالحق نے اشتہار دیا تھا کہ اس کے گھر لڑکا پیدا ہوگا (یہ بالکل جھوٹ ہے ناقل) وہ لڑکا کہاں گیا کیا اندر ہی اندر تحلیل پا گیا۔ پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا؟“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٣١١، تحفہ غزنویہ ص ٢٥، خزائن ج ١٥ ص ٥٥٥)

”اگر عبدالحق ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔“

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ١٣)

ناظرین کرام! یہ مختصر سا خاکہ ہے ان گالیوں کا جو مرزا نے نام لے کر علماء کرام کو دیں حالانکہ خود انہی مرزا قادیانی کا قول ہے: ”کسی شخص کو جاہل، نادان، دنیا پرست، مکار، فریبی، گنوار، متکبر وغیرہ الفاظ کہنے والا شریفوں اور منصفوں کے اور نیک سرشت لوگوں کے نزدیک گندہ طبع اور بدزبان ہوتا ہے۔“

(ملفوفہ اشتہار ٩ ستمبر ١٨٩٥ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٤ ص ١٤، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٤٦)

اسی طرح محمود حسن امروہی مرزا قادیانی کے مقرب حواری لکھتے ہیں کہ: ”کسی خاص شخص کو بے حیا وغیرہ کہنا خلاف تہذیب ہے۔“

(اعلام الناس ص ٩٠ حصہ دوم)

١٠٦

صفحہ ٥٤٥

عام علماء کرام کو گالیاں

”بدبخت مفتریو! نہ معلوم یہ وحشی فرقہ شرم وحیا سے کیوں کام نہیں لیتا۔ مخالف مولویوں کا منہ کالا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

اے مردار خورو! مولویو (ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥) نالائق مولوی، نفاق زدہ یہودی سیرت۔

(حاشیہ انجام آتھم ص ٢٤، خزائن ج ١١ ص ٢٢)

”بعض خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید خنزیر ہے۔ مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں اے مردار خورو“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”مولویو اور گندی روحو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٢، خزائن ج ١١ ص ٣٠٨)

”یک چشم مولوی۔“

(استفتاء ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ١٢٨)

”بعض مولوی دنیا کے کتے۔“

(ایام الصلح ص ١٦٥، خزائن ج ١٤ ص ٤١٣)

”پلید طبع۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨)

”یہودی صفت۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨)

”یہودی۔“

”نادان۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

”شریر کتوں کی طرح۔“

(تریاق القلوب ص ١٣٠، ١٣٨، خزائن ج ١٥ ص ٣٦٣)

”دنیا پرست۔“

(ضیاء الحق ص ٢٧، خزائن ج ٩ ص ٢٨٥)

”فطری بدذات، سیاہ دل۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

”اے شریر مولویو اور ان کے چیلو اور غربی کے ناپاک سکھو“

”بخیل طبع۔“

(ضیاء الحق ص ٣٤، خزائن ج ٩ ص ٢٩١)

”بدذات مولوی۔“

(ضیاء الحق ص ٣٨، خزائن ج ٩ ص ٣٠٠)

”بے ایمانو، نیم عیسائیو، دجال کے ہمراہیو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧١، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩ حاشیہ)

عام قوم اہل اسلام و دیگر مخالفین

”کوئی نرا بے حیا ہو تو اس کے لئے چارہ نہیں کہ میرے دعویٰ کو اسی طرح مان لے جیسا اس نے آنحضرت ﷺ کی نبوت کو مان لیا ہے۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٣٨، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠)

”نادان، بدبخت، شقی۔“

(اعجاز احمدی ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ١١٢)

١٠٧

صفحہ ٥٤٦

”ظالم طبع مخالفوں نے جھوٹ کی نجاست کھائی۔“

(نزول المسیح ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٦)

”بعض ڈوموں کی طرح ۔“

(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٨)

”بعض کتوں کی طرح ،بعض بھیڑیوں کی طرح ،بعض سوروں کی طرح ،بعض سانپوں کی طرح ڈنک مارتے ہیں۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٢٢٨، خزائن ج ١٦ ص ٢٣٨)

”اے بے حیا قوم ۔“

(سراج منیر ص ٦، خزائن ج ١٢ ص ٨)

”خبیث طبع لوگ ۔“

(سراج منیر ص ٦، خزائن ج ١٢ ص ٨)

”اے نادانو! عقل کے اندھو ۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٤٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨)

حضرات غور فرمائیے مرزا غلام احمد قادیانی اس قسم کی بداخلاقی کر کے کیا کسی اچھے عہدے پر پہنچ سکتے ہیں۔ اگر مخالفین نے آپ کے خلاف سختی کی تو آپ کا یہ فرض تھا کہ آپ اخلاق اور محبت سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے۔ افسوس آپ اخلاق میں بھی پورے نہیں اترے۔

قرآن واحادیث پر مرزا قادیانی کا ایمان

مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٧٠٨، خزائن ج ٣ ص ٤٨٢) میں لکھتے ہیں کہ: ”میں قرآن شریف کی غلطیاں نکالنے آیا ہوں۔“ پھر آگے چل کر اسی (ازالہ اوہام ص ٢١ تا ص ٢٥، خزائن ج ٣ ص ٤٨٨) میں لکھتے ہیں کہ: ”قرآن زمین سے اٹھ گیا تھا۔ میں قرآن کو آسمان پر سے لایا ہوں۔“

قرآن شریف کا زمین سے اٹھ جانا اور اس میں غلطیوں کا ہونا نص قرآنی ”انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون“ ترجمہ : ”یہ قرآن ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔“ کے قطعی بر خلاف ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف دنیا پر نازل فرما کر اس کی حفاظت کا خود وعدہ فرمایا اور قرآن شریف میں کہیں نہیں فرمایا کہ کبھی یہ قرآن آسمان پر چلا جائے گا اور پھر مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ زمین پر واپس بھیجا جائے گا۔ تو مرزا قادیانی کا یہ ادعاء محض باطل ہے۔ باقی رہا آپ کا قرآن شریف کی غلطیاں نکالنا اور اس کے اسرار و رموز بیان کرنا جس کی بابت بہت لمبے چوڑے دعوے کئے جاتے ہیں۔

اس کا نمونہ اس کتاب کے گذشتہ اوراق میں دیا گیا ہے کہ خلاف تعلیم قرآن آپ نے کیسے کیسے باطل عقائد مسلمانوں میں پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ قرآن شریف کی تحریف معنوی میں آپ نے خوب زور خرچ کیا ہے۔ قرآن شریف کی آیات کے معنی اور مطلب کچھ ہیں اور آپ کچھ اور معنی کرتے ہیں۔ جنہیں علماء نے رد کیا ہے۔ اگر اسی کا نام آسمان سے قرآن کا دوبارہ لانا

١٠٨

صفحہ ٥٤٧

ہے، تو ہم اسے دور سے سلام کرتے ہیں۔ کشف کی حالت میں آپ کو ”انا انزلناہ قریبا من القادیان“ بھی قرآن میں لکھا ہوا نظر آیا۔ (ازالہ اوہام ص٧٣ حاشیہ، خزائن ج٣ ص١٣٨) مگر قرآن اس تحریف سے اب بھی پاک ہے۔

حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی اپنی (تفسیر ص٣٠١) پر تحریر فرماتے ہیں کہ: ”لا تلبسو الحق بالباطل وتکتمون الحق“ کے معنی یہی ہیں کہ قرآن مجید کے معنی حسب خواہش نفس کے لئے جاویں اور سیاق وسباق کا لحاظ نہ رکھا جاوے اور ضمائر کو خلاف قرینہ راجع کیا جاوے جیسا کہ اکثر گمراہ فرقے اسلام میں سے کیا کرتے ہیں۔

مرزا قادیانی بھی قرآن شریف کے معنی کرنے میں ایسا ہی کرتے رہے۔ جیسا مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام میں انہوں نے ضمائر کے ہیر پھیر سے کام لیا ہے اور آیات قرآنی کے معنی اپنے مفید مطلب نکالنے کی کوشش کی ہے۔ جھوٹ نمبر ٨٥

”واذا العشار عطلت“ یعنی ایک ایسی نئی سواری نکلے گی جس کی وجہ سے اونٹنیاں بے کار ہو جائیں گی اور ایسا ہی حدیث میں بھی فرمایا گیا تھا ”لیترکن القلاص فلا یسعی علیھا“ اب دیکھ لو کہ ریل کے اجراء سے یہ پیش گوئی کیسی صاف صاف پوری ہوگئی اور عنقریب جب مکہ تک ریل آئے گی۔“

(ملخص، چشمہ معرفت ص ٧٤، خزائن ج٢٣ ص ٨١، ٨٢)

”اس مرض میں تخیل بڑھ جاتا ہے اور مرگی اور ہسٹریا والوں کی طرح مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا۔“

(ریویو اگست ١٩٢٦ء ص٦)

”نبی میں اجتماع توجہ بالا ارادہ ہوتا ہے جذبات پر قابو ہوتا ہے“

(رسالہ ریویو ص ٤٠، بابت ماہ مئی ١٩٢٧ء از ڈاکٹر شاہ نواز)

مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر ایم اے کتاب (سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١٦، ١٧، بروایت نمبر ١٩) پر لکھتا ہے: ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اول کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اٹھوایا پھر اس کے کچھ عرصہ بعد طبیعت خراب ہوگئی۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا پھر اس کے کچھ عرصہ بعد طبیعت خراب ہوگئی (فرمایا) میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی اور آسمان تک چلی گئی۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہوگئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد سے آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے لگے۔“

١٠٩

صفحہ ٥٤٨

چونکہ مرزا قادیانی سچے انسان نہیں تھے اور خداوند تعالیٰ کو ان کا کذاب ہونا روز روشن کی طرح عیاں کرنا تھا کہ آج تک مکہ معظمہ تک ریل نہیں پہنچی اور مدینہ منورہ سے آگے نہیں بڑھی۔

”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔ ہمارے مخالف مولوی اس کے معنی یہ کرتے ہیں کہ وہ سچ مچ جوگیوں کی طرح دو چادریں اوڑھے ہوئے آسمان سے نیچے اتریں گے۔ لیکن یہ غلط ہے۔ چونکہ معبروں نے ہمیشہ زرد چادر کے معنی بیماری کے ہی لکھے ہیں۔ ہر ایک شخص جو زرد چادر دیکھے یا کوئی اور زرد چیز تو اس کے معنی بیماری کے ہی ہوں گے اور ہر ایک شخص جو ایسا دیکھے آزما سکتا ہے کہ اس کے معنی یہی ہیں۔“

(رسالہ تشحیذ الاذہان ج ١ نمبر ٦ ص ٥، ملفوظات ج ١ ص ٤٢٥)

مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کا عقیدہ پر لکھتے ہیں:

ص ٢٥٦، خزائن ج ١٣ ص ٢٧٤) صاف عیاں ہے کہ مراقی شخص کی کسی بات کا اعتبار نہیں اس کی باتیں وہم ہی وہم ہوتی ہیں نہ حقیقت۔

متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا، مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے۔

جھوٹ نمبر ١٤٦...... ”اور میری تصدیق کے لئے خدا نے دس ہزار سے بھی زیادہ نشان دکھلائے۔

(تحفۃ الندوہ ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٩٦)

جھوٹ نمبر ١٤٧...... ”رسول اللہ ﷺ نے میری گواہی دی ہے۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٩٦)

جھوٹ نمبر ١٤٩...... ”پہلے نبیوں نے میرے آنے کا زمانہ متعین کر دیا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٩٦)

جھوٹ نمبر ١٥٠...... ”اور قرآن بھی میرے آنے کا زمانہ متعین کرتا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٩٦)

١١٠

صفحہ ٥٤٩

جھوٹ نمبر ١٥١...... ”اور میرے لئے آسمان نے بھی گواہی دی اور (نمبر ١٥٢) زمین نے بھی (نمبر ١٥٣) اور کوئی نبی نہیں جو میرے لئے گواہی نہیں دے چکا اور یہ جو میں نے کہا کہ (نمبر ١٥٤) میرے دس ہزار نشان ہیں یہ بطور (نمبر ١٥٥) کفایت لکھا گیا۔ ورنہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر ایک سفید کتاب ہزار جز کی بھی کتاب ہو اور اس میں میں اپنے دلائل صدق لکھنا چاہوں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ کتاب ختم ہو جائے گی اور وہ دلائل ختم نہیں ہوں گے۔

(تحفۃ الندوہ ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٩٦)

جھوٹ نمبر ١٥٦...... ”اگر قرآن سے ابن مریم کی وفات ثابت نہیں تو میں جھوٹا ہوں۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٧)

جھوٹ نمبر ١٥٧...... ”اگر حدیث معراج نے ابن مریم کو مردہ روحوں میں نہیں بٹھا دیا تو میں جھوٹا ہوں۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٧)

جھوٹ نمبر ١٥٨...... ”اگر قرآن نے سورۃ نور میں نہیں کہا کہ اس امت کے خلیفے اسی امت میں سے ہوں گے تو میں جھوٹا ہوں۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٧)

جھوٹ نمبر ١٥٩...... ”اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٨)

جھوٹ نمبر ١٦٠...... ”مگر اس وقت اگر میری جماعت کے لوگ ایک جگہ آباد کئے جاویں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ شہر امرت سر سے بھی کچھ زیادہ ہوگا۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٩٨)

(مرزا قادیانی کے یہ بلند بانگ دعوے بے سند اور جھوٹ پر مبنی ہیں ناظرین خود فیصلہ کریں۔ اس کتاب کے آخر پر دستخط کر رہے ہیں مرزا غلام احمد قادیانی)

مرزا قادیانی کی اپنی حیثیت یہ تھی لیکن دعویٰ کے بعد آپ نے لاکھوں روپے کمائے۔ تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف تو کامل اتباع رسول کے بعد آپ کو یہ درجات نصیب ہوئے اور نبی کا نام پانے کے لئے آپ ہی کو مخصوص کیا گیا۔ کامل اتباع تو یہ تھی کہ حضور سرکار دو عالم ﷺ اتنی دولت یا جائیداد چھوڑ کر دنیا سے تشریف لے گئے۔ ہر مسلمان اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ مہینوں در دولت پر چولہا نہیں جلتا تھا۔ مفصل دیکھئے شمائل ترمذی۔ اتباع تو یہ تھی۔ مگر آپ کی اتباع نہ معلوم کس قسم کی ہے۔ کہ نہ آپ کی دیانت میں، نہ معاملات میں، نہ اخلاق میں۔ کسی میں بھی آپ پورے نہیں اترتے۔ حضرت انس بن مالکؓ دس سال تک حضور ﷺ کی خدمت مبارک میں رہے اور آپ کا بیان ہے کہ حضور ﷺ نے ان دس سال میں کبھی یہ ارشاد نہیں فرمایا کہ

١١١

صفحہ ٥٥٠

یہ کام کیوں کیا اور یہ کام کیوں نہیں کیا۔ ایک آپ ہیں کہ اپنے مخالفین کے ساتھ کس قدر سخت اور بد اخلاقی کے ساتھ آپ پیش آتے ہیں۔ مخالفین تو غلط اور صحیح بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن جو شخص مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرے اس کا اخلاق تو ایسا ہونا چاہئے کہ دنیا والے اس کی تعریف کریں اور کہیں کہ دنیا والوں نے سختی کی لیکن اس نے کتنے اخلاق اور شرافت کا ثبوت دیا۔ مثلاً دو آدمی شارع عام پر لڑ رہے ہوں۔ ایک آدمی سراسر زیادتی کرے یا گالی گلوچ کرے تو ہر شخص یہ کہے گا کہ بھئی اس شخص کی زیادتی ہے اور اگر دونوں شخص گالی گلوچ کریں تو ہر شخص یہ کہے گا کہ بھئی اس نے بھی گالی دی اور اس نے بھی گالی دی۔ دونوں برابر ہو گئے اور تعریف اس شخص کی کی جائے گی جو بداخلاقی اور گالی کا جواب خندہ پیشانی سے دے۔ مرزا قادیانی اس معیار پر پورے نہیں اترے۔

سخت دورہ

”بیان کیا کہ مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے اوائل میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو سخت دورہ پڑا۔ کسی نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد کو بھی اطلاع دے دی اور وہ دونوں آگئے۔ پھر ان کے سامنے بھی حضرت (مرزا) صاحب کو دورہ پڑا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس وقت میں نے دیکھا کہ مرزا سلطان احمد تو آپ کی چارپائی کے پاس خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے۔ مگر مرزا فضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا اور ایک جاتا تھا اور وہ کبھی ادھر بھاگتا تھا اور کبھی ادھر کبھی اپنی پگڑی اتار کر حضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتا تھا اور کبھی پاؤں دبانے لگ جاتا اور گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ کانپتے تھے۔

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٢٨، بروایت نمبر ٣٦)

زنانی نماز

حضور مرزا قادیانی کسی تکلیف کی وجہ سے جب مسجد نہ جاسکتے تھے۔ تو اندر عورتوں میں نماز باجماعت پڑھاتے تھے اور حضرت بیوی صاحبہ (مرزا قادیانی کی اہلیہ) صف میں نہیں کھڑی ہوتی تھیں بلکہ حضرت مرزا قادیانی کے ساتھ کھڑی ہوتی تھیں۔

(تقریر مفتی محمد صادق صاحب قادیانی مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ١٢ نمبر ٨٧ ص ٨، مورخہ ١٧؍جنوری ١٩٢٥ء)

”حضور (مرزا قادیانی) اپنی عمر کے آخری سالوں میں جب دوران سر وغیرہ تکلیف کے سبب مغرب عشاء اور فجر گھر پر ہی پڑھنے لگے تو حضور گھر میں عورتوں کو جماعت سے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ کبھی کھڑے ہو کر اور کبھی بیٹھ کر اور حضور کے پیچھے اکثر گھر کی مستورات ہوا کرتی تھیں ایسے موقعوں پر میں نے بھی بڑی کثرت سے بالخصوص ١٩٠٥ء میں کئی ماہ تک باغ میں زلزلہ کے

١١٢

صفحہ ٥٥١

پیچھے نمازیں پڑھی ہیں جن میں مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں حضور (مرزا قادیانی) کے دائیں طرف کھڑا ہوتا تھا اور مستورات پیچھے ہوتی تھیں۔“

(میر محمد اسحاق صاحب قادیانی کی روایت مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ٢٤ نمبر ١٠٨ مورخہ ٤ نومبر ١٩٣٦ء)

اسٹیشن کی سیر

”بیان کیا حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کسی سفر میں تھے۔ اسٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔ آپ بیوی صاحبہ کے ساتھ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگ گئے۔ یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم صاحب جن کی طبیعت غیور اور جوشیلی تھی میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھر غیر لوگ ادھر ادھر پھرتے ہیں آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔...... حضرت نے فرمایا جاؤ جی میں ایسے پردہ کا قائل نہیں ہوں۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب سر نیچے ڈالے میری طرف آئے میں نے کہا مولوی صاحب جواب لے آئے۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٦٣ روایت نمبر ٧٧)

مرض الموت

”خاکسار مختصراً عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ٢٥؍ مئی ١٩٠٨ء یعنی پیر کی شام کو بالکل اچھے تھے۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد خاکسار باہر سے مکان میں آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ والدہ صاحبہ کے ساتھ پلنگ پر بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے۔ میں اپنے بستر پر جا کر لیٹ گیا اور پھر مجھے نیند آ گئی۔ رات کے پچھلے پہر کے قریب مجھے جگایا گیا۔ یا شاید لوگوں کے چلنے پھرنے سے اور بولنے کی آواز سے میں خود بیدار ہوا۔ تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) اسہال کی بیماری میں مبتلا ہیں اور حالت نازک ہے اور ادھر معالج اور دوسرے لوگ کام میں لگے ہوئے ہیں۔ جب میں نے پہلی نظر حضرت مسیح موعود کے اوپر ڈالی تو میرا دل بیٹھ گیا۔ کیونکہ میں نے ایسی حالت آپ کی اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی اور میرے دل میں یہی خیال آیا کہ یہ مرض الموت ہے۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٩ روایت نمبر ١٢)

وقت آخر

خاکسار نے والدہ صاحبہ کی یہ روایت جو شروع میں درج کی گئی ہے۔ جب دوبارہ والدہ صاحبہ کے پاس تصدیق کرنے کیلئے بیان کی اور حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ

١١٣

صفحہ ٥٥٢

صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اس کے تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک دو دفعہ حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو آپ نے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت نے فرمایا کہ تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اس لئے چارپائی کے پاس ہی بیٹھ کر آپ فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرا گیا اور حالت دگرگوں ہو گئی۔ اس پر میں نے گھبرا کر کہا اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے تو آپ نے کہا کہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا۔ خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ آپ سمجھ گئی تھیں کہ حضرت صاحب کا کیا منشا ہے۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١١، ١٢ روایت نمبر ١٢)

”حضرت مرزا قادیانی جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا۔ جب میں حضرت (مرزا قادیانی) کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے آپ کا انتقال ہو گیا۔“ (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے خسر میر ناصر صاحب قادیانی کے خود نوشتہ حالات۔ مندرجہ حیات ناصر ص ١٤ مرتبہ شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)

”تاریخ داں لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے یعنی (آنحضرت ﷺ کے) گھر میں ١١ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٨٦ خزائن ج ٢٣ ص ٢٩٩)

حالانکہ آنحضرت ﷺ کی اولاد بھی گیارہ نہ تھی۔ مرزا قادیانی کی تاریخ نسب سے جدا معلوم ہوتی ہے۔

سچا جھوٹ

”مولوی محمد علی مونگیری اور ان کے اعوان و انصار جن کی غرض اس صوبہ بہار میں

١١٤

صفحہ ٥٥٣

بالخصوص یہ ہے کہ جس طرح ہو احمدیوں کے خلاف عوام کو بہکایا جائے اپنے صحیفوں ، ٹریکٹوں اور نیز اپنے بیانات میں ہمیشہ عوام کو یہ دکھلاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے اخبار بدر میں معاذ اللہ یہ جھوٹ لکھا ہے کہ جناب رسول مقبول ﷺ کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے ۔ ہر چند ان کو اچھی طرح سمجھایا گیا کہ یہ جھوٹ نہیں ہو سکتا اور کسی طرح اس پر جھوٹ کی تعریف صادق نہیں آتی اور نیز کہنے والے کی غرض ہر گز جھوٹ بیان کرنے کی نہیں ہے ۔ مگر عناد و تعصب نے انہیں سمجھنے کا موقع ہی نہیں دیا۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٩ مئی ١٩٢٢ء ج ٩ نمبر ٩٣، ٩٤)

جھوٹا سچ

” میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہ ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں گا اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کر دوں ۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں ۔ پس مجھ سے دشمنی کیوں ہے وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتے ۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا ہے ۔ جو مسیح موعود اور مہدی معہود کو کرنا چاہئے تھا۔ تو پھر سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا ۔ تو سب لوگ گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں ۔ والسلام۔ بقلم خود مرزا غلام احمد‘‘

(اخبار الحکم بدر مورخہ ١٩ جولائی ١٩٠٢ء منقول از مہدی نمبر ١ ص ٤٤)

مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کے سلسلہ میں بے حد کذب بیانی کی ہے کہیں لاکھ کہیں تین لاکھ کہیں اس سے بھی زیادہ۔ لیکن مردم شماری ١٩٣٠ء کی رو سے صحیح تعداد ٥٥ ہزار درج ہے۔ لیکن خلیفہ محمود احمد قادیانی کے خطبہ کے مطابق ١٩٣٠ء میں ٧٥، ٧٦ ہزار بنتی ہے۔ ”ہم تو صرف یہیں دیکھیں گے کہ میاں صاحب کا یہ دعویٰ کہ دو چار پانچ لاکھ کی جماعت کے امام ہیں یا کہ ٩٥ فیصد جماعت میں سے ان کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں یا ان کا یہ بیان کہ اس حصہ جماعت کی تعداد جنہوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی کل دوفی صد کہاں تک صحیح ہے یا کون سی بات ان میں سے سچی اور کون سی جھوٹی ہے۔ کیونکہ میاں صاحب اور ان کے مریدین آئے دن یہ اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام (لاہور) جماعت احمدیہ کے کسی بھی حصہ کی قائم مقام نہیں ۔‘‘

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت کا اخبار پیغام صلح ج ٥ نمبر ٥٩، مورخہ ٦ فروری ١٩١٨ء)

مقدمہ اخبار مباہلہ میں قادیانی گواہوں نے قادیانیوں کی تعداد دس لاکھ بیان کی تھی ۔ ١٩٣٠ء میں کوکب دری کے قادیانی مؤلف کے قول کے مطابق بیس لاکھ قادیانی دنیا میں موجود

١١٥

صفحہ ٥٥٤

تھے۔ ستمبر ١٩٣٣ء میں بھیرہ (پنجاب) کے مناظرہ میں مبارک احمد قادیانی پروفیسر جامعہ احمدیہ قادیان نے قادیانیوں کی تعداد پچاس لاکھ بیان کی، حال ہی میں عبدالرحیم درد قادیانی مبلغ نے انگلستان میں مسٹر فلمی کے سامنے بیان کیا تھا کہ پنجاب کے مسلمانوں میں غالب اکثریت قادیانیوں کی ہے۔ پنجاب میں قریباً ڈیڑھ کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ اس حساب سے بقول عبدالرحیم گویا ٧٥ لاکھ سے بھی زیادہ قادیانی پنجاب میں موجود ہیں۔

(رسالہ شمس الاسلام بھیرہ (پنجاب) ج ٥ نمبر ١٠)

لیکن سرکاری مردم شماری کا خدا بھلا کرے کہ سارا بھانڈا پھوٹ گیا اور بالآخر لاچار ہو کر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیانی کو اصلی تعداد تسلیم کرنی پڑی چنانچہ ملاحظہ ہو۔

”جس وقت ہماری تعداد آج کی تعداد سے بہت کم یعنی سرکاری مردم شماری کی رو سے اٹھارہ سو تھی۔ اس وقت اخبار بدر کے خریداروں کی تعداد ٤٠٠ تھی اس وقت سرکاری مردم شماری ٥٦ ہزار ہے اور اگر پہلی نسبت کا لحاظ رکھا جائے۔ تو ہمارے اخبار کے صرف پنجاب میں ٢٠٠٠ سے زائد خریدار ہونے چاہئیں۔“

(خطبہ میاں محمود خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ٢٢ نمبر ١٦، ١٥ اگست ١٩٣٣ء

”ہماری جماعت مردم شماری کی رو سے پنجاب میں ٥٦ ہزار ہے گو یہ بالکل غلط ہے۔ بے شک غلط ہے۔ سرکاری رپورٹ ١٩٣١ میں مجموعی تعداد ٥٥ ہزار درج ہے جس میں لاہوری جماعت کے کئی ہزار لوگ بھی شامل ہیں۔ (اس طرح میاں محمود احمد کی جماعت کی تعداد پچاس ہزار بھی نہیں رہتی للمؤلف) مگر فرض کر لو یہ تعداد درست ہے اور فرض کر لو کہ باقی تمام ہندوستان میں ہماری جماعت کے بیس ہزار فرد رہتے ہیں۔ تب بھی یہ پچھتر پچھہتر ہزار آدمی بن جاتے ہیں۔“

(خطبہ مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ٢١ نمبر ٥٢، مورخہ ٢١ جون ١٩٣٤ء)

گویا پچاس سال کی سعی اور تبلیغ کے بعد تمام ہندوستان میں خود خلیفہ قادیان کے حساب سے قادیانیوں کی فرضی تعداد زیادہ سے زیادہ پچھتر ہزار قرار پاتی ہے کیا مضائقہ ہے پچھتر لاکھ اور پچھتر ہزار میں صرف دو نقطوں کا فرق ہے۔ کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ خود مرزا قادیانی بھی ایسے فرق کو فرق نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کے دیباچہ میں فرماتے ہیں کہ: ”پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وعدہ پورا ہو گیا۔“ (حساب کا کیسا سچا اصول ہے۔

للمؤلف)

(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩)

١١٦

صفحہ ٥٥٥

مرزا قادیانی کا قرآنی آیات سے تحریف

آیت قرآن حکیم: ”كل من عليها فان. ويبقى وجه ربك ذو الجلل والاكرام (الرحمن:٢٦، ٢٧)“

مرزا قادیانی کی تحریف کردہ آیت: ”كل شئی فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاکرام“

(ازالۃ اوہام ص ١٣٦، خزائن ج ٣ ص ١٦٩)

من عليها غائب، شئی زائد اور دو آیتوں کو ایک آیت تحریر کیا گیا۔

اصلی آیت قرآن مجید: ”ولقد آتينك سبعاً من المثانى والقرآن العظيم

(الحجر:٨٧)“

تحریف شدہ آیت: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ ”انا آتيناك سبعاً من المثانى والقرآن العظيم“

(براہین احمدیہ حاشیہ ص ٤٨٧)

ولقد غائب، انا زائد، قرآن میں ن پر زبر ہے اور کتاب میں زیر العظیم کے م پر زبر ہے اور مرزا کی کتاب میں زیر ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ اشاریہ براہین احمدیہ ص ٤٧ میں اس آیت کو صحیح لکھا گیا اور اندر ص ٤٨٧ متن میں پھر تحریف کے ساتھ لکھا گیا ہے (کیا کوئی شخص قرآن مجید میں تحریف کر کے مسلمان رہ سکتا ہے۔ مسلمانوں غور کرو۔ علماء کرام کا فیصلہ ان کے متعلق بالکل صحیح ہے کہ یہ فرقہ اسلام سے خارج ہے۔

کیونکہ الہامی غلطیوں کی درستی مرزائیوں کے بس کا روگ نہ ہوگا۔ نبی کی غلطیاں امتی کیونکر درست کر سکتے ہیں۔ بلکہ شاید وہ مرزا قادیانی کی کسی غلطی کو غلطی نہ مانتے ہوں اور انہیں معصوم قرار دیتے ہوں۔

اصل آیت قرآن شریف: ”الم يعلموا انه من يحادد الله ورسوله فان له نار جهنم خالد فيها، ذالك الخزى العظيم (سورة توبه: ٦٣)“

قادیانی تحریف: قوله تعالى الم يعلموا انه من يحادد الله ورسوله يدخله ناراً خالداً فيها ذالك الخزى العظيم

(حقیقت الوحی ص ١٣٠، طبع ١٥ مئی ١٩٠٧ء)

مرزا قادیانی نے يدخله اپنی طرف سے داخل کیا اور فان له نار جهنم کو خارج کر دیا۔

قادیانی ذہنیت

”مولوی صاحب (یعنی حکیم نور الدین خلیفہ اول قادیان) فرمایا کرتے تھے کہ یہ تو

١١٧

صفحہ ٥٥٦

صرف نبوت کی بات ہے۔ میرا تو ایمان ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود (غلام احمد قادیانی صاحب) صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآنی شریعت کو منسوخ قرار دیں تو بھی مجھے انکار نہ ہوگا۔ کیونکہ جب ہم نے آپ کو واقعی صادق اور منجانب اللہ پایا ہے تو اب جو بھی آپ فرمائیں گے وہی حق ہوگا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ واقعی جب ایک شخص کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا یقینی دلائل کے ساتھ ثابت ہو جائے تو پھر اس کے کسی دعوے میں چون و چرا کرنا باری تعالیٰ کا مقابلہ کرنا ٹھہرتا ہے“۔

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٩٩، روایت نمبر ١٠٩)

رقصت كرقص بغية فى المجالس تو نے بدکار عورت کی طرح رقص کیا۔

(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٣٥)

اس کے سوا ملاحظہ ہو:

(لجة النور ص ٨٦، خزائن ج ١٦ ص ٤٢٨)

الا ذرية البغايا۔ کی ہے مگر کنجریوں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٨)

الحقيقة

(لجة النور ص ٨٩، خزائن ج ١٦ ص ٤٣١)

رجالها ديوثين دجالين

(لجة النور ص ٩٠، خزائن ج ١٦ ص ٤٣٢)

اذیتنی خبثا فلست بصادق ان لم تمت بالخزی یا بن بغاء
مرا بخباثت خود ایذا دادی پس من صادق نیم اگر تو اے نسل بدکاران بذلت نمیری

(انجام آتھم ص ٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ٢٨٢)

"واعلم ان کل من هو من ولد الحلال وليس من ذرية البغايا ونسل الدجال يختار امراً من امرين" "اور جانا چاہئے کہ ہر ایک شخص جو ولد الحلال ہے اور خراب عورتوں اور دجال کی نسل میں سے نہیں ہے۔ وہ دو باتوں میں سے ایک بات ضرور اختیار کرے گا۔"

(نور الحق حصہ اول ص ١٢٣، خزائن ج ٨ ص ١٦٣)

١١٨

صفحہ ٥٥٧

مرزا غلام احمد قادیانی کے بلند بانگ دعوے

مرزا قادیانی کے سینکڑوں دعووں میں سے جو اخلاقی نقطۂ نگاہ سے یا مردود ہیں یا وقت نے انہیں غلط ثابت کر دکھایا ہے۔ ذیل میں نمونے کے طور پر تھوڑے سے دعوے نقل کئے جاتے ہیں تاکہ ناظرین خود اندازہ لگا سکیں کہ مرزا قادیانی نے جو اپنے آپ کو نبی اور ملہم من اللہ کہتے تھے‘ دراصل کیا کہا۔ مرزا قادیانی کے ہر منقولہ قول کے ساتھ ان کی تحریر کا حوالہ دیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کو ہماری نقل کی ہوئی عبارت پر شک ہو تو وہ اصل سے رجوع کر کے اپنا شک رفع کرے۔

سب سے پہلے اسلام کے بنیادی عقیدہ توحید کے متعلق مرزا قادیانی کے حوالے نقل کرتے ہیں۔

١......میں خدا ہوں

”ورایتنی فی المنام عین الله وتیقنت اننی ھو“ جس کا ترجمہ یہ ہے: ”میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور میں نے یقین کر لیا کہ بے شک میں وہی ہوں۔“

(آئینہ کمالات ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)

٢...... صفات الہی میں صفات انسانی کا انمل جوڑ

الہام میں خدا نے کہا: ”انی مع الرسول اجیب۔ اخطی واصیب....... افطر واصوم“ ترجمہ: ”میں اپنے رسول کے ساتھ ہو کر جواب دوں گا۔ میں خطا کروں گا اور صواب بھی۔ میں افطار کروں گا اور روزہ بھی رکھوں گا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٣، ١٠٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦، ١٠٧)

٣...... مرزا قادیانی خدا کا بیٹا

”انت منی بمنزلۃ ولدی“ ترجمہ: ”تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

٤...... مرزا اللہ کی توحید

”انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی“ ترجمہ: ”تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

٥...... مرزا قادیانی کا ظہور خدا کا ظہور

”انت منی وانا منک“ ترجمہ: ”تو مجھ سے ظاہر ہوا اور میں تجھ سے۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)

١١٩

صفحہ ٥٥٨

”يحمدك الله من عرشه ويحمدك الله ويمشي اليك“ ”خدا عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے۔ خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے“

(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)

”حضرت مسیح موعود نے ایک بار اپنی یہ حالت ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا“

(ٹریکٹ نمبر ٣٤ اسلامی قربانی ص ١٢، از قاضی یار محمد)

”انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون “ترجمہ: ”اے مرزا! تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)

”اعطيت صفة الافناء والاحياء من رب الفعال “ترجمہ: ”دیا گیا میں صفت مارنے اور زندہ کرنے کی رب فعال سے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٢٣ خزائن ج ٢١ ص ٥٥، ٥٦)

علم غیب پانے میں بے نظیر ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جس کثرت اور صفائی سے غیب کا علم حضرت جل شانہ نے اپنے ارادہ خاص سے مجھے عنایت فرمایا ہے اگر دنیا میں اس کثرت تعداد اور انکشافات تام کے لحاظ سے کوئی اور بھی میرے ساتھ شریک ہے۔ تو میں جھوٹا ہوں ۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٢٩٧)

رحمۃ اللعالمین بننے کا دعویٰ ”وما ارسلنك الا رحمة للعالمين “ ” (اے مرزا) ہم نے تجھے تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)

یہ صاحب یٰسین بنتے ہیں ”یسین۔ انك لمن المرسلين “ ”اے سردار تو بے شک (مرزا قادیانی) رسولوں میں سے ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

١٢٠

مرزا قادیانی کے لئے خدا ک ”نحمدك ونصل (یعنی خداوند) تیری تعریف کر پر درود ہے۔“

اس قدر نشان دکھا میں اس کی طرف سے ہوں اس ان کی بھی نبوت ثابت ہو سکتی ہ مانتے ۔“

مجھ میں اور مصطفیٰ میں کوئی ”ومن فرق بین جو میرے اور مصطفیٰ میں فرق کر

مسیح موعود محمد و مہ مرزا قادیانی سب کچھ ہ

منم مسیح زمان و منم

مرزائی جماعت کے شرک ”ومن دخل ف ترجمہ : ”جو میری جماعت ( کے صحابہؓ کا درجہ پایا۔“

مرزا قادیانی جامع الانب

انبیاء گرچہ بودہ
آنچہ داداست ہر
صفحہ ٥٥٩

مرزا قادیانی کے لئے خدا کا حمد و درود

”نحمدك ونصلي صلوة العرش الى الفرش“ ترجمہ: ”(اے مرزا) ہم (یعنی خداوند) تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے اوپر درود بھیجتے ہیں۔ عرش سے فرش تک تیرے پر درود ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٤، خزائن ج ٢٢ ص ٩٧)

اس قدر نشان دکھائے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی نبوت ثابت ہو سکتی ہے ...... لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

مجھ میں اور مصطفیٰ میں کوئی فرق نہیں

”ومن فرق بيني وبين المصطفى فما عرفني ومارائي“ ترجمہ: ”اور جو میرے اور مصطفیٰ میں فرق کرے۔ نہ اس نے مجھے پہچانا اور نہ دیکھا۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩)

مسیح موعود محمد و عین محمد است غلام احمد مرزا عین محمد علیہ وسلم ہے

(الفضل قادیان مورخہ ١٦ اگست ١٩١٥ء ج ٢ نمبر ٢٣)

مرزا قادیانی سب کچھ ہیں

منم مسیح زماں و منم کلیم خدا منم محمد و احمد کہ مجتبےٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)

مرزائی جماعت کے شرکاء صحابہ کرام کے برابر ہیں

”ومن دخل فى جماعتى دخل فى صحابة سيدى خير المرسلين“ ترجمہ: ”جو میری جماعت (قادیانیوں) میں داخل ہوا گویا کہ اس نے سید المرسلین حضرت محمد ﷺ کے صحابہؓ کا درجہ پایا۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٨، ٢٥٩)

مرزا قادیانی جامع الانبیاء

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے من بعرفان نہ کمترم ز کسے
آنچہ داد است ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بتمام

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

١٢١

صفحہ ٥٦٠

ترجمہ: ”اگرچہ اس دنیا میں بہت سے نبی ہوئے ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی سے بھی عرفان میں کم نہیں ہوں۔ جس نے ہر نبی کو جام دیا اس نے مجھے بھی بھر کر جام دیا۔“

محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی آگے جانے کا امکان

”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کرسکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتی کہ محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء، ج ١٠ نمبر ٥ ص ٥)

حقیقت کھلی بعث ثانی کی ہم پر کہ جب مصطفیٰ مرزا بن کر آیا

(الفضل قادیان ٢٨ مئی ١٩٢٨ء)

”اور ہمارے نزدیک کوئی دوسرا آیا ہی نہیں۔ نہ نیا نبی، نہ پرانا۔ بلکہ خود محمد رسول ﷺ کی چادر دوسرے کو پہنائی گئی ہے اور وہ خود ہی آئے ہیں۔“

(ملفوظات ج ٢ ص ٤٠٤)

”قادیان میں پھر اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو اتارا ہے تاکہ وہ اپنے وعدے پورے کرے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٠٥)

نبیوں کا عطر

”دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ ”میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ بن مریم ہوں، میں اسمعیل ہوں، میں محمد ﷺ ہوں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

کرشن ہونے کا دعویٰ

”خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانے پر ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢)

آخری نبی میں ہوں

”آنحضرت ﷺ کے بعد صرف ایک ہی نبی کا ہونا لازم ہے اور بہت سارے انبیاء کا ہونا خدا تعالیٰ کی بہت سی مصلحتوں اور حکمتوں میں رخنہ پیدا کرتا ہے۔“ (یعنی مرزا قادیانی کے لئے نبوت کا دروازہ کھلا اور پھر بند ہوگیا۔ اگر حضرت محمد کو خاتم النبیین کہو تو قادیانی بوکھلا اٹھتے ہیں)

(تشحیذ الاذہان قادیان ج ١٢ نمبر ٨ ص ١١، ماہ اگست ١٩١٧ء)

”لا نبی بعدی“ (مرزا قادیانی کے لئے)

١٢٢

اس امت میں صرف کوئی قطعا نہیں آسکتا۔

مجازی حقیقی نبی

”پس شریعت اسلامی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“

صاحب شریعت نبی

”جس نے اپنی وحی مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہوگا

آنحضرت پر فوقیت

”ل خسف القمر

ترجمہ: ”اس کے لئے (یعنی رس لئے چاند اور سورج کا گرہن ۔ اما

حضرت علیؓ کی توہین

”پرانی خلافت کا جو اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علیؓ ک

حضرت امام حسینؓ کی توہی

”میں (مرزا قادیان کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔“

کربلائست سیر

ترجمہ: میری سیر کا

حضرت فاطمہؓ کی توہین

”حضرت فاطمہؓ میں سے ہوں۔“

صفحہ ٥٦١

اس امت میں صرف نبی ایک ہی آسکتا ہے جو مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) ہے اور کوئی قطعا نہیں آسکتا۔

(تشحیذ الاذہان قادیان ج ٩ نمبر ٣ ص ٣٠، ماہ مارچ ١٩١٤ء)

مجازی حقیقی نبی

”پس شریعت اسلامی نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے مرزا قادیانی ہرگز مجازی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤)

صاحب شریعت نبی

”جس نے اپنی وحی کے ذریعے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

آنحضرت پر فوقیت

"له خسف القمر المنير وان لی ...... غسا القمران المشركان اتنکر“ ترجمہ: ”اس کے لئے (یعنی رسول عربی ﷺ کے لئے) چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج کا گرہن۔ اب تو انکار کرے گا۔

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

حضرت علیؓ کی توہین

”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علیؓ کی تلاش کرتے ہو۔ (یعنی علی شیر خدا کی)

(ملفوظات ج ٢ ص ١٤٢)

حضرت امام حسینؓ کی توہین

”میں (مرزا قادیانی) خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسینؓ دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

کربلائست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

ترجمہ: میری سیر کا ہر لمحہ ایک کربلا ہے۔ سینکڑوں حسینؓ میرے گریباں میں ہیں۔

حضرت فاطمہؓ کی توہین

”حضرت فاطمہؓ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٩ ، خزائن ١٨ ص ٢١٣)

١٢٣

صفحہ ٥٦٢

حضرت صدیق و فاروق کی توہین

”ابوبکرؓ و عمرؓ کیا تھے وہ تو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے لائق بھی نہ تھے۔“

(قادیانی ماہنامہ المہدی ص٥٧، جنوری، فروری ١٩١٥ء)

غیر قادیانی کافر ہے

”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

پکا کافر

”پس ان معنوں میں مسیح موعود کے احمد اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرنا ہے جو منکر کو دائرہ اسلام سے خارج اور پکا کافر بنا دینے والا ہے۔“

(الفضل ٢٩/٦/١٥)

حضرت محمد ﷺ کو ماننے کے باوجود کافر

”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا، یا محمد ﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے“

(کلمۃ الفصل ص ١١٠)

مرزا قادیانی کا منکر محمد رسول اللہ ﷺ کا منکر

”پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود رسول اللہ ﷺ ہیں جو اشاعت اسلام کے لئے دنیا میں تشریف لائے ہیں۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٠٨)

”اب معاملہ صاف ہے۔ اگر نبی کریم ﷺ کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم ﷺ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٤٦)

مسلمانوں کا جنازہ پڑھنے کی ممانعت

”غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منکر ہوئے اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔“ (یاد آجائے گا کہ چودھری ظفر اللہ قادیانی نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا)

(انوار خلافت ص ٩٣)

١٢٢

مسلمانوں سے نکاح کا تعلق مخ

”اسی طرح جو لوگ غیر اح فوت ہو جائیں تو ان کا جنازہ جائز نہی

(مرزا بشیر الدین کا مکتو

مسلمان یہود و نصاریٰ کے بر

”حضرت مسیح موعود نے کریم ﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ لڑکیاں دینا حرام قرار دے دیا گیا ۔ کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے اور غ بھی سلام کیا۔“

مسلمانوں کا اسلام الگ اور

”حضرت مسیح موعود ( ہمارا اور ، ان کا خدا اور ہے اور ہمارا ا ہر بات میں اختلاف ہے۔“

قادیانیوں کا مسلمانوں سے

”یہ غلط ہے کہ دوسرے اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے زکوٰۃ، غرض آپ نے تفصیل سے ب

(البتہ ان کا سرکاری نو

ہے) (المولف)

مرزائیت اور عیسائیت !

ناظرین! مرزا قادی نسبت احادیث میں خبر دی گئی ہ کے نشانات پائے جاتے ہیں یا نہی

صفحہ ٥٦٣

مسلمانوں سے نکاح کا تعلق ختم

”اسی طرح جو لوگ غیر احمدیوں کو لڑکی دے دیں اور وہ اپنے اس فعل سے توبہ کئے بغیر فوت ہو جائیں تو ان کا جنازہ جائز نہیں۔“

(مرزا بشیرالدین کا مکتوب مندرجہ الفضل قادیان ج١٣ نمبر ١٠٢، ص١٢،١٣، ماہ اپریل ١٩٢٦ء)

مسلمان یہود و نصاریٰ کے برابر ہیں

”حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ وہی سلوک جائز رکھا ہے۔ جو نبی کریم ﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دے دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روک دیا گیا۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے اور غیر احمدیوں کو سلام کیا جاتا ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے یہودیوں کو بھی سلام کیا۔“

(کلمۃ الفصل ص١٦٩)

مسلمانوں کا اسلام الگ اور ہمارا الگ

”حضرت مسیح موعود (قادیانی) نے فرمایا: ”ان کا (مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اور، ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور ہے، اور ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور۔ اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“

(الفضل قادیان ج٥ نمبر ٨٥ ص٨، مورخہ ٢١؍ اگست ١٩١٧ء)

قادیانیوں کا مسلمانوں سے ہر چیز میں اختلاف ہے

”یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے (مسلمانوں سے) ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، زکوٰۃ، غرض آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“

(الفضل قادیان ج١٩ نمبر ١٣، مورخہ ٣٠؍ جولائی ١٩٣١ء)

(البتہ ان کا سرکاری نوکریوں میں جو مسلمانوں کے لئے مخصوص ہوں آپ کا حصہ ضرور ہے) (المولف)

مرزائیت اور عیسائیت!

ناظرین! مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مسیح جس کی نسبت احادیث میں خبر دی گئی ہے۔ وہ میں ہوں۔ ہم نے دیکھنا ہے کہ مرزا قادیانی میں مسیح موعود کے نشانات پائے جاتے ہیں یا نہیں۔

١٢٥

صفحہ ٥٦٤

زمانے میں سوائے اسلام کے کوئی دین باقی نہیں رہے گا۔ اس حدیث کو مرزا قادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ٨٣ ، خزائن ج ٢٣ ص ٩١ مفہوم)

(الحکم، ١٧ جولائی ١٩٠٥ء)

کے زور کو توڑ دے گا۔“

مرزا قادیانی اس حدیث کو بھی اپنے حق میں لیتے ہیں اور فرماتے ہیں: ”میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پرستی کے ستون کو توڑ دوں۔“

(اخبار بدر ١٩ جولائی ١٩٠٦ء، مکتوبات احمدیہ ج ٢ حصہ اوّل ص ١٦٢)

مرزائیوں کا اپنا اخبار پیغام صلح مرزا قادیانی غلام احمد آنجہانی کے کذب پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے اور نہایت حسرت کے ساتھ لکھتا ہے: ”عیسائیت دن بدن ترقی کر رہی ہے۔“

(پیغام صلح ٦ مارچ ١٩٢٨ء)

دور کیوں جائیں۔ مردم شماری کی رپورٹ ہی دیکھ لیں۔ قادیان کے اپنے ضلع گورداسپور کی عیسائی آبادی کا نقشہ یہ ہے:

سال عیسائیوں کی آبادی ١٨٩١ء ٢٤٠٠ ١٩٠١ء ٤٤٧١ ١٩١١ء ٢٣٣٦٥ ١٩٢١ء ٣٢٨٣٢ ١٩٣١ء ٤٣٢٤٣

جب سے مرزائیت نے جنم لیا ہے۔ عیسائیت روز افزوں ترقی کر رہی ہے۔ اس قلیل عرصہ میں صرف قادیان کے اپنے ضلع گورداسپور کے عیسائی اٹھارہ گنا بڑھ گئے ہیں۔ اب ناظرین مرزا غلام

١٢٦

صفحہ ٥٦٥

احمد قادیانی کے الفاظ غور سے سن لیں اور خود فیصلہ کریں: ”مگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود کو کرنا چاہئے تھا۔ تو پھر میں سچا ہوں اور اگر نہ ہوا اور میں مرگیا تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“

(بدرج ٢ نمبر ٥ ص ٥ مورخہ ١٩؍ جولائی ١٩٠٦ء، مکتوبات احمدیہ ج١ حصہ اوّل ص١٦٢)

کوئی بھی کام مسیحا ترا پورا نہ ہوا نامرادی میں ہوا ترا آنا جانا

مبارک ہیں وہ لوگ جو مرزا قادیانی کی ناکامی پر گواہی دیتے ہیں اور انہیں جھوٹا سمجھتے ہیں کہ عاقبت انہی کی ہے۔ (مرزا قادیانی اپنے نبی نہ ماننے والوں کو اسلام سے خارج کرتے ہیں۔ اسی کروڑ مسلمان معاذ اللہ اسلام سے خارج ہو گئے۔ کیا یہی اسلامی خدمت ہے جو مرزا قادیانی نے انجام دی۔ افسوس صد ہا افسوس! فقط محمد مسلم !

ایک ہی عبارت میں مرزا قادیانی کے چار جھوٹ نمبر ١٣٩ تا نمبر ١٤٢

”اور یادرہے کہ قرآن شریف میں۔ بلکہ تورات کے بعض صحیفوں میں یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی انجیل میں خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں اور حاشیہ پر لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون کا پڑنا بائبل کی ذیل کتابوں میں موجود ہے۔ زکریا باب ١٤ آیت ١٢، انجیل متی باب ٨ آیت ٢٤، مکاشفات باب ٨ آیت ٢٢۔“

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)

نوٹ: اس جگہ اکٹھے چار جھوٹ بولے ہیں۔ جھوٹ نمبر ١٣٩ قرآن پاک میں کسی ایک آیت مبارک میں یہ موجود نہیں کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ پر افترا کرنے سے بھی نہیں شرماتا تو اس کی دوسری باتوں کا کیا اعتبار ہوگا اور ہم اس کو ایک اچھا آدمی کیسے تصور کر سکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”ومن اظلم ممن افتری علی الله کذبا او کذب بایتہ انه لا یفلح الظالمون “ ترجمہ: اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا باندھتا ہے یا اس کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے بے شک وہ ظالم کامیاب نہیں ہوں گے۔

اور دوسری جگہ تو اس سے بھی زیادہ تفصیل سے فرمایا ہے جس کا مرزا غلام احمد قادیانی خوب مصداق بن سکتا ہے: ”ومن اظلم ممن افتری علی الله کذبا اوقال اوحی الی ولم یوح الیه شئی “ ترجمہ: ”اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا افترا باندھتا ہے اور کہتا ہے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے اور حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہیں ہوتی ایک جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”لعنۃ الله علی الکاذبین“۔ ترجمہ: ”جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہے“۔

اور حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آیۃ المنافق ثلث اذا حدث کذب واذا وعد

١٢٧

صفحہ ٥٦٦

خلف اذا ائتمن خان بخاری شریف باب علامۃ المنافق“ نیز یہ حدیث شریف صحاح ستہ کی تمام کتب میں اور مشکوٰۃ شریف میں بھی موجود ہے۔ ترجمہ منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب گفتگو کرے گا جھوٹ بولے گا اور جب وعدہ کرے گا تو خلاف ورزی کرے گا اور جب امانت رکھی جائے گی تو خیانت کرے گا اور جس کو قرآن پاک کا ترجمہ آتا ہے اس پر واضح بات ہے کہ یہ قرآن پر افترا ہے اور اگر کوئی مرزائی یہ قرآن پاک سے ثابت کر دے تو فقیر پانچ سو روپیہ انعام دے گا۔

جھوٹ نمبر ١٤٠...... زکریا باب ١٤ آیت نمبر ١٢ میں بھی یہ عبارت نہیں پائی جاتی لہٰذا یہ جھوٹ ہوا۔

جھوٹ نمبر ١٤١...... تیسرا حوالہ جو انجیل متی باب ٢٤ آیت نمبر ٨ کا لکھا ہے یہ حوالہ بھی سراسر غلط ہے بلکہ وہاں تو عجیب لکھا ہوا ہے۔ ہم اس کو نقل کرتے ہیں تا کہ مرزائی اس عبارت کو پڑھ کر عبرت حاصل کریں۔ ملاحظہ ہو۔ عبارت انجیل ”بہت سے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے کیونکہ جھوٹے مسیح اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر لیں۔“

مرزا غلام احمد پر یہ انجیل کی مبارک آیت خوب صادق آتی ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔

جھوٹ نمبر ١٤٢...... مکاشفات باب ٢٢ آیت نمبر ٨ میں بھی یہ عبارت نہیں پائی جاتی۔ تو یہ پورے چار جھوٹ ایک ہی حوالے میں ثابت ہو گئے۔ پہلے مرزا کے جھوٹ کی بابت فتوؤں کو دوبارہ ملاحظہ فرما کر خود فیصلہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی کے چار جھوٹ ایک ہی عبارت میں ثابت ہو گئے ہیں۔ اب مرزا اپنے فتوؤں کی رو سے کیا ہوئے اور کیا بنے اور کیا ٹھہرے اور مرزا قادیانی نے کیا کمایا۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)

(شحنہ حق ص ٦٠، خزائن ج ٢ ص ٣٨٢)

نہیں رہتا۔“ (چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

١٢٨

صفحہ ٥٦٧

مرزاغلام احمد قادیانی کے اعمال و کردار

تصویر کا پہلا رخ......عورتوں کو چھونا جائز نہیں

مرزاغلام احمد قادیانی کا لڑکا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے کہ: ”ایک دفعہ ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب نے حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد) سے عرض کیا کہ میرے ساتھ شفاخانہ میں ایک انگریز لیڈی کام کرتی ہے۔ وہ ایک بوڑھی عورت ہے۔ کبھی کبھی میرے ساتھ مصافحہ کرتی ہے۔ اس کا کیا حکم ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا یہ تو جائز نہیں۔ آپ کو عذر کر دینا چاہئے تھا کہ ہمارے مذہب میں یہ جائز نہیں۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٧٦، روایت نمبر ٤٠١)

تصویر کا دوسرا رخ......دوشیزہ لڑکی سے پاؤں دبوانا

”حضور (مرزاغلام احمد) کو مرحومہ کی خدمت حضور کے پاؤں دبانے کی بہت پسند تھی۔ مرحومہ کا نام عائشہ تھا جو کہ کنواری اور دوشیزہ تھی چودہ سال کی عمر میں مرزا قادیانی کی خدمت میں بھیجی گئی تھی۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٠ مارچ ١٩٢٨ء)

”ڈاکٹر محمد اسماعیل خاں صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود نے کوئی حج نہیں کیا اور اعتکاف نہیں کیا۔ تسبیح نہیں رکھی وظائف نہیں پڑھتے تھے۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١١٩، روایت نمبر ٤٧٢)

مرزاغلام احمد کی عادت تھی کہ جب کسی عورت کو حاملہ دیکھ لیتے تو فوراً الہام جڑ دیتے۔ اس طرح ایک دفعہ اپنے ایک مرید میاں منظور محمد کی اہلیہ کو حاملہ دیکھا تو بکمال غیب دانی پیشین گوئی دیدی ملاحظہ ہو: ”دیکھا کہ منظور محمد صاحب کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے دریافت کرتے ہیں کہ اس لڑکے کا کیا نام رکھا جائے تب خواب سے حالت الہام کی طرف چلی گئی اور معلوم ہوا کہ بشیر الدولہ فرمایا کئی آدمیوں کے واسطے دعا کی جاتی ہے۔ معلوم نہیں کہ منظور محمد کے لفظ سے کس کی طرف اشارہ ہے۔“

(تذکرہ ص ٥٩٨ طبع سوم)

جھوٹ نمبر ١٤٣، ١٤٤......نیز مرزا قادیانی نے اس گول مول الہام میں عجیب فریب سے کام لیا ہے مطلب یہ کہ آئندہ اگر منظور محمد کے گھر لڑکا پیدا ہوا تو چاندی کھری ہے کہہ دیں گے کہ یہی مراد تھا ورنہ کسی اور پر چسپاں کر دیں گے۔

لیکن خدا تعالیٰ کو مرزا قادیانی کی رسوائی منظور تھی اس لئے اس الہام کے قریباً ساڑھے ٤ ماہ بعد مرزا قادیانی کے قلم سے یہ تحریر کرا دیا۔ ملاحظہ ہو عبارت مرزا قادیانی ”بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوا

١٢٩

صفحہ ٥٦٨

کہ میاں منظور محمد صاحب کے گھر یعنی محمدی بیگم (یعنی زوجہ منظور محمد) کا ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کے دو نام ہونگے۔ بشیر الدولہ۔ عالم کباب۔ یہ دونوں نام بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوئے بشیر الدولہ سے مراد ہماری دولت اور اقبال کے لئے بشارت دینے والا ۔ عالم کباب سے مراد یہ ہے کہ اس کے پیدا ہونے سے چند ماہ تک یا جب تک کہ وہ اپنی برائی بھلائی کی شناخت کرے دنیا پر ایک سخت تباہی آئے گی۔ گویا دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ خدا کے الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر دنیا کے سرکش لوگوں کے لئے کچھ اور مہلت منظور ہے تب بالفعل لڑکا نہیں لڑکی پیدا ہوگی اور وہ لڑکا بعد میں پیدا ہوگا مگر ضرور ہوگا۔ کیونکہ وہ خدا کا نشان ہے۔"

(تشحیذ الاذہان جون ١٩٠٦ء ص ٦ ورق آخری، تذکرہ ص ٦٤٢)

اگرچہ یہ عبارت بھی فریب کا موقع ہے تاہم اتنا معاملہ بالکل عیاں ہو گیا ہے کہ میاں منظور محمد کے گھر عالم کباب ضرور پیدا ہوگا جو خدا کا نشان ہے اور مرزا قادیانی کے اقبال کا شاہد ہوگا لیکن اس الہام بازی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے ایک ماہ دس دن بعد میاں منظور محمد کے گھر مورخہ ١٧؍ جولائی ١٩٠٦ء کو لڑکی پیدا ہوئی اس کے بعد کوئی لڑکا نہیں ہوا حتی کہ زوجہ منظور محمد کا انتقال ہو گیا اور مرزا قادیانی کے بناسپتی الہامات کا بھانڈا پھوٹ گیا۔

جھوٹ نمبر ١٤٥......ماہ جنوری ١٩٠٣ء میں جبکہ مرزا قادیانی کی بیوی حاملہ تھیں مرزا غلام احمد اپنی کتاب مواہب الرحمن کے ص ١٣٩ پر یہ پیشگوئی کی جو سراسر جھوٹی نکلی۔ ملاحظہ ہو عبارت۔"

الحمد لله الذى وهب لى على الكبر اربعة من البنين وبشرنى بخامس "

ترجمہ: سب تعریف خدا کو ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں چار لڑکے دیئے اور پانچویں کی بشارت دی۔

(مواہب الرحمن ص ١٣٩، خزائن ج ١٩ ص ٣٦٠)

نوٹ: اس حمل سے مرزا قادیانی کے گھر ٢٨؍ جنوری ١٩٠٣ء کو ایک لڑکی پیدا ہوئی جو صرف چند ماہ عمر پا کر فوت ہوگئی۔

(اخبار الحکم ١٤؍ دسمبر ١٩٠٣ء)

رمضان کے دورے

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کیا۔ دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کئے۔ مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے کہ پھر آپ کو دورہ ہوا اس لئے باقی تمام چھوڑ دیئے اور فدیہ ادا کیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے۔ کہ پھر دورہ کی وجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپ نے فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا۔ تو آپ کا تیرھواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا اور

١٣٠

صفحہ ٥٦٩

آپ نے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جتنے رمضان آئے آپ نے سب روزے رکھے۔ مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادا فرماتے رہے۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپ نے ابتداء دوروں کے زمانہ میں روزے چھوڑے تو کیا پھر بعد میں ان کو قضاء کیا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں۔ صرف فدیہ ادا کر دیا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب شروع شروع میں حضرت مسیح موعود کو دوران سر اور درد اطراف کے دورے پڑنے شروع ہوئے۔ تو اس زمانہ میں آپ بہت کمزور ہو گئے تھے اور صحت خراب رہتی تھی۔

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٦٥، ٦٦، روایت نمبر ٨١)

رب جی یارب قادیان

ایک برہمن نوجوان مسمی برہمچاری اور چند ہندو دوست میرے مکان پر آیا کرتے تھے۔ چند روز بعد میں اپنے مکان پر موجود تھا۔ مجھے ایک دوست نے اطلاع کی کہ تھانہ میں رب جی نے آپ کو بلایا ہے۔ میں تھانے پہنچا دیکھا کہ باہر کچھ لوگ موجود ہیں۔ رب جی کی برابر والی کرسی پر ناظر امور عامہ اور چند مرزائی بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ حضرات برہمچاری سے الجھے تو معاملہ تھانہ تک جا پہنچا۔ مجھے دیکھتے ہی برہمچاری نے کہا دیکھئے ماسٹر صاحب مجھے تبلیغ سے روکا جا رہا ہے میں خاموشی سے فریقین کی باتیں سنتا رہا۔ مرزائیوں نے تھانہ دار سے کہا ہماری رپورٹ لکھئے۔ یہ برہمچاری خود کو رب قادیان کہہ کر ہماری دل آزاری بھی کرتا ہے اور نقص امن کا اندیشہ بھی پیدا کر رہا ہے۔ اس کی ضمانت لیجئے میں نے مرزائی نمائندہ کی تائید کی۔ برہمچاری نے حیرانی سے میرا منہ تکنا شروع کیا تھانہ دار صاحب بھی حیران تھے۔ کہ میں مرزائیوں کی تائید کیوں کر رہا ہوں۔ میں نے اپنی تائید کی وجہ بتائی۔ پھر تو رپورٹ کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ میرے ہمراہ میرے مخلص کارکن حافظ محمد خاں تھانہ میں موجود تھے۔

میں نے تھانہ دار صاحب سے کہا ہمارے حافظ صاحب یہ رپورٹ لکھوانے آئے ہیں کہ غلام احمد قادیانی نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین کی ہے۔ یہ مرزائی کھلے بندوں اس نبوت کاذبہ کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ ان سب کی ضمانتیں ہونا چاہیں۔ تھانہ دار صاحب نے قلم سنبھالا اور فریقین سے کہا کہ دونوں رپورٹوں کی نوعیت ایک سی ہے۔ آپس میں بات کر لیجئے پھر رپورٹ لکھوائیے۔ مرزائیوں نے مجھ سے بات کی۔ سمجھوتے کے بعد فریقین رپورٹ لکھوائے بغیر تھانہ سے باہر چلے گئے۔ بہرحال باہر سے آئے ہوئے مرزائیوں میں سے بعض بھولے بھالے لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ رب جی بعض باتیں تو بڑے مزے کی کر رہا تھا جو

١٣١

صفحہ ٥٧٠

مذہب تھے۔ جن مسلمانوں کو باہر سے ہموار کر کے لایا گیا تھا۔ انہیں قادیان کا سارا کھیل ہی فراڈ معلوم ہوا۔ رب جی قادیان سے باہر جلسے کرنے لگا۔ اب اس کے جلسوں میں اچھی خاصی حاضری ہونے لگی۔“

(لولاک ٥ مئی ١٩٧٥ء)

حضرت امامنا امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ یہ ہے کہ : ”جو مسلمان کسی مدعی نبوت سے معجزہ طلب کرے۔ وہ بھی کافر ہے۔ کیونکہ اس کے مطالبہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے میں شک ہے۔

(دیکھو خیرات الحسان مطبوعہ مدینہ منورہ ص ١١٩، اردو ترجمہ موسوم بہ جوہر البیان ص ١٠٣)

مرزا قادیانی کے ہاں بھی امام بزرگ حضرت فخر الائمہ امام اعظم ابو حنیفہؒ کی شان بلند مسلم ہے۔ چنانچہ ان کی کئی ایک تحریروں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی حضرت امام صاحب کو مانتے ہیں۔ لہذا ہم مرزائی حضرات سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ حضرت امام صاحب کے اس حکم پر عمل درآمد کر کے عنداللہ ماجور ہوں۔

جنگ آزادی ١٨٥٧ء میں مرزا قادیانی اور ان کے بزرگوں کا طرز عمل

”١٨٥٧ء میں جو کچھ فساد ہوا اور اس میں بجز جہلاء اور بدچلن لوگوں کے اور کوئی شائستہ اور نیک بخت مسلمان جو باعلم اور باتمیز تھا ہرگز مفسدہ میں شامل نہیں ہوا۔ بلکہ پنجاب میں بھی غریب غریب مسلمانوں نے سرکار انگریزی کو اپنی طاقت سے زیادہ مدد دی چنانچہ ہمارے والد صاحب مرحوم نے بھی باوصف کم استطاعتی کے اپنے اخلاص اور جوش خیر خواہی سے پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر کے اور پچاس مضبوط اور لائق سپاہی بہم پہنچا کر سرکار میں بطور مدد کے نذر کی۔“

(براہین احمدیہ ص ٧٩، ٧٨، خزائن ج ١ ص ١٣٩، ١٣٨)

١٨٥٧ء کا جہاد آزادی درحقیقت کسی باضابطہ اسکیم یا لائحہ عمل کے تحت پیش نہیں آیا تھا۔ بلکہ واقعہ یہ تھا کہ ١٨٥٧ء میں پلاسی کی جنگ کے بعد جب انگریزوں نے ہندوستان پر باضابطہ حکومت کا فیصلہ کر لیا تو اس کے بعد ١٠٠ سال تک ہندوستانی باشندوں میں اس حکومت کیخلاف نفرت اور بیزاری کے غیر معمولی جذبات پروان چڑھتے رہے۔ ادھر انگریزوں نے ہندوستانی باشندوں کی شجاعت کے پیش نظر انہیں اپنی فوج میں اکثریت دیدی۔ نفرت و بیزاری کی انتہا ان فوجیوں کی بغاوت پر ہوئی، جب فوج باغی ہوگئی تو ملک کے عام باشندے جو ١٠٠ سال سے انگریزی حکومت سے تنگ آئے ہوئے تھے، ان کے سامنے بھی ایک نجات کی صورت آگئی۔ چنانچہ ملک کے مختلف حصے اور جماعتیں بنیں، اور ہر علاقے میں اس جہاد کا ایک امیر منتخب ہوا۔ تواریخ سے یہ

١٤٢

صفحہ ٥٧١

معلوم نہیں ہوتا کہ ان امراء کا آپس میں کوئی رابطہ تھا یا نہیں؟

چنانچہ تھانہ بھون اور کیرانہ کا ایک محاذ قائم کیا گیا۔ مجاہدین کی جماعت مدافعت اور مقابلہ کرتی رہی تھانہ بھون میں حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ امیر، حضرت حافظ ضامن شہیدؒ امیر جہاد، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ سپہ سالار اور حضرت مولانا محمد منیر صاحبؒ، مولانا نانوتویؒ کے یاور حربی اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ وزیر لام بندی قرار پائے۔ انہی حضرات نے شاملی میں انگریزی فوج کی ایک گڑھی پر حملہ کر کے تحصیل شاملی کو فتح کر لیا۔

دوسری طرف کیرانہ اور اس کے گردونواح میں حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب کیرانویؒ امیر اور چودھری عظیم الدین صاحب مرحوم سپہ سالار تھے اس زمانے میں عصر کی نماز کے بعد مجاہدین کی تنظیم و تربیت کے لئے کیرانہ کی جامع مسجد کی سیڑھیوں پر نقارہ بجایا جاتا، اور اعلان ہوتا کہ: ”ملک خدا کا اور حکم مولوی رحمت اللہ کا۔“

(اظہار الحق ص ١٩٧، ١٩٦)

وزیر اعظم انگلستان ڈزرالی نے ٢٧؍جولائی ١٨٥٧ء کو (جبکہ جنگ ابھی جاری تھی) اپنی تقریر میں کہا: ”مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ یہ بغاوت محض قومی پریشانی کی بناء پر نہیں ہوئی بلکہ یہ لوگ در پردہ ملک کی عام سیاسی بے چینی کی حمایت میں اٹھے تھے۔“

انگلستان کا ایک مورخ ایڈورڈ تھامسن لکھتا ہے: ”وحشی نادر شاہ نے بھی وہ لوٹ نہیں مچائی تھی جو فتح دلی کے بعد انگریزی فوج نے وہاں جائز رکھی شارع عام پر پھانسی گھر بنائے گئے اور پانچ پانچ ، چھ چھ آدمیوں کو روزانہ سزائے موت دی جاتی تھی۔ شاہی خاندان کے ٢٩ افراد کو اسی طرح پھانسی دی گئی۔“

قیصر التواریخ میں ایک جگہ لکھا ہے: ”اس جنگ میں ٢٧ ہزار مسلمان شہید کئے گئے۔ سات دن تک برابر قتل عام جاری رہا۔ غریب بادشاہ زینت محل کی حویلی میں قید تھا۔ خوراک کے لئے اسے پانچ روپیہ یومیہ ملتے تھے۔“

افسوس صد افسوس مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت پر۔ ایک اسلامی حکومت کے خلاف یہ جذبات ان کے ہیں۔ مسلمانو غور کرو کہ یہ فرقہ اسلامی حکومتوں کیخلاف کیسے جذبات رکھتا ہے اور ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف کفار کا ساتھ دیا اور دیتا رہے گا۔

”مکرمی! اخویم مولوی عبدالکریم صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

اس وقت قریباً دو بجے کے وقت وہ خط پہنچا۔ جو اخویم سید حامد شاہ صاحب نے آپ کے حالات علالت کے بارے میں لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنا خاص رحم فرمائے۔ خط کے پڑھتے ہی

١٣٣

صفحہ ٥٧٢

کوفت غم سے وہ حالت ہوئی جو خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ میں خاص توجہ سے دعا کروں گا۔ اصل بات یہ ہے کہ میری تمام جماعت میں آپ دو ہی آدمی ہیں جنہوں نے میرے لئے اپنی زندگی دین کی راہ میں وقف کر دی ہے۔ ایک آپ ہیں اور ایک مولوی حکیم نور الدین صاحب۔ ابھی تک تیسرا آدمی پیدا نہیں ہوا۔ اس لئے جس قدر قلق ہے اور جس قدر بے آرامی ہے۔ بجز خدا تعالیٰ کے اور کون جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شفا بخشے اور رحم فرمائے اور آپ کی عمر دراز کرے۔ آمین ثم آمین۔ جلد کامل صحت سے مجھے اطلاع بخشیں۔" خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ٢٤ اکتوبر ١٨٩٩ء

"اس خاندان نے غدر ١٨٥٧ء کے دوران میں بہت اچھی خدمات کیں۔ غلام مرتضیٰ نے بہت سے آدمی بھرتی کئے اور اس کا بیٹا غلام قادر جرنیل نکلسن صاحب بہادر کی فوج میں اس وقت تھا۔ کہ جب افسر موصوف نے تریموگھاٹ پر ٤٦ نیٹو انفنٹری کے باغیوں کو جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے تہ تیغ کیا۔ جنرل نکلسن صاحب بہادر نے غلام قادر کو ایک سند دی۔ جس میں یہ لکھا ہے کہ ١٨٥٧ء میں یہ خاندان قادیان ضلع گورداسپور کے تمام دوسرے خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا۔ غلام مرتضیٰ جو ایک لائق حکیم تھا ١٨٧٦ء میں فوت ہوا اور اس کا بیٹا غلام قادر اس کا جانشین ہوا۔ غلام قادر حکام مقامی کی امداد کے لئے ہمیشہ تیار رہتا تھا اور اس کے پاس ان افسران کے جن کا انتظامی امور سے تعلق تھا۔ بہت سے سرٹیفکیٹ تھے۔ یہ کچھ عرصہ تک گورداسپور دفتر ضلع کا سپرنٹنڈنٹ رہا۔ اس کا اکلوتا بیٹا کمسنی میں فوت ہو گیا اور اس نے اپنے بھتیجے سلطان احمد کو متبنیٰ کر لیا جو غلام قادر کی وفات یعنی ١٨٨٣ء سے خاندان کا بزرگ خیال کیا جاتا ہے۔ مرزا سلطان احمد نے نائب تحصیلداری سے گورنمنٹ کی ملازمت شروع کی اور اب اکسٹرا اسسٹنٹ ہے۔ یہ قادیان کا نمبردار بھی ہے۔

نظام الدین کا بھائی امام الدین جو ١٩٠٤ء میں فوت ہوا۔ دہلی کے محاصرے کے وقت (ہاڈسن ہورس (رسالہ) میں رسالدار تھا۔ اس کا باپ غلام محی الدین تحصیل دار تھا۔"

(بحوالہ برٹش گورنمنٹ کی کتاب ”پنجاب چیفس“)

"ایک اور واقعہ ملاحظہ فرمائیے: پندرہ بیس منٹ آپ کی تقریر ہو چکی تھی ۔ کہ ایک شخص نے آپ کے آگے چائے کی پیالی پیش کی ۔ کیونکہ آپ کے حلق میں تکلیف تھی اور ایسے وقت میں اگر تھوڑے تھوڑے وقفہ سے کوئی سیال چیز استعمال کی جائے تو آرام رہتا ہے۔ آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ رہنے دو۔ لیکن اس نے آپ کی تکلیف کے خیال سے پیش کر ہی دی۔ اس پر آپ نے بھی اس میں سے ایک گھونٹ پی لیا۔ لیکن وہ مہینہ روزوں کا تھا۔ مولویوں نے شور مچا دیا کہ یہ شخص

١٣٣

مسلمان نہیں کیونکہ رمضان شریف شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیما آئے تب روزہ رکھے اور میں تو بیما ر ہیں۔ شور بڑھتا گیا اور باوجود پولیس

قادیانی امت کا درود

"اللهم صل علی علی ابراهیم وعلی ال ابراهی مسلمانوں غور کرو مرزائیوں کا درود ا "اللهم صل علی عـ الموعود وبارك وسلم وياليل

افسروں کی اطاعت

تھے۔ وہ اب بھی یہاں ہی ہیں۔ موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمای ہے"

انگریزی پروفیسر ان کیخلاف ایک طلباء مولوی محمد دین صاحب، صوف اقدس نے مجھے جماعت سے خار مجھے ایک معافی نامہ تحریر کر کے بھیج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خ میری معافی کا اعلان ہو گیا۔"

ایمان کی رو سے اپنا فرض دیکھتا

صفحہ ٥٧٣

مسلمان نہیں کیونکہ رمضان شریف میں روزہ نہیں رکھتا۔ آپ نے جواب میں فرمایا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیمار اور مسافر روزہ نہ رکھے۔ بلکہ جب شفاء ہو یا سفر سے واپس آئے تب روزہ رکھے اور میں تو بیمار ہوں اور مسافر بھی۔ لیکن جوش بھرے ہوئے لوگ کب رکتے ہیں۔ شور بڑھتا گیا اور باوجود پولیس کی کوشش کے فرو نہ ہو سکا۔ آخر مصلحتاً آپ بیٹھ گئے۔‘‘

(بحوالہ کتاب سیرت مسیح موعود)

قادیانی امت کا درود

”اللہم صل علی محمد واحمد وعلی آل محمد واحمد کما صلیت
علی ابراہیم وعلی ال ابراہیم انک حمید مجید“

(رسالہ درود شریف ص٢٣)

مسلمانوں غور کرو مرزائیوں کا درود الگ، کلمہ الگ، حج الگ، ہر چیز الگ، پھر یہ کیسے مسلمان ہیں؟

”اللہم صلی علی محمد وعلی آل محمد وعلی عبدک المسیح
الموعود وبارک وسلم ویایہا الذین امنو صلو علیہ وسلموا تسلیماً“

(روزنامہ الفضل قادیان ص٣٦، ٥ ماہ جولائی ١٩٣٧ء)

افسروں کی اطاعت

تھے۔ وہ اب بھی یہاں ہی ہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ لنگر کے ایک ملازم کے ساتھ سختی کی تو مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ”وہ ہمارا نمائندہ ہے اس کے ساتھ سختی گویا ہمارے ساتھ سختی ہے“

(الفضل ج٢٣ نمبر ١٦٨)

انگریزی پروفیسران کیخلاف ایک اسٹرائیک کی۔ جس میں میں بھی شامل ہو گیا۔ مگر دوسرے احمدی طلباء مولوی محمد دین صاحب‘ صوفی غلام محمد صاحب اس میں شامل نہ ہوئے۔ اس بناء پر حضرت اقدس نے مجھے جماعت سے خارج کر دیا۔ میں تو خاموش رہا۔ مگر حضرت والد صاحب نے خود مجھے ایک معافی نامہ تحریر کر کے بھیجا اور لکھا کہ میں اس کی نقل کر کے اور اوپر دستخط کر کے فوراً بلا تاخیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ارسال کر دوں۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ جس پر میری معافی کا اعلان ہو گیا۔“

(الفضل ج٣٠)

ایمان کی رو سے اپنا فرض دیکھتا ہوں کہ اس گورنمنٹ کی شکر گزاری کروں اور اپنی دینی جماعت

١٣٥

صفحہ ٥٧٤

کے لئے نصیحت کرتا ہوں۔ سو یاد رکھو! کہ ایسا شخص ہماری جماعت میں داخل نہیں رہ سکتا۔ جو اس گورنمنٹ کے مقابلہ میں کوئی باغیانہ خیال دل میں رکھے اور میرے نزدیک یہ سخت بدذاتی ہے کہ جس گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہم ظالموں کے پنجے سے ہم بچائے جاتے ہیں اور اس کے زیر سایہ ہماری جماعت ترقی کر رہی ہے۔ اس کے احسان کے ہم شکر گزار نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ ” ھل جزاء الاحسان الا الاحسان “ یعنی احسان کا بدلہ احسان ہے اور حدیث شریف میں بھی ہے۔ کہ جو انسان کا شکر نہیں کرتا وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا۔“

(تبلیغ رسالت حصہ دہم ١٢٣،١٢٤، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٣)

ایک اور طرز سے

چونکہ مراق ایک ایسا مرض ہے جو بعض دفعہ کئی پشتوں تک اپنا اثر پہنچاتا ہے۔ اس لئے اس جگہ بھی خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کا مراقی ہونا ہر طور سے ثابت کرنے کے لئے ان کی ہم جلیس بیوی صاحبہ اور اولاد کو بھی اس میں مبتلا کر دیا تھا تا کہ اور نہیں تو اس دلیل سے مرزا قادیانی کا مراقی ہونا پایہ تکمیل تک پہنچ جائے۔

” ایں خانہ تمام آفتاب است “

مرزا قادیانی تو مراقی تھے ہی، مگر آپ کی بیوی بچہ مراقی ہے اس لئے اگر ہم مرزا قادیانی کے خاندان کو مراقی کنبہ کے نام سے یاد کریں تو غلط نہیں۔

مرزا قادیانی کی بیوی کو بھی مراق تھا

مرزا قادیانی کا اپنے جدی بھائیوں کے ساتھ مقدمہ تھا انہوں نے بطور گواہ مرزا قادیانی کا بیان عدالت میں دلوایا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا : ”میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے۔ کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے کیونکہ طبی اصول کے مطابق اس کے لئے چہل قدمی مفید ہے۔“

(منظور الٰہی ص ٢٣٤ بحوالہ الحکم ج ٥ ص ٢٩)

الہامات مرزا کی حیثیت قرآن جیسی ہے اور وہ خود صاحب کتاب ہیں

”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا قرآن شریف پر اور خدا تعالیٰ کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں ۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں“

(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)

١٣٦

صفحہ ٥٧٥

وحی مرزا پر ایمان وعمل فرض ہے

”حضرت مرزا قادیانی موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی جماعت کو وحی سنانے پر مامور ہیں۔ جماعت احمدیہ کو اس وحی پر ایمان لانا اور عمل کرنا فرض ہے۔“

(رسالہ احمدی ص ٥، ٦، ٧، ١٩١٩ء)

مرزا قادیانی کا منکر کافر

”خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور مجھے قبول نہیں کیا کافر ہے۔“

(تذکرہ ص ٦٠٧)

غیر قادیانی جہنمی ہیں

”مجھے الہام ہوا ہے کہ جو شخص تیری بیعت نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہوگا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٢٧٥)

مرزا قادیانی کے بغیر اسلام مردہ ہے

”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں محمد علی اور خواجہ کمال الدین صاحب کی تجویز پر ١٩٠٥ء میں ایڈیٹر صاحب اخبار وطن نے ایک فنڈ اس غرض سے شروع کیا تھا کہ اس سے رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان کی کاپیاں بیرونی ممالک میں بھیجی جائیں بشرطیکہ اس میں حضرت مسیح موعود کا نام نہ ہو۔ مگر حضرت اقدس (مرزا غلام قادیانی) نے اس تجویز کو اس بناء پر رد کر دیا کہ مجھ کو چھوڑ کر مردہ اسلام پیش کرو گے۔ اس چندہ کو بند کر دیا گیا۔“

(عقائد احمدیہ ص ١٠٨)

حاشیہ جات

١؎ بلکہ اس سے بھی زیادہ چنانچہ لکھتے ہیں کہ ایک روز کشفی حالت میں ایک بزرگ صاحب کی قبر پر میں دعائیں مانگ رہا تھا اور (وہ بزرگ) ہر ایک دعا پر آمین کہے جاتے تھے۔ اس وقت خیال ہوا کہ اپنی عمر بڑھوالوں۔ تب میں نے دعا کی کہ میری عمر پندرہ سال (اسی ٨٠ برس سے) اور بڑھ جائے۔ اس پر بزرگ نے آمین نہ کہی۔ تب اس صاحب قبر سے بہت کشتم کشتا ہوا۔ تب اس نے کہا کہ مجھے چھوڑ دو۔ میں آمین کہتا ہوں۔ اس پر میں نے اس کو چھوڑ دیا اور دعا مانگی کہ میری عمر پندرہ سال اور بڑھ جائے۔ تب اس بزرگ نے آمین کہی۔ اب میری عمر پچانوے سال ہے۔

(تذکرہ ص ٤٩٧)

مولوی مردان علی حیدر آباد نے مرزا قادیانی کو خط لکھا کہ ٥ سال میں اپنی عمر میں کاٹ کر آپ کو دیتا ہوں۔ مرزا قادیانی نے قبول کیا۔

(ازالہ اوہام ص ٩٤٥، خزائن ج٣

١٣٧

صفحہ ٥٧٦

ص٦٢٣) اس لئے مرزا قادیانی کی عمر پوری ١٠٠ سال ہونا چاہئے تھی۔

سلطان احمد صاحب (پسر کلاں) مرزا قادیانی کا معلوم ہوتا ہے جو انہوں نے نماز جنازہ کے شامل ہونے کے واسطے تشریف لانے پر فرمایا تھا کہ میرے پاس جو یادداشت ہے۔ اس کے مطابق یہ آپ کی پیدائش ١٨٣٦ء یا ١٨٣٧ء میں ہوئی۔ (میگزین ص٣٧١) مرزا قادیانی تو لکھتے ہیں کہ: ہمارے پاس کوئی یادداشت نہیں۔ کیونکہ اس زمانہ میں بچوں کی عمر لکھنے کا کوئی طریق نہ تھا۔ مگر ان کے بیٹے کے پاس یادداشت نکل آئی اور وہی سب سے صحیح بھی بتائی جاتی ہے۔

ایک لطیفہ لکھتے ہیں کہ چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو الآیات بعد المأتین ہے۔ ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرہویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہوگا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں یہ عاجز بھی داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھو یہی مسیح ہے جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ نام یہ ہے۔ غلام احمد قادیانی اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا نام غلام احمد نہیں ہے۔ بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔ (ازالہ اوہام ص١٨٦، خزائن ج٣ ص١٩٠) غلام احمد قادیانی سے ١٣٠٠ کا عدد نکال کر اور اپنا ٤٠ سال کی عمر میں مبعوث ہونا ظاہر کر کے مرزا قادیانی نے اپنی عمر ٦٥ سال ٤ ماہ کا مزید ثبوت دے دیا جو ان کے الہامات عمر ٨٠ سال کو باطل کرتا ہے۔ لیکن اس کشف یا الہام میں جو آپ نے دعویٰ کیا ہے کہ: ”اس وقت تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا نام نہیں ۔“ (بالکل جھوٹ) یہ بھی محض باطل اور ڈھکوسلہ ثابت ہوا۔ مرزا قادیانی کو کنویں کے مینڈک کی طرح اپنے قادیان کے سوا دنیا میں اور کوئی قادیان نظر نہ آیا۔ حالانکہ ان کے قادیان کے علاوہ خاص ضلع گورداسپور میں ہی دو گاؤں قادیان نام کے موجود ہیں جن میں سے ایک میں غلام احمد قریشی مرزا قادیانی کا ہم عمر ایک اس وقت موجود تھا۔ اس کے علاوہ ایک قادیان لدھیانہ میں ہے۔ وہاں بھی غلام احمد کا نام ایک شخص اس وقت موجود تھا جو نمبردار بھی تھا۔ پس جس وقت مرزا قادیانی کو یہ کشف یا الہام ہوا۔ عین اس وقت کم از کم مذکورہ بالا دو اشخاص غلام احمد قادیانی دنیا پر (بلکہ پنجاب میں ہی) موجود تھے۔ (دیکھو کلمہ فضل رحمانی اور مضمون۔ کیا مرزا قادیانی مسلمان تھا؟ از قاضی فضل احمد صاحب

١٣٨

لودھیانوی) اگر ابجد کے حساب تنزل على كل افاك اثيم کے بموجب ہم نہیں کہہ سکتے کہ پوشیدہ رکھا گیا تھا۔

دروغ کو سمجھ لیا۔ مگر افسوس کے

اس کیخلاف شریعت حقہ عقائد الہام دے مارا جو محض جھوٹ ثا

ص٨٧) میں لکھتے ہیں: ”پھر ہو گیا ۔ “ اور مریدوں میں جس جاتی ہے کہ اپنی جماعت کے اخوت کا سلوک کرنا چاہئے۔ اپنی جماعت کے لئے عام حکر میں دفن کرو اور ایسی میت سا

اصل پیش گوئیاں

جب بکر کو دیکھو کہ کیسا م ہے اور آپ کی ع

کرتے ہیں جو کہ آج دنیا بھ وہ خدا تعالیٰ کے حضور میں دیا بتایا جاتا ہے۔ اس کو قبل از تائید کرتے ہیں اور یہ تائید ایسے ہی اعجازی اور فوق الا کر رہے ہیں کہ ان کے م

صفحہ ٥٧٧

لودھیانوی) اگر ابجد کے حساب سے یہ گنتی درست ہے تو غلام قادیانی دجال ہے اور آیت۔ تنزل علی کل افاک اثیم کے بھی ١٣٠٠ اعداد ہی ہوتے ہیں۔ کیا مرزا قادیانی کے استدلال کے بموجب ہم نہیں کہہ سکتے کہ مرزا قادیانی کے دعوے کا کذب مذکورہ بالا فقرہ اور آیت قرآنی میں پوشیدہ رکھا گیا تھا۔

دروغ گو سمجھ لیا۔ مگر افسوس کہ ان کے مرید صم بکم عمی کے مصداق ہورہے ہیں۔

اس کیخلاف شریعت حقہ عقائد کی وجہ سے سنگسار کرادیا تھا۔ اس لئے مریدوں کے خوش کرنے کو یہ الہام دے مارا جو محض جھوٹ نکلا۔

ص ٨٧) میں لکھتے ہیں: ”پھر طاعون کے دنوں میں جب طاعون زور پر تھا۔ میرا لڑکا شریف بیمار ہو گیا۔“ اور مریدوں میں جب طاعون کا زور ہوا تو کہتے ہیں کہ اس وقت تمام جماعت کو نصیحت کی جاتی ہے کہ اپنی جماعت کے اندر طاعون کے بیماروں اور شہیدوں کے ساتھ پوری ہمدردی اور اخوت کا سلوک کرنا چاہئے........ الخ۔ (بدر ٢ مئی ١٩٠٥ء ، ملفوظات ج ٩ ص ٢٥٣) مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کے لئے عام حکم دیا کہ میرا مرید جو طاعون سے فوت ہو جائے۔ اس کو اسی کے کپڑوں میں دفن کردو اور ایسی میت سے سو گز کے فاصلہ پر کھڑے ہو کر اس کی نماز جنازہ پڑھو۔ اصل پیش گوئیاں اور یہ نتائج پڑھ کر بے اختیار منہ سے نکلتا ہے:

جب بحر کو دیکھو کہ کیسا سر اٹھاتا ہے تکبر وہ بری شے ہے کہ فوراً ٹوٹ جاتا ہے

یہ اور آپ کی طرح ذلیل ہوں ۔

کرتے ہیں جو کہ آج دنیا بھر میں کسی مذہب کا کوئی ماننے والا پیش نہیں کر سکتا اور وہ ثبوت یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور میں دعا کرتے ہیں اور اس دعا کا جواب پاتے ہیں اور جو کچھ جواب میں ان کو بتایا جاتا ہے۔ اس کو قبل از وقت شائع کر دیتے ہیں۔ پھر ان شائع شدہ امور کے بعد کے واقعات تائید کرتے ہیں اور یہ تائید ایسی ہوتی ہے کہ جس پر کوئی انسانی کوشش اور منصوبہ نہیں پہنچ سکتا اور ایسے ہی اعجازی اور فوق الطاقت طور پر وہ امر ظہور پذیر ہوتا ہے۔ وہ مدت سے اس بات کو شائع کر رہے ہیں کہ ان کے منجانب اللہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ان کی دعائیں قبول

١٣٩

صفحہ ٥٧٨

ہو جاتی ہیں۔ استجابت دعا کے معجزہ پر کیسا پختہ ایمان اور دعویٰ ہے۔ مگر فصل ہذا میں اس سے بڑے ثبوت کی اچھی طرح قلعی کھولی گئی ہے۔ بشاراتِ صحت اور قبولیت دعاء کے الہام کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ لیکن اس کے مقابل مرزا قادیانی کا سفید جھوٹ دیکھئے۔ (حقیقۃ الوحی ص٣٢٦، خزائن ج٢٢ ص٣٣٩) میں کہتے ہیں کہ : ”مولوی عبدالکریم کے لئے میں نے بہت دعا کی تھی۔ مگر ایک الہام بھی اس کے لئے تسلی بخش نہ تھا۔“ کیا صفائی ہے۔ طلـع البـدر علینـا......الخ ! اور اللہ نے رد بلا کر دیا اور بشارت نازل کی ۔ سب غٹ ر بود۔

میں یہ الفاظ بھی تھے کہ: ”اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے۔ تو اے میرے پاک مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔“ لیکن اس صورت میں اسے مرزا قادیانی کو کذاب۔ مفتری اور مفسد ماننا پڑے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دعا کو نامقبول اور مردود مانا جائے۔ اس حالت میں مرزا قادیانی پر ان کا اپنا مجوزہ کفر عائد ہوگا اور مستجاب الدعوات ہونا بھی باطل ٹھہرے گا۔

آپ ہماری نبوت و مسیحیت کی تشہیر میں مدد دیں اور آپ کے اخبار کے ہر ایک کالم میں ہمارا ہی ذکر خیر ہوا کرے۔ لیکن آپ کے اخبار میں تو ہمارے مخالفین کا بھی ذکر ہونے لگا ہے۔ رہی سچائی کی پابندی سو اس سے جب مسیح الزماں کو ہی کچھ غرض نہ ہو تو اخبار نویس پر کیا الزام۔ آپ کی سچائی کی قلعی اس چٹھی سے کھلتی ہے۔ جیسا کہ آگے آتا ہے۔

نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ لیکن جس مضمون میں آپ کی مسیحیت، نبوت کی بانگ دی جائے۔ اس میں تمام جہان کی صداقتیں بھر جاتی ہیں۔

ہوں۔ یا ان کی امت سے کوئی ہو۔ خواہ مرشد ومریدین اس روایت میں خود ہی ایک دوسرے کی تکذیب کر رہے ہوں۔

١٤٠

معمولی آدمی ہے جس نے حضور لیاقت و قابلیت کے آپ اور آپ

ایسا ہے تو پھر آپ نے اس وقت صاحب کے اجلاس میں دن بھر ک

استغاثہ اس مقدمہ میں بیان کر کے اشتہارات شامل مثل ہوئے کے مسلمانوں نے فتویٰ تکفیر لگا آپکو مبارک ہو۔

کی مراد آپ کے مخالف مولوی کیا جا چکا ہے۔ ان کو حاصل نہیں

مریدوں کے سوائے کوئی ایک میں کوئی شک نہیں کہ اس روز چاہتے تھے کہ وہ کون بہادر شخص جہلم میں منگایا ہے۔ اس بات قادیانی کے کوئی دوسرا نہیں کرتا

عقل بھی باور نہیں کر سکتی بھلا ہیں اور پھر طرفہ یہ کہ مرزا قاد ہیں۔ چنانچہ وہاں لکھا تے ہ قادیانی کا حلفی بیان سچا ہے تو لکھنے والا بھی امام، مجدد، مہدی

صفحہ ٥٧٩

معمولی آدمی ہے جس نے حضور انور (مرزا قادیانی) کو دو سال تک آرام نہ لینے دیا اور جس کی لیاقت و قابلیت کے آپ اور آپ کے وکلاء بھی معترف ہو گئے۔

ایسا ہے تو پھر آپ نے اس وقت حاکم سے کیوں استدعا نہ کی جب گورداسپور میں لالہ آتارام صاحب کے اجلاس میں دن بھر کھڑے رہنے سے آپ کی ٹانگیں خشک ہو جاتی تھیں۔

استغاثہ اس مقدمہ میں بیان کر چکے ہیں اور نیز ان کاغذات سے ظاہر ہوتا ہے جو اسلامی انجمنوں کے اشتہارات شامل مثل ہوئے ہیں۔ ہاں ایسے امام اور سردار قوم آپ ہی ہیں جن پر عرب وعجم کے مسلمانوں نے فتویٰ تکفیر لگا کر دائرہ اسلام سے بھی خارج کیا ہوا ہے۔ ایسی امارت وسرداری آپکو مبارک ہو۔

کی مراد آپ کے مخالف مولوی ہیں) دنیا ان کی عزت و تعظیم کرتی ہے ہاں وہ عزت جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔ ان کو حاصل نہیں۔ اس عزت کا تمغہ مسیح الزماں کو ہی سجتا ہے اور رہے گا۔

مریدوں کے سوائے کوئی ایک شخص بھی جہلم کا باشندہ اسکی تکذیب کرے تو ہم جواب دہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس روز ہزار ہا لوگ مولوی صاحب کی زیارت کے لئے آئے تھے اور دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ کون بہادر شخص ہے جس نے ایک ایسے بڑے دعویٰ نبوت کے مدعی کو گرفتار کرا کر جہلم میں منگایا ہے۔ اس بات کو جھوٹ کہنا ایسا بے نظیر جھوٹ ہے جس کی تصدیق سوائے مرزا قادیانی کے کوئی دوسرا نہیں کرتا۔

عقل بھی باور نہیں کر سکتی بھلا جہلم کے محدود احاطہ کچہری میں ٣٠ یا ٤٠ ہزار آدمی کس طرح سما سکتے ہیں اور پھر طرفہ یہ کہ مرزا قادیانی اپنے بیان میں جو آگے آئے گا اپنے منہ سے اس کی تردید کرتے ہیں۔ چنانچہ وہاں لکھاتے ہیں کہ میری دانست میں دس ١٠ ہزار آدمی جمع ہوئے تھے۔ اگر مرزا قادیانی کا حلفی بیان سچا ہے تو آپ کے قلم نے ٣٤ ہزار کا جھوٹ لکھا ہے۔ کیا اتنے بڑے جھوٹ لکھنے والا بھی امام، مجدد، مہدی، مسیح کہلانے کے قابل ہو سکتا ہے۔ یہ مسیح الزماں کا جھوٹ نمبر ١۔

١٤١

صفحہ ٥٨٠

کیا آپ نے یک بیک کو بلا کر پوچھ لیا تھا اور انہوں نے آپ کے پاس یہ بیان لکھا دیا تھا کہ وہ صرف آپ کی زیارت کے لئے آئے تھے۔ ان کے دل کا حال خدا کو معلوم ہے۔ جو علیم بذات الصدور ہے۔ پھر بلاکسی ثبوت کے آپ کا یہ لکھنا کہ یہ سب محض میرے دیکھنے کے لئے آئے تھے جھوٹ صریح ہے۔ جھوٹ نمبر ٢۔

کے لئے جمع ہو گئے اور لاہور سے ورے کوئی بھی سلامی نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ لاہور ورے کے لوگ تو سمجھتے ہیں کہ آپ ایک معمولی شخص ہیں اور پیٹ کی خاطر کچھ کی کچھ باتیں بناتے رہتے ہیں۔ ہاں لاہور سے آگے بھولے بھالے لوگ آپ کو ایک غیر معمولی شخص سمجھ کر دیکھنے چلے آئے تو اس سے کیا حاصل۔ عزت تو وہ ہوتی ہے جو گھر میں اور پڑوس میں ہو۔

ہزار کی تعداد لاہور سے جہلم تک کے اسٹیشنوں پر سمانے کی بھی گنجائش رکھتی ہے۔ ہرگز نہیں۔ جھوٹ نمبر ٣۔

چاہئے۔ جھوٹ نمبر ٤

قادیانی کے اپنے مخلص مرید کرتے ہیں اور اخبار الحکم مطبوعہ ٢١ جنوری میں لکھا ہے کہ تمام سفر جہلم میں جس قدر زن و مرد نے مرزا قادیانی کے ہاتھ پر بیعت کی ان کی تعداد آٹھ سو کے قریب ہے اور رسالہ ریویو آف ریلیجنز ۔ مطبوعہ ٢٠ فروری کے ص ٨٠ پر بیعت کنندگان جہلم کی تعداد بارہ سو لکھنا ایک سفید جھوٹ ہے۔ (جھوٹ نمبر ٥)

آئے تھے ان میں سے بجز معدودے چند اشخاص کے جو مرزا قادیانی کے مرید ہوں ۔ باقی کل اپنے عقیدہ کے مخالف لوگ تھے۔ پھر آپ کا یہ کہنا کہ باقی کل مریدان کی طرح تھے اور نذریں دیتے تھے اور نماز پیچھے پڑھتے تھے کیسا صریح جھوٹ ہے اور باقی بعض یا اکثر کی قید ہوتی تو بھی کچھ صداقت کا احتمال ہوتا باقی کل کی قید تو ضروری اس جملہ کو جھوٹا بنادیتی ہے۔ حضرت جی یہ تو بتائیں کہ وہ ٣٠، ٣٢ ہزار خلقت کس میدان میں جمع ہو کر آپ کے پیچھے نماز پڑھ سکتی تھی۔ اس میدان کا

١٤٢

بھی پتہ بتایا ہوتا۔ چونکہ حضور والا ٹھکانے نہ رہنے دیئے تھے۔ ان کیا۔ (جھوٹ نمبر ٦)

ہوئی تھی۔ لیکن صرف حضرت ا نظر آتا تھا۔ جیسا کہ آپ نے کیا ہے: ” وَاَرَادَ اَنْ یَّجْعَلَ نے چاہا کہ ہمارے روز روشن ک سیاہ ہی سمجھا۔ اس لئے آپ کو ا

سچ بتائیے گا لالہ آتمارام صاح پڑا۔ منشی سنسار چند صاحب۔ دی تھیں جن پر ہر کہ و مہ بیٹھے

بیان لکھانے کے وقت کھڑے رہنا ایسا جھوٹ ہے جس کی قر

ایڈیٹر الحکم لکھایا صاف طور پر ہے) کے مقابلہ میں مرزا قا نے خود اپنے حلفی بیان میں میرے مرید دکھائے تھے۔

کہ منشی غلام حیدر خان صاح بلکہ تین دن مرزا قادیانی ٢ ایڈیٹر الحکم نے اپنے اشتہار شکریہ ادا کرتے ہیں جنہو

صفحہ ١٤٣٤

بھی پتہ بتایا ہوتا۔ چونکہ حضور والا نے یہ چٹھی ایسے وقت میں لکھی جب غصہ کے غلبہ نے عقل و ہوش ٹھکانے نہ رہنے دیئے تھے۔ اس لئے ایسی دور از قیاس باتیں لکھ کر آپ نے ناحق راستی کا خون کیا۔ (جھوٹ نمبر ٦)

٤٥ جناب والا اس روز آپ کے مخالف مولوی نے نہ سیاہ بلکہ سفید پگڑی سر پر باندھی ہوئی تھی۔ لیکن صرف حضرت اقدس کی آنکھوں میں فوجداری مقدمہ کی ہیبت سے سارا جہان سیاہ نظر آتا تھا۔ جیسا کہ آپ نے اپنی کتاب (مواہب الرحمٰن ص ١٣٠، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٠) میں اعتراف کیا ہے: "واراد ان یجعل نهارنا اعمى من ليلة داجية الظلم" (مولوی کرم دین نے چاہا کہ ہمارے روزِ روشن کو شب دیجور سے تاریک تر کردے) اس لئے آپ نے سفید پگڑی کو بھی سیاہ ہی سمجھا۔ اس لئے آپ کو اس بارے میں معذور سمجھ کر اس غلط بیانی کا مزید نمبر نہیں دیا جاتا۔

٤٦ ہائے کرسی ہائے کرسی افسوس آپ کا یہ غرور بھی آخر خدا نے توڑ دیا۔ مرزا قادیانی سچ بتائیے گا لالہ آتما رام صاحب مجسٹریٹ گورداسپور کی عدالت میں کتنے گھنٹے آپ کو کھڑا رہنا پڑا۔ منشی سنسار چند صاحب نے نہ صرف آپ کو بلکہ تمام حاضرین کمرہ کیلئے کرسیاں اور بینچیں بچھوا دی تھیں جن پر ہر کہ و مہ بیٹھے ہوئے تھے۔

٤٧ یہ بھی سفید جھوٹ ہے۔ مولوی صاحب بھی کرسی پر ہی بیٹھے رہے تھے۔ صرف بیان لکھانے کے وقت کھڑے ہوئے تھے۔ جس پر چار منٹ بھی نہ خرچ ہوئے تھے۔ چار گھنٹہ کھڑا رہنا ایسا جھوٹ ہے جس کی تصدیق کوئی شخص بھی نہ کرے گا۔ جھوٹ نمبر ٧۔

٤٨ اس کی تردید منشی غلام حیدر صاحب اپنے حلفی بیان میں جو انہوں نے بمقدمہ ایڈیٹر الحکم لکھایا صاف طور پر کر دی ہے۔ اس لئے ہم ایک معزز گواہ (جس کو مرزائیوں نے پیش کیا ہے) کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی اس تحریر کو سچا نہیں سمجھ سکتے اور نیز اس لئے بھی کہ مرزا قادیانی نے خود اپنے حلفی بیان میں لکھایا ہے کہ مجھ کو اچھی طرح یاد نہیں ہے کہ غلام حیدر نے عدالت کو میرے مرید دکھائے تھے۔ جھوٹ نمبر ٨۔

٤٩ یہ بھی بالکل جھوٹ ہے کہ سردار ہری سنگھ صاحب اس روز جہلم میں ہی نہ تھے۔ جیسا کہ منشی غلام حیدر خان صاحب نے اپنے بیان میں لکھایا ہے۔ کوئی دعوت سردار صاحب نے نہیں کی بلکہ تین دن مرزا قادیانی جہلم میں ٹھہرے تھے تینوں دن ان کے مریدوں نے ہی دعوت کی چنانچہ ایڈیٹر الحکم نے اپنے اشتہار میں صاف کہا ہے: "مختصراً ہم اپنی جہلم کی جماعت کی مہمان نوازی کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے تین دن تک ڈیڑھ ہزار آدمیوں کی دعوت کا روزانہ فیاضی سے

صفحہ ٥٨٢

انتظام کیا۔‘‘ سو یہ بڑی بے انصافی ہے کہ جن غریبوں نے زر کثیر خرچ کر کے مرزا قادیانی کو پلاؤ زردے کھلائے انکا نام ہی ندارد مفت کا ثواب ملتا ہے تو سردار صاحب کو۔

(جھوٹ نمبر ٩)

کے پاس نہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کے جھوٹ جس قدر اس چٹھی میں ہیں اس کا جھوٹ ہونا ان کے اپنے بیان یا مخلص حواریوں کی تحریرات وغیرہ سے ظاہر ہے۔ پھر آپ خود انصاف کریں کہ گندہ جھوٹ بولنے والا اخبار جہلم ہے یا حضرت مسیح الزماں والاشان دام اقبالہ!

گھڑت سے معذور تھا۔

آکر دریافت کرنے سے ان کو معلوم ہو جاتا کہ بے نظیر جھوٹ وہ ہے جو اخبار عام نے سراج الاخبار سے نقل کیا ہے یا وہ چٹھی جو حضور انور نے اخبار عام میں شائع کرائی ہے۔

دکھاتے ہیں کہ ایڈیٹر اخبار عام کو آمد و رفت کا کرایہ بھی عنایت کئے دیتے ہیں اور وہ بھی انٹر میڈیٹ کے حساب سے۔ فراخ دلی اسی کا نام ہے۔

مضمون کی تردید نہ ہوئی تو پھر ایں جانب اخبار بند کر دیں گے۔ بس آپ کے اخبار بند کرنے کی دیر ہے کہ مالک اخبار کا رزق بند ہو جائے گا۔ اس سے عالی جناب کی وسیع الظرفی کا پتہ چلتا ہے ایسی دھمکیاں تو معمولی حوصلہ کے دنیا دار بھی نہیں دیا کرتے۔

ضمانت داخل کرنی پڑی اور اب آپ کو دوسروں کی نسبت طنز کرنے سے شرم آئے گی۔

چٹھی ہی چھاپ دی جس نے حضور اقدس کی (مرزا قادیانی) قلعی کھول دی۔

١٨٩٣ء میں عبداللہ آتھم سے مباحثہ ہونے کے وقت آپ کی عمر اس کی عمر کے برابر تھی اور اس کی عمر ٦٤ سال اس وقت تھی تو پھر نہایت تعجب ہے اس وقت تقریباً بارہ سال بعد بھی آپ کی عمر ٦٥ سال

١٤٤

صفحہ ٥٨٣

ہے۔ گویا ١٢ سال میں آپکی عمر میں صرف ایک سال کا اضافہ ہوا۔ ”وهذا شئی عجیب“۔ بہر حال یا اعجاز احمدی کی تحریر جھوٹی یا یہ بیان جھوٹ ہے۔ جھوٹ نمبر ١٠۔

٣٩ ناظرین غور فرمائیں کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ پریس کا نام معلوم نہیں۔ یہ کہاں تک سچ ہو سکتا ہے۔ یہ ہرگز ممکن نہیں کہ انوار احمدیہ پریس جس میں الحکم چھپتا ہے اس سے مرزا قادیانی لاعلم ہوں۔ کیونکہ اس میں آپ کی متعدد تصانیف شائع ہوئیں اور اخبار الحکم جس میں آپ کے دربار صبح و شام کی کیفیت روز چھپتی ہے اس پریس سے ہفتہ وار نکلتا ہے یہ لاعلمی صرف اس لئے ظاہر کی تھی کہ آپ اخبار اور پریس سے بالکل بے تعلق ثابت ہوں۔

٤٠ پہلے ہی کیوں نہ بتا دیا جب آپ جانتے تھے کہ زبردست کونیچر ( جرح کنندہ ) نے زبردستی سے بھی کہلا لیتا ہے۔

٤١ ذرا غور فرمائیے گا امام الزماں ہیر پھیر کے ساتھ سوال کا جواب دیتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ صاف طور پر کہہ دیتے کہ اخبار میرے ہی لقب حکم پر نامزد ہوا ہے۔ آپ جواب لکھاتے ہیں تو کسی طرز سے کہ نام اخبار میں وہی الفاظ ہیں۔ اس جواب سے حضرت جی کی علمی لیاقت کی بھی قلعی کھلتی ہے۔ حکم ایک لفظ ہے نہ بہت الفاظ پھر آپکا فرمانا کہ نام اخبار میں وہی الفاظ ہیں اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو مفرد اور جمع کی تمیز بھی نہیں بھلا اس سے بڑھ کر علمی پردہ دری اور ذلت کیا ہوگی۔ بوڑھے میاں بایں ریش فِش جرح کے چکر میں آکر ہوش و حواس ایسے کھو بیٹھے کہ حکم ایک لفظ کو الفاظ سے تعبیر کرنے لگے اگر وہی حروف کہتے تو کوئی وجہ ہوتی وہی الفاظ کہنا تو ایک شرم ناک غلطی ہے۔ (مرزا جیو! کوئی جواب دے سکتے ہو)

٤٢ اس سے تو صاف ثابت ہے کہ چندہ کر کے آپ نے ہی یہ اخبار جاری کیا۔ حالانکہ آپ فرماتے ہیں کہ الحکم اخبار مستغیث کا ہے اور اس کے اپنے پریس سے نکلتا ہے۔

٤٣ عدالت کا یہ نوٹ مرزا قادیانی کی صداقت کے لئے ایک ایسا تمغہ ہے جو قیامت تک آپ کی سچائی کو ظاہر کرتا رہے گا۔ آپ خود فرما چکے ہیں کہ حق الیقین عدالت کے ذریعہ ہوتا ہے۔ (دیکھو بیان مرزا قادیانی بمقدمہ فضل دین) اب عدالت نے آپ کی نسبت صاف نوٹ کیا ہے کہ آپ ایسے راستباز ہیں کہ عدالت کے سامنے سر اجلاس پہلے یہ کہہ کر شاید آج سے دو سال پیشتر البدر جاری ہوا تھا۔ پھر اس سے صاف مکر گئے اور کہا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ البدر کو جاری ہوئے کتنا عرصہ گزرا ہے۔ کیوں حضرت راستبازی اسی کا نام ہے اور پھر آپ کو صداقت ، صداقت کہتے شرم نہیں آئے گی۔ جھوٹ نمبر ١٢۔

١٤٥

صفحہ ٥٨٤

٤٤ یہ معلوم نہیں یہی راستی کا خون کرنے کی غرض سے کہا گیا ہے۔ بھلا یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص کے مکان میں کوئی کارخانہ جاری رہا ہو اور اس کو علم تک نہ ہو کہ اس کے مکان میں کارخانہ رہا یا نہیں۔ الحکم کا مطبع پہلے مرزا قادیانی کے مکان میں ہی جاری ہوا اور ایک عرصہ رہا اور اس لئے جرح کنندہ نے یہ ثابت کرنے کے لئے یہ کارخانہ درحقیقت آپ ہی کا ہے یہ سوال اٹھایا تھا جس کا جواب بالکل غلط دیا گیا۔ جھوٹ نمبر ١١٣

٤٥ حالانکہ کہ آپ کے اس بیان کی رو سے جو آپ نے بمعہ مہر الحکم ٹیکس شیخ تاج الدین صاحب تحصیلدار کے سامنے لکھایا تھا صاف ثابت ہے کہ مطبع ضیاء الاسلام واقع قادیان آپ ہی کا مطبع ہے چنانچہ آپ نے اس کی آمد و خرچ کی وہاں تفصیل بھی بتا دی پھر اگر آپ کا وہ بیان درست ہے تو آپ کا یہ فرمانا کہ کسی پریس واقع قادیان سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ صاف جھوٹ ہے جھوٹ نمبر ١١٤۔

٤٦ یہاں تو آپ کا مطلب یہ ہے کہ الحکم سے مجھے اس قدر بے تعلقی ہے کہ میں اس میں کوئی الہام بھی خود شائع نہیں کرتا لوگ ہی شائع کرا دیتے ہیں۔ لیکن جب مولوی صاحب نے جرح کنندہ کے ہاتھ میں کتاب مواہب الرحمن دیکھی تو آپ کو وہ فقرہ یاد آ گیا۔ فما أشعت كلما رأيت وألهمت قبل ظهوره في جريدة يسمى الحكم الخ! (مواہب الرحمن ص ١٢٩، خزائن ج١٩ ص ٣٥٠) تو پھر یہ کہہ دیا کہ شاذ و نادر کوئی مضمون کبھی کبھی شائع کر دیتا ہوں۔ کہئے راستبازوں کا یہی وطیرہ ہوتا ہے۔ افسوس!

٤٧ لیکن آپ اپنی کتاب الہدیٰ میں اس کے برخلاف تحریر فرما چکے ہیں۔

٤٨ مقدمہ کا مشورہ دینے کی نسبت غالباً کی قید لگانا اور کہنا گو اچھی طرح یاد نہیں ہے، بھی بالکل غلط ہے۔ ساری خلقت جانتی ہے کہ مقدمہ آپ نے دائر کرایا اور وکیل وکلاء سب آپ کے حکم سے پیروی کے لئے گئے۔ پھر آپ کیوں صاف نہیں فرماتے؟۔ یقیناً میرے مشورہ سے مقدمہ دائر ہوا۔ جھوٹ نمبر ١٢٨۔

٤٩ شاید آپ کا یہ کہنا کہ میں نے اس مقدمہ کے لئے کوئی چندہ اپنی طرف سے نہیں دیا تو شاید مان لیا جائے۔ کیونکہ آپ اپنی جیب خاص سے ایک پائی بھی خرچ کرنے والے نہیں لیکن آپ کا یہ کہنا بالکل جھوٹ ہے کہ جو چندہ سلسلہ میں وصول ہوتا ہے اس میں سے کسی نے دیدیا ہو تو مجھے خبر نہیں۔ کیونکہ یہ امر محال ہے کہ جو چندہ سلسلہ میں وصول ہو۔ وہ آپ کی بے اجازت دیا جائے اور آپ کو اس کی خبر نہ ہو۔

١٤٦

٥٠ یہ سنا تھا۔ کہتا آ چٹھی مطبوعہ اخبار عام میں صاف دو ہزار ہا آدمی دکھائے جو میرے یہی آیت "ولا تکتموا الشهادة

٥١ حالانکہ چٹھی میں

٥٢ اب جب چٹھو چاہتے ہیں لوگ کہتے تھے کہ قادیان لوگوں نے بہت غور کر کے انداز بیان میں ١٠ ہزار کی تعداد بتلاتے نے کیوں شائع کرایا اور صحیح اعداد بالمره كذبان يحدث بكلا

٥٣ تعداد مريدا گڑبڑ ہے اور اس قدر مبالغہ اور میں جب منشی تاج الدین صاب ان ان کے سامنے تعداد مرید مرزا قادیانی ٣٠ ہزار لکھی جیسا آ تعداد مریدان مرزا قادیانی ٤٠ (تحفة الندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ زیادہ بتائی گئی ہے۔ اب اگر ق دونوں کتابیں ایک ہی سنہ اور ١٤/ جنوری ١٩٠٣ء میں دولاک یہ عجیب تماشہ ہے کہ الحکم ١٠ تعداد مریدان تین لاکھ بتائی ہوا۔ آپ تعداد مرید دولاکھ الحکم ١٠/ جولائی ١٩٠٣ء میں

صفحہ ٥٨٥

٥٠ یہ سننا تھا۔ کہنا اس غرض سے ہے کہ غلام حیدر سے بے لگاؤ ہونا ثابت ہو حالانکہ چٹھی مطبوعہ اخبار عام میں صاف طور پر لکھا چکے ہیں کہ پھر تحصیل دار غلام حیدر نے حاکم عدالت کو دو ہزار ہا آدمی دکھائے جو میرے دیکھنے کے لئے آئے تھے۔ ناظرین انصاف کریں کہ کیا واقعی یہی آیت ”ولا تكتمو الشهادة“ کی تعمیل ہے؟۔

٥١ حالانکہ چٹھی میں آپ ٣٥، ٤٠ ہزار آدمی شائع کر چکے ہیں۔ شرم شرم۔

٥٢ اب جب چٹھی دکھائی گئی اور آپ کی آنکھ کھلی تو آپ گویا تطبیق اس طرح دینا چاہتے ہیں لوگ کہتے تھے کہ قریباً ٣٠ ہزار آدمی ہو گئے حالانکہ وہاں بڑے وثوق سے کہا گیا کہ جن لوگوں نے بہت غور کر کے اندازہ لگایا وہ کہتے تھے کہ تیس پینتیس ہزار ہوں گے۔ جب آپ اپنے بیان میں ١٠ ہزار کی تعداد بتلاتے ہیں تو پھر لوگوں کے غلط اندازہ ٣٥، ٤٠ ہزار کو اخبار عام میں آپ نے کیوں شائع کرایا اور صحیح اندازے سے اس کو کیوں تعبیر نہ کیا حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ: ”کفی بالمرء كذبا ان يحدث بكل ما سمع“

٥٣ تعداد مریداں کی نسبت مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کے بیان میں عجیب گڑبڑ ہے اور اس قدر مبالغہ اور جھوٹ سے کام لیا گیا ہے جس کی کوئی نظیر بمشکل مل سکے۔ ١٩٠٠ء میں جب منشی تاج الدین صاحب تحصیلدار انکم ٹیکس کے مقدمہ کی تحقیقات کیلئے قادیان میں گئے۔ تو ان کے سامنے تعداد مریدان ٣١٨ بتائی۔ چنانچہ انہوں نے اپنی رپورٹ میں تعداد مریدان مرزا قادیانی ٣٠ ہزار لکھی جیسا کہ اپنے اس بیان میں تصدیق کرتے ہیں لیکن کتاب تحفۃ الندوہ میں تعداد مریدان مرزا قادیانی ٤٠ ہزار لکھی جیسا کہ اپنے اس بیان میں تصدیق کرتے ہیں لیکن کتاب ( تحفۃ الندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٧) وہ مطبوعہ ٦؍ اکتوبر ١٩٠٢ء میں تعداد مریدان ایک لاکھ سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ اب اگر تحفہ غزنویہ کی تحریر سچ ہے تو تحفۃ الندوہ کی تحریر صریح جھوٹ ہے۔ کیونکہ دونوں کتابیں ایک ہی سنہ اور ایک ہی ماہ اکتوبر ١٩٠٢ء میں طبع ہوئی ہیں۔ پھر مواہب الرحمٰن میں جو ١٤؍ جنوری ١٩٠٣ء میں دولاکھ کی تعداد بتائی گئی۔ گویا تین ماہ میں ایک لاکھ کی تعداد بڑھ گئی۔ لیکن یہ عجیب تماشہ ہے کہ الحکم ١٠؍ جولائی بابت ١٩٠٣ء میں جو مرزا قادیانی کی تقریر چھپی ہے اس میں تعداد مریدان تین لاکھ بتائی گئی ہے۔ مگر ١٦؍ جولائی ١٩٠٢ء جس روز مرزا قادیانی کا یہ بیان حلفی ہوا۔ آپ تعداد مرید دولاکھ بتاتے ہیں اب اگر یہ بیان درست ہے تو اس سے ایک سال پہلے کا الحکم ١٠؍ جولائی ١٩٠٣ء میں تین لاکھ بتانا ایک بے نظیر جھوٹ ہے اور جب آپ سے ایک سوال کیا

١٤٧

صفحہ ٥٨٦

گیا کہ تعداد کس بناء پر آپ بتاتے ہیں کیا آپ کے پاس کوئی رجسٹر ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ میرے پاس کوئی رجسٹر مریدان نہیں۔ اب اس موقع پر اکاذیب کے نمبر بے تعداد۔ لیکن ہم رعایتاً ایک نمبر اس جھوٹ کا لگاتے ہیں۔ جو تحفہ غزنویہ اور تحفہ ندوہ کے تعارض سے پیدا ہوا۔ دوسرا وہ جو مرزا قادیانی کے بیان حال اور الحکم ١٠؍جولائی والی تحریر کے سخت تعارض ظاہر ہوتا ہے اور تیسرا نمبر وہ شمار کرتے ہیں جو آپ کے اس بیان سے کہ میرے پاس کوئی رجسٹر نہیں ہے مریدان کا اور پھر باوجود عدم ثبوت کے تعداد بیان کرنے سے ثابت ہوتا ہے اس لحاظ سے آپ کے جھوٹوں کی تعداد کا آخری نمبر ٢٠ ہوگیا۔

٥٤ لیکن آپ کا خاص الخاص حواری مولوی عبدالکریم اپنے اس بیان میں جو اس نے بمقدمہ کا حوالہ نمبر ١ فضل الدین ١٦؍جنوری ١٩٠٢ء کو لکھایا۔ آپ کے اس بیان کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔ چنانچہ اس نے صراحت سے لکھادیا کہ مرزا قادیانی کے مریدوں کا ایک رجسٹر ہے جو اور صاحب کے سپرد ہے۔ ملاحظہ ہو کیفیت مقدمہ اولیٰ۔ تو اب اگر عبدالکریم سچا ہے تو مرزا قادیانی نے اس بیان میں ٣ جھوٹ بولے ہیں۔ پہلا یہ کہتے ہیں کہ میرے پاس کوئی رجسٹر مریدان نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہتے ہیں کہ مولوی عبدالکریم نے رجسٹر بنایا ہے تیسرا یہ کہ ١٠ ماہ سے رجسٹر بنا ہے۔ حالانکہ مولوی عبدالکریم کا بیان آپ کے اس بیان سے پہلے ایک سال لکھا گیا اور اس وقت اور اس وقت وہ رجسٹر کا موجود ہونا اور دوسرے کے سپرد ہونا بیان کرچکا ہے۔ اب آپ کے جھوٹوں کا نمبر ٢٣ تک پہنچ گیا ہے۔

٥٥ جب اس نے آپ کے نام مریدی کا کوئی خط نہیں لکھا تو پھر آپ کا الحکم ٣١؍ جولائی ١٩٠٢ء میں اس کا نام بیعت کنندگان میں شائع کرانا ایک بہت بڑا جھوٹ ہے اور چونکہ ایڈیٹر الحکم کی یہ جرأت نہیں کہ بغیر اجازت آپ کے وہ کسی کا نام مریدوں میں شائع کرے۔ اس لئے یہ جھوٹ بھی آپ کی طرف ہی منسوب ہوگا۔ جھوٹ نمبر ٢٤۔

٥٦ جن آدمیوں کے نام الحکم ٧؍مئی ١٩٠٣ء لکھے گئے اور ان کی سکونت بھین لکھی گئی۔ ان ناموں کے کوئی آدمی موضع بھین میں ہرگز نہیں ہیں۔ اگر مرزا قادیانی یا اس کا کوئی مرید ثابت کردیوے کہ بھین میں ان ناموں کے کوئی آدمی ہیں تو ہم ان کو پانچ سو روپیہ انعام دینے کا موکدۂ وعدہ کرتے ہیں یہ جھوٹ صریح جو الحکم میں شائع ہوا یہ بھی آپکی طرف منسوب ہوگا۔ جھوٹ نمبر ٢٥۔

١٤٨

صفحہ ٥٨٧

ہیں کہ عدالت میں پہلے کچھ کہتے ہیں اور پھر برخلاف اس کے کچھ اور کہہ کر اپنی راست بیانی کا ثبوت دیتے ہیں۔ لیجئے حضرت مبارک باد مبارک۔ جھوٹ نمبر ٢٦۔

دیکھتے ہیں کہ کوئی بات برخلاف پڑتی ہے۔ وہاں یاد نہیں کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ بہت اچھا ہم یہ بات آپ کے ایمان پر چھوڑتے ہیں۔ حالانکہ آپ کے اخبار الحکم میں آپ کی طرف سے ایسا کہنا چھپا ہوا موجود ہے۔

دوسرے مرید اپنی شہادت میں اس کی تصدیق بھی کریں۔ لیکن آپ یاد نہیں کہہ کر اظہار حق سے کنارہ کش ہوں افسوس ہے۔ ایں کار از تو آید مردان چنیں کنند۔

نہیں۔ نزول المسیح والی تحریر کو جھوٹ کہیں یا بیان کو دونوں تو سچے نہیں ہوسکتے۔ جھوٹ نمبر ٢٧

سے انکار کرتے ہیں۔ کیوں اس لئے کہ اگر حرف عطف مانیں تو مستغیث کے استغاثہ میں سقم آتا ہے۔ واہ قادیانی واہ چہ خوش۔

حال ہے کہ آپ یہ بھی نہیں جانتے کہ اور کلمہ میں کس قسم کا ہے۔

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو چیرا تو ایک قطرہ خون نہ نکلا

علمیت پر ہزار افسوس کہ آپ یہ بھی نہیں جانتے کہ معطوف تابع معطوف علیہ کا ہوتا ہے۔

چو بانگ دہل ہولم از دور بود بقیمت درم عیب مستور بود

مرزا جیو! کیا اپنے مرشد کی یہ علمی پردہ دری دیکھ کر پھر بھی آپکے اعتقاد میں کچھ فرق نہ آئے گا۔

والے نہ تھے لیکن مولوی صاحب نے دیکھا کہ آپ کسی طرح راستی کی طرف جھکنے والے نہیں ہیں تو

١٤٩

صفحہ ٥٨٨

انہوں نے یہ سوال کیا کہ ان اشعار کی آپ ترکیب بتائیں تب مرزا قادیانی نے سمجھا کہ ترکیب تو ہوسکے گی نہیں اور مفت کی پردہ دری ہوگی۔ چلو اس کے مفید مطلب بات کہہ کر جان چھڑا لو۔ تب آپ یہ بیان کرنے پر مجبور ہو گئے۔ جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے۔

کا ہے پھر نہیں معلوم ڈاکٹر صاحب تو خارج اور مرتد ہوں اور خان صاحب داماد۔ ”وتلک اذا قسمۃ ضیزی۔“

نامہ رجسٹری شدہ منجانب مرزا قادیانی قابل دید ہے۔ جس کی مجموعی میزان تین ہزار تین سو پینتیس روپیہ ہوتی ہے۔ باوجود اس کے آپ زکوٰۃ بھی لیتے رہے۔ گو اشاعت اسلام کے بہانہ سے۔

عزت بی بی مرزا قادیانی کے لڑکے فضل احمد کی بیوی ہے۔

قربان اس انصاف کے۔ کرے داڑھی والا اور پکڑا جائے مونچھوں والا۔

دیا۔ نکاح کا الہام تو جھوٹ ثابت ہوا۔ معلوم ہوا کہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پر بھی آپ کا ایمان نہ تھا۔

ایسی ذلیل درخواست کیوں کرتے؟

”قد لبثت فیکم عمرا الخ“ سے استدلال کر کے مرزا قادیانی کی گذشتہ زندگی کو مقدس اور مطہر ثابت کیا کرتے ہیں۔ کیا انبیائے کرام اور بزرگان دین اسلام میں کوئی ایسی مثال موجود ہے؟ کہ کسی نے ایک عورت کے نکاح کے لئے ایسے پاپڑ بیلے ہوں؟ مرزائی صاحبان ذرا منہاج نبوت کی کسوٹی پر اسے رکھ کر دیکھیں۔

ورد کیا کرتے تھے۔ ان کے دوستوں نے ورد سے متاثر ہو کر انہیں رب جی کہنا شروع کر دیا تھا۔

١٥٠

PDF 590

رحمة للعالمین

خاتم النبیین ﷺ

لا نبی بعدی

سورہ احزاب آیت ٤٠

مسلم و بخاری

حقیقت مرزا

جناب حاجی محمد مسلم صاحب دیوبندی

صفحہ ٥٩٠

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مرزا قادیانی کی زندگی دو حصوں میں منقسم ہے۔ ایک قبل دعویٰ مسیحیت دوسرا بعد دعویٰ مسیحیت۔ ان دونوں میں بہت بڑا اختلاف ہے۔

پہلے حصے میں مرزا قادیانی صرف ایک باکمال مصنف کی صورت میں پیش ہوتے ہیں۔ دوسرے حصے میں اس کمال کو کمال تک پہنچا کر مسیح موعود، مہدی مسعود، کرشن گوپال، نبی اور رسول ہونے کا بھی ادعا کرتے ہیں۔ پہلے حصے میں جمہور علماء اسلام ان کی تائید پر ہیں۔ دوسرے حصے میں جمہور بلکہ کل علمائے اسلام ان کے مخالف نظر آتے ہیں۔ چنانچہ یہ سب کچھ واقعات سے ثابت ہوگا۔

مرزا قادیانی کے مریدوں نے بھی ان کی سوانح لکھی ہیں۔ مگر وہ محض اعتقادی اصول پر ہیں۔ ہماری یہ کتاب واقعات صحیحہ سے لبریز ہے۔ چنانچہ ناظرین ملاحظہ فرمائیں گے۔ امرتسر سے شمال مشرق کو ریلوے لائن پر ایک پرانا قصبہ بٹالہ ہے۔ جو ضلع گورداسپور کی تحصیل ہے۔ بٹالہ سے گیارہ میل کے فاصلہ پر ایک چھوٹا سا قصبہ قادیان ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی کی جائے ولادت ہے۔ مرزا قادیانی کی تاریخ ولادت صاف تو ملتی نہیں البتہ ان کی اپنی کتاب ”تریاق القلوب“ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ١٢٦٠ھ مطابق ١٨٤٥ء میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے والد کا نام حکیم مرزا غلام مرتضیٰ تھا۔ قوم زمیندار، پیشہ طبابت کرتے تھے۔ ابتداء میں مشرقی علوم مولوی گل شاہ (شیعہ) سے بٹالہ میں پڑھے۔ اردو، فارسی، عربی کے سوا انگریزی سے واقف نہ تھے۔ ثابت نہیں کہ کسی مشہور درسگاہ میں آپ نے تحصیل علم کی ہو۔ جوان ہو کر تلاش معاش میں نکلے۔ سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپے ماہوار کے محرر ہوئے۔ وہاں سے بغرض ترقی آپ نے قانونی مختار کاری کا امتحان دیا۔ فیل ہوگئے۔ ازاں بعد تصنیف کی طرف طبیعت کا رخ ہوا۔ طبیعت میں ایجاد تھی اس لئے بڑی کتاب شائع کرنے سے پہلے اشتہاری طریق کار اختیار کیا۔ کبھی آریوں سے مخاطب ہوئے، کبھی عیسائیوں سے کبھی برہموں سے۔

اس کتاب میں ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو افعال واعمال سے کوئی مرزائی ہمت کر کے مرزا قادیانی کو شریف انسان، سچا انسان، دیانت دار انسان، معقول انسان ثابت نہیں کر سکتا ہے۔ برخلاف اس کے ہم تحریری ثبوت اس امر کا دیں گے کہ مرزا قادیانی

٢

صفحہ ٥٩١

کسی بھی حیثیت سے معاملہ دار، دیانت دار، شریف اور خلیق انسان نہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مرزائی صاحبان ہمت کر کے مرزا قادیانی پر جو الزامات بد اخلاقی، بد دیانتی اور غیر شریفانہ حرکات وسکنات کے پہلے جوابات دیں اس کے بعد دیگر مسائل پر بات چیت ہو سکتی ہے۔ لیکن مرزائی صاحبان کی یہ چال عجیب و غریب ہے کہ اصل مسائل سے ہٹا کر دوسرے مسائل میں الجھا کر اصل حقیقت پر پردہ ڈال کر اصل مسائل سے توجہ ہٹا دیتے ہیں۔ وفات مسیح، حیات مسیح اور خاتم النبیین وغیرہ جو مسائل ہیں وہ ان مسائل کے بعد زیر بحث لائے جا سکتے ہیں۔

مسلمان بھائیوں سے درخواست ہے کہ سب سے پہلے مرزا قادیانی کی شخصیت پر بحث کیجئے۔ اس کے بعد دیگر مسائل پر انشاء اللہ یہ چیز انتہائی مفید ثابت ہو گی۔

”ان نشانوں کو ذرا سوچو کہ کس کے کام ہیں
کیا ضرورت ہے کہ دکھلاؤ غضب دیوانہ وار

اب تک کئی ہزار خدا تعالیٰ کے نشان میرے ہاتھ پر ظاہر ہو چکے ہیں۔ زمین نے بھی میرے لئے نشان دکھائے اور آسمان نے بھی اور دوستوں میں بھی ظاہر ہوئے اور دشمنوں میں بھی جن کے کئی لاکھ انسان گواہ ہیں اور ان نشانوں کو اگر تفصیلاً جدا جدا شمار کیا جائے تو تقریباً وہ سارے نشان دس لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“

(درثمین ص ٨٧، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١٨، خزائن ج ٢١ ص ١٤٨)

نوٹ: یہ مرزا قادیانی کا ایک شعر اس کا حاشیہ ہے جس میں دس لاکھ نشانات نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ (ناقل) نیز یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کئی ہزار سے بڑھ کر چند سطروں کے بعد دس لاکھ کس مشین سے بن گئے۔ کیا مرزائی اس کا جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں گے۔

اشتہار بغرض استعانت واستظہار

از انصار دین محمد مختار صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ الابرار

اخوان دیندار ومومنین غیرت شعار و حامیان دین اسلام متبعین سنت خیر الانام پر روشن ہو کہ اس خاکسار نے ایک کتاب متضمن اثبات حقانیت قرآن وصداقت دین اسلام ایسی تالیف کی ہے جس کے معائنہ کے بعد طالب حق سے بجز قبولیت اسلام کچھ بن نہ پڑے اور اس کے جواب میں قلم اٹھانے کی کسی کو جرأت نہ ہو سکے۔ اس کتاب کے ساتھ اس مضمون کا ایک اشتہار دیا جاوے گا کہ جو شخص اس کتاب کے دلائل کو توڑ دے ومع ذلک اس کے مقابلہ میں اسی قدر دلائل یا ان کے نصف یا ثلث یا ربع یا خمس سے اپنی کتاب کا (جس کو وہ الہامی سمجھتا ہو) حق ہونا یا اپنے

٣

صفحہ ٥٩٢

دین کا بہترین ہونا ثابت کر دکھائے اور اس کے کلام یا جواب کو میری شرائط مذکور کے موافق تین منصف (جن کو مذہب فریقین سے تعلق نہ ہو) مان لیں تو میں اپنی جائیداد تعدادی دس ہزار روپیہ سے (جو میرے قبض و تصرف میں ہے) دستبردار ہو جاؤں گا اور سب کچھ اس کے حوالے کر دونگا۔ اس باب میں جس طرح کوئی چاہے اپنا اطمینان کر لے مجھ سے تمسک لکھوا لے یا رجسٹری کرالے اور میری جائیداد منقولہ یا غیر منقولہ کو آکر بچشم خود دیکھ لے۔

باعث تصنیف

اس زمانہ کے پنڈت دیانند صاحب اور ان کے اتباع ہیں جو اپنی امت کو آریہ سماج کے نام سے مشہور کر رہے ہیں اور بجز اپنے وید کے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ مسیح اور حضرت محمد مصطفیٰ علیہم السلام کی تکذیب کرتے ہیں اور نعوذ باللہ توریت، انجیل، زبور، قرآن مجید کو محض افتراء سمجھتے ہیں اور ان مقدس نبیوں کے حق میں ایسے توہین کے کلمات بولتے ہیں کہ ہم سن نہیں سکتے۔ ایک صاحب نے ان میں سے اخبار سفیر ہند میں بطلب ثبوت حقانیت فرقان مجید کئی دفعہ ہمارے نام اشتہار بھی جاری کیا ہے اب ہم نے اس کتاب میں ان کا اور ان کے اشتہاروں کا کام تمام کر دیا ہے اور صداقت قرآن و نبوت کو بخوبی ثابت کیا۔ پہلے ہم نے اس کتاب کا ایک حصہ پندرہ جزو میں تصنیف کیا۔ بغرض تکمیل تمام ضروری امروں کے نو حصے اور زیادہ کر دئیے۔ جس کے سبب سے تعداد کتاب ڈیڑھ سو جزو ہوگئی۔ ہر ایک حصہ اس کا ایک ایک ہزار صفحہ چھپے تو چورانوے روپیہ صرف ہوتے ہیں۔ پس کل حصص کتاب نو سو چالیس روپے سے کم میں نہیں چھپ سکتے۔ از انجا کہ ایسی بڑی کتاب کا چھپ کر شائع ہونا بجز معاونت مسلمان بھائیوں کے بڑا مشکل امر ہے اور ایسے اہم کام میں اعانت کرنے میں جس قدر ثواب ہے وہ ادنیٰ اہل اسلام پر بھی مخفی نہیں۔ لہٰذا اخوان مومنین سے درخواست ہے کہ اس کارِ خیر میں شریک ہوں۔ اگر اپنے مطبع کے ایک دن کا خرچ بھی عنایت فرمائیں گے تو یہ کتاب بہ سہولت چھپ جائے گی۔ ورنہ یہ مہر درخشاں چھپا رہے گا۔ یا یوں کریں کہ ہر ایک اہل وسعت بہ نیت خریداری کتاب پانچ پانچ روپیہ مع اپنی درخواستوں کے راقم کے پاس بھیج دیں۔ جیسے جیسے کتاب چھپتی جائے گی ان کی خدمت میں ارسال ہوتی رہے گی۔ غرض انصار اللہ بن کر اس نہایت ضروری کام کو جلد تر بسر انجام پہنچا دیں اور نام اس کتاب کا ”براہین احمدیہ علیٰ حقیقۃ کتاب اللہ القرآن والنبوۃ المحمدیہ رکھا گیا ہے۔ خدا اس کو مبارک کرے اور گمراہوں کو اس کے ذریعہ سے اپنے سیدھے راہ پر چلاوے۔ آمین۔ اپریل ١٨٧٩ء!

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١، ١٢)

٤

( کتنے زور و شور سے کتاب کے مکمل حصص شائع نہیں مرزا قادیانی کی تحریر

مراق، کثرت بول

وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا پہنی ہوئی ہوں گی۔ سو اس طرز یعنی مراق اور کثرت بول۔“

ہے کہ بڑی بڑی رات تک بیٹھ کرتی ہے۔ دورانِ سر کا دورہ ف جاتا ہوں۔“ (مرزا م

غلام نبی کو مراق ہے، تو حضور ہے۔“

اس اقرار و اعترا تھیں۔ مرزا بشیر احمد ایم اے شہادت‘ نقل کرتے ہیں کہ ن

موعود (مرزا غلام احمد قادیانی کرتے تھے۔ لیکن دراصل با سے بعض ایسی عصبی علامات ہ دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کر ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو ج زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھ

صفحہ ٥٩٣

(کتنے زور وشور سے اعلان کیا اور رقم بھی جمع کر لی مگر آج تک اعلان کے مطابق کتاب کے مکمل حصص شائع نہیں کئے۔ اتنی رقم کہاں گئی؟) ناقل مرزا قادیانی کی تحریریں شاہد ہیں کہ وہ مراق کے مریض تھے چنانچہ ملاحظہ ہو۔

مراق، کثرت بول

الف...... ”دیکھو! میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔ سو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی

(ملفوظات ج١ ص٤٢٥)

یعنی مراق اور کثرت بول۔“

ب...... ”میرا تو حال یہ ہے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ مبتلا رہتا ہوں تا ہم مصروفیت کا یہ حال ہے کہ بڑی بڑی رات تک بیٹھا کام کرتا رہتا ہوں۔ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے۔ دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ تاہم اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کئے

(مرزا صاحب کا ارشاد مندرجہ کتاب ”منظور الٰہی“ ص٣٤٨، ملفوظات ج٢ ص٣٧٦)

جاتا ہوں۔“

ج...... ”حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) سے فرمایا کہ حضور! غلام نبی کو مراق ہے تو حضور نے فرمایا کہ ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے اور مجھ کو بھی

(سیرت المہدی ص٣٠٤ ج٣ بروایت نمبر٩٦٩)

ہے۔“

اس اقرار واعتراف سے قطع نظر مرزا قادیانی میں مراق کی علامات بھی کامل طور پر جمع تھیں۔ مرزا بشیر احمد ایم اے سیرت المہدی میں اپنے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل کی ”ماہرانہ شہادت“ نقل کرتے ہیں کہ:

د...... ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔ لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی ہیں۔ (جو ہسٹریا اور مراق) کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یک دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا، یا ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے، یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا۔ وغیرہ ذالک !

(سیرت المہدی ج٢ ص٥٥، بروایت نمبر٣٦٩)

٥

صفحہ ٥٩٤

مرزا قادیانی کو مراق کا عارضہ غالباً موروثی تھا‘ ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی لکھتے ہیں۔

”جب خاندان سے اس کی ابتدا ہو چکی تھی تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“

(ریویو آف ریلیجنز بابت اگست ١٩٢٦ء ص ١١)

ڈاکٹر صاحب کے نزدیک مرزا قادیانی کے مراق کا سبب اعصابی کمزوری تھی لکھتے ہیں: ”واضح ہو کہ حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بدہضمی، اسہال، کثرتِ پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا“

(ریویو آف ریلیجنز مئی ١٩٢٧ء ص ٢٦)

مراق کی علامات میں اہم ترین علامات یہ بیان کی گئی ہیں کہ: ”مالیخولیا کا کوئی مریض یہ خیال کرتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں، کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ خدا ہوں‘ کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں پیغمبر ہوں“

(بیاض نور الدین ص ٢١٢ ج ١٠)

یہ تمام علامات مرزا قادیانی میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے ”آریوں کا بادشاہ“ ہونے کا دعویٰ کیا۔ نبوت سے خدائی تک کے دعوے بڑے شدومد سے کئے۔ انبیاء کرام سے برتری کا دم بھرا۔ دس لاکھ معجزات کا ادعا کیا۔ مخلوق کو ایمان لانے کی دعوت دی، اور نہ ماننے والوں کو منکر، کافر اور جہنمی قرار دیا۔ انبیاء علیہم السلام کی تنقیص کی، صحابہ کرام کو نادان اور احمق کہا۔ اولیاء امت پر سب و شتم کیا۔ مفسرین کو جاہل کہا۔ محدثین پر طعن کیا۔ علمائے امت کو یہودی کہا اور پوری امت کو گمراہ کہا۔ فحش کلمات سے ان کی تواضع کی۔ یہ کام کسی مجدد یا ولی کا نہیں ہوسکتا بلکہ اس کو مراق کی کرشمہ سازی ہی کہا جا سکتا ہے۔

اگر قیامت کے دن مرزا غلام احمد قادیانی سے سوال ہوا کہ تو نے حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کر کے لوگوں کو کیوں گمراہ کیا اور اس کے جواب میں مرزا قادیانی عرض کرے کہ یا اللہ۔ یہ سب کچھ میں نے مراق کی وجہ سے کیا تھا اور اپنے مراقی ہونے کا اظہار بھی خود اپنی زبان و قلم سے کر دیا تھا اب ان عقلمندوں سے پوچھئے کہ انہوں نے مراق کے مریض کو مسیح موعود کیوں مان لیا تھا؟ تو آپ کے پاس دلیل کا کیا جواب ہوگا۔ مرزا قادیانی کے ماننے والے ٹھنڈے دل سے غور کریں۔

٦

صفحہ ٥٩٥

تصنیف اور نماز

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ سیرۃ المہدی کی روایت نمبر ٤٧ میں سنین کے لحاظ سے جو واقعات درج ہیں ان میں سے بعض میں مجھے اختلاف ہے جو مندرجہ ذیل ہیں۔ آپ نے ١٩٠١ء میں دو ماہ تک مسلسل نمازیں جمع کرنے کا ذکر نہیں کیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بھی درست ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک نمازیں جمع ہوئی تھیں کیونکہ مرزا صاحب ان دنوں ایک کتاب کی تصنیف میں مشغول تھے۔ اس لئے ظہر عصر اکٹھی پڑھ لیتے تھے۔ (تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔ ناقل)

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٠٢ بروایت نمبر ٧٦٩)

عبادت الٰہی

”مولوی رحیم بخش صاحب ساکن تلونڈی ضلع گورداسپور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) امرتسر میں براہین احمدیہ کی طباعت دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے تو کتاب کی طباعت دیکھنے کے بعد مجھے فرمایا: ”میاں رحیم بخش چلو سیر کر آئیں جب آپ باغ کی سیر کر رہے تھے تو خاکسار نے عرض کیا کہ حضرت آپ سیر کرتے ہیں۔ ولی لوگ تو سنا ہے شب و روز عبادت الٰہی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ولی اللہ دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک مجاہدہ کش، جیسے حضرت باوا فرید گنج شکرؒ اور دوسرے محدث جیسے ابوالحسن خرقانی، محمد اکرم ملتانی، مجدد الف ثانی وغیرہ۔ یہ دوسرے قسم کے ولی بڑے مرتبہ کے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے بہ کثرت کلام کرتا ہے۔ میں اُن میں سے ہوں (گویا عبادت کے بجائے صرف مہیب دعوے کافی ہیں۔ ناقل) اور آپ کا اس وقت محدثیت کا دعویٰ تھا (جو بعد میں ترقی کر کے مسیحیت‘ نبوت اور خدا بروز تک جا پہنچا۔ ناقل)

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢١٢ بروایت نمبر ٧٨٩)

مسنون وضع

”نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے، بعض اوقات درمیان میں توڑنی پڑتی ہے۔ اکثر بیٹھے اینٹھن ہو جاتی ہے اور زمین پر قدم اچھی طرح نہیں جمتا۔ قریب چھ سات ماہ یا زیادہ عرصہ گزر گیا ہے کہ نماز کھڑے ہو کر نہیں پڑھی جاتی اور نہ بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون ہے اور قرأت میں شاید قل ہو اللہ بمشکل پڑھ سکوں کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے تحریک بخارات کی ہوتی ہے۔

(مکتوبات احمدیہ ج ٥ حصہ دوم ص ٨٨)

٧

صفحہ ٥٩٦

مشہور فقہی مسئلہ

”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کو میں نے بارہا دیکھا کہ گھر میں نماز پڑھاتے تو حضرت ام المومنین کو اپنی دائیں جانب بطور مقتدی کے کھڑا کر لیتے حالانکہ مشہور فقہی مسئلہ یہ ہے کہ خواہ عورت اکیلی ہی مقتدی ہو تب بھی اسے مرد کے ساتھ نہیں بلکہ الگ پیچھے کھڑا ہونا چاہئے۔ ہاں اکیلا مرد مقتدی ہو تو اسے امام کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے۔ میں نے حضرت ام المومنین سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حضرت صاحب نے مجھ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ مجھے بعض اوقات کھڑے ہو کر چکر آ جایا کرتا ہے اس لئے تم میرے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیا کرو۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١٣١، روایت نمبر ٦٩٦)

منہ میں پان

”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کو سخت کھانسی ہوئی ایسی کہ دم نہ آتا تھا۔ البتہ منہ میں پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا اس وقت آپ نے اس حالت میں پان رکھے نماز پڑھی۔ تا کہ آرام سے پڑھ سکیں۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١٠٣، روایت نمبر ٦٣٨)

(منہ میں پان رکھ کر نبی جی نماز پڑھیں گے تو دوسری دنیا کھانا کھائیگی یہ کہاں کا مسئلہ ہے؟۔ ناقل)

امامت کا شرف

”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی وجہ سے مولوی عبدالکریم مرحوم نماز نہ پڑھا سکے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اول (حکیم نور الدین صاحب) بھی موجود نہ تھے تو حضرت صاحب نے حکیم فضل دین صاحب مرحوم کو نماز پڑھانے کے لئے ارشاد فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور تو جانتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض ہے اور ہر وقت ریح خارج ہوتی رہتی ہے۔ میں نماز کس طرح سے پڑھاؤں۔ حضور نے فرمایا:”حکیم صاحب آپ کی اپنی نماز باوجود اس تکلیف کے ہو جاتی ہے یا نہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: ہاں حضور! فرمایا تو پھر ہماری بھی ہو جائے گی۔ آپ پڑھائیے۔

٨

صفحہ ٥٩٧

خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیماری کی وجہ سے اخراج ریح جو کثرت کے ساتھ جاری رہتا ہو ناقض وضو میں نہیں سمجھا جاتا۔‘‘

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١١١ بروایت نمبر ٦٥٤)

رکوع کے بعد

’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گرمیوں میں مسجد مبارک میں مغرب کی نماز پیر سراج الحق صاحب نے پڑھائی۔ حضور علیہ السلام (مرزا قادیانی) بھی اس نماز میں شامل تھے۔ تیسری رکعت میں رکوع کے بعد انہوں نے بجائے مشہور دعاؤں کے حضور کی ایک فارسی نظم پڑھی جس کا یہ مصرعہ ہے، ’’اے خدا اے چارہ آزار ما۔‘‘ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فارسی نظم اعلیٰ درجے کی مناجات ہے جو روحانیت سے پر ہے۔ مگر معروف مسئلہ یہ ہے کہ نماز میں صرف مسنون دعائیں پڑھنی چاہئیں۔‘‘

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١٤٨، بروایت نمبر ٧٠٧)

مسئلہ وغیرہ کچھ نہیں

’’ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب نماز پڑھا رہے تھے وہ جب دوسری رکعت کے بعد تیسری رکعت کے لئے قعدہ سے اٹھے تو حضرت صاحب کو پتہ نہ لگا۔ حضور التحیات ہی میں بیٹھے رہے۔ (شاید قبر مسیح کی تلاش میں کشمیر پہنچے ہوئے ہوں گے۔ ناقل) جب مولوی صاحب نے رکوع کے لئے تکبیر کہی تو حضور کو پتہ لگا اور حضور اٹھ کر رکوع میں شریک ہوئے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے مولوی نورالدین صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب کو بلوایا اور مسئلہ کی صورت پیش کی اور فرمایا کہ میں بغیر فاتحہ پڑھے رکوع میں شامل ہوا ہوں۔ اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟ مولوی محمد احسن صاحب نے مختلف شقیں بیان کیں کہ یوں بھی آیا ہے اور یوں بھی ہو سکتا ہے کوئی فیصلہ کن بات نہ بتائی۔ (بتاتے بھی کیسے؟ معاملہ خود حضور کا تھا۔ ناقل) مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے آخری ایام بالکل عاشقانہ رنگ پکڑ گئے تھے۔ وہ فرمانے لگے مسئلہ وغیرہ کچھ نہیں جو حضور نے کیا۔ بس وہی درست ہے۔‘‘

(تقریر مفتی محمد صادق قادیانی مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ١٢ نمبر ٧٧، مورخہ ١٧؍ جنوری ١٩٢٥)

طہارت

’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی)

٩

صفحہ ٥٩٨

پیشاب کر کے ہمیشہ پانی سے طہارت فرمایا کرتے تھے۔ میں نے کبھی ڈھیلہ کرتے نہیں دیکھا۔“

(سیرت المہدی ج٣ ص٢٤٤، بروایت نمبر ٨٤٤)

ڈھیلے جیب میں

”آپ کو (یعنی مرزا قادیانی) کو شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی آپ کو عرصہ سے لگی ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب ہی میں رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔

(مرزا صاحب کے حالات مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی تتمہ براہین احمدیہ ج ١ ص ١٧)

تیز گرم پانی

”میرے گھر سے یعنی والدہ عزیز مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود عموماً گرم پانی سے طہارت فرمایا کرتے تھے اور ٹھنڈے پانی کو استعمال نہ کرتے تھے۔ ایک دن آپ نے کسی خادمہ سے فرمایا کہ آپ کے لئے پاخانہ میں لوٹا رکھ دے۔ اس نے غلطی سے تیز گرم پانی کا لوٹا رکھ دیا۔ حضرت مسیح موعود فارغ ہو کر باہر تشریف لائے تو دریافت فرمایا کہ لوٹا کس نے رکھا تھا۔ جب بتایا گیا کہ فلاں خادمہ نے رکھا تھا۔ (جس کو آپ نے خود حکم فرمایا تھا۔ ناقل) تو آپ نے اسے بلوایا اور اسے اپنا ہاتھ آگے کرنے کو کہا اور پھر اس کے ہاتھ پر آپ نے لوٹے کا بچا ہوا پانی بہا دیا تا کہ اسے احساس ہو کہ یہ پانی اتنا گرم ہے کہ طہارت میں استعمال نہیں ہو سکتا۔“

(سیرت المہدی ج٣ ص٢٤٤ بروایت نمبر ٨٤٧)

حفظ قرآن

”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو قرآن مجید کے بڑے بڑے مسلسل حصے یا بڑی بڑی سورتیں یاد نہ تھیں۔ بے شک آپ قرآن کے جملہ مطالب پر حاوی تھے۔ مگر حفظ کے رنگ میں قرآن کا اکثر حصہ یاد نہ تھا۔ ہاں کثرت مطالعہ اور کثرت تدبر سے یہ حالت ہو گئی تھی کہ جب کوئی مضمون نکالنا ہوتا تو خود بتا کر حفاظ سے پوچھا کرتے تھے کہ اس معنی کی کون سی آیت ہے یا آیت میں یہ لفظ آتا ہے۔ وہ آیت کونسی ہے۔ (باوجود اس کے قرآن کی آیتیں اکثر غلط نقل کرتے تھے۔ ناقل)“

(سیرت المہدی ج٣ ص٢٤٤ بروایت نمبر ٥٥١)

١٠

صفحہ ٥٩٩

رمضان کے روزے

"بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنا شروع کئے مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا۔ اس لئے چھوڑ دیئے اور فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورے کی وجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپ نے فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو آپ کا تیرھواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا اور آپ نے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جتنے رمضان آئے آپ نے سب روزے رکھے۔ مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادا کرتے رہے۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپ نے ابتدا دوروں کے زمانے میں روزے چھوڑے تو کیا بعد میں ان کو قضا کیا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں۔ صرف فدیہ ادا کر دیا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب شروع شروع میں حضرت مسیح موعود کو دورانِ سر اور برد اطراف کے دورے پڑنے شروع ہوئے تو اس زمانہ میں آپ بہت کمزور ہو گئے تھے اور صحت خراب رہتی تھی۔" (خصوصاً رمضان میں۔ ناقل)

(سیرت المہدی ج ١ ص ٦٥، ٦٦ بروایت نمبر ٨١)

"ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے اس وقت غروب آفتاب کا وقت بالکل قریب تھا مگر آپ نے روزہ فوراً توڑ دیا۔ (اور توڑے ہوئے روزے کی قضا کا معمول تو تھا ہی نہیں ناقل)

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١٣١ بروایت نمبر ٢٩٧)

اعتکاف

"ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود نے حج نہیں کیا، اعتکاف نہیں کیا، زکوٰۃ نہیں دی، تسبیح نہیں رکھی، میرے سامنے ضبّ یعنی گوہ کھانے سے انکار نہیں کیا۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ ..... اعتکاف ماموریت کے زمانے سے قبل غالباً بیٹھے ہوں گے۔ مگر ماموریت کے بعد بوجہ قلمی جہاد اور دیگر مصروفیات کے نہیں بیٹھ سکے۔ کیونکہ یہ نیکیاں اعتکاف سے مقدم ہیں۔" (مگر آنحضرت ﷺ نے تو کبھی ترک نہیں فرمایا۔ ناقل)

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١٩٩ بروایت نمبر ٦٧٢)

١١

صفحہ ٦٠٠

زکوٰۃ

”اور زکوٰۃ اس لئے نہیں دی کہ آپ کبھی صاحب نصاب نہیں ہوئے۔“ (گویا ساری عمر فقیر رہے، مگر لقب تھا رئیس قادیان، اور ٹھاٹھ شاہانہ۔ ناقل)“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١١٩ بروایت نمبر ٦٧٢)

حج

”مولوی محمد حسین بٹالوی کا خط حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی خدمت میں سنایا گیا جس میں اس نے اعتراض کیا تھا کہ آپ حج کیوں نہیں کرتے؟ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ میرا پہلا کام خنزیروں کا قتل ہے اور صلیب کی شکست ہے۔ ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں۔ بہت سے خنزیر مر چکے ہیں اور بہت سخت جاں ابھی باقی ہیں ان سے فرصت اور فراغت ہو لے (افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کو مدۃ العمر خنزیروں کے شکار سے فرصت نہ مل سکی۔ نہ ان کے خنزیر مرے نہ انہیں حج کی توفیق ہوئی۔ ناقل)“

(ملفوظات احمدیہ ج ٥ ص ٢٦٢)

”خاکسار عرض کرتا ہے کہ حج نہ کرنے کی تو خاص وجوہات تھیں کہ شروع میں تو آپ کے لئے مالی لحاظ سے انتظام نہیں تھا کیونکہ ساری جائیداد وغیرہ اوائل میں ہمارے دادا صاحب کے ہاتھ میں تھی اور بعد میں تایا صاحب کا انتظام رہا اور اس کے بعد حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ ایک تو آپ جہاد کے کام میں منہمک رہے۔ (غالباً جہاد منسوخ کرنے کے کام میں۔ ناقل) دوسرے آپ کے لئے حج کا راستہ بھی مخدوش تھا۔ تاہم آپ کی خواہش رہتی تھی کہ حج کریں۔“ (تیسرے حکمت الہیہ کہ آپ کو حج کی توفیق سے محروم رکھنا چاہتی تھی۔ تا کہ مسیح کی ایک علامت بھی آپ پر صادق نہ آئے اور ہر عام و خاص کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کا دعویٰ مسیحیت غلط ہے)

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١١٩، بروایت نمبر ٦٧٢)

”مرزا صاحب پر حج فرض نہ تھا کیونکہ آپ کی صحت درست نہ تھی۔ ہمیشہ بیمار رہتے تھے۔ (اور یہ قدرت کی جانب سے آپ کو حج سے روکنے کی پہلی تدبیر تھی۔ ناقل) حجاز کا حاکم آپ کا مخالف تھا۔ کیونکہ ہندوستان کے مولویوں نے مکہ معظمہ سے حضرت صاحب کے واجب القتل ہونے کے فتاویٰ منگائے تھے۔ اس لئے حکومت حجاز آپ کی مخالف ہو چکی تھی۔ (اور یہ قدرت کی جانب سے دوسری تدبیر تھی۔ ناقل) وہاں جانے پر آپ کو جان کا خطرہ تھا۔ (دجال بھی اس

١٢

خطرے سے مکہ معظمہ نہیں اپنی جان کو جان بوجھ کر گئیں۔ اس لئے آپ نہ دی۔ ناقل)

چھٹا سوال و جواب

”سوال ششم ..... (ا عورتوں سے ہاتھ پاؤں جواب ..... (از حکیم نو موجب رحمت و برکات

جمالیاتی حس

”ڈاکٹر لاہور کی پہلی شادی ہ لگا تو لڑکی دیکھنے کے صورت وشکل وغیرہ لکھا تھا اور حضرت کرائی تھیں۔ مثلاً ناک، ہونٹ، گرد وصورت کے متعلق جب وہ عورت واپ خلیفہ رشید الدین کے لئے پیش کی متعین تھے، بطو پوچھا گیا۔“ عائشہ

صفحہ ٦٠١

خطرے سے مکہ معظمہ نہیں جاسکا تھا۔ ناقل) لہٰذا آپ نے قرآن شریف کے اس حکم پر عمل کیا کہ اپنی جان کو جان بوجھ کر ہلاکت میں مت پھنساؤ۔ مختصر یہ کہ حج کی مقررہ شرائط آپ میں نہیں پائی گئیں۔ اس لئے آپ پر حج فرض نہیں ہوا۔“ (خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حج کی توفیق ہی نہ دی۔ ناقل)

(اخبار الفضل قادیان جلد ١٧ نمبر ٢١ مورخہ ١٠؍ستمبر ١٩٢٩ء)

چھٹا سوال و جواب

”سوال ششم ..... (از محمد حسین صاحب قادیانی) حضرت اقدس (مرزا غلام احمد قادیانی) غیر عورتوں سے ہاتھ پاؤں دبواتے ہیں؟ جواب...... (از حکیم فضل دین قادیانی) وہ نبی معصوم ہیں ان سے مس کرنا اور اختلاط منع نہیں بلکہ موجب رحمت و برکات ہے۔“

(اخبار الحکم جلد ١١ نمبر ١٣ مورخہ ١٧؍اپریل ١٩٠٧ء)

جمالیاتی حس

”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم اے لاہور کی پہلی شادی حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے گورداسپور میں کرائی تھی جب رشتہ ہونے لگا تو لڑکی دیکھنے کے لئے حضور نے ایک عورت گورداسپور بھیجا تا کہ وہ آکر رپورٹ کرے کہ لڑکی صورت وشکل وغیرہ میں کیسی ہے اور مولوی صاحب کے لئے موزوں بھی ہے یا نہیں۔ یہ کاغذ میں لکھا تھا اور حضرت صاحب نے بمشورہ حضرت ام المومنین لکھوایا تھا۔ اس میں مختلف باتیں نوٹ کرائی تھیں۔ مثلاً یہ کہ لڑکی کا رنگ کیسا ہے؟ قد کتنا ہے؟ اس کی آنکھوں میں کوئی نقص تو نہیں۔ ناک، ہونٹ، گردن، دانت، چال ڈھال وغیرہ کیسے ہیں۔ غرض بہت ساری باتیں ظاہری شکل وصورت کے متعلق لکھوادی تھیں کہ ان کی بابت خیال رکھے اور دیکھ کر واپس آکر بیان کرے۔ جب وہ عورت واپس آئی اور اس نے سب باتوں کی بابت اچھا یقین دلایا تو رشتہ ہو گیا۔ اس طرح خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے اپنی بڑی لڑکی حضرت میاں صاحب (یعنی خلیفہ المسیح ثانی) کے لئے پیش کی تو ان دنوں خاکسار ڈاکٹر صاحب موصوف کے پاس چکرتہ پہاڑ پر، جہاں وہ متعین تھے، بطور تبدیلی آب و ہوا کے گیا ہوا تھا۔ واپسی پر مجھ سے لڑکی کا حلیہ وغیرہ تفصیل سے پوچھا گیا۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٩٦، روایت نمبر ٩٥٤)

عائشہ

”میری بیوی...... پندرہ برس کی عمر میں دارالامان میں حضرت مسیح موعود

١٣

صفحہ ٦٠٢

(مرزا قادیانی) کے پاس آئیں۔۔۔۔۔ حضور کو مرحومہ کی خدمت حضور کے پاؤں دبانے کی بہت پسند تھی۔ (عائشہ کے شوہر غلام محمد قادیانی کا مضمون مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ٢٠ مارچ ١٩٢٨ء ص ٧٧٦)

بھانو

”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ام المومنین (نصرت جہاں بیگم زوجہ مرزا غلام احمد قادیانی) نے ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسمات بھانو تھی وہ ایک رات جب کہ خوب سردی پڑ رہی تھی حضور کو دبانے بیٹھی، چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی اس لئے اسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب (مرزا قادیانی) نے فرمایا: ”بھانو آج بڑی سردی ہے، بھانو کہنے لگی۔ ”ہاں جی تدے تے تہاڈیاں لتاں لکڑی وانگر ہویاں ہویاں ایں۔“ یعنی جی ہاں تبھی تو آج آپ کی ٹانگیں لکڑی کی طرح سخت ہو رہی ہیں۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے جو بھانو کو سردی کی طرف توجہ دلائی تو اس میں غالباً یہ جتانا مقصود تھا کہ آج شاید سردی کی شدت کی وجہ سے تمہاری حس کمزور ہو رہی ہے۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢١٠ بروایت نمبر ٧٨٥)

”خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت ﷺ عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے ان کے ہاتھ کو نہیں چھوتے تھے۔ دراصل قرآن شریف میں جو یہ آتا ہے کہ عورت کو کسی غیر محرم پر اظہار زینت نہیں کرنا چاہئے۔ اس کے اندر لمس کی ممانعت بھی شامل ہے کیونکہ جسم کے چھونے سے بھی زینت کا اظہار ہو جاتا ہے۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١٥، بروایت نمبر ٧٤٧)

زینت بیگم

”ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیا کہ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس (مرزا احمد قادیانی) کی خدمت میں رہی ہوں، گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی۔

بسااوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی۔ مجھ کو اس اثناء میں کسی قسم کی تھکان و تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا۔ دو

١٤

دفعہ ایسا موقع پیش آیا کہ عش کا موقعہ ملا۔ پھر بھی اس حال پیدا ہوتا تھا۔“

”ڈاکٹر سید عبد بیگم نے مجھ سے بیان کیا کہ گئے تو میں رعیہ سے ان کی خ کے مارے آپ سے عرض ہو جائے تا کہ میرے لئے انکشاف اور صفائی قلب ۔ گے۔“

”ڈاکٹر سید عب زینب بیگم نے مجھ سے بیا کہ حضور نے مجھ کو اپنا بچ اور مجھ کو ہمیشہ اس سے تکل نہیں ہوگا۔ میں نے پی ل

مائی تابی

”میرے گھ چند لڑکیاں تربوز کھا رہی اور ناراضگی میں بددعا کردی۔ اس پر مرزا قا جس پر آپ مائی تابی عرض کرتا ہے کہ مائی میں رہتی تھی۔ اچھا اخلا

مائی کا کو

”مائی کا

صفحہ ٦٠٣

دفعہ ایسا موقع پیش آیا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقعہ ملا۔ پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند نہ غنودگی نہ تھکان معلوم ہوتی تھی بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٧٣، بروایت نمبر ٩١٠)

”ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری لڑکی زینب بیگم نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب حضور علیہ السلام (مرزا قادیانی) سیالکوٹ تشریف لے گئے تو میں رعیہ سے ان کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ ان ایام میں مجھے مراق کا سخت دورہ تھا، میں شرم کے مارے آپ سے عرض نہ کرسکتی تھی۔ مگر میرا دل چاہتا تھا کہ میری بیماری سے کسی طرح حضور کو علم ہو جائے تاکہ میرے لئے حضور دعا فرمائیں۔ میں حضور کی خدمت کر رہی تھی کہ حضور نے اپنے انکشاف اور صفائی قلب سے خود معلوم کر کے فرمایا۔ ’زینب تم کو مراق کی بیماری ہے ہم دعا کریں گے۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٧٥، بروایت نمبر ٩١٧)

”ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری بڑی لڑکی زینب بیگم نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام قادیانی) قہوہ پی رہے تھے کہ حضور نے مجھ کو اپنا بچا ہوا قہوہ دیا اور فرمایا: ”زینب یہ پی لو“ میں نے عرض کی: حضور یہ گرم ہے اور مجھ کو ہمیشہ اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ ہمارا بچا ہوا قہوہ ہے، تم پی لو کچھ نقصان نہیں ہوگا۔ میں نے پی لیا۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٢٦، بروایت نمبر ٩٦٠)

مائی تابی

”میرے گھر سے یعنی والدہ عزیز مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم گھر کی چند لڑکیاں تربوز کھا رہی تھیں، اس کا ایک چھلکا مائی تابی کو جالگا۔ جس پر مائی تابی بہت ناراض ہوئی اور ناراضگی میں بددعائیں دینی شروع کیں اور پھر خود ہی حضرت مسیح موعود کے پاس جا کر شکایت کر دی۔ اس پر مرزا قادیانی نے ہمیں بلایا اور پوچھا کہ کیا بات ہوئی؟ ہم نے سارا واقعہ سنا دیا۔ جس پر آپ مائی تابی سے ناراض ہوگئے کہ تم نے میری اولاد کے متعلق بددعا کی ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی تابی قادیان کے قریب ایک بوڑھی عورت تھی۔ جو حضرت مسیح موعود کے گھر میں رہتی تھی۔ اچھا اخلاص رکھتی تھی۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٤٤ بروایت نمبر ٨٤٨)

مائی کا کو

”مائی کا کو نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے سامنے میاں عبدالعزیز صاحب

١٥

صفحہ ٦٠٤

پٹواری سکھوں کی بیوی حضرت مسیح موعود کے لئے کچھ تازہ جلیبیاں لائی۔ حضرت صاحب نے ان میں سے ایک جلیبی اٹھا کر منہ میں ڈالی اس وقت ایک راولپنڈی کی عورت پاس بیٹھی تھی۔ اس نے گھبرا کر حضرت صاحب سے کہا کہ حضرت یہ تو ہندو کی بنی ہوئی ہے۔ حضرت صاحب نے کہا۔ پھر کیا ہے ہم جو سبزی کھاتے ہیں وہ گوبر اور پاخانہ کی کھاد سے تیار ہوتی ہے اور اسی طرح بعض مثالیں دیکر اسے سمجھایا۔

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٤٣ بروایت نمبر ٨٥٠)

نیم دیوانی کی حرکت

”حضرت مسیح موعود کے اندرون خانہ ایک نیم دیوانی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی۔ ایک دفعہ اس نے کیا حرکت کی کہ جس کمرے میں حضرت لکھنے پڑھنے کا کام کرتے وہاں ایک کونے میں گھڑا رکھا ہوا تھا۔ جس کے پاس پانی کے گھڑے رکھے تھے۔ وہاں اپنے کپڑے اتار کر ننگی بیٹھ کر نہانے لگی۔ حضرت صاحب اپنے کام میں مصروف رہے اور کچھ خیال نہ کیا کہ وہ کیا کرتی ہے۔“

(ذکر حبیب مولفہ مفتی محمد صادق ص ٣٨)

رات کا پہرہ

”مائی رسول بی بی صاحبہ بیوہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت میں میں اور اہلیہ بابوشاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سوتے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگا دینا، ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوتے سنے اور آپ کو جگا دیا، اس وقت رات کے بارہ بجے تھے۔ ان ایام میں عام طور پر پہرہ پر مائی بھجو قصیانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی رسول بی بی صاحبہ میری رضاعی ماں ہیں (اور مرزا قادیانی کی ؟ ناقل) اور حافظ حامد علی صاحب مرحوم کی بیوہ ہیں جو حضرت مسیح موعود کے پرانے خادم تھے مولوی عبدالرحمن صاحب ان کے داماد ہیں۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢١٣، بروایت نمبر ٧٨٦)

جوان عورت بغلگیر الحمدللہ

”٢٥ جولائی ١٨٩٢ء مطابق ٢٠ ذی الحجہ ١٣٠٩ھ بروز دوشنبہ۔ آج میں نے بوقت صبح صادق ساڑھے چار بجے دن کے خواب میں دیکھا کہ ایک حویلی ہے اس میں میری بیوی والدہ محمود ا ور ایک عورت بیٹھی ہے تب میں نے ایک مشک سفید رنگ میں پانی بھرا ہے اور اس مشک کو اٹھ ١٦

لایا ہوں اور وہ پانی لا کر ایک اپنے ہوئی تھی یکا یک سرخ اور خوش رنگ جوان عورت ہے پیروں سے سر تک خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کـ صورت میری بیوی کی صورت معلو نے کہا یا اللہ آ جاوے اور پھر وہ عور گئی۔ فالحمد لله على ذالك اس سے دو چار روز پـ پر آ کھڑی ہوئی ہے اور میں دالان

ناکامی کی تلخی

فرمایا چند روز ہوئے عورت اور اس کے خاوند کے لئے

خواب : دماغی بناوٹ

”١٤ اگست ١٨٩٢ میں دیکھا کہ محمدی بیگم جس کی نسـ بدن سے ننگی ہے اور نہایت مکروہ یہ تعبیر ہے کہ تیرا خاوند مر جائے رات والدہ محمود نے خواب دیکـ میں ہے جس پر ہزار روپیہ مہر لکھـ ہے“

امیر کابل کے نام چٹھی

(روایت نمبر ٧٦٧) کـ

دادا میاں محمد بخش صاحب ڈپـ ہاتھ کا لکھا ہوا ملا ہے۔ وہ حضر

صفحہ ٦٠٥

لایا ہوں اور وہ پانی لا کر ایک اپنے گھڑے میں ڈال دیا۔ میں پانی ڈال چکا تھا کہ وہ عورت جو بیٹھی ہوئی تھی یکا یک سرخ اور خوش رنگ لباس پہنے ہوئے میرے پاس آگئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جوان عورت ہے پیروں سے سر تک سرخ لباس پہنے ہوئے شاید جالی کا کپڑا ہے میں نے دل میں خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کے لئے اشتہار دیئے تھے۔ (یعنی محمدی بیگم ۔ ناقل ) لیکن اس کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوئی۔ گویا اس نے کہا یا دل میں کہا کہ میں آگئی ہوں۔ میں نے کہا یا اللہ آجاوے اور پھر وہ عورت مجھ سے بغلگیر ہوئی۔ اس کے بغلگیر ہوتے ہی میری آنکھ کھل گئی۔ فالحمد لله على ذالك!

اس سے دو چار روز پہلے خواب میں دیکھا تھا کہ روشن بی بی میرے دالان کے دروازہ پر آکھڑی ہوئی ہے اور میں دالان کے اندر بیٹھا ہوں۔ تب میں نے کہا کہ آ، روشن بی بی اندر آجا۔‘‘

(تذکرہ ص١٩٧)

ناکامی کی تلخی

فرمایا چند روز ہوئے کہ کشفی نظر میں ایک عورت مجھے دکھائی گئی اور الہام ہوا..... اس عورت اور اس کے خاوند کے لئے ہلاکت ہے۔ (یعنی انگور کھٹے ہیں۔ ناقل ) (تذکرہ ص٢١٠)

خواب : دماغی بناوٹ

’’١٤ اگست ١٨٩٢ء مطابق ٢٠ محرم ١٣٠٩ھ۔ آج میں (مرزا قادیانی) نے خواب میں دیکھا کہ محمدی بیگم جس کی نسبت پیش گوئی ہے، باہر تکیہ میں معہ چند کس کے بیٹھی ہوئی ہے اور بدن سے ننگی ہے اور نہایت مکروہ شکل ہے۔ میں نے اس کو تین بار کہا کہ تیرے سر منڈی ہونے کے یہ تعبیر ہے کہ تیرا خاوند مر جائے گا اور میں نے دونوں ہاتھ اس کے سر پر اتارے ہیں...... اور اسی رات والدہ محمود نے خواب دیکھا کہ محمدی بیگم سے میرا نکاح ہوگیا ہے اور ایک کاغذ ان کے ہاتھ میں ہے جس پر ہزار روپیہ مہر لکھا ہے اور شیرینی منگوائی گئی ہے اور میرے پاس وہ خواب میں کھڑی ہے‘‘

(تذکرہ ص١٩٨ ص١٩٩)

امیر کابل کے نام چٹھی

(روایت نمبر ٧١٧) ڈاکٹر غلام احمد صاحب آئی ایم ایس نے مجھ سے بیان کیا کہ میرے دادا میاں محمد بخش صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولیس بٹالہ کے کاغذات میں سے مجھے ایک مسودہ ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا ملا ہے۔ وہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی ایک چٹھی امیر کابل کے نام ہے جو

١٧

صفحہ ٦٠٦

غالباً فارسی زبان میں تھی جس کا ترجمہ اردو میں میرے دادا صاحب نے کیا یا کرایا تھا اور یہ ترجمہ شاید گورنمنٹ ریکارڈ کے لئے تھا۔ حضرت مسیح موعود کا خط یہ ہے۔

نحمده ونصلى على رسوله الكريم ! ترجمہ: (اپنا تعارف اور مدعا بیان کرتے ہوئے سلطنت انگلشیہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ مرتب) اسی طرح مجھے دولت برطانیہ اور اس کی حکومت کے ساتھ جس کے سایہ میں میں امن سے زندگی بسر کر رہا ہوں کوئی تعرض نہیں۔ بلکہ خدا کا شکر کرتا ہوں اور اس کی نعمت کا شکر بجالاتا ہوں۔ کہ ایسی پر امن حکومت میں مجھ کو دین کی خدمت پر مامور کیا اور میں کیونکر اس نعمت کا شکر ادا نہ کروں۔ کہ باوجود اس غربت و بیکسی اور قوم کے نالائقوں کی شورش کے میں اطمینان کے ساتھ اپنے کام کو سلطنت انگلشیہ کے زیر سایہ کر رہا ہوں اور میں ایسا آرام پاتا ہوں کہ اگر اسی سلطنت کا میں شکریہ ادا نہ کروں تو میں خدا کا شکر گزار نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم اس بات کو پوشیدہ رکھیں ۔ تو ظالم ٹھہرتے ہیں۔ ( آخر انگریزوں کے پروردہ جو ہوئے کیوں نہ ان کے شکر گزار ہوں سچ ہے۔ جس کا کھاؤ اسی کا گن گاؤ۔ از مرتب)

(سیرت المہدی حصہ ٣ ص ٨٣ بروایت نمبر ٧١٧)

مینار پر نام درج کئے جائیں

(روایت نمبر ٦٨٥) میاں امام الدین صاحب سیکوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جس وقت حضرت اقدس نے مینار کی بنیاد رکھوائی ۔ تو اس کے بعد کچھ عمارت بن کر کچھ عرصہ تک مینار بننا بند ہو گیا تھا۔ اس پر حضور نے ایک اشتہار دیا کہ اگر سو آدمی ایک ایک سو روپیہ دے دیویں تو دس ہزار روپیہ جمع ہو جائے گا اور مینار تیار ہو جائے گا اور ان دوستوں کے نام مینار پر درج کئے جائیں گے۔ ہم تینوں بھائیوں نے حضور کی خدمت میں عرض کی ۔ کہ ہم مع والد یک صد روپیہ مل کر ادا کر سکتے ہیں۔ اگر حضور منظور فرماویں۔ تو حضور نے بڑی خوشی سے منظور فرمایا اور ہم نے سو روپیہ ادا کر دیا۔

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١٢٥)

از مرتب (واہ سبحان اللہ نبی خود ریا کاری کی تعلیم دیتا ہے کہ سو روپیہ چندہ دو تمہارا نام مینار پر لکھا جائے گا۔ واضح رہے کہ احقر نے خود قادیان کی اس مسجد کے مینار پر نام لکھے دیکھے ہیں۔

اور مجھ پر خدا کی وحی نازل ہوتی ہے

(روایت نمبر ٦٩٥) خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی کرم دین جہلمی کے مقدمے کے دوران میں لالہ آتما رام مجسٹریٹ درجہ اول گورداسپور کی عدالت میں بعض سوالات کے جواب میں

١٨

صفحہ ٦٠٧

حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور کرم دین نے اپنے اپنے عقائد بیان کئے تھے۔ اس بیان کی مصدقہ نقل میرے پاس موجود ہے۔ جس میں ایک نقشہ کی صورت میں جوابات درج ہیں۔ یہ جوابات جو بعض اہم مسائل پر مشتمل ہیں۔ بصورت ذیل ہیں۔

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١٤٩)

عقائد مرزا غلام احمد قادیانی

نمبر ٨ میں مرزا غلام احمد مسیح موعود مہدی معہود اور امام زمان اور مجدد وقت اور ظلی طور پر رسول اور نبی اللہ ہوں اور مجھ پر خدا کی وحی نازل ہوتی ہے۔

(سیرت المہدی حصہ سوم ص ١٣٠، بروایت نمبر ٢٩٥)

نوٹ: اب ان حضرات کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جو اپنے آپ کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ اے اللہ ! بھولے ہوؤں کو ہدایت عطاء فرما (آمین۔ از مرتب)

افریقی بندروں کے قصے

(روایت نمبر ٢٩٠) میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ ایک مرتبہ ایک عرب حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے پاس بیٹھا ہوا افریقہ کے بندروں کے اور افریقن لوگوں کے لغو قصے سنانے لگا۔ حضرت صاحب بیٹھے ہوئے ہنستے رہے۔ آپ نہ تو کبیدہ خاطر ہوئے اور نہ ہی ان کو ان لغو قصوں کے بیان کرنے سے روکا کہ میرا وقت ضائع ہو رہا ہے۔ بلکہ اس کی دلجوئی کے لئے اخیر وقت تک خندہ پیشانی سے سنتے رہے۔

(سیرت المہدی حصہ سوم ص ٢١٥)

(از مرتب۔ جب کہ حضور اکرم ﷺ کا فرمان تو یہ ہے کہ آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ کہ وہ لغو کام چھوڑ دے۔ ادھر یہ نبی صاحب بندروں کے لغو قصے سن سن ہنسی سے لوٹ پوٹ جا رہے ہیں اور لغو قصہ گو کی دل جوئی بھی کر رہے ہیں۔

قبروں کے کپڑے اور اشاعت اسلام

(روایت نمبر ٨٨٩) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میاں نجم الدین فلاسفر اور پھر اس کے بعد مولوی یار محمد صاحب کو ایک زمانہ میں قبروں کے کپڑے اتار لینے کی علت ہو گئی تھی یہاں تک کہ فلاسفر نے ان کو بیچ کر کچھ روپیہ بھی جمع کر لیا۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ اس طرح ہم بدعت اور شرک کو مٹاتے ہیں۔ حضرت صاحب نے جب یہ سنا تو اس کام کو ناجائز

١٩

صفحہ ٦٠٨

فرما یا۔ تب یہ لوگ باز آئے اور وہ روپیہ اشاعت اسلام میں دے دیا۔

(سیرت المہدی حصہ سوم ص ٢٦٤)

(از مرتب کیا خوب نبی جی چوری کا روپیہ اور وہ بھی قبروں کے کپڑے بیچ کر اشاعت اسلام میں وصول کر رہے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون )

ایک بزرگ کو کتے نے کاٹا‘ اس کی چھوٹی لڑکی بولی آپ نے کیوں نہ کاٹ لیا؟ اس نے جواب دیا۔ بیٹی انسان سے ” کتا پن“ نہیں ہوتا۔ اس طرح جب کوئی شریر گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے نہیں تو وہی ” کتا پن“ کی مثال لازم آئے گی“۔

( تقریر مرزا جلسہ قادیان ١٨٩٧ء رپورٹ ص ٩٩)

اس کے علاوہ مرزا قادیانی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ”ہمارا ہرگز یہ طریق نہیں کہ مناظرات و مجادلات یا اپنی تالیفات میں کسی نوع کے سخت الفاظ کو اپنے مخاطب کے لئے پسند رکھیں۔ یا کوئی دل دکھانے والا لفظ اس کے حق یا اس کے کسی بزرگ کے حق میں بولیں۔“

(شحنہ حق )

کسی کو گالی مت دو۔ گو وہ گالی دیتا ہو۔

(کشتی نوح ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ایضاً)

بعض صحابہ کرام کی اہانت

(ازالہ اوہام ص ٥٩٦، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢)

(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٦)

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٨٥)

(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)

علمائے کرام ومسلمانوں کو گالیاں

حضرت عیسیٰ علیہ السلام باوجو د اس امر کے مرزا جی کے کسی چلتے ہوئے دعویٰ میں نہ مانع ہوئے اور نہ مرزا جی کو کچھ برا بھلا کہا مگر چونکہ آپ ان کے جلیل القدر عہدے مسیحیت کے مدعی بن

٢٠

صفحہ ٦٠٩

کر آئے تھے اس لئے آپ نے ان کو اپنا رقیب سمجھا اور پھر تو اس بری طرح ان کو گالیاں دی ہیں کہ بھٹیاریوں کو بھی مات کر دیا ہے۔‘‘ جیسا کہ گذشتہ صفحات میں بادل ناخواستہ ملاحظہ کر چکے ہیں اب ان مسلمانوں ومقدس علمائے اسلام کی باری آتی ہے۔ جنہوں نے مرزا جی کے دعاوی سے نہ صرف انکار ہی کیا بلکہ اس کا پردہ چاک کر کے ان کے فریب کاریوں‘ حیلہ سازیوں‘ چالاکیوں سے لوگوں کو آگاہ کر دیا اور بتایا کہ مرزا قادیانی کے اعتقادات اور تعلیمات خلاف شرع وباطل ہیں۔ پس جب علمائے اسلام کی مساعی کی بدولت مرزا جی کی ”دکان“ ویران ہوگئی اور سوائے چند ”گانٹھ کے پوروں اور آنکھ کے اندھوں“ کے کوئی بھی گاہک نہ رہا اور ایمان فروشی میں بہت کچھ کمی ہوگئی تو مرزا قادیانی نے اس سے اپنی ”روٹی کی کمی“ کا زبردست خطرہ محسوس کیا اور فرط غضب سے ”چہرہ تمتما اٹھا“ آنکھیں نیلی پیلی ہوگئیں“۔ خون کھولنے لگا اور منہ سے ”تکفیر ولعنت“ ”لعن طعن“ ”سب وشتم“ کا جھاگ اس زور سے بہنے لگا کہ سارا کپڑا تر ہوگیا۔ لیکن پھر بھی بعض عقل کے پورے اس سے برکت ڈھونڈنے کے خواہش مند ہیں اور علمائے کرام اور عام مسلمانوں کو اسی حالت میں ایسی ٹکسالی ہفت رنگی گالیاں دی ہیں کہ تہذیب وشرافت بھی اپنا سر پیٹ لیتی ہے۔ سچ ہے ”جب انسان حیا کو چھوڑ دیتا ہے تو جو چاہے بکے کون اس کو روک سکتا ہے۔

(اعجاز احمدی ص٣، خزائن ج١٩ ص١٠٩)

(بنگاہ عبرت دیکھئے اور قادیانی پیغمبر کے پیغمبرانہ اخلاق کی داد دیجئے)

(مفہوم ایام الصلح ص٨٦، خزائن ج١٣ ص٣٢٢)

(ایام الصلح ص٨٠، خزائن ج١٣ ص٣١٦)

(ایام الصلح ص٨٤، خزائن ج١٣ ص٣٢٠)

تقویٰ ہو ایسے افتراء نہیں کر سکتا۔“

(ایام الصلح ص٨٦، خزائن ج١٣ ص٣٢٢)

(ایام الصلح ص٨٩، خزائن ج١٣ ص٣٢٦)

٢١

صفحہ ٦١٠

ج ١٤ ص٣٥٤) ” نادان علماء۔“ (ایام الصلح ص ١١٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٥٥) ” ذلیل ملاؤ۔ پلید ملاؤ، ناپاک طبع مولویو۔ پلید طبع مولوی۔ خدا کا ان مولویوں پر غضب ہوگا۔“ (ایام الصلح ص١٦٥، خزائن ج ١٤ ص٤١٣) ” مولوی انسانوں سے بدتر اور پلید تر۔ پلید جاہلوں ۔“ (ایام الصلح ص ١٦٦، خزائن ج ١٤ ص٤١٤) ” نذیر حسین دہلوی جو ظالم طبع اور تکفیر کا بانی ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٨)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢)

قول سراسر حماقت ہے ایسے لوگ چار پائے ہیں نہ آدمی۔ پس یہ نہایت بے ایمانی اور بددیانتی ہے۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٠، خزائن ج ١١ ص ٢٩٤)

اور فقراء کے دل تاریک ہو گئے۔ مگر ہمارے وہ علماء اور فقراء جو شمس العلماء اور بدر العرفاء کہلاتے ہیں وہ آج تک اپنے کسوف خسوف میں گرفتار ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١١، خزائن ج ١١ ص ٢٩٤)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١١، خزائن ج ١١ ص ٢٩٤)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٧، خزائن ج ١١ ص ٣٠١)

جلد بول اٹھتے ہیں کہ کچھ حقیقت نہیں۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)

٢٢

لیکن یہ جاننا چاہئے کہ تدبر سے ان کے نفس امارہ پر محیط ہ

تمام اس کامل نعمت مکالمہ الہیہ س دلوں پر خدا کی لعنت ہے۔“

اندر رکھتے ہیں۔ مگر یہ دل کے مجذو زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزی اور گندی روحو تم پر افسوس۔ اے ان

اب تک بعض بے ایمان اور اندھ افسوس یہ لوگ مولوی کہلانے کا ح جیسے مشرق سے مغرب اور ان م گالیاں دیتے تھے“

جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھ اور مکذبوں پر وہ لعنت پڑی جو اس

اندھو اب سوچو۔“

بلند آواز سے اس بات کے لی جہالت پر جو تمام ذلتوں کی جڑ ہ

صفحہ ٦١١

لیکن یہ جاننا چاہئے کہ یہ سب شیاطین الانس ہیں۔ یہ جہلاء کی غلطیاں ہیں کہ جو قلت تدبر سے ان کے نفس امارہ پر محیط ہورہی ہیں۔

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ١٨، خزائن ج ١١ ص٣٠٢)

تمام اس کامل نعمت مکالمہ الہیہ سے بے نصیب ہیں اور محض یاوہ گو اور ژاژ خاہ ہیں۔ مکذبین کے دلوں پر خدا کی لعنت ہے۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ١٩، خزائن ج ١١ ص ٣٠٣)

اندر رکھتے ہیں۔ مگر یہ دین کے مجذوم اور اسلام کے دشمن یہ نہیں سمجھتے دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں۔ اے مردار خور مولویو اور گندی روحو تم پر افسوس۔ اے اندھیرے کے کیڑو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم کا حاشیہ ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

اب تک بعض بے ایمان اور اندھے مولوی اور خبیث طبع عیسائی اس آفتاب ظہور حق سے منکر ہیں۔ افسوس یہ لوگ مولوی کہلانے کا تو بہت شوق رکھتے ہیں مگر تقویٰ اور دیانت سے ایسے دور ہیں کہ جیسے مشرق سے مغرب اور ان کے (پادریوں) ہم سرشت مولوی اور پلید طبع بعض اخبار والے گالیاں دیتے تھے“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ٢١، ٢٢، خزائن ج ١١ ص ٣٠٦، ٣٠٧)

جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں اور تمام مخالفوں کا منہ کالا ہوا اور مخالفوں اور مکذبوں پر وہ لعنت پڑی جو اب دم نہیں مار سکتے ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم کا حاشیہ ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)

اندھو اب سوچو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٢٦، خزائن ج ١١ ص ٣١٠)

بلند آواز سے اس بات کے لئے مدعو کیا۔ میرے مقابلے میں ان میں سے کوئی بھی نہ آیا اور اپنی جہالت پر جو تمام ذلتوں کی جڑ ہے مہر لگا دی۔ اب عبدالحق کو ضرور پوچھنا چاہئے کہ اس کا وہ مباہلہ

٢٣

صفحہ ٦١٢

کی برکت کا لڑکا کہا گیا کیا اندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٣١١ حاشیہ)

خاص و عام کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ صرف نام کے مولوی ہیں ہیں۔ گویا یہ لوگ مر گئے عبدالحق کے مباہل کی نحوست نے اس کے اور رفیقوں کو بھی ڈبودیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٣١٢ حاشیہ)

تک اس کی عورت کے پیٹ میں سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا۔ پھر کیسے خبیث وہ لوگ ہیں جو اس مباہلہ کو بے اثر سمجھتے ہیں۔ میں نے اس روز بددعا نہیں کی کیونکہ وہ (مولانا عبدالحق صاحب غزنوی) وہ نا سمجھ اور غبی تھا۔ عبدالحق غزنوی نے ٣ شعبان ١٣١٤ھ اس لعنت کی سیاہی کو دھونے کے لئے جو اس کے منہ پر جم گئی ہے ایک اشتہار دیا۔

(حوالہ مذکور ص ٣٣)

ان لوگوں نے اسلام کی کچھ پرواہ نہ کی اور کچھ بھی حیا اور شرم اور تقویٰ سے کام نہ لیا اسی لئے تو آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کا نام یہودی رکھا۔ عبدالحق غزنوی بار بار لکھتا ہے کہ پادریوں کی فتح ہوئی ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ اے بدذات یہودی صفت پادریوں کا اس میں منہ کالا ہوا اور ساتھ ہی تیرا بھی اور پادریوں پر ایک آسمانی لعنت پڑی اور ساتھ ہی وہ لعنت تجھ کو بھی کھا گئی۔ اگر تو سچا ہے تو اب ہمیں دکھلا کہ آتھم کہاں ہے۔ اے خبیث کب تک تو جئے گا۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٥، خزائن ج ١١ ص ٣٢٩)

غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیہم نعال لعن اللہ الف الف مرۃ اپنے ناپاک اشتہار میں نہایت اصرار سے کہتا ہے کہ یہ پیشگوئی بھی پوری نہیں ہوئی۔ اے پلید دجال پیش گوئی تو پوری ہوگئی۔ لیکن تعصب کے غبار نے تجھ کو اندھا کر دیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٤٠)

مولویت کو بدنام کرنے والو ذرا سوچو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٤٥)

٢٢

صفحہ ٦١٣

کے لئے خدا نے اس گدھے کی مثال لکھی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ مگر یہ خالی گدھے ہیں۔ جو شخص ایسا سمجھتا ہے وہ گدھا ہے نہ انسان۔“

(ضمیر انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣١)

تو پیش کریں۔ اے اسلام کے عار مولویو ذرا آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ کس قدم تم نے غلطی کی ہے۔ جہالت کی زندگی سے تو موت بہتر ہے۔“

(ضمیر انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

ایک امر خارق عادت رکھا ہے۔“

(ضمیر انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

حدیث کے بعض راویوں پر جرح کیا ہے اس لئے یہ حدیث صحیح نہیں۔“ لیکن اس احمق کو سمجھانا چاہئے کہ حدیث نے اپنی سچائی کو آپ ظاہر کر دیا ہے۔ پس اس صورت میں جرح سے حدیث کا کچھ نقصان نہیں ہوا بلکہ جنہوں نے جرح کیا ہے ان کی حماقت ظاہر ہوئی۔ اے کسی جنگل کے وحشی خبر معائنہ کے برابر نہیں ہو سکتی۔“

(ضمیر انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج ١١ ص ٣٣٣)

اے بدذات خبیث دشمن اللہ رسول کے تو نے یہ یہودیانہ تحریف اس لئے کی کہ تائید عظیم الشان معجزہ پیغمبر خدا ﷺ کا دنیا پر مخفی رہے۔ جابر اور عمرو بن شمر کا جھوٹ تو ہرگز ثابت نہیں ہوا بلکہ سچ ثابت ہوا۔ مگر تیرا جھوٹ اے نابکار پکڑا گیا۔ اب جو شخص ان بزرگوں کو (جابر جعفی وعمرو بن شمر کو) جھوٹا کہے وہ بدذات خود جھوٹا اور بے ایمان ہے۔“

(ضمیر انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٤)

نوٹ: مرزا قادیانی کی یہ بد زبانی معاذ اللہ حضرات محدثین کو جھوٹا اور بے ایمان ثابت کر رہی ہے کیونکہ در اصل ان حضرات نے جعفر جعفی وغیرہ (جو مرزا جی کے بزرگوں میں سے ہیں) کی تکذیب و تضعیف کی ہے اور مولانا عبدالحق غزنوی تو صرف ناقل ہیں۔

کی تزویر اور تلبیس ہے۔“

(ضمیر انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٤)

٢٥

صفحہ ٦١٤

بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ ان بے وقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)

نو مسلم سعد اللہ ہے۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٦، خزائن ج ١١ ص ٣٤٠)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١)

(مرزا) سنا ہے کہ اسلام کے بدنام کرنے والے غزنوی گروہ امرتسر میں رہتے ہیں۔ یہ سیاہ دل فرقہ غزنویوں کا کس قدر شیطانی افتراؤں سے کام لے رہا ہے۔ اے بدبخت مفتریو۔ نہ معلوم کہ یہ جاہل اور وحشی فرقہ اب تک کیوں شرم و حیا سے کام نہیں لیتا اور پھر خدا نے پیشگوئی کے موافق آتھم کو فی النار کر کے پادریوں اور مخالف مولویوں کا منہ کالا کیا۔ کیا اب تک عبدالحق کا منہ کالا نہیں ہوا کیا اب تک غزنویوں کی جماعت پر لعنت نہیں پڑی۔ بے شک خدا نے ان لوگوں کو ذلت کی روسیاہی کے اندر غرق کر دیا۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

کہ عبدالحق غزنوی اور عبدالجبار جو اپنی شرارت اور خباثت سے۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٣٤٣)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦١، خزائن ج ١١ ص ٣٤٥)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦٣، خزائن ج ١١ ص ٣٤٧)

(حاشیہ ص ٢٠، انجام آتھم خزائن ج ١١ ص ایضاً)

٢٦

صفحہ ٦١٥

یہودیانہ خصلت کو چھوڑ دو گے۔ اے ظالم مولویو تم پر افسوس؟ کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔“

(انجام آتھم حاشیہ ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

مولوی سخت ذلیل ہو گئے۔

(حاشیہ انجام آتھم ص ٢٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٤٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

نہیں دیکھتے۔“

(انجام آتھم ص ٥٠)

اس ہندوزادہ (منشی سعادت اللہ صاحب) کی خباثت فطری سب سے بڑھ کر ہے۔“

(حاشیہ انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٦٤، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٦٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

دیانت و دین دور بود“

(انجام آتھم ص ١٩٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٢٣٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٢٢٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٢٣٠، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

یقال لہ محمد حسین وقد سبق الکل فی الکذب والمین حتی قیل انہ امام المتکبرین ورئیس المعتدین وراس القادین“

(انجام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

٢٧

صفحہ ٦١٦

الكاذب نذير المبشرين ثم الدهلوى...... عبدالحق رئيس المتصلفين ثم سلطان المتكبرين وآخرهم الشيطان الاعمى والغول الاغوى يقال له رشيد الجنجوهى وهوشقى كالا مروهى ومن الملعونين“

(ضمیر انجام آتھم ص٢٥٢، خزائن ج١١ ص ایضاً)

والعلماء السفهاء“

(انجام ص٢٥٣، خزائن ج١١ ص ایضاً حاشیہ)

الغاوين الجاهلين وانهم من الجاهلين المعلمين“

(انجام آتھم ص٢٥٤، خزائن ج١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص٢٦٥، خزائن ج١١ ص ایضاً)

(ضمیر انجام آتھم ص٥٤، خزائن ج١١ ص٢٨٧)

دے رہے ہیں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص٤٤، خزائن ج٥ ص ایضاً)

(آئینہ کمالات اسلام ص٩٠، خزائن ج٥ ص ایضاً)

(آئینہ کمالات اسلام ص١١١، خزائن ج٥ ص ایضاً)

(آئینہ کمالات اسلام ص٢١٦، خزائن ج٥ ص ایضاً)

لعنت۔٢......لعنت۔٣......لعنت۔٤......لعنت۔٥......لعنت۔٦......لعنت۔٧......لعنت۔

٢٨

٨.......لعنت۔٩......لعنت

سے بھرا ہوا ہے۔ اسے...

غبی اور پلید آدمی ہیں۔“

ہی نے اس کے اخیر وق... کہ اب غالباً وہ گور میں...

اٹھاتا ہے اور مجھے قبول... دی وہ مجھے قبول نہیں کر...

ہے جو آپ کا قرین وا...

مسلمانوں کا اس پر شہا...

صفحہ ٦١٧

(حوالہ مذکور ص ٦٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ایضاً)

سے بھرا ہوا ہے۔ اے کج طبع شیخ خدا جانے تیری کس حالت میں موت ہوگی ۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٤٠١، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٤٠٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

(آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

غبی اور پلید آدمی ہیں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٤٠٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ہی نے اس کے اخیر وقت اور لب بام ہونے کی حالت میں ایسی مکروہ سیاہی اس کے منہ پر مل دی کہ اب غالباً وہ گور میں بھی اس سیاہی کو لے جائے گا۔“

(کتاب مذکور ص ٣٠٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

(کتاب مذکور ص ٤٢٠، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے۔ لیکن رنڈیوں اور زنا کاروں کی اولاد جن کی دلوں پر خدا نے مہر لگا دی وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ہے جو آپ کا قرین دائمی ہے۔“

(حوالہ مذکور ص ٥٩٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

مسلمانوں کا اس پر شہادت دے رہا ہے۔“

(حوالہ مذکور ص ٥٩٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

(حوالہ مذکور ص ٥٩٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٢٩

صفحہ ٦١٨

کذب صریح اور خبیث نفس سے علماء و فضلاء کا حقارت سے نام لیتا ہے۔"

(حوالہ مذکور ص ٦٠٠، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

(حوالہ مذکور ص ٦٠١، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

نشانی۔“

(حوالہ مذکور ص ، خزائن ج ٥ ص ٦٥٨)

(حوالہ مذکورہ، خزائن ج ٥ ص ٥٠٩)

(حوالہ مذکور ص ١، خزائن ج ٥ ص ٦١١)

جانور اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ ان میں سے جھوٹ بولنے کا سرغنہ پیسہ اخبار کا ایڈیٹر ہے۔“

(نزول المسیح ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٦)

گورنمنٹ کے سامنے ایک دروغ گو اور مفتری ثابت کر دیا۔“

(نزول المسیح ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٠)

(نزول المسیح ص ٦٢، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٠)

(نزول المسیح ص ٦٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٢)

ہیں اور وہ نہ صرف دروغ گو ہیں بلکہ سخت دروغگو ہیں۔“

(نزول المسیح ص ٦٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٤)

سیف کی۔ کم کرو اب ناز اس مردار سے۔“

(نزول المسیح ص ٢٢٣، خزائن ج ١٨ ص ٦٠٢)

(نور الحق ص ٥٦ مترجم ، خزائن ج ٨ ص ٢٥٣)

٣٠

صفحہ ٦١٩

(ازالہ ص٥، خزائن ج٣ ص١٠٥)

(ازالہ اوہام ص١٦ حاشیہ، خزائن ج٣ ص١٥٧)

(حقیقت الوحی ص٢١٢، خزائن ج٢٢ ص٢٢٢)

دیا۔"

(حاشیہ حقیقت الوحی ص٢٥٦، خزائن ج٢٢ ص٣٦٩)

حماقت ہے۔"

(تتمہ حاشیہ حقیقت الوحی ص٦، خزائن ج٢٢ ص٤٣٧)

نطفہ بدگو ہے اور خبیث اور مفسد جھوٹ کو جمع کرنے والا منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے۔ تیرا نفس ایک خبیث گھوڑا ہے۔ اے حرامی لڑکے۔"

(حقیقت الوحی ص١٤، ١٥)

(تتمہ حقیقت الوحی ص١٧، خزائن ج٢٢ ص٤٤٥، ٤٤٦)

(تتمہ حقیقت الوحی ص١٥، خزائن ج٢٢ ص٥٥١)

(حاشیہ تتمہ حقیقت الوحی ص١٢٨، خزائن ج٢٢ ص٥٦٥)

پھر سامنے آتے ہیں۔"

(حاشیہ حقیقت الوحی ، خزائن ج٢٢ ص٥٨٧)

(اتنا بداخلاق شخص کسی عہدہ جلیلہ کا مستحق ہوسکتا ہے؟ ناقل)

(حوالہ مذکور ص ١٥٩ حاشیہ، خزائن ج٢٢ ص٥٩٨)

تھا۔"

(حوالہ مذکور ص ١٦٥، خزائن ج٢٢ ص٦٠٤)

افیون تریاق الٰہی

ایک مرکب حضرت صاحب نے خود تیار کیا تھا جس کا نام ”تریاق الٰہی“ رکھا کرتے تھے اور

٣١

صفحہ ٦٢٠

فرماتے تھے کہ افیون میں عجیب و غریب فوائد ہیں۔ اس لئے حکماء نے تریاق کا نام دیا ہے۔

(سیرت المہدی حصہ سوم ص ٢٨٤، بروایت نمبر ٩٣٣)

(نوٹ: سچے نبی ﷺ نے تو مسواک کے فوائد ارشاد فرمائے تھے۔ یہ مراقی صاحب افیون کے فائدے..... فیصلہ آپ خود فرمائیں۔ ناقل)

بمقام جالندھر خاص۔ محکمہ پولیس

بخدمت مشفقی مکرمی منشی رستم علی صاحب محرر چٹھی محکمہ پولیس کے پہنچے۔ اس وقت آپ کا عہدہ سارجنٹ تھا۔ آئندہ جب تک چودھری صاحب کا ایڈریس تبدیل نہ ہوگا یا لفافہ کی نوعیت میں کوئی تبدیلی ہوگی۔ ایڈریس درج نہ ہوگا۔ ہر مکتوب کے ساتھ خط یا پوسٹ کارڈ کی تصریح کی جاوے گی۔ عرفانی۔

٢....... پوسٹ کارڈ

مشفقی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ

بعد سلام مسنون۔ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ انشاء اللہ آپ کے حسن خاتمہ اور صلاحیت دین کے لئے یہ عاجز دعا کرے گا اور سب طرح سے خیریت ہے۔ حصہ پنجم بعد فراہمی سرمایہ چھپنا شروع ہوگا۔ والسلام۔

(خاکسار غلام احمد۔ قادیان ١٨ جون ١٨٨٤ء)

٩....... پوسٹ کارڈ

از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد۔

بخدمت اخویم رستم علی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ انشاء اللہ القدیر آپ کے لئے یہ عاجز دعا کرے گا اور حصہ پنجم کتاب انشاء اللہ اب عنقریب چھپنا شروع ہوگا۔ زیادہ خیریت۔ والسلام۔

بخدمت منشی عطاء اللہ خاں صاحب السلام علیکم

(خاکسار غلام احمد عفی عنہ، ٥ جون ١٨٨٥ء، مکتوبات ج ٤ نمبر ٢ ص ٥)

مرزا قادیانی براہین احمدیہ حصہ پنجم کا وعدہ بیس برس میں لکھنے کا پورا کیا۔ حالانکہ دیانت داری یہ تھی کہ وعدہ خلافی نہ کرتے اور جتنا سرمایہ پہنچ چکا تھا اس کے مطابق پورا کرتے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی دیانتداری و ایمانداری میں کبھی بھی پورے نہیں اترے۔ کیا ایسا شخص کسی عہدہ

٣٢

صفحہ ٦٢١

جلیلہ کا مستحق ہو سکتا ہے۔ مرزائیو۔ انصاف کرو۔ خدا کا خوف کرو۔ ایک ایسے شخص کو تم نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ خدا تعالیٰ ہدایت دے۔ ناقل!

١٣...... پوسٹ کارڈ

مکرمی منشی رستم علی صاحب سلمہ، السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مبلغ پچاس روپے مرسلہ آپ کے بدست میاں امام الدین صاحب پہنچ گئے۔ جس قدر آپ نے اور چودھری محمد بخش صاحب نے کوشش کی ہے۔ خداوند کریم جل شانہ آپ کو اجر عظیم بخشے اور دنیا و آخرت میں کامیاب کرے۔ اس جگہ تادم تحریر ہر طرح سے خیریت ہے۔ والسلام!

(خاکسار غلام احمد قادیان ٢٢؍ اگست ١٨٨٥ء)...... (مکتوبات ج ٥ نمبر ٣، ص ٧)

٢٦...... پوسٹ کارڈ

مکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ کچھ چیزیں منشی الہی بخش صاحب اکاؤنٹنٹ لاہور آپ کے نام اور چودھری محمد بخش صاحب کے نام بلٹی کرا کر جالندھر میں بھیجیں گے۔ آپ براہ مہربانی وہ چیزیں کسی یکہ بان کے ہاتھ یا جیسی صورت ہو ہوشیار پور میں اس عاجز کے نام بھیج دیں اور اگر آپ دورے میں ہوں تو چودھری محمد بخش صاحب کو اطلاع دیدیں۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام چودھری محمد بخش صاحب سلام مسنون۔

(خاکسار غلام احمد عفی عنہ) (٣١؍فروری ١٨٨٦ء، مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ص١٣)

یہ عجیب وغریب ومصنوعی نبی ہے کہ یہ مریدوں کے آگے ہاتھ پھیلاتا رہتا ہے۔ کیا ایسا شخص عوام کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔

٤٣...... ملفوف

مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! عنایت نامہ پہنچا یہ عاجز ٢٥؍ نومبر ١٨٨٦ء سے قادیان پہنچ گیا ہے۔ آپ برائے مہربانی اس روپیہ میں سے صاف ١٥٠ روپیہ بابو الہی بخش صاحب کے نام لاہور پہنچا دیں کہ وہ رسالہ کے لئے بابو صاحب کے پاس جمع ہوگا اور باقی روپیہ اس جگہ ارسال فرما دیں اور ہمیشہ خیر وعافیت سے مطلع فرماتے رہیں۔ چودھری محمد بخش کو سلام مسنون پہنچے۔ والسلام!

(خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور یکم دسمبر ١٨٨٦ء)...... (مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ص ٢٢)

٤٣

صفحہ ٦٢٢

٤٦...... ملفوف

مخدومی مکرمی منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالٰی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

عنایت نامہ پہنچا۔ شیخ مہر علی صاحب کی نسبت میں نے بہت دعائیں کی ہیں اور شیخ مہر علی کے متعلق کچھ اور انجام بخیر کی پیشگوئی۔ بہر حال کلی طور پر امید رحمت الٰہی ہے اور بہت چاہا کہ صفائی سے ان کی نسبت منکشف ہو مگر کچھ مکروہات اور کچھ آثار خیر نظر آئے۔ اگر اس کی تعبیر اسی قدر ہو کہ مکروہات اور شائد جس قدر بھگت چکے ہوں۔ ان کی طرف اشارہ ہو۔ انجام بخیر کی بہت کچھ امید ہے اور دعائیں بھی از حد ہو چکی ہیں۔ اللہ تعالٰی ان کے حال پر رحم کرے۔ آمین۔ ثم آمین اور جو آپ نے نیت کی ہے کہ اگر ضرورت ہو تو چار ماہ کے لئے بطور قرضہ سو یا دو سو روپے دیا جائے۔ اللہ تعالٰی آپ کو اس نیت کا اجر بخشے۔ اگر کسی وقت ایسی ضرورت پیش آئے گی تو آپ کو اطلاع دوں گا اور خود اس عاجز کا ارادہ ہے کہ جو امور ہندوؤں کے وید سے بطور مقابلہ طلب کئے گئے ہیں وہ بطور حق براہین ہیں۔ ابلاغ پائیں اور اللہ جل شانہ توفیق عمل بخشے کہ تاہم ان سب امور کو انجام دے سکیں۔ بخدمت چودھری محمد بخش صاحب و جمیع احباب کو سلام مسنون پہنچے اور جس وقت آپ قادیان میں تشریف لاویں ایک شیشی چٹنی سرکہ کی ضرور ساتھ لاویں۔

نوٹ: یہ مکتوب حضرت کے اپنے قلم سے لکھا ہوا ہے مگر آپ حسب معمول اس پر اپنا نام نہیں لکھ سکے۔ تاریخ بھی درج نہیں۔ سلسلۂ خطوط سے دسمبر ١٨٨٦ء کا پایا جاتا ہے۔

(عرفانی مکتوبات ج ٥ نمبر ٢٤، ٢٥)

٤٧...... پوسٹ کارڈ

مخدومی مکرمی منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالٰی، بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ازار بند اور قند جو پہلے آں مکرم نے بھیجے تھے، سب پہنچ گئے۔ امید ہے کہ آج یا کل شیر مال بھی پہنچ جاوے گی۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء۔ رسالہ سراج منیر کا مضمون تو اب تیار ہے۔ مگر اس کی طبع کے لئے تجویز کر رہا ہوں۔ کیونکہ تخمینہ کیا گیا ہے کہ اس کا چودہ سو روپیہ لاگت ہے۔ اگر کوئی مطبع کسی قدر پیچھے یعنی تین ماہ بعد لینا منظور کرے تو بآسانی کام چل جائے اور اشتہار میرے پاس پہنچ گیا ہے۔ فتح محمد خاں صاحب کی غلطی سے کچھ کا کچھ لکھ دیا۔ اب آپ بھی وصولی روپیہ قیمت سرمہ چشم

٣٤

صفحہ ٦٢٣

آریہ کا بہت جلد بندوبست کریں اور پندرہ روپیہ کی مجھے اور ضرورت ہے وہ میرے پاس بھیج دیں۔ باقی روپیہ منشی الہی بخش صاحب کے نام تجویز کیا ہے وہ بھی ان کے پاس محفوظ رکھیں کہ اب روپیہ کی ضرورت بہت پڑے گی۔ قیمت رسالہ میں آج تک آپ سے پچھتر روپیہ پہنچ گئے ہیں اور پندرہ روپیہ آنے سے پورے نوے روپے ہو جائیں گے۔ شیخ مہر علی صاحب کے لئے بہت دعا کی گئی ہے۔

واللہ غفور الرحیم! سندرداس کے لئے تو ہم نے آپ کے کہنے سے ہم نے بہت دعا کی تھی مگر چونکہ ہندو آخر ہندو ہے اس لئے وفاداری سے شکر گزار ہونا مشکل ہے۔ آج کل ہندوؤں کے جو مادے ظاہر ہورہے ہیں اس سے عقل حیران ہے۔ ہندوؤں میں وہ لوگ کم ہیں جو نیک اصل ہوں۔ ایک خطاء۔ تخم مادر بخطا۔ بخدمت چودھری محمد بخش صاحب۔ السلام علیکم (خاکسار غلام احمد عفی عنہ) ...... (مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٢٥، ٢٦)

٤٧......ملفوف

مخدومی مکرمی منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! شیخ میر محمد صاحب کے واسطے دعا کروں گا۔ آپ بالفعل پچیس روپیہ بذریعہ منی آرڈر اس جگہ کی ضرورتوں کے لئے ارسال فرمادیں اور باقی روپیہ کی وصولی کا جہاں تک ممکن ہو جلد بندوبست کریں۔ تا وہ روپیہ سراج منیر کے کسی کام آوے اور قند جیسا کہ آپ نے ہوشیار پور بھیجا تھا۔ دو روپیہ کے شیر مال تازہ تیار کروا کے ٹوکری میں بند کر کے بذریعہ ریل بھیج دیں اور اول اس کی بلٹی بھیج دیں اور شیخ مہر علی صاحب کی صورت مقدمہ سے اطلاع بخشیں، سندرداس کی کامیابی سے خوشی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس کو سچی ہدایت بھی بخشے کہ بجز قوم میں سے باہر آنے کے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔

واللہ یھدی الیہ من یشاء ! بخدمت چودھری محمد بخش صاحب سلام مسنون۔ دوسو روپیہ جو قرضہ لیا جائے گا۔ آپ اپنے طور پر تیار رکھیں کہ جب نزدیک یا دیر سے اس کی ضرورت ہوگی تو بھیجنے میں توقف نہ ہووے۔

(مکتوبات ج ٥ ، ص ٢٦، ٢٧، نمبر ٣)

٤٨......ملفوف

شیخ مہر علی صاحب کے لئے دعا:

٣٥

صفحہ ٦٢٣

مخدومی مکرمی! اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! شیخ مہر علی صاحب کے لئے میں نے اس قدر دعا کی ہے کہ جس کا شمار اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ اللہ جل شانہ اس کی جان بخشی کرے۔ کہ وہ کریم و رحیم ہے۔ رونے والوں کو ایک دم ہنسا سکتا ہے۔ سندر داس کے لئے بھی دعا کی ہے۔ مگر اسے کیوں ایسا مضطر ہونا چاہئے۔ وہ تو ابھی لڑکا ہے اور ابھی بہت سا وسیع میدان درپیش ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ نے کس قدر روپیہ لاہور میں بھیجا ہے۔ اگر کچھ بقیہ آپ کے پاس ہو تو مجھے بعض ضروریات کے لئے منگوانا ضروری ہے۔ اس سے جلد تر اطلاع بخشیں اور نیز معلوم ہوتا ہے کہ قرضہ کی بھی ضرورت پڑے گی۔ سو اگر آپ دو سو روپیہ تک قرضہ کا انتظام کر دیں تو اس قسم کا ثواب بھی آپ کو حاصل ہوگا۔ باقی خیریت ہے۔ مقدمہ شیخ مہر علی صاحب سے اطلاع بخشیں۔ والسلام!

(مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٦٨، ٦٧)

٤٩....... پوسٹ کارڈ

مشفقی مکرمی محبی، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! عنایت نامہ معہ قصیدہ متبرکہ موصول ہوکر بہت خوشی ہوئی۔ جزاکم اللہ خیر الجزاء۔ اگر چند بوتل سوڈا واٹر مل سکیں تو وہ بھی بھیج دینا۔ یہ قصیدہ انشاء اللہ درج کتاب کرادوں گا۔ والسلام! (خاکسار غلام احمد عفی عنہ از لدھیانہ )......

(مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٦٨)

(ہر چیز اپنے مریدوں سے طلب کرتے ہیں کیا اسوہ رسول ﷺ یہی ہے۔ ناقل)

٥٦....... پوسٹ کارڈ

مخدومی مکرمی اخویم سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! پانچ سو روپیہ کے شیر مال پہنچ گئے ہیں۔ جزاکم اللہ خیرا! اور سب طرح سے خیریت ہے۔ والسلام! (خاکسار غلام احمد عفی عنہ از قادیان) نوٹ: اس پر تاریخ نہیں۔ مگر مہر ٤؍ مئی ١٨٨٧ء کی ہے۔

٦١....... پوسٹ کارڈ

مکرمی اخویم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! یہ عاجز امرتسر پہنچ گیا ہے۔ شاید پیر منگل تک اس جگہ رہوں۔ مگر بروز اتوار صرف ایک دن کے لئے لاہور جانے کا ارادہ ہے۔ اگر آپ تشریف لاویں تو میں کڑہ مہاں سنگھ میں بر مکان منشی

٣٦

صفحہ ٦٢٥

محمد عمر صاحب داروغہ سابق اترا ہوں۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام! (خاکسار غلام احمد از امرت سر کڑہ مہاں سنگھ ٣٠؍ مارچ ١٨٨٨ء)

(مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٣٣)

٦٣....... پوسٹ کارڈ

مکرمی اخویم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!

چونکہ میں نے رسالہ شحنہ حق کی اجرت وغیرہ ادا کرنا ہے اور اس جگہ روپیہ وغیرہ نہیں ہے۔ اس لئے مکلف ہوں کہ آپ مجھ کو بیس روپے بھیج دیں اور حساب یادداشت میں لکھتے رہیں۔ یعنی جس قدر آپ نے متفرق بھیجا ہے۔ اس کو اپنی یادداشت میں تحریر فرماتے جاویں اور اب وصولی روپیہ اور تصفیہ بقایا کی طرف توجہ فرماویں۔ کہ اب روپیہ کی بہت ضرورت پڑے گی۔ بڑا بھاری کام سر پر آ گیا ہے۔ آپ کی ملاقات کبھی ہو تو بہتر ہے۔ والسلام! (خاکسار غلام احمد قادیان).......

(مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٣٤)

نوٹ: تاریخ درج نہیں ڈاک خانہ کی مہر قادیان ١١؍ اپریل ١٨٨٨ء

٦٥....... ملفوف

مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!

آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ دعا کی گئی۔ مجھ کو بباعث علالت طبیعت خود کم فرصتی بھی ہے۔ اب میں آپ سے ایک ضروری امر میں مشورہ لینا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بوجہ چند در چند وجہوں کے دوسری جگہ کتابوں کے طبع کرانے سے میری طبیعت دق آ گئی ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ اپنا مطبع تیار کر کے کام سراج منیر و دیگر رسائل کا شروع کرا دوں۔ اگر مطبع میں کچھ خسارہ بھی ہوگا۔ تو ان خساروں کی نسبت کم ہوگا۔ جو مجھے دوسرے لوگوں کے مطابع سے اٹھانے پڑتے ہیں۔ لیکن تخمینہ کیا گیا ہے کہ اس کام کے شروع کرانے میں تیرہ چودہ سو روپیہ خرچ آئے گا۔ جس میں خرید پریس وغیرہ بھی داخل ہے اور آپ نے اقرار کیا تھا کہ ہم تین ماہ کے عرصہ کے لئے دو سو روپیہ بطور قرضہ دے سکتے ہیں۔ سو اگر آپ سے یہ ہو سکے اور آپ کسی طور سے یہ بندوبست کر سکیں کہ چار سو روپیہ بطور قرضہ چھ ماہ کے لئے تجویز کر کے مجھ کو اطلاع دیں تو میں جانتا ہوں کہ اس میں آپ کو بہت ثواب ہوگا۔ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو چھ ماہ کے اندر ہی یہ قرضہ ادا کرا دے۔ لیکن چھ ماہ کے بعد بہرحال بلا توقف آپ کو دیا جائے گا اور باقی آٹھ نو سو روپیہ کسی جگہ سے قرضہ لیا جائے گا۔ اس کا

٣٧

صفحہ ٦٢٦

جواب آپ بہت جلد بھیج دیں۔ کچھ تعجب نہیں کہ آپ کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ نے یہ خیر مقدر کی ہو۔ اگر میں سمجھتا کہ آپ ادھر ادھر سے لے کر کچھ اور زیادہ بندوبست کر سکتے ہیں تو میں آٹھ سو روپیہ کے لئے آپ کو لکھتا مگر مجھے خیال ہے کہ گو آپ اپنے نفس سے اللہ رسول کی راہ میں فدا ہیں۔ مگر آج دوسرے مسلمان ایسے ضعیف ہورہے ہیں کہ اگر ان کے پاس قرضہ کا بھی نام لیا جاوے۔ تو ساتھ ہی ان کی طبع میں قبض شروع ہو جاتا ہے۔ جواب سے جلد تر اطلاع بخشیں۔ شیخ مہرعلی صاحب کے مقدمہ کی نسبت اگر کچھ پتہ ہو تو ضرور بخشیں۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام!

(خاکسار غلام احمد قادیان ١١؍ مئی ١٨٨٧ء)...... (مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ص ٣٥، ٣٦)

٧١......پوسٹ کارڈ

مکرمی اخویم، بعد السلام علیکم! آم پہنچ گئے تھے۔ اگر دوسری دفعہ ارادہ ارسال ہو تو دو امر کا لحاظ رکھیں۔ ایک تو آم کسی قدر کچے ہوں دوسرے ایسے ہوں جن میں صوف نہ ہو اور جن کا شیرہ پتلا ہو۔ میں نے سندر داس کی شفا اور نیز ہدایت کے لئے دعا کی ہے۔ اطلاعاً لکھا گیا۔ والسلام!

(خاکسار غلام احمد قادیان ١٦؍ جولائی ١٨٨٧ء)...... (مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ص ٤١)

٧٢......پوسٹ کارڈ

مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ بعد السلام علیکم! دو شطرنجی کلاں اگر دو روز کے لئے بطور مستعار مل سکیں تو ضرور بندوبست کر کے ساتھ لاویں اور پھر ساتھ ہی لے جاویں اور جمعہ تکونع یعنی جمعہ کی شام تک ضرور تشریف لے آویں۔ والسلام!

(خاکسار غلام احمد عفی عنہ ١٠؍ اگست ١٨٨٧ء)...... (مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ص ٤٤)

٧٨......ملفوف

مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ۔ بعد سلام مسنون۔ آپ کا عنایت نامہ پہنچا مگر پان نہیں پہنچے۔ حتی المقدور آپ ایسا بندوبست کریں کہ پان دوسرے چوتھے روز بآسانی پہنچ جایا کریں اور اب جہاں تک ممکن ہو۔ پان جلدی پہنچا دیں اور دوبارہ آپ کو تاکیداً لکھتا ہوں۔ کہ آپ بڑی جدوجہد سے ڈیڑھ من خام روغن زرد عمدہ جمعہ تک پہنچا دیں اور تیس روپیہ نقد ارسال فرماویں اور شاید قریباً یہ پتالیس یا چھیالیس روپیہ ہوں گے۔ آپ اس میں جہاں تک ہوسکے بڑی کوشش کریں اور عقیقہ کی ضیافت کے لئے تین بوتل عمدہ چٹنی اور بیس سیر آلو پختہ اور چار

٣٨

صفحہ ٦٢٧

شکر اربی پختہ اور کسی قدر میتھی و پالک وغیرہ ترکاری اگر مل سکے ضرور ارسال فرماویں۔ یہ بڑا بھارا انتظام عقیقہ کا میں نے آپ کے ذمہ ڈال دیا ہے۔ بہتر ہے آپ تین روز کی رخصت لے کر معہ ان سب چیزوں کے جمعہ کی شام تک قادیان میں پہنچ جائیں۔ کیونکہ ہفتہ کے دن عقیقہ ہے۔

اگر چودھری محمد بخش صاحب کو بھی ساتھ لاویں تو بڑی خوشی کی بات ہے۔ مگر آپ تو بہر صورت آویں اور اول تو چار روز کی ورنہ تین دن کی ضرور رخصت لے آویں۔ میں نے سندر داس کے لئے بہت دعا کی ہے اور نیز جہاں تک مجھے وقت ملا مولوی مراد علی صاحب کے لئے بھی۔ اگر مولوی مراد علی صاحب بھی اس تقریب میں شریک ہوں تو عین خوشی ہوگی۔ والسلام خاکسار غلام احمد عفی اللہ ۔ نوٹ اس خط پر تاریخ درج نہیں مگر سلسلہ بتاتا ہے کہ اگست ١٨٨٧ء (مکتوبات ج٥ نمبر ٣ ص ٤٥) کا خط ہے۔ مولوی مراد علی صاحب جالندھری مشہور آدمی تھے۔ عرفانی!

٧٩....... پوسٹ کارڈ

مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ، بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!

میں ایک آپ کو نہایت ضروری تکلیف دیتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ کی جدوجہد سے یہ کام بھی انجام پذیر ہو جاوے اور وہ یہ ہے کہ دو روز کے لئے ایک سائبان درکار ہے۔ جو بڑا سائبان ہو خیمہ کی طرح جس کے اندر آرام پاسکیں۔ اگر سائبان نہ ہو تو خیمہ ہی ہو۔ ضرور کسی رئیس سے لے کر ساتھ لاویں۔ نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ مکان کی تنگی ہے۔ بہت توجہ کر کے کوشش کریں۔

(خاکسار غلام احمد ١٠؍اگست ١٨٨٧ء)......(مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٤٦)

٧٩....... ملفوف

مخدومی مکرم اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ۔ بعد سلام مسنون۔ اس وقت ایک نہایت ضرورت خیمہ سائبان کی پیش آئی ہے۔ کیونکہ معلوم ہوتا ہے کہ مہمان عقیقہ کے روز اس قدر آئیں گے۔ کہ مکان میں گنجائش نہیں ہوگی۔ یہ آپ کے لئے ثواب حاصل کرنے کا نہایت عمدہ موقعہ ہے۔ اس لئے مکلف ہوں کہ ایک سائبان مع قنات کسی رئیس سے بطور مستعار دو روز کے لئے لے کر جیسے سردار سوچیت سنگھ ہیں ضرور ساتھ لاویں۔ بہر طرح جدوجہد کر کے ساتھ لاویں نہایت تاکید ہے۔ والسلام!

(خاکسار غلام احمد از قادیان۔ ١٠؍اگست ١٨٨٧ء)

(مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٤٦)

٣٩

صفحہ ٦٢٨

مکرر یہ کہ ایک سائبان فراخ معہ قنات کے جو اردگرد اس کے لگائی جاوے۔ تلاش کر کے ہمراہ لاویں۔

٨٠......ملفوف

مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالٰی، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اس سے پہلے روغن زرد کے لئے آپ کی خدمت میں لکھا گیا تھا۔ اسی وجہ سے یہاں کچھ بندوبست نہیں کیا گیا۔ لیکن دل میں اندیشہ ہے کہ شاید وہ خط نہ پہنچا ہو۔ کیونکہ آپ کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں آئی۔ کہ خریدا گیا یا نہیں اور وقت ضرورت روغن کا بہت ہی قریب آگیا ہے اور روغن کم سے کم ڈیڑھ من خام چاہئے اور اگر دو من خام ہو تو بہتر ہے۔ کیونکہ خرچ بہت ہوگا۔ چونکہ یہ کام تمام آپ کے ذمہ ڈال دیا گیا ہے۔ اس لئے آپ ہی کو اس کا فکر واجب ہے۔ اگر خدانخواستہ وہ خط نہ پہنچا ہو تو اس جگہ ایسی جلدی سے بندوبست ہونا محال و غیر ممکن ہے۔ اس صورت میں لازم ہے کہ آپ دو ٢ من خام روغن امرتسر سے خرید کر کے ساتھ لاویں۔ خواہ کیسا ہی آپ کا حرج ہو۔ اس میں تساہل نہ فرماویں اور مناسب ہے کہ چودھری محمد بخش صاحب بھی ساتھ آویں اور دوسرے جس قدر بھی آپ کے احباب ہوں۔ یا ایسے صاحب۔ جو بخوشی خاطر اس موقع پر آسکتے ہوں۔ ان کو بھی ساتھ لے آویں اور سب باتیں آپ کو معلوم ہیں۔ اعادہ کی حاجت نہیں۔ والسلام! (خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور).....

(مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٤٧)

٨١......ملفوف

مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالٰی، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کل میاں نور احمد نے صاف جواب بھیجا ہے کہ مجھے قادیان میں مطبع لے کر آنا منظور نہیں اور نہ میں دہلی جاتا ہوں اور نہ شرح مجوزہ سابقہ پر مجھے کتاب چھاپنا منظور ہے۔ اس لئے بالفعل تجویز پاس کی غیر ضروری ہے۔ لوگ ہر ایک بات میں اپنی دنیا کا پورا پورا فائدہ دیکھ لیتے ہیں۔ بلکہ جائز فائدہ سے علاوہ چاہتے ہیں۔ دیانت دار انسان کا ذکر کیا۔ ایسا بددیانت بھی کم ملتا ہے جو کسی قدر بددیانتی ڈر کر کرتا ہے۔ اب جب تک کسی مطبع والے سے تجویز پختہ نہ ہو جائے۔

٤٠

صفحہ ٦٢٩

خود بخود کاغذ خریدنا عبث ہے۔ میاں عبداللہ سنوری تو بیمار ہو کر چلا گیا۔ میاں فتح خاں کا بھائی بھی بیمار ہے اور اس جگہ بیماری بھی بکثرت ہو رہی ہے۔ ہفتہ عشرہ میں جب موسم کچھ صحت پر آتا ہے تو لاہور یا امرتسر جا کر کسی مطبع والے سے بندوبست کیا جائے گا۔ پھر آپ کو اطلاع دی جائے گی۔

ایک ضروری بات کے لئے آپ کو تکلیف دیتا ہوں کہ میرے پاس ایک آدمی حافظ عبدالرحمٰن نام موجود ہے۔ وہ نوجوان اور قد کا پورا اور قابل ملازمت پولیس ہے۔ بلکہ ایک دفعہ پولیس میں نوکری بھی کر چکا ہے اور اس کا باپ بھی سارجنٹ درجہ اول تھا۔ پنشن یاب ہو گیا ہے۔ اس کا منشاء ہے جو پولیس میں کسی جگہ نوکر ہو جاؤں اگر بالفعل آپ کی کوشش سے کانسٹیبل بھی ہو جائے تو از بس غنیمت ہے۔ ایک سند ترک ملازمت بھی بطور صفائی اس کے پاس ہے۔ عمر تخمیناً بائیس سال کی ہے۔ اگر آپ کی کوشش سے وہ نوکر ہو سکتا ہے تو مجھے اطلاع بخشیں کہ اس کو آپ کی خدمت میں روانہ کروں اور جلد اطلاع دیں۔ والسلام!

(خاکسار غلام احمد قادیان ٩ اگست ١٨٨٧ء)....... (مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٤٨)

٨٢....... پوسٹ کارڈ

مخدومی مکرمی منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ، بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

پہلے اس سے روغن زرد کے لئے لکھا گیا تھا کہ ایک من خام ارسال فرماویں۔ سو اس کی انتظار ہے۔ کیونکہ اس کی بہت ضرورت ہے۔ دوسری یہ تکلیف دیتا ہوں کہ ایک خادم کی ضرورت ہے۔ قادیان کے لوگوں کا حال دگر گوں ہے۔ ہمارا یہ منشاء ہے کہ کوئی باہر سے خادم آوے۔ جو طفل نوزاد کی خدمت میں مشغول رہے۔ آپ اس میں نہایت درجہ سعی فرماویں۔ کہ کوئی نیک طبیعت اور دیندار خادم کہ جو کسی قدر جوان ہو مل جائے اور جواب سے مطلع فرمائیں۔

(خاکسار غلام احمد ٢١ اگست ١٨٨٧ء)....... (مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٤٩)

٨٣....... پوسٹ کارڈ

مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ، بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

کل آپ کا خط پہنچا۔ آپ کے لئے بہت دعا کی گئی ہے۔ جس بات میں فی الحقیقت

٤١

صفحہ ٦٣٠

بہتری ہوگی۔ وہی بات اللہ تعالیٰ آپ کے لئے اختیار کرے گا۔ انسان کیا سمجھ سکتا ہے کہ میری بہتری کس بات میں ہے۔ یہ اسرار فقط خدا تعالیٰ کو معلوم ہے۔ سو قوی یقین سے اس پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ روغن زرد اب تک نہیں پہنچا۔ اس جگہ بالکل نہیں ملتا۔ اگر آپ ایک من روغن خام تلاش کر کے بھیج دیں تو اس وقت نہایت ضرورت ہے اور نیز جیسا میں پہلے لکھ چکا ہوں کوئی خادم ضرور تلاش کریں اور پھر تحریر فرمانے پر روانہ کر دیں۔ والسلام!

(خاکسار غلام احمد ٢٢ اگست ١٨٨٧ء)......(مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٤٩)

پوسٹ کارڈ نمبر ٩٨

مکرمی، السلام علیکم! ابھی ایک خط روانہ خدمت ہو چکا ہے۔ اب باعث تکلیف دہی یہ ہے کہ میری لڑکی بباعث بیماری نہایت کمزور ونحیفہ اور ضعیف ہو رہی ہے کچھ کھاتی نہیں۔ انگریزی بسکٹ جو کہ نرم اور ایک بکس میں بند ہوتے ہیں۔ جن کی قیمت فی بکس ٢ عہ ہوتی ہے۔ وہ اس کو موافق ہیں۔ اب براہ مہربانی ایسے بسکٹ شہر میں ٢ عہ کو خرید کر ایک بکس ہمراہ خادمہ یا جس طرح پہنچ سکے ارسال فرماویں۔ والسلام!

(خاکسار غلام احمد ٢٦؍ دسمبر ١٨٨٧ء)......(مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٥٧)

پوسٹ کارڈ نمبر ١٠٣

مخدومی مکرمی، السلام علیکم ! روغن زرد جو کہ ٨ اثار خام تھا وہ اب تک نہیں پہنچا اور دوسری مرتبہ کا شاید ٣٠ اثار تھا۔ وہ پہنچ گیا ہے۔ اگر آپ کوشش کریں تو پہنچ جائے۔ بے فائدہ نہ جائے۔ اگر ممکن ہو تو ٢ آنہ کے پان بھی بھیج دیں۔ اب امید رکھتا ہوں کہ کام جلدی شروع ہوگا۔ مفصل کیفیت پیچھے سے لکھوں گا۔ عبدالرحمٰن کو میں نے کہہ دیا ہے شاید ہفتہ عشرہ تک آپ کی خدمت میں حاضر ہوگا۔ والسلام!

(خاکسار غلام احمد از قادیان ٢٦؍ اکتوبر ١٨٨٧ء)

(مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٦٠)

پوسٹ کارڈ نمبر ١٠٥

مخدومی مکرمی اخویم سلمہ اللہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

٤٢

صفحہ ٦٣١

پہلا گھی صرف ٢١ سیر پہنچا تھا۔ جیسا کہ آپ نے لکھا ہے میں نے غلطی سے ٣٠ تار وزن لکھ دیا تھا۔ اطلاعاً لکھا گیا اور سب طرح سے خیریت ہے۔ والسلام!

(خاکسار غلام احمد عفی عنہ ٣٠/ اکتوبر ١٨٨٧ء)..... (مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٦٥)

پوسٹ کارڈ نمبر ١١٠

مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! عنایت نامہ پہنچا۔ سندر داس کی علالت طبع کی طرف مجھے بہت خیال ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو تندرستی بخشے۔ اگر قضا مبرم نہیں ہے تو مخلصانہ دعا کا اثر ظہور پذیر ہوگا۔ آپ کی ملاقات کو بھی بہت دیر ہو گئی ہے۔ کسی فرصت کے وقت آپ کی ملاقات بھی ہو تو بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اور اسی کو ہر ایک بات میں مقدم سمجھیں۔ والسلام ۔ (توکل علی اللہ کی تعلیم)

(خاکسار غلام احمد از قادیان ١٤/ دسمبر ١٨٨٧ء)..... (مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٦٨)

پوسٹ کارڈ نمبر ١١١

مخدومی مکرمی، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرا لڑکا بشیر احمد سخت بیمار ہے۔ کھانسی وتپ وغیرہ خطرناک عوارض ہیں۔ آپ جس طرح ہو سکے ٢؎ کے پان بہت جلد بھیج دیں کہ کھانسی کے لئے ایک دوا اس میں دی جاتی ہے۔ والسلام!

(خاکسار غلام احمد از قادیان ١٦/ دسمبر ١٨٨٧ء)..... (مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٦٨)

ملفوف نمبر ١١٥

مخدومی مکرمی منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ! عنایت نامہ پہنچا اور خیر وعافیت سے خوشی و تسلی ہوئی۔ اب سردی نکلنے والی ہے اور اب آپ کے لئے موسم بہت اچھا نکل آئے گا۔ سندر داس کی طبیعت کا حال پھر آپ نے کچھ نہیں لکھا۔ صرف اتنا معلوم ہوا تھا کہ اب بہ نسبت سابق کچھ آرام ہے۔ اس کی طبیعت کے حال سے مفصل اطلاع بخشیں۔ اس وقت کاغذی اخروٹ یعنی جوز کے ایک دوا بنانے کے لئے ضرورت ہے اور بقدر باراں اثمار خام اخروٹ چاہئے۔ مگر کاغذی چاہئے اس لئے تکلیف دیتا ہوں۔ کہ اگر کاغذی

٤٣

صفحہ ٦٣٢

اخروٹ اس جگہ سے مل سکیں اور یہ بندوبست بھی ہو سکے کہ پٹھان کوٹ سے بلٹی کرا کر اسٹیشن بٹالہ پر پہنچ سکیں۔ تو ضرور ارسال فرماویں یہ سب کچھ بے تکلف آپ کی طرف جو لکھا جاتا ہے۔ محض آپ کے اخلاص ومحبت کے لحاظ سے ہے۔ جو آپ محض للہ رکھتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے محض للہ اخلاص کو غایت درجہ پر بڑھا دیا ہے۔ خدمت للہ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزاء خیر بخشے اور دین میں استقامت و تقویٰ و دنیا میں عزت و حرمت عطا کرے۔ آمین۔ مکرر یاد رہے کہ یوں ہی بلا محصول ہرگز بھیجنا نہیں چاہئے۔ بلکہ بلٹی بیرنگ کرا کر ملف خط علیحدہ میرے پاس بھیج دیں اور بٹالہ کے اسٹیشن کے نام بلٹی ہو۔ تا اس جگہ سے لیا جاوے۔ والسلام!

(خاکسار غلام احمد از قادیان ٢٥ جنوری ١٨٨٨ء)

نوٹ: مکتوب نمبر ١١٢ میں چودھری رستم علی صاحب کی ترقی کا ذکر آیا ہے۔ ان کی ترقی کا سوال در پیش تھا۔ خدا کے فضل و کرم سے وہ سارجنٹی سے ڈپٹی انسپکٹری پر ترقی پا کر دھرم سالہ ضلع کانگڑہ میں تعینات ہوئے تھے۔ اس وقت ہیڈ کانسٹیبل سارجنٹ اور سب انسپکٹری کہلاتی تھی۔ بہر حال چودھری صاحب ڈپٹی انسپکٹر یا سب انسپکٹر ہو کر دھرم سالہ چلے گئے۔ اس وقت حضرت اقدس لفافہ انہیں اس طرح پر لکھتے ہیں۔

ضلع کانگڑہ۔ بمقام دھرم سال۔ خدمت میں مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب ڈپٹی انسپکٹر (جو سرشتہ دار پیشی ہیں یا لین پولیس میں ) پہنچے۔ (عرفانی) (مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٧١)

ملفوف نمبر ١١٨

مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

عنایت نامہ پہنچا۔ اس عاجز کے ساتھ ربط ملاقات پیدا کرنے سے فائدہ یہ ہے کہ اپنی زندگی کو بدلا دیا جائے۔ تا عاقبت درست ہو (حضرت مسیح موعود سے تعلق رکھنے کی غرض) سندر داس کی وفات کے زیادہ غم سے آپ کو پرہیز کرنا چاہئے۔ خدا تعالیٰ کا ہر ایک کام انسان کی بھلائی کے لئے ہے۔ گو انسان اس کو سمجھے یا نہ سمجھے۔ جب ہمارے نبی کریم ﷺ نے اپنی بعثت کے بعد بیعت ایمان لینا شروع کیا۔ تو اس بیعت میں یہ داخل تھا کہ اپنا حقیقی دوست خدا تعالیٰ کو ٹھہرایا جائے اور اس کے ضمن میں اس کے نبی اور درجہ بدرجہ تمام صلحاء کو بغیر خلت دینی کسی کو دوست نہ سمجھا جائے۔ یہی اسلام ہے۔ جس سے آج کل لوگ بے خبر ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ والذين امنو اشد

٤٤

حبا للہ ۔ یعنی ایما تعالیٰ کے سوا اور کسی کا حق ن اختلاف ہے۔ کہ جو مثلا م کہتے ہیں کہ اس کی حالت نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ یہا میں ہے۔ کیونکہ عشق اور دوسرے کو دیتا ہے اور یہ راست بازوں نے اپنے دیں۔ تا توحید کی حقیقت حزن و غم سے دست کش بخشے اور آفات سے محفو

(خاکسار

ملفوف نمبر ١١٩

مخدومی مکرمی اخویم من عنایت نامہ بخشے اور آپ سے راضی ہے کہ ماہ رمضان آپ بچے ایسے ضعیف و کمزور لوگ اس جگہ کچھ قرابت اس لئے اکیلا سفر کرنا نو والدین کے پاس چھوڑ ڈال دیا۔ اب مجھے ایک پاس رہوں اور اسی جگہ پہاڑ کا سفر کرنا مشکل او

صفحہ ٦٣٣

حبا للہ ۔ یعنی ایمانداروں کا کامل دوست خدا ہی ہوتا ہے۔ پس جس حالت میں انسان پر خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کا حق نہیں۔ تو اس لئے خالص دوستی محض خدا تعالیٰ کا حق ہے۔ صوفیاء کو اس میں اختلاف ہے۔ کہ جو مثلاً غیر سے اپنی محبت کو عشق تک پہنچاتا ہے اس کی نسبت کیا حکم ہے۔ اکثر یہی کہتے ہیں کہ اس کی حالت حکم کفر کا رکھتی ہے۔ (کفر کی ایک حقیقت) گو احکام کفر کے اس پر صادر نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ بباعث بے اختیاری مرفوع القلم ہے۔ تاہم اس کی حالت کافر کی صورت میں ہے۔ کیونکہ عشق اور محبت کا حق اللہ جل شانہ کا ہے اور وہ بد دیانتی کی راہ سے خدا تعالیٰ کا حق دوسرے کو دیتا ہے اور یہ ایک ایسی صورت ہے جس میں دین و دنیا دونوں کے وبال کا خطرہ ہے۔ راست بازوں نے اپنے پیارے بیٹوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ اپنی جانیں خدا تعالیٰ کی راہ میں دیں۔ تا توحید کی حقیقت انہیں حاصل ہو۔ سو میں آپ کو خالصاً للہ نصیحت دیتا ہوں ۔ کہ آپ اس حزن و غم سے دست کش ہو جائیں اور اپنے محبوب حقیقی کی طرف رجوع کریں۔ تا وہ آپ کو برکت بخشے اور آفات سے محفوظ رکھے۔ والسلام!

(خاکسار غلام احمد از قادیان یکم مارچ ١٨٨٨ء)....... (مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٧٥، ٧٦)

ملفوف نمبر ١١٩

مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

عنایت نامہ پہنچا۔ موجب خوشی ہوا۔ اللہ جل شانہ آپ کو اس اخلاص اور محبت کا اجر بخشے اور آپ سے راضی ہو اور راضی کرے۔ آمین ثم آمین ۔ حال یہ ہے کہ یہ عاجز خود آرزو خواں ہے کہ ماہ رمضان آپ کے پاس بسر کرے۔ لیکن نہایت دقت درپیش ہے کہ آج کل میرے دونوں بچے ایسے ضعیف و کمزور ہورہے ہیں کہ ہفتہ میں ایک دو دفعہ بیمار ہو جاتے ہیں اور میرے گھر کے لوگ اس جگہ کچھ قرابت نہیں رکھتے اور ہمارے کنبہ والوں سے کوئی ان کا غمخوار اور انیس نہیں ہے۔ اس لئے اکیلا سفر کرنا نہایت دشوار ہے۔ میں نے تجویز کی تھی کہ ان کو انبالہ چھاؤنی میں ان کے والدین کے پاس چھوڑ آؤں۔ مگر ان کے والدین نے اس بات کو چند وجوہ کے سبب سے تاخیر میں ڈال دیا۔ اب مجھے ایک طرف یہ شوق بھی نہایت درجہ ہے کہ ایک دو ماہ تک ایام گرمی میں آپ کے پاس رہوں اور اسی جگہ رمضان کے دن بسر کروں اور ایک طرف یہ موانع درپیش ہیں اور معہ عیال پہاڑ کا سفر کرنا مشکل اور صرف کثیر پر موقوف ہے۔ مستورات کا پہاڑ پر بغیر ڈولی کے جانا مشکل اور

٤٥

صفحہ ٦٣٤

ان کے ہمراہی کی ضرورت جسے اپنے لئے ایک ڈولی چاہئے اور چھ سات خادم اور خادمہ کے ساتھ ساتھ پہنچ جانے کے لئے بھی کچھ بندوبست چاہئے۔ سو اس سفر کے آمدورفت میں صرف کرایہ کا خرچہ شاید کم سے کم سو روپیہ ہوگا اور اس موقع ضرورت روپیہ میں اس قدر خرچہ کر دینا قابل تامل ہے۔ البتہ کوشش اور خیال میں ہوں کہ اگر موانع رفع ہو جائیں تو بلا توقف آپ کے پاس پہنچ جاؤں اور میں نے ان موانع کے رفع کرنے کے لئے حال میں بہت کوشش کی۔ مگر ابھی تک کچھ کارگر نہیں ہوئی۔ والسلام! (خاکسار غلام احمد از قادیان)....... (مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٧٦، ٧٧)

نوٹ : اس خط پر تاریخ درج نہیں۔ (عرفانی)

پوسٹ کارڈ نمبر ١٢١

مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! عنایت نامہ پہنچا اور اس کے ساتھ ایک اور خط پہنچا جو ٢٧/ جنوری ١٨٨٨ء کا لکھا ہوا تھا۔ تعجب کہ دو ماہ تک یہ خط کہاں رہا۔ مکلف ہوں کہ بیس روپیہ جو آپ بھیجنے کو کہتے ہیں۔ وہ آپ جلد بھیج دیں۔ کہ یہاں ضرورت ہے۔ ہر چند دل میں خواہش ہے۔ مگر ابھی تک اس طرف ان کے آثار ظاہر نہیں ہوئے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ تک پہنچانا ہے تو آثار ظاہر ہو جائیں گے۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام! (خاکسار غلام احمد از قادیان ٢/ اپریل ١٨٨٨ء)

(مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٧٩)

پوسٹ کارڈ نمبر ١٢٢

مکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! آپ کی ڈاک میں عنایت نامہ پہنچا۔ مفصل خط علیحدہ لکھا گیا ہے۔ میں آپ کے لئے انشاء اللہ بہت دعا کرتا رہوں گا اور یقین رکھتا ہوں کہ اثر ہو۔ اگر براہین احمدیہ کا کوئی شائق خریدار ہے تو آپ کو اختیار ہے کہ قیمت لے کر دیدیں۔ مگر ارسال قیمت کا محصول ان کے ذمہ رہے۔ اخروٹ اب تک نہیں پہنچے۔ شاید دو چار دن تک پہنچ جائیں اور اگر کوئی سبیل پہنچانے کا ہوا ہو۔ تو کسی قدر چاء بے شک بھیج دیں۔ کہ مہمانوں کی خدمت میں کام آجائے گا۔ بشیر احمد اچھا ہے۔ والسلام! (خاکسار غلام احمد از قادیان ٢/ مارچ ١٨٨٨ء)

(مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٨٠)

پوسٹ کارڈ نمبر ١٢٦

مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! ٤٦

صفحہ ٦٣٥

یہ عاجز اخیر رمضان تک اس جگہ بٹالہ میں ہے۔ غالباً عید پڑھنے کے بعد قادیان میں جاؤں گا۔ چاول مرسلہ آپ کے نہیں پہنچے۔ معلوم نہیں آپ نے کس کے ہاتھ بھیجے تھے اور چونکہ اس جگہ خرچ کی ضرورت ہے۔ اگر خریدار براہین احمدیہ سے دس روپیہ وصول ہو گئے ہوں۔ تو وہ اسی جگہ ارسال فرماویں۔ والسلام! (خاکسار غلام احمد ٥ جون ١٨٨٨ء)

(مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ٨٢، ٨٣)

پوسٹ کارڈ نمبر ١٧٨

مشفقی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! چونکہ ٢٧؍ دسمبر ١٨٩١ء کو قادیان میں علماء مکذبین کے فیصلے کے لئے ایک جلسہ ہوگا۔ انشاء اللہ القدیر کثیر احباب اس جلسہ میں حاضر ہوں گے۔ لہٰذا مکلف ہوں کہ آپ بھی براہ عنایت ضرور تشریف لاویں۔ آتے ہوئے چار آنے کے پان ضرور لیتے آویں۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام! (خاکسار غلام احمد از قادیان)

نوٹ: اس خط پر بندہ محمد اسماعیل السلام علیکم بھی درج ہے۔ یہ مرزا محمد اسماعیل کی طرف سے ہے۔ اس پر کوئی تاریخ درج نہیں ہے۔ مہر سے معلوم ہوتا ہے کہ ٢٢؍ دسمبر ١٨٩١ء کو ڈاک میں ڈالا گیا ہے اور لاہوری مہر ٣٠؍ دسمبر ١٨٩١ء کی ہے۔ یہ سب سے پہلے جلسہ کی اطلاع ہے اور اب جیسا کہ حضرت اقدس نے اس جلسہ کے اعلان میں ظاہر فرمایا تھا۔ وہی جلسہ برابر انہیں تاریخوں پر ہوتا چلا آ رہا ہے۔ گویا اب تک ٣٧ سالانہ جلسے ہو چکے ہیں۔ سلسلہ کی ابتدائی تاریخ اور حضرت اقدس کی اس وقت کی مصروفیت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ کہ آپ ہی سب کام اپنے ہاتھ سے کرتے تھے۔ (عرفانی)

(مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ١١٢، ١١٣)

پوسٹ کارڈ نمبر ١٨٨

مکرمی اخویم منشی صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ضرور دو شطرنجی اور ایک قالین ساتھ لاویں۔ ٢٥؍ دسمبر ١٨٩١ء

(مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ١١٣)

پوسٹ کارڈ نمبر ١٧٩

مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ کے برادر زادہ کی خبر وفات سن کر بہت رنج و اندوہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ اس کے تمام

٤٧

صفحہ ٦٣٦

عزیزوں کو صبر عطا فرماوے اور اس مرحوم کو غریق رحمت کرے۔ اب تاریخ جلسہ ٢٧؍ دسمبر ١٨٩٢ء بہت نزدیک آگئی ہے۔ آپ کا شامل ہونا بہت ضروری ہے۔ ماسواء اس کے انتظار دو تین شطرنجی اور قالین کا اگر ہوسکے۔ تو ضرور کرلیں۔ یہ تو پہلے آجانی چاہئیں۔ اگر آپ دو روز پہلے ہی تشریف لاویں تو مناسب ہے۔ والسلام! (خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب، ١٦؍ ارودسمبر ١٨٩٢ء)

(مکتوبات نمبر ٣ ج ٥ ص ١١٨)

پوسٹ کارڈ نمبر ٢١١

مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ نے جو کوٹ کپڑا بنوانے کے لئے لکھا تھا۔ میرے خیال میں سب سے بہتر یہ ہے کہ آپ ایک لحاف مہمانوں کی نیت سے بنوادیں کہ مہمانوں کے لئے اکثر لحافوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام! (خاکسار غلام احمد از قادیان)

(مکتوبات ج ٥ نمبر ٣ ص ١٢٥)

ملفوف نمبر ٢١٢

مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محبت نامہ پہنچا۔ امید کہ انشاء اللہ القدیر آپ کی معافی سواری کے لئے دعا کرونگا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس تکلیف سے بھی نجات بخشے۔ مگر میں دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جو مبلغ ٢٠ روپیہ آپ نے بھیجے ہیں۔ کیا عرب صاحب کے چندہ میں ہیں۔ یا میرے کاروبار کے لئے۔ کیونکہ میں نے سنا ہے تھا کہ آپ نے ٢٠ روپیہ چندہ کے لئے تجویز کئے ہیں۔ اس سے اطلاع بخشیں۔ والسلام! (خاکسار غلام احمد قادیان، ١٠؍ مارچ ١٨٩٤ء)

ملفوف نمبر ٢١٧

مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! عنایت نامہ مع کارڈ پہنچا۔ اب تو چند روز پیشگوئی میں رہ گئے ہیں۔ دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو امتحان سے بچاوے۔ شخص معلوم فیروز پور میں ہے اور تندرست اور فربہ ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے ضعیف بندوں کو ابتلا سے بچاوے۔ آمین ثم آمین۔ باقی خیریت ہے۔ مولوی صاحب کو بھی لکھیں کہ اس دعا میں شریک رہیں۔ والسلام! (خاکسار غلام احمد از قادیان۔ ٢٢؍ اگست ١٨٩٤ء)

٤٨

صفحہ ٦٣٧

نوٹ: یہ آتھم کی پیشگوئی کے متعلق ہے۔ حضرت اقدس کا ایمان خدا تعالیٰ کی بے نیازی اور استغناء ذاتی پر قابل رشک ہے۔ آپ کو مخلوق کے ابتلا کا خیال ہے۔ (عرفانی)

ملفوف نمبر ٢٢٧

مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! عنایت نامہ پہنچا۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب معہ چند دیگر مہمانان تشریف لے آئے ہیں۔ امید کہ آپ بھی ضرور جلد تشریف لے آویں اور آتے وقت کسی سے بطور رعایت دو قالین اور دو شطرنجی لے آویں۔ کہ نہایت ضرورت ہے اور ٤؎ کے پان لے آویں۔ قالین اور شطرنجی والے سے کہہ دیں کہ صرف تین چار روز تک ان چیزوں کی ضرورت ہوگی اور پھر ساتھ واپس لے آویں گے۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام!

(خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ١٩؍دسمبر ١٨٩٤ء)......(مکتوبات نمبر ٣ ج ٥ ص ١٣٣)

(روایت نمبر ١٥٥) ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے سل دق کے مریض کے لئے ایک گولی بنائی تھی۔ اس میں کونین اور کافور کے علاوہ افیون۔ بھنگ اور دھتورہ وغیرہ زہریلی ادویہ بھی داخل کی تھیں اور فرمایا کرتے تھے کہ دوا کے طور پر علاج کے لئے اور جان بچانے کے لئے ممنوع چیز بھی جائز ہو جاتی ہے۔

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١١١)

(از مرتب۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی ایک سنیاسی دواساز اور نیم حکیم تھے جو لوگوں کو بھنگ، افیون، دھتورہ جیسی زہریلی اور شرعاً حرام چیزیں استعمال کراتے تھے۔ کیا نبیوں کا یہ کام ہوتا ہے؟)

مومی بتوں کی نمائش

(روایت نمبر ٥٣٩) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ سفر ملتان کے دوران میں حضرت صاحب (مرزا قادیانی) ایک رات لاہور میں شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کے ہاں بطور مہمان ٹھہرے تھے۔ ان دنوں لاہور میں ایک کمپنی آئی ہوئی تھی۔ اس میں قد آدم موم کے بنے ہوئے مجسمے تھے۔ جن میں بعض پرانے زمانہ کے تاریخی بت تھے اور بعض میں انسانی جسم کے اندرونی اعضاء طبعی رنگ میں دکھائے گئے۔ شیخ صاحب مرحوم حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کو

٤٩

صفحہ ٦٣٨

اور چند احباب کو وہاں لے گئے اور حضور نے وہاں پھر کر تمام نمائش دیکھی۔

(سیرت المہدی حصہ سوم ص ٣٨)

از مرتب۔ بتوں کے اندرونی اعضاء (پوشیدہ حصوں) کی زیارت فرمائی جارہی ہے۔ واہ نبی جی! بہ یک وقت سنیاسی نیم حکیم دوا ساز اور ڈاکٹری سرجری کا کورس کرنے کے لئے موم کے مجسموں کے پوشیدہ حصے بھی دیکھنے سے گریز نہیں کیا۔

گورہ پولیس کے جلو میں

(روایت نمبر ٩٣١) میاں معراج الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا ۔ کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ایک مقدمہ فوجداری کی جوابدہی کے لئے جہلم کو جارہے تھے۔ یہ مقدمہ کرم دین نے حضور اور حکیم فضل الدین صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب کے خلاف توہین کے متعلق کیا ہوا تھا۔ اس سفر کی مکمل کیفیت تو بہت طول چاہتی ہے۔ میں صرف ایک چھوٹی سی لطیف بات عرض کرتا ہوں۔ جس کو بہت کم دوستوں نے دیکھا ہوگا۔

جب حضور لاہور ریلوے سٹیشن پر گاڑی میں پہنچے تو آپ کی زیارت کے لئے اس کثرت سے لوگ جمع تھے۔ جس کا اندازہ محال ہے کیونکہ نہ صرف پلیٹ فارم بلکہ باہر کا میدان بھی بھرا پڑا تھا اور لوگ نہایت منتوں سے دوسروں کی خدمت میں عرض کرتے تھے کہ ہمیں ذرا چہرہ کی زیارت اور درشن تو کر لینے دو۔ اس اثناء میں ایک شخص جن کا نام منشی احمد الدین صاحب ہے۔ (جو گورنمنٹ کے پنشنر ہیں اور اب تک بفضلہ زندہ موجود ہیں اور ان کی عمر اس وقت دو تین سال کم ایک سو برس کی ہے لیکن قوی اب تک اچھے ہیں اور احمدی ہیں) آگے آئے جس کھڑکی میں حضور بیٹھے ہوئے تھے وہاں گورہ پولیس کا پہرہ تھا اور ایک سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت کا ایک افسر اس کھڑکی کے عین سامنے کھڑا نگرانی کر رہا تھا۔ کہ اتنے میں جرأت سے بڑھ کر منشی احمد الدین صاحب نے حضور سے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ یہ دیکھ کر فوراً اس پولیس افسر نے اپنی تلوار کو الٹے رخ پر اس کی کلائی پر رکھ کر کہا کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔ اس نے کہا میں ان کا مرید ہوں اور مصافحہ کرنا چاہتا ہوں۔ اس افسر نے جواب دیا کہ اس وقت ہم ان کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں ہم اس لئے ساتھ ہیں کہ بٹالہ سے جہلم اور جہلم سے بٹالہ تک بحفاظت تمام ان کو واپس پہنچادیں۔ ہمیں کیا معلوم ہے کہ تم دوست ہو یا دشمن۔ ممکن ہے کہ تم اس بھیس میں کوئی حملہ کر دو اور نقصان پہنچاؤ۔ پس یہاں سے فوراً چلے جاؤ۔ یہ واقعہ حضرت صاحب کی نظر سے ذرا ہٹ کر ہوا تھا کیونکہ آپ اور طرف مصروف تھے اس کے بعد راستہ میں آپ کی خدمت میں یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ میں بھی اس سفر میں آنحضور کے

٥٠

صفحہ ٦٣٩

قدموں میں تھا حضور ہنس کر فرمانے لگے۔ کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا انتظام ہے۔ جو اپنے وعدوں کو پورا کر رہا ہے۔

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٨٩)

از مرتب۔ گورہ پولیس کا پہرہ کیوں نہ ہو جبکہ انگریزوں کا خود کاشتہ نبی تھا جس کی کوئی قیمتی چیز ہوتی ہے وہی اس کی حفاظت کرتا ہو۔ اے ہمارے سیدھے سادھے مرزائیو! سوچو اور پھر سوچو کیا اللہ کے سچے نبیوں کی گورا پولیس حفاظت کیا کرتی ہے؟

مغرب وعشاء اکٹھی

(روایت نمبر ٨٥١) مائی کاکو نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے بھائی خیر دین کی بیوی نے مجھ سے کہا کہ شام کا وقت گھر میں بڑے کام کا وقت ہوتا ہے اور مغرب کی نماز عموماً قضا ہو جاتی ہے تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کرو کہ ہم کیا کیا کریں۔ میں نے حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ گھر میں کھانے وغیرہ کے انتظام میں مغرب کی نماز قضا ہو جاتی ہے۔ اس کے متعلق کیا حکم ہے۔ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) نے فرمایا۔ میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا اور فرمایا کہ صبح وشام کا وقت خاص طور پر برکات کے نزول کا وقت ہوتا ہے اور اس وقت فرشتوں کا پہرہ بدلتا ہے۔ ایسے وقت کی برکات سے اپنے آپ کو محروم نہیں کرنا چاہئے۔ ہاں کبھی مجبور ہو تو عشاء کی نماز سے ملا کر مغرب کی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ مائی کاکو نے بیان کیا کہ اس وقت سے ہمارے گھر میں کسی نے مغرب کی نماز قضا نہیں کی اور ہمارے گھروں میں یہ طریق عام طور پر رائج ہو گیا ہے کہ شام کا کھانا مغرب سے پہلے ہی کھا لیتے ہیں تاکہ مغرب کی نماز صحیح وقت پر ادا کرسکیں۔

(سیرت المہدی حصہ سوم ص ٢٣٥)

(از مرتب۔ کسی مجبوری کی وجہ سے بھی مغرب اور عشاء کی نماز جمع کر کے پڑھنے کا کوئی مسئلہ نہیں بہر حال نماز کا وقت گزرنے کے بعد جو نماز پڑھی جائیگی وہ قضاء ہی ہوگی۔)

دوفرشتے اور دو شیریں روٹیاں

(روایت نمبر ٨٨٥) ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ڈاکٹر عبداللہ صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں نے ایک دن حضرت مسیح علیہ السلام (مرزا قادیانی) سے دریافت کیا کہ کبھی حضور نے فرشتے بھی دیکھے ہیں۔ اس وقت حضور بعد نماز مغرب مسجد مبارک کی چھت پر شہ نشیں کی بائیں جانب کے مینار کے قریب بیٹھے تھے۔ فرمایا کہ اس مینار کے سامنے دو فرشتے میرے سامنے آئے۔ جن کے پاس دو شیریں روٹیاں تھیں اور وہ روٹیاں انہوں نے مجھے دیں اور کہا کہ ایک تمہارے لئے ہے اور دوسری تمہارے مریدوں کے لئے ہے۔

٥١

صفحہ ٦٤٠

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کا یہ رؤیا چھپ چکا ہے۔ مگر الفاظ کا کچھ اختلاف ہے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مکرم ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب اس وقت جو جنوری ١٩٣٩ء میں وفات پا چکے ہیں اور جن ڈاکٹر عبداللہ صاحب کا اس روایت میں ذکر ہے اس سے شیخ محمد عبداللہ نو مسلم مراد ہیں۔ جو افسوس ہے کہ کچھ عرصہ سے بیعت خلافت سے منحرف ہیں۔

(سیرت المہدی حصہ سوم ص ٢٦٣)

(از مرتب۔ بالکل درست، بناسپتی نبی کو دو میٹھی روٹیاں ہی نظر آنی چاہئیں۔ اندھے کو کیا چاہئے؟ دو آنکھیں جب یہ سب حیلے بہانے نبی، رسول، مہدی مسعود، مسیح موعود، اور جانے خدا کیا کیا کچھ بنا تو فرشتے بھی روٹیاں بردار خانساماں جیسے ہی حصہ میں آئیں گے۔ نیز جب ہی تو روایت کرنے والے شیخ محمد عبداللہ صاحب نے یہ من گھڑت فرشتوں اور روٹیوں والا قصہ سن کر فوراً توبہ کر لی اور جھوٹے نبی کی نبوت سے برأت کا اظہار کر دیا۔

حاشیہ جات

نمازیں اکٹھی پڑھی جا رہی ہیں۔ ناقل!

لوگوں کی اصلاح و درستگی میں۔ ناقل!

کرتے تھے کہ بقول ہمارے مخالفین کے جب مسیح آئیگا اور لوگ اس کو ملنے کے لئے اس کے گھر پر جائیں گے تو گھر والے کہیں گے کہ مسیح صاحب باہر جنگل میں سور مارنے کے لئے گئے ہیں۔ پھر وہ لوگ حیران ہو کر کہیں گے کہ یہ کیسا مسیح ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لئے آیا ہے اور باہر سوروں کا شکار کھیلتا پھر رہا ہے۔ (لو آج اپنے دام میں صیاد آ گیا۔ ناقل)

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢٩٢ بروایت نمبر ٩٤٦)

از ناقل!

٥٢