ختم نبوت کے محافظ · محمد طاہر رزاق
Khatm-e-Nubuwwat kay Muhafiz · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

ختم نبوت کے محافظ

تحقیق وتدوین محمد طاہر رزاق

PDF 2

تاریخ

تحفظ ختم نبوت

سیریز 10

ختم نبوت کے محافظ

ترتیب و تحقیق

محمد طاہر رزاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 3

انتساب

نگاہ بلند
سخن دلنواز
جاں پرسوز

تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت کی صحافت کے میر کارواں

جناب حامد میر

کے نام

جن کے ”اوصاف“ نے قادیانیت کا ایسا محاسبہ کیا ......کہ مولانا ظفر علی خاںؒ اور زمیندار کی یاد تازہ ہو گئی۔

PDF 4

آئینہ مضامین

جب بارہ سو صحابہ کرام ختم نبوت پر نچھاور ہو گئے—— (محمد طاہر رزاق) 9 حرف اولیں—— (حضرت مولانا محمد اجمل خان) 14 حقیقت قادیانیت—— (الحاج محمد نذیر مغل) 16 حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی مولانا محمد علی جالندھریؒ کو نصیحت 18 قادیان میں شاہ جی کی گرج 23 1953ء کی تحریک ختم نبوت—— جب شمع ختم نبوت کے پروانوں نے 24 قطار در قطار اپنے سینے پیش کیے میں قادیانی ہونے سے کیسے بچا؟ 26 جیل کی یادیں—— کمانڈر انچیف کی تلاش 31 قاضی صاحب کی حاضر جوابی 32 مولانا تاج محمودؒ—— چند باتیں 33 افریقی ملک گھانا میں قادیانیوں کی سرگرمیاں 37 ظالم مرزا 42 آہ! سائیں محمد حیات پسوریؒ 43 ایک مجاہد ختم نبوت کی للکار—— میرے اعتراضات پر قادیانی سربراہ 45

PDF 5

کا نمائندہ غلام احمد بے ہوش ہو گیا

اتحاد امت 49

اپنی اپنی فکر 50

ایک بچے کا عشق رسولؐ 51

قادیانیوں پر لعنتوں کی بارش نے آگ بجھا دی—— ایک عجیب واقعہ 51

قادیانی پر لعنت ہزار بار 52

حق کی عظیم فتح 52

مفتی محمد صادقؒ کا عشق 56

قبولیت چیلنج مباہلہ 57

ہجرت یا جان بچانے کے لیے راہ فرار 64

قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کا خلوص 70

مرزا نامراد کا حسرت ناک انجام 72

حکم نبویؐ 78

مولانا ہزارویؒ کے سفر آخرت کے واقعات اور ان کا آنکھوں دیکھا حال 79

قادیانی مردہ عذاب شدید کی آہنی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا—— 87

چک 327 ایچ۔ آر مروٹ سے مردہ اکھاڑ دیا گیا—— حالت دیدنی تھی

برصغیر کا شہرہ آفاق تاریخی مقدمہ بہاولپور 88

علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا دورہ بہاولپور 96

اللہ نے مجھے قادیانی ہونے سے بچالیا 98

امیر شریعتؒ تلاوت کر رہے تھے—— پرندے خاموش اور سانپ 100

جھوم رہے تھے

انکار 102

نبوت کے لب 102

PDF 6

نمک حرام 102 حفیظ جالندھری کی باتیں 103 رہبر کامل سید بنوریؒ 106 وہ لوگ کتنے بہادر تھے! 109 امریکہ میں قادیانی فتنہ اور اس کا بھرپور تعاقب 111 مولانا اصغر علی روحی اور رد قادیانیت 116 اور قاضی نذیر قادیانی کا پیشاب نکل گیا 122 حضرت شیخ بنوریؒ کی خدمات 126 حکومت اور قادیانیت نوازی 127 ایک مناظرہ جو ہو نہ سکا۔۔۔ تماشائیوں نے مسلمانوں کے 129 حق میں فیصلہ دے دیا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے آخری لمحات 132 میں نے مرزا قادیانی کو چوہڑے کی شکل میں دیکھا 133 مولانا تاج محمودؒ کی اخلاقی عظمت 137 اقبال اور قادیانیت 142 چیلنج 157 لاؤڈ سپیکر بند ہو گیا 157 اور قادیانی بھاگ گئے 158 تحریر میں تقریر میں طوفان تھا شورشؒ 159 مولانا عبداللہ معمارؒ اور تحفظ ختم نبوت 166 مولانا محمد علی صدیقیؒ کا جیل سے خط 169 مولانا مودودیؒ اور تحریک ختم نبوت کی یادیں 171 مرزا قادیانی کی عقل 172

PDF 7

وہ کسر نفسی ثابت نہ کر سکا 173 مرزا غلام احمد قادیانی نے جب لدھیانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا—— 175 جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیسے ہوا—— تاریخی حقائق آغا بابر کی یادیں 179 اتحاد امت کا ایک منظر 184 مولانا محمد علی مونگیریؒ کی قادیانیت کے خلاف علمی و عملی جدوجہد 184 آٹو گراف 184 مولانا لال حسین اختر کا مرزائیت سے تائب ہونے کا واقعہ 185 قلم انور شاہؒ کی کٹ 187 بہاولنگر میں مرزائیت کا احتساب 188 منظور ہے اس کے غلاموں کی غلامی 189 ختم نبوت کی غم خواری 189 مولانا احمد علی لاہوریؒ —— ایمان پرور یادیں 192 حضرت لاہوریؒ کی کرامت 192 حضرت لاہوریؒ اور مولانا عبد الستار خان نیازی 193 تحریک ختم نبوت میں سرکاری ملازمین کا روشن کردار 194 عزم بالجزم 194 بپھرا ہوا شیر 195 لاجواب 199 رتبہ بلند 200 درد دل 201 خون سے دستخط 201

صفحہ ٨

حرفِ سپاس

ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک‘ جناب محمد متین خالد‘ جناب محمد صدیق شاہ بخاری‘ جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری‘ جناب طارق اسماعیل ساگر‘ جناب حافظ شفیق الرحمٰن‘ جناب عبدالرؤف روفی‘ جناب ممتاز اعوان‘ جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہر دم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصۂ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)

میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ‘ خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ‘ فقیہ العصر مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ‘ نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ‘ فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ‘ جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ‘ سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی مدظلہ‘ پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ‘ میر صحافت ختم نبوت جناب حامد میر مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ‘ متکلم ختم نبوت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ‘ محبّ ختم نبوت جناب جاوید مغل مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت جناب طارق مغل‘ مجاہد ختم نبوت جناب جمشید مغل مدظلہ‘ وکیل ختم نبوت جناب سید محمد کفیل شاہ بخاری مدظلہ کا‘ جن کی سرپرستی کا سحاب مکرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔ (آمین ثم آمین)

محمد طاہر رزاق

صفحہ ٩

جب بارہ سو صحابہ کرامؓ

ختم نبوت پر نچھاور ہو گئے

یہ صدیق اکبرؓ کا عہد خلافت ہے۔۔۔ یمامہ کے میدان میں بارہ سو صحابہؓ کرام کی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔۔۔ کسی کا سر تن سے جدا ہے۔۔۔ کسی کا سینہ چرا ہوا ہے۔۔۔ کسی کا پیٹ چاک ہے۔۔۔ کسی کی آنکھیں نکلی ہوئی ہیں۔۔۔ کسی کی ٹانگ نہیں ہے۔۔۔ کسی کا ہاتھ نہیں ہے۔۔۔ کسی کا بازو کندھوں سے جدا ہے۔۔۔ کسی کی ٹانگ جسم سے الگ پڑی ہے اور کسی کا جسد ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔۔۔ یہ بارہ سو صحابہؓ اپنے خون میں نہا کر یمامہ کے میدان میں اس شان سے چمک رہے ہیں کہ چرخ نیلوفری پہ چمکنے والے ستارے انہیں دیکھ کر رشک کر رہے ہیں۔۔۔ یوں محسوس ہو رہا ہے۔۔۔ کہ آسمانی ہدایت سے ایک کہکشاں زمین پہ اتر آئی ہے۔۔۔

یہ کون لوگ ہیں؟

اہل دنیا! یہ وہ لوگ ہیں۔۔۔ جنہیں اللہ کے نبی جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آغوش نبوت لے کر پروان چڑھایا۔۔۔ جو مکتب نبوت محمدیہؐ کے فارغ التحصیل تھے۔۔۔ جن کے سینوں میں ایمان اور قرآن خود رسول خاتم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتارا تھا۔۔۔ جنہیں اس دنیا میں ہی رب العزت نے جنت کے سرٹیفکیٹ جاری کر دیئے تھے۔۔۔ جو اس مرتبے کے مالک ہیں کہ آج کی پوری امت مل کر بھی ان میں سے کسی ایک کے برابر بھی نہیں ہو سکتی۔۔۔!!!

یہ شہداء جو شہادت کی سرخ قبا پہنے استراحت فرما رہے ہیں۔۔۔ ان میں سے سات سو حفاظ قرآن ہیں۔۔۔ ستر بدری صحابہؓ ہیں جو کفر و اسلام کے پہلے معرکہ ”غزوۂ بدر“ میں اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لے کر رسولؐ کے پرچم تلے میدان بدر میں

صفحہ ١٠

اترے تھےـــــ اہل دنیا! یہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کے پھول تھے جو یمامہ کے میدان میں مسلے گئےـــــ یہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی کے موتی تھے جو یمامہ کے میدان میں رل گئےـــــ یہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پچھلی راتوں کے آنسو تھے جو خاک یمامہ میں جذب ہو گئےـــــ

اے افراد ملت اسلامیہ! ان عظیم ہستیوں نے کس مسئلہ کے لیے پردیس میں جا کر اپنی جانیں نچھاور کیں؟

کس مسئلہ کے لیے انہوں نے اپنی شمشیروں کو بے نیام کیا اور گھوڑوں پر بیٹھ کر بجلی کی سرعت سے یمامہ کی طرف لپک گئے؟

ہائے افسوس! صد افسوســـــ وہ مسئلہ جسے آج ہم نے منبر و محراب سے نکال دیا ہےـــــ جو ہمارے دینی مدارس کے نصاب میں شامل نہیں ہےـــــ جو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھایا نہیں جاتاـــــ

یعنی ”مسئلہ ختم نبوت“

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت سے لے کر وصال نبویؐ تک تیئیس سال کے لگ بھگ جو عرصہ بنتا ہے، اس میں جتنے غزوات ہوئےـــــ جتنی جنگیں ہوئیںـــــ جتنے تبلیغی وفود دھوکہ سے شہید کیے گئےـــــ اور کفار کے مظالم سے جو صحابہ کرامؓ شہید ہوتے رہے ان کی کل تعداد 259 ہے یعنی پورے دور نبوی میں پورے اسلام کے لیے جو کل صحابہ شہید ہوئے ان کی تعداد 259 اور صرف مسئلہ ختم نبوت کے لیے جو صحابہؓ شہید ہوئے ان کی تعداد بارہ سو ہےـــــ جن میں سے سات سو حفاظ قرآن ہیںـــــ!!!

جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے پاس چالیس ہزار جنگجوؤں کا لشکر تھاـــــ مال و دولت کے بھی ڈھیر تھےـــــ ادھر مسلمان وصال نبویؐ کے غم سے نڈھال تھےـــــ طرح طرح کے فتنے کھڑے ہو گئے تھےـــــ حالات انتہائی نامساعد تھےـــــ مدینہ منورہ کی نوزائیدہ ریاست کو ہر طرف سے خطرہ تھاـــــ لیکن سیدنا صدیق اکبرؓ نے تخت ختم نبوت اور تاج ختم نبوت پر ڈاکہ زنی کو برداشت نہ کیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صدیقؓ تو زندہ ہو اور اس کے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی مسند

صفحہ ١١

نبوت پر کوئی بدطینت بیٹھنے کی ناپاک جسارت کرے۔۔۔!!!

یار غار نے خطرناک حالات کی بالکل پرواہ نہ کی اور مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کے لیے پہلا لشکر حضرت شرحبیلؓ کی قیادت میں روانہ کیا لیکن مسیلمہ کذاب نے اس لشکر کو شکست دی۔۔۔ دوسرا لشکر حضرت عکرمہؓ بن ابی جہل کی قیادت میں روانہ کیا لیکن مسیلمہ کذاب کی فوج نے اس لشکر کو بھی شکست دی۔ فولادی عزم کے مالک جناب صدیق اکبرؓ نے ہمت نہ ہاری۔ حضرت شرحبیلؓ اور حضرت عکرمہؓ دونوں کو ہدایت جاری کی کہ مدینہ لوٹ کر مت آنا۔ تمہارے آنے سے بددلی پھیلے گی۔ تم دونوں وہیں پہ انتظار کرو۔ میں تمہاری مدد کے لیے سیف اللہ خالدؓ بن ولید کے لشکر کو روانہ کر رہا ہوں۔ سیدنا خالدؓ بن ولید یمامہ پہنچتے ہیں اور مسلمانوں کا لشکر مسیلمہ کے لشکر کے سامنے صف آراء ہوتا ہے۔ اہل یمامہ بڑی بہادری سے جم کر لڑتے ہیں۔ دونوں طرف سے گھمسان کی جنگ ہوتی ہے اور انسانی جسم گاجر مولی کی طرح کٹ کٹ کر زمین پر گرتے ہیں۔ مسلمان بڑی جانثاری سے لڑتے ہیں لیکن مسیلمی لشکر سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہے۔ آخر حضرت خالد بن ولیدؓ میدان جنگ میں کھڑے مسیلمہ کذاب کو دیکھ کر عقاب کی طرح اس کی طرف لپکتے ہیں اور ساتھیوں کے ساتھ یکبارگی زبردست حملہ کرتے ہیں جس سے مسیلمیوں کے قدم اکھڑ جاتے ہیں۔ مسلمان شیروں کی طرح دھاڑتے ہوئے مسیلمہ کذاب کی فوج پر پل پڑتے ہیں اور انہیں تیزی سے قتل کرنے لگتے ہیں۔ اللہ پاک مسلمانوں کو فتح عطا کرتے ہیں۔ مسیلمہ کذاب کے چالیس ہزار لشکر میں سے ستائیس ہزار سپاہی میدان جنگ میں مارے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ہی مسیلمہ کذاب بھی جہنم واصل ہو جاتا ہے اور اس کی جھوٹی نبوت بھی مجاہدین ختم نبوت کے ہاتھوں میدان یمامہ میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتی ہے لیکن اس جنگ میں مسلمانوں کا بھی ایسا نقصان ہوتا ہے جو اس سے قبل اسلامی تاریخ میں کبھی نہ ہوا تھا۔۔۔ بارہ سو صحابہؓ کرام نے خود کو خاک و خون میں تڑپا دیا لیکن جھوٹی نبوت کے وجود کو برداشت نہ کیا۔ انہوں نے اپنی بیویوں کو بیوہ کر لیا‘ اپنے لاڈلے بچوں کو داغ یتیمی دے دیا۔ بوڑھے والدین کے بڑھاپے کی لاٹھیوں کو توڑ دیا۔ اپنے پیارے وطن مدینہ منورہ کو خیر باد کہہ دیا۔ مسجد نبویؐ اور روضہ رسولؐ سے جدائی

صفحہ ١٢

برداشت کر لی لیکن ان کی غیرت جھوٹی نبوت کو برداشت نہ کر سکی۔

مسلمانو! صحابہؓ کے عہد کا جھوٹا مدعی نبوت مسیلمہ کذاب تھا اور ہمارے عہد کا جھوٹا مدعی نبوت مرزا قادیانی ہے۔ جتنے خطرناک مسیلمہ کے پیروکار تھے، اس سے کہیں زیادہ خطرناک مرزا قادیانی کے پیروکار ہیں۔ مرزا قادیانی اور اس کی شیطانی جماعت کا کفر و ارتداد مسیلمہ کذاب اور اس کی ابلیسی پارٹی سے زیادہ موذی ہے۔

آج جب میں کسی مسلمان کو قادیانی سے ہاتھ ملاتے دیکھتا ہوں—— تو مجھے صحابہؓ کے کٹے ہوئے ہاتھ یاد آ جاتے ہیں—— جب میں کسی مسلمان کو قادیانی سے بغلگیر ہوتے اور قادیانی کے گلے میں بازو حمائل کیے دیکھتے ہوں تو مجھے صحابہؓ کے کٹے ہوئے بازو تڑپانے لگتے ہیں—— جب میں کسی مسلمان کو پاؤں گھسیٹتے ہوئے کسی قادیانی کے گھر میں داخل ہوتے دیکھتا ہوں تو مجھے صحابہؓ کے کٹے ہوئے پاؤں رلانے لگتے ہیں—— جب میں کسی مسلمان کو کسی قادیانی سے ٹھنڈی میٹھی باتیں کرتا سنتا ہوں تو میرے کانوں میں میدان یمامہ میں مرتدین کے خلاف لڑتے ہوئے صحابہؓ کی زبان سے تکبیر کی ولولہ انگیز صدا گونجنے لگتی ہیں—— جب میں کسی مسلمان کو قادیانیوں کی شادیوں میں ہنس ہنس کر شامل ہوتے دیکھتا ہوں تو مجھے صحابہؓ کے یتیم بچے یاد آ جاتے ہیں۔

صحابہ کرامؓ بھی کلمہ طیبہ پڑھتے تھے—— یہ مسلمان بھی کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں—— صحابہ کرامؓ بھی رسول اللہؐ کے امتی تھے—— یہ ”مسلمان“ بھی رسولؐ اللہ امتی ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ بھی عقیدہ ختم نبوت پر پکا یقین رکھتے تھے—— یہ ”مسلمان“ بھی عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھنے کے پرزور دعوے دار ہیں—— لیکن صحابہؓ کی ختم نبوت کے ڈاکوؤں سے جنگ—— ان کی ختم نبوت کے ڈاکوؤں سے دوستی—— ان کا عقیدہ ختم نبوت پر سب کچھ قربان—— ان کے ختم نبوت کے باغیوں سے کاروبار—— انہوں نے نبی کریمؐ کی عزت و ناموس پر اپنا گوشت اور لہو قربان کر دیا—— یہ قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ کرنے کو بھی تیار نہیں—— یہ تفاوت کیوں؟ قول و فعل میں اتنا خوفناک تضاد کیوں؟ کہیں ایسا تو نہیں—— کہ—— انہوں نے کلمہ طیبہ صرف حلق سے اوپر اوپر

صفحہ ١٣

پڑھا ہے؟

کیا رسولؐ اللہ کے امتی ہونے کا اعلان صرف نوک زبان تک ہے؟ کیا عقیدہ ختم نبوت پر ایمان ہونے کا اعلان صرف فضا میں الفاظ باری تو نہیں؟

کیا عشق رسولؐ کا دعویٰ محض سخن طرازی تو نہیں؟ کیونکہ ان کا کردار ان کے دعویٰ کی نفی کر رہا ہے—— مسلمانو! جس جسم کے رگ و ریشہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہوتی ہے—— وہ جسم قادیانیوں سے ہاتھ نہیں ملایا کرتا—— وہ جسم قادیانیوں سے بغل گیریاں نہیں کرتا—— وہ جسم کسی قادیانی کی تقریب میں شامل نہیں ہو سکتا۔ آئیے! اپنے اپنے جسم میں محبت رسولؐ کو دیکھتے ہیں—— کیونکہ اللہ—— سب کچھ دیکھ رہا ہے—— اور موت کا فرشتہ گھات لگائے بیٹھا—— اللہ کے حکم کا انتظار کر رہا ہے—— اور پھر موت کا پوسٹ مارٹم ہمارا سب کچھ ہمارے سامنے رکھ دے گا——!!!

خاکپائے شہدائے جنگ یمامہ محمد طاہر رزاق بی ایس سی، ایم اے (تاریخ) 2 مارچ 2000ء لاہور

صفحہ ١٤

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حرفِ اولین

عزیزم مکرم وکیل عقیدہ ختم نبوت محترم محمد طاہر رزاق صاحب زید مجدہ نے ختم نبوت کے بنیادی عقیدے کے تحفظ کے لیے مختصر وقت میں درجنوں کتابیں تحریر کر دی ہیں جو مسلمانوں کے لیے ایک عظیم اثاثہ ہیں۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ مصنف کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کام کے لیے چن لیا ہے۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔

ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

مصنف کے قلم کو قدرت نے ختم نبوت کے باغیوں کے تعاقب کے لیے وقف کر دیا ہے۔ تاریخی حوالہ جات سے کتاب کا مرتب کرنا عزیزم محمد طاہر رزاق کا خاصہ ہے۔

وکیل ختم نبوت کی ”تحفظ ختم نبوت“۔ ”قادیانیت شکن“۔ ”نغمات ختم نبوت“۔ ”تحریک ختم نبوت کی یادیں“۔ ”دفاع ختم نبوت“۔ ”جنہیں ختم نبوت سے عشق تھا“ جیسی درجنوں کتابیں منصۂ شہود پر آچکی ہیں۔

صفحہ ١٥

موصوف نے حال ہی میں نئی کتاب ”ختم نبوت کے محافظ“ تحریر کی ہے جو فاضل مصنف کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے۔

امام العصر حضرت مولانا علامہ انور شاہ کشمیریؒ، امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، پیر طریقت حضرت مولانا پیر مہر علی شاہؒ، مجاہد ختم نبوت حضرت پیر جماعت علی شاہؒ، قائد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا یوسف بنوریؒ، خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، خطیب ختم نبوت حضرت مولانا صاحبزادہ فیض الحسن شاہؒ، سفیر ختم نبوت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ جیسے تبحر علماء مشائخ عظام اور سیاسی زعماء نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جو خدمات جلیلہ سرانجام دی ہیں، انہیں اس کتاب میں قلم بند کیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مؤلف کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے اور امت مسلمہ کو اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس بنیادی عقیدے کے تحفظ کے لیے تن من دھن قربان کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد

احقر الانام محمد اجمل غفرلہ ٢٤ ذی قعدہ ١٤٢٠ھ ٢ مارچ ٢٠٠٠ء

صفحہ ١٦

حقیقت قادیانیت

علی بابا اپنے تین گدھوں کے ساتھ حسب معمول لکڑیاں کاٹنے جنگل پہنچا ابھی وہ وہاں پہنچا ہی تھا کہ اُس نے دیکھا کہ چالیس انسانوں کی جماعت گھوڑوں پر سوار چلی آرہی ہے اور اُن کی سربراہی ایک انتہائی معزز نما انسان کر رہا ہے علی بابا فوراً ایک درخت پہ چڑھ کر چھپ گیا۔ اُس نے دیکھا کہ وہ لوگ اُس درخت کے قرب میں اترے اور تھوڑی دور ایک پتھر کے پاس پہنچ کر رُک گئے جہاں پہنچ کر اس جماعت کے سردار نے کہا کھل جا سم سم۔ پتھر پھٹ گیا اور وہ سب لوگ اُس کے اندر اُتر گئے۔ کچھ دیر بعد پھر سب باہر آئے اور اُس شخص نے کہا بند ہو جا سم سم۔ پتھر واپس اپنی جگہ پر آگیا۔ اور وہ لوگ روانہ ہو گئے۔ علی بابا حیران و پریشان درخت سے اترا۔ اور اُس پتھر کی طرف لپکا، اُس نے بھی وہی عمل دہرایا۔ پتھر پھر شق ہو گیا اور علی بابا نیچے اتر گیا وہاں پہنچا تو وہ ورطہ حیرت میں کھو گیا وہاں دنیا بھر کا مال و منال، انواع و اقسام کے انبار، ہیرے، یاقوت، زمرد، مرجان اور ہفت رنگ نفائس سے وہ غار بھرا پڑا تھا۔ تب علی بابا کو معلوم ہوا کہ اوھو ! جنہیں میں بڑے معزز لوگ سمجھ بیٹھا تھا یہ تو اصل میں چوروں کی جماعت تھی اور یہ اُن کا گودام ہے۔

صفحہ ١٧

قارئین محترم! کچھ یہی حال قادیانیوں کا ہے دیکھنے میں تو یہ بڑے معزز معلوم ہوتے ہیں لیکن ان کو غور سے دیکھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ اوہو! یہ تو گمراہوں اور چوروں کی جماعت ہے۔ انہوں نے بھی اسی طرح امت کے نوادرات چرا چرا کے اپنا قحبہ خانہ سجا رکھا ہے۔ امت کے اسلاف نے لازوال قربانیاں دے کر ان کے اس منحوس غار تک رسائی حاصل کی۔ جہاں امت کے غصب کردا، اموال و نفائس موجود تھے۔ اور پھر وہ اس قابل ہوئے کہ امت کے سامنے ان کے مکروہ چہروں کی اصل حقیقت واضح کر سکیں۔ اس کوشش میں ہزاروں جانیں صرف ہو گئیں اور ہزاروں گھرانے لٹ گئے۔ اسی انمول کوشش کی داستان رقم کرنا اس کتاب کا موضوع ہے اور یقیناً محمد طاہر رزاق کا امت پہ احسان ہے کہ وہ اس داستان کو ایک دفعہ پھر امت کے سامنے بطرز جدید پیش کرنے میں کامیاب رہے ہیں تاکہ امت بھی علی بابا کی طرح دبک کر نہ بیٹھی رہے بلکہ آگے بڑھ کر ان کے نقاب الٹے تو چہروں کے پیچھے سے یقیناً چور ہی برآمد ہوں گے۔

خادم تحریک ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل

صفحہ ١٨

حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی

مولانا محمد علی جالندھریؒ کو نصیحت

دارالعلوم دیوبند کے فضلاء فراغت کے بعد واپس ہونے لگتے تو اساتذہ کرام سے الوداعی ملاقات کرتے۔ دعا کراتے اور اساتذہ اپنے ان نونہالان کو نصیحت فرماتے۔ حضرت امام العصر علامہ سید انور شاہ صاحب قدس سرہ فتنہ قادیانیت کے سلسلہ میں جس قدر حساس تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ قریباً ہر طالب علم کو اس فتنہ کے استیصال کی طرف توجہ دلاتے۔ مولانا جالندھری جب حضرت الاستاذ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو واپسی پر اجازت طلب کرتے ہوئے دعا کی درخواست کی اور عرض کیا کہ میرا خاندان اہل حدیث ہے جبکہ میں حنفی ہوں۔ خطرہ ہے کہ گھر میں اختلاف مسائل سے بدمزگی پیدا نہ ہو۔ رفع اختلاف اور اصلاح ذات البین کے لیے خصوصی دعا فرمائیں۔۔۔۔ حضرت شاہ قدس سرہ نے ارشاد فرمایا:

بھائی مولوی صاحب!۔۔۔۔۔اہل سنت اور اہل حدیث کے اختلاف کی کیا فکر ہے۔

”تمہارے پنجاب میں جھوٹی نبوت، کذاب نبی، دجال امت اور خطرناک پارٹی پیدا ہو چکی ہے۔ یہ پارٹی کافرانہ عقائد اور غیر اسلامی مسائل کی حامل ہے۔ یہ لوگ اپنے عقائد کی بنا پر مرتد ہو چکے ہیں اور مسلمانوں کو مرتد بناتے ہیں۔ مولوی صاحب! اس فتنہ کا مقابلہ کرو اور مسلمانوں کے باہمی اختلافی مسائل سے بچتے رہو۔ قادیانی فتنہ اور طائفہ مرتدہ کے خلاف کام کرکے حضور علیہ السلام کی روح طیبہ کو خوش کرو۔ مسلمانوں اور اسلامی فرقوں کے مسائل میں اختلاف کے باوجود ”اتحاد عمل“ اور آپس میں اتفاق رکھتے ہوئے منکرین

صفحہ ١٩

جہاد و ختم نبوت کے مقابلہ پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر رہنا چاہیے۔ مزید فرمایا‘ مسلمان فرقوں کے درمیان اختلاف ہو تو ہو لیکن مخالفت نہ ہو اور سب مسلمانوں کو سب سے پہلے نبوت کاذبہ کا ڈٹ کر مقابلہ اور مسلمانوں کی طرف سے مدافعت کرنی چاہیے۔ مزید فرمایا کہ حضرت شیخ الہند رحمتہ اللہ علیہ نے خلافت کے زمانہ میں مصطفیٰ کمال اور مسلمانان ترکی کی تکفیر کے فتویٰ کو مسترد کر دیا تھا۔ مقصد یہی تھا کہ مسلمان کو اس سطح پر نہیں آنا چاہیے کہ دوسروں کی تکفیر کرنے لگے۔ ہاں جنہوں نے اسلام کو خود ترک کر کے خود ساختہ معتقدات و نظریات گھڑ لیے اور اپنے لیے کفر کو پسند کر لیا‘ ان کے کفر کا اظہار اور ان سے مقابلہ از بس ضروری ہے اور اس معاملہ میں کسی قسم کا تساہل و مداہنت جائز نہیں۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موضوع پر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ کا وہ تفصیلی بیان بعنوان ”دعوت حفظ ایمان“ بھی شامل کر دیا جائے جو آپ نے ١٢ ذی قعدہ ١٣٥١ھ کو دیوبند سے جاری فرمایا۔۔۔۔ اس بیان کا پس منظر وہ نام نہاد کشمیر کمیٹی تھی‘ جس کا مقصد مظلوم کشمیری عوام کے حقوق کا تحفظ تھا لیکن درپردہ مرزائیت کی جڑیں اس خطہ میں مضبوط کرنا مقصود تھیں۔ اس لیے سرکار پرستوں نے مرزا بشیر الدین محمود آنجہانی کو اس کا صدر بنوا دیا۔ حضرت شاہ صاحب کے بیان کا متن درج ذیل ہے:

حامداً ومصلیاً ومسلماً السلام علیکم یا اہل الاسلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘

محمد انور شاہ کشمیری عفا اللہ عنہ بحیثیت ایمان و اسلام و اخوت دینی اور امت مرحومہ محمدیہ ﷺ کے اعضاء ہونے کے لحاظ سے کافہ اہل اسلام خواص و عوام کی عالی خدمت میں عرض گزار ہے کہ اگرچہ فتنے‘ طرح طرح کے حوادث اور وارداتیں اس دین سماوی پر وقتاً فوقتاً گزرتی رہی ہیں اور باوجود اس کے کہ آخری پیغام خدائے برحق کا یہ ہے کہ:

الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا

ترجمہ : ”آج کے دن میں نے دین تمہارا کمال کو پہنچایا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور اسلام پر ہی تمہارا دین ہونے کے لیے راضی ہوا۔“

صفحہ ٢٠

ما كان محمّد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيّين وكان الله بكل شي عليما

ترجمہ: ”نہیں محمّد ﷺ کسی کے باپ تمہارے مردوں میں سے لیکن ہیں رسولؐ اللہ کے اور خاتم پیغمبروں کے اور اللہ ہر چیز کا اپنے امور میں سے عالم ہے۔“

اور اس کے قطعی الدلالت ہونے پر بھی امت محمدیہ کا اجماع منعقد ہو گیا اور ختم نبوت کا عقیدہ دین محمدیؐ کا اساسی اصول قرار پایا اور جس امت نے ہم تک یہ آیت پہنچائی۔ اسی امت نے یہ مراد بھی پہنچائی اور اس دعویٰ پر مسیلمہ کذاب اور اسود کذاب کو قتل کیا اور بڑا کفر دونوں کا یہ دعویٰ قرار دے کر کذاب مشتہر کیا اور باقی جرائم کو کذاب کے ماتحت رکھا۔ مگر پھر بھی بحکم حدیث نبوی بہت سے دجالوں نے نبوت کے دعوے کیے اور ان کی حکومتیں بھی رہیں اور بالآخر واصل جہنم ہوئے۔ ہمارے اس منحوس زمانے میں جو یورپ کی افتاد سے ایمان اور خصائل ایمان کی فنا کا زمانہ ہے‘ منشی غلام احمد قادیانی کا فتنہ درپیش ہے اور گزشتہ فتنوں سے مزید اور شدید ہے اور حکومت وقت بھی بمقابلہ مسلمانوں‘ قادیانی جماعت کی امداد اور اعانت کر رہی ہے۔ یہ جماعت بہ نسبت یہود اور نصاریٰ و ہنود کے‘ اہل اسلام کے ساتھ زیادہ عداوت رکھتی ہے۔ کوئی چیز ان کے اور اہل اسلام کے درمیان مشترک اور اتحادی باقی نہیں رہی۔ منشی غلام احمد قادیانی جو اس زمانہ کا دجال اکبر ہے‘ بیس جزو وحی قرآن مجید پر اضافہ کرتا ہے جو کوئی ان کی اس بیس جزوی کا انکار کرے اور ان کو نبی نہ مانے‘ وہ ان کے نزدیک کافر ہے اور اولاد زنا ہے اور کوئی اسلامی تعلق مثل جنازہ کی نماز اور نکاح کے اس کے ساتھ جائز نہیں۔ پھر قرآن مجید کی تفسیر اس نے اپنے قبضہ میں کر رکھی ہے۔ دوسرے کسی کا کوئی حصہ نہیں لگتا۔ جیسے فارسی مثل ہے۔

ع ۔۔۔۔ خوردن ز من و لقمہ شمردن از تو

اس کی تفسیر کے متعلق خواہ کل امت کا اختلاف ہو‘ وہ سب اس کے نزدیک گمراہ ہیں۔ حدیث پیغمبر اسلام جو اس کی وحی کے موافق نہ ہو‘ اس کی نسبت اس کی تصریح ہے کہ ردی کے ٹوکرے میں پھینک دی جائے۔ ان دو اصول اسلام یعنی کتاب اور سنت کی تو اس

صفحہ ٢١

کے نزدیک یہ حاصلات ہے اور بحسب تصریح اس کے اس پر شریعت بھی نازل ہوئی ہے اور بمقابلہ اس عقیدہ اسلامیہ کے کہ بعد ختم نبوت کے آئندہ کوئی شریعت نہیں ہوگی۔ بصریح ادعاء شریعت کیا ہے اور نیز اس کا اعلان ہے کہ آئندہ حج قادیان ہوا کرے گا اور نیز جہاد شرعی اس کے آنے سے منسوخ ہو گیا اور پیغمبر اسلام ﷺ کے معجزات تو تین ہی ہزار نقل ہوئے ہیں۔ منشی غلام احمد قادیانی کے تین لاکھ اور دس ہزار تک ہیں۔ جن میں تحصیل چندہ کی کامیابی بھی شمار ہے اور اس کے اشعار ہیں۔

زندہ شد ہر نبی ہر رسولے نہاں بہ پیر ہنم
آنچہ حق داد ہر نبی را جام داد آں جام را مرا با تمام

نیز اپنی مسیحیت کی تائید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کہ جن پر ایمان جزو دین محمدی ہے، ایسی توہین کی ہے کہ جس سے دل اور جگر شق ہوتا ہے اور اس کے نزدیک تحقیق توہین ہے۔ الزامی یا بقول نصاریٰ تو درکنار رہی، توہین عیسیٰ علیہ السلام میں علاوہ اپنی تحقیق توہین کے ایک اور طریقہ بھی اختیار کیا ہے کہ نقل نصاریٰ کے سر رکھ کر توہین سے اپنا دل ٹھنڈا کرتا ہے۔

گفتہ آید در حدیث دیگراں

یہ معاملہ اسی پیغمبر کے ساتھ کیا ہے تاکہ عظمت ان کی قلوب سے اتار دے اور خود مسیح بن بیٹھے۔ اسی واسطے ہندو کے پیشواؤں کے ساتھ ایسا نہیں کیا بلکہ توقیر کی ہے اور ایسے ہی بزرگان اسلام امام حسینؓ و غیرہم کی تحقیر اور اپنی تعلی میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا۔ غرض یہ کہ اس دجال کی دعوت اس کے نزدیک سب انبیاء اور رسل صلوات اللہ علیہم سے بڑھ چڑھ کر اور افضل واکمل ہے۔

علماء اسلام نے اس فتنہ کے استیصال میں خاصی خدمتیں کیں مگر وہ خدمتیں انفرادی اور خصوصی تھیں۔ اس وقت ایک لطیفہ غیب نمودار ہوا ہے کہ مجاہد ملت جناب سامی القاب مولوی ظفر علی خان صاحب دامت برکاتہ اس خدمت کا فرض ادا کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے اس وقت جناب ممدوح اور ان کے رفقاء جناب مولوی عبد الحنان صاحب ہزاروی، مولوی لال حسین صاحب اختر اور احمد یار خان صاحب مورد سوالات ہیں۔ ہم کو کچھ حمیت اور حمایت اسلام سے کام لینا چاہیے۔ اہل خطہ کشمیر سمجھ اور بوجھ لیں کہ جو کچھ

صفحہ ٢٢

قادیانی جماعت ان کی امداد کر رہی ہے وہ اہل خطہ کے ایمان کی قیمت ہے اور ناممکن ہے کہ کوئی امداد اور ہمدردی اس فرقہ کی ایمان خریدنے کے سوا ہو۔ ؎

دانی کہ چنگ وعود چہ تقریر می کنند
پنہاں خورید بادہ کہ تکفیر می کنند

اور جن لوگوں نے اس فرقہ کے ساتھ کسی قسم کی رواداری بھی برتی ہے، وہ خطرہ میں ہیں۔ یہ نہ سمجھیں کہ یہ کوئی معمولی بات ہے۔ بلکہ ایک چھوٹی پیغمبری سے ایک بڑی پیغمبری قادیانی میں تحویل ہونا ہے اور جس کا جی چاہے ان عقائد ملعونہ قادیانی کا ثبوت ہم سے لے اور اس شدید وقت میں کہ وطن کو بے خبر کر کے ایمان پر چھاپہ مارا گیا ہے، کچھ غیرت ایمانی کا ثبوت دے۔

جن حضرات نے اس احقر ہیچمد سے حدیث شریف کے حرف پڑھے ہیں جو تقریباً دو ہزار ہوں گے، وہ اس وقت کچھ ہمدردی اسلام کی کر جائیں اور کلمہ حق کہہ جائیں اور انجمن دعوت وارشاد میں شرکت فرمائیں۔

اس فرقہ کی تکفیر میں توقف یا تو اس وجہ سے ہے کہ صحیح علم نصیب نہیں ہوا اور اب تک ایمان اور کفر کا فرق معلوم نہیں اور نہ کوئی حقیقت مجملہ ایمان کی ان کے ذہن میں ہے اور یا کوئی مصلحت دنیاوی دامن گیر ہے۔ ورنہ اسلام کوئی نسبی اور نسلی لقب نہیں ہے۔ جیسے یہود اور ہنود، کہ زائل نہ ہو اور جو کوئی بھی اپنے آپ کو مسلمان کہے بس وہ قوم نسبی لقب یا ملکی و شہری نسبت کی طرح لاینفک رہے، بلکہ عقائد اور عمل کا نام ہے اور ضروریات قطعیہ اور متواترات شرعیہ میں کوئی تاویل یا تحریف بھی کفر و الحاد ہے۔ جب کوئی ایک حکم قطعی اور متواتر شرعی کا انکار کر دے، وہ کافر ہے۔ خواہ اور بہت سے کام اسلام کے کرتا ہو۔ ان اللہ لیئوید الدین بالرجال الفاجر اسی میں وارد ہوا ہے۔ حق تعالیٰ صحیح علم اور صحیح سمجھ اور توفیق عمل نصیب کرے۔ آمین۔

انتباہ

آخر میں یہ عاجز بحیثیت رعیت ریاست کشمیر ہونے کے حکومت کو متنبہ کرنا چاہتا ہے کہ قادیانی عقیدہ کا آدمی اسلام کے نزدیک مسلمان نہیں ہے۔ لہٰذا حکومت کشمیر و جمیع اہل

صفحہ ٢٣

اسلام اور مذہب قدیمی اہل کشمیر کی رعایت کرتے ہوئے قادیانیوں کی بھرتی اسکولوں اور محکموں میں نہ کرے ورنہ اختلال امن کا اندیشہ ہے۔

محمد انور شاہ کشمیری عفا اللہ عنہ از دیوبند محلہ خانقاہ ١٢ ذیقعدہ ١٣٥١ھ

جسے اس محسن اعظم کے غم سے ہو شناسائی
جہاں میں کون ہو سکتا ہے اس سے بڑھ کے آسودہ

قادیان میں شاہ جیؒ کی گرج

حضرات ! اب گیارہ بجے ہیں۔ سورج نکلنے میں ابھی سات گھنٹے باقی ہیں اور یہاں ہزاروں لوگ جمع ہیں۔ الحمد للہ کوئی دنگا فساد نہیں ہوا۔ یہ ہماری طاقت ہے۔ حکومت کے گرگے خوب مشاہدہ کریں۔ یہاں کچھ نہیں ہو گا۔ ہمارا وہ پروگرام ہی نہیں ہے۔ حکومت اپنی طاقت واپس بلا لے۔ ہم نے ستارہ صبح کے طلوع ہونے تک اس محفل کی گرمی قائم و دائم رکھنی ہے۔ اگر ہمارے پروگرام میں تشدد ہوتا تو مرزائی پیشاب کی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے۔ ہم تو تبلیغ کانفرنس کو کامیاب کرکے رہیں گے۔ ہمارا مقصد اس علاقہ کے غریب ان پڑھ مسلمانوں کو مرزائیوں کے دجل و فریب سے بچانا ہے۔ حکومت مرزائیوں کی درخواستوں پر کب تک ہمارا راستہ روکے گی۔ اور کب تک قادیان کی جعلی نبوت کو برٹش امپریلزم کے سہارے چلائے گی۔ چند برسوں کی بات ہے۔ انشاء اللہ خود انگریز کا ٹاٹ لپیٹ دیا جائے گا۔ پھر اس طبقہ کا کیا حشر ہو گا جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد انگریزی دریافت غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ عدواللہ وعدوالرسول فرنگی کے دم کٹے کتو ! تمہاری تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔ تم غریب مسلم عوام کو اپنی دولت اور فرنگی زادگی کے تعلقات سے ڈراتے اور مرعوب کرتے ہو۔ تمہاری طاقت و صولت کا بھانڈا بھی بیچ چوراہے میں پھوٹ جائے گا۔ تم مجھے اور بشیر کو اکیلا چھوڑو۔ (پھر میرے معرکے دیکھ (پنجابی

صفحہ ٢٤

میں) اوئے توں فیر میریاں آونیاں دیکھ۔

خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ

میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہوگی آہ میری‘ نفس مرا شعلہ بار ہوگا (مؤلف)

سنہ ٥٣ کی تحریک ختم نبوت

جب شمع ختم نبوت کے پروانوں نے قطار در قطار

اپنے سینے پیش کیے

عبدالخالق‘ دبئی

١٩٥٣ء جنوری‘ فروری کی بات ہے کہ مال روڈ پر کمرشل بلڈنگ کے باغات میں خندقیں بننا شروع ہوئیں تو لاہور میں مرزائیوں نے یہ بات عام کر دی کہ انڈیا حملہ کرنے والا ہے۔ اس لیے یہ خندقیں بنائی جا رہی ہیں۔ میری عمر اس وقت تقریباً ١٣ سال تھی۔ ہم سب بچوں نے ان خندقوں میں کھیلنا شروع کر دیا۔ ہمیں انجام کی بالکل خبر نہ تھی کہ یہ مورچے شہید ختم نبوت کا لہو بہانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ دراصل اس وقت کی حکومت اور ظفر اللہ قادیانی کا بنایا ہوا تھا۔ اس کے پس پردہ جو ہاتھ کام کر رہے تھے‘ وہ سب کے سب مرزا قادیانی ملعون کی ذریت کے تھے۔ کبھی کبھار ہمارے کسی بزرگ کی زبانی حضرت امیر شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا نام سننے میں آتا تھا۔ غالباً مئی یا جون کا مہینہ ہو گا کہ خندقوں کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔ پاکستان کے جیالے جوانوں پر ختم نبوت کے پروانوں پر ان درندوں نے گولیوں کے برسٹ مارے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس

صفحہ ٢٥

گناہ گار نے شہیدان ختم نبوت لاہور کے خون کے فوارے اپنی آنکھوں سے بہتے دیکھے۔ یہاں تین صفوں کے نوجوان جو کسی طرح بھی ہٹنے کو تیار نہ تھے۔ انہیں اپنے سینے پر گولیاں کھاتے اور خون میں لت پت پڑے تڑپتے ہوئے اس ناچیز نے دیکھا۔ اب جو ایک قطار گرتی تھی تو کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے دوسری قطار شہید ہونے کے لیے آگے بڑھتی تھی۔ جب یکے بعد دیگرے تین قطاریں گریں تو میرے حواس گم ہوگئے۔ میں بچہ ہونے کی وجہ سے گھبرا گیا اور کمرشل بلڈنگ کے پیچھے والی گلی میں بھاگا‘ اس کے بعد ایک مکان پر چڑھ کر وہ منظر میں نے دوبارہ دیکھا جو دیکھا نہیں جاتا تھا۔ کیونکہ میں جس مکان پر چڑھا تھا۔ اس مکان کی عورتیں زار و قطار رو رہی تھی اور مرزا قادیانی مردود کو کوسنے اور گالیاں دے رہی تھیں۔ لوگ تھے کہ اللہ کی راہ میں جان بڑھ چڑھ کر دے رہے تھے۔ شہیدان ختم نبوت کے لہو سے مال روڈ کا وہ حصہ جو میرے سامنے تھا‘ لال ہو گیا اور شہیدوں کی قطاروں کی قطاریں گرم جلتی ہوئی سڑکوں پر جنت میں جانے کے لیے بے قرار تھیں۔ اور ان کے جنتی جسم سڑک پر تڑپ رہے تھے۔ پھر کچھ دیر کے بعد ان کے جسم بالکل پر سکون ہو کر سو گئے۔ اللہ جل شانہ ایسی کھلی شہادت ہر مومن کو نصیب فرمائے۔ (آمین)

اس واقعہ کو آج پورے ٣٣ سال کا عرصہ گزرنے کو ہے۔ جب کبھی فرصت کے لمحات ہوتے ہیں۔ ذہن پرانے تانے بانے بننے لگتا ہے تو شہیدان ختم نبوت کے جیالے آج بھی ایسے یاد آتے ہیں‘ جیسے یہ واقعہ کل ہی لاہور کی سڑکوں پر گزرا ہے۔ شہیدان ناموس رسالت‘ جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ اللہ کی راہ میں دے کر ختم نبوت کی شمع روشن کی تھی۔ الحمد للہ آج اس شمع کی روشنی پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ برطانیہ ہو یا جرمنی‘ امریکہ ہو یا کینیڈا‘ سب جگہ ختم نبوت کے دفاتر ان شہیدوں کی یاد دلاتے ہیں۔

ہفت روزہ ختم نبوت‘ جلد ٥‘ شمارہ ١٨

ہم ترے نام پہ جینے والے
تجھ پہ مرنے کے سوا کیا کرتے (مؤلف)
صفحہ ٢٦

میں قادیانی ہونے سے کیسے بچا؟

میرا بچپن چک نمبر ١٣٨- ج ب تحصیل چنیوٹ میں والد صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ گزرا۔ ابھی بہت چھوٹی عمر تھی کہ ملازمت کا شوق دماغ میں گھس گیا۔ ان دنوں اس گاؤں میں سید حامد علی شاہ پٹواری نہر تھے۔ ان سے پٹوار سیکھنے لگا۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے اپنے والد صاحب کے پاس بھیج دیا۔ جو جھنگ میں مہتمم انہار کے ہیڈ منشی تھے۔ سید سرفراز علی شاہ نام تھا۔ پرانی وضع کے نیک اور نمازی اہلکار تھے۔ انہوں نے خصوصی سفارش کر کے پٹواری بھرتی کرا دیا۔ مجھ سے پہلے شاہ صاحب موصوف کے پاس ایک اور صاحب بطور امیدوار پٹوار ٹھہرے ہوئے تھے۔ غلام سرور نام تھا۔ ہم دونوں کافی دنوں تک شاہ صاحب کے ڈیرے پر اکٹھے رہے۔ ایک دن سرور نے بطور خاص کہا کہ آج جمعہ ہے۔ آؤ دونوں اکٹھے جمعہ پڑھنے چلیں۔ یہاں قریب کی مسجد میں نہیں بلکہ شہر کی مسجد میں چلتے ہیں۔ ہم چل پڑے‘ راستے میں کئی مسجدیں آئیں لیکن وہ مجھے شہر شہر کرتا اور آگے لے گیا۔ ایک جگہ اس نے ایک بوڑھے آدمی سے پوچھا‘ بابا جی مسجد احمدیہ کدھر ہے؟ اس نے کہا‘ تم احمدی ہو۔ ہم نے کہا‘ ہم احمدی ہیں۔ اس وقت میری عمر ١٤‘ ١٥ سال کی ہو گی۔ مجھے کچھ پتہ نہ تھا کہ احمدی کیا ہے؟ اس نے کہا‘ بچہ اللہ نے تمہیں کیسی صورتیں دی ہیں‘ تم احمدی بن کر کیوں بگڑ گئے ہو۔ مجھے بابا کی یہ بات بالکل سمجھ میں نہ آئی۔ ہم چلتے چلتے ایک مسجد میں پہنچے‘ جمعہ پڑھا۔ جماعت کے دوران مجھے کچھ حیرت ہوئی کہ ان لوگوں نے ہاتھ کس طرح باندھے ہیں اور پاؤں کس طرح کیے ہوئے ہیں۔ لیکن کچھ معلوم ہی نہ تھا۔

نماز سے فارغ ہوئے تو سرور نے ایک شخص سے علیحدگی میں ملاقات کی اور کچھ باتیں کیں۔ واپسی پر میں نے دریافت کیا کہ سرور صاحب ! یہ شخص کون تھے؟ اس نے بتایا کہ یہ امیر جماعت احمدیہ تھے اور یہ یہاں ریلوے سٹیشن ماسٹر ہیں۔ بات ختم ہو گئی۔ کچھ دنوں بعد سرور اپنے گاؤں دھنی دیو جو نواں لاہور کے قریب ہے‘ چند دنوں کے لیے چلے گئے۔ کسی ضرورت کے تحت مجھے ان کا سوٹ کیس کھولنا پڑا۔ ان کے کپڑوں کے نیچے ایک درخواست لکھی ہوئی رکھی تھی۔ مجھے یہ یاد نہیں کہ کس کے نام تھی۔ لیکن یہ تحریر تھا کہ

صفحہ ٢٧

میں اتنے عرصہ سے احمدی ہو گیا ہوں۔ میری تصدیق امیر جماعت احمدیہ نے بھی کر دی ہے۔ میں ان کے کہنے پر قادیان گیا تھا اور خلیفہ صاحب سے بھی ملاقات کر آیا ہوں لیکن ابھی تک میری ملازمت کا کوئی بندوبست نہیں ہو سکا۔

یہ درخواست پڑھ کر حیرت ہوئی کہ احمدی ہو گیا ہوں۔ قادیان خلیفہ صاحب سے مل آیا ہوں۔ لیکن تاحال ملازمت نہیں ملی۔ سوچتا رہا کہ یا اللہ کیا ماجرا ہے۔ ملازمت کا اور احمدی کا کیا تعلق ہے۔ قادیان اور وہاں کے خلیفہ کا ملازمت سے کیا ناطہ ہے۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ ابھی سرور گاؤں سے نہ آیا تھا۔ مجھے گھر واپس جانا پڑا۔ پیچھے سے شاہ صاحب کا خط آیا کہ اپنے گاؤں ہی سے دھنی پور پہنچو اور سرور کو ساتھ لے کر قریبی گاؤں دیرو کے کچلے کے ذیلدار کے ہاں ہماری بھینس ہے۔ ذرا اسے دیکھتے آؤ اور خط کے ذریعے حالات سے آگاہ کرو۔

میں اپنے گاؤں سے گھوڑی پر سوار ہو کر دھنی پور کے لیے روانہ ہوا۔ مجھے بالکل معلوم نہ تھا کہ سرور کیا ہے؟ احمدی کسے کہتے ہیں۔ بالکل خالی ذہن اور اخلاص تھا۔ سرور بڑے تپاک سے ملا‘ اپنے گھر لے گیا۔ ان کی والدہ نے مجھے پیار کیا اور کہا کہ تم بھی میرے بیٹے ہو۔ میں ان کے حسن سلوک سے بہت خوش ہوا۔ مرغی ذبح ہوئی‘ کھانا تیار ہوا‘ کھایا۔ اس کے بعد ڈیرے میں آگئے۔ مجھے نیند آئی ہوئی تھی۔ سرور ادھر ادھر کھسک گیا۔ وہاں ایک ڈاکٹر صاحب آئے ہوئے تھے۔ وہ آگئے‘ مجھے دیکھا۔ کہنے لگے‘ سبحان اللہ‘ آپ کی پیشانی میں احمدیت کا نور چمک رہا ہے۔ سبحان اللہ‘ سبحان اللہ‘ ماشاء اللہ۔ میں حیران ہوا‘ آنکھیں اوپر کر کے ماتھے کو دیکھنے کی کوشش کی کہ شاید سچ مچ کوئی نور تو نہیں چمک پڑا۔ ایک آدھ دفعہ ماتھے پر ہاتھ بھی پھیرا۔ لیکن کوئی خاص فرق محسوس نہ ہوا۔ اب انہوں نے کہا‘ اچھا آپ کا نام تاج محمود۔ آپ کے والد کا نام محمد حبیب آپ کے دادا کا نام فیض اللہ‘ آپ کا گاؤں چک نمبر ١٣٨ اور آپ کا اصلی وطن ہری پور ہزارہ‘ آپ انشاء اللہ احمدیت کا جھنڈا بلند کرنے والے ہیں۔ اب میں گہری سوچ میں پڑ گیا۔ یا اللہ یہ کوئی شریف آدمی ہے یا مداری ہے۔ یہ مجھ سے کیسی بات کرنے لگ گیا ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ سرور صاحب کہاں ہیں؟ میرا خیال تھا کہ سرور صاحب آئیں گے اور اس بلا سے میری جان چھوٹے گی۔ لیکن سرور تو جان بوجھ کر کھسک گیا تھا اور میرے کوائف اس کو بتا گیا تھا۔

صفحہ ٢٨

اب ڈاکٹر صاحب نے خود پر ایک خاص کیفیت طاری کرتے ہوئے انگلی اٹھا کر کہا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا لیکن دنیا نے اسے نہ پہچانا۔ جب اس نے دو تین دفعہ انگلی اوپر اٹھا اٹھا کر اس جملے کو دہرایا تو میں نے مڑ کر اوپر دیکھا۔ دیوار کے ساتھ ایک پاگل سے پگڑ والے بھینگے کانے شخص کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ میں دل میں کہوں ’یا اللہ کون نذیر آگیا۔ یہ کیا کہنا چاہتا ہے۔ یا شاید یہ اسی کانے بھینگے پگڑ والے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اب وہ میرے سامنے والی چارپائی پر بیٹھ گئے اور مجھے تبلیغ شروع کی۔ میری سمجھ میں کوئی بات نہ آرہی تھی۔ اتفاق سے انہوں نے آدم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا کہ یہ جاہل مولوی کہتے ہیں کہ وہ آسمانوں سے اتارے گئے تھے۔ ایسا نہ تھا بلکہ وہ ایک شہر سے معہ اپنی آل اولاد سارے کے سارے نکالے گئے تھے۔ اور یہ کہتے ہوئے وہ وقلنا اهبطوا جميعا پر زور دیتے تھے۔ والد صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے میں نے قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھا تھا۔ میں نے ہمت کر کے کہا ’ڈاکٹر صاحب ! یہ آپ کیا فرما رہے ہیں۔ کیا آدم اور ان کی بیوی حوا دونوں جنت میں نہ تھے؟‘ انہوں نے کہا ’نہیں۔ یہ مراد نہیں ہے‘ وہ ایک شہر میں تھے۔ وہاں سے نکال کر کسی دوسرے شہر میں آباد کیے گئے تھے۔ میں نے کہا کہ اس آیت کا کہ ”وقلنا يا آدم اسكن انت وزوجك الجنته فكلا منها رغدا حيث شئتما ولا تقربا هذه الشجره فتكونا من الظلمين

ترجمہ : اور ہم نے کہا ’اے آدم ! تو اور تیری بیوی جنت میں ٹھہرو پس تم دونوں کھاؤ خوشی خوشی جہاں سے تم دونوں چاہو اور تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا نہیں تو تم دونوں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے“۔ آپ کیا کہتے ہیں۔ یہ تو تثنیہ کے صیغے ہیں۔ جن میں دو دو کا تکرار ہے۔ اور اس سے آگے فازلهما الشیطان پس ان دونوں کو شیطان نے پھسلا دیا فاخرجهما مما كانا فيه اور ان دونوں کو اس سے نکلوایا‘ جس میں وہ تھے۔ قرآن مجید کیا کہتا ہے اور آپ مجھ سے کیا کہہ رہے ہیں۔ یہ سن کر ڈاکٹر ٹھنڈا پڑ گیا اور مجھ سے مایوس ہونے لگ گیا۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ اوہو یہ تو کوئی تھوڑی بہت عربی اور ترجمہ جانتا ہے۔ اس کے بعد بھی وہ ڈھیٹ پنے کا ثبوت دیتا رہا۔ لیکن مجھے اب یقین ہو گیا کہ یہ جسے احمدیت کہتا ہے یہ کوئی اور ہی مذہب ہے۔ میرے خیالات اور

صفحہ ٢٩

عقائد، جو میں نے اپنے والد بزرگوار سے سیکھے پڑھے ہیں، وہ کچھ اور ہیں اور یہ جو کچھ کہہ رہا ہے۔ وہ کچھ اور ہے۔ تاہم ابھی میں جانتا نہ تھا کہ قصہ کیا ہے۔

سرور صاحب آئے۔ میں نے کہا کہ آپ مجھے کس بلا کے حوالے کر گئے تھے۔ اس کم بخت نے مجھے آرام نہیں کرنے دیا۔ میرا سر کھاتا رہا اور یہ تو کوئی پاگل شخص معلوم ہوتا ہے۔ کہنے لگا، یہ ہماری جماعت کے مبلغ ہیں۔ میری بلا جانے مبلغ کیا ہوتا ہے۔

اگلے روز میں واپس آگیا۔ کچھ دنوں بعد معلوم ہوا کہ چنیوٹ میں کانفرنس ہو رہی ہے۔ جس میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری شرکت کر رہے ہیں۔ اس تاریخ پر چنیوٹ پہنچا۔ شاہ جی کو پہلی بار دیکھا۔ ان کی تقریر سنی۔ شاہ جی کہہ رہے تھے کہ آئیے اس سرزمین میں چلیں جو مہبط جبرئیل ہے۔ اس کے کسی جنگل میں کسی پہاڑ میں کسی بستی کے نیچے آجائیں۔ وہاں کے بدوؤں سے جاکر کہیں کہ ہندوستان ایک ملک ہے۔ اس میں پنجاب ایک صوبہ ہے۔ جس میں گورداسپور ایک ضلع ہے۔ قادیان اس کا قصبہ ہے۔ اس میں ایک شخص ہے جو بزرگ اور نیک آدمی ہے۔ ولی اللہ ہے۔ وہ بدو یہ سن کر ایک قدم آگے بڑھیں گے اور کہیں گے مرحبا مرحبا۔ لیکن اگر ہم ان سے کہیں کہ ہندوستان ایک ملک ہے۔ اس میں پنجاب ایک صوبہ ہے۔ جس میں گورداسپور ایک ضلع ہے۔ قادیان اس کا ایک قصبہ ہے۔ اس میں ایک شخص نبی ہو کر آگیا ہے تو وہ دو قدم ہٹ کر فوراً کہیں گے۔ لعنت اللہ علیہ۔ یہ عقیدہ ڈیڑھ ہزار سال سے اس سرزمین کے عام لوگوں کا ہے۔ جہاں سے دین کا آغاز ہوا تھا۔

شاہ جی حدیث ”لا نبی بعدی“ پر تقریر کر رہے تھے۔ شاہ جی نے تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔ یہ غلام احمد نے کلکتہ میں آریوں سے مناظرہ کیا۔ شرائط یہ ٹھہریں کہ اگر آریہ ہار جائیں تو کل آریوں کو مسلمان ہونا پڑے گا اور اگر مرزا صاحب ہار جائیں تو کل مسلمانوں کو آریہ ہونا پڑے گا۔ مرزائی کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کا مسلمانوں پر احسان ہے جنہوں نے مناظرہ جیت کر سارے مسلمانوں کو آریہ ہونے سے تو بچالیا۔ میں یہ کہتا ہوں کہ انہوں نے آریہ ہونے سے بچا لیا لیکن خود ان کو اسلام سے مرتد کر کے مرزائی بنا دیا۔ پھر شاہ جی نے جادو بھری آواز میں شیخ سعدی کی یہ رباعی پڑھی۔

صفحہ ٣٠
شنیدم گوسفندے را بزرگی
رہانید از دہان دست گرگے
شبانگہ کارد بر حلقش بمالید
روان گوسفند ازوے بنالید
کہ از چنگال گرگم در ربودی
چو دیدم عاقبت خود گرگ بودی

اس رباعی کا اردو میں ترجمہ بیان کیا اور اس کے بعد گونجتی گرجتی آواز میں فرمایا نوکریوں اور چھوکریوں کے لالچ میں پھنسا کر مسلمانوں کا ایمان خراب کرنے والو! میں تمہاری جھوٹی نبوت کی حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہوں۔

شاہ جی کی اس تقریر نے میری آنکھیں کھول دیں۔ اب میری سمجھ میں آیا کہ یہ مطلب تھا سرور کی درخواست کا "میں اتنے عرصہ سے احمدی ہو گیا ہوں اور قادیان سے بھی ہو آیا ہوں لیکن ابھی تک نوکری نہیں ملی۔" اس دن مجھے معلوم ہوا کہ وہ ڈاکٹر اور سرور دونوں مرزائی تھے اور مرزائی مرزا غلام احمد جھوٹے نبی کی امت کا نام ہے۔

میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ کہیں میں ان کے دام ہمرنگ زمین میں پھنس نہیں گیا اور اپنا ایمان کھو نہیں بیٹھا۔ اس دن سے مرزائیوں کے خلاف میرے دل میں نفرت بیٹھ گئی اور ان کی گمراہی کا حق الیقین حاصل ہو گیا۔ اس کے بعد اس فتنے کے خلاف جدوجہد میں شامل ہو گیا اور زندگی اس دجل و فریب کے خلاف جدوجہد کرنے میں بسر کر دی ہے اور یہی تمنا ہے کہ بقیہ زندگی بھی اسی مشن کے لیے کام کرنے میں صرف ہو جائے۔ اب میں سوچتا ہوں کہ اگر سرور لنگڑے والا واقعہ میری معصوم اور ان بھول عمر کے اس زمانہ میں پیش نہ آیا ہوتا اور شاہ جی رحمتہ اللہ علیہ کی تقریر میں نے نہ سنی ہوتی تو شاید مجھے مرزائیت کا اس قدر گہرا مطالعہ کرنے اور ان کی حقیقت کو اس حد تک سمجھنے اور ان کے خلاف اتنی شدید جنگ لڑنے کا اتفاق نہ ہوتا۔

(ہفت روزہ 'لولاک' فیصل آباد، مولانا تاج محمود نمبر، ص ٢٨ تا ٣٠ از قلم مولانا تاج

محمودؒ )

صفحہ ٣١

جیل کی یادیں

کمانڈر انچیف کی تلاش

٣٠ مارچ ١٩٥٣ء کو مجھے تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں گرفتار کر کے لاہور شاہی قلعہ میں نظر بند کر دیا گیا۔ تحریک کے سلسلہ میں وہاں ہم سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی۔ مجھے کمرہ نمبر ١٠ میں رکھا گیا تھا۔ ایک دن مجھے وہاں سے نکال کر کسی دوسری جگہ منتقل کیا جانے لگا۔ معلوم ہوا کہ مولانا عبدالستار نیازی کو اس کمرے میں رکھا جائے گا۔ جس کمرے میں مجھے لے گئے۔ وہاں پہلے ہی ایک صاحب بند تھے۔ وہ صاحب پاؤں پھیلا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ اپنی موٹی کھدر کی چادر سے سر اور منہ ڈھانپ رکھا تھا۔ پولیس والوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ ان کو جانتے ہیں۔ چونکہ ان کا چہرہ کھلا ہوا نہ تھا۔ اس لیے نہ میں نے انہیں دیکھا اور نہ پہچانا۔ میں نے کہا کہ نہیں‘ میں انہیں نہیں جانتا۔ اس کے بعد پولیس والوں نے ان صاحب سے دریافت کیا کہ تم انہیں جانتے ہو‘ انہوں نے اسی طرح چہرہ اوپر کیے بغیر کہہ دیا کہ نہیں۔

پولیس والوں نے دروازہ کھولا‘ میرا بستر اندر رکھ دیا اور چلے گئے۔ اب جو میں نے غور سے دیکھا۔ ربڑ کا معمولی سا جوتا پاؤں میں‘ معمولی کرتا‘ شلوار اور موٹی چادر اوڑھے ہوئے اور نظریں نیچے کیے ہوئے تشریف فرما ہیں۔ میں نے عرض کیا۔ حضرت آپ نے مجھے نہیں پہچانا۔ کہا‘ پہچان لیا ہے۔ بیٹھ جاؤ۔ میں بیٹھ گیا۔ لیکن مولانا مسلسل اسی حالت میں خاموش بیٹھے رہے۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ ایک خیال آیا کہ کہیں مولانا پر پولیس نے تشدد نہ کیا ہو۔ جس کی وجہ سے آپ کی حالت یہ ہو گئی ہے۔ جب کافی وقت گزر گیا اور مولانا موصوف اسی حالت میں رہے۔ تو میں نے کہا‘ مولانا! یہ کیا کیفیت ہے جو آپ نے اپنے اوپر وارد کر رکھی ہے۔ مولانا کہنے لگے۔ میں اس وقت اس سوچ میں ہوں کہ ملک میں اسلامی

صفحہ ٣٢

انقلاب برپا ہو گیا ہے اور ملک میں اسلامی حکومت قائم ہو گئی ہے۔ تمام مناصب اور عہدوں پر اسلامی طرز فکر کے افسروں اور عہدیداروں کی تقرری کی جا رہی ہے۔ تمام مناصب اور عہدوں کے لیے مناسب لوگ مل گئے ہیں لیکن افواج پاکستان کے لیے کوئی مناسب کمانڈر انچیف نہیں مل رہا۔ اور میں کافی دیر سے اس عہدہ کے لیے کسی موزوں آدمی کی تلاش میں تھا۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ چلو عارضی طور پر جنرل محمد اکبر صاحب کو ہی مقرر کر دیتے ہیں۔ یہ بات سن کر میں ہنس پڑا اور مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ ملک کے ممتاز عالم دین اور نہایت سنجیدہ شخصیت کے مالک رہنما قلعہ میں بھی ذہنی طور پر کسی طرح خوف و بربریت سے متاثر نہیں ہوئے۔ یہ گوجرانوالہ کی جامع مسجد کے خطیب مولانا عبدالواحد تھے۔

(ہفت روزہ ’لولاک‘ فیصل آباد‘ مولانا تاج محمود نمبر‘ ص ٣‘ از قلم مولانا تاج محمود)

قاضی صاحب کی حاضر جوابی

آپ دسمبر ١٩٦٥ء میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس کے موقع پر تقریر کر رہے تھے۔ آپ نے دوران تقریر کہا کہ چنیوٹیو میں بوڑھا ہو گیا ہوں‘ بال سفید ہو گئے ہیں‘ آپ کو اللہ کا دین سناتے۔ لیکن آج یہ بات معلوم کر کے مجھے حد درجہ افسوس ہوا کہ آپ اپنی اولاد کو تعلیم کے حصول کے لیے ربوہ کالج بھیجتے ہیں‘ جس کی انتظامیہ رحمت دو عالم ﷺ کی ختم نبوت کی قائل نہیں۔ یہ الفاظ بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا کہ حضرت! چنیوٹ میں سائنس نہیں پڑھائی جاتی۔ آپ نے فوراً جواب دیا۔ اگر چنیوٹ میں بکرے کا گوشت نہ ملے تو پھر سور کا گوشت کھا لوگے‘ کچھ حیا کرو۔

(قاضی احسان احمد شجاع آبادی” ، ص ٢٨‘ ٢٩‘ از نور الحق قریشی)

نگہ بلند‘ سخن دلنواز‘ جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے (مؤلف)
صفحہ ٣٣

مولانا تاج محمود---چند باتیں

مولانا تاج محمود صاحب کا دل حب رسول اللہ ﷺ سے سرشار تھا۔ دوران تقریر حضور ﷺ کا نام زبان پر لاتے تو محبت سے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے۔ اختیاری طور پر رسول اللہ کی اتباع اور پیروی کو لازمی خیال فرماتے۔ حب رسول (ﷺ) ہی کا کرشمہ تھا کہ بعض غیر اختیاری امور میں بھی ہمیں مولانا کی زندگی میں اتباع رسول اللہ (ﷺ) کی سعادت نظر آتی ہے۔ حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ مکہ کے رہنے والے تھے۔ دین کی خاطر مکہ چھوڑ کر مدینہ منورہ ہجرت فرمائی۔ وہاں مسجد تعمیر کی۔ آخری وقت تک مدینہ ہی میں قیام فرمایا۔ حتیٰ کہ بعد از وصال اسی مسجد میں دفن ہونا پسند فرمایا۔ مولانا تاج محمود حضرت محمد ﷺ کی ختم المرسلینی کے محافظ تھے۔ ہزارہ کے رہنے والے تھے' دین کی خاطر ہزارہ چھوڑ کر فیصل آباد ریلوے سٹیشن پر ایک مسجد تعمیر کی اور بعد از انتقال اسی مسجد کے ایک کونے میں دفن ہونا پسند کیا۔ ہزارہ اور فیصل آباد کی مسافت کو اگر ماپا جائے تو شاید کم و بیش فاصلہ بھی اتنا ہی نکلے' جتنا مکہ اور مدینہ کے مابین ہے۔

کہتے ہیں کہ مولانا نے جب اسٹیشن کالونی کی اس مسجد میں خطابت شروع کی تو مسجد کی بجائے یہاں ایک چبوترہ سا تھا۔ بعد میں چھوٹی سی چار دیواری ہوئی۔ پھر مسجد بنی پھر اس میں توسیع کی گئی۔ اس کے بعد پھر ایک مرتبہ توسیع ہوئی اور مولانا کی تحریک سے ہوتے ہوتے ایک بڑی جامع مسجد بن گئی۔

آج اسی مسجد کے ایک کونے میں قادیانیوں پر خدا کا قہر بن کر گرنے والا آسودہ خاک ہے۔ دیوار پر ”آرام گاہ مجاہد ختم نبوت مولانا تاج محمود“ لکھ دیا گیا ہے۔ جامع مسجد ریلوے کالونی میں بس یہی ایک اضافہ ہے جو کہ مولانا مرحوم اپنی زندگی میں نہ کر سکتے تھے۔

مولانا تاج محمود صاحب کا انتقال جمعہ کی صبح کو ہوا۔ جب کہ آپ حسب معمول جمعہ کی تیاری میں مصروف تھے۔ دل کا دورہ مولانا کو ہم سے دور لے گیا۔ اتنا دور کہ جہاں

صفحہ ٣٤

انسان زندگی کے دوران کبھی نہیں پہنچ سکتا۔ آپ کے انتقال کی خبر ریڈیو فیصل آباد سے نشر ہوئی۔ نماز جمعہ کے بعد ایک صاحب نے میرے کان میں سرگوشی کی۔ ”مولانا تاج محمود سفر فرما گئے“ ان کی زبان سے یہ الفاظ کیا ادا ہوئے ۔ میرے جسم میں کرنٹ کی لہر دوڑ گئی۔ میں فوراً اسٹیشن پہنچا۔ ایک نوجوان کھڑا رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا، میرا باپ مر گیا۔ میں نے سوچا مولانا کا بیٹا تو صرف طارق ہے۔ دل نے فوراً جھنجھوڑا ”شہر کے سینکڑوں نوجوان مولانا کے طارق ہی تو تھے“۔ جنازہ ہفتہ کے روز اٹھا۔ اس روز میری ملاقات برادرم اقبال فیروز صاحب سے ہوئی۔ آنکھیں اشکبار ، چہرہ افسردہ ، میرے منہ سے نکلا، اقبال صاحب شہر کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ بولے ، کیا کہتے ہو۔ یہ شہر کا نہیں عالم اسلام کا نقصان ہے۔ قادیانیت کے مزاج کو سمجھنے والا ، ان کی مکارانہ چالوں اور سیہ کاریوں کو جاننے والا مولانا سے بڑھ کر اور کوئی نہ تھا۔ آگے حنیف رضا (مولانا کے انتقال کے تقریباً دو ماہ بعد حنیف رضا بھی خالق حقیقی سے جاملے) کھڑے تھے۔ ہچکیاں بندھی ہوئی تھیں۔ ایسی ہچکیاں کہ آواز نہ نکلتی تھی۔

پورے ہجوم میں کونسی آنکھ تھی جو نمناک نہ ہو۔ مولانا سب کے تھے اور سب مولانا کے۔ ان کے مسلک میں مذہبی تفریق کا دخل نہ تھا۔ سب کو اپنا سمجھتے ، سب انہیں اپنا کہتے۔ بریلوی ، دیوبندی ، اہل حدیث ہر مکتبہ فکر کے لوگ ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ان کے لیے کھڑے ہوتے ، ان کو عزت دیتے۔ بریلوی مکتب کے صاحبزادہ افتخار الحسن سے ان کی دوستی تھی۔ پروفیسر افتخار احمد چشتی صاحب کی دعوت پر ہر سال جامعہ چشتیہ تشریف لے جاتے اور تقریر فرماتے۔ انہیں چڑ تھی تو صرف قادیانیت سے۔ قادیانیوں یا قادیانیت نوازوں کے لیے ان کے دل میں کوئی جگہ نہ تھی۔ جو دل سچی حب رسول سے مملو ہو ، بھلا وہاں قادیانیوں کے لیے کہاں جگہ ہو سکتی ہے۔ اس مسئلہ پر آپ کا خون کھول اٹھتا اور بسا اوقات آپے سے باہر ہو جاتے۔ غالباً 1966ء کا ذکر ہے۔ مولانا مرحوم بیمار ہوئے تھے۔ آپ کو میو ہسپتال لاہور داخل کرایا گیا۔ ایک روز میں ان کی عیادت کے لیے حاضر ہوا۔ ان کا کمرہ دو بستروں پر مشتمل تھا۔ ایک پر مولانا ، دوسرے پر ایک اور آدمی اسی مرض میں مبتلا لیٹا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا مولانا کے کمرے میں محفل جمی ہے۔ بہت سے لوگوں کے ساتھ آغا شورش کاشمیری ایڈیٹر چٹان بھی تشریف فرما تھے۔ موضوع قادیانیت اور ان کی ریشہ

صفحہ ٣٥

دوانیاں تھا۔ بحث چل رہی تھی کہ لاہور میں کسی پٹرول پمپ کا مالک قادیانی ہے۔ اس کی تخریب کاریوں کا ذکر تھا۔ آغا شورش اپنے مخصوص انداز میں بہت زور زور سے بول رہے تھے۔ سامنے چارپائی پر لیٹا مریض خاموش و ساکت ساری بحث سنتا رہا۔ آخر میں آہستہ سے آغا صاحب کو مخاطب کر کے بولا ”آپ شورش کاشمیری ہیں؟“ آغا صاحب نے اثبات میں جواب دیا، پھر کہنے لگا کہ جس پٹرول پمپ والے کی آپ بات کر رہے ہیں، وہ میں ہی ہوں۔ آغا صاحب نے اس کی بات سن کر قہقہہ لگایا اور تفنن کے طور پر فرمایا کہ یہ معاملہ تو پھر مولانا تاج محمود اور آپ دونوں کا ہے۔ اللہ نے آپ دونوں کو یہاں اکٹھا کر دیا ہے۔ آپس میں اپنا معاملہ خود نمٹائیے۔ اگلے روز ڈاکٹر نے دونوں کا بلڈ پریشر چیک کیا۔ دونوں کا بلڈ پریشر دس درجے ہائی تھا۔ ڈاکٹر کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیوں ہوا۔ کسی نے سارا ماجرا سنایا تو ڈاکٹر نے دونوں کو علیحدہ کمرے دے دیے۔

مولانا تاج محمود صاحب کو میں نے سب سے زیادہ خوش اس وقت دیکھا جب قادیانیوں کو حکومت کی طرف سے اقلیت قرار دیا گیا۔ اور کیوں نہ ہوتے۔ اس فیصلے سے تو وہ دیرینہ مطالبہ پورا ہوا تھا کہ جس پر آپ کے بیشتر اکابر اپنی عمریں کھپا چکے تھے اور مولانا کی جوانی اور بڑھاپا اس مقصد کے حصول کے لیے صرف ہو رہا تھا۔

ایک مرتبہ گھر کے باہر محفل جمی ہوئی تھی۔ احباب چارپائیوں پر بیٹھے تھے۔ موضوع بحث مسئلہ ارتداد تھا۔ مولانا فرما رہے تھے کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل رکھی گئی ہے کیونکہ ایک مرتد احکم الحاکمین کا باغی ہوتا ہے اور باغی کو کوئی حکومت برداشت نہیں کرتی۔ میں نے عرض کی کہ مولانا موجودہ قادیانیوں کا مسئلہ کچھ مختلف ہے۔ انہیں ہم مرتد نہیں کہہ سکتے۔ مرتد تو ان کے والدین تھے۔ یہ تو ان کی اولاد ہیں۔ قادیانیت ان کو ورثہ میں ملی ہے۔ میں نے دیکھا، مولانا کا چہرہ تمتما اٹھا۔ فوراً جلال میں آئے اور فرمانے لگے۔ قاری طاہر تو نے تازہ تازہ فقہ پڑھی ہے۔ میں فقہی موشگافیوں میں نہیں پڑتا۔ میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ اگر مجھے اقتدار ملے اور میں پاکستان کا سربراہ بنوں تو میرا فیصلہ سیدنا صدیق اکبر ؓ کی اقتداء میں ہو گا۔ مولانا نے اپنا ہاتھ کھول کر بازو پھیلایا اور اسے تلوار کی طرح لہراتے ہوئے فرمایا کہ میں تو ان سب کا صفایا کر دوں گا کیونکہ یہ لوگ میرے نزدیک مرتد سے بڑھ کر ہیں۔ ان کو اقلیت قرار دینا ہماری منزل نہیں، یہ تو محض ہم نے اپنے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔

صفحہ ٣٦

مولانا سب سے زیادہ غمگین اس وقت نظر آئے جب کہ ایک قادیانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل پرائز ملا اور حکومت پاکستان نے سرکاری سطح پر اس کی پذیرائی کی۔ جمعہ کا دن تھا مولانا حسب معمول تقریر جمعہ کے لیے تشریف لائے۔ منبر پر بیٹھے۔ کرب کے آثار چہرے سے ظاہر تھے۔ حکومت کے رویے کی بھرپور مذمت فرماتے ہوئے بولے۔ ہم ضیاء الحق سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اس سے پہلے اس ملک میں فیض احمد فیض کو لینن پرائز ملا تھا۔ فیض احمد فیض کو سرکاری طور پر کوئی پذیرائی نہ ملی۔ حکومت کہہ سکتی ہے کہ فیض کمیونسٹ تھا۔ روس دشمن ملک ہے۔ اس لیے ہم اس کی پذیرائی کیوں کرتے۔ لیکن کچھ عرصہ قبل مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کو شاہ فیصل ایوارڈ ملا ہے۔ ان کو تو کسی نے اسلام آباد میں بلا کر استقبالیہ نہ دیا۔ آخر عبدالسلام کو کونسا سرخاب کا پر لگا ہے کہ پوری حکومت کی مشینری حرکت میں آگئی ہے۔ جگہ جگہ سرکاری احکامات کے تحت استقبالیے دیے جارہے ہیں۔ ایک استقبالیہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بھی دیا جانے والا ہے۔ میں نے فیصل آباد کی انتظامیہ پر اور زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر غلام رسول پر یہ بات واضح کردی ہے کہ اگر عبدالسلام کو زرعی یونیورسٹی میں استقبالیہ دیا گیا تو ہم کالی جھنڈیاں لے کر وہاں پہنچیں گے اور مزاحمت کریں گے۔ اگر حالات بگڑے تو ذمہ داری انتظامیہ اور حکومت پر ہوگی۔

(مولانا کی اس تقریر کی وجہ سے انتظامیہ کو یہ استقبالیہ منسوخ کرنا پڑا) اسی تقریر میں مولانا نے فرمایا کہ نوبل پرائز کا ملنا ہمارے نزدیک کوئی اعزاز کی بات نہیں کیونکہ نوبل ایک یہودی تھا۔ یہ پرائز دینے والی انجمن بھی یہودیوں کی انجمن ہے۔ وہ کبھی کسی مسلمان شخصیت کو یہ پرائز نہیں دیتے۔ ایک مرتبہ علامہ اقبال کا نام نوبل پرائز کے لیے تجویز ہوا تھا۔ فائنل اتھارٹی نے اس تجویز سے اتفاق نہ کیا اور علامہ اقبال کی بجائے پرائز ڈاکٹر رابندر ناتھ ٹیگور کو دیا گیا۔ کیا عبدالسلام، علامہ اقبال سے بڑھ کر ہے؟ عبدالسلام گورنمنٹ کالج لاہور کا ایک عام لیکچرار تھا۔ اس کی A.C.R (سالانہ خفیہ رپورٹ) میں اس وقت کے پرنسپل نے لکھا کہ یہ شخص اپنے مضمون میں پوری دسترس نہیں رکھتا اور اپنا مضمون پڑھانے کے لیے نا اہل ہے۔ اس زمانے میں پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی قادیانی ہوا کرتا تھا۔ پانچ وظائف باہر سے آتے تھے۔ قاعدہ کے مطابق ضروری تھا کہ ان

صفحہ ٣٧

وظائف کو اخبار میں مشتہر کیا جاتا اور اہل لوگوں کو وہ وظائف دیے جاتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ان پانچ وظائف میں سے ایک وظیفہ قادیانی ہونے کے ناطے عبدالسلام کو تفویض کر دیا گیا اور اس طرح عبدالسلام کو چور دروازے سے اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر بھجوا دیا گیا۔ جمعہ کی نماز کے بعد مولانا حسب معمول مسجد سے ملحقہ کمرہ میں تشریف لے گئے۔ وہاں دیگر لوگوں کے ہمراہ کچھ دیر بیٹھے رہے۔ چہرہ سے کرب کے آثار اب بھی ہویدا تھے۔ کسی نے کہا، ’مولانا آج آپ نے بڑی سخت باتیں کی ہیں‘۔ فرمانے لگے، ’میرے سینے میں لاوا ہے، لگتا ہے پھٹ پڑے گا‘۔ میں نے کہا تھا کہ آج مجھ سے تقریر نہ کراؤ، کسی اور سے کہہ دو۔ اس واقعہ کے بعد عموماً دوران تقریر فرمایا کرتے تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو میں ہزار خامیاں تھیں۔ لیکن اس نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا۔ میرا دل کہتا ہے کہ اس کا یہ عمل اللہ کے نزدیک بخشش کے لیے کافی ہو جائے گا۔

(ہفت روزہ لولاک، فیصل آباد، مولانا تاج محمود، از پروفیسر محمد طاہر)

خاک میں مل کر حیات ابدی پا جاؤں
عشق کا سوز زمانے کو دکھاتا جاؤں (مؤلف)

افریقی ملک گھانا میں قادیانیوں کی سرگرمیاں

علامہ احسان الٰہی ظہیر کا ایک انٹرویو

جمعیت اہل حدیث کے رہنما علامہ احسان الٰہی ظہیر نے گزشتہ دنوں گھانا میں مسلم تنظیموں کی طرف سے منعقدہ ایک تربیتی کیمپ اور سمپوزیم میں شرکت کی۔ وہ سعودی عرب، مصر اور نائجیریا بھی گئے۔ اس دورے سے واپسی پر ان سے جو گفتگو ہوئی، وہ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔

سوال: علامہ صاحب! آپ کہاں کہاں گئے، دورے کا مقصد کیا تھا اور کیا حاصل کیا۔ دورے کی کچھ تفصیلات بتا دیجئے۔

صفحہ ٣٨

جواب: ویسے تو میں کئی ایک ممالک سے ہو کر آیا ہوں لیکن اصل دورہ گھانا، مصر اور سعودی عرب کا تھا۔ سب سے زیادہ قیام گھانا میں کیا کہ وہاں مسلم تنظیموں کی طرف سے ایک تربیتی کیمپ اور سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ اسلامی ثقافتی ہفتہ منانے کا پروگرام بھی تھا۔ اس تربیتی کیمپ، اسلامی کلچر ویک اور سمپوزیم کے انعقاد میں امام محمد بن سعود یونیورسٹی ریاض، ام القرا یونیورسٹی مکہ اور رابطہ عالم اسلامی کی اعانت شامل تھی۔

چونکہ دنیا کے مختلف مشنری اداروں اور تبلیغی مراکز نے افریقہ بالعموم اور مغربی افریقہ کو بالخصوص اپنی جولانگاہ بنا رکھا ہے، ان سرگرمیوں پر غور و خوض اور ان کے تدارک کے ساتھ ساتھ اسلام کی منظم دعوتی اور تبلیغی رفتار کا جائزہ لینا اور اس میں مزید حرکت اور فعالیت پیدا کرنا تھا۔

مغربی افریقہ کے ممالک میں گھانا کو اس لحاظ سے خصوصی اہمیت حاصل ہے کہ وہاں ابھی تلک ان لوگوں کی تعداد خاصی ہے، جو ہنوز کسی باقاعدہ مذہب میں شامل نہیں ہوئے۔ وہ بت پرست اور ستارہ پرست ہیں۔ گھانا کو اس لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے کہ اسلام اور عالم اسلام کے خلاف عالمی باغی تحریکوں نے اس ملک کو مدت سے اپنی سرگرمیوں کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔ میری مراد قادیانی اور بہائی گروہ ہیں۔

افریقہ کے سادہ لوح اور مغربی افریقہ کے دور دراز علاقوں کے بسنے والے عام لوگوں کو ان دونوں گروہوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں سے مکمل واقفیت نہیں اور نہ ہی وہ اس کے عقائد سے پوری طرح باخبر ہیں۔ رابطہ عالم اسلامی نے اس مقصد کی خاطر اور اس وقت اس موضوع پر یعنی قادیانیت اور بہائیت کے بارے میں، خدا کی توفیق سے میری کتابیں جو دنیا بھر میں مشہور ہیں اور کئی ایک بین الاقوامی زبانوں میں ان کے تراجم ہو چکے ہیں، نیز افریقی ممالک میں انہیں خاصی تعداد میں تقسیم کیا جاچکا ہے، مجھے دعوت دی کہ میں بھی اجتماع میں شریک ہوں۔ خاص طور پر سمپوزیم کی مختلف نشستوں میں اپنے خیالات کا اظہار کروں۔

دورے کے بارے میں گفتگو سے پہلے وہاں کی صورت حال واضح کردوں، مجھے وہاں جاکر اس بات پر تعجب ہوا کہ قادیانیت نے افریقہ میں سامراجی اور استعماری قوتوں کی مدد سے اپنے آقا یعنی ولی نعمت انگریز کی تائید و حمایت سے بہت بڑے بڑے مراکز قائم کر رکھے

صفحہ ٣٩

ہیں اور افریقہ بھر کے لیے گھانا کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنا رکھا ہے۔ چنانچہ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ پاکستان و ہندوستان میں، جو ان کی اصل جنم بھومی اور قرار گاہ ہے، یہاں تو ان کا نہ کوئی ہسپتال ہے، نہ کالج، نہ یونیورسٹیاں اور نہ ہی دوسرے ادارے بلکہ انگریز استعمار کے برصغیر سے رخت سفر باندھنے کے بعد ان کی تبلیغی و دعوتی سرگرمیاں بھی نہیں رہیں۔ یہاں لے دے کے اگر ان کے نامہ اعمال میں کچھ ہے تو وہ مسلمانوں کے خلاف کچھ سازشیں اور منصوبے ہیں، کچھ ناتمام اور کچھ ناکام، لیکن گھانا جیسے دور دراز اور درماندہ ملک کے ہر شہر میں ان کے ہسپتال اور ڈسپنسریاں، ادارے، سکول، کالج اور عبادت گاہیں ہیں۔ جنہیں ایک نظر دیکھ کر اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ کوئی معشوق پردہ زنگاری کے پیچھے چھپ کر ان کے لیے اپنی آغوش شفقت و نعمت وا کیے ہوئے انہیں اپنی نصرت و تائید سے نواز رہا ہے اور یہ حقیقت اس وقت مزید منکشف ہوئی جب پتہ چلا کہ ٤٥ فیصد مسلم آبادی رکھنے والے اس ملک میں ٢٠، ٢٥ فیصد اقلیتی مسیحی یا عیسائی گروہ زمام اختیار و اقتدار پر قبضہ کیے ہوئے ہے۔ مسلمانوں کی بے پناہ قوت و طاقت، جو افرادی بھی ہے اور ایمانی بھی، اس کے سیلاب زر کے سامنے بند باندھنے سے عاجز ہے، انہیں اس کے لیے اس سے بہتر راستہ اور کوئی دکھائی نہیں دیا کہ وہ کسی ایسی تنظیم کو اس سیلاب زر کے آگے بند باندھنے کے لیے استعمال کریں جو لبادہ تو اسلام کا اوڑھے ہو لیکن درحقیقت رسول عربیؐ کی دعوت اور آپؐ کی امت میں نقب لگانے اور دراڑیں پیدا کرنے کا سبب بن سکے۔ یہی سبب ہے کہ اس وقت کی مفلس قلاش اور انتہائی نامعقول عیسائی حکومت نے مسلمانوں کی نمائندگی کے نام پر قادیانیوں کے دو وزیر وہاں حکومت میں شامل کر دیے ہیں اور اس طرح آبادی میں زیادہ سے زیادہ ایک ڈیڑھ فیصد حصہ رکھنے والا گروہ اسلام اور مسلمانوں سے خیانت کر کے مسلمانوں اور اسلام کے نام کی کمائی، فوائد اور نتائج اور حکومت کی طرف سے سہولیات حاصل کر رہا ہے اور مسلمانوں کو عیسائیت کی غلامی میں دینے کے لیے مسلمان دشمن قوتوں سے ساز باز کر رہا ہے اور جو بھی مسلمان اس سلسلے میں آواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہے، اسے یہ باہمی سازشوں اور ہتھکنڈوں سے خاموش کر دیتے۔

اسی طرح عیسائیوں نے اقراء میں حال ہی میں ایک بڑا مرکز قائم کیا ہے۔ جس کی شاخیں ملک بھر میں قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور اس میں انہیں تمام اسلام دشمن

صفحہ ٤٠

قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

وہاں ہونے والے اجلاسوں میں ہم نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے کچھ فیصلے کیے، جن کے تحت رابطہ عالم اسلامی، اسلامی یونیورسٹی مدینہ اور اسلامی یونیورسٹی ریاض کی طرف سے وہاں مشنری وفود بھیجے گئے اور ان یونیورسٹیوں کی طرف سے حال ہی میں بھیجے جانے والے مبلغین اور مشنریوں کو ایک منظم اور مربوط پروگرام دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں گھانا کے فرزندان اسلام کو ان یونیورسٹیوں میں زیادہ سے زیادہ داخلہ دینے اور اخلاقی و دینی تعلیمات سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس اجتماع میں مذاہب باطلہ کے مقابلے کے لیے ایک وسیع تر محاذ قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے اور ساتھ ہی اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ نئے لٹریچر کی تیاری اور مختلف علماء کی آمد نے ان گمراہ کن فرقوں کو بے نقاب کرنے میں اہل گھانا کی بے پناہ امداد و اعانت کی ہے۔ کچھ فیصلے ایسے بھی ہیں، جن کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا۔

سوال: علامہ صاحب! آپ گھانا کی معاشی و معاشرتی صورت حال کے بارے میں کچھ بتانا پسند فرمائیں گے؟

جواب: میری رائے میں دنیا کا شاید ہی کوئی ملک اس معاشی بدحالی کا شکار ہو، جتنا اس وقت گھانا ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ جب میں نائجیریا کے دارالحکومت سے گھانا کے لیے ہوائی جہاز پر بیٹھا تو مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ تمام مسافروں نے بریف کیسوں کے بجائے اپنے ہاتھوں میں بڑی بڑی ٹوکریاں اٹھا رکھی تھیں اور ان میں سامان تعیش یا سامان آرائش کے بجائے ڈبل روٹی، چینی اور چاول کے پیکٹ بھرے تھے اور اکرا ائیر پورٹ پر میری حیرت میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب کسٹم ہاؤس میں لوگوں کے بیگ کھولے گئے تو ان میں سے بھی ڈبل روٹیاں، چاول اور چینی کے پیکٹ نکلے اور یہ حیرت تو اس وقت دور ہو گئی جب گھانا کے سب سے بڑے ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل (جہاں مندوبین کے ٹھہرنے کا انتظام تھا) میں جا کر یہ معلوم ہوا کہ گھانا کے لوگوں نے کئی ماہ سے روٹی کا چہرہ نہیں دیکھا اور نہ چاول نام کی کوئی چیز تین ماہ سے دیکھنے میں آئی ہے۔

صبح نہا دھو کر اس خوبصورت ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں ناشتے کی میز پر پہنچا تو معلوم ہوا، نہ ڈبل روٹی ہے نہ ٹوس، نہ انڈے ہیں نہ چائے۔ بلکہ چائے کے لیے اس بڑے ہوٹل

صفحہ ٤١

میں چینی موجود نہیں ہے اور ڈبل روٹی صرف انہی لوگوں کو میسر آتی ہے جو گردو پیش کے ممالک نائیجیریا‘ ٹوگو‘ ایوری کوسٹ یا دیگر ملحقہ ملکوں میں جاتے رہتے ہیں۔ میں بے انتہا پریشان ہوا کہ ناشتہ کس چیز سے کروں؟ پوچھا تو بتایا گیا انناس سے کیجئے جو یہاں کی پیداوار ہے اور پھر دس دن کا طویل عرصہ میرے لیے دس ماہ کے برابر تھا‘ صرف دو تین دفعہ روٹی اور چاول دیکھنے کو ملے۔ جب سعودی سفیر نے از راہ شفقت اور پاکستانی سفیر نے از راہ مروت اپنے گھر کھانے پر بلایا۔ میں نے ان دنوں میں یہی اندازہ لگایا کہ لوگ دلیا قسم کی ایک چیز پر اکتفا کرتے ہیں یا پھر ایک بڑی دعوت میں انکشاف ہوا کہ شکر قندی سالن کے ساتھ بھگو کر کھاتے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ دنیا بھر کی مشہور ڈش ”فش اینڈ پوٹیٹو“ تک بھی وہاں نہ مل سکی۔ فش تو موجود تھی مگر پوٹیٹو خریدنے کے لیے گھانا کے پاس فارن کرنسی موجود نہیں۔

یہاں یہ بتاتا چلوں کہ گھانا کے اس ہوٹل ”انٹرکانٹی نینٹل“ کا روزانہ کرایہ تقریباً سوا سو ڈالر لازمی فارن کرنسی میں تھا (کھانے کے بغیر) میں نے اپنی طرح وہاں کئی اور لوگوں کو بھی گم گشتہ خیال طعام و قیام دیکھا۔

ایک دن مجھے بازار جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے وہاں سر بفلک عمارتوں کو افسردہ‘ اداس اور بڑے بڑے سٹوروں کو مکمل طور پر خالی دیکھا۔ حالانکہ گھانا کا شہر‘ ہر لحاظ سے انتہائی خوبصورت ہے‘ ایک طرف سمندر ہے تو دوسری طرف اونچے اونچے سبز پوش ٹیلے‘ درختوں کی فراوانی اور ہریالی کی کثرت ہے۔ خوبصورت پودوں کی بہتات ہے۔ کچھ پودے تو اتنے خوبصورت ہیں کہ اگر مور پر پھیلا کر کھڑا ہو جائے تو اتنا خوبصورت نہ لگے۔ وہاں اتنی ہریالی سبزہ اور رنگ ہیں اور حد نگاہ تک رنگوں کی ایک کہکشاں نظر آتی ہے لیکن زمین سے اٹھا کر پلکوں پر بنی ہوئی دیدہ زیب عمارتیں کسی بیوہ کے دل کی طرح اداس نظر آتی ہیں۔ گھانا ایک دور میں اپنی سونے کی کانوں اور جواہرات کی وجہ سے مشہور تھا۔

سوال: تو پھر اس ویرانی کی کیا وجہ ہے؟

جواب: اس کا جواب معلوم کر کے میری حیرت تو بہت حد تک کم ہو گئی کہ آئے دن کے فوجی انقلابوں نے گھانا کی آبرو کو پامال کر دیا ہے۔

(ہفت روزہ لولاک‘ جلد ١٩‘ شمارہ ٢٨)

صفحہ ٤٢

ظالم مرزا

اللہ تعالیٰ کا صاف طور پر اعلان ہے:

”اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔۔۔۔ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہی میں سے ہو گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔“ (سورہ مائدہ‘ آیت ٥)

یہود سے تو یہودی مراد ہیں اور نصاریٰ سے عیسائی‘ انگریز بھی عیسائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو منع فرما دیا کہ وہ ان لوگوں کو دوست نہ بنائیں‘ کیونکہ یہ آپس میں تو دوست ہیں‘ ایمان والوں کے ہرگز دوست نہیں ہو سکتے۔۔۔۔ اب جو انہیں دوست بنائے گا‘ وہ بھی انہی میں سے ہو گا‘ گویا‘ یہودی‘ عیسائی اور انگریز ہو گا اور ان کو دوست بنانے کی وجہ سے وہ ظالم ہو گا اور اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے تمام زندگی انگریزوں کو دوست بنائے رکھا‘ دن رات ان کی تعریفیں کیں‘ خود کو ان کا خودکاشتہ پودا کہا۔ ان کی تعریف میں بہت سی کتابیں لکھیں‘ مثلاً تحفہ قیصریہ‘ ستارہ قیصریہ وغیرہ اور مرزا نے لکھا کہ انگریز میرے محسن ہیں۔۔۔۔ میں ان کا وفادار ہوں‘ بلکہ میرے تو باپ دادا تک انگریزوں کے وفادار تھے۔۔۔۔ ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں جب مسلمان انگریزوں سے لڑ رہے تھے تو مرزا کے خاندان نے انگریزوں کی مدد کی تھی اور گھوڑے اور ساز و سامان دیا تھا‘ مرزا تریاق القلوب میں ص ١٥ پر لکھتا ہے:

”میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریز کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور جہاد کی ممانعت میں اور انگریز کی اطاعت میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتب اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“

صفحہ ٤٣

تو یہ حال تھا اس جھوٹے کا۔۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ تو فرما رہے ہیں’ انگریز اور یہودی تمہارے دوست نہیں ہوسکتے۔۔۔۔ اور یہ شخص ان کو دوست بنانے پر تلا رہا‘ ان کی تعریف میں کتابیں لکھتا رہا۔۔۔۔ اس طرح مرزا ظالموں میں سے ہو گیا اور ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔۔۔۔ جب مرزا کو ہدایت نہیں ملی تو مرزا کو نبی ماننے والوں کو ہدایت کیسے مل سکتی ہے۔۔۔۔ مرزائیوں کو چاہیے۔۔۔۔ اس صاف اور سادہ دلیل پر غور کریں۔۔۔۔ اور مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام کے دامن میں آجائیں۔

نوٹ: مرزائی ساری زندگی کوشش کرتے رہیں پچاس الماریاں بھر کر نہیں دکھا سکتے۔

(ماہنامہ ”لولاک“ اگست ١٩٩٧ء‘ از قلم: اشتیاق احمد)

مقید کر دیا سانپوں کو یہ کہہ کر سپیروں نے
یہ انسان کو انسانوں سے ڈسوانے کا موسم ہے (مؤلف)

آہ! سائیں محمد حیات پسروریؒ

موت کے ہاتھوں ہمیں ایک اور شکست ہوئی‘ ملک عزیز کے نامور پنجابی شاعر کاروان تحریک ختم نبوت کے سپاہی‘ قافلہ حریت کے سرخیل‘ حضرت امیر شریعتؒ کے جیل و ریل کے رفیق سائیں محمد حیات پسروری رحمتہ اللہ علیہ انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم پنجابی کے نامور شاعر تھے۔ ان کی تمام تر شعری خوبیاں رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت کے لیے وقف تھیں۔ ایسے فی البدیہہ شاعر تھے کہ جب کوئی مقرر رد قادیانیت پر تقریر کرتا تو اس کی تقریر ختم ہوتے ہی وہ پوری تقریر کو نظم کے سانچے میں ڈھال دیتے تھے۔

تقسیم سے پہلے مجلس احرار اسلام کے سٹیج سے انہوں نے نغمہ ہائے حریت سے عوام کے دلوں کو گرمایا۔ تقسیم کے بعد ان کی خدمات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لیے

صفحہ ٤٤

وقف ہوگئیں۔ بارہا قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کیا۔ لیکن ان کے پائے استقلال میں جنبش نہ آئی۔ ملک عزیز میں شاید ہی ختم نبوت کی کوئی کانفرنس ہو، جس میں آپ شریک نہ ہوئے ہوں۔ آل پاکستان سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کا ہر اجلاس ان کی ”صدائے فقیری“ سے گونجتا تھا۔

آخری عمر میں خاصے کمزور ہوگئے تھے۔ بینائی متاثر ہو گئی مگر اس کے باوجود ربوہ کانفرنس پر ضرور تشریف لاتے۔ مولانا اسلم قریشی کے اغوا کے بعد کانفرنس میں تشریف لائے، اسلم قریشی پر نظم پڑھی۔ ایسا منظر تھا کہ خود اور تمام سامعین پر گریہ کی کیفیت طاری ہوگئی۔

مولانا تاج محمود صاحبؒ کی رحلت پر ایک خط لکھا، وہ ایک یادگار تاریخی دستاویز تھا اور خط سے معلوم ہوتا تھا کہ سفر آخرت کے لیے تیار بیٹھے تھے۔

آخری عمر میں بلدیہ پسرور سے الیکشن لڑا۔ بلدیہ کے ممبر منتخب ہوئے۔ سماجی خدمات اور دینی اقدار کے تحفظ میں پوری عمر گزار دی۔ قدرت نے بڑھاپے میں ایک صاحبزادہ عطا کیا جس پر بہت خوش تھے۔ اپنی گزر بسر کے لیے مٹی کے برتنوں کی ایک دکان کھول لی تھی۔ کبھی کبھار ملک کے خاص خاص مشاعروں میں تشریف لے جاتے تھے اور یوں اپنے من کو خوش اور مصروف رکھنے کے مواقع تلاش کرلیتے تھے۔

بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔ ان کی وفات سے تاریخ کا ایک باب بند ہوگیا۔ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے احباب، جماعتی کارکن، ان کے عزیز و اقارب، مسلک حریت کے تمام ساتھی بجاطور پر تعزیت کے مستحق ہیں۔ ادارہ ختم نبوت مرحوم کے متعلقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ (آمین)

(ہفت روزہ ختم نبوت، کراچی، جلد ٦، شمارہ ٩، اگست ١٩٨٧ء، از قلم: محمد حنیف

ندیم)

رات دن ہم تری یادوں کا سہارا لے کر
اپنی تنہائی کا ایوان سجا لیتے ہیں (مؤلف)
صفحہ ٤٥

ایک مجاہد ختم نبوت کی للکار

میرے اعتراضات پر قادیانی سربراہ کا نمائندہ

غلام احمد بے ہوش ہو گیا

٣١ اگست ٨٨ء کو لندن میں منعقد ہونے والی چوتھی سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس میں بھارت سے ایک بزرگ عالم دین مولانا محمد اسمعیل کٹکی تشریف لائے اور اپنے خطاب میں یہ کہہ کر سب حاضرین و سامعین کو چونکا دیا کہ مسلمانوں اور قادیانیوں میں ختم نبوت کے عقیدہ پر اختلاف نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں کی طرح قادیانی حضرات بھی سلسلہ نبوت کو منقطع اور ختم مانتے ہیں۔ اسی وجہ سے نہ تو وہ جناب نبی اکرم ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی سے پہلے کسی اور کی نبوت کے قائل ہیں اور نہ ہی مرزا غلام احمد کے بعد کسی اور شخص کو نبوت ملنے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے نزدیک بھی نبوت و رسالت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مسلمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی تسلیم کرتے ہیں اور قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کے آخری نبی ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس لیے مسلمان علماء کو قادیانی مبلغین کے ساتھ بحث و مباحثہ میں نبوت کے ختم ہونے یا جاری رہنے کے عنوان پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے اور مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات اور خود ساختہ نبوت کو زیر بحث لا کر اس کی اصلیت کو بے نقاب کرنا چاہیے۔

مولانا کٹکی کی اس چونکا دینے والی تقریر سے اندازہ ہوا کہ انہیں قادیانیت کے موضوع کے ساتھ خصوصی دلچسپی ہے اور اس مناسبت سے جب ان کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں گفتگو کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ مولانا موصوف کا شمار بھارت میں قادیانیت کے بارے میں صف اول کے مناظر کی حیثیت سے ہوتا ہے اور نہ صرف یہ کہ وہ گزشتہ نصف صدی کے دوران ستر سے زیادہ کامیاب مناظرے کر چکے ہیں بلکہ ہزاروں قادیانی کے

صفحہ ٤٦

دست حق پرست پر تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔ مولانا محمد اسمعیل صوبہ اڑیسہ کے امیر شریعت اور جمعیۃ علماء ہند کے صوبائی سربراہ ہیں جبکہ کچھ عرصہ قبل کل بھارت کی سطح پر مولانا مرغوب الرحمٰن، مہتمم دارالعلوم دیوبند کی سربراہی میں قائم ہونے والی مجلس تحفظ ختم نبوت کا انہیں نائب صدر چنا گیا۔ ان کی ولادت ١٩١٤ء میں اڑیسہ ضلع کٹک کے ایک گاؤں سونگڑہ کے خاندان سادات میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد مدرسہ شاہی مراد آباد میں دینی علوم کی تحصیل کے لیے دو سال رہے۔ وہاں ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ تشریف لائے ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ یہ حضرت امام اعظمؒ ہیں۔ صبح بیدار ہوئے تو ایک نئے بزرگ کو دیکھا کہ وہ نماز کی امامت کرا رہے ہیں اور وہی شکل و صورت ہے جو رات خواب میں دیکھی تھی۔ معلوم ہوا کہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا سید حسین احمد مدنیؒ ہیں۔ مولانا مدنیؒ جو کہ تھوڑی دیر کے لیے مراد آباد آئے تھے، واپس دیوبند چلے گئے مگر اڑیسہ کے اس طالب علم کا دل بھی ساتھ لیتے گئے۔ دوسرے دن یہ مراد آباد کو چھوڑ کر دارالعلوم دیوبند کی طرف روانہ ہو گئے اور دارالعلوم میں داخلہ لے لیا۔ ١٩٣٤ء میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سے دورہ حدیث پڑھ کر دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہوئے۔ وہ اڑیسہ میں پہلے فاضل دیوبند تھے۔ اڑیسہ جو پہلے صوبہ بہار کا حصہ ہوتا تھا، ١٩٣٦ء میں اسے بہار سے الگ مستقل صوبہ کی حیثیت دے دی گئی۔

مولانا محمد اسمعیل کا مزاج طالب علمی سے ہی مناظرانہ تھا اور اس دور میں بھی دو تین معرکے سر کر چکے تھے۔ اس وقت متحدہ ہندوستان میں مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ آریہ سماج، قادیانیت اور دیگر باطل مذاہب کے خلاف مسلمانوں کے صف اول کے مناظر تھے۔ وہ دارالعلوم دیوبند میں طلبہ کو مناظرہ کی تربیت دیا کرتے تھے۔ طلبہ کی ایک تربیتی کلاس میں مولانا محمد اسمعیل بھی شریک ہوئے۔ مزاج مناظرانہ تھا جس پر مولانا چاند پوریؒ کی تربیت نے ایسا رنگ چڑھا دیا کہ پھر ساری زندگی مناظروں میں ہی گزر گئی۔

مولانا موصوف کے دورہ حدیث کے سال کی بات ہے کہ مجلس احرار اسلام نے قادیان میں احرار کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا۔ مولانا محمد اسمعیل اپنے ایک ساتھی مولانا عرض محمدؒ بلوچستانی کے ہمراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے قادیان گئے۔ مولانا عرض محمدؒ کا شمار بعد میں بلوچستان کے سرکردہ علماء میں ہوا۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خلیفہ

صفحہ ٤٧

مجاز تھے۔ انہوں نے کوئٹہ میں بروری روڈ پر مدرسہ مطلع العلوم قائم کیا جو آج بلوچستان کے بڑے دینی مدارس میں سے ہے۔ کافی عرصہ قبل ان کا انتقال ہو چکا ہے اور اب ان کے داماد حافظ حسین احمد مدرسہ کا نظام چلا رہے ہیں۔

قادیان میں دفعہ ١٤٤ کا نفاذ کر کے حکومت نے باہر سے لوگوں کا شہر کے اندر جانا بند کر رکھا تھا۔ فوج اور پولیس نے ناکہ بندی کی ہوئی تھی۔ احرار کانفرنس شہر سے باہر ایک احاطہ میں ہوئی۔ مولانا محمد اسمعیل اور مولانا عرض محمد شہر کے اندر جانا چاہتے تھے مگر ناکہ بندی کی وجہ سے راستہ نہیں مل رہا تھا۔ ایک سکھ سے راہنمائی حاصل کی اور پانی کے نالہ کے ساتھ ساتھ کھیتوں میں سے ہوتے ہوئے قادیان کے اندر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ نام نہاد مسجد اقصیٰ میں گئے۔ مینارۃ المسیح پر چڑھے، نیچے اترے تو نوجوانی کا جوش غالب آیا۔ چند نعرے لگائے اور تقریر شروع کر دی۔ لوگ اکٹھے ہو گئے۔ انہوں نے محمدی بیگم کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کے معاشقہ اور پھر نکاح میں ناکامی کا قصہ چھیڑ دیا اور مناظرہ کا چیلنج دیا۔ مشہور قادیانی راہنما مفتی محمد صادق مسجد میں آئے۔ دس پندرہ منٹ بات چیت ہوئی۔ سوالات ایسے تیکھے تھے کہ مفتی محمد صدیق سے جواب نہ بن پڑا۔ پھر ایک اور صاحب سید محمد سرور آئے اور گفتگو کا سلسلہ شروع کر دیا اتنے میں پولیس آئی اور مولانا محمد اسمعیل اور مولانا عرض محمد کو زبردستی اٹھا کر قادیان سے باہر چھوڑ آئی۔

یہ معرکہ آرائی تو طالب علمی کے دور میں تھی۔ جب دارالعلوم سے فارغ ہو کر اپنے علاقہ میں واپس پہنچے تو اڑیسہ کے علاقہ میں قادیانی دعوت و تبلیغ کا جال بچھا ہوا دیکھا۔ مرزا بشیر الدین محمود کی پہلی شادی بہار میں ہوئی تھی۔ اس زمانہ میں بہار اور اڑیسہ اکٹھے تھے۔ علاقہ کے پڑھے لکھے طبقہ میں قادیانیت کا رسوخ بہت زیادہ تھا۔ خود مولانا محمد اسمعیل کے بہت سے اعزہ و اقارب اس جال کا شکار ہو چکے تھے۔ کوشش کی کہ علاقہ میں دعوت و تبلیغ کا کام مستقل بنیادوں پر کر سکیں مگر وسائل اور افراد دونوں کا تعاون نہ مل سکا۔ بالآخر سرکاری ملازمت کر لی۔ سکول میں اردو اور فارسی کی تعلیم کا کام تھا۔ فارغ وقت میں تبلیغی کام اور جمعیتہ علماء ہند کے کاموں میں معاونت کرتے رہے۔

١٩٣٨ء میں اپنے قصبہ سونگڑہ میں جمعیتہ علماء ہند کی ایک بڑی کانفرنس منعقد کرائی‘ جس میں مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ بھی شریک ہوئے۔ یہ

صفحہ ٤٨

سلسلہ ١٩٤٧ء تک چلتا رہا۔ حتیٰ کہ مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے سرکاری ملازمت چھوڑنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ سارا علاقہ قادیانی ہو رہا ہے اور تم نوکری میں لگے ہوئے ہو۔ ہم نے تمہیں اس لیے نہیں پڑھایا تھا۔ یہ زمانہ مسلم لیگ اور کانگرس کی سیاسی کشمکش کے عروج کا زمانہ تھا۔ اس علاقہ میں مسلم لیگ کا زور تھا۔ مولانا محمد اسمعیل کٹکی کانگرسی تھے۔ کٹک سٹی کانگرس کے ایک دور میں صدر بھی رہے۔ کھدر پوش تھے اور کھدر اس دور میں کانگرس کی علامت بن گیا تھا۔ مولانا محمد اسمعیل نے عذر پیش کیا کہ جمعیتہ علماء ہند کا عنوان اور کھدر عام لوگوں کی دلچسپی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور اس طرح قادیانیت کے خلاف کام کرنے سے زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔ اس پر مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے کہا تم کھدر بھی چھوڑ دو، مگر قادیانیت کی روک تھام کے لیے کام کرو۔ چنانچہ انجمن تبلیغ الاسلام کے نام سے ایک مذہبی تنظیم بنا کر ١٩٤٦ء میں کام شروع کیا اور قادیانیوں کے ساتھ بحث و مباحثہ اور مناظروں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔ کم و بیش ستر سے زیادہ مناظرے کیے اور تقریباً آٹھ ہزار قادیانیوں کو توبہ کرا کے اسلام میں دوبارہ لانے میں کامیاب ہوئے۔

ایک دلچسپ مناظرہ کی روداد یوں ہے کہ قادیان میں مرزا بشیر الدین محمود کو خط لکھا کہ میں آپ سے مناظرہ کرنا چاہتا ہوں۔ مرزا محمود نے رجسٹری جواب دیا کہ میں مناظرہ نہیں کرتا، البتہ میرا نمائندہ غلام احمد ہے، اس سے مناظرہ کر لو۔ چنانچہ غلام احمد سے مناظرہ ہوا۔ مگر مناظرہ کے دوران سوالات اور اعتراضات کی نوعیت ایسی تھی کہ غلام احمد مذکور گھبراہٹ کے ساتھ بے ہوش ہو گیا اور تقریباً بائیس دن کے بعد اسے ہوش آیا۔

مناظروں اور مباحثوں کے اس سلسلہ نے قادیانیت کی توسیع کا سلسلہ روک دیا اور بالآخر اس علاقہ کو قادیانیت کا مرکز بنانے کا منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا جس کا اعلان خود مرزا بشیر الدین محمود نے "الفضل" میں ان الفاظ سے کیا تھا کہ "اب صوبہ اڑیسہ احمدی سٹیٹ ہوگا۔" مولانا محمد اسمعیل کا کہنا ہے کہ تقسیم ہند کے بعد قادیانیوں کا ہیڈ کوارٹر پاکستان میں منتقل ہو گیا اور بھارت میں ان کی تبلیغ کا سلسلہ مدہم پڑ گیا۔ مگر "قادیان" کے بارے میں ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ اس پر انہیں مکمل کنٹرول حاصل ہو جائے اور پوپ پال کے ویٹیکن سٹی کی طرح قادیان کو وہ اپنی خالص ریاست بنا سکیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت کے مرحوم صدر فخر الدین علی احمد نے خود انہیں بتایا کہ آنجہانی سر ظفر اللہ خان ایک

صفحہ ٤٩

بار دہلی آئے اور وزیراعظم اندرا گاندھی کے ساتھ ملاقات کر کے یہ پیش کش کی کہ اگر بھارتی حکومت ”قادیان“ کا مکمل کنٹرول ان کی جماعت کے سپرد کر دے تو وہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں بھارت کو سپورٹ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اندرا گاندھی نے اس سلسلہ میں فخر الدین علی احمد سے مشورہ کیا تو انہوں نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ اس طرح بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کے علاوہ مشرق وسطیٰ کی مسلم ریاستوں میں بھی بھارتی حکومت کے بارے میں ناراضگی کے جذبات پیدا ہو جائیں گے اور بھارت کو نقصان ہوگا۔ چنانچہ فخر الدین علی احمد کے اس مشورہ کے بعد اندرا گاندھی نے سر ظفر اللہ خان کی پیش کش کو رد کر دیا۔

مولانا محمد اسمعیل نے بتایا کہ چند سالوں سے قادیانیوں نے بھارت کے مختلف صوبوں میں تبلیغ کا کام پھر سے وسیع پیمانے پر شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے دہلی میں مرکز کے قیام کے لیے کروڑوں روپے کی لاگت سے جگہ خریدی ہے اور سادہ اور غریب مسلمانوں کو قادیانیت کے جال میں پھنسانے کے لیے مختلف روایتی حربوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے علماء اسلام نے بھی اپنی سرگرمیوں کو منظم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ گزشتہ سال دار العلوم دیوبند میں ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی اور اس موقع پر مجلس تحفظ ختم نبوت ہند کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس کا صدر دار العلوم کے مہتمم مولانا مرغوب الرحمٰن اور نائب صدر مولانا محمد اسمعیل کو بنایا گیا جبکہ مولانا سعید احمد پالن پوری ناظم اعلیٰ چنے گئے۔ دیوبند مجلس کا مستقل مرکز قائم کیا گیا اور دارالعلوم میں طلبہ کو قادیانیت سے آگاہ کرنے کے لیے تربیتی کلاسوں کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا۔

(ملاقات: مولانا زاہد الراشدی ’ہفت روزہ لولاک‘ فیصل آباد)

اتحاد امت

یہ میرے دکھی دل کی چند گزارشات تھیں جو میں نے عرض کیں۔ میں تو ایک ہی بات کا مناد ہوں۔ ایک ہی بات کا داعی ہوں اور ایک ہی بات کا ڈھنڈورا پیٹنے والا ہوں کہ

صفحہ ٥٠

مسلمانو! ایک ہو جاؤ۔ اہل حدیث حضرات کو اپنا مسلک مبارک ہو۔ وہ اپنی تحقیق کے مطابق کتاب اللہ و سنت رسول کی اتباع کریں۔ دیوبندی کی جو تحقیق ہے‘ وہ اس کے مطابق زندگی بسر کریں۔ بریلویوں کی جو تحقیق ہے‘ وہ اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔ لیکن اپنے اپنے گھر میں---- ایک دوسرے کو چھیڑنا‘ گالی دینا‘ طعن و تشنیع کرنا‘ جنگ و جدال کرنا‘ فساد کرنا‘ مسجدوں پر قبضے کرنا‘ میں سمجھتا ہوں‘ یہ اپنی عقل کی اختراع نہیں۔ اس کے پیچھے دشمن کا ہاتھ ہے۔ دشمن کا کروڑوں روپے کا بجٹ صرف اپنے کاموں پر ہی خرچ نہیں ہوتا‘ آپس میں لڑانے اور تباہ و برباد کرنے پر بھی خرچ ہوتا ہے۔ میں کوئی تقریر کرنے نہیں آیا تھا۔ صرف اتحاد کے مظاہرے میں شریک ہونے آیا تھا۔ میں نے چند باتیں کہی ہیں۔ کسی شاعر نے کہا ہے ؎

بلبل ہمین کہ قافیہ گل شود بس است

بس بلبل کے لیے تو اتنا ہی کافی ہے کہ وہ گل کا قافیہ بن جائے۔ میں اتحاد والے‘ سیرت النبی والے‘ کتاب اللہ و سنت رسولؐ کا بول بالا کرنے والے جلسے میں شریک ہونا اپنے لیے باعث سعادت سمجھتا ہوں۔ واخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين

(خطاب حضرت مولانا تاج محمودؒ)

پرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کو
جو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گا

(مؤلف)

اپنی اپنی فکر

یہ مسئلہ ایسا ہے کہ جس پر تمام امت کا اتفاق ہے۔ اگر حاکم وقت کو اپنی کرسی کی فکر ہے تو مسلمانوں کو اپنے محبوب کی عزت کی فکر ہے۔ صدر بدل سکتے ہیں‘ مگر پیغمبرؐ نہیں بدل سکتے۔

(خطاب : مولانا عبدالشکور دین پوریؒ)

صفحہ ٥١

ایک بچے کا عشق رسولؐ

میں اس وقت ابھی بچہ تھا۔ جب ١٩٥٣ء میں تحریک ختم نبوت چلی۔ میں گھوٹکی میں تھا۔ مولانا احمد علی لاہوریؒ سے میری بیعت تھی۔ میں اس وقت گیارہ سال کا تھا۔ پتہ چلا تو وہاں سے سکھر گیا۔ آٹھ آدمی ساتھ لے کر، وہاں سفید مسجد ہے، وہاں گیا۔ عمر کا تو کچا تھا۔ ویسے سمجھدار اچھا تھا۔ میں وہاں سے اڑھائی مہینے سکھر سنٹرل جیل چلا گیا۔ جیل میں جا کے بھی محمدؐ کی ختم نبوت کے نعرے لگاتا رہا۔ (سبحان اللہ)

(خطاب : مولانا عبدالشکور دین پوریؒ)

مرے داغ دل کو تابش جو کبھی یہ دیکھ پائیں
وہیں رشک بے اماں سے مہر و ماہ ڈوب جائیں (مؤلف)

قادیانیوں پر لعنتوں کی بارش نے آگ بجھادی

ایک عجیب واقعہ

رپورٹ: ابو ایف آر ۔ ایم دوست محمد مستانی بلوچ

مرزا قادیانی نے نبوت کا ہی دعویٰ نہیں کیا بلکہ اس ملعون نے آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر ہونے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ جس پر وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ملعون و مردود ہو گیا۔ اب اگر کوئی اس پر لعنت بھیجتا ہے تو وہ مستحق اجر و ثواب ہے۔ گزشتہ دنوں علاقہ گڈاپ کے حاجی مستانی گوٹھ میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ہوا یوں کہ اس گوٹھ کے ارد گرد (چاروں طرف) کانٹے دار درخت کیکر کی باڑھ ہے۔ نماز مغرب یعنی اذان اور نماز کے درمیان اس

صفحہ ٥٢

باڑہ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ ہوا بہت تیز چل رہی تھی۔ اللہ کی خاص عنایت اور فضل کے بغیر اس زور دار آگ پر قابو پانا انتہائی مشکل تھا۔ جو لوگ ‘نماز میں مشغول تھے۔ وہ نماز سے فارغ ہوتے گئے اور آگ بجھانے کے لیے دوڑتے گئے۔ اس وقت تک ساٹھ ستر فٹ باڑ آگ کی لپیٹ میں آچکی تھی۔ شعلے تھے کہ بلند سے بلند ہوتے جارہے تھے۔ اتنے میں کافی لوگ بھی جمع ہوگئے۔ انہوں نے ایک آواز سنی۔

قادیانی پہ لعنت ہزار بار ۔۔۔ قادیانیوں پہ لعنت بار بار ۔۔۔
قادیانی پہ لعنت بے شمار

یہ تین بچیاں جن کی عمریں تین چار سال کی تھیں‘ زور زور سے مرزا قادیانی پر لعنتوں کی بارشیں برسا رہی تھیں۔ خدا کی قدرت دیکھیے کہ مرزا قادیانی پر اس لعنتوں کی بارش نے فائر بریگیڈ کا کام دیا اور چند ہی منٹوں میں آگ پر قابو پالیا گیا۔ وہاں کے ہر شخص کی زبان پر جاری تھا کہ اتنی تیز آگ کا قابو میں آنا بہت ہی مشکل تھا جب کہ ہوا بھی تیز چل رہی تھی لیکن ننھی اور معصوم بچیوں کی مرزا قادیانی اور قادیانیوں پر لعنتوں کی بارش نے آگ بجھادی۔ سب لوگ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئے۔ فالحمد للہ

(ہفت روزہ ختم نبوت‘ کراچی‘ جلد ١٠‘ شمارہ ٣٦)

حق کی عظیم فتح

ایک عرصہ سے منکرین ختم نبوت نے اپنی حیثیت کو جسے آئینی طور پر متعین کردیا گیا‘ پھر سے متنازعہ بنانے کے لیے یہ وطیرہ اپنا لیا ہے کہ وہ دور دراز دیہات میں جاکر وہاں کے سادہ لوح دیہاتیوں کے سامنے چکنی چپڑی باتیں کرکے انہیں ورغلاتے اور گمراہ کرتے رہتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ میدان خالی پا کر چیلنج بھی کرتے رہتے ہیں جیسا کہ فیصل آباد کے باوا چک‘

صفحہ ٥٣

چیچہ وطنی کے چک عبداللہ وغیرہ میں ہوا۔ شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مولانا لال حسین اختر اور مولانا محمد حیات صاحب چونکہ اپنے خالق حقیقی کے پاس جا چکے ہیں لہٰذا میدان خالی ہے اور اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ٣ جنوری کو فیصل آباد کے علاقے منصور آباد میں مجلس کے مرکزی دفتر یا ضلعی دفتر کو اطلاع دیے بغیر وہاں کے دوستوں نے ایک مجلس تبادلہ خیال رکھ لی۔ مولانا اللہ وسایہ صاحب تمام پروگرام منسوخ کر کے وہاں پہنچے گفتگو ہوئی اور خوب ہوئی، جسے ریکارڈ کر لیا گیا تھا اور اب اس کی مکمل حرف بہ حرف رپورٹ قلم بند ہو چکی ہے جو جلد ہی قارئین ”لولاک“ کی خدمت میں پیش کر دی جائے گی۔

تازہ واقعہ تخت ہزارہ تحصیل بھلوال ضلع سرگودھا ہے کہ تخت ہزارہ کے نزدیک ایک قصبہ ہے ’نصیر پور خورد‘ وہاں کا ایک وفد فیصل آباد حضرت مولانا تاج محمود صاحب کے پاس پہنچا۔ مولانا چونکہ لاہور ہسپتال میں داخل تھے۔ راقم نے ان سے ساری روئیداد سنی، جس میں انہوں نے بتایا کہ وہاں باہمی گفتگو طے پا گئی ہے اور یہ بھی تحریر ہو چکا ہے، جو فریق حاضر نہ ہو گا وہ دوسرے فریق کو پانچ ہزار روپے ہرجانہ ادا کرے گا۔ میں نے انہیں یقین دہانی کرا دی کہ آپ مایوس نہ ہوں۔ اگرچہ آپ نے عین وقت پر اطلاع دی ہے۔ تاریخ بھی بہت قریب ہے۔ تمام مبلغین اپنے اپنے پروگرام میں مصروف ہوں گے تاہم آپ کو مایوس نہیں کیا جائے گا اور ضرور کسی مبلغ کا وقت نکال کر آپ کو دیا جائے گا۔ چنانچہ راقم نے فوری ملتان رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن کامیابی نہ ہو سکی۔

دریں اثنا حضرت مولانا تاج محمود صاحب بھی لاہور سے تشریف لے آئے۔ انہیں وفد کی آمد اور تخت ہزارہ کی صورت حال سے آگاہ کیا اور پھر مولانا کے حکم سے مرکزی دفتر ملتان رابطہ قائم کیا۔۔۔ حضرت مولانا عبد الرحیم اشعر ناظم تبلیغ سے گفتگو ہوئی۔ حضرت مولانا تاج محمود صاحب نے فرمایا کہ تخت ہزارہ کے لیے کسی نہ کسی مبلغ کا وقت نکالا جائے۔ انہوں نے وعدہ فرمالیا۔۔۔۔۔ نماز مغرب کے بعد وفد پھر آیا اور ہم نے انہیں بتا دیا کہ آپ فکر نہ کریں۔ ٢٠ جنوری کو آپ کے پاس جماعت کا مبلغ پہنچ جائے گا۔ راقم نے انہی حضرات کے ذریعے اپنے سرگودھا کے مبلغ مولانا ظفر اقبال صاحب کو بھی پیغام بھیج دیا کہ وہ اس دن سرگودھا ہی میں رہیں تاکہ ملتان سے ہمارے جو مبلغ بھی پہنچیں، انہیں کسی قسم کی دقت نہ

صفحہ ٥٤

ہو۔۔۔۔۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے ہمارے ممتاز مقرر اور اس میدان کے شہسوار مولانا قاضی اللہ یار صاحب کو مقرر کیا گیا۔ قاضی صاحب موصوف اپنے تمام پروگرام کو منسوخ کر کے ایک روز پہلے سرگودھا آئے۔ وہاں سے مجلس کے مبلغ مولانا ظفر اقبال صاحب کی معیت میں اسی روز قصبہ نصیر پور خورد متصل تخت ہزارہ تقریباً رات کے 9 بجے پہنچے جہاں احباب شدت سے انتظار کر رہے تھے۔ رات جناب رانا محمد اکرم صاحب کے مہمان ہوئے۔ اگلے روز صبح کو فریق مخالف کے مبلغین کا ایک وفد بھی آ دھمکا۔۔۔۔ گفتگو بھی فریق مخالف کے مکان پر ہوئی۔۔۔۔ ان کے متکلم احمد شاہ منگس اور معاونت کے لیے تین مربی۔۔۔۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق گفتگو بند کمرے میں ہوئی اور جانبین سے دس دس حضرات شریک ہوئے۔۔۔۔ گفتگو میں سب سے پہلے ”صدق و کذب“ کا موضوع تھا۔۔۔۔۔

ان کے ایک مربی نے یہ آیت پڑھی:

فقد لبثت فيكم عمرا من قبله

اور اس سے استدلال کیا۔ حضرت مولانا قاضی اللہ یار نے کہا، آپ جس کو اپنا ”نبی“، مسیح اور نہ جانے کیا کیا مانتے ہیں۔ اس نے اپنی دینی کتاب ”حقیقۃ الوحی“ میں لکھا ہے کہ:

نیز ”چشمہ معرفت“ میں لکھا ہے:

جو ایک بات میں جھوٹا ہو اس کی دوسری باتوں کا اعتبار نہیں۔

ان حوالوں کے بعد قاضی صاحب موصوف نے اس کی ایک اور کتاب ”شہادۃ القرآن“ کا حوالہ پیش کیا، جس میں انہوں نے حضرت امام بخاریؒ پر جھوٹا الزام لگاتے ہوئے لکھا ہے کہ:

بخاری شریفؒ میں لکھا ہے کہ قیامت کے قریب آسمان سے آواز آئے گی: ”هذا خلیفتہ الله المهدى“ نیز ”ازالہ اوہام“ میں لکھتا ہے کہ:

قرآن پاک میں تین شہروں مکہ، مدینہ اور قادیان کا نام لکھا ہے۔“ انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر ہزاروں روپے کا اعلان کیا کہ قرآن پاک میں مذکورہ الفاظ اور بخاری شریف

صفحہ ٥٥

میں ھذا خلیفتہ اللہ المھدی” دکھا دو اور انعام لے لو۔

انہوں نے کہا کہ میں دلیل سے بات کرتا ہوں یہ آپ کی کتابوں میں موجود ہے۔ آپ کے ”نبی“ نے لکھا ہے ، جو سو فیصد جھوٹ ہے۔۔۔۔ انہوں نے کہا کہ میں نے فیصلہ بھی انہی کا سنا دیا ہے کہ :

”جس کی ایک بات جھوٹی نکلے اس کی دوسری باتوں کا اعتبار نہیں ہوتا۔“

لہٰذا وہ اپنے فیصلے اور اپنے قائم کردہ معیار کے مطابق جھوٹے ثابت ہو گئے۔ ہمت ہے تو دو جواب ۔۔۔۔۔ قاضی صاحب نے ایسا زچ کیا کہ ان کے مبلغ صاحب اور معاون مربی صاحبان پر بوکھلاہٹ طاری ہو گئی ۔۔۔۔۔ بوکھلاہٹ میں کہہ بیٹھا کہ :

اگر ہمارے نبی نے جھوٹ بولے ہیں تو حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بھی جھوٹ بولے ہیں۔ جس پر جناب عطا محمد صاحب ثالث نے کہا کہ :

”حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف جھوٹ کی نسبت کرنا، یہ بات بذات خود تمہارے اور تمہارے پیشوا کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔“

اور وہ حیرت سے منہ تکنے لگے کیونکہ جناب ثالث نے واضح کر دیا کہ بات جس کی ہو رہی ہے۔ پہلے اس کا جواب دو یہ کیا کہ اپنے پیشوا کے جھوٹ پر پردہ پوشی کے لیے ایک سچے نبی پر الزام لگاتے ہو۔ اس موقعہ پر حاضرین پر عجیب کیفیت طاری تھی۔ بعد ازاں مربی صاحب موضوع بدلتے ہوئے مسئلہ ختم نبوت کی طرف آیا اور اجراء نبوت پر دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”قولوا خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدی۔“

یعنی حضور ﷺ کو خاتم الانبیاء تو کہو لیکن یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد نبی کوئی نہیں آئے گا ۔۔۔۔۔ مولانا قاضی اللہ یار صاحب نے چیلنج دیا کہ :

مذکورہ بالا روایت حدیث کی کسی مستند کتاب سے سند کے ساتھ دکھا دو تو ہزار روپیہ انعام میں دوں گا۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کسی بھی حدیث کی مستند اور متداول کتاب سے یہ روایت سند کے ساتھ کوئی شخص پیش نہیں کر سکتا۔ فریق مخالف کے مبلغین نے پھر موضوع بدلنے کی کوشش کی لیکن مولانا قاضی اللہ یار صاحب کے مضبوط اور مستحکم دلائل کے سامنے انہیں کامیابی نہ ہوئی۔ گفتگو صبح 11 بجے شروع ہوئی، نماز مغرب تک جاری

صفحہ ٥٦

رہی۔

نماز مغرب کے بعد سلسلہ گفتگو ادھورا چھوڑ کر ہر سہ مربی اور ان کے بڑے مبلغ راہ فرار اختیار کر گئے۔ حتیٰ کہ قصبہ نصیر پور ہی چھوڑ کر چلتے بنے۔ اس گفتگو کے تصفیہ کے لیے تین ثالث مقرر کیے گئے تھے۔ چنانچہ ثالث حضرات نے مولانا قاضی اللہ یار کی فتح، فریق مخالف کی شکست اور بھاگ جانے کا اعلان کر دیا۔

(ہفت روزہ لولاک‘ جلد ١٨‘ شمارہ ٣٧‘ از قلم : محمد حنیف)

مفتی محمد صادق کا عشق

مولانا مفتی محمد صادق صاحب بہاول پور کے تاریخی مقدمہ کے دوران حضرت امام العصر شاہ صاحبؒ کے سترہ روزہ قیام بہاول پور میں لیل و نہار ساتھ رہے اور وہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کرامات و خوارق و حالات نہایت والہانہ انداز سے بیان کرتے تھے اور بسا اوقات خود بھی روتے تھے اور سننے والوں کو بھی رلاتے تھے، ایک دفعہ ملتان سے بہاولپور ٹرین میں رفاقت نصیب ہوئی۔ کچھ اس عجیب و پر کیف انداز سے احوال سنائے کہ مجھ پر رقت طاری ہو گئی، جس کا کیف آج تک بھولا نہیں۔ افسوس کہ اکابر اٹھتے جاتے ہیں اور ان کی جگہ پر ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

(بصائر و عبر‘ حصہ دوم‘ ص ٥٩٠‘ از علامہ یوسف بنوری)

عشق کی گرمی سے شعلے بن گئے چھالے مرے
کھیلتے ہیں بجلیوں کے ساتھ اب نالے مرے (مؤلف)
صفحہ ٥٧

قبولیت چیلنج مباہلہ

حافظ بشیر احمد مصری (مقیم لندن)

”جناب حافظ بشیر احمد مصری، عبد الرحمن مصری کے فرزند ہیں۔ پہلے قادیانی تھے پھر لاہوری جماعت میں شامل ہوئے۔ ایک عرصہ تک مرزائیوں کی لاہوری جماعت کی طرف سے ووکنگ مشن کے سربراہ اور ووکنگ مسجد کے خطیب رہے۔ مبلغ اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے ہاتھ پر مرزائیت سے توبہ کر کے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ مرزا طاہر کو گزشتہ دنوں جو مباہلہ کے چیلنج کا دورہ پڑا۔ اس نے ایک کاپی جناب حافظ بشیر احمد مصری کے نام بھجوادی۔ موصوف نے مرزا طاہر کے نام نہاد چیلنج کو قبول کرتے ہوئے جو خط مرزا طاہر کے نام لکھا۔ اسے قارئین ختم نبوت کے مطالعہ کے لیے نقل کیا جاتا ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے بھی اس کو بنظر انصاف پڑھیں گے تو حق ان کے سامنے آفتاب نصف النہار کی طرح روشن ہو جائے گا۔ اس کے بعد وہ حق کو مانتے ہیں یا نہیں یہ تو توفیق الٰہی پر منحصر ہے لیکن ان کا کم سے کم یہ اخلاقی فرض تو ضرور ہے کہ وہ مرزا طاہر کو حافظ بشیر احمد مصری کے حلفیہ الزامات جو بطور مباہلہ انہوں نے پیش کیے ہیں، کی مباہلہ کے انداز میں حلفیہ تردید پر آمادہ کریں۔“

مولانا محمد یوسف لدھیانوی

جناب مرزا طاہر احمد امیر جماعت احمدیہ لندن!

میں آپ کی طرف سے مبارزت طلبی کی ہے کہ میں آپ کے اس مباہلہ کے چیلنج کو قبول کروں جو آپ نے معاندین احمدیت کو بتاریخ ١٠ جون ١٩٨٨ء کو دیا تھا۔ یہ خط جس پر کوئی تاریخ نہیں لکھی ہوئی اور اس کے ساتھ آپ کے چیلنج کا ایک نسخہ مجھے ١٥ اگست ١٩٨٨ء کو ملا۔

صفحہ ٥٨

قادیانیت کے فریب کو بے نقاب کرنے کا موقع ملے گا۔

التجا کرتے ہیں کہ کسی متنازعہ فیہ مسئلہ سے متعلق جھوٹ اور سچ میں تمیز کر دے۔ چونکہ مباہلہ ایک نہایت ہی سنجیدہ اور اہم امر ہے۔ اس لیے مناسب ہو گا کہ ہم دونوں اس کی تفاصیل براہ راست آپس میں طے کریں۔ بجائے اس کے کہ اپنے سیکرٹریوں کے ذریعہ گفت و شنید کریں تاکہ مباہلہ کے آخری فیصلہ میں کسی قسم کے شک و شبہ اور ابہام کی گنجائش باقی نہ رہ جائے۔

آپ کے چیلنج کو قبول کریں گے‘ اختیار ہو گا کہ چیلنج کی جس دفعہ کو چاہیں مستثنیٰ کر لیں۔ اس لیے میں اس دفعہ کو قبول کرتا ہوں جو آپ نے صفحہ ٢ پر مندرجہ ذیل عبارت لکھی ہے:

”دوسرا پہلو اس مباہلہ کا‘ جماعت پر سراسر جھوٹے الزامات لگانے اور اس کے خلاف شر انگیز پروپیگنڈہ کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔“

متعلق ہیں‘ جن میں اس قسم کی کریہہ باتیں بھی کہنا پڑیں گی جن کا ذکر عام طور پر شریف معاشرے میں نہیں کیا جاتا۔ اس لیے اس کی توضیح کر دینا ضروری ہے کہ کن وجوہات کی بناء پر اس قسم کی شرمناک باتوں کو قلم بند کرنا محض بجا ہی نہیں بلکہ اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔

لیکن جب کوئی شخص کسی اعتمادی اور اخلاقی ذمہ داری کے عہدہ پر فائز ہوتا ہے تو اس کی انفرادیت ادارہ کا جزو بن جاتی ہے۔ ایسی صورت میں اس کے انفرادی اختیارات و حقوق ادارہ کے حقوق و اختیارات میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ ہر مہذب معاشرہ میں ڈاکٹر‘ مدارس کے معلمین‘ محتاجین کے اداروں اور یتیم خانوں کے کارکنان غرضیکہ اس قسم کے اہلکاروں پر سرکاری قوانین کے علاوہ اخلاقیات اور نیک چلنی کے قواعد کی پابندی بھی عائد ہو جاتی ہے۔ باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے معاشرے میں مذہبی ڈھونگی اور جعل ساز اخلاقی قواعد کی پابندی سے آزاد رہتے ہوئے سادہ لوح اور کم عقل

صفحہ ٥٩

لوگوں کو دھوکہ دیتے رہتے ہیں۔ اس قسم کے مذہبی ڈھونگیوں پر اخلاقی پابندیاں اس لیے عائد کرنا مشکل ہوتی ہیں کہ دنیوی حکومتیں مذہبی معاملات میں دخل دینا پسند نہیں کرتیں۔ وہ اسی میں عافیت سمجھتی ہیں کہ اخلاقی نظم و نسق کی پابندی مذہبی اداروں پر ہی چھوڑ دو۔ اس طرح مذہبی اداروں پر تنقیدی نظر رکھنا معاشرے کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔

سربراہی گروہ نے جو جنسی اور اخلاقی قواعد کی خلاف ورزی شروع کی ہوئی ہے۔ وہ انفرادی یا شخصی حیثیت سے نہیں کی جا رہی بلکہ ان بد اعمالیوں کو ایک جتھہ بندی اور تنظیم کا روپ دے دیا گیا ہے۔ اور طرہ یہ کہ سب کچھ اسلام کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہنا چھوڑ کر ایک نئے مذہب کا اعلان کر دیں اور اپنی جماعت کا نام ”احمدی“ کی بجائے کوئی دوسرا اور غیر مسلم نام رکھ لیں تو مسلمان ان سے مذہبی معاملات میں الجھنا بند کر دیں گے۔

لوگ بھی ہیں جو دیانت داری اور اخلاص سے قادیانی عقائد پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ عقائد غلط اور غیر اسلامی ہیں۔ ہم مذہبی عقائد میں اختلافات کی بناء پر کسی سے مار پیٹ نہیں شروع کر دیتے۔ لیکن جب کوئی منظم گروہ ، مذہب و عقائد کے روپ میں معاشرے کے طریقہ ماند و بود میں تخریب پیدا کرنا شروع کر دے تب ہی عوام الناس اس تخریب کی روک تھام کے لیے ایستادہ ہوتے ہیں۔ اگر بنی نوع انسان میں اس قسم کے ناخلف اور بے غیرت لوگ موجود ہیں جو اپنی محرم بہو بیٹیوں کی آبرو اور عصمت کو اپنے بد چلن پیروں کی پرجوش عقیدت پر قربان کر دینے کے لیے تیار ہیں تو ایسے بھیڑیوں کو کون بچا سکتا ہے۔ بحث طلب مسئلہ تو اس آبرو دار معاشرے کے لیے ہے ، جس میں سادہ لوح انسان نادانستہ اس قسم کے دھوکوں کا شکار ہونے لگیں۔ ایسی حالت میں معاشرہ کو اختیار حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ شرفاء کو مار آستین سے خبردار کریں۔

احساس اور حقیقی فکر و تشویش کے تحت کر رہا ہوں تاکہ حتمی طور پر واضح ہو جائے کہ آیا میرے الزامات سچے ہیں یا جھوٹے۔ میرے اس دعویٰ کی بنیاد کہ الزامات سچے ہیں۔ میرے

صفحہ ٦٠

ذاتی علم پر مبنی ہے جو میں نے قادیان میں رہائش کے دوران حاصل کیا‘ جہاں کہ میری پیدائش ہوئی اور جہاں میں نے ١٩٣٧ء تک پرورش پا کر قادیانیت سے توبہ کی۔

حلف مباہلہ

الزامات‘ جن کا میں نے پیراگراف نمبر ١٣ میں ذکر کیا ہے۔ آپ کے علم کی رو سے غیر صحیح ہیں اور میں انہی الفاظ میں حلفیہ بیان دوں گا کہ میرے علم کی رو سے وہ صحیح ہیں۔

کے بانی تھے) موجودہ امیر جماعت قادیانی احمدی اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ الزامات جو حافظ بشیر احمد مصری (پسر شیخ عبد الرحمن مصری) نے پیراگراف نمبر ١٣ میں لگائے ہیں‘ غلط ہیں‘ اور مجھے قطعاً کوئی علم نہیں‘ جس کی بنا پر میں کہہ سکوں کہ وہ صحیح ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے التجا بھری دعا کرتا ہوں کہ اگر میں قصداً دروغ حلفی کر رہا ہوں تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اور میں اس تاریخ سے ایک سال کے عرصہ میں مر جاؤں‘ میں نے یہ حلف جن چھ گواہوں کی موجودگی میں لیا ہے ان چھ گواہوں میں سے تین گواہوں کا انتخاب میں کروں گا اور تین گواہوں کا انتخاب مذکورہ بالا حافظ بشیر احمد مصری کریں گے۔“

کہ وہ الزامات جو میں نے پیراگراف نمبر ١٣ میں لگائے ہیں‘ صحیح ہیں اور میں علم الیقین رکھتا ہوں کہ وہ صحیح ہیں۔ میں مزید اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مذکورہ بالا مرزا طاہر احمد کو علم ہے کہ وہ الزامات صحیح ہیں۔

میں اللہ تعالیٰ سے التجا بھری دعا کرتا ہوں کہ اگر میں قصداً دروغ گوئی کر رہا ہوں اور مباہلہ کی حالت میں جھوٹا بیان دے رہا ہوں تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو‘ میں اس تاریخ سے ایک سال کے عرصہ میں مر جاؤں۔ مقررہ تاریخ کو میں نے یہ حلف چھ گواہوں کی موجودگی میں لیا۔ ان چھ گواہوں میں سے تین گواہوں کا انتخاب مذکورہ بالا مرزا طاہر احمد کریں گے۔

صفحہ ٦١

مباہلہ سے متعلق الزامات

احمد کے تین بیٹوں میں سب سے بڑا تھا اور جو قادیانی جماعت کا خلیفہ ثانی تھا) بد کار تھا، اور منکوحہ و غیر منکوحہ عورتوں کے ساتھ زنا کرنے کا عادی تھا۔ حتیٰ کہ خاندان کی ان عورتوں کے ساتھ بھی زنا کیا کرتا تھا جن کو نہ صرف اسلامی شریعت نے بلکہ سب الہامی مذاہب نے محرمات قرار دیا ہے۔

دوسرے نمبر کا بیٹا تھا) لواطت کا عادی تھا اور بالخصوص اسے نو عمر لڑکوں سے بد فعلی کی بہت عادت تھی۔

میں تیسرے نمبر پر تھا) لواطت کا عادی تھا اور بالخصوص اسے نو عمر لڑکوں سے بد فعلی کی بہت عادت تھی۔

غلام احمد کا پوتا اور قادیانی جماعت کا خلیفہ ثالث) زانی ہونے کے علاوہ لواطت بھی کیا کرتا تھا۔

اسحٰق قادیانی جماعت کے نظام میں ایک بلند اور باعزت حیثیت رکھتا تھا اور محدث کے خطاب سے سرفراز ہوا تھا۔ وہ بھی لواطت کا عادی تھا۔ قادیان کے یتیم خانہ کے محاسب ہونے کی حیثیت سے بیچارے کم سن یتیم بچے اس کی برگشتہ شہوت کا شکار ہوا کرتے تھے۔

نظام میں بڑے بڑے عہدوں پر مامور تھے اور جو اپنے اثر و رسوخ کے بل بوتے پر اپنی شہوانی بد مستیوں میں اخلاقی پابندیوں سے آزاد تھے لیکن ان فحش باتوں کی زیادہ تفاصیل لکھنے کی ضرورت نہیں۔ پیراگراف نمبر ١٣ میں جو کچھ دیا ہے، وہی کافی ہے۔ آپ سے اس

صفحہ ٦٢

موضوع پر مباہلہ کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ آپ کے اس اصرار کو جھٹلایا جائے کہ یہ الزامات احمدیت کے خلاف سراسر جھوٹ اور شرانگیز پراپیگنڈہ ہیں۔ حالانکہ آپ اچھی طرح واقف ہیں کہ ان الزامات میں کوئی غلط بیانی یا مبالغہ نہیں۔

ہے تاکہ اس تنقیح طلب امر میں کسی غلط فہمی کا امکان نہ رہ جائے اور آپ کو اس مباہلہ کے ضابطہ سے کوئی راہ فرار نہ ملے۔ یہی وجہ ہے کہ مرزائی خاندان سے بھی دوسری اور تیسری نسلوں کے افراد کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا۔ اس خاندان کی خواتین کے نام شامل نہ کرنے کی زیادہ تر وجہ یہ ہے کہ ان پر ترس آتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ان خواتین میں بعض ایسی بھی تھیں جنہوں نے اس قسم کی مذموم حرکات میں اپنی رضامندی سے حصہ لیا، لیکن ان میں بہت سی ایسی بھی تھیں جو قصور وار نہ تھیں اور اس دام فریب میں مجبوراً پھنسی ہوئی تھیں۔ ان کے لیے اپنے مردوں سے تعاون کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ ان کی حالت تنقید کی بجائے رحم کی مستحق تھی۔

جائے۔ مباہلہ کی شرط اور کیفیت کو عدم تعین پر چھوڑ دینے سے، جیسا کہ آپ نے اپنے چیلنج میں چھوڑ دیا ہے۔ مباہلہ کا انجام مبہم رہ جائے گا۔ لیکن اگر آپ میری تجویز کردہ ایک سال کی مدت میں کوئی قابل قبول تبدیلی کروانا چاہیں تو میں اس کے لیے بھی تیار ہوں۔

کوشش کریں گے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی نمائندگی میں مباہلہ نہیں کر سکتا تو میں آپ کی توجہ خود آپ کی مندرجہ ذیل تحریر کی طرف مبذول کرواتا ہوں، جس میں آپ نے خود ہی اصول تسلیم کر لیا ہے کہ آپ کسی فرد ثانی کی نمائندگی میں مباہلہ کر سکتے ہیں، چیلنج کے صفحہ نمبر ٨ پر آپ لکھتے ہیں:

"چونکہ بانی سلسلہ احمدیہ اس وقت اس دنیا میں موجود نہیں اور مباہلہ کا چیلنج کرنے والے کے سامنے آپ کی نمائندگی میں کسی فریق کا ہونا ضروری ہے۔ اس لیے میں اور جماعت احمدیہ اس ذمہ داری کو پورے شرح صدر، انبساط اور کامل یقین کے ساتھ قبول کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔"

صفحہ ٦٣

نہیں ہو سکتی کہ کیوں آپ اپنے وفات شدہ باپ یا وفات شدہ بچے یا وفات شدہ بھائی کی نمائندگی میں مباہلہ نہ کر سکیں۔

بحث نقطہ یہ نہیں کہ آپ اپنے اسلاف کی نمائندگی میں میرے ساتھ مباہلہ کریں۔ جن کے نام میں نے پیراگراف نمبر ١٣ میں لکھے ہیں۔ میں آپ کے مباہلہ کا چیلنج اس نقطہ پر قبول کر رہا ہوں کہ آپ خود اپنی نمائندگی میں مباہلہ کریں کہ آیا آپ کے مذکورہ بالا اسلاف کا اخلاقی لحاظ سے بد چلن ہونا اور جنسی لحاظ سے زنا کار ہونا آپ کے علم میں ہے یا نہیں؟ مجھے اس امر کا پورا احساس ہے کہ یہ تین باتیں فحش اور خلاف تہذیب ہیں۔ لیکن یہ امر کہ آیا یہ باتیں آپ کے علم میں ہیں یا نہیں؟ 'مباہلہ کا مرکزی نقطہ ہے اور اس کا فیصلہ اس لیے ضروری ہے تاکہ دنیا پر واضح ہو جائے کہ آپ اپنے اسلاف کی بد چلنیوں اور زنا کاریوں سے بخوبی واقف ہوتے ہوئے بھی قادیانیت کے منافقانہ سلسلہ کے امیر بن کر اپنے مریدوں کے علاوہ عوام الناس کو بھی اسلام کے نام پر دھوکہ دے رہے ہیں۔

ایک نادر موقع دے رہا ہوں کہ آپ ہمیشہ کے لیے دنیا پر ثابت کر دیں کہ آپ کے اسلاف پر میرے الزامات جھوٹے ہیں۔ آپ کو تو صرف یہ کرنا ہے کہ آپ ان الفاظ میں جو مندرجہ بالا پیراگراف نمبر ١١ میں درج ہیں، حلفیہ اعلان کر دیں کہ پیراگراف نمبر ١٣ میں میرے بیان کردہ الزامات آپ کے علم کے مطابق جھوٹے ہیں۔ اس کے برعکس میں قطعی طور پر مصر ہوں کہ آپ کو ان الزامات کے سچا ہونے کا بغیر کسی شک و شبہ کے علم ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو مجھے اپنے اس دعویٰ پر اتنا وثوق ہے کہ میں بلا تامل اس نقطہ پر مباہلہ کر کے صرف اپنی ساکھ ہی نہیں بلکہ اپنی جان کی بازی لگانے کو تیار ہوں۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ اگر میرا دعویٰ غلط ہے یا میں جھوٹ کہہ رہا ہوں تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی لعنت ڈلوا رہا ہوں۔

لے جائیں جو تمام کائنات کا سب سے بلند و برتر منصف ہے۔ آپ ہم دونوں اس باری

صفحہ ٦٤

تعالیٰ پر چھوڑ دیں کہ وہی ہمارے درمیان فیصلہ کرے۔

(حافظ بشیر احمد مصری، اگست ١٩٨٨ء)

ہجرت یا جان بچانے کے لیے راہ فرار

تحریر: م ۔ ب

اذن الٰہی کی تعمیل میں ہجرت اور محض جان بچانے کی خاطر راہ فرار اختیار کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ قادیانیوں کے دو سربراہوں کو اپنی جان بچانے کے لیے دوسرے ملک فرار ہونا پڑا۔ ایک سربراہ تو مرزا بشیر تھا۔ دوسرا انہی کا بیٹا مرزا طاہر تھا۔ جب بھی کوئی ان کے راہ فرار اختیار کرنے پر اعتراض کرے تو قادیانی بڑے آنحضرت ﷺ کی ہجرت کی مثال دینے بیٹھ جاتے ہیں۔

قادیانیوں کا یہ جواب آنحضرتؐ کی توہین ہے کیونکہ آنحضرتؐ نے اپنی جان بچانے کی خاطر ہجرت نہیں فرمائی بلکہ محض فرمان الٰہی کی تعمیل میں یہ قدم اٹھایا۔ حضورؐ کے دعویٰ نبوت کے بعد کی تیرہ سالہ زندگی پر غور کریں۔ کوئی دن ایسا نہ تھا کہ آپ پر سخت ترین دکھ اور تکلیف کا وقت نہ گزرا ہو۔

شعب ابی طالب میں محصور رہنا۔ آنحضرت ﷺ پر سجدے کی حالت میں اونٹ کی اوجھڑی ڈال دینا۔ حضورؐ کو زہر دینے کی کوششیں، طائف کا واقعہ، جس میں سنگ باری کی وجہ سے آپؐ لہولہان ہو گئے۔ اس قسم کے اور کئی مصائب اور تکلیفیں آئیں۔ اگر نبی اکرمؐ نے جان بچانے کا سوچا ہوتا تو پہلے مکہ سے کوچ کر جاتے اور حضورؐ پر تو مکہ سے باہر جانے پر کوئی پابندی نہ تھی۔ اگر حضورؐ چاہتے تو کفار کو تباہ و برباد کرا دیتے اور خود کسی پر امن جگہ چلے جاتے۔ مگر رحمۃ اللعالمینؐ نے ایسا نہ کیا۔ بلکہ فرشتوں کو اپنے جانی دشمن کے خلاف بھی کارروائی کرنے سے منع فرما دیا۔ مرزا قادیانی جو جابجا اپنے آپ کو آنحضرتؐ کے ظل، بروز، عکس اور بالکل وہی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، حالت یہ تھی کہ اپنے مخالفین کے

صفحہ ٦٥

لفظی اعتراض پر بھی ان کے لیے ہولناک موت اور ہیبت ناک تباہی کی دعائیں مانگنے لگ جاتا تھا۔ اس سلسلے میں ملاحظہ ہوں مولوی ثناء اللہ صاحب، نیز عبداللہ آتھم اور محترمہ محمدی بیگم وغیرہم کے بارے میں پیش گوئیاں اور مرزا قادیانی کی بدزبانی اور دھمکی آمیز اور بددعاؤں سے بھری عبارتیں۔ قادیانی ایک طرف آنحضرتؐ کو دشمنوں کی ایذا رسانیاں، جسمانی تکالیف اور طائف جیسے واقعات پر آنحضرت کا ردعمل ملاحظہ کریں۔ اور دوسری جانب مرزا غلام کو دیکھیں کہ مخالف نے کوئی جسمانی دکھ بھی نہیں دیا۔ بلکہ محض لفظی اعتراض پر ہی اس کی جان کے درپے اور فوراً اس کی بربادی اور ہولناک موت کی پیش گوئیاں داغ دیتے تھے۔ ساتھ ہی پوری قادیانی جماعت اس پیش گوئی کو پورا کرنے میں ہر طرح کی کوشش اور تدبیر میں لگ جاتی تھی۔ پھر بھی ناکامی و حسرت کا سامنا ہوتا تھا۔ قادیانی فرقہ خود ہی فیصلہ کرے۔ کیا ایسا شخص کسی پہلو سے بھی آنحضرتؐ کا ظل بروز عکس یا مثال ہو سکتا ہے۔

چہ نسبت خاک را عالم پاک

مرزا قادیانی کے جانشین (گدی نشین) بھی انہی کی طرح مخالف کی جان کے درپے رہے ہیں۔ خاص طور پر مسلمانوں کے لیے تو مسلسل ذہنی اضطراب، فتنہ انتشار اور اندرونی کشمکش کا باعث بنے رہے۔ انہیں اپنے ذاتی عیش، جائیداد اور مال جمع کرنے (چندہ اور نذرانوں کی صورت میں) اور خطرے میں امت کو چھوڑ چھاڑ کر محض اپنی جان بچانے کی ہمیشہ بہت فکر رہی۔ جان پر بننا تو بعد کی بات ہے۔ ذرا سے خطرے کی بو پا کر ہی اپنے مریدوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ چھاڑ کر بھاگ لینا ان کی فطرت رہی ہے۔ اگر کوئی ستم رسیدہ اعتراض کرے تو دھڑ سے آنحضرتؐ کی ہجرت کی مثال دیتے ہیں۔

جب ١٩٤٧ء میں تقسیم ملک ہوئی تو قادیانیوں کا قبلہ اول قادیان، جسے وہ ارض حرم کہتے ہیں، مشرقی پنجاب بھارت میں چلا گیا۔ مرزا بشیر نے بڑے طمطراق سے اعلان کیا کہ مرزا قادیانی کو قادیان کے بارے میں الہام ہوا ہے کہ یہ دارالامان ہے۔ یہاں کوئی گڑبڑ نہیں ہوگی۔ قادیان کے باسی اگرچہ گھبرائے ہوئے تھے۔ ہر طرف قتل و غارت ہو رہی تھی۔ مگر اپنے پیشوا کے کہنے پر خاموش ہو گئے کہ شاید کوئی غیبی طاقت انہیں بچا لے گی۔ چنانچہ جو قادیانی نکل کر پاکستان آسکتے تھے، وہ بھی بیٹھے رہے۔ کچھ دنوں بعد قادیان کے اندر

صفحہ ٦٦

بھی سکھوں، ہندوؤں نے حملے شروع کر دیے تو مریدوں میں افراتفری مچی۔ خطرے کا احساس کر کے مرزا محمود کی ہوا خطا ہو گئی اور ایک قادیانی کے ٹرک میں چپکے سے فرار ہو گئے۔ فانی زندگی سے اس مذہبی سربراہ کو اتنی محبت تھی کہ مزید احتیاط کے طور پر پاکستان کے بارڈر تک برقعہ اوڑھے لپٹے لپٹائے بیٹھے رہے۔ فرار سے پہلے اپنے خاص چمچوں کو تلقین کر گئے کہ میرے فرار کا قادیان کے لوگوں کو مت بتانا۔ لیکن ظاہر ہے کہ چند دن تک مریدوں کو ”خلیفہ“ نظر نہ آیا تو بات کھل گئی اور قادیان میں وہ بھگدڑ پڑی کہ الحفیظ والامان۔ پاکستان سے جو کانوائے (ٹرک اور فوجی) مہاجرین کو لینے آتے تھے۔ قادیان کے جوان ان ٹرکوں میں کود کود پڑتے تھے۔ بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو کوئی نہ پوچھتا۔ ہر طرف نفسانفسی کا عالم تھا۔ بہت قتل وغارت اور تباہی مچی۔ مرزا محمود نے لاہور پہنچ کر رتن باغ محل اور بڑی بڑی بلڈنگیں الاٹ کرائیں۔ قادیانی غور کریں کہ مرزا محمود کے فرار کی انبیاء کی ہجرت سے کیا مثال ہے؟

انبیاء کرام علیہ السلام تو بڑی سے بڑی مصیبتیں جھیل جاتے ہیں۔ سر پر آرا چلوا لیتے ہیں مگر اذن الہی کے بغیر جگہ نہیں چھوڑتے۔ مرزا محمود کو تو کوئی خراش بھی نہ آئی اور نہ ہی کوئی الہی فرمان تھا۔ اگر چہ قادیانی سربراہ ہر طرح کے الفاظ پر مشتمل پیش گوئیاں تیار کر کے رکھے ہوئے تھے اور پہلے نہیں تو بعد میں ضرور گھڑ لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر ایسا کیا اور کوئی نہ کوئی ریڈی میڈ الہام یا کشف اس سلسلے میں سنا دیتے ہیں۔ مگر اللہ کی قدرت کہ مرزا محمود یا مرزا طاہر نے اپنے فرار کے بعد بھی اس سلسلے میں اذن الہی پر مشتمل کسی الہام کا ذکر نہیں کیا۔ یہ اتفاق ہے کہ ان سے ایسی چوک ہو گئی۔ البتہ بعد میں ان کے چمچوں نے مرزا غلام قادیانی کے الہامات کی پٹاری (جیسا کہ اوپر تحریر کیا گیا ہے کہ مرزا نے اپنی کتابوں میں ہر طرح کے سینکڑوں نام نہاد الہام گول مول، لایعنی اور مبہم الفاظ پر مشتمل جمع کر رکھے ہیں تاکہ ہر موقع محل پر استعمال کیے جاسکیں۔ الہام بھی ایسے کہ ”مرگی پڑے گی“ ”زلزلہ آئے گا“ ظاہر ہے کبھی نہ کبھی مرگی بھی پڑتی ہے۔ زلزلہ بھی آجاتا ہے۔ پھر سب قادیانی شور مچا دیتے ہیں کہ حضرت کی پیش گوئی پوری ہو گئی) میں سے الہام ”داغ ہجرت“ نکالا۔ کہ اس سے مراد مرزا محمود کی ہجرت تھی۔ ایک بات اور بڑی دلچسپ ہے کہ ایک نام نہاد الہام کو کئی کئی موقعوں پر چسپاں کیا جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ الہام پورا ہو گیا تو الہام کی اور پبلک کی جان

صفحہ ٦٧

چھوٹ گئی۔ چنانچہ ”داغ ہجرت“ قبل ازیں ”بعض قادیانیوں کی وفات پر بھی گاہے بگاہے چسپاں ہوتا رہا ہے۔ پھر مرزا محمود کے فرار کے بعد‘ اب مرزا طاہر کے بھگوڑے پن پر بھی فٹ کر دیا گیا ہے۔ کہ اس سے مراد مرزا طاہر کی ہجرت تھی۔ ویسے ہم سمجھتے ہیں کہ اگر قادیانی حضرات الہام ”داغ ہجرت“ کی یہ تشریح کرتے کہ مرزا محمود اور مرزا طاہر اپنے فرار اور بھگوڑے پن سے ہجرت کو داغ لگا دیں گے تو یہ حقیقت کے زیادہ قریب ہوتی۔

مرزا طاہر احمد مولانا اسلم قریشی کے قتل کے کیس میں حکومت کو مطلوب تھے۔ اگر وہ اپنے تئیں بے گناہ سمجھتے تھے تو انہیں بے دھڑک ہو کر اپنا دفاع کرنا چاہیے تھا۔ سانچ کو کیا آنچ۔ مگر انہیں کوئی تکلیف یا معمولی اذیت بھی نہیں پہنچائی گئی تھی۔ بس مجرم ضمیر کی آواز پر اپنے ٹھاٹھ دار قصر خلافت سے کار میں بیٹھ کر نکلے۔ چھپ چھپا کر کراچی پہنچے اور اپنی امت کو بے سہارا چھوڑ کر اور اپنے پدرانہ سائے سے محروم کر کے ان کی چندوں کی کمائی سے ٹھاٹھ اڑانے لندن پہنچ گئے اور وہاں لندن کی رنگینیوں سے بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

قادیانی حضرات ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں‘ انبیائے کرام علیہم السلام کی ہجرت اور قادیانی سربراہوں کے خود غرضانہ فرار میں کوئی دور کی نسبت بھی ہے؟ بلکہ ایسی مثال دینا انبیاء کرام علیہم السلام کی صریح توہین ہے۔

عام دنیا دار لیڈر اور قومی سربراہ بھی ایسے موقع پر اپنی قوم کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر فرار نہیں ہوتے‘ بلکہ قوم کے مفاد کی خاطر اپنی جان نچھاور کر دیتے ہیں۔ تازہ مثالوں میں سے سکھ راہنما سنت جرنیل سنگھ کی مثال لے لیجئے۔ وہ قوم کو چھوڑ کر بھاگا نہیں‘ فدا ہو گیا۔ اس کے مرنے سے قوم مر نہیں گئی بلکہ پہلے سے طاقتور ہو کر ابھری ہے۔ سنت جرنیل سنگھ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ بعد میں کوئی ولی عہد بھی نہ تھا۔ لیکن مرزا طاہر اگر کام بھی آجاتے تو پچاس کے قریب بھائی بھتیجے گدی سنبھالنے کی حسرت لیے زندہ موجود تھے۔ شرم سے ڈوب مرنے کی بات ہے کہ آپ کا مذہبی سربراہ امام اور ”خلیفہ“ اور آپ کے مذہب کے پیغمبر کا پوتا اور جس کے باپ کو آپ قادیانی حضرات مصلح موعود سمجھتے ہیں‘ ایک عام سکھ لیڈر کی نسبت بھی کس قدر پست نکلا۔ قدرت نے جس قوم کو باقی رکھنا ہو‘ اس کے لیڈر چند روزہ زندگی کے لیے ملک در ملک در بدر نہیں ہوتے۔ نہ موت کے ڈر سے گیدڑوں کی طرح چھپے پھرتے ہیں۔ وہ مریدوں کو قربان کرنے اور ان سے چندہ بٹورنے کی

صفحہ ٦٨

بجائے خود فدا ہو کر اپنے مشن کو نئی زندگی‘ نئی توانائی بخش جاتے ہیں۔ ہاں‘ جن قوموں اور جماعتوں کو اللہ تعالیٰ نے تباہ‘ در بدر اور ذلیل و خوار کرنا ہوتا ہے۔ ان کے نصیب میں مرزا طاہر جیسے راہنما ہوتے ہیں۔ جو اسلام کے لیے چندہ کے نام پر ان کی جائیداد‘ روپیہ پیسہ اور کپڑا سب کچھ چھین لیتے ہیں اور اسلام میں ہی تفرقہ اور انتشار پیدا کرنے پر اور اپنے ٹھاٹھ باٹھ پر خرچ کرتے ہیں اور اپنی امت کو بے یار و مددگار چھوڑ کر یورپ کی عشرت گاہوں میں عیش اڑاتے ہیں۔

قادیانیو! آپ کے سربراہوں کی مثال ہی ایسی ہے جیسے بعض نوسر باز اپنی شعبدہ بازی سے سونا یا روپیہ کئی گنا کر دینے کا دعویٰ کرتے ہیں اور پھر لوگوں سے ساری رقم اور سونا کل جمع پونجی لے کر چمپت ہو جاتے ہیں۔ صرف ایک بار بے گھر غریب قادیانی عوام کی بغاوت دبانے کی خاطر چند سال قبل بلال فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن جب زر خطیر جمع ہو گیا تو مرزا طاہر کی رال ٹپکی اور پچھلے سال لندن میں اعلان کر دیا کہ بلال فنڈ کی رقم بے گھر قادیانیوں کے مکانات بنوانے کی بجائے قادیانیت کی تبلیغ (فی الحقیقت خاندان مرزا‘ رائل فیملی کی جائیدادیں بنانے اور عیش و عشرت کے لیے) پر خرچ کیا جائے گا۔

لنڈن جا کر بے گھر قادیانی گریبان پکڑنے سے تو رہے۔ قادیانی حضرات پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہو گی کہ ان کے سربراہوں نے قوم کی خاطر قربان ہونے کی بجائے اپنے ٹھاٹھ باٹھ اور قوم کے خون پسینے کی کمائی سے یورپ میں عیش و عشرت کرنے اور خاندانی جائیدادیں بنانے کو ترجیح دے کر شرم ناک کردار کا مظاہرہ کیا ہے۔ اور ہجرت کے مقدس لفظ کو داغ لگایا ہے۔ عام پاکستانی قادیانی بھی اسی طرح سوچ رہا ہے اور پریشان ہے۔ صرف سرمایہ دار‘ سمگلر‘ چور بازاری کرنے والے اور رشوت خور قادیانی مطمئن ہیں کیونکہ وہ آسانی سے انگلینڈ جا کر اپنے مرشد کے پاس نذرانے دے کر اپنی دانست میں کمائی حلال کر لیتے ہیں مگر عام قادیانیوں سے التماس ہے کہ آپ کہاں جائیں گے؟ انگلینڈ یا آسٹریلیا کے پھیرے لگانا یا وہاں بچوں سمیت مستقل رہائش کرنا آپ کے بس میں ہے؟ کیا یہ زیادہ مناسب نہ ہو گا کہ آپ اپنے اوپر خود مسلط کردہ بھیڑیوں کے جال سے نکلیں جو آپ کی رقم کئی گنا کرنے اور حکومت ملنے کی بشارت دے دے کر آپ کا سب کچھ چھینتے جا رہے ہیں۔ آپ کو مسلمانوں سے دن بدن دور کر کے ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈال رہے

صفحہ ٦٩

ہیں ۔ کیا جانیں قربان کرنے کے لیے آپ کے بال بچے ہی رہ گئے ہیں۔ یہ جو حفاظتی قافلے سکھر اور ساہیوال میں قادیانی مراکز میں ہر جمعرات کو بھیجے جاتے ہیں، کیا مرزا صاحب کے خاندان کا کوئی شہزادہ بھی کبھی ان قافلوں میں شریک ہوا؟ مگر وہ کیوں کر شریک ہو؟ وہ تو عام قادیانی کو حقیر ، عقل سے اندھا اور کیڑا مکوڑا سمجھتے ہیں۔ جس کا پاؤں تلے روندا جانا اور اپنے آقا (خاندان مرزا) کے لیے گردنیں کٹواتے رہنا ہی مقدر ہے اور اپنے آپ کو افضل مخلوق اور حاکم سمجھتا ہے۔ ان شہزادوں ، صاحبزادوں کو رسولِ مقبول کا وہ فرمان بھول چکا ہے کہ کسی عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں۔ نہ کسی گورے کو کالے پر۔ مگر آپ کو جو عام قادیانی ہیں، آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان یاد رکھنا چاہیے اور ان پھڈامیروں کے جال سے نکل کر دوبارہ امت محمدیہ میں شامل ہو کر آنحضرتؐ کے سایہ تلے پناہ حاصل کر لینا چاہیے۔ کوئی دن جاتا ہے کہ آپ کے سربراہ بہائیوں کی طرح مکمل طور پر اپنے مذہب کو اسلام سے علیحدہ قرار دیں گے۔ پھر آپ کہیں کے نہ رہیں گے۔ البتہ آپ کے سربراہوں کا مشن پورا ہو رہا ہے۔ انہیں تو حکومت اقتدار اور آپ جیسے اندھے عقیدت مندوں کی جان و مال ، عزت اور آبرو حاصل ہے۔ وہ تو آپ لوگوں کو حکومت اور اقتدار کی بشارت دے دے کر فقط الو بناتے ہیں کیونکہ غریب اور حاجت مند آدمی اقتدار اور حکومت کا خواب دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے اور جو جمع پونجی اس کے پاس ہوتی ہے۔ وہ بھی ان پھڈامیروں پر نچھاور کر کے اپنے دین کے ساتھ ساتھ دنیا بھی گنوا بیٹھتے ہیں اور مکمل طور پر قلاش ہو جاتے ہیں۔ مرزا طاہر کے بزرگ بھائی مرزا مبارک احمد اور طاہر کا داماد لقمان عرف لقو جیسے عیاش پیشے تو یورپ میں عیاشی پر قوم کا کروڑوں روپیہ لٹا چکے ، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ مگر عام قادیانی کا ذرا سے شبہ پر اخراج اور مقاطعہ (سوشل بائیکاٹ) ہو جاتا ہے۔ آپ قادیانی حضرات یہ بھی سوچیں کہ بالفرض اگر ان کی حکومت آ بھی جائے تو صدارت وزارتیں اور بڑے عہدے تو خاندان مرزا المعروف رائل فیملی یا ان کے خاص چمچوں کو (جو اپنی حرام کمائی لنڈن جا کر اپنے سربراہ پر لٹاتے پھرتے ہیں) کو ملیں گے یا آپ کو؟ آپ تو پھر بھی ملازم ہی رہیں گے اور آپ کی اولاد ان کی اولادوں کی غلام بن کر ان کے لیے مرتی اور رسوا ہوتی رہے گی۔

آپ کو کیا ملے گا؟ آپ ہیں کس چکر میں؟ قادیانی عوام یہ بھی تو غور کریں کہ امت محمدیہ ؐ اور مسلمانوں کو تو کئی ملکوں میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی حکومت اور اقتدار دے رکھا

صفحہ ٧٠

ہے۔ پھر آپ کو علیحدہ کس مذہب کی حکومت اور اقتدار کی بشارتیں دی جارہی ہیں؟ ظاہر ہے لاشعوری طور پر آپ کو ایک نئے مذہب میں دھکیلا جا رہا ہے۔ جس کو ابھی تک کہیں بھی اقتدار اور حکومت نصیب نہیں اور ہر دن پچھلے دن سے زیادہ مصیبت اور رسوائی اور زوال لے کر آتا ہے۔ بس محض بشارتیں ہی بشارتیں ہیں۔ پس جن قادیانیوں کو اللہ تعالیٰ نے کچھ بصیرت عطا فرمائی ہے اور پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں۔ بہائیوں کی مانند نئے مذہب کی بجائے امت محمدیہ کا حصہ بن کر رہنا چاہیے۔ اپنی دنیا اور آخرت سنوارنے کی خاطر اندھی پیر پرستی کے چکر سے آزاد ہو کر غور و فکر کریں۔ مطالعہ یا کسی مسئلے میں الجھن ہو یا برادری کا خوف ہو یا کسی قسم کی بھی مشکل اور رکاوٹ درپیش ہو تو بلا تکلف ادارہ ختم نبوت تشریف لائیں۔ صیغہ راز میں رکھ کر ہر طرح کی مدد دی جائے گی۔ نیز پوری طرح تشفی ہونے پر جن حضرات کو اللہ تعالیٰ قادیانیت سے تائب ہونے کی توفیق بخشے گا۔ ان کو برادری یا تنظیم کی طرف سے کسی بھی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے کارکنان ہمہ وقت ‘ہر جگہ کمر بستہ ملیں گے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی‘ جلد ٦‘ شمارہ ٩‘ ٥ جون ١٩٨٧ء)

قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کا خلوص

منیر انکوائری رپورٹ صفحہ ١٢٧ اصل عبارت یہ ہے: پہلا شخص جس نے خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم کی توجہ قادیانی تحریک کی طرف مبذول کرائی وہ قاضی احسان احمد شجاع آبادی تھا۔ قادیانیت کی مخالفت اس شخص کی زندگی کا واحد مقصد معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ جہاں کہیں جاتا ہے‘ اپنے ساتھ ایک بڑا چوبی صندوق لے جاتا ہے جس میں احمدیوں کا اور احمدیوں کے خلاف لٹریچر بھرا ہوا ہوتا ہے۔ زیادہ اہم سیاسی واقعات کا ذکر درکنار پاکستان یا کسی شخص کو کوئی آفت پیش آجائے‘ کوئی افسوس ناک واقعہ رونما ہو جائے‘ قائد ملت قتل کر دیے جائیں یا ہوائی جہاز گر پڑے‘ قاضی احسان احمد شجاع آبادی کے نزدیک وہ ہمیشہ احمدیوں ہی کی سازش کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مارچ ١٩٥٠ء میں

صفحہ ٧١

شجاع آبادی کراچی کے عالم مولانا احتشام الحق تھانوی کو کسی نہ کسی طرح آمادہ کر کے خواجہ ناظم الدین کے پاس لے گیا تاکہ وہ اس کو غیظ و غضب سے مطلع کریں جو احمدیوں کے خلاف ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ دونوں ٣ مارچ ١٩٥٠ء کو خواجہ ناظم الدین سے ملے۔ شجاع آبادی کا چوبی صندوق اس کے ساتھ ہی تھا۔ اس نے اس صندوق میں کچھ قادیانی لٹریچر نکالا۔ جس کو پڑھ کر خواجہ ناظم الدین سخت پریشان ہوئے۔

اس موقعہ پر یہ بات بھی عرض کرنا ضروری ہے کہ قافلہ احرار کے یہ حضرات اور بالخصوص حضرت قاضی صاحب جماعتی ذمہ داریوں کے پیش نظر خواجہ ناظم الدین سے قبل مرحوم لیاقت علی خان سے بھی اس سلسلے میں ملاقات کر چکے تھے۔ اس ملاقات کے بعد لیاقت علی خان مرحوم نے قاضی صاحب سے کہا:

”مولانا! آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ اب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنا فرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔“

(المنبر، فیصل آباد، شمارہ ٣، ١٢ اکتوبر تا ٥ نومبر ١٩٥٢ء)

اور پھر بقول چودھری محمد علی مرحوم سیکرٹری حکومت پاکستان (بعد ازاں وزیر اعظم) قاضی صاحب سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ظفر اللہ کو اہمیت دینا کم کر دی حتیٰ کہ ایک میٹنگ میں ان سے کہا:

”میں جانتا ہوں، آپ ایک خاص جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں۔“

اور قاضی صاحب اپنی ملاقات کے حوالہ سے زور دے کر یہ بات کہتے ہیں کہ:

”لیاقت علی خان کا پروگرام تھا کہ قادیانیوں کو ایک سیاسی جماعت کی حیثیت دے کر خلاف قانون قرار دیا جائے۔“

(المنبر، شمارہ مقولہ بالا)

لیکن بقول المنبر:

”اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد پاکستان کے وزیر اعظم کو انتہائی پراسرار حالات میں شہید کر دیا گیا۔“

(سوانح مولانا محمد علی جالندھریؒ ص ٩٣ از محمد سعید الرحمٰن علوی)

صفحہ ٧٢
کارنامے جس کے دنیا کو ابھی تک یاد ہیں
ہم خدا کے فضل سے اس قوم کے احرار ہیں (مؤلف)

قادیانی ٹولے کے تیسرے پیشوا

مرزا ناصر کا حسرت ناک انجام

قادیانیوں کے لیے عبرت کا مقام

م۔ب

مرزا ناصر مرزا غلام قادیانی کے پوتے اور اس کے تیسرے گدی نشین تھے۔ مرزا ناصر نے اپنے والد مرزا بشیر الدین محمود (جو دوسرے گدی نشین تھے اور اپنی عمر کے آخری آٹھ نو سال مفلوج اور جنون کی حالت میں ایک پھٹے پر پڑے رہتے تھے۔ بڑی عبرتناک اور اذیت دہ حالت میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ١٩٦٥ء میں چل بسے) کی ١٩٦٥ء میں موت کے بعد قادیانی گروہ کی قیادت سنبھالی۔ ان کے والد مرزا محمود بہت سازشی، جوڑ توڑ کے ماہر، جاہ طلب اور اقتدار پسند تھے۔ اپنے والد مرزا قادیانی کے زمانے میں ان کے بہت ٹھاٹھ باٹھ تھے اور ان کو ہر طرح کے گل کھلانے کی کھلی عادت تھی۔ ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ کسی شخص نے مرزا محمود کو کسی لڑکی کے ساتھ نازیبا حالت میں دیکھا۔ اس نے بات پھیلا دی۔ مرزا غلام احمد نے جب دیکھا کہ بات دب نہیں سکتی تو مولوی محمد علی لاہوری کی قیادت میں ایک کمیٹی قائم کر دی کہ اس واقعہ کی تحقیق کرے۔ انہوں نے مریدی کا حق ادا کرتے ہوئے معاملہ دبا دیا۔ جب مرزا قادیانی کی موت ہوئی تو اس وقت کے قادیانی لیڈروں نے مرزا محمود کی بجائے یا مرزا کے خاندان کے کسی اور فرد کو سربراہ بنانے کی بجائے حکیم نور الدین کو پہلا گدی نشین (بقول قادیانیوں کے خلیفہ اول) چن لیا۔ اس سے مرزا محمود کو بہت

صفحہ ٧٣

دھچکا لگا اور اس نے منصوبہ بندی شروع کردی۔ آئندہ کبھی ”خلیفہ“ مرزا کے خاندان سے باہر کا بندہ نہ بن سکے گا۔ مرزا محمود چونکہ دیکھ چکے تھے کہ حکیم نور الدین کے دور میں ان کے خاندان کے وہ ٹھاٹھ باٹھ اور آمرانہ اختیارات نہ رہے تھے۔ اس لیے اپنے دور اقتدار میں انہوں نے اپنے بڑے بیٹے مرزا ناصر احمد کو اپنا جانشین اور قادیانی مذہب کا تیسرا خلیفہ بنانے کے لیے ہر طرح کی جائز‘ ناجائز کوششیں اور ہیری پھیری اور سازشیں شروع کر دیں اور جس کو بھی اپنے بیٹے کی جانشینی کے راستے میں خطرہ یا رکاوٹ سمجھا‘ اس کو ہٹانے کے لیے ہر طرح کی اوچھی حرکت کر گزرتے۔ شروع میں تو اپنے والد کے پرانے ساتھیوں مولانا محمد علی لاہوری‘ خواجہ کمال الدین‘ ڈاکٹر محمد حسین شاہ اور دیگر با رسوخ اور با اثر قادیانی لیڈروں سے ایسی بدسلوکی کی کہ وہ قادیان چھوڑ کر واپس لاہور آ گئے اور وہاں لاہوری گروپ کی بنیاد ڈالی۔ اس کے بعد شیخ عبد الرحمن مصری جو بہت بڑے فاضل تھے‘ کو غنڈہ گردی سے قادیان سے بھگا دیا اور ان کے ایک ساتھی فخر الدین ملتانی کو قتل کروا دیا۔ اس طرح کے تمام واقعات ان مشہور قادیانیوں سے پیش آئے ہیں جو قادیانی مذہب کی خلافت اور ان کی عیاشیوں میں رکاوٹ کا باعث ہو سکتے تھے۔

پھر 1931ء سے 1941ء تک مرزا ناصر کا مقابلہ حکیم نور الدین کے بیٹے عبد المنان سے رہا۔ یہ مقابلہ بازی قادیانیوں کی ذیلی تنظیم خدام الاحمدیہ کی صدارت کے لیے ہر سال ہوتی تھی۔ انتخاب کے موقع پر ووٹ زیادہ عبد المنان کو ملتے تھے مگر دھاندلی کر کے مرزا ناصر کے صدر ہونے کا اعلان کر دیا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ 1949ء میں مرزا ناصر چالیس سال کے ہو گئے۔ قواعد کی رو سے مرزا ناصر اس عمر کے بعد صدر نہیں رہ سکتے تھے۔ عبد المنان کی عمر ابھی چالیس سال سے کم تھی۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے مرزا محمود نے خود مجلس خدام الاحمدیہ کا صدر بننے کا اعلان کر دیا اور کچھ عرصہ بعد مرزا ناصر احمد کو نائب صدر نامزد کر دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مرزا ناصر کو جامعہ احمدیہ اور کالج کا پرنسپل بنائے رکھا۔ کئی ذیلی قادیانی اداروں کے سربراہ بھی بنے رہے۔ مثلاً انجمن کے صدر‘ افسر سالانہ جلسہ (قادیانیوں کا ظلی حج) ادارہ تحریک جدید کے ڈائریکٹر اور نیم عسکری تنظیم فرقان فورس کے سربراہ‘ جہاں ان کا خطاب ”فاتح اندلس“ تھا۔ ان سب پیش بندیوں کا مقصد مرزا ناصر کی گدی نشینی سے ہر ممکن رکاوٹ کو ہٹانا تھا۔ آخری حربے کے طور پر عبد المنان عمر پر کئی من

صفحہ ٧٤

گھڑت الزام لگا کر قادیانی تنظیم سے خارج کر دیا گیا۔ بعد میں مرزا محمود کی بیماری کے دوران ایک اور رکاوٹ سامنے آگئی۔ وہ ان کے سوتیلے بھائی مرزا رفیع احمد تھے۔ جو اپنی جوشیلی تقریروں سے نوجوانوں میں بہت مقبول ہوگئے تھے۔ لیکن مرزا محمود کے پرانے عمر رسیدہ ساتھیوں نے اس جوان کی قیادت کو اپنے لیے خطرہ جانا اور انتخابات کے وقت ایسا چکر چلایا کہ مرزا رفیع کا پانسہ الٹ گیا اور مرزا ناصر قادیانی ذریت کے تیسرے سربراہ بن گئے۔ مرزا ناصر کو بڑا یقین تھا کہ اس کے زمانہ میں قادیانی مملکت قائم ہو جائے گی۔

وہ اکثر اپنی تقریروں میں کہا کرتے تھے کہ ان کے بارے میں بشارت ہے کہ "اس کے زمانے میں فتوحات ہوں گی۔" قادیانیوں کی طرف سے انہیں "ناصر دین" اور "فاتح الدین" کے خطابات سے نوازا جاتا تھا۔ (ماہنامہ خالد بابت نومبر ٨٦ء ص ١٥‘ ١٦) یہ خطابات بھی ان کے ہاتھوں قادیانی مملکت کے قیام کے لیے فاتح ہونے کی امید پر دیے جاتے تھے۔ مرزا ناصر بھی اپنے والد کی طرح بہت اقتدار پسند تھے بلکہ انہوں نے اس سلسلے میں باپ سے زیادہ پیش قدمی کی مثلاً انہوں نے پیپلز پارٹی کے لیے باقاعدہ کھلم کھلا سیاست میں حصہ لیا۔ اسی طرح ربوہ اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے لڑکوں پر نشہ اقتدار میں حملہ کرادیا۔

پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد مرزا ناصر کو قادیانی حکومت کا خواب زیادہ ہی شرمندہ تعبیر ہوتا نظر آنے لگا اور اسی ترنگ میں انہوں نے دسمبر ١٩٧٣ء میں صد سالہ جوبلی منصوبہ اور جشن کا اعلان کیا۔ یعنی ١٩٨٩ء میں جب قادیانی مذہب کو شروع ہوئے سو سال گزر چکے ہوں گے اور فتوحات بھی ہوچکی ہوں گی اور قادیانی مملکت بھی قائم ہوچکی ہوگی تو اس موقع پر فتح کے نشہ میں سرشار قادیانی مرزا ناصر کی سربراہی میں صد سالہ جوبلی کے نام سے پوری دنیا میں جشن منائیں گے ۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شد انہیں کیا پتہ تھا کہ جس پیپلزپارٹی کی کامیابی کو وہ اپنی فتح سمجھ رہے ہیں۔ اسی کے سربراہ کے ہاتھوں قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھکنے والی ہے۔ اسے کہتے ہیں۔ تدبیر کند بندہ تقدیر زند خندہ۔ چنانچہ دسمبر ١٩٧٤ء میں مرزا ناصر کی متوقع قادیانیت کی فتوحات کی خوشی میں صد سالہ جوبلی جشن کے اعلان کے بعد اللہ تعالیٰ کی غیرت کس طرح جوش میں آئی اور مرزا ناصر اور اس کی فتوحات کے خوابوں کا کیسا عبرت ناک حشر ہوا۔ اس کی مختصر جھلکیاں ملاحظہ فرمائیے۔

٢٩ مئی ١٩٧٤ء: ربوہ ریلوے سٹیشن پر نشتر کالج ملتان کے طلباء سے تصادم۔ شام

صفحہ ٧٥

سے ملک بھر میں قادیانیوں کے خلاف احتجاج اور ہنگامے۔

١٨ جولائی ١٩٧٤ء: ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعہ کے متعلق تحقیقاتی ٹربیونل میں مرزا ناصر احمد کی پیشی۔

جولائی، اگست ١٩٧٤ء: قومی اسمبلی میں مرزا ناصر کا بیان اور سوال و جواب۔

٧ ستمبر ١٩٧٤ء: پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔

١٥ اکتوبر ١٩٧٤ء: سرگودھا میں قادیانیوں کے خلاف مظاہرہ، قادیانی معبد جلا دیا گیا۔ حکومت سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے تمام قادیانی ذیلی تنظیموں کے سالانہ اجتماعات نہ ہو سکے۔

٣٠ مئی ١٩٧٥ء محکمہ بحالیات نے قادیانی معبد النور راولپنڈی کو نیلام کر کے فروخت کر دیا۔

یکم جنوری ١٩٧٦ء: ربوہ ریلوے اسٹیشن پر سرگودھا ایکسپریس کا سٹاپ ختم کر دیا گیا۔

١٩٧٧ء: مشہور قادیانی مرزا طاہر کے پھوپھا پیر صلاح الدین آف پیر ہوٹل عورتیں سپلائی کرنے کے فحش کاروبار میں ملوث اور رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ پیر صلاح الدین کا منہ کالا کر کے گدھے پر سوار کر کے شہر میں پھرایا گیا۔ ان کے بیٹوں کو ہجوم کے سامنے کوڑے مارے گئے۔

٣ دسمبر ١٩٨٠ء: مرزا ناصر کی بیوی منصورہ بیگم کی وفات۔

١١ اپریل ١٩٨١ء: نو عمر طاہرہ سے مرزا ناصر کا ٧٣ سال کی عمر میں عقد ثانی ”قادیانی بزرگوں“ کی اخبار الفضل میں شادی کے پائیدار، خوشگوار اور بابرکت ہونے کے بارے میں بشارات۔ ٢٣ مئی کو ہنی مون منانے اسلام آباد پہنچ گئے۔

٢٦ مئی ١٩٨٢ء: اسلام آباد میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے مرزا ناصر کی رہائش گاہ کے سامنے جلسہ۔ مولانا اللہ وسایا کا ایمان افروز خطاب اور مرزا ناصر پر دل کا دورہ۔

٣١ مئی ١٩٨٢ء میں دل پر دوبارہ حملہ اور شدید کمزوری۔

٨ جون ١٩٨٢ء میں دل کا شدید حملہ۔ ٨ اور ٩ جون کی درمیانی شب پونے ایک بجے

صفحہ ٧٦

بیت الفضل اسلام آباد میں مرزا ناصر احمد‘ قادیانی مملکت کے قیام اور شاندار فتوحات پر صد سالہ جشن منانے کی حسرت لیے ہوئے ١٩٨٩ء سے بہت پہلے ہی اس دنیا سے منہ موڑ گئے۔ قارئین کرام! جیسا کہ آپ جانتے ہیں، مرزا ناصر کی عبرت ناک موت کے بعد قادیانیت اور بھی تیزی سے زوال پذیر ہے اور غلام ازم (قادیانی مذہب) کا خلیفہ چہارم پاکستان سے فرار ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خاص تائید و نصرت سے مجاہدین ختم نبوت عصر حاضر کے اس عظیم فتنہ کو نیست و نابود کرنے کے لیے عام دنیا میں قادیانیت کا تعاقب کر رہے ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مرزا ناصر کی دوسری شادی کے سلسلہ میں ہم بعض خاص باتوں کا ذکر بھی کرتے چلیں۔

پروفیسر نصیر احمد P.H.D کی ایک چھوٹی بہن طاہرہ صدیقہ‘ پروفیسر صاحب اس کی شادی کے لئے کوشاں تھے اور اس سلسلے میں جو رشتے آئے‘ ان کے ناموں کی لسٹ بنا کر انہوں نے اپنے پیر و مرشد مرزا ناصر کے پاس دعا کے لئے بھیجی نیز اس لئے بھی کہ وہ مناسب نام اس لسٹ میں سے بتا دیں۔ مرزا ناصر احمد نے لسٹ میں درج شدہ سارے نام کاٹ کر اوپر اپنا نام لکھ دیا اور لسٹ پروفیسر صاحب کو واپس کر دی۔ انہی دنوں خلیفہ کے لئے بیوی کی اہمیت پر مرزا ناصر نے خطبے بھی دینے شروع کر دیے۔ نیز چند کاسہ لیس قسم کے مشہور قادیانی ”بزرگ“ استخارہ کرنے بیٹھ گئے۔ ان بزرگوں میں مولوی عبد المالک‘ صوفی غلام محمد اور دوست محمد پیش پیش تھے۔ اور قادیانی اخبار الفضل میں ان کی طرف سے بیانات آنے لگ گئے کہ استخارہ میں اس کے رشتہ کے بارے میں بشارت ہوئی ہے کہ بہت پائیدار‘ خوشگوار اور طرفین کے لیے باعث برکت اور خوشگوار ازدواجی زندگی دونوں کے لیے ہوگی اور طرفین کے لیے باعث راحت ہوگی“۔ ان ”بزرگوں“ اور سب چمچوں لوٹوں کی مبارک سلامت کے شور میں بڈھا گھوڑا لال لگام کے مصداق یہ شادی ہو گئی۔

جب مرزا ناصر کی وفات ہوئی تو نئی بیوی طاہرہ حمل سے تھی۔ خطرہ تھا کہ کہیں وراثت کے چکر میں طاہرہ کو ختم ہی نہ کروا دیا جائے اس خدشہ کی طرف مکرم مولانا اللہ وسایا صاحب نے ربوہ کی مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر خطبہ جمعہ میں اظہار فرمایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ طاہرہ کی جان تو بچ گئی لیکن ”ارباب نبوت“ کے شہزادوں نے حمل ضائع کروا دیا اور اس طرح مستقبل میں ایک متوقع وارث سے محفوظ ہو گئے۔ طاہرہ کے عزیزوں نے مولانا کے

صفحہ ٧٧

خطبہ جمعہ پر ان کا شکریہ ادا کیا کہ اس طرح لڑکی کی جان بچ گئی لیکن ان اندوہناک واقعات کا نتیجہ پروفیسر نصیر احمد پر دل کے شدید دورہ کی صورت میں ظاہر ہوا اور وہ جان سے گئے۔

مرزا طاہر احمد اپنی خلافت کے لیے پہلے سے راہ ہموار کر رہے تھے۔ مرزا رفیع پر تو اس قدر پابندیاں لگ چکی تھیں کہ ان کا عام قادیانی سے کوئی رابطہ ہی نہیں رہا تھا۔ ان کے علاوہ ان کے کزن ایم ایم احمد حریف ہو سکتے تھے۔ مرزا طاہر احمد نے ان کا منہ یوں بند کیا کہ ان کی زمینوں کی ڈویلپمنٹ جماعت کے فنڈ سے رقم لگا کر کرادی۔ اس طرح ایک حریف بڑے بھائی مرزا مبارک احمد ہو سکتے تھے۔ ان کو بیرون ملک قادیانیوں کے مشنوں کا انچارج سربراہ بنوا دیا کہ جتنا مرضی خرچ کرو، کوئی نہیں پوچھے گا۔

چنانچہ پچھلے دنوں ان پر کئی جانب سے جماعت کے کروڑوں روپے کے فنڈز غبن کرنے کے الزام لگائے گئے مگر جب سیاں بنے کوتوال تو پھر ڈر کاہے کا، کے مصداق کچھ بھی نہیں ہوا۔ چونکہ مرزا طاہر کا اپنا کوئی بیٹا نہیں اس لیے اپنے جانشین اور قادیانی مذہب کے آئندہ خلیفہ کے طور پر اپنے داماد، مرزا ناصر کے بیٹے مرزا لقمان احمد کو آگے لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور پچھلے دنوں تو انہوں نے ایک بیان میں اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اب تو لقمان کو سچے خواب آنے لگ گئے ہیں۔ لقمان ایک بے کردار رئیس زادہ ہے۔ اس کے کارناموں پر ہم کسی آئندہ اشاعت میں تبصرہ کریں گے۔

مرزا ناصر کی حسرت ناک موت سے مکرم مولانا اللہ وسایا صاحب کی تقریر کا بھی خاص تعلق ہے۔ ٢٦ مئی کی شام کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرزا ناصر کی رہائش گاہ کے سامنے عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں مکرم مولانا اللہ وسایا صاحب نے اپنی زور دار تقریر میں محمود کے گھناؤنے کردار کے بعض شرمناک پہلوؤں کو کتاب سے پڑھ کر سنایا اور مرزا ناصر کو چیلنج کیا کہ اگر یہ واقعات جھوٹ ہیں تو ثابت کرے۔ یہ چیلنج سنتے ہی اس وقت مرزا ناصر احمد کو دل کا دورہ پڑ گیا۔ مولانا موصوف تو تقریر کر کے جلسے سے تشریف لے گئے۔ بعد ازاں پولیس آئی، اس وقت مولانا عبدالشکور دین پوری تقریر کر رہے تھے، جو گرفتار کر لیے گئے۔

قادیانی حضرات سے درخواست ہے کہ وہ اپنی آخرت سنوارنے اور اپنی بھلائی کے لیے غیر جانبداری اور کھلے دل سے مندرجہ بالا مضمرات پر غور کریں۔ مرزا ناصر احمد کی

صفحہ ٧٨

فتوحات کی بشارتوں کا انجام آپ کے سامنے ہے۔ ان کو خدا تعالیٰ کی نصرت پر بھروسہ نہ تھا۔ اس لیے پیپلز پارٹی کا سہارا لیا۔ لیکن کیا آپ کے مذہب کی فتح ہو گئی؟ اور عزت بڑھ گئی؟ ہرگز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسی پارٹی کے سربراہ کے ہاتھوں آپ کو غیر مسلم قرار دے کر ساری دنیا میں قادیانی مذہب کو رسوا کر دیا اور آپ کے نام نہاد خلیفہ کی بشارتیں دھری رہ گئیں۔ کیا آپ کے یہ خلفاء (جیسا کہ آپ سمجھتے ہیں) نعوذ باللہ خلفائے راشدین کے ہم پلہ ہو سکتے ہیں؟ پھر آپ کے نام نہاد بزرگوں ”جن کو آپ صحابہ کرام کا درجہ دیتے ہیں“ کی مرزا ناصر کی طاہرہ سے شادی کے بارے میں خوشگوار پائیدار ہونے کی بشارت کا حسرت ناک انجام بھی آپ نے دیکھ لیا کہ دونوں میاں بیوی کو یہ شادی کیسے راس آئی کہ شادی کے ہفتے کے ساتھ ہی مرزا ناصر کی ارتھی آگئی اور نوخیز دلہن زندہ لاش بن گئی۔ اس کے لائق فائق بھائی کا ہارٹ فیل ہو گیا۔ آپ پر عذاب پر عذاب آرہا ہے۔ نشان پر نشان اللہ تعالیٰ دکھا رہا ہے۔ مہلت کے دن تھوڑے ہیں۔ غور کرو‘ توبہ کرو اور جلد امت محمدیہؐ میں لوٹ کر رحمت اللعالمینؐ کے سائے تلے پناہ حاصل کرو‘ ورنہ ہمہ ذلت و رسوائی نیست و نابود ہو جاؤ گے۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت‘ کراچی‘ جلد ٦‘ شمارہ ٩‘ جون ١٩٨٧ء)

حکم نبوی ﷺ

حافظ الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی چار سال پہلے سنا ہے‘ ہجرت کر کے حرمین الشریفین جا رہے تھے۔ جب کراچی گئے تو کسی دوست نے مشورہ دیا کہ جانے سے پہلے استخارہ تو کر لیجئے۔ استخارہ میں انہوں نے دیکھا کہ جناب رسالت مآبؐ فرما رہے ہیں کہ میری نبوت پر کتے حملے آور ہو رہے ہیں اور تم ہجرت کر کے یہاں آ رہے ہو۔ (اس پر حاضرین مجلس آبدیدہ ہو گئے) چنانچہ وہ حج کر کے واپس آگئے۔

(خطاب : مولانا احمد علی لاہوریؒ)

صفحہ ٧٩
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد ﷺ سے اجالا کر دے

(مؤلف)

مولانا ہزارویؒ کے سفر آخرت کے واقعات

اور ان کا آنکھوں دیکھا حال

واللہ اعلم حضرت مولانا کو اپنے کسی کشف یا خواب سے قرب موت کی خبر ہو گئی تھی اور انہوں نے تقریباً چار ماہ پہلے سے قبر کی تیاری شروع کر دی تھی۔ انہیں حقوق العباد کی بڑی فکر تھی۔ اس لیے انہوں نے اس عرصہ میں ہر ایک سے یہ کہا اور بڑے درد سے کہا، ”کہا سنا معاف فرما دیں۔“

اس میں کسی بڑے، چھوٹے، اپنے، بیگانے، معروف، عالم و جاہل کی کوئی تمیز نہ تھی۔ آپ جس سے بھی ملتے، یہی فرماتے اور اکثر اوقات دیکھنے سننے والوں کو حیرت ہوتی کہ اتنے بڑے آدمی ہو کر یہ کیسی چھوٹی بات کر رہے ہیں۔ یہ وقت کے عظیم لیڈر، اسلام کے سچے اور پکے خادم اور پھر بے مثال قربانیاں دینے والے مجاہد ہیں اور ایسی کمزور باتیں کر رہے ہیں۔ مگر افسوس، انہیں کیا معلوم کہ یہ غوث زماں، یہ اسلام کا مرد آہن اور عشق نبوی ﷺ کا سوختہ، اور محبت الٰہی کا کوفتہ زندگی کے اس موڑ پر نہایت حزم و احتیاط سے سنت نبوی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام پر عمل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ کیا نبی اکرم ﷺ نے زندگی کے آخری ایام میں صحابہ کرامؓ سے نہیں فرمایا تھا؟ کہ جس کے ساتھ مجھ سے زیادتی ہوئی ہو، مجھ سے بدلہ لے لے۔ یہ دراصل حقوق العباد کی اہمیت بتلانے کی تعلیم تھی، تاکہ لوگ حقوق العباد کی اہمیت سے غافل ہو کر اپنی آخرت کو تباہ نہ کریں۔ حضرت مرحوم کے پیش نظر حضور انور ﷺ کی یہی عملی سنت تھی۔ جس کی وجہ سے وہ ہر ایک سے اپنا معاملہ صاف کرانے کی کوشش کرتے تھے تاکہ آخرت کی گرفت سے ان کی معافی ہو سکے۔

صفحہ ٨٠

مسلمانوں کی نئی نسل کے لیے حضرت کے اس عمل میں فکر آخرت کا بڑا اعلیٰ نمونہ پایا جاتا ہے۔ بہرحال یہ تیاری ہوتی رہی اور آخر شب چہار شنبہ بتاریخ چار فروری ١٤٠١ھ / ١٩٨١ء بوقت ٣ بجے شب صبح صادق سے پہلے کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے جاں‘ جان آفرین کے حوالہ کر دی اور عالم فانی کو چھوڑ کر یہ حق کا پروانہ اور اسلام کا غازی عالم جاودانی کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ اس رات بہت سی باتیں آپ نے فرمائیں۔ اپنی اہلیہ محترمہ سے فرمایا کہ میرے ساتھ زندگی کے پچاس ساٹھ سال تم نے گزارے ہیں اور ہر قسم کی تکلیفیں برداشت کی ہیں۔ دین کی فکر میں مجھ سے بہت سی زیادتیاں آپ کے ساتھ ہوئی ہیں۔ میں اکثر جیل یا سفر میں رہا ہوں اور آپ کے بارے میں بہت کوتاہیاں سرزد ہوئی ہیں۔ مجھے معاف فرما دیں‘ بچیاں بھی موجود تھیں۔ ان سے بھی اسی قسم کی باتیں فرمائیں اور فرمایا‘ ماں کی قدر کرنا۔ اس کی خدمت کرنا۔ اس نے میرے ساتھ زندگی بھر بڑی تکلیفیں اٹھائی ہیں۔ میری خوشی اس میں ہے کہ اس کی خدمت کرو اور اس کو کسی قسم کی اذیت اور تکلیف نہ دو۔ سب حاضرین سے اپنے آپ کو معاف کروایا اور یہ بھی فرمایا کہ میں نے سب کو معاف کیا ہے اور میری ہر ایک سے درخواست ہے کہ مجھے معاف کردے۔ اپنے بھائی مولانا فقیر محمد سے شام ہی کو کہہ دیا تھا کہ فلاں آدمی کے مجھ پر چالیس روپے ہیں۔ انہیں ادا کر دینا اور یہ بھی کہہ دیا تھا کہ میری وفات کے بعد میرے جنازے کو دیر تک نہ روکنا۔ مجھے جلد از جلد دفنانے کی کوشش کرنا۔ جیسا کہ شریعت کا حکم ہے اور کسی قسم کے رسم و رواج اور بدعات کا اہتمام نہ کرنا۔ حضرتؒ کی وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہٹہ کے لوگ دوڑ کر آگئے اور پھر جہاں‘ جہاں تک کسی کی رسائی تھی۔ اس نے خود بخود دوسروں تک یہ خبر پہنچائی۔

ریڈیو پاکستان نے اپنی نشریات روک کر آپ کی وفات کا بڑے درد دل اور عظمت و محبت کے جذبات کے ساتھ اعلان کر دیا اور اس طرح ملک بھر کے دوست احباب اور دوسرے مسلمان خبردار ہو گئے اور جس سے جو کچھ انتظام ہو سکا‘ جنازے میں شرکت کی کوشش کی۔ علماء کرام‘ سیاسی لیڈر‘ اولیاء‘ صلحاء‘ طلباء اور دوسرے مسلمان‘ ہٹہ بند کی سرزمین پر تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی تھی۔ خداوند تعالیٰ کی شان کہ اس دن آپ کی جدائی پر آسمان بھی رو رہا تھا اور ایسی گریہ و زاری میں مبتلا تھا کہ تھمنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ بارش

صفحہ ٨١

تھی کہ سب کو پریشان کر دیا تھا اور بنہ کی مسجدیں‘ بازار‘ ہوٹل اور گلیاں‘ سب جگہیں آدمیوں سے بھری ہوئی تھیں۔ کہیں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ قصبہ بنہ اپنی وسعت کے باوجود آج اپنی تنگ دامانی کا گلہ کر رہا تھا اور گلہ ، شکوہ کیوں نہ کرتا کیونکہ آج اس کی سرزمین پر کتنے محدث‘ کتنے مفسر‘ کتنے مجاہد‘ کتنے غازی اور کتنے نمازی اس کے نامور سپوت اور وقت کے عظیم مرد مجاہد کے حضور‘ عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کے لیے حاضر ہوئے۔ آج خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے مگر غم سے نڈھال بھی تھے۔ اپنے نامور سپوت کی جدائی پر وہ اتنے آزردہ اور پریشان حال تھے کہ یہ خوشی انہیں خوشی نہیں محسوس ہوتی تھی بلکہ غم کی ایک خلش اور جدائی کا ایک کرب بن کر نظر آتی تھی۔ نماز ظہر کا وقت ہوا تو نماز سے پہلے اور بعد بھی بہت سے علماء کرام نے تقریریں کیں۔

مولانا کے مراتب و کمالات کا ذکر کرکے حاضرین کو رلایا اور خود بھی روئے۔ مگر ان میں ایسے حضرات بھی تھے جو گزشتہ چند سالوں سے پروپیگنڈہ کا شکار ہو کر مولانا مرحوم کے خلاف تقریریں کرتے تھے کہ آپ نے بھٹو سے پیسے لے کر بنگلے بنائے ہیں اور آپ کی آٹھ بسیں اسلام آباد سے گلگت تک چلتی ہیں وغیرہ۔ انہیں آج آپ کے حالات دیکھ کر اور سن کر بڑی ندامت ہوئی اور انہوں نے اپنی تقاریر میں اپنی غلطیوں کا برملا اعتراف کیا اور کہا‘ ہم نے یہاں حاضر ہو کر حضرت مولانا ہزاروی سے معافی مانگی تھی اور آج پھر معافی مانگتے ہیں اور مولانا مرحوم نے ہمیں معاف فرما دیا تھا۔ ہم اس مجمع کے سامنے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ مولانا مرحوم کا دامن بے داغ بلکہ بالکل بے داغ تھا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے۔ ہم سے آپ کے بارے میں بڑی غلطی ہوئی ہے۔ ہم نے مخالفین کے پروپیگنڈہ پر اعتبار کیا اور یہ سمجھے کہ یہ لوگ جھوٹ نہیں بولتے اور اپنے محسن کو چھوڑا اور اس کی سزا بھی ملی۔ ہم رسوا ہوئے اور بے دینوں کو ہم پر انگشت نمائی کا موقعہ ملا۔ اس سے پہلے مولانا مرحوم کی وجہ سے یہ لوگ ہم سے خائف رہتے تھے۔ مولانا نے کبھی ان بے دینوں‘ جاگیرداروں‘ نوابوں اور خانوں کو معاف نہیں کیا۔ وہ ہر موقعہ پر ان کی خبر لیتے تھے اور یہ بھی مولانا کی ان لوگوں کے ساتھ خیر خواہی تھی کہ یہ لوگ اپنے عہدہ واقتدار کی وجہ سے بگڑ کر غریب مسلمانوں پر ظلم نہ کریں۔ انہیں انسان سمجھیں بلکہ انہیں اپنی طرح کا انسان سمجھیں اور یہ بات بھی تھی کہ ان کا غرور نکال کر ان کو خدا اور رسول ﷺ کے

صفحہ ٨٢

قانون کا پابند کیا جائے۔ یہ انانیت ہی فساد کی جڑ ہے۔ جب تک یہ نہ کٹے، انسان کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔

مولانا کو ان کی انانیت پر نشتر چلانا خوب آتا تھا۔ وہ نہ کبھی ان سے ڈرے اور نہ کبھی دبے۔ وہ مرد قلندر اور حق آگاہ درویش صفت انسان تھے جو کبھی صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور لوگوں کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ مولانا مرد انقلاب تھے۔ انہوں نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو بدلا اور انہیں فرش گدائی سے اٹھا کر تخت شاہی پر بٹھایا اور خود فقر و فاقہ میں زندگی بسر کرتے رہے۔ یہ وہ تقاریر تھیں جو علماء کرام نے اس وقت فرمائیں اور حضرت کے کمالات کو اجاگر کر کے ان کے حضور عقیدت کا نذرانہ پیش کرنے کی کوشش فرمائی۔

وہ آخری رات، جس میں حضرت سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔ گھر کے لوگ موجود تھے۔ کسی کے خیال میں بھی نہیں آ رہا تھا کہ یہ آج ہم سے جدا ہو جائیں گے۔ ہوش و حواس ٹھیک تھے۔ عشاء کی نماز ٹھیک طرح سے پڑھی تھی۔ لیکن باتیں ایسی تھیں، جن سے جدائی کا ترشح ہوتا تھا۔ سحری کے وقت آپ نے کچھ درد کی تکلیف محسوس کی۔ کسی نے عرض کیا کہ ڈاکٹر کو بلائیں۔ آپ نے بے ساختہ فرمایا ”اللہ کافی“ کہ میرے لیے اللہ کافی ہے۔ اس کے کچھ دیر بعد آپ خاموش ہو گئے۔ پھر اچانک اٹھ کر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے زور دار آواز سے کلمہ طیبہ پڑھا۔ لا الہ الا اللہ“ پھر خود جھٹکا دے کر اپنا چہرہ مبارک قبلہ کی طرف کیا اور محمد رسول اللہ کہہ کر خاموش ہو گئے۔ دیکھا تو رخصت ہو چکے تھے اور چہرے پر کچھ تھکن کے ساتھ خوشی کے آثار نمایاں تھے۔ چہرے پر نورانیت اور چمک لحظہ بہ لحظہ بڑھ رہی تھی اور بالکل پیشانی کے درمیان سے نور کی ایک لاٹ اپنا خوبصورت جلوہ دکھا رہی تھی اور داڑھی مبارک پر ایسی نورانیت چھائی تھی کہ دیکھ کر تعجب ہوتا تھا۔ حضرت کی وفات حسرت آیات کی اطلاع مجھے صبح سویرے ہوئی اور میں بیوی، بچوں اور دوسرے قریبی رشتہ داروں سمیت بندہ پہنچا۔ افسوس تو تھا ہی، مگر اب سفر آخرت، یعنی کفن، دفن اور غسل کے انتظامات کرنے تھے۔ مولانا فقیر محمد مرحوم کے مشورہ سے قبر کا انتظام ان کے آبائی قبرستان میں ہو چکا تھا۔ باقی انتظامات میں نے خود اپنے ہاتھ میں لیے، کفن گھر میں مکہ سے لایا ہوا موجود تھا جو آب زم

صفحہ ٨٣

زم سے دھویا گیا تھا۔ پھر غسل کا انتظام کیا، خود بھی اس میں شریک ہوا اور ایسے احباب جن کو حضرت مرحوم سے بے پناہ عقیدت تھی، انہیں بلا کر غسل میں شرکت کا موقعہ دیا۔ انہی حضرات میں حضرت مولانا عزیز الرحمٰن چوہڑ راولپنڈی بھی ہیں۔ انہیں حضرت مرحوم کے ساتھ آخر تک رفاقت کا شرف حاصل رہا اور انہوں نے حضرت مولانا مسعود الرحمٰن صاحب مدظلہ العالیٰ کی طرح حق رفاقت پوری طرح اور احسن طریقہ سے ادا کیا ہے۔ مولانا عزیز الرحمٰن صاحب نے ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد، مورخہ ٣ مارچ ١٩٨١ء میں ایک مضمون بعنوان: بطل جلیل حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی کا سفر آخرت ”یعنی شہادتیں“ تحریر فرمایا ہے۔

میں اسی کو کچھ ضروری ترامیم کے ساتھ یہاں لکھنا مناسب سمجھتا ہوں‘ لکھتے ہیں:

ہفت روزہ لولاک‘ کے گزشتہ شمارہ میں مجاہد ملت‘ بطل حریت‘ ابوذر دوران‘ حضرت اقدس مولانا غلام غوث ہزارویؒ نور اللہ مرقدہ کے بارے میں نہایت قیمتی اور مبنی بر اخلاق مضامین پڑھے۔ اگرچہ غم سے نڈھال ہوں اور دل و دماغ اس حادثے سے متاثر ہیں۔ مگر جی چاہا کہ حضرت کے سفر آخرت سے متعلق کچھ حالات قلم بند کروں۔

حضرت اقدس کو جیسا کہ کسی طرح علم ہو گیا ہو‘ آخری ٢ ماہ میں کئی بار پنڈی تشریف لائے اور نئے پرانے تمام ساتھیوں سے خوب خوب ملے۔ کہا سنا معاف کرایا۔ دسمبر میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی دعوت پر ربوہ (صدیق آباد) بھی تشریف لے گئے۔ ان کے ہمراہ۔۔۔۔ مولانا مسعود الرحمٰن صاحب (ٹیکسلا) بھی تھے۔ واپسی پر میرے ہاں راولپنڈی تشریف لائے‘ تو بے حد خوش نظر آرہے تھے۔ ربوہ کی تمام کارروائی بھی سنائی۔۔۔۔ چند دنوں بعد پھر حضرت مولانا قاضی شمس الدین صاحب درویش (ہری پور ہزارہ) کے ہمراہ تشریف لے آئے۔ فرمانے لگے کہ حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب خطیب مرکزی جامع مسجد اسلام آباد کی دعوت پر تقریر کے لیے آیا ہوں۔ اس بہانے دوستوں سے ملاقات بھی ہو جائے گی۔ اس بار تین دن تک راولپنڈی میں قیام رہا۔ وفات سے آٹھ روز پہلے حافظ محمد علی صاحب چنیوٹی کے ہمراہ پھر تشریف لائے۔ مختلف احباب سے ملاقاتیں کیں اور کہا سنا معاف کرنے کا فرماتے رہے۔ حضرت قاضی محمد زاہد الحسینی مدظلہ سے ملاقات کے لیے اٹک

صفحہ ٨٤

تشریف لے گئے۔ وہاں سے واپسی پر رات میرے پاس چوہڑ راولپنڈی میں قیام فرمایا۔ رات دیر تک گفتگو فرماتے رہے۔ مولانا حکیم مسعود الرحمن صاحب بھی ساتھ تھے۔ یہ آپ کی راولپنڈی میں آخری رات تھی۔ جمعہ کے دن حافظ ریاض احمد اشرفیؒ کے گھر تشریف لے گئے۔ وہاں آپ کی عجیب و غریب کیفیت تھی (جو قابل دید تھی) واپسی پر اپنے ایک دوست مولانا حکیم عبدالرحمن صاحب سے ملے۔ اس نے کچھ یادداشت لکھنے کے لیے اپنی کاپی پیش کی۔ آپ نے کاپی پر یہ شعر لکھ دیا:

کریما بہ بخشائے بر حال ما کہ ہستم اسیر کمند ہوا

پھر جمعہ اسی دن اپنی سابقہ جگہ بھوسہ منڈی (کی جامع مسجد میں) پڑھایا اور تقریر میں صاف فرمایا: کہ یہ میرا آخری جمعہ ہے۔ (آپ حضرات) کہا سنا معاف کردیں۔ بھوسہ منڈی کے حجام سے ناخن کٹوائے تو اس سے بھی فرمایا: میرے آخری بار کے ناخن تم کاٹ لو۔ جمعہ کے بعد قاضی شمس الدین صاحب کے ہمراہ مولانا حکیم محمد داؤد کے گھر ٹیکسلا پہنچے۔ رات گئے تک مجلس گرم رہی۔ جس میں زیادہ تر فکر آخرت پر گفتگو ہوتی رہی اور عمر عزیز کی گزشتہ یادیں تازہ فرما کر دل بہلاتے رہے۔ یہ مجلس بڑی روح پرور تھی۔ باتیں کرتے ہوئے آپ نے اپنے روایتی انداز میں فرمایا 'جی بس سانس نکلنے کی دیر ہے اور اللہ پاک کے سامنے حاضر ہو جائیں گے۔ ہفتہ کے دن آپ ٹیکسلا سے دس بجے مانسہرہ پہنچے۔ ہم بھی ساتھ تھے۔ پھر آپ اپنے کسی عزیز کے ہمراہ پنڈ چلے گئے۔ ہم نے ایک شادی کے سلسلہ میں گاؤں جانا تھا' اس لیے اپنے گاؤں چلے گئے 'تیسرے دن (بروز بدھ) اطلاع ملی کہ حضرت وصال فرماگئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

سخت صدمہ ہوا اور جنازہ میں شرکت کے لیے فورا پنڈ پہنچا۔ یہاں آکر آپ کے وصال کے حالات سنے تو طبیعت کو کچھ سکون ہوا۔ حسین خاتمہ اور قابل رشک رخصتی پر دل بہت بشاش ہوا۔ لکھتے ہیں ' نماز ظہر کے بعد غسل دیا گیا۔ میں خود بھی غسل میں موجود تھا۔ بلا مبالغہ عرض کرتا ہوں کہ میں نے مرنے کے بعد اس قدر مسکراہٹ کسی کے چہرے پر آج تک نہیں دیکھی۔

نشان مرگ مومن با تو گویم
چوں مرگ آیدش تبسم بر لب اوست
صفحہ ٨٥

مسکراہٹ کے ساتھ چہرہ بھی بہت زیادہ چمک رہا تھا۔ چہرہ مبارک کو دیکھ کر غسل دینے والوں کی زبان پر بے ساختہ بار بار سبحان اللہ' سبحان اللہ کے کلمات جاری ہوتے تھے۔ غسل کے وقت جسم مبارک اتنا گرم تھا' جیسے شدید بخار ہو اور پوری طرح نرم بھی تھا۔ غسل کے بعد میں نے آپ کے جسم مبارک پر تبرک چھڑکا۔ یہ تبرک حضور خاتم النبیین' شفیع المذنبین ﷺ کے روضہ مبارک کی خاک پاک تھی جو مجھے شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خلیفہ خاص سے تحفتاً ملی تھی اور حضرت مولانا ہزارویؒ کو اس کا علم تھا۔ دوسری سعادت یہ ہوئی کہ آپ کی آنکھوں پر غلاف کعبہ شریف کے ٹکڑے بھی رکھے گئے اور یقیناً آپ اس کے حقدار بھی تھے کیونکہ اللہ رب العالمین اور جناب نبی کریم ﷺ سے عشق و محبت کا جو تعلق آپ کو تھا وہ اظہر من الشمس ہے۔ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے پھر قبر کا جتنا قرب بڑھتا جا رہا تھا' چہرہ مبارک کی نورانیت میں اسی قدر اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔

آپ بالکل دولہا کی طرح معلوم ہو رہے تھے۔ بڑھاپے کے آثار ختم ہو کر جوان نظر آتے تھے۔ جب آپ کا جنازہ آپ کے کچے مکان سے اٹھایا گیا تو بارش کے باوجود لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر گلیوں' بازاروں' حجروں اور مسجدوں سے نکل کر گورنمنٹ ہائی سکول کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں پہنچا۔ یہ اتنا بڑا مجمع تھا کہ تا حد نگاہ انسان ہی انسان نظر آتے تھے۔ مگر سب غم سے نڈھال' افسردہ دل اور پریشان حال تھے۔ کافی دیر بعد صفیں درست ہوئیں تو مولانا کے برادر اصغر مولانا فقیر محمد صاحب مرحوم (فاضل دیوبند) نے نماز جنازہ پڑھائی۔ جنازہ میں علماء' صلحاء' اولیاء و شرفا کی کثرت تھی۔ خواتین' سیاسی زعماء' طلباء و عوام کا تو شمار ہی نہ تھا۔ ہر ایک کی خواہش تھی کہ اس مرد قلندر' فدائے ختم نبوت اور وکیل صحابہؓ کے آخری دیدار کی سعادت حاصل ہو۔ اس لیے لوگوں کے شدید تقاضا پر چارپائی بارش کی وجہ سے سکول کے برآمدے میں ایک طرف کو رکھی گئی اور ہر آدمی کو مناسب طریقہ سے زیارت کرنے کا موقع دیا گیا۔ ہر ایک کی زبان پر سبحان اللہ' سبحان اللہ کے کلمات جاری تھے۔ ہر ایک متاثر تھا اور آپ کی کرامت اور حسن خاتمہ کا دل و جان سے معترف تھا اور واپسی پر ہر ایک کی زبان پر آپ کا ذکر خیر جاری تھا۔ آخر غروب آفتاب کے بعد نماز مغرب کے وقت جمعرات کی رات کو اس مرد مجاہد اور پیکر اخلاص و للہیت کو مالک

صفحہ ٨٦

حقیقی کے سپرد کر کے لوگ دل فگار واپس آئے۔ کچھ لوگ ہجوم کی وجہ سے زیارت کرنے سے رہ گئے تھے، انہیں ان کے تقاضا پر قبر میں زیارت کرائی گئی۔ ان کا حلفیہ بیان تھا کہ:

”حضرت مولانا کے چہرہ اقدس پر ستاروں کی طرح چمک تھی۔“

اسی شمارہ میں قاری گل رحمن صاحب رقمطراز ہیں:

آپ کی موت کا عجیب منظر تھا۔ ایسا منظر جس نے مخالفت کرنے والوں کو بھی موافقت پر مجبور کر دیا اور کوئی بھی موجود آپ کا مخالف نہ رہا۔ آپ کی بزرگی کا اقرار عوام و خواص‘ سب کی زبان پر جاری تھا۔ آپ کے چہرے پر نورانی چمک پیدا ہو گئی تھی اور چہرہ مبارک جوانی کی طرح بڑا نظر آتا تھا اور آپ کا حسن جوانی سے بھی کہیں زیادہ بڑھ کر تھا۔

اور ایک صاحب لکھتے ہیں:

جنازہ کے بعد آپ کا دیدار کیا گیا۔ سچی بات ہے ہم عینی گواہ ہیں کہ کفن سے آپ کا چہرہ مبارک زیادہ سفید تھا۔ نورانیت اور حق و صداقت کی روشنی اس وقت بہت ہی قابل دید تھی۔ (روزنامہ جہاد، پشاور‘ ٣٠ مئی ١٩٨٨ء)

مولانا کا ترکہ و تقسیم

حضرت مولانا‘ فقر ابوذرؓ کے امین تھے اور نہایت خود دار تھے۔ انہوں نے زندگی بھر دولت دنیا سے نہ صرف بے رخی برتی بلکہ اس سے جنگ بھی کی۔ ان کو جو کچھ ملا‘ راہ خدا میں یتیموں، بیواؤں، ناداروں، معذوروں اور طلباء کی ضروریات کے لیے لٹاتے رہے۔ جس نے جو مانگا‘ اس کو دے دیا اور خود زندگی قناعت میں بسر کر دی۔ ان کی سخاوت‘ اور داد و دہش کے واقعات انشاء اللہ تعالیٰ کسی دوسرے موقعہ پر ذکر کروں گا۔ انہوں نے کچھ کمایا نہیں اور جو کچھ مل گیا‘ اس سے اپنی آخرت بنائی اور دوسروں کی دنیا سنواری۔ عجیب درویش صفت انسان تھے۔ جب فوت ہوئے تو ان کا ترکہ کیا تھا۔ اس بارے میں حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب مدظلہ اپنے مضمون میں جو اسی ”لولاک“ میں لکھا گیا‘ یہاں قلمبند کرتا ہوں‘ تاکہ حضرت کے مقام کو صحیح طور سے سمجھنے میں مدد مل سکے۔

مولانا عزیز الرحمن رقمطراز ہیں:

وہ ہستی جس کے خلاف سوچے سمجھے منصوبے کے تحت طویل عرصہ تک جھوٹا اور

صفحہ ٨٧

بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا گیا۔ حتیٰ کہ یہاں تک کہا گیا کہ ان کی ٹرانسپورٹ چلتی ہے اور کئی ایک بنگلے بنائے ہیں۔ جب سفر آخرت پر روانہ ہوئے تو کل پونجی جو حسب ذیل تھی‘ اس طرح تقسیم فرمائی:

دیں۔

صاحبزادی کو دے دیا۔ حضرت مولانا کو جب سفر آخرت پیش آیا تو وہ دنیاوی معاملات کے بکھیڑوں سے بالکل پاک تھے اور ان کا دل ماسوا اللہ تعالیٰ سے بالکل صاف تھا اور وہ بس اللہ تعالیٰ کے حکم کے منتظر تھے کہ کب بلاوا آجائے اور میں اڑ کر اپنے رب تعالیٰ کے حضور پہنچ جاؤں اور جلوہ ربانی سے آنکھوں کو مسرور اور دل کو پرنور کروں۔ مولانا مرحوم کی ایک صاحبزادی نے تین ماہ کے بعد اپنی ایک پھوپھی کو خواب میں دیکھا۔ یہ پھوپھی بڑی نیک اور صالح تھیں اور مولانا کو اس سے اس کی دین داری کی بناء پر بڑا پیار تھا۔ اس صاحبزادی نے اپنی پھوپھی سے کہا کہ اتنی مدت تک آپ نے ہمیں آکر دیکھا بھی نہیں کہ ہمارا کیا حال ہو رہا ہے۔ پھوپھی نے جواب دیا‘ بیٹی کیا کریں جب سے لالہ (مولانا صاحب) آیا ہے‘ ہمیں فرصت ہی نہیں ملی۔

(بتیس مردان حق‘ ص ٦٤٥ تا ٦٥٠ از مولانا عبدالرشید ارشد)

قادیانی مردہ عذاب شدید کی آہنی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا

چک ١٤٧ ایچ آر مروٹ سے مردہ اکھاڑ دیا گیا۔ حالت دیدنی تھی

چک نمبر ١٤٧ ایچ آر مروٹ تحصیل فورٹ عباس کا اہم واقعہ۔

گزشتہ روز مشہور قادیانی عبدالعزیز ولد علی محمد کی ناپاک لاش کو مرزائیوں نے

صفحہ ٨٨

شرارتا مسلمانوں کے جذبات برانگیختہ کرنے کے لیے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ جس پر ضلع بہاول نگر کے مسلمان جو ختم المرسلین محمد مصطفیٰ ﷺ سے سچا عشق رکھتے ہیں‘ ان میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے ضلعی سطح پر قادیانی کی لاش کو اکھاڑ پھینکنے کے بارے میں قراردادیں پاس کرائیں اور تمام مکاتب فکر کے علماء نے اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیا اور اس سلسلہ میں بہاول نگر کے نئے ڈپٹی کمشنر جناب منیر اکبر خاں سے علماء کرام کے ایک وفد نے ملاقات کر کے اس مسئلہ کی جانب توجہ مبذول کرائی اور پر زور مطالبہ کیا کہ قادیانی کی لاش کو فوری طور پر مسلمانوں کے قبرستان سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ ضلعی انتظامیہ نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے مذکور قادیانی کی ناپاک لاش کو اکھاڑ پھینکنے کا اہتمام کیا۔ قادیانی کی لاش کی حالت عبرت آموز اور قابل دید تھی جو خداوند قدوس کے محبوب محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت سے انکار کی سزا کے عذاب شدید کی آہنی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ چہرے پر پھٹکار اور جسم سے بدبو بری طرح بھپک رہی تھی۔ قصہ مختصر یہ کہ دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو‘ کے مصداق معاملہ تھا۔ تمام مسلمان ضلعی انتظامیہ کے اس بروقت اقدام کو قابل تحسین نگاہ سے دیکھتے اور مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ انشاء اللہ وہ اس کام کا آخرت میں اجر پائیں گے۔

(ہفت روزہ خاور‘ بہاول نگر‘ ٢١ فروری ١٩٨٨)

برصغیر کا شہرہ آفاق تاریخی مقدمہ

مقدمہ مرزائیہ بہاول پور اور علماء ہند کے بیانات

تحریر : محمد باقر نجمی بہاول پور

حضور اکرم ؐ کے زمانے سے لے کر اب تک مسلمانوں میں کتنے ہی نبوت کے جھوٹے دعویدار پیدا ہوئے۔ انہوں نے لوگوں سے اپنی نبوت کا دعویٰ منوانے کے لیے خوب کذب و افتراء سے کام لیا اور اپنی خود ساختہ باتوں کو اللہ کی طرف منسوب کر کے

صفحہ ٨٩

انہیں کشف‘ وحی اور الہام کا نام دیا اور کتاب وسنت کی ان نصوص صریحہ کو جو نئی نبوت کا فتنہ کھڑا کرنے والوں کا راستہ روکے ہوئے تھیں‘ غلط تاویلوں سے مٹانے کی بھرپور کوششیں کیں مگر ختم نبوت کے بارے میں اللہ اور اس کے رسولؐ کے ارشادات اتنے صاف اور واضح تھے کہ ان کے سامنے ان کی دجل و تلبیس کا جادو نہ چل سکا۔ ان آئمہ تلبیس میں قادیان ضلع گورداسپور کا مرزا غلام احمد قادیانی بھی تھا۔ جسے انگریز نے اس کی خاندانی وفاداریوں کے صلہ میں عین اس وقت جب کہ مسلمان انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی لڑ رہے تھے‘ اس کام پر مامور کیا کہ وہ تحریر و تقریر سے مسلمانوں میں جہاد آزادی کا جذبہ سرد کرے اور نئی نبوت کا فتنہ کھڑا کر کے ان میں افتراق و تشتت کی ایسی راہیں کھول دے جو کبھی نہ بند ہو سکیں چنانچہ اپنے آقاؤں کی ہدایت کے مطابق مرزا غلام احمد پہلے مبلغ اسلام بن کر سامنے آیا۔ پھر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا‘ پھر مثیل مسیح‘ مسیح موعود‘ ظل و بروز اور اس کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ سارا کام اس نے بتدریج کئی سالوں میں کیا تاکہ لوگوں کا ذہن آہستہ آہستہ میرے حق میں بنتا جائے اور وہ ایک دم میرے خلاف نہ ہو جائیں۔ اس نے انگریزی اقتدار کا سہارا لے کر نہ صرف اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑایا بلکہ انبیاء علیہم السلام‘ اہل بیت اور صحابہ کرامؓ کی خوب توہین و تذلیل کی۔ علماء کرام نے ابتداء میں اس کی تحریروں میں ادعائے نبوت کی بو سونگھ لی تھی۔ اس لیے وہ فوراً اس فتنہ عظیم کے استیصال کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور تحریر و تقریر سے مرزا کے دجل و فریب کا پردہ چاک کر کے اس کے عقائد و نظریات پر کفر و ارتداد کی مہریں ثبت کیں۔ یہ مقدمہ مرزائیہ بہاول پور بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک پیروکار عبدالرزاق کو عدالت نے کافر قرار دے کر مسلمان منکوحہ غلام عائشہ سے اس کا نکاح فسخ کرایا تھا۔

بہاولپور کے اس تاریخی مقدمہ کی ابتدا یوں ہوئی کہ مدعیہ کے والد مولوی الٰہی بخش صاحب مرحوم جو کہ ڈیرہ غازی خان کے رہنے والے تھے‘ اپنی سکونت ترک کر کے ریاست بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ کے علاقہ مہند میں آباد ہوئے اور اپنی لڑکی کا نکاح جو کہ ان کی پہلی بیوی سے تھی‘ اپنے سالے عبدالرزاق سے کر دیا۔ عبدالرزاق سب ڈویژن انہار میلسی میں گیج ریڈر تھا۔ جو مرزائی مبلغوں کی تبلیغ سے متاثر ہو کر قادیانی ہو گیا اور ہر ایک کے

صفحہ ٩٠

سامنے اس کا اظہار کرتا رہتا۔ کچھ عرصہ بعد اس نے اپنے بہنوئی مولوی الہی بخش سے اپنی منکوحہ کی رخصتی کے لیے کہا تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ تم اسلام چھوڑ کر قادیانیت قبول کر چکے ہو۔ اس لیے تمہارا نکاح فسخ ہو چکا ہے۔ اب لڑکی کی رخصتی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ جواب سن کر عبدالرزاق بپھر گیا اور دونوں کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ آخر کار مولوی الہی بخش صاحب نے اپنی لڑکی کے مختار کی حیثیت سے ٢٤ جولائی ١٩٢٦ء کو عبدالرزاق کے خلاف احمد پور شرقیہ کی عدالت میں یہ دعویٰ دائر کیا کہ میری لڑکی دو سال سے بالغ ہے۔ اس کا ناکح عبدالرزاق بوجہ ارتداد اب اس کا شوہر نہیں رہا۔ اس لیے بموجب احکام شرعی تفریق بین الزوجین کے احکامات صادر کیے جائیں۔ مدعا علیہ نے جواب دعویٰ میں کہا کہ احمدیت اسلام سے الگ کوئی مذہب نہیں ہے۔ اس لیے احمدیت قبول کرنے سے نہ تو کوئی اسلام سے نکل جاتا ہے اور نہ اس کا اپنی منکوحہ سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لیے میرا نکاح فسخ نہیں ہوا۔

چنانچہ یہ مقدمہ عدالت ہذا سے ٢١ نومبر ١٩٢٦ء کو اس لیے خارج کر دیا گیا کہ عدالت عالیہ چیف کورٹ بہاول پور نے اسی نوعیت کے ایک مقدمے میں جس کا عنوان جندوڈی بنام کریم بخش تھا باتباع عدالت ہائے عالیہ مدراس، پٹنہ و پنجاب نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ احمدی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں اور احمدیت اسلام سے الگ کوئی مذہب نہیں ہے۔ اس لیے احمدیت قبول کرنے سے کسی سنی عورت کا نکاح اس کے مرزائی شوہر سے نہیں ٹوٹتا۔

عدالت ہذا کا یہ حکم برطبق اپیل عدالت عالیہ چیف کورٹ سے بحال رہا لیکن اپیل ثانی پر عدالت عظمیٰ نے اجلاس خاص سے یہ قرار دیا کہ عدالت ہذا سے فریقین کے پیش کردہ اسناد پر بحث کیے بغیر مدعیہ کا دعویٰ خارج کر دیا گیا ہے اور چیف کورٹ کے ججوں نے اپنے فیصلے میں یہ تسلیم کیا ہے کہ پٹنہ اور پنجاب کے مقدمات اس پر حاوی نہیں ہو سکتے کیونکہ ان میں غیر متعلق سوال زیر بحث رہے ہیں البتہ مدراس ہائی کورٹ کا فیصلہ مندرجہ ٧٠۔ انڈین کیسز ٢٦ میں سوال زیر بحث یہی تھا کہ آیا احمدی ہونے سے ارتداد واقع ہوتا ہے یا نہیں، لیکن ہم نے اس فیصلے کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ اس لیے چیف کورٹ کے فاضل ججوں کی رائے سے یہ اختلاف کرتے ہیں کیونکہ مدراس ہائی کورٹ کے فاضل ججوں نے خود اپنے فیصلے میں یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کے پاس کوئی خاص سند اس بات کی پیش نہیں کی گئی کہ فلاں فلاں

صفحہ ٩١

اسلام کے بنیادی اصول ہیں اور ان سے اس حد تک اختلاف کرنے سے ارتداد واقع ہوتا ہے۔ اس فیصلے میں فاضل جج یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس سوال کا کہ آیا قادیانی عقائد سے ارتداد واقع ہوتا ہے یا نہیں‘ علمائے دین ہی بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اس لیے ہماری رائے میں فاضل جج صاحبان ہائی کورٹ کا فیصلہ‘ سوال زیر بحث پر قطعی نہیں ہے اور ہمیں مقدمہ ہٰذا میں اس کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس قرار داد کے بعد اس ہدایت کے ساتھ یہ مقدمہ واپس ہوا کہ گو مولانا غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ صاحب کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کا قادیانی عقائد کے مطابق یہ ایمان ہو کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی اور نبی آیا ہے اور اس پر وحی نازل ہوتی ہے تو ایسا شخص چونکہ ختم نبوت کا منکر ہے اور ختم نبوت دین کی ضرورت میں سے ہے۔ لہٰذا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے لیکن ہم اس مقدمہ کا فیصلہ کرنے کے لیے شیخ الجامعہ کی رائے کو کافی نہیں سمجھتے جب تک ہندوستان کے بڑے بڑے علمائے کرام اس رائے سے پورا اتفاق نہ رکھتے ہوں‘ اس لیے یہ مقدمہ مزید تحقیقات کا محتاج ہے اور مدعا علیہ کو بھی موقع دینا چاہیے کہ وہ شیخ الجامعہ صاحب کے بالمقابل اپنے دلائل پیش کرے۔ چنانچہ شیخ الجامعہ صاحبؒ نے متحدہ ہندوستان کے نامور علماء کو اس مضمون کے خطوط ارسال کیے کہ بہاول پور کی عدالت میں ایک مسلمان لڑکی کی جانب سے اپنے شوہر کے خلاف فسخ نکاح کا مقدمہ چل رہا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے علماء کو بلائیں تاکہ وہ عدالت میں پیش ہو کر اپنے موقف کو دلائل و شواہد سے ثابت کریں تاکہ ان شواہد کی روشنی میں مقدمہ کا فیصلہ کیا جاسکے۔ اس لیے آپ بہاول پور آ کر مدعیہ کی طرف سے اپنی شہادتیں قلم بند کرائیں‘ چنانچہ آپ کی دعوت پر امام العصر محدث عالم حضرت سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری‘ مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ ‘ مولانا محمد حسن صاحب کولو تاڑوی‘ مولانا نجم الدین صاحب پروفیسر اورینٹل کالج‘ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب بہاولپور آئے اور عدالت عالیہ میں بطور گواہ پیش ہوئے۔ مدعا علیہ نے بھی مرزائی مبلغوں کو بلوایا۔ چنانچہ مدعا علیہ کی طرف سے جلال الدین شمس اور غلام احمد مجاہد پیش ہوئے۔ جلال الدین شمس لسان طراز اور منجھے ہوئے مبلغ تھے۔ کافی عرصہ سے یورپ میں قادیانی مشن کی طرف سے تبلیغ کرتے رہے تھے۔ غلام احمد مجاہد بھی پڑھے لکھے آدمی تھے چنانچہ یہ مقدمہ اپیل کے آخری مراحل طے کرتا ہوا ١٩٣٢ء میں دربارِ

صفحہ ٩٢

منصفی سے ڈسٹرکٹ جج صاحب کی عدالت میں منتقل ہوا۔ اس تاریخی مقدمہ کی کارروائی سننے کے لیے پنجاب‘ سندھ‘ بلوچستان اور یو۔پی کے مختلف اضلاع سے ہزاروں مسلمان آئے۔

ڈسٹرکٹ جج صاحب کی عدالت میں سب سے پہلا بیان جامع المعقول و المنقول حضرت مولانا غلام محمد صاحب گھوٹوی کا ٢١ جون ١٩٣٢ء کو ہوا اور یہ بیان مسلسل چار گھنٹے تک جاری رہا۔ یہ بیان درحقیقت اس بیان کا خلاصہ تھا جو آپ نے دربار معلیٰ میں پرائم منسٹر صاحب اور ان کی کابینہ کے سامنے دیا تھا۔ حضرت کا یہ بیان بڑا صاف‘ واضح اور دلنشین تھا۔ اس میں انہوں نے عقیدہ ختم نبوت کو اسلام کے بنیادی اصولوں میں شامل ثابت کیا ہے اور اس کے انکار کو کفر و ارتداد قرار دیا ہے۔ پھر متعدد قرآنی آیات پیش کر کے ان کی تفسیر و تشریح میں حضورؐ کی ختم نبوت کو بڑے حکیمانہ اسلوب میں بیان کیا ہے۔ پھر احادیث رسول سے حضور اکرمؐ کی خاتمیت کو ثابت کیا ہے۔ آخر میں اکابر امت کے اقوال نقل کر کے بڑی صراحت سے یہ بتایا ہے کہ ختم نبوت امت مسلمہ کا اجتماعی عقیدہ ہے۔ ابتدائے اسلام سے لے کر اب تک مسلمانوں میں کبھی اس پر اختلاف نہیں ہوا۔

دوسرا بیان حضرت مولانا ابوالقاسم محمد حسین کولو تارڑی کا ہے۔ جو ١٣ جون ١٩٣٢ء کو ڈسٹرکٹ جج صاحب کی عدالت میں ہوا۔ یہ بیان بھی ختم نبوت کے موضوع پر ایک دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔

تیسرا بیان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کا جو عدالت میں ٢١ اگست کو ہوا۔ یہ بیان صبح ٦ بجے سے گیارہ بجے تک رہا۔ ١١ بجے کے بعد مختار مدعاعلیہ نے جرح کی جو تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ختم ہوئی۔ مفتی صاحب کا یہ بیان بڑا ایمان افروز اور ان کی وسعت معلومات کا آئینہ دار ہے۔

چوتھا بیان مناظر اسلام حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری کا ہے جو ٢٢ اگست کو شروع ہو کر ٢٦ اگست کو ختم ہوا۔ یہ بیان بڑا مفصل اور دلائل و براہین سے آراستہ ہے۔

پانچواں بیان امام العصر محدث عصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ صاحب کا ہے۔ جو ٢٥ اگست ١٩٣٢ء کو شروع ہوا اور مسلسل پانچ دن جاری رہا۔ شاہ صاحب ضعف اور علالت کے باوجود روزانہ پانچ پانچ گھنٹے کا بیان دیتے۔ آپ نے اپنے معرکۃ الاراء بیان میں ایمان‘ کفر‘ الحاد‘ زندقہ‘ نفاق‘ ارتداد‘ کشف‘ وحی‘ الہام کی الگ الگ تعریفیں کیں۔ پھر

صفحہ ٩٣

احادیث متواترہ پر گفتگو کرتے ہوئے تواتر اور اس کی اقسام تواتر اسنادی۔ تواتر طبقہ، تواتر قدر مشترک اور تواتر توارث کی پوری تشریح کی اور مثالیں دے کر بتایا کہ جو تواتر کی ایک قسم کا انکار کرے، وہ کافر ہے۔ مرزا نے تواتر کی تمام اقسام کا انکار کیا ہے۔ اس لیے وہ بدرجہ اولیٰ کافر ہے۔ شاہ صاحب کا بیان سن کر لوگ آپ کے علمی تبحر، زور استدلال اور وسعت معلومات کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔

چھٹا بیان حضرت مولانا نجم الدین صاحب پروفیسر اورینٹل کالج کا ہے جو ٣٠، ٣١ اگست کو ڈسٹرکٹ جج صاحب کی عدالت میں ہوا۔ مولانا نے مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر و ارتداد کو نصوص قطعیہ سے ثابت کرتے ہوئے فرمایا 'جو شخص مرزا قادیانی کے عقائد و نظریات کو صحیح سمجھتے ہوئے اس کے ادعائے ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہو، وہ کافر اور مرتد ہے۔ اس کا نکاح اپنی مسلمان منکوحہ سے فسخ ہو جائے گا۔

بیانات کا یہ مجموعہ ١٩٣٥ء میں پہلی مرتبہ ”بیانات علماء ربانی بر ارتداد فرقہ قادیانی“ کے نام سے دارالاشاعت بہاول پور سے شائع ہوا۔ اس کی اشاعت کے لیے اچھی خاصی رقم کی ضرورت تھی۔ مجلس احرار اسلام، مجلس علمی ڈابھیل، انجمن موید الاسلام اور انجمن حزب اللہ نے مقدمہ کے مصارف کے لیے جو رقم اکٹھی کر کے دی تھی، وہ اتنی قلیل تھی کہ اس سے اتنے ضخیم مواد کی اشاعت ممکن نہ تھی مگر اس بے بضاعتی کے باوجود مسلمانوں کے اشتیاق کو دیکھ کر مقدمے کی کارروائی اور بیانات جلدی میں شائع کر دیے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب کتاب چھپ کر سامنے آئی تو اس میں بے شمار غلطیاں تھیں۔ جن کی تصحیح ممکن نہ تھی۔ حالانکہ یہ قیمتی مواد اس لائق تھا کہ اسے عمدہ کاغذ پر معیاری کتابت کے ساتھ شائع کیا جاتا۔ مگر سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے مجبوراً عام کاغذ پر شائع کرنا پڑا۔ اب تقریباً ٥٠ سال کے بعد یہ کتاب دوبارہ زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آچکی ہے۔ اس کی اشاعت کے تمام مصارف ختم نبوت کے ایک مجاہد محمد خالد لطیف نے اپنی طرف سے ادا کیے ہیں۔ حافظ صاحب بہاول پور کے ایک علمی خانوادے کے فرد ہیں اور مسئلہ ختم نبوت سے خاص شغف رکھتے ہیں۔ جب تحریک ختم نبوت زوروں پر تھی اور ہزاروں مسلمان ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے ”ختم نبوت، زندہ باد“ کے نعرے لگا لگا کر گرفتار ہو رہے تھے، لاہور میں کرفیو کے باوجود شمع رسالت کے پروانے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے

صفحہ ٩٤

تھے۔ اس حافظ قرآن نے جس کے ہاتھ میں نہ کسی کالج کی سند فراغت تھی اور نہ کسی دارالعلوم کی دستار فضیلت زیب سر تھی‘ جامع مسجد کے عظیم الشان جلسوں میں ایسی تقریریں کیں کہ پورے مجمع کو چونکا دیا۔ وہ اسٹیج پر پہلی مرتبہ آنے کے باوجود ایسی روانی اور طنطنے اور خود اعتمادی سے بولے کہ بڑے بڑے مقرر اور خطیب اس کی داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ اس کی جذبات انگیز تقریروں کا یہ اثر ہوا کہ حکومت نے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ یہی وہ بزرگ ہیں جنہوں نے اس گرانقدر کتاب کو ہزاروں روپے صرف کرکے چھپوایا ہے۔ ان کی اس دینی خدمت کی بدولت آج ہم اپنے اکابر کے وہ تاریخی بیانات پڑھ رہے ہیں جو تقریباً نصف صدی سے ہماری نگاہوں سے اوجھل تھے۔ اس مجموعہ میں متحدہ ہندوستان و عرب کے ممالک کے بڑے بڑے علماء اور مفتیوں کے فتوے بھی شامل ہیں جن میں انہوں نے مرزا کے عقائد و اقوال کی روشنی میں اس کا کفر و ارتداد ثابت کیا ہے۔

علمائے کرام کے بیانات کا یہ مجموعہ اپنی چند خصوصیات کی وجہ سے ختم نبوت کے موضوع پر لکھی گئی بڑی بڑی ضخیم کتابوں پر بھاری ہے۔ اس میں ختم نبوت کے تمام اہم پہلوؤں پر کتاب و سنت اور اقوال سلف کی روشنی میں نہایت مدلل گفتگو کی گئی ہے اور مرزا کے ان اقوال سے جن میں اس نے اسلام کی بنیادی باتوں کا انکار کیا ہے اور انبیاء کرام و صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین و تذلیل کی ہے۔ اس کا اور اس کے ماننے والوں کا کفر و ارتداد ثابت کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں مختاران مدعاعلیہ کے ان اہم سوالوں کے مدلل جوابات دیے گئے ہیں جو انہوں نے جرح کے دوران مدعیہ کے گواہوں پر کیے تھے۔ مدعا علیہ کے مختار‘ مدعیہ کے گواہوں پر جرح کے دوران اپنے روایتی دجل و تلبیس سے بھی کام لیتے رہے۔ مثلاً مدعاعلیہ کے مختاروں نے چند ایسی کتابوں کے حوالے بھی پیش کیے جو مدعیہ کے گواہوں کے پاس نہیں تھیں۔ ان کی اس بات سے فائدہ اٹھاتے وقت انہوں نے حوالہ دیتے وقت وہ الفاظ عمداً چھوڑ دیے جو ان کے خلاف تھے۔ چنانچہ ایک دن شاہ صاحب کے بیان پر جرح کرتے ہوئے مختار مدعاعلیہ نے کہا ’آپ نے تواتر معنوی کا انکار کرنے والوں کو کافر قرار دیا ہے حالانکہ امام رازی نے تواتر معنوی کا انکار کیا ہے تو ملا بحرالعلوم نے فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں اس کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ اس پر حضرت شاہ صاحب قبلہؒ نے فرمایا ’جج صاحب فواتح الرحموت اس وقت میرے پاس نہیں ہے۔ آج سے تیس

صفحہ ٩٥

سال پہلے میں نے یہ کتاب پڑھی تھی، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس میں یہ نہیں ہے کہ امام رازیؒ نے تواتر معنوی کا انکار کیا ہے بلکہ یہ ہے کہ امام رازیؒ کے نزدیک حدیث لا تجتمع امتى على الضلالتہ تواتر معنوی کو نہیں پہنچتی۔ یہ سن کر جلال الدین سٹپٹا گیا۔ شاہ صاحب نے اس کے ہاتھ سے کتاب چھین کر عبارت سنائی تو اس کا مطلب وہی تھا، جو انہوں نے بیان کیا۔

بعض اوقات مدعا علیہ کے مختار جرح کے دوران ضعیف اور موضوع روایات بھی پڑھ کر سنا دیتے یا سلف میں سے کسی کا مشہور قول لے کر رواۃ حدیث سے جوڑ دیتے۔ اب مدعیہ کے گواہوں کے لیے یہ مشکل تھی کہ وہ فریق ثانی کی پیش کردہ روایات کے بارے میں بلا تحقیق کچھ نہیں کہہ سکتے تھے کہ وہ حدیث ہے یا سلف صالحین میں سے کسی کا قول ہے۔ حدیث ہے تو کس درجے کی ہے اور اقسام حدیث میں سے کس قسم کا اس پر اطلاق ہوتا ہے۔ پھر یہ حدیث صحاح ستہ میں ہے یا معاجم، مسانید اور مستدرکات کی کس کتاب میں ہے اور صاحب کتاب نے اسے کس باب کے تحت درج کیا ہے۔ اب پورے ذخیرہ احادیث پر نظر ڈال کر ان باتوں کا جواب دینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس لیے جب مدعا علیہ کے مختار کوئی شاذ منکر یا موضوع روایت پیش کرتے جس کے بارے میں کچھ علم نہ ہوتا تو شیخ الجامعہ صاحب اور مولانا محمد صادق نعمانی صاحب، شاہ صاحب کے پاس ان کی قیام گاہ پر آ کر اس روایت کے بارے میں پوچھتے تو وہ تھوڑے سے تامل کے بعد ان کے استفسار کا مفصل جواب دیتے۔

الغرض اس تاریخی مقدمے کا فیصلہ دو سال کی تحقیق و تنقیح کے بعد ڈسٹرکٹ جج محمد اکبر خان صاحب نے ٧ فروری ١٩٣٥ء کو مدعیہ کے حق میں سنایا۔ یہ فیصلہ اپنی جامعیت اور قوت استدلال کے لحاظ سے بے مثال ہے اور دار الاشاعت بہاول پور سے ”فیصلہ مقدمہ بہاول پور“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے جو تقریباً ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل ہے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت، کراچی، جلد ٦، شمارہ ١٢ اگست ١٩٧٨ء)

صفحہ ٩٦

علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا دورہ بہاول پور

اگر یوں کہہ دیا جائے کہ دارالعلوم دیوبند کا کتب خانہ ‘ ہندوستان کے کتب خانے‘ مدینہ منورہ کا کتب خانہ ‘ مکہ مکرمہ کا کتب خانہ اور مصر‘ ترکی اور لبنان کے کتب خانے‘ جس شخصیت کے دماغ میں محفوظ تھے وہ علامہ انور شاہ کشمیریؒ تھے۔ یہ میں مبالغے سے نہیں کہتا۔ میرے شیخ ہیں حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صاحبؒ ‘ ان سے ہم حدیث پڑھا کرتے تھے تو وہ اپنے شیخ کی باتیں بہت سناتے تھے اور شیخ ‘ شیخ ہی بولتے تھے۔ ہمیشہ میرے شیخ اور جب میرے شیخ کا لفظ زبان پر آتا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے۔ ہم نے دو سال میں کبھی شیخ بنوریؒ کو اس طرح نہیں دیکھا کہ انور شاہ کشمیریؒ کا نام لیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو نہ ٹپکیں۔ فرماتے تھے کہ میرے شیخ نے مجھ سے خود کہا کہ فتح القدیر میں نے رمضان کے سترہ دنوں میں دیکھی ہے تو ١٧ دن میں فتح القدیر کو پڑھا اور دیکھا اور اس پر اب قریب قریب ستر سال گزر گئے ہیں اور اگر مجھے فتح القدیر کا کوئی حوالہ دینا ہو کہ اس کی چار جلدوں میں سے کس جلد کے کس صفحے پر یہ الفاظ لکھے ہیں تو میں بتا سکتا ہوں اور الحمد للہ یوں ہو گا کہ میں یوں کہہ دوں کہ یہ صفحہ ٥٠ پر ہے تو اس کی ایک سطر پچاس پر ہو اور آدھی سطر صفحہ ٥١ پر آجائے ‘ اتنا تو ہو سکتا ہے۔ ورنہ میرا حافظہ یہ ہے کہ جس صفحہ کا نام لے دوں‘ وہ عبارت اسی صفحے پر ہوتی ہے۔ اتنا بڑا فاضل۔ تو شاہ صاحبؒ کا اپنا واقعہ ہماری کتابوں میں ہے کہ بہاول پور کے ایک بزرگ تھے مفتی صادقؒ ۔ بلا کے عالم دین تھے۔ حضرت تھانویؒ کو تو آپ لوگ جانتے ہی ہیں۔ حضرت تھانویؒ نے ایک کتاب میں مسائل لکھے ہیں۔ پہلے حضرت نے ایک مسئلہ لکھا‘ اس کے بعد یہ لکھا کہ یہ یوں نہیں ہے بلکہ یہ اس طرح ہے۔ یعنی کسی عمل کو انہوں نے لکھ دیا۔ سنت موکدہ ہے تو بعد میں معلوم ہوا کہ غیر موکدہ ہے تو مفتی محمد صادق صاحبؒ کے حوالے سے تین مسئلے انہوں نے کتاب میں صحیح کیے ہیں کہ بہاول پور کے اس عالم دین کے خط کے ذریعہ متنبہ کرنے سے میں اس مسئلے سے رجوع کرتا ہوں۔ وہ اتنے بڑے فاضل تھے۔ انہوں نے چار ورق خط لکھا‘ حضرت کشمیریؒ کو کہ ہمارے ہاں قادیانیت کا فتنہ ہے ‘ بچی مسلمان ہے‘ شوہر قادیانی ہو گیا ہے۔ کیس

صفحہ ٩٧

عدالت میں ہے اور آپ ہماری مدد کریں۔ یہ خط انور شاہ کشمیریؒ نے پڑھا تو حج کے لیے تیار تھے۔ اب ایک بندے نے حج کا ارادہ کر رکھا ہے۔ سامان تیار ہے۔ رفقاء تیار ہیں، وفد تیار۔ خط پڑھنے کے بعد پانچ چھ منٹ خط کو دیکھا، خط بند کیا تو حاضرین سے کہنے لگے کہ آپ حج پر جائیں، میں تو حج پر نہیں جاسکتا۔ رفقاء نے کہا کہ حضرت آپ کی رفاقت کی بناء پر تو ہم تیار ہوئے ہیں کہ آپ کے ساتھ ہمارا حج ہو جائے گا۔ ہم تو تیار ہی آپ کی خاطر ہوئے تھے۔ فرمانے لگے کہ بہاول پور کے ایک عالم دین کا خط آیا ہے۔ ایک مسلمان بچی کے تنسیخ نکاح کا مسئلہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قادیانیت کے ارتداد و کفر کا مسئلہ ہے اور ختم نبوت کے اعتقاد کا مسئلہ ہے تو خط کھول کر یوں بند کرنے کے وقت، میں نے زندگی کے پچھلے اعمال پر سوچا کہ اگر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پوچھ لے کہ کونسا عمل لائے ہو، پچھلی زندگی میں کوئی عمل رکھتے ہو تو پیش کرو؟ تو سوچنے کے بعد میرے دماغ میں کوئی ایسا عمل تازہ نہیں ہوا جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کر سکوں۔ حج چھوڑتا ہوں، میں اب واپس جاؤں گا اور بہاول پور کیس کے سلسلے میں سفر کروں گا تاکہ قیامت کے دن حضور ﷺ کے منصب ختم نبوت کے تحفظ کرنے والوں میں شمار کیا جاؤں اور سمجھا جاؤں اور اس عمل کے صدقے میں میری بخشش ہو جائے اور اس کے ساتھ فرمانے لگے کہ دل میں یہ خیال بھی آیا کہ جا تو رہا ہوں حج کے لیے اور آگے سفر کروں گا مدینہ منورہ کا، تو اللہ تعالیٰ کی رضا بھی چاہیے حضور ﷺ کی شفاعت بھی چاہیے۔ فرمانے لگے کہ قیامت کے دن اگر حضور ﷺ پوچھ لیں کہ ضرورت وہاں تھی، آ یہاں گیا؟ ضرورت تو تیری بہاول پور میں تھی اور تو یہاں آ گیا؟ تو میرے پاس اس کا بھی کوئی جواب نہیں ہو گا۔ میں حضور ﷺ کے مقام ختم نبوت اور منصب ختم نبوت کی حفاظت کے لیے بہاول پور جاؤں گا۔

(ماہنامہ ”لولاک“ ملتان، جنوری ١٩٩٩ء تقریر مولانا عزیز الرحمن جالندھری)

ضو سے اس خورشید کی اختر میرا تابندہ ہے
چاندنی جس کے غبار راہ سے شرمندہ ہے (مؤلف)
صفحہ ٩٨

اللہ نے مجھے قادیانی ہونے سے بچالیا

اکرام اللہ خان نیازی، کوٹلہ جام بھکر

میرا ذوق تحقیق مذاہب اور جذبہ خدمت خلق مجھے ناسمجھی میں ایسی اسٹیج پر لے گیا تھا کہ اگر اللہ کا کرم شامل حال نہ ہوتا تو میری دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہو جاتیں۔ واقعہ یوں ہے کہ میرا ایک غریب پڑوسی بیمار تھا۔ اسے میں ہمدردی کے طور پر چنی محلہ کے نام نہاد حکیم محمد صدیق کے پاس لے گیا۔ یہ پہلے اسکول ٹیچر ہوا کرتا تھا، ریٹائرمنٹ لینے کے بعد چنی محلہ بھکر میں عطائیت شروع کردی۔ وہاں میری نگاہ قادیانیوں کے ایک رسالہ تشحیذ الاذہان پر پڑی۔ میں نے وہ رسالہ اٹھایا تو حکیم محمد صدیق کہنے لگے کہ یہ کسی کی امانت ہے تم نے کیوں اٹھائی۔ میں نے کہا کہ میں نے تحقیق مذاہب کے لیے اٹھائی ہے اور اسی نظریہ سے مطالعہ کرنا چاہتا ہوں۔ محمد صدیق کہنے لگا کہ یہ اچھی بات ہے اور پھر مریض کے سامنے اس نے مجھے کوئی بات نہیں کہی۔ دوائی لے کر جب ہم چلنے لگے تو حکیم محمد صدیق نے مجھے آواز دے کر کہا کہ میں علیحدگی میں تمہارے ساتھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے جب حکیم سے علیحدگی میں ملاقات کی تو مجھے اس نے پتہ دیا کہ تم مسلم بازار میں عبد اللطیف مومن کے پاس جاؤ۔ وہ بڑا بااخلاق آدمی ہے۔ ہر ایک کی عزت کرتا ہے۔ تمہاری بھی بڑی عزت کرے گا۔ اخلاق سے پیش آئے گا۔ چائے بھی پلائے گا اور تمہیں اسلام کے متعلق تحقیق کے لیے بڑی اچھی اچھی کتابیں دے گا۔ چنانچہ میں اس کی چکنی چپڑی باتوں اور تحقیق مذاہب کے شوق میں اگلے دن کشاں کشاں عبد اللطیف کی دکان پر پہنچا۔ اس سے ملاقات کی۔ اس نے چائے وغیرہ پوچھی۔ مگر میں نے انکار کر دیا۔ میں نے مدعا بیان کیا تو عبد اللطیف نے چند رسالے قادیانی مذہب کے ایک لفافے میں ڈال کر مجھے دیے اور کہا کہ ان کو چھپا کر لے جانا اور کسی کو بتانا نہیں کہ میں نے دیے ہیں۔ اگر کسی کو معلوم ہو گیا تو مجھے تین سال قید ہو جائے گی۔ مجھے اس وقت تک قادیانیت اور اسلام کے بارے میں کچھ بھی معلومات نہیں تھیں۔ تیسرے دن میں نے وہ رسالے مطالعے کے بعد واپس کر دیے اور دوسرا لٹریچر لیا۔ آہستہ آہستہ وہ تبلیغ کرتے رہے۔ میں خالی الذہن تھا۔ چکر چلتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ یہاں تک کہ وہ مجھے

صفحہ ٩٩

اپنے بھکر کے مرکز اور لائبریری میں لے گئے اور وہاں بھی جب آنے جانے لگا تو کئی قادیانی میرے ساتھ دوستی کے خواہش مند ہوئے اور دوستی کے انداز میں قادیانیت کی تبلیغ کرتے رہے۔ ادھر میں محمد صدیق کی دکان پر بھی جاتا رہا۔ محمد صدیق لوگوں کو یہ تو بتاتا رہا کہ میں قادیانی نہیں، مسلمان ہوں اور رات کو چھپ کر عبد اللطیف سے ملتا اور بھکر میں قادیانیوں کے مرکز میں جاتا۔ ان تمام قادیانیوں نے مرزا کی صداقت کے قصے ایسے انداز میں بیان کیے اور اس کی باتیں ایسے بیان کرتے کہ میں ان کو سچ سمجھنے لگتا۔ حکیم محمد صدیق نے مجھے ترغیب دی کہ تم مرزا طاہر کو لندن دعا کے لیے خط لکھو۔ میں نے عبد اللطیف سے مرزا طاہر کا لندن کا پتہ حاصل کیا اور مرزا طاہر کو لندن کے پتہ پر خط لکھ مارا۔ لندن سے مرزا طاہر کا خط ٣٠ ستمبر ١٩٨٨ء کا لکھا ہوا عبد اللطیف کے ذریعے ملا، جس میں اس نے مجھے قادیانی کتب کے مطالعے کی ترغیب دی تھی۔ میں اس دلدل میں دھنستا جا رہا تھا کہ بھکر میں ختم نبوت کے محاذ کے عظیم کارکن اور ختم نبوت کے شیدائی رد مرزائیت کے ماہر دین محمد فریدی نے کالج روڈ پر اپنا مطب کھولا۔

میرا شوق تحقیق مذاہب مجھے ڈاکٹر صاحب تک لے گیا۔ انہوں نے مجھے پرچہ ختم نبوت دیا۔ اس میں، میں نے قادیانیت کے متعلق پہلی دفعہ پڑھا۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے مجھے ختم نبوت کے دفتر سے اشاعت شدہ لٹریچر دیا۔ میں نے وہ لٹریچر پڑھ کر قادیانیت کے متعلق ڈاکٹر صاحب سے گفتگو کی تو میرے دل کو پہلی دفعہ کچھ سکون ملا۔ ڈاکٹر صاحب نے قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں اور پاکستان سے غداری کے متعلق جو حوالہ جات دیے تو دل مطمئن ہوا۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے مرزا کی کتاب ”ایک غلطی کا ازالہ“ مجھے پڑھائی جس میں مرزا نے اپنے آپ کو محمد رسول اللہ ثابت کیا ہے تو میری آنکھیں کھل گئیں۔ مرزائی دراصل اپنا لکھا ہوا لٹریچر دیتے تھے۔ مرزا کی اصل کتاب کی کبھی جھلک نہیں دکھائی۔ یہاں مرزائیوں کی طرف سے پیدا کردہ شکوک کہ مرزا نے حضور ﷺ کے ظل بمعنی سایہ کا دعویٰ کیا ہے۔ میں نے یہ شک ڈاکٹر صاحب سے بیان کیا تو ڈاکٹر صاحب نے بڑے موثر انداز سے سایہ کی حقیقت اور مرزا کا اصل قبیح کردار بیان کیا تو میرے سامنے اب حقیقت کھل کر آچکی تھی۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا، جس نے اپنے فضل و کرم سے میرے ایمان کو محفوظ رکھا اور میری ملاقات ڈاکٹر دین محمد فریدی سے کرادی۔

صفحہ ١٠٠

حقیقت حال واضح ہونے پر میں نے مرزا طاہر کا اصل خط جو میرے نام آیا تھا، ڈاکٹر صاحب کے حوالے کر دیا۔ اس خط کے آنے سے میں مرزا طاہر کی بیعت کے لیے تیاری کر رہا تھا۔ اب قادیانیت کی حقیقت کھل کر میرے سامنے آچکی تھی۔ میں علاقہ تھل کے عوام سے خصوصاً اور پورے ملک کے عوام سے عموماً اپیل کرتا ہوں کہ اس دشمن اسلام و ملک دشمن ٹولے سے دور رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حبیب ﷺ کی محبت اور شفاعت نصیب فرما دے۔ آمین۔

محمد اکرم اللہ نیازی بقلم خود لیبارٹری اٹنڈنٹ گورنمنٹ ہائی سکول کوٹلہ جام ضلع بھکر، سکنہ چھنی محلہ، بھکر شہر

(ہفت روزہ ختم نبوت، جلد ٧، شمارہ ٣٨)

امیر شریعتؒ تلاوت کر رہے تھے

پرندے خاموش اور سانپ جھوم رہے تھے

میاں عبد الصمد لاہور کا چشم دید واقعہ

ان آنکھوں نے پو پھٹتے سورج کی چمک بھی دیکھی، چڑھتے ماہتاب کو بھی دیکھا مگر جو لطف بخاری کے چہرے میں تھا، کہیں بھی نہیں دیکھا۔

چہرہ کیا تھا، بقعہ نور تھا۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ میرے لئے سب سے مشکل تقریر رسالت پر ہے۔ ایک دن جوش میں کہا، عربی مجھ سے ہے اور میں عربی سے ہوں۔ گھر کا ہر فرد قرآن مجید کا حافظ ہے۔

٤٦ء میں جب الیکشن کا زمانہ تھا، مجلس احرار کے جنرل سیکرٹری مولوی مظہر علی اظہر تھے۔ شاہ صاحب کشمیر میں تھے۔ شاہ صاحب الیکشن کے سخت مخالف تھے۔ وہ الیکشن کو فرنگ کی دی ہوئی لعنت سمجھتے تھے۔ ہم لوگ شاہ صاحب کو لینے کشمیر گئے۔ رات کو ملاقات ہوئی،

صفحہ ١٠١

بات کوئی نہ ہوئی۔ صبح ہم نے تلاش کیا۔ پتہ چلا فلاں جھیل کی پہاڑی کے اوپر صبح کی نماز پڑھ کر چلے جاتے اور کافی دیر بعد واپس آتے ہیں۔ جب ہم وہاں پہنچے، ہم نے کیا نقشہ دیکھا۔ پہاڑی کی چوٹی پر تشریف فرما ہیں۔ ابھی پو اچھی طرح پھٹی نہ تھی۔ چھ بجے کا وقت تھا۔ پہاڑ کے درمیان جھیل کے دوسری طرف ایک اور پہاڑی ہے جہاں سے پانی بہتا ہے، مگر خاموشی کے ساتھ۔ زمین، آسمان، فضا سب خاموش ہیں۔ شاہ صاحب محو تلاوت ہیں، با آواز بلند۔

کوئی انسان نہیں، ہم نے ان آنکھوں سے نظارہ کیا۔ سامنے کی پہاڑی پر جم غفیر سانپ ہی سانپ تھے۔ چھوٹے بڑے، درمیانے، ایک بہت بڑا سانپ بھی پھن پھیلائے جھوم رہا تھا۔ ہم وہیں رک گئے۔ سانسیں بھی روک لیں اور بیٹھ گئے۔ شاہ صاحب قرآن پڑھتے رہے، سانپ جھومتے رہے۔ ہم نے درختوں پر نگاہ ڈالی جانور بھی خاموش ہیں۔ ادھر شاہ صاحب نے پون گھنٹے بعد تلاوت ختم کی اور سانپوں نے پہلے سر کو پہاڑی پر رکھا جیسے سجدہ ریز ہوں۔ پھر آہستہ آہستہ چلے گئے۔ پرندے بھی خدا کی حمد و ثناء کے گیت گاتے اڑ گئے۔

اب جب بھی میں کبھی مری اور آزاد کشمیر کی پہاڑیوں پر نظر ڈالتا ہوں، سیاہ پہاڑوں پر شام سرمئی آنچل پھیلاتی ہے، سورج اپنا تمام زر در و بام پر لٹا دیتا ہے تو وہ نورانی چہرہ بھی میری آنکھوں کی پتلیوں میں اور دماغ و دل کے گوشوں میں چمکتا نظر آتا ہے۔

شاہ صاحب نے ہماری طرف دیکھا اور کہا، کامریڈ دیکھا تم نے؟ میں اگر پہاڑوں کو قرآن سناؤں تو ریزہ ریزہ کردوں، سمندر کو برف بنادوں، ہوا کو ساکت کردوں۔ مگر میری قوم نے میرے سر کے بالوں کی سیاہی سفیدی میں بدل دی۔ مگر میں ان کے دلوں کی سیاہی کو نہ دھو سکا۔

ہم نے آنے کا مقصد بیان کیا۔ بادل نخواستہ تمحیص کے بعد تیاری کرلی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت، جلد ٧، شمارہ ١١)

صفحہ ١٠٢

انکار

رائے صاحب کہتے ہیں کہ مجھے گولی چلانے کا مشورہ دیا گیا تھا (مولانا نے فرط جذبات سے سرشار ہو کر کہا کہ) بیٹا! اگر شوق تھا گولی چلانے کا تو چلاتے اور پھر دیکھتے کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ جاؤ گولی چلانے کا مزہ دولتانہ سے پوچھو، ملک غلام محمد کی قبر سے پوچھو جو چوہڑوں کے قبرستان میں ہے۔ تم نے گولی نہ چلا کر ہمارے اوپر کوئی احسان نہیں کیا، اپنے اوپر احسان کیا ہے، ورنہ ہم تو گولی کھا کر دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جاتے۔

(خطاب : مولانا تاج محمودؒ )”

نبوت کے لب

خدا کی قسم ! اگر خدا نے رسول اکرمؐ کے بعد نبوت ودیعت کرنی ہوتی تو حسینؓ کے گھر ہوتی، جسے نبوت کے لب چوما کرتے تھے اور حقیقت میں انہیں نبوت کے لبوں کے ذریعہ خدا پیار کیا کرتا تھا۔

(خطاب : امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ )”

نمک حرام

میں اکابر ملت اور عمائدین حکومت کو بروقت انتباہ کرتا ہوں کہ جس ملک کے نمک حرام، قائد اعظم کا نمک حلال نہ کر سکے۔ جو لوگ آقا و مولا رسول اللہ ﷺ کے وفادار نہ بن سکے اور قائد اعظم کی زندگی میں انہیں مسلمان تسلیم نہ کرتے رہے۔ ان کی نمک حرامی کو کس طرح معاف کیا جا سکتا ہے۔ ان کو پالنا سانپوں کو چلوؤں دودھ پلانا ہے۔ فرقہ ضالہ مرزائیہ پاکستان میں اپنی جداگانہ حکومت کے خواب ہی نہیں دیکھ رہا بلکہ اس فرقے کے وارث موسیو بشیر ربوہ میں خاصی خود مختار حکومت قائم کئے بیٹھا ہے اور عملاً بر ملا مطالبہ

صفحہ ١٠٣

کر رہا ہے کہ اسے قادیانیوں کا الگ صوبہ بنا دیا جائے مگر حکومت خاموش ہے۔

(خطاب : امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)

حفیظ جالندھریؒ کی باتیں

اپنے نانہال کے سلسلے میں حفیظ جالندھری صاحب نے بتایا کہ میرے نانا میاں غلام رسول خان دینا نگر ضلع گورداسپور میں مقیم تھے۔ دینا نگر کسی زمانے میں سکھوں کے ساتھ جنگ کا مرکز تھا۔ میرے نانا ملازم تھے‘ وہ پہلے تحصیلدار‘ پھر ایس ڈی او اور آخری میں ڈپٹی کمشنر رہے ہیں۔ انگریز حکومت نے ایک موقعے پر انہیں حکومت افغانستان کے خلاف استعمال کرنا چاہا تو انہوں نے ملازمت سے استعفا دے دیا۔ میرے نانا کی اولاد میں ایک لڑکا محمد مقبول اور ایک لڑکی بتول تھی۔ یہی بتول میری والدہ ہیں جو اپنے ہی خاندان میں بیاہی گئی تھیں۔ میرا ماموں مقبول قادیانی ہو گیا تھا۔"

حفیظ صاحب کے ماموں کے قادیانی ہو جانے کا سن کر معاً میں اور حامد صاحب دونوں چونکے۔ حفیظ صاحب نے کہا: فکر نہ کیجئے میرے نانا نے میرے اس ماموں کو مرزائیت قبول کرنے کے جرم میں اپنی جائیداد سے عاق کر دیا تھا۔ اس کی بیوی اور دو بچے بھی اپنے ہاں رکھ لیے اور اسے اپنے گھر سے نکال دیا تھا۔ میرے اس ماموں کے مرزائی ہو جانے کا نتیجہ تھا کہ ہمارے خاندان میں اکثر مرزائیت کے موضوع پر گفتگو ہوتی تھی۔ میری عمر اس وقت چھوٹی تھی لیکن بزرگوں کی باتیں سن سن کر مجھے آنجہانی مرزا قادیانی اور اس کی جھوٹی نبوت کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہو گیا تھا۔ جب مرزا مرا تو میری عمر ٨ سال تھی۔ میرا ماموں گھر سے نکالے جانے کے بعد یو۔ پی چلا گیا اور وہاں دھوکے سے ایک اور شادی کر لی۔ وہاں اس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ مرزائی ہے ورنہ کوئی مسلمان اس کے دھوکے میں کیسے آسکتا تھا۔

مجھے اس دور کا ایک واقعہ آج بھی یاد ہے۔ میرا ماموں جب مرزائی ہو گیا تو ایک روز میری والدہ کے پاس بیٹھ کر مرزا کے بارے میں کہنے لگا کہ مرزا صاحب تو بہت خدا

صفحہ ١٠٤

رسیدہ بزرگ ہیں۔ وہ تو ہر وقت خدا کی یاد میں اس قدر محو رہتے ہیں کہ بعض اوقات ان کے سامنے سے کتے ان کا کھانا کھا جاتے ہیں اور انہیں خبر بھی نہیں ہوتی۔ جس وقت میں نے یہ واقعہ سنا تھا تو مجھے قے سی محسوس ہونے لگی تھی۔ آج بھی جب یہ واقعہ مجھے یاد آتا ہے تو میں متلی محسوس کرتا ہوں۔

مرزائیوں کا ذکر چھڑ جانے کے بعد حفیظ صاحب نے مرزا اور اس کی امت مرزائیہ کے بارے میں بعض ایسی باتیں بتائیں جو زیادہ عام نہیں ہیں۔ مثلاً حفیظ صاحب نے بتایا کہ مرزا کے دعوائے نبوت کے بعد اس کے بعض مریدوں کو بھی ایسے دعوے کی جرات ہوئی لیکن مرزا نے انہیں جماعت سے نکال دیا اور آج انہیں جاننے والا کوئی بھی نہیں۔

سوال: پاکستان جن مقاصد کے لیے معرض وجود میں آیا تھا‘ وہ کیوں پورے نہیں ہوئے؟ آپ کی رائے میں یہ مقاصد کیونکر پورے ہو سکتے ہیں؟

جواب: پاکستان جن مقاصد کے لیے معرض وجود میں آیا تھا‘ وہ اس لیے پورے نہیں ہو سکے کہ قیام پاکستان کے موقع پر ہندو سکھوں نے قتل و غارت کا طوفان برپا کر دیا اور مسلمانوں کو ہانک کر ادھر بھیج دیا۔ اس ریلے میں بعض ایسے مسلمان بھی یہاں آگئے جو پاکستان کے دشمن تھے۔ معروف کمیونسٹ ادیب سجاد ظہیر ایسے ہی گروہ کے سرخیل تھے۔ فیض احمد فیض اور ان کا گروپ بھی ان لوگوں کا ساتھی ہے۔ ان میں سے بعض نے میاں افتخار الدین کے اخبارات پاکستان ٹائمز اور امروز کو اپنے مورچے بنایا اور رات دن پاکستان کے مقاصد کے خلاف کام کرتے رہے اور بعض اب تک سرگرم عمل ہیں۔ قائد اعظم نے بار بار انہی لوگوں کے بارے میں کہا تھا کہ یہ پاکستان کے دشمن ہیں‘ ان سے بچ کر رہو۔

کمیونسٹوں کے علاوہ دوسرا گروہ قادیانیوں کا ہے۔ یہ سب لوگ یہودیوں کے ایجنٹ ہیں۔ قیام پاکستان کے موقع سرحدوں کا تعین کرنے کے لئے جب ریڈ کلف ایوارڈ کام کر رہا تھا تو قائد اعظم نے مجھے شملہ بھیجا اور کہا کہ جب تک میں نہ کہوں تم وہیں رہو اور وہاں رہ کر مخالفین کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے رہو۔ ماؤنٹ بیٹن ہمارا مخالف ہے۔ تم آنکھیں کھول کر اور کانوں کو وا رکھ کر دیکھو کہ یہاں ہمارے مقاصد کے برخلاف کیا کچھ ہو رہا ہے۔ انہی دنوں ظفر اللہ قادیانی بھی کمیشن کا ممبر تھا اور ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ رہتا تھا۔ اس نے سرمایہ داروں سے کروڑوں روپے ریڈ کلف کو دلوائے۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ قادیان پاکستان

صفحہ ١٠٥

میں نہ چلا جائے۔ اس نے صاف کہا تھا کہ یہ علاقہ پاکستان میں شامل ہو گیا تو مسلمان ہمیں ذبح کر دیں گے اس لیے قادیان ہندوستان میں رہنا چاہیے۔ ادھر پٹیل نے اس گروہ کو پسند نہ کیا تو مرزا بشیر الدین محمود مجبوراً پاکستان آ گئے۔ پہلے یہ لوگ رتن چند باغ لاہور میں رہے اور پھر ظفر اللہ خان کی کوششوں سے مرزائیوں نے ربوہ میں صرف اڑھائی روپے فی کنال کے حساب سے زمین خرید لی اور یہاں اپنا الگ مرکز بنا لیا کیونکہ وہ پہلے دن سے مسلمانوں کے ساتھ مل کر رہنا نہیں چاہتے تھے۔

مرزائیوں کے دشمن اسلام رویے کا ذکر کرتے ہوئے حفیظ صاحب نے بتایا کہ ان تاریخی حقائق سے کون صرف نظر کر سکتا ہے کہ بیت المقدس کے سقوط پر مرزائیوں نے چراغاں کیا۔ اسی طرح بغداد پر انگریزوں کا قبضہ ہوا تو انہوں نے جشن منایا اور ترکیہ کو شکست ہوئی تو انہوں نے مسرت کے شادیانے بجائے۔

مرزائیت کے پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے حفیظ صاحب کہنے لگے کہ انگریز نے ہندوستان میں اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے Divide And Rule کی جو پالیسی اختیار کی تھی‘ اسے کامیاب بنانے کے سلسلے میں ان کے ایک وزیر اعظم مسٹر ڈزرائیلی نے خود مسلمانوں کے اندر انتشار و افتراق پیدا کرنے کے لیے ہندوستان میں جھوٹی نبوت کا شاخسانہ پیدا کیا۔ اس مقصد کے لیے انہیں اور تو کوئی نہ ملا لیکن مرزا غلام احمد ان کا آلہ کار بننے پر آمادہ ہو گیا۔ یہ بات لوگوں کو معلوم ہے کہ دعوائے نبوت سے پیشتر مرزا گورداسپور کی کچہری میں عرائض نویسی کا دھندا کرتا تھا۔ اسے پھانسنے کے لیے ایک شخص حکیم نور الدین بھیروی کو تیار کیا گیا۔ جس نے کمال ہوشیاری سے مرزا کو گمراہ کیا اور رفتہ رفتہ اس نے کبھی کرشن، کبھی مسیح موعود اور پھر نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ حفیظ صاحب نے کہا کہ ایران میں محمد علی باب اور بہاء اللہ کا دعویٰ نبوت بھی اسی سلسلے کی کڑیاں تھیں۔ حفیظ صاحب نے مرزائیوں کی داڑھی کی خاص وضع کے سلسلے میں بتایا کہ انہیں ایسی داڑھیاں عربوں میں کام کرنے کے لیے رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

(ماہنامہ ضیائے حرم‘ ختم نبوت نمبر ١٩٧٤ء)

صفحہ ١٠٦

رہبر کامل سید بنوریؒ

مولانا عبدالرحیم اشعر

راقم الحروف کو حضرت مرحوم سے گہرا قرب و تعلق بھی رہا۔ زمانہ دراز تک آپ کی خدمت میں آنے جانے اور رہنے سہنے کا موقعہ بھی میسر آیا اور حضرت کی بے پایاں شفقت و عطوفت بھی رہی۔ مگر اپنی بدقسمتی کہ محروم ہی رہا۔

تہیدستان قسمت راچہ سود از رہبر کامل
کہ خضر از آب حیوان تشنہ می آرد سکندر را

جنوری ١٩٥٥ء سے راقم الحروف کا تقرر حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ نے کراچی کر دیا تھا۔ چار مہینے دفتر ختم نبوت کراچی میں رہنے کے بعد رخصت پر ملتان آیا تو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے آستانہ عالیہ پر حاضری ہوئی۔ علیک سلیک خیر خیریت کے بعد سب سے پہلا سوال یہ کیا گیا کہ ”مولانا سید محمد یوسف بنوری کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے تھے؟“

مجھے چونکہ حضرت بنوریؒ سے اس سے پہلے کوئی خاص تعلق نہیں تھا۔ اس لئے میں اپنی بے خبری کی بناء پر نہ تو حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور نہ ہی اس کی کوئی اہمیت میرے ذہن میں تھی۔ شاہ جی کے سوال نے مجھے چونکا دیا۔ ظاہر ہے کہ جواب نفی کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا۔ عرض کیا ’جی نہیں‘ شاہ جیؒ یہ سن کر سٹپٹا گئے۔ فرمانے لگے:

”بیٹا! ہمیں مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ نے رد قادیانیت کے کام پر لگایا تھا اور حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ”حضرت شاہ صاحبؒ“ کی نشانی اور ان کے علوم کے وارث ہیں۔ دیکھو! میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ آئندہ ہفتہ میں کم از کم ایک بار ضرور ان کی خدمت میں حاضری دیا کرو۔“

اس کے بعد نیو ٹاؤن کی ہفتہ وار حاضری میرے معمولات میں شامل ہو گئی۔ ہر اتوار کو حضرت بنوری کی خدمت میں حاضر ہوتا اور درس بخاری میں التزام کے ساتھ شریک

صفحہ ١٠٧

ہوتا۔ میری حاضری پر حضرتؒ کی طبیعت بھی خوب کھلتی۔ بعض اوقات سارے کا سارا سبق ہی مسئلہ ختم نبوت‘ حیات عیسیٰ اور رد قادیانیت پر صرف ہو جاتا اور بعض دفعہ حضرتؒ کے درس سے فارغ ہونے کے بعد جب مصافحہ کے لئے آگے بڑھتا تو حضرت فرماتے: ”مولوی صاحب! آج تو آپ کی وجہ سے درس بخاری کا پورا وقت ہی رد قادیانیت پر صرف ہو گیا۔“ اور راقم الحروف عرض کرتا کہ حضرت کی عنایت اور توجہ ہے۔

بندہ ١٩٥٥ء سے ١٩٦١ء تک سات برس کراچی رہا۔ اس دوران جب بھی کوئی علمی اشکال پیش آتا۔ بلا تکلف حضرت سے عرض کر دیتا اور شافی جواب ملتا۔ ١٩٦١ء کے بعد ملتان آیا اور مرکزی دفتر میں خدمات انجام دینے لگا۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اکثر فرمایا کرتے تھے:

”انبیاء کرام کسی کے شاگرد نہیں ہوا کرتے۔ نہ وہ کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ منصب نبوت کی توہین ہے۔ آج جس بچے نے کسی استاد سے پڑھا ہو گا اور استاد نے اسے لکد کوب کیا ہو گا۔ کان پکڑائے ہوں گے۔ وہ کل نبی بن کر کس منہ سے اس استاد کو اپنے پر ایمان لانے کی دعوت دے گا۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کے جھوٹا ہونے کی ایک اہم دلیل یہ بھی ہے کہ وہ ابجد سے لے کر فارسی عربی تک پڑھنے کے لئے اساتذہ کے دروازے پر کشکول گدائی لئے جاتا رہا اور تمام تر کوششوں کے باوجود منصفی کے امتحان میں فیل ہوا۔ عجیب احمق لوگ ہیں جو میٹرک اور منصفی فیل کو بھی نبی مانتے ہیں۔“

شاہ جیؒ کا یہ ارشاد کہ انبیاء کرام کسی کے شاگرد نہیں ہوتے۔“ اگرچہ عقلی طور پر بالکل صحیح ہے۔ مگر جی چاہتا تھا کہ قرآن وسنت سے بھی اس کی سند مل جائے۔ چنانچہ میں نے حضرت بنوریؒ کی خدمت میں یہ سوال لکھ بھیجا۔ اس کا جواب حضرت نے مندرجہ ذیل تحریر فرمایا:

برادر محترم زیدت معالیکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آپ کا خط بہت دنوں سے آیا تھا۔ جواب میں تاخیر عادت ثانیہ بن گئی ہے۔ پھر اتفاق سے آپ کا خط کہیں گم ہو گیا تھا۔ پھر لفافہ ملا اور مکتوب نہ مل سکا۔ بہر حال مضمون یاد تھا۔ جواب عرض ہے:

صفحہ ١٠٨

”نبی امی“ نبی کریم ﷺ کا لقب ہے۔ بطور لقب آپ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ معنی وصفی کے اعتبار سے ہر نبی امی ہوتا ہے۔ قرآن میں صراحۃً اس کی دلیل نہیں البتہ استنباطاً متعدد مقامات پر ہے اور صحاح ستہ میں بھی حدیث نہیں۔ البتہ حدیث صحیح بروایت صحیح ابن حبان حافظ منذری الترغیب والترہیب کے اندر موجود ہے۔ صحیح ابن حبان کی حدیث کا درجہ اجمالاً سنن اربعہ سے اونچا ہے اور بہر حال صحیحین کے بعد اس کا درجہ ہے۔ انس بن مالکؓ کی روایت سے حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ طویل حدیث ہے اس میں ہے:

فیجی مناد ینادی‘ این النبی الامی؟ قال فتقول الانبیاء کلنا نبی امی قال اینا رسل؟ فیرجع الثانیۃ‘ فیقول‘ این النبی الامی العربی‘ قال فینزل محمد ﷺ ---- الخ)

یہ حدیث صریح دلیل ہے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام امی ہوتے ہیں فـخـذها و کن من الشـاکرین۔ والسلام۔

(محمد یوسف بنوری عفی عنہ‘ ٢٠ ربیع الاخر ١٣٨٠ھ)

راقم الحروف نے حضرت کی نشاندہی کے بعد حافظ عبد العظیم المنذری کی الترغیب و الترہیب میں اصل حدیث خود دیکھنا چاہی۔ اس کا نسخہ میرے پاس نہیں تھا۔ فقیر والی مدرسہ قاسم العلوم کے جلسہ پر جانا ہوا۔ وہاں مولانا فضل احمد صاحب نے کتب خانہ کی زیارت کرائی۔ مجھے الترغیب کی حدیث یاد آئی۔ اس کا پوچھا تو انہوں نے کتاب عنایت فرمائی۔ تلاش کرنے پر وہ حدیث مل گئی۔ جسے ذیل میں درج کیا جاتا ہے:

ترجمہ: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن ہر نبی کو نور کا منبر دیا جائے گا اور میرا منبر سب سے اونچا اور سب سے نورانی ہو گا۔ ایک مناد آکر پکارے گا کہ نبی امی کہاں ہیں؟ انبیاء علیہم السلام فرمائیں گے ہم تو سبھی نبی امی ہیں۔ آپ کو کون مطلوب ہے۔ مناد دوبارہ آئے گا اور آکر کہے گا۔ عرب والے نبی امی کہاں ہیں؟ یہ سن کر حضرت محمد ﷺ اتر کر اس کے ساتھ چلے جائیں گے۔ یہاں تک کہ جنت کے دروازے پر پہنچیں گے اور دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ دربان اندر

صفحہ ١٠٩

سے کہے گا کون؟ آپ فرمائیں گے محمد واحمد ہوں۔ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اندر سے پھر آواز آئے گی، کیا آپ کو پیغام بھیج کر بلایا گیا ہے؟ آپ فرمائیں گے۔ جی ہاں ! چنانچہ دروازہ کھلے گا۔ آپ اندر تشریف لے جائیں گے۔ پس آپ پر اللہ تعالیٰ کی ایسی تجلی ہوگی کہ اس سے پہلے کسی پر نہ ہوئی ہوگی۔ آپ اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدے میں گر جائیں گے اور ایسی حمد کریں گے کہ نہ کسی نے پہلے کی اور نہ کوئی آئندہ کرے گا۔ پس فرمایا جائے گا کہ: ”اے محمدؐ ! سر اٹھائیے! بات کہئے! شفاعت کیجئے! آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی“۔

روئے گل سیر ندیدم کہ بہار آخر شد

(ماہنامہ لولاک، شیخ بنوری نمبر)

وہ لوگ کتنے بہادر تھے !

حیدرآباد سے چھوٹی لائن جاتی ہے دلی کو۔ اس کے راستہ میں ایک شہر کنری ہے۔ وہ علاقہ مرزائیوں کا ہے۔ کئی اسٹیشن زمین انہی کی جائیداد ہے۔ جب آج سے ساٹھ ستر سال پہلے وہ علاقہ آباد ہوا تھا، مرزائیوں نے بہت زمینیں خریدی تھیں۔ وہ ان کی سٹیٹ کہلاتی ہیں، ”بشیر آباد، احمد آباد، محمود آباد، ناصر آباد، مظفر آباد وغیرہ“۔ میں اور مولانا لال حسین اختر ڈگری گئے۔ یہ کئی برس پہلے کی بات ہے، تو پتہ چلا کہ یہ تو مرزائیوں کی سلطنت ہے، لوگوں نے بتایا۔ ہم نے کہا، چلو بھئی، ہم نے فیصلہ کر لیا کہ کل دوپہر کی گاڑی سے ہم کنری جائیں گے۔ نہ کوئی واقف، نہ کوئی جاننے والا، نہ وہاں ٹھہرانے والا اور نہ ہی ہم کسی کو جانتے تھے۔ رات کو میرے پاس ایک آدمی آیا اور پوچھا مولوی صاحب آپ کنری جا رہے ہیں؟ میں نے کہا، ہاں ! مولانا لال حسین اختر بھی آپ کے ساتھ ہوں گے؟ میں نے کہا، ہاں۔ جبکہ پہلے وہاں مرزائیوں نے مولانا لال حسین پر حملہ کیا تھا لیکن وہ جس پستول سے حملہ کرنے آیا تھا وہ اس سے جلسے ہی میں گر گیا۔ یہ واقعہ ہو چکا تھا۔ اس نے کہا، مولوی صاحب میں ایک بات کرنے آیا ہوں۔ میں

صفحہ ١١٠

نے کہا تھا‘ اس نے کہا ’جی ایک مرزائی کے ساتھ میرا کاروبار مشترکہ ہے۔ اس نے مجھے بتایا ہے اور آپس میں انہوں نے مشورہ کیا ہے۔ (مجھے پتہ چلا) وہ کہتے ہیں کہ ڈگری میں مسلمان زیادہ ہیں۔ وہاں ہمارا کام نہیں ہو سکتا۔ کنری آئیں گے تو قتل کر دیں گے۔ یہ کہہ کر اس نے کہا کہ تم کنری نہ جاؤ انہی کی سلطنت ہے اور انہی کی آبادی ہے۔ میں نے کہا کہ بھائی بات یہ ہے کہ اگر ہم اعلان نہ کرتے تو شاید واپس چلے جاتے‘ کنری نہ جاتے۔ اب تو جائیں گے۔ شہر کے مسلمانوں کو پتہ چل گیا تھا کہ دو مولوی آ رہے ہیں۔ انہوں نے ایک اسٹیشن کے ساتھ میدان میں گھاس بچھا کر لاؤڈ سپیکر رکھ دیا اور ایک میز رکھ دیا۔ تین چار کرسیاں رکھ دیں۔ جب ہم پہنچے تو مسلمان کھڑے تھے۔ ہمیں کوئی نہ جانتا تھا اور نہ ہی ہم کسی کو جانتے تھے۔ وہ ہمیں جاتے ہی سیدھے وہاں لے گئے۔ ایک شخص نے قرآن پڑھا پھر نعت پڑھی گئی پھر میں نے اعلان کیا کہ اب مولوی لال حسین اختر تقریر کرتے ہیں‘ رات کو میں کروں گا۔ اتنے میں ایک آدمی آیا کہ ڈی ایس پی صاحب بلاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ بھائی کیا کہتے ہیں؟ کہنے لگا ’جی کہتے ہیں کہ جلسے والا کوئی آدمی بلاؤ۔ تو میں نے کہا کہ بھائی ہمارے جلسے کا تو کوئی منتظم بھی نہیں۔ وہ جو آدمی مجھے کہہ رہا تھا‘ وہ کوئی معزز آدمی تھا۔ میں نے کہا ’جی آپ ہی چلے جائیں۔ آپ بھی تو ہمارے مسلمان بھائی ہیں۔ اس نے کہا ’جی ٹھیک ہے۔ مولوی لال حسین اختر کھڑے کتابیں لگا رہے تھے میز پر‘ بکس کھولا ہوا تھا۔ اتنے میں وہ آیا اور اس کے ساتھ ایک آدمی تھا‘ اس نے مجھے کہا کہ جی یہ ڈپٹی صاحب ہیں اور ڈپٹی سے کہا کہ یہ مولوی محمد علی جالندھری ہیں۔ ہم نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا اور ڈپٹی صاحب کرسی پر بیٹھ گئے۔ اس آدمی نے میرے کان میں کہا کہ ڈپٹی صاحب کہتے ہیں کہ جو چاہو‘ مسائل بیان کرو‘ مرزائیوں کا نام نہ لینا۔ تو میں نے چپکے سے مولانا لال حسین اختر کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا اور کہا ’مولانا ذرا ایک منٹ آپ پیچھے ہٹ جائیے‘ مجھے بات کرنے دیجئے۔ میں کھڑا ہو گیا اور کہا:

بھائیو! ہم پنجاب سے آئے ہیں‘ یہ تو آپ سب کو معلوم ہے اور اپنے آپ آئے ہیں‘ نماز فرض ہے ہم پڑھانے نہیں آئے‘ روزہ ہم رکھانے نہیں آئے‘ شراب حرام ہے ہم چھڑانے نہیں آئے‘ کیوں؟ اس لئے کہ سندھ کے مولوی مر گئے ہیں کہ ہم اس کام کے لئے اتنی دور سے آتے۔ اس کام کے لئے ہم نہیں آئے۔ ہمارے ملک میں ایک نئی بیماری

صفحہ ١١١

نکلی ہے۔ ہم اس کے متعلق آپ کو آگاہ کرنے آئے ہیں اور اس بیماری کی گولیاں لے کر آئے ہیں۔ وہ بیماری ہمارے ہی صوبے سے یہاں آئی ہے۔ اس کے بعد میں نے یہ باتیں کیں جو آپ کو بتائیں کہ مولی اگر توڑ کے دیکھی جاسکتی ہے اور گھی سونگھا جاسکتا ہے‘ پیالہ ٹھونکا جاتا ہے تو نبی بھی پرکھا جائے گا۔ مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کتابیں لکھیں‘ ربوہ شہر بنا‘ اخبار الفضل نکلتا ہے‘ اور وہ تبلیغ کر رہے ہیں۔ جب تک وہ یہاں رہیں گے‘ الفضل نکالیں گے‘ ربوہ رہے گا‘ ہم تو ان کو پرکھیں گے اور اسی اہم کام کے لیے آئے ہیں۔ کوئی طاقت ہمیں نہیں کہہ سکتی کہ مرزا کا نام نہ لو۔ چنانچہ تقریریں ہوئیں دن کو بھی اور رات کو بھی۔ چنانچہ آج بھی سب سے پہلے میں مرزائیت آپ کو سمجھاؤں گا اور مرزا غلام احمد کی ذات سے متعلق گفتگو کا آغاز کروں گا۔

(خطاب: مولانا محمد علی جالندھری”)

قلوب آئینہ‘ چہروں پہ نور‘ ستارہ مزاج
وہ آدمی تھے خدا کی نشانیاں اے دوست

(مؤلف)

امریکہ میں

قادیانی فتنہ اور اس کا بھرپور تعاقب

(رپورٹ: محمد شریف نکودری)

دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح امریکہ میں بھی قادیانیت کے جراثیم موجود ہیں۔ یہاں قادیانی فتنہ پردازوں کے دو گروپ ہیں۔ ایک گروپ اپنے آپ کو لاہوری قادیانیوں سے منسوب کرتا ہے تو دوسرے ربوہ والے قادیانی کہلاتے ہیں جو سادہ لوح پردیسی مسلمانوں اور نو مسلموں کو نہایت انوکھے انداز میں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ لاہوری گروپ ہے۔ ان کا مرکز نیویارک کیلے فورنیا میں ہے جو خلیج سان فرانسسکو (Bay Area) گنجان آباد علاقہ ہے۔ ان کی نشر و اشاعت کا ذریعہ ایک ماہنامہ میگزین

صفحہ ١١٢

اسلامک ریویو ہے۔ جن کا دفتر ٣٧٩١١ والنٹ اسٹریٹ نیو آرک، کیلے فورنیا ٩٢٥٦٠ پر واقع ہے۔ قادیانیوں کے نام نہاد مبلغ ماسٹر عبداللہ نے یہاں پر اس جماعت کی بنیاد رکھی اور اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا۔

ماسٹر عبداللہ ١٩٥٧ء میں سیکرامنٹو (کیلے فورنیا) میں بھی آیا تھا جب کہ سیکرامنٹو میں اسی سال عظیم الشان جامع مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی تھی۔ وہ یہ خواہش لے کر سیکرامنٹو آیا تھا کہ اسے امام مسجد مقرر کر لیا جائے اور اس مقصد کے حصول کے لئے اسے پاکستان کے افسران بالا تک رسائی حاصل تھی چنانچہ اس وقت مسٹر ظفر اللہ خان پاکستان کے وزیر خارجہ تھے اور مسٹر اصفہانی پاکستان کی طرف سے امریکہ میں سفیر متعین تھے۔ ماسٹر عبداللہ نے سیکرامنٹو کی جامع مسجد کی امامت کے خواب کو پورا کرنے کے لئے ظفر اللہ خان کی وساطت سے مسٹر اصفہانی سے سفارش کی تاکہ مسٹر اصفہانی سیکرامنٹو کی جامع مسجد کی مسلم مسجد کمیٹی کی انتظامیہ کے صدر سے کہلوا کر ماسٹر عبداللہ کے لئے امامت کی تقرری کا بندوبست کرادیں۔ مسٹر اصفہانی نے انتظامیہ کو ماسٹر عبداللہ کو امام مسجد متعین کرنے کا مشورہ بھی دیا مگر اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی سے انتظامیہ کمیٹی اور اس کا صدر ماسٹر عبداللہ کے گمراہ کن عقائد سے بخوبی آگاہ تھے۔ انہوں نے صاف انکار کر دیا تو یہ قائد مرزائیت اپنا سا منہ لے کر بھاگ گیا۔

١٩٥٨ء میں اسلامک سنٹر آف سان فرانسسکو کی بنیاد رکھی گئی تو ماسٹر عبداللہ سنٹر میں نئے روپ سے داخل ہوا اور سنٹر کا سرگرم رکن بن گیا۔ ہوتے ہوتے نہایت ہوشیاری سے وہ اس مرکز کا صدر بن بیٹھا اور اسے اپنے غلط عقائد کے جراثیم پھیلانے کا موقع مل گیا۔ تقریباً دس سال تک اسلامک سنٹر کا صدر بنا رہا۔ بالاخر بھارت یا پاکستان سے نو آمدہ آدمی نے ماسٹر عبداللہ کا راز فاش کر دیا تو اسلامک سنٹر کے ممبران مشتعل ہو گئے اور اسے فوراً برطرف کر دیا گیا اور سنٹر کے ممبران نے متفقہ طور پر ماسٹر عبداللہ کا بائیکاٹ کر دیا۔

اسلامک سنٹر میں جزائر فجی سے آئے ہوئے تارکین وطن مسلمان آتے جاتے تھے۔ ان کی کوئی باقاعدہ تنظیم نہیں تھی اور فجی کے عام مسلمان اسلام کی حقانیت اور خاتم النبیینؐ کی تعلیمات سے کلی طور پر آگاہ نہیں تھے۔ جزائر فجی کے ان مسلمانوں میں سراب خان نامی ایک شخص تھا جو ان سب میں سربر آوردہ تھا اور وہ ان سب میں نمایاں شخصیت کا مالک تھا۔ سراب خان کا ایک دست راست اسماعیل بھی تھا۔ اگرچہ فجی کے مسلمانوں میں یہ دونوں

صفحہ ١١٣

نہایت اثر و رسوخ کے مالک تھے مگر اسلامی تعلیمات سے تقریباً بے بہرہ تھے۔ ماسٹر عبداللہ موقع شناس تھا۔ اس نے ان دونوں کی اسلام سے عدم واقفیت سے خوب فائدہ اٹھایا اور انہیں اسلامک سنٹر آف سان فرانسسکو کی تنظیم کے خلاف بھڑکا کر فجی جماعت الاسلام ایک الگ ایسوسی ایشن قائم کی اور الگ مسجد کی بنیاد کا پروگرام بنایا۔ سہراب خان کے ذریعے جزائر فجی سے آمدہ سادہ لوح مسلمانوں پر ماسٹر عبداللہ کا جادو چل گیا اور وہ اس جماعت میں شامل ہو کر فجی کے مسلمانوں کے ناپختہ عقائد پر مرزائیت کی سنہری چھتری سے درپردہ وار کرنے لگا۔

اب خدا کی قدرت کا نظارہ دیکھئے۔ کسی نے سچ ہی تو کہا ہے کہ سو دن چور کا ایک دن سادھ کا۔ بالاخر اس جماعت میں وہ وقت آن پہنچا کہ ماسٹر عبداللہ کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ چنانچہ پاکستان میں تحریک ختم نبوت نے منظم طریقے سے عوام الناس میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کے مصداق حقائق کی وضاحت شروع کر دی۔ اس سلسلہ میں سچے مسلمانوں کی تبلیغی جماعتیں دنیا کے کونے کونے میں جانے لگیں اور سیدھے سادے انداز میں اسلام کی حقانیت اور خاتم النبیین کے ابدی پیغام کو مسلمانوں کے کانوں تک پہنچانے لگیں۔ کچھ تبلیغی جماعتیں جزائر فجی میں بھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے ابدی پیغام کی تجدید کے لئے گئیں۔ جن کے ذریعے جزائر فجی کے مسلمانوں کو آگاہی ہوئی کہ قادیانیت منکرین ختم نبوت‘ کذاب‘ دریدہ دہن اور گستاخان رسول کا ٹولہ ہے۔ اس سے بچنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قادیانیوں کو ان کے گمراہ کن عقائد کی بنا پر قانونی طور پر غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے۔ اب جزائر فجی سے آنے والے نئے تارکین وطن کے ذریعے‘ خط و کتابت کے ذریعے‘ تبلیغی جماعتوں کی امریکہ میں آمد و رفت اور سچے مسلمانوں سے میل ملاپ سے فجی جماعت الاسلام کے مرکز میں بھی اسلامی لہر دوڑ گئی۔ تجدید نو ہوئی۔ دوبارہ الیکشن ہوئے۔ مرکز میں نئی قرار دادیں پاس ہوئیں اور ماسٹر عبداللہ کو فوری طور پر برطرف کر دیا گیا۔

پھر ماسٹر عبداللہ نے نئی چال چلی اور سیاہ فام مسلمانوں سے ساز باز شروع کر دی۔ شکاگو کے گرد و نواح میں سیاہ فام مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ جن کا سر براہ وارث ڈی محمد ہے۔ قبل ازیں سیاہ فام مسلمان راسخ العقیدہ نہیں تھے۔ اکثریت حقائق سے بے بہرہ تھی۔

صفحہ ١١٤

چنانچہ ماسٹر عبداللہ نے سیاہ فام مسلمانوں کی اسلام سے نیم آگاہی سے فائدہ اٹھایا۔ اس نے وارث ڈی محمد تک رسائی حاصل کر کے اس کے لڑکے کے اتالیق کے فرائض انجام دیے۔ نتیجتاً وارث ڈی محمد نے ماسٹر عبداللہ کی خواہش کے مطابق اسے سیاہ فام مسلمانوں کے خلیج سان فرانسسکو کے اہم مرکز Oak Land میں امام بنا دیا۔ چنانچہ ماسٹر عبداللہ پھر مغربی ساحل پر آگیا اور سیاہ فام مسلمانوں کو گمراہ کرنے لگا۔

ان دنوں جامع مسجد سیکرامنٹو کے امام جناب پیرزادہ سید ابراہیم ہمدانی تھے جو آج کل حلقہ احباب اسلامی کے سرگرم رکن اور اسلامک سنٹر آف سکرامنٹو کے منتظم ہیں۔ جناب ہمدانی صاحب نے وارث ڈی محمد سے رابطہ قائم کیا اور اسے قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح اور سچے اسلام سے روشناس کرایا۔

علاوہ ازیں I.S.N.A اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ والوں نے بھی سوڈان سے علمائے کرام بلا کر سیاہ فام مسلمانوں کے لیڈروں کو مفت اسلامی و عربی تعلیم کی پیش کش کی جس میں نمایاں طور پر کامیابی ہوئی۔ چنانچہ اب Oak Land کے سیاہ فام مسلمانوں کے مرکز سے ماسٹر عبداللہ روپوش ہو چکا ہے۔ البتہ اس کے دو بیٹے مسعود اختر اور ظفر عبداللہ قادیانی میگزین IslamicReview کے بورڈ آف ایڈیٹرز کے رکن ہیں۔

شمالی امریکہ میں مرزائیوں کا دوسرا گروپ ہے جن کا تعلق ربوہ سے ہے، امریکہ کے صدر مقام واشنگٹن ڈی سی میں ان کا مرکز ہے۔ یہیں ان کی اکثریت ہے۔ جبکہ اس گروہ کے لوگ خلیج سان فرانسسکو میں خال خال ہی ملتے ہیں۔ یہ ایک رسالہ بھی شائع کرتے ہیں اور اپنی نام نہاد مظلومیت کی داستانیں بیان کر کے عوام کو بدظن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا دوسرا رسالہ انگریزی میں ریاست اوہائیو کے ایک شہر سے شائع ہوتا ہے۔

ٹورنٹو (کنیڈا) میں قادیانی شرانگیزیاں

ٹورنٹو (کنیڈا) میں قادیانیوں نے اسلام کو مسخ کرنے کی پوری کوشش کی ہے مگر ۔

مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
صفحہ ١١٥

یہ اللہ رب العزت کی کرم نوازی ہے کہ ٹورنٹو میں جناب مولانا حافظ سعید احمد شاہ جیسا مرد مجاہد موجود ہے جن کی انتھک کوششوں سے اسلامک آئیڈیالوجی سنٹر کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ محترم حافظ صاحب نے یہاں سالانہ جلسہ سیرت النبیؐ اور ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کی ہیں۔ ان جلسوں میں حافظ صاحب کی للکار نے مرزائیوں کے چھکے چھڑا دیئے اور ان کے نعرہ حق نے دشمنان خاتم النبیین کے عزائم کو خاک میں ملا دیا اور ان نقب زن بھڑوں کا آخری کچھار تک تعاقب کیا۔ اب ٹورنٹو میں مرزائیوں میں انتشار اور نفاق پیدا ہو چکا ہے۔ ان میں سے کئی اپنے غلط عقائد سے تائب ہو کر صراط مستقیم پر گامزن ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے ہدایت دے۔ آمین۔

امریکہ کے ہر بڑے شہر میں تھوڑے بہت قادیانی ہیں اور نو آمدہ تارکین وطن پر دامے درمے سخنے دام فریب ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں مگر جسے اللہ ہدایت دے‘ اس کا کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا۔ البتہ قادیانیوں نے خلیج سان فرانسکو (بے ایریا) لاس اینجلس نیو یارک‘ واشنگٹن ڈی۔سی‘ شکاگو اور ٹورنٹو میں اپنے کچھ مراکز کھول رکھے ہیں۔ جہاں سے غلط عقائد کے جراثیم پھیلاتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے مرزائیت کی روک تھام کے لیے جو اقدامات کئے ہیں یا جو اقدامات زیر غور ہیں ان کے خلاف خوب زہر اگلتے ہیں‘ پمفلٹ شائع کرتے ہیں۔ پوسٹر تقسیم کرتے ہیں۔ ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے چاند پر تھوکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مسلمانوں کا رد عمل

چونکہ قادیانی فتنہ شیطانی جال کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ ان کے خلاف بھرپور جہاد میں حصہ لے۔ چنانچہ یہاں پر اپنے محدود وسائل کے مطابق ہر باشعور مسلمان اس فتنہ کے خلاف تردید کی کوشش کرتا ہے۔ اسی سلسلہ میں ٹورنٹو میں مولانا حافظ سعید احمد شاہ صاحب اور وسطی کیلے فورنیا میں جناب پیرزادہ سید ابراہیم ہمدانی صاحب نے نہایت قابل تحسین کام کیا ہے اور ان کا جہاد مسلسل جاری ہے۔ تقریباً ہر بڑے شہر میں مقامی طور پر مسلمان بھائیوں نے اسلامک سنٹر اور مساجد کا قیام کیا ہوا ہے I.S.N.A (اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ) اور حلقہ احباب اسلامی‘

صفحہ ١١٦

شمالی امریکہ (اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ) اور ٹورنٹو میں اسلامک آئیڈیالوجی سنٹر کا شمار ممتاز ترین مسلم ایسوسی ایشنز میں ہوتا ہے جن کا مقصد ہی اللہ تعالیٰ اور اس کے سرور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا پیغام پہنچانا ہے اور تارکین وطن مسلمانوں، نو مسلموں اور مسلمان بچے اور بچیوں کو سچے اسلام سے روشناس کرانا اور غیر اسلامی اثرات سے بچانا ہے۔ جن میں یہ قادیانی فتنہ بھی شامل ہے۔ اس مرتبہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دو ممتاز رہنماؤں مولانا عبدالرحمن یعقوب باوا اور مولانا منظور احمد الحسینی نے امریکہ کا دورہ کیا جو انتہائی کامیاب رہا اور اس کے اثرات اچھے مرتب ہوئے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے‘ آمین۔

(ہفت روزہ ’ختم نبوت‘ کراچی‘ جلد ٧‘ شمارہ ٤٢)

مولانا اصغر علی روحی اور رد قادیانیت

صفحہ نمبر ١٩٥ پر لکھتے ہیں:

”ہمارے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے از راہ نادانی اپنے رسالہ ”اعجاز احمدیہ“ کو معجزے کی حیثیت سے پیش کر کے علمائے امت سے اس کا جواب لکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس چیلنج کے جواب میں قاضی ظفر الدین صاحب مرحوم جو ہمارے ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے تھے‘ مولانا اصغر علی صاحب روحی اور بعض دوسرے علماء نے اس سے کہیں بہتر عربی قصائد لکھ کر شائع کر دیے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے دوسرے علمائے حق کی طرح کوئی قصیدہ تو نہ لکھا البتہ ایک مہتم بالشان کارنامہ یہ انجام دیا کہ ”سیف چغتائی“ میں ”اعجاز المسیح“ کی اغلاط اور مسروقات کا انبار لگا کر مرزا کی عربی دانی کی دھجیاں بکھیر دیں۔“

صفحہ ١١٧

"اس نام نہاد قصیدہ کے مقابلہ میں قاضی ظفر الدین صاحب مرحوم سابق پروفیسر اورینٹل کالج لاہور جو ہمارے ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے تھے، ایک قصیدہ بنام قصیدہ رائیہ شائع کیا۔ جس کے ١٢ اشعار نمونہ کتاب "الہامات مرزا" صفحہ ١٠٣۔١٠٥ میں نقل کیے گئے ہیں۔ اعجاز احمد احمدی کے جواب میں مولانا غنیمت حسین صاحب مونگیری نے بھی ایک کتاب "ابطال اعجاز مرزا" دو حصوں میں لکھی۔ پہلے حصہ میں مرزائی نظم کے اغلاط ظاہر کئے اور دوسرے حصہ میں سوا چھ سو اشعار پر مشتمل نہایت فصیح و بلیغ عربی قصیدہ لکھا۔ یہ رسالہ چھپ چکا ہے اور پنجاب میں بعض حضرات کے پاس موجود ہے۔ مولانا اصغر علی صاحب سابق پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور نے بھی "اعجاز احمدی" کے جواب میں ایک قصیدہ شائع کیا۔ اس قصیدہ کا مطلع یہ تھا۔

تسیر الی ربع الحبیب الرواحل
خیالک شوقا ھیجتہ المنازل

(اونٹنیاں منزل حبیب کی طرف جا رہی ہیں۔ اللہ رے وہ شوق جس کو منازل نے ابھارا ہے۔)

پھر آگے چل کر لکھتے ہیں: (٣)

ایک مرتبہ انہوں نے مرزا کی بعض عربی کتب میں سے شرمناک قسم کی غلطیاں نکال کر مرزا کو لکھ بھیجیں۔ مرزا نے "اخبار الحکم" (مورخہ ٧ اکتوبر ١٩٠٣ء صفحہ نمبر ٥) قادیان میں یہ لکھ کر ان سے پیچھا چھڑایا کہ نہ میں عربی کا عالم ہوں اور نہ شاعر ہوں۔

ایک دفعہ انہوں نے مرزا کے رسالہ "حمامتہ البشریٰ" کی غلطیاں نکال کر مرزا کے حواری خواجہ کمال الدین کو خفا کر دیا تھا۔ یہ واقعہ "رئیس قادیان" میں ملاحظہ فرمائیے۔

کتاب "رئیس قادیان" جلد دوم مرتبہ ابوالقاسم رفیق دلاوری بعنوان باب ٥٨ صفحہ نمبر ١٤٧ پر "حکیم نور الدین سے مولانا اصغر علی روحی کی ایک علمی جھڑپ" میں حسب ذیل دلچسپ واقعہ درج ہے۔

قادیانی صاحب سخن سازی اور پروپیگنڈا بازی کے فن میں تو طاق تھے لیکن علمی

صفحہ ١١٨

استعداد سے بڑی حد تک بے نصیب تھے۔ البتہ مولوی حکیم نورالدین اور مولوی محمد احسن امروہی مرزائیوں میں ذی علم اور صاحب استعداد ہستیاں مانی جاتی تھیں اور یہی وہ دو شہپر تھے، جن کے سہارے الہامی صاحب اتنا زمانہ فضائے معلی میں پرواز کرتے رہے۔ پھر ان دونوں میں حکیم نورالدین صاحب کو خاص اہمیت حاصل تھی بلکہ اصل یہ ہے کہ وہی مرزائیت کی عمارت کے بانی و مؤسس تھے اور مرزا جی تو محض آلہ کار اور کٹھ پتلی کا درجہ رکھتے تھے۔ جب حکیم صاحب پیچھے سے ڈوری کھینچتے تو یہ پتلی حرکت میں آجاتی۔ ایک مرتبہ بانی سلسلہ حکیم نورالدین لاہور تشریف لائے اور کشمیری دروازہ محرم علی چشتی کے مکان میں ٹھہرے۔ مولوی محرم علی سے حکیم صاحب کی پرانی دوستی تھی۔ ایک نہایت معمر طبیب نے، جو مہاراجہ جموں و کشمیر کی ملازمت میں حکیم نورالدین صاحب کے رفیق کار تھے، مجھے بتایا کہ حکیم نورالدین اور مولوی محرم علی ایک ساتھ جموں سے خارج کئے گئے تھے۔

جب حکیم صاحب لاہور آکر مولوی محرم علی چشتی کے مکان میں ٹھہرے تو مولانا اصغر علی روحی سابق پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور ان کو دیکھنے کے لئے گئے۔ اس وقت مولانا اصغر علی صاحب کا عنفوان شباب تھا۔ ان کے جانے سے پیشتر مولوی زین العابدین مدرس عربی اسلامیہ ہائی سکول دروازہ شیرانوالہ لاہور جو مولوی غلام رسول ساکن قلعہ میاں سنگھ ضلع گوجرانوالہ کے اقربا میں سے تھے، حکیم صاحب سے گفتگو کر رہے تھے۔ مولوی زین العابدین اچھے لسان اور مقرر نہیں تھے۔ ایک سوال کے جواب میں مولوی زین العابدین نے کہا کہ اس سے تو ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی۔ حکیم نورالدین نے کہا کہ ترجیح بلا مرجح تو محض سفسطوں کا ایک ڈھکوسلہ ہے۔ ترجیح بلا مرجح جائز ہے۔ مولوی زین العابدین نے پوچھا، وہ کیسے؟ حکیم صاحب نے دو روپے جیب سے نکال کر ہاتھ پر رکھے اور مولوی صاحب سے کہا، ایک اٹھا لیجئے۔ انہوں نے ایک روپیہ اٹھایا۔ پوچھا اس دوسرے کو کیوں نہیں اٹھایا؟ مولوی زین العابدین سے کچھ جواب نہ بن پڑا۔ مولانا اصغر علی صاحب ایک طرف بیٹھے تھے۔ مولوی زین العابدین سے کہنے لگے۔ مولوی صاحب کہہ دیجئے کہ ارادہ ازلی اس ایک کے اٹھانے سے متعلق تھا، دوسرے سے متعلق نہیں تھا۔ یہی وجہ ترجیح ہے۔ حکیم نورالدین نے کہا، بس صاحب یہ ٹھیک نہیں۔ یا یہ بولیں یا آپ خود گفتگو کریں۔ مولوی زین العابدین کہنے لگے۔ اچھا آپ آکر گفتگو فرمائیے۔ اس مجلس میں فقیر جلال

صفحہ ١١٩

الدین مرحوم مجسٹریٹ بھی موجود تھے۔ وہ بولے ہاں‘ مولوی صاحب! آپ آئیے اور گفتگو فرمائیے۔ غرض مولانا روحی کو زبردستی ان کے مقابل کر دیا۔

اس سے پیشتر حکیم صاحب بہت ڈینگیں مار چکے تھے کہ ہم نے مصر سے منطق کی ایک نئی کتاب منگوائی ہے جس میں منطقیوں کی متعدد تعبیریں غلط اور باطل ثابت کی گئی ہیں اور اس سلسلہ گفتگو میں وہ امام غزالیؒ اور امام رازیؒ پر بھی ہاتھ صاف کر گئے تھے۔ روحی صاحب نے سوال کیا کہ آپ نے منطق کو باطل کہا ہے‘ کیا ساری منطق باطل ہے یا اس کے کوئی خاص قواعد یا اس کا کوئی حصہ؟ حکیم نور الدین نے کہا یہ بتانا تو مشکل ہے کہ منطق کا کتنا حصہ باطل اور کتنا صحیح ہے۔ مولانا اصغر علی نے فرمایا کہ اگر یہ نہیں بتلا سکتے تو ممکن ہے کہ آپ اثنائے گفتگو میں کسی سوال کے جواب میں کہہ دیں کہ یہ غلط اصول پر مبنی ہے۔ میں اس کو نہیں مانتا۔ اس لئے جب تک یہ مسئلہ صاف نہ ہو جائے کہ آپ کون کون سے اصول مانتے ہیں اور کون کون سے نہیں مانتے۔ اس وقت تک گفتگو بیکار ہے۔ حکیم صاحب لاجواب ہو گئے اور سوچنے لگے۔ ان ایام میں مولانا روحی کی رگوں میں جوانی کا خون دوڑ رہا تھا۔ جب دیکھا کہ حکیم صاحب کے منہ پر بالکل مہر سکوت لگ گئی تو جوش میں آ کر کہنے لگے۔ اسی برتے پر آپ نے امام غزالیؒ اور امام رازیؒ پر حملہ کر دیا تھا۔ یہی آپ کی استعداد ہے؟ آپ کو تو مڈل والے لڑکوں کے برابر بھی لیاقت نہیں۔

یہ سن کر مولوی محرم علی چشتی اور فقیر جلال الدین کہنے لگے۔ نہیں‘ مولوی صاحب جانے دیجئے‘ ایسا نہیں ہے۔ چونکہ نماز عصر کا وقت قریب تھا۔ یہ لوگ کہنے لگے‘ اچھا کسی دوسرے موقع پر گفتگو ہوگی۔ مولانا روحی چلے آئے اور یہ خبر بجلی کی رو کی طرح شہر میں پھیل گئی کہ روحی صاحب نے حکیم نور الدین کو پچھاڑ دیا۔

پھر دوسری مرتبہ حکیم نور الدین حویلی کابلی مل میں آ کر اقامت پذیر ہوئے۔ صوفی غلام محی الدین وکیل انجمن حمایت اسلام لاہور اور مولوی زین العابدین مذکور روحی صاحب کے مکان پر گئے اور کہا کہ حکیم نور الدین آئے ہوئے ہیں۔ آپ چل کر مرزا کے دعاوی کے متعلق ان سے گفتگو کیجئے۔ روحی صاحب نے کہا‘ اغلب ہے کہ حکیم صاحب گفتگو پر راضی نہیں ہوں گے۔ مولانا روحی نے ان کے کہنے پر حکیم صاحب کو رقعہ لکھا کہ مرزا کے دعاوی باطلہ کے متعلق میں آپ سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ حکیم صاحب نے

صفحہ ١٢٠

جواب میں لکھا کہ چونکہ آپ میرے پیر کی توہین کرتے ہیں، اس لئے میں آپ سے گفتگو نہیں کرنا چاہتا۔

اس کے بعد شاید ١٩١٥ء میں حکیم صاحب لاہور آئے۔ روحی صاحب کے ایک شاگرد نے کہا کہ حکیم نور الدین آئے ہوئے ہیں۔ اگر آپ ان سے گفتگو کرنا چاہیں تو میں جا کر دریافت کروں؟ مولوی صاحب نے کہا ’ہاں جا کر پوچھو۔ وہ گیا اور قاضی ظہور الدین اکمل مرزائی متوطن گولیکی سے جا کر اس خواہش کا اظہار کیا۔ قاضی ظہور الدین کہنے لگے واقعی مولوی اصغر علی مناظرہ کرنا چاہتے ہیں؟ شاگرد نے کہا، ہاں واقعی چاہتے ہیں۔ قاضی ظہیر الدین نے حکیم صاحب سے اس کا ذکر کیا۔ انہوں نے فرمایا ’ہم کسی مولوی سے گفتگو کرنا نہیں چاہتے۔ اصغر علی ہو یا کوئی اور۔‘ اسی طرح مولانا محمد عالم آسی امرتسری اپنی کتاب ”الکادیہ علی الغاویہ“ (جو مرزا غلام احمد قادیانی کے رد سے متعلق ہے) میں صفحہ نمبر ٨٤‘ ٨٥ پر لکھتے ہیں۔

جب مرزائیوں کو مد میں شکست فاش ہوئی تو مرزا صاحب کو بڑا طیش آیا اور عربی نظم میں تک بندی لگانی شروع کر دی۔ فرط جوش غضب میں پانچ سو سے زائد شعر لکھ مارے جن میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو دل کھول کر گالیاں دیں اور جب وہ بخار نکل گیا تو اپنے دعاوی کی رٹ لگانی شروع کر دی۔ اخیر میں جب اس سے فارغ ہوئے تو پیر صاحب اور سید علی حائری اور مولوی اصغر علی صاحب روحی وغیرہ کو کوسنا شروع کر دیا اور کچھ ایسے الفاظ بھی کہے کہ اگر ان بزرگوں کے متعلق کچھ ذرہ بھر بھی حالات دگرگوں ہونے کی خبر مرزائیوں کو لگ جائے تو آج بھی اس کو پیشین گوئی کے سانچے میں ڈھال لیں۔ یہ قصیدہ نام کو تو الہامیہ اور اعجازیہ ہے مگر اس قدر شاعرانہ انداز سے گرا ہوا ہے کہ اگر کسی غلط شعر کا حوالہ دینا ہو تو اس قصیدے سے بڑھ کر کوئی مصالحہ موزوں نہ ہو گا۔ بایں ہمہ مرزا صاحب نے اپنی ہمہ دانی کا یوں غرور دکھلایا تھا کہ لوگوں کو بڑی عجلت کے ساتھ ویسا ہی جواب لکھنے پر دعوت دی۔ جس کا جواب مولوی اصغر علی صاحب روحی اور دیگر بزرگوں نے لکھا اور اخبارات میں شائع کیا اور عموماً اہل علم نے اس کو اس لئے نظر انداز کر دیا کہ غلط اشعار کا جواب کیا دیا جائے۔

پھر اسی کتاب میں آسی صاحب نے مرزا صاحب کے ”قصیدہ اعجاز“ سے ٢٢ اشعار

صفحہ ١٢١

نقل کئے ہیں اور ان کی غلطیاں نکالی ہیں۔ ان اشعار میں شعر نمبر ٩ میں تین بزرگوں کا نام آتا ہے یعنی مولوی محمد حسین بٹالوی‘ قاضی ظفر الدین مرحوم اور مولانا اصغر علی روحی مرحوم۔ وہ شعر یہ ہے۔

فکر محمدک خمس عشر ة لیلۃ
فند حسینا او ظفرا او اصغرا

مرزا غلام احمد قادیانی اپنے مخالفین کو اپنی مختلف تحریروں کے ذریعے خوب کوستے اور گالیاں تک بھی دیا کرتے تھے۔ چنانچہ اپنی کتاب "انجام آتھم" صفحہ نمبر ٦٩ میں لکھتے ہیں:

اب ہم ان مولوی صاحبوں کے نام ذیل میں لکھتے ہیں جن میں سے بعض تو اس عاجز کو کافر بھی کہتے ہیں اور مفتری بھی اور بعض کافر کہنے سے تو سکوت اختیار کرتے ہیں مگر مفتری اور کذاب اور دجال نام رکھتے ہیں۔ بہر حال یہ تمام مکفرین اور مکذبین مباہلہ کے لئے بلائے گئے ہیں اور ان کے ساتھ وہ سجادہ نشین بھی ہیں جو مکفر یا مکذب ہیں۔ وہ لوگ جو مباہلہ کے لئے مخاطب کئے گئے ہیں‘ یہ ہیں:

مولوی نذیر حسین دہلوی‘ شیخ محمد حسین بٹالوی‘ مولوی رشید احمد گنگوہی‘ مولانا عبد الخالق حقانی مفسر دہلوی‘ مولوی ثناء اللہ امرتسری‘ مولوی عبد الجبار غزنوی‘ مولوی اصغر علی لاہوری‘ مولوی عبد الواحد غزنوی‘ مولوی عبد الحق غزنوی‘ مولوی عبد اللہ ٹونکی‘ حافظ عبد المنان وزیر آبادی‘ مولوی دلدار علی الوری۔

یہ کل ٥٨ نام ہیں جن میں مولانا روحی کا نام ١٩ نمبر پر ہے۔ اس کے بعد سجادہ نشینوں کے ٤٨ نام ہیں جن میں ظہور الحسین صاحب گدی نشین بٹالہ‘ صادق علی صاحب گدی نشین رتڑ چھتر‘ مہر علی شاہ سجادہ گدی نشین گولڑہ بھی شامل ہیں۔

اس کے بعد ایک خط شروع ہوتا ہے جو عربی میں ہے اور اس کے نیچے بین السطور فارسی ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس خط کا عنوان یہ ہے المکتوب الی علماء الہند و مشائخ ھذا البلاد وغیرھا من البلاد الاسلامیہ۔"

اس کے بعد ایک ہمزیہ قصیدہ ہے۔ اس خط میں "تسعۃ رھط من

صفحہ ١٢٢

الاشرار) کے زیر عنوان علماء کو برا بھلا کہا گیا ہے جن میں سے چند کے نام یہ ہیں: الرسل بابا امرتسری (مولوی غلام رسول)‘ مولوی اصغر علی لاہور‘ مولوی محمد حسین بٹالوی‘ مولوی نذیر حسین‘ مولوی عبدالحق دہلوی‘ مولوی عبداللہ ٹونکی‘ مولوی احمد علی سہارنپوری‘ مولوی سلطان الدین جے پوری‘ مولوی محمد احسن امروہی‘ مولوی رشید احمد گنگوہی‘ شیخ اللہ بخش تونسوی‘ شیخ غلام نظام الدین تونسوی۔ مولوی رسل بابا پر دو صفحے‘ مولوی اصغر علی پر تین صفحے‘ مولوی محمد حسین پر ساڑھے دس صفحے‘ اس کے بعد باقیوں پر ایک ایک یا دو سطریں دی گئی ہیں۔

(از قلم‘ پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی رانا)

اور قاضی نذیر قادیانی کا پیشاب نکل گیا

یہ واقعہ ١٩٦٥ء سے شروع ہوا اور ٧٦ء کے آخر میں اختتام پذیر ہوا۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے۔ ہومیو پیتھی کو سرکاری سطح پر تسلیم کرانے کے لئے ہم دوستوں نے ڈسٹرکٹ ہومیو پیتھک ایسوسی ایشن ضلع میانوالی قائم کی۔ بندہ اس کا سیکرٹری نشر و اشاعت مقرر ہوا۔ ہر ماہ اجلاس ہوتا تھا۔ کچھ اجلاسوں کے بعد مشن سے ہٹ کر فرقہ واریت کی گفتگو چل پڑی۔ جسے ہم کنٹرول کرتے تھے۔ ہمارے اجلاس میں دو آدمی پر اسرار انداز سے آتے تھے اور مجھ سے دور دور رہتے۔ اسی طرح ایک اجلاس میں علیک سلیک کے بعد میں ابھی بیٹھا ہی تھا کہ ڈاکٹر عبدالکریم شاہ نے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ میں نے صدر اجلاس کو مخاطب کر کے کہا کہ ہم یہاں فن ہومیو پیتھی کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں مگر کچھ عرصہ سے میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ ہم اپنے مشن سے ہٹ کر کہیں اور جا رہے ہیں۔

ابھی ڈاکٹر عبدالکریم صاحب نے جس قسم کے الفاظ استعمال کئے ہیں وہ اس اجلاس کی سراسر منافی ہیں۔ ایسی پھوٹ ہم میں صرف ایک طبقہ ڈالتا ہے اور وہ ہے قادیانی۔ کہیں ڈاکٹر صاحب کسی قادیانی کے زیر اثر تو نہیں آ گئے۔ ابھی صدر اجلاس بولے نہیں تھے کہ

صفحہ ١٢٣

ان پر اسرار آدمیوں میں سے ایک بول اٹھا کہ دیکھو جی سوال ان سے کچھ ہوا اور یہ احمدیت کو طعنہ دے رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کون ہیں، میرے قریب ڈاکٹر دیوان عبدالرشید صاحب بیٹھے تھے، اس نے کہا کہ یہ قادیانی مربی ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا ہمارے اجلاس میں کیا کام ہے۔ کیا یہ ہومیو پیتھک ڈاکٹر ہے؟ اس نے کہا کہ میں ہومیو پیتھ ڈاکٹر تو نہیں مگر مجھے ہومیو پیتھی سے عقیدت ہے۔ ڈاکٹر نور خان میرے دوست ہیں اور میں انجمن کو ماہانہ چندہ دیتا ہوں۔ میں نے کہا تم دس روپیہ ماہوار چندہ دے کر ہمارا ایمان خراب کر رہے ہو اور ہمارے اندر انتشار پیدا کر رہے ہو۔ اجلاس سے فوراً نکل جاؤ۔ ورنہ میں تمہیں نکالنا جانتا ہوں۔

قادیانی اس ایسوسی ایشن میں دراصل مجھ سے خائف تھے کیونکہ میرا قریبی تعلق مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا محمد علی جالندھری سے تھا۔ اجلاس میانوالی شہر میں ہوتے تھے۔ مجھے ہرنولی سے جانا پڑتا اور کام بھی ہوتے تھے۔ قادیانیوں نے میانوالی میں ایسوسی ایشن کے اہم داعی ڈاکٹر نور خان صاحب پر اثر ڈال لیا تھا ہر وقت اس کا گھیراؤ رکھتے تھے۔ کیونکہ قادیانی مرکز ڈاکٹر صاحب کی دکان کے قریب تھا۔ اجلاس ختم ہوا تو میں سیدھا حضرت مولانا محمد رمضان صاحب، موتی مسجد میانوالی کے ہاں جا پہنچا اور تمام حالات بتائے۔ مولانا صاحب نے اپنا ایک شاگرد محمد امیر، ڈاکٹر نور خان کی دکان پر چھوڑ دیا تاکہ وہ ہمیں تمام حالات بتائے۔ ہمیں تمام حالات ملنے لگے۔ میں نے ڈاکٹر نور خان صاحب سے دو ٹوک بات کی۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ میں تو مرزا غلام احمد کو ظلی نبی تسلیم کر چکا ہوں۔ ربوہ کا بھی کئی دفعہ چکر لگا چکا ہوں اور میرے ذہن کے مطابق یہ سچے ہیں۔ اب ان کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کوئی نقطہ بتاؤ۔ ڈاکٹر نور خان کا پہلے تعلق بریلوی مکتب فکر سے تھا۔ اللہ نے میرے دل میں بات ڈالی، میں نے کہا کہ انہوں نے مرزا کے لئے درود ایجاد کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر نور خان کہنے لگا نہیں، درود تو صرف نبی کریم ﷺ کے لئے ہیں۔ میں نے کہا کہ پوچھ لو۔ یہ مرزا کو محمد رسول اللہ ﷺ مانتے ہیں اور اس پر درود بھیجتے ہیں۔ میں دوبارہ ڈاکٹر صاحب سے ملا تو انہوں نے کہا کہ تمہارے جانے کے بعد مرزائی مربی آیا تو میں نے یہ سوال کر دیا کہ آیا مرزا غلام احمد پر بھی درود نازل ہوا ہے۔ مربی اچانک کرسی سے اتر کر ادب سے نیچے بیٹھا اور مرزا غلام احمد قادیانی پر درود پڑھنے لگا۔ ڈاکٹر نور خان کہنے لگا کہ مجھ پر اس کا فراڈ ظاہر

صفحہ ١٢٤

ہو گیا ہے۔ فریدی صاحب اب ان کو میدان سے بھگاؤ۔ میں نے کہا کہ تم مضبوط رہو۔ انشاء اللہ ان کو میدان میں عبرتناک شکست ہوگی۔ مولانا محمد رمضان صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تمام گفتگو بتائی۔ مولانا صاحب نے فرمایا کہ مدرسہ دارالہدیٰ بھکر کا سالانہ جلسہ قریب ہے۔ مولانا لال حسین اختر وہاں تشریف لا رہے ہیں۔ تم بھی وہاں آجاؤ۔ وہاں کوئی فیصلہ کرتے ہیں۔ ہم نے مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر سے تفصیلی گفتگو کی۔ مولانا نے ٢٦ مارچ ١٩٦٦ء کی تاریخ میانوالی کے لئے مقرر کر دی اور میرے لئے حکم ہوا کہ تم وہاں پہنچ کر مرزائی مربی کو قابو کرو اور میری آمد خفیہ رکھو۔

مقررہ تاریخ پر میں حضرت مولانا محمد ابراہیم کے ہمراہ میانوالی پہنچا۔ جیسے ہی بس سے اترا تو مرزائی مربی گھبرایا ہوا اڈے پر دکھائی دیا۔ میں قریب گیا اور پوچھا جناب کیا بات ہے؟ یہ ہوائیاں کیوں اڑ رہی ہیں؟ مربی کہنے لگا کہ سنا ہے لال حسین اختر آئے ہوئے ہیں۔ میں ہکا بکا رہ گیا کہ منصوبہ خفیہ تھا۔ اعلان کر کے غلطی کی گئی۔ مرزائی نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کیسے آئے؟ میں نے فوراً بات بنائی کہ میں بھی مولانا لال حسین اختر کا سن کر آیا تھا مگر پتہ چلا کہ وہ تو چکڑالہ چلے گئے۔ یہاں غلط اعلان ہوا۔ اتنا کہہ کر مولانا ابراہیم صاحب کا ہاتھ پکڑا اور واپسی کی بس میں سوار ہو گیا۔ ساتھ ہی مولانا کا ہاتھ دبایا کہ خاموش رہیں۔ اگلے چوک پر بس سے اترا اور سیدھا وہاں پہنچا جہاں مولانا لال حسین اختر کھڑے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا کہ اعلان بلاوجہ کیوں ہوا۔ مولانا نے کہا کہ ایک ساتھی سے غلطی ہو گئی۔ اچھا ہوا تم نے سنبھال لیا۔ کچھ دیر کے بعد میں ڈاکٹر نور خان کے مطب میں گرو بازار آیا۔ اتنے میں مرزائی مربی بھی آگیا۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگا کہ آپ تو واپس چلے گئے تھے پھر کیسے آگئے۔ میں نے کہا کہ کچہری چوک میں ڈاکٹر صاحب نے دیکھ لیا یہ مجھے لے آئے۔ گفتگو چلی میں نے مرزائی مربی سے کہا کہ بھئی تم نے یہ کیا چکر چلا رکھا ہے۔ میدان میں آ کر بات کرو۔ ڈاکٹر نور خان کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ مرزائی مربی کہنے لگا کہ بات کون کرے گا۔ میں نے کہا کہ بندہ حاضر ہے۔ مولانا محمد رمضان موجود ہیں بات کرو۔ مرزائی ہمارے قابو میں آگیا ساتھ کے مکان میں رہائش جناب چودھری یوسف صاحب مجسٹریٹ کی تھی۔ چودھری صاحب اعجاز یوسف صاحب ایڈووکیٹ کوئٹہ والے کے والد ہیں۔ ہم نے ان سے بات کی کہ آپ اس گفتگو میں بحیثیت صدر تشریف لائیں۔ ایک میاں صاحب تھے ڈی۔ ایف۔

صفحہ ١٢٥

سی ضلع میانوالی۔ ان کے مکان پر بعد نماز عصر دونوں اطراف سے دس دس افراد گفتگو میں بیٹھ سکیں گے۔ میں یہ بات طے کر کے فوراً مسجد زرگراں قیام گاہ مولانا لال حسین اختر پہنچا تو مولانا صاحب نے بہت داد دی اور کہا کہ اب میں آگے خود سنبھال لوں گا۔ مگر ابھی میرا آنا ظاہر نہ ہو۔ بعد از نماز عصر دونوں فریق اکٹھے ہوئے۔ میں نے ڈاکٹر نور خان کا ہاتھ پکڑا اور دروازے میں کھڑا ہو گیا۔ مرزائی مربی نے کہا کہ پہلے تعارف ہو جائے۔ اس نے پہلے مرزائیوں کا تعارف کرایا۔ مسلمانوں کی جانب سے تعارف رمضان صاحب نے کرایا۔ جب مولانا لال حسین اختر کی طرف آیا تو مولانا نے از خود فرمایا کہ بندہ کو لال حسین اختر کہتے ہیں۔ اتنا کہنا تھا کہ مرزائی مربی کو جیسے شاک لگا۔ اٹھ کر کھڑا ہوا، کہنے لگا کہ میرے ساتھ دھوکا ہوا ہے اور بھاگنے لگا۔ میں دروازے میں ڈٹ کر کھڑا تھا۔ میں نے اس مربی کو پکڑا اور للکار کر کہا کہ بہت مدت ہو گئی، مسلمانوں کا ایمان خراب ہوئے۔ اب سامنے بیٹھو اور گفتگو کرو۔ اس مربی کی ایک ہی رٹ تھی کہ میں مناظرہ نہیں کرتا، میں بحث نہیں کرتا۔ میرے ساتھ دین محمد نے دھوکا کیا ہے۔ مولانا لال حسین فرمانے لگے کہ تمہارے ساتھ کون بحث کرتا ہے۔ آرام سے بیٹھو۔ وقت مقرر کرو، اپنے بڑوں کو لے آؤ اور مناظرہ کراؤ۔ مناظرہ کے اصول طے کرو۔ بڑی ردوکد کے بعد ٢٦ اپریل ١٩٦٦ء مناظرے کا دن طے ہوا۔ صدق و کذب مرزا۔ اجرائے نبوت و ختم نبوت اور حیات و وفات عیسیٰ علیہ السلام کی شرائط کی بنیاد پر مناظرہ ہونا قرار پایا۔ چودھری محمد یوسف مجسٹریٹ نے آئندہ بھی صدارت قبول کرلی۔ ہم نے چودھری صاحب کی صدارت اس وجہ سے رکھی تھی کہ اس وقت کئی اہم پوسٹوں پر میانوالی میں مرزائی لگے ہوئے تھے۔ انہوں نے دباؤ دینا تھا بعد میں ایک ماہ تک یہی چکر چلا۔ ڈی۔ایف۔سی صاحب کا مکان مناظرہ کے لیے طے ہوا تھا۔ انہوں نے دباؤ کے پیش نظر جگہ دینے سے انکار کردیا۔ ڈاکٹر نور خان صاحب نے اپنے مکان واقع گرو بازار میں جگہ دی۔ چودھری صاحب نے امن کی تمام تر ذمہ داری قبول کرلی۔ بہت سخت دباؤ تھا۔ ڈاکٹر صاحب کو بھی ہراساں کیا گیا۔ دونوں طرف سے پچیس پچیس آدمی مناظرے میں طے ہوئے۔ وقت مقررہ پر مرزائیوں کا مناظر قاضی نذیر لائل پوری اپنے ساتھیوں سمیت پہنچ گیا۔ مناظرہ کا وقت تین گھنٹے دس منٹ تھا۔ پہلی تقریر مرزائی نے کرنی تھی۔ پہلی تقریریں بیس بیس منٹ۔ بقایا دس دس منٹ تھیں۔ قاضی نذیر پہلی تقریر میں صدق و

صفحہ ١٢٦

کذب مرزا کی بجائے حیات و وفات عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نکلا۔ جوابی تقریر میں مولانا حسین اختر نے بیس منٹ میں بیس جواب دے کر سوالات کی بوچھاڑ کردی۔ مناظرہ چلتا رہا۔ سامعین مناظرہ نے قاضی نذیر کی بوکھلاہٹ کو اچھی طرح محسوس کر لیا۔ دوران مناظرہ مولانا لال حسین اختر نے حضرت حسینؓ کی توہین کا ذکر کیا۔ قاضی نذیر قادیانی نے اپنے وقت میں مرزا کے شعر کا غلط ترجمہ کیا۔ مولانا نے فوراً گرفت کی۔ مطالبہ کیا کہ مرزا کا لکھا ہوا ترجمہ صاحب صدر خود کرے۔ آخر کتاب صاحب صدر چودھری محمد یوسف مجسٹریٹ کے پاس آئی۔ صاحب صدر نے مرزا کا ترجمہ پڑھا تو بات مولانا لال حسین اختر کی صحیح ثابت ہوئی۔

خاص بات یہ کہ آخری تقریر قاضی نذیر قادیانی کی تھی۔ قاضی نذیر نے بات سمیٹنے کے بجائے اپنا رعب قائم کرنے کے لئے مناظرہ کا چیلنج دے دیا۔ مولانا لال حسین اختر نے فوراً قبول کر کے رعب دار آواز میں کہا کہ مجھے چیلنج قبول ہے۔ یہاں اسی وقت تین گھنٹہ دس منٹ مناظرہ ہو گا۔ مولانا نے زور دار آواز سے جیسے ہی مناظر کا چیلنج قبول کیا۔ قاضی نذیر کا بوکھلاہٹ میں پیشاب خارج ہو گیا اور ناک کی گندگی بھی بہہ نکلی اور مناظرہ سے انکار کر دیا۔ صاحب صدر کے مطالبہ پر قاضی نذیر نے بھری مجلس میں مناظرے کا چیلنج واپس لیا۔ الحمدللہ اس مناظرہ کا یہ اثر ہوا کہ ڈاکٹر نور خان اور اس کے تمام ساتھیوں کا ایمان محفوظ ہو گیا۔ مسلمان پوری طرح فتح یاب ہوئے۔

(ماہنامہ نقیب ختم نبوت، مئی ١٩٩٩ء از قلم: ڈاکٹر دین محمد فریدی)

حضرت شیخ بنوریؒ کی خدمات

ربوہ کے واقعہ فاجعہ نے جب میدان عمل کی دعوت دی تو مسند حدیث کا گوشہ نشین اپنے زاویہ سے اٹھا اور اس کی جولانگاہ درہ خیبر، کراچی، کوئٹہ، پشاور، لاہور ہے۔ ٹانگوں سے معذور ہیں۔ چلنے پھرنے میں دقت ہے۔ لیکن ایک جذبہ ملی ہے جو شیخ وقت کو بیقرار لئے پھرتا ہے۔ پھر اس مصروفیت سے وقت نکال کر حرم مکہ میں پہنچتے ہیں۔ سلطان فیصل کے

صفحہ ١٢٧

ساتھ بیٹھتے ہیں۔ عشق رسولؐ اور اعداء اسلام کی کارروائیوں کے باعث دونوں بزرگ اشکبار ہیں۔ شاہ فیصل فرما رہے ہیں کہ یا شیخ میں اپنی سی مساعی تحفظ ختم نبوت کے لئے اور غداران ختم نبوت کی سرکوبی کے لئے وقف کرتا ہوں۔ اس سفر مبارک میں تمام دنیا اسلام کے علماء سے رابطہ قائم کر کے ان کی حکومتوں کو مسئلہ کے حل کے لئے آمادہ فرماتے ہیں۔ تا بحدیکہ مسئلہ اصولی طور پر حل ہو جاتا ہے۔ مرزائی سر کے بل قعر مذلت میں جا گرتے ہیں اور عامتہ المسلمین اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں تب مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے امیر اپنے اللہ کے دربار میں سر بسجود ہیں اور شکر گزار ہیں۔

اس فیصلہ کے فوراً بعد یورپ کا سفر کرتے ہیں۔ ختم نبوت کے دفتر ہڈرسفیلڈ میں کئی دن قیام ہوتا ہے۔ تبلیغ دین کی راہیں متعین کرتے ہیں۔ ہڈرسفیلڈ کا دفتر حضرت مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب نے خرید کیا تھا۔ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ جگہ تبلیغ کے لئے کافی نہیں۔ فوری انتظام وسیع قطعہ اراضی کا ہو کر تعمیر شروع ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کام میں امداد کرنے والوں، اراضی وقف کرنے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اس دورہ سے فارغ ہونے کے بعد تمام عالم اسلام اور افریقی اور سواحلی ممالک میں فیصلہ ٧٤ء کی تشہیر کے لئے تشریف لے جاتے ہیں اور اکثر ممالک میں اس فیصلہ کی روشنی میں مرزائی ارتداد کے متعلق فیصلے کراتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان مساعی جمیلہ کا اجر ان مرحوم کو عطا فرمائے۔

(ہفت روزہ لولاک شیخ بنوری نمبر)

جس دن سے تم بچھڑ گئے یہ حال ہے اپنی آنکھوں کا
جیسے دو بادل ساون کے آپس میں ٹکراتے ہیں (مؤلف)

حکومت اور قادیانیت نوازی

ایوب خان کا زمانہ تھوڑا سا پچھلے زمانے سے بدلا ہوا آیا تو ایوب خان کی اسمبلی میں اعتراف کیا گیا کہ ١٩٥٨ء میں ایوب خان آئے اور کتنے سال رہے۔ ١٩٦٨ء تک دس سال رہا تو ١٩٤٧ء سے ١٩٦٢ء تک جو بجٹ تبلیغ اسلام کے لئے، وزارت مذہبی امور کے لئے جو فنڈز رکھا جاتا تھا اس کا بیشتر حصہ قادیانیت کی تبلیغ کے لئے دے دیا جاتا اور مذہبی تبلیغ کے

صفحہ ١٢٨

لئے جو روپیہ دیا جاتا وہ تمام تر زر مبادلہ کی صورت میں فنڈ بھی پاکستان کا، بجٹ بھی پاکستان کا، اندرون ملک بھی مرزائی استعمال کریں، بیرون ملک بھی اسے مرزائی استعمال کریں۔ یہ یہاں ہوتا رہا اگر ایسا نہ ہوتا تو قادیانی یا قادیانیت اتنا نہ پھیلتی۔

میرے محترم دوستو! قادیانی ١٩٧٤ء میں کافر قرار دیئے گئے اور اس سے پہلے جیلوں میں مسلمان، حوالات میں مسلمان، نظر بند بھی مسلمان ہوئے، مسلمانوں کی ضلع بندیاں، مسلمانوں کی زبان بندیاں، علمائے کرام کی گرفتاریاں، اس زبان بندی اور گرفتاری کے معنی یہ تھے کہ قادیانیت پھیلے اور قادیانیت کے پھیلنے کو روکنے والی زبان کو بند کردیا جائے۔ یہ بہت افسوس ناک قصہ ہے۔

میرے محترم دوستو! ستمبر ١٩٧٤ء میں قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار دیئے گئے۔ اس سے پہلے جولائی میں عالم اسلام کے چوالیس نمائندے سعودی عرب میں جمع ہوئے تھے۔ رابطہ عالم اسلامی کی دعوت پر چوالیس ممالک کے نمائندوں نے قرار داد رکھی کہ تمام اسلامی ملک قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیں۔ یہ اپیل بھی کی گئی کہ اور تمام اسلامی حکومتیں قادیانیوں کا بائیکاٹ کریں۔ جب یہ قرار داد پڑھی گئی تو تین نمائندے حکومت پاکستان کے اجلاس سے اٹھ کر باہر آگئے۔ وہ تینوں قادیانی تھے، یا قادیانی نواز۔ پوری دنیا کے مسلمانوں کے مذہبی معاملات پر غور و فکر کے لئے اجلاس سعودی عربیہ میں ہوا، سعودیہ کے خرچ پر ہوا اور سعودیہ نے رابطہ عالم اسلامی بنائی۔ اس میں جو نمائندے حکومت پاکستان نے بھیجے، تین قادیانی تھے یا قادیانی نواز اور تینوں اٹھ کر باہر آگئے۔

اور میرے محترم دوستو! اس سے چند سال پہلے بیت اللہ شریف کو غسل دیا گیا وہ ہر سال ہوتا ہے اور پاکستان کی نمائندگی ظفر اللہ قادیانی نے کی، جو بدترین قادیانی تھا۔ اتنی بڑی اسلامی حکومت، جب نامزدگی کا وقت آیا تو اتنے بڑے اسلامی ملک کی نمائندگی، بیت اللہ شریف کا جب غلاف بدلنا ہے اور آب زم زم سے، گلاب عرق سے اور عطروں سے اور خوشبودار پانی سے اس کو دھونا ہے، تو اس میں اس طرح پائپ لے کر اس کو دھونے والا جو اس ملک سے گیا وہ ختم نبوت کا منکر تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا ماننے والا تھا۔ نامزدگی اس کی کی گئی اور اس کو وہاں کھڑا کیا گیا۔

(ماہنامہ لولاک، ملتان، جنوری ١٩٩٩ء، تقریر مولانا عزیز الرحمن جالندھری)

صفحہ ١٢٩

ایک مناظرہ جو ہو نہ سکا

ثالثوں نے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دے دیا

تحریر : حضرت مولانا عبدالرحیم ۔۔۔۔۔ شکر گڑھ

ستمبر ١٩٨١ء کے ابتدائی ایام میں موضع کلہ تحصیل شکر گڑھ کے صوفی شکر دین چوہدری بشیر احمد اور ماسٹر عبدالرحمن نے اطلاع دی کہ ہمارے گاؤں کا مقصود احمد مرزائی لوگوں کو ورغلانے اور مرتد بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور مسلمانوں کو مناظرہ کی دعوت دیتا ہے۔ ہمیں اس بات کی بہت فکر ہے لہٰذا اس بارے میں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ راقم الحروف نے ان کو تسلی دی اور کہا کہ بے فکر رہیں۔ انشاء اللہ العزیز مرزائی مذکور کا پورا پورا تعاقب کیا جائے گا۔ وہ میدان میں ٹھہر نہیں سکتا۔ آپ ان کا چیلنج مناظرہ منظور کر لیں اور مناظرہ کے لئے مبادی طے کر لئے جائیں۔ چنانچہ مناظرہ کے موضوع اور شرائط ان کو تحریر کر دیئے جو درج ذیل تھے:

حسب پروگرام گاؤں مذکور کے مسلمانوں کی جانب سے اس مرزائی سے بات ہوئی کہ ہم تمہارے چیلنج کو منظور کرتے ہیں لیکن قبل ازیں شرائط مناظرہ طے کئے جانے از حد ضروری ہیں۔ اس کے بغیر ہم تمہارے سے بات چیت نہیں کریں گے۔ مقصود احمد مرزائی نے کہا کہ شرائط تحریر کر دوں گا لیکن میرے مناظر ربوہ سے آئیں گے اور جو شکست کھا جائے گا، وہ جھوٹا ہوگا۔ اس کی تجویز کو مان لیا گیا اور مناظرہ کے لئے مورخہ ١٨ نومبر ١٩٨١ء بدھ ١٠ بجے دن کا وقت تحریر ہو گیا جو درج ذیل ہے۔

صفحہ ١٣٠

مناظرہ مابین

اہلسنت والجماعت و مرزائی جماعت

تاریخ ١٨؍نومبر ١٩٨١ء بمطابق ٢٠ محرم ١٤٠١ھ بروز بدھ مناظرہ ہو گا۔ وقت: علی الصبح دس بجے بمقام کلہ ڈاک خانہ میرپور تحصیل شکر گڑھ بر مکان ماسٹر منظور احمد۔

ثالث: عبد الغفور و ماسٹر عبد الرحمن کلہ تحصیل شکر گڑھ ‘ ضلع سیالکوٹ۔ صدر صاحبان اپنے اپنے مناظر کو پابند کریں گے۔ گفتگو موضوع کے اندر ہونی چاہئے اور غلط بحث نہیں ہونی چاہئے (بقلم خود مقصود احمد کلہ تحصیل شکر گڑھ ضلع سیالکوٹ)

راقم الحروف نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی دفتر ملتان میں حضرت مولانا محمد شریف جالندھری رحمتہ اللہ علیہ کو خط لکھا اور مبلغین کے انتظام کے لئے عرض کیا مولانا مرحوم نے مبلغین کی ایک جماعت مقررہ تاریخ سے ایک دن قبل بھیجنے کا وعدہ فرمالیا۔ حضرت مولانا قاضی اللہ یار صاحب‘ مولانا عبد الرؤف جتوئی‘ مولانا کریم بخش صاحب مبلغین مرکزیہ دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان معہ کتب کے تشریف لانے کے انتظامات مکمل کر لئے گئے اور لاہور سے حضرت مولانا علامہ خالد محمود صاحب‘ حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب (جامعہ اشرفیہ) نے تشریف لانے کا وعدہ فرمالیا۔

ایک دن قبل ١٧؍نومبر ١٩٨١ء بروز منگل رات کو مکی مسجد چوک بخاری شکر گڑھ میں ”ختم نبوت کانفرنس“ کا اہتمام کیا گیا جس میں علمائے کرام مذکور کے علاوہ علاقہ بھر کے علمائے کرام کو دعوت دی گئی تھی۔ جن میں قابل ذکر حضرت مولانا عبد الحق فاضل دیوبند‘ مولانا نذیر احمد فاضل جامعہ اشرفیہ‘ مولانا محمد نذیر فاضل دیوبند‘ مولانا طالب حسین فاضل دیوبند‘ مولانا فتح علی‘ مولانا عبد اللطیف اور چوہدری خلیل احمد گجرات ہیں۔

صفحہ ١٣١

چنانچہ کانفرنس میں مقررین نے مسئلہ ختم نبوت و کذاب مرزا پر بصیرت افروز تقریریں کیں اور رات قیام شکر گڑھ کیا۔ صبح مورخہ ١٨ نومبر ٨١ء ناشتہ سے فارغ ہو کر ایک پوری بس میں یہ قافلہ سوار ہو کر مقررہ وقت پر موضع کلہ ڈاک خانہ میر پور تحصیل شکر گڑھ میں پہنچ گیا چونکہ اس مناظرہ کی خبر عام ہو چکی تھی اس لئے مختلف علاقوں کے لوگ جوق در جوق شریک ہونے کی غرض سے تشریف لائے تھے۔ اس طرح یہ مناظرہ بھرپور اجتماع کی شکل اختیار کر گیا۔ لوگ اس گفتگو کو سننے کے لئے بے تاب تھے۔

ماسٹر منظور احمد کے مکان (حویلی) پر مناظرہ کا انتظام تھا۔ اہل اسلام مرزائی مبلغین کا انتظار کرتے رہے۔ وقت گزرنے پر مقصود احمد مرزائی کے پاس یکے بعد دیگرے پیغام بھیجے گئے لیکن مرزائی مذکور اور اس کے مبلغ نہ آنے تھے‘ نہ آئے اور راہ فرار اختیار کی۔

ساڑھے گیارہ بجے تک انتظار کے بعد اہل سنت والجماعت کے مبلغین نے طے شدہ مبادی پر پر زور خطاب فرمایا اور خاتم النبیین ﷺ کی سیرت طیبہ‘ اسلام کی حقانیت اور علمائے امت کو خراج عقیدت پیش کیا۔ نیز قادیانیوں کے مذموم عزائم سے حاضرین کو آگاہ کیا۔

آخر میں ہر دو جانب سے مقرر ثالث صاحبان نے تحریری فیصلہ سنا دیا‘ جو حسب ذیل ہے:

فیصلہ ثالث صاحبان

بہ سلسلہ مناظرہ مابین

اہل اسلام و مرزائی جماعت

١٠-٩-٨١ کو مقصود احمد قادیانی موضع کلہ تحصیل شکر گڑھ ضلع سیالکوٹ نے تجویز مناظرہ پر دستخط کئے تھے کہ ١٨ نومبر ١٩٨١ء بروز بدھ ١٠ بجے صبح بمقام کلہ ڈاک خانہ میر پور تحصیل شکر گڑھ ماسٹر منظور احمد صاحب کے مکان پر مندرجہ ذیل موضوعات پر مناظرہ ہوگا۔

اس تحریر میں ہمیں (عبد الغفور‘ ماسٹر عبد الرحمن کو) بالاتفاق ثالث تسلیم کیا گیا۔

ہم ثالثان مناظرہ آج ١٨ نومبر ١٩٨١ء ساڑھے نو بجے مکان مذکورہ پر حاضر ہوئے۔

علماء اسلام کی طرف سے حضرت علامہ خالد محمود صاحب سیالکوٹی‘ مولانا قاضی اللہ یار صاحب‘ مولانا کریم بخش صاحب‘ مولانا عبد الرؤف صاحب مرکزی مبلغین تحفظ ختم نبوت‘

صفحہ ١٣٢

مولانا عبدالرحمن صاحب جامعہ اشرفیہ لاہور، مولانا نذیر احمد صاحب سنگتھروی، مولانا محمد نذیر سکھرڈیانوالی، مولانا عبدالحق ظفروال، مولانا طالب حسین مقام مناظرہ پر پونے دس بجے پہنچ گئے۔ ہم ساڑھے گیارہ بجے تک قادیانی مناظرین کا انتظار کرتے رہے۔ مقصود احمد مذکور نے کہہ رکھا تھا کہ ربوہ سے ان کے مناظرین آئیں گے، لیکن افسوس کہ اس طویل انتظار کے باوجود وہ نہیں آئے لہٰذا ہم بطور ثالث مرزائی جماعت کی کھلی شکست اور علمائے اسلام کی عظیم فتح کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم یہ بھی تحریر کرتے ہیں کہ مقصود احمد مذکور نے ١٠-٩-٨١ کی تحریر پر دستخط کرتے وقت کوئی شرط نہ لگائی تھی۔ لہٰذا بعد کی کسی بات کا اعتبار نہیں۔ مرزائی جماعت کا مناظرہ سے فرار بالکل واضح ہے۔

یہ تحریر لکھ دی ہے تاکہ سند رہے۔ چوہدری محمد یوسف (صدر منجانب مرزائی جماعت) چوہدری محمد لطیف (نمبردار دیہہ مذکورہ) گواہ ماسٹر عبدالرحمن (ثالث منجانب فریقین)

اختتام پر دعائے خیر کی گئی اور نماز ظہر جامع مسجد موضع کلہ میں ادا کی۔ بعد میں ماسٹر عبدالرحمن اور ان کے ساتھیوں نے قافلہ اسلام کو ظہرانہ دیا اور یہ قافلہ واپس شکرگڑھ پہنچ گیا۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ٥ شمارہ ٣١، جنوری ١٩٨٧ء)

قاضی احسان احمد شجاع آبادی کے

آخری لمحات

قاضی صاحب پندرہ روز سے بے ہوش تھے اگر کبھی ہوش میں آتے بھی تو احباب اور عقیدت مندوں کو پہچان نہ سکتے اور نہ ہی گفتگو کر سکتے تھے۔ موت سے صرف چند منٹ پہلے انہیں ہوش آگیا۔ اپنی چارپائی پر اٹھ کر بیٹھ گئے۔ تمام گھر والوں اور احباب کو اکٹھا

صفحہ ١٣٣

کیا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ صحت مند ہو گئے ہیں۔ ان کا مرض ختم ہو گیا ہے۔ اس موقعہ پر آپ کے داماد مولانا نور الحق قریشی‘ قاضی عبد اللطیف‘ مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے مبلغ مولوی منظور احمد اور گھر کے دوسرے افراد موجود تھے۔ قاضی صاحب نے سب کو اکٹھا کرکے انگشت شہادت سے اشارہ کیا وہ دیکھو‘ جنت الفردوس کا دروازہ کھلا ہے اور اللہ تعالیٰ مجھے بلا رہے ہیں۔ تم دیکھ سکتے ہو تو دیکھ لو ورنہ مجھ پر اعتبار کرو۔ فرشتے جنت کے دروازے پر میرے منتظر ہیں۔ مجھے ہنسی خوشی رخصت کرو ۔۔۔۔۔ اور پھر کلمہ شہادت ”اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ“ پڑھا اور آہستہ آہستہ چارپائی پر لیٹ گئے۔ آنکھیں بند ہوتی گئیں اور کلمہ شہادت کا ورد کرتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملے۔

ہفت روزہ چٹان‘ لاہور‘ ٢ دسمبر ١٩٦٦ء

میں ساغر ہوں میری قیمت کا اندازہ تبھی ہوگا
مری تربت پہ جب آنسو بہانے آئے گی دنیا (مؤلف)

میں نے مرزا قادیانی کو چوہڑے کی شکل میں دیکھا

راوی : صوفی غلام موسیٰ ۔۔۔۔۔ تحریر : کشور ظفر اقبال بجوکہ ۔۔۔۔۔ خوشاب کبھی خوشاب جانے کا اتفاق ہو تو خوشاب سے ٦٥ کلو میٹر کے فاصلے پر مظفر گڑھ روڈ پر بجوکہ سٹاپ ہے۔ یہاں اتر کر سیدھا مشرق کی طرف چلیں۔ ایک کلو میٹر چلنے کے بعد چھوٹا سا گاؤں آئے گا۔ جسے ”ڈیرہ اللہ یار“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس جگہ ایک بلند پایہ بزرگ رہتے ہیں جن کا نام ”صوفی غلام موسیٰ“ ہے۔ عمر ٧٢ برس ہے۔ یہ علاقہ ضلع خوشاب تحصیل نور پور کی آخری حدود پر واقع ہے۔ موسم گرما میں یہاں موسم گرم اور سردی میں سرد رہتا ہے۔ یہ ریگستانی علاقہ ہے۔

یہ بزرگ راقم الحروف کے چچا ہیں۔ پچھلے دنوں میں ان کے ہاں گیا۔ انہوں نے اپنا ایک خواب سنایا جو میں ہو بہو تحریر کر رہا ہوں۔ میرے چچا کچھ اس طرح اپنی روداد سناتے ہیں۔

صفحہ ١٣٤

اس وقت میری عمر تقریباً چودہ پندرہ برس ہو گی۔ ہمارے محلے میں مرزائی رہتے تھے۔ ان مرزائیوں کا رہبر ”مولوی غلام رسول“ تھا۔ قادیانی یہاں تب بھی کثیر تعداد میں رہتے تھے۔

ایک دن مجھے خیال آیا کہ شاید مرزاغلام احمد سچا ہو اور میری عاقبت خراب ہو جائے جبکہ میرے والد پکے سنی تھے۔ والد کی طرف سے یہ خطرہ لاحق تھا کہ اگر ان کو معلوم ہوا کہ میں مرزا غلام احمد کے بارے میں یہ خیال رکھتا ہوں تو میرے ساتھ پہلے وہ تین کام کریں گے۔

میں نے سوچا کہ پہلے میں مرزا کی کتابوں کا مطالعہ کروں گا۔ پھر اگر مرزا سچا ہوا تو میں گھر سے خود ہی نکل جاؤں گا۔ رشتہ داروں کو چھوڑ دوں گا۔ جلاوطن ہو جاؤں گا کیونکہ مجھ میں سچ کی طلب تھی۔

ایک دن سوچ سمجھ کر میں مولوی غلام رسول سے ملا۔ اسے علیحدہ بلا کر ساری بات سمجھائی اور کہا کہ اس بات کا میرے گھر والوں کو پتہ نہ چلے۔ اس نے اس بات کی حامی بھر لی اور بہت خوش ہوا۔ میرے خیال میں اس نے سوچا ہو گا کہ فلاں آدمی کا لڑکا --- قادیانی ہو جائے تو ہمارے لئے سب دروازے کھل جائیں گے۔ اس نے مجھے خفیہ طور پر کتابیں دینی شروع کر دیں اور میں نے مطالعہ شروع کر دیا چونکہ میں ناسمجھ اور ناتجربہ کار تھا۔ اس لئے جس بات کی سمجھ نہ آتی‘ میں مولوی غلام رسول سے پوچھتا وہ مجھے الٹا پلٹا کچھ اور ہی بتاتا اور میں مطمئن ہو جاتا۔ اسی طرح دو سال کا عرصہ گزر گیا۔ میں مسلسل کتابیں پڑھتا رہا مگر میری سمجھ میں نہ آیا۔ میں سوچتا کہ مرزائی ہو جاؤں‘ پھر کہتا کہ اتنے ولی اور بزرگ ہیں‘ یہ مرزا کو کافر کہتے ہیں۔ آخر کیا بات ہے۔

میں اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ آٹھویں جماعت کے امتحان سر پر آگئے۔ میں ان دنوں نماز پڑھتا تھا اور دعا کرتا کہ رب العزت مجھے سیدھا راستہ دکھا۔ مگر مجھے اپنی دعا کا اثر معلوم نہیں ہو رہا تھا۔

صفحہ ١٣٥

ان دنوں میں اور میرے کچھ ساتھی ساہیوال ضلع سرگودھا میں پڑھتے تھے۔ ایک دن ہم اسکول سے مکان پر آئے۔ اس دن میں بہت بے چین تھا۔ اسی دن عشاء کے وقت جب سب لڑکے سو گئے۔ میں اٹھا اور ساتھ ہی کھوہ (کنواں) تھا۔ میں اس پر گیا۔ وضو کیا اور ساتھ ہی ایک چھوٹی سی مسجد تھی۔ وہاں نماز ادا کرنے لگا۔ بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کی۔ نماز ادا کرنے کے بعد میں نے یہ دعا مانگی:

”میرے مالک! تو میرے دل کو خوب سمجھتا ہے۔ میں اتنا چھوٹا ہوں مگر مجھے معلوم نہیں کہ میں سوچتا کیا ہوں اور ہوتا کیا ہے۔ مجھے سچ چاہیے‘ یا اللہ! مجھے سیدھا راستہ دکھا۔ میں آپ کا بندہ ہوں۔ مرزا غلام احمد کے بارے میں مجھے ایسی خبر سے آگاہ فرما تا کہ آئندہ کسی اور سے مجھے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔“

احساس محرومی اور شدت جذبات نے میرے دل کو پگھلا دیا اور بلا ارادہ آنکھوں سے آنسوؤں کے چند قطرے ٹپک پڑے اور پر نم آنکھوں سے سو گیا۔ رات کو تقریباً ایک یا دو بجے کا وقت ہوگا۔ مجھے ایک خواب دکھائی دیا۔

میں دیکھتا ہوں کہ ”میں کھڑا ہوں‘ میرے سامنے بہت وسیع و عریض میدان ہے۔ میرا رخ شمال کی جانب ہے۔ میں نے سیدھا شمال کی طرف چلنا شروع کیا۔ ابھی زیادہ دیر چلتے نہیں ہوئی تھی کہ مجھے بہت ہی خوبصورت باغ نظر آیا۔ ایسا باغ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ باغ کے ارد گرد چار دیواری ہے۔ میں سمجھا کہ اس کے اندر شیشم کے درخت ہیں۔ درخت کچھ اس ترتیب سے تھے۔

پہلے درختوں کی ایک قطار شروع ہوئی‘ ان کی چوٹیاں ایسی ہیں جیسے ہاتھ سے تراش کر برابر کی گئی ہوں۔ پھر دوسری قطار شروع ہوئی۔ ان کی چوٹیاں بھی برابر ہیں مگر وہ پہلی قطار سے آدھا فٹ اونچی تھیں۔

تیسری لائن بھی اسی طرح دوسری قطار کے برابر آدھا فٹ اونچی ہے۔ میں نے باغ کی طرف چلنا شروع کیا اب میں باغ کے بالکل قریب پہنچ گیا۔ میں نے درختوں کو دیکھا۔ درخت شیشم کے نہیں تھے بلکہ یہ درخت میں نے پہلی دفعہ دیکھے تھے۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا کوئی دروازہ نہیں تھا اور نہ ہی کوئی آدمی نظر آرہا تھا۔ البتہ چار دیواری کے اندر آدمیوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ میں نے چار دیواری کے ساتھ مشرق کی طرف چلنا

صفحہ ١٣٦

شروع کیا کہ شاید دروازہ مل جائے یا کوئی آدمی نظر آجائے اور معلوم ہو کہ چار دیواری کے اندر کون لوگ ہیں اور یہ کیسا باغ ہے۔

چلتے چلتے مشرق کی آخری حدود پر پہنچ گیا۔ یعنی یہاں چار دیواری ختم ہو گئی پھر میں نے شمال کی جانب چلنا شروع کیا۔ کچھ دیر چلنے کے بعد مجھے ایک آدمی نظر آیا۔ جس کے ہاتھ میں جھاڑو ہے۔ میں بہت خوش ہوا کہ اب خاکروب مل گیا ہے۔ سب حالات کا پتہ چل جائے گا۔ میں اس کے قریب گیا وہ آدمی ذرا اس حالت میں کھڑا تھا۔

بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھا ہوا ہے اور دائیں ہاتھ میں جھاڑو ہے، کمر آگے کی طرف جھکی ہوئی ہے۔ اس کی پیٹھ باغ کی طرف ہے اور بالکل ساکت کھڑا ہے۔ میں اور قریب گیا۔ ہمارے درمیان تقریباً تین چار فٹ کا فاصلہ ہو گا۔ میں نے باغ کی طرف اشارہ کیا اور کہا:

"اے کی ہے۔" حالانکہ یہ ہماری زبان نہیں تھی۔ ہماری زبان یہ تھی "ایمہ کی ہے۔" جسے اردو میں کہتے ہیں "یہ کیا ہے۔"

اس آدمی نے کوئی حرکت نہیں کی اور کہا: "یہ جنت ہے۔"

میں یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ میری خوشی کی انتہا نہ تھی۔ خوشی سے میرا جگر پھٹ رہا تھا۔

پھر میں نے سوال کیا کہ: "اندر کون لوگ ہیں۔"

اس آدمی نے جواب دیا: "رسول کریم ﷺ کی کچہری لگی ہوئی ہے اور لوگ ملاقات کر رہے ہیں۔"

اس آدمی نے میری طرف صرف اپنا چہرہ کیا باقی جسم ساکت رہا اور مجھے غور سے دیکھا، میں نے بھی غور سے دیکھا۔ اس آدمی کی شکل بالکل واضح تھی۔ اس آدمی نے کہا:

"تو مجھے نہیں جانتا۔"

میں نے کہا: "نہیں جانتا۔"

اس نے وہیں کھڑے کھڑے کہا:

"میں مرزا غلام احمد قادیانی ہوں۔ میں نے دعوائے نبوت کیا حالانکہ میں نبی نہیں تھا۔ اب مجھے جنت میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔"

صفحہ ١٣٧

یہ سن کر میں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر رکھے اور زور سے کہا ”اللہ۔“ اور دونوں بازو زور سے باہر کو اٹھائے۔ اس جھٹکے سے میں بیدار ہو گیا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ خواب ہے یا حقیقت ہے۔ پھر میں بستر سے باہر آیا اور خدا کا لاکھ لاکھ شکر بجالایا۔

دوسرے دن میں گھر آیا۔ مرزا کی ساری کتابیں اٹھا کر مولوی غلام رسول کے گھر پھینکیں اور اپنا خواب سنایا۔

اس نے کہا ”نہیں وہ شیطان تھا۔ ویسے ہی تمہیں کوئی خیال آیا ہے۔ میں نے کہا کہ اگر وہ نبی تھا تو شیطان نبی کی شکل بن کر نہیں آسکتا۔ اس نے ہوں ہاں کی مگر میں گھر واپس آ گیا۔ والدین کو سارا واقعہ سنایا‘ وہ بہت خوش ہوئے۔

قادیانیو! سوچو‘ تم کس آگ میں جل رہے ہو۔ تمہیں کب ہوش آئے گی۔ اے مرتدو! تم اس جہان میں بھی ذلیل و رسوا ہو رہے ہو اور اگلے جہان میں بھی جہنم میں جاؤ گے۔ آخر تم کب عبرت پکڑو گے۔ یہ خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے اور میں تمام گستاخان رسولؐ سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ۔۔۔۔۔۔ مرزا لعنتی کو چھوڑ کر دامن مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھام لیں۔ اسی میں تمہاری نجات ہے‘ ورنہ بھڑکتی آگ میں ڈالے جاؤ گے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت‘ جلد ٧‘ شمارہ ٣٠)

مولانا تاج محمود کی اخلاقی عظمت

مولانا نہایت درجہ رقیق القلب اور حساس تھے۔ ایک کانفرنس میں اس کا مظاہرہ بھی دیکھنے میں آیا۔ جب مولانا مرحوم نے مولانا اسلم قریشی کے فرزند عزیزی حبیب اسلم قریشی کو اسٹیج پر کھڑا کیا تو ان کی چیخیں نکل گئیں اور ان کے لئے لفظوں میں ادائیگی مشکل ہو گئی۔ اس طرح میری تقریر کے بعد جب مجھے گھماتے پھراتے دوسری جانب بنے کمروں میں پہنچے تو وہاں اپنے مبلغین کی کسی حرکت سے کبیدہ و رنجیدہ ہوئے کہ غصے میں کانپنے لگ گئے۔ دفتر والے کمرے میں مولانا عبد القادر آزاد اور کچھ دیگر علماء فروکش تھے۔ مولانا غصے میں بول رہے تھے کہ اسٹیج سیکرٹری نے مولانا مفتی مختار احمد صاحب نعیمی کو رات کے اجلاس

صفحہ ١٣٨

کی صدارت کے لئے پکارا۔ مولانا کے نزدیک اسٹیج سیکرٹری کے الفاظ مفتی صاحب کے شایان شان نہیں تھے۔

مولانا کا غصہ مزید بڑھ گیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے بارے میں نہایت سخت زبان استعمال کی اور کہا کہ اسے کیا پتہ حضرت مفتی صاحب کا مقام کیا ہے۔ ان کا مقام کوئی ہم سے پوچھے ۔ یہ مفتی مختار احمد ہی تھے، جنہوں نے سیالکوٹ میں ہمارے ساتھ تعاون کیا۔ میں خود اسٹیج پر جا کر اس کی تلافی کروں گا۔ مولانا کے چہرے کی رنگت متغیر اور غصہ حدود پھلانگ رہا تھا۔ وہاں مولانا عبدالقادر آزاد نے نہایت نرمی سے کہا ’مولانا آپ کو پہلے ہی دل کی تکلیف ہے، اتنا غصہ نہ کیا کریں۔‘ مولانا آزاد نے نہایت ملائمت سے مولانا کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی لیکن مولانا یکلخت اٹھ کر باہر چلے گئے۔

مولانا اللہ وسایا کو ڈھونڈا چنانچہ اسٹیج پر مفتی صاحب کے مقام و مرتبے کے مطابق ان کا تعارف کرایا گیا۔ تب کہیں جا کر مولانا کی حالت سکون میں بدلی۔ مولانا مرحوم میں کیا کیا خوبیاں تھیں، خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ نہایت مصروفیت میں بھی ان کا ذہن چھوٹی چھوٹی باتوں کو سامنے رکھتا تھا۔ میں سیالکوٹ سے اپنے قافلے کے ہمراہ گیا تھا۔ لیکن ربوہ کی سر زمین پر کھلے آسمان کے نیچے جو ٹینٹ لگے تھے۔ میرے لئے وہاں شب بسری اذیت رساں تھی۔ مولانا کو معلوم تھا میں گردے کا مریض ہوں، کہنے لگے ،تم میرے ساتھ فیصل آباد چلو گے۔ مولانا کا کانفرنس میں اس درجہ انہماک تھا کہ اپنی علالت اور سخت سردی کے باوجود بہت دیر تک سٹیج پر بیٹھے رہے۔ کمبل پاس نہ ہونے کے باعث ان کے جسم پر کپکپی کی کیفیت تھی۔ مگر وہ اس شان بے نیازی سے کارروائی سن رہے تھے کہ گویا سردی کا کہیں پتہ نشان ہی نہیں تھا۔ جب اجلاس اختتامی مراحل میں داخل ہو گیا تو از خود اٹھ گئے اور پھر مجھے ہمراہ لئے گاڑی تک پہنچے اور قیام شب کے لئے فیصل آباد گئے۔ مولانا کا مکان مہمان خانے کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ بیٹھک کے ایک کونے میں خالی جگہ تھی۔ بچے سو رہے تھے۔ خود میری چارپائی اور بستر کا اہتمام کرنے میں لگ گئے۔ مجھے بڑی شرم آئی۔ میں نے کہا ،مولانا یہ آپ کیا غضب کرتے ہیں۔ بہر صورت میں نے اپنی چارپائی بچھائی۔ بستر لگا کر مولانا نے گھوم پھر کر اپنے مہمانوں کا جائزہ لیا اور جب انہیں اطمینان ہو گیا کہ سب ٹھیک ہے تو اندرون خانہ تشریف لے گئے۔ میرے لئے یہ بات ایک خوشگوار حیرت سے کم نہ تھی کہ علی الصبح سب

صفحہ ١٣٩

سے پہلے کمرے میں جن قدموں کی آواز سنائی دی۔ وہ مولانا تاج محمود کے قدم تھے۔ اس وقت جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں، مولانا کی انسان دوستی اور مہمانداری کا جذبہ یاد کر کے میری آنکھیں بھیگ رہی ہیں۔ دوسروں کی آسائش کے لئے اپنے آرام کو تج دینا بڑے دل گردے کا کام ہے اور پھر جب یہ سب کچھ للہ فی اللہ ہو تو اس کی قدر و قیمت اور بڑھ جاتی ہے۔ اب بیٹھک کا یہ نقشہ تھا کہ ایک بستر سے مولانا عبدالحکیم سابق ایم این اے اٹھ رہے تھے، دوسرے بستر پر ایک اور مولانا تھے، تیسری چارپائی میری تھی۔ نماز سے فراغت ہوئی۔ سپیدہ سحر کچھ مزید نکھرا تو مولانا چائے کے ساتھ آگئے۔ چائے کے بعد ناشتہ آگیا۔ ناشتے کے بعد پھر چائے آگئی۔ ساتھ ہی ساتھ مولانا چھوٹے چھوٹے فقرے کہتے جاتے۔ ان کے چہرے کی بشاشت دیکھ کر انداز ہوتا تھا کہ مہمانوں کی خاطر داری سے انہیں نہایت درجہ کیف اور سرور مل رہا ہے۔

جب مجلس تحفظ ختم نبوت نے ١٠ جون ١٩٨٣ء کو مولانا اسلم قریشی کی بازیابی کے لئے ”یوم دعا“ کا فیصلہ کیا تو مولانا محمد شریف جالندھری اس پروگرام کو طے کرنے سیالکوٹ تشریف لائے۔ ڈار پلازہ میں جہاں مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کا دفتر ہے، مجلس عمل کا اجلاس ہوا۔ ارباب مجلس نے حالات کا عذر رکھ کر پہلو تہی کی۔ مولانا نے فرمایا ”آپ اپنا انکار مجھے لکھ کر دے دیں۔ جناب پیر بشیر احمد صدر مجلس عمل اور حافظ محمد صادق نے دستخط کر دیئے۔ مولانا نے فرمایا ”نعیم آسی بھی دستخط کریں۔ ان کے دستخطوں کے بغیر مولانا تاج محمود نہیں مانیں گے۔ مجبوراً مجھے بھی دستخط کرنا پڑے۔ جب مولانا کو اس جواب کا علم ہوا تو وہ ٹیلی فون پر سخت خفا ہوئے۔ میں نے کہا ”مولانا آپ کہتے ہیں، یہ ہمارا فیصلہ ہے، سیالکوٹ کی مجلس اسے تبدیل نہیں کر سکتی۔ جب کہ مولانا شریف جالندھری نے اس فیصلے کو جس طرح پیش کیا، وہ تجویز کا انداز تھا۔“ مولانا نے کہا ”نہیں یہ فیصلہ ہے اور آپ لوگوں کو اس پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔ میں نے کہا، اچھا ابھی دوستوں سے مشورہ کرتا ہوں۔“ جماعت اسلامی کے بریگیڈیئر نثار احمد قریشی مجلس عمل کے رکن اور نہایت زیرک انسان ہیں۔ ان سے بات ہوئی۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر یہ مرکز کا فیصلہ ہے تو ہمیں اسے بدلنے کا کوئی اختیار نہیں۔ جس طرح وہ کہتے ہیں، اسی طرح کرنا چاہئے۔

اس کے بعد باقی ارباب مجلس سے بات ہوئی۔ اور یوں یہ پروگرام طے پا گیا۔ ادھر

صفحہ ١٤٠

”یوم دعا“ کا اعلان ہوا۔ ادھر حالات پلٹا کھانے لگے۔ ٣٠ مئی کو کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن مسٹر جی۔ ایم پراچہ نے مجھے فون پر ملاقات کی دعوت دی۔ میں نے مولانا تاج محمود سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ مولانا نے کہا، وہ ”یوم دعا“ کو نرم کرنا چاہتے ہیں۔ مقامی مجلس سے مشورہ و اجازت کے بعد میں اپنے دوست جناب چوہدری عبدالواحد ایڈووکیٹ کے ہمراہ پراچہ صاحب سے ملا۔ مجھے یہ جان کر سخت صدمہ ہوا کہ وہ کھلم کھلا قادیانیوں کا دفاع کر رہے تھے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ قادیانی اقلیت میں ہیں اور وہ اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ وہ یہ اغوا کیسے کر سکتے ہیں۔ وہ اس قسم کی حرکت کے نتائج اچھی طرح جانتے ہیں۔“ میں نے کہا ”آپ جن لوگوں کی طرفداری کر رہے ہیں، کیا آپ نے ان کی تاریخ پڑھی ہے؟ میں نے محمد حسین کے قتل سے لے کر نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ کی داستان کہہ سنائی۔ پراچہ صاحب کو جب لینے کے دینے پڑ گئے تو کہا ”ربوہ ریلوے سٹیشن پر لڑکوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کے ذمہ دار وہ خود تھے، انہوں نے سرگودھا جاتے ہوئے ربوہ ریلوے سٹیشن پر بے ہودگی کی اور کہا کہ تمہاری حوریں کہاں ہیں؟“ قادیانی اس سے مشتعل ہوئے اور انہوں نے واپسی پر انتقام لیا اور یہ بالکل غلط ہے کہ ان لڑکوں کی زبانیں کاٹی گئیں، وہ بکروں کی زبانیں تھیں، جنہیں خون لگا کر رکھا گیا تاکہ عوام میں اشتعال پیدا ہو۔ میں خود ان دنوں فیصل آباد میں تھا اور یہ میری ذاتی معلومات ہیں۔ میں نے کہا ”پراچہ صاحب! ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ قادیانیوں نے اسلم قریشی کو انتقاماً اغوا کیا ہے۔ اسلم قریشی نے ان کے عقیدے کے مطابق خاندان نبوت کے چشم و چراغ ایم ایم احمد پر قاتلانہ حملہ کیا ہے۔ موقع ملنے پر اس کے اعادے کی بات اور اغوا ہونے تک ان کے خلاف سرگرم عمل رہا۔ قادیانیوں نے اس سے بدلہ لے کر حساب برابر کیا ہے۔ آپ کا استدلال خود آپ کے خلاف جاتا ہے اور ہمارے موقف کی تائید کرتا ہے۔“ اس گرما گرمی میں کمشنر ١٠ جون ”یوم دعا“ کو نرم کرنے کی تدبیر کیا کرتے، ان کی غیر محتاط اور جانبدارانہ گفتگو نے ہمارے زخموں پر اور نمک چھڑک دیا اور ہم اس پروگرام کو کامیاب بنانے پر تل گئے۔

مولانا مفتی مختار احمد کی مسجد انتظامیہ نے ہمیں اپنے ہاں جلسہ کرنے کی اجازت دے دی۔ ادھر یہ ہو رہا تھا، ادھر در پردہ نہ جانے کہاں کہاں سے تار ہل رہے تھے۔ ٦ جون کو جماعت اسلامی کے بریگیڈیئر نثار احمد قریشی نے مجلس عمل سے استعفیٰ دے دیا۔ ادھر ایم

صفحہ ١٤١

آر ڈی کے عبدالرشید نے ”مجلس عمل“ کے پروگرام کو ”جمیعۃ علماء اسلام“ کا پروگرام قرار دے کر اس میں ایم آر ڈی کی شرکت کا اعلان کر دیا۔ عین ایک روز پہلے مسجد ڈونگا باغ کی انتظامیہ نے اجازت دینے سے تحریراً انکار کر دیا۔ مولانا احترام الحق تھانوی سیالکوٹ آ پہنچے، ٹکا خان کی آمد کی خبریں اڑنے لگیں۔ کارکنوں اور مقامی رہنماؤں کے لیے 9 اور 10 کی درمیانی رات بڑی پریشانی اور بے قراری اپنے ساتھ لائی۔

مولانا خان محمد اور مولانا محمد شریف جالندھری نے رات مصلے پر گزاری۔ دن نکلنے پر معاملات کی ڈور سلجھنے لگی۔ جمعہ سے پہلے مولانا تاج محمود فیصل آباد سے مولانا فضل رسول کے ہمراہ آن پہنچے۔ سب نے جامع مسجد ڈونگا باغ میں نماز جمعہ ادا کی۔ مولانا مفتی مختار احمد نے تقریر کی۔ مسجد انتظامیہ قطعی طور پر اس حق میں نہ تھی کہ حضرت مفتی صاحب کے علاوہ کسی کی تقریر ہو۔ خدا مولانا فضل رسول کو تادیر سلامت رکھے۔ وہ اس آڑے وقت میں بہت کام آئے، انہوں نے مفتی صاحب سے بات کی اور یوں بعد از جمعہ مولانا تاج محمود نے مجلس عمل اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک پرجوش مگر نہایت مدلل تقریر کی۔ مولانا بولتے ہوئے جذبات کی معراج پر تھے۔ مولانا کی یہ تقریر مجھے کبھی نہ بھولے گی۔ مولانا شدید غصے کے عالم میں بھی نہایت وقار کے ساتھ بول رہے تھے۔

”عزیزم طلعت محمود! مجھے تم سے صرف یہ گلہ ہے کہ تم نے اسلم قریشی کی پیروی کے لئے آنے والے علماء پر پابندیاں لگا کر اچھا نہیں کیا۔ اسلم قریشی کسی کا نہیں، وہ ہم سب کا ہے۔ پورا ملک اس کا وارث ہے“۔

مولانا نے جب پولیس تفتیش اور حکومت کی بے حسی کو ہدف بنایا تو لوگوں کا غیظ و غضب دیدنی تھا اور اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مرحلے پر ایک نوجوان نے بڑے جذبات کے ساتھ نعرہ لگایا ”محکمہ پولیس ختم کرو۔“ اسی طرح ایک موقع پر نعرہ لگا ”ضیاء الحق کو گرفتار کرو۔“ اور ایسا کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہ تھا۔ یہ مولانا کی تقریر کا کرشمہ اور لوگوں کے جذبات تھے۔ دراصل عوام کے جذبات کو زبان مل گئی تھی۔ مولانا نے تقریر سے پہلے مجھے حکم دیا کہ تم قرار داد لکھو اور اس میں لکھ دو کہ اگر حکومت نے رمضان کے اندر اندر اسلم قریشی کو برآمد نہ کیا تو ہم یہ کیس دیگر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے سپرد کر دیں گے۔ میں نے جلدی جلدی یہ قرار داد لکھ کر پیش کی۔ مولانا پڑھ کر بہت

صفحہ ١٤٢

خوش ہوئے۔ پھر صاحبزادہ فضل رسول کو دکھائی۔ تقریر کے اختتام پر مولانا نے یہ قرارداد پڑھی۔ تائید کا قرعہ میرے نام پڑا۔ مجھے اپنے یہ الفاظ آج بھی یاد ہیں کہ ”میں ختم نبوت کے اس بوڑھے جرنیل کے حرف حرف کی تائید کرتا ہوں ۔“ مجمع نے بے پناہ جوش و جذبے سے اسے منظور کیا۔ مولانا کو اسلم قریشی اور ان کے بچوں کے ساتھ ایسا انس ہو گیا تھا کہ جب مولانا مفتی مختار احمد نے اسلم قریشی کے بچوں کے لئے چندے کی اپیل کی تو مولانا مرحوم نے بڑے جذبے سے پانچ سو روپے چندہ جمع کرایا۔

(ہفت روزہ ’لولاک‘ فیصل آباد‘ مولانا تاج محمود نمبر ٤٩ تا ٥١‘ از نعیم آسی)

اقبال۔۔۔۔اور۔۔۔۔قادیانیت

پروفیسر شفیق احمد‘ صدر شعبہ اردو و اقبالیات‘ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور

”پارسال ایک کتاب ”اقبال اور احمدیت“ منظر عام پر آئی ہے۔ کتاب کے مؤلف شیخ عبد الماجد نے اس ضخیم تالیف میں فرزند اقبال جسٹس (ر) جاوید اقبال کی کتاب ”زندہ رود“ کے بعض ابواب‘ عناوین اور مندرجات کی صحت کو چیلنج کیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ علامہ اقبال علیہ الرحمتہ کے قلم سے قادیانیت کے متعلق جو معرکہ آراء مقالات‘ مکاتیب‘ بیانات اور اشعار رقم ہوئے اور جن کی اشاعت سے ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کو قادیانی نبوت کے مکروہ عزائم اور مذموم مقاصد کو جاننے کا موقعہ ملا۔۔۔۔۔ یہ سب کچھ اقبال کی ملی غیرت‘ دینی حمیت‘ ایمانی فراست اور اعتقادی بصیرت کا ہرگز آئینہ دار نہیں بلکہ اقبال نے یہ سب کچھ ذاتی اغراض اور سیاسی مفادات کے پیش نظر لکھا اور دراصل انہیں قادیانیت کے خلاف ”مجلس احرار اسلام“ نے استعمال کیا۔ زیر بحث کتاب کے قادیانی مولف نے جو کچھ لکھا‘ یقیناً اسے یہی لکھنا چاہیے تھا لیکن حیرت ہے کہ اس کے جواب میں نہ جاوید اقبال نے زبان کھولی نہ کسی اور سرکاری یا غیر سرکاری اقبالی نے۔ زیر نظر مضمون اس سلسلے میں اولین جوابی تحریر ہے۔

صفحہ ١٤٣

یہ عجیب اور حیرت انگیز اتفاق ہے کہ بیسویں صدی کے نصف اول میں برصغیر پاک و ہند کے میدان ادبیات و سیاست کے افق پر تین عظیم شخصیات نمایاں ہوئیں اور تینوں کے بڑے بھائی قادیانی تھے۔ لیکن مولانا محمد علی جوہر اس اعتبار سے خوش قسمت ثابت ہوئے کہ ان کا انتقال ١٩٣١ء میں ہو گیا۔ پھر ان کا انتقال انگلستان اور تدفین فلسطین میں ہوئی۔ نیز مسلمانان برصغیر پر ان کے اثرات تحریک خلافت کے استثناء سے زیادہ گہرے نہیں پڑے۔ اسی طرح ابوالکلام آزاد ایک زمانے میں مسلمانان پاک و ہند کی آنکھوں کا تارا ضرور بنے رہے لیکن آل انڈیا کانگرس سے وابستگی اور مسلم لیگ کی مخالفت و تحریک پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے سبب قبول عام حاصل کرنے کی بجائے ناپسندیدگی کا نشان بن گئے۔ یوں ان دونوں شخصیات کو کسی جماعت یا گروہ سے وابستہ ظاہر کرنے میں کوئی فائدہ نہیں تھا۔ غالباً اسی لئے اس طرح کی کوششیں بھی نہیں کی گئیں۔ لیکن علامہ اقبال اپنے شعری، فکری اور سیاسی کارناموں کے باعث جتنے مقبول اپنی زندگی میں تھے، وفات کے بعد اس سے کہیں زیادہ ہو گئے۔ پھر یہی نہیں بلکہ وہ پاکستان و ہند کی تحدیدات سے نکل کر ممدوح عالم کے مرتبے پر فائز ہوگئے اور جیسے جیسے وقت گزرتا رہا ہے، ویسے ویسے اقبال کے قدر دانوں کا حلقہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے لیکن اقبال کے لئے یہ قبول عام جس قدر باعث اعزاز ہو سکتا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ مصیبت خیز ہو گیا ہے۔ اس لئے کہ یار لوگ ان کی فکر کو سمجھے بغیر اور ان کے پیغام کی طرف سے آنکھیں بند کر کے ان کے استحصال میں لگ گئے۔

ہمارے ملک میں ہر طبقہ، ہر جماعت اور ہر گروہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے اقبال کو ذریعہ بنانے میں لگا ہوا ہے اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ متصادم نظریات و خیالات کے حامل لوگ بھی اپنے اپنے نقطہ نظر کے لئے سند کے طور پر اقبال ہی کو تختہ مشق بناتے ہیں مثلاً ایک زمانے میں سرمایہ داری نظام کے حامی:

زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا
طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی

کا حوالہ دے کر اقبال کو اشتراکیت کا مخالف قرار دینے کی کوشش کرتے تھے جبکہ اشتراکیت کے حامل ”اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو۔“ والے مصرعہ کو کارل مارکس کے بعد دنیا کا سب سے بڑا اشتراکی ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ اس لئے کہ اس طرح

صفحہ ١٤٤

سادہ لوح لوگوں کو بہکانے میں مدد ملتی تھی چنانچہ قادیانیوں نے بھی اپنے مقاصد کے حصول کے لئے اقبال کے نام کو استعمال کرنے کی کوششیں کیں اور ایسی کوششیں اب تک جاری ہیں۔

قادیانیوں کی اس نوع کی کوششوں کے لئے جو حقائق یا مفروضے بنیاد بن رہے ہیں۔ ان میں علامہ اقبال کے والد شیخ نور محمد اور بڑے بھائی شیخ عطا محمد، بھتیجے شیخ اعجاز احمد اور استاد مولوی میر حسن کی قادیانیت یا قادیانیت کی طرف میلان، قادیان میں آفتاب اقبال کی تعلیم، اقبال کے کچھ مضامین بطور خاص ”ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر“ میں قادیانی فرقے کی تعریف، والدہ جاوید کی رخصتی سے پہلے قادیانیوں کے خلیفہ اول حکیم نور دین سے از سر نو نکاح کرنے یا نہ کرنے کے متعلق استفسار اور کشمیر کمیٹی کی صدارت کے لئے مرزا بشیر الدین محمود کی صدارت پر اتفاق نیز خود علامہ اقبال کی مرزا صاحب سے بیعت وغیرہ شامل ہیں اور بظاہر یہ اتنے مضبوط حوالے ہیں کہ اگر یہ حوالے کسی بھی شخص سے متعلق دیئے جائیں تو پھر اسے قادیانی ہونے سے نہیں بچایا جاسکتا۔ لیکن ہماری مشکل یہ ہے کہ ہمارا موضوع کوئی عام شخص نہیں، بلکہ اقبال ہے جو ایک ہی سانس میں اشتراکیت کی تحسین بھی کرتا ہے اور تنقیص بھی۔ جو جمہوریت کو بہترین سیاسی نظام بھی سمجھتا ہے اور اس کی خرابیاں بھی گنواتا ہے جو مسولینی اور مصطفیٰ کمال پاشا کی تعریف کرتے بھی نہیں تھکتا لیکن ان کی خبر بھی خوب خوب لیتا ہے۔ اس اقبال پر نہ تو کوئی فتویٰ لگانا آسان ہے اور نہ اسے اپنی پسند کے کسی خاص اور محدود دائرے میں مقید کیا جاسکتا ہے۔

جہاں تک قادیانیت اور اقبال سے متعلق حقائق اور مفروضوں کا تعلق ہے، ان کا جائزہ لینے سے قبل یہ جان لینا چاہئے کہ بعض صنعتوں میں صف اول کا شہر ہونے کے باوجود آج بھی سیالکوٹ پاکستان کے بڑے شہروں میں شمار نہیں ہوتا اور اقبال کی پیدائش سے بھی تیرہ سال پہلے ١٨٦٤ء میں جب مرزا صاحب یہاں بہ سلسلہ ملازمت مقیم رہے ہوں تو تصور کیا جاسکتا ہے کہ سیالکوٹ کیا اور کتنا بڑا شہر ہو گا؟ ایسے میں ایک سرکاری ملازم اور وہ بھی کچہری میں اہلمد سے کس کس کے تعلقات اور شناسائی نہ ہوگی۔ یقین کرنا چاہئے کہ انہی تعلقات کے باعث محدث اور مجدد کے دعوؤں کے وقت بہت سے لوگوں نے اس کا ساتھ دیا ہو گا۔ انہی میں شیخ نور محمد بھی شامل رہے ہوں گے، چنانچہ کسی موقع پر انہوں نے بیعت

صفحہ ١٤٥

بھی کر لی ہوگی لیکن طبع سلیم کے شیخ نور محمد بہت عرصے تک ساتھ نہ نبھا سکے اور جلد ہی مرزا صاحب کے اثر سے نکل آئے۔ اس سلسلے میں شیخ عطا محمد کے بیٹے اعجاز احمد، مرزا غلام قادیانی اور حکیم نور دین سے شیخ نور محمد کے تعلقات، عقیدت اور بیعت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”١٩٠٢ء میں جب ہماری منجھلی پھوپھی ”طالع بی“ کا انتقال ہوا تو سیالکوٹ کے احمدی حضرات ان کے جنازے میں شامل نہ ہوئے۔ اس پر میاں جی نے حضرت میر حامد شاہ۔۔۔۔۔ کی زبانی حضرت بانی سلسلہ کو پیغام بھیجا کہ ”میں عمر رسیدہ ہوں، آپ کے ساتھ اس قدر تیز نہیں چل سکتا۔“۔۔۔۔۔ ان کے متعلق صرف یہ کہنا کہ وہ احمدی نہ تھے، نامکمل بات ہو گی۔ ہاں یہ کہنا درست ہو گا کہ وہ ابتداء میں جماعت میں شامل ہو گئے تھے لیکن ١٩٠٢ء میں جماعت سے الگ ہو گئے۔“ (١)

گویا شیخ نور محمد کے بارے میں یہ طے ہے کہ وہ قادیانی جماعت میں شامل ہوئے تھے تو فوراً اس سے الگ بھی ہو گئے لیکن شیخ عطا محمد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اعجاز احمد کے بقول ان کے والد احمدی تھے۔ جبکہ شیخ عطا محمد کے ایک دوسرے صاحبزادے اور ایک دختر کے نزدیک شیخ عطا محمد مرزائیت سے تائب ہو گئے تھے۔ غالباً اس لئے ان کے جنازے کی نمازیں بھی دو ہوئیں۔ اس کے علاوہ خود شیخ اعجاز احمد لکھتے ہیں:

”میرا خیال ہے کہ جاوید کے راویوں نے ١٩١٤ء کے بعد ابا جان کے احمدیوں کے کسی ایک فرقے کے ساتھ شامل نہ ہونے سے یہ نتیجہ نکالا ہو گا۔“ (٢)

ہم جانتے ہیں کہ احمدیوں (مرزائیوں) کے دو ہی گروہ ہیں، یعنی قادیانی اور لاہوری۔ لیکن شیخ اعجاز احمد خود تسلیم کرتے ہیں کہ شیخ عطا محمد نہ لاہوری تھے اور نہ قادیانی گروپ میں شامل ہوئے، پھر معلوم نہیں کہ وہ کیسے مرزائی تھے؟ اسی طرح شیخ اعجاز احمد اپنی کتاب میں شیخ عطا محمد کے ایک خط کا اقتباس نقل کرتے ہیں، جس میں شیخ عطا محمد اپنی مرزائیت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”میں خود بھی تو مرزائی ہوں لیکن مجھ میں اور ان میں صرف جنازے کے فرق کا سوال ہے۔“ (٣)

صفحہ ١٤٦

یعنی شیخ عطا محمد ایسے قادیانی تھے جن کا تعلق نہ لاہوری گروپ سے تھا اور نہ قادیانی گروپ سے۔ نیز جنازے کے سوال پر بھی ان کا اختلاف تھا۔ اس کے باوجود اگر شیخ عطا محمد کو بقول شیخ اعجاز احمد احمدی مان لیا جائے تو بھی اس سے علامہ اقبال کا قادیانی ہونا لازم نہیں آتا۔ اس لئے کہ خود اقبال، جیسے چچا کے خیالات اعجاز احمد پر اپنا اثر نہ ڈال سکے اور نہ انہیں ان کے ماموں متاثر کر سکے۔ جن کے بارے میں وہ خود لکھتے ہیں:

”میرے ماموں شیخ غلام نبی بڑے نیک اور شریف النفس بزرگ تھے۔ لیکن عقیدۃ کٹر وہابی اور احمدیت کے مخالف۔“ (٤)

اگر چچا اور ماموں شیخ اعجاز احمد کو متاثر نہ کر سکے تو یہ کیوں فرض کر لیا جائے کہ محض بھائی کی احمدیت کے باعث علامہ اقبال بھی احمدی ہو گئے ہوں گے۔

اپنے خاندان کے بزرگوں کے برعکس اعجاز احمد البتہ آخر تک مرزائیت پر قائم رہے اور اس کا علم اقبال کو بھی تھا۔ اس حوالے سے شیخ عبد الماجد سوال اٹھاتے ہیں کہ جب اقبال کو اعجاز کی قادیانیت کا علم تھا تو وہ اسے ایک نیک صالح نوجوان کیوں لکھتے ہیں۔(٥) اس کا بڑا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ شیخ اعجاز احمد بھی تو اپنے ”کٹر وہابی اور احمدیت کے مخالف“ ماموں کو نیک اور شریف النفس لکھتے ہیں۔ یعنی اکثر اوقات ذاتی نیکی اور شرافت کا عقائد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اعجاز احمد تو ایک طرف، میں تو حضرت ابوسفیان کے کردار کے اس پہلو کا معترف ہوں کہ آنحضرت ﷺ سے بدترین دشمنی کے باوجود، انہوں نے اپنے زمانہ کفر میں بھی، دربار قیصر روم میں آنحضرت ﷺ کی تعریف و تحسین کرنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا اور یہ بات خود علامہ اقبال کے کریڈٹ میں جاتی ہے کہ وہ اپنے بھائی اور بھتیجے کے عقائد سے واقفیت کے باوجود ان کی کردار کشی کے بجائے ان کی شخصی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ اقبال کے اس خاندان کی احمدیت اور اس کے باعث اقبال کو احمدی ثابت کرتے ہوئے یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ خود بقول شیخ اعجاز احمد ان کے خاندان میں شیخ نور محمد کی طرف سے احمدی گروہ سے الگ ہو جانے کے بعد گھر میں کبھی احمدیت کا تذکرہ نہیں سنا گیا۔ وہ لکھتے ہیں:

”میاں جی کی جماعت احمدیہ سے علیحدگی کے بعد ہوش سنبھالنے پر میں نے گھر میں احمدیت کا چرچا نہیں سنا۔“ (٦)

صفحہ ١٤٧

اسی طرح بقول پروفیسر محمد اسلم ٣ فروری ١٩٥٤ء کو شیخ اعجاز احمد کے انتقال کے بعد شیخ نور محمد کے اخلاف میں سے کوئی بھی قادیانی نہیں رہا۔ (٧)

رہے علامہ اقبال کے استاد مولوی میر حسن تو بلاشبہ اقبال کو ان سے آخر وقت تک بے حد عقیدت رہی۔ لیکن اول تو مولوی میر حسن کے بارے میں بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کیسے عقائد رکھتے تھے مثلاً بعض لوگ انہیں قادیانی کہتے ہیں تو بعض کے نزدیک وہ صحیح العقیدہ حنفی مسلمان تھے۔ جیسا کہ معروف اقبال شناس ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی، مولوی میر حسن کے مسلک اور آزاد خیالی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”دراصل بات یہ ہے کہ اگرچہ شاہ جی عملاً حنفی مسلک کے پیرو تھے لیکن مذہبی معاملات میں رواداری اور فراخ دلی برتنے کے قائل تھے۔“ (٨)

اس کے باوجود جو لوگ مولوی میر حسن کو قادیانی ثابت کرنا چاہتے ہیں، انہیں یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہئے کہ مولوی صاحب کے سرسید احمد خان کے ساتھ بڑے مخلصانہ روابط تھے۔ نیز ان لوگوں کو مولانا عبدالمجید سالک کی تصنیف ضرور دیکھنا چاہئے جس میں مولانا میر حسن سے مرزا صاحب اور حکیم نور الدین کے تعلقات کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔ ان عبارتوں سے یوں لگتا ہے کہ جیسے مسیح و مہدی مرزا صاحب نہیں بلکہ میر حسن تھے۔ (٩) اور حکیم نور الدین خلیفہ اول نہیں بلکہ میر حسن کے بے تکلف دوست تھے۔ جن سے چہلیں بھی جائز تھیں اور جملے بازی بھی (١٠) لیکن اگر مولوی میر حسن کو قادیانی بھی مان لیا جائے تو بھی یہ لازم نہیں آتا کہ ان کے اثر سے علامہ اقبال بھی قادیانی ہو گئے ہوں گے۔ اس لئے کہ وہ تو بعد ازاں ایسے اساتذہ سے بھی پڑھے تھے جو عیسائی تھے اور اقبال کو ان سے عقیدت مندانہ تعلق بھی تھا مثلاً پروفیسر ٹامس آرنلڈ۔ تو کیا یہ سمجھنا چاہئے کہ علامہ اقبال خدانخواستہ ایک استاد کی وجہ سے قادیانی اور دوسرے کی وجہ سے عیسائی ہو گئے ہوں گے حالانکہ ہم سب خود اپنے اپنے زمانہ طالب علمی میں مختلف عقائد رکھنے والے اساتذہ سے پڑھتے ہیں لیکن ان اساتذہ کی پیروی میں اپنا مسلک نہیں بدلتے۔

جہاں تک علامہ اقبال کی ذاتی زندگی اور ان کے بیانات کا تعلق ہے تو اس میں بظاہر بعض چیزیں تعجب خیز ہیں۔ کچھ چیزیں اقبال پر قادیانیت کا الزام لگانے والوں کے لئے اور کچھ ہمارے لئے۔ مثلاً ہمارے لئے یہ امر باعث تعجب ہے کہ علامہ اقبال نے اپنے فرزند

صفحہ ١٤٨

آفتاب اقبال کو قادیان بھیج کر وہاں کے تعلیم الاسلام سکول میں داخل کرایا تھا۔ (١١) لیکن غور کیا جائے تو یہ اس زمانے کی بات ہے جب علامہ اقبال پر قادیانیت کی حقیقت نہیں کھلی تھی اور یہ اسے بھی مسلمانوں کے بہت سے دوسرے فرقوں کی طرح کا ایک فرقہ تصور کرتے تھے۔ جب حقیقت کھلی تو اقبال بیزار ہو گئے اور بیزاری بغاوت تک جا پہنچی جیسا کہ اقبال خود لکھتے ہیں:

”کسی مذہبی تحریک کی اصل روح ایک دن میں نمایاں نہیں ہوتی۔ اسے اچھی طرح ظاہر ہونے کے لئے برسوں چاہئے۔“ (١٢)

تحریک کے دو گروہوں کے باہمی نزاعات اس امر پر شاہد ہیں کہ خود ان لوگوں کو جو بانی تحریک کے ساتھ ذاتی رابطہ رکھتے تھے، معلوم نہ تھا کہ تحریک آگے چل کر کس راستے پر پڑ جائے گی۔ ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا جب ایک نئی نبوت۔۔۔۔ بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی۔ جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ (١٣)

حضرت علامہ کا یہ اقتباس ان لوگوں کے لئے بھی کافی ہونا چاہئے جو ان کے بعض مضامین مثلاً ١٩٠٠ء میں انڈین اینٹی کوئری میں چھپنے والے مضمون اور ١٩١١ء میں علی گڑھ میں پڑھے گئے مضامین کا حوالہ دیتے ہیں۔ جن میں بالترتیب علامہ اقبال نے مرزا صاحب کو ”موجودہ دور کے ہندی مسلمانوں میں غالباً سب سے بڑا دینی مفکر“ (١٤) اور قادیانیوں کے طرز حیات کو اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ قرار دیا ہے۔ (١٥) ان باتوں کا ذکر ذرا آگے بھی آئے گا۔ لیکن ہمارے لئے باعث تعجب امر یہ بھی ہے کہ علامہ اقبال نے ١٩٠٢ء میں بعض فقہی مسائل کے لئے حکیم نور الدین سے رجوع کیا۔ (١٦) یا ایک ذاتی معاملے میں فتویٰ کی ضرورت پڑی تو بھی حکیم نور الدین سے رجوع کیا گیا۔ (١٧) اسی طرح علامہ اقبال نے بشیر الدین محمود کی علمیت کی تعریف کی۔ (١٨) اور پھر انہیں کشمیر کمیٹی کا صدر بنوایا۔ (١٩) دوسری گول میز کانفرنس کے موقع پر لندن کی مسجد احمدیہ میں گئے اور وہاں قرآن سنانے پر انعام دیا۔ (٢٠) یہ اور اسی طرح کی دوسری بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں یقیناً حیرت انگیز ہیں۔

صفحہ ١٤٩

لیکن ذرا سا غور کیا جائے اور شخصیات و تحریکات کے بارے میں اقبال کے طریق کار سے متعلق قدرے آگہی ہو تو یہ سب باتیں تعجب خیز نہیں رہتیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اقبال شخصیت و تحریکات کے بارے میں اپنی آراء بے کم و کاست اور بلا مصلحت و تعصب دینے کے عادی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ عام لوگوں کی روش یعنی اپنی رائے پر آنکھیں بند کر کے ڈٹ جانے اور نظرثانی نہ کرنے کے بھی عادی نہیں مثلاً ایک زمانے میں انہوں نے مسولینی کے بارے میں لکھا:

ندرت فکر و عمل کیا شے ہے؟ ذوق انقلاب
ندرت فکر و عمل کیا شے ہے؟ ملت کا شباب
رومتہ الکبریٰ! دگرگوں ہوگیا تیرا ضمیر
اینکہ می بینم بہ بیداری است یارب یا بخواب
فیض یہ کس کی نظر کا ہے؟ کرامت کس کی ہے
وہ کہ ہے جس کی نگہ مثل شعاع آفتاب

(٢١)

لیکن صرف چار سال بعد علامہ اقبال نے اسی عنوان سے ایک اور نظم لکھی جس میں مسولینی اپنے مظالم کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتا ہے

کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جرم
بے محل بگڑا ہے معصومان مغرب کا مزاج
میں پھٹکتا ہوں تو چھلنی کو برا لگتا ہے کیوں
ہیں سبھی تہذیب کے اوزار! تو چھلنی میں چھاج
میرے سودائے ملوکیت کو ٹھکراتے ہو تم
تم نے کیا توڑے نہیں کمزور قوموں کے زجاج
آل سیزر جوئے خوں کی آبیاری میں رہے
اور تم دنیا کے بنجر بھی نہ چھوڑو بے خراج
پردہ تہذیب میں غارت گری‘ آدم کشی
کل روا رکھی تھی تم نے، میں روا رکھتا ہوں آج

(٢٢)

صفحہ ١٥٠

یعنی جب مسولینی اطالیہ کی بیداری کے لئے جدوجہد کرتا ہے تو اقبال اس کی تعریف کرتے ہیں لیکن جب مسولینی ہوس ملک گیری کا شکار ہو کر دیگر یورپی استعمار کی طرح اپنے کمزور ہمسائیوں کو نشانہ بناتا ہے تو اقبال اپنی پرانی رائے کا لحاظ کئے بغیر اس کی مذمت کرتے ہیں۔ بانگ درا کی نظم خضر راہ اور پیام مشرق میں اقبال نے انقلاب روس اور وہاں کے اشتراکی نظام کو جس طرح سراہا ہے‘ اس کے ساتھ جاوید نامہ اور ارمغان حجاز کی نظم ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ کو پڑھ کر اوپر دی گئی رائے کی توثیق ہوتی ہے۔ پیام مشرق میں اقبال نے مصطفیٰ کمال پاشا کو ”اید اللہ“ (٢٤) تک کہہ دیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب اتاترک نے اسلامی شعائر کا مذاق اڑانا چاہا تو اقبال نے جاوید نامہ میں اسے خوب لتاڑا اور ایک دوسری جگہ یہاں تک کہہ دیا

نہ مصطفیٰ نہ رضا شاہ میں نمود اس کی
کہ روح مشرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی

کارل مارکس اور نطشے کے بارے میں اقبال کا یہ مصرع ”قلب او مومن دماغش کا فراست“ اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ اقبال کی آراء ایک رخی اور متعصبانہ نہیں ہوتیں۔ یہی حال قادیانیت اور قادیانی گروہ کا بھی ہے۔ اقبال نے اس تحریک اور تحریک کے افراد میں جو خوبیاں دیکھیں‘ ان کا اعتراف نہایت خوش دلی سے کیا۔ لیکن جس طرح مغربی تمدن کے بعض اوصاف کے اعتراف کے باعث اقبال کو عیسائی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسی طرح قادیانی گروہ کی بعض خوبیوں کا اعتراف بھی اقبال کو قادیانی ثابت نہیں کر سکتا جبکہ بعض امور میں وقت کا اقتضاء بھی پیش نظر ہو۔ مثلاً کشمیر کمیٹی کے لئے مرزا بشیر الدین محمود کی صدارت وغیرہ اس سلسلے میں خود شیخ اعجاز احمد کو اعتراف ہے‘ وہ کہتے ہیں:

”علامہ اقبال نے تجویز کیا کہ جماعت احمدیہ کے امام اس کمیٹی کے صدر ہوں۔ ان کے پاس مخلص اور کام کرنے والے کارکن بھی ہیں اور وسائل بھی۔“ (٢٥)

یعنی اگر مخلص کارکن اور ضروری وسائل کسی اور کے پاس ہوتے تو بشیر الدین محمود کو کشمیر کمیٹی کا صدر بنانا ضروری نہیں تھا۔

جہاں تک بعض فقہی مسائل کے بارے میں مرزا صاحب سے استفسار اور اپنے

صفحہ ١٥١

ذاتی شرعی مسئلے میں حکیم نور الدین سے فتویٰ کے حصول کا تعلق ہے تو ان قصوں کے راوی مرزا جلال الدین، عبدالمجید سالک (٢٥) اور شیخ اعجاز احمد (٢٦) یعنی سب کے سب یا تو قادیانی ہیں یا پھر قادیانیوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ جو ہر صورت میں علامہ اقبال کو اپنے گروہ میں کھینچ لانے کی کوششیں کرتے رہے ہیں لیکن فقہی اور ذاتی مسائل میں قادیان سے استمداد کی کہانی کو رد کرنے کی وجہ صرف یہی نہیں ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ علامہ اقبال ١٩٠٢ء میں نہ سہی، والدہ جاوید کی رخصتی کے اہتمام کے وقت فقہ اسلامی سے اس قدر ضرور واقف ہو چکے تھے کہ روز مرہ مسائل کے بارے میں از خود کوئی رائے قائم کر سکیں۔ مثلاً والدہ جاوید سے از سر نو نکاح کا معاملہ تو مجھ ایسا دین کی مبادیات تک سے ناواقف آدمی بھی بخوبی سمجھتا ہے۔ مثلاً میں کہہ سکتا ہوں کہ پیش آمدہ صورت حال میں یا تو طلاق ہو گئی تھی یا نہیں ہوئی تھی۔ اگر نہیں ہوئی تھی تو از سر نکاح کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور اگر طلاق ہو گئی تھی تو شرعاً از سر نو نکاح کی گنجائش بھی نہیں تھی۔ معلوم نہیں کہ اقبال جیسے مفکر اسلام کو اس واضح معاملے کے لئے استفسار کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ غور کیجئے تو یہی باتیں معاملے کو الجھانے کا باعث بنتی ہیں لیکن ذرا سے غور اور تدبر سے حقیقت حال سامنے آجاتی ہے۔ اگر مفروضے کے طور پر اس واقعے کو حقیقت مان لیا جائے تو بھی حکیم نور الدین صاحب کی دینی معلومات کا حال کھل جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اقبال کو قادیانی اور احمدی ثابت کرنے کے لئے ١٨٩٧ء میں بعض تعلیم یافتہ دوستوں کے ساتھ قادیان جاکر اقبال کے بیعت تک کے واقعات گھڑ لئے گئے ہیں۔ مثلاً شیخ عبد الماجد، مولانا شیخ عبد القادر، بشیر احمد ڈار، خواجہ کمال الدین اور مولانا محی الدین قصوری کی روایات کے ذریعے سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اقبال نے بانی سلسلہ احمدیہ سے بیعت کی تھی۔ وہ مولانا شیخ عبد القادر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں:

”مارچ ١٨٩٧ء میں ۔۔۔۔۔ مولوی محمد علی صاحب، چودھری سر شہاب الدین صاحب، ڈاکٹر محمد اقبال صاحب اور مولوی غلام محی الدین صاحب قصوری اور خاکسار نے بیعت کرلی۔“ (٢٧)

فرض کیا، ایسا ہے اور اقبال اس بیعت کے سبب ١٩٣١ء تک قادیانی رہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ١٩٠٢ء میں انہیں بیعت کی دعوت کیوں دی گئی؟ اور اس دعوت کے جواب

صفحہ ١٥٢

میں اقبال نے یہ کیوں نہ کہا کہ وہ پہلے ہی بیعت کر چکے ہیں یا یہ کہ وہ تو بیعت کر چکے تھے۔ لیکن اب ان کے خیالات بدل چکے ہیں وغیرہ۔ یہ سب کچھ کہنے کی بجائے اقبال نے ایک نظم (٢٨) کیوں لکھ بھیجی۔ جس کے ردعمل میں پیغام بیعت بھیجنے والے نے بھی جوابی نظم لکھی۔ لیکن اس کے باوجود اقبال کو بیعت یا از سر نو بیعت پر آمادہ نہ کیا جاسکا۔ اس سلسلے میں شیخ اعجاز احمد کا بیان حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ اقبال کی نظم کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”اس سے اتنا تو معلوم ہوا کہ اس سے پہلے اقبال نے بیعت نہیں کی ہوئی تھی۔ اگر کی ہوتی تو پیغام کیوں بھیجا جاتا۔“(٢٩)

اس سے پہلے ہی نہیں بلکہ اقبال نے اس کے بعد بھی کبھی بیعت نہیں کی۔ کی ہوتی تو اقبال کی طرف سے قادیانیت کے خلاف دیئے گئے بیانات کے بعد اس سلسلے میں ڈھنڈورا پیٹ دیا جاتا۔ مثلاً لاہور میں پنڈت نہرو کے استقبال کے سلسلے میں میاں محمود احمد خلیفہ قادیان نے اپنے ایک خطبے میں معترضین کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا:

”اگر پنڈت جواہر لال نہرو اعلان کر دیتے کہ احمدیت کو مٹانے کے لئے وہ اپنی تمام طاقت خرچ کر دیں گے جیسا کہ احرار نے کیا ہے تو اس قسم کا استقبال بے غیرتی ہوتی لیکن اگر اس کے برخلاف یہ مثال موجود ہو کہ قریب کے زمانہ ہی میں پنڈت صاحب نے ڈاکٹر اقبال صاحب کے ان مضامین کا رد لکھا ہے جو انہوں نے احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ قرار دیئے جانے کے لئے لکھے تھے اور نہایت عمدگی سے ثابت کیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے احمدیت پر اعتراض اور احمدیوں کو علیحدہ کرنے کا سوال بالکل نامعقول ہے اور خود ان کے گزشتہ رویہ کے خلاف ہے------(٣٠)

غور کیجئے کہ اگر اقبال نے کسی زمانے میں بیعت کی ہوتی تو پھر صرف ان کے گزشتہ رویے کا ذکر نہ کیا جاتا بلکہ ان کی گزشتہ بیعت کا ذکر کیا جاتا۔ جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات بھی کہہ دینا چاہئے کہ اس زمانے تک اقبال اسی لئے تو احمدیت کے شدت سے مخالف ہو گئے تھے کہ احمدیت کے تحفظ کے لئے پنڈت نہرو جیسے دشمنان ملت اسلامیہ بر سر کار آچکے تھے۔ ویسے قادیانیت کے بارے میں علامہ اقبال کی گزشتہ تحریروں کو بھی بڑے غور سے دیکھنے کی

صفحہ ١٥٣

ضرورت ہے اور وہ یوں کہ علامہ اقبال اپنے اصل مضامین میں وہ کچھ کہتے نظر نہیں آتے جو ان کے مضامین کے تراجم میں نظر آتا ہے۔ اس کے لئے صرف ایک مثال کافی ہو گی اور وہ یہ کہ علامہ اقبال نے 1911ء میں ایک مضمون ”A Sociological Study -----The Muslim Community“ لکھا ہے کہ اس کا سب سے پہلا ترجمہ مولانا ظفر علی خان نے کیا۔ یہ ترجمہ تو فوری طور پر میرے پاس موجود نہیں البتہ شیخ اعجاز احمد نے اپنی کتاب ”مظلوم اقبال“ میں موضوع جملے کا ترجمہ درج ذیل الفاظ میں مولانا ظفر علی خان کے حوالے سے یوں لکھا:

”پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے قادیانی کہتے ہیں۔“ (٣١)

افکار اقبال میں ڈاکٹر ریاض احمد نے یہ ترجمہ یوں کر دیا:

”پنجاب میں بنیادی طور پر مسلم طرز کے کردار کا زور دار ظہور قادیانی نام کے فرقے میں ہے۔“ (٣٢)

جبکہ مقالات اقبال مرتبہ سید عبد الواحد میں اس جملے کے ترجمے کو سرے سے حذف کر دیا گیا ہے۔ کہا نہیں جا سکتا کہ یہ محض اتفاقات ہیں یا ان تحریفات کے پیچھے کوئی خاص سوچ کارفرما ہے کہ اقبال نے تو اپنے اصل مضمون میں قادیانی فرقے کی تعریف کرتے ہوئے کچھ اور الفاظ استعمال کئے تھے۔ انہوں نے لکھا تھا:

“In the Pun jab the essentially Muslim type of character has found a Powerful expression in the Socalled Qadiani-Sect.” (33)

غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ علامہ اقبال کے اس جملے میں موجود لفظ ”Socalled“ کا ترجمہ کسی بھی مترجم نے نہیں کیا۔ یہی حال ”سب سے بڑے دینی مفکر“ والے جملے کا بھی ہے۔ اقبال نے یہاں بھی ”Probably“ (٣٤) کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جسے اکثر مترجمین حذف کر جاتے ہیں۔ اس کے باوجود گزشتہ اور موجودہ رویے کے سلسلے میں حرف اقبال میں شامل اقبال کے یہ جملے قابل غور ہیں:

”اگر میرے موجودہ رویہ میں تناقض ہے تو یہ بھی ایک زندہ اور سوچنے

صفحہ ١٥٤

والے انسان کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے بدل سکے۔ بقول ایمرسن صرف پتھر اپنے آپ کو نہیں جھٹلا سکتے۔" (٣٥)

اقبال کے اعتقادات و عقائد دیکھ کر بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انہیں قادیانی مذہب سے کس قدر ہمدردی ہو سکتی تھی۔ مثلاً مرزا صاحب جس جوش و خروش کے ساتھ رد جہاد کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے پیش نظر اقبال کو قادیانیت سے ویسی ہی دلچسپی ہو سکتی ہے جتنی نطشے کو مساکین کے مذہب عیسائیت سے تھی اور یہ حقیقت تو اپنی جگہ ہے کہ موجودہ دور میں اقبال کو کسی نبی، رسول اور پیغمبر تو درکنار کسی عیسیٰ اور مہدی کا بھی انتظار نہیں ۔(٣٦) جبکہ عقیدہ ختم نبوت پر ان کا ایمان ان کے اشعار سے بھی ثابت ہے:

وہ دانائے سبل، ختم الرسل، مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
وہ نبوت ہے مسلماں کے لئے برگ حشیش
جس نبوت میں نہ ہو قوت و شوکت کا پیام

پھر یہ کتنی عجیب بات ہے کہ مرزا صاحب کے تو تمام ابتدائی دعوؤں کو نظر انداز کر کے انہیں ان کے آخری دعوے کے مطابق نبی مان لیا جائے لیکن اقبال کے ابتدائی جملوں میں بھی تحریف کر کے انہیں قادیانی قرار دیا جائے اور ان کے زمانے کے مضامین و مقالات کو احرار کی سازش کہہ کر رد کرنے کی سعی کی جائے۔ بالفرض یہ درست بھی ہو تو احرار کا یہ کارنامہ میرے نزدیک ان کی تمام لغزشوں اور کوتاہیوں کے باوجود ان کے لئے نجات اخروی کا سبب بن جائے گا۔ خدا انہیں جزائے خیر دے۔

حوالہ جات

اول ١٩٨٥ء۔

صفحہ ١٥٥

آرٹ پریس انار کلی لاہور۔

بتاریخ چھ فروری ١٩٩٤ء۔

١٩٨٧ء۔

جولائی ١٩٤٧ء۔

صفحہ ١٥٦

محاسبہ از پروفیسر محمد الیاس برنی‘ اشاعت نہم ‘اشرف پریس لاہور۔

مرغوب ایجنسی لاہور۔

لاہور۔

Study by Dr. Iqbal edited by Dr. Muzaffar Abbas, Maktaba-e-aliya, Urdu Bazar Lahore.

edited by Syed Abdul Wahid-Sh. Muhammad Ashraf Lahore. 1973.

(ماہنامہ نقیب ختم نبوت‘ ملتان ‘نومبر ١٩٩٦)

صفحہ ١٥٧

چیلنج

میں اپنی حکومت سے، اپنے وزراء سے، سردار عبدالرب نشتر سے بصد احترام درخواست کرتا ہوں کہ خدارا آپ اس جھگڑے کو ختم کروائیے۔ آپ مجھے اور مرزا بشیر الدین محمود امیر جماعت احمدیہ دونوں کو بیک وقت گرفتار کر لیجئے۔ دونوں کو اکٹھی ہتھکڑی لگائیے اور اکٹھے ہی سات دن کے لئے حوالات میں رکھئے۔ کھانے پینے کو پانی اور نمک کے سوا کچھ نہ دیجئے اور پھر سات دن تک تحقیقات کیجئے اور ہم دونوں کو عدالت میں پیش کر دیجئے۔ مرزا محمود چاہیں تو اپنا وکیل چوہدری سر ظفر اللہ بہادر کو مقرر کرلیں اور میں خود اپنی وکالت آپ ہی کروں گا اور پھر اگر یہ ثابت ہو جائے کہ میں یا میری پارٹی غدار ہے تو لاہور سے لے کر پشاور تک مجھے، میرے اہل و عیال، تمام ساتھیوں، دوستوں اور سب کی سب پارٹی کو درختوں سے لٹکا کر پھانسی دے دو اور اگر مرزا بشیر الدین اور اس کی جماعت غدار ثابت ہو جائے تو قادیان سے ربوہ تک تمام قادیانی درختوں سے الٹے لٹک رہے ہوں۔

(روزنامہ ’آزاد‘ لاہور، ٣٠ اپریل ١٩٥٠ء)

”شاہ جی کی تقریر کا اقتباس“

وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ

(مؤلف)

لاؤڈ سپیکر بند ہو گیا

حضرت مصنفؒ کی جرات اور دلیری کا یہ عالم تھا کہ جو بات حق سمجھ کر قبول کر لیتے، اسے حکومتی اور عوامی دباؤ، جان و مال کے خوف اور کسی بھی مصلحت کی بھینٹ نہ چڑھنے

صفحہ ١٥٨

دیتے اور ہر طرح کی مخالفت کو خاطر میں لائے بغیر محض اللہ کے بھروسے پر کر گزرتے۔ ایک بار نماز عشاء کے بعد اپنی رہائش گاہ پر لیٹے لیٹے کان میں قادیانیوں کی لاؤڈ اسپیکر پر تقریر کی آواز پڑ گئی تو اپنے دفاعی عصا سے لیس ہو کر لاؤڈ سپیکر بند کرانے تن تنہا نکل کھڑے ہوئے، راقم کو معلوم ہوا تو وہ بھی ساتھ ہو لیا، چند قدم بعد محترم محمد اکبر خان برکی بھی آملے اور یہ تین رکنی دستہ قادیانی جلسہ گاہ کی طرف بڑھنے لگا، قریب پہنچنے پر پولیس درمیان میں حائل ہو گئی۔ حضرت بھلویؒ نے پر جلال انداز میں مطالبہ کیا کہ لاؤڈ سپیکر بند کرایا جائے یا ہمارا راستہ چھوڑا جائے۔ جواباً پولیس نے فوراً لاؤڈ سپیکر بند کرا دیا، تب حضرت واپس ہوئے۔

(ماہنامہ حق چار یار، حضرت بھلویؒ نمبر، ص ٢٠٢)

اور قادیانی بھاگ گئے

صوفی محمد رمضان اور ایک قادیانی کا ایک دکان کی ملکیت کا تنازعہ تھا۔ دکان گو محمد رمضان کے قبضے میں تھی، مگر مرزائی جماعتی قوت کے بل بوتے پر جبراً قبضے کا پروگرام ترتیب دینے لگے۔ صوفی صاحب مذکور کو بھی اس پروگرام کا کسی طرح علم ہو گیا۔ وہ حضرت بھلویؒ کے پاس حاضر ہوئے اور قادیانیوں کے منصوبے کا ذکر کر کے معاونت کی درخواست کی، اشداء علی الکفار رحماء بینہم کی عملی تفسیر حضرت بھلویؒ کی صورت میں ظاہر ہوئی اور آپ صوفی صاحب کی عملی مدد پر تل گئے۔ چند کتابی طلباء کو مذکورہ دکان پر بھیج دیا اور قریب ہی واقع جامع مسجد گنبد والی میں تیاری کی حالت میں بیٹھ گئے۔ یاد رہے اسی مسجد کے آپ خطیب تھے۔ قادیانیوں کو بھی اندازہ ہو گیا کہ عبد اللطیف بھلویؒ ایک سنی مسلمان کی عملی اعانت سے لا تعلق نہیں ہوگا۔ اس لئے وہ اس انتظار میں رہے کہ بھلویؒ اپنی رہائش گاہ پر جائے تو ہم کارروائی کریں۔ دوپہر تک انتظار کے بعد جب حضرت بھلویؒ اپنی رہائش گاہ پر چلے گئے تو قادیانیوں نے دکان پر ہلہ بول دیا۔ صوفی

صفحہ ١٥٩

صاحب اور طلباء کے پاس چھوٹی، چھوٹی لاٹھیاں تھیں اور مقابلے میں قادیانی مسلح تھے۔ بہر حال مقابلے میں قادیانی حاوی ہو گئے اور صوفی صاحب اور چند طالب علم معمولی زخمی ہوئے مگر قاری محمد اختر نامی طالب علم خنجر کے مہلک وار سے بری طرح زخمی ہو گیا۔ یہ اطلاع جب حضرت بھلویؒ کو ملی تو ریوالور گلے میں ڈالا اور بڑی سی لاٹھی ہاتھ میں لے کر فورا موقع واردات پر پہنچ گئے حضرت بھلویؒ کی آمد کا سن کر وہ بدفطرت گروہ تو بھاگ کھڑا ہوا مگر حضرت بھلویؒ فاروقی جلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے للکارتے رہے کہ او ختم نبوت کے غدارو! اب میرے مقابلے پر آؤ تاکہ لوگوں کو علم ہو کہ عبد اللطیف صرف مولوی ہی نہیں، قوت بازو سے کام لینے والا مجاہد بھی ہے۔ یاد رہے آپ ”گتکے کے فن کے“ ماہر بھی تھے۔

(ماہنامہ حق چار یار، حضرت بھلوی نمبر، ص ٢٠٢، ٢٠٣)

ہم تو جان اپنی ہتھیلی پہ لئے پھرتے ہیں
اور ہوں گے وہ جنہیں موت کا دھڑکا ہوگا (مؤلف)

تحریر میں، تقریر میں طوفان تھا شورش

بیاد ”شورش کاشمیری“، تحریر: شیخ حبیب الرحمن بٹالوی

”گوری چمڑے والے گورنر کو راستے سے ہٹ جانا چاہئے وہ ایک گندہ ناٹک کھیل رہا ہے جو کچھ بھی کر رہا ہے، ہم اس سے باخبر ہیں۔ وہ ہمارے صوبہ میں خون خرابہ کرانا چاہتا ہے۔ مسجد شہید گنج سکھوں نے نہیں گرائی، گورنر نے گرائی ہے مسجد تو ہم لے کر ہی رہیں گے، آج نہیں تو کل۔ ہم دلی کے لال قلعہ پر بھی اسلامی پرچم لہرانے کا تہیہ کرچکے ہیں۔“ شہید گنج تحریک میں مولانا ظفر علی خان کو گرفتار کر لیا گیا۔ شاہی مسجد میں ایک جلسہ عام منعقد ہوا۔ نوجوان ساتھیوں نے عبد الکریم کو پکڑ کر کرسی صدارت پر بٹھا دیا۔ ایک انتہائی شرمیلا لڑکا جس کی عمر صرف سترہ سال تھی۔ شاہی مسجد میں اس پہلی تقریر سے اپنی عظیم زندگی کا آغاز کر رہا تھا۔

صفحہ ١٦٠

پھر چار سال بعد آسمان نے اس نوجوان کو ایک مقدمے کے سلسلے میں عدالت میں للکارتے ہوئے دیکھا:

”میں اس ملک کی آزادی کے نام پر آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس کرسی کو خالی کر دیں۔ یہ کرسی ہندوستان کی آزادی کے خلاف، انصاف کا لوح مزار ہے۔ آپ اس کرسی پر بیٹھ کر جس قانون کے تحت فیصلے سنا رہے ہیں۔ اس قانون نے ہماری قومی غیرت کو کچل ڈالا ہے۔ آئیے! اس قانون، اس انصاف، اس حکومت اور اس نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کریں۔ ہندوستان کی آزادی اپنے لئے کم سے کم یہ مطالبہ ضرور کرتی ہے۔

اب تک آپ نے اس کرسی کا مزہ چکھا ہے۔ اب اس کٹہرے کا شرف بھی حاصل کیجئے۔ آپ اس کی لذت سے آشنا ہو گئے تو آپ کے لئے ہی نہیں، آپ کی آئندہ نسلوں کے لئے بھی عز و شرف کا باعث ہو گا۔“

سنت رام مینی، اے ڈی ایم ملتان نے آنکھیں جھکا لیں اور کہا ”پانچ سال قید بامشقت۔“

شورش مرحوم نے اپنی اس حق گوئی کے جرم کی پاداش میں آزادی سے پہلے دس سال قید میں گزارے، پاکستان بننے کے بعد بھی کوئی پانچ دفعہ گرفتار کیے گئے۔ ایک تجزیے کے مطابق آپ کی زندگی کا ہر پانچواں دن جیل میں گزرا ہے۔ مگر زندگی کے کسی مرحلے پر بھی پائے استقامت میں لغزش نہ آئی۔ جاں گداز آلام و مصائب کے باوجود آپ نے ہر دور میں باطل کے خلاف آواز اٹھائی اور جس بات کو صحیح سمجھا، برملا کہا۔ قادیانی امت، نام نہاد دانشوروں، سرکاری کاسہ لیسوں، انجمن ستائش باہمی کے ٹھیکیداروں، مذہب بیزار ترقی پسندوں، خود فروش ادیبوں، شاعروں اور اشتراکی کوچہ گردوں کے تعاقب میں آپ ہمیشہ پیش پیش رہے۔

شورش کاشمیری ١٤ اگست ١٩١٧ء کو منگل کے دن امرتسر میں پیدا ہوئے۔ نام عبدالکریم تھا۔ ابتدائی تعلیم دیو سماج ہائی سکول لاہور سے حاصل کی۔ احسان دانش آپ کے ٹیوٹر تھے۔ استاد مولوی نیاز احمد نعمانی سے آپ کو تعلق خاطر رہا۔ چوتھی جماعت میں تھے کہ اخبار ”زمیندار“ پڑھنے لگے۔ نویں، دسویں جماعت میں درسی کتابوں کے علاوہ

صفحہ ١٦١

دیگر کتابیں بھی زیر مطالعہ رہیں۔ کھیلوں میں ہاکی پسند تھا۔ شورش نے چودہ سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کر دیئے تھے۔ اپنے دوست چونی لال کاوش کی تحریک پر الفت تخلص رکھا۔ بعد میں شورش بن کر رہ گئے۔ کئی نظموں میں اسرار بصری کا نام بھی استعمال کیا۔ شاعری میں ابتدائی اصلاح اختر شیرانی سے لی۔ تاجور نجیب آبادی سے بھی واسطہ رہا۔ مگر احسان دانش آپ کے ابتداء سے انتہاء تک کے استاد ہیں۔ آپ غزل کی طبیعت لے کر پیدا ہوئے تھے۔ مگر ادب برائے زندگی کے اصول نے کبھی اس طرف آنے ہی نہیں دیا۔ خود بیان کرتے ہیں:

”ہوش آیا تو قدم عشق کے کوچے میں تھا۔ جوانی نے غزل کی شمع جلائی‘ حالات کے دستبرد نے سیاسی تجربوں کی ویرانیوں سے اٹھا کر گرد و پیش کے واقعات پر طنز و تبصرہ کا شاعر بنا دیا۔ اب صرف اس لئے شعر کہتا ہوں کہ عام لوگوں کو معاشرے کے ان ناسوروں سے نفرت پیدا ہو‘ جو اولادِ آدم کے سینہ سے رس رہے ہیں۔ میری شاعری کا یہی مقصد ہے۔“

علامہ تاجور نجیب آبادی کی نظر میں ”شورش اگر صرف شاعری کا ہو کے رہتا تو بڑے بڑے بد دماغ میر تقیوں سے ان کی جگہ خالی کرا لیتا۔“ ماہر القادری کہتے ہیں ”جو اردو دان شورش کشمیری کو نہیں جانتا وہ بے ذوق ہی نہیں جاہل و بے خبر بھی ہے۔“

معارف اعظم گڑھ کی زبان میں:

”آپ اپنے وقت کے ظفر علی خان کہلانے کے مستحق ہیں۔“

شورش بہت زود گو شاعر تھے۔ ١٩٦٥ء کی جنگ میں سب سے زیادہ ترانے آپ نے لکھے۔ شورش کی بلند خیالی‘ اظہار کی پختگی‘ چستی اور بندش کے مشاہدے کے لئے یہاں چند اشعار نقل کئے جاتے ہیں:

میں کسی فرعون کی طاقت سے ڈر سکتا نہیں
موت کو لبیک کہہ سکتا ہوں مر سکتا نہیں
مغرب کے خداؤں نے مشرق کو دیا کیا ہے
عیاش گھرانوں کے بگڑے ہوئے شہزادے
کتنے ظالم ہیں کہ مجھ کو قتل کر دینے کے بعد
صفحہ ١٦٢
میرے سب دشمن عزا داروں میں شامل ہو گئے
عام ہے چاروں طرف ذریت ابن زیاد
میں ہوں پاکستان کے کوفہ میں دربان حسینؓ
کہ ارضی کی ہر عنوان سے تذلیل ہے
قادیاں! مابین ہند و پاک اسرائیل ہے
میرا یہ لکھنا کہ ربوہ کی خلافت ہے فراڈ
خواجہ کونینؐ کے ارشاد کی تعمیل ہے
اہلیہ مرزا غلام احمد کی، ام المومنین؟
ہے کہاں قہر خدا؟ قہر خدا میں ڈھیل ہے
کیا تماشا ہے پیمبر بن گیا عرضی نویس
گفتنی اجمال ہے ناگفتنی تفصیل ہے
زور بیان و قوت اظہار چھین لے
مجھ سے مرا خدا مرے افکار چھین لے
ارباب اختیار کی جاگیر ضبط کر
یا غم زدوں سے نعرہ پیکار چھین لے
رہبر جھوٹے مخبر سچے انگریزوں کے ٹوڈی بچے
رجعت کے پھل لیکن کچے دو کوڑی ہے ان کا مول
بول وطن کے ماضی بول
ہم ان کی جاگیر نہیں ہیں رہن فلک پیر نہیں ہیں
یہ اپنی تقدیر نہیں ہیں پاؤں تلے ان سب کو رول
بول وطن کے ماضی بول
وزارت کی چوکھٹ ادیبوں کے پھیرے
جبینوں کا سجدہ اندھیرے سویرے!
یتیمان امت، عزیزان ملت!
صفحہ ١٦٣
قلم کار شاعر نہ تیرے نہ میرے
قادیاں کے زلہ خواروں کو نچایا جائے گا
غیرت اسلام کا ڈنکا بجایا جائے گا
دار کے تختہ پہ کھنچوا دو کہ میں ڈرتا نہیں
جھنگ کے پہلو سے ربوہ کو اٹھایا جائے گا

آغا شورش نے اپنی صحافتی زندگی کا باقاعدہ آغاز روزنامہ "زمیندار" سے کیا۔ اگرچہ اس سے پہلے سالک و مہر کے "سیاست" میں بھی کبھی کبھار لکھتے رہتے تھے۔ تاجور نجیب آبادی کے "شاہکار" کے ایڈیٹر رہے۔ پھر روزنامہ "آزاد" سے منسلک ہوگئے۔ اس دوران "الہلال" بمبئی کو افتتاحیہ لکھ کر بھیجتے رہے۔ یکم جنوری ١٩٣٨ء کو "آزاد" سے علیحدہ ہو کر "چٹان" کا اجراء کیا۔ "چٹان" پر ایک دو سخت مقام بھی آئے۔ اس دوران "انجم" اور "عادل" جاری کئے گئے۔

آغا شورش کے سرمایہ ادب و صحافت سے بطور نمونہ تھوڑا سا انتخاب پیش کیا جاتا ہے:

"خوف ایک ہی ہے اور وہ اللہ کا خوف ہے۔ انسان سے ڈرنا ربوبیت کی توہین ہے۔"

"چٹان اور اس کے ایڈیٹر کو آج تک نہ کسی نے خریدنے کا حوصلہ کیا نہ کوئی جھکانے پر قادر ہو سکا۔ اور یہ اللہ کی دین ہے۔۔۔۔۔"

"ہم کسی سے اتفاق کریں یا اختلاف‘ صرف ضمیر کی رہنمائی کو ملحوظ رکھتے ہیں۔۔۔۔۔ اپنے قلم پر ہم کسی دوسرے شخص کا حق تسلیم نہیں کرتے۔ ہم اس وقت تک لکھتے رہیں گے جب تک قلم کی آزادی میسر ہے۔ ہم حق سے انحراف نہیں کریں گے۔ قلم کو پابہ زنجیر کرنے کی حماقت کی گئی تو ہم ایسی حماقت کو تسلیم کرنے کے عادی نہیں۔ خواہ کوئی سی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ قدرت نے ہمیں قلم اور زبان کا جوہر دیا ہے اور وہ صرف کلمتہ الحق کی پشتیبانی کے لئے۔"

صفحہ ١٦٤

”آج ہر پاکستانی کو اپنے دل کی تختی پر نقش کر لینا چاہئے کہ ہم نہ سندھی ہیں‘ نہ پنجابی‘ نہ بلوچی ہیں نہ پٹھان۔۔۔۔۔ ہم مسلمان ہیں اور پاکستانی ہیں۔ ہم اسلام کے وفادار رہے تو پاکستان رہے گا اور پاکستان رہا تو ہم مسلمان رہیں گے ورنہ ہم تاریخ کے صفحات سے اس طرح محو ہو جائیں گے‘ جس طرح ہسپانیہ کی سرزمین مسلمانوں سے محروم ہو چکی ہے۔“

”پاکستان کی ذہنی کربلا میں اسلام حسینؓ کی طرح اہل کوفہ کے فریب کا شکار ہے۔“

”مجھے ان الفاظ سے عداوت ہے جو درباروں کی گود میں پرورش پا کر انسان کی نفسیاتی غلامی کا باعث ہوتے ہیں۔“

”میرے لئے تقریر کرنا اور سانس لینا یکساں ہیں۔ الفاظ و مطالب میری نوک زبان پر اس طرح رہتے ہیں‘ جس طرح عباسی عہد میں اقتدار کی حرم سرا میں لونڈیوں کا ہجوم رہتا تھا۔“

”مجھے وہ شخص کفن پہنائے جس کی غیرت نے کبھی کفن نہ پہنا ہو۔“

”میرا قلم اس شخص کو دیا جائے جو اس کو تیشہ کوہ بنا سکے‘ جس کو لہو سے لکھنے کا سلیقہ آتا ہو۔“

”میری قبر پر ایک ہی کتبہ لکھا جائے کہ یہاں وہ دفن ہے جس کی تمام عمر عبرتوں کا مرقع رہی ہے۔“

قید و بند‘ مسلسل خطابت اور صحافتی مصروفیات کے باوجود شورش مرحوم نے مختلف موضوعات پر متعدد کتابوں کی شکل میں نثر و نظم کا ایک قابل قدر ذخیرہ اپنے پیچھے چھوڑا ہے۔ تحریک ختم نبوت‘ بُوئے گل نالہ دل دود چراغ محفل‘ اس بازار میں‘ اسلام کے غدار‘ اقبال اور قادیانیت‘ اقبال پیامبر انقلاب‘ اقبال مجرم‘ پس دیوار زنداں‘ تمغہ خدمت‘ چہرے‘ حسین شہید سہروردی‘ حمید نظامی‘ خطبات آزاد‘ دہلی چلو‘ سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ ظفر علی خاں‘ شب جائے کہ من بودم‘ شورش بنام عبداللہ ملک‘ شورش کاشمیری‘ ظفر علی خاں‘ عجمی اسرائیل‘ فن خطابت‘ فیضان اقبال‘ قید فرنگ مرزائیل‘ موت سے واپسی‘ ابوالکلام آزاد‘ میاں افتخار الدین‘ نورتن‘ یورپ کے چار ہفتے‘ جذبات شورش‘

صفحہ ١٦٥

گفتی ناگفتی‘ چہ قلندرانہ گفتم‘ الجہاد والجہاد۔

یہ سب کتابیں ادب و تہذیب کے شاہپارے ہیں۔ وقار انبالوی رقم طراز ہیں: ”جب تک اردو زبان زندہ ہے‘ اس کی تاریخ ادب و صحافت و شعر و سیاست کا کوئی باب شورش کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں کہلائے گا۔“

ڈاکٹر سید عبداللہ نے کہا تھا: ”شورش صحافت میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا ظفر علی خان کے تنہا وارث ہیں اور تنہا وارث۔۔۔۔۔۔“

رئیس امروہوی ایک خط میں لکھتے ہیں: ”شورش ایک معجزاتی انسان ہیں۔“

احسان دانش نے کہا: ”شورش کاشمیری کی زبان اور قلم دونوں تلوار ہیں۔“

جسٹس ایس اے رحمان لکھتے ہیں: ”اس شخص کو زبان و بیان پر اس قدر قابو حاصل ہے کہ وہ لوگوں کے دل و دماغ سے کھیلتا ہے۔“

شورش کی انشاء پردازی اور سوانح نگاری سے متاثر ہو کر ”نقوش“ کے ایڈیٹر محمد طفیل نے انہیں اپنے زمانے کا محمد حسین آزاد قرار دیا ہے۔

مولانا ظفر علی خاں نے شورش کے نام ایک خط میں تحریر کیا: ”آپ کو جو تعلق مجھ سے ہو گیا ہے‘ میں اسے اپنی بہت بڑی خوش قسمتی خیال کرتا ہوں۔“

اردو زبان کے عظیم مقرر سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے پہلی دفعہ شورش کو سنا تو فرمایا:

”۔۔۔۔۔ معلوم ہوتا اس کے حلق میں گراریاں لگی ہوئی ہیں۔ خدا کا شکر ہے آواز میں غنا نہیں ورنہ ہم لوگ چوکڑی بھول جاتے۔“

پروفیسر رشید احمد صدیقی نے اپنے ایک خط میں لکھا: ”شورش صاحب آپ کو قلم پر قدرت حاصل ہے۔ پنجاب کو اقبال پر ناز ہے لیکن آپ بھی پنجاب کا فخر ہیں۔“

دوست تو دوست‘ دشمن بھی آپ کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ ان کی تحریر‘ ان کے حریف بھی چٹخارے لے لے کر پڑھتے تھے۔ شورش کے اپنے الفاظ ہیں:

”حسن وہ ہے جس کا سوکن بھی اعتراف کرے۔“

ان کے دشمن ان کے نام سے اس طرح کانپتے تھے۔ جس طرح اندھیری رات کے تاریک سناٹے میں گنہگار کا دل کانپتا ہے۔ شورش مرحوم میں سب سے بڑی خوبی اور

صفحہ ١٦٦

پسندیدہ بات یہ تھی کہ بہ حیثیت ایک شاعر، ادیب، صحافی اور مقرر، خدا اور رسولؐ کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔

بہر کیف! ”آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت“۔۔۔۔۔۔ جو آیا وہ گیا ہے، خدا کے سوا ہر چیز کو فنا ہے۔ برصغیر کے اس بے باک صحافی، نامور شاعر اور شعلہ نوا خطیب پر بھی ٢٥ اکتوبر ١٩٧٥ء کو موت کا ضابطہ پورا ہوا۔

اور لوگ جس میں شاعر، ادیب، صحافی، خطیب، اساتذہ، وکیل، طلباء، علماء، سیاستدان، مدیر، حکمران، پیر مشائخ، دوست دشمن سبھی شامل تھے۔ اس کا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھائے میانی صاحب کے قبرستان کی طرف رواں دواں تھے۔ گلیوں اور بازاروں میں ایک ہجوم تھا۔ انسانوں کا ایک سمندر موجیں مار رہا تھا۔ لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگے ہوئے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے:

قوائے بدن سب چور ہوئے اک دل کے صدمات پانے سے
فوجوں میں تلاطم برپا تھا سالار کے مارے جانے سے

ماہنامہ نقیب ختم نبوت اکتوبر ١٩٨٨ء

مولانا عبداللہ معمارؒ اور تحفظ ختم نبوت

مولانا امرتسر میں پیدا ہوئے۔ وہیں اپنے بچپنے کے دن گزار کے جوان ہوئے اور وہیں سے اپنی علمی زندگی کا آغاز کیا۔ مولانا کی پیدائش امرتسر کے ایک غریب گھرانے میں ہوئی۔ باقاعدہ تعلیم صرف چار جماعت تک ہی حاصل کر سکے۔ گھر کے حالات کچھ ایسے دور سے گزر رہے تھے کہ تعلیم کی گاڑی ابتداء میں چل ہی نہ سکی۔ غضب کے ذہین اور معاملہ فہم تھے۔ جب سن و سال کی ابتدائی منزلیں ذرا زیادہ ہوئیں اور عقل و دانش چمکنے لگی تو دیکھا فضا پر مرزائیت محیط ہے اور اس کے اثرات بڑے بڑے ذہنوں پر مسلط ہوتے جا رہے ہیں۔ اس زمانے میں مرزائیوں کے ”علماء“ بغل میں اپنے لٹریچر کا پلندا لئے لوگوں کے

صفحہ ١٦٧

ایمان کو مجروح کر رہے تھے اور ان کے خیالات واعتقادات کا بری طرح تعاقب کر رہے تھے۔ حضرت مولانا ثناء اللہ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ اور مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی رحمتہ اللہ علیہ اور کچھ اور بزرگ ان دنوں مرزائیوں کا صحیح توڑ تھے۔ مرزا صاحب کی ”نبوت“ کے منہ زور گھوڑے کی لگام آغاز ہی میں جن لوگوں نے کھینچی‘ مولانا ثناء اللہ مرحوم و مغفور ان میں سر فہرست تھے۔ مولانا جب مناظرات پر تشریف لے جاتے تو ایک تماشہ بین کی حیثیت سے مولانا عبداللہ معمار بھی ان کے ساتھ ہولیتے۔ عمر میں ابھی بہت نیچے تھے۔ لیکن اس قسم کی محفلوں اور مذہبی و تحقیقی مجالس میں شرکت کا شوق رکھتے تھے۔ یہ شوق رفتہ رفتہ ایک لگن کی صورت اختیار کر گیا اور ذہن و دماغ نے وقت کی رفتار سے متاثر ہو کر مرزائی لٹریچر کو سمیٹنا شروع کر دیا۔ کام شروع ہی سے عمارت کا کرتے۔ لیکن جب وقت ملتا تو مرزا صاحب کی تصنیفات کو لے بیٹھتے۔ آدمی ذہین تھے۔ بہت تھوڑی مدت میں مرزا کی تمام مطبوعات کے پلندے کو حافظہ میں محفوظ کر لیا۔ اور اس کے ایک ایک ورق کو کھنگال ڈالا۔ اس کے تمام نشیب و فراز پر قدرت حاصل کر لی۔ اور اس کے مالہ و ماعلیہ پر خوب عبور ہو گیا۔ پھر مرزائیوں کے خلاف پبلک جلسوں میں تقریریں کرنے لگے۔ اس سے ہچکچاہٹ دور ہو گئی اور زبان حافظہ کے خزانہ میں محفوظ معلومات کو لے کر مرزائیوں کے بخیے ادھیڑنے لگی۔

فاضل مرزائیت

مولانا ثناء اللہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی قوت فہم‘ حاضر جوابی اور ان اوصاف کا موازنہ کر کے جن کا ایک مبلغ اسلام میں ہونا ازبس ضروری ہے۔ ان کو خاص طور پر مرزائیوں کے مقابلہ کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا۔ جوہر قابل تھا۔ بہت جلد اپنی محنت اور مولانا کی کوششوں سے مرزائیوں کے خلاف فن مناظرہ میں ایک خاص مقام حاصل کر گئے۔ مولانا ثناء اللہ مرحوم کو ان پر فخر تھا۔ مناظرہ‘ علم کی کشتی اور عقل کے دنگل کا نام ہے۔ اس لئے اس میں سنجیدگی اور متانت کو بہت کم دخل ہو تا ہے۔ زیادہ یہی ہو تا ہے کہ فریقین اپنے علم و فضل کی نمائش ہی کرتے ہیں اور پوری کوشش کرتے ہیں کہ فریق مخالف پیچ در پیچ باتوں کی زلف گرہ گیر میں پھنس کر رہ جائے مگر مولانا معمار مرحوم کا انداز

صفحہ ١٦٨

بیان اس نوع کا تھا کہ وہ مخالف کے سامنے دلائل و براہین کے انبار لگا دیتے اور اس کو مجبور کر دیتے کہ اس میدان میں محض باتوں سے کام نہیں چلے گا۔ ٹھوس اور قطعی دلائل کی ضرورت ہے۔ کبھی آپے سے باہر نہیں ہوتے تھے۔ اتراتے نہیں تھے، تکبر جتانا نہیں جانتے تھے۔ نہایت منکسر المزاج، حلیم الطبع اور مرزائی مواد کے ماہر اور اس پر عمیق نگاہ رکھتے تھے۔ مرزا صاحب جو جو عجائبات اپنے ترکہ میں چھوڑ گئے ہیں۔ وہ سب ان کے ذہن میں محفوظ تھے اور اس لٹریچر سے ان کو خاص انس اور والہانہ شغف تھا۔ اگست ٤٧ء کے خونی انقلاب میں جب تمام ملک نفسی نفسی کے علاوہ سب کچھ بھول چکا تھا۔ مشرقی پنجاب میں ریاست پٹیالہ اور امرتسر کی سرزمین تو خصوصیت سے مسلمانوں کے لہو کی ندیوں سے لالہ زار بن گئی تھی۔ اس زمانے میں تاریخ نے مظالم کے پہاڑ گرا کر انسانیت کو اس قدر مدہوش کر دیا تھا کہ کسی شخص کو کسی چیز کو اٹھا کر ساتھ لے جانے کا خیال تک بھی نہیں آتا تھا۔ لیکن مولانا معمار امرتسر سے رخصت ہوتے وقت مرزائی ذخیرہ اور مرزا صاحب کے کلام کا ایک ورق بھی چھوڑ کر نہیں آئے۔ گھر بار کا کوئی سامان نہیں لا سکے۔ لیکن اس ڈھیر میں سے ایک حرف بھی ضائع نہیں ہونے دیا۔ کہا کرتے تھے، یہی میری تمام عمر کی کمائی ہے۔ مرزا صاحب کی پرانی تصنیفات کے بعض عجیب قسم کے حصوں کو نئے ایڈیشنوں سے مرزائیوں نے یا تو نکال دیا ہے یا اس کو کافی حد تک بدل دیا ہے۔ مگر ان کے پاس اپنے خاص خاص نوٹوں سمیت پرانی مطبوعات ہی تھیں۔ جن سے مرزا کی امت اکثر بوکھلا جاتی ہے۔

١٩٣٥ء کا واقعہ ہے کہ کوٹ کپورہ (ریاست فرید کوٹ) میں ایک مرزائی لڑکی کی شادی تھی۔ برات غالباً قادیان سے آئی تھی۔ ان میں ایک صاحب عبدالغفور مناظر بھی تھے۔ انہوں نے مرزا صاحب کی نبوت کے ثبوت میں رات کو ایک تقریر جھاڑ دی۔ مسلمانوں پر اس کا اثر الٹا ہوا۔ اس زمانے میں مولانا عطاء اللہ صاحب حنیف وہیں تشریف رکھتے تھے۔ وہ امرتسر سے مولانا کو لے کر شام کی ٹرین سے کوٹ کپورہ پہنچ گئے۔ مولانا عطاء اللہ فرماتے تھے کہ جب میں ان کو لینے کے لئے گیا تو وہ کسی کا مکان بنا رہے تھے۔ مرزائیوں کی شرارت کا سنتے ہی فوراً تیار ہوگئے۔ شہر میں منادی ہو گئی۔ لوگوں کے ہجوم سے عید گاہ میدان بھر گیا۔ مولانا نے مسلسل دو گھنٹے تقریر کی۔ مولانا نے اپنی تقریر میں مرزا صاحب کی کتابوں سے عبارتوں کی عبارتیں زبانی سنا دیں تو لوگ ان کی ذہانت پر بہت حیران ہوئے۔

صفحہ ١٦٩

ان کی بہت سی تصانیف ہیں۔

محمدیہ پاکٹ بک

محمدیہ پاکٹ بک تو ان کی تصنیفات میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ ہم پورے یقین سے کہتے ہیں کہ جو شخص بڑی توجہ سے محمدیہ پاکٹ بک کا مطالعہ کرے گا۔ وہ مرزائیت سے کبھی متاثر نہیں ہوگا۔ مولانا مخلص اہل حدیث تھے۔ انقلاب کے دوران امرتسر کو خیرباد کہہ کر گوجرانوالہ آ رہے۔ کچھ دیر یہاں رہے، پھر ان کو چنیوٹ کی جماعت مرزائیوں کے خلاف تبلیغ الاسلام کی خاطر وہاں لے گئی۔ چنیوٹ کی جماعت نے تبلیغ اسلام کے لئے ایک انجمن قائم کی ہے۔ اس کا مقصد یہی ہے کہ لوگوں کو مرزائی عقائد سے متاثر ہونے سے بچایا جائے۔ اس کار خیر کے لئے اس نے اچھے اچھے اصحابِ علم کا انتخاب کیا ہے۔ جن میں مولانا عبداللہ معمار بھی تھے۔ مولانا کا اہل و عیال گوجرانوالہ رہا۔ وہ اکیلے وہاں رہ رہے تھے۔

مولانا عبداللہ معمار کا انتقال پر ملال

وسط اپریل میں وہیں بیمار ہوئے، طبیعت پہلے ہی کافی کمزور تھی۔ ایک ہفتہ بیمار رہنے کے بعد ٢٦ اپریل ١٩٥٠ء ساڑھے گیارہ بجے دن پچپن سال زندگی گزار کر عالم جاودانی کو سدھار گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شام کے بعد آٹھ بجے حضرت الامیر المرکزیہ مولانا محمد اسماعیل صاحب مدظلہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور دس بجے شب گوجرانوالہ کی خاک کے سپرد کردیئے گئے۔ رہے نام اللہ کا۔

(مرزائے قادیان اور علمائے اہل حدیث' ص ٧٨ تا ٩١' از مولانا محمد حنیف یزدانی)

مولانا محمد علی صدیقی کا جیل سے خط

عزیزم سلمہ! السلام علیکم

اس وقت دن کے بارہ بجے ہیں۔ چائے سے فارغ ہوا ہوں۔ شاید تم پوچھو یہ

صفحہ ١٧٠

چائے کا کون سا وقت ہے۔ بات یہ ہے کہ لباس اور خوراک میں ایک حد تک آزاد ہوں۔ میرا فیشن یہ ہے کہ بیدار ہونے کے بعد چائے ملنی چاہئے۔ یہاں کے پروگرام کے مطابق قیلولہ دس سے ساڑھے گیارہ بجے تک ہے۔ اس لئے چائے کا وقت بھی بارہ بجے مقرر ہوا۔ رات کو ایک اور دو کے درمیان چائے پیتا ہوں۔ سو کے اٹھتا ہوں تو جب تک پیالی منہ کو نہیں لگتی‘ کھویا کھویا سا رہتا ہوں۔ میں نے لب کی جگہ منہ اس لئے کہا ہے کہ چائے میں لب سوزی اور لب دوزی میرے نزدیک مکروہ ہے۔ چائے نوشی کے وقت لبوں سے پیدا شدہ آواز میرے مذاق کے لئے بہت گراں اور میری طبیعت کے لئے سامان قبض ہے کیونکہ یہ چائے کے لب سوز اور لب دوز ہونے کی علامت ہے۔

اب سنو! میں مورخہ ١٨ اگست کو دوبارہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کر دیا گیا ہوں۔ تم پوچھو گے کیوں؟ اس کا مجھے پتہ نہیں۔ شاید گرفتار کنندگان کو بھی اس کا پتہ نہ ہو اور پتہ نہ ہونے کی وجہ صاف ہے۔ جب پولیس کی چیرہ دستیاں آخری حد کو پہنچ جاتی ہیں تو وہ شکار کے لیے اپنے ترکش کے وہ تیر استعمال کرتی ہے جسے سیفٹی ایکٹ کی دفعہ نمبر ٣ کہا جاتا ہے۔ دعویٰ تو ہے مگر دلیل نہیں ہے۔ دلیل ہوتی تو کھلی عدالت میں پیش ہوتی۔ ہم بھی ذرا تولتے اور مخاطب سے آنکھیں چار کرتے۔ مگر عدالت میں بیچارے معاملہ لے جائیں تو کس بوتے پر؟ کیا کہیں؟ یہ شخص محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت کا علیٰ رؤس الاشہاد اعلان کرتا ہے یا یہ کہ مرزا علیہ ماعلیہ کی جھوٹی اور خانہ ساز نبوت کی دھجیاں لوگوں کے سامنے اڑاتا ہے۔

بتائیے‘ ان دونوں باتوں میں سے کون سی بات مملکت خداداد سے غداری کے مترادف ہے۔ ان کی روسیاہی کی یہ سب سے بڑی شہادت ہے کہ آج ایک مسلمان کھلے بندوں پبلک اسٹیج پر ایمان کی دعوت نہیں دے سکتا۔ خوش ہیں کہ ہم نے دبا دیا اور ابلیس بغلیں بجا رہا ہے جو کام وہ انگریز سے نہ کرا سکا۔ وہ محمدؐ کے نام لیواؤں سے پورا ہو گیا۔

(نقوش زنداں‘ ص ١٦٦‘ ١٦٧‘ از مولانا محمد علی صدیقیؒ)

قتیل اس شخص کا کیا واسطہ میرے قبیلے سے
وفا کے جرم میں جس نے سزا پائی نہیں ہوتی (مؤلف)
صفحہ ١٧١

مولانا مودودیؒ

اور تحریک ختم نبوت کی یادیں

١٩٥٣ء میں مولانا سنٹرل جیل لاہور کے کسی وارڈ میں اپنی قید کاٹ رہے تھے۔ باقی رفقاء بھگت سنگھ وارڈ میں نظربند تھے۔ جیل میں میری طبیعت کافی خراب ہو گئی تھی۔ مولاناؒ کو اس حد تک تشویش ہوئی کہ ایک دن تنہائی میں مجھ سے فرمانے لگے کہ آپ کی رہائی کا کوئی بندوبست کرادیں؟ میں نے عرض کیا ”مولانا ہمارا مرنا جینا آپ کے ساتھ ہے، یہ آپ کیا فرما رہے ہیں؟“ مولاناؒ کبھی کبھی ہمارے وارڈ میں ملنے آتے رہتے تھے۔۔۔۔۔ ہمیں ان کی تشریف آوری کا پہلے سے علم ہوتا تھا۔ لیکن ایک دن مولاناؒ اچانک تشریف لے آئے۔ ان کی غیر متوقع زیارت میرے لئے ایسے تھی جیسے انتیس کی عید کا چاند۔ میرے چہرے پر اس خوشی کے تاثرات نمایاں ہو گئے۔ مولاناؒ نے فرمایا اب تو آپ کے چہرے پر کافی رونق ہے۔“ میں نے بے ساختہ یہ شعر پڑھا

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پہ رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

مولاناؒ بہت محظوظ ہوئے۔ نصر اللہ خاں عزیز تو سر دھننے لگے اور فرمایا ”یہ شعر تو کسی نے اسی موقع کے لئے کہا تھا۔“

مولاناؒ کے غیر معمولی عزم و استقلال اور توکل کا یہ واقعہ اگرچہ پہلے بھی کئی بار شائع ہو چکا ہے مگر میں زیادہ معتبر اور ثقہ ذرائع سے یہ روایت بیان کرنے لگا ہوں:

کئی سال پہلے کی بات ہے، میرا ایک عزیز سی۔ ایم۔ ایچ ملتان میں بحیثیت میجر ڈاکٹر متعین تھا۔ ایک عید کے موقع پر وہ مجھے ملنے آیا۔ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد جب ذکر جماعت اسلامی اور بانی جماعت کا آیا تو اس نے بتایا کہ میرے ایک آفیسر جو ایک طویل عرصہ جیلوں میں رہ چکے ہیں انہوں نے ایک مرتبہ اثنائے گفتگو میں نہایت حیرت و استعجاب کے

صفحہ ١٧٢

ساتھ بتایا کہ جس قیدی کو موت کا حکم ملتا ہے تو وہ کم از کم پہلی رات تو بہت ہی مضطرب رہتا ہے اور سو بالکل نہیں سکتا۔ پھانسی کا حکم پانے والے قیدی کے لئے ڈاکٹر کو حکم ہے کہ رات کو کئی بار جا کر جائزہ لے۔ چنانچہ میں نے اپنی جیل کی سروس میں پہلی رات کسی ایسے قیدی کو سوتے ہوئے نہیں دیکھا ماسوائے ایک شخص کے‘ اور وہ شخص مولانا مودودیؒ تھے۔ انہیں جس شام پھانسی کی سزا سنائی گئی تو میں قانون کے مطابق رات کے بارہ بجے کے قریب انہیں دیکھنے گیا۔ یہ دیکھ کر میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی کہ خاصے فاصلے پر ان کے گہری نیند سے سونے کی آواز (یعنی خراٹوں) کی آواز آ رہی تھی۔

مولاناؒ کی پڑھنے کی رفتار بہت تیز تھی۔ ایک رات کو لاہور جیل میں رفقاء سے کہنے لگے کسی کے پاس پڑھنے کی کوئی چیز ہو تو دے دیجئے‘ آج رات میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ ایک دوست نے کہا کہ میرے پاس تھامس ہارڈی کا ایک ناول ہے۔ مولاناؒ نے فرمایا اچھا وہی دے دیجئے۔ صبح ہی کتاب واپس کرنے آئے۔ میں نے پوچھا‘ مولاناؒ یہ کتاب پڑھ لی؟ فرمایا‘ ہاں رات نیند نہیں آ رہی تھی۔ اس لئے دیر گئے تک جاگتا رہا۔

(”تذکرہ سید مودودیؒ“ ص ٦٠٠ تا ٦٠٢‘ مضمون نصیر احمد)

مرزا قادیانی کی عقل

مرزا غلام احمد قادیانی مراقی تھے۔ بے چارے اس قدر بیمار رہتے تھے کہ نیند میں چلتے تھے۔ ان کے پاس ایک ٹائم پیس تھا۔ اسے پہلے دستر خوان میں لپیٹتے‘ پھر تولیے میں اور پھر اپنے کھیس میں۔ اس کی ایک گٹھڑی سی بنا کر سر پر رکھتے اور گلیوں بازاروں میں چلا کرتے اور لوگ ان سے پوچھتے کہ مرزا صاحب ٹائم کیا ہوا ہے تو وہ کہتے کہ ذرا ٹھہرو۔ گٹھڑی کو زمین پر رکھتے‘ پہلے کھیس اتارتے‘ پھر تولیہ اور آخر میں دستر خوان سے ٹائم پیس برآمد کرتے اور کہتے کہ پانچ بج کر تینتیس منٹ ہوئے ہیں۔“

بلال صاحب نے پوچھا: ”یہ حالات نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے کے ہیں؟“

صفحہ ١٧٣

”نہیں ۔۔۔۔۔ نبوت بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔“

(ماہنامہ اشراق‘ اکتوبر ١٩٩٨ء‘ انٹرویو اشفاق احمد صاحب)

------- وہ کسر نفسی ثابت نہ کر سکا

میانوالی ٢٦ اپریل ١٩٦٦ء کے مناظرے مابین حضرت مولانا لال حسین اختر اور قاضی نذیر لائل پوری قادیانی کو سن کر ڈاکٹر نور خان صاحب مرحوم اور اس کے ساتھیوں کا ایمان بچ گیا۔ مگر اس مناظرے کی پاداش میں قادیانی ہائی کمان نے مناظرہ طے کرنے والے مربی کو تبدیل کر دیا۔ اس کی جگہ نیا مربی تعینات ہوا۔ اس کی شکل سے میں واقف نہیں تھا۔ وہ مربی خصوصی ہدایات کے ساتھ آیا۔ ڈاکٹر نور خان کو دوبارہ گھیرنے کی کوشش کرنے لگا۔ ڈاکٹر صاحب سے ہمارا تو طبی تعلق تھا۔ ہرنولی سے ادویات وغیرہ لینے میانوالی جانا آنا اکثر ہوتا رہتا۔ ان دنوں مذہبی جلسوں کا بھی زور تھا۔ میں ذہنی مطابقت کی وجہ سے جمعیتہ علماء اسلام کا رکن اور ضلعی مجلس شوریٰ کا رکن بھی تھا۔ جب بھی میانوالی جاتا‘ ڈاکٹر نور خان صاحب سے ضرور ملتا۔ ایک دن ان کے مطب میں بیٹھا تھا۔ ڈاکٹر نور خان کے ساتھ ایک آدمی اور بھی تھا‘ جسے میں نہیں جانتا تھا۔ میرا منہ بازار کی طرف تھا۔ سڑک سے ڈی ایف سی میانوالی کا چپڑاسی گزرا۔ مجھے دیکھ کر زور سے سائیکل کی بریک لگائی۔ میں نے دیکھا کہ وہ مجھے اشارہ سے باہر بلا رہا ہے۔ کیونکہ ہم دونوں پہلے سے واقف تھے‘ میں اٹھ کر اس کے پاس گیا تو مجھے کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب! آپ مرزائیوں کے پاس کیسے بیٹھنے لگ گئے ہیں؟ میں نے کہا کہ ڈاکٹر نور خان تو مرزائی نہیں‘ وہ تو مسلمان ہے۔ کہنے لگا کہ ساتھ میں مرزائی مبلغ جو بیٹھا ہے۔ میں بڑا حیران ہوا‘ فوراً اللہ تعالیٰ نے دل میں بات ڈالی۔ میں نے کہا کہ آؤ تمہیں تماشا دکھاتا ہوں۔ وہ کہنے لگا کہ مجھے کام ہے‘ مجھے پہلے ہی خیال تھا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ یہ مرزائی ہے۔ میں واپس مطب میں داخل ہوا۔ ڈاکٹر نور خان شاعرانہ مزاج رکھتے تھے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب مجھے ایک شعر کا مطلب سمجھا دیں‘ میری سمجھ

صفحہ ١٧٤

میں نہیں آرہا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ کونسا شعر ہے۔ میں نے کہا کہ ایک شاعر کا یہ شعر ہے کہ

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

ڈاکٹر صاحب نے شعر سن کر کہا کہ یہ کس الو کے پٹھے نے شعر کہا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ مربی صاحب بتائیں گے کہ یہ کس الو کے پٹھے کا شعر ہے۔ میرے اور ڈاکٹر صاحب کے مابین گفتگو سن کر مربی صاحب کا چہرہ فق ہو گیا اور ڈاکٹر نور خان سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب میں نہ کہتا تھا کہ دین محمد بڑا شرارتی ہے۔ اسے اپنے پاس نہ بیٹھنے دیا کریں۔ دیکھ لیا نا۔ ابھی کیا شرارت کی۔ میں نے کہا کہ مربی صاحب میں نے ڈاکٹر صاحب سے شعر کا مطلب پوچھا ہے۔ اس میں شرارت کی کیا بات ہے۔ یہ شعر آپ پڑھیں تو عقیدت سے مرزا کا الہام سمجھ لیں۔ میں نے پڑھ دیا تو شرارت ہو گئی۔ یہ ”در ثمین“ میں مرزا قادیانی نے خود اپنے متعلق نہیں لکھا؟ شعر سن کر ڈاکٹر صاحب ہی نے کہا ہے کہ یہ کس الو کے پٹھے کا شعر ہے۔ میں نے تو نہیں کہا۔ جب آپ کے مرزا نے ایسے اشعار کہے ہیں تو برداشت کرو۔

مربی کہنے لگا ’جی یہ کسر نفسی ہے۔ اللہ والے کسر نفسی میں اپنے کو گھٹاتے ہیں‘ بڑھاتے نہیں۔ سب بزرگوں نے کسر نفسی کی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات تو چھوڑو مرزا نے اپنے آپ کو بڑھایا ہے کہ نہیں۔ اگر میں یہ ثابت کر دوں کہ مرزا نے تو اپنے کو اتنا بڑھایا ہے کہ خدائی کا دعویدار بن گیا تو آپ کہیں گے کہ دین محمد شرارت کرتا ہے۔ مجھے یہ ثابت کر دیں کہ تاریخ میں کسی بزرگ نے ایسی کسر نفسی کی ہو کہ اپنے آپ کو انسانوں کا۔۔۔۔۔۔ کہا ہو۔ میں تمہاری مخالفت چھوڑ دوں گا۔ قریشی کہنے لگا۔ میں ثابت کر دوں گا۔ میں نے کہا کہ کرو۔ کہنے لگا پھر ثبوت مہیا کروں گا۔ میں نے ڈاکٹر نور خان صاحب سے کہا کہ جب یہ ثبوت لائے، مجھے ہرنولی سے بلالیں۔ تقریباً ایک ہفتہ کے بعد میں میانوالی ڈاکٹر نور خان کے پاس گیا تو یہ دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب کی میز پر شیشہ کے نیچے نمایاں طور پر لکھا ہوا ہے کہ مرزا غلام قادیانی نے اپنے متعلق فرمایا:

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
صفحہ ١٧٥

میں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب‘ سناؤ! مربی کسر نفسی کا ثبوت لایا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ کی بڑی مہربانی کہ میری جان ان خبیثوں سے چھوٹ گئی۔ باوجود کہ مناظرے میں انہیں بڑی شکست ہوئی مگر یہ میرا پیچھا کسی صورت میں چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ میں نے کئی دن مطالبہ کیا کہ کسر نفسی کا ثبوت لاؤ کہ اسلام میں کس بزرگ نے اپنے آپ کو کسر نفسی میں اتنا گرایا ہو۔ مگر وہ کوئی ثبوت مہیا نہ کر سکے۔ روزانہ ادھر ادھر کی باتیں کرتے اور تمہاری مخالفت میں بے سروپا کہانیاں بناتے رہے۔ میں نے تنگ آکر کل سے یہ شعر خوش خط لکھوا کر میز پر رکھ دیا۔ مربی نے کل جو دیکھا‘ تو خاموشی سے چلا گیا اور اب تک نہیں آیا اور اس بازار میں یہ شعر مشہور ہو گیا۔ پتہ چلا ہے کہ اس نے اس بازار میں بھی آنا چھوڑ دیا۔ کیونکہ مسلمانوں کے ہاتھ حربہ آگیا ہے۔ جب بھی کوئی مسلمان مربی کو دیکھتا ہے تو زور سے آواز دیتا ہے کہ مرزا کون تھا؟ تو دوسرا زور زور سے یہ شعر پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ اب ہمیں امید ہے کہ کوئی مرزائی ہمارے بازار کا رخ نہیں کرے گا۔

(ماہنامہ نقیب ختم نبوت‘ اپریل ١٩٩٩ء‘ مضمون ڈاکٹر دین محمد فریدی)

مرزا غلام احمد قادیانی نے جب لدھیانہ میں

نبوت کا دعویٰ کیا

جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیسے ہوا۔۔۔۔۔ تاریخی حقائق

مالک حقیقی نے معلم الملکوت کو نافرمانی کرنے کے جرم میں جب راندہ بارگاہ ایزدی قرار دیا تو شان بے نیازی سے اس کی یہ درخواست بھی قبول فرمائی کہ وہ بندگان خدا کو بھٹکا سکتا ہے تو بے شک یہ بھی کر دیکھے۔ اللہ کے نیک بندے شیطان لعین کے مقابلہ کے لئے کافی ہیں۔ روز اول سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ مالک کل ہر جگہ موجود ہے۔ شیطان بھی آنکھ بچا کر

صفحہ ١٧٦

اپنا اڈہ بنا لیتا ہے۔ وہ انسانوں کو سبز باغ دکھا کر ہر آن گمراہ کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ نصف صدی سے کچھ اوپر کی بات ہے کہ ہمارے ہاں لدھیانہ میں مرزا غلام احمد آنجہانی حکیم نور الدین کے ہمراہ محلہ جدید میں ایک شخص منشی احمد جان کے ہاں وارد ہوئے۔ حکیم نور الدین منشی احمد جان کے داماد تھے۔ منشی احمد جان اس محلہ کے مشہور و معروف آدمیوں میں سے تھے۔

لدھیانہ ایک تاریخی شہر ہے۔ یہاں کابل کے شہزادے ، جھجر کے نواب اور کشمیر کے مشہور خاندانوں کے لوگ آباد تھے۔ اکثر امراء کے مکانوں پر علمی مجلسیں ہوتیں۔ غلام احمد تو معمولی قابلیت کے انسان تھے مگر حکیم نورالدین جو خاصے پڑھے لکھے عالم تھے مداریوں کی طرح غلام احمد کو لئے لئے پھرتے تھے۔ جن لوگوں نے حکیم نورالدین کے علمی مباحث سنے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ شخص کس قدر حاضر جواب اور علم مجلس کے زیور سے آراستہ و پیراستہ تھا۔ انہی دنوں جب یہ بیوپاری قافلہ پیری کا جال پھیلانے کی غرض سے لدھیانہ آیا ہوا تھا۔ تحصیل جگراؤں میں ایک مجذوب کا عرس ہو رہا تھا۔ یہ مجذوب تھا تو مسلمان مگر سکھ چونکہ زیادہ عقیدت مند تھے اس لئے بہت جلد قریبی علاقے میں چرچا ہوا اور عرس میلے کی صورت اختیار کر گیا۔ اس مجذوب کا نام محکم دین تھا جو وارفتگی کے عالم میں لوگوں کو اپنا کلمہ پڑھنے کی تلقین کرتا تھا۔ یہ کلمہ تھا:

”لااله الا الله محکم دین رسول الله۔“

یہ کفر صریح علاقہ بھر میں اس زور سے پھیلا اور نذریں نیازیں اس قدر آنے لگیں کہ مجاوروں اور گدی نشینوں کے وارے نیارے ہو گئے۔ اس واقعہ نے غلام احمد اور نور الدین کو چوکنا کر دیا۔ شیطان جو روز اول سے بازی لگا کر میدان میں اتر چکا تھا، کب چوکنے والا تھا۔ چپکے سے دونوں ہوس پرستوں کے کان میں پھونک ماری۔ دونوں نے بیٹھ کر گورمتا پکایا۔ مسودہ تیار ہو گیا۔ ایک روز منشی جان محمد کی بیٹھک میں جو نئے محلے میں پیرجی کی مسجد کے بالکل قریب تھی، بیٹھے بیٹھے غلام احمد نے کہا کہ بھئی دوستو، سنو مجھے ابھی ابھی الہام ہوا ہے کہ میرے رب نے مجھے کہا ہے کہ تو نبی ہے۔ اگر اس الہام کو چھپاتا ہوں تو گنہگار ٹھہرایا جاؤں گا۔ اس لئے تمہارے سامنے اعلان کرتا ہوں۔

بغل میں بیٹھے ہوئے حکیم نورالدین نے جھٹ کہا، کیا فرمایا آپ نے؟ غلام احمد نے

صفحہ ١٧٧

کہا، بھئی مجھے ابھی ابھی الہام ہوا ہے کہ میں اللہ کا نبی ہوں۔ زور سے بسم اللہ کہتے ہوئے حکیم نور الدین نے پکائے ہوئے گورمتا اور سکھائے ہوئے منتر کے مطابق دونوں ہاتھ غلام احمد کی طرف بڑھا دیے اور کہا کہ بیعت کیجئے حضور، اچانک یہ ہتھ ناٹک اس خوبصورتی سے کھیلا گیا کہ حکیم صاحب کے خسر منشی احمد جان کے علاوہ صوفی عباس علی شاہ بھی چکر میں آ گئے تو چل اور میں چلا، درجن ڈیڑھ درجن مسلمان ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پاس ہی محلہ موچی پورہ میں حضرات علماء کرام کا مرکز تھا۔ انہیں جب یہ خبر ہوئی کہ اس شیطان کے چیلے نے ارتداد پھیلانا شروع کیا ہے تو حضرات علماء کرام دلائل کے ہمراہ لٹھ بھی اٹھا لائے کہ اگر لاتوں کا بھوت باتوں سے نہ مانا تو خوب اچھی طرح خبر لی جائے گی۔ زمانہ گزر گیا۔ مدت کی بات ہے بچپن کا زمانہ تھا کہ ابھی ہم جماعت اول میں قاعدہ لئے بیٹھے تھے کہ باہر سڑک پر ایک ہنگامہ ہوا۔ ارے بھئی کیا ہوا؟ معلوم ہوا کہ کسی فاطر العقل نے نبوت کا دعویٰ کر دیا ہے۔ مولوی صاحبان لٹھ لے کر بھیجا توڑنے کی فکر میں ہیں۔ ہم کچھ نہ سمجھ سکے۔ یہ شور شرابا کیسا ہے؟ اور کیوں ایک پاگل کو مار دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ وقت گزرتا گیا۔ یہ چرچا محلہ جدید سے نکل کر گلی متینگی میں بھی آپہنچا۔ رشتہ داریوں کے پیچ در پیچ راہوں سے نکل کر شیطان کے چیلے کو پھلنے پھولنے کا میدان مل گیا۔

خواجہ احمد شاہ مرحوم اور میر احمد شاہ سکتر ہمارے ہاں کے دو مشہور بزرگ گزرے ہیں۔ اول الذکر بہت بڑے رئیس اور زبردست پالیٹیشن تھے۔ ثانی الذکر درویش منش انگریزی دان تھے۔ غلام احمد کا یہاں بھی آنا جانا تھا۔ خواجہ صاحب کی کوٹھی کے سامنے ایک محلہ آباد ہے۔ یہاں ایک بھٹیرن رہتی تھی۔ غلام احمد کی ان سے بھی یاد اللہ تھی۔ اس بھٹیرن کا نام تھا ”ماہو۔“ بہت مشہور عورت تھی اور مرزا صاحب کی کرامتیں بتایا کرتی تھی۔ مرزا صاحب آنجہانی نے خوش ہو کر ماہو کو چار کرسیاں بھی خرید کر دی تھی۔ یہ تاریخی کرسیاں ماہو کے پاس اب تک موجود تھیں۔ ماہو بیچاری تقسیم ملک سے کچھ عرصہ پہلے فوت ہو چکی تھی۔ اب تو بہت عمر رسیدہ تھی مگر جن دنوں حضرت مرزا صاحب ماہو کے ہاں جایا کرتے تھے تو لوگ بلاوجہ بدگمانیاں کیا کرتے تھے۔ بہرحال لدھیانہ سے نبوت کاذبہ نے ایسا سر اٹھایا کہ انگریز کی برکت سے تھوڑے ہی عرصہ میں طوطی بولنے لگا۔

صفحہ ١٧٨

شعبدہ بازی کی تلاش

مولوی ولی محمد صاحب واچ مرچنٹ لدھیانے کے مہاجر ان دنوں انارکلی کے پچھواڑے میں رہتے ہیں۔ وہ اس بات کے عینی شاہد ہیں کہ ساڈھورہ کے ایک عامل مسمی سید جلال شاہ کو غلام احمد آنجہانی نے کچھ شعبدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ وہ بیٹھے بیٹھے اپنے ہاتھوں پر چادر پھیلا کر خالی تھالی کو زر و جواہرات سے بھر دیتا اور اسی طرح غائب بھی کر دیتا تھا۔ غلام احمد، جس نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا تھا، اس کمی کو سختی سے محسوس کر رہا تھا۔ اس قسم کے ہتھکنڈے اگر آجائیں تو نبوت فرنٹیئر میل کی رفتار سے زیادہ تیز چل سکتی تھی۔ اس بیچارے عامل کو غلام احمد کے آدمیوں نے پکڑ لیا۔ جہاں کہیں بھی جاتے، اسے الگ کوٹھڑی میں بند رکھتے اور تقاضا یہ ہوتا کہ غلام احمد کو یہ فن سکھاؤ۔ بے چارہ عامل تنگ آچکا تھا۔ مولوی ولی محمد صاحب کا بیان ہے کہ جب یہ خبر ان کے حلقہ میں پہنچی تو اس عامل کو اس لالچی کے پنجہ سے چھڑا کر ساڈھورہ کا ٹکٹ لے دیا اور گاڑی میں سوار کرا کے لدھیانہ سے چلتا کر دیا۔ جن لوگوں نے یہ کچھ ہوتے دیکھا ہے، ان سے مرزائیوں کے مبلغ بحث کرتے ہیں اور مناظرہ کی ٹھان لیتے ہیں۔ تو وہ حیرانی سے ان فریب خوردگان دجل کا منہ تکنے لگتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی سن لیجئے کہ جب سید عباس علی شاہ مرحوم نے مرزا غلام احمد کے ہاتھ پر بیعت کی تو ان کے پانچ سات سو مریدوں نے بھی غلام احمد کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی۔ جس سے نبوت کاذبہ کا کام خوب چل نکلا۔ غلام احمد نے سید عباس علی شاہ کو السابقون الاولون کے لحاظ سے صدیق اکبر کا خطاب دیا۔ مگر چند دنوں بعد جب عباس علی شاہ پر غلام احمد کے فریب و ریا کاری کا حال کھلا تو انہوں نے بیعت توڑتے ہوئے ایک پوسٹر شائع کیا اور لوگوں کو خبردار کیا جس پر غلام احمد حسب عادت گالیاں بکنے لگے۔ جب انگریز نے سہارا دیا تو نبوت کاذبہ کو چار چاند لگ گئے۔ ابتدا وہ تھی۔ انتہا یہ ہے۔

دارالبیعت

لدھیانے میں وہ مکان آج تک موجود ہے جس میں غلام احمد نے نبوت کا اعلان کیا تھا اور حکیم نور الدین نے ڈرامہ کا پہلا پردہ اٹھایا تھا۔ طالب علمی کا زمانہ بھی کیا جستجو و تلاش کا

صفحہ ١٧٩

زمانہ ہوتا ہے۔ ہمارے بچپن کے ساتھی نئے محلہ میں جہاں مرزائیوں کا پہلا دارالبیعت ہے‘ رہتے تھے۔ ہمیں اسی کوچہ سے گزر کر اپنے ہم مکتبوں کے گھر تک جانا ہوتا تھا۔ جیسے ہم کم علم تھے‘ ویسے ہی ہمارے ساتھی بھی تھے۔ ہم کیا جانیں‘ دارالبیعت کسے کہتے ہیں؟ عربی رسم الخط تو یوں بھی ہمارے لئے معمہ تھا۔ چند شریر ہمراہیوں کے ساتھ ہم اس کوچہ خاص سے گزر رہے تھے کہ دارالبیعت پر نظر پڑی۔ اسی کے نیچے کسی منچلے کاتب نے دارالخلافہ بھی لکھ رکھا تھا۔ مسجد کے امام صاحب جو اس طرف سے گزرے تو ہمراہی انہیں گھیر کر کھڑے ہو گئے۔ اجی مولوی صاحب! اجی مولوی صاحب‘ یہ کیا لکھا ہے؟ مولوی صاحب نے فرمایا‘ دارالبیعت کیا معنی اس کے؟ مولوی صاحب نے فرمایا‘ بیعت لینے کی جگہ‘ پیر ماننے کی جگہ۔ ہمارے ایک شریر ساتھی نے کہا اور نیچے کیا لکھا ہے؟ مولوی صاحب فرمانے لگے کہ کسی شرارتی کاتب نے مرزائیوں کو چڑانے کے لیے یہ مذاق کیا ہے‘ تم بھاگو یہاں سے‘ تمہیں ان قصوں سے کیا کام۔

خدا جانے مرزائیوں کا یہ تاریخی مقام اب کس سکھ کے قبضہ میں ہے‘ یہ بھی معلوم نہیں کہ اوپر کے کتبہ پر عمل ہوتا ہے یا نچلی شرارت پر۔

بہر حال اس منحوس کوچہ میں کذب و افترا اور دجل مجسم کا خاتمہ ہو جاتا تو آج یہ مصیبت اس طرح ہولناک صورت اختیار نہ کر لیتی۔

(ماہنامہ صوت الاسلام‘ جلد ١‘ شمارہ ٣‘ از قلم ماسٹر تاج الدین انصاری”)

آغا بابر کی یادیں

مرزا غلام احمد قادیانی نے اسلام میں احمدیہ فرقہ کی بنیاد ڈالی‘ جس کا شہرہ سارے ہندوستان میں ہوا۔ عیسائیوں کی نقل کرتے ہوئے بظاہر اسلام کی تبلیغ کے لئے مگر اصل میں اپنی جماعت کی تعداد بڑھانے کے لئے مبلغوں کو باہر دوسرے ملکوں میں بھیجا۔ وہ بڑا زیرک آدمی تھا۔ مسلمان کے اندر کچھ ایسی ماضی پرستی کے جراثیم ہیں کہ وہ چودہ سو سال پرانی

صفحہ ١٨٠

بدوانہ زندگی کو بڑے چاؤ کے ساتھ دیکھتا ہے اور خلفائے راشدین کا وقت یاد کر کے سر دھنتا ہے۔ مرزا غلام احمد مسلمانوں کی ان سب کمزوریوں سے بخوبی آگاہ تھے۔ انہوں نے سارا سیناریو ویسا ہی تیار کیا۔ نبوت کا دعویٰ کیا۔ کہا میں وہی مسیح موعود ہوں، جس کو دوبارہ دنیا میں بھیجے جانے کا وعدہ ہو چکا ہے چنانچہ مسیح موعود کا لقب اختیار کیا۔

قادیان میں بہشتی قبرستان بنایا۔ نام جنت البقیع رکھا جو مدینہ منورہ میں موجود ہے۔ اپنے حاشیہ نشینوں کو صحابہ کرام کہنا شروع کیا۔ منارۃ المسیح تعمیر کرایا۔ خود نبی اور اپنے بعد آنے والے قائد کو خلیفہ کا لقب دیا۔ ان کا پہلا خلیفہ جو ہوا، وہ ان کے پرانے ساتھی حکیم نور الدین تھے۔ جو پیشہ کے اعتبار سے طبابت کرتے تھے۔ دوسرے خلیفہ مرزا غلام احمد کے فرزند مرزا بشیر الدین احمد محمود تھے۔ بٹالہ کو فرقہ احمدیہ میں ایک خاص تقدس حاصل تھا۔ وہاں کے بہت لوگ احمدی ہو چکے تھے۔ بٹالہ میں قادیانیوں کی مخالفت بھی بہت تھی۔ ان کے خلاف جلسے بھی ہوتے، تقریریں بھی ہوتیں، جس میں پیش پیش وہاں کی انجمن ”شباب المسلمین“ تھی۔ جس نے کئی مسجدوں پر لکھ دیا تھا۔ یہاں قادیانی نماز نہیں پڑھ سکتے۔ قادیانی آپس میں ایک دوسرے کو احمدی کہتے اور اپنے خلیفہ کو حضرت صاحب۔ عام زبان میں ان کو دوسرے لوگ مرزائی یا قادیانی کہتے تھے۔ مرزا غلام احمد ذات کے مغل تھے۔ شہنشاہ اکبر کے بعد مغل بادشاہوں نے مغلوں کو جان بوجھ کر جگہ جگہ آباد کر دیا تھا تاکہ مقامی آبادیوں کے پیراہن میں ان کی حیثیت جیب کی بن جائے جو ایک دوسرے کی سوچ میں توازن پیدا کر سکیں۔ سازش اور بغاوت کے امکانات گھٹ جائیں اور خبر رسانی میں سہولت ہو۔ قادیان ایک چھوٹا سا گاؤں بٹالہ سے آٹھ نو میل کے فاصلہ پر تھا۔ چند گھر وہاں مغلوں کے آباد تھے۔

اول اول مرزا غلام احمد سیالکوٹ میں مجسٹریٹ کے محرر ہوتے تھے۔ جی میں پٹواری بننے کی بڑی خواہش تھی۔ ایک چھوٹی سی مسجد گلی حسام الدین میں تھی۔ وہاں امامت بھی کرتے، درس بھی دیتے۔ گلی محلے کے لوگ متاثر ہو کر کہتے، ہے تو کچہری میں محرر مگر علم بہت رکھتا ہے۔ چنانچہ اپنے گرد انہوں نے مداحوں کا ایک حلقہ بھی پیدا کر رکھا تھا۔ پٹواری بننے کی خواہش پوری کرنے کے لئے سات مرتبہ پٹوار کا امتحان دیا۔ ساتوں بار فیل ہوئے۔ جی میں آیا۔ قادیان چلے آئے اور ایک نکمی سی کوٹھری میں بیٹھ کر پمفلٹ بازی شروع کر

صفحہ ١٨١

دی۔ پھر کتابوں پر اتر آئے، جن کو لوگ شوق سے پڑھنے لگے۔ پٹوار کا امتحان اگر پاس کر لیتے، پٹواری بن جاتے اور ترقی پا کر قانون گو ہو جاتے مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ مرزا صاحب کے عروج کی یہ تصویر ساری اباجی کے سامنے تھی۔ ایک روز کیا دل میں آئی۔ خلیفہ ثانی سے ملنے قادیان جا پہنچے۔ حفظ مراتب اور احترام کے طور پر وہ مرزا بشیر الدین محمود کو حضرت صاحب کہتے رہے۔ انہوں نے وہ من و عن ساری داستان سنا ڈالی، جس طرح وہ میٹرک پاس کرنے کے بعد اپنے محلے کے نابینا بزرگ بابو عزیز الدین کو مرزا غلام احمد کی کتابیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ پھر ایک دن مصنف سے ملنے ٹھنکے مارے قادیان آن پہنچے۔

کوٹھری میں گھڑونچی پر رکھے کائی لگے گھڑے کا ذکر۔ کمرے میں پرانی دری اور اس پر گاؤ تکیہ کا ذکر۔ مرزا غلام احمد کا حلیہ، ان کی گفتگو ان کا یہ پوچھنا کیا لوگ میری کتابیں شوق سے پڑھتے ہیں؟ کٹورے میں شکر کا شربت بنا کر دینا۔ کلک سے شکر گھولنا۔ آمنے سامنے طاقچوں میں قلم دوات دیکھ کر پوچھنا، یہ کیوں اور مرزا صاحب کا فرمانا "کاغذ لے کر میں دیواروں کے درمیان ٹہلتا رہتا ہوں اور سوچتا رہتا ہوں۔ جہاں خیال آ جاتا ہے، اسی طاق کا قلم دوات استعمال کرتا ہوں۔ پھر ٹہلنے لگتا ہوں۔"

دوسری ملاقات پر ان سے کتاب پڑھوا کر شاباشی دینا اور خوش ہو کر کہنا تمہیں ایک چیز کھلاؤں، پھر چھت پر لٹکے چھینکے میں سے کچھ نکال کر کہنا "امر تسر سے کسی نے یہ خاص سوغات بھیجی ہے، جس کو صرف انگریز لوگ کھاتے ہیں۔ اسے بس کٹ کہتے ہیں۔ بڑی مزیدار چیز ہے۔"

پھر پوچھنا "تمہارا اب کیا ارادہ ہے، نوکری کرو گے یا کچھ اور۔"

ان کا کہنا "کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ باپ ہے نہیں۔ نوکری ملے تو کیسے؟ کہے کسی سے تو کون؟ گھر میں ایسا کوئی فرد ہے نہیں۔"

پھر مرزا صاحب کا ان کا کندھا تھپک کر کہنا "اگر چاہو تو میرے پاس آ رہو۔ تمہارے جیسے ذہین نوجوان کی مجھے ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔ میں تمہیں کچھ بنا دوں گا۔"

پھر ان کا کوٹھری کی بے سر و سامانی پر غور کرنا اور سوچ کر کہنا۔ اگر میں اپنے گھر کے چھینکے تے گرا کر اس کوٹھری کے چھینکے میں آ لٹکوں تو کیا بن جاؤں گا۔ پھر ایک، آرزو مند

صفحہ ١٨٢

نوجوان لڑکے کا معصومانہ پوچھنا ”آپ مجھے کیا بنا دیں گے؟“ اور ادھر سے جواب آنا۔ ”وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا ہے غلام اکبر۔ وقت ایک جیسا نہیں رہتا، برخوردار پھر سوچ لو۔“

ان کا کہنا ”جی نہیں! ملازمت کروں گا، چار پیسے کما کر ماں کو دوں گا۔“ پھر چند پمفلٹ حضرت صاحب نے ان کی بغل میں داب دیئے اور کہا ”اپنے چاچے کے لئے لے جاؤ انہیں پڑھ کر سنانا۔ کبھی کبھی آ جایا کرو۔“

اپنے خوبصورت کمرے میں بیٹھے فرقہ احمدیہ کے خلیفہ ثانی بشیر الدین محمود اباجی کی باتوں کا لطف اٹھاتے رہے۔ اباجی کے بات کرنے کا انداز اس طرح ہوتا کہ ہولے ہولے پوری فراغت کے ساتھ مزے سے قصہ کہتے۔ لہجہ کی رچاوٹ ایسی کہ سنتے رہیے اور سنتے رہیے کی کیفیت پیدا ہو جاتی۔ ایک اندر کی چھپی چھپی خوشی سے اباجی نے کہا: مرزا بشیر الدین مسکرائے، بولے ”جہاں آپ بیٹھے ہیں اب یہ دالان بن گیا ہے۔ یہی وہ کوٹھری تھی۔“

اباجی نے کہا ”اگر میں اس وقت حضرت صاحب کے پاس چلا جاتا تو یقین جانئے، پہلا خلیفہ میں ہوتا حکیم نور الدین نہ ہوتے۔“

مرزا بشیر الدین نے کہا ”اس میں کیا شک ہے۔“

باہر حاشیہ نشینوں میں چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں۔ اندر کون بیٹھا ہے، اتنی طویل ملاقات ہو گئی۔ اباجی گاہے ماہے مرزا بشیر الدین سے ملنے قادیان چلے جاتے۔ مرزا صاحب کا سیکرٹری ایک دن کہنے لگا۔ ”خانصاحب آپ اکثر حضرت صاحب سے ملنے آتے ہیں۔ بیعت کیوں نہیں کر لیتے۔“

اباجی مسکرائے، بولے ”میاں ہم نے بڑے کی بیعت نہ کی، چھوٹے کی کیسے کریں گے۔“

سیکرٹری کی سمجھ میں خاک نہ آیا، اباجی نے اوپر جا کر مرزا بشیر الدین محمود کو یہ فقرہ سنایا۔ وہ سن کر بہت محظوظ ہوئے۔

احمدی فرقے کا سالانہ جلسہ قادیان میں دسمبر کے مہینے میں کرسمس کی تعطیلات میں منعقد ہوتا تھا۔ یسوع مسیح کا یوم ولادت پچیس دسمبر کو پڑتا تھا۔ یہ بھی ایک طرح سے

صفحہ ١٨٣

مناسبت تھی کہ مرزا غلام احمد پیغمبری کے ساتھ مسیح موعود بھی تھے۔ چنانچہ قادیان میں دسمبر کے مہینے بڑی رونق ہوتی تھی۔ احمدی جماعت کے لوگ بڑی دور دور سے اس جلسے میں شریک ہونے کو آتے تھے اور ان کے قیام و طعام کا انتظام قادیانیوں کے گھروں میں ہوتا تھا۔ پچیس دسمبر کو مسیح کی ولادت کے روز خلیفہ صاحب جلسہ عام سے خطاب کرتے، جس کو خاص توجہ اور دھیان سے سنا جاتا۔

یہ ایمان بھی کیا کافر چیز ہے۔ اباجی کو آکر قادیانی بڑے جذبے کے ساتھ سناتے کہ حضرت صاحب نے اس سال کیا کیا ایمان افروز باتیں بیان کیں۔ حقہ گڑگڑاتا رہتا۔ اباجی سنتے رہتے۔ اس جلسے میں شریک ہونے والوں میں کئی زندہ دل لوگ بھی موجود ہوتے۔ مثلاً چودھری سر ظفر اللہ خاں کے ہمراہ ان کے بچپن کے شگفتہ مزاج دوست انعام اللہ خاں بھی رونق دیکھنے کو چل دیتے۔ ان کے دوست خاص سید افضل علی بھی ساتھ ہو لیتے۔

ظفر اللہ خاں کے ساتھ بھائی عاشق کی بھی دوستی تھی۔ ایک سال وہ بھی جلسہ قادیان کی طرف کو چلے اور ان احباب کے ساتھ خوب لطف سخن رہا۔ بھائی عاشق نے اگلے سال اپنے دوست مولانا صلاح الدین کو ساتھ جوڑا اور خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود سے جا ملے۔ اس صحبت میں یہ دونوں کیا بلبل ہزار داستان بن کر چہکے ہیں کہ خلیفہ ثانی ان کے فن گفتگو سے دنگ رہ گئے اور پوچھنے لگے:

”عاشق صاحب! آپ بٹالے کے کس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں؟“

بھائی عاشق نے کہا ”حضور غریبوں کا بھی کوئی خاندان ہوتا ہے۔“

مرزا صاحب کٹ کر رہ گئے، چہرے کا رنگ متغیر۔ خاموشی کا وقفہ ایسا سخت گزرا کہ آئینہ دیکھ کر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ مولانا صلاح الدین نے فوراً کمک بھیجی۔ بولے ”عاشق صاحب غلام اکبر خان صاحب کے صاحبزادے ہیں۔“

رنگ پریدہ واپس آیا۔ بولے ”اوہو! وہ تو میرے روز کے ملنے والے ہیں“ دل میں بھائی عاشق نے کہا، صاحب کو دل نہ دینے پر کتنا غرور تھا۔ مولانا نے دل میں کہا ”یہ قطرہ تو اب ایران پہنچ گیا۔“

(ماہنامہ نقوش، شمارہ ١٤٨، از قلم: آغا بابر۔ نامور ادیب و افسانہ نویس)

صفحہ ١٨٤

مولانا محمد علی مونگیری کی قادیانیت کے خلاف علمی و عملی جدوجہد

اس مناظرہ کے بعد مولانا نے قادیانیت کے خلاف باقاعدہ اور منظم طریقہ پر زبردست مہم شروع کی۔ اس کے لیے دورے کیے، خطوط لکھے، رسائل اور کتابیں تصنیف کیں، دہلی اور کانپور سے کتابیں طبع کروا کے مونگیر لانے اور اشاعت کرنے میں خاصا وقت صرف ہوتا تھا اور حالات کا تقاضا یہ تھا کہ اس میں ذرا بھی سستی اور تاخیر نہ ہو۔ اس لیے مولانا نے خانقاہ میں ایک مستقل پریس قائم کیا۔ اس پریس سے (اور کتابوں کے علاوہ) سو سے زائد چھوٹی بڑی کتابیں شائع ہوئیں جو سب مولانا کے قلم سے ہیں۔

(”سیرت مولانا محمد علی مونگیری“ ص ٢٩٩‘ از سید محمد الحسنی)

جو ختم نبوت کا طرف دار نہیں
لاریب وہ جنت کا سزا وار نہیں

آٹو گراف

ایک دفعہ ایک طالب علم نے ان سے زمانہ جدید کی رسم پوری کرنے کے لیے آٹوگراف (Autograph) دینے کی درخواست کی۔ آپ نے بلا تکلف کاغذ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مبارک لکھ دی:

اتحاد امت کا ایک منظر

صاحبزادہ گولڑہ شریف اور راولپنڈی کے مشہور عالم دین مولانا غلام اللہ خاں کا اختلاف کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں لیکن حضرت پیر گولڑہ شریف نے اعلان کیا: ”حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کے لیے میں مولانا غلام اللہ خاں کے جوتے بھی اٹھانے کے لیے تیار ہوں“۔

(”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ص ١٧٩‘ مولانا اللہ وسایا)

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
صفحہ ١٨٥

لا نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا) اور نیچے دستخط کر دیے۔

(”حضرت مولانا محمد علی جالندھری“ ص ١٤٣‘ پروفیسر ڈاکٹر نور محمد غفاری)

مولانا لال حسین اختر کا مرزائیت سے تائب ہونے کا واقعہ

مولانا لال حسین اختر تشریف لائے ہوئے تھے۔ مجلس میں ان کی گفتگو کے دوران ان کے ایک مناظرے کا ذکر آیا جو انہوں نے مرزائی ہونے کی حالت میں رائے پور میں مولانا محمد ابراہیم صاحب میاں چنوں والوں کے ساتھ کیا تھا۔ مولانا محمد صاحب انوری نے کہا کہ حضرت! اس مناظرے کے دوران مولانا فضل احمد صاحب لال حسین اختر کی صورت کو دیکھ کر کہتے تھے کہ مجھے اس پر بڑا ترس آتا ہے اور دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! اس کا دل پھیرو۔ اور اس کو مسلمان کر دے۔

مولانا لال حسین اختر نے کہا کہ میں ١٩٢٤ء میں مرزائی ہوا اور ١٩٣٢ء میں توبہ کی اور مسلمان ہوا۔ آٹھ سال مرزائیت میں گزرے۔ تین سال تک مرزائیوں نے ہمیں تعلیم دلائی۔ ایک میں تھا اور ایک مولوی مظفر علی۔ ہم دونوں کی تعلیم پر پچاس ہزار روپیہ خرچ ہوا۔ دو استاد ڈیڑھ ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار تنخواہ پر عبرانی زبان پڑھانے والے تھے۔ ان سے توریت‘ انجیل‘ زبور پڑھی۔ دو استاد سنسکرت پڑھانے والے تھے۔ ان سے وید اور ہندؤوں کی دوسری مذہبی کتابیں پڑھیں۔ آریہ سے مناظرہ کے لیے اور دو استاد حدیث پڑھانے والے تھے۔ ایک استاد تفسیر پڑھانے والا تھا۔ پہلے تیس طالب علم رکھے گئے تھے۔ سنسکرت زبان کی مشکل گردانیں دیکھ کر سب چھوڑ گئے۔ ایک میں اور مظفر علی رہ گئے۔ اس طرح ہم نے تین سال میں تعلیم مکمل کی۔ آٹھ سال تک مرزائیوں کی طرف سے مناظرے کیے۔ میں لاہوری پارٹی میں شامل تھا۔ حضرت اقدس نے فرمایا تم نے مرزائیت سے توبہ کیوں کی۔ کہنے لگے مجھے محض اللہ کے فضل و کرم سے خوابیں آنا شروع ہوئیں۔ ایک ایک رات میں دو دو تین خواب آتے اور بہت برے برے خواب آتے۔ میں آیت الکرسی‘ معوذتین لاحول وغیرہ پڑھ کر سوتا لیکن پھر پہلے سے زیادہ برے اور ڈراؤنے خواب آتے۔ میں سمجھتا شیطانی خواب ہیں۔ کبھی کہتا چونکہ مسلمانوں کے ساتھ مناظرے رہتے ہیں وہی خیالات خواب میں آتے

صفحہ ١٨٦

ہیں لیکن جب یہ سلسلہ لگاتار شروع ہوا تو میں سوچنے لگا آخر کیا وجہ ہے اس زمانے کے دو خواب اچھی طرح یاد ہیں جن کو میں اکثر بیان کرتا ہوں۔ ایک دفعہ ایک خواب آیا کہ ایک صاف چٹیل میدان ہے اور زمین شور یعنی کلر والی ہے۔ وہاں ایک کمرہ ہے اور بہت لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں۔ میں نے ان لوگوں سے پوچھا تم یہاں کیوں جمع ہوئے ہو۔ انہوں نے کہا ہم یہاں مرزا غلام احمد صاحب کو دیکھنے آئے ہیں۔ میں نے کہا پھر تم اندر کیوں نہیں جاتے۔ انہوں نے کہا ہمیں اجازت نہیں ہے۔ میں نے کہا مجھے اجازت ہے، میں جاتا ہوں۔ چنانچہ کمرے میں داخل ہو گیا۔ دیکھا کہ ایک لمبا چوڑا پلنگ ہے، جو سارے کمرے میں پھیلا ہوا ہے۔ اس پر مرزا صاحب لیٹے ہوئے ہیں اور اوپر ایک سفید چادر لپیٹی ہوئی ہے۔ میں جاکر پلنگ کے پاس ادب سے کھڑا ہو گیا۔ مرزا صاحب نے منہ سے کپڑا ہٹا دیا۔ میں نے دیکھا کہ ان کا منہ تین بالشت لمبا ہے اور شکل خنزیر کی ہے۔ ایک آنکھ کانی ہے، دوسری چھوٹی ہے۔ مجھے کہنے لگے میں تو برے حال میں ہوں، تم یہاں کیوں آئے۔ اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔

اور ایک خواب یوں دیکھا کہ ایک شخص میرے آگے آگے جا رہا ہے۔ اس کی کمر میں ایک تانت ہے، جیسے دھنیے کی ہوتی ہے۔ ادھر اس کی کمر کے ساتھ بندھی ہوئی اور پیچھے میری گردن کے ساتھ بندھی ہوئی ہے اور دونوں آگے پیچھے چل رہے ہیں۔ سامنے سے ایک سفید ریش اور سفید لباس میں ملبوس ایک شخص نمودار ہوئے۔ مجھے کہنے لگے تم کہاں جا رہے ہو۔ میں نے کہا اس شخص کے پیچھے پیچھے جا رہا ہوں۔ اس شخص نے کہا یہ تو غلام احمد قادیانی ہے اور یہ دوزخ میں جا رہا ہے۔ تم اس کے پیچھے کیوں جاتے ہو۔ میں نے کہا کیا کوئی شخص از خود بھی دوزخ میں جاتا ہے اور دوسرے کو بھی لے جاتا ہے۔ اس نے کہا اگر تمہیں یقین نہیں آتا تو آگے کو دیکھ۔ میں نے دیکھا تو دور سے سارے آسمان کے کنارے سرخ نظر آئے۔ اس نے کہا یہ جہنم کی شعائیں ہیں اور یہ تمہیں وہیں لے جا رہا ہے۔ میں نے کہا یہ مجھ سے دور ہے، جب یہ جہنم میں گرے گا تو میں بھاگ جاؤں گا۔ آخر اس شخص نے خواب ہی میں چاقو یا چھری سے زور سے تانت پر مارا اور وہ کٹ گئی۔ اس کے کٹنے سے میری گردن کو جھٹکا لگا، جس سے میری آنکھ کھل گئی۔ اس قسم کے خوابوں کے بعد دل سے فیصلہ طلب کیا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ یہ خوابیں کسی سے بیان بھی نہیں کر سکتا تھا۔ کیونکہ اگر

صفحہ ١٨٧

مرزائیوں کے سامنے بیان کرتا تو وہ کہتے یہ شیطانی خواب ہیں۔ مسلمانوں سے اس لیے نہیں کہہ سکتا تھا کہ ان سے میرے مناظرے ہوا کرتے تھے۔ میں بڑی سخت پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔ آخر میں نے ان لوگوں سے چھ ماہ کی رخصت لی اور دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ مجھے خالی الذہن ہو کر قادیانی مذہب اور اسلام کا مطالعہ کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ حق کس طرف ہے۔ چنانچہ میں نے مرزا غلام احمد کی تمام کتابیں جمع کیں اور مسلمان علماء کی تفسیروں اور احادیث نبویؐ کا بالکل خالی الذہن ہو کر مطالعہ کرنا شروع کیا۔ چنانچہ مجھے واضح ہو گیا کہ مرزا غلام احمد یقیناً جھوٹا ہے۔ مجھے اس کی کتابوں میں متعدد مقامات پر کذب و افترا نظر آیا اور اس نے جو تفسیر کی ہے اس کی غلطیاں سامنے آئیں اور اس کے مکر و فریب کا انکشاف ہوا۔ آخر میں نے مرزائیت سے توبہ کی اور مرزائیوں کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ مجھے محمد علی قادیانی لاہوری نے کہا کہ تم کام کرتے رہو‘ میں نے اسے کہا اگر مرزا صاحب سچے ہیں تو نوے کروڑ مسلمانوں (جو مرزا کو نہیں مانتے) کافر ٹھہرتے ہیں اور اگر جھوٹے ہیں تو ان کو ماننے والے کافر ہیں۔ میں نے کہا تم ایسے شخص کو ملازم رکھ سکتے ہو جو مرزا صاحب کو نبی تو کجا مسلمان بھی نہ مانتا ہو۔ اس نے کہا نہیں۔ میں نے کہا پھر میرا استعفیٰ منظور کرلو۔ میں اس کو کافر سمجھتا ہوں۔ چنانچہ اس نے میرا استعفیٰ منظور کر لیا۔ حضرت اقدس نے فرمایا یہ سب مولانا فضل احمد صاحب کی دعا کی برکت ہے۔ پھر فرمایا ہمارے مولانا بھی چھپے ہوئے بزرگ ہیں۔ مولوی لال حسین صاحب نے کہا حضرت مجھے تو اس وقت معلوم بھی نہیں تھا کہ مولانا فضل احمد صاحب نے میرے حق میں دعا کی ہے۔

(”حیات طیبہ“ ص ٣٢٦ تا ٣٢٩‘ از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)

علم انور شاہؒ کی کاٹ

مولانا محمد صاحب نے مزید فرمایا کہ مقدمہ بہاولپور میں شمس مرزائی نے علماء پر یہ اعتراض کیا تھا کہ دیوبندی بریلویوں کو بریلوی دیوبندی کو کافر کہتے ہیں۔ حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب نے جواب دیا کہ جج صاحب لکھو میں تمام علماء دیوبند کی طرف سے اور جو حضرات یہاں موجود ہیں‘ مولانا عبداللطیف صاحب ناظم مظاہر العلوم سہارنپور‘ مولانا اسعد

صفحہ ١٨٨

اللہ صاحب مدرس مظاہر العلوم سہارنپور، مولانا مرتضیٰ حسن صاحب وغیرہ کی طرف اشارہ کر کے کہا میں سب کی طرف سے وکیل ہو کر کہتا ہوں کہ ہم بریلویوں کی تکفیر نہیں کرتے اور فرمایا کہ بریلوی مولوی جو علم غیب کے بارہ میں تاویلات کرتے ہیں، کچھ نصوص ایسی ہیں جو ان معانی کی موہم ہیں۔ نیز ان معنی کی طرف سلف صالحین میں سے بھی بعض حضرات گئے ہیں۔

لیکن مرزائی جو تاویل کرتے ہیں اس معنی کی مؤید کوئی نص نہیں ملتی اور نہ سلف میں سے اس معنی کی طرف کوئی گیا ہے۔ اس کے بعد شمس مرزائی نے ایک اور اعتراض کیا کہ فقہا نے لکھا ہے کہ اگر کسی کے کلام میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں اور ایک احتمال ایمان کا ہو تو اس کے کفر پر فتویٰ نہ دیا جائے گا۔ حضرت شاہ صاحب نے فرمایا جج صاحب نوٹ کریں یہ دھوکہ دے رہے ہیں۔ فقہا نے لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کا تقویٰ طہارت اور اس کی صالحیت معلوم ہو اور مسلم ہو اور وہ مر جائے اور اس کے کلام میں کوئی ایسا کلام ہو جس میں ننانوے احتمال کفر کے اور ایک احتمال ایمان کا ہو تو اس پر کفر کا فتویٰ دینے میں احتیاط کی جائے لیکن اگر کسی شخص کا فاجر و فاسق ہونا معلوم ہو، اس کے عقائد کفریہ سینکڑوں جگہ تصریح کے ساتھ موجود ہوں تو وہاں اس کا وہی معنی لیا جائے گا، جو اس کی دوسری کلام تشریح کر رہی ہے۔ پھر شمس مرزائی نے یہ اعتراض کیا کہ بزرگان اسلام کی شطحیات میں ایسے کلمات موجود ہیں جو بظاہر کفر ہیں لیکن ان کی تاویل کی جاتی ہے۔ اسی طرح مرزا صاحب کے بعض کلمات ہیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے بھی اس کا وہی جواب دیا جو اوپر مذکور ہے۔

(”حیات طیبہ“ ص ٣٣٩۔٣٤٠ از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)

ظالم پر عذاب ہو گیا ہوں
میں روز حساب ہو گیا ہوں

برما رنگون میں مرزائیت کا احتساب

روزنامہ ”پرواز“ رنگون کی اطلاع کے مطابق سر این اے خان قادیانی کا رنگون میں انتقال ہوا۔ اس کی قبر مسلمانوں کے قبرستان میں کھودی گئی۔ مسلمانوں کی مسجد سے نہلانے

صفحہ ١٨٩

کا تختہ دیا گیا۔ ایک مسلمان موذن نے اسے غسل دیا۔ جونہی مسلمانوں کو پتہ چلا قبر بند کر دی گئی۔ غسل کا تختہ جلا کر خاکستر کر دیا گیا۔ موذن کو مسجد سے فارغ کر دیا گیا اور بعد میں توبہ کرنے پر اس کا دوبارہ نکاح پڑھا گیا۔ جنازہ میں شریک ہونے والے مسلمانوں کا تجدید ایمان‘ و تجدید نکاح کیا گیا۔ یہ منظر قابل دید تھا۔ این اے خان قادیانی کے ساتھ ہی قادیانیت کا جنازہ بھی نکل گیا۔ اس سلسلہ میں جمیعتہ علماء برما کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ (تفصیلات از پرواز رنگون اشاعت ٩،١٠ ستمبر ١٩٢٤ء)

(”تحریک ختم نبوت“ ١٩٧٤ء ص ١٤٢‘ از مولانا اللہ وسایا)

جن کو نہ ہو کچھ پاس پیغمبر کے ادب کا
چن چن کر اس قوم کو میں مٹی میں ملا دوں
اسلام سے جس قوم کو ہے کچھ بھی محبت
میں اس کے لیے راہ میں آنکھیں بچھا دوں

منظور ہے اس کے غلاموں کی غلامی

قریباً بارہ سال کا عرصہ ہوا مولانا سید تجمل حسین شاہ صاحب کشمیری فاضل دیوبند حج بیت اللہ کے لیے تشریف لے گئے۔ فراغت حج کے بعد منیٰ میں انہیں ایک بزرگ صورت ہستی کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی۔ آپ نے انہیں فرمایا ”محمد علی جالندھری کو میرا پیغام پہنچا دو کہ وہ تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا رہے‘ اس کام کو نہ چھوڑے“۔

(”تحریک ختم نبوت“ ١٩٧٤ء ص ١٥٢‘ از مولانا اللہ وسایا)

ہوتا ہے الگ سر میرا تو شانوں سے ہو جائے
پر ہاتھ سے چھوٹے گا نہ دامان محمدؐ

ختم نبوت کی غم خواری

موجودہ حکومت کی خدمت میں گزارش ہے کہ ایک غلطی کا ازالہ قادیانی پمفلٹ ضبط کر کے پھر واگزار کرنے سے ملک میں اتنی بے چینی ہے کہ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

صفحہ ١٩٠

مولانا محمد علی صاحب جالندھری ناظم اعلیٰ تحفظ ختم نبوت سے جب اس کا ذکر کیا گیا اور تفصیل بتائی گئی تو انہوں نے فرمایا خاموش رہو‘ ذکر نہ کرو مجھ کو یہ خبر سننے کا تحمل نہیں اور کئی روز تک اپنے سامنے ذکر کرنے نہ دیا اور فرمایا کہ موجودہ گورنر صاحب جیسے بہادر اور مستقل مزاج شخص سے امید نہ تھی کہ ایسے تکلیف دہ پمفلٹ کو ضبط کر کے واگزار کر دیں گے۔ کئی دن تک اس خبر کے سننے سے طبیعت بے قابو ہو جاتی رہی۔

(”تحریک ختم نبوت“ ص١٩٧‘ ص٢١٦‘ از مولانا اللہ وسایا)

ان کے ہونٹوں کے لیے کیا کوئی بھی تالا نہیں
کیا یہاں اسلام کا کوئی بھی رکھوالا نہیں

مولانا احمد علی لاہوریؒ ‘ایمان پرور یادیں

حضرت شیخ التفسیر امام لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کو گرفتار کر کے پہلے ملتان جیل بھیج دیا گیا۔ ملتان سے آپ کو انکوائری کمیشن مقرر ہونے پر لاہور سنٹرل جیل میں منتقل کیا گیا جس کے متعلق مولانا مجاہد الحسینی بیان کرتے ہیں کہ ١٩٥٣ء میں مجھے چند دنوں کے بعد لاہور کے سیاست خانہ سے نکال کر ”بم کیس وارڈ“ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ ایک روز اخبارات میں خبر پڑھی کہ ملتان سنٹرل جیل میں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ‘ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے دیگر ساتھیوں کی حالت یکایک سخت خراب ہو گئی۔

تحریک تحفظ ختم نبوت میں حصہ لینے والے ان ممتاز رہنماؤں کو مسلسل قے اور اسہال کی تکلیف تھی۔ ڈاکٹر ان حضرات کی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ چند روز بعد اطلاع ملی کہ حضرت لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کو لاہور جیل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ ایک روز اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل نے (جو حضرت لاہوری کے مرید تھے) مجھے یہ خوش خبری دی کہ حضرت شیخ التفسیر رحمتہ اللہ علیہ کو بغرض علاج لاہور سنٹرل جیل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ میں نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل مہر محمد حیات سے درخواست کی کہ حضرت لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کو ہمارے وارڈ ”بم کیس احاطہ“ میں رونق افروز کیا جائے۔

صفحہ ١٩١

چنانچہ حسب پروگرام جب حضرت لاہوری رحمتہ اللہ علیہ سنٹرل جیل میں منتقل ہوئے تو ”بم کیس وارڈ“ کو آپ کی ذات سے شرف بخشا گیا۔ یہ وارڈ تاریخی نوعیت کا حامل تھا۔ بھگت سنگھ اور دت وغیرہ تحریک آزادی کے جن نوجوانوں نے اسمبلی میں بم پھینک کر انگریزوں کو نقصان پہنچایا تھا، یہ وارڈ ان کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اور ”بم کیس“ کے عنوان سے انہی کے نام موسوم ہوا۔ حضرت مولانا احمد علی جب سنٹرل جیل میں تشریف لائے تو کڑکڑاتی گرمی کا سخت موسم تھا۔ گرمی کی شدت کے باعث پورا ماحول آتش فشاں تھا۔

بم کیس وارڈ حضرت کے معتقدین اور مریدوں کی نگاہ شوق و عقیدت کا مرکز بن گیا۔

نماز عصر کے بعد میں نے جیل کے ذمہ دار افسروں سے رابطہ قائم کر کے حضرت لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کے لیے چارپائی کا انتظام کرنے کو کہا۔ کیونکہ تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار ہونے والے تمام نظر بندوں کے بستر تپتی زمین کے فرش پر ہی دراز کیے جاتے تھے۔ ان بستروں کے درمیان جب میں نے حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ کی چارپائی بچھائی تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اسے دیکھتے ہی دریافت کیا یہاں صرف ایک چارپائی کیوں بچھائی گئی ہے۔ میں نے عرض کیا یہ حضرت کے لیے ہے۔ آپ نے فرمایا ۔۔۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ جان نثاران محمد صلی اللہ علیہ وسلم تپتے فرش پر ہوں اور احمد علی ان کے درمیان چارپائی پر آرام کرے ۔۔۔۔۔۔۔

آپ نے یہ چند جملے ۔۔۔۔۔۔ کچھ اس انداز میں فرمائے کہ حاضرین کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبا گئیں۔ تعمیل ارشاد میں آپ کا بستر خصوصی اہتمام کے ساتھ زمین پر ہی بچھا دیا گیا اور پائنتی کی جانب اپنا بستر رکھا تو حضرت نے اسے اپنے ہاتھ سے اٹھا کر سرہانے کی جانب کر دیا۔

نماز مغرب کے بعد راقم الحروف نے علیحدگی میں ملتان جیل میں یکایک صحت خراب ہونے کے اسباب معلوم کیے تو حضرت لاہوری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا :

ایک روز شام کے کھانے کے بعد سب کی حالت غیر ہو گئی۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے دیگر ساتھیوں نے جیل کے حکام سے جب پر زور مطالبہ کیا کہ ہمارا طبی معائنہ ہونا چاہیے اور جیل کی خوراک بند کر دینے کا فیصلہ کیا تو ان سب کو

صفحہ ١٩٢

مختلف بارکوں میں تبدیل کردیا گیا اور مجھے یہاں سنٹرل جیل لاہور پہنچا دیا گیا۔

جیل کے ارباب اختیار کے بقول اگر ہماری صحت کا بگاڑ غذائی سمیت (فوڈ پوائزن) کے باعث تھا تو طبی معائنہ کرانے کی کیا قباحت تھی۔۔۔؟ اور پھر چند روز کے بعد مختلف جیلوں کے دوسرے نظربندوں نے بھی قے اور اسہال کی تکلیف کا شکوہ کیا۔

وسیع پیمانہ پر ایک ہی شکایت کا اظہار در حقیقت تحریک تحفظ ختم نبوت کے نظر بندوں خصوصاً ممتاز رہنماؤں کے خلاف کسی سازش کا غماز تھا۔ حضرت شیخ التفسیر لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ملتان کی تکلیف کے بعد میرے اعصاب میں کھچاؤ پیدا ہو گیا ہے اور گھٹنے میں مسلسل درد نے اگرچہ سخت پریشان کر رکھا ہے لیکن حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے خطرناک صعوبتیں وجہ سکون قلب اور باعث راحت جاں ہیں۔ مولانا ظفر علی خاں نے ہمارے انہی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے فرمایا

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا!

شیخ التفسیر حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ قریباً ایک ماہ بم کیس وارڈ میں رونق افروز رہے۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب ملک فیروز خان نے خرابی صحت کی بنا پر حضرت کی رہائی کے احکام جاری کر دیے اور پھر زندگی بھر آپ کو صحت و تندرستی کی وہ پہلی حالت نصیب نہ ہو سکی۔ اسی طرح قاضی احسان احمد شجاع آبادی بھی مسلسل بیمار رہ کر اللہ کو پیارے ہوگئے۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

(”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ص ١٥١ تا ١٥٣‘ از مولانا اللہ وسایا)

حضرت لاہوری کی کرامت

حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ شجاع آبادی فرماتے ہیں ٢٢ سال ہوئے میرا بایاں بازو ٹوٹ گیا تھا۔ جڑنے کے بعد وہ تقریباً سیدھا رہتا تھا‘ اس میں لچک نہ تھی۔ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ میں بھی ملتان جیل

صفحہ ١٩٣

میں تھا۔ ایک روز حضرت نے فرمایا: قاضی صاحب نماز آپ پڑھایا کریں۔ میں نے معذرت کی کہ حضرت میرا یہ بازو خم نہیں کھاتا، وضو میں بھی مشکل پڑتی ہے اور ہاتھ باندھنے میں بھی۔ حضرت نے میرا بازو تھام کر ٹوٹی ہوئی جگہ پر دست مبارک پھیر کر دو تین مرتبہ یہ جملہ فرمایا ”اچھا یہ ٹھیک نہیں ہوتا“ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ بہتر کریں گے۔ ٹھیک ہو جائے گا۔ اس کے بعد نماز کا وقت آیا۔ میں وضو کرنے بیٹھ گیا تو بالکل بے دھیانی میں ناک صاف کرنے کے لیے میرا بایاں ہاتھ بے تکلف ناک تک پہنچ گیا۔ یک دم میرے ذہن میں خیال آیا کہ آج میرا بازو صحیح کام کرنے لگ گیا ہے۔ میں نے ہلا جلا کر دیکھا تو صحیح کام کر رہا تھا۔ یقین ہو گیا کہ یہ حضرت کی توجہ کی برکت اور کرامت کا نتیجہ ہے۔

(”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ص ٣٥٣ تا ٣٥٤، از مولانا اللہ وسایا)

حضرت لاہوری اور مولانا عبدالستار خان نیازی

نوجوانوں کے ساتھ بہت محبت سے ملتے اور قدم قدم پر ان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ مولانا عبدالستار نیازی کو تحریک ختم نبوت کے دوران پھانسی کی سزا ملی جو بعد میں عمر قید میں تبدیل ہوئی اور پھر آخر رہا ہو گئے۔ مولانا نیازی کہتے ہیں میری رہائی کے بعد حضرت لاہوری میرے غریب خانے پر تشریف لائے۔ آپ کی نشست کا نیچے انتظام کیا ہوا تھا۔ واپس جانے لگے تو فرمایا مولانا اوپر کے کمرے میں مجھ کو اپنی چارپائی تک بھی لے چلو تاکہ مجھے قدم قدم کا ثواب ملے۔ میں ایک مجاہد سے ملنے آیا ہوں۔ مولانا نیازی سے یہ کہہ کر حاضرین کو مخاطب ہو کر فرمانے لگے حضرات! آپ بھی اپنے آپ کو تلوار کی دھار پر لائیے اور دل سے کہے: ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین

(”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ص ٣٥٤، از مولانا اللہ وسایا)

دوستو آؤ محمدؐ پہ نچھاور کر دیں
تار جتنے بھی بقایا ہیں گریبانوں میں
صفحہ ١٩٤

تحریک تحفظ ختم نبوت میں سرکاری ملازمین کا روشن کردار

ادھر صوبائی سول سیکرٹریٹ آج پھر بند رہا۔ تمام چھوٹے بڑے ملازمین نے مکمل ہڑتال کی اور سیکرٹریٹ کی چار دیواری کے اندر جمع ہو کر مطالبہ کرنے لگے کہ شہر میں فائرنگ اور ظلم کو فوری طور پر بند کر دیا جائے اور تحریک کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ حافظ عبدالمجید چیف سیکرٹری‘ سید غیاث الدین احمد ہوم سیکرٹری اور مسٹر ایس این عالم ڈی۔ آئی جی پولیس تینوں سیکرٹریٹ پہنچے۔ انہوں نے ملازمین کو کام پر جانے اور ہڑتال ترک کرنے کے لیے ہر طرح کہا لیکن سب نے متفقہ طور پر یہی جواب دیا کہ جب تک فائرنگ بند نہیں ہوتی اور مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے اس وقت تک ہم ہڑتال ترک نہیں کریں گے۔

اور محکمہ بجلی کے تمام ملازمین نے چیف انجینئر کو نوٹس دے دیا کہ شہر میں ہونے والے ظلم کو بند کیا جائے ورنہ ہم ہڑتال کرتے ہیں اور اس کے بعد بجلی کی سپلائی کا انتظام ناممکن ہو گا۔ چیف انجینئر کو اپنے محکمہ کے ہزاروں ملازمین کا مطالبہ گورنمنٹ ہاؤس گورنر صاحب کی خدمت میں تحریری طور پر بھیجنا پڑا۔ اس طرح ٹیلیگراف آفس اور ٹیلیفون ایکسچینج کے ملازمین نے کام چھوڑ دیا اور اپنے دفتروں اور کمروں سے باہر نکل آئے۔ غرضیکہ سب سرکاری ملازمین نے ہڑتال کر دی اور مطالبہ یہی تھا کہ شہر میں ہونے والی اندھا دھند فائرنگ اور بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کو بند کرو۔

(”تحریک ختم نبوت“ ١٩٥٣ء ص ٣٨٥‘ از مولانا اللہ وسایا)

تم بھی اس جان دو عالم سے وفاداری کرو
اس کے دشمن سے کھلا اظہار بیزاری کرو

عزم بالجزم

میرے بعد حضرت مفتی محمد یونس رحمۃ اللہ علیہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے فرمایا حاضرین آپ گواہ رہیں کہ آج جب کہ حضور رحمۃ للعالمینؐ کی حرمت و ناموس کے تحفظ کے لیے مجلس عمل نے قوم سے قربانیاں طلب کی ہیں۔ میں اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ

صفحہ ١٩٥

صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے سب سے پہلے اپنے آپ کو پیش کر رہا ہوں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور ختم نبوت کے سلسلہ میں میرے جسم کا قیمہ بھی کر دیا گیا تو میرے جسم کی ایک ایک بوٹی سے ختم نبوت زندہ باد کی آواز بلند ہوگی۔

(”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ص ٤٤‘ از مولانا اللہ وسایا)

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

بپھرا ہوا شیر

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں کچھ دیر بعد شہیدوں کو اٹھا کر جامع مسجد میں لے آئے۔ ان کی چارپائیاں ایک دوسرے کے پہلو میں رکھ دی گئیں۔ شہر میں کہرام مچ گیا۔ لوگ آ رہے تھے‘ انہیں پہچان رہے تھے۔ بالآخر مغرب کی نماز تک تین شہیدوں کے گھروں اور ورثاء کو پتہ چل گیا۔ چوتھے جو ایک نوجوان تھے ان کی شناخت نہ ہو سکی اور عشا کی نماز کے بعد تک اس کا کوئی والی وارث نہ آیا۔ وہ رات ہمارے لیے انتہائی مصیبت کی رات تھی۔ کوئی دو اڑھائی ہزار رضا کار تھے جو مسجد میں مقیم تھے۔ سب نے یہ رات جاگ کر کاٹی۔ کچھ نفلیں پڑھتے رہے اور کچھ کلمہ طیبہ کے بلند آواز ذکر میں شامل رہے۔ شہر کے بے شمار لوگوں نے بھی یہ رات مسجد میں ہی گزاری۔ ایک ایسی غم انگیز کیفیت تھی جسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ عشاء کے بعد میرے دفتر میں میرے ایک پرانے ساتھی سید معظم علی شاہ صاحب تشریف لائے۔ شاہ صاحب ایبٹ آباد کے قریب بانڈھ پیر خاں کے رہنے والے ہیں۔ وہ آج کل امین پور بنگلہ جھنگ کے قریب رہتے ہیں۔ ان دنوں وہ لائل پور کے قریب کے کسی گاؤں میں تھے۔ اس وقت چالیس سال عمر ہو گی۔ فدائی قسم کے مسلمان ہیں۔ پہلے بھی تحریک کشمیر اور تحریک پاکستان وغیرہ میں حصہ لے چکے ہیں۔ انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں قید و بند کی تکلیفیں بھی برداشت کر چکے ہیں۔ ان کے کپڑے خون میں لت پت‘ میرے پاس پہنچے اور اندر داخل ہوتے ہی اندر سے دروازے کا کنڈا لگا دیا۔ میں نے دریافت کیا کہ یہ کپڑوں پر

صفحہ ١٩٦

خون کیا۔ وہ خاموش رہے۔ انہیں غور سے دیکھا تو انتہائی غضب ناک حالت میں تھے۔ آنکھیں سرخ ہو رہی ہیں۔ فرمایا یہ شہیدوں کا لہو ہے۔ جب ان یزیدوں نے گولی چلائی اور کئی ماؤں کے لال شہید ہو گئے‘ کئی زخمی ہو گئے‘ میں وہاں پہنچا۔ مجھے پولیس نے روکا مجھے جلال آ گیا۔ میں نے کہا میں آگے جاؤں گا‘ کوئی دنیا کی طاقت مجھے شہیدوں اور زخمیوں کے پاس جانے سے نہیں روک سکتی۔ تمہیں مجھے آگے جانے دینا ہو گا‘ یا گولی مار دینا ہوگی۔ بالآخر میں آگے چلا گیا۔ معلوم ہوا کہ زخمیوں کو پولیس اٹھا کر ہسپتال لے گئی ہے۔ یہ چار خاک و خون میں تڑپتے ہوئے لاشے مجھے وہاں ملے۔ میں انہیں ایک ایک کر کے اکیلا ہی اٹھا کر لاتا رہا اور پولیس کے حلقہ سے نکال کر لوگوں کے سپرد کرتا رہا اور اس طرح ان شہیدوں کو مسجد میں پہنچایا جا چکا ہے۔

اب میں آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرنے آیا ہوں۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے اچانک اپنے کمبل میں سے ایک سٹین گن نکالی‘ اسے لوڈ کیا‘ میرے سامنے رکھ دی۔ کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جس ابن حسن ڈپٹی کمشنر نے آج یہ گولی چلانے کا حکم دیا ہے اور ان بے گناہوں کو شہید کیا ہے‘ اس ظالم انسان کو اگر میں جا کر قتل کر دوں اور پھر اس پاداش میں مجھے سزائے موت ہو گئی‘ وہ شہادت کی موت ہو گی یا نہیں ہوگی۔ میں پہلے ہی پریشان تھا۔ ننگے سر‘ بال بکھرے ہوئے اور کمر میں غم و اندوہ کی وجہ سے ایک پٹکا کمر بند کے طور پر باندھ رکھا تھا۔ طبیعت انتہائی مضمحل اور نڈھال‘ مجھے لائل پور کی بارونق جامع مسجد دشت کربلا نظر آ رہی تھی۔ اب اس سوال سے میں اور بھی پریشان ہو گیا۔ میں نے اپنے حواس پر قابو پایا‘ تھوڑا غور کیا اور پھر اس نتیجہ پر پہنچا کہ اگر میں اسے یہ کہہ دوں کہ شاہ جی ڈپٹی کمشنر کو قتل کرنا نامناسب اور جائز نہیں تو عین ممکن ہے کہ یہ بھڑکا ہوا انسان مجھے ہی گولی مار کر ڈھیر کر دے۔ میں نے کہا شاہ جی یہ مسئلہ بڑا اہم ہے۔ اس کا تعلق میری اور آپ کی عاقبت سے ہے۔ میں اس وقت بہت پریشان ہوں۔ میرا دماغ کام نہیں کر رہا۔ آپ مجھے تھوڑی مہلت دیں تاکہ میں ٹھنڈے دل و دماغ سے اس مسئلہ کا صحیح صحیح جواب دے سکوں۔

سید معظم علی شاہ نے مجھ سے دریافت کیا کہ لائل پور کے اس قاتل ڈپٹی کمشنر جس نے گولی چلانے کا حکم دے کر ختم نبوت کے پروانوں کو خاک و خون میں تڑپا کر شہید کیا ہے اس

صفحہ ١٩٧

کے قتل کے جائز یا ناجائز ہونے کے متعلق آپ مجھے کب جواب دیں گے۔ میں کتنی دیر بعد آپ سے دریافت کروں۔ میں نے عرض کیا شاہ جی آپ مجھے سوچنے کے لیے ایک گھنٹے کی مہلت دے دیں۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ میں جاتا ہوں۔ میں نے کہا آپ کو کہیں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس نے کہا آپ مجھے پابند نہ کریں۔ میں ایک گھنٹہ کے بعد پھر حاضر ہو جاتا ہوں۔ میں نے کہا نہیں اس وقت تحریک ختم نبوت کی مقامی مجلس عمل نے مجھے انچارج اور امیر بنایا ہوا ہے۔ یہ میرا حکم ہے ، آپ کہیں نہیں جاسکتے۔ آپ ساتھ والے کمرے میں آرام کریں اور مجھے مزید پریشان نہ کریں۔ وہ مان گئے اور ساتھ والے کمرہ میں لیٹ گئے۔ میں نے دو نفلیں پڑھیں ، اللہ سے خاص مدد مانگی اور رو رو کر اور گڑگڑا کر دعا کی کہ الٰہی اس عقدہ کو تو ہی حل کرنے والا ہے۔ دعاؤں سے میرے دل کو کچھ سکون اور اطمینان ہوا۔ اتنے عرصے میں ایک گھنٹہ گزر گیا۔ معظم علی شاہ صاحب دروازہ کھول کر سٹین گن ہاتھ میں تھامے آئے۔ میرے سامنے آلتی پالتی بیٹھ گئے۔ سٹین گن اپنے سامنے رکھ لی اور پھر انہیں غضبناک آنکھوں اور لہجے سے پوچھا مولانا صاحب میرے سوال کا جواب دے دیجئے ، میں اس مردود ڈپٹی کمشنر کو قتل کر دینا چاہتا ہوں۔ میرے دل میں ایک آگ سی لگی ہوئی ہے۔ جب تک میں اپنا یہ فرض سرانجام نہیں دے لیتا، مجھے چین نہیں آ رہا اور میرا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہو سکتا۔

میں نے شاہ جی سے پھر محبت بھرے لہجے میں بات کی، ان کے جذبے ، ان کی ایمانی غیرت اور حضور سرور کائنات کے عشق میں جانی قربانی کے عزم کو سراہا اور پھر عرض کیا کہ حضرت ابھی میں کسی فیصلہ پر نہیں پہنچ سکا۔ اب مجھے اس کے متعلق استخارہ کرنا ہو گا جو اللہ تعالیٰ دل میں ڈال دیں گے اس کے مطابق مشورہ دوں گا۔ شاہ جی خاموش ہو گئے۔ پھر بولے آخر آپ مجھے کب جواب دیں گے۔ میں نے کہا صبح۔ انہوں نے کہا ایسا نہیں بلکہ آج مجھے رات دو اڑھائی بجے تک جواب دے دیں۔ کیونکہ صبح سورج نکلنے سے پہلے میں اس شخص کے بوجھ سے زمین کو ہلکا کر دینا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا بہت اچھا۔ آپ ساتھ والے کمرے میں آرام کریں۔ وہ وہاں جا کر لیٹ گئے۔ میں اپنے ضروری کاموں میں مصروف ہو گیا۔ رات ایک بجے کے قریب میں نے پھر وضو کیا ، نفل پڑھے ، اللہ سے دعا کی اور تھوڑی دیر لیٹ گیا۔

صفحہ ١٩٨

دعائے استخارہ بھی پڑھ لی۔ نیند تو آہی نہیں سکتی تھی۔ کوئی آدھ گھنٹے تک بالکل خالی الذہن ہو کر سوچا حضرت امیر شریعت کا فرمان کانوں میں گونجتا تھا کہ تحریک کو بہر حال پر امن رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔ شرعاً بھی میرے ذہن میں یہ بات آتی تھی کہ اگر بالفرض سید ابن حسن ڈپٹی کمشنر کے حکم سے ہی ان مظلوموں کو قتل کیا گیا ہو تو بھی اس قصاص اور بدلے کا حق ہمیں کس طرح ہو سکتا ہے۔ ہم اس کو قتل کر دینے کے مجاز نہیں ہیں۔ بہر حال میرا ذہن صاف ہو گیا۔ اب میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے جرات کر کے اسے کہہ دینا چاہیے کہ یہ قتل ناحق ہو گا جس کا ہمیں حق حاصل نہیں ہے۔

میں نے ایک رضا کار کو کہا کہ وہ جائے اور دیکھے کہ شاہ صاحب سو رہے ہیں یا جاگ رہے ہیں۔ اس نے دیکھ کر کہا کہ شاہ صاحب سو رہے ہیں لیکن ان کی سٹین گن کہیں پڑی ہے، پشاوری کلے پر بندھی ہوئی پگڑی کہیں ہے، اور شاہ صاحب کہیں ہیں۔ میں نے اسے کہا کہ فوراً سٹین گن اٹھا لے اور میرے کمرہ کی الماری میں بند کر کے تالا لگا دے۔ وہ سٹین گن لایا، اسے تالے میں بند کر دیا۔ میں نے کہا اب جاؤ شاہ صاحب کو کہو کہ اٹھیں ہمارا استخارہ مکمل ہو گیا ہے۔ وہ شاہ کو جگا لایا۔ میں نے شاہ صاحب سے بڑے ہی محبت بھرے لہجے میں پھر بات چیت شروع کی اور ان کی خدمات کو سراہا۔ ان کی جرات، ایثار، قربانی اور عشق رسول پر مر مٹنے کی تمنا کی تعریف کی اور عرض کیا کہ ڈپٹی کمشنر کو قتل کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ ہم نے رسول اللہ کی محبت میں ظلم سہنا ہے، ظلم کرنا نہیں ہے۔ خود یزیدوں کے ہاتھوں اپنا سب کچھ قربان کر دینا ہے، لیکن کسی پر ہاتھ نہیں اٹھانا ہے۔ یہی شریعت کا مسئلہ ہے اور یہی مجھے میرے لیڈروں کی ہدایت ہے۔

اب اگر خدانخواستہ یہ کام آپ کریں گے تو یہ خلاف شرع ہو گا۔ ذاتی اور نفسانی غصے کی وجہ سے ہو گا اور آپ جب اس کی پاداش میں خدانخواستہ پھانسی پائیں گے تو وہ موت شہادت کی نہیں ہو گی۔

شاہ جی سو کر اٹھے تھے۔ ان کے رات کے جذبات اور غصہ ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔ کہنے لگے اچھا! پھر کہنے لگے آپ مجھے اجازت دے ہی دیں، میں اس موذی کو ٹھکانے لگا دوں تاکہ دوسرے بے ایمانوں کو عبرت ہو۔ میں نے کہا شاہ جی اب تو آپ نے مسئلہ کے فیصلہ کی

صفحہ ١٩٩

پابندی کرنی ہے اور بس۔ کہنے لگے لاؤ میری وہ سٹین گن کہاں ہے۔ میں نے کہا آپ کے پاس تھی۔ کہنے لگے کسی نے سوتے وقت اٹھا لی ہے۔ اچھا میں اب باہر جاتا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ حکمت عملی سے سمجھانا کارگر ہو گیا ہے تو میں نے آخر میں ایک بات اور بھی کہہ دی۔ میں نے کہا شاہ جی آپ کا غصہ اتر گیا ہے یا نہیں۔ کہنے لگے غصہ تو اتر گیا۔ میں نے کہا اگر رات کو غصے میں آپ یہ فعل کر گزرتے تو نتیجہ یہ ہوتا کہ آپ کو حکومت سرکاری گواہ بناتی اور شاید قتل کے جرم میں سزائے موت تحریک کے رہنماؤں کو ہوتی۔

(”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ص ٤٢٩ تا ٤٣٣ از مولانا اللہ وسایا)

ہم اہل جنوں اور جھکیں موت کے آگے
ہم جب کبھی مرے موت پر احسان کریں گے

لاجواب

جب ہم جیل سے رہا ہوئے تو حضرت پیر عالم شاہ صاحب راولپنڈی جیل میں تھے اور میاں اصغر علی صاحب فیصل آباد جیل میں۔ یہ دونوں میانوالی کے رئیس گھرانوں کے تھے۔ انہیں جیل میں اے کلاس دی گئی تھی۔ ان کے علاوہ ہمارے تمام نظر بند رفقاء سنٹرل جیل لاہور میں تھے۔ ٢ اور ٣ مارچ کو میانوالی سے جو رضا کار لاہور گئے تھے ان میں سے دو چار اتفاقاً گرفتاری سے بچ گئے تھے۔ باقی سب مارشل لاء کی خلاف ورزی کے الزام میں طویل المیعاد سزا پا کر مختلف جیلوں میں تھے۔ قید محض والے تقریباً سب ہم سے پہلے رہا ہو گئے تھے۔ امیر عبداللہ خاں روکھڑی پنجاب اسمبلی کے رکن تھے۔ انہوں نے ہمارے نظر بند ساتھیوں کی رہائی کے لیے کوشش شروع کی۔ حضرت پیر صاحب مرحوم کو اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے راولپنڈی جیل سے مجھے خط لکھا کہ ”مجھے یہاں یکسوئی حاصل ہے‘ تلاوت بھی کر لیتا ہوں اور مثنوی شریف کا مطالعہ بھی نصیب ہو جاتا ہے۔ میری رہائی کے لیے کوشش نہ کی جائے“ حضرت پیر صاحب کو کوشش سے رہا ہونا پسند نہ تھا اور اس معاملے میں ان کی پسند کو ملحوظ رکھنا ہمارے لیے ممکن نہ تھا۔ روکھڑی صاحب کی چند دن کی کوشش سے سب نظر بند رہا ہو گئے۔ ہم لوگ ریلوے اسٹیشن گئے‘ لاہور اور راولپنڈی کی گاڑیاں ایک ہی وقت میں پہنچی

صفحہ ٢٠٠

تھیں۔ لاہور سے آنے والے ساتھی ریل سے اترے، پلیٹ فارم خالی ہوا اور راولپنڈی والی گاڑی پلیٹ فارم پر آگئی۔ حضرت پیر صاحب اس میں تشریف لائے تھے۔ حضرت پیر صاحب کا مجلس احرار سے کبھی تعلق نہیں رہا تھا۔ جب انہیں گرفتاری کے بعد راولپنڈی جیل لے جایا گیا تو وہاں ایک صوبائی وزیر ان سے ملنے آئے اور کچھ دیر بیٹھنے کے بعد وزیر صاحب بولے آپ معزز اور شریف خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کو رہا کر دیا جائے۔ آپ کاغذ پر اتنا لکھ دیں کہ میرا احرار سے تعلق نہیں ہے۔ ہم آپ کو رہا کر دیں گے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ”او وزیر صاحب! یہ تو بہت بڑی بات ہے۔ تو اگر کہے کہ کاغذ پر پیشاب کر دے تو میں یہ بھی نہیں کروں گا“

(”تحریک ختم نبوت“ ١٩٥٣ء ص ٤٧٠۔٤٧١ از مولانا اللہ وسایا)

رتبہ بلند

(فاروق آباد) کا ایک نوجوان محمد اکرم کمبوہ جو شیخوپورہ کالج میں بی اے کا طالب علم تھا، ایک روز میرے پاس آیا اور کہنے لگا گیلانی صاحب میرے دل میں کسی اہل اللہ سے بیعت ہونے کا شوق ہے اور اکثر سوچتا تھا کہ کس بزرگ کے ہاتھ میں ہاتھ دوں۔ پھر وہ رو پڑا اور کہا رات میں نے خواب دیکھا ہے، وہ سن لیں اور میری مدد کریں۔

خواب: حسب عادت میں اسی سوچ میں سو گیا کہ کس بزرگ کو اپنا پیشوا بناؤں۔ دیکھتا ہوں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہیں اور فرمایا خان محمد خانقاہ سراجیہ والوں سے بیعت ہو جاؤ۔ اس ارشاد کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔

میں نے اسے رقعہ دے کر حضرت کی خدمت میں کنڈیاں بھیج دیا۔ حضرت نے اسے بیعت فرما لیا۔

(”حدیث خواب“ ص ٢٤٧ از سید امین گیلانی)

دنیا میں بت اور بھی ملے لیکن
وہ سب سے حسین، سب سے الگ، سب سے جدا
صفحہ ٢٠١

درد دل

”میں چاہتا ہوں کہ مخالفین اسلام کی بے انتہا سعی اور کوشش کا جواب دیا جائے۔ بالخصوص مرزائی جماعت کا فتنہ فرو کرنے میں جو کچھ ہوسکے اس سے دریغ نہ کیا جائے اور نہایت انتظام کے ساتھ یہ سلسلہ میرے بعد بھی جاری رہے۔ اس لیے رائے یہ ہے کہ ایک انجمن قائم کی جائے جس کا نظم تم لوگ اپنے ہاتھ میں لو اور اس کے لیے ہر وہ شخص جو مجھ سے ربط و تعلق رکھتا ہے، وہ اس میں حسب حیثیت التزام کے ساتھ ماہانہ شرکت کرے۔ ورنہ جو شخص میرے اس دینی اور ضروری کہنے کی طرف بھی متوجہ نہ ہوگا میں اس سے ناخوش ہوں اور وہ خود یہ سمجھ لے کہ اس کو مجھ سے کیا تعلق باقی رہا“۔

(”سیرت مولانا محمد علی مونگیری“ ص ٣٠١، از سید محمد الحسنی)

ہوا ہے گو تند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مرد درویش جس کو حق نے دیے ہیں انداز خسروانہ

خون سے دستخط

لاہور، لائل پور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ساہیوال، راولپنڈی، سرگودھا اور دوسرے تمام شہروں اور قصبوں میں حالت یہ تھی کہ رضاکار اپنے اپنے بھرتی کے مراکز پر آئے، جسم میں بڑی دلیری سے زخم لگاتے اور خون سے حلف نامے پر دستخط یا انگوٹھا ثبت کردیتے تھے۔ رضاکاروں کا وہ جذبہ گفتنی نہیں، دیدنی تھا۔ بس ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے ان نوجوانوں کے سینوں میں قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے دل دھڑکنے لگ گئے ہیں اور یہ دنیا و ما فیہا سے منہ موڑ کر خواجۂ یثربؐ کی حرمت پر قربان ہو جانا چاہتے ہیں۔

(”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ص ٢٨٥ از مولانا اللہ وسایا)

لکھتا ہوں خون دل سے یہ الفاظ احمریں
بعد از رسولِ ہاشمی کوئی نبی نہیں