حق و باطل · ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد
Haqo Batil · Idarah Dawat-o-Irshad
PDF 1

معرکہ

لاہور ہائی کورٹ 1991 ء

سپریم کورٹ آف پاکستان 1993 ء

حَقّ وبَاطِل

پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کے تاریخ ساز فیصلے

ناشر: ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ فون : 310085 - 312820 فیکس : 311330

PDF 2

پیش لفظ

مسند انصاف پر اسلاف کی تصویر ہیں
آپ گویا بتکدے میں نعرہ تکبیر ہیں
آپ کے دل میں خدا کا خوف ہے جلوہ فگن
آپ کے دم سے ہے حق و صداقت کی پھبن
آپ نے بالا کیا ہے حرمت قانون کو
آپ ہی نے تازگی بخشی وطن کے خون کو
(شورش کاشمیری)

1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی نے مسلمانوں کو عجب دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے ایک طرف سیاسی ابتری ان کی قوت کو تہہ و بالا کر رہی تھی تو دوسری طرف تہذیبی زبوں حالی ان کے قومی تشخص کو پامال کرنے لگی۔ برطانوی استعمار مسلمانوں کو سیاسی طور پر مکمل مفلوج کرنا چاہتا تھا تاکہ مسلمان آئندہ کئی نسلوں تک ابھرنے کا تصور بھی نہ کر سکے۔ مسلمانوں میں روح جہاد ایک ایسی چنگاری تھی جو کسی وقت بھی بھڑک کر برطانوی استبداد کو راکھ کا ڈھیر کر سکتی تھی۔ انگریز اسلامی حکومت ختم کرنے کے باوجود مطمئن نہ تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ مسلمان کسی وقت بھی قوت مجتمع کر کے برطانوی سامراج کو جھنجھوڑ سکتا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں پر دو طرفہ یلغار کی۔ ایک تو مغربی تہذیب اپنی پوری جولانیوں کے ساتھ حملہ آور ہوئی۔ جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کو عسکری لحاظ سے بے بس کر دیا گیا۔ مغربی ثقافت اپنی عریانی اور ظاہری چمک دمک کے باعث پرکشش تھی۔ مسلمان نوجوان اس مغربی تہذیب کا اسیر ہوتا جا رہا تھا۔ انگریز تعلیم کے درپردہ مغربی کلچر یلغار کر رہا تھا۔

مسلمان زعماء ششدر تھے۔ علماء عیسائی مشنریوں کے تابڑ توڑ حملوں کو پسپا کرنے میں تو کامیاب ہو گئے۔ مگر برطانوی ثقافت کا گھیراؤ انتہائی مشکل کام تھا۔ انگریز شاطر نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کو تہذیبی لحاظ سے اپنا غلام بنانا چاہتا تھا بلکہ سیاسی لحاظ سے بھی مستقلاً بے دست و پا کرنا چاہتا تھا۔ اس کی عیار نگاہیں ایک ایسے آدمی کی متلاشی تھیں جو نبی کا روپ دھار کر مسلمانوں کے اندر جذبہ جہاد کو سرد کر دے۔ ایسا آدمی انہیں قادیان کی سر زمین میں مرزا غلام احمد کی صورت میں نظر آیا۔ انگریز نے دانہ پھینکا۔

PDF 3

مرزا پھنسا اور فورا زیر دام آ گیا۔ مرزا ہر وہ کام کرنے پر آمادہ ہو گیا جو برطانوی استعمار کو طویل اور مستحکم کر سکتا تھا۔

مرزا بظاہر عیسائی مشینریوں کے مقابل اکھاڑے میں اترا اور مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے لگا۔ مگر جلد ہی اس کا اصل روپ بے نقاب ہو گیا۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری اور مولانا محمد حسین بٹالوی پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اور مولانا کرم الدین دبیر بھیں جیسے جید علماء کرام نے اس کی اصلیت کے تاروپود بکھیر دیئے۔ انہوں نے مرزا کے دجل و فریب کو آشکار کیا مرزا کے جھوٹے دعوی کو انہوں نے لغویات اور ہفوات کا پلندہ قرار دیا۔ مرزا کو دجال اور کذاب ثابت کیا۔ مرزا اور اس کا شریک کار ٹولہ علماء حق پر سخت برہم ہوا۔ ان کے خلاف انتہائی سوقیانہ اور غلیظ زبان استعمال کی۔ مرزا نے اپنے مخالفین کو کنجریوں کی اولاد تک کہنے سے گریز نہ کیا۔ مگر علماء حق نے اس کے بازاری ہتھکنڈوں کی قطعا پرواہ نہ کی۔ استاذ العصر سید انور شاہ کشمیری خطیب ایشیاء سید عطاء اللہ بخاری، پیر طریقت مہر علی شاہ گولڑوی، شیر بیشۂ خطابت مولانا ظفر علی خان، لسان العصر آغا شورش کشمیری وغیرہ ہم قادیانیت اور قادیانی ٹولے کے خلاف ڈٹ گئے۔ اگرچہ قادیانیوں کے دام و فریب میں ہزاروں سادہ لوح مسلمان پھنس گئے۔ تاہم جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔ مسلمان علماء، زعماء اور خطباء ان کے دجل و فریب پر مبنی طلسم کو پیہم توڑتے رہے۔ انہیں دنوں مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین ایک مقدمہ ۳۵-۱۹۳۰ء میں ریاست بہاول پور کی سیشن عدالت میں زیر سماعت ہوا۔ سیشن جج جناب محمد اکبر خان نے قادیانیت کے گھناؤنے کردار کا مکمل محاسبہ کیا۔ اور ایک ایسا فیصلہ صادر کیا جو تاریخ میں سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ اس تاریخی مقدمہ کی مکمل روداد شائع ہو چکی ہے۔

جب چودھویں صدی ہجری کے آغاز میں مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ تو عالم اسلام کے تمام علماء نے اس کے کفر اور ارتداد کا فتویٰ دیا۔ اس سلسلہ میں بہاولپور کی عدالت میں حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ نے استغاثہ کی پیروی کی تھی۔ چنانچہ فاضل جج مسٹر محمد اکبر خان مرحوم نے فیصلہ صادر فرمایا کہ مدعی نبوت اور اس کے پیروکار قطعا اسلام سے خارج ہیں۔ انہوں نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ قادیانی مسلمانوں میں شرعی طور پر کوئی ازدواجی تعلق قائم نہیں کر سکتے۔ چنانچہ اس سے مسلمانوں اور علماء میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے اس فیصلے کو قانون شریعت اور قانون حکومت کے مطابق قرار دیا۔ کہ شرعی اور قانونی حیثیت سے یہ فیصلہ اس درجہ محکم اور مضبوط ہے۔ کہ قادیانی اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی نہ کر سکے۔

صفحہ 3

آغا شورش کاشمیریؒ مرحوم نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے لکھا تھا کہ اس فیصلہ نے مسلمانوں کو قادیانیت کے عزائم و عقائد سے نہ صرف آگاہ کیا بلکہ مرزائیت اپنے حقیقی خدوخال سمیت آشکار ہوئی ہے۔ یہ فیصلہ براعظم کے مسلمانوں کی ذہنی سرگزشت میں ہمیشہ یاد گار رہے گا۔ اور جب کبھی پاکستان کے قوانین کی شکل اسلامی ہو گی۔ اس فیصلے کا بہت احترام کیا جائیگا۔ بلکہ یہ فیصلہ مشعل راہ ہو گا۔ (الحمد اللہ! شورش کاشمیریؒ مرحوم کی یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف پوری ہو گئی ہے) ملت اسلامیہ مسٹر جسٹس محمد اکبر خان مرحوم (بہاولپور) کے اس فیصلہ کی شکر گزار ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت کریں اور کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔

اس تاریخی مقدمہ کے بارے میں علمائے ربانی نے لکھا ہے کہ ہر مسلمان کو اس علم و عرفان کی عظیم دستاویز (جو کہ اسلامی دستاویز میں آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے) کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔

قادیانی ذہنی طور سر زمین ہند میں واقع موضع قادیان کو اپنا مکہ اور مدینہ سمجھتے ہیں۔ انہیں قادیان چھوڑنا قطعا گوارہ نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پہلے تو تحریک پاکستان کو سبوتاژ کیا بعد ازاں جب پاکستان کا قیام عمل میں آگیا اور انہیں قادیان چھوڑنا پڑا تو انہوں نے سر زمین پاکستان پر اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنا شروع کر دیا۔ مرزا بشیر الدین محمود اور دیگر قادیانی گماشتوں کو یہاں ربوہ میں امانتاً دفن کیا گیا۔ تاکہ ان کی میتیں مناسب وقت پر بھارت (قادیان) منتقل کی جا سکیں۔ قادیانیوں نے جلدی پر پرزے نکالنے شروع کر دیئے۔ اور دولت و قوت کے محکموں پر قابض ہونے کے لئے سرگرم عمل ہو گئے۔ بقول شورش کاشمیری یہودی ریاست ”اسرائیل“ کی طرز پر پاک سر زمین پر قادیانی ریاست ”مرزائیل“ کے قیام کے لئے کوشاں ہو گئے۔ مسلمان اکابر ان کے گھناؤنے سیاسی فریب کو بھانپ گئے اور انہیں کافر قرار دیئے جانے اور کلیدی آسامیوں سے ہٹانے کا پر زور مطالبہ کیا۔

اس ضمن میں قادیانیوں کے خلاف 1953ء میں پر زور تحریک چلی۔ جس میں مسلمان نوجوانوں نے اپنے خون کا ہدیہ پیش کیا۔ شمع رسالتؐ کے ہزاروں پروانے قربان ہو گئے۔ قادیانیت کے غبارے سے اگرچہ ہوا نکل چکی تھی تاہم یہ عظیم تحریک چند سیاسی مصلحتوں کی نذر ہو گئی۔ قادیانیت کو وقتی طور پر سہارا مل گیا۔ چند مکار سیاست دانوں نے اس تحریک کا رخ جمہوریت کی طرف موڑ دیا۔

1968-69ء میں مسلمانوں کا جوش پھر تحریک کی صورت اختیار کر گیا۔ حتیٰ کہ مرزائی نواز حکمرانوں کا ٹولہ ملکی سیاست سے رخصت ہو گیا۔ 1974ء میں قادیانیوں نے

صفحہ 4

اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ قومی اسمبلی نے 7 ستمبر 1974ء کو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ پورے ملک میں خوشیاں منائی گئیں۔ جشن ہوئے اور ختم نبوت کے نعروں سے پورا ملک گونج اٹھا۔ 90 سالہ مسئلہ حل ہو گیا۔ اور قادیانیت اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ مرزا ناصر احمد رسوا ہو گیا۔ اور ختم نبوت کے پروانے کامیابی و کامرانی سے سرشار ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت و رسوائی سے ہمکنار کرتا ہے۔

قادیانی اقلیت تو قرار دیئے گئے لیکن آئینی تقاضے پورے نہ ہوئے یعنی قانون سازی نہ کئے جانے کی وجہ سے پھر سازشوں میں متحرک ہو گئے۔ اور مسلمانوں کو زچ کرنے کے لئے کلمہ طیبہ کے بیج لگانے شروع کر دیئے۔ علماء اور عوام کے پر زور مطالبے پر صدر ضیاء الحق مرحوم نے 24 اپریل 1984ء کو امتناع قادیانیت آرڈینینس جاری کیا۔ جس کی رو سے اسلام کی مقدس اصطلاحات استعمال کرنے اور تبلیغ کرنے سے انہیں باز و ممنوع قرار دے دیا گیا۔

قادیانی جنہوں نے کبھی 23 مارچ کو چراغاں نہ کیا تھا۔ نہ وہ تحریک پاکستان میں رہے اور نہ ہی انہوں نے بانی پاکستان حضرت قائد اعظم کا جنازہ پڑھا۔ یکایک انہوں نے 23 مارچ کو صد سالہ جشن منانے کا پروگرام بنایا۔ یہ جشن دراصل مختلف تقریبات کی آڑ میں ایک تبلیغی پروگرام تھا۔ یعنی مرزائی کونین پر چینی چڑھا کر اپنے تبلیغی مشن کو آگے بڑھانا چاہتے تھے۔

23 مارچ نہ تو مرزا قادیانی کا یوم پیدائش ہے اور نہ ہی اس کی موت کا دن ہے بلکہ 23 مارچ 1889ء کو مرزا نے مسیح موعود کا دعویٰ کر کے لدھیانہ میں بیعت لی تھی۔ یہی وہ دن ہے جب مرزا نے کھلم کھلا مسلمانوں سے الگ ہونے کا فیصلہ دل ہی دل میں کر لیا تھا۔ مرزائی مسلمانوں سے اپنی راہیں الگ کرنے کے اس دن کو بطور یادگار بصورت صد سالہ جشن اپنے ہیڈ کوارٹر ربوہ میں منانا چاہتے تھے۔ اس کے تدارک کے لئے مولانا منظور احمد چنیوٹی نے متعدد اخباری بیانات دیئے کہ اب جبکہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا ہے اور امتناع قادیانیت آرڈینینس نافذ ہو چکا ہے قادیانی کیونکر اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

مولانا چنیوٹی ان دنوں پنجاب اسمبلی کے ممبر تھے۔ انہوں نے اسمبلی میں یہ مسئلہ اٹھایا وزیر قانون کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم ہوئی۔ اس کے سامنے مولانا موصوف نے اس مسئلہ کی حساس نوعیت پر دلائل دیئے اور کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب نے اس صد سالہ جشن پر پابندی عائد کر دی۔

اس صد سالہ جشن پر پابندی عائد کرانا

سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی

صفحہ 5

کا عظیم کارنامہ ہے جو تاریخ میں جلی

حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔

قادیانیوں نے اس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی۔ حکومت کے علاوہ مولانا ممدوح انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ اور جشن پر پابندی لگوانے کے محرک کے طور پر اس میں فریق مقدمہ تھے۔ چونکہ عیسائی بھی مرزا غلام احمد کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا گستاخ سمجھتے ہیں اس لئے وہ بھی اس میں فریق مقدمہ تھے۔

فریقین کا موقف اور وکلاء کی طویل سیر حاصل بحث سننے کے بعد جناب جسٹس خلیل الرحمن نے تاریخی فیصلہ صادر فرمایا۔ کہ قادیانیوں کے صد سالہ جشن پر پابندی لگانے کا پنجاب کی صوبائی حکومت کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ اور صوبائی حکومت کا یہ اقدام متعلقہ قانون و آئین کی تشریحات و تصریحات کے عین مطابق ہے۔

17 ستمبر 1991ء کو ہائی کورٹ نے ”قادیانیوں کے صد سالہ جشن پر پابندی جائز ہے“ کا فیصلہ سنایا۔ اس کے خلاف قادیانیوں نے سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی۔ مسلمانوں کو اس فیصلے کا شدید انتظار تھا۔ چنانچہ 3 جولائی 1993ء کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ اس آرڈیننس کی وجہ سے بنیادی حقوق کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ اس کے تحت مرزائیوں کے لئے کلمہ طیبہ کا پڑھنا یا اپنے جسموں پر بیج لگانا نیز عبادت گاہوں کو مساجد قرار دینا اور اذان کہنا ممنوع ہے۔

اس تاریخ ساز فیصلے نے مسلمانوں کے اندر خوشی و مسرت کے جذبے پیدا کر دیئے کیونکہ یہ دراصل اس مقدمے کا آخری پہلو تھا۔ جو 20 مارچ 1989ء کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ اور حکومت پنجاب کے ہوم سیکرٹری نے مولانا منظور احمد چنیوٹی کی درخواست پر دفعہ 144 کے تحت قادیانیوں کے صد سالہ جشن پر پابندی لگا دی تھی۔ کیونکہ 23 مارچ 1989ء کو اس تاریخی دن کی آڑ میں قادیانی مرزا غلام احمد کا صد سالہ جشن منانا چاہتے تھے۔ چنانچہ قادیانیوں کو مذہبی عمارتوں پر لاؤڈ سپیکر یا میگا فون استعمال کرنے سے منع کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ نعرہ بازی‘ بینر اور پوسٹر نہ لگانے کا حکم دیا گیا۔ حتیٰ کہ کھانا اور مٹھائیاں بھی تقسیم کرنے پر پابندی لگائی گئی تھی۔

فل بنچ میں شامل چار جج صاحبان جسٹس عبدالقدیر چوہدری‘ محمد افضل لون‘ جسٹس سلیم اختر‘ اور جسٹس ولی محمد نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس بنیادی حقوق سے متصادم نہیں ہے۔ جسٹس عبدالقدیر چوہدری کے فیصلے کو ججوں کی اکثریت نے تسلیم کیا۔ اس میں کہا گیا

صفحہ 6

ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں قوانین کے ذریعے مخصوص الفاظ، ناموں اور صفات کے معانی اور مطالب کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ قادیانی اسلامی اصطلاحات استعمال کر کے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ اور اگر وہ مسلمانوں کو دھوکہ نہ دینا چاہتے تو وہ اپنی علیحدہ اصطلاحات اپنا سکتے تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قادیانیوں کے مذہب کی کوئی بنیاد نہیں اور نہ ہی یہ مذہب اپنی بنیاد پر پھل پھول سکتا ہے۔ دنیا میں بے شمار مذاہب موجود ہیں لیکن کسی نے بھی دوسرے مذہب کی اصطلاحات کو اپنایا نہیں۔ اسلامی ریاست کا یہ حق ہے کہ وہ غیر مسلموں کو اسلامی شعائر کی آڑ میں اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے سے روکنے کے لئے قانون سازی کرے۔ اسی فاضل جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قادیانی اپنی رسومات، عبادات، کلمہ اور دیگر مذہبی فرائض کے لئے نام رکھ چکے ہیں۔ جس طرح ہندو، سکھ، عیسائی مذاہب کے پیروکار اپنی عبادات کا جداگانہ طریقہ رکھتے ہیں عام حالات میں جس سے امن و امان کا مسئلہ کھڑا نہیں ہوتا۔ اس لئے کوئی غیر مسلم مسلمانوں کی ان مقدس اصطلاحات کو استعمال نہیں کر سکتا۔ جو ملت اسلامیہ گزشتہ چودہ سو سال سے اپنائے ہوئے ہے۔ اس سے کوئی غیر مسلم یہ تاثر نہیں دے سکتا کہ وہ مسلمان ہے فاضل جج نے یہ بھی لکھا ہے کہ ساری دنیا میں مخصوص نام (ٹریڈ مارک) سے مماثلت رکھنے والے نام کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں بھی ایسا قانون موجود ہے کہ ”قائداعظم“ کی اصطلاح کوئی شخص اپنے لئے استعمال نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس قانون کو کبھی چیلنج کیا گیا۔

غرض پاکستان کے مسلمانوں کے نزدیک سب سے اہم اور قیمتی چیز ایمان ہے۔ اور وہ کبھی ایسی حکومت کو برداشت نہیں کر سکتے جو ان کے ایمان کا تحفظ نہ کر سکے۔ اور انہیں مذہبی مکاروں اور شعبدہ بازوں سے نہ بچا سکے۔ قادیانیوں کی طرف سے بار بار ان مخصوص اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے پر اصرار اس امر کی غماز ہے کہ وہ مسلمانوں کو فریب دینا چاہتے ہیں۔ جناب محمد افضل لون نے جسٹس عبدالقدیر چوہدری کے فیصلے سے اتفاق کیا۔

مسٹر جسٹس شفیع الرحمن نے اپنے اختلافی فیصلے میں لکھا ہے کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس اسلامی تعلیمات کے منافی ہے لیکن قادیانیوں نے اس بات پر اصرار نہیں کیا کہ وہ آرڈیننس کو بنیادی حقوق سے متصادم ثابت کرے۔ اسی مقدمہ میں سپریم کورٹ نے اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے کے جرم میں پانچ قادیانیوں کو ملنے والی سزاؤں کے خلاف اپیل بھی مسترد کر دی۔

ان اپیلوں کی سماعت کے دوران اس آئینی نقطے پر بحث ہوئی کہ حکومت پنجاب نے 20 مارچ 1989ء کو قادیانیوں کے جشن صد سالہ پر پابندی عائد کر کے دستور کی خلاف ورزی کی تھی۔ چنانچہ سپریم کورٹ کے فل بنچ نے کثرت رائے سے فیصلہ دیا ہے کہ امن وامان بحال رکھنے

صفحہ ۸

اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے حکومت پنجاب کا پابندی لگانے کا فیصلہ درست تھا اور اپیل کنندگان قادیانی عدالت میں یہ ثابت نہ کر سکے کہ جشن صد سالہ کی تقریبات ان کے مذہب کا لازمی حصہ تھیں۔

پریس میں اس تاریخ ساز فیصلے کی خبر سے مسلمانوں میں خوشیوں کی لہر دوڑ گئی اور قادیانیت اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی۔ اور اس فیصلے سے آئین اور قانون کے بار بار سہارا لینے کی آخری کوشش بھی ناکام ہو گئی۔

فاضل ججوں کے اس فیصلے سے جدید تعلیم یافتہ طبقہ (خصوصاً جو یورپی فکر سے مرعوب ہے) اور اس فتنہ سے جو اسلام کے لئے ناسور بن چکا ہے۔ اس کے نتائج اور ثمرات سے آگاہ ہو گئے ہیں اور ملت اسلامیہ کا ہر فرد اس فیصلے سے مطمئن ہے۔ اب قادیانیوں کے سیاسی خواب جو اس ملک میں اقتدار کے لئے دیکھ رہے تھے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے منتشر ہو گئے ہیں۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ نے قادیانیوں کے حوصلے توڑ دیئے تھے اب سپریم کورٹ کے فیصلے سے ان کی آخری امید بھی ٹوٹ گئی ہے۔

اس تاریخ ساز مقدمہ میں مسلمانوں کی وکالت کی سعادت اٹارنی جنرل عزیز اے منشی، جناب مقبول الٰہی ملک ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، جناب اعجاز یوسف ایڈیشنل ایڈووکیٹ بلوچستان، جناب راجہ حق نواز ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، جناب اے ق قرنی ایڈووکیٹ، جناب محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، جناب ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، جناب ممتاز علی مرزا ڈپٹی اٹارنی جنرل، جناب سردار خان ایڈووکیٹ جنرل صوبہ سرحد، جناب عبدالغفور منگی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور جناب ایم ایم سعید بیگ کو حاصل ہوئی۔

مقدمہ کی مکمل روداد ہدیہ قارئین ہے

آخر میں ادارہ مولانا منظور احمد چنیوٹی کی وساطت سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء کرام اور علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب اور اس فیصلہ کے مترجمین کا ہم صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے عدالتی کارروائی کے دوران وکلاء کی تیاری میں ہمارے ساتھ بھرپور تعاون فرمایا۔ (جزاہم احسن الجزاء)

خدام ختم نبوت اشفاق ناصر، ملک نثار احمد و اراکین ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ

PDF 9

☆☆ لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ ☆☆

قادیانیوں کے صد سالہ

جشن پر پابندی جائز ہے

ترجمہ: مجاہد لاہوری

ابتدائی کوائف

عنوان مقدمہ:۔ مرزا خورشید احمد و دیگر بنام حکومت پنجاب مقدمہ نمبر:۔ رٹ پٹیشن نمبر 2089 لغایت 1989 فریق اول:۔ مرزا خورشید احمد و دیگر اپیلانٹ فریق ثانی:۔ حکومت پنجاب وغیرہ مسئول علیہان فریق اول کے وکلاء:۔ سی اے رحمٰن، مبشر لطیف احمد اور مجیب الرحمٰن ایڈووکیٹ فریق دوم کے وکلاء:۔ مقبول الٰہی ملک ایڈووکیٹ جنرل، ان کے معاونین این اے غازی، اے اے جی ارشاد اللہ خان اور مسعود احمد خان ایڈووکیٹ دیوانی متفرق:۔ درخواست نمبر 5377 لغایت 1989 کی پیروی ایم اسماعیل قریشی اور دیوانی متفرق:۔ درخواست نمبر 2049 لغایت 1991ء میں رشید مرتضیٰ قریشی پیش ہوئے۔ تاریخ ہائے سماعت:۔ 6‘ 7‘ 11‘ 12‘ 13‘ 14‘ 15‘ 18‘ 19‘ 20‘ 21‘ اور 22 مئی 1991ء فیصلہ کا اعلان:۔ مورخہ 17 ستمبر 1991ء کو کیا گیا۔

صفحہ 7

THE DAILY JANG (LONDON) روزنامہ جنگ لندن صفحہ 12 جلد 9 12 صفر 1409ھ ۔ 21 ستمبر 1989ء شمارہ 2045 قیمت 10p

قادیانیوں کے خلاف مہم میں تیزی

مسلم ممبران پارلیمنٹ اور مسلم تنظیموں نے حمایت کا اعلان کر دیا

گلاسگو (نمائندہ جنگ) برطانیہ بھر میں مسلم برادری نے قادیانیوں کے خلاف بھرپور مہم شروع کر دی ہے۔ اس مہم کی قیادت گلاسگو سنٹرل کے ممبر پارلیمنٹ مسٹر مائیک واٹسن کر رہے ہیں۔ مسٹر مائیک واٹسن کی طرف سے شروع کی گئی اس مہم کے سلسلہ میں انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پیش کی ہے، جس پر کئی ارکان پارلیمنٹ نے دستخط کر دیئے ہیں، اس قرارداد میں انہوں نے

کہا ہے کہ قادیانی اور احمدی اسلام کا نام اور شعائر استعمال نہ کریں۔ دریں اثناء برطانیہ بھر کی مسلم تنظیموں اور مسلم کمیونٹی نے مسٹر مائیک واٹسن کے اس اقدام کو زبردست سراہا ہے اور اپنی طرف سے انہیں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ برطانیہ کے سیکرٹری جنرل مسٹر چوہدری محمد سرور نے نمائندہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسٹر مائیک

واٹسن نے جو قدم اٹھایا ہے وہ پوری مسلم امہ کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کے اس اقدام سے مسلمانوں کو سخت صدمہ پہنچا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت برطانیہ قادیانیوں کی سرگرمیوں کا سختی سے نوٹس لے۔

اپیل

مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ممبران پارلیمنٹ سے رابطہ قائم کر کے مسٹر مائیک واٹسن کی قرارداد کی حمایت کرنے کے لئے کہیں تاکہ یہ قرارداد منظور ہو سکے۔

صفحہ 8

روزنامہ نوائے وقت لاہور (ص۷) ۱۳ مارچ ۱۹۸۹ء

قادیانیوں کو صد سالہ جشن منانے کی اجازت نہ دی جائے

بروقت اقدام نہ کیا گیا تو امن عامہ کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے ۔ منظور چنیوٹی

علمائے حق کی آواز دبانے کیلئے پنجاب اوقاف کو مرکز کے تحت کیا جارہا ہے

لاہور ۱۲ مارچ (اپنے سٹاف رپورٹر سے) جمعیت علماء اسلام (درخواستی گروپ) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی کے رکن مولانا منظور احمد چنیوٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قادیانیوں کو ۲۳ مارچ کو صد

سالہ جشن منانے کی اجازت نہ دی جائے اور کہا کہ اگر اس بات کو نہ روکا گیا تو اس سے ملک میں امن و عامہ کا مسئلہ پیدا ہو باقی صفحہ ۷ کالم ۱۲

بقیہ : منظور چنیوٹی نمبر ۱۲

جائے گا۔ چیف منسٹر ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت قادیانی نوازی کر رہی ہے اور اس جماعت نے عام انتخاب میں قادیانیوں سے گٹھ جوڑ اور معاہدہ کیا تھا جس کے شواہد موجود ہیں سندھ میں ایک قادیانی کو چیف سیکرٹری مقرر کیا گیا اور ایک اور قادیانی مشیر احمد کو باہر سے بلا کر اہم عہدہ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں نے مرزا غلام احمد کی بعثت کا صد سالہ جشن ۲۳ مارچ کو منانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں ربوہ میں تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرزا غلام احمد مسیح موعود نہیں بلکہ مسیح دجال ہیں اور ان کو مسیح موعود ثابت کر کے صد سالہ جشن منانا ہمارے بنیادی عقیدے اور نظریہ پاکستان کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جشن ایک اسلامی ملک میں نہیں منایا جا سکتا اس سلسلے میں وہ پنجاب حکومت کے ذمہ دار افراد اور وزیر اعلیٰ سے بات کریں گے اور وفاقی حکومت کو بھی اس کا فوری طور پر نوٹس لینا چاہئے۔ انہوں نے وزیر اعظم کے مشیر مولانا سراج دین پوری سے گلہ تھا کہ سندھ کے چیف سیکرٹری کنور ادریس کو ہٹا دیا جائے گا لیکن اس یقین دہانی کے باوجود وہ بدستور اپنے عہدہ پر ہیں اور قادیانی نوازی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے اسمبلی میں ایک تحریک پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ میری زندگی کو خطرہ ہے اور اس سلسلہ میں قادیانی جماعت کے سر براہ مرزا طاہر احمد کی ایک تقریر کا حوالہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے لیکن مرزا طاہر احمد نے گذشتہ سال نومبر کو جو مبینہ تقریر کی تھی اس کا کیسٹ میرے پاس موجود ہے اور میں نے صدر مملکت کو بھی اس کی نقل ارسال کر دی تھی۔

صفحہ 9

فیصلہ

جسٹس خلیل الرحمن (جج)

(۱) یہ رٹ پٹیشن سائلان مرزا خورشید اور حکیم خورشید احمد کی طرف سے دائر کی گئی جو احمدیہ برادری کے ارکان اور اس کی مرکزی و مقامی تنظیم کے عہدیداران ہونے کا دعویدار ہیں۔ اس آئینی درخواست میں اس امر کا فیصلہ کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ کہ پنجاب کے ہوم سیکرٹری نے مورخہ ۲۰ مارچ ۱۹۸۹ء کو قادیانیوں کے صد سالہ جشن کی تقریبات پر پابندی کی بابت جو حکم صادر کیا نیز جھنگ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے مورخہ ۲۱ مارچ ۸۹ء کو زیر دفعہ ۱۴۴ مجموعہ ضابطہ فوجداری جو حکم جاری کیا گیا۔ جس کی رو سے ضلع جھنگ کے قادیانیوں کو ایسی سرگرمیوں سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی جو مذکورہ بالا حکم میں مذکور تھیں۔ بعد ازاں ربوہ کے ریذیڈنٹ مجسٹریٹ نے ۲۵ مارچ ۱۹۸۹ء ایک حکم کے ذریعے احمدیہ جماعت ربوہ کے عہدیداران کو خبردار اور ہدایت کی کہ وہ شہر ربوہ میں لگائے گئے۔ آرائشی گیٹ ہٹالیں۔ جھنڈے اور چراغاں کے لئے لگائی گئی روشنی کی تار اتارلیں اور اس امر کی یقین دہانی کرائیں کہ دیواروں پر مزید اشتہار نہ لکھے جائیں۔

نیز یہ کہ ۲۱ مارچ ۸۹ء کو جاری کیئے گئے حکم کی میعاد میں تاحکم ثانی توسیع کردی گئی ہے۔ یہ تمام اقدامات خلاف قانون و باطل ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ انہیں کالعدم قرار دیا جائے یہ استدعا بھی کی گئی کہ مسئول الیہان کو اس امر کی ہدایت کی جائے کہ وہ سائلان کو ان واضح بنیادی و اساسی حقوق کے استعمال سے نہ روکیں جو سائلان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل ۲۰ کی رو سے حاصل ہیں۔

صفحہ 10

کو جس کا قیام ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو عمل میں آیا تھا، قائم ہوئے سو سال ہو گئے ہیں۔ جماعت کی تشکیل کے ۱۰۰ برس پورے ہونے پر دنیا بھر کے دوسرے احمدیوں کی طرح ربوہ کے احمدیوں نے بھی ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء سے صد سالہ جشن کی تقریبات منانے کا فیصلہ کیا۔ ان تقریبات کو شایان شان طریقہ سے منانے کے لئے سائلان اور ربوہ کے دیگر شہریوں نے نئے ملبوسات زیب تن کرنے بچوں میں مٹھائیاں بانٹنے محتاجوں کو کھانا کھلانے اور بغرض اجلاس جمع ہونے کا پروگرام بنایا تاکہ جلسہ عام میں احمدیہ جماعت کے صد سالہ تاریخ کے اہم واقعات پر روشنی ڈالی جائے۔ مزید التجا کی گئی کہ اگر کوئی احمدی اپنی برادری کی بھلائی و خیر خواہی کے جذبہ کے تحت بانی جماعت احمدیہ اور ان کے جانشینوں کے مقام و مرتبہ کے بارے میں یا افریقہ اور دوسرے ممالک میں ان کی تبلیغی مساعی کے بارے میں اپنے بچوں کو بتائے تو ممکن ہے اس سے بعض متشدد اور متعصب لوگوں کے جذبات مجروح ہوں۔ گزارش کی گئی کہ قادیانیوں کو (جو خود کو احمدی کہتے ہیں) صد (۱۰۰) سالہ سالگرہ منانے سے روکنے کا کوئی قانونی جواز نہیں۔ ایسا کرنا ان کا بنیادی اور فطری حق ہے۔ کیونکہ یہ موقع ان کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید دعویٰ کیا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم میں کہیں مذکور نہیں کہ اس کے یقین کے مطابق اگر احمدیوں نے حسب پروگرام ربوہ میں صد سالہ جشن کی تقریبات منعقد کیں تو شہر میں نقض امن یا فرقہ وارانہ فساد کے پھوٹ پڑنے کا خطرہ ہے۔

اکثریت احمدیوں پر مشتمل ہے۔ وہ گاہ بگاہ ایک دوسرے کی غمی و خوشی میں شریک ہوتے رہتے ہیں۔ اس لئے دفعہ ۱۴۴ ض ف کے تحت جو کاروائی کی گئی، اس کی ضرورت نہیں تھی۔ مذکورہ بالا دلیل کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا کہ اس موقع پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو چاہئے تھا کہ احمدیوں کو جشن منانے سے باز رہنے کی ہدایت کرنے کی بجائے

صفحہ 11

دوسروں کو خبردار کر تاکہ وہ ان کی تقریبات میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں۔ کیونکہ احمدیوں کو کسی ایسی سرگرمی سے نہیں روکا جاسکتا جس کی ممانعت قانون میں نہ کی گئی ہو۔ مزید عرض کیا گیا کہ صوبائی حکومت کو یہ حکم جاری کرنے کی بجائے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو یہ ہدایت کرنی چاہئے تھی کہ ان متشدد عناصر کو جو پاکستان میں احمدیوں کا وجود تک برداشت کرنے کو تیار نہیں، اور انہیں مرتد کہتے ہیں، احمدیوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے سے باز رکھا جائے، اور ان کی تقریبات میں مخل ہونے سے روکا جائے۔ یہ گزارش بھی کی گئی کہ شہریوں کے حقوق کو محض اس بنا پر پامال کرنا قرین انصاف نہیں کہ چند متشدد یا بااثر افراد کی طرف سے گڑ بڑ کا اندیشہ ہے۔ مزید عرض کیا گیا کہ احمدی ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء کو نیز سال بھر کے دوران وقتاً فوقتاً جمع ہو کر جلسے کرنا چاہتے تھے۔ جن میں اظہار تشکر کی خصوصی دعائیں کرنا اللہ تعالیٰ کے ان احسانات اور نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا جن سے گزشتہ صدی کے دوران انہیں نوازا گیا۔ بچوں اور نوجوانوں کو احمدیت کی راہ میں ان کے آباؤ اجداد کے ایثار و قربانی اور اس سلسلہ میں ان پر عائد کی گئی پابندیوں اور نوجوانوں کو ان کے فرائض سے آگاہ کرنا مقصود تھا۔

پروگرام بنایا گیا تھا، احمدیہ برادری کے ہر رکن کا آئینی حق ہے۔ اس لئے حکومت کو ان کے انعقاد کو یقینی اور محفوظ بنانا چاہئے تھا۔ اس حق سے کسی کو اس بنا پر محروم نہیں کیا جاسکتا تھا کہ بعض اشخاص نے احتجاج و مزاحمت کی دھمکی دی تھی۔ فاضل وکیل نے دلیل پیش کی کہ اگرچہ ۲۱ مارچ ۱۹۸۹ء کا حکم ۲۵ مارچ ۸۹ء کو زائد المیعاد ہوگیا اور اس حقیقت کے باوجود کہ اس میں توسیع نہیں کی گئی ریذیڈنٹ مجسٹریٹ ربوہ نے غیر قانونی طور پر ۲۵ مارچ ۸۹ء کا حکم جاری کردیا۔ جس میں متنازعہ فیہ ہدایات درج ہیں۔

سائلان نے قادیانی گروپ لاہوری گروپ اور احمدیوں کی غیر اسلامی سرگرمیوں پر (پابندی و ممانعت) کے آرڈیننس ۱۹۸۴ء (۱۹۸۴ء کا ۲۰ واں) کے احکام

صفحہ 12

کے تحت مجموعہ تعزیرات پاکستان میں داخل کی گئی نئی دفعہ ۲۹۸ سی کی وجہ جواز کو بھی اس بنا پر چیلنج کیا کہ اس سے دستور پاکستان کے آرٹیکل نمبر ۲۰ میں دیئے گئے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ مذکورہ آرٹیکل کے تحت ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ بہرحال بحث کے دوران فاضل وکیل نے اس نکتہ پر یہ کہتے ہوئے زور نہیں دیا کہ یہ مسئلہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ اور وہ اس کا فیصلہ ہونے تک انتظار کرنے کو تیار ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ سائلان کی طرف سے پیش ہونے والے تینوں وکلا قادیانیوں کے عقیدہ کی ”تبلیغ کے حق“ پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ انہوں نے اپنے استدلال اور موقف کو مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق تک محدود و مقید رکھا۔

گزارش کی، قادیانیوں پر زیادہ سے زیادہ پابندی لگائی جا سکتی تھی کہ وہ دوسرے لوگوں میں اپنے عقیدہ کی تبلیغ نہ کریں۔ لیکن انہیں عام جلسوں میں رسول اکرمؐ کی حیات طیبہ اور دوسرے مذہبی موضوعات پر تقاریر کرنے سے روکا نہیں جا سکتا تھا انہوں نے مزید کہا کہ ان تقاریر میں قادیانی جو حوالے دیتے ان کی تعبیر و تشریح ان کتب میں مذکور نقطہ نظر کے مطابق کی جاتی۔ حقیقت میں نہ تو پبلک تقاریر منعقد کرنی تھیں، نہ جلوس نکالے جانے تھے، نہ کوئی پمفلٹ تقسیم ہونے تھے، نہ ہی بینر لگانے کا پروگرام بنایا گیا تھا۔ اس استدلال کی بنا پر انہوں نے عرض کیا کہ مذکورہ بالا طریقے سے ویسی تقریبات کے انعقاد کو روکا نہیں جا سکتا تھا کیونکہ دستور کے آرٹیکل ۱۶۔۱۹ اور ۲۰ کے تحت ہر شہری اور برادری کو اس حق کی ضمانت دی گئی ہے کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کر سکتا ہے۔ نیز اپنی برادری کے بچوں یا افراد میں اپنے عقیدہ یا افکار کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید عرض کیا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم میں جو متنازعہ فیہ ہدایات درج تھیں انہیں ایک ایک کر کے پرکھا جائے یا اجتماعی طور پر جائزہ لیا

صفحہ ۱۵۱

جائے۔ ان سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے ان ہدایات کے ذریعے جو مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی وہ بھی بنیادی حقوق سے متصادم تھا، اگرچہ جس کا بہانہ گھڑ لیا گیا ہے۔

تاہم ان کی مداخلت غیر موثر نہیں ہوتی کیونکہ اس میں جس حق کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ روز مرہ کے معمولات میں سے ہے لہٰذا اگر عقیدے کی پیروی نیز اس پر عمل کرنے کے حق کی وسعت اور اس کی حدود کا تعین کر دیا جائے تو یہ چیز احمدیوں کے ساتھ ساتھ دوسرے شہریوں کو بھی درست لائحہ عمل اختیار کرنے کی ترغیب دے گی۔

(۶) بعض وکلاء نے مزید عرض کیا کہ جس اندیشہ کی نشاندہی کی گئی ہے اگرچہ ان امور کی عام جلسہ اور عام مقامات پر انجام دہی کے حق سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ان میں سے کوئی ایک کام بھی جائے عام پر کرنے کا پروگرام نہیں تھا۔ انہوں نے وضاحت سے بتایا کہ نہ تو کوئی ویسا پروگرام بنایا گیا تھا نہ ہی ایسی تقاریر کرنے کا ارادہ تھا جس سے ملکی قانون کی خلاف ورزی ہوتی، اندریں حالات ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا یہ کہنا مسلمانوں کی توہین کرنا ہے کہ ان تقریبات کے انعقاد پر مسلمان احتجاج اور برہمی کا اظہار کرتے یا اس سے امن عامہ میں خلل پڑتا۔ اگر مذکورہ بالا امور کی بجاآوری کے موقع پر مجمع بصورت دیگر قانوناً درست تھے نقص امن کا اندیشہ تھا تو اس اندیشہ کو دور کرنے کی تدابیر کرنی چاہئے تھیں تاکہ قادیانیوں کو ان سے باز رہنے کی ہدایت کی جاتی۔

اپنے استدلال کی حمایت میں انہوں نے رامناتھا سوامی دیواستھانم وغیرہ بنام کدار میرا امبالم (اے آئی آر ۱۹۳۲ء مدراس ۲۹۴) متعلق بہ سری کانت آئیر (اے آئی آر ۱۹۳۷ء مدراس ۳۱۱) نیز مسمات جسودہ لیکھراج بنام ایمپرر (اے آئی آر ۱۹۳۹ء سندھ ۷۲) کا حوالہ دیا۔

(۷) آگے بڑھنے سے بیشتر ایک درخواست (دیوانی متفرق درخواست نمبر ۵۳۷۷ بابت ۱۹۸۹ء) پر ایک نظر ڈالنا مناسب ہو گا۔ جو فریق مقدمہ بنائے جانے کی خاطر مولانا منظور

صفحہ 14

احمد چنیوٹی کی طرف سے داخل کی گئی تھی تاکہ عدالت کے سامنے مسلمانوں کا نقطہ نظر بھی پیش کیا جاسکے کیونکہ دنیا کے مسلمان آنحضرتؐ کی قطعی اور غیر مشروط ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں

اگر قادیانیوں پر پابندی نہ لگائی گئی تو ملک

گیر سطح پر شدید ہنگامے شروع ہو جائیں گے۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی

ان کے نزدیک مرزا غلام احمد بانی جماعت احمدیہ‘ ایک مرتد و مکار شخص تھا۔ درخواست گزار نے گزارش کی کہ وہ اس مقدمہ کا ایک لازمی فریق ہے کیونکہ اس نے بین الاقوامی ختم نبوت مشن کے عہدیدار کی حیثیت سے احمدیوں کی متذکرہ بالا سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے جن سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی خلاف ورزی کا خدشہ اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات بھڑکنے کا امکان تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے نمائندہ مندوبین کی معیت میں حکومت پنجاب سے رابطہ قائم کیا۔ قادیانی جشن کے پروگرام کی بابت اپنی گہری تشویش و اضطراب سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ان تقریبات پر فوری پابندی لگائی جائے ورنہ ملک گیر سطح پر شدید ہنگامے شروع ہو جائیں گے‘ یہ کہ حکومت پنجاب نے ان کے مطالبہ پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے سالگرہ کی تقریبات پر پابندی کا فیصلہ کیا تھا‘ یہ درخواست ۱۸ دسمبر ۱۹۸۹ء کو زیر سماعت آئی اس موقع پر سائلان کے فاضل وکلا نے تجویز کیا کہ درخواست دہندہ کو اس سلسلہ میں بیان حلفی داخل کرنا چاہئے۔ اور یہ کہ فریق مقدمہ بنائے جانے کی درخواست پر اصل درخواست کے ساتھ غور کر لیا جائے۔ درخواست دہندہ کو بیان حلفی داخل کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ اور اس کی درخواست معہ اصل پٹیشن کی سماعت کے لئے تاریخ سماعت مقرر کر دی گئی۔

صفحہ 15

سے دی گئی تھی۔ جو عیسائیت سے تعلق رکھتا ہے وہ اس استدلال پر مبنی تھی کہ عیسائیت کے خلاف مرزا غلام احمد کی تقاریر اور اس لٹریچر تمام عیسائیوں کے نزدیک قابل مذمت اور نفرت انگیز ہے۔ درخواست دہندہ کے فاضل وکیل نے وضاحت سے بتایا کہ ان تقریبات کی مسلمہ غرض و غایت جماعت احمدیہ کی ۱۰۰ سالہ تاریخ کا اعادہ کرنا تھا جس میں جماعت کی تحریروں اور ادب سے حوالے لازماً دیئے جاتے جن میں حضرت عیسیٰ اور عیسائیت کی بابت انتہائی قابل اعتراض اور توہین آمیز ریمارکس شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرزا غلام احمد نے مسیح موعود (وہ مسیح جن کی دوبارہ آمد کی بشارت دی گئی ہے) ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے پیرو اسے مسیح موعود مانتے ہیں۔ اس لئے عیسائیوں کے عقائد اور حضرت عیسیٰؑ کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے ایسے لغو دعویٰ کی تردید و تکذیب ضروری تھی۔ ان کی تحریروں میں حضرت عیسیٰ کے خلاف ملامت آمیز مواد نیز ان کے جلسوں اور تقریبات میں متوقع حملے عیسائی برادری کے غیض و غضب کا موجب بنتے۔ اس سے احمدیوں اور عیسائیوں کے مابین دشمنی اور نفرت میں اضافہ ہوتا اور نقص امن کی سنگین صورتحال پیدا ہو جاتی۔

پر زور دیا کہ ان دونوں درخواستوں کو مزید دلائل سنے بغیر خارج کر دیا جائے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اس نکتہ پر اس وقت زور دیا گیا جب فاضل وکلا میں سے ایک اپنے دلائل مکمل کر چکے تھے اور فاضل ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کا آغاز ہو چکا تھا اس درخواست کو ۱۳ مئی ۱۹۹۱ء کو صادر کردہ حکم کی رُو سے نمٹایا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ۔

”اس مرحلہ پر فاضل وکیل سی۔ اے رحمان نے بتایا کہ فریق مقدمہ بنائے جانے کی درخواست (سی ایم ۸۹۔۵۳/۷۷) کا تصفیہ معاملہ کی مزید سماعت کرنے سے پہلے کر دیا جائے۔ یاد رہے کہ پٹیشن کی حمایت میں وہ اپنے دلائل پہلے ہی مکمل کر چکے ہیں۔ مسٹر مبشر لطیف احمد نے اپنے دلائل مکمل کر لئے ہیں۔ اب مسئول الیہ اور

صفحہ 16

درخواست گزار کو جواب دینا ہے۔“

علاوہ بریں ۱۲؍ دسمبر ۱۹۸۹ء کے حکم میں کہا تھا کہ۔ درخواست دہندہ نے فریق مقدمہ بنائے جانے کی یہ درخواست مسئول الیہ کی حیثیت سے دی ہے۔ اس کی ایک نقل سائلان کے فاضل وکیل کو فراہم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ درخواست دہندہ کو چاہئے کہ وہ اس سلسلہ میں بیان حلفی داخل کرے۔ نیز یہ کہ اس کی سماعت پٹیشن کے ساتھ کی جائے۔ درخواست گزار کے فاضل وکیل نے تجویز سے اتفاق کیا کہ تحریری بیان داخل کر لینے دیا جائے اور اس درخواست نیز اصل پٹیشن پر دلائل کا آغاز ۲۷؍ جنوری ۱۹۹۰ء سے کیا جائے۔

اندریں حالات اس مرحلہ پر فریق مقدمہ بنائے جانے کی درخواست پیش کرنا دراصل کاروائی کو طول دینے کا ایک حربہ ہے جس سے پٹیشن میں اٹھایا گیا اصلی مسئلہ کھٹائی میں پڑ جائے گا، پس اس معاملہ کا فیصلہ اصل پٹیشن کے ساتھ کیا جائے گا۔ جیسا کہ خود فاضل وکیل نے تجویز کیا ہے، مسئول الیہان اور دوسرے اپنے دلائل شروع کر سکتے ہیں۔

(۱۰) جہاں تک درخواست گزاروں کے بطور مسئول الیہان فریق مقدمہ بنائے جانے کا تعلق ہے۔ یہ بات قابل غور ہے۔ ابتدا میں فاضل وکیل کو جیسا کہ محسوس ہوتا ہے، درخواست کی سماعت پر کوئی اعتراض نہیں تھا کیوں کہ انہوں نے خود ہی تجویز پیش کی تھی کہ درخواست گزار کو پہلے تحریری بیان داخل کرنے کا موقع دیا جائے، درخواست گزار نے عام مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے قادیانیوں کے عقائد کی مخالفت اور صد سالہ جشن کی تقریبات پر زبردست احتجاج کیا تھا۔ جس کی بنا پر صوبائی حکومت نے ان تقریبات پر پابندی عائد کر دی تھی اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے زیر بحث امتناعی احکامات جاری کئے تھے۔ درخواست گزار کا موقف یہ تھا کہ سماعت کے دوران ان کا موجود ہونا ضروری ہے تاکہ وہ یہ بات ثابت کر سکے کہ اندرون ملک قادیانیوں کا عام اجتماعات مذہبی

صفحہ 17

موضوعات پر قادیانیت کے پردہ میں تبلیغ کرنا از روئے قانون ممنوع اور جرم ہے۔ عیسائی درخواست گزار کے فاضل وکیل نے بھی ایسا ہی موقف اختیار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قادیانیوں کی طرف سے مذہبی موضوعات پر بحث مباحثہ اندیشہ نقص امن پر منتج ہوتا کیوں کہ ان کے افکار و تعلیمات نہ صرف

قادیانیوں کے افکار و تعلیمات مسلمانوں اور

عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل

کرتے ہیں۔

مسلمانوں بلکہ عیسائیوں کے بھی مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے والی ثابت ہوتیں۔

یہ بات قابل غور ہے کہ صد سالہ سالگرہ سال گزر جانے کے باوجود اس درخواست پر اس لئے زور دیا جا رہا ہے کہ ان کے افکار و خیالات کی تبلیغ کے لئے مذہبی اجتماعات منعقد کرنے کے حق کا تعین کرنا ضروری ہے۔ کیوں کہ ایسا کرنا ممبران جماعت احمدیہ کے روز مرہ معمولات کا ایک حصہ ہے اور اس میں شک نہیں کہ روز مرہ معمولات کا حصہ ہونے کی بنا پر اس کا تعلق مسلمانوں عیسائیوں اور دوسرے تمام شہریوں سے ہے۔ اس لئے وہ اس پیٹیشن کے خلاف سنے جانے کے حقدار ہیں۔

چنانچہ دونوں درخواستیں برائے سماعت منظور کی جاتی ہیں اور درخواست گزاروں کو بطور مسئول الیہ مقدمہ کا فریق بنانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس طرح یہ دونوں درخواستیں نمٹا دی گئیں۔

سائلان کے فاض وکیل مسٹر سی اے رحمان نے اپنے دلائل مکمل کر لئے تھے۔ اور مولانا منظور احمد چنیوٹی کے فاضل وکیل مسٹر اسماعیل قریشی نیز فاضل ایڈووکیٹ جنرل فریق مخالف کے وکیل کے پیش کردہ مباحث کے جواب میں کچھ معروضات پیش کر چکے تھے۔ فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے بحث شروع کرنے سے پہلے ایک فہرست داخل کی جو

صفحہ ۱۵

ظاہر کرتی تھی کہ وہ مرزا غلام احمد کے افکار کو کس کس موضوع کے ساتھ زیر بحث لائیں گے جیسا کہ وہ خیالات مرزا صاحب کی کتابوں میں موجود ہیں۔ جنہیں صد سالہ جشن کی تقریبات میں دھرایا جانا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرزا صاحب اور ان کے حواریوں کی یہ تحریریں جن کی نشاندہی عدالت میں پیش کردہ درخواست میں کی گئی ہے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی محسوسات کو مشتعل و مجروح کرنے والی ہیں جو روز اول سے ان افکار و نگارشات کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں۔ گذشتہ ۱۰۰ برسوں کے دوران انہوں نے مرزا صاحب کے کذب و افتریٰ کو طشت از بام کرنے کے لئے قدم قدم پر قربانیاں دی ہیں۔ عام اجتماعات میں ایسے افکار کا تذکرہ و اعادہ نہ صرف ارتکاب جرم کے مترادف ہوتا بلکہ مسلمانوں میں وسیع پیمانے پر شدید غم و غصہ کو ابھارنے کا سبب بنتا۔ اور اس سے نقص امن کو خطرہ لاحق ہونا ناگزیر ہوتا۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جشن کی تقریبات منعقد کرنے، جماعت احمدیہ کی تاریخ کو دہرانے مرزا صاحب کے مقام و حیثیت کو اجاگر کرنے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے سے امن و امان کی صورتحال پر جو اثرات مرتب ہوتے انہیں تاریخی پس منظر میں دیکھنا چاہئے۔ جس میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا دستوری فیصلہ بھی شامل ہے تاہم فاضل ایڈووکیٹ جنرل یا دوسرے وکلاء کی طرف سے مذکورہ بالا موضوعات کو زیر بحث لانے سے قبل ہی سائلان نے اس امر کی درخواست پیش کر دی کہ پیٹیشن میں محض ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے اور یہ استدعا کی گئی ہے کہ ۲۵ مارچ ۱۹۸۹ء کے حکم کو کالعدم ٹھہراتے ہوئے مسئول الیہان کو ہدایت کی جائے کہ وہ سائلان کے بنیادی حق کے استعمال میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ لیکن ۸ مئی ۱۹۹۱ء کو اپنے دلائل کے دوران فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے اعتقادی اختلافات اور مذہبی مباحث چھیڑ دئیے۔ اپنی گزارشات میں جب انہوں نے سائلان کے ساتھ بعض عقائد منسوب کئے تو انہوں نے ان عقائد کو غلط فہمی پر مبنی قرار دیتے

PDF 22

ہوئے مسترد کر دیا۔ درخواست کی تائید میں ایک حلفیہ بیان داخل کیا گیا جس میں کہا گیا کہ مسائل کے تصفیہ میں عقیدہ اور مسلک کی بات کرنا سراسر غیر متعلقہ اور خارج از بحث معاملہ ہے کیونکہ مذہبی بحث و مناظرہ کے لئے عدالت ہذا موزوں فورم نہیں ہے۔ رٹ پٹیشن میں کسی مذہبی عقیدہ کا فیصلہ یا اس کی بابت اعلان کرنے کی استدعا نہیں کی گئی، نہ ہی عدالت کو اس بارے میں اختیار حاصل ہے۔ یہاں فریق مخالف نے سائلان عقیدہ کی بابت غلط فہمی اور لاعلمی پر مبنی غلط دعوے کئے ہیں۔ اس سے جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت و عداوت پھیلنے کا امکان ہے۔ عدالت میں جن الزامات کی تکرار کی گئی۔ وہ قومی اخبارات میں شائع کر دیئے گئے ہیں اور ان کی زبردست تشہیر دیکھنے میں آئی جس میں ان کے عقیدہ کو توہین آمیز طریقہ سے غلط رنگ میں پیش کیا گیا۔ مسئول الیہان عدالت ہذا کو احمدیہ برادری کی ذلت و رسوائی کا سامان بہم پہنچانے اور ان کے خلاف بغض و نفرت پھیلانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں اس موقف کی بنیاد پر استدعا کی گئی کہ بحث کو صرف قانونی مسائل تک محدود و مقید کیا جائے اور اس امر کی ہدایت جاری کی جائے کہ پریس میں طرفین کی درست، یکساں اور مساوی کوریج کو یقینی بنایا جائے۔ اس درخواست پر مسٹر مبشر لطیف احمد نے دلائل پیش کئے۔ انہوں نے گزارش کی کہ اس درخواست کا فیصلہ فاضل ایڈووکیٹ جنرل اور مسئول الیہان کے وکلاء کو دلائل شروع کرنے کی اجازت دینے سے پہلے کر دیا جائے۔

قادیانیوں کے اجتماعات پر عائد کردہ پابندی

خود ان کے اپنے مفاد میں ہے۔

فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے اپنے دلائل میں قادیانی برادری کی ان تصنیفات کی نشاندہی کی جن کے حوالے سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ان کتابوں میں درج افکار و نظریات کا کھلے بندوں پرچار کرنے کی اجازت دے دی جاتی تو وہ تعزیرات پاکستان اور قانون کے تحت ارتکاب جرم کے مترادف ہوتی اور یہ چیز مسلمانوں کی بھاری

PDF 23

اکثریت والے ملک میں ان کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرنے کا موجب ہوتی اور فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دیتی انہوں نے مزید کہا کہ عائد کردہ پابندی خود ان کے اپنے مفاد میں ہے۔ کیونکہ پبلک میں ان کے رد عمل کا نتیجہ باہمی تصادم کی صورت میں نکلتا، جس سے خود ان کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی۔ انہوں نے وضاحت سے بتایا کہ سائلان اپنی پٹیشن میں خود کہہ چکے ہیں کہ ان اجتماعات میں مذہبی موضوعات بشمول رسول اکرمؐ کی سیرت پاک اور مرزا صاحب کے حالات زندگی کے بارے میں تقاریر ہونی تھیں، اب وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اعتقادی اختلافات اور مذہبی مباحث پر گفتگو کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی جماعت احمدیہ اور اس کے حواریوں کی تعلیمات و تحریرات کی اشتعال انگیزی کو عریاں کرنا اعتقادی اختلافات کو چھیڑنا نہیں، بلکہ اس تباہ کن تاثر کو اجاگر کرنا مقصود تھا جو ان افکار و تعلیمات کے پرچار سے امن عامہ کی صورت حال پر مرتب ہوتے، یہ کہنا غلط ہے کہ ایسا کر کے وہ عقیدہ سے متعلق سوالات کو حل کرانا چاہتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے اراکین اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔

ان کا مذہب اچھا ہے یا برا ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں، تاہم جب وہ اپنے عقیدہ پر اس طرح عمل کرنا چاہیں جو دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے یا ان کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرے، تو خواہ وہ ہوں یا کوئی اور، ملکی قانون کی نظر میں جرم کا ارتکاب کرتا ہے اس لئے ان کو کتابوں کے ان مذہبی موضوعات سے عدالت کو آگاہ کرنا میرا حق ہے جو مذہبی احساسات کو برافروختہ کرنے والے ہیں۔ ان کی نشر و اشاعت ارتکاب جرم کے مترادف ہے۔ اور زیر دفعہ ۱۴۴ احتیاطی تدابیر بروئے کار لانے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔

صفحہ 21

جنہیں بعد ازاں قلم بند کیا جائے گا۔ فریقین کے فاضل وکلاء کو بتایا گیا کہ وہ یہ بات ثابت کرنے کے لئے مرزا صاحب اور اس کے حواریوں کی تعلیمات و افکار کے حوالے دے سکتے ہیں جیسا کہ وہ ان کی اصل تصنیفات میں موجود ہیں کہ آیا وہ تحریریں مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے والی ہیں یا نہیں؟ نیز وہ زیر دفعہ ۱۴۴ کاروائی اور حکومت پنجاب کی طرف سے صد سالہ تقریبات پر لگائی گئی پابندی کا جواز فراہم کرتی ہیں یا نہیں؟ مذکورہ بالا حکم کی وجوہات ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔

ضابطہ دیوانی کی دفعہ ۹ کے حوالے سے کہا کہ عدالتیں مذہب سے متعلق تنازعات یا ایسے سوال کا فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں کہ آیا کسی شخص کا مذہب اچھا ہے یا برا؟ نہ ہی انہیں اعتقادی اختلافات یا مذہبی مباحث کو نمٹانے کا اختیار حاصل ہے جبکہ یہاں احمدیہ جماعت کی طرف سے مذہب کی تبلیغ کرنے کے حق کے بارے میں کوئی دعویٰ زیر بحث نہیں، نہ ہی اس کا فیصلہ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ دلیل جس انداز میں پیش کی گئی ہے اس سے معاملہ کی صورت حال سامنے نہیں آتی جیسی کہ رٹ میں ظاہر کی گئی ہے یا عدالت کے روبرو سوال اٹھایا گیا ہے۔

دراصل یہ درخواست اصل مسئلہ کو نگاہوں سے اوجھل کرنے کا ایک حربہ ہے۔ سائلان کا کیس یہ ہے کہ ان اجتماعات میں منجملہ دیگر امور کے رسول اکرمؐ کی سیرت پاک و ارشادات اور ان کے بارے میں مذہبی موضوعات پر اظہار خیال کیا جانا تھا۔ انہوں نے سوال کیا۔ ایسے مباحث پر خواہ انہیں احمدی نکتہ نظر ہی کیوں نہ پیش کیا جاتا، کیسے پابندی لگائی جا سکتی ہے؟ فاضل وکیل کے مطابق ان تقریبات میں تمام کام قانون کے دائرے میں کئے جانے تھے۔ مسئول الیہان کے بقول ان ہر دو دلائل کے بطلان کے لئے بانی جماعت احمدیہ کی اصل مستند اور معروف و مسلمہ کتابوں میں درج افکار و تعلیمات کا حوالہ دینا ضروری تھا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ وہ محض چند متشدد لوگ تھے

صفحہ 22

جن کی طرف سے ناموافق رد عمل کا اظہار کیا جاتا یا امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا۔ احمدیہ مذہب کی پوری تاریخ اور برصغیر کے مسلمانوں کی طرف سے اس کی جو شدید مخالفت کی گئی وہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ محض مٹھی بھر متعصب آدمی نہیں جو ان کی مزاحمت پر کمر بستہ ہیں بلکہ عامۃ المسلمین قادیانیوں کے افکار و نظریات کو اپنے مذہبی جذبات کی توہین کرنے والا سمجھتے ہیں۔ ان کی کتابوں سے حوالے دینے کا مقصد یہ تھا کہ ان پہلوؤں کو نمایاں کیا جائے اور اوپر نقل کردہ دونوں دلیلوں کا توڑ کیا جائے۔ اس سے یہ ثابت کرنا ہرگز مطلوب نہیں کہ سائلان کا مذہب اچھا ہے یا برا یا یہ کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی یا اس پر عمل کرنے کے مجاز نہیں۔ نہ ہی اعتقادی اختلاف کا حل تلاش کرنے کی غرض سے مذہبی بحث چھیڑنا مقصود تھا۔ قادیانیوں کے ساتھ مذہبی بحث و مناظرہ میں پڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ مرزا صاحب نے جس قسم کے مذہب کی تلقین و تبلیغ کی اور قادیانی جس مذہب کے پیروکار و وفادار ہیں۔ رسول اکرمؐ کے زمانہ سے لیکر اب تک تمام ممالک کے مسلمان اسے اسلام کے اساسی نکات کے خلاف گستاخانہ توہین آمیز اشتعال انگیز، گمراہ کن اور بے ادبی پر مبنی سمجھتے آئے ہیں وہ تمام مسلمان جو اسلام اور ختم نبوت کے مابین قائم رشتہ و تعلق میں کسی مداخلت کے روادار نہیں۔ مرزا صاحب کے دعویِ نبوت سے سخت برگشتہ ہیں اور اسے یک سر مسترد کرتے ہیں۔

قادیانیوں کے نزدیک غیر قادیانی کافر اور

دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

اس طرح انہوں نے اپنی علیحدہ امت بنالی ہے جو اُمت مسلمہ کا حصہ نہیں، یہ چیز خود ان کے طرز عمل اور عقائد سے ثابت ہے وہ خود کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں کے نعم البدل طور پر پیش کرتے ہیں اور مسلمانوں کو اپنی ملت سے خارج گردانتے ہیں۔ احمدی لوگ حکومت برطانیہ کے زیر سایہ خود کو مسلمان ظاہر کر سکتے

صفحہ 23

تھے۔ اب ایسا نہیں کر سکتے‘ کیونکہ مسلمانوں کے نزدیک مرزا غلام احمد امت مسلمہ میں انتشار و تفریق پیدا کر کے انگریزوں کے مفادات کے لئے کام کرتا رہا تھا۔ امت مسلمہ کے اتحاد و یک جہتی کے متعلق اسلامی معاشرہ کے عظیم اصحاب فضل و کمال کی آراء کا نچوڑ یہ ہے کہ ”یہ امت محض عقیدہ ختم نبوت کی بدولت انتشار سے محفوظ ہے“ انہوں نے مزید کہا اگر کسی قوم کی یک جہتی کو خطرہ لاحق ہو جائے تو اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ وہ انتشار و تفریق پیدا کرنے والی قوتوں کے خلاف اپنا دفاع کرے‘ اور حفاظت خود اختیاری کا طریقہ اس کے سوا اور کون سا ہو سکتا ہے کہ متنازعہ تحریروں اور ایسے شخص کے دعاوی کی تردید و تکذیب کی جائے جسے مورث قوم ایک مذہبی زمانہ ساز اور عیار سمجھتی ہے؟ کیا ایسی صورت میں اس مورث قوم کو جس کی یک جہتی معرض خطرہ میں پڑ چکی ہو تحمل و رواداری کی تلقین کرنا اور باغی گروپ کو بلاخوف و خطر اپنا پروپیگنڈہ جاری رکھنے کی اجازت دینا قرین انصاف ہو سکتا ہے؟ جبکہ وہ پروپیگنڈہ مورث قوم کے نزدیک انتہائی غلیظ و بے ہودہ ہو۔

مسلمانوں اور قادیانیوں (احمدیوں) کے مابین

کوئی نکتہ اشتراک نہیں۔

کیونکہ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ نبوت رسالت رسول اکرمؐ پر ختم ہو گئی‘ اس کے برعکس احمدی مرزا صاحب کو نیا نبی مانتے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ احمدی زیر اعتراض افکار یا استدلال کی جو وضاحت پیش کرتے ہیں کہ ان افکار کی تعبیر و تشریح ایک مخصوص طریقہ سے کی جانی چاہئے۔ اور انہیں ایک خاص زاویہ نظر سے دیکھنا چاہئے تاکہ انہیں اسلامی احکام کے موافق بنایا جا سکے۔ ان کی گہرائی میں اترنے کی ضرورت نہیں۔ ایسا کیا جائے تو اعتقادی اختلافات کو ہوا دینے کا الزام لگ جاتا ہے۔ دوسرے ان وضاحتوں‘ جوازات اور عبارات کو امت مسلمہ کب سے رد کر چکی ہے۔ پس اس دعویٰ میں کوئی وزن نہیں کہ ان افکار و خیالات سے مسلمانوں کے مذہبی

صفحہ 24

جذبات کو ٹھیس لگنے کا کوئی احتمال نہیں۔ یہ استدلال کہ اگر کسی شخص یا جماعت اشخاص کا عقیدہ زیر بحث ہو تو اس عقیدہ کی بابت مذکورہ بالا شخص یا اشخاص کے اختیار کردہ موقف یا پوزیشن کو اس گروپ میں مروجہ مفہوم یا حوالے سے اس کی تصدیق کرنا لازم ہوتا ہے اور یہ کہ انفرادی مخصوص خیال یا رائے کو اس شخص یا اشخاص کے موقف یا نقطہ نظر کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ بیان کی حد تک تو بڑا اچھا لگتا ہے تاہم یہ استدلال زیر بحث صورت حال پر منطبق نہیں ہوتا کیونکہ مسئلہ کسی خیال یا عقیدہ کو ذاتی طور پر اپنانے کا نہیں‘ بلکہ اس کی اعلانیہ تبلیغ و پرچار کرنے یا ایسے طریقے سے اس کی پیروی کرنے کا ہے۔ جس میں تشہیر و اشاعت کو نمایاں دخل ہو‘ علاوہ ازیں ان عبارات و افکار کی جو وضاحتیں اور جواز پیش کیا جاتا ہے۔ مسئول الیہ حکام ان پر نہیں جاتے۔ وہ واقعاتی پوزیشن کو ہی تسلیم کرتے ہیں۔ اگر ان کی رائے میں معقول وجوہ ہوں تو وہ متعلقہ قانون کے احکام (دفعہ ۱۴۴ ض ف) کے تحت کاروائی کر گزرتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس مرحلہ پر سائلان کے فاضل وکیل نے کتابوں کی فوٹوسٹیٹ نقول پیش کی جانی چاہئے تھیں۔ جب مسئول الیہان نے اصلی کتابیں پیش کر دیں تو فاضل وکیل سے کہا گیا اگر وہ چاہیں تو ایسی کتب کی فہرست دیدیں جنہیں اقتباسات کے سلسلہ میں وہ دیکھنا چاہتے ہیں‘ نہ کبھی وہ فہرست داخل کی گئی نہ ہی زبانی طور پر ایسی اغلاط و عبارات کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے برعکس مسٹر مجیب الرحمٰن جنہوں نے اس پہلو پر مقدمہ کی پیروی کی‘ یہ ذمہ داری سائلان پر ڈال دی‘ انہوں نے خود کو اس کے پیش کرنے کا پابند نہیں سمجھا۔

(۴۱) سائلان کے فاضل وکلاء نے مجموعہ ضابطہ دیوانی کی دفعہ ۹ کا جو حوالہ دیا ہے۔ وہ غیر متعلق اور بے محل ہے۔ یہ دفعہ دیوانی عدالتوں کے اس عمومی اختیار سماعت سے بحث کرتی ہے جس کے تحت وہ دیوانی نوعیت کے مقدمات کی سماعت کرتی ہے اس کے اختتام پر جو ”تشریح“ درج ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ایسے مقدمات جن میں مذہبی

صفحہ 25

رسوم یا تقریبات سے متعلق مسائل شامل ہوں، محض دیوانی نوعیت کے مقدمے نہیں ہوتے، جب تک ان سوالات سے کوئی مالکانہ حق یا حصول منصب کا حق پیوستہ نہ ہو۔ عدالت کے سامنے ایسا کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ یہ ایسی رٹ پٹیشن ہے جو دستور کے آرٹیکل ۱۹۹ کے تحت عدالت ہذا کو حاصل غیر معمولی آئینی اختیار سماعت سے داد رسی کی خواہاں ہے۔ اس رٹ میں دستور میں شامل بنیادی حقوق کے حوالہ سے وہ احکام و ہدایات جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے اس میں کسی مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق سے مدد لی گئی جبکہ مذہب اور افکار و خیالات کی تبلیغ کرنے کے حق سے مدد نہیں مانگی گئی۔ نہ ہی اس پر زور دیا گیا۔ بلکہ قصداً اپنے دلائل اس حد تک محدود رکھے۔ اس سیاق و سباق میں مسئول الیہان نے ان دلائل کا جواب دینے کی ضرورت محسوس کی اور یہ ثابت کرنا چاہا کہ اگرچہ یہاں تبلیغ مذہب کا حق زیر بحث نہیں۔ تاہم جو موقف اختیار کیا گیا جو دلائل پیش کئے گئے اور جس داد رسی کی استدعا کی گئی، اگر وہ عطا کر دی جاتی تو اس کا نتیجہ لازماً یہ نکلتا کہ قادیانی مذہب اور زیر اعتراض افکار و نظریات کی اعلانیہ یا پوشیدہ بے خوف و خطر تبلیغ یقینی بن جاتی۔ پس جو سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان پر کسی دیوانی عدالت میں زیر دفعہ ضابطہ دیوانی زور نہیں دیا جا رہا ہے۔ اس مرحلہ پر یہ واضح کرنا مناسب ہو گا کہ سائلان کے فاضل وکلاء نے عرض کیا تھا کہ زیر بحث مسئلہ صد سالہ جشن کا سال گزر جانے کے باوجود ایک جیتا جاگتا مسئلہ ہے اگر ان کے حسب پروگرام تقریبات منانے کا مطالبہ مان لیا جائے اور عدالت کی طرف سے اس بارے میں حکم صادر کر دیا جائے تو وہ ان تقریبات کو اب بھی منعقد کر سکتے ہیں اس لئے عدالت مذکورہ بالا سیاق و سباق میں اٹھائے گئے سوالات کا تجزیہ کرنا پڑا۔ فاضل وکلاء کو مکمل آزادی دی گئی کہ وہ جتنی دیر چاہیں دعاوی اور دلائل پیش کریں۔ بشرطیکہ وہ مذکورہ بالا سیاق و سباق سے متعلقہ ہوں۔ ان سے باہر نہ ہوں۔ البتہ ان افکار و خیالات اور وضاحتوں کے اخلاقی پہلو کی بابت جو ان زیر بحث افکار کے

صفحہ 26

جواز کو ثابت کرنے کی غرض سے کئے گئے ان کی اجازت نہیں دی گئی۔ کیونکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور صوبائی حکومت کو ان جوازات میں جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ وضاحت کہ پچھلی پوری صدی کے دوران مسلمانوں نے مرزا صاحب کے عقائد اور تعلیمات کو غلط سمجھا یا انہیں غلط معنی پہنائے اور اب ان کی تصحیح کی جاسکتی ہے۔ معاملہ کی موجودہ صورتحال کے سیاق و سباق میں غیر متعلقہ ہے۔ یہاں یہ بتانا مناسب ہو گا کہ یہ ساری وضاحتیں اور جوازات معہ زیر اعتراض افکار مجیب الرحمان بنام وفاق پاکستان (پی ایل ڈی ۱۹۸۵ء ایف ایس سی (۸) نامی مقدمہ میں پیش کی جا چکی ہے۔ جن پر وفاقی شرعی عدالت نے ان پر پوری طرح غور و خوض کیا اور اپنے فیصلہ میں ان کی بابت اپنی رائے کا اظہار کیا۔ یہ فیصلہ شدہ اور مسلمہ معاملہ ہے۔ عدالت ہٰذا بھی اسے تسلیم کرنے کی پابند ہے۔ مذکورہ بالا عدالت نے اپنے فیصلہ کے صفحہ ۸۲ پر درج ذیل رائے کا اظہار کیا تھا۔

”پس یہ بات شک و شبہ کے ادنیٰ شائبہ کے بغیر ثابت ہو چکی ہے۔ جیسا کہ سر ظفر اللہ خان نے کہا تھا“ یا تو پاکستان میں رہنے والی اکثریت کے لوگ کافر ہیں یا پھر قادیانی کافر ہیں۔ جس کے معنے یہ ہوئے کہ یہ دونوں ملتیں ایک نہیں ہو سکتیں اور مسلمان و قادیانی ایک امت کے فرد نہیں بن سکتے۔

مسلمان اور قادیانی ایک امت کے فرد نہیں بن سکتے۔

دونوں کے مابین کوئی اشتراک و اتحاد نہیں کیونکہ مسلمان ختم نبوت پر غیر مشروط ایمان رکھتے ہیں جبکہ قادیانی اس کے قائل نہیں وہ مسلمانوں کے برعکس مرزا صاحب کو ایک نیا نبی مانتے ہیں۔

اس سے ظاہر ہوا کہ یہ دونوں ایک ہی امت سے تعلق نہیں رکھتے۔ اس سوال کو حل نہیں کیا گیا کہ دونوں گروہوں میں سے کون سا اصل مسلمان ہے کیونکہ برطانوی ہند میں اس کا فیصلہ کرنے کے لئے فورم موجود نہیں تھا۔ تاہم ایک اسلامی

صفحہ 27

ریاست میں جہاں اس مسئلہ کو طے کرنے والے ادارے موجود ہیں‘ اسے حل کرنے میں کوئی دشواری نہیں۔

مجلس دستور ساز کے علاوہ وفاقی شرعی عدالت بھی اسے حل کرنے کی قانوناً مجاز ہے۔ پس ثابت ہوا کہ مسلمان اور احمدی دو الگ اور جداگانہ وجود ہیں۔ جماعت احمدیہ اور اس کے بانی کی کتب سے حوالے پیش کرنا اور ان دونوں علیحدہ و جداگانہ ملتوں میں امتیاز و تفریق کے لئے بلکہ زیر بحث احکام و ہدایات جاری کرنے کی ضرورت جواز کو ثابت کرنے کے لئے بھی ضروری ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر متفرق درخواست (سی۔ ایم۔ ۲۰۴۹'۸۹) خارج کی جاتی ہے۔

(۱۵) اب اس متنازعہ فیہ مسئلہ پٹیشن کے متنازعہ معاملہ کو میرٹ پر جانچنے کا مرحلہ آگیا ہے سائلان نے اپنی رٹ میں حسب ذیل کو چیلنج کیا ہے۔ یعنی:

سالہ جشن کی ان تقریبات پر پابندی لگائی گئی جن کا اعلان اور تشہیر احمدیہ برادری کی مقامی تنظیم کے عہدیداران نے کی تھی۔

جاری کردہ حکم اور

مذکورہ بالا احکام کو منجملہ دیگر امور کے ان وجوہات کی بنا پر چیلنج کیا گیا تھا کہ عائد کردہ پابندی آئین کے آرٹیکل ۲۰ میں ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے بنیادی حق کی ضمانت دی گئی ہے۔ یہ پابندی اس حق کو پامال کرتی ہے نیز ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ نے زیر دفعہ ۱۴۴ جو حکم جاری کیا تھا وہ خلاف قانون ناجائز‘ بے موقع اور دخل در معقولات کے مترادف ہے۔ چونکہ رٹ میں اصل حملہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ و ریزیڈنٹ مجسٹریٹ کے احکام پر کیا گیا تھا اس لئے بغرض حوالہ اور استفادہ

صفحہ 28

دونوں حکم ذیل میں نقل کئے جاتے ہیں۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ۲۱ مارچ ۸۹ء کو جو حکم جاری کیا اس میں کہا گیا تھا: ”

چونکہ مجھ پر واضح اور عیاں کیا گیا ہے کہ ضلع جھنگ کے قادیانی ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء کو قادیانیت کے صد سالہ جشن کی تقریبات منعقد کرنے والے ہیں جس کے لئے انہوں نے عمارتوں پر چراغاں مکانوں کی سجاوٹ آرائشی دروازوں کی تیاری‘ جلوسوں کا اہتمام‘ جلسوں کے انعقاد‘ پمفلٹوں کی تقسیم‘ دیواروں پر پوسٹروں کی چسپانی‘ مٹھائیوں کی تقسیم‘ خصوصی کھانوں کا انتظام‘ بیجوں‘ جھنڈیوں اور جھنڈوں کی نمائش وغیرہ کا بندوبست کر لیا ہے۔ مسلمانوں کی طرف سے اس پر شدید اعتراضات و احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اس سے عام لوگوں کے امن امان اور سکون و اطمینان میں خلل پڑنے کا قوی امکان ہے۔ جس سے انسانی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور چونکہ حکومت پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ نے مورخہ ۲۰ مارچ ۸۹ء ٹیلی فون پر پیغام نمبر ۷ آئی۔ ایچ۔ ایس پی ایل ۸۸‘ ۱۱۱ کے ذریعے ان تقریبات پر پورے پنجاب میں پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اور چونکہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ سی میں کہا گیا ہے کہ قادیانی گروپ کا کوئی شخص جو خود کو اعلانیہ یا بصورت مسلمان ظاہر کرے‘ کہلائے یا اپنا مذہب اسلام بتائے۔ اپنے مذہب کی دوسروں میں تبلیغ کرے‘ یا انہیں زبانی یا تحریری طور پر اسے قبول کرنے کی دعوت دے یا کوئی اور طریقہ خواہ کوئی بھی ہو‘ بروئے کار لائے جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مشتعل ہوتے ہوں‘ وہ موجب تعزیر ہوگا۔

اور چونکہ میری رائے میں نیز حکومت پنجاب کے فیصلہ اور مجموعہ تعزیرات پاکستان کے احکام کا تقاضا بھی یہی ہے کہ فوری روک تھام مناسب ہوگی اور دفعہ ۱۴۴ کے تحت کاروائی کی معقول وجوہ ہیں اور ذیل میں درج کی گئی ہدایات انسانی جان و مال کو لاحق خطرہ نیز امن عامہ اور سکون و اطمینان میں پڑنے والے خلل کی روک تھام کے لئے ضروری ہیں۔

PDF 32

اس لئے اب میں چوہدری محمد سلیم ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ ضابطہ فوجداری ۱۸۹۸ء کی دفعہ ۱۴۴ کے تحت حاصل شدہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ضلع جھنگ میں بسنے والے قادیانیوں کو مندرجہ ذیل سرگرمیوں سے باز رہنے کی ہدایت کرتا ہوں۔

لکھائی

مشتعل یا مجروح کرے۔ یہ حکم فوری طور پر نافذ ہو گا اور دو ماہ تک موثر رہے گا۔

اس حکم کی میعاد ختم ہو جانے کے باوجود ہر کام جو کیا جائے‘ ہر قدم جو اٹھایا جائے ہر فعل جو انجام دیا جائے‘ نیز فرض ذمہ داری جو عائد کی جائے‘ تعزیر یا سزا یا زیر التوا تفتیش‘ تحقیقات یا کاروائی‘ تفویض کردہ اختیارات سماعت یا اختیارات‘ درجہ اول کے مجسٹریٹوں کی عدالت میں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ہونے والی تازہ کاروائی اور اس حکم کی تنفیذ کے دوران ارتکاب کردہ جرائم پر دی گئی سزا جاری رہے گی یا شروع رہے گی۔ اور یہ تصور کیا جائے گا گویا یہ حکم زائد المیعاد نہیں ہوا۔ اس حکم کی ڈھول بجا کر سرکاری جریدہ میں شائع کر کے ضلع کی عدالتوں‘ ایس۔ پی جھنگ‘ اسسٹنٹ کمشنر‘ تحصیل دار کے دفاتر‘ میونسپل اور ٹاؤن کمیٹی نیز ضلع کے تمام تھانوں

صفحہ 30

میں نوٹس بورڈز پر چسپاں کر کے وسیع پیمانے پر تشہیر کی جائے گی۔ ”آج مورخہ 21 مارچ 1989ء کو میرے دستخطوں اور عدالت کی مہر کے ساتھ جاری کیا گیا۔“

1905 مورخہ 21 مارچ 1989ء میں مزید توسیع کر دی گئی ہے۔ اور یہ پابندی تاحکم ثانی جاری رہے گی۔ نیز انہوں نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ناظم امور عامہ صدر انجمن جماعت احمدیہ ربوہ اور دیگر اکابرین کو اس ضمن میں مطلع کیا جاوے اور انہیں ہدایت کی جائے کہ وہ ہر قسمی دروازے بینرز چراغاں کے متعلق بجلی کی تاروں، وغیرہ کو اتار دیں۔ اور اس امر کی تسلی کریں کہ دیواروں پر مزید عبارت ہرگز نہ لکھی جاوے۔

(مورخہ 89-3-25)

ان احکامات کے اجراء کا واقعاتی پس منظر یہ تھا کہ صد سالہ جشن کی تقریبات کی بابت اعلان احمدیہ جماعت کی مقامی تنظیم کے عہدیداروں کی طرف سے اخباروں میں کیا جا چکا تھا۔ احمدیوں کے بارے میں سال 1989ء کے دوران جو قانونی پوزیشن بتائی گئی وہ یہ تھی کہ 1974ء کی دستوری ترمیم کے ذریعے انہیں غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے۔ اور اس حقیقت کے باوجود کہ اگرچہ احمدی زبانی طور پر یہ اقرار کرتے ہیں کہ ملک کا دستور دوسرے شہریوں کی طرح ان کے لئے بھی واجب التعمیل ہے تاہم وہ خود کو مسلمان کہلانے، اپنے مذہب کو اسلام ظاہر کرنے اور ان القاب کو جو خالصتاً رسول اکرمؐ، اہلبیت اور صحابہؓ کرام کے لئے مخصوص ہیں مرزا صاحب اور اس کے خاندان کے افراد کے لئے استعمال پر اصرار کرتے ہیں۔ اس لئے 1984ء میں احمدیوں کو وہ کچھ کہلانے سے جو کچھ نہیں ہیں باز رکھنے کے لئے آرڈیننس نمبر 20 نافذ کیا گیا۔ کیونکہ انہیں اس امر کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ خود کو مسلمان ظاہر کر کے امت مسلمہ کو دھوکہ دے سکیں۔ آئینی ترمیم پر عملدرآمد کے لئے مخصوص القابات کے استعمال پر پابندی کا حکم بھی جاری کیا گیا تاکہ قادیانی خود کو واضح طور پر یا کنایتہ مسلمان

صفحہ 31

قادیانی اقلیت قرار دیئے جانے کے باوجود اپنے

آپ کو مسلمان کہنے پر اصرار کرتے ہیں

ظاہر نہ کر سکیں۔ مزید برآں مجیب الرحمان (سپرا) کے مقدمہ میں وفاقی شرعی عدالت یہ قرار دے چکی ہے کہ ”دستور کا آرٹیکل ۲۶۰ (۳) قادیانیوں کو آئین و قانون کی اغراض کے لئے غیر مسلم قرار دیتا ہے۔ آرٹیکل ۲۰ میں پاکستان کے شہریوں کے منجملہ دیگر امور‘ یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کر سکتے ہیں۔ بلاشبہ یہ آرٹیکل آئین کے دیگر مشمولات کے تابع ہے۔ حقیقت میں یہ چیز مسٹر مجیب الرحمان نے خود بھی تسلیم کی تھی۔ اس آرٹیکل کو آرٹیکل ۲۶۰ (۳) کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو اس سے یہ مطلب بنتا ہے کہ ”قادیانی اس امر کا اقرار کرنے کے مجاز ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور مرزا صاحب کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ تاہم اپنے آپ کو مسلمان یا اپنے دین کو اسلام ظاہر نہیں کر سکتے۔“ دستوری فیصلہ اور ۱۹۸۴ء کے آرڈیننس نمبر ۲۰ کے ذریعے پابندی کے نفاذ کی وجوہات مجیب الرحمان سپرا کے مقدمہ میں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں جن کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔ مرزا صاحب کی طرف سے ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود‘ مہدی یا نبی یا رسول اکرمؐ کا بروز ہونے کا جو دعویٰ کیا گیا اس نے عامتہ المسلمین علماء کرام اور ارباب علم و دانش میں ہمیشہ کے لئے یکساں دشمنی‘ غم و غصہ ملامت اور اظہار ناراضگی پیدا کر دیا۔

(سیرۃ مہدی۔ جلد اول ۔ ص۔ ۹۰۔ ۸۶)

(جلد دوم ص۔ ۸۷‘ ۲۴‘ ۴۴ اور جلد سوم ۹۴)

خود اس کی زندگی میں مسلمانوں میں بار بار جنم لینے والے انتہائی اشتعال کی ایک یہ جھلک ہے پاکستان کی تخلیق کے بعد ۱۹۵۳ء میں لاہور میں مارشل لاء کا نفاذ‘ منیر کمیٹی کی تشکیل اور ۱۹۷۴ء کی دستوری ترمیم سب کے سب مسلمانوں کے زبردست احتجاج‘ جھنجھلاہٹ

صفحہ 32

کشیدگی اور کراہت و بیزاری کے آئینہ دار ہیں۔ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ سی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی ممانعت کرتی ہے اور اس معاملہ میں مسلمانوں کی اس بے چینی اضطراب اور غم و غصہ کا روشن ثبوت پیش کرتی ہے جسے بالاخر آرڈیننس کے ذریعے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔“

مزید برآں رپورٹ کے صفحہ ۱۰۰ پر کہا گیا ہے۔

قادیانیوں نے امت مسلمہ کے افراد میں بڑی حد تک پنجاب میں تھوڑی بہت کامیابی اس سٹریٹجی کے تحت حاصل کی کہ خود کو مسلمان اور اپنے مذہب کو اصل اسلام ظاہر کیا اور دوسروں کو یقین دلایا کہ احمدی ازم (قادیانیت) کو قبول کرنے کا مطلب اسلام کو ترک کرنا یا اسلام سے کفر کی طرف مراجعت نہیں، انہوں نے لوگوں کو بہکایا کہ اگر وہ بہتر مسلمان بننا چاہتے ہیں تو احمدیت کے سایہ عاطفت میں آجائیں۔ اس غرض کے لئے حسب معمول انہوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں کی دکھتی رگ یعنی فرقہ بندی سے بیزاری اور علماء کی مذہبی معاملات میں سخت گیری و انتہا پسندی پر ہاتھ رکھا اور انہیں مرزائیت جسے وہ اسلام میں روشن خیالی کی علمبردار کہتے تھے، کی آغوش عافیت کی طرف لانے کی تگ و دو کی۔ ان کی یہ سٹریٹجی اس گندم نما جو فروش تاجر سے ملتی جلتی تھی جو کسی مشہور و معروف فرم کا نام لے کر اپنا گھٹیا مال فروخت کرتا ہو۔ ان کی یہ حکمت عملی ایک حد تک کامیاب رہی۔ اگر قادیانی یہ بات تسلیم کرلیں کہ ان کی تبلیغ اسلام کے لئے نہیں، ایک دوسرے مذہب کے لئے ہے تو مسلمانوں میں جاہل اور غافل لوگ بھی اپنی متاع ایمان کو بے ایمانی سے بدلنے پر ہرگز آمادہ نہ ہوں۔ اس لئے قادیانیت کے سحر میں اسیر خود قادیانی بھی اس سے چھٹکارا پانے کی فکر کرنے لگیں۔

دوسری اہم وجہ یہ تھی کہ قادیانیوں نے خود کو مسلمان ظاہر کر کے ہر مسلمان کو، جس سے ان کی مڈ بھیڑ ہوتی اپنے مذہب کی دعوت دینے کی کوشش کی وہ مرزا

صفحہ 33

صاحب کہہ کر ان کے جذبات مجروح کرتے‘ کیونکہ ہر مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہے‘ یہ بات مسلمانوں کے غم و غصہ کو بھڑکانے کا سبب بنتی اور نفرت میں اضافہ کرتی۔ اس سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا۔ مرزا صاحب کے دعوی مسیح موعود اور مہدی پر بڑی برہمی و خفگی کا اظہار کیا جاتا۔ یہ محض زبانی دعویٰ نہیں‘ قادیانیت کی تاریخ بلکہ خود مرزا صاحب کی تصانیف سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسے نہ صرف علماء کی طرف سے بلکہ عامتہ المسلمین کی طرف سے بھی زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

(۱۷) اس لئے متنازعہ حکم کو مذکورہ بالا تاریخی و قانونی تناظر میں پرکھنا چاہئے۔ اس رٹ میں جس حق پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے وہ مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کا حق ہے جس کی ضمانت دستور کے آرٹیکل ۲۰ میں دی گئی ہے۔ تاہم یہ حق دستور کے دیگر مشمولات قانون مصلحت عامہ اور اخلاق کے تابع ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا احمدیوں کی تقریبات کا انعقاد‘ مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق" کی تعبیر و توضیح میں آتا ہے یا نہیں؟ آیا قانون ایسی تقریبات کی ممانعت کرتا ہے؟ آیا ایسے سوالات کا جواب جاننے کے لئے اس طریق کار کو سمجھنا ضروری ہے جس طریقے سے ان تقریبات کا انعقاد عمل میں آنا تھا۔

یہ بات قابل غور ہے کہ رٹ میں جو موقف اختیار کیا‘ وہ یہ تھا ”قادیانی تحریک کی سو سالہ تقریبات کا اعلانیہ طور پر منانا اور پوری صدی کے دوران حاصل ہونیوالی کامیابیوں کا تذکرہ کرنا احمدیوں کا آئینی و قانونی حق ہے" جبکہ دلائل کے دوران ان کے وکلاء کا کہنا یہ تھا” اگرچہ عام جلسے کرنا اور مذہبی موضوعات پر بشمول سیرت نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) جس میں مرزا صاحب کے دعوی نبوت کا ذکر یقیناً شامل ہے‘ پر تقاریر کرنا ان کا حق ہے تاہم اس کے لئے نہ تو کوئی پروگرام وضع کیا گیا تھا نہ ہی ایسی تقاریر نشر کرنے کا ارادہ تھا جس سے ملکی قانون کی خلاف ورزی ہوتی۔ بظاہر یہ موقف

صفحہ 34

تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ اے‘ ۲۹۸ بی اور ۲۹۸ سی کو سامنے رکھتے ہوئے اختیار کیا گیا۔ حالانکہ ان کی تردید جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع کردہ پمفلٹوں جاری کردہ اشتہارات اور جماعت کے ترجمان روز نامہ "الفضل" میں شائع شدہ رپورٹوں اور خبروں سے ہوتی ہے۔ مسٹر سی اے رحمان ایڈووکیٹ نے بڑے وثوق سے یہ بات کہی کہ تقریبات کے تحت جلسہ ہائے عام منعقد کرنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔ نہ کوئی آرائشی گیٹ بنائے گئے تھے جھنڈیوں‘ بیجوں اور پھریروں کی نمائش کا کوئی ارادہ نہیں تھا جلوس نکالنے کا بھی کوئی منصوبہ زیر غور نہیں تھا۔ جبکہ ۲۶ مارچ ۱۹۸۹ء کے "الفضل" نے اس کے بالکل برعکس کہانی شائع کر کے ڈھول کا پول کھول دیا۔ "اخبار" نے لکھا تھا۔ "حکومتی احکامات کی تعمیل میں کوئی آرائشی گیٹ نہیں بنایا گیا حالانکہ پچاس سے زائد آرائشی دروازے بنائے جانے تھے۔ نہ کوئی بینر آویزاں کیا گیا جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں بینر لگانے کا منصوبہ تھا۔ ربوہ میں منگائی گئی پولیس نے ۲۴ احمدی نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ ان میں سے چار کو دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں اور بقیہ بیس کو دفعہ ۲۹۸ سی ت پ نیز دفعہ ۱۴۴ ض ف کے تحت کی مشترکہ خلاف ورزی کے الزام میں پکڑا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پٹاخے چلائے نعرے لگائے سینوں پر بیج سجائے اور محلوں میں پہرہ دیا۔ چار لڑکوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایسی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں جن پر (Hundred Years of Truth) (سچائی کے سو سال) لکھا ہوا تھا۔ اس جشن کی تیاری کا انتظام اس انداز میں کیا گیا تھا کہ اگر اسے آزادی سے منانے دیا جاتا تو دنیا کی تاریخ میں یہ ایک منفرد جشن ہوتا"۔

(۱۸) فاضل ایڈووکیٹ جنرل کے پیش کردہ مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت احمدیہ نے یہ جشن کھلے بندوں منانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس سلسلہ میں جو پروگرام بنایا گیا اس میں بانی جماعت اور اس کے رفقا کی تعلیمات و افکار کا اعلانیہ پرچار اور ایسے بینرز کی نمائش شامل تھی جس پر طرح طرح کے نعرے لکھے ہوئے تھے مثال کے طور پر ایک نعرہ تھا‘

صفحہ 35

(Hundred Years of Truth) (سچائی کے سو برس) یہ عنوان ٹی شرٹس پر بھی لکھا ہوا تھا جو سالگرہ کے لئے بطور خاص سلوائی گئی تھیں۔ بحث کے دوران سائلان کے فاضل وکلاء نے دعویٰ سے کہا کہ ان تقریبات میں احمدیہ کمیونٹی کے ارکان اور ان کے دوستوں نے خصوصی دعوت ناموں کے ذریعے شریک ہونا تھا۔ واقعاتی لحاظ سے ان کا یہ موقف قریں صداقت نہیں تھا۔ پس ایڈووکیٹ جنرل یہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ صوبائی حکومت اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے امن و امان کے مسئلہ اور نقص امن کے اندیشہ کو اس کے صحیح واقعاتی اور قانونی تناظر میں جانچا اس لئے اس عدالت کو بھی متنازعہ حکم کا جائزہ اس تناظر میں لینا ہوگا کہ سالگرہ کی تقریبات پبلک میں منعقد ہونی تھیں۔ جن میں شرکت اراکین جماعت اور ان کے دوستوں تک محدود نہ رہتی، بہت سے لوگ اپنی مرضی سے شریک ہو جاتے۔

(۱۹) سائلوں کے فاضل وکیلوں کی دوسری دلیل یہ تھی کہ نہ تو کوئی پروگرام تیار کیا گیا تھا۔ نہ ہی کسی ایسی تقریر کا ارادہ کیا گیا تھا جس سے ملکی قانون پامال ہوتا۔ ان کے بقول گزشتہ صدی (۱۸۸۹ء تا ۱۹۸۹ء) کے واقعات کو دہرانے بانی جماعت اور اس کے رفقاء کے خیالات و افکار، جیسا کہ ان کی تالیفات میں مذکور ہیں۔ اعادہ کرنے سے ملک کے کسی قانون کی پامالی کا خطرہ نہیں تھا۔ ان مقاصد کے لئے منعقد ہونے والے جشن پر پابندی لگانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اس کے برعکس مسئول الیہان کا کہنا ہے کہ پیش نظر مقاصد حاصل کرنے کے لئے جو پروگرام بنایا گیا تھا اسے عملی جامہ پہنانے سے نہ صرف امن و امان کا سنگین مسئلہ کھڑا ہو جاتا، جیسا کہ حکومت اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے قیاس کیا۔ جبکہ وہ سب کچھ خلاف اور زیر دفعہ ۲۹۸ سی ت پ ارتکاب جرائم کے مترادف بھی ہوتا۔ اس سلسلہ میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا حکم مورخہ ۸۹۔ ۳۔ ۲۳ جسے رٹ میں متنازعہ کہا گیا ہے درست تھا۔

فاضل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے

صفحہ 36

جس قسم کے جلسوں کا اعلان مشتہر کیا گیا تھا وہ بھی مسلمہ مقاصد کے لئے خواہ وہ سو سالہ جشن کی تقریبات کی صورت میں ہوتا یا بصورت دیگر امن عامہ کے لئے سخت خطرناک ثابت ہوتا۔

مزید عرض کیا گیا کہ اگرچہ یہاں قادیانی مذہب کی تبلیغ کرنے کے حق پر زیادہ زور نہیں دیا جا رہا بلکہ ایسے جلسے منعقد کرنے کا ذکر ہو رہا ہے جن میں مرزا صاحب کے حالات زندگی اور مقام و منزلت نیز گزشتہ ۱۰۰ سالوں کے دوران حاصل ہونے والی کامرانیوں کا تذکرہ کیا جاتا۔ جس کی غرض و غایت قادیانیت کی تلقین‘ تبلیغ اور تشہیر و پرچار کے سوا کچھ نہ ہوتی‘ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ایک طرف خلاف قانون فعل کا ارتکاب عمل میں آتا‘ دوسری طرف مسلمانوں نیز عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی جاتی۔ تقریبات کے اس پہلو کو نمایاں کرنے کی غرض سے مرزا صاحب اور اس کے جانشینوں کی تعلیمات و افکار کو درج ذیل عنوانات کے تحت نقل کیا گیا تھا۔

سبقت لے جانے کا خبط۔

ریمارکس۔

نیز مسلمانوں کے مستند علماء کے بارے میں ہفوات۔

(۲۰) مسلمانوں کے متعلق مرزائیوں کی کتابوں میں مذکورہ متنازعہ فیہ آراء‘ افکار اور نظریات و تعلیمات جو بحث کے دوران پڑھ کر سنائی گئیں۔ انہیں یہاں درج کرنے سے اجتناب کیا جاتا ہے کیونکہ ان کا نقل کرنا مزید احتجاج و ہنگامہ آرائی کو دعوت دینے کے

PDF 40

مترادف ہو گا۔ سائلان کے فاضل وکیل مسٹر مبشر لطیف احمد نے موقف اختیار کیا کہ عدالتی کاروائی کو اخبارات میں رپورٹ کرنے سے وہ تاریخیں جن تاریخوں پر مذکورہ موضوعات زیر بحث آئے تھے) احمدیوں کے خلاف نفرت و عداوت کے بھڑکنے کا امکان ہے جبکہ مسٹر مجیب الرحمان ایڈووکیٹ کا استدلال یہ تھا کہ مذکورہ بالا عنوانات کے تحت جو مواد پیش کیا گیا وہ تازہ ترین کتابوں سے اخذ کردہ نہیں ہے پچھلی ایک صدی کے دوران یہ کتابیں بار بار چھپی ہیں۔ اگر وہ مواد پچھلے عرصہ میں اشتعال انگیز نہیں تھا تو سو سالہ جشن کی موقع پر اسے اشتعال انگیز کیوں سمجھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ۱۹۸۳ء تک جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسے ربوہ میں منعقد ہوتے رہے۔ حکومت لوگوں کی سہولت کے لئے سپیشل ٹرینیں چلاتی رہی۔ کبھی کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا اور قادیانی مذہب کبھی امن عامہ میں خلل کا موجب نہیں بنا تو جشن کی تقریبات منانے سے کون سی قیامت آجاتی۔

ہمارے خیال میں فاضل وکیل کا یہ استدلال قادیانی مذہب اور مرزا صاحب کی نبوت کے خلاف مسلمانوں کے غیض و غضب اور ان کی شدید مخالفت و مزاحمت سے لا علمی کا نتیجہ ہے مرزا صاحب نے اپنے مخالفین کے بارے میں جو انتہائی ناشائستہ اور گندی زبان میں تحریریں لکھی‘ مشتے از خروارے کے طور پر ان سے چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ مرزا صاحب نے پہلے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ مسیح موعود کی صورت میں حضرت عیسیٰ ابن مریم کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اس نے دعویٰ کیا ”خدا نے“ براہین احمدیہ (مرزا صاحب کی تالیف جو ان پر نازل ہونے والے الہام و انکشافات پر مشتمل ہے) کی تیسری جلد میں میرا نام مریم (مریم) رکھا عرصہ دو سال تک مریم کی طرح تنہائی کی حالت میں میری پرورش کی گئی اور میری تربیت زنانہ خلوت میں ہوئی۔ پھر عیسیٰ کی روح مجھ میں پھونکی گئی بالکل اسی طرح جیسے یہ روح حضرت مریم کے نفس میں پھونکی گئی تھی۔ اس طرح مجازی معنوں میں مجھے بھی

PDF 41

۔۔۔ ں مدت (جو ۳، ۴ سے زیادہ نہیں تھی) کے گزرنے پر براہین احمدیہ کی چوتھی جلد میں شامل الہام کے ذریعے مجھے مریم کے بطن سے جدا کر کے عیسیٰؑ بنایا گیا۔ یوں میں عیسیٰؑ ابن مریم بنا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے براہین کے زمانہ نزول کے دوران اس مخفی راز سے مطلع نہیں کیا۔“

(کشتی نوح مشمولہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۹ ص۔ ۵۰)

حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں مرزا قادیانی کی بد زبانی

(۴۱) معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا مرزا صاحب نے اپنی نگارشات میں حضرت عیسیٰؑ کے متعلق انتہائی توہین آمیز لعنت و ملامت پر مبنی اور اشتعال انگیز باتیں لکھی ہیں۔ اگرچہ کسی مستند کتاب میں یہ نہیں لکھا ہوا کہ (نعوذ باللہ) حضرت عیسیٰؑ بد زبان اور فحش گو یا شہوت پرست تھے لیکن مرزا صاحب کے قلم سے اس برگزیدہ، مقدس اور معصوم نبیؑ کے بارے میں ایسے ایسے ناپاک خباثت پر مبنی اور بے ادبی و گستاخی کے حامل جھوٹے کلمات نکلے اور اس نے بار بار روح اللہ پر ایسے گھناؤنے الزام لگائے کہ الامان و الحفیظ ان میں سے بعض ذیل میں نقل کئے جاتے ہیں۔ ”عیسیٰؑ میں فحش گوئی کی عادت تھی اور وہ اکثر گندی زبان استعمال کرتے تھے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم مشمولہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۱ ص۔ ۲۸۹)

”مسیح کے کردار کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ عیسیٰؑ ایک شرابی ایک پیٹو شخص تھے نہ وہ کبائر سے پرہیز کرتے تھے نہ ہی حقیقی متقی و پارسا تھے۔ وہ سچائی کے متلاشی بھی نہ تھے۔ حقیقت میں وہ ایک مغرور، انا پرست اور الوہیت کے جھوٹے دعویدار تھے“ (انوار القرآن مشمولہ روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفحہ نمبر ۳۸۷)

”الکحل شراب کے استعمال نے اہل یورپ کو جو زبردست اخلاقی و معاشرتی نقصان پہنچایا اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ خود عیسیٰؑ الکحل استعمال کرتے تھے شاید کسی بیماری کے

صفحہ ۴۴

باعث یا پرانی عادت کے ہاتھوں مجبور کر" (کشتی نوح۔ مشمولہ روحانی خزائن جلد ۱۹ ص ۷۱) "عیسیٰ خود کو ایک پارسا شخص کے طور پر پیش نہیں کر سکے کیونکہ لوگ جانتے تھے کہ وہ ایک پیٹو اور شرابی شخص تھے۔" (سات بچپن ۔ روحانی خزائن جلد ۱۰ ص ۔ ۲۹۶)

بے حرمتی کرنے میں بائبل کو بھی مات کر دیا۔ مثال کے طور پر اس کی درج ذیل عبارتیں ملاحظہ کیجئے۔

"عیسیٰ میں طوائفوں کے لئے زبردست رغبت و اشتیاق پایا جاتا تھا۔ شاید ان کے ساتھ آبائی تعلق اس کا سبب ہو، وگرنہ کوئی پارسا اور نیکو کار شخص کسی نوجوان فاحشہ کو یہ اجازت ہرگز نہیں دے سکتا کہ وہ اپنے ناپاک ہاتھوں سے اس کو مالش کرے اور بدکاری کی کمائی سے خریدی گئی خوشبو (روغن) سے اس کے سر پر مساج کرے اور اپنے بالوں سے اس کے پاؤں کو صاف کرے۔ سمجھ دار آدمی خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ کس قسم کے کردار کے حامل تھے۔" (ضمیمہ انجام آتھم مشمولہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۱ ص ۔ ۲۹۱)

"ایک حسین طوائف ان کے اس قدر قریب بیٹھی ہوتی جیسے ان سے بغل گیر ہو رہی ہو بعض اوقات وہ خوشبودار تیل سے ان کے سر میں مساج کرتی۔ بالوں سے ان کے پیر رگڑتی۔ بعض اوقات اپنی سیاہ زلفیں ان کے قدموں میں ڈال دیتی۔ کبھی ان کی گود میں بیٹھ کر کھیلنے لگتی۔ ایسی حالت میں جناب مسیح ترنگ میں آجاتے اگر کوئی اعتراض کرے تو اس پر لعن طعن کی جاتی ہے نوجوانی کے بعد وہ شراب کے رسیا اور مجرد ہوتے ہوئے بھی ایک خوبصورت طوائف کو اپنے پاس لٹائے رکھتے تھے جو اپنے ہاتھوں سے اس کے جسم کو چھوتی کیا یہ کسی پارسا شخص کا طرزِ عمل ہو سکتا ہے اور اس بات کا کیا ثبوت یا شہادت موجود ہے کہ بازاری عورت کو یوں مس کرنے سے عیسیٰ اشتعال میں نہیں آتے ہوں گے۔ افسوس ہے کہ نگاہیں اس عورت کے تن سے پار کرنے کے بعد جنسی تسکین کے لئے انہیں بیوی میسر نہیں تھی۔ اس بدبخت چنچل و شوخ حسینہ کو

PDF 43

چھونے کے بعد کیا جانے ان کی کیا حالت ہوتی ہوگی۔ شہوانی جذبات یقیناً مشتعل ہوتے ہونگے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسیٰ اتنی سی بات کہنے کے لئے بھی اپنی زبان کو جنبش نہیں دیتے تھے کہ ”اے فاحشہ مجھ سے دور ہو جا۔“ بائبل سے یہ بات بخوبی ثابت ہے کہ وہ عورت طوائفوں میں سے ایک تھی جو بدکاری و فحاشی کے لئے پورے شہر میں بدنام تھی۔“

(نور القرآن مشمولہ روحانی خزائن جلد نمبر ۹ ص ۴۴۹)

کی گئی ہے۔ ”اور فریسیوں میں سے ایک نے اس سے کہا کہ وہ اس کے گھر کھانا کھائے۔ وہ فریسی کے گھر پہنچا اور کھانا کھانے بیٹھ گیا اور دیکھو! شہر کی ایک عورت کو جو کہ گناہ گار تھی جب یہ پتہ چلا کہ عیسیٰؑ ایک فریسی کے ہاں کھانا کھا رہے ہیں تو وہ سنگ جراحت کے بکس میں روغن لائی اور روتی ہوئی ان کے قدموں میں کھڑی ہو گئی اور ان کے پاؤں کو اپنے آنسوؤں سے دھونے لگی۔ پھر اپنی زلفوں سے ان کے پاؤں صاف کئے۔ انہیں بوسہ دیا اور پاؤں پر روغن سے مساج کرنے لگی۔ جب فریسی نے جس نے اسے بلایا تھا یہ منظر دیکھا تو وہ اپنے دل میں سوچنے لگا اگر یہ شخص نبیؐ ہوتا تو اسے معلوم ہونا چاہئے تھا کہ یہ عورت کون ہے اور کیسی ہے جو اسے چھو رہی ہے کیونکہ وہ بدکار ہے۔ (اس کی بات سن کر) عیسیٰؑ نے جواب میں کہا کہ سائمن مجھے تم سے کچھ کہنا ہے وہ بولا آقا فرمائیے۔ عیسیٰؑ نے کہا ایک ساہوکار تھا اس سے دو آدمیوں نے قرض لے رکھا تھا۔ ایک نے ۵۰۰ پینس اور دوسرے نے ۵۰ پینس۔ دونوں قلاش تھے اور ان کے پاس ادائیگی کے لئے کچھ بھی نہ تھا ساہوکار نے بڑی فراخ دلی سے دونوں کا قرض معاف کر دیا۔ تم بتاؤ ان دونوں سے اسے کون زیادہ پیار کرے گا؟ سائمن نے جواب دیا۔ ”جس کا زیادہ قرض معاف کیا گیا۔ تب عیسیٰؑ نے کہا تم نے صحیح اندازہ لگایا ہے۔ پھر وہ اسی عورت کی طرف پلٹے اور سائمن سے فرمایا ”تم نے اس عورت کو دیکھا ہے؟ میں تمہارے گھر میں داخل ہوا تو تم نے ہاتھ پاؤں دھونے کے

PDF 44

لئے مجھے پانی تک نہیں دیا۔ جبکہ اس نے اپنے بالوں سے میرے پیر صاف کئے' تم تو مجھ سے بغل گیر نہیں ہوتے لیکن یہ عورت' جب سے میں گھر میں داخل ہوا ہوں میرے پاؤں چومنے سے باز نہیں آتی۔ تم نے میرے سر میں سادہ تیل نہیں لگایا جبکہ اس نے خوشبو دار روغن سے مالش کی ہے اس لئے میں تم سے کہتا ہوں اس کے گناہ جو زیادہ تھے معاف کر دیئے گئے ہیں اس لئے وہ مجھ سے زیادہ پیار کرتی ہے۔ جس کے تھوڑے گناہ معاف کئے گئے ہیں وہ کم محبت کرتا ہے۔" جو لوگ ان کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھے تھے آپس میں کہنے لگے ”یہ کون ہے جو گناہ بھی معاف کر دیتا ہے؟" عیسیٰؑ نے اس عورت سے کہا۔ "تمہارے ایمان نے تمہیں بچا لیا ہے۔ اب تم امن سے رہو۔"

(The New Tastament St. Lukech. 736. 50)

پروٹسٹنٹ مذہب کی کتاب مقدس ”گو پسل“ میں اس روایت کی اس طرح تصدیق کی گئی ہے۔ ”پھر میری نے ایک پاؤنڈ سپائک نارڈ (انتہائی قیمتی) روغن لیا اس سے عیسیٰؑ کے پیروں کی مالش کی ان کے پاؤں اپنے سر کے بالوں سے صاف کئے۔ اس کا گھر روغن کی خوشبو سے مہکنے لگا۔ پھر ان کے حواریوں میں سے ایک سائن کا بیٹا جو داس اسکر یوط بولا، اسے کس چیز نے گمراہ کر دیا۔ یہ روغن ۳۰۰ پینس میں فروخت کر کے وہ رقم غریبوں میں کیوں نہ بانٹ دی گئی؟ اس لئے نہیں کہ اسے غریبوں کا فکر نہیں بلکہ اسلئے کہ وہ چور ہے۔" ان کے پاس ایک تھیلا تھا جو خالی تھا' اس میں کیا ڈالا گیا؟ اس پر عیسیٰؑ بولے' ”اسے اس کے حال پر چھوڑ دو، میری تدفین کے روز یہ تھیلا اس کے ساتھ ہوگا۔ کیونکہ میں ہمیشہ غریبوں کا ساتھی رہا ہوں لیکن تم میرے ساتھ نہیں رہے۔"

(The New Testament St, John ch 12' 3 _ 8)

اور متی انجیل میں یہی واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے۔ ”آپ یہ کہ عیسیٰؑ بیتعنی میں سائمن کوڑھی کے گھر میں تھے۔ ان کے پاس ایک خاتون آئی اسکے ہاتھ میں سنگ

صفحہ ۶۷

جراحت کا ایک بکس تھا جس میں انتہائی مہنگا روغن تھا۔ اس نے وہ روغن اس کے سر میں ڈالا۔ اور دستر خوان پر بیٹھ گئے۔ "جب ان کے حواریوں نے یہ منظر دیکھا تو وہ بڑے برہم ہوئے اور کہنے لگے۔ "اس ضیاع کا کیا مقصد ہے؟ کیونکہ یہ روغن خاصی قیمت پر فروخت ہو سکتا تھا اور وہ رقم مفلسوں میں بانٹی جاسکتی تھی۔ عیسیٰ ان کا مطلب سمجھ گئے اور بولے، اے خاتون تو نے اتنی تکلیف کیوں کی؟ تو نے میرے ساتھ نیکی کی ہے لیکن میں ہمیشہ تیرے پاس نہیں رہوں گا۔ چونکہ تو نے میرے سر میں تیل ڈالا ہے، یہ تو نے میری تدفین والے دن کے لئے کیا ہے۔ یقینا تم سے کہتا ہوں میری یہ عقیدت مند جہاں کہیں بھی ہو گی دنیا بھر میں اس کا چرچا کرے گی۔ میں بھی یہی کہوں گا کہ اس عورت نے ایسا کیا تھا۔ پھر عیسیٰ نے اس عورت کی یاد گار کے بارے میں انکشاف کیا۔

The New Treatment St. Mathew ch- 26-6-13

(۲۴) اس مسخ شدہ روایت کا دقت نظر سے مطالعہ کیا جائے تو اس میں بہت سی درپردہ تحریفات اور جھوٹے الزامات شامل ہیں۔ مثال کے طور پر۔ گویا وہ ان سے بغل گیر ہو رہی تھی۔ وہ ان کی آغوش میں کھیل رہی تھی۔ جناب عیسیٰ ترنگ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک حسین طوائف ان کے سامنے لیٹی ہوئی ہے۔ ان کے بدن کو مس کر رہی ہے عیسیٰ شہوانی اشتعال میں ہوتے تھے وغیرہ وغیرہ۔

ان لغویات و خرافات کا اضافہ اس خیال سے کیا گیا ہے کہ تاکہ عیسیٰ علیہ السلام کو بدنام کیا جائے۔ حالانکہ تعصب پر مبنی بائبل میں شامل ایسی حکائتوں میں بھی حضرت عیسیٰ روح اللہ کو اس رنگ میں کہیں پیش نہیں کیا گیا۔ اصل کہانی یوں ہے کہ کوئی بدکار عورت چیختی چلاتی ہوئی حضرت عیسیٰ کی خدمت میں حاضر ہوئی تاکہ اسے اس

PDF 46

کے گناہوں کی معافی مل جائے اور حضرت عیسیٰ نے اسے بشارت دی تھی کہ تمہارے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں۔

تحقیر و تضحیک بنایا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا بحوالہ بالا اسلوب بیان اور نقطہ نظر قرآن حکیم میں مذکور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقام و مرتبہ اور ان کی شان اور منزلت کے بالکل الٹ ہے۔ پورا قرآن (مسلمانوں کی مقدس کتاب) کسی ایسے بیان سے قطعا پاک ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کسی بھی طور پر منفی انداز میں پیش کرے۔ یا ان کی تنقیص کا پہلو نکلتا ہو‘ اس کے برعکس سارا قرآن انکی تعریف و توصیف میں رطب اللسان ہے۔ اور انہیں اللہ کے پانچ جلیل القدر اور اولوالعزم پیغمبروں میں شمار کرتا ہے۔ سورۃ آل عمران کی یہ آیت ملاحظہ فرمائیے۔

” (اے نبی) کہو ہم اللہ کو مانتے ہیں اس تعلیم کو مانتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے یا ان تعلیمات کو بھی مانتے ہیں جو حضرت ابراہیم‘ اسماعیل‘ اسحاق‘ یعقوب اور اولاد یعقوب پر نازل ہوئی تھیں۔ اور ان ہدایات پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو موسیٰ‘ عیسیٰ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئیں ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے تابع فرمان (مسلم) ہیں۔“

(آل عمران ...... ۸۴)

قرآن حکیم حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی والدہ ماجدہ اور ان کے خاندان کی شان میں یوں مدح سرا ہے۔

”اللہ نے آدم اور نوح اور آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام دنیا والوں پر ترجیح دیکر (اپنی) رسالت کے لئے منتخب کر لیا تھا۔ یہ سب ایک ہی سلسلہ کے لوگ تھے جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔“

وہ اس وقت سن رہا تھا جب عمران کی عورت اس سے کہہ رہی تھی۔ ”اے

PDF 47

میرے پروردگار میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں، وہ تیرے ہی کام کے لئے وقف ہوگا۔ میری اس پیشکش کو قبول فرمالے تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔

پھر جب اس کے ہاں اس بچی نے جنم لیا تو اس نے کہا ”میرے مالک! میرے ہاں تو بچی پیدا ہو گئی ہے“ حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا اللہ کو اس کی خبر تھی۔ اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔ خیر میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے شر سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“

آخر کار اس کے رب نے اس لڑکی کو بخوشی قبول کرلیا، اسے بڑی اچھی لڑکی بنا کر اٹھایا اور زکریا کو اس کا سرپرست بنا دیا۔ زکریا جب کبھی محراب میں اس کے پاس جاتا تو وہاں کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا۔ پوچھتا مریم یہ تیرے پاس کہاں سے آیا ہے؟ وہ جواب دیتی ”اللہ کے ہاں سے اللہ جسے چاہتا ہے بے حد و حساب رزق دیتا ہے۔

”(آل عمران ۳۷-۳۳)

اس سے آگے ارشاد ہوتا ہے۔

(اور یاد کرو) پھر وہ وقت آیا جب فرشتوں نے آکر مریم سے کہا ”اے مریم اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطا کی اور تجھے تمام دنیا کی عورتوں پر ترجیح دیکر اپنی خدمت کے لئے چن لیا ہے۔ اے مریم! اپنے رب کی تابع فرمان بن کر رہ۔ اس کے آگے سر بسجود اور جو بندے اس کے حضور جھکنے والے ہیں ان کے ساتھ تو بھی جھک جا۔“

(آل عمران ۴۲-۴۳)

قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ ولادت کو بھی عظمت و توقیر انداز میں بیان کیا ہے چنانچہ اسی سورۃ میں ذرا آگے چل کر فرمایا گیا ہے۔

”اور (یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا ”اے مریم! اللہ تجھے اپنے ایک فرمان کی

صفحہ 45

بشارت دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح (عیسیٰ ابن مریم) ہوگا۔ وہ دنیا و آخرت میں معزز ہوگا۔ اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا۔

(وہ) لوگوں سے گہوارہ میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی اور وہ ایک مرد صالح ہوگا۔" (آل عمران ۴۵۔۴۶)

اسی طرح سورۃ مریم میں جناب روح اللہ کی پیدائش کو اس دل نشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

”اور (اے نبی) اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی اور پردہ ڈال کر ان سے چھپ بیٹھی تھی۔ اس میں ہم نے اس کے پاس اپنی روح (فرشتہ) کو بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہو گیا، مریم یکایک بول اٹھی کہ ”اگر کوئی خدا ترس آدمی ہے تو میں تجھ سے خدائے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں“ اس نے کہا میں تیرے رب کا فرستادہ ہوں اور اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دوں، مریم بولی میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ہے اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں۔“ فرشتہ نے کہا ایسا ہی ہوگا تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لئے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لئے کریں گے کہ اس لڑکے کو لوگوں کے لئے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت، اور یہ کام ہو کر رہے گا۔

مریم کو اس بچے کا حمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لئے ایک دور مقام پر چلی گئی۔ پھر زچگی کی تکلیف نے اسے ایک درخت کے نیچے پہنچا دیا وہ کہنے لگی۔ ”کاش میں اس سے پہلے ہی مرجاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔“ فرشتہ نے پائنتی سے اس کو پکار کر کہا ”غم نہ کر تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کر دیا ہے اور تو ذرا اس درخت کے تنے کو ہلا تیرے اوپر ترو تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی۔ پس تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر، پھر اگر تجھے کوئی آدمی نظر آئے تو اس سے کہہ دے کہ میں

صفحہ 46

نے رحمان کے لئے روزہ کی نذر مانی ہے اس لئے میں آج کسی سے نہیں بولوں گی۔" پھر وہ اس بچہ کو لئے ہوئے اپنی قوم میں آئی لوگ کہنے لگے۔ اے مریم یہ تو تو نے بڑا پاپ کر ڈالا ہے۔ اے ہارون کی بہن نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی۔" مریم نے بچے کی طرف اشارہ کر دیا۔ لوگوں نے کہا " ہم اس سے کیا بات کریں جو گہوارہ میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے۔" اس پر بچہ بول اٹھا میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا اور بابرکت کیا جہاں بھی میں رہوں۔ اور نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا۔ اور مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا ۔ سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا۔ اور جبکہ میں مروں اور جبکہ میں زندہ کر کے اٹھایا جاؤں۔ (مریم ۳۳ ۔ ۳۰)

(۲۶) علاوہ بریں مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے قائدین یا لوگوں کی تحقیر و تضحیک کرنے سے منع فرمایا گیا ہے تاکہ دوسروں کو ان کے سرداروں کی توہین و تذلیل کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ یہ درست ہے کہ مسلمان اور عیسائی علماء دین کے مابین بعض پہلوؤں پر دیانتدارانہ اختلافات موجود ہیں۔ تاہم یہ اختلافات ایک دوسرے کے مذاہب یا پیغمبر کی تنقیص و بے حرمتی کی بنیاد یا جواز نہیں بن سکتے۔ رسول اکرمؐ سے مروی ہے ابو ہریرہؓ کہتے ہیں آپؐ نے فرمایا ” دنیا و آخرت میں مجھے عیسیٰ سے زیادہ قربت ہے کیونکہ تمام انبیاء آپس میں بھائی بھائی ہیں یعنی گو سب کی مائیں مختلف ہیں لیکن دین سب کا ایک ہے۔ (صحیح مسلم ۔۔۔۔۔ کتاب الفضائل) (اردو ترجمہ رئیس احمد جعفری جلد دوم ص ..... ۱۴۸۰)

(۲۷) مرزا صاحب کی یہی تحریریں اور افکار و خیالات تھے جن کی بنا پر مسلمانوں نیز عیسائیوں نے ان کے دعویٰ نبوت اور مسیح موعود ہونے کے ادّعا کی مخالفت کی۔ خود مرزا صاحب کی زندگی میں پھر ان کی وفات کے بعد اور قیام پاکستان کے بعد بھی ایسے واقعات ظہور پذیر ہوئے جب عوامی احتجاج ۱۹۵۳ء میں لاہور میں مارشل لاء کے نفاذ کا

صفحہ 47

سبب بنا اور ۱۹۷۴ء میں ربوہ ریلوے سٹیشن پر کھڑی ایک ٹرین پر مرزائیوں کے حملہ کے نتیجے میں ملک گیر ہنگامے پھوٹ پڑے۔ مرزا غلام احمد نے اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں اپنے خلاف مسلمانوں کے عمومی غم و غصہ کا ذکر اس طرح کیا ہے کہ ”یہ میرا دعوی ہے کہ جس پر لوگ (غیر احمدی مسلمان) میرے ساتھ جھگڑتے ہیں اور مجھے مرتد سمجھتے ہیں انہوں نے بڑا شور مچایا اور اس آدمی کی قدر نہ جانی جس پر اللہ کی طرف سے الہام ہوتا ہے انہوں نے مجھے غدار‘ جھوٹا‘ مکار اور مرتد کہا اگر انہیں حکمرانوں کے تیر تفنگ کا ڈر نہ ہوتا تو مجھے کبھی کا جان سے مار ڈالتے

ان نگارشات کی اشتعال انگیز نوعیت ختم نہیں ہوئی کیونکہ بعض دوسری عبارتوں میں مرزا صاحب کے ایسے خیالات شامل ہیں جو امت مسلمہ کے عقائد و خیالات کے عین منافی ہے۔ مسٹر مجیب الرحمان کا ایسی تحریروں پر بھروسہ کرنا نامناسب ہے۔ اسے ظاہر کرنے کے لئے صرف ایک خاص مثال نقل کی جاتی ہے۔ اور اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے جو سائلان کے فاضل وکلاء کے اس موقف کی تردید کرتی ہے کہ تاریخ کو دہرانا اور مخصوص خیالات کا اعادہ زیر دفعہ ۲۹۸۔ سی ارتکاب جرم کے مترادف نہیں۔

سو سال“ ذہن نشین کر لیجئے اس سے کیا سمجھانا اور ذہن نشین کرانا مقصود ہے؟ احمدیہ جماعت کی صد سالہ تقریبات کے پس منظر میں اس نعرہ پر غور کیا جائے تو اس سے یہ پیغام پہنچانا مطلوب ہے کہ مرزا غلام احمد نے نبوت کا جو دعوی کیا وہ درست ہے مرزائیوں کا یہ عقیدہ کہ اصل میں امت مسلمہ انہی پر مشتمل ہے درست ہے دوسرے لوگ جو مرزا غلام احمد کو نبی یا مسیح موعود نہیں مانتے وہ رافضی و بدعتی ہیں تم بھاری اکثریت والے دستوری فیصلہ آجانے کے باوجود رافضی ہو۔“ فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے بجا طور پر کہا کہ اگر یہ پابندی کا حکم جاری نہ کیا جاتا تو اس قسم کی اشتعال

صفحہ 48

انگیزی امن و امان کی سنگین صورت حال پیدا کر دیتی۔ ان کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ ممنوعہ افعال کو انفرادی طور پر لیا جائے تو وہ قابل نفرت و مکروہ‘ دلآزاری کرنے والے اور ضرر رساں نہیں لگتے۔ مثلاً آرائشی دروازے لگانا۔ جھنڈے لہرانا۔ عمارت پر چراغاں کرنا‘ غریبوں اور محتاجوں کو کھانا کھلانا یا کسی شخص کا نئے کپڑے زیب تن کرنا نہ ہی دوسروں کے لئے موجب تکلیف و باعث آزار بنتا ہے۔ ان افعال کو کئے گئے اعلانات‘ مطلوبہ مقاصد ان سے جو پیغام پہنچانا مقصود ہے اور ان کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے رد عمل کے پس منظر میں دیکھنا چاہئے۔ ان افعال کو تاریخی تناظر میں لیا جائے تو ایک اقلیتی جماعت کی طرف سے انہیں خالی از خطر اور بے ضرر قرار نہیں دیا جا سکتا جو اپنے ماضی کی یاد منانا اور اپنے بانی و موسس نیز قائدین کی مدح و ثنا کرنا چاہتی ہو۔ بہر حال اس طرح کے اعلانیہ اظہار و اعلانات کسی خاص مذہب کی پیروی کرنے اور اس پر عمل کرنے کے حق کے ذیل میں کیسے آسکتے ہیں؟ یہ استدلال کہ ان افعال کی انجام دہی قانوناً جائز ہے۔ اس لئے جائز کاموں کی انجام دہی پر (زیر دفعہ ۱۴۴ض۔ ف) محض اس لئے پابندی عائد نہیں کی جاسکتی کہ ایک شخص کی طرف سے کسی کام کو قانون کے مطابق کرنا دوسرے کی طرف سے خلاف قانون کام کرنے کا سبب نہ بن جائے۔

اور یہ کہ احتیاطی تدابیر ایسے شخص یا مجموعہ اشخاص کے خلاف عمل میں لائی جاتی ہیں۔ جن کی طرف سے خلاف قانون کام کئے جانے کا اندیشہ ہو۔ اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

(۲۹) سائلان کے فاضل وکلاء نے مذکورہ بالا دلائل پیش کرتے ہوئے فرض کر لیا کہ یہ افعال جن کے کرنے پر پابندی لگائی گئی یا سالگرہ کی تقریبات جیسا کہ ان کے انعقاد کے منصوبہ بنایا گیا بے ضرر‘ غیر دلآزار غیر مضر بلکہ قانوناً جائز تھے یہ معروضہ درست نہیں۔ یہ فرض کرنا کہ کسی قسم کی نفرت و بیزاری پیدا نہ کرنے یا مزاحمت اور بے چینی و اضطراب کو نہ بھڑکانے کا پختہ عزم کر لیا گیا تھا۔ مفاد عامہ کے تحت زیر اعتراض احکام

صفحہ 49

کے جاری کرنے کا معقول جواز فراہم کرتا ہے۔ فاضل وکلاء نے جس اصول پر انحصار کیا وہ بیٹی بنام گلائکس (1882, Q B.D. 308) میں طے پایا تھا۔ اس کے حقائق یہ تھے کہ مکتی فوج (Salvation Army) کے ممبران گلیوں میں سے مارچ کرتے ہوئے گزرنے پر مصر تھے جبکہ مقامی فوج اس کے زبردست خلاف تھی۔ اور مجسٹریٹ نے بھی یہ حکم جاری کر دیا تھا کہ انہیں گلیوں میں سے نہیں گزرنا چاہئے ڈویژنل کورٹ نے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسا فعل قانون کے مطابق کرنے پر سزا نہیں دی جا سکتی۔ خواہ اسے معلوم ہو کہ اس کا ویسا کرنا دوسرے شخص کو خلاف قانون کام کے انجام دینے پر اکسانے کا سبب بن سکتا ہے۔ مجرمانہ مواخذہ کی تقسیم میں یہ فیصلہ صحیح لگتا ہے۔ تاہم کسی مقدمہ میں اس کی پیروی نہیں کی گئی۔ پولیس کے ریاستی اختیارات کے استعمال سے متعلق مقدمات میں جو امن عامہ کے قیام سے تعلق رکھتے ہوں اس اصول کے اطلاق میں ردو بدل کیا گیا ہے۔ چنانچہ ہمفرز بنام کونز (I.R. CLR. 1864- 17)

جس میں ایک پولیس مین کے خلاف مارپیٹ کی شکایت کی گئی تھی۔ آئرلینڈ کی عدالت نے قرار دیا کہ کانسٹیبل مدعی کے کپڑوں پر سے نارنجی سوسن کے پھول کو ہٹانے کا مجاز تھا۔ کیونکہ ایک ہجوم کے درمیان نقص امن کو روکنے کے لئے ایسا کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ وہاں اس علامت نے عناد پیدا کر دیا تھا۔ (دیکھئے جی پی ولسن کی کتاب) (Cases and Materials in Const and Admn Law) کا صفحہ نمبر ۶۹۳ اسی طرح اوکلے بنام ہاروے میں ایک مجسٹریٹ کو ایک قانونی جلسہ کو منتشر کرنے کا مجاز ٹھہرایا گیا کیونکہ وہ یہ فرض کرنے کی کافی وجوہ رکھتا تھا کہ جلسہ کے مخالفین آئرستان کی سیاسی انجمن کے لوگ تشدد اور طاقت سے کام لیں گے اور امن کی بحالی کی کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ (دیکھئے ولسن کیز ص ۶۹۵) یہاں

ضمناً یہ ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ قادیانیوں کی طرف سے

صفحہ 50

ایسے جھنڈوں کی نمائش جن پر کلمہ طیبہ کڑھا ہوا یا لکھا ہوا ہو، بر محل ہیں۔ ایسی صورتوں میں بھی جہاں الفاظ یا طرز عمل اشتعال انگیز یا توہین آمیز ہو قیام امن و امان کے لئے پولیس استعمال کی جاسکتی ہے۔ وائز بنام ڈنگ (1902-1-K.B 167) کو حوالہ بھی دیا جاسکتا ہے۔ اس نالش میں ایک پروٹسٹنٹ مبلغ کو اس کی طرف سے رومن کیتھولک مذہب پر بار بار حملوں کے بعد لیور پول کے علاقہ میں قیام امن کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا اور امن میں خلل پڑ گیا تھا قرار دیا گیا کہ حقائق کی رو سے مجسٹریٹ اس امر کا مجاز تھا کہ کیتھولکوں کی طرف سے معاندانہ جواب کو وائز کے توہین آمیز رویہ کے قدرتی نتیجہ پر محمول کرتا۔

قادیانیوں کے نزدیک حضرت محمد رسول اللہ سے مراد

مرزا غلام احمد ہے۔

(۳۰) اب ہم اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا کلمہ طیبہ والے بینرز کی نمائش توہین آمیز اور دلآزار ہے یا نہیں۔ فاضل ایڈووکیٹ جنرل اور مسئول الیہان کے فاضل وکلاء کے مطابق محمد رسول اللہ کے الفاظ سے قادیانی مرزا غلام احمد مراد لیتے ہیں۔ اور اس کی طرف نسبت کرتے ہیں کیونکہ مرزا صاحب نے اپنے محمد رسول اللہ ہونے کا دعویٰ بھی کیا اور اس کے پیرو کار اسے ایسا ہی مانتے ہیں انہوں نے عرض کیا کہ جب قادیانی جھنڈے لہراتے ہیں یا اپنے سینوں پر بیج لگاتے ہیں تو وہ رسول اکرمؐ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرتے ہیں اپنے اس ادعا کی حمایت میں ”کلمہ الفضل“ سمیت بشیر الدین محمود مرزا کی کتابوں کے حوالے پیش کئے جس پر لکھا ہے کہ۔

”پس مسیح موعود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پڑتی۔“ ”ایک غلطی کا ازالہ“ نامی کتاب کا حوالہ بھی دیا گیا جس کے صفحات ۴‘ ۵‘ ۱۷‘ اور ۱۶ پر درج ذیل عبارتیں موجود ہیں۔

صفحہ 51

ص۔۔۔۔ ۴ ”اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی“ ص۔۔۔۔ ۵ اس کے معنی یہ ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد کو ہی ملی۔ غرض میری نبوت و رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے۔ ص۔۔۔۔ ۷ کیونکہ یہ محمد ثانی اس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔ ص۔۔۔۔ ۱۱ ”چونکہ میں ظلی طور پر محمدؐ ہوں۔ یعنی میں جبکہ بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اور اسی بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ اس لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت و رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔

مسئول الیہان کے فاضل وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ مذکورہ بالا مفہوم اور عقیدہ کے ساتھ کلمہ طیبہ والے جھنڈوں کا لہرانا یا بیجوں کا لگانا تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔سی کے تحت جرم کے مترادف ہے۔

(۴۱) اس مرحلہ پر سائل مرزا خورشید احمد کی طرف سے داخل کردہ بیان حلفی کا حوالہ دینا مناسب ہوگا۔ اس کے پیراگراف نمبر ۴۔۵ میں کہا گیا ہے۔

۴۔۔۔۔ یہ کہ اقرار کنندہ صدق دل سے اقرار کرتا ہے کہ جب وہ کلمہ طیبہ پڑھتا ہے تو ”محمد رسول اللہ“ کے الفاظ سے غیر مشروط طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مراد لیتا ہے۔

۵۔۔۔۔ یہ کہ اقرار کنندہ صدق دل کے ساتھ اس الزام کی تردید کرتا ہے کہ الفاظ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے وہ مرزا غلام احمد مراد لیتا ہے۔ ایسا الزام جھوٹا غلط اور بے خبری پر مبنی ہے۔ اقرار کنندہ صدق دل سے ایسے کلمہ کی تردید کرتا ہے جو اس کے اور تمام احمدیوں کے عقائد کے برعکس ہو۔

حلفیہ بیان میں اختیار کردہ مذکورہ بالا موقف کے پیش نظر مسٹر مجیب الرحمان نے مرزا غلام احمد قادیانی کی حیثیت و مرتبہ اور ان تحریروں کے بارے میں جن میں

صفحہ 52

اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ مرزا خورشید احمد اور احمدیہ جماعت کے دیگر ممبران کے عقیدہ کی بابت پوچھا گیا نیز دریافت کیا گیا جب کوئی شخص قادیانی مذہب اختیار کرتا ہے تو اسے محض کلمہ طیبہ پڑھنا پڑتا ہے یا کچھ اور چیز بھی پڑھنی، قبول کرنی اور اس پر ایمان لانا ہوتا ہے؟ جواب دیا گیا کہ قادیانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قطعی اور آخری نبوت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد مہدی اور مسیح موعود تھے۔ مزید کہا گیا کہ فریق مخالف نے جس چیز پر اعتماد کیا ہے۔ بانی جماعت احمدیہ اپنی کتابوں ”ازالہ اوہام ص ۴۷۰ ۔ ۴۶۹ کشتی نوح روحانی خزائن جلد نمبر ۷ ص ..... ۶۷ جلد نمبر ۸ ص ..... ۲۵۲ نیز جلد نمبر ۱۴ ص ..... ۳۲۳ اور روحانی خزائن کی جلد نمبر ۲۳ ص ..... ۴۵۹ میں شامل ”پیغام صلح“ میں اس کی کھول کر وضاحت کر چکے ہیں مسٹر مجیب الرحمان کے بقول مرزا غلام احمد نے محولہ بالا پیغام اپنی وفات سے ایک روز پیشتر یعنی ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کو لکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک غلطی کا ازالہ ”آئینہ کمالات“ اور تبلیغ رسالت میں جو کچھ لکھا گیا ہے اسے ”ظل“ اور ”بروز“ کے تصور کے تحت سمجھنے کی ضرورت ہے جو کہ روحانی مشابہت و مماثلت اور معرفت کا تصور ہے۔ اور اس سے مراد ایک شخص کا مکمل طور پر دوسرے کے ماتحت و تابع ہونا ہے۔ اس تصور کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے دوبارہ جسمانی ظہور اور دوبارہ حلول کا نظریہ وابستہ نہیں۔

اس کی تردید نہیں کی وہ یہ تھی کہ جو قادیانیت میں داخل ہوتا ہے اسے یہ ماننا پڑتا ہے کہ مرزا غلام احمد کی نبوت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مورثی نبوت ہے۔ یہ کہ مرزا غلام احمد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح ظل یا بروز ہے۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا کہ قادیانیت اختیار کرتے وقت جس فارم پر دستخط کرنا ہوتے ہیں اس میں مرزا غلام احمد کو نبی اور مسیح موعود ہی ماننا پڑتا ہے۔ فارم میں استعمال کردہ الفاظ منجملہ دیگر امور، حسب ذیل ہیں۔

صفحہ 53

”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین یقین کروں گا۔ کروں گی اور حضرت مسیح موعود کے سب دعاوی پر ایمان رکھوں گا رکھوں گی۔ مسلمانوں نے رسول اکرم کے بعد ہر زمانہ میں وقتاً فوقتاً نبوت کے جھوٹے دعویداروں کو مسترد کر دیا ہے۔ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کو بھی مسلمانوں کے تمام فرقوں نے جھٹلایا ہے جہاں تک مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت کا تعلق ہے اس پر مجیب الرحمان (سپرا) کے مقدمہ میں بڑی شرح و بسط سے بحث ہو چکی ہے جس میں اس رائے کا اظہار کیا گیا تھا۔

یہ بات قابل غور ہے کہ اس قول کے نتائج کہ مرزا صاحب بذات خود محمد اور احمد تھے (یہ دونوں رسول اکرم کے نام ہیں) خاصے دور رس نکلتے ہیں۔ مرزا صاحب کے خلفاء رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء بن گئے۔ مسلمان جو کلمہ پڑھتے ہیں اس کے معنی ہیں ”اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے رسول ہیں۔“ مرزا صاحب کو محمد مان لیا جائے تو جب بھی اور جہاں بھی لفظ محمد پڑھا یا ادا کیا جائے گا اس سے مراد مرزا صاحب ہی ہوں گے۔

(۴۳) سائلان کے فاضل وکلاء کا یہ موقف کہ ظل اور ”بروز“ کے تصور سے کسی طور بھی دوبارہ جسمانی ظہور یا حلول کا تصور وابستہ نہیں، خود مرزا صاحب اور ان کے شاگرد عبدالقادر محمود کے ظاہر کردہ خیالات کے بالکل برعکس لگتا ہے۔ اس پہلو پر رپورٹ کے صفحہ ۷۴ پر درج ذیل بحث کی گئی ہے ”اب خود تصور کا تجزیہ کرنا مناسب ہوگا۔ ڈاکٹر عبدالقادر محمود کی کتاب ”الفلسفۃ الصوفیاء فی الاسلام “ ص (۵ تا ۱۱) میں وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ الفاظ ”ظل“ اور ”بروز“ ہندوؤں کے حلول یا تناسخ کے تصور سے بہت حد تک ملتے جلتے ہیں۔

مرزا صاحب نے خود تسلیم کیا ہے کہ بروز کے معنی اوتار (خدا یا دیوتا کا جسمانی روپ میں ظہور) کے ہیں۔ اپنے سیالکوٹ والے لیکچر مورخہ ۲ نومبر ۱۹۰۴ء ص۔ ۲۳ میں انہوں نے کہا۔ واضح ہو کہ خدا کی طرف سے میرا ظہور صرف مسلمانوں کی اصلاح

صفحہ 54

کے لئے نہیں بلکہ تینوں اقوام مسلم۔ ہندو اور عیسائی کی اصلاح مطلوب ہے۔ چونکہ خدا نے مجھے مسلمانوں اور نصاریٰ کے لئے مسیح موعود بنا کر بھیجا اس لئے میں ہندوؤں کے لئے اوتار اور راجہ کرشن جیسا کہ مجھ پر واضح کیا گیا ہے۔ ایک مکمل انسان تھے۔ وہ اپنے وقت کے اوتار یا نبی تھے۔ اللہ کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اپنا بروز یعنی اوتار پیدا کرے گا۔ ضمیمہ رسالہ جہاد (مطبوعہ ۱۹۰۰) میں انہوں نے لکھا ”خدا نے مجھے عیسیٰ کے اوتار کی حیثیت سے بھیجا اسی طرح میرا نام احمد اور محمد رکھا اور میری عادات، اخلاق اور اطوار حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جیسے بنائے مجھے ان کے چوغہ میں ملبوس کرنے کے بعد آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اوتار بنایا تاکہ میں توحید کا پرچار اور اشاعت کر سکوں۔ پس اس مفہوم میں میں عیسیٰ ہوں، محمد ہوں اور مہدی بھی اور اظہار کا یہی وہ اسلوب ہے جو اسلام میں اصطلاحاً بروز کہلاتا ہے۔ (ص ....۶)

پس ظاہر ہوا کہ مرزا صاحب اوتار اور بروز کو ایک دوسرے کے ہم معنی سمجھتے تھے۔ اصل شریعت میں حلول یا تناسخ کا کوئی تصور نہیں ملتا البتہ ایسی اصطلاحات ہیں جو ان ”تصورات پر یقین کرنے والوں مثلاً ہنود اور لامان کی بدولت وجود میں آئیں۔ اسی طرح اسلام میں ظلیّت کے تصور کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ (خاتم النبیین از مولانا انور شاہ کشمیری ص ... ۲۲۰)

مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے موقف الامتہ الاسلامیہ میں اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا‘ مذاہب کے تقابلی مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ظلیّت اور بروز کا سارا تصور سرا سر ہندوانہ تصور ہے اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں حضرت عبد القادر بغدادی (متوفی ۴۲۹ھ) نے بھی فرمایا ہے کہ حلول کی حمایت کرنے والا تصور جھوٹا اور بے ہودہ ہے۔” (اصول الدین ص ... ۷۲) حضرت مجدد الف ثانیؒ بھی جن کے ملفوظات پر مرزا صاحب یقین رکھتے تھے‘ نبوت میں ظل کے منکر ہیں‘ اپنے مکتوب نمبر ۳۰۱ میں انہوں نے فرمایا۔ ”نبوت اللہ کی قربت پر دلالت کرتی ہے جس میں ظلیّت

PDF 58

کا کوئی شائبہ یا شک و شبہ نہیں۔"

(۳۴) تیسرا پہلو جو کہ نشان دہی مسئول الیہم نے کی وہ یہ تھا کہ قادیانی مذہب میں داخل ہونے والے شخص سے بیعت کی شکل میں جس دستاویزات پر دستخط کرائے جاتے ہیں وہ بھی دھوکے کی ٹٹی اور مکر و فریب کا جال ہے جو مسلمانوں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے اور پھانسنے کے لئے بچھایا جاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ اسلام کو اپنے مذہب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اور مرزا صاحب کو اسلام کے نئے نبی کے روپ میں دکھایا جاتا ہے واضح رہے کہ بیعت کے فارم میں آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد الفاظ ” خاتم النبیین“ کے استعمال سے مسلمہ طور پر یہ مراد نہیں کہ حضرت محمد (صلعم) کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ بلکہ اس کے برعکس اس شخص کو مرزا غلام احمد کے جملہ دعاوی پر ایمان لانا ہوتا ہے جس میں اس کا دعویٰ نبوت بھی شامل ہے۔ مسلمانوں کے مطابق رسول اکرمؐ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں ہوگا اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ رسول اکرمؐ نے واشگاف الفاظ میں فرمایا ہے۔ کہ ”لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا) اور لفظ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آخری مہر لگا دی گئی ہے اب کسی نئے نبی کے آنے کا کوئی سوال نہیں۔ اس کے برخلاف مرزا غلام احمد ایک غلطی کا ازالہ نامی کتاب میں رقمطراز ہے اگرچہ نبوت کی مہر نہیں ٹوٹے گی تاہم اس امر کا امکان ہے کہ اس دنیا میں بروزی طریقے سے کوئی نیا نبی آجائے صرف ایک بار نہیں بلکہ ہزار بار اور وہ اپنی نبوت و کاملیت کا اظہار کرئے۔

(۳۵) واضح ہو کہ ۱۸۹۱ء کی مطبوعہ ”ازالہ اوہام“ ۱۸۹۴ء کی ”کرامت صادقین“ (مشمولہ روحانی خزائن جلد نمبر ۷) اور ۱۸۹۹ء کی ”ایام صلح“ (مشمولہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۴) میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کی صحیح تصویر اجاگر نہیں ہوتی اس لئے اس سلسلہ میں مرزا صاحب کی متعلقہ کتابیں وہ ہیں جو ۱۹۰۱ء سے ۱۹۰۸ء تک لکھی گئیں اور ”ایک غلطی کا ازالہ“ اس سلسلے کی بنیادی تحریر ہے اس سیاق و

صفحہ ۵۵

سیاق میں یہ وضاحت کرنا مناسب ہوگا کہ ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کی لکھی ہوئی ”پیغام صلح“ (مشمولہ روحانی خزائن جلد نمبر ۲۳) بھی متعلقہ اور اس سلسلے میں کارآمد نہیں کیونکہ اس پیغام کے مخاطب ہندو تھے مسلمان نہیں۔ اور مرزا صاحب کو نبی تسلیم کرنے کا سوال اسی صورت میں پیدا ہوتا جبکہ ہندوؤں نے حضرت محمد (صلعم) کی نبوت کو تسلیم کیا ہوتا۔ مرزا صاحب کے مخصوص دعویٰ کے پیش نظر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ (احمدی مرزا صاحب کو حضرت محمد (صلعم) کا بدل مانتے ہیں اس لئے جھنڈوں پر لکھے ہوئے اور بیجوں پر تحریر شدہ الفاظ ”محمد رسول اللہ“ کا استعمال ہر احمدی کی اپنی ذمہ داری ہے کیونکہ ایسا کرنا رسول اکرمؐ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرنے کے مترادف ہے۔ بلاشبہ ایسا فعل دفعہ ۲۹۵۔ سی ت پ کے دائرہ میں آتا ہے۔

مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا موجب بنتی ہے یہ چیز سالگرہ کی تقریبات پر پابندی لگانے کا دوسرا جواز فراہم کرتی ہے۔ کیونکہ اس سے امن عامہ میں خلل پڑنے کا زبردست خدشہ تھا۔ یاد رہے کہ صرف مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق کا دعویٰ تو کیا گیا لیکن سائلان کے فاضل وکلاء یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ ان تقریبات کے کھلے بندوں انعقاد اور جس طریقے سے انہیں منانے کا پروگرام بنایا گیا اس پر پابندی لگانے سے قادیانی مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق کی کسی طرح خلاف ورزی ہوتی یا اس میں کمی واقع ہو گئی؟ ہندوؤں، سکھوں، پارسیوں اور دوسری مذہبی اقلیتوں کی طرح قادیانی بدستور اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کر رہے ہیں اور مکمل مذہبی آزادی سے مستفید ہو رہے ہیں خود کو مسلمان ظاہر کر کے اور شریعت اسلامیہ یا کلمہ طیبہ کو جو کہ اسلام کے اساسی ارکان میں سے ایک ہے استعمال کر کے وہ اپنے رویّہ سے خود مشکل صورت حال پیدا کر دیتے ہیں۔ اگر قادیانی دستوری فیصلہ کو قبول کر لیں اور خود کو مسلمانوں سے ایک علیحدہ اور جداگانہ برادری سمجھنے لگیں جیسا کہ

صفحہ ۵۱

ان کا اپنا دعویٰ ہے کہ کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہو ان کا خود کو مسلمان ظاہر کرنا اور عامۃ المسلمین کو اسلام کے دائرہ سے خارج کرنا مسلمانوں کے لئے کسی طرح قابلِ قبول اور قابل برداشت نہیں۔ ملک اور دستور سے ان کی وفاداری اور ان کا جداگانہ وجود ان کی سلامتی و بھلائی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے کہ وہ کوئی سا مذہب اختیار کریں لیکن وہ مسلمانوں کے دین کو ناپاک کرنے پر مصر ہیں۔ اگر یہ مسلمان اپنے مذہب کو ہر قسم کی آمیزش سے پاک و خالص رکھنے کے لئے کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو اس پر قادیانی کیوں سیخ پا ہوتے ہیں۔ اور اسے مسئلہ کیوں بنا لیتے ہیں۔

مسلمانوں کو اپنے مذہب کی آمیزش سے

پاک رکھنے کی سعی پر قادیانی سیخ پا ہوتے

ہیں۔

ایسے مقصد کے لئے جائز طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جو پبلک کی بھلائی یا لوگوں کے مفاد میں ضروری نظر آئے۔ یہاں سائنس ٹولوجی مسلک کے ممبران کے دو مقدمات کا حوالہ دینا مناسب ہوگا۔ شمرٹ و دیگر بنام وزیر داخلہ (۱۹۶۹ء-۲-Ch-۱۴۹) میں نوٹ کیا گیا کہ سائنس ٹولوجی کے محرکین کے نزدیک یہ ایک مذہب ہے اس کی ابتداء امریکہ سے ہوئی اس کا مسلک اور عقیدہ اس کی تعلیمات اور اعمال سسکس (انگلینڈ) میں ایک کالج کے طلبہ کو پڑھائے جاتے ہیں یہ کالج ایک امریکی کارپوریشن کی ملکیت ہے جس کا نام چرچ آف سائنس ٹولوجی آف کیلیفورنیا ہے۔ سائلان شمرٹ اور جوزف فرنشی امریکہ کے شہری تھے اور ان کے پاس داخلہ کے لئے محدود مدت کے اجازت نامے تھے میعاد ختم ہو گئی اور وزیر داخلہ نے توسیع کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ حکومت کا نقطہ نظریہ تھا کہ ”سائنس ٹولوجی نقلی فلاسوفیکل مسلک ہے، جو اس ملک میں چند

صفحہ ۵۵

برس پہلے امریکیوں کی طرف سے متعارف کرایا گیا اور اس کا عالمی ہیڈ کوارٹر ایسٹ گرنسٹیڈ میں ہے اس کے بانی مسٹر رون ہبارڈ نے اس کی وضاحت اس طرح کی کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی ذہنی صحت کی تنظیم ہے۔ حکومت دستیاب جملہ شہادتوں کا جائزہ لینے کے بعد مطمئن ہے۔ کہ سائنس ٹولوجی معاشرتی لحاظ سے ضرر رساں ہے۔ یہ ممبران خاندان کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے۔ اور جو لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں ان سے گندے اور رسوا کن محرکات منسوب کر دیتی ہے۔ اس کے تحکمانہ اصول اور اعمال ان لوگوں کی شخصیت اور بھلائی کے لئے باعث تخویف ہیں جو اسے چھوڑ چکے ہیں سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے طریقے ان لوگوں کی صحت کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں جو انہیں اختیار کرتے ہیں ایسی شہادتیں ملی ہیں کہ اب بچوں کو اس کی تعلیم دی جا رہی ہے لارڈ ڈیننگ ماسٹر آف رولز نے اپنے فیصلہ میں اس دلیل کو نمٹاتے ہوئے کہ وزیر داخلہ نے اپنے اختیارات استرداد اور ایک مذہبی فرقہ کی جس پر از روئے قانون پابندی نہیں لگائی گئی بے حرمتی کرنے کی غرض سے استعمال کئے تھے لکھا۔

میرے خیال میں وزیر اس امر کا مجاز ہے کہ اپنے اختیارات کسی ایسے مقصد کے لئے کام میں لائے جو اس کے نزدیک پبلک کی بھلائی اور اس ملک کے لوگوں کے مفاد میں ہو۔ یہ سوچنے کی معمولی سی وجہ بھی موجود نہیں کہ وزیر داخلہ نے اس معاملہ میں اپنے اختیارات کو غلط مقصد کے لئے استعمال کیا یا بدنیتی سے کام لیا۔ وزیر داخلہ کے مقصد کو اس بیان میں واضح طور سے ظاہر کر دیا گیا تھا جو اس نے دارالعوام میں دیا۔ اس نے سوچا کہ ان لوگوں یعنی سائنس ٹولوجسٹس کے اعمال ہمارے معاشرے کے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں اور یہ بات اس ملک کے مفاد میں نہیں کہ سائنس ٹولوجی کے غیر ملکی طلبہ کو اس کی تعلیم حاصل کرنے یا نئے طلبہ کو داخلہ لینے کی اجازت دی جائے۔ وہ مقصد سراسر جائز تھا وزیر داخلہ نے اپنے اختیارات کو اس ملک کے عام آدمی کے مفاد میں استعمال کیا اور میں نہیں سمجھتا کہ ہم اس کے درست ہونے کی بابت

صفحہ ۵۶

کسی شک و شبہ میں پڑیں۔ اسی طرح اجازت میں توسیع سے انکار کے حکم کی توثیق کر دی گئی ہاؤس آف لارڈز نے اپیل کے لئے داخل کی گئی درخواست خارج کر دی (رپورٹ ص ۱۷۴ پر درج نوٹ ملاحظہ فرمائیے) یوں آزادانہ نقل و حرکت کے حق کو مفاد عامہ کے تابع کر دیا گیا اسی اصول کو یورپ کی عدالت ہائے انصاف نے (1975/Ch- 398 Van Dayn vs Home Office) مقدمہ پر لاگو کیا۔ اس مقدمہ میں معاہدہ روم میں شامل ایک دفعہ جس کی رو سے کارکنوں کو کمیونٹی کے ۹ ملکوں میں آزادانہ نقل و حرکت کی ضمانت دی گئی تھی۔ مصلحت عامہ کی وجوہات کے تابع کر دیا گیا تھا۔ مس وان ڈوئن نے ہوائی اڈہ پر پہنچ کر اعلان کیا کہ وہ کالج آف سائنس ٹولوجی میں سیکرٹری کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرنے آئی ہے۔ اسے یہ کہتے ہوئے داخلہ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا کہ کسی شخص کو چرچ آف سائنس ٹولوجی کی ملازمت میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے برطانیہ میں داخل ہونے کی اجازت دینا ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس انکار کو چیلنج کر دیا گیا اور معاملہ لکسمبرگ کی یورپین کورٹ آف جسٹس کو بھیج دیا گیا جہاں اس انکار کو بحال رکھا گیا۔

(۳۹) اسی طرح مصلحت عامہ کے اسباب اور عام آدمی کی بھلائی اور مفاد سالانہ تقریبات پر پابندی لگانے کی از روئے قانون جائز بنیاد فراہم کرتا ہے جیسا کہ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ریذیڈنٹ مجسٹریٹ نے ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ بات پہلے ہی واضح کی جا چکی ہے کہ عام لوگ یعنی امت مسلمہ احمدیوں کی سرگرمیوں اور ان کے مذہب کی تبلیغ کی مزاحمت و مخالفت کرتی ہے۔ تاکہ ان کے مذہب کا اصل دھارا پاک صاف اور غلاظت سے محفوظ رہے۔ اور امت کی یکجہتی بھی برقرار رہے ایسا کرنے سے قادیانیوں کے ان کے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق پر نہ کوئی زد پڑتی ہے نہ اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

صفحہ 60

ہوئے خارج کیا جاتا ہے۔ مقدمہ کے اخراجات دونوں فریق خود برداشت کریں گے۔ مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۹۱ء کو سنایا گیا۔ اس موقع پر مسٹر مجیب الرحمن ایڈووکیٹ حاضر تھے۔

دستخط (جج)

(شکریہ ہفت روزہ زندگی۔)

صفحہ 61

اصطلاحات کو نہیں اپنایا۔

قادیانی اسلامی اصطلاحات‘

اسلامی شعائر استعمال نہیں کرسکتے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کا

تاریخ ساز فیصلہ

ترجمہ: مجاہد لاہوری

۳ جولائی ۹۳ء کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے ایک فیصلہ صادر کیا جو قادیانیت کے تعاقب و استیصال کے سلسلہ میں تاریخ ساز حیثیت رکھتا ہے۔ اس فیصلہ کی رو سے قادیانیوں کے لئے اسلامی القابات و اصطلاحات کے استعمال پر جو مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کے لئے مخصوص ہیں‘ پابندی لگا دی گئی‘ نیز انہیں اپنی عبادت گاہ کو ” مسجد“ کہنے اور ”اذان“ دینے سے روک دیا گیا۔

اس قاطع قادیانیت فیصلہ کا پس منظر یہ ہے کہ اگرچہ مرزائیوں کو ۱۹۷۴ء میں غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ مگر انہوں نے پوری ملت کے اس اجتماعی فیصلہ کو قبول نہیں

صفحہ 62

کیا۔ ۱۹۸۴ء میں شعائر اسلامی کے تحفظ کے لئے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا گیا۔ ۱۹۸۸ء میں وفاقی شرعی عدالت نے مجیب الرحمان کیس میں ایک یادگار فیصلہ سنایا لیکن ختم نبوت کے باغیوں نے اسے بھی نہ مانا اور بدستور شعائر اسلامی کی توہین کر کے مسلمانوں کے سینہ پر مونگ دلتے رہے۔ ۱۹۸۹ء میں قادیانی تحریک کے ۱۰۰ برس پورے ہونے پر صد سالہ جشن منانے کا پروگرام بنایا گیا۔ مسلمانوں کی طرف سے بروقت مخالفت اور زبردست مزاحمت کو دیکھتے ہوئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ نے صد سالہ جشن کی تقریبات پر پابندی لگا دی۔ ڈپٹی کمشنر کے اس اقدام کو چیلنج کر دیا گیا۔ ہائیکورٹ کے عزت ماب جج جسٹس خلیل الرحمان نے مرزا شوکت کو سمجھایا کہ جشن کا وقت گزر چکا ہے اس لئے وہ اپنا کیس واپس لے لیں، مگر وہ بضد رہے کہ یہ فیصلہ ہونا چاہئے‘ پابندی جائز تھی یا ناجائز؟

جسٹس خلیل الرحمان نے قوی اور پرزور دلائل پر مبنی اپنے طویل اور مبسوط فیصلہ میں صد سالہ جشن پر پابندی کو جائز قرار دیا۔ جھوٹی نبوت کے پیروکاروں نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ اس کے ساتھ ہی امتناع قادیانیت آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء کو بھی چیلنج کر دیا۔ مزید برآں بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس امیر الملک مینگل کے صادر کردہ فیصلہ کو بھی جس میں قادیانیوں کو شعائر اسلامی کی توہین کرنے پر قید و جرمانہ کی سزائیں دی گئی تھیں‘ اپیل میں شامل کر لیا۔ سپریم کورٹ کے فل بنچ نے جو کہ جسٹس عبدالقدیر چوہدری جسٹس محمد افضل لون، جسٹس شفیع الرحمان‘ جسٹس سلیم اختر اور جسٹس ولی محمد خان پر مشتمل تھا۔ ان تمام درخواستوں کی ایک ساتھ سماعت کی اور ۳ جولائی ۹۳ء کو زیر بحث فیصلہ سنایا۔ کلیدی فیصلہ جسٹس عبدالقدیر چوہدری نے لکھا‘ جس سے جسٹس ولی محمد خاں اور جسٹس محمد افضل لون نے

صفحہ 63

اتفاق کیا۔ جسٹس سلیم اختر نے اپنا علیحدہ فیصلہ سپرد قلم کیا جو کہ جسٹس عبدالقدیر کے فیصلہ کی تائید کی ہے۔ البتہ جسٹس شفیع الرحمان نے اس تاریخی فیصلہ سے اختلاف کرتے ہوئے اپنا الگ اختلافی نوٹ لکھا۔

بحضور سپریم کورٹ آف پاکستان (بصیغہ اپیل)

سماعت کنندہ بنچ جسٹس شفیع الرحمان جسٹس عبدالقدیر چودھری جسٹس محمد افضل لون جسٹس سلیم اختر جسٹس ولی محمد خان

فوجداری اپیل نمبر ۳۱۔ کے تا ۳۵۔ کے لغایت ۱۹۸۸ء

(بلوچستان ہائیکورٹ کوئٹہ کے فیصلہ مورخہ ۸۷۔ ۱۲۔ ۲۲ کے خلاف اپیل جو کہ فوجداری (نظر ثانی کی) درخواست ہائے نمبر ۸۷۔ ۳۸ تا ۸۷ ۔۴۲ میں سنایا گیا تھا)۔

فوجداری اپیل نمبر ۳۱۔ کے ۸۸

ظہیر الدین ............. اپیلانٹ بنام سرکار ............. مسئول الیہ

فوجداری اپیل نمبر ۳۲۔ کے ۸۸

رفیع احمد ............. اپیلانٹ

صفحہ 64

بنام سرکار ............ مسئول الیہ فوجداری اپیل نمبر ۳۳۔ کے ۸۸ عبدالمجید ............ اپیل کنندہ

بنام سرکار ............ مسئول الیہ فوجداری اپیل نمبر ۳۴۔ کے ۸۸ عبدالرحمان خان ............ اپیل کنندہ

بنام سرکار ............ مسئول الیہ فوجداری اپیل نمبر ۳۵۔ کے ۸۸ چوہدری محمد حیات ............ اپیلانٹ

بنام سرکار ............ مسئول الیہ دیوانی اپیل نمبر ۱۴۹‘ ۱۵۰ لغایت ۱۵۲ / ۱۹۸۹ء (لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ مورخہ ۸۴۔۹۔۲۵ کے خلاف اپیل جو بین العدالت اپیل نمبر ۱۵۸۔۸۴ اور نمبر ۳۰۔۸۳ میں سنایا گیا تھا)۔ دیوانی اپیل نمبر ۱۴۹۔ ۸۹ مجیب الرحمان درد ............ اپیلانٹ

بنام پاکستان بذریعہ سیکرٹری وزارت قانون و پارلیمانی امور اسلام آباد ............ مسئول الیہ

صفحہ ۵۵

دیوانی اپیل نمبر ۱۵۰۔ ۸۹

بنام

دیوانی اپیل نمبر ۴۱۴ لغایت ۱۹۸۲ء

(لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ مورخہ ۹۱ ۔ ۹ ۔ ۱۷ کے خلاف اپیل جو رٹ پٹیشن نمبر ۲۰۸۹ ۔ ۸۹ میں سنایا گیا تھا)

بنام

صفحہ ۵۵

پیروی

فوجداری اپیل نمبر ۳۱۔ کے تا ۳۵ کے لغایت ۱۹۸۸ء میں اپیل کنندگان کی طرف سے فخر الدین جی ابراہیم سینئر ایڈووکیٹ‘ مجیب الرحمان مرزا‘ عبد الرشید اور ایس علی احمد طارق ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ سرکاری پیروی اعجاز یوسف‘ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کی۔

فوجداری اپیل نمبر ۳۱۔ کے ۸۸ میں مُستغیث کی پیروی راجہ حق نواز ایڈووکیٹ اور ایم اے آئی قرنی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (غیر حاضر) نے کی۔

دیوانی اپیل نمبر ۱۴۹ نمبر ۱۵۰۔ ۸۸ میں اپیل کنندگان کی طرف سے فخر الدین جی ابراہیم سینئر ایڈووکیٹ‘ عزیز احمد باجوہ‘ چوہدری اے وحید سلیم سینئر ایڈووکیٹ‘ مجیب الرحمان اور حامد اسلم قریشی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پیش ہوئے۔

دیوانی اپیل نمبر ۴۴۔ ۹۲ میں اپیل کنندگان کی پیروی چوہدری عزیز احمد باجوہ سی اے رحمان اور حامد اسلم قریشی‘ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے کی۔

دیوانی اپیل نمبر ۱۴۹‘ ۱۵۰ بابت ۱۹۸۹ء اور ۴۴۔ ۹۲ میں وفاقی حکومت کی طرف سے ڈاکٹر ریاض الحسن گیلانی (صرف ۱۔ ۲۔ ۹۳ اور ۲۔ ۲۔ ۹۳ کو) سید عنایت حسین ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (صرف ۳۔ ۲۔ ۹۳ کو) گلزار حسن‘ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (غیر حاضر) اور چوہدری اختر علی‘ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پیش ہوئے۔

دیوانی اپیل نمبر ۴۳۔ ۹۲ میں مسئول الیہ نمبر ۱ کی پیروی مقبول الہی ملک‘ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب‘ ایم ایم سعید بیگ‘ راؤ محمد یوسف خاں ایڈووکیٹ نے کی۔

دیوانی اپیل نمبر ۴۱۲۔ ۹۲ میں مسئول الیہ نمبر ۴ کی طرف سے ایم اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ اور سید ابوالعاصم ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پیش ہوئے۔

صفحہ 67

عدالت کے نوٹس پر مسٹر عزیز اے منشی اٹارنی جنرل، ممتاز علی مرزا ڈپٹی اٹارنی جنرل، اعجاز یوسف، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان، ایم سردار خاں ایڈووکیٹ جنرل صوبہ سرحد، مقبول الٰہی ملک، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، عبدالغفور منگی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ پیش ہوئے۔

جبکہ عام لوگوں کی نمائندگی میجر (ریٹائرڈ) امیر افضل خان اور میجر (ریٹائرڈ) امین منہاس نے کی۔

تاریخ ہائے سماعت

۳۰۔ ۳۱ جنوری، یکم، دو اور تین فروری ۹۳ء بمقام راولپنڈی

صدور فیصلہ کی تاریخ

۳ جولائی ۹۳ء

صفحہ 68

فیصلہ

۱۔ جسٹس شفیع الرحمٰن

پس منظر

لاہوری گروپ و احمدی گروپ کے خلاف اسلام سرگرمیوں کی (ممانعت اور سزا) کا آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء جسے مختصراً امتناع قادیانیت آرڈیننس کہا جاتا ہے، آئین کے دائرہ سے خارج ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو کیا زیر غور پانچوں فوجداری اپیلوں میں دی گئی سزائیں مذکورہ بالا آرڈیننس کی دفعہ ۵ کے مطابق ہیں؟

دیوانی اپیل نمبر ۸۹ ۔ ۱۴۹ کی وجہ بنی، سب سے پہلے دائر کی گئی تھی۔ یہ اپیل آرڈیننس کے نفاذ کی تاریخ (۲۶ اپریل ۱۹۸۴ء) کے صرف ڈیڑھ ماہ بعد یعنی ۸۴ ۔ ۵ ۔ ۳۰ کو دائر کی گئی۔ جس میں حسب ذیل داد رسی کی التجا کی گئی تھی۔

عمل میں آیا۔

یہ آئینی درخواست ۸۴ ۔ ۶ ۔ ۱۲ کو ابتدائی سماعت کے دوران ہی اس بنا پر خارج کر دی گئی کہ آرٹیکل ۲۰۳ ڈی آئین کی راہ میں مانع ہے۔ ایک بین العدالتی اپیل بھی ۸۴ ۔ ۹ ۔ ۲۵ کو اس میں مذکور وجوہات پر غور کرتے ہوئے ابتدائی سماعت کے

صفحہ 69

دوران خارج کر دی گئی۔ بہرحال ۸۹- ۲- ۲۸ کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی اجازت دے دی گئی تاکہ اینٹی قادیانی آرڈیننس کا بنیادی حقوق (آرٹیکل ۱۹) اظہار خیال کی آزادی آرٹیکل ۲۰ 'مذہبی آزادی' آرٹیکل ۲۵ شہریوں کی قانون کی نظر میں برابری کی کسوٹی پر جائزہ لیا جا سکے۔

۸۹ - ۱۵۰ کا موجب بنی جو اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ اس اپیل میں ۸۹- ۶- ۶ کو بعض تبدیلیاں کی گئیں۔ اس درخواست میں حسب ذیل درخواست کی گئی تھی۔

کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔

ہونے تک آرڈیننس کے تحت درخواست گزار کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرے۔

یہ درخواست بھی ۸۴- ۶- ۱۲ کو ابتدائی سماعت کے دوران اس بنا پر خارج کر دی گئی کہ آرٹیکل ۲۰۳۔ ڈی اس کی سماعت میں مانع ہے۔ بین العدالتی اپیل بھی ۸۹- ۹- ۲۵ کو تمام وجوہات پر بحث کرنے کے بعد اور آرٹیکل ۲۰۳۔ ڈی کو قابل تائید قرار دئے بغیر خارج کر دی گئی۔ جہاں تک بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا تعلق ہے اس کے بارے میں اپیل بنچ نے حسب ذیل رائے کا اظہار کیا۔

اگر ۱۹۷۳ء کا دستور مکمل حالت میں نافذ ہوتا تو درخواست گزار کی دلیل پر غور کیا جاسکتا تھا، لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ جولائی ۱۹۷۷ء سے اب تک تین ماورائے آئین دستاویزات نے اس کی آب و تاب چھین لی ہے اور وہ اس پر سایہ فگن ہو گئی

صفحہ 70

ہیں ۔ ان میں سے پہلی دستاویز مارشل لاء کے نفاذ کا صدارتی فرمان ہے۔ جو ۵ جولائی ۱۹۷۷ء سے نفاذ پذیر ہوا اور اس کی رو سے آئین کو معطل کر دیا گیا۔ دوسرا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا حکم نمبر ۱ مجریہ ۱۹۷۷ء ہے جو قوانین کے تسلسل کا حکم مجریہ ۱۹۷۷ء بھی کہلاتا ہے۔

اگرچہ اس حکم کی دفعہ ۲ (۱) میں منجملہ دیگر باتوں کے یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان پر جہاں تک ممکن ہو گا دستور کے مطابق حکومت کی جائے گی لیکن اسی دفعہ کی شق (۳) نے تمام بنیادی حقوق کو معطل کر دیا۔ تیسری دستاویز عبوری دستور کا حکم مجریہ ۱۹۸۱ء ہے جو ۲۴ مارچ ۱۹۸۱ء سے نافذ العمل ہوا۔ اس حکم کی دفعہ ۲ میں ۱۹۷۳ء کے دستور کے متعدد احکام کو اپنا لیا گیا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اختیار کردہ احکام میں آرٹیکل ۲۰ (مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کا حق) سمیت کوئی بنیادی حق شامل نہیں ہے۔ اپیل کنندگان کا تمام تر انحصار آرٹیکل ۲۰ پر ہے، جو کہ دیگر تمام بنیادی حقوق کی طرح سردست قابل نفاذ نہیں ہے۔ لہٰذا یہ اپیل گزاروں کے اس دعویٰ کے بارے میں خاموش ہے کہ محولہ بالا آرٹیکل آرڈیننس پر حاوی ہے اور صدر کے اختیار کا حصہ ہے۔ پس ہم اپیل کنندگان کے اس موقف کو مسترد کرتے ہیں کہ موجودہ آئینی پوزیشن کے تحت بھی آرڈیننس جاری کرتے وقت صدر پر ان پابندیوں کا اطلاق ہوتا ہے جو بنیادی حقوق میں مذکور ہیں۔

۲۸۔۲۔۸۹ کو اپیل کی اجازت دے دی گئی جس کے نتیجہ میں دیوانی اپیل نمبر ۱۴۹ لغایت ۱۵۳ / ۱۹۸۹ء دائر کی گئی۔

پر کوئٹہ کے سٹی پولیس سٹیشن میں رپورٹ درج کرائی کہ کسی کے اطلاع دینے پر وہ

صفحہ 71

بازار میں پہنچا تو اس نے محمد حیات کو جو کہ فوجداری اپیل نمبر ۳۵ بابت ۱۹۸۸ء میں اپیل کنندہ ہے اور عقیدہ کے لحاظ سے قادیانی ہے، کلمہ طیبہ کا بیج لگائے اور خود کو مسلمان ظاہر کرتے دیکھا۔ اس کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔سی کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اور ملزم قرار دیتے ہوئے تا برخاست عدالت قید کی سزا اور تین ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں اسے تین ماہ قید سادہ کی سزا بھگتنا تھی۔ اس حکم کے خلاف اپیل اور نظر ثانی کی درخواست بھی خارج کر دی گئی۔ تاہم ۸۹۔۹۔۱۲ کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی اجازت دے دی گئی تاکہ درج ذیل تنقیحات کا جائزہ لیا جاسکے۔

مترادف ہے اور اسے مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ سی کے تحت قابل گرفت قرار دیا جا سکتا ہے؟

اس کا اثر کیا ہو گا؟

متصادم ہے؟

کرائیں۔ ابتدائی رپورٹ نمبر ۴۹ بابت ۸۵ء میں ظہیر الدین کے خلاف (جو کہ فوجداری اپیل نمبر ۳۱۔ بابت ۱۹۸۸ء میں مدعی ہے) جو شکایت کی گئی اس میں کہا گیا ہے کہ ظہیر الدین کے ساتھ ایک بجے بعد دوپہر بازار میں مڈھ بھیڑ ہوئی تو وہ کلمہ طیبہ کا بیج لگائے ہوئے خود کو مسلمان ظاہر کر رہا تھا۔ اس کے خلاف زیر دفعہ ۲۹۸۔

صفحہ 72

سی (ت پ) کاروائی کی گئی، اور ایک سال قید بامشقت نیز ایک ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی گئی۔ عدم ادائیگی کی صورت میں اسے ایک مہینے کی قید بامشقت بھگتنا پڑتی۔ سزا یابی اور قید کے خلاف اس کی اپیل نیز نظر ثانی کی درخواست خارج کر دی گئی۔ دوسری ابتدائی رپورٹ نمبر ۵۰ / ۸۵ء ایسے ہی حقائق پر مبنی عبدالرحمان نامی شخص کے خلاف درج کرائی گئی جو کہ فوجداری اپیل نمبر ۳۴۔ کے ۸۸ء میں درخواست گزار ہے۔ وہ نذیر احمد تونسوی کو ۳ بجکر ۳۰ منٹ پر بازار میں ملا تھا۔ اسے بھی قصور وار قرار دے کر ایک سال قید بامشقت ایک ہزار روپیہ عدم ادائیگی کی صورت میں ایک ماہ قید بامشقت کی سزا دی گئی۔ اس کی اپیل اور نظر ثانی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ ان دونوں مقدموں میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر نے کی اجازت دے دی گئی جیسا کہ فوجداری اپیل نمبر ۳۵۔ کے ۸۸ء میں کیا گیا تھا۔

آر نمبر ۵۹۔ ۸۸ سٹی پولیس سٹیشن کوئٹہ) جس میں شکایت کی گئی تھی کہ اس کی دکان پر کلمہ طیبہ کا بیج لگائے ہوئے ایک گاہک آیا۔ جس نے اپنا نام مجید بتایا (جو فوجداری اپیل نمبر ۳۳۔ کے ۸۸ میں مدعی ہے) اور قادیانی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کے خلاف زیر دفعہ ۲۹۸۔ سی تعزیرات پاکستان مقدمہ چلایا گیا اور ایک سال قید بامشقت کے ساتھ ایک ہزار روپیہ جرمانہ (عدم ادائیگی کی صورت میں ایک مہینہ قید بامشقت) کی سزا دی گئی۔ اس کی اپیل اور نظر ثانی کی درخواست ناکام ہو گئی۔ سپریم کورٹ نے اسے اپیل کی اجازت دی، جس میں فوجداری اپیل نمبر ۳۵۔ کے ۸۸ دائر کی گئی۔

رپورٹ درج کرائی (ابتدائی رپورٹ نمبر ۷۴۔ ۸۸) اس میں شکایت کی گئی تھی کہ

صفحہ 73

رفیع احمد (فوجداری اپیل نمبر ۳۲۔ کے ۸۸ میں اپیل گزار) کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر اس کی دکان پر آیا حالانکہ وہ قادیانی تھا۔ اسے زیر دفعہ ۲۹۸۔ سی تعزیرات پاکستان ایک برس کی قید بامشقت اور ایک ہزار روپیہ (عدم ادائیگی کی صورت میں ایک مہینے کی قید) کی سزا دی گئی۔ اپیل اور نظر ثانی کی درخواست نامنظور ہونے پر اس نے سپریم کورٹ میں فوجداری اپیل نمبر ۳۵۔ کے ۸۸ دائر کی۔

پنجاب کے صادر کردہ مورخہ ۸۹۔ ۳۔ ۲۰ کے فیصلہ اور اس پر عملدرآمد کے لئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ کے حکم ۸۹۔ ۳۔ ۲۱ نیز ریذیڈنٹ مجسٹریٹ ربوہ کے حکم مجریہ ۸۹۔ ۳۔ ۲۵ کو جس کی رو سے تا حکم ثانی اس میں توسیع کی گئی تھی چیلنج کیا گیا تھا۔ ان فیصلوں اور احکام کے نتیجہ میں ضلع جھنگ کے قادیانیوں کو درج ذیل سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے منع کیا گیا تھا۔

صفحہ 74

مشتعل یا مجروح کرنے کا موجب بنے۔

ہائیکورٹ نے ایک جامع فیصلہ کے ذریعے اس پٹیشن کو خارج کر دیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ میں دیوانی اپیل نمبر ۹۴۔ ۴۱۴ دائر کی گئی۔

قادیانیوں کے خلاف مقدمات

(۹) پانچوں اپیلوں (نمبر ۳۱۔ کے تا ۳۵۔ کے) میں اپیل گزاران کے فاضل وکیل مسٹر فخر الدین جی ابراہیم‘ سینئر ایڈووکیٹ نے ۱۹۸۸ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کی آئینی حیثیت کو زیادہ نشانہ تنقید بنایا ہے۔ ان کے نزدیک یہ آرڈیننس غیر معقول حد تک نامنصفانہ‘ قابل نفرت انداز میں مبہم و بے معنی‘ انصاف کی راہ سے بھٹکا ہوا‘ امتیاز برتنے والا‘ متعصب ذہن کی پیداوار‘ بدنیتی پر مبنی اور سراسر غیر آئینی ہے‘ جس سے دستور کے آرٹیکل ۱۹‘ ۲۰ اور ۲۵ کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ فاضل وکیل کے مطابق دستور میں دوسری ترمیم کی رو سے قادیانیوں اور احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے۔ آرٹیکل ۲۶۰ کی شق (۳) کے تحت قادیانیوں اور احمدیوں کو غیر مسلموں سے ممیز کرتے ہوئے ان کے مذہبی معمولات‘ تقاریر اور عقائد پر امتناعی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ۱۹۹۲ء تک اس خاص اقلیت کے خلاف ۷۹۰ فوجداری مقدمات ۸۴ مقدمات پانچ وقتہ نماز کی ادائیگی کے سلسلہ میں ۲۶۱ مقدمات کلمہ طیبہ کے استعمال پر ۳۲ مقدمات اذان دینے کی بابت ۲۵۱ قادیانیت کی تبلیغ کے بارے میں ۶۷۶ خود کو مسلمان ظاہر کرنے کے خلاف اور ۵۲ عربی جملے السلام علیکم‘ نصر من اللہ اور میلاد النبی وغیرہ کے استعمال کے حوالہ سے درج ہو چکے ہیں جو کہ ان کے اظہار خیال کی آزادی اور مذہب کی پیروی نیز اس پر عمل کرنے کے حق پر سنگین حملہ کے مترادف ہیں اس سے ان کے ساتھ روا رکھا گیا امتیازی سلوک ظاہر ہوتا ہے۔ وہ معمولات جن کی ادائیگی پر

صفحہ 75

ان کے خلاف مقدمے درج کئے گئے ہیں، از روئے آئین اقلیت کے مذہبی معمولات قرار دیئے جا چکے ہیں۔ جیسا کہ عبدالرحمان مبشر‘ ۳ دیگران بنام سید امیر علی شاہ بخاری و ۴ دیگران (پی ایل ڈی ۱۹۷۸ء لاہور ۱۱۳)‘ نجیب الرحمان‘ ۳ دیگران بنام وفاقی حکومت پاکستان‘ دیگر (پی ایل ڈی ۱۹۸۵ء ایف ایس سی ۸) (دیکھئے صفحہ ۸۹‘ ۹۴) مزید بر آں نفاذ شریعت ایکٹ ۱۹۹۱ء بھی غیر مسلموں کو اپنے مذہب پر عمل کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے ہماری توجہ دستور کے آرٹیکل ۲۳۳ کی طرف مبذول کراتے ہوئے زور دے کر یہ بات کہی کہ آرٹیکل ۲۰ دستور کی ان دفعات میں سے ہے جنہیں ہنگامی حالت کے دوران بھی معطل نہیں کیا جا سکتا۔ اس سوال پر کہ مذہب سے کیا مراد ہے؟ فاضل وکیل نے درج ذیل مقدمات کا حوالہ دیا۔

endowments vs Sir Lakshmindra thirtha Swamiar of sir Shirus mutt. (Air, 1954 S.C. 282)

state of Bombay and others. (Air, 1954 S.C. 388)

Sambasiva Rao and others vs. The Commissioner for Hindu Rleligious and Charitable Endowments Madras. (Air, 1961 Madras 265)

انہوں نے شریف الدین پیرزادہ کی تصنیف

"Fundamental Rights and Constitutional Remedies In Pakistan" (صفحہ ۳۱۹) کا بھی حوالہ

صفحہ 76

دیا۔ جس کا تعلق دستور کے سابقہ آرٹیکل ۲۰ (مذہب کی پیروی اور مذہبی اداروں کے انتظام کے حق) سے ہے۔ نیز آرٹیکل ۲۰ کے بارے میں جسٹس تنزیل الرحمان کے موقف کا بھی ذکر کیا جو "Constitution and the Freedom of Religion" کے زیر عنوان "پی ایل ڈی ۱۹۸۹ء جرنل ۱۷ شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے ہماری توجہ اے کے بروہی کی کتاب "Fundamental Law of Pakistan" (صفحہ) جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ کے مضمون "Quaid_e_Azam's Constitution to the Cause of Human Rights (P L D. 1977. Journal 13)" کی طرف مبذول کرائی۔ جن میں دستور کے آرٹیکل ۲۰ کے دائرہ میں آنے والے بنیادی حقوق سے بحث کی گئی ہے۔

فاضل وکیل نے ان محدود معانی کی وضاحت بھی کی جو آرٹیکل ۲۰ میں استعمال کی گئی ترکیب Subject to Law (قانون کے تابع رہتے ہوئے) کو سپریم کورٹ نے درج ذیل مقدمات میں پہنائے ہیں۔

فنانس و ریونیو، حکومت مشرقی پاکستان (پی ایل ڈی ۱۹۵۷ ایس سی ۹)

ایس سی ۳۴۸) قانونی ابہام اور مخصوص معانی جو ترکیب "خود کو مسلمان ظاہر کرنا" کو پہنائے جا سکتے ہیں کے سوال پر فاضل وکیل نے کرافورڈ کی تالیفورد کی تالیف

صفحہ 77

Statutory Construction Interpretation of Statutes

نیز حاجی غلام ضامن و دیگر بنام اے بی خوند کر و دیگران (پی ایل ڈی ۱۹۶۵ ڈھاکہ ۱۵۶) ایف اے عباس بنام یونین آف انڈیا و دیگر (اے آئی آر ۱۹۷۱ ایس سی ۳۸۱) اور سٹیٹ آف مدھیہ پردیش و دیگر بنام بلدیو پرشاد (اے آئی آر ۱۹۶۱ ایس سی ۲۹۳) کا حوالہ بھی دیا۔

آخر میں فاضل وکیل نے اس رائے کا حوالہ دیا جو اس قانون کے بارے میں بین الاقوامی برادری نے رپورٹوں کی صورت میں قائم کی ہے اور ماہرین قانون کی بین الاقوامی کمیٹی نے ایسی رپورٹیں ۱۹۸۷ء میں جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ۱۹۹۱ء میں پیش کی تھیں۔

اپیلانٹ کا موقف

(۱۰) فوجداری اپیلوں میں اپیل کنندگان کے فاضل وکیل مسٹر مجیب الرحمان نے ۱۹۸۴ء کے زیر بحث آرڈیننس کی دفعات کی تعبیر و تشریح اس غرض سے کی ہے کہ ان فوجداری مقدمات کو جو کلمہ طیبہ کے بیج پہننے پر درج کئے گئے تھے، اس آرڈیننس کے دائرہ اثر سے خارج کیا جائے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ یہ قانون لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کے پس منظر میں نافذ کیا گیا جو اس نے عبدالرحمان مبشر کے مقدمہ (پی ایل ڈی ۱۹۷۸ء لاہور ۱۱۳) میں سنایا تھا کلمہ طیبہ پڑھنے یا اس غرض سے کلمہ طیبہ والا بیج لگانے کو قادیانیوں کے جائز معمولات میں سے ایک سمجھا گیا۔ اور اسے زیر بحث قانون میں واضح طور پر خارج نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اس اصول کا سہارا لیا کہ بعض فوجداری قوانین میں بعض معمولات کو جرم قرار دینے کی غرض سے ان کا صریح ذکر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دیگر تمام معمولات اس سے خارج ہیں، جن کا صراحت کے ساتھ ذکر نہیں کیا گیا۔ اس اصول کی تائید میں انہوں نے Maxwell on the Interpretation of Statutes By P. St. J. Lasgan

صفحہ 78

(بارھواں ایڈیشن صفحہ ۲۹۳) کرافورڈز کی کتاب Statutory Construction (صفحہ ۴۳۴) کا حوالہ دیا۔ دوسرا اصول جس پر انہوں نے انحصار کیا‘ یہ ہے کہ آرڈیننس ایک تعزیری قانون ہے اس لئے اس کی تعبیر احتیاط سے کرنی چاہئے اور اسے دیگر قوانین سے سبقت نہیں دینی چاہئے۔ اس غرض کے لئے انہوں نے رحمت اسلم بنام تاج (پی ایل ڈی ۱۹۵۲ لاہور ۵۷۸) مظہر علی خاں‘ پرنٹر و پبلشر روزنامہ ”امروز“ بنام گورنر پنجاب (پی ایل ڈی ۱۹۵۴ لاہور ۱۴) خضر حیات و ۵ دیگران بنام کمشنر سرگودھا ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر سرگودھا (پی ایل ڈی ۱۹۶۵ لاہور ۳۴۹) قاسو و ۲ دیگران بنام سرکار (پی ایل ڈی ۱۹۶۹ لاہور ۴۸) میسرز ہر جینا اینڈ کمپنی (پاکستان) لمیٹڈ‘ کراچی بنام کمشنر سیلز ٹیکس سنٹرل‘ کراچی (۱۹۷۱ ایس سی ایم آر ۱۳۸) اور محمد علی بنام سٹیٹ بنک آف پاکستان‘ کراچی و دیگر (۱۹۷۳ ایس سی ایم آر ۱۴۰) پر انحصار کیا۔

فاضل وکیل مسٹر مجیب الرحمان نے یہ دلیل بھی پیش کی کہ لفظ Oath (حلف) کو اس کے سیاق و سباق میں لینا چاہئے۔ اور یہ اصول پیش نظر رکھنا چاہئے کہ کسی لفظ کے معنے اس کے ساتھ آنے والے الفاظ کی مدد سے معلوم کئے جاتے ہیں۔ اس وسعت کو کوئی ایسی چیز شامل کرکے جس کا ذکر اس میں موجود نہ ہو‘ پھیلایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اس کی تشریح کی اور Ejusdem Generis کے اصول (جس سے مراد یہ ہے کہ قوانین کی تشریح کرتے وقت جہاں افراد یا اشیاء کی گنتی میں عام الفاظ آتے ہوں تو خصوصی الفاظ کے ذریعے ان عام الفاظ کا وسیع تر مفہوم مراد نہ لیا جائے) کا اطلاق کرکے قانون کے دائرہ عمل کو اس چیز تک محدود کر دیا ہے جس کا ذکر صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے وہ کہتے ہیں کہ لفظ "Or" کے بعد جو کچھ مذکور ہے وہ گنتی کرنے والا‘ وضاحت کرنے والا‘ صراحت کنندہ اور جامع ہے۔ ان کے استدلال کی رو سے اس واجباتی پوزیشن کو تسلیم کرنے کے باوجود کہ وہ قادیانی تھے اور کلمہ طیبہ کے بیج لگائے ہوئے تھے کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے۔

صفحہ 79

اپنے کیس کی تائید میں دلائل کو عبوری آئین کے حکم مجریہ ۱۹۸۱ء کی دفعات تک محدود رکھا تاکہ مس بے نظیر بھٹو بنام وفاق پاکستان و دیگر (پی ایل ڈی ۱۹۸۸ ایس سی ۴۱۶ و پی ایل جے ۱۹۸۸ ایس سی ۳۰۶) کے حوالہ سے یہ ثابت کر سکیں کہ ۱۹۸۴ کے آرڈیننس کے اثرات کو چیلنج کرنے کے لئے بنیادی حقوق کا سہارا نہیں لیا جا سکتا کیونکہ یہ دستور کے آرٹیکل ۲۰ کے خلاف نہیں ہے جسے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے مس عاصمہ جیلانی بنام حکومت پنجاب و دیگر (پی ایل ڈی ۱۹۷۲ ایس سی ۱۳۹) میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا محدود حق تسلیم کرتے ہوئے اسے ایسا قانون بنانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس کے علاوہ یہ دستور کے آرٹیکل ۲۲۷ کی کلاز (۳) کے تحت قادیانیوں کے احوال شخصیہ کے خلاف ہے فاضل وکیل کے مطابق متنازعہ آرڈیننس عداوت و کینہ پر مبنی ہونے کے باعث پاکستان معرفت سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن، اسلام آباد و دیگران بنام نواب زادہ محمد عمر خاں (مرحوم) جن کی نمائندگی خواجہ محمد خاں آف ہوتی و دیگر نے کی (ایس سی ایم آر ۱۹۹۲ صفحہ ۲۴۵۰) میں عدالت ہذا کے صادر کردہ فیصلہ کے پیش نظر بھی درست قانون نہیں ہے۔

کیا جس کی بنیاد فیڈرل شریعت کورٹ اور عدالت ہذا کے شریعت اپیلٹ بینچ کے صادر کردہ فیصلوں یعنی مجیب الرحمان و ۳ دیگران بنام وفاقی حکومت پاکستان و دیگر (پی ایل ڈی ۱۹۸۵ ایف ایس سی ۸) اور کیپٹن (ریٹائرڈ) عبدالواحد و ۴ دیگران بنام وفاقی حکومت پاکستان (پی ایل ڈی ۱۹۸۸ ایس سی ۴۱۶) پر تھی۔ ان کے نزدیک متنازعہ آرڈیننس کو اس بنا پر براہ راست وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔ کہ یہ اسلامی احکام سے متصادم اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ شرعی عدالت نے اس موقف کو رد کر دیا اور البتہ سپریم کورٹ کے اپیلٹ بینچ نے اپیل کو واپس لینے کی اجازت دیتے ہوئے قرار دیا۔ کہ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ برقرار رہے گا۔ سپریم کورٹ نے مسماۃ عزیز بیگم و دیگران بنام وفاق پاکستان و دیگران (پی ایل ڈی ۱۹۹۰ ایس سی ۸۹۹) نامی مقدمہ میں جو فیصلہ سنایا، اس کا از سر نو جائزہ یا اس پر

صفحہ ۸۵

نظرثانی نہیں کر سکتا۔ اپیل کنندگان کے لئے واحد راستہ یہ رہ گیا تھا کہ شریعت بینچ جس سوال کا فیصلہ کر چکا تھا اسے از سر نو اٹھانے کی بجائے اس پر نظرثانی کی درخواست کرے۔ وفاقی حکومت کے فاضل وکیل نے ہماری توجہ سید عبدالواحد کی ایڈٹ کردہ کتاب Thoughts and Reflections of Iqbal کی طرف مبذول کرائی تاکہ یہ حقیقت اجاگر کر سکیں کہ توحید اور ختم نبوت اسلام کے دو بنیادی عقیدے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار اس بات کو جائز ٹھہراتا ہے کہ نفی کرنے والے کو اسلامی برادری سے خارج کر دیا جائے۔ اس چیز نے دستور کے آرٹیکل ۲۶۰ کی کلاز (۳) میں اتفاق رائے سے ہونیوالی ترمیم کو جواز فراہم کر دیا۔ اسی اصول پر ۱۹۸۴ء کے متنازعہ آرڈیننس کے ذریعے حفاظتی اقدامات آئینی ترمیم کا قانونی نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر وہ ترمیم باقی ہے تو اس کے نتیجہ میں کئے جانے والے جملہ اقدامات بھی بشمول زیر بحث آرڈیننس کی دفعات قائم و برقرار رہیں گے۔

بحث جاری رکھتے ہوئے فاضل وکیل نے کہا کہ دستور کے آرٹیکل ۲۰ میں استعمال کردہ ترکیب ”قانون کے تابع رہتے ہوئے“ کا اطلاق اسلامی احکام پر لازماً ہوتا ہے اس آرٹیکل میں درج بنیادی حقوق کی نگرانی اور ان کا احاطہ اسلامی احکام سے کیا جائے گا۔ مذہب کے ان پہلوؤں کی بابت احکام کا دستور کے آرٹیکل ۲۶۰ (۳) میں صراحتاً ذکر کیا گیا ہے اور انہیں مذکورہ آرٹیکل میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اپیل کنندگان جس حق کا مطالبہ کر رہے ہیں اسے اعلانیہ استعمال کرنے سے کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ ایسا کرنا اسلامی عقیدہ کے لئے ضرر رساں اور تباہ کن ہو گا۔ مزید برآں آرٹیکل ۲۰ میں جس چیز کی ضمانت دی گئی وہ آدمی کے اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر ہے کسی دوسرے کے مذہب کی تباہی اور اتلاف کی اجازت نہیں۔ اپیل کنندگان اپنے معمولات کے ذریعے جن پر وہ اب بھی عمل پیرا ہیں اور ایسا کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں بسنے والے دوسرے لوگوں کے مذہب کو خراب کر رہے ہیں اور اسے نقصان پہنچا رہے ہیں، حقیقتاً یہ لوگ اپنے مذہب کی

صفحہ 81

پیروی نہیں کرتے۔ فاضل وکیل کے نزدیک آرٹیکل ۳۱ کے تحت حکومت کا فرض ہے کہ دیگر تمام نظریات کے مقابلہ میں اسلامی نظریہ کے تحفظ اور استحکام کا اہتمام کرے۔

انہوں نے مزید دلیل پیش کی کہ مذہب کے معاملہ میں نظریات کے ٹکراؤ کو روکنے کے لئے ریاستی قوت کا استعمال کیا جا سکتا ہے اور ریاست ایسے لوگوں کو باز رکھنے کے لئے طاقت سے کام لے سکتی ہے جو اس معاملہ میں ناجائز مداخلت کریں۔ ان معمولات کے بعض حصوں پر، جن سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ ہو پابندی لگا سکتی ہے۔

وفاقی حکومت کے فاضل وکیل نے آخر میں واضح کیا کہ متنازعہ آرڈیننس سے جو کچھ منشاء ہے وہ اسلامی احکام کے عین مطابق ہے یہ آرڈیننس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے متعلق عقیدہ کا اثبات کرتا اور اسے تقویت پہنچاتا ہے۔ یہ نمازوں اور مسجدوں کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ الحاد یا مذہب سے انحراف کی روک تھام کرتا ہے اور ان لوگوں کے مذہبی جذبات کو مجروح ہونے سے بچاتا ہے جو اکثریت میں ہیں یہ سب ایسے قابل تحسین مقاصد ہیں جو اسلامی احکام کی رو سے مسلم ہیں اور اسلامی ریاست کے آئینی احکام میں انہیں جائز ٹھہرایا گیا ہے۔ اس پس منظر میں آئینی لحاظ سے نیز امن عامہ اور اخلاقی نقطہ نظر سے متنازعہ آرڈیننس کے احکام اپیل کنندگان کے حقوق کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے مذکورہ آرڈیننس کے نمایاں خدو خال اور آرٹیکل ۲۰ پر روشنی ڈالی تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ افراد کیطرف سے مذہبی رسوم کی تعمیل اور مذہبی اداروں کا تحفظ دونوں آرٹیکل ۲۰ کے دائرہ اثر میں آتے ہیں متنازعہ آرڈیننس نے اس تحفظ کو بعض تصریحات، بیانات اور ترتیب دار شمار کر کے واضح کر دیا ہے۔ اس کی صراحت کی ہے اور اسے یقینی بنایا ہے۔

(۱۳) تحفظ ختم نبوت کی نمائندگی کرتے ہوئے مسٹر اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے دلیل پیش کی کہ دستور کے آرٹیکل ۲۶۰ (۳) کی رو سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے اور ان کی طرف سے خود کو مسلمان ظاہر کرنے کی کوشش آئین کے خلاف ہے اور یہی وہ عملی فریب کاری یا تلبیس ہے جس کا تدارک کرنے کی غرض سے ۱۹۸۴ء کا مذکورہ بالا آرڈیننس نافذ کیا

PDF 85

گیا۔ آرٹیکل ۲۰ مذہب کی پیروی کا مطلق اور لامحدود حق نہیں دیتا، بلکہ حق کا یہ استعمال دوسرے احکام اور اخلاق عامہ کے تقاضوں کے تابع ہونا چاہئے۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو متنازعہ آرڈینینس اس چیز کو آگے بڑھاتا ہے جس کا اہتمام دستور کے آرٹیکل ۲۶۰ کی شق (۳) میں کیا گیا ہے اور اکثریت نیز اعلان کردہ اقلیت دونوں کے مذہب کو تسلیم اور ان کا تحفظ کرتا ہے۔ اس سیاق و سباق میں مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ کے تحت کی گئی کاروائی درست اور قانون کے مطابق تھی۔ علاوہ ازیں زیر دفعہ ۱۴۴ ت پ جاری کردہ حکم ایک ہفتہ سے بھی کم عرصہ کی مدت کے لئے تھا اور اس پر انحصار کر کے کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔

(۱۴) زیر غور آئینی درخواستوں کو ترتیب زمانی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو واضح تاثر ملتا ہے کہ بجز درخواست نمبر ۸۹۔۲۰۸۹ (ہمارے زیر غور موجودہ دیوانی اپیل ۷۴۔ ۴۳) دیگر تمام مقدمات میں جن کا تعلق ۱۹۸۴ اور اوائل ۱۹۸۵ میں رونما ہونے والے واقعات سے ہے اس وقت کسی کاروائی کو چیلنج کرنے کے لئے بنیادی حقوق کا سہارا نہیں لیا جا سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے مقدمہ (دیوانی اپیل ۸۹۔ ۱۴۹) میں متنازعہ آرڈینینس کو چیلنج کرنے کے لئے عبوری دستور کے حکم مجریہ ۱/۱۹۸۱ء کا سہارا لیا گیا۔ بہر حال فوجداری مقدمات میں سزائیں جولائی ۱۹۸۶ء میں دی جا چکی تھیں اس وقت بنیادی حقوق پورے طور پر نافذ ہو چکے تھے اور اس امر کے باوجود کہ واقعات کا تعلق ایسے دور سے تھا جب بنیادی حقوق نافذ نہیں تھے۔ ان سے مدد لی جا سکتی تھی۔ بہر صورت ان معاملات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور انہیں ان احکام کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے جو بحال شدہ دستور میں شامل ہیں نیز ان بنیادی حقوق سے مدد لینی چاہئے جو آئین میں درج ہیں)۔

(۱۵) جہاں تک دیوانی اپیل نمبر ۷۴۔ ۴۳ کا تعلق ہے (جو آئینی درخواست نمبر ۸۹۔ ۲۰۸۹ کے نتیجہ میں دائر کی گئی) یہ بڑی حد تک ایک عبوری معاملہ یعنی مورخہ ۸۹۔ ۳۔ ۲۱ کو زیر دفعہ ۱۴۴ ت پ صادر کردہ حکم کے بارے میں ہے جسے مورخہ ۸۹۔ ۳۔ ۲۵ تک موثر رہنا

صفحہ 83

تھا۔ اس کے علاوہ ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کے حکم مجریہ ۸۹۔۳۔۲۵ کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت اسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ کی ہدایت پر ۸۹۔۳۔۲۱ کے حکم میں تاحکم ثانی توسیع کی گئی تھی۔ ان دونوں احکام اور انہیں چیلنج کرنے کا ذکر سرفراز خورشید احمد و دیگر بنام حکومت پنجاب و دیگر (پی ایل ڈی ۱۹۹۳ لاہور ۱) میں موجود ہے۔ مورخہ ۸۹۔۳۔۲۱ کو جاری کئے گئے حکم کو زیر غور لانے کے بعد اس کے جواز کو بحال رکھا گیا۔ جہاں تک ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کے حکم کا تعلق ہے اسے اس توجہ کا مستحق نہیں گردانا گیا جو از روئے قانون اس پر دی جانی چاہئے تھی اسسٹنٹ کمشنر، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، ریذیڈنٹ مجسٹریٹ یا ہوم ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کو زیر دفعہ ۱۴۴ ض ف صادر شدہ حکم میں تاحکم ثانی توسیع کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ حکم کا وہ حصہ جسے ریذیڈنٹ مجسٹریٹ نے اسسٹنٹ کمشنر کے ایک حکم کا حوالہ دے کر قلمبند کیا تھا اس لائق تھا کہ اسے قانونی اختیار کے بغیر اور ازروئے قانون غیر موثر قرار دے دیا جاتا۔ سماعت کے دوران پیش ہونے والے وکلاء میں سے کسی ایک حتیٰ کہ ایڈووکیٹ جنرل نے بھی اس حکم کا دفاع نہیں کیا اس لئے زیر نظر اپیل (دیوانی اپیل نمبر ۴۱۲) اس حد تک منظور کی جاتی ہے اور اخراجات کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا جا تا۔

(۴۱) اب ان آئینی دفعات کو لیتے ہیں جو زیر غور موضوع سے متعلقہ ہیں دستور کا آرٹیکل ۲۶۰ کی شق (۳) خاصا اہمیت کے حامل ہیں وہ پوری کی پوری ذیل میں نقل کی جاتی ہے۔

۲۶۰۔ تعریفات

و سباق میں کوئی امر اس کے منافی نہ ہو‘

صفحہ 84

(الف) "مسلم" سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو اللہ تعالیٰ وحدہٗ کی توحید اور وحدت نیز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قطعی اور غیر مشروط ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کی حیثیت میں کسی ایسے شخص پر ایمان نہ رکھتا ہو نہ اسے مانتا ہو جس نے حضرت محمد (صلعم) کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو نبی ہونے کا مدعی ہو، اور

(ب) "غیر مسلم" سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلم نہ ہو اور اس میں عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ یا پارسی فرقہ سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی فرد، جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتا ہو یا کوئی بہائی اور شیڈولڈ ذاتوں میں سے کسی ذات سے تعلق رکھنے والا شخص شامل ہے"

آرٹیکل ۲۰ بھی جو کہ بنیادی حقوق کا ایک جزو اور خصوصی توجہ کا مستحق ہے ذیل میں نقل کیا جاتا ہے۔

۲۰ مذہب کی پیروی اور مذہبی اداروں کے انتظام

کی آزادی

قانون، امن عامہ اور اخلاق کے تابع رہتے ہوئے۔

(الف) ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہوگا اور

(ب) ہر مذہبی گروہ اور اس کے ہر فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے برقرار رکھنے اور ان کا انتظام کرنے کا حق ہوگا۔

آرٹیکل ۱۹۔ ۲۵ جن کا حوالہ آرٹیکل ۲۰ میں شامل بنیادی حق کے مفہوم اور اثر کو تقویت پہنچانے کے لئے دیا گیا ہے۔ اظہار خیال کی آزادی وغیرہ (آرٹیکل ۱۹) اور قانون کی نظر میں شہریوں کی مساوات (آرٹیکل ۲۵) سے تعلق رکھتے ہیں۔

(۱۷) دستور کے آرٹیکل ۲۔ اے کی بنیاد پر جسے دستور کا مستقل جزو بنا دیا گیا ہے یہ دلیل

صفحہ 85

دی گئی کہ دستور کی دیگر تمام دفعات کو اس طرح پڑھنا ان کی تعبیر و توضیح کرنا اور اطلاق کرنا چاہئے گویا وہ ضمنی طور پر اسلامی احکام کے تابع ہیں اور اسلامی احکام انہیں کنٹرول کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ بنیادی حقوق کی بھی جن کا ان اپیلوں میں سہارا لیا گیا ہے اور دوسرے جو زیر بحث نہیں ہیں، تعبیر و توضیح اس طرح کرنی چاہئے جیسے وہ اسلامی احکام کے تابع ہیں۔ مزید یہ دلیل دی گئی کہ مجیب الرحمان و 3 دیگر بنام وفاقی حکومت پاکستان و دیگر (پی ایل ڈی ۱۹۸۵ء ایف ایس سی ۸) نامی مقدمہ میں وفاقی شرعی عدالت قرار دے چکی ہے کہ اسلامی احکام ان معمولات کی واضح طور پر ممانعت کرتے ہیں جنہیں مبیّنہ طور پر اپیل گزاران نے مذہبی رسم یا معمول کے طور پر مناتے ہیں یا ادا کرتے ہیں اس دلیل سے دعویداروں کے بقول یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ متنازعہ فی قانون نہ تو کسی آئینی حکم کے منافی ہے نہ ہی ان بنیادی حقوق کے خلاف ہے جن پر ان مقدمات میں انحصار کیا گیا ہے۔

(۱۸) آرٹیکل ۲۔ اے کے نفاذ پر اور آئین کا مستقل جزو قرار دینے کا جو نتیجہ نکلا، اس پر حاکم خاں و تین دیگران بنام حکومت پاکستان معرفت سیکرٹری داخلہ و دیگران (پی ایل ڈی ۱۹۹۲ء ایس سی ۵۹۵) نامی مقدمہ میں بڑے تفصیل سے بحث ہو چکی ہے۔ دستور کی دیگر دفعات پر اس کے اثر اور کنٹرول و نگرانی کرنے والی دفعہ کے طور پر اس کی حیثیت کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر نسیم حسن شاہ (اس وقت چیف جسٹس) نے کہا تھا۔

”تعبیر کے اس اصول نے بظاہر ہائیکورٹ کے فیصلہ میں پائے جانے والے اس نقطہ نظر کو قطعاً متاثر نہیں کیا۔ کہ آرٹیکل ۲۔ اے دستور سے بالاتر ہے۔ اگر آرٹیکل اس صحیح مقام و مرتبہ کا حامل ہوتا تو اوپر نقل کردہ شق تقاضا کرتی کہ ایک بالکل نیا دستور مرتب کیا جائے اور اگر آرٹیکل ۲۔ اے کا واقعی یہ مفہوم ہوتا کہ آئین میں شامل ہونے کے بعد وہ دستور کی دیگر دفعات کے تابع ہو جائے گی تو موجودہ دستور کے اکثر آرٹیکل اس بنا پر قابل چیلنج ٹھہرتے کہ وہ قرار داد مقاصد کے مندرجات سے مطابقت نہیں رکھتے۔

پس ۱۹۷۳ء کے دستور کو زیادہ کار آمد بنانے کی بجائے آرٹیکل ۲۔ اے کی ایسی

صفحہ 86

تعبیر کرنا کہ یہ دستور کی جملہ دفعات کے تابع ہے اس کی جڑ کاٹنے کے مترادف ہے جو انجام کار اس کی تباہی کی راہ ہموار کرے گی یا کم از کم اسے موجودہ شکل میں برقرار رکھنے کا سبب بنے گی۔ میری ناچیز رائے کے مطابق قرار داد مقاصد کا کردار آرٹیکل ۲۔ اے کو آئین کا مستقل حصہ بنانے کے باوجود بنیادی طور پر اس کردار میں نہیں ڈھالا گیا جو ابتداء میں اس کے لئے رکھا گیا تھا یعنی یہ کہ اسے وہ دستور وضع کرنے والوں کے لئے مشعل راہ کا کام دے گی اور دستور کی ایسی دفعات وضع کرنے میں ان کی راہنمائی کرے گی جو دستور میں درج تصورات اور مقاصد کی مظہر ہوں بدلے ہوئے سیاق و سباق میں اس سے عملاً یہی مفہوم نکلتا ہے کہ دستور کی متنازعہ دفعات میں اسی طریقہ سے ترمیم کر کے اس کی تصحیح کی جائے گی جیسا کہ خود دستور میں ترمیم کا طریق کار درج ہے۔

جہاں تک جسٹس شفیع الرحمان کا تعلق ہے انہوں نے اس بارے میں ذیل کی رائے ظاہر کی تھی۔

”آرٹیکل ۲۔ اے کے احکام کا ہرگز منشاء نہیں تھا کہ وہ کسی مرحلے پر نافذ بالذات (جسے نافذ کرنے کے لئے کسی قانون سازی کی ضرورت نہ ہو) ہونگے یا انہیں مخالفت یا تخالف کے ٹیسٹ کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ یہ چیز عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر تھی کہ دستور کی کسی دفعہ کو کالعدم قرار دینے کے لئے آرٹیکل ۲۔ اے کا سہارا لے کر مخالفت و تضاد کے ٹیسٹ کا اطلاق کرتی“۔

بنیادی حق ۲۰ قانون کے تابع رہتے ہوئے بجائے خود حاصل ہو جاتا ہے اور ۱۹۸۴ء کا آرڈیننس آرٹیکل ۲۰ کی اغراض کے لئے قانون ہونے کی شرائط پوری کرتا ہے (متعلقہ قانون ہے) اس لئے اس کی متنازعہ فی دفعات آرٹیکل ۲۔ اے احکام کے ساتھ بظاہر بڑے اختلاف کے باوجود موثر ہیں۔ اس دلیل پر یا اسی طرح کی دلیل پر سپریم کورٹ نے بہت پہلے یعنی جنوری ۱۹۵۶ ۱۹۵ ۱۹۶۱99۵۶ء میں

صفحہ 87

Jibendra Kishore Achharyya Chowdhry and 58 ohters vs. The Province of East Pakistan and Secretary. Finance and Revenue (Reveneue) Department. Govt. of East Pakistan. (PLD 1957 SC 9) نامی مقدمہ میں بڑی شرح و بسط سے غور کر کے ذیل کی رائے ظاہر کی تھی۔

”اس میں کوئی شک نہیں کہ ایکٹ کے یہ انتہا پسندانہ احکام مذہبی اداروں کی جڑوں پر ضرب لگاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ احکام اپنا اثر رکھتے ہوئے اس بنیادی حق میں رکاوٹ بنتے ہیں جس کی ضمانت دستور کے آرٹیکل ۱۸ میں دی گئی ہے؟ ہائیکورٹ نے مسٹر بروہی کے اس جرات مندانہ اور دو ٹوک اعلان کو درست قرار دیا کہ یہ آرٹیکل ۱۸ میں جن حقوق کا حوالہ دیا گیا ہے وہ ”قانون کے تابع“ ہیں اس لئے انہیں بذریعہ قانون واپس لیا جا سکتا ہے۔ اسی دعویٰ کو ہمارے سامنے دہرایا گیا ہے لیکن اسے مسترد کرنے میں مجھے ذرہ بھر تامل نہیں بنیادی حق کا تصور ہی یہ ہے کہ اس کی ضمانت دستور میں دی جاتی ہے اس لئے اسے کسی قانون کے ذریعے چھینا نہیں جا سکتا۔ اور یہ بات صرف ٹیکنیکل لحاظ سے اصول فن کے خلاف ہے بلکہ یہ کہنا دستور وضع کرنے والوں کی طرف سے شہریوں کے ساتھ روا رکھا گیا بہت بڑا فریب ہو گا کہ فلاں حق بنیادی تو ہے تاہم اسے قانون کے ذریعے واپس لیا جا سکتا ہے۔ میں قانون وضع کرنے والوں کے ساتھ ایسی کوئی نیت منسوب کرنے سے قاصر ہوں۔ مسلمانان پاکستان کی زندگیاں قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کی تگ و دو میں وہ ممکنہ طور پر مجلس قانون ساز کو یہ اختیار دینے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے کہ وہ مسلمانوں سے اپنے مذہب کی پیروی‘ اس پر عمل اور اس کی تبلیغ کرنے نیز دینی اداروں کے قیام‘ دیکھ بھال اور انتظام و انصرام کا حق چھین لے۔ جبکہ انہوں نے ایک آزاد‘ معتدل اور جمہوری معاشرہ کے مثالی تصور کے تحت ریاست کے غیر مسلم شہریوں‘ کو ایسے ہی حق سے محروم نہیں کیا۔ اگر مسٹر بروہی کی دلیل ٹھوس اور مضبوط ہے تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے اور انہوں نے اعتراف کیا کہ واقعی یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ آج پارلیمنٹ اس پوزیشن میں ہے کہ

صفحہ 88

شہریوں کی طرف سے اسلام کی پیروی پر پابندی لگا دے کیونکہ آرٹیکل کے تحت مذہب کی پیروی اس پر عمل اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق اسی طرح قانون کے تابع ہے جیسے مذہبی ادارے قائم کرنے، ان کی دیکھ بھال اور انتظام کرنے کا حق۔ میں زیر بحث آرٹیکل سے ایسا ضابطہ پرستانہ، فنی اور تنگ و محدود مفہوم مراد لینے سے انکار کرتا ہوں کیونکہ میرے خیال میں کسی قانون کی تعبیر کا بنیادی اصول یہ ہے کہ دستور کی تعبیر فراخدلی سے شہری کے حق میں کرنی چاہئے خصوصاً ان احکام کے سلسلے میں جو ضمیر اور مذہب کی آزادی کے تحفظ سے تعلق رکھتی ہوں۔ استعمال کردہ زبان کی مطابقت میں دستوری ہدایت کی تعبیر قانون کے مقابلہ میں اور بھی زیادہ وسیع اور فراخدلانہ کرنی چاہئے کیونکہ اول الذکر صورت میں جس اختیار پر بحث کی گئی ہو فطری اور لامحدود ہے اور آخر الذکر صورت میں وہ محدود ہے اور آئینی حقوق کو محض مکارانہ زبانی تنقید کے بل پر اس دستاویز اور اصولوں کی بنیادی غرض و غایت کو پیش نظر رکھے بغیر جس پر اس کی اساس ہو، سلب کرنے یا ان سے پہلو تہی کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ اگر اس کی زبان صاف و سادہ نہ ہو یا اس میں شک و شبہ کی گنجائش ہو تو فرض کر لینا چاہئے کہ وہ دفعہ انصاف و حرمت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق بنانے کی نیت نہ تھی۔ چنانچہ مشکوک صورتوں میں اس خاص تعبیر کو ترجیح دینی چاہئے جو ان اصولوں کی خلاف ورزی نہ کرتی ہو۔ آئینی دستاویزات کی تعبیر و توضیح کے ان قواعد کی روشنی میں مجھے ایسا لگتا ہے کہ آرٹیکل ۱۸ کا مفہوم و منشا یہ ہے کہ ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے اس پر عمل پیرا ہونے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہے اور ہر مذہبی گروہ کے فرقہ کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے اور اس کی دیکھ بھال کرنے اور انتظام کرنے کا حق ہے البتہ قانون اس طریق کار کا تعین کر سکتا ہے کہ مذہب کی پیروی، اس پر عمل اور اس کی تبلیغ کیسے کی جائے گی اور مذہبی ادارے کس طرح قائم کئے جائیں گے۔ ان کی دیکھ بھال کیسے کی جائے گی اور انتظام کیسے چلایا جائے گا۔ الفاظ ”مذہبی اداروں کا قیام قانون کے تابع ہوگا۔“ کا مطلب نہیں ہو سکتا نہ ہی ہے کہ ایسے اداروں کو قانون کی مدد سے یکسر ختم کیا جا سکتا ہے۔“

صفحہ 89

(۲۰) ۱۹۸۴ء کا امتناع قادیانیت آرڈینینس، جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے صدر نے ۲۶ اپریل ۸۴ء کو نافذ کیا تھا۔ اس آرڈینینس کو وضع اور نافذ کرنے میں اس وقت کے صدر کو بنیادی حقوق یا دوسری دفعات کے باعث کسی آئینی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ اس کی اپنی مرضی سب سے بالا (سپریم) تھی۔ اس کاروائی میں پورے آرڈینینس کو چھان بین کا ہدف نہیں بنایا گیا۔ جن اجزاء کو توجہ کا مرکز بنایا گیا اور قابل چیلنج سمجھا گیا‘ وہ دفعہ ۳ سے تعلق رکھتی ہیں جس کے ذریعے مجموعہ تعزیرات پاکستان میں نئی دفعات ۲۹۸۔ بی اور ۲۹۸۔ سی کا اضافہ کیا گیا ہے جنہیں یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

۲۹۸۔ ب ۔ القاب‘ حرکات اور خطاب وغیرہ کا غلط استعمال

(۱) قادیانی یا لاہوری جماعت کا کوئی فرد (جو خود کو احمدی یا کسی دیگر نام سے موسوم کرتے ہیں) جو زبانی یا تحریری الفاظ کے ذریعے یا بیان کے ذریعے۔

(الف) کسی شخص کو ماسوائے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کے بطور امیر المومنین‘ یا خلیفۃ المسلمین‘ صحابی یا رضی اللہ عنہ کہہ کر حوالہ دے گا یا خطاب کرے گا‘

(ب) رسول اکرمؐ کی زوجہ محترمہ کے علاوہ کسی عورت کا بطور ام المومنین حوالہ دے گا یا خطاب کرے گا‘

(ج) رسول اکرمؐ کے کنبہ کے رکن کے علاوہ کسی شخص کا اہل بیت کے طور پر حوالہ دے یا خطاب کرے یا

(د) اپنی عبادت گاہ کا بطور مسجد حوالہ دے نام لے یا پکارے تو اسے دونوں اقسام میں سے کسی ایک قسم کی اتنی مدت کے لئے سزائے قید دی جائے گی‘ جس کی میعاد تین برس تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانہ کا مستوجب بھی ہوگا۔

(۲) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی شخص (جو خود کو احمدی یا کسی دیگر نام سے موسوم کرتے ہیں) زبانی یا تحریری الفاظ کے ذریعے یا ظاہری حرکات سے اپنے عقیدہ جس کے مطابق عبادت کی غرض سے بلانے کے لئے کسی طریقہ یا شکل کو بطور اذان کے حوالہ دے یا

صفحہ 90

اسی طرح اذان دے جیسے مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جس کی میعاد تین برس تک ہو سکتی ہے، نیز وہ جرمانہ کا مستوجب بھی ہو گا۔

۲۹۸۔ سی قادیانی گروپ کے لوگوں کا خود کو مسلمان کہلانا یا اپنے عقیدہ کی تبلیغ و اشاعت کرنا قادیانی یا لاہوری گروپ کا کوئی شخص (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے عقیدہ کا بطور اسلام حوالے دے یا موسوم کرے یا اپنے عقیدہ کی تبلیغ و اشاعت کرے یا دوسرے لوگوں کو اپنا عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دے الفاظ کے ذریعے خواہ وہ زبانی ہوں یا تحریری‘ یا ظاہری حرکات سے یا کسی اور طریقہ سے خواہ وہ کچھ ہی کیوں نہ ہو‘ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائے تو اسے کسی قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جس کی میعاد تین برس تک ہو سکتی ہے نیز وہ سزائے جرمانہ کا مستوجب بھی ہو گا۔"

دفعہ ۲۹۸۔ سی کو توڑ کر شقوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے تاکہ اس کا اثر‘ جائزہ اور جانچ پڑتال آسان تر ہو جائے۔

۴۱۔ زیر نظر آرڈیننس کی دفعہ ۲ میں کہا گیا ہے کہ ”اس آرڈیننس کے احکام کسی عدالت کے حکم یا فیصلہ کے باوجود موثر ہونگے۔" اس دفعہ کا پس منظر اور حوالہ عبدالرحمان مبشر و تین دیگر بنام سید امیر علی شاہ بخاری و چار دیگران (پی ایل ڈی ۱۹۷۸ء لاہور ۱۱۳) نامی مقدمہ سے وابستہ ہے جس میں قادیانی یا احمدی مذہب کے احکام کا بڑی تفصیل سے جائزہ لیا گیا تھا تاکہ اس بات کا یقین کیا جا سکے کہ دوسروں کو اس بارے میں کیا حقوق حاصل ہیں کہ وہ احمدیوں کو ان کے حقوق سے باز رکھ سکیں‘ روک سکیں اور منع کر سکیں۔ تاہم کیونکہ آرڈیننس ان پر سبقت لے گیا اور اس کا ٹیسٹ بنیادی حق یعنی آئینی دفعہ سے لیا جا سکتا ہے کسی دیوانی حق سے نہیں جو اس مقدمہ میں متنازعہ فی معاملہ تھا۔ با ایں ہمہ یہ ضرور عرض کرونگا کہ اپنے موضوع پر یہ ایک بہت ہی جامع اور بصیرت افروز فیصلہ ہے۔

صفحہ 91

(۲۲) اپیل کنندگان کے فاضل وکیل نے آرڈیننس کی رو سے مجموعہ تعزیرات پاکستان میں شامل کی گئی دفعہ ۲۹۸۔ ب کی ذیلی دفعہ (۲) اور شق (ڈی) پر اعتراض کیا ہے۔ جس کا تعلق احمدیوں کی طرف سے ان کی عبادت گاہ کا نام ”مسجد“ رکھنے اور ”اذان“ دینے سے ہے۔ تاریخی لحاظ سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ میں اسے احمدیوں کے عقیدہ یا عمل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ جس کا آغاز حالیہ برسوں میں نہیں ہوا۔ نہ ہی اس عمل کو غیر احمدیوں کے احساسات و جذبات کو مشتعل کرنے کی نیت سے اختیار کیا گیا ہے یہ ان کے عقیدہ کا ایک لازمی جزو ہے جس کا مقصد ان دونوں چیزوں کے استعمال پر لگائی گئی پابندی پر حملہ کرنا نہیں عائد کردہ پابندی کے مطابق ان دونوں باتوں کو قابل گرفت قرار دیا گیا ہے۔ جس پر ۳ برس تک قید اور جرمانہ کی سزا ہو سکتی ہے جو کہ مذہب کی پیروی کرنے اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے اور احمدیوں کی حد تک اس سے قانون کی نظر میں شہریوں کی مساوات کے بنیادی حق سے متصادم ہے کیونکہ ان کے علاوہ کسی دوسری اقلیت پر ایسی پابندیاں نہیں لگائی گئیں۔ ”اذان“ دینے یا عبادت گاہ کا نام ”مسجد“ رکھنے کو ازروئے قانون جرم قرار نہیں دیا گیا بلکہ قادیانیوں کی طرف سے ان افعال کے ارتکاب کو قابل اعتراض ٹھہرایا گیا ہے۔

(۲۳) انہوں نے مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ سی کی شق (الف) پر زبردست گرفت کرتے ہوئے کہا کہ لفظ ”Posing“ (ظاہر کرنا، پیش کرنا) نفرت انگیز طور پر مبہم اور غیر واضح ہے اور عدالت کی طرف سے نفاذ کے لائق نہیں۔ ہمیں ان کی دلیل سے اتفاق نہیں کیونکہ قانون کی زبان میں پہلے سے Cheating اور Deception Misrepresentation Fraud جیسے الفاظ موجود ہیں جو وسیع اور غیر معین مفہوم رکھتے ہیں اور Posing کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اپنے پس منظر میں یہ آئینی فیصلہ رکھتے ہوئے کہ قانون و آئین کی اغراض کے لئے احمدی غیر مسلم شمار ہونگے وہ خود کو مسلمان ظاہر کرتا ہے یا اعلانیہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا

صفحہ 92

ہے ۔ تو وہ دستور کے آرٹیکل ۲۶۰ (۳) کے آئینی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس فعل کو دستور اور بنیادی حقوق کے فریم ورک کے اندر یقیناً جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس دلیل کا اطلاق تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ سی کی شق (ب) پر اسی طرح ہوتا ہے۔

(۲۴) جہاں تک دفعہ ۲۹۸۔ سی کی شق (ای) کا تعلق ہے اس کی زد سے کسی خاص گروہ یا عام لوگوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا قابلِ تعزیر ٹھہرایا گیا ہے۔ وہ مذہبی آزادی یا آزادیِ تقریر کے بنیادی حق کے منافی نہیں ہے۔ کسی شخص کو یہ بنیادی حق حاصل نہیں نہ ہی ایسا حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے مذہب یا عقیدہ کی تبلیغ کرتے وقت دوسروں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرے‘ پس دفعہ ۲۹۸۔ سی ت پ کی شق (الف) (ب) و (د) دستور کے آرٹیکل کے ۱۹‘ ۲۰ اور ۲۶۰ (۳) میں شامل احکام کے عین مطابق ہیں۔

(۲۵) اس استدلال کی بنیاد پر جو دستور کے ان متعلقہ آرٹیکلز کی تشریح و توضیح کرتے وقت اختیار کیا گیا ہے دفعہ ۲۹۸۔ سی ت پ کی شق ہائے (ج)‘ (د) جیسا کہ انہیں پیچھے نقل کیا گیا‘ جداگانہ حیثیت میں یا دونوں مل کر اس حد تک مذہبی آزادی‘ آزادیِ تقریر اور قانون کی نظر میں برابری کے حق کے منافی ہونگی کہ وہ صرف احمدیوں اور قادیانیوں کو تحریری یا زبانی الفاظ یا نظر آنے والی حرکات کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر کرنے سے روکتی ہیں۔ کسی کو اپنے عقیدہ کی دعوت دینا جبکہ اس کے ساتھ کوئی قابلِ اعتراض فعل وابستہ نہ ہو‘ لائقِ مذمت نہیں ہو سکتا‘ بہر حال اگر شق (ج)‘ (د) میں مذکورہ افعال کے ساتھ شق (ہ) میں درج فعل کا ارتکاب کیا جائے یا اس سے شق (الف)‘ (ب) کا نتیجہ حاصل ہو تو وہ فعل ان متعلقہ شقوں کے تحت قابلِ تعزیر ہوگا۔ شق (ج) اور (د) کے تحت نہیں۔ دفعہ ۲۹۸۔ سی ت پ کی شق ہائے (ج)‘ (د) اس حد تک دستور سے ماورا‘ سمجھی جائینگی۔

(۲۶) جہاں تک فوجداری اپیل ہائے نمبر ۳۱۔ کے تا نمبر ۳۵۔ کے سے پیدا ہونے والی پانچ اپیلوں کا تعلق ہے ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں سے تین کی ابتدا نذیر احمد تونسوی کے استغاثہ سے ہوئی جس کا تعلق براہ راست تحریک ختم نبوت سے ہے جس نے اس امر کی شکایت کی

صفحہ ۵۵

کہ بعض افراد اپنی چھاتی پر کلمہ طیبہ کے بیج لگا کر بازار میں گھوم رہے تھے۔ ان کے بارے میں معلوم تھا کہ وہ قادیانی تھے۔ لیکن جب ان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے خود کو مسلمان ظاہر کیا۔ ان کی طرف سے کلمہ طیبہ کے بیج لگانے کا فعل خود کو مسلمان ظاہر کرنے کے مترادف سمجھا گیا۔ یہ اثبات جرم ناقص ہے کیونکہ ان مباحث اور اخذ کردہ نتائج کی روشنی میں جو پہلے ہی قلمبند کئے جاچکے ہیں۔ کسی احمدی کا ایسا بیج لگانا، جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہو، نہ تو مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرنے کے مترادف ہے، نہ ہی خود کو مسلمان ظاہر کرنے کے برابر۔ یہ تسلیم کیا گیا اور عام طور سے معلوم ہے کہ مسلمان لوگ اپنا مذہب ثابت کرنے کے لئے کلمہ طیبہ والے بیج نہیں لگاتے ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں آئینی لحاظ سے غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس لئے موجودہ صورتحال میں غیر مسلموں کا کلمہ طیبہ بیج لگانا خود کو مسلمان ظاہر کرنے یا مسلمان کے طور پر پیش کرنے کے مترادف نہیں۔

(۲۷) جہاں تک اس الزام کا تعلق ہے کہ سوال کرنے اور پوچھنے پر انہوں نے خود کو مسلمان بتایا، جبکہ حقیقتاً وہ قادیانی تھے، وہ بھی قانون کی نظر میں جرم نہیں ہے۔ ظاہر کرنے میں اپنی مرضی سے پیش کرنا شامل ہوتا ہے۔ کسی سوال کا جواب دیتے وقت آدمی اپنی مرضی سے جواب نہیں دے رہا ہوتا، بلکہ جیسا کہ ان مقدمات کے حالات سے ظاہر ہوگا دھمکی یا دباؤ کے تحت ایسا کرتا ہے۔ آدمی عام لوگوں سے اپنا مذہب پوشیدہ رکھ سکتا ہے تاکہ فوجداری مقدمہ بازی کی کمتر برائی قبول کرتے ہوئے جسمانی لحاظ سے خود کو محفوظ رکھ سکے یا وہ سوال سے پہلو تہی کرتے ہوئے گول مول جواب دے سکتا ہے۔ ایسا رویہ قابل ملامت نہیں خصوصاً جب سوال کرنے والے شخص کو قانون کے تحت ایسا سوال پوچھنے یا صحیح جواب اگلوانے کا کوئی اختیار نہ ہو۔ نہ ہی وہ بیان اقرار صالح کے ساتھ دیا جا رہا ہو۔

(۲۸) دوسری فوجداری اپیلوں (نمبر ۳۲۔ کے اور نمبر ۳۳۔ کے) کا کوئی تعلق ان رپورٹوں سے ہے جو کسی بھی مذہبی تنظیم سے وابستہ افراد نے درج کرائیں۔ وہ محض اس بات پر خفا ہوئے اور انہوں نے اپنی توہین محسوس کی کہ کلمہ طیبہ والے بیج ایسے لوگوں نے لگا

صفحہ 96

رکھے تھے جو احمدی یا قادیانی کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے۔ کلمہ طیبہ کے بیج لگانے والے افراد نے منہ سے الفاظ ادا کر کے یا بصورت دیگر یہ نہیں کہا کہ وہ مسلمان ہیں‘ قادیانی یا احمدی نہیں ہیں۔

کلمہ طیبہ کی نمائش یا استعمال کو جبکہ اسے صحیح طریقے سے پیش کیا جائے اور ٹھیک طور پر نیز احترام کے ساتھ اس کی نمائش کی جائے تو استعمال کنندگان کے خلاف کارروائی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر اس کے مخصوص مفہوم اور نتیجہ کی تصدیق کی غرض سے آدمی کو اس شخص کے ذہن کے اندرونی حصوں میں جھانکنا پڑے جو کلمہ طیبہ کا بیج لگائے ہوئے ہو یا اسے استعمال کرتا ہو اور عقیدہ کے مطابق اسے جرم قرار دینا چاہتا ہو ایسی صورت میں اس شخص کے لئے عقیدہ کے بارے میں نیت اور اس کے معانی نیز کلمہ طیبہ کے استعمال اور نمائش کا مقصد قانون کی حد سے باہر ہو گا۔ اور وہ براہ راست اس مذہبی آزادی میں مداخلت متصور ہو گی۔ جس کی ضمانت ازروئے قانون ہر شخص کو دی گئی ہے۔ جہاں محض عقیدہ پر جس سے ناقابل اعتراض رویہ کے باعث غفلت برتی گئی ہو‘ اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔

معاملہ پر اس طرح اعتراض کیا گویا متنازعہ آرڈیننس کے احکام کو اسلامی احکام کے ساتھ ان کی عدم مطابقت سے زیادہ بنیادی حقوق کے ساتھ عدم مطابقت کے اس موقف پر کیا جا رہا ہو اس چیز نے علماء کرام کو عدالت کی رضا کارانہ مدد کرنے پر ابھارا جس سے بحث کے دوران اور بحث کے مابعد مرحلہ پر خاصی گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔

کی جاتی ہیں۔ اپیل کنندگان کو دی گئی سزائیں ختم کی جاتی ہیں۔ مزید برآں دفعہ ۲۹۸۔ بی (ت پ) کی شق (د) اور ذیلی دفعہ (۲) کے احکام جو پیرا نمبر ۲۰ میں نقل کئے گئے ہیں۔ بنیادی حقوق ۲۰ اور ۲۵ کے خلاف قرار دیا جاتا ہے۔

PDF 98

کہ ۱۹۸۴ء کے ۲۰ ویں آرڈیننس کے بعض حصوں کو بنیادی حقوق ۲۰، ۲۱ اور ۲۵ کے منافی قرار دیا جاتا ہے۔ مقدمہ بازی کے اخراجات کی بابت کوئی حکم نہیں دیا گیا۔

دستخط

(جسٹس شفیع الرحمان)

نو۔ جسٹس عبدالقدیر چوہدری

کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم میں پورے احترام میں عرض کروں گا کہ مجھے ان کی رائے سے اتفاق نہیں ہے۔

میں انھیں دہرانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ جہاں تک موجودہ اپیل کا تعلق ہے وہ حقائق جو اس کاروائی کا سبب بنے اس طرح ہیں کہ اپیل کنندگان احمدیہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں (جنہیں قادیانی کہا جاتا ہے) جو کہ ایک غیر مسلم مذہبی فرقہ ہے۔ احمدیوں نے ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء کو دنیا بھر میں شایان شان طریقہ سے اپنے مذہب کی ۱۰۰ سالہ سالگرہ منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان تقریبات کا آغاز ۲۳ مارچ سے ہونا تھا۔

ایک حکم نافذ کیا جس کی رو سے صوبہ پنجاب میں قادیانیوں کے جشن منانے پر پابندی لگا دی گئی۔ ۲۱ مارچ ۱۹۸۹ء کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ نے بھی ایک حکم کے ذریعے ضلع بھر کے قادیانیوں کو درج ذیل سرگرمیوں سے باز رہنے کی ہدایت کی۔

PDF 99

مجروح کرنے کا سبب بنے۔“

جنہیں اعلانیہ انجام دینا تھا یا لوگوں کے رد عمل کو مدنظر رکھ کر ایسا کیا گیا تاکہ امن عامہ میں خلل نہ پڑے اور امن و امان برقرار رہے۔

لیں، بینرز اور روشنیاں اتار لیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ دیواروں پر مزید اشتہار نہیں لکھے جائیں گے۔ اس نے مزید مطلع کیا کہ ۲۱ مارچ کے حکم نامہ میں شامل پابندیوں میں تا حکم ثانی توسیع کر دی گئی ہے۔

امر کا فیصلہ صادر کرنے کی استدعا کی کہ انہیں اپنی برادری کے گزشتہ ۱۰۰ برسوں کے اہم واقعات کی یاد تازہ کرنے اور شایان شان طریقہ سے صد سالہ جشن منانے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ رٹ میں کہا گیا کہ انہوں نے ایسی تقریبات منانے کے لئے نئے لباس پہنے، اظہار تشکر کے لئے نوافل دوگانہ ادا کرنے، بچوں میں شیرینی اور غرباء و مساکین میں تقسیم کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔

صفحہ 97

میں کھانا تقسیم کرنے، جلسے کرنے اور گزشتہ ۱۰۰ سالوں میں ہونے والی عنایات پر خداوند تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ تمام سرگرمیاں ایسی تھیں جن کی ۱۹۷۳ء کے دستور میں ضمانت دی گئی ہے اور آرٹیکل ۲۰ میں شامل بنیادی حق کے تحت تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اس لئے متنازعہ حکم غیر قانونی ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ متنازعہ حکم جاری کرنے کے لئے دفعہ ۱۴۴ کے اجزائے ترکیبی میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ اپیل کنندگان میں سے ایک نے، جسے کلمہ طیبہ کا بیج لگانے اور اذان دینے پر زیر دفعہ ۲۹۸۔ سی سزا دی گئی تھی۔ علیحدہ رٹ دائر کی تھی۔ تعزیرات پاکستان میں ۲۹۸۔ بی اور ۲۹۸۔ سی کا اضافہ ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحت کیا گیا ہے۔

اپنے فیصلہ میں دوران سماعت اٹھائے گئے قانونی و دستوری سوالوں کا پوری طرح جائزہ لیا اور انتہائی متوازن فیصلہ سنایا۔ ہم اس بات کی دل سے قدر کرتے ہیں کہ فاضل جج نے اس معاملے میں ان ججوں کے صادر کردہ فیصلوں پر انحصار کیا جو یا تو سیکولر ہیں یا انسانی حقوق کے چیمپئن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ عدالت میں لایا معاملہ بلاشبہ بہت ہی حساس نوعیت کا ہے جس کا تعلق انسان کے مذہب اور عقیدہ سے ہے اور اس کی بابت بڑے غیر جانبدارانہ اور محتاط انداز فکر اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کے اعتماد کو تقویت ملے اور اس کے فیصلے کو ضروری آزادی میسر آسکے۔

آرڈیننس کے تحت صادر کردہ حکم بنیادی حق (آرٹیکل ۲۰) کے منافی ہے، جو ۱۹۷۳ء کے دستور کی رو سے ہر شہری کو حاصل ہے۔

اس عدالت کے لئے بالکل غیر اہم اور بے وقعت ہے۔

صفحہ 98

پاکستان کے احمدی شہریوں کو دستور کے آرٹیکل ۲۰ میں دی گئی ہے۔

سے مثبت قانون مراد ہے، اسلامی قانون نہیں۔

دئے گئے حقوق کے بارے میں استفادہ نہیں کیا جاسکتا۔

کے خلاف ہے۔ اس لئے وہ دستور کے آرٹیکل ۲۰ کے منافی ہے۔

اطلاق کیا گیا ہے ہر ایک کو کسی لفظ نام یا خطاب کے استعمال کا حق دیتا ہے، یا پہلے سے لگائی گئی مسلمہ پابندیاں موجود ہیں؟ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض القابات، خطابات اور عنوانات، جیسا کہ دفعہ ۲۹۸۔ بی میں مذکور ہیں، قرآن حکیم میں مخصوص شخصیات کے لئے استعمال کئے گئے ہیں۔ (دیکھئے سورۃ احزاب کی آیت نمبر ۳۲ (اہل بیت) اور آیت نمبر ۵۳ اور سورۃ توبہ کی آیت نمبر ۱۰۰ (رضی اللہ عنہ) جبکہ دوسرے القابات گزشتہ ۱۴۰۰ برسوں سے مسلمان ان شخصیات کے لئے استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ جن کے لئے وہ مخصوص ہیں۔ یہ القابات مخصوص معانی رکھتے ہیں اسلامی عقیدہ کا جزو ہیں اور اظہار عقیدت و احترام کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ کسی شخص کی طرف سے دوسروں کے لئے ایسے القابات کا اس طریقہ سے استعمال لوگوں کو یہ تاثر دینے کا موجب بن سکتا ہے کہ وہ اسلام سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہ ہو۔

صفحہ 99

جملوں کے استعمال کا تحفظ کرتے ہیں، جن کا مخصوص مفہوم و معانی ہو اور اگر وہ دوسروں کے لئے استعمال کئے جائیں تو لوگوں کو دھوکہ دینے اور گمراہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ برطانیہ کی کمپنی لاء میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ کوئی ایسا نام نہیں رکھنا چاہئے جو مغالطہ پیدا کرے یا تاج، سرکاری محکمہ یا میونسپلٹی کے ساتھ کسی نوع کا تعلق ظاہر کرے اور صرف استثنائی صورتوں میں ایسے نام استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی، جن میں ”امپیریل“ کامن ویلتھ ”نیشنل“ یا ”انٹرنیشنل“ جیسے الفاظ شامل ہوں۔ الفاظ ”کوآپریٹو“ اور ”بلڈنگ سوسائٹی“ کا استعمال بھی ممنوع ہے۔ سب سے اہم اصول یہ ہے کہ ایسے نام کا اندراج نہیں کیا جائے گا جو پہلے سے موجود کسی کمپنی کے نام سے ملتا جلتا ہو ان احکام کا بڑا سختی کے ساتھ اطلاق ہوتا رہا ہے جنہیں کسی عدالت قانون یا پارلیمنٹ میں ہرگز چیلنج نہیں کیا گیا۔

سے رجسٹرڈ نہیں کیا جائے گا جو حکومت کے نزدیک ناپسندیدہ ہو یا اس نام کی کوئی کمپنی پہلے سے رجسٹرڈ کی جا چکی ہو۔ بھارتی دستور میں اسی طرح کے بنیادی حقوق دئے گئے ہیں جیسے ہمارے آئین میں درج ہیں۔ لیکن ہم نے کسی عدالت کا ایک بھی فیصلہ ایسا نہیں دیکھا جس میں کسی پابندی کو ان حقوق کے منافی قرار دیا گیا ہو۔

نہ کوئی قانون موجود ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کسی فرم یا کمپنی کا کوئی رجسٹرڈ تجارتی نام یا نشان دوسرا ادارہ استعمال نہیں کر سکتا اور اس کی خلاف ورزی پر نہ صرف تجارتی نشان کا مالک خلاف ورزی کرنے والے سے ہرجانہ وصول کر سکتا ہے بلکہ یہ قانون کی نظر میں بھی جرم ہے۔

“J. Bollinger vs Costa Brava Wine Coy Ltd. 1959 3. W. L. R. 966”

PDF 103

میں قرار دیا گیا تھا۔

”مسئول الیہ کو ایسا عمل جاری رکھنے سے روکنے کے لئے حکم امتناعی حاصل کیا جا سکتا تھا جسے دھوکہ دہی سمجھا گیا ہو اگرچہ دھوکہ دینے کی نیت کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔“

نشانوں کی جعل سازی سے اور غلط طور پر استعمال یا جعلی تجارتی نشانات' تجارتی علامات یا ایسے مال کی فروخت پر جس پر جعلی تجارتی نشان یا علامت لگائی ہو' سزاؤں کا اہتمام کیا گیا ہے۔

ہیں جن میں دستاویزات یا تجارتی و کاروباری نشانات میں جعل سازی سے کام لیا جائے مجموعہ تعزیرات ہند کی دفعہ ۴۸۱ میں کہا گیا ہے۔

”جو کوئی کسی منقولہ جائیداد' مال یا کسی پیکج' دیگر ظرف پر جو منقولہ جائیداد یا مال پر مشتمل ہو' ایسا نشان لگائے یا کسی صندوق' پیکج' یا دیگر ظرف کو جس پر کوئی تجارتی نشان لگا ہوا ایسے طریقہ سے استعمال کرے کہ معقول طور پر اس کی بابت یہ سمجھا جائے کہ اس کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ نشان رکھنے والی جائیداد یا مال یا کوئی دوسری جائیداد یا مال جو نشان رکھنے والے کسی ظرف میں رکھا ہوا ہو' کسی شخص کی ملکیت ہے جبکہ حقیقت میں وہ اس کی ملکیت نہ ہو' تو کہا جائے گا کہ جعلی نشان ملکیت استعمال کیا گیا ہے“ یہ جرم فریب کاری اور اس کے ارتکاب پر کسی ایک قسم کی سزا اتنی مدت کے لئے دی جا سکتی ہے' جو ایک برس تک ہو سکتی ہے یا اسے جرمانہ کیا جائے گا یا وہ دونوں سزاؤں کا مستوجب ہوگا۔

کیا۔ یہاں ہم تجارتی نشانات ایکٹ ۱۹۴۰ء کی دفعہ ۶۹ کا حوالہ دے سکتے ہیں۔ جس کا اطلاق پورے برصغیر میں ہوتا رہا۔ اس کی ترمیم شدہ صورت جو اس وقت پاکستان میں نافذ العمل ہے' ذیل میں نقل کی جاتی ہے۔

صفحہ 101

۲۹۔ شاہی نشانات اور سرکاری علامات کے استعمال کی ممانعت اگر کوئی شخص جائز اختیار کے بغیر کسی تجارت‘ کاروبار‘ کسب یا پیشہ کے متعلق۔

(الف) شاہی نشانات یا حکومتی نشانات (یا ایسے نشانات جو ان سے اتنی گہری مماثلت رکھتے ہوں کہ ان کے بارے میں یہ قیاس کیا جائے کہ ان کا مقصد دھوکہ دینا ہے) اس طرح استعمال کرے کہ ان کی بابت قیاس کیا جائے کہ ان سے یہ باور کرانا مقصود ہے کہ وہ شاہی نشانات یا حکومتی علامات کو استعمال کرنے کا قانوناً مجاز ہے یا

(ب) قائد اعظم محمد علی جناح کا نام‘ لقب یا اس کی مشابہت یا اس کی مختلف صورتوں میں سے کوئی ایک یا کوئی آلہ‘ علامت یا عنوان ایسے طریقہ سے استعمال کرے کہ اس کی بابت قیاس کیا جائے کہ اس کا منشاء یہ باور کرانا ہے کہ وہ ہر میجسٹی کی حکومت‘ یا وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت یا ویسی حکومت کے کسی محکمہ میں ملازم ہے اسے مال فراہم کرتا ہے یا اس سے تعلق رکھتا ہے۔

(ج) ادارہ اقوام متحدہ یا اس کے قائم کردہ ذیلی ادارے عالمی ادارہ صحت کا نشان‘ سرکاری مہر‘ نام یا نام کا کوئی مخفف ایسے طریقہ سے استعمال کرے جس سے یہ باور کرانا مقصود ہو کہ اسے اقوام متحدہ کی صورت میں سیکرٹری جنرل نے یا عالمی ادارہ صحت کی صورت میں اس کے ڈائریکٹر جنرل نے وہ نشان مہر یا نام استعمال کرنے کا قانوناً اختیار دیا ہے۔

اسے کسی ایسے شخص کی طرف سے استغاثہ دائر کرنے پر جسے ایسے نشانات‘ آلات‘ علامات خطاب استعمال کرنے کا اختیار ہو یا رجسٹرار کی طرف سے مقدمہ دائر کرنے پر حکماً اس نام کا استعمال جاری رکھنے سے روک دیا جائے گا۔

تاہم شرط یہ ہے کہ اس دفعہ میں شامل کسی چیز سے یہ مراد نہیں لی جائے گی کہ اس سے کسی تجارتی نشان کے مالک کا حق اگر کوئی ہو متاثر ہو رہا ہے جس کے استعمال کو جاری رکھنے کا وہ قانوناً مجاز ہو۔"

۱۸۔ پس واضح ہوا کہ دوسروں کے تجارتی ناموں‘ تجارتی نشانوں‘ ملکیتی نشانات یا علامتوں کو

صفحہ 102

اس نیت سے استعمال کرنا جس کا مقصد دوسروں کو یہ باور کرانا ہو کہ وہ استعمال کنندہ کی ملکیت ہیں ایک جرم کے مترادف ہے۔ اس کے مرتکب کو نہ صرف قید اور جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے بلکہ اس سے ہرجانہ بھی وصول کیا جا سکتا ہے اور اسے باز رکھنے کے لئے امتناعی حکم جاری کیا جا سکتا ہے۔ یہ معمولی مالیت کے مال کے بارے میں واقعی سچ ہے۔ مثال کے طور پر کوکا کولا کمپنی کسی کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ اس کی مصنوعات کے چند اونس بھی اس کی اپنی بوتلوں یا دوسرے ظروف میں جن پر کوکا کولا کا نشان لگا ہوا ہو‘ فروخت کرے خواہ اس کی قیمت چند سینٹ ہی کیوں نہ ہو۔ مزید برآں یہ ایک فوجداری جرم ہے جس پر قید و جرمانہ کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس سے یہ اصول وابستہ ہیں کہ دھوکا نہ دو اور دوسروں کے حقوق ملکیت پامال نہ کرو۔

ان کی حرکت سے پہنچنے والے نقصان کی مالیت چند کوڑیوں کے برابر ہو۔ ہمارے ہاں تجارتی نام اور اس کے مماثل لقب کی حفاظت کے لئے قانون وضع کیا گیا ہے جسے کسی طبقے نے چیلنج نہیں کیا۔ بہرحال پاکستان جیسی نظریاتی ریاست میں اپیل کنندگان جو کہ غیر مسلم ہیں اپنے عقیدہ کو اسلام کے طور پر پیش کر کے دھوکہ دینا چاہتے ہیں؟ یہ بات خوش آئند اور لائق تحسین ہے کہ دنیا کے اس خطے میں عقیدہ آج بھی مسلمان کے لئے سب سے قیمتی متاع ہے وہ ایسی حکومت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا جو اسے ایسی جعل سازیوں اور دسیسہ کاریوں سے تحفظ فراہم کرنے کو تیار نہ ہو۔

کے طور پر پیش کرنے کا لائسنس دیا جائے بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ انتہائی محترم و مقدس شخصیات کے ساتھ استعمال ہونے والے القابات اور خطابات وغیرہ کو ان بدعتی غیر مسلموں کے ناموں کے ساتھ چسپاں کیا جائے جو مسلم شخصیات کے پاسنگ بھی نہیں۔ حقیقتاً مسلمان اس اقدام کو اپنی عظیم ہستیوں کی بے حرمتی اور توہین و تنقیص پر محمول

صفحہ 103

کرتے ہیں۔ پس اپیل کنندگان اور ان کی برادری کی طرف سے ممنوعہ القابات اور شعائر اسلام کے استعمال پر اصرار اس بارے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہنے دیتا کہ وہ قصداً ایسا کرنا چاہتے ہیں نہ صرف جو ان مقدس ہستیوں کی بے حرمتی کرنے بلکہ دوسروں کو دھوکا دینے کے مترادف بھی ہے۔ اگر کوئی مذہبی گروہ دھوکہ دہی و فریب کاری کو اپنا بنیادی حق سمجھ کر اس پر اصرار کرے اور اس سلسلے میں عدالتوں سے مدد کا طلبگار ہو تو اس کا خدا ہی حافظ ہے۔ امریکہ کی سپریم کورٹ Cantwell vs Connecticut (310 US 296 at 306) نامی مقدمہ میں قرار دے چکی ہے کہ۔

”مذہب یا مذہبی عقیدہ کا لبادہ کسی شخص کو عام لوگوں کو فریب دینے پر تحفظ فراہم نہیں کرتا۔“

تو وہ اپنے لئے نئے القاب وغیرہ کیوں وضع نہیں کر لیتے؟ کیا انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ دوسرے مذاہب کے شعائر، مخصوص نشانات، علامات اور اعمال پر انحصار کر کے وہ خود اپنے مذہب کی ریا کاری کا پردہ چاک کریں گے۔ اس صورت میں اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کا نیا مذہب اپنی طاقت، میرٹ اور صلاحیت کے بل پر ترقی نہیں کر سکتا یا فروغ نہیں پا سکتا بلکہ اسے جعل سازی و فریب پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے؟ آخر کار دنیا میں اور بھی بہت سے مذاہب ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں یا دوسرے لوگوں کے القابات وغیرہ پر کبھی غاصبانہ قبضہ نہیں کیا۔ بلکہ وہ اپنے عقائد کی پیروی اور اس کی تبلیغ بڑے فخر سے کرتے ہیں۔ اور اپنے ہیروز کی اپنے طریقہ سے مدح و ستائش کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون نافذ نہیں جو احمدیوں کو ان کے اپنے القابات تخلیق کرنے اور انہیں مخصوص افراد کے لئے استعمال کرنے سے روکتا ہو نیز ان کے مذہب پر کسی قسم کی دوسری پابندیاں عائد نہیں ہیں۔

صفحہ 104

سنت کے منافی نہیں ہے اس عدالت کی حد تک قانونی لحاظ سے درست نہیں ہے۔

(۳) (ب) کی رو سے غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے اور وفاقی شرعی عدالت، مجیب الرحمٰن بنام وفاقی حکومت پاکستان و دیگر (پی ایل ڈی ۱۹۸۵ء ایف ایس سی ۸) نامی مقدمہ میں اس بنا پر اس فیصلہ کی تصدیق و توثیق کر چکی ہے کہ قادیانی رسول اکرمؐ کی ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے اور قرآن حکیم کی ایک واضح اور صاف آیت کی تاویل کے ذریعے اس کی تکذیب کرتے ہیں اور اسلام میں ظلیت بروز اور حلول جیسے مکاری پر مبنی تصورات کو فروغ دیتے ہیں اس لئے انہیں حکم دیا گیا کہ وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر خود کو بطور مسلمان پیش کرنے سے باز رہیں اور مسلمانوں کے قانونی حقوق کا مطالبہ کرنے سے باز آجائیں۔

ان کے ارکان خاندان کے لئے استعمال کرتے ہیں، جو سب کے سب بہترین مسلمان تھے۔ اس لئے رسول اکرمؐ کے ساتھیوں، ازواج النبیؐ رضوان اللہ علیھم اجمعین، اور ان کے افراد خاندان کے لئے مخصوص القابات کا مرزائیوں کی طرف سے مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھیوں، اس کی بیویوں اور گھر والوں کے لئے استعمال، ان کی (صحابہؓ و اہل بیتؓ) بے حرمتی کے مترادف ہے جس سے مسلمان یہ دھوکہ کھا سکتے ہیں کہ ایسے القابات کے حامل افراد بہتر مسلمان ہیں۔ مزید عرض کیا گیا کہ اذان دینا اور اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنا اس کی یقینی علامت ہے کہ اذان دینے اور مسجد میں نماز پڑھنے والے افراد مسلمان ہیں۔ اس لئے قرار دیا گیا کہ ان القابات و اصطلاحات کے استعمال کی ممانعت اور اس نوع کی پابندیاں عائد کرنے والے آرڈیننس کے احکام کہ قادیانی خود کو بطور مسلمان پیش نہیں کر سکتے آئین کے مقاصد پر عمل درآمد کے لئے نافذ کئے گئے ہیں۔

صفحہ 105

کو انہیں اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور اگر کوئی اسلامی حکومت برسر اقتدار ہونے کے باوجود کسی غیر مسلم کو، اسلام قبول کئے بغیر ان کے استعمال کی اجازت دیتی ہے تو وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہتی ہے۔ سیکولر ریاست کی طرح ایک اسلامی ریاست بھی قانون بنانے، غیر مسلموں کو اسلامی شعائر کے استعمال اور اپنے مذہب کی تبلیغ سے باز رکھنے کا اختیار رکھتی ہے جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ایسی پابندی کا مطلب بے ایمان اور دھوکہ باز غیر مسلموں کو اسلام کی مخصوص و نمایاں صفات کے استعمال سے باز رکھنا ہے تاکہ وہ دوسرے غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب نہ کر سکیں۔ بلکہ اپنے مذہب کی آغوش میں لانے کی کوشش کریں۔ مزید قرار دیا گیا کہ اس دعویٰ پر بنیادی حقوق کی آڑ میں زور دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

۳۶۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مجیب الرحمٰن و دیگران نے وفاقی شرعی عدالت کے مذکورہ بالا حکم کو سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں آرٹیکل ۲۰۳ ایف کے تحت چیلنج کیا تھا (دیکھئے پی ایل ڈی ۱۹۸۸ء ایس سی) (شریعت اپیلیٹ بنچ) لیکن بعد میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپیل واپس لے لی گئی۔ اس اپیل میں عدالت ھٰذا نے قرار دیا تھا کہ۔

”وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ برقرار رہے گا۔“

پھر موجودہ اپیل دائر کی گئی جس کی سماعت دستور کے آرٹیکل ۱۸۵ کے تحت بصیغہ عمومی کی گئی۔

۳۷۔ باب ۳۔ اے ۲۶ مئی ۱۹۸۰ء کو دستور میں شامل کیا گیا تھا۔ اس میں ۲۰۳۔ الف سے ۲۰۳۔ ی تک آرٹیکلز شامل ہیں۔ آرٹیکل ۲۰۳۔ الف میں کہا گیا ہے کہ دستور میں شامل کسی امر کے باوجود اس باب کے احکام موثر ہونگے۔ اس کے بعد آرٹیکل ۲۰۳۔ ز میں کہا گیا ہے۔ ”آرٹیکل ۲۰۳۔ د کے احکام کے سوا کوئی عدالت یا ٹربیونل بشمول عدالت عظمیٰ و عدالت عالیہ کسی ایسے معاملہ کی نسبت کسی کاروائی پر غور نہیں کرے گی یا کسی اختیار یا اختیار سماعت کا استعمال نہیں کرے گی جو عدالت کے اختیار یا اختیار سماعت کے دائرہ میں

صفحہ 106

آتا ہو۔"

کا صادر کردہ کوئی فیصلہ، اگر اس کے خلاف سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ میں اپیل نہ کی جائے یا اپیل کرنے کی صورت میں فیصلہ کو بحال رکھا جائے، سپریم کورٹ کے لئے بھی واجب التعمیل ہوگا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وفاقی شرعی عدالت ھذا بھی نظر انداز نہیں کر سکتی۔

الفاظ میں اس مذہبی آزادی کی مکمل نفی کرتا ہے جس کی ضمانت پاکستان کے احمدی شہریوں کو دستور کے آرٹیکل ۲۰ میں دی گئی ہے؟ اس دعویٰ پر مزید غور کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ متعلقہ قانون اور حقائق کا مطالعہ کر لیا جائے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان قوانین نے اپیل کنندگان کو ان کی مذہبی آزادی سے محروم کر دیا ہے۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ ب کی عبارت جو کہ اس مقدمہ سے متعلق ہے، درج ذیل ہے۔

"۲۹۸۔ ب۔ القابات، اصطلاحات اور خطابات کا غلط استعمال

کوئی فرد جو بذریعہ تحریر یا زبانی الفاظ یا ظاہری حرکات کے ذریعے۔

المومنین، خلیفۃ المسلمین یا رضی اللہ عنہ کے طور پر حوالہ دے یا خطاب کرے۔ یا

یا اس نام سے خطاب کرے۔

اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین برس تک ہو سکتی

صفحہ 107

ہے اور وہ جرمانہ کا مستوجب بھی ہوگا۔

(۲) قادیانی یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی فرد جو تحریری یا زبانی الفاظ یا ظاہری حرکات کے ذریعے اپنے مذہب میں مروجہ عبادت کے لئے بلانے کے طریقہ یا صورت کا بطور "اذان" حوالہ دے یا اسی طرح سے اذان دے جیسے مسلمان اذان دیتے ہیں تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین برس تک ہو سکتی ہے نیز وہ جرمانہ کا مستوجب بھی ہوگا۔"

دفعہ ۲۹۸۔ ج قادیانیوں کا خود کو مسلمان کہلوانا یا قادیانیت کی تبلیغ کرنا قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی فرد جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر خود کو مسلمان ظاہر کرے‘ حوالہ دے یا موسوم کرے‘ یا اپنے عقیدہ کو اسلام کہے یا حوالہ دے یا اپنے عقیدہ کی تبلیغ اور اشاعت کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے‘ خواہ وہ تحریری و زبانی الفاظ یا ظاہری حرکات یا کسی اور طریقہ سے ایسا کام کرے‘ جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مشتعل ہوں۔ اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین برس تک ہو سکتی ہے نیز وہ جرمانہ کا مستوجب بھی ہوگا۔"

۳۰۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء کے احکام اوپر نقل کر دیئے گئے ہیں۔ جو اپیل کنندگان کی برادری کو بعض القابات‘ اصطلاحات اور خطابات وغیرہ کے استعمال سے جن کا ذکر ان احکام میں موجود ہے منع کرتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اپیل کنندگان کے فاضل وکیل مسٹر فخرالدین جی ابراہیم نے دفعہ ۲۹۸ کی ذیلی دفعہ (الف) کو چیلنج نہیں کیا۔ ہوم سیکرٹری‘ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کے احکام کی رو سے جن کا حوالہ درخواست کی ابتدا میں دیا جا چکا ہے‘ ان کی سالگرہ کی تقریبات پر صوبہ پنجاب میں پابندی لگا دی گئی تھی اور پیرا نمبر ۳ میں درج سرگرمیوں کی ممانعت کر دی گئی تھی۔ اس حکم کی غرض و غایت اس آخری ہدایت سے بھی ظاہر ہے جس میں کہا گیا تھا کہ قادیانی کسی ایسی

صفحہ 108

سرگرمی میں ملوث نہیں ہونگے جس سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے۔ محولہ بالا پابندیوں سے واضح طور پر ایسی سرگرمیاں مراد ہیں جنہیں سر عام انجام دیا جاتا تھا، نجی طور پر نہیں۔ اس کاروائی کو ایک رٹ پٹیشن کے ذریعے جس میں بنیادی حقوق کی پامالی کو بنیاد بنایا گیا تھا، ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ اس لئے ان حقائق کو جو خود اپیل کنندگان کی طرف سے بیان کئے گئے اور جن کی بنیاد پر احکام جاری کئے گئے، غیر متنازعہ سمجھا جائے گا۔

دستور کے آرٹیکل ۲۰ کی عبارت اس طرح ہے۔ ”۲۰ مذہب کی پیروی اور مذہبی اداروں کے انتظام کی آزادی۔“ قانون، امن عامہ اور اخلاق کے تابع رہتے ہوئے۔

حق ہو گا، اور

ان کا انتظام کرنے کا حق ہوگا۔“

۳۱۔ یہاں متعلقہ بنیادی حق ”مذہب کی پیروی کرنے کی آزادی“ ہے تاہم یہ آزادی قانون، امن عامہ اور اخلاق کے تابع ہے۔ دوسرے ممالک کی عدالتوں نے جہاں اسی طرح کے بنیادی حقوق دیئے گئے ہیں، قرار دیا ہے کہ یہ حق دو صورتوں پر مبنی ہے۔ ایک عقیدہ کی آزادی اور دوسرے عمل کی آزادی۔ ان میں سے بعض نے اول الذکر آزادی کو مطلق، لامحدود اور غیر مشروط قرار دیا ہے جبکہ بعض دوسروں کے خیال میں، وہ بھی قانون وغیرہ کے تابع ہے۔ بہرحال اس بات پر سب متفق ہیں کہ آخر الذکر آزادی، اپنی نوعیت کے لحاظ سے مطلق اور لامحدود نہیں ہے، ان کے بقول افراد کا رویہ قواعد و ضوابط کے تابع رکھا جاتا ہے تاکہ معاشرہ کی حفاظت کی جا سکے۔ پس اس تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے آزادی عمل کی تعریف کرنا لازمی ہے اس کے برعکس ترکیب ”قانون کے تابع رہتے ہوئے“ نہ تو مقننہ کو یہ

صفحہ 109

لامحدود اختیار دیتی ہے کہ وہ دستور میں دیئے گئے بنیادی حقوق پر ناروا پابندیاں لگائے یا انہیں سلب کر لے‘ نہ ہی انہیں معدوم سمجھ کر نظر انداز یا ترک کیا جا سکتا ہے۔ ان دونوں کے مابین ہر معاملہ کے خصوصی حالات پیش نظر رکھتے ہوئے‘ معنوی تعبیر کا سہارا لے کر توازن قائم رکھنا ضروری ہے‘ (دیکھئے) نیز (Jesse Cantwell etc. vs. State of Commecticut 310 Us. 296)

Tikamdas and Others vs. Divisional Evacue Trust

Committee Karachi PLD 1968 Kar 703 (F.B)

امریکہ کی سپریم کورٹ نے مقدمہ زیر عنوان

Regnolds vs. United States (98 US. 145)

میں قرار دیا تھا کہ۔

”کانگریس کو محض رائے کی بنیاد پر قانون سازی کے پورے اختیار سے محروم کر دیا گیا‘ تاہم کاروائی کرنے کے لئے کھلا چھوڑ دیا گیا جو معاشرتی فرائض کی خلاف ورزی اور اچھے امن و امان میں خرابی پیدا کرنے کے سلسلہ میں درکار ہوتی۔ قوانین‘ حکومت کے لئے کاروائی کرنے کی غرض سے وضع کئے جاتے ہیں‘ اور جہاں وہ محض مذہبی عقائد اور آراء‘ میں مداخلت نہیں کر سکتے‘ اعمال میں یقینا کر سکتے ہیں۔“

”مذکورہ بالا نقطۂ نظر اپنانے کے بعد سپریم کورٹ نے مارمنوں کے فرقہ میں مروج تعدد ازدواج پر اس بنا پر پابندی لگانے میں حق بجانب سمجھا کہ ان پر یہ فرض مذہب کی طرف سے عائد ہوتا تھا وہ کوئی مذہبی عقیدہ یا رائے نہیں تھی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ بالا پیرے کے آخر حصہ میں ظاہر کی گئی رائے امریکیوں سے مخصوص ہے جہاں مقتدر اعلیٰ عوام ہیں‘ اللہ تعالیٰ نہیں۔

(اے آئی آر ۱۹۵۴ء ایس سی ۲۸۲ صفحہ ۲۹۱) میں مذکورہ بالا نقطۂ نظر سے ملتے جلتے موقف کو

صفحہ 110

قبول کر لیا ہوتا کہ آسٹریلیا کے چیف جسٹس لیتھم نے ایک فیصلہ میں کہا تھا۔ ”مذہب کی حفاظت کے لئے بنایا گیا حکم ایسا نہیں کہ اس کی تعبیر میں اسے مطلق حفاظت سمجھا جاتا اور دستور کی دیگر دفعات سے الگ کر کے جداگانہ طور پر اس کا اطلاق کیا جاتا۔ ان مراعات کا ریاست کے اس اختیار سے سمجھوتا ہونا چاہیے کہ وہ امن، سلامتی اور منظم بود و ماند کو یقینی بنانے کے لئے قوت فرما روائی کو استعمال کر سکے۔ جس کے بغیر شہری آزادیوں کی دستوری ضمانت ایک مذاق بن کے رہ جائے گی۔“

۳۲۔ فیصلہ کے صفحہ ۷۲ پر ذیل کی رائے کا اظہار کیا گیا ”ریاست ہائے متحدہ میں اس دفعہ سے جو مسائل پیدا ہوئے انہیں بڑی حد تک یہ قرار دے کر حل کر دیا گیا کہ مذہب کی حفاظت کے لئے بنائی گئی دفعہ مطلق نہیں ہے، جس کی تعبیر اور اطلاق کو دستور کی دوسری دفعات سے الگ تھلگ کیا جا سکے۔ سپریم کورٹ نے تقریر کی آزادی، پریس کی آزادی اور مذہبی آزادی کے متعلق دستور میں دی گئی ضمانت کے حوالہ سے Jones vs. Ohelika (1942) 316 u.s. 584 میں کہا تھا ”یہ حقوق مطلق نہیں ہیں۔ جن کو ان دوسری پسندیدہ مراعات سے جدا کر کے استعمال کیا جا سکے، جن کی حفاظت کا اہتمام اسی دستاویز میں کیا گیا ہے۔“ مزید قرار دیا گیا ”ان مراعات کو ریاست کے اس حق سے سمجھوتہ کر لینا چاہئے کہ وہ منظم معاشرت کو یقینی بنانے کے لئے اقتدار اعلیٰ کو استعمال کر سکتی ہے جس کے بغیر شہری آزادیوں کی دستوری ضمانت ایک مذاق بن کر رہ جائے گی۔“

صفحہ ۱۳۰ پر مزید کہا گیا تھا کہ

”اس ریاست میں آنے کے بعد ہمیشہ کے لئے تمام انسانوں کو کسی امتیاز یا ترجیح کے بغیر مذہب کی پیروی اور عبادت کرنے کی آزادی حاصل ہوگی۔ تاہم شرط یہ ہے کہ بذریعہ ہٰذا ضمیر کی جو آزادی عطا کی گئی ہے۔ اس سے یہ مفہوم مراد نہیں لیا جائے گا کہ اسے عیاشی پر مبنی افعال کا بہانہ بنا لیا جائے یا ایسے کاموں کا جواز بنا لیا جائے جو ریاست کے امن یا سلامتی سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔“

صفحہ 111

اس سے آگے صفحہ ۱۴۱ پر کہا گیا ہے۔

”جان سٹورٹ مل نے اپنی کتاب ”Essay on Liberty“ میں آزادی سے متعلق افکار و نظریات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے اور اس موضوع پر اس کی بحث کو اصول کے وقیع اور وزن رکھنے والے اظہار کے طور پر بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ مصنف کو وہ امتیاز کرنا پڑا جو ”Liberty“ اور ”Licence“ کے الفاظ کے مابین اکثر کیا جاتا ہے لیکن عملی طور پر اس کا اطلاق کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ آزادی سے یہ مراد نہیں کہ خود کو ہر وہ کام کرنے کی کھلی چھٹی دے جو اس کے دل میں آئے، کیونکہ ایسی آزادی کے معنی ہونگے کہ امن و امان غارت ہو جائے گا اور آخر کار خود آزادی کا نام نشان مٹ جائے گا۔ اس نے آزادی کی حدود کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ”وہ واحد غرض جس کے لئے انسانوں کو انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر اپنا حق استعمال کرتے ہوئے کسی فرد کے عمل کی آزادی میں مداخلت کرنے کی اجازت دی گئی ہے، وہ ذاتی تحفظ ہے۔“

اسی صفحہ پر مزید کہا گیا ہے کہ۔

”ایسے معمولات اور طرز عمل پر پابندی لگانا ریاست کی طرف سے مذہبی آزادی قائم رکھنے کے عین مطابق ہے جو سول حکومت کے قیام سے مطابقت نہ رکھتے ہوں یا معاشرہ کے مسلسل وجود کے لئے ضرر رساں ہوں۔“

۳۵۔ مذکورہ بالا رائے کا اظہار دستور کی دفعہ ۱۱۶ کی تعبیر و توضیح کرتے ہوئے کیا گیا تھا جو کہ اس طرح ہے۔ ”کامن ویلتھ (ریاست ہائے آسٹریلیا کی مشترکہ حکومت) کسی مذہب کو سرکاری طور پر منوانے یا کسی مذہبی رسم کو نافذ کرنے یا کسی مذہب پر آزادی سے عمل کی ممانعت کرنے کے لئے کوئی قانون نہیں بنائے گی اور حکومت کے تحت کسی عہدہ یا عوامی ٹرسٹ کے لئے کوئی مذہبی ٹیسٹ نہیں لیا جائے گا جو صلاحیت کے طور پر مطلوب ہو۔“

صفحہ ۱۱۷

۳۶۔ محولہ بالا مقدمہ کے صفحہ ۵۵۱ پر حسب ذیل متعلقہ رائے ملتی ہے۔

”آئینی دفعہ غیر سماجی افعال یا ایسے افعال کا تدارک نہیں کرتی جو خود معاشرہ کے لئے تباہ کن ہوں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دستور میں جس مذہبی آزادی و حریت کی ضمانت دی گئی ہے اور تحفظ کا اہتمام کیا گیا ہے وہ بعض پابندیوں کے تابع ہے۔ جس کی تشریح کرنا عدالت ہائے قانون کا کام اور فرض ہے اور وہ پابندیاں ایسی ہوتی ہیں جو معاشرہ کے تحفظ کے لئے ضروری اور معاشرتی امن کے مفاد میں ہوں۔

مذہب کی تعریف

۳۷۔ پس یہ جاننا لازم ہے کہ مذہب کیا ہے؟ وہ آزادی کیا ہے جو حکومت کے قانون میں کاروائی کرنے کے اختیار کو محدود کرتی ہے۔ اہل علم نے اس لفظ کے مختلف ماخذ بتائے ہیں۔ مذہب‘ نظریات‘ اعمال اور اداروں کا مرکب و مجموعہ ہوتا ہے۔ مذہب خدا پر‘ عالم روحانیت پر اور ایسی دنیا یا دنیاؤں پر ایمان کے اظہار و اعلان سے عبارت ہے جو ہماری دنیا سے ماورا ہے۔ آسان مفہوم میں مذہب کا لفظ کسی کے عقیدہ کے بارے میں بولا جاتا ہے جیسے عیسائیوں کا مذہب عیسائیت‘ مسلمانوں کا مذہب اسلام‘ یہودیوں کا مذہب یہودیت اور کیتھولک کا مذہب وغیرہ۔ امریکی سپریم کورٹ نے Daries vs Beason1890(133) us. 333 نامی مقدمہ میں مذہب کی حسب ذیل تعریف کی ہے۔ ”مذہب کی اصطلاح کسی آدمی کے اپنے خالق کے بارے میں نظریات اور اس کی ذات کے احترام و عقیدت اور اس کی مرضی و منشاء کی اطاعت اور کردار کے حوالہ سے عائد ہونے والے فرائض سے تعلق رکھتی ہے۔ اسے اکثر کسی خاص فرقہ کے مسلک یا عبادت کے طریقہ سے گڈ مڈ کر دیا جاتا ہے۔ تاہم یہ آخرالذکر سے مختلف چیز ہے۔“

۳۸۔ اس اصطلاح کی پاکستان کے دستور میں اس طرح کی

صفحہ 113

”صراحتاً کوئی تعریف نہیں دی گئی تاہم آرٹیکل ۲۶۰ (۳) کی شق (الف) اور (ب) میں ”مسلم“ اور ”غیر مسلم“ کی جو تعریف کی گئی ہے‘ اس سے مذہب کی معانی اخذ کئے جاسکتے ہیں۔ مذکورہ بالا آرٹیکل کی متعلقہ شقیں اس طرح ہیں۔

مسلم اور غیر مسلم کی تعریف

۲۶۰ تعریفات

(۳) دستور اور تمام وضع شدہ قوانین اور دیگر قانونی دستاویزات میں تاوقتیکہ موضوع یا سیاق و سباق میں کوئی امر اس کے منافی نہ ہو۔

(الف) ”مسلم“ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت و توحید اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مکمل اور غیر مشروط ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر ایمان نہ رکھتا ہو‘ نہ اسے مانتا ہو‘ جس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد نبی کے کسی بھی مفہوم یا تشریح کی رو سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے‘۔ اور

(ب) ”غیر مسلم“ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلمان نہ ہو‘ اور اس میں عیسائی ہندو‘ سکھ‘ بدھ یا پارسی فرقہ سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص قادیانی یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی فرد یا کوئی بہائی اور شیڈولڈ کاسٹس میں سے کسی ذات سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔

۳۹۔ اصطلاح ”مذہب“ کی تعریف بھارت‘ امریکہ یا آسٹریلیا میں سے کسی ملک کے دستور میں درج نہیں۔ تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے مقدمہ زیر عنوان

Commissioner H. R. R. E Madras VS Lakshmindra

میں اس اصطلاح کی ----------- Swammian (AIR 1945,S.C.282)

صفحہ 114

تشریح یوں کی ہے۔ ”مذہب افراد یا برادریوں کے عقیدہ سے تعلق رکھنے والا معاملہ ہے اس کا خدا پرستی سے متعلق ہونا ضروری نہیں۔ ہندوستان میں ایسے معروف مذاہب موجود ہیں مثلاً بدھ مت اور جین مت‘ جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مذہب کی بنیاد بلاشبہ عقائد یا نظریات کے نظام پر ہوتی ہے جنہیں اس مذہب کے ماننے والے اپنی روحانی اصطلاح میں ممد و معاون سمجھتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ مذہب کی حقیقت عقیدہ کے بارے میں نظریہ کے علاوہ کچھ نہیں۔ کوئی مذہب اپنے پیروکاروں کے لئے نہ صرف ضابطہ اخلاق طے کر سکتا ہے بلکہ یہ ایسی رسوم و رواج تقاریب اور عبادت و پرستش کے طریقوں کا تعین بھی کر سکتا ہے جنہیں مذہب کے لازمی اجزاء سمجھا جاتا ہے۔ یہ رسوم اور صورتیں بڑھ کر خوراک اور لباس سے متعلق معاملات کا بھی احاطہ کر سکتی ہیں۔

۴۰۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ کے پیرا نمبر ۱۹ میں کہا۔ ”پہلی بات یہ ہے کہ کسی مذہب کے لازمی ارکان کیا ہوتے ہیں‘ اس کا تعین بنیادی طور پر خود اس مذہب کے نظریات کے حوالہ سے کیا جاتا ہے‘ اگر ہندو مذہب کے کسی فرقہ کے احکام میں کہا گیا ہو کہ بت کے سامنے خوراک کا نذرانہ دن کے فلاں اوقات میں پیش کیا جائے گا۔ ایسی وقفہ داری رسوم ایک خاص طریقہ سے اور سال کے ایک خاص دن منانی چاہئیں۔ یا یہ کہ مقدس کتابوں کو ہر روز پڑھنا چاہئے یا مقدس آگ کو چڑھاوا پیش کرنا ان تمام معمولات کو مذہب کا جزو سمجھا جائے گا اور محض یہ حقیقت کہ ان پر رقم خرچ ہوتی ہے۔ ان کو لادینیت پر مبنی نہیں بنا سکتی“۔

۴۱۔ عدالت نے اس بات کا تذکرہ کرنے کے بعد کہ امریکہ اور آسٹریلیا کی عدالتیں کسی بھی قسم کی پابندی سے پاک‘ غیر مبہم الفاظ میں مذہب کی آزادی کا اعلان کر چکی ہیں درج ذیل رائے کا اظہار کیا۔

”آرٹیکل ۲۵ اور ۲۶ کی زبان بڑی حد تک صاف ہے جس سے ہم‘ نیز امریکی اسناد کی مدد

صفحہ 115

کے بغیر یہ طے کر سکتے ہیں کہ کون سے امور مذہب کے دائرہ اثر میں آتے ہیں اور کون سے نہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں، ہمارے دستور میں مذہب کی آزادی محض مذہبی عقائد تک محدود نہیں، بلکہ یہ مذہبی معمولات پر بھی ان پابندیوں کے تابع رہتے ہوئے جو خود دستور نے عائد کی ہیں حاوی ہے۔"

۴۲۔ اس کے بعد عدالت نے اس سوال کو لیا کہ آیا بعض معاملات مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں اس نتیجہ پر پہنچی۔ "یہ معاملات یقیناً مذہب سے متعلق نہیں ہیں اور ان احکام کے جواز کی بابت کیا گیا اعتراض سراسر بے بنیاد لگتا ہے۔" اسی عدالت نے درگاہ کمیٹی بنام حسین علی (اے آئی آر ۱۹۶۱ ایس سی ۱۴۰۲) میں جو فیصلہ صادر کیا نمبر ۳۳ میں جسٹس گجندر گڈکر نے خبردار کرتے ہوئے لکھا۔ "اس نکتہ پر بحث کرتے ہوئے ایک انتباہی نوٹ لکھنا اور یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ زیر بحث معمولات کو مذہب کا ایک جزو قرار دینے کے لئے یہ ضروری ہے کہ مذکورہ مذہب میں انہیں اس مذہب کے لازمی ارکان اور اجزائے تکمیلی سمجھا جاتا ہو، ورنہ لادینی معمولات کو بھی جو کہ مذہب کا لازمی اور تکمیلی جزو نہیں، مذہبی روپ دیا جا سکتا ہے اور یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ انہیں مذہبی معمولات سمجھا جائے۔ اسی طرح ایسے معمولات بھی ہیں چاہے وہ مذہبی ہوں، جو محض وہمی عقائد کی بنیاد پر وجود میں آئے ہیں اور اس مفہوم میں وہ غیر متعلقہ اور غیر ضروری ہیں تاوقتیکہ ایسے معمولات کسی مذہب کا لازمی اور تکمیلی جزو ثابت نہ کئے جائیں ان کے تحفظ کے بارے میں دعویٰ کا احتیاط سے جائزہ لینا ہوگا۔ بالفاظ دگر یہ تحفظ ایسے مذہبی معمولات تک محدود ہونا چاہئے جو اسی مذہب کے لازمی اور تکمیلی اجزاء ہوں۔ دوسروں کے لئے نہیں۔"

۴۳۔ اسی عدالت نے جگدیش آنند بنام پولیس کمشنر کلکتہ (اے آئی آر ۱۹۸۴ ایس سی ۵۱) میں قرار دیا ہے۔ "عدالتوں کو یہ طے کرنے کا اختیار حاصل ہے کہ آیا کسی خاص رسم یا رواج کو کسی مخصوص مذہب کے احکام کی رو سے اس کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے

صفحہ 116

یا نہیں۔ "جیسا کہ ہم دیگر ملکوں کی لادینی عدالتوں کے فیصلوں میں دیکھ چکے ہیں کہ اگرچہ مذہبی معمولات کو "مذہبی آزادی" کے پردے میں تحفظ فراہم کیا جاتا ہے تاہم اس کے تحت صرف ایسے معمولات آتے ہیں جو مذہب کے لازمی اور تکمیلی ارکان ہوں۔ مزید قرار دیا گیا ہے کہ اس امر کا تعین کرنا عدالتوں کا کام ہے کہ آیا کوئی خاص عمل مذہب کا لازمی اور تکمیلی جزو ہے یا نہیں؟ معاملہ کی اس نوعیت کے پیش نظر ان معمولات کو اس طرح عدالت کے اطمینان کے لئے مستند مذہبی حوالوں سے اسی طرح بیان کرنا اور ثابت کرنا ہوگا۔

۴۴۔ اس لئے اپیل کنندگان کو پہلے ان معمولات کی تفصیل بتانی چاہئے تھی جو وہ صد سالہ جشن کے موقع پر ادا کرنا چاہتے تھے، پھر یہ ثابت کرنا چاہئے تھا کہ وہ معمولات ان کے مذہب کے ناگزیر اور تکمیلی اجزاء ہیں۔ اس کے بعد ہی عدالت ایسا اعلان کر سکتی تھی کہ ان معمولات کی ادائیگی میں متنازعہ حکم یا انتظامی احکام کے تحت غیر قانونی رکاوٹ ڈالی گئی تھی۔ اپیل کنندگان کو یہ وضاحت کرنی چاہئے تھی کہ القابات وغیرہ اور مختلف تقریبات جو وہ منانا چاہتے تھے ان کے مذہب کا جزو لاینفک ہیں اور یہ کہ انہیں اعلانیہ یا لوگوں کی نظروں کے سامنے سڑکوں اور گلیوں میں عام مقامات پر ہی منایا جاسکتا ہے؟

۴۵۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر متنازعہ قانون قانون سازی کا جائز جزو ہے اور مسئول الیہان نے متنازعہ کار روائی امن و امان کے مفاد میں کی تھی تو جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ وہ اقدامات بدنیتی سے کئے گئے یا حقیقی جواز کے بغیر تھے، بنیادی حقوق کی پامالی کا سوال پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس نکتے پر لاگو ہونے والے قانون کی عدالتوں میں خاصی تشریح ہو چکی ہے۔ اس لئے ان کا حوالہ دینا فائدہ سے خالی نہیں ہوگا۔

۴۶۔ چیف جسٹس لا تھم (Latham) نے جیہوواہ (Jehovah) کے گواہوں سے متعلق مقدمہ بعنوان "Adelaid vs. Common wealth" میں جس کا حوالہ

صفحہ 117

پہلے دیا جا چکا ہے آسٹریلوی دستور کی دفعہ ۱۱۶ کے مندرجات کو زیر بحث لاتے ہوئے، جو دیگر باتوں کے علاوہ حکومت کو ”کسی مذہب پر آزادانہ عمل کرنے“ سے روکنے کی ممانعت کرتے ہیں درج ذیل رائے کا اظہار کیا تھا۔

کرتی ہے (صفحہ ۱۲۴) گو یہ درست ہے کہ اس بات کا تعین کرتے وقت کہ مذہب کیا ہے اور کیا نہیں ہے لفظ مذہب پر لازماً غور کرنا چاہئے۔

نہیں ہے۔ آزادی کے تصور کو محض ایک خاص سیاق و سباق میں پرکھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر آزادنہ تقریر کے یہ معنی نہیں کہ پر ہجوم جگہ پر ”آگ آگ“ کا شور مچا کر لوگوں میں اضطراب پھیلا دیا جائے۔ اسی طرح جیسا کہ مختلف امریکی مقدمات سے ظاہر ہے کہ مذہب پر آزادانہ عمل افراد کو ان کے مذہبی عقائد کی بنا پر اختیار نہیں دیتا کہ وہ ملکی قانون کی دھجیاں بکھیر دیں۔

قانون مذہبی آزادی میں ناجائز طور پر خلل ڈالتا ہے اس طرح مذہب کی حفاظت کے لئے معاشرہ کو انتشار میں مبتلا کئے بغیر عملی اقدام کی منظوری دینا ممکن ہو جاتا ہے۔“

معنوں میں حکومت سے عدم تعاون کے لئے جو اصول بیان کیا، وہ معاشرہ کے دفاع کے لئے ضرر رساں تھا اور دفعہ ۱۱۶ نے اسے تحفظ فراہم نہیں کیا۔ پس وہاں جو اصول وضع کیا گیا وہ یہ ہے کہ سول فرائض عائد کرنے والے قانون کو مذہبی آزادی میں خلل ڈالنے والا قانون نہیں کہا جا سکتا۔

صفحہ 118

Willis Cox vs. New Hampshire (1941 - 312 US. 569) میں اس اصول کو اس طرح بیان کیا ہے۔ ”کوئی قانون جو عام گلیوں کو پریڈ یا جلوس کے لئے استعمال کرنے والے افراد سے تقاضا کرتا ہو کہ اس کے لئے خصوصی اجازت حاصل کریں‘ کسی مذہبی عبادت یا مذہب پر عمل میں کوئی خلاف دستور مداخلت تصور نہیں ہو گا‘ جب اس کا اطلاق ایسے گروہ پر کیا جائے جو مذہبی عقائد پر مشتمل پلے کارڈز اور نشانات اٹھائے ایک قطار میں فٹ پاتھ پر مارچ کر رہا ہو۔“

۴۹۔ ہم نے مذکورہ بالا نقطہ نظر کی حمایت میں ایسے ممالک کا حوالہ دیا جو لادین اور معتدل مزاج ہونے کے مدعی ہیں مذہبی یا کٹر مذہب پرست نہیں ہیں۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے محمد حنیف قریشی و دیگران بنام ریاست بہار اے آئی آر ۱۹۵۸ ایس سی ۷۳۱) نامی مقدمہ میں انہی اصولوں کا اطلاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ بعض قوانین سے جن کے تحت بعض جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی لگائی گئی ہے مسلمانوں کو آرٹیکل ۲۵ کے تحت حاصل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی کیونکہ اس دعویٰ کی تائید میں کوئی مواد موجود نہیں کہ بقرہ عید کے روز مسلمانوں کے لئے گائے کی قربانی کرنا لازمی ہے یا مسلمانوں کے لئے اپنے عقیدہ و نظریہ حیات کے اظہار کے لئے ایسا کرنا اسلام کی رو سے کوئی پسندیدہ بات ہے۔

۵۰۔ اسی عدالت نے مقدمہ زیر عنوان Acharya Jagdish Waranand Avadhutta, vs. Commissioner of Police, Calcutta. (اے آئی آر ۱۹۸۴ ایس سی ۵۱) میں قرار دیا تھا کہ۔ ”اگر اس بات کو درست تسلیم کر لیا جائے کہ ”تنڈاوا“ (Tandava) رقص کو آنند مارگ کے ہر پیرو کار کے لئے مذہبی حق کے طور پر مقرر کیا گیا ہے‘ تب بھی اس کا یہ لازمی نتیجہ نہیں نکلتا کہ تنڈاوا رقص کو عام پبلک میں پیش کرنا مذہبی رسم کا حصہ ہے‘ پس یہ دعویٰ کہ درخواست

صفحہ ۱۱۹

گزار کو دستور کے آرٹیکل ۲۵ یا ۲۶ کے مفہوم میں عام گلیوں اور عام مقامات پر ایسا رقص کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے، قابل استرداد ہے۔"

۵۱۔ امریکی عدالتوں نے اسی طرح کی صورتوں کی بابت قرار دیا کہ اس سے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کے آئینی حق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ جناب شریف الدین پیر زادہ نے اپنی تصنیف۔

"Fundamental Rights and Constitutional Remedies in Pakistan"

(اشاعت ۱۹۶۶) صفحہ ۴۱۴، ۴۱۵ اور ۴۷۱ پر لکھا ہے۔

(۱) مقدمہ بعنوان

Hamilton Vs. Board of Regents of University of California. (1934, 293. US 245)

میں طلباء نے سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی کہ یونیورسٹی کی طرف سے لازمی فوجی تربیت کے بارے میں بنایا گیا قانون ان کے مذہبی عقیدہ کے منافی ہے تو عدالت نے ان کے دعوی کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ "حکومت پر عوام کی طرف سے یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے اختیارات کے اندر رہتے ہوئے امن و امان قائم رکھنے اور قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کی غرض سے اپنے لئے معقول قوت بہم پہنچائے۔ اسی طرح ہر شہری پر اس کی صلاحیت کے مطابق یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ تمام دشمنوں کے مقابلہ میں حکومت کی مدد اور اس کا دفاع کرے۔"

(۲) بنیادی حقوق کے عذر کو مقدمہ زیر عنوان

Common Wealth Vs. Plainted (1889) 148 mass. 375

میں مساچو سٹس کی سپریم کورٹ نے ایسے معاملہ میں مسترد کر دیا تھا کہ جس میں گلیوں کو مذہبی اجتماعات کے لئے استعمال کرنے یا ڈرم بجانے پر قانوناً پابندی تھی، حالانکہ

صفحہ 120

وہ بعض تنظیموں مثلاً مکتی فوج کی مذہبی رسم کا ایک حصہ ہوتا ہے۔

پہنچائے خواہ وہ والدین کے مذہبی عقائد سے مطابقت نہ رکھتا ہو، تب بھی اس پر عمل کرنا ہوگا۔

حقیقتاً چرچ آف انگلینڈ کی خصوصی حیثیت کا خیال رکھنا لازمی ہوگا" (دیکھئے)

United Kingdom by G. W Keeton and D. Hoyd, P.67,68

ہوتا کہ مذہبی آزادی کو امن و امان یا امن عامہ اور سلامتی میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ موقف اس اصول پر مبنی ہے کہ ریاست کسی کو اپنے حقوق سے استفادہ کرتے وقت دوسروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی یا سلب کرنے کی اجازت نہیں دے گی؛ اور یہ کہ کسی کو اس امر کی چھٹی نہیں دی جاسکتی کہ کسی دوسرے طبقہ کے مذہب کی توہین کرے، نقصان پہنچائے یا بے حرمتی کرے یا ان کے مذہبی احساسات کو مشتعل کرے، یہاں تک کہ امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو جائے۔ اسلئے جب کہیں اور جہاں کہیں ریاست یہ باور کرنے کی وجوہ رکھتی ہو کہ امن و امان خراب ہو جائے گا یا دوسروں کے مذہبی جذبات مجروح ہونگے۔ جس سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے، تو وہ مجاز ہے کہ ایسے کم سے کم انسدادی اقدامات بروئے کار لائے جو قیام امن و امان کے لئے ضروری ہوں۔

کی تخلیق اس کی نظریاتی سرحدوں پر ایک سنگین اور منظم حملہ ہے، وہ اس تنظیم کو اپنی سلامتی و یک جہتی کے لئے ایک مستقل خطرہ سمجھتے ہیں کیونکہ مسلم معاشرہ کی سماجی و سیاسی تنظیم کی بنیاد اس کے مذہب پر ہے ایسی صورتحال میں احمدیوں کی طرف سے

صفحہ 121

مذکورہ بالا القابات و اصطلاحات کا ایسے طریقہ سے استعمال جسے مسلمان اپنی مقدس ہستیوں کی توہین اور بے حرمتی پر محمول کرتے ہیں‘ وہ امت کے اتحاد و یک جہتی اور قومی امن و سلامتی کے لئے خطرہ ہے جو امن و امان کی صورتحال کا سبب بھی بن سکتا ہے جیسا کہ ماضی میں بار ہا ہو چکا ہے۔

احمدیت اقبال کی نظر میں

اس وقت شکوک و شبہات کا شکار ہو گیا جب نئی نبوت کا دعوی جو بانی اسلام کی نبوت سے بھی بڑھ کر ہے‘ قطعی طور پر پیش کیا گیا اور مسلم دنیا کو ”کافر“ قرار دیا گیا۔ بعد ازاں میرا شک اس وقت عملی بغاوت میں بدل گیا جب میں نے خود اپنے کانوں سے تحریک کے ایک پیرو کار کو پیغمبر اسلام کا ذکر توہین آمیز لہجے میں کرتے سنا۔ (دیکھئے) Thoughts and Reflection of Iqbal 1973 Edition, P - 297

برادری ہونے کا اعلان کر رکھا ہے‘ انہوں نے خود کو اصل امت مسلمہ سے اس بنا پر الگ کر لیا ہے اور مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں کہ مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی‘ بانی جماعت احمدیہ کو پیغمبر اور مسیح موعود کیوں نہیں مانتے۔ یہ عقیدہ خود مرزا صاحب کی ہدایات کے تحت اپنایا گیا ہے جو برملا کہتا تھا کہ ۔

ماسوائے ان کے جو کسبیوں اور طوائفوں کی اولاد ہیں اور جن کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے (آئینہ کمالات صفحہ نمبر ۵۴۷۔ ۵۴۸) ایک ”نبی“ نے جو زبان استعمال کی ہے اور مخاطبوں پر اس کا جو اثر ہو سکتا ہے وہ قابل غور ہے۔

صفحہ ۱۲۲

ہیں لیکن ہم صرف ایک اور مثال دینے پر اکتفا کرتے ہیں ”میرے دشمن خنزیر اور ان کی بیویاں کتیوں سے بدتر ہیں“ (نجم الہدی از غلام احمد صفحہ نمبر ۱۰)

(ج) مرزا غلام احمد کے حوالہ سے اس کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے (جو کہ اس کا بیٹا بھی ہے) بحوالہ ”الفضل“ مورخہ ۳۰ جولائی ۱۹۳۱ء طلباء سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کی مرکزی جماعت کے ساتھ علاقہ و رشتہ کے بارے میں انہیں اس طرح نصیحت کی کہ

”مرزا غلام احمد صاحب کے زمانہ سے یہ بحث چلی آ رہی ہے کہ آیا احمدیوں کے لئے دینیات کی تعلیم کے مستقل مراکز ہونے چاہئیں یا نہیں۔ ایک نقطہ نظر اس کے خلاف تھا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ احمدیوں اور مسلمانوں کے مابین چند اختلافات حضرت صاحب نے دور کر دیئے تھے اور انہوں نے صرف معقولات کی تعلیم دی ہے۔ جہاں تک دوسرے علوم کا تعلق ہے ان کی تعلیم دوسرے اسکولوں میں حاصل کی جا سکتی ہے دوسرا نقطہ نظر اس کی حمایت میں تھا۔ پھر خود مرزا صاحب نے اس کی اس طرح وضاحت کی کہ یہ کہنا درست نہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ احمدیوں کا اختلاف محض حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت اور بعض دوسرے مسائل پر ہے، ان کے مطابق یہ اختلافات وجود باری تعالیٰ رسول اکرم کی ذات قرآن، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے بارے میں بھی ہیں۔ پھر انہوں نے ہر ایک نکتہ کو تفصیل سے بیان کیا۔“

(د) ”اللہ کی طرف سے مجھ پر وحی آئی ہے کہ ”جو کوئی تیری پیروی نہیں کرتا، تیرے ساتھ وفا داری کا عہد نہیں کرتا، بلکہ الٹا تیری مخالفت کرتا ہے وہ اللہ کا باغی ہے اور اسے دوزخ کی آگ میں ڈالا جائے گا۔“ (اشتہار معیار الاخبار منجانب مرزا غلام احمد قادیانی صفحہ نمبر ۸)

(ہ) اپنے عقیدت مندوں سے خطاب کرتے ہوئے مرزا صاحب نے کہا۔ ”یاد رکھو اللہ نے مجھے مطلع کیا ہے کہ تمہیں ایسے لوگوں کی امامت میں نماز نہیں پڑھنی چاہئے جو

صفحہ 123

تمہارا انکار کرتے ہیں۔ تم پر ایمان لاتے ہیں یا تمہیں مسترد کرتے ہیں بلکہ نماز کے وقت تمہارا امام تم میں سے ہونا چاہئے۔" (اربعین جلد نمبر 3 صفحہ 28‘ حاشیہ)

کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ اسی کی طرف سے مبعوث کیا گیا ہوں‘ میں اللہ کا فرستادہ ہوں۔" اس کی طرف سے آیا ہوں اور جو کچھ میں کہتا ہوں تمہیں اس پر ایمان لانا ہوگا ورنہ تم جہنم میں جاؤ گے۔" (انجام آتھم از مرزا غلام احمد قادیانی صفحہ 62)

کر لیا گیا ہے۔" (نزول المسیح‘ قادیان 1909ء)

کیونکہ میرے متعلق ان کی بشارت موجود ہے۔" (حقیقت الوحی 1907ء صفحہ 163۔ 164)

نماز پڑھنے میں کیا حرج ہے جو انہیں کافر نہیں سمجھتے تو انہوں نے اپنے طویل جواب کے آخر میں کہا۔ ”ایسے اماموں کی طرف سے ان لوگوں کی بابت طویل اشتہار شائع ہونا چاہئے جو مجھے کافر کہتے ہیں‘ تب میں انہیں مسلمان سمجھوں گا تاکہ تم ان کی امامت میں نماز پڑھ سکو۔ (بدر 24‘ مئی 1908ء جیسا کہ اسے مجموعہ فتاوی احمدیہ جلد اول ص 30 پر نقل کیا گیا ہے)

کافر ہے‘ (دیکھئے مرزا غلام احمد کا خط ڈاکٹر عبدالرحیم خاں پٹیالوی کے نام ‘ حقیقت الوحی صفحہ 163)

صاحب کی پیش گوئیاں غلط تھیں اور یہ کہ عیسائی مناظرہ جیت گئے اور دیانتداری و انصاف سے کام لیتے ہوئے میری فتح قبول کرنے کی بجائے الزام لگائے‘ اسے حرام کی

صفحہ 124

اولاد ماننا کہ حلال کی اولاد کے طور پر مشہور ہونے کا شوقین سمجھا جائے گا۔ (دیکھئے انوار الاسلام از مرزا غلام احمد صفحہ ۳۰)

صاحب کے اپنے قلم سے ہیں بلکہ اس کے نام نہاد خلفاء اور پیروکاروں نے بھی لکھی ہیں جو کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت کرتی ہیں کہ وہ مذہبی لحاظ سے اور معاشرتی طور پر مسلمانوں سے ایک الگ اور مختلف برادری ہیں۔

ظفر اللہ خان کا قائد اعظم کے جنازے میں شرکت سے انکار

قائد اعظم کی نماز جنازہ میں شامل ہونے اور انہیں آخری خراج عقیدت پیش کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ اسے غیر مسلم ریاست کا مسلمان وزیر خارجہ یا مسلم ریاست کا غیر مسلم وزیر خارجہ سمجھ لیا جائے۔ (روز نامہ زمیندار لاہور مورخہ ۸ فروری ۱۹۵۰ء)

کرنے اور ان کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع کر دیا تھا۔ اس کے بقول مسلمانوں کی بڑی جماعت کو زیادہ سے زیادہ نصاریٰ کی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔

بیان بھی قابل غور ہے۔ ”یہ کہ ایک سفارتکار کی معرفت میں نے انگریز افسر سے درخواست کی کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے جداگانہ حقوق کا تعین کیا جائے۔ افسر نے جواب دیا کہ وہ اقلیتیں ہیں جبکہ تم ایک مذہبی فرقہ ہو، اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی مذہبی برادریاں ہیں، اگر انہیں جداگانہ حقوق دیئے جا سکتے ہیں تو ہمیں کیوں نہیں۔“ (روزنامہ ”الفضل“ قادیان، ۱۳ نومبر ۱۹۴۶ء)

صفحہ 125

اسلام اور احمدیت میں بعد

۶۰۔ پس یہ ظاہر ہے کہ خود احمدیوں کے نزدیک دونوں فرقے یعنی احمدی اور بڑی جماعت بیک وقت مسلمان نہیں ہو سکتے۔ اگر ایک فرقہ مسلمان ہے تو دوسرا یقیناً اسلام سے خارج ہے۔ مزید برآں احمدیوں نے ہمیشہ یہ چاہا کہ انہیں جداگانہ وجود سمجھا جائے اور دوسروں سے علیحدہ اور مختلف حیثیت رکھنے کا دعویٰ کرتے آئے ہیں۔ مسلمانوں کی بڑی جماعت نے کبھی احمدیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پسند نہیں کیا۔ جیسا کہ پہلے نقل کیا گیا احمدی علیحدہ اور جدا گانہ حقوق کے ساتھ اقلیت شمار ہونے کو بھی تیار تھے۔ ایک مذہبی برادری کے طور پر وہ یا تو مسلمانوں کے مخالف ہیں اور ہمیشہ کوشاں رہے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہوں۔ یا حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے پوری امت مسلمہ کو کافر قرار دیا تاہم ایک اقلیت ہونے کی بنا پر وہ اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکے۔ دوسری طرف مسلمانوں کی بڑی جماعت نے جو مرزائیوں کے مذہب کے خلاف اس کے آغاز ہی سے مہم چلا رہی تھی ستمبر ۱۹۷۴ء میں ایک فیصلہ کیا اور انہیں آئین کے تحت غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ یہ کوئی اچانک اور نیا غیر مطلوب فیصلہ نہیں تھا بلکہ ان کی خواہش کے مطابق اقدام تھا۔ صرف سمتیں بدل گئی تھیں اس لئے احمدی قانون اور دستور کی رو سے غیر مسلم ہیں اور ان کی پسند کے مطابق مسلمانوں کے برعکس اقلیت ہیں۔ نتیجتاً انہیں ایسے القابات و اصطلاحات اور شعائر اسلامی کو استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں جو مسلمانوں کے لئے مخصوص ہیں اور انہیں بجا طور پر ان کے استعمال سے روکا گیا ہے۔

۶۱۔ جیسا کہ اوپر دکھایا گیا‘ پاکستان کے دستور میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے بلاشبہ وہ ایک غیر اہم اقلیت ہیں اور مسلمانوں نے ان کے عقائد کی بنا پر انہیں ملحد سمجھتے ہوئے غیر مسلم قرار دیا ہے۔ جو کچھ اوپر کہا گیا اس سے قطع نظر‘ عدالتوں نے اکثریت سے اختلاف کرنے والوں کو نکال باہر کرنے کا اختیار مذہب یا مذہبی فرقہ کی

صفحہ 126

اکثریت کے حق میں تسلیم کیا ہے اور بھارت کی سپریم کورٹ نے ایسی کاروائی کو روکنے والے قانون کو دستور کے منافی قرار دیا تھا۔ اس سلسلے میں سیدنا طاہر سیف الدین بنام ریاست بمبئی وغیرہ (اے آئی آر ۱۹۶۲ ایس سی ۸۵۳) کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جس کے پیرا نمبر ۴۰ میں یہ بھی قرار دیا گیا تھا ”یہ چیز صاف نظر آرہی ہے کہ جہاں کسی کو دین سے خارج کرنے کی بنیاد مذہبی وجوہات پر ہو۔ وہاں کٹر مذہبی عقیدہ یا نظریہ میں ایسی لغزش مذہبی قانون کے تحت (جو مذہبی قانون کے تحت الحاد، عقیدہ سے انحراف یا فرقہ بندی کی طرح ہو) یا کسی معمول کو ترک کرنا جسے داؤدی بوہرہ فرقے والے اپنے مذہب کا لازمی جزو سمجھتے ہوں، کسی کو مذہب سے خارج کرنے کی بابت اس کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ مذہب کی قوت کو برقرار رکھنے کے لئے مذہب کا لازماً جزو ہوتا ہے اس سے لازماً یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مذہبی وجوہات پر کسی کو مذہب سے خارج کرنے کے اختیار کا استعمال مذہبی معاملہ میں سربراہ کے ذریعے اس کمیونٹی کی انتظامیہ کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔ متنازعہ ایکٹ کے ذریعے یہ کاروائی کی گئی ہے اور برادری کے سربراہ کی حیثیت سے ”داعی“ کا یہ اختیار چھین لیا ہے کہ وہ مذہبی اسباب کی بنا پر بھی کسی کو اپنے مذہب سے خارج نہیں کر سکتا۔ پس یہ واضح طور پر داؤدی بوہرہ برادری کے اس حق میں مداخلت کرتا ہے جو اسے دستور کے آرٹیکل ۲۶ کی شق (ب) کے تحت حاصل ہے“

پیرا ۴۱۔ یہ کہ کسی برادری سے اس کے کسی رکن کا اخراج بلاشبہ اس کے بہت سے شہری حقوق پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس مخصوص مذہبی گروہ کے قبضہ میں بہت سی جائیداد و املاک ہیں اور انہیں خارج کرنے کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ برادری سے خارج کیا گیا شخص ایسی جائیداد کے حقوق ملکیت سے محروم ہو جائے گا۔ شاید ایسا سوچنا کسی کو اچھا نہ لگے کہ کمیونٹی کے سربراہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس طریقہ سے کسی رکن کے شہری حقوق چھین لے۔ تاہم آرٹیکل ۲۶ (ب) کے تحت دیا گیا حق شہری حقوق کی

صفحہ 127

حفاظت کے تابع نہیں ہے‘ آرٹیکل ۲۶ میں لگائی گئی صریح پابندی یہ ہے کہ یہ حق آرٹیکل کی متعدد شقوں کی رو سے امن عامہ‘ اخلاق اور صحت کے تابع رہتے ہوئے قائم رہے گا۔ عدالت ھذا نے 1958 S C M R, 895 (اے آئی آر ۱۹۵۸ ایس سی ۲۵۵ میں قرار دیا تھا کہ آرٹیکل ۲۶ (ب) کے تحت دیا گیا آرٹیکل ۲۵ کی شق ۲ کے بھی تابع ہے۔

آئی آر ۱۹۴۸ پی سی ۶۶) میں کسی مذہب کے بڑے حصہ کا ایسا ہی اختیار تسلیم کیا ہے‘ مذکورہ بالا فیصلہ کے پیرا نمبر ۵۳ میں ججوں نے جو رائے ظاہر کی ہے اسے یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ ”اگلا سوال یہ ہے آیا داعی مطلق کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی کو مرتد قرار دے کر اپنے فرقہ میں سے خارج کر دے۔

بلاشبہ محمدؐ اور اماموں نے ایسا کیا تھا۔ ایسے اختیار کے استعمال کی وجوہات اور اس کے اثرات پر بعد میں غور کیا جائے گا۔ سردست اتنا کہنا ضروری ہے کہ اس برادری میں وقتاً فوقتاً داعی کی طرف سے اس اختیار کے استعمال کی مثالیں موجود ہیں۔

معاشرتی لحاظ سے ان کی جدا گانہ حیثیت ہو‘ عام حالات میں انہیں اپنے مقصد کے حاصل ہونے پر خوشی کا اظہار کرنا چاہئے تھا خصوصاً جب خود آئین نے ان کے لئے اس کی ضمانت دی‘ ان کی مایوسی و برہمی کا سبب یہ ہے کہ وہ باقی ماندہ مسلمانوں کو کافر قرار دے کر دائرہ اسلام سے خارج کرنا اور اسلام کا دم چھلا اپنے ساتھ لگائے رکھنا چاہتے تھے۔ پس انہیں شکوہ ہے کہ انہیں امت اسلامیہ سے غیر منصفانہ طور پر خارج کیا گیا اور غیر مسلم قرار دیا گیا ہے ان کی برہمی اور آزردگی کی وجہ یہ لگتی ہے کہ اب وہ اسلام سے بے خبر اور غیر مسلموں کو اپنے مذہب میں شامل کرنے کی اسکیم پر کامیابی سے عمل نہیں کر سکتے۔ شاید یہی وجہ ہو کہ وہ اسلامی القابات و اصطلاحات کو غصب کرنا

صفحہ 128

چاہتے ہیں، کلمہ کا اظہار کرتے اور اذان دے کر خود کو مسلمان ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور اسلام کے پردہ میں قادیانیت کی تبلیغ و اشاعت کرنے کے خواہش مند ہیں، ایسا لگتا ہے کہ غیر مسلم کا لیبل ان کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ہے۔

۶۴۔ احمدیوں کی اس خواہش نے کہ مسلمانوں کی جملہ قابل احترام شعائر پر کسی نہ کسی طرح قبضہ کر لیا جائے، اس لئے جنم لیا کہ وہ اپنے مذہب کو مشکوک انداز اور پیغام کی صورت میں اسلام کے طور پر پھیلانا چاہتے تھے اس مقصد کے لئے ان کی طرف سے امتناع قادیانیت آرڈیننس کی مخالفت و مزاحمت بالکل قابل فہم بات ہے، بہرحال آئین بھی ان کے راستہ میں حائل ہے کیونکہ آرڈیننس تو محض دستور کے منشاء اور مقصد کو پورا کرتا ہے۔ اندریں حالات کسی قادیانی کے بارے میں پہلے اس کے عقیدہ کی ملامت کئے بغیر، یہ دعویٰ کرنا، اسے غور و خوض کے لیئے پیش کرنا، ظاہر کرنا یا قرار دینا کہ وہ مسلمان ہے نہ صرف آرڈیننس کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ دستور کے بھی منافی ہے اس طرح کے واقعات ماضی میں رونما ہو چکے ہیں اور آئندہ بھی ہو سکتے ہیں اور وہ ماضی کی طرح امن و امان کی سنگین صورتحال پیدا کرنے کا موجب بن سکتے ہیں۔

۶۵۔ یہ دلیل کہ متنازعہ آرڈیننس مبہم اور غیر منصفانہ حد تک سخت ہے، خود اپیل کنندگان نے اس کی تائید نہیں کی۔ یہاں بر محل حوالہ کے لئے تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ سی کو ایک بار پھر نقل کرنا یقیناً کار آمد ہو گا جو کہ اس طرح ہے۔ ”۲۹۸۔ سی قادیانی جماعت کے افراد کا خود کو مسلمان کہنا اپنے عقیدہ کی تبلیغ و اشاعت کرنا۔ قادیانی یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلاواسطہ یا بالواسطہ طور پر خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے عقیدہ کا بطور اسلام حوالہ دے یا موسوم کرے یا اپنے عقیدہ کی تبلیغ و اشاعت کرے یا دوسرے لوگوں کو اپنا عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دے۔ تحریری یا زبانی الفاظ، ظاہری حرکت یا کسی اور طریقہ سے، خواہ وہ کوئی بھی ہو، مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائے تو اسے کسی

صفحہ 129

ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین برس تک ہو سکتی ہیں‘ نیز وہ سزائے جرمانہ کا مستوجب بھی ہوگا۔

٢٦۔ اعتراض بطور خاص اس جملے پر کیا گیا ہے ”خود کو مسلمان ظاہر کرے اور اپنے عقیدہ کو اسلام کے طور پر پیش کرے۔“ بلیک کی قانونی لغت Blacks Law Dictionary کے مطابق لفظ ”Vague“ کے معنی ہیں۔ غیر واضح‘ غیر یقینی‘ سمجھ میں نہ آنے والا‘ مبہم“ اس اصول کے مطابق کوئی قانون جو کسی شخص کو واضح طور سے یہ نہیں بتاتا کہ کس چیز کا حکم دیا گیا ہے اور کس بات سے منع کیا گیا ہے وہ دستور کے خلاف اور مناسب طریق عمل کے منافی ہے۔ اپیل کنندگان نے بھارتی عدالتوں کے صادر کردہ نیز غلام ضمیر بنام اے۔ بی خوند کر (پی ایل ڈی ۱۹۶۵ ایس سی ۱۵۶) میں عدالت ہذا کے جس فیصلہ کا حوالہ دیا ہے۔ وہ اس معاملہ میں متعلقہ نہیں ہیں دلیل دی گئی کہ جملہ ”جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر خود کو مسلمان ظاہر کرے‘ موسوم کرے یا اپنے عقیدہ کا بطور اسلام حوالہ دے“ بہت ہی وسیع اور پھیلا ہوا ہے۔ انتہائی غیر واضح اور سیماب وش ہے‘ بہت ہی غیر معین اور غیر یقینی ہے جسے ہر کوئی سمجھ نہیں سکتا اور پہلے سے یہ پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ مقننہ نے کون سے کاموں سے منع کیا ہے اس لئے اسے قانون نہیں کہا جا سکتا‘ پس اسے منسوخ کیا جائے۔

۲۷۔ اس عملی مقولہ کے بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے کہ اگر کوئی قانون مقننہ کے لئے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کر جائے یا کوئی قانون کسی بنیادی حق میں مداخلت کرے‘ یا کوئی قانون خصوصاً فوجداری قانون‘ مبہم‘ غیر یقینی یا بہت وسیع ہو‘ تو اسے اعتراض کی حد تک باطل قرار دے کر منسوخ کر دینا چاہیے۔ بہرحال اپیل کنندگان نے یہ ظاہر یا واضح نہیں کیا کہ ابہام کہاں ہے۔ اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے یہ ظاہر کرنا ان پر لازم تھا کہ جرم کے اجزائے ترکیبی‘ جیسا کہ وہ قانون میں درج ہیں‘ اس قدر غیر واضح ہیں کہ معصومانہ اور مجرمانہ طرز عمل کے مابین کوئی خط

صفحہ 130

امتیاز نہیں کھینچا جا سکتا یا اس قانون کی من مانی اور امتیازی تنفیذ کے نمایاں خطرات موجود ہیں‘ یا یہ کہ وہ حقیقت میں اتنا مبہم ہے کہ عام آدمی اس کے مفہوم کے بارے میں تو قیاس آرائی کر سکتا ہے‘ اس کے اطلاق کی بابت اختلاف رائے ظاہر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

۶۸۔ ڈکشنری کے مطابق ”Pose“ کے معنی ہیں ”دعویٰ کرنا“ یا کوئی تجویز غور و خوض کے لئے پیش کرنا‘ موجودہ معاملہ میں قانون کے مخاطب قادیانی یا لاہوری گروپ کے ارکان ہیں۔ وہ عقائد کے حوالہ سے امت مسلمہ کے بڑے حصہ کے ساتھ سنگین اختلافات و تنازعات کا طویل پس منظر رکھتے ہیں۔ ان متنازعہ عقائد پر ہم آگے چل کر بحث کریں گے۔ مجیب الرحمٰن بنام وفاقی حکومت پاکستان و دیگران (پی ایل ڈی ۱۹۸۵ ایف ایس سی ۸) نامی مقدمہ میں نیز قادیانیوں کے صد سالہ جشن پر پابندی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ میں کس قدر تفصیل سے بحث ہو چکی ہے۔ احمدیوں کا دعویٰ ہے کہ مرزا صاحب خود نبی تھے اور جو ان کی نبوت پر ایمان نہیں رکھتے وہ کافر ہیں۔ احمدی مرزا صاحب کے متعلقین کے لئے مذکورہ بالا اسماء و القابات وغیرہ استعمال کا حق محض اس تعلق کی بنا پر جتاتے ہیں اور اسے اسی روشنی میں دیکھنا چاہئے۔ پس یہ شہادتوں کے ذریعے ثابت کیا جانے والا سوال ہے کہ ملزمان نے فی الواقع ایسے القابات و اصطلاحات کا استعمال کیا یا اس کا رویہ اور طرزِ عمل اس کے مترادف تھا جو کچھ قانون کا منشاء ہے‘ اپیل کنندگان بلاشبہ احمدی ہیں اور از روئے آئین غیر مسلم ہیں۔ پس ان کی طرف سے شعائرِ اسلامی کا استعمال نہ تو خود کو مسلمان ظاہر کرنے یا دوسروں کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے نہ توہین و تضحیک کرنے کے برابر۔۔۔۔۔۔ بہر صورت اس حقیقت کو واضح طور پر ثابت کیا جا سکتا ہے کہ وہ خود کو اسی طرح پیش کر رہے تھے۔ پس انہوں نے اس مسئلہ کو نہیں لیا محض ایسے تنازعہ کو اٹھا رہے ہیں جو ٹھوس بنیاد نہیں رکھتا۔ یہ بات بلاشک و شبہ کہی جا سکتی ہے کہ قانون میں سرے سے کوئی ابہام

صفحہ 131

نہیں ہے۔

۶۹۔ مجموعہ تعزیرات پاکستان جو کہ بڑی حد تک تعزیرات ہند سے ملتا جلتا ہے کہ دفعات ۱۴۰‘ ۱۷۰‘ ۱۷۱‘ ۱۷۱ ڈی‘ ۲۰۵‘ ۲۲۹ اور ۴۱۶ میں جرم تلبیس شخصی (Personation) کا ذکر ہے۔ یہ جرم کسی قدر زیر بحث جرم کے مماثل ہوتا ہے‘ اور اس کی عبارت پر اس مقدمہ میں اٹھائے گئے اعتراض کو پرکھنے کے لئے غور کیا جا سکتا ہے دفعہ ۱۴۰ میں کہا گیا ہے۔ ”جو کوئی حکومت پاکستان کی بری‘ بحری یا فضائی میں سپاہی‘ ملاح یا ہوا باز نہ ہو‘ ایسا لباس پہنے یا ایسا نشان لگائے پھرے جسے کوئی سپاہی‘ ملاح یا ہوا باز پہنتا ہو یا لگاتا ہو تو اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سزا دی جائے گی‘ اسی طرح دفعہ ۱۷۱۔ (ڈی) کے تحت رائے دہی کے لئے پرچی مانگنے یا کسی دوسرے زندہ یا مردہ شخص کے نام پر ووٹ ڈالنے کو بھی جرم ٹھہرایا گیا ہے۔ ایسی صورت میں محض اس طرز عمل کو شہادت مانا جائے گا۔ دفعہ ۲۰۵ یکسر مختلف معاملہ سے بحث کرتی ہے‘ اس میں کہا گیا ہے۔

”جو کوئی جھوٹ موٹ کسی اور شخص کا روپ دھار کر اس اختیار کردہ کردار میں کوئی اقبال کرے یا بیان دے اسے کوئی ایک سزا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دی جائے گی۔ دفعہ ۲۲۹ میں جیوری کے کسی رکن یا اسیسر کی تلبیس شخصی کرنے کا جرم بتایا گیا ہے سب سے آخر میں دفعہ ۴۱۶ آتی ہے جس کا تعلق تلبیس شخصی کے ذریعے دغا دینے سے ہے‘ اس میں کسی اور شخص کا روپ دھار کر یا اپنے آپ کو کسی دوسرے کا قائم مقام یا اس جیسا ظاہر کر کے دھوکہ دینا شامل ہے۔

۷۰۔ تعزیرات ہند کے نفاذ ۱۸۶۰ء سے لیکر اب تک کسی نے مذکورہ بالا دفعات میں سے کسی کے خلاف اس طرح کا اعتراض نہیں کیا‘ جیسا کہ اپیل کنندگان نے کیا ہے‘ اگرچہ یہ دفعات اسی کے موضوع سے معاملہ کرتی ہیں۔ تاہم ایسی درستی کا دعویٰ نہیں کر سکتیں جیسا کہ اپیل کنندگان مطالبہ کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ کسی عدالت نے بھی کبھی کسی

صفحہ 132

ابہام یا نقص کی نشان دہی نہیں کی جس سے ان کے انتظام میں کوئی خلل پڑتا ہو‘ پس مذکورہ بالا جملہ میں ایسی کوئی خامی نہیں ہے۔

۷۱۔ اس کے برعکس متنازعہ آرڈیننس میں وہ اصل القاب‘ خطابات اور اصطلاحیں دی گئی ہیں جن کا تحفظ کرنا مقصود ہے نیز اس سلسلے میں عائد کردہ پابندیاں بیان کی گئی ہیں۔ آرڈیننس میں یہ صراحت بھی کر دی گئی ہے کہ انہیں صرف ایسے افراد یا مواقع کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے جن کے لئے وہ مقرر و مخصوص ہیں کسی اور کے لئے نہیں۔ احمدی ان شعائر کی بے حرمتی کرتے رہے ہیں اور اپنے قائدین و معمولات پر ان کا اطلاق کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ دھوکا دے سکیں کہ وہ بھی اسی مقام و مرتبہ اور صلاحیت کے حامل ہیں۔ احمدیوں کے اس عمل نے نہ صرف معصوم‘ سادہ اور بے خبر لوگوں کو گمراہ کیا بلکہ پوری مدت کے دوران امن و امان کا مسئلہ پیدا کرتے رہے۔ اس لئے قانون سازی ضروری تھی جو کسی بھی لحاظ سے احمدیوں کی مذہبی آزادی میں دخل نہیں دیتی۔ یہ قانون محض انہیں ایسے القابات و خطابات استعمال کرنے سے روکتا ہے جن پر ان کا کسی قسم کا حق نہیں‘ از روئے قانون ان پر نئے القابات و اصطلاحات وضع کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔

۷۲۔ ہم اہل اعتراض کو بعض غیر ملکی فیصلوں کی روشنی میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ امریکہ سپریم کورٹ نے مقدمہ زیر عنوان Lanzetta vs. New Jersey (306.us.451.1939) میں قرار دیا تھا کہ ابہام ایک آئینی خرابی ہے جو تصوراتی طور پر ضرورت سے زیادہ طویل اور مختلف ہے۔ یہ کہ ضرورت سے زیادہ وسیع قانون میں نہ تو وضاحت کی کمی ہوتی ہے نہ ہی درستی کی اور مبہم قانون کو اس سرگرمی تک پہنچنے کی ضرورت نہیں‘ جسے پہلی ترمیم کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا ہے‘ صحیح راہ عمل کے لحاظ سے اگر کوئی قانون اس قدر مبہم اور غیر واضح ہو کہ۔ ”عام سمجھ بوجھ کے حامل افراد اس کے مفہوم و معنی کے بارے میں تو قیاس آرائی کر

صفحہ 133

'نہیں، لیکن اس کے اطلاق کی بابت متفق نہ ہوں تو وہ قانون باطل اور بے اثر ہے'

دیکھئے

Connally VS. Generaql Construction Coy

(1926) 269. US . 385 - 391

۷۳۔ ایسا ابہام اس وقت واقع ہوتا ہے جب کوئی مقننہ قانون سے تحفظ کے اخراج کو ایسے غیر واضح الفاظ میں بیان کرتی ہے کہ گناہ سے پاک اور گناہ آلود طرز عمل کے مابین خط امتیاز کھینچنا قیاس و اندازہ کا کام بن جاتا ہے اور یہ کہ قانون نافذ کرنے والے حکام کی صوابدید کو اس سے وابستہ من مانے اور امتیازی نفاذ کے خطرات کو صریح قانونی معیار کے ذریعے محدود کیا جائے، اس دلیل کو مذکورہ بالا مقدمہ سے کوئی مدد نہیں ملتی کیونکہ اس قانون کے مندرجات آئین اور شعائر اسلام کی روشنی میں بالکل واضح اور صاف لگتے ہیں۔ یہ قانون کسی بھی قانونی مفہوم میں مبہم نہیں ہے۔ اس چیز پر پہلے تفصیل سے بحث ہو چکی ہے کہ امن و امان کو تحفظ فراہم کرنے والے قانون کو دنیا کے کسی ملک میں ظالمانہ نہیں سمجھا گیا۔ مزید برآں دنیا کا کوئی قانونی نظام کسی کمیونٹی کو خواہ وہ کسی قدر پھلنے پھولنے والی، منظم، خوشحال یا اثر و رسوخ کی مالک کیوں نہ ہو، دوسروں کو ان کے مذہب یا حقوق کے بارے میں دغا دینے، ان کے ورثہ کو ہتھیانے اور قصداً و عمداً ایسے کام کرنے یا تدابیر اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جن سے امن امان کی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔

۷۴۔ اپیل کنندگان کی دوسری گزارش کہ آرٹیکل ۲۰ میں استعمال کردہ ترکیب " Subject To Law" میں لفظ "Law" سے مثبت قانون مراد ہے، اسلامی قانون نہیں۔ اس سلسلے میں درج ذیل مقدمات پر انحصار کیا گیا ہے جن کی سماعت عدالت ھذا نے کی تھی۔

۱۔ عاصمہ جیلانی کیس۔ پی ایل ڈی ۱۹۷۲ ایس سی ۔ ۱۴۹

صفحہ 134

بہر حال ہمیں اس اعتراض نے قطعاً متاثر نہیں کیا۔

۷۵۔ اصطلاح ”Positive Law“ سے بلیک کی قانونی لغات کے مطابق وہ قانون مراد ہے جو اصلاً نافذ کیا گیا ہو یا کسی مجاز حاکم نے منظم قانونی معاشرہ کی حکومت کے لئے اختیار کیا ہو۔

پس یہ اصطلاح نہ صرف وضع کردہ قانون پر حاوی ہے بلکہ اختیار کردہ قانون پر بھی یہ بات قابل غور ہے کہ اوپر جن مقدمات کا حوالہ دیا گیا ہے‘ اس کے فیصلے آرٹیکل ۲۔ الف کے آئین کا جزو بننے سے پہلے صادر کئے گئے تھے۔ آرٹیکل ۲۔ الف کی عبارت اس طرح ہے:۔

۲۔ الف قرار داد مقاصد مستقل احکام کا حصہ ہو گی۔

ضمیمہ میں نقل کردہ قرار داد مقاصد میں بیان کئے گئے اصول اور احکام کو بذریعہ ہذا دستور کا مستقل حصہ قرار دیا جاتا ہے اور وہ بعینہ موثر ہونگے۔

۷۶۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا کہ قرار داد مقاصد کو جو اس سے پہلے ابتدائیہ کے طور پر ہر دستور کی جزو رہی تھی ۱۹۸۵ء میں آئین کا موثر حصہ قرار دے کر اس میں شامل کر لی گئی۔ یہ کسی قانون کے متن کو بذریعہ حوالہ اپنانے کا عمل تھا جس سے وکلاء بے خبر نہیں۔ ایسا عموماً اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی نئے قانونی نظام کی تنفیذ عمل میں آتی ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں ہر مارشل لاء کے نفاذ یا دستوری نظام کی بحالی کے موقع پر ایسا کیا گیا۔ مقننہ نے انگریزی راج کے دوران بھی بعض اسلامی اور دیگر مذہبی رسم و رواج پر مبنی قوانین کو اسی طریقے سے اپنا لیا گیا تھا اور انہیں مثبت قوانین سمجھا گیا تھا۔

صفحہ 135

۷۷۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب عوام کے منتخب نمائندوں نے پہلی بار اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ کو دستور کے مستقل و موثر حصہ اور ان کے لئے واجب التعمیل کے طور پر قبول کر لیا اور یہ عہد کیا کہ وہ محض تفویض کردہ اختیارات کو اللہ کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے استعمال کریں گے اعلیٰ عدالتوں کے عدالتی نظر ثانی کے اختیار میں بھی توسیع کر دی گئی۔

۷۸۔ سپریم کورٹ نے مذکورہ بالا تبدیلی کا موثر ہونا تسلیم اور قبول کر لیا ہے۔ جسٹس نسیم حسن شاہ (موجودہ چیف جسٹس) نے پاکستان بنام عوام الناس (پی ایل ڈی ۱۹۸۹ء ایس سی ۳۰۴ کے صفحہ ۳۵۶ پر) عوامی نمائندوں کے بدلے ہوئے اختیار پر بحث کرتے ہوئے حسب ذیل رائے کا اظہار کیا تھا۔

”چنانچہ جب تک قطعی طور پر یہ ثابت نہ کر دیا جائے کہ مقننہ میں بیٹھنے والی مسلمانوں کی جماعت نے کوئی ایسا قانون نافذ کیا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یا سنت نبویؐ یا کسی اصول کی رو سے‘ جو ان کے لازمی مفہوم سے ماخوذ ہو‘ ممانعت کی گئی ہو تو کوئی عدالت ایسے قانون کو غیر اسلامی قرار نہیں دے سکتی۔“

۷۹۔ جسٹس شفیع الرحمٰن نے اس مقدمہ میں اپنا فیصلہ قلمبند کرتے ہوئے آرٹیکل ۲۔ اے (قرار داد مقاصد) کی روشنی میں صفحہ ۳۷۲۔۳۷۳ پر درج ذیل رائے کا اظہار کیا تھا۔ تفویض کردہ اختیار کو مقدس امانت کے طور پر قبول کرنے کے تصور کو جو کہ سورہ النساء کی آیت نمبر ۵۸ میں بیان ہوا ہے غیر متبدل انداز میں اور تضاد کے بغیر وسیع مفہوم دیدیا گیا ہے علاوہ ازیں چونکہ تمام اختیار و اقتدار تفویض کردہ ہے اور اس غرض کے لئے ایک مقدس امانت کی حیثیت رکھتا ہے‘ اس کے استعمال کی حدود لازماً متعین و مقرر ہونی چاہئیں۔ قرآن حکیم میں بھی اور مغربی و مشرقی دونوں اصول فقہ میں تفویض کردہ اختیار سے حسب ذیل خصوصیات وابستہ کی گئی ہیں۔

صفحہ 138

بطور امانت قبول کئے گئے اختیار کو ایسے استعمال کرنا چاہئے کہ اس سے امانت کے اغراض و مقاصد کی حفاظت ہو سکے‘ اسے تباہی سے بچایا جا سکے‘ پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ اور فروغ دیا جا سکے۔

چاہئے جیسے نظام مراتب میں بالآخر وہ اختیار عطا کرنے والے کو لوٹ جاتا ہے اور دوسری طرف امانت سے استفادہ کرنے والے دونوں تک اس کا فائدہ پہنچتا ہے۔

تعمیل ہونی چاہئے بلکہ ضابطہ جاتی دیانتداری بھی ملحوظ خاطر رکھنی چاہئے۔

ایل ڈی ۱۹۹۰ء ایس سی ۱۱۷۲) نامی مقدمہ میں صفحہ ۱۱۷۵ پر اس طرح کھول کر بیان کیا ہے۔

”قرار دیا جاتا ہے اور ہدایت کی جاتی ہے کہ اگر مطلوبہ قانون ۱۲ ربیع الاول ۱۴۱۱ھ تک وضع یا نافذ نہیں کیا جاتا تو مذکورہ بالا حکم ۱۲ ربیع الاول کو غیر موثر ہو جائے گا۔ خلاء کی اس حالت کے مقابلہ میں اس موضوع پر وضع کردہ قانون عام اسلامی قانون‘ قتل و جرح کے جرائم سے تعلق رکھنے والے اسلامی احکام جیسا کہ وہ قرآن و سنت میں درج ہیں کے بارے میں سمجھا جائے گا کہ وہ اس موضوع پر متعلقہ قانون ہیں‘ پھر مجموعہ تعزیرات پاکستان اور مجموعہ ضابطہ فوجداری کا ضروری تبدیلیوں کے ساتھ صرف اس طرح اطلاق کیا جائے گا۔ جیسا کہ پہلے کیا گیا ہے۔“

ہیں‘ منضبط حقیقی اور موثر قانون کے طور پر اپنا لیا ہے‘ معاملہ کی اس صورت میں اسلامی احکام ہی جیسا کہ وہ قرآن و سنت میں درج ہیں‘ اب حقیقی قانون کا درجہ رکھتے ہیں۔ آرٹیکل ۲۔ اے نے اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ کو موثر اور واجب التعمیل بنا دیا

صفحہ ۱۴۱

ہے اسی آرٹیکل کی بدولت قرار داد مقاصد میں درج قانونی احکام اور قانون کے اصول موثر اور آئین کا مستقل حصہ بن گئے ہیں۔ اس لئے انسان کا بنایا ہوا ہر قانون احکام اسلام کے جیسا کہ وہ قرآن و سنت میں مذکور ہیں، مطابق ہونا چاہئے اور آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق بھی اسلامی نظریات و تعلیمات کے منافی نہیں ہونے چاہئیں۔

۸۲۔ یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ آرٹیکل ۱۹ میں استعمال کردہ ترکیب "اسلام کی عظمت" سے آرٹیکل ۲۰ کی رو سے دیئے گئے بنیادی حقوق کے بارے میں فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ آرٹیکل ۱۹ جس میں تقریر اور اظہار خیال اور پریس کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، انہیں معقول پابندیوں کے تابع بناتا ہے جو عظمت اسلام، تہذیب و شائستگی یا اخلاق کے مفاد میں از روئے قانون عائد کی گئی ہیں۔ وہاں جو پابندیاں لگائی گئی ہیں انہیں کسی دوسرے بنیادی حق پر لاگو نہیں کیا جا سکتا اس لئے کسی بنیادی حق میں شامل کوئی چیز جس سے احکام اسلام کی خلاف ورزی ہوتی ہو، لازماً اس کے منافی ہونی چاہئے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی احکام، جیسا کہ وہ قرآن و سنت میں منضبط ہیں، اقلیتوں کے حقوق کی بھی ایسے تسلی بخش طریقہ سے ضمانت دیتے ہیں کہ کوئی نظام قانون اس کے برابر کوئی چیز پیش نہیں کرتا۔ مزید یہ کہ کوئی قانون ان میں زبردستی مداخلت نہیں کر سکتا۔

۸۳۔ یہ کہنا درست نہیں کہ آرڈینینس میں اذان کا ذکر جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ (ب) کی ذیلی دفعہ (۲)، کلمہ اس کے لئے وقف کی گئی ہے آرڈینینس کی روشنی میں احمدیوں کی طرف سے کلمہ کے استعمال کے متعلق دفعہ ۲۹۸ (ج) سے رجوع کیا جا سکتا ہے کلمہ ایک اقرار نامہ ہے جسے پڑھ کر غیر مسلم اسلام کے دائرہ میں داخل ہوتا ہے یہ عربی زبان میں ہے اور مسلمانوں کے لئے خاص ہے جو اسے نہ صرف اپنے عقیدہ کے اظہار کے لئے پڑھتے ہیں بلکہ روحانی ترقی کے لئے بھی اکثر اس کا ورد کرتے ہیں۔ کلمہ طیبہ کے معنی ہیں۔ "خدا کے سوا کوئی

PDF 141

عبادت کے لائق نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے رسول ہیں۔“ اس کے برعکس قادیانیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد (نعوذ باللہ) حضرت محمدؐ کا بروز ہے۔ مرزا غلام احمد نے اپنی کتاب ”ایک غلطی کا ازالہ“ (اشاعت سوم‘ ربوہ صفحہ ۴) میں لکھا ہے۔

”سورہ الفتح کی آیت نمبر ۲۹ کے نزول میں محمدؐ کو اللہ کا رسولؐ کہا گیا ہے ........ اللہ نے اس کا نام محمد رکھا۔

روزنامہ ”بدر“ (قادیان) کی اشاعت ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء میں قاضی ظہور الدین اکمل سابق ایڈیٹر ”Review of Religions“ کی ایک نظم شائع ہوئی تھی جس کے ایک بند کا مفہوم اس طرح ہے۔ ”محمدؐ پہلے سے زیادہ شان کے ساتھ ہم میں دوبارہ آگئے ہیں‘ جو کوئی محمدؐ کو ان کی مکمل شان کے ساتھ دیکھنے کا متمنی ہو‘ اسے چاہئے کہ وہ قادیان جائے۔“ یہ نظم مرزا صاحب کو سنائی گئی تو اس نے اس پر مسرت کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں ”اربعین“ (جلد نمبر ۴ صفحہ ۱۷) میں اس نے دعویٰ کیا ہے۔

”اب سورج کی کرنوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں سکون بخش روشنی کی ضرورت ہے جو احمدؐ کی شکل میں‘ میں خود ہوں۔“ خطبہ الہامیہ (صفحہ ۱۷۱) میں اس نے اعلان کیا۔ ”جو کوئی میرے اور محمدؐ کے مابین تفریق کرتا ہے‘ اس نے نہ تو مجھے دیکھا ہے نہ جانا ہے۔“ مرزا غلام احمد نے مزید دعویٰ کیا ہے۔ ”میں اسم محمدؐ کی تکمیل ہوں یعنی میں محمدؐ کا ظل ہوں۔“ (دیکھئے حاشیہ حقیقت الوحی صفحہ ۷۲)

”سورہ الجمعہ (۶۲) کی آیت نمبر ۳ کے پیش نظر جس میں کہا گیا ہے۔ (وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسولؐ خود انہی میں سے اٹھایا جو انہیں اس کی آیات سناتا ہے ان کی زندگی سنوارتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے) میں ہی آخری نبی اور اس کا بروز ہوں اور خدا نے براہین احمدیہ میں میرا نام محمدؐ اور احمدؐ رکھا اور مجھے محمدؐ کی تجسیم بنایا۔“ (دیکھئے ایک غلطی کا ازالہ شائع شدہ از ربوہ صفحہ ۱۱۔۱۰)

صفحہ ۱۴۲

”میں وہ آئینہ ہوں جس میں سے محمد کی ذات اور نبوت کا عکس جھلکتا ہے۔“ (نزول المسیح صفحہ ۲۸ شائع شدہ قادیان اشاعت ۱۹۰۹ء)

۸۴۔ اوپر جو کچھ کہا گیا اس کی روشنی میں مسلمانوں میں اس بات پر عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ جب کوئی احمدی کلمہ پڑھتا ہے یا اس کا اظہار کرتا ہے تو وہ اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ مرزا غلام احمد ایسا نبی ہے جس کی اطاعت واجب ہے اور جو ایسا نہیں کرتا وہ بے دین ہے بصورت دیگر وہ خود کو مسلمان کے طور پر پیش کر کے لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ یا تو وہ مسلمانوں کی تضحیک کرتے ہیں یا اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ رسول اکرمؐ کی تعلیمات صورتحال کی رہنمائی نہیں کرتیں۔ اس لئے جیسی بھی صورتحال ہو‘ ارتکاب جرم کو ایک نہ ایک طریقہ سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔

۸۵۔ مرزا غلام احمد نے نہ صرف یہ کہ اپنی تحریروں میں رسول اکرمؐ کی عظمت و شان کو گھٹانے کی کوشش کی بلکہ بعض مواقع پر ان کا مذاق بھی اڑایا۔ حاشیہ تحفہ گولڑیہ (صفحہ ۴۵) میں مرزا صاحب نے لکھا کہ۔ ”پیغمبر اسلام اشاعت دین کو مکمل نہیں کر سکے‘ میں نے اس کی تکمیل کی۔“ ایک اور کتاب میں کہتا ہے۔ ”رسول اکرمؐ بعض نازل شدہ پیغامات کو نہیں سمجھ سکے اور ان سے بہت سے غلطیاں ہوئیں۔“ (دیکھئے ازالۃ الاوہام‘ لاہوری پریس) اس نے مزید دعوی کیا کہ ”رسول اکرمؐ تین ہزار معجزے رکھتے تھے جبکہ میرے پاس دس لاکھ نشانیاں ہیں۔“ (تحفہ گولڑیہ صفحہ ۶۷ شائع شدہ ربوہ) مزید یہ کہ :۔ ”رسول اکرمؐ نصاری کا تیار کردہ پنیر کھاتے تھے جس میں وہ سور کی چربی ملاتے تھے۔“ (دیکھئے براہین احمدیہ ۔ صفحہ ۵۶) مرزا بشیر احمد اپنی تصنیف ”کلمۃ الفصل“ (صفحہ ۱۱۳) میں لکھا۔ ”جب مرزا صاحب کو نبوت سے سرفراز کیا گیا تو وہ نبوت محمدیہ کے جملہ روحانی کمالات حاصل کر چکے تھے اور

صفحہ 140

ظل نبی کہلانے کے اہل بن چکے تھے۔ اور اس میدان میں اتنے آگے چلے گئے کہ محمد (صلعم) کے شانہ بشانہ جا کھڑے ہوئے۔“ اس طرح کی اور بہت سی تحریریں موجود ہیں لیکن ہم اس ریکارڈ کو مزید گراں بار نہیں کرنا چاہتے۔

۸۶۔ ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے کہ وہ ہر نبی کو مانتا اور اس کا احترام کرتا ہے اس لئے اگر نبی کی شان کے خلاف کچھ کہا جائے تو اس سے مسلمان کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی جس سے وہ قانون شکنی پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ اس کا انحصار جذبات پر ہونے والے حملے کی سنگینی پر ہے۔ ہائیکورٹ کے فاضل جج نے مرزائیوں کی کتابوں سے بہت سے حوالے نقل کرکے ثابت کیا ہے کہ مرزا غلام احمد نے دوسرے انبیائے کرام خصوصاً حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بھی بڑی توہین کی اور ان کی شان گھٹائی، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی جگہ وہ خود لینا چاہتا تھا۔ ہم اس سارے مواد کو نقل کرنا ضروری نہیں سمجھتے، صرف دو مثالوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد ایک جگہ رقمطراز ہے۔

”جو معجزات دوسرے نبیوں کو انفرادی طور پر دیئے گئے تھے وہ سب رسول اکرمؐ کو عطا کئے گئے، پھر وہ سارے معجزے مجھے بخشے گئے کیونکہ میں ان کا بروز ہوں یہی وجہ ہے کہ میرے نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، یونس، سلیمان اور عیسیٰ مسیح ہیں۔“ (ملفوظات جلد سوم صفحہ ۲۷۰ شائع شدہ ربوہ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں لکھتا ہے۔

”عیسیٰ مسیح کے آباؤ اجداد متقی اور معصوم تھے؟ ان کی تین دادیاں اور نانیاں طوائف اور لونڈیاں تھیں اور وہی خون تھا جو عیسیٰ کی صورت میں ظاہر ہوا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم، حاشیہ ۷)

۸۷۔ اس کے برعکس اللہ کی ایک کتاب (قرآن حکیم) حضرت عیسیٰ ان کی والدہ اور خاندان کی بڑائی بیان کرتی ہے۔ دیکھئے سورہ آل عمران (۳) کی آیات ۳۳ تا ۳۷، ۴۵ تا

صفحہ 141

جسارت کر سکتا ہے اور جو ایسی حماقت کرے کیا وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ ایسی صورت میں مرزا غلام احمد اور اسکے پیرو کار کیسے مسلمان ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرزا غلام احمد پر اسی کی مذکورہ بالا تحریروں کی بنا پر توہین مذہب ایکٹ مجریہ ۱۸۹۷ء کے تحت عیسائیت کی توہین کے جرم میں کسی انگریزی عدالت میں ملزم قرار دے کر سزا دی جا سکتی تھی‘ مگر ایسا نہیں کیا گیا۔

”ہر مسلمان کے لئے جس کا ایمان پختہ ہو‘ لازم ہے کہ وہ رسول اکرمؐ کے ساتھ اپنے بچوں‘ خاندان‘ والدین اور دنیا کی ہر محبوب ترین شے سے بڑھ کر پیار کرے۔“ (صحیح بخاری کتاب الایمان‘ باب حب الرسول من الایمان) کیا ایسی صورت میں کوئی کسی مسلمان کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے اگر وہ ایسا توہین آمیز مواد جیسا کہ مرزا صاحب نے تخلیق کیا ہے سننے‘ پڑھنے یا دیکھنے کے بعد اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے؟

احمدیوں کے علانیہ رویہ کا تصور کرنا چاہئے اور اس رد عمل کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ جس کا اظہار مسلمانوں کی طرف سے ہو سکتا تھا۔ اس لئے اگر کسی احمدی کو انتظامیہ کی طرف سے یا قانوناً شعائر اسلام کا علانیہ اظہار کرنے یا انہیں پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ اقدام اس کی شکل میں ایک اور رشدی تخلیق کرنے کے مترادف ہوگا۔ کیا اس صورت میں انتظامیہ اس کی جان‘ مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دے سکتی ہے اور اگر دے سکتی ہے تو کس قیمت پر؟ مزید برآں اگر گلیوں یا جائے عام پر جلوس نکالنے یا جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے تو یہ خانہ جنگی کی اجازت دینے کے برابر ہے۔ یہ محض قیاس آرائی نہیں‘ حقیقتاً ماضی میں بار ہا ایسا ہو چکا ہے اور بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد اس پر قابو پایا گیا (تفصیلات کے لئے منیر رپورٹ دیکھی جا سکتی

صفحہ 142

ہے) رد عمل یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی احمدی یا قادیانی سر عام کسی پلے کارڈ‘ بیج یا پوسٹر پر کلمہ کی نمائش کرتا ہے‘ یا دیوار یا نمائشی دروازوں یا جھنڈیوں پر لکھتا ہے یا دوسرے شعائر اسلامی کا استعمال کرتا یا انہیں پڑھتا ہے تو یہ علانیہ رسول اکرمؐ کے نام نامی کی بے حرمتی اور دوسرے انبیائے کرام کے اسمائے گرامی کی توہین کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب کا مرتبہ اونچا کرنے کے مترادف ہے جس سے مسلمانوں کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز امن عامہ کو خراب کرنے کا موجب بن سکتی ہے جس کے نتیجہ میں جان و مال کا نقصان ہو سکتا ہے ایسی صورت حال میں احتیاطی تدابیر بروئے کار لانا لازمی ہے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔ اور جان و مال خصوصاً احمدیوں کے نقصان سے بچا جاسکے۔ اس صورتحال میں مقامی انتظامیہ نے جو فیصلے کئے‘ یہ عدالت انہیں کالعدم نہیں کر سکتی۔ وہ اس معاملے میں بہترین جج ہیں تاوقتیکہ قانون یا حقیقت کے ذریعے اس کے برعکس ثابت نہ کیا جائے۔

۹۰۔ جس کاروائی کے نتیجہ میں زیر بحث اپیلوں کی سماعت کی نوبت آئی۔ وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے زیر دفعہ ۱۴۴ ضابطہ فوجداری جاری کردہ حکم ہے۔ ریذیڈنٹ مجسٹریٹ نے احمدیہ جماعت کو جو ربوہ کی آبادی میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے عہدیداروں کے توسط سے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم سے مطلع کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ آرائشی دروازے‘ بینرز اور لائٹننگ کا سامان ہٹالیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ آئندہ دیواروں پر اشتہار نہیں لکھے جائیں گے‘ اپیل کنندگان یہ بات ثابت نہیں کرسکے کہ مذکورہ بالا معمولات اور کام ان کے مذہب کے لازمی تکمیلی ارکان ہیں۔ حتیٰ کہ صد سالہ تقریبات کے گلیوں اور سڑکوں پر انعقاد کے بارے میں بھی ثابت نہیں کیا جاسکا کہ وہ ان کے مذہب کا لازمی اور ناگزیر جزو تھیں۔

۹۱۔ اس سوال پر کہ آیا ایسا تقاضا مذہبی آزادی کا حصہ ہے یا نہیں جبکہ وہ عام لوگوں کی سلامتی‘ قانون اور امن عامہ کے تابع ہو‘ آسٹریلیا اور امریکہ جیسے ملکوں میں جہاں بنیادی

صفحہ 143

حقوق کو سب سے مقدم سمجھا جاتا ہے صادر کئے گئے فیصلوں کی روشنی میں پہلے ہی تفصیلی بحث ہو چکی ہے، ہم نے بھارت میں ہونے والے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا ہے، کہیں بھی ایسے معمولات کو جو نہ تو مذہب کا لازمی جزو ہیں نہ تکمیلی حصہ، لوگوں کی سلامتی اور امن و امان پر سبقت نہیں دی جاتی، بلکہ مذہب سے متعلق اساسی و بنیادی معمولات کو لوگوں کی سلامتی اور امن و آشتی کی قربان گاہ پر قربان کر دیا گیا۔

۹۲۔ اپیل کنندگان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ احمدیہ تحریک کی صد سالہ سالگرہ کی تقریبات میں دوسری باتوں کے علاوہ شکرانہ کی خصوصی نمازیں ادا کر کے، بچوں میں مٹھائیاں بانٹ کر اور غرباء و مساکین میں کھانا تقسیم کر کے پر امن طریقے سے منانا چاہتے تھے، ہمارے سامنے ایسی سرگرمیوں کو نجی طور پر انجام دینے سے روکنے والا کوئی حکم پیش نہیں کیا گیا۔ احمدی دوسری اقلیتوں کی طرح اپنے مذہب پر عمل کرنے میں آزاد ہیں اور ان کے اس حق کو قانون یا انتظامی احکام کے ذریعے کوئی نہیں چھین سکتا۔ بہر حال ان پر لازم ہے کہ وہ آئین و قانون کا احترام کریں اور انہیں اسلام سمیت کسی دوسرے مذہب کی مقدس ہستیوں کی بے حرمتی یا توہین نہیں کرنی چاہئے نہ ہی ان کے مخصوص خطابات، القابات و اصطلاحات استعمال کرنے چاہئیں نیز مخصوص نام مثلاً مسجد اور مذہبی عمل مثلاً اذان وغیرہ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے اور لوگوں کو عقیدہ کے بارے میں گمراہ نہ کیا جائے یا دھوکہ نہ دیا جائے۔

۹۳۔ ہم یہ بھی نہیں سمجھتے کہ احمدیوں کو اپنے شخصیات، مقامات اور معمولات کے لئے نئے خطاب، القاب یا نام وضع کرنے میں کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آخر کار ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر برادریوں نے بھی تو اپنے بزرگوں کے لئے القاب و خطاب بنا رکھے ہیں اور وہ اپنے تہوار، امن و امان کا کوئی مسئلہ یا الجھن پیدا کئے بغیر پر امن طور پر مناتے ہیں۔ انتظامیہ جو امن و امان قائم رکھنے اور شہریوں کے جان و مال

صفحہ 144

نیز عزت و آبرو کا تحفظ کرنے کی ذمہ داری ہے، بہرحال مذکورہ بالا اقدار میں سے کسی کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں مداخلت کرے گی۔

۹۴۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فاضل سنگل بنچ نے ایک تفصیلی اور بڑا معقول حکم جاری کیا ہے اور بڑی دانائی اور دیانتداری کے ساتھ متعدد غیر ملکی فیصلوں سے مثالیں دی ہیں۔ جس سے اس انتہائی حساس غیر مسلم اقلیت (احمدیہ جماعت) میں اعتماد پیدا ہوگا۔ اس لئے ہم ریکارڈ کو مزید وزنی کئے بغیر ان کے استدلال کو بھی قبول کرتے ہیں، پس آرڈیننس کے بارے میں قرار دیا جاتا ہے کہ وہ آئین سے ماورا نہیں ہے جس کے نتیجہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ نہ تو مقدمہ کے حقائق میں دستور کے آرٹیکل ۲۰ کا سہارا لیا گیا ہے نہ ہی اس اپیل کا کوئی میرٹ بنتا ہے پس یہ اپیل خارج کی جاتی ہے۔

مذکورہ بالا بحث کے نتیجہ میں اس سے متعلقہ اپیلیں بھی نامنظور کی جاتی ہیں۔

دستخط جسٹس عبدالقدیر جسٹس محمد افضل لون جسٹس ولی محمد خاں

صفحہ 145

۳۔ جسٹس سلیم اختر

ا۔ اپیل کنندگان نے دستور کے آرٹیکل ۱۹، ۲۰ اور ۲۵ کے تحت اپنے حق کے تحفظ کا دعویٰ اس بنیاد پر کیا ہے کہ از روئے دستور وہ ایک اقلیت ہیں وہ دستور کے معنوں میں خود کو ایک اقلیت اور مسلمانوں سے الگ برادری تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ ان کے ساتھ قانون کے تحت ان دوسری اقلیتوں کے مساوی سلوک ہونا چاہئے۔ جنہیں تقریر اور اظہار خیال کی آزادی حاصل ہے اور انہیں ان کے مذہب پر عمل، اس کی پیروی اور تبلیغ و اشاعت کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ ان کا پہلا دعویٰ آرٹیکل ۱۹ اور ۲۵ کے دائرہ میں آتا ہے جبکہ دوسرے دعویٰ کی بنیاد آرٹیکل ۲۰ پر ہے۔

۲۔ قانون ایک ہی طبقہ کے افراد میں معقول درجہ بندی اور امتیاز کی اجازت دیتا ہے، تاہم ان کی معقول تمیز اور اس کا ٹھوس بنیادوں پر استوار ہونا ضروری ہے، اس سلسلے میں حکومت بلوچستان بنام عزیز اللہ میمن (پی ایل ڈی ۱۹۹۳ ایس سی ۳۴۱) کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ قادیانی اپنے عقیدہ اور مذہب کی بنیاد پر جیسا کہ میرے فاضل بھائی جسٹس عبدالقدیر نے تفصیل سے بیان کیا ہے، دیگر اقلیتوں کے مقابلہ میں مختلف پوزیشن رکھتے ہیں۔ اس لئے ان حقائق کو زیر غور لاتے ہوئے اور امن عامہ کو برقرار رکھنے کی غرض سے ضروری سمجھا گیا کہ ان کی درجہ بندی مختلف طریقہ سے کی جائے اور صورتحال سے نمٹنے کے لئے قانون نافذ کیا جائے چونکہ یہ درجہ بندی جائز اور معقول ہے، اس لئے متنازعہ قانون آرٹیکل ۱۹ اور ۲۵ سے متصادم نہیں ہے۔

۳۔ جہاں تک آرٹیکل ۲۰۔ (الف) کے اطلاق کا تعلق ہے حکیم خاں کے مقدمہ (پی ایل ڈی ۱۹۹۲ ایس سی ۵۹۵) میں بیان کردہ موقف کی تائید کرتا ہوں۔

۴۔ مذہبی آزادی کی ضمانت آرٹیکل ۲۰ میں دی گئی ہے جس میں مذہب پر عمل کرنے اس کی پیروی کرنے اور تبلیغ کرنے کا حق شامل ہے۔ آرٹیکل ۲۰ میں اس آزادی کو

صفحہ 146

کنٹرول کرنے والی جو حد مقرر کی گئی ہے اس کے مطابق یہ آزادی قانون‘ امن عامہ اور اخلاق کے تابع ہے۔ قانون آرٹیکل ۲۰ پر سبقت نہیں لے جا سکتا تاہم یہ مذہبی آزادی کا اس طرح تحفظ کرتا ہے کہ اخلاق اور امن عامہ کی حدود کی خلاف ورزی نہ ہو۔ اپیل کنندگان کی طرف سے مذہب کی تبلیغ و اشاعت پر جو کہ دوسری اقلیتوں سے مختلف ہیں اور اپنا مختلف پس منظر اور تاریخ رکھتے ہیں‘ امن عامہ برقرار رکھنے اور اخلاق کے تحفظ کی غرض سے پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ پس مذہب کی پیروی کرنے اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کے حق پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی بشرطیکہ وہ ان معمولات کو شعائر اسلام کو اختیار کئے بغیر ایسے طریقہ سے انجام دیں کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح نہ ہوں۔

۵۔ میں اپنے فاضل بھائی جسٹس شفیع الرحمان سے اتفاق کرتا ہوں کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ (ج) کی شق ہائے (الف) (ب) اور (د) دستور کے آرٹیکل ۱۹‘ ۲۰‘ اور ۲۶۰ (۳) سے متصادم نہیں ہیں۔

۶۔ جہاں تک دفعہ ۲۹۸۔ سی ت پ کی شق ہائے (ج) و (د) کا تعلق ہے میرے خیال میں وہ آرٹیکل ۲۰ کے خلاف نہیں ہیں بشرطیکہ قادیانی‘ احمدی ان پر شعائر اسلام اپنائے بغیر عمل کریں۔

۷۔ پس میں دیوانی اپیل نمبر ۱۴۹ / ۸۹ / ۱۵۰ / ۸۹ کو خارج کرتا ہوں اور فوجداری اپیل ہائے نمبر ۳۱۔k تا ۳۵۔k بابت ۱۹۸۸ء کے بارے میں ماتحت عدالت کو ہدایت کرتا ہوں کہ ان کی از سر نو سماعت کی جائے۔

۸۔ دیوانی اپیل نمبر ۱۴۴ / ۹۲ میں دفعہ ۱۴۴ ضابطہ فوجداری کے پیش نظر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کو زیر دفعہ ۱۴۴ غیر محدود مدت کے لئے حکم نافذ کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا اس لئے یہ اپیل جزوی طور پر اس حد تک منظور کی جاتی ہے۔

دستخط (جسٹس سلیم اختر)

PDF 150

عدالت کا حکم

عدالت نے کثرت رائے سے قرار دیا ہے کہ مذکورہ بالا تمام اپیلیں خارج کئے جانے کے لائق ہیں اور بذریعہ ہذا خارج کی جاتی ہیں۔

فوجداری اپیل نمبر ۳۱۔ کے تا ۳۵۔ کے لغایت ۸۹ کے سزا یافتگان جو اس وقت ضمانت پر ہیں۔ فوراً حراست میں لے لئے جائیں گے اور انہیں عدالت کی طرف سے دی گئی باقی ماندہ سزا بھگتنی ہو گی۔

دستخط جسٹس شفیع الرحمان جسٹس عبد القدیر چوہدری جسٹس محمد افضل لون جسٹس سلیم اختر جسٹس ولی محمد خان

اس فیصلہ کا اعلان مورخہ ۳ جولائی ۱۹۹۳ء کو بمقام اسلام آباد فاضل جج کے چیمبر میں کیا گیا۔

چنیوٹی کتب خانہ

مسجد صدیق اکبر چنیوٹ فون........

دستخط (جسٹس شفیع الرحمان)

PDF 151

ناموس رسالت کے تحفظ کا فیصلہ دینے والے جج صاحبان کے

حضور

خراج عقیدت

جناب مسٹر جسٹس خلیل الرحمن

جناب مسٹر جسٹس عبدالقدیر چودھری

جناب مسٹر جسٹس محمد افضل لون

جناب مسٹر جسٹس سلیم اختر

جناب مسٹر جسٹس ولی محمد خان

پوری امت مسلمہ آپ کے قادیانیت کے خلاف ان تاریخ ساز

فیصلوں پر آپ کو سلام عقیدت پیش کرتی ہے