توہین رسالت ﷺ اور اس کی سزا · مفتی جمیل احمد تھانوی
Toheen-e-Risalat aur Es ki Saza · Mufti Jamil Ahmad Thanawi
PDF 1

توہین رسالت ﷺ

اور

اسکی سزا

از فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ دارالافتاء ۔ جامعہ اشرفیہ ۔ لاہور

جمع و ترتیب حضرت مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی مدظلہم مفتی و استاذ جامعہ اشرفیہ لاہور و دارالعلوم کورنگی ۔ کراچی

پبلشرز ، بک سیلرز ، امپورٹرز

ادارہ اسلامیات

لاہور ۔ کراچی

PDF 2

نام کتاب

توہین رسالت ﷺ اور اسکی سزا

نام مصنف

فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی ؒ

دارالافتاء ، جامعہ اشرفیہ ، لاہور

اشاعت اول

رجب ۱۴۱۵ھ ، جنوری ۱۹۹۵ء

ادارہ اسلامیات

پبلشرز، بک سیلرز، ایکسپورٹرز ۱۳-دینا ناتھ مینشن مال روڈ، لاہور فون ۳۷۳۲۲۷۱۱، ۳۷۳۲۶۷۸۵ فیکس +۹۲-۴۲-۳۷۳۲۳۲۵۵ ۱۹۰-انارکلی، لاہور۔پاکستان.......فون ۳۷۳۲۳۹۹۱-۳۷۳۵۳۲۵۵ مومن روڈ، چوک اردو بازار، کراچی۔پاکستان.....فون ۳۲۷۲۲۳۰۱ ویب سائٹ: www.idaraeislamiat.com

ملنے کے پتے

ادارۃ المعارف، جامعہ دارالعلوم، کورنگی، کراچی نمبر ۱۴ مکتبہ معارف القرآن، جامعہ دارالعلوم، کورنگی، کراچی نمبر ۱۴ مکتبہ دارالعلوم، جامعہ دارالعلوم، کورنگی، کراچی نمبر ۱۴ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ، اردو بازار، کراچی دارالاشاعت، اردو بازار، کراچی نمبر ۱ بیت القرآن، اردو بازار، کراچی نمبر ۱ بیت العلوم، نابھہ روڈ، لاہور

فہرست

عنوان

عرض ناشر ۱ عرض مرتب ۲ سلمان رشدی کی گستاخیوں سے متعلق ۳ الجواب ۴ قرآن شریف کی بائیس آیات ۵ چالیس احادیث مبارکہ ۶ گستاخی کی سزا سے متعلق علمائے امّت کا ۷ قیاس شرعی اور عقل کی روشنی میں ۸ فقہاء کرام کے دس حوالہ جات ۹ قتل مرتد کے طریقہ پر فقہ حنفی کی ۱۰ معافی ایک دھوکہ ہے ۱۱ خلاصہ (چھ نکات) ۱۲ سچی توبہ سے قتل معاف ہونے کی ۱۳ سچی توبہ کا طریقہ ۱۴ ضمیمہ ۱ قائد ایران کے مثالی اقدام ۱۵ ضمیمہ ۲ اسرائیل کا دنیا بھر کو الٹی میٹم ۱۶ استفتاء کے نمبر وار جوابات - ۱۷

عالمی سیرت پر اکابر علماء کر عالمی سیرت کا نے سیرت مطہر مسائل سیرت و مقالات کا یہ مجـ

کانفرنس کی ۶؍ رودادیں عالمی سیرت کانفرنس

صفحہ ۳

فہرست

نمبر شمار عنوان صفحہ نمبر ۱ عرض ناشر ۴ ۲ عرض مرتب ۵ ۳ سلمان رشدی کی گستاخیوں سے متعلق برطانیہ سے استفتاء ۹ ۴ الجواب ۱۴ ۵ قرآن شریف کی بائیس۲۲ آیات ۱۴ ۶ چالیس احادیث مبارکہ ۲۵ ۷ گستاخی کی سزا سے متعلق علمائے اُمت کا اجماع ۔ دس حوالے ۴۴ ۸ قیاس شرعی اور عقل کی روشنی میں سات وجوہات ۶۰ ۹ فقہاء کرام کے دس حوالہ جات ۶۳ ۱۰ قتل مرتد کے طریقہ پر فقہ حنفی کی تین عبارات ۷۷ ۱۱ معافی ایک دھوکہ ہے ۷۹ ۱۲ خلاصہ (چھ نکات) ۸۱ ۱۳ سچی توبہ سے قتل معاف ہونے کے قائل دو علماء کی عبارات ۸۳ ۱۴ سچی توبہ کا طریقہ ۸۶ ۱۵ ضمیمہ قائد ایران کے مثالی اقدامات (سات نکات) ۸۸ ۱۶ ضمیمہ اسرائیل کا دُنیا بھر کو الٹی میٹم (سات نکات) ۹۰ ۱۷ استفتاء کے نمبر وار جوابات - ۹۲

صفحہ ۵

عرض ناشر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ط نحمدہٗ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ۔ اما بعد

اس وقت جو کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے، یہ اپنے موضوع پر اہم فقہی دستاویز ہے جس میں قرآن وسنت اور فقہ اسلامی کے مستند حوالوں سے توہینِ رسالت کی سزا اور اس سے متعلق شرعی احکام تفصیل سے واضح کئے گئے ہیں۔

یہ تحریر فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی جمیل احمد صاحب دامت برکاتہم کی زیرنگرانی، محمود اشرف عثمانی استاذ و رفیق دارالافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور نے مرتب کی تھی جو ماہنامہ ”الحسن“ کی ایک خصوصی اشاعت میں بطور فتویٰ شائع ہوئی۔ یہ تحریر ”اسلام و مسلمان اور رشدی سلمان“ کے نام سے رشدی سلمان گستاخ کی شرعی سزا کی وضاحت کرنے کے لئے شائع ہوئی تھی، مگر اس میں گستاخ رسول اور اُس کی سزا سے متعلق اصولی احکام مفصل ذکر کر دیئے گئے تھے اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ عام استفادہ کے پیش نظر اسے عام فہم نام ہی سے شائع کیا جائے۔ چنانچہ اب یہ کتاب ”توہین رسالت اور اُس کی سزا“ کے عنوان سے آپ کے ہاتھوں میں ہے۔

امید ہے کہ اس موضوع پر یہ تحریر علمی خلاء کو پُر کرے گی۔

والسلام اشرف برادران لاہور

عرض مرتب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہٗ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ اٰ

اما بعد ! زیر نظر رسالہ جو اس وقت آپ کے ہاتھوں کا مفصل جواب ہے جس کا پس منظر یہ ہے کہ آج سے چند شخص نے اپنی کچھ مغلظات انگریزی ناول کی شکل میں میں ایک اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ عالمِ اسلام کے مرکز و مسلمانانِ عالم اسلام نے اس گستاخ دریدہ دہن شخص کی کے لئے پوری دنیا میں احتجاج کی آوازیں بلند ہوئیں ہ اسرائیل نے مجرم کو پناہ دینے کا اعلان کیا تو ایران سے کے گھاٹ اتارنے والے فرد کے لئے خصوصی انعام مقرر ک کہ اسلامی شریعت میں ایسے گستاخ شخص کی سزا کیا ہے نے اسی سوال پر مبنی ایک استفتاء جامعہ اشرفیہ لاہور جمیل احمد صاحب تھانوی مدظلہ کی خدمت میں ارسا ظاہر کی ۔

حضرت والا مدظلہ نے اس ناچیز کو تفصیلی جواب حسب الحکم احقر روزانہ آیات قرآنیہ، احادیث طیبہ اُردو ترجمہ کے ہمراہ مرتب کرکے حضرت ممدوح کی کے درمیان کچھ جگہ خالی چھوڑ دیتا جسے حضرت اپنے ق نکات درج فرماتے ۔

صفحہ ۵

عرض مرتب

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ط نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ وَعَلٰى اٰلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ۔ اَمَّا بَعْد ! زیر نظر رسالہ جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے درحقیقت ایک استفتاء کا مفصل جواب ہے جس کا پس منظر یہ ہے کہ آج سے چھ سال قبل سلمان رشدی نامی ایک شخص نے اپنی کچھ مغلظات انگریزی ناول کی شکل میں شائع کیں تو پوری دنیا کے مسلمانوں میں ایک اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ عالم اسلام کے سرکردہ افراد، مختلف اسلامی تنظیموں اور مسلمانان عالم اسلام نے اس گستاخ دریدہ دہن شخص کو سزا دینے کا مطالبہ کیا اور اس کے لئے پوری دنیا میں احتجاج کی آوازیں بلند ہوئیں۔ عالم اسلام کے اس احتجاج پر اسرائیل نے مجرم کو پناہ دینے کا اعلان کیا تو ایران نے اس دریدہ دہن شخص کو موت کے گھاٹ اتارنے والے فرد کے لئے خصوصی انعام مقرر کیا۔ اس موقع پر یہ سوال بھی اُٹھا کہ اسلامی شریعت میں ایسے گستاخ شخص کی سزا کیا ہے ؟ برطانیہ کے کچھ معزز مسلمانوں نے اسی سوال پر مبنی ایک استفتاء جامعہ اشرفیہ لاہور کے دارالافتاء میں حضرت مولانا مفتی جمیل احمد صاحب تھانوی مدظلہ کی خدمت میں ارسال کیا اور تفصیلی جواب کی خواہش ظاہر کی ۔

حضرت والا مدظلہ نے اس ناچیز کو تفصیلی جواب مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ چنانچہ حسب الحکم احقر روزانہ آیاتِ قرآنیہ، احادیث طیبہ اور علماء، فقہاء اور محدثین کی عبارات اُردو ترجمہ کے ہمراہ مرتب کر کے حضرت ممدوح کی خدمت میں پیش کرتا اور آیات و عبارات کے درمیان کچھ جگہ خالی چھوڑ دیتا جسے حضرت اپنے قلم سے پُر فرماتے اور اس میں بیش بہا نکات درج فرماتے ۔

صفحہ ۶

اس طرح یہ پورا فتویٰ احقر کے استاذ و مربی ، فقیہ محقق ، بقیۃ السلف حضرت اقدس مولانا مفتی جمیل احمد صاحب تھانوی (مدظلہم العالی بالصحۃ والعافیۃ) کے قلم یا ان کے املاء کا فیض ہے۔ صرف عربی عبارات اور ان کے اردو ترجمہ کا حصہ احقر نے جمع کر کے مرتب کیا (اور غالباً خلاصہ اور استفتاء کے نمبر وار جواب بھی احقر کے قلم سے ہوئے تھے) بہر حال یہ فتویٰ حضرت دامت برکاتہم العالیہ کے افادات کا اہم مجموعہ بھی ہے اور غالباً اس موضوع پر اُردو زبان میں یہ سب سے تفصیلی فتویٰ ہے جس میں توہینِ رسالت کی سزا کے فقہی پہلوؤں کو واضح کیا گیا ہے اور مستند دلائل جمع کئے گئے ہیں۔ یہ تفصیلی فتویٰ ذوالحجہ ۱۴۰۹ھ میں مرتب ہُوا اور کچھ ہی عرصہ بعد ماہنامہ ”الحسن“ کی خصوصی اشاعت میں شائع کیا گیا ۔

ابھی حال ہی میں (یعنی ۱۴۱۵ھ میں) پاکستان میں توہین رسالت کے قانون سے متعلق عوامی حلقوں میں ایک بحث چھڑی تو بعض رسائل میں اس فتویٰ کی بعض عبارات شائع ہوئیں مگر وہ ناتمام عبارات تھیں جن سے غلط فہمی پیدا ہونے کا بھی امکان تھا اس لئے خیال ہُوا کہ یہ مکمل فتویٰ نئے عنوان کے ساتھ باقاعدہ کتاب کی شکل میں طبع ہو کر محفوظ ہو جائے تاکہ حضرت ممدوح دام ظلہم اور اس ناچیز کے لئے باعثِ اجر و ثواب ہو اور اس موضوع کے متلاشی حضرات کے لئے استفادہ کرنا ممکن ہو۔ چنانچہ اب یہ مجموعہ آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔

اللہ تعالیٰ اسے نافع بنائیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کے دلوں میں ایمان کی قوت و حلاوت پیدا فرماویں اور اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و محبت ہماری رگ رگ میں پیوست فرمادیں۔ آمین

فقط

احقر محمود اشرف غفر اللہ لہٗ ۲۲ ربیع الاول ۱۴۱۵ھ

صفحہ ۷

عالم ربانی، فقیہ محقق، بقیۃ السلف حضرت مدظلہم العالی بالصحۃ والعافیۃ کے قلم یا ان کے اردو ترجمہ کا حصہ احقر نے جمع کے نمبر وار جواب بھی احقر کے قلم سے ہوئے تھے) کے افادات کا اہم مجموعہ بھی ہے اور غالباً اس مفصل فتویٰ ہے جس میں توہین رسالت کی سزا کے دلائل جمع کئے گئے ہیں۔ یہ تفصیلی فتویٰ ذوالحجہ کے بعد ماہنامہ ”الحسن“ کی خصوصی اشاعت

پاکستان میں توہین رسالت کے قانون سے بعض رسائل میں اس فتویٰ کی بعض عبارات سے غلط فہمی پیدا ہونے کا بھی امکان تھا اضافہ کے ساتھ باقاعدہ کتاب کی شکل میں صاحب مدظلہم اور اس ناچیز کے لئے باعث حضرات کے لئے استفادہ کرنا ممکن ہو۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کے دلوں میں ایمان کی محبت عطا فرمائے اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت توفیق دے۔ آمین

محمود اشرف غفر اللہ لہ ذی الحجہ ۱۴۱۵ھ

بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم سیدنا و مولانا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین

اسلام و مسلمان

اور

رشدی سلمان

سلمان رشدی کی انسانیت سوز گالیوں پر ایک نظر

ایسے گستاخ شخص کی سزا سے متعلق

نیز بطور ضمیمہ جات

از فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی صاحب مدظلہم العالی، دارالافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور

جمع و ترتیب محمود اشرف عثمانی، رفیق دارالافتاء و استاذ جامعہ اشرفیہ لاہور (مضمون کی پہلی اشاعت کا عکس)

مقالات کانفرنس عالمی سیرت عالمی سیرت عالمی سیرت کانفرنس کی روئداد

صفحہ ۸

ادارۀ اسلامیات

صفحہ ۹

استفتاء

محترم و مکرم حضرت اقدس مفتی جمیل احمد صاحب دامت برکاتہم ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !

شاتم رسول سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات (SATANIC VERSES) پینگوئن نے ستمبر ۱۹۸۸ء میں برطانیہ میں ایک نہایت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بڑے اہتمام اور شیطانی پروپیگنڈے کے ساتھ شائع کی ہے ۔ یہ کتاب صرف نام ہی کی نہیں، بلکہ سچ مچ ایک شیطانی کتاب ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کا دشمن شیطان سے بڑھ کر اور کوئی نہیں ہوا ۔ لیکن اس کتاب میں شیطان نے اپنی شیطنت کو جس طرح ننگا کر کے پیش کیا ہے اور پھر جس طرح ایک مسلمان کے نام سے کیا ہے اس کی کوئی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی ۔ رشدی اپنی کتاب کو یورپ کی سات زبانوں میں شائع کرانے کا انتظام کر رہا ہے ۔

رشدی برطانیہ کا شہری ہے ۔ وہ بمبئی (انڈیا) کے ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ۔ کیمبرج یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور مستشرقین کی تصانیف سے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا ۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے رشدی کو ایک روشن خیال مسلم مصنف کے طور پر دنیا میں مشہور کیا ۔ رشدی نے ٹیلی ویژن اور اخبارات میں بیان دیا :-

” میرا ایک مسلم گھرانے سے تعلق ہے اسی میں پروان چڑھا ہوں اور اسلام ہی میری دلچسپیوں کا محور ہے ۔ میں بھلا اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف کیسے لکھ سکتا ہوں ۔ لوگوں نے میرا ناول سمجھنے میں کوتاہی کی ہے “

۵۴۷ صفحات اور ۹ ابواب پر مشتمل یہ کتاب ہادئ انسانیت سرور عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تقدس پر ایک منظم حملہ ہے ۔ خصوصاً اس کے دو باب ۲ اور ۶ جو ستر صفحات پر مشتمل ہیں ان میں پیغمبر خدا ، امہات المؤمنین ، قرآن مجید ، اسلامی عقائد اور صحابہ کرامؓ کی ذات گرامی پر از راہِ خباثت نہایت گستاخانہ اور شرمناک حملے

صفحہ ۱۰

کئے گئے ہیں جن کے تصور سے بھی انسانی روح کانپ اٹھتی ہے ۔

مسلمان دُنیا بھر میں توہین رسالت کے مجرموں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ زمانہ شاہد ہے کہ حُرمتِ تاجدارِ مدینہ پر مر مٹنا مسلمان کی پہچان ہے۔ تقریباً تیس مسلمان ناموسِ رسالتؐ کے تحفظ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ الریاض (سعودی عربیہ) میں ۱۳؍ تا ۱۶؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو منعقد ہونے والی وزرائے خارجہ کی اٹھارھویں کانفرنس نے متفقہ طور پر ”شیطانی آیات“ کی شدید مذمت کرتے ہوئے رشدی کو مرتد قرار دیا ہے ۔ برطانیہ کے ۲۰ لاکھ مسلمان گذشتہ ۶ ، ۷ ماہ سے مسلسل اس کتاب، اس کے مصنف اور پبلشرز کے خلاف بڑے زور شور سے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسلمان اس بات کا پختہ عزم کر چکے ہیں کہ انشاء اللہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک حکومت برطانیہ ان کے کم از کم یہ مطالبات منظور نہ کر لے یعنی :-

وزیر اعظم مسز تھیچر اور وزیر خارجہ سرجیفری ہاؤ نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ اس شیطانی کتاب نے اسلام جیسے عظیم مذہب کے تقدس پر ایسے افسوسناک حملے کئے ہیں جس سے مسلمانوں کے ایمانی جذبات بُری طرح مجروح ہوئے ہیں۔ یہودی اور عیسائی مذہبی لیڈروں نے بھی مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور اس کتاب کی مذمت کی ہے۔

رشدی اور پینگوئن کی ناپاک حرکت کا سینہ سپر ہو کر مقابلہ کرنا ہمارا ایمانی اور انسانی فرض ہے۔ اگر اسے خاموشی سے برداشت کر لیا گیا تو دوسرے تو دوسرے ہم خود اپنی نئی نسل کے بارے میں اطمینان نہیں کر سکتے کہ اس کے دلوں میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم (میرے ماں باپ ان پر قربان) کا وہی احترام قائم رہ سکے گا جو مسلمانوں کا شعار ہے۔ وہ ہستی جسے ہم انسانیت کا رہبر سمجھتے ہیں اور جس کی رہبری

صفحہ ۱۱

عالمی سیرت کانفرنس کی کارروائی عالمی سیرت مقالہ جات کو مسائل سیرت نے سیرت طیبہ عالمی سیرت پر اکابر علماء عالمی سیرت

لرزہ کانپ اٹھتی ہے۔ کہ ہم مجرموں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور ہر مسلمان کی پہچان ہے۔ تقریباً تیس اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں ۔ الریاض میں منعقد ہونے والی وزرائے خارجہ کی ”شیطانی آیات“ کی شدید مذمت کرتے لاکھوں مسلمان گذشتہ ۱۶ ماہ سے کے خلاف بڑے زور شور سے اپنی بات کا پختہ عزم کر چکے ہیں کہ انشاء اللہ جب تک حکومت برطانیہ ان کے کم از کم گئے ۔ سزا دی جائے ۔ نافذ کیا جائے ۔ مسز تھیچر ہی نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ کے تقدس پر ایسے افسوسناک حملے کئے ہیں مجروح ہوئے ہیں ۔ یہودی اور عیسائی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور اس کتاب کی

کا سینہ سپر ہو کر مقابلہ کرنا ہمارا ایمانی ے برداشت کر لیا گیا تو دوسرے مذہب نہیں کر سکتے کہ ان کے دلوں میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ) کا وہی احترام قائم رہ سکے گا جو نبوت کا درجہ سمجھتے ہیں اور جس کی ہمسری

پر انسانیت کی نجات اور فلاح موقوف ہے ، اس کے حق میں تقدس اور احترام کی فضا کا قائم ہونا اور اُسے برقرار رکھا جانا ضروری ہے۔ اگر یہ فضاء قائم نہ رہے تو اس کی رہبری کا مقام محفوظ نہیں رہ سکتا ۔ اور عالمِ انسانی کو اس سے استفادہ کرنا آسان نہیں ہو سکتا ۔

اس پس منظر کے بعد اب نہایت دُکھ کے ساتھ محض ضرورت کے تحت شیطانی کتاب سے یہ چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں (نقل کفر کفر نہ باشد) تاکہ فتوے دینے میں آسانی ہو۔

ابراہیم علیہ السلام کو ”حرامی“ کہا گیا ۔ صفحہ ۹۵

سے پکارا گیا ہے جس کا مطلب (نعوذ باللہ) شیطان یا جھوٹا نبی ہوتا ہے۔ صفحہ ۹۵ ۔

”وہ ایک ایسا آدمی ہے جس کے پاس نیک و بد میں امتیاز کرنے کے لئے وقت نہیں “ صفحہ ۳۶۳ ”اپنی بیوی کی وفات کے بعد مہوند کوئی فرشتہ نہیں رہا، آپ میرا مطلب خود بخود ہی سمجھ لیجئے “ صفحہ ۳۶۶ ”اسے جو وحی آتی وہ اس کی اپنی غرض کے لحاظ سے ”بروقت“ ہوتی تھی یعنی ایسے وقت جبکہ ”مومنین“ آپس میں جھگڑ رہے ہوتے تھے “ صفحہ ۳۶۴ ”صحابہ کرام کو نام لے کر ”احمق“ اور ”ناکارہ“ کہا گیا ہے“ صفحہ ۱۰۱ ”طوائفوں اور فاحشاؤں کو پیغمبر خدا کی ازواج مطہرات کے نام دے کر ایک قحبہ خانے میں پیش کیا گیا ہے اور اس ضمن میں حسب ضرورت دل کھول کر ادبی مغلظات بکی گئی ہیں ۔ صفحہ ۳۸۱ تا ۳۸۳ ”اسلام کے متبرک شہر مکہ کو ”جاہلیہ“ کے نام سے پکارا گیا ہے یعنی جہالت

صفحہ ۱۲

اور تاریخی کا گھڑت“ صفحہ ۹۵ ”مسلمانوں کا خدا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک کاروباری تاجر ہے اور اسلامی شریعت تو ہر ذلیل سے ذلیل چیز میں بھی گھسی ہوئی ہے“۔ صفحہ ۳۶۴ ”اغلام بازی اور مجامعت کے خصوصی آسن کی خود جبریل امین نے توثیق کر رکھی ہے “ صفحہ ۳۶۴

رشدی کے جرم وسزا کی صحیح اسلامی شرعی حیثیت سمجھنے میں مسلمان کچھ دقت محسوس کر رہے ہیں جس کے نتیجہ میں ذہنی کشمکش اور افراط وتفریط کے مرض کا شکار ہورہے ہیں۔

آپ سے گذارش ہے کہ مندرجہ بالا پس منظر اور اقتباسات کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرآن وسنت کی روشنی میں اور فقہ حنفی ، فقہ مالکی ، فقہ شافعی اور فقہ حنبلی کے حوالے سے حسب ذیل سوالات کے مدلل جوابات وضاحت کے ساتھ عنایت فرمائیں۔ امت مسلمہ خاص طور پر برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں پر آپ کا بہت بڑا احسان ہوگا۔ دشمنوں کے زہریلے پروپیگنڈے زوروں پر ہیں اور مسلمان علوم دینیہ سے پوری طرح واقف نہیں۔ ایسے حالات میں اسلامی موقف کی صحیح وضاحت وقت کی اہم ضرورت ہے:-

سوال ۱ :- شاتم رسول رشدی کے جرم کی اسلامی فقہ (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) میں کیا تعریف ہے؟ یعنی رشدی مرتد ہے ، یا زندیق یا دونوں کا اس پر اطلاق ہوتا ہے ۔

سوال ۲ :- رشدی کے جرم کی شریعت نے کیا سزا مقرر کی ہے؟ سوال ۳ :- شریعت کے مطابق جاری کردہ سزا کیسے نافذ کی جائے گی؟ کون سے ادارے یا افراد سزا کو نافذ کرنے کے ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے؟ سوال ۴ :- کیا اسلامی شرعی عدالت میں مقدمہ چلائے بغیر اور صفائی کا موقع دیئے بغیر رشدی جیسے کھلم کھلا اور خود اقراری شاتم رسول (جو کہ بار ہا ٹیلی ویژن پر توہین آمیز کلمات دہراتے ہوئے یہاں تک کہہ چکا ہے کہ ”کاش میں نے اُس

صفحہ ۱۳

کہ ایک کاروباری تاجر ہے اور اسلامی بھی ہوتی ہے۔ صفحہ ۳۷۴ نبی امن کی خود جبریل امین نے توثیق کہ

ا کی حیثیت سمجھنے میں مسلمان کچھ وقت یں اور افراط و تفریط کے مرض کا

منظر اور اقتباسات کو پیش نظر فقہ حنفی ، فقہ مالکی ، فقہ شافعی اور والات کے مدلل جوابات وضاحت کے س طور پر برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک بڑا احسان ہو گا ۔ دشمنوں کے زہر یلے عوام دینیہ سے پوری طرح واقف وضاحت وقت کی اہم ضرورت ہے:-

امی فقہ (حنفی ، شافعی ، مالکی، حنبلی) مرتد ہے ، یا زندیق یا دونوں کا اس پر

کیا سزا مقرر کی ہے ؟ ردہ سزا کیسے نافذ کی جائے گی ؟ کون کرنے کے ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے ؟ مقدمہ چلائے بغیر اور صفائی کا موقع دیئے مدعی شاتم رسول (جو کہ بار ہا ٹیلی ویژن پر یہاں تک کہہ چکا ہے کہ ” کاش میں نے اِس

سے بھی سخت تنقید کی کتاب لکھی ہوتی“) کے خلاف اسلامی سزا نافذ کی جاسکتی ہے ؟

سوال ۵ :- رشدی کے لئے معافی اور تلافی کی کیا صورت ہے ؟ کیا کسی طرح وہ دُنیاوی سزا سے بچ سکتا ہے ؟

سوال ۶ :- کیا پبلشرز ”پینگوئن“ اور دیگر ملوث اداروں کے ساتھ مسلمانوں کو کسی قسم کا کاروبار جائز ہے ؟

سوال ۷ :- رشدی کی حمایت اور اُس کی کتاب کو سراہنے والے مسلمانوں کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟

السائلین

مفتی مقبول احمد چیئرمین اسلامک ڈیفنس کونسل سکاٹ لینڈ ۔ مقبول احمد ، محمد اسلم لاہوری (ایگزیکٹو ممبر) احقر محمد اسلم ، طفیل حسین شاہ (وائس چیئرمین) طفیل حسین شاہ ، قاضی منظور حسین ،(کنوینر جلوس کمیٹی)۔ منظور حسین ، مسٹر بشیرمان (جے پی) سیکرٹری بشیر احمد مان ، اور محمد سعید چوہدری ،(کنوینر مسلم ممالک رابطہ کمیٹی) ڈاکٹر عبیدالرؤف (کوآرڈینیٹر) جاوید اقبال ظفر (خزانچی)

صفحہ ۱۴

الجواب

مبسملاً و محامداً و مصلّیاً و مسلّماً ۔

سلمان رشدی کی فحش گالیوں کی تحریرات اگر واقعی انہی کی ہیں کسی اسلام کے سخت ترین دشمن نے لکھ کر اُن کے نام کی اجازت لے کر نہیں چھاپ دی، واقعی ان کی ہے تو ایسا ممکن ہونا ہی عقل میں نہیں آتا کہ ایسی تحریرات جو کسی شریف کی زبان یا قلم پر آ ہی نہیں سکتیں وہ ایک مسلمان کہلانے والے کے قلم سے کیسے ممکن ہیں ؟ جس شخص میں اسلام تو اسلام شرافت کی کوئی رمق بھی باقی ہو گی وہ ایسی باتوں کا تخیل بھی نہیں لا سکتا ۔

جو تمہاری ماں بہن کو کوئی ایسا ایسا کہتا
تم ہی منصفی سے کہہ دو کہ تم اس کا کیا بناتے ؟

اگر یہ تحریریں کسی سخت کمینہ دشمن نے مرتب کر کے ان سے پانچ ہزار ڈالر کا وعدہ کر کے ان کے نام سے طبع نہیں کر دیں، واقعی انہی نے کسی کے دھوکہ میں آکر لکھ ماری ہیں تو ان کو ہم قرآن مجید، احادیث پاک، اجماع اُمت، قیاسات شرعیہ اور اسلاف اُمت کی تحقیقات سے پیش کرتے ہیں ۔

ممکن ہے خود رشدی صاحب ، سارے مسلمان اور شریف النفس غیر مسلم غور کر سکیں اور اس شعر کو سمجھ لیں ۔

قرآن شریف کی آیات

اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهُ اُمَّهَاتُهُمْ ۔

(سورۃ احزاب آیت ۶)

نبی مومنین کے ساتھ خود اُن کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور آپؐ کی بیبیاں اُن کی مائیں ہیں ۔

صفحہ ۱۵

ب مصلیاً و مسلماً ۔

بات اگر واقعی انہی کی ہیں کسی اسلام کے اجازت لے کر نہیں چھاپ دی ، واقعی ان کی ایسی تحریرات جو کسی شریف کی زبان یا قلم والے کے قلم سے کیسے ممکن ہیں ؟ جس شخص بھی باقی ہوگی وہ ایسی باتوں کا تخیل بھی

کوئی ایسا ویسا کہتا تو تم اس کا کیا بناتے ؟ تب کر کے ان سے پانچ ہزار ڈالر کا وعدہ کرکے کسی کے دھوکہ میں آکر لکھ ماری ہیں تو اجماع اُمت ، قیاسات شرعیہ اور اسلاف اُمت

سارے مسلمان اور شریف النفس غیر مسلم غور کر سکیں

کی آیات

مومنین کے ساتھ خود اُن کے نفس سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور آپؐ کی ان کی مائیں ہیں ۔"

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حق تو ہماری اپنی جانوں کے حق سے بہت زیادہ ہے اور اُن کی ازواج مطہراتؓ تو سب مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ ان روحانی ماؤں کا حق جسمانی ماؤں سے اس قدر زائد سمجھنا ضروری ہے جتنا رُوح کا حق جسم سے زائد رہتا ہے کہ جسم چند روز میں مٹی بن کر نیست و نابود ہونے والا ہے اور رُوح سب کی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہتی ہے ۔

ہر آدمی مسلمان ہو یا نہ ہو مگر ذرا شریف قسم کی عقل رکھتا ہو وہ کبھی اپنی جسمانی والدہ کے متعلق ایسی گالیاں سُن کر خون کھول جائے بغیر نہیں رہ سکتا سوچ سمجھ لیجئے کہ اس کا جذبہ دل و ایمان کیسے ٹھنڈا ہو سکتا ہے ؟

ہر آدمی اپنے سے جواب لے کہ اس کے ساتھ ایسا ہو تو وہ کیا کرے ؟

ایک ہماری ہی ماں نہیں ہم سب کے ماں باپ، دادا ، دادی ، نانا ، نانی ، اب سے لے کر پندرہ سو سال تک پہلے کے ان سلسلوں کی بھی وہی اعلیٰ قسم کی روحانی و ایمانی ماں، پھر آپ کے اپنے ہی سلسلہ نسب تک ڈیڑھ ہزار سال کے سارے مسلمانوں کی اُن کے ماں باپ ، دادا ، دادی ، نانا ، نانی کے سب پندرہ سو سالہ سلسلوں کی والدہ وہ بھی روحانی و ایمانی کو ایسی گالیاں !

یہ تم ہی منصفی سے کہہ دو کہ تم اس کا کیا بناتے

ہم موجودہ ہی کی نہیں تمام زندہ و فوت شدہ مسلمان مرد، عورت ان کے ماں باپ ، نانا ، نانی ، دادا ، دادی کے پندرہ سو سال تک کے سارے بزرگوں کی روحانی و ایمانی ، ان اربوں کھربوں بلکہ سنکھوں مہاسنکھوں بے حد و بیشمار بزرگوں کی گالیاں سُن سُن کر قبروں میں ، جنتوں میں ، برزخ میں تلملانے والوں، والیوں کے خون کھولا دینے والے جذبات اس شخص کے لئے کیسے ہوں گے ؟ اور جتنا اُن کا جہاں جہاں قابو چلے گا وہ کیا نہ کر سکیں گے ؟

ہ

صفحہ ١٦
یہ دُنیا ہے یہاں تو بند ہے بالکل زباں اُن کی
وہ عقبیٰ ہے وہاں سُننی پڑے گی داستاں اُن کی

رشدی صاحب ! اپنے ماں باپ اور پندرہ سو سالہ تمام بزرگوں کے کھول جانے والے جذبات یہاں نہیں تو وہاں کیا کچھ نہ کر دکھائیں گے ؟ دو دن کی زندگی کا گھمنڈ نہ کرو جبکہ ہر وقت ایکسیڈنٹ کا شبہ ہے اور اب تو روز دن کے ہارٹ اٹیک نے مشاہدہ کرا دیا ہے ۔

وَالْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيْنَ وَالطَّيِّبُوْنَ لِلطَّيِّبٰتِ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا يَقُوْلُوْنَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِيْمٌ ۔

گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق ہوتے ہیں اور ستھری عورتیں ستھرے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور ستھرے مرد ستھری عورتوں کے لائق ہوتے ہیں، وہ اس بات سے پاک ہیں جو یہ بکتے پھرتے ہیں، اُن کے لئے تو مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔

(سورۃ النور آیت ٢٦)

نکاح شادی میں لوگ समझते ہیں کہ بس ہمارے انتخاب ہیں اور کچھ نہیں مگر یہ غیر مسلموں کے خیالات ہیں ۔ حقیقت میں خدائے کائنات ایک کا جوڑ دُوسرے سے لگاتے ہیں اور اس کے خلاف نہیں ہوتا ، گو ان میں سے کوئی عارضی کوئی دائمی ہو ۔

ارشاد ہے کہ خبیث (بُری) عورتیں خبیث مردوں کے لئے ہوتی ہیں، اور ایسے ہی مرد ایسی ہی عورتوں کے لئے ہوتے ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے ہوتی ہیں اور ایسے ہی مرد ایسی عورتوں کے لئے ۔

یہ قانون فطرت ہے اس لئے اوّلاً جو اس کے خلاف کہے گا وہ اس فطری

صفحہ ۱۷

عالمی سیرت کانفرنس

کانفرنس کی کارروائی

پیغام

مقالہ جات کو

مسائل سیرت

نے سیرت مطہر

عالمی سیرت کا

پر اکابر علماء

عالمی سیرت

ل زبان اُن کی
کی داستاں اُن کی

دہ سو سالہ تمام بزرگوں کے بھول جانے کر دکھائیں گے؟ دو دن کی زندگی کا گھمنڈ ہے اور اب تو نوجوانوں کے ہارٹ اٹیک

”گندی عورتیں گندے مَردوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق ہوتے ہیں اور ستھری عورتیں ستھرے مَردوں کے لائق ہوتی ہیں اور ستھرے مرد ستھری عورتوں کے لائق ہوتے ہیں، وہ اس بات سے پاک ہیں جو یہ بکتے پھرتے ہیں، اُن کے لئے تو مغفرت اور عزت کی روزی ہے“

ہمارے انتخاب ہیں اور کچھ نہیں مگر میں خدائے کائنات ایک کا جوڑ خلاف نہیں ہوتا ، گو ان میں سے کوئی

خبیث مَردوں کے لئے ہوتی ہیں، اور ہوتے ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے ۔

کے خلاف کہے گا وہ اس فطری

توہین رسالت اور اسکی سزا کا پس منظر

خدائی قانون کا انکار کر رہا ہے اور کسی اسلامی قانون کا بھی منکر باغی اور اسلام سے خارج ہے ازواج مطہرات میں سے کسی کو طعن کرنے والا صرف ان کے خاتون طیب ہونے کا ہی انکار نہیں کرتا بلکہ جن طیب مردوں کے لئے وہ ہیں اُن کے پاکیزہ ہونے کا انکار ہے تو یہ انکار قانون بھی اور نبی کی پاکیزگی کا ضمناً انکار دوسرا کفر ہے، ان ازواج مطہرات کو خبیث کہنا قانونِ خدا کا انکار تیسرا کفر، اور چونکہ خبیث، خبیث کیلئے ہے قانوناً تو نبی کو ایسا کہنا چوتھا کفر۔ ان کے بری ہونے کی شہادت خود اللہ تعالیٰ دے رہے ہیں ان کا جھوٹا اور ان کا بری اور پاک ہونا خدائی شہادت ہے جس کے خلاف سے انسان باغی کافر ہو گا یہ پانچواں کفر ہے۔ ان کے لئے آخرت میں مغفرت نہ ہونے کا دنیا میں عیش نہ ہونے کا منکر یہ چھٹا اور ساتواں کفر ہے۔ ان باتوں میں تو خدا تعالیٰ کا بھی انکار لازم آرہا ہے۔

الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوْا کو جو پاکدامن ہیں اور ایسی باتوں سے فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ بے خبر ہیں ایمان والیاں ہیں ان پر دنیا عَذَابٌ عَظِیْمٌ ۔ اور آخرت میں لعنت کی جاتی ہے اور ان

(سورۃ نور آیت : ۲۳) کو بڑا عذاب ہو گا ۔

لعنت حق تعالیٰ کی ہر رحمت سے دُور کرنے کو کہتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پاک سیدھی سادی معمولی مسلمان عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے لئے دنیا میں پھر آخرت میں تمام رحمتوں سے دُور کرنے کا اور قیامت کے بڑے عذاب کا انجام مقرر کیا ہے۔ یہ تو ہر مسلمان عورت پر تہمت لگانے کی دنیوی و اُخروی محرومی اور عذاب عظیم ذکر فرمایا اور جو عورتیں بحکم قرآنی پاکیزہ ہیں پاکیزہ بزرگوں سے وابستہ ہیں پھر اور اُوپر چلئے کہ انبیاء ورسل سے وابستہ ہو کر اور بھی سب کی مائیں اور دینی عظمت میں سب سے بڑھ کر ہیں اُن پر تہمت لگانے والے کا کیا حشر

صفحہ ۱۸

ہوگا ذرا اس پر بھی غور کر لیں۔

ثُمَّ لَمْ يَأْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ پر پھر چار گواہ نہ لاسکیں تو ایسے لوگوں فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمَانِيْنَ جَلْدَةً کو اَسّی (۸۰) دُرّے لگاؤ اور وَّلَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا ۚ اُن کی گواہی کبھی قبول مت (سورة نور : ۴) کرو“

یہ سزائے سخت تو صرف اُن کے لئے ہے جو عام مسلمان عورتوں پر تہمت لگائیں اور چشم دید چار گواہ نہ لاسکیں۔ اب خیال کیجئے کہ ان سے بہت اونچے بزرگ پر بلکہ طبقات ازواج پر بلکہ اربوں کھربوں مسلمان کی ماں، نانی، دادی پر تہمت لگائے اور چار چشم دید کیا ایک فرضی گواہ بھی نہ رکھتا ہو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہیئے؟ جن کے ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی کی اب پندرہ سو سال تک کی سب کی بزرگ ترین ماؤں پر ایسی فحش گالی سے تہمت تو ہر مسلمان کے جذبات کی تسکین آخر کس سزا سے ہو سکتی ہے؟ ہمیشہ کے لئے ناقابل شہادت ہونا تو معمولی تہمت پر تھا اب کیا سزا ہوگی؟

رَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى کو ایذا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن پر دُنیا و الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ آخرت میں لعنت کرتا ہے اور اُن کے لئے لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا وَّالَّذِيْنَ ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے، يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اور جو لوگ ایمان والے مَردوں کو اور وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوْا ایمان والی عورتوں کو بدون اس کے کہ فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ انہوں نے کچھ کیا ہو ایذا پہنچاتے ہیں تو وہ اِثْمًا مُّبِيْنًا ۔ (سورة احزاب ۵۸) لوگ بہتان اور صریح گناہ کا بار لیتے ہیں“

صفحہ ١٩

”اور جو لوگ تہمت لگائیں پاکدامن عورتوں پر پھر چار گواہ نہ لا سکیں تو ایسے لوگوں کو اَسّی (۸۰) دُرّے لگاؤ اور اُن کی گواہی کبھی قبول مت کرو“

آئیے جو عام مسلمان عورتوں پر تہمت لگائیں ان کا حال دیکھئے کہ ان سے بہت اُونچے بزرگ یعنی ایک عام مسلمان کی ماں ، نانی ، دادی پر تہمت لگائے اور گواہ بھی نہ رکھتا ہو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہئیے ؟ ماں، نانا نانی کی اب پندرہ سو سال تک کی گواہی ، اگر فحش گالی سے تہمت تو ہر مسلمان کے جذبات مجروح ، اور ہمیشہ کے لئے ناقابلِ شہادت ہونا تو معمولی سزا ہے ۔

”بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولؐ کو ایذا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن پر دُنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے اور اُن کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے“

اور جو لوگ ایمان والے مَردوں کو اور ایمان والی عورتوں کو بدون اس کے کہ انھوں نے کچھ کیا ہو ایذا پہنچاتے ہیں تو وہ بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار لیتے ہیں“۔

اذیت جسمانی بھی ہوتی ہے اور روحانی بھی، ذہنی بھی، عقلی بھی، ان سب صورتوں میں جو شخص اللہ رسول اور مومنین ومومنات کو کوئی سی بھی اذیت دے گا وہ دین و دنیا میں رحمت سے دُور (لعنت) اور بہتان اور گناہِ عظیم میں ہوگا اسی لئے ہر شخص کو غور کر لینا چاہئیے کہ ذرا سی دو انچ کی زبان کہاں کہاں پہنچا رہی ہے۔ دنیا و آخرت میں ہر رحمت سے محرومی معمولی بات نہیں۔

وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ ۔

(سورۃ البروج:۱۰)

جنہوں نے مسلمان مَردوں اور مسلمان عورتوں کو تکلیف پہنچائی پھر توبہ نہیں کی تو اُن کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور اُن کے لئے جلنے کا عذاب ہے۔

عام مسلمانوں کو فتنہ اور پریشانی میں ڈالنے والوں کے لئے چھونک ڈالنے والا عذاب ہے تو انبیاء، صحابہ اور صلحاء کے فتنہ سے کیا کچھ نہ ہو گا۔

رَسُوْلَ اللّٰهِ وَلَا اَنْ تَنْكِحُوْا اَزْوَاجَهٗ مِنْ بَعْدِهٖٓ اَبَدًا اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا ۔

(سورۃ احزاب:۵۳)

اور تم کو جائز نہیں کہ رسول اللہ کو کلفت پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپؐ کی بیبیوں سے کبھی بھی نکاح کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی بھاری بات ہے۔

ازواج مطہراتؓ سے تو نکاح بھی ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہے اور کسی بات کا تو کیا کہنا !

عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ

”جن لوگوں نے یہ طوفان برپا کیا ہے وہ تمہارے میں سے ایک گروہ ہے تم اس کو اپنے حق میں بُرا نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہی بہتر ہے ان میں سے ہر

عالمی سیرت کانفرنس کے مقالہ جات کا

ایک جائزہ

عالمی سیرت کانفرنس

مقالہ جات کا جائزہ

سہ ماہی

”پیغام صلح“

صفحہ ۲۰

مِنْ اِثْمِهِ وَالَّذِيْ تَوَلّٰی شخص کو جتنا کسی نے کچھ کمایا تھا گناہ ہوا كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ اور ان میں سے جس نے اس میں سب سے عَظِيْمٌ ۔ (سورة النور : ١١) بڑا حصہ لیا اس کو سخت سزا ہوگی ۔

منافقوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر تہمت لگائی تھی اس کی براءت اور اُن کا جھوٹ ثابت کرنے کے لئے چند آیات آئی تھیں جس میں ایک یہ ہے اس میں حضرت موصوفہ کو اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی بھی فرمائی اور ان الزام لگانے والوں کا حشر بھی بتایا ہے کہ ان میں سے ہر ایک پر اس کا کمایا ہوا بڑا گناہ ہے اور جو ان کا سرغنہ تھا اُس کے لئے تو بہت ہی بڑا گناہ ہے۔ اب اس طرح کی تہمت لگانے والے سب اپنا انجام دیکھ لیں۔

كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ لَا تَعْتَذِرُوْا کی آیتوں کے ساتھ اور اُس کے رسول کے قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ ۔ ساتھ تم ہنسی کرتے تھے تم اب عذر مت کرو تم (سورة التوبہ : ۶۵ ، ۶۶) اپنے کو مومن کہہ کر کفر کرنے لگے “

النَّبِيَّ وَ يَقُوْلُوْنَ هُوَ ایذائیں پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اُذُنٌ قُلْ اُذُنُ آپ ہر بات کان دے کر سُن لیتے ہیں، آپ خَيْرٍ لَّكُمْ ۔ فرما دیجئے وہ نبی کان دے کر تمہاری بات (سورة التوبہ : ۶١) سنتے ہیں جو تمہارے حق میں خیر ہے ۔“

يُّحَادِدِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ اُس کے رسول کی مخالفت کرے گا تو یہ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا بات ٹھہر چکی ہے کہ ایسے شخص کو دوزخ کی فِيْهَا ذٰلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيْمُ آگ اس طور پر نصیب ہو گی کہ وہ اس میں ہمیشہ

(سورة التوبه : ٦٢)

اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ اُولٰٓئِكَ فِى الْاَذَلِّيْنَ كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِيْ ۔

(سورة المجادله : ۲۰ ، ۲۱)

وَرَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ (سورة المجادله : ۵)

بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ وَسَآءَتْ مَصِيْرًا

(سورة النساء : ۱۱۵)

فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ

(سورة الانفال : ١٣)

عَلَيْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابُ

عالمی سیرت کانفرنس کی روئداد عالمی سیرت پر مقالات رسائل سیرت مقالات و رسائل سیرت

صفحہ ۲۱

عالمگیر سیرت کا نظریہ

کانفرنس کی کارروائی

یہ بھی پڑھیں!

مقالات کانفرنس

مسائل سیرت

نئے سیرت مطہر

عالمگیر سیرت

پر اکابر علماء

حق کسی نے کچھ کمایا تھا گناہ ہوا ں سے جس نے اس میں سب سے لیا اس کو سخت سزا ہو گی “ عالی عنہا پر تہمت لگائی تھی اس کی لئے چند آیات آئی تھیں جس میں ایک صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی بھی فرمائی اور ان ان میں سے ہر ایک پر اس کا کمایا ہوا بڑا کے لئے تو بہت ہی بڑا گناہ ہے۔ اب اس ہم دیکھ لیں ۔

” تو آپ کہہ دیجئے کہ کیا اللہ کے ساتھ اور اس کی آیتوں کے ساتھ اور اُس کے رسول کے ساتھ تم ہنسی کرتے تھے تم اب عذر مت کرو تم اپنے کو مومن کہہ کر کفر کرنے لگے “

اور اُن میں سے بعض ایسے ہیں کہ نبی کو ایذائیں پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ ہر بات کان دے کر سُن لیتے ہیں، آپ فرما دیجئے وہ نبی کان دے کر تو وہی بات سنتے ہیں جو تمہارے حق میں خیر ہے “

”کیا ان کو خبر نہیں کہ جو شخص اللہ کی اور اُس کے رسول کی مخالفت کرے گا تو یہ بات ٹھہر چکی ہے کہ ایسے شخص کو دوزخ کی آگ جس طور پر نصیب ہو گی کہ وہ اس میں ہمیشہ

(سورۃ التوبہ ۶۲)

رہے گا یہ بڑی رسوائی ہے “

اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ اُولٰٓئِكَ فِي الْاَذَلِّيْنَ كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۔

(سورۃ المجادلہ ۲۰، ۲۱)

”جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یہ لوگ سخت ترین ذلیل لوگوں میں ہیں اللہ تعالیٰ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ قوت والا غلبے والا ہے “

وَرَسُوْلَهُ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ (سورۃ المجادلہ)

”جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ایسے ذلیل ہوں گے جیسے اُن سے پہلے لوگ ذلیل ہوئے “

بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰی وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيْرًا ۔

(سورۃ النسآء : ۱۱۵)

”جو شخص رسولؐ کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ اُس کے سامنے امر حق ظاہر ہو چکا ہو اور مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر دوسرے رستہ ہو لیا تو ہم اس کو جو کچھ وہ کرتا ہے کرنے دیں گے اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بُری جگہ ہے جانے کی “

فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ۔

(سورۃ الانفال : ١٣)

”اور جو اللہ کی اور رسول کی مخالفت کرتا ہے، سو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں “

عَلَيْهِمُ الْجَلَاءَ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ

”اور اگر اللہ تعالیٰ اُن کی قسمت میں جلاوطنی ہونا نہ لکھ چکتا تو اُن کو دُنیا ہی میں سزا دیتا اور اُن کے لئے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے یہ اس سبب سے ہے کہ ان

صفحہ ۲۲

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ لوگوں نے اللہ کی اور اُس کے رسولؐ کی وَرَسُوْلَهٗ وَمَنْ يُّشَاقِ اللّٰهَ مخالفت کی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔ مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ سخت سزا (سورة الحشر : ۴) دینے والا ہے “

امید ہے کہ سب حضرات غور کریں گے کہ اللہ رسولؐ کی اذیت ان کی مخالفت اور مقابلہ کس قدر سنگین جرم ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے شدید عذاب سے کون اور کس طرح بچ سکتا ہے ؟ پھر مخالفت بھی معمولی نہیں، اعلانات اشتہارات شور و شغب یعنی اپنی انتہائی کوشش سے، تو غور کر لیا جائے اس شدید ترین کوشش پر شدید عذاب و عقاب دُنیا و آخرت میں کیا کیا ہو گا جس کی ستر مرتبہ دھلی آگ میں (یعنی دُنیا کی آگ میں) ایک انگلی نہیں دی جاسکتی ۔

شُهَدَآءَ فَاِذْ لَمْ يَأْتُوْا سو جس حالت میں یہ لوگ گواہ نہیں بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ لائے تو بس اللہ تعالیٰ کے نزدیک عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكَاذِبُوْنَ۔ یہی جھوٹے ہیں “

اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فیصلہ کر دیا ہے کہ سلمان رشدی بالکل جھوٹا ہے کہ جو بھی تہمت پر چار گواہ چشم دید نہ لاسکیں تو یہ سب اللہ پاک کے نزدیک جھوٹے ہیں اور اُن کے جھوٹ کی اشاعت کرنے والے بھی فیصلہ الٰہی میں جھوٹے، اس کو چھپانے اور پناہ دینے والے بھی جھوٹے۔ اور یہ سب شدید ترین مجرم ہیں ۔

(سورة آل عمران : ۶۱) کی لعنت ہے “

خدائی شہادت سے اُن کا بالکل جھوٹا ہونا اوپر کی آیت میں بالکل صاف

ثابت ہوچکا اور اس آیت میں بھی دُنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی

بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰ لَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْ الْكِتٰبَ حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْ عَنْ يَّدٍ وَّ هُمْ صَاغِرُوْ

(سورة التوبہ : ۲۹)

بِاَيْدِيْكُمْ وَ يُخْزِهِمْ يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰی مَ يَّشَآءُ ۔ (سورة التوبہ : ۱۴، ۱۵

ایسی حرکت والے کا انجام اور شرعی قیاسات اور بزرگوں کی کسی ایک کا مجرم نہیں انسانیت زندہ و مرحوم مسلمانوں اور ہرا سکتا ہے۔ اگر کوئی ایسی تہمتیں

صفحہ ۲۳

لوگوں نے اللہ کی اور اُس کے رسولؐ کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے “ کہ اللہ و رسولؐ کی اذیت ان کی مخالفت والے کے شدید عذاب سے کون اور یں، اعلانات اشتہارات شورو ا جائے اس شدید ترین کوشش تماشا ہو گا جس کی شرر سے دہکتی آگ جا سکتی ۔ یہ لوگ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے سو جس حالت میں یہ لوگ گواہ نہیں لائے تو بس اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہی جھوٹے ہیں “ ہے کہ سلمان رشدی بالکل جھوٹا اور یہ سب اللہ پاک کے نزدیک کرنے والے بھی فیصلہ الٰہی میں جھوٹے، جھوٹے ۔ اور یہ سب شدید ترین "جھوٹ بولنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے “ ظاہر ہونا اوپر کی آیت میں بالکل صفا

صاف آچکا اور اس آیت میں تمام کاذبوں پر لعنت فرمائی ہے۔ لعنت کے معنی ہیں دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی ہر رحمت سے محروم ہو جانا ۔

بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ہیں اور نہ قیامت کے دن پر اور نہ ان لَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وَرَسُولُهٗ وَلَا يَدِينُونَ اور اُس کے رسولؐ نے حرام بتلایا ہے اور دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ اُوتُوا نہ سچے دین کو قبول کرتے ہیں ، ان سے یہا الْكِتٰبَ حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ تک لڑو کہ وہ ماتحت ہو کر اور رعیت بن عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صَاغِرُونَ ۔ کر جزیہ دینا منظور کر لیں “

(سورة التوبہ : ٢٩)

بِاَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَ ہاتھوں سزا دے گا اور اُن کو ذلیل کرے يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ گا اور تم کو ان پر غالب کرے گا اور صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ بہت سے مسلمانوں کے قلوب کو شفاء وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ دے گا اور اُن کے قلوب کے غیظ کو وَيَتُوبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ دُور کرے گا اور جس پر منظور ہو گا اللہ تعالیٰ يَّشَاءُ ۔ (سورة التوبہ : ١٤، ١٥) توجہ فرمائیں گے “

ایسی حرکت والے کا انجام دنیا و آخرت میں دیکھنا ہو گا ۔ احادیث و اجماع اور شرعی قیاسات اور بزرگوں کی تحقیقات سے یہ مسئلہ روشن ہو رہا ہے ۔ یہ مجرم کسی ایک کا مجرم نہیں انسانیت کا، شرافت کا اللہ و رسولؐ کا سینکڑوں بھائیوں زندہ و مرحوم مسلمانوں اور ہر انسانیت رکھنے والے کا مجرم ہے۔ ہر شخص غور کر سکتا ہے ۔ اگر کوئی ایسی تہمتیں ، سڑی سڑی گالیاں اس کی محترم ماؤں ، بہنوں ،

عالمی سیرت پر ایک نظر مقالات سیرت عالمی سیرت کانفرنس کی کاروائی

صفحہ ۲۴

نانیوں، دادیوں کو دیتا تو کیا وہ اس کو زندہ چھوڑ سکتے ۔ ایسے مجرم کی حمایت، حفاظت کرنا اُسے چُھپانا، بچانا کسی انسانیت کے دشمن سے ہی ہو سکتا ہے۔ گویا وہ سارے عالم کے مسلمانوں اسلامی مملکتوں اور ہر انسانیت کا احترام سمجھنے والی حکومتوں کو علی الاعلان الٹی میٹم دے رہا ہے اور اس عمل سے ثابت کر رہا ہے کہ اندر کا مجرم کوئی اور ہے گو باہر کا برائے نام سلمان رشدی ہے ۔

۲۱ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ " اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ اے نبیؐ کے گھر والو ! تم سے الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا ۔ آلودگی کو دُور رکھے اور تم کو پاک (سورۃ احزاب ۳۳) صاف رکھے ۔"

جو لوگ اہل بیت و ازواج مطہراتؓ پر عیب لگاتے یا گند اُچھالتے ہیں گویا وہ اعلان کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ ہی فرمایا ہے اُسے پُورا نہیں کیا تو غور کیجئے کہ ایسا کہنے والے کا کیا حشر ہونا ضروری ہے ۔

۲۲ يَا اَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ " اے نبی ! کفار و منافقین سے جہاد وَالْمُنَافِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ کرو اور سختی کرو اور ان کا ٹھکانہ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَ جہنم ہے اور وہ بُرا ہی ٹھکانہ بِئْسَ الْمَصِيْرُ ۔ ہے " (سورۃ توبہ : ۷۳)

سلمان رشدی اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اس لئے منافق بھی ہے ۔

٭

صفحہ ۲۵

کیا وہ اس کو زندہ چھوڑ سکتے۔ حفاظت کرنا اسے چھپانا، بچانا کسی انسانیت کے ہے، گویا وہ سارے عالم کے مسلمانوں اسلامی مملکتوں ہم سمجھنے والی حکومتوں کو علی الاعلان الٹی میٹم دے ثابت کر رہا ہے کہ اندر کا مجرم کوئی اور ہے گو باہر کا رہے ۔

لِيُذْهِبَ أَهْلَ كُمُ تَطْهِيرًا ۔

"اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ اے نبیؐ کے گھر والو ! تم سے آلودگی کو دور رکھے اور تم کو پاک

(۳)

صاف رکھے "

ازواج مطہرات پر عیب لگاتے یا گند اچھالتے ، تے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ ہی فرمایا ہے اسے ر ایسا کہنے والے کا کیا حشر ہوتا ضروری ہے ۔

جَاهِدِ الْكُفَّارَ غْلُظْ عَلَيْهِمْ نَّمُ وَ

"اے نبی ! کفار و منافقین سے جہاد کرو اور سختی کرو اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بُرا ہی ٹھکانہ ہے "

آپ کو مسلمان کہتا ہے اس لئے منافق

چالیس احادیث مبارکہ

كانت له ام ولد تشتم النبى صلى الله عليه وسلم و تقع فيه فينهاها فلا تنتهى ويزجرها فلا تنزجر قال فلما كانت ذات ليلة جعلت تقع فى النبى صلى الله عليه وسلم وتشتمه فأخذ المغول فوضعه فى بطنها و اتكأ عليها فقتلها فوقع بين رجليها طفل فلطخت ما هنالك بالدم فلما أصبح ذكر ذلك للنبى صلى الله عليه وسلم فجمع الناس فقال انشد الله رجلا فعل ما فعل لى عليه حق الا قام فقام الاعمى يتخطى

”حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا کی ام ولد باندی تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی تھی اور آپؐ کی شان میں گستاخی کرتی تھی، یہ اس کو روکتا تھا مگر وہ رُکتی نہ تھی یہ اُسے ڈانٹتا تھا مگر وہ مانتی نہ تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ جب ایک رات پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرنی اور گالیاں دینی شروع کیں تو اس نابینا نے ہتھیار (خنجر) لیا اور اُس کے پیٹ میں رکھا اور وزن ڈال کر دبا دیا اور مار ڈالا، عورت کی ٹانگوں کے درمیان بچہ نکل پڑا، جو کچھ وہاں تھا خون آلودہ ہوگیا۔ جب صبح ہوئی تو یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ذکر کیا گیا۔ آپؐ نے لوگوں کو جمع کیا پھر فرمایا میں اس آدمی

صفحہ ۲۶

کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے کیا جو کچھ کیا میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے تو نابینا کھڑا ہو گیا، لوگوں کو پھلانگتا ہوا اس حالت میں آگے بڑھا کہ وہ کانپ رہا تھا حتی کہ حضورؐ کے سامنے بیٹھ گیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں ہوں اسے مارنے والا، یہ آپؐ کو گالیاں دیتی تھی اور گستاخیاں کرتی تھی میں اسے روکتا تھا وہ رکتی نہ تھی، میں جھڑکتا تھا وہ باز نہ آتی تھی اور اس سے میرے دو بچے ہیں جو موتیوں کی طرح ہیں اور وہ مجھ پر مہربان بھی تھی لیکن آج رات جب اس نے آپؐ کو گالیاں دینی اور بُرا بھلا کہنا شروع کیا تو میں نے خنجر لیا اس کے پیٹ پر رکھا اور زور لگا کر اسے مار ڈالا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو گواہ رہو اس کا خون بے بدلہ (بے سزا) ہے“۔

الناس وهو يتزلزل حتى قعد بين يدى النبى صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله انا صاحبها كانت تشتمك وتقع فيك فأنهاها فلا تنتهى وازجرها فلا تنزجر ولى منها ابنان مثل اللؤلؤتين وكانت لى رفيقة فلما كان البارحة جعلت تشتمك وتقع فيك فأخذت المغول فوضعته فى بطنها واتكأت عليها حتى قتلتها فقال النبى صلى الله عليه وسلم ألا اشهدوا ان دمها هدر (ابوداؤد ص ۶۰۰ مطبع نور محمد کراچی وايضاً جمع الفوائد ص ۲۸۴ بحوالہ ابوداؤد و نسائی) وايضاً کنز العمال ص ۳۰۲ بحوالہ (ش) -

ناظرین غور کریں کہ اپنے دو بچوں اور عزیز بچوں کی ماں رفیقہ زندگی مگر حضورؐ کی شان میں گستاخ تو اس کے مالک کو غیرت ایمانی کا وہ جوش ہوا کہ اُس نے صبح ہونے تک بھی برداشت نہ کیا اور اُسے فنا کے گھاٹ اُتار دیا۔ وہ مالک تھا غیرت ایمانی میں بے بس ہو گیا تھا اُس کا قتل کرنا معافی میں رہا ۔

۲ عن علی رضی اللہ عنہ

یہودیۃ کانت تشتم

صلی اللہ علیہ وسلم

فیہ فخنقہا رجل حت

ماتت فابطل رسو

ل اللہ صلی اللہ علیہ وسل

(ابو داؤد ص ۶۰۰ مطبع نور

اوپر والا قصہ تو مملوکہ

نے کسی قسم کا خیال کئے بغی

وسلم نے اس کا بدلہ باطل ق

علیہ وسلم کو گالیاں دینے و

علمبردار سزاؤں کا غیر مستح

۳ قال عمرو سمعت

عبد اللہ یقول قال

اللہ صلی اللہ علیہ

من کعب بن الا

فإنہ قد آذی ا

رسولہ فقام م

مسلمۃ الخ

رواہ البخا

فقتلوہ -

صفحہ ۲۷

عالی سیرت کا اثر

کانفرنس کی روداد،

مقالہ جات کو

مسائل سیرت

عالی سیرت کا

پر ایک طائرانہ

عالی سیرت

خبر نابینا جان کے بقول عورت کمال مسلم پھر بند مصطفیٰ خفا تھا

کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے کیا جو کچھ کیا میرا اُس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے تو نابینا کھڑا ہو گیا، لوگوں کو پھلانگتا ہُوا اس حالت میں آگے بڑھا کہ وہ کانپ رہا تھا حتیٰ کہ حضورؐ کے سامنے بیٹھ گیا اور عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ میں ہوں اسے مارنے والا، یہ آپؐ کو گالیاں دیتی تھی اور گستاخیاں کرتی تھی میں اسے روکتا تھا وہ رکتی نہ تھی، میں دھمکاتا تھا وہ باز نہ آتی تھی اور اس سے میرے دو بچے ہیں جو موتیوں کی طرح ہیں اور وہ مجھ پر مہربان بھی تھی لیکن آج رات جب اُس نے آپؐ کو گالیاں دینی اور بُرا بھلا کہنا شروع کیا تو میں نے خنجر لیا اس کے پیٹ پر رکھا اور زور لگا کر اسے مار ڈالا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو گواہ رہو اس کا خون بے بدلہ (بے سزا) ہے ۔

بیوی اور عزیز بچوں کی ماں رفیقہ زندگی مگر مالک کو غیرت ایمانی کا وہ جوش ہوا کہ اُس نے اُسے فنا کے گھاٹ اُتار دیا۔ وہ مالک تھا قتل کرنا معافی میں رہا۔

یہودیۃ کانت تشتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم و تقع فیہ فخنقہا رجل حتی ماتت فابطل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دمھا۔

(ابو داؤد ص ۴۷۱ مطبع نور محمد)

”حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی اور برا کہتی تھی تو ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو ناقابل سزا قرار دے دیا ۔“

اوپر والا قصہ تو مملوکہ باندی کا تھا یہ غیر مملوکہ غیر مسلم کا ہے مگر غیرت ایمانی نے کسی قسم کا خیال کئے بغیر جوش ایمانی میں جو کرنا تھا کر دیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بدلہ باطل قرار دیا۔ دونوں واقعات سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والا مباح الدم (خون جائز) بن جاتا ہے اور حق کا علمبردار سزاؤں کا غیر مستحق ہو جاتا ہے بلکہ ثواب کا حق دار ہو جاتا ہے ۔

عبد اللہ یقول قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من لکعب بن الاشرف فانہ قد آذی اللہ و رسولہ فقام محمد بن مسلمۃ الخ رواہ البخاری فقتلوہ ۔

”حضرت عمر بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون کھڑا ہو گا کعب بن الاشرف کے لئے کیونکہ اُس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیفیں پہنچائی ہیں تو محمد بن مسلمہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور پھر اپنے ساتھ جا کر اُسے قتل کر دیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ اسے قتل کر دیا گیا ہے ۔

صفحہ ۲۸

مآخذ سیرت

پر ایک طائرانہ نظر

مآخذ سیرت کا

سیرت مطہرہ

مقالہ جات و کتب

کانفرنس کی روائیداد

مآخذ سیرت کا تنقیدی

و فی فتح الباری قوله آذى الله ورسوله فی رواية محمد بن محمد عن جابر عند الحاكم فقد آذانا بشعره وقوى المشركين ..... و من طريق ابی الاسود عن عروة أنه كان يهجو النبى صلى الله عليه وسلم و يحرّض قريشا عليهم -

(فتح الباری ص ۴۷ ج ۷)

اور فتح الباری شرح بخاری میں ہے کہ بخاری کی اس حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیفیں پہنچائی ہیں، حاکم کی روایت میں یہ بھی اضافہ ہے کہ اُس نے اپنے اشعار کے ذریعے سے ہمیں تکلیفیں پہنچائی ہیں اور مشرکوں کی مدد کی ہے ۔ اور حضرت عروہؒ سے روایت ہے کہ یہ کعب بن الاشرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا اور قریش کو مسلمانوں کے خلاف ابھارتا تھا “

نیز دیکھیں البدایۃ والنھایۃ ص۱۴ ج ۳ اور سیرۃ نبویہ ابن کثیر ص۱۴ ج ۳ نیز کنز العمال ص۲۶ ج ۵ ۔

یہ یہودی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور اُن کے واسطہ سے اللہ تعالیٰ کو اذیت و تکلیف دیتا رہا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کے لئے اعلان کیا تھا تو محمد بن مسلمہؓ نے یہ کارنامہ انجام دیا ۔

۴؂ قال ابن کثیر فی البداية والنهاية ناقله عن البخاری قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم الى ابی رافع اليهودی رجالا من الانصار و امرعليهم

۴؂ اور ابورافع یہودی کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لئے بطور خاص قتل کروایا کہ وہ آپؐ کو اذیتیں پہنچاتا تھا۔ علامہ ابن کثیر نے البدایۃ والنھایہ میں لکھا ہے کہ بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورافع کو قتل کرنے کے لئے

عبد الله بن عتيك ابو رافع يؤذی صلى الله عليه وسلم عليه - (البداية فتح الباری ص ۴ ) اس سے معلوم ہوا کہ ایسے لوگ معاشرہ میں بگاڑ پیدا کر رہے ہیں ۔

۵؂ فی الصحيح البخاری انس بن مالك رضی الله ان النبى صلى الله عليه دخل مكه يوم الفتح و رأسه المغفر فلما نزع جاء رجل فقال ان ابن خطل متعلق بأستار الكعبة فقال فقال اقتله - (رواہ البخاری فتح الباری ص ۱۱ البداية النهايه ص قال ابن تيميه فى الصارم المسلول وانه كان يـ الشعر يهجو به رسول الله صلى الله عليه وسلم ويـ جاريته أن تغنيابه فـ

صفحہ ۲۹

اور فتح الباری شرح بخاری میں ہے کہ بخاری کی اس حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ اسی نے اللہ اور اُس کے رسول کو تکلیفیں پہنچائی ہیں، حاکم کی روایت میں یہ بھی اضافہ ہے کہ اُس نے اپنے اشعار کے ذریعے سے ہمیں تکلیفیں پہنچائی ہیں اور مشرکوں کی مدد کی ہے۔ اور حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ یہ کعب بن الاشرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا اور قریش کو مسلمانوں کے خلاف ابھارتا تھا “

(سیرۃ نبویہ ابن کثیر ص۴۱)

اور اُن کے واسطہ سے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کے لئے بڑا انعام دیا۔

ابورافع یہودی کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لئے بطور خاص قتل کروایا کہ وہ آپ کو اذیتیں پہنچاتا تھا۔ علامہ ابن کثیر نے البدایۃ والنہایۃ میں لکھا ہے کہ بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع کو قتل کرنے کے لئے

عبد اللہ بن عتیق و کان ابو رافع یؤذی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و یعین علیہ ۔ (البدایۃ والنہایۃ ج۴ ص۱۳۷ فتح الباری ج۷ ص۳۴۳)

چند انصار کا انتخاب فرمایا جن کا امیر حضرت عبد اللہ بن عتیق کو مقرر کیا گیا اور یہ ابو رافع حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیفیں دیتا تھا اور آپ کے خلاف لوگوں کی مدد کیا کرتا تھا “

اس سے معلوم ہوا کہ ایسے کاموں کے لئے چند آدمیوں کو مقرر کیا جا سکتا ہے اور یہ سب سزا کے نہیں بڑے ثواب کے مستحق ہوتے ہیں کہ دینی کارنامہ انجام دے رہے ہیں ۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم دخل مکہ یوم الفتح وعلی رأسہ المغفر فلما نزعہ جاء رجل فقال ابن خطل متعلق بأستار الکعبۃ فقال اقتلوہ ۔ (رواہ البخاری فتح الباری ج۸ ص۱۴ البدایۃ والنہایۃ ج۴ ص۲۹۸)

قال ابن تیمیہ فی الصارم المسلول وانہ کان یقول الشعر یہجو بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و یامر جاریتہ أن تغنیا بہ فہذا

”صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے موقعہ پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر مبارک پر خود پہنا ہوا تھا، جب آپ نے خود اتارا تو ایک آدمی اس وقت حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ابن خطل کعبۃ اللہ کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا اسے قتل کر دو۔

(بخاری)

امام ابن تیمیہ نے الصارم المسلول میں تحریر کیا ہے کہ یہ ابن خطل اشعار کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا اور اپنی باندی کو وہ اشعار گانے کے لئے کہا کرتا تھا تو اُس کے

صفحہ ۳۰

عالمی سیرت کا

پر اگر علماء کو

عالمی سیرت کا

نے سیرت مطہ

مسائل سیرت

مقالات و کتب

پیغمبر اسلام

کانفرنس کی کاروائیاں

عالمی سیرت کانفرنس

له ثلاث جرائم مبيحة للدم ، قتل النفس والردة والهجاء -

(الصارم ص۱۴)

کل تین جرم ہیں جن کی وجہ سے یہ مباح الدم قرار پایا، ایک قتل، دوسرا ارتداد اور تیسرا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بدگوئی “

وسلّم بـ قتل القينتين (ان لونڈیوں کا نام قریبہ اور قرتنا تھا اور یہ ابن خطل کی باندیاں تھیں دیکھیں اصح السیر ص۲۶۶ ) وكانتا تغنيان بهجاء رسول الله صلّى الله عليه وسلم فامر بقتلهما - (البداية والنهاية ج۴ص۲۹۸)

اسی طرح ابن خطل مذکورہ کی ہجو گانے والی دونوں باندیوں کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقعہ پر قتل کرنے کا حکم دیا تھا جن کا نام قریبہ اور قرتنا تھا ۔ ان دونوں کے قتل کرنے کا حکم ہی اس لئے دیا گیا کہ یہ دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بدگوئی کے اشعار گایا کرتی تھیں “

ان میں سے قریبہ قتل کر دی گئی اور قرتنا بھاگ گئی۔ بعد میں آکر مسلمان ہوگئی۔ (اصح السیر ص۲۶۶ ) اگر چہ شعر دوسرے کے بنائے ہوئے تھے مگر یہ گانے والیاں اس کو دوسروں تک پہنچا رہی تھیں اس لئے غیر کا ایسا نثر و نظم جملہ شائع کرنے والا بھی قتل کا مستحق ہے ۔

وسلّم بقتل حويرث ابن نقيذ في فتح مكه وكان ممن يؤذى رسول الله

”اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر حویرث ابن نقیذ کو قتل کرنے کا حکم ارشاد فرمایا یہ بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو

صلّى الله عليه وسلّم - البدايه والنهايه ص۲۹۸ ج۴ وقتله علی رضی اللہ عن کما فی اصح السیر ص۲۶۶ حضرت علی رضی اللہ تعا انہم ہے ۔

الله عنه قال قال رسول صلّى الله عليه وسلّم م سبّ نبيّاً قتل ومن سبّ اصحابه جلد - الصارم المسلول ص۴ نیز د حضرت آدم علیہ السلام س نبی کو بھی جو گالیاں دے گا یا بُرا کسی کو بھی بُرا کہے گا اسے کوڑے کے نام لیوا صاحبان کو کان کھول کر

قال كنت عند ابی بک فتغيظ على رجل فاشتد عليه فقلت ائذن لى يا خليفة رسول الله أن أضرب عنق

صفحہ ۳۱

عالمی سیرت کانفرنس کی کاروائی عالمی سیرت مقالہ جات سیرت مطہرہ

کل تین جرم ہیں جن کی وجہ سے یہ مباح الدم قرار پایا، ایک قتل، دوسرا ارتداد اور تیسرا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بدگوئی ۔

اسی طرح ابن خطل مذکورہ کی ہجو گانے والی دونوں باندیوں کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقعہ پر قتل کرنے کا حکم دیا تھا جن کا نام قریبہ اور قرتنا تھا۔ ان دونوں کے قتل کرنے کا حکم بھی اس لئے دیا گیا کہ یہ دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بدگوئی کے اشعار گایا کرتی تھیں ۔

اور قرتنا بھاگ گئی ۔ بعد میں آکر مسلمان ہوئے تھے مگر یہ گانے والیاں ان مردودوں میں نثر نظم رسالہ شائع کرنے والا بھی قتل کا

۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر حویرث ابن نقیذ کو قتل کرنے کا حکم ارشاد فرمایا یہ بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچایا کرتے تھے ۔

صلی اللہ علیہ وسلم ۔

البدایہ والنہایہ ص۲۹۹ ج۴

حضرت علی رضی اللہ تعالےٰ عنہ نے اس کو قتل کیا ۔

وقتله علی رضی اللہ عنہ

کما فی اصح السیر ص۲۶۷ ۔

حضرت علی رضی اللہ تعالٰے عنہ کے پیروکاروں کے لئے یہ کام بڑا اہم ہے ۔

اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سبّ نبيّاً قتل ومن سبّ اصحابه جلد ۔

الصارم المسلول ص۹ نیز ص۲۹۹

” حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کسی نبی کو بُرا کہے اُسے قتل کر دیا جائے اور جو صحابہ کو بُرا کہے اُسے کوڑے لگائے جائیں ۔“

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی نبی کو بھی جو گالیاں دے گا یا بُرا کہے گا وہ قتل کا مستحق ہے اور جو صحابہ میں کسی کو بھی بُرا کہے گا اسے کوڑے لگانا ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام لیوا صاحبان کو کان کھول کر سن لینا چاہئیے اور سارے مسلمانوں کو ۔

قال كنت عند ابي بكر فتغيظ على رجل فاشتدّ عليه فقلت أتأذن لي ياخليفة رسول الله أن أضرب عنقه قال

حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابو بکرؓ کے پاس موجود تھا کہ وہ ایک آدمی پر (کسی وجہ سے) غصّہ ہوئے اس نے حضرت ابوبکرؓ کو بہت سخت باتیں کہیں میں نے عرض کیا کہ اے خلیفہ رسولؐ

صفحہ ۳۲

فأذهب كلمتى غضبه فدخل فارسل الى فقال ما الذى قلت آنفاً قلت اتأذن لي ان اضرب عنقه قال أكنت فاعلاً لو امرتك قلت نعم قال لا والله ما كانت لبشر بعد محمد صلی الله عليه وسلم ۔

اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اس کی گردن مار دوں ، میرے اتنے کہنے ہی سے حضرت ابوبکرؓ کا غصہ ختم ہو گیا آپ اندر تشریف لے گئے پھر مجھے پیغام بھیج کہ اندر بلایا۔ میں حاضر ہوا تو فرمایا ابھی تم نے کیا جملہ بولا تھا ؟ میں نے وہ جملہ دُہرا دیا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں اُس کی گردن مار دوں ۔ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا اگر میں اجازت دیدیتا تو کیا تم یہ کر گزرتے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! آپ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے

( مجمع الفوائد : بحوالہ ابوداؤد

و نسائی : ص ۵۸ )

نیز ابوداؤد ص ۲ طبع نور محمد )

بعد اب یہ کسی دوسرے کیلئے نہیں ہے “

اوپر کی حدیث میں صحابہ کو بُرا کہنے پر کوڑے مارنا آیا ہے قتل صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا یا گالی پر آیا ہے ۔

١٠ وعن مجاهد قال أتى عمر برجل يسبّ رسول الله صلی الله عليه وسلم فقتله ثمّ قال عمرؓ من سبّ الله أو سبّ احدا من الانبياء فاقتلوه - الصارم المسلول

(ص ۲۱۹ جلد ۴)

١٠ ” حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا کہتا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بطور سزا اُسے قتل کیا اور پھر فرمایا جو اللہ تعالیٰ کو یا انبیاء میں سے کسی کو بُرا کہے اُسے قتل کر دو “

یہ صاف حکم ہے کہ جو اللہ تعا ایذا اور بُرا کہنے پر قتل ہے ۔

١١ عن عكرمة قال أ عليؓ بزنادقه فاح فبلغ ذلك ابن عباسؓ لوكنت أنا لما حرق لنهى النبي صلی ا عليه وسلم ق لا تعذبوا بعذاب ولقتلتهم لقوله الله عليه وسلم بدل دينه فاقتلو

(للبخاری واصحاب ال

مجمع الفوائد ص ۲۵

زندیق وہ منافق ہیں جو کہلاتے ہیں اور اندر سے سزا جلانا تو نہیں ہے، قتل ہ

١٢ من ارتد عن فاقتلوه - (طب کنز الع

حدیث : کل م پیدا ہوتا ہے) توجب فطرہ مرتد قابل قتل ہے ۔

صفحہ ۳۳

اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اس کی گردن مار دوں ، میرے اتنے کہنے ہی سے حضرت ابوبکرؓ کا غصہ ختم ہو گیا آپ اندر تشریف لے گئے پھر مجھے پیغام بھیج کر اندر بلایا۔ میں حاضر ہوا تو فرمایا ابھی تم نے کیا جملہ بولا تھا ؟ میں نے وہ جملہ دہرا دیا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں اُس کی گردن مار دوں ۔ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا اگر میں اجازت دیدیتا تو کیا تم یہ کر گزرتے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! آپ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب یہ کسی دوسرے کیلئے نہیں ہے “

”حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا کہتا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بطور سزا اُسے قتل کیا اور پھر فرمایا جو اللہ تعالیٰ کو یا انبیاء میں سے کسی کو بُرا کہے اُسے قتل کردو “

توہین رسالت اور اُسکی سزا کاپی ۲۷

یہ صاف حکم ہے کہ جو اللہ تعالیٰ یا کسی رسول یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا اور بُرا کہنے پر قتل ہے ۔

۱۱/ عن عكرمة قال أتى علي بـزنـادقـه فاحرقهم فبلغ ذلك ابن عباس فقال لو كنت أنا لم احرقهم لنهى النبى صلى الله عليه وسلم قـــــــال لا تعذبوا بعذاب الله ولقتلتهم لقوله صلى الله عليه وسلم من بدل دينه فاقتلوه ۔

(رواہ البخاری واصحاب السنن

جمع الفوائد ص ۵۲۳ ج ۱)

”حضرت عکرمہؓ سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ کے پاس کچھ زندیقوں کو لایا گیا تو حضرت علیؓ نے انہیں آگ میں جلوا دیا جب یہ خبر حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کو ملی تو فرمایا اگر میں ہوتا تو ان کو آگ میں نہ جلاتا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو ہاں میں ان کو قتل ضرور کرتا ۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو اپنے دین الٰہی کو تبدیل کرے اُسے قتل کر دو “

زندیق وہ منافق ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنے کو مسلمان کہتے کہلاتے ہیں اور اندر سے کافر ہیں جیسے آج کل بہت لوگ ایسے ہی ہیں۔ ان کی سزا جلانا تو نہیں ہے، قتل ہے ۔

۱۲/ من ارتد عن دينه فاقتلوه ۔ طب کنزالعمال ص ۳۲

”جو اپنے دین الٰہی سے مرتد ہو اُسے قتل کر دو “

حدیث : كل مولود يولد على الفطرة (ہر بچہ فطری والٰہی دین پر پیدا ہوتا ہے) تو جب فطرت دینِ اسلام ہے، جو اس اپنے دین کو بدل دے وہ مرتد قابلِ قتل ہے ۔

صفحہ ۳۴

۱۳ من بدل دینہ فاقتلوہ ۔ "جو اپنے دین (حنیف) کو تبدیل کرے (حم خ) کنزالعمال ص۲۳ ج۱ اُسے قتل کر دو"

۱۴ ان من ابغض الخلق الی "اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساری مخلوق میں اللہ تعالیٰ لمن آمن ثم کفر ۔ سب سے زیادہ قابل نفرت وہ شخص ہے جس (طب) کنزالعمال ص۲۳ ج۱ نے ایمان لانے کے بعد پھر کفر کیا"

ایمان یعنی ہمیشہ ہمیشہ کی نجات کا تحفہ لینے کے بعد کفر کرتا ہے تو وہ اسلام کی توہین، اللہ اور رسول کی اور سارے مسلمانوں کی توہین اور اہانت کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی زمین میں رہنے سہنے کے بالکل لائق نہیں وہ تو ہر مرتد سے بدترین مرتد ہے ۔

۱۵ من غیر دینہ فاقتلوہ ۔ "جو اپنے دین (اسلام) کو بدلے (الشافعی) کنز العمال ص۲۳ ج۱) اُسے قتل کر دو" فطری دین کو بدل ڈالنے پر یہ حکم ہے اور احکام یقینی کو بدل ڈالنے کا بھی یہی حکم ہے۔ جو لوگ دوسرے قانون لے رہے ہیں اُن کی بھی یہ سزا ہے ۔

۱۶ من رجع عن دینہ "جو اپنے دینِ اسلام سے پھر جائے فاقتلوہ ۔ (حب) کنز العمال ص۲۳ ج۱) اُسے قتل کر دو" فطری دین سے لوٹ جانے پر یہی قتل کی سزا ہے جو لوگ اسلامی قانون کو بدل کر غیر اسلامی قانون لاتے ہیں، ان دونوں حدیثوں کی رو سے وہ بھی قابل سزائے عظیم ہیں ۔

۱۷ اشتد غضب اللہ علی "اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا سخت غضب قوم کلموا وجہ رسول اللہ ۔ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (طب) کنزالعمال ص۲۶ ج۵) کا چہرہ زخمی کیا"

جہاد میں ایسا کیا یا اُن کی بات وم جا رہا ہے ۔

۱۸ ان اللہ اختارنی و اختار لی اصحابی واصہاری وسیأتی قوم یسبونہم وینقصونہم فلا تجالسوہم ولا تشاربوہم ولا تواکلوہم ولا تناکحوہم ۔ (عق عن انس) کنزالعمال ص۳۳ ج ۶ ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ار ضرورت ہے کہ آج کل ایسے لوگ جو سے قلبی قطع تعلق فرض ہے۔ ان س وغیرہ سب منع ہے ۔

۱۹ ان اللہ اختارنی واختار لی اصحابا و اختار لی منہم اصہارًا و انصارا فمن حفظنی فیہم حفظہ اللہ و من آذانی فیہم آذاہ اللہ ۔ (خط عن انس رضی اللہ عنہ کنزالعمال ص۳۳ ج۶ ۔

عالی سیرت کا

پرا کار عالی

مقالات وا

نے سیرت مطہ

عالی سیرت کا

کانفرنس کی کاروائی

عالی سیرت کا نقشہ

صفحہ ۳۵

جہاد میں ایسا کیا یا اُن کی بات وحکم کو توڑا جیسے آج کل احکام الٰہی کو توڑا جارہا ہے ۔

١٨ ان الله اختارنی و اختار لی اصحابی واصهاری وسیأتی قوم یسبونهم وینقصونهم فلا تجالسوهم ولا تشاربوهم ولا تواکلوهم ولا تناکحوهم ۔

(عق عن انس)

کنز العمال ص۱۳۳ ج ۶ ۔

”بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے (انسانوں میں سے) پسند کیا ہے اور میرے لئے صحابہؓ اور خسر و داماد کو پسند کیا اور کچھ آگے سے لوگ آئیں گے جو اُن کو بُرا کہیں گے اور اُن میں عیب نکالیں گے تم نہ اُن کے ساتھ بیٹھنا نہ اُن کے ساتھ کھانا پینا کرنا اور نہ اُن کے ساتھ نکاح وغیرہ کرنا “

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد دل کی گہرائیوں میں پیوست کرنے کی ضرورت ہے کہ آج کل ایسے لوگ بھی نظر آ رہے ہیں ، کم بیش ہیں ، ان سب سے قلبی قطع تعلق فرض ہے ۔ ان کے ساتھ کھانا ، پینا ، بیٹھنا ، اُٹھنا شادی وغیرہ سب منع ہے ۔

١٩ ان الله اختارنی و اختارلی اصحابا و اختار لی منهم اصهارا و انصارا فمن حفظنی فیهم حفظه الله و من آذانی فیهم آذاه الله -

(خط عن انس رضی الله عنه)

کنز العمال ص۱۳۳ ج ۶ ۔

”یقیناً اللہ تعالیٰ نے مجھے پسند کیا اور میرے صحابہؓ کو پسند کیا اور میرے لئے خسر و داماد اور انصار کو پسند کیا جو اُن کے بارے میں میرے حق کی حفاظت کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرے گا اور جو اُن کے بارے میں مجھے اذیت دے گا اللہ تعالیٰ اُس کو اذیت دے گا “ اذیت دے گا

صفحہ ۳۶

کون ہے جسے اللہ تعالیٰ کی حفاظت کی ضرورت نہ ہو اور کون ہے جو کسی کو اللہ تعالیٰ کی دنیوی و اخروی اذیت سے بچا سکے ، لہٰذا سب حضرات کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اپنے کو دُنیا و آخرت میں تباہ ہونے سے بچا سکیں۔

اصحابا فجعل لی منهم لئے صحابہؓ کو چنا اور ان صحابہؓ میں سے وزراء واصهارا وانصارا میرے وزراء، خسر و داماد اور انصار بنائے فمن سبهم فعليه جو اُن کو گالی دے گا اُس پر اللہ تعالیٰ لعنة الله والملائكة فرشتوں اور لوگوں کی طرف سے لعنت والناس اجمعين لايقبل اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن الله منه يوم القيامة صرفا نہ توبہ قبول کرے گا نہ فدیہ کو اور نہ ولا عدلا (طب ك عن عويم بن ساعدة) عبادت کو “

کنز العمال ص ۱۳ ج ۶ ۔ صرفا وعدلا أى توبة وفدية ۔ مجمع بحار الانوار ص ۳۴۴ ۔

فضل ازواجه عليه السّلام رضى الله عنهن

ازواج مطہرات کے متعلق پہلے تو یہ آیت پڑھیے ۔

إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ ” اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ اے نبی کے گھر والو تم سے آلودگی وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ۔ کو دُور رکھے اور تم کو پاک صاف (سورۃ احزاب) رکھے “

جن کی پاکیزگی اور طیب اور طاہر ہونے کی شہادت خود اللہ تعالیٰ دے

عالی سیرت پر اکابر علماء نے سیرت مطہر مکمل سیرت مقالات کا مجموعہ چھپ چکا ہے

عالی سیرت کا ذکر کا فرض بھی کر رہی ہے

رہے ہیں۔ آپ خیال کیجئے کہ جھٹلا رہا ہے تو غور کیجئے کیا یہ کہ سزائے سخت سے بچ سکا

کنز العمال ص ۲۲ ازواج مطہرات کو کا شبہ بھی پیدا کرنے والا

الصالحون وفى الا الصابرون ۔ (کنز العمال ص ۲۲) یہ پیشین گوئی صاف صرف نیک اور صابر ہی میری

لهو الصادق البـ لازواجه) کنز العم غور کیجئے کہ حضور معیار کیا ہے ۔

النساء كفضل الـ سائر الطعام کنزالعمال ص ۲۲

صفحہ ۳۷

عائلی سیرت کا نفرنس

مقالہ جات کوئز

مسائل سیرت

نئے سیرت مطالعہ

عائلی سیرت کا

مداخلت کی ضرورت نہ ہو اور کون ہے جو ایسی اذیت سے بچا سکے، لہٰذا سب حضرات چاہیے تاکہ اپنے کو دنیا و آخرت میں تباہ ہونے

علی ؓ ”بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے چنا اور میرے لئے صحابہ کو چنا اور ان صحابہؓ میں سے ہمارا میرے وزراء ، خسر و داماد اور انصار بنائے نے جو ان کو گالی دے گا اس پر اللہ تعالیٰ ملائکہ فرشتوں اور لوگوں کی طرف سے لعنت قبل اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن صرفاً نہ توبہ قبول کرے گا نہ فدیہ کو اور نہ حاطؓ) عبادت کو۔“

ة وفدیة۔ مجمع بحار الانوار ص ۲۳۳ ۔

علیہ السّلام رضی اللّٰه عنہن

تو یہ آیت پڑھیے ۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ اے نبی کے گھر والو تم سے آلودگی کو دُور رکھے اور تم کو پاک صاف رکھے ۔“ ظاہر ہونے کی شہادت خود اللہ تعالیٰ دے

رہے ہیں۔ آپ خیال کیجئے کہ ان کے متعلق کچھ بُرا کہنے والا اللہ تعالیٰ کے ارشاد کو جھٹلا رہا ہے تو غور کیجئے کیا اس میں اسلام کی کوئی رمق باقی ہو گی کیا وہ مسلمان رہ سکے گا کیا سزائے سخت سے بچ سکتا ہے ؟

کنز العمال ص ۲۲۶ ج ۶ کے حق میں بہترین ہو ۔"

ازواج مطہراتؓ کو طیب و طاہر ماننے والا ہی خیر ہو سکتا ہے ان میں کسی قسم کا شبہ بھی پیدا کرنے والا اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ہو گا ۔

الصالحون وفى رواية شفقت کریں گے ۔" الا الصابرون ۔ (کنز العمال ص ۲۲۶ ج ۶)

یہ پیشین گوئی صاف بتا رہی ہے آوارہ و بدکردار لوگ بکواس کیا کریں گے۔ صرف نیک اور صابر ہی میرے بعد تم پر شفقت کریں گے ۔

لهو الصادق البار (قال وہی سچا اور نیک ہو گا ۔" لازواجه) کنز العمال ص ۲۲۶ ج ۶

غور کیجئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سچے اور نیک ہونے کا معیار کیا ہے ۔

النساء كفضل الثريد على باقی خواتین پر ایسی ہی ہے جیسے سائر الطعام ۔ (ت ن ه عن انسؓ) ثرید کی فضیلت باقی تمام کھانوں کنز العمال ص ۲۲۴ ج ۶ ۔ پر ۔"

صفحہ ۳۸

عائشہ سیرت

پر ایک طائرانہ

عائشہ سیرت کا

نے سیرت مطہر

مسائل سیرت

مقالات و کتب

عائشہ رضی اللہ عنہا کی

عائشہ سیرت کانفرنس کی رودادیں

دنیا و آخرت کی تمام عورتوں پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو وہ فضیلت حاصل ہے جو سب کھانوں پر ثرید کو (عرب کا مرغوب ترین کھانا ہے) سب کھانوں پر “

ومن الرجال ابوها - عائشہؓ ہیں اور مَردوں میں اُن کے (ق ت عن عمرو بن العاص ۔) والد (ابوبکر رضی اللہ عنہ) سب سے (ۃ ۔ من انس) کنزالعمال ص ۳۴/۲ ج ۶) محبوب ہیں “

غور کیجئے کہ اللہ و رسول کے بعد عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب حضرت عائشہؓ اور مَردوں میں اُن کے والد، چونکہ قاعدہ ہے دوست کا دوست، دوست ہوتا ہے (حبیب الی قلبی حبیب حبیبی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حبیب اور یہ دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حبیب تو دونوں اللہ تعالیٰ کے حبیب ہیں ۔

کنز العمال ص ۲۲ ج ۶ - ہوں گی “

دنیا و آخرت میں جن کو یہ اعزاز حاصل ہے تو وہ کون قرار پائے گا جو اُن سے نفرت کرے ۔

السلام - کنز العمال ص ۲۲۴ ج ۶ کہہ رہے ہیں “

تمام فرشتوں میں سے افضل فرشتہ تمام انبیاء پر وحی لانے والے فرشتہ نے جن کو سلام کیا وہ کیا ہوں گی ۔

بين ريقه - کے وقت اللہ تعالیٰ نے میرے اور حضور

(کنز العمال ص ۲۲۳ ج ۶)

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عثمانؓ سے نکاح کرنے اعتراض کیا اس پر حضرت عمر رضی نبویؐ میں کی تو آپؐ نے فرمایا:

عثمان ويتزوج عثم خيراً من حفصة فزوج النبى صلى الله عليه و ابنته - (کنزالعمال ص جن کی بہتری حضورؐ فرما سکتی ہے نہیں تو کیا ہے ۔

فانها صوامة قوامة زوجتك فى الجنة (کن انس وعن قيس بن ز

(کنز العمال ص ۲۲۶ ج ۶)

جبریل علیہ السلام بغیر اللہ ت جبریل روزوں والی رات کی اللہ تعالیٰ کو جھوٹا کہنا ہو گا ۔ م

صفحہ ۳۹

صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب اطہر کو جمع (کنز العمال ص ۲۳ ج ۶) فرمایا تھا (مسواک کا واقعہ وصال اطہر کے وقت کا معروف ہے) ۔

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے بیوہ ہونے کے بعد اُن کے والد حضرت عمرؓ نے حضرت عثمانؓ سے نکاح کرنے کا ارادہ ظاہر کیا مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب حضرت عثمانؓ کی شکایت بارگاہِ نبویؐ میں کی تو آپؐ نے فرمایا :-

عثمان ویتزوج عثمان سے بہتر ہوگا اور عثمانؓ ایسی خاتون خیراً من حفصة فزوجہ سے شادی کریں گے جو حفصہؓ سے النبی صلی اللہ علیہ وسلم بہتر ہوگی" ابنتہ۔ (کنز العمال ص ۲۲۱)

جن کی بہتری حضورؐ فرمائیں ان کو کسی قسم کا عیب لگانا خالص جھوٹ اور مکاری نہیں تو کیا ہے ۔

فانها صوامة قوامة فانها کر لیجئے کیونکہ وہ بہت روزہ دار زوجتك فی الجنة (ک عت اور بہت قیام اللیل کرنے والی ہیں انس وعن قیس بن زید) اور یہ جنت میں آپ کی زوجہ (کنز العمال ص ۲۲۶ ج ۶) ہوں گی"

جبرئیل علیہ السلام بغیر اللہ تعالیٰ کے حکم کے کچھ نہیں کہہ سکتے تو جن کو اللہ تعالیٰ بواسطہ جبرئیل روزوں والی رات کی عبادت والی فرمائیں ان کی شان میں گالیاں پیش کرنا، اللہ تعالیٰ کو جھوٹا کہنا ہوگا۔ غور کیجئے کتنا سخت جرم ہے۔

صفحہ ۴۰

فعليه لعنة الله ـ (ش عن اُس پر اللہ کی لعنت" عطاء مرسلا) كنز العمال ص ۱۳۶ ج ۱۱

اصحابي فاجلدوه ـ دے اُسے کوڑے لگاؤ" (ابوسعيد) كنز العمال ص ۱۳۶ ج ۱۱

یہ حدیث اور ۳۰ والی حدیث، صحابہ کرامؓ کو بُرا کہنے پر جو سزا بتا رہی ہیں وہ ہر حکومت کا فرض ہے، جو حکومت نہیں کرتی وہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلّم کی مجرم ہے۔

قال النبى صلی اللہ علیہ وسلم لا تسبوا اصحابى اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر فلو أن احدكم أنفق مثل سونا خرچ کرلے تو بھی صحابہؓ میں سے أحد ذهبا ما بلغ مد احدهم ایک مُد (۶۸ تولے) تو کیا اس کے ولا نصيفه ـ متفق عليه مشكوة صـ ۵۵۳ آدھے کے برابر بھی نہ پہنچے گا"

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کو بُرا کہنا حرام قابلِ سزا ہے کیونکہ ان کا مرتبہ بے حد بلند ہے تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر خیرات کرے تو صحابیؓ کے ایک مُدّ کے برابر بھی نہیں ہوتا اور ثواب خلوصِ دل سے بڑھتا ہے تو ان میں سے ہر ایک کا خلوص دوسرے سے اتنا بڑھا ہوا ہے۔ سوچئے ان کو بُرا کہنے والوں کا عذاب کتنا ہوگا ؟

رأيت رسول الله صلى الله عليه ہے کہتے ہیں کہ میں نے عرفہ والے دن وسلّم في حجته يوم عرفة حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ

وهو على ناقته يخطب فسمعته ايها الناس اني قد ما ان اخذتم تضلوا كتاب الله اهل بیتی - (ترمذی گناہ اور گمراہی سے وسلّم کی اولاد واہلِ بیت

قال قال رسول الله عليه وسلّم اذا ر يسبون اصحابي فـ لعنة الله على شركـ رواه الترمذى مشكوة صحابہؓ (مرد ہوں یا ان کو تم میں سے جو بُرا کہے تو اس پر لعنت ہو

قال قال رسول الله الله عليه وسلّم احـ بما يغذ وكم من واحبونى لحبّ الـ

صفحہ ۴۱

عالمی سیرت کا نفرنس

کانفرنس کی کارروائی

مقالات کا مجموعہ

رسائل سیرت

عالمی سیرت کا

ایک عالمی تحریک

عالمی سیرت

من اصحابی " جو میرے صحابہ میں سے کسی کو بُرا کہے لہ ۔ (ش عن اُس پر اللہ کی لعنت ۔" قال ص ۱۳۳

شتم " جو میرے صحابہؓ میں سے کسی کو گالی ولا ۔ دے اُسے کوڑے لگاؤ ۔" ص ۱۳۲ ۔

والی حدیث ، صحابہ کرام کو بُرا کہنے پر جو بتلا رہی ہیں ہے ، جو حکومت نہیں کرتی وہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ

خدری قال " فرمایا میرے صحابہؓ کو بُرا مت کہو کیونکہ اصحابی اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر تی مثل سونا خرچ کرلے تو بھی صحابہؓ میں سے مد احدهم ایک مُدّ (۶۸ تولے) تو کیا اس کے ة ص ۵۵۴ آدھے کے برابر بھی نہ پہنچے گا ۔"

صحابہؓ کو بُرا کہنا حرام قابلِ سزا ہے کیونکہ ان کا سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر خیرات کرے تو صحابیؓ تنا اور ثواب خلوص دل سے بڑھتا ہے تو ان جہ سے اتنا بڑھا ہوا ہے ۔ سوچئے ان کو بُرا

وہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے عرفہ والے دن حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ

وهو على ناقته القصواء صلی اللہ علیہ وسلم کو قصویٰ اُونٹنی پر سوار يخطب فسمعته يقول يا دیکھا آپؐ خطبہ دے رہے تھے، میں نے ايها الناس انى تركت فيكم آپ کو یہ فرماتے سُنا کہ اے لوگو ! میں ما ان اخذتم به لن نے تم میں وہ کچھ چھوڑا ہے کہ اگر تم اسے تضلوا كتاب الله وعترتي تھامے رکھو تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے :۔ اهل بيتي ۔ (ترمذی بحوالہ مشکوۃ ص ۵۷) کتاب اللہ اور میرا کنبہ میرے اہل بیت ۔"

گناہ اور گمراہی سے بچانے والی دو چیزیں ہیں قرآن اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد و اہل بیت (ازواج) ان کی توہین ایسی ہے جیسے قرآن کی توہین ۔

۳۵ عن ابن عمر رضی الله عنهما " حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے قال قال رسول الله صلى الله روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عليه وسلم اذا رأيتم الذين نے فرمایا جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو يسبون اصحابي فقولوالهم میرے صحابہ کو بُرا کہہ رہے ہوں تو یہ لعنة الله على شركم ۔ کہہ دیا کرو تم (دونوں فریقوں) میں سے رواه الترمذى مشكوة ص ۵۵۴ جو بُرا اُس پر اللہ کی لعنت ۔"

صحابہؓ (مرد ہوں یا عورت) جو اُن کو بُرا کہے اس کو یہ جواب دینا ہے کہ ان میں سے تم میں سے جو بد ہو، اُس پر خدا کی لعنت اور ظاہر ہے کہ بُرا کہنے والا بُد ہے تو اس پر لعنت کی ہر مسلمان کو دُعا کرنی ہے ۔

۳۶ عن ابن عباس رضی الله عنهما " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قال قال رسول الله صلى اللہ تعالیٰ سے محبت کرو کہ وہ تمہیں الله عليه وسلم احبوا الله طرح طرح کی نعمتوں سے غذا پہنچاتا ہے بما يغذوكم من نعمة اور مجھ سے محبت کرو اللہ تعالیٰ کی واحبونى لحب الله واحبوا محبت کی وجہ سے اور میرے اہل

صفحہ ۴۲

اہل بیتی لحبّی ۔ بیت سے محبت کرو، میری محبت (ترمذی، مشکوٰۃ ص۵۵۳) کی وجہ سے“

مشہور قاعدہ دوست کا دوست، دوست ہوتا ہے بقول متنبی ؎

حبیب الی قلبی حبیب حبیبی

یعنی محبوب کا محبوب میرے دل کا محبوب ہے ۔

اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے تو اُن کے تمام دوستوں سے محبت لازم ہے ۔ ان دوستوں، عزیزوں کو بُرا کہنے والا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے دعویٰ میں جھوٹا ہے ۔

الله عنه قال قال رسول الله ڈرو اللہ سے! میرے صحابہ کے بارے میں! میرے بعد اُن کو نشانۂ صلی الله عليه وسلّم: الله ملامت نہ بناؤ جو ان سے محبت کرتا الله فى اصحابى لا تتخذوهم ہے میری محبت کی وجہ سے اُن سے غرضا من بعدى فمن محبت کرتا ہے اور جو اُن سے نفرت احبهم فبحبى احبهم و کرتا ہے وہ میری نفرت کی وجہ سے من ابغضهم فببغضى اُن سے نفرت کرتا ہے اور جس نے أبغضهم ومن آذاهم انہیں اذیت دی اُس نے مجھے اذیت فقد آذانى ومن آذانى فقد دی اور جس نے مجھے اذیت دی اُس آذى الله ومن آذى الله نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی تو قریب فيوشك أن يأخذه ۔ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو پکڑلے “

(ترمذی، مشکوٰۃ ص۵۵۴)

غور کیجئے حضور کے صحابہؓ سے کینہ اور بُرا کہنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دینا ہے اور حضور کو اذیت دینا اللہ تعالیٰ کو اذیت دینا ہے اور اللہ تعالیٰ

کو جو اذیت دے گا تو قریب ٹھکانہ نہ ہوگا۔

علیہ وسلم اصحابی فبایھم اقتدیتم

(رزین ۔ مشکوٰۃ ص۵۵۴)

صحابی وہ ہے جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہ ہو جیسے اندھا ، اس نے ہو، بچہ ہو، بڑا ہو ، اولیاء وہ ہادی و مقتدائے قوم ہیں کی تباہی کو دیکھے۔

علیہ وسلم اکرموا فانہم خیارکم ثـ یلونہم ثم الذین ثم یظہر الكذب

(مشکوٰۃ ص۵۵۴)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم خیر ہے۔ ان کے لوگوں ہے اس سے کفر تک کا دلیل ہے کہ تین صدیاں خـ اجتہاد بھی معتبر نہیں ہے۔

صفحہ ۴۱

بیت سے محبت کرو، میری محبت کی وجہ سے “

، دوست ہوتا ہے بقول متنبی ؎

حبیبی

ل کا محبوب ہے ۔ قت ہے تو اُن کے تمام دوستوں سے محبت کو بُرا کہنے والا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے

”ڈرو اللہ سے، ڈرو اللہ سے، ڈرو اللہ سے ڈرو اللہ سے میرے صحابہ کے بارے میں، میرے بعد ان کو نشانہ ملامت نہ بناؤ جو ان سے محبت کرتا ہے میری محبت کی وجہ سے اُن سے محبت کرتا ہے اور جو اُن سے نفرت کرتا ہے وہ میری نفرت کی وجہ سے اُن سے نفرت کرتا ہے اور جس نے انہیں اذیت دی اُس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو پکڑلے “

اور بُرا کہنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت تعالیٰ کو اذیت دینا ہے اور اللہ تعالیٰ

کو جو اذیت دے گا تو قریب ہے کہ اُس کی پکڑ ایسی ہو کہ پھر دُنیا و آخرت میں ٹھکانہ نہ ہوگا۔

۳۸ قال رسول الله صلی الله ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علیه وسلم اصحابی کالنجوم میرے صحابہؓ ستاروں کی مانند ہیں اُن فبایهم اقتديتم اهتديتم میں سے جس کی تم اقتدا کرو گے ہدایت رزين ۔ مشکوۃ ص۵۵۴ پا جاؤ گے “

صحابیؓ وہ ہے جس کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایکبار بھی ملاقات ہو گئی چاہے اُس نے دیکھا بھی نہ ہو جیسے اندھا ، اس ایک ملاقات سے وہ صحابی ہو گیا مرد ہو، عورت ہو، بچہ ہو، بڑا ہو ، اولاد ازواج میں سے ہو۔ اس کیمیاوی ملاقات سے وہ ہادی و مقتدائے قوم بن جاتا ہے۔ اس کو بُرا کہنے والا اپنی دُنیا و آخرت کی تباہی کو دیکھے ۔

۳۹ قال رسول الله صلی الله ”فرمایا میرے صحابہؓ کی عزت کرو کیونکہ علیه وسلم اكرموا اصحابی وہ تم میں سب سے بہتر ہیں پھر وہ اُن فانهم خياركم ثم الذين کے قریب ہیں (یعنی تابعین) پھر وہ يلونهم ثم الذين يلونهم اُن کے قریب ہیں (یعنی تبع تابعین) ثم يظهر الكذب ۔ (الحديث) پھر جھوٹ پھیل جائے گا “ مشکوۃ ص۵۵۴

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صدی، صحابہؓ کی صدی، تابعین کی صدی خیر ہی خیر ہے۔ ان کے لوگوں کو بُرا کہنے والا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خیر کہنے کا منکر ہے اس سے کفر تک کا اندیشہ ہے۔ فرمایا پھر جھوٹ پھیل جائے گا۔ اس کی دلیل ہے کہ تین صدیاں جھوٹ کے پھیلنے سے محفوظ ہیں اس لئے اُن کے بعد کا اجتہاد بھی معتبر نہیں ہے ۔

صفحہ ۴۴

يلونهم ثم الذين يلونهم - پھر وہ لوگ جو اُس کے متصل ہیں‘ (الحدیث متفق علیہ مشکوٰۃ ص۵۵۳) (یعنی تیسری صدی والے)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی

کرنے والے کے کفر اور اُس کی سزائے قتل

کے بارے میں علماء اُمت کا اجماع

مُعتبَر و مستند کتابوں سے دس حوالے

الردة وهى قطع الاسلام نية ارتداد کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو نیتاً أو قول كفر او فعل وقد یا کلمۂ کفریہ یا فعل کفر کے ذریعہ سے ختم اتفق الائمة على أن کر دینا ۔ اور ائمہ کا اتفاق ہے کہ جو من ارتد عن الاسلام اسلام سے مرتد ہو جائے اس کا قتل کرنا وجب قتله وعلى ان واجب ہے اور اس بات پر بھی اتفاق قتل الزنديق واجب و ہے کہ زندیق کا قتل کرنا واجب ہے هو الذى يستر الكفر ويتظاهر جو بظاہر اپنے کو مسلمان کہتا ہو اور بالاسلام وعلى أنه إذا حقیقتاً کافر ہو ۔ اور اس بات پر بھی

ارتد اهل قرية بالدار قوتلوا وصارت اموالهم غنيمة وهذا ما وجد من مسائل الاتفاق -

البخارى للحافظ ابن حجر ص۳۳ ج ۱۲ - وقد نقل ابن المنذر الاتفاق على ان من سب النبى صلى الله عليه وسلم صريحا وجب قتله ونقل ابوبكر الفارسى ان ائمة الشافعيه فى كتاب الاجماع ان من سب النبى صلى الله عليه وسلم بما هو قذف كفر باتفاق العلماء ولم يسقط عنه القتل لان حد قذفه القتل وحد القذف لا يسقط بالتوبة - وخالفه ا

صفحہ ۴۴ ۴۵

الذين "میری اُمت کا بہترین میری صدی ہے يلونهم۔ پھر وہ لوگ جو اُس کے متصل ہیں" ۵۵۳ (یعنی تیسری صدی والے)

نبی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی

کے کفر اور اُس کی سزائے قتل

پر علماءِ اُمت کا اجماع

چند کتابوں سے دس حوالے

الشعرانی : "امام شعرانیؒ فرماتے ہیں :- مدينة ارتداد کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو نیتاً عقائد یا کلمہ کفریہ یا فعل کفر کے ذریعہ سے ختم ايمان کرا دینا ۔ اور ائمہ کا اتفاق ہے کہ جو اسلام سے مرتد ہو جائے اس کا قتل کرنا واجب ہے اور اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ زندیق کا قتل کرنا واجب ہے جو بظاہر اپنے کو مسلمان کہتا ہو اور حقیقتاً کافر ہو۔ اور اس بات پر بھی

ارتد اهل قرية بالدين اتفاق ہے کہ اگر کسی بستی والے مرتد قوتلوا وصارت اموالهم ہو جائیں تو اُن سے قتال کیا جائے گا غنيمة وهذا ما وجدته اور ان کے اموال مالِ غنیمت سمجھے من مسائل جائیں گے، یہ وہ متفقہ مسائل ہیں الاتفاق - جو مجھے ملے ہیں “ ۲۷ وفی فتح الباری شرح صحیح بخاری کے مشہور شارح جلیل القدر البخارى للحافظ ابن حجر محدث حافظ ابن حجرؒ عسقلانی شافعی ص۲۳۶ ج ۱۲ ۔ اپنی کتاب فتح الباری میں لکھتے ہیں :- وقد نقل ابن المنذر ابن المنذر نے اس بات پر علماء کا الاتفاق على ان من سب اتفاق نقل کیا کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم النبي صلى الله عليه کو گالی دے اُسے قتل کرنا واجب ہے وسلم صريحا وجب قتله ائمہ شوافع کے معروف امام ابوبکر الفارسی ونقل ابوبكر الفارسي احد نے اپنی کتاب الاجماع میں نقل کیا ہے ائمة الشافعيه في کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تہمت كتاب الاجماع ان من کے ساتھ بُرا کہے اُس کے کافر ہونے سب النبي صلى الله عليه پر تمام علماء کا اتفاق ہے توبہ کرلے وسلم بما هو قذف صريح تو بھی اس کا قتل ختم نہ ہوگا کیونکہ قتل كفر باتفاق العلماء فلوتاب اس کے تہمت لگانے کی سزا ہے اور لم يسقط عنه القتل تہمت کی سزا توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ لان حد قذفه القتل قفالؒ نے البتہ اس کی مخالفت کی ہے وحد القذف لا يسقط اور کہا ہے کہ یہ کفر گالی کی وجہ سے تھا بالتوبة ۔ وخالفه القفال تو دوبارہ اسلام قبول کرنے سے قتل

عالمی سیرت کانفرنس کی روداد، مقالہ جات و مسائل سیرۃ عالمی سیرت کا

صفحہ ۴۶

وقال أكفر المكفر بالسب ساقط ہو جائے گا۔ صیدلانیؒ کا قول

يستتاب منها وعنه

فيسقط القتل بالاسلام یہ ہے کہ قتل تو ساقط ہو جائے گا مگر

اذ كان ذمياً عزر و

وقال صيدلانى يزول حد قذف جاری ہوگی۔ مگر امام نے اس

كان مسلماً فهى ردة

القتل ويجب حد القذف قول کو ضعیف قرار دیا ہے۔ یہ تو صریح

(فتح البارى ص ١٦ ج ١٢ وفيه

وَضَعَّفَهُ الامام فان تہمت کا حکم تھا اگر تعریضاً (یعنی اشارۃً

واحتج الطحاوى لاصلى

عرض فقال الخطابى لا و کنایۃً) بُرا کہا تو خطابیؒ کا قول ہے

بحديث الباب وايدة بان

اعلم خلافا فى وجوب قتله کہ اگر یہ بُرا کہنے والا مسلمان تھا تو

هذا الكلام لو من مسلم لكان ردة)

اذا كان مسلماً وقال ابن اس کے قتل کے واجب ہونے میں مجھے

٣٧ وفى خلاصة الفتاوى

بطال اختلف العلماء کسی کے اختلاف کا علم نہیں۔ ابن بطالؒ فيمن سب النبى صلى الله کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی

وفى المحيط من شتم

عليه وسلم فاما اهل دینے والے کے بارے میں علماء کا

النبى صلى الله عليه وسلم

الجحد والذمة كاليهود اختلاف یہ ہے کہ ذمیوں نے اگر ایسا

واهانه أو عابه فى

فقال ابن القاسم عن کیا تو ابن القاسمؒ کی روایت کے

دينه او فى شخصه أو فى

مالك يقتل إلا أن مطابق امام مالکؒ نے فرمایا اگر اسلام

وصف من أوصاف ذاته

يسلم واما المسلم فيقتل نہ لائے تو قتل کر دیا جائے۔ باقی مسلم

سواء كان الشاتم مثلاً

بغير استتابة ونَقَل ایسا کرے تو بغیر توبہ طلب کئے اسے

من امته او غيرها و

ابن المنذر عن الليث قتل کر دیا جائے اور ابن المنذرؒ نے

سواء كان من أهل الكتاب

والشافعى وأحمد واسحاق لیث بن سعدؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن

أو غيره ذمياً كان أو

مثله فى حق اليهودى و حنبلؒ اور امام اسحاقؒ سے یہودی وغیرہ

حربياً، سواء كان الشتم

نحوه ومن طريق الوليد کے بارے میں یہی فتویٰ نقل کیا ہے

أو الاهانة أو العيب

بن مسلم عن الاوزاعى و اور ولید بن مسلمؒ کی روایت کے مطابق

صادراً عنه عمداً أو سهواً

مالك فى المسلم هى ردة امام اوزاعیؒ اور امام مالکؒ کا مذہب

أو غفلةً أو جداً أو هزلاً

عالی سیرت کا نفرنس کانفرنس کی کارروائی پیش فرمایا مقالہ جات کو مکمل سیرت نے سیرت معلم عالی سیرت کا پر اکابر علماء کی عالی سیرت

صفحہ ۴۷

ساقط ہو جائے گا۔ صیدلانی کا قول یہ ہے کہ قتل تو ساقط ہو جائے گا مگر حد قذف جاری ہو گی۔ مگر امام نے اس قول کو ضعیف قرار دیا ہے۔ یہ تو صریح تہمت کا حکم تھا اگر تعریضاً (یعنی اشارۃً و کنایۃً) بُرا کہا تو خطابی کا قول ہے کہ اگر یہ بُرا کہنے والا مسلمان تھا تو اس کے قتل کے واجب ہونے میں مجھے کسی کے اختلاف کا علم نہیں۔ ابن بطال کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والے کے بارے میں علماء کا اختلاف یہ ہے کہ ذمیوں نے اگر ایسا کیا تو ابن القاسم کی روایت کے مطابق امام مالک نے فرمایا اگر اسلام نہ لائے تو قتل کر دیا جائے۔ باقی مسلم ایسا کرے تو بغیر توبہ طلب کئے اسے قتل کر دیا جائے اور ابن المنذر نے لیث بن سعد، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق سے یہودی وغیرہ کے بارے میں یہی فتویٰ نقل کیا ہے اور ولید بن مسلم کی روایت کے مطابق امام اوزاعی اور امام مالک کا مذہب

يستتاب منها وعن الكوفيين اذا كان ذميا عزر وان كان مسلماً فهى ردة - (فتح الباری ص ٢٣ ج ١٢) وفيه ايضاً واحتج الطحاوى لاصحابهم بحديث الباب وايد ذلك بأن هذا الكلام لو من مسلم لكان ردة ص ٢٣ ج ١٢

٣٧ وفي خلاصة الفتاوى :

وفي المحيط من شتم النبی صلی الله علیه وسلم واهانه أو عابه فی امر دينه او فى شخصه أو فى وصف من أوصاف ذاته سواء كان الشاتم مسلما من امته أو غيرها و سواء كان من أهل الكتاب أو غيره ذميا كان أو حربيا، سواء كان الشتم أو الاهانة أوالعيب صادرا عنه عمدا أوسهوا أو غفلة أو جدًا أو هزلا

یہ ہے کہ مسلمان ایسا کرے تو مرتد ہو جائے گا (جس کی سزا قتل ہے) اور اُسے توبہ کرنے کو کہا جائے گا اور علماء کوفیین کا مذہب یہ ہے کہ اگر وہ ذمی ہے تو اُس کی سزا تعزیر ہے اور اگر مسلمان ہے تو یہ ارتداد ہے (اور اس کی سزا قتل ہے)

علامہ طاہر بخاری اپنی کتاب خلاصۃ الفتاویٰ میں لکھتے ہیں :-

"محیط میں ہے کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے، آپ کی اہانت کرے آپ کے دینی معاملات یا آپ کی شخصیت یا آپ کے اوصاف میں سے کسی وصف کے بارے میں عیب جوئی کرے، چاہے گالی دینے والا آپ کی اُمت میں سے ہو اور خواہ اہل کتاب وغیرہ میں سے ہو، ذمی ہو یا حربی، اور خواہ یہ گالی، اہانت اور عیب جان بوجھ کر ہو یا سہواً اور غفلت کی بناء پر، نیز سنجیدگی کے ساتھ ہو یا مذاق سے، ہر صورت میں ہمیشہ کے لئے یہ شخص کافر ہو گا اس طرح کہ اگر توبہ

صفحہ ۴۸

فقد كفر خلوداً۔ بحيث ان تابا لم يقبل توبته ابداً لا عند الله ولا عند الناس وحكمه في الشريعة المطهرة عند المتاخرين المجتهدين اجماعاً وعند المتقدمين القتل قطعاً ولا يداهن السلطان و نائبه في حکم قتله ۔

کرے گا تو بھی اس کی توبہ نہ عند اللہ مقبول ہے اور نہ عند الناس ۔ اور تمام متقدمین اور تمام متاخرین و مجتہدین کے نزدیک شریعت مطہرہ میں اُس کی قطعی سزا قتل ہے۔ حاکم اور اس کے نائب پر لازم ہے کہ وہ ایسے کے قتل کے بارے میں ذرا سی نرمی سے بھی کام نہ لے “

(خلاصة الفتاوى ص ۳۸۶ ج ۴)

الدمشقى الشافعي : الردة هى قطع الاسلام بقول أو فعل او نية اتفق الائمة على ان من ارتد عن الاسلام وجب عليه القتل ثم اختلفوا هل يتحتم قتله في الحال أم يوقف على استتابته وهل استتابته واجبة او مستحبه واذا استتيب فلم يتب هل يمهل أم لا فقال أبو حنيفة لا تجب

شیخ دمشقی شافعی رحمۃ الامۃ میں لکھتے ہیں :- ”ارتداد، اسلام کو نیتاً یا قولاً یا فعلاً ختم کر دینے کا نام ہے اور ائمہ کا اتفاق ہے کہ جو اسلام سے مرتد ہو، اُس کا قتل واجب ہے البتہ اختلاف اس میں ہے کہ فوراً قتل کیا جائے گا یا توبہ کرنے کی مہلت دی جائے گی۔ اور اختلاف اس میں ہے کہ توبہ کرنے کے لئے کہنا واجب ہے یا صرف مستحب، اور اگر توبہ کروانے کے باوجود توبہ نہ کرے تو کیا مزید مہلت دی جائے گی یا نہیں ؟ امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ اسے توبہ

استتابته و يقتل فى الـ إلا أن يطلب الا مهـ

(ص ۱۴۶ ج ۲)

وعن مجاهد قال ا برجل يسب رسول ا الله عليه وسلم فقتـ قال عمر من سب ا سب احدا من ا اقتلوه هذا مع أن في المرتد انه يسـ ثلاثا و يطعم كل يـ لعله يتوب فإذا ا بعد هذا من غيـ علم ان جرمه اغـ من جُرم المرتد فيكون جرم ساب أهل العهد أغلـ من اقتصر على نـ العهد ولا سبيـ أمر بقتله مطلـ

صفحہ ۴۹

کرے گا تو بھی اس کی توبہ نہ عنداللہ مقبول ہے اور نہ عندالناس۔ اور تمام متقدمین اور تمام متاخرین و مجتہدین کے نزدیک شریعت مطہرہ میں اُس کی قطعی سزا قتل ہے۔ حاکم اور اس کے نائب پر لازم ہے کہ وہ ایسے کے قتل کے بارے میں ذرا سی نرمی سے بھی کام نہ لے ۔

شیخ دمشقی شافعی رحمۃ الامۃ میں لکھتے ہیں :- ”ارتداد ، اسلام کو نیتاً یا قولاً یا فعلاً ختم کر دینے کا نام ہے اور ائمہ کا اتفاق ہے کہ جو اسلام سے مرتد ہو اُس کا قتل واجب ہے البتہ اختلاف اس میں ہے کہ فوراً قتل کیا جائے گا یا توبہ کرنے کی مہلت دی جائے گی۔ اور اختلاف اس میں ہے کہ توبہ کرنے کے لئے کہنا واجب ہے یا صرف مستحب ، اور اگر توبہ کروانے کے باوجود توبہ نہ کرے تو کیا مزید مہلت دی جائے گی یا نہیں ؟ امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ اسے توبہ

۴۹ توہین رسالت اور اسکی سزا کا بیان

استتابتہ ويقتل في الحال کے لئے کہنا واجب نہیں ہے بلکہ فوراً إلا أن يطلب الإمهال ۔ اسے قتل کر دیا جائے گا۔ الا یہ کہ وہ خود (ص ۱۳۷ ج ۲) مہلت طلب کرے ۔

۵ وقال ابن تيمية : ابن تیمیہؒ اپنی معروف کتاب الصارم المسلول میں لکھتے ہیں :-

وعن مجاهد قال اتى عمر ”حضرت مجاہدؓ سے روایت ہے کہ حضرت برجل يسب رسول الله صلى عمر فاروقؓ کے پاس ایک ایسے شخص کو الله عليه وسلّم فقتلہ ثم لایا گیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قال عمر من سبّ الله أو بُرا کہہ رہا تھا ، حضرت عمرؓ نے اُسے قتل سب احدا من الانبیاء کرنے کا حکم دیا ۔ پھر فرمایا جو اللہ تعالیٰ فاقتلوہ هذا مع أن سيرتہ یا انبیاءؑ میں سے کسی کی شان میں گستاخی في المرتد انہ يستتاب کرے اُسے قتل کر دو ۔ یہ بات قابلِ ثلاثاً ويطعم كل يوم رغيفاً غور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ لعلہ يتوب فإذا امر مرتد کے بارے میں یہ رہا ہے کہ اسے بتعمد هذا من غیر استتابة تین دن تک توبہ کے لئے کہا جائے علم ان جرمہ اغلظ عمداً اور ہر روز ایک روٹی بطور غذا اسے من جرم المرتد المجرد دی جاتی رہے تاکہ شاید وہ توبہ کر فيكون جرم سابہ من لے (اور اُس کی جان بچ جائے) أهل العهد أغلظ من جرم لیکن اس گستاخی کرنے والے کو حضرت من اقتصر على نقض عمرؓ نے توبہ طلب کیئے بغیر قتل کرنے العهد ولا سيما وقد کا حکم دیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ أمر بقتلہ مطلقا من غیر اس کا جرم عام مرتد سے کہیں زیادہ

عالمی سیرت کانفرنس کانفرنس کی کارروائی مقالات کا جامع رسائل سیرت کا بے نظیر مطالعہ عالمی سیرت کا

PDF 50

مقالہ جات کورس نبی سیرت عائلی سیرت عائلی سیرت کا خاکہ کانفرنس کی روئداد

سخت ہے۔ اسی طرح وہ ذمی جو گستاخ ہو اس کا جرم اس عام ذمّی سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا ہے جو معاہد ہے ۔ اسی طرح وہ ذمّی جو گستاخ ہو اس کا جرم اس عام ذمّی سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا ہے جو صرف عہد توڑنے کا مرتکب ہوا ہو ۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلا کسی استثناء کے اُسے قتل کرنے کا حکم دیا تھا ۔ اسی طرح وہ عورت جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتی تھی حضرت خالد بن ولید نے اس سے بغیر توبہ طلب کئے اسے قتل کیا ۔ یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ایسی عورت عام مرتدہ کی طرح نہیں ہے۔ اسی طرح محمد بن سلمہ کہ جب انہوں نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کی قسم کھائی اور ایک عرصہ تک اس کو قتل کرنے کی جستجو اور تلاش میں لگے رہے تو مسلمانوں نے ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا حالانکہ اگر محض ارتداد ہی وجہ قتل ہوتا تو وہ اسلام لا کر کلمہ شہادت پڑھ چکا تھا اور نمازیں ادا کر رہا تھا تو بغیر توبہ طلب

ثنيا وكذالك المرأة التي سبت النبي صلّى اللہ علیہ وسلم فقتلها خالد بن وليد ولم يستتبها دليل على أنها ليست كالمرتدة المجردة وكذلك حديث محمد بن مسلمة لما حلف ليقتلن ابن يامين لما ذكر أن قتل ابن الاشرف كان غدرًا وطلبه لقتله بعد ذلك مدة طويلة ولم ينكر المسلمون ذلك عليه مع انه لو قتله لمجرد الردة لكان قد عاد الى الإسلام بما أتى به بعد ذلك من الشهادتين والصلوات ولم يقتل حتى يستتاب ، وكذلك قول ابن عباس في الذى يرمى امهات المؤمنين إنه لا توبة له نص فى هذا المعنى وهذه القضايا و قد اشتهرت ولم يبلغنا أن احدًا أنكر شيئًا من ذلك ۔

(الصارم المسلول ص ۴۱۹)

کئے اسے قتل کرنا جائز تہمت لگاتے ، اس کے کہ ایسے شخص کی کوئ تصریح ہے ۔ بہرحال بارے میں بھی علم نہیں اعتراض کیا ہو ۔" ۲۷ وفي فتح القدير الهمام بكل من رسول الله صلى الله بقلبه كان مرتد بطريق الاولى حدًا عندنا فلا تقـ في إسقاط القتل هذا مذهب ا ومالك ونقل أبى بكر الصـ فرق بين أن من نفسه أو بذلك بخلاف المكفرات فلـ فيها توبة قـ معه حتى

صفحہ ۵۱

سخت ہے ۔ اسی طرح وہ ذمی جو گستاخ ہو اس کا جرم اس عام ذمی سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا ہے جو عہد شکن ہے ۔ اسی طرح وہ ذمی جو گستاخ ہو اس کا جرم اس عام ذمی سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا ہے جو صرف عہد توڑنے کا مرتکب ہوا ہو۔ یہ بات پیشِ نظر رہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلا کسی استثناء کے اُسے قتل کرنے کا حکم دیا تھا ۔ اسی طرح وہ عورت جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتی تھی حضرت خالد بن الولیدؓ نے اسے بغیر توبہ طلب کئے اسے قتل کیا ۔ یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ایسی عورت عام مرتدہ کی طرح نہیں ہے ۔ اسی طرح محمد بن مسلمہ کہ جب انہوں نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کی قسم کھائی اور ایک عرصہ تک اس کو قتل کرنے کی جستجو اور تلاش میں لگے رہے تو مسلمانوں نے ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا حالانکہ اگر محض ارتداد ہی وجہِ قتل ہوتا تو وہ اسلام لا کر کلمہ شہادت پڑھ چکا تھا اور نمازیں ادا کر رہا تھا تو بغیر توبہ طلب

کئے اسے قتل کرنا جائز نہ ہوتا ۔ اسی طرح جو شخص امہات المومنین پر تہمت لگائے، اس کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا یہ قول کہ ایسے شخص کی کوئی توبہ نہیں ،، درحقیقت ہمارے مضمون کی تصریح ہے۔ بہرحال یہ واقعات مشہور ہیں اور ہمیں ایک شخص کے بارے میں بھی علم نہیں کہ اُس نے ان میں سے کسی بات پر اعتراض کیا ہو۔"

۲۷ وفي فتح القدير لابن الهمام يكفر من ابغض رسول الله صلى الله عليه وسلم بقلبه كان مرتدا فالساب بطريق الاولى ثم يقتل حدا عندنا فلا تقبل توبته في إسقاط القتل قالوا هذا مذهب اهل الكوفة ومالك ونقل عن أبي بكر الصديق ولا فرق بين أن يجيئنا تائبا من نفسه أو شهد عليه بذلك بخلاف غيره من المكفرات فإن الإنكار فيها توبة ولا تقبل الشهادة معه حتى قالوا يقتل وإن

علامہ ابن الہمام فتح القدیر میں لکھتے ہیں : ۔ "اگر کوئی شخص قلباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھے تو وہ کافر و مرتد ہے تو گالی دینے والا بطریق اولیٰ مرتد ہو گا ۔ پھر ہمارے (یعنی احناف کے) نزدیک اسے بطور حد قتل کیا جائے گا اس کی توبہ قتل کے اسقاط میں مؤثر نہ ہو گی ۔ علماء نے لکھا کہ اہل کوفہ اور امام مالکؒ کا یہی مذہب ہے اور یہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منقول ہے چاہے بعد میں وہ خود توبہ کرکے عدالت میں آیا ہو یا اس کے خلاف گواہیوں سے یہ جرم ثابت ہوا ہو ۔ یہ گالی کا مسئلہ دوسرے مکفرات سے مختلف ہے، کیونکہ وہاں انکار خود توبہ کے قائم مقام ہے تو شہادت بے کار ہو جاتی ہے ۔ علماء نے

صفحہ ۵۲

سبّ سكران ولا يعفى عنه ولا بد من تقييده بما اذا كان سكره بسبب محظور باشره مختاراً بلا اكراه وإلا فهو كالمجنون وقال الخطابى لا أعلم احدًا خالف فى وجوب قتله واما مثله فى حقه تعالى فتقبل توبته فى اسقاط قتله -

(فتح القدیر ص۳۳۳ ج ۵)

یہاں تک فرمایا کہ گالی دینے والا نشہ میں ہو تب بھی قتل کیا جائے گا اور معاف نہیں ہوگا لیکن ہمارے خیال کے مطابق نشہ میں یہ قید ہونی چاہیے کہ اس کا نشہ کسی ایسی ممنوع چیز کی وجہ سے ہو جو بلا اکراہ اپنے خیال سے اُس نے استعمال کی ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس کا حکم پاگل کا سا ہوگا خطابی کا قول ہے کہ میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جس نے بدگو کے قتل کے واجب ہونے میں اختلاف کیا ہو۔ اور اگر یہ بدگوئی اللہ تعالیٰ کی شان میں ہو تو ایسے شخص کی توبہ سے اس کا قتل معاف ہو جائے گا۔

۷۷ وقال ابن نجیم :- ویستثنیٰ منه مسائل الاولى الردة بسبه صلى الله عليه وسلم قال فى فتح القدير كل من ابغض رسول الله صلى الله عليه وسلم بقلبه كان مرتدا فالساب بطريق الاولى ثم يقتل حدا عندنا فلا تقبل توبته فى اسقاط

ابن نجیم بحرالرائق میں تحریر کرتے ہیں :- ”چند مسائل اس سے مستثنیٰ ہیں، پہلا وہ ارتداد جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا کہنے سے ہو۔ فتح القدیر میں ہے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قلباً نفرت کرے وہ مُرتد ہے تو گالی دینے والا بطریقِ اولیٰ مرتد ہے، پھر ہمارے نزدیک اس گالی کے جُرم کی سزا قتل ہے اور اس کی توبہ اس کے قتل کی معافی میں

القتل قالوا هذا مذهب

اهل الكوفة ومالك وهو مروى

عن ابى بكر الصديق ؓ

قال الخطابى لا اعلم احدا

خالف فى وجوب قتله

أما مثله فى حقه تعالى

فتقبل توبته فى اسقاط

قتله ـ وعلله ابن الهمام

بأنه حق تعلق به حق العبد

فلا يسقط بالتوبة كسائر

حقوق الآدميين بخلاف

القذف فانه لا يزول

وصرح بان سب غير نبينا

من الانبياء كذلك

(ص۱۲۴ ج ۵)

۷۸ وفى الفتاوى الخيرية انه

سئل ـ فى شقى لعن دين

ابراهيم عليه السلام هل

يترتب عليه ـ وجوابه ان

جاء تائبا من قبل نفسه

راجعا مما قال يقبل منه

صفحہ ۵۳

کافر کی سزا گالی کی سزا

یہاں تک فرمایا کہ گالی دینے والا نشہ میں ہو تب بھی قتل کیا جائے گا اور معاف نہیں ہو گا لیکن ہمارے خیال کے مطابق نشہ میں یہ قید ہونی چاہئے کہ اس کا نشہ کسی ایسی ممنوع چیز کی وجہ سے ہو جو بلا اکراہ اپنے خیال سے اُس نے استعمال کی ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس کا حکم پاگل کا سا ہو گا۔ خطابی کا قول ہے کہ میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جس نے بدگو کے قتل کے واجب ہونے میں اختلاف کیا ہو۔ اور اگر یہ بدگوئی اللہ تعالیٰ کی شان میں ہو تو ایسے شخص کی توبہ سے اس کا قتل معاف ہو جائے گا “ ابن نجیم بحر الرائق میں تحریر کرتے ہیں:۔ ” چند مسائل اس سے مستثنیٰ ہیں۔ پہلا وہ ارتداد جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا کہنے سے ہو۔ فتح القدیر میں ہے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قلباً نفرت کرے وہ مُرتد ہے تو گالی دینے والا بطریق اولیٰ مرتد ہے۔ پھر ہمارے نزدیک اس گالی کے جرم کی سزا قتل ہے اور اس کی توبہ اس کے قتل کی معافی میں

القتل قالوا هٰذا مذهب اهل الكوفة ومالك ونقل عن ابي بكر الصديقؓ قال الخطابي لا اعلم احداً خالف في وجوب قتله و أما مثله في حقه تعالى فتقبل توبته في اسقاط قتله ۔ وعلله البزازي بأنه حق تعلق به حق العبد فلا يسقط بالتوبة كسائر حقوق الأدميين وكحد القذف لا يزول بالتوبة وصرح بان سبّ واحد من الانبياء كذلك ۔

(ص ۱۳۲ ج ۵)

مؤثر نہ ہو گی۔ علماء نے فرمایا کہ اہل کوفہ اور امام مالکؒ کا یہی مذہب ہے اور یہی حضرت ابو بکر صدیقؓ سے منقول ہے۔ خطابی کا قول ہے کہ مجھے علم نہیں کہ کسی نے ایسے شخص کے قتل کے وجوب میں اختلاف کیا ہو۔ البتہ حق تعالیٰ کی شان میں ایسا کرنے والے کی توبہ اس کے قتل کی معافی میں مؤثر ہو گی۔ بزازی نے اس کی علت بیان کرتے ہوئے لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا تعلق حقوق العباد سے ہے اور حق العبد توبہ سے معاف نہیں ہوتا جیسے تمام حقوق العباد ۔ اور جیسا کہ حد قذف (تہمت کی سزا) توبہ سے ختم نہیں ہوتی بزازی نے اس کی بھی تصریح کی کہ انبیاءؑ میں سے کسی ایک کو بُرا کہنے کا یہی حکم ہے “

سئل ۔ في شقي لعن نبي الله ابراهيم عليه السلام فما يترتب عليه ۔ وهل اذا جاء تائبا من قبل نفسه راجعا مما قال يدفع عنه

فتاویٰ خیریہ میں ہے : (سوال) ”ایک بدبخت نے نبی اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر لعنت کی تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اگر وہ خود تائب ہو کر آجائے اور جو کچھ کہا تھا اس سے رجوع کرلے تو کیا اس سے ارتداد کی سزا ختم ہو

صفحہ ۵۴

موجب الردة الذى هو القتل جائے گی جو قتل ہے؟ اور اس صورت وما الحكم فيه ؟ میں حکم کیا ہے ؟ اجاب : يقتل حدًا ولا (جواب) اسے بطور سزا قتل کیا جائے توبة له أصلاً ففي البزازية گا اور اس کے لئے بالکل توبہ نہیں ہے حق العبد فلا يسقـ وغيرها من كتب الفتاوى بزازیہ اور اس کے علاوہ دیگر کتب كسائر حقوق الآد واللفظ لها لو ارتد والعياذ فتاویٰ میں صراحت ہے کہ اگر کوئی وكحد القذف لـ بالله تعالى تحرم امرأته شخص نعوذ باللہ مرتد ہو جائے تو بالتوبة بخلاف ويجدد النكاح بعــد اس کی بیوی حرام ہو جائے گی۔ اسلام سب الله تعالى اسلامه ويعيد الحج کے بعد نکاح کی تجدید ہوگی۔ حج بھی فإنه يقبل لأنه حق الـ وليس عليه اعادة الصلاة دوبارہ کرنا ہوگا۔ البتہ نماز روزے کا ولأن النبى بشـ والصوم كالكافر الاصلى اعادہ واجب نہیں۔ الا یہ کہ رسول اللہ من جنس تلحقهم إلا اذا سب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو یا انبیاء علیہم السلام إلا من أكرمـ صلى الله عليه وسلم أو میں سے کسی کو بُرا کہے، ایسے شخص کو والبارئ منزه عـ واحداً من الانبياء عليهم حدّاً قتل کیا جائے گا اور اس کے المعايب وبـ الصلاة والسلام فإنه يقتل لئے توبہ نہیں، چاہے اُس کے پکڑے لأنه معنى يـ حدًا ولا توبة له أصلاً جانے اور اُس کے خلاف گواہیوں کے وفي المرتد لا حق سواء كان بعد القدرة عليه قائم ہو جانے کے بعد وہ توبہ کرے یا فيه من الآدميين بالشهادة اوجاء تائبًا از خود تائب ہو کر آئے اس کا حکم وہی فإن قلنا إذا شتمـ من قبل نفسه كالزنديق ہے جو زندیق کا کیونکہ حد جب واجب سكران لا يعفـ فانه حد وجب فلا يسقط ہوتی ہے تو پھر توبہ سے ساقط نہیں وهذا مذھـ بالتوبة ولا يتصور فيه عفو ہوتی۔ اس مسئلہ میں کسی کے خلاف کا الصديق رضـ لأحد لانه حق تعلق به تصور بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ (نبی کو گالی دینا) الامام الاعظم والـ وعامة اهل الكوفـ وهو من مذهب

صفحہ ۵۵

جائے گی جو قتل ہے ؟ اور اس صورت میں حکم کیا ہے ؟

(جواب) اسے بطور سزا قتل کیا جائے گا اور اس کے لئے بالکل توبہ نہیں ہے بزازیہ اور اس کے علاوہ دیگر کتب فتاویٰ میں صراحت ہے کہ اگر کوئی شخص نعوذ باللہ مرتد ہو جائے تو اس کی بیوی حرام ہو جائے گی۔ اسلام کے بعد نکاح کی تجدید ہوگی۔ حج بھی دوبارہ کرنا ہوگا۔ البتہ نماز روزے کا اعادہ واجب نہیں۔ الا یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یا انبیاء علیہم السلام میں سے کسی کو بُرا کہے۔ ایسے شخص کو حداً قتل کیا جائے گا اور اس کے لئے توبہ نہیں، چاہے اس کے پکڑے جانے اور اُس کے خلاف گواہیوں کے قائم ہوجانے کے بعد وہ توبہ کرے یا از خود تائب ہو کر آئے اس کا حکم وہی ہے جو زندیق کا کیونکہ حد جب واجب ہوتی ہے تو پھر توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ اس مسئلہ میں کسی کے خلاف کا تصور بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ (نبی کو گالی دینا)

حق العبد فلا يسقط بالتوبة كسائر حقوق الآدميين وكحد القذف لا يزول بالتوبة بخلاف ما إذا سبّ الله تعالى ثم تاب لأنه حق الله تعالى ولأن النبي بشر والبشر جنس تلحقهم المعرة إلا من اكرمه الله تعالى والبارئ منزه عن جميع المعايب وبخلاف الارتداد لأنه معنى ينفرد به المرتد لا حق فيه لغيره من الآدميين ولكونه بشراً قلنا إذا شتمه عليه السّلام سكران لا يعفى ويقتل حداً وهذا مذهب أبي بكر الصديق رضي الله عنه والإمام الأعظم والبدري و اهل الكوفة والمشهور من مذهب مالك واصحابه قال الخطابي لا أعلم أحداً

ایک ایسا حق ہے جس کے ساتھ بندے کا حق متعلق ہے اس لئے توبہ سے یہ حق ساقط نہ ہوگا جیسا کہ تمام حقوق العباد کا یہی معاملہ ہے اور جیسا کہ حد قذف توبہ سے معاف نہیں ہوتی اس کے برخلاف اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کو بُرا کہا پھر توبہ کر لی تو یہاں توبہ اس لئے قبول ہے کہ یہ حقّ اللہ ہے اور اس لئے بھی کہ نبی انسان ہوتا ہے اور انسان بحیثیت انسان کے عیب دار ہوسکتا ہے۔ الا یہ کہ جس کو اللہ تعالیٰ معزز بنا کر پاک صاف رکھے باقی اللہ تعالیٰ تو تمام معائب سے منزہ ہیں۔ اسی طرح بُرا کہنا عام ارتداد سے ہٹ کر ہے کیونکہ ارتداد میں کسی دوسرے کا حق ضائع نہیں ہوتا اس کا اپنا فعل ہوتا ہے اور چونکہ نبی بشر ہیں اس لئے ہمارا مذہب یہ بھی ہے کہ اگر نشہ باز حضور علیہ السلام کو گالی دے تو اس کی معافی نہ ہوگی بلکہ اسے قتل کیا جائے گا اور یہی حضرت ابوبکر صدیق کا مذہب ہے اور یہی امام اعظم، بدری، اہلِ کوفہ

صفحہ ۵۶

کانفرنس مکہ

امام مالکؒ اور ان کے اصحاب کا معروف مذہب ہے۔ خطابی کا قول ہے کہ میں مسلمانوں میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جس کا ایسے شخص کے وجوب قتل میں کوئی اختلاف ہو جو مسلمان ہو کر بدگوئی کرے۔ سحنونؒ مالکی کا قول ہے کہ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبی علیہ السّلام کو گالی دینے والا کافر ہے اور اس کی سزا قتل ہے۔ بلکہ جو شخص اس کی سزا اور کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”پھٹکارے ہوئے جہاں ملیں گے پکڑ دھکڑ اور مار دھاڑ کی جائے گی۔“ اور سند کے ساتھ حدیث مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کسی نبی کو گالی دے اُسے قتل کر دو اور جو میرے صحابہ کو گالی دے اُسے مارو اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ کعب بن الاشرف کو بلا آگاہ کئے قتل کر ڈالو، وہ حضورؐ کو اذیت پہنچاتا تھا۔ اسی طرح آپؐ نے ابورافع یہودی کے قتل کا حکم دیا۔ اسی طرح آپ نے ابن خطل کو کعبہ کے پردوں سے لٹکے ہونے کے

من المسلمين اختلف في وجوب قتله اذا كان مسلما وقال سحنون المالكي أجمع العلماء على أن شاتمه كافر وحكمه القتل ومن شك في عذابه وكفره كفر قال الله تعالى : ملعونين اينما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتيلا (الآية) وروى بسند أنه صلى الله عليه وسلم قال من سب نبيا فاقتلوه ومن سب اصحابي فاضربوه وأمر صلى الله عليه وسلم بقتل كعب بن الأشرف بلا إنذار وكان يؤذيه صلى الله عليه وسلم وكذا أمر بقتل ابي رافع اليهودي وكذا أمر بقتل ابن خطل هذا وكان متعلقا بأستار الكعبة ودلائل المسئلة

تعرف في كتاب الصارم المـ

على شاتم الرسول انتهـ

وفي الاشباه كل كافر تـ

فتوبته مقبولة في الـ

والآخرة الا جماعة مـ

بسب نبي وبسب الشـ

أو أحد هما و بالسحـ

الزندقة إلى آخر مـ

والمسئلة مقررة مـ

في الكتب غنية عن

الاطناب والحاصل انـ

وجوب قتل مثل هـ

المتهود في حق مثل هـ

النبي الجليل وإن عـ

وجدد الاسلام مـ

الفتاوى الخيـ

امام قرـ

قال الـ

اهل الـ

السب ـ

عليه القـ

ذلك مالـ

صفحہ ۵۷

امام مالکؒ اور ان کے اصحاب کا معروف مذہب ہے خطابی کا قول ہے کہ میں مسلمانوں میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جس کا ایسے شخص کے وجوب قتل میں کوئی اختلاف ہو جو مسلمان ہو کر بدگوئی کرے۔ سحنونؒ مالکی کا قول ہے کہ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبی علیہ السلام کو گالی دینے والا کافر ہے اور اس کی سزا قتل ہے۔ بلکہ جو شخص اس کی سزا اور کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

”پھٹکارے ہوئے جہاں ملیں گے پکڑے جاکر اور مار دھاڑ کی جائے گی۔“

اور سند کے ساتھ حدیث مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کر دو اور جو میرے صحابہ کو گالی دے اسے مارو اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ کعب بن الاشرف کو بلا آگاہ کئے قتل کر ڈالو، وہ حضورؐ کو اذیت پہنچاتا تھا۔ اسی طرح آپ نے ابو رافع یہودی کے قتل کا حکم دیا۔ اسی طرح آپ نے ابن خطل کو کعبہ کے پردوں سے لٹکے ہونے کے

تعرف فی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول انتھی۔ وفی الاشباہ کل کافر تاب فتوبته مقبولة فی الدنیا والاخرة الا جماعة الکافر بسب نبی وسب الشیخین أو أحدهما و بالسحر و الزندقة إلی آخر ما فیه والمسئلة مقررة مشهورة فی الکتب غنیة عن الاطناب والحاصل فیها وجوب قتل مثل ھذا الشقی المتهود فی حق مثل ھذا النبی الجلیل وإن کان قد تاب وجدد الاسلام۔

(الفتاوی الخیریۃ ص ۱۰۳ و ایضاً)

کے باوجود قتل کرنے کا حکم دیا۔ اس مسئلہ کے دلائل الصارم المسلول میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔ الاشباہ میں صراحت ہے کہ ہر کافر کی توبہ دنیا و آخرت میں قبول ہو جاتی ہے سوائے چند لوگوں کے، اللہ کے نبی کو گالی دے کر یا شیخین یا ان میں سے کسی کو گالی دے کر کافر ہو جائے اور جادو اور زندقہ کے ساتھ کافر ہو جانے والا۔ بہرحال مسئلہ طے شدہ اور مشہور ہے اس لئے تفصیل کی بھی حاجت نہیں۔ خلاصہ یہ کہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے نبی جلیل کی شان میں گستاخی کرے اس بدبخت و گستاخ کو قتل کرنا واجب ہے چاہے وہ توبہ کر کے تجدیدِ اسلام ہی کیوں نہ کر چکا ہو۔“

امام قرطبیؒ مالکی اپنی مشہور تفسیر میں لکھتے ہیں :-

اھل العلم علی أن من سب النبی صلی الله علیه وسلم علیه القتل وممن قال ذلک مالک واللیث واحمد

”ابن المنذر کا کہنا ہے کہ عام اہل علم کا اجماع اس بات پر ہے کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا کہے اس کا قتل واجب ہے۔ امام مالکؒ، لیثؒ، احمد بن حنبلؒ اور اسحاقؒ کا یہی قول ہے اور یہی امام

صفحہ ۵۸

شافعیؒ کا مذہب ہے۔ البتہ امام ابوحنیفہؒ سے مروی ہے کہ جو کافر ذمی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا کہے تو اُسے قتل نہیں کیا جائے گا (البتہ اگر مسلمان ایسا کرے تو امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک بھی بوجہ ارتداد اس کا قتل واجب ہے ۔)

مروی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت علیؓ کی مجلس میں کہا کہ کعب بن الاشرف کو بدعہدی کرکے قتل کیا گیا تھا ، حضرت علیؓ نے حکم دیا کہ اس کہنے والے کی گردن مار دی جائے (کیونکہ کعب بن اشرف کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں تھا بلکہ وہ مسلسل بدگوئی اور ایذا رسانی کی وجہ سے مباح الدم بن گیا تھا) اسی طرح اسی قسم کا جملہ ایک اور شخص (ابن یامین) نے منہ سے نکالا تو (کعب بن الاشرف کو مارنے والے) حضرت محمد بن مسلمہؓ کھڑے ہو گئے اور حضرت معاویہؓ سے کہا آپ کی مجلس میں یہ بات کہی جا رہی ہے اور آپ خاموش ہیں ۔ خدا کی قسم اب آپ کے پاس کسی عمارت کی چھت تلے نہ آؤں گا اور اگر مجھے یہ شخص باہر مل گیا تو اسے قتل کر ڈالوں گا ۔ علماء نے فرمایا ایسے

واسحاق وهو مذهب الشافعى وقد حكى عن النعمان انه ، قال لا يقتل من سب النبى صلّى اللّٰه عليه وسلم من اهل الذمة على ما ياتى ۔

وروى ان رجلا قال فى مجلس علىّ ما قتل كعب بن الاشرف إلا غدراً فامر على بضرب عنقه وقاله آخر فى مجلس معاوية فقام محمد بن مسلمة فقال أيقال هذا فى مجلسك وتسكت والله لا أساكنك تحت سقف ابدًا ولئن خلوت به لا قتلنّه ، قال علماءنا هذا يقتل و لا يستتاب إن نسب الغدر للنّبيّ صلى الله عليه وسلم وهو الذى فهمه علىّ ومحمد بن مسلمة رضوان الله عليهما من

صفحہ ۵۹

مذہب علی عن قال لا نبی صلی اللہ اہل الذمۃ فی کعب فامر وقالہ معاویۃ مسلمۃ ولا ابتدا نبی

شافعی کا مذہب ہے۔ البتہ امام ابو حنیفہؒ سے مروی ہے کہ جو کافر ذمی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا کہے تو اُسے قتل نہیں کیا جائے گا (البتہ اگر مسلمان ایسا کرے تو امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک بھی بوجہ ارتداد اس کا قتل واجب ہے) مروی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت علیؓ کی مجلس میں کہا کہ کعب بن الاشرف کو بدعہدی کر کے قتل کیا گیا تھا ، حضرت علیؓ نے حکم دیا کہ اس کہنے والے کی گردن مار دی جائے (کیونکہ کعب بن اشرف کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں تھا بلکہ وہ مسلسل بدگوئی اور ایذا رسانی کی وجہ سے مباح الدم بن گیا تھا) اسی طرح اسی قسم کا جملہ ایک اور شخص (ابن یامین) نے منہ سے نکالا تو (کعب بن الاشرف کو مارنے والے) حضرت محمد بن مسلمہ کھڑے ہو گئے اور حضرت معاویہؓ سے کہا آپ کی مجلس میں یہ بات کہی جا رہی ہے اور آپ خاموش ہیں۔ خدا کی قسم اب آپ کے پاس کسی عمارت کی چھت تلے نہ آؤں گا اور اگر مجھے یہ شخص باہر مل گیا تو اسے قتل کر ڈالوں گا۔ علماء نے فرمایا ایسے

قائل ذلك لان ذالك زندقة -

( ص ۸۳ ج ۸ )

و ايضا قال : واختلفوا اذا سبه ثم أسلم تقية من القتل فقيل يسقط اسلامه قتله و هو المشهور من المذهب لان الاسلام يجب ما قبله . بخلاف المسلم اذا سبه ثم تاب قال الله تعالى : قل للذين كفروا ان ينتهوا يغفر لهم - ما قد سلف وقيل لا يسقط الاسلام قتله لأنه حق للنبي صلى الله عليه وسلم وجب لانتهاك حرمته وقصده الحاق النقيصة والمعرة به

شخص سے توبہ کے لئے بھی نہ کہا جائے گا بلکہ قتل کر دیا جائے گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بدعہدی کو منسوب کرے۔ یہی وہ بات ہے جسے حضرت علیؓ اور حضرت محمد بن مسلمہ نے سمجھا اس لئے کہ یہ تو زندقہ ہے ۔ علامہ قرطبی مزید فرماتے ہیں :۔ "اگر کوئی کافر گستاخی کرے اور پھر جان بچانے کے لئے اسلام لے آئے تو اُس کا اسلام اس کے قتل کو معاف کر دے گا۔ مشہور یہی ہے کیونکہ اسلام پہلے تمام جرائم کو ختم کر دیتا ہے، بخلاف مسلمان کے کہ اگر وہ گالی دے کر پھر توبہ کر لے (تو قتل معاف نہ ہو گا) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔ " آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ لوگ باز آجائیں گے تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں سب معاف کر دیئے جائیں گے" اور دوسرا قول یہ ہے کہ اسلام (کافر ساب کے) قتل کو ساقط نہ کرے گا۔ اس لئے یہ قتل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کی وجہ سے واجب ہو چکا ہے کیونکہ اُس نے آپؐ

صفحہ ٦٠

فلم یکن رجوعہ الی کی بے عزتی کی تھی اور آپ پر نقص و عیب الاسلام بالذی یسقط لگانے کا ارادہ کیا تھا اس لئے اسلام قتلہ ولا یکون لانے کی وجہ سے اس کا قتل معاف احسن حالا من نہ ہوگا اور نہ یہ کافر مسلمان سے بہتر ہوگا المسلم - بلکہ بدگوئی کی وجہ سے باوجود توبہ کے (ص٨٤ ج٨) دونوں کو قتل کر دیا جائے گا ۔“

قیاس شرعی اور عقلی وجوہات

قیاس محض عقلی بات کو نہیں کہتے ۔ یہ تو معنی لوگوں نے غلط کر رکھے ہیں ۔ اصل میں اشتراک علت سے اشتراک حکم کو شرعاً قیاس کہتے ہیں ۔ اگر علت نص شرعی میں مذکور ہو یا بالکل بدیہی ہو جیسے ہر شخص محسوس کر سکتا ہے تو وہ قیاس قطعی و یقینی ہوتا ہے اس کا انکار حرام ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کو اُف کہنا یا اُونچی آواز سے بات کر کے جھڑکنا حرام فرمایا ہے تو اس کی علت بالکل ظاہر اور ہر شخص کی سمجھ کی ہے ۔ لہٰذا یقینی ہے یعنی اذیت تو جہاں جہاں یہ علت پائی جاتی ہے وہ سب کام انہی آیات سے حرام قرار پاتے ہیں ۔ مثلاً جوتے مارنا ، ڈنڈے مارنا ، کسی طرح سے ذلیل کرنا ، طعن کرنا ، گالی دینا سب انہی آیات سے یقیناً حرام ہیں اور ہر مسلمان اُسے جانتا ہے ، ہاں علت نص قطعی میں نہ ہو یا بالکل ظاہر نہ ہو تو اجتہادی ہوگی اور اس قیاس کا حکم ظنی ہوگا ۔

اوّل تو ماں باپ ایک جسمانی ہیں ایک روحانی اور روح جسم سے افضل ہے تو روحانی ماں باپ جسمانی سے افضل ہوئے اس لئے وہ تمام احکام ان کے لئے

صفحہ 61

بھی ہوں گے جو ماں باپ کے لئے حرام وہ ان کے لئے بھی حرام ۔

دوسرے اگر چہ ماں باپ بڑے محسن ہیں ، پیدائش و تربیت سب انہی کی بدولت ہے مگر تمام انبیاء کرام ان سے زائد محسن ہیں کہ ابدی جہنم سے بچا بچا کر ابدی بہشتوں میں پہنچانے کا سامان کرتے ہیں۔ جیسے ماں باپ کو گالیاں دینا حرام ہیں سخت ترین خطرناک جُرم ہیں ایسے ہی انبیاء اور اُن کے جانشین کو ۔

تیسرے تمام دُنیا احسان کے لئے آقا کی اور جس پر احسان ہو اس کے لئے غلامی کے قائل ہیں ۔ الانسان عبد الاحسان (انسان احسان کا غلام ہوتا ہے) اسی لئے عرف عام میں محسن کے خلاف کہنے کو نمک حرام کا لقب دیا گیا ہے اس لئے ایسا شخص جو ایسے بڑے محسنوں کو گالیاں دے سب کے نزدیک سب سے بڑا نمک حرام سب سے بڑی سزا کا مستحق ہے ۔

چوتھے سب جانتے ہیں کہ انبیاء کرام اللہ تعالیٰ کے انتخاب کئے ہوئے سب سے بڑے بزرگ ہیں، ان کی فرماں برداری فرض، ان کے احکام پہنچانے اور جاری کرنے والوں کی فرمانبرداری ضروری ۔ بجائے فرمانبرداری کے گالیاں دینا اور بُرا کہنا اور خدائی احترامات کو پامال کرنا انتہائی جرم ہے ۔

پانچویں ہر شخص یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے بزرگ حضرات انبیاء ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے بعد اُن کے احباب، ان کو بجائے عزت دینے کے، گالیوں بُرائیوں سے ذلت دینے والا سب سے زیادہ سزا کا ہی مستحق ہے ۔

چھٹے ہر شخص جانتا ہے کہ معمولی آدمی کی ہتکِ عزت بڑا جرم ہے اور ہر حکومت میں یہ جرم قابلِ سزا ہوتا ہے اور جب ہتکِ عزت انتہائی معزّزین کی ہو تو انتہائی سزاؤں کا مستحق ہوتا ہے ۔

ساتویں ۔ سب سے ایک سوال ! :- اسرائیل ہو یا ساری دُنیا مشرق و مغرب

صفحہ ۶۲

شمال جنوب کی کوئی مملکت یا اقوام متحدہ یا کوئی ادارہ جس میں انسانیت کی کوئی رمق باقی ہو بلکہ دنیا بھر کے ہر ہر فرد سے یہ سوال ہے کہ اگر کوئی سلمان رشدی جیسا آپ کے نبیوں، مقتداؤں، دین کے ستونوں اور اُن کے اہل خانہ کا نام لے لے کر یہ انتہائی گندی، فحش بہتان محض گالیوں کی بوچھاڑ کرتا اور آپ کو اس پر طاقت و قدرت حاصل ہوتی تو آپ کو اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیئے؟ اگر یہ انسانیت کی رمق کسی طرح اپنے لئے ایک سیکنڈ کو بھی برداشت نہیں کر سکتی تو اس وقت وہ انسانیت کہاں غائب ہو گئی؟ آخر آپ سب لوگ کس خواب غفلت میں ہیں؟ کیا یہی سبق آپ کے بدکردار نہیں دہرائیں گے ۔ کیا اس وقت آپ خود آگ بگولہ نہ ہو جائیں گے ؟

یہ خبیث حملہ اولین حملہ ہے۔ اس کے مثل حملوں کا جب تانتا بندھے گا تو دنیا کا کوئی ایسا فرد نہیں کہ اس کا کوئی نہ کوئی مخالف نہ ہو یا کسی ایسے کام کے لئے کسی کو کھڑا نہ کر سکے۔

اگر اس وقت اس کو برداشت کر لیا سمجھ لیجئے کہ ہمیشہ کے لئے آپ نے اپنے اور سب کے لئے یہ بیج کاشت کر لیا۔

اور

یہ بھی یاد رکھئے کہ اول اول میں روکنا سہل ہوتا ہے جب طوفان حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی کے قابو کا نہیں رہتا۔ آج ایک کے لئے تو کل دوسرے، پرسوں تیسرے کے لئے ۔ خدارا ہوش سے سب لوگ کام لیں ورنہ پھر ساری دُنیا درہم برہم ہو کر رہے گی۔

PDF 63

یا کوئی ادارہ جس میں انسانیت کی کوئی ے یہ سوال ہے کہ اگر کوئی سلمان رشدی کے ستونوں اور اُن کے اہل خانہ کا نام ن محض گالیوں کی بوچھاڑ کرتا اور آپ کو ب کو اس کے ساتھ کیا کرنا چاہئے؟ اگر ے ایک سیکنڈ کو بھی برداشت نہیں کر سکتی تو اس ھر آپ سب لوگ کس خوابِ غفلت میں ہیں؟ ائیں گے۔ کیا اس وقت آپ خود آگ بگولہ

اس کے مثل حملوں کا جب تانتا بندھے گا کوئی نہ کوئی مخالف نہ ہو یا کسی ایسے کام

ت کہہ لیا سمجھ لیجئے کہ ہمیشہ کے لئے آپ نے ت کر لیا۔ اور ی میں روکنا سہل ہوتا ہے جب طوفان حد ہو کر نہیں رہتا۔ آج ایک کے لئے تو کل ۔ خدا ہوش سے سب لوگ کام لیں ورنہ پھر ۔

عبارات الفقهاء والائمه

(ائمہ کرام کے چند اقوال)

جلیل القدر علماء وفقہاء میں سے دس کے اقوال

١۔ وفي تنقيح الفتاوى الحامدية :- وليس سبه صلى الله عليه وسلم كالارتداد المقبول فيه التوبة لأن الارتداد معنى ينفرد به المرتد لا حق فيه لغيره من الآدميين فقبلت توبته ومن سب النبى صلى الله عليه وسلم تعلق به حق الآدمى ولا يسقط بالتوبة كسائر حقوق الآدميين فمن سب النبى صلى الله عليه وسلم او احداً من

علامہ آفندیؒ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :- ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا کہنا عام ارتداد کی طرح نہیں کیونکہ عام ارتداد میں مرتد تنہا اپنا مجرم ہوتا ہے انسانوں میں سے کسی کا حق متعلق نہیں ہوتا اس لئے اس کی اپنی توبہ مقبول ہے، اس کے برخلاف جس نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا کہا اس کے ساتھ ایک انسان (وہ بھی انسانِ کامل) کا حق متعلق ہو گیا جو صرف توبہ سے ساقط نہ ہوگا۔ جیسے تمام حقوق العباد کا یہی حال ہے۔ خلاصہ یہ کہ جس نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یا انبیاء علیہم السلام میں سے کسی کو بُرا کہا تو وہ کافر ہے اور

صفحہ ۶۴

عالمی کانفرنس کی

الانبياء صلوات الله عليهم وسلامه فانه يكفر ويجب قتله ثم ان ثبت على كفره ولم يتب ولم يسلم يقتل كفراً بلا خلاف و إن تاب وأسلم فقد اختلف فيه والمشهور من المذهب القتل حدّاً وقيل يقتل كفراً فی الصورتين -

واجب القتل ہے۔ اس کے بعد اگر وہ کفر پر باقی رہا اور توبہ کر کے اسلام قبول نہ کیا تو اُسے کفر کی حد سے قتل کیا جائے گا۔ اُس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ اور اگر اُس نے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا تو اس میں علماء کا اختلاف ہے اور مشہور مذہب یہ ہے کہ اُسے (بطورِ سزا) حدّاً قتل کیا جائے گا اور ایک قول یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں کفر کی وجہ سے قتل کیا جائے گا۔

(تنقیح الفتاویٰ الحامدیہ ص۱۷۳)

لمُلاّ على القارى - ثم اعلم أن المرتد يعرض عليه الاسلام على سبيل الندب دون الوجوب لأن الدعوة بلغته وفی المبسوط وإن ارتد ثانيا وثالثا فكذلك يستتاب وهو قول اكثر أهل العلم وقال مالك واحمد رضی الله عنهما لا يستتاب من تكرر منه

مُلاّ علی قاریؒ اپنی کتاب شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں :- ”یہ بات سمجھ لینی چاہئیے کہ مرتد پر اسلام کا پیش کرنا واجب نہیں صرف مستحب ہے۔ کیونکہ دعوتِ اسلام اسے پہلے پہنچ چکی ہے مبسوط میں ہے کہ اگر وہ دوسری تیسری بار مرتد ہوا ہے تو اسی طرح توبہ کا موقع دیا جائے گا اور اکثر اہل علم کا یہی قول ہے اور امام مالکؒ اور امام احمدؒ کا قول یہ ہے کہ جس سے ارتداد بار بار سرزد ہو اس سے توبہ نہیں کرائی جائیگی جیسا کہ یہی

كالزنديق ولنا فی الزنديق روايتان فی رواية لا تقبل توبته لقول مالك رضی الله عنـ وفی رواية تقبل وهـ قول الشافعی رحمة اللـ وهذا فی حق احکام الدنـ وأما فيما بينه وبيـ الله تعالى قبل بلاخلاف وهـ ابي يوسف رحمة الله اذا تکر منه الارتداد يقتل من غيـ عرض الاسلام لاستخفافـ وفيه أيضاً : فی الخـ روى عن ابي يوسف ا قيل بحضرة ا ان النبی صـ عليه وسلـ فقال رجل أبو يوسف بـ والسيف فـ استغفر الله مـ ومن جميع ما يـ

صفحہ ۶۵

واجب القتل ہے۔ اس کے بعد اگر وہ کفر پر باقی رہا، اور توبہ کرکے اسلام قبول نہ کیا تو اُسے کفر کی حد سے قتل کیا جائے گا۔ اُس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ اور اگر اُس نے توبہ کرکے اسلام قبول کرلیا تو اس میں علماء کا اختلاف ہے اور مشہور مذہب یہ ہے کہ اُسے (بطور حد) حداً قتل کیا جائے گا اور ایک قول یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں کفر کی وجہ سے قتل کیا جائے گا “

ملا علی قاریؒ اپنی کتاب شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں :- ”یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ مرتد پر اسلام کا پیش کرنا واجب نہیں صرف مستحب ہے کیونکہ دعوتِ اسلام اسے پہلے پہنچ چکی ہے مبسوط میں ہے کہ اگر وہ دوسری تیسری بار مرتد ہوا ہے تو اسی طرح توبہ کا موقع دیا جائے گا اور اکثر اہل علم کا یہی قول ہے اور امام مالکؒ اور امام احمدؒ کا قول یہ ہے کہ جس سے ارتداد بار بار سرزد ہو اس سے توبہ نہیں کرائی جائیگی جیسا کہ یہی

توہین رسالت اور اسکی سزا کاپی ۲۵

كالزنديق ولنا في الزنديق روايتان في رواية لا تقبل توبته لقول مالك رضى الله عنه وفى رواية تقبل وهو قول الشافعي رحمة الله وهذا في حق احكام الدنيا وأما فيما بينه وبين الله تعالى قبل بلاخلاف وعن ابي يوسف رحمة الله اذا تكرر منه الارتداد يقتل من غير عرض الاسلام لاستخفافه بالدین۔

معاملہ زندیق کا ہے۔ احناف کی زندیق کے بارے میں دو روایتیں ہیں ایک روایت امام مالکؒ کے مذہب کے مطابق ہے کہ توبہ مقبول نہیں اور ایک روایت امام شافعیؒ کے مذہب کے مطابق ہے کہ توبہ قبول ہے اور یہ سب دنیاوی احکام کے حق میں ہے باقی فيما بينہ وبين اللہ تعالیٰ تو بلاخلاف مقبول ہے۔ اور امام ابویوسفؒ سے مروی ہے کہ اگر ارتداد مکرر ہو تو بغیر اسلام پیش کئے اُسے قتل کردیا جائے گا۔ اس لئے کہ اُس نے دین کا استخفاف کیا ہے۔ ص۱۳

وفيه ايضاً : فى الخلاصة روى عن ابي يوسف انه قيل بحضرة الخليفة المامون ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يحب القرع فقال رجل أنا لا احبه فأمر أبو يوسف باحضار النطع والسيف فقال الرجل استغفر الله مما ذكرته ومن جميع ما يوجب الكفر

نیز خلاصہ میں امام ابویوسفؒ کا واقعہ نقل کیا گیا کہ ایک مرتبہ خلیفہ مامون کے سامنے بیان کیا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کدو پسند فرماتے تھے۔ ایک آدمی فوراً بولا میں اسے پسند نہیں کرتا۔ حضرت امام ابویوسفؒ نے حکم دیا کہ تلوار اور چمڑا لایا جائے (جو قتل کے لئے منگوایا جاتا ہے) اس آدمی نے کہا میں نے جو کچھ ذکر کیا اس سے اور تمام موجباتِ کفر سے استغفار کرتا ہوں : اشہد أن لا الہ الا اللہ و

صفحہ ٦٦

اشہد ان لا الہ الا اللہ و اشہدان محمدًا عبدہ و رسولہ امام ابو یوسفؒ اشہدان محمدًا عبدہ و نے اُسے چھوڑ دیا اور قتل نہیں کیا۔ اسی ولی فیہا شم رسولہ فترکہ ولم یقتل۔ قسم کا ایک واقعہ یہ ہے کہ خلیفہ مامون القاضی لیث وحکی أن فی زمن الخلیفۃ کے زمانے میں ایک شخص سے پوچھا گیا الصلوٰۃ نتخ المامون سُئل واحد عمن قتل کہ اگر کسی نے جولاہے کو قتل کیا تو کیا حکم لیضحک ال حائکا فاجاب فقال یلزمہ ہے؟ جواب دینے والے نے (قتل کے الأمیر أم غضارۃ غرّاء أی جاریۃ حکمِ شرعی کا) مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کہ سوی ام شابۃ رعناء فسمع المامون ایک خوبصورت تروتازہ باندی دینی ہوگی۔ حتی انخ ذلک وأمر بضرب عنق مامون نے یہ جواب سُنا تو جواب دینے فرحم ال المجیب حتی مات وقال والے شخص کی گردن اڑانے کا حکم دیا الإسلام ھذا استھزاء بحکم الشرع جس پر عمل کیا گیا اور کہا کہ یہ شریعت کے للقارئ من والاستھزاء بحکم من احکام کا استہزاء ہے اور شریعت کے کسی ٣ وفی رو احکام الشرع کفر۔ بھی حکم کا مذاق اُڑانا کفر ہے۔ للألوسی وحکی أن الأمیر اسی طرح منقول ہے کہ امیر تیمور ایک قولہ تعا الکبیر تیمور ذات یوم روز اُداس اور دل گرفتہ تھا کسی کے وإن ن مَلَّ وانقبض ولم یجب سوال کا جواب نہ دیتا تھا۔ اس کے من احدا فیما سُئل فدخل مصاحب مسخرے اس کے پاس آئے ایک مضحکہ فاخذ یقول مسخرہ تیمور کو منانے کے لئے کہنے لگا کہ وہ قال مضاحکۃ فقال دخل علی فلاں شہر میں فلاں قاضی کے پاس گیا ومن قاضی بلدۃ کذا وأخذہ فی اور جا کر کہا اے قاضی شرع فلاں آدمی القرآن شھر رمضان فقال یا حاکم نے رمضان کا روزہ کھا لیا ہے جس کے علیہ وس الشرع فلان اکل صوم رمضان گواہ میرے پاس موجود ہیں۔ وہ قاضی فیقتل ال

صفحہ ٦٧

الله و عہدہ و يقتل - خلیفہ من قتل يلزمه دية المامون عنق فقال الشرع

اشہد ان محمداً عبدہ و رسولہ امام ابویوسفؒ نے اُسے چھوڑ دیا اور قتل نہیں کیا۔ اسی قسم کا ایک واقعہ یہ ہے کہ خلیفہ مامون کے زمانے میں ایک شخص سے پوچھا گیا کہ اگر کسی نے جولاہے کو قتل کیا تو کیا حکم ہے ؟ جواب دینے والے نے (قتل کے حکم شرعی کا) مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ایک خوبصورت تروتازہ باندی دینی ہوگی۔ مامون نے یہ جواب سُنا تو جواب دینے والے شخص کی گردن اڑانے کا حکم دیا جس پر عمل کیا گیا اور کہا کہ یہ شریعت کے احکام کا استہزاء ہے اور شریعت کے کسی بھی حکم کا مذاق اڑانا کفر ہے ۔

اسی طرح منقول ہے کہ امیر تیمور ایک روز اداس اور دل گرفتہ تھا کسی کے سوال کا جواب نہ دیتا تھا۔ اس کے مصاحب سخرے اس کے پاس آئے ایک سخرہ تیمور کو منانے کے لئے کہنے لگا کہ وہ فلاں شہر میں فلاں قاضی کے پاس گیا اور جا کر کہا اے قاضی شرع فلاں آدمی نے رمضان کا روزہ کھا لیا ہے جس کے گواہ میرے پاس موجود ہیں۔ وہ قاضی

ولى فيها شهود فقال ذلك القاضى ليت آخر ياكل الصلوة نتخلص منها ليضحك الأمير فقال الأمير أما وجدتم تضحيكا سوی امر الدین فأمر بضربه حتى اثخنه - فرحمه الله من عظّم الدين الإسلام - (شرح الفقه الأكبر للقارىؒ ص۱۳۳ تا ص۱۳۴)

للآلوسى رح تحت قوله تعالى :- وإن نكثوا أيمانهم من بعد عهدهم وطعنوا في دينكم فقاتلوا أئمة الكفر - (الآية)

قال الآلوسي : ومن ذلك الطعن في القرآن وذكر النّبي صلّى الله عليه وسلّم وحاشاه بسوء فيقتل الذمى به عند جمع

کہنے لگا کاش ایک اور آکر نماز کو کھا جائے تو ہم دونوں عبادتوں سے چھوٹ جائیں۔ سخرے نے یہ لطیفہ سُنایا تو تیمور نے حکم دیا کہ اس سخرہ کو اتنا مارو کہ خون نکل آئے اور پھر کہا تمہیں دینی حکم کے سوا مذاق کے لئے کوئی اور چیز نظر نہ آئی ؟

اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ہر اُس شخص پر جو دین اسلام کی تعظیم کا فریضہ انجام دے ۔

علامہ آلوسیؒ تفسیر روح المعانی میں آیت "وان نكثوا ايمانهم" کے تحت لکھتے ہیں :- (ترجمہ آیت) ”اور اگر وہ توڑ دیں اپنی قسمیں عہد کرنے کے بعد اور عیب لگاویں تمہارے دین میں تو لڑو کفر کے سرداروں سے “

علامہ آلوسی فرماتے ہیں : اس میں قرآن پر طعنہ لگانا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان والا صفات میں برائی کے ساتھ ذکر کرنا بھی داخل ہے، تو علماء کی ایک جماعت کے نزدیک ذمی کافر

عالمگیر کانفرنس کے

صفحہ ۶۸

کو (بھی) اس کی وجہ سے قتل کر دیا جائے گا۔ وہ حضرات اسی آیت سے استدلال کرتے ہیں۔ چاہے اس ذمی کے ساتھ بدگوئی کو معاہدہ میں شرط قرار دیا گیا ہو یا نہ ، اور جو علماء ایسے کافر ذمی کے قتل کے قائل ہیں اُن میں امام مالکؒ اور امام شافعیؒ شامل ہیں۔ یہی لیث کا قول ہے اور ابن الہمام نے بھی اسی پر فتویٰ دیا ہے“

مستدلين بالآية سواء شرط انتقاض العهد به أم لا وممّن قال بقتله (إذا أظهر الشتم والعياذ بالله) مالك والشافعي وهو قول الليث وأفتى به ابن الهمام -

(روح المعانی ص۳۱ ج ۵)

”کہ مرتد کی توبہ قبول ہونے کا محل اس وقت ہے جبکہ ارتداد نبی علیہ السلام کی بدگوئی اور بغض پر مبنی نہ ہو جیسا کہ مصنف پہلے بیان کر چکے ہیں اور اگر ارتداد ایسا ہو تو پھر اس کی سزا قتل ہے اور توبہ قبول نہیں (یعنی دنیاوی احکام میں) برابر ہے کہ وہ خود تائب ہو کر آیا ہو یا اسکے خلاف گواہی سے جرم ثابت ہوا ہو۔ بخلاف دوسرے موجبات کفر کے کہ ان میں انکار کر دینا ہی توبہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن وہاں بھی اگر گواہ موجود ہوں تو انکار کے باوجود نکاح کی تجدید کرنی چاہیئے “

۲؎ وفي حاشية الشرنبلالية على درر الحكام : تنبيه :. محل قبول توبة المرتد ما لم تكن ردّته بسبب النبي عليه السلام أو بغضه كما قدمه المصنف فإن كان يقتل حدّا و لا تقبل توبته سواء جاء تائبا من نفسه أو شهد عليه بذلك بخلاف غيره من المكفرات فإن الإنكار فيها توبة لكنه يجدد نكاحه إن شهد عليه مع إنكار ۔

(ص ۳۳)

۵؎ وفي عالمگي جعفر عمر الفواحش و ونحوه الذ في يوسف يكفر لأنه استخفاف

۶؎ وفي الشرح المغني الجز ومن سب كفر سواء كا وكذلك من سبحانه و أو برسله أ ولم إنما أبالله و كنتم قد كفرت وينبغي أن الهازي بـ الإسلام حتى

صفحہ ۶۹

کو (بھی) اس کی وجہ سے قتل کر دیا جائے گا۔ وہ حضرات اسی آیت سے استدلال کرتے ہیں۔ چاہے اس ذمی کے ساتھ بدگوئی کو معاہدہ میں شرط قرار دیا گیا ہو یا نہ ، اور جو علماء ایسے کافر ذمی کے قتل کے قائل ہیں ان میں امام مالکؒ اور امام شافعیؒ شامل ہیں۔ یہی لیث کا قول ہے اور ابن الہمام نے بھی اسی پر فتویٰ دیا ہے“

درر الحکام کی شرح حاشیۃ شرنبلالیہ میں ہے :-

”کہ مرتد کی توبہ قبول ہونے کا محل اس وقت ہے جبکہ ارتداد نبی علیہ السلام کی بدگوئی اور بغض پر مبنی نہ ہو، جیسا کہ مصنف پہلے بیان کر چکے ہیں اور اگر ارتداد ایسا ہو تو پھر اس کی سزا قتل ہے اور توبہ قبول نہیں، (یعنی دنیاوی احکام میں) برابر ہے کہ وہ خود تائب ہو کر آیا ہو یا اس کے خلاف گواہی سے جرم ثابت ہوا ہو۔ بخلاف دوسرے موجبات کفر کے کہ ان میں انکار کر دینا ہی توبہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن وہاں بھی اگر گواہ موجود ہوں تو انکار کے باوجود نکاح کی تجدید کرنی چاہیئے“

جعفر عمن ينسب الى الانبياء الفواحش و عزوه إلى الزنا ونحوه الذى یقولہ الحشویۃ في یوسف علیہ السلام قال یکفر لأنہ شتم لهم و استخفاف بهم -

عالمگیری میں ہے کہ جعفرؒ سے پوچھا گیا کہ جو شخص انبیاء علیہم السلام کی طرف فواحش کی نسبت کرے اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا، کافر ہو گا کیونکہ ایسا کہنا ان کو گالی دینا اور ان کو ہلکا سمجھنا ہے“

(فتاویٰ عالمگیری ص ۲۶۷ ج ۳)

المغني الجزء العاشر ص ٤١٦ ومن سبّ اللہ تعالیٰ أو رسولہ کفر سواء کان جادًا أو مازحا وکذلك من استهزاء بالله سبحانہ وتعالیٰ أو بآیاتہ أو برسله أو کتبه لقولہ تعالیٰ ولئن سألتهم ليقولن انما کنا نخوض ونلعب قل أباللہ و آیاتہ و رسولہ کنتم تستهزؤون لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم“ و ینبغی أن لا یکتفی من الھازی بذلك بمجرد الإسلام حتی یؤدب

جو اللہ تعالیٰ یا اُس کے رسول کو بُرا کہے گا کافر ہو جائے گا چاہے سنجیدہ ہو اور چاہے مذاق کر رہا ہو۔ اسی طرح جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ یا اس کی آیات یا اس کے پیغمبروں یا اُس کی نازل کردہ کتابوں کا استہزاء کرے گا وہ بھی دونوں صورتوں میں کافر ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”اور اگر آپؐ ان سے پوچھیں تو کہہ دیں گے کہ ہم تو محض مشغلہ اور خوش طبعی کر رہے تھے، آپ کہہ دیجئے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ اور اسکی آیتوں کیساتھ اور اسکے رسول کیساتھ تم ہنسی کرتے تھے تم اب عذر مت کرو تم تو اپنے کو مومن کہہ کر کفر کرنے لگے“ اور مناسب ہے کہ استہزاء کرنے والے کے صرف توبہ کرنے اور اسلام لانے پر اکتفاء نہ

صفحہ ٧٠

أدبا يزجره عن ذلك لأنه إذا لم يكتف من سبّ رسول الله صلّى الله عليه وسلّم بالتوبة فهذا أولى -

(شرح المغني ص٣ ج ٣)

کیا جائے بلکہ اس کی ایسی تادیب کی جائے جو اس کام سے اسے (ہمیشہ کے لئے) روک دے۔ کیونکہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا کہے اُس کی توبہ پر اکتفا نہیں کیا جاتا تو اس کا معاملہ بطریق اولیٰ ایسا ہوگا“۔

الشرح الصغير :- على اقرب المسالك إلى مذهب الإمام مالك ما نصه كالساب للنبي مجمع عليه فيقتل بدون استتابة ولا تقبل توبته ثم إن تاب قتل حدّا ولا يعذر الساب بجهل لأنه لا يعذر احد فى الكفر بجهل او سكر حرام أو تهوّر كثرة الكلام بدون ضبط ، ولا يقبل منه سبق اللسان أو غيظ فلا يعذر اذا سبّ حال الغيظ بل يقتل او بقوله أردت كذا

علامہ دردیر مالکیؒ ”شرح صغیر“ میں فرماتے ہیں :- ”کسی متفق علیہ نبی کو گالی دینے والا قتل کر دیا جائے گا، نہ اُس سے توبہ طلب کی جائے گی اور نہ اُس کی توبہ مقبول ہے۔ اگر وہ توبہ بھی کرلے تب بھی اسے بطور سزا قتل کیا جائے گا۔ یہ بُرا کہنے والا نہ جہالت کی وجہ سے معذور ہوگا کیونکہ کفر میں جہل کوئی عذر نہیں نہ یہ نشہ کی وجہ سے معذور ہوگا بشرطیکہ وہ نشہ حرام ہو، نہ لاپرواہی کی وجہ سے معذور ہوگا کہ بلا سوچے سمجھے کثرتِ کلام کی وجہ سے اس میں مبتلا ہو گیا ہے۔ اسی طرح سبقتِ لسانی کا عذر بھی قبول نہیں کیا جائے گا نہ غصّہ کی وجہ سے معذور ہوگا، بلکہ اگر شدید غصّہ میں گالی دے

أى انه اذا قيل بحق رسول الله فلعن قال أردت العقرب أى لأنها مرسلة تلدغه فلا يقبل منـ يقتل إلا أن يسلم الشـ الكافر الأصلى فلا يقـ لأن الإسلام يجب مـ قبله أما الساب المسـ إذا ارتد بغير السب أسلم فلا يسقط قتـ وسب الله كذلك كسب النبي يقتل ما لم يسلم وفي المسلم خلاف يستتاب ترك و ولو تاب الاول -

(الشرح الصـ

صـ٢٤١ جـ ٤)

صفحہ 71

کیا جائے بلکہ اس کی ایسی تادیب کی جائے جو اس کام سے اسے (ہمیشہ کے لئے) روک دے ۔ کیونکہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا کہے اُس کی توبہ پر اکتفا نہیں کیا جاتا تو اس کا معاملہ بطریق اولیٰ ایسا ہو گا “

علامہ دردیر مالکی ”شرح صغیر“ میں فرماتے ہیں :-

کسی متفق علیہ نبی کو گالی دینے والا قتل کر دیا جائے گا، نہ اُس سے توبہ طلب کی جائے گی اور نہ اُس کی توبہ مقبول ہے۔ اگر وہ توبہ بھی کر لے تب بھی اسے بطور سزا قتل کیا جائے گا۔ یہ بُرا کہنے والا نہ جہالت کی وجہ سے معذور ہو گا کیونکہ کفر میں جہل کوئی عذر نہیں نہ یہ نشہ کی وجہ سے معذور ہو گا بشرطیکہ وہ نشہ حرام ہو، نہ لاپرواہی کی وجہ سے معذور ہو گا کہ بلا سوچے سمجھے کثرت کلام کی وجہ سے اس میں مبتلا ہو گیا ہے۔ اسی طرح سبقت لسانی کا عذر بھی قبول نہیں کیا جائے گا نہ غصّہ کی وجہ سے معذور ہو گا، بلکہ اگر شدید غصّہ میں گالی دے

أی انه اذا قیل له بحق رسول الله فلعن ثم قال أردت العقرب أی لأنها مرسلة لمن تلدغه فلا یقبل منه و یقتل إلا أن یسلم الساب الکافر الأصلی فلا یقتل لأن الإسلام یجب ما قبله أما الساب المسلم إذا ارتد بغیر السب ثم أسلم فلا یسقط قتله وسب الله کذلك أی کسب النبی یقتل الکافر ما لم یسلم وفی استتابة المسلم خلاف هل یستتاب فإن تاب ترك و إلا قتل أو یقتل ولو تاب والراجح الأول ۔

(الشرح الصغیر

ص ۴۷۴، ۴۷۵ ج ۴ )

تب بھی قتل کیا جائے گا۔ یا تاویل کر کے یہ کہے کہ میری مراد تو کچھ اور تھی جیسے کسی کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کا ذکر کیا گیا اُس نے لعنت کی اور پھر کہنے لگا میں نے تو بچھو پر لعنت کی تھی، کیونکہ اسے بھی کاٹنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے ۔ ان سب صورتوں میں توبہ قبول نہیں اور قتل لازمی ہے ۔ ہاں اگر بُرا کہنے والا کافر اصلی تھا پھر مسلمان ہو گیا تو قتل نہ کیا جائے گا کیونکہ اسلام پرانے سب گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ باقی رہا وہ شخص جو بدگو مسلمان تھا پھر کسی اور وجہ سے مرتد ہو گیا اور پھر اسلام لے آیا تو اس کا قتل ساقط نہ ہو گا۔ اور یہی حکم ہے اللہ تعالیٰ کو بُرا کہنے والے کا کہ یہ اگر مسلمان نہ ہو تو قتل کر دیا جائے گا ۔ البتہ اگر مسلمان ایسی حرکت کر لے تو اس سے توبہ کروانے میں اختلاف ہے کہ کیا توبہ کروا کے توبہ قبول کرنے کے بعد قتل معاف کر دیا جائے گا یا توبہ کے باوجود قتل کر دیا جائے گا ۔ اس صورت میں راجح قول پہلا ہے “

صفحہ ۷۲

۷۴ وقال ابن تيمية : إذا ثبت ذلك فنقول هذه الجناية جناية السب موجبها القتل، لما تقدم من قوله صلى الله عليه وسلم : من لكعب بن الأشرف فانه قد آذى الله ورسوله فعلم أن من آذى الله و رسوله كان حقه أن يقتل ولما تقدم من أنه أهدر النبي صلى الله عليه وسلم دم المرأة الشاتمة مع أنها لا تقتل لمجرد نقض العهد ولما تقدم من امره صلى الله عليه وسلم قتل من كان يسبه مع امساكه عمن هو بمنزلته في الدين وندبه الناس في ذلك والثناء على من سارع في ذلك ولما تقدم من الحديث المرفوع ومن اقوال الصحابة أن

اسی طرح ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں :- ”جب یہ بات ثابت ہوگئی تو اب ہم کہتے ہیں کہ اس جرم بدگوئی کی سزا صرف قتل ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کون کعب بن اشرف کو قتل کرے گا کہ اس نے اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیتیں دی ہیں“ اس سے معلوم ہوا کہ جو اللہ اور رسولؐ کو اذیت پہنچائے گا اس کا قتل ہی برحق ہے، اور یہ واقعہ بھی پیچھے گزر چکا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدگوئی کرنے والی عورت کے قتل کو ہدر خون قرار دیا تھا حالانکہ صرف نقض عہد کی وجہ سے عورت کو قتل نہیں کیا جاتا اور یہ بھی گزر چکا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدگوئی کرنے والوں کو قتل کرنے کا حکم ہی نہیں دیا (حالانکہ انہی کے دوسرے ہم مذہب ذمی لوگوں سے آپؐ نے اپنا ہاتھ روکے رکھا) بلکہ لوگوں کو اس پر آمادہ کیا، اور اس کام میں پھرتی کرنے والوں کی آپؐ نے تعریف فرمائی اور پیچھے حدیث مرفوع اور اقوال صحابہؓ

من سب نبيا قتـ من سب غير نبي يـ

(الصارم ص۲۱۹)

۷۵ وفي الشرح على المغنى :- تحت مسئله وهل توبة الزنديق و تكررت ردته او الله تعالى أو رسو أو الساحر على ر احداهما لا تقبل تـ ويقتل بكل حال وا ما تقبل توبته كقـ مفهوم كلام الشيخ الله أن المرتد اذ تقبل توبته اى كـ هو ظاهر كلام الخـ سواء كان زنديقا يكن وهذا مذكـ الشافعى والمـ يروى عن على مسعود وهـ

صفحہ ۷۳

ول هذه ستب ما تقدم عليه وسلّم: الأشرف ورسوله الله و ن يقتل أنه عليه الشاتمة بمجرد العهد من سلّم مع منزلته من من

اسی طرح ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں :- ”جب یہ بات ثابت ہوگئی تو اب ہم کہتے ہیں کہ اس جرم بدگوئی کی سزا صرف قتل ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کون کعب بن الاشرف کو قتل کرے گا کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیتیں دی ہیں“ اس سے معلوم ہوا کہ جو اللہ اور رسولؐ کو اذیت پہنچائے گا اس کا قتل ہی برحق ہے، اور یہ واقعہ بھی پیچھے گزر چکا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدگوئی کرنے والی عورت کے قتل کو ہدر قرار دیا تھا حالانکہ صرف نقض عہد کی وجہ سے عورت کو قتل نہیں کیا جاتا اور یہ بھی گزر چکا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدگوئی کرنے والوں کو قتل کرنے کا حکم ہی نہیں دیا (حالانکہ اُنہی کے دوسرے ہم مذہب دُوسرے لوگوں سے آپؐ نے اپنا ہاتھ روکے رکھا) بلکہ لوگوں کو اس پر آمادہ کیا، اور اس کام میں پھرتی کرنے والوں کی آپؐ نے تعریف فرمائی اور پیچھے حدیث مرفوع اور اقوالِ صحابہؓ

من سبّ نبياً قتل و من سبّ غير نبي جلد۔

(الصارم ص۲۹۱)

۹؎ وفى الشرح على المغنى :- تحت مسئله وهل تقبل توبة الزنديق ومن تكررت ردّته ومن سبّ الله تعالىٰ أو رسوله أو الساحر على روايتين احداهما لا تقبل توبته ويقتل بكل حال والأخرى أن تقبل توبته، كغيره ۔ مفهوم كلام الشيخ رحمه الله أن المرتد اذا تاب تقبل توبته، اى كافر كان هو ظاهر كلام الخرقى سواء كان زنديقاً أو لم يكن وهذا مذهب الشافعى والعنبرى و يروى عن على و ابن مسعود وهما احدى

گزر چکے ہیں کہ جو کسی نبی کو برا کہے اُسے قتل کر دیا جائے اور کسی غیر نبی کو برا کہے اُسے کوڑے لگائے جائیں“ علامہ ابن قدامہ حنبلیؒ اپنی مشہور کتاب شرح المغنی میں لکھتے ہیں :- ”باقی رہا یہ مسئلہ کہ زندیق اور وہ شخص جو بار بار مرتد ہو اور وہ شخص جو اللہ، رسول کو گالی دے نیز جادوگر کی توبہ قبول ہے یا نہیں؟ اس میں دو روایتیں ہیں، پہلی یہ کہ توبہ قبول نہیں اور ہر حال میں اُسے قتل کیا جائے گا اور دوسری یہ کہ عام مرتد کی طرح توبہ کر لیں تو توبہ قبول کر لی جائے گی ۔ مصنّف کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ مرتد اگر توبہ کرلے تو ایک روایت کے مطابق اُس کی توبہ قبول ہوگی چاہے جیسا بھی کافر ہو، اور علامہ خرقی کے کلام سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ چاہے زندیق ہو یا نہ ہو، یہی امام شافعیؒ اور عنبریؒ کا مذہب ہے اور حضرت علیؓ اور حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے مروی ہے اور یہی امام احمدؒ سے ایک روایت ہے جس کو

صفحہ ۷۴

الروايتين عن احمد واختيا أبي بكر الخلال وقال إنّه اولى على مذهب أبي عبدالله۔

والرواية الاخرى لا تقبل توبة الزنديق ومن تكررت ردّته وهو قول مالك والليث واسحاق و عن أبي حنيفة روايتان -

واختيار ابي بكر انها لا تقبل لقول الله تعالى" إلّا الذين تابوا واصلحوا وبيّنوا " والزنديق لا يظهر من ما يتبيّن به رجوعه وتوبته لأنه كان مظهرا للاسلام مسرّا للكفر فإذا أظهر التوبة لم يزد على ما كان منه قبلها وهو اظهار الإسلام وأما من تكررت ردّته فقد قال الله تعالى: "إن الذين آمنوا ثم كفروا ثم آمنوا ثم كفروا ثم ازدادوا كفرا لم

ابوبکر خلال نے اختیار کیا ہے۔ اور اسے ہی امام احمد بن حنبل کا مذہب قرار دیا ہے۔

دوسری روایت یہ ہے کہ زندیق کی توبہ قبول نہیں۔ نیز اس کی جو بار بار مرتد ہو یہی امام مالکؒ، لیث اور اسحاقؒ کا مذہب ہے۔ امام ابو حنیفہؒ سے اس سلسلہ میں دونوں روایتیں ہیں۔

ابوبکر کی ترجیح کے مطابق ایسے شخص کی توبہ مقبول نہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے ”مگر (لعنت سے وہ مستثنیٰ ہیں) جو لوگ توبہ کرلیں اور اصلاح کر دیں اور ظاہر کردیں“ اور زندیق سے ایسی چیز ظاہر ہی نہیں ہوتی جو اس کے رجوع اور توبہ کو واضح کرسکے۔ کیونکہ وہ تو پہلے سے اسلام ظاہر کرتا تھا اور کفر کو چھپاتا تھا۔ اب جب اُس نے توبہ ظاہر کی تو پہلے سے زائد کوئی نئی بات ظاہر نہیں ہوئی اور وہ اس کا اظہار اسلام ہے (جس کی حقیقت ظاہر ہو چکی ہے) رہا وہ شخص جس کا ارتداد بار بار ہو تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد واضح

کافر کس کو کہتے ہیں؟

يكن الله ليغ ولا ليهديه

(شرح المغني ص)

وقال الصاوي ف على الش قوله : كالساب للنبي ، من الشتم وك قبيح ، حينئذٍ قا والإستخفاف ب أو إلحاق النقص في السب ويحل الساب إن كان م قوله فلا يعذر إذ حال الغيظ ومن حرم على من يق قام به غيظ صل النبي قوله أما المسلم الأوض العبارة ان يق

صفحہ ۷۵

ابوبکر خلال نے اختیار کیا ہے۔ اور اسے ہی امام احمد بن حنبل کا مذہب قرار دیا ہے۔

دوسری روایت یہ ہے کہ زندیق کی توبہ قبول نہیں۔ نیز اس کی جو بار بار مرتد ہو یہی امام مالک، لیث اور اسحاق کا مذہب ہے۔ امام ابوحنیفہ سے اس سلسلہ میں دونوں روایتیں ہیں۔

ابوبکر کی ترجیح کے مطابق ایسے شخص کی توبہ مقبول نہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: ”مگر (لعنت سے وہ مستثنیٰ ہیں) جو لوگ توبہ کرلیں اور اصلاح کر دیں اور ظاہر کردیں“ اور زندیق سے ایسی چیز ظاہر ہی نہیں ہوتی جو اس کے رجوع اور توبہ کو واضح کرسکے۔ کیونکہ وہ تو پہلے سے اسلام ظاہر کرتا تھا اور کفر کو چھپاتا تھا۔ اب جب اُس نے توبہ ظاہر کی تو پہلے سے زائد کوئی نئی بات ظاہر نہیں ہوئی اور وہ اس کا اظہار اسلام ہے (جس کی حقیقت ظاہر ہو چکی ہے) رہا وہ شخص جس کا ارتداد بار بار ہو تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد واضح

یکن الله ليغفر لهم ولا ليهديهم سبيلا۔

(شرح المغنی ص ۱۶ ج ۱)

ہے کہ ”بلا شبہ جو لوگ مسلمان ہوئے پھر کافر ہوگئے، پھر مسلمان ہوئے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ ایسیوں کو ہرگز نہ بخشیں گے اور نہ ان کو رستہ دکھائیں گے“

وقال الصاوي في حاشيته على الشرح الصغير قوله : كالساب للنبى ، السب من الشتم وكل كلام قبيح ، حينئذ فالقذف والاستخفاف بحقه أو إلحاق النقص له داخل في السب ويحل قتل الساب إن كان مكلفا - قوله فلا يعذر إذا سب حال الغيظ ومن ههنا حرم على من يقول لمن قام به غيظ صل على النبي قوله أما لساب المسلم الأوضح في العبارة ان يقول أما

اسی سابقہ عبارت کی تشریح کرتے ہوئے امام صاوی مالکی اپنے حاشیہ میں فرماتے ہیں :- ”وہ یہ جو نبی کو ”سب“ کرنے والے کا حکم بیان کیا جا رہا ہے اس میں سب کا لفظ گالی کو بھی شامل ہے اور ہر بُرے کلام کو بھی۔ تو اب آپ پر تہمت لگانا یا آپ کی شان کو ہلکا سمجھنا، آپ پر عیب لگانا، یہ ساری صورتیں ”سب“ کے لفظ میں داخل ہیں۔ اور ساب کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ مکلف (عاقل بالغ ہو) تو اُسے قتل کر دیا جائے گا۔ متن میں جو یہ فرمایا گیا کہ غصّہ میں گالی دینا عذر نہیں اس سے مسئلہ معلوم ہو گیا کہ غصّہ کی حالت میں کسی کو درود پڑھنے کے لئے کہنا بھی جائز نہیں (کہ کہیں وہ غصّہ میں کچھ اور نہ بک دے) متن میں مسلمان بدگو کی عبارت کا مطلب

صفحہ ۷۶

المسلم اذا ارتد بغير السب ثم سب زمن الردة ثم اسلم فلا يسقط قتل السب ۔ قولہ والراجع الأوّل أى قبول توبته كما هو مذهب الشافعى حتى فى سب الانبياء والملائكة، والفرق بين سب الله فيقبل وبين سب الانبياء والملائكة ۔ لا يقبل أن الله لما كان منزها عن النقص له عقلا قبل من العبد التوبة بخلاف خواص عباده فاستحالة النقص عليهم من اخبار الله لا من ذواتهم فيشدد ۔

(الشرح الصغير

ص ۴۲۹ ، ج ۴ )

یہ ہے کہ مسلمان اگر کسی اور وجہ سے مرتد ہو گیا۔ حالتِ ارتداد میں بدگوئی کی پھر اسلام لے آیا تو بھی بدگوئی کی سزا قتل معاف نہ ہوگی ۔ ضمن میں جو یہ فرمایا گیا کہ راجح پہلا قول ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ قبول ہو جائے گی جیسا کہ انبیاء اور ملائکہ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے بارے میں بھی امام شافعیؒ کا یہی مذہب ہے ۔ لیکن ہمارے مذہب میں جو یہ فرق ہے کہ سابّ اللہ کی توبہ قبول ہے اور سابّ الانبیاء کی توبہ قبول نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو عقلاً عیب سے پاک ہے اس لئے توبہ قبول ہو جائے گی ۔ باقی اللہ تعالیٰ کے نیک بندے تو ان کا عیب سے پاک صاف ہونا اللہ تعالیٰ کے بتلانے سے ہوا ہے ان کی اپنی ذات کی وجہ سے نہیں ۔ اس لئے اس بارے میں سختی کی جائے گی اور توبہ قبول نہ ہوگی “

قتل مر

فقہ حنفی

۱ قال صاحب الدر في المرتد : فإن اسلم فهو أى الإ وقال الشامى: قوله قتل أى ولو عبدا وإن تضمن قتله حق المولى وهذا لإطلاق الأدلة المنع وأما غيره كـ أو قطع إذن الإما

(شامی ، ص

۲ في العالمگير المرتدين : فإن قتله قاتل

صفحہ ٧٧

قتل مرتد کے طریقہ پر

فقہ حنفی کی تین عبارات

المرتد : فإن اسلم فبها وإلا قتل وقال الشامي قوله وإلا قتل أى ولو عبدًا فيقتل و إن تضمن قتله إبطال حق المولى وهذا بالإجماع لإطلاق الأدلة ثم قال في المتن وأطلق فشمل الإمام غيره لكن إن قتله غيره أو قطع عضوا منه بلا إذن الإمام أدبه الإمام۔

(شامی ، ۳۲۷ ج ۴)

علامہ شامی مرتد کی بحث میں لکھتے ہیں کہ :- "متن میں مرتد کے قتل کے واجب ہونے کو مطلقاً ذکر کیا گیا ہے جو امام (حاکم وقت) اور غیر امام (غیر حاکم) دونوں کو شامل ہے۔ لیکن حاکم وقت کے علاوہ اگر کوئی دوسرا شخص حاکم کی اجازت کے بغیر مرتد کو قتل کرے گا یا اُس کے کسی عضو کو کاٹ دے گا (تو اُسے قتل یا قطع کی سزا تو نہ ملے گی لیکن) امام اس کو تادیب کرے گا (کیونکہ یہ سزا جاری کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے) ۔"

المرتدین : فإن قتله قاتل قبل عرض

فتاویٰ عالمگیری میں مرتدین کے احکام ذکر کرتے ہوئے کہا گیا : "اگر مرتد پر اسلام پیش کرنے سے پہلے

صفحہ ۷۸

کوئی قاتل اُسے قتل کر دے یا اُس کے کسی عضو کو کاٹ دے تو ایسا کرنا مکروہ تنزیہی ہے (بحوالہ فتح القدیر) اور اس پر ضمان واجب نہ ہوگا ۔ لیکن اگر امام کی اجازت کے بغیر ایسا کیا تو اُسے تادیب کی جائے گی (کہ حکومت کے اختیارات اپنے ہاتھ میں کیوں لئے ؟)

الإسلام عليه أو قطع عضوا منه كره ذلك كراهة تنزيها هكذا في فتح القدير فلا ضمان عليه لكنه اذا فعل بغير اذن الإمام ادب على ما صنع كذا في غاية البيان ۔ (فتاویٰ عالمگیریه ص۲۵۴)

فتح القدیر شرح ہدایہ میں علامہ ابن الہمام نے فرمایا :-

٣ وقال ابن الهمام :

"کہ ہدایہ میں جو یہ لکھا ہے کہ اگر مرتد پر اسلام پیش کرنے سے پہلے کوئی قاتل اُسے قتل کر دے تو مکروہ ہے مگر قاتل پر کچھ ضمان واجب نہ ہو گا۔ اس میں مکروہ سے مراد ترکِ مستحب ہے اور ضمان کا واجب نہ ہونا اس لئے ہے کہ مرتد کے کفر نے اس کے قتل کو جائز کر دیا تھا اور دعوتِ اسلام پہلے پہنچ چکنے کے بعد دوبارہ پہنچانا واجب نہیں ہے۔ اور اس لئے بھی کہ کفر مرتد اُسے مباح الدم بنا دیتا ہے اور مرتد کے خلاف ہر جرم بلا ضمان ہے۔ اور متن میں مکروہ سے مراد مکروہ

في الهداية فإن قتله قاتل قبل عرض الإسلام عليه كره ولا شيئى على القاتل ومعنى الكراهية ههنا ترك المستحب وانتفاء الضمان لأن الكفر مبيح للقتل والعرض بعد بلوغ الدعوة غير واجب وقال ابن الهمام قوله فإن قتله قاتل الخ لأن الكفر مبيح وكل جناية على المرتد هدر ومعنى الكراهة هنا كراهة

تنزيها وعند من يـ يوجب العرض كر تحريميا وفي شرح الطحـ اذا فعل ذلك أى القـ أو القطع بغير إذ الإمام ادب ۔

(فتح القدير ص٣١١ ج ٥)

معاف بعض اخباروں میں مانگ لی اور معلوم ہو کسی کو اس سـ کہنے کا مانگی جا میں سے کوئی کے مقربین اُس بھی اللہ تعالیٰ کے اور اُن کے واسطہ سـ

عالمی سیرت کانفرنس کی

صفحہ ۷۹

کوئی قاتل اُسے قتل کر دے یا اُس کے کسی عضو کو کاٹ دے تو ایسا کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ (بحوالہ فتح القدیر) اور اس پر ضمان واجب نہ ہوگا۔ لیکن اگر امام کی اجازت کے بغیر ایسا کیا تو اُسے تادیب کی جائے گی (کہ حکومت کے اختیارات اپنے ہاتھ میں کیوں لئے؟) فتح القدیر شرح ہدایہ میں علامہ ابن الہمام نے فرمایا :- کہ ہدایہ میں جو یہ لکھا ہے کہ اگر مرتد پر اسلام پیش کرنے سے پہلے کوئی قاتل اُسے قتل کر دے تو مکروہ ہے مگر قاتل پر کچھ ضمان واجب نہ ہوگا۔ اس میں مکروہ سے مراد ترک مستحب ہے اور ضمان کا واجب نہ ہونا اس لئے ہے کہ مرتد کے کفر نے اس کے قتل کو جائز کر دیا تھا اور دعوتِ اسلام پہلے پہنچ چکنے کے بعد دوبارہ پہنچانا واجب نہیں ہے ۔ اور اس لئے بھی کہ کفر مرتد اُسے مباح الدم بنا دیتا ہے اور مرتد کے خلاف ہر جرم بلا ضمان ہے ۔ در متن میں مکروہ سے مراد مکروہ

تنزيها وعند من يقول بوجوب العرض كراهة تحريما وفى شرح الطحاوى اذا فعل ذلك أى القتل أو القطع بغير إذن الإمام أدب -

(فتح القدير ص٣١١ ج ٥)

تنزیہی ہے ہاں جو لوگ دوبارہ عرضِ اسلام کے وجوب کے قائل ہیں ان کے نزدیک مکروہ تحریمی ہو گا۔ شرح طحاوی میں مذکور ہے کہ اگر کوئی مرتد کو (بلا اذنِ امام) قتل کر دے یا اس کا عضو قطع کر دے تو امام کی طرف سے اُسے تادیب دی جائے گی ۔

معافی ایک دھوکہ ہے

بعض اخباروں میں جلی سرخی سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ رشدی نے معافی مانگ لی اور معلوم ہوا کہ فون پر اُس نے لکھوایا کہ میں نے ایک ناول لکھا تھا، اگر کسی کو اس سے تکلیف پہنچی ہو تو میں اس سے معافی مانگتا ہوں ۔

حالانکہ ناول معروف ہستیوں کے نام لے لے کر گندی خلافِ انسانیت گالیاں بکنے کا نام نہیں ہے ۔ لیکن پھر بھی یہ معافی ایک دھوکہ ہے، کیونکہ معافی تو اسی سے مانگی جاسکتی ہے جس کو تکلیف یا نقصان یا بے عزتی یا بد قالی کی گئی ہو تو ان حضرات میں سے کوئی زندہ نہیں، پھر کس سے معافی اور کیسی معافی ہے؟ یہ تو سب اللہ کے مقربین اُس کے برگزیدہ و منتخب ہستیاں ہیں۔ ان کی شان میں معمولی گستاخی بھی اللہ تعالیٰ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے، عزیزوں خاندان کے لئے، اور اُن کے واسطہ سے اللہ تعالیٰ کی گستاخی ہی نہیں سخت تکلیف دینا ہے اور

صفحہ ۸۰

اللہ تعالیٰ کی اذیت سے جو دُنیا و آخرت کے عذابوں، وبالوں کا حملہ اپنے اوپر اپنے حمایتیوں پر، ہمنواؤں پر بلکہ ساتھ میں بہت سے عوام پر بھی عذاب کا مطالبہ کر لینا ہے ۔ ان سب تمام باتوں کی توبہ جزئی اور دل کی گہرائی سے توبہ کی ضرورت ہے ۔ ظاہر ہے کہ اوّل تو اُن سب سے معافی تک طلب نہیں کی گئی ۔ دوسرے توبہ کے قاعدہ سے نہیں کی ۔ تیسرے وہاں سے معافی حاصل ہی نہیں ہو سکتی تو سارے عالم کو دھوکہ دے کر اندھا بنانا ہے ۔

دوسرے رشدی کے بیان میں " اگر " کا لفظ بتا رہا ہے کہ اب بھی اُس کے نزدیک تو کوئی بات اہانت تذلیل و تحقیر کی واقعی نہیں ہوئی اگر کسی کو خواہ مخواہ تکلیف ہوئی ہو تو معافی چاہتا ہوں ۔

ذرا غور تو کیا جائے کہ توبہ خالص کی معافی اور وہ بھی صرف اس وقت کے متنبہ کرنے والوں سے اور پھر اپنی نظر میں غیر واقعی بات کہ " اگر " ہو تو، یہ کیا معافی مانگنا ہے ؟ یہ تمام دُنیا کو دھوکہ دینے کے سوا اور کیا ہے ؟ یاد رکھئے اللہ تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا وہ دل کا حال خوب جانتے ہیں ۔

دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کو جو اس سخت اضطراب کی آگ میں بھن رہے ہیں اور تڑپ تڑپ جا رہے ہیں ۔ کیا اس دھوکہ سے کوئی سکون ہو سکتا ہے؟ وہ تو اس لفظ معافی کو تیر و تفنگ سے زیادہ دہکتی اور جلتی آگ پر تیل نہیں بلکہ پٹرول چھڑکنا سمجھتے ہیں ۔ اور رشدی کے چند حامی لوگ ہاں میں ہاں ملانے والے اس پر کچھ کہہ اُٹھیں تو کیا ان اربوں کے دل کی بھڑاس دھیمی ہو سکتی ہے؟ اگر واقعی جن کی اس قدر گندی توہین و تذلیل کی گئی ہے ان کو اور ان کے محبوبوں تمام انبیاء ورسل تمام متقی لوگ، تمام شرافت رکھنے والے، تمام انسانیت کے پتلے اس سے چین پا سکتے ہیں اور کیا وہ عذابات الٰہی جو ایسے عرش ہلا دینے والے

گناہوں پر بے قرار ہو ہو سکتی ہے ۔ احکام الٰہی ، امت ہتک عزت کا قانون تو کیا چارہ کار ممکن ہے کہ یہی اصل توبہ ہے۔ سُنا ہو گا کہ حضور ہو گیا تھا، ان کو سب اسلامی رحیم سے فقط توبہ وہ توبہ ہے کہ ہے، کیا تعجب

پاک اجماع اُمت تحقیق پیش کی گئی ۔ اس صلی اللہ علیہ وسلم کی ش مرتد بھی ہے اور آپ کے میں کسی کا کوئی اختلاف

قتل کرنے میں کسی کا کوئی

صفحہ 81

توہین رسالت اور اسکی سزا کاپی ص

گناہوں پر بے قرار ہو کر برس پڑتے ہیں۔ اس سے ان کی کوئی رکاوٹ ہو سکتی ہے ۔

احکام الٰہی ، ارشادات نبویؐ، اجماع اُمت ، قیاس شرعی، عقل سلیم اور ہتک عزت کا قانون تمام دنیا کی قوموں اور مملکتوں میں دیکھ چکے ہیں تو اس کے سوا کیا چارہ کار ممکن ہے کہ رشدی کے اپنے وجود سے زمین و آسمان کو پاک کر دیا جائے یہی اصل توبہ ہے۔

سُنا ہو گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک صاحب سے زنا صادر ہو گیا تھا، ان کو سب انجام نظر آتے تھے اس کے باوجود خود حاضر ہوئے اور سزائے اسلامی رجم سے فنا کے گھاٹ اُتر گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی توبہ وہ توبہ ہے کہ سارے مدینہ والوں پر تقسیم ہو جائے تو سب کی نجات کو کافی ہے۔ کیا تعجب ہے کہ ایسی ہی توبہ نصیب ہو جائے۔

خلاصہ

پاک، اجماعِ اُمت کے حوالوں اور جلیل القدر ائمہ فقہاء کے حوالے سے جو تحقیق پیش کی گئی۔ اس سے یہ بات اچھی طرح سے واضح ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں صراحتاً یا تعریضاً بدگوئی کرنے والا شخص مرتد بھی ہے اور آپؐ کی ذاتِ اقدس پر تہمت لگانے والا بھی ہے۔ اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔

قتل کرنے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔

صفحہ ۸۲

ایسے مجرم کو پکڑ کر اُس پر قتل کی سزا جاری کرے۔ عام آدمی کے لئے قانون کے نفاذ کو اپنے ہاتھ میں لینا مناسب نہیں۔ لیکن اس کے باوجود اگر کسی عام شخص نے ایسے مرتد کو قتل کر دیا تو اس پر نہ قصاص ہے نہ تاوان، کیونکہ مرتد مباح الدم (یعنی جائز القتل) ہوتا ہے۔ عام شخص کے لئے ایسا کرنا صرف خلاف مستحب ہے جس پر حکومت کی طرف سے صرف تادیب ہوگی۔

کرے تو اس کی سزا ہر حال میں قتل ہے۔ اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے ۔

کفر سے صحیح توبہ کر لے تب بھی اکثر علماء ، فقہاء اور محدثین کے نزدیک اس کا اسلام تو قبول ہو جائے گا مگر بدگوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت لگانے کی وجہ سے اُس کی سزائے قتل ہرگز معاف نہ ہوگی۔ اسلام لانے کے باوجود بطور حد کے قتل کیا جائے گا (جیسا کہ عام انسانوں کو لگائی جانے والی تہمت پر حد قذف کہ وہ بھی توبہ سے معاف نہیں ہوتی ۔) احناف کے اکثر جلیل القدر علماء کا یہی مذہب ہے ۔

کرنی چاہیے) تو اسلام قبول کرنے کے علاوہ اس کی سزائے قتل معاف ہو سکتی ہے ۔

اس سلسلہ میں ایک شافعی اور ایک حنفی عالم کی عبارتیں پیش ہیں۔ تطویل کے پیش نظر ترجمہ نہیں کیا گیا :۔

من قال بسقوط وجوب

حجر وابن الهمام واستاذ سئل عمن سب النبی صلی الله على قتله حدًا كما صرح به صا أو على خلافه فأجاب أن الفتو الأصحاب في سب غير قذف المقري عن تصحيف في يَجُبُّ ما قبله ۔ ونقل قت نهم متفقون على عدم مرجحون له في الثاني ۔

آخر کلام سمی الأنام

وفي رسائل ثم اعلم ان للحنفية فيها ثلا القول الأول ا

صفحہ ۸۳

من قال بسقوط وجوب قتل السابّ إذا تاب

حجر وابن الہمام واستاذ الشعرانی فی فتاواہ - سئل عن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثم تاب ہل الفتویٰ علی قتلہ حدّاً کما صرّح بہ صاحب الشفاء نقلاً عن اصحاب الشافعی أو علی خلافہ فأجاب أن الفتویٰ علی عدم قتلہ کما جزم بہ الأصحاب فی سبّ غیر قذف ورجّحہ الغزالی ونقلہ ابن المقری عن تصحیف فی سبّ ہو قذف لان الإسلام یَجُبُّ ما قبلہ - ونقل قتلہ عن اصحاب الشافعی وہم - بل ہم متّفقون علی عدم قتلہ فی الشق الاوّل وجمہورہم مرجّحون لہ فی الثانی ۔

(فتاویٰ شیخ الاسلام الانصاری)

آخر کلامہ : وقد استوفیت الکلام علی ذلک فی کتاب سمّیتہ تنبیہ الولاۃ والحکّام علی احکام شاتم خیر الأنام علیہ الصلوۃ والسلام -

(شامی ص ۲۳۳ ج ۴)

وفی رسائل ابن عابدین فی الرسالۃ المذکورۃ :- ثمّ اعلم انّ الذی تحرّر لنا من مسئلۃ السابّ انّ للحنفیۃ فیہا ثلاثۃ اقوال -

قول الاوّل انّہ تقبل توبتہ ویندری عنہ القتل بہا

صفحہ ۸۴

كانفرنس كى كاروائى

وأنه يستتاب كما هو رواية الوليد عن مالك وهو المنقول عن أبى حنيفة واصحابه كما صرّح بذلك علماء المذاهب الثلاثه كالقاضى عياض فى الشفا و ذكر أنّ الإمام الطبرى نقله عنه أيضًا وكذا صرّح به شيخ الإسلام ابن تيميه و كذا شيخ الإسلام التقى السبكى وهو الموافق لما صرّح به الحنفيه كالإمام أبى يوسف فى كتابه الخراج من أنه ان لم يتب قتل حيث علق قتله على عدم التوبة فدل على أنه لا يقتل بعدها ولما صرّح به فى النتف ونقلوه فى عدة كتب عن شرح الطحاوى من انه مرتد وحكمه حكم المرتد ويفعل به ما يفعل بالمرتد ولما صرّح به فى الحاوى من انه ليس له توبة سوى تجديد الإسلام وهو الموافق أيضا لإطلاق عبارات المتون كافة وهى الموضوعة لنقل المذاهب وهذا بإطلاقه شامل لما قبل الرفع الى الحاكم و لما بعده -

والقول الثانى | ما ذكره فى البزازية اخذا من الشفاء

والصارم المسلول من أنه لا تقبل توبته مطلقا لا قبل الرفع ولا بعده وهو مذهب المالكية والحنابلة وتبعه على ذلك العلامة خسرو فى الدرر، والمحقق ابن الهمام فى فتح القدير، وابن نجيم فى البحر والأشباه والتمرتاشى فى التنوير والمنح والشيخ خيرالدين فى فتاواه وغيرهم -

والقول الثالث

تقبل توبته قبل رفعه الشيخ علاء الدين فى الدر الاولين وقد علمت أن الكلية بين القولين و أن الحنفية وقالوا إن صاحب الغير وكذا أنكره أهل أن الذي عليه كلام المعـ مذهبنا قبول التوبة وهذا هو القول الاوـ ومن تبعه وإن كلامه تأول

فيا اخى | هذه

عند حلول محنتها العسر واختاره حسب ما ظهر لفكرى حنيفة وأصحابه لـ له وبمثله صرح ابن عابدين وبمشورة من الشيخ المـ

صفحہ ۸۵

او رواية الوليد عن مالك و هو المنقول لصحابه كما صرّح بذلك علماء المذاهب ياض في الشفا و ذكر أن الإمام الطبري صرّح به شيخ الإسلام ابن تيميه و عن السبكي وهو الموافق لما صرّح به أبي يوسف في كتابه الخراج من أنه حيث علق قتله على عدم التوبة يل بعدها و لما صرّح به في النتف ه عن شرح الطحاوي من انه مرتد تد ويقتل به ما يفعل بالمرتد ولما من انه ليس له توبة سوى وهو الموافق أيضا لإطلاق عبارات ب الموضوعة لنقل المذاهب حل لما قبل الرفع الى الحاكم و

ما ذكره في البزازية اخذا من الشفاء الصارم المسلول من أنه لا تقبل رفع ولا بعده وهو مذهب المالكية ذلك العلامة خسرو في الدرر، و، فتح القدير، و ابن نجيم في البحر ، التنوير والمنح والشيخ خير الدين

والقول الثالث

ما ذكره المحقق ابو السعود آفندی العمادی من التفصيل و هو أنه تقبل توبته قبل رفعه الى الحاكم لا بعده وتبعه عليه الشيخ علاء الدين في الدر المختار و جعله محل القولين الاولين وقد علمت أنه لا يمكن التوفيق به للمباينة الكلية بين القولين و أن القول الثانى أنكره كثير من الحنفية وقالوا إن صاحب البزازية تابع فيه مذهب الغير وكذا أنكره أهل عصر صاحب البحر وعلمت أيضا أن الذي عليه كلام المحقق أبي السعود آخرا و هو أن مذهبنا قبول التوبة وعدم القتل ولو بعد رفعه الى الحاكم وهذا هو القول الاول بعينه ففيه ردّ على صاحب البزازية ومن تبعه و إنما جعلناه قوله ثالث بناء على ما افاده اوّل كلامه تنزلا وارخاء للعنان -

فيا اخى

هذه الاقوال الثلاثة بين يديك قد أوضحته لك وعرضتها عليك فاختر منها لنفسك ما ينجيك عند حلول رمسك وأنصف من نفسك حتى تميّز غثها من سمينها، والذي يغلب على في هذا الموضع الخطر والأمر العسر واختاره لخاصة نفسى وأرتضيه ولا الزم احداً أن يقلدنى فيه على حسب ما ظهر لفكرى الفاتر ونظرى القاصر هو العمل بما ثبت نقله عن أبي حنيفة وأصحابه لامور الخ

(رسائل ابن عابدين ص۳۳۲)

اهـ وبمثله صرح ابن عابدين في شرح عقود رسم المفتى ص۸ (بمشورة من الشيخ المفتى محمد رفيع العثماني دام ظلهم) ۱۲ محمود -

صفحہ ٨٦

عالمی مجلس کانفرنس کی

توبہ کا طریقہ

تمام تحقیقات آپ سب کے سامنے رکھ دی ہیں۔ نرم بھی گرم بھی اُمت کے بہت سے عمائدین کے نزدیک تو ان آیات و احادیث کی وجہ سے توبہ بھی معتبر نہیں سوائے اپنے وجود سے دنیا کو پاک کر دینے کے کوئی علاج نہیں ہے لیکن بعض حضرات نے توبہ کی اجازت دی ہے مگر یہ یاد رہے کہ ہر جرم کی توبہ اسی کے درجہ کی ہوتی ہے اگر آج کے سب مسلمان بھی ان پر رحم کے لئے تیار ہوں اور وہ بھی دل سے احساس کر چکے ہوں تو رحم کے لئے تیار ہو جانے کی کم از کم علماء کے قول پر کچھ گنجائش ہے کہ جرم کے موافق توبہ کی ہو جس کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے۔ چونکہ یہاں جرم بہت سے ہیں اس لئے ان کی توبہ اس مرتبہ کی ہوگی۔

کہنے والا اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اس لئے فوراً اسلام کی تجدید کرنی لازم ہے۔ سر بر آوردہ علماء و عوام کے مجمع میں باقاعدہ اسلام کی تجدید کرنی ہوگی اور اس کا اسی قدر اعلان جس قدر ان حرکتوں کا اعلان ہوا ضروری ہوگا۔ ایسا نہ ہو اس سے پہلے موت آجائے اور ہمیشہ کو جہنم میں رہنا ہو۔

فوراً اسلام لاتے ہی نکاح کی بھی تجدید کرائیں اور اس کا اعلان اسی اعلان کی طرح ہو۔

(ii) اس وقت انتہائی عاجزی اور گریہ و زاری سے خدا تعالیٰ سے معافی مانگی جائے۔ (iii) آئندہ کا پختہ عہد کیا جائے۔ بلکہ ان کی تلافی کے لئے ان عام ترین اعلان سے تقریر و غلطیاں طشت از بام کریں تو

ہر ہر بات کا بے دلیل، بے بہکانے والوں کی حرکت کا آنا ضروری ہے جن میں یہ سب

رہنا، پڑھا جانا، ان پر شرمندہ جس طرح ہو سکے اُس کے یہ اعلان کرے کہ سب ا کو جلا دیں۔ عام اعلان تسلی ہوگا۔ پیرو

کے یہ توبہ فرمایا ہے: التائب ہے جیسا اُس کا کوئی پاک ہو سکتے ہیں (جن کی

صفحہ ۸۷

معافی مانگی جائے ۔ (iii) آئندہ کے لئے ان سب باتوں کے نہ کرنے کا پختہ عہد کیا جائے۔ بلکہ ان کی تلافی کے لئے ان سب کے محاسن بزرگی، اعلیٰ مرتبوں کو اسی عام ترین اعلان سے تقریر و تحریر سے ظاہر کرتے رہا کریں اور گذشتہ کی غلطیاں طشت از بام کریں تو توبہ کی تکمیل ہو جائے۔

ہر ہر بات کا بے دلیل، بے مشاہدہ، بے ثبوت، جھوٹ، بہتان ہونا اور بہکانے والوں کی حرکت کا انکشاف اسی زور شور سے انہی تمام اخبارات میں آنا ضروری ہے جن میں یہ سب باتیں آج تک طبع ہوتی رہیں۔

رہنا، پڑھا جانا، ان پر شرمندگی، اُن کا بیہودہ، غلط، جھوٹ ہونا ختم نہ ہوگا۔ جس طرح ہو سکے اُس کے ہر ہر نسخہ کو علی الاعلان ہر جگہ جلوایا کریں اور مصنف یہ اعلان کرے کہ سب اس کو جلا دیں ورنہ کم از کم اس سے میرے نام کے ورق کو جلا دیں۔ عام اعلان سب اخباروں کو دیا جائے۔ اس طرح توبہ کا پہلا جُز مکمل ہوگا۔ پھر دوسرا، تیسرا جُز اور ان کا اعلان دُنیا بھر میں ہو۔

کے مضامین کی اس قدر بھر مار ہو جس قدر ان باتوں کی ہو چکی ہے۔ یہ توبہ ہو جائے تو رشدی صاحب ہمارے جگری بھائی بن جائیں گے کہ حضورؐ نے فرمایا ہے : التائب من الذنب كمن لا ذنب له ۔ (گناہ سے توبہ کر لینے والا ایسا ہے جیسا اُس کا کوئی گناہ نہیں) پس توبہ خالص و مکمل ہو تو ان بعض علماء کے نزدیک پاک ہو سکتے ہیں (جن کی عبارات آخر میں ہم نے درج کی ہیں ۔)

صفحہ ۸۸

ضمیمہ نمبر ۱

قائد ایران کے مثالی اقدامات

سات نکات

علامہ خمینی نے عظیم الشان اقدامات کر کے ساری دُنیا کی آنکھیں کھول دیں کہ اس سے زیادہ دنیا بھر میں کوئی اور مجرم نہیں ہو سکتا۔

پوری دُنیا میں کسی نے اتنے انعامات مقرر نہیں کئے ہوں گے۔ اگر اس کا قاتل ایران کا باشندہ ہو تو پچاس لاکھ ڈالر (۵۰۰۰۰۰۰) اور اگر دوسرے ملک کا باشندہ ہو تو دس لاکھ حکومت ایران پیش کرے گی ۔

علامہ خمینی کا انعام ساری دُنیا کے انعامات سے بڑھ چڑھ کر معلوم ہوتا ہے۔ اس کی اندرونی حقیقت اور بھی بہت بڑی شان کا انعام بنتا ہے کہ خمینی صاحب تقریباً ساری زندگی ایسے مذہب سے وابستہ رہے ہیں جو ایسی گالیوں کو بہترین ذخیرہ قرار دیتے ہیں تو جو شخص زندگی بھر ان گالیوں سے مانوس رہا آج اس سے بھی جو گالیاں برداشت نہ ہو سکیں اور اس قدر غیظ و غضب ان کو بد زاد پر آیا کہ دُنیا بھر میں سب سے زیادہ انعام کی پیش کش پر مجبور ہو گئے تو اس سے اندازہ لگایا جائے کہ غیر مانوس لوگوں کو ان گالیوں سے جو دین نہیں ، شرافت نہیں، انسانیت کی رمق تک سے خالی ہونے کی دلیل ہیں، کس قدر ان کو غیظ و غضب ہوا ہوگا اور ان کی غیرت ایمانی و غیرت شرافت و انسانیت کے اضطراب کا کیا عالم ہو سکتا ہے ؟

صفحہ ۸۹

انسانیت کا ذرا سا بھی کوئی حصہ باقی ہے تو اپنی پوری طاقت و قوت کا مظاہرہ کریں ورنہ اپنے آپ کو انسانیت کے طبقہ سے الگ قرار دیں ۔

سب سے بڑے مجرم کو یوں آزاد چھوڑنے سے اقوام متحدہ رہ سکتی ہے؟ کیا یہ دعویٰ بلا دلیل قابل تسلیم ہو سکتا ہے۔ آخر اقوام متحدہ کی غیرت و حمیت کی کوئی رمق باقی ہے یا بالکل کھوکھلی رہ گئی ہے ۔

کہ وہ آنکھوں سے پٹی ہٹائیں اور ایسی غلیظ گندی انسانیت سوز، غیرت و حمیت، شرافت و دیانت کا جنازہ نکالنے والی باتوں سے سخت احتراز کریں ورنہ سوچ لیں کہ اُن کے قاتل بھی اسی قدر انعامات کے حق دار ہوں گے ۔ ممکن ہے قضاء قدرت انتقام لے لے۔ وقت ہے کہ قیامت سے پہلے پہلے زندگی ہی میں ہر فرد اس سے بچ جائے، گذشتہ سے توبہ آئندہ عہد پختہ کر لیں ۔

کا باشندہ بھی ہو وہ قتل کا اور اس کا قاتل ایسے انعام کا مستحق ہے اس سے اس کے جرم کا اندازہ کر لیں ۔

انسانیت کا بدترین مجرم ہے، ہر حکومت اس سے متعلق اس کا قانون بنا کر اپنی انسانیت کا ثبوت دے کہ ایسے مجرم اللہ تعالیٰ کی زمین کو اپنے وجود سے ناپاک نہ کر سکیں ۔ اگر حکومتیں ایسا قانون نہ بنائیں گی تو وہ ایسے مجرموں کی صف میں کھڑی ہونے کے قابل ہوں گی واہ واہ ؎

صفحہ 90
عذر ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند

خود سزا کی مستحق ہو گی ۔

ضمیمہ نمبر ۲۷

اسرائیل کا دُنیا بھر کو الٹی میٹم

سات نکات

اسرائیل نام کی حکومت نے اس کو پناہ دے کر انتہائی شرمناک خطرناک انسانیت کے مخالف کام کیا ہے ۔

اسی کا ہاتھ ہے، نام صرف سلمان رشدی کا ہے اس کو تو صرف بیوقوف بنایا گیا ہے، اندر سے سارا کام اسرائیل کا ہے ۔

غیر انسانی جرائم کے حامی کے دُنیا بھر میں محافظ ہم ہیں جس کا جی چاہے ہم سے مقابلہ کرلے۔ ہم اس کے برابر حامی ہی رہیں گے خصوصاً دُنیا بھر کے اربوں مسلمانوں اور اُن کی حکومتوں کو اور ہر انسانیت رکھنے والی حکومت کو جنگ کا الٹی میٹم ہے کہ کوئی ہے جو اس کو لے سکے ۔

حوصلہ دینے کے برابر ہے۔ یہ بات خود اُسے ساری دُنیا میں بدنام

صفحہ ۹۱

کرنے کے لئے کافی ہے۔

ہونے والا نہیں ہے یہ سب خلاف انسانیت مزاج کے مالک ہیں ۔

سے عرش تک لرز اٹھتا ہے اور پھر تمام مجرموں اور اُن کے حمایتیوں پر انتقام قدرت نازل ہو سکتا ہے ۔

حمایت حق کا ولولہ نہیں رہا ہے کہ اُس نے علی الاعلان الٹی میٹم دے دیا ہے۔

ہیں کہ جب یہودیوں سے اسلام کی روز روز کی فتوحات برداشت نہ ہوسکیں تو اپنی عورتوں کو منافق بنا کر مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں کے نکاح میں داخل کیا اور یہ پھوٹ ڈالنے کا کام کیا کہ جانشین داماد تھا ، سب غاصب ظالم ڈاکو ہیں اور اسی سے ایک فرقہ جنم لے گیا جس کا ڈیڑھ ہزار سال تک کوئی اور حملہ کامیاب نہ ہوسکا۔ تو یہ حملہ بھی اسی طرح کا ہے، یہ بھی صدیوں تک برابر کام کر سکتا ہے۔ اس سے اس حربہ کی حمایت بھی ثابت ہو گئی ۔

اسرائیل یاد رکھے کہ ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ دجال کے ساتھ سارے یہودیوں کا قلع قمع ہوگا۔ کوئی نام کا یہودی بھی نہ رہ سکے گا۔ دُنیا و آخرت دونوں جہان کی تباہی ان کے لئے آ رہی ہے ۔ اچھا ہو کہ وہ ہوش سنبھال لیں ۔

صفحہ ۹۲

استفتاء کے نمبر وار جوابات

ثابت ہو چکا ہے اور جو کافر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے وہ حضورؐ کے زمانے تک منافق اور بعد میں زندیق کہلاتا ہے (دیکھیں آیت ۲۲ اجماع کی بحث اور حوالہ ۹۲) اس لئے یہ شخص مرتد بھی ہے اور زندیق بھی۔

عبارات سب سے ثابت ہے کہ اس کے ناپاک وجود سے اللہ تعالیٰ کی زمین کو پاک کرنا ضروری ہے۔

کا فرض ہے یا کوئی غازی علم دین پیدا ہو جائے۔

کرے۔ جیسا کہ احادیث پاک کے حصہ میں گزر چکا ہے کہ بغیر مقدمہ چلائے ایسے گستاخوں کو سزا دی گئی۔ بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر مقدمہ چلائے ایسے گستاخوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ (دیکھیں نابینا کی باندی کا واقعہ، کعب بن اشرف، ابن خطل وغیرہ کا واقعہ) ۔

ہے اور توبہ کا صحیح طریقہ بھی گزر چکا ہے جس کی صرف بعض علماء کے نزدیک گنجائش ہے جس کی تفصیل اوپر بیان ہو چکی ہے۔

پرا کاک مقال 3

کانفرنس کی ملکی سطح

مسلمان بائیکاٹ اور جو چیز قلمی ہوگی وہ مکر ے کفر کی حمایتی جتنی قوت و طا و ذرائع کو ملیا سے اس کی فرا کرنے میں ہما مسلم شر

کتب الفقہا

صفحہ ۹۳

مسلمان بائیکاٹ کر دیں تو ضروری ہے اور قلبی محبت ہر کافر سے حرام ہے اور جو چیز قلبی تعلق کا قریبی ذریعہ ہوگی وہ بھی حرام اور جو بعید ذریعہ ہوگی وہ مکروہ ہے ۔

جتنی قوت و طاقت ہو ان حرکتوں کو ، ان حرکت والوں کو ، ان کے اسباب و ذرائع کو ملیا میٹ کر دیں ۔ اور جس کو اس کی قدرت نہ ہو اس کو زبان سے اس کی خرابی اور برائی کا بیان کرنا واجب ہے اور جس کو زبان سے کہنے میں جان مال کا خطرہ ہو اُس کو دل میں بُرا جاننا واجب ہے جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث میں یہی تفصیل آئی ہے ۔

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

کتبہ : العبد محمود اشرف عفی عنہ املاء من الشیخ الفقیہ المفتی جمیل احمد التھانوی مدظلہ العالی ۱۸؍ ذو الحجہ ۱۴۰۹ھ

PDF 94

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

طاہر

اور

اسکی سزا

— از —

فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ

دارالافتاء ۔ جامعہ اشرفیہ ۔ لاہور

— جمع و ترتیب —

حضرت مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی دامت برکاتہم

مفتی و استاذ جامعہ اشرفیہ لاہور و دارالعلوم کورنگی، کراچی

پبلشرز، بک سیلرز، ایکسپورٹرز

ادارہ اسلامیات

لاہور ۔ کراچی

عمر فاروق