تحفہ قادیانیت جلد 2 · مولانا محمد یوسف لدھیانوی
Tohfa-e-Qadyaniat · Vol. 2 · Moulana Yousuf Ludhyanvi
PDF 1

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

تحفہ قادیانیت

جلد دوم

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ رجسٹرڈ

حضوری باغ روڈ ملتان

514122

PDF 2

بسمه تعالیٰ

يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ

وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ

تحفۂ قادیانیت

جلد دوم

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان

514122 ☎

صفحہ 3

فہرست

عنوان صفحہ

صفحہ 4

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پیش لفظ

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔ اما بعد۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم کی رد قادیانیت پر گرانمایہ تصنیف ”تحفہ قادیانیت“ کی دوسری جلد پیش خدمت ہے۔ جو حضرت مدظلہ کے ”9“ مختلف رسائل و مقالہ جات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ اس تناظر میں کیا جائے کہ اس میں شامل تحریریں بیس سے پچیس سال پہلے کی ہیں۔ ایک کتابچہ میں معمولی نوعیت کی تبدیلی کے علاوہ باقی تمام کو من و عن شائع کر رہے ہیں۔ اس مجموعہ میں ایک رسالہ ”مرزا قادیانی کے وجوہ ارتداد“ نامی بھی شامل ہے۔ آج سے سالہا سال قبل جنوبی افریقہ کی عدالت میں فتنہ قادیانیت سے متعلق ایک مقدمہ دائر تھا۔ اس میں مسلمانوں کی خدمت کرنے اور عدالت میں امت مسلمہ کا موقف بیان کرنے کے لیے جو وفود گئے تھے، ان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد کی قیادت حضرت مصنف مدظلہ نے فرمائی تھی۔ عدالت میں مرزا قادیانی کے وجوہ کفر و ارتداد پر دلائل دینے کی غرض سے آپ نے یہ بیان مرتب فرمایا تھا۔ رب کریم کا احسان دیکھیں کہ آج پہلی بار یہ تحریر اس وقت شائع ہو رہی ہے جس وقت کہ وہ کیس مختلف مراحل طے کر کے جنوبی افریقہ کے سپریم کورٹ سے اس کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہو چکا ہے۔ اور آج سپریم کورٹ آف افریقہ نے بھی قادیانیت کے کفر پر مہر لگا کر امت مسلمہ کے فتنہ قادیانیت سے متعلق موقف کو صحیح تسلیم کر لیا ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ اس مجموعہ میں فتنہ قادیانیت سے متعلق (مذہبی و سیاسی نوعیت کا) ہمہ جہتی مواد شامل ہے۔ حق تعالیٰ شانہ، اس وقیع علمی دستاویز کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازیں۔ قادیانیوں کے لیے ہدایت کا سامان، اور مسلمانوں کے زیادتی ایمان کا باعث فرمائیں۔ آمین۔

شعبہ نشر و اشاعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۔ صدر دفتر ملتان، پاکستان فون نمبر 514122

PDF 5

دارالعلوم دیوبند

اور

عقیدۂ تحفظ ختم نبوّت

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 6

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حامداً ومصلیاً ومسلماً

اسلام حق تعالیٰ شانہ کا نازل کردہ آخری دین ، آخری قانون سماوی اور آخری پیغام ہدایت ہے جو اس کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آخری امت، امت محمدیہ کو عطا کیا گیا، اسلام کو یہ شرف و فضیلت حاصل ہے کہ حق تعالیٰ نے اس کی حفاظت اپنے ذمہ لی ہے۔ انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحفظون اور امت مرحومہ کو یہ اعزاز بخشا کہ وہ یہ جارحہ خداوندی کی حیثیت سے دین متین کی پاسبانی کا فریضہ انجام دیں اور جب کوئی فتنہ سر اٹھائے فوراً اس کی گوش مالی و سرکوبی کریں۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے۔

یحمل ھذا العلم من کل خلف عدولہ ینفون عنہ تحریف الغالین وانتحال المبطلین و تاویل الجاھلین

ہر آئندہ نسل میں اس علم دین کے حامل ایسے عادل اور ثقہ لوگ ہوں گے جو اسے غالیوں کی تحریف، باطل پرستوں کے غلط دعوؤں اور جاہلوں کی تاویل سے پاک صاف کریں گے۔

گویا حق تعالیٰ نے صرف دین کی حفاظت کا وعدہ نہیں فرمایا بلکہ اس کے متضمن حاملان دین و ملت کی حفاظت کا بھی قطعی اور یقینی وعدہ کیا جا چکا ہے۔ چنانچہ تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں تو ہمیں ہر صدی میں اس جنود ربانیہ (خدائی فوج) کا کوئی نہ کوئی دستہ حفاظت دین کے محاذ پر اعداء اللہ سے مصروف پیکار اور دشمنان دین کی تحریف و تاویل کے راستہ میں آہنی دیوار نظر آتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ان مجاہدین اسلام کی پوری تاریخ وعدہ الٰہی انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ

صفحہ 7

لحافظون کی عملی تفسیر ہے۔ گیارہویں سے چودھویں صدی تک زمانہ ہندوستان کا ہے‘ اس موقعہ پر ایک بات اہل نظر کو صاف نظر آئے گی کہ دینی قطبیت کا مرکز دوسرے اسلامی ملکوں سے ہندوستان کو منتقل ہو گیا‘ چنانچہ دینی و مذہبی خدمت‘ علوم و فنون کی خدمت‘ حدیث و تفسیر کی خدمت اور ہدایت خلق اور احیائے سنن و رد بدعات کے لحاظ سے ہندوستان تمام دوسرے اسلامی ملکوں پر سبقت لے گیا۔ کیونکہ ان صدیوں میں ہندوستان میں جو ہستیاں نمودار ہوئیں ان کی نظیر دوسرے ملکوں میں نہیں ملتی۔ مثلاً گیارہویں صدی کے آغاز میں حضرت شیخ احمد سرہندی المتوفی ۱۰۳۴ھ اور بارہویں صدی کے وسط میں حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی المتوفی ۱۱۷۶ھ اور تیرہویں صدی کے وسط میں مولانا شاہ اسمعیل شہید دہلوی اور مولانا سید احمد بریلوی شہید‘ (شہادت ۱۲۴۶ھ) (مقدمہ تجدید دین کامل از مورخ اسلام مولانا سید سلمان ندوی ص ۳۰)

حضرت سید شہیدؒ کے بعد (انہی کے متوسلین میں) ایک ایسی شخصیت نمایاں ہوئی جو عشق و معرفت‘ زہد و تقویٰ‘ اخلاص و ایمان‘ فہم و فراست‘ علم و عمل اور حال و قال میں اپنے اسلاف کی صحیح جانشین تھی اور جسے قدرت نے اس دور میں امت اسلامیہ کی اصلاح و تربیت کا مرکز و محور بنایا تھا۔ یہ قطب العالم شیخ العرب و العجم مولانا شاہ امداد اللہ مہاجر مکی (المتوفی ۱۳۱۷ھ) کی ذات گرامی تھی‘ جو اکابر دیوبند کے مرشد و مربی اور ہندوستان میں تحریک دعوت و عزیمت اور تحفظ دین کے موسس و بانی تھے۔ ”دارالعلوم دیوبند“ حضرت حاجی صاحب قدس سرہ کے سوز دروں کا مظہر اور ان کی سحر گاہی دعاؤں کا ثمرہ تھا۔ دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی جا چکی تھی‘ کسی شخص نے مکہ مکرمہ میں حضرت حاجی صاحب سے عرض کیا کہ حضرت! ہم نے دیوبند میں ایک مدرسہ قائم کیا ہے۔ اس کے لئے دعا فرمائی جائے تو حضرت حاجی صاحب نے فرمایا:۔

سبحان اللہ! آپ فرماتے ہیں ہم نے مدرسہ قائم کیا ہے۔ یہ خبر نہیں کہ

صفحہ 8

کتنی پیشانیاں اوقات سحر میں سر بسجود ہو کر گڑگڑائی ہیں کہ خداوندا ہندوستان میں بقائے اسلام اور تحفظ علم کا کوئی ذریعہ پیدا کر! یہ مدرسہ انہی سحر گاہی دعاؤں کا اثر ہے۔"

(علمائے حق کے مجاہدانہ کارنامے ۱/۷۱‘ سوانح قاسمی ص ۲۲۳ منقول از

بیس بڑے مسلمان ص ۱۲۲ طبع سوم)

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں شکست و ناکامی کے بعد اسلام اور مسلمانوں کا مستقبل بظاہر تاریک تھا‘ انگریز کے منحوس قدم ہندوستان سے اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے پر تلے ہوئے تھے اور انگریز بڑے طمطراق سے یہ اعلان کر رہا تھا۔

”جس طرح کل ہمارے بزرگ کل کے کل ایک ساتھ عیسائی ہو گئے تھے اسی طرح یہاں (ہندوستان میں) بھی (تمام لوگ) ایک ساتھ عیسائی ہو جائیں گے۔“ (مسلمانوں کا روشن مستقبل ص ۱۴۲)

”خداوند تعالیٰ نے ہمیں یہ دن دکھایا ہے کہ ہندوستان کی سلطنت انگلستان کے زیر نگیں ہے تاکہ عیسیٰ مسیح کا جھنڈا ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لہرائے۔ ہر شخص کو اپنی تمام تر قوت تمام ہندوستان کو عیسائی بنانے کے عظیم الشان کام کی تکمیل میں صرف کرنا چاہئے۔“

(حکومت خود اختیاری ص ۱۳۶ اور علمائے حق کے مجاہدانہ

کارنامے ۱/ص ۲۶)

”ان بدمعاش مسلمانوں کو بتا دیا جائے کہ خدا کے حکم سے صرف انگریز ہی ہندوستان پر حکومت کریں گے۔“ (علمائے ہند کا شاندار ماضی آخری حصہ ص ۳۲)

”میں اس عقیدے سے چشم پوشی نہیں کر سکتا کہ

صفحہ 9

مسلمانوں کی قوم اصولاً ہماری دشمن ہے، اس لئے ہماری حقیقی پالیسی یہ ہے کہ ہم ہندوؤں کی رضاجوئی کرتے ہیں۔"

(ان ہیپی انڈیا ص ۳۹۹)

مسلمانوں کی بے کسی و بے بسی اور سفید طاغوت کی ان ”تعلیوں کے پیش نظر لوگوں نے اگر یہ رائے قائم کی کہ :

”اب اسلام صرف چند سالوں کا مہمان ہے۔“ (ص ۱۰۸ موج کوثر شیخ محمد اکرم)

تو بلاشبہ وہ معذور تھے، لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ یہی رائے انہوں نے اس وقت بھی قائم کی تھی جب وصال نبوی کے بعد پورا خطہ عرب ارتداد کی لپیٹ میں آ گیا تھا اور پھر گیارہویں صدی میں یہی رائے اس وقت بھی (کم از کم ہندوستان کی حد تک) قائم کی گئی جب ہندوستان کا مطلق العنان طاغوت اکبر جل جلالہ کا نعرہ لگاتے ہوئے دین الٰہی تصنیف کر رہا تھا۔ ان تمام موقعوں پر حق تعالیٰ شانہ کا وعدہ ”حفاظت دین“ کبھی ابوبکر صدیق ؓ کی شکل میں ظہور پذیر ہوا اور کبھی اس نے امام ربانی مجدد الف ثانی کو کھڑا کیا، آج یہ وعدہ ”دارالعلوم دیوبند“ کی شکل میں پورا کیا جا رہا ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ ؓ فرمایا کرتے تھے کہ ابوبکر صدیق ؓ نہ ہوتے تو اسلام فتنہ ارتداد کی نذر ہو گیا ہوتا، اہل نظر آج یہ کہتے ہیں کہ انگریز کے دور تسلط میں دارالعلوم دیوبند کا لطیفہ غیبی ظہور پذیر نہ ہوتا ۔۔۔۔۔ جو حضرت حاجی صاحب کے بقول اوقات سحر گاہی میں پیشانیاں رگڑ رگڑ کر گڑگڑانے سے ظہور پذیر ہوا ۔۔۔۔۔ تو شاید انگریز کی مراد بر آتی، اور اسلام ہندوستان سے رخصت ہو گیا ہوتا۔

دارالعلوم دیوبند نے مسلمانوں کو کیا دیا؟ اس پر بہت سے حضرات بہت کچھ لکھیں گے۔ مجھے صرف اس قدر کہنا ہے کہ تجدید و احیاء دین کی جو تحریک گیارہویں صدی سے ہندوستان کو منتقل ہوئی تھی، اور اپنے اپنے دور میں مجدد الف ثانی،

صفحہ 10

محدث دہلوی اور شہید بالاکوٹ جس امانت کے حامل تھے‘ دارالعلوم اس وراثت امانت کا حامل تھا‘ لوگ ”مدرسہ عربی دیوبند“ کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں‘ کوئی اسے علوم اسلامیہ کی یونیورسٹی سمجھتا ہے‘ کوئی جہاد حریت کے مجاہدین کی تربیت گاہ اسے قرار دیتا ہے۔ کوئی اسے دعوت و عزیمت اور سلوک و تصوف کا مرکز سمجھتا ہے‘ لیکن میں حضرت حاجی صاحبؒ کے لفظوں میں اسے ”بقائے اسلام اور تحفظ دین کا ذریعہ“ سمجھتا ہوں۔

دوسرے لفظوں میں آپ چاہیں تو کہہ سکتے ہیں‘ مجددین امت کا جو سلسلہ چلا آ رہا تھا دارالعلوم دیوبند ----- اپنے دور کے لئے ----- مجددین امت کی تربیت گاہ تھی‘ یہیں سے مجدد اسلام حکیم الامت تھانویؒ نکلے‘ اسی سے دعوت و تبلیغ کی تجدیدی تحریک ابھری‘ جس کی شاخیں چار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی ہیں‘ یہیں سے تحریک حریت کے داعی تیار ہوئے‘ یہیں سے فرق باطلہ کا توڑ کیا گیا‘ یہیں سے محدثین‘ مفسرین‘ فقہاء اور متکلمین کی کھیپ تیار ہوئی۔ مختصر یہ کہ دارالعلوم دیوبند نے نہ صرف یہ کہ نابغہ شخصیتیں تیار کیں‘ بلکہ اسلام کی ہمہ پہلو تجدید و احیاء کے لئے عظیم الشان اداروں کو جنم دیا ----- اس لئے دارالعلوم کو اگر تجدید و احیاء دین کی یونیورسٹی کا نام دیا جائے تو شاید یہ اس کی خدمات کا صحیح عنوان ہو گا۔ ان صفحات میں صرف ایک پہلو یعنی عقیدہ ختم نبوت کے متعلق دارالعلوم کی خدمات کا تذکرہ ہو گا۔ آنے والے نے دعویٰ نبوت کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتوں کا نظریہ ایجاد کیا‘ جس کا خلاصہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار تو چھٹی صدی عیسوی میں مکہ میں مبعوث ہوئے تھے اور دوسری مرتبہ (نعوذ باللہ) مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں قادیاں کی ملعون بستی میں۔ مکی بعثت کا دور تیرہویں صدی ہجری پر ختم ہو گیا اور اب چودھویں صدی سے قیامت تک قادیانی بعثت و نبوت کا دور ہو گا۔ اس طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو تیرہویں صدی کے بعد کالعدم قرار دے کر خاتم النبیین کا منصب خود سنبھال لیا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات مخصوصہ کو

صفحہ 11

اپنی جانب منسوب کرنے کے لئے قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں بے دریغ تحریف کر ڈالی۔ اسلامی عقائد کا مذاق اڑایا، انبیاء علیہم السلام کو فحش گالیاں دیں، تمام امت مسلمہ کو گمراہ اور کافر و مشرک قرار دیا۔ قصر اسلام کو منہدم کر کے "جدید عیسائیت" کی بنیاد رکھی۔ انگریز کی ابدی غلامی کو مسلمانوں کے لئے فرض و واجب قرار دیا، مسئلہ جہاد کو حرام اور منسوخ ٹھہرایا اور مجاہدین اسلام کو منکر خدا قرار دیا۔ جن لوگوں کو قادیانیت کی گہرائی کا علم نہیں، اور وہ اس کی حقیقت سے ناواقف ہیں، انہیں اس فتنہ کی شدت کا احساس نہیں ہو سکتا، واقعہ یہ ہے کہ صدر اول سے لے کر آج تک جتنے فتنے پیدا ہوئے ان سب کی مجموعی فتنہ پردازی بھی فتنہ قادیانیت کے سامنے شرمندہ ہے۔ اگر ملاحدہ و زنادقہ اور مدعیان نبوت و مہدویت کی تحریفات کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسرے پلڑے میں قادیانی تحریفات کو جگہ دی جائے تو یقین ہے کہ قادیانی کی تحریفات کا پلڑہ بھاری رہے گا۔

طاغوت برطانیہ نے اپنے خود کاشتہ پودے مرزا غلام احمد قادیانی سے نبوت کا دعویٰ ایسے دور میں کرایا جب کہ مسلمانوں کی تلوار ٹوٹ چکی تھی، جب ان کا تاج لٹ چکا تھا، جب ان کے لئے آزادی کا نام جرم تھا۔ جب جہاد اور وہابیت ہم معنی ہو گئے تھے، جب غلامان ہند بلکہ اسلامیان عالم کا فیصلہ سفید آقاؤں کے رحم و کرم پر تھا، اگر مرزا صاحب نے حریم نبوت میں قدم رکھنے کی جرات دور صدیقی نہیں بلکہ عثمانی دور خلافت ترکیہ میں بھی کی ہوتی تو ان کا انجام اسود کذاب اور مسیلمہ کذاب سے مختلف نہ ہوتا، خود مرزا صاحب کو بھی اس اسلامی غیرت کا جو مدعیان کذاب کے معاملہ میں مسلمانوں میں یکایک ابھر آتی ہے، پورا پورا احساس تھا، چنانچہ اپنی جماعت کو گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت کرنے کا (جو ان کی زندگی کا مشن اور ان کے دعویٰ نبوت کی اصل غرض تھی، اور جس کے لئے انہیں بطور خاص مامور کیا گیا تھا) حکم دیتے ہوئے انہیں گورنمنٹ برطانیہ کی اصل قدر و قیمت کا احساس دلاتے ہیں:

"خدا تعالیٰ کی حکمت و مصلحت ہے کہ اس نے اس گورنمنٹ کو

صفحہ 12

اس بات کے لئے چن لیا کہ یہ فرقہ احمدیہ اس کے زیر سایہ ظالموں کے خونخوار حملوں سے اپنے تئیں بچا دے، اور ترقی کرے، کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ تم سلطان روم (خلافت ترکیہ) کی عمل داری میں رہ کر یا مکہ مدینہ ہی میں اپنا گھر بنا کر شریر لوگوں (مسلمانوں) کے حملوں سے بچ سکتے ہو؟ نہیں! ہرگز نہیں؟ بلکہ ایک ہفتہ ہی میں تم تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ گے۔ تم سن چکے ہو کہ کس طرح صاحبزادہ عبداللطیف ۔۔۔۔۔ جب میری جماعت میں داخل ہوئے تو محض اس قصور سے کہ میری تعلیم کے موافق جہاد کے مخالف ہو گئے تھے، امیر حبیب اللہ خان نے نہایت بے رحمی سے ان کو سنگسار کروایا، پس کیا تمہیں توقع ہے کہ تمہیں اسلامی سلطنتوں کے ماتحت کوئی خوشی میسر آئے گی؟ بلکہ تم تمام اسلامی مخالف علماء کے فتوؤں کی رو سے واجب القتل ٹھہر چکے ہو۔“ (تبلیغ

رسالت ص ۱۲۳ جلد ۱۰)

سیاسی نبوت

ختم نبوت کے صریح اعلان اور امت اسلامیہ کے متواتر اقدامات کے بعد یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص (جو دماغی طور پر معذور نہ ہو) سنجیدگی کے ساتھ دعوٰی نبوت بھی کر سکتا ہے، اس لئے اسود کذاب سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی تک مدعیان نبوت کی تاریخ کا بغور مطالعہ کرو تو ہر مدعی نبوت کے دعوٰی کا کوئی نہ کوئی سیاسی یا معاشی سراغ ضرور ملے گا۔ (الا یہ کہ کوئی شخص مراقی بخارات اور خشکی دماغ سے مجبور ہو کر یہ دعوٰی کرے تو بے چارہ معذور ہے) مرزا صاحب کی نبوت کے محرکات شاید پس منظر میں رہ جاتے لیکن بعض وجوہ و اسباب ایسے پیش آئے کہ مرزا صاحب کو (اشاروں کنایوں میں) ان محرکات کی نشاندہی کرنا پڑی، ان محرکات میں سب سے قوی محرک آسمان مغرب کی وحی تھی جس نے مرزا صاحب کو دعوٰی

صفحہ 13

نبوت کے لئے آمادہ کیا تھا، اور یہی وحی ”خفی“ ان کے بہت سے ابتدائی معجزات کی تکمیل کرتی تھی۔ عیار انگریز نے قادیانی نبوت کا تخم سرزمین ہند (پنجاب) میں کیوں کاشت کیا؟ یہ سوال بڑی اہمیت رکھتا ہے، مختصراً اس کے مقاصد حسب ذیل تھے:

طرح گڑ چکا تھا، اور پنجران ہند کے لئے پھڑ پھڑانے کی گنجائش بھی باقی نہیں رہنے دی گئی تھی، لیکن انگریز اس خطرے سے بے نیاز نہیں تھا کہ یہ بے بال و پر اسیران قفس کسی موقعہ پر اپنی اسیری کے خلاف پھر بغاوت کر ڈالیں۔ ان کے ”ذہنی مشغلہ“ اور ”روحانی توجہ“ کے لئے ضروری تھا کہ نہ صرف مذاہب عالم کو (جن کا مرکز بدقسمتی سے اس وقت ہندوستان تھا) آپس میں ٹکرا دیا جائے بلکہ یہ بھی قرین آئین جہانداری تھا کہ ہر مذہب میں نئے نئے فرقے پیدا کئے جائیں اور پھر ہر فرقے میں نئی نئی قلمیں لگا لگا کر ہندوستان کو مذاہب و افکار کا نگار خانہ بنا دیا جائے۔ تاکہ آوازہ حریت بلند کرنے کی اول تو کسی کو فرصت ہی نہ ملے، اور اگر کسی گوشے سے ایسی آواز اٹھے بھی تو اس افتراقی غلغلہ کے شور میں دب کر رہ جائے، اور پرستاران مذاہب کی نظر میں وہ آواز صدائے بے ہنگام قرار دی جائے۔ ”سفید آقا“ کے عیارانہ فلسفہ نے اسے ”آزادی مذاہب“ کا تمغہ کہہ کر غلامان ہند کو عطا کیا تھا ۔۔۔۔۔ اس دور میں جو مذہبی کشتیاں لڑی گئیں ۔۔۔۔۔ یا صحیح لفظوں میں یوں کہئے کہ غلامان ہند کو اس پر مجبور کیا گیا ۔۔۔۔۔ اس کی مثال کسی قوم کے دور زوال میں ہی مل سکتی ہے، عروج اقبال کا دور ان سے مبرا ہوتا ہے۔ اس دور میں کون کون سے فرقے وجود میں آئے؟ اور انہوں نے کیا کردار ادا کیا؟ اور ان سے اسلام اور ملت اسلامیہ کو کیا کیا نقصان پہنچا؟ ان سوالات سے پردہ اٹھانا اگرچہ ایک تلخ فریضہ ہے لیکن ہم آنے والے مورخ کے قلم کو اس سے نہیں روک سکتے۔ یہاں صرف قادیانی نبوت کو لیجئے جو

صفحہ 14

انگریز کے سایہ عاطفت میں پھل پھول رہی تھی، علمائے حق کی جتنی قوت اس ایک فتنہ کے استیصال میں خرچ ہوئی، اگر یہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہندوستان میں نہ ہوتا، غور کیجئے کہ ہندوستان کی تاریخ کا رخ کیا ہوتا اور ۱۸۵۷ء میں جو کچھ ہم سے مکمل غصب کر لیا گیا تھا اس کی بازیابی میں کتنی آسانی ہو جاتی؟

جسموں پر حکمرانی اور یہاں کے مادی و اقتصادی فوائد کا استحصال نہیں تھا، بلکہ وہ اس سے بڑھ کر عالم اسلام کو ذہنی ارتداد کے عمیق گڑھے میں دھکیلنا چاہتا تھا، اگرچہ لارڈ میکالے کی تعلیمی اسکیم (کہ ہندوستانیوں کو اس نہج پر تعلیم دی جائے کہ اگر وہ عیسائی نہ بنیں تو کم از کم مسلمان بھی نہ رہیں۔) اپنی جگہ کافی کامیاب تھی، بہت سے مسلم مفکرین اسلامی عقائد و اعمال میں تشکیک پیدا کرنے کے لئے نئے نئے فلسفے اور نظریئے پیش کر رہے تھے۔ اور ان کو غذا مہیا کرنے کے لئے مستشرقین مغرب کی ایک پوری فوج شب و روز محنت کر رہی تھی، لیکن یہ تمام تر کوششیں ایک محدود حلقے پر اثر انداز تھیں، عوام پر ان کا اثر واسطہ در واسطہ تھا، اور پھر جو لوگ ان نظریات کو پیش کر رہے تھے وہ کوئی زیادہ موثر نہ تھے۔

اسلام کی بنیاد کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے دو حرفی عہد پر رکھی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی مدعی الوہیت کا وجود ناقابل برداشت ہے۔ اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مدعی نبوت کے بساط نبوت پر قدم رکھنے کی گستاخی بھی لائق تحمل نہیں۔ یہی عقیدہ ختم نبوت کا عقیدہ کہلاتا ہے جس پر صدر اول سے آج تک امت مسلمہ قائم رہی ہے۔

جو لوگ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے ایمان و اقرار سے سرشار ہو کر اسلامی برادری میں شامل ہوں، ان پر یہ فریضہ عائد کیا گیا کہ

صفحہ 15

وہ باغیان رسول اللہ کے خلاف بھی سینہ سپر ہو جائیں اور جھوٹے مدعیان نبوت کے طلسم سامری کو بھی پاش پاش کر ڈالیں‘ اسی فریضہ کا نام ”تحفظ ختم نبوت“ ہے اور تاریخ شہادت دے گی کہ امت مسلمہ نے کسی دور میں بھی اس فریضہ سے تغافل نہیں کیا۔

ختم نبوت کا سب سے پہلا باغی یمن میں عبہلہ نامی ایک شخص ہوا۔ جس کے سر میں دعوائے نبوت کا سودا سمایا اور اس نے چند دنوں میں یمن کے بیشتر علاقہ پر حکومت قائم کر لی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو اس سے قتال و جہاد کا تحریر حکم صادر فرمایا۔ بالآخر حضرت فیروزؓ کے خنجر نے اس کی جھوٹی نبوت کا آخری فیصلہ سنا دیا‘ تاریخ کے ریکارڈ میں اس کا افسانہ ”اسود کذاب“ کے نام سے محفوظ ہے۔

ختم نبوت کا دوسرا غدار مسیلمہ کذاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے‘ جس نے نبوت محمدیہؐ میں شرکت کا دعویٰ کیا تھا‘ حضرت صدیق اکبرؓ نے ”اللہ کی تلوار“ (خالد بن ولیدؓ) کو اس کی سرزنش کے لئے روانہ فرمایا‘ یہ کذاب اپنے بیس ہزار امتیوں کو لے کر حدیقۃ الموت کے راستے سفر جہنم پر روانہ ہوا۔ (حدیقۃ الموت اس باغ کا نام ہے جہاں مسیلمہ کذاب قتل ہوا) صرف اس ایک معرکے میں مسلمانوں کو ”تحفظ ختم نبوت“ کے لئے اتنی بڑی قربانی دینا پڑی کہ گیارہ سو سے چودہ سو تک اشراف صحابہ شہید ہوئے۔ (عمدۃ القاری جلد ۱۸ ص ۲۸۱) ان میں سات سو سے زیادہ وہ اصحاب تھے جو قراء کہلاتے تھے‘ یعنی قرآن کریم کے حافظ قاری اور متخصص عالم ۔۔۔۔۔ حضرت ابوبکرؓ کے صاحبزادے عبداللہ‘ حضرت عمر کے برادر اکبر زید بن خطاب‘ خطیب الانصار ثابت بن قیس شماس مدرسہ نبوت کے سب سے بڑے قاری سالم مولیٰ ابی حذیفہ‘ ان کے مولیٰ و مربی حضرت ابو حذیفہ وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ آفتاب نبوت کے ان درخشندہ ستاروں کے نام سے حدیث و تاریخ کا کون

صفحہ 16

سا طالب علم ناواقف ہے؟ ان میں سے ایک ایک کا وجود پوری امت پر بھاری تھا، یا صحیح لفظوں میں بجائے خود امت تھا، لیکن دیکھنے والوں نے دیکھا کہ مقتل یمامہ میں شمع نبوت کے ان پروانوں نے ختم نبوت پر کٹ مرنے کا کیا حسین مگر دلگداز منظر پیش کیا؟ گویا حافظ شیراز نے انہی کی زبان سے کہا تھا۔

ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما

ختم نبوت کا تیسرا باغی طلیحہ اسدی تھا جس کے مقابلہ کے لئے وہی اللہ کی تلوار چمکی، لیکن بہت سے حامیوں کو مروا کے اسے جلد ہی راہ فرار اختیار کرنے میں عافیت محسوس ہوئی، ملک شام پہنچ کر سانس لی اور ہمیشہ کے لئے دعویٰ نبوت سے توبہ کی۔ کم از کم ان تین مدعیان نبوت کا انجام ہمارے سامنے ہے جنہوں نے دور نبوی میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ اور صحابہ کرامؓ نے سیف و سنان سے ان کی تواضع کی۔ گویا صدر اول ہی سے امت مسلمہ نے یہ اصول طے کر دیا کہ مدعیان نبوت کا فیصلہ مباحثہ و مناظرہ کی بزم آرائیوں سے نہیں ہوتا بلکہ تلوار کی نوک اور نیزے کی انی اس کا فیصلہ چکاتی ہے۔

چودھویں صدی ہجری میں اسلام کو جن فتنوں کا سامنا کرنا پڑا ان میں سب سے بدتر اور منحوس فتنہ وہ تھا جسے دنیا ” فتنہ قادیانیت“ کے نام سے جانتی ہے۔ اس فتنہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی (المتوفی ۱۳۲۶ھ) اور ان کے متبعین میں کسی پر نیچریت کی اور کسی پر دہریت کی چھاپ تھی، مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت سے انگریز کو اس ذہنی ارتداد کے لئے دو اہم ترین فائدے نظر آئے، اول یہ کہ یہ تحریک صرف خواص اور

صفحہ 17

پڑھے لکھے روشن خیال افراد تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اس کا دائرہ کار عوام کی سطح تک پھیل جائے گا، دوم یہ کہ جو نظریات ملحدان یورپ اور ان کے شاگردان عزیز نیچریت یا دہریت کی تہمت کی بنا پر مسلمانوں سے قبول کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے وہی نظریات ”وحی و الہام“ کی سند سے قادیانی نبوت پیش کرے گی، اور مسلمان اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیں گے۔

مشرق و مغرب کے تمام ملاحدہ کے سارے افکار اور ان کی تمام جدوجہد کا خلاصہ اگر نکالا جائے تو یہ ہے کہ اسلام اپنی موجودہ شکل میں ۔۔۔۔۔ جو اس وقت مسلمانوں کے سامنے ہے (نعوذ باللہ) لائق اعتبار اور قابل اعتماد نہیں ۔۔۔۔۔ اور جن لوگوں نے قادیانی اور اس کے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ ٹھیک یہی خلاصہ قادیانی تحریک کے عقائد و افکار کا ہے، کسی قادیانی کے سامنے مرزا صاحب کے الہام کے خلاف کوئی آیت پڑھیے، کوئی حدیث پیش کیجئے، کسی صحابی کی سند لائیے، کسی امام و مجدد، کسی ولی و قطب کی تحریر پیش کیجئے، آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس کا ذہن ان میں سے کسی چیز پر بھی ایمان لانے یا اعتماد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔۔۔۔۔ ظاہر ہے کہ ذہنی ارتداد اور مزاجی تشکیک کی یہ کیفیت انگریز اگر صرف مستشرقین کے حملوں اور لارڈ میکالے کے نظریہ تعلیم کی یورش کے ذریعہ پیدا کرنا چاہتا تو اسے کامیابی نہ ہوتی ۔۔۔۔۔ یہی فلسفہ ہے کہ بہت سے تعلیم یافتہ افراد جو دہریت اور نیچریت کا شکار تھے، انہیں اپنے افکار و نظریات کے لئے جب الہامی سند مہیا ہوئی تو فوراً اس کی پناہ

صفحہ 18

میں آگئے، حکیم نور دین، مولوی عبد الکریم سیالکوٹی، محمد احسن امروہوی اور مسٹر محمد علی لاہوری، یہ قادیانیت کا ہراول دستہ ہے، جو پہلے نیچری تھا پھر مرزائی ہوا۔

چیز نے سب سے زیادہ بے چین کر رکھا تھا وہ اسلام کا مسئلہ جہاد تھا، جہاد کی تلوار انگریزی جارحیت کے سر پر ہر وقت لٹک رہی تھی، اور انگریز اس تلوار کو ہمیشہ کے لئے توڑ دینا چاہتا تھا، یورپ کے مستشرقین نے اسلامی جہاد کے مسئلہ کو نہایت گھناؤنی شکل میں پیش کرنے کے لئے اگرچہ بہت سے صفحات سیاہ کئے، جناب سرسید صاحب اور مولوی چراغ علی وغیرہ نے بھی اس کی تعبیرات اس انداز سے کیں کہ جہاد کا دبدبہ اور اس کی سنگینی انگریز کے ذہن سے ختم ہو جائے۔ لیکن انگریز بدستور خائف رہا، اور جہاد کے عملی تجربوں نے جو وقتاً فوقتاً مسلمانوں کی طرف سے دہرائے جاتے تھے، اسے بے چین کئے رکھا تا آنکہ مرزا غلام احمد صاحب نے وحی آسمانی کے ذریعہ اس کے آئندہ منسوخ ہونے کا اعلان کر دیا، ظاہر ہے مستشرقین کے طومار اور سرسید کے افکار کا وہ وزن نہیں تھا جو مرزا صاحب کے "الہام" کا ہو سکتا تھا۔ مرزا صاحب کی کتابوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا مشن، ان کے وجود کا سب سے بڑا مقصد، ان کی نبوت و مسیحیت کا سب سے بڑا کارنامہ اور ان کے الہامی تیر کا سب سے اہم نشانہ یہی مسئلہ جہاد ہے۔ باقی سب تمہید ہے ----- اور یہی انگریز کی اس دور میں سب سے بڑی ضرورت تھی۔

صفحہ 19

ڈی کا بہت مضبوط جال موجود تھا، اور پھر مخبری کے لئے "کالے قوانین" کی ایک فوج کی فوج بھی خفیہ خدمات پر مامور تھی۔ جن میں ہر طبقہ اور ہر سطح کے لوگ تھے، ان میں "امیر" بھی اور "میر" بھی، "شریف" بھی اور "شاہ" بھی، نواب بھی تھے اور خان بہادر بھی۔ مے نوش بھی تھے اور زاہد دیں فروش بھی، علماء بھی تھے اور مشائخ بھی، طالب علم بھی تھے اور مریدان صفا کیش بھی۔ الغرض غلامان ہند میں ہر سطح کے لوگ موجود تھے، جو "خدمات خاص" بجا لاتے اور سفید آقا کے دربار میں خلعت و خطابات سے نوازے جاتے۔

اس نازک دور میں سرکار کو بروقت اطلاع دے دینا کہ فلاں فرد یا فلاں جماعت حضور گورنمنٹ کے خلاف باغیانہ "خیالات" رکھتا ہے، معمولی خدمت نہ تھی، داد و دہش کے دہانے کھل جاتے، انعام و کرام کی بارش ہوتی، عزت و وجاہت کو چار چاند لگ جاتے، جائدادیں تقسیم کی جاتیں، ریشمی رومال پکڑ کر انگریز افسر کے حوالے کر دینے پر "خان بہادر" کا لقب اور کئی مربعے جائداد مل جاتی ۔۔۔۔۔ تاہم اب تک ایک " نبی" کی نشست خالی تھی، اس کے لئے جناب مرزا غلام احمد قادیانی (جو آقایان فرنگ کے پشتنی وفادار اور یار غار تھے) سے بہتر اور کس شخصیت کا انتخاب موزوں ہو سکتا تھا؟ مرزا صاحب ایک نبی کی حیثیت سے اپنی امت سمیت "مردان احرار" کی خفیہ رپورٹ کی خدمات انجام دینے کے لئے مامور ہوئے یا مرزا صاحب کی اصطلاح میں یوں کہئے کہ انہیں اس کار خیر کی "وحی" و الہام ہوا۔ یہ کہانی خود مرزا صاحب کی زبان سے بھی معلوم ہو گی۔ وہ لکھتے ہیں:

صفحہ 20

”چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں (ظاہر ہے کہ دلوں کی بات تو مرزا صاحب کو وحی کے ذریعہ ہی معلوم ہو سکتی تھی) میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض کے لئے تجویز کیا گیا ہے، تاکہ اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں، جو ایسی باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں، اگرچہ گورنمنٹ کی خوش قسمتی سے برٹش انڈیا میں مسلمانوں میں ایسے لوگ معلوم ہو سکتے ہیں جن کے نہایت مخفی ارادے گورنمنٹ (گورنمنٹ کی اس سے زیادہ خوش قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک نبی جو جبرائیل سے پوچھ پوچھ کر لوگوں کے نہایت مخفی ارادوں کی گورنمنٹ کو اطلاع دینے کے لئے میسر ہو) کے خلاف ہیں، اس لئے ہم نے اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹکل خیر خواہی کی نیت سے اس مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو ان شریر لوگوں کے نام ضبط کئے جائیں جو اپنے عقیدے سے اپنی مفسدانہ حالتیں ثابت کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ لیکن ہم گورنمنٹ میں بادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے ایک پولیٹکل راز کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح (کیوں نہیں ایک نبی کی اطلاع اور وہ بھی لوگوں کے عقیدوں کے بارے میں گورنمنٹ کو اس سے بہتر خفیہ مواد اور کہاں سے مل سکتا تھا) اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی ۔۔۔۔۔ ایسے لوگوں کے نام مع پتہ نشان کے

صفحہ 21

یہ ہیں۔“ (تبلیغ رسالت ۵/ص۱۱)

چونکہ مرزا صاحب یہ کار خیر بقول ان کے نافہم، ناحق شناس، شریر اور منکر مسلمانوں کے خلاف، اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹکل خیر خواہی کی نیت سے انجام دیتے تھے، اس لئے یہ ان کی ”سیاسی نبوت“ کا سب سے اونچا فریضہ سمجھنا چاہئے۔ اور یہ مسلمان، جن کو مرزا صاحب نافہم وغیرہ خطابات سے نواز رہے ہیں، اور جن کی مخبری کو قرین مصلحت کہہ کر آقایان نعمت کا حق ادا کر رہے ہیں، یہ چور اور ڈاکو نہیں ہیں۔ ان کا بس ایک جرم ہے کہ ان کا دماغ فرنگی کافروں سے گلو خلاصی کی تدبیر کیوں سوچنے لگتا ہے، اور ان کے دل آزادی وطن کے لئے کیوں بے تاب ہیں۔ اور مسلمانوں کی مخبری صرف برٹش انڈیا ہی میں انجام نہیں دی جاتی تھی، بلکہ ”ملاء اعلیٰ“ کا حکم تھا کہ قادیانی، تبلیغ اسلامی کا لبادہ اوڑھ کر تمام بلاد اسلامیہ میں پھیل جائیں، اور انگریزوں کی خدمات بجا لائیں، مرزا صاحب لکھتے ہیں:

”میں نے عربی اور فارسی میں بعض رسائل تصنیف کر کے بلاد شام و روم اور مصر اور بخارا وغیرہ کی طرف روانہ کئے، اور ان میں اس گورنمنٹ کے تمام اوصاف حمیدہ درج کئے، اور بخوبی ظاہر کر دیا کہ اس محسن گورنمنٹ کے ساتھ جہاد قطعاً حرام ہے۔ اور ہزار ہا روپیہ خرچ کر کے وہ کتابیں مفت تقسیم کیں، اور بعض شریف عربوں کو وہ کتابیں دے کر بلاد شام و روم کی طرف روانہ کیا، اور بعض کو مکہ اور مدینہ کی طرف بھیجا اور بعض بلاد فارس کی طرف بھیجے گئے، اور اس طرح مصر میں بھی کتابیں بھیجیں اور یہ ہزار ہا روپیہ کا خرچ تھا جو محض نیک نیتی سے کیا گیا۔ (اس سے بڑھ کر نیک نیتی کا ثبوت کیا ہو گا کہ جس کار خیر پر آدمی مامور ہو اسے بصد شوق و رغبت بجا

صفحہ 22

لائے۔" (ناقل) (تبلیغ رسالت ۳/ ص ۱۹۶)

قادیان کی سیاسی نبوت نے ”تبلیغ اسلام“ کے پردے میں عالم اسلام میں سازشوں کے کیا کیا جال پھیلائے؟ مسلمانوں میں منافرت پھیلانے کے لئے کیا کچھ کیا؟ اور کیا کیا خفی و جلی خدمات انجام دی گئیں؟ یہ تفصیل اس مقالہ کے احاطہ سے باہر ہے۔

(1) سب سے پہلا انکشاف

یوں تو رد قادیانیت اور تحفظ ناموس رسالت کا کام کم و بیش قریباً تمام اسلامی فرقوں نے کیا‘ اور سبھی کو کرنا بھی چاہئے تھا۔ مگر دارالعلوم دیوبند جو حضرت حاجی صاحبؒ کے بقول ہندوستان میں بقائے اسلام اور تحفظ دین کی خاطر وجود میں لایا گیا تھا‘ اسے اس سلسلہ میں چند ایسے امتیازات کا شرف حق تعالیٰ نے عطا فرمایا جو کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہو سکا۔ سب سے پہلی بات تو یہی کہ قادیانی فتنہ کا جرثومہ ابھی رونما نہیں ہوا تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے مرشد و مربی حضرت قطب العالم حاجی امداد اللہ مہاجر مکی قدس سرہ نے بطور کشف اس کے ظہور کی پیش گوئی فرمائی اور علمائے امت کو اس کی جانب متوجہ فرمایا۔ ”تاریخ مشائخ چشت“ میں حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی قدس سرہ کے ”ملفوظات طیبہ“ سے نقل کیا ہے کہ حضرت پیر صاحبؒ حج پر تشریف لے گئے اور حجاز میں قیام کا ارادہ فرمایا‘ مگر حضرت قطب عالم حاجی صاحبؒ نے انہیں باصرار و تاکید ہندوستان کی واپسی کا مشورہ دیتے ہوئے فرمایا :

در ہندوستان عنقریب یک فتنہ ظہور کند‘ شما ضرور در ملک خود واپس بروید‘ و اگر بالفرض شما در ہند خاموش نشستہ باشید تاہم آن فتنہ ترقی نہ کند در ملک آرام ظاہر شود۔

ہندوستان میں عنقریب ایک فتنہ رونما ہو گا‘ آپ وطن واپس جائیے‘ بالفرض آپ وہاں خاموش بھی بیٹھے رہیں تب بھی وہ فتنہ ترقی نہیں کر سکے گا‘ اور ملک میں سکون ہو جائے گا۔

صفحہ 23

(بحوالہ ”میں بڑے مسلمان“ صفحہ ۹۸ طبع سوم)

اسی نوعیت کا واقعہ اس ناکارہ نے اپنے اکابر اساتذہ سے حضرت اقدس مولانا عبدالرحیم سہارنپوریؒ کے بارے میں بھی سنا تھا کہ قادیانیت کے نفس ناطقہ حکیم نور الدین صاحب (قادیانی دام میں پھنسنے سے پہلے) کسی ضرورت کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حکیم جی کو بطور نصیحت فرمایا کہ قادیاں سے ایک مدعی نبوت اٹھے گا، اس سے بحث و مناظرہ کی غرض سے بھی اس کے پاس نہ جائیو۔ (الخ)

(۲) حضرت نانوتویؒ کا فتویٰ

حضرت امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ قدس سرہ نے کسی جگہ ایک عجیب مضمون تحریر فرمایا ہے۔ جس کا خلاصہ ذہن میں اس قدر محفوظ ہے کہ زمانہ نبوت میں تو حق تعالیٰ شانہ، اپنی منشا کا اظہار بذریعہ وحی فرماتے تھے مگر وحی کا سلسلہ آنحضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چونکہ بند ہو چکا ہے، اس لئے زمانہ وحی کے بعد اگر کوئی معاملہ کسی پر مشتبہ ہو جائے اور اسے یہ معلوم کرنا ہو کہ اس معاملہ میں منشا خداوندی کیا ہے تو اسے یہ دیکھنا چاہئے کہ اولیاء اللہ اور عارفین کے قلوب کس جانب مائل ہیں؟ جس جانب ان اکابر کا رجحان ہو اسی کو منشائے الٰہی کے مطابق سمجھنا چاہئے۔

یہ حق تعالیٰ شانہ کی حکمت بالغہ تھی کہ قادیانی فتنہ کے ظہور سے قبل ہی اکابر اولیاء اللہ کے قلوب کو اس کے رد و تعاقب کی طرف متوجہ فرمایا۔ قادیانی نبوت کا فتنہ، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ (۱۲۹۷ھ) بانی دارالعلوم دیوبند کے وصال کے بعد رونما ہوا، مگر حق تعالیٰ نے ایک تقریب ایسی پیدا کر دی کہ حضرت نانوتویؒ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت کبریٰ پر ایک رسالہ ”تحذیر الناس“ تحریر فرمایا جس میں مسئلہ ختم نبوت کو اس قدر مدلل فرمایا کہ قادیانی تاویلات کے تمام راستے مسدود ہو گئے۔ ختم نبوت پر اچھوتا استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

صفحہ 24

"بالجملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وصف نبوت میں موصوف بالذات ہیں اور سوا آپ کے انبیاء موصوف بالعرض ۔۔۔۔۔ اس صورت میں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (تمام انبیائے کرام کے آخر میں نہیں بلکہ ان کے) اول یا اوسط میں رکھتے تو انبیاء متاخرین کا دین اگر مخالف دین محمدی ہوتا تو اعلیٰ کا ادنیٰ سے منسوخ ہونا لازم آتا، حالانکہ خود فرماتے ہیں ما ننسخ من ایہ او ننسہا نات بخیر منہا او مثلہا ۔۔۔۔۔ اور انبیاء متاخرین کا دین اگر مخالف نہ ہوتا تو یہ بات ضرور ہے کہ انبیاء متاخرین پر وحی آتی اور افاضہ علوم کیا جاتا، ورنہ نبوت کے پھر کیا معنی؟ سو اس صورت میں اگر وہی علوم محمدی ہوتے تو بعد وعدہ محکم انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون کی کیا ضرورت تھی، اور اگر علوم انبیاء متاخرین علوم محمدی کے علاوہ ہوتے تو اس کتاب کا تبیاناً لکل شئی ہونا غلط ہو جاتا۔" (تحذیر الناس ص ۸)

حضرت نانوتویؒ قدس سرہ آنحضرتؐ کی خاتمیت کبریٰ کی تین قسمیں قرار دیتے ہیں۔ زمانی، مکانی، مرتبی۔ ان کے نزدیک آیت کریمہ "خاتم النبیین" خاتمیت کی تینوں اقسام پر حاوی ہے، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باعتبار شرف و منزلت کے بھی خاتم النبیین ہیں، باعتبار زمانہ کے بھی باعتبار مکان کے بھی۔

"سو اگر (آیت میں خاتمیت کے تینوں اقسام کا) اطلاق اور عموم (مراد) ہے تب تو ثبوت خاتمیت زمانی ظاہر ہے ورنہ (اگر ان تینوں اقسام میں سے صرف ایک قسم مراد ہے تو وہ خاتمیت مرتبی ہو سکتی ہے، اندریں صورت) تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔ ادھر تصریحات نبوی مثل انت منی بمنزلة ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی۔ لو

صفحہ 25

کمال قال جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ خاتم النبین سے ماخوذ ہے، اس باب میں کافی ۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے، پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہو گیا، گو الفاظ مذکور بسند متواتر منقول نہ ہوں، سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہو گا جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض و وتر وغیرہ، باوجودیکہ الفاظ حدیث مشعر تعداد رکعات، متواتر نہیں ۔ جیسا اس کا منکر کافر ہے ۔ ایسا ہی اس کا (یعنی ختم نبوت زمانی کا) منکر بھی کافر ہو گا۔” (تحذیر الناس ص ۱۰) اور ”جوابات محذورات عشرہ“ میں فرماتے ہیں کہ تحذیر الناس کے ”صفحہ نہم کی سطر دہم سے لے کر صفحہ یازدہم کی سطر ہفتم تک (آیت خاتم النبین) کی وہ تقریر لکھی ہے جس سے خاتمیت زمانی اور خاتمیت مکانی اور خاتمیت مرتبی تینوں بدلالت مطابقی ثابت ہو جائیں۔ اور اسی تقریر کو اپنا مختار قرار دیا ہے، چنانچہ شروع تقریر سے واضح ہے، سو پہلی صورت میں تو (جبکہ آیت کا مدلول مطابقی خاتمیت مرتبی کو قرار دیا جائے) تاخر زمانی بدلالت التزامی ثابت ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ اور دلالت التزامی اگر بوجہ توجہ الی المطلوب مطابقی سے کم ہو، مگر دلالت ثبوت اور دلنشینی میں مدلول التزامی، مدلول مطابقی سے زیادہ ہوتا ہے، اس لئے کہ کسی چیز کی خبر تحقیق اس کے برابر نہیں ہو سکتی، کہ اس کی وجہ اور علت بھی بیان کی جائے، اگر کسی شخص کو کسی عہدہ پر ممتاز فرمائیں، تو اور امیدوار قبل ظہور وجہ ترجیح بے شک غل مچائیں گے۔ اور بعد وضوح وجہ و علت پھر مجال دم زدن نہیں رہی۔” (ص ۵۰)

”الغرض معنی مختار احقر سے کوئی عقیدہ باطل نہ ہو گیا، بلکہ وہ

صفحہ 26

رخنہ جو در صورت اختیار تاخر زمانی و انکار و منع خاتمیت مرتبی پڑتا نظر آتا تھا، بند ہو گیا، پھر تو اس پر خاتمیت زمانی بھی مدلول "خاتم النبیین" رہی، البتہ دو شقوں میں سے ایک شق پر تو مدلول التزامی، اور دوسری شق پر ----- مدلول مطابقی۔"

(صفحہ ۵۱)

حضرت نانوتوی قدس سرہ کی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین بمعنی "آخری نبی" ہونا قرآن کریم، احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے اور اس کا منکر اسی طرح کافر ہے۔ جس طرح تعداد رکعات کا منکر کافر ہے۔ اور یہ کہ آپ کی خاتمیت مرتبی، خاتمیت زمانی کو مستلزم ہے، اگر آپ مراتب نبوت کے خاتم ہیں تو بلاشبہ زمانی نبوت کے بھی خاتم ہیں ----- اس تقریر سے قادیانی فتنہ پردازوں کی ساری منطق غلط ہو جاتی ہے اور " خاتم النبیین" میں ان کی ساری تحریفات پادر ہوا ثابت ہوتی ہیں۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ پہلے شخص تھے جنہوں نے قادیانی تحریفات کا رد کیا اور قادیانی ملاحدہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اجرائے نبوت کے قائل ہیں، ان کو متواترات دین کا منکر قرار دے کر ان پر کفر کا فتویٰ صادر فرمایا۔

(۳) فتویٰ تکفیر قادیانی

اکابر دیوبند کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کا تعاقب سب سے پہلے شروع کیا اور ۱۳۰۱ھ میں جب مرزا قادیانی نے مجددیت کے پردے میں اپنے الہامات کو "وحی الہی" کی حیثیت سے براہین احمدیہ میں شائع کیا تو لدھیانہ کے علماء (مولانا محمد، مولانا عبداللہ، مولانا اسمعیل رحمہم اللہ) نے جو حضرات دیوبند کے منتسبین میں سے تھے، فتویٰ صادر فرمایا کہ یہ شخص مسلمان نہیں بلکہ اپنے عقائد و نظریات کے اعتبار سے زندیق اور خارج از اسلام ہے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ، دجال قادیان کے حالات سے پوری طرح واقف نہ

صفحہ 27

تھے۔ اس لئے بعض لوگوں نے جو مرزا قادیانی سے حسن ظن رکھتے تھے علمائے لدھیانہ کی مخالفت میں حضرت گنگوہی سے فتویٰ منگوا لیا۔ ۱۲ جمادی الاول ۱۳۰۱ھ کو علمائے لدھیانہ دارالعلوم دیوبند کے جلسہ سالانہ پر تشریف لے گئے اور قادیانی مسئلہ میں حضرت گنگوہی اور دیگر اکابر سے بالمشافہ گفتگو فرمائی۔ رفع نزاع کے لئے دارالعلوم دیوبند کے پہلے صدر مدرس حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتوی کو جو صاحب کشف تھے، حکم تسلیم کیا گیا اور انہوں نے مندرجہ ذیل تحریری فیصلہ دیا: ”یہ شخص (مرزا غلام احمد قادیانی) لامذہب (دہریہ) معلوم ہوتا ہے۔ اس شخص نے اہل اللہ کی صحبت میں رہ کر فیض باطنی حاصل نہیں کیا۔ معلوم نہیں اس کو کس کی روح سے انسیت ہے۔ (عزازیل کی روح سے ہو سکتی ہے ناقل) مگر اس کے الہامات اولیاء اللہ کے الہامات سے کچھ مناسبت اور علاقہ نہیں رکھتے۔“

اس تنقیح و تشریح کے بعد حضرت گنگوہیؒ نے بھی مرزا قادیانی اور اس کے پیرووں کو زندیق اور خارج از اسلام قرار دیا۔ حضرت گنگوہیؒ تمام اکابر دیوبند کے مقتداء تھے۔ ان کا فتویٰ گویا پوری جماعت کا متفقہ فتویٰ تھا۔ یہی وجہ ہے مرزا غلام احمد قادیانی اس ضرب کی ٹیس کو آخر زندگی تک محسوس کرتا رہا۔

مکتوب عربی میں مرزا قادیانی نے ان اکابر امت کو مندرجہ ذیل الفاظ سے نوازا ہے۔ لآخر هم شيطان الاعمى والغول الغوى يقال له رشيد احمد الجنجوهى وهو شقى لامروهى ومن الملعونين (انجام آتھم ۲۵۲) ان میں سے آخری شخص وہ اندھا شیطان اور بہت گمراہ دیو ہے جس کو رشید احمد گنگوہی کہتے ہیں اور وہ (مولانا احمد حسن) امروہی کی طرح شقی اور ملعونوں میں سے ہے۔ (یہ تمام تفصیلات ”رئیس قادیان“ جلد دوم مؤلفہ مولانا ابو القاسم رفیق

صفحہ 28

(دلاوری میں ملاحظہ کی جائیں۔)

دوسرا فتویٰ

صفر ۱۳۳۱ھ میں دارالعلوم دیوبند سے قادیانی کے خلاف ایک اور فتویٰ جاری ہوا۔ جس پر حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ رئیس المدرسین دیوبند‘ مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ اور دیگر تمام اکابر دیوبند کے علاوہ دوسرے مشاہیر علمائے ہند کے دستخط ہیں۔ یہ فتویٰ مولانا محمد سہول صاحبؒ کے قلم سے ہے جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے افکار و نظریات اس کی کتابوں سے نقل کرنے کے بعد تحریر فرمایا :

”جس شخص کے ایسے عقائد و اقوال ہوں‘ اس کے خارج از احاطہ اہلسنّت و الجماعت اور احاطہ اسلام سے (خارج) ہونے میں کسی مسلمان کو خواہ جاہل ہو یا عالم‘ تردد نہیں ہو سکتا‘ لہٰذا مرزا غلام احمد اور اس کے جملہ متبعین درجہ درجہ مرتد‘ زندیق‘ ملحد‘ کافر اور فرق ضالہ میں یقیناً داخل ہیں ۔۔۔۔۔ الخ۔“

یہ طویل فتویٰ ”القول الصحیح فی مکائد المسیح“ کے نام سے شائع ہوا ۔

تیسرا فتویٰ

۱۲ رجب ۱۳۳۶ھ کو ایک اور مبسوط فتویٰ دارالعلوم دیوبند کے مفتی اعظم عارف باللہ حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰن کے قلم سے صادر ہوا ۔ اس پر بھی تمام مشاہیر علمائے ہند کے دستخط ہیں اور یہ ”فتویٰ تکفیر قادیاں“ کے نام سے طبع ہوا۔

علمائے حرمین کا فتویٰ

مکہ و مدینہ (زاد ہما اللہ شرفاً و عظمۃً) اسلام کا مرکز و منبع ہیں۔ اور وہاں کے علمائے کرام کے فتاویٰ کو ہر دور میں عزت و عظمت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ اکابر دیوبند میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی قدس سرہ نے قادیانی

صفحہ 29

کے خلاف کفر و ارتداد کا فتویٰ صادر فرمایا جس پر دیگر علمائے حرمین کے دستخط ہیں۔

(رئیس قادیان ۲/ ص ۱۱)

(۴) مسئلہ تکفیر اور علمائے دیوبند کا امتیاز

مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف جو فتوے صادر کئے گئے ان میں علمائے دیوبند کا ایک اور خصوصی امتیاز بھی نمایاں ہوا۔ اور وہ تھا ان کا مسلک اعتدال۔ مسئلہ تکفیر بہت ہی نازک مسئلہ تھا۔ ایک مسلمان کو کافر کہنا بہت ہی سنگین جرم ہے اور دوسری طرف کسی کھلے کافر کو مسلمان کہنے پر اصرار کرنا بھی معمولی بات نہیں۔ بدقسمتی سے جس دور میں مرزا غلام احمد قادیانی نے کافرانہ دعوے کئے۔ عام طور سے لوگ اس مسئلہ میں افراط و تفریط کا شکار تھے۔ ایک گروہ مرزا غلام احمد قادیانی کے صریح کفریات پر اسے کافر کہنے کو خلاف مصلحت سمجھتا تھا اور دوسرا گروہ وہ تھا جس نے گیہوں کے ساتھ گھن پیسنے کا مشغلہ شروع کر رکھا تھا۔

پہلے گروہ کی تفریط قادیانی تحریک کو انگیز کر رہی تھی۔ اور قادیانی ملاحدہ بڑے طمطراق سے ایسے لوگوں کو پیش کر دیتے تھے جو انہیں کافر نہیں سمجھتے اور دوسرے گروہ کے افراط نے خود مسئلہ تکفیر کی مٹی پلید کر دی تھی۔ اور قادیانی ملاحدہ ان کے تکفیری فتووں کے طومار کو لوگوں کے سامنے پیش کر کے یہ کہہ دیتے تھے کہ مولویوں کے پاس کفر بڑا سستا ہے۔ یہ ہر شخص کو جو ان کے خیالات کے خلاف کوئی بات کہہ دے فوراً کفر کا تحفہ پیش کر دیا کرتے ہیں۔

ان دونوں گروہوں کا طرز عمل نہ صرف افسوسناک تھا بلکہ اس سے خطرہ پیدا ہو چلا تھا کہ خدانخواستہ ان لوگوں کی بے احتیاطی اور افراط و تفریط سے کفر و اسلام کی حدود ہی مٹ کر نہ رہ جائیں۔ حق تعالیٰ شانہ علمائے دیوبند کو بہت ہی جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے آگے بڑھ کر اسلام اور کفر کے حدود کو ممیز کیا اور لوگوں کو بتایا کہ اسلام اور کفر کے درمیان خط فاصل کیا ہے اور وہ کون سی حد ہے جس کو عبور کر لینے کے بعد آدمی صریح اسلام سے خارج ہو کر کفر کے خارزار میں جا نکلتا ہے۔ اس موضوع پر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری نے ”اکفار

صفحہ 30

الملحدین فی شئی من ضروریات الدین" میں تحقیق و تفتیش کا حق ادا فرمایا۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے اردو میں ”وصول الافکار الی اصول الاکفار“ نامی رسالہ تحریر فرمایا اور دیگر اکابر دیوبند نے بھی اس موضوع پر رسائل تحریر فرمائے۔ اس مسئلہ کو خوب منقح کر دیا۔ اصول تکفیر پر مفصل لکھنے کی ان سطور میں گنجائش نہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ امور جن کا دین محمدی میں داخل ہونا تواتر یا شہرت سے ثابت ہے، وہ ” ضروریات دین“ کہلاتے ہیں۔ ان سب کو ایک ایک کر کے تسلیم کرنا اسلام ہے اور ان میں سے کسی ایک کا انکار کر دینا یا تاویل کے ذریعہ ان میں سے کسی ایک کے مفہوم کو بدل ڈالنے کا نام کفر ہے۔ علمائے دیوبند نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیرووں کی تحریفات پیش کر کے واضح کیا کہ یہ لوگ ”ضروریات دین“ کے منکر ہیں۔ اس لئے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

بعض لوگوں نے اسلام اور کفر کے فیصلہ کے لئے ایک آسان سا اصول تلاش کر لیا ہے۔ جو شخص کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو، بس وہ مسلمان ہے ورنہ کافر۔ ظاہر ہے کہ یہ اصول صریحاً غلط ہے۔ فرض کیجئے ایک شخص کلمہ پڑھتا ہے، نماز روزے کا قائل اور بہت سی عبادت و ریاضت بھی کرتا ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ نعوذ باللہ قرآن کی فلاں آیت ثابت نہیں؟ کیا ایسے شخص کو مسلمان تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اب ذرا غور کیجئے کہ قرآن کریم کا کلام الٰہی ہونا ہمیں کس ذریعہ سے معلوم ہوا؟ ہر شخص اس کا جواب یہی دے گا کہ قرآن کا قرآن ہونا امت کے تواتر سے ثابت ہے۔ چودہ سو سال سے یہی قرآن مسلمانوں کے پاس تواتر سے چلا آتا ہے۔ یہی قرآن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے نازل ہوا تھا۔ اس لئے اس کے کسی ایک حرف میں بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ پس جس طرح قرآن کریم کے ہمارے تک پہنچنے کا ذریعہ امت اسلامیہ کا تواتر ہے اور اس تواتر کا منکر کافر ہے۔ اسی طرح دین محمدی (علیٰ صاحبہ الصلوٰۃ والسلام) میں سے جو چیزیں ہمیشہ سے مسلم چلی آتی رہی ہیں، ان میں سے کسی ایک کا انکار بھی کفر ہے۔ اور پھر صرف الفاظ کے تواتر کو تسلیم کر لینا کافی نہیں

صفحہ 31

بلکہ قرآن کریم کی کسی آیت یا کسی متواتر عقیدہ کا جو مفہوم و معنی امت میں ہمیشہ سے مسلم رہا ہے، اس کا تسلیم کرنا بھی ضروری ہے۔ ورنہ اس کا انکار کر کے قرآن کریم یا احادیث متواترہ کو نئے معنی پہنانا کفر ہی کی ایک قسم ہے۔ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک تمام مسلمان یہ تسلیم کرتے آئے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم ----- جن کے آخری زمانہ میں نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ ان سے مراد وہی اسرائیل پیغمبر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل مبعوث ہوئے تھے۔ اس کے برعکس مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزائی امت کا یہ دعویٰ ہے کہ عیسیٰ بن مریم سے مراد غلام احمد ہے۔ دمشق سے مراد قادیان ہے۔ مسجد اقصیٰ سے مراد قادیان کی مسجد ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ ان تمام مضحکہ خیز تاویلوں کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک کسی نے عیسیٰ بن مریم کا مطلب نہیں سمجھا اور نعوذ باللہ پوری کی پوری ملت اسلامیہ گمراہ اور کافر و مشرک رہی ----- کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح تکذیب اور امت کے کروڑوں اکابر کی تحمیق و تجہیل نہیں؟ اگر اس کے بعد بھی ایک شخص کو دائرہ اسلام میں پناہ مل سکتی ہے تو کہنا چاہئے کہ اسلام کا کوئی متعین مفہوم ہی سرے سے موجود نہیں۔ حاصل یہ ہے کہ اسلام کے کسی ایک قطعی مسئلہ کا لفظی، معنوی انکار دراصل پورے دین کا انکار ہے۔

(۵) علمائے دیوبند تحقیق کے میدان

مرزا غلام احمد قادیانی نے جن نظریات و افکار کا اظہار کیا اور جس طرح اسلام کے مسلمہ اصولوں میں قطع و برید کی، واقعہ یہ ہے کہ کوئی شخص دیانت و امانت کے ساتھ ان کی جرات نہیں کر سکتا۔ اس کی توقع صرف اس شخص سے کی جا سکتی ہے جو خلل دماغ کے عارضہ میں مبتلا ہو، یا دین و ایمان کو غارت کر کے اس نے اپنے اغراض مذمومہ کی تکمیل کی ٹھان لی ہو۔ اس لئے غلام احمد قادیانی اور اس کے مخصوص حواریوں کے بارے میں علمائے دیوبند کی قطعی رائے یہ تھی کہ یہ لوگ اس حد کو عبور کر چکے ہیں، جس سے واپسی ناممکن ہے۔ یہ ظلی بروزی نبوت کا ڈرامہ

صفحہ 32

اور مسیحیت و مہدویت کے دعوے ایک سوچی سمجھی سکیم کا نتیجہ ہیں اور اس کے پردہ میں مخصوص اغراض و مقاصد کار فرما ہیں۔ البتہ عام لوگ جو کسی غلط فہمی سے قادیانیت کے دام فریب کا شکار ہیں‘ ان کی اصلاح ضروری ہے۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی اور دیگر مرزائی لیڈروں نے جو غلط فہمیاں امت میں پھیلا دی ہیں‘ ان کا ازالہ بھی لازم ہے۔ اس مقصد کے لئے علمائے دیوبند نے رد قادیانیت پر قلم اٹھایا اور قادیانی فتنہ پردازوں کے تمام شبہات کا جواب لکھا۔ اس موضوع پر جس قدر کتابیں لکھی گئی ہیں‘ غالباً کسی ملحدانہ تحریک پر اتنا لٹریچر تیار نہیں ہوا ہوگا۔

اس سلسلہ میں امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ (المتوفی ۱۳۵۲ھ) اور حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ کا کارنامہ ناقابل فراموش ہے۔ ان حضرات نے اور ان کے احباب و تلامذہ نے قادیانیت سے متعلق ہر مسئلہ پر گرانقدر کتابیں تالیف فرمائیں۔ اور امت اسلامیہ کو قادیانی دجل و فریب سے آگاہ کرنے کے لئے اپنی تمام صلاحیتیں صرف کردیں۔ یہاں اکابر دیوبند اور ان کے متوسلین کی تالیف کردہ کتابوں کی ایک مختصر سی فہرست پیش کی جاتی ہے۔

صفحہ 33
صفحہ 34
صفحہ 35
صفحہ 36

(مولانا محمد علی جالندھری کی تقریر) مرتب محمد سعید الرحمٰن علوی

صفحہ 37

اور مرزا کے متضاد اقوال حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ

صفحہ 38

یہ معلوم کتابوں کی فہرست ہے ورنہ تلاش و جستجو کی جائے تو بہت سی کتابیں اور بھی ہوں گی، جو اب نایاب ہو چکی ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب ”قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت“ مطبوعہ عالمی مجلس ملتان۔

میدان مباحثہ

مرزا غلام احمد قادیانی کی ساری تگ و دو کاغذی پتنگ بازی تک محدود تھی۔ انہوں نے علمائے امت کو للکارنے اور پھر قادیان کے ”بیت الفکر“ کے گوشہ عافیت میں پناہ گزیں ہو جانے کا فن بطور خاص ایجاد کیا تھا۔ مرزا صاحب کی اس حکمت عملی سے مباحثہ کی اول تو نوبت ہی نہ آتی، اگر مرزا صاحب کی بدقسمتی سے اس کا موقع آ ہی جاتا تو ان کی شکست و ناکامی ہی ”فتح مبین“ کا بروز اختیار کر لیتی تھی۔ یہاں بطور مثال چند واقعات کا مختصر تذکرہ کافی ہو گا۔

حیات مسیح پر مجھ سے مناظرہ کر لیں۔ علماء لدھیانہ نے جواب دیا کہ ہم آج سے آٹھ سال پہلے آنجناب کے کفر اور خروج از اسلام کا فتویٰ دے چکے ہیں، اس لئے کوئی جگہ تجویز کر کے ہمیں مطلع کیجئے۔ ہم بلا تاخیر وہاں پہنچ جائیں گے۔ آنجناب پہلے اپنا اسلام ثابت کر کے دکھائیں۔ اس کے بعد حیات مسیح اور دیگر مسائل پر بھی گفتگو ہو جائے گی۔ لیکن مرزا صاحب نے اس کے جواب میں ”خموشی معنی دارد کہ در گفتن نمی آید“ پر عمل کیا۔ اور علماء لدھیانہ کا چیلنج آج تک قائم ہے۔ کوئی قادیانی اس کا جواب نہیں دے سکا۔ نہ انشاء اللہ قیامت تک دے سکتا ہے۔ (اس مباحثہ طلبی کی روداد رئیس قادیاں جلد دوم مولفہ مولانا ابو القاسم رفیق دلاوری میں ملاحظہ فرمائیے۔)

صفحہ 39

المہدی صفحہ ۲۳۸ جلد اول میں مرزا صاحب کے پانچ مباحثوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک آریہ سے ہوا‘ ایک عیسائی اور تین مسلمانوں سے۔ بدقسمتی یہ کہ ان میں سے چار کی روئداد پڑھ کر دیکھو تو معلوم ہو گا کہ مرزا صاحب میدان چھوڑ کر بھاگے۔ اور بعد میں ان کی یہ شکست ”فتح مبین“ قرار پائی ۔۔۔۔۔ اور پانچویں مباحثہ میں تو مولانا عبدالحکیم کلانوری نے مرزا صاحب سے دعویٰ نبوت سے توبہ کرائی‘ اور ان سے یہ تحریر لی کہ وہ آئندہ نبوت کا لفظ استعمال نہیں کیا کریں گے۔ یہ ان کی پہلی فتح مبین تھی۔ لیکن بعد میں مرزا صاحب نے توبہ توڑ ڈالی۔ اور اس تحریری توبہ نامہ سے انحراف کیا۔ یہ ان کی دوسری فتح مبین تھی۔ (اس کی تفصیل مرزا صاحب کے اشتہارات میں موجود ہے)

پاؤں شل ہو چکے ہیں اور مباحثوں میں ان کی ذلت نما ”فتح“ دن بدن نمایاں ہو رہی ہے تو انہوں نے الہامی اعلان کر دیا کہ وہ آئندہ علماء سے مباحثہ نہیں کیا کریں گے۔ (انجام آتھم ص ۲۸۲) یہ مرزا صاحب کی فتح کا آخری اعلان تھا۔

صاحبان کبھی مناظرہ و مباحثہ کا نام نہ لیتے‘ لیکن انہیں شاید یہ احساس تھا کہ وہ علم و فضل اور فہم و دانائی میں مرزا صاحب سے فائق ہیں‘ اس لئے اگر مرزا صاحب نے مناظروں اور مباحثوں سے ”توبہ“ کر لی ہے تو یہ حکم صرف انہی کی ذاتی لیاقت سے متعلق ہے۔ ان کی امت پر اس کی تعمیل واجب نہیں۔ چنانچہ قادیانی صاحبان مرزا صاحب کے اس اعلان کے بعد بھی مناظرہ کے چیلنج کرتے رہے۔ (خود مرزا صاحب کی زندگی میں بھی‘ اور ان کے انتقال بمرض ہیضہ کے بعد بھی) مناظروں کی نوبت اکثر

صفحہ 40

پیش آئی۔ نتیجہ وہی ”فتح“ بصورت شکست۔ مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ جو دارالعلوم دیوبند کے رئیس المناظرین تھے‘ اور جنہیں قادیانی خانوادہ سے گفتگو اور مباحثہ کے بہت سے مواقع پیش آئے تھے۔ قادیانی مباحثوں پر بلیغ تبصرہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:

”علماء اسلام نے مرزا صاحب کی لغویات باطلہ کا پورا رد اور خود ان کا کذاب و مفتری ہونا ایسا ثابت کر دیا کہ منصف کے لئے تو کافی ہی ہے‘ مرزائی ہٹ دھرموں کے بھی منہ بند کر دیئے اور قلم توڑ دیئے‘ اور ان کو جواب کی تاب نہ رہی‘ لہٰذا اب نہ مناظرہ کی ضرورت‘ نہ مباہلہ کی‘ فقط جاہل مریدوں کو جہنم تک پہنچانے کے لئے یہ راہ اختیار کی جاتی ہے کہ کہیں مناظرہ کا اشتہار‘ کہیں مباہلہ کا چیلنج‘ ورنہ وہ نہ مناظرہ کر سکیں‘ نہ مباہلہ۔

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں

ہمیں عام مسلمانوں پر یہ ظاہر کرنا ہے کہ علماء اسلام اپنا فرض ادا فرما چکے‘ اور نہ ماننا اور نہ تسلیم کرنا یہ محض ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے ہے۔ ورنہ مناظرے بھی ہو چکے اور جس کو فتح دینی تھی اور جس کو ذلیل کرنا تھا وہ بھی ہو چکا-----

سرور شاہ (قادیانی) امیر وفد مونگیر سے دریافت کر لو حافظ روشن علی صاحب‘ مختار احمد صاحب شاہ جہانپوری‘ غلام رسول پنجابی (قادیانی مناظر) ان میں سے جو زندہ ہوں ان سے دریافت کر لو ----- موضع مونگیر و بھاگلپور کے رہنے والوں سے دریافت کر لو ----- (مونگیر کے مناظرہ میں) جب ذلت کی کوئی حد باقی نہ رہی تو امیر وفد نے فرمایا کہ ”یہ

صفحہ 41

بھی حضرت کی پیش گوئی پوری ہوئی کہ ایک جگہ تمہیں ذلت ہوگی۔ ”جی ہاں! کیوں نہیں۔ اگر اسی بدعقیدہ پر مرگئے جب بھی خدا چاہے، پیش گوئی ہی پوری ہو گی۔“ (صحیفہ الحق ص ۳۷۲)

الفضل“ میں خاص مرزا محمود صاحب کے قلم سے قرآن دانی کے دو چیلنج شائع ہوئے، مولانا سید مرتضیٰ حسن دیوبندیؒ نے ” قادیاں میں قیامت خیز بھونچال“ میں اس کا جواب تحریر فرمایا۔

اس کی تمہید میں لکھتے ہیں:

”دونوں پرچوں کے مضامین کے جواب کا نام وقعتہ الواقعہ اور لقب عذاب اللہ الشدید علی المنکر العنيد ہے، جس میں ڈیڑھ درجن سے زائد قادیانیوں کی وہ شکستیں اور علمائے دیوبند کی وہ صاف اور ظاہر فتحیں اور قیامت خیز نصرتیں بیان کی گئی ہیں کہ مرزا محمود صاحب تو کیا اگر خود بالفرض مرزا صاحب بھی بروز فرمائیں تو ان کو، خدا چاہے، بجز اقرار یا سکوت اور دم بخود رہنے کے کوئی چارہ ہی نہ ہو گا، چونکہ وہ رسالہ طویل ہو گیا ہے، طبع میں کچھ دیر ہو گی، بدیں وجہ صرف خلیفہ صاحب کے چیلنج کے متعلق یہ ”زلزلۃ الساعۃ“ نمونہ کے طور پر شائع کیا جاتا ہے۔“

اس کے بعد حضرتؒ نے مرزا محمود صاحب کے چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے انہیں تین ہفتہ میں اس کا جواب لکھنے کی فرمائش کی، جس پر انہوں نے عمل کرتے ہوئے سکوت ہی اختیار فرمایا، اسی رسالہ میں خلیفہ صاحب کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

صاحب زادہ صاحب! آپ اور معارف قرآنیہ بیان فرمائیں؟

صفحہ 42

اور وہ بھی علمائے دیوبند کے سامنے؟

دعویٰ زبان کا لکھنؤ والوں کے سامنے
ہے جیسے بوئے مشک غزالوں کے سامنے

سن لو! ایک گھنٹہ میں فیصلہ ہوتا ہے، ہمارا خیال ہے کہ معارف قرآنیہ تو درکنار؟ آپ تو علمائے محققین کے دو چار ورق بھی صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھ کر ان کی عبارت کا صحیح مطلب بیان نہیں کر سکتے، پٹالہ، لاہور، امرتسر، لدھیانہ، پشاور۔ اور تمہارا جی چاہے تو کابل چلے چلو۔ محققین اسلام نے جو کتابیں لکھی ہیں اور جن معارف الٰہیہ کو بیان کیا ہے۔ جو جگہ ہم تجویز کریں اس جگہ سے کتاب کے دو ورق کی صحیح عبارت مجمع عام میں پڑھ کر بامحاورہ ترجمہ کرنے کے بعد مطلب صحیح بیان کر دو، اگر مطلب غلط بیان کیا تو اسی مجمع میں آپ پر اعتراض کیا جائے گا آپ جواب دیں، اگر آپ نے صحیح عبارت پڑھ کر صحیح مطلب بیان کر دیا، تو ہم مجمع عام میں یہ اقرار کریں گے کہ مرزا محمود صاحب کو عبارت پڑھنے کا سلیقہ ہے۔" (ص۸)

مرزا محمود نے اس کے جواب میں ایسی چپ سادھی کہ ”خبرے نیست کہ ہست“ کا مضمون صادق آیا۔

نام سے تحریر فرمایا، جس میں لاہوری جماعت کے امام مسٹر محمد علی صاحب اور قادیانی جماعت کے خلیفہ مرزا محمود صاحب سے مسئلہ نبوت کے بارے میں ان کے مذہب کی وضاحت طلب کرنے کے لئے ستر سوالات کئے، اور یہ بھی تحریر فرمایا کہ جواب خواہ دونوں امیر صاحبان خود لکھیں، یا اپنے کسی ماتحت سے لکھوائیں، مگر دستخط ان دونوں صاحبوں کے ہونے لازم ہیں۔ قادیانی امت کے ذمہ دار اس رسالہ کے جواب میں جب سے

صفحہ 43

اب تک خاموش ہیں۔

مباحثہ مونگیر کا تذکرہ مولانا مرتضیٰ حسنؒ کی عبارت میں ابھی اوپر گذر چکا ہے جس میں قادیانیوں کو ذلت آمیز شکست ہوئی اور مرزائیوں کے امیر وفد سرور شاہ کو بھی ذلت کا اعتراف کئے بغیر چارہ نہ رہا۔ اسی نوعیت کا ایک مباحثہ فیروز پور میں ہوا، جس میں قادیانیوں نے من مانی شرائط پر مناظرہ کیا، لیکن علمائے دیوبند کے ہاتھوں ایسی شکست اٹھائی کہ انہیں مدت تک نہ بھولی۔ اس مباحثہ کا مختصر سا تذکرہ ”میں بڑے مسلمان“ میں بالفاظ ذیل کیا گیا ہے :

”فیروز پور میں مرزائیوں کے ساتھ ایک مناظرہ طے پایا، اور عام مسلمانوں نے جو فن مناظرہ سے ناواقف تھے، مرزائیوں کے ساتھ بعض ایسی شرائط پر مناظرہ طے کر لیا، جو مسلمان مناظرین کے لئے خاصی پریشان کن ہو سکتی تھیں، دار العلوم دیوبند کے اس وقت کے صدر مہتمم حضرت مولانا حبیب الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت (مولانا محمد انورؒ) شاہ صاحب کشمیری (کے مشورے سے مناظرے کے لئے) حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھیؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ صاحب اور حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ تجویز ہوئے۔ یہ حضرات جب فیروز پور پہنچے تو مرزائیوں کی شرائط کا علم ہوا کہ انہوں نے کس دجل سے من مانی شرائط سے مسلمانوں کو جکڑ لیا ہے۔ اب دو ہی صورتیں تھیں کہ یا تو ان شرائط پر مناظرہ کیا جائے یا پھر انکار کر دیا جائے، پہلی صورت مضر تھی، دوسری صورت مسلمانان فیروز پور کے لئے سبکی کا باعث ہو سکتی تھی کہ دیکھو تمہارے مناظر بھاگ گئے۔ انجام کار انہی شرائط پر مناظرہ منظور کر لیا

صفحہ 44

گیا، اور حضرت شاہ صاحبؒ کو تار دے دیا گیا۔ اگلے روز مقررہ وقت پر مناظرہ شروع ہو گیا اور عین اسی وقت دیکھا کہ حضرت شاہ صاحبؒ بہ نفس نفیس حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں، انہوں نے آتے ہی اعلان فرما دیا کہ جائیے ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ تم نے جتنی شرائط مسلمانوں سے منوائی ہیں، اتنی شرائط اور من مانی لگوا لو۔ ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں، مناظرہ کرو اور خدا کی قدرت کا تماشا دیکھو، چنانچہ اسی بات کا اعلان کر دیا گیا، اور مفتی صاحب مولانا محمد ادریس کاندھلوی اور مولانا سید بدر عالم صاحب نے مناظرہ کیا، اس میں مرزائیوں کی جو درگت بنی، اس کی گواہی آج بھی فیروز پور کے در و دیوار دے سکتے ہیں، مناظرے کے بعد شہر میں جلسہ عام ہوا، جس میں شاہ صاحبؒ اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی نے تقریریں کیں۔ یہ تقریریں فیروز پور کی تاریخ میں یادگار خاص کی نوعیت رکھتی ہیں۔ بہت سے لوگ جو قادیانی دجل کا شکار ہو چکے تھے، اس مناظرہ اور اور جلسہ کے بعد اسلام میں واپس لوٹ آئے۔“

(صفحہ ۳۹۴ طبع سوم)

خلاصہ یہ کہ مرزائیوں کے ساتھ علمائے دیوبند کے سینکڑوں تقریری و تحریری مباحثے ہوئے اور بحمد اللہ ہر موقعہ پر قادیانیوں کو میدان ہارنا پڑا۔ اسی سلسلہ میں علمائے دیوبند کی جانب سے متواتر ایک سال تک اشتہارات بھی نکلتے رہے مگر قادیانیوں نے جواب دہی سے توبہ کر لی۔

(۷) عدالت کے کٹہرے میں

مرزا غلام احمد قادیانی ایک زمانہ میں سیالکوٹ کچہری میں محرر کے فرائض انجام دیتے تھے۔ نیز اسی زمانہ میں منشی کے امتحان کی بھی

صفحہ 45

تیاری کی تھی جس میں ناکامی ہوئی، اس لئے مرزا غلام احمد اور اس کی ذریت کو ”مقدمہ بازی“ کا خوب شوق تھا، لیکن قسمت کا پھیر کچھ ایسا تھا کہ انہیں ہمیشہ ناکامی ہی ہوئی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے زمانہ میں جو مقدمہ بازی ہوئی اس کا تذکرہ قادیانی لٹریچر میں بھی موجود ہے، کچھ مقدموں کی روئداد محترم مرزا جانباز کی کتاب ”مرزائیت عدالت کے کٹہرے میں“ نیز مولانا ابو القاسم رفیق دلاوری کی کتاب ”رئیس قادیاں“ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے ۔۔۔۔۔ یہاں صرف دو مقدموں کی جانب اشارہ کیا جاتا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی طبعی جبلت کے مطابق حضرت مولانا کرم الدین صاحب سکنہ موضع بھیں جہلم (حضرت مولانا قاضی مظہر حسین چکوال کے والد ماجد) کے حق میں ناشائستہ الفاظ استعمال کئے تھے، مولانا نوجوان تھے انہوں نے مرزا قادیانی کو عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا، اور جہلم میں ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ کر دیا۔ قادیانی گروہ نے یہ مقدمہ جہلم سے گورداسپور منتقل کرا لیا، بہرحال یہ مقدمہ ایک طویل مدت تک مرزا قادیانی اور ان کی ذریت کے لئے تماشا عبرت بنا رہا۔ بالاخر عدالت نے مرزا قادیانی کو مجرم قرار دیتے ہوئے اس پر جرمانہ عائد کیا۔ جو عدالت بالا میں قادیانی اپیل پر معاف کیا گیا ۔۔۔۔۔ اس مقدمہ کی دلچسپ روئداد اس زمانہ میں سراج الاخبار جہلم اور دیگر اخبارات میں شائع ہوتی رہی۔ بعد ازاں ”تازیانہ عبرت“ کے نام سے دو بار کتابی شکل میں بھی شائع ہوئی۔ جو غالباً مولانا قاضی مظہر حسین صاحب سے دستیاب ہو سکتی ہے۔

تقریب یہ ہوئی کہ ایک مسلمان لڑکی مسماۃ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش کا شوہر مسمی عبد الرزاق ولد جان محمد اسلام سے مرتد ہو کر مرزائی بن

صفحہ 46

گیا تھا‘ زوجہ کی طرف سے ۲۴ جولائی ۱۹۲۶ء کو احمد پور شرقیہ کی عدالت میں دعویٰ کیا گیا کہ :

”مدعیہ اب تک نابالغ رہی ہے۔ اب عرصہ دو سال سے بالغ ہوئی ہے‘ مدعا علیہ ناکح مدعیہ نے مذہب اہلسنت و الجماعت ترک کر کے قادیانی مذہب اختیار کر لیا ہے اور اس وجہ سے وہ مرتد ہو گیا ہے‘ اس کے مرتد ہو جانے کے باعث مدعیہ اب اس کی منکوحہ نہیں رہی‘ کیونکہ وہ شرعاً ”کافر ہو گیا ہے‘ اور بموجب احکام شرع شریف بوجہ ارتداد مدعا علیہ‘ مدعیہ مستحق انفراق زوجیت ہے اس لئے ڈگری تنسیخ نکاح بحق مدعیہ صادر کی جاوے‘ اور یہ قرار دیا جاوے کہ مدعیہ بوجہ مرزائی ہو جانے مدعا علیہ کے اس کی منکوحہ جائز نہیں رہی‘ اور نکاح بوجہ ارتداد مدعا علیہ قائم نہیں رہا۔“ (فیصلہ مقدمہ بہاولپور ص۵ طبع اول)

یہ مقدمہ ابتدائی عدالت سے دربار معلیٰ تک پہنچا اور وہاں سے بایں حکم ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں واپس کر دیا گیا کہ ”مستند مشاہیر علمائے ہند کی شہادت لے کر بروئے احکام شرع شریف فیصلہ کیا جاوے۔“

اگرچہ یہ مقدمہ سات سال سے چل رہا تھا اور مدعا علیہ قادیانی بڑے فخر سے اعلانیہ کہتا تھا کہ قادیان کا خزانہ اور منظم جماعت اس کی پشت پر ہے‘ مگر مسلمانوں نے اسے ایک شخص کا مقدمہ سمجھا‘ اور مدعیہ کی مالی امداد کی طرف بھی توجہ نہ کی‘ لیکن ڈسٹرکٹ عدالت نے جو اس مقدمہ کی سماعت کے لئے ریاست کے سربراہ نے بطور کمیشن مقرر کی تھی‘ فریقین کو اپنے اپنے مسلک کے مستند اور مشاہیر علماء کو بغرض شہادت پیش کرنے کا حکم دیا تو مسلمانان بہاولپور کا احساس بیدار ہوا کہ کہیں مدعیہ کی کسمپرسی و ناداری اسے شہادت شرعی پیش کرنے سے قاصر نہ رکھے۔ چنانچہ انجمن موید الاسلام بہاولپور نے مدعیہ کی جانب سے اس مقدمہ کی پیروی

صفحہ 47

شروع کردی۔ بالآخر دو سال کی کامل تحقیق و تنقیح کے بعد ۷ فروری ۱۹۳۵ء کو عالی جناب محمد اکبر ڈسٹرکٹ جج بہاولپور نے اس مقدمہ کا تاریخی فیصلہ مدعیہ کے حق میں صادر کرتے ہوئے قرار دیا کہ :

”مدعیہ کی جانب سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا صاحب کاذب مدعی نبوت ہیں، اس لئے مدعا علیہ (عبدالرزاق قادیانی) بھی مرزا صاحب کو نبی تسلیم کرنے سے مرتد قرار دیا جائے گا ----- لہٰذا ڈگری بدیں مضمون بحق مدعیہ جاری کی جاتی ہے کہ وہ تاریخ ارتداد مدعا علیہ سے اس کی زوجہ نہیں رہی، مدعیہ خرچہ مقدمہ بھی ازاں مدعا علیہ لینے کی حقدار ہوگی۔“

(فیصلہ مقدمہ بہاولپور ص ۱۴۹)

یہ ایک مسلمان ریاست کے مسلمان جج کا تاریخی فیصلہ تھا جو اسلام اور مرزائیت کی پوری تحقیق کے بعد صادر کیا گیا۔ اور پھر ایک ایسی عدالت کی جانب سے تھا جس کی حیثیت عدالت خاص کی تھی اس لئے یہ فیصلہ آئندہ کے لئے نشان راہ ثابت ہوا، اور بحمد للہ آئندہ اس قسم کے تمام فیصلے اسی کے مطابق ہوئے۔ حضرات اکابر دیوبند نے اس مقدمہ میں جو کارنامہ انجام دیا اس کا تعارف کراتے ہوئے مولانا ابو العباس محمد صادق نعمانی، جن کی وساطت سے یہ فیصلہ شائع ہوا، تحریر فرماتے ہیں:

”مدعیہ کی طرف سے شہادت کے لئے شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب (رحمتہ اللہ علیہ) حضرت مولانا سید محمد مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، حضرت مولانا محمد نجم الدین صاحب پروفیسر اورینٹل کالج لاہور اور مولانا محمد شفیع صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند پیش ہوئے۔ حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی تشریف آوری نے تمام ہندوستان کی توجہ کے لئے جذب مقناطیسی کا کام کیا، اسلامی ہند میں اس مقدمہ کو غیر فانی

صفحہ 48

شہرت حاصل ہو گئی‘ حضرات علمائے کرام نے اپنی اپنی شہادتوں میں علم و عرفان کے دریا بہا دیئے اور فرقہ ضالہ مرزائیہ کا کفر و ارتداد روز روشن کی طرح ظاہر کر دیا‘ اور فریق مخالف کی جرح کے نہایت مسکت جواب دیئے۔

خصوصاً "حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی شہادت میں ایمان‘ کفر‘ نفاق‘ زندقہ‘ ارتداد‘ ختم نبوت‘ اجماع‘ تواتر‘ متواترات کے اقسام‘ وحی‘ کشف‘ الہام کی تعریفات اور ایسے اصول و قواعد بیان کئے جن کے مطالعہ سے ہر ایک انسان علی وجہ البصیرت بطلان مرزائیت کا یقین کامل حاصل کر سکتا ہے۔

پھر فریق ثانی کی شہادت شروع ہوئی۔ مقدمہ کی پیروی اور شہادت پر جرح کرنے اور قادیانی دجل و تزویر کو آشکارا کرنے کے لئے شہرہ آفاق مناظر حضرت مولانا ابو الوفاء صاحبؒ شاہجہان پوری تشریف لائے‘ مولانا موصوف مختار مدعیہ مقرر ہو کر تقریباً "ڈیڑھ سال مقدمہ کی پیروی فرماتے رہے‘ فریق ثانی کی شہادت پر باطل شکن جرح فرمائی جس نے مرزائیت کی بنیادوں کو کھوکھلا اور مرزائی دجل و فریب کے تمام پردوں کو پارہ پارہ کر کے فرقہ مرزائیہ ضالہ کا ارتداد آشکارا کر دیا۔ فریقین کی شہادت کے ختم ہونے کے بعد مولانا موصوف نے مقدمہ پر بحث کی‘ اور فریق ثانی کی تحریری بحث کا تحریری جواب الجواب نہایت مفصل اور جامع پیش کیا۔"

(مقدمہ فیصلہ بہاولپور)

جہاد مسلسل

تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں اکابر دیوبند کا ایک خصوصی امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے قادیانی فتنہ کے آغاز سے لے کر آج تک ان کا تعاقب جاری رکھا‘ مسند احمد (۲/ ص۴۲۷) میں بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم

صفحہ 49

کا ارشاد مروی ہے : ”ما سالمناهن منذ حاربناهن یعنى الحیات ہم نے ان سانپوں سے جب سے جنگ شروع کی ہے تب سے کبھی ان کے ساتھ صلح نہیں کی۔

قادیانی ٹولہ اسلام کے لئے مار آستین کی حیثیت رکھتا تھا‘ اس لئے ارشاد نبویؐ کے مطابق اکابر دیوبند جب سے مرزائی ٹولے کے خلاف نبرد آزما ہوئے‘ آج تک نہ صلح کی جانب مائل ہوئے اور نہ ہتھیار اتارے۔ بلکہ وہ پہلے دن سے لے کر آج تک بدستور محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں‘ اور جب تک یہ قزاقان ناموس رسالت اپنے کیفر کردار کو نہیں پہنچ جاتے انشاء اللہ محاذ آرائی جاری رہے گی۔

خوش قسمتی سے اکابر دیوبند میں کوئی نہ کوئی ایسی شخصیت موجود رہی جو اپنے دور میں مرجع خلائق تھی‘ جس کے دل کی دھڑکنیں امت مسلمہ کے جذبہ جہاد کو بیدار رکھتی تھیں‘ جسے علماء و مشائخ میں قطبیت کبریٰ کا مقام حاصل تھا‘ جس کا سینہ عشق رسالتؐ کے نور سے منور تھا‘ اور جس کے انفاس قدسیہ زندیقان قادیاں کے کفر و ارتداد کے لئے آتش سوزاں کا حکم رکھتے تھے۔

گزشتہ سطور میں قطب عالم حضرت حاجی امداد اللہ قدس سرہ اور ان کے خلیفہ ارشد حضرت قطب الارشاد مولانا رشید احمد گنگوہی کی مساعی جمیلہ کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ حضرت گنگوہیؒ کے بعد یہ قیادت و سیادت شیخ العالم حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے حصہ میں آئی جن کا وجود ہی انگریز اور انگریزی نبوت سے بغاوت کا نام تھا‘ یوپی کے انگریز گورنر سر جیمس میسٹن کے بقول :

”اگرچہ اس شخص کو جلا کر خاک بھی کر دیا جائے تب بھی وہ اس کوچہ سے نہیں اڑے گی جس میں کوئی انگریز رہتا ہو۔“

”اگر اس شخص کی بوٹی بوٹی بھی کر دی جائے تو ہر بوٹی سے انگریزوں کے خلاف عداوت ٹپکے گی۔“

(بحوالہ ”بیس بڑے مسلمان“ صفحہ ۱۲۲ طبع سوم)

صفحہ 50

اور ”ریشمی خطوط“ سازش کیس کے مرتبین کے الفاظ میں (حضرت شیخ الہندؒ کو) ”حضرت مولانا“ بھی کہا جاتا ہے۔ ریشمی خطوط کے مکتوب الیہ‘ مدرسہ اسلامیہ دیوبند کے صدر مدرس‘ پارسائی اور تقدس کے لئے مشہور ان کے مرید‘ جن میں سرکردہ مسلمان بھی ہیں‘ ہندوستان بھر میں ہیں ۔۔۔۔۔ ہندوستان میں ”اتحاد اسلامی کی سازش“ میں مولانا کی یہ رہنمایانہ قائدانہ شخصیت بڑی سرکردہ ہے۔“ (تحریک شیخ الہندؒ : انگریزی سرکار کی زبان میں ص ۴۴۲ شائع کردہ مکتبہ رشیدیہ لمیٹڈ ۱۳۲ اے شاہ عالم مارکیٹ لاہور)

حضرت شیخ الہند قدس سرہ اگرچہ انگریز کی ذریت (قادیانی ٹولہ) سے نہیں بلکہ براہ راست قادیانی نبوت کے خالق (انگریز بہادر) سے ٹکرا رہے تھے۔ لیکن انہوں نے ذریت برطانیہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ ”القول الصحیح فی مکائد المسیح“ نامی فتوٰی کا تذکرہ اوپر کر چکا ہوں‘ جس میں کذاب قادیان کی عبارتیں درج کر کے اس کے کفر و ارتداد کا فتوٰی علماء دیوبند کی جانب سے مرتب کیا گیا ہے‘ حضرت شیخ الہندؒ اس پر تحریر فرماتے ہیں:

(کل جوابات صحیح ہیں)

”مرزا ۔۔۔۔۔ علیہ ما یستحقہ ۔۔۔۔۔ کے عقائد و اقوال کا کفریہ ہونا ایسا بدیہی مضمون ہے کہ جس کا انکار کوئی منصف فہیم نہیں کر سکتا۔ جن کی تفصیل جواب میں موجود ہے۔“ (مہر) (بندہ محمود عفی عنہ دیوبندی (صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند)

حضرت شیخ الہندؒ کے بعد آپ کے تلامذہ نے‘ جو آسمان علم و فضل اور تقدس و تقویٰ کے مہروماہ تھے‘ قادیانی نبوت کا تعاقب کیا‘ مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ‘ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ‘ مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ‘ مولانا مرتضٰی حسن چاند پوریؒ

صفحہ 51

اور دیگر اکابر نے اس تحریک کا علم بلند کیا۔

اس دور کے امام و مقتداء حضرت العلامہ مولانا محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ تھے، فتنہ قادیانیت کی شدت نے حضرت کشمیریؒ کو ماہی بے آب کی طرح بے چین اور مضطرب کر دیا تھا، حضرت العلامہ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نفحتہ العنبر فی ہدی الشیخ الانور“ میں حضرت کشمیریؒ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں:

”جب یہ تاریک فتنہ پھیلا تو مصیبت عظمیٰ سے غم اور اضطراب کی ایک ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ کسی کروٹ چین نہ آتا تھا، رات کی نیند حرام ہو گئی، مجھے قلق تھا کہ قادیانی نبوت سے دین میں ایسا رخنہ واقع ہو جائے گا جس کو بند کرنا دشوار ہو گا، اسی قلق و اضطراب اور بے چینی میں چھ مہینے گزر گئے، تا آنکہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں القاء کیا کہ عنقریب اس فتنہ کا شور و شغب انشاء اللہ جاتا رہے گا، اور اس کی قوت و شوکت ٹوٹ جائے گی، چنانچہ ایک طویل مدت کے بعد میرا اضطراب رفع ہوا اور سکون قلب نصیب ہوا۔“

(ص ۳۰۴ طبع جدید)

حضرت کشمیریؒ نے اس اضطراب و بے چینی کا اظہار اپنے بعض قصائد میں بھی کیا ہے، ایک طویل عربی قصیدہ میں جو ”اکفار الملحدین“ میں طبع ہوا ہے، آپ نے قادیانی فتنہ کی شدت و گہرائی کی طرف امت اسلامیہ کو متوجہ فرمایا ہے۔ اس قصیدہ کا زور بیان، قلق و اضطراب آج بھی امت اسلامیہ کا خون گرما دینے کی صلاحیت رکھتا ہے:

”الا یا عباد اللہ قوموا و قوموا خطوباً المت مالھن
یدان

اے اللہ کے بندو! اٹھو اور ان فتنوں کے کس بل نکال دو، جو ہر جگہ چھا رہے ہیں اور جن کے برداشت کرنے کی تب و تاب

صفحہ 52

نہیں رہی۔

و قد کاد ينقض الهدى و مناره و زحزح خير ما لذاک تدان

ان فتنوں کی شدت سے ہدایت کے نشانات مٹنا چاہتے ہیں، خیر و صلاح سمٹ رہی ہے اور پھر اس کے تدارک کی کوئی صورت نہیں بن پڑے گی۔

يسب رسول من اولى العزم فيكم تکاد السماء والارض تنفطران

ایک اولو العزم رسول (سیدنا عیسیٰ علیہ السلام) کو تمہارے سامنے گالیاں دی جا رہی ہیں قریب ہے کہ قہر الٰہی سے زمین و آسمان پھٹ پڑیں۔

و حارب قوم ربهم و نبيه فقوموا لنصر الله اذ هو دان

ایک ناہنجار قوم (مرزائیوں) نے اپنے رب اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی چھیڑ رکھی ہے، پس اللہ کی مدد کے بھروسے اٹھو، کہ وہ بہت ہی قریب ہے۔

و قد عيل صبرى فى انتهاک حدوده فهل ثم داع او مجيب اذانى

حدود اللہ کو توڑتے دیکھ کر صبر کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ چکا ہے، پس کیا اس بھری دنیا میں کوئی حدود الٰہی کے تحفظ کے لئے پکارنے والا یا میری دعوت پر لبیک کہنے والا ہے؟

و اذ عز خطب جئت مستنصراً بكم فهل ثم غوث يا لقوم يدانى

اور جب مصیبت حد برداشت سے نکل گئی تب میں نے مدد کیلئے تمہارے دروازے پر دستک دی، پس اے قوم! کیا کوئی

صفحہ 53

فریادرس ہے جو آگے بڑھ کر میرے دکھ درد میں شریک ہو جائے؟

لعمری لقد نبهت من كانائما واسمعت من كانت له اذنان بخدا! میں ان لوگوں کو جو خواب غفلت میں مست تھے۔ بیدار کر چکا ہوں اور ہر ایسے شخص کو، جسے قدرت نے سننے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے، سنا چکا ہوں۔

وناديت قوما فى فريضته ربهم فهل من نصير لى من اهل زمان اور میں قوم مسلم کو ان کے رب کے جانب سے عائد شدہ فریضہ کے سلسلہ میں پکار چکا ہوں، پس کیا اہل خانہ میں کوئی شخص میری مدد کو اٹھے گا۔؟

دعوا كل امر واستقيموا لعاد هى وقد غدا فرض العين عند عيان سب کچھ چھوڑ کر اس فتنہ عظمی کے مقابلہ میں کمربستہ ہو جاؤ، اس لیے کہ اس فتنہ کا مشاہدہ ہو جانے کے بعد اس کا استیصال ہر شخص پر فرض عین ہو گیا ہے۔

الا فاستقيموا واستهيموا لدينكم فموت عليه اكبر الحيوان ہاں اٹھو! اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے دیوانہ وار جان کی بازی لگا دو۔ بخدا! دین کی خاطر جان دے دینا ہی سب سے اعلیٰ و اشرف زندگی ہے۔

وعند دعاء الرب قوموا وشهروا حنانا عليكم فيه اثر حنان اور جب تحفظ دین کیلئے رب تعالیٰ کی طرف سے پکارا جا رہا ہے

صفحہ 54

تو دیر کیوں کرتے ہو اٹھو اور کمر ہمت چست باندھ لو‘ اس راستے میں تم پر رحمتیں نازل ہوں گی۔

حضرت کشمیریؒ کے قلب صافی پر اس فتنہ کی شدت کا جو اثر تھا وہ ان اشعار سے نمایاں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس فتنہ کے استیصال کے لیے مامور من اللہ تھے۔ اور ان کی تمام صلاحیتیں اس پر لگی ہوئی تھیں کہ وہ قادیانیت کے قصر الحاد کو پھونک ڈالیں۔ حضرت امام العصرؒ نے قادیانی الحاد پر تابڑ توڑ حملے کئے اور ان کے کفر و ارتداد کو عالم آشکار کرنے کیلئے قلم اٹھایا‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام‘ قادیانی قزاقوں کے سب سے بڑے حریف تھے۔ مرزا اور مرزائی امت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جس دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے ایک باغیرت و حمیت مسلمان کا خون کھول جاتا ہے اور جو شخص اس کے بعد بھی قادیانیوں کے بارے میں کسی نرمی یا مصالحت کا رویہ رکھتا ہے اس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ یا تو دین و ایمان سے محروم ہے۔ یا پھر اس کی غیرت و حمیت کو مصلحت کی دیمک چاٹ گئی ہے۔ امام العصر فرماتے ہیں :

فشاتم شان الانبیاء مکفر ومن شک قل ھذا الاول ثان

انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرنے والا قطعاً کافر ہے اور جو شخص اس کے کفر میں شک کرے تو صاف کہہ دو کہ یہ بھی پہلے کا دوسرا ہے۔

حضرت امام العصرؒ نے قادیانیت کے تعاقب میں جو کارنامے انجام دیئے اس کی تفصیل کے لیے مقالہ کافی نہیں مختصر یہ کہ :

قادیانیت کے درمیان زیر بحث تھے۔ مثلاً حیات عیسیٰ علیہ السلام پر تین کتابیں تالیف فرمائیں ”التصریح بما تواتر فے نزول المسیح۔“ عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام“

صفحہ 55

”تحیۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام“ یہ تینوں کتابیں اپنے رنگ میں بے نظیر ہیں۔ ختم نبوت کے موضوع پر فارسی میں رسالہ ”خاتم النبیین“ تالیف فرمایا۔ (جس کا اردو ترجمہ عالمی مجلس ملتان نے شائع کیا ہے) جو آیت ختم نبوت کی تفسیر میں دقیق معارف کا ذخیرہ ہے۔ ان تمام رسائل میں قادیانی دجل و فریب سے نقاب کشائی فرمائی اور قادیانیوں کے کفر و ارتداد کو ثابت کرنے کے لیے ”اکفار الملحدین“ تالیف فرمائی۔

ب : حضرت شاہ صاحبؒ کے تلامذہ میں مولانا سید بدر عالم میرٹھیؒ، مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، مولانا مناظر احسن گیلانیؒ، مولانا محمد شفیع صاحب دیو بندیؒ، مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، مولانا محمد منظور نعمانی اور مولانا محمد یوسف بنوری مولانا محمد چراغ گوجرانوالہ اور دیگر بہت سی ایسی نابغہ شخصیتیں موجود تھیں، جن کو حضرت شاہ صاحبؒ نے رد قادیانیت پر مامور فرمایا۔ حضرت شاہ صاحبؒ اپنے تلامذہ سے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور رد قادیانیت کے لیے کام کرنے کا عہد لیتے تھے۔ اور ارشاد فرماتے تھے کہ جو شخص قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن شفاعت سے وابستہ ہونا چاہتا ہے وہ قادیانی درندوں سے ناموس رسالت کو بچائے۔ ان حضرات نے حضرت شاہ صاحبؒ کی وصیت کے مطابق فتنہ قادیانیت کے تعاقب کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔

ج : قادیانی امت کا مذہبی و دینی سطح پر محاسبہ تو علمائے امت شروع سے کرتے آ رہے تھے۔ لیکن جدید طبقہ میں قادیانیوں سے روا داری کا مرض سرایت کئے ہوئے تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ قادیانیوں کے خلاف جو کچھ مذہبی اسٹیج سے کہا جا رہا ہے وہ صرف ملاؤں کی افتاد طبع کا نتیجہ ہے۔ حضرت امام العصرؒ نے قادیانیت کے خلاف جدید طبقہ تک اپنی آواز پہنچانے کے لیے مولانا ظفر علی خان ایڈیٹر ”زمیندار“ اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال مرحوم کو آمادہ کیا۔ مولانا سعید احمد اکبر آبادی لکھتے

صفحہ 56

ہیں:

”باخبر حضرات جانتے ہیں کہ پنجاب کے خصوصاً اور ہندوستان کے عموماً انگریزی تعلیم یافتہ حضرات میں قادیانی فتنہ کی شرانگیزی اور اسلام کشی کا جو احساس پایا جاتا ہے اس میں بڑا دخل ڈاکٹر اقبال مرحوم کے اس لیکچر کا ہے جو ختم نبوت پر ہے اور ساتھ ہی اس مقالے کا ہے جو انگریزی میں قادیانی تحریک کے خلاف شائع ہوا تھا۔ لیکن یہ شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ دونوں تحریروں کا اصل باعث حضرت الاستاذ مولانا سید محمد انور شاہ ہی تھے۔“

(بیس بڑے مسلمان ص ۴۷۷)

علامہ اقبال مرحوم نے اپنے خطبات و مقالات اور گفتگوئے مجالس میں قادیانیت کا فلسفی اور نفسیاتی رنگ میں تجزیہ کیا، جس سے جدید طبقہ کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ قادیانیت کا پس منظر کیا ہے۔ اور امت مسلمہ کے حق میں اس کے نتائج کسی قدر مہلک ہوں گے؟ ڈاکٹر صاحب کے ان مقالات کا اردو ترجمہ حرفِ اقبال‘ اقبال اور قادیانی‘ ارمغانِ اقبال‘ انوارِ اقبال اور دیگر کتب و رسائل میں شائع ہو چکا ہے۔

مولانا ظفر علی خان مرحوم علی گڑھ کے گریجویٹ تھے۔ مگر اکابر دیوبند سے تعلق و وابستگی نے انہیں واقعی ”مولانا“ بنا دیا تھا۔ موصوف نے ۱۹۱۰ء سے ” زمیندار“ کی ادارت سنبھالی اور نازک ترین دور میں قادیانیت کے خلاف نبرد آزما ہوئے اور جب تک جسم میں توانائی رہی وہ اس محاذ پر لڑتے رہے۔ آغا شورش کاشمیری مرحوم نے ”تحریک ختم نبوت“ کے صفحہ ۶۱ سے صفحہ ۷۴ تک مولانا ظفر علی کی اس داستان وفا کی تفصیلات قلم بند کی ہیں۔ ۱۹۳۳ء کے ایک مقدمہ کے سلسلہ میں ذکر کیا ہے کہ :

”عدالت نے وہ نوٹس پڑھ کر سنایا، جو اس مقدمہ کی بنیاد تھا کہ ”تمہارے اور احمدی جماعت کے درمیان اختلاف ہے تم نے اس کے عقائد اور اس کے مذہبی پیشوا پر حملے کئے ہیں۔ جس سے نقصِ امن کا اندیشہ ہو گیا ہے۔ وجہ بیان کرو کہ تم سے

صفحہ 57

کیوں نہ نیک چلنی کی ضمانت طلب کی جائے۔“ مولانا نے عدالت کو جواب دیتے ہوئے کہا :

”میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مسلمانوں کے ہاتھوں مرزائیوں کو کسی قسم کا گزند نہ پہنچے گا۔ لیکن جہاں تک مرزا غلام احمد کا تعلق ہے ہم اس کو ایک بار نہیں ہزار بار دجال کہیں گے‘ اس نے حضورؐ کی ختم المرسلینی میں اپنی نبوت کا ناپاک پیوند جوڑ کر ناموس رسالت پر کھلم کھلا حملہ کیا ہے۔ اپنے اس عقیدے سے میں ایک منٹ کے کروڑویں حصے کے لیے بھی دستکش ہونے کو تیار نہیں‘ اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مرزا غلام احمد دجال تھا‘ دجال تھا۔ دجال تھا‘ میں اس سلسلہ میں قانون انگریزی کا پابند نہیں‘ میں قانون محمدی کا پابند ہوں۔“

(تحریک ختم نبوت‘ مولفہ آغا شورش مرحوم ص ۶۸)

باقاعدہ منظم کرنے کے لیے خطیب الامت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو ”امیر شریعت“ مقرر کیا‘ اور انجمن خدام الدین کے ایک عظیم الشان اجلاس منعقدہ مارچ ۱۹۳۰ء میں ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر ہندوستان کے ممتاز ترین پانچ سو علماء کی بیعت ان کے ہاتھ میں کرائی‘ ظاہر بین نظریں یہ دیکھ رہی تھیں دار العلوم دیوبند کا صدر المدرسین حجۃ الاسلام علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ ”امیر شریعت“ کے ہاتھ پر بیعت کر رہا تھا‘ لیکن خود ”امیر شریعت“ کا تاثر یہ تھا کہ :

”آپ یہ نہ سمجھیں کہ حضرت (مولانا سید محمد انور شاہؒ) نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔ بلکہ حضرت نے مجھے اپنی غلامی میں قبول فرمایا ہے۔“ یہ کہہ کر شاہ جیؒ زار و قطار رونے لگے اور ان کا سارا جسم کانپنے لگا۔“

(حیات امیر شریعت مولفہ محترم مرزا جانباز ص ۱۵۵)

صفحہ 58

بہر حال یہ بحث تو اپنی جگہ ہے کہ حضرت امام العصرؒ کشمیری حضرت امیر شریعتؒ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے؟ ان سے فتنہ قادیانیت کے استیصال کا عہد لے رہے تھے؟ مگر اس میں کیا شک ہے؟ کہ حضرت امیر شریعتؒ اور ان کی جماعت نے قادیانیت کے محاذ پر جو کام کیا وہ حضرت امام العصرؒ کی باطنی توجہ اور دعا ہائے کا سحری ثمر تھا۔

حضرت امام العصرؒ کے وصال کے بعد امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ‘ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ حضرت تھانویؒ نے نہایت شفقت سے حالات سنے اور تشریف آوری کی غرض دریافت فرمائی شاہؒ جی نے بے تکلفی سے عرض کیا کہ حضرت العلامہ مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ ہمارے روحانی پیشوا تھے۔ انہوں نے ہمیں رد قادیانیت کے کام پر لگا دیا‘ چنانچہ مجلس احرار اسلام کا شعبہ تبلیغ اس کے لیے وقف ہے۔ حضرت کشمیریؒ کے سانحہ ارتحال کے بعد آپ سے دعائیں لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ حضرت حکیم الامت نے دریافت کیا کہ آپ کی جماعت کا رکن بننے کے لیے کیا کوئی شرط بھی ہے؟ عرض کیا کہ ایک روپیہ سالانہ رکنیت کی فیس ادا کر کے ہر مسلمان جماعت کا رکن بن سکتا ہے‘ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ یہ تو معلوم نہیں کہ زندگی کے کتنے دن باقی ہیں‘ تاہم مجھے پچیس سال کے لیے اپنی جماعت کا رکن بنا لیجئے اور اگر اس سے زیادہ جیتا رہا تو پھر رکنیت کی تجدید کر لوں گا‘ یہ کہہ کر پچیس روپے عطا فرمائے اور پچیس سال کے لیے رکنیت قبول فرمالی۔ (روایت مولانا محمد علی جالندھریؒ)

بظاہر یہ ایک معمولی نوعیت کا واقعہ ہے‘ لیکن اس سے مسئلہ ختم نبوت کے ساتھ علمائے دیو بند کے غیر معمولی شغف کا اندازہ ہوتا ہے۔ حضرت امام العصرؒ مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ ‘ مجلس احرار اسلام کا رخ فتنہ قادیانیت کی طرف موڑنے کے لیے سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو امیر شریعتؒ کے منصب پر کھڑا کرتے ہیں۔ اور خود بنفس نفیس ان کے ہاتھ پر بیعت کر کے ان پر کامل اعتماد کا اظہار فرماتے ہیں‘ ادھر حضرت حکیم الامت تھانویؒ ‘ مجلس احرار اسلام کے شعبہ تبلیغ کی رکنیت قبول

صفحہ 59

فرما کر گویا امیر شریعتؒ کی اس جہاد میں قیادت کو قبول فرماتے ہیں۔

حضرت تھانویؒ جب تک حیات رہے ان کی توجہ اور دعاء اور ہر قسم کی اعانت مجاہدین ختم نبوت کے شامل حال رہی، ان کے وصال کے بعد قطب العالم حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوریؒ اس قافلہ کے سالار بن گئے، ”احرار اسلام“ کے اکابر حضرت رائے پوریؒ کے حلقہ ارادت میں منسلک اور حضرتؒ کی عنایات و توجہات سے مستفید تھے، جن لوگوں کو حضرت رائے پوریؒ کی صحبت میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا انہیں علم ہے کہ حضرتؒ قادیانی فتنہ کے بارے میں کس قدر گہرا احساس رکھتے تھے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی نسبت حضرت رائے پوریؒ کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔ حضرتؒ مجاہدین ختم نبوت کی سرپرستی فرماتے، ان کی مالی خدمت کرتے، انہیں مفید مشورے دیتے۔ ان سے کارگزاری کی باقاعدہ رپورٹ سنتے، اور ان حضرات کی بیحد قدر دانی اور حوصلہ افزائی فرماتے۔

حضرت رائے پوریؒ کے حکم سے مولانا ابوالحسن علی ندوی مدظلہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”القادیانی والقادیانیہ“ عربی میں تالیف فرمائی، اور پھر حضرت کے مکرر حکم سے اس کا اردو ایڈیشن ”قادیانیت“ کے نام سے مرتب فرمایا۔ دونوں کتابوں کا ایک ایک حرف حضرتؒ نے سنا، مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کی کتاب ” شہادۃ القرآن“ کو بھی حرفاً حرفاً سن کر اس کی اشاعت کا (عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کو) حکم فرمایا۔ اس سلسلہ میں حضرت رائے پوریؒ کے عجیب و غریب واقعات ایسے ہیں جن کو یہاں ذکر کرنا افشائے راز کے زمرہ میں آئے گا۔

۹۔ تنظیم ملت اور علمائے دیوبند

علمائے امت قادیانی فتنہ کا مقابلہ انفرادی طور پر اپنے اپنے رنگ میں شروع ہی سے کر رہے تھے۔ مگر علمائے دیوبند نے محسوس کیا کہ ”تحفظ ختم نبوت“ کے لیے مسلمانوں کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ایک ایسی مضبوط جماعت ہونی چاہیے جو ناموس رسالت کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہ کرے، اور وہ فتنہ قادیانیت کے استیصال کو اپنا مشن بنالے۔ اس کے لیے حضرت مولانا محمد انور

صفحہ 60

شاہ کشمیریؒ کی نظر انتخاب ”مجلس احرار اسلام“ پر پڑی، اور فتنہ قادیانیت کا منظم مقابلہ کرنے کے لیے ”احرار اسلام“ کے قائد حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو ”امیر شریعت“ مقرر فرمایا۔

”احرار اسلام“ کے سرفروش فرنگی اقتدار سے نبرد آزما تھے۔ ادھر قادیانی نبوت فرنگی اقتدار کی سیاسی شطرنج کا مہرہ تھی۔ اس لیے ”احرار اسلام“ کو جس قدر نفرت انگریز اور انگریزی اقتدار سے تھی اور اس سے کئی سو گنا زیادہ قادیانی کی سیاسی نبوت سے تھی، جس نے اسلام کی تحریف و تکذیب اور برطانیہ کی خوشامد چاپلوسی کو اپنا شعار بنا رکھا تھا ”احرار اسلام“ نے قادیانی نبوت کے مقابلہ میں جو کچھ کیا اس کا تذکرہ ’تاریخ احرار‘ حیات امیر شریعت، اور تحریک ختم نبوت میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ مختصرا چند امور کی جانب یہاں اشارہ کر دینا مناسب ہو گا۔

تحریک کشمیر

۱۹۳۱ء میں کشمیر کی ڈوگرہ حکومت کے خلاف مسلمانان کشمیر نے علم حریت بلند کیا، قادیانی خلیفہ مرزا محمود نے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر ”آل انڈیا کشمیر کمیٹی“ کی تشکیل کی، جس کا صدر خود مرزا محمود قادیانی تھا اور سیکرٹری شپ بھی قادیانیوں کے ہاتھ میں تھی، ہندوستان کے بڑے نام آور لوگ اس کمیٹی کے رکن تھے۔ اس کمیٹی کا مقصد مسلمانان کشمیر کی داد رسی ظاہر کیا گیا، لیکن اندرونی مقاصد کچھ اور تھے۔ ان میں سب سے بڑا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ ہندوستان کے چوٹی کے لیڈر مرزا محمود کی قیادت میں متحد ہیں۔ اور وہ انہیں اپنا قائد اور پیشوا تسلیم کرتے ہیں۔ یہ گویا ان مذہبی فتووں کا جواب تھا جو علمائے امت کی جانب سے قادیانیوں کے خلاف صادر ہو رہے تھے۔ ”احرار اسلام“ نے اس قادیانی سازش کا بروقت نوٹس لیا اور قادیانی عزائم کو طشت از بام کیا، نتیجہ ”آل انڈیا کشمیر کمیٹی“ اپنی موت آپ مرگئی اور علامہ محمد اقبال مرحوم نے اپنے بیانات میں قادیانی ذہنیت کو جو اس کمیٹی کے قیام میں کار فرما تھی، عالم آشکارا کر دیا۔

قادیاں میں داخلہ

صفحہ 61

قادیانی خلیفہ (میرزا محمود) قادیاں کی آبائی ریاست میں کوس ” لمن الملک الیوم“ بجا رہا تھا‘ قادیاں میں مرزائی جماعت کے علاوہ نہ کسی کی جان محفوظ تھی‘ نہ عزت و آبرو کا لحاظ تھا‘ دن دہاڑے قتل ہو جاتے اور کوئی باز پرس نہ کر سکتا‘ غریب مظلوموں کا بائیکاٹ کر دیا جاتا دکانداروں سے عہد لیا جاتا کہ وہ خلیفہ صاحب کے خلاف منشا کسی کے پاس خورد و نوش کی کوئی چیز فروخت نہیں کریں گے۔ ”احرار اسلام“ نے قادیاں کے حسن بن صباحی طلسم کو توڑنے کے لیے ۱۹۳۴ء میں قادیاں میں اپنا دفتر قائم کر دیا‘ اور مظلومان قادیاں کی داد رسی کے لیے ایک ڈیفنس کمیٹی بنا دی گئی۔ ”احرار اسلام“ کی اس جرات نے خلیفہ قادیاں کو چراغ پا کر دیا‘ اور ظلم و ستم میں اضافہ ہونے لگا‘ لیکن تابکے؟ بالاخر وہ وقت آیا کہ خلیفہ قادیاں کے ”خفیہ اسرار“ کی شہادت دینے کے لیے پردہ نشینان قادیاں عدالت میں پہنچ گئیں۔ قادیاں میں کیا کچھ ہوتا تھا؟ اور ”احرار اسلام“ کے جانفروشوں نے قادیانی مظالم کا کس جرات و مردانگی سے مقابلہ کیا؟ یہ ایک طویل داستان ہے جو درد ناک بھی ہے اور عبرت آموز بھی------ مگر افسوس ہے کہ یہ فرصت اس کے لیے موزوں نہیں۔

احرار تبلیغ کانفرنس

قادیان کی سنگینی توڑنے کے لیے ”احرار اسلام“ نے ۲۱‘ ۲۲‘ ۲۳ اکتوبر ۱۹۳۴ء کی تاریخوں میں ”قادیاں تبلیغ کانفرنس“ منعقد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس فیصلے کا اعلان ہونا تھا کہ قادیاں میں صف ماتم بچھ گئی۔ آقایان فرنگ کے در دولت پر دستک دی گئی کہ ”احرار“ ہمارے مقدس شہر پر چڑھائی کر رہے ہیں‘ خلیفہ محمود نے ہر وقت صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ایک محکمہ قائم کر دیا‘ ادھر میرزا محمود نے اپنے طول طویل خطبوں میں اپنی مظلومیت و بے بسی اور خوف و ہراس کا صور پھونکنا شروع کیا‘ حکومت برطانیہ کب برداشت کر سکتی تھی کہ اس کے چہیتے خاندان اور ان کی سیاسی نبوت کو کوئی آنچ آئے‘ نتیجہ ”قادیاں کے حدود میں دفعہ ۱۴۴ نافذ

صفحہ 62

کر دی گئی۔

مجبوراً ”احرار کو ”تبلیغ کانفرنس“ قادیاں کے حدود کے متصل موضع رجادہ میں منعقد کرنا پڑی‘ کانفرنس کی صدارت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے فرمائی۔ اور ہندوستان کے اطراف و اکناف سے مسلمانان ہند ”تبلیغ کانفرنس“ میں شرکت کے لیے پہنچ گئے۔ شاہ جیؒ نے اس موقعہ پر صدارتی تقریر فرمائی جو عشاء کے بعد سے شروع ہو کر اذان فجر تک جاری رہی۔ اس میں قادیانیت کا اپنے مخصوص انداز میں ایسا تجزیہ کیا کہ قادیاں میں کھلبلی مچ گئی۔ مرزائی گورنمنٹ کے دروازے پر فریاد لے کر پہنچے اور گورنمنٹ نے شاہ جیؒ پر ۱۵۳ الف کے تحت مقدمہ بنا دیا۔ مقدمہ کی سماعت دیوان سکھا آنند سپیشل مجسٹریٹ گورداسپور نے کی۔ شاہ جیؒ نے شہادت کے لیے مرزائیوں کے بڑے بڑے لوگوں کے علاوہ مرزا محمود کو بھی عدالت میں طلب کرنے کی درخواست کی‘ چنانچہ مرزا محمود کی شہادت تین دن تک جاری رہی۔ بالآخر عدالت نے شاہ جیؒ کو چھ ماہ قید بامشقت کی سزا دی‘ اس فیصلہ کے خلاف مسٹر جے‘ ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور میں اپیل کی گئی۔ مسٹر کھوسلہ نے ملزم کے جرم کو محض اصطلاحی قرار دیتے ہوئے تا برخاست عدالت سزا دی‘ اور ایک تاریخ ساز فیصلہ لکھا۔

مسٹر کھوسلہ کا فیصلہ

مرزائیوں نے ”احرار“ کی گوشمالی کے لیے شاہ جیؒ پر مقدمہ بنوایا تھا۔ لیکن خدا کی قدرت انہیں لینے کے دینے پڑ گئے۔ شاہ جیؒ کی تبلیغ کانفرنس کی تقریر سے مرزائیت کی ہوا کیا اکھڑی تھی جو اس مقدمے سے اکھڑی‘ مسٹر کھوسلہ کا یہ تاریخی فیصلہ جو قادیانیت کے لیے پیغام موت کی حیثیت رکھتا ہے طبع ہو چکا ہے۔ اس کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:

”مرافعہ گذار کے خلاف جو الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس پر غور و خوض کرنے سے قبل چند ایسے حقائق و واقعات بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے جن کا تعلق امور زیر بحث سے ہے‘

صفحہ 63

آج سے تقریباً پچاس سال قبل قادیاں کے ایک باشندے مسمی غلام احمد نے دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ اس کے اعلان کے ساتھ ہی اس نے ”لاٹ پادری“ کی حیثیت بھی اختیار کر لی اور ایک نئے فرقے کی بنا ڈالی، جس کے ارکان اگرچہ مسلمان ہونے کے مدعی تھے۔ لیکن ان کے بعض عقائد و اصول عام عقائد اسلامی سے بالکل متبائن تھے۔ اس فرقہ میں شامل ہونے والے لوگ قادیانی یا مرزائی یا احمدی کہلاتے ہیں اور ان کا مابہ الامتیاز یہ ہے کہ یہ لوگ فرقہ مرزائیہ کے بانی (میرزا غلام احمد) کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“

”مسلمانوں کی اکثریت نے مرزائیوں کی بلند بانگ دعاوی خصوصاً اس کے دینی تفوق کے دعوؤں پر بہت ناک منہ چڑھایا اور مرزا نے ان پر کفر کا الزام لگایا اسکے جواب میں ان لوگوں نے بھی سخت لہجہ اختیار کیا۔ مگر قادیانی حصار میں رہنے والے اس سے کچھ بھی متاثر نہ ہوئے۔“

”قادیانی مقابلاً محفوظ تھے۔ اس حالت نے ان میں متمردانہ غرور پیدا کر دیا۔ انہوں نے اپنے دلائل دوسروں سے منوانے اور اپنی جماعت کو ترقی دینے کے لیے ایسے حربوں کا استعمال شروع کر دیا جنہیں ناپسندیدہ کہا جائے گا۔ جن لوگوں نے قادیانیوں کی جماعت میں شامل ہونے سے انکار کیا انہیں بائیکاٹ، قادیاں سے اخراج اور بعض اوقات اس سے بھی مکروہ تر مصائب کی دھمکیاں دے کر دہشت انگیزی کی فضا پیدا کی، بلکہ بسا اوقات انہوں نے ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا کر اپنی جماعت کے استحکام کی کوشش کی، قادیاں میں رضا کاروں

صفحہ 64

کا ایک دستہ مرتب ہوا اور اس کی ترتیب کا مقصد غالباً یہ تھا کہ قادیاں میں "لمن الملک الیوم" کا نعرہ بلند کرنے کے لیے طاقت پیدا کی جائے۔"

"انہوں نے عدالتی اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لے لئے، دیوانی اور فوجداری مقدمات کی سماعت کی، دیوانی مقدمات میں ڈگریاں صادر کیں اور ان کی تعمیل کرائی گئی، کئی اشخاص کو قادیاں سے نکالا گیا۔ یہ قصہ یہیں نہیں ختم ہوتا، بلکہ قادیانیوں کے خلاف کھلے طور پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے مکانوں کو تباہ کیا، جلایا، اور قتل کے مرتکب ہوئے۔"

"کم از کم دو اشخاص کو قادیاں سے اخراج کی سزا دی گئی اس لیے کہ ان کے عقائد مرزا کے عقائد سے متفاوت تھے۔ یہ اشخاص حبیب الرحمٰن گواہ صفائی نمبر ۲۸ اور مسمی اسماعیل ہیں۔" "کئی اور گواہوں نے قادیانیوں کے تشدد و ظلم کی عجیب و غریب داستانیں بیان کی ہیں۔" بھگت سنگھ گواہ صفائی نے بیان کیا کہ قادیانیوں نے اس پر حملہ کیا۔ ایک شخص مسمی غریب شاہ کو قادیانیوں نے زد و کوب کیا۔ لیکن جب اس نے عدالت میں استغاثہ کرنا چاہا تو کوئی اس کی شہادت دینے کے لیے سامنے نہ آیا۔"

سب سے سنگین معاملہ عبدالکریم ایڈیٹر "مباہلہ" کا ہے۔ جس کی داستان، داستان درد ہے۔ یہ شخص مرزا کے مقلدین میں شامل ہوا اور قادیان میں جا کر مقیم ہو گیا وہاں اس کے دل میں شکوک پیدا ہوئے اور وہ مرزائیت سے تائب ہو گیا۔ اس کے بعد اس پر ظلم و ستم ہوا۔ اس نے قادیانی معتقدات پر تبصرہ کرنے کے لیے "مباہلہ" نامی اخبار جاری کیا۔

صفحہ 65

مرزا بشیر الدین نے ایک تقریر میں ”مباہلہ“ والوں کی موت کی پیشگوئی کی‘ اس تقریر میں ان لوگوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جو مذہب کے لیے ارتکاب قتل پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ اس تقریر کے بعد جلد ہی عبدالکریم پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ مگر وہ بچ گیا۔ لیکن اس کا ساتھی قتل کر دیا گیا۔“

(مولانا عبدالکریم کو مرزا محمود کے کیرکٹر پر اعتراض تھا‘ وہ مرزا محمود سے مطالبہ کرتے تھے کہ اگر آپ پر عائد کردہ الزامات غلط ہیں تو آئیے ”مباہلہ“ کر لیجئے۔ اخبار ”مباہلہ“ میں انہوں نے مرزا محمود کو بار بار مباہلہ کا چیلنج دیا۔ اس کے جواب میں مرزائی جماعت کی جانب سے انہیں وہ سزا دی گئی جس کا تذکرہ فاضل جج نے کیا ہے۔)

”محمد امین ایک مرزائی تھا اور جماعت مرزائیہ کا مبلغ تھا۔ اس کو تبلیغ کے لیے بخارا بھیجا گیا۔ لیکن کسی وجہ سے بعد میں اسے اس خدمت سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اس کی موت کلہاڑی کی ایک ضرب سے ہوئی جو چودھری فتح محمد گواہ صفائی نمبر ۲۱ نے لگائی۔ محمد امین پر مرزا کا عتاب نازل ہو چکا تھا۔ محمد امین تشدد کا شکار ہوا اور کلہاڑی کی ضرب سے قتل کیا گیا۔ پولیس میں وقوعہ کی اطلاع پہنچی لیکن کوئی کارروائی عمل میں نہ آئی۔ چوہدری فتح محمد کا عدالت ہذا میں باقرار صالح یہ بیان کرنا تعجب انگیز ہے کہ اس نے محمد امین کو قتل کیا مگر پولیس اس معاملہ میں کچھ نہ کر سکی‘ جس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ مرزائیوں کی طاقت اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ گواہ سامنے آ کر سچ بولنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔“

”ہمارے سامنے عبدالکریم کے مکان کا واقعہ بھی ہے کہ عبدالکریم کو قادیاں سے خارج کرنے کے بعد اس کا مکان

صفحہ 66

نذر آتش کر دیا گیا اور قادیاں کی سمال ٹاؤن کمیٹی سے حکم حاصل کر کے نیم قانونی طریقے پر اسے گرانے کی کوشش کی گئی۔“

”یہ افسوسناک واقعات اس بات کی منہ بولتی شہادت ہیں کہ قادیان میں قانون کا احترام بالکل اٹھ گیا تھا۔ آتش زنی اور قتل کے واقعات ہوئے تھے۔ مرزا نے کروڑوں مسلمانوں کو‘ جو اس کے ہم عقیدہ نہ تھے شدید دشنام طرازی کا نشانہ بنایا‘ اس کی تصانیف ایک لاٹ پادری کے اخلاق کا انوکھا مظاہرہ ہیں‘ جو صرف نبوت کا مدعی نہ تھا‘ بلکہ خدا کا برگزیدہ انسان اور مسیح ثانی ہونے کا مدعی بھی تھا۔“

”معلوم ہوتا ہے کہ حکام غیر معمولی حد تک مفلوج ہو چکے تھے۔ دینی و دنیاوی معاملات میں مرزا کے حکم کے خلاف کبھی آواز بلند نہیں ہوئی‘ مقامی افسروں کے پاس کئی مرتبہ شکایت پیش ہوئی لیکن وہ اس کے انسداد سے قاصر رہے۔ مسل پر کچھ اور شکایات بھی ہیں لیکن یہاں ان کے مضمون کا حوالہ دینا غیر ضروری ہے۔ اس مقدمہ کے سلسلہ میں صرف یہ بیان کر دینا کافی ہے کہ قادیاں میں جور و ستم رانی کا دور دورہ ہونے کے متعلق نہایت واضح الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ (حکومت کی طرف سے اس صورت حال کے انسداد کے لیے) کوئی توجہ نہ ہوئی۔ ان کارروائیوں کے سدباب کے لیے اور مسلمانوں میں زندگی کی روح پیدا کرنے کے لیے تبلیغ کانفرنس منعقد کی گئی۔“

اس کے بعد فاضل جج نے تفصیل سے مقدمہ پر بحث کی ہے۔ ان اقتباسات سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ قادیان کے غیر مرزائی افراد کس قسم کی حالت

صفحہ 67

سے دوچار تھے اور ”احرار اسلام“ نے کتنی سنگلاخ زمین میں اپنا کام شروع کیا تھا۔

مباہلہ کا چیلنج

مرزا غلام احمد قادیانی کے زمانہ سے مرزائی امت کی یہ عادت چلی آتی ہے کہ بلند بانگ دعوؤں کے ذریعہ لوگوں پر رعب جمایا جائے اور جب امتحان کا وقت آئے تو کوئی نہ کوئی حیلہ کر کے بلائے ناگہانی کو ٹالنے کی کوشش کی جائے۔ ۳۵ء میں ”احرار“ کی یورش سے تنگ آ کر مرزا محمود نے ”احرار“ کو مباہلہ کی دعوت دی‘ اپنی طرف سے شرائط مقرر کر کے اعلان کر دیا کہ ”احرار“ ہمارے ساتھ مباہلہ کی شرائط طے کر لیں ”احرار“ تو مرزا محمود کے رخ زیبا کے عاشق تھے۔ انہوں نے فی الفور اعلان کر دیا کہ ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں ہم فلاں تاریخ کو قادیان حاضر ہو جائیں گے۔ یہ خبر اخبار ”مجاہد“ میں چھپی تو مرزا محمود کے ہاتھ کے طوطے اڑ گئے۔ فوراً واویلا کیا کہ ”احرار“ شرائط مباہلہ طے کئے بغیر قادیان پر چڑھائی کرنا چاہتے ہیں ان کو روکا جائے۔ ----- احرار کا موقف یہ تھا کہ مباہلہ کی دعوت آپ نے دی ہے۔ شرائط آپ نے پیش کی ہیں ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں عائد کی گئی۔ بس ذرا آنے کی اجازت ہو جائے۔ مگر مرزا محمود صاحب تو صرف اعلان کی حد تک مباہلہ کا رعب ڈالنا چاہتے تھے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ ”احرار“ سچ مچ قادیان میں آ دھمکیں گے۔ چنانچہ پھر حکومت عالیہ کے دربار میں درخواست کی گئی کہ ” احرار“ قادیان میں فلاں تاریخ کو آنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ انہیں حکماً روکا جائے‘ حکومت نے ۱۴۴ نافذ کر دی اور مرزا صاحب کی جان میں جان آئی۔

مباہلہ کا نتیجہ

یہاں اس امر کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ ایک طرف تو حکومت کو ” احرار“ کے قادیاں آنے سے روکنے پر مجبور کیا جا رہا تھا اور دوسری طرف شیخ عبدالرحمن مصری کو (جو اس زمانہ میں مرزا محمود کے بہت بڑے معتمد تھے) احرار کو شرائط کے جال میں الجھانے کے لیے لاہور روانہ کر دیا گیا۔ ہدایت یہ تھی کہ جب

صفحہ 68

تک حکومت کا حکم ”احرار“ کو روکنے کے لیے جاری نہیں ہو جاتا، اس وقت تک شرائط کا عقدہ حل نہ ہونے دیا جائے چنانچہ جوں ہی حکومت نے ”احرار“ کے داخلہ قادیان پر پابندی عائد کی، فوراً شیخ عبدالرحمان مصری کو تار اور خط کے ذریعہ اطلاع دی گئی کہ اب ”احرار“ سے شرائط طے کرنے کی ضرورت نہیں۔ فوراً واپس چلے آؤ، اس خط اور تار کی مصدقہ نقل ہمارے پاس موجود ہے۔

لیکن اس مباہلہ کا اثر یہ ہوا کہ یہی شیخ عبدالرحمن مصری جن کو نومبر ۳۵ء میں احرار سے شرائط طے کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ ۳۷ء میں خود ہی مباہلہ کے میدان میں مرزا محمود کو چیلنج کرنے لگا اور جب مرزا صاحب اپنی صفائی پیش کرنے سے کنی کترا گئے تو اس نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا عدالت میں شیخ مصری نے جو حلفیہ بیان مرزا محمود کے بارے میں دیا وہ یہ تھا:

”موجودہ خلیفہ (مرزا محمود) سخت بدچلن ہے، یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے، اس کام کے لیے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔“

(فتح حق ص ۴۱ شائع کردہ : احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور)

شیخ مصری کا یہ بیان مذہبی تاریخ میں انوکھی مثال ہے کہ ایک مرید اپنے واجب الاطاعت خلیفہ کے بارے میں حلفیہ طور پر اپنی رائے کا اظہار عدالت میں اتنے سنگین الفاظ میں کرے۔۔۔۔۔ اگر شیخ مصری کے اس بیان کو احرار سے مباہلہ کا نتیجہ کہا جائے تو کیا یہ بے جا ہو گا؟

احرار کی تنفیذی مہم

”احرار“ کے نزدیک قادیانی، ناموس رسالت کے قزاق اور انگریز کے وفادار پالتو تھے، قادیانی نبوت، سراسر مکاری و عیاری اور دجل و تلبیس کا دام

صفحہ 69

فریب تھا۔ قادیانیوں کی حکومت کے لیے جاسوسی اور خوشامد اسلام اور مسلمانوں سے غداری کے مترادف تھی۔ اس لیے احرار کے کسی گوشہ دل میں مرزائیت اور مرزائیوں کی عزت و احترام کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ وہ قادیانیت کو کسی سنجیدہ بحث و تجزیہ کا مستحق نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے خیال میں مرزائیت، اسلام اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ایک مذاق کی حیثیت رکھتی تھی اور مرزائی جماعت ایک مسخروں کا ٹولہ تھا۔ اس لیے احرار نے علمی بحثوں سے ہٹ کر مسلمانوں کو قادیانیوں سے نفرت دلانے پر توجہ کی اور اسے اپنے مذہبی فرائض میں شامل کر لیا۔

احرار کی تنقیدی مہم کے کئی پہلو تھے۔ ان میں سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ مرزا غلام احمد اور ان کے حواریوں کے اخلاقی کردار کو ان کی کتابوں سے پیش کیا جاتا اور مسلمانوں کو توجہ دلائی جاتی کہ جن لوگوں کی یہ حالت ہو، کیا وہ نبی مسیح موعود یا مذہبی پیشوا ہو سکتے ہیں احرار جگہ جگہ جلسے کرتے اور مرزائی لٹریچر سے وہ مواد پیش کرتے جس سے مرزائیت ایک اضحوکہ بن کر رہ جائے، مرزائیوں کو شکایت ہوتی کہ ”احرار“ ان کے ”مسیح موعود“ کو گالیاں نکالتے ہیں۔ ان کے خلیفہ صاحب کی بے ادبی کرتے ہیں لیکن یہ شکایت بے جا تھی۔ احرار کا جرم اگر تھا تو یہ تھا کہ وہ مرزائی لٹریچر کے آئینے میں مرزائیت کا بھیانک چہرہ لوگوں کے سامنے پیش کر دیتے تھے۔ مثلاً ”سیرۃ المہدی میں صاحبزادہ مرزا بشیر قادیانی نے بہت سے واقعات درج کئے کہ مرزا غلام احمد نامحرم عورتوں سے ربط رکھتے تھے۔ نامحرم جوان لڑکیاں شب تنہائی میں ان کی ”خدمت“ کیا کرتی تھیں ان کے کمرہ خاص میں ان کے سامنے غیر عورتیں بلا تکلف برہنہ غسل فرمایا کرتی تھیں اور اس قسم کے بے شمار واقعات احرار بیان کرتے تو لوگ سن کر کانوں پر ہاتھ رکھ لیتے اور مرزائیوں کی طرف سے واویلا کیا جاتا کہ احرار ہمیں گالیاں دیتے ہیں۔ یہاں بطور مثال ایک ”مرزائی فتویٰ“ درج کیا جاتا ہے جس سے مرزائی ذہنیت کا انداز ہو سکے گا۔ مرزا صاحب کے خاص اخبار ”الحکم قادیاں“ شمارہ ۱۳ جلد ۱۱ مورخہ ۱۷ اپریل ۱۹۰۷ء میں ”استفسار اور ان کے جواب“ کے زیر عنوان کسی محمد حسین نامی مرزائی کے چند سوالات کا جواب

صفحہ 70

شائع ہوا۔ ان کا چھٹا سوال یہ تھا: ”سوال ششم حضرت اقدس (مرزا غلام احمد) غیر عورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں دبواتے ہیں؟“ اس کے جواب میں مرزائیوں کے مفتی صاحبان نے علم و فقاہت کے پر نوچتے ہوئے جو دل چسپ جواب دیا وہ یہ تھا:

”جواب : وہ نبی معصوم ہیں ان سے مس کرنا اور اختلاط منع نہیں۔ بلکہ موجب رحمت و برکات ہے اور یہ لوگ احکام حجاب سے مستثنیٰ ہیں۔ دیکھو سوالات دوم تا پنجم کے جوابات۔

اور تہمت زنا کا احتمال نہیں۔“

ساتواں سوال مرزا صاحب کے صاحبزادوں سے متعلق تھا کہ وہ بھی نامحرم عورتوں سے اختلاط رکھتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے:

”سوال ہفتم : حضرت کے صاحبزادے غیر عورتوں میں بلا تکلف اندر کیوں جاتے ہیں۔ کیا ان سے پردہ درست نہیں۔؟“

جواب : آپ نے اس سوال کے وقت جلدی سے کام لیا اور غور نہیں کیا کہ پردہ کرنے کی پابند عورتیں ہیں۔ یا عورتوں کے پردہ کرانے کے بھی پابند مرد ہی ہیں؟ غرض مردوں کو حکم ہے۔ یغضوا من ابصارھم ۲۴/۱۸ یعنی مرد اپنی آنکھیں نیچے رکھیں۔ اگر آپ یہ اعتراض کرتے کہ صاحبزادے غیر عورتوں کی طرف دیکھتے ہیں اور غض بصر نہیں کرتے اور اس کا کوئی ثبوت بھی آپ پیش کرتے تو اس کے جواب کی ضرورت بھی ہوتی۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے لست علیھم بمصیطر یعنی تو ان پر داروغہ نہیں کہ ان سے عمل درآمد کرا دے اور منوا دے، جب مامور کسی کا داروغہ نہیں تو کیا صاحبزادے عورتوں سے پردہ کرانے کے ذمہ دار ہیں؟ مستثنیات کے ذکر میں اور

صفحہ 71

قانون کے وجوہ اور منشا بیان کرتے ہوئے میں نے لکھ دیا ہے کہ ضرورت حجاب صرف احتمال زنا کے لیے ہے‘ جہاں ان کے وقوع کا احتمال کم ہو ان کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کر دیا ہے۔ اس واسطے انبیاء اور اتقیاء لوگ مستثنیٰ بلکہ بطریق اولے مستثنیٰ ہیں۔ پس حضرت کے صاحبزادے اللہ تعالیٰ کے فضل سے متقی ہیں۔ ان سے اگر حجاب نہ کریں تو اعتراض کی بات نہیں۔“

(الحکم ۱۷ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۳)

اس سوال اور جواب کو بار بار پڑھئے‘ قادیانی مفتی یہ تسلیم کرتا ہے کہ حضرت صاحب نامحرم عورتوں سے ہاتھ پاؤں دبوانے کی خدمت لیا کرتے تھے اور ان کے صاحبزادگان گرامی قدر بھی ”بلاکلف“ نامحرم عورتوں کے مجمع میں تشریف لے جانے کے خوگر تھے۔ مگر مرزائی مفتی کی منطق یہ ہے کہ وہ چونکہ نبی اور نبی زادے ہیں اس لیے پردہ کا حکم الٰہی ان پر لاگو نہیں ہوتا۔ حکم احکام یہ تو امتیوں کے لیے ہیں۔ قادیان کا خانوادہ نبوت تو اتنا مقدس ہے کہ غیر محرم عورتیں اس سے جس قدر مس و اختلاط زیادہ کریں گی اتنی ہی رحمتیں اور برکتیں ان پر نازل ہوں گی لاحول ولا قوة الا باللہ۔

اب غور فرمائیے کیا یہ فتویٰ اور یہ منطق سنجیدہ بحث و نظر کی مستحق ہے؟ یہ صرف ایک مثال عرض کی گئی ہے۔ ورنہ قادیانی لٹریچر اس قسم کے ہزلیات و ہفوات کے تعفن سے بھرا ہوا ہے۔ جس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جب تک مرزائی حلقوں تک محدود رہے تب تک وہ ”اسرار و معارف“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور جب اسے پبلک اسٹیج پر پیش کیا جائے تو یکایک وہ گالی بن جاتا ہے چنانچہ احرار جب اپنی تقریر میں ان قادیانی ”اسرار و معارف“ کو پیش کرتے تو مرزائی چلا اٹھتے کہ ہمیں گندی گالیاں دی جا رہی ہیں۔ کاش! ان بھلے لوگوں سے کوئی کہتا کہ اگر تمہارے لٹریچر کا مواد پیش کر دینا ہی ”گندی گالی“ ہے تو اس میں مجرم ”احرار“ ہیں یا تمہارے حضرت صاحب؟ حاصل یہ کہ احرار نے مرزائیوں کے خلاف اس قدر

صفحہ 72

نفرت پھیلائی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ البیلے قصے گلی گلی پہنچ گئے۔ اور مرزائی کا لفظ خود مرزائیوں کے نزدیک بھی واقعہ ”گالی بن کر رہ گیا۔۔۔۔ قادیانیوں سے یہ عمومی نفرت نہ سنجیدہ مقالات سے پیدا ہو سکتی تھی۔ نہ عالمانہ بحثوں سے‘ نہ دارالافتا کے فتووں سے۔۔۔۔۔

احرار کے تعمیری کارنامہ کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ مرزائیوں کی انگریز پرستی اور اسلام دشمنی کو اس انداز سے بیان کرتے کہ انگریز اور قادیانی بیک وقت دونوں تلملا اٹھتے‘ مرزائیوں کی تاریخ کا سب سے بدترین باب یہ ہے کہ اس نے ایک طرف تمام عالم اسلام کو کافر گردانا‘ اور دوسری طرف ہر ایسے موقعہ پر جہاں اسلام اور انگریز کے مفاد کے درمیان ٹکراؤ ہوا وہاں اسلام کے بجائے کافر افرنگ سے وفاداری کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔۔ ترکی خلافت کو تاخت و تاراج کیا جا رہا تھا۔ پورا عالم اسلام خون کے آنسو رو رہا تھا۔ لیکن مرزائی ٹولہ بڑی ڈھٹائی سے انگریز کی مدح و ستائش اور مسلمانوں کی مذمت میں مشغول تھا۔ جسٹس منیر نے اپنی مرزائیت نوازی کے باوجود یہ تسلیم کیا ہے کہ :

”غیر احمدیوں کو تحریک احمدیہ کے بانی اور اس کے لیڈروں کے خلاف جو بڑی بڑی شکایات تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ وہ انگریزوں کے ”ذلیل خوشامدی“ ہیں۔

”جب انہوں نے (مرزا غلام احمد) عقیدہ جہاد کی تاویل میں ” مہربان انگریزی گورنمنٹ“ اور اس کی مذہبی رواداری کی تعریف نہایت خوشامدانہ لہجے میں کرنی شروع کی تو اس تاویل پر چند در چند شبہات پیدا ہونے لگے پھر جب مرزا صاحب نے ممالک اسلامی کی عدم رواداری اور انگریزوں کی فراخ دلانہ مذہبی پالیسی کا موازنہ و مقابلہ توہین آمیز انداز میں کیا تو مسلمانوں کا غیض و غضب اور بھی زیادہ مشتعل ہو گیا۔ احمدی جانتے تھے کہ ان کے عقائد دوسرے مسلم ممالک میں اشاعت

صفحہ 73

ارتداد پر محمول کئے جائیں گے اور ان کا یہ خیال اس وقت اور بھی پختہ ہو گیا جب افغانستان میں عبداللطیف (احمدی) کو سنگسار کیا گیا۔ جب پہلی جنگ عظیم میں (جس میں ترکوں کو شکست ہو گئی تھی) بغداد پر ۱۹۱۸ء میں انگریزوں کا قبضہ ہو گیا اور قادیاں میں اس ”فتح“ پر جشن مسرت منایا گیا تو مسلمانوں میں برہمی پیدا ہوئی اور احمدی انگریزوں کے پٹھو سمجھے جانے لگے۔“ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت ۲۰۸)

احرار جنگ آزادی کے مجاہد تھے وہ اپنے دین و مذہب اور قوم و وطن کی آزادی کے لئے انگریزی حکومت کی آہنی دیوار سے ٹکرا رہے تھے۔ اس لیے مرزائیت سے نفرت کرنا اور نفرت دلانا احرار کے رگ و ریشہ میں سرایت کئے ہوئے تھا۔ احرار کا کوئی جلسہ اور ان کی کوئی تقریر اس سے خالی نہیں رہ سکتی تھی۔ احرار نے انگریز کی خوشامد پر اس شدت سے نفرت و بیزاری کا اظہار کیا کہ خود قادیانیوں کو اپنی روش سے نفرت ہونے لگی۔ کسی زمانہ میں وہ بڑے فخر سے انگریز پرستی کو اپنا زریں کارنامہ قرار دیتے تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی انگریز کی خوشامد اور وفاداری کو اپنا خاندانی پیشہ ظاہر کیا کرتا تھا۔ لیکن احرار کی یلغار کے بعد انہیں انگریز پرست کا لفظ گالی نظر آنے لگا۔ مرزائیوں کے بس میں ہوتا تو مرزا غلام احمد کی وہ تمام کتابیں دفن کر دیتے جن میں انگریز کی گھٹیا خوشامد درج ہے اور جن میں ملکہ برطانیہ کو ”خدا کا نور“ قرار دیا گیا ہے۔

اقلیت قرار دینے کا مطالبہ

قادیانی اپنے عقائد و نظریات کے لحاظ سے کسی وقت بھی مسلمانوں کی صف میں شمار نہیں کئے گئے۔ لیکن انگریزی سیاست انہیں مسلمانوں میں شامل رکھنے پر بضد تھے۔ مسلمانوں کی جانب سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ سب سے پہلے علامہ اقبال مرحوم نے اٹھایا۔ اس کے بعد احرار نے اس کو مستقل مشن بنا لیا۔ مرزا غلام احمد اور مرزائی جماعت کی کفریات کو پیش کر کے انہیں

صفحہ 74

مسلمانوں سے جداگانہ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ تقریباً ہر بڑے جلسے میں کیا جاتا۔ اگرچہ تقسیم سے پہلے اور قیام پاکستان کے بعد بھی (۱۹۷۴ء تک) ارباب اقتدار نے احرار کے اس مطالبہ کو درخور اعتناء نہ سمجھا۔ لیکن اس مطالبہ کو بار بار دہرانے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ مسلمانوں کے ذہن میں یہ مطالبہ راسخ ہوتا چلا گیا اور عملی طور پر عام مسلمانوں نے قادیانیوں کو کبھی اپنی صف میں جگہ نہیں دی۔

مرزائیوں کے خلاف احرار کی مہم کا ایک پہلو یہ تھا کہ الیکشن میں کسی مرزائی کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے۔ مرزائی مسلمانوں کی سیٹ پر مسلمانوں کے نمائندوں کی حیثیت سے کھڑے ہوتے اور ارباب اقتدار کے ساتھ اپنے غیر معمولی اثر و رسوخ اور زر و دولت کے بل بوتے پر کامیاب ہونے کی کوشش کرتے۔ لیکن احرار کو جہاں پتہ چل جاتا کہ فلاں سیٹ پر مرزائی امیدوار مسلمانوں کے ووٹ سے آگے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ فوراً وہاں پہنچ جاتے اور پوری قوت سے مرزائیوں کی مزاحمت کرتے۔ اکثر و بیشتر مرزائیوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس محاذ پر صرف "احرار" نے کام کیا----- میں اس عنوان کو مسٹر جسٹس منیر کے ایک اقتباس پر ختم کرتا ہوں۔ موصوف لکھتے ہیں:

"احرار کی بڑی بڑی سرگرمیوں میں ایک یہ تھی کہ وہ کسی نہ کسی شکل میں احمدیوں کی مخالفت کرتے رہتے تھے۔ یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ احرار کی پیدائش ہی احمدیوں کی نفرت سے ہوئی ہے۔ ابھی مجلس احرار کی تاسیس پر دو ہی سال گزرے تھے کہ انہوں نے ایک قرار داد منظور کی جس کا منشا یہ تھا کہ کوئی قادیانی کسی مجلس عاملہ کا ممبر منتخب نہ کیا جائے۔ قادیاں تقسیم سے پہلے تقریباً خالص احمدی قصبہ تھا۔ ۱۹۳۴ء میں احرار نے قادیاں میں ایک کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔ لیکن جب اس جلسے کو ممنوع قرار دیا گیا تو انہوں نے اسی سال ۲۱ اکتوبر کو قادیاں سے صرف ایک میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں

صفحہ 75

بٹالہ کے دیانند اینگلو ویدک ہائی سکول کی گراؤنڈ میں کانفرنس منعقد کر لی جس میں حاضرین کی تعداد ہزاروں تک تھی۔ اس کانفرنس میں احرار کے مقبول عام خطیب سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے احمدیوں کے خلاف پانچ گھنٹے کی ایک نفرت آمیز تقریر کی جس میں انہوں نے ایسی باتیں کہیں جن سے صرف یہ مقصود تھا کہ سننے والوں کے دلوں میں احمدیوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑک اٹھے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں امن و امان کے دعاوی کے ساتھ نہایت پست قسم کی دشنام طرازی اور مسخرگی (۱) سے کام لیا۔ اس تقریر کی بناء پر بخاریؒ کے خلاف مقدمہ چلایا گیا جس کی سماعت کے دوران اتنی سنسنی پیدا ہوئی اور احمدیوں کے خلاف جذبات اتنے برانگیختہ ہوئے کہ خود تقریر سے بھی نہ ہوئے ہوں گے۔ (۲) اس مقدمے میں بخاریؒ کو سزا دی گئی۔ وہ دن اور یہ رات۔ ہر قابل ذکر احراری مقرر‘ احمدیوں‘ ان کے راہ نماؤں اور ان کے عقیدوں کے خلاف ہر قسم کی باتیں کہتا رہا ہے۔ (تحقیقاتی رپورٹ صفحہ ۱۱)

(۱) جسٹس صاحب کو غلط فہمی ہوئی ہے‘ قادیانی کتابوں کے حوالوں کو وہ ”پست قسم کی دشنام طرازی اور مسخرگی“ سے تعبیر فرما رہے ہیں جو شخص ناموس رسالت کے ساتھ مسخرہ پن کا مظاہرہ کرے وہ مسلمانوں کے نزدیک تو اسی کا مستحق ہے۔)

(۲) گویا شاعر کی زبان میں:

نہ تم صدمے ہمیں دیتے‘ نہ ہم فریاد یوں کرتے
نہ کھلتے راز سربستہ‘ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں۔

آخر اس میں غریب بخاریؒ کا یا احرار کا کیا قصور تھا؟

جسٹس منیر صاحب نے اور بھی بیسیوں جگہ قادیانیت کی مخالفت پر ”احرار

صفحہ 76

اسلام" کو "خراج تحسین" پیش کیا ہے اور احرار رہنماؤں میں سے ایک ایک کا نام لے کر بھی ریمارکس دیئے ہیں۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:

"پہلا شخص جس نے خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم کی توجہ قادیانی تحریک کی سنگینی کی طرف مبذول کرائی وہ قاضی احسان احمد شجاع آبادی تھا۔ قادیانیت کی مخالفت اس شخص کی زندگی کا واحد مقصد معلوم ہوتا ہے اور وہ جہاں کہیں جاتا اپنے ساتھ ایک بڑا چوبی صندوق لے جاتا ہے جس میں احمدیوں کا اور احمدیوں کے خلاف لٹریچر بھرا ہوتا۔ زیادہ اہم سیاسی واقعات کا ذکر تو درکنار؟ پاکستان یا کسی اور شخص کو کوئی آفت پیش آ جائے۔ کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہو جائے۔ قائد ملت قتل کر دیئے جائیں یا ہوائی جہاز گر پڑیں قاضی احسان احمد شجاع آبادی کے نزدیک وہ ہمیشہ احمدیوں کی سازش ہی کا نتیجہ ہوتا

ہے۔" (تحقیقاتی رپورٹ ص ۱۲۷)

ہم اس پر صرف اتنا اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ نظریہ صرف قاضی صاحب مرحوم کا نہیں تھا۔ بلکہ تمام احرار کا تھا اور اب پاکستان اور عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کا ہے۔

قادیاں سے ربوہ تک

مختصر یہ کہ ان اکابر کی قیادت میں امیر شریعت مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ اور "مجلس احرار اسلام" کے سرفروشوں نے اپنی شعلہ بار خطابت کے ذریعے انگریز اور انگریز کی ساختہ پرداختہ قادیانی نبوت کے خرمن امن کو پھونک ڈالا۔ تاآنکہ ۱۹۴۷ء میں انگریزی اقتدار رخت سفر باندھ کر رخصت ہوا تو برصغیر کی تقسیم ہوئی اور پاکستان منصہ وجود پر جلوہ گر ہوا۔ اس تقسیم کے نتیجہ میں قادیانی نبوت کا منبع خشک ہو گیا اور قادیان کی منحوس بستی دار الکفر اور دار الحرب

صفحہ 77

ہندوستان کے حصہ میں آئی۔

قادیانی خلیفہ اپنی ”ارض حرم“ اور ”مکہ المسیح“ (قادیاں) سے برقعہ پہن کر فرار ہوا۔ اور پاکستان میں ربوہ کے نام سے نیا دارالکفر تعمیر کرنے کے بعد شاہسوار نبوت کی ترکتازیاں دکھانے اور پورے ملک کو مرتد کرنے کا اعلان کرنے لگا۔

قیام پاکستان کے بعد

قادیانیوں کو یہ غلط فہمی تھی کہ پاکستان کے ارباب اقتدار پر ان کا تسلط ہے۔ ملک کے کلیدی مناصب ان کے قبضے میں ہیں پاکستان کا وزیر خارجہ ظفر اللہ خاں خلیفہ قادیاں (حال ربوہ) کا ادنیٰ مرید ہے اس لیے پاکستان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا جعلی سکہ رائج کرنے میں انہیں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔ ان کی امید افزائی کا خاص پہلو یہ بھی تھا کہ ”احرار اسلام“ کا قافلہ تقسیم ملک کی وجہ سے لٹ چکا تھا۔ تنظیم اور تنظیمی وسائل کا فقدان تھا اور پھر ”احرار اسلام“ ناخدا یان پاکستان کے دربار میں معتوب تھے۔ اس لیے قادیانیوں کو غرہ تھا کہ اب حریم نبوت کی پاسبانی کے فرائض انجام دینے کی کسی کو ہمت نہیں ہو گی لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ حفاظت دین اور ”تحفظ ختم نبوت“ کا کام انسان نہیں کرتے خدا کرتا ہے اور وہ اس کام کے لیے خود ہی رجال کار بھی پیدا فرما دیتا ہے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت

امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کے رفقاء قادیانیوں کے عزائم سے بے خبر نہیں تھے۔ چنانچہ جدید حالات میں قادیانیت کے خلاف کام کرنے کا لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے ملتان کی ایک چھوٹی سی مسجد ”مسجد سراجاں“ (۱۹۴۹ء) میں ایک مجلس مشاورت ہوئی۔ جس میں امیر شریعتؒ کے علاوہ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مولانا عبد الرحمن میانویؒ، مولانا تاج محمود لائل پوریؒ اور مولانا محمد شریف

صفحہ 78

جالندھریؒ شریک ہوئے۔ غور و فکر کے بعد ایک غیرسیاسی تبلیغی تنظیم ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی بنیاد رکھی گئی اور اس کا ابتدائی میزانیہ ایک روپیہ یومیہ تجویز کیا گیا۔ چنانچہ صدر المبلغین کی حیثیت سے فاتح قادیاں حضرت مولانا محمد حیات صاحب رحمتہ اللہ علیہ جو قادیاں میں شعبہ تبلیغ احرار اسلام کے صدر تھے ملتان طلب کیا گیا۔ ان دنوں مسجد سراجاں ملتان کا چھوٹا سا حجرہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی دفتر تھا۔ وہی دارالمبلغین تھا۔ وہی دارالاقامہ تھا وہی مشاورت گاہ تھی اور یہی چھوٹی سی مسجد اس عالمی تحریک ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا ابتدائی کنٹرول آفس تھا۔ شہید اسلام حضرت زید رضی اللہ عنہ کے بقول

واذلک فی ذات الالہ وان یشاء یبارک علی اوصال شلو
ممزع

حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس نحیف و ضعیف تحریک میں ایسی برکت ڈالی کہ آج اس کی شاخیں اقطار عالم میں پھیل چکی ہیں اور اس کا مجموعی میزانیہ لاکھوں سے متجاوز ہے۔

قیادت باسعادت

”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کو یہ سعادت ہمیشہ حاصل رہی ہے کہ اکابر اولیاء اللہ کی قیادت و سرپرستی اور دعائیں اسے حاصل رہی ہیں حضرت اقدس رائے پوریؒ آخری دم تک اس تحریک کے قائد و سرپرست رہے۔ ان کے وصال کے بعد حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا عبداللہ درخواستیؒ اور حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ خانقاہ سراجیہ کندیاں، اس کے سرپرست ہیں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے بانی اور امیر اول امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ تھے۔ امیر شریعتؒ کی وفات ۱۹۶۱ء میں ہوئی اور خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ ان کے جانشین مقرر ہوئے ان کے وصال کے بعد حضرت مجاہد ملت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ کو امارت سپرد کی گئی۔ ان کے

صفحہ 79

وصال کے بعد مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر امیر مجلس ہوئے۔ مولانا لال حسین اختر کے بعد عارضی طور پر فاتح قادیاں حضرت مولانا محمد حیات صاحبؒ کو مسند امارت تفویض ہوئی مگر اپنے ضعف و عوارض کی بنا پر انہوں نے اس گراں باری سے معذرت کا اظہار فرمایا۔ یہ ایک ایسا بحران تھا کہ جس سے اس عظیم الشان تحریک کی پیش قدمی رک جانے کا اندیشہ لاحق ہو گیا تھا۔ لیکن حق تعالیٰ شانہ کا وعدہ حفاظت دین یکایک ایک ایسی ہستی کو اس منصب عالی کے لیے کھینچ لایا جو اپنے اسلاف کے علوم و روایات کی امین تھی اور جس پر ملت اسلامیہ کو بجا طور پر فخر حاصل تھا۔ میری مراد شیخ الاسلام حضرت علامہ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ سے ہے۔

تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت، امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی وراثت و امانت تھی اور اس کا اہل علوم انوری کے وارث حضرت شیخ بنوری سے بہتر اور کون ہو سکتا تھا؟ چنانچہ حضرت امیر شریعت قدس سرہ کی امارت خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد رحمۃ اللہ کی خطابت، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ نور اللہ مرقدہ کی ذہانت مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ کی رفاقت، حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی بلندی عزم نے نہ صرف مجلس تحفظ ختم نبوت کی عزت و شہرت کو چار چاند لگائے بلکہ ان حضرات کی قیادت نے قصر قادیانی پر اتنی ضرب کاری لگائی کہ قادیانی تحریک کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت پر کذب و افترا کی آہنی مہر لگ گئی۔

غیر سیاسی جماعت

”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا مقصد تاسیس، عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت اور امت مسلمہ کو قادیانی الحاد سے بچانا تھا۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ جماعت خار زار سیاست میں الجھ کر نہ رہ جائے چنانچہ جماعت کے دستور میں تصریح کر دی گئی کہ جماعت کے ذمہ دار ارکان سیاسی معرکوں میں حصہ نہیں لیں گے۔ کیوں کہ سیاسی میدان میں کام کرنے کے لیے دوسرے حضرات موجود ہیں۔ اس لیے ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا دائرہ عمل دعوت و ارشاد، اصلاح و تبلیغ اور رد قادیانیت تک

صفحہ 80

محدود رہے گا۔ اس فیصلے سے دو فائدے متصور تھے۔ ایک یہ کہ ”جماعت تحفظ ختم نبوت“ کا پلیٹ فارم تمام مسلمانوں کا اجتماعی پلیٹ فارم رہے گا اور عقیدہ ختم نبوت کا جذبہ اہل اسلام کے اتحاد و اتفاق اور ان کے باہمی ربط تعلق کا بہترین ذریعہ ثابت ہو گا۔ دوم یہ کہ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا ارباب اقتدار سے یا کسی اور سیاسی جماعت سے تصادم نہیں ہو گا۔ اور امت مسلمہ کا اجتماعی عقیدہ ختم نبوت اطفال سیاست کا کھلونا بننے سے محفوظ رہے گا۔

مشکلات و موانع

حق تعالیٰ نے اس کمزور ترین جماعت کو جن دینی خدمات سے سرفراز فرمایا ان کی تفصیل معلوم کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ان مشکلات کا ابھی ایک نظر مطالعہ کیا جائے جو اس کے راستہ میں کوہ گراں کی طرح حائل رہیں۔

قیام پاکستان کے بعد اس نوزائیدہ مملکت میں قادیانی مرتدین کا اثر و رسوخ خوفناک حد تک بڑھ گیا تھا‘ مسٹر ظفر اللہ خاں قادیانی پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ اور ملکی پالیسی کے خالق تھے۔ مسٹر ایم ایم احمد سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ فوج‘ پولیس‘ عدلیہ‘ انتظامیہ اور قانون سروس کے اہم اور متحرک ترین کلیدی مناصب پر چن چن کر قادیانی افراد کو مقرر کیا گیا۔ یہ تمام لوگ جن کے ہاتھوں میں ملک کے نظم و نسق کی کلید تھی خلیفہ ربوہ کے مرید و مطیع تھے ان کا ہر اقدام خلیفہ کے اشارہ چشم و ابرو کا رہین منت تھا۔ گویا قادیانی خلیفہ صرف اپنی ”مرتد جماعت“ کا ہی امیر المومنین نہیں تھا۔ بلکہ اپنے مریدوں کی وساطت سے نظم مملکت میں براہ راست د خیل تھا اور مسلمانوں پر خلافت و حکمرانی کر رہا تھا اور ملک کی قسمت کے فیصلے ” ربوہ“ کے ”دارالندوہ“ میں کئے جاتے تھے۔

ان حالات میں خلیفہ قادیانی کے باپ مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کے خلاف لب کشائی کی اجازت کیوں کر ہو سکتی تھی؟ یہی وجہ ہے کہ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے کارکنوں کی زبان بندی‘ نظربندی اور پابندی روز کا معمول بن چکی تھی۔ ان جرم نا آشناؤں کا ”جرم بے گناہی“ یہ تھا کہ کذاب قادیاں مرزا غلام احمد

صفحہ 81

کی نبوت کو غلط اور اس جھوٹی نبوت کے پرستاروں کو ”کافر“ کہنے کی ”غلطی“ کیوں کی جاتی ہے۔ ختم نبوت کے مجاہدین کہیں قادیاں کی ہزلیاتی نبوت پر لب کشائی کرتے قانون فوراً وہاں ہتھکڑی لے کر پہنچ جاتا۔ گرفتاری، مقدمہ، پیشی، سزا اور بالاخر جیل مجاہدین ختم نبوت کا تحفہ تھا جو انہیں قادیانی گماشتوں کی جانب سے عطا کیا جاتا۔ بلامبالغہ ایک ایک کارکن پر بیس بیس مقدموں کا تانتا بندھا رہتا اور پھر یہ غیر مختتم سلسلہ کہیں تھمنے کا نام نہ لیتا۔ اس جبر و تشدد اور ان ستم رانیوں کے باوجود مجاہدین ختم نبوت نے ہمت نہ ہاری بلکہ ان کے کیف و سرمستی میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا اور جور و ستم کے طوفان، قید و سلاسل کا خوف اور دار و رسن کے اندیشے ان کا راستہ نہ روک سکے۔ بلکہ اس سنگلاخ زمیں میں بھی ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے آہنی عزم جوانمردوں نے سفر جاری رکھا۔ اس کسمپرسی و بے بضاعتی کے عالم میں ” مجلس تحفظ ختم نبوت“ نے جن شعبوں میں کام کیا ان کا مختصر جائزہ پیش خدمت ہے۔

شعبہ تبلیغ

”مجلس تحفظ ختم نبوت“ نے ملک میں ایسا مخصوص تبلیغی نظام رائج کیا جو اپنی نوعیت کا منفرد ”تبلیغی نظام“ ہے۔ مجلس نے تدریجاً ایسے مبلغین کی مضبوط جماعت تیار کی جو ہر علاقہ میں بلا معاوضہ دعوت و تبلیغ کا کام انجام دیں اور ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ ان کے مصارف کی کفیل ہو۔

ملک کے کسی حصے میں دعوت و تبلیغ اور رد قادیانیت کی ضرورت ہو مجلس کے مرکزی دفتر کو ایک کارڈ لکھ کر وقت طے کر لیجئے۔ مجلس کا مبلغ ٹھیک وقت پر وہاں پہنچ جائے گا۔ داعی اگر کچھ خدمت کرے تو وہ مجلس کے بیت المال میں جمع کر دیا جائے گا۔

اس نظام تبلیغ کا یہ فائدہ ہوا کہ لاہور سے کوئٹہ اور کراچی سے پشاور تک ہر طرف سے ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کو جلسوں کی دعوتیں آنے لگیں۔ مبلغین کو ختم نبوت اور رد قادیانیت پر اظہار خیال کرنے کے لیے وسیع میدان ہاتھ آیا اور انہوں نے ملک کے چپے چپے اور قریہ قریہ میں ختم نبوت کی تبلیغ کی۔

صفحہ 82

مجلس کے تبلیغی اثرات کا اندازہ صرف ایک معمولی سے واقعہ سے کیا جا سکتا ہے کہ ربوہ کی گرمی سے گھبرا کر قادیانی خلیفہ نے اپنے گرمائی ہیڈ کوارٹر کے لیے ضلع سرگودھا کے ایک سرد مقام وادی سون کو منتخب کیا اور ”انحلہ“ کے نام سے وہاں ایک قادیانی مرکز تعمیر کیا گیا۔ پانی کے لیے ٹیوب ویل اور بجلی پیدا کرنے کے لیے ایک اعلیٰ درجہ کا جنریٹر لگایا گیا۔ قادیانی خلیفہ اور اس کے حواریوں کے لیے نفیس ترین بنگلے تعمیر کئے گئے۔ ختم نبوت کے کارکنوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز کو اطلاع کی‘ مرکز نے ”انحلہ“ کے متصل موضع ”جابہ“ میں ایک ”ختم نبوت کانفرنس“ منعقد کرانے کا اعلان کرایا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ امیر شریعتؒ نے اس علاقہ کے مسلمانوں کو فتنہ قادیانیت کے خدوخال سے آگاہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آئندہ قادیانی مرتدین کو ”انحلہ“ جانے کی ہمت نہ ہوئی آج ” انحلہ“ کی ویرانی کانھم اعجاز نخل خاویۃ کی شکل میں اپنے بانیوں کا ماتم کر رہی ہے۔

ختم نبوت چنیوٹ کانفرنس اور جابہ کانفرنس

”مجلس تحفظ ختم نبوت“ نے اپنے تبلیغی نظام کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک خاص انتظام یہ کیا کہ جن علاقوں میں قادیانیوں کا زور تھا وہاں خود اپنے مصارف سے جلسے اور کانفرنسیں منعقد کرنے کا اہتمام کیا اور قادیانیوں کو خود ان کے علاقوں میں للکارا‘ اس قسم کی بے شمار کانفرنسیں منعقد کی گئیں ان میں ”چنیوٹ ختم نبوت کانفرنس“ اور ”جابہ ختم نبوت کانفرنس“ کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی چونکہ مسیحیت کا مدعی اور جدید عیسائیت کا بانی تھا۔ اس لیے عیسائیوں کے تہوار کے دنوں میں ۲۵‘ ۲۶‘ ۲۷ دسمبر کو ان کی جماعت کا جلسہ ارتداد حج کے نام سے تقسیم سے قبل مرکز کفر قادیاں میں ہوتا تھا اور تقسیم کے بعد نئے مرکز ارتداد ربوہ میں ہونے لگا۔ اس لیے قادیانیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی جانب سے ختم نبوت کانفرنس ان ہی تاریخوں میں پہلے قادیان میں ہوتی تھی اور اب ربوہ کے متصل چنیوٹ (اور اب مسلم کالونی ربوہ) میں ہوتی ہے۔ اس عظیم الشان

صفحہ 83

کانفرنس کا انتظام ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی طرف سے کیا جاتا ہے جس میں تمام اسلامی مکتب فکر کے نمائندے شریک ہو کر قادیانی کفر کی تردید کرتے ہیں۔ اسی طرح ”اٹک“ کے قریب موضع ”جابہ“ میں بھی ہر سال باقاعدگی سے ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوتی ہے اور وہاں جماعت کا دفتر اور مدرسہ بھی کام کر رہا ہے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذیلی مراکز

تحریک ختم نبوت کی دعوت کو مزید وسعت دینے کے لیے ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی جانب سے ایک خاص اہتمام کیا گیا کہ ہر بڑے شہر میں جماعت کا دفتر قائم کر کے وہاں دیگر عملہ کے علاوہ ایک ایسے عالم کو مبلغ کی حیثیت سے مقرر کیا گیا جو قادیانیت کے اسرار و رموز پر ماہرانہ دسترس رکھتا ہو تاکہ مسلمانوں کا رابطہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ قوی اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہو اور قادیانیوں کی مرتدانہ سرگرمیوں پر ہر لمحہ کڑی نگاہ رکھی جاسکے۔ یہ کام خاصا مشکل تھا لیکن بحمد اللہ جماعت کو اس میں بڑی کامیابی ہوئی۔ اب خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجلس تحفظ ختم نبوت کی ذیلی شاخیں چھوٹے چھوٹے قصبات میں بھی موجود ہیں اور جماعت کے ضلعی دفاتر ان کا نظم و نسق چلا رہے ہیں۔ یہی انتظام بیرونی ممالک میں بھی کیا گیا ہے۔ اور ان تمام ممالک میں جہاں قادیانی ارتداد کا فتنہ موجود ہے۔ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے مراکز قائم کر دیئے گئے ہیں۔ اور اب تک قریباً ایک درجن ممالک میں جماعت کی شاخیں قائم ہو چکی ہیں۔

مرکزی دارالمبلغین

”جماعت تحفظ ختم نبوت“ کے پیش نظر ایک اہم ترین فریضہ دینی و دنیاوی علوم کے ماہر نوجوانوں کو قادیانیت کی تعلیم دی جائے تاکہ انہیں قادیانیوں سے گفتگو کرنے کا موقع ملے تو وہ پوری طرح بصیرت اور شرح صدر کے ساتھ قادیانیوں سے بحث و گفتگو کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر میں ایک دارالمبلغین قائم ہوا اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے دو صورتیں تجویز

صفحہ 84

کی گئیں اول وہ نوجوان جو اس کے لیے کافی وقت نہیں دے سکتے انہیں تعطیلات کے زمانے میں دارالمبلغین میں رکھا جائے اور ان کی رہائش و دیگر اخراجات کا انتظام جماعت کی جانب سے کیا جائے۔ دوم یہ کہ جو حضرات اس کے لیے معتدبہ وقت دے سکیں انہیں مجلس تحفظ ختم نبوت کے رفیق کی حیثیت سے باقاعدہ وظیفہ دیا جائے اور قادیانیت کے مقابلہ میں اسلحہ سے پوری طرح مسلح کیا جائے۔

اس کے علاوہ ایک خصوصی انتظام یہ کیا گیا کہ ملک کے بڑے بڑے دینی مدارس میں دارالمبلغین کے نمائندے کچھ مدت قیام کریں اور فارغ التحصیل یا منتہی طلبہ کو رد قادیانیت کی تربیت دی جائے۔ بحمداللہ مبلغین کے اس تربیتی نظام کے تحت ہر سال مبلغین کی ایک ایسی جماعت تیار ہو جاتی ہے جو اپنی اپنی جگہ تبلیغ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے فرائض انجام دیتی ہے اب تک ہزاروں کی تعداد میں ایسے مبلغین تیار ہو چکے ہیں جن میں سے بعض حضرات بیرونی ممالک میں بھی کام کر رہے ہیں۔ حال ہی (۱۹۷۵ء) میں مرکزی جماعت کے رہنما مولانا عبدالرحیم اشعر اور مولانا اللہ وسایا المجلس الاعلیٰ لشؤن الاسلامیہ کے صدر حسین البطنی کی دعوت پر انڈونیشیا تشریف لے گئے اور معہد الاسلامی اور دیگر اداروں کے طلبا کو قادیانیت پر تیاری مکمل کرائی۔

مناظرے اور مباحثے

قادیانی مرتدین مناظروں اور مباحثوں کے مریض ہیں۔ ایک زمانے میں وہ ہندو پاک میں ہر جگہ بھولے بھالے مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر ان سے ”حیات و وفات مسیح“ اور ”اجرائے نبوت“ کے موضوع پر بحث چھیڑ لیا کرتے تھے۔ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کو قادیانی مرتدین کی اس جارحیت کا نوٹس لینا ضروری تھا۔ چنانچہ ختم نبوت کے مبلغین کو سینکڑوں مرتبہ قادیانیوں سے گفتگو اور مناظرہ و مباحثہ کی نوبت آئی۔ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہر جگہ مرتدین کو ذلت آمیز شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اور قادیانی ٹولہ، مجلس کے مبلغین سے اس قدر زچ ہوا کہ قادیانی خلیفہ کو باقاعدہ اعلان کرنا پڑا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے کسی مبلغ سے مناظرہ نہ کیا جائے۔

صفحہ 85

بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر کو اطلاع ہوئی کہ فلاں جگہ مرتدین، مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ جماعت کا فاضل مبلغ کتابوں کا صندوق لے کر سینکڑوں میل کی مسافت طے کر کے وہاں پہنچا تو قادیانی مرتدین نے وہاں سے راہ فرار اختیار کرنے کو سب سے بڑی فتح سمجھا۔ پورے ملک کے لیے " مجلس تحفظ ختم نبوت" کا اعلان تھا (اور اب یہ اعلان پوری دنیا کے لیے ہے) کہ کسی جگہ بھی قادیانی مرتدین مسلمانوں کو پریشان کر رہے ہوں تو مجلس کے مرکزی دفتر کو "مجلس تحفظ ختم نبوت" حضوری باغ روڈ ملتان پاکستان کے پتہ پر ایک اطلاع نامہ لکھ دیجئے۔ ختم نبوت کے مجاہدین انشاء اللہ فوراً اس محاذ پر بھیج دیئے جائیں گے۔ اور قادیانی مرتدین سے نمٹ لیں گے انشاء اللہ۔

مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری صاحبؒ یہ واقعہ سنایا کرتے تھے کہ کسی سفر میں وہ اسٹیشن پر ایسے وقت پر پہنچے کہ ریل کے آنے میں کچھ وقت تھا۔ غور کیا کہ اس مختصر سے فارغ وقت کو کیسے کام میں لایا جائے، چائے کے اسٹال پر گئے چائے نوش کی، پیسے ادا کئے اور چائے والے سے کہا۔ میرا نام محمد علی جالندھری ہے میں "مجلس تحفظ ختم نبوت" کا نمائندہ ہوں میرا پتہ یہ ہے اگر خدا نہ کرے کسی وقت کوئی مرزائی تمہارے علاقے میں شرارت کرے تو مجھے خط لکھ دینا، مولانا مرحوم فرماتے تھے کہ سات برس بعد اس شخص کا خط آیا کہ ہمارے قصبے میں مرزائی مبلغین قادیانیت کی تبلیغ کر رہے ہیں اور انہوں نے ایک خاندان کو مرتد کر لیا ہے یہ خط ملتے ہی مبلغین وہاں پہنچے۔ قادیانیوں کو چیلنج کیا تو قادیانی بھاگ گئے اور نو مرتد گھرانے کو قادیانیت کی حقیقت سمجھائی تو وہ دوبارہ مشرف با اسلام ہوا۔ اس کے بعد قادیانیوں کو اس قصبے کا رخ کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ سینکڑوں واقعات میں سے ایک معمولی سا واقعہ ہے جو مجاہدین ختم نبوت کے ذوق و شغف، محنت و خلوص اور فہم و تدبر کی ٹھیک ٹھیک عکاسی کرتا ہے۔

مسلم، قادیانی مقدمات

مجلس تحفظ ختم نبوت کو قادیانیت کے خلاف ہمہ گیر مسائل سے واسطہ تھا

صفحہ 86

اور اس کے رہنماؤں کو ”قادیانی مسئلہ“ کے ہر پہلو پر مسلمانوں کی اعانت اور رہنمائی کی ضرورت لاحق رہتی تھی۔ چنانچہ مجلس نے ایک اہم خدمت اپنے ذمہ یہ لے رکھی تھی (اور ابھی تک اس کے ذمہ ہے) کہ اسلام اور قادیانیت کے تقابل کے سلسلہ میں جس قدر مقدمات عدالتوں میں جائیں‘ ان میں نہ صرف مسلمانوں کی اخلاقی و قانونی مدد کی جائے بلکہ حسب ضرورت مقدمہ کے مصارف کا تکفل بھی کیا جائے۔ اس قسم کے مقدمات کو ہم تین قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

پہلی قسم ان مقدمات کی ہے جو انتظامیہ کی جانب سے مجاہدین ختم نبوت اور دیگر علماء امت پر محض اس ”جرم“ میں دائر کئے گئے کہ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت کے خلاف لب کشائی کی گستاخی کیوں کی؟ اس قسم کے مقدمات روز مرہ کا معمول تھے اور ان کے مصارف کا بہت سا بار گراں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کو برداشت کرنا ہوتا تھا‘ تحریک ختم نبوت ۵۳ء سے ۷۴ء تک کے دوران میں بہت سے ایسے حضرات بھی تھے جن کے نان و نفقہ کی جانب بھی مجلس تحفظ ختم نبوت کو توجہ کرنا پڑی۔

دوسری قسم ان فوجداری مقدمات کی تھی جو مسلم‘ قادیانی نزع کی صورت میں رونما ہوتے رہے۔ قادیانیوں کی ہمیشہ یہ عادت رہی ہے جس جگہ انہیں اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے کے مواقع میسر آئیں اور حکام بالا سے اثر و رسوخ ہو‘ وہاں وہ مسلمانوں کی اذیت اور دنگا فساد کی کوئی نہ کوئی شکل پیدا کر لیتے ہیں۔ اور بعض اوقات کمزور مسلمانوں کو مار پیٹ کر تھانے میں اپنی مظلومیت کی داستان سرائی بھی کیا کرتے ہیں کہ آج فلاں جگہ ہم پر مسلمانوں نے ”مسلح حملہ“ کر ڈالا۔ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے رہنماؤں کو جہاں کہیں ایسے فساد کی اطلاع ہوئی‘ فوراً وہاں پہنچے اور اگر معلوم ہوا کہ قادیانیوں کی زیادتی ہے تو مسلمانوں کی طرف سے مقدمہ کی سرپرستی کی‘ اور مسلمانوں کو ہر طرح قانونی‘ اخلاقی اور مالی مدد بہم پہنچائی۔

تیسری قسم ان دیوانی مقدمات کی تھی جو مسلم‘ قادیانی قضیہ کے سلسلہ میں عدالت میں دائر ہوئے تھے اور جن میں بنیادی طور پر تصفیہ طلب یہ نکتہ ہوتا تھا کہ

صفحہ 87

آیا قادیانی مسلمان ہیں‘ یا خارج از اسلام؟ مثلاً کسی قادیانی نے دھوکہ دے کر کسی مسلمان خاتون سے شادی کر لی۔ یا شادی کے بعد معاذ اللہ اسلام سے مرتد ہو کر قادیانی بن گیا۔ اس صورت میں کبھی قادیانیوں کی جانب سے خانہ آبادی کا دعویٰ ہو جاتا اور کبھی مسلمانوں کی جانب سے اس نکاح کو کالعدم قرار دینے کا۔ اس نوعیت کے مقدمات کا سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہتا تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کو ملک کے کسی حصہ میں اس قسم کے مقدمہ کی اطلاع ہوئی تو مجلس نے نہایت فراخ دلی سے ان مقدمات کی سرپرستی کی اور مجلس کے مبلغین نے قادیانیوں کی کتابوں سے ان کا کفر و ارتداد ثابت کر کے عدالت کو صحیح نتیجہ پر پہنچنے میں مدد دی۔ چنانچہ اس نوعیت کے تمام مقدمات کی مختلف عدالتوں نے قادیانیوں کے کفر و ارتداد کا فیصلہ کرتے ہوئے مسلم‘ قادیانی نکاح کو کالعدم قرار دیا‘ اسی طرح کبھی کسی مسجد کی تولیت کے معاملہ میں قادیانیوں کے کفر اور اسلام کا نکتہ عدالتوں میں زیر بحث آیا۔ اور کبھی کسی وراثت کے مقدمہ میں‘ ایسے مقدمات میں بھی ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ نے مسلمانوں کی وکالت کے فرائض انجام دیئے اور عدالتوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔

مجلس تحفظ ختم نبوت اور مدارس عربیہ

”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا اصل موضوع قادیانی ارتداد کا استیصال تھا۔ لیکن اس تنظیم کے اکابر نے دینی تعلیم کی اہمیت کو واضح کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا‘ کیونکہ دینی مدارس ہی دین کے قلعے اور علم دین کے سرچشمے ہیں۔ اور یہیں سے اسلام کے سپاہی تیار ہو کر کفر و ارتداد کو للکارتے ہیں۔ چنانچہ اکثر و بیشتر دینی مدارس کے جلسوں میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے خطیب اور مبلغ قوم سے خطاب کرتے اور مسلمانوں کو دینی مدارس کے قیام و استحکام کی ترغیب دیتے‘ بالخصوص امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ تو دینی مدارس کے نقیب تھے۔ شاہ جی فرمایا کرتے تھے کہ ”اپنے گاؤں میں دینی مدرسہ قائم کر لو۔ اور پھر مجھے کارڈ لکھ دو۔ میں

صفحہ 88

اس کے جلسہ میں تقریر کرنے چلا آؤں گا۔" چنانچہ ان حضرات کی دعوت و ترغیب سے سینکڑوں مکاتب وجود میں آئے اور بعض جگہ خود "مجلس تحفظ ختم نبوت" کے زیر اہتمام بھی دینی مدارس جاری کئے گئے، خصوصاً ایسے علاقے جہاں قادیانیوں کا اثر تھا، وہاں مجلس نے خود دینی مدارس جاری کئے۔ چنانچہ ملتان، بہاولپور، سکھر، جابہ، سرگودھا، پرمٹ (ضلع مظفرگڑھ) کنری (ضلع تھرپارکر) ربوہ، کراچی میں مجلس کے زیر اہتمام دینی مدارس چل رہے ہیں، جن کے جملہ مصارف مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت ادا کرتی ہے۔

شعبہ نشر و اشاعت

مجلس نے تبلیغ اسلام اور رد قادیانیت کے لئے نشر و اشاعت کے شعبہ پر بھی خصوصی توجہ دی اور مجلس کے شعبہ نشر و اشاعت نے عربی، اردو، انگریزی، سندھی، پشتو اور بنگلہ میں بھی بہت سی کتابیں، پمفلٹ اور اشتہارات لاکھوں کی تعداد میں شائع کئے ہیں۔ مجلس کے اشاعتی کارنامہ سے تعارف کے لئے مندرجہ ذیل مختصر سی فہرست پر ایک نظر ڈال لینا ضروری ہوگا۔

صفحہ 89
صفحہ 90
صفحہ 91
صفحہ 92

اور ان کے علاوہ سینکڑوں مختلف اشتہارات جو مختلف مقامات میں لاکھوں کی تعداد میں شائع کئے گئے۔

مختصر یہ کہ مجلس تحفظ ختم نبوت دنیا کی مختلف زبانوں میں مسلمانوں کو فتنہ قادیانیت سے آگاہ کرنے کے لئے لاکھوں روپے کا لٹریچر چھاپ کر تقسیم کر چکی ہے اور ان کے علاوہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد اور ہفتہ وار ختم نبوت کراچی قادیانیت کے مدوجزر سے قوم کو آگاہ رکھتے ہیں۔ ان کے مصارف مجلس تحفظ ختم نبوت کا صدر دفتر ادا کرتا ہے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت اور تنظیم ملت

صفحہ 93

اہل اسلام' قادیانی فتنہ سے کبھی غافل نہیں ہوئے۔ لیکن قادیانیت کے خلاف بیشتر کام غیر منظم شکل میں ہوا۔ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی تاسیس کا ایک اہم مقصد یہ تھا کہ قادیانیت کے خلاف امت مسلمہ کو رشتہ تنظیم عطا کیا جائے۔ اور پوری امت کو قادیانیوں کے خلاف ”بنیان مرصوص“ بنا دیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے مجلس نے دو عظیم تر کارنامے انجام دیئے۔

اول یہ کہ ملک کے ہر شہر' ہر محلہ' ہر قصبہ اور ہر قریہ میں مسلمانوں کو دعوت دی گئی۔ کہ وہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی تنظیم میں شامل ہو کر ہر جگہ اس کی شاخیں قائم کریں اور قادیانیوں کی دست برد سے ناموس رسالت کو بچانے کے لئے رشتہ وحدت میں منسلک ہو جائیں۔ بحمد اللہ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی یہ پرخلوص دعوت رائیگاں نہیں گئی' بلکہ مسلمانوں نے فراخ قلبی سے اس پر لبیک کہی اور ملک میں مجلس کی ہزاروں شاخیں قائم ہوئیں۔

علاوہ ازیں جو حضرات اپنے مخصوص اعذار کی بنا پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے باقاعدہ ممبر نہیں بن سکتے تھے' انہوں نے مجلس کی دعوت سے ہمدردی و خیر خواہی اور بڑی حد تک سرپرستی کا التزام فرمایا اور مسئلہ ختم نبوت کے بیان میں کسی خوف و ملامت کی پروا نہیں کی' بالخصوص آئمہ مساجد اور خطیب حضرات نے اس سلسلہ میں بہت ہی اہم خدمت انجام دی۔ حق تعالیٰ شانہ ان سب کو جزائے خیر دے۔

آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کی ہر مسجد' خواہ اس کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے ہو۔ قادیانیت کے خلاف ایک ”اسلامک سنٹر“ ہے۔ اس طرح مجلس تحفظ ختم نبوت کی تنظیم ہر مسلمان کو جس کے دل میں قادیانیت کے خلاف ذرا بھی نفرت ہے' تحفظ ختم نبوت کا سپاہی سمجھتی ہے اور اس کا نعرہ ہے کہ ہم اولیائی من کانوا واینما کانوا۔

تمام امت مسلمہ ایک اسٹیج پر

مجلس تحفظ ختم نبوت نے دوسرا کارنامہ یہ انجام دیا کہ امت مسلمہ کے

صفحہ 94

مختلف فرقوں کو ختم نبوت کے اسٹیج پر جمع کیا۔ انگریز نے اپنے دور اقتدار میں لڑاؤ اور حکومت کرو‘ کی حکمت عملی کے ماتحت مختلف اسلامی فرقوں کے درمیان شدید تلخیوں کا زہر کچھ ایسا گھول دیا تھا کہ ان کا آپس میں کسی مسئلہ پر مل بیٹھنا قادیانیوں کے نزدیک ناممکن تھا۔ مرتدین اور زنادقہ نے اس افتراق و تصادم سے خوب فائدہ اٹھایا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ صورت حال نہ صرف قائم رہی۔ بلکہ قادیانی سازشوں نے اس میں مزید اضافہ کر دیا اور مسلمانوں کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے پاکستان پر یا کم از کم بلوچستان کے صوبے پر غلبہ و تسلط جمانے کے منصوبے کا اعلان کر دیا اور قادیانیوں کے سرکاری آرگن ”الفضل“ نے مسلمانوں کو یہاں تک دھمکی دے ڈالی کہ :

”ہم فتح یاب ہوں گے۔ ضرور تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہو گے۔ اس وقت تمہارا بھی وہی حشر ہو گا جو فتح مکہ کے دن ابو جہل اور اس کی پارٹی کا ہوا۔“ (الفضل ۳ جنوری ۱۹۵۲ء)

مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے‘ جو ہمیشہ قادیانیت کی نبض پر ہاتھ رکھنے کے خوگر تھے‘ بجا طور پر یہ محسوس کیا کہ اگر اس نازک موقع پر امت اسلامیہ کو قادیانیوں کے مکروہ عزائم اور اس کی لن ترانیوں سے آگاہ کر کے تمام فرقوں اور جماعتوں کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع نہ کیا گیا تو چند دن بعد زمین مسلمانوں کے پاؤں تلے سے نکل چکی ہو گی اور مسلمانوں کو انگریز کے بعد قادیانی مرتدین کی غلامی کا روز بد دیکھنا نصیب ہو گا۔ اس احساس نے رہنمایان مجلس تحفظ ختم نبوت کو بے چین اور مضطرب کر ڈالا۔ اور وہ ماہی بے آب کا منظر پیش کرنے لگے۔ انہوں نے ایک طرف تو ملک کا طوفانی دورہ کر کے جگہ جگہ جلسے منعقد کئے۔ قادیانی سازشوں کو بے نقاب کیا۔ ان کے عزائم سے متنبہ کیا اور پورے ملک کو قادیانیوں کے خلاف آتش بنا کر رکھ دیا۔

دوسری طرف انہوں نے اسلامی فرقوں کے ممتاز رہنماؤں کو وقت کی

صفحہ 95

نزاکت کا احساس دلایا اور اتحاد ملت کا صور پھونکا۔ اس سلسلہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے عظیم رہنما مجاہد ملت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ کا کارنامہ ناقابل فراموش ہے۔ موصوف نے اپنی ذہانت و خطابت کا سارا زور امت مسلمہ کے فرقوں کو متحد کرنے پر صرف کر دیا۔ انہوں نے ایک ایک دروازے پر دستک دی۔ اپنے دل کی بے چینی کا اظہار کیا۔ ناموس رسالت کا واسطہ دیا اور مسلمانوں کو اس آفت کبریٰ سے بچانے کا لائحہ عمل ان کے سامنے رکھا۔ بات دل سے نکلی تھی، دلوں تک پہنچی۔ تمام اسلامی فرقے ”تحفظ ختم نبوت“ کے اسٹیج پر متحد ہو گئے اور مسلمانوں کی متفقہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت وجود میں آئی۔

۵۳ء کی تحریک ختم نبوت

مجلس عمل کی قیادت، جس کے صدر حضرت مولانا سید ابو الحسنات قادری اور سیکرٹری جنرل جناب سید مظفر علی شمسی۔ حضرت امیر شریعت کی تجویز اور مولانا جالندھری کی تائید سے مقرر کئے گئے تھے۔ ۵۳ء کی تحریک ختم نبوت چلی۔ قادیانیوں کے بارے میں مسلمانوں کے متفقہ مطالبات ارباب اقتدار کی خدمت میں پیش کئے گئے۔ لیکن اس وقت اقتدار قادیانیوں کے شکنجہ میں تھا۔ اس اپاہج اقتدار نے اسلامی مطالبات کا جواب گولی سے دیا۔ مجلس عمل کے معزز رہنما جیلوں کی زینت بنے۔ ہزاروں مسلمانوں کو بھون ڈالا گیا اور لاکھوں پس دیوار زنداں بھیج دیئے گئے۔ جو مہینوں نہیں سالوں تک ”جرم بے گناہی“ کی سزائیں کاٹتے رہے۔

۵۳ء کی تحریک ختم نبوت بظاہر ناکامی سے ہمکنار اور تشدد کا شکار ہوئی۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ یہ تحریک اپنے مقدس مقاصد میں پورے طور پر کامیاب رہی۔ تفصیل کی گنجائش نہیں۔ البتہ چند اہم امور کی جانب اشارہ ضروری ہے۔

اول ـــــــ تحریک کا سب سے اہم مطالبہ یہ تھا کہ قادیانی وزیر خارجہ مسٹر ظفر اللہ خاں کو برطرف کیا جائے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تحریک کا سیلاب نہ صرف مسٹر ظفر اللہ خاں کی وزارت خارجہ کو بہا کر لے گیا بلکہ اس کے تمام محافظ بھی ”خدا کی بے آواز لاٹھی“ کا نشانہ بن گئے۔ خواجہ ناظم الدین سے جنرل اعظم تک کا جو حشر

صفحہ 96

ہوا وہ کس کو معلوم نہیں؟

دوم ————— تحریک ختم نبوت کا دوسرا اہم مطالبہ یہ تھا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم تسلیم کیا جائے۔ بلاشبہ یہ مطالبہ اقتدار کی عدالت میں سماعت نہ ہوا۔ لیکن تحریک کے بعد عوام کی عدالت نے قادیانیوں سے وہی سلوک کیا۔ جو ایک سازشی کافر ٹولے سے کیا جانا چاہئے۔

سوم ————— تحریک کا اہم مقصد پاکستان کو قادیانی سازش سے محفوظ کرنا تھا۔ بحمد اللہ یہ مقصد بھی پوری طرح حاصل ہوا۔ ۵۳ء کی تحریک نے قادیانیوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا۔ وہ سازشی خلیفہ جو بڑے طنطنہ سے بلوچستان کو مرتد کرنے کا اعلان کر رہا تھا ————— سب نے دیکھا کہ وہ تحریک کے بعد تحقیقات عدالت کے کٹہرے میں اپنے بیانات کا حساب چکا رہا ہے۔

چہارم ————— قادیانیوں کے نزدیک مسلمانوں کا اتحاد ناممکن تھا۔ لیکن ۵۳ء کی تحریک ختم نبوت نے اس کو نہ صرف ”ممکن“ بلکہ ایک امر واقعی بنا کر دکھایا اور قادیانیوں کو اپنی لغت سے ”ناممکن“ کا یہ لفظ حذف کر دینا پڑا۔ بحمد اللہ جب سے اب تک مسلمان قادیانیوں کے خلاف متحد ہیں اور اس ”اسلامی اتحاد“ کا مظاہرہ ہر سال ”ختم نبوت ربوہ کانفرنس“ میں ہوتا ہے۔

پنجم ————— ۵۳ء کی تحریک نے مسلمانوں کو دائمی بیداری، تنظیم اور مقصد کے لئے ایک مسلسل تب و تاب عطا کر دی۔ تا آنکہ ۷ ستمبر ۷۴ء کو وہ مقصد عظیم حاصل ہوا۔ اور قادیانیت کا کانٹا اسلام کے جسم سے نکال پھینکا گیا۔

۲۹ مئی ۷۴ء سے سات ستمبر تک

۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد ایک سرکاری افسر نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے طنزاً کہا ”شاہ جی! وہ آپ کی تحریک کا کیا ہوا؟“ فرمایا ”میں نے اس تحریک کے ذریعہ ایک ”ٹائم بم“ مسلمانوں کے دلوں کی زمین میں چھپا دیا ہے۔ جب وہ اپنے وقت پر پھٹے گا۔ تو قادیانیوں کو اقتدار کی کوئی طاقت تباہی و بربادی سے نہیں بچا سکے گی۔“

صفحہ 97

ہم دیکھتے ہیں کہ ۲۹ مئی ۷۴ء کو یہ ”ٹائم بم“ خود قادیانیوں کے ہاتھوں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پھٹا۔ جس سے قادیانیت کو زلزلہ آیا۔ قادیانیوں کے قصر خلافت ربوہ پر مایوسیوں کے بادل منڈلاتے رہے اور سات ستمبر ۱۹۷۴ء کو جب مطلع صاف ہوا تو پوری دنیا نے دیکھا کہ قادیانیت کا مصنوعی سورج اسلامی افق سے غروب ہو چکا ہے اور آئین پاکستان میں قادیانیوں کا نام غیر مسلم اقلیتوں کی فہرست میں سکھوں، ہندوؤں اور اچھوتوں کے ساتھ درج ہے اور دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ نہ تو امریکہ سے برطانیہ تک اقتدار کی کوئی طاقت قادیانیوں کو اس انجام بد سے بچا سکی نہ یہودیوں کا سرمایہ ان کی ذلت و رسوائی کے داغ مٹا سکا۔ سچ ہے۔ ”قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید۔“ ۵۳ء کی طرح ۷۴ء کی تحریک میں بھی مسلمانوں نے ”مجلس عمل تحفظ ختم نبوت“ کے پلیٹ فارم پر جمع ہو کر بے مثال اتحاد و تنظیم کا مظاہرہ کیا اور ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے قربانیاں پیش کیں۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے صدر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری نے اپنے امراض و اشغال اور ضعف و کبرسنی کے باوجود جوانمردی و اولوالعزمی سے مسلمانوں کی قیادت کی۔ معزز ارکان اسمبلی نے قومی اسمبلی میں اہل اسلام کی ترجمانی کے فرائض انجام دیئے اور ملت اسلامیہ کے تمام اکابر و اصاغر نے اپنی ہمت و بساط سے بڑھ چڑھ کر ناموس رسالت پر جانثاری کا نمونہ پیش کیا۔ اس گئے گزرے زمانے میں یہ اتحاد، یہ تنظیم، یہ اولو العزمی اور یہ پرخلوص قربانیاں حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا ہی معجزہ تھا۔ اس موقع پر مجلس تحفظ ختم نبوت نے دیگر خدمات کے علاوہ مجلس عمل کے مصارف کا بار برداشت کیا اور قومی اسمبلی پر قادیانیت کی حقیقت واضح کرنے کے لئے ”ملت اسلامیہ کا موقف“ نامی کتاب شائع کی۔ خلاصہ یہ کہ ۷۴ء کی تحریک کی کامیابی دراصل ۵۳ء کی تحریک کا نتیجہ تھی۔ جب سے اب تک ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ نے مسلمانوں کو ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر متحد رکھنے کے لئے نہایت جانفشانی اور خلوص سے کام کیا۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت میں چلی جس

صفحہ 98

کے نتیجہ میں قادیانی گروہ کے خلاف امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا اور قادیانی سربراہ کو ملک چھوڑنا پڑا۔ عالمی مجلس نے بیرون ملک کے کام کو وسیع سے وسیع تر کر دیا۔ جس کی تفصیلات مستقل کتاب کی متقاضی ہیں۔

ختم نبوت کا پیام! ایک عالمی پیام

”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے وسائل نہایت محدود تھے۔ اس کا ضعف و ناتوانی اندرون ملک بھی کام پر قابو پانے کی استطاعت نہیں رکھتی تھی۔ لیکن مجلس کے رہنماؤں کی اولو العزمی‘ اسباب و وسائل سے زیادہ مسبب الاسباب پر نظر رکھ کر چلنے کی خوگر تھی۔ وہ ختم نبوت کی دعوت دنیا کے ہر اس خطے میں پھیلانا چاہتے تھے۔ جس میں کوئی انسانی آبادی موجود ہو۔ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے میر محفل مولانا محمد علی جالندھریؒ کی تقریروں کا یہ فقرہ بہت سے لوگوں کے حافظہ میں محفوظ ہو گا کہ:

”آج کل امریکہ چاند پر پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر کسی وقت چاند پر انسان آباد ہوں‘ اور اگر زمین سے کوئی انسانی قافلہ چاند پر منتقل ہوا تو جو سیارہ انسانی آبادی کے سب سے پہلے قافلے کو لے کر جائے گا۔ اس میں انشاء اللہ ہماری کوشش ہو گی کہ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا نمائندہ بھی ہو۔“

اس لئے مجلس نے قلت وسائل کے باوجود فتنہ قادیانیت کے تعاقب کو اندرون ملک تک محدود نہیں رکھا۔ بلکہ عالم اسلام کو بھی مسلسل اس فتنہ سے آگاہ رکھا۔ مثلاً

اور فتنہ قادیانیت کی طرف توجہ دلائی گئی۔ چنانچہ جشن قرآن کریم راولپنڈی اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور اور اسلامی وزراء خارجہ کانفرنس کراچی کے موقعہ پر مجلس تحفظ ختم نبوت نے عالم اسلام کے ان معزز مہمانوں سے رابطہ قائم کیا۔ انہیں قادیانیوں کی سازشوں سے باخبر کیا

صفحہ 99

اور اس سلسلہ میں ضروری لٹریچر فراہم کیا گیا۔

نے جن کا عالم اسلامی کی ممتاز علمی شخصیتوں سے دیرینہ تعارف اور دوستانہ تعلقات تھے۔ عالم اسلام کے چیدہ افراد کو اس فتنہ کے استیصال کی طرف متوجہ کیا۔

الاعلیٰ للشئون الاسلامیہ (مصر) اور دیگر اسلامی اداروں کو توجہ دلائی اور ان سے قراردادیں منظور کروائیں۔

متعدد موقعوں پر عالم اسلام کے قائد شاہ فیصل شہید اور دیگر سربراہوں سے ملاقات کی اور انہیں اس فتنہ کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔

ہر سال جماعت کے نمائندے حج پر تشریف لے جاتے ہیں۔ اور دنیا بھر کے حجاج کرام سے رابطہ قائم کرکے ان کو قادیانیوں کی تحریک ارتداد سے متنبہ کرتے ہیں۔

یورپ کے مسلمانوں کی دعوت پر مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر مرحوم نے انگلینڈ‘ جرمنی‘ آسٹریلیا‘ امریکہ اور جزائر فجی آئرلینڈ کا دورہ کیا۔ جس سے لاکھوں مسلمان قادیانیوں کے ارتداد سے محفوظ ہو گئے۔ مولانا مرحوم کا قیام ان ممالک میں قریباً تین سال رہا۔ قادیانیوں کے خلاف وہاں خوب کام ہوا۔ انگلینڈ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے ایک عمدہ بلڈنگ خریدی گئی اور اس میں مجلس کا مرکز قائم ہوا۔ ”ووکنگ مسجد“ جو قادیانیوں کا مشہور اڈا تھا۔ ان سے واگزار کرا کر مسلمانوں کی تحویل میں دی گئی۔ جزائر فجی میں تعلیم قرآن کا مدرسہ جاری ہوا۔ جو ” فجی مسلم لیگ“ کے زیر اہتمام بحسن و خوبی چل رہا ہے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کے ممتاز رہنما مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی نے دو مرتبہ متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا۔ وہاں کی عدالت عالیہ اور دیگر ممتاز شخصیتوں کو قادیانی لٹریچر سے ان کی کفریہ عبارتیں پڑھ کر سنائیں۔ اور ان کے عقائد و

صفحہ 100

نظریات کی تفصیل پیش کی۔ جس کے نتیجہ میں وہاں کی عدالت عالیہ نے ان کو خارج از اسلام اور سازشی گروہ قرار دیا۔

مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی نے بحرین کا دورہ کیا اور وہاں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی شاخ قائم کی گئی۔ بحمد اللہ تمام عرب امارتوں میں قادیانی دجل و فریب کھل چکا ہے اور قادیانیوں کے خلاف موثر کارروائی شروع ہو چکی ہے۔

۷ ستمبر ۷۴ء کے فوراً بعد حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری نے انگلینڈ کا دورہ کیا اور وہاں قادیانیت کے خلاف کام کو مزید موثر و منظم کیا گیا۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے مولانا عبدالرزاق اسکندر کی معیت میں مشرقی افریقہ کے متعدد ممالک کا دورہ کیا۔ ان تمام ممالک میں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی شاخیں قائم کی گئیں اور مسلمانوں کو قادیانیوں کے خلاف منظم کیا گیا۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کے عظیم رہنما مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا اللہ وسایا کی معیت میں ”المجلس الاعلیٰ“ کے صدر جناب الشیخ حسین الحبشی کی دعوت پر انڈونیشیا تشریف لے گئے۔ وہاں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا مرکز قائم ہو چکا ہے۔ وہاں بھی انشاء اللہ عنقریب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے گا۔

نائیجیریا اور دیگر مغربی افریقی ممالک میں بھی ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے نمائندے پہنچ چکے ہیں۔ اور الحمد للہ وہ قادیانیت کے خلاف خوب کام کر رہے ہیں۔ لندن میں عالمی مجلس کا اپنا دفتر قائم ہے۔ اور ہر سال قادیانیت کے خلاف عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوتی ہے۔

آثار و نتائج

اکابر دیوبند کی مساعی اور ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے مقاصد و خدمات کا مختصر سا خاکہ آپ کے سامنے آ چکا ہے۔ اب ایک نظر ان آثار و نتائج پر بھی ڈال لینا چاہئے۔ جو جماعت کی جہد مسلسل اور امت اسلامیہ کے اتفاق و تعاون کے نتیجہ میں وقوع پذیر ہوئے۔

صفحہ 101

اول ــــــــ پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ علاوہ ازیں قریباً تئیس اسلامی ممالک قادیانیوں کو کافر، مرتد، دائرہ اسلام سے خارج اور خلاف قانون قرار دے چکے ہیں۔

دوم ــــــــ ختم نبوت کی تحریک پاکستان میں کامیاب ہوئی۔ تو پوری دنیا پر قادیانیوں کا کفر و نفاق واضح ہو گیا۔ اور دنیا کے بعید ترین ممالک کے مسلمان بھی قادیانیوں کے بد ترین کفر سے واقف ہو گئے۔

سوم ــــــــ بہاولپور سے ماریشس جوہانسبرگ تک کی بہت سی عدالتوں نے قادیانیوں کی غیر مسلم حیثیت کی بنا پر فیصلے دیئے۔

چہارم ــــــــ مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریک نے نہ صرف پاکستان کو بلکہ دیگر اسلامی ممالک کو قادیانیوں کے غلبہ تسلط سے محفوظ کر دیا اور تمام دنیا کے مسلمان قادیانیوں کو ایک سازشی اور مرتد ٹولہ سمجھ کر ان سے محتاط اور چوکنا رہنے لگے۔

پنجم ــــــــ بے شمار لوگ جو قادیانیوں کے دام ہمرنگ زمین کا شکار ہو کر مرتد ہو گئے تھے۔ جب ان پر قادیانیت کا کفر کھل گیا تو وہ قادیانیت کو چھوڑ کر دوبارہ دامن اسلام سے وابستہ ہو گئے۔

ششم ــــــــ ایک وقت تھا کہ مسلمانوں کا ملازم پیشہ نوجوان طبقہ قادیانیوں سے بے حد مرعوب تھا۔ چونکہ قادیانی پاکستان میں اعلیٰ مناصب پر قابض تھے۔ اس لئے وہ ایک طرف اپنے ماتحت عملے میں قادیانیت کی تبلیغ کرتے اور دوسری طرف اچھے مناصب کے لئے صرف قادیانیوں کا انتخاب کرتے۔ اس سے مسلمانوں کے نوجوان طبقہ کی صریح حق تلفی ہوتی تھی اور بہت سے نوجوان اچھی ملازمت کے لالچ میں قادیانی مذہب کے ہمنوا ہو جاتے تھے۔ اب بھی اگرچہ کلیدی آسامیوں پر بہت سے قادیانی فائز ہیں۔ اور ملازمتوں میں ان کا حصہ مسلمانوں کی نسبت اب بھی زیادہ ہے۔ مگر اب قادیانیوں کے سامنے مسلمان نوجوانوں کا احساس کمتری ختم ہو رہا ہے اور نوجوانوں کی طرف سے مطالبے ہو رہے ہیں کہ قادیانیوں

صفحہ 102

کو ان کی حصہ رسدی سے زیادہ کسی ادارے میں نشستیں نہ دی جائیں۔

ہفتم —— قیام پاکستان سے ۱۹۷۴ء تک ”ربوہ“ مسلمانوں کے لئے ایک ممنوعہ قصبہ تھا۔ وہاں مسلمانوں کے داخلہ کی اجازت نہیں تھی۔ حتیٰ کہ ریلوے اور ڈاک خانہ کے سرکاری ملازموں کے لئے قادیانی ہونے کی شرط تھی۔ لیکن اب ”ربوہ“ کی سنگینی ٹوٹ چکی ہے۔ وہاں اکثر سرکاری ملازم مسلمان ہیں۔ ۱۹۷۵ء سے مسلمانوں کی نماز باجماعت بھی ہوتی ہے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے مدارس و مساجد دفتر و لائبریری قائم ہیں۔

ہشتم —— قادیانی اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے پر اصرار کیا کرتے تھے۔ لیکن اب مسلمانوں کے قبرستان میں ان کا دفن کیا جانا ممنوع ہے۔

نہم —— پاسپورٹ شناختی کارڈ اور فوجی ملازمتوں کے فارموں میں قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تصریح کرنا پڑتی ہے۔

دہم —— پاکستان میں ختم نبوت کے خلاف کہنا یا لکھنا قابل تعزیر جرم قرار دیا جاچکا ہے۔

یاز دہم —— سعودی عرب، لیبیا اور دیگر اسلامی ممالک میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ اور انہیں ”اسلام کے جاسوس“ قرار دیا جاچکا ہے۔

دواز دہم —— مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے خلاف لب کشائی کی پاکستان میں اجازت نہیں تھی۔ مگر اب صورت حال یہ ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔

سیز دہم —— قادیانی جو بیرونی ممالک میں یہ پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے۔ کہ پاکستان میں قادیانیوں کی حکومت ہے اور دارالخلافہ ”ربوہ“ ہے۔ وہ اس جھوٹ پر نہ صرف پوری دنیا میں ذلیل ہو چکے ہیں، بلکہ خدا کی زمین اپنی فراخی کے باوجود ان پر تنگ ہو رہی ہے۔ حتیٰ کہ قادیانی سربراہ کو لندن میں بھی چین نصیب نہیں ۔

صفحہ 103

مجلس تحفظ ختم نبوت اور بیت المال

”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے وسیع ترین تبلیغی نظام کا ایک مختصر خاکہ آپ کے سامنے آچکا ہے۔ البتہ اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ جماعت کے لاکھوں روپے کے مصارف کا انتظام کیسے ہوتا ہے۔ جماعت کے بیت المال کے لئے کوئی مستقل ذریعہ محاصل نہیں۔ اس نے محض حق تعالیٰ شانہ کے خزانہ عامرہ پر توکل کرتے ہوئے ایک روپیہ یومیہ کے میزانیہ سے اپنا کام شروع کیا اور جوں جوں جماعت کا ٹھوس کام سامنے آتا گیا۔ حق تعالیٰ شانہ نے عام مسلمانوں کو خدمت و تعاون کی طرف متوجہ فرمایا اور وہ تمام حضرات جن کو مسئلہ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت سے دلچسپی تھی۔ انہوں نے اپنے صدقات جماعت کے بیت المال میں جمع کرانے شروع کئے۔ گویا جماعت کا کل سرمایہ توکل علی اللہ اور مسلمانوں کا دست تعاون ہے۔

جماعت نے بیت المال کے نظام میں جن امور کو ملحوظ رکھا ان کا خلاصہ یہ ہے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت میں جس قدر کارکن کام کرتے ہیں ان کے قوت لا یموت کا انتظام جماعت کرتی ہے اور ان پر پابندی عائد ہے۔ کہ کسی مسلمان کی جانب سے ایک پیسہ بھی انہیں دیا جائے۔ وہ جماعت کے بیت المال کی رسید دیں اور وہ پیسہ بیت المال میں جمع کرائیں۔ جماعت کے مبلغین اور کارکنوں نے اس سلسلہ میں جس بے مثال قربانی اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ اس کی نظیر موجودہ دور میں مشکل سے ملے گی۔

اہل اسلام کی جانب سے زکوٰۃ‘ صدقات‘ صدقۂ فطر‘ چرم قربانی اور دیگر عطیات کی شکل میں جو امداد جس مد میں دی جاتی ہے۔ بیت المال کی جانب سے اس کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ وہ احتیاط کے ساتھ اس مد میں خرچ کی جائے۔

چنانچہ اسی بیت المال سے مبلغین کے مشاہرات دفاتر کے اخراجات‘ مدارس اور طلبہ کی ضروریات‘ اندرون و بیرون ملک کا تبلیغی نظام‘ دنیا کی مختلف

صفحہ 104

زبانوں میں تحریر کردہ اور شائع کردہ لٹریچر کی اشاعت اور بیرون ملک جانے والے وفود کے لوازمات پورے کئے جاتے ہیں۔ گویا جس نے جماعت کو ایک روپیہ بھی دیا وہ ان تمام شعبوں میں حصہ دار ہے۔

جماعت کی جانب سے ہر سال ایک روئداد شائع ہوتی ہے۔ جس میں گزشتہ سال کی کارکردگی اور آئندہ لائحہ عمل کے ساتھ ساتھ تمام عطیہ دہندگان کے نام اور ان کی رقوم کی تصریح کی جاتی ہے۔ نیز مصارف کی تفصیل بھی پیش کی جاتی ہے۔ تاکہ ہر مسلمان یہ اطمینان کر سکے کہ آیا اس کی بھیجی ہوئی رقوم بیت المال میں جمع ہوئی یا نہیں؟

آمد و صرف کے حسابات باقاعدہ رجسٹرڈ کئے جاتے ہیں اور ہر سال سرکاری آڈیٹر سے حسابات کی پڑتال کرائی جاتی ہے۔

ہر مسلمان کو اس امر کی اجازت ہے کہ جب چاہے جماعت کے حسابات کا معائنہ کر سکتا ہے۔

گورنمنٹ پاکستان نے ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کو ایک تبلیغی اور فلاحی ادارہ تسلیم کرتے ہوئے اس کے بیت المال میں داخل کئے جانے والے جملہ عطیات کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

لاکھوں روپے کا میزانیہ ہونے کے باوجود جماعت کے کارکنوں کو اپنے فقر و افلاس پر ناز ہے۔ ہم اپنے اسلاف کی اس دولت فقر کی نمائش کو گناہ سمجھتے ہیں۔

آئندہ عزائم اور جماعت کا لائحہ عمل

بہت سے لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ لہٰذا ختم نبوت کا مشن اب ختم ہو چکا لیکن یہ غلط فہمی ہے۔ جماعت ختم نبوت کا مشن ختم نہیں ہوا۔ بلکہ اس کے دائرہ کار اور اس کی ذمہ داریوں میں کئی سو گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اب تک جماعت کی بیشتر توجہ اندرون ملک قادیانیوں کے رد و تعاقب کی طرف تھی۔ مگر ستمبر ۱۹۷۴ء کے بعد پوری دنیا جماعت ختم نبوت کی دعوت و تبلیغ کا میدان بن چکا ہے۔ جہاں جہاں قادیانی پہنچے ہیں، وہاں وہاں سے

صفحہ 105

جماعت کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کو تقاضوں پر تقاضے آ رہے ہیں۔ کہ یہاں ختم نبوت کے کام کی ضرورت ہے۔ اس لئے ۷۴ء سے پہلے اگر جماعت کو بیسیوں کارکنوں کی ضرورت تھی تو اب سینکڑوں کی نہیں ہزاروں کی ضرورت ہے۔ پہلے اگر اس کا کام ہزاروں میں چل سکتا تھا۔ تو اب لاکھوں کی نہیں کروڑوں کا نقشہ سامنے آتا ہے۔ بہرحال پہلے بھی خدا کے بھروسے یہ جماعت چل رہی تھی اور آئندہ بھی اس کا یہی سہارا ہے۔ تاہم مسلمانوں کے سامنے جماعت کے نئے مسائل اور نئے تقاضوں کا پیش کرنا بھی ضروری ہے۔

چکی ہے۔ اور کم و بیش ہر جگہ قادیانیوں سے وہی معرکہ گرم ہے۔ جو یہاں ہمارے ملک میں رہا۔ اس لئے فوری ضرورت اس امر کی ہے کہ ساری دنیا کے ممالک میں اور بالخصوص ان ممالک میں جہاں قادیانیوں کا زیادہ تسلط ہے ختم نبوت کے مضبوط مرکز قائم کئے جائیں اور چونکہ باہر کی دنیا قادیانیوں کی کتابوں سے واقف نہیں۔ اس لئے ضرورت ہے کہ یہاں سے کثیر تعداد میں مبلغ بھیجے جائیں اور ان کے ساتھ ضروری لٹریچر بھی دیا جائے۔

انگریزی‘ فارسی‘ فرانسیسی اور افریقی و ایشیائی ممالک کی معروف زبانوں میں خصوصاً ان ممالک کی زبانوں میں جہاں قادیانی ہیں‘ رد قادیانیت پر لٹریچر تیار کر کے شائع کیا جائے۔ یہ لاکھوں روپے کا منصوبہ ہے۔

نوجوانوں کو پاکستان لایا جائے اور انہیں قادیانیت کی تعلیم دے کر ان کے ممالک میں تبلیغ ختم نبوت کا کام ان کے سپرد کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے ملتان میں ایک عالمی تبلیغی مرکز قائم ہے۔ جن میں بحمدہ تعالیٰ ان تمام ضروریات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔

صفحہ 106
PDF 107

مسئلۂ ختم نبوّت

اور

حضرت نانوتویؒ

حضرت مولانا محمّد یوسف لدھیانویؒ

صفحہ 108

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد

دین اسلام کا سنگ بنیاد ختم نبوت کا عقیدہ ہے، انبیاء کرام علیہم السلام کا مقدس سلسلہ حق تعالیٰ شانہ نے سیدنا آدم علیہ السلام سے شروع فرمایا اور سید العالمین خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس مبارک سلسلہ کو ختم کر دیا۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قصر نبوت کی آخری اینٹ ہیں جن کے وجود پاک سے قصر نبوت تکمیل پذیر ہوا۔ انبیاء علیہم السلام کی جو فہرست حق تعالیٰ کے علم ازلی سے طے شدہ تھی اس میں آخری نام حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تھا۔ آپ کی تشریف آوری سے وہ فہرست مکمل ہو گئی جس میں کسی اضافہ کا امکان نہ رہا۔

ختم نبوت کا یہ عقیدہ تمام امت کا اجماعی اور مسلمہ عقیدہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں سب سے پہلا جہاد اسی عقیدہ کے تحفظ کے لیے ہوا جس میں ہزاروں صحابہ و تابعین نے اپنی قیمتی جانیں قربان کر کے اس عقیدہ کو زندہ جاوید بنا دیا۔

حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند قدس سرہ اپنے دور میں علوم و حقائق کے بحر ناپید کنار اور بقول حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ حق تعالیٰ شانہ کی صفت علم کا مظہر اتم تھے۔

صفحہ 109

(ماہنامہ ”الرشید“ ساہیوال دارالعلوم دیوبند نمبر، ص ۷۷۸)

حضرت نانوتوی اور ان کے رفیق حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے تعارف میں شیخ الاسلام حضرت سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کا ایک اقتباس نقل کرنا بے محل نہ ہوگا:

”میں علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے دو شخصیتوں کی جامع ایک شخصیت پیدا کی“ ایک وہ شخصیت، مختلف قسم کے ظاہری علوم روایت و درایت اور منقول و معقول کی جامع تھی، یہ تھے حافظ ابن تیمیہ کے علم کا دریائے ناپید کنار، اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر۔۔۔۔۔۔۔‘

دوسری شخصیت جو علوم ظاہر کے حصہ وافر اور دیگر علوم غریبہ و دقیقہ کے ساتھ ساتھ حقائق الہیہ اور عارفین کے علوم ربانیہ کی جامع تھی، یہ تھے شیخ اکبر محی الدین ابن عربی الاندلسی۔“

حق تعالیٰ نے ان دونوں شخصیتوں کو جمع کرکے ایک بہت ہی بڑی اور ممتاز شخصیت پیدا کی اور یہ تھے حجۃ الاسلام شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی۔۔۔۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے علوم کے دو جلیل القدر عالم وارث ہوئے ایک الامام الحجۃ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور دوسرے المحدث الفقیہ مولانا رشید احمد گنگوہیؒ۔

یہ دونوں اکابر دونوں قسم کے علوم میں حظ وافر رکھتے تھے مگر حضرت نانوتویؒ میں علوم متکلمین اور علوم حقائق کا پہلو غالب تھا۔ (مقدمہ لامع الدراری، ص ۶)

حضرت نانوتویؒ کا شمار امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام کے ان ارباب قوت قدسیہ میں ہوتا ہے جن کی نظر صرف احکام و مسائل پر ہی نہیں بلکہ ان کے اسباب و علل تک پہنچتی ہے وہ صرف جزئیات کا احاطہ نہیں کرتے بلکہ جزئیات کو کلیات کے سلسلہ میں مربوط دیکھتے ہیں، صرف فروع کا علم نہیں رکھتے بلکہ ان کے اصول سے اصل الاصول تک پہنچتے ہیں، ان کا علم کسب و اکتساب کے دائرے سے ماوراء ہوتا ہے، وہ استدلال سے کام ضرور لیتے ہیں مگر معلومات کے ذریعے مجہولات کو حاصل

صفحہ 110

کرنے کے لیے نہیں بلکہ افہام عامہ کی رہنمائی کے لیے، الغرض ان کی نظر اطراف و جوانب اور مبادی و وسائل میں الجھ کر نہیں رہ جاتی بلکہ نتائج و مقاصد کی بلندیوں میں پرواز کرتی ہے۔

حضرت نانوتویؒ کے نزدیک یہی لوگ راسخین فی العلم ہیں اور ان کے علاوہ سب لوگ عوام کی صف میں آتے ہیں، قاسم العلوم میں فرماتے ہیں: "جز انبیاء علیہم السلام اور راسخین فی العلم ہمہ عوام اند"۔ (مکتوب دوم

ص ٦)

انبیاء علیہم السلام اور راسخین فی العلم کے سوا باقی سب عوام ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین بمعنی آخری نبی ہیں۔ یہ مسئلہ ہر خاص و عام کو معلوم ہے اور ملت اسلامیہ کا ایک فرد بھی ایسا نہیں جو اس سے ناواقف ہو۔ لیکن اگر یہ سوال کیا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی (یا بلفظ دیگر خاتم النبیین کیوں ہیں؟) تو عوام بس یہی کہہ سکیں گے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو آخری نبی بنایا ہے اس لیے آپ خاتم النبیین ہیں لیکن جب آگے بڑھ کر یہ دریافت کیا جائے کہ جماعت انبیاء علیہم السلام میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی کیوں اس منصب جلیلہ کے لیے منتخب کیا گیا؟ تو اس کا جواب صرف علماء راسخین ہی دے سکتے ہیں، یہ سوال عوام کے دائرے سے باہر کی چیز ہے۔

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے اپنی تصانیف "آب حیات"، "قبلہ نما"، "حجۃ الاسلام" اور "تقریر دلپذیر" میں کہیں مختصر اور کہیں مطول اس راز سے عقد کشائی فرمائی ہے اور خصوصیت کے ساتھ "تحذیر الناس" تو آپ نے صرف اسی موضوع پر تالیف فرمائی ہے۔ سب سے پہلے عوام کے مبلغ پرواز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"قبل عرض جواب یہ گزارش ہے کہ اول معنی خاتم النبیین معلوم کرنا چاہیے تاکہ فہم جواب میں دقت نہ ہو، سو "عوام" کے خیال میں تو

صفحہ 111

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ”خاتم“ ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں۔“

(”تحذیر الناس“ ص ۳)

ظاہر ہے کہ ”عوام“ بے چارے خاتم النبیین کا مطلب اس سے زیادہ کیا جانتے ہیں کہ آپ کی بعثت تمام انبیاء علیہم السلام کے بعد ہوئی ہے، آپ کا زمانہ سب کے بعد رکھا گیا ہے اور آپ سب سے آخری نبی ہیں۔

خاتم النبیین کے یہ معنی بالکل صحیح ہیں اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ قرآن مجید کا مدعا آپ کی آخریت کو بیان کرنا ہے لیکن قرآن کریم نے آپ کی آخریت و خاتمیت کو کس غرض سے بیان فرمایا ہے اس کے جواب میں ہم ایسے عوام بس یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے جھوٹے مدعیان نبوت کا انسداد مقصود تھا۔

حضرت نانوتویؒ کے نزدیک:۔

”یہ احتمال کہ یہ آخری دین تھا اس لیے سدباب مدعیان نبوت کیا، جو کل کو جھوٹے دعوے کر کے خلائق کو گمراہ کریں گے البتہ فی حد ذاتہ قابل لحاظ ہے“۔

(تحذیر الناس“ ص ۲)

لیکن کیا خاتم النبیین کا مفہوم صرف اسی حد تک محدود ہے؟ قرآن کریم کا منشا صرف آپ کی آخریت زمانی کو ذکر کرنا ہے؟ اور معنائے خاتمیت بس یہی ہے کہ آپ آخری نبی ہیں؟ یہ ہے وہ سوال جس کے حل کے لیے ”عوام“ کافی نہیں بلکہ اس راز سے پردہ اٹھانے کے لیے ارباب قوت قدسیہ کا علم و فہم درکار ہے۔

گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت زمانی کا علم و یقین تو عوام کے دائرے کی چیز ہے لیکن اس خاتمیت زمانی کی علت کیا ہے؟ یہ عوام کے دائرے کے اوپر کی چیز تھی، حضرت نانوتویؒ کو حق تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے اس علت العلل کی طرف رہنمائی فرمائی، فرماتے ہیں:

اگر سدباب مذکور منظور تھا تو اس کے لیے اور بیسیوں مواقع تھے بلکہ

صفحہ 112

بنائے خاتمیت اور بات پر ہے جس سے تاخیر زمانی اور سدباب مذکور خود بخود لازم آ جاتا ہے اور فضیلت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم دوبالا ہو جاتی ہے‘ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہــــــــ

(تحذیر الناس ص ۴)

اس کے بعد پورا رسالہ اسی اجمال کی تفصیل اور خاتمیت زمانی کی علت کی تشریح میں ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باعتبار شرف و مرتبہ کے بھی خاتم ہیں، باعتبار مکاں کے بھی، باعتبار زماں کے بھی۔

آپ وصف نبوت کے ساتھ بالذات موصوف ہیں اور باقی تمام انبیاء کرام علیہم السلام آپ کے واسطہ اور ذریعہ ہیں۔ اس لیے باقی انبیاء علیہم السلام کی نسبت آپ کے ساتھ وہی ہے جو قمر کو آفتاب سے ہے۔ آپ کی نبوت صرف آپ کے زمانہ تک محدود نہیں بلکہ بواسطہ دیگر انبیاء علیہم السلام کے تمام کون و مکاں اور زمین و زماں پر حاوی ہے یہی وجہ ہے کہ آپ صرف نبی امت نہیں بلکہ نبی الانبیاء ہیں اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنی امتوں سمیت آپ کی سیادت و قیادت کے ماتحت ہیں۔

ان مقدمات کو مبرہن فرمانے کے بعد حضرت نانوتویؒ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت زمانی کی وہ دلیل بیان فرماتے ہیں جس سے جھوٹے مدعیان نبوت کا سارا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔

”بالجملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وصف نبوت میں موصوف بالذات ہیں اور سوا آپ کے اور انبیاء علیہم السلام موصوف بالعرض۔“

اس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے کے بعد ہی لایا جا سکتا تھا۔ ناممکن تھا کہ آپ کے بعد بھی سلسلہ نبوت جاری رہتا۔ اس لیے کہ) اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد نہیں بلکہ) اول یا وسط میں رکھتے تو (دو حال سے خالی نہیں تھا آپ کے بعد جو نبی آتے ان کا دین آپ کے دین کے خلاف ہوتا یا موافق اور یہ

صفحہ 113

دونوں صورتیں باطل ہیں کیونکہ) انبیاء متاخرین کا دین اگر مخالف دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہوتا تو اعلیٰ کا ادنیٰ سے منسوخ ہونا لازم آتا۔ حالانکہ (یہ بات شرعاً و عقلاً باطل ہے چنانچہ) اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں: ما ننسخ من آیۃ او ننسھا نات بخیر منھا او مثلھا اور کیوں نہ ہو‘ یوں نہ ہو تو اعطائے دین منجملہ رحمت نہ رہے آثار غضب میں سے ہو جاوے۔

ہاں اگر یہ بات ہوتی کہ اعلیٰ درجے کے علماء کے علوم ادنیٰ درجے کے علماء کے علوم کمتر اور ادون ہوتے ہیں تو مضائقہ بھی نہ تھا۔

یہ سب جانتے ہیں کہ کسی عالم کا عالی مراتب ہونا علو مراتب علم پر موقوف ہے‘ یہ نہیں تو وہ بھی نہیں۔ اور انبیاء متاخرین کا دین اگر مخالف نہ ہوتا تو یہ بات ضرور ہے کہ انبیاء متاخرین پر وحی آتی اور افاضہ علوم کیا جاتا ورنہ نبوت کے پھر کیا معنی!

سو اس صورت میں اگر وہی علوم محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے تو بعد وعدہ محکم ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“ کے جو بہ نسبت اس کتاب کے جس کو قرآن کہئے اور بشارت آیت ”ونزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شئی“ جامع العلوم ہے نبوت جدید کی کیا ضرورت تھی؟

اور اگر انبیاء متاخرین علوم محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ہوتے تو اس کتاب کا تبیانا لکل شئی ہونا غلط ہو جاتا۔

بالجملہ ایسے نبی جامع العلوم کے لیے ایسی ہی کتاب جامع چاہیے تھی تاکہ علو مراتب نبوت‘ جو لاجرم علو مراتب علمی ہے۔ چنانچہ معروض ہو چکا میسر آتی‘ ورنہ یہ علو مراتب نبوت‘ بے شک ایک قول دروغ اور حکایت غلط ہوتی ایسے ختم نبوت کو بمعنی معروض کو تاخیر زمانی لازم ہے۔

(”تحذیر الناس“ ص ۸)

یہ عبارت کسی تشریح و توضیح کی محتاج نہیں اور اس میں دلیل عقلی سے ثابت

صفحہ 114

کر دیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا آنا محال ہے خواہ وہ شرع جدید کا مدعی ہو یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء اور پیروی کا دم بھرتا ہو‘ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتمیت ذاتی کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اس خاتمیت کو تاخر زمانی لازم ہے ورنہ آپ کی نبوت کی بلند مرتبت محض ایک قول دروغ اور حرف غلط ہوگی۔

اسی دلیل کو حضرتؒ نے اپنی دیگر تصنیفات میں مختلف عنوانات سے واضح فرمایا ہے یہاں صرف ایک حوالہ نقل کر دینا کافی ہے‘ حجۃ الاسلام‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

علیٰ ہذا القیاس جب یہ دیکھا جاتا ہے کہ علم سے اوپر کوئی ایسی صفت نہیں جس کو عالم سے تعلق ہو تو خواہ مخواہ اس بات کا یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تمام مراتب کمال اس طرح ختم ہو گئے جیسے بادشاہ پر مراتب حکومت ختم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے جیسے بادشاہ کو خاتم الحکام کہہ سکتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الکاملین اور خاتم النبیین کہہ سکتے ہیں۔

مگر جس شخص پر مراتب کمال ختم ہو جائیں گے تو بایں وجہ کہ نبوت سب کمالات بشری میں اعلیٰ ہے چنانچہ مسلم بھی ہے اور تقریر متعلق بحث نبوت بھی‘ جو ابھی اوپر گزری ہے اس پر شاہد ہے۔ اس لیے آپ کے دین کے ظہور کے بعد سب اہل کتاب کو بھی ان کا اتباع ضروری ہوگا۔ کیونکہ حاکم اعلیٰ کا اتباع حکام ماتحت کے ذمہ بھی ہوتا ہے‘ رعایا تو کس شمار میں ہے؟

علاوہ بریں جیسے لارڈ لٹن کے زمانہ میں لارڈ لٹن کا اتباع ضروری ہے‘ اس وقت احکام لارڈ نارتھ بروک (سابق وائسرائے ہند) کا اتباع کافی نہیں ہو سکتا اور نہ اس کا اتباع باعث نجات سمجھا جاتا ہے ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بابرکات میں اور ان کے بعد‘ انبیاء سابق کا اتباع کافی اور موجب نجات نہیں ہو سکتا اور یہی وجہ ہوئی کہ سوا آپ کے اور کسی نبی نے دعوائے نبوت مستقلہ نہ کیا

صفحہ 115

بلکہ انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ ارشاد کہ جہاں کا سردار آتا ہے۔ خود اس بات پر شاہد بنا کہ حضرت عیسیٰ خاتم نہیں کیونکہ جب اشارہ مثال خاتمیت‘ بادشاہ خاتم وہی ہوگا جو سارے جہان کا سردار ہو‘ اس وجہ سے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب میں افضل سمجھتے ہیں‘ پھر یہ آپ کا خاتم ہونا آپ کے سردار ہونے پر دلالت کرتا ہے اور بقرینہ دعویٰ خاتمیت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے‘ یہ بات یقینی سمجھتے ہیں کہ وہ جہاں کے سردار جن کی خبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دیتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔

(”حجۃ الاسلام“ ص ۱۰۷، ۱۰۸‘ مطبوعہ مجلس معارف القرآن دیوبند)

الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت ذاتی‘ آپ کی خاتمیت زمانی کی علت ہے اور خاتمیت زمانی آپ کی سیادت و قیادت اور افضلیت و برتری کی دلیل ہے۔

حضرت نانوتویؒ کا موقف یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیت ”خاتم النبیین“ میں بیک وقت تینوں قسم کی خاتمیت کا ارادہ کیا گیا ہے اور یہ تینوں بدلالت مطابقی قرآن کریم سے ثابت ہیں جس کی مفصل تقریر ”تحذیر الناس“ میں کی گئی ہے۔ یہ ہے وہ نکتہ جو ”عوام“ کے فہم سے بالا تر تھا۔

اور اگر قرآن کریم کی آیت خاتم النبیین خاتمیت کی ان تینوں مدلولوں پر بدلالت مطابقی مشتمل ہو تو حضرت کو اصرار ہے کہ خاتمیت ذاتی کو آیت کا مدلول مطابقی ٹھہرایا جائے اور خاتمیت زمانی بدلالت التزامی اس سے خود بخود ثابت ہو جائے گی۔ اس لیے خاتمیت کی علت یہی خاتمیت ذاتی ہے اور جب علت ثابت ہو گئی تو معلول اس سے متخلف نہیں ہو سکتا۔

اوپر ختم نبوت زمانی کی دلیل عقلی ارشاد ہوئی تھی اب ذرا دلیل نقلی بھی ملاحظہ ہو‘ فرماتے ہیں:

”سو اگر اطلاق و عموم ہے (یعنی آیت خاتم النبیین کے تحت خاتمیت ذاتی

صفحہ 116

خاتمیت زمانی اور خاتمیت مکانی تینوں بدلالت مطابقی داخل ہے اور آیت تینوں کو عام ہے تب تو ثبوت خاتمیت زمانی ظاہر ہے ورنہ (یعنی لفظ خاتم النبیین تینوں اقسام خاتمیت کو شامل نہیں بلکہ اس میں صرف خاتمیت ذاتی مراد لی ہے تو اندریں صورت) تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے"۔

اوپر تصریحات نبویؐ مثل ”انت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی“۔ او کما قال جو بظاہر یہ طرز مذکور اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے اس باب میں کافی ہے کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے پھر اسی پر اجماع بھی منعقد ہو گیا گو الفاظ مذکور بسند متواتر منقول نہ ہوں سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی ایسا ہی ہوگا جیسا تواتر اعداد رکعات فرض و وتر وغیرہ۔ باوجود یکہ الفاظ احادیث مشعر تعداد رکعات، متواتر نہیں، جیسا کہ اس کا منکر کافر ہے اس لیے اس کا منکر بھی کافر ہوگا۔

(”تحذیر الناس“ ص ۱۰)

اسی استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ ختم نبوت زمانی قرآن کریم سے بطور دلالت مطابقی یا التزامی کے ثابت ہے۔ احادیث متواترہ سے ثابت ہے، اجماع امت سے ثابت ہے اور اس کا منکر اسی طرح کا کافر ہے جیسا کہ تعداد رکعات کا منکر کافر ہے۔

یہاں یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہوگا کہ کسی عقیدے کے ثبوت میں قرآن کریم، حدیث متواتر اور اجماع امت پیش کر دینے کے بعد اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں رہ جاتی کیونکہ جو عقیدہ ان تین دلائل سے ثابت ہوا اس کی قطعیت شک و شبہ سے بالاتر ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔ اسی بناء پر مولانا نانوتویؒ نے فرمایا جیسا اس کا (یعنی رکعات کا) منکر کافر ہے ایسا ہی اس کا (یعنی ختم نبوت زمانی) منکر بھی کافر ہے۔“

ایک شبہ اور اس کا جواب

گزشتہ بالا سطور سے معلوم ہوا ہوگا کہ حضرت نانوتویؒ قدس سرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت زمانی کے منکر نہیں بلکہ مثبت ہیں اور مثبت بھی ایسے کہ

صفحہ 117

اسے عقلی و نقلی دلائل قطعیہ سے ثابت کر کے اس کے منکر پر کفر کا فتویٰ صادر فرماتے ہیں۔ یہاں مزید تاکید کے لیے مناظرہ عجیبہ کے چند جملے نقل کر دینا بھی نامناسب نہ ہوگا:

(ص۳۹)

مسلم ہے اور یہ بات بھی سب کے نزدیک مسلم ہے کہ آپ اول المخلوقات ہیں۔ بحسب الاطلاق کہئے بالاضافتہــــ(ص۳)

کے لیے گنجائش انکار نہ چھوڑی (ص۵)

اعتبار بالعلہ مکذب اعتبار بالمعلول نہیں ہوتا بلکہ اس کا مصدق اور موید ہے اوروں نے محض خاتمیت زمانی اگر بیان کی ہے تو میں نے اس کی علت یعنی خاتمیت مرتبی ذکر کر دی اور شروع تحذیر ہی میں اقتضاء خاتمیت ذاتی کا بہ نسبت خاتمیت زمانی ذکر کر دیا

(ص۱۴)

ہونے کا احتمال نہیں، جو اس میں تامل کرے میں اس کو کافر جانتا ہوں۔ (ص۱۰۳)

حضرت کی اس قسم کی بہت سی تصریحات کی موجودگی میں قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت کی طرف انکار نبوت زمانی کا عقیدہ کیوں منسوب کیا گیا؟ اس کا منشا غلط فہمی تھی یا دیدہ دانستہ جسارت؟

میں اس موضوع سے تعرض نہیں کرنا چاہتا تھا، یہ بحث تشنہ رہے گی اگر اس پر گفتگو نہ کی جائے لطیفہ یہ ہے کہ حضرت کی طرف اس عقیدہ کا انتساب وہ بھی کرتے ہیں جو اس امت میں اجرائے نبوت کے قائل ہیں یعنی غلام احمد قادیانی کی

صفحہ 118

ذریت اور وہ حضرات بھی کرتے ہیں جو ختم نبوت کے قائل اور اس کے منکر کو کافر گردانتے ہیں یعنی مولانا احمد رضا خان صاحب مرحوم بریلوی اور ان کے عقیدت مند حضرات!

جہاں تک قادیانی صاحبان کا تعلق ہے ان کی خدمت میں تو یہی گزارش کافی ہے کہ اگر عقائد کے باب میں حضرت نانوتویؒ کی تحریر کوئی وزن رکھتی ہے تو جس کتاب کے فقرے سے وہ اجرائے نبوت کے عقیدے پر استدلال کرتے ہیں اسی کتاب میں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ختم نبوت زمانی کے منکر کو قرآن کریم، حدیث متواتر اور اجماع امت کا منکر کافر کہا گیا ہے۔

اس لیے حضرت کی تحریر سے استدلال کرتے ہوئے وہ بے شک اجرائے نبوت کا عقیدہ رکھیں لیکن از راہ انصاف اس عقیدہ رکھنے والے کو کافر بھی قرار دیں۔

اگر یہ دونوں باتیں جمع ہو سکتی ہیں تو ضرور کرنی چاہئیں اور اگر جمع نہیں ہو سکتیں تو اس سے ثابت ہوگا کہ انہوں نے حضرتؒ کی جس عبارت سے اجرائے نبوت کا عقیدہ کشید کرنے کی کوشش فرمائی ہے وہ اس کا مطلب نہیں سمجھے، جیسا کہ مرزا غلام احمد صاحب اپنی عربی اور اپنی عبارتوں کا مطلب نہیں سمجھا کرتے تھے۔

جہاں تک جناب مولانا احمد رضا خان صاحب مرحوم کا اور ان کی جماعت کا تعلق ہے ان کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے غلط فہمی کی بناء پر حضرتؒ سے یہ عقیدہ منسوب کیا ہے تو گستاخی ہوگی، کہ اتنا بڑا علامہ بلکہ اتنے بڑے علامے ان عبارتوں کو سمجھنے سے قاصر رہے اور اگر یہ عرض کیا جائے کہ ان حضرات نے قصداً ایک بات غلط طور پر حضرتؒ سے منسوب کر دی ہے تو اس سے بڑھ کر ستم کی بات ہے اور چونکہ حضرتؒ اسی رسالے میں دلائل قطعیہ عقلیہ سے ختم نبوت زمانی کو ثابت کر کے اس کے منکروں پر کفر کا فتویٰ بھی صادر فرما چکے ہیں اس لیے ایسی کتاب

صفحہ 119

کے کسی فقرے سے آپ کا منکر ختم نبوت ہونا ثابت کرنا گویا ”دزدے بکف چراغ“ کی مثل یاد دلاتا ہے۔

راقم الحروف غور و فکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ جناب مولانا احمد رضا خان صاحب کا قلم اور حجاج بن یوسف کی تلوار توام پیدا ہوئے تھے ان کے قلم کو تکفیر کا وہی چسکا تھا جو حجاج کی تلوار کو خون آشامی کا۔ وہ فطرتاً مجبور تھے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو تیغ تکفیر سے نیم بسمل کریں، اگر کسی کی کوئی عبارت یا عبارت کا ناتمام جملہ انہیں ایسا مل جاتا جو ان کے ذوق کافر گری کی تسکین کا سامان بن جاتا تو وہ اسے سمجھتے تھے اور اس کی دوسری تحریروں سے آنکھیں بند کر لینا فرض سمجھتے تھے اور اگر خدانخواستہ انہیں ایک آدھ جملہ بھی میسر نہ آتا تو وہ اپنے ذوق کی تسکین کے لیے خود ہی ایک عبارت بنا کر کسی صاحب سے منسوب کر دیتے اور اس کی بنیاد پر انہیں ”کافرگری“ کا جواز مل جاتا، وہ شخص ہزار چیخے چلائے شور مچائے کہ یہ عبارت میری نہیں ہے، میں ایسی عبارت لکھنے پر لعنت بھیجتا ہوں مگر خان صاحب فرماتے کہ چونکہ یہ عبارت ہم نے تمہارے نام سے چھاپی ہے اور اتنی مدت سے چھاپ رہے ہیں لہٰذا تمہیں تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ عبارت تمہاری ہے اور اس لیے تم کافر ہو۔۔۔۔۔۔

میں نے جو کچھ لکھا ہے یہ ظرافت نہیں بلکہ واقعہ ہے، خان صاحب کو دو بزرگ ایسے ملے جن کی تحریر میں ان کو کوئی کلمہ کفر نہیں مل سکا جس کی بنیاد پر انہیں کافر بناتے۔ اس لیے خان صاحب نے ایک صاحب کی طرف تو خود ایک عبارت بنا کر منسوب کر دی اور ان پر کفر کا فتویٰ صادر کر کے اکابر حرمین سے اس کو رجسٹری کروایا۔ یہ شخصیت قطب العالم حضرت رشید احمد گنگوہی نور اللہ مرقدہ کی تھی، ان کے بارے میں خان صاحب حسام الحرمین میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

”تیسرا فرقہ وہابیہ کذابیہ رشید احمد گنگوہی کے پیرو۔۔۔۔۔۔ پہلے تو اس نے اپنے پیر طائفہ اسماعیل دہلوی کے اتباع میں اللہ تعالیٰ پر یہ افترا باندھا کہ اس کا جھوٹا

صفحہ 120

ہوتا بھی ممکن ہے‘ اور میں نے اس کا یہ بیہودہ بکنا ایک مستقل کتاب میں رد کیا جس کا نام ”سبحن السبوح عن کذب مقبوح“ رکھا۔ اور میں نے یہ بصیغہ رجسٹری اس کی طرف بھیجی اور بذریعہ ڈاک اس کے پاس سے رسید آگئی۔----

پھر تو ظلم و گمراہی میں اس کا حال یہاں تک پہنچا کہ اپنے ایک فتوے میں جو اس کا مہری دستخطی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جو بمبئی وغیرہ میں بارہا مع رد چھپا‘ صاف لکھ گیا کہ جو اللہ تعالیٰ کو بالفعل جھوٹا جانے اور تصریح کرے کہ (معاذ اللہ تعالیٰ) اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جھوٹ بولا۔ اور یہ بڑا عیب اس سے صادر ہو چکا تو اسے کفر بالائے طاق‘ گمراہی درکنار‘ فاسق بھی نہ کہو اس لیے کہ بہت سے امام ایسا ہی کہہ چکے ہیں جیسا اس نے کہا۔

(”الخ“ ص۱)

بمبئی کے اس فتوے کی جس پر خان صاحب نے تکفیر کی بنیاد رکھی ہے حضرت گنگوہیؒ کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی اور جب اس کا علم ہوا تو اس سے برات کا اظہار فرمایا اور ایسا لکھنے والے کو ملعون قرار دیا۔

(”فتاویٰ رشیدیہ“ ”لجنتہ لاہل السنہ“ ص ۹۳)

مگر جناب خان صاحب کا اصرار بہمہ جہت یہی رہا کہ چونکہ ہم آپ کی طرف اس عبارت کو منسوب کرکے کفر کا فتویٰ رجسٹری کرا چکے ہیں لہٰذا یہ عبارت یقیناً آپ ہی کی ہے اور ہونی چاہیے اور لطف یہ کہ آج تک حضرت گنگوہیؒ کے انکار کے باوجود خان صاحب اور ان کی جماعت کا اصرار باقی ہے۔

کچھ اسی قسم کا حادثہ خان صاحب کو حضرت حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ قدس سرہ کے بارے میں بھی پیش آیا۔ خان صاحب کا قلم حضرت مرحوم کو کافر بنانے کے لیے بے تاب تھا مگر مشکل یہ تھی کہ حضرت کے دفتر تحریر میں خان صاحب کو ایک فقرہ بھی ایسا نہ مل پاتا تھا جس کی بنیاد پر ان کی تیغ تکفیر نیام سے باہر نکل آتی۔ اس مشکل کا حل خان صاحب نے یہ تلاش کیا کہ حضرت نانوتویؒ کی اس کتاب سے جو صرف مسئلہ ختم نبوت پر لکھی گئی ہے اور جن میں منکرین ختم نبوت کو

صفحہ 121

صاف الفاظ میں کافر کہا گیا ہے تین ناتمام جملے تلاش کیے اور ان کو آگے پیچھے جوڑ کر ایسی مربوط اور مسلسل عبارت بنا ڈالی‘ پس خان صاحب کی تکفیر کے لیے جواز پیدا ہو گیا۔ خان صاحب نے جس چابکدستی سے تین الگ الگ جگہ سے تحذیرالناس کے ناتمام جملوں کو ملا کر ایک مکمل عبارت تیار کر لی وہ ان کی مہارت فن کا شاہکار ہے۔

پہلا فقرہ ص ۱۳ سے لیا گیا:

”بلکہ بالفرض آپؐ کے زمانہ میں کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔“

دوسرا فقرہ ص ۲۸ سے لیا گیا:

”بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو‘ تو بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔“

اور تیسرا فقرہ ص ۳ سے لیا گیا جہاں سے تحذیر الناس شروع ہوتی ہے:

”عوام کے خیال میں تو رسول اللہ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپؐ سب میں آخری ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم و تاخر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔“

ان تین فقروں کو ایک مسلسل عبارت میں ڈھالنے اور پھر انہیں عربی میں منتقل کرنے میں خان صاحب نے خدا ناترسی کا جو نمونہ پیش کیا ہے ان کو دیکھ کر آج پون صدی بعد بھی یقین نہیں آتا کہ کوئی شخص جس کے دل میں ذرا بھی حس ہو ایسی حرکتوں کا ارتکاب کر سکتا ہے۔

اس آخری فقرے کے بارے میں تو عرض کر چکا ہوں کہ حضرتؒ ”عوام کے خیال“ کی اس کوتاہی کی شکایت کر رہے ہیں کہ ”خاتم النبیین“ کے مفہوم کو صرف ”آخری نبی“ کے معنی میں محدود سمجھ لیا گیا ہے جب کہ قرآن کریم کا مقصد اس سے صرف آپ کی خاتمیت زمانی کو بیان کرنا نہیں بلکہ خاتمیت ذاتی اور رتبی کو اجاگر کرنا ہے الغرض خاتمیت زمانی سے انکار نہیں اور نہ اسے خاتم النبیین کے مفہوم سے

صفحہ 122

خارج کرنا مقصود ہے بلکہ یہ بتانا منظور ہے کہ خاتمیت صرف خاتمیت زمانی میں منحصر نہیں جیسا کہ عوام کا خیال ہے بلکہ خاتم النبیین کا مفہوم اس سے کہیں بلند تر ہے۔ رہی صفحہ ۱۴ اور ۲۸ کی عبارت! تو خان صاحب نے جو فقرے نقل کیے ہیں ان کے شروع میں ”بلکہ بالفرض“ کا لفظ موجود ہے جس سے دو باتوں کا صاف پتہ چلتا ہے۔ ایک یہ کہ ”بلکہ“ سے پہلے جو عبارت چلی آ رہی ہے خان صاحب کی نقل کردہ عبارت اس کا ایک ناتمام ٹکڑا ہے اور جب تک اس کا ماقبل اس کے ساتھ نہ ملایا جائے اس سے کوئی مفہوم اخذ نہیں کیا جاسکتا۔

دوسرے یہ کہ جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ بطور واقعہ کے نہیں بلکہ بطور فرض محال کے کہا جا رہا ہے اور دنیا کا کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا جو کسی فرض محال پر کفر کا فتویٰ صادر کر دے۔

الغرض خان صاحب کے منقولہ ٹکڑے ہی اس بات کو بتانے کے لیے کافی تھے کہ ان ٹکڑوں کو چابکدستی کے ساتھ جوڑنے کے بعد بھی خان صاحب کا مدعائے تکفیر عنقا رہتا ہے۔

حضرت رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ کی ص ۱۴ اور ص ۲۸ کی تشریحات متعدد اکابر کر چکے ہیں اور ان کے بعد ضرورت نہیں رہ جاتی کہ میں ان پوری عبارتوں کو نقل کرکے ان کی تشریحات کروں۔ اہل علم کو حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری کے رسالہ ”الختم علی لسان الخصم“ وغیرہ مولانا محمد منظور نعمانی مدظلہ کے رسالہ ”معرکۃ القلم“ مولانا عبدالغنی پٹیالوی کی کتاب ”المجنۃ لاہل السنۃ“ اور مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ کے رسائل ”بانی دارالعلوم اور عبارات اکابر“ ملاحظہ کرنی چاہئیں۔

ان حضرات سے پہلے حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری ”التصدیقات لدفع البلیات“ میں اور حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ”الشہاب الثاقب“ میں بھی خان صاحب کے اس افتراء کی کافی و شافی تردید فرما چکے ہیں، تاہم مناسب ہوگا کہ یہاں بھی ان عبارتوں کو نقل کرکے اس پر مختصر سی تنبیہ کردی جائے۔

صفحہ 123

ص ۱۴ کی پوری عبارت یہ ہے:

”غرض اختتام اگر بایں معنی تجویز کیا جائے جو میں نے عرض کیا تو آپ کا خاتم ہونا انبیاء گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانہ میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہنا ہے مگر جیسے اطلاق ”خاتم النبیین“ اس بات کا مقتضی ہے کہ اس لفظ میں کچھ تاویل نہ کیجئے اور علی العموم تمام انبیاء کا خاتم کہیئے۔ اسی طرح الخ“

اس پوری عبارت پر نظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ جو فقرہ خان صاحب نے نقل کیا ہے (اور جسے میں نے اوپر خط کر دیا) یہ پورا جملہ نہیں بلکہ جملہ شرطیہ کی جزا کا ایک حصہ ہے۔

شرط : غرض اختتام اگر بائیں معنی تجویز کیا جائے جو میں نے عرض کیا۔

جزا : تو آپ کا خاتم ہونا انبیاء گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا۔

منقولہ ٹکڑا: بلکہ اگر بالفرض الخ جزا ہے کسی جملہ شرطیہ کی‘ اب انصاف فرمائیے کہ شرط اور جزا کے ایک حصہ کو حذف کرکے جزا کے دوسرے حصہ کو نقل کر دینا اور اس پر کفر کا فتویٰ صادر کرنا علم و دیانت کی روشنی میں اس کو کیا نام دیا جائے؟ بہر حال خان صاحب کا منقولہ ٹکڑا خود بھی قضیہ فرضیہ ہے اور پھر یہ قضیہ فرضیہ اوپر کے جملہ شرطیہ کی جزا کا ایک جز ہے اور دنیا کا کوئی عاقل ایسا نہیں ہوگا جو مقدم اور تالی کے درمیان جو اتصال ہوتا ہے اسے نظر انداز کرکے صرف تالی پر (اور وہ بھی اس کے ایک جز) حکم لگانے بیٹھ جائے‘ مگر خان صاحب کے مذہب کافر گری میں یہ بھی ہے۔

اب ص ۲۸ کی عبارت ملاحظہ کر لیجئے:

”ہاں اگر خاتمیت بمعنی اتصاف ذاتی بوصف نبوت لیجئے جیسا اس ہیچمدان نے عرض کیا ہے تو پھر سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ اور

صفحہ 124

کسی کو افراد مقصودہ بالخلق میں سے مماثل نبوی نہیں کہہ سکتے بلکہ اس صورت میں فقط انبیاء علیہم السلام کے افراد خارجی ہی پر آپ کی افضلیت ثابت نہ ہوگی‘ افراد مقدرہ بھی آپ کی افضلیت ثابت ہو جائے گی بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔" الخ

پوری عبارت پر نظر ڈال کر دیکھئے‘ یہاں بھی خان صاحب کی وہی مہارت فن نظر آتی ہے جس کا تذکرہ ابھی کر چکا ہوں۔

یہ قضیہ شرطیہ ”ہاں اگر خاتمیت“ سے شروع ہوتا ہے تو پھر سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جزاء کا پہلا حصہ ہے بلکہ اس صورت میں اس کا دوسرا حصہ ہے اور بلکہ اگر بالفرض اس کا تیسرا حصہ ہے۔ خان صاحب نے قضیہ شرطیہ کے مقدم اور تالی کے دو حصوں کو حذف کر کے تالی کے تیسرے حصے کو جو خود قضیہ مفروضہ ہے نقل کر دیا اور اسی ناتمام جملہ پر جس کے مفروض محض ہونے کی تصریح بھی اسی کے اندر موجود ہے کفر کا فتویٰ جڑ دیا۔

ان دونوں عبارتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے افراد دو قسم کے ہیں ایک افراد حقیقی اور خارجی‘ دوسرے افراد مقدرہ جن کا خارج میں وجود ہوا نہ ہوگا۔

اور خاتم النبیین کے دو مفہوم ہیں ایک آپ کا تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد تشریف لانا اور دوسرے آپ کا وصف نبوت کے ساتھ بالذات موصوف ہونا اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کا آپ کی وساطت سے موصوف ہونا۔

افراد خارجیہ کے لحاظ سے تو یہ دونوں مفہوم لازم و ملزوم ہیں چنانچہ آپ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے لیے واسطہ نبوت بھی ہیں اور سب کے بعد تشریف لائے۔ سب سے پہلے یا ان حضرات کے درمیان میں آپ کا تشریف لانا عقلاً و شرعاً صحیح نہیں تھا۔

صفحہ 125

لیکن افراد مقدرہ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو خاتم النبیین کے مفہوم اول (یعنی آخری نبی) سے وہ خارج نہیں کیونکہ یہ مفہوم افراد محققہ خارجیہ کے اعتبار سے ہی صادق آ سکتا ہے نہ کہ افراد مقدرہ فرضیہ کے اعتبار سے، مگر ”خاتم النبیین“ بمعنی خاتمیت ذاتی افراد مقدرہ کو بھی محیط ہے اس لیے بفرض محال آپ کے بعد بھی کسی نبی کی آمد ہوتی تو وہ بھی انبیاء گزشتہ کی طرح وصف نبوت میں آپ کا محتاج ہوتا۔

حاصل یہ کہ خاتمیت ذاتی جیسے انبیاء کرام علیہم السلام کے افراد خارجیہ کے اعتبار سے ہے ویسے افراد فرضیہ کے اعتبار سے بھی ہے، پس اس دنیا میں جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے ان کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دونوں اعتبار سے خاتم ہیں، خاتمیت ذاتی کے اعتبار سے بھی اور خاتمیت زمانی کے لحاظ سے بھی اور اگر ان کے علاوہ کوئی انبیاء فرض کیے جائیں تو سوال یہ ہے کہ ان کے لیے بھی آپ خاتم ہوں گے یا نہیں؟

حضرت رحمۃ اللہ علیہ اس سوال کا جواب دیتے ہیں کہ خاتمیت زمانی کے اعتبار سے یہ سوال ہے، تو ظاہر ہے کہ آپ ان کے خاتم نہیں ہوں گے لیکن خاتمیت ذاتی کے اعتبار سے آپ کو ان کا خاتم بھی ماننا پڑے گا۔

یہاں ایک گزارش مزید کر دینا چاہتا ہوں کہ حضرت نانوتویؒ کا یہ رسالہ ”تحذیر الناس“ ایک سوال کے جواب میں لکھا گیا تھا جس میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث جس میں سات زمینوں اور ان کے انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہے اور جسے بیہقی وغیرہ نے ”صحیح“ کہا ہے۔ درج کر کے خاتم النبیین کے ساتھ اس کی تطبیق دریافت کی گئی تھی کہ آیا بیک وقت آیت اور حدیث دونوں پر عقیدہ رکھنا ممکن ہے؟

اس سوال کا جواب تین طرح دیا جا سکتا ہے۔

صفحہ 126

زمین کے اعتبار سے بیان کی گئی ہے لہٰذا آپ صرف اس زمین کے خاتم ہیں۔ سوم: تیسری صورت یہ ہو سکتی تھی کہ آیت و حدیث دونوں کو تسلیم کر کے دونوں میں ایسی تطبیق دی جاتی کہ آپ کی خاتمیت صرف اسی زمین تک محدود نہ رہتی بلکہ دیگر زمینوں کو بھی محیط ہو جاتی۔

خان صاحب اور ان کے ہم مشرب لوگوں نے پہلا راستہ اختیار کیا کہ یہ حدیث غلط ہے لیکن حضرت نانوتویؒ نے آیت اور حدیث دونوں کو صحیح قرار دے کر تطبیق کی وہ شکل اختیار کی جو میں نے تیسری صورت میں ذکر کی ہے۔

حضرت کی ساری کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہماری زمین کے اعتبار سے تو آپ خاتم النبیین ہیں باعتبار اتصاف ذاتی کے بھی اور باعتبار آخریت زمانہ کے بھی۔ لیکن آپ کی خاتمیت صرف اسی زمین تک محدود نہیں بلکہ پوری کائنات کو بھی محیط ہے۔ اور حدیث میں تو ہماری زمین کے علاوہ چھ زمینوں کا ذکر ہے اگر بالفرض ہزاروں زمینیں بھی اور ہوتیں اور ان زمینوں میں سلسلہ نبوت جاری ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب کے خاتم ہوتے۔ باقی انبیاء کرام علیھم السلام کے بارے میں نصوص میں یہ تصریح نہیں آئی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہوئے ہیں یا بعد میں؟ اس لیے دونوں احتمال ممکن ہیں۔ پس اگر وہ حضرات بھی اس زمین کے انبیاء کرام علیہ السلام کی طرح سب آپ سے پہلے ہوئے ہیں تو یوں کہا جائے کہ آپ سب کے لیے خاتم ہیں باعتبار ذات کے بھی باعتبار زمانہ کے بھی لیکن اگر یہ فرض کیا جائے کہ ان دیگر زمینوں کے کچھ انبیاء آپ کے معاصر یا بالفرض آپ کے بعد ہوئے تو ان کے اعتبار سے آپ کو خاتم زمانی نہیں بلکہ خاتم ذاتی کہا جائے گا۔

اس تقریر سے معلوم ہوا کہ حضرت نانوتویؒ پر فرد جرم یہ نہیں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس زمین کے انبیاء کرام علیھم السلام کا خاتم (ختمیت ذاتی اور ختمیت زمانی دونوں اعتبار سے) نہیں مانتے بلکہ اصل جرم یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری کائنات کا خاتم کیوں مانتے ہیں؟

صفحہ 127

تتمہ بحث

ختم نبوت کے ساتھ ایک مسئلہ ضمنی طور پر خود بخود زیر بحث آ جاتا ہے اور وہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کی دوبارہ تشریف آوری کا مسئلہ۔

جیسا کہ الشیخ ابوحیان اندلسی صاحب ”البحر المحیط“ نے لکھا (ابوحیان‘ البحر المحیط‘ ج۲‘ ص ۴۷۲) پوری امت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ ہونے اور ان کے دوبارہ تشریف لانے کے عقیدے پر متفق ہے اور ان کا دوبارہ تشریف لانا عقیدہ ختم نبوت کے منافی نہیں کیونکہ خاتم النبیین کا مفہوم یہ ہے کہ آپؐ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد مبعوث ہوئے اور آپؐ کے بعد کسی شخص کو منصب نبوت سے سرفراز نہیں کیا جائے گا جبکہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آپؐ سے پہلے کے نبی ہیں اور انبیاء کرام علیہم السلام کی فہرست میں ان کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل درج ہے۔ حافظ ابن حجر ”لا نبی بعدی“ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”لا نبی بعدی“ کی نفی کو اس معنی پر محمول کرنا واجب ہے کہ آئندہ کسی شخص کے حق میں نبوت جدید کا انشاء نہیں ہوگا۔ اس سے کسی ایسے نبی کے موجود ہونے کی نفی نہیں ہوتی جو آپؐ سے قبل منصب نبوت سے سرفراز کیا جا چکا ہو۔“

(ابن حجر‘ الاصابہ فی تمیز الصحابہ‘ ج ۱ ص ۳۲۵)

بہرحال امت میں جس طرح ختم نبوت کا عقیدہ قطعی ہے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آپ کی دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ بھی قطعی اور متواتر ہے دور قدیم میں فلاسفہ و زنادقہ نے اس کا انکار کیا۔

(”السفارینی“ : شرح عقیدہ منظومہ‘ ص ۹۴‘ ج ۲)

صفحہ 128

اور دور جدید میں ملاحدہ اور نیچریوں نے‘ مگر امت نے اس قطعی عقیدہ کے منکرین کو خارج از ملت قرار دیا۔

(”السیوطی“: الحاوی للفتاویٰ ج۲‘ ص۴۲۶ ”روح المعانی“ ص۶۰)

قادیانی امت ملاحدہ و زنادقہ کی تقلید میں اس عقیدے کی منکر ہے چونکہ یہ لوگ حضرت نانوتویؒ کی ایک عبارت سے عقیدہ اجزائے نبوت پر استدلال کرتے ہیں۔ لہٰذا عقیدہ حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ میں حضرت نانوتویؒ کی دو عبارتوں کا حوالہ دینا نامناسب نہ ہوگا تاکہ قادیانیوں کی دیانت اس مسئلہ میں بھی واضح ہو سکے‘ تحذیر الناس میں فرماتے ہیں:

”غرض جیسے آپؐ نبی الامۃ ہیں ویسے ہی نبی الانبیاء بھی ہیں اور یہی وجہ ہوئی کہ بشہادت و اذ اخذ اللہ میثاق النبیین ــــــــــــــ اور انبیاء کرام علیہم السلام سے آپؐ پر ایمان لانے اور آپؐ کا اقتداء و اتباع کا عہد لیا گیا۔ ادھر آپؐ نے یہ ارشاد فرمایا کہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو میرا ہی اتباع کرتے۔ علاوہ بریں بعد از نزول حضرت عیسیٰ کا آپؐ کی شریعت پر عمل کرنا اسی بات پر مبنی ہے۔ (”تحذیر الناس“ ص۴)

اور آب حیات میں اس پر طویل تحقیق فرمائی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات شریفہ مصدر ایمان ہے اس لیے آپ ابوالمومنین ہیں اس کے برعکس دجال اکبر کی ذات خبیثہ مصدر کفر ہے اس لیے اسے ابوالکفار کہنا بجا ہے۔ آپؐ نبی الانبیاء ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم) اور دجال موعود دجال الدجالین ہے اس کے بعد فرماتے ہیں:

”باقی رہا شبہ کہ اس صورت میں مناسب یہ تھا کہ خود حضرت سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ (دجال) مقتول ہوتا کیونکہ اضداد رافع اضداد ہوا کرتے ہیں سو اس صورت میں ضد مقابل دجال آپؐ تھے

صفحہ 129

نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔" گویا یہ سوال دو حصوں پر مشتمل ہے، ایک یہ کہ دجال لعین کے مقابلے میں آپ کو نہیں لایا گیا اور دوسرے یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس مقابلے کے لیے کیوں منتخب کیا گیا؟

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ ”تضاد کفر و اسلام و ایمان مسلمہ ہے ہر اضداد کثیر انواع میں ہر مرتبہ کیف بالتنوع دوسرے ضد کے ہر ہر مرتبہ کے متضاد نہیں ہوا کرتا۔ سو دجال ہر چند مراتب موجود کفر میں سب سے بالا ہے۔ ہر مقابل مرتبہ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہو سکتا۔ اور اس حساب سے یوں کہہ سکتے ہیں کہ جیسے باری عزاسمہ مراتب تحقق میں ایسا یکتا ہے کہ نہ کوئی اس کے لیے مماثل ہے نہ کوئی مقابل ہے اور اسی لیے وہ ”لا ضدلہ ولا ندلہ“ کا مصداق ہے۔ ایسے ہی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مراتب فضل و کمال ایمانی و امکانی یکتا ہے کہ نہ کوئی ان کے لیے مماثل ہے نہ کوئی ان کا مقابل ہے اور اس وجہ سے اس عالم میں جیسے مصداق لاندلہ ہیں ایسے ہی مصداق لاضدلہ ہیں۔“

غرض جناب باری کے لیے درجات تحقق کوئی ضد موجود نہیں ایسے ہی حبیب خداوندی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مراتب ایمانی میں کوئی ضد موجود نہیں، ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام البتہ دجال کے لیے شاید مد مقابل ہوں۔ (”آب حیات“

ص۱۹۷)

اس کی طویل تحقیق فرمانے کے بعد آگے چل کر فرماتے ہیں: ”بالجملہ دجال لعین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اگرچہ باعتبار ایمان و کفر ضد مقابل ہے مگر باعتبار درجہ، درجہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور درجہ دجال (میں) باہم تضاد نہیں بلکہ دجال باعتبار تقابل مرتبہ سافل میں ہے اور ادھر اور انبیاء علیہم السلام بھی درجہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے فروتر ہیں اس لیے بالضرور انبیاء باقیہ میں سے کوئی اور نبی اس

صفحہ 130

کے لیے ضد مقابل ہوگا۔"

یہ تو پہلے سوال کا خلاصہ جواب ہے اب دوسرے سوال کا جواب سنئے:

فرماتے ہیں: ”سو بایں نظر کہ اصل ایمان انقیاد و تذلل ہے جس کا خلاصہ عبدیت ہے اور اصلی کفر اباء و امتناع ہے جس کا حامل تکبر ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مسیح دجال لعین میں تقابل نظر آتا ہے اس لیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے حق میں فرماتے ہیں ”انی عبداللہ“ اور دجال لعین دعوائے الوہیت کرے گا ادھر جس قسم کے خوارق مثل احیاء موتی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے صادر ہوئے تھے اسی طرح کے خوارق اس مردود سے ہوں گے پھر بایں ہمہ دعویٰ عبودیت، نصاریٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام معبود بنا لینا جمع کرنا ضدین۔ یعنی داعیہ ازالہ منکر و التزام منکر مذکور ہے پھر اس پر ان کا کیا گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کیا ہے۔ اس لیے کہ اقتداء انبیاء سابقین سید المرسلین تو معلوم ہو چکا، پھر دعویٰ عبودیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس بات پر شاہد کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بہ نسبت حضرت اقدس سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نائب خاص ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ حسب ارشاد آیت ہدایت بنیاد واذ قال عیسی ابن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدق لما بین یدی من التوراة و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد۔ منصب بشارت آمد آمد سرور انبیاء علیہم السلام پر مامور ہوئے۔

گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اتباع کو آپ کے حق میں مقدمتہ الجیش سمجھئے۔ چنانچہ انجام کار شامل حال امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر دجال موعود کو قتل کرنا زیادہ تر اس کا شاہد ہے۔

”اس لیے کہ وقت اختتام سفر و مقابلہ غنیم و بغاوت سپاہیاں، مقدمتہ الجیش بھی شریک لشکر ظفر پیکر ہو جاتے ہیں۔“

صفحہ 131

(”آب حیات“ ص ۴۰۴)

حضرت قدس سرہ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بمقابلہ دجال لعین لانے کے جتنے وجوہ پیش فرمائے ہیں ان میں سے ہر ایک شرح و تفصیل کا خواستگار ہے اور اس موضوع پر ایک تفصیلی رسالہ تیار ہو سکتا ہے مگر میں یہاں حضرت کے اقتباس پر ہی اکتفا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ ایک مستقل موضوع ہے میں اس تحریر کو حضرت قدس سرہ کے ایک جملہ پر ختم کرتا ہوں۔

”حاصل مطلب یہ ہے کہ خاتمیت زمانی سے مجھ کو انکار نہیں بلکہ یوں کہئے کہ منکروں کے لیے گنجائش انکار نہ چھوڑی، افضلیت کا اقرار ہے بلکہ اقرار کرنے والوں کے پاؤں جما دیے۔

نبیوں کی نبوت پر ایمان ہے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کسی کو نہیں سمجھتا۔“ (”مناظرہ عجیبہ“ ص ۵۰)

صفحہ 132
PDF 133

فتنہ قادیانیت

اور

پیام اقبالؒ

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 134

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد

شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم اپنے بلند پایہ ملی افکار کی بناء پر ہمارے جدید حلقوں کا مرجع عقیدت ہیں‘ ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر لوگوں نے جس فراخ قلبی سے تحقیق و تفتیش کا معرکہ سر کیا ہے‘ وہ ہمارے ماضی قریب کے کسی لیڈر کے حصہ میں نہیں آیا‘ لیکن علامہ مرحوم کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو‘ جو ان کے آخری دور حیات میں گویا ان کی زندگی کا واحد مشن بن گیا تھا۔ مصلحت پسندوں نے اسے اجاگر کرنے سے پہلو تہی کی۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہوگی کہ دیوبند کے ایک مرد قلندر (علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ) کے فیضان صحبت نے فطرت اقبال کے اس پہلو کی مشاطگی کی تھی۔ مولانا کشمیریؒ کے سوز جگر نے اقبال مرحوم کو قادیانیت کے خلاف شعلہ جوالہ بنا دیا تھا۔ چنانچہ علامہ مرحوم جدید تعلیم یافتہ طبقے میں پہلے شخص تھے جن کو ”فتنہ قادیانیت“ کی سنگینی نے بے چین کر رکھا تھا۔ وہ اس فتنہ کو اسلام کے لیے مہلک اور وحدت ملت کے لیے مہیب خطرہ تصور کرتے تھے۔ ان کی تقریر و تحریر میں ”قادیانی ٹولے“ کو ”غداران اسلام“ اور ”باغیان محمدؐ“ سے یاد کیا جاتا تھا‘ اس لیے کہ ان کے نزدیک اس فرقہ کے موقف کی ٹھیک ٹھیک تعبیر کے لیے اس سے زیادہ موزوں کوئی لفظ نہیں تھا‘ نہ ہو سکتا تھا۔ وہ اس فتنہ کے استیصال کو سب سے بڑا ملی فرض سمجھتے تھے۔ اور وہ ایک شفیق اور صاحب بصیرت سرجن کی طرح مضطرب

صفحہ 135

تھے کہ اس ”ناپاک ناسور“ کو جسد ملت سے کاٹ پھینکا جائے ورنہ یہ ساری امت کو لے ڈوبے گا۔ افسوس ہے کہ اقبال کے جانشینوں نے اقبال کی ”بانگ درا“ پر گوش بر آواز ہونے کی ضرورت نہ سمجھی، ورنہ اگر نقاش پاکستان کے انتباہ پر توجہ کی جاتی تو اقبال کے پاکستان کی تاریخ، شہید ملت لیاقت علی خاں کے قتل سے شروع ہو کر مشرقی پاکستان کے قتل تک رونما ہونے والے واقعات سے یقیناً پاک ہوتی۔۔۔۔ ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کا فیصلہ پیام اقبال کا جواب نہیں، بلکہ اس کی بسم اللہ ہے۔ اقبال کا پیغام یہ ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی، سیاسی اور معاشرتی اداروں میں اس باغی گروہ کی شرکت امت مسلمہ کی موت ہے۔ آج صرف پاکستان نہیں بلکہ پورا عالم اسلام (خصوصاً خطہ عرب اور مشرق وسطیٰ) ان باغیان اسلام کی سازشوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ تل ابیب سے ربوہ کا رابطہ اہل نظر سے مخفی نہیں، اور یہودی فوج میں قادیانی ٹولے کی ”خدمات“ عالم آشکارا ہوچکی ہیں۔ اس تقریب میں ہم عالم اسلام کی خدمت میں ”پیام اقبال“ پیش کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یا تو ملت اسلامیہ کو عالم اسلام میں پھیلے ہوئے قادیانی گروہ سے جرات مردانہ کے ساتھ نمٹنا ہوگا، یا پھر اسے اپنی خود کشی پر دستخط کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ قاضی وقت بڑی عجلت کے ساتھ اپنا آخری فیصلہ لکھنے کے لیے بیتاب ہے۔ اور مستقبل کا مؤرخ اس فیصلہ کا ریکارڈ ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنے کے لیے مضطرب نظر آتا ہے۔۔۔۔ اب یہ سربراہان اسلام اور قائدین ملت کے تدبر پر منحصر ہے کہ یہ فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے؟

۱۔ اسلام کی بنیاد

اسلام کا سیدھا سادا مذہب دو قضایا پر مبنی ہے۔ خدا ایک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلۂ انبیاء کے آخری نبی ہیں، جو وقتاً فوقتاً ہر ملک اور ہر زمانے میں اس غرض سے مبعوث ہوتے تھے کہ نوع انسان کی رہنمائی صحیح طرز زندگی کی طرف کریں۔

(حرف اقبال)

۲۔ ملحد دائرہ اسلام سے خارج

صفحہ 136

جن دو قضایا (عقیدوں) پر اسلام کی تعقلی عمارت قائم ہے وہ اس قدر سادہ ہیں کہ ان میں الحاد ناممکن ہے۔ جس سے ملحد دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

(حرف اقبال)

۳۔ ختم نبوت کا تصور

ختم نبوت کے تصور کی تہذیبی قدر و قیمت کی توضیح میں نے کسی اور جگہ کر دی ہے۔ اُس کے معنی بالکل سلیس ہیں۔۔۔۔۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی ایسے الہام کا امکان ہی نہیں جس سے انکار کفر کو مستلزم ہو جو شخص ایسے الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ اسلام سے غداری کرتا ہے۔ قادیانیوں کا اعتقاد ہے کہ تحریک احمدیت کا بانی ایسے الہام کا حامل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام عالم اسلام کو کافر قرار دیتے ہیں۔

(حرف اقبال)

۴۔ اسلام کی حد فاصل

اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے جس کے حدود مقرر ہیں یعنی وحدت الوہیت پر ایمان، انبیاء علیہ السّلام پر ایمان اور رسول کریمؐ کی ختم رسالت پر ایمان، دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس امر کے لیے فیصلہ کن ہے کہ فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں۔ مثلاً برہمو خدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریمؐ کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں، لیکن انہیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعے وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کو نہیں مانتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کر سکا۔ ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔

صفحہ 137

۵۔ ختم نبوت کے معنی

ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد اسلام اگر یہ دعویٰ کرے کہ مجھ میں ہر دو اجزاء نبوت کے موجود ہیں۔ یعنی یہ کہ مجھے الہام وغیرہ ہوتا ہے اور میری جماعت میں داخل نہ ہونے والا کافر ہے‘ تو وہ شخص کاذب ہے اور واجب القتل۔ مسیلمہ کذاب کو اسی بناء پر قتل کیا گیا۔ حالانکہ جیسا طبری لکھتا ہے۔ وہ حضور رسالتمابؐ کی نبوت کا مصدق تھا اور اس کی اذان میں حضور رسالتمابؐ کی نبوت کی تصدیق تھی۔

(عکس تحریر علامہ اقبال بنام جناب نذیر نیازی صاحب‘ مندرجہ انوار اقبال ص ۴۴-۴۵ مرتبہ جناب بشیر احمد صاحب ڈار‘ شائع کردہ: اقبال اکادمی‘ پاکستان‘ کراچی)

۶۔ قادیانیوں کے لیے دو راستے

میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں۔ یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ قبول کر لیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔ (”حرف اقبال“ ص ۱۴۷)

۷۔ قادیانی علیحدہ امت

میرے خیال میں قادیانی حکومت سے کبھی علیحدگی کا مطالبہ کرنے میں پہل نہیں کریں گے۔ ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ منظور نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔ کیونکہ وہ ابھی اس قابل نہیں کہ چوتھی جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کی برائے نام اکثریت کو ضرب پہنچا

صفحہ 138

سکے۔ حکومت نے ۱۹۱۹ء میں سکھوں کی طرف سے علیحدگی کے مطالبہ کا انتظار نہ کیا۔ اب وہ قادیانیوں سے ایسے مطالبہ کے لیے کیوں انتظار کر رہی ہے۔ (”حرف اقبال“ ص ۳۸)

۸۔ قادیانیت: اسلام کے لیے مہلک

میرے نزدیک ”بہائیت“ قادیانیت سے زیادہ مخلص ہے۔ کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے۔ لیکن موخرالذکر (قادیانیت) اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے۔ لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لیے مہلک ہے۔ (حرف اقبال ص ۳۳)

۹۔ قادیانیت‘ یہودیت کا چربہ

اس کا (قادیانی فرقہ) حاسد خدا کا تصور کہ جس کے پاس دشمنوں کے لیے لاتعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں‘ اس (قادیانی فرقہ) کے نبی کے متعلق نجومی کا تخیل اور اس کا روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ وغیرہ یہ تمام چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں‘ گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔

(”حرف اقبال“ ص ۲۳‘ مرتبہ لطیف احمد شیروانی)

۱۰۔ قادیانی گستاخ

(جب علامہ مرحوم پر ان کی کسی سابقہ تحریر کا حوالہ دے کر قادیانی اخبار ”سن رائز“ نے اعتراض کیا کہ پہلے تو علامہ اس تحریک کو اچھا سمجھتے تھے اب خود ہی اس کے خلاف بیان دینے لگے تو اس کے جواب میں علامہ مرحوم نے حسب ذیل بیان دیا)

مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں کہ اب سے ربع صدی پیشتر مجھے اس تحریک سے اچھے نتائج کی امید تھی۔ اس تقریر سے بہت پہلے مولوی چراغ مرحوم نے

صفحہ 139

جو مسلمانوں میں کافی سربر آوردہ تھے اور انگریزی میں اسلام پر بہت سی کتابوں کے مصنف بھی تھے‘ بانی تحریک (مرزا غلام احمد) کے ساتھ تعاون کیا اور جہاں تک مجھے معلوم ہے کتاب موسومہ ”براہین احمدیہ“ میں انہوں نے بیش قیمت مدد بہم پہنچائی۔ لیکن کسی مذہبی تحریک کی اصل روح ایک دن میں نمایاں نہیں ہو جاتی۔ اسے اچھی طرح ظاہر ہونے کے لیے برسوں چاہئیں۔ تحریک کے دو گروہوں کے (لاہوری۔ قادیانی) باہمی نزاعات اس امر پر شاہد ہیں کہ خود ان لوگوں کو جو بانی تحریک کے ساتھ ذاتی رابطہ رکھتے تھے‘ معلوم نہ تھا کہ تحریک آگے چل کر کس راستہ پر پڑ جائے گی۔ ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا جب ایک نئی نبوت‘ بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا گیا۔ اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی۔ جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ (اور یہ قادیانیوں کی روزمرہ عادت ہے۔۔۔ ناقل) درخت جڑ سے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر میرے موجودہ رویہ میں کوئی تناقض ہے‘ تو یہ بھی ایک زندہ اور سوچنے والے انسان کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے بدل سکے بقول ایمرسن ”صرف پتھر اپنے آپ کو نہیں جھٹلا سکتے۔

(”حرف اقبال“ ص ۱۳۱-۱۳۲)

۱۱۔ قادیانی حکمت عملی

ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ بانی تحریک (مرزا غلام احمد) نے ملت اسلامیہ کو سڑے ہوئے (ان لوگوں (مسلمانوں) کو ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا‘ یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔ اس وجہ سے ہماری جماعت کسی طرح ان سے تعلق نہیں رکھ سکتی اور نہ ہمیں تعلق کی حاجت ہے۔۔۔ ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ”تشحیذ الاذہان“ قادیان‘ ج۶‘ نمبر۲‘ ص۳۱ ناقل) دودھ سے تشبیہ دی تھی اور اپنی جماعت کو

صفحہ 140

نماز روزہ سے اور اپنے مقلدین کو ملت اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا تھا۔ علاوہ بریں ان کا بنیادی اصولوں سے انکار‘ اپنی جماعت کا نیا نام (احمدی) مسلمانوں کی عام نماز سے قطع تعلق‘ نکاح وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور ان سب سے بڑھ کر یہ اعلان کہ دنیائے اسلام کافر ہے۔ یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ اسلام سے اس سے کہیں دور ہیں‘ جتنے سکھ ہندوؤں سے۔ کیونکہ سکھ ہندوؤں سے باہمی شادیاں کرتے ہیں اگرچہ وہ ہندو مندروں میں پوجا نہیں کرتے۔ اس امر کو سمجھنے کے لیے کسی خاص ذہانت یا غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے کہ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رہنے کے لیے کیوں مضطرب ہیں؟

(”حرف اقبال“ ص ۱۳۸-۱۳۷)

۱۲- قادیانی مذہبی جتھے باز

ہندوستان میں کوئی مذہبی جتھے باز اپنی اغراض کی خاطر ایک نئی جماعت کھڑی کر سکتا ہے اور یہ لبرل حکومت اصل جماعت کی وحدت کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتی۔ بشرطیکہ یہ مدعی اسے اپنی اطاعت اور وفاداری کا یقین دلا دے اور اس کے پیرو حکومت کے محصول ادا کرتے رہیں۔ اسلام کے حق میں اس پالیسی کا مطلب ہمارے شاعر عظیم اکبر نے اچھی طرح بھانپ لیا تھا جب اس نے اپنے مزاحیہ انداز میں کہا ۔

گورنمنٹ کی خیر یارو مناؤ
انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ

(”حرف اقبال“ ص ۱۲۵)

۱۳- قادیانی غداران اسلام

”فتوحات“ کی متعلقہ عبارتوں کو پڑھنے کے بعد میرا یہ اعتقاد ہے کہ ہسپانیہ کا یہ عظیم الشان صوفی (شیخ محی الدین ابن عربی) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر

صفحہ 141

اسی طرح مستحکم ایمان رکھتا ہے جس طرح کہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان رکھ سکتا ہے۔ اگر شیخ کو اپنے صوفیانہ کشف میں یہ نظر آجاتا کہ ایک روز مشرق میں چند ہندوستانی‘ شیخ کی صوفیانہ نفسیات کی آڑ میں پیغمبر اسلام کی ختم نبوت کا انکار کر دیں گے تو یقیناً علمائے ہند سے پہلے مسلمانان عالم کو ایسے غداران اسلام سے متنبہ کر دیتے۔“ (حرف اقبال)

۱۴۔ قادیانی ڈرامہ

ان لوگوں کی قوت ارادی پر ذرا غور کرو جنہیں الہام کی بنیاد پر یہ تلقین کی جاتی ہے کہ اپنے سیاسی ماحول کو اٹل سمجھو‘ پس میرے خیال میں وہ تمام ایکٹر جنہوں نے احمدیت کے ڈرامہ میں حصہ لیا ہے۔ زوال و انحطاط کے ہاتھوں میں محض سادہ کٹ پتلی بنے ہوئے تھے۔ (حرف اقبال)

۱۵۔ قادیانی ملحدانہ اصطلاحات

اسلامی ایران میں مٹوبدانہ اثر کے ماتحت ملحدانہ تحریکیں اٹھیں اور انہوں نے بروز‘ حلول‘ ظل وغیرہ (قادیانی) اصطلاحات وضع کیں تاکہ تناسخ کے اس تصور کو چھپا سکیں۔ ان اصطلاحات کا وضع کرنا اس لیے لازم تھا کہ وہ مسلم کے قلوب کو ناگوار نہ گزریں۔ حتیٰ کہ مسیح موعود کی (قادیانی) اصطلاح بھی اسلامی نہیں بلکہ اجنبی ہے اور اس کا آغاز بھی اسی مٹوبدانہ تصور میں ملتا ہے۔ یہ اصطلاح ہمیں اسلام کے دور اول کی تاریخی اور مذہبی ادب میں نہیں ملتی۔ (”حرف اقبال“ ص ۱۲۳-۱۲۴)

۱۶۔ قادیانیت‘ اسلامی وحدت کے لیے خطرہ

مسلمان ان تحریکوں کے معاملہ میں زیادہ حساس ہے جو اس کی وحدت کے لیے خطرناک ہیں۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو۔ لیکن اپنی بناء نئی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے

صفحہ 142

تمام مسلمانوں کو کافر (کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں--- بیان مرزا محمود احمد، خلیفہ قادیان، مندرجہ ”آئینہ صداقت“ ص ۳۵) سمجھے۔ مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لیے ایک خطرہ تصور کرے گا اور یہ اس لیے کہ اسلامی وحدت نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔ (”حرف اقبال“ ص ۱۲۲ مرتبہ لطیف احمد شیروانی)

۱۷۔ قادیانیت کے خلاف شدت احساس

ہندی مسلمانوں نے قادیانی تحریک کے خلاف جس شدت احساس کا ثبوت دیا ہے وہ جدید اجتماعیات کے طالب علم پر بالکل واضح ہے۔ عام مسلمان جسے پچھلے دن سول اینڈ ملٹری گزٹ میں ایک صاحب نے ملا زدہ کا خطاب دیا تھا۔ اس تحریک کے مقابلہ میں حفظ نفس کا ثبوت دے رہا ہے۔ اگرچہ اسے ختم نبوت کے عقیدہ کی پوری سمجھ نہیں۔ نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختم نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا اور مغربیت کی ہوا نے اسے حفظ نفس کے جذبہ سے بھی عاری کر دیا ہے۔

(”حرف اقبال“ ص ۱۴۲)

۱۸۔ قادیانی‘ تلعب بالدین

حکومت کو موجودہ صورت حالات پر غور کرنا چاہیے اور اس معاملہ میں جو قومی وحدت کے لیے اشد اہم ہے عام مسلمانوں کی ذہنیت کا اندازہ لگانا چاہیے۔ اگر کسی قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے لیے اس کے سوا چارہ کار نہیں رہتا کہ وہ معاندانہ قوتوں کے خلاف مدافعت کرے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مدافعت کا کیا طریقہ ہے؟ اور وہ طریقہ یہی ہے کہ اصل جماعت جس شخص کو تلعب بالدین کرتے پائے اس کے دعاوی کو تحریر و تقریر کے ذریعہ سے جھٹلایا جائے۔ پھر یہ کیا مناسب ہے کہ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے حالانکہ اس کی وحدت خطرہ میں ہو اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو۔ اگرچہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز

صفحہ 143

ہو۔

(”حرف اقبال“ ص ۱۴۶)

۱۹۔ قادیانی خدمات کا صلہ

(علامہ اقبال، قادیانی تحریک کو انگریز کی آلہ کار سمجھتے تھے، اس لیے انہوں نے انگریزی حکومت سے طنزاً فرمایا کہ:)

”اگر کوئی گروہ (یعنی قادیانی) جو اصل جماعت کے نقطہ نظر سے باغی ہے، حکومت کے لیے مفید ہو تو حکومت اس کی ”خدمات کا صلہ“ دینے کی پوری طرح مجاز ہے، دوسری جماعتوں کو اس سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہو سکتی، لیکن یہ توقع رکھنی بے کار ہے کہ خود (مسلمانوں کی) جماعت ایسی قوتوں کو نظرانداز کر دے جو اس کے اجتماعی وجود کے لیے خطرہ ہیں۔“

(”حرف اقبال“ ص ۱۴۶)

۲۰۔ قادیانی پالیسی

میں نے (سابقہ بیان میں) اس امر کی وضاحت کر دی تھی کہ مذہب میں عدم مداخلت کی پالیسی ہی ایک ایسا طریقہ ہے جسے ہندوستان کی موجودہ حکمران قوم اختیار کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی پالیسی ممکن ہی نہیں البتہ مجھے یہ احساس ضرور ہے کہ یہ پالیسی مذہبی جماعتوں کے فوائد کے خلاف ہے۔ اگرچہ اس سے بچنے کی راہ کوئی نہیں جنہیں خطرہ محسوس ہو۔ انہیں خود اپنی حفاظت کرنی پڑے گی۔ میری رائے میں حکومت کے لیے بہترین طریق کار یہ ہوگا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کر لے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا۔

(”حرف اقبال“ ص ۱۴۸-۱۴۹)

۲۱۔ اسلام اور ملک دونوں کے غدار

”میں اپنے ذہن میں اس امر کے متعلق کوئی شبہ نہیں پاتا کہ احمدی، اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں۔ (اس وقت ہندوستان انگریزی سامراج کے زیر تسلط تھا، اور قادیانی انگریزی سلطنت کی بقا و استحکام کے لیے سرتوڑ کوشش کر

صفحہ 144

رہے تھے۔۔۔۔۔ ناقل") (پنڈت نہرو کے جواب میں— بحوالہ ”کچھ پرانے خطوط“ ص ۲۹۳‘ ج۱— مرتبہ جواہر لال نہرو— مطبوعہ جامعہ لمیٹڈ نئی دہلی (انڈیا) مترجمہ عبدالمجید الحریری ایم۔ اے‘ ایل۔ ایل۔ بی)

۲۲- قادیانیت کا وظیفہ

”مسلمانوں کے مذہبی تفکر کی تاریخ میں احمدیت کا وظیفہ ہندوستان کی موجودہ سیاسی غلامی کی تائید میں الہامی بنیاد فراہم کرنا ہے۔“ (حرف اقبال)

۲۳- قادیانی تفریق

”قادیانیوں کی تفریق کی پالیسی کے پیش نظر‘ جو انہوں نے مذہبی اور معاشرتی معاملات میں ایک نئی نبوت کا اعلان کر کے اختیار کی ہے‘ خود حکومت کا فرض ہے کہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے بنیادی اختلافات کا لحاظ رکھتے ہوئے آئینی قدم اٹھائے۔“

(حرف اقبال)

۲۴- قادیانی مقصد

”قادیانی جماعت کا مقصد پیغمبر عرب کی امت سے ہندوستانی پیغمبر کی امت تیار کرنا ہے۔“ (حرف اقبال)

۲۵- قادیانی جرم

”قرآن کریم کے بعد نبوت و وحی کا دعویٰ تمام انبیاء کرام کی توہین ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جس کو کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ ختمیت کی دیوار میں سوراخ کرنا دینیات کے تمام نظام کو درہم برہم کر دینے کے مترادف ہے‘ قادیانی فرقہ کا وجود عالم اسلامی‘ عقائد اسلام‘ شرافت انبیاء‘ خاتمیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور کاملیت قرآن کے لیے قطعاً مضر و منافی ہے۔“ (”فیضان اقبال“ ص ۴۳۵)

PDF 145

ربوہ سے تل ابیب تک

(حصۂ اول)

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 146

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لانبی بعدہ

صیہونیت اور قادیانیت عالم اسلام کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہیں، مشرق وسطیٰ میں ”اسرائیل“ کی ستم رانیوں سے جبین تاریخ عرق آلود ہے، ادھر پاکستان میں قادیانی خلافت کے پایہ تخت ”ربوہ“ کی لن ترانیاں عالم اسلام کا مذاق اڑا رہی ہیں۔ یہ دونوں سفید سامراج کی پیداوار اور اس کے آلہ کار ہیں، دونوں کے درمیان اتحاد و تعاون اور یک جہتی و ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ لیکن ہمارے ارباب اقتدار نے ابھی تک سنجیدگی سے اس سنگین مسئلہ کا نوٹس ہی نہیں لیا۔

ناچیز مولف کو یہ خوش فہمی نہیں کہ وہ ان سطور کے ذریعہ آپ کے معلومات میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، خواہش بس یہ ہے کہ کسی بندہ خدا کے دل میں احساس کی چنگاری روشن ہو جائے اور وہ عالم اسلام کو ان خطرات سے بچانے کے لئے کمر ہمت باندھ لے تو یہ صرف مولف کی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کی سعادت ہوگی۔

؎ گوئے توفیق و سعادت درمیاں افگندہ اند
کس بمیداں در نمی آید سواراں را چہ شد

ناکارہ محمد یوسف لدھیانوی، خادم مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

یکم محرم الحرام ۱۳۹۶ء

صفحہ 147

صیہونیت اور قادیانیت وجوہ مماثلت

شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ مرحوم نے قادیانیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا:

(قادیانیت) ”اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے، (۱) اس کا حاسد خدا کا تصور کہ جس کے پاس دشمنوں کے لئے لاتعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں ...... (۲) اس کا نبی کے متعلق نجومی تخیل ...... (۳) اور اس کا روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ وغیرہ یہ تمام چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔“

(حرف اقبال ص ۱۲۱)

اقبالؒ مرحوم نے قادیانیت اور یہودیت کے تین بنیادی وجوہ مماثلت کی طرف اشارہ کیا ہے ان پر اگر مزید غور کیا جائے تو قادیانی تحریک اور صہیونی تحریک کے درمیان یک رنگی کا میدان خاصا وسیع نظر آتا ہے، مثلاً:

اسرائیلی ہے۔ (ایک غلطی کا ازالہ) درحقیقت اس امر کا برملا اظہار ہے کہ قادیانیت، صیہونیت ہی کی ایک ذیلی شاخ ہے۔

اس مسئلہ میں اس سے پیچھے نہیں رہنا چاہتی۔ اہل نظر واقف ہیں کہ قادیانی تحریک کے بانی کا دعویٰ ہی انکار عیسیٰ علیہ السلام پر مبنی ہے۔

اللہ کو قتل کر دیا۔“ اور قادیانی تحریک کے بانی کو بھی اس دعویٰ کا فخر حاصل ہے کہ ”میرا وجود ایک نبی (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کو مارنے کے لئے ہے۔“

(ملفوظات صفحہ ۶۰ جلد دہم)

نوعیت کے خیالات کا اظہار قادیانیت کے بانی نے بھی کیا ہے۔ (انجام آتھم وغیرہ)

صفحہ 148

صلیب کشی کو من وعن تسلیم کرتے ہوئے صرف اتنی ترمیم کرتی ہے کہ وہ مرے نہیں تھے، البتہ ”مردہ کی طرح“ ہو گئے تھے۔

ہے، ٹھیک یہی موقف قادیانیت بھی پیش کرتی ہے۔

کی عداوت میں قادیانیت اس سے بھی چار قدم آگے ہے۔ اس کا سرکاری آرگن روزنامہ ”الفضل“ پوری ملت اسلامیہ کو چیلنج کرتا ہے:

”ہم فتحیاب ہوں گے، ضرور تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہو گے، اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہو گا جو فتح مکہ کے دن ابو جہل اور اس کی پارٹی کا ہوا۔“

(الفضل ۳ / جنوری ۱۹۵۲ء ملخص)

جس گروہ کے نزدیک تمام عالم اسلام ”ابو جہل اور اس کی پارٹی“ کی حیثیت رکھتا ہو، اور وہ اپنے آپ کو ”محمد رسول اللہ کا بروز“ قرار دیتا ہو اس کی عداوت مسلمانوں کے ایک ایک فرد سے کس قدر ہو سکتی ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے غیر معمولی فہم و ذکاوت کی ضرورت نہیں۔

”اسرائیل کی حکومت“ قائم کرنے کی خواہشمند ہے، عین قلب اسلام میں اس کی جارحیت اس کے خطرناک ارادوں کی غماز ہے، اور مسلمانوں کے قبلہ اول پر ان کا تسلط عالم اسلام کی غیرت کے لئے کھلا چیلنج ہے، اور وہ کسی صلاح الدین کے لئے چشم براہ ہے۔ اور قادیانیت بھی ...... انگریز اور یہود کے زیر سایہ ...... پوری دنیا کو کھا جانے کا عزم رکھتی ہے۔ قادیاں کا خلیفہ کھل کر اعلان کرتا ہے کہ:

”اس وقت ایک ہی جماعت ایسی ہے جو کمزوری کے لحاظ سے دنیا میں سب سے گری ہوئی ہے۔ مگر ارادہ کے لحاظ سے سب سے بڑھی ہوئی ہے۔ پھر وہ منہ سے دعویٰ ہی نہیں کرتی۔ اس کی بنیاد ہی اس پر ہے کہ دنیا کو کھا جانا ہے۔ “

(الفضل ۱۷۔ اپریل ۱۹۲۸ بحوالہ قادیانی مذہب فصل ۱۶ نمبر ۶۰)

”۵۲ء کو گزرنے نہ دیجئے جب تک کہ احمدیت کا رعب دشمن

صفحہ 149

اس رنگ میں محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت مٹائی نہیں جاسکتی، اور وہ مجبور ہو کر احمدیت کی آغوش میں آگرے۔“

(الفضل ۱۶ / جنوری ۵۲ء)

”اس وقت تک کہ تمہاری بادشاہت قائم نہ ہو جائے تمہارے راستہ میں یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہوسکتے۔“

(الفضل ۸ / جولائی ۱۹۳۵ء بحوالہ قادیانی مذہب فصل ۱۶ نمبر ۵۵)

کامیاب ہوئے، اسی طرح قادیانیوں کے لئے انگریز گورنر کی سازش سے پاکستان میں ربوہ سٹیٹ قائم کی گئی، جس کے تمام ممالک سے روابط ہیں۔

اور اگر اس کا یہ سہارا ختم ہو جائے تو وہ ایک دن بھی باقی نہیں رہ سکتی۔ اسی طرح ”قادیانی سٹیٹ“ بھی اپنے مغربی آقاؤں کے بل بوتے پر عالم اسلام کے مایہ ناز ملک پاکستان کے عین قلب میں باقی ہے۔ اگر اس کا یہ سہارا ختم ہو جائے تو وہ ایک دن بھی باقی نہیں رہ سکتی۔

فلسطین پر قادیانیت اور صیہونیت دونوں کا دعویٰ

صیہونیت اسلام کے مقامات مقدسہ خصوصاً بیت المقدس کو اپنی آبائی میراث سمجھتی ہے اور وہ وہاں مسلمانوں کے وجود کو برداشت نہیں کرتی۔ ٹھیک یہی دعویٰ قادیانیت کا ہے، وہ بھی مسلمانوں کو فلسطین اور بیت المقدس کی تولیت کا مستحق نہیں سمجھتی، کیونکہ وہ قادیانی نبوت کے منکر اور کافر ہیں۔ قادیانیت کا آرگن ”الفضل“ لکھتا ہے :

”اگر یہودی اس لئے بیت المقدس کی تولیت کے مستحق نہیں کہ وہ جناب مسیح اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کے منکر ہیں، اور عیسائی اس لئے غیر مستحق ہیں کہ انہوں نے خاتم النبیینؐ کی رسالت و نبوت کا انکار کر دیا تو یقیناً غیر احمدی (یعنی مسلمان) بھی

صفحہ 150

مستحق تولیت بیت المقدس نہیں۔ (جلد ۹ نمبر ۳۶ ص ۴ ۔ ۷ نومبر ۱۹۲۱ء) الفضل کی اس منطق کا حاصل یہ ہے کہ بیت المقدس کی سرزمین کے مستحق یا تو قادیانی ہیں، ورنہ یہودی ...... گویا قادیانی نبوت، صہیونیت کے لئے نئی الہامی سند مہیا کرتی ہے۔

ربوہ اور تل ابیب

برطانیہ کے وزیر خارجہ مسٹر بالفور کے اعلان ۱۹۱۷ء کے نتیجہ میں ۱۹۴۸ء میں فلسطین میں ”اسرائیل سٹیٹ“ وجود میں آئی۔ جیسا کہ آپ سن چکے ہیں یہودیت اور قادیانیت دونوں کا دعویٰ تھا کہ مسلمان بیت المقدس اور فلسطین کے مستحق نہیں یہ سوال کہ ”اسرائیل سٹیٹ“ کے قیام میں قادیانی گروہ کا کتنا حصہ ہے؟ بڑی اہمیت رکھتا ہے، ۱۹۱۷ء سے قیام اسرائیل تک فلسطین پر قادیانی ”تبلیغ“ کی یورش رہی اور قادیانیوں کے ممتاز افراد ”سفید سامراج“ کے گماشتوں کی حیثیت سے فلسطین میں کام کرتے رہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود خلیفہ قادیان نے دورہ لندن سے واپسی پر قادیانی سازش کی نگرانی کے لئے بیت المقدس کا دورہ ضروری سمجھا۔

۱۹۳۴ء میں خلیفہ قادیان نے دنیا میں تبلیغ کا جال پھیلانے کے لئے جو درحقیقت انگریز کے محکمہ جاسوسی کی ذیلی شاخ تھی ...... ”تحریک جدید“ کا اعلان کیا، اور اس کے لئے مالیات کا مطالبہ کیا تو سب سے زیادہ رقم فلسطین کی قادیانی جماعت نے مہیا کی۔

یہاں اہم ترین سوال یہ ہے کہ یہ خطیر رقم جو فلسطین سے خلیفہ قادیان کو وصول ہوئی، کہاں سے آئی اور کس نے مہیا کی؟ کیا یہ رقم ان معدودے چند۔ افراد نے مہیا کر دی تھی جو اسلام سے مرتد ہو کر قادیانی امت میں شامل ہو گئے تھے؟ کیا ان کی مالی حیثیت اس قدر مستحکم تھی کہ وہ اپنے علاقے میں وسیع اخراجات برداشت کرنے کے بعد ایک بہت بڑی رقم خلیفہ قادیان کی خدمت میں نذر کر دیتے؟ جو شخص واقعات کو عقل و فہم کی میزان میں تولنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ اس کا جواب نفی میں دے گا، میں یہاں مشرق وسطیٰ کے ایک وسیع النظر مصنف محمد محمود الصواف کا حوالہ دوں گا، وہ اپنی وقیع کتاب

صفحہ 151

”المخططات الاستعمارية لمكافحة الاسلام“ میں قادیانیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

” قادیانی سب سے اکفر اور خسیس تر جماعت ہے جسے ستم پیشہ انگریز نے، ہندوستان پر اپنے تسلط کے دوران پروان چڑھایا۔ یہ کافر ٹولہ ہمیشہ زمین میں فساد برپا کرتا رہا ہے، اور ہر میدان میں اسلام کی عداوت و مخالفت اس کا شعار رہا ہے۔ خصوصاً افریقہ میں ان کی سرگرمیاں بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ مجھے افریقہ کے ملک ”یوگنڈا“ سے خط ملا ہے جس کے ساتھ مرزا غلام احمد کذاب قادیان کی کتاب ” حمامۃ البشریٰ“ بھی تھی، جو وہاں بڑی تعداد میں تقسیم کی گئی، اور جو کفر و ضلال سے بھری پڑی ہے۔

یہ خط مجھے مسلمانوں کے ایک بہت بڑے داعی اور راہنما نے وہاں سے لکھا تھا، جس میں انہوں نے تحریر کیا تھا کہ :

یہاں قادیانیوں کی سرگرمیاں ہمارے لئے اور اسلام کے لئے سخت تشویش کا باعث ہیں، ان کا معاملہ یہاں نہایت سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، اور ان کی تبلیغی سرگرمیاں نہایت شدت اختیار کر گئی ہیں، یہ لوگ یہاں اتنی دولت خرچ کر رہے ہیں جس کا حساب نہیں، اور اس امر میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ یہ مال و دولت سامراج اور اس کے مشنری اداروں کا ہے، اور مجھے باوثوق ذریعہ سے یہ اطلاع ملی ہے کہ وہاں حبشہ کے ”عدیس ابابا“ میں ان کا ایک مضبوط مشن کام کر رہا ہے جس کا سالانہ میزانیہ ۳۵ ملین ڈالر ہے، اور یہ مشن وہاں اسلام کا مقابلہ کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ “

(المخططات الاستعمارية لمكافحة الاسلام ص ۴۴۴ طبع اول )

۳۵ کروڑ ڈالر سالانہ تو صرف حبشہ کے مسلمانوں کی تباہی و بربادی کے لئے صرف کئے گئے۔ اب غور کیا جاسکتا ہے۔ فلسطین کی تباہی و بربادی کے لئے قادیانیت کا تئیس سالہ بجٹ کتنا ہوگا؟ اور یہ ساری رقم کہاں سے آئی؟

صفحہ 152

دوسرا اہم ترین سوال یہ ہے کہ ان تیس سالوں میں (۱۹۱۷ء سے ۱۹۴۸ء تک) قادیانیت کا تبلیغی زور اس خطہ پر کیوں مرتکز رہا، اور قادیانی سرگرمیوں کا یہی سب سے بڑا اڈہ کیوں بنا رہا؟ جس کے نتیجہ میں فلسطینیوں کی خانہ ویرانی اور ”اسرائیل سٹیٹ“ کا قیام عمل میں آیا؟ اور پھر چن چن کر وہاں قادیان کے سازشی دماغوں کو کیوں جمع کیا جاتا رہا؟ یہ سوالات تاریخ کا ایک معمہ اور ”قادیانی، یہودی سازش“ کا قفل ابجد ہیں۔ جن کو ان دونوں تحریکوں کے دوستانہ روابط کی کلید سے حل کیا جانا چاہئے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ ۱۹۴۸ء میں فلسطین میں ”اسرائیل کا اعلان ہوا ٹھیک ان ہی دنوں میں قادیانی گروہ کی ”ربوہ سٹیٹ“ قائم ہوئی۔ اور سب سے پہلے ربوہ سٹیٹ کا ”اسرائیل سٹیٹ“ سے رابطہ قائم کیا گیا ربوہ سٹیٹ کے مطلق العنان حکمران قادیانی خلیفہ کے آرگن نے بڑے تزک و احتشام اور فخر و مباہات سے اعلان کیا : ”عربی ممالک میں بے شک ہمیں اس قسم کی اہمیت حاصل نہیں جیسی ان (یورپی اور افریقی) ممالک میں ہے، لیکن پھر بھی ایک طرح کی اہمیت ہمیں حاصل ہو گئی ہے۔ اور وہ یہ کہ فلسطین کے عین مرکز میں اگر مسلمان رہے ہیں تو وہ صرف احمدی ہیں۔“

(الفضل ۳۰/اگست ۱۹۵۰ء)

الفضل کا یہ جگر خراش اعلان اگر ایک طرف فلسطین کے خانماں برباد مسلمانوں پر خندہ استہزا کی حیثیت رکھتا ہے تو دوسری طرف ”ربوہ سٹیٹ“ کے ”اسرائیلی سٹیٹ“ سے تعلقات و روابط کی شرح و تفسیر بھی مہیا کرتا ہے۔

عالم اسلام — اور بالخصوص پاکستان — کے نزدیک ”اسرائیل“ استعماری سازش کی ناجائز اولاد ہے۔ جس کی پرورش امریکی ایٹم کے زور سے کی جارہی ہے، یہی وجہ ہے کہ تعلقات و روابط استوار کرنا کیا معنی؟ کسی اسلامی حکومت نے استعمار کے اس ”ناجائز بچہ“ کو ابھی تک زندہ رہنے کی اجازت بھی نہیں دی ہے۔ لیکن قادیانیوں کی ”ربوہ سٹیٹ“ خود بھی چونکہ استعمار کی ناجائز اولاد کی حیثیت رکھتی ہے، اس لئے ان دونوں کے نہ صرف باہمی روابط استوار ہوئے، بلکہ دونوں توائم ”بہن بھائی“ کی حیثیت میں عالم اسلام کو چیلنج کر رہے ہیں۔

صفحہ 153

یہاں اس لطیفہ کا ذکر بھی خالی از دلچسپی نہیں ہو گا کہ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۴ء تک پاکستان کا وزیر خارجہ مسٹر ظفر اللہ خاں قادیانی رہا، جو لفظی طور پر حکومت پاکستان کا وزیر خارجہ تھا، مگر معنوی طور پر ”ربوہ سٹیٹ“ کی وزارت خارجہ کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ اس نے رسمی طور پر پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھایا تھا مگر حقیقی طور پر وہ قادیان کے خلیفہ ربوہ کا مطیع و فرمانبردار اور وفادار تھا، اسی کے عہد وزارت میں ”ربوہ سٹیٹ“ کا ”اسرائیل“ سے رابطہ مستحکم ہوا۔۔ جسے میں سفارتی تعلقات کہنا پسند کروں گا۔۔لیکن جب مسٹر ظفر اللہ خاں سے اس سلسلہ میں سوال کیا گیا کہ کیا اسرائیل میں ربوہ کا مشن قائم ہے؟ تو پاکستان کے وزیر خارجہ نے جواب دیا: ”حکومت پاکستان کو تو اس کی اطلاع نہیں۔“

مسٹر ظفر اللہ خاں کا یہ جواب بالکل صحیح تھا، انہوں نے حکومت پاکستان کے نمائندہ کی حیثیت سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی رابطہ قائم نہیں کیا تھا، بلکہ قادیان کے خلیفہ ربوہ کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے اسرائیل سے سفارتی رابطہ قائم کیا تھا، بلاشبہ حکومت پاکستان کو اس کا کوئی علم نہیں تھا، اور مسٹر ظفر اللہ خاں کو اگرچہ اس کا علم تھا مگر وہ حکومت پاکستان کے وزیر صرف رسماً تھے، درحقیقت ان کی حیثیت تو ”ربوہ اسٹیٹ“ کے محکمہ امور خارجہ کے افسر اعلیٰ کی تھی۔

قادیانی گروہ، چالاکی و عیاری میں اپنے سفید آقاؤں کا بھی استاد ہے۔ جب ”ربوہ سٹیٹ“ کے سفارتی روابط ”اسرائیل“ کے ساتھ قائم کئے گئے تو ابتدا میں اسے صیغہ راز میں رکھنے کی کوشش کی گئی، لیکن جب یہ راز طشت از بام ہو کر رہا تو تاویل کی گئی کہ ”اسرائیل“ میں جو قادیانی مشن کام کر رہا ہے اس کا ”ربوہ سٹیٹ“ سے رابطہ نہیں بلکہ وہ انڈیا کے مرکز قادیان کے ماتحت ہے۔

لیکن کچھ دنوں بعد جب ”ربوہ سٹیٹ“ کا بجٹ شائع ہوا تو اس میں ”اسرائیل مشن“ کا میزانیہ بھی موجود تھا۔ اب یہ تاویل کی گئی کہ ”اسرائیل“ میں قادیانی مشن تو قائم ہے، اور ہے بھی ربوہ سٹیٹ کے ماتحت۔ لیکن وہ کوئی سیاسی مشن نہیں، بلکہ تبلیغی مشن ہے۔ میں پہلی تاویل کی طرح اس تاویل کی صحت کو تسلیم کرنے میں بھی تامل نہیں کروں گا، بشرطیکہ یہ ثابت کر دیا جائے کہ قادیانیوں کے ”سیاسی مشن“ اور ”تبلیغی مشن“ الگ الگ ہوتے ہیں۔ جہاں تک ہم نے قادیانی تحریک کا مطالعہ کیا ہے...... اور

صفحہ 154

اگر مجھے اجازت دی جائے تو میں کہوں گا کہ میں نے خود قادیانیوں سے زیادہ اس تحریک کا وسیع و عمیق مطالعہ کیا ہے۔...... ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ قادیانیوں کی تبلیغ عین سیاست ہے اور ان کی سیاست ہی ”تبلیغ“ ہے، کم از کم قادیانی تحریک کی حد تک تبلیغ اور سیاست کے جداگانہ تصور سے ہم نا آشنا ہیں، قادیانی تحریک کو ہم مذہبی تحریک نہیں سمجھتے، بلکہ یہ خالص سیاسی تحریک ہے، جس پر مذہب کا خول بڑی عیاری سے چڑھا دیا گیا ہے۔ اس لئے اگر قادیانی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ”اسرائیل“ میں ان کا ”تبلیغی مشن“ کام کر رہا ہے، تو دوسرے لفظوں میں وہ صاف اعتراف کرتے ہیں کہ ”ربوہ سٹیٹ“ کے سفارتی تعلقات اسرائیل سے مستحکم ہیں۔

ربوہ سٹیٹ اور اسرائیل کے مابین فوجی تعاون

دو آزاد اور خود مختار ریاستوں کے درمیان سیاسی، اقتصادی، فنی اور معاشرتی شعبوں میں تعاون ایک قابل فہم چیز ہے۔ بسا اوقات فوجی تعاون کی صورتیں بھی پیدا ہوئی ہیں۔ لیکن ”ربوہ سٹیٹ“ نے ”اسرائیل“ کے ساتھ ہمہ جہتی تعاون کا ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ اور وہ یہ کہ ”ربوہ سٹیٹ“ کے قادیانی سپاہی اسرائیلی فوج میں بھرتی کئے جاتے ہیں۔ یہ فوجی تعاون کا وہ عالمی ریکارڈ ہے جو ربوہ سٹیٹ نے قائم کر دکھایا ہے...... ہمارے ملک کے موقر جریدہ روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور نے یہ خبر شائع کر کے پورے ملک میں سنسنی پھیلا دی ہے کہ :

”لندن سے شائع ہونے والی کتاب ”اسرائیل اے پروفائل“ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت اسرائیل نے اپنی فوج میں پاکستانی قادیانیوں کو بھرتی ہونے کی اجازت دے دی ہے، یہ کتاب پولیٹیکل سائنس کے ایک یہودی پروفیسر آئی۔ آئی۔ نومائی نے لکھی ہے، اور اسے ادارہ پال مال لندن نے شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ۱۹۷۲ء تک اسرائیل فوج میں چھ سو پاکستانی قادیانی شامل ہو چکے ہیں۔“

(نوائے وقت لاہور صفحہ ۵۔ ۲۹/ دسمبر ۱۹۷۵ء)

صفحہ 155

مسلمانوں کے لئے یہ انکشاف جس قدر کرب انگیز ہو سکتا ہے اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا، پاکستان کے متعدد اہل فکر اس پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کے ایک معزز رکن مولانا ظفر احمد انصاری نے روزنامہ ”طاہر“ لاہور کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ وہ قومی اسمبلی میں اس مسئلہ کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں یہاں ان کے انٹرویو کا اقتباس پیش کر دینا مناسب ہو گا۔

مولانا ظفر احمد انصاری ایم این اے کا اہم انکشاف

س ...... اسرائیلی فوج میں ”احمدیوں“ کی موجودگی ایک خوف ناک انکشاف ہے۔ یہودیوں اور ”احمدیوں“ میں اس تعاون کی کیا تفصیل ہے اور آپ اسے پاکستان کی قومی اسمبلی میں کیوں زیر بحث لانا چاہتے ہیں ۔“

ج ...... پاکستان مسلم مملکت ہے اور یہودی ہر مسلم مملکت کو نیست و نابود کرنے کا عہد کر چکے ہیں۔ وہ اس کے لئے ہر ذریعے اور واسطے کو استعمال میں لا رہے ہیں۔ اور ان کے آلہ کار بننے والوں میں یہ مرزائی یا قادیانی بھی شامل ہیں جو اپنے آپ کو ”احمدی“ کہتے ہیں۔ اسرائیل یہودی صیہونیت کا ہتھیار ہے۔ جس کے ذریعے یہودی عالم اسلام کو زیر کرنا چاہتے ہیں ۱۹۷۲ء تک اسرائیل میں موجود ”احمدیوں“ کی تعداد چھ سو تھی جن پر اسرائیلی فوج میں ”خدمت“ کے دروازے کھول دیئے گئے تھے۔ یہ تفصیل پولیٹیکل سائنس کے یہودی پروفیسر آئی ۔ آئی نو مائی کی کتاب ”اسرائیل اے پروفائل“ ۔ (ISRAEL - A PROFILE) کے صفحہ نمبر ۷۵ پر موجود ہے یہ کتاب پال مال لندن سے ۱۹۷۲ء میں چھپی ہے۔ دلچسپ چیز یہ ہے کہ اس کتاب کے صفحہ ۵۴ پر واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ عربوں پر یہ پابندی اب بھی ہے کہ وہ کسی سرحدی گاؤں میں نہیں رہ سکتے اور اسرائیلی فوج میں بھرتی بھی نہیں ہو سکتے اس کتاب کے صفحہ نمبر ۷۵ پر یہ بھی موجود ہے کہ یہ

صفحہ 156

”احمدی“ پاکستان سے ہیں ایک مسلمان بالخصوص پاکستانی مسلمان کے لئے یہ بات یوں بھی انتہائی اضطراب کا موجب ہے کہ ان ”احمدیوں“ کو پاکستانی قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے بھی میں تحریک التواء کے ذریعے اسے پاکستان کے مقتدر ترین ایوان میں زیر بحث لانا چاہتا ہوں۔

س ...... آپ اس تحریک التوا میں حکومت کی توجہ کن پہلوؤں پر مبذول کرانا چاہتے ہیں؟

ج ...... میں قوم کو بھی آگاہ کرنا چاہتا ہوں اور حضرات اقتدار سے بھی دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جب یہ انہیں بھی معلوم ہے کہ ”احمدی“ دنیا کے کسی خطے میں بھی ہو اپنے ”خلیفہ“ کے حکم پر کام کرتا ہے۔ اس ”خلیفہ“ کا ہیڈکوارٹر پاکستان کے قصبے ربوہ میں ہے۔ اگر اسرائیل میں رہنے والے ”احمدیوں“ کو ربوہ سے یہ ہدایت ہے کہ عرب ممالک پر قبضے اور انہیں تاراج کرنے میں اسرائیل کی مدد کریں، اور جیسا کہ جنگ ۱۹۶۷ء کے زمانہ کے اخبارات میں آیا کہ اسرائیلی پاکستان کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان کے خلاف جس دشمنی اور نفرت کا اظہار بابائے اسرائیل بن گوریان نے کیا تھا اس کے پیش نظر کیا یہ اندیشہ صحیح نہ ہوگا کہ اسرائیل جیسے ”احمدیوں“ کو عربوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے انہیں پاکستان کے خلاف آسانی سے استعمال کرے گا۔ جب کہ ”احمدیوں“ کے ”خلیفے“ کا ہیڈکوارٹر بھی یہیں ہے۔ یہ بھی معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آخر یہ چھ سو ”احمدی“ پاکستان سے اسرائیل کس راستے سے کیسے اور کب پہنچے؟ کیا اب یہ ”احمدی“ پاکستان کی شہریت رکھتے ہیں؟ ان کے پاس دوہری شہریت تو نہیں؟ ان میں سے کتنے پاکستانی پاسپورٹ پر گئے ہیں، کیا وہ پاکستانی پاسپورٹ پر تھے، اور پھر اسرائیل بھاگ گئے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں ہماری وزارت خارجہ اور پاسپورٹ جاری کرنے والے وزارت داخلہ کو کیا علم ہے اور کیا علم نہیں ہے؟ کیا ان ”احمدیوں“ کی وہاں فرار کی روک تھام بھی جاری ہے کیوں کہ ان کے پاکستانی کہلانے سے عربوں سے ہمارے

صفحہ 157

تعلقات مجروح ہو سکتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو اس صورت حال کی (CLARIFICATION) صفائی کرنا چاہئے۔

س...... اسرائیل کے عربوں کے خلاف عزائم ہیں تو ایسے ہی ناپاک عزائم ہمارے بارے میں بھی ہیں؟

ج...... جی!! ...... (بہت لمبی سی ”جی“) یہی وہ بات ہے جس پر میں زور دینا چاہتا ہوں۔ 1967ء میں اسرائیل کی توسیع پسندی اور بیت المقدس پر غاصبانہ قبضے کے بعد پاکستان میں جو رد عمل پیدا ہوا تھا اس نے یہودیوں کے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ چنانچہ بابائے اسرائیل ڈیوڈ بن گوریان نے جون 1967ء میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد پیرس کی سوربون یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا جس کی رپورٹ 9/اگست 1967ء کو صہیونی رسالے ”جیوش کرانیکل“ میں چھپی تھی۔ بابائے اسرائیل نے اعلان جنگ کرتے ہوئے کہا تھا ”عالمی صہیونی تحریک کو پاکستان کے خطرے سے لاپرواہی نہیں برتنی چاہئے، اور اب پاکستان اس کا پہلا نشانہ ہونا چاہئے کیوں کہ یہ نظریاتی مملکت ہمارے وجود کے لئے خطرہ ہے۔ سارے پاکستانی یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں اور عربوں سے محبت کرتے ہیں عربوں کے لئے یہ محبت ہمارے لئے خود عربوں سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے۔ اسی خاطر عالمی صہیونیت کے لئے یہ ضروری ہو چکا ہے کہ اب پاکستان کے خلاف فوری اقدام کیا جائے۔“

”جہاں تک ہندوستانی سطح مرتفع کے باشندوں کا تعلق ہے وہ ہندو ہیں جن کے دل پوری تاریخ میں، مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھرے ہوئے ہیں، لہٰذا ہندوستان ہمارے لئے پاکستان کے خلاف کام کرنے کا اہم ترین مرکز (فوجی اصطلاح BASE استعمال کی گئی) ہے یہ ضروری ہے کہ ہم اس مرکز کا پورا استعمال کریں اور تمام ڈھکے چھپے اور خفیہ منصوبوں کے ذریعے یہودیوں کے دشمن پاکستانیوں پر ضرب لگائیں اور انہیں کچل دیں۔“

صفحہ 158

مولانا ظفر احمد انصاری نے یہ اقتباس ایک کتاب سے انگلش میں پڑھ کر سنایا، پھر سلسلۂ کلام جاری رکھا۔ ”شاید بہت سے لوگوں کو معلوم نہ ہو گا کہ اس کے سوا چار سال بعد دسمبر ۱۹۷۱ء میں اندرونی سازش اور بیرونی جارحیت کے ذریعے ڈھاکہ میں داخل ہونے والی ہندو افواج کا ڈپٹی کمانڈر ایک یہودی تھا۔“

( روزہ ”طاہر“ لاہور ۲۲ تا ۲۸ دسمبر ۱۹۷۵ء )

طوفان کا رخ

قادیانی ”ربوہ سٹیٹ“ مغرب کی استعماری و طاغوتی طاقتوں کی آلہ کار بن کر عالم اسلام کے خلاف سازشوں کا جو طوفان برپا کرنا چاہتی ہے، اس کا کچھ اندازہ خلیفہ ربوہ کے ان متواتر اعلانات سے کیا جاسکتا ہے جن میں قادیانی گروہ کو بار بار تلقین کی جاتی ہے کہ ”نئی صدی (جس کے طلوع میں صرف پانچ سال باقی ہیں) ”احمدیت“ کے غلبہ کی صدی ہے، اس صدی میں ”احمدیت“ تمام عالم پر غالب آئے گی۔“

”احمدیت“ تمام عالم اسلام پر غالب کرنے کے لئے ”ربوہ سٹیٹ“ خفیہ دہشت پسند سرگرمیوں کی تیاری میں مصروف ہے۔ اس کا پہلا انکشاف تو اسرائیلی فوج میں قادیانیوں کی شرکت سے ہوتا ہے، اور مزید انکشاف یہ کیا جاتا ہے کہ چار ہزار قادیانی مغربی جرمنی میں گوریلا تربیت حاصل کر رہے ہیں، ہفت روزہ ”چٹان“ (۵ جنوری ۱۹۷۶ء) کی روایت ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام چنیوٹ میں منعقد ہونے والی ”۲۳ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس“ سے خطاب کرتے ہوئے۔

”مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما حضرت مولانا تاج محمود صاحب نے ان سازشوں کو بے نقاب کیا جو مرزائی پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے اور اسے ”عجمی اسرائیل“ بنانے کے لئے کر رہے ہیں۔“

”مولانا تاج محمود صاحب نے یہ بھی کہا کہ چار ہزار قادیانی نوجوان مغربی جرمنی میں گوریلا تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ قادیانیوں کی سازشوں سے آگاہ رہے اور اس

صفحہ 159

فتنے کا تدارک کرے مولانا تاج محمود نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس بات کا پتہ لگائے کہ قادیانی جماعت کے موجودہ سربراہ مرزا ناصر احمد نے حال ہی میں انگلستان کا جو دورہ علالت کے بہانے کیا، وہاں اس کی مصروفیات کیا تھیں؟ انہوں نے الزام لگایا کہ مرزا ناصر احمد پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔“

اسرائیل کی طرح قادیانی جماعت کا وجود ہی سراپا سازش ہے، اور اس کی سازش کا نشانہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پورا عالم اسلام خصوصاً ایشیا اور مشرق وسطیٰ ہے قادیانی اسرائیل گٹھ جوڑ پاکستان کے ایک بازو کو کاٹ چکا ہے۔ اور دوسرے بازو کی تخریب میں اس کی سرگرمیاں روز افزوں ہیں۔ قادیانی دہشت پسند تنظیم کو ہر اس قوت سے قلبی تعلق ہے جو عالم اسلام کی تخریب کے مقصد میں اس کی معاون ثابت ہو سکے، خواہ وہ یہودیوں کی ”صیہونی تحریک ہو“ یا ”دہریت پسندوں کی سوشلسٹ تحریک“ ـــــ ہندوستان کی ”جارحیت ہو“ یا پاکستان کی امن پسند مسیحی اقلیت ـــــ میں یہاں پاکستان کی مسیحی اقلیت کے صدر جناب صوبہ خان کے دھمکی آمیز بیان کا حوالہ دوں گا۔ جسے روزنامہ ”امن“ کراچی نے ۲۹ ستمبر ۱۹۷۴ء کی اشاعت میں شائع کیا تھا،

صوبہ خان کا بیان

”ساٹھ لاکھ کی بھاری محب وطن اہل کتاب مسیحی اقلیت کے حقوق و مفادات کا عملی تحفظ نہ کیا گیا تو ملک کی بنیادیں ہل جائیں گی، اور قادیانی فرقہ کو اقلیت قرار دینے کی پاداش میں پاکستان کی مسلم اکثریت کو اپنی خوش فہمی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔“

(بحوالہ ”پاکستان، عیسائیت کی زد میں ص ۹ ص ۴۶“ شائع کردہ دفتر

مرکزیہ مجلس دعوۃ الحق پاکستان (ملتان)

میں یہاں جناب صوبہ خان صاحب کے بیان کا منطقی تجزیہ نہیں کرنا چاہتا، نہ میں اس بحث میں الجھنا چاہتا ہوں کہ ”پاکستان کی محب وطن مسیحی اقلیت“ کے صدر نے

صفحہ 160

مسیحی اقلیت کے جو مرعوب کن اعداد و شمار پیش کئے ہیں وہ صحیح ہیں یا جعلی اور مصنوعی۔؟

ہماری دلچسپی سے متعلق محب وطن صوبہ خان صاحب کے بیان کا وہ حصہ ہے جس میں ان کے نزدیک قادیانی فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کو اتنا سنگین جرم قرار دیا ہے کہ اس کی پاداش میں ملک کی بنیادیں ہلا دینا اور مسلم اکثریت کو اس کی خوش فہمی کا خمیازہ بھگتا دینا اہل کتاب مسیحیوں کی حب الوطنی کا مظاہرہ قرار پاتا ہے۔ گویا دنیا بھر کا ہر ہندو، ہر یہودی، ہر مسیحی اور ہر دہریہ قادیانی فرقہ سے دلچسپی رکھتا ہے، اس کے تحفظ کے لئے اپنی طاقت کی چھتری مہیا کرنا ضروری فرض سمجھتا ہے، اور قادیانیوں کی خاطر عالم اسلام کو ڈائنامیٹ سے اڑا دینے کا عزم رکھتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس لئے کہ ۔ "الکفر ملۃ واحدۃ" کفر کے تمام فرقوں کی باہمی لڑائی انہیں اسلام دشمنی کے مقصد پر جمع ہونے سے نہیں روکتی۔ تمام طاغوتی طاقتیں عالم اسلام کے خلاف قادیانی جماعت کی معاون و محافظ ہیں، اور قادیانی گروہ ان سارے طاغوتوں کی شطرنج کا مہرہ ہے، جسے اسلام کو زک پہنچانے کے لئے بہ لطائف الحیل حرکت میں لایا جاتا ہے۔

ربوہ سٹیٹ کا جاسوسی نظام

ربوہ کی قادیانی شہنشاہیت، اسرائیلی فوج کے لئے صرف پاکستان کے قادیانی سپاہی مہیا نہیں کرتی، اور نہ صرف مغربی جرمنی میں ہزاروں گوریلوں کی تربیت کے انتظامات کرتی ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر وہ کفر کے مواصلاتی نظام میں ایک نئے باب کا اضافہ بھی کرتی ہے۔ پاکستان کے فوجی اور انتظامی خفیہ راز ہندوستان کو اور مشرق وسطیٰ کے اندرونی خفیہ راز اسرائیل کو کس طرح پہنچائے جاتے ہیں اس کی تفصیل میرے لئے ناخوشگوار موضوع ہے۔ میں اس موضوع پر بحث کرنے کو پاکستان اور عالم اسلام کی توہین کے مترادف سمجھتا ہوں، اس لئے تفصیلات سے قطع نظر کرتے ہوئے میں ریاست ربوہ کے محکمہ "انٹیلی جنس" کی طرف قائدین ملت کی توجہ مبذول کرانے پر اکتفا کروں گا۔

۱۹۷۵ء میں حکومت پاکستان نے ملک کے اعلیٰ حکام کے نام ایک گشتی مراسلہ

صفحہ 161

جاری کیا تھا جس میں ریاست ربوہ کے محکمہ سی آئی ڈی سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی گئی تھی۔ اس گشتی مراسلہ کی صدائے بازگشت اخبارات میں گونجی اور اخبارات نے اس پر اداریئے لکھے۔ مراسلہ کا مفہوم یہ تھا:

”حکومت کے پاس اس کی معتبر اطلاع ہے کہ ربوہ کی احمدیہ جماعت نے خبر رسانی کا ایک خصوصی عملہ ملازم رکھا ہے جو ایسی سرکاری اور غیر سرکاری اطلاعات فراہم کرے گا جو احمدیہ فرقہ کے مفاد میں ہوں گی۔“

حکومت کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ سرکاری ملازم جو احمدیہ فرقہ سے متعلق ہیں ان کے ذریعہ سرکاری اطلاعات مہیا کی جارہی ہیں ایک اور ذریعہ جس سے کام لے کر احمدیہ جماعت کا خبر رسانی عملہ سرکاری اطلاعات جمع کرتا ہے وہ حکومت کے پنشن یافتہ ملازم ہیں، جن کا ابھی تک اپنے دور کے ساتھیوں اور ماتحتوں پر اثر ہے حکومت کے علم میں یہ بھی آیا ہے کہ بعض احمدیوں نے غیر احمدی ہونے کا اعلان کر دیا ہے تاکہ ان کی طرف سے شک و شبہ جاتا رہے۔ اور وہ آزادی سے تمام مسلمانوں میں خلط ملط ہو سکیں اور معلومات حاصل کر سکیں۔

”حکومت نے بتایا ہے کہ احمدیہ جماعت کے لئے یہ عملہ عام طور پر جو معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے ان میں ربوہ کی احمدیہ جماعت کے باغیوں کی، جن کا نام ”حقیقت پسند پارٹی ہے“ سرگرمیاں مجلس تحفظ ختم نبوت اور جماعت اسلامی کی سرگرمیوں کا پتہ چلانا شامل ہے۔“

”نیز اس میں احمدیہ فرقہ اور شیعہ سنی تعلقات سے متعلق حکومت کی پالیسی میں تبدیلی کی خبر رکھنا بھی شامل ہے۔ حکومت کے اس گشتی مراسلہ میں بتایا گیا ہے کہ ربوہ کی احمدیہ جماعت کا یہ خبر رسانی عملہ فی الحال ربوہ اور لاہور میں تعینات ہے، اور جماعت احمدیہ کی تجویز ہے کہ اس عملہ کی شاخیں راولپنڈی اور کراچی میں قائم کی جائیں۔ اس عملہ کو

یہاں یہ لطیفہ بھی ایک مستقل ”انکشاف“ کی حیثیت رکھتا ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی دفتر ملتان میں ایک قادیانی نوجوان جاسوسی کے لئے متعین کیا گیا۔ ”طالب علم“ بن کر اس نے متواتر تین مہینے تک دفتر میں قیام کیا، اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قادیانیوں کے جاسوسی نظام کی زد میں کون کون آیا ہو گا؟

صفحہ 162

ہدایت دینا اور اس کی نگرانی کرنا احمدیہ فرقہ کے امام (خلیفہ ربوہ) کے بیٹے مرزا ناصر احمد کے سپرد ہے (اور آجکل یہ حضرت خود ریاست ربوہ کے سربراہ ہیں۔ ناقل ) “

(۱۶/ دسمبر ۱۹۵۷ء امروز)

(بحوالہ ”ربوہ کا پوپ ص ۱۳۷، ۱۳۸۔ “ شائع کردہ دفتر بیت القرآن پوسٹ بکس نمبر ۱۰۴۸ لاہور) گورنمنٹ پاکستان کے اس مراسلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے روزنامہ ”آفاق“ لاہور نے اپنے ادارتی نوٹ میں لکھا :

”صوبائی حکومت کا یہ سرکلر ایک اہم مسئلہ سے فرار کی مضحکہ خیز کوشش ہے حکومت کو یہ چھوٹا سا تنکا نظر آگیا کہ ربوہ کی انجمن نے حکومت کے راز حاصل کرنے کے لئے ایک جاسوسی نظام قائم کر رکھا ہے، لیکن یہ بہت بڑا شہتیر نظر نہیں آتا کہ ربوہ کی انجمن نے مذہبی تقدس کی آڑ میں ایک خفیہ متوازی حکومت کی صورت اختیار کر لی ہے، اور وہ ایسے تمام حربے استعمال کرنے پر مجبور ہے جو سیاسی طاقت ہاتھ میں لینے کے لئے ضروری ہیں ...... “

اگر اس ملک میں واقعی ایسے حالات پیدا ہو جائیں اور ایک جماعت اپنی تنظیم اور اپنے وسائل کے ذریعہ قانون و انصاف کی مشینری کو جب چاہے شل کر دے تو حکومت کو طفلانہ سرکلر جاری کرنے کے بجائے ان حالات سے عہدہ برآ ہونے کی مؤثر تدبیر سوچنی چاہئے یا بصورت دیگر اقتدار کے عہدہ سے مستعفی ہو جانا چاہئے۔ “

”اصل یا اہم سوال یہ نہیں کہ نظام ربوہ کے جاسوس، حکومت کے راز چرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت کے پاس راز ہی کون سے ہیں جنہیں وہ (قادیانیوں سے) محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جاسوسی کے علاوہ ربوہ کے خلافتی نظام کے کارکن اور بھی بہت کچھ کر رہے ہیں جو ایک ”دہشت پسند خفیہ سیاسی نظام“ کی سرگرمیوں کی ذیل میں آتا ہے، اس کا کیا علاج ہے؟“

(روزنامہ آفاق ۱۷/ دسمبر ۱۹۵۷ء بحوالہ ”ربوہ کا پوپ“ صفحہ ۱۳۹، ۱۴۰)

اس پر روزنامہ ”تسنیم“ لاہور کا تبصرہ اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے :

صفحہ 163

”افسوس ہے کہ معاصر (روزنامہ آفاق) نے علاج تجویز کرنے کا مسئلہ حکومت پر چھوڑ کر سکوت اختیار کر لیا ہے، حالانکہ یہ مسئلہ کچھ بھی پیچیدہ نہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت قادیانی جماعت کی اصل حیثیت کو مشخص کر دے، اور پردۂ فریب کو چاک کر دے۔ جو اس نے اپنے چہرے پر ڈال رکھا ہے۔“

یہ جماعت بالکل اسی طرح کی ایک خفیہ سیاسی جماعت ہے، جس طرح کوئی خفیہ سیاسی جماعت ہو سکتی ہے۔ لیکن اس نے خود کو محض ایک مذہبی جماعت قرار دے رکھا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے افراد پر سرکاری دفاتر کے دروازے چوپٹ کھلے ہوئے ہیں اور بڑے سے بڑے عہدے پر وہ فائز ہیں۔“

”ان کی اصل وفاداریاں پاکستان کے نظام حکومت سے وابستہ نہیں ہیں بلکہ ربوہ کے خلافتی نظام سے۔ وہ خلافت ربوہ کے راز تو سینے میں چھپا سکتے ہیں مگر سرکاری اطلاعات کو عقیدۃً چھپا نہیں سکتے، اگر چھپائیں تو انہیں نظام خلافت کا باغی قرار دیا جاتا ہے۔“

”معاصر موصوف (روزنامہ آفاق) نے پولیس اور قانون کی جس بے بسی کا ذکر کیا ہے وہ اسی صورتحال کا نتیجہ ہے، اس خرابی کا علاج یہ ہے کہ قادیانی جماعت کو خفیہ سیاسی جماعت قرار دیا جائے اور اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے، جو ایسی جماعتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، اس کے بغیر یہ دو عملی ختم نہیں ہو سکتی اور اس گشتی مراسلے کے اجرا کا کچھ حاصل نہیں بجز اس کے کہ چور کو آگاہ کر دیا جائے کہ جاگ ہو گئی ہے۔ اور وہ اپنا کام زیادہ ہوشیاری کے ساتھ کرے۔“

”ہمیں اندیشہ ہے کہ جن افسروں کے نام یہ گشتی مراسلہ جاری کیا گیا ہے ان میں کتنے ہی لوگ ہوں گے جو اس فہرست میں آئے ہوں گے جن سے خبردار رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔“

(روزنامہ ”تسنیم“ ۸/ دسمبر ۱۹۵۷ء بحوالہ ”ربوہ کا پوپ“ صفحہ ۱۴۱)

صفحہ 164

ایک امتحان، ایک آزمائش

اب قلم کا مسافر اپنی منزل تک رسائی کے آخری مراحل میں ہے، وہ اپنے ہم سفروں کو زیادہ زحمت نہیں دینا چاہتا۔ ”قادیانی اسرائیلی اتحاد“ آپ کے سامنے کھل کر آچکا ہے، قادیانیوں کی یہودی فوجی ٹریننگ کا منظر بھی آپ دیکھ چکے ہیں، ریاست ربوہ کے محکمہ انٹیلی جنس کی خفیہ خبریں بھی آپ سن چکے ہیں۔ اب ذرا عالمِ اسلام میں قادیانیت کے اثر و رسوخ پر بھی نظر ڈال لیجئے۔ پاکستان کے کلیدی شعبے بدستور قادیانیت کے قبضے میں ہیں، پاکستان کی اقتصادیات پر قادیانیوں کا خاصا تسلط ہے۔ بقول علامہ عزیز انصاری:

”۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد مرزائیوں نے اپنا محاذ بدل لیا، اور پاکستان کے سیاسی اور اقتصادی اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، اور امریکہ میں جو مقام یہودیوں کو حاصل ہے وہی انہوں نے پاکستان میں حاصل کرنا چاہا۔“

(ہفت روزہ چٹان ۵؍ جنوری ۱۹۷۶ء صفحہ ۱۸)

فوج سے لے کر ملک کے ہر چھوٹے بڑے محکمہ کی پالیسی ساز باڈی میں قادیانی اب بھی دخیل ہیں، معلوم ہوا ہے کہ سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا میں مذہبی امور کا وزیر اور اس کا سیکرٹری قادیانی ہیں، اسی طرح دیگر اسلامی ممالک میں بھی۔ جہاں قادیانیوں کی ملازمت پر پابندی نہیں — اہم ترین مناصب پر قادیانی فائز ہیں۔ اب میں یہ مفروضہ پیش کرتا ہوں — جو محض مفروضہ نہیں بلکہ بڑی حد تک حقائق و واقعات کی صحیح تصویر ہے — کہ قادیانیوں کی عالمی تحریک جس کا ہیڈ کوارٹر ربوہ ہے، اور جس کا ہر فرد ایک واجب الاطاعت ”خلیفہ“ کے ماتحت کام کرتا ہے، یورپ، یہودیت اور ہندوستان کا آلہ کار اور جاسوس ہے۔ فرض کیجئے پاکستان کے فوجی اور دفاعی راز قادیانی شاخ کے ذریعہ — جو ہندوستان میں ہے — انڈونیشیا پہنچائے جاتے ہیں۔ عالمِ اسلام کی رپورٹ مرکز لندن کی وساطت سے استعماری طاقتوں کو مہیا کی جاتی ہے، مشرقِ وسطیٰ کے خفیہ راز اسرائیل مرکز کے ذریعہ صہیونیوں کو بھیجے جاتے ہیں، اور خلافت ربوہ کا یہ محکمہ اطلاعات تمام اسلام دشمن طاقتوں کی خدمت کے لئے وقف ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمِ اسلام نے قادیانیوں کی جاسوسی اور خفیہ سازشوں سے تحفظ کا کوئی انتظام کیا ہے؟ اور کیا اس وقت تک اس کی

صفحہ 165

ضرورت بھی کسی کے گوشہ ذہن میں آئی ہے؟

۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلے سے قادیانی جارحیت کا تدارک نہیں ہوتا۔ بلکہ اس فیصلہ نے عالمی سطح پر قادیانی تحریک کو پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے خلاف اور بھی برافروختہ کر دیا ہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر مسلمانوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ قادیانیوں کی ”تبلیغ اسلام“ کے مصنوعی خول سے ہوشیار رہیں۔ پاکستان کے اس فیصلہ کے احترام میں بعض دیگر اسلامی ممالک نے بھی کچھ اقدامات کئے ہیں یہ فیصلہ اپنی جگہ لائق صد تحسین ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان، مشرق وسطیٰ اور عالم اسلام کو قادیانیت کی زیر زمین سرگرمیوں سے جو خطرہ لاحق ہے کیا یہ فیصلہ اس کا شافی جواب ہو سکتا ہے؟

جس کافر اور باغی اسلام گروہ کے روابط اعداء اسلام سے موجود ہوں۔ جو تنظیم طاغوتی سامراج کی آلہ کار ہو، جس کے سپاہی صیہونی فوج میں شامل ہو کر مسلمانوں پر آگ برسا رہے ہوں، جو عالم اسلام کو ڈائنامیٹ سے اڑا دینے کا فیصلہ کئے ہوئے ہو، جس کا جاسوسی نظام کسی اسلامی ملک کی پوری مشینری کو مفلوج کر دینے کے درپے ہو، جس کے افراد اسلامی ممالک میں کلیدی عہدوں پر فائز ہو کر بھی ایک واجب الاطاعت خلیفہ کے اشاروں پر کار خاص میں سرگرم عمل ہوں، کیا ایسی جماعت کے لئے صرف ”غیر مسلم اقلیت“ کا کاغذی تعویذ آئین کے گلے میں لٹکا دینا کافی ہے۔ کیا اس ”منتر“ سے ان کی سرگرمیاں بند ہوگئیں؟ کیا انہوں نے اسلامی شعائر کی توہین کا مکروہ عمل ترک کر دیا؟ کیا ان کی وہ کتابیں جن میں انبیاء کرام اور اکابر امت کو برہنہ گالیاں دی گئیں ہیں، ان کی اشاعت ختم ہو گئی؟ کیا طاغوتی طاقتوں سے ان کا رابطہ ختم ہو گیا؟ کیا انہوں نے اسلام کش سازشوں سے توبہ کر لی؟ افسوس ہے کہ ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے اور اس سے بڑھ کر قابل افسوس یہ ”خوش فہمی“ ہے کہ معرکہ سر کر لیا۔

بلاشبہ قادیانی، کافر ہیں۔ آج سے نہیں بلکہ ۱۳۰۱ھ سے کافر ہیں جب مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ :

”منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبےٰ باشد“

لیکن اگر وہ صرف ”کافر“ ہوتے تو دنیا میں اور بہت سے کافر ہیں، قادیانی

صفحہ 166

تحریک صرف اسلام سے باغی نہیں بلکہ یہ صیہونیت اور فری میسن کی طرح ایک خفیہ سیاسی تنظیم ہے، اور یہودی فوجوں میں قادیانی سپاہیوں کی شمولیت اور مغربی جرمنی میں چار ہزار قادیانیوں کی گوریلا تربیت نے اسے ایک دہشت پسند تنظیم ثابت کر دیا ہے۔

صیہونیت اور قادیانیت کا اتحاد پاکستان اور عالم اسلام کے لئے ایک ہولناک خطرہ کا نشان اور قائدین ملت کی فراست و تدبر کے لئے ایک آزمائش اور ایک امتحان ہے قادیانیت نے عالم اسلام سے فیصلہ کن معرکہ آرائی کا منصوبہ طے کر لیا ہے اور خلیفہ ربوہ نے آئندہ صدی میں (جو پانچ سال بعد شروع ہوگی) تمام دنیا پر چھا جانے اور عالم اسلام کو کھا جانے کا اعلان جنگ کر دیا ہے۔ قادیانی مشینری کے تمام کل پرزے۔ لندن سے حیفا تک اور حیفا سے قادیان تک اس اعلان مبارزت پر بڑی تیزی سے حرکت میں آچکے ہیں، اور ”آنے والی صدی میں غلبہ احمدیت“ کے لئے سازشوں کا وسیع منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔

پس چہ باید کرد؟

حریم اسلام کی پاسبانی علماء کے قلم اور سلاطین کی تلوار کے سپرد ہے لیکن افسوس ہے کہ انگریز کے دور غلامی نے سلاطین کے ہاتھ سے ”سیف جہاد“ اور علماء کے ہاتھ سے ”قلم خاراشگاف“ چھیننے کی کوشش کی۔

”علماء کے قلم نے آج سے ۹۵ سال پہلے یہ فیصلہ رقم کیا تھا کہ قادیانی غیر مسلم ہیں ۔“ افغانستان کی حکومت نے نوک تلوار سے اس فیصلے پر دستخط کئے، اور قادیانیوں کو ارتداد کی سزا میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ آج کی مہذب دنیا جو معمولی سی حکومت کے باغی کو گولی سے اڑا دینے کا معمول رکھتی ہے اس نے شاہ دو عالمؐ کے باغیوں کی سزائے موت کو وحشیانہ قرار دیا۔ اور ہمارے تہذیب یافتہ طبقہ نے جو انگریز کی ہر بات پر ایمان بالغیب لانے کا خوگر تھا، اس ”وحشیانہ“ پراپیگنڈے کو خوب ہوا دی۔

اگر مسلمان حکمرانوں کی غیرت نے حریم نبوت کا تحفظ کیا ہوتا اور قادیانیوں پر من بدل دینہ فاقتلوہ کی سزائے ارتداد جاری کی ہوتی تو ۹۵ برس تک عالم اسلام ”تماشائے عبرت“ نہ بنا رہتا، اور آج قادیانی نبوت کے گماشتوں کو یہ حوصلہ نہ ہوتا کہ وہ بیت

صفحہ 167

المقدس اور مکہ و مدینہ پر نظریں جمائیں اور عالم اسلام کو آنکھیں دکھائیں۔ حیرت و حسرت کا مقام ہے کہ قادیانیت کے بارے میں ١٣٠١ھ میں جو فیصلہ علماء نے لکھا تھا ہمارے ذہین طبقہ نے اس کو سمجھنے کے لئے ایک صدی کی طویل مدت صرف کی، آج میں سوچتا ہوں تو بے چین ہو جاتا ہوں کہ اگر مسلمان کی فہم و فراست اور تدبر و عاقبت اندیشی کا یہی معیار قائم رہا تو ہمارے ارباب اقتدار کو قادیانیوں کی گہری سازشوں کے سمجھنے اور ان کا صحیح تدارک کرنے کے لئے کتنی صدیوں کا عرصہ درکار ہوگا؟

کاش! میں کہیں سے صور اسرافیل مانگ لاتا، جس سے کفر کی زمین میں زلزلہ آجاتا، الحاد و زندقہ کے جگر شق ہو جاتے، صدیوں کے جمود و غفلت کے پردے چھٹ جاتے، مردہ دلوں میں یکایک زندگی کی لہر دوڑ جاتی، اور ملک وملت کے محافظ، ان غداران اسلام، باغیان محمدؐ اور دشمنان ملت قادیانیوں کی ہلاکت آفرین سازشوں کا تدارک کرنے کے لئے اینقص فی الدین و انا حی کا نعرہ کفرسوز لگاتے ہوئے کھڑے ہو جاتے۔

نوائے تلخ تر می زن چو ذوق نغمہ کم یابی
حدی را تیز تر میخواں چو محمل را گراں بینی

ہمیں اسلام کے بارے میں الحمدللہ کوئی تشویش نہیں۔ اس کی حفاظت کا ذمہ خدا تعالیٰ نے خود لیا ہے، اور وہ اس کی حفاظت کے لئے خود ہی اسباب بھی پیدا فرما دیتا ہے۔ ہمیں جس چیز نے بے چین کر رکھا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں پر یہ کیا جادو چل گیا ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش کسی سازش کا نوٹس نہیں لیتے اور ان کی آنکھیں اس وقت کھلتی ہیں جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے، اور وقت اپنا اٹل فیصلہ لکھ کر فارغ ہو جاتا ہے۔

ہمارے نزدیک قادیانی، صیہونی سازش کا ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ قادیانیت کو صیہونیت کی طرح، ایک دہشت پسند سیاسی تنظیم تسلیم کرتے ہوئے اس کی تمام سرگرمیوں کو خلاف قانون قرار دیا جائے، اس تحریک کا کوئی فرد کسی اسلامی ملک میں کسی سرکاری منصب پر فائز نہ ہو، اس کے ارکان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے۔ اور جن افراد کا کسی بیرونی سازشی جماعتوں سے رابطہ ثابت ہو جائے، انہیں بغاوت کی سزا دی جائے۔۔ اور

ہر مسلمان یہ نوٹ کر لے کہ کوئی قادیانی کسی حالت میں بھی اسلامی ملک کا وفادار

صفحہ 168

شہری نہیں ہو سکتا۔ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ ہر قادیانی اسلام کے قلعہ کو مسمار کر کے اس پر ”احمدیت“ کا قصر تعمیر کرنا اپنا مذہبی فرض سمجھتا ہے۔

حق تعالیٰ شانہ تمام اعدائے اسلام سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہمارے ارباب اقتدار کو ان فتنوں سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

والحمد للہ اولاً وآخراً

PDF 169

ربوہ سے تل ابیب تک

(جوابُ الجواب)

(حصہ دوم)

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 170

تقریب سخن :

راقم الحروف نے محرم الحرام ۱۳۹۶ھ میں ایک مختصر رسالہ بعنوان ”ربوہ سے تل ابیب تک“ مرتب کیا تھا، جس میں قادیانی یہودی روابط، قادیانی عزائم اور قادیانیوں کی خفی و جلی سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے مسلمانوں کو محتاط اور چوکنا رہنے کا مشورہ دیا گیا تھا، پورے رسالہ کا خلاصہ یہ تھا کہ کوئی قادیانی کسی حالت میں بھی اسلامی مملکت کا وفادار شہری نہیں ہو سکتا، اس لئے کہ ہر قادیانی، اسلام کے قلعہ کو مسمار کر کے اس پر ”احمدیت“ کا قصر تعمیر کرنا اپنا مذہبی فرض سمجھتا ہے، قادیانیت کی صد سالہ تاریخ کا ایک ایک سانحہ ثابت کرتا ہے کہ قادیانی امت کبھی بھول کر بھی اسلام کی وفادار اور مسلمانوں کی خیر خواہ نہیں رہی، ان کے کے اخلاص و مودت کے روابط ہمیشہ کفر اور کفار سے پیوستہ رہے ہیں، اور جو طاغوت، مسلمانوں کی ایذاء رسانی میں سب سے آگے ہو وہی قادیانی ٹولے کا سب سے گہرا دوست اور حلیف رہا ہے۔ جسٹس منیر کے الفاظ میں :

”جب انہوں نے عقیدۂ جہاد کی تاویل میں ”مہربان انگریزی گورنمنٹ“ اور اس کی مذہبی رواداری کی تعریف نہایت ”خوشامدانہ لہجہ“ میں کرنی شروع کی تو اس تاویل پر چند در چند شبہات پیدا ہونے لگے۔ پھر جب مرزا صاحب نے اسلامی ممالک کی عدم رواداری اور انگریزوں کی فراخ دلانہ مذہبی پالیسی کا مقابلہ و موازنہ توہین آمیز انداز میں کیا تو مسلمانوں کا غیظ و غضب اور بھی مشتعل ہو گیا۔ احمدی (مرزائی) جانتے تھے کہ ان کے عقائد دوسرے اسلامی ممالک میں ”اشاعت ارتداد“ پر محمول کئے جائیں گے، اور یہ خیال اس وقت اور بھی پختہ ہو گیا جب افغانستان میں عبداللطیف احمدی (مرزائی) کو سنگسار کیا

صفحہ 171

گیا۔ جب پہلی جنگ عظیم میں (جس میں ترکوں کو شکست ہو گئی تھی) بغداد پر ۱۹۱۸ء میں انگریزوں کا قبضہ ہو گیا، اور قادیان میں اس ”فتح“ پر جشن مسرت منایا گیا تو مسلمانوں میں شدید برہمی پیدا ہوئی، اور احمدی انگریزوں کے پٹھو سمجھے جانے لگے۔“

(منیر انکوائری رپورٹ ص ۲۰۸، ۲۰۹)

اس لئے علامہ اقبال مرحوم نے قادیانیت کا خلاصہ ایک چھوٹے سے فقرے میں

مرزائی عبدالطیف کی سنگساری کے علل و اسباب پر مرزا بشیر الدین نے اپنے ایک خطبہ میں روشنی ڈالی ہے اور اطالوی مصنف کے حوالے سے کہتے ہیں۔ ”وہ (اطالوی مصنف) لکھتا ہے کہ صاحبزادہ عبدالطیف صاحب کو اس وجہ سے ”شہید“ کیا گیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ اس سے افغانوں کا جذبہ حریت کمزور پڑ جائے گا، اور اس پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔“

”اگر ہمارے آدمی افغانستان میں خاموش رہتے اور وہ جہاد کے باب میں جماعت احمدیہ کے مسلک کو بیان نہ کرتے تو شرعی طور پر ان پر کوئی اعتراض نہ تھا، مگر وہ اس بڑھتے ہوئے جوش کا شکار ہو گئے جو انہیں حکومت برطانیہ کے متعلق تھا، اور وہ اسی ہمدردی کی وجہ سے مستحق سزا ہو گئے جو قادیان سے لے کر گئے تھے،

(بجرم عشق توام می کشند و غوغائیست
تو نیز بر سر بام آ کہ خوش تماشائیست)

(اخبار الفضل قادیان، مورخہ ۶ اگست ۱۹۳۵ء ص ۴، کالم ۳، ۴)

بغداد پر انگریز کا تسلط ہوا تو اس المناک سانحہ پر پورا عالم اسلام خون کے آنسو بہا رہا تھا۔ مگر قادیانیوں نے اس کو ”فتح“ قرار دے کر گھی کے چراغ جلائے، اور جس ناشائستہ انداز میں عالم اسلام کے زخموں پر نمک پاشی کی اس کا اندازہ ذیل کے اقتباس سے کیجئے، اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۷ / دسمبر ۱۹۱۸ء کی اشاعت میں لکھتا ہے :

”حضرت مسیح موعود (مرزا آنجہانی) فرماتے ہیں کہ میں مہدی ہوں

صفحہ 172

ادا کر دیا تھا کہ ”قادیانی، اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں۔“ قادیانی اس معاملہ میں بڑے حساس ہیں کہ ان کا اصل چہرہ مسلمانوں کے سامنے عریاں ہو، چنانچہ راقم الحروف کے متذکرہ بالا رسالہ سے قادیانی بے حد پریشان ہوئے، اور قادیانی خلافت کے رکن رکین جناب مرزا طاہر احمد صاحب نے بنفس نفیس اس کے جواب میں خامہ فرسائی فرمائی، یہ جواب رسالہ کی شکل میں میرے سامنے ہے جس کے سرورق پر یہ نام مرقوم ہے : ”جناب بنوری صاحب کے رسالہ ’’ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ۔“

بدحواسی :

قارئین کو شاید تعجب ہوگا کہ رسالہ ”ربوہ سے تل ابیب تک“ محمد یوسف لدھیانوی کی تالیف ہے، رسالہ کے ابتدائیہ میں (صفحہ ۳ پر) مرتب رسالہ کے دستخط ثبت ہیں، صفحہ ۲ پر جہاں طباعتی تفصیلات درج ہیں، وہاں بھی مؤلف کے آگے محمد یوسف لدھیانوی کا نام نمایاں طور پر درج ہے، مگر ان تمام تصریحات کے علی الرغم صاحبزادہ مرزا

اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلہ میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی (بحمداللہ جھوٹے مہدی کی یہ ناپاک تلوار ٹوٹ گئی۔ ناقل) اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس ”فتح“ سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق، عرب ہو یا شام ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔ ”فتح بغداد“ کے وقت ہماری فوجیں مشرق سے داخل ہوئیں۔ دیکھئے کس زمانے میں اس ”فتح“ کی خبر دی گئی، ہماری گورنمنٹ برطانیہ نے جو بصرہ کی طرف چڑھائی کی اور تمام اقوام کے لوگوں کو جمع کر کے اس طرف بھیجا۔ دراصل اس کے محرک خدا تعالیٰ کے وہ فرشتے تھے جن کو اس گورنمنٹ کی مدد کے لئے اس نے اپنے وقت پر اتارا تاکہ وہ لوگوں کے دلوں کو اس طرف مائل کر کے ہر قسم کی مدد کے لئے تیار کریں۔“

(قادیانی مذہب ص ۷۴۱، طبع پنجم فصل ۴، نمبر ۳۱)

۱؎ مرزا آنجہانی نے اپنے خدا کے دو الہامی نام بتائے ہیں، عاجی، اور یلاش، تذکرہ ص ۱۰۵، ۳۸۹)

صفحہ 173

طاہر احمد صاحب اس کو میرے شیخ و مربی حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری مدظلہ العالیٰ کی تالیف بنا کر انہیں نازیبا الفاظ میں مخاطب فرماتے ہیں۔ کیا صاحبزادہ صاحب نے رسالہ پڑھے بغیر ہی جواب کے لئے قلم اٹھا لیا تھا؟ یا ان کے خیال میں دمشق اور قادیان کی طرح لدھیانہ اور بنور بھی ایک ہی چیز ہے؟ کہیں یہ اس بدحواسی کا اثر تو نہیں جو اس رسالہ کی اشاعت سے قادیانی ٹولے کو لاحق ہو گئی ہے تعجب بالائے تعجب یہ کہ ربوہ میں یہ رسالہ جناب مرزا طاہر احمد کے علاوہ ان کے اعوان و انصار نے بھی ملاحظہ فرمایا ہو گا، مگر افسوس ہے کہ کسی نے صاحبزادہ صاحب کو متنبہ نہ کیا کہ حضرت! جب آپ مولف کا نام تک صحیح پڑھنے سے معذور ہیں۔ ”لدھیانوی“ کا بنوری بنا رہے ہیں تو رسالہ کے مندرجات کو کیا سمجھیں گے، اور آپ کے جواب کی قیمت کیا ہوگی؟ کتنی عجیب بات ہے کہ قادیانی امت میں ایسے لوگوں کو امامت و زعامت کا شرف حاصل ہے۔

قادیانی سنت :

مگر قارئین کو تعجب نہیں ہونا چاہئے، صاحبزادہ صاحب نے جو کچھ کیا یہ ان کا مورثی ورثہ اور آبائی سنت ہے، کسی چھوٹے آدمی کی تحریر کو کسی بڑے کی طرف منسوب کر کے جلے دل کے پھپھولے پھوڑنا ان کی پرانی ریت ہے۔ مثلاً حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ۱۳۲۰ھ میں قادیانی وساوس کے جواب میں ایک رسالہ ”الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح“ کے نام سے تحریر فرمایا تھا جس کی لوح پر مصنف کا نام ”حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی مدظلہ“ درج ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس لاجواب رسالہ سے ایسے مبہوت ہوئے کہ بدحواسی میں مصنف کا نام ہی ذہن سے اتر گیا اور رسالہ کو حضرت گنگوہی قدس سرہ، کی جانب منسوب کر کے لکھا کہ :

”جواب شبہات ”الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح“ جو مولوی رشید احمد گنگوہی کے خرافات کا مجموعہ ہے۔“

(ضمیمہ براہین پنجم ص ۱۹۹ مندرجہ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۳۷۱)

لطف یہ کہ صاحبزادہ طاہر احمد کی طرح مرزا آنجہانی نے اپنے فرضی مصنف کو

صفحہ 174

گالیاں تو خوب پیٹ بھر کر دیں، مگر جواب ”الخطاب الملیح“ کی ایک سطر کا بھی نہ دے سکے۔ (کسی کو اس دعوٰی میں شک ہو تو اس رسالہ کا اور مرزا صاحب کے نام نہاد جواب کا مطالعہ کر کے فیصلہ کر سکتا ہے) بہرحال صاحبزادہ صاحب نے اپنے جد بزرگوار کی سنت ایک بار پھر تازہ کر دکھائی، قادیان کے مرزائی خاندان کی ”مراقی روایات“ انہی لطیفوں سے زندہ ہیں۔ قادیانی امت ان پر جتنا بھی ناز کرے بجا ہے۔

ع وزیرے چنیں شہریارے چنیں

قادیانی لغت :

اور ”لدھیانوی“ کو ”بنوری“ بنا دینے پر تعجب اس لئے بھی نہ ہونا چاہئے کہ مرزائیوں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۲؎۔ ان کی اصطلاحات ولغات سب سے جدا ہیں، جن لوگوں کی ڈکشنری میں مرزا کا ترجمہ عیسیٰ ہو، مریم کے معنی چراغ بی بی کے ہوں۔ ”آسمان سے اترنے“ کے معنی ماں کے پیٹ سے نکلنا ہو، دو چادروں کا ترجمہ مراق اور

۱؎ مرزا ڈاکٹر شاہنواز مرزائی کے ایک فقرے کی طرف اشارہ ہے، وہ مرزائی قادیانی کے ”مراق“ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”جب خاندان سے اس کی ابتدا ہوئی تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (صاحبزادہ طاہر احمد کے والد گرامی) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“ (رسالہ ریویو ص ۱۱ بابت اگست ۱۹۲۶ء) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد کو بھی اس مورثی ورثہ سے خاصا حصہ ملا ہوگا۔

۲؎ مرزائیوں کا باوا آدم خود مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ آنجہانی کو دور جدید کے آدم ہونے کا بھی دعوٰی تھا، تریاق القلوب، تحفہ گولڑویہ اور دیگر تصنیفات میں انہوں نے اس کی تصریحات کی ہیں۔ مرزائی عقیدہ کے مطابق ”یا آدم اسکن انت و زوجک الجنۃ“ کا خطاب مرزا آنجہانی کو ہے۔ (دیکھئے تذکرہ ص ۷۰)

صفحہ 175

کثرت بول ۱؎ ہو ۔ دمشق کا ترجمہ قادیان ہو، مسیحا سے مراد ہسٹریا کا مریض ہو، احمد کے معنی غلام احمد ہوں وغیرہ وغیرہ۔ وہ اگر ”اشرف علی تھانوی“ کا ترجمہ ”رشید احمد گنگوہی“ کریں یا ”لدھیانوی“ کے معنی ”بنوری“ بتائیں تو قادیانی لغت کے عین مطابق ہے الٹے کو سیدھا سیدھے کو الٹا کرنا ہی قادیانی مذہب کا بنیادی اصول ہے۔ اس لئے مرزا۔

طاہر احمد صاحب اپنے مذہبی فلسفہ کی رو سے لدھیانوی کو بنوری پڑھنے پر مجبور ہیں۔ جب پچاس کا قرض پانچ سے یہ کہہ کر چکایا جاسکتا ہے کہ پانچ اور پچاس کے درمیان صرف ایک نقطہ کا فرق ہے تو لدھیانوی کا قرض بنوری سے کیوں وصول نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں بھی ایک نقطہ کا تو فرق ۲؎ ہے۔

۱؎ مرزا غلام احمد نے لکھا ہے۔

دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرت بول۔

(ملفوظات ج ۸ ص ۴۴۵)

۲؎ مرزا غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ، کے نام سے ایک ایسی کتاب لکھنے کا وعدہ کیا تھا جس کے پچاس حصے ہوں گے اور جس میں اسلام کی حقانیت کے تین سو دلائل ہوں گے۔ مرزا نے پوری کتاب کی رقم پیشگی وصول کر کے ہضم کر لی، مگر پانچ سو صفحے کی ایک جلد میں چار حصے پورے کر کے چپ سادھ لی۔ ۲۳ سال بعد نصرۃ الحق، نامی کتاب لکھی تو اسی کا دوسرا نام براہین حصہ پنجم، رکھ دیا ”بیک کرشمہ دو کار“ اور پانچ سے پچاس بنانے کی ترکیب یہ ارشاد فرمائی کہ : ”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا“ مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا

صفحہ 176

اخلاقی جرات:

قادیانی مسیحائی سے غلام احمد کا احمد، اشرف علی تھانوی کا رشید احمد گنگوہی اور لدھیانوی کا مولانا بنوری بن جانا تو خیر قادیانی معجزہ ہے، تاہم مرزا طاہر احمد صاحب کی اخلاقی جرات (جو ان کے خاندان کا طرہ امتیاز ہے) کی داد نہ دینا بے انصافی ہوگی موصوف نے اپنے ”تبصرہ“ میں جگہ جگہ مولانا بنوری کو مخاطب فرمایا جواب طلبی فرمائی چیلنج پر چیلنج دیئے مگر اخلاقی جرات کا یہ عالم کہ اپنے مخاطب تک اپنی بات پہنچانے کی ضرورت نہیں سمجھی نہ اس کا تکلف فرمایا غالباً جناب صاحبزادہ صاحب کے نزدیک مولانا بنوری کسی عالم الغیب ہستی کا نام ہے جسے آپ سے آپ ان کی نگارشات کا علم حضوری ہوگا۔ یا ان کے خیال میں متکلم کا یہ فرض نہیں کہ وہ اپنی بات اپنے مخاطب تک پہنچانے کا بھی اہتمام کرے۔ بلکہ شاید یہ فرض ان کے مخاطب ہی پر عائد ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ گوش بر آواز رہے کہ عالی مقام مرزا طاہر احمد صاحب اس سے کیا کیا دریافت فرمانا چاہتے ہیں۔

دنیا میں اہل عقل کا دستور تو یہی دیکھا سنا کہ جب کسی خاص کو مخاطب کیا جائے تو وہ خطاب سب سے پہلے اسی تک پہنچایا جائے۔ مثلاً مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری نے اول السبعین علی الواحد من الثلاثین، لکھی جس میں قادیانیوں سے ستر سوال کئے گئے تھے، تو ان کے دونوں مرکزوں کو (لاہور اور قادیان) رجسٹرڈ بھیجی گئی (جس کے جواب سے آج تک قادیانی امت عہدہ برآ نہیں ہو سکی، نہ انشاء اللہ قیامت تک ہوگی۔) البتہ قادیانی دستور ساری دنیا سے نرالا ہے۔

قادیانی جواب :

جوابدہی کے سلسلہ میں بھی قادیانی لیڈروں کی ایک مخصوص البیلی ادا ہے، بطور گیا، اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے، اس لئے پانچ سے وعدہ پورا ہو گیا۔“

(دیباچہ براہین پنجم ص ۷ مندرجہ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۹)

پانچ سے پچاس کا قرض چکانے کا کتنا آسان نسخہ ہے؟

صفحہ 177

اصول موضوعہ، اسے بھی نوٹ کر لینا چاہئے۔ سب سے پہلے تو وہ اپنی کتابوں کے حوالوں سے انکار کیا کرتے ہیں مناظروں اور مباحثوں میں بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ کتاب کھول کر انہیں حوالہ دکھایا گیا تو کہہ دیا کہ کتاب ہی ہماری نہیں، اور یہ انکار و گریز صرف غیر معروف کتابوں سے متعلق نہیں بلکہ حقیقۃ الوحی اور سیرۃ المہدی جیسی معروف کتابوں کے بارے میں بھی یہی انداز اختیار کیا گیا۔

اگر کسی حوالے میں کوئی لفظ آگے پیچھے ہو گیا یا کتاب کے صفحوں اور اخبار کی تاریخوں کے نقل کرنے میں کسی سے ذرا بھی فروگذاشت ہو گئی پھر تو سمجھنا چاہئے کہ اس غریب کی شامت ہی آگئی، اب اسے قادیان کی خاص ٹکسالی زبان میں سب و شتم سننے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ ہلکے سے ہلکا خطاب جو اسے قادیانی سرکار سے عطا ہو گا وہ ”یہودی“ کا ہے (صاحبزادہ صاحب نے بھی علامہ اقبال کو یہی خطاب دیا ہے) اور اگر کوئی حوالہ ناقابل انکار ہو تو اسے تاویل کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی جائے گی۔ تاویل ان کے گھر کی لونڈی ہے۔ ہر کفر و زندقہ کو تاویل کے ذریعہ عین اسلام ثابت کر دیا جاتا ہے اور گھناؤنی سے گھناؤنی بات کو تاویل کے حسین غلاف میں لپیٹ کر عالی فہم مریدوں کو مطمئن کر لیا جاتا ہے۔ مراق، ہسٹریا، ذیابیطس، سلس البول، حمل، درد زہ وغیرہ تاویل کے زور سے مسیح کے معجزے بن جاتے ہیں۔

کسی صاف اور سیدھی بات کے مفہوم کو الٹ دینا، قطعی و یقینی امور کو مشکوک بنا دینا، دن کو رات اور رات کو دن ثابت کرنا، ایاز کو محمود اور زنگی کو کافور بنا کر پیش کرنا بھی قادیانی لیڈروں کا خاص کرشمہ ہے۔ جناب مرزا طاہر احمد صاحب نے زیر بحث ”تبصرہ“ میں ان تمام قادیانی کرشموں کو نبھایا ہے، جن کی تفصیل آئندہ سطور میں انشاء اللہ قارئین کی نظر سے گزرے گی۔

قادیانی تحفہ :

جھوٹ، بہتان، افترا، اور لعنت کی گردان قادیانیوں کا خاص تحفہ ہے جو ان کی جانب سے عطا کیا جاتا ہے، مرزا طاہر احمد صاحب نے بھی اپنے ”تبصرہ“ میں یہ قادیانی تحفہ بڑی فیاضی سے مولانا بنوری کو عطا فرمایا ہے۔ جھوٹ اور بہتان تو خیر مرزا صاحب کے

صفحہ 178

گھر کی دولت ہے، اس رواں صدی میں قادیان اور ربوہ اس دولت کے سب سے بڑے معدن ہیں، وہ ساری دنیا پر بھی اسے تقسیم کر دیں تب بھی ختم نہ ہوگی۔ جہاں جھوٹ اور افترا کے چشمے ابلتے ہوں وہاں دو چار چلو اگر راہ چلتوں پر بھی پھینک دیئے جائیں تو کیا کمی واقع ہوتی ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ، جھوٹی نبوت کا دعویٰ ہے، جو لوگ اس کو ہضم کر چکے ہوں۔ ظاہر ہے کہ جھوٹ ان کے گوشت، پوست میں سرایت کئے ہوئے ہوگا۔ اور انہیں ہر سو جھوٹ ہی جھوٹ نظر آئے گا۔

باقی رہی لعنت! تو یہ جھوٹ کا خاصہ لازمہ ہے، یہی وجہ ہے کہ مرزا آنجہانی کے گھر اس کی بھی بڑی فراوانی تھی، اور اس کی داد و دہش میں بھی وہ بڑے سخی تھے، دس دس، بیس بیس لعنتیں تو معمولی بات پر ان کا معمول تھا، اور کبھی موج میں آتے تو گن گن کر ہزار ہزار لعنتیں ایک سانس میں تقسیم کر کے اٹھتے، افسوس ہے کہ اس دولت کی تقسیم میں مرزا آنجہانی جیسی فیاضی اب مرزائی خاندان میں نہیں رہی، غالباً یہ دولت مرزا صاحب کے خاندان اور متعلقین میں تقسیم ہو کر رہ گئی، جناب مرزا طاہر احمد صاحب کو بھی حصہ رسدی ملی ہوگی، اس لئے انہوں نے مولانا بنوریؒ کو اس کا عطیہ دینے میں اپنے جد بزرگوار کی سی فیاضی کا مظاہرہ تو نہیں کیا، تاہم بخل سے بھی کام نہیں لیا۔ اپنی بساط اور مقدور کے موافق انہوں نے خوب لعنت برسائی ہے، دعا کرنی چاہئے کہ حق تعالیٰ ان کی اس خاندانی دولت میں دن دونی رات چوگنی ترقی فرمائے اور دنیا و آخرت میں انہیں اس بیش بہا دولت سے مالا مال رکھے۔

باران لعنت کے سلسلہ میں جناب مرزا طاہر احمد صاحب کو ایک بہت ہی مخلصانہ و نیاز مندانہ مشورہ دینا چاہتا ہوں۔ مشورہ ذرا دقیق سا ہے۔ امید ہے اس پر توجہ فرمائیں گے۔ مشورہ یہ ہے کہ وہ لوگوں پر لعنت برسانے کا شوق تو ضرور فرمایا کریں کہ یہ ان کا آبائی ترکہ ہے، اور کسی کو حق نہیں کہ انہیں اس میراث سے محروم کر دے، مگر اس کے لئے قرآن کریم کی آیت لعنۃ اللہ علی الکاذبین نہ پڑھا کریں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ حدیث میں آتا ہے :

رُبَّ قاریٔ قرآنٍ والقرآن یلعنہ (مشکوٰۃ) ”بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ قرآن ان پر لعنت کرتا ہے“

صفحہ 179

اس حدیث کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ ایک شخص خود ظالم ہے اور وہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے پڑھتا ہے : الا لعنۃ اللہ علی الظالمین۔ (ظالموں پر خدا کی لعنت) تو در حقیقت وہ قرآن کی زبان سے خود اپنے آپ پر لعنت کر رہا ہے۔ اسی طرح ایک شخص خود جھوٹا ہے اور وہ آیت کریمہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین پڑھتا ہے تو نا دانستہ اپنے پر لعنت کرتا ہے۔

یہ تو سب جانتے ہیں کہ مرزا آنجہانی کو نبی، مسیح، احمد، اور محمد رسول اللہ کہنا یکسر خلاف واقعہ ہے (اسی کو جھوٹ کہتے ہیں) اس لئے ان عقائد کے باوجود صاحبزادہ صاحب کا اس آیت کی تلاوت کرنا حدیث بالا کا مصداق ہے۔ بزعم خود وہ یہ دولت دوسروں کو تقسیم کرتے ہیں مگر یہ آیت خود ان کے حق میں اس دولت کے اضافہ کا باعث بنتی ہے۔ گویا صاحبزادہ صاحب اس آیت کو پڑھ کر خود اپنے اوپر بد دعا کرتے ہیں میرے خیال میں یہ اچھی بات نہیں، امید ہے وہ یہ خیر خواہانہ مشورہ قبول کر کے آئندہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین کا مورد بننے، بنانے سے احتراز فرمائیں گے، جتنی لعنت انہیں مل چکی ہے وہی بہت ہے۔

چڑنے کا فلسفہ :

ان تمہیدی معروضات کے بعد اب جناب مرزا طاہر احمد صاحب کے ”تبصرہ“ کا سنئے ــــ راقم الحروف نے اپنے رسالہ میں ”قادیانی“ اور ”قادیانیت“ کا لفظ استعمال کیا، مجھے خیال تک نہ تھا کہ اس سے کسی کو چڑ ہوگی، مجھے افسوس ہے کہ مرزا طاہر احمد صاحب اس سے چڑ گئے۔ وہ لکھتے ہیں :

”غالباً قادیانیت سے مولانا، کی مراد احمدیت ہے، اور مولانا احمدیت کو قادیانیت لکھتے وقت اس ارشاد خداوندی سے یا تو ناواقف تھے کہ ولا تنابزوا بالالقاب ترجمہ : ”ایک دوسرے کو (چڑانے کی خاطر) غلط ناموں سے نہ پکارا کرو۔“ یا پھر عمداً اس ارشاد کی تعمیل ضروری نہیں سمجھتے (بہر حال یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے)“ (ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۲)

(الف) میرا مقصد چڑانا تھا یا نہیں، یہ بحث تو الگ رہی۔ اور یہ بحث بھی فی الحال

صفحہ 180

رہنے دیجئے کہ میں ارشاد خداوندی سے ناواقف تھا یا عمداً اس کی تعمیل نہیں کی۔ سب سے پہلے صاحبزادہ کو یہ تو سوچنا چاہئے تھا کہ وہ قادیانی کے لفظ سے کیوں چڑ جاتے ہیں؟ مرزا آنجہانی کے ماننے والوں کو عموماً ”مرزائی“ یا ”قادیانی“ کہا جاتا ہے، اور کبھی غلام احمد کی نسبت سے ”غلمدی“ بھی کہتے ہیں مرزائی، مرزا کی طرف نسبت ہے، جو نہ صرف ان کے پیشوا کا خاندانی لقب ہے، بلکہ الہامی بھی ہے (دیکھئے تذکرہ ص ۱۳۳، طبع دوم) اسی طرح قادیانی بقول ان کے الہامی بھی ہے اور ان کی مسیحیت کی دلیل بھی۔ (دیکھئے ازالہ اوہام ص ۱۸۵ روحانی خزائن ج ۳ ص ۱۹۰) دنیا کی تمام قومیں اپنے بانیان مذاہب اور اپنے علمی و روحانی پیشواؤں کی طرف انتساب پر فخر کرتی ہیں، مگر دنیا کی تاریخ میں بدقسمتی سے مرزا غلام احمد قادیانی، ایک ایسا مذہبی پیشوا ہے، جس کے پیرو ہی نہیں بلکہ اس کی آل اولاد بھی اس کی طرف انتساب کو موجب ننگ و عار سمجھتی ہے اور اس سے چڑتی ہے۔ فیاللعجب!

(ب) اہل فہم واقف ہیں کہ الفاظ میں حسن و خوبی یا قباحت و شناعت ان کے مفہوم و معنی کی رہین منت ہے، معنی اچھے ہوں تو لفظ حسین ہے، اور معنی برے ہوں تو لفظ قبیح ہے، اور نسبت کی اچھائی برائی منسوب الیہ کی اچھائی برائی پر موقوف ہے، جس کی طرف نسبت کی جائے اگر وہ اچھا ہو تو نسبت قابل فخر ہے، اور اگر برا ہو تو نسبت موجب ننگ و عار سمجھی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ انبیاء و اولیاء کی طرف نسبت پر ہر شخص فخر کرتا ہے۔ اور رسوائے زمانہ شخصیتوں کی طرف نسبت کو گالی تصور کیا جاتا ہے۔ مرزا طاہر احمد صاحب اگر مرزائی، قادیانی، اور غلمدی، کے الفاظ سے چڑتے ہیں تو دراصل لوگوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی شخصیت بہت ہی بدنام اور رسوائے زمانہ تھی، کسی فرد یا جماعت کو اس کی طرف منسوب کرنا مکروہ گالی ہے۔

(ج) مرزا آنجہانی نے ایک الہام میں کہا تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ تیری رسوا کن باتوں کا ذکر باقی نہیں رکھوں گا۔ ولا نبقی من المخزیات ذکراً۔ مرزا آنجہانی کا یہ الہامی وعدہ تو کیا پورا ہوتا خدا کی قدرت کا کرشمہ دیکھو خود مرزا آنجہانی کی ذات ذلت و رسوائی کا نشان بن کر رہ گئی، اس سے بڑھ کر رسوائی و بدنامی کیا ہوگی کہ جس طرح فرعون، ابو جہل، مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کی طرف منسوب ہونے کو کوئی

صفحہ 181

شخص برداشت نہیں کرتا، اسی طرح قادیانی متنبی کی نسبت بھی کسی کو گوارا نہیں، اسی بناء پر مرزائی ذریت قادیانی کے لفظ سے چڑتی ہے۔

(د) مرزا طاہر احمد صاحب تو ”مرزائی اور قادیانی“ کے لفظ سے چڑتے ہیں مگر ان کے اسلاف بطور فخر ان الفاظ کو خود استعمال کرتے تھے، اس سلسلہ میں چند حوالے پیش کرتا ہوں :

ایک خط ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب کے نام شائع ہوا جس میں حکیم صاحب نے بار بار مرزا اور مرزائیوں کا لفظ استعمال کیا۔

جسے صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم، اے نے کلمۃ الفصل، (مندرجہ رسالہ ریویو بابت مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء) میں نقل کیا ہے اس کے آخر میں حکیم صاحب لکھتے ہیں: ”میرے خیال میں میں اور اکثر عقلمند مرزائی یہ نہیں مانتے............“ (ص ۱۵۲)

اس حوالہ سے معلوم ہوا کہ مرزا کو ماننے والے مرزائی ہیں اور یہ کہ ان کی دو قسمیں ہیں عقلمند اور بے عقل ۔ غالباً مؤخر الذکر قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو مرزائی کہلانے سے چڑتے ہیں۔

نے مرزا کے حواریوں کی مدح میں ایک قصیدہ پڑھا مسٹر محمد علی لاہوری کی مدح و ثنا میں یہ شعر تھا :

کیا ہے راز طشت از بام جس نے عیسویت کا
یہی وہ ہیں، یہی وہ ہیں، یہی ہیں پکے مرزائی،

(اخبار بدر ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ء بحوالہ ترک مرزائیت ص ۶)

اس حوالے سے دو نکتے معلوم ہوئے ایک یہ کہ جس طرح میر قاسم علی کا عیسویت کہنا محل اعتراض نہیں اسی طرح مرزائیوں کے دین و مذہب کو ”مرزائیت“ قادیانیت، یا ”غلمدیت“ کہنا بھی کوئی بری بات نہیں، مرزا طاہر احمد صاحب اس سے خواہ مخواہ چڑتے ہیں۔ دوم یہ کہ مرزا کے ماننے والے مرزائی ہیں، ان میں سے کچھ تو مسٹر

صفحہ 182

محمد علی ایم۔ اے کی طرح پکے مرزائی تھے اور کچھ مرزا طاہر احمد صاحب کی طرح کچے مرزائی ہیں مرزائی کے لفظ سے چڑنا ہی ان کے کچے پن کی دلیل ہے۔

صاحب (مرزا طاہر احمد صاحب کے جد فاسد) کا ایک نصیحت نامہ بنام مرتد ڈاکٹر شائع ہوا، اس میں خلیفہ صاحب لکھتے ہیں :

”اس زمانہ میں حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اقدس مرزا صاحب سلمہ میں بروز کیا ہے تو اس وقت مرزائی توحید ہی محمدی توحید ہے، اور اسی سے نجات ہے۔“

(ص ۵ کالم ۲)

دوسرے صفحہ پر مفتی محمد صادق قادیانی کا ایک مضمون شائع ہوا، جس کا عنوان تھا: ”ہم قادیانی بنیں یا لاہوری؟“ اس میں موصوف نے زور دار دلائل سے ثابت کیا ہے کہ مرزا آنجہانی کو ماننے والے قادیانی ہیں اسی سلسلہ میں لکھتے ہیں :

”جب ہمارے مرشد وحی الٰہی کے مطابق قادیانی تھے تو ہم بھی قادیانی ہیں نہ کہ لاہوری۔“

ان تمام حوالوں سے واضح ہے کہ مرزا طاہر احمد صاحب کے اسلاف مرزائی اور قادیانی کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے، اب اگر وہ ان ناموں سے چڑتے ہیں تو گویا اپنے سلف کی روایات سے انحراف کرتے ہیں۔

(ہ) اب میں اس آیت کو لیتا ہوں جس کا حوالہ صاحبزادہ صاحب نے دیا ہے یہ تو ہر طالب علم جانتا ہے کہ اس آیت کا خطاب مسلمانوں سے ہے اور انہی کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد نہ کیا کریں۔ ادھر قادیانی مسلمان ہی نہیں، بلکہ ایک جھوٹے مدعی نبوت کے پیرو ہونے کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں اس لئے آیت کا حکم ان غیر مسلموں کو شامل ہی نہیں فرض کیا کہ قادیانی بہت ہی برا نام ہے جیسا کہ صاحبزادہ صاحب کے کلام سے مترشح ہے۔ اور قادیانی اس نام سے واقعی چڑتے ہیں تب بھی اس میں مولانا کا کیا قصور ہے؟ قصور اگر ہے تو مرزا آنجہانی کا ہے، جس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ تیس دجالوں میں نام لکھایا، اور کفر و

صفحہ 183

ارتداد کی طرح نیو ڈالی یا پھر اس کے ماننے والوں کا قصور ہے جو اسلام کے دائرے سے نکل کر ایک رسوائے زمانہ مدعی نبوت کے کیمپ میں شامل ہوئے راقم الحروف کا قصور بس اتنا ہے کہ اس نے قادیانی کے ماننے والوں کو ان کے پیشوا کی طرف منسوب کر دیا اور یہ نسبت عقلاً و شرعاً و عرفاً لازم ہے قیامت کے دن بھی سب لوگوں کو ان کے پیشوا کی نسبت سے پکارا جائے گا یوم ندعوا کل اناس بامامہم مرزا طاہر احمد صاحب شاید خدا کو بھی یہی کہیں گے کہ آپ ہمیں جلانے کے لئے قادیانی کی نسبت سے پکار رہے ہیں (بہر حال یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے)

الحکم تھا مگر رسول اللہؐ نے اس کا لقب ابو جہل رکھا اور یہ لقب ایسا مشہور ہوا کہ بہت سے لوگوں کو اس کا اصل نام بھی یاد نہ رہا۔ آپؐ کے ایک چچا کا نام عبدالعزّیٰ تھا قرآن کریم نے اس کا لقب ابو لہب رکھا ظاہر ہے کہ یہ لوگ ان القاب سے خوش نہیں ہوتے ہوں گے بلکہ مرزا طاہر احمد صاحب کی طرح ضرور چڑتے ہوں گے۔ افسوس ہے مرزا طاہر احمد صاحب اس وقت نہیں تھے ورنہ خدا اور رسول کو ولا تنابزوا بالالقاب کی آیت (معہ ترجمہ) یاد دلاتے۔

تبدیل کر دیا۔ اسی طرح امت اسلامیہ نے سنت نبوی کی پیروی کرتے ہوئے مرزائیوں کے تجویز کردہ خلاف واقعہ نام احمدی کو مرزائی اور قادیانی سے بدل دیا۔ احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمارے نبی پاکؐ کا مقدس نام ہے اور ایک مرتد ٹولے کا اپنے آپ کو اس مقدس نام کی طرف منسوب کرنا اس نام کی بے حرمتی ہے جو کسی طرح قابل برداشت نہیں نیز مرزائیوں کا احمدی کہلانا دراصل اس عقیدے پر مبنی ہے کہ مرزا احمد ہے اور یہ کہ قرآن کریم میں جس ”احمد“ کے بارے میں حضرت عیسیٰؑ کی بشارت ہے اس سے مراد یہی غلام احمد قادیانی ہے اب کوئی ناواقف ہی ہو گا جو مرزائیوں کو احمدی کہہ کر ان کے اس عقیدے کی تصدیق کرے پس جس طرح ابو جہل کو ابو الحکم کہنا جائز نہیں اسی طرح مرزا آنجہانی کے ماننے والوں کو احمدی کہنا بھی قطعاً صحیح نہیں جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ حقیقت واقعیہ سے بے خبر ہیں۔

صفحہ 184

دامن کو ذرا دیکھ!

قادیانی کا لفظ جو مرزائیوں کے مرشد کا مقدس نام ہے اس پر تو صاحبزادہ صاحب چڑتے ہیں خفا ہوتے ہیں، قرآن کریم کی آیت یاد دلاتے ہیں اس کا ترجمہ سناتے ہیں مگر ان کے باپ دادا نے انبیاء کرام ، صحابہ عظام اور علماء و صلحاء پر جو درفشانیاں کی ہیں ان پر بھی صاحبزادہ صاحب کا سر ندامت سے کبھی جھکا؟ کبھی جبین خجالت عرق آلود ہوئی؟ کبھی دامن تقدس پر نظر پڑی؟ کبھی آیت ولا تنابزوا بالالقاب یاد آئی؟ کتنی عجیب بات ہے قادیانی کے لفظ پر احتجاج کرتا ہے وہ شخص جس کے باپ دادا کا پیشہ ہی گالی گلوچ تھا اور جس کی تین پشتوں سے انبیاء و صلحاء کے حق میں فحش کلامی، ہجو گوئی و دشنام طرازی اور پوستین دری کی روایت چلی آتی ہے صاحبزادہ صاحب کو بار طبع نہ ہو تو مغلظات مرزا میں اپنے دادا کی در فشانیوں کی فہرست ملاحظہ فرمائیں کتے، گدھے، سور، خنزیر اور گوہ کے کیڑے تو مرزا آنجہانی کے منہ میں ہمیشہ رہتے تھے، کمینے اور حرامزادے بھی بہت مرغوب تھے منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے کبھی کبھی شتر مرغ، بغال، سانپ، بچھو اور بھیڑیئے سے بھی شغل فرما لیا کرتے تھے بطور نمونہ اس شیریں کلامی کے چند جملے یہاں نقل کر دیتا ہوں۔

”عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔“

(کشتی نوح ص ۶۵ مندرجہ روحانی خزائن ج ۱۹ ص ۷۱)

”مسیح کا چال چلن کیا تھا ایک کھاؤ، پیو، شرابی، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

(مکتوبات احمدیہ ص ۲۳ ۔ ۲۴ ج ۳)

”جس قدر حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نکل نہیں سکیں۔“

(ازالہ اوہام ص ۷ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۱۰۶)

”یسوع در حقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔“

(ست بچن حاشیہ ص ۱۷۱ مندرجہ روحانی خزائن ص ۲۹۵ ج ۱۰)

”بعض نادان صحابی، جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا۔“

(براہین پنجم ص ۱۲۰ مندرجہ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۳۸۵)

صفحہ 185
إن العدى صاروا خنازير الفلا
ونساءهم من دونهن إلا كلب

(نجم الہدی ص ۱۰ مندرجہ روحانی خزائن ج ۱۴ ص ۵۳)

”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیاؤں سے بڑھ گئی ہیں۔“

(نجم الہدی ص ۱۰ مندرجہ روحانی خزائن ج ۱۴ ص ۵۳)

”جو شخص ...... ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں۔“

(انوار الاسلام ص ۳۰ مندرجہ روحانی خزائن ج ۹ ص ۳۱)

اردو کے علاوہ دو جواہر ریزے عربی میں صاحبزادہ کی نذر ہیں :

ومن اللئام أرى رُجيلا فاسقًا
غولا لعينًا نطفة السفهاء
شكس خبيث فاسق ومزوّر
نحس يسمّى السعد في الجهلاء

( انجام آتھم ص ۲۸۱ مندرجہ روحانی خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۱ )

أذيتنى خبثا فلست بصادق
إن لم تمت بالخزى يا ابن بغاء

( انجام آتھم ص ۲۸۲ مندرجہ روحانی خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۲ )

کیا مرزا طاہر احمد صاحب پسند کریں گے کہ یہ ، پاکیزہ القاب جو مرزا آنجہانی کے ذہن و قلم سے نکلے ان کو اُن کی جماعت کو اور ان کے خاندان کو واپس لوٹا دیئے جائیں اور قادیانی کا برا لقب ان سے واپس لے لیا جائے ؟ ــــ ع ” دامن کو ذرا دیکھ ، ذرا بند قبا دیکھ “

صفحہ 186

قادیانی یہودی عناصر:

راقم الحروف نے اپنے رسالہ میں یہودیت اور قادیانیت کے درمیان مماثلت کی دس وجوہ ذکر کی تھیں (جن میں پہلی تین علامہ اقبال مرحوم سے نقل کی تھیں) مرزا طاہر احمد صاحب نے بزعم خود ایک ایک کا جواب دیا ہے، ان کے جوابات کا حال تو ابھی معلوم ہوگا اس ضمن میں دلچسپ لطیفہ یہ ہے کہ صاحبزادہ صاحب نے صرف قادیانیت کی طرف سے دفاع کی کوشش نہیں کی، بلکہ وہ یہودیت کی طرف سے بھی وکیل صفائی کی حیثیت سے پیش ہوئے ہیں۔ یہ بھی غالباً بقول اقبال ”قادیانیت کے یہودی عناصر کا کرشمہ ہے۔ یہودیت لائق مبارکباد ہے کہ اسے مرزا طاہر احمد کی شکل میں ایک اچھا وکیل ہاتھ آیا، اور صاحبزادہ صاحب مستحق تبریک کہ انہیں راقم الحروف کے چھوٹے سے رسالہ کی بدولت یہودیت کی وکالت کا شرف نصیب ہوا۔ نعم الوفاق وحبذا الرفاق

ع ”ہوئے تم دوست جسکے اس کا دشمن آسماں کیوں ہو؟“

قادیانی اور تصور خدا :

علامہ اقبال مرحوم نے قادیانیت کے حاسد خدا کے تصور، نبی کے متعلق نجومی کے تخیل اور روح مسیح کے تسلسل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”قادیانیت اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہے گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے“

(حرف اقبال ص ۱۲۳)

مرزا طاہر احمد صاحب۔ مرزائی روایات کے عین مطابق۔ علامہ کے ان لطیف اشارات کو سمجھنے سے قاصر رہے اور اپنی طرف سے کچھ کا کچھ مطلب گھڑ کے اس پر مشق تنقید فرمانے لگے۔ تصور خدا کے بارے میں علامہ مرحوم نے جو کچھ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام خدا تعالیٰ کا جو تصور پیش کرتا ہے وہ اس تصور سے یکسر مختلف ہے جو یہودیت پیش کرتی ہے اور جس کی نقالی کا شرف قادیانیت کو حاصل ہے۔ خدا تعالیٰ کی صفات و جمال سے کسی عاقل کو انکار نہیں، نہ ہو سکتا ہے، مگر اسلام ایک ایسے خدائے رحمان و رحیم کا تصور پیش کرتا ہے جس کی رحمت کسی خاص نسل یا طبقہ کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ اس

صفحہ 187

کی رحمت عامہ ہر چیز کو محیط ہے، اور اس کی رحمت خاصہ بلا امتیاز رنگ و نسل تمام اہل ایمان و تقویٰ کو عام ہے، الغرض اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔ ”ان رحمتی سبقت غضبی“ حدیث قدسی ہے۔

برعکس اس کے بگڑی ہوئی یہودیت خدا کا جو تصور پیش کرتی ہے اس کی ساری دلچسپیاں اسرائیل کے ساتھ مخصوص ہیں، اور اس کے دشمنوں کے لئے قہر و غضب اور تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے تاریخ ادیان کا کوئی طالب ناواقف نہیں، اسی کو علامہؔ اپنی خاص اصطلاح میں، حاسد خدا کا تصور، قرار دیتے ہیں جس کے پاس دشمنوں کے لئے لاتعداد زلزلوں اور بیماریوں کی بھرمار ہے۔

ادھر قادیانیت جس خدا کا تصور پیش کرتی ہے اس کی ساری دلچسپیاں مرزا اور مرزائی ذریت پر مرکوز ہیں اور مرزا کے دشمنوں کے لئے اس کے پاس لا تعداد بیماریاں اور زلزلے ہیں۔ بطور نمونہ چند الہامات، ملاحظہ کیجئے:

کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔“

(انجامِ آتھم ص ۵۵ مندرجہ روحانی خزائن جلد ۱۱ ص ۵۵)

تیرے بوجھ اٹھاؤں گا۔“

(تذکرہ ص ۴۲۷ طبع چہارم)

ہوں۔“

(تذکرہ ص ۴۲۷ طبع چہارم)

ہیں۔

(تذکرہ ص ۸۰۲ طبع چہارم)

آؤں گا کہ کسی کو گمان بھی نہ ہوگا۔“

(تذکرہ ص ۵۴۵ طبع چہارم)

صفحہ 188

ہے۔“

(تذکرہ ص ۱۶۳ طبع چہارم)

سے نجات پا جائے گا، اور جو انکار کرے گا اس کے لئے موت درپیش ہے۔ “

(تذکرہ ص ۱۶۸ طبع چہارم)

نہیں ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔

(تذکرہ ص ۳۴۶ طبع چہارم)

”جو شخص تیرے گھر کی چار دیواری کے اندر ہو گا اور جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے۔“

(ص ۲۲۸ طبع چہارم)

”اگر وہ توبہ نہ کریں گے تو خدا ان پر بلا پر بلا نازل کرے گا۔ یہاں تک کہ وہ نابود ہو جائیں گے۔“

(ص ۴۰۱ طبع چہارم)

اس سے قطع نظر کہ مرزا کے یہ ”احلام“ حقائق و واقعات کی ترازو میں کیا وزن رکھتے ہیں اور یہ کہ وہ کونسی آفت ہے جو مسلمانوں پر تو نازل ہوئی، مگر مرزا اور مرزائی ذریت اس سے محفوظ و مصون رہی؟ ان ”الہامات“ میں جو چیز توجہ طلب ہے وہ صرف مرزا اور مرزائی ذریت کے لئے خدائی رحمتوں کی الاٹمنٹ ہے۔ قادیانی خدا کی ساری عنایتیں صرف مرزا کے گھر کی چار دیواری تک محدود ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت مرحومہ کے لئے اس کے پاس وباؤں، آفتوں اور زلزلوں کے سوا کچھ نہیں۔

قادیانی لٹریچر کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قادیانی الہیات کا تانا بانا یہودیت، عیسائیت اور دیگر مذاہب باطلہ کے ملغوبہ سے تیار کیا گیا ہے جس میں لوگوں کو احمق بنانے کے لئے جا بجا اسلام کی پیوند کاری کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ یہ موضوع ایک مستقل تصنیف کا متقاضی ہے تاہم یہاں چند اشارات پر اکتفا کروں گا۔

قادیانی الہامات میں خدا کے لئے ”رب الافواج“ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ (دیکھئے تذکرہ ص ۱۰۲۔ ۴۰۹، ۶۳۵) جس سے اسلامی ادب نا آشنا ہے۔ اور یہ اصطلاح بائیبل (عہد عتیق) سے لی گئی ہے۔

صفحہ 189

بائبل کے بہت سے مقامات میں خدا کے لئے جسمیت ثابت کی گئی ہے (تفصیل کے لئے اظہار الحق مولفہ مولانا رحمۃ اللہ مہاجر مکی کا باب چہارم دیکھئے ۔ ) اس کی تقلید میں قادیانیت خدا کا جسمانی تصور اس طرح پیش کرتی ہے :

”قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے لئے بے شمار ہاتھ ، بے شمار پیر ، اور ہر یک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لاانتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود کی تاریں بھی ہیں ۔“ (توضیح مرام ص ۷۵ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۹۰)

”قیوم العالمین“ کی یہ جاہلانہ تشبیہ بیک وقت دین و مذہب اور عقل و دانش کا ماتم ہے ۔ ”جبریل کو بھی جو سانس کی ہوا یا آنکھ کے نور کی طرح خدا تعالیٰ سے نسبت رکھتا ہے اس طرف ساتھ ہی حرکت کرنی پڑتی ہے یا یوں کہوں کہ خدا تعالیٰ کی جنبش کے ساتھ ہی وہ بھی بلا اختیار و بلا ارادہ اسی طور سے جنبش میں آجاتا ہے کہ جیسا کہ اصل کی جنبش سے سایہ کا ہلنا طبعی طور پر ضروری امر ہے ...... تو معاً اس کی ایک عکسی تصویر جس کو روح القدس کے ہی نام سے موسوم کرنا چاہئے محبّ صادق کے دل میں منقش ہوجاتی ہے“ (توضیح مرام ص ۷۶ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۹۲)

بائبل میں کہیں خدا کو ملول بتایا گیا ہے ، اور کہیں اس کی طرف ”پچھتانا“ منسوب کیا گیا ہے ، قادیانیت اس کی تقلید میں خدا کے لئے خطا و صواب اور صوم و افطار تجویز کرتی ہے : اخطی واصیبہ

(تذکرہ ص ۴۶۲ طبع چہارم ) افطر و اصوم (تذکرہ ص ۴۶۰ طبع چہارم )

بائبل میں خدا کی طرف سونا جاگنا منسوب کیا گیا ہے ۔ (۱۔ زبور ۴۴: ۲۳۔ ۳۵: ۲۳۔ ۷: ۶۔ ۵۹: ۴، ۵۔ ۷۳: ۲۰۔ یرمیاہ : ۳۱: ۲۶۔ ) قادیانیت بھی خدا کو جگا کر سلاتی ہے اور سلا کر جگاتی ہے ۔

” اسہر و انام ۔ میں سوتا ہوں اور جاگتا ہوں ۔ “ (تذکرہ ص ۴۶۰ طبع چہارم )

بائبل حضرت یعقوب علیہ السلام سے خدا کی کشتی کراتی ہے (پیدائش ۳۲ : ۲۴ ، ۲۶۔ ) تو قادیانیت خدا کو ایسی حالت میں پیش کرتی ہے کہ وہ مرزا غلام احمد سے ٹھٹھا مخول کر رہا ہے ۔ مرزا آنجہانی ”امام الزماں“ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایسے لوگوں

صفحہ 190

سے:

”خدا تعالیٰ ان سے بہت قریب ہو جاتا ہے، اور کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرے پر سے جو نور محض ہے اتار دیتا ہے، اور یہ کیفیت دوسروں کو میسر نہیں آتی، بلکہ وہ تو بسا اوقات اپنے تئیں ایسا پاتے ہیں کہ گویا ان سے کوئی ٹھٹھا کر رہا ہے۔“

(ضرورة الامام ص ۱۳ مندرجہ روحانی خزائن ج ۱۳ ص ۴۸۳)

یہ خدا نہیں بلکہ ابلیس کی ذریت شریفہ تھی جو قادیانی امام الزمان کے سامنے نورانی شکل میں متشکل ہو کر اس سے ٹھٹھا کرنے لگی، اور جسے مرزا آنجہانی نے ”خدا کا پاک چہرہ“ سمجھ لیا۔ مرزا سے پہلے بھی بہت سے خام عقل اس ”نورانی سراب“ میں بھٹک کر الحاد و زندقہ کی وادیاں عبور کر چکے ہیں قاتلہم اللہ انی یؤفکون۔

یہودیت حضرت عزیر علیہ السلام کو ”خدا کا بیٹا“ کہتی ہے اور قادیانیت خدا کو مرزا کے بیٹے کی شکل میں آسمان سے اتارتی ہے۔

”انا نبشرک بغلام حلیم، مظہر الحق والعلاء کان الله نزل من السماء، اسمه عمانوایل۔“

(تذکرہ ص ۲۸۱ طبع چہارم)

لطف یہ کہ یہ ”عمانوایل“ کا لفظ بھی بائیبل ہی سے سرقہ ہے۔

یہود بڑے زور سے نعرہ لگاتے تھے کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، یہی نعرہ بانیٔ قادیانیت نے اپنایا :

”تو مجھ سے بمنزلہ بیٹے کے ہے۔“

(تذکرہ ص ۵۲۶ طبع چہارم)

”اسمع ولدی۔ اے میرے بیٹے سن!“

(البشریٰ ص ۴۹ ج ۱)

”تو مجھ سے ہے، اور تیرا بھید میرا بھید ہے۔“

(تذکرہ ص ۲۰۰ طبع چہارم)

”تو ہمارے قدیم پانی سے ہے اور لوگ فشل (بزدلی) سے۔“

(تذکرہ ص ۲۰۴ طبع چہارم)

باپ بیٹا ہونے کے لئے ازدواجی رشتہ لازم و ملزوم ہے۔ قادیانیت اس معما کا

صفحہ 191

حل اس طرح پیش کرتی ہے :

”جیسا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔“

(اسلامی قربانی ص ۱۲ مصنفہ قاضی یار محمد قادیانی بی، اے، پلیڈر)

اور کبھی قادیانی خدا کو مرزا آنجہانی پر زیادہ پیار آتا ہے تو یہ کیفیت ہوتی ہے کہ :

”آواہن (خدا تیرے اندر اتر آیا )“

(تذکرہ ص ۳۱۱ طبع چہارم)

اگر اس ”قادیانی الٰہیات“ پر کسی کو یہ اشکال ہو کہ ایک ہی شخص قادیانی خدا کا بیٹا، اس کا باپ، اس کی بیوی اور پھر اس کا مدخول کیسے ہو گیا؟ تو اسے معلوم رہنا چاہئے کہ قادیانی دین و مذہب کا انحصار ایک نئے ”واحد الوجودی“ فلسفہ پر ہے جس کے مطابق ایک ہی شخص (مرزا) بیک وقت مختلف اور متضاد حیثیات کا حامل ہو سکتا ہے۔ مرزا آنجہانی اس فلسفہ کی تشریح اس طرح کرتے ہیں :

”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی، اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد، جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اس الہام کے ...... مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا، پس اس طور سے میں ابنِ مریم ٹھہرا (یعنی ع ”خود گل و خود کوزہ خود کوزہ گر۔ ناقل)

(کشتی نوح ص ۴۷ مندرجہ روحانی خزائن ص ۵۰ ج ۱۹)

اس فلسفہ کی مزید تشریح اخبار الفضل قادیان (مورخہ ۱۸/ فروری ۱۹۳۰ء) اس طرح کرتا ہے :

”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا ایک فرد اور ”واحد وجود“ ایسا بھی ہو گا جو آپ کی اتباع سے تمام انبیا کا ”واحد مظہر“ اور ”بروز“ ہو گا، اور جس کے ایک ہی وجود سے سب انبیا کا جلوہ ظاہر ہو گا۔ اگر وہ حسب ذیل کلام سے اپنے نطقِ حقیقت کو بیان فرمائے تو کچھ خلاف نہ ہو گا۔ یعنی

صفحہ 192
زنده شد ہر نبی بہ آمدنم
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم

اور یہ کہ

میں کبھی آدم، کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں، نسلیں ہیں میری بے شمار

اور یہ کہ

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبےٰ باشد

(اخبار الفضل قادیان ج ۱۷ نمبر ۶۵ ص ۱۱ مورخہ ۱۸ فروری ۱۹۳۰ء)

قادیانیت کا یہی فلسفہ ”واحد الوجود“ ہے جو مرزا آنجہانی کو کرشن بھی بناتا ہے اور جے سنگھ بہادر بھی۔ رودر گوپال بھی اور کلغی اوتار بھی۔ نعوذ باللہ مسیح بھی اور محمد رسول اللہ بھی۔ اور پھر یہی ان کو خدا کا بروز بھی بناتا ہے اور خدا کا ظہور بھی۔ خدا کا اسم اعلیٰ بھی اور خدا کی توحید و تفرید بھی۔ خدا کی روح بھی اور خدا کی آنکھ، کان بھی۔ خدا کا عرش بھی اور خدا کا وقار بھی، خدا کا بیٹا بھی اور خدا کا باپ بھی۔ خدا کا مدخول بھی اور اس کی قوت رجولیت کا .... بھی خدا کی مانند بھی اور عین خدا بھی۔ نعوذ باللہ ـــــــ ظاہر ہے کہ ”الہیات“ کا یہ قادیانی گورکھ دھندا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں رکھتا، بلکہ یہودیت اور دیگر ادیان باطلہ کا مسروقہ مال ہے جو قادیان کی دکان الہام میں بے قرینہ ڈھیر کر دیا گیا ہے۔

وہ شیفتہ کہ دھوم تھی حضرت کے زہد کی
میں کیا کہوں کل مجھے کس کے گھر ملے

قادیانیت اور تخیل نبوت

علامہ اقبال مرحوم نے قادیانیت پر دوسری تنقید یہ کی کہ وہ نبی کے متعلق نجومی کا تخیل رکھتی ہے جو یہودیت سے مستعار لیا گیا ہے۔ صاحبزادہ طاہر احمد صاحب۔ اپنی موروثی فہم و ذکاوت کی بنا پر۔ علامہ کے اس اشارے کو بھی نہیں پاسکے۔ علامہ مرحوم کے مدعا کی وضاحت کے لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم مرزا آنجہانی سے

صفحہ 193

”نبوت“ کے معنی دریافت کریں۔ پھر یہ دیکھیں کہ قادیانی تخیل نبوت عقل و شرع کی کسوٹی پر صحیح ثابت ہوتا ہے یا غلط؟ اور یہ کہ مرزا آنجہانی نے یہ تخیل کہاں سے اخذ کیا۔

مرزا آنجہانی نے ”نبی اور نبوت“ کا جو مفہوم پیش کیا ہے وہ ان کی حسب ذیل چند عبارتوں سے واضح ہے :

”جس شخص پر پیش گوئی کے طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی بات کا اظہار بہ کثرت ہو اسے ”نبی“ کہا جاتا ہے۔“

(ملفوظات احمدیہ ص ۲۵۱ ج ۱۰، طبع ربوہ)

”عربی اور عبرانی زبان میں ”نبی“ کے معنی صرف پیش گوئی کرنے والے کے ہیں، جو خدا تعالیٰ سے الہام پا کر پیش گوئی کرے............ ہمارا مذہب نہیں ہے کہ ایسی نبوت پر مہر لگ گئی ہے۔ صرف اس نبوت کا دروازہ بند ہے جو احکام شریعت جدیدہ ساتھ رکھتی ہو۔“

(ضمیمہ براہین پنجم ص ۱۸۱ مندرجہ روحانی خزائن ص ۳۵۱، ۳۵۲ ج ۲۱)

”یہ ضرور یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ایک ایسا انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے ہیں، پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کی رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص ۵ مندرجہ روحانی خزائن ص ۲۰۹ ج ۸)

”ہر ایک شخص اپنی گفتگو میں ایک اصطلاح اختیار کر سکتا ہے، لکل ان یصطلح ۔ سو خدا کی یہ اصطلاح ہے۔ جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے ”نبوت“ رکھا ہے یعنی ایسے مکالمات جن میں اکثر غیب کی خبریں دی گئی ہوں۔“

(چشمہ معرفت ص ۳۲۵ مندرجہ روحانی خزائن ج ۲۳ ص ۳۴۱)

ان حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا کے نزدیک نبوت پیش گوئیوں کا نام ہے اور جس شخص کو پیش گوئیوں کے الہام کثرت سے ہوتے ہوں وہ ”نبی“ ہے، اسی بنا پر پہلے

صفحہ 194

نبی، نبی کہلاتے تھے، یہی قادیانی خدا کی اصطلاح ہے، اور اسی کے مطابق مرزا آنجہانی کو نبوت کا ادعا ہے۔ قادیانیت کا یہ تصور نبوت یکسر لچر اور نبوت کے اعلیٰ و ارفع منصب کی تذلیل ہے۔ کیونکہ اول تو نبوت کو پیش گوئیاں ٹھہرانا ہی غلط ہے۔ پیش گوئیاں نہ تو نبوت کی حقیقت میں داخل ہیں، نہ نبوت کو طرداً و عکساً لازم ہیں (کہ کوئی شخص الہام کے دعویٰ کے ساتھ پیشگوئیاں کیا کرے تو نبی کہلائے، اور نہ کرے تو نبی نہ ہو) کون نہیں جانتا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور پر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غار حرا میں جب پہلی وحی ہوئی تو وہ منصب نبوت پر فائز تھے حالانکہ انہوں نے نہ پیشگوئیاں کی تھیں۔ نہ پیشگوئیوں کا انہیں کوئی الہام ہوا تھا۔ قادیانی تخیل نبوت کے مطابق وہ معاذ اللہ نبی نہیں ہوں گے۔

دوم: قرآن مجید میں حضرات انبیاء کرام ؑ کے اوصاف و اخلاق، ان کے فضائل و کمالات ان کے منصب و مرتبہ اور ان کی تعلیمات و ہدایات کی مفصل تشریح فرمائی گئی ہے مگر کسی جگہ ادنیٰ اشارہ تک نہیں کیا گیا کہ نبوت پیش گوئیوں کا نام ہے، نہ کسی نبی نے کبھی یہ دعویٰ کیا کہ چونکہ میں الہام کے ذریعہ بکثرت پیشگوئیاں کرتا ہوں اس لئے مجھے نبی مانو۔

سوم...... حدیث و تفسیر اور اصول و کلام کے ضخیم ترین اسلامی ذخیرہ میں بھی اس قادیانی تخیل کا پتہ نشان نہیں ملتا کہ وہ نبی ہے جو الہامی پیشگوئیوں کی باڑھ لگا دے۔

چہارم...... امت مرحومہ میں دور صحابہ سے لے کر آج تک ہزاروں افراد موجود رہے ہیں جو الہام خداوندی اور مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے سرفراز تھے۔ ان میں سے بعض حضرات نے بذریعہ الہام بہت سی پیشگوئیاں بھی کیں جو حرف بحرف صحیح نکلیں، مگر مرزا آنجہانی کی طرح نہ کسی کے سر میں دعویٰ نبوت کا سودا سمایا نہ امت کے کسی ذی ہوش نے ان الہامی پیشگوئیوں کی بنا پر انہیں ”نبی“ مانا۔

پنجم...... قادیانیت کہتی ہے کہ نبی وہ ہے جو بذریعہ الہام کثرت سے پیش گوئیاں کرے۔ مگر وہ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ اس ”کثرت“ سے کیا مراد ہے اور اس کی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ ایک شخص کم از کم کتنی الہامی پیشگوئیاں کر کے نبی بن جاتا ہے؟ اس کے لئے قادیانیت کوئی پیمانہ تجویز نہیں کرتی۔ ایسی صورت میں کثرت

صفحہ 195

الہام کے ہر مدعی کے لئے نبوت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ ششم ...... قادیانی تخیل نبوت کی رو سے ہر کاہن اور نجومی الہام کے دعوے سے نبی بن سکتا ہے۔ کیونکہ پیشگوئیاں یہ لوگ بھی کرتے رہتے ہیں، انہیں شیطان "الہام" بھی کرتا ہے۔ وان الشياطين ليوحون الى اوليائهم اور جیسا کہ احادیث نبویہ میں ہے ان "الملمات" میں انہیں آئندہ کی خبریں بھی القا کی جاتی ہیں یہ ہے قادیانیت کا نبی کے بارے میں نجومی کا تخیل — جس کی علامہ اقبال مرحوم شکایت فرما رہے ہیں : اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق رسالت و نبوت صرف پیشگوئیاں کرنے کا نام نہیں، جیسا کہ مرزا صاحب نے سمجھا ہے بلکہ یہ اس رفیع الشان منصب کا نام ہے، جسے ہمارے علم عقائد میں "سفارة بين الله و بين الخلق" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غیب الغیب ہے اس کے احکام و مرضیات کی اطلاع ہر کس و ناکس کو نہیں ہو سکتی۔ خدا تعالیٰ کے احکامات و مرضیات بندوں تک پہنچانے کے لئے جن برگزیدہ شخصیتوں کو چن لیا جاتا ہے انہیں نبی اور رسول کہتے ہیں۔ اور اس پیغام رسانی کے منصب پر فائز کرنے کا نام نبوت و رسالت ہے۔ نبی صرف پیش گوئیاں کرنے کے لئے نہیں بنائے جاتے بلکہ بندوں کو دنیا و آخرت کے تمام مصالح (جو ان کی عقل سے بالاتر ہیں) بتانے کے لئے ان کو — مبعوث کیا جاتا ہے۔ ان مصالح میں احکامِ شرعیہ، مرضیات الٰہیہ اور مبدأ و معاد کی وہ تمام چیزیں داخل ہیں جن کا تعلق بندوں کی صلاح و فلاح سے ہے اور یہی وہ امور غیبیہ ہیں جن کو آیت : وما كان الله ليطلعكم على الغيب الآيه اور فلا يظهر على غيبه احداً الا یہ میں ارشاد فرمایا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ چونکہ دین کی تکمیل ہو چکی، مرضیات الٰہی کا مکمل دستور انسانیت کو عطا کر دیا اور دنیا و آخرت کے تمام مصالح بیان فرما دیئے گئے اس لئے منصب نبوت کے بند ہو جانے کا اعلان عام کر دیا گیا : ان الرسالة والنبوة قد انقطعت، فلا رسول بعدی ولا نبی (رسالت و نبوت قطعاً بند ہو چکی، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہو گا نہ نبی۔)

(ترمذی ج ۲ / ص ۶۲ ابواب الرؤیا)

مرزا غلام احمد صاحب چونکہ منصب نبوت سے نا آشنا تھے، ادھر بائیبل میں کہیں دیکھ لیا کہ نبوت کا لفظ پیشگوئی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے (بائیبل میں کئی جگہ یہ اصطلاح استعمال ہوئی ہے اور مرزا صاحب کو ازالہ ۶۲۹ میں اسی اصطلاح سے غلطی لگی

صفحہ 196

ہے ۔) اس سے انہوں نے سمجھا کہ بس نبوت وہ پیش گوئیاں ہیں جن کی رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے ہیں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ) ع ”چوں ندیدند حقیقت رہ افسانہ زدند۔“ مرزا صاحب کی مقام نبوت سے اسی بے خبری کا نتیجہ تھا کہ مرزا صاحب ایک زمانہ تک تو مدعی نبوت پر لعنتیں بھیجتے رہے، بعد میں خود نبوت کے مدعی بن بیٹھے اس تبدیلی کی وجہ بیان کرتے ہوئے مرزا بشیر الدین صاحب لکھتے ہیں :

”حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) دو مختلف اوقات میں نبی کی دو مختلف تعریفیں کرتے رہے ہیں، ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ نبی کی اور تعریف کرتے تھے، اور بعد میں آپ نے جب اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی پر غور فرمایا، اور قرآن کریم کو دیکھا تو اس سے نبی کی تعریف اور معلوم ہوئی۔“

(حقیقۃ النبوۃ ۱۲۲)

”اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کا مسئلہ آپ پر ۱۹۰۰ء یا ۱۹۰۱ء میں کھلا۔“

(حقیقۃ النبوۃ ص ۱۲۱)

یعنی ۱۹۰۱ء تک نہ تو مرزا صاحب کو اپنی ”متواتر وحی“ پر غور کرنے کا موقع میسر آیا تھا، نہ انہیں کبھی قرآن کریم کو کھول کر دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ نہ ان پر مقام نبوت کھلا تھا، یہ ساری سعادتیں مرزا صاحب کو، بقول میاں صاحب، ۱۹۰۱ء کے بعد میسر آئیں، کیسے آئیں؟ اس کی سرگزشت میاں صاحب یوں بیان فرماتے ہیں :

”اس عقیدہ کے بدلنے کا پہلا ثبوت ”اشتہار ایک غلطی کا ازالہ“ سے معلوم ہوتا ہے جو پہلا تحریری ثبوت ہے ورنہ مولوی عبدالکریم صاحب کے خطبات جمعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۰۰ء سے اس خیال کا اظہار شروع ہو گیا تھا، گو پورے زور اور پوری صفائی سے نہ تھا، چنانچہ اسی سال میں مولوی صاحب نے اپنے ایک خطبہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کو مرسل الہی ثابت کیا اور لا نفرق بین احد منھم والی آیت کو آپ پر چسپاں کیا اور حضرت مسیح موعود نے اس خطبہ کو پسند بھی فرمایا، اور یہ خطبہ اسی سال کے الحکم میں چھپ چکا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ پورا فیصلہ اس عقیدہ کا ۱۹۰۱ء میں ہی ہوا۔“

(حقیقۃ النبوۃ ص ۱۲۳)

صفحہ 197

”اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدے میں تبدیلی کی ہے (القول الفصل، میں میاں صاحب نے ایک سال کی اور توسیع فرمادی ہے، اور تبدیلی عقیدہ کا سال ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ تجویز فرمایا ہے ۔ ) اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے۔ “ (حقیقتہ النبوۃ ص ۱۲۱)

میاں صاحب کی ساری تقریر کا حاصل یہ ہے کہ مرزا صاحب ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء تک نبوت کی حقیقت اور ”نبی“ کی تعریف سے ناواقف تھے اس لئے اپنے نبی ہونے سے انکار فرماتے تھے، مولوی عبدالکریم کے خطبات کے دوران نبوت کے خیالات کا اظہار شروع ہوا ایک دو سال برزخی کیفیت رہی، کہ نہ کھل کر نبوت کا اقرار، نہ صاف انکار، بالاخر ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء میں مرزا صاحب پر مسئلہ نبوت منکشف ہوا یوں ان کی نبوت کا فیصلہ ہوا اور وہ پورے زور اور صفائی سے نبی کہلانے لگے۔ میاں صاحب کی اس تقریر سے مرزا صاحب کی علمی برتری کا جو نقش قاری کے ذہن پر مرتسم ہوتا ہے۔ اسے مرزائی لاہوری جماعت کے آرگن ”پیغام صلح“ کی زبانی سننا بہتر ہوگا :

”جناب میاں صاحب کے اس اعلان کے مطابق حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی یہ کم علمی اور نادانی ایسی نادانی کے ذیل میں آتی ہے جسے ــــ توبہ توبہ، نقل کفر، کفر نباشد ــــ نعوذ باللہ جہل مرکب کہتے ہیں کہ باوجود اس بات کے کہ آپ نبی کی تعریف تو نہ جانتے تھے، مگر حالت یہ تھی کہ جہاں کسی نے آپ کی طرف دعویٰ نبوت منسوب کیا اور آپ لگے مدعی نبوت پر لعنتیں کرنے جو شخص ایک بات کو نہیں جانتا (جیسا کہ بقول میاں صاحب، مرزا صاحب نبوت کو نہیں جانتے تھے۔ ناقل) اور پھر اس کے علم پر اس قدر اصرار کرے کہ لعنتوں اور مباہلوں پر اتر آئے اس سے بڑھ کر دنیا میں ”جہل مرکب کا وارث“ کون ہو سکتا ہے۔ خود نبی ہیں اور خیر سے پتہ نہیں کہ میں نبی ہوں، اور باوجود اس لاعلمی اور ”جہل مرکب“ کے آپ (مرزا صاحب) مدعی نبوت پر یا دوسرے لفظوں میں خود اپنے آپ پر لعنتیں بھیجنے میں ذرا تامل نہیں کرتے ــــ یہ بھونڈی اور قابل شرم تصویر جو جناب میاں صاحب نے

صفحہ 198

حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی کھینچی ہے کیا اس قابل ہے کہ کسی عقل مند کے سامنے پیش کی جاسکے؟" (پیغام صلح ۲۷ اپریل ۱۹۳۲ء

(ص ۶ کالم ۱)

بہر حال مرزا بشیر الدین صاحب کے نزدیک مرزا صاحب ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء تک نبوت کی حقیقت سے نا آشنا اور نبی کی صحیح تعریف سے ناواقف تھے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے چھ سات سالوں میں بھی ان کے علم میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اس لئے اگر وہ بائبل کی تقلید میں نبوت کے معنی ”الہامی پیش گوئیاں کرنا“ بتاتے ہیں تو وہ اپنی ناواقفی (یا ”پیغام صلح“ کے الفاظ میں ”جہل مرکب“) کے ہاتھوں مجبور ہیں، اور یہ ارشاد نبوی (جو آپؐ نے ابن صیاد کے بارے میں فرمایا تھا) ان پر پوری طرح صادق آتا ہے :

اخساء فلن تعدو قدرک

مرزا آنجہانی نبی تھے یا نجومی :

مرزا صاحب نے ”نبی“ اور ”نجومی“ کے درمیان جو فرق و امتیاز بیان کیا ہے اس کا خلاصہ صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب حسب ذیل نقل کرتے ہیں :

”اگر چہ نجومی بھی اٹکل پچو سے پیش گوئیاں کرتے ہیں اور بعض پیش گوئیاں ان کی سچی بھی نکل آتی ہیں، لیکن انہیں انبیاء کے برعکس کبھی غیب پر غلبہ عطا نہیں کیا جاتا، اور ان کی اکثر پیشگوئیاں جھوٹی اور خیالی نکلتی ہیں۔ نیز ان میں تائید الہی اور نصرت باری تعالیٰ کی کوئی علامتیں نہیں پائی جاتیں۔ جبکہ انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیوں میں ان کے غلبہ کے اٹل وعدے اور اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید کے روشن نشانات ملتے ہیں۔ مزید بر آں نجومی غیب کی خبریں خدا کی طرف سے نہیں کرتے، جبکہ انبیاء علیہم السلام غیب کی خبریں اپنی طرف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سناتے ہیں اور تائید الہی کے بکثرت نشان اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔“

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۲۱)

اس سے قطع نظر کہ مرزا صاحب کی اس عبارت میں کتنی غلط فہمیاں ہیں۔ جناب صاحبزادہ مرزا طاہر احمد اور ان کی جماعت کی توجہ صرف ایک نکتہ کی جانب مبذول کرانا چاہتا

صفحہ 199

ہوں، وہ یہ کہ مرزا صاحب خود اپنے مقرر کردہ معیار پر ”نبی“ ثابت ہوتے ہیں یا ”نجومی“؟ مرزا طاہر احمد صاحب اپنے جد بزرگوار کی ایسی تحدّی آمیز پیشگوئیاں پیش کریں جو اپنے معنی و مفہوم کے لحاظ سے بالکل واضح اور قطعی ہوں اور جن کو مرزا صاحب نے اپنے صدق و کذب کا معیار ٹھہرایا ہو، اور پھر وہ بغیر کسی تاویل و حیلہ کے پوری ہو گئی ہوں۔ میں بحول اللہ وقوتہ ایک ایک کے مقابلہ میں ان کی ایسی دو دو پیش گوئیاں پیش کرتا جاؤں گا جو کبھی شرمندہ وقوع نہیں ہوئیں، نہ قیامت تک ہوں گی۔ اس کے بعد میں جناب مرزا طاہر احمد صاحب ہی کو منصف ٹھہراؤں گا کہ آیا مرزا صاحب کی حیثیت ایک نبی کی ثابت ہوتی ہے یا ایک نجومی، کاہن، اڑڑ پوپو کی؟ کیا صاحبزادہ اور ان کے رفقائے جماعت کے لئے اس میں عبرت و موعظت اور کوئی سبق ہے؟ ع:

بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر۔

تسلسل روح مسیح کا عقیدہ :

مرزا غلام احمد قادیانی ”آئینہ کمالات اسلام“ میں لکھتے ہیں : ”حضرت مسیح علیہ السلام کو دو مرتبہ یہ موقعہ پیش آیا کہ ان کی روحانیت نے قائم مقام طلب کیا، اول جبکہ ان کے فوت ہونے پر چھ سو برس گزر گئے............ تب بہ اعلام الٰہی مسیح کی روحانیت جوش میں آئی............ اور خدا تعالیٰ سے اپنا قائم مقام چاہا، تب ہمارے نبیؐ مبعوث ہوئے۔ دوسری مرتبہ مسیح کی روحانیت اس وقت جوش میں آئی ............ اور انھوں نے دوبارہ مثالی طور پر دنیا میں اپنا نزول چاہا ...... تو خدا تعالیٰ نے اس خواہش کے موافق ............ ایسا شخص بھیج دیا جو ان کی روحانیت کا نمونہ تھا وہ نمونہ مسیح علیہ السلام کا روپ بن کر مسیح موعود کہلایا، کیونکہ حقیقت عیسویہ کا اس میں حلول، تھا ................... اس لئے وہ عیسیٰ کے نام سے موسوم کیا گیا کیونکہ حضرت عیسیٰ کی روحانیت نے قادر مطلق عزاسمہ سے بوجہ اپنے جوش کے اپنی ایک شبیہ چاہی، اور چاہا کہ حقیقت عیسویہ اس شبیہ میں رکھی جائے تا اس شبیہ کا نزول ہو ...... اور یہ بھی کھلا کہ یوں مقدر ہے کہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد .................... پھر مسیح کی

صفحہ 200

روحانیت سخت جوش میں آکر جلالی طور پر اپنا نزول چاہے گی، تب ایک قہری شبیہ میں اس کا نزول ہو کر اس زمانہ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ تب آخر ہو گا، اور دنیا کی صف لپیٹ دی جائے گی، اس سے معلوم ہوا کہ..................مسیح کی روحانیت کے لئے یہی مقدر تھا کہ تین مرتبہ دنیا میں نازل ہو۔"

(آئینہ کمالات اسلام ملخصاً ص ۳۴۲ تا ۳۴۶ مندرجہ روحانی خزائن ج ۵ ص ۳۴۲ تا ۳۴۶)

مرزا آنجہانی کے اس اقتباس سے واضح ہے کہ وہ مسیح کی روحانیت کے تین بار دنیا میں نازل ہونے اور تین مختلف قالبوں میں حلول کرنے کا عقیدہ رکھتے ہیں، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ اقبال مرحوم نے کہا تھا کہ قادیانیت، یہود کی تقلید میں روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ رکھتی ہے، صاحبزادہ طاہر احمد صاحب اس کو سراسر لغو، مہمل اور بے بنیاد عقیدہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں :

"روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ محض ایک فرضی قصہ ہے جو معترض کا ایجاد کردہ ہے، ورنہ نہ تو یہود اس کے قائل ہیں، نہ مسلمان، نہ عہد نامہ قدیم میں اس کا کوئی ذکر ملتا ہے، نہ قرآن میں نہ حدیث میں ۔"

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۲۶)

ہمیں صاحبزادہ صاحب کی اس تحقیق سے اتفاق ہے البتہ ہم معترض کی جگہ ”مرزا آنجہانی“ کا لفظ تجویز کرتے ہیں۔ کیونکہ وہی اس فرضی عقیدہ کا بہ تقلید یہود موجد ہے۔

قادیانی نظریات اور قرآن و حدیث :

روح مسیح کے تسلسل کی بحث میں صاحبزادہ صاحب نے چند نئے نکتے بھی اٹھائے ہیں، بے انصافی ہو گی اگر ان کے ان جدید نکات کا تجزیہ نہ کیا جائے : سب سے پہلے نکتہ موصوف کا یہ ادعا ہے کہ :

"احمدیت کے نظریات چونکہ سراسر قرآن و حدیث پر مبنی ہیں۔ لہٰذا احمدیت کے لئے ایسے غیر اسلامی عقیدہ پر ایمان رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔"

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۲۶)

صفحہ 201

صاحبزادہ صاحب کے اس خلاف واقعہ ادعا کی مثال ایسی ہے جیسا کہ عیسائی صاحبان تین خدا ماننے کے باوجود یہ دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ ہم توحید کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ ورنہ واقعہ یہ ہے کہ قادیانیوں کو نہ قرآن کریم پر ایمان ہے، نہ حدیث نبوی پر، نہ اجماع امت پر۔ قرآن کریم پر ان کو اس لئے ایمان نہیں کہ ان کے عقیدہ کے مطابق محمد رسول اللہؐ پر جو قرآن نازل ہوا تھا وہ ۱۸۵۷ء (مطابق ۱۲۷۴ھ) میں دنیا سے اٹھ گیا تھا۔

(دیکھئے ازالہ اوہام ص ۲۵۴ حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن حاشیہ ج ۳ ص ۴۹۰)

مرزا طاہر احمد صاحب کے چچا جناب صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم۔ اے نے قرآن کی گمشدگی کا نوحہ یوں کیا ہے:

”ہم کو یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن کے ہوتے ہوئے کسی شخص کو ماننا ضروری کیسے ہو گیا ہم کہتے ہیں کہ قرآن کہاں موجود ہے اگر قرآن موجود ہوتا تو کسی کے آنے کی کیا ضرورت تھی، مشکل تو یہی ہے کہ قرآن دنیا سے اٹھ گیا ہے۔ اسی لئے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہ کو بروزی طور پر دوبارہ دنیا میں مبعوث کر کے آپ پر قرآن شریف اتارا جاوے۔“

(کلمتہ الفصل ص ۱۷۳، مندرجہ رسالہ ریویو مارچ، اپریل ۱۹۱۵ء)

قادیانی صاحبان کو قرآن کریم پر ایمان کیونکر ہو سکتا ہے جبکہ ان کے پیشوا مرزا آنجہانی قرآن کریم کی غلطیاں نکالنے کے لئے تشریف لائے تھے، جو بقول گلاب شاہ مجذوب کے تفسیروں کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہیں۔

(دیکھئے ازالہ اوہام ص ۷۰۸)

قرآن کریم کی طرح حدیث نبوی پر بھی قادیانی صاحبان کو ایمان نہیں، مرزا آنجہانی نے لکھا ہے:

کرتے ہیں تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں، اور یا سرے سے موضوع ہیں اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے (یعنی خود بدولت مرزا آنجہانی) اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے، اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔“

صفحہ 202

(اربعین ۳ ص ۵۹ مندرجہ روحانی خزائن حاشیہ ج ۱۷ ص ۴۰۱)

اس دعوٰی کی حدیث بنیاد نہیں، بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی ہے، ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں، اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ۳۰ مندرجہ روحانی خزائن ج ۱۹ ص ۱۴۰)

اور قرآن کریم پر، تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کے ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں، جس کی حق الیقین پر بنا ہے۔“

(اربعین ۴ ص ۱۱۲ مندرجہ روحانی خزائن ص ۴۵۳ ج ۱۷)

ان حوالوں سے واضح ہے کہ قادیانی نظریات کی اصل بنیاد مرزا آنجہانی کی وحی ہے، جو بقول ان کے ”حق الیقین“ ہے اس کے مقابلہ میں احادیث متواترہ اور دین اسلام کے اجماعی عقائد کی ان کے نزدیک کوئی قیمت نہیں، نہ ان پر کسی قادیانی کا ایمان ہو سکتا ہے۔ ہاں ! مرزا طاہر احمد صاحب اس قرآن پر اپنے نظریات کو مبنی قرار دیتے ہے جو قادیان کے قریب نازل ہوا اور اس حدیث پر جو بذریعہ ٹچی وغیرہ مرزا آنجہانی پر ”وحی“ کی جاتی تھی تو بجا اور درست ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو دعوٰی ہے کہ اس پر قرآن دوبارہ نازل ہوا ہے، اسی لئے قادیانی صاحبان یہ گیت گایا کرتے ہیں :

”پہلی بعثت میں محمد ہے تو اب احمد ہے
تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسولِ مدنی“

(الفضل ٹائٹل ۱۶ / اکتوبر ۱۹۲۲ء)

یہی قادیانی قرآن ہے جس کے بارے میں قادیانی خدا کہتا ہے : انا انزلناہ قریباً من القادیان

(حقیقۃ الوحی ص ۸۸ مندرجہ روحانی خزائن ص ۹۱ ج ۲۲)

صفحہ 203

اور یہی قادیانی قرآن ہے جس میں مرزا غلام قادر کی قرات کے مطابق قادیان کا نام لکھا ہوا مرزا آنجہانی نے بچشم خود ملاحظہ فرمایا

(ازالہ ص ۷۷ حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۱۴۰ حاشیہ)

اسی قادیانی قرآن میں یہ دو آیتیں درج ہیں، جو مسلمانوں کے قرآن میں نہیں: خسف القمر والشمس فی رمضان فبای الاء ربکما تکذبان (تذکرہ ص ۴۴۱ طبع چہارم)

اسی قادیانی قرآن کی شان میں مرزا آنجہانی قصیدہ خوانی کرتے ہیں:

"آنچہ من بشنوم زوحی خدا بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآں منزہ اش دانم از خطاہا ہمیں است ایمانم
بخدا ہست ایں کلام مجید از دہان خدائے پاک و وحید
آن یقینی کہ بود عیسیٰ را بر کلامے کہ شد بدو القاء
واں یقیں کلیم بر تورات واں یقیں ہائے سید السادات
کم نیم زاں ہمہ بروے یقیں ہر کہ گوید دروغ ہست لعین"

(نزول المسیح ص ۱۰۱ مندرجہ روحانی خزائن جلد ۱۸ ص ۴۷۷، ۴۷۸)

ترجمہ: ”میں خدا کی جو وحی سنتا ہوں خدا کی قسم اسے خطا سے پاک جانتا ہوں۔ قرآن کی طرح خطاؤں سے منزہ سمجھتا ہوں یہی میرا ایمان ہے۔ بخدا یہ کلام مجید ہے جو خدائے پاک یکتا کے منہ سے نکلا ہے، جو یقین عیسیٰؑ کو اپنی وحی پر، موسیٰ کو توریت پر اور حضورؐ کو قرآن پر تھا، میں از روئے یقین ان سب سے کم نہیں ہوں، جو جھوٹ کہے وہ لعنتی ہے“

(دریں چہ شک ۔ ناقل )

اسی قادیانی قرآن کے بارے میں مرزا آنجہانی نے کہا ہے کہ:

”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“

(تذکرہ ص ۹۹ طبع چہارم)

اور اسی بناء پر مرزا آنجہانی کو خوش فہمی ہے کہ :

”میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور عنقریب میرے ہاتھ پر ظاہر ہو گا

صفحہ 204

جو کچھ فرقان سے ظاہر ہوا۔"

(تذکرہ ص ۱۷۴ طبع چہارم)

ظاہر ہے کہ اس قادیانی وحی کے بعد مرزا طاہر احمد کو مسلمانوں کے قرآن وحدیث کی ضرورت نہیں رہ جاتی کیونکہ اس کے مقابلے میں ان کے اپنے گھر کا قرآن موجود ہے، لیکن اگر صاحبزادہ صاحب بضد ہوں کہ ان کے نظریات مسلمانوں کے قرآن وحدیث ہی پر مبنی ہیں تو میں ان سے دریافت کرنے کی اجازت چاہتا کہ :

ضرورت ہوئی؟

میں لکھا ہے؟

نہیں بلکہ تیرہویں صدی کے بعد مرزا آنجہانی کی پیروی مدار نجات ہے؟

سے بڑا مرتبہ پاسکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔"

قادیانی کو محمد رسول اللہ تصور کیا جائے اور آنحضرتؐ کی مکی بعثت کو تیرہویں صدی تک محدود سمجھا جائے؟

میں آئے گا؟

ہوگی؟

دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا؟

صفحہ 205

حضرت عیسیٰؑ کا مشن

صاحبزادہ طاہر احمد صاحب لکھتے ہیں:

"احمدیت کا عقیدہ یہود کے عقیدہ کے بالکل برعکس یہ ہے کہ جس مسیح کے ظہور کی خبر بائیبل میں دی گئی تھی وہ مسیح تو ظاہر ہو کر اور اپنا مشن پورا کر کے فوت بھی ہو چکے ہیں۔"

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۲۷)

صاحبزادہ صاحب نے غالباً قسم کھا رکھی ہے کہ وہ جو کچھ لکھیں گے اپنے مرشد کی تحقیق کے قطعا خلاف لکھیں گے، صاحبزادہ صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح اپنے مشن میں کامیاب ہوئے اس کے برعکس مرزا آنجہانی نے لکھا ہے کہ :

بیٹھے۔"

(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ۳۶۱ ج ۲ مندرجہ روحانی خزائن ص ۴۳۱ ج ۱)

سے اچھا کرتے رہے، مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔"

(ازالہ اوہام ص ۳۱۰ ۔ ۳۱۱ حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن حاشیہ ص ۲۵۸ ج ۳)

قوم کے لئے آیا اور افسوس کہ اس کی ذات سے دنیا کو کوئی بھی روحانی فائدہ پہنچ نہ سکا ایک ایسی نبوت کا نمونہ دنیا میں چھوڑ گیا جس کا ضرر اس کے فائدہ سے زیادہ ثابت ہوا اور اس کے آنے سے ابتلا اور فتنہ بڑھ گیا۔" (اتمام الحجۃ ص ۲۷ مندرجہ روحانی خزائن ص ۳۰۸ ج ۸)

صاحبزادہ صاحب! کیا حضرت مسیح کے مشن کی کامیابی یہی ہے جس کا نقشہ مرزا آنجہانی نے مندرجہ بالا اقتباسات میں کھینچا ہے یعنی ان کی کتاب ناقص، تعلیم ناکام، روحانی فائدہ معدوم اور ان کی نبوت مضر اور فتنہ افزا۔ اگر قادیانیت کا مسیح پر یہی ایمان

صفحہ 206

ہے تو کفر کسے کہتے ہیں؟

حضرت عیسیٰؑ اور مرزا قادیانی :

صاحبزادہ صاحب مزید لکھتے ہیں :

” احمدیت یہود کے اس الزام کو باطل قرار دیتی ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اپنے دعویٰ میں جھوٹے تھے۔ “

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۲۷)

صاحبزادہ طاہر احمد صاحب کو یہاں غلط فہمی ہوئی ہے یا انھوں نے جان بوجھ کر غلط بیانی سے کام لیا ہے ورنہ حضرت مسیح کے بارے میں مرزا کا وہی عقیدہ ہے جو یہود کا تھا ذرا مرزا آنجہانی کی تصریحات ملاحظہ ہوں :

پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں، اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔ “

(اعجاز احمدی ص ۱۴ مندرجہ روحانی خزائن ص ۱۲۱ ج ۱۹)

تھی۔ “

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ۵ مندرجہ روحانی خزائن ص ۲۸۹ ج ۱۱)

انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے، لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ “

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۶ حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۰)

مرزا آنجہانی کے بقول حضرت عیسیٰ علیہ السلام جھوٹے تھے، جھوٹی پیش گوئیاں کرتے تھے اور ان کی تعلیم طالمود سے سرقہ تھی۔ ٹھیک یہی عقیدہ یہود کا ہے چنانچہ مرزا آنجہانی لکھتے ہیں :

صفحہ 207

”ایسا ہی یہودی بھی کہتے ہیں کہ انجیل کی عبارتیں طالمود سے لفظ بہ لفظ چرائی گئی ہیں۔“

(نزول المسیح ص ۵۹ مندرجہ روحانی خزائن ج ۱۸ ص ۴۳۷)

اب صاحبزادہ صاحب فرمائیں کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جھوٹا قرار دینے میں قادیانی یہود سے چند قدم آگے نہیں؟

اسلامی عقیدہ درزیوں کے ہاتھ میں:

مرزا طاہر احمد صاحب اسلامی عقیدہ حیات عیسیٰؑ کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھتے ہیں:

”یہ خود آپ کا عقیدہ ہے کہ باقی تمام نبیوں کی روحیں تو جسم عنصری سے پرواز کر چکی ہیں صرف ایک حضرت عیسیٰؑ کی روح ہے جو مسلسل بلا انقطاع اسی مادی جسم سے وابستہ چلی آرہی ہے اب فرمائیے کہ اس عقیدہ کا نام روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ رکھنا کیسا رہے گا؟ کیا آپ کو یہ دلچسپ اصطلاح اپنے عقیدہ پر نہایت عمدگی سے چسپاں ہوتی نظر نہیں آتی؟ اس پہلو سے جب اس اصطلاح پر ایک بار پھر نظر ڈالی جائے تو بے اختیار یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو بنائی ہی آپ کے عقیدہ کے لئے گئی تھی کیسی عمدگی سے ٹھیک بیٹھی ہے جیسے کسی اچھے درزی نے عین ناپ کا کپڑا سیا ہو۔ (ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۲۸)

صاحبزادہ صاحب قادیانی درزیوں کے تعاون سے اسلامی عقائد کے لئے جیسی الٹی سیدھی اصطلاحیں چاہیں تراشتے رہیں مگر ان کی خدمت میں دو گذارشیں ضرور کروں گا۔ اول یہ کہ کسی شخص کے لمبی عمر پانے کو اہل عقل تسلسل روح سے نہیں بلکہ طول حیات سے تعبیر کیا کرتے ہیں—— ہاں ربوہ میں اب کوئی نیا لغت ایجاد ہوا تو دوسری بات ہے آپ فرشتوں کے تو شاید اپنے دادا کی طرح قائل ہی نہیں ورنہ ان کی مثال پیش کرتا کہ وہ آدم علیہ السلام کی تخلیق سے بھی پہلے سے اب تک زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے یہی حال شیطان کا بھی ہے غالباً آپ یہاں بھی تسلسل روح کی اصطلاح چسپاں کر کے قرآن کریم کا مذاق اڑائیں گے اور دور کیوں جائیے خود آنجناب بھی تو ساٹھ ستر سال سے اسی ”تسلسل روح“ کے عارضہ کا شکار ہیں اگر حیات عیسیٰؑ آپ کے نزدیک

صفحہ 208

مضحکہ ہے تو خود آپ کی اپنی زندگی بھی کچھ کم مضحکہ نہیں۔

دوسری گزارش یہ ہے کہ آپ جس عقیدہ کو اپنے گھٹیا مذاق کا نشانہ بنارہے ہیں وہ صرف میرا عقیدہ نہیں بلکہ آنحضرتؐ سے لے کر آج تک تمام اکابر امت کا متواتر اور اجماعی عقیدہ ہے یقین نہ آئے تو اپنے والد مرزا بشیر الدین صاحب کا اعتراف پڑھ لیجئے وہ لکھتے ہیں :

”پچھلی صدیوں میں قریباً سب دنیا کے مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا تھا اور بڑے بڑے بزرگ اسی عقیدہ پر فوت ہوئے........... حضرت مسیح موعود (مرزا آنجہانی) کے دعویٰ سے پہلے جس قدر اولیاء و صلحاء گزرے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا گروہ عام عقیدہ کے ماتحت حضرت مسیح کو زندہ خیال کرتا تھا۔

(حقیقۃ النبوۃ ص ۱۴۲)

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارا عقیدہ وہی ہے جو مرزا محمود کے بقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر پچھلی صدی کے تمام مسلمانوں کا تھا اور جس پر صحابہ، تابعین، ائمہ مجتہدین اور بڑے بڑے اولیاء و صلحاء فوت ہوئے اور تو اور خود مرزا آنجہانی بھی جب تک مسلمان تھا اسی عقیدہ کا قائل تھا، چنانچہ براہین احمدیہ حصہ چہارم میں قرآن کریم کی آیت ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتا ہے :

”یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا اس میں وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا، اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا...... حضرت مسیح پیشگوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ۴۹۸، ۴۹۹ حاشیہ در حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن ص ۵۹۳، ۵۹۴ ج۱)

صفحہ 209

اسی کتاب میں ایک جگہ اپنا الہام درج کر کے اس کی تشریح اس طرح کرتا ہے : ”یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے یعنی......... وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب............. حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے۔“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ در حاشیہ ص ۵۰۵ مندرجہ روحانی خزائن ص ۶۰۱ ج ۱)

مگر جب مرزا آنجہانی نے حلقۂ اسلام سے نکل کر اپنی بروزی نبوت کی پٹڑی جمائی تو خود مسیح بن بیٹھا، اور قرآن کریم، احادیث متواترہ اجماع امت اور خود اپنے الہامات کو پس پشت ڈال کر موت مسیح کا عقیدہ ایجاد کر لیا۔ فضل و اضل۔

انتہائی گستاخانہ اعتراضات :

صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب لکھتے ہیں : ”مسیح موعود کے نزول کی پیش گوئی تو خود سید ولد آدم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی جس کا بکثرت احادیث صحیحہ میں ذکر ملتا ہے...... اس لئے کسی مسلمان کی طرف سے اس عقیدہ کا محل اعتراض ٹھہرایا جانا ایک انتہائی گستاخانہ امر ہے اور ایسے شخص کے متعلق دو ہی امکانات ہیں یا تو وہ احادیث نبویہ کا سرے سے منکر ہے اور اہل قرآن کے فرقہ سے تعلق رکھتا ہے جس کے مشہور سربراہ آج کل غلام احمد صاحب پرویز ہیں، یا پھر وہ حدیثوں کو تو صحیح تسلیم کرتا ہے لیکن نعوذ باللہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کی جسارت کر کے اپنی عاقبت خراب کر رہا ہے۔“

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۲۹)

صاحبزادہ صاحب! مرزا آنجہانی کو آپ کس فرقہ میں شمار کرتے ہیں۔ جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نزول مسیح سے متعلق پیش گوئی پر انتہائی گستاخانہ اعتراضات کر کے اپنی اور اپنے مریدوں کی عاقبت خراب کی؟ آپ غلام احمد پرویز کو منکر احادیث ٹھہراتے ہیں، حالانکہ اس کے ہم نام غلام احمد قادیانی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی

صفحہ 210

احادیث پر جو سوقیانہ اعتراضات کئے اس کی مثال غلام احمد پرویز کجا کسی کٹر سے کٹر دہریئے کے یہاں بھی مشکل سے ملے گی، مرزا آنجہانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب جس جس انداز سے کی اس کی تفصیل کے لئے ضخیم دفتر بھی ناکافی ہے، یہاں صاحبزادہ صاحب کی عبرت کے لئے چند اشاروں پر اکتفا کروں گا۔

پہلی صورت :

تکذیب کی ایک صورت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بات کا اثبات کیا ہو اس کی نفی کی جائے، مثلاً ارشاد نبوی ہے :

ان عیسیٰ لم یمت، وانہ، راجع الیکم (درمنثور ج ۲ ص ۳۶) ترجمہ...... یقین رکھو کہ عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں اور وہ تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔ اب مرزا آنجہانی کی گستاخی دیکھئے کہ وہ حلفاً اس ارشاد کی نفی کرتے ہوئے لکھتا ہے :

ع ”ابن مریم مر گیا حق کی قسم“

(ازالہ اوہام ص ۴۷۳ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۵۱۳)

دوسری صورت :

تکذیب کی ایک صورت یہ ہے کہ ارشاد نبوی کو نعوذ باللہ تضحیک و تمسخر کا نشانہ بنایا جائے، اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں ۔

پر مرزا آنجہانی لکھتا ہے :

”یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسیا کی طرف بھاگے گا۔ اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا، اور جب لوگ عبادت کے

صفحہ 211

وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہو گا، اور شراب پئے گا، اور سور کا گوشت کھائے گا، اور اسلام کے حلال و حرام کی کچھ پرواہ نہیں رکھے گا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ۲۹ مندرجہ روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۳۱)

یہ عبارت اگر ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ پیش گوئی سے خبیث ترین مذاق ہے تو دوسری طرف کذب وافترا اور کفر و ضلال کا کھلا مظاہرہ ہے، مرزا آنجہانی نے اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر شراب پینے سور کھانے اور حلال و حرام کی پرواہ نہ رکھنے کی بہتان تراشی کی ہے جو اس کی اپنی سیرت کا آئینہ ہے۔

اتریں گے (کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص ۴۲۴) مرزا اس ارشاد مقدس کو یوں ہدف استہزا بناتا ہے :

”صرف ضعیف اور متناقض اور رکیک روایتوں سے کام نہیں چل سکتا، سو یہ امید مت رکھ کہ سچ مچ اور در حقیقت تمام دنیا کو حضرت مسیح ابن مریم آسمان سے فرشتوں کے ساتھ اترتے ہوئے دکھائی دیں گے، اگر اسی شرط سے اس پیشگوئی پر ایمان لانا ہے تو پھر حقیقت معلوم، وہ اتر چکے، تم ایمان لا چکے، ایسا نہ ہو کہ کسی غبارہ (بیلون) پر چڑھنے والے اور پھر تمہارے سامنے اترنے والے کے دھوکہ میں آجاؤ سو ہوشیار رہنا، آئندہ اس اپنے جمے ہوئے خیال کی وجہ سے کسی ایسے اترنے والے کو ابن مریم نہ سمجھ بیٹھنا۔“

(ازالہ اوہام ص ۲۸۳ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۲۴۴)

حدیث نبوی سے ایسا سوقیانہ مذاق کوئی بدتر سے بدتر دہریہ بھی کر سکتا ہے؟

اور خنزیر کو قتل کریں گے مرزا آنجہانی اس کا یوں مذاق اڑاتا ہے :

”اب جائے تعجب ہے کہ صلیب کو توڑنے سے اس کا کون سا فائدہ ہے؟ اور اگر اس نے مثلاً دس، بیس لاکھ صلیب توڑ بھی دی تو کیا عیسائی

صفحہ 212

لوگ جن کو صلیب پرستی کی دھن لگی ہوئی ہے اور صلیبیں بنوا نہیں سکتے، اور دوسرا فقرہ جو کہا گیا ہے کہ خنزیروں کو قتل کرے گا یہ بھی اگر حقیقت پر محمول ہے تو عجیب فقرہ ہے کیا حضرت مسیح کا زمین پر اترنے کے بعد سب سے عمدہ کام یہی ہو گا کہ وہ خنزیروں کا شکار کھیلتے پھریں گے اور بہت سے کتے ساتھ ہوں گے، اگر یہی سچ ہے تو پھر سکھوں اور چماروں اور سانسیوں اور گنڈیلوں وغیرہ کو جو خنزیر کے شکار کو دوست رکھتے ہیں خوشخبری کی جگہ ہے کہ ان کی خوب بن آئے گی...... پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اول تو شکار کھیلنا ہی کار بیکاراں ہے اور اگر حضرت مسیح کو شکار ہی کی طرف رغبت ہوگی اور دن رات یہی کام پسند آئے گا تو پھر کیا یہ پاک جانور جیسے ہرن اور گور خر اور خرگوش دنیا میں کیا کچھ کم ہیں تا ایک ناپاک جانور کے خون سے ہاتھ آلودہ کریں“

(ازالہ اوہام ص ۴۲۱۔۴۲۲ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۴۲۳، ۴۲۴)

ایک اور جگہ ان ارشادات نبویہ کی تضحیک کرتے ہوئے لکھا ہے :

”کیا ان احادیث پر اجماع ثابت ہو سکتا ہے کہ مسیح آکر جنگلوں میں خنزیروں کا شکار کھیلتا پھرے گا، اور دجال خانہ کعبہ کا طواف کرے گا اور ابن مریم بیماروں کی طرح دو آدمیوں کے کاندھے پر ہاتھ دھر کے فرض طواف کعبہ بجالائے گا، کیا معلوم نہیں کہ جو لوگ ان حدیثوں کی شرح کرنے والے گزرے ہیں وہ کیسے بے ٹھکانہ اپنی اپنی ہانک رہے ہیں ۔ “

(ازالہ اوہام صفحہ ۴۲۷۔ ۴۲۸ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۴۲۶)

فرمائیے! احادیث صحیحہ پر ”گستاخانہ اعتراضات“ کر کے اپنا نامہ عمل کون سیاہ کر رہا ہے؟ اور ”سرے سے منکر حدیث“ ہونے میں اولیت کا شرف کس کو حاصل ہے؟ مرزا غلام احمد قادیانی کو یا غلام احمد پرویز کو ؟

تیسری صورت :

تکذیب کی ایک صورت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو محض

صفحہ 213

عقلی ڈھکوسلوں سے مسترد کر دیا جائے۔ مثلاً قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف (آسمان پر) اٹھا لیا، جس کے معنی باجماع امت رفع جسمانی کے ہیں۔ خود مرزا آنجہانی کو بھی اس کا اعتراف ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے :

”ہم بھی کہتے ہیں کہ مسیح بھی مع جسم آسمان پر اٹھایا گیا۔“

(براہین پنجم ضمیمہ ص ۲۱۴ مندرجہ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۳۹۰)

اس کے باوجود قرآنی خبر پر ”گستاخانہ اعتراض“ کرتے ہوئے لکھتا ہے :

”پھر مسیح کے بارے میں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کیا طبعی اور فلسفی لوگ اس خیال پر نہیں ہنسیں گے کہ جب کہ تیس یا چالیس ہزار فٹ تک زمین سے اوپر کی طرف جانا موت کا موجب ہے تو حضرت مسیح اس جسم عنصری کے ساتھ آسمان تک کیونکر پہنچ گئے اور کیا یہ مخالفوں کے لئے ہنسنے کی جگہ نہیں ہوگی۔“

(ازالہ اوہام ص ۱۴۶، ۱۴۷ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۱۱۴، ۱۷۵)

اس ترقی یافتہ دور میں جبکہ دنیا مریخ پر کمندیں ڈال رہی ہے۔ جس شخص کی فکری پرواز تیس چالیس ہزار فٹ کی بلندی کے تصور سے قاصر ہو اس کی عقل و دانش کا ماتم دنیا کو ضرور کرنا چاہئے۔ جبکہ وہ نبوت کبریٰ کے ارشادات کا تمسخر بھی اڑاتا ہو۔

چوتھی صورت :

تکذیب نبوی کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی قرآن و حدیث کے نصوص میں ایسی رکیک اور دور از کار تاویلیں کرے جو منشائے متکلم کے قطعا خلاف ہوں اور جن کی طرف بھول کر بھی کسی کا ذہن نہ جاتا ہو۔ حجۃ الاسلام امام غزالیؒ لکھتے ہیں :

وكلّ ما لم يحتمل التأويل في نفسه وتواتر نقله ولم يتصور أن يقوم برهان على خلافه فمخالفته تكذيب محض ... ولا بدّ من التنبيه على قاعدة أخرى ، وهى أن المخالف قد يخالف نصّاً متواتراً ويزعم أنه مؤول ولكن ذكر تأويله لا انقداح له أصلاً في اللسان ،

صفحہ 214

لا على بعد، ولا على قرب، فذلك كفر، وصاحبه مكذب، وإن كان يزعم أنه مؤول .

(فيصل التفرقة فى الإسلام والزندقة (ص١٩٦، ١٩٧، ١٩٨ طبع مصر)

ترجمہ ...... "ہر ایسی نص جس میں تاویل کی گنجائش نہ ہو اور وہ نقل متواتر سے ثابت ہو، اور اس کے خلاف کوئی قطعی برہان قائم نہ ہو اس کی مخالفت کرنا تکذیب محض ہے ...... یہاں ایک اور قاعدہ پر بھی تنبیہ کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ ایک شخص کسی نص متواتر کی مخالفت کرتا ہے، اور بزعم خود یہ سمجھتا ہے کہ وہ تاویل کر رہا ہے، مگر تاویل ایسی کرتا ہے جس کا زبان اور محاورے کے اعتبار سے دور و نزدیک کوئی پتہ نشان نہیں ملتا۔ پس ایسی تاویل صریح کفر ہے اور ایسا شخص خدا اور رسول کا مکذب ہے خواہ وہ یہی سمجھتا رہے کہ وہ مکذیب نہیں بلکہ تاویل کر رہا ہے۔

(فیصل التفرقه بین الاسلام والزندقہ ص۱۹۶ / ۱۹۷ / ۱۹۸ طبع مصر)

مرزا قادیانی نے قرآن و سنت کے نصوص میں ایسی لچر اور لایعنی تاویلیں کی ہیں جن کا زبان اور محاورے سے دور و نزدیک کا کوئی تعلق نہیں اور جن کے سامنے گزشتہ صدیوں کے بد دین زنادقہ کی تاویلیں ماند پڑ جاتی ہیں۔ یہاں قادیان کے اس تاویلاتی گورکھ دھندے کی صرف دو مثالیں پیش کرتا ہوں:

الف: عیسیٰ بن مریم کی تاویل :

احادیث صحیحہ متواترہ میں، ارشاد ہے کہ ”تم میں عیسیٰ بن مریم حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے ۔“

انسانی تاریخ ”عیسیٰ بن مریم“ کے نام سے صرف ایک ہی شخصیت کو جانتی ہے یعنی حضرت روح اللہ المسیح بن مریم علیہ السلام ، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل مبعوث ہوئے۔ جن کے نام سے تمام دنیا واقف ہے۔ جن کے آسمان پر اٹھائے جانے کی خبر قرآن حکیم نے دی ہے اور جن کی دوبارہ تشریف آوری کو قرآن کریم

صفحہ 215

نے قیامت کا نشان بتایا ہے۔ وانہ لعلم للساعة فلا تمترن بھا (الزخرف) اس لئے امت محمدیہ کے تمام اکابر نے انہی ”عیسیٰ بن مریم“ کا دوبارہ نازل ہونا مراد لیا، اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث طیبہ میں اپنی مراد واضح فرمادی کہ جس ”عیسیٰ بن مریم“ کے نازل ہونے کی پیشگوئی کی جارہی ہے اس سے مراد وہی ”عیسیٰ بن مریم“ ہیں جو آپ سے قبل مبعوث ہوئے تھے، لیکن مرزا آنجہانی نے اس متواتر پیشگوئی میں تحریف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عیسیٰ بن مریم سے غلام احمد مراد ہے، اور اس کے لئے یہ تاویل ایجاد کی کہ:

”دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی، اور پردہ میں نشو و نما پاتا رہا، پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو....... مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی، اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا، آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں....... مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا، پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“

(کشتی نوح ص ۴۶، ۴۷ مندرجہ روحانی خزائن ج ۱۹ ص ۵۰)

صاحبزادہ صاحب! کیا عیسیٰ بن مریم بننے کی یہ قادیانی تاویل، امام غزالی کے ارشاد فرمودہ قاعدے کے مطابق مضحکہ خیز تکذیب نہیں؟ کیا قرآن و حدیث، اجماع متواتر، زبان و محاورہ اور تاریخ انسانی سب کو جھٹلا کر ایک شخص کے اس مراقی دعویٰ کو خدا و رسول کا منشا قرار دے دیا جائے؟ کہ اب میں (داڑھی مونچھ کے باوجود) مریم بن گیا ہوں، اب مریمی صفت میں نشو و نما پا رہا ہوں۔ اب مجھے پردہ ہو گیا ہے، اب مجھ میں عیسیٰ کی روح نفخ کر دی گئی ہے، اب میں امید سے ہوں۔ اب مجھے دردزہ ہو رہا ہے، لیجئے اب میں نے عیسیٰ جن دیا ہے۔ لہٰذا اب میں ”عیسیٰ بن مریم“ بن گیا ہوں، پس قرآن و حدیث کے وہ تمام نصوص جو عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہیں، اب میرے بارے میں تصور کئے جائیں۔ کیونکہ:

”اس زمانہ میں مجھے اس آیت پر اطلاع بھی نہ تھی کہ میں اس طرح ”عیسیٰ مسیح“ بنایا جاؤں گا بلکہ میں بھی تمہاری طرح بشریت کے محدود علم کی وجہ سے یہی عقیدہ رکھتا تھا کہ عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہو گا اور باوجود اس بات کے کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ حصہ سابقہ میں

صفحہ 216

میرا نام عیسیٰ رکھا، اور جو قرآن شریف کی آیتیں پیش گوئی کے طور پر حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب تھیں، وہ سب آیتیں میری طرف منسوب کر دیں، اور یہ بھی فرمایا کہ تمہارے آنے کی خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے، مگر میں پھر بھی متنبہ نہ ہوا اور براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میں نے وہی غلط عقیدہ اپنی رائے کے طور پر لکھ دیا اور شائع کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، اور میری آنکھیں اس وقت تک بالکل بند رہیں جب تک خدا نے بار بار کھول کر مجھ کو نہ سمجھایا کہ عیسیٰ بن مریم اسرائیلی تو فوت ہو چکا ہے اور وہ واپس نہیں آئے گا، اس زمانہ اور اس امت کے لئے تو ہی عیسیٰ بن مریم ہے۔“

(براہین۔ پنجم ص ۸۵ مندرجہ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۱۱۱)

یعنی خدا، رسول صحابہ، تابعین، مجتہدین، مجددین، اولیاء اقطاب ان سب کا علم تو ”بشریت کا محدود علم“ ہے۔ فوق البشر اور لامحدود علم صرف مرزا آنجہانی کے حصہ میں آیا۔ ع ”جو بات کی، خدا کی قسم لاجواب کی ۔“

صاحبزادہ صاحب اس تاویل کو بھی معرفت سمجھتے ہوں گے، مگر دماغی امراض کے ماہرین سے پوچھئے کہ اس کا صحیح نام کیا ہے۔

ب۔ دو زرد چادروں کی تاویل :

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کی تمام جزئیات بھی بیان فرما دیں تاکہ کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہ رہے، اور کسی بددین کو اس پیشگوئی میں تحریف کا راستہ نہ مل سکے۔ منجملہ دیگر بے شمار امور کے آپؐ نے امت کو یہ بھی بتایا کہ جب وہ نازل ہوں گے تو گہرے زرد رنگ کی دو چادریں ان کے زیب بدن ہوں گی، یہ لفظ ایسا نہیں جس کے لئے کسی لغات کی مدد لینا پڑے، نادان بچے بھی اس کے مفہوم سے واقف ہیں، مگر مرزا آنجہانی نے اس کی جو مضحکہ خیز تاویل کی وہ یہ ہے :

صفحہ 217

”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی، تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی، یعنی مراق اور کثرت بول۔“

(ملفوظات احمدیہ ص ۴۴۵ ج ۸)

بتائیے کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی مراد تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوتے وقت مراق اور کثرت بول کے مریض ہوں گے؟ کیا چودہ سو سال کی امت اسلامیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا یہی مطلب سمجھا تھا؟ کیا زبان و محاورہ میں اس مراقی تاویل کا کہیں دور دور بھی پتہ ملتا ہے؟ کیا یہ تاویل امام غزالیؒ کے الفاظ میں کفر خالص اور تکذیب محض نہیں؟ مرزا آنجہانی کی تاویلات باطلہ کی یہاں دو مثالیں پیش کی گئی ہیں، ورنہ نزول عیسیٰ سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کو جھٹلانے کے لئے مرزا آنجہانی نے جو سیکڑوں تاویلیں کی ہیں وہ سب اسی مراق اور کثرت بول کا کرشمہ ہیں۔

پانچویں صورت :

اور جب تضحیک و استہزاء کے یہ تمام حربے اور تاویل و تحریف کے یہ سارے حیلے بہانے نزول عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی پر خاک ڈالنے میں ناکام ثابت ہوئے تو مرزا آنجہانی نے اپنی ترکش کفر و ضلال کا آخری تیر بھی پھینک دیا اور براہ راست مہبط وحی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و فہم پر یہ کہہ کر حملہ کر دیا کہ :

”اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ ...... منکشف نہ ہوئی ہو ...... اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو، اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی ہی ظاہر فرمائی گئی ...... تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ۶۹۱ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۴۷۳)

صفحہ 218

یعنی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی حقیقت واقعہ نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ سکے، نہ خدا آپؐ کو سمجھا سکا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کی قریباً دو سو علامتیں معاذ اللہ یوں ہی بے سمجھے بیان کر ڈالیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر ایسے خبیث ترین حملہ کے بعد بھی قادیانی اسلام کا نام لیتے نہیں شرماتے۔

آنحضرتؐ کی ارشاد فرمودہ پیش گوئی کو مرزا آنجہانی نے جس جس انداز میں جھٹلایا اس کا تھوڑا سا نمونہ پیش کر چکا ہوں۔ اب دیکھئے مرزا طاہر احمد صاحب خود اپنے مقرر کردہ معیار کے مطابق اپنے دادا مرزا آنجہانی کو کس صف میں جگہ دیتے ہیں، منکرین حدیث کی صف میں، یا جان بوجھ کر اپنی عاقبت خراب کرنے والوں کی صف میں؟ کیونکہ انہی کا فیصلہ ہے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی کو جس کا ذکر بکثرت احادیث صحیحہ میں ملتا ہے، محل اعتراض ٹھہرانا ایک انتہائی گستاخانہ امر ہے، لہٰذا :

”ایسے شخص کے متعلق دو ہی امکانات ہیں، یا تو وہ سرے سے احادیث نبویہ کا منکر ہے اور اہل قرآن کے فرقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ جس کے مشہور سربراہ آج کل غلام احمد پرویز صاحب ہیں، یا پھر وہ ان حدیثوں کو تو صحیح تسلیم کرتا ہے، لیکن نعوذ باللہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کی جسارت کر کے اپنی عاقبت خراب کر رہا ہے۔“

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۲۹)

اس بحث کو ختم کرتے ہوئے میں شیخ محی الدین ابن عربیؒ کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں، شاید صاحبزادہ طاہر احمد صاحب یا ان کی جماعت کے کسی اور بندۂ خدا کے لئے عبرت و موعظت کا ذریعہ بنے، شیخ (قدس سرہ) شقی و سعید اور مومن و کافر کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

ثم لتعلم أن الخلق بين شقى وسعيد ، فإذا وردت الأخبار الإلهية على السنة الروحانيين ونقلتها إلى الرسل ونقلتها الرسل عليهم السَّلام إلينا ، فمن آمن بها وترك فكره خلف ظهره وقبلها بصفة القبول التى فى عقله وصدّق المخبر فيما أتاه به فذلك المعبر عنه بالسعيد - ومن لم يؤمن بها وجعل فكره الفاسد إمامه ، واقتدى به

صفحہ 219

ورَدّ الأخبار النبوية إمّا بتكذيب الأصل، وإمّا بالتأويل الفاسد فذلك المعبر عنه بالشقى، اهـ ملخصا. (فتوحات مكية باب ٢٨٩ ص ٦٤٨ )

ترجمہ :۔ ”پھر جان رکھو کہ مخلوق کی دو ہی قسمیں ہیں، ایک بدبخت اور دوسری نیک بخت، پس جب خدا تعالیٰ کی جانب سے بواسطہ فرشتوں کے خبریں آئیں اور فرشتوں نے وہ خبریں انبیاء علیہم السلام کی طرف اور انبیاء علیہم السلام نے ہماری طرف منتقل کر دیں پس جو شخص ان پر ایمان لایا اور اپنی فہم و فکر کو پس پشت ڈال دیا اور قبول کرنے کی جو صفت اللہ تعالیٰ نے اس کی عقل میں ودیعت رکھی ہے۔ اس کے ساتھ ان خبروں کو قبول کر لیا اور خبر دینے والے (نبی کریمؐ) کی ان تمام امور میں تصدیق کی جو آپؐ لے کر آئے ہیں۔ پس ایسا شخص تو وہ ہے جسے ”سعید“ کہا جاتا ہے۔

اور جو شخص ان خبروں پر یقین نہ لایا اور اس نے اپنی فکر فاسد کو اپنا امام بنا کر اس کی اقتدا کی اور اخبار نبویہ کو رد کر دیا، بایں طور کہ یا تو سرے سے تکذیب کر دی یا ان میں کوئی تاویل فاسد کر ڈالی پس ایسا شخص تو وہ ہے جس کو شقی کہا جاتا ہے۔“

(فتوحات مکیہ باب ٢٨٩ ص ٦٤٨)

شیخ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جو خبر بارگاہ نبوت سے حاصل ہو، اس کو رد کرنے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ سرے سے اس کی سچائی کا انکار کر دیا جائے اور اسے غلط ٹھہرایا جائے اور یہ دونوں صورتیں کفر و شقاوت کے زمرے میں آتی ہیں۔ دوسری یہ کہ اس میں کوئی غلط تاویل کر کے اس کا مفہوم مسخ کر دیا جائے اور ایمان و سعادت یہ ہے کہ اپنی فہم و فکر بالائے طاق رکھ کر بے چون و چرا ان کی تصدیق کی جائے۔

کونسا مسیح؟

اس بحث کے آخر میں صاحبزادہ طاہر احمد صاحب لکھتے ہیں :

صفحہ 220

”مولانا صاحب سے ایک بار پھر مؤدبانہ گذارش ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے عقیدہ پر تو ”اہل قرآن“ کے سوا احمدیوں کی طرح تمام مسلمان فرقے ایمان رکھتے ہیں۔ ان کے درمیان صرف فرق یہ ہے احمدی تو ان پیشگوئیوں کا مصداق امت محمدیہ میں پیدا ہونے والے ایک مصلح کو قرار دیتے ہیں اور جسے بعض مماثلتوں کی بناء پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسیح کا لقب عطا کیا گیا ہے اور غیر احمدی اسی پرانے مسیح کی آمد کے منتظر ہیں جو آج تک مسلسل آسمان پر زندہ بیٹھا ہوا ہے۔ ”مسیح نبی اللہ“ کی آمد پر تو بہرحال دونوں کو اتفاق ہے۔“

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۲۹ - ۳۰)

صاحبزادہ صاحب کے اس ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کے آنے کی پیش گوئی تو مسلمانوں اور قادیانیوں کو بالاتفاق مسلم ہے۔ نزاع اس بات میں ہے کہ آنے والا مسیح سچ مچ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہیں، یا مرزا غلام احمد قادیانی؟ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ یہ پیش گوئی سچ مچ عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کے بارے میں ہے جبکہ قادیانی اس کو مرزا آنجہانی کے حق میں مانتے ہیں۔ گویا مسلم، قادیانی نزاع مسیح بن مریم کے آنے میں نہیں۔ بلکہ شخصیت مسیح کی تعین میں ہے کہ مسیح سے کونسا مسیح مراد ہے۔ اصلی؟ یا جعلی؟۔

صاحبزادہ صاحب کی اس تنقیح کے بعد اس نزاع کا فیصلہ بہت آسان ہو جاتا ہے۔ فیصلہ کی صورت یہی ہے کہ احادیث نبویہ میں اس آنے والے مسیح کی جو علامات ذکر فرمائی گئی ہیں انہیں مرزا آنجہانی کے سراپا سے ملا کر دیکھ لیا جائے۔ اگر وہ بہ تمام و کمال آنجہانی میں ایک ایک کر کے پائی جائیں تو کوئی شک نہیں کہ قادیانی مرزا کو مسیح ماننے میں برحق ہیں، اور اس صورت میں تمام مسلمانوں کو لازم ہو گا کہ آنجہانی کو مسیح مان لیں۔ اور اگر مرزا آنجہانی پر وہ علامات صادق نہیں آتیں تو قادیانی عقیدہ غلط ہے اور ان کو لازم ہے کہ مسلمانوں کی طرح مرزا کو اس کے دعویٰ مسیحیت میں جھوٹا یقین کریں۔ دیکھئے کیسا عمدہ اصول ہے جو صاحبزادہ صاحب نے بیان فرمایا۔ اب اگر صاحبزادہ طاہر احمد صاحب خود اپنے ہی تجویز کردہ فیصلہ کو جو بے حد منصفانہ ہے تسلیم کرنے پر آمادہ ہوں تو بسم اللہ آگے بڑھیں اور احادیث نبویہ کی ایک ایک علامت اپنے دادا پر منطبق کر کے قادیانی،

صفحہ 221

مسلم نزاع کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیں۔ علمائے امت نے ایسی احادیث کو جن کا مسیح کی پیشگوئی سے تعلق ہے، یکجا کر دیا ہے، عربی میں امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی کتاب ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ اس سلسلہ کی سب سے جامع کتاب ہے، اس کا اردو ترجمہ بھی ”نزولِ مسیح اور علامات قیامت“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے ان احادیث میں آنے والے مسیح کی جو علامات مذکور ہیں ان کی فہرست بھی اردو ترجمہ کے ساتھ شامل کر دی گئی ہے۔ صاحبزادہ صاحب ایک ایک حدیث کی ایک ایک علامت مرزا آنجہانی پر چسپاں کر کے خود ہی انصاف کریں کہ مرزا قادیانی مسیح صادق تھا یا مسیح کذاب؟ اصلی مسیح تھا یا جعلی؟

اگر یہ کام محنت اور فرصت چاہتا ہو تو چلئے سر دست صرف تین احادیث پر فیصلہ کر لیجئے۔ اول مشکوٰۃ کی حدیث، جس کو مرزا آنجہانی نے ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۳ میں بطور سند پیش کیا ہے، اس میں مسیح کی آٹھ علامتیں مذکور ہیں۔ دوسری مسند احمد ص ۴۰۶ ج ۲ اور ابو داؤد ص ۴۳۸ ج ۲ کی حدیث جس کا حوالہ مرزا بشیرالدین صاحب نے حقيقة النبوة ص ۱۹۴ میں اور جناب محمد علی صاحب ایم، اے نے النبوة فی الاسلام ص ۹۲ میں دیا ہے اس میں آنے والے مسیح کی بیس علامات مذکور ہیں۔

تیسری صحیح مسلم ص ۴۰۰ ج ۲ کی حدیث جس میں آنے والے مسیح کو چار بار نبی اللہ کہا گیا ہے مرزا آنجہانی اور ان کے حواریوں نے اس کا بہت سی جگہ حوالہ دیا ہے اور وہ لاہوریوں کے مقابلہ میں آنجہانی کی نبوت پر یہی حدیث پیش کیا کرتے ہیں اس حدیث میں آنے والے مسیح اور اس کے زمانے کی قریباً اسی علامتیں ذکر کی گئی ہیں۔ مرزا طاہر احمد صاحب صرف ان تین احادیث صحیحہ کو مرزا آنجہانی پر چسپاں کر دکھائیں تو اپنے دین و مذہب پر بڑا احسان فرمائیں گے مگر میں پیش گوئی کرتا ہوں کہ پوری قادیانی امت مل کر بھی یہ کام نہیں کر سکتی قیامت تک نہیں کر سکتی۔

قادیانیت - صیہونیت کی ذیلی شاخ :

مرزا آنجہانی کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ مسیح ہیں اور ان میں مسیح کی روحانیت کا حلول ہوا ہے لیکن ہم جب اس گستاخانہ رویہ پر نظر کرتے ہیں جو مرزا نے حضرت عیسیٰ علیہ

صفحہ 222

السلام کے بارے میں اختیار کیا تو ذہن بے ساختہ اس طرف جاتا ہے کہ ہو نہ ہو اس شخص میں کسی کٹے جلے پولوس کی روح کار فرما ہے اور اس کی توسیعی تحریک کا مقصد اہل اسلام میں یہودی نظریات کی ترویج ہے اسی اعتقادی ہمرنگی کا کرشمہ ہے کہ وہ اسرائیلی کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہے اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے راقم الحروف نے لکھا تھا :

”قادیانی تحریک کے بانی (مرزا آنجہانی) کا یہ دعویٰ کہ وہ نسلاً اسرائیلی ہے (ایک غلطی کا ازالہ) در حقیقت اس امر کا برملا اظہار ہے کہ قادیانیت، صہیونیت ہی کی ایک ذیلی شاخ ہے۔“

یہودیت سے مرزا آنجہانی کے نسبی رشتہ کا صاحبزادہ مرزا طاہر احمد بھی انکار نہیں کر سکے مگر ان کا کہنا ہے کہ نسلاً اسرائیلی ہونے سے عقیدہ یہودی ہونا لازم نہیں آتا صاحبزادہ صاحب کا یہ اصول غلط نہیں ہے مگر جس شخص کے عقائد خالص یہودیانہ ہوں، اور اس پر وہ اپنا نسبی رشتہ بھی یہود سے پیوستہ کرے اس کے یہودی ہونے اور اس کی اٹھائی ہوئی تحریک کے یہودیت کی شاخ ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے۔

یہودی لطیفہ :

مرزا آنجہانی نے جس منطق سے اپنا نسبی رشتہ یہود سے جوڑا ہے وہ بھی بجائے خود ایک لطیفہ ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ معجم طبرانی اور مستدرک حاکم کے حوالے سے کنزالعمال (مناقب) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے : ”سلمان منا اہل البیت“ یعنی سلمان فارسی کا شمار ہمارے اہل بیت سے ہے۔ حضرت سلمان فارسی کا خویش قبیلہ نہیں تھا، ان کی دل جوئی کے لئے آنحضرتؐ نے از راہ شفقت انہیں اپنے گھرانے کا ایک فرد بنالیا، یہ تھا حدیث کا مفہوم ، مگر اپنے آپ کو ”اسرائیلی“ بنانے کے لئے مرزا آنجہانی نے اس حدیث پر جو ہوائی قلعہ تعمیر کیا وہ یہ ہے :۔

”یہ بات میرے اجداد کی تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک دادی ہماری شریف خاندان سادات اور بنی فاطمہ میں سے تھی، اس کی تصدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کی اور خواب میں مجھے فرمایا کہ : ”سلمان منا اہل البیت علی مشرب الحسن“ میرا نام سلمان رکھا۔ یعنی

صفحہ 223

دو مسلم اور سلم عربی میں صلح کو کہتے ہیں، یعنی مقدر (افسوس کہ مرزا آنجہانی کے مقدر کھوٹے نکلے، اس کے ہاتھ پر نہ اندرونی صلح ہوئی نہ بیرونی۔ کیوں صاحبزادہ صاحب! ٹھیک ہے نا۔) یہ ہے کہ دو صلح میرے ہاتھ پر ہوگی۔ ایک اندرونی کہ جو اندرونی بغض اور شحنا کو دور کرے گی، دوسری بیرونی کہ جو بیرونی عداوت کے وجود کو پامال کر کے اور اسلام کی عظمت دکھا کر غیر مذاہب والوں کو اسلام کی طرف جھکا دے گی۔ معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں جو سلمان آیا ہے اس سے بھی میں مراد ہوں ورنہ اس سلمان پر دو صلح کی پیش گوئی صادق نہیں آتی اور میں خدا سے وحی پا کر کہتا ہوں کہ میں بنی فارس میں سے ہوں اور بمو جب اس حدیث کے جو کنزالعمال میں درج ہے، بنی فارس بھی اسرائیل اور اہل بیت میں سے ہیں۔

(مجموعہ اشتہارات حاشیہ ص ۴۳۷، ۴۳۸ ج ۳ طبع ربوہ)

کنز العمال کی جس حدیث کا آنجہانی نے حوالہ دیا ہے وہ وہی ہے جو اوپر نقل کر چکا ہوں، اب دیکھئے کہ آنجہانی نے اپنا یہودی النسل ہونا ثابت کرنے کے لئے کیا کیا کرتب دکھائے۔

ٹھہرایا۔

وصف بنا کر دو ”صلح“ بنا لیا۔

گھڑت حوالہ جڑ دیا۔

اتنی فرضی داستانیں تراشنے کے بعد آنجہانی کے اسرائیلی رشتہ کا سراغ مل سکا۔ ”دیوانہ بکار خویش ہوشیار“۔۔۔۔۔۔ مرزا آنجہانی پر ہمیں تعجب نہیں۔ حیرت ان دانشمندوں کے علم و فہم پر ہے جو ان خود تراشیدہ مفروضوں پر ایمان کی بازی ہار چکے ہیں۔

صفحہ 224

ان میں سے کوئی عقل مند یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ کہنے والا کیا کہنا چاہتا ہے، وہ سب کچھ تیاگ کر اسکی ہر الٹی سیدھی پر آنکھیں بند کر کے ایمان لا رہے ہیں۔ ” بل طبع الله على قلوبهم واتبعوا اهوا ئهم “

انکار عیسیٰ علیہ السلام :

راقم الحروف نے لکھا تھا :

”یہودیت کی بنیاد انکار عیسیٰ علیہ السلام پر قائم کی گئی ہے اور قادیانیت بھی اس مسئلہ میں یہودیت سے پیچھے نہیں رہنا چاہتی ، اہل نظر واقف ہیں کہ قادیانی تحریک کے بانی کا دعویٰ ہی انکار عیسیٰ علیہ السلام پر مبنی ہے“

(ربوہ سے تل ابیب تک ص ۴)

مرزا طاہر احمد صاحب کو میرے پہلے فقرہ پر یہ اعتراض ہے کہ یہودیت تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے موجود تھی ، اس کی بنیاد انکار عیسیٰ علیہ السلام پر کیونکر ہوئی؟ جناب صاحبزادہ صاحب یہودیت کو دین موسوی کا مترادف سمجھ کر اعتراض فرما رہے ہیں جبکہ میری مراد مروجہ یہودیت سے ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد رائج ہوئی، اور جس کا سب سے اہم تر امتیازی نشان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انکار اور ان سے بغض و عداوت ہے، آج جب یہودیت کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے یہی مخترع یہودیت مراد ہوتی ہے نہ کہ دین موسوی اس لئے صاحبزادہ کا یہ اعتراض نا فہمی کا نتیجہ ہے۔

صاحبزادہ صاحب میرے دوسرے فقرے سے کہ ”مرزا آنجہانی کا دعویٰ ہی انکار عیسیٰ علیہ السلام پر مبنی ہے“ تلملا اٹھے ہیں اور برہم ہو کر فرماتے ہیں :

”اللہ سے ڈریں ! مولانا اللہ سے ڈریں !! اتنی بڑی غلط بیانی اور دن دہاڑے“

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۳۵)

میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ کسی سراپا غلط شخص کی طرف بھی کوئی غلط بات منسوب کروں، میں نے غلط بیانی نہیں کی بلکہ قادیانی عقائد کا آئینہ پیش کیا ہے۔ اب اگر صاحبزادہ صاحب حبشی کی طرح اپنی بدصورتی کا انتقام آئینہ سے لینا شروع کر دیں تو

صفحہ 225

اس کا علاج ہے ؟

اب سنئے ! قرآن کریم ، حدیث نبوی اور سلف صالحین کے اجماع کے مطابق سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دو دور ہیں ۔ ایک ان کے رفع جسمانی سے پہلے کا ، اور دوسرا قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہونے کے بعد کا ، یہود نے دور اول میں ان کو فرضی مسیح کہا ، اور مرزائیوں نے دور ثانی میں ۔ مسیح سے کفر کے مرتکب دونوں ہوئے ۔ وہ دور اول میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مسیح ہونے کے منکر اور یہ دور ثانی میں وہ نقش اول یہ نقش ثانی ۔

قبل ازیں عرض کر چکا ہوں کہ مرزا آنجہانی جب تک مسلمان تھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کا قائل تھا اور اس کو نہ صرف قرآن کریم سے ثابت کرتا تھا بلکہ اپنے الہامات سے بھی تائید لاتا تھا ، مگر جب اس کے سر میں بروزی نبوت کا سودا سمایا اور شیطان نے اسے انا جعلناک المسیح بن مریم (ہم نے تجھے مسیح بن مریم بنا دیا ۔ ) کا الہام کر کے مسیحیت کے دعویٰ کی پٹی پڑھائی تو ختم نبوت اور حیات عیسیٰ دونوں کا منکر ہو بیٹھا ۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا اقرار کرنے کی صورت میں مرزا کا دعویٰ مسیحیت حرف غلط ثابت ہوتا تھا اس لئے ان کے حق میں فرضی مسیح کا پروپیگنڈہ شروع کر دیا الغرض مرزائی مسیحیت کی بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے سے انکار پر قائم ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے مرزا طاہر احمد صاحب خود بھی معترف ہیں ، مگر مریدوں کو مطمئن کرنے کے لئے اسے دن دہاڑے غلط بیانی کا نام دیتے ہیں ۔

ع۔ ” جو چاہے ترا حسن کرشمہ ساز کرے ۔ “

میں یہاں یہ بھی گزارش کر دینا چاہتا ہوں کہ جس تواتر سے ہمیں نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ کی تفصیلات ملی ہیں اور جس تواتر سے قرآن کریم اور رسول کی نبوت ہم تک پہنچی ہے اسی تواتر سے ہمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف کی خبر بھی پہنچی ہے ۔ چنانچہ خود مرزا آنجہانی نے لکھا ہے :

”مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اول درجہ کی پیشگوئی ہے جس کو سب نے باتفاق قبول کر لیا ہے ، اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیشگوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی ،

صفحہ 226

تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیر دینا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں در حقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بہرہ اور حصہ نہیں دیا، اور بباعث اس کے کہ ان لوگوں کے دلوں میں قال اللہ اور قال الرسول کی عظمت باقی نہیں رہی اس لئے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالاتر ہو اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کر لیتے ہیں۔“

”پس یہ کمال درجہ کی بے نصیبی اور بھاری غلطی ہے کہ یک لخت تمام حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ لیں اور ایسی متواتر پیش گوئیوں کو جو خیرالقرون میں ہی تمام ممالک اسلام میں پھیل گئی تھیں اور مسلمات میں سے سمجھی گئی تھیں بمد موضوعات داخل کر دیں“۔

(ازالہ اوھام ص ۲۳۱ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۴۰۰)

الغرض جس تواتر سے ہمیں قرآن پہنچا۔ نبوت محمدیہ پہنچی، نماز، حج، زکوٰۃ اور دین اسلام کے دیگر اصول و عقائد پہنچے اسی تواتر کے راستہ سے حضرت عیسیٰ بن مریم کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی بھی ہم تک پہنچی، پس جو شخص اس کا منکر ہے اور نعوذ باللہ اسے مولویوں کی من گھڑت ٹھہراتا ہے وہ در حقیقت دین اسلام کی ایک ایک بات کا منکر ہے۔ کیونکہ اس عقیدہ کا انکار دراصل اس تواتر کا انکار ہے جو دین کی اصل بنیاد ہے۔

قتل مسیح :

راقم الحروف نے لکھا تھا :

”یہودیت بڑی بلند آہنگی سے دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے مسیح بن مریم رسول اللہ کو قتل کر دیا ، اور قادیانی تحریک کے بانی کو بھی اس دعویٰ کا فخر حاصل ہے کہ میرا وجود ایک نبی (یعنی عیسیٰ علیہ السلام ) کو مارنے کے لئے ہے۔“ (ربوہ سے تل ابیب تک ص ۵)

”یہاں صاحبزادہ صاحب بالکل ہی بے بس اور لاچار نظر آتے ہیں، ان کی بے

صفحہ 227

پس ملاحظہ فرمائیے :

”اس بات کو پڑھ کر قارئین خود اندازہ فرما سکتے ہیں کہ ، مولانا کا ذہن کس قدر الجھا ہوا ہے ...... مولانا کے نزدیک یہود کا یہ دعویٰ کہ ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو قتل کر دیا اور حضرت مرزا صاحب کا یہ دعویٰ کہ آپ نے قرآن کریم کی بین آیات اور احادیث نبویہ کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام کا طبعی موت سے وفات پا جانا ثابت فرما دیا ہے ، ایک ہی نوعیت کا جرم ہے اور دونوں پر قتل مسیح کا الزام عائد ہوگا“

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۳۶)

صاحبزادہ طاہر احمد صاحب کی تاویل کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے ایک نبی کو مارنے کا جو دعویٰ کیا ہے اس سے مراد ہے مسیح علیہ السلام کی وفات ثابت کرنا۔ مگر موصوف کی یہ تاویل بے بسی کی منہ بولتی تصویر ہے کیونکہ مرزا آنجہانی کے اصل الفاظ یہ ہیں۔

”اصل میں ہمارا وجود دو باتوں کے لئے ہے ، ایک تو ایک نبی کو مارنے کے لئے، دوسرا شیطان کو مارنے کے لئے۔ “

(ملفوظات ص ۶۰ ج ۱۰ حاشیہ)

اول تو مارنے کے دعویٰ سے موت ثابت کرنا کسی زبان، محاورہ میں رائج نہیں، قادیان میں دنیا سے نرالا لغت ایجاد ہوا ہو تو مرزا طاہر احمد کو خبر ہوگی۔ دوسرے مرزا آنجہانی نے اس فقرہ میں ایک نبی کے ساتھ شیطان کو مارنے کا بھی دعویٰ کیا ہے کیا اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ مرزا نے قرآن کریم اور احادیث کی رو سے شیطان کا طبعی موت سے وفات پا جانا ثابت کر دیا؟۔

تیسرے ایک ہی فقرے میں ایک نبی اور شیطان کو مارنے کا دعویٰ کرنا اور اسی کو اپنے وجود کی اصل غرض ٹھہرانا کیا یہ تاثر نہیں دیتا کہ مرزا کے نزدیک شیطان کی طرح نبی بھی قابل گردن زدنی ہے ۔

چوتھے، یہود نے بھی حضرت مسیح علیہ السلام کو مارا نہیں تھا۔ صرف مار دینے کا دعویٰ کیا تھا۔ اسی دعویٰ کی سعادت مرزا آنجہانی کے حصہ میں آئی، دعویٰ ان کا بھی محض لفظی حد تک تھا اور مرزا کا بھی لفظی حد تک مارنے کا ہے۔ باقی یہ حضرت مسیح علیہ

صفحہ 228

السلام کی قسمت ہے کہ وہ نہ یہود کے ہاتھوں مرے، نہ قادیانی حربوں سے، یعنی۔

قتل ایں خستہ بہ شمشیر تو تقدیر نہ بود
ورنہ از خنجر بے رحم تو تقصیر نہ بود

پانچویں، حضرت مسیح زندہ تھے، مگر یہود نے بے پر کی اڑادی کہ ہم نے مسیح کو قتل کر دیا، ان کی یہی گپ تراشی ان کی ملعونیت کا سبب ٹھہری۔ ٹھیک یہی المیہ قادیانیت کو پیش آیا کہ حضرت مسیح زندہ ہیں، مگر اس نے یہ ہوائی اڑادی کہ ہم نے مسیح ہی کو مار دیا۔ واقعتاً مارا نہ یہود نے تھا نہ قادیانی نے، البتہ مارنے کا دعویٰ انھوں نے بھی کیا اور انہوں نے بھی، پس ملعون وہ بھی ہوئے اور یہ بھی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نسب اور مرزا آنجہانی :

راقم الحروف نے یہودیت سے قادیانیت کی ایک مشابہت یہ لکھی تھی کہ

”یہودیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ کو صحیح النسب نہیں سمجھتی، اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار قادیانیت کے بانی نے بھی کیا ہے“

(انجام آتھم وغیرہ) ۔ (ربوہ سے تل ابیب تک ص ۵)

اس پر جناب صاحبزادہ صاحب کی نظر خشمگین ملاحظہ ہو :

”مولانا کو مماثلتیں تلاش کرنے کا اس قدر شوق ہے کہ سچ جھوٹ میں کوئی تمیز باقی نہیں رہنے دی۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود (مرزا آنجہانی) پر یہ افترا عظیم کرنے سے بھی نہیں چوکے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود (مرزا آنجہانی) حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو یہود کی طرح صحیح النسب قرار نہ دیتے تھے، اور بغیر صفحے کے حوالے کے کتاب ”انجام آتھم“ کی طرف آپ کا یہ عقیدہ منسوب کیا ہے۔ مولانا! آپ مسلمان کہلاتے ہیں، بلکہ مسلمانوں کے مذہبی رہنما بنتے ہیں، کیا آپ کو اتنا بھی علم نہیں کہ قول ”زور“ ایک گناہ کبیرہ ہے اور قیامت کے دن اس افترا پردازی پر مواخذہ ہوگا۔ اگر آپ سچے ہیں تو من و عن وہ اقتباس شائع فرمائیے جس سے ثابت ہو کہ حضرت مسیح موعود (مرزا

صفحہ 229

آنجہانی) ”حضرت مسیح کو صحیح النسب تسلیم نہیں کرتے“

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۳۶۔۳۷)

صاحبزادہ صاحب کی یہ ساری نقالی مریدوں کو مطمئن کرنے کے لئے ہے، ورنہ انہیں بھی معلوم ہے کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے صحیح لکھا ہے۔ لیجئے حوالے پیش خدمت ہیں، پڑھئے اور خود انصاف کیجئے۔

نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ۷ مندرجہ روحانی خزائن جلد ۱۱ ص ۲۹۱)

کہ جدی مناسبت درمیان میں ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے، سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ۷ مندرجہ روحانی خزائن جلد ۱۱ ص ۲۹۱)

چاہے کرے، لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے، کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا، اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا، مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا، کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء ابتدائیہ حاشیہ صفحہ ۴ مندرجہ روحانی خزائن ج ۱۸ ص ۲۲۰)

صفحہ 230

ان تین اقتباسات میں صراحت کے ساتھ تین باتیں کہی گئی ہیں: اول :حضرت عیسیٰ علیہ السلام زنا کاروں کے خون سے وجود پذیر ہوئے دوم :اسی جدی مناسبت کی بناء پر آپ کو کنجریوں سے میلان اور مصاحبت تھی۔ سوم :اور آپ کی شراب نوشی اور زنان بازاری سے صحبت و اختلاط کی بناء پر قرآن نے آپ کو حصور (پاک دامن) کہنے سے گریز کیا۔ مرزا طاہر احمد صاحب! کسی کے نسب میں کیڑے ڈالنے کے لئے اس سے زیادہ فحش اور بازاری زبان چاہئے؟

ایک اور طرز سے : مرزا آنجہانی نے لکھا ہے :

مریم کی عزت نہیں کرتا، بلکہ مسیح تو مسیح میں اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں، نہ صرف اس قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں کیوں کہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں۔“

(کشتی نوح ص ۱۶ مندرجہ روحانی خزائن ج ۱۹ ص ۱۸)

حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔“

(حاشیہ عبارت بالا)

برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔“

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ۳۰۳ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۲۵۴ حاشیہ)

نکاح سے روکا، پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا، گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ بر خلاف تعلیم توریت عین حمل کی حالت میں کیوں کر نکاح کیا گیا، اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا، اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف

صفحہ 231

نجار کی پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے ، نہ قابل اعتراض۔"

(کشتی نوح ص ۱۶ مندرجہ روحانی خزائن ج ۱۹ ص ۱۸)

کرے گی اور "تارکہ" رہے گی، نکاح نہ کرے گی، اور خود مریم نے بھی یہ عہد کیا تھا کہ ہیکل کی خدمت کروں گی، باوجود اس عہد کے پھر وہ کیا بلا اور آفت پڑی کہ یہ عہد توڑا گیا، اور نکاح کیا گیا۔ ان تاریخوں میں جو یہودی مصنفوں نے لکھی ہیں اور باتوں کو چھوڑ کر بھی اگر دیکھا جائے تو یہ لکھا ہے کہ یوسف کو مجبور کیا گیا کہ وہ نکاح کر لے اور اسرائیلی بزرگوں نے اسے کہا کہ ہر طرح تمہیں نکاح کرنا ہو گا اب اس واقعہ کو مدنظر رکھ کر دیکھو کہ کس قدر اعتراض واقع ہوتے ہیں۔"

(الحکم مورخہ ۲۴ اپریل ۱۹۰۲ء ج ۶ ص ۵ نمبر ۱۵)

ان اقتباسات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مسیح کا باپ یوسف نجار تھا، اور مریم کے مشکوک حمل پر پردہ ڈالنے کے لئے بزرگان قوم نے یوسف و مریم کو نکاح پر مجبور کیا۔

واضح رہے کہ یوسف و مریم کے نکاح کا افسانہ محض یہودی گپ ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام کے نسب کو مشکوک کرنے کے لئے اڑائی گئی، کوئی مسلمان اس کا قائل نہیں، نہ قرآن و حدیث میں اس کی طرف کہیں ادنیٰ اشارہ تک کیا گیا ہے، مگر مرزا کی یہودی ذہنیت نے اس یہودی گپ کی بنیاد پر حضرت مسیح کو نہ صرف یوسف نجار کا بیٹا بنا دیا، بلکہ آپ کے چھ حقیقی بہن بھائیوں کا افسانہ بھی تراش لیا۔

اس سے صاف معلوم ہوا کہ مرزا کو قرآن کریم پر ایمان نہیں، بلکہ یہودی مصنفوں کی تاریخوں پر ایمان ہے اور انہی کی لے میں لے ملا کر کہا جا رہا ہے کہ "اس واقعہ کو مدنظر رکھ کر دیکھو کہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نسب پر) کس قدر اعتراض واقع ہوتے ہیں۔"

صفحہ 232

مرزا آنجہانی اور معجزات مسیح :

مرزا آنجہانی کو دعویٰ تھا کہ اسے نعوذ باللہ ہر بات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فوقیت حاصل ہے۔ فضیلت کے لحاظ سے بھی، منصب و مرتبہ کے لحاظ سے بھی اور معجزات میں بھی، چنانچہ لکھتا ہے :

یعنی جیسے اس پر خدا کا کلام نازل ہوا، ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا، اور جیسے اس کی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں میں یقینی طور پر ان معجزات کا مصداق اپنے نفس کو دیکھتا ہوں، بلکہ ان سے زیادہ۔“

(چشمہ مسیحی ص ۲۳ مندرجہ روحانی خزائن ج ۲۰ ص ۳۵۴)

(دافع البلاء ص ۲۰ مندرجہ روحانی خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰)

شان میں بہت بڑھ کر ہے ...... مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام (کونسا کام؟ انگریزوں کی غلامی، قرآن کی تحریف، انبیاء کی توہین، امت مسلمہ کی تکفیر؟ ناقل) جو میں کر سکتا ہوں وہ ہر گز نہ کر سکتا، اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہر گز دکھلا نہ سکتا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ۱۴۸ مندرجہ روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۲)

طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں، کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے، اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ۱۵۳ مندرجہ روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۷)

صفحہ 233

آخری زمانے کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔"

(حقیقۃ الوحی ص ۱۵۵ مندرجہ روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۹)

مرزا آنجہانی کی اس لاف و گزاف اور تعلّی آمیز دعوؤں پر کسی نے مرزاجی سے پوچھ لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو عظیم معجزے دکھایا کرتے تھے مثلاً مردوں کو زندہ کرتے تھے، مٹی سے __________ پرندوں کی شکل بنا کر ان میں پھونک مارتے تھے وہ سچ مچ کے پرندے بن کر اڑ جاتے تھے، مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں پر ہاتھ مبارک پھیرتے تھے تو وہ شفایاب ہو جاتے تھے۔

(سورۂ مائدہ آیت ۱۱۰)

پس اگر تم مسیحائی کے دعوے میں سچے ہو تو تم بھی ایک آدھ پرندہ بنا کر دکھاؤ کسی بیمار کو اچھا اور کسی مردہ کو زندہ کر دکھاؤ۔ یہ سوال خود مرزا آنجہانی نے ازالہ اوہام میں باالفاظِ ذیل نقل کیا ہے :

"بعض لوگ (بعض لوگ نہیں بلکہ کل امت اسلامیہ کا یہی عقیدہ ہے، ناقل۔ ) موحدین کے فرقہ میں سے بحوالہ آیت قرآنی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم انواع واقسام کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر زندہ کر دیا کرتے تھے، چنانچہ اسی بناء پر اس عاجز پر اعتراض کیا گیا ہے کہ جس حالت میں مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے تو پھر آپ بھی کوئی مٹی کا پرندہ بنا کر پھر اس کو زندہ کر کے دکھلائیے۔"

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ۲۹۵ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۲۵۱ حاشیہ)

مگر یہاں تو مسیح ہونے کا دعویٰ خالی ڈھول کی آواز تھی، یہاں زبانی جمع خرچ اور تعلّی و لفاظی کے سوا کیا رکھا تھا، اس لئے خود تو کیا معجزے دکھاتے، الٹا عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا انکار کر دیا۔

خود تو ڈوبے تھے صنم تجھ کو بھی لے ڈوبیں گے
صفحہ 234

مرزا آنجہانی کے دعویٰ میں ایک رتی بھر صداقت ہوتی تو وہ اس چیلنج کو قبول کرتے، اور حضرت مسیح علیہ السلام کے وہ معجزات، جن کو قرآن کریم نے ” آیات بینات“ کہا ہے، دکھا کر لوگوں کو مطمئن کر دیتے اور اگر وہ معجزات دکھانے سے عاجز تھے تو انسانی شرافت کا تقاضا یہ تھا کہ اپنی بے بسی کا اعتراف کر کے اخلاقی جرأت کا ثبوت دیتے مگر یہاں نہ صداقت تھی نہ شرافت اس لئے آنجہانی نے یہودیوں کی تقلید میں ایک تیسرا راستہ اختیار کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات کو عمل الترب اور مسمریزم کا کرشمہ ٹھہرایا، اس سلسلہ میں مرزا آنجہانی کی تصریحات ملاحظہ فرمائیے :

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ۶ مندرجہ روحانی خزائن حاشیہ ج ۱۱ ص ۲۹۰)

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ۷ مندرجہ روحانی خزائن حاشیہ ج ۱۱ ص ۲۹۱)

(ازالہ اوہام ص ۳۰۵ حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن حاشیہ ج ۳ ص ۲۵۵،

۲۵۶ )

صفحہ 235

بن مریم باذن و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل التراب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔“

(ازالہ اوہام ص ۳۰۸ حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۲۵۷ حاشیہ)

بطور خاص مصلحت کے تھیں، مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل (مسمریزم) اس قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں، اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا آنجہانی کو بھی مسمریزم میں خاصی مشق حاصل تھی۔ ناقل)

(ازالہ اوہام ص ۳۰۹ حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۲۵۷، ۲۵۸ حاشیہ)

سے اچھا کرتے رہے، مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔“

(ازالہ اوہام ص ۳۱۱ حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۲۵۸)

ہوتے تھے یعنی وہ قریب الموت آدمی (مردوں کو زندہ کرنے کی یہی تاویل یہودی کرتے تھے۔ ناقل) جو گویا نئے سرے سے زندہ ہو جاتے تھے وہ بلا توقف چند منٹ میں مر جاتے تھے۔“

(ازالہ اوہام ص ۳۱۱ حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۲۵۸)

جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے، یہ الہامی نام ہے۔“

صفحہ 236

(ازالہ اوہام ص ۳۱۲ حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۲۵۹ حاشیہ )

حقیقی حیات پیدا نہیں ہوتی تھی، بلکہ صرف ظلی اور مجازی اور جھوٹی (کیوں صاحبزادہ صاحب! ظلی، مجازی، اور جھوٹی، یہ تینوں لفظ ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں نا۔ ؟ ناقل) حیات جو عمل الترب (مسمریزم) کے ذریعہ سے پیدا ہو سکتی ہے اور جھوٹ موٹ کی طرح ان میں نمودار ہو جاتی تھی۔“

(ازالہ اوہام ص ۳۱۸ حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۲۶۱، ۲۶۲ )

تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہر یک فرد بشر کی فطرت میں مودع ہے، مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں۔“ (خدا نے کہیں ایسا نہیں فرمایا، مرزا کا سفید جھوٹ ہے۔ ناقل)

(ازالہ اوہام ص ۳۲۱ حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۲۶۳ )

تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا۔ جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم، مفلوج، مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے لیکن بعد کے زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے اس وقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہیں تھا۔“

(ازالہ اوہام ص ۳۲۱ حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۲۶۳ )

قرآن کریم نے بیان فرمایا۔ ناقل) کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا، نہیں! بلکہ صرف عمل الترب (مسمریزم) تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔“

(ازالہ اوہام ص ۳۲۲ حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۲۶۳ )

تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔“

صفحہ 237

(ازالہ اوہام ص ۳۲۲ حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۴۶۳)

در حقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ“

(ازالہ اوہام ص ۳۲۲ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۲۶۳ حاشیہ)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مرزا آنجہانی نے جس پراگندہ ذہنی کا مظاہرہ کیا ہے وہ خالص یہودیانہ تکنیک ہے ایک یہودی ہی یہ جسارت کر سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عظیم الشان معجزوں کو مکر و فریب، مسمریزم، کھیل تماشہ کہہ کر بے رونق، بے قدر، مکروہ اور قابل نفرت ٹھہرائے۔ اسی بناء پر میں نے یہودیت اور قادیانیت کے درمیان ایک مشابہت یہ لکھی تھی کہ:

”یہودیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو لہو و لعب یا مسمریزم قرار دیتی ہے ٹھیک یہی موقف قادیانیت بھی پیش کرتی ہے۔“

(ربوہ سے تل ابیب تک ص ۵)

مرزا طاہر احمد صاحب نے میرے اس فقرہ کو جھوٹ اور بہتان قرار دیا ہے۔ اور قارئین کرام، مرزا آنجہانی کے مندرجہ بالا اقتباسات پڑھ کر خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ جھوٹ اور بہتان سے میں نے کام لیا ہے یا اس دولت کے چشمے خود مرزا طاہر احمد صاحب کے گھر میں ابل رہے ہیں؟

حضرت مسیح اور صلیب :

اسلام اور یہودیت کے درمیان جن جن مسائل میں نزاع ہے ان میں سے ایک یہودیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو دار پر کھینچا اور پولوس نے جو واقعتاً یہودی تھا مگر حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم کو بگاڑنے کے لئے اس نے عیسائیت کا لبادہ اوڑھ لیا تھا۔ یہود کا یہ دعویٰ علماء کو نہ صرف تسلیم کرا دیا بلکہ اس پر صلیب کے تقدس اور کفارہ کا عقیدہ بھی ایجاد کیا، مگر قرآن کریم یہود کے اس دعویٰ کو تسلیم نہیں کرتا، بلکہ ایک بے بنیاد افسانہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرتا ہے چنانچہ ارشاد خداوندی ہے: ”وما صلبوہ ولکن شبہ لہم۔“ اور وہ نہ تو حضرت مسیح کو قتل کر سکے، نہ آپ کو

صفحہ 238

سولی دے سکے، بلکہ ان کو دھوکہ ہوا۔“ قرآن کریم کی اس تصریح کی روشنی میں تمام امت اسلامیہ کا قطعی عقیدہ یہ ہے کہ کہ عیسیٰ علیہ السلام گرفتار نہیں ہوئے، نہ انہیں سولی پر لٹکایا گیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آسمان پر اٹھا لیا۔ قرآن کریم کے اس صاف صاف اعلان کے بعد کسی مسلمان کو کبھی یہ جرات نہیں ہوئی، نہ ہو سکتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو سولی دیئے جانے کے یہودی افسانہ کو ایک لمحہ کے لئے بھی تسلیم کرے مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کے عقائد و نظریات چونکہ یہودیت کا چربہ ہیں اس لئے اس نے قرآن کریم کی تصریح اور ملت اسلامیہ کے عقیدہ کو پشت انداز کر کے یہودی افسانہ کو اپنا دین و ایمان قرار دیا۔ اور حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیب کشی کا وہ ذلت آمیز نقشہ کھینچا جسے پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ازالہ اوہام میں لکھتا ہے:

تازیانے لگائے گئے، اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارے سے طمانچے کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے سے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا۔ سب نے دیکھا، آخر صلیب دینے کے لئے تیار ہوئے ...... تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا۔“

(ازالہ اوہام ص ۳۸۰ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۲۹۵، ۲۹۶)

کے اعضاء میں ٹھوکی گئیں، جن سے وہ غشی کی حالت میں ہو گیا۔ یہ مصیبت در حقیقت موت سے کچھ کم نہ تھی۔“

(ازالہ اوہام ص ۳۷۲ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۳۰۲)

مرنے کے موجود ہو گئے ہیں۔ لہٰذا اس نے برعایت اسباب گمان کیا کہ شاید آج میں مرجاؤں گا سو بباعث ہیبت تجلی جلالی حالت موجودہ کو دیکھ کر ضعف بشریت اس پر غالب ہو گیا تھا۔ تبھی اس نے دل برداشتہ ہو کر کہا ! ایلی ایلی لما سبقتنی ، یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے

صفحہ 239

مجھے کیوں چھوڑ دیا اور کیوں اس وعدہ کا ایفا نہ کیا جو تو نے پہلے سے کر رکھا تھا۔“

(ازالہ اوہام ص ۳۹۷ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۳۰۳، ۳۰۴)

مرزا آنجہانی کی یہ ایمان سوز تحریر یہودیت کی پس خوردہ ہے، ورنہ جیسا کہ ابھی عرض کر چکا ہوں امت اسلامیہ میں سے ایک فرد بھی حضرت مسیح علیہ السلام کی اس ذلت آمیز گرفتاری اور صلیب کشی کا قائل نہیں مرزا آنجہانی کی اسی یہودیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ ”یہودی دعویٰ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دی گئی، قادیانیت یہودیوں کی تقلید میں اس قصہ کو من وعن تسلیم کر کے صرف اتنی ترمیم کرتی ہے کہ وہ صلیب پر مرے نہیں تھے، بلکہ انہیں نیم مردہ حالت میں اتار لیا گیا تھا۔ مرزا احمد صاحب نے میرے اس فقرہ کا جواب دیا ہے وہ یہ ہے :

”اصل بحث تو تھا ہی یہی کہ یہودی حضرت مسیح کو صلیبی موت دینے میں کامیاب ہوئے کہ نہیں۔ اس بنیادی نزاع میں احمدیت اور یہودیت کے عقائد میں قطبین کا فرق ہے محض صلیب پر چڑھانے کی تاریخی اور ثابت شدہ حقیقت میں اتفاق کو ایک اعتراض مماثلت کے طور پر پیش کرنا لغویت کی انتہاء ہے۔“

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۳۷)

مرزا طاہر احمد صاحب حضرت مسیح کے صلیب پر چڑھائے جانے کو تاریخی اور ثابت شدہ حقیقت کہہ کر گویا یہ تسلیم کرتے ہیں کہ راقم الحروف نے جو کچھ لکھا، مگر ان کے نزدیک یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں، کیونکہ بقول ان کے حضرت مسیح علیہ السلام کا یہودیوں کے ہاتھ میں گرفتار ہونا، گالیاں کھانا، ان کو تازیانے لگایا جانا، کانٹوں کا تاج پہنایا جانا، ان کے منہ پر تھوکا جانا۔ انہیں صلیب پر چڑھایا جانا، ان کے جسم میں کیلیں ٹھونکا جانا، ان کا ایلی ایلی پکارنا۔ ان پر غشی طاری ہو جانا اور بالآخر مجازی طور پر ان کا صلیب پر مر جانا، یہ سب کچھ ایک ”ثابت شدہ تاریخی حقیقت“ ہے اور یہ جو لوگ حضرت مسیح علیہ السلام اس حیا سوز ذلت و رسوائی کے قائل ہیں ان پر اعتراض کرنا صاحبزادہ صاحب کے نزدیک ”لغویت کی انتہاء ہے۔“

صفحہ 240

یہودی افسانوں کو (جن کی قرآن کریم واضح طور پر تردید کر چکا ہے) ”ثابت شدہ تاریخی حقیقت کہنے پر میں مرزا طاہر احمد صاحب کو معذور سمجھتا ہوں کیونکہ ان کے گھر جب نبی سازی کی جعلی ٹکسال موجود ہے تو تاریخ سازی کی ٹکسال کا ہونا کچھ تعجب خیز نہیں، اس لئے وہ جس بے بنیاد افسانے کو جب چاہیں ”تاریخی حقیقت“ بنا سکتے ہیں۔ مگر میں ان سے گزارش کرنے کی اجازت چاہوں گا کہ ان کی اس مزعومہ تاریخی حقیقت کا وجود نہاں خانہ مرزائیت کے سوا کہیں نہیں اس کا نہ قرآن و حدیث میں ذکر ہے نہ کسی اسلامی تاریخ میں۔ مرزا آنجہانی کا یہ تخیلاتی کرشمہ ہے کہ اس نے یہودیت، عیسائیت اور اسلام کا ایک ایسا ملغوبہ تیار کرنے کی سعی مذموم کی جسے قرآن کریم اور ملت اسلامیہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ آئیے یہ دیکھیں کہ اس مبحث میں مرزا آنجہانی کو اللہ میاں سے کن کن نکات میں اختلاف ہے اور قرآن کریم آنجہانی کی خود تراشیدہ ”تاریخی گپ“ کی کس طرح تردید کرتا ہے۔

کے ہاتھوں میں گرفتار ہوئے۔ اس کے برعکس قرآن کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انعامات خداوندی شمار کرتے ہوئے یہ اعلان کرتا ہے: واذ كففت بنى اسرائيل عنک۔ ”اور یاد کر جب میں نے ہٹائے رکھا بنی اسرائیل کو تجھ سے۔“ یعنی یہود حضرت مسیح کو گرفتار تو کیا کرتے اللہ تعالیٰ نے انہیں آپکے قریب تک پھٹکنے نہیں دیا۔

دینے کا جو منصوبہ بنا رہے تھے اس میں وہ کامیاب ہوئے۔ مگر قرآن کریم اس مرزائی دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے تصریح کرتا ہے کہ یہود کے تمام منصوبے خاک میں مل کر رہ گئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت و صیانت کے متعلق خدائی تدبیر کامیاب ہوئی۔ و مکروا و مکر اللہ واللہ خیر الماکرین۔

علیہ السلام کے مقدس چہرہ پر طمانچے رسید کئے، مگر قرآن کریم اعلان کرتا ہے کہ یہ قطعاً غلط ہے ہوا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ انہیں اپنی طرف اٹھا لیا اور کافروں کے نجس ہاتھوں سے انہیں پاک رکھا۔ اذ قال الله يعيسىٰ انی متوفیک و رافعک الی و مطہرک من الذین کفروا۔

صفحہ 241

مقدر تھی انہیں گالیاں دی گئیں ان کے منہ پر تھوکا گیا۔ انہیں کانٹوں کا تاج پہنایا گیا۔ ان کے مقدس جسم کو چھیدا گیا۔ مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ دنیا و آخرت میں ذو وجاہت تھے اور مقرب بارگاہ خداوندی تھے ناممکن تھا کہ یہود کی جانب سے حضرت مسیح کی وجاہت کے خلاف کوئی حرکت ان سے کی جاتی، وجيها في الدنيا والآخرة ومن المقربين۔

گیا مگر قرآن کریم اعلان کرتا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں تھی جو انہیں صلیب پر چڑھا سکے وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم اس لئے مسیح کو صلیب دیئے جانے کا افسانہ محض جھوٹ ہے۔

دست درازیوں سے بچانے کا وعدہ کیا، مگر یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔ اس لئے خدا کی وعدہ خلافی کی شکایت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایلی ایلی لما سبقتنی کہہ کر کرنی پڑی۔ ”یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا اور کیوں اس وعدہ کا ایفاء نہ کیا جو تو نے پہلے سے کر رکھا تھا۔“

(ازالہ ص ۳۹۲ مندرجہ روحانی خزائن ج ۳ ص ۳۰۳، ۳۰۴)

مگر قرآن کریم اس مرزائی افترا کی تردید کرتا ہے کہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ ٹھیک ٹھیک پورا کیا اور اسی وعدہ کے مطابق بحفاظت تمام ان کو اپنی طرف آسمان پر اٹھا لیا۔ ”بل رفعہ اللہ الیہ۔“

قرآن کریم اس مرزائی افسانے کی تردید کرتا ہے کہ وہ مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں۔ ابھی دنیا میں ان کی دوبارہ آمد مقدر ہے اور ان کی تشریف آوری قیامت کا نشان ہے۔ اس لئے اے مسلمانو! ان قادیانی ہفوات کی وجہ سے شک وشبہ میں مت پڑو۔ وانہ لعلم للساعة فلا تمترن بھا۔

قرآن کریم یہ بھی بتاتا ہے کہ ان کی وفات اس وقت ہوگی جبکہ ان کی موت سے

صفحہ 242

پہلے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لاچکے ہوں گے، اور ایک متنفس بھی کفر کا مرتکب نہیں رہے گا۔ وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ۔ صاحبزادہ صاحب! یہ ہے وہ ”تاریخی حقیقت“ جو عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قرآن کریم پیش کرتا ہے اور اِسی حقیقت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک تمام امت اسلامیہ ”ثابت شدہ“ تسلیم کرتی آئی ہے۔

حافظ ابن کثیر نے بسند صحیح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ ”تاریخی حقیقت“ ان الفاظ میں نقل کی ہے :

لما أراد الله أن يرفع عيسى إلى السماء خرج إلى أصحابه وفى البيت اثنا عشر رجلًا من الحواريين يعنى فخرج عليهم من عينٍ فى البيت ورأسه يقطر ماءً، فقال: إنّ منكم من يكفر بى اثنتى عشرة مرّة بعد أن آمن بى، ثم قال: أيّكم يلقى عليه شبهى فيقتل مكانى ويكون معى فى درجتى (وفى رواية: ويكون رفيقى فى الجنة) فقام شابّ من أحدثهم سنًّا، فقال له: اجلس، ثم أعاد عليهم، فقام الشابّ، فقال: اجلس، ثمّ أعاد فقام الشاب، فقال: أنا، فقال: أنت ذاك، فألقى عليه شبه عيسىٰ، ورفع عيسىٰ من روزنةٍ فى البيت إلى السماء، وجاء الطلب من اليهود، فأخذوا الشّبَهَ، فقتلوه ثم صلبوه .

( تفسير ابن كثير ص٥٧٤ ج١ ، التصريح بما تواتر فى نزول المسيح ص٢٨٤ مطبوعه حلب )

ترجمہ : ”جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (اپنے پیشگی وعدہ کے موافق) آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ کیا تو آپ اپنے شاگردوں کے پاس تشریف لائے، مکان میں بارہ حواری تھے، پس آپ ایک چشمے سے، جو مکان میں تھا، غسل کر کے اس حالت میں ان کے پاس آئے کہ آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے (حدیث میں آتا ہے کہ جب قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہونگے

صفحہ 243

اس وقت بھی یہی کیفیت ہوگی۔ مشکوٰۃ ص ۴۸۳) پس آپ نے فرمایا تم میں سے بعض مجھ پر ایمان لانے کے بعد میرے ساتھ بارہ مرتبہ کفر کریں گے، پھر فرمایا! تم میں سے کون (پسند کرتا) ہے کہ اس پر میری شباہت ڈال دی جائے، پس اسے میرے بجائے قتل کر دیا جائے اور وہ جنت میں میرا رفیق ہو۔ یہ سن کر ان میں سب سے کم عمر نوجوان کھڑا ہوا آپ نے اس سے فرمایا! تم بیٹھ جاؤ۔ پھر آپ نے دوبارہ یہی بات دہرائی تو وہی نوجوان پھر کھڑا ہو گیا۔ آپ نے فرمایا! تم بیٹھ جاؤ، تیسری بار پھر یہی فرمایا۔ اب کے بھی اسی نوجوان نے سبقت کی، آپ نے فرمایا! ”ہاں تم ہی وہ شخص ہو ۔“ پس اس نوجوان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مکان کے روشن دان سے آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔ اور یہودیوں کی ایک جماعت تلاش کرتی ہوئی آئی، انہوں نے اس نوجوان کو جس پر حضرت عیسیٰ کی شباہت ڈالی گئی تھی پکڑ کر قتل کر دیا۔“

(تفسیر ابن کثیر ص ۵۷۴ ج ۱۔ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص ۲۸۴ مطبوعہ حلب)

یہ تو ہے مسلمانوں کی مسلمہ تاریخی حقیقت ۔۔۔۔۔۔۔ کیا اس کے مقابلہ میں مرزا طاہر احمد صاحب اس مضمون کی کوئی آیت، کوئی حدیث، کسی صحابی یا تابعی کا ارشاد، کسی فقیہ و محدث کا قول پیش کر سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کیا گیا، ان سے رسوا کن سلوک کیا گیا، ان کو سولی پر لٹکایا گیا اور بالآخر یہودیوں نے یہ سمجھ کر کہ اب یہ مر چکا ہے ان کو صلیب پر سے اتار کر دفن کر دیا۔ اگر مرزا طاہر احمد صاحب اس مزعومہ ”تاریخی حقیقت“ کو اسلامی لٹریچر سے ثابت کر دیتے تو ان کا اپنے دادا کی قبر پر بے حد احسان ہوتا، لیکن جب وہ یہ ثابت نہیں کر سکے اور نہ قیامت تک کر سکتے ہیں تو انہیں اس یہودی مرزائی افسانہ کو ”تاریخی حقیقت“ کہتے ہوئے کچھ تو شرمانا چاہئے تھا۔

قادیانیت کی اسلام دشمنی :

میں نے لکھا تھا کہ یہود کی طرح قادیانیت بھی اسلام اور مسلمانوں کی بدترین

صفحہ 244

دشمن ہے اس کے لئے میں نے الفضل ۳/ جنوری ۱۹۵۲ء کا حوالہ بایں الفاظ دیا تھا: ”ہم فتح یاب ہوں گے، اور تم ضرور مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہو گے اس دن تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابو جہل اور اس کی پارٹی کا ہوا تھا۔“

صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو شکایت ہے کہ میں نے بقول ان کے دیانتداری سے کام نہیں لیا۔ الفضل کا ”اصل اقتباس“ نقل نہیں کیا۔ صرف اس کا خلاصہ نقل کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے قارئین کی توجہ کے لئے ”اصل اقتباس“ نقل کر دیا ہے، جو حسب ذیل ہے:

”یہ محض اکثریت میں ہونے کا نتیجہ ہے کہ ایسی باتیں کر رہے ہو، لیکن غور کرو کیا ابو جہل کی بھی یہی دلیل نہ تھی کہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو کوئی حق نہیں کہ وہ ہمارے ملک کی ننانوے فیصد آبادی کے ــــــــــــــــــــ خلاف کوئی بات کرے۔ آخر آج جو دلیل تم دیتے ہو کیا وہی دلائل ابو جہل نہیں دیا کرتا تھا؟ تمہارے کہنے پر بے شک حکومت مجھے پکڑ سکتی ہے، قید کر سکتی ہے، مار سکتی ہے لیکن میرے عقیدہ کو وہ دبا نہیں سکتی کہ میرا عقیدہ جیتنے والا عقیدہ ہے وہ یقیناً ایک دن جیتے گا، (جی ہاں! نوے سال سے جیت ہی رہا ہے، اور ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو تو قومی اسمبلی میں بالکل ہی جیت گیا قادیانیوں کی اصطلاح میں ذلت اور رسوائی کا نام ہی جیت ہے۔ اور یہ ان کا ازلی مقدر ہے) تب ایسا تکبر کرنے والے لوگ پشیمان ہونے کی حالت میں آئیں گے اور انہیں کہا جائے گا، بتاؤ، تمہارا فتویٰ اب تم پر عائد کیا جائے۔ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا اور اکثریت کا گھمنڈ کرنے والے لوگ آپؐ کے سامنے پیش ہوئے تو آپؐ نے انہیں فرمایا اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ آپؐ کا مقصد کہنے سے یہی تھا کہ وہ اپنی اکثریت کے زعم میں جو کہا کرتے تھے وہ انہیں یاد دلا دیا جائے۔“

صاحبزادہ صاحب کا نقل کردہ ”اصل اقتباس“ اور میرا پیش کردہ خلاصہ

صفحہ 245

دونوں قارئین کے سامنے ہیں، وہ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اس طویل اقتباس میں جو کچھ کہا گیا ہے کیا میں نے دو جملوں میں اسی مضمون کو کم و کاست نقل نہیں کر دیا؟ یعنی قادیانیت کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور مسلمانوں کی کفار مکہ کی حیثیت دینا۔ قادیانیت کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح فتحیاب ہونا اور مسلمانوں کا کفار مکہ کی طرح قادیانی دربار میں مجرموں کی طرح پیش ہونا۔۔۔ یہی نتیجہ میں نے اپنے رسالہ میں اخذ کیا تھا کہ :

”جس گروہ کے نزدیک تمام عالم اسلام ”ابو جہل اور اس کی پارٹی“ کی حیثیت رکھتا ہو، اور وہ اپنے آپ کو ”محمد رسول اللہ کا بروز“ قرار دیتا ہو۔ اس کی عداوت مسلمانوں کے ایک ایک فرد سے کس قدر ہو سکتی ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے کسی غیر معمولی فہم و ذکاوت کی ضرورت نہیں۔“

(رسالہ ربوہ سے تل ابیب تک ص ۵)

لطف یہ کہ یہی نتیجہ خود مرزا طاہر احمد صاحب نے اپنے نقل کردہ طویل اقتباس سے اخذ کیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔

”جماعت احمدیہ کی مثال حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کی اس حالت سے دی گئی ہے۔ جبکہ آپ کمزور تھے اور دشمن بھاری اکثریت میں تھے، اس کے باوجود چونکہ مسلمانوں کا عقیدہ جیتنے والا عقیدہ تھا (اسے کہتے ہیں ”حق بر زبان شود جاری۔“ صاحبزادہ صاحب! اطمینان رکھئے اب بھی انشاء اللہ مسلمانوں کا عقیدہ ہی جیتنے والا ہے، اور قیامت تک رہے گا۔ اسلام کے مقابلہ میں قادیانیت کے یہودیانہ عقائد کو انشاء اللہ شکست پر شکست ہی ہو گی۔) اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی قلت کو کثرت میں بدل دیا، اور آپ کے نظریہ کو مخالفین پر غالب کر دیا۔“

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۴۱)

قادیانی لیڈر خود کو محمد رسول اللہ بتائیں، دنیا بھر کے مسلمانوں کو ”کفار مکہ“ ٹھہرائیں، اور انہیں قادیانی شہنشاہیت کے دربار معلیٰ میں پابجولاں پیش ہونے کی دھمکی

صفحہ 246

دیں یہ تو ”بددیانتی“ نہیں، اور اگر مسلمان اس گیدڑ بھبکی پر ذرا بھی شکایت کریں تو یہ صاحبزادہ صاحب کے نزدیک ”بددیانتی“ ہے۔ چہ خوب۔ خرد کا نام جنون اور جنون کا خرد رکھنے کی کیسی اچھی مثال ہے؟

قادیانی رحم و بخشش

جناب مرزا طاہر احمد صاحب نے اس بحث کے ضمن میں یہ لطیف نکتہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن لا تثریب علیکم الیوم کہہ کر بخشش عام کا اعلان فرما دیا تھا، اسی طرح قادیانیوں کو جب ”فتح مکہ“ نصیب ہو گی تو وہ بھی اس سنت نبوی کا مظاہرہ کریں گے، وہ لکھتے ہیں : ”جب احمدی اپنے لئے ”فتح مکہ“ کی مثال اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اختیار کرتے ہیں تو اس سے اپنے دشمنوں کے لئے ان کی ہمدردی ثابت ہوتی ہے نہ کہ عداوت، عفو ثابت ہوتا ہے نہ کہ انتقام، محبت ثابت ہوتی ہے نہ کہ نفرت۔“

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۴۴)

میں جناب صاحبزادہ صاحب کا ممنون ہوں کہ وہ تمام عالم اسلام کو کفار مکہ کہہ کر بھی ان سے عداوت و نفرت اور انتقام کے بجائے محبت و ہمدردی اور عفو و در گزر کی پیش کش کرتے ہیں۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ قادیانیت کی تاریخ ان کے اس دعویٰ کو جھٹلاتی ہے۔ آج تک قادیانیت کا کردار یہ رہا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے حق میں سراپا انتقام، سراپا نفرت اور سراپا عداوت رہی ہے۔ قادیانی ذہنیت مرزا محمود احمد صاحب کے مندرجہ ذیل الفاظ سے عیاں ہو کر سامنے آجاتی ہے : ”اب زمانہ بدل گیا ہے، دیکھو! پہلے جو مسیح آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا، (میں اوپر بتا چکا ہوں کہ مسیح علیہ السلام کا صلیب پر لٹکایا جانا یہودی، قادیانی گپ ہے) مگر اب مسیح (یعنی مرزا آنجہانی) اس لئے آیا کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار دے۔“

(الفضل ۶/اگست ۱۹۲۷ء)

صفحہ 247

دوسری جگہ اپنے مریدوں کو ”رحم و کرم“ پر اکساتے ہوئے مرزا محمود صاحب انہیں بایں الفاظ غیرت دلاتے ہیں :

”اگر تم میں رائی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا سچ مچ یہ عقیدہ ہے کہ ”دشمن کو سزا“ دینی چاہئے تو پھر یا تم دنیا سے مٹ جاؤ یا گالیاں دینے والوں کو مٹا ڈالو ...... ، اگر کوئی انسان سمجھتا ہے کہ اس میں ”مارنے کی طاقت“ ہے تو میں اسے کہوں گا کہ اے بے شرم! تو آگے کیوں نہیں جاتا اور اس منہ کو کیوں توڑ نہیں دیتا۔“

(الفضل ص۶ مورخہ ۵ / جون ۱۹۳۷ء)

یہ ہے مرزا طاہر احمد اور ان کے باپ دادا کا جذبہ عفو و در گزر ۔ وہ تو خیر ہوئی کہ ”خدا گنجے کو ناخن نہ دے“ کے مطابق قادیانی لیڈروں کو کبھی لیلائے اقتدار سے ہم آغوشی نصیب نہ ہوئی بلکہ یہودیوں کی طرح ہمیشہ محکوم و مجبور، مطرود و مقہور اور ذلیل و رسوا ہی رہا کئے، ورنہ خدا جانے دشمن کو کس کس طرح کی سزائیں دی جاتیں اور مخالفین کو کس کس طرح موت کے گھاٹ اتارا جاتا۔ تاہم مرزائی خانوادہ کو اپنی جماعت میں پورا اقتدار حاصل رہا اسی کے نشہ میں بدمست ہو کر اپنے مخلص ساتھیوں کو جس ظلم و ستم اور بہیمیت و بربریت کا نشانہ انہوں نے بنایا اس سے ہٹلر اور سٹالن کی روح بھی کانپ اٹھی ہوگی۔ مثلاً:

”شریف بستی“ میں ایک شخص بھی اس کے قتل کی شہادت دینے کے لئے آگے نہ بڑھا۔ یہ وہی فخرالدین ہے جس نے سالہا سال اپنے خون پسینہ سے قادیانیت کے شجرہ خبیثہ کی آبیاری کی تھی، اور مرتے وقت بھی قادیانیت پر مرنے کا اعلان کر رہا تھا، اسے اس درندگی کا نشانہ محض اس لئے بنایا گیا کہ اسے بدقسمتی سے قادیان کے شاہی خانوادہ کے رازہائے درون پردہ کا علم ہو گیا تھا۔

ہوئی تو قومی ہیرو کی حیثیت سے اس کی لاش کا اعزاز و اکرام کیا گیا۔

حسین ہلاک ہوا۔

صفحہ 248

پر مجبور کیا گیا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے اپنی بہن کی حمایت میں قادیانی خلیفہ کو مباہلہ کی دعوت دی تھی۔

بے شمار افراد کا سماجی بائیکاٹ کیا گیا۔ کیونکہ اپنی دست درازیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے خلافت قادیان نے ان پر ”منافق“ کا فتویٰ صادر کیا تھا۔

میں پڑے ہوئے چھلکے کا خطاب دیا گیا۔ میں نے صاحبزادہ طاہر احمد صاحب کی چشم عبرت کے لئے چند اشارے کئے ہیں جن کے عینی شاہد آج بھی زندہ ہیں، ورنہ مرزا طاہر احمد صاحب کے خاندان کے رحم و کرم اور عفو و درگزر کی اتنی طویل داستان ریکارڈ پر موجود ہے کہ اس کے لئے ایک ضخیم دفتر بھی ناکافی ہے۔

مسٹر جی، ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور کے مندرجہ ذیل الفاظ قادیانی، ”عفو و درگزر“ پر بلیغ تبصرہ کی حیثیت رکھتے ہیں:

”مرزائی طاقت اتنی بڑھ گئی تھی کہ کوئی سامنے آکر سچ بولنے کے لئے تیار نہ تھا، ہمارے سامنے عبدالکریم کے مکان کا واقعہ بھی ہے۔ عبدالکریم کو قادیان سے نکالنے کے بعد اس کا مکان جلا دیا گیا۔ قادیان سمال ٹاؤن کمیٹی سے حکم حاصل کر کے نیم قانونی طریقے سے اسے گرانے کی کوشش بھی کی گئی۔ یہ افسوس ناک واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ قادیان میں طوائف الملوکی (ریاست در ریاست) تھی، جس میں آتش زنی اور قتل تک ہوتے تھے۔ مقامی افسروں کے پاس کئی مرتبہ شکایات کی گئیں، لیکن کوئی انسداد نہ ہوا...... قادیان میں ظلم و جور جاری ہونے کے متعلق غیر مشتبہ الزام عائد کئے گئے، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طرف مطلق توجہ نہ دی گئی..... مرزا نے مسلمانوں کو کافر، سور اور ان کی عورتوں کو کتیوں کا خطاب دے کر ان کے جذبات کو

صفحہ 249

مشتعل کر دیا تھا۔“ صاحبزادہ صاحب! لا تثریب علیکم الیوم کہہ کر عفو و درگزر کا اعلان کرنا سنت یوسفی ہے، یہ جھوٹے نبی کے چیلوں اور قادیان کے مدعی کاذب کا کام نہیں، بقول سعدی۔

شنیدم کہ مردان راہ خدا
دل دشمناں ہم نہ کردند تنگ
ترا کے میسر شود ایں مقام
کہ با دوستانت خلاف است و جنگ

قادیانیت کا روحانی چارج:

میں نے لکھا تھا کہ یہودی بھی ساری دنیا پر حکمرانی کے خواب دیکھتے ہیں اور قادیانی بھی قادیانیوں کی حکمرانی کے لئے بے تابی پر میں نے چار حوالے پیش کیے تھے، اول مرزا بشیر الدین کا یہ اعلان کہ : ”پس ہمیں معلوم نہیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے ہمیں اپنی طرف سے تیار ہو رہنا چاہئے۔“

(الفضل ۲۷ فروری ۱۹۲۲ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۱۳۶ تمہید پنجم طبع پنجم)

صاحبزادہ صاحب اس کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ اس سے مراد حکمرانی نہیں بلکہ روحانی ذمہ داری ہے۔ (ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۴۴) ان کی یہ تاویل قادیانی تاویلات کا ایسا عمدہ نمونہ ہے جس سے جناب مرزا صاحب کی روح بھی عش عش کر اٹھی ہوگی۔ مگر افسوس! انہیں یاد نہیں رہا کہ روحانی چارج، تو ان کے خاندان کو اسی دن الاٹ کیا جا چکا تھا جب ان کے دادا نے چودھویں صدی کے مجدد رسول اللہ کی حیثیت سے ساری دنیا کو اپنی رسالت و نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی تھی، اور جب بیک جنبش قلم ساری امت کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا تھا اب یہ نیا روحانی چارج، کونسا ہے جس کا ان کے سپرد کیا جانا ابھی باقی ہے۔

اور پھر قادیانی لیڈر جس بلند پایہ روحانیت سے سرفراز تھے اس کی حقیقت چند

صفحہ 250

تعلی آمیز دعوؤں کے سوا کچھ نہیں، نہ عبادت الٰہی کی توفیق، نہ ڈھنگ سے نماز روزہ کی، نہ حج وزکوٰۃ کی، نہ مال حرام سے پرہیزی، نہ غیر محرموں سے اجتناب کی— جناب مرزا طاہر احمد صاحب ہی اس روحانی چارج پر فخر کر سکتے ہیں، مسلمانوں کو اس سے پناہ مانگنی چاہئے۔ لیجئے قادیانی لٹریچر سے اس روحانی چارج کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیے :

عبادت الٰہی :

”مولوی رحیم بخش صاحب ساکن تکونڈی ضلع گورداسپور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد صاحب) امرتسر براہین احمدیہ کی طباعت دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے تو کتاب کی طباعت کے دیکھنے کے بعد مجھے فرمایا میاں رحیم بخش چلو سیر کر آئیں۔ جب آپ باغ کی سیر کر رہے تھے تو خاکسار نے عرض کیا کہ حضرت آپ سیر کرتے ہیں۔ ولی لوگ تو سنا ہے شب و روز عبادت الٰہی کرتے رہتے ہیں آپ نے فرمایا ولی اللہ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک مجاہدہ کش جیسے حضرت باوا فرید شکر گنج اور دوسرے محدث جیسے ابو الحسن خرقانی، محمد اکرم ملتانی، مجدد الف ثانی وغیرہ، یہ دوسری قسم کے ولی بڑے مرتبہ کے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے بہ کثرت کلام کرتا ہے میں بھی ان میں سے ہوں (گویا عبادت کے بجائے صرف لمبے دعوے کافی ہیں۔ ناقل) اور آپ کا اس وقت محدثیت کا دعویٰ تھا (جو بعد میں ترقی کر کے مسیحیت، نبوت، اور خدائی بروز تک جا پہنچا۔ ناقل)

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۱۲)

تصنیف اور نماز :

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ

صفحہ 251

سیرۃ المہدی کی روایت ۴۷۷ میں سنین کے لحاظ سے جو واقعات درج ہیں ان میں سے بعض میں مجھے اختلاف ہے جو درج ذیل ہے ــــــــــ (۱۳) آپ نے ۱۹۰۱ء میں ۲ ماہ تک مسلسل نمازیں جمع کرنے کا ذکر نہیں کیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بھی درست ہے کہ ایک لمبے عرصے تک نمازیں جمع ہوئی تھیں (کیونکہ مرزا صاحب ان دنوں ایک کتاب کی تصنیف میں مشغول تھے اس لئے ظہر و عصر اکٹھی پڑھ لیتے تھے تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔ ناقل “ )

(سیرۃ المہدی جلد ۳ ص ۱۹۹، ۲۰۲)

مسنون وضع :

”نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے بعض وقت درمیان میں توڑنی پڑتی ہے اکثر بیٹھے بیٹھے رینگن ہو جاتی ہے اور زمین پر قدم اچھی طرح نہیں جمتا قریب چھ سات ماہ یا زیادہ عرصہ گزر گیا ہے کہ نماز کھڑے ہو کر نہیں پڑھی جاتی اور نہ بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون ہے اور قرأت میں شاید قل ھو اللہ بمشکل پڑھ سکوں کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے تحریک بخارات کی ہوتی ہے۔

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۲ ص ۸۸)

مشہور فقہی مسئلہ :

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے بارہا دیکھا کہ گھر میں نماز پڑھاتے تو حضرت ام المومنین کو اپنے دائیں جانب بطور مقتدی کے کھڑا کر لیتے حالانکہ مشہور

صفحہ 252

فقہی مسئلہ یہ ہے کہ خواہ عورت اکیلی ہی مقتدی ہو تب بھی اسے مرد کے ساتھ نہیں بلکہ الگ پیچھے کھڑا ہونا چاہئے ہاں اکیلا مرد مقتدی ہو تو اسے امام کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے میں نے حضرت ام المومنین سے پوچھا تو انھوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حضرت صاحب نے مجھ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ مجھے بعض اوقات کھڑے ہو کر چکر آ جایا کرتا ہے۔ اس لئے تم میرے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیا کرو۔“

(سیرۃ المہدی۔ ج۔ ۳ ص ۱۳۱)

منہ میں پان :

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کو سخت کھانسی ہوئی ایسی کہ دم نہ آتا تھا البتہ منہ میں پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا اس وقت آپ نے اس حالت میں پان منہ میں رکھے رکھے نماز پڑھی، تاکہ آرام سے پڑھ سکیں۔“

(سیرۃ المہدی ج۔ ۳ ص ۱۰۳)

امامت کا شرف :

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی وجہ سے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نماز نہ پڑھا سکے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اول (حکیم نور دین صاحب) بھی موجود نہ تھے تو حضرت صاحب نے حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کو نماز پڑھانے کے لئے ارشاد فرمایا۔ انھوں نے عرض کیا کہ حضور تو جانتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض ہے اور ہر وقت ریح خارج ہوتی رہتی ہے۔ میں نماز کس طرح سے پڑھاؤں، حضور نے فرمایا۔ حکیم صاحب آپ کی اپنی نماز باوجود اس تکلیف کے ہو جاتی ہے یا نہیں؟ انھوں نے عرض کیا۔ ہاں

صفحہ 253

حضور! فرمایا کہ پھر ہماری بھی ہو جائے گی، آپ پڑھائیے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیماری کی وجہ سے اخراج ریح جو کثرت کے ساتھ جاری رہتا ہو نواقض وضو میں نہیں سمجھا جاتا۔“

(سیرۃ المہدی ۔ ص ۱۱۱)

رکوع کے بعد :

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گرمیوں میں مسجد مبارک میں مغرب کی نماز پیر سراج الحق صاحب نے پڑھائی حضور علیہ السلام (مرزا صاحب) بھی اس نماز میں شامل تھے تیسری رکعت میں رکوع کے بعد انھوں نے بجائے مشہور دعاؤں کے حضور کی ایک فارسی نظم پڑھی جس کا یہ مصرعہ ہے۔ ”اے خدا اے چارہ آزار ما“ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فارسی نظم نہایت اعلیٰ درجہ کی مناجات ہے جو روحانیت سے پر ہے مگر معروف مسئلہ یہ ہے کہ نماز میں صرف مسنون دعائیں بالجہر پڑھنی چاہئیں۔“

(سیرۃ المہدی ج۔ ۳ ص ۱۳۸)

مسئلہ وغیرہ کچھ نہیں :

”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب نماز پڑھا رہے تھے وہ جب تیسری رکعت کے لئے قعدہ سے اٹھے تو حضرت صاحب کو پتہ نہ لگا، حضور التحیات میں ہی بیٹھے رہے (شاید قبر مسیح کی تلاش میں کشمیر پہنچے ہوئے ہوں گے۔ ناقل) جب مولوی صاحب نے رکوع کے لئے تکبیر کہی تو حضور کو پتہ لگا، اور حضور اٹھ کر رکوع میں شریک ہوئے، نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے مولوی نور دین صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب کو بلوایا اور مسئلہ کی صورت پیش کی اور فرمایا کہ میں بغیر فاتحہ پڑھے رکوع میں شامل ہوا ہوں اس کے متعلق شریعت کا

صفحہ 254

کیا حکم ہے؟ مولوی محمد احسن صاحب نے مختلف شقیں بیان کیں کہ یوں بھی آیا ہے اور یوں بھی ہو سکتا ہے کوئی فیصلہ کن بات نہ بتائی (بتاتے بھی کیسے؟ معاملہ خود ”حضور“ کا تھا۔ ناقل) مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے آخری ایام بالکل عاشقانہ رنگ پکڑ گئے تھے وہ فرمانے لگے مسئلہ وغیرہ کچھ نہیں جو حضور نے کیا بس وہی درست ہے۔

(تقریر مفتی محمد صادق صاحب قادیانی مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد

۱۲ نمبر ۷۷ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۲۵ء)

طہارت :

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد) صاحب پیشاب کر کے ہمیشہ پانی سے طہارت فرمایا کرتے تھے، میں نے کبھی ڈھیلہ کرتے نہیں دیکھا۔“

(سیرۃ المہدی ج۔ ۳ ص ۲۴۳)

ڈھیلے جیب میں :

”آپ کو (یعنی مرزا صاحب کو) شیرینی سے بہت پیار ہے، اور مرض بول بھی عرصہ سے آپ کو لگی ہوئی ہے، اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔“

(مرزا صاحب کے حالات مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی مشمولہ براہین

احمدیہ ج ۱۱ ص ۶۷)

تیز گرم پانی :

”میرے گھر سے یعنی والدہ عزیزہ مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ

صفحہ 255

حضرت مسیح موعود علیہ السلام عموماً گرم پانی سے طہارت فرمایا کرتے تھے اور ٹھنڈے پانی کو استعمال نہ کرتے تھے۔ ایک دن آپ نے کسی خادمہ سے فرمایا کہ آپ کے لئے پاخانہ میں لوٹا رکھ دے، اس نے غلطی سے تیز گرم پانی کا لوٹا رکھ دیا، جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فارغ ہو کر باہر تشریف لائے تو دریافت فرمایا کہ لوٹا کس نے رکھا تھا جب بتایا گیا کہ فلاں خادمہ نے رکھا تھا۔ (جس کو آپ نے خود حکم فرمایا تھا۔ ناقل) تو آپ نے اسے بلوایا اور اسے اپنا ہاتھ آگے کرنے کو کہا اور پھر اس کے ہاتھ پر آپ نے اس لوٹے کا بچا ہوا پانی بہا دیا تاکہ اسے احساس ہو کہ یہ پانی اتنا گرم ہے کہ طہارت میں استعمال نہیں ہوسکتا۔“

(سیرۃ المہدی۔ ج ۳۔ ص ۲۴۳)

حفظ قرآن :

”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (غلام احمد صاحب) کو قرآن مجید کے بڑے بڑے مسلسل حصے یا بڑی بڑی سورتیں یاد نہ تھیں۔ بے شک آپ قرآن کے جملہ مطالب پر حاوی تھے، مگر حفظ کے رنگ میں قرآن شریف کا اکثر حصہ یاد نہ تھا، ہاں کثرت مطالعہ اور کثرت تدبر سے یہ حالت ہو گئی تھی کہ جب کوئی مضمون نکالنا ہوتا تو خود بتا کر حفاظ سے پوچھا کرتے تھے کہ اس معنی کی آیت کون سی ہے یا آیت کا ایک ٹکڑا پڑھ دیتے یا فرماتے کہ جس آیت میں یہ لفظ آتا ہے وہ آیت کونسی ہے۔ (باوجود اس کے قرآن کی آیتیں اکثر غلط نقل کرتے تھے۔ ناقل) “

(سیرۃ المہدی ج ۳۔ ص ۴۴ روایت نمبر ۵۵۱)

رمضان کے روزے :

”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح

صفحہ 256

موعود علیہ السلام کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کئے مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا۔ اس لئے باقی چھوڑ دیئے، اور فدیہ ادا کر دیا اس کے بعد جو رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ کی وجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپ نے فدیہ ادا کر دیا اس کے بعد جو رمضان آیا تو آپ کا تیرھواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا اور آپ نے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا اس کے بعد جتنے رمضان آئے آپ نے سب روزے رکھے مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل کمزوری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادا فرماتے رہے خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپ نے ابتداء دوروں کے زمانہ میں روزے چھوڑے تو کیا پھر بعد میں ان کو قضا کیا والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں! صرف فدیہ ادا کر دیا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب شروع شروع میں حضرت مسیح موعود کو دوران سر اور برد اطراف کے دورے پڑنے شروع ہوئے تو اس زمانہ میں آپ بہت کمزور ہو گئے تھے اور صحت خراب رہتی تھی۔ (خصوصاً رمضان میں۔ ناقل)۔“

(سیرۃ المہدی ج ۱، روایت نمبر ۸۱ ص ۶۵، ۶۶ طبع دوم)

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے اس وقت غروب آفتاب کا وقت بہت قریب تھا۔ مگر آپ نے فوراً روزہ توڑ دیا (اور توڑے ہوئے روزے کی قضا کا معمول تو تھا ہی نہیں۔ ناقل)“

(سیرۃ المہدی ج۔ ۳ ص ۱۳۱)

صفحہ 257

اعتکاف :

”ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حج نہیں کیا، اعتکاف نہیں کیا، زکوٰۃ نہیں دی، تسبیح نہیں رکھی میرے سامنے ضب یعنی گوہ کھانے سے انکار کیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ...... اعتکاف ماموریت کے زمانہ سے قبل غالباً بیٹھے ہوں گے، مگر ماموریت کے بعد بوجہ قلمی جہاد اور دیگر مصروفیات کے نہیں بیٹھ سکے کیونکہ یہ نیکیاں اعتکاف سے مقدم ہیں۔ (مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کبھی اعتکاف ترک نہیں فرمایا۔ ناقل) “۔

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۱۱۹)

زکوٰۃ :.

”اور زکوٰۃ اس لئے نہیں دی کہ آپ کبھی صاحب نصاب نہیں ہوئے (گویا ساری عمر فقیر رہے، مگر لقب تھا رئیس قادیان، اور ٹھاٹھ شاہانہ ۔ ناقل) “۔

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۱۱۹)

حج :

”مولوی محمد حسین بٹالوی کا خط حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی خدمت میں سنایا گیا جس میں اس نے اعتراض کیا تھا کہ آپ حج کیوں نہیں کرتے؟ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ :۔ میرا پہلا کام خنزیروں کا قتل اور صلیب کی شکست ہے، ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں ۱۔ بہت سے خنزیر مرچکے ہیں اور بہت سخت

میاں امام دین صاحب سکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے کہ بقول ہمارے مخالفین کے جب مسیح آئے گا اور لوگ اس کو ملنے کے لئے اس کے گھر پر جائیں گے تو گھر والے کہیں گے کہ مسیح صاحب باہر جنگل میں

صفحہ 258

جان ابھی باقی ہیں ان سے فرصت اور فراغت ہو لے۔ (افسوس ہے کہ مرزا صاحب کو مدۃ العمر خنزیروں کے شکار سے فرصت نہ مل سکی، ان کے خنزیر مرے نہ انہیں حج کی توفیق ہوئی۔ ناقل) “۔

(ملفوظات احمدیہ ج ۵ ص ۴۶۳، ۴۶۴ مرتبہ محمد منظور الٰہی قادیانی)

”خاکسار عرض کرتا ہے کہ حج نہ کرنے کی تو خاص وجوہات تھیں کہ شروع میں تو آپ کے لئے مالی لحاظ سے انتظام نہیں تھا۔ کیونکہ ساری جائداد وغیرہ اوائل میں ہمارے دادا صاحب کے ہاتھ میں تھی، اور بعد میں تایا صاحب کا انتظام رہا اور اس کے بعد حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ ایک تو آپ جہاد کے کام میں منہمک رہے (غالباً جہاد منسوخ کرنے کے کام میں۔ ناقل) دوسرے آپ کے لئے حج کا راستہ بھی مخدوش تھا۔ تاہم آپ کی خواہش رہتی تھی کہ حج کریں (تیسرے ، حکمت الٰہیہ کہ آپ کو حج کی توفیق سے محروم رکھنا چاہتی تھی تاکہ ، مسیح کی ایک علامت بھی آپ پر صادق نہ آئے اور ہر عام و خاص کو معلوم ہو جائے کہ ان کا دعویٰ مسیحیت غلط ہے)

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۱۱۹)

حضرت مرزا صاحب پر حج فرض نہیں تھا کیونکہ آپ کی صحت درست نہ تھی ہمیشہ بیمار رہتے تھے (اور یہ قدرت کی جانب سے آپ کو حج سے روکنے کی پہلی تدبیر تھی۔ ناقل) حجاز کا حاکم آپ کا مخالف تھا، کیونکہ ہندوستان کے مولویوں نے مکہ معظمہ سے حضرت مرزا صاحب

سور مارنے کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ پھر وہ لوگ حیران ہو کر کہیں گے کہ یہ کیسا مسیح ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لئے آیا ہے اور باہر سوروں کا شکار کھیلتا پھرتا ہے، پھر فرماتے تھے کہ ایسے شخص کی آمد سے تو ہنسیوں اور گنڈیلیوں کو خوشی ہو سکتی ہے جو اس قسم کا کام کرتے ہیں، مسلمانوں کو کیسے خوش ہو سکتی ہے یہ الفاظ بیان کر کے آپ بہت ہنستے تھے یہاں تک کہ اکثر اوقات آپ کی آنکھوں میں پانی آجاتا تھا۔“

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۹۱، ۲۹۲)

صفحہ 259

کے واجب القتل ہونے کے فتاویٰ منگائے تھے، اس لئے حکومت حجاز آپ کی مخالف ہو چکی تھی (اور یہ قدرت کی جانب سے دوسری تدبیر تھی۔ ناقل) وہاں جانے پر آپ کو جان کا خطرہ تھا (دجال بھی اسی خطرہ سے مکہ مکرمہ نہیں جاسکے گا۔ ناقل) لہٰذا آپ نے قرآن شریف کے اس حکم پر عمل کیا کہ اپنی جان کو جان بوجھ کر ہلاکت میں مت پھنساؤ مختصر یہ کہ حج کی مقررہ شرائط آپ میں نہیں پائی گئیں اس لئے آپ پر حج فرض نہیں ہوا۔ (اور خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حج کی توفیق ہی نہ دی۔ ناقل)“۔

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷ نمبر ۲۱ ص ۷ مورخہ ۱۰ ستمبر ۱۹۲۹ء)

چھٹا سوال و جواب :

”سوال ششم۔ (از محمد حسین صاحب قادیانی) حضرت اقدس (مرزا غلام احمد قادیانی) غیر عورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں دبواتے ہیں۔ ؟ جواب۔ (از حکیم فضل دین قادیانی) وہ نبی معصوم ہیں، ان سے مس کرنا اور اختلاط منع نہیں بلکہ موجب رحمت و برکات ہے۔

(الحکم جلد ۱۱ نمبر ۱۳ ص ۱۳ مورخہ ۷ اپریل ۱۹۰۷ء)

جمالیاتی حس :

”ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم، اے لاہور کی پہلی شادی حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد صاحب) نے گورداسپور میں کرائی تھی جب رشتہ ہونے لگا تو لڑکی کو دیکھنے کے لئے حضور نے ایک عورت کو گورداسپور بھیجا تاکہ کہ وہ آکر رپورٹ کرے کہ لڑکی صورت و شکل وغیرہ میں

صفحہ 260

کیسی ہے اور مولوی صاحب کے لئے موزوں بھی ہے یا نہیں۔..... یہ کاغذ میں نے لکھا تھا اور حضرت صاحب نے بمشورہ حضرت ام المومنین لکھوایا تھا، اس میں مختلف باتیں نوٹ کرائی تھیں۔ مثلاً یہ کہ لڑکی کا رنگ کیسا ہے، قد کتنا ہے، اس کی آنکھوں میں کوئی نقص تو نہیں، ناک، ہونٹ، گردن، دانت، چال، ڈھال وغیرہ کیسے ہیں غرض بہت ساری باتیں ظاہری شکل و صورت کے متعلق لکھوا دی تھیں کہ ان کی بابت خیال رکھے اور دیکھ کر واپس آ کر بیان کرے جب وہ عورت واپس آئی اور اس نے سب باتوں کی بابت اچھا یقین دلایا تو رشتہ ہو گیا۔ اسی طرح جب خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے اپنی بڑی لڑکی حضرت میاں صاحب (یعنی خلیفۃ المسیح ثانی) کے لئے پیش کی تو ان دنوں میں یہ خاکسار ڈاکٹر صاحب موصوف کے پاس چکراتہ پہاڑ پر، جہاں وہ متعین تھے بطور تبدیلی آب و ہوا کے گیا ہوا تھا۔ واپسی پر مجھ سے لڑکی کا حلیہ وغیرہ تفصیل سے پوچھا گیا"۔

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۹۶)

عائشہ :

”میری بیوی...... پندرہ برس کی عمر میں دارالامان میں حضرت مسیح موعود کے پاس آئیں...... حضور کو مرحومہ کی خدمت حضور کے پاؤں دبانے کی بہت پسند تھی“۔

(عائشہ کے شوہر غلام محمد صاحب قادیانی کا مضمون مندرجہ الفضل ۲۰ مارچ ۱۹۲۸ء ص ۶۔۷)

بھانو :

”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ام

صفحہ 261

المومنین (نصرت جہاں بیگم زوجہ مرزا غلام احمد) نے ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بھانو تھی وہ ایک رات جبکہ خوب سردی پڑ رہی تھی حضور کو دبانے بیٹھی، چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی اس لئے اسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں وہ حضور کی ٹانگیں نہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا (بھانو آج بڑی سردی ہے“۔ بھانو کہنے لگی ”ہاں جی، تدے تے تہاڈی لتاں لکڑی وانگر ہویاں ہویاں ایں“ یعنی جی ہاں جبھی تو آج آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہو رہی ہیں۔ ”خاکسار عرض کرتا ہے حضرت صاحب نے جو بھانو کو سردی کی طرف توجہ دلائی تو اس میں بھی غالباً یہ جتانا مقصود تھا کہ آج شاید سردی کی شدت کی وجہ سے تمہاری حس کمزور ہو رہی ہے۔“

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۱۰)

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلعم (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے ان کے ہاتھ کو نہیں چھوتے تھے، دراصل قرآن شریف میں جو یہ آتا ہے کہ عورت کو کسی غیر محرم پر اظہار زینت نہیں کرنا چاہئے اسی کے اندر لمس کی ممانعت بھی شامل ہے کیونکہ جسم کے چھونے سے بھی زینت کا اظہار ہو جاتا ہے۔“

(سیرۃ المہدی ج۔ ۳ ص ۱۵)

زینب بیگم :

”ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیا کہ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس (مرزا غلام احمد صاحب) کی خدمت میں رہی ہوں گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی، بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی مجھ کو

صفحہ 262

اس اثنا میں کسی قسم کی تھکان و تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا، دو دفعہ ایسا موقعہ آیا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقعہ ملا۔ پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند نہ غنودگی نہ تھکان معلوم ہوئی بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا“۔

(سیرۃ المہدی ج۔ ۳ ص ۲۷۴)

”ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری لڑکی —— زینب بیگم نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب حضور علیہ السلام (مرزا صاحب) سیالکوٹ تشریف لے گئے تھے تو میں رعیہ سے ان کی خدمت میں حاضر ہوئی، ان ایام میں مجھے مراق کا سخت دورہ تھا۔ میں شرم کے مارے آپ سے عرض نہ کر سکتی تھی مگر میرا دل چاہتا تھا کہ میری بیماری سے کسی طرح حضور کو علم ہو جائے، تاکہ میرے لئے حضور دعا فرمائیں، میں حضور کی خدمت کر رہی تھی کہ حضور نے اپنے انکشاف اور صفائی باطن سے خود معلوم کر کے فرمایا زینب تم کو مراق کی بیماری ہے۔ ہم دعا کریں گے“۔

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۷۵)

”ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری بڑی لڑکی زینب بیگم نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد صاحب) قہوہ پی رہے تھے کہ حضور نے مجھ کو اپنا بچا ہوا قہوہ دیا اور فرمایا زینب یہ پی لو، میں نے عرض کی حضور یہ گرم ہے اور مجھ کو ہمیشہ اس سے تکلیف ہو جاتی ہے، آپ نے فرمایا یہ ہمارا بچا ہوا قہوہ ہے، تم پی لو کچھ نقصان نہیں ہو گا۔ میں نے پی لیا“۔

(سیرۃ المہدی ۔ ج ۳ ص ۲۶۶)

مائی تابی :

”میرے گھر سے یعنی والدہ عزیز مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ

صفحہ 263

ایک دفعہ ہم گھر کی چند لڑکیاں تربوز کھا رہی تھیں، اس کا ایک چھلکا مائی تابی کو جالگا۔ جس پر مائی تابی بہت ناراض ہوئی، اور ناراضگی میں بد دعائیں دینی شروع کیں، اور پھر خود ہی حضرت مسیح موعود کے پاس جاکر شکایت بھی کر دی اس پر حضرت صاحب نے ہمیں بلایا اور پوچھا کہ کیا بات ہوئی، ہم نے سارا واقعہ سنا دیا، جس پر آپ مائی تابی سے ناراض ہوئے کہ تم نے میری اولاد کے متعلق بد دعا کی ہے خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی تابی قادیان کے قریب ایک بوڑھی عورت تھی جو حضرت مسیح موعود کے گھر میں رہتی تھی، اور اچھا اخلاص رکھتی تھی“۔

(سیرۃ المہدی ج۔ ۳ ص ۲۴۴)

مائی کاکو :

”مائی کاکو نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے سامنے میاں عبدالعزیز صاحب پٹواری سیکھواں کی بیوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کچھ تازہ جلیبیاں لائی۔ حضرت صاحب نے ان میں سے ایک جلیبی اٹھا کر منہ میں ڈالی۔ اس وقت ایک راولپنڈی کی عورت پاس بیٹھی تھی۔ اس نے گھبرا کر حضرت صاحب سے کہا۔ حضرت یہ تو ہندو کی بنی ہوئی ہیں۔ حضرت صاحب نے کہا تو پھر کیا ہے۔ ہم جو سبزی کھاتے ہیں۔ وہ گوبر اور پاخانہ کی کھاد سے تیار ہوتی ہے۔ اور اسی طرح بعض اور مثالیں دے کر اسے سمجھایا۔ “

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۴۴، ۲۴۵)

نیم دیوانی کی حرکت :

”حضرت مسیح موعود کے اندرون خانہ ایک نیم دیوانی سی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی، ایک دفعہ اس نے کیا حرکت کی کہ جس کمرے

صفحہ 264

میں حضرت صاحب بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے وہاں ایک کونے میں کھرا تھا جس کے پاس پانی کے گھڑے رکھے تھے۔ وہاں اپنے کپڑے اتار کر اور ننگی بیٹھ کر نہانے لگ گئی۔ حضرت صاحب اپنے کام تحریر میں مصروف رہے اور کچھ خیال نہ کیا کہ وہ کیا کرتی ہے"۔

(ذکر حبیب مولفہ مفتی محمد صادق ص ۳۸)

رات کا پہرہ :

”مائی رسول بی بی صاحبہ بیوہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم نے بواسطہ مولوی عبدالرحمان صاحب جٹ مولوی فاضل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے وقت میں میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں، اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سونے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگا دینا، ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوتے سنے اور آپ کو جگا دیا، اس وقت رات کے بارہ بجے تھے ان ایام میں عام طور پر پہرہ پر مائی فجو منشیانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھیں۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی رسول بی بی صاحبہ میری رضائی ماں ہیں (اور مرزا صاحب کی؟ ناقل) اور حافظ حامد علی صاحب مرحوم کی بیوہ ہیں جو حضرت مسیح موعود کے پرانے خادم تھے۔ مولوی عبدالرحمن صاحب ان کے داماد ہیں۔

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۱۳)

جوان عورت، بغلگیر، الحمد للہ :

”۲۵ جولائی ۱۸۹۲ء مطابق ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۰۹ء روز دوشنبہ۔ آج میں نے بوقت صبح صادق ساڑھے چار بجے دن کے خواب میں دیکھا کہ

صفحہ 265

ایک حویلی ہے اس میں میری بیوی والدہ محمود اور ایک عورت بیٹھی ہے تب میں نے ایک مشک سفید رنگ میں پانی بھرا ہے اور اس مشک کو اٹھا کر لایا ہوں اور وہ پانی لا کر ایک اپنے گھڑے میں ڈال دیا ہے میں پانی کو ڈال چکا تھا کہ وہ عورت جو بیٹھی ہوئی تھی یکایک سرخ اور خوش رنگ لباس پہنے ہوئے میرے پاس آ گئی کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جواں عورت ہے۔ پیروں سے سر تک سرخ لباس پہنے ہوئے، شاید جالی کا کپڑا ہے۔ میں نے دل میں خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کے لئے اشتہار دیئے تھے۔ (یعنی محمدی بیگم۔ ناقل) لیکن اس کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوئی۔ گویا اس نے کہا، یا دل میں کہا کہ میں آگئی ہوں۔ میں نے کہا یا اللہ آ جاوے، اور پھر وہ عورت مجھ سے بغلگیر ہوئی۔ اس کے بغلگیر ہوتے ہی میری آنکھ کھل گئی۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک

”اس سے دو چار روز پہلے خواب میں دیکھا تھا کہ روشن بی بی میرے دالان کے دروازے پر آکھڑی ہوئی ہے اور میں دالان کے اندر بیٹھا ہوں۔ تب میں نے کہا کہ آ، روشن بی بی اندر آ جا۔“

(تذکرہ ص ۱۹۷ طبع چہارم)

ناکامی کی تلخی :

فرمایا چند روز ہوئے کہ کشفی نظر میں ایک عورت مجھے دکھلائی گئی اور پھر الہام ہوا ...... اس عورت اور اس کے خاوند کے لئے ہلاکت ہے (یعنی انگور کھٹے ہیں۔ ناقل) “۔

(تذکرہ ص ۶۱۰ طبع چہارم)

خواب : دماغی بناوٹ :

۱۴ اگست ۱۸۹۲ء مطابق ۲۰ محرم ۱۳۰۹ھ۔ آج خواب میں میں

صفحہ 266

مرزا غلام احمد ) نے میں دیکھا کہ محمدی (بیگم) جس کی نسبت پیش گوئی ہے، باہر کسی تکیہ میں معہ چند کس کے بیٹھی ہوئی ہے، اور سر اس کا شاید منڈا ہوا ہے، اور بدن سے ننگی ہے اور نہایت مکروہ شکل ہے میں نے اس کو تین مرتبہ کہا کہ تیرے سر منڈی ہونے کی یہ تعبیر ہے کہ تیرا خاوند مرجائے گا اور میں نے دونوں ہاتھ اس کے سر پر اتارے ہیں۔......اور اسی رات والدہ محمود نے خواب میں دیکھا کہ محمدی (بیگم) سے میرا نکاح ہو گیا ہے اور ایک کاغذ مہر ان کے ہاتھ میں ہے جس پر ہزار روپیہ مہر لکھا ہے، اور شیرینی منگوائی گئی ہے اور پھر میرے پاس وہ خواب میں کھڑی ہے۔“ (تذکرہ ص ۱۹۸، ص ۱۹۹ طبع چہارم) ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ خوابوں کا مسئلہ بھی بڑا نازک ہے، کئی خوابیں انسان کی دماغی بناوٹ کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اور اکثر لوگ ان کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔“

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۱۱۶ مولفہ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد)

پاک مال۔ پاک مصرف :

”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت صاحب سے فتویٰ دریافت کیا کہ میری ایک بہن کنچنی تھی، اس نے اس حالت میں بہت سا روپیہ کمایا، پھر وہ مر گئی، اور مجھے اس کا ترکہ ملا، مگر بعد میں مجھے اللہ تعالیٰ نے توبہ اور اصلاح کی توفیق دی، اب میں اس مال کو کیا کروں؟ حضرت صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال اسلام کی خدمت میں...... خرچ ہو سکتا ہے (اور اسلام کی روح خود مرزا صاحب تھے۔ ان سے بہتر اس مال کا مصرف اور کون ہو سکتا تھا۔ ناقل) “

(سیرۃ المہدی ج ۲۔ ص ۲۶۱ روایت نمبر ۴۷۲)

صفحہ 267

انوار خلافت

دس جوتے

ہے۔

”میرے باپ کا نام ابو بکر صدیق ہے، وہ مرزا صاحب قادیان کا خسر ہے، میں بھی مرزا صاحب قادیان کے گھر میں تقریباً (۵) سال رہی ہوں، میں مستغیث احسان علی کو جانتی ہوں چار سال ہوئے ہیں مرزا صاحب کے لڑکے کی دوائی لینے احسان علی کی دوکان پر گئی تھی، میں نسخہ لے کر اس کی دوکان پر گئی تھی، اول احسان علی نے میرے ساتھ مخول کرنا شروع کیا اور پھر مجھ سے کہا کہ میں مریضوں کے کمرہ میں جاؤں، اس دوسرے کمرہ میں اس نے مجھے لٹایا اور میرے ساتھ بدفعلی کرنے کی کوشش کری، لوگ میرے رولا کرنے پر اکٹھے ہوگئے اور دروازہ کھلایا اور احسان علی کو لعنت اور ملامت کری تھی۔ احسان علی نے میرے ساتھ بدفعلی کرنی شروع کری تھی۔ میں نے گھر میں جا کر عزیزہ بیگم کے پاس شکایت کری تھی اور اس وقت مرزا صاحب وہاں موجود تھے، ان ایام میں عزیزہ بیگم کے پاس رہتی تھی، مرزا صاحب نے احسان علی کو بلایا اور لعنت ملامت کری اور احسان علی کو کہا کہ قادیان سے نکل جاؤ۔ احسان علی نے معافی مانگی اور مرزا صاحب نے حکم دیا کہ اگر احسان علی دس جوتے کھالیوے تب اس کو معاف کیا جاتا ہے، اور ٹھہر سکتا ہے، چنانچہ احسان علی نے اس کو قبول کیا، اور میں نے اس کو

صفحہ 268

دس جوتے لگائے تھے، یہ جوتیاں مرزا صاحب کے سامنے ماری تھیں........... جبکہ میں نے احسان علی کو جوتیاں ماریں تھیں تو تین چار آدمی اکٹھے ہو گئے تھے ان ایام میں میں بغیر پردہ کے باہر پھرا کرتی تھی ..... اس کے بعد میں سودا لینے بازار نہیں گئی۔" (مسماۃ سلمیٰ کی حلفیہ شہادت جو اس نے بتاریخ ۱۰ جولائی ۱۹۳۵ء ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع امرتسر کی عدالت میں ادا کی۔ بمقدمہ ازالہ حیثیت عرفی زیر دفعہ ۵۰۰ احسان علی بنام محمد اسمعیل، نمبری ۲/۸۶ مرجوعہ ۱۷ جولائی ۱۹۳۵ء منفصلہ ۲۱ ستمبر ۱۹۳۵ء "قادیانی مذہب" مولفہ پروفیسر محمد الیاس برنی۔ طبع پنجم ص ۸۲۴)

خصوصی دلچسپی

"جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں گا، مگر قیام انگلستان کے دوران مجھے اس کا موقعہ نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سے، جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریانی سے نظر آسکے، وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے مگر مجھے اوپیرا میں لے گئے جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا، اوپیرا سینما کو کہتے ہیں چودھری صاحب نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سوسائٹی کی جگہ ہے جسے دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں، میری نظر چونکہ کمزور ہے اس لئے دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سیکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں میں نے چودھری صاحب سے کہا کیا یہ ننگی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں مگر باوجود اس کے وہ ننگی معلوم ہوتی تھیں۔ (معلوم نہیں ان سے تعارف کا شرف بھی حاصل ہوا یا نہیں۔

صفحہ 269

ناقل) ۔ “

(مرزا بشیرالدین صاحب کا ارشاد مندرجہ الفضل ۲۸ جنوری ۱۹۳۴ء)

اطالوی رقاصہ

”مرزا بشیرالدین کی آمد اور سلسل ہوٹل کی منتظمہ کی گمشدگی کی تلاش کے باوجود اس کا کوئی پتہ نہیں مل سکا۔ “ (اخبار کی سرخی) ”یکم مارچ۔ سلسل ہوٹل کی طرف سے مشتہر ہوا تھا کہ جمعرات یکم مارچ پانچ سے ساڑھے نو بجے رات تک ناچ اور رسٹ ڈرائیو ہو گا بڑے بڑے انعامات بدستور سابق تقسیم کئے جائیں گے، تماشائی شام چار بجے سے جمع ہونے شروع ہوگئے، اور پانچ بجے اچھا خاصا مجمع ہو گیا، ہر ایک شخص کھیل شروع ہونے کا منتظر تھا، مگر خلاف توقع رسٹ ڈرائیو شروع نہ ہوا، ناچ کا بینڈ بجنا شروع ہوا، آخر پر سلسل ہوٹل کے ایک بیرے سے معلوم ہوا کہ رسٹ ڈرائیو کا تمام سامان منتظمہ کے کمرے میں ہے، اور منتظمہ کو مرزا بشیرالدین محمود موٹر میں بٹھا کر لے گئے ہیں۔ “

(روزنامہ آزاد ۱۳ مارچ ۱۹۳۴ء)

قادیان شکن :

(اخبار زمیندار کا منظوم تبصرہ)

اے کشور اطالیہ کے باغ کی بہار لاہور کا دامن ہے تیرے فیض سے چمن
پیغمبر جمال! تیری دل ربا ادا پروردگار عشق! تیرا چلبلا چلن
الجھے ہوئے ہیں دل تیری زلف سیاہ میں ہیں جس کے ایک تار سے وابستہ سو ختن
پروردہ فسوں ہے تیری آنکھ کا خمار آوردہ جنوں ہے تیری بوئے پیرہن
پیمانہ نشاط تیری ساق صندلی بیعانہ سرور ہے تیرا مرمری بدن
رونق ہے ہوٹلوں کی ترا حسن بے حجاب جس پر فدا ہے شیخ، تو لٹو ہے برہمن
جب قادیاں پہ تیری نشیلی نظر پڑی سب نشئہ نبوت ظلی ہوا ہرن
میں بھی ہوں تیری چشم پرافسوں کا معترف جادو وہی ہے آج جو ہو قادیاں شکن

(ارمغان قادیان ص ۴۸، ۴۹)

صفحہ 270

وہ قادیان گئی

عشاق شہر کا ہے زمیندار سے سوال ہوٹل سسل کی رونق عریاں کہاں گئی
اس کے جلو میں جاں گئی ایماں کے ساتھ ساتھ کیا کیا نہ تھا جو لے کے وہ جان جہاں گئی
خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا آنکھوں سے شرم سرور کون و مکاں گئی
بن کر خروش حلقہ رندان لم یزل لیکر گئی وہ حشر کا ساماں، جہاں گئی
روما سے ڈھل کے برق کے سانچے میں آئی تھی اب کس حریم ناز میں وہ جان جہاں گئی
یہ چیستاں سنی تو زمیندار نے کہا اتنا ہی جانتا ہوں کہ وہ قادیاں گئی

(ارمغان قادیان ص ۵۰)

مس روفو

ہمیں ”مشی فی النوم“ کی بھی خبر ہے زمانے کے اے بے خبر فیلسوفو!
ملے گا تمہیں یہ سبق قادیاں سے جہاں چل کے سوتے میں آئی مس روفو

(ارمغان قادیان ص ۴۹)

اخبارات میں اس کا چرچا ہوا تو مرزا بشیر الدین صاحب نے اپنے خطبہ میں یہ وضاحت فرمائی کہ میں اس لیڈی کو اپنی بیویوں اور لڑکیوں کو انگریزی لہجہ سکھانے کے لئے لایا تھا۔

(الفضل ۱۸ مارچ ۱۹۳۴ء)

پردے کا حکم

”سوال ہفتم: حضرت کے صاحبزادے غیر عورتوں میں بلا تکلف اندر کیوں جاتے ہیں، کیا ان سے پردہ درست نہیں؟ (سائل محمد حسین قادیانی)

جواب: ...... ضرورت حجاب صرف احتمال زنا کے لئے ہے جہاں ان کے وقوع کا احتمال کم ہو ان کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کر دیا ہے، اسی واسطے انبیاء اتقیاء لوگ مستثنیٰ بلکہ بطریق اولیٰ مستثنیٰ ہیں، پس حضرت کے صاحبزادے اللہ کے فضل سے متقی ہیں ان سے اگر حجاب نہ کریں تو

صفحہ 271

اعتراض کی بات نہیں ............... حکیم فضل دین از قادیاں ۔“

(اخبار الحکم جلد ۱۱ نمبر ۱۳ ص ۱۳ مورخہ ۱۷ اپریل ۱۹۰۷ء)

کبھی کبھی اور ہمیشہ

”ایک خط میں، جس کے متعلق اس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اسی کا لکھا ہوا ہے، اس پر یہ تحریر کیا ہے کہ : ”حضرت مسیح موعود ”مرزا غلام احمد صاحب قادیانی“ ولی اللہ تھے اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے ہیں۔ اگر انھوں نے کبھی کبھار زنا کر لیا تو اس میں کیا حرج ہوا۔“ پھر لکھا ہے : ”ہمیں حضرت مسیح موعود پر اعتراض نہیں کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے، ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ (مرزا محمود احمد صاحب) پر ہے، کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔“ اس اعتراض سے پتہ لگتا ہے کہ یہ شخص پیغامی طبع ہے (یعنی قادیانیوں کی لاہوری پارٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ ناقل) اس لئے کہ ہمارا حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ اعتقاد ہے کہ آپ نبی اللہ تھے مگر پیغامی (لاہوری) اس بات کو نہیں مانتے اور وہ آپ کو صرف ولی اللہ سمجھتے ہیں۔“

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل ۳۱ اگست

۱۹۳۸ء ص ۶)

مرید کا شکوہ

(۱۹۲۷ء میں سکینہ و زاہد کے قصے گلی کوچوں میں پھیلے، اخباروں کی زینت بنے، عدالتوں میں گونجے مگر خلیفہ کے غالی مرید شیخ عبدالرحمان صاحب مصری کو اپنے پیر کے تقدس کا یقین تب آیا جب ان ترکتازیوں کا سلسلہ شیخ صاحب کے گھر تک آپہنچا، تاہم مرید نے پیر کا راز فاش کرنے کے بجائے نجی خطوط کے ذریعہ اصلاح احوال کی ناکام کوشش کی،

صفحہ 272

ان کے پہلے مطبوعہ خط کے، جو خاصا طویل ہے، چند فقرے باضافۂ عنوانات درج ذیل ہیں۔ ناقل)

دو ٹوک بات

”بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم...... سیدنا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔“

میں ذیل کے چند الفاظ محض آپ کی خیر خواہی اور سلسلہ کی خیر خواہی کو مد نظر رکھتے ہوئے لکھ رہا ہوں، مدت سے میں یہ چاہتا تھا کہ آپ سے دو ٹوک بات کروں مگر جن باتوں کا در میان میں ذکر آنا لازمی تھا وہ جیسا کہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں ایسی تھیں کہ ان کے ذکر سے آپ کو سخت شرمندگی لاحق ہونی لازمی تھی اور جن کے نتیجہ میں آپ میرے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ سکتے تھے۔“

تقدس کا پردہ

”اگر میں بھی آپ کے اس اشتعال انگیز طریق سے متاثر ہو کر جلد بازی سے کام لیتا اور ابتدا میں ہی اپنا مبنی بر حقیقت بیان شائع کر دیتا اور جو تقدس کا بناوٹی پردہ آپ نے اپنے اوپر ڈالا ہوا ہے اسکو اٹھا کر آپ کی اصل شکل دنیا کے سامنے ظاہر کر دیتا تو آج نہ معلوم آپ کا کیا حشر ہوتا۔“

تعجب کی بات

”تعجب ہے مجھے تو ان دیرینہ تعلقات کا اس قدر پاس ہو کہ آپ کے گندے افعال کا ذکر آپ کے سامنے کرنے سے بھی شرم محسوس کروں، اور محض اس خیال سے کہ میرے سامنے آنے سے آپ کو

صفحہ 273

شرم محسوس ہوئی آپ کے سامنے آنے سے حتی الوسع اجتناب کرتا رہا ہوں لیکن ان تعلقات کا آپ کو اتنا بھی پاس نہ ہوا جتنا کہ ایک ”معمولی قماش کے بدچلن انسان“ کا ہوتا ہے میں نے سنا ہے بدچلن سے بدچلن آدمی بھی اپنے دوستوں کی اولاد پر ہاتھ ڈالنے سے احتراز کرتا ہے لیکن افسوس آپ نے اتنا بھی نہ کیا اور اپنے ان مخلص دوستوں کی اولاد پر ہی ہاتھ صاف کرنا چاہا، جو آپ کے لئے اور آپ کے خاندان کے لئے جانیں تک قربان کر دینا بھی معمولی قربانی سمجھتے تھے۔ (جان کے ساتھ عزت و ناموس اور ضمیر کی قربانی بھی سہی وہ اخلاص ہی کیا ہو جو ایسی قربانیوں کا بھی متحمل نہ ہو۔ ناقل)

ناجائز فائدہ

”میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک طرف تو آپ نے اپنی عیاشی کو انتہا تک پہنچایا ہوا ہے، جس لڑکی کو چاہا اپنی عجیب و غریب عیاری سے بلایا اور اس کی عصمت دری کر دی، اور پھر ایک طرف سے اس کی طبعی شرم حیا سے ناجائز فائدہ اٹھا لیا اور دوسری طرف دھمکی دے دی کہ ”اگر تو نے کسی کو بتایا تو تیری بات کون مانے گا، لوگ تجھے پاگل اور منافق کہیں گے، میرے متعلق تو کوئی یقین نہیں کرے گا۔“ اور اگر کسی نے جرات سے اظہار کر دیا تو مختلف بہانوں سے انکے خاوندوں یا والدین کو ٹال دیا۔“

جال اور ماتم

”لڑکیوں اور لڑکوں کو پھنسانے کے لئے جو جال آپ نے ایجنٹ مردوں اور ایجنٹ عورتوں کا بچھایا ہوا ہے اس کا راز جب فاش کیا جائے گا تو لوگوں کو پتہ لگے گا کے کس طرح ان کے گھروں پر ڈاکہ پڑتا ہے

صفحہ 274

مخلص جو آپ کے ساتھ اور آپ کے خاندان کے ساتھ تعلق پیدا کرنا فخر سمجھتے ہیں ان کے گھروں میں سب سے زیادہ ماتم پڑے گا۔ (بشرطیکہ عقل اور حس بھی خلیفہ پر ”قربان“ نہ ہو چکی ہو۔ ناقل) ۔ “

انتقام، انتقام، انتقام

” دوسری طرف جن لوگوں کو آپ کی غلط کاریوں کا علم ہو جاتا ہے یا وہ کسی کے سامنے اظہار کر بیٹھتے ہیں اور آپ کو اس کا علم ہو جائے تو پھر آپ اسے کچلنے کے درپے ہوجاتے ہیں، اور اس کچلنے میں رحم آپ کے نزدیک تک نہیں پھٹکتا، اور پتھر سے بھی زیادہ سخت دل کے ساتھ اس پر گرتے ہیں اور آپ کی سزا دہی میں اصلاحی پہلو بالکل مفقود اور انتقامی پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ (چنانچہ مثال کے طور پر سکینہ بیگم زوجہ مرزا عبدالحق صاحب کو ہی لے لو جس نے خلیفہ کی اخلاقی دراز دستی کی شکایت ۱۹۲۷ء میں کی تھی۔ ناقل) کس قدر ظلم اس پر آپ کی طرف سے کیا جاتا ہے جو کچھ اس نے کہا تھا اس کی سچائی تو اب بالکل ثابت ہو چکی ہے، لیکن وہ بیچاری باوجود سچی ہونے کے قیدیوں سے بدتر زندگی بسر کر رہی ہے، اس کی صحت تباہ ہو چکی ہے۔ “

قادیانی چال

آپ نے یہ چال چلی ہوئی ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے نہ دیا جائے اور منافقوں سے بچو، منافقوں سے بچو کے شور سے لوگوں کو خوفزدہ کیا ہوا ہے اور ہر ایک کو دوسرے پر بدظن کر دیا ہوا ہے اب ہر شخص ڈرتا ہے کہ میرا مخاطب کہیں میری رپورٹ ہی نہ کر دے، اور پھر فوراً مجھ پر منافق کا فتویٰ لگ کر جماعت سے اخراج کا اعلان کر دیا جائے، اور یہ سب کچھ آپ نے اس لئے کیا ہوا ہے کہ آپ کی سیاہ

صفحہ 275

کاریوں کا لوگوں کو علم نہ ہو سکے، لیکن...........)

ممکن ہے کہ :

”آپ کی بد چلنی کے متعلق جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کے متعلق ایک بات میرے دل میں کھٹکتی رہتی ہے اس کا ذکر کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ ممکن ہے جس چیز کو ہم زنا سمجھتے ہیں، آپ اسے زنا ہی نہ سمجھتے ہوں،....... پس اگر ایسا ہے تو مہربانی فرما کر مجھے سمجھا دیں، اگر میری سمجھ میں آگئی تو میں اپنے سارے اعتراضات واپس لے لوں گا۔“

بعض دفعہ نماز

”میں اس جگہ اس بات کا اضافہ کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ میں آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا، کیونکہ مجھے مختلف ذرائع سے یہ علم ہو چکا ہے کہ آپ جنبی کی حالت میں ہی بعض دفعہ نماز پڑھانے آجاتے ہیں۔“

(کمالات محمودیہ ص ۹۸ تا ۱۱۴ ملخصاً)

عدالت میں گونج

(۱۹۳۷ء میں شیخ عبدالرحمن مصری کو خلیفہ سے اخلاقی شکایتیں پیدا ہوئیں، نتیجہ یہ ہوا کہ شیخ صاحب جماعت سے الگ ہو گئے، یا کر دئے گئے تو خلیفہ سے محاذ آرائی ہوئی بات اشتہاروں اخباروں سے آگے عدالتوں تک پہنچی ذیل میں ان کا حلفیہ عدالتی بیان درج ہے، جسے عدالت عالیہ لاہور نے اپنے ۲۳ ستمبر ۱۹۳۸ء کے فیصلہ میں شامل کیا۔

صفحہ 276

”موجودہ خلیفہ (مرزا محمود احمد صاحب) سخت بدچلن ہے، یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے، اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے، ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے، اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے، جن میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔“

(شیخ عبدالرحمان مصری کا عدالتی بیان۔ مندرجہ فیصلہ ہائی کورٹ لاہور

مورخہ ۲۳ ستمبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۲)

ماہرانہ شہادت

بڑا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ خلیفہ (مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان ”عیاش ہے، اس کے متعلق میں کہتا ہوں کہ میں ڈاکٹر ہوں اور میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو چند دن بھی عیاشی میں پڑ جائیں وہ وہ ہو جاتے ہیں جنہیں انگریزی میں wreck کہتے ہیں۔ ایسے انسان کا نہ دماغ کام کرتا ہے نہ عقل درست رہتی ہے نہ حرکات صحیح طور پر کرتا ہے غرض سب قویٰ اس کے برباد ہو جاتے ہیں اور سر سے لے کر پیر تک اس پر نظر ڈالنے سے فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ عیاشی میں پڑ کر اپنے آپ کو برباد کر چکا ہے اس لئے کہتے ہیں ”الزنا یخرب البنا“ کہ زنا انسان کو بنیاد سے نکال دیتا ہے۔“

(ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب کا مضمون مندرجہ الفضل ۱۰ جولائی ۳۷ء)

شہادت کی تصدیق

”ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ چند ہفتوں میں دماغی حالت اپنے معمول پر آجائے گی، لیکن اب تک جو ترقی ہوئی ہے اس کی رفتار اتنی تیز نہیں

صفحہ 277

............ آدمیوں کے سہارے سے دو ایک قدم چل سکتا ہوں مگر وہ بھی مشکل سے دماغ اور زبان کی کیفیت ایسی ہے کہ میں تھوڑی دیر کے لئے بھی خطبہ نہیں دے سکتا اور ڈاکٹروں نے دماغی کام سے قطعی طور پر منع کر دیا ہے۔“

”مجھ پر فالج کا حملہ ہوا اور اب میں پاخانہ پیشاب کے لئے امداد کا محتاج ہوتا ہوں۔“

(میاں محمود احمد صاحب کا ارشاد مندرجہ الفضل ۱۲ اپریل ۱۹۵۵ء)

”۲۶ فروری کو مغرب کے قریب مجھ پر بائیں طرف فالج کا حملہ ہوا اور تھوڑے سے وقت کے لئے میں ہاتھ پاؤں چلانے سے معذور ہو گیا...... دماغ کا عمل معطل ہو گیا اور دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا...... میں اس وقت بالکل بیکار ہوں اور ایک منٹ نہیں سوچ سکتا۔“

الفضل ۲۶ اپریل ۱۹۵۵ء ص ۳ - ۵)

میں نے اس دعویٰ پر کہ یہودیوں کی طرح قادیانی بھی ساری دنیا پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہے ہیں، دوسرا حوالہ الفضل ۱۶ جنوری ۱۹۵۲ء سے نقل کیا تھا کہ :

”۵۲ء کو گزرنے نہ دیجئے جب تک احمدیت کا رعب، دشمن اس رنگ میں محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت مٹائی نہیں جاسکتی اور وہ مجبور ہو کر احمدیت کی گود میں آگرے۔“

اس فقرہ کی اشتعال انگیزی محتاج وضاحت نہیں، اس میں تمام اسلامیان پاکستان کو دشمن، قرار دے کر ان پر ”احمدیت کا رعب“ جمانے کا الٹی میٹم دیا گیا اور تمام مسلمانوں کو مجبور ہو کر ”احمدیت کی گود“ میں گرنے کا چیلنج بھی کیا گیا۔ قادیانیوں کا یہی اشتعال انگیز پروپیگنڈہ تھا جو ۱۹۵۳ء کی تحریک پر منتج ہوا لیکن مرزا طاہر احمد صاحب کس سادگی سے لکھتے ہیں کہ یہ اعلان خدام الاحمدیہ کے مہتمم تبلیغ کی طرف سے تھا۔ (گویا اس کی کوئی ذمہ دارانہ حیثیت نہیں کہ اس پر مسلمان احتجاج کریں) اور یہ کہ :

”یہاں رعب سے مراد کوئی توپ و تفنگ اور شمشیر و سناں کا رعب نہیں بلکہ احمدی نوجوانوں کو محض تبلیغ کی تلقین کی گئی ہے اور یہ کوئی قابلِ

صفحہ 278

اعتراض بات نہیں۔“

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ صفحہ ۴۳)

یعنی قادیانی صاحبان تمام مسلمانوں کو مرتد کرنے کی اسکیمیں بنائیں، ان کے دشمن ہونے کا اعلان کریں، ان پر رعب جمانے کا چیلنج دیں اور انہیں مجبور ہو کر قادیانیت کی گود میں آگرنے کی دھمکیاں دیں یہ تو صاحب زادہ صاحب کے خیال میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں، ہاں اگر کوئی مسلمان قادیانیوں کی اس جارحیت پر احتجاج کرے تو صاحب زادہ صاحب کے نزدیک یہ اس کی بے عقلی ہے۔ صاحب زادہ صاحب کا یہ نکتہ بھی خاصا پر لطف ہے کہ :

”ہر مذہب و ملت اور ہر فرقہ اسلام (خواہ وہ کیسا ہی گمراہ ہو۔ ناقل) کا حق بلکہ فرض ہے کہ وہ جن نظریات کو برحق اور باعث نجات سمجھتا ہے ان کی تبلیغ کر کے دنیا کو ہدایت کی طرف بلائے، اس مؤقف پر کوئی صحیح العقل انسان اعتراض نہیں کر سکتا۔“

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ صفحہ ۴۳)

گویا کسی مذہب و ملت یا کسی نام نہاد فرقہ اسلام کا واقعتاً حق پر ہونا مرزا طاہر احمد صاحب کے نزدیک ضروری نہیں بلکہ اپنے آپ کو حق پر سمجھنا کافی ہے۔ پس دنیا کا جو شخص بھی اپنے نظریات کو برحق اور باعث نجات سمجھتا ہو وہ مرزا طاہر احمد کے مطابق دنیا کو ہدایت کی طرف ہی بلاتا ہے۔ اس لئے اس دعوت ہدایت پر اعتراض کرنا ان کے خیال میں کسی صحیح العقل آدمی کا کام نہیں۔ اور چونکہ راقم الحروف نے قادیانیوں کے اپنے دشمن پر رعب جمانے اور اسے مجبور کر کے احمدیت کی گود میں گرانے پر نکتہ چینی کی ہے اس لئے اسے مرزا طاہر احمد صاحب کے دربار معلّیٰ سے ”صحیح العقل انسان“ کہلانے کا سرٹیفکیٹ نہیں مل سکتا۔

جناب صاحب زادہ کے اس ارشاد پر مجھے حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مختلف لوگوں کے ذہن میں ”صحیح العقل انسان“ کا معیار مختلف ہوتا ہے۔ مثلاً لاہوری پارٹی جو مرزا قادیانی کو چودہویں صدی کا مجدد مانتی ہے، اس کے مطابق قادیانی عقیدہ کی رو سے مرزا غلام احمد قادیانی بھی ایک ”صحیح العقل انسان“ ثابت نہیں ہوتے کیونکہ وہ بڑی

صفحہ 279

شدمد سے اپنی نبوت کا انکار بھی کرتے ہیں اور قادیانیوں کے بقول وہ نبی بھی ہیں۔ چنانچہ لاہوری پارٹی کے ایک معزز رکن مکرم چوہدری مسعود اختر ایڈووکیٹ مرزا صاحب کے تین شعر، جن میں ختم نبوت کا اظہار ہے۔ نقل کرنے کے بعد رقمطراز ہیں:

”مندرجہ بالا اشعار ۔ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے عقیدہ دربارۂ ختم نبوت اور ان کے دعویٰ کی ایسی مکمل تصویر کھینچتے ہیں جو شروع سے آخر تک ان کا عقیدہ رہا۔ جناب مجدد زماں حضور نبی صلعم (صلی اللہ علیہ وسلم۔ ناقل) پر ہر نبوت اور ہر پیغمبری کے ختم ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے اور اس عقیدہ پر ہمیشہ قائم رہے۔ زمانہ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ جناب میاں محمود احمد صاحب نے محض اپنی گدی قائم کرنے کے لئے (گدی کا طعنہ کچھ پھبتا نہیں، باپ کی گدی بیٹے ہی کو ملنی تھی، مثلاً مولوی محمد علی کے والد نے یہ گدی بنائی ہوتی تو اس پر میاں محمود احمد تھوڑی بیٹھتے۔ ہاں اولاد جسما یا ذہنا نابالغ ہو تو کچھ عرصہ کے لئے کسی ”معتمد“ کا سربراہ بن کر گدی نشین ہو جانا اور بات ہے۔ ناقل) محض اپنی گدی قائم کرنے کے لئے نبوت، نبوت کی ایسی رٹ لگائی کہ وہ الزام جو حضرت مجدد زمان پر ان کے مخالفین لگاتے تھے (اور اس کے لئے مرزا صاحب کے سیکڑوں الہامات اور قطعی عبارتیں پیش کرتے تھے۔ ناقل) اور جس الزام کو حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) بہتانِ عظیم اور دجل قرار دیتے تھے، وہ خود ان کے صاحب زادے صاحب نے ان پر لگا دیا (گویا صاحب زادے نے تسلیم کر لیا کہ مخالفین کا الزام غلط نہیں تھا، بلکہ مرزا صاحب کی تاویلیں غلط تھیں یا غلط فہمی پر مبنی تھیں۔ ناقل) اور ایک کثیر تعداد لوگوں کی اس گدی نشین کی حاشیہ بردار بن کر ان پر دعویٰ نبوت کا الزام دینے لگی۔ (اس گدی نشین کے حاشیہ نشینوں کی بیشتر تعداد ان لوگوں کی تھی جو اس کے باپ کے حاشیہ نشین رہ چکے تھے اور اس کے طلسمی دعووں کو اپنے کانوں سے سن چکے تھے۔ ناقل) کیونکہ حضرت مجدد زمان کی تحریروں سے ثابت ہے کہ آپ کی

صفحہ 280

طرف کسی قسم کی نبوت منسوب کرنا اتہام و الزام ہے اور دجل عظیم ہے (مرزا صاحب کی طرف نبوت سب سے پہلے ان کے الہامات میں منسوب کی گئی، اس لئے اس اتہام و الزام اور دجل عظیم کا پہلا مرتکب مرزا صاحب کا الہام کنندہ ہے۔ مرزا صاحب نے اس کی تقلید میں یہ اتہام و الزام اور دجل عظیم اپنی تقریر و تحریر میں بیان کرنا شروع کر دیا اور دوسرے لوگوں نے مرزا صاحب سے سن کر یہ بات پلے باندھ لی، موافقوں نے بھی اور مخالفوں نے بھی۔ پس اس کی پہلی ذمہ داری تو مرزا صاحب کے ملہم صاحب پر عائد ہوتی ہے۔ دوسرے نمبر پر خود مرزا صاحب اس کے ذمہ دار ہیں، رہے مخالفین! سو وہ بے چارے اس اتہام، الزام اور دجل عظیم کو محض مرزا صاحب کے حوالے سے نقل کرتے ہیں اور ”نقل کفر کفر نباشد“ ۔ ناقل) حضور امام زمان کا دعویٰ محض ملہم من اللہ، محدث، مجدد اور مسیح موعود ہونے کا تھا اور ان میں سے کوئی دعویٰ بھی نبوت کا دعویٰ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ (مگر مرزا صاحب تو یہی قرار دیتے تھے، شاید وہ سمجھے نہ ہوں گے۔ ناقل) حضور کے مندرجہ بالا اشعار سے ہی ظاہر ہے کہ جناب ہر قسم کی نبوت اور ہر قسم کی پیغمبری کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے (مگر ایک قسم کی نبوت کو جاری بھی کہتے تھے۔ ناقل) لہٰذا ایسا عقیدہ رکھنے کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ چہ معنی دارد؟ کوئی صحیح العقل انسان بیک وقت یہ نہیں کر سکتا کہ ایک طرف تو ہر قسم کی نبوت اور ہر قسم کی پیغمبری کو حضور رسول کریم صلعم (صلی اللہ علیہ وسلم۔ ناقل) پر ختم قرار دے اور دوسری طرف کسی قسم کی نبوت کا دعویدار ہو۔ (اور جناب مرزا صاحب نے بیک وقت یہ دونوں کام کر دکھائے، جو ریکارڈ پر موجود ہیں۔ لہٰذا اب یہ عقدہ قادیانیوں کے لئے ہمیشہ لایحل رہے گا کہ کیا ان کا مسیح موعود ”صحیح العقل انسان“ تھا؟ ناقل)

(قادیانیوں کی لاہوری جماعت اخبار پیغام صلح جلد ۶۴، نمبر ۲۰۔ ۲۱ ”مسیح موعود نمبر“ ۱۸/۱۹ مئی، ۱۹۷۷ء)

صفحہ 281

پس جس طرح لاہوری معیار سے از روئے عقیدۂ قادیانی ”صحیح العقل انسان“ کی تعریف مرزا صاحب پر صادق نہیں آسکتی اسی طرح ممکن ہے کہ صاحب زادہ طاہر احمد صاحب نے بھی ”صحیح العقل انسان“ کی کوئی نئی تعریف ایجاد فرمائی ہو۔ مثلاً یہ کہ ایک ”صحیح العقل انسان“ میں ان تمام اوصاف و اخلاق کا پایا جانا ضروری ہے جو ان کے جد بزرگوار مرزا غلام احمد صاحب میں پائے جاتے تھے یعنی وہ مراق، ہسٹریا، دماغی بیہوشی، دوران سر، درد سر، دق، سل، ذیابیطس، تشنج، ضعف اعصاب، بدخوابی کے عوارض میں مبتلا ہو روزانہ سو سو بار پیشاب کا معجزہ اسے حاصل ہو، سوء ہضم اور کثرت اسہال اس کے دائمی معمولات میں شامل ہوں، حافظہ بہت خراب ہو، دائیں بائیں کی تمیز سے قاصر ہو، سیدھے کو الٹا اور الٹے کو سیدھا پہنا کرے، اوپر کا بٹن نیچے کے کاج میں لگائے پھرے، جرابوں کی ایڑیاں پاؤں کے اوپر کی طرف کرے، گڑ کھانے کا شوقین اور سلسل البول کا مریض ہو اور کفایت شعاری کے لئے گڑ کے ڈھیلے اور استنجا کے ڈھیلے ایک ہی جیب میں رکھا کرے۔ وغیرہ وغیرہ۔

اور شاید ”صحیح العقل انسان“ کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ نامحرم عورتوں سے بدن دبواتا ہو، عورتوں کے پہرے میں شب گزاری کرتا ہو، نامحرم عورتیں رات کی تنہائیوں میں اس کی ”خدمت“ کرتی ہوں، نیم دیوانی عورتیں بے تکلف و بے حجاب اس کے سامنے غسل کرتی ہوں، وہ خواب میں نامحرموں سے معانقہ پر کلمہ شکر بجالاتا ہو، وغیرہ وغیرہ۔ اور شاید صحیح العقل ہونے کی ایک شرط یہ بھی ہو کہ آدمی متضاد اور مناقض دعوے کرے۔ کبھی عیسیٰ ہو کبھی مریم، کبھی مرد ہو کبھی عورت، کبھی انسان ہو کبھی کرم خاکی، کبھی بندہ ہو کبھی خدا، کبھی احمد ہو کبھی غلام احمد کبھی قرآن کھول کر بتائے کہ فلاں نبی زندہ ہے دوبارہ دنیا میں آئے گا اور کبھی الہام سنائے کہ وہ مر گیا ہے اب نہیں آئے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔

اور ممکن ہے ”صحیح العقل انسان“ کی تعریف میں یہ بھی داخل ہو کہ وہ محمد رسول ہونے کا دعویٰ کرے، اپنی روحانیت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت سے اکمل بتائے، قرآنی معجزات کو مکروہ اور قابل نفرت کرشمے ٹھہرائے، انبیاء و اولیاء پر سب وشتم کرے، تمام مجددین امت کو فیج اعوج اور گمراہ قرار دے، صحابہ کرام رضی اللہ

صفحہ 282

عنہم کو احمق اور نادان کہے، اپنے نہ ماننے والوں کو خنزیر، کتے، شیطان، ولد الحرام، ذریۃ البغایا اور نطفۃ السفہاء ایسے مہذب الفاظ سے یاد کرے۔ تمام امت مسلمہ کو کافر، یہودی، مشرک اور جہنمی کا خطاب دے۔ وغیرہ وغیرہ۔

الغرض اگر کسی شخص کے صحیح العقل ہونے کیلئے ان اوصاف کا کلاً یا بعضاً پایا جانا مرزا طاہر احمد صاحب کے نزدیک ضروری ہے جو قدرت نے بیک وقت ان کے دادا جناب مرزا غلام احمد صاحب میں جمع کر دیئے تھے تو مجھے اعتراف ہے کہ میں ان کے اس معیار پر پورا اترنے سے قاصر ہوں۔ (الحمدللہ الذی عافانی مما ابتلاہ بہ)

تاہم صاحب زادہ صاحب کا یہ خود ساختہ اصول کہ ”کسی فرقہ کی ملحدانہ تعلیم و تبلیغ پر اعتراض کرنا کسی صحیح العقل انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔“ محل بحث ہے۔ کون نہیں جانتا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیشرو مسیلمہ یمامہ کی تبلیغ پر اعتراض کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ”الکذاب“ کا لقب دیا تھا، جو آج تک مرزا قادیانی کی طرح اس کے نام کا جز ہے۔ پھر کون نہیں جانتا کہ اسود عنسی کے نظریات کی تبلیغ پر قدغن لگانے کے لئے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو آپؐ نے فرمایا تھا۔ پھر کون نہیں جانتا کہ آپؐ نے مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دینے کا حکم فرمایا تھا۔ مرزا طاہر احمد صاحب کے نزدیک آپؐ کی حیثیت صحیح العقل انسان کی تھی یا نہیں؟

پھر کون نہیں جانتا کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے نظریات کا صفایا کرنے کے لئے اکابر صحابہؓ کا لشکر بھیجا اور انہوں نے حدیقۃ الموت میں اس کے بیس ہزار ساتھیوں سمیت اسے واصل جہنم کیا اور اس معرکہ میں سات اشراف صحابہؓ شہید ہوئے۔ کیا یہ تمام اکابر صحابہؓ مرزا طاہر احمد صاحب کے نزدیک عقل و خرد سے کورے تھے؟

اور پھر کون نہیں جانتا کہ سیدنا صدیق اکبرؓ نے مانعین زکوٰۃ کو اپنے نظریات پھیلانے اور ان کو تبلیغ کرنے کا حق نہیں دیا، بلکہ ان کے خلاف فوج کشی کی اور جزیرہ عرب کو فتنہ ارتداد سے پاک کیا۔ کیا ان کا یہ اقدام صحت عقل کے منافی تھا؟

اور پھر کون نہیں جانتا کہ سیدنا فاروق اعظمؓ نے یہود کی ریشہ دوانیوں کا قلع قمع

صفحہ 283

کرنے کے لئے انہیں جلاوطنی کا حکم دیا۔ کیا ان کا یہ عمل غیر عاقلانہ تھا؟ اور پھر کون نہیں جانتا کہ علمائے ربانیین نے ہر دور میں گمراہ فرقوں کے نظریات پر اعتراض کیا اور اسلامی معاشرہ میں ان کے پھیلنے کو برداشت نہیں کیا۔ کیا مرزا طاہر احمد صاحب کے نزدیک یہ سب عقل و خرد سے محروم تھے۔

اگر مرزا طاہر احمد صاحب اپنے اس نرالے اصول کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تمام اکابر امت پر ”صحیح العقل انسان“ نہ ہونے کا فتویٰ صادر فرما سکتے ہیں تو راقم الحروف بھی ان کے اس فتویٰ سے محروم نہیں رہنا چاہتا۔

ان شواہد و نظائر سے معلوم ہوا ہو گا کہ مرزا طاہر احمد صاحب کا یہ اصول غلط اور قطعاً غلط ہے کہ ہر مذہب و فرقہ کو خواہ وہ کتنا ہی باطل پرست ہو، اپنے نظریات پھیلانے کا حق ہے ان کے اس مخترع اصول سے پوری اسلامی تاریخ کی نفی ہو جاتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صاحب زادہ صاحب کو ایسے باطل اصولوں کا سہارا لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرزا طاہر احمد کے باپ دادا نے جو دین و مذہب ایجاد کیا ہے، وہ کسی ٹھیٹھ اسلامی معاشرے میں نہیں پنپ سکتا۔ اس کی نشوونما یا تو خالص غیر اسلامی معاشرہ میں ہو سکتی ہے یا کم از کم ایسے معاشرہ میں جس میں گمراہی و بد دینی کی گھٹائیں چھائی ہوئی ہوں اور جو اپنے تاریک ماحول کی بدولت حق و باطل کی تمیز سے معذور ہو۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانی لیڈروں نے اپنی بقاء و حفاظت کے لئے اسلامی حکومت کے مقابلہ میں ہمیشہ کفر کے ظل حمایت کو ترجیح دی ہے۔ ملاحظہ ہو:

”سو اس نے مجھے بھیجا اور میں اس کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک ایسی گورنمنٹ (برطانیہ) کے سایۂ رحمت کے نیچے جگہ دی جس کے زیر سایہ میں بڑی آزادی سے اپنا کام نصیحت اور وعظ کا ادا کر رہا ہوں۔ اگرچہ اس محسن گورنمنٹ کا ہر ایک پر رعایا میں سے شکر واجب ہے مگر میں خیال کرتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے کیونکہ یہ میرے اعلیٰ مقاصد جو جناب قیصر ہند کی حکومت کے سایہ کے نیچے انجام پذیر ہو رہے ہیں ہرگز ممکن نہ تھا کہ وہ کسی اور گورنمنٹ کے زیر سایہ انجام پذیر ہو سکتے۔ اگرچہ وہ کوئی اسلامی گورنمنٹ ہی ہوتی۔“

(تحفہ قیصریہ ....... صفحہ ۳۱، ۳۲ مندرجہ روحانی خزائن ج ۱۲ ص ۲۸۳، ۲۸۴)۔

صفحہ 284

”میں اپنے اس کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں، نہ مدینہ میں، نہ روم میں، نہ شام میں، نہ ایران میں، نہ کابل میں، مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔ لہٰذا وہ اس الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دعا کا اثر ہے۔ اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں۔ کیونکہ جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ۔ “

(مرزا غلام احمد قادیانی کا اشتہار ...... ۲۲ مارچ ۱۸۹۷ء، مندرجہ تبلیغ رسالت

...... جلد ششم، صفحہ ۶۹ طبع قادیان بار اول)

”قدیم سے میں نے اپنی بہت سی کتابوں میں بار بار یہی شائع کیا ہے کہ اس گورنمنٹ کے ہمارے سر پر احسان ہیں، اس کے زیر سایہ ہم آزادی سے اپنی خدمت تبلیغ پوری کرتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ ظاہری اسباب کی رو سے آپ کے رہنے کے لئے اور بھی ملک ہیں اور اگر آپ اس ملک کو چھوڑ کر مکہ میں یا مدینہ میں یا قسطنطنیہ میں چلے جائیں تو سب ممالک آپ کے مذہب اور مشرب کے موافق ہیں، لیکن اگر میں جاؤں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ سب لوگ میرے لئے بطور درندوں کے ہیں۔ الا ماشاء اللہ، اس صورت میں ظاہر ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا میرے پر احسان ہے کہ ایسی گورنمنٹ کے زیر سایہ مجھے مبعوث فرمایا ہے جس کا مسلک دل آزاری نہیں اور اپنی رعایا کو امن دیتی ہے۔“

(براہین احمدیہ ...... جلد ۵، ضمیمہ صفحہ ۹۷ مندرجہ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۲۹۴)

”میرا دعویٰ ہے کہ تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ کی طرح کوئی دوسری ایسی گورنمنٹ نہیں جس نے زمین پر ایسا امن قائم کیا ہو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت حق کر سکتے ہیں یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز بجا نہیں لاسکتے۔“

(ازالہ اوہام حاشیہ ...... صفحہ ۵۴ مندرجہ روحانی خزائن حاشیہ ج ۳ ص ۱۳۰)

صفحہ 285

”گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان ہیں اور ہم بڑے آرام اور اطمینان سے زندگی بسر کرتے اور اپنے مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔۔۔۔۔ اور اگر دوسرے ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری مدد کرتی ہے۔“

(برکات خلافت۔۔۔۔۔ صفحہ ۶۵، از مرزا محمود احمد)

گویا قادیانی لیڈر یہ چاہتے ہیں کہ وہ جیسے چاہیں اسلام کے نام پر الحاد و زندقہ کے طومار تیار کریں، کوئی ان کو روک ٹوک کرنے والا نہ ہو۔ اکبر الہ آبادی مرحوم کے بقول:

گورنمنٹ کی یارو خیر مناؤ
انا الحق کہو اور سولی نہ پاؤ

ظاہر ہے کہ یہ نعمت کسی بے دین ملک میں ہی میسر آسکتی ہے، کوئی اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرہ اس انارکی کو کب برداشت کر سکتا ہے۔

قادیانیوں کی حکومت طلبی کے سلسلہ میں میں نے تیسرا حوالہ الفضل ۱۴ فروری ۱۹۲۲ء سے پیش کیا تھا، صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اس کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:

”اس اقتباس کے متعلق ہم صرف اتنا ہی کہنا کافی سمجھتے ہیں کہ جس الفضل کا مولانا نے حوالہ دیا ہے وہ دنیا میں کبھی شائع ہی نہیں ہوا، خدا جانے مولانا نے یہ حوالہ کیسے ایجاد فرمالیا۔ “

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۴۳۔ ۴۴)

صاحبزادہ صاحب کو بین السطور اس امر کا اعتراف ہے کہ الفضل کے جس مضمون کا حوالہ دیا گیا ہے وہ اقتباس تو موجود ہے۔ البتہ جس الفضل کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں نہیں بلکہ کسی دوسرے الفضل میں ہے، اور حوالہ اسی الفضل کا دینا چاہئے تھا۔ نہ کہ اس الفضل کا جو دنیا میں کبھی شائع ہی نہیں ہوا۔

میں اس تصحیح پر صاحبزادہ صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، واقعی مجھ سے سہو ہوا ہے مجھے فروری کے بجائے مارچ کے الفضل کا حوالہ دینا چاہئے تھا۔ رہا مرزا طاہر احمد صاحب کا یہ سوال کہ ”خدا جانے مولانا“ نے یہ حوالہ کیسے ایجاد فرمالیا ہے۔ “ جواباً

صفحہ 286

گزارش ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب نے حدیث: ”هذا خليفة الله المهدى۔“ کے لئے بخاری شریف کا حوالہ کیسے ایجاد فرما لیا تھا۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں:

”اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے، خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ھذا خليفة الله المہدی۔ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“

(شہادة القرآن ص ۴۱ مندرجہ روحانی خزائن ج ۶ ص ۳۳۷)

جناب مرزا طاہر احمد صاحب کو راقم الحروف کا ممنون ہونا چاہئے کہ اس نے سہواً الفضل کے ایک مہینہ کی جگہ دوسرا مہینہ لکھ دیا۔ صحیح بخاری شریف کا حوالہ نہیں دے دیا۔ ورنہ شاید انہیں راقم الحروف پر بھی ”مسیح موعود“ ہونے کا شبہ ہوتا۔ بہرحال جناب صاحبزادہ صاحب کا تصحیح شدہ حوالہ درج ذیل ہے :

”احمدیوں کے پاس ایک چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا بھی نہیں جہاں احمدی ہی احمدی ہوں، کم از کم ایک علاقہ کو مرکز بنالو اور جب تک ایک ایسا مرکز نہ ہو جس میں کوئی غیر نہ ہو اس وقت تک تم مطلب کے مطابق امور جاری نہیں کر سکتے اور نہ اخلاق کی تعلیم ہو سکتی ہے، نہ پورے طور پر تربیت کی جا سکتی ہے۔ اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ مکہ اور حجاز سے مشرکوں کو نکال دو، ایسا علاقہ اس وقت تک ہمیں نصیب نہیں جو خواہ چھوٹے سے چھوٹا ہو مگر اس میں غیر نہ ہوں۔ جب تک یہ نہ ہو اس وقت تک ہمارا کام بہت مشکل ہے، اگر یہ نہ ہوا تو کام اور مشکل ہو جائے گا۔ (مطلب یہ کہ کسی نہ کسی جگہ خالص قادیانی حکومت ہونی چاہئے۔ خواہ ایک قصبہ میں ہی کیوں نہ ہو۔ ناقل“)

صفحہ 287

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب۔ مندرجہ اخبار الفضل ج ۹ نمبر ۹۷—۱۲ مارچ ۱۹۲۲ء بحوالہ قادیانی مذہب فصل ۱۶ نمبر ۵۰ ص ۹۰۰ طبع پنجم)

آج جناب مرزا طاہر احمد صاحب ”قادیانی حکومت“ کا نام سن کر کانوں پر ہاتھ رکھتے ہیں اور اسے دشمن کی اڑائی ہوئی ہوائی باور کراتے ہیں، حالانکہ یہ سالہا سال تک ان کے والد محترم جناب مرزا بشیر الدین صاحب کے خطبوں کا موضوع رہا ہے اور وہ اسی کو اصل قادیانی ہدف ظاہر کرتے رہے ہیں۔ ایک صدی کی کروٹ کے بعد آج اگر ان کے یہ خیالات ”مجذوب کی بڑ“ تصور کئے جائیں گے تو تعجب نہیں۔ مگر وہ اس کو مسیح موعود کی بعثت کی اصل غرض قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کی بیشمار تحریروں اور تقریروں سے چند اقتباسات درج ذیل کئے جاتے ہیں۔

قادیانی غرض اور مقصد

”ہمیں خدا تعالیٰ نے اس غرض کے لئے دنیا میں کھڑا کیا ہے کہ ہم بادشاہتوں کو الٹ دیں حکومتوں کو بدل دیں اور سلطنتوں میں انقلاب پیدا کر دیں، اور پھر ان بادشاہتوں، حکومتوں اور سلطنتوں کی جگہ نئی حکومتیں اور نئی سلطنتیں قائم کریں، اور دنیوی حکومتوں کو اپنے ماتحت لا کر انہیں مجبور کریں کہ وہ اس تعلیم کو جاری کریں جو اسلام (قادیانی اسلام۔ ناقل) دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے۔“ (ارشاد میاں محمود احمد صاحب مندرجہ اخبار الفضل جلد ۳۴ نمبر ۲۴۹ مورخہ ۲۴ اکتوبر ۱۹۴۶ء)

دنیا کو کھا جانا

ہماری جماعت ظاہری حالت کے لحاظ سے کمزور ترین نہیں بلکہ ایک ہی کمزور جماعت ہے دنیا میں کوئی ایک بھی منظم جماعت جو کام کر رہی ہو ہم سے کمزور نہیں، مگر باوجود اس کے کسی کے ارادے ایسے بلند اور ایسے وسیع نہیں ہیں، اور ان میں سے کوئی بھی یہ امید نہیں رکھتی کہ

صفحہ 288

وہ دنیا کے موجودہ نظام کو توڑ کر ایک نیا نظام جاری کرے گی۔ سوائے ہماری (احمدی) جماعت کے...... اس وقت ایک ہی جماعت ایسی ہے جو کمزوری کے لحاظ سے دنیا میں سب سے گری ہوئی ہے، مگر ارادہ کے لحاظ سے سب سے بڑھی ہوئی ہے، پھر وہ منہ سے دعوے ہی نہیں کرتی اس کی بنیاد ہی اس پر ہے کہ دنیا کو کھا جانا ہے، کیونکہ اس کی بنیاد یہ ہے کہ ہم کو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے متعلق فرمایا ہے: دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا، لیکن خدا اس کو قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی دنیا پر ظاہر کرے گا۔ (چنانچہ آخری بار ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو ساری دنیا پر اس کی ”سچائی“ ظاہر ہو چکی ہے۔ ناقل)۔

(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل ج ۱۵ نمبر ۸۲ مورخہ

۱۷/ اپریل ۱۹۲۸ء)

دنیا میں تہلکہ

”خوجہ قوم بے شک بہت مالدار قوم ہے، مگر یہ امنگ کبھی ان کے دل میں پیدا نہیں ہو سکتی کہ ساری دنیا پر چھا جائیں۔ بے شک میمن اور بوہرے بہت مالدار ہیں مگر ان کے دماغ کے کسی گوشے میں بھی کبھی یہ بات نہیں آ سکتی کہ ہم دنیا کے بادشاہ ہو جائیں گے اور نظام عالم میں تبدیلی پیدا کر دیں گے، ان کی دولتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان میں سے کئی ایسے ہیں جو اس زمانہ میں بھی جبکہ مال و دولت کی کثرت ہے اس قدر مالدار ہیں کہ انفرادی طور پر مدینہ کو خریدنے کی طاقت رکھتے ہیں (مدینہ کو خریدنے کے بجائے قادیان کو خریدنے کی بات کرنی تھی۔ ناقل) مگر ان کے دماغ کے کسی گوشہ میں بھی کبھی نہ یہ خیال آیا کہ ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے اور دنیا کے نظام کو درہم برہم کر کے ایک نیا نظام جاری کرنا ہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں ایک اور قوم ہے جو اپنے مال، اپنی دولت

صفحہ 289

اپنی عزت اور اپنی تعداد اور اپنے اثر و رسوخ کے لحاظ سے دنیا کی شاید تمام منظم جماعتوں سے کمزور اور تھوڑی ہے، مگر باوجود اس کے اس کے دل میں یہ امنگ ہے اور اس کے ارادے اس قدر پختہ اور بلند ہیں کہ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام کمزوریوں کے باوجود اور سامان کی کمی کے باوجود ساری دنیا میں تہلکہ مچا دے گی۔ اور موجودہ نظام کو توڑ کر اور موجودہ دستور کو تہ و بالا کر کے نیا نظام اور نیا کام جاری کرے گی، اور وہ جماعت احمدیہ ہے (جس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے لیڈر ہمیشہ ہوائی قلعے تعمیر کرتے ہیں، اور اپنے خوش فہم مریدوں کو سبز باغ دکھایا کرتے ہیں۔ ناقل) ۔“

(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیاں، مندرجہ الفضل ج ۱۵ نمبر ۸۲، ۱۷/

اپریل ۱۹۲۸ء)

تجارت اور حکومت پر قبضہ

”جب احمدیت ترقی کرے گی۔ ہماری جماعت کے لوگوں کی آمدنیاں زیادہ ہوں گی، ہمارے ہاتھ میں حکومت آجائے گی۔ احمدی امراء اور بادشاہ ہوں گے، تو اس وقت ۱/۱۰ حصہ کی وصیت کافی نہ ہوگی۔ “ ......

ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب ۱/۱۰ حصہ تو کنچنیاں بھی داخل کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گی۔ اس وقت حکومت احمدیت کی ہوگی۔ آمدنی زیادہ ہوگی، مال و اموال کی کثرت ہوگی، اور ۱/۱۰ حصہ داخل کرنا کوئی بات ہی نہ ہوگی، مگر اب تھوڑی جماعت ہے۔ جس نے بہت بوجھ اٹھانا ہے۔ احمدیت کی وجہ سے ہمارے آدمیوں کی ملازمتیں رکی ہوئی ہیں۔ ترقیاں رکی ہوئی ہیں تجارتیں رکی ہوئی ہیں، ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ۶۰ یا ۶۵ فیصدی جو چندہ دیتے ہیں وہی بڑا سمجھا جاتا ہے، لیکن جب تجارت اور حکومت ہمارے قبضہ میں ہوگی اس وقت اس قسم

صفحہ 290

کی تکلیفیں نہ ہوں گی۔"

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں، مندرجہ الفضل ج ۱۳ نمبر ۱۱۷

ص ۸ مورخہ ۸/ جون ۱۹۲۶ء)

اورنگ زیب بادشاہ

”ہندو ہیرالڈ کا نامہ نگار سب کو مسلمان بنانے کا ذکر کرتا ہوا لکھتا ہے: بھلا جس کام کو اورنگ زیب جیسا بادشاہ نہ کر سکا اسے تم کس طرح کر لو گے۔“ بندۂ خدا اورنگ زیب کی ہستی ہی کیا تھی میرے سامنے؟ اورنگ زیب بادشاہ تھا اور دنیا کا بادشاہ تھا، وہ دنیا کی بہتری کے لئے جو کچھ کر سکتا تھا وہ اس نے کیا، میں ایک مصلح کا خلیفہ ہوں۔ اگر آج اورنگ زیب زندہ ہوتا اور خدا تعالیٰ حق کی شناخت کے لئے اس کی آنکھیں کھول دیتا تو وہ بھی میرے ماتحتوں میں اسی طرح کام کرتا جس طرح اور کر رہے ہیں۔

(غالب یہ ہے کہ مجاہد فی سبیل اللہ اورنگ زیب رحمہ اللہ، مسیلمہ

پنجاب کی ذریت سے وہی سلوک کرتے جو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ

عنہ نے مسیلمہ کذاب اور اس کی ذریت سے کیا تھا۔ ناقل)

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب مندرجہ الفضل ...... جلد ۱۳، نمبر ۹۵، صفحہ ۷۔

۳ جون ۱۹۲۷ء)

بے ایمانی اور بیوقوفی

”تعجب ہے کہ (قادیانی) جماعت کے لوگوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں چنا ہے اس لئے ہم ضرور کامیاب ہوں گے، ہم سے کتنے ہیں جو مایوس ہیں، کہتے ہیں۔ جن کو خیال ہے کہ ہمارے اندر کچھ قابلیت نہیں۔ مگر اس سے زیادہ بے ادبی اور گستاخی کیا ہو سکتی

صفحہ 291

ہے کہ خدا کہتا ہے کہ تم دنیا کو فتح کرو گے، لیکن تم کہتے ہو نہیں، ہم نہیں کر سکتے۔ غور تو کرو کب خدا نے کسی قوم کو اس لئے چنا ہے کہ وہ دنیا کو فتح کرے گی اور اس نے نئی زمین اور نیا آسمان نہ پیدا کر دیا۔ کیا اب خدا تعالیٰ (نعوذ باللہ) بوڑھا ہو گیا ہے کہ اس کی قوت انتخاب کمزور ہو گئی ہے۔ اس نے حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت کرشن، حضرت رام چندر، حضرت بدھ، حضرت موسیٰؑ حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قوموں کو چنا اور وہ کامیاب ہوئیں پھر کیا اب خدا کی عقل کمزور ہو گئی ہے کہ اس نے ہم کو چنا اور ہم ناکام رہ جائیں گے۔ یہ انتہا درجہ کی بے ایمانی اور بے وقوفی ہے۔“ (جس میں ایک صدی سے قادیانی جماعت مبتلا ہے۔ ناقل) (خطبہ میاں محمود احمد صاحب مندرجہ اخبار الفضل ...... جلد ۱۸، نمبر ۷۳ ص ۷۔ ۱۸ دسمبر ۱۹۳۰ء)

زندگی اور موت

”غرض ہر قوم یا ہر طبقہ اور ہر ملک میں گھبراہٹ اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ اگر کوئی ایسی جماعت ہے جو اپنے مذہب پر پکے اور امید و یقین سے پر ہے تو وہ احمدی جماعت ہے وہ لوگ جو واقعہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) پر ایمان لاتے ہیں سمجھتے اور یقین رکھتے ہیں کہ سب کچلے جائیں گے صرف ہم باقی رہ جائیں گے۔ ہر ایک کو موت نظر آرہی ہے اور صرف ہم کو زندگی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ ہمارے متعلق ہی کہا گیا ہے ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا“ پس دوسری بادشاہتوں کو خطرہ ہے کہ وہ ٹوٹ جائیں گی، مگر ہمیں امید ہے کہ بادشاہت دی جائے گی، حکمراں ڈر رہے ہیں کہ ان کی حکومت جاتی رہے گی مگر ہم خوش ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں دی جائے گی۔“

صفحہ 292

(خطبہ میاں محمود احمد، خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل جلد ۱۵، نمبر ۷۸۔ ۱۴ اپریل ۱۹۲۸ء)

قادیانی رحم

”فرمایا (مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے کہ) مجھے تو ان غیر احمدی مولویوں پر رحم آیا کرتا ہے جب میں یہ خیال کیا کرتا ہوں کہ ان کی تو اب ذلت و رسوائی کے سامان ہو رہے ہیں اور خدا نے ہمیں قوت اور سطوت عطا کرنی ہے۔ یہ لوگ زیادہ سے زیادہ ایک سو سال تک اور بمشکل اس رنگ میں گزارہ کر سکیں گے، پھر جب خدا تعالیٰ احمدیوں کو حکومت دے گا، احمدی بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوں گے، الفضل کے پرانے فائل نکال کر پیش ہوں گے تو اس وقت ان بے چاروں کا کیا حال ہو گا؟ (بحمدللہ ابھی تک تو ”الفضل کے پرانے فائل“ خود قادیانیوں کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ ناقل) مجھے خطرہ ہے کہ اس وقت کے احمدی ان کے مظالم کو پڑھ پڑھ کر اور ان کے قتل اور سنگ ساری کے جرائم کے حالات کو دیکھ کر ان سے کیا سلوک کریں گے؟ (غالباً جو قادیان اور ربوہ میں مخالفین سے ہوتا رہا ہے۔ ناقل) اس وجہ سے مجھے ان پر رحم آتا ہے اور پھر اپنے اوپر بھی آتا ہے کہ اگر خدانخواستہ وہ لوگ کوئی ایسی حرکت کر بیٹھیں گے تو پھر وہ بھی اسی سزا کے مستوجب ہوں گے۔“

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب مندرجہ اخبار الفضل ۱۵ اکتوبر ۱۹۲۴ء)

قادیانی یہودی

”فرمایا: جب تک حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) دنیا میں نہ آئے تھے وہ یہود، یہود تھے اور ان پر وہ لعنت تھی جو حضرت مسیح علیہ

صفحہ 293

السلام کو نہ ماننے کی وجہ سے ان پر نازل ہوئی۔ مگر جب سے حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) آگئے ہیں تب سے ان کی اور ان مولویوں کی پوزیشن برابر ہو گئی ہے بلکہ یہ ان سے بھی گر گئے ہیں۔ اور زیادہ قابل مواخذہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب وہ یہود ابھرتے نظر آتے ہیں اور یہ مثیل یہود بیٹھتے چلے جا رہے ہیں۔“ (نقلی مسیح اگر کافروں کو مسلمان نہیں بنا سکتا تو مسلمانوں کو یہودی بنانے کا کام ہی سہی۔ یعنی الٹی مسیحیت۔ ناقل)

(ارشاد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں ...... مندرجہ اخبار الفضل ۱۵ اکتوبر ۱۹۳۲ء)

قادیانی یتیم اور ان کی دیوار

”ایک صاحب نے عرض کیا کہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ انگریزوں کی سلطنت کی حفاظت اور ان کی کامیابی کے لئے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نے کیوں دعائیں کیں؟ حضور (مرزا محمود احمد صاحب) بھی ان کی کامیابی کے لئے دعا کرتے ہیں اور اپنی جماعت کے لوگوں کو جنگ میں مدد دینے کے لئے بھرتی ہونے کا ارشاد فرماتے ہیں۔ حالانکہ انگریز مسلمان نہیں۔ اس کے جواب میں حضور (مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں) نے جو ارشاد فرمایا اس کا خلاصہ عرض کیا جاتا ہے۔

فرمایا: اس سوال کا جواب قرآن کریم میں موجود ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو نظارے دکھائے گئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ ایک گری ہوئی دیوار بنا دی گئی، جس کی وجہ بعد میں یہ بیان کی گئی کہ اس کے نیچے خزانہ تھا جس کے مالک چھوٹے بچے تھے دیوار اس لئے بنا دی گئی کہ ان لڑکوں کے بڑے ہونے تک خزانہ کسی اور کے ہاتھ نہ لگے اور ان کے لئے محفوظ رہے۔ یہ دراصل حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد

صفحہ 294

قادیانی) کی جماعت کے متعلق پیش گوئی ہے۔ جب تک جماعت احمدیہ نظام حکومت سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتی اس وقت تک ضروری ہے کہ اس دیوار (یعنی انگریزی حکومت۔ ناقل) کو قائم رکھا جائے تاکہ یہ نظام کسی ایسی طاقت کے قبضہ میں نہ چلا جائے جو احمدیت کے مفادات کے لئے زیادہ مضر اور نقصان رساں ہو۔ جب جماعت میں قابلیت پیدا ہو جائے گی اُس وقت نظام اس کے ہاتھ میں آجائے گا۔ یہ

یہاں اس لطیفے کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ انگریزوں کے ابتدائی دور تسلط میں یہی ذہنیت ہندوؤں کی تھی۔ چنانچہ جناب قمر الدین احمد چاٹنا ہاؤس، میٹھا در چوک، کراچی نمبر ۲ کی کتاب ”ابوالفریب“ (حصہ اول ص ۱۰۲) میں ایک بنگالی ناول نگار بنکم چندر کے مشہور ناول ”آنند مٹھ“ (مسرت کی خانقاہ) سے حسب ذیل کا اقتباس نقل کیا ہے:-

”سچے مذہب کی تجدید کی اس وقت تک امید نہیں کی جاسکتی جب تک اہلِ برطانیہ ہمارے حکمراں نہ ہو جائیں.......... ملچھوں (ناپاک لوگوں) نے ہمارے مذہب کا نام ہندو رکھا ہے.......... انگریز سائنس میں بہت ترقی یافتہ ہیں اور قابلِ استاذ ہیں۔ اس واسطے انہیں کو ہمارا بادشاہ ہونا چاہئے...... ”جب تک ہندو علم، صداقت اور طاقت اوج کمال پر نہ پہنچ جائیں اس وقت تک برطانوی سلطنت کو قائم رکھنا ضروری ہے، اس کے ماتحت عوام پر مسرت زندگی بسر کر سکیں گے اور بغیر مداخلت اپنے مذہبی شعائر کو پورا کر سکیں گے ہمارا دشمن (اسلامی حکومت) اب کہاں ہے؟ وہ اب ختم ہوچکا ہے۔ برٹش اقتدار ہمارے لئے دوست ہے۔“

دیکھئے وہی ذہنیت، وہی فلسفہ، وہی تکنیک، غالباً قادیانیت کی یہی ہندوانہ ذہنیت تھی جس کی بنا پر مرزا قادیانی کو ”کرشن جی مہاراج“ ”گوپال“ ”سورمار“ اور جے ”سنگھ بہادر“ کے خطابات عطا کئے گئے۔

صفحہ 295

وجہ ہے انگریزوں کی حکومت کے لئے دعا کرنے اور ان کو فتح حاصل کرنے میں مدد دینے کی۔“ (افسوس ہے کہ ۱۹۲۷ء میں قادیانی یتیموں کی یہ دیوار گر گئی اور ان کا مدفون دوسروں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ ناقل)

(میاں محمود احمد صاحب کی ”مجلس علم و عرفان“ مندرجہ اخبار الفضل جلد ۳۳، نمبر ۳۔ مورخہ ۳ جنوری ۱۹۲۵ء)

تحریک حریت اور نادان احمدی

”ہندوستان میں انقلاب پیدا ہونے والا ہے اور ہندوستانیوں میں اس وقت جو جذبۂ حریت پیدا ہورہا ہے، (انگریزی) گورنمنٹ زیادہ دیر تک اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی بے شک وہ مقابلہ تو کرے گی لیکن آہستہ آہستہ وہ خود بخود ہندوستانیوں کو حقوق دینے پر آمادہ ہوجائے گی اور وہ نادان احمدی جو ایک حد تک تحریک حریت کو ہندوستان کے لئے مفید سمجھتے ہیں اس وقت دیکھیں گے کہ وہ لوگ جن کی ظاہر داری کو دیکھ کر وہ انہیں اپنا ہمدرد سمجھتے ہیں ان کی مثال بعینہ اس بلی کی طرح ہے جس کا جسم نہایت ملائم اور پشم بہت نرم لیکن ناخن خوفناک ہوتے ہیں اور وہ دیکھیں گے کہ کس طرح ان کی آنکھوں کو نکالنے اور چہرہ کو نوچنے کی کوشش کرتے ہیں...... اگر تم بھی اللہ کے پیارے ہو تو اس وقت تک کہ تمہاری بادشاہت نہ قائم ہوجائے تمہارے راستے سے یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہوسکتے اور تمہیں کبھی بھی امن وامان حاصل نہیں ہوسکتا۔ اور اگر آج کسی وجہ سے سکھ ہے تو کل یقیناً پھر دکھ کی حالت ہوجائے گی۔“

(خطبہ میاں محمود احمد صاحب مندرجہ اخبار الفضل جلد ۱۷، نمبر ۸۶۔ مورخہ ۲۵ اپریل ۱۹۳۰ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۹۰۳ فقرہ ۱۶ نمبر ۵۵ طبع پنجم)

صفحہ 296

دشمن

”ہمیں جن کا اعتقاد ہے کہ کسی وقت بدلہ لینا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس خیال سے مطمئن نہیں ہونا چاہئے کہ ہم کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے اس لئے ہمیں بھی کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ہماری بھلائی کی صرف ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھیں۔ تا ان پر غالب آنے کی کوشش کریں کیونکہ جب تک مخالفت نہ ہو ترقی بھی نہیں ہو سکتی تمام انبیاء کی جماعتیں ایک ہی جیسی ہوتی ہیں۔ پہلوں میں ہم سے زیادہ ایمان نہ تھا۔ “

”ان کی سستی کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے لئے چند ایک ابتلا پیدا کئے ہیں تاکہ اگر جماعت کے دوست دوسروں کی ہدایت کے لئے احمدیت کو نہیں پھیلاتے تو یہ سمجھ کر کہ ساری دنیا ہماری دشمن ہے اور جب تک ہم ساری دنیا کو احمدیت میں داخل نہ کر لیں ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ اور کبھی چین سے زندگی بسر نہیں کر سکتے۔ تبلیغ کی طرف متوجہ ہوں۔ “

(خطبہ میاں محمود احمد مندرجہ اخبار الفضل ...... جلد ۱۷، نمبر ۸۶۔ مورخہ ۲۵

اپریل ۱۹۳۰ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۹۰۲ فصل ۱۶ نمبر ۵۳، ۵۴ طبع پنجم)

چوہڑے چمار

حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ ۱۹۳۲ء کی افتتاحی تقریر میں فرمایا تھا :

”اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ بنیاد جو اس وقت بہت کمزور نظر آتی ہے اس پر عظیم الشان عمارت تعمیر ہوگی۔ ایسی عظیم الشان کہ ساری دنیا اس کے اندر آجائے گی اور جو لوگ باہر رہیں گے ان کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ سے خبر پا کر حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد

صفحہ 297

صاحب) نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کی حیثیت چوہڑے چماروں کی ہوگی ...... اس عبارت کا مطلب تو یہ ہے کہ ”احمدیت کا پودا جو اس وقت بالکل کمزور نظر آتا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک دن ایسا تناور درخت بن جائے گا کہ اقوام عالم اس کے سایہ میں آرام پائیں گی اور جماعت احمدیہ جو اس وقت بالکل معمولی اور بے حیثیت سی نظر آتی ہے اس قدر اہمیت اور طاقت حاصل کر لے گی کہ دنیا کے مذہب تہذیب و تمدن اور سیاست کی باگ اس کے ہاتھ میں ہوگی۔ ہر قسم کا اقتدار اسے حاصل ہو گا اور اپنے اثر و رسوخ کے لحاظ سے یہ دنیا کی معزز ترین جماعت ہوگی۔ دنیا کا کثیر حصہ اس میں شامل ہو جائے گا۔ ہاں جو اپنی بد قسمتی سے علیحدہ رہیں گے وہ بالکل بے حیثیت سمجھے جائیں گے۔ سوسائٹی کے اندر ان کی قدر و قیمت نہ ہوگی ، دنیا کے مذہبی، تمدنی یا سیاسی دائرے کے اندر ان کی آواز ایسی غیر مؤثر اور ناقابل التفات ہوگی جیسی کہ موجودہ زمانہ میں چوہڑے چماروں کی ہے۔ (گویا مرزا صاحب کی پیش گوئی کے مطابق قادیانی حکومت میں غیر قادیانیوں کی یہی حیثیت ہوگی۔ ناقل)

(الفضل قادیاں مورخہ ۲۹ جنوری ۱۹۳۳ء)

ہٹلر اور مسولینی

”حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا مسولینی کی طرح جو شخص ہمارے حکموں کی تعمیل نہ کرے اسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سنے اور ان پر عمل کرنے کے لئے تیار نہ ہو اسے عبرتناک سزا دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو ہم ایک دن کے اندر اندر یہ کام کر لیتے۔“ (تقریر میاں محمود احمد صاحب، مندرجہ الفضل جلد ۲۳، نمبر ۲۷۹۔ مورخہ ۲ جون ۱۹۳۶ء)

صفحہ 298

غلبہ اسلام

گزشتہ بالا اقتباسات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قادیانی لیڈر ”دنیا کو کھا جانے“ کے خواب کتنی مدت سے دیکھ رہے ہیں اور مسلمانوں کو ”یہودی“ ٹھہرا کر دنیا بھر میں ان کی حکومتوں کے زوال کے کس شدت سے متمنی ہیں، اس کے باوجود اگر مرزا طاہر احمد صاحب قادیانیوں کی اس گھناؤنی ذہنیت پر انکار و گریز کے پردے ڈالنا چاہیں تو یہ ان کی مجبوری ہے، ان کی یہ حالت زار واقعۃً لائق رحم ہے جس پر سب کو ترس آنا چاہئے، کجا وہ دن تھے کہ انگریز بہادر کے سائے میں ان کا طوطی بولتا تھا، ملازمتیں اور نوکریاں انہی کے اشارے سے ملا کرتی تھیں، وہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر دھونس جمایا کرتے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ ہمارا مرشد و مربی (انگریز بہادر) جائے گا تو زمام حکومت ہمارے سپرد کرکے جائے گا۔ وہ ترنگ میں آکر کہا کرتے تھے ۔

”ہم میں سے ہر ایک شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ تھوڑے عرصہ کے اندر ہی (خواہ ہم اس وقت زندہ رہیں یا نہ رہیں لیکن بہرحال وہ عرصہ غیر معمولی طور پر لمبا نہیں ہو سکتا) ہمیں تمام دنیا پر نہ صرف عملی برتری حاصل ہو گی بلکہ سیاسی اور مذہبی برتری بھی حاصل ہو جائے گی۔ اب یہ خیال ایک منٹ کے لئے بھی کسی سچے احمدی کے دل میں غلامی کی روح پیدا نہیں کر سکتا۔ جب ہمارے سامنے بعض حکام آتے ہیں تو ہم اس یقین اور وثوق کے ساتھ اس سے ملاقات کرتے ہیں کہ کل یہ نہایت ہی عجز و انکسار کے ساتھ ہم سے استمداد کر رہے ہوں گے۔“

(الفضل ۲۲ اپریل ۱۹۳۸ء)

کجا آج یہ دن کہ ملت اسلامیہ کے معدہ نے انہیں مردہ مکھی کی طرح باہر اگل دیا۔ وہ تمام مسلمانوں کو ”چوہڑے چمار“ کی حیثیت دینے پر ادھار کھائے بیٹھے تھے مگر خدا کی قدرت کا تماشا دیکھو! کہ آج خود ان ہی کا نام آئین میں شیڈول کاسٹ (چوہڑے چماروں) کے ساتھ درج ہے ایسے میں مرزا طاہر احمد صاحب اپنے باپ دادا کے افعال و اقوال اور تحریروں پر انکار و تاویل کے پردے ڈال کر خفت مٹانے کی کوشش نہ کریں تو آخر کیا کریں۔

صفحہ 299

ع ”حذر! اے چیرہ دستاں ! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں۔“

”لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ صاحبزادہ صاحب ایک طرف تو یہ فرما رہے ہیں کہ قادیانی لیڈروں کا حکومت پر قابض ہونے کا کوئی ارادہ نہیں، دوسری طرف خوش فہم مریدوں کو یہ کہہ کر دلاسا دیتے ہیں کہ قادیانی جماعت غلبۂ اسلام کے لئے کھڑی کی گئی ہے اور یہ کہ اسی جماعت کے ذریعہ اسلام ساری دنیا پر غالب آئے گا چنانچہ وہ قرآن مجید کی آیت : ھوالذی ارسل رسوله بالهدیٰ ودین الحق لیظهره علی الدین کله ولو کرہ المشرکون O کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں :

”احمدیت کا تو دعویٰ ہی یہ ہے کہ یہ تحریک تمام ادیان پر اسلام کے غلبہ کے لئے جاری کی گئی ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سچا اور اٹل وعدہ فرمایا تھا کہ وہ آپ کو اور آپ کے دین کو تمام دوسرے ادیان پر غالب فرمادے گا اسی وعدہ کے ایفا کا سامان تحریک احمدیت کو جاری کر کے فرمایا گیا ہے۔ “

(مرزا طاہر احمد صاحب کا ربوہ سے تل ابیب تک پر ”مختصر تبصرہ“ ص ۴۵)

اس سلسلہ میں صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں چند گذارشات پیش کرنا چاہتا ہوں :

اول : عربی میں ایک مثل ہے : ” پہلے عمارت بنالو، پھر نقش و نگار بھی کر لینا “ صاحبزادہ صاحب کی تحریک احمدیت دنیا میں اسلام کو جب غالب کرے گی سو دیکھا جائے گا، مگر میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ پہلے وہ خود تو مسلمان ہولیں۔ صاحبزادہ کو یہ لکھتے وقت احساس نہیں رہا کہ ان کی تحریک احمدیت شریعت و آئین کی رو سے غیر مسلم ہے اور ایک غیر مسلم کا یہ دعویٰ کرنا کہ وہ اسلام کو دنیا پر غالب کرے گا دراصل اسلام اور مسلمانوں سے بدترین مذاق ہے۔ نامسلم ہونے کے باوجود اسلام کو غالب کرنے کا دعویٰ کتنا عجیب ہے؟ یہ تو وہی لطیفہ ہوا جو احمقوں کی بستی کے مؤذن کے بارے میں مشہور ہے کہتے ہیں کہ کسی بستی کے لوگوں کو کوئی مسلمان مؤذن نہ ملا تو انھوں نے ایک پڑھے لکھے یہودی کو اس خدمت کے لئے کرائے پر رکھ لیا۔ اذان کے کلمات، ظاہر ہے کہ خود اس کے اپنے عقیدے کے خلاف تھے، ان کا پنجوقتہ اعلان کیسے کرتا؟ ادھر ڈیوٹی بجالانا بھی ضروری اس

صفحہ 300

مشکل حل کے لئے اس نے یہ تلاش کیا کہ اذان میں بجائے ”اشہد ان محمدا رسول اللہ“ کے وہ یہ اعلان کرتا کہ : ”اشہد ان اہل القرية يقولون ان محمدا رسول اللہ “ یعنی بستی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول تھے۔ وہی مثال مرزا طاہر احمد صاحب کی ہے کہ خود تو مسلمان نہیں، مگر اذان دی جا رہی ہے کہ اسلام کو غالب کرنے کے لئے ہماری خدمات حاضر ہیں۔ چندہ دو اور اسلام کو غالب کراؤ۔ شاید مرزا صاحب نے عالم اسلام کو بھی ”احمقوں کی بستی“ سمجھ رکھا ہے۔ میں ان سے مؤدبانہ گذارش عرض کروں گا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں سے یہ مذاق بند کر دیں، اللہ کا شکر ہے اہل اسلام ابھی زندہ ہیں، وہ اسلام کی جیسی کیسی بری بھلی خدمت خود ہی کر لیں گے، انہیں اسلام کی خدمت کے لئے کسی کرائے کے یہودی کی ضرورت نہیں ہاں ! صاحبزادہ صاحب اور ان کی ”تحریک احمدیت“ کو اگر واقعی اسلام کی خدمت کا شوق ہے تو بسم اللہ تشریف لائیں اسلام کا دروازہ بند نہیں، وہ پہلے خود دائرہ اسلام میں داخل ہولیں اور پھر خدمت اسلام کے ارمان جتنے چاہیں نکالیں۔ قرآن کریم نے ان کے پیشروں کو پہلے سے تلقین کر رکھی ہے : آمنوا کما آمن الناس ایسا ایمان لاؤ جیسا دوسرے مسلمان ایمان لائے ہیں وہ قرآن کریم کے اس ارشاد کو بگوش ہوش سن کر پلے باندھیں۔

دوم : صاحبزادہ صاحب کا کہنا ہے کہ قادیانی تحریک تمام ادیان پر اسلام کے غلبہ کے لئے جاری کی گئی ہے۔ اب فرض کیجئے کہ ان کا نام نہاد اسلام بقول ان کے ساری دنیا پر غالب ہو جائے۔ دنیا کے چپہ چپہ پر بس ان ہی کا دین و مذہب نظر آنے لگے تو سوال یہ ہے کہ اس وقت صاحبزادہ صاحب زمام حکومت کیا سکھوں کے حوالے کر دیں گے؟ کیونکہ وہ خود تو حکومت کا نام سن کر ہی بدکتے ہیں۔

غلبہ اسلام اور حکومت آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ جب آپ یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ قادیانی تحریک غلبہ اسلام (یعنی غلبہ قادیانی دین) کے لئے جاری کی گئی ہے تو اس سے خود بخود یہ دعویٰ بھی لازم آتا ہے کہ قادیانی تحریک کا مقصد ساری دنیا پر ” قادیانی راج“ قائم کرنا ہے اس صورت میں میں نے وہ کونسا سنگین الزام آپ پر عائد کر دیا تھا جس کی تردید کے لئے آپ کو بنفس نفیس زحمت اٹھانا پڑی آپ کا ایک طرف غلبہ اسلام (جس سے قادیانیت کا غلبہ مراد ہے) کے دعوے کرنا اور دوسری طرف لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرنا کہ ہمارا حکومت پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیا ان

صفحہ 301

دونوں باتوں میں تناقض نہیں؟ یا آپ اس تناقض کو سمجھنے سے قاصر ہیں آپ کے دادا مرزا غلام احمد صاحب تو متضاد اور متناقض باتیں کیا ہی کرتے تھے، مگر تعجب ہے کہ یہ ریت ان کے خاندان میں ابھی تک باقی ہے۔ سچ ہے کہ

”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۱۱ مندرجہ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۲۷۵)

سوم : صاحبزادہ صاحب تو قرآن کریم کی آیت نقل کر کے ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اس آیت کے سچے اور اٹل وعدہ کو پورا کرنے کے لئے تحریک احمدیت جاری کی گئی ہے، مگر ان کے دادا مرزا غلام احمد صاحب اسی آیت کو اپنی ذات پر چسپاں کر کے ببانگ دہل اعلان فرمایا کرتے تھے کہ یہ غلبہ ان کے ہاتھ سے ہو گا۔ اور یہ کہ ان کی زندگی میں یہ وعدہ پورا نہ ہو تو وہ جھوٹے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مرزا طاہر احمد صاحب کا بیان صحیح ہے یا ان کے دادا مرزا غلام احمد صاحب کا؟

واقعہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کو اپنے دعاوی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے پون صدی گزر رہی ہے، مگر ہنوز روز اول ہے، اسلام کے غلبہ کی قرآنی پیش گوئی نہ مرزا صاحب کے ہاتھ پر پوری ہوئی، نہ ان کے پون صدی بعد تک ان کے کسی جانشین کے ہاتھ پر..... کیا کامل ایک صدی کے تجربہ کے بعد دنیا یہ سمجھنے پر مجبور نہیں کہ ”غلبہ اسلام، غلبۂ اسلام“ کی سو سالہ رٹ محض دکان مسیحیت چمکانے اور عالی فہم مریدوں سے چندے بٹورنے کے لئے تھی ورنہ قادیانیت کے ذریعہ نہ اسلام کو غالب ہونا تھا، نہ ہوا اور نہ یہ ممکن ہے۔ قادیانیت کے ذریعہ دنیا پر اسلام تو کیا غالب آتا، الٹا یہ ہوا کہ جو لوگ پہلے سے مسلمان تھے قادیانیت کی سبز قدمی سے وہ بھی مسلمان نہ رہے، کچھ عیسائی ہو گئے، کچھ بہائی، کچھ مرزائی اور دہریے بن گئے اور جو مسلمان اپنے دین پر قائم رہے انہیں قادیانی الہام نے بیک جنبش لب کافر بنا دیا ملاحظہ فرمائیے :

میری دعوت پہنچتی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے وہ مسلمان نہیں ہے۔“

صفحہ 302

(مرزا غلام احمد قادیانی کا ارشاد مندرجہ الذکر الحکم نمبر ۴ ص ۲۳)

نہیں ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔

(الہام مرزا قادیانی مندرجہ ”تذکرہ“ ص ۳۳۶ طبع چہارم)

مخالفت اختیار کی وہ جہنمی ہے۔“

(الہام مرزا آنجہانی مندرجہ تذکرہ ص ۱۶۳ طبع چہارم)

مانتا، کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ۱۶۳ مندرجہ روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۸)

سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا، (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود (یعنی خود بدولت مرزا قادیانی۔ ناقل) کو نہیں مانتا،...... اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ۱۷۹ مندرجہ روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۱۸۵)

ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ۳۵۔ از میاں محمود احمد قادیانی)

یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا۔ اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ۱۱۰۔ از مرزا بشیر احمد قادیانی)

صفحہ 303

یہ ہے وہ غلبہ اسلام جس کے لئے قادیانی تحریک جاری کی گئی اور جو قادیانی تحریک کی بدولت ظہور میں آیا۔ گویا روئے زمین سے اسلام کا صفایا کر دینے کا نام قادیانی اصطلاح میں ”غلبہ اسلام“ ہے۔

ع بریں عقل و دانش بباید گریست۔ اس کے باوجود مرزا طاہر احمد صاحب کی صفائی دیکھئے کہ وہ اب تک غلبہ اسلام کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ کوئی شریف آدمی ان سے یہ نہیں پوچھتا کہ :

رہے؟

کر کے ...... اس کا چارج ”تحریک احمدیت“ کے حوالے کیوں فرما دیا؟

ہے اگر اسی کا نام ”غلبہ اسلام ہے تو غلبہ کفر کسے کہتے ہیں؟

چہارم : جناب مرزا غلام احمد صاحب نے اپنے منصب کی وضاحت اور ”غلبہ اسلام“ کی تشریح کرتے ہوئے اخبار ”بدر“ کے ایڈیٹر کے نام اپنے خط میں بڑے طمطراق اور تحدی سے لکھا تھا :

”میرا کام، جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں، یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں، اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑوں نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں ۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے، وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی موعود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔ والسلام، فقط غلام احمد۔“

(اخبار بدر ج ۲ نمبر ۲۹ ص ۴ مورخہ ۱۹/ جولائی ۱۹۰۶ء)

صفحہ 304

مرزا صاحب کو یہ غلط فہمی تھی کہ اشاعت اسلام کے راستہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حیات مسیح کا مسئلہ ہے، اگر وہ لوگوں کو کاغذی پتنگ بازی کے ذریعہ اس جھوٹ کو سچ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے کہ عیسیٰ مر چکے ہیں تو عیسیٰ پرستی کا ستون ٹوٹ جائے گا۔ تثلیث کی جگہ توحید پھیل جائے گی۔ عیسائی دنیا فوراً آمنا و صدقنا کہہ کر ان کے قدموں میں آ گرے گی اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بجائے ”مریض قادیان“ کو ”مسیحا“ مان لے گی۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا صاحب نے سرسید کے شاگردوں کی مدد سے (جو پہلے ہی اسلامی عقائد سے منحرف تھے) اس موضوع پر طومار تیار کرنے شروع کر دیئے اور اسی (۸۰) سے زائد کتابیں خود لکھ ڈالیں جن میں سے بقول شخصے: ”انگریز کی مدح و ستائش، مرزائی تعلیمات اور وفات مسیح کو نکال دیا جائے تو پیچھے صفر رہ جاتا ہے ۔“

الغرض مرزا صاحب نے اپنے حواریوں سمیت وفات مسیح کا افسانہ اڑانے کے لئے خوب پروپیگنڈہ کیا۔ مگر سنجیدہ دنیا نے، کیا مسلمان اور کیا عیسائی، مرزائی خیالات کو گوز شتر کی حیثیت بھی نہ دی۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ مرزا صاحب کو رخصت ہوئے پون صدی ہو رہی ہے مگر ان کے کاغذی پروپیگنڈے سے نہ عیسیٰ پرستی کا ستون ٹوٹا۔ نہ تثلیث کے بجائے توحید دنیا میں پھیلی نہ ان کی مہدویت کارگر ہوئی۔ نہ ان کی مسیحیت کا کھوٹا سکہ چلا، بلکہ وہ نکاح آسمانی کی طرح یہ ساری حسرتیں قبر میں ساتھ لے گئے۔

ع ”و کم حسرات فی بطون المقابر“

مگر صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو اپنے دادا کے قول : ”پس اگر مجھ سے کروڑوں نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں ۔“ ”اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو سب لوگ گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں ۔“ کی صداقت میں ابھی تک شک ہے اور وہ ابھی تک یہ فرمائے جارہے ہیں کہ قادیانی تحریک تمام ادیان پر اسلام کے غلبہ کے لئے جاری کی گئی ہے۔ یعنی مرزا غلام احمد کا (خود اپنے ہی قول سے) جھوٹا ہونا آفتاب نصف النہار کی طرح ساری دنیا پر کھل چکا ہے، مگر مرزا طاہر احمد صاحب اور ان کے رفقا دن کی روشنی میں بھی سیاہ و سفید کے درمیان

صفحہ 305

تمیز کرنے سے معذور ہیں۔ ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فمالہ من نور۔

سوال و جواب

اس بحث کے آخر میں جناب صاحبزادہ صاحب نے راقم الحروف سے ایک سوال کیا ہے اس کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

”آخر میں مولانا سے صرف یہ سوال کرنے کی جسارت کرتا ہوں کہ آپ بھی دیگر مذاہب پر اسلام کے غلبہ کے قائل ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو کیا اس کے لئے عالمی تبلیغ و تربیت کا پروگرام بنانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں یا محض قائل ہونے پر ہی اکتفا ہے؟ اگر اس ضمن میں عملی پروگرام بنانے کا بھی ارادہ ہے تو کیا آپ کی آخری اور فیصلہ کن عالمی فتح پر بھی جناب کو ایمان ہے کہ نہیں؟ اگر ہے تو فرمائیے کہ کیا آپ کے اس پروگرام کو صیہونیت کے عالمی غلبہ کے منصوبہ سے مشابہت تو نہیں؟ ذرا سوچ کر دلیل کے ساتھ جواب دیجئے۔“

(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص ۴۶)

جناب صاحبزادہ صاحب کے سوال کا جواب تو بہت ہی مختصر ہے کہ جس غلبہ کی آپ بات کر رہے ہیں اس کے لئے ہمیں کسی منصوبہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ مگر یہ جن غلط فہمیوں کی پیداوار ہے میں چاہتا ہوں ان کے ازالہ کے لئے چند امور کی قدرے وضاحت کر دوں:

فطرت تعلیمات کے ذریعہ دلیل و برہان کے میدان میں تمام ادیان پر ہمیشہ غالب رہا ہے، یقین نہ آئے تو آج بھی کسی قدیم و جدید مذہب کے اصول و فروع کا اسلام سے مقابلہ کر کے دیکھ لیجئے۔ دیگر مذاہب تو پھر کہنہ اور فرسودہ ہو چکے ہیں۔ مرزا طاہر احمد صاحب کا آبائی دین تو ابھی تازہ ہے، اس پر ایک صدی بھی ابھی پوری نہیں ہوئی، شوق ہو تو اسی کے کسی اصول کو اسلام سے ٹکرا کر دیکھ لیجئے۔

صفحہ 306

ان کا تسلسل صدر اول سے لے کر آج تک کبھی منقطع نہیں ہوا، صحیحین کی روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لا يزال من امتى امة قائمة بامر الله میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ امر الہی پر قائم رہے گی۔

لا يضرهم من خذلهم ولا من خالفهم حتى ياتى امر الله وهم علی ذالک رہے گی ان کے مخالف اور ان کی مدد سے ہاتھ کھینچنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور وہ قیامت تک اسی پر قائم رہیں گے“

(مشكواة ص ۵۸۳)

اور ترمذی شریف میں بسند صحیح یہ روایت ہے : لا يزال طائفة من امتى منصورين لا يضرهم من خذلهم حتى تقوم الساعة

”میری امت کا ایک گروہ قیامت تک ہمیشہ غالب و منصور رہے گا، ان سے الگ ہو کر ان کی نصرت سے کنارہ کشی کرنے والے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔“

(مشكواة ص ۵۸۴)

ان ارشادات سے معلوم ہوا کہ امت مرحومہ پر کبھی کوئی دور ایسا نہیں گزرا کہ وہ مجموعی طور پر جادہ مستقیمہ سے ہٹ گئی ہو۔ بلکہ حاملین دین کا گروہ ہمیشہ حق پر قائم اور غالب و منصور رہا ہے۔ اس سے مرزا غلام احمد کا یہ عقیدہ قطعاً غلط ثابت ہوتا ہے کہ قرون ثلثہ کے بعد پوری کی پوری امت اسلامیہ (معاذ اللہ) گمراہ کافر و مشرک اور یہودی ہو گئی تھی۔ ان میں کوئی جماعت بھی عقائد حقہ کی حامل نہیں رہی تھی۔ نیز مرزا کا یہ عقیدہ بھی باطل ہو جاتا ہے کہ اسلام اور قرآن دنیا سے اٹھ گئے تھے اس لئے خدا کو قادیان میں دوبارہ قرآن اتارنا پڑا۔

ج : ایک ہزار برس تک اسلام کو دنیا پر سیاسی معاشرتی اور تہذیبی میدانوں میں بھی غلبہ حاصل رہا۔ اس لئے آیت : ليظهره على الدین کله (تاکہ غالب کر دے اس کو تمام دینوں پر) کا ارشاد الہی ہر پہلو سے پورا ہو چکا۔ مگر ہر کمال کو زوال ہے۔ یہ قانون

صفحہ 307

مسلمانوں پر بھی نافذ ہونا تھا، اس لئے چند صدیوں سے مسلمان سیاسی زوال و اضمحلال کا شکار ہیں (جبکہ دلیل و برہان اور اصولوں کی صداقت کے اعتبار سے اسلام آج بھی تمام ادیان پر غالب و منصور ہے، اور اس کی فوقیت و برتری آج بھی بمقابلہ تمام نظریوں کے درخشاں و تاباں ہے) اور مسلمانوں کے سیاسی و تہذیبی زوال کا باعث بھی نام نہاد مسلمانوں کی غداری اور بہائیت، وہابیت، مہدویت و قادیانیت ایسی اسلام کش منافقانہ تحریکوں کا ابھرنا ہے جو دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے، ان کو اسلام سے مایوس کرنے اور ان کی جاسوسی کرنے کی غرض سے کھڑی کیں۔

دشمنانِ اسلام کے خود کاشتہ پودوں سے گلشنِ اسلام کو پاک صاف کر دیں گے۔ اسلامی ممالک میں اسلامی قانون نافذ کریں گے۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ ہوگی اور اس کی برکت سے مسلمانوں کو ایک بار پھر پوری دنیا پر سیاسی برتری حاصل ہوگی۔

سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے اس کی صورت یہ ہوگی کہ قربِ قیامت میں اللہ تعالیٰ اسلام کی نصرت و حمایت اور فتنہ دجال کے قلع قمع کرنے کے لئے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو نازل فرمائیں گے، ان کی تشریف آوری سے تمام مذاہب یکسر مٹ جائیں گے اور صرف اسلام باقی رہ جائے گا بعض مفسرین نے آیت: لیظہرہ علی الدین کلہ کی پیش گوئی کا مصداق اسی آخری دور کے غلبۂ اسلام کو قرار دیا ہے خود مرزا غلام احمد صاحب بھی جب تک مسلمان تھے اسی پر ایمان رکھتے تھے۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔

”اور فرقانی اشارہ اس آیت میں ہے: ھوالذی ارسل رسولہ بالہدیٰ و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبۂ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔

(براہین احمد حصہ چہارم ص ۴۹۸ ۔ ۴۹۹ حاشیہ در حاشیہ مندرجہ روحانی

صفحہ 308

خزائن ج ۱ ص ۵۹۳)

اور اسی غلبہ کاملہ کو آنحضرتؐ نے بایں الفاظ ارشاد فرمایا ہے : ”ویہلک الملل کلھا الا الاسلام“ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے بعد اسلام کے سوا تمام مذاہب مٹ جائیں گے۔ اس سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ آیت کریمہ میں اسلام کے جس غلبۂ کاملہ کا وعدہ ہے وہ انسانی تدابیر اور منصوبوں سے ظہور پذیر نہیں ہوگا۔ اس کے لئے نہ کسی انسان کی جاری کی ہوئی تحریک جدید یا قدیم کارگر ہو سکتی ہے نہ کوئی انسانی منصوبہ سازی مفید و سود مند ہو سکتی ہے بلکہ اس کا منصوبہ خداوند ذوالجلال کے علم میں پہلے سے تیار رکھا ہے یعنی سیدنا عیسیٰ بن مریم (علیٰ نبینا وعلیہما الصلوات والتسلیمات) کا دوبارہ تشریف لانا، جب اس غلبۂ اسلام کے ظہور کا وقت آئے گا تب اللہ تعالیٰ اس منصوبہ کو بروئے کار لائیں گے، جس کی پوری تفصیلات اور مکمل نقشہ آنحضرتؐ کے ذریعہ امت کو بتایا جا چکا ہے اور بحمداللہ وہ امت مرحومہ کے پاس محفوظ ہے۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا ہو گا کہ جناب مرزا طاہر احمد صاحب کا یہ مطالبہ سرے سے غلط اور مہمل ہے کہ تم بھی اس موعودہ غلبہ کے لئے پروگرام بنا رہے ہو یا نہیں؟ کیونکہ یہ غلبۂ موعودہ جیسا کہ اوپر بتا چکا ہوں۔ ایک خاص نظام الٰہی کے تحت بروئے کار آئے گا اور وہ ہے سیدنا عیسیٰ بن مریم (علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) کا نازل ہونا، ۔۔۔ جب یہ غلبہ انسانی تدبیروں اور منصوبوں کے تحت ہو گا ہی نہیں بلکہ خاص نظام قدرت کے تحت ہوگا تو ـــــــــ اس کے لئے کسی انسانی پروگرام کا سوال ہی ایک غیر متعلق بات ہے جو اس امر کی دلیل ہے کہ سائل نہ تو قرآن مجید کی آیت کے مفہوم سے آگاہ ہے نہ اسے اس غلبۂ موعودہ کی ٹھیک ٹھیک تفصیلات معلوم ہیں نہ وہ نظام الٰہی سے باخبر ہے اور نہ وہ یہی جانتا ہے کہ یہ غلبۂ موعودہ کس وقت، کن حالات میں، کس نظام الٰہی کے تحت، کس شکل میں، کس مقصد کے لئے ظہور پذیر ہوگا۔

یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ وہی مسیح موعود ہے جس کے ہاتھ پر اسلام کا غلبۂ موعودہ ہونا تھا، قطعاً غلط ہے، اگر وہ واقعۃً مسیح موعود ہوتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ خدا اپنا وعدہ پورا نہ کرتا۔۔۔ اسی طرح قادیانیت کا یہ دعویٰ بھی قطعاً بے بنیاد ہے کہ وہ نظام الٰہی کے ماتحت غلبہ اسلام کے لئے جاری کی گئی ہے۔ اگر وہ خدائی وعدہ کے

صفحہ 309

ایفاء کے لئے وجود میں آئی ہوتی تو ایک صدی تک خدا کو اپنا وعدہ پورا کرنے سے کس نے روک رکھا تھا؟

و : جہاں تک اس غلبہ موعودہ سے پہلے پہلے اسلام کی تبلیغ واشاعت اور تعلیم و تربیت کا تعلق ہے یہ بلاشبہ مسلمانوں پر فرض ہے اس کے لئے محنت وسعی کرنا، تدبیریں سوچنا۔ منصوبے بنانا بھی بقدر استطاعت فرض ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ مسلمان نہ پہلے کبھی اس فریضہ سے غافل رہے ہیں نہ اب اس گئے گذرے دور میں اس سے غافل ہیں، قادیانیوں نے کاغذی پروپیگنڈے کے ذریعے مشہور کر رکھا تھا کہ بس وہی ایک جماعت ہے جو اسلام کی تبلیغ کر رہی ہے۔ باقی سب مسلمان سوئے پڑے ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ مرزا غلام احمد کی نبوت ومسیحیت کی طرح یہ چودہویں صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے اول تو جیسا کہ عرض کر چکا ہوں قادیانیوں کو اسلام سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں وہ اگر تبلیغ و اشاعت کرتے ہیں تو اسلام کی نہیں، بلکہ اس دین ومذہب کی جو مرزا طاہر احمد کے باپ دادا نے ایجاد کیا ہے قادیانیوں کے ”تبلیغ اسلام“ کے پروپیگنڈے کی مثال بالکل ایسی ہے کہ کوئی شخص ابرہہ کی طرح ایک مکان بنا کر اس کا نام ”کعبہ اور بیت اللہ“ رکھ دے اور پھر لوگوں میں یہ پروپیگنڈا کرتا پھرے کہ ”بیت اللہ کا طواف جس قدر میں کرتا ہوں اتنا کوئی مسلمان نہیں کرتا“ حالانکہ وہ ”بیت اللہ کا طواف“ نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے ہی بنائے ہوئے مکان کے گرد چکر لگاتا ہے۔

پھر قادیانی جو تبلیغ کرتے ہیں اس کا حدود اربعہ بھی ہمیں معلوم ہے، کوئی مبلغ صاحب باہر ملک بھیج دیئے اور انھوں نے کسی ہوٹل میں چائے پی لی تو مرکز کو رپورٹ بھیج دی کہ آج ہوٹل میں اتنے لوگوں کو تبلیغ کی گئی۔ کوئی سربازار متعارف شخص مل گیا۔ اس سے علیک سلیک ہو گئی بس ”تبلیغ“ ہو گئی۔ کسی کالج میں چلے گئے وہاں دو چار ”بڑے لوگوں“ کو ایک دو پمفلٹ دے آئے بس حق تبلیغ ادا ہو گیا۔ کسی تقریب میں چند لوگوں کو بلا لیا وہاں ”گروپ فوٹو“ اتروا لئے چلو تبلیغ ہو گئی اور اخباروں میں اس کی خبر چھپوا دی۔ اخبار ”پیغام صلح“ کے بقول :

”اب ذرا قادیانی مبلغ کا طریق تبلیغ بھی ملاحظہ ہو۔ کسی دوست سے ملے، کہیں چائے پر چلے گئے کسی اور اجتماع میں چند آدمیوں سے

صفحہ 310

ملاقات ہو گئی بس قادیان رپورٹ لکھ دی کہ ہم نے تین سو آدمیوں کو اسلام یا احمدیت کا پیام پہنچا دیا۔“

(لاہوری جماعت کے مبلغ محمد عبداللہ صاحب کا مکتوب مندرجہ اخبار پیغام

صلح لاہور ۳ جون ۱۹۳۶ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۸۹۸ ، ۸۹۹ فصل ۱۶ نمبر

۴۶ طبع پنجم)

”ادہر قادیان میں اتنی بڑی جماعت نے کیا خدمت اسلام کی۔ ظاہر ہے کہ اس قدر قلیل کہ نہ ہونے کے برابر ۔ البتہ اجرائے نبوت اور تکفیر مسلمانان کا مسئلہ نکال کر اسلام کا تختہ پلٹ دیا، اور مطاع الکل خلیفہ بنا کر احمدیت کا بیڑا غرق کر دیا۔

ہاں! جماعت کو سیاست کے خوب سبق پڑھائے گئے۔ کبھی سرکار انگریزی کا ہاتھ بٹایا گیا، کبھی اسے دھمکایا گیا، قادیان کو ایک دارالسلطنت کے رنگ میں دیکھنے کے خواب آنے لگے، مگر خدمت دین کیا ہوئی؟ کچھ بھی نہیں! اور ہوتی کس طرح۔ جب شب و روز یہ کوشش ہو کہ دنیا ہماری خادم بنے اور ہم مخدوم اور مطاع الکل بنیں، پھر خدمت دین کی توفیق کا چھن جانا لازمی امر تھا۔

(پیغام صلح۔ ۳ دسمبر ۱۹۳۶ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۸۹۴ فصل ۱۶ نمبر ۱۴)

یہ ہے قادیانی تبلیغ! جس پر ناز کیا جاتا ہے اور ”غلبہ اسلام، غلبہ اسلام“ کے شور وغوغا سے آسمان سر پر اٹھایا جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں بلا مبالغہ مسلمانوں کا ایک ایک ادارہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت اتنی کر رہا ہے کہ ساری قادیانیت مل کر بھی اپنے نئے دین کی اشاعت اتنی نہیں کر سکتی۔ مسلمانوں کی ایک ”تبلیغی جماعت“ کے کام کو اگر سامنے رکھا جائے تو قادیانیوں کی ”تبلیغی سرگرمیاں“ اس کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتی ہیں؟ مسلمانوں کے یہاں قرآن کریم، حدیث نبوی، علم فقہ اور دین کے دیگر موضوعات پر جو تدریسی، تصنیفی اور تحقیقی کام ہو رہا ہے کیا قادیانی تحریک اس کا ہزارواں حصہ بھی پیش کر سکتی ہے؟

دراصل قادیانیوں نے ”پتنگ بازی“ اور کاغذی گھوڑے دوڑانے کو غلبہ اسلام

صفحہ 311

کی مہم سمجھ رکھا ہے، ایک زمانے میں مرزا محمود احمد صاحب نے ”تحفۃ الامیر“ نامی کتابچہ لکھا تھا، اسے بڑے بڑے امراء و وزراء کے پاس پہنچا کر سمجھ لیا گیا کہ بس ہم نے غلبہ اسلام کی مہم سر کر لی ہے۔ مرزا غلام احمد صاحب نے ملکہ برطانیہ کو گھٹیا قسم کے خوشامدانہ خطوط لکھے اور امید باندھ لی کہ بس ملکہ وکٹوریہ مسلمان ہوئی کہ ہوئی اس کی پیشگوئیاں بھی جڑ دی گئیں۔ چھ چھ زبانوں میں اس کے اسلام قبول کرنے کی دعائیں بھی کی گئیں مگر اس بھاگوان نے مرزا آنجہانی کے خطوط کا جواب دینا بھی اپنی توہین سمجھا۔ قادیانیوں کی ۱۹۷۴ء کی تبلیغی رپورٹ میں ایک فوٹو دیا گیا ہے جس میں ایک قادیانی دوشیزہ امریکی صدر کو قرآن کریم کا قادیانی ایڈیشن پیش کر رہی ہے اور اس کے نیچے یہ تحریر ہے۔

”امریکہ کی ایک احمدی خاتون مبارکہ صاحبہ، صدر صاحب امریکہ جیرالڈ فورڈ کو ترجمہ قرآن کریم انگریزی پیش کر رہی ہے۔“

غالباً قادیانی صاحبان سمجھتے ہوں گے کہ صدر امریکہ اس ”احمدی خاتون“ کے رخ زیبا کی زیارت کرتے ہی اپنے قادیانی ہونے کا اعلان کر دیں گے۔ قادیانیوں نے تبلیغ کے لئے جو طریقے ایجاد کر رکھے ہیں انھیں زبان قلم پر لانا بھی باعث شرم ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک شاید صنف نازک کی حرمت کو پامال کرنا، اور انہیں غیر محرموں کے پاس خلوت میں بھیجنا اور پھر ان کے فوٹو شائع کرنا بھی غلبہ اسلام کی مہم کا ایک حصہ ہے۔ ــــــــــــــــ مسلمان بحمد اللہ اسلام کی اشاعت و تبلیغ کے لئے پوری طرح مستعد ہیں، اور جگہ جگہ دعوت و تبلیغ اور تحقیق و تصنیف کے مراکز بھی قائم ہیں۔ مگر وہ جو کچھ کرتے ہیں اپنے دین کی خدمت کے لئے کرتے ہیں، کسی پر احسان نہیں دھرتے نہ اس کا نمائشی پروپیگنڈا ضروری سمجھتے ہیں بلکہ خدا کی رضا جوئی کے لئے اس فریضہ کو انجام دیتے ہیں۔ انہیں قادیانی امت کی طرح نہ تو غیر فطری طریقے ایجاد کرنا آتے ہیں۔ نہ انہیں غلبہ اسلام کے لئے کاغذی گھوڑے دوڑانے کی حاجت ہے اور نہ ان کا کوئی گروہ اس بات کا مدعی ہے کہ دنیا میں تبلیغ اسلام کا ٹھیکہ بس اسی کے پاس ہے یہ سب کچھ قادیانی امت ہی کو زیب دیتا ہے۔

ز : اب میں مرزا طاہر احمد صاحب کے سوال کے آخری حصہ کو لیتا ہوں۔ مسلمانوں کی حکومتیں پہلے بھی رہی ہیں بحمد اللہ اب بھی موجود ہیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی رہیں گی، مگر اسلامی حکومت کے قیام کی کوشش کو یہود سے مشابہت قرار دینا مرزا صاحب کی روایتی خوش

صفحہ 312

فہمی ہے، اس لئے کہ راقم الحروف نے جو قادیانی حکومت طلبی پر گرفت کی تھی اور اسے یہود کی مشابہت ٹھہرایا تھا اس کا منشا نفس حکومت نہیں تھا (میرے رسالہ کو ایک دفعہ پھر پڑھ لیجئے) بلکہ اسلام کے قصر عالی کی تخریب کر کے اس کے ملبہ پر قادیانی محل تعمیر کرنے پر مجھے اعتراض تھا۔ یعنی جس طرح یہود اسلامی سلطنتوں کو ختم کر کے ان کی جگہ پوری دنیا کو یہودی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں اسی طرح قادیانی بھی تمام عالم اسلام کی حکومتوں کو ختم کر کے ان کی جگہ ”قادیانی حکومت“ قائم کرنے کے خواہاں ہیں گویا دونوں کے درمیان قدر مشترک اسلام دشمنی اور مسلمانوں سے عداوت ہے قادیانی تمام مسلمانوں کو چونکہ یہودیوں سے بدتر سمجھتے ہیں اس لئے وہ بڑی شدت سے بے چین ہیں کہ کس طرح ساری دنیا سے اسلامی حکومتوں کو ملیامیٹ کر دیا جائے اور کس طرح ان کی جگہ قادیانی ریاست قائم کر دی جائے جہاں قادیانیوں کے ”امیرالمومنین“ کا سکہ خلافت جاری ہو اور ساری دنیا کے مسلمان ان کے سامنے چوہڑے چمار بن کر رہ جائیں؟ یہ سب کچھ محض الزام نہیں بلکہ یہ ایک امر واقعہ ہے جس کے مستند حوالے میں اوپر پیش کر چکا ہوں۔ اب دیکھئے کہ مرزا طاہر احمد صاحب میری اس واضح عبارت کے منشا کو تو خود سمجھنے سے قاصر رہے ہیں مگر اپنی خوش فہمی کی بناء پر یہ سوال مجھ سے کر رہے ہیں کہ کیا مسلمانوں کا اسلامی حکومت کے قیام کی کوشش کرنا یہود سے مشابہت نہیں؟ اور اس عقل و فہم کے باوصف آنجناب قادیانیوں کے ”حضرت صاحبزادہ صاحب“ ہیں۔

ع وزیرے چنیں شہریارے چنیں ۔

صاحبزادہ صاحب! سوال کرنے سے پہلے سوچ لیا کیجئے کہ آپ کا مخاطب کیا کہہ رہا ہے اور آپ اس کا کیا مطلب سمجھ کر سوال فرمارہے ہیں؟ ورنہ وہی لطیفہ ہو گا کہ امام ابو یوسفؒ نے ایک شاگرد سے فرمایا کہ تم ہمیشہ خاموش رہتے ہو، کچھ پوچھتے پاچھتے نہیں جبکہ دوسرے طلبہ بڑے دقیق سوال کرتے ہیں۔ شاگرد بولا : حضرت! اب سے پوچھا کروں گا۔ ایک دن امامؒ نے مسئلہ بیان فرمایا کہ سورج غروب ہونے کے بعد روزہ فوراً کھول لینا چاہئے تاخیر مکروہ ہے، شاگرد نے مہر سکوت توڑی اور عرض کیا : حضرت! اگر آدھی رات تک سورج غروب ہی نہ ہو تو ......؟ فرمایا : بیٹے بس تمہارے لئے خاموشی ہی بہتر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

PDF 313

قادیانی جماعت کے امام

مرزا طاہر احمد کے

چیلنج کا جواب

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 314

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ

جرمنی کے قادیانیوں نے مسلمانوں کے نام مرزا طاہر احمد کا ایک چیلنج شائع کیا ہے، جس کا عنوان ہے:

”حضرت مرزا طاہر احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کا“

”مخالفین کو چیلنج“

یہ ایک صفحے کی تحریر ہے، جس میں مرزا طاہر صاحب نے اپنی عادت کے مطابق ”لعنة الله علی الکاذبین“ کی خوب گردان کی ہے۔ ہمارے احباب نے ہمیں یہ پرچہ بھجوایا، اور ساتھ ہی ذکر کیا کہ اس چیلنج کے بل بوتے پر قادیانیوں نے یہاں اودھم مچا رکھا ہے، مناسب ہے کہ اس کا جواب لکھا جائے۔

ہم نے اسے پڑھا تو معلوم ہوا کہ یہ پوری تحریر جھوٹ کا پلندہ ہے، اور اس کا ایک ایک فقرہ غلط ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مرزا طاہر صاحب نے اس چیلنج کو اپنے مخالفین کے سامنے پیش کرنے سے پہلے شاید موکد بہ عذاب حلف اٹھایا تھا کہ:

”یا اللہ آپ گواہ رہئے کہ میں اس چیلنج میں ایک حرف بھی سچ نہیں لکھوں گا۔“

اور پھر اپنے حلف کو خوب خوب نبھایا۔

ہمیں مرزا طاہر صاحب کے رویئے سے نہ تعجب ہے، نہ شکایت، اس لئے کہ ایک ”جھوٹے نبی“ کے جھوٹے نائب کو جیسا ہونا چاہئے، مرزا طاہر صاحب اس کا کامل و مکمل مرقع ہے، مرزا غلام احمد کی ایک ایک بات جھوٹ تھی۔ حتیٰ کہ وہ کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ

صفحہ 315

محمد رسول اللہ" میں بھی جھوٹ بولتا تھا (قارئین کرام کی خدمت میں ان شاء اللہ اس کا دلچسپ ثبوت پیش کروں گا) اس لئے مرزا طاہر کی ایک صفحے کی تحریر کا اگر ایک ایک فقرہ غلط اور جھوٹ ہو تو ذرا بھی تعجب نہیں کہ یہ اس کے باپ دادا کی میراث ہے۔ البتہ قادیانی صاحبان پر قدرے تعجب ضرور ہے کہ انہوں نے دین تو مرزا طاہر صاحب کے قدموں میں نچھاور کیا ہی تھا، عقل کو بھی مرزا طاہر صاحب کی خاطر خیرباد کہہ دیا؟ شاید ان صاحبان نے شیخ سعدیؒ کی حکایت پر عمل کیا ہو گا:

اگر شہ روز را گوید کہ شب است ایں
بہ باید گفت اینک ماہ و پروین

بہر حال مرزا طاہر کی تحریر کا ایک ایک فقرہ حرف بہ حرف نقل کر کے اس کا جواب لکھتا ہوں‘ اور دنیا بھر کے اہل عقل کو منصف بناتا ہوں کہ مرزا طاہر کے الزام اور میرے جواب کو واقعات کی روشنی میں پڑھیں‘ تاکہ ان کے سامنے جھوٹے کا جھوٹ عالم آشکارا ہو جائے۔ یقین ہے کہ مرزا طاہر کے جھوٹے چیلنج کی حقیقت معلوم ہو جانے کے بعد اہل انصاف بے اختیار بول اٹھیں گے: "لعنۃ اللہ علی الکاذبین"۔

نوٹ: مرزا طاہر کی عبارت اقتباس کی شکل میں دے کر ”جواب“ کے لفظ سے اس پر تبصرہ کیا گیا ہے۔

محمد یوسف لدھیانوی ۲۲ / ۲ / ۱۴۱۶ھ

صفحہ 316

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ

پیش گوئیوں کے مطابق امتی نبی تھے“۔

جواب : ـــــــ مرزا غلام احمد قادیانی کو آنحضرت ﷺ کی پیش گوئیوں کا مصداق کہنا مرزا طاہر کا سب سے بڑا جھوٹ ہے، کیونکہ مرزا قادیانی پر آنحضرت ﷺ کی پیش گوئیوں کا ایک حرف بھی صادق نہیں آتا، بطور مثال مرزا طاہر کے والد مرزا محمود کی کتاب حقیقۃ النبوۃ ص ۱۹۲ سے آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی نقل کرتا ہوں، جس کا ترجمہ خود مرزا محمود کے قلم سے درج ذیل ہے:

”انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں، ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دین ایک ہوتا ہے، اور میں عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں، کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں، اور وہ نازل ہونے والا ہے۔ پس جب اسے دیکھو تو اسے پہچان لو، کہ وہ درمیانہ قامت، سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ، زرد کپڑے پہنے

صفحہ 317

ہوئے‘ اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہو گا‘ گو سر پر پانی نہ ہی ڈالا ہو‘ اور وہ صلیب کو توڑدے گا‘ اور خنزیر کو قتل کرے گا‘ اور جزیہ ترک کردے گا‘ اس کے زمانہ میں سب مذاہب ہلاک ہو جائیں گے اور صرف اسلام رہ جائے گا‘ اور شیر اونٹوں کے ساتھ‘ اور چیتے گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے‘ اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے‘ اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے‘ عیسیٰ بن مریم چالیس سال رہیں گے‘ اور پھر فوت ہو جائیں گے‘ اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے"۔

(حقیقت النبوۃ ص ۱۹۲)

اس پیش گوئی کو مرزا کے حالات سے ملائیے اور دیکھئے کہ کیا اس پیش گوئی کا ایک حرف بھی مرزا قادیانی پر صادق آتا ہے؟ نہیں! ہرگز نہیں!!

ذرا درج ذیل سوالات پر غور کیجئے!

آئینہ میں اپنی شکل دیکھ لیں‘ اور اندازہ کرلیں کہ ان کا دادا بھی ایسا ہی ہوگا)۔

باقی رہ گیا؟۔ نہیں!

کے ساتھ اور بھیڑیوں کو بکریوں کے ساتھ چرتے دیکھا؟۔ نہیں!

صفحہ 318

(بلکہ اس نے ۱۸۹۱ء میں مسیح ہونے کا دعویٰ کیا‘ اور ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو مر گیا۔ مدت قیام کل ۱۷ سال ۴ مہینے‘ ۲۵ دن۔)

معلوم ہوا کہ مرزا‘ آنحضرت ﷺ کی پیش گوئیوں کا مصداق نہیں تھا‘ لہٰذا مرزا کا دعویٰ بھی جھوٹا‘ اور مرزا طاہر کا اس پر فخر بھی جھوٹا۔ اب وہ اپنے حق میں‘ اپنے دادا کے حق میں اور اس جھوٹے کو ماننے والوں کے حق میں جتنی بار چاہیں ”لعنة الله علی الکاذبین“ پڑھ لیں۔

جواب:------ آنحضرت ﷺ کی پیش گوئیاں بلاشبہ سچی ہیں‘ برحق ہیں‘ اور ہر مسلمان ان پر ایمان رکھتا ہے۔ لیکن مرزا طاہر کا آپ ﷺ کی پیش گوئیوں کو سچی کہنا اس کا جھوٹ ہے۔ ”والله یشہد ان المنافقین لکاذبون۔“ اس لئے کہ اگر وہ آنحضرت ﷺ کی اس پیش گوئی کو‘ جو ابھی نمبر ایک میں نقل کی گئی‘ سچی سمجھتا تو اپنے دادا مرزا غلام احمد کو ہرگز مسیح موعود نہ سمجھتا‘ بلکہ اس پر سو سو بار لعنت بھیجتا۔

اب آنحضرت ﷺ کی ایک اور پیش گوئی ملاحظہ فرمائیں: آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد شادی کریں گے‘ اور ان کے اولاد ہوگی ”یتزوج ویولد لہ“

(مشکوٰۃ ص ۴۸۰)

مرزا غلام احمد لکھتا ہے کہ اس پیش گوئی میں شادی سے خاص شادی اور اولاد سے خاص اولاد مراد ہے جو بطور نشان کے ہوگی‘ یعنی محمدی بیگم سے مرزا کی شادی ہوگی اور اس سے خاص اولاد پیدا ہوگی۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۳)

دنیا جانتی ہے کہ مرزا کی محمدی بیگم سے یہ شادی نہیں ہوئی‘ اس سے خاص اولاد

صفحہ 319

کے پیدا ہونے کا کیا سوال؟ ”نہ رہے بانس نہ بجے بانسری“

اگر مرزا طاہر آنحضرت ﷺ کی اس پیش گوئی کو سچی سمجھتا تو لازماً مرزا غلام احمد کو جھوٹا جانتا کیونکہ آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی مرزا قادیانی کے حق میں پوری نہیں ہوئی۔

معلوم ہوا کہ مرزا طاہر کو آنحضرت ﷺ کی پیش گوئیوں پر ایمان نہیں، اور اس کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے کہ ”آنحضرت ﷺ کی پیش گوئیاں لازماً سچی ہیں“۔ اب وہ جتنی بار چاہے اپنے لئے ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ کا وظیفہ پڑھے، اور قادیانیوں کو بھی چاہئے کہ مرزا طاہر کے حق میں یہ وظیفہ دن رات پڑھا کریں۔

جواب:۔۔۔۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو سب کو معلوم ہو گا کہ یہ وہی عیسیٰ بن مریم رسول اللہ ہیں جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے، اس لئے نہ ان کو نبوت و رسالت کا دعویٰ کرنے کی ضرورت ہو گی، نہ اپنی رسالت و نبوت منوانے کے لئے کاغذی پتنگ اڑانے کی حاجت ہو گی۔ چنانچہ کسی حدیث سے ثابت نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد یہ دعویٰ کریں گے:

یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً“

معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا رسالت و نبوت کے دعوے کرنا خالص جھوٹ تھا، اور مرزا طاہر کا یہ کہنا کہ ”سچا مسیح نہیں آ سکتا جب تک کہ وہ رسول اور نبی ہونے کا دعویٰ نہ کرے“ یہ بھی نرا جھوٹ ہے۔

اب اس جھوٹ پر مرزا طاہر اپنے اور اپنے دادا کے حق میں جتنی بار چاہے ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ کا وظیفہ پڑھا کرے۔

صفحہ 320

احمد قادیانی) نے نبی و رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔"

ادھر مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مدعی نبوت ملعون ہے، کذاب ہے، کافر ہے، اور دائرہ اسلام سے خارج ہے، چنانچہ اپنے اشتہار ۲۰؍ شعبان ۱۳۱۳ھ (مطابق ۲۵؍ جنوری ۱۸۹۷ء) میں لکھتا ہے:

"ان پر واضح رہے کہ ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں"۔

(مجموعہ اشتہارات ص ۲۹۷ ج ۲)

۲؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء کے اشتہار میں لکھتا ہے:

"سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں"۔ (مجموعہ اشتہارات ص ۲۳۰ ج ۱)

اور اپنے رسالہ "آسمانی فیصلہ" میں لکھتا ہے:

"میں نبوت کا مدعی نہیں، بلکہ ایسے مدعی کو اسلام سے خارج سمجھتا ہوں"۔

(آسمانی فیصلہ ص ۳)

گویا مرزا طاہر کے جھوٹے عقیدے کے مطابق اس کا دادا چونکہ مدعی نبوت تھا اس لئے ملعون تھا، کذاب تھا، کافر تھا اور دائرہ اسلام سے خارج تھا۔ مرزا طاہر کو چاہیے کہ ایسے کذاب و کافر اور ملعون پر صبح و شام ایک ایک تسبیح لعنۃ اللہ علی الکاذبین کی پڑھا کرے۔

جواب: ـــــــ یہ مرزا طاہر کا سفید جھوٹ ہے کہ ان کے مخالفین ان کا چیلنج قبول نہیں کرتے، بلکہ بہانے بنا کر بھاگ جاتے ہیں۔ امید ہے کہ اس سفید جھوٹ پر ان کو قادیانی بھی ہزار بار لعنۃ اللہ علی الکاذبین کا تحفہ دیں گے۔

واقعہ یہ ہے کہ مرزا طاہر نے جون ۱۹۸۸ء میں مسلمانوں کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا، مسلمانوں نے اس چیلنج کو علی الاعلان قبول کیا، لیکن "مرزا بھاگ گیا"۔ خود راقم الحروف

صفحہ 321

کے نام بھی مرزا طاہر نے مباہلہ کے چیلنج کی ایک کاپی بھجوائی تھی‘ میں نے مرزا طاہر کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ان کو لکھا کہ تمہارے ذمہ مباہلوں کا جو پچاس سالہ قرضہ ہے‘ پہلے تو اس کو ادا کیجئے۔ اور پھر وقت اور تاریخ کا اور جگہ کا تعین کر کے مجھے اطلاع فرمائیے‘ آپ جہاں کہیں گے‘ اور جب کہیں گے مباہلہ کے لئے حاضر ہو جاؤں گا۔ میرا یہ جواب ”مرزا طاہر کے نام“ سے چھپا ہوا موجود ہے۔ جس میں میں نے جلی قلم سے لکھا تھا:

”آیئے! اس فقیر کے مقابلہ میں میدان مباہلہ میں قدم رکھئے‘ اور پھر میرے مولائے کریم کی عزت و جلال اور قہری تجلی کا کھلی آنکھوں تماشا دیکھیے۔ آنحضرت ﷺ نے نصاریٰ نجران کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر وہ مباہلہ کے لئے نکل آتے تو ان کے درختوں پر ایک پرندہ بھی زندہ نہ بچتا۔ آیئے! آنحضرت ﷺ کے ایک ادنیٰ امتی کے مقابلے میں میدان مباہلہ میں نکل کر آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز ایک بار پھر دیکھ لیجئے“۔

مجھے یقین تھا کہ مرزا طاہر محمد رسول اللہ ﷺ کے کسی ادنیٰ غلام کے مقابلہ میں بھی میدان مباہلہ میں اترنے کی کبھی جرات نہیں کر سکتا‘ کیونکہ اس کو سو فیصد یقین ہے کہ وہ خود بھی‘ اس کا باپ بھی‘ اس کا دادا بھی‘ سب کے سب جھوٹے ہیں۔ اس لئے میں نے مرزا طاہر کی غیرت کو للکارتے ہوئے مزید لکھا تھا:

”اس ناکارہ کا خیال ہے کہ آپ آگ کے اس سمندر میں کودنا کسی حال میں قبول نہیں کریں گے‘ اپنے باپ دادا کی طرح ذلت کی موت مرنا تو پسند کریں گے‘ لیکن آنحضرت ﷺ کے اس نالائق امتی کے مقابلہ میں میدان مباہلہ میں اترنے کی جرات نہیں کریں گے“۔

صفحہ 322

مرزا طاہر کو اگر ذرا بھی غیرت ہوتی اور اس کو اپنی سچائی کا ذرا بھی خیال ہوتا تو میرے ان الفاظ کو پڑھ کر ممکن نہیں تھا کہ کم از کم میرے اس دعوے ہی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے میدان مباہلہ میں نہ آتا‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے طفیل آپؐ کے ایک نالائق امتی کے الفاظ کی لاج رکھ لی‘ مرزا طاہر نے ذلت کی موت مرنا تو پسند کیا مگر اس نے میدان مباہلہ میں اترنے کی جرات نہ کی‘ اس طرح میری پیش گوئی سچی نکلی۔

میرے اس خط کے جواب میں مرزا طاہر کے سیکرٹری کا جواب آیا کہ مباہلہ کے لئے میدان مباہلہ میں آمنے سامنے آنے کی ضرورت نہیں‘ تم بھی گھر بیٹھے مرزا طاہر کی طرح ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ کی پتنگ بازی کرتے رہو‘ بس اسی کا نام مباہلہ ہے۔

اس کے جواب میں اس ناکارہ نے ”مرزا طاہر پر اتمام حجت“ نامی رسالہ شائع کیا۔ جس میں قرآن و حدیث اور خود مرزا غلام احمد کی تحریروں سے ثابت کیا کہ مباہلہ کا مسنون اور صحیح طریقہ یہ ہے کہ دونوں فریق ایک میدان میں جمع ہوں اور مل کر ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ کہیں۔ میں نے اس رسالہ میں مرزا غلام احمد کی درج ذیل تحریر کا بھی حوالہ دیا کہ:

”اور میں پھر ان سب کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں کہ مباہلہ کے لئے تاریخ اور مقام مقرر کر کے جلد مباہلہ کے میدان میں آئیں‘ اور اگر نہ آئے‘ اور نہ تکفیر و تکذیب سے باز آئے تو خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے“۔

(انجام آتھم ص ٦٩‘ روحانی خزائن ص ٦٩ ج ١١)

میں نے مرزا طاہر کو یہ بھی لکھا کہ اگر آپ پاکستان نہیں آسکتے تو میں آپ کو سفر کی زحمت نہیں دیتا‘ چلئے اپنے ”لندنی اسلام آباد“ ہی کو میدان مباہلہ قرار دے کر تاریخ کا اعلان کر دیجئے۔

”یہ فقیر آپ کے مستقر پر حاضر ہو جائے گا۔ اور جتنے رفقا آپ فرمائیں گے‘ لاکھ

صفحہ 323

دولاکھ‘ دس بیس لاکھ‘ اپنے ساتھ لے آئے گا۔..... دیکھئے! اب میں نے آپ کا کوئی عذر نہیں چھوڑا‘ اب آپ کو آپ کے دادا کے الفاظ میں غیرت دلاتا ہوں کہ :

”آپ کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں کہ مباہلہ کے لئے تاریخ و مقام مقرر کر کے جلد مباہلہ کے میدان میں آویں‘ ورنہ خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے“۔

میرے اس چیلنج کو سات سال گزر رہے ہیں‘ لیکن مرزا طاہر کو اب تک جرات نہیں ہوئی کہ اس چیلنج کو قبول کرلے‘ میں آج تک اس کے جواب کا منتظر ہوں‘ لیکن وہ آج تک خدا کی لعنت کے نیچے ہے۔ اور ان شاء اللہ اسی خدائی لعنت کے نیچے مرے گا۔

مگر شاباش! مرزا طاہر کی اس غیرت و حیا پر‘ کہ خود مباہلے سے راہ فرار اختیار کرتا پھرتا ہے اور دوسروں پر بھاگنے کا جھوٹا الزام لگاتا ہے۔ مرزا طاہر کو چاہئے کہ اپنے اس جھوٹ پر صبح و شام ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ پڑھا کرے۔ مرزا طاہر کی جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ میرے ان دونوں رسالوں ”مرزا طاہر کے جواب میں“ اور ”مرزا طاہر پر آخری اتمام حجت“ کا مطالعہ فرمائیں۔ اگر توفیق الٰہی دستگیری کرے تو مسلمان ہو جائیں‘ اور اگر اسلام ان کی قسمت میں نہیں تو کم سے کم مرزا طاہر کو مباہلہ پر آمادہ کر کے اسے خدائی لعنت کے نیچے سے نکالیں‘ ورنہ مرزا طاہر کے لئے صبح و شام ۳۱۳ مرتبہ ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ کا وظیفہ کم سے کم چالیس دن تو ضرور پڑھ لیں۔

جھوٹ ہے۔ ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“۔

جواب:۔۔۔۔۔۔ یہ جھوٹ خود مرزا طاہر کے دادا مرزا غلام احمد کا ہے۔ اس نے گورنمنٹ برطانیہ سے کہا تھا کہ میرا خاندان پچاس سال سے ٹوڈی اور انگریز کا خدمت گار چلا آتا ہے‘ لہٰذا گورنمنٹ:

”اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام

صفحہ 324

لے، اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں“۔

(مجموعہ اشتہارات ص ۲۱ ج ۳)

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے اپنے ”خود کاشتہ پودا“ ہونے کا اقرار کیا ہے اور اس کے حوالے سے اپنے لئے اور اپنی جماعت کے لئے انگریز سے ”خاص نظر عنایت“ اور مہربانی کی بھیک مانگی ہے۔ اب اگر یہ جھوٹ ہے تو مرزا طاہر اپنے دادا کا نام لے کر شوق سے کہیں۔ ”جھوٹے پر خدا کی لعنت“۔ اور قادیانی بھی مرزا طاہر کے ساتھ مل کر کہیں : لعنۃ اللہ علی الکاذبین“

ہے۔ ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“۔

جواب:۔۔۔۔۔۔ اسلامی جہاد کے منسوخ ہونے کا جھوٹ بھی مرزا غلام احمد نے بولا تھا‘ چنانچہ اس نے لکھا تھا کہ: ” حدیث میں ہے کہ مسیح کے وقت میں جہاد کا حکم منسوخ کر دیا جائے گا“۔

(تجلیات الہٰیہ ص ۸)

اگر یہ جھوٹ ہے تو مرزا طاہر شوق سے اپنے دادا کا نام لے کر کہے کہ ”جھوٹے پر خدا کی لعنت“ ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“۔

کہتا ہوں یہ جھوٹ ہے۔ ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“۔

جواب :۔۔۔۔ یہ مرزا طاہر کا سفید جھوٹ ہے۔ کسی مسلمان نے ایسا نہیں کہا‘ البتہ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد پلومر کی دکان سے ٹانک وائن منگواتا تھا۔

(خطوط امام بنام غلام ص ۵)

صفحہ 325

اب اپنے اس جھوٹ پر مرزا طاہر شوق سے نعرہ بلند کریں کہ ”جھوٹے پر خدا کی لعنت“ اور قادیانی صاحبان بھی مرزا طاہر کی آواز میں آواز ملا کر کہیں۔ ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“

جھوٹ ہے۔ ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“۔

جواب :۔۔۔۔۔۔ یہ بھی مرزا طاہر کا جھوٹ ہے‘ مرزا کی پچاس کتابیں کسی مسلمان نے نہیں لکھیں‘ البتہ مسلمان‘ مرزا غلام احمد کے اس اقرار کا حوالہ ضرور دیتے ہیں کہ:

”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں“۔

(تریاق القلوب ص ۱۵ روحانی خزائن ص ۱۵۵۔ ج ۱۵)

انگریز اسلام کا بد ترین دشمن تھا‘ ایسے دشمن اسلام کی تائید و حمایت کرنا‘ جہاد کی ممانعت کا فتویٰ دینا‘ اور انگریزی اطاعت کا درس دینا اسلام دشمنی تھی۔ مرزا غلام احمد کہتا ہے کہ اس نے اپنی عمر کا اکثر حصہ اسی اسلام دشمنی میں گزارا‘ اور اس نے رسالے اور کتابیں لکھ لکھ کر ”پچاس الماریاں“ بھر ڈالیں۔

مرزا طاہر اور اس کے ساتھ تمام قادیانی بڑی سریلی آواز میں یہ گیت گائیں: ”ایسے دشمن اسلام پر خدا کی لعنت“۔ ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“

ہے۔ ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“۔

صفحہ 326

جواب: ـــــــ ناپاک حالت سے شاید ہیضہ کی موت مراد ہے، جس میں دونوں راستوں سے نجاست خارج ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کی موت واقعی وبائی ہیضہ سے واقع ہوئی۔ چنانچہ اس کے مرض الموت کے بارے میں دست اور قے کی روایت تو مرزا طاہر کے چچا مرزا بشیر احمد نے سیرۃ المہدی میں مرزا طاہر کی دادی کے حوالے سے درج ذیل نقل کی ہے:

”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو پہلا دست کھانا کھانے کے بعد آیا..... لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت ہوئی‘ اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے‘ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا‘ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر لیٹ گئے..... اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا..... اس کے بعد ایک اور دست آیا‘ اور پھر آپ کو قے آئی..... اور حالت دگرگوں ہو گئی۔“

(سیرۃ المہدی جلد ۱ ص ۱۱۔۱۲)

اور یہ دست اور قے کی بیماری وبائی ہیضہ تھا‘ چنانچہ شیخ یعقوب علی عرفانی نے ”حیات ناصر“ میں میر ناصر نواب کے حوالے سے خود مرزا غلام احمد قادیانی سے نقل کیا ہے کہ:

”حضرت صاحب (مرزا قادیانی) جس رات کو بیمار ہوئے اس رات میں اپنے مقام پر جاکر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا‘ جب میں حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ”میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔“ اس کے بعد کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی‘ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔

(حیات ناصر ص ۱۴)

مرزا طاہر صاحب! آپ کے دادا مرزا قادیانی کا ”وبائی ہیضہ“ کی بیماری سے انتقال کرنا اور دونوں راستوں سے نجاست کا خارج ہونا ہمارا الزام نہیں‘ بلکہ یہ آپ

صفحہ 327

کے اپنے گھر کی روایت ہے اور اس کے راوی ہیں (۱) آپ کے چچا (۲) آپ کی دادی‘ (۳) دادی کے ابا اور (۴) خود آپ کے دادا۔ اگر یہ سب لوگ جھوٹے تھے تو ان کا نام لیکر صبح و شام ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ کا وظیفہ پڑھا کیجئے۔

میں نے اپنے رسالہ ”مرزا طاہر کے نام“ میں آپ کو چیلنج کیا تھا کہ :

”کیا آپ یہ دعا کرنے کی جرات کریں گے کہ آپ کو آپ کے باپ دادا جیسی موت نصیب ہو؟“۔

اور پھر اپنے دوسرے رسالہ ”مرزا طاہر پر آخری اتمام حجت“ میں میں نے یاد دہانی کراتے ہوئے لکھا تھا:

”آپ نے میرا یہ چیلنج بھی قبول نہیں کیا‘ اور شاید آپ کو اس کی جرات بھی نہ ہوگی کہ میرے سوال کا جواب اخباروں میں چھاپ کر دنیا کو ایک نیا تماشائے عبرت دیکھنے کا موقع فراہم کریں۔“

مرزا طاہر صاحب! اگر آپ کے باپ اور دادا کی موت ناپاک حالت میں نہیں ہوئی تو یہ دعا اخباروں اور رسالوں میں کیوں نہیں چھپ دیتے کہ :

”یا اللہ! مجھے میرے باپ اور دادا جیسی موت نصیب فرما۔“

مرزا طاہر صاحب! آپ یہ دعا کبھی شائع نہیں کریں گے‘ کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے باپ اور دادا کی موت ناپاک حالت میں ہوئی۔ یقیناً آپ خود بھی ان کو جھوٹا اور ان کی موت کو عبرت کا نشان سمجھتے ہیں۔ اس لئے کوئی مضائقہ نہیں کہ آپ اپنے جھوٹے باپ دادا کا نام لے کر ان پر ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ کا نعرہ بلند کیا کریں۔

صفحہ 328

سچ ہے۔ اللہ سچوں پر رحمت فرمائے۔"

جواب:— مرزا طاہر کا یہ سچ خالص جھوٹ ہے، کیونکہ اوپر جھوٹ نمبر ۴ کے ذیل میں لکھ چکا ہوں کہ مرزا مدعی نبوت کو کافر و کذاب اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتا ہے۔ جہاں تک عیسیٰ ہونے کے دعویٰ کا تعلق ہے، یہ بھی مرزا قادیانی کے بقول جھوٹ ہے، کیونکہ وہ لکھتا ہے:

"اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں ۔۔۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں، جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔"

(ازالہ اوہام ص ۱۹۰۔ روحانی خزائن ص ۱۹۲ ج ۳)

پس مرزا طاہر خود اس کے دادا کے فتویٰ کے مطابق مفتری اور کذاب ہے۔ سب کہیں "جھوٹے پر خدا کی لعنت"۔ اور قادیانی صاحبان بھی مرزا طاہر کا نام لے کر بلند آواز سے کہیں "لعنۃ اللہ علی الکاذبین"

شادی کرتا ہے، اور تعلقات جنسی قائم کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ جھوٹ ہے۔"

جواب:—— یہ بھی مرزا طاہر کا سفید جھوٹ ہے۔ کسی مسلمان نے یہ نہیں کہا۔ البتہ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ مرزا کے ایک نام نہاد صحابی قاضی یار محمد نے اپنے رسالہ "اسلامی قربانی" میں لکھا ہے:

"حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔"

(ٹریکٹ ۳۴ اسلامی قربانی ص ۱۲)

صفحہ 329

ہمارے رسول اللہ ﷺ کے تو سب صحابہ کرام عادل اور ثقہ ہیں، اگر مرزا طاہر کے نزدیک مرزا غلام احمد کا یہ صحابی جھوٹا ہے تو مرزا طاہر شوق سے کہیں کہ ”ایسے جھوٹے صحابی اور اس کے جھوٹے نبی پر خدا کی لعنت“۔ اور قادیانی صاحبان بھی مرزا طاہر کی لے میں لے ملا کر کہیں ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“

انگریزی بولتا تھا۔ میں کہتا ہوں یہ جھوٹ ہے ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“

جواب:------یہ قطعاً جھوٹ ہے کہ کسی مسلمان نے اللہ تعالیٰ کو۔ نعوذ باللہ۔ انگریز کہا ہو۔ البتہ مرزا طاہر کا دادا مرزا غلام احمد لکھتا ہے:

”پھر بعد اس کے بہت ہی زور سے۔ جس سے بدن کانپ گیا، یہ الہام ہوا۔“ وی کین وہٹ وی ول ڈو اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا بول رہا ہے“۔

(تذکرہ ص ۶۴ طبع چہارم)

اس عبارت میں مرزا نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہا ہے کہ وہ گویا انگریز ہے، اور انگریزی بولتا ہے، چونکہ یہ مرزا طاہر کے نزدیک جھوٹ ہے۔ لہٰذا اس جھوٹ پر مرزا طاہر اپنے دادا مرزا غلام احمد پر جتنی بار چاہے ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ پڑھے۔

کہتے ہیں کہ اللہ نے آپ پر (کرس) کیا، میں کہتا ہوں یہ جھوٹ ہے، ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔“

جواب:------- یہ بھی مرزا طاہر کا مسلمانوں پر غلط الزام ہے، یہ تحفہ تو وہ مرزا غلام احمد کی خدمت میں خود پیش کرتے ہیں، جیسا کہ گزشتہ نمبروں سے معلوم ہو چکا ہے۔ چنانچہ اوپر گزر چکا ہے کہ :

صفحہ 330

ہے کہ ”ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔“ اب مرزا طاہر کے عقیدے کے مطابق مرزا غلام احمد ملعون ہوا۔

غلام احمد لکھتا ہے کہ ”آنحضرت ﷺ خاتم النبیین کے بعد جو شخص نبوت و رسالت کے دعوے کرے وہ کافر و کذاب اور دائرہ اسلام سے خارج ہے“۔ اور کافروں اور جھوٹوں کا ملعون ہونا سب کو معلوم ہے۔ لہٰذا مرزا طاہر کے عقیدے کے مطابق مرزا غلام احمد ملعون ہوا۔

”اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں، جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔“ لہٰذا مرزا طاہر کے عقیدے کے مطابق مرزا غلام احمد کم فہم اور مفتری و کذاب ٹھہرا، اب جس قدر جی چاہے اس مفتری و کذاب غلام احمد پر لعنۃ اللہ علی الکاذبین پڑھے۔ الغرض خدا کی لعنت تو غلام احمد پر خود مرزا طاہر برساتا ہے اور جھوٹا الزام مسلمانوں کو دیتا ہے:

ع ”جو چاہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا“

ہاں! یہ ضرور ہے کہ ہم بھی مفتری و کذاب اور دائرہ اسلام سے خروج کرنے والے مرتد کو لعنت خداوندی کا مستحق سمجھتے ہیں۔

قیامت تک کیلئے آپ افضل ہیں، میں کہتا ہوں یہ جھوٹ ہے لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔“

صفحہ 331

جواب:۔ مرزا طاہر کا مسلمانوں پر یہ الزام بھی غلط ہے‘ واقعہ یہ ہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ مرزا طاہر کے دادا مرزا غلام احمد نے کیا‘ ملاحظہ فرمائیے:

مرزا حضرت آدم علیہ السلام سے افضل

”اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کر کے انہیں تمام ذی روح انس و جن پر سردار اور حاکم و امیر بنایا ...... پھر شیطان نے انہیں بہکایا اور جنتوں سے نکلوایا۔ اس جنگ و جدال میں آدم کو ذلت و رسوائی نصیب ہوئی ...... پس اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو پیدا کیا تاکہ آخر زمانے میں شیطان کو شکست دے۔“

(حاشیہ خطبہ الہامیہ۔ روحانی خزائن ص ۳۱۴‘ ج ۱۶)

”آدم اس لئے آیا کہ نفوس کو اس دنیا کی زندگی کی طرف نکالے‘ اور ان کے درمیان اختلاف اور دشمنی کی آگ بھڑکائے‘ اور مسیح امم اس لئے آیا کہ ان کو دار فنا کی طرف لوٹائے اور ان سے اختلاف‘ لڑائی اور عداوت اور افتراق و پراگندگی کو دور کرے‘ اور انہیں اتحاد و محویت‘ نفی غیر اور خلوص کی طرف کھینچے۔“

(خطبہ الہامیہ ۔ روحانی خزائن ص ۳۰۸ ج ۱۶)

حضرت نوح علیہ السلام سے افضل

”اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانے میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے“۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ۱۳۷۔ روحانی خزائن ص ۵۷۵ ج ۲۳)

حضرت یوسف علیہ السلام سے افضل

”پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا‘ مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا‘ اور اس امت کے یوسف (مرزا قادیانی) کی بریت کیلئے پچیس برس پہلے ہی خدا نے آپ گواہی دے دی اور بھی نشان دکھلائے‘ مگر یوسف بن یعقوب اپنی بریت کیلئے انسانی گواہی کا محتاج ہوا۔“

(براہین پنجم ص ۷۶۔ روحانی خزائن ص ۹۹ ج ۲۱)

صفحہ 332

حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل:

”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح بن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہر گز نہ کر سکتا، اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہر گز نہ دکھلا سکتا۔“

( حقیقتہ الوحی ص ۱۴۸۔ روحانی خزائن ص ۱۵۲ ج ۲۲)

”پھر جبکہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح بن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“

( حقیقتہ الوحی ۱۵۵۔ روحانی خزائن ص ۱۵۹ ج ۲۲)

”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے“

”یہ شاعرانہ باتیں نہیں، بلکہ واقعی ہیں، اگر تجربہ کی رو سے خدا کی تائید مسیح بن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔“

( دافع البلاء ص ۲۰، روحانی خزائن ص ۲۳۰ ج ۱۱)

مرزا خاتم النبیین

”میں بار ہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت و آخرین منھم لما یلحقوا بھم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں، اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے، اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“

( ایک غلطی کا ازالہ ص ۱۰ روحانی خزائن ص ۲۱۳ ج ۱۸)

صفحہ 333

”مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں، اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“

(کشتی نوح ص ۵۶ روحانی خزائن ص ۶۱ ج ۱۹)

مرزا، کمالات انبیاء کا مجموعہ

”کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے وہ سب حضرت رسول کریم میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور وہ سارے کمالات حضرت رسول کریمؐ سے ظلی طور پر ہم کو عطا کئے گئے، اور اسی لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے۔۔۔۔ پہلے تمام انبیاء ظل تھے نبی کریم کی خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریمؐ کے ظل ہیں۔“

(ملفوظات جلد سوم ص ۲۷۰۔ مطبوعہ ربوہ)

مرزا کا تخت سب سے اونچا

”آسمان سے کئی تخت اترے مگر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“

(مرزا کا الہام۔ مندرجہ تذکرہ طبع دوم ص ۳۴۶)

ایک نفیس فائدہ:

حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سب کے سب دیگر تمام انسانوں سے افضل ہیں، اور علم عقائد میں یہ اصول طے شدہ ہے کہ کوئی ولی، خواہ کتنا ہی بڑا ہو، کسی نبی کے رتبہ کو نہیں پہنچ سکتا، شرح عقائد نسفی میں ہے:

ولا يبلغ ولی درجة الانبياء لان الانبياء معصومون، مامونون عن خوف

صفحہ 334

الخاتمہ مکرمون بالوحی ومشاہدہ الملک، مامورون بتبلیغ الاحکام وارشاد الانام بعد الاتصاف بکمالات الاولیاء۔

(ص ۱۴۴۔ مطبوعہ مکتبہ خیر کثیر کراچی)

ترجمہ : کوئی ولی انبیاء کرام علیہم السلام کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا، کیونکہ انبیاء کرامؑ معصوم ہیں، ان کے حق میں سوء خاتمہ کا اندیشہ نہیں، وہ وحی الٰہی اور فرشتوں کے مشاہدہ سے مشرف ہیں، اور وہ اولیاء کے کمالات کے ساتھ متصف ہونے کے بعد تبلیغ احکام اور خلق خدا کی رہنمائی کے کام پر مامور ہوتے ہیں۔"

اسی طرح صحابیت کا شرف ایسی فضیلت ہے کہ جو حضرات صحابہ کرامؓ کے سوا کسی کو نصیب نہیں ہو سکتی۔ اسی بنا پر جمہور اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ بعد کے اولیاء صحابہ کرامؓ کی فضیلت کو نہیں پہنچ سکتے۔

اہل عقل کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ جب کسی فرد کا تقابل دوسرے افراد سے کیا جائے تو یہ تقابل ہمیشہ اسی کی نوع کے افراد کے درمیان ہوتا ہے۔ پس جو شخص جس جماعت یا گروہ میں شامل ہو اس کی افضلیت و غیر افضلیت کا تقابل اس کی اپنی ہی جماعت یا گروہ کے افراد کے ساتھ ہوگا، چنانچہ جو شخصیت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی جماعت سے ہو اس کی افضلیت کا تقابل اسی جماعت انبیاء کے افراد قدسیہ کے ساتھ ہوگا، غیر انبیاء کے ساتھ نہیں۔ بلکہ غیر انبیاء کے مقابلہ میں اس کی افضلیت کی بحث خلاف اصول اور خلاف عقل سمجھی جائے گی۔ کیونکہ غیر انبیاء کو انبیاء اکرام علیہم الصلوۃ والسلام کے علو مرتبہ اور رفعت شان سے کیا نسبت؟ اور نبی کا غیر نبی کے ساتھ کیا مقابلہ؟ اسی طرح کسی صحابی کی افضلیت دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقابلہ میں مراد ہوگی، چنانچہ جب کہا جائے کہ فلاں صحابی افضل ہیں تو اس سے مراد یہ ہے کہ دیگر صحابہؓ کے مقابلہ میں افضل ہیں، ورنہ صحابیؓ کا غیر صحابہؓ سے کیا مقابلہ؟ اور غیر صحابی کو صحابہ سے کیا نسبت؟ اسی طرح کسی ولی کی افضلیت دیگر اولیاء عظامؒ کے مقابلہ میں زیر بحث آئے گی، نہ کہ عوام الناس کے مقابلے میں، پس جب کہا جائے کہ فلاں ولی افضل ہے تو مراد یہ

صفحہ 335

ہوگی کہ دیگر اولیاء کے مقابلہ میں افضل ہے۔ علیٰ ہذا القیاس۔ جب مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل کرتا ہے اور حضرت نوح اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام جیسے اولوالعزم رسولوں سے افضل قرار دیتا ہے تو اس کے بیان کردہ مندرجہ ذیل الہام سے کہ ” آسمان سے کئی تخت اترے، مگر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا “ مذکورہ اصول کے مطابق ہر ذی شعور یہ سمجھے گا کہ آسمان سے اترنے والے تختوں سے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے درجات و مراتب عالیہ مراد ہیں، اور ”تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا“ کے فقرہ سے انبیاء کرام علیہم السلام کے مقابلہ میں صاحب الہام کی افضلیت مراد ہے۔ چونکہ مرزا، تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے کمالات کی جامعیت کا مدعی ہے، اور چونکہ اس کو اولوالعزم رسولوں سے افضلیت کا دعویٰ ہے اس لئے ”اس کے تخت کا سب سے اونچا ہونا“ اس کے معنی اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس الہام میں اس کو تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل قرار دیا گیا۔ نعوذ باللہ ۔ استغفر اللہ ۔

فخر اولین و آخرین

روزنامہ الفضل قادیان مسلمانوں کو للکارتے ہوئے کہتا ہے : ”اے مسلمان کہلانے والو! اگر تم واقعی اسلام کا بول بالا چاہتے ہو اور باقی دنیا کو اپنی طرف بلاتے ہو تو پہلے خود سچے اسلام کی طرف آجاؤ (یعنی مسلمانوں کا اسلام جھوٹا ہے۔ نعوذ باللہ ، ناقل) جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) میں ہو کر ملتا ہے ، اس کے طفیل آج بر و تقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں، اس کی پیروی سے انسان فلاح و نجات کی منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہے وہ وہی فخر اولین و آخرین ہے، جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا۔ “

(الفضل قادیان ۔ ۲۶ ستمبر ۱۹۱۷ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۲۱۱ ص ۲۱۲ طبع

نہم ۔ لاہور)

صفحہ 336

پہلے محمد رسول اللہ سے بڑھ کر

”اور جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے، جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی، پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا، بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان پہلوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے بلکہ چودھویں رات کی طرح ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ۱۸۱ روحانی خزائن ص ۲۷۱ ج ۱۶)

امام اپنا عزیزو اس جہاں میں غلام احمد ہوا دارالاماں میں
غلام احمد ہے عرش رب اکبر مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار بدر قادیاں ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۳۴۶)

ہلال اور بدر کی نسبت

”اور اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا، اور مقدر تھا کہ انجام کار آخری زمانہ میں بدر (چودھویں کا چاند) ہو جائے، خدا تعالیٰ کے حکم سے پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے جو شمار کے رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو (یعنی چودھویں صدی) ۔ “

(خطبہ الہامیہ ص ۱۸۴، روحانی خزائن ص ۲۷۵ ج ۱۶)

صفحہ 337

سے خارج قرار دیتا۔ لیکن ان کی بعثت ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک اور آیات اللہ سے استہزا ہے۔ حالانکہ خطبہ الہامیہ میں حضرت مسیح موعود نے آنحضرت کی بعثت اول و ثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے۔“

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۱۵ء

بحوالہ قادیانی مذہب ص ۲۶۲)

بڑی فتح مبین

”اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانے میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی جو کہ پہلے غلبہ سے بہت زیادہ بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا وقت ہو۔“

(خطبہ الہامیہ ص ۱۹۳-۱۹۴ روحانی خزائن ص ۲۸۸ ج ۱۶)

روحانی کمالات کی ابتدا اور انتہا

(یعنی پہلی بعثت میں) اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا ابتدا تھا، بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔“

(خطبہ الہامیہ ص ۱۷۷ روحانی خزائن ص ۲۶۶ ج ۱۶)

محمد عربی کا کلمہ پڑھنے والے کافر

”اب معاملہ صاف ہے اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا

صفحہ 338

انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“

(کلمتہ الفصل ص ۱۴۶۔ ۱۴۷ مندرجہ ریویو آف ریلیجنز۔

مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء)

”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰؑ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰؑ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰؑ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا، اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمتہ الفصل ص ۱۱۰ مرزا بشیر احمد۔ ایم اے ۔ )

”تحریک احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ تھا۔“

(محمد علی لاہوری قادیانی۔ منقول از مباحثہ راولپنڈی ص ۲۴۰)

”کل مسلمان، جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ۳۵ از مرزا محمود احمد قادیانی)

”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا کے ایک نبی کے منکر ہیں یہ دین کا معاملہ ہے، اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“

(انوار خلافت ص ۹۰ از مرزا محمود احمد قادیانی)

☆☆

قارئین کرام ان حوالہ جات کو دیکھ کر محسوس کر سکتے ہیں کہ ان عبارتوں میں مرزا غلام احمد قادیانی نے انبیاء کرامؑ سے افضل ہونے کا دعویٰ کیا ہے‘ دنیا کی کسی عدالت میں ان عبارتوں کو (لکھنے والے کا نام بتائے بغیر) رکھ دیجئے اور اس سے فیصلہ کرا لیجئے کہ ان عبارتوں میں انبیاء کرامؑ سے افضل ہونے کا دعویٰ پایا جاتا ہے یا نہیں؟ عدالت یہ کہنے پر

صفحہ 339

مجبور ہوگی کہ جس شخص کی یہ عبارتیں ہیں وہ انبیاء کرام پر اپنی فضیلت و برتری کا مدعی ہے ۔ لیکن مرزا طاہر اس دعویٰ کو مسلمانوں کی طرف منسوب کر کے اسے جھوٹ قرار دیتا ہے اور اس پر ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ کہتا ہے۔

ہماری گزارش یہ ہے کہ یہ دعویٰ اگر جھوٹ ہے تو یہ سیاہ جھوٹ خود مرزا طاہر کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کا تصنیف کردہ ہے۔ لہٰذا مرزا طاہر کو اگر ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ کی گردان کا شوق ہے تو وہ اپنے دادا ابا کا نام لے کر یہ شوق ضرور پورا فرما سکتے ہیں۔

خلاصہ:

قارئین کرام نے ملاحظہ فرمایا کہ مرزا طاہر نے جتنی باتیں مسلمانوں کی طرف منسوب کر کے ان کو جھوٹ کہا‘ اور ان پر لعنت کی گردان کی وہ سب کی سب خود ان کے گھر سے برآمد ہوئیں‘ اس لئے مرزا طاہر احمد صاحب بلقابہ خود جھوٹ کے مرتکب اور اپنی لعنت بازی کے خود مورد ہوئے۔

اس ناکارہ نے اپنی اس پوری تحریر میں اپنی طرف سے ان پر لعنت نہیں کی بلکہ یہ بتایا ہے کہ ان کی لعنت خود انہی پر لوٹتی ہے۔

ایک لطیفہ اور یاد دہانی:

مرزا طاہر احمد صاحب لعنت بازی کے عادی مریض ہیں‘ ان کی کوئی تحریر و تقریر مشکل ہی سے اس شغل سے خالی ہوا کرتی ہے‘ دراصل یہ ان کے خاندان کا۔ مراق کی طرح۔ موروثی مرض ہے‘ جو تین پشتوں سے مسلسل چلا آرہا ہے‘ اور اب یہ ”داء الکلب“ کی طرح مرزا طاہر کے رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے‘ جس سے بظاہر ان کا شفایاب ہونا مشکل نظر آتا ہے‘ والامر بیداللہ۔

اس ناکارہ نے ۱۸، ۱۹ سال پہلے انہیں مخلصانہ مشورہ دیا تھا کہ اول تو یہ اس ”لعنت بازی“ کا شغل ہی نہ فرمایا کریں‘ اور اگر اپنی ”خاندانی علت“ کی بنا پر مجبور ہوں تو کم سے

صفحہ 340

کم اپنے اوپر اتنا احسان ضرور کریں کہ لعنت بازی کیلئے قرآن حکیم کی آیت ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ نہ پڑھا کریں، کیونکہ وہ اس آیت شریفہ کو پڑھ کر دوسروں پر لعنت کرنے کی بجائے قرآن کریم کی زبان سے خود اپنے اوپر لعنت فرماتے ہیں۔ ان کے گھر میں لعنت کی پہلے بھی کچھ کمی نہیں، قرآن کی زبان سے اس میں مزید اضافہ نہ کیا کریں تو بہتر ہے۔ افسوس ہے کہ اس فقیر کی یہ خیر خواہانہ نصیحت مرزا طاہر پر کارگر نہ ہوئی، یہی وجہ ہے کہ ان کی یہ بیماری آج کل ”داء الکلب“ کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ مناسب ہوگا کہ یہاں اپنی انیس سال قبل کی نصیحت نقل کردوں، تاکہ اگر مرزا طاہر کو نہیں تو شاید ان کی جماعت کے کسی فرد کو نفع ہوجائے۔۔۔۔ وہو ہٰذا :

قادیانی تحفہ

جھوٹ، بہتان، افترا، اور لعنت کی گردان قادیانیوں کا خاص تحفہ ہے جو ان کی جانب سے عطا کیا جاتا ہے، مرزا طاہر احمد صاحب نے بھی اپنے ”تبصرہ“ میں یہ قادیانی تحفہ بڑی فیاضی سے مولانا بنوری کو عطا فرمایا ہے۔ جھوٹ اور بہتان تو خیر مرزا صاحب کے گھر کی دولت ہے، اس رواں صدی میں قادیان اور ربوہ اس دولت کے سب سے بڑے معدن ہیں، وہ ساری دنیا پر بھی اسے تقسیم کر دیں تب بھی ختم نہ ہوگی۔ جہاں جھوٹ اور افترا کے چشمے ابلتے ہوں وہاں دو چار چلو اگر راہ چلتوں پر بھی پھینک دیئے جائیں تو کیا کمی واقع ہوتی ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ، جھوٹی نبوت کا دعویٰ ہے، جو لوگ اس کو ہضم کر چکے ہوں۔ ظاہر ہے کہ جھوٹ ان کے گوشت، پوست میں سرایت کئے ہوئے ہوگا۔ اور انہیں ہر سو جھوٹ ہی جھوٹ نظر آئے گا۔

باقی رہی لعنت! تو یہ جھوٹ کا خاصہ لازمہ ہے، یہی وجہ ہے کہ مرزا آنجہانی کے گھر اس کی بھی بڑی فراوانی تھی، اور اس کی داد و دہش میں بھی وہ بڑے سخی تھے، دس دس، بیس بیس لعنتیں تو معمولی بات پر ان کا معمول تھا، اور کبھی موج میں آتے تو گن گن کر ہزار ہزار لعنتیں ایک سانس میں تقسیم کر کے اٹھتے، افسوس ہے کہ اس دولت کی تقسیم میں مرزا آنجہانی جیسی فیاضی اب مرزائی خاندان میں نہیں رہی، غالباً یہ دولت مرزا صاحب کے خاندان اور متعلقین میں تقسیم ہوکر رہ گئی، جناب مرزا طاہر احمد صاحب کو بھی حصہ رسدی ملی ہوگی، اس لئے انہوں نے مولانا بنوری کو اس کا عطیہ دینے میں اپنے جد

صفحہ 341

بزرگوار کی سی فیاضی کا مظاہرہ تو نہیں کیا، تاہم بخل سے بھی کام نہیں لیا۔ اپنی بساط اور مقدور کے موافق انہوں نے خوب لعنت برسائی ہے، دعا کرنی چاہئے کہ حق تعالیٰ ان کی اس خاندانی دولت میں دن دونی رات چوگنی ترقی فرمائے اور دنیا و آخرت میں انہیں اس بیش بہا دولت سے مالا مال رکھے۔

باران لعنت کے سلسلہ میں جناب مرزا طاہر احمد صاحب کو ایک بہت ہی مخلصانہ و نیاز مندانہ مشورہ دینا چاہتا ہوں۔ مشورہ ذرا دقیق سا ہے۔ امید ہے اس پر توجہ فرمائیں گے۔ مشورہ یہ ہے کہ وہ لوگوں پر لعنت برسانے کا شوق تو ضرور فرمایا کریں کہ یہ ان کا آبائی ترکہ ہے، اور کسی کو حق نہیں کہ انہیں اس میراث سے محروم کردے، مگر اس کے لئے قرآن کریم کی آیت لعنة الله علی الکاذبین نہ پڑھا کریں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ حدیث میں آتا ہے:

رب قاری قرآن والقرآن یلعنہ (مشکوٰۃ)

”بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ قرآن ان پر لعنت کرتا ہے“

اس حدیث کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ ایک شخص خود ظالم ہے اور وہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے پڑھتا ہے: الا لعنة الله علی الظالمین۔ (ظالموں پر خدا کی لعنت) تو در حقیقت وہ قرآن کی زبان سے خود اپنے آپ پر لعنت کر رہا ہے۔ اسی طرح ایک شخص خود جھوٹا ہے اور وہ آیت کریمہ لعنة الله علی الکاذبین پڑھتا ہے تو نا دانستہ اپنے پر لعنت کرتا ہے۔

یہ تو سب جانتے ہیں کہ مرزا آنجہانی کو نبی، مسیح، احمد، اور محمد رسول اللہ کہنا یکسر خلاف واقعہ ہے (اسی کو جھوٹ کہتے ہیں) اس لئے ان عقائد کے باوجود صاحبزادہ صاحب کا اس آیت کی تلاوت کرنا حدیث بالا کا مصداق ہے۔ بزعم خود وہ یہ دولت دوسروں کو تقسیم کرتے ہیں مگر یہ آیت خود ان کے حق میں اس دولت کے اضافہ کا باعث بنتی ہے۔ گویا صاحبزادہ صاحب اس آیت کو پڑھ کر خود اپنے اوپر بددعا کرتے ہیں میرے خیال میں یہ اچھی بات نہیں، امید ہے وہ یہ خیر خواہانہ مشورہ قبول کر کے آئندہ لعنة الله علی الکاذبین کا مورد بننے، بنانے سے احتراز فرمائیں گے، جتنی اب تک انہیں مل چکی ہے وہی بہت ہے۔

واللّٰہ یقول الحق وھو یھدی السبیل۔

PDF 342
PDF 343

مرزا قادیانی کے

وجوہِ ارتداد

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 344

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی

سب سے پہلے اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ اسلام ‘ اس دین کا نام ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی طرف سے پیش کیا۔

چنانچہ جو لوگ کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھ کر دین اسلام میں داخل ہونے کا عہد کرتے ہیں ان کو دین اسلام کی ان تمام باتوں کا ماننا لازم ہو جاتا ہے جن کی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی اور جن کا ثبوت قطعی تواتر سے ہوا ہے۔ ایسے امور کو ”ضروریات دین“ کہا جاتا ہے۔ پس تمام ” ضروریات دین“ کو ماننا شرط اسلام ہے اور ”ضروریات دین“ میں سے کسی ایک کا انکار کرنا دراصل کلمہ طیبہ کا انکار اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار ہے۔ اس لیے جو شخص ”ضروریات دین“ میں سے کسی ایک کا انکار کرے یا ان میں شک و شبہ کا اظہار کرے یا ان کے متواتر معنی و مفہوم کو تسلیم نہ کرے ایسا شخص مسلمان نہیں بلکہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے

وما كان لمؤمن ولا مومنة اذا قضى الله و رسولہ امراً ان يكون لهم الخيرة من امرهم و من يعص الله و رسولہ فقد ضل ضلالاً مبيناً

(الاحزاب آیت ۳۶)

اور کسی ایماندار مرد اور کسی ایماندار عورت کو گنجائش نہیں ہے جبکہ اللہ اور اس کا رسولؐ کسی کام کا حکم دے دیں کہ (پھر) ان کو ان (مومنین) کے اس کام میں کوئی اختیار (باقی)

صفحہ 345

ہے اور جو شخص اللہ کا اور اس کے رسولؐ کا کہنا نہ مانے گا وہ صریح گمراہی میں پڑا۔ (ترجمہ حضرت تھانوی)

دوسری جگہ ارشاد ہے فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجًا مماقضیت و یسلموا تسلیمًا (النساء ۶۵) پھر قسم ہے آپ کے رب کی۔ یہ لوگ ایماندار نہ ہوں گے جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جو جھگڑا واقع ہو اس میں یہ لوگ آپ کے تصفیہ سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پاویں اور پورا پورا تسلیم کر لیں۔

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں لو ان قومًا عبدواللہ تعالیٰ واقاموا الصلوة واتوا الزکوة وصاموا رمضان وحجوا البیت ثم قالوا لشیء صنعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الا صنع خلاف ماصنع لو وجدوا فی انفسہم حرجًا لکانوا مشرکین ثم تلا ھذہ الایۃ (روح المعانی‘ ص ۷۱ ج ۵‘)

اگر کوئی قوم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے‘ نماز کی پابندی کرے‘ زکوٰۃ ادا کرے۔ رمضان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے‘ پھر کسی ایسی چیز کے بارے میں‘ جس کا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے‘ یوں کہے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا۔ اس کے خلاف کیوں نہ کیا‘ اور اس کے ماننے سے اپنے دل میں تنگی محسوس کرے تو یہ قوم مشرکین میں سے ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ

صفحہ 346

علیہ وسلم قال امرت ان اقاتل الناس حتی یشھدوا ان لا الہ الا اللہ و یو منوابی وبما جئت بہ (صحیح مسلم ، ص ۳۷، ج ۱، مطبوعہ کراچی)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں۔ یہاں تک کہ وہ ”لا الہ الا اللہ“ کی گواہی دیں اور مجھ پر اور ان تمام باتوں پر ایمان لائیں جن کو میں لایا ہوں۔

امام محمد بن حسن الشیبانی ”السیر الکبیر“ میں فرماتے ہیں

ومن انکر شیاء من شرائع الاسلام فقد ابطل قول لا الہ الا اللہ (شرح السیر الکبیر ص ۳۶۵ ج ۴ طبع جدید)

جس نے اسلام کے احکام و قوانین میں سے کسی ایک کا انکار کیا اس نے ”لا الہ الا اللہ“ کے قول و قرار کو باطل کردیا۔

امام نجم الدین نسفی اپنے عقائد میں لکھتے ہیں

الایمان فی الشرع ھو التصدیق بما جاء بہ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من عند اللہ والا قرار بہ (شرح عقائد نسفی ص ۲۲۱ طبع کراچی)

شریعت میں ایمان نام ہے ان تمام امور کی تصدیق و اقرار کرنے کا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے۔

سلطان العلماء علی قاری شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں

الایمان ھو تصدیق النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالقلب فی جمیع ماعلم بالضرورة مجیئہ بہ من عند اللہ تعالیٰ (شرح فقہ اکبر، مطبوعہ مجتبائی دہلی)

ایمان ان تمام امور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دل

صفحہ 347

سے تصدیق کرنے کا نام ہے۔ جن کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہوا ہے کہ آپ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے۔

علامہ تفتازانی شرح مقاصد میں لکھتے ہیں اعنی تصدیق النبی صلی اللہ علیہ وسلم فیما علم مجیئہ بہ بالضرورۃ اے فیما اشتھر کونہ من الدین بحیث یعلمہ العامۃ من غیر افتقار الی نظر و استدلال

(شرح مقاصد ص ۲۳۷ ج ۲‘ دارالمعارف نعمانیہ لاہور)

ایمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کا نام ہے۔ ان تمام امور میں جن کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے لانا واضح طور پر معلوم ہے۔ یعنی ان کا دین اسلام میں داخل ہونا اس قدر مشہور ہے کہ عام لوگ بھی اس کو جانتے ہیں اور ان کے ثبوت میں کسی فکر استدلال کی ضرورت نہیں۔

فان الاقرار حینئذ شرط اجراء الاحکام علیہ فی الدنیا من الصلوۃ علیہ و خلفہ والدفن فی مقابر المسلمین و المطالبۃ بالعشور والزکوۃ و نحو ذالک (شرح مقاصد ص ۲۴۸)

جب ایمان کا نام یہ ہوا تو اسلام کی تمام باتوں کا اقرار کرنا کسی شخص پر اسلام کے دنیوی احکام جاری کرنے کے لیے شرط ہوگا۔ مثلاً اس کی نماز جنازہ پڑھنا۔ اس کے پیچھے نماز کا جائز ہونا۔ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا اور اس سے زکوٰۃ اور عشر کا مطالبہ کرنا وغیرہ وغیرہ۔

مندرجہ بالا تصریحات سے حسب ذیل امور معلوم ہوئے۔

اول جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے دین کو دل سے قبول کرتا ہو وہ مسلمان ہے۔

دوم دین اسلام کے قطعی و متواتر امور کو ”ضروریات دین“ کہتے ہیں‘

صفحہ 348

جو شخص ان میں سے کسی ایک کو نہ مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

سوم جو شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو مسلمان اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھیں گے۔ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں ہوگی۔ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا۔ اور اس کو اسلامی برادری میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

ان تمہیدی امور کے بعد ہم کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی بہت سے ” ضروریات دین“ کا انکار کرنے کی وجہ سے کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے‘ اور جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت میں شامل ہیں اور وہ مرزا کو اپنا روحانی و مذہبی پیشوا تسلیم کرتے ہیں چونکہ وہ اس کے تمام دعوؤں کو سچا سمجھتے ہیں اور اسکے الہامات کو وحی الٰہی مانتے ہیں اس لیے وہ بھی کافر و مرتد ہیں‘ خواہ لاہوری گروہ سے ہوں یا ربوہ کی جماعت سے اور چونکہ مرزا قادیانی نے اسلام کے قطعی اور مسلمہ نظریات سے انحراف کر کے امت مسلمہ سے خود علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ اس لیے اہل اسلام اس بات پر مجبور ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس پر ایمان رکھنے والوں کو خارج از اسلام قرار دیں۔ چنانچہ تمام اہل اسلام اس پر متفق ہیں کہ مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کیوں مرتد اور خارج از اسلام ہے؟

مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر و ارتداد اور خارج از اسلام ہونے کے وجوہ بے شمار ہیں مگر ہم بحث کو مختصر کرنے کے لیے مندرجہ ذیل چار وجوہات پر اکتفا کریں گے۔

عقیدہ کی رو سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ اور جو شخص آپ کے بعد نبوت و رسالت کا دعویٰ کرے یا مدعی نبوت کی تصدیق کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

دعویٰ کیا اور اسلامی عقیدہ کی رو سے ایسا دعویٰ سراسر کفر ہے۔

صفحہ 349

ذات میں جمع ہیں اور ایسا ادعا کفر ہے۔

السلام کی نہایت مکروہ الفاظ میں توہین کی ہے اور کسی نبی کی توہین کفر ہے۔

ذیل میں ہم ان چار نکات پر الگ الگ بحث کریں گے۔

مرزا قادیانی کے ارتداد کی پہلی وجہ

رسالت و نبوت کا دعویٰ

”نبی“ اسلام کا ایک مقدس اصطلاحی لفظ ہے۔ جس کا استعمال صرف انبیاء کرام علیہم السلام پر ہو سکتا ہے۔ چونکہ منصب نبوت حضرت خاتم النبین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو چکا ہے اس لیے جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ”نبی“ کا لفظ اپنے لیے استعمال کرے وہ اگر مجنوں اور دیوانہ نہیں تو کافر و مرتد ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے تحفہ قادیانیت ج اول ص ۱۰ تا ص ۴۹)

مرزا غلام احمد قادیانی نے نہ صرف نبی کا مقدس لفظ اپنے لیے استعمال کیا بلکہ کھل کر نبوت کا دعویٰ کیا نبوت کے تمام اوصاف و لوازم بھی اپنے لیے ثابت کیے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا

یہ بات ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے نبی ہونے کا قائل اور اپنے لیے عہدۂ نبوت کا مدعی ہے اور عہدۂ نبوت کے لوازم کے طور پر مندرجہ ذیل امور اپنے لیے ثابت کرتا ہے۔

صفحہ 350

ذیل میں مرزا غلام احمد کی کتابوں سے مندرجہ بالا نکات کا علی الترتیب ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔

ا۔ دعویٰ نبوت کا اعلان

البلاء ص ۱۱‘ روحانی خزائن ج ۱۸‘ ص ۲۳۱)

معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لیے اس کا نام پاکر اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ۶۔۷۔ روحانی خزائن ج ۱۸‘ ص ۲۱۱۔ مجموعہ اشتہارات ص ۴۳۵۔ ۴۳۶ ج ۳۔ النبوۃ فی الاسلام ص ۳۱۰۔ حقیقۃ النبوۃ ص ۲۶۳)

ہے‘ خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بڑھ کر ہو‘ اور اس میں پیش گوئیاں بھی کثرت سے

صفحہ 351

ہوں، اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے، پس ہم نبی ہیں، ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں۔"

آگے لکھا ہے

"بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے جب سے موسوی دین کی شوکت و صداقت کا اظہار ہوتا، پس وہ نبی کہلائے یہی حال اس سلسلہ (احمدیہ) میں ہے" (ملفوظات مرزا قادیانی طبع ربوہ، ج ۱۰، ص ۱۲۷)

ہوں، یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے اور میں خدا کا ظلی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور مسیح موعود ماننا واجب ہے۔" (تحفۃ الندوہ، ص ۷، روحانی خزائن ج ۱۹، ص ۹۵)

ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔" (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۶۸، روحانی خزائن ص ۵۰۳ ج ۲۲)

اللہ رکھا ہے۔" (نزول المسیح ص ۴۸، روحانی خزائن ص ۴۷۷ ج ۱۸)

۲۔ خدا کی طرف سے مبعوث کیے جانے کا اقرار

انبیاء کرام علیہم السلام دعویٰ نبوت کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کیا گیا (یعنی بھیجا گیا) ہے۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے الہامات اور تحریروں میں

صفحہ 352

سینکڑوں جگہ اعلان کیا ہے کہ اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بعہدہ نبوت مبعوث کیا گیا ہے۔ یہاں چند حوالے درج کئے جاتے ہیں۔ جن میں یہ اعلان وحی الٰہی کے حوالہ سے کیا گیا ہے۔

علی الدین کله (مرزا کا الہام)

”خدا وہ خدا ہے جس نے اپنا رسول اور اپنا فرستادہ اپنی ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو ہر قسم کے دین پر غالب کرے۔“

(حقیقتہ الوحی ص ۷۱۔ روحانی خزائن ج ۲۲‘ ص ۷۴۔ تذکرہ ص ۴۵۔ ۷۵۔ ۲۳۸۔ ۲۷۳۔ ۳۵۲۔ ۳۶۷۔ ۳۸۷۔ ۴۸۹۔ ۶۰۷۔ ۶۰۹۔ ۶۱۸۔ طبع ۴‘ ربوہ)

اس میں ایسے الفاظ رسول اور رسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ‘ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ مکالمات الہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے۔

هو الذی ارسل رسوله بالھدی و دین الحق ليظهره علی الدین کله دیکھو براہین احمدیہ اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ (مجموعہ اشتہارات ص ۴۳۱‘ ج ۳۔ ایک غلطی کا ازالہ ص ۲۔ روحانی خزائن ص ۲۰۶‘ ج ۲۲۔ النبوة فی الاسلام ص ۳۰۔ حقیقتہ النبوة ص ۲۶۱)

”اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود

صفحہ 353

اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق یظھرہ علی الدین کلہ " (اعجاز احمدی‘ ص ۷۔ روحانی خزائن ص ۱۱۳‘ ج ۱۹)

۹/۴۔ وان یتخذونک الا ھزواً اھذا الذی بعث اللہ (مرزا کا الہام) اور تجھے انہوں نے ٹھٹھے کی جگہ بنا رکھا ہے۔ وہ ہنسی کی راہ سے کہتے ہیں۔ کیا یہی ہے جس کو خدا نے مبعوث فرمایا حقیقۃ الوحی ص ۸۱ روحانی خزائن ص ۸۴ ج ۲۲ (تذکرہ طبع ۴ ربوہ ص ۸۹۔ ۱۸۶۔ ۲۴۰۔ ۲۷۷۔ ۳۶۲۔ ۳۶۹۔ ۳۸۸۔ ۳۸۷۔ ۶۳۹)

۱۰/۴۔ وقالوا ان ھذا الا اختلاق الم تعلم ان اللہ علی کل شئی قدیر یلقی الروح علی من یشاء من عبادہ ”اور کہیں گے کہ یہ تو ایک بناوٹ ہے۔ اے معترض کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر ایک بات پر قادر ہے۔ جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اپنی روح ڈالتا ہے یعنی منصب نبوت اس کو بخشتا ہے۔ (حقیقۃ الوحی ص ۹۵۔ روحانی خزائن ص ۹۹‘ ج ۲۲۔ تذکرہ ص ۶۵۱ طبع ۴ ربوہ)

۱۱/۵۔ انا ارسلنا الیکم رسولاً شاھداً علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولاً ”ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے۔ اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ (حقیقۃ الوحی ص ۱۰۱۔ روحانی خزائن ص ۱۰۵۔ ج ۲۲۔ تذکرہ طبع ۴ ربوہ ص ۶۱۰ ۔ ۶۱۲ ۔ ۶۵۷)

۱۲/۶۔ لاہوری جماعت کے بانی و امیر اول جناب محمد علی صاحب مرزا غلام احمد کے نبی کی حیثیت سے مبعوث ہونے کا

صفحہ 354

اعلان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

سورہ الجمعہ میں آیا ہے۔

ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم ایاتہ ویزکیھم و یعلمھم الکتاب و الحکمة و ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین و آخرین منھم لما یلحقوا بھم و ھو العزیز الحکیم

ترجمہ : خدا تو وہ ہے کہ جس نے امی لوگوں میں یہ رسول مبعوث کیا کہ انہیں اس کی آیات سنائے اور انہیں پاک بنائے اور کتاب و حکمت کی ان کو تعلیم دے گو وہ پہلے عیاں طور پر غلطی میں پڑے ہوئے تھے اور نیز آخری زمانہ میں ایک ایسی قوم ہو گی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئی۔ وہ قوم بھی انہی لوگوں کے ہمرنگ ہو گی اور ان میں بھی اسی طرح نبی مبعوث ہو گا جو انہیں خدا کی آیات سنائے گا۔ اور انہیں پاک بنائے گا اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے گا۔ اور خدا غالب اور حکمت والا ہے۔“

(ریویو آف ریلیجنز ص ۹۶‘ ج ۶۔ مارچ ۱۹۰۷ء)

”آیت کریمہ میں جن لوگوں کے درمیان اس فارسی الاصل نبی کی بعثت لکھی ہے انہیں آخرین کہا گیا ہے اور یہی وہ لفظ ہے جو بعینہ یا جسکے مترادف الفاظ ان تمام پیشگوئیوں میں لکھے ہوئے ہیں جو مسیح موعود کے نزول کے متعلق ہیں۔ (ایضاً)

۷/۱۴۔ ان تمام حوالوں میں بعثت سے مراد بعثت بمعنی نبوت ہے‘ چنانچہ لاہوری جماعت کے امیر اول محمد علی صاحب لکھتے ہیں۔

”گذشتہ بحث میں قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ زمانہ بعثت مصلح آخر الزمان یہی ہے اور ”مسیح و مہدی اور شخص فارسی الاصل“

صفحہ 355

وغیرہ سب اسی مصلح کے نام ہیں، اور ٹھیک وقت پر حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر دعویٰ بھی کر دیا ہے۔"

(ریویو آف ریلیجنز ص ۹۷، ج ۶ نمبر ۳۔ مارچ ۱۹۰۷ء)

۳۔ اپنے لیے لفظ نبی کا استعمال

بن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اسکو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔" (حقیقۃ الوحی ص ۱۵۰۔ ۱۴۹۔ روحانی خزائن ص ۱۵۴۔ ۱۵۳۔ ج ۲۲)

امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا۔ اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔" (حقیقت الوحی ص ۳۹۱۔ روحانی خزائن ص ۴۰۶، ج ۲۲)

میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا

صفحہ 356

ہے ۔“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ۶۸۔ روحانی خزائن ص ۵۰۳ ج ۲۲)

صرف اس نبوت کا دروازہ بند ہے جو احکام و شریعت جدیدہ ساتھ رکھتی ہو یا ایسا دعویٰ ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے الگ ہو کر دعویٰ کیا جائے لیکن ایسا شخص جو ایک طرف اس کو خدا تعالیٰ اس کی وحی میں امتی بھی قرار دیتا ہے پھر دوسری طرف اس کا نام نبی بھی رکھتا ہے۔ یہ دعویٰ قرآن شریف کے احکام کے مخالف نہیں ہے۔

ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ۵ روحانی خزائن جلد ۲۱ ص ۳۵۲

۴۔ وحی نبوت کا اعلان

مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کا بھی برملا اعلان کیا ہے کہ اس پر جو وحی نازل ہوتی ہے وہ وحی نبوت ہے۔ چنانچہ اپنے رسالہ اربعین میں وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جھوٹا مدعی نبوت ہلاک کیا جاتا ہے۔ اس پر ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے۔ اب اس کے مقابل یہ پیش کرنا کہ اکبر بادشاہ نے نبوت کا دعویٰ کیا روشن دین جالندھری نے دعویٰ کیا یا کسی اور شخص نے دعویٰ کیا اور وہ ہلاک نہیں ہوئے۔ یہ ایک دوسری حماقت ہے جو ظاہر کی جاتی ہے۔ بھلا اگر یہ سچ ہے کہ ان لوگوں نے نبوت کے دعوے کئے اور تیس برس تک ہلاک نہ ہوئے۔ تو پہلے ان لوگوں کی خاص تحریر سے ان کا دعویٰ ثابت کرنا چاہئے اور وہ الہام پیش کرنا چاہئے جو الہام انہوں نے خدا

صفحہ 357

کے نام پر لوگوں کو سنایا یعنی یہ کہا کہ ان لفظوں کے ساتھ میرے پر وحی نازل ہوئی ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اصل لفظ ان کی وحی کے کامل ثبوت کے پیش کرنے چاہئیں کیونکہ ہماری تمام بحث وحی نبوت ہے۔ جس کی نسبت یہ ضروری ہے کہ بعض کلمات پیش کرکے یہ کہا جائے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ہمارے پر نازل ہوا۔ غرض پہلے تو یہ ثبوت دینا چاہئے کہ کونسا کلام الٰہی اس شخص نے پیش کیا ہے جس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ پھر بعد اس کے یہ ثبوت دینا چاہئے کہ جو تئیس برس تک کلام الٰہی اس پر نازل ہوتا رہا وہ کیا ہے۔ یعنی کل وہ کلام جو کلام الٰہی کے دعوے پر لوگوں کو سنایا گیا ہے‘ پیش کرنا چاہئے جس سے پتہ لگ سکے کہ تئیس برس تک متفرق وقتوں میں وہ کلام اس غرض سے پیش کیا گیا تھا کہ وہ خدا کا کلام ہے یا ایک مجموعی کتاب کے طور پر قرآن شریف کی طرح اس دعوے سے شائع کیا گیا تھا کہ یہ خدا کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا ہے۔ جب تک ایسا ثبوت نہ ہو تب تک بے ایمانوں کی طرح قرآن شریف پر حملہ کرنا اور آیت لو تقول کو ہنسی ٹھٹھے میں اڑانا ان شریروں کا کام ہے جن کو خدائے تعالیٰ پر بھی ایمان نہیں اور صرف زبان سے کلمہ پڑھتے اور باطن میں اسلام سے بھی منکر ہیں۔ (اربعین ۴۔۳ ص ۱۱‘ روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۴۷۷)

مرزائی وحی واجب الایمان

مرزا قادیانی اپنی وحی کو توریت، انجیل اور قرآن کی طرح مقدس اور یقینی سمجھتا ہے۔ اس پر ایمان لانے کو فرض اور اس میں شک و شبہ کے اظہار کو کفر قرار دیتا ہے۔ بے شمار حوالوں میں سے مندرجہ ذیل چند عبارتیں ملاحظہ فرمائیے۔

صفحہ 358

۱۹ الف۔ ”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ تورات اور انجیل، قرآن کریم پر۔“ (اربعین جلد ۴ ص ۲۵)

آنچہ من بشنوم ز وحی خدا
بخدا پاک دانمش ز خطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطا ہا ہمیں است ایمانم
بخدا ہست ایں کلام مجید
از دہان خدائے پاک وحید
آں یقینے کہ بود عیسیٰ را
بر کلامے کہ شد بر و القا
واں یقین کلیم بر تورات
واں یقین ہاے سید السادات
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

سمجھتا ہوں۔

صفحہ 359

ہے۔ (در ثمین ص ۱۷۲‘ نزول المسیح ص ۹۹‘ روحانی خزائن جلد ۱۸ ص ۴۷۷)

ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی ۔ جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے ۔ اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا کلام نازل کیا تھا ۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ۸‘ روحانی خزائن جلد ۱۸

ص ۲۱۰‘ ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام ص ۳۱۰‘ حقیقۃ النبوۃ

ص ۲۴۶‘ مجموعہ اشتہارات ص ۴۳۵ جلد ۳)

مرزا قادیانی کی وحی کی جو صفات ہم نے اوپر کے عنوانات کے تحت باحوالہ ذکر کی ہیں ۔ ان کو دیکھنے کے بعد کسی دانش مند کو ایک لمحہ کے لئے بھی اس میں شک و شبہ نہیں رہ جاتا کہ مرزا قادیانی وحی نبوت‘ وحی شریعت اور وحی معصوم کا مدعی ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری سمجھتا ہے ۔ انصاف کیجئے کہ اس کے باوجود یہ کہنا کہ مرزا نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا‘ کہاں تک قرین عقل ہے ۔

ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے ۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے ۔ ایسا ہی اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا ۔ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے ۔ اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر ۔ یہ تو ممکن ہے کہ کلام

صفحہ 360

الہام کے معنی کرنے میں بعض مواقع ہیں۔ ایک وقت تک مجھ سے خطا ہو جائے مگر یہ ممکن نہیں کہ میں شک کروں کہ خدا کا کلام نہیں ہے۔“ (تجلیات الہیہ ص۲۰ طبع ربوہ‘ روحانی

خزائن جلد۲ ص۴۱۲)

رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“ (حقیقتہ الوحی‘ ص۱۵۰ روحانی خزائن

جلد۲۲ ص۱۵۴)

اعتراض کرنا موجب سلب ایمان ہے۔ (ملخص ملفوظات جلد۷

ص۳۲۶)

نزول وحی کی کیفیت

نزول وحی کے وقت انبیاء علیہم السلام پر ایک خاص کیفیت طاری ہوا کرتی ہے۔ مرزائی صاحبان مرزا صاحب کی وحی میں اس خاص کیفیت وحی کے بھی مدعی ہیں۔ چنانچہ مرزا صاحب پر نزول وحی کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے جماعت لاہور کے بانی و قائد اول مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں :

اپنے اندر وہ ربودگی کی حالت پیدا کرنا چاہتے ہیں جو نبی پر نزول وحی کے وقت منجانب اللہ طاری ہو جاتی ہے۔ خدا کے فضلوں میں سے جو سلسلہ میں شامل ہونے سے ہم لوگوں کو حاصل ہوئے ہیں‘ ایک یہ بڑا فضل ہے کہ آج ایسے امور کے لکھنے کے لئے ہمیں اٹکلوں سے کام نہیں لینا پڑتا بلکہ ان حالات کو ہم بچشم خود حضرت مسیح موعود کی ذات میں مشاہدہ کر

صفحہ 361

رہے ہیں۔ کوئی شخص جب اس سلسلے میں شامل نہیں۔ وہ دعویٰ سے اس مضمون پر قلم نہیں اٹھا سکتا کیونکہ وہ خود اس بات سے بے خبر ہے کہ نزول وحی کس طرح ہوتا ہے جاننا چاہئے کہ نزول وحی کے وقت عموماً انبیاء پر ایک حالت ربودگی کی طاری ہو جاتی ہے اگرچہ بعض وقت عین بیداری میں بھی نزول وحی یا مکاشفہ ہو جاتا ہے۔ اس ربودگی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ کا کلام پاک دوسرے عالم سے آتا ہے اس لئے جب تک اس طرف سے انقطاع کلی کر کے دوسرے عالم میں انسان اپنے آپ کو نہ پائے۔ اس وقت تک وہ دوسرے عالم کی حالت کو مشاہدہ بھی نہیں کر پا سکتا مگر یہ ربودگی کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ وہ معمولی اسباب میں سے کسی سبب کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی۔ بلکہ یکایک ہی یہ حالت آتی ہے اور جب نزول وحی ہو چکتا ہے تو پھر خود ہی وہ حالت جاتی رہتی ہے۔“

(مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور کا مضمون۔ بعنوان اسلام سپرچوئلزم اور مخفی سوسائٹی مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ج ۴ ص ۱۳۳۔ اپریل ۱۹۰۶ء)

اس چشم دید شہادت سے معلوم ہوا کہ مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور کے نزدیک مرزا صاحب پر بھی ایسی کیفیت سے وحی نازل ہوتی تھی جس طرح پہلے انبیاء کرام پر۔

نزول جبریل

انبیاء کرام پر وحی کا نزول بذریعہ جبریل علیہ السلام ہوتا ہے اور محمد علی لاہوری صاحب نے نزول جبریل کو وحی نبوت کا لازمی خاصہ قرار دیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:

۲۶/۱۔ ”انبیاء پر وحی نبوت جبریل کا لے کر آنا اور غیر نبی یا امتی پر نزول جبریل نہ ہونا امت محمدیہ میں ایک مسلم امر

صفحہ 362

ہے۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص ۲۸ مطبوعہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور ۱۹۷۴ء)

اب ملاحظہ فرمائیے کہ مرزا صاحب اپنے اوپر جبریل علیہ السلام کے نزول کے بھی مدعی ہیں۔

۲۷/۲۔ ” جاءنی اثیل و اختار و ادار اصبعہ و اشار‘ ان وعداللہ اتی‘ فطوبی لمن وجد ورائی

یعنی میرے پاس آئل آیا اور اس نے مجھے چن لیا‘ اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا‘ پس مبارک جو اس کو پاوے اور دیکھے۔

اس جگہ آئل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔ (حقیقۃ الوحی ص ۱۰۳‘ روحانی خزائن ص ۱۰۶ جلد ۲۲)

مرزا صاحب کے فرزند اکبر مرزا محمود احمد کا بیان ہے کہ:

۲۸/۳ ”میری عمر جب نو یا دس برس کی تھی میں اور ایک طالب علم ہمارے گھر میں کھیل رہے تھے۔ وہیں ایک الماری میں ایک کتاب پڑی تھی جس پر نیلا جزدان تھا۔ وہ ہمارے دادا صاحب کے وقت کی تھی۔ نئے نئے ہم پڑھنے لگے تھے۔ اس کتاب کو جو کھولا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ اب جبرائیل نازل نہیں ہوتا۔ میں نے کہا یہ غلط ہے‘ میرے ابا پر تو نازل ہوتا ہے مگر اس لڑکے نے کہا کہ جبرائیل نہیں آتا کیونکہ اس کتاب میں لکھا ہے۔ ہم میں بحث ہو گئی۔ آخر ہم دونوں مرزا صاحب کے پاس گئے اور دونوں نے اپنا اپنا بیان پیش کیا۔ آپ نے فرمایا کتاب میں غلط لکھا ہے۔ جبرائیل اب بھی آتا ہے۔“ (تقریر مرزا محمود بن مرزا قادیانی مندرجہ الفضل قادیان۔ جلد ۹ نمبر ۷۹‘ ص ۶‘ مورخہ ۱۰ اپریل ۱۹۲۲ء)

لاہوری جماعت کے بانی و قائد اول مسٹر محمد علی مرزا غلام احمد پر نزول

صفحہ 363

جبریل کے منکروں کو جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

۲۹/۴۔ ”جس طرح آج ایک مسلمان بلکہ مصلح کہلانے والا یہ کہتا ہے کہ جبرائیل کو ایسا کلام لانے کی ضرورت نہیں ہے‘ جو کسی انسان کے کلام میں پہلے سے موجود ہے۔ اسی طرح کفار کہتے تھے بلکہ آج تک ان کے وارث عیسائی صاحبان یہی کہتے ہیں کہ جب یہ قصے پہلے موجود تھے تو جبرئیل کی ان کو وحی الٰہی کے طور پر لانے کی کیا ضرورت تھی۔ مگر افسوس ان مسلمانوں پر جو حضرت مرزا صاحب کی مخالفت میں اندھے ہو کر انہی اعتراضوں کو دہرا رہے ہیں۔ جو عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے ہیں۔ بعینہ اسی طرح جس طرح عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں اندھے ہو کر ان اعتراضوں کو مضبوط کر رہے ہیں اور دہرا رہے ہیں۔ جو یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کرتے تھے‘ سچے نبی کا یہی ایک بڑا بھاری امتیازی نشان ہے کہ جو اعتراض اس پر کیا جائے گا وہ سارے نبیوں پر پڑے گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو شخص ایسے مامور من اللہ کو رد کرتا ہے وہ گویا کل سلسلہ نبوۃ کو رد کرتا ہے۔ اگر یہ لوگ کچھ سوچ سمجھ کر اعتراض کریں تو نہ آپ ٹھوکر کھائیں نہ دوسروں کو گمراہ کرنے والے ٹھہریں۔“ (ریویو

آف ریلیجنز جلد ۵ نمبر ۸‘ ص ۳۱۸‘ اگست ۱۹۰۶ء)

۵۔ مرزا صاحب کے معجزات

انبیاء کرام علیہم السلام میں ایک امتیاز یہ ہے کہ ان کے دعویٰ نبوت کو ثابت کرنے کے لئے ایسے امور ان کے ہاتھ پر ظاہر کئے جاتے ہیں جو انسانی قدرت سے خارج ہوں اور جنہیں دیکھ کر مخلوق کو ان کی صداقت و حقانیت اور منجانب اللہ ہونے کا یقین ہو جاتا ہے۔ اسلامی اصطلاح میں اسے نشان یا معجزہ کہتے ہیں۔ مرزا

صفحہ 364

صاحب لکھتے ہیں:

۱/۴۳۔ ”دنیا میں ہزاروں آدمی ہیں کہ الہام اور مکالمہ الہیہ کا دعویٰ کرتے ہیں مگر صرف مکالمہ الہیہ کا دعویٰ کچھ چیز نہیں ہے جب تک اس قول کے ساتھ جو خدا کا سمجھا گیا ہے۔ خدا کا فضل یعنی معجزہ نہ ہو۔“ (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۵۹‘ روحانی

خزائن جلد ۲۲ ص ۴۹۳)

چونکہ معجزہ نبوت کی خصوصیت ہے اس لئے جو شخص معجزہ نمائی کا دعویٰ کرے وہ درحقیقت نبوت کا مدعی ہے۔ اس لئے معجزہ نمائی کا دعویٰ کفر ہے۔

ملا علی قاری شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں :

” التحدی فرع دعوی النبوة و دعوی النبوة بعد نبینا صلی الله علیه وسلم کفر بالاجماع معجزہ دکھانے کا چیلنج کرنا فرع ہے۔ دعویٰ نبوت کی اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعویٰ نبوت بالاجماع کفر ہے۔

(شرح فقہ اکبر ص ۲۰۲)

اور قصیدہ بد الامالی کی شرح میں لکھتے ہیں :

” المعجزة شرطها دعوی النبوة بخلاف الكرامة حيث يقر صاحبها بالمتابعة فان الولى يخرج بد عوى النبوة عن الاسلام فضلا عن الولاية بے شک معجزہ کے لئے دعویٰ نبوت شرط ہے۔ بخلاف کرامت کے کہ صاحب کرامت نبوت کا مدعی نہیں ہوتا۔ کیونکہ ولی نبوت کا دعویٰ کر کے صرف ولایت ہی سے نہیں بلکہ اسلام سے بھی خارج ہو جاتا ہے۔ (ضوء المعالی شرح قصیدہ بدالامالی

ص ۲۳)

مرزا صاحب کو بھی دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نبوت و رسالت کو ثابت کرنے کے لئے انہیں بے شمار معجزے عطا کئے ہیں‘ مرزا صاحب کی سینکڑوں

صفحہ 365

عبارتوں میں سے یہاں چند جملے نقل کئے جاتے ہیں جن سے ان کے معجزات کی شان و شوکت اور ان کی رسالت و نبوت کی عظمت کا اندازہ ہو سکے گا۔

۳۱/۲۔ ”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں‘ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا‘ اور شیطان کا معہ اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا۔ اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزار ہا نشان ایک جگہ جمع کر دیئے لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں‘ وہ نہیں مانتے۔“ (لاہوری نہیں مانتے اور قادیانی تشریعی نہیں مانتے اس لئے بقول مرزا کے دونوں فریق انسانوں میں سے شیطان ہیں۔) (چشمہ معرفت ص۳۱۷‘ روحانی خزائن جلد ۲۳ ص۳۳۲)

مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ جو زلزلے‘ طاعون اور دیگر آفات ان کے زمانے میں نازل ہوئیں وہ بھی ان کی رسالت و نبوت کا معجزہ اور نشان ہے۔ اس سلسلے میں بھی ان کے ایک دو اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔

۳۲/۳۔ ”خدا تعالیٰ کے تمام نبی اس بات پر متفق ہیں کہ عادت اللہ ہمیشہ سے اسی طرح پر جاری ہے کہ جب دنیا ہر ایک قسم کے گناہ کرتی ہے اور بہت سے گناہ ان کے جمع ہو جاتے ہیں تب اس زمانہ میں خدا اپنی طرف سے کسی کو مبعوث فرماتا اور کوئی حصہ دنیا کا اس کی تکذیب کرتا ہے‘ تب اس کا مبعوث ہونا شریر لوگوں کی سزا دینے کے لئے بھی جو پہلے مجرم ہو چکے ہیں‘ ایک محرک ہو جاتا ہے اور جو شخص اپنے گذشتہ گناہوں کی سزا پاتا ہے۔ اس کے لئے اس بات کا علم ضروری نہیں کہ اس زمانہ میں خدا کی طرف سے کوئی نبی یا رسول بھی موجود

صفحہ 366

ہے ۔" (حقیقۃ الوحی ص ۱۶۰‘ ۱۶۱‘ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۶۴۔۱۶۵)

زلزلہ اور دوسری آفات سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ اگرچہ اصل سبب ان پر عذاب نازل ہونے کا ان کے گزشتہ گناہ تھے۔ مگر یہ زلزلے ان کو ہلاک کرنے والے میری سچائی کا ایک نشان تھے۔ کیونکہ قدیم سنت اللہ کے موافق شریر لوگ کسی رسول کے آنے کے وقت ہلاک کئے جاتے ہیں۔ (حقیقۃ الوحی ص ۱۶۱‘ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۶۵)

تکذیب کے وقت دوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے ہیں جو اور ملکوں کے رہنے والے ہیں جن کو اس رسول کی خبر بھی نہیں جیسا کہ نوحؑ کے وقت میں ہوا۔ (یعنی وہی بات کہ کرے داڑھی والا‘ پکڑا جائے مونچھوں والا) (حقیقۃ الوحی ص ۱۶۱‘ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۶۵)

کی جاتی ہے‘ خواہ وہ تکذیب کوئی خاص قوم کرے یا کسی خاص حصہ زمین میں ہو‘ مگر خدا تعالیٰ کی غیرت عام عذاب نازل کرتی ہے۔" (حقیقۃ الوحی ص ۱۶۲‘ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۶۷)

میرے شامل حال ہے کہ میری اتمام حجت کے لئے اور اپنے نبی کریم کی اشاعت دین کے لئے خدا تعالیٰ نے وہ سامان مقرر کر رکھے ہیں کہ پہلے اس سے کسی نبی کو میسر نہیں آئے تھے۔" (حقیقۃ الوحی ص ۱۶۶‘ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۷۱)

زبردست نشانات کا ذخیرہ جمع کر دیا ہے اور ایسے ایسے اسباب

صفحہ 367

مہیا کر دیئے ہیں کہ اگر ایک لاکھ نبی بھی ان نشانات سے اپنی نبوت کا ثبوت کرنا چاہے تو کر سکے۔“ (ملفوظات جلد ۱۰ ص ۲۲۸

طبع ربوہ)

۳۸/۹۔ ”ان چند سطروں میں جو پیش گوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اول درجہ پر خارق عادت ہیں۔“

(براہین حصہ پنجم ص ۵۶‘ روحانی خزائن جلد ۲۱ ص ۷۲)

۳۹/۱۰۔ ”اور اگر خطوط بھی ان کے ساتھ شامل کئے جائیں جن کی کثرت کی خبر بھی قبل از وقت گمنامی کی حالت میں دی گئی تھی تو شاید یہ اندازہ ایک کروڑ تک پہنچ جائے گا مگر ہم صرف مالی امداد اور بیعت کنندوں کی آمد پر کفایت کرکے ان نشانوں کو تخمیناً ” دس لاکھ نشان قرار دیتے ہیں۔“ (براہین حصہ پنجم

ص ۵۸‘ روحانی خزائن جلد ۲۱ ص ۷۵)

لاہوری جماعت کے پہلے بانی و قائد جناب مسٹر محمد علی صاحب‘ مرزا صاحب کے معجزات کی تصدیق اور ان سے مرزا صاحب کی نبوت کا ثبوت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

۴۰/۱۱۔ ”ایسا ہی ایک نبی اس وقت بھی خدا تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔ لیکن لوگوں نے اسی طرح اس کا انکار کیا جیسا کہ پہلے نبیوں کا۔ کاش کہ یہ لوگ اس وقت غور کرتے اور سوچتے کہ کیا وہ نشان ان کو نہیں دکھلائے گئے جو کوئی انسان نہیں دکھلا سکتا اور کیا وہ اسی طرح پر گناہ سے نجات نہیں دیتا۔ جس طرح پہلے نبیوں نے دی اور ایک ہمہ علم اور ہمہ طاقت ہستی کے متعلق وہی یقین ان کے لئے دلوں میں نہیں پیدا کرتا جو پہلی امتوں میں پیدا کیا گیا۔ ایسا نبی مرزا غلام احمد قادیانی ہیں جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جو ہزاروں نشان اپنی تصدیق

صفحہ 368

میں دکھلا چکے ہیں۔" (ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ۷ ص ۲۴۸، جولائی ۱۹۰۴ء)

۴۱/۱۲۔ "بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے۔ اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے اور اب چاہے کوئی قبول یا نہ کرے۔" (تتمہ حقیقت الوحی ص ۱۳۶، روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۵۷۴)

۴۲/۱۳۔ "اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔" (تتمہ حقیقت الوحی ص ۱۳۷، روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۵۷۵)

یہاں ہمیں اس امر سے بحث نہیں کہ مرزا صاحب جن امور کو "معجزات" کے نام سے موسوم کرتے ہیں وہ واقعہ "معجزہ" ہیں بھی یا نہیں اور یہ کہ ان سے ان کی رسالت و نبوت ثابت بھی ہوتی ہے یا نہیں؟ یہاں محل غور صرف یہ امر ہے کہ مرزا صاحب کس طرح اصرار و تکرار کے ساتھ نبوت و رسالت کا دعویٰ کرتے ہیں پھر کس طرح اس کے لئے "وحی الٰہی" کا بارش کی طرح نازل ہونا بیان کرتے ہیں، پھر کس طرح تحدی کے ساتھ اپنی رسالت و نبوت کے ثبوت میں دنیا کے سامنے اپنے معجزات کی طویل فہرست پیش کرتے ہیں اور کس طرح ان معجزات میں تمام انبیاء کرام سے برتری اور فوقیت کا ادعا کرتے ہیں اور کس طرح اپنے کو تمام انبیاء کرام کے معیار پر بار بار پیش کرتے ہیں اور جماعت لاہور کے امیر کس طرح مرزا صاحب کے معجزات کو پیش کرکے ان کی نبوت پر استدلال کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مرزا صاحب نے سرے سے نبوت و رسالت کا دعویٰ درحقیقت کیا ہی نہیں، تو فرمائیے کہ وہ حقائق کی دنیا میں رہتا ہے؟

۶۔ اپنے کو نبی تسلیم کرانے کی دعوت

صفحہ 369

انبیاء کرام علیہم السلام لوگوں کو اپنی نبوت و رسالت کے ماننے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کی نقالی کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے سینکڑوں جگہ اپنی رسالت و نبوت کو منوانے کی دعوت دی ہے۔ چند حوالے ملاحظہ فرمائیں۔

(تذکرہ ص ۳۵۲ طبع ۴ ربوہ)

اور کہہ اے لوگو! میں تم سب لوگوں کی طرف خدا کا رسول ہو کر آیا ہوں۔

ارسلنا الی فرعون رسولاً (حقیقتہ الوحی ص ۱۰۱‘ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۰۵‘ تذکرہ طبع ۴ ربوہ ص ۶۱۰‘ ۶۱۲‘ ۶۵۷) ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے۔ اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔

مومنین (تذکرہ ص ۶۳۷ طبع ۴ ربوہ) کہہ خدا کی طرف سے نور اترا ہے سو تم اگر مومن ہو تو انکار مت کرو۔

راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“ (کشتی نوح ص ۵۶ روحانی خزائن جلد ۱۹ ص ۶۱)

پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیش گوئی کو پورا کر دے اور آخری اینٹ کے ساتھ بنا کو کمال تک پہنچا دے۔ پس میں وہی اینٹ ہوں۔۔۔۔۔۔ اور میں منعم علیہم گروہ میں سے فرد اکمل

صفحہ 370

کیا گیا ہوں۔ (خطبہ الہامیہ ص ۱۷۷۔۱۷۸ روحانی خزائن جلد ۱۶ ص ایضاً")

۷۔ مرزا صاحب معصوم ہیں؟

اسلامی عقیدہ کے مطابق حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا ایک خاص امتیاز یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی سے معصوم ہوتے ہیں۔ ٹھیک انہی کے طرز پر مرزا صاحب کو بھی معصوم ہونے کا دعویٰ ہے۔

من الفرقان تذکرہ ص ۶۷۴ طبع ۴"

اور میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور عنقریب میرے ہاتھ پر ظاہر ہو گا جو کچھ فرقان سے ظاہر ہوا۔

قرآن کریم مسلمانوں کی نہایت مقدس مذہبی کتاب ہے جسے خود مرزا صاحب کے پیرو بھی محفوظ عن الخطا سمجھتے ہیں اور مرزا صاحب اپنے تقدس کو قرآن کے مثل ثابت کرتے ہیں۔

طبع ۴ ربوہ)

ہم نے اس کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

یہ قرآن کریم کی آیت ہے، جسے مرزا صاحب نے معمولی تصرف کے ساتھ اپنی ذات پر چسپاں کیا ہے گویا جس طرح قرآن منزل من اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر خطا و خلل سے اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ ٹھیک وہی تقدس مرزا صاحب کو بھی حاصل ہے۔

(تذکرہ ص ۳۹۷۔۳۹۸ طبع ۴ ربوہ)

اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا یہ تو وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے۔

صفحہ 371

یہ بھی قرآن کریم کی آیت ہے جو مرزا صاحب نے اپنی ذات پر چسپاں کی ہے اور جس سے منشا یہ ہے کہ مرزا صاحب ہر خواہش نفس سے بھی معصوم ہیں۔

بمنزلۃ لا یعلمھا الخلق (تذکرہ ص ۱۰۸۔ ۳۶۳ طبع ۴ ربوہ) اور جو کچھ تو چاہے کر، میں نے تجھے بخشا، تو مجھ سے وہ منزلت رکھتا ہے جس کی لوگوں کو خبر نہیں۔

چونکہ مرزا غلام احمد نے اپنے آپ کو نبی معصوم کی حیثیت سے پیش کیا اس لئے مرزا کے زمانے میں ان کے امتی ان کو نبی معصوم ہی سمجھتے تھے۔

غیر عورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں دلواتے ہیں؟ جواب : (از حکیم فضل دین صاحب) وہ نبی معصوم ہیں۔ ان سے مس کرنا اور اختلاط منع نہیں بلکہ موجب رحمت و برکات ہے۔ (اخبار الحکم جلد ۱۱ نمبر ۱۳، مورخہ ۱۷ اپریل ۱۹۰۷ء)

صاحب) سے گناہ صادر ہوتا ہے یا نہیں؟ یہاں میں ڈائیٹل صاحب کے سوال کے جواب میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بالکل حق بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو شیطان کے تسلط سے محفوظ رکھتا ہے اور کبھی عمداً خدا کی نافرمانی کے مرتکب نہیں ہوتے۔ ایسا ہی حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) ہیں۔

(لاہوری جماعت کے امیر مولانا محمد علی صاحب کا مضمون : مندرجہ ریویو آف ریلیجنز جلد ۵ ص ۱۵۱، اپریل ۱۹۰۶ء)

دشمنوں کے حملوں سے معصوم، وہ تعلیم کی غلطیوں سے بھی معصوم ہوتے ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ۸۵، روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۱۷۱)

صفحہ 372

۵۴/۸۔ ”صحیح بخاری کی حدیث کہ بغیر عیسیٰ بن مریم (اور اس کی ماں) کے کوئی مس شیطانی سے محفوظ نہیں رہا۔۔۔۔۔ اس حدیث کے یہ معنی ہیں کہ تمام وہ لوگ جو بروزی طور پر عیسیٰ بن مریم کے رنگ میں ہیں ۔۔۔۔۔ وہ سب معصوم ہیں۔

(تحفہ گولڑویہ ص ۲۲۲‘ روحانی خزائن ص ۳۰۸ جلد ۱۷)

۸۔ نہ ماننے والوں کو مجرم ٹھہرانا

۵۵/۱۔ ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“ (مرزا کا الہام تذکرہ ص ۳۴۶ طبع ۴ ربوہ‘ مجموعہ اشتہارات ص ۲۷۵ جلد ۳ کلمتہ الفضل ص ۱۲۹)

۵۶/۲۔ ”جو شخص خدا کی باتیں نہیں سنتا‘ وہ دوزخی ہوتا ہے۔“ (مرزا کا الہام۔ تذکرہ ص ۴۶۵ طبع ۴ ربوہ)

۵۷/۳۔ ”جو شخص اس کشتی میں سوار ہو گا وہ غرق ہونے سے نجات پا جائے گا اور جو انکار میں رہے گا اس کے لئے موت درپیش ہے۔“ (مرزا کا الہام۔ تذکرہ ص ۱۶۸ طبع ۴ ربوہ‘ فتح اسلام ص ۴۲۔۴۳‘ روحانی خزائن جلد ۳ ص ۲۴۔۲۵)

۵۸/۴۔ ”اور فی الحقیقت دو شخص بڑے ہی بدبخت ہیں۔ اور انس و جن میں سے ان جیسا کوئی بھی بد طالع نہیں۔ ایک وہ جس نے خاتم الانبیاء کو نہ مانا۔ دوسرا وہ جس نے خاتم الخلفاء (مرزا) پر ایمان نہ لایا۔ (الہدیٰ ص ۵‘ روحانی خزائن جلد ۱۸ ص ۲۵۰)

۵۹/۵۔ ”اور تمام ناپاک فرقے جو اسلام میں مگر اسلام کی

صفحہ 373

حقیقت کے منافی ہیں۔ صفحہ ہستی سے نابود ہو کر ایک ہی فرقہ (قادیانی) رہ جائے گا۔ (تحفہ گولڑویہ ص ۴۱ روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۲۲۷)

جاوے گی اور خدا اپنے منہ سے اس فرقہ کی حمایت کے لئے ایک قرنا بجائے گا اور اس قرنا کی آواز پر ہر ایک سعید اس فرقہ کی طرف کھینچا آئے گا۔ بجز ان لوگوں کے جو شقی ازلی اور دوزخ بھرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ (کلمتہ الفصل ص ۱۲۸، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۸۲ روحانی خزائن جلد ۲۱ ص ۱۰۸۔۱۰۹)

سے علیحدہ رہے گا‘ وہ کاٹا جائے گا۔ (مجموعہ اشتہارات جلد ۲ ص ۴۱۶)

۹۔ ماننے اور نہ ماننے والوں میں تفریق

جس طرح ہر نبی کی دعوت کو قبول کرنے اور نہ کرنے کے نتیجے میں دو فریق بن جاتے ہیں‘ اسی طرح مرزا غلام احمد نے بھی اپنے ماننے والوں کو‘ نہ ماننے والوں سے الگ فریق قرار دیا۔

مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“ (مرزا کا الہام : تذکرہ ص ۶۰۷ طبع ربوہ‘ کلمتہ الفصل ص ۱۲۵)

کہ یہ خدا کا فرستادہ‘ خدا کا مامور‘ خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔ (انجام آتھم ص ۶۲‘ روحانی خزائن جلد ۱۱

صفحہ 374

(ص ۶۲)

اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہیں۔ اس لئے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ پس یاد رکھو کہ جب خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ وہ کسی مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہیے کہ وہی تمہارا امام ہو جو تم میں سے ہو۔" (حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۱۸‘ روحانی خزائن ص ۶۴ جلد ۱۷)

سے باہر ہیں وہ دن بدن کم ہو کر اس سلسلہ میں داخل ہوتے جائیں گے یا نابود ہوتے جائیں گے۔ جیسا کہ یہودی گھٹتے گھٹتے یہاں تک کم ہو گئے کہ بہت ہی تھوڑے رہ گئے۔ ایسا ہی اس جماعت کے مخالفوں کا انجام ہو گا۔" (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۷۲‘ روحانی خزائن ص ۹۵ جلد ۲۱)

اشارہ فرماتا ہے کہ اس جگہ بھی میں ایسا ہی کروں گا کہ اسلام اور غیر اسلام میں روحانی غذا کا قحط ڈال دوں گا۔ اور روحانی زندگی کے ڈھونڈنے والے بجز اس سلسلہ (قادیانیت) کے کسی جگہ آرام نہ پائیں گے ۔۔۔۔۔ پس وہ لوگ جو اس روحانی موت سے بچنا چاہیں گے وہ اس بندۂ عالی (مرزا) کی طرف رجوع کریں گے۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۹۷‘ روحانی خزائن ص ۱۰۳ جلد ۲۱)

صفحہ 375

۶۷/۶۔ ”اور جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔ (نزول المسیح ص ۴ حاشیہ‘ روحانی خزائن ص ۳۸۲ جلد ۱۸)

۶۸/۷۔ ”جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا ۔۔۔۔۔ تو وہ مومن کیونکر ہو سکتا ہے۔ (حقیقت الوحی ص ۱۶۴‘ روحانی خزائن ص ۱۶۸ جلد ۲۲)

۶۹/۸۔ ”میں مسیح موعود ہوں ۔۔۔۔۔ پس جس شخص پر میرے مسیح موعود ہونے کے بارہ میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہو چکا ہے۔ اور میرے دعویٰ پر وہ اطلاع پا چکا ہے۔ وہ قابل مواخذہ ہو گا۔ (حقیقت الوحی ص ۱۷۸‘ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۸۴)

۷۰/۹۔ ” وبشر الذین امنو ان لھم قدم صدق عند ربھم اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے مومن صرف ان لوگوں کو کہا ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا) پر ایمان لے آتے ہیں حتی یمیز الخبیث من الطیب اس الہام میں دو گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ خبیث و طیب اور وہ دو گروہ مومنین اور منکرین کے ہیں۔ (کلمۃ الفصل ص ۱۴۱)

۷۱/۱۰۔ ”پس وہ شخص جو مسیح موعود کی طرف نہیں آتا وہ ایمان سے محروم ہے۔ (کلمۃ الفصل ص ۱۴۲)

۷۲/۱۱۔ ”یہ میری کتابیں جنہیں ہر مسلمان محبت و مودت سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعاوی کی تصدیق کرتا ہے مگر کنجریوں کی اولاد جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔ (ترجمہ۔ آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۷۔ ۵۴۸‘ روحانی خزائن جلد ۵ ص ایضاً)

صفحہ 376

۷۳/۱۲۔ ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ (انوار خلافت ص۹۰)

۷۴/۱۳۔ ”جنہوں نے حضرت مسیح موعود کو قبول نہیں کیا، کیونکہ وہ خدا کے نزدیک مغضوب ٹھہر چکے ہیں۔ (انوار خلافت ص۹۰)

۷۵/۱۴۔ ”واقعہ میں ہم آپ لوگوں (مسلمانوں) کو کافر کہتے ہیں۔ (انوار خلافت ص۹۲)

۷۶/۱۵۔ ”لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں (مسلمانوں) کو نہ دو۔ (انوار خلافت ص۹۴)

۷۷/۱۶۔ ”جو لوگ قادیان نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ رہتا ہے۔ (انوار خلافت ص۱۱۷)

۷۸/۱۷۔ ”دیکھو وہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اس سلسلہ کی دنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا اور یہ سلسلہ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں پھیلے گا۔ اور دنیا میں اسلام سے مراد یہی سلسلہ ہو گا۔ یہ باتیں انسان کی باتیں نہیں۔ یہ اس خدا کی وحی ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔ (تحفہ گولڑویہ طبع اول ص۵۶ ربوہ ص۹۶، خزائن جلد۱۷ ص۱۸۲)

۷۹/۱۸ ”امت محمدیہ کے تمام فرقوں میں نجات یافتہ فرقہ قادیانی ہے۔ (ملخص اربعین نمبر۳ ص۳۲، روحانی خزائن جلد۱۷ ص۴۲۱)

۸۰/۱۹۔ ” فامن و لا تکن من الکافرین (خطبہ الہامیہ ص۱۷۸ روحانی خزائن ص۲۶۷ جلد۱۶، مباحثہ راولپنڈی ص۲۴۰)

صفحہ 377

(تذکرہ ص ۶۱۔۹۶۔۱۰۳۔۳۶۶ طبع ۴ ربوہ‘ مباحثہ راولپنڈی ص ۲۳۰)

مومنین (مباحثہ راولپنڈی ص ۲۳۰‘ تذکرہ ص ۶۷۳ طبع ۴ ربوہ)

ص ۱۸۶۔۳۶۹۔۳۷۳۔۶۳۶ طبع ۴ ربوہ‘ مباحثہ راولپنڈی ص ۲۳۰)

راولپنڈی ص ۲۳۰)

ربوہ)

۱۰- مرزا قادیانی کی امت

میں بھی نہیں رہوں گا۔“ (ریویو ستمبر ۱۹۰۳ء) ریویو اکتوبر ۱۹۰۶ء جلد ۵ ص ۴۹۷) (مجموعہ اشتہارات جلد ۳ ص ۴۹۹)

گمراہ ہو گئی۔ اور موسوی سلسلہ کا خاتمہ ہوا۔ اگر میں بھی صرف مسیح ہوتا تو ایسا ہی ہوتا۔ لیکن میں مہدی اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بروز بھی ہوں۔ اس لئے ”میری امت“ کے دو حصے ہوں گے۔ ایک وہ جو مسیحیت کا رنگ اختیار کریں گے اور یہ تباہ ہو جائیں گے اور دوسرے وہ جو مہدویت کا رنگ اختیار کریں گے۔“ (اخبار الفضل قادیانی : جلد ۳ نمبر ۸۳‘

صفحہ 378

مورخہ ۲۶ جنوری ۱۹۱۶ء (قادیانی مذہب فصل ۴ نمبر ۳۳)

مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کے سلسلہ میں

آخری اور فیصلہ کن بات

مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت اس کے پہلے جانشین حکیم نور الدین کی وفات (مارچ ۱۹۱۴ء) تک ایک تھی۔ مارچ ۱۹۱۴ء میں مرزا قادیانی کے بڑے صاحبزادے مرزا محمود احمد قادیانی مرزا کے گدی نشین ہوئے اور جماعت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ ایک کا مرکز بدستور قادیان رہا، جس کی قیادت مرزا محمود کے ہاتھ میں تھی اور دوسرے فریق نے مسٹر محمد علی صاحب ایم اے کی قیادت میں اپنا مرکز احمدیہ بلڈنگس لاہور کو بنا لیا۔ اول الذکر کو "قادیانی جماعت" کہا جاتا ہے اور موخر الذکر "لاہوری جماعت" کہلاتی ہے۔ قادیانی جماعت مرزا غلام احمد قادیانی کو بغیر کسی جھجک کے "نبی" کہتی اور مانتی ہے اور لاہوری جماعت یہ تو تسلیم کرتی ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں نبی و رسول کا لفظ اپنے لئے بے شمار جگہ استعمال کیا ہے۔ مگر وہ یہ تاویل کرتی ہے کہ اس سے مراد حقیقی نبوت نہیں بلکہ مجازی نبوت ہے۔ ان دونوں فریقوں سے مرزا صاحب کی ٹھیک ترجمانی کون کرتا ہے۔

اختلاف سے پہلے

اس کا فیصلہ دو طریقے سے بڑی آسانی سے ہو سکتا ہے۔ اول یہ کہ یہ دیکھا جائے کہ اختلاف سے پہلے مرزا قادیانی کے پیرووں کا عقیدہ کیا تھا؟

محمد علی امیر جماعت لاہور کا عقیدہ

اس سلسلہ میں سب سے پہلے خود لاہوری جماعت کے قائد امیر اول جناب مسٹر محمد علی صاحب ایم اے کے متعدد حوالے گذشتہ سطور میں گزر چکے ہیں کہ وہ

صفحہ 379

مرزا صاحب کو نبی برحق مانتے تھے۔ ان کی وحی اور معجزات لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے۔ مرزا پر نزول جبریل کے قائل تھے۔ مرزا کے معصوم عن الخطا ہونے کا اعلان کرتے تھے اور مرزا صاحب کی جماعت کے بارے میں یہ صراحت کرتے تھے کہ :

جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ ہے۔“ (مباحثہ راولپنڈی

ص ۲۴۰)

پس جس طرح عیسائیت اختیار کر لینے کے بعد کوئی شخص یہودی نہیں کہلاتا۔ اسی طرح مرزائیت اختیار کرنے کے بعد کوئی شخص مسلمان نہیں کہلا سکتا۔

قادیانی میں مورخہ ۱۹۰۳/۵/۱۳ کو بطور گواہ استغاثہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ :

”مکذب مدعی نبوت کذاب ہوتا ہے۔ مرزا صاحب ملزم مدعی نبوت ہے اور اس کے مرید اس کے دعوے میں سچا اور دشمن جھوٹا سمجھتے ہیں۔ پیغمبر اسلام مسلمانوں کے نزدیک سچے نبی ہیں اور عیسائیوں کے نزدیک جھوٹے ہیں۔“ (مباحثہ راولپنڈی

ص ۲۷۲)

مسٹر محمد علی کے اس عدالتی بیان سے دو باتیں واضح ہیں۔ ایک یہ کہ مرزا صاحب مدعی نبوت ہے اور دوسرے یہ کہ جس طرح مسلمان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ”سچا نبی“ سمجھتے ہیں اسی طرح مرزا قادیانی کو ماننے والے اس کو سچا نبی مانتے ہیں۔

امیر جماعت لاہور محمد علی لاہوری کا ایک قول

“ the same relation to Islam in which

صفحہ 380

Christianity stood to Judaism."

ترجمہ: تحریک احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ ہے۔ (اقتباس از ”مباحثہ راولپنڈی“ مطبوعہ قادیان ص ۲۴۰)

حکیم نور دین کا عقیدہ

حکیم نور دین صاحب دونوں جماعتوں کے متفق علیہ خلیفہ اور پوری جماعت کے نمائندہ و ترجمان تھے، ان کا عقیدہ ملاحظہ ہو۔

لکھتے ہیں۔

”موسیٰ علیہ السلام کے مسیح کا منکر جس فتوے کا مستحق ہے۔ اس سے بڑھ کر خاتم الانبیاء کے مسیح کا منکر ہے۔ صلوٰۃ اللہ علیہم اجمعین۔ میاں صاحب! اللہ تعالیٰ مومنوں کی طرف سے ارشاد فرماتا ہے کہ ان کا قول ہوتا ہے لا نفرق بین احد من رسلہ اور آپ نے بلا وجہ یہ تفرقہ نکالا کہ صاحب شریعت کا منکر کافر ہو سکتا ہے اور غیر صاحب شرع کا کافر نہیں۔ مجھے اس تفرقہ کی وجہ معلوم نہیں۔ جن دلائل و وجوہ سے ہم لوگ قرآن کریم کو مانتے ہیں، انہیں دلائل و وجوہ سے ہمیں مسیح کو ماننا پڑا ہے۔ اگر دلائل کا انکار کریں تو اسلام ہی جاتا ہے۔“

(بدر ۱۸ جولائی ۱۹۰۷ء مباحثہ راولپنڈی ص ۲۷۱)

لاہوری جماعت کا عقیدہ و اعلان

حکیم نور دین صاحب کے زمانے میں لاہوری جماعت کے قائد اول مسٹر محمد علی ایم اے اپنے چند رفقاء کے ساتھ قادیان چھوڑ کر لاہور میں فروکش ہو گئے تھے اور یہاں احمدیہ بلڈنگ سے ایک اخبار ”پیغام صلح“ نکالنا شروع کیا تھا۔ کسی نے ان کی طرف سے یہ غلط فہمی پھیلا دی کہ پیغام صلح کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگ

صفحہ 381

(جو بعد میں لاہوری جماعت کہلائے) مرزا صاحب کو نبی و رسول نہیں سمجھتے۔ غالباً" حکیم صاحب کی طرف سے اس پر باز پرس ہوئی ہو گی۔ اس لئے اخبار "پیغام صلح" میں مندرجہ ذیل وضاحتی اعلان جاری کیا گیا۔

(ب) /۹۲۔ "ہم خدا کو شاہد کر کے اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے اور آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے اور ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو ،بفضلہ تعالیٰ چھوڑ نہیں سکتے۔

(اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ۷ ستمبر ۱۹۱۳ء)

اور اس کے چالیس دن بعد اعلان کیا گیا کہ :

(ج) /۹۳۔ "معلوم ہوا ہے کہ بعضے احباب کو کسی شخص نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا و ہادینا حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت سے اخبار پیغام صلح لاہور کے ساتھ تعلق ہے۔ خدائے تعالیٰ کو جو دلوں کا بھید جاننے والا ہے۔ حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں۔ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی پھیلانا محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی، رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں اور جو درجہ مسیح موعود نے اپنا بیان فرمایا ہے اس کو کم و بیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔"

(اخبار پیغام صلح لاہور ۱۶ اکتوبر ۱۹۱۳ء بحوالہ اخبار الفضل

قادیان ۱۴ دسمبر ۱۹۳۱ء)

صفحہ 382

اختلاف کے بعد

اختلاف کے بعد جب جماعت دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی تو جماعت کی اکثریت (جس کی تعداد ۹۹ فیصد تھی، النبوۃ فی الاسلام ص ۴۶۸) وہ بدستور مرزا کی نبوت کی قائل رہی اور اب تک قائل ہے اور ایک قلیل گروہ نے (جس کی تعداد ایک فیصد تھی) مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کر دیا اور اس کے نبوت کے دعووں میں تاویل کرنے لگی۔ اہل فہم انصاف کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے دعوے کی ٹھیک ترجمانی ان میں سے کون فریق کرتا ہے، آیا وہ فریق، جس کی تعداد ۹۹ فیصد ہے۔ جس کے بیشتر افراد مرزا کے صحبت یافتہ ہیں اور جن کی قیادت خود مرزا قادیانی کا بیٹا کر رہا ہے یا وہ جماعت جن کی تعداد ایک فیصد جو اپنے مرکز قادیان کو چھوڑ کر لاہور آبیٹھے۔ اور جس کے امیر کی حیثیت مرزا قادیانی کے ایک ملازم کی تھی؟ اگر تمام مباحث کو چھوڑ کر بہ نظر انصاف ان ہی دو نکتوں پر غور کر لیا جائے تو لاہوری جماعت کے دعوے کی حقیقت کھل جاتی ہے۔

مرزا کے ارتداد کی دوسری وجہ

حضرت مسیح علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ

اسلامی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام جلیل القدر صاحب شریعت رسول ہیں۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور یہ تین وجہ سے کفر ہے۔ اول یہ کہ اس سے مرزا کا دعویٰ نبوت ثابت ہوتا ہے۔ دوم اس لیے کہ اس سے مرزا کا صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ ثابت ہوتا ہے۔ تیسرے یہ کہ اس سے حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین ہوتی ہے اور تینوں باتیں کفر ہیں۔

کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔“ (دافع

البلاء ص ۱۳‘ روحانی خزائن جلد ۱۸ ص ۲۳۳)

صفحہ 383

پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“ (دافع البلاء ص۱۳‘ روحانی خزائن جلد۱۸ ص۲۳۳)

پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔۔۔۔۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے‘ کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں‘ وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں‘ وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔ (حقیقتہ الوحی ص۱۴۸‘ روحانی خزائن جلد۲۲ ص۱۵۲)

نبیوں نے آخری زمانے کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے۔ تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“ (حقیقتہ الوحی ص۱۵۵‘ روحانی خزائن جلد۲۲ ص۱۵۹)

ہے۔“ (دافع البلاء ص۲۰‘ روحانی خزائن جلد۱۸ ص۲۴۰‘ درثمین اردو ص۵۳)

میری جان ہے کہ اگر مسیح بن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں‘ وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“ (کشتی نوح ص۵۶‘ روحانی خزائن جلد۱۹ ص۶۰)

صفحہ 384

۷/۱۰۰۔ ”میں عیسیٰ بن مریم کو ہرگز ان امور میں اپنے اوپر کوئی زیادت نہیں دیکھتا، یعنی جیسے اس پر خدا کا کلام نازل ہوا ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا۔ اور جیسے اس کی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں میں یقینی طور پر ان معجزات کا مصداق اپنے نفس کو دیکھتا ہوں، بلکہ ان سے زیادہ اور یہ تمام شرف مجھے صرف ایک نبی کی پیروی سے ملا ہے جس کے مدارج اور مراتب سے دنیا بے خبر ہے۔“ (چشمہ مسیحی ص ۲۳‘ روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۳۵۴)

۸/۱۰۱۔ ”مجھے کہتے ہیں کہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیوں کیا مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس نبی کی کامل پیروی سے ایک شخص عیسیٰ سے بڑھ کر بھی ہو سکتا ہے۔ اندھے کہتے ہیں کہ یہ کفر ہے۔ میں کہتا ہوں کہ تم خود ایمان سے بے نصیب ہو۔ پھر کیا جانتے ہو کہ کفر کیا چیز ہے۔ کفر خود تمہارے اندر ہے۔ اگر تم جانتے کہ اس آیت کے کیا معنی ہیں کہ اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم تو ایسا کفر منہ پر نہ لاتے، خدا تو تمہیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ تم اس رسول کی کامل پیروی کی برکت سے تمام رسولوں کے متفرق کمالات اپنے اندر جمع کر سکتے ہو اور تم صرف ایک نبی کے کمالات حاصل کرنا کفر جانتے ہو۔“ (چشمہ مسیحی ص ۲۴‘ روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۳۵۵)

۹/۱۰۲۔ ”جو کامیابی اور اثر مسیح بن مریم کا ہوا وہ تو صاف ظاہر ہے اور جس کمزوری کے ساتھ انہوں نے زندگی بسر کی وہ انجیل کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتی ہے۔ مگر مسیح موعود جیسے اپنے زبردست اور قوت قدسیہ کے کامل اثر والے متبوع کا پیرو ہے۔ اسی طرح پر اس کی عظمت اور بزرگی کی شان اس

صفحہ 385

سے بڑھی ہوئی ہے۔ جو کامیابیاں اور نصرتیں اس جگہ خدا نے ظاہر کی ہیں۔ مسیح کی زندگی میں ان کا نشان نہیں۔ نہ معجزات میں، نہ پیش گوئیوں میں، نہ تعلیم میں۔ غرض جیسے آنحضرتؐ اپنے مثیل موسیٰ سے ہر پہلو میں بڑھے ہوئے تھے اور گویا آپ اصل اور موسیٰ آپ کا ظل تھے۔ اسی طرح مسیح موعود مسیح موسوی سے نسبت رکھتا ہے۔" (ملفوظات ص ۱۴۱ جلد ۴، لندن و ربوہ)

۱۰۳/۱۰۔ "خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور جو قرآن شریف کی آیتیں پیش گوئی کے طور پر حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب تھیں وہ سب آیتیں میری طرف منسوب کر دیں۔ اور یہ بھی فرما دیا کہ تمہارے آنے کی خبر قرآن و حدیث میں موجود ہے۔" (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۸۵، روحانی خزائن جلد ۲۱ ص ۱۱۱)

۱۰۴/۱۱۔ "اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح بن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے، اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی، اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔" (حقیقۃ الوحی ص ۱۵۰، روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۵۳)

۱۰۵/۱۲۔ "ہاں میں اس قدر جانتا ہوں کہ آسمان پر خدا تعالیٰ کی غیرت عیسائیوں کے مقابل پر بڑا جوش مار رہی ہے۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مخالف وہ توہین

صفحہ 386

کے الفاظ استعمال کئے ہیں کہ قریب ہے کہ ان سے آسمان پھٹ جائیں۔ پس خدا دکھلاتا ہے کہ اس رسول کے ادنیٰ خادم اسرائیلی مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہیں۔ جس شخص کو اس فقرہ سے غیظ و غضب ہو اس کو اختیار ہے کہ وہ اپنے غیظ سے مر جائے مگر خدا نے جو چاہا ہے کیا اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے کیا انسان کا مقدور ہے کہ وہ اعتراض کرے کہ ایسا تو نے کیوں کیا۔“ (حقیقۃ الوحی ص ۱۵۰‘ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۵۵)

۱۰۶/۱۳۔ ”اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ جب کہ مجھ کو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ایک خدمت سپرد کی گئی ہے اس وجہ سے کہ ہمارا آقا اور مخدوم تمام دنیا کے لئے آیا تھا تو اس عظیم الشان خدمت کے لحاظ سے مجھے وہ قوتیں اور طاقتیں بھی دی گئی ہیں جو اس بوجھ کے اٹھانے کے لئے ضروری تھیں اور وہ معارف اور نشان بھی دیئے گئے ہیں جن کا دیا جانا اتمام حجت کے لئے مناسب وقت تھا مگر ضروری نہ تھا کہ حضرت عیسیٰ کو وہ معارف اور نشان دیئے جاتے۔“ (حقیقۃ الوحی ص ۱۵۱‘ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۵۵)

۱۰۷/۱۴۔ ”پھر جس حالت میں یہ بات ظاہر اور بدیہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اسی قدر روحانی قوتیں اور طاقتیں دی گئی تھیں جو فرقہ یہود کی اصلاح کے لئے کافی تھیں تو بلاشبہ ان کے کمالات بھی اسی پیمانہ کے لحاظ سے ہوں گے۔ (حقیقۃ الوحی ص ۱۵۱‘ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۵۵)

۱۰۸/۱۵۔ ”پس اگر ہماری فطرت کو وہ قوتیں نہ دی جاتیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر سکتیں تو یہ حکم ہمیں ہرگز نہ ہوتا کہ اس بزرگ نبی کی پیروی کرو کیونکہ خدا تعالیٰ فوق الطاقت کوئی تکلیف نہیں

صفحہ 387

دیتا۔“ (حقیقتہ الوحی ص ۱۵۲‘ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۵۶)

۱۰۹/۱۶۔ ”خلاصہ کلام یہ کہ چونکہ میں ایک ایسے نبی کا تابع ہوں جو انسانیت کے تمام کمالات کا جامع تھا اور اس کی شریعت اکمل اور اتم تھی اور تمام دنیا کے اصلاح کے لئے تھی اس لئے مجھے وہ قوتیں عنایت کی گئیں جو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ضروری تھیں تو پھر اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے۔“ (حقیقتہ الوحی ص ۱۵۳‘ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۵۷)

۱۱۰/۱۷۔ ”اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔ (حقیقتہ الوحی ص ۱۵۳‘ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۵۷)

۱۱۱/۱۸۔ ”انسانی مراتب پردۂ غیب میں ہیں۔ اس بات میں بگڑنا اور منہ بنانا اچھا نہیں۔ کیا جس قادر مطلق نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا وہ ایسا ہی ایک اور انسان یا اس سے بہتر پیدا نہیں کر سکتا۔“ (حقیقتہ الوحی ص ۱۵۳‘ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۵۷)

۱۱۲/۱۹۔ ”خدا تعالیٰ کے کام مصلحت اور حکمت سے خالی نہیں۔ اس نے دیکھا کہ ایک شخص کو محض بے وجہ خدا بنایا گیا ہے جس کی چالیس کروڑ آدمی پرستش کر رہے ہیں۔ تب اس نے مجھے ایسے زمانہ میں بھیجا کہ جب اس عقیدہ پر غلو انتہا تک پہنچ گیا تھا اور تمام نبیوں کے نام میرے نام رکھے۔ مگر مسیح ابن مریم کے نام سے خاص طور پر مجھے مخصوص کر کے وہ میرے پر رحمت اور عنایت کی گئی جو اس پر نہیں کی گئی۔ تا لوگ

صفحہ 388

سمجھیں کہ فضل خدا کے ہاتھ میں ہے کہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔" (حقیقۃ الوحی ص ۵۳ ، روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۵۸)

نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے۔ تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح بن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔ عزیزو! جبکہ میں نے یہ ثابت کر دیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور آنے والا مسیح میں ہوں تو اس صورت میں جو شخص پہلے مسیح کو افضل سمجھتا ہے اس کو نصوص حدیثیہ اور قرآنیہ سے ثابت کرنا چاہئے کہ آنے والا مسیح کچھ چیز ہی نہیں۔ نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ حکم۔ جو کچھ ہے پہلا ہے۔ خدا نے اپنے وعدہ کے موافق مجھے بھیج دیا۔ اب خدا سے لڑو۔

(حقیقۃ الوحی ص ۱۵۵، روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۵۹)

مخالف خواہ عیسائی ہو خواہ بدظن مسلمان، میری پیش گوئیوں کے مقابل پر اس شخص کی پیش گوئیوں کو، جس کا آسمان سے اترنا خیال کرتے ہیں، صفائی اور یقین اور ہدایت کے مرتبہ زیادہ ثابت کر سکے تو میں اس کو نقد ایک ہزار روپیہ دینے کو تیار ہوں۔" (تذکرۃ الشہادتین ص ۴۱۔۴۲، روحانی خزائن

جلد ۲۰ ص ۴۲۔۴۳)

مسیح ابن مریم بنا کے دکھا دیا۔" (ملفوظات جلد ۵ ص ۱۵)

بھی اترا ہے، مگر اپنی تجلی میں اس سے زیادہ۔ وہ بھی بشیر تھا اور میں بھی بشیر ہوں۔" (حقیقۃ الوحی ص ۲۷۲، روحانی

صفحہ 389

(خزائن جلد ۲۲ ص ۲۸۶)

تیسری وجہ ارتداد

تمام انبیاء کرام سے افضل ہونے کا

دعویٰ

اسلامی عقیدے کی رو سے کوئی شخص جو نبی نہ ہو کسی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا اور جو شخص ایسا دعویٰ کرے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ شرح عقائد نسفی ص ۱۶۲ اور شرح قصیدۂ بد الامالی ص ۲۳۔ ۲۴ میں ہے۔

" ولا يبلغ ولى درجة الانبياء لان الانبياء معصومون مامونون من خوف الخاتمة مکرمون بالوحى و مشاهدة الملك مامورون بتبلیغ الاحکام و ارشاد الانام بعد الاتصاف بکمالات الاولیاء فما نقل عن بعض الکرامیة من جواز کون الولى افضل من النبى کفر و ضلال

اور کوئی ولی انبیاء کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ انبیاء کرام گناہوں سے معصوم‘ خوف خاتمہ سے مامون‘ وحی اور مشاہدہ ملائکہ سے مشرف اور تبلیغ احکام اور ہدایت مخلوق پر مامور ہوتے ہیں۔ پس یہ جو بعض کرامیہ سے نقل کیا گیا ہے کہ کسی ولی کا کسی نبی سے افضل ہونا جائز ہے۔ یہ کفر و ضلال ہے۔

مرزا کی مندرجہ ذیل عبارتوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ تمام انبیاء کرام کے کمالات کا جامع ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق ایسا دعویٰ کفر ہے۔

صفحہ 390

۱۱۷/۱۔ ”میری نسبت براہین احمدیہ حصص سابقہ میں یہ بھی فرمایا جری اللہ فی حلل الانبیاء یعنی رسول خدا تمام گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے پیرائیوں میں‘ اس وحی الہی کا مطلب یہ ہے کہ آدم سے لے کر اخیر تک جس قدر انبیاء علیہم السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں آئے ہیں خواہ وہ اسرائیلی ہیں یا غیر اسرائیلی ان سب کے خاص واقعات یا خاص صفات میں سے اس عاجز کو کچھ حصہ دیا گیا ہے اور ایک بھی نبی ایسا نہیں گذرا جس کے خواص یا واقعات میں سے اس عاجز کو حصہ نہیں دیا گیا۔ ہر ایک نبی کی فطرت کا نقش میری فطرت میں ہے۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۸۹‘ روحانی خزائن جلد ۲۱ ص ۱۱۶)

۱۱۸/۲۔ ”اور اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز مقدس نبی گذر چکے ہیں ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ سو وہ میں ہوں۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۹۰‘ روحانی خزائن جلد ۲۱ ص ۱۱۷۔۱۱۸)

۱۱۹/۳۔ ”اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ ہی نہیں رکھا بلکہ ابتداء سے انتہا تک جس قدر انبیاء علیہم السلام کے نام تھے وہ سب میرے نام رکھ دیئے۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۸۵‘ روحانی خزائن جلد ۲۱ ص ۱۱۲)

۱۲۰/۴۔ ”کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے وہ سب حضرت رسول کریمؐ میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریمؐ سے ظلی طور پر ہم کو عطا کئے گئے اور اسی لئے ہمارا نام آدم‘ ابراہیم‘ موسیٰ‘ نوح‘ داؤد‘ یوسف‘ سلیمان‘ یحییٰ‘ عیسیٰ وغیرہ ہے ۔۔۔۔۔ پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ نبی کریمؐ کی خاص خاص صفات میں اور

صفحہ 391

اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔“ (ملفوظات جلد ۳ ص ۲۷۰)

۱۲۱/۵۔ ”خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحٰق ہوں، میں اسمعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا مظہر اتم ہوں۔ یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔“ (حقیقۃ الوحی ص ۷۳ حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۷۷)

۱۲۲/۶۔ ”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکر کے درجہ پر ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔ (اشتہار معیار الاخیار، مجموعہ اشتہارات جلد ۳ ص ۲۷۸)

۱۲۳/۷۔ ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا اور ان کو انس و جن پر حاکم و سردار بنایا۔ ان کو شیطان نے گمراہ کیا اور جنت سے نکلوایا۔ اور یہ حکومت اسے مل گئی۔ اور آدم کو ذلت و خواری (معاذ اللہ) اس معرکہ میں نصیب ہوئی۔ جنگ ایک ڈول ہے۔ اتقیا کا انجام رحمٰن کے پاس ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو پیدا کیا تاکہ شیطان کو آخری زمانہ میں ہزیمت دی جا سکے۔“ (حاشیہ خطبہ الہامیہ ص ۳۱۲، روحانی خزائن جلد ۱۶ ص ایضاً“)

۱۲۴/۸۔ ”خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔ (تتمہ حقیقت الوحی ص ۱۳۷، روحانی خزائن

صفحہ 392

(جلد ۲۲ ص ۵۷۵)

۱۲۵/۹۔ ”پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۷۶‘ روحانی خزائن جلد ۲۱ ص ۹۹)

۱۲۶/۱۰۔ ”پہلے انبیاء کے معجزات تو خاص زمینوں اور خاص شہروں تک عموماً محدود ہوئے تھے۔ مگر اب تو خدا تعالیٰ ایسے نشان اس سلسلہ کی تائید میں ظاہر کرتا ہے جو دنیا بھر پر اپنا اثر ڈالتے ہیں۔“ (ملفوظات جلد ۷ ص ۳۳۶)

۱۲۷/۱۱۔ ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کی دو حدیں مقرر کر دی ہیں اور فرما دیا ہے کہ وہ امت ضلالت سے محفوظ ہے۔ جس کے اول میں میرا وجود اور آخر میں مسیح موعود ہے یعنی ایک طرف وجود باجود کی دیوار روئین ہے اور دوسری طرف وجود بابرکت مسیح موعود کی دیوار دشمن کش ہے ۔۔۔۔۔ آنحضرت نے ایسے لوگوں کو اپنی امت میں داخل نہیں سمجھا جو مسیح موعود کے زمانہ کے بعد ہوں گے۔ اور مسیح موعود کا زمانہ اس حد تک ہے جس حد تک اس کے دیکھنے والے یا دیکھنے والوں کے دیکھنے والے اور پھر دیکھنے والوں کے دیکھنے والے دنیا میں پائے جائیں گے اور اس کی تعلیم پر قائم ہوں گے۔ غرض قرون ثلثہ کا ہونا برعایت منہاج نبوت ضروری ہے۔ (تریاق القلوب ص ۱۵۶‘ روحانی خزائن جلد ۱۵ ص ۴۷۸)

۱۲۸/۱۲۔ ”میں علی الاعلان کہتا ہوں کہ اگر اس وقت مسیح ہوتے تو جس قدر عظیم الشان تائیدی نشان پیش گوئیوں کے رنگ میں اب خدا نے میرے ہاتھ پر صادر کئے ہیں وہ ان کو دیکھ کر شرمندہ ہو جاتے اور اپنی پیش گوئیوں کا ۔۔۔۔۔

صفحہ 393

مارے ندامت کے نام نہ لیتے۔ (ملفوظات جلد ۳ ص ۱۴۲)

کیونکہ میں نور محمدی کا قائم مقام ہوں۔“ (ملفوظات ص ۱۲۵ جلد ۳)

افضل قرار دیا۔ (ملفوظات جلد ۳ ص ۲۵۵)

کے وجود میں نظر نہیں آتا ----- مسیح محمدی مسیح موسوی سے افضل ہے ----- مسیح موعود سے مقابلہ کرنے میں بھی مسیح اپنی کامیابی اور بعثت کے لحاظ سے کم ہے۔ کیونکہ محمدی مسیح محمدی کمالات کا جامع ہے۔ (ملفوظات جلد ۳ ص ۳۶۵)

جلد ۳ ص ۲۸۳)

سے وہ پہلے آئے تو وہ کام نہ کر سکتے جو مسیح موعود کے لئے اللہ تعالیٰ نے ٹھہرایا ہے۔ ان کا دائرہ بہت تنگ اور چھوٹا تھا۔ اور مسیح موعود کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ان سب امور پر جب نگاہ کی جاوے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود ابن مریم سے بڑھا ہوا ہے۔“ (ملفوظات جلد ۳ ص ۳۷۹)

زیادہ ہے اور وہ کام جو میرے سپرد کیا گیا، اس (ابن مریم) کے کام سے بہت ہی بڑھ کر ہے ----- میں خدا سے ہوں اور مسیح مجھ سے ہے۔“ (ملفوظات ص ۳۳۰ جلد ۳)

اور میرے خدا کا فضل ان سے بڑھ کر مجھ پر ہے۔“ (ملفوظات

صفحہ 394

(جلد ۲ ص ۲۶۷)

مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر و ارتداد کی چوتھی وجہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین

اسلامی اصول کے مطابق کسی نبی کے حق میں ادنیٰ گستاخی بھی کفر ہے۔ امام قاضی عیاض مالکی ”الشفا“ میں لکھتے ہیں :

” و کذالک من امن بالواحدانیتہ و صحتہ النبوۃ و نبوۃ نبینا صلی اللہ علیہ وسلم و لکن جوز علی الانبیاء الکذب فیما اتوا بہ‘ ادعی فی ذلک المصلحۃ بزعمہ اولم یدعہا فھو کافر باجماع

اسی طرح جو شخص وحدانیت‘ صحت نبوت اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا قائل ہو‘ لیکن انبیاء کرام علیہم السلام کے حق میں جھوٹ کو جائز سمجھے‘ خواہ اس میں کسی مصلحت کا دعویٰ کرے یا نہ کرے وہ بالاجماع کافر ہے۔ (الشفا جلد۲ ص ۲۴۵)

اسی سلسلہ میں آگے لکھتے ہیں :

” لو استخف بہ لو باحد من الانبیاء لو ازری علیھم لو آذاھم لو قتل نبیاً لو حاربہ فھو کافر باجماع

یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں گستاخی کرے یا کسی اور نبی کی گستاخی کرے یا ان پر کوئی عیب لگائے یا کسی نبی کو قتل کرے یا اس سے جنگ کرے وہ بالاجماع کافر ہے۔“

(جلد ۲ ص ۲۴۶)

۱/۱۳۶۔ ”مرزا نے خود بھی تسلیم کیا ہے کہ ”اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے۔“ (چشمہ معرفت (خاتمہ) ص ۱۸‘ روحانی

صفحہ 395

خزائن جلد ۲۳ ص ۳۹۰)

مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں نہایت ناشائستہ گستاخیاں کیں۔ ان کے معجزات کی توہین کی ہے اور ان کی طرف جھوٹ کی نسبت کی ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی تمام امت کے نزدیک خارج از اسلام اور مرتد ہے۔ ذیل میں مرزا قادیانی کی کتابوں سے چند فقرے نقل کئے جاتے ہیں۔

۱۔ مسیح کا چال چلن

زاہد‘ نہ عابد‘ نہ حق کا پرستار‘ متکبر‘ خودبیں‘ خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

(مکتوبات احمدیہ جلد ۳ ص ۲۱ تا ۲۴)

جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد‘ بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا ایک بد نتیجہ ہے۔“

(ست بچن ص ۱۷۲ حاشیہ‘ روحانی خزائن جلد ۱۰ ص ۲۹۴)

دکھلایا۔

(ملفوظات جلد ۴ ص ۱۷۰)

(ملفوظات جلد ۴ ص ۱۹۰)

۲۔ شراب نوشی

پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔

(کشتی نوح ص ۶۵ حاشیہ‘ روحانی خزائن جلد ۱۹ ص ۷۱)

صفحہ 396

نہیں تھا۔“ (ریویو آف ریلیجنز جلد ۱ ص ۱۲۳‘ ۱۹۰۲ء)

۱۴۳/۳۔ ”ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“ (نسیم دعوت ص ۶۹‘ روحانی خزائن جلد ۱۹

ص ۴۳۵)

۱۴۴/۴۔ ”یحییٰ جو نشہ نہیں پیتے تھے‘ معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منع تھا‘ مسیح نے مرشد کی تقلید کیوں نہ کی۔“ (ملفوظات

جلد ۴ ص ۸۹)

اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک شراب اس وقت بھی حرام تھی اس کے باوجود مرزا‘ حضرت مسیح علیہ السلام پر شراب نوشی کی تہمت لگاتا ہے اور انہیں ”شرابی کبابی“ کا خطاب دیتا ہے۔ اردو محاورہ میں یہ لفظ ”عیاش۔ بدمعاش“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

۱۴۵/۵۔ ”اصل میں ہمارا وجود دو باتوں کے لئے ہے‘ ایک تو ایک نبی کو مارنے کے لئے دوسرا شیطان کو مارنے کے لئے۔“

(ملفوظات جلد ۱۰ ص ۶۰)

۳۔ فاحشہ عورتوں سے تعلق

۱۴۶/۱۔ ”لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا۔ اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال

صفحہ 397

سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔" (دافع البلاء ٹائیٹل پیج، روحانی

خزائن جلد ۱۸ ص ۲۲۰)

ان تین فقروں میں مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام پر فاحشہ عورتوں سے اختلاط کی تہمت لگائی ہے اور اس کی وجہ بیان کی کہ نعوذ باللہ آپ کی تین دادیاں اور تین نانیاں تھیں اور حضرت مسیح پر لگائے گئے الزام کے ثبوت میں قرآن کا غلط حوالہ دیا ہے۔ نعوذ باللہ۔

۱۴/۷۲۔ "تمہیں خبر نہیں کہ مردی اور رجولیت انسان کے صفات محمودہ میں سے ہے۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں۔ جیسے بہرا اور گونگا ہونا کسی خوبی پر داخل نہیں، ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے بچے اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے، اس لئے یورپ کی عورتیں نہایت قابل شرم آزادی سے فائدہ اٹھا کر اعتدال کے دائرہ سے ادھر ادھر نکل گئیں اور آخر ناگفتنی فسق و فجور تک نوبت پہنچی۔ (نور القرآن، روحانی خزائن جلد ۹

ص ۳۹۲)

۴۔ غلیظ گالیاں

۱۴۸/۱۔ "ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی۔" (ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۱۱

ص ۲۸۹)

صفحہ 398

اکثر عادت تھی۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۱۱ ص ۲۸۹)

جھوٹ بولنے کی عادت بھی تھی۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۱۱ ص ۲۸۹)

پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب ملا لمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔ لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ۶ حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۱۱ ص ۲۹۰)

کے اور کچھ نہیں تھا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۱۱ ص ۲۹۱)

تعلیم پر عمل نہیں کیا۔“ (چشمہ مسیحی ص ۱۱، روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۳۴۶)

کرکے نہیں دکھایا۔“ (ملفوظات جلد ۵ ص ۳۵۵)

مندرجہ بالا فقروں میں مرزا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو غلیظ گالیاں دی ہیں وہ ظاہر ہیں۔

۵۔ معجزات مسیح علیہ السلام کا انکار

مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔

صفحہ 399

۱۵۵/۱۔ "اور بموجب بیان یہودیوں کے اس (یسوع مسیح) سے کوئی معجزہ نہیں ہوا محض فریب اور مکر تھا۔" (چشمہ مسیحی ص ۹‘ روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۳۴۴)

۱۵۶/۲۔ "عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔" (ضمیمہ انجام آتھم ص ۶ حاشیہ‘ روحانی خزائن جلد ۱۱ ص ۲۹۰)

۱۵۷/۳۔ "مسیح کے معجزات اور پیش گوئیوں پر جس قدر اعتراض اور شکوک پیدا ہوتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں۔ کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا؟" (ازالہ اوہام طبع پنجم ص ۵‘ روحانی خزائن جلد ۳ ص ۱۰۶)

۱۵۸/۴۔ "ممکن ہے کہ آپ (یسوع مسیح) نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے‘ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔" (ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ حاشیہ‘ روحانی خزائن جلد ۱۱ ص ۲۹۱)

۱۵۹/۵۔ "مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر

صفحہ 400

عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم‘ مفلوج‘ مبروص‘ وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے۔“

(ازالہ اوہام طبع پنجم ص۱۳۴ حاشیہ‘ روحانی خزائن جلد۳

ص۲۶۳)

۱۶۰/۶۔ ”یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہرحال یہ معجزہ (پرندے بنا کر اڑانے کا) صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا۔“ (ازالہ اوہام ص۱۳۵ حاشیہ‘

روحانی خزائن جلد۳ ص۲۶۳)

۶۔ حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط

۱۶۱/۱۔ ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔“

(اعجاز احمدی ص۱۴‘ روحانی خزائن جلد۱۹‘ ص۱۲۱)

۱۶۲/۲۔ ”یہود تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معاملہ میں اور ان کی پیش گوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں۔ بغیر اس کے کہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے۔“ (اعجاز احمدی ص۱۴‘ روحانی خزائن جلد۱۹

ص۱۲۰)

۱۶۳/۳۔ ”کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا؟ اور پیش گوئیوں کا حال اس سے بھی زیادہ ابتر ہے۔ کیا یہ بھی کچھ پیش گوئیاں ہیں‘ زلزلے آئیں گے‘ مری پڑے گی‘ لڑائیاں ہوں گی‘ قحط پڑیں گے اور اس سے زیادہ قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں‘

صفحہ 401

اس قدر صحیح نکل نہیں سکیں۔“ (ازالہ اوہام طبع پنجم ص۵‘ روحانی خزائن جلد۳ ص۱۰۶)

یہی کہ زلزلے آئیں گے قحط پڑیں گے۔ لڑائیاں ہوں گی ۔۔۔۔۔ پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا۔“ (ضمیمہ آتھم ص۴ حاشیہ‘ روحانی خزائن جلد۳ ص۲۸۸)

پیش گوئیوں پر اعتراض کئے ہیں بلکہ وہ نہایت سخت اعتراض ہیں بلکہ ایسے اعتراض ہیں کہ ان کا تو ہمیں بھی جواب نہیں آتا۔“ (اعجاز احمدی ص۵‘ روحانی خزائن جلد۱۹ ص۱۱۱)

دوست بھی جہنم میں اور دشمن بھی جہنم میں۔ اس قسم کا ابتلاء کسی اور نبی کے وجود کے ساتھ نہیں ہے۔“ (ملفوظات جلد۷ ص۴۳۶)

عیسیٰ کو اتار کر کریں گے کیا؟ آخر ان کے قوی تو وہی ہوں گے جو پہلے تھے۔ پہلے کیا کیا تھا‘ جو اب کریں گے۔ ایک ذلیل سی معدودے چند ایک قوم تھی‘ ان کی اصلاح بھی نہ ہوئی۔“

(ملفوظات جلد۵ ص۲۸۶)

۷۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت تباہ کن فتنہ

اس کی ذات سے دنیا کو کوئی بھی روحانی فائدہ نہ پہنچ سکا۔ ایک ایسی نبوت کا نمونہ دنیا میں چھوڑ گیا جس کا ضرر اس کے

صفحہ 402

فائدے سے زیادہ ثابت ہوا۔ اس کے آنے سے ابتلاء اور فتنہ بڑھ گیا۔” (اتمام الحجہ لاہوری ایڈیشن ص ۳۲‘ روحانی خزائن جلد ۸ ص ۳۰۸)

۱۶۹/۲ ”ایک دفعہ حضرت عیسیٰ مسیح زمین پر آئے تھے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ کئی کروڑ مشرک دنیا میں ہو گئے۔ دوبارہ آکر وہ کیا بنائیں گے کہ لوگ ان کے آنے کے خواہش مند ہیں۔“ (اخبار بدر جلد ۶ ص ۱۹ (قادیان) ۹ مئی ۱۹۰۷ء)

۱۷۰/۳ ”جو شخص کشمیر سرینگر محلہ خانیار میں مدفون ہے اس کو ناحق آسمان پر بٹھایا گیا۔ کس قدر ظلم ہے۔ خدا تو بہ پابندی اپنے وعدوں کے ہر چیز پر قادر ہے۔ لیکن ایسے شخص کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لا سکتا جس کے پہلے فتنے نے ہی دنیا کو تباہ کر دیا ہے۔“ (دافع البلاء ص ۱۹‘ روحانی خزائن جلد ۱۸ ص ۲۳۵)

بحث کا دوسرا نکتہ

حضرت مسیح کی پیدائش بن باپ

اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش کنواری مریم کے بطن سے بن باپ ہوئی‘ چنانچہ قرآن کریم میں حضرت مسیح کی پیدائش کا واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔

وَاذْكُرْ فِى الْكِتٰبِ مَرْيَمَ ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا ﴿۱۶﴾ فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا ۗ فَاَرْسَلْنَا

صفحہ 403

اِلَيْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا ۝١٧ قَالَتْ اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِيًّا ۝١٨ قَالَ اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ ۖ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِيًّا ۝١٩ قَالَتْ اَنّٰى يَكُوْنُ لِىْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ يَمْسَسْنِىْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِيًّا ۝٢٠ قَالَ كَذٰلِكِ ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌ ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا ۝٢١ فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِيًّا ۝٢٢ فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ ۚ قَالَتْ يٰلَيْتَنِىْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا ۝٢٣ فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَآ اَلَّا تَحْزَنِىْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا ۝٢٤ وَ هُزِّىْٓ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا ۝٢٥ فَكُلِىْ وَ اشْرَبِىْ وَ قَرِّىْ عَيْنًا ۚ فَاِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا ۙ فَقُوْلِىْٓ اِنِّىْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْيَوْمَ اِنْسِيًّا ۝٢٦ فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ ؕ قَالُوْا يٰمَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا ۝٢٧ يٰٓاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِيًّا ۝٢٨ فَاَشَارَتْ اِلَيْهِ ؕ قَالُوْا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِى الْمَهْدِ صَبِيًّا ۝٢٩ قَالَ اِنِّىْ عَبْدُ اللّٰهِ ؕ اٰتٰنِىَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِىْ نَبِيًّا ۝٣٠

(سورہ مریم آیت نمبر ۱۶ تا ۳۰)

صفحہ 404

اور اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کتاب میں مریمؑ کا ذکر بھی کیجئے۔ جب کہ وہ اپنے گھر والوں سے علیحدہ (ہو کر ایک ایسے مکان میں جو مشرق کی جانب میں تھا، غسل کے لیے) گئیں پھر ان (گھر والے) لوگوں کے سامنے سے انہوں نے پردہ ڈال لیا پس (اس حالت میں) ہم ان کے پاس اپنے فرشتہ جبرائیل کو بھیجا اور وہ ان کے سامنے ایک پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا۔ کہنے لگی کہ میں تجھ سے (اپنے خدائے) رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو کچھ خدا ترس ہے (تو یہاں سے ہٹ جاوے گا) فرشتہ نے کہا کہ میں تمہارے رب کا بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں تاکہ تم کو ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔ وہ (تعجباً) کہنے لگیں کہ (بھلا) میرے لڑکا کس طرح ہو جاوے گا۔ حالانکہ مجھ کو کسی بشر نے ہاتھ تک نہیں لگایا اور نہ میں بدکار ہوں۔ فرشتہ نے کہا یوں ہی اولاد ہو جاوے گی۔ تمہارے رب نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ بات مجھ کو آسان ہے اور اس طور پر اسی لئے پیدا کریں گے تاکہ ہم اس فرزند کو لوگوں کے لئے ایک نشانی (قدرت کی) بنا دیں اور باعث رحمت بتاویں اور یہ ایک طے شدہ بات ہے (جو ضرور ہو گی) پھر ان کے پیٹ میں لڑکا رہ گیا پھر اس حمل کو لئے ہوئے (اپنے گھر سے) کسی دور جگہ چلی گئیں۔ درد زہ کے مارے کھجور کے درخت کی طرف آئیں۔ کہنے لگیں اے کاش میں اس (حالت) سے پہلے ہی مر گئی ہوتی۔ اور ایسی نیست و نابود ہو جاتی کہ کسی کو یاد بھی نہ رہتی۔ پھر جبرئیل نے اس کے (اس) پائیں (مکان) سے پکارا کہ تم مغموم مت ہو، تمہارے رب نے تمہارے پائیں میں سے ایک نہر پیدا کر دی ہے اور اس کھجور کے تنہ کو (پکڑ کر) اپنی طرف کو ہلاؤ۔ اس سے تم پر خرمائے تر و تازہ جھڑیں گے۔ پھر (اس پھل کو) کھاؤ اور (وہ پانی) پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ پھر اگر تم آدمیوں میں سے کسی کو بھی (اعتراض کرتا) دیکھو تو کہہ دینا میں نے اللہ کے واسطے روزے کی منت مان رکھی ہے۔ سو آج میں کسی آدمی سے نہیں بولوں گی۔ پھر وہ ان کو گود میں لئے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں۔ لوگوں نے کہا اے مریمؑ تم نے بڑے غضب کا کام کیا۔ اے ہارون کی بہن تمہارے باپ کوئی برے آدمی نہ تھے اور نہ تمہاری ماں بدکار تھیں۔ پس مریم نے بچہ کی طرف اشارہ کر دیا۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ بھلا ہم ایسے شخص سے کیونکر باتیں کریں جو ابھی گود

صفحہ 405

میں بچہ ہی ہے۔ وہ بچہ (خود ہی) بول اٹھا میں اللہ کا (خاص) بندہ ہوں۔

وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِيْنَ ۝ يٰمَرْيَمُ اقْنُتِيْ لِرَبِّكِ وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ ۝ ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ؕ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۖ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ ۝ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ ۖ اسْمُهُ الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهًا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ ۙ ۝ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَّمِنَ الصّٰلِحِيْنَ ۝ قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ وَلَدٌ وَّلَمْ يَمْسَسْنِيْ بَشَرٌ ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ؕ اِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ۝

سورة آل عمران آیت نمبر ۴۲ تا ۴۷

(اس وقت کو یاد کرو) جب کہ فرشتوں نے (یہ بھی) کہا اے مریم (علیہا السلام) بے شک اللہ تعالیٰ تم کو بشارت دیتے ہیں ایک کلمہ کی جو منجانب اللہ ہو گا۔

اس کا نام (ولقب) مسیح عیسٰی بن مریم ہو گا۔

باآبرو ہوں گے دنیا میں اور آخرت میں اور منجملہ مقربین کے ہوں گے اور آدمیوں سے کلام کریں گے۔ گہوارہ میں اور بڑی عمر میں اور شائستہ لوگوں میں سے ہوں گے۔ حضرت مریم (علیہا السلام) بولیں اے میرے پروردگار! کس طرح ہو گا‘

صفحہ 406

میرے بچہ حالانکہ مجھ کو کسی بشر نے ہاتھ نہیں لگایا۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ویسے ہی (بلا مرد کے) ہو گا۔ (کیونکہ) اللہ تعالی جو چاہیں پیدا کر دیتے ہیں۔ جب کسی چیز کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہو جا پس وہ چیز ہو جاتی ہے۔" (ترجمہ مولانا اشرف علی تھانوی)

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ط هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ۝٥١

سورة آل عمران آیت نمبر ۵۱

بے شک حالت عجیبہ (حضرت) عیسیٰ کی اللہ تعالی کے نزدیک مشابہ حالت عجیبہ (حضرت) آدمؑ کے ہے کہ ان (کے قالب) کو مٹی سے بنایا پھر ان کو حکم دیا کہ (جاندار) ہو پس وہ جاندار ہو گئے۔ یہ امر واقعی آپ کے پروردگار کی طرف سے (بتلایا گیا) ہے۔ سو آپ شبہ کرنے والوں میں سے نہ ہو جائیے۔

وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ ۝١٢ ع

اور نیز مسلمانوں کی تسلی کے لئے عمران کی بیٹی حضرت مریم علیہا السلام کا حال بیان کرتا ہے جنہوں نے اپنے ناموس کو محفوظ رکھا۔ سو ہم نے ان کے چاک گریبان میں اپنی روح پھونک دی اور انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغاموں کی (جو ان کو ملائکہ کے ذریعہ پہنچے تھے) اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت کرنے والوں میں سے تھیں۔ التحریم

ان آیات کریمہ سے مندرجہ ذیل امور بالکل واضح ہیں۔

شادی کی ہے اور نہ میں بدکار ہوں اور پھر بیٹا کیسے ہو گا۔

صفحہ 407

درخت سے ٹیک لگانا۔

کہ لوگ کیا کہیں گے اور اس واقعہ سے پہلے مرنے کی تمنا کرنا۔

بات کرے تو تم زبان کی طرف اشارہ کر کے بولنے سے معذوری ظاہر کر دینا۔

اس پر چہ میگوئیاں کرنا اور کنواری کو ملامت کرنا۔

یہ وہ مضامین ہیں جو بغیر کسی تشریح و تفسیر کے قرآن کریم سے مفہوم ہوتے ہیں۔ اور حدیث صحیح میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا گہوارے میں بات کرنا، جس سے اپنی والدہ کی پاک دامنی بیان کرنا مقصود تھا۔ ذکر کیا گیا ہے۔

”عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم لم یتکلم فی المہد الا ثلثۃ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام او صبی کان فی زمن جریج و صبی آخر و ذکر الحدیث (مسند احمد جلد ۲ ص ۳۰۸)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ (بنو اسرائیل میں) صرف تین بچوں نے ماں کی گود میں باتیں کیں، ایک عیسیٰ بن مریم علیہ السلام، دوسرے وہ بچہ جو جریج کے زمانے میں تھا اور تیسرے ایک اور بچہ۔

صفحہ 408

قرآن کریم اور حدیث نبوی کی ان تصریحات کی روشنی میں مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کنواری مریم کے بطن سے بن باپ تولد ہوئے اور اس حقیقت کا انکار گمراہ لوگوں کے سوا کسی نے نہیں کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی بھی حضرت مسیح علیہ السلام کے بن باپ پیدا ہونے کا قائل تھا۔ ملاحظہ فرمائیے۔

باپ تھے۔ اللہ تعالیٰ کو سب طاقتیں ہیں۔ نیچری جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا باپ تھا، وہ بڑی غلطی پر ہیں۔ ایسے لوگوں کا خدا مردہ ہے۔ ایسے لوگوں کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بلا باپ پیدا نہیں کر سکتا۔ ہم ایسے آدمی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔“ (مباحثہ راولپنڈی ص ۳۰۸، ملفوظات جلد ۲ ص ۳۰۳)

طريق خرق العادة (مواهب الرحمٰن، روحانی خزائن جلد ۱۹ ص ۲۸۹)

قوله لو يقال و نعوذ بالله من انه من الحرام (مواهب الرحمٰن، روحانی خزائن جلد ۱۹ ص ۲۹۶)

لیکن افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کی لاہوری جماعت مرزا کے ایمان و اعتقاد سے بھی محروم ہے۔ یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کنواری ماں کا بن باپ، بیٹا نہیں سمجھتے۔ لاہوری جماعت کے امیر و قائد اول جناب محمد علی صاحب نے لم یمسسنی بشر کی تفسیر میں یہی لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بن باپ پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اور

ص ۲۱۷، روحانی خزائن جلد ۳ ص ۲۵۴ پر لکھا ہے کہ ”حضرت

صفحہ 409

مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔"

۱۷۵/۴۔ "پس یہ تمام امور اس بات پر دلیل ہیں کہ قرآن کریم حضرت عیسیٰ کی پیدائش بن باپ بیان نہیں کرتا۔ ولم یمسسنی بشر آئندہ مس بشر سے مانع نہیں۔" (بیان القرآن ص ۲۱۴ طبع ۴ محمد علی لاہوری)

۱۷۶/۶۔ "کشتی نوح حاشیہ ص ۱۶، روحانی خزائن ص ۱۸ جلد ۱۹ پر لکھا ہے۔ یسوع مسیح کے چار بھائی اور بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔ (کشتی نوح ایضاً" حالت حمل میں مریم کا نکاح، بتول کے عہد کو توڑنا)

مسئلہ جہاد اور مرزا غلام احمد قادیانی

قرآن کریم میں مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ جہاد کی بہت سی صورتیں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ شر و فساد کی قوتوں کو سرنگوں کرنے کے لئے تلوار اٹھائی جائے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر و ارتداد کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلام میں جس ضرورت کے تحت تلوار کے جہاد کا حکم دیا گیا تھا مرزا قادیانی نے اسے منسوخ کر دیا اور اسلام کے کسی قطعی حکم کو منسوخ کر دینا کفر ہے۔ اس بحث میں ہم دو نکتے ذکر کریں گے۔

زمانے میں "جہاد" کی اجازت ہونا۔

موقوف کر دیا گیا۔

پہلا نکتہ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تلوار اٹھانے کی اجازت

صفحہ 410

۱۷۷/۱۔ "مظلوموں کو ظالموں کے ظلم سے بچانے کے لئے حکم ہوا۔ اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا و ان اللہ علی نصرھم لقدیر الذین اخرجوا من دیارھم بغیر حق الا ان یقولوا ربنا اللہ (پ۱۷) کہ جن لوگوں کے ساتھ لڑائیاں خواہ مخواہ کی گئیں اور گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس لئے کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، سو یہ ضرورت تھی جو تلوار اٹھائی گئی ۔ (ملفوظات جلد ۱ ص ۴۴)

۱۷۸/۲۔ "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جنگ کئے وہ تیرہ برس تک خطرناک دکھ اٹھانے کے بعد کئے اور وہ بھی مدافعت کے طور پر۔ تیرہ برس تک ان کے ہاتھوں سے آپ تکالیف اٹھاتے رہے۔ مسلمان مرد اور عورتیں شہید کی گئیں۔ آخر جب آپ مدینہ تشریف لے گئے۔ اور وہاں بھی ان ظالموں نے پیچھا نہ چھوڑا تو خدا تعالیٰ نے مظلوم قوم کو مقابلہ کا حکم دیا ۔" (ملفوظات جلد ۷ ص ۲۸۴)

۱۷۹/۳ "ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائیوں کے لئے سبقت نہیں کی تھی۔ بلکہ ان لوگوں نے خود سبقت کی تھی۔ خون کئے، ایذائیں دیں، تیرہ برس تک طرح طرح کے دکھ دیئے۔ آخر جب صحابہ کرامؓ سخت مظلوم ہو گئے تب اللہ تعالیٰ نے بدلہ لینے کی اجازت دی۔ جیسے فرمایا اذن الذین یقاتلون بانھم ظلموا (۲۲/۳۹) و قاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلوکم (۲/۱۹۰) اس زمانہ کے لوگ نہایت وحشی اور درندے تھے۔ خون کرتے تھے، جنگ کرتے تھے۔ طرح طرح کے ظلم اور دکھ دیتے تھے۔ ڈاکوؤں اور لٹیروں کی طرح مار دھاڑ کرتے پھرتے تھے اور ناحق کی ایذا دہی اور خون ریزی پر کمر باندھے ہوئے تھے۔ خدا تعالیٰ نے فیصلہ دیا کہ ایسے ظالموں

صفحہ 411

کو سزا دینے کا اذن دیا جاتا ہے اور یہ ظلم نہیں بلکہ عین حق اور انصاف ہے۔“ (ملفوظات جلد ۹ ص ۴۶۶۔۴۶۷)

مرزا غلام احمد قادیانی کے ان اقوال سے یہ بات واضح ہو گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تلوار کا جہاد صرف مدافعت کے لئے تھا۔ دوسرے الفاظ میں اسلام صرف دفاعی جنگ کا قائل ہے اور اسی دفاع کو ”مسئلہ جہاد“ کہا جاتا ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد نے ”مسیح موعود“ کا دعویٰ کر کے جہاد کے منسوخ ہو جانے کا اعلان کر دیا۔ مندرجہ ذیل حوالے ملاحظہ فرمائیے۔

مرزا غلام احمد کے آنے پر جہاد کا حکم منسوخ

میں جہاد کا حکم منسوخ کر دیا جائے گا۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں بھی مسیح موعود کی صفات میں لکھا ہے کہ یضع الحرب مسیح موعود جب آئے گا تو جنگ اور جہاد کو موقوف کر دے گا۔“

(حاشیہ تجلیات الٰہیہ ص ۸‘ روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۴۰۰)

آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا۔ اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ۴ ص ۱۳‘ روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۴۴۳)

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے تین الگ الگ زمانوں میں جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی تین حالتیں لکھی ہیں۔

صفحہ 412

اول : موسیٰ علیہ السلام کا دور‘ اس میں لڑائی کا حکم بہت سخت تھا۔

دوم : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ‘ اس میں لڑائی کے حکم میں تخفیف کی گئی۔

سوم : مرزا غلام احمد قادیانی کا زمانہ‘ اس میں جہاد یکسر منسوخ اور بند کر دیا گیا۔

۱۸۲/۳۔ ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا۔ خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے۔ وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔ جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔“ (اشتہار چندہ منارۃ المسیح ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ۲۸۔۲۹‘ روحانی خزائن جلد ۱۶ ص ۲۸)

۱۸۳/۴۔ ”اور میں یقین رکھتا ہوں جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“ (درخواست مرزا کتاب البریہ ص ۳۴۷‘ روحانی خزائن جلد ۱۳ ص ۳۴۷‘ مجموعہ اشتہارات جلد ۳ ص ۱۹)

۱۸۴/۵۔ اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
صفحہ 413
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۷‘ روحانی خزائن جلد۱۷ص۷۸)

۱۸۵/۶۔ ”دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔“

(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص۱۳‘ روحانی خزائن جلد۱۷

ص۱۵)

۱۸۶/۷۔ ”مسیح موعود کا یہی کام ہے کہ وہ لڑائیوں کو بند کر دے کیونکہ یضع الحرب اس کی شان میں آیا ہے۔“ (ملفوظات احمدیہ جلد۵ ص۱۰۴)

۱۸۷/۸۔ ”ہم نے صاف طور پر اعلان کیا ہے کہ اس وقت جہاد حرام ہے کیونکہ جیسے مسیح موعود کا وہ کام ہے یضع الحرب بھی بھی اس کا کام ہے۔ اس کام کی رعایت سے ہم کو ضروری تھا کہ جہاد کے حرام ہونے کا فتویٰ صادر کریں۔ پس ہم کہتے ہیں کہ اس وقت دین کے نام سے تلوار یا ہتھیار اٹھانا حرام اور سخت گناہ ہے۔“ (ملفوظات جلد۴ ص۱۸)

۱۸۸/۹۔ ”یاد رہے کہ مسلمانوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کا انتظار ہے۔“ (ضمیمہ تریاق القلوب طبع ربوہ ص۳۸۹۔۳۹۰‘ روحانی خزائن جلد۱۵ ص۵۱۷۔۵۱۸)

مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا حوالوں سے مندرجہ ذیل امور معلوم ہوئے۔

نمبر۱‘ ۷‘ ۸)

صفحہ 414

(نمبر ۱، ۲، ۳)

(حوالہ نمبر ۴)

نمبر ۷)

PDF 415

مجازی نبوّت

کا

تارِ عنکبُوت

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 416

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی جماعت کا لاہوری فرقہ اس بات سے تو انکار نہیں کرتا (اور نہ کر سکتا ہے) کہ موصوف نے اپنی تصنیفات، اشتہارات اور اخبارات میں سینکڑوں جگہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ موصوف کو دعویٰ حقیقی نبوت کا نہیں بلکہ مجازی نبوت کا تھا اور یہ ان کے خیال میں کفر نہیں بلکہ ”تجدید اسلام“ ہے۔ اس سلسلہ میں ہمیں مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت اور اس کے لوازم پر غور کر کے یہ دیکھنا ہو گا کہ ان کا دعویٰ کس نوعیت کا ہے۔

نبوت اور اس کے لوازم

اسلام کا مسلمہ اور قطعی عقیدہ ہے کہ سلسلہ نبوت سیدنا آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا۔ ان تمام حضرات انبیاء میں جو چیزیں مشترک نظر آتی ہیں اور جو انہیں دیگر انسانوں سے ممیز کرتی ہیں، وہ یہ ہیں: بعثت، دعویٰ رسالت و نبوت، وحی نبوت، معجزات، دعوت اور ان کے ماننے اور نہ ماننے والوں کے درمیان تفریق۔ پس جو شخص یہ دعویٰ رکھتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول اور نبی کی حیثیت سے مبعوث کیا گیا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے قطعی وحی نازل ہوتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانوں کو ایمان لانے کی دعوت پر مامور ہے۔ اس کی تائید کے لیے اللہ کی جانب سے اسے معجزات

صفحہ 417

عطا کیے گئے ہیں اور اس پر ایمان لانا مدار نجات ہے۔ وہ بلا شک و شبہ نبوت و رسالت کا مدعی سمجھا جائے گا۔ رہا یہ سوال کہ جو شخص نبوت و رسالت کا مدعی ہے‘ وہ کوئی نئی شریعت لے کر آیا ہے یا سابقہ شریعت ہی کا پابند ہے؟ اسے یہ منصب بلاواسطہ حق تعالیٰ کی جانب سے عطا ہوا ہے یا کسی نبی کی اتباع اور پیروی کے نتیجے میں یہ دولت ملی ہے؟ وہ اپنے آپ کو مستقل قرار دیتا ہے یا کسی گزشتہ نبی کی امت میں شمار کرتا ہے؟ یہ چیزیں نہ تو نبوت و رسالت کی ماہیت میں داخل ہیں‘ نہ اس کے لوازم میں شامل ہیں اور نہ ان تاویلات کے ذریعہ کوئی شخص ادعائے نبوت کے جرم سے بری ہو سکتا ہے۔ اس مختصر سی تمہید کے بعد اب مرزا صاحب کے دعوٰی نبوت کو خود انہی کے الفاظ میں پڑھئے:

بعثت : مرزا صاحب کی سینکڑوں نہیں‘ ہزاروں تحریریں بتاتی ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول‘ مرسل اور نبی کی حیثیت سے مبعوث کیا گیا ہے۔ چند عبارتیں ملاحظہ ہوں:

اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس دین کو ہر قسم کے دین پر غالب کرے۔ خدا کی باتیں پوری ہو کر رہتی ہیں۔ کوئی ان کو بدل نہیں سکتا"۔

("مرزا صاحب کی وحی" مندرجہ "حقیقۃ الوحی" ص۷۱)

سے کہتے ہیں کیا یہی ہے جس کو خدا نے مبعوث فرمایا؟"

ہوئی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے"۔

(ایضاً‘ ص۸۱)

(ایضاً‘ ص۸۲)

صفحہ 418

خدا گواہی دے رہا ہے اور وہ لوگ گواہی دیتے ہیں جو کتاب اللہ کا علم رکھتے ہیں“۔ (ایضاً ص۹۱)

نہیں جانتا؟ کہ خدا ہر ایک بات پر قادر ہے۔ جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے‘ اپنی روح ڈالتا ہے یعنی منصب نبوت اس کو بخشتا ہے“۔

(ایضاً ص۹۵)

مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا“۔ (ایضاً ص۱۰۱)

طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے“۔ (ایضاً ص۱۰۷)

یہ آٹھ حوالے جو ایک ہی کتاب سے نقل کیے گئے ہیں‘ ان میں دو باتیں خاص طور پر قابل لحاظ ہیں۔ اول یہ کہ یہ قرآن مجید کی آیات ہیں جن کو مرزا صاحب نے اپنی وحی کا قالب عطا کیا ہے۔ دوم کہ یہ تمام آیات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت و نبوت سے متعلق ہیں جنہیں مرزا صاحب کے بقول خدا تعالیٰ نے ان کے حق میں نازل فرمایا۔ گویا ٹھیک انہی الفاظ میں مرزا صاحب کو منصب نبوت عطا کیا گیا ہے۔ جو الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے لیے قرآن مجید میں آتے ہیں۔ وضاحت کے لیے مندرجہ ذیل نقشہ میں ان آیات پر دوبارہ نظر ڈالیے:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جناب غلام احمد صاحب (۱) هو الذى ارسل رسوله بالهدى (۱) هو الذى ارسل رسوله بالهدى و دین و دين الحق ليظهره على الدين الحق ليظهره على الدين كله كله (سورة جمعہ‘ آیت ۹) (”حقیقتہ الوحی“ ص۸۱)

صفحہ 419

بعث الله رسولا (الفرقان‘ آیت ۴۱) بعث الله (”حقیقۃ الوحی“‘ ص۷۱)

انما الهكم اله واحد انما الهكم اله واحد (سورة كهف‘ آیت ۱۱۰) (”حقیقۃ الوحی“ ص۸۱ - ۸۲)

(الانبياء‘ آیت ۱۰۷) (ص ۸۲)

كفى بالله شهيدا بيني و بينكم بينى و بينكم و من عنده علم الكتاب و من عنده علم الكتاب (الرعد‘ ۴۳) (ص۹۱)

من عباده (المومن‘ آیت ۱۵) (ص۹۵)

كما ارسلنا الى فرعون رسولا كما ارسلنا الى فرعون رسولا (المزمل‘ ۱۵) (ص ۱۰۱)

المرسلين‘ على صراط مستقيم صراط مستقيم‘ تنزيل العزيز الرحيم تنزيل العزيز الرحيم (يس‘ ۱-۴) (ص۱۰۷)

(ان آیات کا ترجمہ علی الترتیب مرزا صاحب کے قلم سے اوپر نقل کر چکا ہوں)

صفحہ 420

اس نقشہ کے مطالعہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ مرزا صاحب کی وحی انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مساوی منصب عطا کرتی ہے۔ قادیانی امت میں اگر فہم و انصاف کی کوئی رمق باقی ہے تو انہیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وحی الٰہی کی رو سے مرزا صاحب اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب نبوت پوری طرح یکسانیت رکھتا ہے۔ اگر نبی ہیں تو دونوں حقیقی، تشریعی نبی ہیں اور نہیں تو دونوں نہیں—— والعیاذ باللہ—— انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ بحث اسی نقطہ پر ختم ہو جاتی کہ اگر قادیانی امت واقعتاً مرزا صاحب کی ”وحی“ پر ایمان رکھتی ہے تو انہیں دو راستوں میں سے ایک راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یا مرزا صاحب کا دعویٰ حقیقی نبوت کا ہے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی نبی ہونا بھی مشکوک ہے۔

میں مرزا صاحب کی وحی کے چند حوالے مزید نقل کر کے فیصلہ عقلاء کی عدالت پر چھوڑتا ہوں:

(”حقیقتہ الوحی“ ص ۷۴، ترجمہ از عربی)

گے“۔ (ایضاً، ص ۷۲)

(ص ۷۴)

(ص ۷۵)

کی ایک خاص صفت اس میں موجود ہے“۔ (ص ۷۹)

صفحہ 421

نعمت سے کامل حصہ پایا جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی“۔ (ص۳)

ہم وہ قربانی ادا نہ کریں کسر صلیب نہیں ہوگا۔ ایسی قربانی کو جب تک کسی نبی نے ادا نہیں کیا، اس کی فتح نہیں ہوئی“۔ (ص۳۱)

میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں، ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں“۔ (ص۳۹)

آئے ہیں، جیسا کہ زمانہ کے گزشتہ واقعات سے ثابت ہے تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس عظیم الشان عذاب کے وقت میں جو آخری زمانہ کا عذاب ہے اور تمام عالم پر محیط ہونے والا ہے، جس کی نسبت تمام نبیوں نے پیش گوئی کی تھی، خدا کی طرف سے رسول ظاہر نہ ہو، اس سے تو صریح تکذیب کلام اللہ کی لازم آتی ہے۔ پس وہی رسول مسیح موعود (مرزا) ہے“۔

(”تتمہ“، ص۶۲)

ہیں جو بالطبع عذاب کے مقتضیٰ ہیں اور عذاب رسول کے وجود کا مقتضیٰ ہے اور وہی مسیح موعود ہے“۔ (ص۶۵)

قریۃ الا نحن مہلکوہا قبل یوم القیمۃ او معذبوہا عذاباً شدیداً یعنی کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں گے یا اس

صفحہ 422

پر شدید عذاب نازل نہ کریں گے۔ یعنی آخری زمانہ میں ایک سخت عذاب نازل ہوگا۔ اور دوسری طرف فرمایا وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا پس اس سے بھی آخری زمانہ میں ایک رسول کا مبعوث ہونا ظاہر ہوتا ہے اور وہی مسیح موعود ہے"۔

("تتمہ" ص ۶۵)

جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے"۔

("تتمہ" ص ۶۸)

یہ چند حوالے مرزا صاحب کی صرف ایک کتاب "حقیقتہ الوحی" سے لیے گئے ہیں۔ مرزا صاحب ان صریح اعلانات اور حلفیہ بیانات میں بحیثیت رسول کے اپنا مبعوث ہونا بیان فرما رہے ہیں۔ اگر ان کی وفادار امت کو آج ان کے حلفی بیان پر بھی اعتماد نہیں تو خیر ۔۔۔ تاہم عقلاء ان سے یہ دریافت کر سکتے ہیں کہ کسی رسول کو اپنی بعثت کا اعلان کرنے کے لیے کیا الفاظ استعمال کرنے چاہئیں۔

وحی نبوت:

رسالت و نبوت اور وحی لازم و ملزوم ہیں۔ جب کوئی رسول دنیا میں مبعوث ہوتا ہے تو اسے حق جل شانہ سے براہ راست ہدایات ملتی ہیں اور وحی الٰہی ہر معاملہ میں اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ اس لیے عقلاً و نقلاً یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ اگر کوئی شخص وحی نبوت کا مدعی ہے تو دراصل وہ رسالت و نبوت کا دعویٰ رکھتا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ مرزا صاحب وحی نبوت کے مدعی ہیں یا نہیں۔

ہے" (الخ)

("حقیقتہ الوحی" ص ۱۴۸)

بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی (گویا قرآن کی طرح "براہین احمدیہ" بھی خدا کی کتاب ہے)"۔

(ص ۱۴۹)

صفحہ 423

ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا‘ تو ہی ہے“۔ (ص۱۴۹)

خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی‘ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا“۔

(ص۱۴۹۔۱۵۰)

ہوں‘ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں“۔ (ص۱۵۰)

کس طرح اس روشنی سے جو مجھے دی گئی‘ تاریکی میں آ سکتا ہوں“۔

(ص۱۵۰)

(ص۱۵۰)

بنائے ہیں ان کو کہہ دو خدا ہے جس نے یہ کلمات نازل کیے‘ پھر ان کو لہو و لعب کے خیالات میں چھوڑ دے ان کو کہہ اگر یہ کلمات میرا افتراء ہے اور خدا کا کلام نہیں تو پھر میں سخت سزا کے لائق ہوں“۔ (ترجمہ عربی الہام‘ ص۷۰)

سے تو خوش ہو جائے گا“۔ (ترجمہ عربی الہام‘ ص۷۴)

گئی ہے‘ وہ ان لوگوں کو سنا جو تیری جماعت میں داخل ہوں گے“۔ (”ترجمہ

صفحہ 424

عربی الہام، ص ۷۴)

میں چھوڑ دے“۔ (ترجمہ عربی الہام، ص۷۹)

ہوئی جو دو شہروں میں سے کسی ایک شہر کا باشندہ ہے“۔ (ص ۸۲)

(الہام، ص ۸۴)

ضرورت کے وقت اتارا ہے اور ضرورت کے وقت اترا ہے“۔

(ترجمہ عربی الہام، ص ۸۸)

ایک چیز ہے جس میں شاعروں کو دخل نہیں“۔

(ترجمہ الہام عربی و فارسی، ص۱۰۲)

رکھا ہے اس لیے کہ بار بار رجوع کرتا ہے) اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آگیا، پس مبارک وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے“۔ (ترجمہ عربی الہام، ص۱۰۳)

کاروبار بجز خدا کے کسی اور کا ہوتا تو اس میں بہت اختلاف تم دیکھتے“۔

(ترجمہ عربی الہام، ص۱۰۵)

ہے“۔ (”ترجمہ عربی الہام، ص ۳)

صفحہ 425

امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں‘ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی“۔ (ص۳۹۱)

لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا“۔ (ص۳۹۱)

یہ تمام اقتباسات بھی موصوف کی صرف اسی کتاب ”حقیقۃ الوحی“ سے لیے گئے ہیں۔ ان پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے اندازہ ہوگا کہ مرزا صاحب جس وحی نبوت کے مدعی ہیں‘ وہ ان کے نزدیک خدا کا کلام ہے۔ ہر شک و شبہ سے پاک ہے‘ اس پر وہ اپنے عقائد کی بنیاد استوار کرتے ہیں‘ قدیم عقائد کو اس کی وجہ سے تبدیل فرماتے ہیں‘ اس پر ایمان لاتے ہیں‘ خود کو اس کی پیروی کرنے والا بتاتے ہیں‘ اس کی پیروی کو موجب نجات سمجھتے ہیں۔ اپنی امت کے سامنے اس کی تلاوت پر مامور ہیں‘ اس کی فصاحت و بلاغت کے اعجاز کا اعلان کرتے ہیں‘ اس کی جانب افتراء کی نسبت کا بحکم خداوندی جواب دیتے ہیں اور صاف صاف تصریح کرتے ہیں کہ اگرچہ اسلامی تاریخ کی تیرہ صدیوں میں لاکھوں صحابہ‘ اولیاء‘ اقطاب‘ ابدال‘ ملہم اور محدث ہو گزرے ہیں مگر وحی نبوت کی یہ نعمت صرف انہی کے حصہ میں آئی ہے اور کہ قرآن کے تیس جزو ہیں اور ان کی وحی کے کم از کم بیس جزو ہوں گے۔ (اس تحریر کے بعد مرزا صاحب ایک سال اور زندہ رہے اور بقول ان کے بارش کی طرح وحی الہی ان پر نازل ہو رہی تھی۔ قیاس کہتا ہے کہ بقیہ دس جزو کی تکمیل بھی انہوں نے یقیناً کر لی ہوگی۔)

اگر لاہوری فرقہ ان تصریحات کے بعد بھی ایک طرف مرزا صاحب کو ”مامور من اللہ“ مانتا ہے اور دوسری طرف ان کی ”وحی نبوت“ پر ”ایمان لانے“ سے گریز کرتا ہے تو کم از کم عقلاً ان سے یہ تو دریافت کریں کہ ”وحی نبوت“ کے اوصاف و امتیازات کا کیا معیار ان کے ذہن میں ہے؟ جو وحی قطعی و یقینی ہو‘ ہر شک و شبہ سے پاک ہو‘ صاحب وحی اس پر ایمان و عقائد کی بنیادیں استوار کرتا ہو‘ اس کی پیروی

صفحہ 426

اور تلاوت و دعوت پر مامور ہو‘ اس کے اعجاز کا چیلنج کرتا ہو‘ اگر وہ وحی‘ وحی نبوت نہیں تو وحی نبوت کی وہ نرالی تعریف آخر کیا ہے جو مرزا جی کی ”وحی“ پر صادق نہیں آتی۔۔۔؟ لیجئے ہم اس سے بھی مختصر راستہ اختیار کرتے ہیں اور خود مرزا صاحب ہی سے شہادت دلا دیتے ہیں کہ ان کی تمام تر بحث ”وحی نبوت“ میں ہے۔

مرزا صاحب نے بیسیوں جگہ آیت ولو تقول (الخ) اپنی صداقت میں پیش فرمائی جس کا مطلب‘ بقول ان کے یہ تھا کہ ۲۳ سالہ مدت صادق و کاذب کے درمیان۔۔۔۔ حد فاصل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ گویا صدق و کذب کا معیار یہ ہے کہ اگر مدعی وحی و الہام ۲۳ سال تک زندہ رہتا ہے تو صادق‘ ورنہ کاذب۔۔۔۔ مرزا صاحب کا یہ خود ساختہ معیار عقلاً و نقلاً بالبداہت غلط تھا اور اہل علم کی جانب سے اس معیار پر مختلف اعتراضات کیے جاتے تھے۔ ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں:

”خدا تعالیٰ کی تمام کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے۔ اب اس کے مقابل یہ پیش کرنا کہ اکبر بادشاہ نے نبوت کا دعویٰ کیا یا روشن دین جالندھری نے دعویٰ کیا یا کسی اور شخص نے دعویٰ کیا اور وہ ہلاک نہیں ہوئے۔ یہ ایک دوسری حماقت ہے جو ظاہر کی جاتی ہے۔ بھلا اگر یہ سچ ہے کہ ان لوگوں نے نبوت کے دعوے کیے اور تئیس برس تک ہلاک نہ ہوئے تو پہلے ان لوگوں کی خاص تحریر سے ان کا دعویٰ ثابت کرنا چاہیے اور وہ الہام پیش کرنا چاہیے جو الہام انہوں نے خدا کے نام پر لوگوں کو سنایا۔ یعنی یہ کہا کہ ان لفظوں کے ساتھ میرے پر وحی نازل ہوئی ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اصل لفظ ان کی وحی کے کامل ثبوت کے ساتھ پیش کرنے چاہئیں کیونکہ ہماری تمام بحث وحی نبوت میں ہے‘ جس کی نسبت یہ ضروری ہے کہ بعض کلمات پیش کر کے یہ کہا جائے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ہمارے اوپر نازل ہوا ہے۔ غرض پہلے تو یہ ثبوت دینا

صفحہ 427

چاہیے کہ کون سا کلام الٰہی اس شخص نے پیش کیا ہے، جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ پھر بعد اس کے یہ ثبوت دینا چاہیے کہ جو تئیس برس تک کلام الٰہی اس پر نازل ہوتا رہا ہے، وہ کیا ہے۔۔۔۔ جب تک ایسا ثبوت نہ ہو، تب تک بے ایمانوں کی طرح قرآن شریف پر حملہ کرنا اور آیت ولو تقول کو ہنسی ٹھٹھے میں اڑانا ان شریر لوگوں کا کام ہے، جن کو خدا تعالیٰ پر بھی ایمان نہیں اور صرف زبان سے کلمہ پڑھتے ہیں اور باطن میں اسلام سے بھی منکر ہیں“

(”ضمیمہ اربعین“ نمبر ۳۔۴، ص ۱۱)

اس اقتباس سے فیصلہ ہو جاتا ہے کہ مرزا صاحب کی تمام تر بحث وحی نبوت میں ہے اور انہوں نے اپنے اوپر نازل شدہ وحی کے حوالے سے واقعتاً دعویٰ کیا ہے کہ وہ خدا کے رسول ہیں، ان کی امت کے لاہوری فرقہ کو یہ عبارت اصل کتاب سے نکال کر بغور و تدبر بار بار پڑھنی چاہیے۔ اس کے بعد بھی ان کو مرزا صاحب کے دعویٰ رسالت اور وحی نبوت سے انکار ہو تو انہیں سینے پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ دینا چاہیے کہ مرزا صاحب کا آخری فتویٰ ان پر تو عائد نہیں ہوتا؟

شریعت اور امت:

دعویٰ رسالت اور وحی نبوت کے بعد تیسرا مرحلہ شریعت کا باقی رہ جاتا ہے۔ عقلاً یہ ناممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی رسول یا نبی دنیا میں آئے اور وہ کوئی جدید یا قدیم شریعت لے کر نہ آئے۔ مرزا صاحب بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں رہ سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اسی ولو تقول کی بحث میں اپنے صاحب شریعت ہونے کا ثبوت دے کر اپنے مخالفین کو ملزم کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

”اور اگر کہو کہ صاحب الشریعۃ افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری۔ تو اول تو یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی (بلکہ مطلق دعویٰ وحی نبوت ہی کو ہلاکت کے لیے کافی قرار دیا ہے۔ ناقل) ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز

صفحہ 428

ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند اوامر و نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا، وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں، کیونکہ (مجھ پر صاحب الشریعت کی یہ تعریف پوری صادق آتی ہے، چنانچہ) میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام قل للمومنین یغضوا من ابصارہم و یحفظوا فروجہم، ذلک اذکی لہم یہ ”براہین احمدیہ“ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر بتیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔

اور اگر کہو کہ شریعت سے مراد وہ شریعت ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان ھذا لفی الصحف الاولیٰ صحف ابراھیم و موسیٰ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے۔

اور اگر کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفا امر و نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ توریت یا قرآن شریف میں باستیفا احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔ غرض یہ سب خیالات فضول اور کوتہ اندیشیاں ہیں“۔ (”اربعین“ نمبر ۴، ص ۷)

اس طویل اقتباس کا حاصل یہ ہے کہ مرزا صاحب کے نزدیک شریعت کی آخری دو تعریفیں غلط ہیں اور پہلی صحیح ہے اور اس صحیح تعریف کے مطابق ان کا دعویٰ ہے کہ وہ صاحب شریعت ہیں اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی امت کے لیے ایک قانون شریعت وضع کیا ہے جو سابقہ شریعت سے توارد رکھتا ہے۔

معجزات:

انبیاء کرام کی تائید کے لیے انہیں خرق عادت معجزات اور نشانات بھی عطا کیے جاتے ہیں، جنہیں دیکھ کر مخلوق کو ان کی صداقت و حقانیت کا یقین ہو جاتا ہے۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں:

صفحہ 429

"دنیا میں ہزاروں آدمی ہیں کہ الہام اور مکالمہ الہیہ کا دعویٰ کرتے ہیں مگر صرف مکالمہ الہیہ کا دعویٰ کچھ چیز نہیں ہے جب تک اس قول کے ساتھ جو خدا کا سمجھا گیا ہے، خدا کا فعل یعنی معجزہ نہ ہو"۔

("تتمہ حقیقۃ الوحی" ص۵۹)

مرزا صاحب نے بھی اپنے دعوائے نبوت و رسالت کو اعجاز نمائی سے محروم نہیں رکھا۔ ان کی سینکڑوں عبارتوں میں سے چند جملے یہاں نقل کیے جاتے ہیں، جن سے ان کے معجزات کی شان و شوکت اور ان کی نبوت و رسالت کی عظمت بھی واضح ہوگی:

صرف یہی جواب دوں گا کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں، جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے"۔ ("تتمہ حقیقۃ الوحی" ص۱۳۶)

کہ اگر نوحؑ کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔ مگر میں ان لوگوں کو کس سے مثال دوں۔ وہ اس خیرہ طبع انسان کی طرح ہیں جو روز روشن کو دیکھ کر پھر بھی اس بات پر ضد کرتا ہے کہ رات ہے دن نہیں"۔

("تتمہ حقیقۃ الوحی" ص۱۳۷)

صفحہ 430

اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا اور شیطان کا معہ اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا اس لیے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لیے ہزارہا نشان ایک جگہ جمع کر دیے ہیں لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں، وہ نہیں مانتے“۔ (”چشمہ معرفت“ ص۳۱۷)

مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ جو زلزلے، طاعون اور دیگر آفات ان کے زمانے میں نازل ہوئیں، وہ بھی ان کی رسالت و نبوت کا معجزہ اور نشان ہے۔ اس سلسلہ میں بھی ان کے ایک دو اقتباس ملاحظہ فرمائیے:

ہمیشہ سے اسی طرح پر جاری ہے کہ جب دنیا ہر ایک قسم کے گناہ کرتی ہے اور بہت سے گناہ ان کے جمع ہو جاتے ہیں تب اس زمانہ میں خدا اپنی طرف سے کسی کو مبعوث فرماتا ہے اور کوئی حصہ دنیا کا اس کی تکذیب کرتا ہے، تب اس کا مبعوث ہونا دوسرے شریر لوگوں کی سزا دینے کے لیے بھی جو پہلے مجرم ہو چکے ہیں، ایک محرک ہو جاتا ہے اور جو شخص اپنے گزشتہ گناہوں کی سزا پاتا ہے، اس کے لیے اس بات کا علم ضروری نہیں کہ اس زمانہ میں خدا کی طرف سے کوئی نبی یا رسول بھی موجود ہے“۔

(”حقیقۃ الوحی“ ص۴۱۰-۴۱۱)

دوسری آفات سے ہلاک ہو گئے ہیں، اگرچہ اصل سبب ان پر عذاب نازل ہونے کا ان کے گزشتہ گناہ تھے مگر یہ زلزلے ان کو ہلاک کرنے والے میری سچائی کا ایک نشان تھے کیونکہ قدیم سنت اللہ کے موافق شریر لوگ کسی رسول کے آنے کے وقت ہلاک کیے جاتے ہیں“۔ (ص۴۱۱)

صفحہ 431

ہو، مگر اس تکذیب کے وقت دوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے ہیں جو اور ملکوں کے رہنے والے ہیں، جن کو اس رسول کی خبر بھی نہیں جیسا کہ نوحؑ کے وقت میں ہوا“۔ (ص ۱۶۱)

ہے، خواہ وہ تکذیب کوئی خاص قوم کرے یا کسی خاص حصہ زمین میں ہو، مگر خدا تعالیٰ کی غیرت عام عذاب نازل کرتی ہے“۔ (ص ۱۶۲)

ہے کہ میری اتمام حجت کے لیے اور اپنے نبی کریم کی اشاعت دین کے لیے خدا تعالیٰ نے وہ سامان مقرر کر رکھے ہیں کہ پہلے اس سے کسی نبی کو میسر نہیں آئے تھے“۔ (ص ۱۶۶)

یہاں ہمیں اس امر سے بحث نہیں کہ مرزا صاحب جن امور کو ”معجزات“ کے نام سے موسوم کرتے ہیں، وہ واقعتاً معجزہ ہیں بھی یا نہیں اور یہ کہ ان سے ان کی رسالت و نبوت ثابت بھی ہوتی ہے یا نہیں؟ یہاں محل غور صرف یہ امر ہے کہ مرزا صاحب کس طرح اصرار و تکرار کے ساتھ نبوت و رسالت کا دعویٰ کرتے ہیں، پھر کس طرح اس کے لیے ”وحی الٰہی“ کا بارش کی طرح نازل ہونا بیان کرتے ہیں، پھر کس تحدی کے ساتھ اپنی رسالت و نبوت کے ثبوت میں دنیا کے سامنے اپنے معجزات کی طویل فہرست پیش کرتے ہیں اور کس طرح ان معجزات میں تمام انبیاء کرام سے برتری اور فوقیت کا ادعا کرتے ہیں اور کس طرح اپنے کو تمام انبیاء کرام کے معیار پر بار بار پیش کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مرزا صاحب نے سرے سے نبوت و رسالت کا دعویٰ درحقیقت کیا ہی نہیں تو فرمائیے کہ وہ حقائق کی دنیا میں رہتا ہے یا احمق کی جنت میں۔۔۔۔؟

دعوت:

منصب نبوت و رسالت سے سرفراز ہونے کے بعد انبیاء کرام کا مشن شروع

صفحہ 432

ہوتا ہے۔ وہ مبعوث ہو کر مخلوق کو ایمان باللہ کی دعوت دیتے ہیں اور اسے یہ بتاتے ہیں کہ دنیا کی فلاح اور آخرت کی نجات صرف ان کے قدموں سے وابستہ ہے۔ ان کی پیروی ہی موجب نجات ہے اور ان سے پہلے جتنے نبی گزر چکے ہیں، صرف ان پر ایمان لانا کافی نہیں۔ اب مرزا صاحب کو دیکھئے کہ وہ کس طرح انبیاء کرام کی نقالی کرتے ہوئے تمام انسانیت کو اپنے دعویٰ پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں اور کس طرح تمام انسانیت کی نجات و فلاح کو اپنے قدموں سے وابستہ بتلاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں مرزا صاحب کی سینکڑوں عبارتوں میں سے چند درج ذیل ہیں:

ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم اور اس وحی کو جو میرے اوپر نازل ہوتی ہے، ‘فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے۔۔۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی اور تمام انسانوں کے لیے مدار نجات ٹھہرایا ہے۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے“۔ (”اربعین“ نمبر ۴، حاشیہ ۶)

گے یا نہیں پھر ان کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے۔ پس کیا تم ایمان لاؤ گے یا نہیں“۔ (ترجمہ عربی الہام ”حقیقۃ الوحی“ ص ۷۱)

قدم صدق پر ہے“۔ (ترجمہ عربی الہام‘ ص ۷۴)

رہنے والے۔ تو دیکھے گا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے۔ وہ تیرے پر درود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا ہم نے ایک منادی کرنے والے کی آواز سنی ہے جو ایمان کی طرف بلاتا ہے اور خدا کی

صفحہ 433

طرف بلاتا ہے اور چمکتا ہوا چراغ ہے“۔ (ترجمہ عربی الہام‘ ص ۷۵)

میں فرق نہ کر دکھلا دے“۔ (ایضاً ص ۷۶)

خدا بھی تم سے محبت رکھے“۔ (ایضاً ص ۷۹)

لائے‘ کہتے ہیں کیا ہم بے وقوفوں کی طرح ایمان لائیں‘ خبردار ہو کہ در حقیقت وہی لوگ بیوقوف ہیں مگر اپنی نادانی پر مطلع نہیں اور جب ان کو کہا جائے کہ زمین پر فساد مت کرو کہتے ہیں کہ بلکہ ہم اصلاح کرنے والے ہیں“۔ (ایضاً ص ۷۹-۸۰)

مت کرو“۔ (ایضاً ص ۸۰)

نہیں لاتے‘ اس بات کے پیچھے مت پڑ جس کا تجھے علم نہیں۔ اور ان لوگوں کے بارہ میں جو ظالم ہیں مجھ سے گفتگو مت کر کیونکہ وہ سب غرق کیے جائیں گے اور ہماری آنکھوں کے روبرو کشتی تیار کر اور ہمارے اشارے سے“۔ (ایضاً ص ۸۰)

کرو‘ تا خدا بھی تم سے محبت کرے‘ خدا آیا ہے تا تم پر رحم کرے اور اگر تم پھر شرارت کی طرف عود کرو گے تو ہم بھی عذاب دینے کی طرف عود کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ بنایا ہے“۔

(ایضاً ص ۸۲)

ان تمام الہامات میں‘ جنہیں مرزا صاحب نے اپنی وحی کی حیثیت سے پیش

صفحہ 434

کیا ہے‘ خاص بات یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات کے جملے جوڑ جوڑ کر انہیں الہام کے قالب میں ڈھالا گیا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ جن الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیاء سابقین اپنے مخاطبوں کو ایمان کی دعوت دیتے تھے‘ ٹھیک انہی الفاظ میں مرزا صاحب تمام دنیا کو اپنی وحی پر ایمان کی دعوت دے رہے ہیں۔ جس طرح موسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے بعد صرف انبیائے سابقین پر ایمان لانا اور ان کی شریعت پر چلنا نجات کے لیے کافی نہیں تھا جب تک کہ موسیٰ علیہ السلام کی دعوت‘ ان کی وحی اور ان کی شریعت پر ایمان نہ لایا جائے یا جس طرح کہ عیسیٰ علیہ السلام کے آنے پر نجات صرف ان کی اتباع میں منحصر ہو گئی تھی یا جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد نجات صرف آپ کی پیروی میں منحصر ہو گئی ٹھیک اسی طرح مرزا صاحب کی وحی کا اعلان ہے:

قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ۔

”ان کو کہہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے“۔

(”حقیقۃ الوحی“ ص ۷۹‘ ۸۲)

ظاہر ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو دین اور اس کے اصول و فروع مرزا صاحب کی آمد سے پہلے موجود تھے‘ وہی ان کی آمد کے بعد بھی موجود ہیں۔ قرآن کریم وہی ہے‘ احادیث کی کتابیں وہی ہیں‘ فقہی سرمایہ وہی ہے‘ کلام‘ عقائد‘ تصوف‘ اصول وغیرہ تمام متعلقہ علوم وہی ہیں۔ مگر اب امت محمدیہ کی نجات صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں سے وابستہ نہیں بلکہ اب اس کے لیے مرزا صاحب کی نبوت و رسالت‘ ان کی وحی اور ان کی تعلیم پر ایمان لانا اور عمل کرنا بھی شرط قرار پایا۔ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ اب قرآن کریم کی تفسیر‘ احادیث نبویہ اور فقہ و کلام اور تصوف و عقائد کے پیمانے بھی بدلنے ہوں گے۔ امت مسلمہ کی تیرہ صدیوں کے علماء آیت کی ایک تفسیر کریں اور۔۔۔۔۔۔ مرزا صاحب اس کی کچھ اور تفسیر بتائیں تو ایمان مرزا صاحب کی تشریح و تفسیر پر ہی لانا پڑے گا۔ ساری امت ایک حدیث کو

صفحہ 435

صحیح قرار دے اور مرزا صاحب کی ”وحی“ اسے غیر صحیح بتائے تو فیصلہ مرزا صاحب کا ہی مسلم ہوگا۔ تمام عقائد کی کتابوں میں ایک عقیدہ لکھا ہو اور مرزا صاحب اس کے خلاف بتائیں تو مرزا صاحب کا بتایا ہوا عقیدہ ہی صحیح ماننا پڑے گا۔ یہ ہمارا قیاس نہیں بلکہ ان کی نبوت اور اس کے لوازم کا منطقی نتیجہ ہے۔ وہ خود لکھتے ہیں:

”اگر ایمان اور حیاء سے کام لیتے تو اس کارروائی پر نفرین کرتے جو مہر علی گولڑوی نے میرے مقابل پر کی‘ کیا میں نے اس کو اس لیے بلایا تھا کہ میں اس سے ایک منقولی بحث کر کے بیعت کر لوں؟ جس حالت میں میں بار بار کہتا ہوں کہ خدا نے مجھے مسیح موعود مقرر کر کے بھیجا ہے اور مجھے بتلا دیا ہے کہ فلاں حدیث سچی ہے اور فلاں جھوٹی ہے اور قرآن کے صحیح معنوں سے مجھے اطلاع بخشی ہے تو پھر میں کس بات میں اور کس غرض کے لیے ان لوگوں سے منقولی بحث کروں؟ جب کہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کے ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں‘ جس کی حق الیقین پر بنا ہے اور وہ لوگ بھی اپنی ضد کو نہیں چھوڑ سکتے“۔ (”اربعین“‘ نمبر۴‘ ص۱۹)

مدعا واضح ہے کہ جو اسلامی عقائد متوارث چلے آتے ہیں وہ تو ”ضد“ ہے اور مرزا صاحب کی ”وحی“ جو کچھ بتائے‘ وہ حق الیقین ہے۔ توریت و انجیل اور قرآن کی طرح لائق ایمان ہے۔ حدیث و قرآن کے معنی و مفہوم اور اسلامی ذخیرۂ عقائد و اصول پر حکم اب مرزا صاحب کی ذات ہے۔ وہ جس عقیدہ و حکم کو چاہیں‘ باقی رکھیں یا موقوف کر دیں۔ خلاصہ یہ کہ جب مرزا صاحب کی پیروی میں نجات منحصر ہو گئی تو نجات کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا اور آپؐ کے دین و شریعت پر عمل کرنا کافی نہ رہا۔ بلکہ اب مرزا صاحب کی نبوت جزو ایمان‘ ان کی دعوت و تعلیم شاہراہ عمل اور ان کی پیروی کفیل نجات ٹھہری۔

صفحہ 436

دو فریق:

انبیاء علیہم السلام دنیا میں تشریف لاتے ہیں تو خبیث و طیب چھٹ کر الگ ہو جاتے ہیں اور ان کی دعوت کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے نتیجہ میں دو فریق وجود میں آتے ہیں۔ ایک فریق ان کی دعوت پر لبیک کہنے والوں کا ہوتا ہے‘ جنہیں مومن اور مسلم کہا جاتا ہے اور دوسرا فریق ان کی دعوت کو نہ ماننے والے منکروں کا‘ جنہیں کافر‘ ظالم‘ جہنمی اور خارج از اسلام کہا جاتا ہے۔ گویا انبیاء علیہم السلام کی دعوت کے نتیجے میں انسانیت خود بخود سعادت و شقاوت کے دو خانوں میں بٹ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ مرزا صاحب کے دعویٰ اور دعوت کا فطری اور منطقی نتیجہ بھی یہی ہونا چاہیے تھا اور یہی ہوا بھی کہ ان پر ایمان لانے والے ان کے نزدیک مومن و مسلم کہلائے اور انکار کرنے والے (معاذ اللہ) کافر‘ مردود اور جہنمی قرار پائے۔ مرزا صاحب یہ اصول تسلیم کرتے ہیں کہ:

والوں کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں‘ لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں‘ گو وہ کیسی ہی جناب الہٰی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الہیہ سے سرفراز ہوں‘ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا“۔ (حاشیہ ”تریاق القلوب“‘ ص ۱۳۰‘ ”روحانی خزائن‘ ص ۴۳۲‘ ج ۱۵)

کا فرستادہ‘ خدا کا مامور‘ خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے‘ اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔ (دشمن سے وہ تمام لوگ مراد ہیں جو ایمان نہیں لائے جیسا کہ اگلے نمبر سے واضح ہے۔ ناقل)

صفحہ 437

(”انجام آتھم‘ ص ۶۲‘ روحانی خزائن‘ ص ۶۲‘ ج۱۱)

نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“

(مرزا صاحب کا الہام‘ مندرجہ ”تذکرہ“‘ ص ۴۳۴‘ طبع دوم‘ ص ۴۳۶‘ طبع

چہارم)

گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ ان مومنوں کے جو آپ کی تکفیر کر کے کافر بن جائیں‘ صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا۔ لیکن عبدالحکیم خان کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے‘ اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا‘ وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔“ (”روحانی خزائن‘ ص ۱۶۷‘ ج۲۲)

ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے۔“

(”حقیقتہ الوحی“ ص ۱۶۳‘ ”روحانی خزائن“ ص ۱۶۷‘ ج۲۲)

میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔“ (ایضاً‘ ص ۱۶۳)

ہے۔ سو جو شخص مجھے نہیں مانتا‘ وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا

صفحہ 438

ہے۔ اس لیے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے“۔

(ایضاً حاشیہ ص ۲۴۳)

تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا تعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہو سکتا ہے اور اگر وہ مومن ہے تو میں بوجہ افترا کرنے کے کافر ٹھہرا۔ کیونکہ میں ان کی نظر میں مفتری ہوں“۔ -(ایضاً ص ۲۴۴، ”روحانی خزائن“ ص ۲۶۸‘ ج۲۲)

شخص در حقیقت کافر ہے‘ وہ اس کے کفر کی نفی کرتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ جس قدر لوگ میرے پر ایمان نہیں لاتے‘ وہ سب کے سب ایسے ہیں کہ ان تمام لوگوں کو وہ مومن جانتے ہیں جنہوں نے مجھ کو کافر ٹھہرایا ہے۔ میں اب بھی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتا لیکن جن میں خود انہیں کے ہاتھ سے وجہ کفر پیدا ہو گئی ہے‘ ان کو کیوں کر مومن کہہ سکتا ہوں“۔

(ایضاً ص ۲۶۵‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ۲۷۹‘ ج ۲۲)

مرزا صاحب کی اس تمام تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے مرزا کو ان کے دعویٰ نبوت کی وجہ سے خارج از اسلام قرار دیا‘ وہ تکفیر کی وجہ سے کافر ہوئے اور جن لوگوں نے مرزا صاحب کو قبول نہیں کیا اور ان پر ایمان نہیں لائے‘ وہ ان ”کافروں“ کو کافر نہ کہنے کی وجہ سے کافر ہوئے۔ بس اب اہل قبلہ صرف وہ لوگ ہیں جو مرزا صاحب کی تصدیق کرتے ہیں۔ لطیفہ یہ ہے کہ لاہوری فرقہ جو مرزا صاحب کے نہ ماننے والوں کو مسلمان کہتا ہے‘ وہ بھی مرزا صاحب کے اس فتویٰ کی رو سے ”کافروں“ کو مسلمان سمجھنے کی بنا پر کافر قرار پاتا ہے۔

آسمان سے نشان ظاہر کیے ہیں‘ پس جس شخص پر میرے مسیح موعود ہونے

صفحہ 439

کے بارے میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہوچکا ہے اور میرے دعوے پر وہ اطلاع پاچکا ہے‘ وہ قابل مواخذہ ہوگا۔“

(ایضاً‘ ص۱۷۸‘ ”روحانی خزائن“‘ ص۱۸۴‘ ج۲۲)

نزدیک جو منکر ٹھہر چکا ہے‘ وہ مواخذہ کے لائق ہوگا۔ ہاں چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے‘ اس لیے ہم منکر کو مومن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مواخذہ سے بری ہے اور کافر منکر کو ہی کہتے ہیں کیونکہ کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے“۔ (ص۱۷۹‘ ایضاً‘ ص۱۸۵‘ ج۲۲)

اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لیے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے‘ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں“۔ -(ایضاً‘ ص۱۷۹‘ ایضاً ۱۸۵‘ ج۲۲)

اس استدلال کا حاصل یہ ہے کہ مرزا صاحب کو نہ ماننے والے ان کے خیال میں دراصل خدا و رسول کے منکر ہیں لہٰذا ان کے کفر میں کوئی شک و شبہ نہیں۔

کفر یا دوسری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہوچکا ہے‘ وہ قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہوگا اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گو شریعت نے (جس کی بنا ظاہر پر ہے) اس کا نام بھی کافر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی

صفحہ 440

پکارتے ہیں مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا قابل مواخذہ نہیں ہوگا۔ ہاں ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم اس کی نسبت نجات کا حکم دیں۔ اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے ہمیں اس میں دخل نہیں"۔

(ایضاً، ص ۱۸۰، ایضاً ص ۱۸۶، ج ۲۲)

اس تقریر کا حاصل یہ ہے کہ مرزا صاحب کا انکار دنیوی احکام کے لحاظ سے تو بہرحال کفر ہے اور اخروی لحاظ سے بھی وہ اسے کافر کہنے ہی کے پابند ہیں۔ البتہ یہ خدا کو علم ہے کہ اس پر ٹھیک طرح اتمام حجت ہوا یا نہیں اور وہ اس انکار میں معذور تھا یا نہیں۔ معذور تھا تو قابل مواخذہ نہیں ہوگا لیکن یہ بہرحال خدا کے ساتھ معاملہ ہے۔ ہمارا جہاں تک تعلق ہے، ہم ہر ایک نہ ماننے والے کو کافر ہی کہیں اور سمجھیں گے۔ یہ ٹھیک وہی اصول ہے جو انبیاء علیہم السلام کے نہ ماننے والوں پر جاری ہوتا ہے۔

مرزا صاحب نے اپنے نہ ماننے والوں کو صرف لفظی اور ذہنی طور پر اسلام سے خارج نہیں کیا بلکہ اپنی امت کو یہ حکم بھی فرمایا کہ وہ دیگر مسلمانوں سے کلی طور پر انقطاع اختیار کرلیں۔ دینی اور معاشرتی امور میں ان سے کوئی تعلق اور واسطہ نہ رکھیں۔ مرزا صاحب کے منکروں کو ایک الہام میں ابولہب اور ہامان قرار دے کر ان کی ہلاکت کی خبر دی گئی تھی : تبت یدا ابی لھب و تب اس الہام کی تشریح کرتے ہوئے مرزا صاحب لکھتے ہیں:

”اس کلام الٰہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے (جن میں وہ تمام مسلمان شامل ہیں جو مرزا صاحب پر ایمان نہیں لائے۔ ناقل) ہلاک شدہ قوم ہے۔ اس لیے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ، مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ پس یاد رکھو جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا

صفحہ 441

متردد کے پیچھے نماز پڑھو…… تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا…… کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو“۔

("اربعین"، نمبر ۳، حاشیہ ص ۳۴)

یہ مرزا صاحب کے دعوۂ نبوت و رسالت کا مختصر سا خاکہ ہے جو ان کی تصنیفات اور اشتہارات و اخبارات کے سینکڑوں نہیں ہزاروں صفحات پر منتشر ہے۔ نہایت اختصار کے ساتھ ان کے دعویٰ کی نوعیت، اس کے اثرات اور نتائج و ثمرات کا ایک مرتبہ نقشہ آپ کے سامنے ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال کر انصاف کیجئے کہ امت کے لاہوری فرقے کا یہ دعویٰ کہاں تک صداقت پر مبنی ہے کہ مرزا صاحب ”مجدد“ تھے۔

اب مرزا صاحب کی نبوت پر ایک اور پہلو سے غور کیجئے۔ اسلام کا ادنیٰ طالب علم بھی اس امر سے واقف ہے کہ (۱) کسی غیر نبی کو نبی پر فضیلت نہیں ہو سکتی۔ (۲) انبیائے کرام علیہم السلام میں پانچ حضرات یعنی حضرت ابراہیم، حضرت نوح، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیہم و سلم تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل ہیں، اور (۳) کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صاحب شریعت رسول تھے۔ یہ اسلام کے وہ مسلمہ عقائد ہیں جن میں کبھی دو رائیں نہیں ہوئیں۔ اب دیکھئے کہ مرزا صاحب نے بیسیوں جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضلیت کا دعویٰ کیا ہے۔ موصوف نے جب تک حریم نبوت میں قدم نہیں رکھا تھا اس وقت تک وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی ”جزوی فضیلت“ کے قائل تھے۔ ملاحظہ ہو:

نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ ایک جزئی

صفحہ 442

فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر بھی ہو سکتی ہے“۔

(”تریاق القلوب“ ص ۱۵۷‘ روحانی خزائن)

اور جب مقام نبوت تک ترقی کی تو کھل کر اعلان کر دیا:۔

(حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سے اپنی ”تمام شان“ میں بہت بڑھ کر ہے اور دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“(”حقیقتہ الوحی“ ص۱۴۸‘ روحانی خزائن۔ ۱۵۲‘ ج۲۲)

ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“

(”حقیقتہ الوحی ص۱۴۸‘ روحانی خزائن۔ ۱۵۲‘ ج۲۲

مرزا صاحب سے ان کے کسی نیاز مند نے سوال کیا کہ تریاق القلوب اور مابعد کی عبارتوں میں تناقض ہے، اس کے جواب میں مرزا صاحب نے اپنی وحی، نبوت اور مسیحیت پر ایک طویل تقریر کرتے ہوئے فرمایا:۔

نسبت ہے؟ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔ اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا۔“(”حقیقتہ الوحی“ ص۱۴۹‘ ۱۵۰)

خلیفہ اس نبی کا ہوں جو خیرالرسل ہے۔ اس لیے خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھے... میں کیا کروں اور کس طرح خدا کے حکم چھوڑ سکتا ہوں

صفحہ 443

اور کس طرح اس روشنی سے جو مجھے دی گئی‘ تاریکی میں آ سکتا ہوں۔ خلاصہ یہ کہ میری کلام میں کچھ تناقض نہیں‘ میں تو خدا تعالیٰ کی وحی کی پیروی کرنے والا ہوں جب تک مجھے اس سے علم نہ ہوا میں وہی کہتا رہا جو اوائل میں‘ میں نے کہا اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا"۔

("حقیقتہ الوحی" ص۱۵۰)

مرزا صاحب کی اس تقریر سے چند چیزیں نکھر کر سامنے آگئیں:۔

خود غیر نبی۔ اس لیے اگر انہیں اپنی کسی بات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نظر آتی تو اسے جزئی فضیلت پر محمول کرتے۔

میں تبدیلی پیدا کر دی اور صریح طور پر انہیں منصب نبوت عطا کر دیا۔

السلام سے افضل قرار دے دیے گئے۔

کی پیروی کرنے پر مجبور تھے۔

عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی‘ عیسیٰ علیہ السلام‘ موسوی سلسلہ کے آخری خلیفہ اور تشریعی نبی تھے۔ ٹھیک یہی منصب محمدی سلسلہ میں جناب مرزا صاحب کا ہے۔۔۔۔ مزید سنئے:

ایک خدمت سپرد کی گئی ہے‘ اس وجہ سے کہ ہمارا آقا اور مخدوم تمام دنیا کے لیے آیا تھا تو اس عظیم الشان خدمت کے لحاظ سے مجھے وہ قوتیں اور

صفحہ 444

طاقتیں بھی دی گئی ہیں جو اس بوجھ کے اٹھانے کے لیے ضروری تھیں۔ اور وہ معارف اور نشان بھی دیے گئے جن کا دیا جانا اتمام حجت کے لیے مناسب وقت تھا۔ مگر ضروری نہ تھا کہ حضرت عیسیٰ کو وہ معارف اور نشان دیے جاتے کیونکہ اس وقت ان کی ضرورت نہ تھی۔ اس لیے حضرت عیسیٰ کی سرشت کو صرف وہ قوتیں اور طاقتیں دی گئیں جو یہودیوں کے ایک تھوڑے سے فرقہ کی اصلاح کے لیے ضروری تھیں۔ اور ہم قرآن شریف کے وارث ہیں جس کی تعلیم جامع تمام کمالات ہے اور تمام دنیا کے لیے ہے۔ مگر حضرت عیسیٰ صرف تورات کے وارث تھے جس کی تعلیم ناقص اور مختص القوم ہے۔" (”حقیقۃ الوحی“ ص ۱۵۱)

یہاں یہ بحث نہیں کہ مرزا صاحب کی اس تقریر میں کیا سقم ہے اور اس کا کتنا حصہ محض شعری و وہمی مقدمات پر مبنی ہے۔ یہاں صرف یہ دکھانا ہے کہ مرزا صاحب کے بقول ان کی سرشت میں وہ تمام قوتیں اور طاقتیں رکھی گئی ہیں جن سے عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ باللہ) محروم تھے۔ یہ تو فطری قوتوں میں مرزا صاحب کی برتری تھی۔ اب روحانی طاقتوں میں ان کو بلندی دیکھئے :

علیہ السلام کو اسی قدر روحانی قوتیں اور طاقتیں دی گئی تھیں جو فرقہ یہود کی اصلاح کے لیے کافی تھیں تو بلاشبہ ان کے کمالات بھی اسی پیمانہ کے لحاظ سے ہوں گے۔۔۔ اور ہمیں حکم ہے کہ تمام احکام میں اخلاق میں عبادات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں۔ پس اگر ہماری فطرت کو وہ قوتیں نہ دی جاتیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر سکتیں تو یہ حکم ہمیں ہرگز نہ ہوتا کہ اس بزرگ نبی کی پیروی کرو کیونکہ خدا تعالیٰ فوق الطاقت کوئی تکلیف نہیں دیتا۔" (”حقیقۃ الوحی“ ص ۱۵۱‘ ۱۵۲)

صفحہ 445
گر ایں است مکتب و ملا
کار طفلاں تمام خواہد شد

طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں‘ کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لیے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔“

(”حقیقۃ الوحی“ ص۱۵۴)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا‘ وہ ایسا ہی ایک اور انسان یا اس سے بہتر پیدا نہیں کر سکتا (جل جلالہ)“ (”حقیقۃ الوحی ص۱۵۳‘ ۱۵۴‘ ج۲۲)

خاص طور پر مجھے مخصوص کر کے وہ میرے پر رحمت اور عنایت کی گئی جو اس پر نہیں کی گئی۔ تاکہ لوگ سمجھیں کہ فضل خدا کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اگر میں اپنی طرف سے یہ باتیں کرتا ہوں تو جھوٹا ہوں“۔

(”حقیقۃ الوحی“ ص۱۵۴)

آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“ (”حقیقۃ الوحی“ ص۱۵۵)

قرآنیہ سے ثابت کرنا چاہیے کہ آنے والا مسیح (مرزا غلام احمد) کچھ چیز ہی نہیں نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ حکم جو کچھ ہے پہلا ہے“۔

(”حقیقۃ الوحی“ ص۱۵۵)

صفحہ 446

یہ سب حوالے مرزا صاحب کی صرف ایک کتاب سے لیے گئے ہیں۔ مرزا صاحب کے لیے اپنے رقیب (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سے نوک جھونک کا مشغلہ کچھ ایسا مرغوب تھا کہ انہوں نے بلا مبالغہ ہزاروں جگہ اس موضوع پر گل افشانیاں کی ہیں، جنہیں پڑھنے کے لیے بھی پتھر کا دل چاہیے۔ بہرحال اگر عقل و انصاف نام کی کوئی چیز دنیا میں موجود ہے تو مرزا صاحب کی مندرجہ بالا تصریحات سے معمولی عقل و فہم کا آدمی بھی اس نتیجے پر پہنچے گا کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام صاحب شریعت رسول تھے تو مرزا صاحب کو ان سے بڑھ کر "عظیم ترین صاحب شریعت رسول" ہونے کا دعویٰ ہے۔ اب اسے ظلی مجازی نبی کہو، امتی نبی کا لقب دو، یا "آنریری نبی" سمجھو۔ بہرحال اہل عقل و دانش سن کر یہی کہیں گے ۔

من انداز قدت را مے شناسم
بہر رنگے کہ خواہی جامہ مے پوش

اور ایک عیسیٰ علیہ السلام ہی کی کیا تخصیص؟ مرزا صاحب کے نزدیک کوئی بھی نبی اور رسول ان کے مرتبہ کو نہیں پہنچتا، وہ کہتے ہیں: ۔

روضہ آدم کہ تھا نا مکمل اب تلک
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

(براہین پنجم)

اور

زندہ شد ہر نبی باآمد نم
ہر رسولے نہاں بہ پیرا ہنم

(درثمین)

اور ان کا یہ فقرہ بھی پہلے کہیں نقل کر چکا ہوں:

"سچ تو یہ ہے کہ اس (خدا) نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام

صفحہ 447

میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے۔“

(”تتمتہ حقیقتہ الوحی“ ص ۱۳۶)

یہ ہے مرزا صاحب کی باران وحی کا طوفان اور ان کے دریائے معجزات کی روانی! جس میں ایک دو نہیں بلکہ تمام انبیاء کے اعجازی سفینے ڈوب ڈوب جاتے ہیں۔ مگر ان کی امت کا ایک گروہ ہنوز اسی شک میں ہے کہ حضرت صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا؟

بہر حال اگر کسی کو حق تعالیٰ نے دیدہ بصیرت عطا کیا ہے تو اسے یہ سمجھنے میں دقت نہیں ہوگی کہ مرزا صاحب نبوت کی کتنی بلند چوٹی پر بیٹھ کر کس لب و لہجہ میں بات کرنے کے عادی ہیں۔ سنئے :

”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لیے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے“۔

(”چشمہ معرفت“ ص ۳۱۷)

کس قدر قابل تعجب ہے ایک طرف مرزا صاحب کی یہ فیاضی کہ وہ اپنے اعجاز نبوت سے ہزار نبی کی نبوت ثابت کر سکتے ہیں اور ادھر ان کی بے توفیق امت کی حرماں نصیبی --- کہ وہ خود مرزا صاحب کو کامل و مکمل نبی تسلیم کرنے سے شرماتی ہے۔

اب مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کو ایک اور زاویئے سے دیکھئے۔ مرزا صاحب کی نبوت کا ایک عظیم معجزہ یہ تھا کہ وہ مختلف اوقات میں پیش گوئیاں کیا کرتے تھے، وہ تحریر فرماتے ہیں:

”اور جو معجزات مجھے دیئے گئے بعض ان میں سے وہ پیش گوئیاں ہیں جو بڑے بڑے غیب کے امور پر مشتمل ہیں کہ بجز خدا کے کسی کے اختیار اور قدرت میں نہیں کہ ان کو بیان کر سکے“۔

صفحہ 448

("چشمہ معرفت" ص ۳۴۳)

لیکن قسمت کا پھیر کچھ ایسا تھا کہ وہ جس چیز کی پیش گوئی تحدی کے ساتھ کرتے اور اشتہارات کے ذریعہ تمام دنیا کی توجہ اس کی طرف مبذول فرماتے‘ وہ ہمیشہ ان کی تشریح و تعبیر کے خلاف ظہور پذیر ہوتی۔ لوگ معترض ہوتے تو اپنی اجتہادی خطا کے جواز میں ہمیشہ انبیاء کرام کی اجتہادی خطاؤں کا حوالہ دیتے‘ ملاحظہ فرمائیے:

اعتراض سب نبیوں پر پڑتے ہیں"۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی" ص ۱۳۴)

ہے جو نبی کے اجتہاد کو واجب الوقوع سمجھتے ہیں"۔

وہ نبی جو تمام انبیاء سے افضل تھا اجتہادی غلطی سے بچ نہ سکا‘ چنانچہ حدیبیہ کا سفر اجتہادی غلطی تھی‘ یمامہ کو ہجرت گاہ قرار دینا اجتہادی غلطی تھی تو پھر دوسروں پر کیا اعتراض ہے"۔

نہیں ہوتی ہاں اس کے سمجھنے میں اگر احکام شریعت کے متعلق نہ ہو کسی نبی سے غلطی ہو سکتی ہے"۔

(ایضاً)

کر لیا اور کپڑے بیچ کر ہتھیار بھی خریدے گئے"۔

ہونا حقیقت پر محمول نہیں بلکہ استعارہ کے رنگ میں ہے"۔

(ایضاً)

نبی بنی اسماعیل سے ہے"۔

صفحہ 449

اس کو اعتراض کی صورت میں پیش کرنا کسی متقی کا کام نہیں“۔

وہ معبود ٹھہرائے جائیں“۔

(”تتمہ حقیقتہ الوحی“ ص ۱۳۵)

جاویں تو میرے پر کوئی اعتراض ایسا نہیں کر سکتے کہ جس اعتراض میں گزشتہ نبیوں میں کوئی نبی شریک نہ ہو‘ اپنی جادوگریوں کی وجہ سے ہمیشہ کیوں رسوا ہوتے ہیں اور پھر باز نہیں آتے“۔

(”تتمہ حقیقتہ الوحی“ ص ۱۳۷)

نہیں ہیں.... تیسرے یہ کہ محض ایک اجتہادی امر ہے اور اس کو خدا کا کلام قرار دے کر پھر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ پیش گوئی تھی جو پوری نہیں ہوئی‘ جبکہ یہ حال ہے تو ظاہر ہے کہ کوئی نبی ان کی زبان سے نہیں بچ سکتا“۔

(”تتمہ حقیقتہ الوحی“ ص ۱۳۷)

ہرگز امید نہیں کہ ابو جہل نے آنحضرت صلعم کی نسبت یہ بدزبانی کی ہو‘ بلکہ میں یقیناً کہتا ہوں کہ جس قدر خدا کے نبی دنیا میں آئے ان سب کے مقابل پر کوئی ایسا گندہ زبان ثابت نہیں ہوتا تھا جیسا کہ سعد اللہ تھا“۔

گندی گالیاں کسی نبی اور مرسل کو دی ہوں جیسا کہ اس نے مجھے دیں“۔

(ایضاً ص ۵)

یہ چند عبارتیں بھی صرف ایک کتاب سے لی گئی ہیں‘ ورنہ مرزا صاحب کی

صفحہ 450

اس نوعیت کی تصریحات بیشمار ہیں۔ مختصر یہ کہ مرزا صاحب سے جب کبھی لغزش ہوتی اور اس پر انہیں ٹوکا جاتا یا ان کی تحدی آمیز پیش گوئی خود ان کی تشریح و تفسیر کی روشنی میں حرف غلط ثابت ہوتی۔ (اور یہ قصہ ان کی زندگی کا روزمرہ معمول تھا) تو خفت مٹانے اور اپنے نیاز مندوں کا دل بہلانے کے لیے یہ ابتلائی تقریر فرماتے کہ دراصل وحی الہی کا مطلب سمجھنے میں ہم سے اجتہادی غلطی ہوئی۔ پیش گوئی کا مطلب یہ تھا اور ہم نے یہ سمجھ لیا‘ اور سنت اللہ یہی ہے کہ نبیوں سے پیش گوئیاں کرائی جاتی ہیں مگر ان میں استعارے بہت ہوا کرتے ہیں‘ اس لیے نبی ان کا مطلب نہیں سمجھا کرتے بلکہ بے سمجھے پیش گوئی کر دیا کرتے ہیں‘ دیکھو یونس نبی نہ سمجھا‘ موسیٰ نہیں سمجھا‘ عیسیٰ نہیں سمجھا‘ ملاکی نبی نہیں سمجھا‘ بنی اسرائیل کے سارے نبی نہیں سمجھے‘ اور تو اور خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں سمجھے انا للہ وانا الیہ راجعون۔

مرزا صاحب کا یہ نظریہ اپنی جگہ کتنا الحاد پرور ہے؟ اس سے قطع نظر جو امر خاص طور پر قابل توجہ ہے وہ یہ کہ جو شخص نبوت و رسالت اور وحی قطعی کا دعویٰ کر کے تمام انبیاء کرام کو اپنی نظر میں پیش کرے اور تمام دنیا کو اس بات کا چیلنج کرے کہ میری نبوت و رسالت اور وحی پر وہ اعتراض کرو جو کسی نبی پر وارد نہ ہوتا ہو‘ کیا اس کی اس منطق کا صاف صاف نتیجہ یہ نہیں کہ وہ بھی ٹھیک اسی معنی و مفہوم میں رسالت و نبوت کا مدعی ہے جو مفہوم کہ تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی نبوت و رسالت کا تھا؟ اور اس کے کسی ہوشیار وکیل کا یہ کہنا کہ اس نے حقیقتاً نبوت کا دعویٰ کہیں کیا ہی نہیں تھا کیا یہ واقعہ کی صحیح ترجمانی ہے یا محض سخن سازی کے ذریعہ اس کے مکروہ چہرے پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش؟

PDF 451

معرکۂ لاہور

و

قادیان

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 452

مرزا غلام احمد قادیانی اور مسٹر محمد علی کے نظریات کا تقابلی جائزہ

مرزائیوں کے لاہوری فرقہ کے امام جناب مسٹر محمد علی صاحب ایم۔ اے اپنی مشہور تفسیر ”بیان القرآن“ میں آیت کریمہ فاختلف الاحزاب من بینھم کے تحت لکھتے ہیں:

”احزاب یا فرقوں سے مراد عیسائیت کے مختلف فرقے ہیں۔ ان کے باہمی اختلافات حضرت عیسیٰ کے بارہ میں بہت ہیں اور ہر ایک عقیدۂ باطلہ کا یہی حال ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے فرقوں اور عیسائیوں کے فرقوں میں کتنا فرق ہے کہ وہ سب فرقے حتیٰ کہ سنی اور شیعہ بھی رسول اللہ صلعم کے متعلق کوئی اختلاف ایسا نہیں رکھتے کہ آپ کا مرتبہ کیا تھا اور ان میں اصولی اختلاف کوئی نہیں مگر عیسائیوں کے تمام فرقوں میں ایک دوسرے سے اصولی اختلاف ہے اور کوئی دو فرقے اس پر اتفاق نہیں کرتے کہ حضرت عیسیٰ کیا ہیں اور ان لچر بحثوں سے دفتروں کے دفتر سیاہ ہوئے ہیں“۔

(صفحہ ۱۴۶۱‘ ج۲‘ ص ۸۶۰‘ ج۲)

عیسائیت کے اصولی اختلاف کا جو بھیانک نقشہ مسٹر محمد علی نے کھینچا ہے‘ ٹھیک یہی حال مرزائیت کا (یا صحیح لفظوں میں جدید عیسائیت کا) ہوا۔ مرزائیت کئی فرقوں میں بٹی اور بقول مسٹر محمد علی ”ان نئے عیسائیوں کے تمام فرقوں میں ایک دوسرے سے اصولی اختلاف ہے‘ اور کوئی دو فرقے بھی اس پر اتفاق نہیں کرتے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کیا ہیں اور ان لچر بحثوں سے دفتروں کے دفتر سیاہ ہوئے ہیں“۔

صفحہ 453

لطف یہ کہ مرزائیوں کا یہ ”اصولی اختلاف“ خود مرزا غلام احمد آنجہانی کی زندگی میں رونما ہوچکا تھا۔ ایک مرزائی اگر لا نفرق بین احد من رسلہ کی آیت پڑھ کر مرزا آنجہانی کی نبوت کا اعلان بر سر منبر کرتا تو دوسرا مرزائی اس کا گریبان پکڑ لیتا۔

دراصل مرزائیت کے اس ”اصولی اختلاف کی ذمہ داری مرزائیوں سے زیادہ مرزا آنجہانی پر عائد ہوتی ہے، موصوف نے موقعہ محل سے فائدہ اٹھا کر اتنے متناقض دعوے کر ڈالے کہ مرزا کی اصل حیثیت خود اس کی امت پر مشتبہ ہو کر رہ گئی اور ان کے لیے مرزا کے تمام متخالف اقوال اور دعوؤں کے ساتھ لے کر چلنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہوگیا۔ بالآخر مرزا محمود صاحب نے اس تناقض سے عہدہ برآ ہونے کی یہ ترکیب نکالی کہ اپنے ابا کی ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء سے قبل کی تمام تصریحات کو بیک جنبش قلم منسوخ کر ڈالا اور کھل کر اعلان کر دیا کہ ”حضرت صاحب کی ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء سے قبل کی عبارتیں منسوخ ہیں، اور ان سے حجت پکڑنا غلط ہے“۔ (حقیقۃ النبوۃ ص ۵۵)

ادھر لاہوری پارٹی کے امیر جناب مسٹر محمد علی نے تاویل کے ڈنڈے سے مرزا آنجہانی کے متناقض دعاوی کے جن کو محدثیت کی بوتل میں بند کرنا چاہا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ مرزا آنجہانی پر ایسی شدید تنقیدیں کر گئے کہ مرزائی نبوت خود مرزائیوں کے نزدیک ایک گالی بن کر رہ گئی۔ ذیل میں مرزا غلام احمد قادیانی کے نظریات اور ان پر مسٹر محمد علی لاہوری کی تنقیدات کا ایک مختصر خاکہ پیش کیا جاتا ہے، جو دلچسپ بھی ہے اور عبرت آموز بھی۔ تمام مرزائیوں سے، بالخصوص لاہوریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس آئینے میں مرزائی نبوت کا چہرہ دیکھ کر فیصلہ کریں کیا دنیا میں کوئی ایسا نبی یا مامور من اللہ ہوا ہے، جس کو خود اس کی امت نے جرح و تنقید کا ایسا نشانہ بنایا ہو۔

۱- نبوت اور پیشگوئیاں

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں:

”اسلام کی رو سے جیسا کہ پہلے زمانہ میں خدا تعالیٰ اپنے بندوں خدا تعالیٰ اپنے خاص بندوں تعالیٰ اپنے خاص بندوں

صفحہ 454

سے مکالمہ مخاطبہ کرتا تھا، اب بھی کرتا ہے اور ہم میں اور ہمارے مخالف مسلمانوں میں صرف لفظی نزاع ہے اور وہ یہ کہ ہم خدا کے ان کلمات کو، جو نبوت یعنی پیش گوئیوں پر مشتمل ہوں، نبوت کے اسم سے موسوم کرتے ہیں اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیشگوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں، یعنی اس قدر کہ اس کے زمانہ میں اس کی کوئی نظیر نہ ہو، اس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں۔ کیونکہ نبی اس کو کہتے ہیں، جو خدا کے الہام سے بہ کثرت آئندہ کی خبریں دے، مگر ہمارے مخالف مسلمان مکالمہ الٰہیہ کے قائل ہیں لیکن اپنی نادانی سے ایسے مکالمات کو، جو بکثرت پیش گوئیوں پر مشتمل ہوں، نبوت کے نام سے موسوم نہیں کرتے۔ حالانکہ نبوت صرف آئندہ کی خبر دینے کو کہتے ہیں جو بذریعہ وحی الہام ہو"۔

("چشمہ معرفت" ص ۱۸۰ - ۱۸۱، "روحانی خزائن" ص ۱۸۸-۱۸۹، ج ۲۳)

مرزا غلام احمد صاحب کی اس عبارت سے واضح ہے کہ ان کے نزدیک نبوت کی تعریف ہے: ”خدا سے خبر پا کر پیشگوئیاں کرنا اور آئندہ کی خبریں دینا“ اور ”جو شخص بذریعہ الہام بکثرت پیشگوئیاں کرتا ہو، اس کو نبی کہتے ہیں“ اب اس پر مسٹر محمد علی لاہوری کا تبصرہ سنئے۔ فرماتے ہیں:

”مبشرات (پیشگوئیوں) کو عین نبوت قرار دینے میں میاں صاحب نے ایک ایسا اصول باطل باندھا ہے، جس کے لیے نہ صرف ان کے ہاتھ میں کوئی سند ہی نہیں، بلکہ جس میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہے۔ صحیح احادیث کی مخالفت ہے، اکابر اہل سنت کی مخالفت ہے"۔

”پیش گوئیاں محض اس غرض کے لیے ہیں کہ تا مامور کی صداقت کا یقین آ جائے، ورنہ پیش گوئی نبوت کی اصل غرض نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں نہیں فرمایا کہ سلسلہ انبیاء کو قائم کرنے کی غرض یہ ہے کہ کسی قوم کو بتا دیا جائے کہ وہ بڑی ہو جائے گی اور کسی کو کہہ دیا جائے کہ وہ ہلاک

صفحہ 455

ہوگی۔ اگر عین نبوت یہی چیز ہے تو پھر نبوت کی غرض و غایت اور اس کا مقصود ایک نہایت حقیر سی بات رہ جاتی ہے اور سلسلہ انبیاء کی عظمت ہی دنیا سے مفقود ہو جاتی ہے“۔

”مبشرات کو عین نبوت قرار دینا دین کو محض ایک کھیل بنانا ہے“۔

”جو شخص پیش گوئیوں کو‘ تبشیر و انذار کو‘ مبشرات کو عین نبوت قرار دیتا ہے‘ وہ اصل مقصد نبوت سے بہت دور پڑا ہوا ہے۔ یہی مذہب تمام امت کا رہا ہے‘ جس کا جی چاہے‘ کتابوں میں پڑھ لے“۔

(”النبوۃ فی الاسلام“ ص ۴۳-۱۴۴)

نتیجہ : مرزا غلام احمد قادیانی فرماتے ہیں کہ ”نبوت پیش گوئیوں کو کہتے ہیں“ اور مسٹر محمد علی صاحب فرماتے ہیں کہ ”یہ اصول باطل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہے‘ (۳) احادیث صحیحہ کے مخالف ہے‘ (۴) اکابر اہل سنت کے مخالف ہے‘ (۵) اس سے سلسلہ نبوت کی توہین ہوتی ہے‘ (۶) دین ایک کھیل بن جاتا ہے‘ (۷) اور یہ مقصد و مقام نبوت سے بہت دور ہونے کی علامت ہے“۔

۲۔ نبوت کی تفسیر: کثرت مکالمہ ومخاطبہ : مرزا غلام احمد قادیانی

صاحب :

الف : جس بنا پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں‘ وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے...... اور انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے‘ سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک کہ اس دنیا سے گزر جاؤں“۔

صفحہ 456

(مرزا صاحب کا خط بنام اخبار عام‘ مندرجہ ”ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام“)

ص ۳۳۳)

ب: ”نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو“

(”ضمیمہ براہین پنجم“‘ ص ۱۳۸)

ج: ”ہر ایک شخص اپنی گفتگو میں ایک اصطلاح اختیار کر سکتا ہے لكل ان يصطلح سو خدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے یعنی ایسے مکالمات‘ جن میں اکثر غیب کی خبریں دی گئی ہیں“۔ (”چشمہ معرفت“ ص۳۲۵)

د: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ دراصل یہ نزاع لفظی ہے۔ خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ و مخاطبہ کرے جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بڑھ کر ہو اور اس میں پیش گوئیاں بھی کثرت سے ہوں‘ اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے‘ پس ہم نبی ہیں“ (”بدر“ ۵ مارچ‘ ۱۹۰۸ء‘ ”ضمیمہ حقیقۃ النبوۃ“ ص ۲۷۲)

مسٹر محمد علی صاحب:

”کثرت مکالمہ و مخاطبہ بھی کثرت نشانات کی طرح معیار نبوت نہیں۔ ایک شخص پہلی ہی وحی پر‘ اگر وہ وحی نبوت ہے‘ نبی ہو جاتا ہے۔ ایک کو مدۃ العمر الہام ہوتے رہیں‘ وہ اس سے نبی نہیں بن سکتا۔ بلکہ کثرت الہامات سے مامور بھی نہیں بن جاتا۔ یہ نظارہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کو کثرت سے الہامات ہوتے رہتے ہیں۔ نہ وہ مجدد ہوتے ہیں نہ نبی۔ بلکہ بعض تو کمال کے کسی بھی اعلیٰ درجہ پر پہنچے ہوئے نہیں ہوتے۔ حدیث میں آگیا ہے کہ اس امت میں ایسے بہت سے لوگ ہوں گے‘ جن کے ساتھ کلام الٰہی ہوتی رہے گی۔ یہ نہیں

صفحہ 457

کہ ایک دو کلمہ ان کو بطور وحی کے مل جائیں گے اور پھر ساری عمر وہ محروم رہیں گے۔ کلام الٰہی تو ایک دروازہ ہے۔ جب کھلتا ہے تو پھر اسے بند کرنے والا کون ہے۔ پس (حدیث نبوی) یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء اس بات پر شاہد ہے کہ غیر نبی کو بھی کثرت مکالمہ ہو سکتی ہے“۔ ”بہر حال میں کہتا ہوں کہ یہ تو صحیح حدیث میں آگیا ہے کہ ایسے لوگ ہوں گے جو نبی نہیں ہوں گے مگر ان کے ساتھ مکالمہ الٰہیہ ہوگا۔ اب یہ کس حدیث سے نکالیں کہ تھوڑا مکالمہ ہوگا تو وہ محدث کہلائیں گے اور اگر زیادہ مکالمہ ہوگا تو وہ نبی بن جائیں گے؟ آخر مذہب کسی کے ابا جان کا متروکہ مکان تو نہیں کہ جو چاہا‘ اس میں تغیر کر دیا۔ جس دیوار اور دروازہ کو چاہا‘ گرا دیا۔ جس کو چاہا قائم رکھا اور جہاں چاہا کوئی نیا کمرہ بنا دیا۔ مذہب کی بنیاد قرآن و حدیث پر ہے۔ پھر قرآن و حدیث کی کون سی سند ہے جس کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ کثرت مکالمہ والا نبی ہو جاتا ہے“ (”النبؤۃ فی الاسلام“ ص ۱۷۰، ۱۷۱)

نتیجہ : مرزا غلام احمد صاحب فرماتے ہیں کہ ”کثرت مکالمہ مخاطبہ کا نام نبوت ہے اور چونکہ یہ تعریف مجھ پر صادق آتی ہے‘ اس لیے خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے اور میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں“۔ مسٹر محمد علی صاحب فرماتے ہیں کہ ”اس سے تو آپ مامور اور مجدد بھی نہیں بن سکتے چہ جائیکہ ---- چشم بددور ---- آپ نبی بن جائیں“۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ ”خدا کی اصطلاح میں کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام نبوت ہے“۔

مسٹر محمد علی فرماتے ہیں کہ ”دین آپ کے ابا جان کا متروکہ مکان نہیں کہ آپ جیسی چاہیں اس میں ترمیم کرتے پھریں“۔ آخر آپ کے اس دعوے پر کہ ”کثرت مکالمہ والا نبی ہو جاتا ہے“ قرآن و حدیث کی کون سی سند ہے؟ اگر ہے تو پیش کیجئے۔ ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین

صفحہ 458

۳۔ خاتم النبیین کی تفسیر

الف: مرزا غلام احمد قادیانی:

ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین۔۔۔۔۔ آپؐ نبیوں کے لیے مہر ٹھہرائے گئے ہیں۔ یعنی آئندہ کوئی نبوت کا کمال بجز آپؐ کی پیروی کے کسی کو حاصل نہیں ہوگا"۔

(ملفوظات مرزا غلام احمدؒ ص )

مسٹر محمد علی، ایم۔ اے۔:

"انبیاء علیہم السلام ایک قوم ہیں اور کسی قوم کا خاتم یا خاتم صرف ایک ہی معنی رکھتا ہے۔ یعنی ان میں سے آخری ہونا، پس نبیوں کے خاتم کے معنی نبیوں کی مہر نہیں بلکہ آخری نبی ہیں"۔

("بیان القرآن" مسٹر محمد علی، ص ۵۱۵، ج ۳)

نتیجہ : مرزا آنجہانی کہتے ہیں "خاتم النبیین کے معنی "نبیوں کی مہر"۔ ایم۔ اے صاحب فرماتے ہیں کہ "خاتم النبیین کے معنی "نبیوں کی مہر" نہیں بلکہ آخری نبی ہیں"۔

ب: مرزا غلام احمد قادیانی:

"روحانی نبوت اور فیض کا سلسلہ آپؐ کے بعد بھی جاری رہے گا اور وہ آپؐ میں سے ہو کر جاری رہے گا، نہ الگ طور سے۔۔۔۔۔ وہ نبوت چل سکے گی جس پر آپؐ کی مہر ہوگی۔ ورنہ اگر نبوت کا دروازہ بالکل بند سمجھا جائے تو نعوذ باللہ اس سے تو انقطاع فیض لازم آتا ہے اور اس میں تو نحوست ہے اور نبی کی ہتک شان ہوتی ہے"۔

("ملفوظات" ص ۳۴۴، ج ۵)

مسٹر محمد علی ایم۔ اے۔:

"۔۔۔۔۔ اور دس حدیثوں میں ہے لا نبی بعدی یعنی "میرے بعد کوئی

صفحہ 459

نبی نہیں“ اور ایسی حدیثیں جن میں آپ کو آخری نبی کہا گیا ہے‘ چھ ہیں۔ اس قدر زبردست شہادت کے ہوتے ہوئے کسی مسلمان کا آنحضرت صلعم کے آخری نبی ہونے سے انکار کرنا بینات اور اصول دینی سے انکار ہے۔

(”بیان القرآن“ ص ۱۵۸‘ ج۳)

نتیجہ : مرزا آنجہانی کہتے ہیں کہ ”نبوت کا دروازہ بند نہیں‘ بلکہ ”آپ کی مہر“ سے نبوت چلتی ہے“۔ ایم۔ اے صاحب فرماتے ہیں کہ ”یہ احادیث متواترہ کی شہادت کے خلاف ہے۔ اور یہ اصول دینی کا انکار ہے“۔ (یاد رہے کہ اصول دینی کا انکار کفر ہے)

ج : مرزا غلام احمد قادیانی :

اللہ علیہ وسلم کے بعد حرام کی ہے۔۔۔۔۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کے سوائے اب کوئی نبوت نہیں چل سکے گی“۔

(”ملفوظات“ ص ۴۳۳‘ ج۵)

ہو تو وہ قابل تعریف نہیں‘ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم ایسا نور مانتے ہیں کہ آپ سے دوسرے روشنی پاتے ہیں۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے ختم نبوت کی آیت میں فرمایا ہے کہ ۔۔۔۔۔ آپ خاتم ہیں۔ آپ کی مہر سے نبوت کا سلسلہ چلتا ہے“

(”ملفوظات“ ص ۴۱‘ ج۳)

مسٹر محمد علی ایم۔ اے

”اگر خاتم النبیین کے معنی یہی ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ

صفحہ 460

وسلم اپنی مہر سے اپنے جیسے نبی بنا سکتے ہیں تو سب سے پہلے اس لفاظی کو چھوڑ کر اگر ہم واقعات کی دنیا کی طرف جائیں گے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ بڑھاتے بڑھاتے درحقیقت ان کو۔۔۔۔ معاذ اللہ۔۔۔۔ نہایت ہی نااہل استاد ثابت کریں گے، کیونکہ پھر ہم غور کریں گے کہ آخر کتنے نبی تیرہ سو سال میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مہر سے بنائے؟ بس لے دے کر ایک ہی (مرزا غلام آنجہانی۔۔۔۔۔؟) اور وہ بھی ایسا جو آخر دم تک یہی کہتا رہا کہ میری نبوت مجازی ہے اور کم از کم پندرہ سال تک کھلا اور صاف انکار اپنی نبوت کا کرتا رہا، بلکہ آنحضرتؐ کے بعد مدعی نبوت کو کذاب اور مفتری اور دائرہ اسلام سے خارج کہتا رہا"

("النبوۃ فی الاسلام" ،طبع اول، ص۲۲)

نتیجہ : مرزا آنجہانی کہتے ہیں کہ "چراغ سے چراغ جلتا ہے اور آپؐ کی مہر سے سلسلہ نبوت چلتا ہے۔۔۔۔۔" ایم۔ اے صاحب فرماتے ہیں کہ اس لفاظی کو چھوڑیے۔ ذرا واقعات کی دنیا میں نکل کر یہ تو بتائیے کہ تیرہ صدیوں میں آپؐ کی مہر نے کتنے نبی بنائے؟ بس لے دے کر ایک آنجناب کی ذات شریفہ؟۔۔۔۔ اور وہ بھی۔۔۔۔ چشم بددور۔۔۔۔ ایسا بہادر کہ پندرہ بیس سال تک تو اپنی نبوت کا کھلا کھلا انکار ہی کرتا رہا۔ بالآخر مریدوں کی استعداد دیکھ کر نبوت کا اعلان بھی کیا تو کیسا؟ آخر دم تک ظل و مجاز کے شیش محل سے باہر قدم رکھنے کی آنجناب کو جرات نہ ہوئی۔ بس اسی لفاظی سے دنیا کی آنکھوں میں دھول ڈالی جا رہی ہے؟

د : مرزا غلام آنجہانی :

بنایا، یعنی آپؐ کو افاضہ کمال کے لیے مہر دی، جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں

صفحہ 461

دی گئی۔ اسی وجہ سے آپؐ کا نام خاتم النبین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپؐ کی توجہ روحانی ”نبی تراش“ ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی“۔ (”حقیقتہ الوحی“ ص۹۷)

دروازہ کبھی بند نہ ہوگا اور بجز اس کے اور کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لیے امتی ہو‘ لانا لازمی ہے“۔ (”حقیقتہ الوحی“ ص۲۸)

مسٹر محمد علی ایم۔ اے

”اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہی معنوں میں خاتم النبیین تھے کہ آپ (اپنی مہر سے) اپنے جیسے نبی بنایا کریں گے اور اب خدا سے براہ راست نبوت کی بھی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہ عزت بھی آپ کو ہی دے دی گئی اور ایک گونہ خدائی اختیارات آپ کے ہاتھ میں آگئے تو پھر یہ کیا ہوگیا کہ آپ اپنے جیسا ایک بھی نبی نہ بنا سکے؟“

(”النبوۃ فی الاسلام“ ص۲۳)

نتیجہ : مرزا آنجہانی کہتے ہیں کہ ”آپؐ کی روحانی توجہ سے نبی بنتے ہیں‘ آپ کی مہر سے نبی ڈھلتے ہیں اور آپؐ کی قوت قدسیہ سے نبوت ملتی ہے“۔ ایم۔ اے صاحب فرماتے ہیں: ”چلئے مان لیا کہ قادیان میں عطائے نبوت کے خدائی اختیارات بھی آپؐ کو ہی دے دیئے گئے لیکن یہ تو فرمائیے کہ آپؐ کی قوت قدسیہ کی تاثیر سے تیرہ صدیوں میں ــــــــــــــ کتنے نبی پیدا ہوئے؟ تیرہ صدیوں تک آپؐ نے یہ خدائی اختیارات کیوں نہ استعمال کیے؟ آئیں بائیں شائیں کے سوا آپ کے پاس اس کا کوئی معقول جواب ہے؟ نہیں اور قطعاً نہیں۔۔

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
صفحہ 462
یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں

۵: مرزا غلام احمد قادیانی:

”خاتم النبیین“ کے معنی یہ ہیں کہ آپ کی مہر کے بغیر کسی نبوت کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔ جب مہر لگ جاتی ہے تو وہ کاغذ سند ہو جاتا ہے اور مصدقہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر اور تصدیق جس نبوت پر نہ ہو‘ وہ صحیح نہیں“۔ (”ملفوظات“ ص۴۰۸‘ ج۳)

مسٹر محمد علی ایم۔ اے

”اگر غور کیا جائے تو درحقیقت یہ سارے خیالات خدا کے کلام میں قلت تدبر سے پیدا ہوئے ہیں۔ ”محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مہر دے دی گئی ہے کہ جو کام پہلے خدا کیا کرتا تھا‘ وہ اب آپؐ کے سپرد کیا جاتا ہے“ یہ خود ایک لغو بات ہے“۔ (”النبوۃ فی الاسلام“ ص ۱۲۳)

نتیجہ : مرزا آنجہانی کہتے ہیں کہ ”خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو مہر دے دی گئی تاکہ آپ مہر لگا لگا کر آئندہ نبوتوں کی تصدیق کیا کریں۔۔۔۔“ ایم۔ اے صاحب فرماتے ہیں کہ ”یہ سارے خیالات خدا کے کلام میں قلت تدبر کا نتیجہ ہیں“۔ ذرا غور تو کیجئے کہ نبوت عطا کرنا خدا کا کام ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا؟ یہ آپ کیسی مہمل اور لغو بات کہہ رہے ہیں۔

۴۔ حضرت عائشہؓ اور اجرائے نبوت :

مرزا غلام احمد قادیانی:

”کثرت مکالمہ و مخاطبہ کو دوسرے الفاظ میں نبوت کہا جاتا ہے۔ دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ قول کہ قولوا انہ خاتم النبیین و

صفحہ 463

لا تقولوا لا نبی بعدہ اس امر کی صراحت کرتا ہے‘ نبوت اگر اسلام میں موقوف ہو چکی ہے تو یقیناً جانو کہ اسلام بھی مر گیا اور پھر کوئی امتیازی نشان بھی نہیں ہے“۔

(”ملفوظات“ مرزا غلام احمد قادیانی‘ مطبوعہ ربوہ‘ ص۴۲۱‘ ج۱۰)

مسٹر محمد علی لاہوری

”اور ایک قول حضرت عائشہ کا پیش کیا جاتا ہے جس کی سند کوئی نہیں قولوا خاتم النبیین و لا تقولوا لا نبی بعدہ ”خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں“۔ اس قدر حدیثوں کی شہادت جن میں خاتم النبیین کے معنی لا نبی بعدی کیے گئے ہیں‘ ایک بے سند قول پر پس پشت پھینکی جاتی ہیں۔ یہ غرض پرستی ہے‘ خدا پرستی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیس حدیثوں کی شہادت ایک بے سند قول کے سامنے رد کی جاتی ہے“۔

(”بیان القرآن“ مسٹر محمد علی لاہوری‘ ص۱۵۴۸‘ ج۳)

نتیجہ : مرزا آنجہانی حضرت عائشہؓ کا قول پیش کر کے کہتے ہیں کہ ”نبوت اسلام میں جاری ہے“۔ مسٹر محمد علی صاحب فرماتے ہیں کہ ”یہ قول بے سند ہے اور ایک بے سند قول کی بنیاد پر ختم نبوت کی متواتر احادیث کو رد کر دینا اگر غرض پرستی نہیں تو کیا خدا پرستی ہے؟ کچھ تو شرم چاہیے۔

”مرزا غلام احمد صاحب کہتے ہیں کہ ”اگر نبوت اسلام میں موقوف ہو تو اسلام مردہ ہے“۔ مسٹر صاحب فرماتے ہیں کہ ”یہ سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیجئے کہ آپؐ نے متواتر ارشادات میں خاتم النبیین کے معنی لا نبی بعدی کیوں کیے؟ مرزا صاحب! آپ ایک بے سند قول کو لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات طیبہ کو پس پشت پھینک رہے ہیں کچھ تو خدا کا خوف کیجئے۔

صفحہ 464

۵ - وحی انبیاء اور القاء شیطانی :

مرزا غلام احمد قادیانی :

"الہام رحمانی بھی ہوتا ہے اور شیطانی بھی اور جب انسان اپنے نفس اور خیال کو دخل دے کر کسی بات کے انکشاف کے لیے بطور استخارہ یا استخبار وغیرہ کے توجہ کرتا ہے..... تو شیطان اس وقت اس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور دراصل وہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے۔ یہ دخل کبھی انبیاء اور رسولوں کی وحی بھی ہو جاتا ہے مگر وہ بلا توقف نکالا جاتا ہے۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے و ما ارسلنا من رسول و لا نبی اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ (الخ) ایسا ہی انجیل میں بھی لکھا گیا ہے کہ شیطان اپنی شکل نوری فرشتوں کے ساتھ بدل کر لوگوں کے پاس آ جاتا ہے۔ دیکھو خط دوم قرنتھیاں‘ باب ۱۱‘ آیت ۱۴ اور مجموعہ توریت میں سے سلاطین اول باب بائیس‘ آیت انیس میں لکھا ہے کہ "ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیش گوئی کی اور وہ جھوٹی نکلی اور بادشاہ کو شکست ہوئی۔ بلکہ وہ اسی میدان میں مر گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ دراصل وہ الہام ایک ناپاک روح کی طرف سے تھا‘ نوری فرشتہ کی طرف سے نہیں تھا اور ان نبیوں نے دھوکا کھا کر ربانی سمجھ لیا تھا۔ اب خیال کرنا چاہیے کہ جس حالت میں قرآن کریم کی رو سے الہام اور وحی میں دخل شیطان ممکن ہے‘ توریت اور انجیل اس دخل کی مصداق ہیں..... الخ" ("ازالہ اوہام" ص ۳۸-۳۹)

مسٹر محمد علی لاہوری

"القی الشیطان فی امنیتہ اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ نبی

صفحہ 465

کی نیک آرزو کے بارے میں شیطان لوگوں کے دلوں میں وساوس ڈالتا رہتا ہے نہ یہ کہ وہ نبی کی وحی میں کچھ ڈالتا رہتا ہے۔ پھر الفاظ (قرآنی) کے حصر کو دیکھو کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں بھیجا جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ ہوا ہو تو کیا حضرت عیسیٰ کی وحی میں بھی شیطان نے القاء کر دیا تھا؟ غالباً اس سوال کا جواب رسول کریم سے بڑھ کر حضرت عیسیٰ سے محبت رکھنے والے مسلمان کبھی اثبات میں نہ دیں گے۔ پھر سب کو چھوڑ کر ایک بھی نبی کا ذکر قرآن شریف میں نہیں جس کی وحی میں القائے شیطان کا ذکر آیا ہو۔ پھر کیا یہ جائے تعجب نہیں کہ حصر تو یہ کیا جائے کہ کوئی نبی اور رسول ایسا ہوا ہی نہیں جس کی وحی میں شیطان نے القاء نہ کیا ہو اور ایک نبی کی بھی مثال پیش نہ کی جائے کہ اس کی وحی میں شیطان نے یوں القاء کر دیا تھا۔ پھر نتیجہ اس کا بتا دیا و لیعلم الذین اوتوا العلم انہ الحق تو کیا صاحب علم لوگوں کو اس کے حق ہونے کا علم نہ ہو سکتا تھا جب تک کہ شیطان وحی میں القاء نہ کرے۔ یہ کیسی بدیہی البطلان بات ہے“۔

(”بیان القرآن“ از مسٹر محمد علی لاہوری، ص ۱۳۰۷، ج ۲)

نتیجہ : مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ ”انبیاء علیہم السلام کی وحی میں شیطان کا دخل ہو جاتا ہے اور وہ اس کے لیے قرآن کریم کی آیت کا سہارا لیتے ہیں۔ توریت میں چار سو نبیوں کی جھوٹی پیش گوئی اس کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں اور انجیل کو بھی اس دعویٰ کا مصداق بتاتے ہیں“۔ لیکن مسٹر محمد علی صاحب اس دعویٰ کو بدیہی البطلان قرار دیتے ہیں۔

ورد الله الذین کفروا بغیظھم لم ینالوا خیرا و کفی الله المومنین القتال و کان الله قویا عزیزا

PDF 466

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ

ملت اسلامیہ کی بین الاقوامی تنظیم ہے

جو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے قائم فرمائی۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے چار چاند لگائے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے اس تحریک کو بام عروج سے ہمکنار کیا اور اب شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد مدظلہ کی قیادت میں قادیانیت کے خاتمہ کی مہم پر ہے۔

اغراض و مقاصد

اسلام کی دعوت و تبلیغ ، ناموس ختم نبوت کی پاسبانی، قادیانی فتنہ ارتداد کا سدباب باطل فرقوں کا مقابلہ، مجلس کا عظیم اور مقدس مقصد ہے، قادیانیوں کے سر پر ایک زلزلہ بپا کر دینے کے لئے مستقل فنڈ کی ضرورت ہے۔ اندرون و بیرون ملک قادیانیوں کی سرگرمیوں کے پیش نظر ختم نبوت کی ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اندرون و بیرون ملک مجلس کے مبلغ ، دفاتر ، مدارس، مساجد، ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کیلئے وقف ہیں مجلس کا سالانہ میزانیہ کئی لاکھ کا ہے ۔ اکوڑہ خٹک کا عظیم الشان مرکز پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے، جامع مسجد ربوہ ، جامع مسجد کراچی اور دیگر شہروں میں مجلس کے تعمیراتی منصوبے تشنہ تکمیل ہیں جبکہ لندن اور دوسرے ممالک میں بھی دفاتر قائم کیے جا رہے ہیں ۔ اندرون و بیرون ملک قادیانیوں کے ساتھ مقدمات کی وجہ سے مجلس کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں ختم نبوت کی خدمت اور مال لگانا اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا ذریعہ ہے۔ آنجناب سے توقع رکھتے ہیں کہ آپ اس کار خیر میں ضرور شریک ہونگے۔ واجركم على الله ۔ والسلام عليكم ورحمة الله

فقیر خان محمد امیر مرکزیہ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ، حضوری باغ روڈ ملتان پاکستان ، فون ۴۰۹۴۸

صفحہ 467

قادیانیت سے اسلام تک

سابق قادیانیوں کے قبول اسلام کی دلچسپ، ہوشربا اور ایمان افروز داستانیں

قادیانیت کا مذہبی، سیاسی اور اخلاقی تجزیہ

ایک مکمل تحقیقی اور تاریخی دستاویز

ترتیب و تحقیق

مُحمَّد متین خالد

(زیر طبع)

PDF 468

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ

كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ

اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ

اللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ

كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ

اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ