ردِ قادیانیت کے زریں اصول · مولانا منظور احمد چنیوٹی
Rad-e-Qadianiat ke Zarian Asool · Maulana Manzoor Chinioti
PDF 1

رد

قادیانیت

کے

زریں اصول

مولانا منظور احمد چنیوٹی

ادارہ تالیفات اشرفیہ

اردو بازار لاہور فون 7232926-042

PDF 2

”محدث العصر حضرت علامہ سید محمد انور

شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے دو ملفوظ“

ملفوظ نمبر ۱

مرض الموت میں حضرت مولانا علامہ انور شاہ کشمیری نے اپنی چارپائی اٹھوائی اور دارالعلوم دیوبند کی مسجد کے محراب کے پاس رکھوا کر آخری وصیت ارشاد فرمائی کہ ”اس امت کے لیے اب تک قادیانیت سے بڑھ کر کوئی فتنہ وجود میں نہیں آیا۔ مسلمانوں کے ایمان اس فتنہ ارتداد سے بچاؤ اور اپنی ساری قوتیں اس میں صرف کر ڈالو۔ یہ ایسا جہاد ہے جس کا بدلہ جنت ہے اور میں اس بدلے کا ضامن بنتا ہوں۔

یہ روایت حضرت علامہ شمس الحق افغانی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمائی جسے نقل کر کے ان کے تصدیقی دستخط کروا لیے گئے۔ حضرت افغانیؒ نے فرمایا کہ حضرت شاہ صاحبؒ کی یہ روایت مجھے مولانا محمد صدیق صاحب کی وساطت سے

صفحہ 1

پہنچی جو کہ حاضر مجلس تھے۔ انہوں نے مجھے فارسی میں خط لکھا جس کا ایک جملہ یہ تھا "دریں بارہ کلام پر اثر نمود کہ سنگ خارہ موم مے کرد"

ملفوظ نمبر ۲

ہم پر یہ بات کھل گئی ہے کہ گلی کا کتا بھی ہم سے بہتر ہے اگر ہم تحفظ ختم نبوت نہ کرسکیں۔ (نقش دوام ص ۱۹۱ از مولانا محمد انظر شاہ کشمیری مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان)

PDF 4

بسم الله الرحمن الرحيم

PDF 5

بسم الله الرحمن الرحيم

جملہ حقوق محفوظ ہیں

نام کتاب : رد قادیانیت کے زریں اصول مصنف : مولانا منظور احمد چنیوٹی تعداد : بائیس سو (2200) کمپوزنگ : المدد کمپوزرز، پریم نگر لاہور ڈیزائننگ : عنایت اللہ رشیدی قیمت : روپے اشاعت اول : جنوری 2001ء ناشر : ادارہ مرکزیہ دعوۃ وارشاد، چنیوٹ پاکستان مطبع : شرکت پرنٹنگ پریس، نسبت روڈ لاہور

ملنے کے پتے

چنیوٹی کتب خانہ ۔۔۔ محلہ گڑھا چنیوٹ مکتبہ سید احمد شہید ۔۔۔ اردو بازار لاہور دار الکتاب : عزیز مارکیٹ اردو بازار لاہور مکتبہ مدنیہ، اردو بازار لاہور

PDF 6

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَىَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَىْءٌ

الأصول الذهبية في ردّ الفئة القاديانية

رد قادیانیت کے زریں اصول

۱۹۹۰ء میں دارالعلوم دیوبند میں دیے گئے علمی اسباق

افادات

سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی

مرتبه

مولانا سلمان منصور پوری

مفتی شاہی مدرسہ مراد آباد بھارت

مقدمه

علامہ ڈاکٹر خالد محمود (مانچسٹر)

ناشر

إدارة مركزية دعوة وارشاد

چنیوٹ o پاکستان

PDF 7

انتساب

...... کفر کی آندھیوں کے سامنے ضوفشاں رہا ...... اور اس چراغ نے ہزاروں چراغ روشن کر دیئے ۔

کتابوں کا بھاری بھرکم چوبی صندوق اٹھائے ...... شہر ارتداد قادیان ...... کی گلیوں میں یہ توانا اور پرسوز صدا لگایا کرتا تھا ...... ”لوگو ! ختم نبوت کا مسئلہ سمجھ لو“ ”لوگو ! حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ سمجھ لو“ ”لوگو ! نزول مسیح علیہ السلام کا مسئلہ سمجھ لو“

نبوت پہ نچھاور کر کے ...... حیات جاوداں پا گیا ...... اور اپنے پیچھے فیضان نظر اور سوز تربیت سے ہزاروں مبلغین ختم نبوت کی ایک فوج تیار کر گیا ...... جنہوں نے 1974ء میں ایک عہد ساز تحریک چلا کر پاکستان میں پارلیمنٹ کے ذریعے قادیانیوں کو کافر قرار دلایا۔

ابو حنیفہؒ تھا ...... جس کی تحقیق کی تلوار جسد قادیانیت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی تھی۔

پرائمری سکول کے بچوں کی طرح کان پکڑتے تھے۔

دیکھ کر ابن مبارکؒ یاد آتے ہیں۔ جو میدان جنگ میں لڑتے وقت پہلی صف میں ...... اور مال غنیمت تقسیم ہوتے وقت چھپ جایا کرتے تھے ۔ اپنے شفیق استاد اور مربی فاتح قادیان

حضرت مولانا محمد حیاتؒ

کے نام۔ بصد احترام

PDF 8

اظہار تشکر

میں ممنون ہوں۔۔۔ میں شکر گزار ہوں میں سراپا سپاس ہوں۔۔۔

امام کعبہ و رئیس شؤون الحرمین الشریفین

جناب محمد بن عبداللہ السبیل

کا

کہ انہوں نے اس کتاب کی اشاعت میں انتہائی دلچسپی کا مظاہرہ فرمایا اور اس کی اشاعت کے جملہ اخراجات اپنی جیب سے ادا فرمائے۔ نیز پوری دنیا میں پھیلے ہوئے قادیانی فتنہ کی فتنہ انگیزیاں دیکھتے ہوئے جلد ہی اس کتاب کو عربی اور انگریزی میں شائع کرنے کا مژدہ جانفزا سنایا۔ اس عظیم کام پر پوری دنیا کے مجاہدین ختم نبوت انہیں سلام عقیدت اور ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں اور ان کی درازی عمر اور صحت کے لیے دعا گو ہیں۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی

صفحہ 9

فہرست مضامین

نمبر شمار عنوان صفحہ

تقریظات

1 حضرت مولانا مفتی عاشق الہی صاحب (مدینہ منورہ) 31 2 حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب 35 3 حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب 36 4 حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب 38 5 حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب 40 6 حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب 43 7 شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمد صاحب 45 8 ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب (وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پاکستان) 46 9 راجہ محمد ظفر الحق صاحب (سابق وفاقی وزیر) 48 10 گزارش احوال واقعی 50 11 پیش کتاب از فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب (مکہ مکرمہ) 61 12 مقدمہ از علامہ خالد محمود صاحب 68 13 مختلف طبقات کی خدمت اسلام 68 14 امت کے دو گروہ ہدایت یافتہ اور ملحدین 69 15 قادیانی ملحدین میں سے ہیں 69 16 ملحدین کے خلاف کام کی فضیلت 69 17 فتنہ گروں سے مقابلہ کی مختلف صورتیں 69 18 انگریزی دور میں برصغیر کا سب سے بڑا فتنہ 70

صفحہ 7

نمبر شمار عنوان صفحہ 19 وہ وجوہ جن کے باعث یہ وقت کا سب سے بڑا فتنہ بنا 71 20 قادیانیت کا پودا انگریزوں نے کاشت کیا 74 21 مہاراجہ کشمیر کی مرزا غلام احمد سے ملنے کی خواہش 75 22 حکیم نور الدین کا غلام احمد کو دعویٰ مسیحیت میں مشورہ دینا 76 23 قادیانیوں کا وائسرائے ہند کے نام خط 77 24 مرزا غلام احمد کے ملکہ وکٹوریہ کے نام خط سے چند اقتباسات 77 25 مرزا غلام احمد نے کن شرمناک کاموں کے باعث قادیان کو چھوڑا 80 26 مرزا غلام احمد کے عملیات میں سے ایک عمل 80 27 مرزا غلام احمد کا اس عمل میں استاد کون تھا 81 28 موعظہ عبرت 82 29 خواب کو ظاہری شکل میں پورا کرنے کی عادت پڑ گئی تھی 82 30 رد قادیانیت پر کام کرنے کا عظیم فائدہ 83 31 قائد اعظم کی ظفر اللہ خان پر نظر 84 32 پاکستان کا سب سے پہلا سیاسی مسئلہ 84 33 پاکستان بننے سے مرزا غلام احمد کا کذب اور نمایاں ہوا 85 34 قادیان سے مرزائیوں کا ذلت آمیز اخراج 86 35 مرزا کے الہام کے مطابق قادیان سے نکلنے والے یزیدی فطرت ہیں 86 36 مرزا بشیر الدین کی پیش گوئی غلط نکلی 87 37 قادیانیوں کے ساتھ یہ سب کچھ اپنے باپ کے ایک الہام کے تحت ہوا 87 38 باپ کی نافرمانی نے بیٹے کو اس انجام تک پہنچایا 88 39 مرزا قادیانی کے متعلق ایک انگریز کی رائے 89 40 مرزا قادیانی کے بارے میں اس کے ایک ارادتمند کی رائے 89

صفحہ 9

نمبر شمار عنوان صفحہ 62 پادری عبداللہ آتھم کی موت کی پیش گوئی 107 63 ڈاکٹر عبدالحکیم کی ہلاکت کی پیشگوئی 107 64 محمدی بیگم کے خاوند کی موت کی پیش گوئی 107 65 پنڈت لیکھرام کی غیر معمولی موت کی پیش گوئی 107 66 مرزا کے اپنی نبوت کی دعوت دینے کے غیر فطری پیرائے 108 67 مرزا قادیانی کی اس چھٹی پیش گوئی کی کچھ ضروری تفصیل 108 68 ایک حیرت اور تعجب کا ازالہ 110 69 مرزا غلام احمد کی ایک نادانی اور ایک چالاکی 110 70 مرزا غلام احمد کی جھوٹی پیشگوئیاں 112 71 عبداللہ آتھم کی موت کی پیش گوئی 113 72 پیشگوئی پوری نہ ہونے پر قادیان میں ماتم 114 73 محمدی بیگم سے نکاح کی پیشگوئی 115 74 مرزا کا محمدی بیگم کو خواب میں دیکھنا 115 75 محمدی بیگم سے مرزا قادیانی کی رشتہ داری 115 76 محمدی بیگم سے نکاح کی تحریک کیسے ہوئی ؟ 116 77 مرزا سلطان محمد کی موت کی پیش گوئی 118 78 اصل پیش گوئی کی طرف پھر آئیں 118 79 محمدی بیگم سے نکاح کو تقدیر مبرم ٹھہرانا 119 80 محمدی بیگم کے آنے کے سات الہامات 119 81 مرزا غلام احمد کی کوشش کہ خدا کی بات غلط نہ نکلے اسے سچا ثابت کیا جائے 120 82 ہمیشہ کی لعنتوں کی خبر 121 83 دس لاکھ آدمیوں میں رسوائی کا خوف 121

صفحہ 10

نمبر شمار عنوان صفحہ 84 دجال کی آمد کا یقین دلانا 121 85 یہ پیشگوئی کسی پر عذاب اترنے کی نہ تھی 122 86 مرزا کے لئے رحمت کا ایک نشان جو اس نے مانگا 123 87 لڑکے کی بجائے لڑکی کی پیدائش 124 88 بشیر اول کی پیدائش و وفات 124 89 لوگوں کی تنقید اور چہ میگوئیاں 125 90 ڈاکٹر عبدالحکیم خان کی موت کی پیشگوئی 125 91 مرزا غلام احمد کی عمر کی پیشگوئی 127 92 مرزا غلام احمد کا لین دین امانت و دیانت کے نقطہ نظر سے 128 93 کتاب براہین احمدیہ کے اشتہارات 128 94 براہین احمدیہ تاریخ کے دوسرے دور میں 129 95 غلط لین دین میں مرزا اپنے عوام میں 130 96 براہین احمدیہ کے پانچویں حصہ کی اشاعت 131 97 براہین احمدیہ کی تالیف میں علماء سے علمی مدد لینا 131 98 براہین احمدیہ میں مرزا غلام احمد کا حصہ 132 99 براہین احمدیہ کی تصنیف کے وقت مرزا قادیانی کی ذہنیت 134 100 حقوق العباد کے اجڑے دیار میں انسانی حقوق کا تماشا 135 101 نصرت بیگم کے آنے پر حرمت بی بی کا حال 136 102 محمدی بیگم سے نکاح کے شوق میں حرمت بی بی کو طلاق 137 103 لڑکی کے والد کو زمین دینے کا لالچ 138 104 نکاح نہ ہونے کی صورت میں اپنے آپ کو چوہڑا چمار کہنا 140 105 ایک اور پیشگوئی ملاحظہ کریں 142

صفحہ 11

نمبر شمار عنوان صفحہ 106 پیر منظور محمد کے ہاں لڑکے کی پیشگوئی 142 107 مکہ مدینہ میں مرنے کی پیشگوئی 143 108 حجاز میں ریل چلنے کی پیشگوئی 143 109 مرزا غلام احمد کے کھلے جھوٹ 144 110 قادیان کا نام قرآن مجید میں ہے 144 111 قرآن مجید میں مرزا کا نام عیسیٰ بن مریم ہے 144 112 قرآن وحدیث میں ہے کہ مسیح موعود علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا 144 113 کرشن کنہیا نبی تھا 144 114 قرآن مجید میں مسیح موعود کی آمد کی خبر ہے 146 115 احادیث صحیحہ میں ہے کہ مسیح موعود چودہویں صدی کا مجدد ہوگا 146 116 انبیاء گزشتہ کے کشوف کہ مسیح موعود چودہویں صدی کے سر پر 147 اور پنجاب میں آئے گا 117 مرزا غلام احمد کے شطحیات 148 118 سر درد کے لئے مرغا ذبح کر کے سر پر باندھنا 148 119 غلام احمد کیا چوزہ خود ذبح نہ کر سکتا تھا؟ 149 120 دوا کی بجائے بیٹی کو تیل کی شیشی پلا دی 149 121 مرزا غلام احمد کے تضادات 150 122 متزوج دیولہلہ کا مصداق کون سی بیوی تھی 150 123 کبھی نصرت جہاں اور کبھی محمدی بیگم 150 124 حرمت بی بی کے رشتہ داروں کے نیک و بد ہونے کے متضاد فتوے 152 125 مرزا غلام احمد نے ایک نوکر سے قرآن پڑھا 152

صفحہ 1

نمبر شمار عنوان صفحہ 126 مرزا کی اپنی تعلیم کے بارے میں تضاد بیانی 152 127 باخدا لوگ زن مرید نہیں ہوتے 153 128 مرزا غلام احمد خود زن مرید نکلا 153 129 مرزا غلام احمد کی فحش پسندی 153 130 آریوں کو گالیاں 154 131 مولانا بٹالوی کو سب وشتم 155 132 مولانا سعد اللہ لدھیانوی کو گالیاں 155 133 حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کو گالیاں 156 134 تمام مسلمانوں کو گالیاں 157 135 اپنے مخالفین کو کتیوں کی اولاد کہنا 157 136 قادیانیت کے خلاف علماء کی جدوجہد 158 137 پاکستان میں قادیانیوں کے بارے میں سب عوام مسلمان یکسو 159 138 قادیانیت کے تابوت میں آخری میخ 160 139 ہر فرعونے را موسیٰ 161 140 پیش لفظ از حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری مدظلہ 164 141 رد قادیانیت کی مختصر تاریخ 165 142 کتاب مرتب کرنے کا پس منظر 167 143 ﴿رد قادیانیت کے زریں اصول﴾ 170 144 باب اول 145 مرزا غلام احمد قادیانی کا تعارف 172 146 مرزا غلام احمد کا نام ونسب 172

صفحہ 13

نمبر شمار عنوان صفحہ 147 تاریخ پیدائش 173 148 ابتدائی تعلیم 173 149 جوانی کی رنگ رلیاں اور ملازمت 174 150 ملازمت کے وقت مرزا صاحب کی عمر 174 151 برطانوی انٹیلی جنس سیالکوٹ مشن کے انچارج سے ملاقات 175 152 براہین احمدیہ کی تالیف 175 153 مالیخولیا اور مراق کی بیماری 176 154 مالیخولیا اور مراق کی علامات 176 155 ہسٹریا کا دورہ 177 156 دعاوی مرزا 177 157 بیت اللہ ہونے کا دعویٰ 178 158 مجدد مامور نذیر ہونے کے دعوے 178 159 آدم مریم اور احمد ہونے کا دعویٰ 178 160 رسالت کا دعویٰ 179 161 توحید و تفرید کا دعویٰ 179 162 مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ 180 163 مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ 180 164 کن فیکون کے اختیارات کا دعویٰ 180 165 مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ 180 166 امام زمان ہونے کا دعویٰ 181 167 ظلی نبی ہونے کا دعویٰ 181

صفحہ 14

نمبر شمار عنوان صفحہ 168 نبوت و رسالت کا دعویٰ 181 169 صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ 182 170 منکوحات مرزا 183 171 حرمت بی بی سے پہلی شادی 183 172 پہلی بیوی سے اولاد 183 173 نصرت جہاں بیگم سے دوسری شادی 183 174 دوسری بیوی سے اولاد 184 175 مرزا کی موت ہیضہ سے 184 176 مرزا کا پہلا جانشین حکیم نور الدین 185 177 دوسرا جانشین مرزا بشیر الدین محمود 186 178 تیسرا جانشین مرزا ناصر احمد 187 179 چوتھا جانشین مرزا طاہر احمد 187 180 قادیانیوں کے کفر پر عدالتی فیصلے 187 181 مرزائیوں کے لاہوری گروپ کا تعارف 188 182 قادیانی اور لاہوری گروپوں کا معمولی فرق 189 183 مرزائیوں میں اور مدعیان نبوت 190 184 باب دوم 185 گفتگو کے لئے تعیین موضوع 191 186 قادیانیوں سے بحث طے کرنے کا اصول 191 187 قادیانی مناظر کی روایتی دغابازی 192 188 مسلمان مناظر کا فرض 192

صفحہ 15

نمبر شمار عنوان صفحہ 189 تعین موضوع کے چار درجات 193 190 اپنے حق میں تعین موضوع 193 191 اپنے بعض مجرب طریقے 193 192 سیرت مرزا پر بحث کرنے کی ضرورت 193 193 شرائط طے کرنے کا دوسرا مرحلہ 195 194 شرائط کا تیسرا مرحلہ 196 195 مرزا کے نزدیک رفع ونزول عیسیٰ کی زیادہ اہمیت نہیں 197 196 خلاصہ کلام 197 197 ایک ممکن اعتراض کا جواب 198 198 ایک اہم اور ضروری اصول 199 199 مرزائیوں کے ہاں چودہ صدیوں کے مجددین کی فہرست 200 200 باب سوم 201 بحث صدق و کذب مرزا 204 202 اس موضوع میں مدعی مسلمان ٹھہرتے ہیں 204 جبکہ قادیانی اس میں مجیب ٹھہرتے ہیں 203 اس موضوع پر بحث شروع کرنے کا طریقہ 205 204 جھوٹ کے متعلق مرزا کے اقوال 205 205 براہین احمدیہ حصہ پنجم کا تعارف 206 206 کذبات مرزا 207 207 کذب کا پہلا نمونہ 207 208 دوسرا نمونہ 207 209 تیسرا نمونہ 208

صفحہ 16

نمبرشمار عنوان صفحہ 210 چوتھا نمونہ 208 211 جھوٹ پر جھوٹ 210 212 پانچواں نمونہ 210 213 جھوٹ کو سچ بنانے کی فضول کوشش 210 214 ایک اہم اور قابل حفظ اصول 215 215 جھوٹ کا چھٹا نمونہ 216 216 جھوٹ کا ساتواں نمونہ 217 217 مرزائی عذر لنگ اور اس کا جواب 217 218 جھوٹ کا آٹھواں نمونہ 218 219 نواں نمونہ 219 220 دسواں نمونہ 219 221 کذب مرزا کی دوسری دلیل 221 222 پیغمبر بدزبان نہیں ہوتے 223 223 مرزا غلام احمد کی بدزبانی کی ایک فہرست 224 224 کذب مرزا کی تیسری دلیل 224 225 مرزا کی جھوٹی پیش گوئیاں 224 226 پیشگوئیوں کے متعلق مرزائی اصول 225 227 مرزائیوں کی چال 225 228 عبداللہ آتھم کے متعلق غلط پیش گوئی 226 229 مرزائی تاویلیں اور ان کے جوابات 227 230 آتھم کی ہلاکت کے لئے مرزائی کوششیں 229 231 ایک اور حربہ 230

صفحہ 17

نمبر شمار عنوان صفحہ 232 لیکھرام کے متعلق جھوٹی پیشگوئی 230 233 مرزا کی اپنی موت کے متعلق جھوٹی پیشگوئی 232 234 پیر منظور محمد کے لڑکے کی پیشگوئی 233 235 محمدی بیگم کے متعلق پیشگوئی 233 236 اس پیشگوئی میں چھ دعوے 235 237 مرزا کی اپنی عمر کے متعلق پیشگوئی اور مرزائیوں کی گھبراہٹ 236 238 بکر و ثیب کی پیشگوئی 238 239 آٹھویں پیش گوئی 239 240 نویں غلط پیش گوئی 240 241 قادیان کا طاعون سے محفوظ رہنا 241 242 پیش گوئی غلط ثابت ہونے کا اقرار مرزا قادیانی کے قلم سے 242 243 کذب مرزا کی چوتھی دلیل 243 244 مرزا غلام احمد کی شاعری 243 245 مرزائیوں کی پریشانی 244 246 کذب مرزا کی پانچویں دلیل 245 247 مختلف زبانوں میں وحی 245 248 مرزا کے کذب کی چھٹی دلیل 246 249 مولانا ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ 246 250 خدائی فیصلہ 247 251 مرزائیوں کی تاویل 247 252 مرزائی تاویل کی رکاکت 248 253 مرزا کی موت بمرض ہیضہ کا ثبوت 249

صفحہ 18

نمبر شمار عنوان صفحہ 254 مرزائیوں کا عذر لنگ 250 255 سبحان اللہ 250 256 کذب مرزا کی ساتویں دلیل 251 257 مباہلوں کا ڈھونگ 252 258 مرزا کا مباہلہ سے توبہ نامہ 253 259 مرزا طاہر احمد کا اس توبہ سے رجوع 253 260 مولانا منظور احمد چنیوٹی مرزا طاہر کے تعاقب میں 253 261 مرزا طاہر کا اعتراف شکست و فرار 259 262 خاتمہ بحث 263 263 مرزا کو سچا ٹھہرانے کے قادیانی دلائل کا توڑ 266 264 مرزائیوں کی پہلی دلیل 267 265 اس کے گیارہ جوابات 268 266 دوسری دلیل 270 267 اس کے پانچ جوابات 271 268 مرزائی عذر لنگ 273 269 تیسری دلیل 274 270 مہدی کے زمانہ میں چاند گرہن اور سورج گرہن لگے گا 275 271 اس کے تین جوابات 276 272 مرزائی عذر اور اس کے دو جوابات 276 273 ایک اہم قاعدہ 277 274 پینتالیس برس کی قلیل مدت میں گہنوں کا نقشہ 278

صفحہ 19

نمبر شمار عنوان صفحہ 275 بحث دوم رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام 280 276 تنقیح موضوع 281 277 رفع ونزول کا عنوان متعین کرنے کے لئے ایک گرانقدر تقریر 281 278 قرآن کریم کا اعلان 282 279 مرزائی اصول 283 280 طریقہ استدلال 283 281 اعتراضات از مرزا قادیانی 285 282 پہلا اعتراض اور اس کا جواب 285 283 دوسرا اعتراض اور اس کا جواب 285 284 قدرت خدا کا ایک کرشمہ مرزا آپ اپنے جال میں پھنس گیا 286 285 مرزائی عذر نمبر ۳ اور اس کے دو جوابات 287 286 خلاصہ کلام 288 287 بحث اول ۔ رفع ونزول کا اثبات آیات قرآنیہ سے 289 288 پہلی دلیل ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی الخ 289 289 دوسری دلیل عسی ربکم ان یرحمکم الخ 289 290 مرزائیوں کی بوکھلاہٹ 290 291 مرزائی عذر کے ناقابل قبول ہونے کی آٹھ وجوہات 293 292 تیسری دلیل 294 293 چوتھی دلیل ومکروا ومکر اللہ 295 294 پانچویں دلیل اذ قال اللہ یا عیسیٰ انی متوفیک الخ 296 295 مرزا قادیانی کی جھنجھلاہٹ 297 296 مرزائی اعتراض کے پانچ جوابات 298

صفحہ 20

نمبر شمار عنوان صفحہ 297 تحقیق لفظ توفی 300 298 مرزائی چیلنج۔ علم نحو کا مطالبہ اور اس کی تعمیل 301 299 اس چیلنج کے دو جوابات 302 300 ہمارا چیلنج 303 301 چھٹی دلیل وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه الخ 303 302 مرزائیوں کی تاویلات رکیکہ 304 303 عذر اول کہ رفع روحانی مراد ہے 304 304 اس کے دو جوابات 304 305 دوسرا اشکال کہ فضا میں کئی ناری کرے ہیں 305 306 جواب نہیں ایٹم بم 305 307 مرزائیوں کی بے سود کوشش 306 308 تحقیقی جواب نمبر ۱۔ بحث جانے کی نہیں لے جانے کی ہے 307 309 جواب نمبر ۲۔ "قدرت خداوندی سے یہ بعید نہیں" 307 310 جواب نمبر ۳ 308 311 جواب نمبر ۴ 308 312 خلاصہ بحث 309 313 مرزائیوں کا تیسرا اعتراض 309 314 جواب 309 315 مرزائیوں کی ایک اور تاویل 310 316 صنعت استخدام کی تعریف 310 317 مرزائیوں کی چوتھی تاویل اور اس کے تین جوابات 311 318 مرزائیوں کا پانچواں اعتراض 312

صفحہ 21

نمبر شمار عنوان صفحہ 319 مارو گھٹنا پھوٹے آنکھ 312 320 مرزائیوں کو چیلنج 312 321 قادیانی ترکش کا آخری تیر 313 322 اس کے چار جوابات 313 323 ساتویں دلیل وکان اللہ عزیز احکیما 313 324 آٹھویں دلیل وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ الخ 315 325 مرزائی اعتراض اور اس کے دو جواب 316 326 نویں دلیل وانہ لعلم للساعۃ 317 327 دسویں دلیل ویکلم الناس فی المہد وکہلا 317 328 گیارھویں دلیل واذا کففت بنی اسرائیل عنک الخ 319 329 بارھویں دلیل واذ علمتک الکتب والحکمۃ 319 330 ایک شبہ اور اس کا ازالہ 320 331 بحث دوم 332 رفع ونزول کا ثبوت احادیث سے 320 333 حدیث نمبر ۱ 320 334 مرزائیوں کی موشگافی 321 335 حدیث نمبر ۲ 322 336 حضرت عیسیٰ دو زرد چادریں لئے اتریں گے 322 دونوں چادریں بطور علامات بیان فرمائیں 337 مرزا نے کہا زرد چادروں سے مراد دو بیماریاں ہیں 323 دونوں بیماریاں وہ بتائیں جو نظر آنے والی نہیں

صفحہ 22

نمبر شمار عنوان صفحہ 338 حدیث نمبر ۳ 323 339 مسیح مہدی اور دجال تین الگ الگ شخصیات ہیں 324 340 حدیث نمبر ۴ 324 341 حدیث نمبر ۵ 324 342 حدیث نمبر ۶ 324 343 مرزائی اعتراض اور اس کے دو جواب 325 344 حدیث نمبر ۷ 325 345 حدیث نمبر ۸ 325 346 مرزائی شوشہ اور اس کا جواب 326 347 ہمارا چیلنج 326 248 قادیانیوں کا چیلنج 327 349 چیلنج کے جواب میں چار دلچسپ حوالے 327 350 حلیہ مسیح علیہ السلام کی بحث 327 351 حضرت عیسیٰ کے حلیہ کے متعلق چند روایات 328 352 لغات و شرح 329 353 روایات میں تطبیق 329 354 بحث سوم 355 اجماع امت سے رفع و نزول کا اثبات 331 356 اجماع امت پر متعدد شہادتیں 332 357 اجماع امت کے متعلق مرزا کا اقرار 332 358 بحث چہارم

صفحہ 23

نمبر شمار عنوان صفحہ 359 دلائل مرزائیہ بر وفات عیسیٰ اور ان کا رد 333 360 آیت نمبر ۱ فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم الخ 333 361 مرزائی استدلال 333 362 جواب نمبر ۱ 334 363 جواب نمبر ۲ 334 364 جواب نمبر ۳ 334 365 سوال قول کا ہے علم کا نہیں 334 366 جواب میں ذمہ داری کی نفی ہے علم کی نہیں 335 367 جواب نمبر ۴ 335 368 دور کی کوڑی 337 369 جواب نمبر ۱ 338 370 جواب نمبر ۲ 338 371 جواب نمبر ۳ 338 372 جواب نمبر ۴ 338 373 مرزائیوں کا ایک اور اعتراض 338 374 جواب نمبر ۱ 338 375 جواب نمبر ۲ 338 376 جواب نمبر ۳ 339 377 مرزائیوں کا ایک اور اعتراض 339 378 جواب نمبر ۱ 339 379 جواب نمبر ۲ 339

۱

صفحہ 24

نمبر شمار عنوان صفحہ 380 وفات مسیح پر اجماع کا قادیانی دعویٰ 340 381 جواب نمبر ۱ 340 382 جواب نمبر ۲ تردید اجماع بروفات از مرزا قادیانی 340 383 جواب نمبر ۳ 340 384 جواب نمبر ۴ 340 385 جواب نمبر ۵ 340 386 قادیانیوں کی پیش کردہ چوتھی آیت 340 کانا یاکلان الطعام سے استدلال 387 پانچ جوابات 342 388 قادیانیوں کی پیش کردہ پانچویں آیت واوصانی بالصلوٰۃ 348 والزکوٰۃ ما دمت حیا 389 اس کے دو جواب 348 390 تردید دلائل مرزائیہ بروفات عیسیٰ از احادیث مبارکہ 349 391 حدیث نمبر ۱۔ ان عیسیٰ بن مریم عاش عشرین و مأۃ سنۃ 349 392 جواب نمبر ۱ 349 393 جواب نمبر ۲ 349 394 جواب نمبر ۳‘۴ 350 395 حدیث نمبر ۲۔ لوکان موسیٰ و عیسیٰ حیین الخ 350 396 جواب نمبر ۱ 350 397 جواب نمبر ۲ 351 398 جواب نمبر ۳ 351

صفحہ 25

نمبر شمار عنوان صفحہ

399 جواب نمبر ۴ 352

400 مرزائیوں کے حال کے مناسب ایک رُباعی 352

401 پانچواں باب 353

402 مسئلہ ختم نبوت (بحث اجرائے نبوت و عدم اجرائے نبوت) 353

تنقیح موضوع

403 قادیانیوں کے خاص دعویٰ پر تین حوالے 353

404 ایک ضروری تنبیہ 355

405 ختم نبوت کی تمہید 356

406 مرزائیوں کے چند عذر اور ان کے جوابات 361

407 عذر نمبر ۱ اور اس کا جواب 361

408 عذر نمبر ۲ اور اس کا جواب 361

409 عقیدہ ختم نبوت قرآن مجید کی روشنی میں 362

410 والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك الخ 362

411 مرزا محمود کی آیت میں تحریف 363

412 جہالت کی انتہا 363

413 ولكن رسول الله وخاتم النبيينِ 363

414 خاتم النبیین کا ترجمہ حضور ﷺ سے 364

415 خاتم النبیین کا ترجمہ مرزا قادیانی سے 364

416 مرزائیوں کی بوکھلاہٹ 365

417 قادیانیوں کی پہلی تاویل کہ خاتم النبیین کا معنی نبیوں کی مہر 366

418 مرزائی ذرا اپنے گھر کی خبر لیں 367

صفحہ 26

نمبر شمار عنوان صفحہ

419 کیا نزول عیسیٰ ختم نبوت کے منافی ہے؟ 368 420 متعدد جوابات 369 421 تیسری تاویل کہ آنحضرتﷺ صرف انبیاء سابقین کے خاتم ہیں؟ 370 422 اس تاویل سے آنحضرتﷺ کی خصوصیت ثابت نہیں ہوتی 370 423 چوتھی تاویل النبیین میں الف لام عہد کی ہے 370 424 اس کا جواب 371 425 پانچویں تاویل خاتم النبیین خاتم المفسرین کی طرح ہے معاذ اللہ 371 426 لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا 372 427 قادیانیوں کا فرضی شبہہ اور اس کا جواب 372 428 آیت نمبر۴۔ یا ایها النبی انا ارسلنک شاهداً ......... سراجاً منیرا 373 429 سراجاً منیرا کی وضاحت 373 430 آنحضرتﷺ کو سورج سے تشبیہ دینے کی وجوہات 374 431 آیت نمبر۵۔ الیوم اکملت لکم دینکم واتمت علیکم نعمتی الخ 376 432 آیت نمبر۶۔ واذ قال عیسی ابن مریم ......... مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد 377 433 اہم تنبیہ 381 434 ختم نبوت پر چند احادیث مبارکہ 382 435 حدیث نمبر۱ 382 436 مرزائیوں کی پہلی تاویل 383 437 اس کے دو جواب 383 438 دوسری تاویل اور اس کے دو جواب 384

صفحہ 27

نمبر شمار عنوان صفحہ 439 تیسری تاویل اور اس کے جوابات 385 440 حدیث نمبر ۲ 385 441 حدیث نمبر ۳ 385 442 ایک شبہ کا ازالہ 386 443 حدیث نمبر ۴ 386 444 ختم نبوت کے بارے میں علماء امت کی شہادتیں 388 445 علامہ ابن حزم کی شہادت 388 446 امام غزالی کی شہادت 388 447 قاضی عیاض کی شہادت 388 448 شیخ ابن عربی کی شہادت 389 449 ملا علی قاری کی شہادت 389 450 اجرائے نبوت کے بارے میں دلائل مرزائیہ کا پوسٹ مارٹم 390 451 پہلی دلیل یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم 390 452 اس کے آٹھ عدد جوابات 390 453 قادیانیوں کی مرزا کے شعر میں تاویل 393 454 تاویل کا تجزیہ 393 455 قادیانیوں کی دوسری دلیل الله یصطفی من الملئکة الخ 396 456 اس کے تین جوابات 397 457 قادیانیوں کی تیسری دلیل ومن یطع الله والرسول الخ 397 458 طریق استدلال 398 459 پہلا جواب 399

صفحہ 28

نمبر شمار عنوان صفحہ 460 دوسرا جواب 399 461 تیسرا جواب 399 462 چوتھا جواب 399 463 پانچواں جواب 400 464 چھٹا جواب 400 465 ساتواں جواب 400 466 آٹھواں جواب 401 467 نواں جواب 401 468 فنا فی الرسول ہوجانے سے نبوت کا اثبات کرنا 401 469 مرزا کے متعدد حوالے 403 470 دسواں جواب 403 471 گیارھواں جواب 404 472 بارہواں جواب 404 473 تیرہواں جواب 404 474 چودھواں جواب 404 475 ڈھٹائی کی انتہاء 405 476 من گھڑت تاویل کا پوسٹ مارٹم 405 477 ایک سفید جھوٹ 408 478 علامہ راغب کی طرف غلط نسبت 408 479 ڈھول کا پول 409 480 غلط نسبت کا پہلا قرینہ 409 481 دوسرا قرینہ 409

صفحہ 29

نمبر شمار عنوان صفحہ 482 چوتھی دلیل۔ آیت استخلاف 410 483 الجواب 410 484 مرزا کا اقرار کہ نبوت وہبی ہے کسبی نہیں 411 485 نبوت وہبی ہے یا کسبی؟ ایک تجزیہ 411 486 ”لا نبی بعدی“ پر پہلا اعتراض 413 487 اس کے دو جواب 413 488 اعتراض دوم 414 489 اس کے جوابات 414 490 تیسرا اعتراض 415 491 اس کے تین جوابات 416 492 لفظ خاتم پر اعتراضات 417 493 پہلا اعتراض اور اس کے تین جوابات 417 494 دوسرا اعتراض مع جواب 417 495 تیسرا اعتراض اور اس کے تین جوابات 418 496 اقوال بزرگان دین کا اجمالی جواب 419 497 فائدہ عظیمہ (نبی اور رسول میں فرق) 420 498 نبی اور امتی میں فرق 421 499 قادیانیوں کی وجوہ تکفیر 422 500 پہلی وجہ 422 501 دوسری وجہ 423 502 تیسری وجہ 424

صفحہ 30

نمبر شمار عنوان صفحہ

503 چوتھی وجہ 425

504 پانچویں وجہ 426

505 چھٹی وجہ 428

506 ساتویں وجہ 429

507 آٹھویں وجہ 430

508 خاتمۃ الکتاب 432

509 محدث العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری کے ۲ ملفوظ 433

510 ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کی چند اہم مطبوعات 434

511 چند کتب جن کا حاصل کرنا ضروری ہے 436

512 مرزا قادیانی کی کتابوں کا اجمالی تعارف 438

صفحہ 31

تقریظ

از

فقیہ عصر حضرت مولانا مفتی محمد عاشق الہی برنی (حال مقیم مدینہ منورہ)

یہ دنیا دارالفتن ہے طرح طرح کے فتنے اٹھتے رہے ہیں اور اٹھتے رہتے ہیں۔ زمانہ قدیم میں قدریہ، جبریہ، معتزلہ، کرامیہ کے نام سے فتنے ابھرے جن کے بانیوں کا دعویٰ یہ تھا کہ ہم اصلی مسلمان ہیں حالانکہ انہوں نے حضرات صحابہ کرام کے عقائد و اعمال کو چھوڑ کر نئے عقائد تجویز کر لئے تھے۔ صحابہ کرام کی جماعت وہ جماعت ہے جسے قرآن وحدیث میں معیار حق کہا گیا ہے۔ جو شخص حضرات صحابہ سے دور ہوا وہ احادیث شریفہ اور قرآن شریف سے دور ہوا۔ کیونکہ احادیث انہی حضرات سے مروی ہیں اور قرآن مجید کی تفسیر بھی انہوں نے بیان کی ہے۔ جو شخص اپنی طرف سے قرآن مجید کے معانی و مطالب تجویز کرے گا مسلمان نہ ہوگا خواہ وہ کیسا ہی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے۔

سنن ابی داؤد کی ایک روایت کے الفاظ ہیں سیخرج فی امتی اقوام تتجاری بہم تلک الاہواء کما یتجاری الکلب بصاحبہ لا یبقی منہ عرق ولا مفصل الا دخلہ (اور بیشک میری امت میں سے ایسے لوگ نکلیں گے جن کے اندر نفسانی خواہشات اس طرح سرایت کر جائیں گی جیسے کتے کے کاٹے ہوئے شخص کے اندر کاٹنے کا زہر سرایت کر جاتا ہے۔ اس کی کوئی رگ اور کوئی جوڑ باقی نہیں رہتا جس میں سرایت نہ کر جائے)۔

صفحہ 32

حضرات صحابہ کرام کے عہد میں اہل اہوا اپنا کام شروع کر چکے تھے یہ لوگ حجیت حدیث سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں اور حضرات سلف صالحین کی عظمت و اہمیت ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ قرآن کریم کی من مانی تفسیر کرسکیں۔ اس طرح کے بہت سے فرقے پہلے گزر چکے ہیں اور خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ لوگ حق بات کو پہچانتے ہیں مگر مانتے نہیں ہیں ایسے لوگوں کی رگ رگ اور جوڑ جوڑ میں ہوائے نفسانی سرایت کر جاتی ہے۔ جسے حدیث شریف میں بتجاری الکلب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اہل حق میں سے جو شخص ان لوگوں کی تفہیم کا ارادہ کرتا ہے اس کے دلائل شرعیہ کو رد کرتے ہوئے باؤلے کتے کی طرح کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔

یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ختم نبوت کے مسئلہ کو بالکل ختم کر کے قرآن کے موجود ہوتے ہوئے مدعیان نبوت کو بھاری تعداد میں ہمدرد مؤید و معتقد مل گئے ہیں۔ جنہوں نے خاتم النبیین کا مطلب اپنے پاس سے تجویز کر کے قرآنی اعلان کو بالکل محرف کر دیا ہے۔ پوری امت کا یہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرنے والا جھوٹا، کافر اور دوزخی ہے۔

سب جانتے ہیں کہ مرزا غلام احمد نے خود کو انگریز کا خود کاشتہ پودا بتایا ہے۔ ان کو خوش کرنے کے لئے جہاد کے منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ ہندوستانی حکومت نے ان کو دہلی میں کافی زمین دے رکھی ہے۔ برطانیہ میں ایک مکمل شہر اسلام آباد کے نام سے بسا رکھا ہے۔ اسرائیل و امریکہ میں ان کے دفاتر ہیں۔ مرزا طاہر احمد ربوہ سے فرار ہو کر لندن میں پناہ لئے بیٹھا ہے۔ مرزا طاہر اور اس کے قریبی رشتہ دار کافی مال دار ہیں۔ کفر کے بڑے بڑے عالمی علمبرداروں سے ان کے قریبی تعلقات ہیں۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر امریکہ و برطانیہ اکثر حکومت پاکستان سے احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل ان کی سرپرست ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ منکرین اسلام اور مکذبین قرآن ہی سے قادیانیوں کا جوڑ ہے اور کافر ان کی پشت پناہی کرتے ہیں؟

ہر قادیانی کو غور و فکر کرنا چاہیے کہ وہ مسلمانوں ہی میں اپنی دعوت کا کام کیوں کرتے ہیں ہنود، یہود، بدھسٹ اور نصاریٰ میں اپنا کام کیوں نہیں کرتے؟ کیا یہ بات نہیں ہے کہ انہوں نے اہل ایمان کے دلوں سے ایمان کھرچنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔

سورۃ مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کیا ہے۔ وہ اس

صفحہ 33

قرآنی حکم کی خلاف ورزی کیوں کرتے ہیں۔ اس اعلان واضح کے بعد بھی قادیانیوں کا یہ کہنا کہ ہم قرآن مجید کے ماننے والے ہیں کیا یہ ظلم نہیں ہے؟

مرزائی ختم نبوت کے بارے میں مرزائی تاویلیں نہ ماننے والوں کو کافر کہتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ ان کے اس فتوٰی کی زد نہ صرف زمانہ حال کے کروڑوں مسلمانوں پر پڑتی ہے بلکہ حضرات صحابہ کرامؓ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے محفوظ نہیں رہتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہوتا ہے کہ اس نے آیت خاتم النبیین نازل ہی کیوں کی‘ حضرت جبرائیل پر اعتراض کر سکتے ہیں کہ وہ یہ آیت کیوں لائے؟

ارے قادیانیو! سوچو‘ دلوں کے اندھے اور آنکھوں کے نابینا نہ بنو فانها لا تعمی الابصار ولكن تعمى القلوب التى فى الصدور۔ تم دنیوی زندگی‘ مال و دولت اور عورت کو سب کچھ سمجھتے ہو۔ کیا یہ چیزیں ہمیشہ تمہارے پاس رہیں گی؟ یہ اخروی مسئلہ ہے دنیوی مسئلہ نہیں ہے۔ دنیا تو کسی نہ کسی طرح گزر ہی جائے گی۔ ان کے لئے لازم ہے کہ فکر آخرت کریں اور دوزخ سے بچنے کی کوشش کریں۔ قادیانیت سے وابستہ تمام مفادات کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تھامیں۔

زیر نظر کتاب کے مصنف حضرت مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی مدظلہ اپنے زمانہ شباب ہی میں ہونہار اور ذہین طالبعلم تھے۔ بڑے بڑے اکابر سے علم حاصل کیا اور حدیث شریف کا درس لیا۔ حضرت مولانا عبدالرحمٰن صاحب کاملپوری‘ حضرت مولانا محمد بدر عالم میرٹھی ثم مدنی اور حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری رحمۃ اللہ علیہم سے حدیث پڑھی۔ قادیانی فتنہ کی سرکوبی کا انہوں نے اپنے زمانہ شباب میں فیصلہ کر لیا تھا اور آج تقریباً پچاس سال گزر چکے ہیں کہ مختلف طرق سے اس فتنہ کو دبانے کی جہد و مساعی میں لگے ہوئے ہیں۔ اس سلسلہ میں آپ نے بڑے بڑے ماہر اکابر سے ٹریننگ لی ہے جنہوں نے اپنی عمریں قادیانیت کے مٹانے میں صرف کر دیں مولانا چنیوٹی بھی بڑے شدومد کے ساتھ اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔ مرزا قادیانی کے دعوے اور اس کی عبارتیں اور اس کے جھوٹے ہونے کے دلائل‘ مرزا کی تاویلات و تحریفات اور ہیرا پھیری اور قادیانی مبلغوں کی جعل سازی سے پوری طرح واقف ہیں ان چیزوں کو انہوں نے بطور یادداشت ایک کاپی میں جمع کیا تھا‘ دارالعلوم دیوبند کے بعض اکابر کے مشورہ پر انہوں نے اس میں بہت سے اضافے کر کے ایک مستقل کتاب بنا دی ہے۔ یہ کتاب

صفحہ 34

قادیانیت کے خلاف کام کرنے والے مناظرین کرام اور علمائے عظام کی جہد و مساعی کے لئے ایک زبردست دستاویز ہے یہ بڑی مدلل و مستحکم کتاب ہے۔ تمام مسلمانوں سے درخواست ہے کہ اس کو خوب دھیان سے پڑھیں اور قادیانیوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ خالی الذہن ہو کر اس کتاب کا مطالعہ کریں۔ باطل کو چھوڑ دیں۔ آخر میں مولانا چنیوٹی صاحب کی صحت و عافیت اور ان کی تمام خدمات کی بارگاہ الٰہی میں قبولیت کے لئے دعا کرتا ہوں۔

والسلام

از عاشق الٰہی بلند شہری ثم مہاجر مدنی

صفحہ 35

تقریظ

از

مرشد العلماء والسالکین خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دام مجدہ (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت وسجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف)

مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی دامت برکاتہم کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے بہت کمالات سے نوازا ہوا ہے۔ قادیانیت کے سلسلہ میں ان کا جہاد بین الاقوامی شہرت کا حامل ہے۔

"رد مرزائیت کے زریں اصول" مولانا چنیوٹی کی نئی تصنیف ہے۔ اور اس پر مولانا نے بڑی محنت فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے۔ اور مولانا کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے۔ اور اس کتاب کو مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بناوے۔

آمین ثم آمین والسلام فقیر خان محمد عفی عنہ

صفحہ 36

تقریظ

شیخ الاسلام فقیہ العصر

حضرت مولانا مفتی جسٹس محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی

قادیانیت کا فتنہ امت مسلمہ کے لئے جتنا زہریلا اور خطرناک تھا‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے کے لئے اس امت کے ایسے ہی اہل علم پیدا فرمائے جنہوں نے علم و تنقید سے لیکر مجادلہ و مناظرہ تک ہر سطح پر اس فتنے کا تعاقب کیا۔ فاضل مکرم حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب مدظلہم ہمارے ملک کے ان چند علماء میں سے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اس فتنے کی سرکوبی کے لئے وقف فرمادی ہے۔ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی ذاتی زندگی سے لیکر اس کی اور اس کے جانشینوں کی تحریروں تک ایک ایک چیز کا دقت نظر سے مطالعہ کیا ہے اور وہ قادیانی فتنے کی طرف سے کئے ہوئے ہر وار کا موثر توڑ جانتے ہیں۔

رد قادیانیت کی جدوجہد میں مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب نے جن مختلف محاذوں پر کام کیا‘ ان میں سے ایک اہم کام یہ تھا کہ انہوں نے اس موضوع کے جاننے والے تیار کرنے کے لئے مختلف جگہوں پر مختصر تربیتی کورس جاری کئے جو نہایت کامیاب رہے۔ مولانا نے اپنی زندگی بھر کے تجربات کا نچوڑ ان تربیتی کورسز میں شرکاء کے سامنے پیش کیا اور اب یہ نچوڑ زیر نظر کتاب میں اشاعت پذیر ہو رہا ہے۔

مجھے اپنی گوناگوں مصروفیات کی بنا پر اس کتاب سے کما حقہ استفادہ کا موقع تو نہیں مل

صفحہ 37

سکا، لیکن کتاب کے عنوانات ہی سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ مولانا نے اس کتاب کے کوزے میں دریا بند کر دیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ کتاب ان حضرات کی صحیح رہنمائی کر سکے گی جو رد قادیانیت کی حقیقت جاننا اور سمجھنا چاہتے ہیں اور جو اس موضوع پر دعوتی کام کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرما کر اسے خاص و عام کے لئے نافع بنائیں۔ آمین

محمد تقی عثمانی خادم طلبہ دارالعلوم کراچی نمبر ۱۴ ۷ محرم الحرام ۱۴۲۱ھ

صفحہ 38

تقریظ

از

شہید ختم نبوت حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ

(نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، پاکستان)

الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى اما بعد:

مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۳۹-۴۰ء میں پیدا ہوا اور ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ قریباً ۶۷ سالہ زندگی میں اس نے اتنے متضاد اور متناقض دعوے کئے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے کہ ایک شخص بقائمی ہوش وحواس اتنی متناقض باتیں کیسے کہہ سکتا ہے۔ مرزا قادیانی نے ان متناقض دعوؤں کے ذریعہ بے شمار لوگوں کو راہ راست سے برگشتہ کیا بالآخر خود تو اپنے اعمال کی سزا بھگتنے کے لئے دار الجزاء میں پہنچ گیا لیکن اس کے ماننے والے اس کی پیروی میں اب تک اپنی عاقبت برباد کر رہے ہیں۔ وسیعلم الذين ظلموا أى منقلب ينقلبون۔

میرے مخدوم ومکرم جناب مولانا منظور احمد چنیوٹی دامت برکاتہم نے ردّ قادیانیت کو اپنی زندگی کا مقصد وحید بنالیا، اور ”لکل فرعون موسیٰ“ کے مطابق انہوں نے ردّ قادیانیت اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنالیا، زیر نظر کتاب مولانا زید مجدہم کے ان دروس کا مجموعہ ہے جو آپ نے دار العلوم دیو بند میں اہل علم کو املاء کرائے تھے۔ بعد میں ان کو کیسٹ سے اتار لیا گیا: راقم الحروف نے ان کی اس کتاب کو (جو دارالعلوم دیوبند نے راقم الحروف کو بھیجی تھی) حرفاً حرفاً پڑھا اور جناب مصنف کے لئے دل سے دعائیں نکلیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو سعادتیں اور برکتیں

صفحہ 39

نصیب فرمائیں۔ آمین۔

طبع ثانی کے لئے مصنف نے مزید اضافے کئے ہیں۔ علامہ خالد محمود دامت برکاتہم کا طویل مقدمہ بھی شامل کیا ہے جو مستقل کتاب ہے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

محمد یوسف عفا اللہ عنہ ۱۵ شعبان ۱۴۲۰ھ

صفحہ 40

تقریظ

از

امام اہلسنت شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر صاحب دامت برکاتہم (شیخ الحدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گھنٹہ گھر گوجرانوالہ)

اما بعد : دنیا کے تمام مذاہب و ادیان میں سچا نجات و فوز و فلاح والا مذہب دین اسلام اور صرف اسلام ہے۔ ومن يبتغ غير الاسلام دينا فلن يقبل منه ۔ اس صادق دین کی بنیاد قرآن وحدیث اور اجماع قطعی پر قائم ہے اسلام میں عقائد عبادات اخلاق اور مخلوق کی بہتری کا اصولاً ہر حکم موجود ہے اور زندگی کے کسی پہلو اور شعبہ میں مسلمان کسی اور ازم کا محتاج نہیں ہے اور اس کے اندر قطعی عقائد پہاڑوں سے زیادہ مضبوط ہیں ان قطعی عقائد میں سے ایک عقیدہ ختم نبوت کا اور ایک عقیدہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات رفع الی السماء اور پھر نزول من السماء کا ہے اور ایک عقیدہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام حضرات صحابہ کرامؓ حضرات اہل بیت عظامؓ اور اکابر امت کے احترام کا بھی ہے آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دنیا سے تشریف لے جانے کے ساتھ ہی فتنوں کا دروازہ کھل گیا تھا اور مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ جعلی اور برساتی نبیوں نے غلط اور باطل دعویٰ کر کے قصر ختم نبوت کے مضبوط اور محکم قلعہ میں رخنہ اندازی کی ۔ مگر امت مرحومہ کے جانبازوں نے ان تمام دجالوں کا خاتمہ کیا اور دنیا کے ہر علاقہ میں وقتاً فوقتاً جھوٹے نبی اور مہدی اگتے رہے اور اہل حق

صفحہ 41

نے ان کو نیست و نابود کیا۔ ہندوستان میں جب ظالم برطانیہ نے اپنا ناپاک قدم رکھا اور اپنا ظالمانہ تسلط جمانے کی کوشش کی تو ہندوستان کے مسلمانوں اور اہل حق علماء کرام نے اس کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور عملاً جہاد میں شریک ہوئے جہاد کے اس جذبہ کو دیکھ کر جابر برطانیہ کی ہوا نکل گئی۔ اور اس نے اس جہاد کے جذبہ کو ختم کرنے کے لئے کئی حربے اختیار کئے جن میں ایک مرزا غلام قادیانی کو جھوٹی نبوت کے دعویٰ پر آمادہ کرنا تھا۔

جس کا پورا خاندان انگریز کا وفادار تھا انگریز کے اس کاشتہ پودے نے جہاد کو حرام قرار دیا اور انگریز کی تعریف میں کتابوں کی کتابیں لکھ ڈالیں۔ بقول اس کے ان سے کئی الماریاں بھر سکتی تھیں اور ختم نبوت کا انکار کر کے نبوت کا اور مسیح موعود ہونے کا باطل دعویٰ کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے سچے اور معصوم پیغمبروں کی علیٰ نبیھم الصلوات والتسلیمات اور اہل بیت کی توہین اپنا شیوہ بنا لیا اور انسانیت کے درجہ سے گر کر بدخلقی کا اور بدزبانی کا وافر ثبوت فراہم کر دیا اور بقول اس کے ؎

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

الغرض انگریز خبیث نے اس کو کھڑا ہی اس لئے کیا تھا کہ جس دین قیم پر مسلمان عمل پیرا ہیں اور جس جہاد کے جذبہ سے ان کے دل معمور ہیں وہ ان میں نہ رہے بقول مولانا ظفر علی خان صاحب ؎

کاٹنا مقصود ہے جس سے شجر اسلام کا
قادیاں کے لندنی ہاتھوں میں آری بھی دیکھ

لیکن والله متم نوره ولو کره الکافرون۔ اللہ تعالیٰ نے مرزا غلام احمد کے باطل دعاوی کی تردید کے لئے ہر وقت علماء حق کے اولوا العزم گروہ کو توفیق دی جن میں بعض کے نام اسی کتاب کے پیش لفظ میں حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری دام مجدھم استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نے ذکر کئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ نے نبوت ختم کر دی ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: فلا رسول بعدي ولا نبی. آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد دنیا کے کسی خطہ میں کسی نبی کے پیدا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا قرآن کی نصوص قطعیہ احادیث متواترہ اور اجماع امت سے یہ بات واضح ہے مرزا نبی اور مصلح تو کجا ایک شریف انسان بھی ثابت نہیں ہو سکتا جیسا کہ اس کتاب میں بے شمار حوالے درج

صفحہ 42

ہیں اور حضرت مولانا ڈاکٹر خالد محمود صاحب دام مجدہ کے پر از معلومات مقدمہ میں بھی اس پر مضبوط حوالے درج ہیں کہ مرزا غلام قادیانی انسانی شرافت سے بھی محروم ہے یہ مقدمہ بھی نہایت جاندار اور شاندار ہے اور اصل کتاب میں الحاج حضرت مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی دام مجدہم جو اس وقت رد مرزائیت کے فن کے ماہر اور امام ہیں ادام اللہ تعالیٰ حیاتہ نے کتاب میں جس ترتیب اور نرالے انداز سے بحث کی ہے وہ اہل حق کیلئے مشعل راہ اور قادیانیوں کے لئے لوہے کا لٹھ ہے پہلے مولانا موصوف نے کذب مرزا پر مبسوط اور لاجواب بحث کی ہے جس میں مرزا قادیانی کے مسلمات سے اس بحث کو مبرہن کیا ہے اور اہل حق کے مناظرین کو چند اصولی گر بتائے ہیں پھر دلائل کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول من السماء کے مثبت اور منفی پہلو پر محققانہ بحث کی ہے اور پھر ختم نبوت کے مسئلہ کو براہین اور ادلہ سے ثابت کیا ہے اور قادیانیوں کی لچر پوچ تاویلات اور تحریفات کے بخیئے ادھیڑے ہیں کہ وہ قیامت تک ان کو رفو نہ کر سکیں اور خود مرزا قادیانی سے اس کا کفر ثابت کیا ہے کہ بقول خود بھی وہ کافر قرار پاتا ہے اس لئے علماء اسلام کی تکفیر سے اس کو اور اس کی ذریت کو چڑنا نہیں چاہیئے۔

کافر ہوئے ہو تو میرا قصور کیا؟
جو کچھ کیا وہ تم نے کیا بے خطا ہوں میں

قادیانیت کے رد میں مختلف زبانوں میں متعدد حضرات نے (شکر اللہ تعالیٰ سعیہم) کتابیں لکھی ہیں مگر حضرت مولانا چنیوٹی دام مجدہم نے جو انداز اختیار کیا ہے وہ بڑا نرالا اور پیارا ہے۔ ہماری قلبی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا موصوف کی اس کوشش اور کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو اہل حق کے لئے ڈھال بنائے اور قادیانیوں پر اس سے اتمام حجت قائم کرے آخرت میں حضرت مولانا موصوف اور علمی اور مالی طور پر جملہ معاونین کے لئے اجر وثواب کا ذریعہ بنائے۔

وما ذلک علی اللہ بعزیز وصلی اللہ تعالیٰ وسلم علی خاتم الانبیاء والمرسلین وعلیٰ آلہ واصحابہ وازواجہ وذریاتہ واتباعہ الیٰ یوم الدین آمین۔

العبد الضعیف: ابوالزاہد محمد سرفراز ۷۔ رجب ۱۴۲۰ھ / ۱۷۔ اکتوبر ۱۹۹۹ء یوم الاحد

صفحہ 43

تقریظ

از

ولی کامل استاذ العلماء محدث جلیل شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خاں مدظلہ العالی (صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان)

الحمد للہ وکفی والصلوۃ والسلام علی سید الرسل وخاتم الانبیاء وعلیٰ آلہٖ واصحابہ واتباعہ نجوم الہدایۃ وشموس البر والتقی وبعد ۱

حضرت مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی زادت فیوضہم ودامت برکاتہم نے مجھ جیسے ہیچمدان کمترین خلائق کو حکم دیا کہ ان کی تصنیف لطیف کے لئے بطور تقریظ اپنی رائے لکھوں۔ احقر ہرگز اس کا اہل نہیں اور نہ ہی احقر کی رائے کی اہمیت ہے۔ حضرت علامہ خالد محمود صاحب کا مقدمہ حقائق و بصائر کا خزانہ موجود ہے اس کے بعد کسی کے بھی کچھ لکھنے کی گنجائش نہیں پھر کتاب خود ایک ایسی شمشیر بے نیام ہے کہ اس کے سامنے باطل کو سر اٹھانے کی جرات ہو ہی نہیں سکتی‘ مولانا کی یہ تصنیف در حقیقت حقائق و دلائل اور براہین کا بحر موّاج ہے کہ اس کے سامنے قادیانیت کے خس و خاشاک ٹھہر ہی نہیں سکتے لیکن جن کے لئے جہنم مقدر ہو چکی ہے اور وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے ان کو کوئی بچا نہیں سکتا۔

حضرت مولانا سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم اور حضرت مولانا مفتی عاشق الہی دامت برکاتہم کی تقریظات بھی احقر نے پڑھی ہیں برکت ونصیحت کے لئے وہ کافی ہیں دوسرے حضرات کا ذکر بھی ہے لیکن احقر ان کو پڑھ نہیں سکا۔ اکابر علماء اور فضلاء کی تقریظات و تحریرات کے بعد احقر کی

صفحہ 44

تحریر کی حیثیت مخمل میں ٹاٹ کے پیوند سے زیادہ نہیں لیکن الامر فوق الادب کے مطابق عرض ہے کہ مولانا منظور احمد چنیوٹی دامت برکاتہم ان موفقین میں شامل ہیں جنہوں نے جوانی کے آغاز سے لیکر پیرانہ سالی کے زمانے میں داخل ہونے تک کا پورا دور بے مثال اور فوق العادۃ طریقے پر ختم نبوت کے دفاع میں اور قادیانیت کے تار و پود بکھیرنے میں اور دجال قادیان کی ذریت کو بدحواس اور ذلیل کرنے میں اس شان سے بسر کیا ہے کہ اس میں ان کی کوئی نظیر موجود نہیں۔

ہمارے بڑے بڑے بزرگوں نے قادیانیت کے دجل و مکر کو بہت واضح طور پر طشت از بام کیا ہے اور اس کی اصل حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے یہاں تک کہ اس کو قومی اسمبلی میں کفر قرار دلوایا ہے لیکن جتنے طویل عرصے تک اس فتنے کا تعاقب مولانا چنیوٹی نے کیا ہے اور جس طرح صرف ایک موضوع کو اپنی شناخت مولانا نے بنایا ہے اور جس طرح دنیا کی مسلم آبادیوں میں جا جا کر اس لعنت و خباثت کا تعارف مولانا نے کرایا ہے اور جس طرح ہر اس مقام پر جا کر جہاں قادیانی مسلمانوں کے لئے زہر گھول کر قادیانیت کو اسلام ظاہر کر کے قابل قبول قرار دینے کی کوشش کر رہے تھے قادیانیوں کا پردہ فاش کیا ہے اور ان کا مکروہ و مبغوض چہرہ کھول کر دکھایا ہے یہ مولانا ہی کا خاص حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ مولانا چنیوٹی کے برابر کسی کے اسفار اور نہ مولانا کے برابر کسی کے مناظر ہیں۔ نہ کسی نے اس موضوع پر اتنے حلقہائے درس و تربیت کا اہتمام کیا ہے جو مولانا کا حصہ ہے۔

دوسرے حضرات بھی مختلف ناموں سے کام کر رہے ہیں ان میں بھی کسی کا کام زیادہ ہے کسی کا کم لیکن ان کے کام کو مولانا موصوف کے کام سے کوئی نسبت نہیں۔ قومی اسمبلی میں ۱۹۷۴ء میں قادیانیت کو کفر قرار دیا گیا ہے مولانا اس سے بیسیوں سال قبل چناب نگر (ربوہ) کے سینے پر بیٹھ کر چنیوٹ میں قادیانیوں کو اور ان کے سربراہوں کو للکار رہے تھے اور ان پر حملہ آور تھے اور ان کی للکار اور حملوں سے قصر قادیانیت لرزہ براندام اور بدحواس رہتا تھا۔

اللہ تعالیٰ نبی امی فداہ روحی و ابی و امی ﷺ کی ختم نبوت کے دفاع میں مولانا کی خدمات کو قبول فرمائیں اور مولانا کو اپنا اور اپنے حبیب ﷺ کا قرب خاص عطا فرمائیں آمین ثم آمین۔

سلیم اللہ خان جامعہ فاروقیہ ۔کراچی نمبر ۲۵

بتاریخ: ۲۸۔۴۔۲۰۰۰ء / ۲۲۔۱۔۱۴۲۱ھ

صفحہ 45

تقریظ

از

عارف باللہ جامع المعقول والمنقول شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمد صاحب زید مجدہ (مہتمم جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد)

”ردّ قادیانیت کے زرّیں اصول“

ناظرین کرام کے سامنے پیش ہے اس میں فتنہ عظمیٰ قادیانیت کے رد کے لئے قابلِ قدر اور قابلِ تحسین مواد مجتمع ہو گیا ہے۔ اس کی نافعیت کے لئے یہی کافی ضمانت ہے کہ اس میں حضرت علامہ محمود مدظلہ کا مقدمہ اور فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحبؒ اور حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی دامت برکاتہم کی عمر بھر کے اس سلسلہ کے تجربات شامل ہیں۔ احقر فرصت نہ ہونے کی وجہ سے گو اس سے استفادہ نہیں کر سکا لیکن شخصیات مذکورہ کے انتساب کے بعد حق تعالیٰ کی رحمت سے یقین ہے کہ اس موضوع پر نہایت نافع اور مقبول کتاب ثابت ہوگی۔ یہ کتاب اس سلسلہ کی کتب میں نہایت گرانقدر اضافہ ہے۔ حق تعالیٰ اس کی قبولیت و نافعیت میں توقعات سے زیادہ ترقیات عطا فرمائیں۔

کتبہ

احقر نذیر احمد غفرلہ خادم جامعہ اسلامیہ امدادیہ، فیصل آباد ۲۳ رجب ۱۴۲۰ھ

صفحہ 46

تقریظ

از

محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب

(وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پاکستان، ڈائریکٹر الدعوۃ اکیڈمی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد)

حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ان مجاہدین اسلام میں سے ہیں جن کی زندگی کا ہر لمحہ دین حق کی سر بلندی اور مسلمانان عالم کی ملی وحدت اور یک جہتی کے لئے وقف ہے۔ مولانا چنیوٹی گزشتہ پچیس سال سے ختم نبوت کے تحفظ کو اپنی زندگی کا مشن بنائے ہوئے ہیں۔ ختم نبوت کے خلاف کھڑی ہونے والی ہر سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ ہمیشہ مجاہدین اسلام کی صف اول میں موجود رہے ہیں گزشتہ صدی کے اواخر میں اٹھنے والے فتنہ قادیانیت و مرزائیت کی تردید و تعاقب کو مولانا نے اپنی زندگی کا خاص الخاص مشن قرار دیا ہے۔ اندرون ملک اور بیرون ملک اٹھنے والی ہر قادیانی سازش کا انہوں نے فکری، علمی، تعلیمی اور عوامی سطح پر بھرپور مقابلہ کیا۔

اس جہد مسلسل میں اپنے دست و بازو پیدا کرنے اور اس عمل کا تسلسل برقرار رکھنے کے لئے مولانا چنیوٹی نے ایک تربیتی پروگرام بھی شروع کر رکھا ہے جس کے ذریعہ وہ نوجوان علماء کو ختم نبوت کی تبلیغ اور قادیانیت کی تردید کے لئے تیار کرتے ہیں۔ زیر نظر کتاب مولانا چنیوٹی نے ان زیر تربیت نوجوان علماء کے لئے مرتب کی ہے جو فتنہ قادیانیت سے ہنوز کما حقہ

صفحہ 47

واقف نہیں ہیں اور اب تربیت کے اس دور میں قدم رکھ رہے ہیں جس سے نکل کر ان کو اس فتنہ سے عہدہ برآ ہونا ہے۔

مجھے امید ہے کہ یہ کتاب نوجوان مبلغین اسلام میں قبول ہو گی ان مقاصد کی تکمیل کرے گی جن کی خاطر یہ مرتب کی گئی ہے۔ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ مولانا کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور دارین میں ان کے لئے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنائے۔

مخلص و نیازمند

ڈاکٹر محمود احمد غازی

صفحہ 48

تقریظ

از

راجہ محمد ظفر الحق صاحب

(سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اسلامی جمہوریہ پاکستان)

اللہ تعالیٰ نے اپنا کامل اور مکمل دین حضور نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں نہ صرف نازل کر دیا۔ بلکہ اس کے تحفظ کی یقین دہانی بھی کرا دی۔ حضورؐ کے بعد نہ کوئی نیا نبی آ سکتا ہے۔ نہ رسول اور نہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کا مجاز ہے کہ اس پر وحی کا نزول ہوا ہے۔ کیونکہ ایسا دعویٰ عقیدہ ختم نبوت اور دین کے مکمل ہونے پر ایک کاری ضرب ہو گا۔ بقول علامہ اقبال ”لاشبہ عقیدۂ ختم نبوت ہی اسلام کی بنیاد ہے۔“

حضور رسالت مآبؐ کی حیات طیبہ سے لیکر آج تک متعدد گمراہ اور بد بخت افراد نے دعویٰ نبوت کیا مگر اُمت نے انہیں تسلیم نہیں کیا۔ مرزا غلام احمد نے سامراجی سازش کے تحت اس صدی کے اوائل میں دعویٰ نبوت کیا۔ اس وقت سے آج تک علماء حق اس باطل دعویٰ کا موثر توڑ کرتے رہے۔ جن کی ایک طویل فہرست ہے۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے دین کا موثر دفاع کیا۔ ان ہستیوں میں مولانا منظور احمد چنیوٹی کا اسم گرامی نمایاں نظر آئے گا۔ ساری زندگی اس مسئلہ کی تعلیم کی بنا پر انہیں اسے درست انداز میں سمجھنے اور پھر اسے سمجھانے کا ملکہ حاصل ہوا۔ ان کی حالیہ تالیف ایک تاریخی دستاویز ہے۔ جس میں تمام

صفحہ 49

حوالے مستند اور اصل دستاویزات سے لئے گئے ہیں۔ تمام ممکنہ سوالات کی ترتیب بھی ایک قابل استاد کی طرح رکھی گئی ہے۔ اور پھر ان کے شافی جوابات بھی اس انداز سے درج کئے گئے ہیں کہ قاری کے ذہن میں اصل مسئلہ کے بارے میں کوئی الجھن باقی نہیں رہتی۔

اس ذخیرۂ علم و ایقان کو نہ صرف اردو زبان میں زیادہ سے زیادہ خواتین و حضرات بالخصوص نوجوان نسل تک پہنچانا ضروری ہے۔ بلکہ اس کے تراجم دیگر زبانوں میں کرانے چاہئیں۔

راجہ محمد ظفر الحق ١/١٢/١٩٩٩ء

صفحہ 50

بسم اللہ الرحمن الرحیم

گزارش احوال واقعی

مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کا فتنہ چودھویں صدی کا عظیم فتنہ ہے جسے انگریز نے اپنی اغراض مشئومہ اور مقاصد مذمومہ کی خاطر جنم دیا اور پھر اس کی پشت پناہی کرتے ہوئے اسے اپنی پوری قلم رو میں پھیلایا۔ علمائے اسلام نے اس کی زندگی میں ہی تعاقب شروع کر دیا جو اب تک جاری ہے اور جب تک یہ فتنہ دنیا میں باقی ہے ختم نبوت کے خدام اس کا تعاقب ان شاء اللہ جاری رکھیں گے۔ سب سے پہلے علماء لدھیانہ نے اللہ تعالیٰ کی ان پر کروڑوں رحمتیں نازل ہوں ۱۸۸۴ء میں اس کی تکفیر کی اور پھر جوں جوں اس کا کفر واضح ہوتا گیا تو جو علماء اس کی تکفیر میں شروع میں متردد تھے انہوں نے بھی بالآخر بالاتفاق کفر کا فتویٰ دے کر علماء لدھیانہ کی تائید کر دی۔ مرزا قادیانی کی زندگی میں جن علماء نے اس کا ہر محاذ پر اور ہر میدان میں تعاقب اور مقابلہ کیا ان میں مولانا محمد عالم آسی‘ ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی‘ مولانا ثناء اللہ امرتسری‘ مولانا سعد اللہ لدھیانوی‘ مولانا کرم دین بھین والے‘ مولانا عبدالحق غزنوی اور پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اور حافظ محمد شفیع سنکھتروی نمایاں ہیں۔ مرزا قادیانی کی وفات کے بعد جب یہ فتنہ ایک مستقل اور منظم جماعت کی شکل اختیار کر گیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں محدث العصر حضرت سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند کو متوجہ کر دیا۔ انہوں نے علمی محاسبہ کے ساتھ ساتھ جماعتی طور پر مقابلہ کرنے کیلئے مجلس احرار اسلام کے سرخیل خطیب ہند حضرت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے انہیں

صفحہ 51

امیر شریعت مقرر کیا۔ اور ان کی پوری جماعت کو ان کے مقابلہ میں لاکھڑا کر دیا۔ میدان مناظرہ میں آپ کے فاضل شاگرد مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری‘ مولانا محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنی‘ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی‘ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی اور حضرت مولانا یوسف بنوری رحمہم اللہ تعالیٰ کو تیار کر دیا۔ اسی طرح شاعر مشرق مفکر اسلام ڈاکٹر محمد اقبال اور مولانا ظفر علی خاں کو بھی اس فتنہ کی سرکوبی کی طرف متوجہ کیا۔ ڈاکٹر اقبال کے والد نور محمد مرزا غلام احمد کے ابتدائی ساتھیوں میں سے تھے مگر بعد میں انہوں نے مرزا غلام احمد سے لاتعلقی ظاہر کر دی ڈاکٹر اقبال بھی ابتداء اس تحریک سے کچھ متاثر تھے مگر حضرت شاہ صاحب جب بھی لاہور آتے ڈاکٹر صاحب کے ہاں ٹھہرتے آپ نے ڈاکٹر صاحب پر غلام احمد کا کفر و ضلال پوری طرح واضح کیا۔ آج دنیا بھر میں قادیانیت کے محاذ پر جس قدر کام ہو رہا ہے۔ یہ سب فیض حضرت سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔

۱۹۴۷ء میں ہندوستان جب انگریز کے تسلط سے آزاد ہوا اور ملک تقسیم ہو کر پاکستان ایک علیحدہ مستقل ملک بنا تو قادیانیوں کو قادیان جو ان کا ”دارالامان“ تھا چھوڑ کر پاکستان آنا پڑا۔ اور انہوں نے دریائے چناب کے کنارے ایک وسیع اراضی کا رقبہ لیکر اپنا ایک گاؤں آباد کیا اور اس کا نام انتہائی دجل و فریب سے ربوہ رکھا۔ استاد محترم فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحب رحمۃ اللہ علیہ جن کو حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ نے قادیان کے دفتر احرار میں قادیانیوں کی سرکوبی کیلئے مقرر کیا ہوا تھا وہ بھی پاکستان تشریف لے آئے تو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ملتان میں مدرسہ تحفظ ختم نبوت قائم کیا جس میں فارغ التحصیل علماء کو رد قادیانیت کا مخصوص کورس کرانے کے لئے فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو استاد اور مربی مقرر فرمایا راقم الحروف نے ۱۹۵۱ء‘ ۱۹۵۲ء میں ملتان مدرسہ تحفظ ختم نبوت میں داخل ہو کر تیاری کی اور تربیت حاصل کی۔ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحب ”کو حضرت مولانا محمد چراغ صاحب گوجرانوالہ نے جو سید انور شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے تلمیذ خاص تھے ردّ قادیانیت کی پوری تیاری کرائی تھی۔ اور انہوں نے اپنی تمام زندگی اس فتنہ کی سرکوبی اور تعاقب میں گزار دی۔ استاد محترم بیان فرماتے تھے کہ میں مشکوٰۃ ‘ جلالین موقوف علیہ کی کتب پڑھتا تھا کہ ۱۹۳۴ء میں قادیان میں پہلی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ میں اور استاد محترم مولانا محمد چراغ صاحب آف گوجرانوالہ استاد و شاگرد

صفحہ 52

دونوں اس تاریخی کانفرنس میں شریک ہوئے اور وہیں سے قادیانی کی کتب کے دو سیٹ خرید کر کے گوجرانوالہ ہمراہ لے آئے۔ اور اس کی کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیا مدرسہ کی تعلیم وہیں چھوڑ دی اور استاد محترم کے ہمراہ قادیانیوں سے مناظرے شروع کر دیئے۔ اور پھر پوری زندگی اس دجالی فتنہ کی سرکوبی کیلئے وقف کر دی۔ استاد محترم کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ زیادہ تر تردید ان کے اپنے مسلمات یعنی مرزا قادیانی کی کتابوں اور تحریروں سے کرتے تھے۔ اور مناظرہ کیلئے ایسے قواعد وضوابط مقرر کرتے تھے جن میں وہ فریق مخالف کو ایسے جکڑ دیتے تھے کہ وہ ہزار ہاتھ پاؤں مارنے کے باوجود ان سے نکل نہیں سکتا تھا۔ اسے سوائے ہزیمت اور بھاگنے کے کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا۔ راقم نے تربیت مکمل کرنے کے بعد کتب دینیہ کی تدریس کا شغل شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ طلبہ کو ردّ قادیانیت کی تربیت دینی شروع کر دی۔ ہمارا شہر چنیوٹ چونکہ اس قادیانی مرکز کے بالکل پڑوس میں واقع ہے۔ اس لئے مجھے اس ذمہ داری کا احساس اور بھی ہوتا گیا۔

قادیانیوں کا یہ جدید مرکز جو ۱۹۴۸ء میں چنیوٹ کے قریب دریائے چناب کے مغربی کنارے پر قائم ہوا۔ اس کا نام انتہائی دجل وفریب سے ایک گہری سازش کے تحت قرآن کریم میں خطرناک قسم کی تحریف کرتے ہوئے ”ربوہ“ رکھا گیا یہ لفظ اٹھارویں پارہ میں سورۃ مومنون کی آیت نمبر ۵۰ میں حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ کے ذکر میں آتا ہے کہ ہم نے انہیں ایک ”اونچی“ جگہ پناہ دی تھی ”ربوہ“ کسی شہر کا نام نہیں بلکہ اس سے مراد فلسطین ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہے۔ اب انہوں نے قادیان ’دارالامان‘ سے بھاگ کر جب یہاں آ کر یہ گاؤں نیا آباد کیا تو اس نسبت سے اس کا نام "ربوہ" رکھ دیا تا کہ آئندہ آنے والی نسلیں عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں جب ”ربوہ“ قرآنی لفظ پڑھیں تو اس سے یہی ربوہ سمجھیں لفظ تو وہی رہا لیکن اس کا مصداق اور محل بدل گیا۔ یہ ایک ایسی خطرناک تحریف تھی۔ جس سے آئندہ آنے والی نسلیں جو اس جدید ربوہ کی تاریخ سے واقف نہ ہوں گی گمراہ ہوں گی قرآن کریم کے اس مقدس لفظ کے تحفظ کیلئے کہ یہ غیر محل پر استعمال نہ ہو اور لوگ خطرناک گمراہی سے محفوظ رہیں۔ آج سے تقریباً تیس سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اس فقیر کے دل میں ڈالا کہ یہ نام تبدیل ہونا چاہیے۔ چنانچہ بالآخر تیس سال کی طویل جدوجہد کے بعد اللہ تعالیٰ نے کامیابی سے ہم کنار فرمایا اور زندگی میں ہی یہ خبر مل گئی کہ پچاس سال بعد ۷ نومبر ۱۹۹۸ء کو صوبائی اسمبلی پنجاب نے ربوہ نام کی تبدیلی کی۔ میری اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر کے اس کا نام ”ربوہ“

صفحہ 53

بدل دیا گیا۔ اس کی پوری تفصیل ”قادیان سے چناب نگر تک“ میرے زیرتصنیف رسالہ میں ملاحظہ فرمائیں۔

دریائے چناب کے مشرقی کنارے پر چنیوٹ ہے اور مغربی کنارے پر یہ قادیانیوں کی بستی ہے۔ اس لئے مجھے اس قرب و جوار کی وجہ سے حق پڑوس ادا کرنا پڑا۔ اسی لئے میں نے تدریس کے ساتھ ساتھ تردید قادیانیت کا فریضہ بھی سنبھال لیا تھا۔ اور تقریری، تحریری مناظرے، مباہلے ہر محاذ پر ان کا تعاقب اور مقابلہ شروع کر دیا، ساتھ ساتھ طلباء کی تربیت کا کام بھی جاری رکھا۔ میرے مشفق اور محسن استاد حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے کراچی میں جب جامعہ بنوری قائم کیا تو حضرت ہر سال تعطیلات میں ردقادیانیت کی تربیت دینے کیلئے، اس احقر کو اور ردرفض کیلئے استاد محترم حضرت علامہ دوست محمد قریشی رحمۃ اللہ علیہ کو بلایا کرتے تھے۔ حضرت استاد محترم مولانا محمد حیات صاحبؒ سے راقم نے جو نوٹس اور حوالہ جات لکھ کر کاپی تیار کی تھی وہ تو بڑی تفصیلی اور ضخیم دستاویز تھی۔ اس سے منتخب ضروری حوالہ جات نوٹ کرا دیتا تھا اور سمجھا دیتا تھا اسی طرح ملتان تنظیم اہل سنت کے دفتر میں بھی اس عاجز کی ڈیوٹی لگ گئی کہ جو طلباء حضرت علامہ دوست محمد قریشی اور حضرت علامہ تونسوی صاحب سے ردرفض کی تیاری کیلئے آئیں انہیں ردقادیانیت کی بھی تیاری کرائی جائے۔ ہر سال اس طرح حوالے اور ضروری نوٹس تحریر کراتے رفتہ رفتہ ایک کاپی تیار ہوگئی۔ پھر اسی کاپی کی فوٹوسٹیٹ کاپیاں تیار کر کے شرکاء دورہ میں تقسیم کر دی جاتیں۔ تاکہ لکھوانے کا وقت بھی بچے اور جو طلبہ لکھنے میں ”غث و سمین“ کرتے ہیں اس سے بھی بچ جائیں یوں کام آسان ہو گیا اور چار چھ ماہ کا کورس دس پندرہ روز میں مکمل ہو جاتا۔ 1965ء میں پہلی مرتبہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) جانے کی سعادت حاصل ہوئی اور ایک دن میں ڈھاکہ کے تین مدارس لال باغ مدرسہ جامعہ فرقانیہ اشرف العلوم بڑا کٹرا اور امدادالعلوم فرید آباد میں علماء اور طلبہ کو تیاری کرائی جس میں طلباء کے ساتھ ساتھ علماء، مدرسین، اور شیخ الحدیث مولانا مفتی محی الدین مولانا معزالدین صاحبان بھی باقاعدہ کاغذ قلم دوات لیکر شریک ہوتے تھے۔ اسی طرح یورپ اور بلاد افریقہ میں بھی وقتاً فوقتاً یہ سعادت حاصل ہوتی رہی۔ 1993ء میں آخری مرتبہ مولانا شمس الدین قاسمی مرحوم کے مدرسہ جامعہ حسینیہ ڈھاکہ میں بھی پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ 1970ء تا 1975ء کئی سال مدینہ یونیورسٹی کے طلبہ کو مسجد نبوی میں بعد نماز مغرب عشاء تک پڑھاتا تھا۔ اس سے عربی میں ترجمہ

صفحہ 54

بھی ہو گیا پھر ۱۹۸۵ء میں باقاعدہ سرکاری طور پر مدینہ یونیورسٹی کے طلباء کو تیاری کروانے کیلئے بلایا گیا۔ وہاں یونیورسٹی میں عصر کے بعد مغرب تک دنیا بھر کے طلباء کو یہ تربیتی کورس کرانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ بندہ نے دن رات لگا کر آٹھ دس دن میں پوری کاپی مکمل کر دی۔ پھر ۱۹۹۰ء میں ایشیاء کی عظیم یونیورسٹی دارالعلوم دیوبند میں جو ہماری مادر علمی ہے۔ تربیتی کیمپ لگایا گیا جس میں پورے ہندوستان سے ہر صوبہ اور ہر ضلع کے منتخب علماء مدرسین و خطباء کو جمع کیا گیا۔ اور خود دارالعلوم کے طلباء اور اساتذہ بھی شریک ہوتے تھے۔ ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ شرکاء تھے میں نے اپنی تیار شدہ نوٹس والی کاپی مہتمم صاحب کو بھیج دی تھی کہ حسب ضرورت ان کی فوٹو کاپیاں کرالیں۔ لیکن چونکہ وہاں تعداد بہت زیادہ تھی۔ فوٹوسٹیٹ مہنگی پڑتی تھی انہوں نے دو ہزار کے قریب رف سی چھپوالی۔ جب بندہ فارغ ہوا تو تمام شرکاء دورہ سے باقاعدہ تحریری امتحان لیا گیا۔ اور دارالحدیث میں ایک بہت بڑے جلسہ کا اہتمام کر کے کامیاب طلباء کو باقاعدہ سندات تقسیم کی گئیں تقسیم اسناد سے قبل مختلف صوبوں کے نمائندہ علماء نے اپنے تاثرات بیان کئے۔ حضرت مہتمم صاحب نے ایک اعزازی سند اس احقر کو بھی عطا کی جو اس ناچیز کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے جب بندہ واپس پاکستان لوٹنے لگا تو حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری ناظم اعلیٰ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت اور حضرت محترم قاری محمد عثمان صاحب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت جو شیخ العرب والعجم حضرت مدنی رحمۃ اللہ کے داماد ہیں دونوں حضرات نے اصرار کیا کہ اگر آپ اجازت دیں تو اس کاپی کو کتابی شکل میں شائع کر دیا جائے۔ راقم کو تردد تھا کہ یہ چونکہ کتاب نہیں محض نوٹس ہیں اس کے لئے پڑھانا اور سمجھانا ضروری ہے کتاب بن جانے کے بعد اس کی تربیت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی جائے گی ہر ایک یہی سمجھے گا کہ ردّ قادیانیت میں ایک کتاب ہے کتاب پڑھ لینے سے کام چل جائیگا پھر کتابی شکل میں اس کی تحریر و ترتیب بھی نہیں تھی۔ لیکن ان حضرات کا اصرار تھا کہ اس کے باوجود یہ علماء طلباء کیلئے بہت مفید ہے۔ آپ اس کی اجازت دیں بندہ نے ان کے اصرار کے پیش نظر اس کی اجازت دے دی اور اس کے ساتھ کچھ ہدایات بھی دیں کہ اس ترتیب سے اسے لکھا جائے۔ چنانچہ حضرت مفتی سید سلیمان منصور پوری جو حضرت مولانا مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے نواسہ اور حضرت قاری محمد عثمان مدظلہ کے بڑے صاحبزادہ ہیں اور شریک دورہ تھے ان کے ذمہ یہ کام لگایا گیا۔ مولانا موصوف نوجوان مستند عالم بہترین مدرس، مفتی اور صاحب قلم ہیں۔ انہوں نے اسے میری ہدایات کی

صفحہ 55

روشنی میں کتابی شکل میں جمع کیا۔ اور مسودہ مجھے نظر ثانی کیلئے روانہ کیا۔ میں نے اس پر نظر ثانی کی اور مزید کچھ ہدایات دے کر مسودہ واپس بھیج دیا۔ چنانچہ اسے ”ردّ مرزائیت کے زرّیں اصول“ کے نام سے تقریباً اڑھائی سو صفحات پر مشتمل کتابی شکل میں چھاپ دیا گیا۔ اب پاکستان میں دوست احباب اور علماء کا اصرار ہوا خصوصاً علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب ﴿مانچسٹر﴾ اور مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب ﴿مکہ مکرمہ﴾ کا کہ اس میں مزید اضافے کر کے اسے مستقل کتاب کے طور پر شائع کر دیا جائے۔ اور پھر اس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کرا کر اسے پھیلایا جائے کیونکہ یہ قادیانیت کے ردّ میں بہت بڑا مفید اور مضبوط ہتھیار ہو گا جس میں ان کے تمام مشہور شبہات اور مغالطات کا عقلی نقلی ہر طرح سے ردّ کر کے انہیں دور کیا گیا ہے اور پھر اس میں قادیانیوں سے گفتگو کرنے کا پورا طریقہ سمجھا دیا گیا ہے۔ لیکن میرے نزدیک اس کا سمجھنا اور اس کی تربیت حاصل کرنا پھر بھی بڑا ضروری اور مفید ہے۔ بہر حال راقم نے اپنے احباب اور بزرگوں کے اس اصرار پر اس کا دوبارہ بلکہ سہ بارہ مطالعہ کیا اور جن جن مقامات پر اضافہ یا اصلاح ضروری تھی اس کی نشاندہی کر دی اور بڑے استاد حضرت مولانا محمد چراغ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ”چراغ ہدایت“ جس کا مقدمہ اس احقر نے حضرت الاستاذ کے حکم پر لکھا تھا دوبارہ مطالعہ کر کے اس میں سے مفید حوالہ جات کی نشاندہی کی کہ ان کا بھی اب اس ایڈیشن میں اضافہ کر دیا جائے۔ چنانچہ جامعہ کے متخصص استاد مولانا مشتاق احمد کے ذمہ لگایا کہ ان تمام حوالہ جات کو جہاں جہاں میں نے نشان لگایا ہے وہاں پر نقل کر کے اضافہ کر دیں۔ اور مزید جو اضافے کئے ہیں وہ بھی اپنے اپنے مقامات پر نقل کر دیں۔ مولانا موصوف نے اپنی نگرانی میں عزیزم ملک طارق جاوید متعلم درجہ تخصص سے یہ تمام کام مکمل کرا کر میرے سپرد کر دیا۔ راقم اسے اپنے انگلینڈ کے سفر میں ہمراہ لایا کیونکہ ملک میں تو ایسے علمی کام کرنے کا اب وقت ہی نہیں ملتا۔ سفر ہی میں اس قسم کے کام کا موقعہ ملتا ہے چنانچہ اضافہ جات کا پہلا کام بھی انگلینڈ کے سفروں میں ہی مکمل کیا تھا۔ اب اسے اس سفر میں مکمل کر کے اصلاح و ترمیم کیلئے یہ مسودہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب کی خدمت میں پیش کیا اور اس کے لئے مستقل مانچسٹر کا سفر اختیار کیا۔ کیونکہ میں کوئی تحریر بھی اس وقت تک چھاپنا مناسب نہیں سمجھتا جب تک حضرت علامہ صاحب کی تنقیدی نظر سے گزر کر اس کی اصلاح و ترمیم نہ ہو جائے اور ان کا مشورہ شامل نہ ہو۔ اس فن میں انہیں ایک مستند اتھارٹی کی حیثیت حاصل ہے اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا

صفحہ 56

فرمائیں۔ اور اس کا بہترین صلہ دارین میں نصیب فرما دیں۔ انہوں نے اپنی گونا گوں مصروفیات سے وقت نکال کر پورا مسودہ پڑھا۔ مناسب حذف واضافہ کیا مناسب مشورے دیئے اور میری درخواست پر اس کتاب کا ایک مبسوط اور مفید مقدمہ تحریر فرمایا۔

علامہ صاحب کا مقدمہ ایک مستقل کتاب کی حیثیت رکھتا ہے جس میں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں مرزا غلام احمد کی سیرت و کردار کو اس کی اپنی تحریروں کے آئینہ میں پیش کر کے یہ بتایا ہے کہ ایسا شخص مسیح، مہدی اور مجدد تو کجا؟ کیا ایک شریف انسان کہلانے کا بھی مستحق ہے دراصل قادیانیوں سے گفتگو صرف اور صرف اسی موضوع پر ہونی چاہیے کہ جس شخص کو تم امام الانبیاء محمد مصطفےٰ کا ظل اور بروز کہتے ہو جس کے نہ ماننے والے کو جہنمی کافر اور کنجریوں کی اولاد قرار دیتے ہو بلکہ اسے (العیاذ باللہ) محمد ثانی اور پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل و برتر کہتے ہو۔ کیا وہ اپنی تحریروں کی روشنی میں ایک سچا، صحیح العقل اور شریف انسان بھی ثابت ہوتا ہے؟ مرزائی کڑوے زہر کا پیالہ پی سکتے ہیں ہر ذلت برداشت کر سکتے ہیں لیکن اس موضوع پر گفتگو کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ حیات مسیح اور ختم نبوت کے موضوعات کو انہوں نے اپنے علمی مغالطوں کی چھتری بنا رکھا ہے اندر سے ان کی غرض لوگوں کو مرزا غلام احمد کے حلقہ میں لانے کی ہی ہوتی ہے مقام غور ہے کہ وہ جس شخص پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں اس کی زندگی اس کے کردار و کریکٹر پر بحث کیوں نہیں کرتے آخر کیوں؟ وہ جانتے ہیں کہ وہ اپنی تحریرات کے آئینہ میں ایک پرلے درجے کا کذاب، دجال، دھوکے باز، عیاش، عیار، شراب خور اور زنا کار ہی نکلے گا۔

میری اس تدریسی دستاویز کے ۵ باب ہیں۔ باب اول مرزا غلام احمد اور اس کے دعاوی کے تعارف میں ہے۔ دوسرا باب اس فنی اور تجرباتی موضوع پر ہے کہ قادیانیوں سے اگر مناظرہ کی نوبت آئے تو موضوع کی تعیین اور موضوعات کی ترتیب کیا رکھی جائے۔ تیسرا باب مرزاغلام احمد کے دجل و کذب میں ہے چوتھا باب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول پر ہے یہ باب مسلمانوں کے سامنے اپنے اس علمی موقف کو کھولتا ہے کہ ہم رفع ونزول مسیح کے کیوں قائل ہیں۔ اس میں ہمارا رخ قادیانیوں کی طرف نہیں ہے ہاں میں نے اس میں ان قادیانی شبہات کو ضرور سامنے رکھا ہے جن کے سہارے وہ مسلمانوں کو ان کے پرانے اسلام سے بد گمان کرتے ہیں۔ اس باب میں قادیانی اصولاً میرے مخاطب نہیں تیسرے باب میں ان کا

صفحہ 57

دجل و کذب پوری طرح کھل گیا ہے تو اب ان سے رفع و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بحث کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ پانچویں باب میں تقریباً پچاس صفحات پر میں نے ختم نبوت پر اپنے دلائل ترتیب دیے ہیں ان میں جہاں جہاں قادیانیوں نے کوئی جرح کی ہے میں نے جواب جرح میں ان کے ہر شبہ کی پوری طرح جڑ کاٹنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے بعد خاتمۃ الکتاب ہے۔

میری اس کتاب میں اگرچہ حیات مسیح اور ختم نبوت کے دونوں موضوعات پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور ان کے دجل و فریب کا پردہ چاک کر کے ان کے تمام شبہات کے منہ توڑ اور دندان شکن جوابات دے کر انہیں ہباء منثورا کر دیا گیا ہے۔ لیکن اصل نکتہ اور گفتگو کا موضوع جو دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ثابت کیا ہے وہ مرزا قادیانی کا کردار و کریکٹر ہی ہے اور عوام الناس کو صرف اس موضوع پر ہی گفتگو کرنی چاہیے۔ اس کے کذاب، دجال اور مکار ہونے کے چند دلائل میں نے بھی ذکر کئے ہیں۔ لیکن علامہ صاحب نے اپنے مقدمہ میں اس پر اپنے مخصوص انداز میں خاصی روشنی ڈالی ہے۔ بعض پیشگوئیاں اور بعض حوالے قارئین کرام کو مقدمہ اور کتاب میں مکرر نظر آئیں گے۔ لیکن وہ تکرار ”قند مکرر“ کی طرح ہے جس میں ایک ہی حوالہ دوسری جگہ ایک دوسرے انداز میں ملے گا جس سے پڑھنے والے کا لطف و مزہ دوبالا ہو جائے گا۔ علامہ صاحب نے کتاب کا نام ”ردّ قادیانیت کے زریں اصول“ کی بجائے ”مطالعہ قادیانیت کے زریں اصول“ تحریر فرمایا ہے۔ اب یہ اسی کتاب کا اضافہ شدہ جدید ایڈیشن ہے۔ یعنی ”ردّ قادیانیت کے زریں اصول“ نقش اول کا یہ نقش ثانی ہے۔

چند ضروری ہدایات:

اگر آپ اس تحریک الحاد (قادیانیت) کا قلع قمع چاہتے ہیں تو اس کتاب کا بار بار مطالعہ کریں، اس کے اصول و قواعد اور حوالہ جات کو ازبر یاد کریں۔ تعیین موضوع اور ہر موضوع سے قبل تنقیح موضوع اور گفتگو کرنے سے قبل ضروری شرائط جن کی تاکید کی گئی ہے ان کے طے کئے بغیر قادیانیوں سے ہرگز گفتگو شروع نہ کریں ان ہتھیاروں کو پوری جرات اور اعتماد سے استعمال کریں اور پھر ان کی طاقت دیکھیں۔ مخالف خواہ کتنا ہی عیار کیوں نہ ہو وہ آپ کے سامنے دم نہیں مار سکے گا۔ راہ فرار اختیار کئے بغیر اسے چارہ کار نہیں ہوگا۔

صفحہ 58

اول تو قادیانی آپ کے پیش کردہ موضوع اور شرائط ہی کو قبول کرنے کی جرات نہیں کریں گے اور بھاگ جائیں گے۔ اور اگر اپنی سادگی سے قبول کر بھی بیٹھے تو عوام کے سامنے جو ان کی ذلت و رسوائی ہوگی وہ قابل دید ہوگی۔

یہ اصول و قواعد ایک عرصہ کے تجربات کا نچوڑ ہیں کیونکہ فاتح قادیان استاد محترم حضرت مولانا محمد حیات صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی ساری زندگی ان میں کھپا دی اور اپنی زندگی کے تجربات کا نچوڑ ہمیں دیا۔ اور پھر میں نے تقریباً پچاس سالہ زندگی کے تجربات اور نچوڑ آپ کے سامنے رکھ دیئے ہیں۔ پھر اس کے مقدمہ میں نصف صدی کی تحقیقات و تنقیحات بھی شامل ہیں جو علامہ صاحب موصوف کو مختلف مناظروں اور علمی معرکوں میں پیش آئیں ان میں آپ ایک ایک حوالے کی الٹ پلٹ دیکھیں گے۔ اب آپ اس میں جتنی محنت کریں گے اس کے اتنے ہی ثمرات آپ کو ملیں گے۔

الحمد للہ کہ اس علمی کشکول میں وہ تمام مباحث موجود ہیں جن سے کبھی کسی بھی مسلمان کو قادیانیت کے مقابلہ میں واسطہ پڑ سکتا ہے یہ اس عظیم اسلامی اور تاریخی دستاویز کا تعارف ہے جس کی خدمت اللہ رب العزت نے اس بیسویں صدی عیسوی کے اخیر میں اس ناچیز سے لی ہے۔

دوسری گزارش یہ ہے کہ اس سے کما حقہ فائدہ تب ہوگا جب آپ اسے مجھ فقیر سے یا میرے کسی تربیت یافتہ سے سبقاً سبقاً بھی پڑھ لیں۔ کیونکہ اس کی تفہیم کیلئے ہر موضوع اور اکثر حوالہ جات پر ایک ایک تقریر کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس میں اپنے تجربات اور واقعات بیان کئے جاتے ہیں اور اسے مزید روشن اور واضح کرنے کیلئے اپنے بعض مناظرے سنائے جاتے ہیں۔ جو اس کتاب میں درج نہیں اور ان کا سننے سے ہی تعلق ہے۔

تیسری گزارش یہ ہے کہ اب جبکہ پاکستان میں بعونہ تعالیٰ قادیانیوں سے کھلے مناظروں اور جلسوں کی صورت عمل نہیں رہی ہمارے جو دوست پاکستان میں اس فتنے کا کلی استیصال چاہتے ہیں وہ اپنے حلقے یا شہر کے قادیانیوں کو ایک ایک کر کے اپنے دائرہ اثر میں لائیں اور انہیں اسلام میں لانے کی پر خلوص جدوجہد شروع کریں یہ سرمایہ انگریزی سیاست نے اس امت سے چھینا گیا ہے انہیں پھر سے اسلام میں لانا یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے ہمارے جو کارکن اس راہ میں وقت لگائیں گے ان کے لئے یہ کتاب ایک کمپیوٹر کا کام دے گی آپ جس

صفحہ 59

بٹن پر انگلی رکھیں گے وہیں سے سچائی ایک فوارہ بن کر آپ کے سامنے ابھرے گی اور وہ دن دور نہیں کہ انکار ختم نبوت کی یہ تحریک بھی انہی تحریکوں میں جابیٹھے گی جو تاریخ کے مختلف ادوار میں اٹھیں اور آج ان کا کہیں کوئی پیرو نہیں ملتا۔

آسمان ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی

چوتھی گزارش یہ ہے کہ اس میدان میں کام کرنے والے کیلئے ضروری ہے کہ وہ اسی پر ہی اکتفا نہ کرے بلکہ ردمرزائیت پر جن کتب کی فہرست آخر میں دی گئی ہے ان کو حاصل کر کے ان کا مطالعہ بھی ساتھ ساتھ جاری رکھے۔ کیونکہ اس کتاب میں تو ان کے مشہور سوالات اور شبہات پیش کر کے ان کا ازالہ کیا گیا ہے۔ ابھی اس کے متعلق اور بہت سی چیزیں ہیں جو اس کتاب میں نہیں آسکیں۔

آخر میں ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں جنہوں نے کسی بھی طور پر اس کتاب کی تالیف تصنیف تسوید و تبیض نشر واشاعت میں حصہ لیا۔ خصوصاً دارالعلوم دیوبند کے استاد حدیث حضرت مفتی سعید احمد پالنپوری ناظم اعلیٰ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت سے اس پر کئی صفحات کا پیش لفظ لکھنے کی گزارش کی اور میں ان کا تہہ دل سے ممنون ہوں کہ انہوں نے اس پر کئی صفحات کا پیش لفظ لکھ دیا۔ کتاب کو اور زیادہ معتبر بنانے کے لئے میں مشکور ہوں حضرت قاری محمد عثمان صاحب جنہوں نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے اسے مرتب کر کے کتابی شکل میں اس کا پہلا ایڈیشن پیش کیا۔ پھر حضرت فضیلۃ الشیخ مولانا عبدالحفیظ مکی اور علامہ خالد محمود صاحب کا جنہوں نے اس میں مزید ضروری اضافے کر کے اسے مستقل کتاب بنانے کی طرف توجہ دلائی۔ خصوصاً ڈاکٹر خالد محمود صاحب جنہوں نے اس کا بغور مطالعہ کر کے اس میں حذف واضافہ کیا اور مفید مشوروں سے نوازا اور پھر اس پر ایک وسیع مقدمہ لکھ کر اس کی افادیت میں اضافہ فرمایا۔ اور اسی طرح جامعہ کے مخلص استاد مولانا مشتاق احمد کا جنہوں نے خصوصی دلچسپی لیکر میرے نشان کردہ حوالہ جات نقل کئے اور سب سے آخر میں عزیزم ملک طارق جاوید معلم درجہ تخصص جس نے تسوید و تبیض کے تمام مراحل طے کئے پھر کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کی ذمہ داری بھی نبھائی۔ پھر برخورداری عزیزم مولوی محمد الیاس نے آخری مرتبہ پروف ریڈنگ کی اور مولوی ثناء اللہ کا جنہوں نے

صفحہ 60

اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اس کی طباعت کے تمام مراحل باحسن طریق طے کئے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام کی خدمات کو قبول فرما کر دارین میں اس کا بہترین صلہ نصیب فرماویں اور فقیر کی اس ادنیٰ سی حقیر کوشش کو مقبول و منظور فرما کر اسے مسلمانوں کی استقامت اور قادیانیوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائیں اور اس ناچیز گنہگار اور تمام معاونین کی نجات اور شفیع المذنبین حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا وسیلہ بنائیں۔

صلی اللہ تعالیٰ علی سیدنا محمد خاتم النبیین والمرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔ آمین

منظور احمد چنیوٹی عفا اللہ عنہ

صفحہ 61

پیش کتاب

عارف باللہ پیر طریقت فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی صاحب، مکہ مکرمہ (امیر مرکزیہ انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ)

الحمدلله وحده والصلاة والسلام على من لا نبي بعده وعلى آله وصحبه اجمعين۔

أما بعد : کہ استاذ العلماء قامع قادیانیت مناظر اسلام سفیر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی مدظلہ العالی کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے فتنہ قادیانیت کے استیصال کے لئے قبول فرمایا ہوا ہے۔

خود حضرت چنیوٹی مدظلہ العالی ۱۹۵۱ء سے جو کہ ان کی درس نظامی سے باقاعدہ فراغت کا سال ہے اس فتنہ خبیثہ کی سرکوبی میں ایسے لگے ہوئے ہیں کہ دن رات سردی، گرمی، خوشی غم اور ملک و بیرون ملک ہر جگہ اور ہر حال میں اسی مشن کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا ہے۔ وہ کسی پلیٹ فارم پہ ہوں کیسے ہی مجمع میں ہوں سیاسی جلسے ہوں یا دینی اجتماعات، دینی مدارس کی درسگاہیں ہوں یا اسمبلیوں کے ہال، ہر جگہ ان کی ایک ہی پریشانی ہے کہ قادیانی فتنہ ختم ہونا چاہئے۔

دنیا کا کوئی ہی ملک ایسا ہو گا جہاں یہ فتنہ خبیثہ (قادیانیت) ہو اور حضرت چنیوٹی وہاں نہ پہنچے ہوں۔ افریقہ کے اکثر ممالک یورپ کے ممالک امریکہ، جزائر فجی، اسٹریلیا، ہانگ

صفحہ 62

کانگ، بنگلہ دیش، انڈیا، دنیا کے چاروں طرف ہر کونے میں قمع قادیانیت کے لئے تشریف لے جا چکے ہیں۔ اس لئے خواص و عوام نے انہیں ”سفیر ختم نبوت“ کے لقب سے نوازا ہوا ہے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں پوری سرگرمی سے جوانی میں اس تحریک میں شریک رہے۔ جس کی وجہ سے چھ ماہ لاہور بوسٹل جیل میں حضرت قاری رحیم بخش صاحب کی معیت میں رہنا ہوا۔ اور اسی دوران حضرت قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شاگردی میں ۱۰ سپارے بھی حفظ کئے۔ پھر ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں اس کے قائد محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خصوصی تلمیذ رشید حضرت چنیوٹی مدظلہ العالی کو اہتمام سے سعودی عرب بھجوایا تا کہ وہاں کے علماء کو اس مسئلہ کی سنجیدگی اور اہمیت بتائیں اور دلائل سے ان کے اشکالات کو حل کریں۔

سعودی عرب کے اسی قیام کے دوران رابطہ عالم اسلامی کی معرکۃ الآراء انٹرنیشنل کانفرنس میں باقاعدہ شریک ہوئے۔ اور جو کمیٹی ”نحل ضالہ اور فرق باطلہ“ کے بارے میں بنی اس کے ممبر بنائے گئے اس کمیٹی میں جو حضرات تھے ان میں سے اکثریت قادیانیت کے بارے کچھ زیادہ معلومات نہیں رکھتی تھی حضرت چنیوٹی مدظلہ العالی نے اس کمیٹی کے سامنے قادیانیت کی گمراہی اور کفریہ عقائد تفصیل سے بیان کئے جس پر پوری کمیٹی نے متفقہ طور پر قادیانیت کے کفر و ارتداد پر مہر تصدیق لگائی۔ اس کمیٹی کے سر براہ دکتور مجاہد محمد الصواف نے ایک مرتبہ اس راقم سیاہ کار کو ایک ملاقات میں جس میں کئی علماء عرب موجود تھے اس کمیٹی کی کارروائی کی تفصیل سنائی اس میں یہ بھی بتایا کہ اس کمیٹی میں پاکستان کے ایک اور ممبر بھی تھے شروع میں انہوں نے ساری کمیٹی کو متوجہ کر کے تاکید کی کہ قادیانی گروہ بڑا سازشی اور مکار ہے ان کے بارے میں سخت فیصلہ نہ کیا جائے ورنہ ان کی سازشوں سے ہم میں سے کوئی محفوظ نہیں رہے گا اور خوب قادیانیوں کی دہشت گردی اور خبث و مکر کے کوائف بیان کئے۔ مگر اسی کمیٹی میں شیخ منظور احمد چنیوٹی نے اللہ تعالیٰ ان کو جزاء خیر دے۔ قادیانیوں کے کفریہ عقائد کھول کھول کر بیان فرمائے اور اس وقت جو تحریک ختم نبوت پاکستان میں چل رہی تھی اس کی اہمیت تفصیل سے بتائی اور یہ کہ ہمارے اس فیصلے سے اس عظیم تاریخی تحریک کو کتنا فائدہ پہنچے گا اور حق واضح ہوگا ہمیں اس وقت اللہ کی رضا و خوشنودی کو بھی سامنے رکھنا چاہئے جب ہم حق کے مطابق فیصلہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہی ہماری ہر نوع کی حفاظت فرمائے گا۔ ڈاکٹر مجاہد محمد الصواف نے تقریباً

صفحہ 63

آدھ گھنٹہ تک اس کمیٹی کے قادیانیت سے متعلق مباحثہ کے واقعات سنائے اور اس دوران بار بار حضرت چنیوٹی کو دعائیں دیتے رہے کہ ان کی وجہ سے ہم حق کے مطابق فیصلہ کر پائے اور رابطہ عالم اسلامی نے جو قرارداد اس وقت قادیانیت کے کفر سے متعلق پاس کی اس کا اثر براہ راست تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء پر پڑا جس سے ساری دنیا واقف ہے۔

پھر ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے بھر پور کردار ادا کیا حتیٰ کہ اس کی نتیجہ میں ”امتناع قادیانیت آرڈیننس“ مرحوم صدر محمد ضیاء الحق شہید رحمۃ اللہ علیہ نے جاری کیا اور پھر مرزا طاہر ”قادیانیوں کا سربراہ“ دم دبا کر رات کی اندھیریوں میں خفیہ طریقہ پر پاکستان سے لندن فرار ہو گیا۔ اور جب سے آج تک اپنے مرکز چناب نگر (ربوہ) میں ایک منٹ کے لئے بھی واپس نہیں آیا۔

حضرت چنیوٹی مدظلہ نے ۶ جنوری ۱۹۵۶ء میں مرزا بشیر الدین محمود جو کہ متنبیٰ کذاب مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا اور نام نہاد دوسرا خلیفہ تھا کو دعوت مباہلہ دی تا کہ عوام کو جو یہ قادیانی مختلف ہتھکنڈوں سے متاثر کرتے ہیں اس کا تدارک ہو سکے۔

مسلسل سات (۷) سال تک اس سلسلہ میں خط و کتابت کے ذریعہ مباہلہ کے شرائط وغیرہ طے ہوتے رہے مگر آخر ۲۶ فروری ۱۹۶۳ء کو حضرت چنیوٹی تمامتر سرکاری پابندیاں توڑتے ہوئے مقام مباہلہ موعود پر پہنچ گئے اور وہاں شام تک مرزا بشیر الدین محمود کا انتظار کرتے رہے مگر نہ وہ خود آیا نہ اس کا کوئی نمائندہ آیا اور اس طرح یہ دن ۲۶ فروری ۱۹۶۳ء مسلمانوں کے لئے دو عیدیں لیکر آیا ایک عید فتح مباہلہ اور ایک یہ کہ قدرتی طور پر یہ دن عیدالفطر یکم شوال کا دن تھا۔

اس کے بعد مرزا بشیر الدین محمود جب تک زندہ رہا حضرت چنیوٹی اس کو ہر سال اہتمام سے دعوت مباہلہ دیتے رہے مگر وہ کبھی سامنے نہ آیا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے اور قادیانیوں کے نام نہاد تیسرے خلیفہ کو بھی ہر سال دعوت مباہلہ اہتمام سے دیتے رہے مگر وہ بھی اپنے باپ کی طرح ذلت و رسوائی کا منہ لیکر اس سے راہ فرار اختیار کرتا رہا۔ پھر اس کے مرنے کے بعد اس کے جانشین و بھائی مرزا طاہر احمد قادیانیوں کے نام نہاد چوتھے خلیفہ کو بھی ہر سال حضرت چنیوٹی اہتمام سے دعوت مباہلہ دیتے رہے۔ اور پھر جب ۱۹۸۴ء میں مرزا طاہر پاکستان چھوڑ کر لندن بھاگا تو ۱۹۸۵ء میں انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس، ویمبلے کانفرنس سینٹر لندن

صفحہ 64

میں دس ہزار مسلمانوں کی موجودگی میں حضرت چنیوٹی مدظلہ العالی نے ببانگ دہل مرزا طاہر کو دعوت مباہلہ کی تجدید کی۔

پھر اس کے بعد ۵۔ اگست ۱۹۹۵ء میں ہائیڈ پارک لندن میں عالم اسلام کے اکابر علماء کی معیت میں حضرت چنیوٹی نے مرزا طاہر کو دعوت مباہلہ دی۔ اور اس خبر کو روزنامہ جنگ لندن نے پہلے صفحہ پر شہ سرخی میں چھاپا اور حضرت چنیوٹی و دیگر علماء اسلام کی فوٹو بھی چھاپی۔ پھر جب جنگ لندن نے اگلے سال دعوت مباہلہ کی خبر چھاپنے سے قادیانی سازش و مکر کے تحت انکار کر دیا تو حضرت چنیوٹی نے باقاعدہ قیمتاً ایک اشتہار جنگ لندن میں چھپوایا جس کی عبارت یہ تھی:

مولانا منظور احمد چنیوٹی کی طرف سے

- قادیانی سربراہ مرزا طاہر احمد کو مباہلہ کا دوبارہ چیلنج

”پچھلے سال انہوں نے سالانہ کانفرنس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مجھ پر جھوٹا الزام لگایا تھا کہ ”منظور چنیوٹی مباہلہ سے فرار کرتا رہا“ میں نے اُن کے اس گمراہ کن اور انٹرنیشنل جھوٹ کی قلعی کھولنے کے لئے انہیں ۵۔ اگست ۱۹۹۵ء کو ہائیڈ پارک لندن میں آ کر مباہلہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ راقم حسب اعلان اپنے ہمراہیوں کے ساتھ وہاں پہنچ گیا اور انتظار کرتا رہا لیکن وہ وہاں آنے کی جرات نہ کر سکے یوں اُن کا جھوٹ پوری دنیا پر آشکارہ ہو گیا۔

اب میں پھر انہیں دوبارہ دعوت دیتا ہوں کہ اگر اپنے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت ثابت کرنے کے لئے خود چل کر کسی جگہ پر نہیں آ سکتے تو میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چل کر آپ کے مرکز میں آ کر مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں آپ وقت اور تاریخ کا تعین کر کے مجھے پاکستان چنیوٹ کے پتہ پر اطلاع دیں میں آپ کے جواب کا انتظار کروں گا تا کہ دنیا پر ایک بار پھر واضح ہو جائے کہ مباہلہ سے کون فرار کرتا ہے۔“

صفحہ 65

مگر ان میں سے کسی بھی دعوت مباہلہ پر نہ مرزا طاہر کو آنا تھا نہ آیا۔ اور سنا گیا ہے کہ مرزا طاہر کو ان کے اپنے اجتماعات میں بعض قادیانی نوجوانوں نے پوچھا کہ حضرت وہ مولانا چنیوٹی کی دعوت مباہلہ کا آپ جواب کیوں نہیں دیتے جس کے جواب میں وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔

حضرت چنیوٹی تین بار پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہو چکے ہیں اسمبلی میں بھی ان کا بنیادی مشن یہی رہا اسمبلی کے ممبروں کی ذہن سازی اور ہر موقع پر اسلام و پاکستان کے خلاف قادیانیوں کی سازشوں کا پردہ چاک کرتے رہے۔ اس ذیل میں انکا آخری کارنامہ: قادیانیوں کے عالمی مرکز چناب نگر کا سابقہ دجل پر مبنی نام (ربوہ) بدلنا ہے جس کے لئے حضرت چنیوٹی سمیت علماء پچاس سال سے کوشش کر رہے تھے اور اس کی تکمیل اللہ تعالیٰ نے اپنے اس خوش نصیب بندے کے مقدر میں رکھی تھی حضرت چنیوٹی نے پنجاب اسمبلی میں قرارداد پیش کی اور الحمد للہ سو فیصد اتفاق کے ساتھ تمام ممبران پنجاب اسمبلی نے اس قرارداد کو پاس کیا کہ (ربوہ) کا نام چونکہ دجل پر مبنی ہے اور اس سے تحریف قرآن کریم کا ارتکاب ہوتا ہے اس لئے اس کا نام بدلا جائے۔ پھر الحمد للہ ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے تمام دینی و سیاسی جماعتوں کی تائید سے اس کا نیا نام ”چناب نگر“ پاس کر لیا اور وہی رکھ لیا گیا۔ فللہ الحمد والمنۃ.

حضرت چنیوٹی کے ختم نبوت کے میدان میں اور قمع قادیانیت کے سلسلہ میں لاتعداد عظیم کارناموں میں ایک اہم کارنامہ یہ بھی ہے کہ مختلف جگہوں پر انہوں نے بے شمار علماء و فضلاء کو رد قادیانیت پر مناظرہ کرنے کی ٹریننگ دی۔ خود اپنے ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد میں ہر سال پندرہ روزہ تربیتی کورس ۴۵ (پینتالیس سال) سے ماشاء اللہ جاری وساری ہے۔

جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی میں کئی سال تک مسلسل وہاں کے فضلا کو ٹریننگ کراتے رہے۔ اسی طرح انٹر نیشنل ختم نبوت اکیڈمی فیصل آباد اور مرکزی دفتر تنظیم اہل سنت ملتان میں پچھلے کئی سال تک رد قادیانیت پر تربیتی کورس کراتے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ملک کے متعدد مراکز و مدارس میں بھی مختلف اوقات میں اسی طرح کے تربیتی کورس کراتے رہے۔ بنگلہ دیش میں بھی دو دفعہ ہزاروں علماء و فضلاء کو تربیتی کورس کروا چکے ہیں۔

۱۹۸۵ء میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں بھی جامعہ کے ذمہ داروں کی دعوت پر

صفحہ 66

خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد کی منظوری سے وہاں کے فضلاء کو باقاعدہ رد قادیانیت پر تربیتی کورس کروایا اسی طرح مختلف اوقات میں مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے زیر نگرانی قائم شدہ معہد اعداد الائمۃ والدعاۃ میں وہاں کے فضلاء کو رد قادیانیت پر لیکچرز دیئے۔

۱۹۹۰ء میں مرکز علم و عرفان اور رشد و ہدایت دارالعلوم دیوبند کے ذمہ داران کی خصوصی دعوت پر وہاں تشریف لے گئے جہاں پورے ہندوستان سے دو ہزار علماء آئے ہوئے تھے جنہوں نے باقاعدہ رد قادیانیت پر تربیتی کورس کیا دارالعلوم دیوبند میں جو یہ تربیتی کیمپ لگا تو اس میں حضرت چنیوٹی کی ”نوٹس کاپی“ جس کے ذریعہ سے حضرت ان تربیتی کورسوں میں محاضرات و دروس دیتے تھے ان حضرات نے نقل کی بلکہ بعد میں اسے کتابی شکل میں چھپوا دیا جس کی کچھ تفصیل حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوریؒ نے اپنے پیش لفظ میں بیان فرمائی ہے۔

اس پر حضرت چنیوٹی پر مختلف حضرات کی طرف سے اصرار ہوا کہ اس اہم دستاویز پر نظر ثانی فرما کر کتاب کی شکل میں باقاعدہ اس کی اشاعت کی جائے اور کتاب کی صورت میں چھپوانے کے ذیل جو جو ترمیم یا حذف و اضافہ کرنا ہو وہ فرما دیں تاکہ چھپوا کر عمومی فائدہ کے لئے اہتمام سے اسے شائع کر دیا جائے۔

حضرت چنیوٹی مدظلہ العالی نے بہت اہتمام سے اپنے مشاغل عالیہ کثیرہ سے وقت فارغ کر کے اس کی نظر ثانی فرمائی۔ اور کتابی شکل میں مطلوبہ ترامیم و حذف و اضافہ فرمایا۔ اس کے علاوہ مفکر اسلام، محقق دوراں حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب مدظلہ العالی نے بھی ایک وقیع مقدمہ اس عظیم علمی تحقیقی دستاویز کے لئے تحریر فرمایا۔ حضرت علامہ خالد محمود زندگی کے مختلف مراحل میں اس عظیم مشن ختم نبوت و قمع قادیانیت میں حضرت چنیوٹی کے رفیق سفر و حضر رہے ہیں۔ یہاں بھی یہ وقیع مقدمہ لکھ کر رفاقت و تعلق کا حق ادا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں حضرات شمسین منیرین کے انوار و برکات و فیوض سے امت کو تادیر متمتع فرمادے اور ان کو صحت و عافیت و قوت و ہمت سے نواز کر اپنے قرب خاص سے نوازے آمین اور یہ عظیم دستاویز حضرت چنیوٹی مدظلہ العالی کی ساری عمر کی محنت و کاوش تجربہ و تحقیق علمی کا نچوڑ و خلاصہ ہے امت مسلمہ اور بالخصوص محققین اور فرق باطلہ کے ساتھ مناظرہ کا شغف رکھنے والے علماء امت کے لئے نادر سرمایہ ہے۔

صفحہ 67

ضرورت ہے کہ اس عظیم علمی دستاویز کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کر کے زیادہ سے زیادہ اسے پھیلایا جائے۔ ان شاء اللہ ہماری انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ جس کے حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی مرکزی جنرل سیکریٹری و قائد ہیں۔ اس سلسلہ میں پوری پوری کوشش کرے گی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت چنیوٹی کی کما حقہ قدردانی کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے اس علمی خزانے و دیگر خزائن سے بھر پور استفادہ کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ حضرت کو اللہ تعالیٰ ہماری اور تمام امت مسلمہ کی طرف سے جزاء خیر عطا فرمائے اور ان کو اپنے قرب خاص و محبوبیت کے اعلیٰ درجات سے نواز کر اس کتاب کو اپنے ہاں قبولیت سے سرفراز فرمادے آمین۔

وصلى الله تعالى على خير خلقه سيدنا ومولانا محمد خاتم النبيين وسيد المرسلين وعلى آله واصحابه وازواجه واتباعه اجمعين وبارك وسلم تسليما والحمد لله اولا واخرا۔

کتبہ الفقیر الی ربہ الکریم

عبد الحفیظ المکی

صفحہ 68

مقدمہ

از

حضرت مولانا علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب (مانچسٹر)

الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی! اما بعد!

اسلام اللہ تعالیٰ کا اتارا ہوا دین ہے۔ اور وہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ قرآن کریم اس کی مرکزی علمی دستاویز ہے۔ اور اس کے بارے میں انا لہ لحافظون ایک صریح وعدہ ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ کی خدمت حفاظ کرام اور قراء حضرات نے کی‘ حدیث کی حفاظت محدثین اور ائمہ رجال نے کی‘ کتاب وسنت کے مفاہیم اور معانی کی حفاظت مفسرین کرام اور شارحین حدیث و فقہ نے کی‘ اور دین میں الحاد کی راہ نکالنے والوں اور تحریف دین کی چال چلنے والوں کا تعاقب مناظرین اسلام نے کیا اور انہوں نے اسلام کی شاہراہوں پر پوری استعداد سے حفاظت کے پہرے دیئے۔

قرآن کریم نے خبر دی تھی کہ اس امت میں ایسے لوگ بھی اٹھیں گے جو دین میں الحاد کی راہ چلیں گے اور یہ بھی بتایا تھا کہ وہ ہم پر مخفی نہ رہیں گے۔ ان الذین یلحدون فی ایاتنا لایخفون علینا۔

(۲۴ پ حم سجدہ ۴۰)

(ترجمہ) ”بے شک جو لوگ ہماری آیات میں ٹیڑھی راہ چلیں گے وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں۔“

صفحہ 69

جو لوگ کھلے طور پر اسلام کے خلاف ہیں وہ کفر عناد میں ہیں اور جو ظاہراً اسلام کا نام لیتے ہیں اور اسلام کی شرح و تفصیل میں اسلام کی جڑیں کاٹتے ہیں وہ کفر الحاد کے مجرم ہیں۔ کفر دونوں کفر ہیں گو کسی قسم کے ہوں۔ کفر الحاد کے مجرمین کا ٹھکانہ بھی جہنم ہی ہے۔ ان کا ظاہری اقرار اسلام انہیں کچھ فائدہ نہ دے سکے گا۔ قادیانی لاکھ مرتبہ کلمہ اسلام پڑھیں اور ظاھراً نمازیں بھی ادا کریں وہ کفر الحاد کے مجرم ہیں اور مناظرین اسلام کی محنتوں سے اب ان کا کفر کسی پر چھپا نہیں رہا۔ اور یہ بات بھی کسی پر مخفی نہیں کہ جہنم میں گرایا جانے والا بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن میں ہو۔

اب جو بھی راہ چاہو اختیار کرو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے پوری طرح باخبر ہیں۔

افمن یلقٰی فی النار خیر ام من یاتی امنا یوم القیمة اعملوا ما شئتم انه بما تعملون بصیر۔

(ترجمہ) بھلا جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن وامان سے آئے جو چاہو سو کر لو جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ (از حضرت تھانویؒ)

یہ آیت بتا رہی ہے کہ کفر الحاد کے مجرمین بھی کافروں میں سے ہیں۔ ان کا بھی ٹھکانہ جہنم ہے۔ انہیں قیامت کے دن امن نصیب نہ ہوگا۔ حدیث میں ان ملحدین کے خلاف اٹھنے والوں کو خواہ یہ روافض میں سے ہوں یا خوارج میں سے بشارت دی گئی ہے کہ انہیں اپنے اعمال پر وہ تقریروں کی صورت میں ہوں‘ یا مناظروں کی صورت میں‘ تحریکوں کی صورت میں ہوں‘ یا نعروں کی صورت میں (ان میں ہاتھ چلتے ہیں) ایسے سب اعمال پر اجر وثواب اس شرح سے ملے گا جو دورِ اول کے مسلمانوں کو ان کی طاعات پر ملتا تھا۔

سبحان اللہ! عجیب شانِ کرم ہے کہ عمل اس پندرھویں صدی کا اور اجر اس پہلے دور کا۔ وہ کون لوگ ہوں گے جو اس عنایت سے سرفراز کیئے جائیں گے اس کا جواب اس حدیث میں ہے جسے حضرت امام بیہقی عبدالرحمٰن بن علاء الحضرمی سے روایت کرتے ہیں۔

حدثنی من سمع النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول انه سیکون فی اخر هذه الامة قوم لهم مثل اجر اولهم یامرون بالمعروف وینهون عن المنکر ویقاتلون اهل الفتن۔ (دلائل النبوۃ جلد ۶ ص ۵۱۳)

(ترجمہ) یہ حدیث مجھے اس شخص نے سنائی جس نے نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے

صفحہ 70

ہوئے سنا کہ اس امت کے آخری دور میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں ان کے اعمال کا ثواب پہلے دور کے لوگوں کی شرح کے مطابق ملے گا۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کرتے ہوں گے اور اہل فتن سے معرکے بھی لگاتے ہوں گے۔ اس حدیث میں اہل فتن سے مراد خوارج، روافض، معتزلہ اور دیگر سب اہل بدعت ہیں اور ان سے مقابلہ اور معرکہ جنگ کی صورت میں نہیں، تقریروں اور مناظروں کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے۔ مجدد مائتہ دہم ملا علی قاری لکھتے ہیں:

(یقاتلون) ای بایدیھم او بالسنتھم (اھل الفتن) ای من البغاۃ والخوارج والروافض وسائر اھل البدعۃ ۔

(مرقات جلد ۱۱ ص ۴۶۹)

(ترجمہ) وہ لڑیں گے فتنہ پیدا کرنے والوں سے۔ وہ باغی ہوں یا خارجی یا رافضی اور دیگر سب اہل بدعت۔ اہل حق ان سے اپنے ہاتھوں سے بھی مقابلہ کریں گے اور اپنی زبانوں سے بھی (تقریروں اور مناظروں سے) ان کا پورا تعاقب کریں گے اللہ کی راہ میں صحیح بات کہنے سے جہاد تک کی بھی نوبت پہنچے تو مجاہد اس سے گریز پائی نہیں کرتا۔ یہ وہ جہاد ہے جسے کلمہ حق عند سلطان جائر کہتے ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

المجاہد من جاہد نفسہ او قال فی اللہ عزوجل۔

(رواہ احمد حدیث ۲۲۸۲۶)

(ترجمہ) مجاہد وہ ہے جس نے اپنے نفس سے جہاد کیا (اپنے کو نفس کی رغبتوں سے روکا) یا اللہ کے دین کے بارے میں کوئی حق کی بات کہی۔

اللہ کے دین میں حق کی بات کہنا یہی تو وہ مشکل ہے جس سے اہل بدعت اپنے عوام سے خائف ہوتے ہیں کیونکہ ان کی کچھ عوام سے فیسیں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ جنہیں وہ نہ قربان کرسکتے ہیں اور نہ حق کی بات کہہ سکتے ہیں۔

اسلام میں جہاد صرف جہاد بالسیف ہی نہیں۔ اپنے نفس سے جہاد کرنا اور نفس کو مجاہدہ پر لانا یہ بھی کوئی معمولی بات نہیں۔ جس طرح یہ ایک جہاد ہے اسی طرح اللہ کی راہ میں حق بات کہنا بھی ایک جہاد ہے اور یہ وہ عمل ہے جس پر اجر پہلے دور کے اعمال کے اُجر کی شرح سے ملے گا۔

انگریزی دور میں برصغیر کا سب سے بڑا فتنہ

انگریزی دور میں برصغیر پاک و ہند کا سب سے بڑا نظری فتنہ قادیانیت رہا ہے ہم

صفحہ 71

یہاں وہ وجوہ ذکر کرتے ہیں جن کے باعث یہ فتنہ وقت کا سب سے بڑا فتنہ بنا۔ ظاہر ہے کہ فتنہ جتنا بڑا ہو گا اس کی سرکوبی میں اتنی مشکل ہو گی اور اس راہ کی مشکلات اس راہ کے غازیوں کو چاروں طرف سے گھیرے میں لیں گی تاہم یہ حقیقت ہے کہ اگر اللہ رب العزت کا وعدہ حفاظت قرآن (انا لہ لحافظون) اس امت کے شامل حال نہ ہوتا تو اس فتنہ کی پسپائی بہت مشکل تھی۔

وہ وجوہ جن کے باعث یہ وقت کا سب سے بڑا فتنہ بنا

آنکھیں بچھا رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ حکومت کی طرف سے جو مراعات اس خاندان کو مل سکتی تھیں وہ اس حکومت کی اس رعایا کو نہ مل سکتی تھیں جو اس بدیشی حکومت کو ہندوستان سے نکالنا بھی اپنے قومی فرائض میں سے سمجھتے تھے۔ امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اس صورت حال سے دو چار تھے۔ تحریک آزادی ہند میں وہ انگریز حکومت سے لڑ رہے تھے اور تحفظ اسلام کے لئے وہ اسلام میں داخل کئے جانے والے بیرونی افکار سے فکری جنگ رکھتے تھے۔

سے چل چکی تھی اور مسلمانوں کا ایک مستقل فرقہ سامنے آ چکا تھا جو اس بات کا مدعی تھا کہ قرآن و حدیث سمجھنے میں ہمیں پہلے علماء محققین کی پیروی کی ضرورت نہیں۔ ہم قرآن وحدیث کو نئے سرے سے سوچنے کی خود استعداد رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس زمین میں جب مرزا غلام احمد قرآن وحدیث کو نئی تشریحات مہیا کرے گا تو یہ زمین بہت جلد نئے برگ وبار سے لہلہائے گی اور دین میں تحریک آزادی رائے قادیانیت کو تازہ خون مہیا کرے گی اور یہ پودا دنوں میں ایک مضبوط درخت بن جائے گا یہ وہ زمین تھی جس میں قادیانیت کا بیج بویا گیا۔ مرزا غلام احمد کتاب وسنت کو نئے معنی مہیا کرنے میں شمشیر بکف تھا۔ ائمہ اربعہ کی تقلید میں رہ کر اسے یہ من مانی کارروائی کرنی بہت مشکل تھی۔

وہ خود لکھتا ہے:

”پس سوچو اور سمجھو کہ جس شخص کے ذمہ اسلام کے ۷۳ فرقوں
کے نزاعوں کا فیصلہ کرنا ہے کیا وہ محض مقلد کے طور پر دنیا میں آ سکتا
صفحہ 72

ہے ۔“

(تحفہ گولڑویہ قدیم ص ۴۲ روحانی خزائن ج ۱۷ ص ۱۵۷)

مرزا غلام احمد نے جو اپنے آپ کو غیر مقلدین میں رکھا یہ محض اس لئے کہ اسے براہ راست قرآن وحدیث سے استدلال کرنے کا موقع ملتا رہے ۔

(۳) حضور کی شخصیت کریمہ کو برابر کی سطح پر لے آنا

مسلمان حضور کی محبت اور عقیدت میں بہت حساس واقع ہوئے ہیں ۔ آنحضرت کی عزت پر قربان ہونا مسلمانوں میں ایک بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے دلوں سے اس جذبہ محبت کو نکالنے کیلئے مرزا غلام احمد نے مسلمانوں کو ایک دوسرا متبادل نظریہ دیا کہ حضور اپنے اس دوسرے بروز میں اپنی پہلی حیثیت سے بہت بڑھ کر ہیں اور آپ کی وہ بروزی صورت میں ہوں اس میں صاف طور پر حضور کی شخصیت کریمہ کو گرانے کا نغمہ زیر لب تھا جو اس شخص نے بڑی آب و تاب سے گایا اور بہت کم لوگ یہ سمجھ پائے کہ یہ شخص ایک گہری سوچ سے مسلمانوں کے دلوں سے حضور کی عظمت (بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر ) نکالنے کے درپے ہے ۔ اسلام کی آبرو اب تک کبھی اس پیرایہ میں نہ لوٹی گئی تھی ۔ جس سے اب مسلمان دو چار تھے بہر حال مرزا غلام احمد نے برملا کہا۔

روضہ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۱۴ روحانی خزائن جلد ۲۱ ص ۱۴۴)

مرزا غلام احمد کی زندگی میں اس کے ایک ثنا خوان نے کہا اور قادیان کے اخبار البدر ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء کے ص ۱۴ پر یہ نظم چھپی ۔

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں ؎۱

۱؎ یہ نظم ظہور الدین اکمل آف گولیکی گجرات کی ہے جو اس نے فریم شدہ مرزا قادیانی کو پیش کی اور شاباش حاصل کی ۔ لیکن اب جو اکمل صاحب کا دیوان شائع ہوا ہے اس میں پوری نظم تو ص ۵-۶ پر موجود ہے لیکن یہ دو شعر اس میں سے نکال دیئے گئے ہیں جو صریح خیانت ہے ۔ (از چنیوٹی )

صفحہ 73

حضورؐ کی شخصیت کریمہ کے برابر کسی دوسری شخصیت کو لانا یہ کھیل اب تک کسی فرقہ سے نہ کھیلا گیا تھا۔ سو قادیانیت اسلام کی سابقہ صدیوں سے بڑھ کر ایک فتنہ تھا جس کی مثال اول و آخر نہیں ملتی۔ یہ وہ فتنہ ہے جس میں خود حضور ﷺ کی شخصیت کریمہ زیر بحث لائی گئی۔

(۴) قادیانی فتنہ مکہ و مدینہ کے تعاقب میں:

مسلمانوں میں آپس میں جتنے اختلافات پہلے سے تھے ان میں کوئی فتنہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی مرکزیت کے خلاف نہ تھا قادیانی فتنہ نے براہ راست مکہ و مدینہ کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ مرزا غلام احمد کے سامنے قادیان کو مکہ مکرمہ کے برابر ٹھہرایا گیا اور اسے اس پر ذرا بھی غیرت نہ آئی۔ مرزا قادیانی نے کہا ؎

زمین قادیاں اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارضِ حرم ہے

(درثمین اردو‘ ص۵۲)

مرزا بشیر الدین محمود نے اور کھل کر بات کہہ دی۔ ”مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو چکا ہے۔“

(حقیقة الرؤیا‘ ص۴۶)

(۵) عہدوں اور ملازمتوں میں قادیانیوں کو ترجیح:

پڑھے لکھے نوجوانوں کو اعلیٰ ملازمتوں اور اعلیٰ داخلوں کے لئے کبھی اس طرح کی بھی داڑھی رکھنی پڑتی جو افسروں میں قادیانی ہونے کا نشان سمجھی جاتی تھی۔ ظاہر ہے کہ ان حالات میں ان لوگوں کے لئے جو انتہائی ضرورت مند اور محتاج ہوتے اپنے ایمان کو بچانا اور ایسے خطرناک مواقع سے بچ نکلنا خاصا مشکل ہوتا ہوگا۔

کئی اور وجوہ بھی ہوں گی جن کے پیش نظر انگریز حکومت برصغیر میں قادیانیت کو فروغ دینا چاہتی تھی اور یہ بات تو کسی سے مخفی نہ ہوگی کہ یہ پودا ان کے ہی ہاتھوں کا لگایا ہوا تھا۔

صفحہ 74

قادیانیت کا پودا انگریزوں نے کس طرح کاشت کیا

انگریزوں نے کس طرح قادیان میں یہ پودا کاشت کیا اس کیلئے ان چند امور کو جاننے کی اشد ضرورت ہے۔

تھے۔ انہیں یوں سمجھا جائے جیسے وائسرائے دہلی کے سامنے صوبوں کے گورنر ہوتے ہیں۔ کشمیر کی مسلم ریاست میں راجہ ہری سنگھ کی حکومت تب ہی تھی کہ راجہ بذات خود انگریزی عملداری کا وکیل تھا۔ انگریزوں کی پشت پناہی کے بغیر اتنی بڑی مسلم ریاست کس طرح راجہ کے زیر حکومت رہ سکتی تھی۔ انگریزوں نے جو کام لینا ہو وہ ان والیان ریاست کے ذریعہ باسانی لے سکتے ہوں گے۔

(ضلع سرگودہا) کے ایک حکیم تھے۔ ان کا نام نور الدین تھا۔ مرزا غلام احمد قادیان میں کچھ شرمناک کاموں میں ملوث ہوئے اور قادیان چھوڑ کر مجبوراً سیالکوٹ آ گئے اور ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی کچہری میں بطور عرضی نویس ملازم ہو گئے۔ یہیں حکیم نور الدین اور مرزا غلام احمد میں دوستی ہوئی اور پھر ایسا وقت آیا کہ مرزا غلام احمد جب قادیان آئے تو کچھ وقت کے بعد حکیم نور الدین بھی قادیان آ گئے۔ حکیم نور الدین قرآن و حدیث کے عالم تھے اہلحدیث مسلک رکھتے تھے اور مرزا غلام احمد سیالکوٹ میں عملیات میں لگ گئے معلوم ہوتا ہے مرزا صاحب کو عملیات پر حکیم صاحب نے ہی لگایا ہوگا۔

اس لائن میں جو مشقتیں کرنی پڑتی ہیں حکیم صاحب ان ریاضتوں کی محنت نہ کرنا چاہتے تھے انہوں نے مرزا صاحب کی سادگی سے فائدہ اٹھا کر انہیں اس طرف لگا دیا۔

مہاراج کے شاہی طبیب تھے اور مرزا غلام احمد اس وقت گمنامی کی حالت میں تھا۔ کیونکہ وہ قادیان سے سیالکوٹ محض اس لئے آ گیا تھا کہ اب اسے قادیان رہنے میں شرم محسوس ہوتی تھی۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص خود گمنامی میں وقت بسر کر رہا ہو ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں معمولی عرضی نویس ہو اس کی وائسرائے ہند تک کیسے رسائی ہوگی اس میں مرکزی کردار حکیم نور الدین ہی ہو سکتے ہیں۔ مرزا کی سیالکوٹ کی ملازمت ۱۸۶۴ء سے ۱۸۶۸ء تک ہے۔

صفحہ 75

سے وائسرائے تک یہ بات پہنچی کہ ایک سادہ شخص ایسا مل گیا ہے جو مسیح ہونے کا دعویٰ کرے اور جہاد کو منسوخ قرار دے۔ اپنے عملیات کے بل بوتے وہ کچھ شعبدے دکھائے اور اسے کچھ ایسے لوگ مل جائیں جو اسے اپنا حضرت اور پیر مان لیں۔ یہ وہ ترتیب تھی جس سے اس پودے کی برطانیہ کے حق میں کاشت ہوئی۔

دستاویزی ثبوت (Documentary Evidence) بھی چاہئیں:

کبھی طلب ہوئی ہو کہ اسے وہاں کچھ مال و زر ملے گا اور مرزا غلام احمد نے اسے ظاہرا خلاف وقار جانا ہو۔

جائے یا اس قسم کا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اصل آسمانی دعوے کبھی دنیوی دوستوں کے مشورے سے نہیں ہوتے سو اگر حکیم نورالدین کے مشوروں کا کہیں ثبوت مل جائے تو پھر اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ یہ ایک سیاسی کھیل تھا جو ہندوستان کی زمین میں مذہب کے نام پر کھیلا گیا۔

کی ہو۔

اب دیکھیں کہ یہ سب صورتیں کس طرح ایک ایک کر کے پوری کی گئیں۔

(۱) مہاراجہ کشمیر کی مرزا غلام احمد سے ملنے کی خواہش

مرزا غلام احمد کا بیٹا بشیر احمد حکیم نورالدین کے حوالے سے لکھتا ہے۔ حکیم صاحب نے مرزا صاحب کو لکھا:

”اگر حضور یہاں تشریف لا سکیں تو مہاراج حضور کی ملاقات کی خواہش رکھتے ہیں۔“

(سیرۃ المہدی جلد اول ص ۱۷۹)

صفحہ 76

وہ کس بات کے لئے ملنے کی خواہش رکھتے تھے شاید زیادہ دیر تک یہ بات چھپی نہ رہ سکے۔

مرزا صاحب ان دنوں کوئی ایسی مشہور شخصیت نہ تھے کہ اوپر کے درجے کے حکمران ان سے ملنے کی خواہش کریں یہ کوئی پروگرام تھا جو حکیم نورالدین کی وساطت سے طے ہو رہا تھا۔ قادیانی کہتے ہیں کہ یہ ملاقات کی خواہش کسی داد و دہش یا رقم دینے کیلئے نہ تھی بلکہ ایسی تھی جیسے بعض حکمران بزرگوں سے نیاز مندی سے ملتے ہیں۔ ہم جواباً کہتے ہیں کہ اگر یہ ملاقات کسی لین دین کیلئے نہ تھی۔ تو مرزا صاحب نے اس کے جواب میں یہ کیوں لکھوایا۔ بئس الفقیر علی باب الامیر اس جملے سے پتہ چلتا ہے کہ حکیم نور الدین نے کس جہت سے دربار میں غلام احمد کا تعارف کرایا ہوگا۔ وہ داد و دہش کی ایک راہ نہ تھی تو یہ تجویز اور کس لئے تھی۔

(۲) حکیم نورالدین کا غلام احمد کو دعویٰ مسیحیت میں مشورہ دینا

مرزا غلام احمد اپنے ایک خط میں اپنے مخدوم ۱؎ حکیم نور الدین کو لکھتا ہے: جو کچھ آنمخدوم نے تحریر فرمایا ہے کہ اگر دمشقی حدیث کے مصداق کو علیحدہ چھوڑ کر الگ مثیل مسیح کا دعویٰ ظاہر کیا جائے تو اس میں کیا حرج ہے؟ ”در حقیقت اس عاجز کو مثیل مسیح بننے کی حاجت نہیں۔“

(مکتوبات احمدیہ جلد ۵ ص ۸۴۔۸۵)

آسمانی دعوؤں میں یہ آپس کے مشورے کس صورت حال کا پتہ دیتے ہیں؟ اگر یہ پودا حکیم نور الدین کا کاشت کردہ نہیں تو بتلائیے کہ وہ یہ مشورے کیوں دے رہا ہے؟ پھر اس خط کے خط کشیدہ الفاظ مثیل مسیح کا دعویٰ ظاہر کیا جائے صاف بتلارہے ہیں کہ یہاں ظاہر کے پیچھے کوئی بہت گہرا باطن کارفرما ہے جس کی نگرانی مہاراجہ کشمیر کے ذمہ تھی اور وہ اپنے ہر پروگرام اور انصرام کا سلسلہ وائسرائے دہلی سے قائم کیئے ہوئے تھا۔ مرزا غلام احمد کے یہ الفاظ کہ مجھے مثیل مسیح بننے کی حاجت نہیں۔ بتلاتے ہیں کہ مرزا غلام احمد کے تمام دعاوی اس کی حاجات پر مبنی تھے یہ کوئی آسمانی عنایات نہ تھیں ورنہ یہاں حاجت کی نفی کرنے کے کیا معنی؟

۱؎ مخدوم اس لئے کہ انہی سے تو اوپر کی فتوحات کا سلسلہ کھلا ورنہ ظاہراً حکیم صاحب مرزا صاحب کے خلیفہ تھے۔

صفحہ 77

(۳) قادیانیوں کا وائسرائے ہند کے نام خط

۲۲ مارچ ۱۹۲۴ء کو قادیانیوں کا ایک وفد دہلی میں لارڈ ولنگڈن سے ملا۔ اس میں یہ ایڈریس وائسرائے ہند کی خدمت میں پیش کیا گیا۔

جناب عالی ! جماعت احمدیہ کا سیاسی مسلک ایک مقررہ شاہراہ ہے جس سے وہ کبھی ادھر اُدھر نہیں ہو سکتے اور وہ حکومت کی فرمانبرداری اور امن پسندی ہے۔

(الفضل ۱۳ اپریل ۱۹۲۴ء)

شاہ راہ کسے کہتے ہیں وہ راہ جو شاہ نے بتائی ہو حکومت نے جماعت کیلئے جو راہِ عمل طے کیا تھا جماعت اب تک اسی مقررہ رستے پر چلی آرہی ہے۔

(۴) مرزا غلام احمد کے ملکہ وکٹوریہ کے نام خط

سے چند اقتباسات

حضور میں بتقریب جلسہ جوبلی شصت سالہ بطور مبارکباد پیش کیا گیا ہے۔

مبارک ! مبارک !! مبارک !!!

اس خدا کا شکر ہے جس نے آج ہمیں یہ عظیم الشان خوشی کا دن دکھلایا۔ کہ ہم نے اپنی ملکہ معظمہ قیصرہ ہند و انگلستان کی شصت سالہ جوبلی کو دیکھا۔ جس قدر اس دن کے آنے سے مسرت ہوئی کون اس کو اندازہ کر سکتا ہے؟ ہماری محسنہ قیصرہ مبارکہ کو ہماری طرف سے خوشی اور شکر سے بھری ہوئی مبارکباد پہنچے خدا ملکہ معظمہ کو ہمیشہ خوشی سے رکھے۔"

(تحفہ قیصریہ ص ۱۔۲۔ رخ جلد ۱۲ ص ۲۵۳۔۲۵۴)

جھکتے ہیں۔ اور ہماری روحیں تیرے اقبال اور سلامتی کے لئے حضرت احدیت میں سجدہ کرتی ہیں۔ اے اقبال مند قیصرہ ہند ! اس جوبلی کی تقریب پر ہم اپنے دل اور جان سے تجھے مبارکباد دیتے ہیں۔"

(ایضاً ص ۱۴۔ رخ جلد ۱۲ ص ۲۶۶)

صفحہ 78

کے نیچے جگہ دی۔ جس کے زیر سایہ میں بڑی آزادی سے اپنا کام نصیحت اور وعظ کا ادا کر رہا ہوں۔ اگرچہ اس محسن گورنمنٹ کا ہر ایک پر رعایا میں سے شکر واجب ہے۔ مگر میں خیال کرتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ کیونکہ یہ میرے اعلیٰ مقاصد جو جناب قیصرہ ہند کی حکومت کے سایہ کے نیچے انجام پذیر ہو رہے ہیں۔ ہرگز ممکن نہ تھا کہ وہ کسی اور گورنمنٹ کے زیر سایہ انجام پذیر ہو سکتے۔ اگرچہ وہ کوئی اسلامی گورنمنٹ ہی ہوتی۔“

(ایضاً ص ۳۱۔۳۲ ر۔خ جلد ۱۲ص۲۸۳۔۲۸۴)

بڑے خیر خواہ جان نثار تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے ایام غدر ۱۸۵۷ء میں پچاس گھوڑے مع سواران بہم پہنچا کر سرکار انگریزی کو بطور مدد دیئے تھے۔ اور وہ بعد اس کے بھی ہمیشہ اس بات کے لئے مستعد رہے کہ اگر پھر بھی کسی وقت ان کی مدد کی ضرورت ہو تو بدل و جان اس گورنمنٹ کو مدد دیں۔ اور اگر ۱۸۵۷ء کے غدر کا کچھ اور بھی طول ہوتا تو وہ سو سوار تک اور بھی مدد دینے کو تیار تھے۔ غرض اس طرح ان کی زندگی گزری۔ اور پھر ان کے انتقال کے بعد یہ عاجز دنیا کے شغلوں سے بکلی علیحدہ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف مشغول ہوا۔ اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہیئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے۔ اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو فارسی عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کر دیں۔ اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی گئی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی۔ کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا۔“ (ستارہ قیصریہ ص۳، ۴ ر۔خ جلد ۱۵ ص۱۱۳، ۱۱۴)

صفحہ 79

ہیں ۔ اور تیری نیک نیتی کی کشش ہے۔ جس سے آسمان رحمت کے ساتھ زمین کی طرف جھکتا جاتا ہے۔ اس لئے تیرے عہد سلطنت کے سوا اور کوئی بھی عہد سلطنت ایسا نہیں ہے جو مسیح موعود کے ظہور کے لئے موزوں ہو۔ سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور نازل کیا۔ کیونکہ نور نور کو اپنی طرف کھینچتا اور تاریکی تاریکی کو کھینچتی ہے۔“

(ایضاً ص ۷۔ ر۔خ جلد ۱۵ ص ۱۱۷)

تیرا عہد حکومت کیسا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے۔ تیری ہمدردی رعایا اور نیک نیتی کی راہوں کو فرشتے صاف کر رہے ہیں۔ تیرے عدل کے لطیف بخارات بادلوں کی طرح اٹھ رہے ہیں۔ تا تمام ملک کو رشک بہار بنا دیں۔ شریر ہے وہ انسان جو تیرے عہد سلطنت کا قدر نہیں کرتا۔ اور بدذات ہے وہ نفس جو تیرے احسانوں کا شکر گزار نہیں۔ چونکہ یہ مسئلہ تحقیق شدہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے۔ اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ میں اپنی زبان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں اور میرے دل میں خاص طور پر آپ کی محبت اور عظمت ہے۔ ہماری دن رات کی دعائیں آپ کیلئے آب رواں کی طرح جاری ہیں۔ اور ہم نہ سیاست قہری کے نیچے ہو کر آپ کے مطیع ہیں۔ بلکہ آپ کی انواع و اقسام کی خوبیوں نے ہمارے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے اے بابرکت قیصرہ ہند تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اس ملک پر ہیں جس پر تیری نگاہیں ہیں۔ خدا کی رحمت کا ہاتھ اس رعایا پر ہے جس پر تیرا ہاتھ ہے۔ تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا پرہیز گاری اور پاک اخلاق اور صلحکاری کی راہوں کو دوبارہ دنیا میں قائم کروں۔“

(ایضاً ص ۹۔۱۰۔ ر۔خ جلد ۱۵ ص ۱۱۹۔۱۲۰)

قارئین کرام ! آپ نے قیصرہ ہند ملکہ وکٹوریہ کے نام مرزا قادیانی کے خطوط کے چند اقتباسات پڑھے۔ یہ وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو فخر کائنات سرور دو عالم ﷺ کا ظل اور بروز کہتا ہے بلکہ محمد ثانی ہونے کا دعویدار ہے (معاذ اللہ) اس کے پیروکار اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل مانتے ہیں۔ وہ ایک کافر عورت کی جو کہ اسلام اور مسلمانوں کی علانیہ دشمن ہے‘ کس قدر چاپلوسی اور خوشامد کر رہا ہے۔ اس سے کس قدر التجائیں اور اس کے لئے مخلصانہ دعائیں کر رہا ہے۔ اپنی اور اپنے باپ دادا کی انگریز کے لئے خدمات کا کس انداز میں ذکر کیا جا رہا ہے۔

صفحہ 80

دوسری طرف سید دو عالم ﷺ (جن کے ظل اور بروز بلکہ عین ہونے کا مرزا قادیانی دعویٰ کرتا ہے) کا قیصر روم کے نام خط ملاحظہ فرمائیں کہ اس میں کتنا دبدبہ اور شان و شوکت ہے۔ آنحضرت ﷺ نے کسی حکمران کے نام ایسا خوشامدانہ خط کبھی نہیں لکھا جبکہ مرزا قادیانی نے خوشامد کی دوڑ میں اچھے خاصے خوشامدیوں کو بھی مات کر دیا ہے۔

ع ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا

اب ذرا مرزا غلام احمد کا اپنا اعمال نامہ بھی دیکھتے چلیں۔

(1) مرزا غلام احمد نے کن شرمناک کاموں کے باعث قادیان چھوڑا؟

مرزا غلام احمد کا بیٹا بشیر احمد لکھتا ہے:

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور اِدھر اُدھر پھراتا رہا پھر جب اس نے سارا روپیہ اُڑا کر (سات سو) ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا حضرت مسیح موعود اسی شرم سے واپس گھر نہیں آئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے۔ (سیرۃ المہدی جلد اول ص ۴۳)

مرزا غلام احمد کو گھر آتے شرم کس بات پر آ رہی تھی اس بات پر کہ وہ سات سو کی رقم اِدھر اُدھر کن برے کاموں میں صرف کی۔

(۲) مرزا غلام احمد کے عملیات میں ایک عمل

جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے اور میاں حامد علی مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے لے لو اور ان پر فلاں سورت کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو ............ ہم نے یہ وظیفہ ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب کے پاس لے گئے ...... اس کے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا یہ دانے کسی غیر آباد کنویں میں ڈالے جائیں اور فرمایا کہ جب میں دانے کنویں میں پھینک دوں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر

صفحہ 81

کر واپس لوٹ آنا چاہیے اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے ایک غیر آباد کنویں میں ان دانوں کو پھینک دیا اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر سرعت کیساتھ واپس لوٹے اور ہم بھی آپ کے ساتھ ساتھ جلدی چلے آئے اور کسی نے منہ پھیر کر نہیں دیکھا۔

(سیرت المہدی حصہ اول ص ۱۷۸)

رات گذر گئی اور وہ دن بھی آ گیا جب آتھم کی موت کی معیاد پوری ہو گئی اور وہ نہ مرا۔ کنویں میں پھینکے سب دانے بیکار گئے تاہم اس سے اتنا پتہ تو ضرور چلا کہ مرزا صاحب کے ذہن میں آتھم کی زندگی کا آخری دن وہی تھا اور اس آتھم کی موت کے وہ اسی دن منتظر تھے۔ اگر صورت واقعہ کوئی اور ہونی تھی تو کیا پھر مرزا صاحب کو اس کا اس آخری دن تک پتہ کیوں نہ چل سکا؟

مرزا غلام احمد کا اس عمل میں استاد کون تھا؟

مرزا غلام احمد کے اکثر عملیات عورتوں سے منقول تھے آپ کا یہ عمل جو درست واقع نہ ہوا یہ مرزا صاحب نے حکیم نور الدین کی بیوی سے لیا تھا مرزا بشیر احمد پیر سراج الحق نعمانی سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں جب آتھم کی پیشگوئی کی معیاد قریب آئی تو اہلیہ صاحبہ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے خواب میں دیکھا کہ کوئی ان سے کہتا ہے کہ ایک ہزار ماش کے دانے لے کر ان پر ایک ہزار دفعہ سورۃ الم تر کیف پڑھنی چاہیے اور پھر ان کو کسی کنویں میں ڈال دیا جائے اور پھر واپس منہ پھیر کر نہ دیکھا جائے۔ یہ خواب حضرت خلیفہ اول نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا اس وقت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بھی موجود تھے اور عصر کا وقت تھا حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس خواب کو ظاہر میں بھی پورا کر دینا چاہیے کیونکہ حضرت کی عادت تھی کہ جب کوئی خواب خود آپ یا احباب میں سے کوئی دیکھتے تو آپ اسے ظاہری شکل میں بھی پورا کرنے کی سعی فرماتے تھے۔ چنانچہ اس موقع پر بھی اسی خیال سے حضرت نے ایسا فرمایا۔

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ۷)

جب مرزا صاحب حکیم نور الدین کی اہلیہ کے بھی اتنے تابع تھے تو اندازہ کریں کیا آپ خود حکیم صاحب کو بھی اپنا استاد نہ سمجھتے ہوں گے۔ اس کا نتیجہ تھا کہ حکیم صاحب موصوف آپ کو آپ کے دعوؤں کے بارے کہ کیا دعویٰ کیا جائے اچھے اچھے مشورے دیتے تھے ہاں یہ

صفحہ 82

بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ یہ عمل کوئی اثر نہ دکھا سکا اور آتھم مقررہ میعاد میں نہ مرا۔

(موعظہ عبرت) عورتوں کی پیروی میں چلنے والوں کا یہی حال ہوتا ہے

بعض قادیانی اس عمل کے نادرست ہونے کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اس عمل میں ماش کے دانے لینے تھے مرزا صاحب نے غلطی سے چنے کے دانے لے لئے ماش کے دانے لئے ہوتے تو آتھم ضرور مقررہ میعاد میں مر جاتا۔

خواب کو ظاہری شکل میں پورا کرنے کی عادت

بھجوائے گا کہ احتیاطاً غسل کر لیں رات ہم ملے تھے۔ نعوذ باللہ من هذه الخرافات۔

مرزا صاحب اگر خواب کو ظاہری شکل میں بھی پورا فرماتے تھے تو غور کیجئے آپ نے اپنا مندرجہ ذیل رؤیا کس طرح ظاہراً پورا کیا ہوگا۔

ایک مرتبہ میں نے خواب دیکھا کہ گویا میں محمد حسین کے مکان پر گیا ہوں میں کیا دیکھتا ہوں کہ محمد حسین ہمارے مقابل پر پہنچا ہے اور اس وقت مجھے اس کا سیاہ رنگ معلوم ہوتا ہے اور بالکل برہنہ ہے۔ پس مجھے شرم آئی کہ میں اس کی طرف نظر کروں۔ پس اسی حال میں وہ میرے پاس آ گیا وہ بہت نزدیک آیا اور بغلگیر ہو گیا۔

(سراج منیر ص ۷۰، روحانی خزائن جلد ۱۲ ص ۸۰‘ تذکرہ ص ۲۷۲)

کیا مرزا صاحب نے صبح مولانا محمد حسین سے کپڑے اتارنے اور برہنہ ہو کر اسے اپنے سے بغل گیر ہونے کی دعوت دی ہو گی یہ قادیانیوں کے سوچنے کی بات ہے کہ مرزا صاحب کس طرح خواب کو ظاہراً پورا کیا کرتے تھے۔

اندازہ کیجئے ہندوستان میں انگریزی عہد میں کن کن خلاف فطرت باتوں کو دین فطرت میں داخل کرنے کی سعی کی گئی۔ تاہم یہ صحیح ہے کہ اہل اسلام نے اس فتنے کے اٹھنے میں اس کا پوری طرح تعاقب کیا اور اس سے بھی انکار نہیں کہ اس فتنہ نے مسلمانوں کو اپنے قومی وجود اور اپنے عقیدہ کے تحفظ میں ایک نئی زندگی بخشی۔ علماء اسلام جو پہلے ان معرکوں کے خوگر نہ تھے اس فتنہ کی سرکوبی کیلئے اٹھے اور خوب اٹھے یہاں تک کہ اپنے اختلافات میں جو آپس میں

صفحہ 83

کلیۃً جدا ہو چکے تھے اور ان کے آپس میں ملنے کی کبھی توقع نہ رہی تھی اس فتنہ کے تعاقب میں پھر آپس میں آملے اور ملت اسلامی میں پھر ایک تازہ بہار آگئی۔

علماء میں مناظروں اور کانفرنسوں کا عام رواج نہ تھا حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ اور حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے عیسائیوں سے بیشک مناظرے ہوئے۔ علماء اسلام بیشک آریوں کے مقابل بھی نبرد آزما رہے تاہم مسلمانوں میں مناظروں کا عام رواج نہ تھا۔

قادیانیوں نے کچھ وکلاء کو مذہبی تربیت دی اور خادم حسین گجراتی ایک وکیل کو علماء کے سامنے لا کھڑا کیا اس پر علماء کو بھی وہ پیرایہ بیان اختیار کرنا پڑا۔ اب ان میں بھی بہت سے مناظر پیدا ہو گئے جنہوں نے قادیانیوں کو مختلف محاذوں پر پے در پے شکستیں دیں۔

علماء نے جلسہ کے مقابل جلسہ‘ کانفرنس کے مقابل کانفرنس‘ رسالہ کے مقابل رسالہ‘ مناظرہ کے مقابل مناظرہ کر کے عام مسلمانوں کے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کی یہاں تک کہ انگریزی دور میں بھی بہت سے نکاح سرکاری عدالتوں میں فسخ ہوئے اور تقسیم ہند سے پہلے ہی مسلم معاشرہ قادیانیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دے چکا تھا اور انگریز حکومت اس پر کچھ نہ کر سکی تھی۔

مسلمان اپنی تاریخ کے پہلے ادوار میں بھی ایسے کئی جھوٹے مدعیان نبوت کو دیکھ چکے تھے اور ان میں ایسے بھی کئی ہوئے جنہیں کچھ عرصے کیلئے اپنے حلقوں میں شوکت و قوت بھی حاصل رہی۔

مسلمانوں کو قادیانیوں کے خلاف اٹھنے سے جہاں یہ بیداری ملی وہاں ایک دوسرا فائدہ بھی ہوا وہ یہ کہ مختلف فرقے جو آپس میں کلیۃً ایک دوسرے سے جدا ہو چکے تھے انہیں ایک نقطہ وحدت میسر آگیا جس پر آکر وہ کبھی اپنے ایک ملت ہونے کا مظاہرہ بھی کر سکیں۔ یہاں تک کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو کہنا پڑا۔ ”اے بدذات فرقہ مولویاں!“ گویا اب یہ سب ایک ہو چکے تھے۔

ان مولویوں کا ایک محاذ پر اکٹھا ہو جانا یہاں تک کہ سب اس مسئلے میں ایک دکھائی دیں اور مخالف بھی انہیں ایک فرقہ سمجھے۔ مسلمانوں کو یہ خیر مرزا غلام احمد کی وجہ سے حاصل ہوئی حضرت امیر شریعتؒ دیوبندی مسلک کے تھے۔ وہ جب اس میدان میں نکلے تو صاحبزادہ فیض الحسنؒ صاحب بریلوی‘ حضرت مولانا محمد داؤد غزنویؒ اہلحدیث اور مولانا مظہر علی اظہر (شیعہ)

صفحہ 84

سب ان کی قیادت میں جمع ہو گئے ۔

ایک سوال:

اگر قادیانیوں کے خلاف سب امت ایک ہو چکی تھی تو قائد اعظم کو کیوں اس کا پتہ نہ چلا ؟ اس کیلئے اس صورت واقعہ کو سامنے رکھیں جس میں ظفر اللہ خان وزیر خارجہ بنائے گئے ۔

قائد اعظم کی ظفر اللہ خان پر نظر انتخاب

قادیانی بسا اوقات پوچھتے ہیں کہ اگر قادیانی واقعی متفق علیہ کافر تھے تو قائد اعظم نے ظفر اللہ خان کو پاکستان کا وزیر خارجہ کیوں بنایا؟ یہ واقعہ کوئی حیرت افزا نہیں۔ ملک آزاد ہونے پر دونوں حصوں (انڈیا اور پاکستان) کی مصلحت تھی کہ کچھ وقت کیلئے سابقہ حکومت (انگریزی حکومت) کے ایک ایک آدمی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہیے انڈیا نے (باوجود یہ کہ کانگریس ہمیشہ انگریزوں کے خلاف رہی تھی) لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو اپنا پہلا گورنر جنرل بنایا اور پاکستان نے ظفر اللہ خاں کو۔ اور یہ محض اس لئے تھا کہ ظفر اللہ خاں انگریزوں کے آدمی ہیں۔ اس لئے نہیں تھا کہ قائد اعظم اسے مسلمان سمجھتے تھے ایسا ہوتا تو ظفر اللہ خاں کبھی قائد اعظم کے جنازہ سے اس سردمہری کا مظاہرہ نہ کرتا جو اس نے جنازہ نہ پڑھ کر کیا۔

پاکستان کا سب سے پہلا سیاسی مسئلہ

پاکستان بنے جب چھ سال ہو گئے تو یہاں پہلا سیاسی مسئلہ اٹھا کہ قادیانیوں کو آئین میں بھی ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے یہ حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ کا اس مسئلے سے خلوص تھا کہ پاکستان بنتے ہی مجلس احرار اسلام نے سیاست سے کنارہ کش ہو کر خالصتاً اسی مسئلہ پر اپنی زندگی مرتکز کر دی اور تاریخ گواہ ہے کہ حضرت شاہ صاحب نے جو کچھ کہا تھا وہ ہو کر رہا اور قادیانی اس ملک میں قانونی طور پر بھی غیر مسلم ٹھہرے۔ حضرت شاہ صاحب کی یہ آواز صرف پاکستان میں نہیں دنیا کے مختلف گوشوں میں سنی گئی۔ سعودی عرب پہلے سے ہی رابطہ عالم اسلامی کے (۱۹۷۴ء) کے تاریخی اجتماع میں ۱۰۴ ممالک سے بالاتفاق قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی قرارداد منظور کرا چکا تھا اب افریقی ممالک میں بھی اس کی پہل

صفحہ 85

گیمبیا نے کر دی ہے۔

پاکستان میں جب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا اور مرزا ناصر اسمبلی میں اپنے موقف کو ثابت نہ کر سکا تو اس وقت بھی اس تحریک کی قیادت حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کر رہے تھے یہ گویا وہی آواز تھی جو حضرت شاہ صاحب کی تھی۔ اور جس کی کامیابی کیلئے آپ نے حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو امیر شریعت مقرر کیا تھا۔

پاکستان بننے سے مرزا غلام احمد کا کذب اور نمایاں ہوا

مرزا غلام احمد نے قادیان کو دارالامان قرار دیا تھا۔ مرزا غلام احمد کی زندگی میں قادیانیوں کا اخبار ”بدر“ تھا اس کی ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء کی اشاعت کے ص ۱۴ پر قادیان کا ذکر دو مقامات پر اس طرح ہے۔

صاحب کو کامیابی کے ساتھ جلد واپس دارالامان پہنچائے۔“

امام اپنا عزیزو اس زماں میں
غلام احمد ہوا دارالاماں میں
غلام احمد مسیحا سے ہے افضل
بروز مصطفیٰ ہو کر جہاں میں

مرزا غلام احمد کہتا ہے مجھے ۱۹۔ اپریل ۱۹۰۲ء کو الہام ہوا من دخله کان امنا۔ اس پر مرزا غلام احمد نے کہا میں قادیان کیلئے دعا کر رہا تھا تو یہ الہام ہوا۔

(الحکم ۲۴۔ اپریل ۱۹۰۲ء تذکرہ ص ۵۱۲)۔

مرزا بشیر احمد نے سیرت المہدی کے ٹائیٹل پر بھی یہی نام قادیان دارالامان لکھوایا۔

یہ ۱۹۳۵ء میں شائع ہوئی۔

قادیانی آرگن ”الفضل“ کے ہر صفحہ پر آپ روزنامہ الفضل قادیان دارالامان لکھا پائیں گے۔

صفحہ 86

یہ دارالامان کب تک رہا ۱۹۴۷ء تک۔ مرزا غلام نبی جانباز مرحوم نے بتایا کہ میں اس وقت قادیان تھا جب سکھوں نے قادیانیوں کو ان کے گھروں سے نکالا اور بہشتی مقبرہ کی آبروریزی بھی کی۔ مرزا صاحب نے دیکھا کہ قادیانی اب پاکستان کی طرف دوڑ رہے تھے اور مڑ مڑ کر دارالامان کی طرف دیکھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے اچھا دارالامان ہے جس میں نہ امن ہے نہ امان ہے۔

پاکستان آ کر مرزا بشیر الدین محمود نے جھنگ کی جس زمین کو اپنا مرکز بنایا اس کا نام ”ربوہ“ رکھا۔ قرآن کریم میں یہ ایک اونچا ٹیلہ کا ذکر ہے۔ جس کی طرف حضرت مسیح اور مریم کو پناہ ملی تھی۔

واوینہما الی ربوۃ ذات قرار ومعین

مرزا محمود کا اس جگہ کا نام ربوہ رکھنا بتاتا ہے کہ وہ بھی سکھوں سے بھاگتے اسے قادیانیوں کی پناہ گاہ سمجھتا تھا اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اب قادیان دارالامان نہ رہا ہو۔

مرزا کا الہام ۱۸۹۱ء: اخرج منہ الیزیدیون۔

(ازالہ اوہام ص ۷۱‘۷۲ تذکرہ ص ۱۸۱)

اس کا ترجمہ مرزا غلام احمد نے یہ کیا اس میں (قادیان میں) یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔ یزید مورخین کے نزدیک اس باب میں معروف ہوا کہ باپ سے حکومت بیٹے کو ملی۔ اسلام میں جو ایک روحانی سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ اب نسب میں آگیا۔ قادیان میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے‘ کا مطلب یہ ہے کہ یہاں بھی مرزا غلام احمد کے پیروؤں میں نسب پرستی آ جائے گی چنانچہ مرزا محمود‘ مرزا ناصر اور مرزا طاہر تینوں نسبتی امتیاز سے سربراہ بنے۔

مگر مرزا غلام احمد کا مذکورہ ترجمہ صحیح نہیں یہ مراد ہوتی تو عبارت یوں ہوتی اخرج فیہ الیزیدیون۔

ازالہ اور تذکرہ کی عبارت بتلاتی ہے کہ جن لوگوں کو یہاں سے نکلنا پڑا (مرزا محمود اور اس کے ساتھی) وہ سب یزیدی فطرت کے ہیں۔ جو قادیان سے خود نہیں نکلے (جیسے مولوی محمد علی اور خواجہ کمال الدین نکلے) بلکہ نکالے گئے۔ نکالنے والے سکھ تھے اور قادیان کو دارالامان کہنے والے یہاں سے بھاگ رہے تھے۔

قادیان کا ۱۹۴۷ء میں قتل و فساد کا مرکز رہنا کیا غلام احمد کی کھلی تکذیب نہیں کہ

صفحہ 87

دارالامان میں بھی امان نہ رہے۔

مرزا بشیر الدین کی پیشگوئی بھی غلط نکلی

مرزا غلام احمد روئے زمین پر قادیان کے برابر کسی جگہ کو نہ سمجھتا تھا۔

کل مقابر الارض لا تقابل هذه الارض۔ (تذکرہ ص ۷۰۷)

مرزا بشیر الدین محمود نے اب جو ربوہ کو اپنی جائے امان قرار دیا تو چاہیے تھا کہ اب تو قادیانیوں کو واقعی اس میں امن نصیب ہوتا، لیکن کیا کریں باپ کی طرح بیٹے کی پیشگوئی بھی غلط نکلی۔ نہ قادیان دارالامان رہ سکا نہ ربوہ ان کیلئے جائے پناہ بن سکا۔ اب جو مرزا طاہر رات کی تاریکی میں ربوہ سے نکلے تو سیدھے لندن پہنچے۔ برصغیر پاک و ہند کے یہ وہ بد نصیب ہیں جنہیں اب تک آزادی کا ایک لمحہ نصیب نہیں ہوا۔ متحدہ ہندوستان میں انگریزوں کے غلام، پاکستان میں مسلمانوں کے غلام اور لندن میں پھر انگریزی سلطنت کے سائے میں آئے۔ سکھ تو پھر بھی تحریک آزادی میں کچھ دن چلے اور ابھی تک چل رہے ہیں۔ لیکن ان بدنصیبوں کی آزادی کیلئے کبھی نبض تک نہیں پھڑکی۔ انہوں نے ہمیشہ انگریزوں کی غلامی میں اپنی عزت محسوس کی۔

قادیانیوں کے ساتھ یہ سب کچھ اپنے باپ کے ایک الہام کے تحت ہوا

مرزا بشیر الدین محمود کہتا ہے: جب قادیان کی زندگی احمدیوں کے لئے اس قدر تکلیف دہ تھی کہ مسجد میں خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے آنے سے روکا جاتا تھا۔ اُس وقت مجھے حضرت مسیح موعود نے بتایا مجھے دکھایا گیا ہے کہ یہ علاقہ اس قدر آباد ہوگا کہ دریائے بیاس تک آبادی پہنچ جائے گی۔ (الفضل ۹ فروری ۱۹۳۲ء)

مرزا غلام احمد کا دعویٰ تھا کہ قادیان لاہور کے مغرب تک جا پہنچے گا۔ اور موجودہ لاہور قادیان (جدید) کے مشرق کی طرف ہو جائے گا۔ غلام احمد لکھتا ہے:

قادیان جو ضلع گرداسپور پنجاب میں ہے جو لاہور سے گوشہ مغرب اور جنوب میں واقع ہے وہ دمشق سے ٹھیک ٹھیک شرقی جانب واقع ہے۔

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ۲۲۔ رخ جلد ۱۶ ص ۲۲

صفحہ 88

راقم الحروف ان دنوں لاہور میں ہے اور یہ مغربی پنجاب ہے۔ قادیان مشرقی پنجاب میں ہے لاہور سے مغرب کی طرف نہیں۔

یہی نہیں بلکہ قادیان کی اس قدر ترقی ہوگی کہ اس کے مشرق میں جانے والے لوگوں کو لاہور کا کچھ پتہ نہ رہے گا۔ یہ گاؤں یکسر ناپید ہو جائے گا ان کی وحی الہی تذکرہ میں ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خدا کے نام سے فرمایا تھا: ”میں قادیان کو اس قدر وسعت دوں گا کہ لوگ کہیں گے لاہور بھی کبھی تھا۔“ (تذکرہ ص ۸۱۵)

مرزا بشیر الدین محمود اپنے باپ کے ان تمام الہامات کو جھوٹا کرتے ہوئے لاہور پہنچا قادیان میں اس کو امن نہ ملا اس نے چک ڈھکیاں (موجودہ نام چناب نگر) میں پناہ لی۔ وہاں ان کی اپنی نئی نسلیں جب ان سے قادیان کا ذکر سنتیں تو انہیں کہنا پڑتا ہاں قادیان بھی کبھی تھا جو لوگ یہ خواب دیکھ رہے تھے کہ ایک وقت آئے گا کہ لوگ کہیں گے "لاہور بھی کبھی تھا" انہوں نے اپنی آنکھوں دیکھا اور کانوں سنا کہ لوگ کہہ رہے ہیں قادیان بھی کبھی تھا۔ اب جو انہوں نے ”ربوہ“ کو جائے پناہ بنایا تو یہاں سے بھی انہیں نکلنا پڑا۔

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

باپ کی نافرمانی نے بیٹے کو اس انجام تک پہنچایا

کوئی سعادت مند بیٹا اپنے باپ کے بارے میں یہ نہیں کہتا کہ وہ شراب پیتا تھا گو وہ حقیقتاً پیتا بھی ہو مگر بشیر الدین محمود نے جے ڈی کھوسلہ سیشن جج ضلع گورداسپور کی عدالت میں صاف کہا تھا کہ اس کا باپ شراب پیتا تھا۔

گورداسپور کا سیشن جج لکھتا ہے: ”موجودہ مرزا نے خود اعتراف کیا ہے کہ اس کے باپ نے پلومر کی ٹانک وائن ایک دفعہ استعمال کی تھی اور وہ ایک ایسا انسان تھا جسے رنگین مزاج کہہ سکتے ہیں۔“ (الفضل ۱۵ جون ۱۹۳۵ء ص ۵)

اب اس کے باپ کی رائے بھی سن لیجئے مرزا غلام کے مرید میاں سنوری نے مرزا غلام احمد سے اپنے والد کے بارے میں کہا کہ وہ شراب پیتا ہے اور اس کی بری بری عادتیں ہیں

صفحہ 89

مرزا غلام نے اسے کیا کہا اسے مرزا بشیر احمد کی روایت سے سنیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا توبہ کرو اپنے والد کے متعلق ایسا نہیں کہنا چاہیے۔

(سیرت المہدی جلد ۱ ص ۱۱۳)

اب آپ ہی بتائیں مرزا بشیر الدین محمود نے یہ کہہ کر کہ اس کا باپ ایک رنگین مزاج آدمی تھا کیا اپنے باپ کی نافرمانی نہ کی؟ فیصلہ آپ کریں۔ مرزا بشیر الدین محمود کا یہ کہنا کہ میرے باپ نے ایک دفعہ شراب پی تھی پوری بوتل ایک دفعہ نہیں پی جاسکتی جب وہ پوری بوتل منگواتا تھا تو کیا اسے ضائع کرنے کیلئے منگاتا تھا؟ پھر ٹانک وائن تو وہ شراب ہے جسے رنگین مزاج ہی پیتے ہیں وہ ایک دفعہ نہیں پی جاتی یہ عادی نشہ ور ہی پیتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی تصویر پر غور کریں آنکھیں واضح طور پر شرابی کی معلوم ہوتی ہیں۔ مرزا کے ہوش اڑے نہ ہوتے تھے تو وہ دائیں جوتے اور بائیں جوتے میں فرق کیوں نہ کر پاتا۔ کرتے کے بٹن لگانے سے بھی پتہ چلتا ہے کہ مرزا صاحب کے عام ہوش وحواس شرابیوں کے سے تھے۔ پیغامیوں کی رائے تو بے شک یہ رہی کہ مرزا غلام احمد کبھی کبھی زنا کر لیتے تھے۔ اب مرزا بشیر الدین محمود کے اپنے احمدیوں کی رائے بھی لے لیں۔ مرزا محمود کہتا ہے: ”میں نے غیروں سے نہیں احمدیوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود کی ایسی تحریریں پڑھ کر شرم آجاتی ہے۔“

(خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۳۲ء)

ایک انگریز کی رائے بھی ملاحظہ ہو پادری ہنری مارٹن کلارک کا حلفیہ بیان پڑھئے وہ کہتا ہے: ”مرزا صاحب کی نسبت میری ذاتی رائے یہ ہے کہ وہ ایک خراب فتنہ انگیز خطرناک آدمی ہے اچھا نہیں ۔“ (روحانی خزائن جلد ۱۳ص۲۸)

مرزا غلام احمد کے بارے میں اس کے ایک ارادتمند کی رائے

مرزا غلام احمد کے پیرو حکیم نور الدین کی وفات کے بعد دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ کا سربراہ مرزا کا بڑا بیٹا بشیر الدین محمود بنا اور دوسرے گروہ کا سربراہ مولوی محمد علی پلیڈر آف لاہور ہوا۔ اس دوسرے گروپ نے اپنے پرچے کا نام پیغام صلح رکھا اس مناسبت سے اس دوسرے گروپ کے لوگ پیغامی کہلاتے تھے۔ پیغامی مرزا بشیر الدین کے تو خلاف تھے لیکن غلام احمد کو مسیح موعود مانتے تھے ایک ایسے ارادتمند کی رائے بھی ملاحظہ ہو مرزا غلام احمد کا یہ مرید لکھتا

صفحہ 89

مرزا غلام نے اسے کیا کہا اسے مرزا بشیر احمد کی روایت سے سنیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا توبہ کرو اپنے والد کے متعلق ایسا نہیں کہنا چاہیے۔

(سیرت المہدی جلد ۱ ص ۱۱۳)

اب آپ ہی بتائیں مرزا بشیر الدین محمود نے یہ کہہ کر کہ اس کا باپ ایک رنگین مزاج آدمی تھا کیا اپنے باپ کی نافرمانی نہ کی؟ فیصلہ آپ کریں۔ مرزا بشیر الدین محمود کا یہ کہنا کہ میرے باپ نے ایک دفعہ شراب پی تھی پوری بوتل ایک دفعہ نہیں پی جاسکتی جب وہ پوری بوتل منگواتا تھا تو کیا اسے ضائع کرنے کیلئے منگاتا تھا؟ پھر ٹانک وائن تو وہ شراب ہے جسے رنگین مزاج ہی پیتے ہیں وہ ایک دفعہ نہیں پی جاتی یہ عادی نشہ ور ہی پیتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی تصویر پر غور کریں آنکھیں واضح طور پر شرابی کی معلوم ہوتی ہیں۔ مرزا کے ہوش اڑے نہ ہوتے تھے تو وہ دائیں جوتے اور بائیں جوتے میں فرق کیوں نہ کر پاتا۔ کرتے کے بٹن لگانے سے بھی پتہ چلتا ہے کہ مرزا صاحب کے عام ہوش و حواس شرابیوں کے سے تھے۔ پیغامیوں کی رائے تو بے شک یہ رہی کہ مرزا غلام احمد کبھی کبھی زنا کر لیتے تھے۔ اب مرزا بشیر الدین محمود کے اپنے احمدیوں کی رائے بھی لے لیں۔ مرزا محمود کہتا ہے: ”میں نے غیروں سے نہیں احمدیوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود کی ایسی تحریریں پڑھ کر شرم آ جاتی ہے۔“

(خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۳۲ء)

ایک انگریز کی رائے بھی ملاحظہ ہو پادری ہنری مارٹن کلارک کا حلفیہ بیان پڑھئے وہ کہتا ہے: ”مرزا صاحب کی نسبت میری ذاتی رائے یہ ہے کہ وہ ایک خراب فتنہ انگیز خطرناک آدمی ہے اچھا نہیں۔“ (روحانی خزائن جلد ۱۳ ص ۲۸)

مرزا غلام احمد کے بارے میں اس کے ایک ارادتمند کی رائے

مرزا غلام احمد کے پیرو حکیم نور الدین کی وفات کے بعد دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ کا سربراہ مرزا کا بڑا بیٹا بشیر الدین محمود بنا اور دوسرے گروہ کا سربراہ مولوی محمد علی پلیڈر آف لاہور ہوا۔ اس دوسرے گروپ نے اپنے پرچے کا نام پیغام صلح رکھا اس مناسبت سے اس دوسرے گروپ کے لوگ پیغامی کہلاتے تھے۔ پیغامی مرزا بشیر الدین کے تو خلاف تھے لیکن غلام احمد کو مسیح موعود مانتے تھے ایک ایسے ارادتمند کی رائے بھی ملاحظہ ہو مرزا غلام احمد کا یہ مرید لکھتا

صفحہ 90

ہے:

"حضرت مسیح موعود ولی اللہ تھے اور ولی اللہ بھی کبھی زنا کرلیا کرتے ہیں اگر انہوں نے کبھی کبھار زنا کیا تو اس میں کیا حرج ہوا ہمیں مسیح موعود پر اعتراض نہیں ہے۔ کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے۔"

(الفضل ۳۱ اگست ۱۹۳۸ء)

اب مرزا بشیر الدین محمود کی رائے اس شخص کے بارے میں سنیں کیا وہ کوئی مخالف مولوی ہے یا وہ پیغامی گروہ کا ایک فرد ہے۔ مرزا محمود نے کہا اس اعتراض سے پتہ لگتا ہے کہ یہ شخص پیغامی ہے اس لئے کہ ہمارا حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ اعتقاد ہے کہ آپ نبی اللہ تھے مگر پیغامی اس بات کو نہیں مانتے وہ آپ کو ولی اللہ کہتے ہیں۔

زانی وہی ہو سکتا ہے جسکا عام عورتوں سے اختلاط رہے

مرزا غلام احمد کے بارے میں عدالت کے یہ الفاظ کہ وہ ایک رنگین مزاج آدمی تھا اور اس کے ایک مرید کے یہ الفاظ کہ وہ کبھی کبھی زنا کرتا تھا۔ تقاضا کرتے ہیں کہ اس کی مجلس میں عام عورتوں کا آنا جانا ہو یہاں ایک مبصر یہ جاننے پر مجبور ہوتا ہے کہ کیا مرزا صاحب کے پاس واقعی کچھ عورتوں کا آنا جانا رہتا تھا۔

تھی جب اس کی شادی ہونے پر آئی تو آپ نے فرمایا اس کی شادی قادیان کے قریب ہی کسی جگہ کی جائے تا کہ اس کا یہاں آنا جانا قائم رہے۔ الفضل کی ۲۰ مارچ ۱۹۲۸ء کی اشاعت میں ہے:

حضور کو مرحومہ کی خدمت (پاؤں دبانے کی) بہت پسند تھی۔ حضور نے ایک دفعہ مرحومہ کو دعا دے کر فرمایا: اللہ تجھے اولاد دے۔ حضور کی دعا سے مرحومہ کے چھ بچے ہوئے ایک لڑکی اور پانچ لڑکے۔

چیز کو میں دبا رہی ہوں وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے مرزا صاحب نے اسے کہا: بھانو آج بڑی سردی ہے بھانو کہنے لگی جبھی تو آج آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہورہی

صفحہ 91

ہیں ۔ (سیرت المہدی ج ۳ ص ۲۱۰) مرزا بشیر احمد کہتا ہے حضرت نے جو اسے سردی کی طرف توجہ دلائی تو اس میں یہ جتلانا مقصود تھا کہ آج شاید سردی کی شدت کی وجہ سے تمہاری حس کمزور ہو رہی ہے اور تمہیں پتہ نہیں لگا کہ کس چیز کو دبا رہی ہوں ۔

میں تین ماہ کے قریب حضرت کی خدمت میں رہی ہوں گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھے پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی مجھ کو اس اثنا میں کسی قسم کی تھکان و تکلیف محسوس نہ ہوتی تھی بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا دو دفعہ ایسا موقع آیا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقع ملا۔ پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند نہ غنودگی اور نہ تھکان معلوم ہوئی۔ بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا ...................

حضور نے فرمایا کہ زینب اس قدر خدمت کرتی ہے کہ ہمیں اس سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے اور آپ کئی دفعہ اپنا تبرک مجھے دیا کرتے تھے۔ (سیرت المہدی جلد ۳ ص ۲۷۲) آدھی رات کے وقت آپ اپنا کیا تبرک دیتے تھے اس کی ہم وضاحت میں نہیں جاتے۔

تھے ان کی بیوہ رسول بی بی جو مرزا بشیر احمد کی رضائی ماں تھی۔ مرزا بشیر کے باپ کے پاس رات پہرہ دیتی تھی۔ بابو شاہ دین کی اہلیہ تو بیوہ نہ تھی معلوم نہیں وہ پہرہ دینے کیوں آتی تھی۔ مائی رسول بی بی کا بیان ہے:

ایک زمانہ میں حضرت کے وقت میں میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں یہ پہرہ ساری ساری رات جاری رہتا اور بسا اوقات حضرت سوتے سوتے ہی باتیں کرتے تھے ۔ (سیرت المہدی جلد ۳ ص ۲۱۳)

میاں ظفر احمد کپور تھلوی کو دکھانے کیلئے آپ نے ایک دفعہ یہ پیرایہ بھی اختیار کیا۔ میاں ظفر احمد کی پہلی بیوی فوت ہو گئی تھی اور وہ نکاح ثانی کرنا چاہتا تھا۔

مرزا غلام احمد نے اسے کہا: ”ہمارے گھر میں دو لڑکیاں رہتی ہیں ان کو میں لاتا

صفحہ 92

ہوں آپ ان کو دیکھ لیں پھر ان میں سے جو آپ کو پسند ہو اس سے آپ کی شادی کر دی جائے‘‘ چنانچہ حضرت صاحب گئے اور ان دو لڑکیوں کو بلا کر کمرہ کے باہر کھڑا کر دیا اور پھر اندر آ کر کہا کہ وہ باہر کھڑی ہیں آپ چک کے اندر سے دیکھ لیں چنانچہ میاں ظفر احمد نے انہیں دیکھ لیا۔

(سیرت المہدی جلد ۱ ص ۲۵۹)

اس صورت حال میں اس پیغامی کے یہ الفاظ کہ مسیح موعود کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے ہرگز بعید از قیاس دکھائی نہیں دیتے اب جو سوال ہمارے پڑھتے، لکھتے، سنتے ہی ابھر کر سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ ایسے کردار کے شخص کو کوئی سوسائٹی بھی اپنا دینی پیشوا کیسے مان سکتی ہے۔ جو شخص اپنے ظاہری آداب حیات میں شریف آدمی بھی نہ سمجھا جا سکے اسے انسانوں کا ایک مختصر گروہ خواہ وہ تعداد میں کتنا ہی مختصر کیوں نہ ہو کیسے ایک آسمانی فرستادہ اور مامور من اللہ مان سکتا ہے۔

مرزا غلام احمد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو غلط نقشہ کھینچا کیا کیا ہم اسے مرزا غلام کے اس ماحول پر صحیح طور پر منطبق نہیں کر سکتے؟۔

ہم عرض کرتے ہیں تاریخ کے آئینہ میں اس پر گہری فکر کی ضرورت ہے۔ آپ یہ معلوم کریں کہ قادیانی گوریلوں کو مسلمانوں پر واردات کرنے کے لئے کیا تربیت دی جاتی ہے ۔ نامناسب نہ ہوگا کہ ہم قادیانی فریب کے اسی پردے کو یہیں چاک کر کے چلیں۔

قادیانی گوریلوں کی پہلی واردات عربی کے سائے میں

قادیانی تربیت کیمپ میں اس بات پر بڑی محنت کی جاتی ہے کہ قادیانی طلبہ مسلمانوں کے ساتھ مرزا غلام احمد کے بارے میں کبھی کوئی مباحثہ نہ کریں۔ نہ اس شخص کی زندگی کو کسی پہلو سے زیر بحث لانے دیں۔ مسلمانوں کے ہاں دو عقیدے ایسے پائے جاتے ہیں کہ ان کے عوام بھی ان ناموں سے کسی درجہ میں آشنا ہوتے ہیں ایک قیامت کے قریب امام مہدی کا ظہور اور دوسرا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول۔ یہ دو ایسے عقیدے ہیں کہ ان پر قرآن و حدیث میں بہت سی راہنمائی ملتی ہے۔ قرآن وحدیث چونکہ عربی میں ہیں اس لئے مسلم عوام ان مسائل کو کتاب وسنت سے نہ نکال سکیں گے اور جب وہ قرآن وحدیث کو تشریحات سلف کی روشنی میں گئے بغیر درست طور پر نہ سمجھے ہوں گے تو یہ قادیانی گوریلے انہیں عربی زبان کے

صفحہ 93

مباحث میں لا کر بالکل حیران اور پریشان کر کے رکھ دیں گے۔ پھر اس پریشان ذہن کو اپنے مرکز میں لے جانا انہیں آسان ہو جاتا ہے۔

قادیانی گوریلوں کی دوسری واردات دو مسئلوں پر سوالات

قادیانی گوریلے مسلمانوں کو کہتے ہیں اپنے علماء سے پوچھو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کس آسمان پر ہیں اور وہ وہاں کھاتے کیا ہوں گے کبھی یہ کہیں گے۔

ہیں تو ہم قادیانیت چھوڑ دیں گے۔ (بات کبھی مرزا غلام احمد پر نہ آنے دیں گے )

مجدد کا پتہ نہ ہو تو اس سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ غلام احمد اس صدی کا مجدد ہے )

ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے تو اسے ہی کیوں نہ مان لیا جائے )

ہو اور مفعول ذی روح ہو تو یہ موت کے معنی میں ہی آتا ہے۔ عرب علماء اسے سمجھ نہیں سکے یہ باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں ابواب ثلاثی مزید فیہ عنواناً بھی یاد نہیں ہوتے ۔ نوجوانوں کو اس قسم کی باتوں میں محض اس لئے مصروف کیا جاتا ہے کہ کہیں وہ مرزا غلام احمد کی زندگی اور کردار پر کوئی بات نہ کر سکیں کیسی مرزائی منطق ہے کہ اگر کوئی واقعہ تاریخ کائنات میں ایک ہی دفعہ پیش آیا (مثلاً حضرت عیسیٰ بلا باپ پیدا ہوئے ) تو اس کے الفاظ پہلے محاورات میں استعمال ہوئے دیکھے جائیں وغیرہ کا بیان گوریلوں کی یہ سب واردات لوگوں کی توجہ مرزا غلام احمد کی شخصیت سے ہٹا کر ان مسائل پر لگانے کے لئے ہوتی ہے ایسے مواقع پر مسلمانوں کو چاہیے ان سے کھلے لفظوں میں کہیں کہ پہلے اس شخص پر ہم سے کلام کریں جس نے امت میں مسائل اٹھائے پھر وفات مسیح پر بھی بات کی جاسکتی ہے۔

اب وفات مسیح کا میدان نہیں رہا اصل بات نمایاں ہو چکی ہے مرزا بشیر احمد لکھتا ہے آجکل وفات مسیح سے بحث کا میدان بدل کر دوسری طرف منتقل ہو گیا ہے۔ اب بات یہاں سے شروع کی جائے کہ مرزا غلام احمد میں تقویٰ کس درجہ کا تھا ؟

صفحہ 94

قادیانی گوریلوں کی تیسری واردات اپنی مظلومی کی فریاد

قادیانی کہتے ہیں: ہم بھی وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو دوسرے مسلمان پڑھتے ہیں۔ اور ہم اسی طرح نماز پڑھتے ہیں جس طرح دوسرے پڑھتے ہیں۔ پھر کیا یہ ظلم نہیں کہ ہمیں کافر کہا جاتا ہے کیا امام ابو حنیفہ نے یہ نہیں کہا کہ اہل قبلہ کو کافر نہ کہو۔

اس بات سے وہی لوگ متاثر ہو سکتے ہیں جنہیں مرزا غلام احمد کی اپنی تعلیمات کی خبر نہ ہو جب ان کا کلمہ اردو میں ہے اور مرزا غلام احمد کی وحی بھی زیادہ اردو میں ہے تو معلوم نہیں وہ کیوں جھوٹ بولتے ہیں کہ ہم وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو مسلمان پڑھتے ہیں۔ یہ لا اله الا الله محمد رسول الله پڑھتے ہیں لیکن ایک تاریخی حقیقت کے طور پر نہ کہ نشان نجات کے طور پر (مسلمان اسے (یہ کلمہ) نشان نجات کے طور پر پڑھتے ہیں۔ کہ اس اقرار سے آخرت میں نجات کی ضمانت ملتی ہے) مسلمان جب حضرت موسیٰ کو کلیم اللہ کہتے ہیں یا حضرت عیسیٰ کو روح اللہ کہتے ہیں تو ایک تاریخی حقیقت کے طور پر کہتے ہیں نشان نجات کے طور پر نہیں۔ اس طرح قادیانی کلمہ اسلام لا اله الا الله محمد رسول الله کو نشان نجات نہیں سمجھتے وہ مرزا غلام احمد کو نبی مانے بغیر آخرت میں کسی کو نجات کے لائق نہیں سمجھتے۔

قادیانیوں کا اپنا کلمہ اردو میں ہے

مرزا بشیر احمد ڈاکٹر اسمعیل کے واسطہ سے حکیم نورالدین سے نقل کرتا ہے: ہر نبی کا ایک کلمہ ہوتا ہے مرزا کا کلمہ یہ ہے کہ ”میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔“

(سیرت المہدی حصہ سوم ص ۳۰۵)

یاد رکھیئے یہاں کلمہ بات کے معنی میں نہیں ہے یہ جو الفاظ ہیں کہ ہر نبی کا ایک کلمہ ہوتا ہے انہوں نے اس اردو کلمہ کو بات کے معنی میں نہیں رہنے دیا۔ اب یہ ان کے ہاں نشان نجات ہے کہ مرزا کو نبی مانے بغیر کسی کی نجات نہ ہوگی۔

نورالدین کے یہ الفاظ کہ مرزا کا کلمہ یہ ہے بتاتے ہیں کہ اس کے دل میں مرزا کی کوئی عزت نہ تھی ورنہ وہ اس کا ذکر مرزا صاحب کہہ کر کرتے۔ اس کا اسے اس پیرایہ میں ذکر کرنا بتاتا ہے کہ وہ اندر سے مرزا کو اپنے سے چھوٹا سمجھتا تھا اور مرزا جب اس کا نام لیتا تو اپنے کو

صفحہ 95

اس کا خادم کہتا اسے مخدوم لکھتا (دیکھئے مکتوبات احمدیہ حصہ ۵ نمبر ۲ ص ۸۴) اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ اندر سے تو حکیم نورالدین کو پتہ تھا کہ وہی مرزا کو اس مقام پر لانے والا ہے اور اسے سب کچھ سکھلانے والا ہے۔

حکیم نورالدین کا مرزا کو ایک دو اور موقعوں پر بھی اس طرح نظر انداز کرنا اس صورت حال کی خبر دیتا ہے مرزا غلام احمد اپنی جماعت کے لوگوں کی نماز جنازہ پڑھاتا تھا اور فرض نماز دوسروں کے پیچھے پڑھتا تھا لیکن حکیم نورالدین کا اپنا کوئی جنازہ ہوتا تو وہ مرزا غلام احمد کو نہ پڑھانے دیتا تھا۔ مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:

ڈاکٹر میر محمد اسمعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے زمانہ میں نماز جنازہ خود حضور ہی پڑھاتے تھے حالانکہ عام نمازیں حکیم نور الدین صاحب یا مولوی عبدالکریم صاحب پڑھاتے تھے کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ جمعہ کو جنازہ غائب ہونے لگا تو نماز تو مولوی صاحبان میں سے کسی نے پڑھائی اور سلام کے بعد حضرت مسیح موعود آگے بڑھ جاتے تھے اور جنازہ پڑھا دیا کرتے تھے مگر حضرت خلیفۃ المسیح اول کے جتنے بچے فوت ہوئے ان کی نماز جنازہ حضرت مولوی صاحب نے خود ہی پڑھائی حالانکہ حضرت مسیح موعود بھی شامل نماز ہوتے تھے۔

(سیرت المہدی ج ۳ ص ۱۶۷)

اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکیم صاحب کو اندر سے مرزا کا سب پتہ تھا اس لئے وہ اسے مرزا کہہ کر ذکر کرتے مرزا صاحب نہیں کہتے تھے۔ حکیم صاحب نے اسی پیرایہ میں کہا مرزا کا کلمہ اردو میں ہے۔ اور وہ یہ ہے: ’’میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا ۔‘‘

قادیانیوں کی نماز

قادیانیوں کی نماز ہم مسلمانوں سے جدا ہے۔ ہماری نمازوں میں اردو یا فارسی نظمیں کبھی نہیں پڑھی جاتیں مگر قادیانیوں کی ایک نماز کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں۔

مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:

ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گرمیوں میں مسجد مبارک میں مغرب کی نماز پیر سراج الحق نے پڑھائی ۔ حضور بھی اس نماز میں شامل تھے۔ تیسری رکعت میں رکوع کے بعد انہوں نے بجائے مشہور دعاؤں کے حضور کی ایک فارسی نظم پڑھی ۔ جس کا یہ مصرع

صفحہ 96

ہے ۔

اے خدا اے چارہ آزار ما

(سیرۃ المہدی جلد ۳ ص ۱۳۸)

پھر جب قادیانی لوگ ہمارے ساتھ ملکر نماز نہیں پڑھ سکتے، ہماری نماز کو نماز نہیں سمجھتے تو لوگوں میں یہ اس حدیث کو لاکر اپنے کو کیوں مظلوم بناتے ہیں۔

عن انس انه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من صلى صلوتنا واستقبل قبلتنا و اكل ذبيحتنا فذلك المسلم الذى له ذمة الله و ذمة رسوله۔

(ترجمہ) جو ہماری نماز پڑھے (ہماری نماز میں شامل ہو) ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرے (دین میں اس کا رخ ہماری مرکزیت/ ہمارے قبلہ سے ہٹنے نہ پائے) اور ہمارے ذبیحہ کو حلال جانے وہ شخص مسلمان ہے اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہے۔

قادیانی کیا ہماری نماز میں شریک ہوتے ہیں

مرزا بشیر احمد حافظ محمد ابراہیم سے روایت کرتا ہے غالباً ۱۹۰۳ء کا واقعہ ہے کہ ایک شخص نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے مسجد مبارک میں سوال کیا کہ حضور اگر غیر احمدی باجماعت نماز پڑھ رہے ہوں تو ہم اس وقت نماز کیسے پڑھیں۔

آپ نے فرمایا تم اپنی الگ پڑھ لو۔ اس نے کہا کہ حضور جب جماعت ہو رہی ہو تو الگ نماز پڑھنی جائز نہیں۔ فرمایا کہ اگر ان کی نماز باجماعت عنداللہ کوئی چیز ہوتی تو میں اپنی جماعت کو الگ پڑھنے کا حکم ہی کیوں دیتا۔ ان کی نماز اور جماعت جناب الٰہی کے حضور کچھ حقیقت نہیں رکھتی۔ اس لئے تم اپنی نماز الگ پڑھو۔

(سیرت المہدی جلد ۳ ص ۳۱)

اب آپ ہی غور فرمائیں کہ جو قادیانی حضرت انسؓ کی مندرجہ بالا حدیث کے حوالہ سے اپنی مظلومی ظاہر کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی سی نماز پڑھتے ہیں پھر معلوم نہیں وہ ہمیں کافر کیوں کہتے ہیں۔ کیا یہ ایک دھوکہ اور فریب نہیں ہے؟ کاش کہ ہمارے مسلمان بھائی الٹا ان سے سوال کریں کہ جب ہم کلمہ پڑھتے ہیں۔ اور مسجدوں میں نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور مسلمانوں کا ذبیحہ بھی کھاتے ہیں پھر تم ہمیں کافر کیوں کہتے ہو دنیا کے کروڑوں اربوں مسلمان

صفحہ 97

تمہاری تیغ تکفیر سے گھائل ہیں تم پوری امت کو کافر کہو تم پھر بھی حق بجانب اور ہم تمہیں کافر کہیں تو تم مظلومی کی ادائیں دکھاؤ کیا یہ خود ایک دھوکہ اور فریب نہیں ہے؟ قادیانی ہمیں کافر قرار دینے کیلئے (باوجودیکہ ہم اہل قبلہ میں سے ہیں) مرزا غلام احمد کے الفاظ میں یہ استدلال کرتے ہیں۔ کفر دو قسم پر ہے ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت کو خدا کا رسول نہیں مانتا اور دوسرا یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے (اور آخر میں لکھا ہے) اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔ (حقیقتہ الوحی ص ۱۷۹)

ایک مغالطے کا ازالہ

قادیانی گوریلوں کا یہ مغالطہ کہ ہم صرف انہیں کافر کہتے ہیں جو ہمیں کافر کہتے ہیں بالکل بے بنیاد ہے۔

قادیانی گوریلے عام مسلمانوں کو جو قادیانیت کے پس منظر سے واقف نہیں یہ حدیث سناتے ہیں کہ جو شخص کسی مسلمان کو کافر کہے کفر اس پر واپس لوٹتا ہے سو جو علماء ہمیں کافر کہتے ہیں جب کفر ان پر لوٹتا ہے تو وہ خود کافر ہو جاتے ہیں ہم انہیں کافر نہیں بناتے قادیانیوں کا یہ عذر لنگ محض ایک دھوکہ ہے مرزا بشیر الدین محمود ان لوگوں کو بھی کافر قرار دیتا ہے جنہوں نے مرزا غلام کا نام تک نہیں سنا مگر ان کا شمار ان لوگوں میں ہے جو مرزا غلام پر ایمان لائے ہوئے نہیں۔ مرزا بشیر الدین محمود لکھتا ہے:

”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“ (آئینہ صداقت ص ۳۵ تالیف ۱۹۲۱ء)

امام ابو حنیفہ کا قول کہ ہم اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے

اہل قبلہ کے لفظی معنی ہیں ایک قبلہ کی طرف رخ کرنے والے لیکن اس کے اصطلاحی معنی یہ ہیں کہ اسلام کی جملہ ضروریات دین کو ماننے والے۔ وہ امور جن کا دین اسلام میں سے ہونا ضروری طور پر معلوم ہو چکا ہے (جیسے عقیدہ ختم نبوت) ان سب کو ماننا مسلمان ہونے کیلئے

صفحہ 98

ضروری ہے اور ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کر دیا جائے تو یہ کفر ہے۔

اسلام کیلئے سب ضروریات دین ماننے کی شرط ہے۔ لیکن کفر کیلئے سب کے انکار کی ضرورت نہیں۔ کسی ایک کے انکار سے بھی انسان کافر ہو جاتا ہے۔ مجدد مائتہ دہم ملا علی قاریؒ نقل کرتے ہیں۔

اهل القبلة فی اصطلاح المتکلمین من یصدق بضروریات الدین۔

(شرح فقہ اکبر)

(ترجمہ) متکلمین کی اصطلاح میں ’’اھل قبلہ‘‘ وہ ہیں جو جملہ ضروریات دین کی تصدیق کریں۔

ایک اور مغالطہ

قادیانی بسا اوقات قرآن کے حوالے سے یہ بات کہتے ہیں کہ جو تمہیں السلام علیکم کہے تم اسے کافر نہ کہو ہم مسلمانو! تمہیں السلام علیکم کہتے ہیں۔ تم ہمیں کافر کیوں کہتے ہو۔

ہم کہتے ہیں السلام علیکم مسلمان ہونے کی علامات میں سے ہے یہ مسلمان ہونے کی بنیاد نہیں۔ بنیاد اسلام جملہ ضروریات دین پر ایمان ہونا ہے۔

ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ حضور کی جملہ تعلیمات کو دل سے سچا جانے علامات کا اعتبار اس وقت ہوتا ہے جب حقیقت سامنے نہ ہو جب حقیقت معلوم ہو تو اعتبار حقیقت کا ہو گا علامات کا نہیں۔ اگر تم جنگل میں جا رہے ہو اور وہاں کوئی شخص تمہیں السلام علیکم کہتا ہے تو تم اسے نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے۔ اور اگر جانا پہچانا کافر تمہیں السلام علیکم کہتا ہے تو تم اسے اس السلام علیکم کی وجہ سے مسلمان قرار نہیں دے سکتے۔

قرآن کریم میں آپ اس سلام کو سیاق و سباق کی روشنی میں دیکھ لیں۔

ولا تقولوا لمن القی الیکم السلام لست مومناً

اگر اس آیت کو اس کے ظاہری معنی پر رکھا جائے تو کیا کوئی کہہ سکے گا کہ اگر کوئی ہندو یا عیسائی تمہیں السلام علیکم کہہ دے تو وہ مسلمان ہو جائے گا؟ جب یہ نہیں تو معلوم ہوا کہ یہ علامات کے قبیل سے ہے حقیقت کے پہلو سے نہیں۔

ڈاکٹر عبدالحکیم آف پٹیالہ مرزا غلام احمد کے ماننے والوں میں سے تھا جب اس نے مرزا صاحب سے قطع تعلق کیا تو قادیانیوں نے اسے مرتد لکھا۔

(دیکھئے سیرۃ المہدی جلد اول ص ۶۵

صفحہ 99

کیا اس نے کلمہ اسلام لا اله الا الله محمد رسول اللہ چھوڑ دیا تھا کیا اس نے نمازیں چھوڑ دیں تھیں۔ کیا وہ مسلمانوں کو السلام علیکم نہ کہتا تھا اگر یہ سب علامات اسلام اس میں پائی جاتیں تھیں تو مرزا نے اسے مرتد کیوں کہا اگر وہ ان تمام علامات کے باوجود قادیانیوں کی زبان پر بطور مرتد مذکور ہے تو قادیانیوں کو ان ظاہر علامات کے باوجود غیر مسلم اور مرتد کیوں نہیں کہا جا سکتا ؟ ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم کے والد نے جب غلام احمد سے قطع تعلق کیا تو کیا انہوں نے کلمہ اسلام اور نماز پڑھنا چھوڑ دیا تھا پھر مرزا نے انہیں کیوں لکھا کہ آپ کا نام اسلام سے ہی کاٹ دیا گیا ہے۔ (سیرۃ المہدی جلد ۳ ص ۲۴۹)

ایمان کی حقیقت

ایمان تصدیق رسالت کا دوسرا نام ہے۔ تکذیب رسالت وہ ایک بات میں ہی کیوں نہ ہو کفر ہے۔ دور رسالت محمدیہ میں کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک ہر بات میں وہ حضور کے فیصلہ کو حق تسلیم نہ کرلے۔ ایمان حضور کی جملہ تعلیمات کی تصدیق کا ہی تو نام ہے۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ ان امور کا حضور کی تعلیم ہونا یقینی درجے میں معلوم ہو جس بات میں اختلاف ہو کہ یہ حضور کی تعلیم ہے یا نہیں اس کے انکار سے تکذیب رسالت نہیں ہوتی۔

وہ بات خود مختلف فیہ نہ ہو قرآن و حدیث اور فقہ و کلام کی رو سے ایمان کی تعریف یہی ہے اور حضور کو آپ کی جملہ تعلیمات میں سچا جاننے والا ہی مسلمان ہے۔ آپ کی کسی ایک بات کا انکار ہو تو بھی وہ شخص مسلمان نہیں رہتا۔

فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینهم ثم لا یجدوا فی انفسهم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما۔ (پ ۵ النساء نمبر ۶۵)

(ترجمہ) سو تیرے رب کی قسم یہ لوگ کبھی مومن نہ ہو سکیں گے جب تک یہ اپنے ہر اختلاف میں آپ کو حکم نہ مان لیں پھر وہ اپنے جی میں اس کے بارے میں کوئی بوجھ محسوس نہ کریں اور اپنے آپ کو پورے طور پر آپ کی سپرداری میں دے دیں۔

یومنون کی بات ویسلموا تسلیما تک پہنچی تو مسلمان کی تعریف سامنے آ گئی وہی شخص مومن ہے جس میں یہ صفت پائی جائے اور وہی مسلم ہے۔ جو شخص ہر بات میں حضور کو

صفحہ 100

سند نہ مانے اور اسے خلوص قلب سے قبول نہ کرے وہ مومن یا مسلم نہیں ہو سکتا۔ مسلمان ہونے کیلئے حضور کی سب باتوں کی تصدیق ضروری ہے۔

(۲) حدیث میں ہے حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

امرت ان اقاتل الناس حتی یشھدوا ان لا الہ الا اللہ ویؤمنوا بی وبما جئت بہ۔ (صحیح مسلم جلد ۱ ص ۳۷)

(ترجمہ) مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک جنگ میں رہوں جب تک وہ توحید باری کی گواہی نہ دے دیں۔ میری رسالت کی تصدیق نہ کریں اور ہر اس چیز کو حق نہ مانیں جو میں خدا سے لے کر آیا ہوں۔

اس سے پتہ چلا ہے کہ اسلام میں اقرار شہادتین کے ساتھ حضور کی جملہ تعلیمات کو حق ماننا بھی ضروری ہے حدیث کے الفاظ و بما جئت بہ اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ اس کا معنی ہے کہ ایمان والا وہی ہو سکتا ہے جو حضور کو پیغمبر ماننے کے ساتھ ساتھ آپ کی جملہ تعلیمات کو بھی حق مانے۔

(۳) امام الائمہ امام محمد (متوفی ۱۸۹ھ) لکھتے ہیں: من انکر شیئاً من شرائع الاسلام فقد ابطل قولہ لا الہ الا اللہ۔ (شرح سیر کبیر جلد ۳ ص ۲۶۵ طبع قدیم حیدر آباد دکن)

(ترجمہ) جس نے شرائع اسلام میں سے کسی ایک بات کا بھی انکار کر دیا اس نے اپنے کلمہ پڑھنے کو باطل کر لیا۔

اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ اب اسے کلمہ گو نہ کہا جا سکے گا اس نے اپنی یہ پوزیشن خود ضائع کر لی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ جو پورے اسلام کا عنوان ہے‘ اس کا تقاضا ہے کہ اسلام کی ہر ہر بات کو حق مانا جائے ضروریات دین میں سے ایک کا انکار بھی کیا جائے تو یہ پورا کلمہ (invalid) غیر موثر ہو جاتا ہے اب ایسے شخص کو کلمہ گو نہ کہا جا سکے گا۔

(۴) حافظ ابن تیمیہؒ (۷۲۸ھ) اسے ان لفظوں میں بیان کرتے ہیں۔ یہ فقہ حنبلی کی شہادت لیجئے۔ عقائد میں چاروں فقہوں میں کہیں کوئی اختلاف نہ ملے گا عقائد کی رو سے چاروں ایک ہی عنوان رکھتے ہیں اور اپنے آپ کو اہل السنۃ والجماعۃ ہی کہتے ہیں۔ حافظ لکھتے ہیں:

صفحہ 101

ان من لم يعتقد وجوب الصلوة الخمس والزكوة المفروضة ............. فهو كافر مرتد يستتاب فان تاب والا قتل باتفاق ائمة المسلمين ولا يغنى عند التكلم بالشهادتين ۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ جلد ۳۵ ص ۱۰۵)

(ترجمہ) بیشک جو شخص پنج وقت نماز اور فرض زکوٰۃ کا عقیدہ نہ رکھتا ہو وہ کافر مرتد ہے اسے توبہ کا موقع دیا جائے گا توبہ کر لے تو بہتر ورنہ باتفاق ائمہ مسلمین اسے قتل کیا جائے گا اور اس کا کلمہ پڑھنا اس کے کام نہ آسکے گا۔

اس سے پتہ چلا کہ قطعیات اسلام میں سے کسی ایک کا انکار بھی ہو تو اس شخص کا کلمہ پڑھنا اسے کفر سے ہرگز نہ بچاسکے گا۔

آگے ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

وان اظهروا الشهادتين مع هذه العقائد فهم كفار باتفاق المسلمين۔

(ایضاً ص ۱۶۱)

(ترجمہ) اور اگر وہ توحید و رسالت کی گواہی دیں اور اس قسم کے عقائد بھی رکھیں تو وہ باتفاق امت کافر ہیں۔

اس سے پتہ چلا کہ اسلام کے کسی امر قطعی کے انکار سے انسان اپنے اقرار شہادتین (کلمہ پڑھنے) کو باطل کر لیتا ہے اس صورت میں نہ اسے کلمہ گو کہا جاسکتا ہے نہ اسے قتل کی سزا سے بچایا جاسکتا ہے۔

ایک مقام پر وحدت الوجود والوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ويقولون مافى الوجود غيره ............. او يقولون انه هو او انه حل فيه . وهولاء كفار با صلى الاسلام وهما شهادة ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله ۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ جلد ۱۱ ص ۵۰)

(ترجمہ) اور وہ کہتے ہیں کہ موجودات میں اللہ کے سوا، کچھ بھی نہیں یا وہ کہتے ہیں بس وہی ایک ہے یا یہ کہ وہ اس میں (ہر چیز میں) اُترا ہوا ہے اور یہ لوگ اسلام کی دونوں بنیادوں (لا الا الله محمد رسول الله) کے منکر ہیں۔

اس سے بھی پتہ چلا کہ قطعیات اسلام میں شک کرنے والا اپنے کلمہ اسلام کو باطل کر لیتا ہے اور اسے کلمہ گو نہیں کہا جاسکتا۔

صفحہ 102

ان الايمان فى الشرع هو التصديق بما جاء به من عند الله تعالىٰ ........... فى جميع ما علم بالضرورة مجيئه به من عند الله تعالىٰ ۔ (ص ۱۵۳ استنبول)

(ترجمہ) شریعت میں ایمان ہر اس بات کی تصدیق کا نام ہے جو حضور ﷺ اللہ تعالیٰ سے لے کر آئے ہر وہ بات جس کا حضور ﷺ کا اللہ تعالیٰ سے لانا ضروری طور پر معلوم ہو چکا۔

حضور کی جو تعلیمات ہم تک اجمال سے پہنچیں ان پر اجمالاً ایمان لانا کافی ہے مگر جو ہم تک تفصیل سے پہنچیں ان پر اس تفصیل سے ایمان لانا ضروری ہے مغرب کی فرض نماز تین رکعات ہیں اس نماز پر اسی تفصیل سے ایمان لانا ضروری ہے۔ دسویں صدی کے مجدد امام ملا علی قاری لکھتے ہیں: الا ان الاولىٰ ان يقال اجمالاً ان لوحظ اجمالاً و تفصيلاً ان لوحظ تفصيلاً فانه يشترط التفصيل فيما لوحظ تفصيلاً۔ (شرح فقہ اکبر ص ۱۲۵)

ایمان کی حقیقت یہ ہی ہے کسی کے بارے میں یہ معلوم نہ ہو تو ہم محض علامات سے اس کا مسلمان ہونا معلوم کر سکیں گے لیکن جب حقیقت کھل جائے تو صرف علامات کا اعتبار نہ کیا جاسکے گا۔ حضور نے فرمایا: المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده۔

(صحیح بخاری جلد ۱ ص )

(ترجمہ) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان بچے ہوئے ہوں۔

ظاہر ہے کہ یہاں ایمان کی حقیقت سے بحث نہیں ہو رہی نہ تصدیق رسالت کی ضرورت بیان کی جا رہی ہے یہ صرف ایک علامت اسلام کا بیان ہے جو ہر مسلمان میں ہونی چاہیے۔ محدثین اس حدیث کو علامات اسلام کے تحت میں ذکر کرتے ہیں:

اشاره الىٰ ان علامة الاسلام هى السلامة من ايذاء الخلائق كما ان الكذب والخيانة وخلف الوعد علامة المنافق۔ (مرقات جلد ۱ ص ۷۴)

سلامة من ايذاء الخلائق مسلمان ہونے کی علامات میں سے ہے یہ نہیں کہ ہر وہ شخص جو کسی مسلمان کو اذیت نہ دے اسے مسلمان سمجھنا ضروری ہوگا گو وہ سکھ ہی کیوں نہ ہو ایمان کی حقیقت کیا ہے اسے آپ قرآن کریم، حدیث پاک، فقہ حنفی اور علم کلام سے معلوم کر چکے مرزا غلام احمد بھی جب تک مسلمان تھا ایمان کی اسی حقیقت کا قائل رہا۔

صفحہ 103

محض علامات کو اس نے بھی کبھی اسلام کی حقیقت نہ کہا تھا۔ مرزا غلام احمد نے ۱۲ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ایک اشتہار دیا جو اب تبلیغ رسالت کے دوسرے حصے میں موجود ہے اس میں ہے۔

والجماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن و حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کاذب و کافر جانتا ہوں۔ (تبلیغ رسالت جلد ۲ ص ۲)

پھر جب وحی نے جبراً مرزا غلام احمد کے عقیدے میں تبدیلی کرائی تو مرزا صاحب ۱۹۰۱ء کے بعد ایک دوسرے عقیدہ پر آگئے اور پہلے عقیدہ والے مسلمانوں نے کہا کہ اب یہ ملت اسلامی سے نکل گئے ہیں اور ان کا اسلام ایک نیا اسلام ہے جس کے ماننے والے کو ہم مسلمان نہیں سمجھتے۔ مسلمان وہی ہے جو ان پانچ شہادتوں کے مطابق حضور خاتم النبیین کی ایک ایک بات کو جو آپ سے تواتر اور قطع و یقین سے ثابت ہوتی ہے۔ حق اور سچ مانتا ہو محض مسلمان ہونے کی علامات سے کسی کو مسلمان نہیں سمجھا جاسکتا۔

سو یہ صرف چند مغالطے ہیں جن کے بل بوتے پر قادیانی گوریلے ہمارے نوجوانوں کو مغالطہ دیتے ہیں کہ ہم کلمہ پڑھتے ہیں ہم مسلمان ہیں ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ ان موضوعات پر کسی قادیانی سے نہ الجھیں وہ الجھائیں بھی تو آپ ان کی بات میں نہ آئیں صرف یہی کہیں کہ بات کرنی ہے تو مرزا غلام احمد پر کرو اور شروع یہیں سے کرو کہ وہ شراب پیتا تھا یا نہیں؟ اس کا دین کیا تھا کیا وہ امانتدار تھا یا بددیانت۔ غیر محرم عورتوں سے اختلاط رکھتا تھا یا وہ متقی قسم کا آدمی تھا۔ اس قسم کے سوالات اگر ان کا پس منظر جانتے ہوئے کئے جائیں تو یہ قادیانی خواہ ان کا کتنے ہی بڑے معیار کا مبشر و مربی کیوں نہ ہو شکست کھانا ضروری اور یقینی ہے۔ قادیانی ان موضوعات سے لاکھ بھاگیں ۔ مسلم طلبہ اور نوجوان انہیں ان موضوعات سے بھاگنے نہ دیں۔ ہم اس مقدمہ میں اس پر بھی ایک فصل بطور گزارش کئے دیتے ہیں۔

صفحہ 104

قرآن وحدیث کے مسائل میں الجھے بغیر براہ راست قادیانیت پر

غور کرنے کا آسان راستہ

کسی مدعی الہام اور اس کے مامور آسمانی ہونے کو جانچنے کی آسان راہ اس کی پیش گوئیاں ہیں جو اس نے اپنے صادق و کاذب ہونے کے باب میں تحدی سے پیش کی ہوں۔ مرزا غلام احمد قادیانی خود لکھتا ہے:

بڑھ کر اور محک امتحان نہیں ہوسکتا ہے۔“

(تبلیغ رسالت جلد اول ص ۱۱۸، ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء آئینہ کمالات اسلام ص ۲۸۸)

زیادہ اس سے کیا لکھوں۔“ خاکسار مرزا غلام احمد ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ۶۵۱)

کذب جانچنے کی کسوٹی ٹھہرایا۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ مرزا غلام احمد ان پیش گوئیوں میں ایک ایک میں جھوٹا نکلا۔ اور اپنے کئی دشمنوں کے سامنے ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک ہوا۔ یہ آخری لفظ سخت ضرور ہیں۔ لیکن یہ الفاظ راقم الحروف کے نہیں خود مرزا غلام احمد کے ہیں۔ مرزا غلام احمد نے اپنی پیش گوئیوں میں خود یہ دعا کی تھی اے خداوند اگر یہ پیشگوئیاں میری طرف سے نہیں تو مجھے ذلت اور نامرادی کے ساتھ ہلاک کر۔

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم ص ۴۳)

افسوس کہ مرزا صاحب اپنے بعض دشمنوں کی زندگی میں اپنی پیشگوئیوں کو جھوٹا کرتے ہوئے مر گئے کیا یہ ان کے اپنے الفاظ میں ذلت اور نامرادی کی موت نہیں؟ تاہم یاد رکھیے پیغمبر اپنی صداقت کے لئے اس قسم کی زبان کبھی نہیں بولتے اور نہ وہ کسی پیرایہ میں کبھی اپنے نبی نہ ہونے کا سوچ سکتے ہیں۔ پھر ساتھ ساتھ یہ بد زبانی بھی ملاحظہ کرتے جائیں جو یہ شخص اپنے بارے میں بول رہا ہے۔ جو اپنے حق میں یہ زبان بول سکتا ہے وہ دوسروں کے بارے میں کیا زبان بولے گا یہ آپ خود اندازہ کر لیں۔

صفحہ 105

پیغمبر اپنے نبی نہ ہونے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتے

نہ وہ اسے کسی شرط سے مشروط کرتے ہیں

جس طرح انسان کبھی اس طرف نہیں جاسکتا کہ شاید میں انسان نہ ہوں کیونکہ انسان ہونا اس کی صفات ذاتیہ میں سے ہے اسی طرح پیغمبر کبھی اس سوچ میں نہیں جاتا کہ شاید میں پیغمبر نہ ہوؤں قرآن کریم نے بہت سے پیغمبروں کے دعویٰ نبوت اور ان کی اپنے مخالفوں سے بات چیت کا ذکر کیا ہے لیکن ان میں آپ کو ایک واقعہ بھی نہ ملے گا کہ کوئی پیغمبر کوئی شرط لگا کر اس پر اپنے نبی نہ ہونے کا جملہ بولے پیغمبر اپنے نبی نہ ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے نہ وہ اسے کسی واقعہ کے ہو جانے سے ثابت کرتے ہیں۔

پیغمبروں کی پیشگوئیاں بیشک برحق ہیں لیکن کسی پیغمبر نے کبھی اپنی نبوت کو کسی پیشگوئی کی بھینٹ پر نہیں رکھا وہ پیشگوئی کر کے کبھی یہ نہ کہیں گے کہ اگر یہ اس طرح پوری نہ ہوئی تو وہ خدا کی طرف سے نہیں ہیں یہ سوچ کبھی ان کے صحن فکر میں داخل نہیں ہوتی۔ جن پیغمبروں نے اپنی قوم کو آنے والے عذاب سے ڈرایا انہوں نے بھی یہ نہ کہا کہ اگر عذاب نہ آئے تو ہم خدا کی طرف سے نہیں ہیں پیغمبر پیشگوئی کرتے ہیں اور وہ پوری بھی ہوتی ہے لیکن وہ کسی پیشگوئی کے ساتھ تحدی نہیں کرتے اور اسے اپنے صدق و کذب کا محک نہیں بتاتے قرآن کریم سے آپ کو اس کی ایک مثال بھی نہ ملے گی۔

پیغمبروں کے معجزات برحق ہیں معجزہ سامنے آنے پر ہی نہ ماننے والوں کو اس کی مثل لانے سے عاجز سمجھا جاتا ہے معجزہ دکھانے سے پہلے کبھی یہ تحدی نہیں ہوتی کہ اگر میں ایسا نہ کر دکھاؤں تو میں پیغمبر نہیں ہوں۔ (معاذ اللہ استغفراللہ)

پیغمبرانہ دعوت کا اسلوب

پیغمبر ہمیشہ خدا کو سامنے رکھتے ہیں ۔ وہ اسلام کی دعوت دیتے ہیں تو خدا کے نام سے دیتے ہیں اپنے نام سے نہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا خدا کو مان لینا خود ان کے مان لینے کو لازم ہوگا لیکن بات چیت میں وہ اپنے آپ کو آگے نہیں رکھتے اور خدا کی راہ کو وہ اپنی پیشگوئیوں سے وابستہ نہیں رکھتے ان کی دعوت میں توحید پہلے ہوتی ہے اور اپنی رسالت کی دعوت وہ اس کے ضمن میں سامنے لاتے ہیں۔

صفحہ 106

مرزا غلام احمد کا اسلوب دعوت

مرزا غلام احمد کا پیرایہ دعوت پیغمبرانہ اسلوب دعوت سے بالکل میل نہیں کھاتا اس میں (Black Mailing) کا عنصر نمایاں طور پر نظر آتا ہے جو مرزا غلام احمد کی شرافت اور دیانت کو ابتداء میں ہی تار تار کر دیتا ہے

حکومت کو اطلاعات فراہم کرنے کی دھمکی دینا۔

یہ وہ امور ہیں جو آپ کو کسی پیغمبر کے اسلوب دعوت میں نہ ملیں گے۔ پیغمبر جو بات کہتے ہیں وہ اتنی ہی ان کے ذہن میں ہوتی ہے جتنی وہ کہتے ہیں۔ کسی حصے کو چھپانے اور کسی کو ظاہر کرنے کی چالیں ان کے ذہن میں نہیں ہوتیں۔ پیشگوئیوں میں وہ استعارہ میں بات نہیں کرتے نہ وہ استعاروں کو اپنی صداقت کی کسوٹی بناتے ہیں۔ اور نہ وہ گالیوں سے اپنے مخالفوں کی زبان بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مخالفوں کو موتوں سے ڈرانا

(۱) مولانا سعد اللہ لدھیانوی کو موت کی دھمکی

اذیتنی خبثا فلست بصادق
ان لم تمت بالخزی یا ابن بغائی

(انجام آتھم و روحانی خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۲)

(ترجمہ) تو نے مجھے اپنی خباثت سے تکلیف دی ہے سو میں سچا نہیں اے نسل بدکاراں اگر تو ذلت سے نہ مرے۔

صفحہ 107

(۲) مولانا ثناء اللہ امرتسری کی زندگی میں مرنے کی پیشگوئی

اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ (تبلیغ رسالت ج۱۰ ص ۱۲۰)

(۳) پادری عبداللہ آتھم کی موت کی پیشگوئی

وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کیلئے تیار ہوں مجھ کو ذلیل کیا جائے۔ (جنگ مقدس ص ۱۸۸)

(۴) ڈاکٹر عبدالحکیم کی ہلاکت کی پیشگوئی

وہ ڈاکٹر ہے ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے اس کا دعویٰ ہے کہ ۱۴ اگست ۱۹۰۸ تک مر جاؤں گا اور یہ اس کی سچائی کا نشان ہوگا مگر خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی کے مقابل مجھے خبر دی ہے کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا۔ (چشمہ معرفت ص ۳۲۷)

(۵) مرزا احمد بیگ کے داماد (محمدی بیگم کے خاوند) کی موت کی پیشگوئی

وقال انما ستجعل ثيبة ويموت بعلها وابوها الى ثلث سنة عن يوم النكاح ثم ردها اليك بعد موتهما۔ (کرامات الصادقین ص ۱۶۲۔ رخ جلد ۷ ص ۱۶۲)

(ترجمہ) اور اللہ نے کہا ہے وہ عنقریب بیوہ کی جائے گی اور اس کا خاوند اور باپ نکاح سے تین سال کے اندر اندر مر جائیں گے پھر وہ ان دونوں کی موت کے بعد تیرے نکاح میں لائی جائے گی۔

میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کا پورا ہونا تقدیر مبرم ہے اس کا انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔

(انجام آتھم حاشیہ ص ۳۱)

(۶) پنڈت لیکھرام کی غیر معمولی موت کی پیشگوئی

خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو بیس فروری ۱۸۹۳ء ہے چھ

صفحہ 108

برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں .......... عذاب شدید میں مبتلا کیا جائے گا سو اب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں، آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص (پنڈت لیکھ رام) پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت نہ رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ۶۵۱)

خرق عادت عذاب سے مراد وہ پکڑ ہے جو انسانی ہاتھوں کی نہ سمجھی جا سکے اس میں قتل وغیرہ کی کوئی صورت نہ ہو قتل تو مخالفین میں ہوتے ہی رہتے ہیں۔ دیکھئے یہ موتوں کا بادشاہ کس طرح موتوں پر موتیں لا رہا ہے اور موتوں کی دھمکیوں سے اپنی نبوت منوا رہا ہے کیا یہ کھلی بلیک میلنگ (Black Mailing) نہیں ہے۔ اس وقت یہ بحث نہیں کہ یہ پیشگوئیاں پوری ہوئیں یا نہ۔ یہ بحث آگے آئے گی اس وقت صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ مرزا غلام احمد کا اپنی نبوت کو ان پیشگوئیوں کی بھینٹ چڑھانا اور اپنی نبوت کو دوسروں کی موتوں سے وابستہ کرنا یہ وہ راہ ہے جو اب تک کسی پیغمبر نے نہ اپنائی، پیغمبر اپنے بارے میں نبی نہ ہونے کا کبھی سوچ نہیں سکتے نہ وہ اپنی نبوت کو دنیا کے کسی واقعہ یا حادثہ کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔

مرزا کے اپنی نبوت کی دعوت دینے کے غیر فطری پیرائے

مرزا غلام احمد کا سارا لٹریچر اس قسم کی بلیک میلنگ سے بھر پور ہے اس مختصر تحریر میں ان پر تفصیلی بحث کی گنجائش نہیں تاہم مرزا غلام احمد کی ایک پیشگوئی کا ہم یہاں ذکر کئے دیتے ہیں وہ اس پہلو سے نہیں کہ وہ پیشگوئی اپنے ہاں پوری ہوئی یا نہ یہاں ہم صرف یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد پیشگوئی کرنے میں کس قدر چالاک اور عیار بنا رہتا بلکہ اسکے پورا نہ ہونے پر اصل الفاظ کو بدلنے میں بھی اسے کوئی شرم نہ آتی تھی۔

مرزا قادیانی کی اس چھٹی پیشگوئی کی کچھ ضروری تفصیل

مرزا صاحب کی صرف ایک پیشگوئی ہے جو مقرر کردہ تاریخ کے اندر واقع ہوئی اور وہ پنڈت لیکھ رام کی موت کی پیشگوئی تھی لیکن اسے ہم پیشگوئی کا پورا ہونا نہیں کہہ سکتے کیونکہ پیشگوئی کے الفاظ میں یہ ایک ایسی موت تھی جو انسانی ہاتھوں سے بالا ہو اسے دیکھ کر کسی انسانی

صفحہ 109

کارروائی کا گمان نہ گزرے۔ چھری سے قتل ایسی موت ہے جو انسانی ہاتھوں سے وقوع میں آتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ قاتل پکڑا جاسکے یا نہ۔ لیکن جو موت کسی پر آسمانی لعنت کے طور پر اترے اس میں اس قسم کی علامات نہیں پائی جاتیں۔ کہ دیکھنے والے کو اس میں کسی انسانی سازش کا گمان گزرے پنڈت لیکھ رام جو مقررہ تاریخ کے اندر چھری سے مارا گیا اس پیشگوئی کے الفاظ آئینہ کمالات اسلام ص ۶۵۱ پر یہ تھے۔

”خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء ہے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کی ہیں۔ عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔ سو اب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں، آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے۔ اور اگر میں اس پیشگوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا میں بھگتنے کیلئے تیار ہوں۔ اور اس بات پر میں راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسی ڈال کر سولی پر کھینچا جائے ۔“

پھر جب پنڈت لیکھ رام مارا گیا تو اس پیشگوئی کے الفاظ اس طرح وضع کر لیئے گئے۔

”میں نے اس کی نسبت پیشگوئی کی تھی کہ چھ برس تک چھری سے مارا جائے گا۔“

(نزول المسیح ص ۷۵، ر۔خ جلد ۱۸ ص ۵۵۳)

اب آپ ہی دیکھیں کہ چھری کا لفظ اصل پیشگوئی میں نہ تھا مگر جب پنڈت لیکھ رام عملاً چھری سے مارا گیا تو مرزا غلام احمد نے نہایت چالاکی سے اصل پیشگوئی میں چھری کے الفاظ داخل کر دیئے۔ یہ اپنے فریب سے اسے پورا کرنے کی کوشش نہیں تو اور کیا ہے؟ مرزا غلام احمد کے یہ الفاظ یاد رکھیے اور دیکھئے کہ کیا وہ خود ان کا مصداق نہیں؟

ہم ایسے شخص کو اور ساتھ ہی ایسے مرید کو کتوں سے بدتر اور نہایت ناپاک زندگی والا خیال کرتے ہیں کہ جو شخص اپنے گھر سے پیشگویاں بنا کر پھر اپنے ہاتھ سے، اپنے مکر سے، اپنے فریب سے ان کے پورے ہونے کی کوشش کرے اور کرائے۔ (سراج منیر ص ۲۳) خرق عادت کے الفاظ سے ہٹ کر چھری کے الفاظ اپنی طرف ملانا کیا اپنی پیشگوئی کو درست ثابت کرنے کی

صفحہ 110

ایک چال نہیں؟ اس کا فیصلہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں۔

ایک حیرت اور تعجب کا ازالہ

آپ یہ خیال نہ کریں کہ مرزا غلام احمد کو اس قسم کی جھوٹی پیشگوئیوں سے اس صف کے لوگوں میں آنے کا کیوں شوق تھا؟ اگر نہیں تو وہ کیسے پیشگوئیاں پر پیشگوئیاں کرتا چلا گیا۔ کیا اسے خود معلوم نہ تھا کہ اس مدت کے آگے میری ذلت اور رسوائی کے دن آئیں گے اور سب لوگ مجھے جھوٹا کہیں گے۔ مرزا غلام احمد جن الفاظ میں پیشگوئی کرتا ہے ان سے متبادر ہوتا ہے کہ وہ بات بنا نہیں رہا خالص جھوٹ کو کیسے اس قسم کے یقینی الفاظ میں ڈھالا جا سکتا ہے؟ اس تعجب کا ازالہ درکار ہے:

مرزا غلام احمد کو ایسے چکر شیطان دیتا تھا وہ ایسی باتیں بہ پیرایہ وحی غلام احمد کے دل میں ڈالتا تھا اور یہ نادان سمجھتا تھا کہ یہ وحی خداوندی ہے جو ختم نبوت کے بعد پھر سے جاری ہو گئی ہے۔ قرآن کریم میں خبر دی گئی ہے کہ شیطان کبھی اس پیرائے میں بھی اپنے پیرووں پر حملہ آور ہوتا ہے۔

وان الشياطين ليوحون الى اوليائهم ليجادلوكم وان اطعتموهم انكم لمشرکون۔ (پ ۸ الانعام ۱۲۱)

(ترجمہ) اور شیطان وحی کرتے ہیں اپنے دوستوں کی طرف تا کہ وہ تم سے مجادلہ کریں اور اگر تم نے ان کی بات مانی تو تم بھی مشرک ہو گئے۔

شیطانی وحی کس طرح آتی ہے اس میں بہت وسعت ہے ضروری نہیں کہ جن پر آئے اسی وقت انہیں اس کا پتہ چل جائے۔

مرزا غلام احمد خود بھی اس اصول کو مانتا ہے۔ ”واضح ہو کہ شیطانی الہامات کا ہونا حق ہے۔“ (ضرورة الامام ص ۱۳)

مرزا غلام احمد کی ایک نادانی اور ایک چالاکی

غلام احمد اپنے سچا اور جھوٹا ہونے کی بجائے اس پیرائے میں سامنے کیوں آتا تھا کہ یہ وحی اس نے خود نہیں گھڑی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کی باتوں کے بیشتر الفاظ اسے اس وحی

صفحہ 111

شیطانی سے موصول ہوتے تھے اور ان میں وہ اپنے آپ کو مفتری نہیں سمجھتا تھا لیکن اس بات میں وہ خود مجرم تھا کہ جب واقعات ثابت کر دیتے کہ وہ وحی خداوندی نہ تھی تو وہ اسے خواہ مخواہ سچ ثابت کرنے کے لئے تاویلات کرتا تھا اور بجائے اس کے کہ وہ اس شیطانی وحی کو کتاب وسنت پر پیش کرتا وہ اسے وحی خداوندی سمجھتے ہوئے خود اپنے سابقہ اسلامی عقائد کو چھوڑ گیا اس قسم کی وحی شیطانی نے جبراً اس کے عقائد میں تبدیلی کرائی۔

مرزا بشیر الدین محمود لکھتا ہے:

”الغرض حقیقۃ الوحی کے حوالہ نے واضح کر دیا کہ نبوت اور حیات مسیح کے متعلق آپ کا عقیدہ پہلے عام مسلمانوں کی طرح تھا مگر پھر دونوں میں تبدیلی فرمائی۔“

(الفضل ۶ ستمبر ۱۹۲۱ء خطبہ جمعہ کالم ۳)

پھر یہ بھی کہا:

”دعویٰ مسیحیت کی بابت بھی تبدیلی جبراً بذریعہ وحی ہوئی اور نبوت کے متعلق بھی سابق عقیدہ میں وحی نے جبراً تبدیلی کرائی۔“ (ایضاً)

صورت حال کچھ بھی ہو یہ بات اپنی جگہ صحیح اور یقینی ہے کہ مرزا غلام احمد کی پیشگوئیاں کھلے بندوں جھوٹی نکلیں اور اگر کوئی شیطانی وحی کبھی سچی بھی نکلی تو یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ وحی خداوندی تھی مرزا خود لکھتا ہے:

”ممکن ہے ایک خواب سچا بھی ہو اور پھر بھی وہ شیطان کی طرف سے ہو اور ممکن ہے کہ ایک الہام سچا ہو اور پھر بھی وہ شیطان کی طرف سے ہو کیونکہ اگر چہ شیطان بڑا جھوٹا ہے لیکن کبھی سچی بات بتلا کر دھوکہ دیتا ہے تا ایمان چھین لے۔“ (حقیقۃ الوحی ص ۳)

مرزا غلام احمد کی یہ عبارت آپ پہلے بھی دیکھ آئے ہیں:

”واضح ہو کہ شیطانی الہامات کا ہونا حق ہے۔“ (ضرورت الامام ص ۱۳)

مرزا صاحب تو یہ بھی لکھتے ہیں:

”راقم کو اس بات کا تجربہ ہے کہ اکثر پلید طبع اور سخت گندے اور ناپاک اور بے شرم اور خدا سے نہ ڈرنے والے اور حرام کھانے والے فاسق و فاجر بھی سچی خوابیں دیکھ لیتے ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ۴۸)

یہ وجہ ہمیں سمجھ میں نہیں آئی کہ اس حقیقت کو مرزا صاحب اپنا تجربہ کیسے بتا رہے

صفحہ 112

ہیں ۔

انہیں اس قسم کے لوگوں کی صف میں بیٹھنے کا کیوں شوق تھا ۔

ہم ذیل میں مرزا غلام احمد کی چند پیشگوئیوں کا ذکر کریں گے اور یہ بات اپنی جگہ حق ہے کہ وحی الہی پر مبنی کوئی پیشگوئی غلط نہیں ہوتی قرآن کریم میں ہے :

فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله ان الله عزيز ذو انتقام ۔

(پ ۱۳ ابراہیم ۴۷)

(ترجمہ) سو خیال مت کر کہ اللہ اپنے رسولوں کو دیئے گئے وعدے کا خلاف کرے گا بیشک اللہ زبردست ہے بدلہ لینے والا ۔

ہم یہاں پہلے مرزا غلام احمد کی چند پیشگوئیاں ذکر کرتے ہیں اور ان کے بعد مرزا کی زندگی کے دوسرے پہلوؤں جیسے : (۱) لین دین میں بددیانتی‘ (۲) انسانی حقوق کی پامالی‘ (۳) کھلے بندوں جھوٹ بولنا‘ (۴) تضادات کا شکار ہونا‘ (۵) بدزبانی اور فحش پسندی‘ وغیرہ ذکر کئے جائیں گے ۔

مرزا غلام احمد کی جھوٹی پیشگوئیاں

مرزا غلام احمد کے مخالفین میں عیسائیوں میں پادری آتھم‘ مسلمانوں میں مولانا ثناء اللہ امرتسری‘ عورتوں میں مرحومہ محمدی بیگم اور اپنے ساتھیوں میں پٹیالہ کے ڈاکٹر عبدالحکیم اور ہندوؤں میں پنڈت لیکھ رام خاص طور پر مرزا غلام احمد کی پیشگوئیوں کا موضوع بنے مرزا غلام احمد لکھتا ہے :

”در حقیقت میرا صدق یا کذب آزمانے کیلئے یہی کافی ہیں ۔“

(ازالہ اوہام جلد ۲ ص ۳۱۸)

ضروری نہیں کہ جس قدر بطور نمونہ کے میں نے پیشگوئیاں کی ہیں ایک ایک پیشگوئی کا جھوٹا ہونا ثابت کیا جائے ۔

مرزا غلام احمد کی ایک پیشگوئی بھی جھوٹی نکلے تو یہ اس کے کاذب ہونے کیلئے کافی ہے۔ خود لکھتا ہے :

”اگر ثابت ہو کہ میری سو پیشگوئی میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی تو میں اقرار کروں گا کہ

صفحہ 113

میں کاذب ہوں۔“ (اربعین حصہ ۴ ص ۲۵۔ رخ ج ۱۷ ص ۴۶۱) اب ہم پادری عبداللہ آتھم سے اس بحث کا آغاز کرتے ہیں۔

(۱) عبداللہ آتھم کی موت کی پیشگوئی

مرزا غلام احمد نے ۵ جون ۱۸۹۳ء کو عبداللہ آتھم کی موت کی پیشگوئی کی اور کہا کہ خدا نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے۔ مرزا غلام احمد اور پادری عبداللہ آتھم کا تحریری مناظرہ امرتسر میں ۲۲ مئی ۱۸۹۳ء سے شروع ہو کر ۵ جون ۱۸۹۳ء تک پندرہ دن رہا۔ اس میں حکیم نور الدین اور مولوی سید محمد احسن مرزا صاحب کے معاون تھے اسی مناظرے کی روئداد جنگ مقدس کے نام سے شیخ نور احمد مالک ریاض ہند پریس امرتسر نے شائع کی۔ مرزا غلام احمد نے اپنی آخری تحریر میں لکھا:

آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابہتال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لیکر یعنی ۱۵ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کیلئے تیار ہوں۔

(۱) مجھ کو ذلیل کیا جائے‘ (۲) روسیاہ کیا جائے‘ (۳) میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے اور (۴) مجھ کو پھانسی دی جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ (۱) وہ ضرور ایسا ہی کرے گا‘ (۲) ضرور کرے گا‘ (۳) ضرور کرے گا‘ (۴) زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔

(جنگ مقدس ص ۲۱۱۔ رخ جلد ۶ ص ۲۹۲۔۲۹۳)

اس پیشگوئی کے مطابق آتھم کی موت کا آخری دن ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء قرار پایا مگر دنیا گواہ ہے کہ وہ ۵ ستمبر کو صحیح سلامت موجود تھا۔ اب عبداللہ آتھم کا خط بھی پڑھیں جو اس وقت کے اخبار

صفحہ 114

”وفادار“ لاہور میں شائع ہوا۔

”میں خدا کے فضل سے تندرست ہوں اور آپ کی توجہ مرزا صاحب کی کتاب نزول مسیح کی طرف دلاتا ہوں جو میری نسبت اور دیگر صاحبان کی موت کی پیشگوئی ہے........... اب مرزا صاحب کہتے ہیں کہ آتھم نے اپنے دل میں چونکہ اسلام قبول کرلیا ہے اس لئے نہیں مرا۔ خیر ان کو اختیار ہے جو چاہیں سو تاویل کریں کون کسی کو روک سکتا ہے میں دل سے اور ظاہراً پہلے بھی عیسائی تھا اور اب بھی عیسائی ہوں اور خدا کا شکر کرتا ہوں۔“

یہ دل سے توبہ کرنے کا تصور بھی مرزا صاحب کی نئی شریعت ہے قرآن شریف تو اس توبہ کو لائق قبول ٹھہراتا ہے جو کھول دی جائے یہ اچھی توبہ ہے۔ جو پیشگوئی کے جھوٹا نکلنے پر آتھم کے سرتھوپی جارہی ہے قرآن کریم تو توبہ کے ساتھ اس کے بیان ہونے کو بھی لازم ٹھہراتا ہے:

الا الذین تابوا واصلحوا و بینوا فاولئک اتوب علیہم ۔ (پ۲ البقرہ ۱۶۰)

(ترجمہ) مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اور (اپنے بگاڑ کی) اصلاح کی اور اسے برسر عام بیان کیا وہ لوگ ہیں جن کی میں توبہ قبول کرتا ہوں۔

پھر اگر آتھم واقعی تائب ہو چکا تھا تو خدا تعالیٰ نے مرزا صاحب کو ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء سے پہلے کیوں اطلاع نہ دے دی۔ شیخ یعقوب علی عرفانی ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء کو اپنی جماعت کا حال ان لفظوں میں ذکر کرتا ہے:

”آتھم کی پیشگوئی کا آخری دن آ گیا اور جماعت میں لوگوں کے چہرے پژمردہ ہیں اور دل سخت منقبض ہیں بعض لوگ ناواقفی کے باعث مخالفین سے اس کی موت پر شرطیں لگا چکے ہیں ہر طرف سے اداسی اور مایوسی کے آثار ظاہر ہیں لوگ نمازوں میں چیخ چیخ کر رو رہے ہیں کہ اے خداوند ہمیں رسوا مت کریو غرض ایسا کہرام مچا ہے کہ غیروں کے رنگ بھی فق ہو رہے ہیں۔“ (سیرت مسیح موعود ص ۷)

خود مرزا صاحب کا حال اس دن کیا تھا اسے ان کے بیٹے بشیر احمد کے بیان میں دیکھیں آپ اس دن عملیات میں گھرے ہوئے تھے اور دانے پڑھ رہے تھے وہ لکھتا ہے:

”وظیفہ ختم کرنے کے بعد ہم وہ دانے حضرت صاحب کے پاس لے گئے کہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا۔ اس کے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے باہر لے گئے اور فرمایا کہ یہ دانے کسی غیرآباد کنویں میں ڈالے جائیں گے

صفحہ 115

اور فرمایا کہ جب میں دانے کنویں میں پھینک دوں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہیے اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔“

(سیرت المہدی ج ۱ ص ۱۵۹)

یہ عملیات بتا رہے ہیں کہ مرزا غلام احمد آتھم کو اندر سے مسلمان ہوا نہ سمجھتا تھا پھر معلوم نہیں خدا نے اسے مسلمان ہوا کیسے سمجھ لیا اور اس سے موت ٹال دی۔ مرزا بشیر الدین محمود کا بیان بھی لائق دید ہے جو الفضل ۲۰ جولائی ۱۹۳۰ء میں چھپا ہے وہ کہتا ہے: ”اس دن کتنے کرب واضطراب سے دعائیں کی گئیں چیخیں سوسو گز تک سنی جاتی تھیں اور ان میں سے ہر ایک زبان پر یہ دعا جاری تھی کہ یا اللہ آتھم مرجائے یا اللہ آتھم مرجائے۔“

مگر افسوس کہ اس کہرام اور آہ وزاری کے نتیجے میں بھی آتھم نہ مرا۔

(۲) محمدی بیگم سے نکاح کی پیشگوئی

یہ کمسن لڑکی ایک رشتہ سے مرزا صاحب کی بھانجی ایک رشتہ سے بھتیجی اور ایک رشتہ سے مرزا کی بیوی کی بھتیجی تھی اور آپ کی بہو کی بھی رشتہ کی بہن تھی ہندوستان کے سماج میں یہ مرزا غلام احمد کی اولاد کے درجے کی تھی۔ غلام احمد خود لکھتا ہے:

هذه المخطوبة جارية حديثة السن عذراء وكنت حينئذ جاوزت خمسين۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۷۴)

(ترجمہ) یہ جس کے نکاح کی طلب ہے ایک کمسن چھوکری ہے اسے کسی نے نہیں چھوا ہے اور میں اس وقت پچاس سال سے تجاوز کر چکا ہوں۔

مرزا غلام احمد کی نظر اس پر بیٹی کی نظر کیوں نہ پڑی بیوی کی نظر ہی کیوں پڑی ہم اس وقت اس پر بحث نہیں کرتے۔ مرزا غلام احمد نے ۲۵ جولائی ۱۸۹۲ء کو ایک خواب میں دیکھا تھا۔

”چار بجے خواب میں دیکھا کہ ایک حویلی ہے اس میں میری بیوی والدہ محمود اور ایک عورت بیٹھی ہے............ وہ عورت یکا یک سرخ اور خوش رنگ لباس پہنے ہوئے میرے پاس آ گئی کیا دیکھتا ہوں کہ جوان عورت ہے............ میں نے دل میں خیال کیا یہ وہی عورت ہے جس کے لئے اشتہار دیئے تھے اس کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوئی اس نے کہا میں آگئی ہوں ۔“

(تذکرہ ص ۸۳۱)

مرزا کی خواہش ہوتی تھی کہ جو خواب دیکھے اسے ظاہراً بھی پورا کرے۔ مرزا کے چچا

صفحہ 116

زاد بھائی مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین اور مرزا کمال الدین محمدی بیگم کے حقیقی ماموں تھے اور یہ مرزا صاحب کی چچازاد بہن کی بیٹی تھی۔ اس چچازاد بہن کے رشتہ سے مرزا احمد بیگ مرزا غلام احمد کا بہنوئی لگا یہ مرزا صاحب کا ماموں زاد بھائی بھی تھا۔ مرزا غلام احمد کے بیٹے فضل احمد کی بیوی محمدی بیگم کی پھوپھی زاد بہن تھی۔ سو مرزا غلام احمد کے ہاں یہ کمسن لڑکی بہو کے برابر کی تھی۔

محمدی بیگم سے نکاح کی تحریک کیسے کی

مرزا امام الدین کا ایک بھائی مرزا غلام حسین بھی تھا جو مفقود الخبر ہوگیا تھا‘ اس کی بیوی مرزا احمد بیگ کی بہن تھی۔ اس مفقودالخبر کی جائیداد بہن کے واسطہ سے مرزا احمد بیگ کو تب مل سکتی تھی کہ مرزا غلام حسین کے بھائیوں کی بھی اجازت ہو۔ احمد بیگ ان کا بہنوئی تھا اس لئے وہ اس پر راضی تھے جدی جائیداد ہونے کی وجہ سے برٹش لاء (British Law) میں مرزا غلام احمد کی اجازت بھی ضروری تھی گو شرعاً اس کا اس پر حق نہ بنتا تھا۔ مرزا احمد بیگ (مرزا کا ماموں زاد بھائی) مرزا غلام احمد سے دستخط کرانے آیا۔ تو مرزا نے یہ شرط لگا دی کہ اپنی کمسن بیٹی مجھ پچاس سال کے بوڑھے کو دے دے اور یہ زمین لے لے۔ احمد بیگ اس بوڑھے کی اس خواہش پر حیران رہ گیا۔ اسے غیرت آئی اور وہ واپس چلا گیا مرزا غلام احمد نے مرزا احمد بیگ کو کہا کہ مجھے تو خدا نے وحی کی ہے کہ احمد بیگ سے یہ لڑکی مانگ۔ غلام احمد لکھتا ہے:

”الهمت من الله الباقی وانبئت من اخبار ما ذهب وهمی قط الیها وما کنت الیها من المستدنین فاوحی الله الی ان اخطب صبیته الکبیرة لنفسک۔ وقل له لیصاهرک اولا ثم لیقتبس من قبسک۔ وقل انی امرت لاهبک ما طلبت من الارض وارضا اخری معها واحسن الیک باحسانات اخری علی ان تنکحنی احدی بناتک التی هی کبیرتھا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۷۲)

(ترجمہ) اللہ الباقی کی طرف سے مجھے الہام کیا گیا اور مجھے وہ خبر دی گئی میرا خیال بھی کبھی اس طرف نہ گیا تھا اور نہ میں کبھی اس کا منتظر تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کی کہ تو اس کی بڑی بیٹی کا رشتہ اپنے لئے مانگ اور اسے کہہ کہ وہ تجھے اپنی دامادی میں قبول کرے پھر تجھ سے وہ حصہ لے اور کہہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تیری مطلوبہ زمین تجھے ھبہ کر دوں اور اس کے ساتھ

صفحہ 117

اور زمین بھی اور میں تجھ پر اور بھی بہت سے احسانات کروں گا اس شرط سے کہ تو اپنی دختر کلاں میرے نکاح میں دے۔

مرزا غلام احمد نے پھر یہ بھی کہا: ”اور اگر تو نے یہ بات نہ مانی تو جان لے کہ اللہ نے مجھے خبر دی ہے کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے اس کیلئے اور تیرے لئے ہرگز مبارک نہ ہوگا.........تو نکاح کے بعد تین سال میں مر جائے گا.........اور اسی طرح اس کا خاوند ڈھائی سال کے اندر اندر مر جائے گا اور آخر کار یہ میرے نکاح میں آ کر رہے گی۔“

اور پھر یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ میں تجھے بہت کچھ دوں گا: ”میں تیری بیٹی (محمدی بیگم) کو اپنی کل زمین کا اور اپنی ہر مملوکہ چیز کا تیسرا حصہ بطریق عطاء دوں گا اور تو جو بھی مانگے تجھے دوں گا.........یہ جو میں نے تجھے خط لکھا ہے اپنے رب کے حکم سے لکھا ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۷۳ ملخصا)

دیکھئے قادیانیوں کا رب اس نکاح کی خاطر کس طرح منتیں کر رہا ہے۔ جب مرزا احمد بیگ نے اپنی بیٹی مرزا سلطان محمد کے نکاح میں دے دی تو مرزا غلام احمد نے کہا: ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو وہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۳۱ حاشیہ)

کیا مرزا غلام احمد کو محمدی بیگم کی ضرورت تھی

پچاس سال کے بوڑھے کو اتنی کمسن بیوی کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے؟ مرزا صاحب کو تو ۱۸۸۶ء کا اپنا خواب پورا کرنا تھا جب وہ خواب میں اس کے پاس آئی تو وہ اب ظاہر میں بھی اس کے پاس آئے اور اس پر خدا کی وحی بھی آ گئی ورنہ مرزا غلام احمد کو اس کی کوئی ضرورت نہ تھی اس نے مرزا احمد بیگ کو لکھا تھا: ”مجھے نہ تمہاری ضرورت تھی نہ تمہاری لڑکی کی۔ عورتیں اس کے سوا اور بھی بہتیری ہیں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۷۴)

صفحہ 118

مرزا سلطان محمد کی موت کی پیشگوئی

غلام احمد نے پیشگوئی کی تھی کہ اگر محمدی بیگم مرزا سلطان محمد سے بیاہی گئی تو مرزا سلطان محمد ڈھائی سال کے اندر اندر مر جائے گا اور یہ بھی کہا:-

’’اگر میں جھوٹا ہوں تو وہ پیشگوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۳۱)

تاریخ گواہ ہے کہ مرزا غلام احمد کی ۱۹۰۸ء میں موت آگئی اور مرزا سلطان محمد زندہ رہا۔ وہ ۱۹۱۴ء کی جنگ میں بھی شامل ہوا اس کے سر پر گولی بھی لگی مگر وہ نہ مرا اس کے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں جو مرزا غلام احمد کے کذب کی چلتی پھرتی تصویریں تھے۔ غلام احمد اس کی موت کو تقدیر مبرم کہتا تھا مگر مرزا کی اپنی تقدیر بدل چکی تھی نہ محمدی بیگم مرزا کی زندگی میں بیوہ ہوئی نہ اس کے نکاح میں آئی اور یہ چلتا بنا۔

مرزا احمد بیگ کے داماد کی موت کی پیشگوئی اصل موضوع بحث نہیں۔ یہ غلام احمد کے کاذب ہونے کی ایک ضمنی شہادت ہے۔

اصل پیشگوئی مرزا غلام احمد کے محمدی بیگم سے نکاح کی تھی یہ بات ضمن میں آگئی ہے کہ اگر مرزا احمد بیگ اپنی بیٹی کو کسی دوسری جگہ بیاہ دے تو انجام کار وہ بیوہ ہو کر مرزا کے نکاح میں آئے گی۔ سو مرزا احمد بیگ کے داماد کی موت محض ایک ضمنی پیشگوئی تھی مگر وہ بھی پوری نہ ہوئی۔

اصل پیشگوئی کی طرف پھر آئیں

’’خدا تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں (محمدی بیگم) انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی............خدا ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لاوے گا باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو پورا کرے گا کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ۳۰۶‘ روحانی خزائن جلد ۳ ص ۳۰۵)

مرزا غلام احمد کو ایک دفعہ شک گزرا کہ شاید اس پیشگوئی کا مطلب کچھ اور ہو مگر بقول مرزا غلام احمد خدا تعالیٰ نے اس میں شک کرنے کا دروازہ بھی بند کر دیا۔ مرزا غلام احمد لکھتا ہے:

صفحہ 119

”اس عاجز کو ایک دفعہ سخت بیماری آئی یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت یہ پیشگوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی (کہ ابھی تک محمدی بیگم سے نکاح نہیں ہوا)........... تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں نہیں سمجھ سکا تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا۔ الحق من ربك فلا تكونن من الممترين ٥ یعنی تیرے رب کی طرف یہ بات سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ۱۶۲)

یعنی تیرا نکاح محمدی بیگم سے ہو کر رہے گا تو کیوں شک کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی باتیں ٹلا نہیں کرتیں۔

مرزا غلام احمد کا اشتہار ۱۸۹۴ء

”اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے متعلق الہام الہی میں یہ فقرہ موجود ہے: لا تبدیل لکلمات اللہ یعنی میری یہ بات نہیں ٹلے گی پس اگر ٹل جاوے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔“

(اشتہار ۶ اکتوبر ۱۸۹۴ء تبلیغ رسالت ج ۳ ص ۱۱۵)

ناظرین! غور فرمائیں کہ تقدیر مبرم اور لا تبدیل لکلمات اللہ کا کیا انجام ہوا۔ اب خدا کا یہ سات مرتبہ دہرانا بھی سن لیں وہ کس طرح مرزا صاحب کو تسلی پر تسلی دے رہا ہے۔ یہ یکے بعد دیگرے سات الہامات پڑھیں انہیں دیکھیے اور سر دھنیے۔

محمدی بیگم کے آنے کے سات الہامات

صفحہ 120

(ترجمہ) سو خدا ان کے لئے مجھے کفایت کرے گا اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا۔ یہ امر ہماری طرف سے ہے اور ہم ہی کرنے والے ہیں ہم نے اسے تیرے نکاح میں دے دیا۔ تیرے رب کی طرف سے یہ سچ ہے پس تو شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔ خدا کے کلمے بدلا نہیں کرتے۔ تیرا رب جس بات کو چاہتا ہے وہ بالضرور اس کو کر دیتا ہے (کوئی نہیں جو اس کو روک سکے)۔ ہم اس کو تیری طرف واپس لانے والے ہیں۔

مرزا صاحب کی یہ پیشگوئی جو بار بار خدائی الہامات سے مرصع ہے اتنی مرتبہ دہرائی گئی ہے کہ شاید ہی اور کوئی پیشگوئی اس کے ہم وزن ہو مگر افسوس کہ مرزا صاحب ہمیں اس پر طعنہ دیتے ہیں کہ تم اسی پیشگوئی پر کیوں زیادہ بحث کرتے ہو کیا تمہیں اور کوئی پیشگوئی نہیں ملتی۔ (دیکھئے تحفہ گولڑویہ ص ۲۰۹)

اور بھی بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو پوری ہوئیں ایک اسی پیشگوئی پر کیوں بحث کی جاتی ہے۔ (پیغام صلح لاہور ۱۶ جنوری ۱۹۲۱)

اگر ایک یا دو پیشگوئیاں اس کی کسی جاہل اور بدفہم اور غبی کی سمجھ میں نہ آئیں تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ وہ تمام پیشگوئیاں صحیح نہیں ہیں۔ (تذکرۃ الشہادتین ص ۴۱ طبع ۱۹۰۳ء)

مرزا غلام احمد کی کوشش کہ خدا کی بات غلط نہ نکلے

قادیانی کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد خدا کی محبت میں اس قدر ڈوبا ہوا تھا کہ وہ نہ چاہتا تھا کہ خدا کی خبریں غلط نکلیں اور اس کے الہامات پورے نہ ہوں اس نے بہت کوشش کی کہ جس طرح بھی ہو سکے محمدی بیگم ضرور ان کے نکاح میں آجائے۔ مرزا نے اپنے بیٹے فضل احمد کو آمادہ کیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے کیونکہ اس کے رشتہ دار محمدی بیگم کو اس کے نکاح میں نہیں دے رہے چنانچہ فضل احمد نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی پھر مرزا صاحب نے فضل احمد کی ماں (اپنی پہلی بیوی) کو بھی جو محمدی بیگم کے خاندان میں سے تھی طلاق دی کہ ممکن ہے فریق ثانی ان طرح طرح کی ابتلاؤں سے تنگ آ کر خدا کے الہامات کو پورا کر دیں۔ مرزا کی بیوی نصرت بھی خدا سے رو رو کر سُوکن مانگتی رہی۔

مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:

صفحہ 121

”والدہ صاحبہ مکرمہ نے بارہا رو رو کر دعائیں کیں اور بارہا خدا کی قسم کھا کر کہا کہ گو میری زنانہ فطرت کراہت کرتی ہے مگر صدق دل اور شرح صدر سے چاہتی ہوں کہ خدا کے منہ کی باتیں پوری ہوں ۔“

(سیرت المہدی جلد اول ص ۲۷۷ روایت ۲۹۰)

مگر تاریخ گواہ ہے کہ مرزا صاحب اسی حسرت کو لے کر قبر میں چلے گئے اور محمدی بیگم ان سے (۵۸) اٹھاون سال بعد تک دنیا میں زندہ رہی اور قادیانی اپنی آخری چال میں بھی بری طرح ناکام ہوئے کہ محمدی بیگم کو کسی بہانے (ربوہ) چناب نگر کے بہشتی مقبرہ میں لا کر دفن کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ جو نکاح آسمان پر پڑھا گیا ہو اور خود خدا نے پڑھایا ہو وہ کسی نہ کسی شکل میں پورا ہو ہی گیا ہے۔

محمدی بیگم کی پیشگوئی پوری نہ ہونے پر مرزا غلام احمد کی سزا

مرزا غلام احمد نے خدا کے نام سے محمدی بیگم کے اپنے نکاح میں آنے کی پیشگوئی بار بار کی اور اس کے پورا نہ ہونے پر اپنی سزا یہ تجویز کی:

ہمیشہ کی لعنتوں کی خبر

کے ساتھ ہلاک کر ........... اور ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بنا۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ لوگ مجھ پر ہمیشہ لعنت کرتے رہیں۔ مرزا کی یہ سزا محمدی بیگم سے نکاح نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔“

(اشتہار ۲۷۔ اکتوبر ۱۸۹۴)

دس لاکھ آدمیوں میں رسوائی کا خوف

سے زیادہ آدمی ہو گا کہ جو اس پیشگوئی پر اطلاع رکھتا ہو اور ایک جہاں کی اس پر نظر لگی ہوئی ہے۔“

(اشتہار ۱۷ جولائی ۱۸۹۰)

دجال کی آمد کا یقین دلانا

صفحہ 122

ہوں ۔“

(اشتہار ۲۶ اکتوبر ۱۸۹۴)

اب چاہئے کہ قادیانی مرزا صاحب کے ان بیانات پر آمین کہیں تا معلوم ہو یہ اس کے مقتدی ہیں ۔

کیا اس پیشگوئی کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے یہ دس لاکھ لعنتوں کا استقبال نہیں ۔ اب جب یہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی تو مرزا غلام احمد پر یہ سزا ضرور جاری ہونی چاہیے مخالفین تو مرزا پر یہ سزا ہمیشہ جاری رکھتے ہیں لیکن یہ فرض اس کے لواحقین کا بھی ہے کہ وہ مرزا غلام احمد پر یہ سزائیں جاری کریں تا دنیا جان لے کہ مرزا کی بات جھوٹی نکلی اور یہ خدا کی بات نہیں تھی وہ قادیانی جو مرزا کے ان الہامات کو پڑھتے خود خدا سے ہی بدگمان ہونے لگے تھے کہ وہ کیوں بار بار وہ چیز کہتا ہے جسے وہ کر نہیں سکتا وہ بار بار کہتا ہے کہ محمدی بیگم کو تیرے نکاح میں لاؤں گا مگر وہ لا نہیں سکا وہ خدا ہی کیا ہوا جو ایک کام کرنا چاہے اور اسے نہ کر سکے اور بار بار احمد بیگ کی منتیں کرے ۔

یہ پیشگوئی کسی پر عذاب اترنے کی نہ تھی

یہ پیشگوئی کوئی انذاری پیشگوئی نہ تھی محمدی بیگم کے مرزا کے نکاح میں آنے کی خبر تھی اور اس کے تقدیر مبرم ہونے کا اعلان تھا سو یہاں قادیانیوں کی یہ تاویل بھی نہیں چل سکتی کہ محمدی بیگم کے خاوند نے اپنے اس گناہ سے توبہ کر لی تھی اور محمدی بیگم کو طلاق دے دیا تھا وہ پوری عمر مرزا غلام احمد کی چھاتی پر مونگ دلتا رہا اور مرزا صاحب اپنی اس خواہش کو پورا کئے بغیر ہی قبر میں اتار دیئے گئے اور وہ مدت دراز تک بعد میں زندہ رہا۔ مرزا ۱۹۰۸ء میں مرا اور محمدی بیگم کے خاوند نے پورے چالیس سال بعد ۱۹۴۸ء میں وفات پائی ۔

جو پیشگوئی کسی کے صادق و کاذب ہونے کا معیار قرار دی گئی ہو اور اس کے پورا ہونے کا انتظار عوام و خواص دونوں کو برابر لگا ہوا ہو اس میں کسی باریک تاویل کو راہ نہیں دی جا سکتی یہ اس لئے کہ صادق و کاذب کی اس پہچان میں عوام کو بھی اسے پہچاننے کا برابر کا حق حاصل ہے مرزا غلام احمد خود ہی بتائے کہ خدا تعالیٰ کے اس ارادہ کو کس نے توڑا؟ مرزا سلطان محمد کی اتنی ہمت نہیں ہو سکتی کہ وہ خدا کا ارادہ توڑے مرزا خود لکھتا ہے :

”خدا کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا ایک بکر ہو گی اور دوسری

صفحہ 123

بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہو گیا اور اس وقت بفضلہ تعالیٰ چار پسر اس سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔“ (تریاق القلوب ص ۳۵، ر۔خ جلد ۱۵ ص ۲۰۱)

غلام احمد یہ بھی لکھتا ہے:

میرے خدا نے مجھے بشارت دی ہے کہ دو عورتیں تیرے نکاح میں لاؤں گا ایک کنواری ہوگی اور دوسری بیوہ ۔ کیا کوئی قادیانی بتا سکتا ہے کہ وہ کون سی بیوہ عورت ہے جس سے مرزا صاحب نے نکاح کیا مرزا سلطان محمد تو مرا نہیں اور نہ محمدی بیگم مرزا صاحب کی زندگی میں بیوہ ہوئی۔ پھر کیا خدا نے مرزا صاحب کو جھوٹی بشارت دی تھی؟ (معاذ اللہ) جیسا یہ نبی تھا ایسا ہی اس کا خدا نکلا۔ اس پیشگوئی کے پورا نہ ہونے کی ایک ہی وجہ ہے جو مرزا غلام احمد نے خود لکھ دی ہے:

”جو شخص اپنے دعوے میں کاذب ہو اس کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ۳۲۲، ۳۲۳، ر۔خ جلد ۵ ص ۳۲۲ و ۳۲۳)

قادیانی مسلمانوں کے ذہنوں میں مہدی اور مسیح کے مسائل کیوں ڈالتے ہیں محض اس لئے کہ مسلم عوام مرزا غلام احمد کی اس قسم کی باتوں پر غور نہ کریں نہ ان کو زیر بحث لائیں اور مرزا غلام احمد کے ان تھوک جھوٹوں پر پردہ پڑا رہے۔ اردو خوان طبقے پر قادیانیت کو جاننے اور سمجھنے کے لئے اس سے بہتر کوئی راہ نہیں کہ مرزا کی ان پیشگوئیوں پر غور کریں کیا مہدی اور مسیح سے ان جھوٹوں کی توقع کی جاسکتی ہے؟

(۳) مرزا کے لئے رحمت کا نشان جو اس نے مانگا

مرزا غلام احمد کی بیوی نصرت جہاں بیگم حاملہ ہوئی تو مرزا صاحب نے ۱۸۔ اپریل ۱۸۸۶ء کو اشتہار دیا۔

خدائے رحیم و کریم و بزرگ و برتر نے جو ہر چیز پر قادر ہے مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا ہے:

”میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اس کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا...... سو تجھے بشارت ہو ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا............ وہ صاحب شکوہ اور عظمت و دولت ہوگا وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں

صفحہ 124

سے صاف کرے گا وہ کلمۃ اللہ ہوگا ......... ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے ۔“

(تبلیغ رسالت جلد ۱ ص ۵۸)

مگر افسوس کہ اس حمل سے مرزا غلام احمد کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی اور اسے لوگوں میں بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اب مرزا کی تاویلیں سنئے اس نے کہا میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ وہ رحمت کا نشان اسی حمل سے پیدا ہو گا سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر تو نے یہ پیشگوئی اس حمل کے موقع پر کیوں کی۔ اس سے پہلے کی ہوتی تو اسے کسی بھی حمل پر محمول کیا جاسکتا تھا خاص موقع پر جو بات کہی جائے وہ اس خاص موقع کے لئے ہی ہوتی ہے۔

مرزا غلام احمد نے اس پیشگوئی کو (لڑکی پیدا ہونے کی وجہ سے) اگلے حمل پر ڈال دیا نصرت جہاں بیگم پھر دسمبر ۱۸۸۶ء کو حاملہ ہوئی اور ۷ اگست مرزا کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔ اور مرزا نے اعلان کیا:

” اے ناظرین! میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کیلئے میں نے اشتہار ۱۸۔ اپریل ۱۸۸۶ء میں پیش گوئی کی تھی۔ اور خدا سے اطلاع پا کر اپنے کھلے بیان میں لکھا تھا ......... آج ۱۶ ذی قعد ۱۳۰۴ھ بمطابق ۷۔ اگست ۱۸۸۷ء میں بارہ بجے رات کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہو گیا ہے۔“

(تبلیغ رسالت جلد ۱ ص ۹۹)

مرزا نے اس لڑکے کا نام بشیر احمد رکھا اور قادیانی اس بچے کے سبب زمین کے کناروں تک پہنچنے کے خواب دیکھ رہے تھے مگر افسوس کہ وہ لڑکا سولہ مہینے زندہ رہ کر فوت ہو گیا اور مرزا صاحب بہت گھبرائے کہ اب اس پیشگوئی کا کیا بنے گا اب مرزا صاحب کے موافقین کے دل بھی ڈولنے لگے تھے ایسے وقتوں میں مرزا صاحب کے رفیق راز حکیم نورالدین ہوتے تھے جو مرزا صاحب کو مشورہ دیا کرتے تھے کہ اب کونسا دعویٰ کیا جائے اور کونسا نہ؟ مرزا غلام احمد نے اس پریشانی میں حکیم نورالدین کو لکھا۔

میرا لڑکا بشیر تیس روز بیمار رہ کر آج بقضائے الٰہی رب عزوجل انتقال کر گیا ہے اس واقعہ سے جس قدر مخالفین کی زبانیں دراز ہوں گی اور موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے اس کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔

(مکتوبات احمدیہ جلد ۵ ص۲)

حکیم نورالدین نے مشورہ دیا کہ اس مرحوم لڑکے کو بشیر اول سے موسوم کرو اس سے سمجھا جائے گا کہ اب بشیر دوم آئے گا جو اس پیشگوئی کو پورا کرے گا اس پیشگوئی کو تیسرے حمل

صفحہ 125

پر محمول کرنے کو لوگ ایسی پیشگوئیوں سے مذاق سمجھیں گے اس کی بجائے بشیر اول اور بشیر دوم کی تاویل کچھ بہتر رہے گی اب بشیر ثانی کو اس پیشگوئی کا مصداق بنانے میں زیادہ دقت نہ ہوگی۔

حکیم نور الدین بشیر احمد کی وفات سے اس قدر پریشان تھا کہ زندگی بھر اس نے ایسی پریشانی نہ دیکھی تھی مرزا بشیر الدین محمود نے ۱۹۲۰ء کے ایک خطبہ میں حکیم صاحب کے اس مشورے کو اگل دیا۔ مرزا محمود کہتا ہے حکیم صاحب نے کہا تھا۔

”اگر اس وقت میرا بیٹا مر جاتا تو میں کچھ پروا نہ کرتا مگر بشیر اول فوت نہ ہوتا اور لوگ اس ابتلاء سے بچ رہتے۔“ (الفضل جلد ۸ ص ۱۵ ۔ ۳۰۔ اگست ۱۹۲۰ء)

دیکھئے حکیم صاحب نے کس حکیمانہ پیرائے میں بشیر اول کی اصطلاح مرزا غلام احمد کے ذہن میں اتار دی استاد شاگرد ایک دوسرے کے اشاروں کو خوب سمجھتے تھے۔ تاہم اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مرزا غلام احمد کی پیشگوئی دو دفعہ ان کی پوری جماعت کے لئے جگ ہنسائی کا موجب بنی اور بقول حکیم صاحب یہ قادیانیوں کیلئے ایک بہت بڑی ابتلاء تھی اور یہ تبھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے بھی مرزا غلام احمد کی اس پیشگوئی کا مطلب وہی سمجھا ہو جو مخالفین نے سمجھا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی جھوٹی نکلی تھی تو مرزا غلام احمد اس پیشگوئی کے جھوٹا نکلنے سے اپنے پیروؤں کے دلوں کی دھڑکنیں سن رہا تھا مرزا نے اپنے اس صدمے کی اطلاع حکیم نور الدین کو ان لفظوں میں دی تھی:

”اس واقعہ سے جس قدر مخالفین کی زبانیں دراز ہوں گی اور موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے۔ اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔“ (مکتوبات احمدیہ حصہ پنجم ص ۲)

افسوس کہ مرزا غلام احمد حکیم نور الدین اور مرزا محمود میں سے کسی کا ذہن اس طرف منتقل نہ ہوا کہ خدا نے مرزا غلام احمد کو قبل از وقت ایسی بشارت ہی کیوں دی جس نے پوری جماعت کے سکون کو تہ و بالا کر دیا۔ قادیانی اس کے جواب میں کہتے ہیں خدا سے کوئی ایسا سوال نہیں کر سکتا وہ جو چاہے کرے۔

(۴) ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کی موت کی پیشگوئی

مرزا غلام احمد کی کتاب چشمہ معرفت میں ایک یہ پیشگوئی بھی ملاحظہ کریں:

”اور ایسا ہی کئی اور دشمن مسلمانوں میں سے میرے مقابل پر کھڑے ہو کر ہلاک ڑے ہو کر ہلاک

صفحہ 126

ہوئے اور ان کا نام ونشان نہ رہا ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے۔ جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ۴۔اگست ۱۹۰۸ء تک ہلاک ہو جاؤں گا اور یہ اس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا یہ شخص الہام کا دعوے کرتا ہے اور مجھے دجال اور کافر اور کذاب قرار دیتا ہے پہلے اس نے بیعت کی اور برابر بیس برس تک میرے مریدوں اور میری جماعت میں داخل رہا پھر ............ مرتد ہو گیا ............ مگر خدا تعالیٰ نے اس کی پیشگوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا ............ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے خدا اس کی مدد کرے گا"۔

(چشمہ معرفت ص: ۳۲۱، ۳۲۲۔ رخ جلد ۲۳ ص: ۳۳۶، ۳۳۷)

تاریخ گواہ ہے کہ مرزا غلام احمد ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیشگوئی کے مطابق ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء (۴۔اگست ۱۹۰۸ء سے پہلے پہلے) مر گیا اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان ۱۹۱۹ء میں اس کے بہت بعد فوت ہوا۔

یہ مرزا غلام احمد کی آخری پیشگوئی تھی اور وہ بھی جھوٹی نکلی مرزا غلام احمد کی اس پیشگوئی میں کئی امور لائق توجہ ہیں۔

اس وقت مسلمان نہیں سمجھتا تھا مسلمان اس کے دشمن تھے یہ کتاب چشمہ معرفت مرزا کے مرنے سے گیارہ دن پہلے ۱۵ مئی ۱۹۰۸ء کو شائع ہوئی تھی۔

امرتسری‘ مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑوی‘ مرزا احمد بیگ کا داماد جو مرزا صاحب کی آسمانی منکوحہ کو اپنے گھر رکھے رہا‘ یہ سب زندہ اور موجود تھے۔

اسے خدائی خبر کہا اور ظاہر ہے کہ خدائی خبر غلط نہیں ہو سکتی۔

قادیانی اب تک اسے مرتد لکھتے ہیں۔

(دیکھئے سلسلہ احمدیہ جلد اول ص ۱۶۹ مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم۔اے)

صفحہ 127

معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد ان دنوں اپنے مخالفین سے کفر و اسلام کے فاصلے پر آ گیا تھا ورنہ وہ ان لوگوں کو جو کلمہ اسلام پڑھتے تھے اہل قبلہ تھے نمازیں بھی پڑھتے تھے کبھی مرتد نہ کہتا حقیقت یہ ہے کہ مسلمان تو مسلمان ہی رہے یہ خود اسلام سے نکل کر مرتد ہو گیا تھا۔

(۵) مرزا غلام احمد کی عمر کی پیشگوئی

مرزا غلام احمد نے دعویٰ کیا کہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ: ”ہم تجھے (۸۰) اسی سال یا اس کے قریب قریب اچھی زندگی دیں گے۔“

(ازالہ اوہام ص ۶۳۵ رخ جلد ۳ ص ۴۴۴)

پھر مرزا صاحب نے اس لفظ قریب قریب کی تعیین بھی خود ہی کر دی اور یہ بھی خدا کے نام سے کی: ”خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم ۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ۵ ص ۹۷۔ رخ جلد ۲۱ ص ۲۵۸)

مرزا صاحب کی وفات بالاتفاق ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء میں ہوئی اب صرف یہ جاننا کافی ہوگا کہ ان کی پیدائش کس سن میں ہوئی تھی مرزا خود لکھتا ہے: ”میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی۔“

(کتاب البریہ ص ۱۵۹۔ رخ جلد ۱۳ ص ۱۷۷ در حاشیہ)

ان تحریرات کی روشنی میں مرزا غلام احمد کی عمر ۶۸ سال کی ہوئی مذکورہ خدائی الہامات کے تحت اس کی عمر زیادہ سے زیادہ ۸۶ سال اور کم از کم ۷۴ سال ہونی چاہیے تھی مگر مرزا غلام احمد اس پیشگوئی کو پورا کئے بغیر ۶۸ سال کی عمر میں ہی قبر میں اتر گئے مرزا غلام احمد کے پیرو تاریخ وفات ۱۹۰۸ء میں تو کوئی تبدیلی نہ کر سکتے تھے انہوں نے تاریخ پیدائش کو مقدم کرنے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ مرزا صاحب نے کتاب البریہ میں اپنا سال پیدائش غلط لکھا ہے وہ اس سے چھ سال پہلے پیدا ہوئے تھے ہم اس سلسلہ میں قادیانی مبلغین کے تمام دلائل اور شبہات کا تنقیدی جائزہ اپنے پرچہ ہفت روزہ ”دعوت“ لاہور میں لے چکے ہیں۔ مولانا تاج محمد صاحب مدرس مدرسہ عربی فقیر والی بہاولنگر نے الفضل ربوہ اور دعوت لاہور کے سب جوابی مضامین ایک

صفحہ 128

کتابی صورت میں جمع کر دیئے ہیں اور یہ کتاب مرزا غلام احمد کی عمر کی پیشگوئی کے نام سے چھپ چکی ہے جو صاحب اس پیشگوئی کے تفصیلی مطالعہ کے خواہشمند ہوں وہ اس کتاب میں ان مباحث کو دیکھ لیں۔

مرزا غلام احمد کا لین دین امانت و دیانت کے نقطہ نظر سے

دولت کی کس کو ضرورت نہیں اور کون ہے جو مادی وسائل کے بغیر اپنی دنیوی ضروریات پوری کر سکے لیکن جو لوگ زمین پر خدا کے نام پر آواز دیتے ہیں وہ اس آواز پر کوئی اجر نہیں مانگتے نہ اپنے گھرانے کے لئے زکوٰۃ لینا جائز جانتے ہیں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آپ کو اس کا حکم فرمایا:

قل لا اسئلکم علیہ اجراً ان ھو الا ذکرٰی للعالمین۔ (پ۷الانعام۹۰)

(ترجمہ) آپ کہہ دیجئے میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا وہ (یعنی قرآن) تو بس ایک نصیحت ہے جہان والوں کیلئے۔

مرزا غلام احمد جو اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں نبوت پانے والا کہتا رہا اب اسے اس پہلو سے بھی دیکھیں کہ اس کا لین دین کیا واقعی کسی دیانت اور امانت کا آئینہ دار تھا اور کس پیرایہ میں اس میں شریعت کی پابندی پائی جاتی تھی آج کی مجلس میں کچھ اس کا بیان ہوگا: واللہ ھو الموفق لما یحبہ ویرضی بہ۔

کتاب براہین احمدیہ کے اشتہارات

غلام احمد نے براہین احمدیہ کے لئے پہلا اشتہار اپریل ۱۸۷۹ء کو دیا اور اس میں لکھ دیا:

”بہ نیت خریداری کتاب پانچ پانچ روپیہ مع اپنی درخواستوں کے راقم کے پاس بھیج دیں جیسی کتاب چھپتی جائے گی ان کی خدمت میں ارسال ہوتی رہے گی۔“ (تبلیغ رسالت جلد اول ص ۸)

لوگوں نے قیمت بھیج دی مگر مرزا صاحب نے کتاب انہیں نہ بھیجی اور کتاب چھپی بھی نہ یہاں تک کہ مرزا صاحب نے ۳ دسمبر ۱۸۷۹ء کو ایک اور اشتہار نکال دیا۔

صفحہ 129

ناچار بعد اضطرار یہ تجویز سوچی گئی جو قیمت کتاب کی بہ نظر حیثیت کتاب کے نہایت درجہ قلیل اور ناچیز ہے دو چند کی جائے ........... بغایت اس کتاب کی بجائے پانچ روپیہ کے دس روپیہ تصور فرمائیں ان شاء اللہ یہ کتاب جنوری ۱۸۸۰ء میں طبع ہو کر فروری میں شائع ہو جائے گی۔

یہ دس روپیہ عام لوگوں کے لئے تھا خواص کے لئے اور دوسری قوموں کے لئے قیمت ۲۵ روپے رکھی گئی تھی مرزا صاحب نے اگلا اشتہار یہ دیا:

”مصارف پر نظر کر کے واجب معلوم ہوتا تھا کہ آئندہ قیمت کتاب سو روپیہ رکھی جائے اور واضح رہے کہ اب یہ کام ان لوگوں کی ہمت سے انجام پذیر نہیں ہو سکتا کہ جو مجرد خریدار ہونے کی وجہ سے ایک عارضی جوش رکھتے ہیں بلکہ اس وقت کئی ایک عالی ہمتوں کی توجہات کی ضرورت ہے۔“

(تبلیغ رسالت جلد اول ص ۲۳)

مرزا غلام احمد قیمت بڑھانے کے ساتھ ساتھ صفحات بڑھانے کا بھی اعلان کرتا رہا آخری عہد چار ہزار آٹھ سو صفحات کا رہا تھا۔ مگر مصنف نے ۴۶۴ صفحات میں براہین احمدیہ کی چار جلدیں شائع کر کے آئندہ اس سلسلہ میں چپ کا روزہ رکھ لیا چوتھی جلد کے آخر میں اعلان کر دیا ۔

”ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً اور باطناً حضرت رب العالمین ہے۔“

(تبلیغ رسالت جلد ۱ ص ۴۷)

ظاہراً سے مراد یہ ہے کہ یہاں اس کا لین دین اور حساب بھی میرے ذمہ نہیں اور باطناً سے مراد یہ ہے کہ آخرت میں بھی اب مجھ پر اس کا کوئی بوجھ نہ ہوگا۔

کتاب براہین احمدیہ تاریخ کے دوسرے دور میں

”مرزا غلام احمد لکھتا ہے: اب یہ سلسلہ تالیف کتاب بوجہ الہامات الٰہیہ دوسرا رنگ پکڑ گیا ہے اور اب ہماری طرف سے کوئی ایسی شرط نہیں کہ کتاب تین سو جزو تک ضرور پہنچے بلکہ جس طرح سے خدا تعالیٰ مناسب سمجھے گا کم یا زیادہ بغیر لحاظ پہلی شرائط کے اس کام کو انجام دے گا کہ

صفحہ 130

یہ سب کام اسی کے ہاتھ میں اور اسی کے امر سے ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت جلد ۱ ص ۹۱)

ظاہری کاروبار کو اس طرح خدا کے سپرد کرنا اور خود درمیان سے نکل جانا ایک ایسا عمل تھا جس سے خریداروں میں عجیب ہیجان پیدا ہو گیا اور انہوں نے مرزا صاحب کو کیا کیا کہا اسے خود مرزا صاحب کے الفاظ میں دیکھیں:

غلط لین دین کے باعث مرزا اپنے عوام میں

مرزا اپنے عوام کے بارے میں لکھتا ہے: ’’ان لوگوں نے زبان درازی اور بدظنی سے اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کیا کہ کوئی دقیقہ سخت گوئی کا باقی نہ رکھا اس عاجز کو چور قرار دیا، مکار ٹھہرایا، مال مردم خور کر مشہور کیا، حرام خور کہہ کر نام لیا، دغاباز نام رکھا اور اپنے پانچ روپے یا دس روپے کے غم میں وہ سیاپا کیا کہ گویا تمام گھر ان کا لٹ گیا۔‘‘

(تبلیغ رسالت جلد ۳ ص ۴۴)

یہ شکوے اور طعنے کسی ایک آدمی کے نہیں ایک جم غفیر کے ہیں اور ملک کے مختلف گوشوں سے ہیں اور ادھر صرف مرزا غلام احمد تھا جس پر جان کی بن گئی تھی۔ ہم اس موقع پر یہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکتے کہ کیا پہلے پیغمبروں میں بھی کوئی ایسا ہوا جس پر یہ الزامات لگے ہوں جو مرزا غلام احمد نے تسلیم کئے کہ واقعی اس پر لگے تھے؟ اگر نہیں تو کیا مرزا غلام احمد کا یہ بیان خود اس کی تردید نہیں کہ وہ واقعی کوئی ملہم ربانی اور مرسل یزدانی نہ تھا۔ مرزا کے پہلے دعوؤں میں جس طرح سے تدریج ہے چندہ اکٹھا کرنے میں بھی وہ تدریج سے چلا پانچ سے دس، دس سے پچیس، پچیس سے سو اور پھر ’’سب بلا بر گردن ملا‘‘ سارے چندے کا مہتمم اور متولی خدا کو بنا دیا۔

پھر مرزا صاحب نے ۱۸۹۹ء میں یہ اعلان کیا جو ایام الصلح کے شروع میں طبع ہے۔ براہین احمدیہ کا بقیہ نہ چھاپنے پر اعتراض پیش کرنا محض لغو ہے قرآن شریف بھی باوجود کلام الٰہی ہونے کے تئیس برس میں نازل ہوا پھر اگر خدا تعالیٰ نے مصالح کی غرض سے براہین کی تکمیل میں توقف ڈال دی تو اس میں کون سا حرج ہوا۔

ہم اس پر یہ سوال کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ کیا خدا تعالیٰ نے بھی قرآن اتارنے سے پہلے لوگوں سے کوئی رقمیں وصول کی تھیں اور کوئی وعدے کئے تھے۔

صفحہ 131

براہین احمدیہ کے پانچویں حصے کی اشاعت

مرزا غلام احمد نے ۱۸۷۹ء میں براہین احمدیہ شروع کی تھی ۱۸۸۴ء میں اس کا چوتھا حصہ شائع ہوا۔ (سیرت المہدی جلد ۲ ص ۱۵۱)

۱۸۸۷ء میں مرزا نے شحنہ حق شائع کی اور اس میں براہین احمد حصہ پنجم شائع کرنے کا اعلان کیا یہ پانچواں حصہ مرزا کی وفات کے بعد اکتوبر ۱۹۰۸ء میں شائع ہوا۔ مرزا غلام احمد اس پانچویں حصہ میں لکھتا ہے: ”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا اور چونکہ پچاس اور پانچ میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۷۔ ر۔خ جلد ۲۱ ص ۹)

اس پر براہین احمدیہ کی طویل داستان اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گئی اور اب مصنف ہی سفر آخرت پر روانہ ہو گئے اس لئے اب عوام کی طرف سے مرزا صاحب کے خلاف کوئی عوامی سیاپا نہ ہوا نہ اب لوگوں کے کسی مطالبے کا ڈر رہا۔

براہین احمدیہ کی تالیف میں علماء سے علمی اعانت

سرسید احمد خاں کے حلقہ کے لوگوں میں مولوی چراغ علی حیدر آباد دکن میں ایک معروف شخصیت تھی ان کی وفات کے بعد ان کے کاغذات میں مرزا غلام احمد کے بھی کئی خطوط ملے ہیں۔

وہ خطوط مولوی محمد یحییٰ تنہا نے سیر المصنفین کی جلد ۲ ص ۱۱۹ پر دے دیئے ہیں۔ مرزا غلام احمد کا ایک خط مولوی چراغ علی کے نام ملاحظہ ہو:

جب آپ سا اولوالعزم صاحب فضیلت دینی و دنیوی تہ دل سے حامی ہو اور تائید دین حق میں دلی گرمی کا اظہار فرمائے تو بلا شبہ و ریب اس کو تائید غیبی خیال کرنا چاہئے۔ ماسوا اس کے اگر اب تک کچھ دلائل یا مضامین آپ نے نتائج طبع عالی سے جمع فرمائے ہوں تو وہ بھی مرحمت ہوں۔ (سیر المصنفین جلد ۲ ص ۱۱۹ طبع مکتبہ جامعہ ملیہ دہلی)

بابائے اردو مولوی عبدالحق سیکریٹری انجمن ترقی اردو نے اپنی کتاب ”چند ہمعصر“ میں مولوی چراغ علی کا ذکر کیا ہے اور مرزا غلام احمد کے وہ خطوط بھی درج کئے ہیں جو ان کے نام

صفحہ 132

ہیں ۔ (دیکھئے کتاب چند ہمعصر ص ۴۷۔۵۰) اس سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا غلام احمد اس کتاب کی تالیف میں دوسرے اہل علم حضرات سے علمی مدد لیتا تھا۔ اور غلط کہتا تھا کہ یہ روحانی خزائن میرے ہی ہیں۔

مرزا غلام احمد نے گوجر خاں کے فضل محمد کی کتاب اسرار شریعت سے بھی مختلف علمی مباحث اپنی مختلف کتابوں میں بلا حوالہ دیئے کچھ مضامین لیئے ہیں اور وہ اپنی طرف سے بیان کئے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا صاحب کس طرح چھپے چھپے دوسرے اہل علم سے علمی مدد لیتا تھا۔ یہاں پہنچ کر انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ یہ کیسا ملہم ربانی اور مامور آسمانی ہے جو اہل زمین سے علمی مضامین لیتا ہے اور انہیں آسمانی عنایت بتلاتا ہے حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ نے بھی اپنی کتاب احکام اسلام عقل کی نظر میں اس اسرار شریعت سے کچھ مضامین لئے مگر پہلے لکھ دیا کہ وہ یہ باتیں کس دوسری کتاب سے لے رہے ہیں انہیں اپنی کاوش نہ بتلایا مگر افسوس کہ غلام احمد نے اس کتاب سے جو مضامین لئے اس نے انہیں اپنا ظاہر کیا اور یہ نہ بتلایا کہ وہ انہیں اسرار شریعت سے لے رہا ہے یہ بحث براۃ تھانوی کے نام سے ماہنامہ الخیر اور ماہنامہ بینات نے مستقل رسالے کی صورت میں شائع کی ہے۔ بعض نادان قادیانیوں نے جب حضرت حکیم الامت کی اس کتاب میں وہ مضامین دیکھے اور انہیں وہ مرزا غلام احمد کی کتابوں میں بھی دیکھ چکے تھے تو انہوں نے سمجھا کہ شاید مولانا تھانویؒ نے یہ مضامین غلام احمد سے لئے ہوں ہم نے کتاب اسرار شریعت (جو تین حصوں میں ہے) کے ان مضامین پر ماہنامہ الخیر ملتان کی اشاعت میں اس پر تقابلی بحث کی ہے اور ثابت کیا کہ مرزا غلام احمد کس چھپے انداز میں وقت کے دیگر اہل علم سے علمی فیض لیتا رہا اور انہیں اپنے نام سے شائع کرتا رہا کیا کوئی ملہم ربانی اس شرمناک انداز میں کسی علمی سرقے کا مرتکب ہوسکتا ہے؟ ہم یہاں صرف یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد جس طرح مالی لین دین میں صاف دامن نہ تھا بقول اپنے عوام کے دغا باز اور چور تھا، علمی امور میں بھی وہ دوسروں کا برابر خوشہ چین رہا مگر ملہم ربانی ہونے کے دعویٰ کی وجہ سے وہ کھلے بندوں ان سے فیضیاب ہونے کا اقرار نہ کرسکا۔

براہین احمدیہ میں مرزا غلام احمد کا حصہ

براہین احمدیہ کے لکھنے کی غرض غیر مسلموں کے اعتراض سے اسلام کا دفاع تھا۔ یہ

صفحہ 133

کتاب مرزا غلام احمد کی اپنی شخصیت کے تعارف و دفاع کیلئے نہ لکھی گئی تھی۔ مرزا غلام احمد اس کی غایت تالیف ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

دین اسلام ایسی تالیف کی ہے جس کے مطالعہ کے بعد طالب حق سے بجز قبولیت اسلام اور کچھ نہ بن پڑے۔

(اشتہار اپریل ۱۸۷۹ء تبلیغ رسالت حصہ اول ص ۸)

معتمد مدارالمہام دولت آصفیہ حیدرآباد دکن نے بغیر ملاحظہ کئے کسی اشتہار کے خود بخود اپنے کرم ذاتی و ہمت و حمایت و حمیت اسلامیہ سے ایک نوٹ دس روپے کا بھیجا ہے۔

(ایضاً ص ۹)

اس کتاب کی اعانت کے لئے بنیاد ڈالی اور خریداری کتب کا وعدہ فرمایا:

(ایضاً ص ۸)

یہ بارہ حضرات امام زماں کے پیرو اور بیعت کنندہ تو نہ تھے یہ کس لئے مرزا غلام احمد کی مالی اعانت کر رہے تھے مصنف پہلے سے تو متعارف ہے نہیں اور نہ ہی ان تک کتاب کا اشتہار پہنچا پھر یہ کس طرح بارہ کے بارہ مرزا غلام احمد کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ان

صفحہ 134

حضرات کا انگریز حکومت کے وفاداروں میں شمار ہوتا تھا اگر انگریزوں کے ہاں پہلے سے کوئی میٹنگ نہ ہوئی تھی کہ کسی شخص کو مسیح موعود کے نام سے آگے لایا جائے جو جہاد کو منسوخ کرے تو یہ سب کے سب کس طرح مرزا غلام احمد کی مالی امداد میں آگے آگئے۔

تاہم بظاہر یہ کتاب اسلام کی حمایت اور حمیت کے لئے ترتیب دی جانی تھی مگر افسوس کہ مرزا غلام احمد نے لوگوں کی عقیدت اسلام سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اس کتاب میں اپنے آئندہ پروگرام کا بھی ایک جال بچھا دیا۔ علماء تو ویسے ہی اس کتاب کی حمایت پر تلے ہوئے تھے اس نے اس میں اپنے الہامات بھی ڈال دیئے اور علماء کو خوش کرنے کے لئے اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ بھی کھلے لفظوں میں درج کر دیا۔

اس کتاب کے علمی مضامین تو بیشک مرزا غلام احمد نے علماء حضرات سے حاصل کئے ہوں گے لیکن آئندہ علماء کو اپنی گرفت میں لینے کے لئے اس نے اپنی زمین اسی میں ہموار کر لی اور اپنے الہامات اس میں ڈال دیئے اور یہ نہ سوچا کہ آئندہ اس کے معتقد اس مشکل کو کیسے حل کریں گے کہ یہ شخص ملہم ربانی اور مامور یزدانی ہو کر اس کتاب میں حیات مسیح کا کیوں اقرار کر گیا اور اتنی بڑی غلطی کیسے کر گیا جس کے خلاف قرآن کی تیس آیات بقول اس کے صریح شہادت دے رہی تھیں کہ عیسیٰ ابن مریم فوت ہوچکے۔

اب آپ ہی غور فرمائیں کہ لوگوں کو اس طرح اپنے داؤ اور پیچ میں لانا کیا اللہ والوں کا عمل ہو سکتا ہے مگر غلام احمد اس پر خوش اور نازاں تھا کہ علماء اس کے پیچ میں پھنس گئے۔ مرزا غلام احمد اپنے ان الہامات کے بارے میں لکھتا ہے:

”وہ ایسے موقع پر شائع کئے گئے جب کہ یہ علماء میرے موافق تھے یہی سبب ہے کہ باوجود اس قدر جوشوں کے ان الہامات پر انہوں نے اعتراض نہیں کیا کیونکہ وہ ایک دفعہ ان کو قبول کرچکے تھے اور سوچنے سے ظاہر ہوگا کہ میرے مسیح موعود ہونے کی بنیاد انہی الہامات سے پڑی ہے اور انہی میں خدا نے میرا نام عیسیٰ رکھا اور جو مسیح موعود کے حق میں آیتیں تھیں وہ میرے حق میں بیان کردیں اگر علماء کو خبر ہوتی کہ ان الہامات سے تو اس شخص کا مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے تو کبھی ان کو قبول نہ کرتے یہ خدا کی قدرت ہے کہ انہوں نے قبول کر لیا اور پیچ میں پھنس گئے۔“ (اربعین حصہ ۴ ص ۴۱)

صفحہ 135

یہ دوسروں کو پیچ میں پھنسانا کن لوگوں کا کام ہوتا ہے ہوشیار اور چالاک لوگوں کا یا سادے اور بھولے بھالے لوگوں کا؟ یہ فیصلہ آپ کریں۔

جب اس کتاب میں عقیدہ نزول عیسیٰ ابن مریم صحیح طور پر بیان کر دیا گیا تھا تو پھر کیا اس کا کسی کو وہم گزر سکتا تھا کہ یہ شخص خود مسیح موعود بنے گا اور ان الہامات کا مصداق وہ اپنے آپ کو ٹھہرائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا نے جب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو اسے حیات مسیح کے عقیدہ سے دستبردار ہونا پڑا اور اس نے اپنے اس عقیدہ کو غلط ٹھہرایا جو اس نے نزول عیسیٰ بن مریم کے بارے میں براہین احمدیہ میں لکھا تھا سو یہ مرزا غلام احمد کا ایک جھوٹ تھا جسے وہ یہاں سچ کہہ رہا ہے۔

اپنے مسیح موعود ہونے کے دعوے کو وہ پہلے سے مشکل سمجھ رہا تھا یہی وجہ ہے کہ اس نے علماء کو ایک پیچ میں پھانسا۔ وہ خود لکھتا ہے:

”میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور ایک وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا۔“

(نصرۃ الحق ص ۵۳۔ رخ جلد ۲۱ ص ۶۸ در حاشیہ)

اس صورت حال سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا غلام احمد کے ذہن میں ”براہین احمدیہ“ کے شائع کرنے میں شروع سے وہ داؤ اور پیچ تھے جنہیں وہ وقت گزرنے پر آہستہ آہستہ کھولتا رہا اور امت مسلمہ اس کے تدریجی دعوؤں سے اس کے خلاف متدرجاً مخالف ہوتی گئی سو اس میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ براہین احمدیہ کی اشاعت کے وقت اس کا ذہن شروع سے امانت و دیانت کے خلاف مجتمع اور خیانت و خدع میں گھرا ہوا تھا۔

حقوق العباد کے اُجڑے دیار میں انسانی حقوق کا تماشہ

سب سے اہم شرائط جو لائق توفیہ ہیں وہ ہیں جن سے دو انسان ایک زندگی میں داخل ہوتے ہیں۔ نکاح خاوند اور بیوی کا یہ وہ جوڑ ہے جس سے دونوں کا ایک گھر بنتا ہے۔ حضرت عقبہ کہتے ہیں، حضور نے فرمایا:

احق ما اوفيتم من الشروط ان توفوا به ما استحللتم به الفروج۔

(صحیح بخاری ۲ ص ۷۷۴)

صفحہ 136

(ترجمہ) جو شرطیں تم پورا کرو ان میں سب سے زیادہ حق ان شروط کا ہے جن سے تم نے کسی عورت کو اپنے لئے حلال کیا۔

غلام احمد کی پہلی بیوی ان کی ماموں زاد بہن تھی اس کا نام حرمت بی بی تھا اور وہ مرزا سلطان احمد اور فضل احمد کی ماں تھی یہ وہی فضل احمد ہے جس کا جنازہ غلام احمد نے نہ پڑھا تھا کیونکہ وہ اس پر ایمان نہ رکھتا تھا۔ یہ ماں بیٹے مرزا صاحب کے مجرم اس پر ایمان نہ لانے کے مجرم قرار دیئے گئے تھے۔

مرزا غلام احمد دعویٰ کر چکا تھا کہ وہ مسیح موعود اور مہدی موعود ہے اور لوگ اعتراض کر رہے تھے کہ مہدی تو بنی فاطمہ میں سے ہوگا۔ یہ کیسا مہدی ہے جو مغلوں سے آ گیا۔ مرزا نے بنی فاطمہ سے جوڑ پیدا کرنے کے لئے چاہا کہ اس کی دوسری شادی سادات میں ہو جائے اس سے کچھ نسبت تو بنی فاطمہ سے ہو ہی جائے گی۔ مرزا لکھتا ہے:

”مجھے بشارت دی گئی کہ تمہاری شادی خاندان سادات میں سے ہوگی اور اس میں سے اولاد ہوگی تا پیشگوئی حدیث یتزوج ویولدلہ پوری ہو جائے یہ حدیث اشارہ کر رہی ہے کہ مسیح موعود کو خاندان سادات سے تعلق دامادی ہوگا۔“ (اربعین حصہ ۳ ۔۔۔ رخ جلد ۱۷ ص ۳۸۵)

مولانا محمد حسین بٹالوی کی نشاندہی پر مرزا غلام احمد نے میر ناصر نواب دہلوی کی بیٹی نصرت جہاں سے شادی کی اور ان کے شیخ الکل میاں نذیر حسین نے مرزا صاحب کا نکاح پڑھا۔ مرزا صاحب کی کتاب براہین احمدیہ شائع ہو چکی تھی مرزا غلام احمد کے کرتے پر جو آسمانی چھینٹے دیکھے گئے اس کے بعد یہ نکاح وجود میں آیا۔ مرزا بشیر احمد نے یہ سب واقعات ۱۸۸۴ء کے بتلائے ہیں۔ (دیکھئے سیرت المہدی جلد ۲ ص ۱۵۱)

نصرت بیگم کے آنے پر حرمت بی بی پر کیا گزری

مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:

”حضرت صاحب نے انہیں (حرمت بی بی کو) کہلا بھیجا کہ آج تک تو جس طرح ہوتا رہا ہوتا رہا اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے ۔۔۔۔۔۔ اب دو باتیں ہیں یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق

صفحہ 137

چھوڑ دو میں تم کو خرچ دیئے جاؤں گا انہوں نے (حرمت بی بی ) کہلا بھیجا کہ اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی بس مجھے خرچ ملتا رہے میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔‘‘ (سیرت المہدی جلد ۱ ص ۳۴، ۳۳)

یہ حرمت بی بی آپ کی ماموں زاد بہن تھی اس نے اب یہ خاموش زندگی اختیار کی اور بلا طلاق رہنا پسند کیا اس کے دو بیٹے تھے سلطان احمد اور فضل احمد ۔ مرزا سلطان احمد اپنی والدہ کی ضروریات کا متکفل رہا غلام احمد نے اسے کوئی باقاعدہ خرچہ دیا ہو اس کا قادیانی لٹریچر میں کہیں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

محمدی بیگم سے نکاح کی کوشش میں حرمت بی بی کو طلاق

پھر جب مرزا غلام احمد نے محمدی بیگم سے نکاح کی خواہش کی اور محمدی بیگم کے والد مرزا احمد بیگ نے انکار کر دیا تو چونکہ حرمت بی بی انہی کے عزیزوں میں سے تھی (مرزا غلام احمد کی چچا زاد بہن کی بیٹی تھی) مرزا غلام احمد نے مرزا احمد بیگ کو دھمکی دی کہ یا بیٹی دے دو ورنہ حرمت بی بی کو طلاق ہو جائے گی۔ یہ بڑھیا اس معرکہ میں کیا کر سکتی تھی یہ آپ ہی سوچیں اس بے بس عورت کو جو عرصہ سے معلقہ کی طرح زندگی گزار رہی تھی اسے مرزا صاحب نے اس حال میں بھی رہنے نہ دیا اور بالآخر طلاق دے دی۔ انسانی حقوق کے ساتھ یہ تماشہ شاید ہی کہیں آپ کی نظر سے گزرا ہو۔ کیا بیوی پر شرعاً ضروری ہے کہ وہ کسی دوسری عورت کو اپنے خاوند کے نکاح میں آنے پر مجبور کرے یا اس کے والد کو کہے کہ اپنی بیٹی کو میرے خاوند کے نکاح میں دو؟ اگر نہیں تو کیا خاوند کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی اس بے بس بیوی کو اپنے ان رشتہ داروں سے قطع تعلق پر مجبور کرے کیا اسلام ان سفلی حرکات کی اجازت دیتا ہے کیا کوئی شریف آدمی اپنی بیوی سے اس قسم کے کام لیتا ہے۔ کیا عورتیں مکلف ہیں کہ اپنے خاوند کو اس طرح اور لڑکیاں مہیا کریں۔ کوئی عالم دین اس بات کا فتویٰ نہ دے گا۔

پھر یہی نہیں کہ مرزا غلام احمد نے حرمت بی بی کو اس پر طلاق دی اس نے اپنے بیٹے سلطان احمد کو بھی مجبور کیا کہ وہ اپنی والدہ کے ان رشتہ داروں سے قطع تعلق کرے سوال یہ ہے کہ کیا شرعاً اتنی بات پر اپنے بیٹے کو عاق اور محروم الارث کیا جا سکتا ہے؟

مرزا غلام احمد نے انہیں لکھا:

صفحہ 138

”اب تم اپنا آخری فیصلہ کرو اگر تم نے میرے ساتھ تعلق رکھنا ہے تو پھر ان سے قطع تعلق کرنا ہو گا اور اگر ان سے تعلق رکھنا ہے تو پھر میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہ سکتا میں اس صورت میں تم کو عاق کرتا ہوں۔“

(سیرت المہدی جلد ۱ ص ۲۹)

کیا اس بات پر کہ ایک شخص کو مجبور کیا جائے کہ اپنی کمسن بیٹی کو ایک پچپن سال کے بوڑھے کے نکاح میں ضرور دے اور اس کے جو عزیز اسے مجبور نہ کر سکیں اور اس سے ملنا جلنا بند نہ کریں ان میں کسی کو عاق کیا جا سکتا ہے؟ مرزا سلطان احمد اور فضل احمد دونوں بالغ تھے شادی شدہ تھے اپنے باپ سے علیحدہ رہ رہے تھے انہیں اس بات پر عاق کرنا کہ وہ اپنے باپ کو یہ کمسن بچی نہ دینے والے باپ سے قطع تعلق کیوں نہیں کرتے۔ کیا یہ شرعاً جائز ہے؟

مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:

”مرزا سلطان احمد کا جواب آیا کہ مجھ پر مائی صاحبہ کے احسانات ہیں میں ان سے قطع تعلق نہیں کر سکتا مگر مرزا فضل احمد نے لکھا کہ میرا تو آپ کے ساتھ ہی تعلق ہے ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ حضرت صاحب نے مرزا فضل احمد کو جواب دیا کہ اگر یہ درست ہے تو اپنی بیوی بنت مرزا علی شیر کو (یہ بھی محمدی بیگم کے خاندان میں سے تھی مرزا احمد بیگ کی بھانجی تھی) طلاق دے دو۔“

(سیرت المہدی ج ۱ ص ۲۹)

بڑھاپے میں ایک کمسن لڑکی کو اپنے نکاح میں لانے کے لئے اپنے بیٹے کے بستے گھر کو اجاڑنا اور لڑکی والوں پر ہر طرف سے دباؤ ڈالنا کیا یہ کردار کسی خدا سے ڈرنے والے کا ہو سکتا ہے؟ ناظرین خود اس پر غور فرمائیں۔

لڑکی کے والد کو زمین دینے کا لالچ دینا

مرزا غلام احمد نے مرزا احمد بیگ کو لکھا:

”آپ کی دختر کو اپنی زمین اور تمام جائداد کا تہائی حصہ دوں گا اور بھی جو تم مانگو گے تم کو دوں گا ...... میں نے یہ خط اللہ کے حکم سے لکھا ہے اور جو وعدہ زمین اور جائداد دینے کا اس میں کیا ہے وہ سب اللہ کی طرف سے ہے اور یہ خدا نے اپنے الہام سے مجھ سے کہلوایا ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۷۴)

صفحہ 139

ناظرین اس عبارت پر غور فرمائیں اور اپنے دل سے ان سوالوں کا جواب لیں۔

والد کو اپنے الہام سے تسلی دے رہا ہے کیا اس پر قادر نہ تھا کہ کُن کہہ کر لڑکی دینے کا ارادہ احمد بیگ کے دل میں ڈال دے اور یہ نکاح ہو جائے انما امرہ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون۔ (پ ۲۳ یٰسین) جب وہ کسی بات کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ”ہو جا“ اور وہ بات ہو جاتی ہے۔

کے وارثوں میں سے ہو گی یا نہ؟ اگر ہو تو بتلائیے کہ جائیداد کے تیسرے حصے کی کسی کے لئے وصیت کرنا کیا اس کی اجازت کسی وارث کو بھی شامل ہے کیا یہ وصیت کا تیسرا حصہ کسی وارث کو دیا جا سکتا ہے؟

سنا آپ نے فرمایا:

ان اللہ تبارک و تعالیٰ قد اعطی کل ذی حق حقہ فلا وصیۃ لوارث ۔

(جامع ترمذی ص ۳۳)

(ترجمہ) بیشک اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق آیت میراث میں دے دیا ہے سو اب کسی وارث کے حق میں کچھ اور نہیں دیا جا سکتا۔

اور اگر یہ تیسرا حصہ بطور وصیت نہیں بطور ہبہ دیا جا رہا ہے تو کیا کسی وارث کو کوئی حصہ دوسرے وارثوں کو اس طرح ہبہ کرنے کے بغیر دیا جا سکتا ہے مرزا اگر یہ تیسرا حصہ محمدی بیگم کو دے رہا تھا تو کیا وہ ایسا ہی ایک تیسرا حصہ حرمت بی بی کو اور ایک نصرت جہاں بیگم کو بھی دے رہا تھا جائیداد کے اگر تین حصے تینوں بیویوں کو دے دیئے تو بیٹوں کے لئے جماعتی چندوں کے سوا اور کیا باقی رہ جائے گا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت نعمان بن بشیر کو ان کے والد لے کر آئے اور انہیں ایک غلام ہبہ کرنا چاہا۔ حضور نے آپ کے والد سے پوچھا کہ کیا تو نے اپنے سب بیٹوں کو اسی مقدار میں کچھ ہبہ کیا ہے؟ اس نے کہا نہیں تو آپ نے فرمایا پھر اسے بھی نہیں۔ یعنی شرعی حق سے زائد مال دے تو سب کو دے ایک کو نہیں دیا جا سکتا جو تیسرا حصہ وصیت

صفحہ 140

کرسکتا ہے وہ بھی وارث کو نہیں کسی دوسرے کو۔

عن النعمان بن بشیر انہ قال ان اباہ اتی بہ رسول اللہ ﷺ فقال انی نحلت ابنی ھذا غلاماً کان لی فقال رسول اللہ ﷺ اکل ولدک نحلتہ مثل ھذا فقال لا فقال رسول اللہ ﷺ فارجعہ ۔ (صحیح مسلم ۲ ص ۳۶)

(ترجمہ) حضرت نعمان کہتے ہیں انہیں ان کے والد حضور کے پاس لے کر آئے اور کہا میں نے اپنے اس بیٹے کو اپنا ایک غلام ھبہ کر دیا ہے حضور نے پوچھا کہ کیا تو نے اپنے سب بیٹوں کو اتنا ھبہ کیا ہے والد صاحب نے کہا نہیں اس پر حضور نے فرمایا پھر اسے بھی واپس لے لو۔

نکاح نہ ہونے کی صورت میں اپنے آپ کو چوہڑا چمار کہہ دینا

مرزا غلام احمد کو جب معلوم ہوا کہ محمدی بیگم کا نکاح کسی اور جگہ ہونے والا ہے تو مرزا نے مرزا علی شیر بیگ کو جو مرزا احمد بیگ کا بہنوئی تھا۔ اور مرزا فضل احمد کا خسر تھا (اس کی بیٹی عزت بی بی مرزا غلام احمد کی بہو تھی ) ۴ مئی ۱۸۹۱ء کو یہ خط لکھا:

”میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں ...... میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے ...... اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا تھا کیا میں چوہڑا یا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار اور ننگ تھی ۔ اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں ۔ میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو ۔ للہ خدا تعالیٰ سے خوف کرو کسی نے جواب نہ دیا بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آ کر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے صرف عزت بی بی نام کے لئے فضل احمد کے گھر میں ہے بیشک وہ طلاق دے دیوے ہم راضی ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں

مرزا نے تو خود ان کی بہن حرمت بی بی کو اپنے سے فارغ کر کے بھتیجے کی ماں بنا رکھا تھا اب بھتیجے کے خسر کی یہ منت وسماجت کیوں؟

صفحہ 141

کریں گے یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں ............... یہ باتیں آپ کی بیوی کی مجھے پہنچی ہیں بیشک میں ناچیز ہوں ذلیل ہوں اور خوار ہوں مگر خدا کے ہاتھ میں میری عزت ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے اب جب میں ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے میں نے ان کی خدمت میں لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا ............... اور اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا (محمدی بیگم کے دوسری جگہ نکاح کا) بند کرا دو گے تو میں بدل و جان حاضر ہوں ............... آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔"

دیکھئے اس لئے ایک کمسن لڑکی ایک بوڑھے کے نکاح میں کیوں نہیں آتی۔ کتنے پاپڑ بیلے جا رہے ہیں اور کتنے گھر برباد کئے جا رہے ہیں اپنی بیوی حرمت بی بی کو طلاق دی جارہی ہے۔ بہو (عزت بی بی) کو طلاق دلوائی جارہی ہے فضل احمد کو محروم الارث ہونے کی دھمکی دی جارہی ہے اور محمدی بیگم سے نکاح ہونے کا پھر بھی یقین کامل ہے مرزا صاحب نے پھر اگست ١٩٠١ء کو یہ حلفیہ بیان دیا جو ان کے اخبار الحکم ١٠۔ اگست ١٩٠١ء میں شائع ہوا:

"عورت (محمدی بیگم) اب تک زندہ ہے میرے نکاح میں وہ ضرور آئے گا یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی۔"

(عدالت گورداسپور میں مرزا صاحب کا حلفیہ بیان الحکم ص ۱۴ کالم ۳)

مذہبی دنیا میں انسانی حقوق کا ایسا کریہہ ڈرامہ شاید ہی کسی نے دیکھا ہو اور خدا کے نام پر ایسے صریح اور قطعی لفظوں میں شاید ہی کوئی جھوٹ باندھا گیا ہو محمدی بیگم مرزا کی وفات کے بعد ۵۸ سال تک دنیا میں زندہ رہی اور اسلام پر اس کی وفات ہوئی اور اسے اور اس کے خاندان کو ذلیل و رسوا ہونے کی دھمکیاں دینے والے قانون کی نگاہ میں سرعام غیر مسلم ٹھہرائے گئے نصرت بیگم کی اولاد غیر مسلم ہو گئی اور محمدی بیگم کی اولاد مسلمانوں کی صف میں رہی یہ لوگ ایک اسلامی سلطنت کے آزاد شہری ٹھہرے اور نصرت جہاں بیگم کا پوتا مرزا طاہر مسلمانوں کی غلامی سے بھاگ کر لندن میں انگریزوں کے ہاں پناہ گزیں ہوا۔ یہ وہ بد نصیب ہیں جو ہمیشہ غیر

صفحہ 142

اسلامی سلطنتوں کے سایہ میں رہیں گے اور آزادی کا سانس انہیں کبھی نصیب نہ ہوا اللہ تعالیٰ پاکستان کی آزادی کو قائم اور دائم رکھے یہ وہ تحفہ اور انعام الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے مرزا غلام احمد کی مسیحیت کے منکرین کو ۱۹۴۷ء میں بخشا۔

ایک اور پیشگوئی ملاحظہ کرتے چلیں

جب کسی کو پیشگوئیوں کی عادت پڑ جائے تو وہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا مرزا غلام احمد کو جب کبھی اطلاع ملتی کہ فلاں شخص کے ہاں امید ہو گئی ہے تو جھٹ ایک آدھ پیشگوئی اگل دیتے اور پھر ایسے پہلو دار لفظ بولتے کہ سننے والے وادی حیرت کو ٹٹولتے قادیان میں ایک پیر جی تھے ان کے گھر امید ہوئی تو مرزا صاحب نے ۱۹ فروری ۱۹۰۶ء ایک رویا دیکھا اور کہا:

”دیکھا ہے کہ منظور محمد کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے اور دریافت کرتے ہیں کہ اس لڑکے کا نام کیا رکھا جائے یہاں تک تو خواب تھا اب ساتھ ہی الہام ہوا کہ نام بشیر الدولہ رکھا جائے اب مرزا صاحب قیاس کی طرف لوٹے اور کہا اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ وہ لڑکا خود اقبال مند اور صاحب دولت ہو گا لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ کب اور کس وقت یہ لڑکا پیدا ہوگا۔“

(بدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخہ ۲۳ فروری ۱۹۰۶ء تذکرہ ص ۵۹۱)

پھر سات جون ۱۹۰۶ء کو الہام ہوا اس لڑکے کے دو نام ہوں گے : (۱) بشیر الدولہ۔ (۲) عالم کباب۔ (تذکرہ ص ۶۱۵) یہ ہر دو نام بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوئے پھر الہام ہوا کہ اس کے دو نام نہیں بلکہ چار ہوں گے: ایک شادی خان اور دوسرا کلمۃ اللہ خان۔ (تذکرہ ص ۶۱۶) پھر گیارہ دن بعد الہام ہوا کہ اس لڑکے کے نام چار نہیں نو ہوں گے۔ (تذکرہ ص ۶۲۰)

مگر جب پیر جی منظور صاحب کے ہاں ۱۷ جولائی ۱۹۰۶ء کو لڑکی پیدا ہوئی تو مرزا صاحب چودہ دن گھر سے نہ نکل سکے اور گھر بیٹھے کباب کھاتے رہے کہ عالم کباب کیوں نہیں آیا یہ کون آگئی ہے پہلے دو ناموں والا آ رہا تھا، پھر چار ناموں والا، پھر نو ناموں والا کل کتنے نام ہوئے (۱۵)۔ معلوم نہیں اتنے ناموں والا بشیر الدولہ کیسے ہو گیا اسے تو بشیر الاسماء ہونا چاہیے تھا بہر حال حاصل اینکہ مرزا صاحب اپنی اس پیشگوئی میں بھی چوک گئے اور اب انہیں اپنے مرنے کی فکر ہو گئی۔ مرزا صاحب مایوس نہ ہوئے کہا کبھی تو بشیر الدولہ آئے گا کیا منظور کی بیوی زندہ

صفحہ 143

نہیں اور کیا وہ پھر کبھی حاملہ نہ ہو گی۔ کچھ تو خدا سے ڈرو محمدی بیگم کے ہاں اس کے بعد بھی کوئی لڑکا پیدا نہ ہوا۔

ایک یہ پیشگوئی بھی ملاحظہ فرمائیں

مرزا غلام احمد نے ۱۴ جنوری ۱۹۰۶ء بوحی خداوندی اعلان کیا: ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔“ (تذکرہ ص ۵۸۴) مکہ جانا ان کے نصیب میں نہ تھا مجبوراً اس الہام کی یہ تاویل کی: اس کے معنی یہ ہیں کہ قبل از موت مکی فتح نصیب ہوگی جیسا کہ وہاں دشمن کو قہر کے ساتھ مغلوب کیا گیا تھا۔ اسی طرح یہاں بھی دشمن قہری نشانوں سے مغلوب کیے جائیں گے دوسرے یہ معنے ہیں کہ قبل از موت مدنی فتح نصیب ہوگی خود بخود لوگوں کے دل ہماری طرف مائل ہو جائیں گے۔

مرزا کے دشمن کب مغلوب ہوئے مرزا ۱۹۰۸ء کو مر گیا اور مولانا ثناء اللہ امرتسری چالیس سال امرتسر میں نہایت عزت سے زندہ رہے۔ ڈاکٹر عبدالحکیم آف پٹیالہ گیارہ سال مزید زندہ رہے۔ ۱۹۱۹ء میں فوت ہوئے۔ محمدی بیگم کا خاوند مرزا سلطان محمد سالہا سال ۴۰ سال تک مرزا صاحب کی آسمانی منکوحہ کو ساتھ لئے پھرتا رہا۔ مولانا رشید احمد گنگوہی بھی مرزا کی بددعا کے بعد کئی سال حیات رہے اور ایک دنیا آپ کے علوم و فیوض سے سیراب ہوتی رہی۔

مرزا صاحب کی ایک اور پیشگوئی ملاحظہ ہو

”واذا العشار عطلت پوری ہوئی اور پیشگوئی حدیث ولیتر کن القلاص فلا يسعى عليها نے اپنی پوری چمک دکھلائی ............... مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل تیار ہورہی ہے۔ یہی اس پیشگوئی کا ظہور ہے جو قرآن وحدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی۔ جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔“ (ضمیمہ نزول مسیح ص ۲۔ ر۔خ جلد ۱۹ ص ۱۰۸)

دنیا گواہ ہے کہ مرزا غلام احمد کی موت کو نوے سال ہو رہے ہیں اور اب تک مدینہ اور مکہ میں ریل نہیں چلی اور مسیح موعود کا یہ نشان ظہور میں نہیں آیا مرزا کی پیشگوئی کے مطابق

صفحہ 144

۱۹۰۵ء میں یہ ریل چل جانی چاہئے تھی۔ (دیکھو تحفہ گولڑویہ ص ۶۴‘ روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۱۹۵)

(۳) مرزا غلام احمد کے کھلے جھوٹ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد آنے والے جن مدعیان نبوت کی خبر دی ان کے بارے میں فرمایا وہ کذاب اور دجال ہوں گے جن مسائل میں قرآن وحدیث کی بحثیں آئی ہیں ان میں ان کا کردار دجل وفریب کا رہا اور ان کے علاوہ جو مباحث سامنے آئے ان میں اس کے کھلے جھوٹ سامنے آئے حضور کی اس پیشگوئی کے مطابق مرزا غلام احمد بھی اپنے مسیح موعود ہونے کے دعوے میں بے شک دجال ہے۔ لیکن ہم یہاں وہ باتیں علیحدہ پیش کریں گے جن میں وہ کذاب ہے اور کھلے جھوٹ کا مرتکب ہے:

ہے مکہ‘ مدینہ اور قادیان یہ کشف تھا ۔“ (ازالہ اوہام حاشیہ ص ۷۷، روحانی خزائن جلد ۳ ص ۱۴۰)

یہاں یہ نہیں کہا کہ مذکور ہے بلکہ کہا درج ہے۔ مذکور ہونا کسی معنوی پیرائے میں بھی ہو سکتا ہے درج ہونا خاص لکھے جانے کے معنی میں ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ نبی کا کشف بھی ایک حقیقت ہے۔ مرزا غلام احمد جس طرح اپنی نبوت کو حضور کی بعثت کا ایک دوسرا ظہور کہتا رہا وہ اپنی وحی (جو تذکرہ کے نام سے ان کے ہاں تلاوت کی جاتی ہے) کو بھی قرآن کا تتمہ سمجھتا ہے تذکرہ میں بیشک یہ لفظ موجود ہے۔

مرزا کے دعوے سے معلوم ہوا کہ وہ مسلمانوں کی طرح صرف ایک قرآن کا قائل نہیں وہ تذکرے کو دوسرا قرآن سمجھتا ہے اور اسے اس قرآن کا تتمہ خیال کرتا ہے تبھی تو اس نے یہ بات گھڑ کر کہی ہے کہ قادیان کا نام قرآن مجید میں ہے۔ آگے چلئے مرزا صاحب قرآن کریم پر ایک دوسرا جھوٹ باندھتے ہیں۔

کا نام مریم رکھا گیا ہے اور پھر پوری اتباعِ شریعت کی وجہ سے اس مریم میں خدا تعالیٰ کی طرف سے روح پھونکی گئی اور روح پھونکنے کے بعد اس مریم سے عیسیٰ پیدا ہو گیا۔ اور اسی بناء پر خدا نے میرا نام عیسیٰ بن مریم رکھا۔“ (براہین احمدیہ ج ۵ ص ۱۸۹۔ رخ جلد ۲۱ ص ۳۶۱)

یہ بات سورۃ تحریم میں صریح طور پر ہے۔ قرآن کریم پر یہ اک صریح جھوٹ ہے۔

صفحہ 145

پھر قرآن پاک پر یہ جھوٹ بھی باندھا ہے

وقد قيل منكم ياتين امامكم
وذلك في القرآن نبأ مكرر

(ضمیمہ نزول مسیح ص ۱۸۸)

(ترجمہ) روایت میں یہ چیز آ گئی تھی کہ تمہارا امام تم میں سے ہوگا اور یہ خبر قرآن میں دو دفعہ دی گئی ہے حدیث میں تو ہے کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم وامامکم منکم لیکن یہ قرآن میں کہیں نہیں۔ قرآن کریم پر یہ الزام ایک کھلا جھوٹ ہے۔

آگے قرآن وحدیث پر ایک اور جھوٹ بولا گیا دیکھیں۔

جھوٹ (۳) لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی پیشگوئیاں پوری ہوتیں جس میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو:

سو ان دنوں میں وہ پیش گوئی انہی مولویوں نے اپنے ہاتھوں سے پوری کی۔

(اربعین حصہ ۳ ص ۷ ار۔ خ جلد ۱۷ ص ۴۰۴)

یہ بات نہ قرآن کریم میں ہے نہ احادیث میں مرزا غلام احمد نے یہاں جی بھر کر جھوٹ بولا ہے۔ مسیح موعود کی یہ صفات کہیں کسی روایت میں موجود نہ ملیں گی۔

جھوٹ (۴) مرزا جی نے ہندوستان کے کرشن کنہیا کو نبی ثابت کرنے کے لئے یہ حدیث گھڑی کہ آنحضرت نے یہ فرمایا:

كان في الهند نبياً اسود اللون اسمه كاهنا۔

ہند میں ایک نبی گزرا ہے جو سیاہ رنگ کا تھا اس کا نام کاھنا تھا یعنی کنہیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔ (ضمیمہ چشمہ معرفت ص ۱۰ روحانی خزائن جلد ۲۳ ص ۳۸۲)

یہ حدیث کہیں ان الفاظ سے پائی نہیں گئی۔

صفحہ 146

(۵) قرآن کریم پر ایک اور جھوٹ

”اس آخری زمانے کی نسبت خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ خبریں بھی دی تھیں کہ کتابیں اور رسالے بہت سے دنیا میں شائع ہو جائیں گے اور قوموں کی باہمی ملاقات کے لئے راہیں کھل جائیں گی اور دریاؤں میں بکثرت نہریں نکلیں گی اور بہت سی نئی کانیں پیدا ہو جائیں گی اور لوگوں میں مذہبی امور میں بہت سے تنازعات پیدا ہوں گے اور ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرے گی اور اسی اثنا میں آسمان سے ایک صور پھونکی جائیگی۔ یعنی خدا تعالیٰ مسیح موعود کو بھیج کر اشاعت دین کے لئے ایک تجلی فرمائے گا تب دین اسلام کی طرف ہر ایک ملک میں سعید الفطرت لوگوں کو ایک رغبت پیدا ہو جائے گی اور جس حد تک خدا کا ارادہ ہے تمام زمین کے سعید لوگوں کو اسلام پر جمع کرے گا تب آخر ہوگا سو یہ تمام باتیں ظہور میں آگئیں۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۸۸۔ رخ جلد ۲۱ ص ۳۵۹)

یہاں قرآن کے حوالے سے یہ باتیں کہی گئی ہیں:

گا اس عبارت میں الفاظ ”تب آخر ہوگا“ قابل غور ہیں اگلے الفاظ بھی غور سے سمجھیں کہ ”یہ سب باتیں ظہور میں آگئیں“ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مسیح موعود کی صدی آخری صدی ہے اور اس پر دنیا کا آخر ہے اور وہ وقت آن پہنچا ہے جب قیامت قائم ہوگی۔

موعود کے باعث پوری دنیا میں ہدایت پھیل جائے گی اور لوگ اسلام پر جمع ہو جائیں گے۔

قرآن کریم میں یہ کہیں نہیں دیا گیا کہ دریاؤں سے نہریں نکلیں گی اور چودھویں صدی آخری صدی ہوگی اور اس پر دنیا کا آخر ہوگا اور اس میں تمام سعید الفطرت لوگ اسلام پر جمع ہو جائیں گے۔ مرزا صاحب نے یہ قرآن پر جھوٹ بولا ہے۔

جھوٹ (۶) اب آئیے آگے چلیں مرزا صاحب آگے احادیث کے نام سے یہ جھوٹ بولتے ہیں۔

”ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود کے سر پر آئے گا اور وہ چودھویں صدی کا مجدد ہوگا سو یہ تمام علامات بھی اس زمانے میں پوری ہو گئیں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۹۹۔ رخ جلد ۲۱ ص ۳۵۹)

صفحہ 147

کسی حدیث میں چودھویں صدی کا ذکر نہیں نہ یہ کہ یہ صدی آخری ہو گی مرزا غلام احمد نے اپنے کو مسیح موعود منوانے کی خاطر حدیث کے نام پر یہ جھوٹ بولا ہے حدیث صحیح کیا کسی حدیث ضعیف میں بھی چودھویں صدی کا ذکر نہیں ۔ یہ بات بھی مرزا غلام احمد کا آنحضرتؐ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ آنحضرتؐ نے مہدی کے ظہور کے لئے چودھویں صدی ہی قرار دی تھی۔

(دیکھو تحفہ گولڑویہ ص ۴۳ ر۔خ جلد ۱۷ ص ۱۵۳)

جھوٹ (۷) مرزا غلام احمد کا ایک اور جھوٹ ملاحظہ فرمائیں یہ کسی ایک نبی کے حوالے سے نہیں سب انبیاء گزشتہ کے نام سے یہ بات کہی گئی ہے۔

”انبیاء ۱؎ گزشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی کہ وہ (مسیح موعود) چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہو گا اور نیز کہ یہ پنجاب میں ہوگا۔“

(اربعین ۲ ص ۲۳ ر۔خ جلد ۱۷ ص ۴۳۱)

انبیاء کرام کیا کسی ایک نبی سے بھی ثابت نہیں اس نے کبھی لفظ پنجاب اپنی زبان سے ادا کیا ہو غلام احمد نے یہ انبیاء کرام پر جھوٹ باندھا ہے نہ کسی نبی نے چودھویں صدی کو آخری صدی کہا نہ کسی نے کبھی لفظ پنجاب بولا ۔ قادیانیوں کو جب احساس ہوا کہ یہ صریح جھوٹ ہے تو انہوں نے اگلے ایڈیشنوں میں لفظ انبیاء کو اولیاء سے بدل دیا لیکن انہیں اگلے الفاظ بدلنے یاد نہ رہے وہ الفاظ کیا تھے: ”اس بات پر قطعی مہر لگا دی۔“

سایہ ہوتا ہے گناہ ان کی طرف راہ نہیں پاتا۔ اولیاء کی بات شرعی حجت نہیں ہوتی نہ ان کا الہام دوسروں کے لئے شرعی حجت بنتا ہے یہاں صرف لفظ مہر نہیں قطعی مہر کے الفاظ ہیں۔ اخبار میں مہر تصدیق صرف پیغمبروں کے ہاتھ میں دی گئی ہے۔

دے رہے تھے اس کا انتظار کر رہے تھے ولی انتظار کرتے ہیں اور نبی تصدیق کرتے ہیں وہ پہلی عبارت یہ ہے :

۱؎ نوٹ : دوسرے ایڈیشن میں انبیاء کا لفظ ”اولیاء“ سے بدل کر خیانت کی اب روحانی خزائن جو قادیانی کتب کا مجموعہ شائع کیا ہے اس میں سے دوسرے ایڈیشن کے حاشیہ کی عبارت بھی حذف کر دی ۔ یہ خیانت در خیانت نہیں تو اور کیا ہے۔ (از چنیوٹی)

صفحہ 148

”اس صدی میں جس پر امت کے اولیاء کی نظریں لگی ہوئی تھیں اس میں بقول تمہارے ایک چھوٹا سا مجدد بھی پیدا نہ ہوا اور محض ایک دجال پیدا ہوا۔“

(اربعین ص ۳۷۰)

سو عبارت کا اصل لفظ انبیاء ہے اولیاء نہیں اور یہ بات مرزا صاحب کا صریح جھوٹ ہے کہ انبیاء گذشتہ نے اس پر مہر تصدیق لگائی کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں آئے گا اور نیز یہ کہ پنجاب میں آئے گا۔ سبحانک ھذا بھتان عظیم۔

مرزا غلام احمد کی سفہیات

یوں تو غلام احمد بہت ہوشیار اور چالاک تھا‘ منصوبے پہلے سے اس کے ذہن میں ہوتے تھے اور وہ ان کے لئے مناسب وقت کا منتظر رہتا تھا اور اس کی کہی بات کتنی صریح غلط کیوں نہ نکلے اس کے پاس اس میں تاویلات کی کمی نہ ہوتی تھی۔ براہین احمدیہ اس کی پہلی کتاب ہے جو اس نے دوسرے علماء سے مدد لے کر تالیف کی تاہم اس نے اس میں اپنے آئندہ دعوؤں کی زمین ہموار کر لی تھی اور بڑے بڑے علماء اس کے پیچ میں آ گئے تھے لیکن روز مرہ کے امور میں اس سے سفہیات بھی بہت ظاہر ہوتی رہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ دنیوی امور میں وہ کوئی روشن دماغ اور اچھی درایت اور سمجھ والا آدمی نہ تھا عام دیکھنے والا ہمیشہ اس کی آنکھوں میں شراب کا نشہ محسوس کرتا تھا۔

جو لوگ واقعی مامور من اللہ ہوتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ اچھا ذہن اور اچھی درایت عطا فرماتے ہیں اور وہ لوگ اپنے مریدوں کے سوا دوسرے لوگوں میں بھی اچھے سمجھدار اور باعزت سمجھے جاتے ہیں۔ مرزا بشیر الدین محمود لکھتا ہے:

”مسیحیت یا نبوت وغیرہ کا دعویٰ کرنے والا اگر درحقیقت سچا ہے تو یہ امر ضروری ہے کہ اس کا فہم اور درایت اور لوگوں سے بڑھ کر ہو۔“

(حقیقۃ النبوۃ ضمیمہ نمبر ۳)

اب اس کے برعکس غلام احمد کی چند وہ سفہیات (بے وقوفیاں) ملاحظہ فرمائیں جن کو پڑھ کر ہر سلیم الفطرت اس کی عقل اور شعور پر حیران رہ جاتا ہے۔

سر درد کے لئے مرغا ذبح کر کے سر پر باندھنا

”ایک دفعہ مرزا نظام الدین صاحب کو سخت بخار ہوا جس کا دماغ پر بھی اثر تھا اس

صفحہ 149

وقت کوئی اور طبیب یہاں نہیں تھا۔ مرزا نظام الدین کے عزیزوں نے حضرت کو اطلاع دی اور آپ فوراً وہاں تشریف لے گئے اور مناسب علاج کیا۔ علاج یہ تھا کہ آپ نے مرغا ذبح کرا کر سر پر باندھا۔“ (سیرت المہدی ج ۳ ص ۲۷)

مرغا پیٹ چاک کر کے باندھا یا اس طرح پروں سمیت باندھا اس کی تفصیل معلوم نہیں ہوسکی۔

کیا مرغا خود ذبح نہ کر سکتے تھے

مرغا اس لئے کسی سے ذبح کرایا کہ خود اس جرات سے خالی تھے۔ ایک دفعہ چاروناچار چوزہ ذبح کیا اور اپنی انگلی کاٹ لی۔

”حضرت اقدس مسیح موعود عصر کی نماز کے وقت مسجد مبارک میں تشریف لائے بائیں ہاتھ کی انگلی پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اس وقت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے پوچھا کہ حضور نے یہ پٹی کیسے باندھی ہے۔ تب حضرت اقدس نے ہنس کر فرمایا ایک چوزہ ذبح کرنا تھا ہماری انگلی پر چھری پھر گئی۔“ (سیرت المہدی جلد ۳ ص ۶)

جو لوگ اعتقاداً جہاد کو حرام سمجھتے ہیں پھر ان سے چوزہ بھی ذبح نہیں ہو پاتا، بس اپنی ہی انگلیاں کاٹتے ہیں۔ وہ اس صف کے لوگ ہیں جس میں زلیخا کے زمانہ کی عام عورتیں تھیں۔

دوا کی بجائے بیٹی کو تیل کی شیشی پلا دینا

”حضرت مسیح موعود کی اولاد میں آپ کی لڑکی عصمت ہی صرف ایسی تھی جو قادیان سے باہر پیدا ہوئی۔ اور باہر ہی فوت ہوئی ............ اسے ہیضہ ہوا تھا اس لڑکی کو شربت پینے کی عادت پڑ گئی تھی یعنی وہ شربت کو پسند کرتی تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے لئے شربت کی بوتل ہمیشہ پاس رکھا کرتے تھے رات کو وہ اٹھ کر کہتی ابا شربت پینا ہے آپ فوراً اٹھ کر شربت بنا کر اسے پلا دیا کرتے تھے ایک دفعہ لدھیانہ میں اس نے اسی طرح رات کو اٹھ کر شربت مانگا حضرت صاحب نے اسے شربت کی جگہ غلطی سے چنبیلی کا تیل پلا دیا جس کی بوتل اتفاقاً شربت کی بوتل کے پاس ہی پڑی تھی۔“ (سیرت المہدی جلد ۳ ص ۲۵۹)

صفحہ 150

مرزا غلام احمد کے تضادات

جب حرمت بی بی بوڑھی ہو گئی اور مرزا صاحب نے نصرت جہاں بیگم سے نکاح کرنا چاہا تو مشکوٰۃ شریف کی اس حدیث کا حوالہ دیا : يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ کہ مسیح آئے گا تو نکاح بھی کرے گا اور اس کی اولاد بھی ہوگی پہلا نکاح دعویٰ مسیحیت سے پہلے کا ہے وہ اس حدیث کا مصداق نہیں اور اب نصرت بیگم سے جو نکاح ہوگا اس کی اس حدیث میں خبر دی گئی ہے۔

”مجھے بشارت دی گئی کہ تمہاری شادی خاندان سادات میں ہوگی اور اس میں سے اولاد ہوگی تا پیشگوئی حدیث يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ پوری ہو جائے اور یہ حدیث اشارہ کر رہی ہے کہ مسیح موعود کو خاندان سادات سے تعلق دامادی ہو گا کیونکہ مسیح موعود کا تعلق جس سے وعدہ یولدلہ کے موافق صالح اور طیب اولاد پیدا ہو اعلیٰ اور طیب خاندان سے چاہیے۔“

(اربعین نمبر ۳، روحانی خزائن ج ۱۷ ص ۳۸۵)

مگر جب مرزا صاحب نے محمدی بیگم سے نکاح کرنا چاہا تو پھر انہیں یہی حدیث یاد آ گئی اور آپ نے اسی حدیث کا حوالہ دیا يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ۔ غلام احمد نے لکھا:

”اس پیشگوئی ( محمدی بیگم سے نکاح ) کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہوئی ہے يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز صاحب اولاد ہوگا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ۵۳ حاشیہ۔ رخ ج ۱۱ ص ۳۳۷)

اگر مرزا غلام احمد کے عقیدہ کے مطابق حضور کی یہ پیشگوئی نصرت بیگم کے نکاح سے پوری ہو چکی تھی اور اس سے مرزا کی اولاد بھی ہو چکی تھی تو پھر محمدی بیگم کو اس حدیث يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ کا مصداق ٹھہرانا کیا یہ اپنے آپ سے ٹکراؤ نہیں تاریخ بنی آدم میں مخالفوں سے ٹکرانا تو چلا آتا ہے لیکن یہ اپنے آپ سے ٹکرانا صرف اس شخص کے بارے میں صحیح ہو سکتا ہے جو مخبوط الحواس ہو یا اسے نصرت کی اولاد کے بارے میں اپنی اولاد ہونے کا یقین نہ ہو۔ معلوم نہیں قادیانی اس میں کونسی شق کو تسلیم کریں گے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے بارے میں یہ بتایا ہے کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے نہ ہوتا تو اس میں بہت سی باتوں کا آپس میں ٹکراؤ ہوتا۔

لوجدوا فيه اختلافاً كثيراً۔ (پ ۵ النساء ۸۲)

حدیث میں یولد لہ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ یہ مسیح موعود کی پہلی اولاد ہوگی ورنہ ہر

صفحہ 151

تزوج پر عام طور پر تولد ہو ہی جاتا ہے پھر اسے خصوصی طور پر بیان کرنے کے کیا معنی؟

(۲) غلام احمد نے اپنی پہلی بیوی حرمت بی بی سے ترک تعلق کیوں کر رکھا تھا؟ مرزا بشیر احمد کا بیان ہے کہ والدہ سلطان احمد اپنے بے دین اقرباء کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی جب مرزا غلام احمد نے اسے نکال دیا تو وہ اپنے بھائی مرزا علی شیر بیگ کے ہاں جا بیٹھی ظاہر ہے کہ بھائی بھی ایسا ہی بے دین ہوگا جیسی بہن تھی مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:

”مرزا نظام الدین و مرزا امام دین وغیرہ پرلے درجے کے بے دین اور دہریہ طبع لوگ تھے اور مرزا احمد بیگ مذکوران کے زیر اثر تھا اور انہیں کے رنگ میں رنگین رہتا۔“

(سیرۃ المہدی حصہ ۱ ص ۱۱۴)

”یہ لوگ سخت دنیا دار اور بے دین تھے۔“ (ایضاً ص ۳۱)

”حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور اس (حرمت) بی بی کا ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں اس لئے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کردی تھی۔“ (ایضاً ص ۳۳)

اب ظاہر ہے کہ یہ بے دین لوگ ہرگز مرزا صاحب کے مزاج کے نہ ہوں گے ان میں مرزا احمد بیگ (جس کے نکاح میں مرزا غلام احمد کی چچا زاد بہن تھی) اور مرزا علی شیر بیگ (جس کے نکاح میں مرزا احمد بیگ کی بہن تھی) سرفہرست تھے مرزا کی بیوی حرمت بی بی اسی علی شیر بیگ کی بہن تھی۔

اب جب مرزا صاحب کو محمدی بیگم کی طلب ہوئی تو یہ حضرات مرزا صاحب کی نظر میں یکا یک نیک ہو گئے مرزا صاحب، مرزا احمد بیگ کو ایک خط میں لکھتے ہیں۔

آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو لیکن خداوند علیم جانتا ہے کہ اس عاجز کا دل بکلی صاف ہے اور خدائے قادر مطلق سے آپ کے لئے خیر و برکت چاہتا ہوں میں نہیں جانتا کہ کس طریق اور کن لفظوں بیان کروں تا میرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے آپ پر ظاہر ہو جائے۔ (خط ۱۷ جولائی ۱۸۹۰ء بروز جمعہ)

اس سے دو سال پہلے ۱۵ جولائی ۱۸۸۸ء کے خط میں مرزا صاحب مرزا احمد بیگ کو بدعتی، بے دین، مستوجب قہر خدا قرار دے چکے تھے مگر اب دیکھئے ایک لڑکی کے لالچ میں آپ مرزا احمد بیگ کے حضور کس خوشامدی زبان پر آگئے۔

صفحہ 152

مرزا صاحب نے جو خط مرزا علی شیر بیگ کو لکھا جس کے ہاں مرزا صاحب کی بیوی حرمت بی بی فروکش تھی اسے بھی ملاحظہ فرمائیں یہ سب خوشامد صرف اس لئے کی گئی کہ کسی طرح مرزا علی شیر بیگ اپنے بہنوئی مرزا احمد بیگ کو محمدی بیگم کے مرزا صاحب سے نکاح کرنے پر مجبور کرے اور اس کی بیوی اپنے بھائی احمد بیگ سے اس نکاح کے لئے لڑ پڑے۔ بہرحال مرزا صاحب کا مرزا علی شیر بیگ کے حق میں یہ خوش آمدانہ لہجہ ملاحظہ ہو:

مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ تعالیٰ!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور ایک نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں...... اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا کیا میں چوہڑا یا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی بلکہ وہ تو اب تک ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لئے سب ایک ہو گئے۔

(خط مرزا غلام احمد از لدھیانہ ۲ مئی ۱۸۹۱ء)

مرزا غلام احمد نے یہاں یہ تسلیم کیا ہے کہ آپ کے یہ سب مخالفین اسلام پر قائم ہیں اور مرزا کے کسی آسمانی دعوے کا انکار کر کے وہ اسلام سے نکل نہیں گئے۔

کیا مرزا غلام احمد اپنے ان قریبی رشتہ داروں کے بارے میں کھلے تضاد کا مرتکب نہیں؟

غلام احمد نے ایک نوکر سے قرآن پڑھا

تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔“

(کتاب البریہ ص ۱۶۲، ر۔خ جلد ۱۳ ص ۱۸۰)

اپنے اس بیان کے غلط ہونے پر حلف اٹھانا

”سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔“

(ایام الصلح ص ۱۴۷، ر۔خ جلد ۱۴ ص ۳۹۴)

صفحہ 153

(۴) باخدا لوگ زن مرید نہیں ہوتے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اطاع الرجل امراتہ کو علامات قیامت میں ذکر کیا ہے کہ گھر میں بیوی کی چلے اور ماں کی نہ چلے خود مرزا غلام احمد بھی لکھتا ہے:

”خدا کا یہ منشاء نہیں کہ بالکل زن مرید ہو کر نفس پرست ہی ہو جاؤ۔“

(مکتوبات احمدیہ یا تقاریر حضرت مسیح موعود ص ۲۰۳)

مولوی عبدالکریم سیالکوٹی نے اپنی کتاب سیرت مسیح موعود میں لکھا ہے انہیں عورتوں سے بہ تواتر خبر پہنچی کہ حضرت صاحب زن مرید تھے۔

مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:

”اندرون خانہ کی خدمت گار عورتوں کو میں نے بار ہا تعجب سے کہتے سنا ہے کہ مرجا بیوی دی گل بڑی من دا اے۔“ (مرزا اپنی بیوی کی بات بہت مانتا ہے)

(سیرت المہدی جلد اول ص ۲۷۶)

اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ گھر کی خدمتگار عورتوں میں (جیسے عائشہ، زینب اور مائی فجو مشیانی وغیرہ) مرزا غلام احمد کی کوئی خاص عزت نہ تھی وہ اسے عام مرجا یا مرزا کہہ کر ذکر کرتیں کبھی کوئی تعظیمی کلمہ ساتھ نہ ہوتا تھا۔

بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ مرزا غلام احمد بیوی کی بات بہت مانتا تھا مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ دعویٰ بھی کرنا چاہتا تھا اس تعارض اور تضاد کو اٹھانے کی ایک صورت یہ ہے کہ مرزا غلام احمد زن مرید تو بیشک تھا لیکن ضروری نہیں کہ اسے خود بھی اپنے زن مرید ہونے کا پتہ ہو شراب پینے والوں کے ہوش اکثر اڑے رہتے ہیں۔

(۵) مرزا غلام احمد کی فحش پسندی کے چند نمونے

جس طرح صحابہ کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے بڑے فخر واعزاز سے کہتے تھے کہ آپ کا مزاج ہرگز فحش پسندانہ نہ تھا۔

لم يكن النبي صلی اللہ علیہ وسلم فاحشا ولا متفحشا هذا حديث حسن صحيح ...... ما كان الفحش فی شی الا شانہ ۔ (جامع ترمذی جلد ۲ ص ۱۹)

مرزا غلام احمد باوجود اس دعویٰ کے کہ میں نے حضور کی پیروی سے یہ نئی قسم کی نبوت

صفحہ 154

حاصل کی ہے اور حضورؐ یقیناً فحش پسند نہ تھے مگر وہ (مرزا) فحش پسند تھا اللہ تعالیٰ سب جہانوں کا پالنے والا ہے کافروں کا پرمیشر بھی وہی ایک ہے مگر مرزا غلام احمد کہتا ہے: آریوں کا پرمیشر ناف سے دس انگل کے فاصلے پر ہے۔ (سمجھنے والے سمجھ لیں)

(چشمہ معرفت ص ۱۱۳۔ ر۔ خ جلد ۲۳ ص ۱۲۱)

پھر مرزا صاحب ہندو لالہ جی کے بارے میں لکھتے ہیں:

لالہ صاحب بھی کیسے احمق ہیں ان کی لالی نے عقل ماری ہے
گھر میں لاتے ہیں اس کے یاروں کو ایسی جورو کی پاسداری ہے
اس کے یاروں کو دیکھنے کے لئے سر بازار ان کی باری ہے
بے قوی مرد کی تلاش انہیں خوب جورو کی حق گذاری ہے

(آریہ دھرم۔ ر۔ خ جلد ۱۰ ص ۷۶)

ہندو وید پر جرح اپنی جگہ لیکن کسی شریف آدمی کو بے حیائی کے یہ چٹخارے بھی زیبا نہیں ۔ کیا یہ زبان اور یہ انداز کسی آسمانی رہنما کا ہو سکتا ہے جو اپنے آپ کو اس کا ظل کہے جس کا پاؤں جہاں پڑتا وہاں کبھی بے حیائی کا چھینٹا نہ گرتا تھا۔

ایک ہندو عورت رام دئی کو جو ساری رات پنڈت سے منہ کالا کراتی رہی لالہ کس طرح تسلی دیتا ہے اسے غلام احمد کے الفاظ میں پڑھیں:

لالہ دیوث بولے اگر حمل خطا گیا تو میں کھڑک سنگھ کو جو اسی محلہ میں رہتا ہے نیوگ کے لئے بلا لوں گا عورت نہایت غصہ سے بولی کہ اگر کھڑک سنگھ بھی کچھ نہ کر سکا تو پھر کیا کرے گا لالہ بولا کہ تو جانتی ہے کہ نرائن سنگھ بھی ان دونوں سے کم نہیں اس کو بلا لاؤں گا پھر اگر ضرورت پڑی تو جیل سنگھ، لہنا سنگھ، بوز سنگھ، جیون سنگھ، صوبا سنگھ، خزان سنگھ، ارجن سنگھ، رام سنگھ، کشن سنگھ، دیال سنگھ سب اسی محلہ میں رہتے ہیں اور زور اور قوت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں میرے کہنے پر یہ سب حاضر ہو سکتے ہیں ۔ (آریہ دھرم۔ ر۔ خ جلد ۱۰ ص ۳۳)

کیا یہ زبان اور پیرایہ بیان کسی شریف آدمی کا ہو سکتا ہے؟ چہ جائیکہ کسی ملہم ربانی اور مامور یزدانی کا۔ عام آوارہ لڑکے بھی ایسی کہانی جوڑنی پسند نہیں کرتے اور مرزا غلام احمد ہے کہ اس سے کم پر اترتا ہی نہیں۔

چشمہ معرفت۔ ر۔ خ جلد ۲۳ ص ۱۲۱ پر اسے اس خاص عضو کا نام لیتے شاید کچھ شرم آ

صفحہ 155

گئی ہو لیکن تذکرۃ المہدی میں مرزائیوں نے کھل کر وہ پنجابی لفظ کہا جسے ہم نقل نہیں کر سکتے صرف اس کا وزن بتلانے کے لئے اردو کا ایک فعل ماضی لکھ دیتے ہیں ’دوڑا‘...... سمجھنے والے سمجھ لیں۔ (دیکھئے تذکرۃ المہدی ص ۱۷ و ۳۴۲)

مرزا بشیر الدین محمود اسے اردو میں اسی طرح منہ میں لایا کرتا تھا۔ نکاح کی ایک تقریب میں اس نے مولانا محمد حسین بٹالوی کا ذکر کیا اور کہا: ان کے والد کا جس وقت نکاح ہوا ان کو اگر مسیح موعود کی حیثیت معلوم ہوتی اور وہ جانتے کہ میرا ہونے والا بیٹا وہی کام کرے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں ابوجہل نے کیا تھا تو اپنے آلہ تناسل کو کاٹ دیتا اور اپنی بیوی کے پاس نہ جاتا۔

(الفضل ۲ نومبر ۱۹۲۲ء)

معلوم ہوتا ہے ان لوگوں کی اس کے بغیر تسلی نہیں ہوتی تھی اور وہ یہ فحش الفاظ اپنی زبان پر لانے میں مجبور تھے۔

مولانا سعد اللہ لدھیانویؒ کے ہاں اولاد نہ تھی اسے اب مرزا غلام احمد کی زبان سے سنیئے: ”خدا تعالیٰ نے اس کی بیوی کے رحم پر مہر لگا دی۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۳۸۔ رخ جلد ۲۲ ص ۴۴۴)

یہ رحم پر مہر لگنا کتنی کھلی اور ننگی بات ہے۔

مولانا عبدالحق غزنویؒ کو طعنہ دیتے ہوئے مرزا غلام احمد لکھتا ہے: ”اب تک اس کی عورت کے پیٹ سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا۔“

یہ تو نقطہ الف تھا اب (ب) اور (ج) بھی ملاحظہ فرمائیں:

پر لعنت نہیں پڑی۔

قارئین کرام! کچھ تو سوچیں یہ پیرایہ بیان کیا کسی شریف آدمی کا ہو سکتا ہے کسی کا نام لے کر اس کے سامنے یہ شرافت سوز زبان استعمال کرنے سے تو شاید بازاری عورتیں بھی شرم کریں مگر افسوس صد افسوس کہ مرزا غلام احمد کو تمام مسلمانوں کو بازاری عورتوں کی اولاد کہنے میں بھی پردے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی اور اس نے کھلے بندوں انہیں ذریۃ البغایا کہا یعنی

صفحہ 156

بازاری عورتوں کی اولاد۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۸۔ رخ جلد ۵ ص ۵۴۸)

یہاں ہم ان کی دی ہوئی گالیوں کا محاسبہ نہیں کر رہے یہاں صرف ان کی فحش زبان کا گلہ پیش نظر ہے یہ زبان کبھی اللہ والوں کی نہیں ہو سکتی اور سنیے اور سر دھنیے : ”جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف و گزاف مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔“ (حیات احمد جلد ۱ نمبر ۲ ص ۳۵ ماخوذ از احتساب قادیانیت ص ۱۵۴) کیسی شرمناک زبان ہے: ”جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔“ کیا یہ زبان ان لوگوں کی ہو سکتی ہے جو دنیا کو شرافت اور تہذیب کا سبق دینے آئے ہوں؟ ہرگز نہیں۔ کسی کو معین کر کے اس پر لعنت کرنا بھی کسی معاشرے میں پسند نہیں کیا جاتا ہاں عام پیرائے میں آپ لعنة اللہ علی الکاذبین کتنی دفعہ کیوں نہ کہیں یہ کوئی برا نہیں مناتا لیکن کسی کو مخاطب کر کے کہنا اے حرامزادے یہ تہذیب و شرافت کا خون کرنا ہے۔ غلام احمد اس سے بھی باز نہ آیا اور اس نے حضرت مولانا سعد اللہ لدھیانوی کو سرعام کہا:

اذیتنی خبثاً فلست بصادق
ان لم تمت بالخزی یا ابن بغای

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۵۔ رخ جلد ۲۲ ص ۴۴۶)

(ترجمہ) تو نے مجھے اپنی خباثت سے بہت دکھ دیا ہے۔ میں سچا نہیں ہوں گا اگر ذلت کے ساتھ تیری موت نہ ہو اے کنجری کے بیٹے!

کتنے ہی لوگ اس سے غلام احمد کو چھوڑ گئے بد تہذیبی کو گوارا کرنا بڑا ہی مشکل ہوتا ہے بددعا کا کلمہ کہا جائے تو یہ خلاف شرافت نہیں جیسے تبت یدا ابی لھب وتب اس میں خلاف تہذیب اور خلاف شرافت کوئی لفظ نہ ملے گا۔

مرزا غلام احمد نے پیر مہر علی شاہ کے نام سے سر زمین گولڑہ پر لعنت کی کیا ایسے شخص کو مہدی (ہدایت پایا ہوا) کہا جا سکتا ہے۔

فقلت لک الویلات یا ارض جولرہ
لعنت بملعون فانت تدمر

(ضمیمہ نزول مسیح ص ۷۵۔ رخ جلد ۱۹ ص ۱۸۸)

صفحہ 157

(ترجمہ) پس میں نے کہا اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت تو ایک ملعون کے سبب لعنتی ہو گئی ہے تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی ۔ ان عبارات میں انسانی شرافت کی کیا کچھ بھی جھلک ملتی ہے۔ مونث کے لئے تدمیرین کی بجائے تدمر کا صیغہ لانا قادیانیوں کے ہاں مرزا صاحب کا اعجاز شمار ہوتا ہے۔

شیعہ کو خوش کرنے کے لئے مرزا نے کہا کہ یہ پاکدامن عورتوں کی اولاد ہیں شاید متعہ کی طرف اشارہ کرنا ہوگا مرزا صاحب کی فحش زبان یہاں بھی نمایاں ہو کر رہی یہ خود لکھتے ہیں:

”کیا کوئی شیعہ راضی ہو سکتا ہے کہ اس کی پاکدامن ماں ایک زانیہ کنجری کے ساتھ سوئے ۔“ (نزول المسیح ص ۴۸ ر۔ خ جلد ۱۸ ص ۴۲۵)

اپنے مخالفین کو سوروں اور کتیوں کی اولاد کہنا

خنازیر اور کتے مختلف النوع حیوان ہیں کبھی کسی نے سور کو کتیا سے دوستی کرتے نہ دیکھا ہو گا لیکن مرزا غلام کو اپنے مخالفین سوروں اور کتیوں کی اولاد دکھائی دیئے کیا یہ خلاف فطرت کارروائی نہیں؟ کتیا میں اور خنزیر میں جفتی کیسی؟ مگر غلام احمد کہتا ہے۔

ان العدى صاروا خنازير الفلا
ونساء هم من دونهن الاكلب

(ترجمہ) دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔ (نجم الہدیٰ ص ۵۳ ر۔ خ جلد ۱۴ ص ۵۳) جب انسان میں حیا نہ رہے تو ایمان بھی جاتا رہتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الحياء من الايمان والايمان فى الجنة والبذاء من الجفاء والجفاء فى النار۔

(رواہ الترمذی عن ابی ہریرۃ جلد ۲ ص ۲۲)

(ترجمہ) حیا انسان میں ایمان کی وجہ سے آتی ہے اور ایمان جنت میں لے جانے والا ہے اور بازاری گفتگو ظلم ہے اور ظلم کا ٹھکانہ آگ ہے۔

او كما قال النبى (صلى الله عليه وسلم)

صفحہ 158

ہم نے قادیانی لٹریچر سے قصر قادیانیت میں جھانکنے کی محتاط کوشش کی ہے اور اس کے مختلف کھڑکیوں سے مرزا غلام احمد کو نئی نئی اداؤں میں قلابازیاں کھاتے دیکھا ہے ہمارے وسیع تجربے میں قادیانیت پر غور کرنے کی یہ آسان ترین راہ ہے ختم نبوت اور نزول عیسیٰ بن مریم علمی مسائل ہیں اور ان کے لئے عربی علوم میں درک ضروری چیز ہے قادیانیوں نے ان مسائل کو دجل کی تاریک راہوں میں اتنا الجھا دیا ہے کہ پوری توجہ اور محنت کے بغیر اس ڈور کو سلجھایا نہیں جاسکتا قادیانی تو ان مباحث میں اس لئے آتے ہیں کہ لوگوں کی توجہ مرزا غلام احمد اور اس کی زندگی پر نہ جاسکے حالانکہ یہ سب اختلافات اسی کے آنے سے پیدا ہوئے تو کیا یہ آسان ترین راہ نہیں کہ پہلے اس قسم کے واقعات پر غور کر لیا جائے کہ مرزا غلام احمد شراب پیتا تھا یا نہیں اور غیر محرم عورتوں سے اس کا اختلاط تھا یا نہیں مرزا غلام احمد کی پیشگوئیاں وہ یقینی واقعات ہیں جن میں اللہ رب العزت کی لاٹھی غلام احمد پر بے دریغ برسی ہے۔

علمی مسائل میں مہارت علماء کو ہی ہوسکتی ہے وہی ان ابواب میں قادیانی دجل و فریب کو تار تار کر سکتے ہیں۔ عامۃ الناس کے لئے قادیانیت کو صرف ان راہوں سے بے نقاب کیا جاسکتا ہے جن میں مرزا غلام احمد ۶۸ سال تک چلا۔

امام العصر حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیریؒ اور ان کے تلامذہ نے اس محاذ پر بڑا علمی کام کیا ہے حضرت شاہ صاحب کے شاگردوں میں گوجرانوالہ کے مولانا محمد چراغ صاحب مؤلف ’’العرف الشذی‘‘ پنجاب کے رہنے والے تھے اور فتنہ قادیانیت یہیں سے اٹھا تھا مولانا محمد چراغ رحمۃ اللہ علیہ نے قادیانیت کو اس راہ سے دیکھنے کی طرح ڈالی آپ کے تلامذہ میں سے حضرت مولانا محمد حیات قادیان میں دفتر ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ بنے اور تقسیم ملک تک آپ قادیان میں ہی مقیم رہے۔ تقسیم ملک پر مرزا بشیر الدین محمود نے اعلان کیا کہ اب قادیان دارالامان نہیں رہا اب ہم پاکستان میں مسلمانوں کی ماتحتی میں رہیں گے۔ مولانا ظفر علی خاں نے قادیانیوں کو پاکستان آتے دیکھا تو کہا؎

ذریۃ البغایا کل تک تھا نام جن کا
آج ان کی چاپلوسی کیوں ہو گئی ضروری

قادیان سے قادیانیوں کے نکلنے کے بعد وہاں کے مسلمانوں نے مولانا محمد حیات کو فاتح قادیانیت کا خطاب دیا اور اب آپ بھی وارد لاہور ہوئے۔ اور الہلال فونڈری لاہور میں

صفحہ 159

قیام فرمایا۔

مرزا بشیر الدین محمود کو متحدہ پنجاب کے آخری گورنر نے ضلع جھنگ میں آباد ہونے کے لئے ایک وسیع رقبہ دیا اور مرزا بشیر الدین نے اس کا نام ”ربوہ“ رکھا کہ یہ دوسرے مسیح کے پیروؤں کی پناہ گاہ ہے دارالامان سے نکلے تو اب خدا نے انہیں ”ربوہ“ میں پناہ دی انہیں اس وقت علم نہ تھا کہ یہ جگہ بھی ان کے لئے پناہ گاہ نہ رہے گی ۔ قادیان دارالامان سے تو دن کے وقت نکلے تھے یہاں ”ربوہ“ کی پناہ گاہ سے انہیں رات کی تاریکی میں نکلنا پڑے گا۔ اور پھر ربوہ بھی جب ”ربوہ“ نہ رہے تو یہ الہام نگر بھی چناب نگر کہلائے گا اور ایک وقت آئے گا کہ پھر چناب بھی ان سب کو بہا لے جائے گا۔

پاکستان میں قادیانیوں کے بارے میں

سب عوام مسلمان نکلے

پاکستان آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت میں معرض وجود میں آیا تھا اور پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ ظفر اللہ خاں قادیانی تھے ۔ قادیانیوں کا دعویٰ تھا کہ مرزا غلام احمد کے خلاف صرف مولوی حضرات ہیں عوام نہیں، مرزا غلام احمد اسی لئے علماء کو بدذات فرقہ مولویاں کہتا رہا‘ قادیانیوں کا خیال تھا کہ مسلمان عوام اس مسئلے میں اپنے مولویوں کے ساتھ نہیں ہیں وہ شاید کس قدر ان کا ساتھ دیں گے۔

لیکن یہ ایک اسلام کا اعجاز تھا کہ باوجود یکہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں مسلم لیگ کی حکومت نے قادیانیوں کی بہت پردہ پوشی کی لیکن آنے والے وقت میں سب عام مسلمان وہ دین کا علم رکھتے ہوں یا نہ اور سیاسی طور پر وہ کسی گروپ سے کیوں نہ ہوں سب قادیانیوں کے بارے میں یک زبان نکلے اور سب نے کہا ہم کسی سیاسی مصلحت پر اپنے ایمان کو قربان نہیں کرنا چاہتے۔

۱۹۷۴ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں سب مسلمان ممبران نے عقیدہ ختم نبوت کی حمایت میں ہاتھ اٹھایا اور بلا کسی سیاسی تفریق کے سب نے محدث العصر مولانا محمد یوسف البنوری، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی اور مفتی محمود صاحب کا ساتھ دیا اور ایک ممبر بھی ایسا نہ تھا جو کسی درجے میں قادیانیوں کیلئے کسی رعایت کا خواہاں ہو سب ممبران کہتے تھے کہ سیاست تو

صفحہ 160

یہیں دھری کی دھری رہ جائے گی ہم حضور خاتم النبیین کی شفاعت کیسے پاسکیں گے اگر ہم نے ختم نبوت جیسے قطعی عقیدہ اسلام سے وفا نہ کی۔

یہ اسلام کا ایک اعجاز ہے جس نے پاکستان میں ربع صدی کے اندر اندر یہ فضا پیدا کر دی اور پھر ۱۹۹۹ء میں جب پاکستان اپنی تاریخ میں نصف صدی طے کر چکا پنجاب اسمبلی نے قادیانی مرکز کا نام ”ربوہ“ اس لیے بدلا کہ اس سے قادیانی قرآن کریم کی ایک آیت میں الحاد کی راہ چل رہے تھے اور لوگوں کو ایک مغالطہ دے رہے تھے۔

الحمدللہ اسمبلی کے تمام مسلمان ممبروں نے وہ حکومت کے ہوں یا اپوزیشن کے سب نے اس قرار داد کی حمایت کی کہ قادیانیوں کو اپنی بستی کا نام قرآن کریم کے کسی لفظ پر رکھنے کا حق نہیں ہے۔

جدید تعلیم یافتہ نامور شخصیتوں میں علامہ اقبال کے بعد سابق جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب محمد رفیق تارڑ ہیں جنہوں نے طالب علمی سے لے کر اپنی ریٹائرمنٹ تک ہمیشہ ختم نبوت کا جھنڈا اٹھایا اس راہ میں انہیں بڑی قربانیاں بھی دینی پڑیں آپ انگلینڈ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں بھی تشریف لائے اور مسلمانان یورپ سے مسئلہ قادیانیت پر ایمان افروز خطاب فرمایا۔

”یہ ختم نبوت کا اعجاز ہے کہ آج وہی تارڑ صاحب مملکت خداداد پاکستان کے صدر ہیں اور وہ پاکستان جس کا آغاز ظفر اللہ خان قادیانی کی وزارت خارجہ سے ہوا تھا۔ آج ان پورے حکومتی ایوانوں میں قادیانیوں کا کوئی نام لینے والا نہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اب اپنے تاریخی انجام کو پہنچ چکے ہیں۔“

قادیانیت کے تابوت میں آخری میخ

قادیانی سربراہ مرزا طاہر ربوہ ختم ہونے سے پہلے ہی ربوہ سے نکل چکا تھا۔ اسے ربوہ کے ختم ہونے کا دلشگاف منظر نہ دیکھنا پڑا۔ یہ بدقسمت گھڑی اس کے یہاں کے نائب مرزا مسرور احمد کیلئے مقدر تھی یہ اس پر کیسے گزری۔ یہاں کے لوگوں نے ۳۰۔ اپریل ۱۹۹۹ء کو مرزا

صفحہ 161

مسرور احمد کو ہتھکڑیوں میں دیکھا۔

تاریخ قادیانیت میں یہ پہلا موقعہ تھا جب مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان کو ہتھکڑیوں میں دیکھا گیا۔ کجا وہ وقت جب مرزا غلام احمد کے والد کو انگریزی دربار میں کرسی ملتی تھی اور کجا یہ وقت کہ قادیانیت پر ابھی پہلی صدی بھی پوری نہ ہونے پائی تھی کہ کرسی نشین کا بدقسمت پڑپوتا ان لوگوں کے سامنے جنہیں مرزا غلام احمد ”ذریۃ البغایا“ کہتے کھڑے ملزموں کے کٹہرے میں دیکھا گیا۔ اگر سو سال میں ترقی یہی ہے تو اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس ترقی سے بچائے۔

ہر فرعونے را موسیٰ

مرزا بشیر الدین کے ضلع جھنگ میں آنے سے پہلے قسام ازل نے چنیوٹ کے ایک صنعتی گھرانے سے ایک طالبعلم اٹھایا جس نے خیر المدارس ملتان اور دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈوالہ یار سے فراغت حاصل کر کے فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات سے قادیانیت کو ایک کورس کے طور پر پڑھا۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی اس موضوع میں آگے بڑھے یوں سمجھئے اللہ تعالیٰ نے دریائے چناب کے دو طرف خیر و شر کے دو لشکر بٹھا دیئے مغربی کنارے کے پار بشیر الدین محمود کا ڈیرہ لگا اور مشرقی کنارے پر مولانا منظور احمد چنیوٹی جامعہ عربیہ کی مسند تدریس پر آئے۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی نے ۲۶ فروری ۱۹۶۳ء کو مرزا محمود کو مباہلہ کی دعوت دی اس کے بعد اس کے بیٹے مرزا ناصر کو مباہلہ کی دعوت دی اس کے بعد مولانا چنیوٹی نے اس کے چوتھے سربراہ مرزا طاہر کو مباہلہ کی دعوت دی اس نے یہاں عملاً فرار کر کے مباہلہ میں اپنی شکست مان لی۔ ازاں بعد آپ نے ادارہ دعوت و ارشاد چنیوٹ میں قادیانیت کو ایک کورس کے پیرائے میں پڑھانا شروع کیا اور یہ سلسلہ اب تک چل رہا ہے یہ سالانہ دورہ قادیانیت اتنا مقبول ہوا کہ ۱۹۹۰ء میں مرکز علم دارالعلوم دیوبند سے آپ کو اس کورس کے پڑھانے کی دعوت

صفحہ 162

ملی اور آپ وہاں تشریف لے گئے۔

یہ کتاب ”رد قادیانیت کے زریں اصول“ اس کورس کی ایک علمی دستاویز ہے۔ آپ نے اس میں ختم نبوت اور نزول عیسیٰ بن مریم کے علمی موضوعات پر مناظرانہ پیرائے میں بہت مفید بحثیں کی ہیں اور الحمد للہ آپ ان میں نہایت کامیاب رہے۔

ولقد جاء في المثل السائر كم ترك الاول للاخر۔

ان علمی مباحث کے ساتھ کچھ عوامی مباحث کی بھی ضرورت تھی جنہیں انگریزی خوانوں اور کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ان طلباء میں پھیلایا جائے جو عربی زبان کا علم نہیں رکھتے اور قرآن وحدیث کے مسائل کو اپنی اس بے بضاعتی میں سمجھ نہیں پاتے۔

یہ کتاب ان عوامی مباحث کے ساتھ مل کر مطالعہ قادیانیت کا گویا ایک مختصر انسائیکلو پیڈیا بن گیا ہے جو قادیانیت کے گرد گھومنے والے جملہ مباحث کو ایک دائرے میں لا رہا ہے اور ہر کسی کو اس کی علمی منزلت کی حدود میں قادیانیت کی سب اندر کی باتیں بتلا رہا ہے راقم الحروف نے اس ساری کتاب پر نظر ثانی کی ہے اور اسے واقعی زریں پایا اور یہ اسم بامسمیٰ ہے۔

راقم الحروف اور مولانا منظور احمد چنیوٹی نے مشرقی افریقہ، مغربی افریقہ، جنوبی افریقہ ، شمالی امریکہ، کینیڈا، جزائر فجی، آسٹریلیا، جرمنی، بیلجیم، ڈنمارک، ناروے اور دوسرے کئی ممالک میں رد قادیانیت پر اکٹھے دورے کئے کئی دوروں پر ہم سعودی توصیات کے ساتھ گئے فجی آئی لینڈ کے دورہ پر حکومت پاکستان نے ہمیں بھیجا اور کئی دورے نجی طور پر بھی ہم نے کئے۔

کیپ ٹاؤن افریقہ کے تاریخی مقدمہ میں ہمیں کئی ماہ تک وہاں رہنے کا اتفاق ہوا مولانا کی علمی قابلیت، وسعت مطالعہ، مناظرانہ جرات اور للکار اور رد قادیانیت میں ان کی مجاہدانہ یلغار کا چشم دید گواہ ہوں ہم نے اکٹھے مناظرے بھی کئے اور اس سلسلہ میں اللہ رب العزت کی نصرت کو مختلف ممالک میں آنکھوں سے اترتے دیکھا مولانا ان لوگوں میں سے ہیں جن پر قرآن کریم کی یہ آیت پوری اترتی ہے:

والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا وان الله مع المحسنين۔
صفحہ 163

(ترجمہ) اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں محنتیں کیں ہم خود ان کے لئے اپنی راہیں کھول دیتے ہیں اور اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو مقام احسان میں آئے ہوئے ہیں۔

واللہ اعلم وعِلْمُهُ اتم واحکم

احقر العباد

خالد محمود عفا اللہ عنہ

(حال مقیم مانچسٹر)

صفحہ 164

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پیش لفظ

طبع اول

حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری

(استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند و ناظم اعلیٰ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت)

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ وَخَاتَمِ النَّبِيّٖنَ وَعَلٰی اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ اَجْمَعِيْنَ ، اَمَّا بَعْدُ:

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی

اسلام ایک ابدی حقیقت ہے، اور باطل کی اس کے ساتھ آویزش بھی رسم قدیم ہے، ملل سابقہ کی باطل کے ساتھ کشمکش ہمیشہ جاری رہی ہیں۔ اور تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جو ملت جتنی کامل ومکمل ہوتی ہے اس کو اسی قدر باطل کے ساتھ نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ آخری ملت

صفحہ 165

جسے سید المرسلین، خاتم النبیین، فخر موجودات، رحمت مجسم، پیکر صدق وصفا، منبع جودوسخا، حضرت محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر تشریف لائے ہیں۔ سنت قدیمہ کے مطابق روز اول سے باطل کے ساتھ پنجہ آزما رہی ہے۔ اور ہمیشہ اس کو داخلی اور خارجی فتنوں سے نمٹنا پڑا ہے۔

امت کے تہتر فرقوں میں بٹنے کی پیش خبری، جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہوئے دعات کی پیش گوئی، اور جھوٹی نبوتوں کی دعوے داریاں وہ داخلی فتنے ہیں جن سے امت کو پوری طرح باخبر کر دیا گیا ہے۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ:

سَيَكُونُ فِىْ اُمَّتِىْ كَذَّابُونَ ثَلٰثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ اَنَّهُ نَبِىٌّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيّينَ لَا نَبِىَّ بَعْدِىْ۔

(ابوداؤد ج۲ ص۲۲۴)

(ترجمہ) آئندہ میری امت میں تیس بڑے جھوٹے پیدا ہوں گے، ان میں سے ہر ایک مدعی ہوگا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں سلسلۂ انبیاء کو پورا کرنے والا ہوں، میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔

حافظ ابن حجر نے فتح الباری شرح بخاری شریف ص۳۲۳ جلد۱۳ میں اور علامہ بدر الدین عینی نے عمدۃ القاری شرح بخاری شریف ص۵۵۵ جلد۷ میں صراحت فرمائی ہے کہ انما المراد من کانت له شوکة یعنی حدیث شریف میں جو تیس کا عدد مذکور ہے اس سے مراد وہ جھوٹے نبی ہیں جو صاحب دبدبہ ہوں گے یعنی ان کے اذناب و اتباع ہوں گے اور ان کی جماعت اور پارٹیاں ہوں گی، ورنہ جھوٹے مدعیان نبوت کا شمار تو بہت مشکل ہے۔

چنانچہ اسلام کی چودہ صدیوں میں بے شمار لوگوں نے ایسے جھوٹے دعوے کئے ہیں، اور ایک وقت کے بعد ﴿خس کم جہاں پاک﴾ کا مصداق ہو گئے ہیں۔ مگر چند ایسے بھی ہوئے ہیں جن کا معاملہ بہت سنگین صورت حال اختیار کر گیا ہے۔ ان میں سب سے پہلا یمامہ کا مسیلمہ کذاب تھا، جس نے اپنے ساتھ چالیس ہزار کا جمگھٹا اکٹھا کر لیا تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں اور سیف اللہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں اس فتنہ کی پوری طرح سرکوبی کر دی تھی۔ پھر وقتاً فوقتاً ایسے فتنے اٹھتے رہے، جیسے بابیہ فرقہ کا فتنہ، جس کے بانی علی محمد باب نے نبوت کا بلکہ الوہیت کا دعویٰ کیا تھا، اور اس کے اثرات آج تک باقی ہیں۔

صفحہ 166

اسی طرح تقریباً ایک صدی پہلے متحدہ ہندوستان کے صوبہ پنجاب ضلع گورداس پور قصبہ قادیان کے ایک شخص مرزا غلام احمد نے مہدویت‘ مسیحیت اور نبوت کے جھوٹے دعوے کیے اور حکومت وقت کے زیر سایہ پھلنا پھولنا شروع کیا‘ تو علمائے اسلام نے سنت صدیقی پر عمل پیرا ہو کر اس فتنہ کے استیصال کی جدوجہد شروع کی اور بلا تفریق مسالک سب ہی جماعتوں نے اور اشخاص نے اس کے خلاف مجاہدانہ اور سرفروشانہ جذبہ کے ساتھ میدان کارزار گرم کیا۔ مگر علمائے دیوبند کا حصہ اس جہاد میں قائدانہ رہا۔ سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمہ اللہ کو تو فتنہ کے ظہور سے پہلے ہی احساس ہو گیا تھا کہ ہندوستان میں کوئی نیا فتنہ سر اٹھانے والا ہے۔ پھر جب وہ فتنہ وجود میں آگیا تو حضرت گنگوہی‘ حضرت شیخ الہند وغیرہ اکابرین نے اس کا نوٹس لیا اور ۱۳۳۱ھ میں فتویٰ دیا کہ:

”مرزا غلام احمد اور اس کے متبعین درجہ بدرجہ مرتد‘ زندیق‘ ملحد‘ کافر اور فرقہ ضالہ میں یقیناً داخل ہوں گے۔“

حضرت شیخ الہند قدس سرہ نے اس فتویٰ پر اپنے دستخط کے ساتھ یہ الفاظ بھی لکھے ہیں کہ:

”مرزا علیہ ما یستحقہ‘ کے عقائد واقوال کا کفریہ ہونا ایسا بدیہی مضمون ہے کہ جس کا انکار کوئی منصف فہیم نہیں کر سکتا۔ جن کی تفصیل جواب میں موجود ہے۔“

پھر حضرت شیخ الہند قدس سرہٗ کے تلمیذ رشید‘ علامہ عصر‘ محدث کبیر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند نے اس مسئلہ کو اپنی شب و روز کی فکر کا موضوع بنا لیا اور اپنے نابغہء روزگار تلامذہ کو اس جانب متوجہ کیا جنہوں نے قادیانیت کے خلاف میدان جہاد میں کارہائے نمایاں انجام دیئے۔

حضرت شاہ صاحب کے علاوہ اکابرین دیوبند میں سے حضرت حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی‘ فقیہ الامت مفتی اعظم حضرت مولانا کفایت اللہ صاحب دہلوی‘ شیخ الاسلام حضرت اقدس مولانا حسین احمد صاحب مدنی شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند‘ قاسم ثانی حضرت علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی‘ مناظر اسلام حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب چاند پوری‘ حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری فاضل دارالعلوم دیوبند‘ حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوری قدس اللہ اسرارہم نے تحریر وتقریر کے ذریعہ حریم ختم

صفحہ 167

نبوت کی پاسبانی کی اور امت مسلمہ کو دام ہم رنگ زمین میں پھنسنے سے بچایا۔

نیز حضرت علامہ کشمیری قدس سرہٗ نے رد قادیانیت کی تقریب سے اصول دین اور اصول تکفیر کی وضاحت میں ایسا قیمتی سرمایہ تیار فرمایا جو رہتی دنیا تک امت کے کام آئے گا اور ہر فتنہ کی سرکوبی کے لئے امت اس سے روشنی حاصل کرتی رہے گی۔

حضرت علامہ کشمیری قدس سرہٗ کے تلامذہ میں (۱) حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ دیوبندی مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند ثم پاکستان (۲) حضرت مولانا محمد یوسف صاحبؒ بنوری شیخ الحدیث جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی (۳) حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی (۴) حضرت مولانا بدر عالم صاحبؒ میرٹھی ثم مہاجر مدنی (۵) مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحبؒ سیوہاروی (۶) حضرت اقدس مولانا عبدالقادر صاحبؒ رائپوری (۷) حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ (۸) حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ (۹) حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوریؒ (۱۰) حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ (۱۱) استاذ العلماء حضرت مولانا محمد چراغ صاحب گوجرانوالہ (۱۲) شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان اور دیگر جلیل القدر علمائے کرام نے اس فتنہ کا بھرپور تعاقب کیا اور رد قادیانیت پر ایک کتب خانہ تیار کر دیا اور متحدہ ہندوستان کے طول وعرض میں گاؤں گاؤں پھر کر حق کی وضاحت کی۔ فجزاهم الله تعالىٰ عن المسلمين خير الجزاء۔

پھر ملک کی تقسیم عمل میں آنے کے بعد یہ فتنہ پاکستان میں سمٹ گیا اور ”ربوہ“ ۱؎ مقام کو اس نے اپنا مرکز بنالیا۔ اور وہاں اس نے نئے جوش کے ساتھ ابھرنا شروع کیا۔ مگر اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر دیکھیے کہ جس طرح حضرت حاجی امداد اللہ صاحب رحمہ اللہ نے قبل از وقت فتنہ کا خطرہ محسوس کرلیا تھا اور اپنے ایک خلیفہ کو یہ فرما کر حجاز سے ہندوستان واپس کر دیا تھا کہ وہاں ایک فتنہ سر ابھارنے والا ہے، وہاں کام کی ضرورت ہوگی۔ ٹھیک اسی طرح حضرت اقدس امام العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہٗ نے ملک کی تقسیم سے بہت پہلے حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کو انجمن خدام الدین کے عظیم الشان اجلاس منعقدہ مارچ ۱۹۳۰ء میں قادیانیت کے فتنہ کی سرکوبی کے لئے امیر شریعت بنا کر خود ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور

۱؎ اب مولانا منظور احمد چنیوٹی اور دیگر علمائے اسلام کی ۳۰ سالہ جدوجہد کے بعد ربوہ کا نام تبدیل کر کے چناب نگر رکھ دیا گیا ہے۔ اور اس پر پنجاب اسمبلی مبارک باد کی مستحق ہے کہ اس میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف سب نے بالاتفاق یہ قرارداد منظور کی۔

صفحہ 168

پانچ سو علماء سے اس جلسے میں بیعت کرائی۔ چنانچہ ملک کی تقسیم کے بعد حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ صاحبؒ نے جو اسی علاقہ کے باشندہ تھے قادیانیوں کا تعاقب اور ان کے خلاف پوری سرگرمی سے کام شروع کر دیا جس کی تاریخ بہت طویل ہے‘ بالآخر ۱۹۷۴ء میں ایک زبردست تحریک چلی جس میں حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری‘ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی‘ حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی اور حضرت مولانا احتشام الحق صاحب تھانوی رحمہم اللہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اور ہزاروں مسلمانوں کی شہادت کے بعد ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو حکومت پاکستان کو دستور میں ترمیم کرنی پڑی اور قادیانیوں کو ﴿غیر مسلم اقلیت﴾ قرار دینا پڑا‘ پھر ۲۶ اپریل ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا جس کی رُو سے قادیانی اس کے مجاز نہ رہے کہ وہ قادیانیت کو جو اسلام کے خلاف ایک سازش ہے‘ اسلام کے نام سے تعبیر کریں نہ وہ اسلامی شعائر و اصطلاحات استعمال کر سکتے ہیں۔

اس آرڈیننس کے بعد مرزا قادیانی کا چوتھا جانشین مرزا طاہر اپنا پاکستانی مرکز ”ربوہ“ چھوڑ کر لندن بھاگ گیا اور اپنے محسن قدیم انگریز بہادر کے سایۂ عاطفت میں پناہ لے لی اور یورپ‘ افریقہ اور امریکہ میں تیزی سے گمراہی پھیلانا شروع کر دی۔ وہاں سے ہندوستان کی طرف بھی اس کی نظریں دوبارہ اٹھنے لگیں اور اپنے قدیم مرکز قادیان کو جسے انہوں نے خیر باد کہہ دیا تھا دوبارہ آباد کرنا شروع کیا‘ اور ملک میں جگہ جگہ کانفرنسیں اور جلسے منعقد کرنے لگے تو موجودہ اکابرین دارالعلوم دیوبند نے ضروری سمجھا کہ دوبارہ فضلائے دارالعلوم دیوبند اس فتنہ کے تعاقب کے لئے کمربستہ ہو جائیں۔ چنانچہ ۲۹‘ ۳۰ اکتوبر ۱۹۸۶ء کو دارالعلوم دیوبند کے احاطہ میں ایک عالمی تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی جس سے علماء میں بیداری پیدا ہوئی۔ اسی اجلاس میں کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس مجلس نے اب تک ۲۷ کتابچے اور پمفلٹ شائع کئے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کیے ہیں اور ملک میں متعدد جگہ تربیتی کیمپ لگائے ہیں۔ نیز فضلائے دارالعلوم کی تربیت کے لئے دارالعلوم میں بھی متعدد بار کیمپ لگائے جاچکے ہیں۔ دوسری بار ۱۴۱۰ھ میں کل ہند پیمانہ پر تربیتی کیمپ لگایا گیا جس میں تربیت کیلئے پاکستان کے نامور عالم مناظر اسلام‘ فاتح ربوہ‘ قامع قادیانیت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی دام مجدہم کو دعوت دی گئی۔ موصوف پاکستان کے شہر چنیوٹ ضلع جھنگ کے باشندے ہیں۔ چنیوٹ اور ”ربوہ“ کے درمیان صرف دریائے چناب کا فاصلہ ہے۔

صفحہ 169

آپ نے جامعہ اسلامیہ ٹنڈو الہ یار سندھ سے فراغت حاصل کی ہے۔ اساتذہ میں حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب کیمبل پوری سابق صدر المدرسین سہارنپور، حضرت مولانا محمد بدر عالم صاحب میرٹھی مہاجر مدنی حضرت مولانا دوست محمد صاحب قریشی اور حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری رحمہم اللہ تعالیٰ جیسی نابغہ روزگار شخصیتیں ہیں۔ فراغت کے بعد ایک سال مشہور مناظر اسلام، ماحی مرزائیت فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحب کی خدمت میں رہ کر رد قادیانیت کی خصوصی تربیت حاصل کی ہے، اس کے بعد سے آپ کا خاص مشن قادیانیت کی دسیسہ کاریوں کو طشت از بام کرنا ہے چنانچہ آپ نے اب تک دنیا کے مختلف مقامات پر قادیانیوں سے کم از کم بائیس مرتبہ براہ راست مناظرہ کیا ہے اور انہیں شکست فاش دی ہے، دنیا کے بہت سے ملکوں کا اس سلسلہ میں آپ دورہ بھی کر چکے ہیں، رد قادیانیت کے تربیتی پروگراموں میں آپ کے اسباق بڑے مقبول ہوتے ہیں۔

چنانچہ دارالعلوم دیوبند کی دعوت پر آپ ۱۴۱۰ھ میں لگائے گئے تربیتی کیمپ میں لیکچرار کی حیثیت سے تشریف لائے اور کئی روز تک آپ کے محاضرات ہوئے جو نہایت دلچسپی اور دل جمعی کے ساتھ سنے گئے، مندوبین فضلائے دارالعلوم دیوبند نے آپ سے خوب خوب استفادہ کیا اور آپ کی شخصیت اور انداز بیان اور وافر معلومات سے بہت متاثر ہوئے۔

موصوف اپنے محاضرات اپنے نوٹس کی مدد سے دیتے ہیں۔ جہاں کہیں موصوف کی سرپرستی میں تربیتی کیمپ لگایا جاتا ہے تو اس کاپی کی فوٹو اسٹیٹ طلباء کو مہیا کر دی جاتی ہے انہی یادداشتوں کو سامنے رکھ کر موصوف وضاحتی تقریر فرماتے ہیں۔ چنانچہ دارالعلوم دیوبند میں بھی جب تربیتی کیمپ کی تیاری شروع ہوئی تو موصوف نے اصل کاپی ارسال فرمائی جو فل اسکیپ کے سوا سو صفحات پر مشتمل تھی، اس کی فوٹو کاپی کرانے میں مصارف زیادہ آتے تھے کیونکہ کاپیوں کی تعداد بہت تھی، اس لئے بعجلت کتابت کرا کر لیتھو پر اس کو طبع کرا لیا گیا اور شرکاء کو تقسیم کر دیا گیا۔ اس کاپی میں حوالہ جات پرانے قادیانی لٹریچر کے تھے اس لئے موصوف نے دوران تقریر روحانی خزائن کے حوالے بھی نوٹ کرائے۔ ساتھ ہی شرکائے درس نے اور کیمپ کے ذمہ داروں نے اور خود حضرت موصوف نے اس کاپی کی از سر نو ترتیب کی ضرورت محسوس کی۔ چنانچہ اس کام کے لئے دارالعلوم دیوبند کے ایک ہونہار فاضل اور اُس وقت کے تدریب افتاء کے طالب علم اور فی الحال جامعہ قاسمیہ شاہی مراد آباد کے نائب مفتی اور دوسرے تربیتی کیمپ میں

صفحہ 170

پوری دلچسپی کے ساتھ حصہ لینے والے عزیزم مولوی مفتی محمد سلمان منصور پوری سلمہٗ صاحب زادہ حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصور پوری استاذ دارالعلوم دیوبند کا نام تجویز کیا گیا۔ آں عزیز نے مطبوعہ کاپی اور درس میں قلم بند کی ہوئی اپنی تقریر سامنے رکھ کر اور محاضرات کے ٹیپ سن کر اور مولانا چنیوٹی کی ہدایات کو ملحوظ رکھ کر اس مواد کو بہترین انداز میں مرتب کر دیا۔ حوالوں کی مراجعت کے سلسلہ میں جناب مولوی شاہ عالم صاحب اور جناب مولوی عزیز الحق صاحب اعظمی نے ان کا بھر پور تعاون کیا۔ پھر مسودہ حضرت مولانا چنیوٹی زید فضلہ کی خدمت میں ارسال کیا گیا‘ موصوف نے بغور ملاحظہ فرمانے کے بعد اور ضروری حذف و اضافہ اور قیمتی مشوروں کے ساتھ واپس فرمایا تو اس کی کتابت شروع کر دی گئی۔ کتابت مکمل ہونے کے بعد میں نے اس کو ایک سفر میں حرف بہ حرف پڑھا‘ ماشاء اللہ کتاب لاجواب ہے اور حضرت مولانا کی پوری زندگی کی محنت کا نچوڑ ہے۔ دو چار جگہ میں نے تھوڑی ترمیم ضروری سمجھی اور وہ مولانا کے حسن اخلاق کے بھروسے پر بغیر اجازت کے کر ڈالی اور میں نے کتاب کا عربی نام 'حصول الامانی فی الرد علی تلبیس القادیانی' رکھا ہے اور اُردو نام (رد مرزائیت کے زریں اصول) تجویز کیا ہے۔ کتاب کے سرورق پر دونوں نام لکھے جائیں گے۔ دیکھیے قارئین کرام کون سا نام پسند کرتے ہیں۔

کتاب ماشاء اللہ نہایت آسان‘ بے حد دلچسپ اور رد قادیانیت کے سلسلہ میں زریں اصول کا مجموعہ ہے اور علماء طلباء اور عام مسلمانوں کے لئے یکساں مفید ہے۔ کیونکہ مسئلہ کوئی نظری نہیں ہے بلکہ اجماعی اور ایمان کی بنیاد ہے جس سے ہر مسلمان واقف ہے۔ ضرورت صرف مرزائیوں کی تلبیسات کو سمجھنے کی اور ان کی تردید کے طرز جاننے کی ہے اور وہ مقصد اس کتاب سے باحسن وجوہ حاصل ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس کتاب سے مستفید فرمائیں اور خاص طور پر علماء اور طلباء کو اس کتاب میں دیے گئے ہتھیاروں سے لیس ہونے کی توفیق عطا فرمائیں تاکہ وہ قادیانی فتنہ کی ہر جگہ ہر محاذ پر سرکوبی کر سکیں اور مصنف دام مجدہم کی سعی و محنت اور ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ان کے جہاد مسلسل اور امت کے لئے ان کی اس قیمتی کتاب کو قبول فرمائیں اور ذخیرۂ آخرت بنائیں۔ (آمین)

ناسپاسی ہو گی اگر میں اس موقعہ پر ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند جناب مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصور پوری استاذ دارالعلوم دیوبند کا تذکرہ نہ کروں اس

صفحہ 171

کتاب کو تمام مراحل سے گزارنے میں اور اشاعت کے مرحلہ تک لانے میں قاری صاحب موصوف کی محنت، توجہ اور دلچسپی کار فرما رہی ہے۔ اگر موصوف کی لگن، ہمت اور توجہ کار فرما نہ ہوتی تو شاید امت اس کتاب سے مستفید نہ ہو سکتی۔ نیز کتاب کی تصحیح و طباعت میں فاضل دار العلوم دیوبند عزیزم جناب مولوی معز الدین احمد صاحب سلمہ ناظم امارت شرعیہ ہند دہلی کی معاونت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی اللہ تعالیٰ موصوف کو اجر جزیل عطا فرمائیں۔ (آمین) وَصَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَی النَّبِیِّ الکَرِیْم وَ عَلٰی اٰلِهِ وَ صَحْبِهِ اَجْمَعِیْن۔

کتبہ

سعید احمد عفا اللہ عنہ پالن پوری (خادم دارالعلوم دیوبند) ۳۔ جمادی الاولیٰ ۱۴۱۴ھ

صفحہ 172

باب اول

مرزا غلام احمد قادیانی

کی

زندگی کے چند اوراق

قادیانیت کے سلسلہ میں معلومات حاصل کرنے سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ تاکہ اندازہ ہو سکے کہ امت مرزائیہ جس متنبی کی متبع ہے کیا وہ شریف انسانوں میں شمار کیے جانے کے بھی لائق ہے چہ جائیکہ اسے مہدی یا مسیح، نبی یا رسول کہنے کی غلطی کی جائے لہٰذا ذیل میں مرزا کے مختصر احوال زندگی پیش کئے جاتے ہیں جو خود مرزا اور اس کے عقیدت مندوں کی تصنیفات سے ماخوذ ہیں۔

نام و نسب

مرزا غلام احمد قادیانی خود اپنا تعارف کراتے ہوئے لکھتا ہے:

”میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پردادا صاحب کا نام گل محمد تھا۔ اور

صفحہ 173

جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے۔ اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جو اب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمر قند سے آئے تھے۔“

(کتاب البریہ حاشیہ ص ۱۳۴۔ روحانی خزائن ص ۱۶۲ ج ۱۳)

تاریخ و مقام پیدائش

مرزا غلام احمد قادیانی کا آبائی وطن قصبہ قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداس پور پنجاب ہے۔ اور تاریخ پیدائش کے سلسلہ میں اس نے یہ وضاحت کی ہے:

” میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا سترہویں برس میں تھا۔“

(کتاب البریہ ص ۱۳۶‘ روحانی خزائن ص ۱۷۷ ج ۱۳)

ابتدائی تعلیم

مرزا غلام احمد نے قادیان ہی میں رہ کر متعدد اساتذہ سے تعلیم حاصل کی جس کی قدرے تفصیل خود اسی کی زبانی ملاحظہ ہو:

” بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لیے نوکر ۱ رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔ اور جب میری عمر تقریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کیے گئے جن کا نام فضل احمد تھا میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی‘ اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دین دار اور بزرگوار آدمی تھے‘ وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے

۱ استاذ کا احترام ملاحظہ فرماویں۔ (چنیوٹی)

صفحہ 174

جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا۔ اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں۔ اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے۔ اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی گویا کہ میں دنیا میں نہ تھا۔“

(کتاب البریہ برحاشیہ ص ۱۴۸ تا ۱۵۰ روحانی خزائن ص ۱۷۹ تا ۱۸۱ ج ۱۳ برحاشیہ)

جوانی کی رنگ رلیاں اور ملازمت

مرزا غلام احمد نے جب کچھ شعور حاصل کیا اور جوانی میں قدم رکھا تو نادان دوستوں اور احباب کی بدولت آوارہ گردی میں مبتلا ہو گیا‘ اس کا کچھ اندازہ حسب ذیل واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ مرزا کا اپنا بیٹا بشیر احمد لکھتا ہے:

”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی ۱؎ کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پینشن ۲؎ وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پینشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر اُدھر پھراتا رہا۔ جب آپ نے سارا روپیہ اُڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا

البریہ رخ جلد ۱۳ ص ۱۷۷) مرزا صاحب نے سیالکوٹ میں ملازمت ۱۸۶۴ء میں شروع کی اور یہ پنشن والا واقعہ اس ملازمت سے چند ماہ قبل پیش آیا تھا۔ (سیرت المہدی حصہ اول ص ۱۵۴) اس حساب سے اس واقعہ کے وقت مرزا صاحب کی عمر ۲۴ یا ۲۵ سال تھی۔ وہ کوئی نادان بچہ نہ تھا کہ اس کو بہلا پھسلا لیا گیا ہو بلکہ یہ اس کی بھر پور جوانی کا دور تھا۔

صفحہ 175

گیا‘ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ ۱؎ پر ملازم ہو گئے ۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۴۳ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

مرزا نظام الدین و مرزا امام الدین وغیرہ پرلے درجہ کے بے دین اور دہریہ طبع لوگ تھے ۔ (سیرت المہدی حصہ اول ص ۱۱۴)

حکومت برطانیہ کا منظور نظر

سیالکوٹ میں ملازمت کے دوران مرزا غلام احمد نے یورپین مشنریوں اور بعض انگریز افسروں سے پینگیں بڑھانی شروع کیں اور مذہبی بحث کی آڑ میں عیسائی پادریوں سے طویل خفیہ ملاقاتیں کیں اور انہیں اپنی حمایت و تعاون کا پورا یقین دلایا چنانچہ سیرت مسیح موعود ص ۱۵ (ربوہ) میں برطانوی انٹیلی جنس سیالکوٹ مشن کے انچارج مسٹر ریورنڈ بٹلر کی مرزا سے ملاقات کا ذکر موجود ہے۔ یہ ۱۸۶۸ء کی بات ہے۔ اس کے چند دن بعد ہی مرزا غلام احمد نے سیالکوٹ کچہری ۲؎ کی ملازمت ترک کر کے قادیان میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ اور تصنیف و تالیف کا کام شروع کر دیا۔

صداقت اسلام کے نعرہ سے اسلام کی بیخ کنی کا آغاز

قادیان پہنچ کر پہلے تو عام مسلمانوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کے لئے مرزا غلام احمد نے عیسائیوں، ہندوؤں اور آریوں سے کچھ نامکمل مناظرے کیے۔ اس کے بعد ۱۸۸۰ء سے ﴿ براہین احمدیہ ﴾ نامی کتاب لکھنی شروع کی جس میں اکثر مضامین عام مسلمانوں کے عقائد کے مطابق تھے۔ لیکن ساتھ ہی اس میں مرزا نے اپنے بعض الہامات داخل کر دیئے

۱؎ مرزا صاحب کی تنخواہ پندرہ روپے ماہانہ تھی۔ (رئیس قادیان جلد اول ص ۲۳ از مولانا محمد رفیق دلاوری) ۲؎ مرزا صاحب ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی کچہری میں ۱۸۶۴ء سے ۱۸۶۸ء تک چار سال ملازم رہے۔

(سیرت المہدی حصہ اول ص ۱۵۴ تا ۱۵۸ ملخصا)

صفحہ 176

اور طرفہ یہ کہ صداقت اسلام کے دعویٰ پر لکھی جانے والی اس کتاب میں انگریزوں کی مکمل اطاعت اور جہاد کی حُرمت کا اعلان شد و مد کے ساتھ کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۸۸۰ء سے ۱۸۸۴ء تک براہین احمدیہ کے ۴ حصے لکھے جب کہ پانچواں حصہ ۱۹۰۵ء میں شائع کیا۔

مالیخولیا مراق

مرزا غلام احمد قادیانی کو ویسے ہی انگریزی حکومت نے مسلمانوں کی قیادت کے خواب دکھلا رکھے تھے اور اس پر ہر وقت اپنے آقا انگریز کی اطاعت اور مسلمانوں کی مذہبی پیشوائی کا سودا سوار رہتا ہی تھا کہ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ اس کو ﴿مالیخولیا مراق﴾ کی عبرتناک بیماری نے اپنے شکنجہ میں لے لیا۔ اس بیماری میں مرزا غلام احمد کے مبتلا ہونے کی دلیل دینے سے پہلے اطباء کی زبانی مالیخولیا مراق کی تعریف اور اس کی علامات بھی ملاحظہ فرمالیں تاکہ آئندہ مضمون سمجھنے میں دقت نہ ہو۔

ہیں ....... بعض مریضوں میں گاہے بگاہے یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب داں سمجھتا ہے اور اکثر ہونے والے امور کی پہلے ہی خبر دے دیتا ہے ....... اور بعض میں یہ فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ فرشتہ ہوں اور کبھی اس سے بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگتا ہے۔

(ترجمہ شرح اسباب اردو ص ۱۰۵، امراض راس مالیخولیا، مصنفہ حکیم برہان الدین نفیس) ۱؎

صحت میں مشغول رہا ہو۔ مثلاً ............ مریض صاحب علم ہو تو پیغمبری اور معجزات وکرامات کا

۱؎ هو تغير الظنون والفكر عن المجرى الطبيعى الى الفساد والخوف وقد يبلغ الفساد فى بعضهم الى حد يظن انه يعلم الغيب وكثيراً ما يخبر بما سيكون قبل كونه ...... وقد يبلغ الفساد فى بعضهم الى حد يظن انه صار ملكا وقد يبلغ فى بعضهم الى اعلى من ذالك فيظن انه الحق وهو تعالى عن ذالك.

(شرح الاسباب والعلامات ص ۷۰ ۔ ۶۹ ۔ ۶۷ مطبع نولکشور)

صفحہ 177

دعویٰ کر دیتا ہے خدائی کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔ ۱

(ترجمہ اکسیر اعظم ج ۱ ص ۱۸۸ مصنفہ حکیم محمد اعظم خاں صاحب)

اس مرض سے متعلق اگر کسی کو مکمل مصداق اور جامع شخصیت تلاش کرنی ہو تو اسے مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو سب سے پہلا مراق کا دورہ اس کے بیٹے بشیر احمد کی موت کے بعد (۱۸۸۸ء کے بعد) پڑا ہے۔ سیرۃ المہدی میں ہے:

”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (یعنی والد صاحب) کو پہلی دفعہ دورانِ سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اول کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اُٹھو آیا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہو گئی مگر یہ دورہ خفیف تھا...... والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس کے بعد آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔ خاکسار نے پوچھا دوروں میں کیا ہوتا تھا؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے۔ خصوصاً گردن کے پٹھے۔ اور سر میں چکر ہوتا تھا اور اس وقت آپ اپنے بدن کو سہار نہیں سکتے تھے۔ شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے پھر اس کے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی نہ رہی اور کچھ طبیعت عادی ہو گئی۔“

(سیرۃ المہدی ج ۱ ص ۱۳ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

دعاوی مرزا

مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۸۰ء تک صرف اپنے ملہم من اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا رہا ۱۸۸۲ء میں مجدد ہونے کا ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود کا ۱۸۹۸ء میں مہدی ہونے کا اور ۱۸۹۹ء میں ظلی بروزی نبوت کا اور ۱۹۰۱ء میں باقاعدہ نبوت کا دعویٰ کیا۔ ان میں سارے اہم دعاوی

۱ بالجملہ پیش تر اوہام ایشاں از جنس کارے باشد کہ اندر صحت کردہ و بداں مشغول بودہ باشند۔ مثلاً اگر مریض لشکری باشد دعویٰ بادشاہی کند۔ سخن مملکت و تدبیر جنگ و قلعہ کشائی و مانند آں گوید واگر کسی دشمنے داشتہ باشد وہم کند کہ قومے قصد گرفتن و کشتن او کردہ اند و اورا زہر خواہند داد۔ واگر مریض دانش مند بودہ باشد دعویٰ پیغمبری و معجزات و کرامات کند و سخن از خدائی گوید و خلق را دعوت کند۔

(اکسیر اعظم ص ۱۸۸ ج ۱ فصل امراض دماغ طریق تشخیص مانیخولیا مطبع نظامی منشی نولکشور)

صفحہ 178

مالیخولیا مراق کے لاحق ہونے کے بعد کے ہیں اس لئے ان کو اسی بیماری کا اثر سمجھنا چاہیے۔ اب ذیل میں چند اہم دعاوی باحوالہ سنہ وار لکھے جاتے ہیں:

بیت اللہ ہونے کا دعویٰ

”خدا نے اپنے الہام میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے۔“

(اربعین ص۴ روحانی خزائن ج۱۷ ص۴۴۵)

۱۸۸۲ء : مجدد ہونے کا دعویٰ

”جب تیرہویں صدی کا اخیر ہوا اور چودہویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے۔“ (کتاب البریہ ص۱۶۸ بر حاشیہ روحانی خزائن ج۱۳ ص ۲۰۱)

۱۸۸۲ء : مامور ہونے کا دعویٰ

”میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہوں۔“

(نصرۃ الحق روحانی خزائن ج۲۱ ص۶۶ و کتاب البریہ در روحانی خزائن ج۱۳ ص۲۰۳)

۱۸۸۲ء : نذیر ہونے کا دعویٰ

اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا اُنْذِرَ ابَاؤُهُمْ۔ (ترجمہ) ”خدا نے تجھے قرآن سکھلایا تا کہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے۔“

(تذکرہ ص ۴۴‘ براہین احمدیہ در روحانی خزائن ج ۱ ص ۶۹‘ ضرورۃ الامام در

روحانی خزائن ص ۵۰۶ جلد۱۳‘ براہین احمدیہ حصہ ۵ در روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۶۶)

۱۸۸۳ء : آدمؑ مریم اور احمد ہونے کا دعویٰ

یا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ یا مریم اسکن انت وزوجک الجنۃ یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ ۔

صفحہ 179

نفخت فيك من لدنى روح الصدق۔ (ترجمہ) ”اے آدم اے مریم اے احمد! تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے۔ جنت میں یعنی نجات حقیقی کے وسائل میں داخل ہو جاؤ میں نے اپنی طرف سے سچائی کی روح تجھ میں پھونک دی ہے۔“

(تذکرہ ص ۷۰‘ براہین احمدیہ روحانی خزائن ج ۱ ص ۵۹۰ حاشیہ)

تشریح

”مریم سے مریم اُمّ عیسیٰ مراد نہیں اور نہ آدم سے آدم ابوالبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور عیسیٰ اور داؤد وغیرہ نام بیان کیے گئے ہیں ان ناموں سے بھی وہ انبیاء مراد نہیں ہے بلکہ ہر ایک جگہ یہی عاجز مراد ہے۔“

(مکتوبات احمدیہ جلد اول ص ۸۲ بحوالہ تذکرہ ص ۷۰)

۱۸۸۴ء : رسالت کا دعویٰ

الہام: اِنِّيْ فَضَّلْتُكَ عَلَى الْعَالَمِيْنَ‘ قُلْ اُرْسِلْتُ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا۔ (ترجمہ) ”میں نے تجھ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی کہہ میں تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔“ (تذکرہ ص ۱۲۹ مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مورخہ ۳۰ دسمبر ۱۸۸۴ء اربعین نمبر ۲ ص ۱۷ روحانی خزائن ج ۱۷ ص ۳۵۳)

۱۸۸۶ء : توحید و تفرید کا دعویٰ

الہام: ”تو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید اور تفرید۔ تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔“ (تذکرہ ص ۱۴۱ و ۴۸۲ براہین احمدیہ در روحانی خزائن ج ۱ ص ۵۸۱ حاشیہ در حاشیہ‘ اربعین نمبر ۳ در روحانی خزائن ج ۱۷ حاشیہ ص ۴۱۳)

صفحہ 180

١٨٩١ء : مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ

اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ بھی میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ میرے بارے میں پہلے سے قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں خبر دی گئی ہے اور وعدہ دیا گیا ہے۔ (تذکرہ ص ۷۲، تبلیغ رسالت ج ۱ ص ۱۵۹)

١٨٩١ء : مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ

الهام : جَعَلْنَاكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ۔ (ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا ) ان کو کہہ دے کہ میں عیسیٰ کے قدم پر آیا ہوں۔

(تذکرہ ص ۱۸۵، ازالہ اوہام در روحانی خزائن ص ۴۴۶ جلد ۳)

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء در روحانی خزائن ص ۲۴۰ جلد ۱۸)

١٨٩٢ء : صاحب کن فیکون ہونے کا دعویٰ

الهام : انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون۔ یعنی تیری بات یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اسے کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گی۔

(تذکرہ ص ۲۰۳، براہین احمدیہ حصہ : ۵ در روحانی خزائن ص ۱۲۴ ج ۲۱)

١٨٩٤ء : مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ

بشرنی وقال ان المسیح الموعود الذی یرقبونه والمهدی المسعود الذی ینتظرونه هوانت۔ (ترجمہ) ”خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ وہ مسیح موعود اور مہدی مسعود جس کا انتظار کرتے ہیں وہ تو ہے۔“

(تذکرہ ص ۲۵۷، اتمام الحجہ در روحانی خزائن ج ۸ ص ۲۷۵)

صفحہ 181

۱۸۹۸ء : امام زماں ہونے کا دعویٰ

”سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام زماں میں ہوں۔“

(ضرورة الامام در روحانی خزائن ج ۱۳ ص ۴۹۵)

۱۹۰۰ء تا ۱۹۰۸ء : ظلی نبی ہونے کا دعویٰ

”جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔ تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔“ (ایک غلطی کا ازالہ در روحانی خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۲)

نبوت و رسالت کا دعویٰ

”ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے۔“ (براہین احمدیہ حاشیہ در روحانی خزائن ج ۱ ص ۵۹۳ الحکم جلد ۴ نمبر ۳۰ مورخہ ۲۴ اگست ۱۹۰۰ء بحوالہ تذکرہ ص ۳۶۷ مطبوعہ ربوہ )

(دافع البلاء در روحانی خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱)

پانے والا بھی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ در روحانی خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۱)

تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“ (تذکرہ ص ۴۹۴ اربعین نمبر ۳ در روحانی خزائن ج ۱۷ ص ۴۲۶ و ضمیمہ تحفہ گولڑویہ در روحانی خزائن ج ۱۷ ص ۷۳)

لیے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔“

(دافع البلاء در روحانی خزائن ص ۲۲۵ و ۲۲۶ ج ۱۸)

صفحہ 182

مستقل صاحب شریعت نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ

”اور کہہ کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا تعالیٰ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔“

(اشتہار معیار الاخیار ص ۳ منقول از تذکرہ ص ۳۵۲ مطبوعہ ربوہ)

”ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔“ (حقیقۃ الوحی در روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۵)

یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کے رُو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیوں کہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام: قل للمؤمنین یغضوا من ابصارهم ویحفظوا فروجهم ذالك ازكى لهم۔ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی ۱؎ اور اس پر تئیس (۲۳) برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔ اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُوْلٰى - صُحُفِ إِبْرَاهِيْمَ وَمُوْسٰى ۔ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔

(اربعین نمبر ۴ در روحانی خزائن ص ۴۳۵ و ۴۳۶ ج ۱۷)

تو ان کے شکر گزار ہوں گے۔

صفحہ 183

سے ہے۔ سیدھی راہ پر ہے۔ (از مرتب) (حقیقة الوحی در روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۱۱۰)

للناس اماما وانی مستخلفک اکراماً کما جرت سنتی فی الاولین۔

(انجام آتھم در روحانی خزائن ج ۱۱ ص ۷۹)

هُوَ الَّذِيْ أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ۔

(اعجاز احمدی ص ۷ روحانی خزائن ج ۱۹ ص ۱۱۳)

”اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم در روحانی خزائن ص ۶۲ ج ۱۱)

یہ ہیں مرزا غلام احمد کے چند دعاوی۔ جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں کہ ان سبھی دعاوی کے صرف دو محرکات ہیں:

ان ہی دو وجوہات کو عوام کے سامنے بیان کر کے مرزا غلام احمد کے دعاوی بتدریج بیان کرنے چاہئیں تا کہ عوام کا ذہن اس بات کو بآسانی قبول کرنے پر آمادہ ہو کہ ان بلند پایہ دعوؤں کی بنیاد روحانیت‘ عقلیت یا حقیقت پر نہیں بلکہ صرف اور صرف مادیت پرستی بد عقلی اور کذب پر ہے۔

منکوحات مرزا

مشہور تھی۔ اس سے مرزا غلام احمد قادیانی اوائل سے ہی کچھ متنفّر رہتا تھا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ یہ بیوی مرزا کے مخالفوں (اس کے فریب میں نہ آنے والوں) سے متاثر تھی۔ اور بعد میں جب محمدی بیگم کا معاملہ اٹھا تو مرزا غلام احمد قادیانی نے پھجے دی ماں کو طلاق دے دی تھی۔

(ملخصاً سیرۃ المہدی ص ۲۶۔ ۲۷ حصہ اول‘ مصنف مرزا بشیر احمد قادیانی)

صفحہ 184

المهدی میں اسی بیوی کے حوالے سے مرزا غلام احمد کے متعلق بہت سی روایتیں مروی ہیں۔

(۳) تیسری بیوی آسمانی منکوحہ ”محمدی بیگم“ تھی جس کے حاصل کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے ہزار جتن کئے اور جب اس کا والد کسی طور پر بھی نہ مانا تو مرزا قادیانی نے خدائی الہام بنایا: ”زوجنکھا“ کہ ہم نے تمہارا نکاح اس سے (محمدی بیگم) کر دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ مرزا قادیانی کے پاس نہ آئی۔ اور مرزا کی اس منکوحہ آسمانی نے ساری زندگی ایک دوسرے شخص سلطان محمد کے ساتھ گزار دی اس سے اس کے پانچ لڑکے اور دو لڑکیاں ہوئیں اور مرزا اس کی حسرت دل ہی میں لئے اس دنیا سے گزر گیا۔ اس کی پوری دلچسپ تفصیل آئندہ اوراق میں ملاحظہ فرمائیں۔

اولاد

پہلی بیوی (پھجے دی ماں) سے مرزا غلام احمد کے دو بیٹے ہوئے: (۱) مرزا سلطان احمد‘ (۲) مرزا فضل احمد۔ یہ دونوں لڑکے اپنے والد مرزا غلام احمد کے بیہودہ دعوؤں سے قطعاً بیزار رہتے تھے۔ اسی لئے جب فضل احمد کا انتقال ہوا تو مرزا غلام احمد نے اس کے جنازہ کی نماز میں شرکت نہیں کی۔ (الفضل قادیان ۴ رجب ۱۳۶۲ھ مطابق ۷ جولائی ۱۹۴۴ء ص ۲) اور مرزا سلطان احمد کو مرزا غلام احمد نے عاق کر دیا تھا۔ (سیرۃ المہدی جلد اول ص ۲۹)

دوسری بیوی (نصرت جہاں بیگم) سے مرزا غلام احمد کے (۱۰) اولاد ہوئیں جن میں سے مرزا بشیر الدین محمود احمد (خلیفہ دوم) مرزا بشیر احمد (مصنف سیرۃ المہدی)‘ مرزا شریف احمد‘ مبارکہ بیگم‘ اور امۃ الحفیظ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد تک زندہ رہے۔ جب کہ عصمت بیگم‘ بشیر احمد اول‘ شوکت بیگم‘ مبارک احمد اور امۃ النصیر اس کی زندگی ہی میں فوت ہو گئے۔

(سیرۃ المہدی ج ۱ ص ۵۳)

عبرت ناک موت

مرزا غلام احمد قادیانی ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء بروز منگل وبائی ہیضہ میں مبتلا ہو کر نہایت عبرت کی موت مر گیا۔ میر ناصر نواب صاحب (مرزا غلام احمد کے خسر) لکھتے ہیں:

۱؎ یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ مرزا نے آئینہ کمالات ص ۵۴۸ میں لکھا ہے کہ جو میری تصدیق نہ کرے وہ کنجریوں کی اولاد ہے اب یہاں اس کی اولاد نے اس کی تصدیق نہیں کی تو خود مرزا کی تحریر سے اس کا کنجر ہونا لازم آیا۔ (از چنیوٹی)

صفحہ 185

”حضرت (مرزا) صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا۔ جب میں حضرت (مرزا) صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا: میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔“

(حیات ناصر ص ۱۴ مرتبہ شیخ یعقوب علی عرفانی)

سر براہ

پہلا جانشین

مرزا قادیانی کے بعد تحریک قادیانیت کی باگ ڈور مرزا کے دستِ راست اور معتمد ترین ساتھی حکیم نور الدین بھیروی نے سنبھالی۔ یہ شخص بہت بڑا عالم اور ماہر طبیب تھا۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی علمی موشگافیاں اور دور از کار تاویلات زائغہ دراصل حکیم نور الدین ہی کے شر پسند دماغ کی اُپج ہیں۔ حکیم نور الدین کے بارے میں یہ واقعہ دلچسپی سے خالی نہیں کہ اپنی ضلالت و گم راہی سے پہلے وہ ایک مرتبہ شاہ عبد الرحیم صاحب سہارنپوریؒ (مرشد حضرت شاہ عبدالقادر صاحب رائپوریؒ) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے حکیم نور الدین سے فرمایا کہ قادیان میں ایک شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا اور تمھارا نام لوح محفوظ میں اس کے مصاحب کے طور پر لکھا ہے۔ (آپ بیتی جلد نمبر ۶ شیخ زکریا)

حضرت شاہ عبد الرحیم صاحب سہارن پوریؒ کی حکیم نور الدین کے بارے میں یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی اور حکیم نور الدین جھوٹے نبی کا نہ صرف مصاحب تھا بلکہ اس کے مرنے کے بعد اس کا پہلا جانشین بھی ہوا۔ قادیان آنے سے پہلے حکیم نور الدین بھیروی مہاراجہ کشمیر رنبیر سنگھ کے سرکاری طبیبوں میں شامل تھا۔ اور مہاراجہ کے خلاف انگریزوں کی طرف سے جاسوسی پر مامور تھا۔ ۱۸۸۵ء میں جب رنبیر سنگھ کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا پرتاب سنگھ کشمیر کا راجہ بنا تو اس کے خلاف حکیم نور الدین نے سازش کر کے کشمیر کو ”انگریزی

صفحہ 186

کونسل“ میں شامل کروا دیا اور مہاراجہ کے اختیارات سلب کروا دیے کافی تگ و دو کے بعد جب راجہ پرتاب سنگھ دوبارہ برسر اقتدار آیا تو اس نے نمک حرامی کی وجہ سے حکیم نورالدین کو کشمیر بدر کر دیا۔

(ملخصاً: از قادیان سے اسرائیل تک ص ۶۶)

حکیم نور الدین ابتداء میں ایک لامذہب شخص تھا۔ اس کی طبیعت کا زیادہ تر رُجحان نیچریت کی طرف تھا۔ خاص کر سرسید احمد خاں کی تصانیف سے بہت متاثر تھا۔

(سیرۃ المہدی ج۲ ص ۵۷ ملخصاً)

حکیم نور الدین نے ۱۹۰۸ء سے ۱۹۱۴ء تک قادیانی اُمت کی قیادت کی۔ اس کے دورِ خلافت میں جماعت نے جو اہم ترین کارنامہ انجام دیا وہ تحریکِ خلافت کو سبوتاژ کرنے اور حکومتِ فرنگیہ کی عام مسلمانوں کے علی الرغم حمایت کرنے کی پالیسی تھی جس نے اس جماعت اور اس کے قائدین و متبعین کو ملتِ اسلامیہ کے حواشی سے بھی کاٹ کر رکھ دیا۔ اور انگریز کے خود کاشتہ پودے ہونے کا لقب پوری آب و تاب کے ساتھ اس جماعت کے نام کا جزوِ اعظم بن گیا۔

دُوسرا جانشین

حکیم نورالدین کے مرنے کے بعد قادیانی جماعت میں خلافت کے مسئلہ پر اختلاف ہو گیا۔ کچھ لوگ مرزا غلام احمد کے قریبی مرید مولوی محمد علی کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے جبکہ دوسری طرف مرزا کا بڑا بیٹا بشیر الدین محمود خلافت کا مضبوط امیدوار تھا۔ بالآخر مرزا کی بیوی (نصرت جہاں) کی انتھک کوشش اور دیگر مریدین کی جدوجہد کی بنا پر مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ دوم قرار پایا۔ خلافت سنبھالنے کے وقت اس کی عمر کل ۲۴ سال تھی۔ بالکل شہزادوں کی سی زندگی گزارتا تھا۔ اوّل درجہ کا عیاش‘ زانی اور بدکار تھا۔ خود قادیانیوں نے اس کے جرائم کا پردہ فاش کیا ہے اور اس موضوع پر باقاعدہ کتابیں اور رسائل لکھے گئے ہیں۔

(تاریخ محمودیت‘ ربوہ کا مذہبی آمر‘ شہر سدوم وغیرہ)

مرزا محمود نے دس جلدوں میں قرآنِ کریم کی تفسیر کبیر لکھی جس میں سوائے بکواس اور تاویلاتِ رکیکہ کے کچھ نہیں ہے۔ نیز اس نے اپنے والد کی سیرت پر ایک کتاب ﴿سیرتِ مسیح موعود﴾ کے نام سے تالیف کی۔ اس کے زمانہ میں قادیانی جماعت کو انگریزی سرپرستی میں کافی

صفحہ 187

پیر پھیلانے کا موقع ملا۔ لندن و دیگر بیرونی ممالک میں قادیانیت کا بیج بویا گیا۔ مرزا محمود ۱۹۶۵ء تک عہدہ خلافت پر قائم رہا تا آنکہ موت کے عبرت ناک چنگل نے اس کو آ پکڑا۔

تیسرا جانشین

مرزا بشیر الدین محمود کے مرنے کے بعد ۱۹۶۵ء میں اس کا بڑا لڑکا ناصر احمد قادیانی تیسرا جانشین منتخب ہوا۔ اس نے قادیانی مذہب کو دنیا میں پھیلانے کی انتھک کوشش کی۔ مختلف عالمی دورے کیے اور جا بجا اپنے مراکز قائم کیے اور ۱۹۸۲ء میں اچانک حرکت قلب بند ہو جانے کی بنا پر ہلاک ہو گیا ۱؎

چوتھا جانشین

مرزا ناصر احمد کے بعد مرزا طاہر احمد چوتھا خلیفہ ہوا اس کی خلافت اس طرح ممکن ہوئی کہ خلافت کے دوسرے امیدوار مرزا رفیع احمد کو اغوا کرا دیا گیا اس طرح مقابلہ ختم ہو جانے کی وجہ سے مرزا طاہر کو خلیفہ مان لیا گیا۔ ۲۷ اپریل ۱۹۸۴ء ۲؎ میں جب سابق صدر پاکستان جنرل

مردی کیلئے کوئی کشتہ استعمال کیا جس سے وہ خود کشتہ ہو گیا۔ اسلام آباد میں اس کی ہلاکت ہوئی۔

لیکن اس میں شک نہیں کہ اس فیصلہ کا مکمل نفاذ مرحوم ضیاء الحق کے زمانہ میں امتناع قادیانیت آرڈینینس کے ذریعہ ہوا جو ۲۶ اپریل ۱۹۸۴ء کو نافذ ہوا۔ جس کے بعد قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے پاکستان سے فرار ہو کر (لندن) اپنے اصلی مستقر میں پناہ لی اور جب تک یہ آرڈینینس موجود ہے وہ اپنے بقول پاکستان واپس نہیں آ سکتا۔ قادیانیوں نے اس آرڈینینس کو پاکستان میں وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج بھی کیا تھا۔ لیکن وفاقی شرعی عدالت کے فل بینچ نے اس آرڈینینس کو بحال رکھا اور اپنا مفصل فیصلہ دیا۔ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ: حکومت پاکستان نے مرزائیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو روکنے کیلئے ایک آرڈینینس جاری کیا۔ جو مورخہ ۲۶ اپریل ۱۹۸۴ء میں نافذ ہوا۔ اس میں اسلامی اصولوں کے مطابق قادیانیوں کو (ربوئی، احمدی یا لاہوری) غیر مسلم تسلیم کرتے ہوئے مسلمانوں کی تمام اصطلاحات کے استعمال کرنے سے روک دیا گیا۔ اس آرڈینینس کے جاری ہونے پر قادیانی بہت سیخ پا ہوئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت میں درخواستیں دائر کر دیں۔ چنانچہ ۱۵ جولائی ۱۹۸۴ء کو

(بقیہ حاشیہ بر صفحہ آئندہ)

صفحہ 188

ضیاء الحق مرحوم نے قادیانیوں کی اذان وغیرہ پر پابندی لگانے کا آرڈیننس جاری کیا تو مرزا طاہر نے اپنے دیرینہ سر پرست کی پناہ میں جگہ حاصل کرنے ہی میں عافیت سمجھی اور پاکستان سے لندن بھاگ گیا اور....... تادم تحریر وہیں مقیم ہے۔...... ۱۹۸۸ء میں اس نے مباہلہ کا ڈھونگ رچایا لیکن اللہ کے فضل سے علماء حقہ کی طرف سے اس کے ایسے مدلل اور زبردست جواب دیئے گئے کہ بغیر مباہلہ کے قادیانیوں کے دانت کھٹے ہو گئے۔

قادیانیوں کی لاہوری جماعت

مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ دوئم سے خلافت کا الیکشن ہار کر مولوی محمد علی لاہوری اور اس

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) اس دائر کیس کی سماعت شروع ہوئی۔ بالآخر وفاقی شرعی عدالت نے اکیس (۲۱) روزہ سماعت کے بعد ۱۲ اگست ۱۹۸۴ء کو قادیانیوں کی دائر کردہ دونوں درخواستیں مسترد کر دیں۔ اور اپنے متفقہ فیصلہ میں تحریر کیا کہ تمام قادیانی (لاہوری گروپ یا قادیانی گروپ) مسلمانوں کی تمام اصطلاحات استعمال نہ کریں۔ مثلاً اپنے آپ کو مسلمان نہ کہیں۔ اپنی عبادت گاہ کو مسجد اور اپنی پکار کو اذان نہ کہیں۔ اور اسلامی شخصیات کیلئے مخصوص القاب خطابات اور اصطلاحات استعمال نہ کریں۔ ان کیلئے امیر المومنین خلیفۃ المسلمین خلیفۃ المومنین اور مرزا قادیانی کی بیوی کیلئے ام المومنین کے القاب کا استعمال ممنوع ہے۔ صحابہ یا رضی اللہ عنہ کے الفاظ صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کیلئے مخصوص ہیں۔ اسی طرح اہل بیت کا لفظ صرف رسول اکرم ﷺ کے خاندان کیلئے مخصوص ہے۔ الحاصل! مسلمانوں کی تمام اصطلاحات سے قادیانیوں کو روک دیا گیا۔ قادیانیوں کے متعلق پاکستان کی مختلف عدالتوں کے فیصلے : ۷ فروری ۱۹۳۵ء کو جناب منشی محمد اکبر خان صاحب ڈسٹرکٹ جج ضلع بہاولپور نے اپنے فیصلے میں قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ ۲۵ مارچ ۱۹۵۴ء کو میاں محمد سلیم سینئر سول جج راولپنڈی نے اپنے فیصلہ میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ ۳ جون ۱۹۵۵ء کو جناب شیخ محمد اکبر صاحب ایڈیشنل جج ڈسٹرکٹ راولپنڈی نے اپنے فیصلے میں مرزائیوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ ۲۲ مارچ ۱۹۶۹ء کو شیخ محمد رفیق گرائیہ سول جج اور فیملی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ مرزائی خواہ قادیانی ہوں یا لاہوری غیر مسلم ہیں۔ ۱۳ جولائی ۱۹۷۰ء کو سول جج سارو جیمز آباد ضلع میر پور خاص نے اپنے فیصلے میں مرزائیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ ۱۹۷۲ء میں جناب ملک احمد خان صاحب کمشنر بہاولپور نے فیصلہ دیا کہ مرزائی مسلم امت سے بالکل الگ گروہ ہے۔ ۱۹۷۴ء میں چوہدری محمد نسیم صاحب سول جج رحیم یار خان نے فیصلہ دیا کہ مسلمان آبادیوں میں قادیانیوں کو تبلیغ کرنے یا عبادت گاہ بنانے کی اجازت نہیں۔ ۲۸ اپریل ۱۹۷۳ء کو آزاد کشمیر کی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پاس کی۔ ۱۹ جون ۱۹۷۴ء کو صوبہ سرحد کی اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد پاس کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر رابطہ عالم اسلامی کے فیصلہ کی تائید کی۔

صفحہ 189

کے متبعین نے قادیانی جماعت سے عملاً علیحدگی اختیار کر لی۔ ۱۹۱۴ء سے ۱۹۲۰ء تک یہ لوگ قادیان ہی میں مقیم رہے اور غیر مبائعین (بیعت نہ کرنے والے) کے نام سے اپنی شناخت برقرار رکھے رہے۔ ۱۹۲۰ء میں مولوی محمد علی نے لاہور آ کر ایک الگ تنظیم ﴿انجمن اشاعتِ اسلام احمدیہ﴾ کے نام سے قائم کی اور خود ہی اس کا پہلا امیر منتخب ہوا۔ اس کے مرنے کے بعد اس انجمن کا دوسرا امیر صدر الدین چنا گیا۔ اور آج اس کی امارت ڈاکٹر نصیر احمد کے ہاتھوں میں ہے۔

قادیانی اور لاہوری جماعت کے عقائد میں کیا فرق ہے خود مولوی محمد علی کی زبانی بغور ملاحظہ فرمائیں۔ مولوی محمد علی اپنے رسالہ ﴿مسیح موعود اور ختم نبوت﴾ میں لکھتا ہے: ”حضرت مسیح موعود کی جماعت کے دو فریق ہیں: ایک ﴿احمدی﴾ جن کا مرکز لاہور ہے۔ اور دوسرے ﴿قادیانی﴾ جن کا مرکز قادیان ہے فریق قادیان اور فریق لاہور کا اصل اختلاف صرف دو امور میں ہے: اول یہ کہ حضرت مسیح موعود مجدد تھے یا نبی؟ فریق قادیان کے پیشوا کا خیال ہے کہ آپ نبی تھے۔ فریق لاہور آپ کو مجدد مانتا ہے۔ دوم یہ کہ جو مسلمان آپ کی بیعت میں داخل نہیں وہ دائرہ اسلام کے اندر ہیں یا نہیں؟ فریق قادیان کے پیشوا کا خیال ہے کہ روئے زمین کے تمام مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور فریق لاہور کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر کلمہ گو مسلمان ہے ہاں مجدد اور مسیح امت کو رد کرنا یا اس کی مخالفت کرنا قابل مواخذہ ضرور ہے۔“

(رسالہ مسیح موعود اور ختم نبوت بحوالہ قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ ص ۹۴۰)

لیکن قادیانیوں کی ان دونوں جماعتوں میں درحقیقت کوئی فرق نہیں بلکہ یہ اختلاف اور نزاع صرف اقتدار کا ہے اگر مولوی محمد علی کو مرزا محمود کی جگہ خلافت ملجاتی تو وہ بھی وہی کہتا جو عام قادیانی کہتے ہیں۔

پروفیسر الیاس برنی نے لکھا ہے کہ ان دونوں فرقوں میں صرف اتنا فرق ہے کہ ایک کا رنگ گہرا عنابی اور دوسرے کا ہلکا گلابی ہے۔ پھر ہمارا یہ سوال ہے کہ اگر ان میں اختلاف حقیقی ہے تو لاہوری جماعت والوں کو چاہئے کہ وہ قادیانیوں کو برملا کافر کہیں کہ ایک غیر نبی کو نبی مان رہے ہیں اسی طرح قادیانیوں پر لازم ہے کہ وہ لاہوریوں کو کافر کہیں کہ وہ ایک ﴿نبی برحق﴾ کی نبوت کے منکر ہیں؟ لیکن ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو کافر نہیں کہتا۔ اس سے

صفحہ 190

معلوم ہوا کہ ان میں اختلاف حقیقی نہیں بلکہ بناوٹی ہے ١؎

دلچسپ حقیقت

یہاں یہ دلچسپ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ مرزا غلام احمد کے ایک مرید سمی چراغ الدین نے مرزا کی زندگی ہی میں نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا جس کی بنا پر مرزا نے اسے اپنی جماعت سے خارج کر دیا، اور مرزا کی موت کے بعد تو بہت سے مرزائیوں نے نبوت، اور الہام وتجدید کے دعوے کیے جن میں منشی ظہیر الدین اروپی، خدا بخش قادیانی، یار محمد پلیڈر، عبداللہ تیمار پوری، سید عابد علی، عبداللطیف گنا چوری، محمد صدیق بہاری، احمد سعید سمبھریالی، احمد نور کابلی، نبی بخش مرزائی، عبداللہ پٹواری اور فضل احمد چنگا بنگیالی قابل ذکر ہیں۔ ان میں سے بعض نے اپنی جماعتیں بھی بنائیں مگر ان کو زیادہ فروغ حاصل نہ ہوسکا۔ تفصیل کے لیے مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری کی شہرہ آفاق کتاب ”ائمہ تلبیس“ باب ۷۱ ص ۵۱۲ تا ص ۵۱۷ بعنوان ”قادیان کے برساتی نبی“ ملاحظہ کریں اور مرزا قادیانی کی تفصیلی سوانح عمری کے لیے رئیس قادیان (مصنفہ مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری) کا مطالعہ فرمائیں۔

١؎ ان دونوں جماعتوں کے عقائد اور دلائل تفصیل سے معلوم کرنے کیلئے رسالہ (روئداد مباحثہ راولپنڈی) مطالعہ کریں۔ یہ بڑا اہم رسالہ ہے اس میں دونوں پارٹیوں کے دلائل خود مرزا کی تحریرات سے موجود ہیں۔

صفحہ 191

باب دوم

تعین موضوع

مسلمانوں اور مرزائیوں کے درمیان مناظرہ اور گفتگو کا محور عام طور پر مندرجہ ذیل تین موضوعات ہوتے ہیں:

حضور کی تشریف آوری پر ختم ہوچکا ہے۔

ہیں اور ان کی قبر کشمیر میں ہے یا وہ زندہ ہیں اور انہیں آسمان پر زندہ اٹھا لیا گیا ہے اور وہی دوبارہ نازل ہوں گے۔

اس قابل ہے کہ اسے خدا کا فرستادہ مانا جاسکے اور دوسروں کے لئے مشعل ہدایت بن سکے؟ اس کا کیریکٹر کیسا تھا، وغیرہ وغیرہ۔

۱ اس ذیل میں یہ بحث بھی آتی ہے کہ مرزا غلام احمد کیا آدم زاد بھی تھا یا نہیں؟ اس نے خود اپنے بارے میں صراحت کر دی تھی ۔ ؎

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم در روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۱۲۷)

اب سوال یہ ہوگا کہ جو خود ہی آدم زاد نہ ہو وہ بنی آدم کے لیے رسول اور نبی بن کر کیسے مبعوث ہو سکتا ہے؟ لہٰذا اب دو ہی احتمال ہیں یا تو مرزا نے اس شعر میں جھوٹ بولا ہے اور ظاہر ہے جھوٹا نبی نہیں ہو سکتا اور اگر اس نے سچ بولا ہے تو بھی وہ انسانوں کے لیے نبی نہیں ہو سکتا۔ غیر انسان گدھوں اور جانوروں کیلئے ہو تو ہو۔

صفحہ 192

مرزائیوں کی چال

مرزائی اس بات کی پوری کوشش کرتے ہیں کہ اول الذکر دو موضوعات (ختم نبوت اور وفات عیسیٰ) پر ہی بحث کریں۔ تیسرے موضوع (کیرکٹر مرزا) پر بحث کرنے سے وہ ہمیشہ پہلو تہی کرتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ختم نبوت اور حیات عیسیٰ (علیہ السلام) ایسے موضوعات ہیں جن پر غلط استدلال کر کے بحث کو طول دیا جاسکتا ہے اور سامعین کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن تیسرا موضوع ایسا ہے جو عام فہم ہے اس میں نہ تو تاویلات چل سکتی ہیں نہ ہی بحث کو بے فائدہ طول دیا جاسکتا ہے۔ اس لیے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے مرزائیوں کو موت نظر آتی ہے۔ گویا کہ یہی موضوع ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ وہ اس موضوع پر مناظرہ کیلئے تیار نہیں ہوتے۔

مسلمان مناظر کا فرض

صحیح موضوع متعین کرنا مناظرہ کی جان ہے۔ جو شخص اپنی مرضی کا موضوع متعین کروالے اس میں کچھ نہ کچھ وہ چل لیتا ہے۔ لہٰذا اس معاملہ میں مناظر کو نہایت مستعد اور تیار رہنا چاہیے اور اُسی موضوع کو لینا چاہیے جو مخالف کی کمزوری کی نشانی ہو اور جس میں لمبی بحث نہ ہوسکے۔ یہی مناظر کی سب سے بڑی اور اولین کامیابی ہوتی ہے۔

مرزائیوں سے مناظرہ اور بحث کرتے وقت جہاں تک ہو سکے مرزا کے کیریکٹر کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ بات کہیں سے بھی شروع ہو اسے مرزا کی زندگی اور اس کے حالات پر لے آئیے۔ اس کے علاوہ کسی اور موضوع میں قادیانی مناظر کو ہرگز نہ چلنے دیں۔ اس ایک بات پر مضبوطی سے قائم رہیے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس اثبات ختم نبوت یا حیات عیسیٰ علیہ السلام پر دلائل و براہین کی کمی ہے بلکہ مقصد تضیع وقت اور طولانی و لا طائل ابحاث سے بچنا اور عوام کو شکوک و شبہات سے بچانا ہے۔ مثلاً مرزائی مناظر وفات عیسیٰ علیہ السلام پر اِنِّی مُتَوَفِّیْكَ اور بَلْ رَفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ وغیرہ آیتیں پیش کرتا یا یہ کہتا ہے کہ آیت خاتم النبیین میں خاتم سے انگوٹھی مراد ہے وغیرہ وغیرہ تو آپ اس کا جواب یہی دیں گے کہ تو غلط کہتا ہے ان آیتوں کا صحیح مفہوم یہ ہے یہ نہیں یہ ضمیر فلاں کی طرف راجع ہے۔ خاتم کے معنی وہ نہیں ہیں جو تو نے بیان کیے ہیں تو

صفحہ 193

یہ سب جوابات علمی ہوں گے جنہیں عوام اچھی طرح سمجھ نہیں پاتے۔ اس لیے یہ غلطی تو کبھی ہونی ہی نہیں چاہیے کہ مرزائیوں سے صرف علمی بحثوں پر اکتفا کر لی جائے ختم نبوت یا حیات و وفات عیسیٰ علیہ السلام جیسے موضوعات پر گفتگو کی جائے۔ یہ بات ہر عالم کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے اور اسی پر عمل کرنا چاہیے۔

تعین موضوع کے درجات

مناظرہ کا موضوع متعین کرتے وقت درج ذیل چار درجات کا خیال رکھنا چاہئے:

اعلیٰ درجہ: اپنا موضوع منوائیں مرزائیوں کا کوئی بھی موضوع نہ مانیں۔

دوسرا درجہ: اگر اپنا موضوع نہ منوا سکیں تو مخالف کا موضوع بھی نہ مانیں۔

تیسرا درجہ: اگر بدرجہ مجبوری مرزائیوں کا کوئی موضوع ماننا پڑ جائے تو اس شرط پر کہ ایک موضوع ہماری مرضی کا بھی رکھا جائے وہ ایک موضوع مرزا کے کردار پر بحث کا ہو گا یعنی کیریکٹر مرزا بھی مانو۔

چوتھا درجہ: اگر مرزائیوں کے دو موضوع سر پڑ جائیں تو آپ بھی اپنے دو موضوع ان پر مسلط کریں (یعنی مرزا غلام احمد کی سیرت اور اس کے خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود کی سیرت) اور جب تک موضوع کی بات طے نہ ہو جائے آپ ہرگز کسی بھی بحث کا جواب نہ دیں۔ مرزائی مناظرین کا یہ طریقہ ہے کہ وہ ابتدائی مرحلہ میں ہی اجرائے نبوت اور وفات عیسیٰ علیہ السلام پر دلیلیں دینا شروع کر دیتے ہیں جس سے مسلمان مناظر پھر پیچھے نہیں رہنا چاہتا اور اس کی دلیلوں کا جواب دینے لگتا ہے اس طرح خود بخود گفتگو کا موضوع دوسرا ہو جاتا ہے اور مرزائی مناظر کا منشا پورا ہو جاتا ہے۔ اس وقت پوری سمجھداری سے کام لینا چاہیے اور اپنی بات پر ڈٹا رہنا چاہئے۔

اپنے حق میں تعین موضوع کے بعض مجرب طریقے

اگر مناظر ذہین اور ہوشیار ہو تو وقت پڑنے پر خود بخود ایسے طریقے اختیار کر لیتا ہے کہ مخالف اس کا موضوع ماننے پر تیار ہو جائے۔ لیکن پھر بھی رہنمائی کے لیے ذیل میں گفتگو کے بعض ایسے پہلو اجاگر کیے جاتے ہیں جن پر عمل کر کے تعین موضوع کا مسئلہ نہایت سہل اور

صفحہ 194

آسان ہو جاتا ہے۔ اور اس کا بار بار تجربہ کیا جا چکا ہے۔

گفتگو کی ابتداء

تعین موضوع کے سلسلہ میں بحث کی ابتداء اس بات سے ہونی چاہیے کہ اقوام عالم کی تاریخ میں جب کبھی بھی کوئی مصلح، ریفارمر اور رسول آیا تو اس نے سب سے پہلے اپنے بلند اخلاق، داعیانہ کردار، بے داغ زندگی اور انسانیت کے اعلیٰ ترین اوصاف کا مظاہرہ کر کے لوگوں کے سامنے اپنی روحانی دعوت پیش کرنے کا فریضہ انجام دیا ہے۔ خود رسول اکرم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کوہِ صفا سے پہلی بار اپنی قوم کو پیغام توحید سنایا تو اس سے پہلے اپنی تصدیق بھی کرائی اور جب سب نے بیک آواز یہ کہہ دیا کہ ما جربنا عليك الاصدقا (بخاری شریف ص ۷۰۲) تو آپ نے اپنی رسالت و توحید باری کا اعلان کیا۔ اسی طرح ہم ختم نبوت وغیرہ پر بھی اس وقت تک بحث نہیں کریں جب تک کہ ہمیں اس کا جھوٹا یا سچا ہونا معلوم نہ ہو جائے ۔ کیونکہ اگر وہ کسی ایک بات میں بھی جھوٹا ثابت ہو گیا تو پھر اس کے سارے دعاوی ھباءً منثوراً ہو جائیں گے اور ناقابل اعتبار قرار پائیں گے ۔ اور اس کا فیصلہ ہم نے نہیں کیا بلکہ خود مرزائی مذہب کی ﴿نصوص قطعیہ﴾ اس پر دال ہیں۔ چند حوالے ملاحظہ فرمائیں:

باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت ص ۲۲۲ در روحانی خزائن ج ۲۳ ص ۲۳۱)

”جب یہ ثابت ہو جائے کہ ایک شخص فی الواقع مامور من اللہ ہے تو پھر اجمالاً اس کے تمام دعاوی پر ایمان لانا واجب ہو جاتا ہے۔ الغرض اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ مدعی ماموریت فی الواقع سچا ہے یا نہیں؟ اگر اس کی صداقت ثابت ہو جائے تو اس کے تمام دعاوی کی صداقت بھی ساتھ ہی ثابت ہو جاتی ہے۔“

(دعوت الامیر ص ۴۹۔۵۰)

ص ۱۰۸۔ خ ۱۰۸) نیز اس نے اپنے بارے میں لکھا ہے فقد لبثت فیکم عمراً من قبلہ افلا تعقلون ۔ (تذکرہ ص ۲۸۱۔ ر خ ص ۱۰۸)

صفحہ 195

’’خاکسار (بشیر احمد ایم۔اے) عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول (حکیم نور الدین) فرماتے ہیں کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب‘ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی ہو سکتا ہے؟ میں نے کہا نہیں‘ اس نے کہا کہ اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو پھر؟ میں نے کہا پھر ہم دیکھیں گے کہ کیا وہ صادق اور راست باز ہے یا نہیں۔ اگر صادق ہے تو بہرحال اس کی بات قبول کریں گے ۔‘‘

(سیرۃ المہدی ج ۱ ص ۹۸ روایت ۱۰۹)

تو جب یہ بات طے ہو گئی کہ کسی بھی مدعی کے دعویٰ کو قبول کرنے کے لئے اس کے حالات پر مطلع ہونا ضروری ہے اور مرزائی مذہب کی اپنی تصریحات بھی اسی کی موید ہیں۔ تو اب مرزائیوں کے لیے دو ہی راستے ہیں۔ یا تو وہ اپنے مقتدایان مذہب کی واضح ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سیرت مرزا اور صدق و کذب مرزا پر بحث کھولنے پر تیار ہوں یا پھر کہیں کہ ان مقتدایان مرزائیت کی مذکورہ بالا ہدایات غلط اور باطل ہیں ............. یہ تقریر سن کر اگر وہ مرزائی سیرت مرزا پر مناظرہ کے لیے تیار ہو جائے تو مقصد حاصل ہے اور اگر کہے کہ یہ بیان کردہ اصول غلط اور باطل ہیں تو ہم کہیں گے کہ جس مذہب میں ایسی ناقابل عمل غلط اور باطل ہدایات دی جائیں وہ مذہب بھی بالکل غلط‘ باطل اور قطعاً ڈھونگ ہے۔ الغرض دونوں اعتبار سے نتیجہ مسلمان مناظر کے حق میں ظاہر ہوگا۔

دوسرا مرحلہ

اگر ابتدائی گفتگو میں آپ مرزائی مناظر کو مرعوب اور خاموش نہ کر سکیں تو آپ ہمت نہ ہاریں۔ بلکہ اپنا موضوع منوانے کی کوشش لگاتار کرتے رہیں اس سلسلہ میں آپ جہاں نقلی وعقلی دلائل دیں۔ وہیں ساتھ ساتھ نہایت زور وشور کے ساتھ لعین قادیان کو کذاب‘ دجال‘ مفتری اور بدکار جیسے شاندار القاب سے بھی نوازتے جائیں تا کہ مرزائی مناظر کا پارہ چڑھ جائے اور وہ اپنے ﴿ حضرت صاحب ﴾ کو بچانے کے لئے میدان میں نکل آئے اس

صفحہ 196

طرح خود بخود آپ کا محبوب موضوع متعین ہو جائے گا۔ خیر یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔ تحقیقی طور پر سیرت مرزا ہی کا موضوع متعین کرنے کیلئے ذیل کی تقریر بھی مفید ثابت ہوئی۔

مرزا غلام احمد کی بہت سی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کا نہ ماننے والا کافر، جہنمی منافق اور بے ایمان ہے۔ اور اس تکفیر میں کسی طرح کی قید نہیں بلکہ مطلقاً کفر کا حکم لگایا گیا ہے۔ دیکھیے :

رہے گا، وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“

(اشتہار معیار الاخبار مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۵ تذکرہ ص ۳۴۳)

اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“ (ارشاد مرزا غلام احمد مندرجہ رسالہ الذکر الحکیم منقول از اخبار الفضل مورخہ ۱۵ جنوری ۱۹۳۵ء تذکرہ ص ۶۰۰)

ان حوالوں سے معلوم ہوا کہ مرزا کے نزدیک کفر کا مدار اصل میں مرزا کے انکار پر ہے کسی اور بات پر نہیں۔ چنانچہ بہائی اور پرویزی فرقہ نزولِ عیسیٰ کا منکر اور وفات عیسیٰ علیہ السلام کا قائل ہے۔ مگر مرزا کے نزدیک وہ بھی کافر ہے کیونکہ وہ مرزا کی تصدیق نہیں کرتا۔ اسی طرح بہائی جماعت ختم نبوت کی منکر ہے مگر مرزائے قادیان کو نہیں مانتے تو وہ بھی مرزائیوں کے نزدیک ان کے مزعومہ اسلام سے خارج ہے تو پتہ چلا کہ اصل مدار مرزا کی تصدیق یا تکذیب پر ہے۔ جب سارے مسئلہ کا مدار ہی اس پر ہے تو بحث بھی اسی پر کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ کسی موضوع پر گفتگو کرنا نہ صرف بے سود بلکہ ان کے خلیفہ کے قول کے مطابق تضیع اوقات ہے۔

تیسرا مرحلہ:

اس مرحلہ میں مقابل مرزائی کو مرزا کی سیرت پر بحث کرنے کے لیے اور وفات ۱؎

۱؎ یہ (گُر) ہم نے خود مرزائیوں سے سیکھا ہے۔ ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ابتدائی گفتگو ہی میں حیات و وفاتِ مسیح اور اجرائے نبوت پر کوئی دلیل پیش کر دیتے ہیں جو کوئی کچا مناظر ہوتا ہے وہ ان کی دلیل کا جواب دینے لگ جاتا ہے لیکن جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ جب تک موضوع متعین نہ ہو جائے اس وقت تک ان کی کسی بھی دلیل کا جواب دینے کی غلطی نہ کرنی چاہیے۔ الغرض اس کے مقابلہ میں ہمارا یہ حربہ بڑا کامیاب اور مجرب ثابت ہوا ہے کہ گفتگو کے دوران مرزا کی سیرت کے گھناؤنے پہلوؤں پر کچھ روشنی ڈال دینی چاہیے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ قادیانی اس کے جواب میں لگ جاتا ہے اور ہمارا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ ہم نے بہت سے مناظروں میں اس حربہ کو استعمال کیا ہے اور کامیابی حاصل کی ہے۔ (از چنیوٹی)

صفحہ 197

حیات عیسیٰ علیہ السلام سے صرف نظر پر مجبور کرنے کے لئے ہم چند اور حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔ مثلاً:

حوالہ (۱) ”مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کا کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیشگوئیوں میں سے یہ ایک پیشگوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا۔ اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہوگیا۔“

(ازالہ اوہام ص ۱۳۰ اور روحانی خزائن ج ۳ ص ۱۷۱)

حوالہ (۲) ”اور مسیح موعود کے ظہور سے پہلے اگر امت میں سے کسی نے یہ خیال بھی کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔ صرف اجتہادی خطا ہے جو اسرائیلی نبیوں سے بھی بعض پیشگوئیوں کے سمجھنے میں ہوتی رہی ہے۔“

(حقیقۃ الوحی در روحانی خزائن ج ۲۲ حاشیہ ص ۳۲)

حوالہ (۳) ”ہماری یہ غرض ہرگز نہیں کہ مسیح علیہ السلام کی وفات وحیات پر جھگڑے اور مباحثے کرتے پھرو۔ یہ ایک ادنیٰ سی بات ہے۔“ (ملفوظات احمدیہ ج ۲ ص ۷۲)

حوالہ (۴) ”یہ بات صحیح نہیں کہ میرا دنیا میں آنا صرف حیات مسیح کی غلطی کو دور کرنے کے واسطے ہے اگر مسلمانوں کے درمیان صرف یہی ایک غلطی ہوتی تو اتنے کے واسطے آنے کی ضرورت نہ تھی الخ۔ یہ غلطی دراصل آج نہیں پڑی بلکہ میں جانتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوڑے ہی عرصہ بعد یہ غلطی پھیل گئی تھی اور کئی خواص اولیاء اللہ کا یہی خیال تھا اگر یہ کوئی ایسا اہم امر ہوتا تو خدا تعالیٰ اسی زمانہ میں اس کا ازالہ کردیتا۔“

(احمدی اور غیر احمدی میں فرق ص ۲)

الحاصل

ان حوالوں سے معلوم ہوا:

صفحہ 198

ان ﴿نصوص صریحہ﴾ کو پیش کر کے مرزائی مقابل سے یہ کہا جائے کہ جب وفات و حیات مسیح کا عقیدہ تمہارے ہاں جزو ایمان نہیں۔ اور حیات کا عقیدہ زیادہ سے زیادہ ایک اجتہادی غلطی ہے۔ پھر یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پر نزاع و جدال کیا جائے۔ اور اس پر گفتگو سے کسی طرح کا نتیجہ برآمد ہونا مشکل ہے تو پھر ایسے موضوع پر مناظرہ و مباحثہ کرنے سے کیا فائدہ؟ تو اگر تم واقعی مرزا کے پیروکار ہو تو اس کی نصیحتوں پر عمل کرتے ہوئے ایسے غیر اہم مسئلہ پر گفتگو کرنا چھوڑو اور زیادہ اہم مسئلہ کی طرف رخ کرو یعنی مرزا کے صدق و کذب پر بحث کرو تا کہ سارے دوسرے ذیلی موضوعات خود بخود طے ہو جائیں۔

ایک امکانی اعتراض اور اس کا جواب

ہوسکتا ہے کہ یہ تقریر سن کر مرزائی مناظر یہ اعتراض کرے کہ ٹھیک ہے حیات و ممات پر ہم بحث نہیں کرتے لیکن اجرائے نبوت اور ختم نبوت پر بحث کریں گے۔ کیونکہ وہ موضوع اہم بھی ہے اور اس سلسلہ میں گفتگو کرنے سے ہمیں روکا بھی نہیں گیا ہے۔۔۔۔۔ اس اعتراض کا جواب اسی حوالہ سے دیا جائے گا جس کو ہم ﴿گفتگو کی ابتدا﴾ کے عنوان سے ذکر کر چکے ہیں‘ کہ مرزائی مذہب کی اہم روایات سے ثابت ہے کہ مدعی ماموریت کی تصدیق سے پہلے اس کی تحقیق ضروری ہے کہ وہ مامور من اللہ ہونے کے لائق بھی ہے یا نہیں؟ تو جب یہ اصول طے شدہ ہے تو اسی کے مطابق عمل کرتے ہوئے ہم مرزا کے دعویٰ نبوت پر غور کرنے سے قبل اس کی تحقیق کریں گے کہ وہ دجال یا کذاب تو نہیں؟ اگر ہے تو پھر نہ بحث کی گنجائش ہے اور نہ قبول کرنے کا سوال ہے۔ الحاصل مرزائیوں پر لازم ہوگا کہ یا تو وہ مرزا کی سیرت اور صدق و کذب پر بحث کر کے اپنی رسوائی کا شاندار انتظام کریں یا اپنے مقتدایان مذہب کو جھوٹا قرار دیں یا راہ فرار اختیار کریں ہمیں یقین ہے کہ ان تینوں راہوں میں سے فرار کی راہ ہی ان کے لیے سب سے زیادہ آسان

صفحہ 199

ہوگی، جس کا تجربہ بار ہا کیا جا چکا ہے اور آئندہ بھی تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

ایک اہم اور ضروری اصول

اگر بالفرض والتقدیر مرزائی مناظر کسی طرح بھی ضد نہ چھوڑے اور آپ ختم نبوت یا حیات و وفات عیسیٰ علیہ السلام پر مباحثہ کرنے پر مجبور ہو جائیں یا کوئی مصلحت اور عارض آپ کو ان موضوعات پر ہی گفتگو پر مجبور کر دے تو یہ ضرور طے کر لینا چاہیے کہ کوئی فریق قرآنی آیات کے معنی از خود نہیں کرے گا بلکہ گزشتہ تیرہ صدیوں کے مجددین کے بیان کردہ معانی ہی استدلال میں قابل قبول ہوں گے کیونکہ اصل اختلاف ہمارے اور مرزائیوں کے درمیان آیات کے معانی میں ہوتا ہے الفاظ اور آیات تو سب کے نزدیک متفق علیہا ہیں۔ اور معانی کی تعیین اور آیات کی تفسیر کے بارے میں مرزا غلام احمد نے جو تحریفات کی ہیں وہ ہمارے نزدیک ہرگز قابل قبول نہیں ہیں اس لیے ان مجددین کی رائے فیصلہ کن مانی جائے گی جو مرزا قادیانی کے نزدیک بھی مسلم مجدد ہیں جن کو مرزا کے ایک مرید خدا بخش نے اپنی کتاب عسل مصفیٰ میں درج کیا ہے ۱؎ واضح ہو کہ عسل مصفیٰ وہ کتاب ہے جو زمانہ تالیف کے دوران ہر روز مرزا قادیانی کو سنائی جاتی تھی اگر کبھی اتفاقاً وہ نہ سنائی جاتی تو مرزا صاحب بڑے اہتمام کے ساتھ اس کے متعلق استفسار کرتے کہ آج وہ کتاب کیوں نہیں سنائی گئی۔ غرضیکہ بڑے اہتمام کے ساتھ مرزا نے اسے سن کر تصدیق کی لہٰذا اس کے مضامین و مشمولات مرزا نے تسلیم کردہ ہیں۔

چنانچہ اس کے مصنف مولوی خدا بخش قادیانی نے مقدمہ کتاب میں اس کی صراحت بھی کی ہے۔ بہر حال مسلمہ مجددین کے بارے میں عسل مصفیٰ کی متعلقہ عبارت ہم ذیل میں نقل کر رہے ہیں:

”ہم اوپر دکھلا چکے ہیں کہ ہر صدی کے سرے پر مجددوں کا آنا ضروری ہے کیوں کہ ہر سو سال کے بعد زمانہ کی حالت پلٹا کھاتی ہے اور دین اسلام میں ضعف واقع ہو جاتا ہے۔ لہٰذا از بس ضروری ہے کہ اس

۱؎ عسل مصفیٰ ج ۱ ص ۷۰،

صفحہ 200

ضعیف و کمزوری کے دور کرنے کے لیے کوئی شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص تائید پا کر دنیا میں کھڑا ہو اور جس قدر اہل اسلام میں فتور برپا ہو گیا ہو ...... اس کو دور کرنے کی کوشش کرے اور دین مردہ کو از سر نو زندہ کر کے اس کو اپنی اصلی ہیئت میں دکھلا دے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخِ منور سے پیدا ہوئی تھی چنانچہ اس غرض کے پورا کرنے کے لئے تیرہ صدیوں میں جس قدر اصحاب مجدد تسلیم کیے گئے ہیں جن میں سے بعض نے اپنی زبان سے دعویٰ مجددیت کیا ہے۔ اور بعض نے زبان سے تو دعویٰ نہیں کیا لیکن بعض لوگوں نے ان کو اپنے اعتقاد اور علم سے مجدد تسلیم کر لیا ہے۔“ ہم ان کے نام صدی وار لکھتے ہیں:

پہلی صدی میں اصحاب ذیل مجدد تسلیم کیے گئے ہیں

(۱) عمر بن عبدالعزیز‘ (۲) سالم‘ (۳) قاسم‘ (۴) مکحول۔ علاوہ ان کے اور بھی اس صدی میں مجدد مانے گئے ہیں چونکہ جو مجدد جامع صفات حسنیٰ ہوتا ہے وہ نسب کا سردار اور فی الحقیقت وہی مجدد فی نفسہ مانا جاتا ہے اور باقی اس کی ذیل سمجھے جاتے ہیں جیسے انبیاء بنی اسرائیل میں ایک نبی بڑا ہوتا تھا تو دوسرے اس کے تابع ہو کر کارروائی کرتے تھے چنانچہ صدی اول کے مجدد متصف بجمع صفات حسنیٰ حضرت عمر بن عبدالعزیز تھے۔

(دیکھو نجم الثاقب جلد ۲ ص ۹ و قرۃ العیون و مجالس الابرار ۔ و تعریف الاحیاء لفضائل الاحیاء ص ۴۲)

دوسری صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) امام محمد بن ادریس ابو عبداللہ شافعی‘ (۲) احمد بن محمد بن حنبل شیبانی‘ (۳) یحییٰ بن معین بن عون غطفانی‘ (۴) اشہب بن عبدالعزیز بن داؤد قیس‘ (۵) ابو عمرو مالکی مصری‘ (۶) خلیفہ مامون رشید بن ہارون‘ (۷) قاضی حسن بن زیاد حنفی‘ (۸) جنید بن محمد بغدادی صوفی‘ (۹) سہل بن ابی سہل بن رحملہ شافعی‘ (۱۰) بقول امام شعرانی حارث بن اسد محاسبی ابو عبداللہ صوفی بغدادی‘ (۱۱) اور بقول قاضی القضاۃ علامہ عینی احمد بن خالد الخلال ابو جعفر حنبلی بغدادی۔

(دیکھو نجم الثاقب ص ۱۴ جلد ۲ و قرۃ العیون و مجالس الابرار تعریف الاحیاء لفضائل الاحیاء ص ۴۳)

صفحہ 201

تیسری صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) قاضی احمد بن شریح بغدادی شافعی‘ (۲) ابوالحسن اشعری متکلم شافعی‘ (۳) ابوجعفر طحاوی ازدی حنفی‘ (۴) احمد بن شعیب ابوعبدالرحمن نسائی‘ (۵) خلیفہ مقتدر باللہ عباسی‘ (۶) حضرت شبلی صوفی‘ (۷) عبیداللہ بن حسین‘ (۸) ابوالحسن کرخی صوفی حنفی‘ (۹) امام بقی بن مخلد قرطبی مجدد اندلس اہل حدیث۔

(دیکھو تعریف الاحیاء ص۳۳ و نجم الثاقب وقرة العیون و مجالس الابرار )

چوتھی صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) امام ابوبکر باقلانی‘ (۲) خلیفہ قادر باللہ عباسی‘ (۳) ابوحامد اسفرائنی‘ (۴) حافظ ابونعیم‘ (۵) ابوبکر خوارزمی حنفی‘ (۶) بقول شاہ ولی اللہ ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ المعروف بالحاکم نیشاپوری‘ (۷) امام بیہقی‘ (۸) حضرت ابوطالب ولی اللہ صاحب قوت القلوب جو طبقہ صوفیاء سے ہیں‘ (۹) حافظ احمد بن علی بن ثابت خطیب بغدادی‘ (۱۰) ابواسحاق شیرازی‘ (۱۱) ابراہیم بن علی بن یوسف فقیہہ ومحدث۔

پانچویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) محمد بن محمد ابو حامد امام غزالی‘ (۲) بقول عینی و کرمانی حضرت راعونی حنفی‘ (۳) خلیفہ مستظہر بالدین مقتدی باللہ عباسی‘ (۴) عبداللہ ابن محمد انصاری ابو اسماعیل ہروی‘ (۵) ابوطاہر سلفی‘ (۶) محمد بن احمد ابوبکر شمس الدین سرخسی فقیہہ حنفی۔

چھٹی صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) محمد بن عمر ابوعبداللہ فخر الدین رازی‘ (۲) علی بن محمد‘ (۳) عزالدین بن کثیر‘ (۴) امام رافعی شافعی صاحب زبدہ شرح شفاء‘ (۵) یحییٰ بن حبش بن میرک حضرت شہاب الدین سہروردی شہید امام طریقت‘ (۶) یحییٰ بن شرف بن حسن محی الدین نووی‘ (۷) حافظ عبدالرحمن ابن جوزی‘ (۸) حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سرتاج طریقہ قادری۔

صفحہ 202

ساتویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) احمد بن عبد الحلیم تقی الدین ابن تیمیہ حنبلی‘ (۲) تقی الدین ابن دقیق العید‘ (۳) شاہ شرف الدین مخدوم یحییٰ منیری‘ (۴) حضرت معین الدین چشتی‘ (۵) حافظ ابن القیم جوزی شمس الدین محمد بن ابی بکر بن ایوب بن سعد بن القیم الجوزی ذرعی دمشقی حنبلی‘ (۶) عبد اللہ بن سعد بن علی بن سلیمان بن خلاج ابو محمد عفیف الدین یافعی شافعی‘ (۷) قاضی بدر الدین محمد بن عبد اللہ شبلی حنفی دمشقی۔

آٹھویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) حافظ علی بن حجر عسقلانی شافعی‘ (۲) حافظ زین الدین عراقی شافعی‘ (۳) صالح بن عمر بن ارسلان قاضی بلقینی‘ (۴) علامہ ناصر الدین شاذلی بن بنت میلی۔

نویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) عبد الرحمن بن کمال الدین شافعی معروف بہ امام جلال الدین سیوطی‘ (۲) محمد بن عبد الرحمن سخاوی شافعی‘ (۳) سید محمد جون پوری مہدی اور بقول بعض دسویں صدی کے مجدد ہیں۔ حضرت امیر تیمور صاحب قرآن فاتح عظیم الشان۔

دسویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) ملا علی قاری‘ (۲) محمد طاہر پٹنی گجراتی مجد الدین محی السنۃ‘ (۳) حضرت علی بن حسام الدین معروف بعلی متقی ہندی مکی۔

گیارہویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) عالمگیر بادشاہ غازی اورنگزیب‘ (۲) حضرت آدم بنوری صوفی‘ (۳) شیخ احمد بن عبد الاحد بن زین العابدین فاروقی سرہندی معروف بہ امام ربانی مجدد الف ثانی۔

صفحہ 203

بارہویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) محمد بن عبدالوہاب ابن سلیمان نجدی، (۲) مرزا مظہر جان جاناں دہلوی، (۳) سید عبدالقادر بن احمد بن عبدالقادر حسنی کوکبانی، (۴) حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی، (۵) امام شوکانی، (۶) علامہ سید محمد بن اسماعیل امیر یمنی، (۷) محمد حیاۃ بن ملا ملازیہ سندھی مدنی۔

تیرہویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) سید احمد بریلوی، (۲) شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، (۳) مولوی محمد اسماعیل شہید دہلوی، (۴) بعض کے نزدیک شاہ رفیع الدین صاحب بھی مجدد ہیں، (۵) بعض نے شاہ عبدالقادر کو مجدد تسلیم کیا ہے۔ ہم اس کا انکار نہیں کر سکتے کہ بعض ممالک میں بعض بزرگ ایسے بھی ہوں گے جن کو مجدد مانا گیا ہو اور ہمیں ان کی اطلاع نہ ملی ہو ٭

(منقول از عسل مصفیٰ ص ۱۶۲ تا ۱۶۵ جلد ۱، مطبوعہ وزیر ہند امرتسر اگست ۱۹۱۳ء رمضان ۱۳۳۱ھ)

(نوٹ)

قادیانی چودھویں صدی کا مجدد مرزا غلام احمد کو ٹھہراتے ہیں یہاں انہوں نے تیرہ صدیوں پر اس لئے اکتفا کی ہے کہ چودھویں صدی کا دور متنازع فیہ ہے مرزا غلام احمد اپنے کردار کی رو سے جب ایک شریف مسلمان تسلیم نہیں کیا گیا تو اب کون ہے جو اسے مجدد مانے گا اس لئے اس کے مجدد ہونے کی بحث ہمارے لئے فضول ہے۔

ہمارے ہاں چودھویں صدی کے مجددین میں (۱) جلالۃ الملک عبدالعزیز بن آل سعود، (۲) حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، (۳) حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی ہیں۔ ان میں سے کسی کا مجدد ہونے کا دعویٰ نہ کرنا اس لئے ہے کہ مجدد کے لئے مجدد ہونے کا دعویٰ کرنا ضروری نہیں نہ یہ ضروری ہے کہ اسے اپنے مجدد ہونے کا علم ہو۔

٭ مجددین مذکورین کی کل تعداد ۸۱ ہے۔ مجددین کے اسماء میں غلطیاں کتاب مذکور میں ہیں۔ حتی الامکان تصحیح کر دی گئی ہے۔

صفحہ 204

باب سوم

بحث صدق و کذب مرزا

مرزا غلام احمد کی زندگی کے بارے میں کچھ مختصر معلومات باب اول میں درج کی جا چکی ہیں۔ اس باب میں ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مرزا کی زندگی کے ہر ہر ورق اور عمل کے ہر ہر پہلو سے اس کا اپنے دعاوی میں جھوٹا ہونا ثابت ہے۔۔۔۔۔۔ یہی مسلمان مناظر کا اصل موضوع ہونا چاہیے اور اسی سلسلہ میں مکمل تیاری ہونی چاہیے۔ اس موضوع کے مدعی ہم خود ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ موضوع ہمارا متعین کردہ ہے اور مناظرہ کا یہ اصول ہے کہ ہر فریق جو موضوع پیش کرے اس میں مدعی وہی ہو۔ لہٰذا اس بارے میں قادیانی مناظر کو مدعی بننے کا موقع نہ دینا چاہیے۔ اس موضوع میں مدعی مسلمان ٹھہرتے ہیں اور قادیانی مجیب ٹھہرتے ہیں کیونکہ یہ موضوع مسلمانوں کا پیش کردہ ہے اسے خوب یاد رکھیں۔

ابتدائے کلام

اس بارے میں جب گفتگو شروع ہو تو سب سے پہلے قرآن کریم کی یہ آیتیں بار بار بلند آواز میں پڑھنی چاہئیں۔

کہ جو جھوٹے ہیں۔ (ترجمہ شیخ الہند)

صفحہ 205

الیه شیئ ۔ (انعام:۹۳) اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو الله پر جھوٹ تہمت لگائے یا یوں کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس کے پاس کسی بات کی بھی وحی نہیں آئی۔ (ترجمہ از حضرت تھانوی)

سو اس شخص سے زیادہ بے انصاف کون ہوگا جو الله پر جھوٹ باندھے اور سچی بات کو جب کہ وہ اس کے پاس پہنچی جھٹلا دے۔ (ترجمہ از حضرت تھانوی)

جھوٹ کے متعلق مرزا کے اقوال

ان آیتوں کو پیش کرنے کے بعد مرزا کے ایک جھوٹ کا دعوے پیش کیا جائے اور قادیانی مناظر سے اسے سچ ثابت کرنے کا مطالبہ کیا جائے اور اس کے فوراً بعد جھوٹ کے متعلق مرزا غلام احمد کی اپنی عبارات اور وعیدات بار بار سنانی چاہئیں۔ اور بڑے شد و مد کے ساتھ یہ کہنا چاہیے کہ ہم نے مرزا کو دجال اور کذاب ثابت کر دیا ہے اور وہ خود اپنے فتاویٰ کی روشنی میں کذاب، منافق اور جہنمی ٹھہرتا ہے۔ چند ایک فتاویٰ یہاں درج کیے جاتے ہیں:

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ در روحانی خزائن ص۵۶ ج۱۷)

(تتمہ حقیقۃ الوحی در روحانی خزائن ص۴۵۹ ج۲۲)

(حقیقۃ الوحیٰ روحانی خزائن ص۶۵ ج۲۲ ضمیمہ انجام آتھم در روحانی خزائن ص۳۳۳ ج۱۱)

(انجام آتھم در روحانی خزائن ص۳۳ ج۱۱)

کہتا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سوروں

۱؎ یہ بات مرزا نے پادری آتھم سے طعنہ کے طور پر کہی ہے۔

صفحہ 206

اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم در روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۲۹۲)

(شحنہ حق در روحانی خزائن ص ۳۸۶ ج ۲)

(شعر مرزا قادیانی نصرۃ الحق ☆ براہین احمدیہ پنجم در روحانی خزائن ص ۲۱ ج ۲۱)

مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا فتاویٰ دربارہ کذب سامنے رکھ کر صدق و کذب مرزا کی بحث کا آغاز کریں۔ اور حاضرین وفریق مخالف کو یہ باور کرا دیں کہ مرزا کے جھوٹا اور دجال

☆ براہین احمدیہ حصہ پنجم کے بارے میں یہ بات رکھنی چاہئے کہ مرزا نے اس کتاب کو نصرۃ الحق کے نام سے لکھنا شروع کیا تھا۔ بیچ میں اچانک نہ جانے کیا خیال آیا کہ اسی کتاب کا نام براہین احمدیہ پنجم رکھ دیا۔ چنانچہ آج بھی روحانی خزائن میں ص ۷۳ تک نصرۃ الحق نام لکھا ہوا ہے اور ص ۷۴ سے وہی کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم ہوگئی ہے۔ شاید یہ ٹانک وائن شراب یا مراق کا کرشمہ ہو یا لکھتے لکھتے براہین احمدیہ کے پیشگی خریداروں کا تقاضا یاد آ گیا ہو۔ پھر بھی ...... ؎ ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے ...... براہین احمدیہ کے بارے میں یہ لطیفہ بھی نہایت دلچسپ اور مرزا کی بدعقلی پر بڑی روشن دلیل ہے کہ اولاً براہین احمدیہ کے ۵۰ حصے شائع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ لیکن کل ۵ حصے لکھے اور تاویل یہ کی کہ چونکہ پچاس اور پانچ میں صرف صفر کا فرق ہے اس لئے پانچ جلدیں لکھنے سے پچاس جلدیں تصنیف کرنے کا وعدہ پورا ہو گیا۔ ملاحظہ فرمائیں براہین احمدیہ کے دیباچہ کی یہ عبارت:

”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“

(دیباچہ براہین احمدیہ در روحانی خزائن ص ۹ ج ۲۱)

سبحان اللہ! کیا شاندار منطق ہے؟ اس طرح کے شگوفے چھوڑنے میں تو نہ صرف مرزا بلکہ پوری امت مرزائیہ کو مہارت تامہ حاصل ہے۔

مرزائی تاویل: جب عام مناظروں اور مباحثوں میں مرزا غلام احمد کی مذکورہ بالا تاویل رکیک کی طرف توجہ دلائی گئی تو مرزائی مناظروں نے عام طور پر یہ جواب دیا کہ ﴿حضرت صاحب نے اگر ایسا کر لیا تو کیا ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو جب معراج پر گئے تھے اور انہیں پچاس نمازیں دی گئی تھیں تو انہوں نے معاف کراتے کراتے پانچ کرالی تھیں﴾ مرزائی مناظروں کا براہین احمدیہ کے واقعہ کو معراج پر قیاس کرنا نرا مغالطہ ہے۔ کیونکہ دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مرزا نے لوگوں سے تو ۵۰ جلدوں کے پیسے لئے تھے اور لکھیں کل پانچ جلدیں۔ اور معراج کے واقعہ میں فرض کی گئیں پانچ نمازیں اور ثواب پچاس نمازوں کا ملتا ہے۔ دوسرا فرق یہاں تو حضور بار بار درخواست کرکے کمی کرارہے ہیں اور وہاں جنہوں نے پیشگی رقمیں دی تھیں وہ پچاس جلدیں پوری کرنے کا تقاضا کررہے ہیں۔ تیسرا فرق یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے اور نمازوں کی معافی اللہ کا حق ہے۔

صفحہ 207

ثابت ہونے پر خود مرزا کے اقوال کی روشنی میں اس کو اپنے ﴿القاب نادرہ﴾ مذکورہ سے نوازا جائے گا۔...... اب ذیل میں تفصیل کے ساتھ کذب مرزا کے دلائل لکھے جاتے ہیں۔

کذبات مرزا

کذب مرزا کی پہلی دلیل

’’تاریخ کو دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہی ایک لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا۔‘‘

(پیغام صلح ص ۲۷ در روحانی خزائن ص ۴۶۵ جلد ۲۳)

مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ جھوٹ اکیلا اتنا واضح ہے کہ مزید حوالے دینے کی ضرورت ہی نہیں۔ ہر شخص کو معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش مبارک سے قبل ہی آپ کے والد ماجد کا انتقال ہو گیا تھا۔ آپ یتیم پیدا ہوئے تھے الم یجدک یتیماً فآویٰ اس سے اندازہ لگائیں کہ حضور کے بارے میں مرزا نے کتنا جھوٹ بولا ہے۔

کذب مرزا کی دوسری دلیل

’’تاریخ داں لوگ جانتے ہیں کہ آپ (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کے گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے۔ اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص ۲۸۶ در روحانی خزائن ص ۲۹۹ ج ۲۳)

قادیانیو! ’’تاریخ داں لوگ‘‘ تو درکنار کسی ایک مورخ کی تحریر بھی پیش کر دو جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہ لڑکے ہونے کا دعویٰ کیا ہو۔ مرزا کا یہ دعویٰ دوسرا کھلا جھوٹ ہے اور اس کو دیکھ کر ادنیٰ سی عقل رکھنے والا شخص بھی مرزا کو کسی بات میں سچا نہیں یقین کر سکتا۔

صفحہ 208

کذب مرزا کی تیسری دلیل

’’اولیاء گزشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی کہ وہ چودہویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا۔ اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔‘‘

(اربعین ص ۲۴ نمبر ۲ و روحانی خزائن ص ۴۲۱ ج ۱۷)

اس عبارت میں لفظ ’’قطعی مہر‘‘ غور طلب ہے۔ یہ انبیاء کرام ہیں جن کی بات قطعی درجے کی ہوتی ہے۔ اولیاء کی بات کہیں قطعی شکل اختیار نہیں کرتی نہ ان کا الہام شرعی حجت ہوتا ہے ان کے کشوف ظنی ہوتے ہیں یہ لفظ ’’قطعی مہر‘‘ بتا رہا ہے کہ پیچھے اولیاء کا لفظ نہ تھا یہ اصل عبارت میں اولیاء نہیں تھا۔ ۱؎

مرزا قادیانی کی اس تحریر میں لفظ اولیاء جمع کثرت ہے جمع کثرت دس سے شروع ہوتی ہے اور زمان ومکان کی بھی تعین ہے لہٰذا مرزا قادیانی کی یہ بات اس وقت تک سچ نہیں ہو سکتی جب تک کہ مسلم دس اولیاء اللہ کے کشفی اقوال سے اس بات کا واضح ثبوت نہ دیا جائے کہ وہ مسیح (جس کی دوبارہ آمد کا قرآن وحدیث میں وعدہ کیا گیا ہے) چودہویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور اس کی پیدائش کا مقام صوبہ پنجاب ہو گا نہ کہ کوئی اور جگہ۔ یہ ایک کھلا جھوٹ ہے آج تک کوئی قادیانی یہ ثبوت پیش نہیں کر سکا اور نہ آئندہ کر سکے گا۔

کذب مرزا کی چوتھی دلیل

’’یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے۔‘‘

(کشتی نوح در روحانی خزائن ج ۱۹ ص ۵)

اس عبارت کے متعلق مرزا نے حاشیہ میں لکھا ہے: ’’مسیح موعود کے وقت میں طاعون کا پڑنا بائبل کی ذیل کی

۱؎ یہ سچ ہے کہ اربعین کے پہلے ایڈیشن میں اس جگہ انبیاء کا لفظ تھا دوسرے ایڈیشن میں لکھا کہ اصل لفظ اولیاء تھا پہلے ایڈیشن میں غلطی سے اولیاء کی جگہ انبیاء کا لفظ لکھا گیا ہے اور اب روحانی خزائن سے یہ نوٹ بھی اڑا دیا گیا ہے۔ یہ خیانت در خیانت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔

صفحہ 209

کتابوں میں موجود ہے۔ دیکھو زکریا باب ۱۴ آیت ۱۲‘ انجیل متی باب ۲۴ آیت ۷ مکاشفات باب ۲۲ آیت ۸۔“ (ایضاً)

مرزا قادیانی کا یہ بھی ایک جھوٹ ہے جو کہ چار جھوٹوں کا مجموعہ ہے۔ کیونکہ قرآن مجید‘ تورات کے صحیفے اور انجیل میں کسی جگہ مسیح موعود کے وقت میں طاعون پڑنے کا ذکر نہیں ہے اور مرزا کی دیدہ دلیری ملاحظہ فرمائیں کہ کتابوں کا نام دے کر غلط حوالے دے رہا ہے۔ محولہ بالا حوالہ جات کی اصل عبارتیں ملاحظہ فرما دیں۔ مثلاً زکریا باب نمبر ۱۴ آیت نمبر ۱۲ کی عبارت حسب ذیل ہے:

”اور خداوند یروشلم سے جنگ کرنے والی سب قوموں پر یہ عذاب نازل کرے گا کہ کھڑے کھڑے ان کا گوشت سوکھ جائے گا۔ اور ان کی آنکھیں چشم خانوں میں گل جائیں گی۔ اور ان کی زبان ان کے منہ میں سڑ جائے گی۔“

انجیل متی کے باب نمبر ۲۴ آیت نمبر ۷ کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:

”کیونکہ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے اور بھونچال آئیں گے۔“

مکاشفہ باب نمبر ۲۲ آیت نمبر ۸ کی عبارت یہ ہے:

”میں وہی یوحنا ہوں جو ان باتوں کو سنتا اور دیکھتا تھا‘ اور جب میں نے سنا اور دیکھا تو جس فرشتہ نے مجھے یہ باتیں دکھائیں میں اس کے پاؤں پر سجدہ کرنے کو گرا۔“

مذکورہ بالا عبارات سے مرزا غلام احمد قادیانی کا جھوٹ کھلے طور پر واضح ہو گیا یہ تین آسمانی کتابوں پر جھوٹ ہے جن کا اس نے حوالہ دیا ہے جو اظہر من الشمس ہے۔ محولہ آیات میں سے کسی ایک آیت میں بھی مسیح اور طاعون کا ذکر نہیں ہے۔ اور پھر قرآن شریف پر بھی یہ جھوٹ ہے قرآن کریم میں کہیں نہیں کہ مسیح جب دوبارہ آئیں گے تو ان کے دور میں طاعون پڑے گا۔

؎ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد
صفحہ 210

جھوٹ پر جھوٹ

مرزا کا دفاع کرتے ہوئے مرزائی یہ تاویل رکیک کرتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیت وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِايٰتِنَا لَا يُوقِنُوْنَ۔ ؎۱ (سورہ نمل آیت نمبر ۸۲) میں دابۃ الارض سے طاعون کا کیڑا مراد ہے اور تُكَلِّمُهُمْ کے معنی ہیں کہ وہ لوگوں کو کاٹے گا۔

اور چونکہ خروج دابۃ الارض مسیح موعود کے زمانہ میں ہوگا اس لئے مرزا قادیانی کا یہ کہنا درست ہو گیا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں طاعون کا ثبوت قرآن کریم سے ہے۔ اس سلسلہ میں وہ لعین قادیان کی یہ عبارت پیش کرتے ہیں:

”اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہی دابۃ الارض جو ان آیات میں مذکور ہے جس کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونا ابتداء سے مقرر ہے یہی وہ مختلف صورتوں کا جانور ہے جو مجھے عالم کشف میں نظر آیا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ طاعون کا کیڑا ہے۔“ (نزول المسیح ص ۳۹ در روحانی خزائن ص ۴۱۶ ج ۱۸ لیکچر آف سیالکوٹ ص ۴۸‘ ۴۹ در روحانی خزائن ص ۲۴۰ ج ۲۰)

”پس اس سے زیادہ دابۃ الارض کے اصلی معنوں کی دریافت کیلئے اور کیا شہادت ہو گی۔ کہ خود قرآن شریف نے اپنے دوسرے مقام میں دابۃ الارض کے معنی کیڑا کیا ہے۔ سو قرآن کے برخلاف اس کے معنی کرنا یہی تحریف اور الحاد اور دجل ہے۔“

(نزول المسیح ص ۴۰۔ ر۔خ جلد ۱۸ ص ۴۱۸)

در حقیقت مرزا اور مرزائیوں کی یہ تاویل نہیں بلکہ جھوٹ پر جھوٹ ہے۔ ایک تو جھوٹ پہلا تھا ہی اب اس کو سچ بنانے کے لئے مزید جھوٹ بولنا پڑ گیا۔ سچ ہے کہ ایک جھوٹ کے لئے ہزاروں جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ ویسے تو تاویلات اتنی سفید جھوٹ ہیں کہ ان کا پردہ فاش کرنے کے لئے مزید کسی تحریر کی ضرورت نہیں لیکن مزید کمک پہنچانے کے لئے کچھ اور

کہ وہ ان سے باتیں کرے گا کہ (کافر) لوگ ہماری (یعنی اللہ تعالیٰ کی) آیتوں پر یقین نہیں لاتے تھے۔“

(ترجمہ از حضرت تھانویؒ)

صفحہ 211

رہنمائی کی جاتی ہے۔

دابۃ الارض سے طاعون کا کیڑا مراد نہیں لیا ہے اس لئے آیت کی یہ تفسیر لائق قبول نہیں۔

لہٰذا مرزا پھر بھی اپنے اس دعویٰ میں جھوٹے کا جھوٹا رہا۔

﴿ازالہ اوہام﴾ میں لکھتا ہے:

”وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ اَخْرَجْنَاہُمْ دَابَّةً مِّنَ الْاَرْضِ‘ الخ۔ (سورہ نمل) یعنی جب ایسے دن آئیں گے جو کفار پر عذاب نازل ہو اور ان کا وقت مقدر قریب آ جائے گا تو ہم ایک گروہ دابۃ الارض کا زمین سے نکالیں گے وہ گروہ متکلمین کا ہوگا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا۔“

(ازالہ اوہام حصہ دوم در روحانی خزائن ص ۳۷۰ ج ۳)

اسی کتاب میں ایک دوسری جگہ دابۃ الارض کے معنی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:

”ایسا ہی دابۃ الارض یعنی وہ علماء و واعظین جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے ابتداء سے چلے آتے ہیں۔ لیکن قرآن کا مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ان کی حد سے زیادہ کثرت ہوگی اور ان کے خروج سے مراد وہی ان کی کثرت ہے۔“

(ازالہ اوہام جلد دوم در روحانی خزائن ص ۳۷۳ ج ۳)

مرزا نے حمامۃ البشریٰ میں دابۃ الارض سے علماء سوء مراد لیے ہیں وہ نہیں جو اسلام کی حمایت میں ادیان باطلہ پر حملہ کریں۔ وہ لکھتا ہے:

”ان المراد من دابۃ الارض علماء السوء الذین یشہدون باقوالہم ان الرسول حق والقرآن حق ثم یعملون الخبائث ویخدمون الدجال۔ الی قولہ۔ وسموا دابۃ

صفحہ 212

الارض لانهم اخلدوا الى الارض وما ارادوا ان يرفعوا الى السماء ۔“ (ترجمہ از مرتب) ”بے شک دابۃ الارض سے مراد علماء سوء ہیں جو اپنے قول سے رسول اور قرآن کے حق ہونے کی گواہی دیتے ہیں پھر برے عمل کرتے ہیں اور دجال کی خدمت کرتے ہیں۔ الیٰ قولہ۔ اور ان کا نام اس لیے دابۃ الارض رکھا گیا۔ کہ وہ دنیا کی طرف مائل ہو گئے اور انہوں نے آخرت کو ملحوظ نہیں رکھا۔“

(حمامۃ البشریٰ در روحانی خزائن ص ۳۰۸ ج ۷)

ان سب عبارتوں کا حاصل یہ نکلا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک دابۃ الارض کے کل تین معنی ہیں:

اب خود مرزا کے کلام میں تناقض پیدا ہو گیا اور بقول مرزا تناقض صرف پاگل، جاہل اور منافق کے کلام میں ہوتا ہے ۔؎١ اس لئے دابۃ الارض والی آیت اس کے حق میں دلیل تو کیا بنتی امت مرزائیہ کی ضلالت و گمراہی کی ایک اور نشانی بن گئی، فالحمد للہ علیٰ ذالك۔ نزول المسیح میں مرزا نے دابۃ الارض کا معنی ”طاعون کا کیڑا“ کے علاوہ کرنے کو تحریف اور دجل کہا ہے۔ اور مذکورہ بالا حوالہ جات ازالہ اوہام وغیرہ میں خود مرزا نے دابۃ الارض سے مراد علماء واعظین وغیرہ لئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے خود تحریف، دجل اور الحاد کا ارتکاب کیا ہے۔ حضور نے سچ فرمایا کہ میرے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے دجال ہوں گے۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

١؎ دیکھئے مرزا کی تصنیف: ست بچن ص ۳۰۔ ر۔خ جلد ۱۰ ص ۱۴۲۔ مرزا لکھتا ہے: ”مگر صاف ظاہر ہے کہ کسی سچے اور عقلمند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہے اس کا کام بے شک تناقض ہو جاتا ہے۔“

صفحہ 213

کذب مرزا کی پانچویں دلیل

”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا تھا، مگر حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی استاد سے تمام توریت پڑھی تھی........ سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا۔ اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا، سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔ یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔“

(ایام الصلح ص ۱۴۷ اور روحانی خزائن ج ۱۴ ص ۳۹۴)

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ کے دو برگزیدہ پیغمبروں حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ علیہما السلام پر بہتان تراشی کرتے ہوئے دو جھوٹ گھڑے ہیں۔

اول تو مرزا قادیانی نے خود تسلیم کیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا کوئی انسان استاد اور اتالیق نہیں ہوتا وہ تمام علوم اللہ تعالیٰ ہی سے حاصل کرتے ہیں۔ دیکھو براہین احمدیہ:

”اور تمام نفوس قدسیہ انبیاء کو بغیر کسی استاد اور اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوض قدیم کا نشان ظاہر فرمایا۔“

(براہین احمدیہ در روحانی خزائن جلد ۱ ص ۱۶)

دوسرا اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے قبل جب ان کی والدہ محترمہ کو ان کی ولادت کی بشارت دی گئی تو اس میں یہ وضاحت فرمادی گئی کہ ویعلمہ الکتاب والحکمة والتوراة والانجیل۔ (آل عمران)

کہ اے مریم تیرے اس بیٹے کو الکتاب (قرآن) اور حکمت (سنت خاتم النبیین) تورات اور انجیل کی تعلیم میں خود دوں گا۔ وہ کسی انسان سے تعلیم حاصل نہیں کرے گا۔

اس طرح قیامت کے روز اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے احسانات جتلاتے ہوئے فرمائیں گے۔ اذ علمتک الکتاب والحکمة والتوراة والانجیل۔ (سورۃ مائدہ)

صفحہ 214

کہ اے عیسیٰ یاد کر جبکہ میں نے تجھے الکتاب (قرآن) حکمت' تورات اور انجیل کی خود تعلیم دی تھی۔

مرزا قادیانی قرآن کریم کی ان تصریحات کا انکار کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بہتان تراشی کر رہا ہے کہ انہوں نے تورات ایک یہودی استاد سے پڑھی تھی۔ (العیاذ باللہ)

کیا یہ کھلا جھوٹ نہیں؟ کیا اس سے اللہ تعالیٰ پر وعدہ خلافی کا الزام نہیں آتا؟ اور اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بقول مرزا قادیانی تورات ایک یہودی استاد سے پڑھی ہے تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اپنے احسانات ذکر کرتے ہوئے یہ کیسے فرمائیں گے کہ تورات کی تعلیم بھی میں نے تجھے دی تھی۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے یہ عرض نہیں کریں گے کہ اے اللہ تورات آپ نے کب مجھے پڑھائی تھی میں نے تو ایک یہودی استاد سے پڑھی تھی۔

حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کا کسی مکتب میں بیٹھنا ثابت نہیں، یہ دونوں خدا تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبروں پر بہتان اور جھوٹ ہے۔ مرزائیوں میں ہمت ہے تو اس کا ثبوت پیش کر کے منہ مانگا انعام حاصل کریں۔

فضول کوشش

مرزائی ان مذکورہ بالا دونوں سفید جھوٹوں میں تاویل کر کے انہیں خواہ مخواہ سچ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بایں طور کہ حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام اور مرزا غلام احمد نے جو اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا ہے اس سے مراد قرآن و حدیث کے ظاہری الفاظ کا پڑھنا ہے۔ اور جہاں انبیاء سے پڑھنے کی نفی ہے۔ اس سے مراد معارف و معانی کا سیکھنا ہے کہ یہ چیزیں صرف اللہ تعالیٰ پڑھاتا ہے اس معاملہ میں ان کا کوئی دنیوی استاد نہیں ہوتا۔

مرزائیوں کی یہ توجیہ متعدد وجوہ سے غلط اور بے کار ہے

مرزا غلام احمد کے ایک استاد نہیں کئی اساتذہ تھے۔

صفحہ 215

ہے جن کے بارے میں مرزا کو بھی اعتراف ہے کہ ان کا کوئی کسی طرح کا بھی دنیوی استاد نہ تھا۔ اس لئے اگر مرزا کا کسی استاد سے ظاہری الفاظ پڑھنا بھی ثابت ہو جائے تو تشبیہ غلط اور مرزا کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے گا۔

(ج) یہ تخصیص کرنا غلط ہے کہ نہ پڑھنے سے مراد معارف و معانی کا نہ پڑھنا ہے۔ کیونکہ خود مرزا نے تین چیزوں کے نہ پڑھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ (۱) قرآن (۲) حدیث (۳) تفسیر۔ حدیث و تفسیر میں تو معانی ہی پڑھائے جاتے ہیں۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ وہ ظاہری الفاظ اور معانی دونوں کے پڑھنے کی نفی کر رہا ہے۔ لہٰذا اگر مرزا کا کسی استاد سے محض ظاہری الفاظ کا پڑھنا بھی ثابت ہو جائے تو بھی اس کے جھوٹے ہونے میں کوئی شبہ نہ رہے گا۔

(۵) مرزا کی اس عبارت میں معارف و معانی وغیرہ کی تاویل کرنا خود مرزا کی تصریح کے مطابق جائز نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے اس عبارت میں یہ بات قسم اٹھا کر بیان کی ہے۔

ایک اہم اور قابل حفظ اصول

جو بات قسم اٹھا کر کہی جائے اس سے صرف ظاہری معنی مراد لیے جاتے ہیں وہاں کسی قسم کی تاویل اور استثناء نہیں چل سکتا۔ مرزا نے خود بھی یہ اصول ۱؎ بیان کیا ہے: والقسم يدل على ان الخبر محمول على الظاهر لا تاويل فيه ولا استثناء والا فاى فائدة كانت فى ذكر القسم؟ (حمامة البشریٰ و روحانی خزائن ص ۱۹۲ ج ۷)

(ترجمہ از مرتب) اور قسم کھا کر کوئی بات کہنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ کہی ہوئی بات ظاہر پر محمول ہے‘ اس میں نہ کوئی تاویل ہے اور نہ استثناء ورنہ قسم کھانے کا فائدہ کیا ہے؟

۱؎ یہ بڑا اہم اصول ہے اسے حفظ کر لینا چاہیے۔ نزول مسیح کی بحث میں بھی اس کی ضرورت پڑے گی۔ اسی ذیل میں یہ لطیفہ بھی ذہن میں رکھیں کہ مرزا کے ایک مرید ﴿اکمل آف گولیکی﴾ نے مرزا کی شان میں یہ شعر کہا ہے؎۔

خدا سے تو‘ خدا تجھ سے ہے واللہ
تیرا رتبہ نہیں آتا بیاں میں

(اخبار بدر قادیان شمارہ نمبر ۴۳ ج ۲ ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء)

اس شعر میں مرزائی تاویل کی کوشش کرتے ہیں تو اس کے مقابلہ میں مرزا کا وہی اصول پیش کر دیں‘ انشاء اللہ مخاطب مرزائی کا خون خشک ہو جائے گا۔

صفحہ 216

اس اصول کی رُو سے مرزا کی مذکورہ بالا عبارت میں کسی قسم کے استثناء یا تاویل کی گنجائش نہیں ہوگی لہٰذا اس بارے میں خامہ فرسائی کرنا فضول ہے اسے اپنے ظاہری معنی پر ہی رکھا جائے گا جو قسم کا تقاضا ہے۔

کذب مرزا کی چھٹی دلیل

”ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور وہ چودہویں صدی کا مجدد ہوگا سو یہ تمام علامات بھی اس زمانہ میں پوری ہوگئیں۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص ۱۸۷ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۳۵۹)

اور کتاب البریہ میں لکھتا ہے:

”بہت سے اہلِ کشف نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر خبر دی تھی کہ وہ مسیح موعود چودہویں صدی کے سر پر ظہور کرے گا۔ اور یہ پیش گوئی اگر چہ قرآن شریف میں صرف اجمالی طور پر پائی جاتی ہے مگر احادیث کے رُو سے اس قدر تواتر تک پہنچی ہے کہ جس کا کذب عندالعقل ممتنع ہے۔“

(کتاب البریہ بر حاشیہ روحانی خزائن ص ۲۰۵ و ۲۰۶ جلد ۱۳)

ان عبارتوں اور ان جیسی دیگر عبارتوں میں مرزا غلام احمد نے دو صریح جھوٹ بولے ہیں۔ اول یہ کہ اہلِ کشف نے مسیح موعود کے چودہویں صدی کے شروع میں آنے کی خبر دی ہے حالانکہ کسی ایک بھی بزرگ سے اس طرح کا کوئی قول منقول نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ احادیث صحیحہ سے مسیح موعود کے چودہویں صدی میں آنے کا پتہ چلتا ہے۔ یہ کھلا جھوٹ ہے مرزائی قیامت تک بھی کوئی ایک صحیح حدیث پیش نہیں کر سکتے۔ جس میں اس طرح کا مضمون ہو۔ ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ مرزا نے یہ دعویٰ کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط حدیث کی نسبت کی ہے اور دھڑلے کے ساتھ یہ جسارت کی ہے کہ وہ اپنے لئے جہنم کو ٹھکانہ بنا لے۔ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی: من کذب علی متعمداً فلیتبوأ مقعدہ من النار۔

(مشکوٰۃ ج ۱ ص ۳۵ باب العلم)

(ترجمہ) جس نے میرے اوپر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا

صفحہ 217

لے ) کی روشنی میں بلاشبہ جہنمی اور مستحق عذاب ہے اور اول درجہ کا جھوٹا اور کذاب ہے۔

چیلنج : ہم مدت سے یہ چیلنج دے رہے ہیں کہ کوئی قادیانی ایک حدیث ایسی پیش کر دے جس میں حضور علیہ السلام نے چودھویں صدی کا ذکر کیا ہو تو منہ مانگا انعام پائے‘ ہے کوئی مرزائی مرد میدان جو ایک حدیث پیش کر کے انعام حاصل کرے اور قادیانی کذاب کو سچا ثابت کر سکے۔

کذب مرزا کی ساتویں دلیل

’’اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے اُن حدیثوں پر عمل کرنا چاہیے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ هذا خليفة اللّٰه المهدی۔ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللّٰہ ہے۔

(شہادۃ القرآن در روحانی خزائن ص ۳۳۷ ج ۶)

مرزا کا یہ کہنا کہ بخاری شریف میں یہ حدیث ہے سراسر جھوٹ ہے اور بخاری شریف تو کیا پوری صحاح ستہ میں بھی اس حدیث کا کہیں وجود نہیں ہے۔ لعنة اللّٰه علی الکاذبین۔

ہوشیار

اس جھوٹ کو دیکھ کر مرزائی اپنی خفت مٹانے کے لئے کچھ لولے لنجے جواب بھی دیتے ہیں مسلمان مناظر کو ان جوابوں کی طرف سے بھی غافل نہ رہنا چاہیے۔ ذیل میں وہ جواب مع جواب الجواب درج کیے جاتے ہیں:

حدیث کی دوسری کتاب کنز العمال میں موجود ہے۔ لہٰذا ﴿حضرت صاحب﴾ کا دعویٰ صحیح ہو گیا۔

صفحہ 218

جواب الجواب: یہ جواب تو ایسا ہی ہے ؎ مارو گھٹنا پھوٹے آنکھ ؎ مرزا دعویٰ تو کر رہا ہے بخاری شریف کی حدیث ہونے کا تو کنز العمال یا دوسری کسی کتاب میں اس حدیث کے موجود ہونے سے وہ دعویٰ کیسے صحیح ہو گیا؟

لکھ دیا۔

جواب الجواب: بالفرض اگر یہ کاتب کی غلطی قرار دی جائے تو آگے جو اصح الکتب وغیرہ کے الفاظ آئے ہیں تو کیا مرزائیوں کے نزدیک بخاری شریف کے ساتھ (کنز العمال بھی) اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے؟ اگر ایسا ہے پھر اس کا بھی ثبوت پیش کیجیے ہم کہتے ہیں کہ اس سے بڑا جھوٹ تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔

جواب الجواب: مرزا سے یہ کلام ۱۸۹۳ء میں صادر ہوا اس کے بعد وہ کم و بیش ۱۵ سال زندہ رہا۔ کیا اسے اپنی زندگی میں احساس نہ ہو سکا کہ میں نے نسیان میں کیا سے کیا لکھ دیا ہے؟ اور اس بارے میں کوئی معذرت بھی نہ کی۔ حالانکہ اہل سنت والجماعت کا یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ کوئی نبی صادق نسیان پر قائم نہیں رہ سکتا۔ ؎۱

کذب مرزا پر آٹھویں دلیل

”تمام نبیوں کی کتابوں سے اور ایسا ہی قرآن شریف سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے آدم سے لے کر اخیر تک دنیا کی عمر سات ہزار برس رکھی ہے۔“ (لیکچر سیالکوٹ در روحانی خزائن ج ۲۰ ص ۲۰۷)

”اور قرآن شریف سے بھی صاف طور پر یہی نکلتا ہے کہ آدم سے اخیر تک عمر بنی آدم کی سات ہزار سال ہے اور ایسا ہی پہلی تمام

۱؎ یہاں مرزائی یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ فلاں عالم نے فلاں حدیث بحوالہ بخاری شریف لکھی ہے جو اس میں نہیں ہے لہٰذا حضرت صاحب سے بھی ایسی غلطی ہوگئی تو کیا ہوا۔ تو اس کا دو ٹوک جواب یہ ہے کہ مرزا کے علاوہ کسی عالم نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ روح القدس کی قدسیت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم (خود مرزا) کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام حاشیہ در روحانی خزائن ج ۵ ص ۹۳) تو تعجب ہے کہ روح القدس کے ہمہ وقت ساتھ رہنے کے باوجود مرزا سے اتنا بڑا جھوٹ صادر ہو گیا؟ ؎ ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے۔

صفحہ 219

کتابیں بھی باتفاق یہی کہتی ہیں۔“

(لیکچر سیالکوٹ در روحانی خزائن ج ۲۰ ص ۲۰۹)

جھوٹ‘ بالکل جھوٹ‘ قرآن شریف اور تمام کتب سماوی اور انبیاء علیہم السلام پر یہ صریح بہتان عظیم ہے۔ کسی نبی سے بھی یہ ثابت نہیں ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہوگی بلکہ تمام انبیاء اس پر متفق ہیں کہ قیامت کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں اس کا صحیح علم کہ قیامت کس صدی میں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

قرآن کریم نے کئی مقامات پر اس کی وضاحت کر دی ہے۔ (هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنتُمْ صٰدِقِيْنَ) اگر شرم وحیا اور ایمان کی رتی ہے تو کسی نبی یا آسمانی کتاب سے مع حوالہ سے ثابت کریں۔

کذب مرزا پر نویں دلیل

مرزا کا جو جھوٹ اس عنوان کے ذیل میں پیش کیا جارہا ہے وہ اتنا زبردست ہے کہ اس کے مقابلہ میں اس کے سارے سابقہ جھوٹ کمتر نظر آتے ہیں۔ عوام کی مجالس میں مرزا کا یہ جھوٹ پوری شدومد کے ساتھ بیان کرنا چاہیے تا کہ ہر ایک مسلمان پر مرزا کا کذاب و دجال ہونا روز روشن کی طرح آشکارا ہو جائے۔ وہ جھوٹ یہ ہے:

مرزا کہتا ہے: ”تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ مدینہ اور قادیان ۔“

(ازالہ اوہام ص ۱۴۰ حاشیہ در روحانی خزائن ص ۱۴۰ ج ۳ بر حاشیہ)

ہر قرآن کریم پڑھنے والا جانتا ہے کہ قادیان نام کا کوئی لفظ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت جبرئیل کے واسطہ سے نازل شدہ قرآن کریم میں نہیں ہے ہاں اگر مرزا غلام احمد کا کوئی اور قرآن منزل من الشیطان ہو تو اور بات ہے۔ اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں بلکہ وہ مرزا کے کذب کی ایک اور دلیل ہوگی۔

کذب مرزا پر دسویں دلیل

مرزا قادیانی نے بڑے زور وشور سے ایک جگہ یہ دعویٰ کیا ہے:

صفحہ 220
وقد سبونی بکل سب فما رددت علیهم جوابهم۔
(و مرا از ہر گونہ سب وشتم یاد کردند پس جواب آں دشنامہا ندادم)

(مواہب الرحمٰن در روحانی خزائن ص۲۳۶ ج۱۹)

(ترجمہ از مرتب) ”ان (علماء) نے مجھے ہر طرح کی گالیاں دیں مگر میں نے ان کو جواب نہیں دیا۔“

ہم کہتے ہیں کہ مرزا کا یہ دعویٰ سراسر جھوٹ اور بناوٹی ہے اس نے خود تسلیم کیا ہے کہ :

”میں تسلیم کرتا ہوں کہ مخالفوں کے مقابل پر تحریری مباحثات میں کسی قدر میرے الفاظ میں سختی استعمال میں آئی تھی لیکن وہ ابتدائی طور پر سختی نہیں ہے بلکہ وہ تمام تحریریں نہایت سخت جملوں کے جواب میں لکھی گئی ہیں۔“ (کتاب البریہ ص۱۰ در روحانی خزائن ج۱۳ ص۱۱)

اس عبارت سے خود مرزا کے دعویٰ کی صراحتاً تردید ہو جاتی ہے کہ اس نے کبھی کسی مخالف کو جواب نہیں دیا۔ تلك عشرة كاملة۔

اب ذیل میں ہم مرزا کی گالیوں کی ایک مختصر فہرست پیش کریں گے جس سے بآسانی یہ اندازہ لگایا جاسکے گا کہ مرزا صرف جھوٹا ہی نہیں بلکہ اول درجہ کا بدتہذیب اور بدزبان بھی تھا۔ اس کی زبان سے کس طرح تہذیب و شرافت کا جنازہ نکلا ہے اسے ذیل میں ملاحظہ کریں:

کذب مرزا کی ایک دوسری جہت

(بدزبانی کے معیار سے)

مرزا کی اخلاقی تعلیم

پیغمبر بدزبان نہیں ہوتے بدزبانی انسانی شرافت کے خلاف ہے۔ خود مرزا قادیانی تحریر کرتا ہے:

بھیجا۔“ (اربعین نمبر ۳، ص ۳۶۔ رخ جلد ۱۷ ص ۴۲۶)

صفحہ 221

(ضمیمہ اربعین نمبر ۴ ص ۵ ر۔خ جلد ۱۷ ص ۴۷۱)

غیرت اس کے پیاروں کے لئے آخر کوئی کام دکھلا دیتی ہے۔ پس زبان کی چھری سے کوئی اور بدتر چھری نہیں۔“ (پیغام صلح ص ۱۵ ر۔خ جلد ۲۳ ص ۳۸۶۔۳۸۷)

گالیاں سن کر دعا دو‘ پا کے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۴۱ ر۔خ جلد ۲۱ ص ۱۴۴)

اب مرزا غلام احمد کی ان گالیوں پر نظر کریں اور اس شخص کے قول و فعل میں تضاد کا کھلا مشاہدہ کریں:

مرزا کی گالیوں کے چند نمونے

کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس! کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔“

(انجام آتھم ص ۱۹ بر حاشیہ در ر۔خ جلد ۱۱ ص ۲۱)

”مگر تم نے حق کو چھپانے کے لئے یہ جھوٹ کا گوہ کھایا“ الخ۔ آگے لکھتا ہے: ”پس اے بدذات خبیث دشمن اللہ رسول کے۔“ الخ۔ (ضمیمہ انجام آتھم در روحانی خزائن ص ۳۳۴ ج ۱۱)

ایک اور جگہ ان ہی سے خطاب کر کے کہتا ہے: ”اے بدذات یہودی صفت‘ پادریوں کا اس میں منہ کالا ہوا اور ساتھ ہی تیرا بھی۔ اور پادریوں پر ایک آسمانی لعنت پڑی اور ساتھ ہی وہ لعنت تجھ کو بھی کھا گئی۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ۳۱۵ در روحانی خزائن ص ۳۲۹ ج ۱۱)

صفحہ 222

"یہودیوں کے لئے خدا نے اس گدھے کی مثال لکھی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں مگر یہ (علماء) خالی گدھے ہیں۔ یہ اس شرف سے بھی محروم ہیں جو ان پر کوئی کتاب ہو۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۳۱۶‘ ۳۱۷ در روحانی خزائن ص ۳۳۱ ج ۱۱)

ان العدا صاروا خنازیر الفلا
ونسآؤھم من دونھن الاکلب

(ترجمہ) "دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے۔ اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔" (نجم الہدیٰ در روحانی خزائن ج ۱۴ ص ۵۳)

چنانچہ ان کی شان میں کہتا ہے:

وَمِنَ ۱؂ اللِّئَامِ اَرٰی رُجَيْلًا فَاسِقًا غُوْلًا لَّعِيْنًا نُطْفَةَ السُّفَهَآءِ

ترجمہ: اور لئیموں میں سے ایک فاسق آدمی کو دیکھتا ہوں کہ ایک شیطان ملعون ہے سفیہوں کا نطفہ۔

شَرِسٌ خَبِيْثٌ مُّفْسِدٌ وَمُزَوِّرٌ نَحْسٌ یُسَمَّیٰ السَّعْدَ فِی الْجُهَلَآءِ

ترجمہ: بدگو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھلانے والا منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے۔

اٰذَیْتَنِیْ خُبْثًا فَلَسْتُ بِصَادِقٍ اِنْ لَّمْ تَمُتْ بِالْخِزْیِ یَا اِبْنَ بِغَاءِ

ترجمہ: تو نے اپنی خباثت سے مجھے بہت دکھ دیا ہے‘ پس میں سچا نہیں ہوں گا اگر ذلت کے

۱؂ ان اشعار پر مرزا نے حاشیہ میں لکھا ہے: یہ چند شعر اس وقت بحسن نیت سے لکھے گئے جبکہ بدقسمت سعد اللہ کی بد زبانی حد سے زیادہ گزر گئی تھی۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی در ر۔خ ج ۲۲ ص ۴۳۵) مرزا کا یہ حاشیہ اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ اس نے اپنے مخالفوں کو جواب دیا ہے۔ اور اس کے جواب دینے کا ثبوت ہو جانا ہی اس کے جھوٹے اور دجال ہونے کے لئے کافی ہے۔

صفحہ 223

ساتھ تیری موت نہ ہو۔ (اے کنجری کی اولاد) ۱؎

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۴۴۵ و ۴۴۶ ج ۲۲ در روحانی خزائن)

مردار کھارہے ہیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم در خزائن ج ۱۱ ص ۳۰۹)

(انجام آتھم ضمیمہ در خزائن ج ۱۱ ص ۳۰۲)

یہ ہے مرزا کی گالیوں کی ایک جھلک۔ ان میں سے ہر ایک گالی چیخ چیخ کر مرزا کے جھوٹے اور بدتہذیب ہونے کی شہادت دے رہی ہے۔ یہ گالیاں اس قابل ہیں کہ بطور تحفہ مرزائیوں کی خدمت میں پیش کی جائیں۔ اور انہیں بھی یہ گالیاں قبول کرنے میں کوئی تامل نہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ ان کے ﴿حضرت صاحب﴾ کی مقدس وحی ہی تو ہے۔ بلکہ یہ مرزا کی دعائیں ہیں۔ کیونکہ اس کی تعلیم یہ ہے ؎

گالیاں سن کے دعا دو پا کے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار

خبردار

کذبات مرزا پر بحث کرتے ہوئے مرزائی بڑی عیاری اور چالاکی سے بحث کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ کہ العیاذ باللہ! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی تو تین جھوٹ بولے تھے۔ مرزا غلام احمد نے جھوٹ بول دیئے تو کیا ہوا؟ تو اس سلسلہ میں چند ایک نکتے یاد رکھنے چاہئیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا کلام تعریض و توریہ کے قبیل سے تھا۔ دیکھنے والے اسے

۱؎ بین القوسین ترجمہ مرزا کا نہیں ہے بلکہ مرزا کی دیگر جگہوں کی تصریحات کے مطابق ہی یہاں یہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ مرزا غلام احمد نے انجام آتھم ص ۲۸۲ پر بعینہ اسی شعر کا فارسی ترجمہ یہ کیا ہے۔ ﴿مرا اشمات خود ایذا دادی پس من صادق نیم اگر تو اے نسلِ بدکاراں بذلت نمیری﴾ (روحانی خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۲) جیسا کہ مرزا اپنی کتاب نور الحق میں لکھتا ہے: ﴿واعلم ان کل من هو من ولد الحلال وليس من ذرية البغايا ونسل الدجال﴾ اور جاننا چاہیے کہ ہر ایک شخص جو ولد الحلال ہے اور خراب عورتوں اور دجال کی نسل میں سے نہیں ہے۔ (نورالحق در روحانی خزائن ص ۱۶۳ ج ۸) علاوہ ازیں عربی لغت و ادب کا بھی تقاضا یہی ہے کہ بغایا کا ترجمہ کنجریوں کا کیا جائے۔ اس لئے اس میں مرزائیوں کی کوئی تاویل مسموع نہیں ہوگی۔

صفحہ 224

جھوٹ سمجھے حضرت ابراہیم علیہ السلام ہرگز جھوٹ نہ بولے تھے جیسا کہ شراح حدیث نے وضاحت کر دی ہے۔ اس لئے مرزا ناپاک کو خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معاملہ پر قیاس کرنا ہرگز صحیح نہیں ہے۔

کہنے والوں پر سخت نکیر کی ہے اور انہیں خبیث شیطان اور پلید مادہ والا کہا ہے۔ دیکھئے:

”حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسبت یہ تحریر شائع کرے کہ مجھے جس قدر ان پر بدگمانی ہے اس کی وجہ ان کی دروغ گوئی ہے تو ایسے خبیث کی نسبت اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کی فطرت ان پاک لوگوں کی فطرت سے مغائر پڑی ہوئی ہے۔ اور شیطان کی فطرت کے موافق اس پلید کا مادہ اور خمیر ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام در روحانی خزائن ص ۵۹۸ ج ۵)

مرزا کی اس تحریر کے آئینہ میں اس کے امتی مرزائی اپنا چہرہ دیکھیں اور پھر آگے بات کریں۔

کذب مرزا کی ایک اور جہت

جھوٹی پیشگوئیاں

سب سے پہلے پیش گوئیوں کے سلسلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے بعض اصول ملاحظہ کریں:

رسوائی ہے۔“ (تریاق القلوب ص ۲۷۱، روحانی خزائن ج ۱۵ ص ۳۸۲)

گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ۲۸۸، روحانی خزائن ج ۵ ص ۲۸۸)

صفحہ 224

جھوٹ سمجھے حضرت ابراہیم علیہ السلام ہرگز جھوٹ نہ بولے تھے جیسا کہ شرّاح حدیث نے وضاحت کر دی ہے۔ اس لئے مرزا ناپاک کو خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معاملہ پر قیاس کرنا ہرگز صحیح نہیں ہے۔

کہنے والوں پر سخت نکیر کی ہے اور انہیں خبیث شیطان اور پلید مادہ والا کہا ہے۔ دیکھئے:

”حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسبت یہ تحریر شائع کرے کہ مجھے جس قدر ان پر بدگمانی ہے اس کی وجہ ان کی دروغ گوئی ہے تو ایسے خبیث کی نسبت اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کی فطرت ان پاک لوگوں کی فطرت سے مغائر پڑی ہوئی ہے۔ اور شیطان کی فطرت کے موافق اس پلید کا مادہ اور خمیر ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام در روحانی خزائن ص ۵۹۸ ج ۵)

مرزا کی اس تحریر کے آئینہ میں اس کے امتی مرزائی اپنا چہرہ دیکھیں اور پھر آگے بات کریں۔

کذب مرزا کی ایک اور جہت

جھوٹی پیشگوئیاں

سب سے پہلے پیش گوئیوں کے سلسلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے بعض اصول ملاحظہ کریں:

رسوائی ہے۔“

(تریاق القلوب ص ۲۷۱، روحانی خزائن ج ۱۵ ص ۳۸۲)

گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ۲۸۸، روحانی خزائن ج ۵ ص ۲۸۸)

صفحہ 225

اصول ۳: ”اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“

(کشتی نوح ص ۵ روحانی خزائن ص ۵ ج ۱۹)

لہٰذا خود مرزا کے متعین کردہ ان تینوں اصولوں کی روشنی میں اگر ہم مرزا کی کسی ایک پیش گوئی کو بھی جھوٹا ثابت کر دیں تو مرزا کا جھوٹا اور دجال ہونا خود بخود ثابت ہو جائے گا۔ مرزا کے کاذب اور دجال ہونے کی دوسری مضبوط دلیل اس کی پیشگوئیوں کا جھوٹا ہونا ہے۔ اس بحث کو شروع کرتے وقت سب سے پہلے قرآن کریم کی یہ آیت باآواز بلند پڑھنی چاہیے۔

فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله ان الله عزيز ذو انتقام ۔ (سورہ ابراہیم: ۴۷)

(ترجمہ) ”پس اللہ تعالیٰ کو اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرنے والا نہ سمجھنا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا زبردست پورا بدلہ لینے والا ہے۔“

مرزائیوں کی چال

مرزائیوں کی ایک خاص عادت ہے کہ وہ لوگ عوام کو دھوکا دینے کے لئے چند مقدمات پر مشتمل ایک بات بناتے ہیں جن میں کچھ مقدمات تو مسلمہ ہوتے ہیں، اور کچھ صرف ان کے مطلب کے ہوتے ہیں اس طرح تلبیس سے کام لے کر وہ عوام کو گمراہ کرتے ہیں پیشگوئیوں کے سلسلے میں بھی انہوں نے اس روایت کو برقرار رکھا اور لوگوں کے سامنے تین باتیں رکھیں:

ان تینوں میں اول الذکر دو باتیں تو مسلم ہیں، لیکن آخری بات سراسر لغو اور تلبیس ہے۔ اس لئے کہ یہ کوئی ضروری نہیں کہ جس کی پیشگوئی کبھی سچی نکل جائے وہ نبی بھی ہو، ایسے تو بہت سے کاہنوں اور نجومیوں کی باتیں درست نکل آتی ہیں، تو کیا وہ سب نبی ہوگئے؟ مرزائیوں کی اس تلبیس کی مزید وضاحت کیلئے درج ذیل تین باتیں پیش کرنی چاہئیں:

صفحہ 226

سے لکھنا پڑھنا نہ سیکھے وہ نبی بھی ہو۔

وہ نبی بھی ہو۔

بھی ہو۔

اسی طرح اگر بالاتفاق کسی کی پیشگوئی پوری ہو جائے تو ہرگز یہ لازم نہ آئے گا کہ وہ نبی یا مامور من اللہ ہو، یہ کوئی دلیل صدق نہیں ہے۔ ہاں! اگر کسی کی ایک پیشگوئی بھی جھوٹی ہو جائے تو یہ بات طے ہے کہ وہ خدائی مامور ہرگز نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ اللہ کی سنت کے خلاف ہے کہ وہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے۔

لہٰذا اب ہم مرزا کی چند جھوٹی پیشگوئیاں پیش کرتے ہیں۔ جن سے مرزا اپنے بیان کردہ اصول کے مطابق جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ اور اس کا مہا جھوٹا ہونا معلوم ہوتا ہے۔

فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله ان الله عزيز ذو انتقام ۔

ترجمہ: پس اللہ تعالیٰ کو اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرنے والا نہ سمجھنا بے شک اللہ تعالیٰ بڑا زبردست پورا بدلہ لینے والا ہے۔

پہلی غلط پیشگوئی : بسلسلہ پادری عبداللہ آتھم

۱۸۹۳ء میں امرتسر میں مرزا غلام احمد قادیانی کا عیسائیوں سے مناظرہ ہوا جو پندرہ دن تک جاری رہا اس مناظرہ میں مرزا قادیانی جب شکست کھا گیا تو اپنی خفت مٹانے کیلئے اس نے عیسائی مناظر ڈپٹی عبداللہ آتھم کے بارے میں ایک دھمکی آمیز پیشگوئی کی کہ جتنے دن مناظرہ ہوتا رہا اتنے مہینوں کے اندر اندر وہ ہاویہ میں جا گرے گا اور ہلاک ہوگا اور اگر وہ زندہ بچ گیا تو میں جھوٹا ثابت ہوں گا۔ اس پیشگوئی کے الفاظ حسب ذیل ہیں:

صفحہ 227

”اور آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں۔ تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا۔ اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔ اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب یہ پیشگوئی ظہور میں آوے گی بعض اندھے سوجا کھے کیے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے۔ اور بعض بہرے سننے لگیں گے...... میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے (۵۔ جون ۱۸۹۳ء) بہ سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔ اور میں اللہ جل شانہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا ضرور کرے گا زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“

(جنگ مقدس ص ۲۰۹ تا ۲۱۱‘ روحانی خزائن ج ۶ ص ۲۹۱ تا ۲۹۳)

مرزا نے یہ پیشگوئی ۵ جون ۱۸۹۳ء کو لکھی تھی۔ اسی حساب سے ۱۵ مہینے ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء کو ہوتے ہیں۔ لیکن ۵ ستمبر کی تاریخ گزر گئی اور عبداللہ آتھم کا بال بھی بیکا نہ ہوا جس پر عیسائیوں نے بڑی بغلیں بجائیں حتیٰ کہ بٹالہ میں عبداللہ آتھم کو ہاتھی پر بٹھا کر عظیم الشان فتح کا جلوس نکالا۔ مرزا کا پتلا بنا کر اس کے گلے میں رسہ ڈالا پھر اسے مصنوعی پھانسی دی پھر اس کے بعد پتلے کو نذر آتش کر دیا۔

صفحہ 228

الغرض مرزا کی یہ پیش گوئی بالکل غلط اور جھوٹ ثابت ہوئی۔ اور وہ بقلم خود ذلیل و رسوا ہوا۔ اور جس کی پیش گوئی جھوٹی ہو وہ نبی یا مامور من اللہ نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا مرزا بھی اپنے ان دعاوی میں کذاب بلکہ مہا کذاب ثابت ہوا۔

کھسیانی بلی کھمبا نوچے

جب یہ پیش گوئی پوری آب و تاب کے ساتھ مرزا کے کذب کی دلیل بن گئی تو اسے فکر ہوئی کہ کہیں یہ ڈھونگ کے تانے بانے نہ بکھیر کر رکھ دے۔ اس لئے اپنے مریدوں کو جمائے رکھنے کے لئے اس نے ایک نیا شگوفہ چھوڑا کہ وہ پیشگوئی اس لئے پوری نہ ہوئی کہ عبداللہ آتھم نے ساٹھ ستر آدمیوں کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہنے سے رجوع کر لیا تھا۔ (دیکھیے حقیقت الوحی بر حاشیہ روحانی خزائن ص ۲۱۶ ج ۲۲) تو اس سعی لا حاصل کو علی رؤس الاشہاد باطل اور لغو بنانے کے لئے حسب ذیل تین جواب یاد رکھنے چاہئیں:

جواب نمبر ۱:

پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ مرزا کے اصول کے مطابق جو کلام قسمیہ ہو اس میں کسی تاویل اور استثناء کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اور اس کی یہ پیشگوئی قسم پر مشتمل ہے۔ لہٰذا اس بارے میں کوئی تاویل کرنا مرزا کے اصول کی رو سے قطعاً باطل ہے۔

جواب نمبر ۲:

اگر مرزا کو پہلے سے یہ پتا چل گیا تھا کہ آتھم نے اپنے قول سے رجوع کر لیا ہے۔ اور اب میری پیشگوئی پوری نہ ہوگی۔ تو اسے اعلان کرنا چاہیے تھا۔ تا کہ بعد میں رسوائی نہ ہوتی مگر وہ اعلان تو کیا کرتا آخری دن تک نہایت الحاح و زاری کے ساتھ دعائیں کرتا رہا اور وظائف پڑھواتا رہا کہ کسی طرح آتھم مر جائے اور پیش گوئی پوری ہو جائے۔ دیکھیے سیرۃ المہدی میں اس کی ایک ﴿حدیث﴾ یہ لکھی ہے:

صفحہ 229

ایک دلچسپ کراماتی ٹوٹکہ

”بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب آتھم کی معیاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے اور میاں حامد علی مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے بتائے تھے) لے لو اور ان پر فلاں سورت کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو (مجھے وظیفہ کی تعداد بھی یاد نہیں رہی) میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں مجھے وہ سورت یاد نہیں رہی مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورت تھی جیسے الم تر کیف الخ اور ہم نے یہ وظیفہ قریباً ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا الخ۔“ (سیرۃ المہدی ص ۱۵۹ و ۱۶۰ ج ۱ حدیث نمبر ۱۵۶ مطبوعہ قادیان ۱۹۲۳ء اسی طرح کا مضمون سیرۃ المہدی دوم ص ۱۲۱ پر بھی ہے)

حاصل یہ ہے کہ اگر آتھم کے رجوع الی الحق کا پتہ مرزا کو چل گیا تھا تو اتنے پاپڑ بیلنے اور ساری رات وظیفے پڑھوانے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ اہتمام اور الحاح وزاری اس بات پر کھلی دلیل ہے کہ مرزا کے نزدیک بھی عبداللہ آتھم مقررہ تاریخ کی آخری رات تک اپنے سابقہ عقیدہ پر قائم تھا۔ اور اگر وہ کسی وجہ سے اس تاریخ سے پہلے مر جاتا تو مرزا قادیانی اس قدر زمین و آسمان کے قلابے ملاتا کہ پوری دنیا میں شور ہو جاتا۔

جواب نمبر ۳:

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا:

مرزائیوں کے خلیفہ دوم مرزا بشیر الدین محمود پر جب یہ اعتراض ہوا کہ اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو اس نے ایسا شاندار جواب دیا کہ خود تو ڈوبا ہی تھا اپنے ابا مرزا غلام احمد کو بھی لے ڈوبا۔ چنانچہ اس نے اخبار الفضل ۲۰ جولائی ۱۹۴۰ء میں ایک بیان شائع کیا جس کے الفاظ لائق ملاحظہ ہیں:

”آتھم کے متعلق پیشگوئی کے وقت جماعت کی جو حالت تھی وہ ہم سے مخفی نہیں۔ میں اس وقت چھوٹا سا بچہ تھا۔ اور میری عمر کوئی ساڑھے پانچ برس کی تھی۔ مگر وہ نظارہ مجھے خوب یاد ہے کہ جب آتھم کی پیشگوئی کا آخری دن آیا تو کتنے کرب و اضطراب کے ساتھ دعائیں کی

صفحہ 230

گئیں۔ میں نے محرم کا ماتم بھی اتنا سخت نہیں دیکھا۔ حضرت مسیح موعود ایک طرف دعا میں مشغول تھے الخ۔“

یعنی انہوں نے اتنی تضرع کے ساتھ دعائیں مانگیں مگر پھر بھی وہ قبولیت کا رتبہ حاصل نہ کرسکیں اور آتھم وقت پر نہیں مرا تو میرے اوپر کیا اعتراض؟

پتا چلا کہ مرزائیوں کا یہ کہنا کہ آتھم نے رجوع کر لیا تھا سوائے ﴿کھسیانی بلی کھمبا نوچے﴾ کے کچھ نہیں ہے۔ اور یہ پیشگوئی اتنی وضاحت کے ساتھ کذب مرزا کی نشانی بنی ہے کہ مٹائے مٹ نہیں سکتی۔

ایک اور حربہ

جب متعینہ وقت پر پیشگوئی پوری نہ ہوئی اور عبداللہ آتھم نہ مرا تو اس نے قادیانیوں کے خلاف خوب پروپیگنڈہ کیا۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے یہ چال چلی اور اعلان کر دیا کہ عبداللہ آتھم نے دل سے رجوع کر لیا تھا اگر رجوع نہ کیا ہو تو وہ قسم کھائے۔ (کتاب البریہ در روحانی خزائن ص ۱۹۶ ج ۱۳) اور عیسائیوں کے نزدیک قسم کھانا جائز نہیں ہے (انجیل متی) تو اگر وہ قسم کھا لیتا تو قادیانی کہتا کہ وہ پادری عیسائیت سے خارج ہو گیا اور نہ کھائے تو اس کا دعویٰ ثابت ہو گیا۔ اس طرح مرزا نے دونوں ہاتھ میں لڈو لینے کی کوشش کی لیکن آتھم نے اس کا درج ذیل جواب دیا۔

جواب ترکی بہ ترکی

مرزا قادیانی مسلمانوں کا نمائندہ ہے اور اپنے کو مسلمان کہتا ہے، لیکن علمائے اسلام اسے کافر کہتے ہیں اب مجھے اس کے مسلمان ہونے کا یقین نہیں۔ لہٰذا اگر سور کا گوشت کھائے تو مجھے یقین ہو گا۔ اب جیسا مرزا کو ﴿سور﴾ کا گوشت کھا کر مسلمان ثابت کرنا یا مسلمان رہنا مشکل تھا اسی طرح عبداللہ آتھم کا قسم کھانا بھی مشکل ہو گیا۔ یہ ہے جواب ترکی بہ ترکی یا نہلے پہ دہلا۔ اگر ڈر گیا تھا تو پھر وظیفے پڑھانے اور دعاؤں کی کیا ضرورت تھی؟

دوسری جھوٹی پیشگوئی (بسلسلہ لیکھرام)

لیکھرام ایک ہندو پنڈت تھا جس سے مرزا قادیانی کا اکثر مناظرہ ہوتا رہتا تھا۔ ایک

صفحہ 231

مرتبہ اس سے تنگ آکر اس کے متعلق یہ پیشگوئی کی۔

”اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارقِ عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے اور اگر میں اس پیش گوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا بھگتنے کیلئے تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے۔“

(تریاق القلوب ص۷۰، روحانی خزائن ج ۱۵ ص۳۸۱ و ۳۸۲)

اس پیشگوئی کے چھ ماہ کے اندر مرزا نے اپنے مرید کے ذریعہ پنڈت لیکھ رام کو چھری سے قتل کرا دیا اور مشہور کر دیا کہ اس کی پیشگوئی سچی ہو گئی۔ حالانکہ خود مرزا کے قول کے مطابق پیش گوئی پوری نہ ہوئی۔ کیونکہ اس نے کہا تھا کہ پنڈت لیکھ رام خارقِ عادت عذاب سے مرے گا جس کی تعریف خود مرزا نے یہ کی ہے کہ جس عذاب کی نظیر دنیا میں نہ پائی جائے۔ (دیکھئے حقیقۃ الوحی ص ۱۹۶ روحانی خزائن ص ۲۰۴، ج ۲۲) اور چھری سے قتل ہونا ایک عام بات ہے اس کو خارقِ عادت کیسے کہا جاسکتا ہے؟ لہٰذا پیشگوئی جھوٹی کی جھوٹی رہی سچی نہ ہوئی۔

مرزا قادیانی کا فریب اور کذب بیانی

خود مرزا کو بھی اپنی پیشگوئی کے جھوٹے ہونے کا احساس تھا۔ اسی لئے لیکھ رام کے

مرتبہ اس سے تنگ آکر اس کے متعلق یہ پیشگوئی کی۔

”اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے اور اگر میں اس پیش گوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا بھگتنے کیلئے تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے۔“

(تریاق القلوب ص۷۰، روحانی خزائن ج ۱۵ ص۳۸۱ و ۳۸۲)

اس پیشگوئی کے چھ ماہ کے اندر مرزا نے اپنے مرید کے ذریعہ پنڈت لیکھ رام کو چھری سے قتل کرا دیا اور مشہور کر دیا کہ اس کی پیشگوئی سچی ہو گئی۔ حالانکہ خود مرزا کے قول کے مطابق پیش گوئی پوری نہ ہوئی۔ کیونکہ اس نے کہا تھا کہ پنڈت لیکھ رام خارق عادت عذاب سے مرے گا جس کی تعریف خود مرزا نے یہ کی ہے کہ جس عذاب کی نظیر دنیا میں نہ پائی جائے۔ (دیکھئے حقیقۃ الوحی ص ۱۹۶ روحانی خزائن ص ۲۰۴، ج ۲۲) اور چھری سے قتل ہونا ایک عام بات ہے اس کو خارق عادت کیسے کہا جاسکتا ہے؟ لہٰذا پیشگوئی جھوٹی کی جھوٹی رہی سچی نہ ہوئی۔

مرزا قادیانی کا فریب اور کذب بیانی

خود مرزا کو بھی اپنی پیشگوئی کے جھوٹے ہونے کا احساس تھا۔ اسی لئے لیکھ رام کے قتل ہو جانے کے بعد انتہائی دجل و فریب سے کام لیتے ہوئے اپنی کتاب نزول المسیح میں پیشگوئی کی عبارت میں چھری کے لفظ کا بھی اضافہ کر دیا۔ مرزا کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:

”یہ جس کی لاش اس تصویر میں دیکھ رہے ہو یہ ایک ہندو متعصب آریہ دشمن اسلام تھا جس نے میری نسبت اپنی کتاب میں یہ پیش گوئی کی تھی کہ یہ شخص تین برس تک ہیضہ سے مر جائے گا اور میں نے بھی اس کی نسبت پیش گوئی کی تھی کہ چھ برس تک چھری سے مارا جائے گا۔“

(نزول مسیح ص ۵۷، ر خ جلد ۱۸ ص ۵۵۳)

اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ یہ پیشگوئی ہوئی یا پیش آمدہ واقعہ کی خبر دینی ہوئی؟

صفحہ 232

چیلنج: لیکھرام کے قتل ہونے سے قبل پیشگوئی کے الفاظ میں کہیں چھری کا لفظ دکھائیں اور منہ مانگا انعام پائیں۔

لیکھرام کی پیشگوئی

لیکھرام کے متعلق مرزا کی پیشگوئی کے مقابلہ میں مرزا کے متعلق لیکھرام کی پیشگوئی کہ ﴿مرزا تین سال کے اندر ہیضہ کی موت مرے گا﴾ کافی حد تک پوری ہوگئی...... کیوں کہ مرزا ہیضہ کے مرض میں مرا...... مرزائی کہیں گے کہ تین سال میں تو حضرت صاحب نہیں مرے لہٰذا پیشگوئی جھوٹی ہوگئی...... لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ لیکھرام نے نفس پیشگوئی مرزا کے بمرض ہیضہ موت کی کی تھی، وہ پوری ہوگئی اور مرزا غلام احمد ہیضہ کی موت ہی مرا (سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۱۱ حیات ناصر ص ۱۴) رہ گئی پیشگوئی کی مدت کی بات تو اس میں بقول مرزا قادیانی استعارہ بھی ہو سکتا ہے جس کی طرف خود مرزا قادیانی نے سلطان محمد (خاوند محمدی بیگم داماد احمد بیگ) کے واقعہ میں رہنمائی کی ہے کہ اس کے متعلق مرزا نے کہا تھا کہ وہ اڑھائی سال کے اندر اندر مر جائے گا۔ جب اڑھائی سال بعد بھی وہ نہ مرا تو مرزا نے وضاحت کی کہ:

"میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کا انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آ جائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو پورا کرے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشگوئی پوری ہوئی۔ اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے اور وقتوں میں تو کبھی استعارہ کا بھی دخل ہو جاتا ہے۔" (انجام آتھم حاشیہ در روحانی خزائن ص ۳۱ ج ۱۱)

الغرض جب وقتوں میں استعارہ تسلیم ہے تو مرزا کے بارے میں لیکھرام کی پیشگوئی میں بھی تین سال کی مدت کو استعارہ پر محمول کریں گے، مقصود نفس پیشگوئی ہوگی۔

تیسری جھوٹی پیشگوئی: (مرزا کی موت سے متعلق)

مرزا قادیانی نے اپنی موت سے متعلق یہ پیشگوئی کی کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں! (البشریٰ ص ۱۵۵ بحوالہ تذکرہ ص ۵۹۱ مطبوعہ ربوہ)

صفحہ 233

ہمارا دعویٰ ہے کہ مکہ مدینہ میں مرنا تو درکنار مرزا قادیانی کو مکہ اور مدینہ دیکھنے کی سعادت بھی نصیب نہ ہوئی اور خود اپنی پیشگوئی کے بموجب ذلیل و رسوا ہوا اور جھوٹا قرار پایا۔ ملاحظہ فرمائیں:

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حج نہیں کیا اور اعتکاف نہیں کیا اور زکوٰۃ نہیں دی‘ تسبیح نہیں رکھی میرے سامنے ضب یعنی گوہ کھانے سے انکار کیا۔“

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ۱۱۹ روایت نمبر ۶۷۲)

اسی طرح سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۱۱ میں لکھا ہے کہ مرزا کی موت لاہور میں بمرض ہیضہ دستوں والی جگہ ہوئی ...... لہٰذا مکہ یا مدینہ میں مرنے کی بابت مرزا کی پیشگوئی سراسر جھوٹی ثابت ہوئی اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔

چوتھی جھوٹی پیش گوئی: (زلزلہ اور پیر منظور محمد کے لڑکے کی پیشگوئی)

پیر منظور محمد مرزا کا بڑا خاص مرید تھا۔ مرزا کو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی حاملہ ہے تو مرزا نے ایک پیشگوئی کردی کہ اسکے ہاں لڑکا پیدا ہوگا۔ اس کی پیشگوئی کے الفاظ یہ ہیں:

” پہلے یہ وحی الٰہی ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا‘ بہت جلد آنے والا ہے اور اس کے لئے یہ نشان دیا گیا تھا کہ پیر منظور محمد لدھیانوی کی بیوی محمدی بیگم کو لڑکا پیدا ہوگا اور وہ لڑکا اس زلزلہ کے لئے ایک نشان ہوگا اس لئے اس کا نام بشیر الدولہ ہوگا۔“

(حقیقۃ الوحی حاشیہ در روحانی خزائن ص ۱۰۳ ج ۲۲)

مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ بجائے لڑکے کے لڑکی پیدا ہوئی۔ تو مرزا نے یہ کہا کہ اس سے یہ تھوڑی مراد ہے کہ اسی حمل سے لڑکا پیدا ہوگا‘ آئندہ کبھی لڑکا پیدا ہوسکتا ہے۔ لیکن اتفاق سے وہ عورت ہی مرگئی‘ اور دوسری پیشگوئیوں کی طرح یہ پیشگوئی بھی صاف جھوٹی نکلی۔ نہ اس عورت کے لڑکا پیدا ہوا‘ اور نہ زلزلہ آیا اور مرزا ذلیل و رسوا ہوا۔

پانچویں جھوٹی پیشگوئی: (محمدی بیگم سے متعلق)

محمدی بیگم مرزا قادیانی کے ماموں زاد بھائی مرزا احمد بیگ کی نو عمر لڑکی تھی۔ مرزا

صفحہ 234

قادیانی نے اس کو زبردستی اپنے نکاح میں لانے کا ارادہ کیا، اتفاق ایسا ہوا کہ ایک زمین کے ہبہ نامہ کے سلسلہ میں مرزا احمد بیگ کو مرزا قادیانی کے دستخط کی ضرورت پڑی چنانچہ وہ مرزا قادیانی کے پاس گیا اور اس سے کاغذات پر دستخط کرنے کی درخواست کی‘ مرزا قادیانی نے اپنی مطلب برآری کے لئے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور احمد بیگ سے کہا کہ استخارہ کرنے کے بعد دستخط کروں گا جب کچھ دن کے بعد دوبارہ احمد بیگ نے دستخط کرنے کی بات کی تو مرزا نے جواب دیا کہ دستخط اسی شرط پر ہوں گے کہ اپنی لڑکی محمدی بیگم کا نکاح میرے ساتھ کر دو خیریت اسی میں ہے‘ اس کی دھمکی کے الفاظ یہ ہیں:

”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص یعنی احمد بیگ کی بڑی لڑکی کے نکاح کیلئے پیغام دے اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کر لے اور تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے جس کے تم خواہش مند ہو بلکہ اس کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کیے جائیں گے بشرطیکہ تم اپنی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دو‘ میرے اور تمہارے درمیان یہی عہد ہے تم مان لو گے تو میں بھی تسلیم کر لوں گا اگر تم قبول نہ کرو گے تو خبردار رہو مجھے خدا نے یہ بتلایا ہے کہ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا تو نہ اس لڑکی کے لئے یہ نکاح مبارک ہوگا اور نہ تمہارے لیے۔“

(ترجمہ از مرتب آئینہ کمالات اسلام در خزائن ج ۵ ص ۵۷۲ و ۵۷۳)

ان دھمکیوں وغیرہ کا منفی اثر یہ ہوا کہ مرزا احمد بیگ اور اس کے خاندان والوں نے محمدی بیگم کا نکاح مرزا قادیانی کے ساتھ کرنے سے صاف انکار کر دیا مرزا نے خطوط لکھ کر‘ اشتہار شائع کروا کر‘ اور پیشگوئیاں کر کے حتی کہ منت سماجت کے ذریعہ ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ کسی طرح اس کی آرزو پوری ہو جائے لیکن محمدی بیگم کا نکاح ایک دوسرے شخص مرزا سلطان احمد سے ہو گیا اور مرزا قادیانی کے مرتے دم تک بھی محمدی بیگم اُس کے نکاح میں نہ آئی۔

اس سلسلہ میں مرزا قادیانی نے جو جھوٹی پیشگوئی کی تھی اس کے الفاظ حسب ذیل ہیں:

”خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے

صفحہ 235

حق میں نشان کے طور پر یہ پیشگوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام کا ہے اگر وہ اپنی بڑی لڑکی اس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہو جائے گا اور وہ جو نکاح کرے گا وہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہوگا اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہو گی۔“ (اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء تبلیغ رسالت ج ۱ ص ۶۱ مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۱۰۲ حاشیہ)

اس پیشگوئی کی مزید تشریح کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے کہا: ”میری اس پیشگوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں اول نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا‘ دوم نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقیناً زندہ رہنا سوم پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا‘ چہارم اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مرجانا‘ پنجم اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا‘ ششم پھر آخر یہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔“

(آئینہ کمالات اسلام در روحانی خزائن ج ۵ ص ۳۲۵)

علاوہ ازیں انجام آتھم ص ۱۳۱ اور تذکرہ میں متعدد جگہ یہ پیشگوئی مختلف الفاظ ۱؎ میں مذکور ہے اور اللہ کی قدرت کہ ہر اعتبار سے مرزا قادیانی کی یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی کوئی ایک بھی دعویٰ سچا نہیں ہوا محمدی بیگم کا خاوند اڑھائی سال میں تو کیا مرتا مرزا کے مرنے کے چالیس سال بعد تک زندہ رہا اور ۱۹۳۸ء میں وفات پائی اور خود محمدی بیگم بھی ۱۹۶۶ء تک زندہ رہ کر مرزا قادیانی کے کذاب اور دجال ہونے کا اعلان کرتی رہی اور ۱۹۔نومبر ۱۹۶۶ء لاہور میں بحالتِ اسلام اس کی موت واقع ہوئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس پیشگوئی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مرزا کے ذلیل اور رسوا اور خائب و خاسر ہونے کا بہترین انتظام فرمادیا۔

۱؎ اس بارے میں عربی الہام اس طرح ہے: کذبوا بایتنا وکانوا بہا یستہزؤن فسیکفیکہم اللہ ویردہا الیک لا تبدیل لکلمت اللہ ان ربک فعال لما یرید. انت معی وانا معک عسی ان یبعثک ربک مقاماً محموداً. (آئینہ کمالات اسلام در روحانی خزائن ج ۵ ص ۲۸۶ و ۲۸۷)

صفحہ 236

آج کوئی بھی صاحب عقل محمدی بیگم کے واقعہ کو دیکھ کر مرزا کے جھوٹے اور اوباش ہونے کا بآسانی یقین کر سکتا ہے۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰی ذٰلِكَ ۔

چھٹی جھوٹی پیشگوئی: (مرزا کی عمر سے متعلق)

اپنی عمر سے متعلق سب سے پہلے مرزا قادیانی نے یہ پیشگوئی کی:

”خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ میری پیشگوئی سے صرف اس زمانہ کے لوگ ہی فائدہ نہ اٹھائیں بلکہ بعض پیشگوئیاں ایسی ہوں کہ آئندہ زمانہ کے لوگوں کے لئے ایک عظیم الشان نشان ہوں جیسا کہ براہین احمدیہ وغیرہ کتابوں کی پیشگوئیاں کہ میں تجھے اسی (۸۰) برس یا چند سال زیادہ یا اس سے کچھ کم عمر دوں گا، اور مخالفوں کے ہر ایک الزام سے تجھے بری کروں گا۔“

(تریاق القلوب حاشیہ ص ۱۳ روحانی خزائن ص ۱۵۲ ج ۱۵)

ناظرین خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ پیشگوئی کس قدر گول مول اور مبہم ہے۔ مرزائی نبی یہ چاہتا ہے کہ ہر حال میں اس کی بات بن جائے، اس لئے لوگوں کے اعتراض کرنے پر اس نے براہین احمدیہ پنجم کے ضمیمہ میں اس کی مزید مبہم وضاحت کی۔ ملاحظہ فرمائیں:

”خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی (۸۰) برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم ...... بلکہ اس بارے میں جو فقرہ وحی الٰہی میں درج ہے اس میں مخفی طور پر ایک امید دلائی گئی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو اسی برس سے بھی عمر کچھ زیادہ ہو سکتی ہے اور جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ چوہتر اور چھیاسی کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں۔ بہر حال یہ میرے پر تہمت ہے کہ میں نے اس پیشگوئی کے زمانہ کی کوئی بھی تعیین نہیں کی ۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص ۹۷ و ۹۸ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۲۵۸ تا

۲۵۹ ، حقیقۃ الوحی در روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۰)

بات تو اب بھی وہیں کی وہیں رہی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کذاب کو اس پیشگوئی کے

صفحہ 237

ذریعہ سخت ذلت و رسوائی سے دوچار کیا‘ اس کی عمر اسی سال یا چوہتر سال تو کیا ہوتی خود اس کی تصریح کے مطابق کل ۶۸ یا ۶۹ سال کی عمر میں وہ موت کے آغوش میں چلا گیا‘ کیونکہ خود اس نے لکھا ہے:

’’اب میری ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا سترہویں برس میں تھا۔‘‘

(حاشیہ کتاب البریہ ص ۱۵۹ روحانی خزائن حاشیہ ص ۱۷۷ ج ۱۳)

اور مرزا کی موت بمرض ہیضہ ۱۹۰۸ء میں ہوئی۔ اس حساب سے مرزا کی کل عمر زیادہ سے زیادہ ۶۹ برس کی ہوتی ہے۔

مرزائیوں کی گھبراہٹ

مرزا کی اس بے وقت موت اور پیشگوئی کے صاف جھوٹ ہونے سے پوری امتِ مرزائیہ میں کھلبلی مچ گئی اور ارباب حل عقد عوام کو مطمئن کرنے کیلئے بہانے تراشنے لگے۔ اور پیشگوئی سچ بنانے کی کوشش کرنے لگے۔ سب سے پہلے مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا کہ حضرت صاحب کی پیدائش ۱۸۳۷ء میں ہوئی۔ پھر بشیر احمد ایم ۔ اے نے شگوفہ چھوڑا کہ پیدائش کا سال ۱۸۳۶ء تھا۔ پھر ایک اور تحقیق ہوئی کہ جناب کی ولادت ۱۲ فروری ۱۸۳۵ء میں ہوئی۔ لیکن ان تینوں کاوشوں سے مسئلہ حل نہ ہوا کیونکہ کسی بھی حساب سے ۷۴ سال نہیں بنتے۔ اس لئے ڈاکٹر بشارت احمد نے سیرت مرزا مسمّی ﴿مجددِ اعظم﴾ ص ۱۷ ج۱ میں انکشاف کیا کہ حضرت کی پیدائش ۱۸۳۳ء میں ہوئی اور ایک مرزائی مولوی نے تو انتہا ہی کر دی اس نے دعویٰ کیا کہ سب غلط ہے (خود مرزا نے بھی اپنی تاریخ ولادت بیان کرنے میں غلطی کی ہے‘ اور جھوٹ بولا ہے) اصل بات یہ ہے کہ مرزا کی پیدائش ۱۸۳۰ء میں ہوئی ہے۔

خیر! ہر صاحبِ عقل اندازہ لگا سکتا ہے کہ تاریخ پیدائش کے بارے میں خود مرزا قادیانی کی صراحت کے بعد (کہ وہ ۱۸۳۹ء‘ ۱۸۴۰ء میں پیدا ہوا) مرزائیوں کا اس کی تاریخ ولادت میں اختلاف کرنا اور نت نئی تحقیقات پیش کرنا مرزا کے مہا جھوٹے ہونے کی روشن دلیل ہے۔ مرزا ہر طرح سے جھوٹا ہے اگر اس کی بیان کردہ تاریخ پیدائش سچ ہے تو پیشگوئی کھلا جھوٹ

صفحہ 238

ہے اور اگر پیش گوئی سچی مانیں تو تاریخ پیدائش کی صراحت سفید جھوٹ ہے۔

ساتویں پیشگوئی بِکْرٌ وَثَیِّبٌ

یہ پیشگوئی مرزا کے اپنے الفاظ میں اس طرح ہے:

”تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گزرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعۃ السنۃ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا اس نے مجھ سے دریافت کیا۔ کہ آجکل کوئی الہام ہوا ہے میں نے اس کو یہ الہام سنایا جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ بِکْرٌ وَّثَیِّبٌ جس کے یہ معنی ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کئے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہوگیا۔ اور اس وقت بفضلہ تعالیٰ چار پسر اس بیوی سے موجود ہیں۔ اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔“

(تریاق القلوب ص ۳۴ ضمیمہ انجام آتھم ص ۱۴ تذکرہ ص ۳۹)

تبصرہ

مرزا قادیانی کے بقول اسے یہ الہام ۱۸۸۱ء میں ہوا جیسا کہ تذکرہ کے حاشیہ میں لکھا ہے اس الہام کو پورا کرنے کیلئے مرزا نے ۱۸۸۴ء میں نصرت جہاں بیگم سے شادی کی جو کہ بکر یعنی کنواری تھی اب خدائی وعدہ کے مطابق ایک بیوہ عورت سے بھی شادی ضروری تھی۔ چنانچہ مرزا صاحب محمدی بیگم کے خاوند سلطان بیگ کے انتقال اور محمدی بیگم کے ان کے نکاح میں آنے کی پیشگوئی کرتے رہ گئے۔ اور محمدی بیگم کو بیوگی کی حالت میں اپنے حبالہ عقد میں لانا اسے نصیب نہ ہوا اور یہ غم لئے دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اور یہ ”ثیب“ بیوہ والی پیشگوئی صاف طور پر جھوٹی ثابت ہوئی اور اس کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوئی کیونکہ محمدی بیگم کے علاوہ اور کوئی ”بیوہ“ عورت بھی تو مرزا کے نکاح میں نہ آئی تھی۔

محمدی بیگم ثیب کا مصداق ہے اس پر مرزا کو یقین نہ تھا:

مرزا غلام احمد نے اللہ کے نام پر یہ وحی گھڑی کہ احمد بیگ پہلے تمہیں دامادی میں قبول

صفحہ 239

کرے (نہ کہ سلطان محمد کو) دیکھئے (روحانی خزائن ج ۵ ص ۵۷۲)

اس کا بیوہ ہونے کی حالت میں مرزا کے نکاح میں آنا یہ ایک دوسرے درجے کی بات تھی لیکن جب اس کا نکاح سلطان محمد سے ہو گیا تب اس نے ثیب کا مصداق محمدی بیگم کو ٹھہرایا اور اگر اس کا پہلا خیال ہی درست ہوتا اور محمدی بیگم پہلے اس کے نکاح میں آتی تو بھی اس کا یہ الہام غلط ہوتا کہ باکرہ تو آ گئی اور ثیب کا الہام پھر بھی پورا نہ ہوا۔

ازاں بعد مرزا کا یہ الہام بڑا واضح بغیر کسی شرط کے رہا ہے اس لئے یہاں کسی تاویل کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن قربان جائیے تذکرہ کے مرتب پر کہ اس نے اپنے شیطان کی مدد سے ایک عجیب و غریب تاویل گھڑی اور اس کے وہ معنی بیان کئے جو مرزا غلام احمد کو کبھی نہ سوجھے تھے مرتب نے حاشیہ لگاتے ہوئے لکھا:

’’یہ الہام الہی اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت ام المؤمنین (نصرت جہاں بیگم مراد ہے۔۔۔۔ناقل) کی ذات میں ہی پورا ہوا ہے جو بکر یعنی کنواری آئیں اور ثیب یعنی بیوہ رہ گئی ۔‘‘

(خاکسار مرتب تذکرہ ص ۳۹ در حاشیہ)

مرزا نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں ایک عورت سے شادی کروں گا جو باکرہ ہو گی اور میرے بعد ثیب رہ جائے گی مرزا نے تو صاف الفاظ میں دو عورتوں سے شادی کا لکھا تھا اس الہام کی تاویل کرنے والے حاشیہ نگار اور دوسرے مرزائیوں کا حال دیکھیں کہ خدا کا خوف کرنے، اور لوگوں سے شرم وحیا کرنے، مرزا کو جھوٹا ماننے کی بجائے، مرزا کا دفاع کرنے اور لوگوں کو بچوں والی باتوں سے بہلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اللہ رب العزت نے قرآن میں سچ فرمایا ہے۔ ختم اللہ علی قلوبہم وعلی سمعہم وعلی ابصارہم غشاوۃ ولہم عذاب عظیم۔ (البقرۃ)

آٹھویں پیشگوئی: (ریل گاڑی کا تین سال میں چلنا)

امام مہدی اور مسیح موعود کی علامات اور نشانیاں بیان کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے ایک نشانی یہ بیان کی ہے۔ کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تین سال کے اندر ریل گاڑی (Train) چل جائے گا۔ عبارت ملاحظہ فرمائیں:

صفحہ 240

”یہ پیشگوئی اب خاص طور پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ریل تیار ہونے سے پوری ہو جائے گی کیونکہ وہ ریل جو دمشق سے شروع ہو کر مدینہ میں آئے گی وہی مکہ معظمہ میں آئے گی۔ اور امید ہے کہ بہت جلد اور صرف چند سال تک یہ کام تمام ہو جائے گا۔ تب وہ اونٹ جو تیرہ سو برس سے حاجیوں کو لے کر مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے ہیں یک دفعہ بے کار ہو جائیں گے اور ایک عظیم انقلاب عرب اور بلاد شام کے سفروں میں آ جائے گا۔ چنانچہ یہ کام بڑی سرعت سے ہو رہا ہے اور تعجب نہیں کہ تین سال کے اندر اندر یہ ٹکڑا مکہ مکرمہ اور مدینہ کی راہ کا تیار ہو جائے اور حاجی لوگ بجائے بدوؤں کے پتھر کھانے کے طرح طرح کے میوے کھاتے ہوئے مدینہ منورہ میں پہنچا کریں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ۱۰۳، روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۱۹۵)

اب قادیانی بتائیں کہ کیا ریل گاڑی (Train) مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان چل گئی ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو کیا یہ پیش گوئی جھوٹی ہو کر مرزا غلام احمد قادیانی کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوئی یا نہیں۔

یاد رہے کہ یہ کتاب ۱۹۰۲ء کی تصنیف ہے۔ مرزا صاحب کی پیشگوئی کے مطابق ۱۹۰۵ء میں یہ ریل گاڑی چل جانی چاہئے تھی۔ ۹۲ سال اوپر گزر گئے اور وہ ریل گاڑی ابھی تک نہ چل سکی۔ بلکہ جو گاڑی شام سے مدینہ منورہ تک چلتی تھی وہ بھی اس جھوٹے مسیح کی نحوست کی وجہ سے بند ہو گئی۔

نویں غلط پیش گوئی

غلام حلیم کی بشارت

مرزا صاحب نے اپنے چوتھے لڑکے مبارک احمد کو مصلح موعود، عمر پانے والا کَاَنَّ اللّٰہ نزل من السماء (گویا خدا آسمانوں سے اتر آیا) وغیرہ الہامات کا مصداق بتایا تھا اور وہ نابالغی کی حالت میں ہی مر گیا۔ اس کی وفات کے بعد ہر چہار طرف سے مرزا صاحب پر ملامتوں کی بوچھاڑ، اور اعتراضات کی بارش ہوئی تو انہوں نے پھر سے الہامات گھڑنے شروع

صفحہ 241

کئے تاکہ مریدوں کے جلے بھنے کلیجوں کو ٹھنڈک پہنچے۔

١٦ ستمبر ١٩٠٧ء کو الہام سنایا:

” انا نبشرك بغلام حلیم ۔“ (البشریٰ جلد۲ ص ۱۴۴)

اس کے ایک ماہ بعد پھر الہام سنایا:

” آپ کے لڑکا پیدا ہوا ہے یعنی آئندہ کے وقت پیدا ہوگا: انا نبشرك بغلام حلیم ۔ ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ ينزل منزل المبارك ۔ وہ مبارک احمد کی شبیہ ہوگا۔“

(البشریٰ جلد۲ ص ۱۴۶)

چند دن بعد پھر الہام سنایا:

”ساهب لك غلاما زكيا ۔ رب ھب لی ذریة طيبة۔ انا نبشرك بغلام اسمه یحییٰ۔ میں ایک پاک اور پاکیزہ لڑکے کی خوشخبری دیتا ہوں میرے خدا پاک اولاد مجھے بخش تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتا ہوں جس کا نام یحییٰ ہے۔“ (البشریٰ جلد۲ ص ۱۴۶)

ان الہامات میں ایک پاکیزہ لڑکے مسمّٰی یحییٰ جو مبارک احمد کا شبیہ قائم مقام ہونا تھا‘ کی پیش گوئی مرقوم ہے اس کے بعد مرزا کے گھر کوئی لڑکا پیدا ہی نہ ہوا اس لئے یہ سب کے سب الہامات افتراء علی اللہ ثابت ہوگئے۔

دسویں غلط پیش گوئی

قادیان کا طاعون سے محفوظ رہنا

مرزا قادیانی کے زمانہ میں ہندوستان میں طاعون پھیلا مرزا نے پیش گوئی کی تھی کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ قادیان طاعون سے محفوظ رہے گا۔

مرزا کے الفاظ یہ تھے:

المقام ۔ خدا ایسا نہیں ہے کہ قادیان کے لوگوں کو عذاب دے حالانکہ تو ان میں

صفحہ 242

رہتا ہے۔ وہ اس گاؤں کو طاعون کی دست برد اور اس کی تباہی سے بچائے گا۔ اگر تیرا پاس مجھے نہ ہوتا اور تیرا اکرام مدنظر نہ ہوتا تو میں اس گاؤں کو ہلاک کر دیتا۔

(تذکرہ ص ۴۳۶)

لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔

(دافع البلاء ص ۴۔۵۔ رخ جلد ۱۸ ص ۲۲۵۔۲۲۶)

کہ طاعون دنیا میں ہے گو ستر برس تک رہے‘ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کی تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔

(دافع البلاء ص ۱۰۔ رخ جلد ۱۸ ص ۲۳۰)

یہ پیشگوئی بھی دوسری پیشگوئیوں کی طرح جھوٹی ثابت ہو کر مرزا قادیانی کی ذلت و رسوائی کا باعث بنی‘ قادیان جو بقول قادیانی ”رسول کا تخت گاہ“ بھی تھا‘ طاعون سے محفوظ نہ رہ سکا۔

پیش گوئی غلط ثابت ہونے کا اقرار

مرزا قادیانی کے قلم سے

کرم کرے۔

(مرزا قادیانی کا مکتوب محررہ ۱۶ اپریل ۱۹۰۴ء)

ہندو بیجناتھ نام جس کا گھر گویا ہم سے دیوار بہ دیوار ہے چند گھنٹہ بیمار رہ کر راہی ملک عدم ہوا۔

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر چہارم ص ۱۱۶)

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ......! اس طرف طاعون کا بہت زور ہے ایک دو مشتبہ وارداتیں امرتسر میں بھی ہوئی ہیں چند روز ہوئے ہیں میرے بدن پر بھی ایک گلٹی نکلی تھی۔

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر اول مکتوب نمبر ۳۸)

صفحہ 243

(اخبار بدر قادیان ۲ مئی ۱۹۰۵ء، بحوالہ محمدی پاکٹ بک ص ۳۲۵)

مطابق خدا نے اسے اس تباہ کن ویرانی سے بچایا جو اس زمانہ میں دوسرے دیہات میں نظر آ رہی تھی پھر خدا نے حضرت مسیح موعود کے مکان کے ارد گرد بھی طاعون کی تباہی دکھائی اور آپ کے پڑوسیوں میں کئی موتیں ہوئیں۔

(سلسلہ احمدیہ جلد اول ص ۱۲۲)

(حقیقۃ الوحی ص ۲۳۲۔ رخ جلد ۲۲ ص ۲۴۴)

آرام ہے لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ برعایت اسباب بڑا مجمع جمع ہونے سے پرہیز کیا جائے...... اور اپنی اپنی جگہ خدا سے دعا کرتے رہیں کہ وہ اس خطرناک ابتلاء سے ان کو اور ان کے اہل وعیال کو بچاوے۔ (اخبار البدر قادیان ۱۹ دسمبر ۱۹۰۳ء) یوں مرزا قادیانی کو دوسری بے شمار پیش گوئیوں کی طرح اس پیش گوئی میں بھی ذلت نصیب ہوئی۔ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ۔

نوٹ: یہ چند پیشگوئیاں بطور نمونہ پیش کی ہیں جو تمام کی تمام جھوٹی نکلیں لیکن قادیانی کے بیان کردہ اپنے معیار کے مطابق کسی ایک میں جھوٹا نکلنا ہی اس کی رسوائی اور جھوٹا ثابت ہونے کیلئے کافی ہے۔

کذب مرزا چوتھی جہت سے

مرزا کی شاعری

یہ بات ہر مسلمان کو معلوم ہے کہ نبی شاعر نہیں ہوتا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کے جواب میں فرمایا: وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنۢبَغِى لَہٗ ۔ اور ہم نے آپ کو شاعری کا علم نہیں دیا اور وہ آپ کیلئے شایانِ شان بھی نہیں............ اور اسی طرح قرآن کے بارے میں

صفحہ 244

فرمایا: وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ۔ ﴿اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں﴾ الغرض! یہ بات طے ہے نبی شاعر نہیں ہوتا، اور جو شاعر ہو وہ نبی نہیں ہوسکتا اس قاعدے کی رو سے ہونا یہ چاہیے کہ مرزا قادیانی بھی شاعر نہ ہوتا اور کوئی شعر اس کی زبان سے نہ نکلتا۔ لیکن غور کرنے سے پتا چلا کہ وہ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ معجزانہ شاعری کا مدعی ہے۔ اس نے اپنی صداقت کے لئے قصیدہ اعجازیہ لکھا ہے۔ اور اس کا بہت سا منظوم کلام درثمین نامی مجموعے کی صورت میں شائع ہو چکا ہے تو خدا کی قدرت کہ مرزا کی یہی شاعری اس کے کذب کا کھلا نشان بن گئی۔ شاید مرزا کو اس حقیقت کا پتا نہیں تھا ورنہ اپنی خود ساختہ نبوت کی صداقت میں شعر کہنا ہی چھوڑ دیتا اور جو کہے تھے انہیں بھی ضائع کر دیتا افسوس، صد افسوس۔

مرزائیوں کی پریشانی!

جب مرزائیوں کے سامنے مرزا کے کذب کی یہ دلیل پیش کی جاتی ہے تو وہ بڑی بے غیرتی کے ساتھ جواب دیتے ہیں کہ حضرت صاحب نے شعر کہے تو کیا ہوا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو شعر کہتے تھے۔ جیسے آپؐ نے ایک موقع پر انگلی زخمی ہونے پر فرمایا: هل انت الا اصبع دمیت ۔ و فی سبیل الله ما لقیت۔ اسی طرح اللهم لا عيش الا عيش الاخرة فاغفر الانصار والمهاجرة تو اس سلسلہ میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات اصطلاحاً شعر کی تعریف میں نہیں آتے یہ اتفاقیہ بلا ارادہ موزوں ہو گئے۔ کیونکہ شعر کی تعریف یہ ہے: ھو کلام موزون يقصد به ۔ یعنی شعر میں قصد و ارادہ شرط ہے۔ برخلاف مرزا کے اشعار کے کہ وہ باقاعدہ اور بالا رادہ کہے گئے ہیں بلا شک یہ اشعار مرزا کے دجال اور کذاب ہونے کی زبردست نشانیاں ہیں نیز جو چیز اصل متبوع کے لئے عیب ہو وہ تابع ظل اور بروز کے لئے خوبی بلکہ دلیل نبوت وصداقت کیسے بن گیا۔ فیا للعجب!

کیا حضور نے بھی اپنی صداقت کیلئے اشعار پیش کئے تھے؟

صفحہ 245

کذب مرزا کی پانچویں جہت

مرزا کی وحی والہام متعدد زبانوں میں

اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ جو رسول جس قوم کی طرف بھیجا جائے۔ اس پر اسی کی زبان میں وحی نازل ہو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک یہی اصول کارفرمارہا۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول تو بھیجا گیا ہو عبرانی قوم میں‘ اور اس پر وحی آتی ہو سریانی زبان میں‘ اسی وجہ سے قرآن میں فرمایا گیا: ومآ ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لھم ۔ (پ۱۳ ابراہیم:۴) ”اور ہم نے تمام پیغمبروں کو انہیں کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا تا کہ ان سے بیان کریں۔“

اب دیکھیے کہ اگر مرزا قادیانی خدا کا نبی تھا تو اس پر بھی اللہ کی سنت مستمرہ کے مطابق صرف پنجابی یا اردو میں وحی نازل ہونی چاہیے تھی مگر مرزائیوں کے قرآن (تذکرہ) کے اندر دس زبانوں میں مرزا کی وحیاں لکھی ہوئی ہیں۔ یہ تعدد السنۃ ہی مرزا کے کذاب ہونے کی صریح دلیل ہے اور پھر سونے پر سہاگہ یہ کہ مرزا پر بعض ایسی زبانوں میں بھی شیطانی وحی ہوئی ہے جن کو وہ خود بھی نہ جانتا تھا‘ اور اپنی وحیوں کے ترجمے دوسروں سے سمجھتا تھا یہ بھی اس کے جھوٹے ہونے کی پکی دلیل ہے۔

سعی لاحاصل

اپنے حضرت صاحب سے اس الزام اور اعتراض کو دفع کرنے کیلئے مرزائی دو باتیں کہتے ہیں‘ جن کی حیثیت سعی لاحاصل سے زیادہ نہیں ہے۔

پہلی بات: متعدد زبانوں میں وحی ہونا مرزا کے کمال کی دلیل ہے کیونکہ جتنی زیادہ زبانوں میں وحی ہوگی۔ وہ اس نبی کے کامل اور وسیع الامت ہونے کی دلیل ہوگی۔

جواب: بنیادی طور پر یہ بات ہی غلط ہے کہ متعدد زبانوں میں وحی کمال کی نشانی ہے جیسا کہ پہلے قرآن شریف کے حوالہ سے گزر چکا ہے اگر بالفرض کمال مان بھی لیں تو یہ کمال

صفحہ 246

اس وقت کمال سمجھا جائے گا جب وہ نبی ہر ایک وحی کو خود سمجھتا بھی ہو اور یہ بات مرزا قادیانی میں ناپید تھی کیونکہ وہ خود اپنی بہت سی وحیوں کو غیر زبان میں ہونے کی وجہ سے نہیں سمجھ سکتا تھا۔

دوسری بات: مرزا قادیانی چونکہ انٹرنیشنل (بین الاقوامی) نبی تھا اس لئے اس پر متعدد زبانوں میں وحی آئی لہٰذا کوئی نقص کی بات نہیں۔

جواب ۱: ہمارا مرزائیوں سے سوال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو بین الاقوامی نبی تھے ان پر کیوں کئی زبانوں میں وحی نہ آئی؟ یہ عجیب بات ہے کہ اصل نبی سے بروزی نبی سبقت لے جائے؟

جواب ۲: اگر مرزا بین الاقوامی نبی تھا تو پھر دنیا کی ساری ہی زبانوں میں اس پر وحی آنی چاہیے تھی جن کی تعداد تقریباً ساڑھے چار ہزار ہے ان دس زبانوں ہی کی کیا خصوصیت تھی جو مرزا کی وحی بننے کی سعادت سے مشرف ہوئیں؟ اور ایک عجیب بات یہ ہے کہ مرزا پر بہت سی وحیاں ایسی بھی آئیں جو لفظی اور لغوی غلطیوں سے پر تھیں اگر یہ وحیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتیں تو ان میں کوئی غلطی نہ ہونی چاہیے تھی۔

حاصل یہ نکلا کہ ہر ایک اعتبار سے مرزا جھوٹا تھا مرزائی کچھ بھی کوشش کر لیں اپنے جھوٹے نبی کو سچا کرنے میں قیامت تک کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ان شاء اللہ!

مرزا کے کذب کی چھٹی جہت

مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے ساتھ آخری فیصلہ

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اہل حدیث مکتبہ فکر کے بڑے عالم اور حدیث میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ دیوبندی کے شاگرد تھے۔ انہوں نے رد قادیانیت پر زبردست کام کیا ہے وہ موقع بموقع مرزا قادیانی کی تحریروں اور لغو الہامات وغیرہ کا پر زور رد کرتے رہتے تھے اور مرزا کا ناطقہ بند کر رکھا تھا۔ جب بالکل پانی سر سے گذر گیا اور مرزا قادیانی کی بوکھلاہٹ حد سے تجاوز کر گئی تو اس نے عاجز آ کر آخری فیصلہ کے طور پر ایک اشتہار شائع کیا جس کا متن حسب ذیل ہے:

صفحہ 247

”بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علی من اتبع الهدیٰ۔ مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں.........میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا........اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں۔ جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا.........اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا تعالیٰ کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں۔ تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ سنت اللہ کے موافق مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بنا پر پیشگوئی نہیں، بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔۔۔۔۔ بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“

(الراقم......مرزا غلام احمد.......۱۵۔اپریل ۱۹۰۷ء)

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۹)

خدائی فیصلہ

مذکورہ بالا اشتہار اور دعا کی اشاعت کے ٹھیک ایک سال ایک ماہ اور گیارہ دن بعد یعنی ۲۶مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا قادیانی لاہور میں بمرض ہیضہ مر گیا۔ جب کہ مولانا ثناء اللہ صاحبؒ مرزا کی موت کے چالیس سال بعد تک بقید حیات رہ کر مرزا کے بدترین جھوٹے ہونے کا اعلان فرماتے رہے۔ اس طرح خود مرزا کے اقرار واعتراف کے بموجب اللہ تعالیٰ نے مرزا کو کذاب، مفسد، دجال قرار دلوایا۔

مرزائیوں کی تاویل

اس بارے میں اپنے حضرت صاحب کا دفاع کرتے ہوئے مرزائی یہ کہہ کر اپنے دل

صفحہ 248

کو تسکین دینا چاہتے ہیں کہ مرزا نے اپنی تحریر کے ذریعہ مولانا ثناء اللہ صاحب کو مباہلہ کی دعوت دی تھی چونکہ مولانا ثناء اللہ صاحب مباہلہ کے لئے تیار نہ ہوئے اس لئے مرزا کا ان کی زندگی میں مرنا جھوٹے ہونے کی دلیل نہیں ہے۔

تاویل کی رکاکت

اس بے جوڑ اور جھوٹی تاویل کی رکاکت ثابت کرنے کے لئے ہمیں دو جواب یاد رکھنے چاہئیں:

طرفہ دعا ہے اس سے یہ کیسے ثابت ہو سکتا ہے کہ حضرت مولانا ثناء اللہ صاحبؒ نے اس کے مباہلہ کو قبول نہیں کیا پھر سچی بات تو یہ ہے کہ مولانا ثناء اللہ صاحب نے تو بار بار اس ملعون کو مباہلہ کی دعوت دی مگر ہمیشہ وہ ان کا سامنا کرنے سے گریز کرتا رہا۔ اسی وجہ سے مولانا ظفر علی خان نے کہا تھا ؎

وہ بھاگتے ہیں اس طرح مباہلہ کے نام سے
فرار کفر جس طرح ہو بیت الحرام سے

نظریہ پر سختی سے جمے رہے۔ چنانچہ انہوں نے ۱۹۱۲ء میں میر قاسم علی قادیانی سے تحریری مناظرہ کیا جس میں ایک سکھ سردار بچن سنگھ کو سرپنچ مقرر کیا گیا تھا اور ہر فریق سے تین، تین سو روپے جمع کرائے گئے تھے۔ سرپنچ نے فیصلہ مولانا ثناء اللہ صاحبؒ کے حق میں کیا اور وہی انعام کے مستحق قرار دیئے گئے۔ ۱؎ لہٰذا یہ کہنا ہرگز درست نہیں ہو سکتا کہ مولانا ثناء اللہ صاحب اپنی بات سے پیچھے ہٹ گئے تھے بہر حال یہ حقائق اس بات کی شہادت کے لئے کافی ہیں کہ مرزا کا مولانا ثناء اللہ صاحبؒ کی حیات میں بمرض ہیضہ مرنا اس کے کذاب ہونے کی جیتی جاگتی دلیل ہے۔

۱؎ ثالث نے وہ چھ صد روپیہ مولانا ثناء اللہ مرحوم کے حوالے کیا اور مولانا مرحوم نے اس رقم سے وہ تحریری مناظرہ ﴿فاتح قادیان﴾ کے نام سے شائع کر دیا جو آج بھی دستیاب ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔

صفحہ 249

ایک ضمنی بحث

مرزا کی موت بمرض ہیضہ

مرزائیوں کے سامنے اگر یہ سچائی بیان کی جائے کہ ان کا جھوٹا نبی ہیضہ کی حالت میں دنیا سے سدھارا تھا تو ان کا پارہ حد سے تجاوز کر جاتا ہے اور وہ پوری قوت کے ساتھ اس روشن حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں لہٰذا مسلمان مناظر کو اپنے دعویٰ کی دلیل کے طور پر درج ذیل دو اہم حوالے یاد رکھنے چاہئیں، اور موقع پڑنے پر انہیں پیش کرنا چاہیے۔

حوالہ نمبر 1: سیرۃ المہدی میں تحریر ہے:

"والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا، مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے، اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی، اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو آپ نے ہاتھ سے مجھے جگایا، میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی ہی پر لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے کیلئے بیٹھ گئی تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا، مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے اس لئے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا، اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے۔ اور میں پاؤں دباتی رہی مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا۔ پھر آپ کو ایک قے آئی جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے۔ اور آپ کا سر چارپائی

صفحہ 250

کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہو گئی۔“

(سیرۃ المہدی ج ۱ ص ۱۱ حدیث ۱۲)

اس حوالہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا کی موت ہیضہ سے ہی ہوئی کیونکہ قے اور دست کا اجتماع ہی اطباء کے نزدیک ہیضہ کہلاتا ہے۔

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے

حوالہ نمبر ۲: اپنے مرض الموت میں ایک مرتبہ مرزا نے اپنے خسر میر ناصر نواب کو بلا کر کہا۔ ”میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔“

(حیات ناصر ص ۱۴)

مرزا نے کچھ طب کی کتابیں پڑھ رکھی تھیں اس لئے اس کا اپنے مرض کی تشخیص کرنا بہر حال صحیح مانا جائے گا اور اس کے ہیضہ سے مرنے میں اس کے اپنے واضح اقرار کے بعد کسی تاویل کی گنجائش نہ ہوگی۔

عذرِ لنگ

اتنے مضبوط دلائل اور روشن حقائق کے باوجود مرزائی اپنی کھسیاہٹ دور کرنے کے لئے حسب ذیل لچر اور بودی تاویل کا سہارا لیتے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:

”ریل گاڑی میں وبائی مرض سے مرنے والے شخص کی لاش لے جانا ممنوع ہے حالانکہ مرزا کی لاش لاہور سے قادیان بذریعہ ریل لائی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزا صاحب وبائی ہیضہ سے نہیں مرے تھے۔“

(دیکھیے مجدد اعظم ج ۲ ص ۱۲۱۱)

سبحان اللہ: اس ﴿شاندار﴾ توجیہ پر مرزائیوں کی اندھی عقیدت اور ہٹ دھرمی کی خوب داد دینی چاہیے، ہر صاحب عقل اندازہ لگا سکتا ہے کہ دنیا میں بے شمار کام خلافِ قانون ہوتے ہیں۔ اور جہاں سفارش، چاپلوسی، کاسہ لیسی اور دولت کی ریل پیل ہو وہاں تو یہ چیزیں کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتیں۔ ہو سکتا ہے مرزا کے کسی مرید نے جھوٹ بول کر یا رشوت دے کر ریلوے حکام سے لاش لے جانے کی اجازت حاصل کر لی ہو بلکہ اجازت کی کیا ضرورت اس وقت انگریزی حکومت تھی اور مرزا قادیانی بقلم خود انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا، تو انگریز گورنمنٹ

صفحہ 251

اگر اپنے خودکاشتہ پودے کی لاش کو ریل میں نہ جانے دیتی تو اور کس کو جانے دیتی وہ قانون ممانعت مرزا جیسے ﴿خودکاشتہ﴾ پودوں کے لئے نہ بنایا گیا تھا اس لئے اس کی لاش لے جانے سے مرزا کے بمرض ہیضہ نہ مرنے پر استدلال کرنا سراسر حماقت ہی کہا جائے گا۔

رحمت الہی

دیکھئے خود میر ناصر نواب کس طرح سرکار انگریزی کو رحمت الہی قرار دیکر اس مشکل کا حل بیان کر رہے ہیں:

”ایک طرف تو ہم پر آپ کے انتقال کی مصیبت پڑی تھی دوسری طرف لاہور کے شورہ پشت اور بدمعاش لوگوں نے بڑا غل غپاڑہ اور شور و شر بپا کیا تھا اور ہمارے گھر کو گھیر رکھا تھا کہ ناگہاں سرکاری پولیس ہماری حفاظت کیلئے رحمت الہی سے آ پہنچی اور اس نے ہمیں ان شریروں کے دست ظلم سے بچا کر بحفاظت تمام ریلوے اسٹیشن تک پہنچا دیا ہم سرکار دولتمدار انگریزی کے نہایت شکر گزار ہیں جس نے ہمیں امن دیا اور ہمارے کمینہ دشمنوں سے ہمیں بچایا۔“ (حیات ناصر ص ۱۴‘ ۱۵)

زندگی کا ایک ہی سچ

مرزا ویسے تو زندگی بھر جھوٹ بولتا رہا، لیکن ایک بات اس نے صرف کہی ہی نہیں بلکہ سچی کر دکھائی۔ اس نے ایک مرتبہ انکشاف کیا کہ ریل گاڑی دجال کا گدھا ہے جب اس نے یہ بات کہی تو کوئی نہیں سمجھ سکا کہ مرزا صاحب کیا بکواس کر رہے ہیں لیکن آخری عمر میں اس نے مولانا ثناء اللہ کے خلاف اشتہار میں جب اپنے دجال ہونے کا اقرار کر لیا اور پھر مرنے کے بعد اس کی لاش ریل پر چڑھا کر قادیان لائی گئی تو لوگوں کو پتا چلا کہ مرزا نے ریل گاڑی کو ﴿دجال کا گدھا﴾ کیوں کہا تھا؟

صفحہ 252

مرزا کا مباہلوں کا ڈھونگ

مرزائیوں نے بھولے بھالے مسلمانوں کو دام تزویر میں پھنسانے کے لئے کافی عرصہ سے مباہلہ کا ڈھونگ بھی رچا رکھا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی مباہلہ کے اعلانات مرزا کے جھوٹے، مفتری اور کذاب ہونے کی لازوال نشانی بن گئے ہیں جس کا کچھ اندازہ درج ذیل تفصیلات سے لگایا جاسکتا ہے:

حضرت مولانا عبدالحق غزنویؒ اور مرزا قادیانی کے درمیان مباہلہ

۱۰ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ مطابق ۱۶ مئی ۱۸۹۳ء کو امرتسر کی عید گاہ میں مرزا قادیانی اور مشہور عالم دین حضرت مولانا عبدالحق صاحب غزنویؒ کے مابین روبرو مباہلہ ہوا، مولانا نے مباہلہ اس امر پر کیا کہ مرزا اور اس کے متبعین سب دجال، کافر، ملحد اور بے دین ہیں۔ واضح رہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے مرنے سے سات ماہ ۲۴ دن قبل ۲ اکتوبر ۱۹۰۷ء کو یہ اصول بیان کیا تھا کہ:

”مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے۔“ (ملفوظات ج۹ ص۴۴۰)

خدا کی مشیت کہ اسی اصول کے مطابق مرزا قادیانی مولانا غزنویؒ کی زندگی میں ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء بروز منگل بمرض ہیضہ ہلاک ہو گیا۔ اور مولانا غزنوی اس کے بعد پورے ۹ سال بقید حیات رہے، ۱۶ مئی ۱۹۱۷ء کو راہی ملک بقا ہوئے۔ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃ۔

اس اعتبار سے مرزا قادیانی خود اپنے مباہلہ اور بیان کردہ اصول کے مطابق جھوٹا اور مفتری قرار پایا اس کے بعد مزید کسی شہادت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے ساتھ آخری فیصلہ

گزشتہ اوراق میں تفصیل آچکی ہے کہ مرزا نے کس لجاجت کے ساتھ اور گڑگڑا کر یہ دعا کی تھی کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جائے چنانچہ اس کی یہ دلی تمنا پوری ہوئی اور خود اسی کی دعا کے بموجب اللہ تعالیٰ نے اسے مولانا امرتسریؒ کی زندگی میں ہلاک

صفحہ 253

کر کے اس کے جھوٹے ہونے کی شہادت مہیا فرمادی ۔ فالحمد للہ علی ذلک۔ اور مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ مرزا کی موت کے ۴۱ سال بعد تک مرزائیت کے بیخ و بن اکھاڑنے کی عظیم خدمت انجام دیتے رہے۔

مرزا کی دعوت مباہلہ اور پھر اس سے توبہ نامہ

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب ﴿انجام آتھم﴾ میں ملک کے دوسو سے زیادہ علماء و مشائخ کو مباہلہ کی دعوت دی جو ۱۸۹۷ء میں شائع ہوئی جس میں تیسرے نمبر پر قاطع مرزائیت مولانا محمد حسین بٹالویؒ کا بھی نام تھا اس کے جواب میں مولانا محمد حسین بٹالوی نے ﴿عدالت ضلع گورداس پور﴾ میں مرزا کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔ کہ یہ شخص مباہلہ کا چیلنج دے کر مجھے پریشان کرتا ہے۔ مقدمہ کی کارروائی چلتی رہی بالآخر ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء کو جے‘ ایم‘ ڈوئی ڈپٹی کمشنر ضلع گورداس پور کی عدالت میں مرزا قادیانی کو گلو خلاصی کے لئے ایک طویل توبہ نامہ تحریر کرنا پڑا جس کی شق نمبر ۵ پڑھیے اور مرزا کی رسوائی پر سر دھنیے۔

توبہ نامہ

”میں اس بات سے بھی پرہیز کروں گا کہ مولوی ابو سعید محمد حسین یا ان کے کسی دوست یا پیرو کو اس امر کے مقابلہ کے لئے بلاؤں کہ وہ خدا کے پاس مباہلہ کی درخواست کریں تا کہ وہ ظاہر کرے کہ فلاں مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔“

اس کے بعد چھٹی شق بھی ملاحظہ کریں!

”جہاں تک میرے احاطہ طاقت میں ہے میں تمام اشخاص کو جن پر میرا کچھ اثر یا اختیار ہے ترغیب دوں گا کہ وہ بھی بجائے خود اسی طریق پر عمل کریں جس طریق پر کار بند ہونے کا میں نے دفعہ نمبر ۱‘ نمبر ۲‘ نمبر ۳‘ نمبر ۴‘ اور نمبر ۵ میں اقرار کیا ہے۔“

اس مباہلہ سے توبہ نامہ کے بعد اولاً تو تکذیب مرزا میں کوئی شک نہ رہنا چاہیے اس

صفحہ 254

لئے کہ مباہلہ کی دعوت دے کر اس سے توبہ سوائے جھوٹے شخص کے کوئی نہیں کر سکتا۔ دوسرا یہ کہ سارے مرزائیوں کو اپنے ﴿حضرت صاحب﴾ کی توبہ کا لحاظ کرتے ہوئے قیامت تک کے لئے مباہلہ کے ڈھونگ کا سلسلہ ختم کر دینا چاہیے۔ ورنہ یہ لازم آئے گا کہ یا تو مرزا دجال ’مفتری ہے یا اس کی توبہ ناقابل اعتبار ہے۔ مگر افسوس مرزائی اپنے اس محبوب ڈھونگ سے باز نہیں آئے بلکہ مرزا کی ہلاکت کے بعد اس کے جانشینوں کی جانب سے مرزا کے اس فیصلے کی مخالفت برابر جاری ہے۔ ان کی طرف سے دعا کو مباہلہ کا نام دینے کا دجل اب بھی جاری ہے مرزا طاہر آجکل یہی کر رہا ہے حالانکہ مباہلہ فریقین کا ایک جگہ جمع ہو کر دعا کرنے کا نام ہے۔

(دیکھئے عبارت روحانی خزائن ج ۱۱ ص ۴۰ انجام آتھم ص ۴۰ حاشیہ)

مرزا غلام احمد کے کذب کے ان چھ نمبروں کو خوب یاد رکھیں جس طرح تبلیغی محنت کے چھ نمبر ہیں، یہ رد قادیانیت کے چھ نمبر ہیں۔

ضمیمہ بحث مباہلہ

مرزا طاہر احمد کی طرف سے دعوت مباہلہ اور

مولانا منظور احمد چنیوٹی کا جواب

چنانچہ قادیانیوں کے موجودہ سربراہ مرزا طاہر نے بھی چند سال قبل دنیا بھر کے علماء کو مباہلہ کی دعوت دی، بحمد اللہ محافظین ختم نبوت علماء اسلام نے علمی و عملی طور پر اس کا جواب دیا، اسی سلسلہ میں راقم السطور منظور احمد چنیوٹی نے مرزا طاہر احمد کو اس کی طرف سے دعوت مباہلہ کے جواب میں ایک مکتوب بھیجا تھا۔ یہ مکتوب ۲۵ اگست ۱۹۸۸ء کو بذریعہ رجسٹری بھیجا گیا۔ اور اس کے بعد ۴۰ دن تک جواب کی مہلت دی گئی تھی مگر مرزائیوں کی طرف سے حسب معمول کوئی جواب نہیں آیا وہ مکتوب حسب ذیل ہے۔ جو اپنے اندر قیمتی معلومات کا خزینہ رکھتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

جناب مرزا طاہر احمد صاحب سربراہ جماعت مرزائیہ

السلام علی من اتبع الہدیٰ اما بعد !

آپ مرزا غلام احمد قادیانی کے چوتھے جانشین ہیں۔ آپ کے دادا مرزا غلام احمد

صفحہ 255

قادیانی نے جب اپنے تمام دعاوی جھوٹے پا لیے تو انہوں نے دلائل میں شکست کھانے کے بعد مباہلہ کا حربہ استعمال کیا اور اپنی کتاب ﴿انجام آتھم﴾ مطبوعہ ۱۸۹۷ء میں ملک کے دو صد سے زائد علماء و مشائخ کو مباہلہ کی دعوت دی جس میں تیسرے نمبر پر مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم کا نام بھی موجود ہے۔ چنانچہ اس کتاب کی اشاعت کے دو سال بعد مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم کی درخواست پر جے۔ ایم۔ ڈوئی ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کی عدالت میں ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء کو مرزا صاحب کو ایک طویل توبہ نامہ تحریر کرنا پڑا جس کی شق نمبر ۵ یہ تھی۔

مرزا غلام احمد کا توبہ نامہ

”میں اس بات سے بھی پرہیز کروں گا کہ مولوی ابو حسین یا ان کے کسی دوست یا پیرو کو اس امر کے مقابلہ کے لئے بلاؤں کہ وہ خدا کے پاس مباہلہ کی درخواست کریں تا کہ وہ ظاہر کرے کہ فلاں مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔“

اس کے بعد چھٹی شق یہ ہے:

”جہاں تک میرے احاطہ طاقت میں ہے میں تمام اشخاص کو جن پر میرا کچھ اثر اختیار ہے ترغیب دوں گا کہ وہ بھی بجائے خود اسی طریق پر عمل کریں جس طریق کار پر کار بند ہونے کا میں نے دفعہ نمبر ۱‘ ۲‘ ۳‘ ۴ اور ۵ میں اقرار کیا ہے۔“

اس اقرار اور توبہ نامہ کے مطابق مرزائی جماعت کا ہر فرد جو مرزا قادیانی پر ایمان رکھتا ہے پابند ہے کہ وہ کسی کو مباہلہ کی دعوت نہ دے۔

قادیانی جماعت نے اس توبہ نامہ کی ذلت ورسوائی پر پردہ ڈالنے کی خاطر جب پھر مباہلہ کا پروپیگنڈا شروع کیا اور سادہ لوح عوام کو مرزا کی کتاب ﴿انجام آتھم﴾ دکھا کر گمراہ کرنے کی کوشش کی تو راقم نے اتمام حجت کی خاطر ۶ جنوری ۱۹۵۶ء کو آپ کے والد مرزا بشیر الدین محمود احمد کو مباہلہ کی دعوت دی تصفیہ شرائط اور دیگر امور طے کرنے کے لئے خط و کتابت اور اشتہار و رسائل کا سلسلہ تقریباً سات سال تک چلتا رہا‘ آخر کار جملہ شرائط پوری ہو جانے کے بعد ۲۶ فروری ۱۹۶۳ء عید الفطر کا دن طے کیا اور دریائے چناب کے دو پلوں کے درمیان

صفحہ 256

(چکی) مقام مباہلہ مقرر کیا۔ راقم الحروف معہ اپنے رفقاء حسب اعلان ۲۶ فروری ۱۹۶۳ء عید الفطر کے دن مقام مباہلہ پر پہنچ گیا اور عصر کی نماز تک انتظار کرتا رہا لیکن آپ کے والد نہ آئے اور میں نے بددعا کر دی اس طرح خدا کی یہ آخری حجت بھی ان پر پوری ہو گئی۔ اس طرح اتمام حجت ہو جانے کے بعد معاملہ اصولاً ختم ہو چکا تھا۔ لیکن آپ کے والد کے مرنے کے بعد ۱۹۶۵ء میں راقم الحروف نے مزید اتمام حجت کے لئے آپ کے بڑے بھائی مرزا ناصر احمد جماعت کے تیسرے سربراہ کو بھی دعوت مباہلہ دی لیکن وہ بھی اس کو قبول کرنے کی جرات نہ کر سکے مگر میں نے ان کے خلاف بھی دعائے مباہلہ پڑھ دی اور وہ ۹ جون ۱۹۸۲ء کو دار فنا سے دار بقاء کو چل بسے۔

اب آپ قادیانی جماعت کے سربراہ اور آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کے چوتھے جانشین ہیں، آپ جانتے ہیں کہ عالم اسلام کی جانب سے دلائل کی حجت آپ لوگوں پر پوری ہو چکی ہے اور اب مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ماموریت کوئی متنازعہ فیہ مسئلہ نہیں رہا دنیا بھر کے تمام مکاتب فکر کے علماء اسلام اور مسلم حکومتیں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کر چکی ہیں۔ حتیٰ کہ پاکستان کی قومی اسمبلی بھی بڑی بحث و تمحیص کے بعد اور آپ کے بھائی مرزا ناصر احمد کو صفائی کا پورا موقع دینے اور سننے کے بعد آپ کی جماعت اور لاہوری جماعت دونوں جماعتوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے چکی ہے۔

مارشل لاء حکومت بھی اپنے آرڈیننس کے ذریعہ آپ کے غیر مسلم ہونے کی توثیق کر چکی ہے حالاں کہ یہ حکومت پہلی حکومت کے علی الرغم قائم ہوئی تھی۔ پہلی حکومت کا فیصلہ اگر کسی جہت سے بھی غلط ہوتا تو یہ مارشل لاء حکومت اسے ضرور بدل دیتی۔

مرکز اسلام مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ سمیت پوری سعودی مملکت میں آپ کا اور آپ کی جماعت کا داخلہ بند ہے۔ فرمانروائے سعودی مملکت شاہ فہد (اللہ تعالیٰ انہیں سلامت با کرامت رکھے) نے آپ کی حج کی درخواست جو آپ نے واشنگٹن (امریکہ) سے بھجوائی تھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دی اور واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ جب تک آپ اپنے کفر سے توبہ نہیں کرتے سعودی عرب کی سرزمین میں قدم نہیں رکھ سکتے۔

حق کے اس طرح واضح ہو جانے کے بعد آپ کو چاہیے تھا کہ ہٹ دھرمی اور ضد چھوڑ کر اور دنیاوی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی جماعت کی عاقبت کی فکر کرتے اور اس

صفحہ 257

باطل مذہب کو خیر باد کہہ کر سچے دل سے تائب ہو جاتے اور جہنم کے عذاب سے نجات پاتے۔ جیسا کہ عالیجاہ امریکی متنبی کے بیٹے وارث محمد نے کیا ہے۔ آپ اب بھی اگر اپنے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کے تمام دعاوی میں سچا یقین کرتے ہیں اور اس پر ایمان لانا نجات کے لئے ضروری قرار دیتے ہیں اور اس کے منکرین کو جہنمی کافر اور ذریۃ البغایا (کنجریوں کی اولاد) یقین کرتے ہیں۔ تو آیئے بندہ منظور احمد چنیوٹی اب بھی اپنے موقف پر علیٰ حالہ قائم ہے۔ بندہ ملک کی چار مشہور دینی جماعتوں کا مستند نمائندہ ہے سندات نمائندگی جب چاہیں پیش کی جاسکتی ہیں۔

مؤکد بعذاب قسم

میں خدا تعالیٰ کی مؤکد بعذاب قسم اٹھاتے ہوئے علیٰ وجہ البصیرت مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کے تمام دعاوی میں جھوٹا اور حدیث نبوی علیٰ صاحبہا السلام کے مطابق کذاب و دجال اور مرتد یقین کرتا ہوں۔ آیئے میدان مباہلہ میں تا کہ اللہ تعالیٰ سچے اور جھوٹے میں خود فیصلہ فرما دیں۔ مقام مباہلہ آپ جو چاہیں متعین کریں، میں وہاں آنے کے لئے تیار ہوں۔ تاریخ ہم آپس میں طے کر سکتے ہیں ورنہ ۲۶ فروری کی تاریخ جو میں نے آپ کے باپ کے لئے مقرر کی تھی وہ پہلے سے مقرر ہے۔ پھر میں اس دن دریائے چناب کے دو پلوں کے درمیان آپ کے خلاف خدا سے آخری فیصلہ مانگوں گا۔

مباہلہ کسے کہتے ہیں؟

آپ نے اس پچھلی کارروائی کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اور اپنے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کے اقرار (جو اس نے ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کی عدالت میں ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء کو کیا تھا) اور اپنے تمام متبعین کو اس پر عمل درآمد کی وصیت کی تھی، کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لندن سے جو نیا پمفلٹ (مباہلہ) میرے نام پاکستان بھجوایا ہے ، نہ دعوت مباہلہ ہے اور نہ مباہلہ۔ مباہلہ میں فریقین ایک میدان میں آتے ہیں اور بال بچوں کے ساتھ آتے ہیں ، اور ہر

صفحہ 258

دو فریق خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ کاذبین، صادقین کی زندگی میں جہنم رسید ہوں۔ آپ نہ خود سامنے آئے ہیں اور نہ بال بچوں کو اس میں شریک کیا اور مباہلہ کا نام دے کر اپنے نادان پیروؤں کو طفل تسلیاں دے رہے ہیں کیا آپ درج ذیل امور کی وضاحت کرنے کی اخلاقی جرات فرمائیں گے۔

کر رہے ہیں؟

گئے ہیں؟

جزئیات و عبارات کا سہارا کیوں لیا؟ مباہلہ صادق و کاذب میں اصولی بات میں ہوتا ہے جزئیات میں نہیں۔ ”فَنَجْعَلْ لَّعْنَةَ اللّٰهِ عَلَی الْكَاذِبِیْنَ ۔“ قرآن کریم کی نص صریح ہے۔

ہیں تو آپ نے انہیں علیحدہ علیحدہ پمفلٹ کیوں بھجوایا ہے؟ کیا بندہ منظور احمد چنیوٹی اس بات میں ایک نمائندہ حیثیت میں پہلے سے موجود نہیں تھا۔

مرزا طاہر کا چیلنج منظور

بایں ہمہ آپ کا یہ چیلنج مجھے منظور ہے۔ آپ بھی سمجھتے ہیں کہ ﴿منظور﴾ ہے جو آپ کا مقابلہ ربوہ میں بھی کرتا رہا ہے۔ اور لندن میں بھی آپ کے تعاقب میں پہنچا مجھے یقین ہے کہ آپ اپنے دادا، باپ اور بھائی کی طرح ایک میدان میں آمنے سامنے مباہلہ کے لئے کبھی نہیں آ سکیں گے۔ اس پر میں اتنا عرض کروں گا۔ ”فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ اُعِدَّتْ لِلْكَافِرِیْنَ ۔“ (الآیۃ) کہ اس آگ سے ڈریں جس کا ایندھن (آپ جیسے) لوگ اور پتھر ہوں گے اور وہ کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

صفحہ 259

تنبیہ: میں آپ کے جواب کا‘ تاریخ ارسال سے پورے چالیس دن تک انتظار کروں گا اگر آپ نے جگہ کا تعین کر کے میدان مباہلہ کی اطلاع نہ دی تو آپ کا ﴿فرار﴾ (اقرار شکست) سمجھا جائے گا۔ اور اکتالیسویں دن میں ربوہ جا کر اس کا اعلان کروں گا۔

فقط آپ کا سچا خیرخواہ: (مولانا) منظور احمد چنیوٹی رئیس: ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ‘ پاکستان سیکریٹری: اطلاعات جمعیت علماء اسلام‘ پاکستان

نوٹ: یہ تحریر مرزا طاہر احمد کو اس کے لندن کے پتہ پر بذریعہ رجسٹری ۲۵۔ اگست ۱۹۸۸ء کو بھیج دی گئی ہے۔

مرزا طاہر کا اعتراف شکست وفرار

چالیس دن کی مدت ۱۷۔ اکتوبر ۱۹۸۸ء کو ختم ہو گئی لیکن اب تک مرزا طاہر کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ لہٰذا مرزا طاہر نے اپنے بھائی‘ باپ اور دادا کی سنت پر عمل پیرا ہو کر اپنے کذب پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

مرزا طاہر نے مباہلہ سے فرار اور شکست چھپانے کیلئے مکر و فریب اور جھوٹ کا سہارا لیا۔ حضرت مولانا چنیوٹی کے بارے میں پیشگوئی کی۔ جس کے الفاظ حسب ذیل ہیں:

”یہ مجھے یقین ہے اور آپ سب کو یقین ہے کوئی احمدی اس یقین سے باہر نہیں کہ یہ مولوی اب لازماً اپنی ذلت و رسوائی کو پہنچنے والا ہے اور کوئی دنیا کی طاقت اس کو اب ذلت اور رسوائی سے بچا نہیں سکتی جو خدا تعالیٰ مباہلہ میں جھوٹ بولنے والے باغیوں کیلئے مقدر کر چکا ہے۔“

صفحہ 260

مرزا طاہر نے اس پیشگوئی کی آخری تاریخ ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ء طے کی۔ لیکن مرزا طاہر کو یہ پیشگوئی مہنگی پڑی اور کئی قسم کی ذلت اور رسوائی دیکھنا پڑی۔

عربی ماہنامہ ﴿التقویٰ﴾ کا چیف ایڈیٹر حسن محمود عودہ بھی شامل ہے۔ جس نے ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ء کو مولانا چنیوٹی کے ہلاک ہونے کی پیشگوئی غلط ثابت ہونے پر ان کے دست مبارک پر ہزاروں کے مجمع میں ویمبلے ہال لندن میں یکم اکتوبر ۱۹۸۹ء کو قادیانیت سے برات کا اعلان کیا۔

اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے مولانا چنیوٹی پر کئی انعامات کئے‘ چند درج ذیل ہیں:

کروائی اور قادیانیوں کی سازشوں سے آگاہ کیا۔

آنے کی جرات نہ ہوئی۔

کا نام انہوں نے امتناع قادیانیت آرڈیننس کی یاد میں محمد ضیاء الحق رکھا۔

مرزا طاہر نے اپنے دادا کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے سالانہ اجتماع کے موقع پر ایک جھوٹا بیان دیا ”کہ مولانا منظور چنیوٹی مختلف حیلے بہانے کر کے مباہلہ سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔“

صفحہ 261

یہ بیان جو کہ سراسر جھوٹ کا پلندہ ہے روزنامہ ”جنگ“ لندن میں بتاریخ ۱۳ اگست ۱۹۹۵ء کو شائع ہوا۔

حالانکہ حضرت مولانا چنیوٹی عرصہ چالیس سال سے مرزا طاہر کے باپ مرزا محمود‘ مرزا ناصر اور خود اس کو دعوت مباہلہ دے رہے ہیں۔ لیکن ان تمام میں سے کوئی بھی مرد میدان نہ بن سکا۔ خود مرزا طاہر بھی آج تک سامنے آنے کی جرات نہیں کر سکا۔

”جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچانا چاہئے“ کی مشہور ضرب المثل پر عمل کرتے ہوئے حضرت مولانا چنیوٹی نے ایک دفعہ پھر مرزا طاہر کو دعوت دی کہ وہ ۵۔ اگست ۱۹۹۵ء کو مباہلہ کیلئے ہائیڈ پارک لندن میں آ جائے۔ یہ دعوت مباہلہ ۴۔ اگست کے روزنامہ ”جنگ“ لندن میں بھی شائع ہوئی۔ مولانا چنیوٹی صاحب‘ مولانا ضیاء القاسمی صاحب‘ شیخ مولانا عبد الحفیظ مکی صاحب مولانا قاری محمد طیب عباسی صاحب علامہ خالد محمود صاحب قاری عبدالحی عابد صاحب‘ میاں محمد اجمل قادری صاحب اور دیگر اکابر علماء کرام سمیت ۵۔ اگست ۱۹۹۵ء کو ۱۲:۰۰ تا ۲:۰۰ بجے دوپہر مرزا طاہر کا انتظار کرتے رہے لیکن وہ نہ آیا۔ حضرت مولانا چنیوٹی کی اس فتح عظیم اور مرزا طاہر کی ذلت آمیز شکست کی خبر روزنامہ ”جنگ“ لندن نے ۶۔ اگست کو جلی سرخی اور تصویر کے ساتھ شائع کی۔ اس کے اگلے سال سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے موقع پر حضرت مولانا چنیوٹی نے یہاں تک پیش کش کی کہ اگر مرزا طاہر ہائیڈ پارک لندن میں آنے کی جرات نہیں کر سکا تو میں ان کے مرکز ٹیل فورڈ (Telford) لندن میں آکر مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔ وہ تاریخ اور وقت کا تعین کر کے مجھے اطلاع کرے۔

۹۔ اگست ۱۹۹۶ء کو ”جنگ“ لندن میں باضابطہ اشتہار دیا گیا جس کا عکس اگلے صفحہ پر قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔

وہ بھاگتے ہیں اس طرح مباہلہ کے نام سے
فرار کفر جس طرح ہو بیت الحرام سے

(مولانا ظفر علی خان)

صفحہ 262

U.K.'S First & Largest Circulated URDU DAILY ESTABLISHED 1971

ABC CERTIFIED

Friday 9 August 1996

THE DAILY JANG LONDON 50 p

روزنامہ جنگ لندن بانی۔ میر خلیل الرحمٰن

قیمت فی کاپی 50 پنس

جلد 25 جمعہ 9 اگست 1996ء O 23 ربیع الاول 1417ھ نمبر 220

مولانا منظور احمد چنیوٹی کی طرف سے

قادیانی سربراہ مرزا طاہر احمد کو مباہلہ کا دوبارہ چیلنج

پچھلے سال انہوں نے سالانہ کانفرنس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مجھ پر جھوٹا الزام لگایا تھا کہ ”منظور چنیوٹی مباہلہ سے فرار کرتا رہا“ میں نے اُن کے اس کذب اور افتراءِ محض جھوٹ کی قلعی کھولنے کے لئے انہیں 5 اگست 1995ء کو ہائیڈ پارک لندن میں آکر مباہلہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ راقم حسب اعلان اپنے ہمراہیوں کے ساتھ وہاں پہنچ گیا اور انتظار کرتا رہا لیکن وہ وہاں آنے کی جرات نہ کر سکے یوں ان کا جھوٹ پوری دنیا پر آشکارہ ہو گیا۔

اب میں پھر انہیں دوبارہ دعوت دیتا ہوں کہ اگر اپنے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت ثابت کرنے کے لئے خود چل کر کسی جگہ پر نہیں آسکتے تو میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چل کر آپ کے مرکز میں آکر مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں آپ وقت اور تاریخ کا تعین کر کے مجھے پاکستان چنیوٹ کے پتہ پر اطلاع دیں میں آپ کے جواب کا انتظار کروں گا تاکہ دنیا پر ایک بار پھر واضح ہو جائے کہ مباہلہ سے کون فرار کرتا ہے۔

الداعی منظور احمد چنیوٹی (جنرل سیکرٹری انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ)

صفحہ 263

خاتمہ بحث

یہاں آ کر صدق و کذب مرزا کی بحث اپنے اختتام کو پہنچی ہے۔ اگر اس کے مشمولات مع جوابات اور ایٹم بم محفوظ رکھے جائیں تو کوئی بھی مرزائی مناظر مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا۔ شرط یہ ہے کہ پوری استقامت‘ جرات‘ ہمت اور جوش کے ساتھ اسے صرف اسی بحث میں الجھائے رکھا جائے۔ کسی دوسرے موضوع میں گھسنے نہ دیا جائے۔ اگر وہ ادھر اُدھر جانے کی کوشش بھی کرے تو لطائف الحیل اور الزامی جوابات سے اسے پھر اسی موضوع پر گفتگو کرنے پر مجبور کیا جائے۔ ان شاء اللہ اس گفتگو میں درج بالا بحث بہت معین ومفید ثابت ہوگی۔ تاہم اس بحث کو حرف آخر نہ سمجھا جائے۔ یہ تو مشتے نمونہ از خروارے ہے‘ ورنہ کذب مرزا کے دلائل تو بے شمار ہیں۔ مثلاً حرمت جہاد‘ تناقضات مرزا‘ مبالغات مرزا‘ توہین صحابہ واہل بیت‘ توہین انبیاء‘ انکار معجزات‘ شراب نوشی‘ ریا کاری‘ غیر محرم عورتوں سے اختلاط‘ انگریزوں کی اطاعت وغیرہ۔ ان کی قدرے تفصیل محمدیہ پاکٹ بک اور مکمل تفصیل مولانا مشتاق احمد (مدرس ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ) کی کتاب ”آئینہ قادیانیت“ کے مطالعہ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

صداقت مرزا کے دلائل کا تعاقب

دلیل اوّل: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کو جواب دیتے ہوئے بطور دلیل ارشاد فرمایا:

فقد لبثت فیکم عمرا من اس سے پہلے بھی ایک بڑے حصہ عمر تک تم قبله افلا تعقلون۔ میں رہ چکا ہوں پھر کیا تم اتنی عقل نہیں رکھتے۔

یعنی صداقت نبی کے لئے بعثت سے قبل کی زندگی کا بے داغ ہونا کافی ہے۔ بعد میں کچھ بھی الزامات لگائے جائیں تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ یہی ہم بھی کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت سے قبل ان کی زندگی بے داغ تھی۔ بعد میں لوگوں نے الزامات لگائے ہیں جو

صفحہ 264

غیر معتبر ہیں، اس لئے وہ بہر حال سچے ہیں۔ جوابات ملاحظہ ہوں:

جواب ۱: ہرقل شاہ روم نے عرب وفد سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو سوال کئے، ان میں سے بعض آپ کی بعثت کے بعد کی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً کیا آپ کے متبعین میں سے کوئی آپ کے دین سے ناراض ہو کر آپ سے علیحدہ ہوا ہے۔ اور کیا آپ کے متبعین بڑھتے جارہے ہیں یا کم بھی ہوتے جاتے ہیں۔ صحابہؓ نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد ہرقل کی اس سوچ پر کسی قسم کی نکیر نہیں کی۔

جواب ۲: اس دلیل میں قادیانی مبلغ نے مرزا کو حضورؐ پر قیاس کرنے کی گستاخی کی ہے۔ اس کے جواب میں ہم مرزا کی یہ عبارت پیش کرنا کافی سمجھتے ہیں۔ ”ماسواء اس کے جو شخص ایک نبی متبوع کا متبع ہے اور اس کے فرمودہ پر اور کتاب اللہ پر ایمان لاتا ہے اس کی آزمائش انبیاء کی آزمائش کی طرح کرنا ایک قسم کی ناسمجھی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ۳۳۹ ر۔ خ ج ۵ ص ۳۳۹)

لہٰذا مرزا قادیانی کو ہم حضور علیہ السلام پر قیاس نہیں کر سکتے۔

جواب ۳: مرزا صاحب لکھتے ہیں: فلا تقیسونی علی احد ولا احدا بی۔ ترجمہ: ”پس مجھے کسی دوسرے کے ساتھ مت قیاس کرو اور نہ کسی دوسرے کو میرے ساتھ۔“ (خطبہ الہامیہ ص ۵۲) اس لئے مرزائیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مرزا قادیانی کو قیاس کرنے کی جسارت نہیں کرنی چاہئے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو مرزا قادیانی کی نافرمانی کے مرتکب ہوں گے۔

جواب ۴: بعثت سے قبل اور بعثت کے بعد نبی کی دونوں قسم کی زندگی پاک اور بے داغ ہوتی ہے۔ پہلی زندگی کو بے داغ ثابت کرنا اس لئے ہوتا ہے کہ اس سے اگلی زندگی کو بے داغ بتایا جائے اور دعوائے نبوت کو صحیح مانا جائے۔ بعثت کے بعد کی زندگی کو موضوع بحث بنانے سے فرار اختیار کرنا نہایت ہی کمزور

صفحہ 265

بات ہے اور یہ اس پر دال ہے کہ اس کی زندگی میں واقعی کچھ کالا ضرور ہے۔

جواب ۵: مرزا صاحب نے اپنی پہلی زندگی میں انگریز کی عدالت میں مقدمہ لڑ کر کچھ مالی وراثت حاصل کی حالانکہ نبی کسی کا وارث نہیں ہوتا۔

نحن معشر الانبياء لا نرث ۱؎ ولا نورث۔

”ہم جماعت انبیاء نہ کسی کے وارث ہوتے ہیں نہ ہمارا کوئی وارث ہوتا ہے۔“

جواب ۶: یہ حقیقت ہے کہ نبی کی نبوت سے پہلے کی زندگی بھی پاک ہوتی ہے اور دعویٰ نبوت کے بعد کی زندگی بھی بے داغ اور صاف ہوتی ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ جس کی پہلی زندگی پاک وصاف اور بے عیب ہو وہ نبی بھی ہو جائے۔ جس طرح نبی کے لئے ضروری ہے کہ وہ شاعر نہ ہو وہ کسی سے لکھنا پڑھنا نہ سیکھے جھوٹ نہ بولتا ہو لیکن یہ ضروری نہیں کہ جو کوئی شاعر نہ ہو کسی سے لکھنا پڑھنا نہ سیکھا ہو وہ نبی بھی ہو جائے۔ کیونکہ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو آج ہزاروں ایسے ملیں گے جو اپنی پہلی زندگی کے پاک وصاف ہونے کے مدعی ہیں کیا ان سب کو نبی مانا جائے گا؟

جواب ۷: مرزا قادیانی خود تسلیم کرتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کوئی معصوم نہیں اور نہ ہی میں معصوم ہوں اور یہ مسلم قاعدہ ہے۔ المرء یؤخذ باقرارہ ۲؎

ملاحظہ ہو: کرامات الصادقین ص ۵۔

﴿لیکن افسوس کہ بٹالوی صاحب نے یہ نہ سمجھا کہ نہ مجھے نہ کسی انسان کو بعد انبیاء علیہم السلام کے معصوم ہونے کا دعویٰ ہے﴾

کیا یہ اپنے معصوم نہ ہونے کا کھلا اقرار نہیں؟

۱؎ واضح رہے کہ کتب حدیث میں مذکورہ روایت میں لا نرث کے الفاظ نہیں ملتے لا نورث کے الفاظ ملتے ہیں۔ لیکن چونکہ مرزائیوں کی ﴿تبلیغی پاکٹ بک﴾ کے ص ۲۲۵ پر باغ فدک کے عنوان کے ذیل میں لا نرث ولا نورث دونوں الفاظ نقل کیے گئے ہیں اس لئے ہم نے بھی جواب میں اسے ہی بنیاد بنایا ہے۔ اس کے ثبوت کی ذمہ داری مرزائیوں پر ہے نہ کہ ہم پر۔ اور صحیح روایت لا نورث کے الفاظ سے بھی مرزا کا جھوٹا ہونا معلوم ہوتا ہے بایں طور کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی اولاد اس کے مال کی وارث ہوئی۔ الغرض ہر اعتبار سے یہ حدیث مرزا کے کذب پر دلیل ہے۔۱۲منہ۔

۲؎ آدمی کو اس کے قول وقرار سے پکڑا جاتا ہے۔

صفحہ 266

جواب ۸: مرزا قادیانی خود اقرار کرتا ہے کہ میں نے ایک زمانہ دراز گم نامی میں گزارا ہے۔

’’یہ وہ زمانہ تھا جس میں مجھے کوئی بھی نہیں جانتا تھا نہ کوئی موافق تھا نہ مخالف کیوں کہ میں اس زمانہ میں کوئی بھی چیز نہ تھا اور ایک احد من الناس اور زاویہ گمنامی میں پوشیدہ تھا۔‘‘

اسی صفحہ پر آگے چل کر مزید صراحت کرتا ہے:

’’اس قصبہ کے تمام لوگ اور دوسرے ہزار ہا لوگ جانتے ہیں کہ اس زمانہ میں درحقیقت میں اس مردہ کی طرح تھا جو صد ہا سال سے مدفون ہو اور کوئی نہ جانتا ہو کہ یہ کس کی قبر ہے۔‘‘

(تتمہ حقیقۃ الوحی در روحانی خزائن ص ۴۶۰ ج ۲۲)

اب آپ ہی بتائیں کہ جو شخص غیر معروف مردہ کی طرح ہو اور اسے کوئی نہ جانتا ہو اس کی زندگی کا کیا اعتبار؟ کیا اس گمنام زندگی کو اس کے کسی دعویٰ کی دلیل بنایا جاسکتا ہے۔

اس سے یہ بھی پتا چلا کہ جو صد ہا سال سے مدفون ہو اس کی قبر کا عام پتہ نہیں چلتا ہے کہ وہ کس کی قبر ہے؟ پھر سری نگر میں ایک قبر کیسے مانی جاسکتی تھی؟

اس کے علاوہ مختلف مقامات پر مرزا قادیانی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ملہم و مامور ہونے سے پہلے اسے کوئی نہیں جانتا تھا، نہ کوئی اس کا مخالف تھا نہ موافق بلکہ مرزا قادیانی عام لوگوں کی طرح ہی زندگی گزارتا تھا، اس کو دوسرے لوگوں میں کوئی فوقیت اور خصوصیت حاصل نہ تھی تو اب ایسی زندگی کا بطور صفائی دعویٰ پیش کرنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟

جواب ۹: مرزا قادیانی پہلی زندگی میں اپنی ماں کا نافرمان تھا اس کے لئے حوالہ ملاحظہ ہو:

’’بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا۔ انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو۔ حضرت نے کہا نہیں، یہ میں نہیں لیتا۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی۔ حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا۔ وہ اس وقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں سختی سے کہنے لگیں کہ جاؤ پھر راکھ سے روٹی کھالو۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک

صفحہ 267

لطیفہ ہو گیا۔‘‘ (سیرۃ المہدی ص ۲۴۵ ج ۱ مطبوعہ ۱۹۳۵ء)

دیکھئے جو کھانے کی چیز تھی جیسے گڑ وہ تو نہ کھائی اور جو نہ کھانے کی تھی (جیسے راکھ) اسے روٹی پر ڈال لیا یہ سوائے اس کے کہ جس کی انسانی فطرت سو چکی ہو اور کس کا کام ہو سکتا ہے؟ ہر عقل مند بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ مرزا کی ماں کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ سچ مچ راکھ ہی سے روٹی کھاؤ بلکہ مرزا جی کی ضد اور ہٹ دھرمی سے تنگ آکر بطور زجر کے کہا گیا تھا۔ اس حوالہ سے جہاں مرزا قادیانی کی حماقت و بے وقوفی اور کج فطرت ہونا ثابت ہوتا ہے وہاں اپنی ماں کا نافرمان ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ کیا واخفض لھما جناح الذل کا یہ مقصد ہو سکتا ہے؟ بتائیے کیا کسی نبی نے اپنی ماں کی نافرمانی کی ہے اور وہ بھی معروف کام میں؟

جواب ۱۰ : مرزا اپنی پہلی (گمنامی) کی زندگی میں اوباش قسم کا تفریح باز تھا۔ خود اس کا اپنا لڑکا لکھتا ہے:

”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمھارے دادا کی پینشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر اُدھر پھراتا رہا پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا حضرت مسیح موعود اس شرم سے گھر واپس نہیں آئے۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۴۳ مطبوعہ کتاب گھر قادیان ۱۹۳۵ء)

واضح ہو کہ مرزا صاحب کی عمر اس وقت ۲۴۔ ۲۵ برس کی تھی کیونکہ اس کا سن پیدائش حسب تحریر خود ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء ہے۔ (دیکھئے حاشیہ کتاب البریہ ص ۱۵۹ ر۔خ جلد ۱۳ ص ۱۷۷) اور تاریخ ملازمت حسب تحریر سیرت المہدی ص ۱۵۴ ج ۱ ۱۸۶۴ء ہے اور یہ واقعہ ملازمت سے کچھ پہلے کا ہے نیز واضح ہو کہ یہ پینشن کی رقم معمولی رقم نہ تھی بلکہ ۷۰۰ روپیہ تھی جو آج کل کے سات لاکھ کے برابر ہے۔ (دیکھئے سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۱۳۱)

اب مرزا قادیانی کی عمر کو ملحوظ رکھیے اور اتنی خطیر رقم کو بھی ذہن میں رکھیے اور خط کشیدہ الفاظ پر غور کیجئے کہ آخر اتنی بڑی رقم کہاں کی سیر و تفریح میں خرچ ہوئی؟ کیا مرزا جی اس وقت

صفحہ 268

بچے تھے کہ کوئی دھوکہ دے سکتا ہے یا پھسلا سکتا ہے؟ اور پھر ادھر ادھر پھرانے کا کیا مطلب ہے؟ یہ بات تو قطعی ہے کہ کسی دینی کام یا مسجد و مدرسہ میں نہیں گئے ہونگے اور نہ یہ رقم کسی اچھی جگہ خرچ کی ہوگی۔ ”ادھر اُدھر“ سے اگر بازارِ حسن مراد نہیں تو اور کون سی جگہ ہو گی جو مرزا صاحب کو پسند آئی ہوگی۔ اگر یہ کوئی شرمناک وارداتیں نہ تھیں تو مرزا صاحب کو شرم کیوں آئی جو وہ سیالکوٹ بھاگ گئے؟

اب مرزائیوں سے ہمارا سوال یہ ہے کہ وہ اتنی خطیر رقم کا حساب دیں کہ کہاں کہاں خرچ ہوئی‘ بصورتِ دیگر مرزا جی کی عصمت باقی نہیں رہتی اور یہ دعویٰ کہ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت سے قبل کی زندگی بالکل بے داغ تھی بالکل باطل ہو جاتا ہے۔

جواب ۱۱: محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنے گھر کے آدمیوں کو بلا کر ان کے سامنے اپنی صفائی کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے یک زبان ہو کر اعلان کیا:

جربناك مرارا فما وجدنا کہ ہم نے بار بار آپ کو آزمایا اور
فيك الا صدقا۔ ہر بار ہم نے آپ میں سچائی ہی پائی۔

اس کے برعکس مرزا قادیانی نے اپنی صفائی مولوی محمد حسین بٹالوی ۱؎ سے پیش کروائی ہے جو کہ کچھ عرصہ ہی اس کے ساتھ رہے تھے پھر وہ مرزا قادیانی کے شہر اور گاؤں کے رہنے والے بھی نہ تھے۔ اور اس میں بھی شک نہیں ہو سکتا کہ مرزا کی حقیقت واضح ہونے پر انہوں نے اپنی سابقہ تحریر سے رجوع کر لیا۔ (دیکھئے آئینہ کمالات اسلام حوالہ مذکورہ) اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صفائی آپ کے قبیلہ کے سردار حضرت ابوسفیانؓ نے ہرقل بادشاہ کے سامنے اسلام لانے سے قبل پیش کی تھی‘ اور اسی طرح حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا جو آپؐ کی رفیقہ حیات ہیں انہوں نے آپ کی پہلی زندگی کی صفائی پیش کی جب حضرت جبریل امین آپؐ کی طرف پہلی دفعہ تشریف لائے تھے۔ اور اسی طرح آپ کی آخری اور پوری زندگی کی صفائی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پیش کر رہی ہیں۔

كان خلقه القرآن ۔ آپؐ کا اخلاق قرآن ہے۔

۱؎ مولانا محمد حسین بٹالوی نے مرزا کی مدح سے رجوع کرتے ہوئے لکھا: ”عقائد باطلہ مخالفہ دین اسلام و ادیان سابقہ کے علاوہ جھوٹ بولنا اور دھوکہ دینا آپ کا ایسا وصف لازم بن گیا کہ گویا وہ آپ کی سرشت کا ایک جزو ہے‘ زمانہ تالیف براہین احمدیہ کے پہلے آپ کی سوانح عمری کا میں تفصیلی علم نہیں رکھتا تھا ۔“

(خط بنام مرزا قادیانی مندرجہ آئینہ کمالات اسلام ص ۳۱۱۔ رخ جلد ۵ ص ۳۱۱)

صفحہ 269

مرزا قادیانی کا اپنی بیویوں کے ساتھ خلاف شرع برتاؤ

مرزا قادیانی اپنی پہلی بیوی فضل احمد اور سلطان احمد کی ماں المعروف (پھجے دی ماں) سے فضل احمد کی پیدائش کے بعد تقریباً ۳۳ سال عملاً مجرد رہا نہ تو مرزا نے اسے طلاق دی اور نہ بیویوں کی طرح اس کو بسایا بلکہ عملاً مجرد رہ کر فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقة‘ الخ (ترجمہ) ”تم بالکل ایک ہی طرف نہ ڈھل جاؤ جس سے اس کو ایسا کر دو جیسے آدھ میں لٹکی ہو۔ وعاشروھن بالمعروف ۔ اور عورتوں کے ساتھ خوبی کے ساتھ گزران کیا کرو کی مخالفت کرتا رہا۔ دیکھئے!

حوالہ ۱: ”حافظ نور محمد متوطن فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کئی دفعہ فرمایا کرتے تھے کہ سلطان احمد (یعنی مرزا سلطان احمد صاحب) ہم سے سولہ سال چھوٹا ہے اور فضل احمد بتیس برس اور اس کے بعد ہمارا اپنے گھر سے کوئی تعلق نہ رہا۔“

(سیرۃ المہدی ج ۲ ص ۶۳ مطبوعہ کتاب گھر قادیان ۱۹۳۵ء)

حوالہ ۲: ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر ﴿پھجے دی ماں﴾ کہا کرتے تھے بے تعلقی سی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین (یعنی مرزا کے خود ساختہ دین ...... از ناقل) سے سخت بے رغبتی تھی اور اس کا ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں اسی لئے مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ۳۳ مطبوعہ کتاب گھر قادیان ۲۳ء)

مرزا صاحب کے ہاں ان لوگوں کا آنا جانا کیوں ہوا جو اس بے چاری کو پھجے کی ماں کہہ کر بلا لیتے تھے اس وقت یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔

پھر چند سطروں کے بعد لکھا ہے: ”حتیٰ کہ محمدی بیگم کا سوال اٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے

صفحہ 270

مخالفت کر کے محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرا دیا اور فضل احمد کی والدہ (مرزا کی بیوی ...... از ناقل) نے ان سے قطع تعلق نہ کیا بلکہ ان کے ساتھ رہیں تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دے دی۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ۳۳ ۳۴)

یہ جھوٹ ہے قطع تعلقی نہ کرنے کی وجہ سے طلاق نہیں دی۔ بلکہ محمدی بیگم کے شوق میں اسے طلاق دی۔

مرزا قادیانی کے راز ہائے سربستہ سے واقف کار مرزا کی بیوی مرزا قادیانی کے رچائے ہوئے ڈھونگ پر بھلا کب ایمان لاسکتی تھی جب کہ مرزا قادیانی نے اس کی جوانی کی ۳۳ سالہ زندگی کو پہلے برباد کیا اور پھر جب بڑھاپا قریب آیا تو طلاق بھی دے دی ...... یہ ہے مرزا قادیانی کا اخلاق؟ ۱؎

جواب ۱۲ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو لوگ آپ کے دعوئے نبوت کے سات آٹھ سال بعد ایمان لائے ان کے لئے یہ آیت کس طرح صداقت بن سکتی ہے۔

فقد لبثت فيكم عمراً من قبله افلا تعقلون ۔

یہ سوائے اس کے نہیں کہ آپ کی دعوئے نبوت سے بعد کی زندگی بھی بالکل بے داغ رہے ورنہ یہ آیت صرف ان سے خاص ہوگی جو اس وقت کے لوگ تھے جب آپ نے ان سے یہ بات کہی۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس آیت کی مخصص کون سی آیت ہو گی۔ ہم قادیانیوں سے یہ بات پوچھتے پوچھتے تھک گئے مگر انہوں نے اب تک ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور پھر لطف یہ ہے کہ وہ اپنے اس غلط استدلال سے رجوع بھی نہیں کرتے ان کی بے حیائی کی انتہاء ہو چکی ہے۔

صداقت کی دوسری دلیل

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا: لو تقول علينا بعض الاقاويل

۱؎ مرزا نے پہلی بیوی کو ۱۸۹۱ء میں طلاق دے دی اور اسی سال محمدی بیگم کا نکاح سلطان احمد سے ہوا اور نصرت جہاں بیگم سے ۱۸۸۴ء میں شادی کی تھی‘ منہ۔

صفحہ 271

لاخذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين۔ (حاقۃ) اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر کوئی جھوٹا افتراء باندھتے تو میں ان کی شہ رگ کو کاٹ کر ہلاک کر دیتا، اس سے ثابت ہوا کہ اگر مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ پر جھوٹا افتراء کیا تھا تو اسے ۲۳ سال کے اندر اندر ہلاک کر دیا جاتا اور اس کی شہہ رگ کاٹ دی جاتی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بعد ۲۳ سال تک بقید حیات رہے۔ اور یہ بات آپ کی اس زندگی سے متعلق ہے۔

جواب ۱ : مرزائی مبلغ مرزا قادیانی کو حضرات انبیاء کرام کے معیار پر قیاس کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ مرزا خود مقر ہے کہ میری نبوت پہلے نبیوں والی نہیں ہے۔ تو اس پر قیاس کرنا بے سود ہوگا۔

اس دلیل سے ہم نے مرزائیوں کی پہلی دلیل کاٹی تھی اب ان کی دوسری دلیل بھی اسی چھری سے کٹ گئی۔

(الاستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص۱۶۔ رخ جلد۲۲ ص۶۳۷)

خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے۔ لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔

(حقیقۃ الوحی حاشیہ ص۱۵۴)

سو جب اس کی نبوت پہلوں والی نبوت نہیں تو ان مومنوں کو اس نبوت کے لئے مقیس علیہ بنانا کہاں تک درست ہوگا۔

جواب ۲ : اس آیت کا سیاق و سباق دیکھیں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد کسی قاعدہ کلیہ کے طور پر نہیں ہے بلکہ یہ قضیہ شخصیہ ہے اور صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ بات کہی جا رہی ہے اور یہ بھی اس بنا پر کہ بائبل میں موجود تھا کہ اگر آنے والا پیغمبر اپنی طرف سے کوئی جھوٹا الہام یا نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ جلد مارا جائے گا چنانچہ درج ذیل عبارت ملاحظہ ہو:

”میں ان کے لئے انہیں کے بھائیوں میں سے تجھ سا.......

صفحہ 272

ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا (مراد محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ) وہ سب ان سے (یعنی اپنی امتوں سے ) کہے گا اور ایسا ہو گا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا، لیکن جو نبی گستاخ بن کر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اس کو حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے گا۔“

(انجیل مقدس عہد نامہ قدیم ص ۱۸۸ کتاب استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ تا ۲۱)

جواب ۳: اگر مرزا قادیانی کے اس اصول کو تسلیم کر لیا جائے تو کئی سچے نبی نعوذ باللہ جھوٹے بن جائیں گے۔ مثلاً حضرت یحییٰ علیہ السلام اور ان کے علاوہ کئی اور اسرائیلی پیغمبر بھی بہت تھوڑی عمر میں دعویٰ نبوت کے بعد شہید کر دیے گئے۔ مرزا کے اصول کو اگر تسلیم کر لیا جائے تو گویا یہ انبیاء سچے نہ ٹھہرے۔ اس کے برخلاف بہاء اللہ ایرانی ( جو صاحب شریعت نبی ہونے کا مدعی تھا ) دعویٰ نبوت کے بعد چالیس سال زندہ رہا۔ مرزا قادیانی کے اس اصول کے مطابق وہ سچا ٹھہرے گا۔ حالانکہ مرزائی اس کو جھوٹا مانتے ہیں (بہاء اللہ ایرانی کے چالیس سال تک زندہ رہنے کا حوالہ دیکھو اخبار الحکم ص ۴‘ ۲۴۔اکتوبر ۱۹۰۴ء ) ”بہاء اللہ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ۱۲۶۹ھ میں کیا تھا اور ۱۳۰۹ھ تک زندہ رہا۔“ یہ بعد نبوت کی زندگی چالیس سال بنتی ہے۔ یہ ۲۳ سال سے کہیں زیادہ کی مدت ہے۔

جواب ۴: مرزا قادیانی اپنی اس دلیل کی روشنی میں خود جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ اس کا دعویٰ نبوت اگر چہ محل نزاع ہے کیونکہ اس کے ماننے والے دو جماعتوں میں منقسم ہیں‘ لاہوری گروپ اس کو نبی تسلیم نہیں کرتا۔ گو اس کا اپنا دعوے نبوت ہر شک سے بالا ہے۔ اس کے برعکس قادیانی گروپ اس کو نبی تسلیم کرتا ہے۔ اور نبی تسلیم کرنے والے گروپ کی تحقیق یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ۱۹۰۱ء میں دعویٰ نبوت کیا ہے مرزا قادیانی کی موت ۱۹۰۸ء میں ہو گئی تھی۔ لہٰذا یہ بات ثابت ہو گئی کہ مرزا قادیانی ۲۳ سال پورے کرنے سے پہلے ہی ہیضہ کی موت سے مر کر اپنی اس دلیل کو جھوٹا کر گیا۔

صفحہ 273

جواب ۵: بالفرض اگر یہ قانون عام بھی تسلیم کر لیا جائے تو یہ قانون سچے نبیوں کے متعلق ہوگا نہ کہ جھوٹے نبیوں کے متعلق کیونکہ جھوٹے نبیوں کو مہلت ملنے سے یہ قانون مانع نہیں۔ فرعون و نمرود، بہاء اللہ ایرانی وغیرہ کو خدائی اور نبوت کے دعویدار ہونے کے باوجود کافی مہلت ملی اور جب مرزا صاحب کا دیگر دلائل سے جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا تو ان پر بھی یہ قانون لاگو نہ ہوگا۔

مرزائی عذر

مرزا صاحب پر جب علماء نے یہ اعتراض کیا کہ اگر آپ کا یہ قانون عام اور صحیح ہے تو پھر تئیس سال کے اندر اندر یہ جھوٹے مدعیان نبوت کیوں نہ قتل کر دیے گئے۔ اتنی زیادہ ان کو مہلت کیوں ملی۔ تو مرزا قادیانی نے یہ جواب دیا کہ آپ لوگ یہ ثابت کریں کہ انہوں نے نبوت کے دعوے کے ساتھ ساتھ اپنے اوپر وحی نازل ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہو۔ پھر بھی وہ تئیس سال تک زندہ رہے ہوں کیونکہ ہماری تمام تر بحث وحی نبوت میں ہے۔ مطلق دعوے میں نہیں۔ ملاحظہ ہو کتاب: تتمہ اربعین در روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۴۷۷۔

مرزا لکھتا ہے:

”اس مقام سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے اب اس کے مقابل یہ پیش کرنا کہ اکبر بادشاہ نے نبوت کا دعویٰ کیا یا روشن دین جالندھری نے دعویٰ کیا۔ یا کسی اور شخص نے دعویٰ کیا اور وہ ہلاک نہیں ہوئے یہ ایک دوسری حماقت ہے جو ظاہر کی جاتی ہے بھلا اگر یہ سچ ہے کہ ان لوگوں نے نبوت کے دعوے کیے اور تئیس برس تک ہلاک نہ ہوئے تو پہلے ان لوگوں کی خاص تحریر سے ان کا دعویٰ ثابت کرنا چاہیے اور وہ الہام پیش کرنا چاہیے جو الہام انھوں نے خدا کے نام پر لوگوں کو سنایا یعنی یہ کہا کہ ان لفظوں کے ساتھ میرے پر وحی نازل ہوئی ہے۔ کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اصل لفظ ان کی وحی کے کامل ثبوت کے ساتھ پیش کرنے چاہئیں۔ کیونکہ ہماری تمام بحث وحی نبوت میں ہے۔“

(ومثلہ، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ در روحانی خزائن ص ۳۹ و ۴۰ ج ۱۷)

صفحہ 274

الجواب: یاد رہے کہ یہ عبارت ہمارے حق میں ہے کیونکہ مرزائی اس بات کے کامل ثبوت میں ”کہ مرزا صاحب خدا کے رسول ہیں“ ۱۹۰۱ء یا اس کے بعد کی تحریر پیش کرتے ہیں اور صحیح بھی بات ہے کہ مرزا صاحب نے ۱۹۰۱ء میں نبوت کا دعویٰ کیا اور ۱۹۰۸ء میں منہ مانگا خدائی عذاب یعنی ہیضہ کی موت سے واصل بہ جہنم ہوئے۔ لہٰذا مرزا صاحب کی اپنی تحریر سے ان کے کذب پر پختہ مہر لگ گئی ۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

صداقت کی تیسری دلیل

پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہدی کی نشانی یہ ہے کہ اس کے زمانہ میں رمضان شریف کے مہینہ میں چاند اور سورج دونوں کو گرہن لگے گا یہ نشان مرزا قادیانی پر پورا ہوتا ہے اور اس سے پہلے جب سے زمین و آسمان بنے یہ کبھی نہیں ہوا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی حدیث نبوی کے مطابق سچا مہدی ہے۔

جواب ۱ : قطعی طور پر یہ حدیث رسول نہیں بلکہ ضعیف درجے میں یہ امام محمد باقر کا قول ہے جو دارقطنی نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ لہٰذا اس کو حدیث رسول بنا کر پیش کرنا نہ صرف یہ کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان عظیم اور کذب وافتراء ہے بلکہ حسب حدیث من کذب علی متعمداً الخ اپنا ٹھکانہ بدست خود جہنم میں بنانا ہے۔

جواب ۲ : امام باقر کا یہ قول سند کے اعتبار سے انتہائی ساقط اور مردود ہے۔ ملاحظہ ہو: ”عن عمرو بن شمر عن جابر عن محمد بن علی قال ان لمهدینا آیتین لم تکونا منذ خلق الله السموت والارض تنکسف القمر لاول لیلة من رمضان وتنکسف الشمس فی النصف منه ولم تکونا منذ خلق الله السموات والارض۔“ (دارقطنی جلد اول ص ۱۸۸، انصار دہلی) اس عبارت میں پہلا راوی عمرو بن شمر ہے جس کے متعلق میزان الاعتدال جلد ۲ ص ۲۶۲ میں لکھا ہے: ”لیس بشئ زائغ کذاب

صفحہ 275

رافضی‘ يشتم الصحابة ويروى الموضوعات عن الثقات منكر الحديث لا يكتب حديثه‘ متروك الحديث۔‘‘ علامہ شمس الدین ذہبیؒ امام فن رجال کے ان نو جملوں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ راوی ہرگز قابل اعتبار نہیں۔

دوسرا راوی جابر ہے اس نام کے بہت سے راوی ہیں یہاں کون سا جابر مراد ہے کسی کو کچھ پتا نہیں یہ ایک مجہول آدمی ہے ہاں انہیں میں سے ایک جابر جعفی ہے جس کے متعلق امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ مجھے جس قدر جھوٹے لوگ ملے ہیں جابر جعفی سے زیادہ جھوٹا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ یہی حال تیسرے راوی کا ہے محمد بن علی نام کے بہت سے راوی ہیں اس کی کوئی دلیل نہیں کہ اس محمد سے محمد باقر ہی مراد ہوں کیونکہ عمرو بن شمر کی عادت تھی کہ ثقہ راویوں کی جانب موضوع روایت منسوب کر کے نقل کیا کرتا تھا۔......... اب بتائیے جس روایت کی سند کا یہ حال ہو وہ کیسے قابل حجت ہو سکتی ہے؟

جواب ۲: بفرض محال اگر اسے محمد باقر کا قول مان لیا جائے تو مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کی ایک علامت یہ بھی ہے‘ کہ مرزا قادیانی کے زمانے میں رمضان کی جن تاریخوں میں یہ گرہن لگا تھا وہ اس قول کے مطابق نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کے زمانے میں‘ رمضان کی تیرہ (۱۳) تاریخ کو چاند گرہن اور اٹھائیس تاریخ کو سورج گرہن لگا تھا۔ حالانکہ اس قول میں یہ بات واضح ہے کہ چاند گرہن رمضان المبارک کی پہلی تاریخ کو لگے گا۔ اور سورج گرہن پندرہ کو لگے گا اور ایسا پہلے کبھی نہ ہوا ہوگا۔

مرزائی عذر

قانون قدرت یہ ہے کہ چاند گرہن ہمیشہ تیرہ‘ چودہ‘ پندرہ چاند کی ان تاریخوں میں سے کسی ایک میں لگتا ہے۔ اور سورج گرہن ۲۷/ ۲۸/ ۲۹‘ ان تاریخوں میں سے کسی ایک میں لگتا ہے۔ لهذا لاول ليلة سے مراد گرہن کی ان تاریخوں میں سے پہلی رات یعنی تیرہویں کی رات مراد ہے اور نصف منہ سے اٹھائیسویں رات مراد ہے اور مرزا جی کے زمانہ میں تیرہ اور اٹھائیس کو گرہن لگا جو امام محمد باقر کے قول کے مطابق ہے۔

صفحہ 276

جواب ۱: روایت کے الفاظ اس بیہودہ اور بودی تاویل کے ہرگز ہرگز متحمل نہیں آپ نے اول لیلۃ من رمضان فرمایا ہے جس سے مراد رمضان کی پہلی تاریخ ہوگی۔ نہ کہ اول لیلۃ من لیالی الکسوف فرمایا ہے جس سے تیرہ کی رات مراد لی جائے۔ تیرہ رمضان کو کوئی اول رمضان نہیں کہتا۔ ایسے ہی فی نصف منہ سے رمضان کی نصف یعنی پندرہویں تاریخ مراد ہوگی نہ کہ اٹھائیسویں تاریخ جو کہ رمضان کی آخری تاریخ کہلاتی ہے (نہ کہ نصف) عقل کے اندھے صورت کے کانے اور جاہل لوگوں کو کون سمجھائے۔

نصف اور وسط کا فرق

وسط درمیانی چیز کو کہتے ہیں اور نصف دو برابر حصوں میں سے ایک حصہ کو کہتے ہیں۔ امام باقر نے رمضان کا نصف فرمایا ہے جو پندرہ تاریخ بنتی ہے۔ ۲۷‘ ۲۸‘ ۲۹ گرہن کے تین دن ہیں‘ ان میں سے ۲۸‘ ۲۷ اور ۲۹ کا درمیانہ دن ہے۔ نہ یہ ان تین دنوں کا نصف ہے اور نہ رمضان کا نصف ہے۔ ۲۸ تاریخ کو رمضان کا نصف قرار دینا کسی طریق سے بھی درست نہیں یہ محض دجل و فریب ہے۔

جواب ۲: مرزا قادیانی کی تاویل اس لئے بھی باطل ہے کہ اس قول میں دو مرتبہ یہ جملہ آیا ہے: لم تکونا منذ خلق اللہ السموت والارض۔ یعنی ہمارے مہدی کے دو نشان ایسے ہوں گے کہ جب سے آسمان و زمین بنے ہیں تب سے ایسے نشان ظاہر نہیں ہوئے ہوں گے۔ یہ قول تو اسی صورت میں صحیح ہوسکتا ہے کہ جب اسے ظاہری الفاظ کے مطابق رکھا جائے۔ یعنی پہلی رمضان اور پندرہ تاریخ رمضان کی مراد لی جائے کیونکہ جب سے آسمان و زمین بنے ہیں ان تاریخوں میں کبھی چاند اور سورج کا گرہن نہیں لگا۔ تیرہ رمضان کو چاند گرہن اور اٹھائیس رمضان کو سورج گرہن مرزا قادیانی سے پہلے ہزاروں مرتبہ لگ چکا ہے۔ مرزا قادیانی سے قبل ۴۵ سال کے عرصہ میں تین مرتبہ ان ہی تاریخوں میں گرہن لگا ہے۔ چنانچہ مسٹر کیتھ کی کتاب (Use of the Globes) یوز آف دی گلوبز اور حدائق النجوم دونوں کتابوں میں ۱۸۰۱ء سے لے کر ۱۹۰۱ء تک ایک صدی کے گرہنوں کی فہرست دی ہے جس میں سے ۴۵ سالوں کی فہرست کتاب ﴿دوسری شہادت آسمانی﴾ مؤلفہ سید ابو احمد رحمانی میں ص ۱۵ سے ص ۲۲ تک دی

صفحہ 277

گئی ہے۔ ان پینتالیس برسوں میں پہلی مرتبہ ۱۳ جولائی ۱۸۵۱ء بمطابق تیرہ رمضان المبارک ۱۲۶۷ھ کو چاند گرہن اور ۲۸ رمضان کو سورج گرہن لگا تھا۔ پھر دوسری مرتبہ ۲۱ مارچ ۱۸۹۴ء بمطابق ۱۳۱۱ھ تیرہویں رمضان کو چاند گرہن اور چھ اپریل بمطابق ۲۸ رمضان ۱۳۱۱ھ کو سورج گرہن لگا تھا ........... پھر تیسرا گرہن ۱۸۹۵ء میں ۱۱ مارچ مطابق ۱۳۱۲ھ ۱۳ رمضان کو چاند گرہن اور ۲۶ مارچ مطابق ۱۳۱۲ھ ۲۸ رمضان کو سورج گرہن لگا تھا۔ مسٹر کیتھ کی کتاب ﴿یوز آف دی گلوبز﴾ اور حدائق النجوم ان دونوں کی فہرست کے مطابق پینتالیس (۴۵) سال کے قلیل عرصہ میں تین مرتبہ گرہن لگنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے قبل انہیں تاریخوں میں کئی مرتبہ اور لگ چکا ہوگا۔

ایک اہم قاعدہ

انسائیکلوپیڈیا آف برٹینکا کی ۲۷ ویں جلد میں گرہن کے متعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سات سو تریسٹھ برس پہلے سے ۱۹۰۱ء تک کا تجربہ لکھا ہے جس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ ہر ثابت شدہ یا مانا ہوا گرہن ۲۲۳ برس قبل اور بعد میں اسی قسم کا گرہن ہوتا ہے یعنی وہ مانا ہوا گرہن جس مہینہ میں جس طور اور جس وقت کا ہوگا ۲۲۳ برس قبل اور بعد بھی انہیں خصوصیات کے ساتھ ویسا ہی دوسرا گرہن ہوگا اب اس حساب کی روشنی میں غور کرلیں جب ۱۲۶۷ھ سے ۱۳۱۲ھ تک (۴۵) پینتالیس برس میں تین مرتبہ گرہنوں کا اجتماع رمضان المبارک کی ۱۳ اور ۲۸ تاریخ کو ہوا ہے تو حسب قاعدہ دیکھا جائے کہ کس کس وقت میں گرہنوں کا اجتماع ۱۳ اور ۲۸ رمضان میں ہوا ہے۔ ذیل میں اس کا حساب پیش کرکے چند مدعیوں کے نام جو میرے علم میں ہیں پیش کیے جاتے ہیں اور واقع میں کتنے ہوئے ہیں اسے ماہرین تاریخ ہی جان سکتے ہیں۔

صفحہ 278

پینتالیس برس کی قلیل مدت میں گہنوں کا

نقشہ ملاحظہ ھو

نمبر شمار یا چاند گہن یا سورج گہن یا کلی یا جزوی گہن عیسوی ہجری انگریزی مہینہ تاریخ عربی مہینہ تاریخ وقتِ گہن (۱) چاند جزئی ۱۸۵۱ ۱۲۶۷ جولائی ۱۳ رمضان ۱۳ آدھی رات کے بعد یہ گہن ہندوستان میں مرزا قادیانی کے دعویٰ سے قبل ہوا جبکہ اس کی عمر گیارہ یا بارہ برس کی تھی۔ سورج " " جولائی ۲۸ رمضان ۲۸ دن کے وقت (۲) چاند جزئی ۱۸۹۴ ۱۳۱۱ مارچ ۲۱ رمضان ۱۳ آدھی رات کے بعد یہ گہن ہندوستان میں ہوا ہی نہیں بلکہ امریکہ میں ہوا جس وقت مسٹر ڈوئی مدعی مسیحیت وہاں موجود تھا۔ سورج " " اپریل ۶ رمضان ۲۸ دن کے وقت (۳) چاند کلی ۱۸۹۵ ۱۳۱۳ مارچ ۱۱ رمضان ۱۳ آدھی رات کے بعد یہ گہن ہندوستان میں ہوا لیکن یہ اس حدیث کا مصداق نہیں کیوں کہ اس سے قبل ایک ہی صدی میں اس گہن کی نظیر موجود ہے سورج " " " ۲۶ رمضان ۲۸

صفحہ 279

اور اس وقت طریف نامی بادشاہ موجود تھا۔ یہ صاحب شریعت نبی ہونے کا مدعی تھا۔ یہ جب ۱۲۶ھ کو مرا تو اس کا بیٹا صالح نامی بادشاہ ہوا۔ نیز ۳۴۶ھ مطابق ۹۵۹ء رمضان کی ان ہی تاریخوں میں گرہن لگا اور اس وقت ابو منصور عیسیٰ مدعی نبوت موجود تھا۔

حساب سے پہلا گرہن ۱۶۱ھ مطابق ۷۷۷ء رمضان کی ان ہی تاریخوں میں لگا۔ اس وقت صالح نامی مدعی نبوت موجود تھا اور اس صالح کے زمانہ میں مرزا قادیانی کی طرح دو مرتبہ رمضان کی ان ہی تاریخوں میں گرہن لگا۔ یعنی ۱۶۲ھ پھر ۱۷۲ھ میں بھی لگا۔ پھر ۱۳۱۱ھ مطابق ۱۸۹۴ء کو لگا۔ لیکن اس کا ظہور ہندوستان میں نہ ہوا۔ بلکہ امریکہ میں ہوا اور اس وقت مسٹر ڈوئی وہاں مسیح موعود ہونے کا جھوٹا مدعی موجود تھا۔

میں صالح مدعی تھا۔ اور دوسرا گرہن ۱۳۱۲ھ مطابق ۱۸۹۵ء میں لگا جس میں مرزا قادیانی جھوٹا مدعی نبوت تھا۔

صفحہ 280

باب چہارم

بحث رفع ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام

(ایک اہم اور ضروری اصول)

مرزائیوں کے ساتھ حیات و وفات مسیح یا ختم نبوت، اجزائے نبوت کے موضوع پر بحث کرنے سے پہلے یہ طے کر لینا ضروری ہے کہ فریقین اگر آیت قرآنی کی تفسیر و تشریح اپنی مرضی ورائے سے کریں گے تو بحث کا کوئی خاص فائدہ نہ ہوگا، وہ اپنا معنی بیان کریں گے اور ہم اپنا معنی بیان کریں گے اور بحث کا حاصل کچھ نہ نکلے گا، اس لئے مناسب ہے کہ تیرہ صدیوں میں سے چند ایسے مفسرین ومجددین کا انتخاب کر لیں جن کی بات ہر دو فریق تسلیم کریں۔

چودہویں صدی کے مفسرین ومجددین کی بات بے شک نہ تسلیم کریں لیکن مرزا قادیانی سے قبل تیرہ صدیوں میں سے کسی ایک مفسر و مجدد کا انتخاب کر لیں، جس کا بیان کیا ہوا معنی اور تفسیر فریقین کے نزدیک معتبر ہو اور وہ قول آخر مانی جائے گی۔ ہم مجددین میں سے ان مجددین کا انتخاب کرتے ہیں جو فریقین کے نزدیک مسلم ہیں اور مرزائیوں کے ہاں مسلم مجددین کی فہرست کتاب عسل مصفی میں موجود ہے۔ واضح ہو کہ یہ کتاب عسل مصفی وہ کتاب ہے جو مرزا صاحب کے ایک مرید مرزا خدا بخش نے لکھی اور ہر روز جتنا حصہ لکھا جاتا وہ باقاعدہ مرزا صاحب کو سنایا جاتا۔ اگر اتفاقاً کبھی وہ مرزا صاحب کو نہ سناتا تو مرزا صاحب بڑے اہتمام کے

صفحہ 281

ساتھ اس کے متعلق استفسار کرتے کہ آج تم نے مجھے اس کتاب کا مسودہ کیوں نہیں سنایا۔ غرضیکہ پوری کتاب مرزا غلام احمد قادیانی نے پورے اہتمام کے ساتھ سنی گویا یہ مرزا صاحب کی مصدقہ کتاب ہے۔

سو اس میں جو مجددین کی فہرست دی گئی ہے وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک بھی مسلم مجددین ہیں۔

(وضاحت کیلئے دیکھئے کتاب عسل مصفیٰ مصنفہ مرزا خدا بخش ص۱۱۷ جلد اول)

تنقیح موضوع

عام طور پر مرزائی سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے اور سطحی مطالعہ رکھنے والے علماء کو چکر میں ڈالنے کے لئے یہ لاطائل بحث چھیڑتے رہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا نہیں؟ اس بحث کا انتخاب انہوں نے اس لئے کیا ہے تا کہ وہ غیر ثابت اور دور از کار تاویلات کا سہارا لے کر کچھ دیر میدان مناظرہ میں ٹھہر سکیں۔ اور عوام پر اپنا رعب جما سکیں۔ اس موقع پر مسلمان مناظر کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ مرزائی متکلم کی ان آرزوؤں پر پانی پھیرنے میں اپنی جانب سے کوئی کسر نہ اٹھا رکھے۔ اس موضوع پر بحث کرنے کی بجائے پہلے تو یہ کوشش کرے کہ تعین موضوع کے متعلق شروع میں جو دلائل پیش کئے گئے ہیں ان پر ایک نظر کرے اور ان کی روشنی میں بحث حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مقدس ذات کی بجائے مرزا قادیانی مدعی مسیحیت و نبوت کے کردار و کیریکٹر پر بحث چلے۔ اگر وہ اپنی تحریرات کی روشنی میں ایک سچا اور شریف انسان دکھائی دے تو اس کے بعد بیشک اس مسئلہ پر گفتگو کر لیں۔ لیکن اگر وہ ایک شریف اور سچا انسان بھی ثابت نہیں ہوتا تو اس مسئلہ پر جس کا بقول مرزا قادیانی دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں نہ وہ ہمارے ایمان کی جز ہے نہ اس عقیدے پر کسی قسم کا گناہ لازم آتا ہے کیونکہ یہ عقیدہ بعض صحابہ کرام کا بھی رہا ہے۔ تو ایسے مسئلہ پر گفتگو کر کے وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر اس میں کامیابی ہو جائے تو یہ بڑی بات ہوگی۔ لیکن اگر کسی مجبوری کی وجہ سے ایسا نہ کیا جا سکے تو پھر باقاعدہ خم ٹھونک کر اسی بحث کو لے۔ اور پہلے مرحلہ میں تنقیح موضوع کرتے ہوئے مرزائیوں کی تاویلات رکیکہ پر اس طرح بند لگائے کہ ہمارا اور مرزائیوں کا اصل اختلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و وفات میں نہیں بلکہ ان کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے اور قیامت کے قریب دوبارہ نازل ہونے میں ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہم حضرت عیسیٰ علیہ

صفحہ 282

السلام کی حیات ثابت بھی کر دیں تو بھی ہمارا مدعا پورا نہ ہوگا تا آں کہ ہم آپ کا آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر بعد میں نازل ہونا ثابت نہ کر دیں۔ اسی طرح اگر بالفرض مرزائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کر دیں تو بھی ان کا دعویٰ مکمل نہیں ہو سکتا جب تک رفع ونزول کی تردید ثابت نہ کریں۔ محض موت ثابت ہونے سے رفع ونزول کی نفی نہیں ہو جائے گی کیونکہ عیسائی بھی مسلمانوں کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کے قائل ہیں لیکن ساتھ ہی وہ ان کی موت کے بھی قائل ہیں کہ وہ رفع سے پہلے تین دن تک بحالت موت رہے۔ تو حاصل یہ نکلا کہ اصل نقطہ اختلاف رفع ونزول ہے نہ کہ حیات و وفات...... لہٰذا بحث کرتے وقت اصل نقطہ اختلاف ہی کو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ بحث کا عنوان موت وحیات کی بجائے رفع ونزول ہونا چاہئے۔ ان شاء اللہ بحث کا یہ عنوان متعین ہوتے ہی مرزائی مناظر کی ہوا سرکنی شروع ہو جائے گی کیونکہ اس عنوان میں بیہودہ تاویلات کی گنجائش اتنی آسانی سے نہیں نکل سکتی جو وہ حیات و وفات کے عنوان میں نکال لیتے ہیں۔ لہٰذا حتمی بحث رفع اور نزول کے عنوان پر ہونی چاہیے...... اگر رفع نزول ثابت ہو گیا تو حیات خود بخود ثابت ہو جائے گی اور اگر رفع نزول قرآن وحدیث اور اجماع امت سے ثابت نہ ہوا تو موت خود بخود ثابت سمجھی جائے گی۔ اس لئے موت وحیات پر بحث کرنا تضیع اوقات ہوگا۔ اصل عنوان اس بحث کا رفع ونزول ہوگا۔ موت وحیات نہیں جو قادیانیوں نے اپنی مکاری اور دجل وفریب سے بنا رکھا ہے۔ لہٰذا بحث کرنے سے قبل اس عنوان کی تصحیح ضروری ہے۔ اب ذیل میں رفع ونزول ہی کا عنوان متعین کرنے کے لئے ایک گرانقدر تقریر پیش کی جاتی ہے جسے یاد رکھنا ہر مسلمان مناظر کیلئے ضروری ہے...... ملاحظہ فرمائیں:

مقدمہ ۱

قرآن کریم کا اعلان

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قرآن حکیم اہل کتاب کے تمام اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لئے بطور حکم آیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے: وما انزلنا عليك الكتاب الا لتبیّن لهم الذی اختلفوا فيه وهدی ورحمة لقوم یومنون۔

(سورۃ نحل آیت نمبر ۶۴)

صفحہ 283

(ترجمہ شیخ الہند) ”اور ہم نے اتاری تجھ پر کتاب اس واسطے کہ کھول کر سنا دے تو ان کو وہ چیز کہ جس میں جھگڑ رہے ہیں۔ اور سیدھی راہ سمجھانے کو اور واسطے رحمت ایمان لانے والوں کے۔“

مرزا قادیانی کا اقرار

مرزا قادیانی نے بھی مندرجہ بالا آیت سے یہی استدلال کیا ہے۔ دیکھیے ازالہ اوہام در روحانی خزائن ص ۲۵۳۔۲۵۴ جلد ۳، براہین احمدیہ حصہ اول در روحانی خزائن جلد اول ص ۲۳۴۔

مقدمہ ۲

مرزائی اصول

مرزا قادیانی کے نزدیک بھی یہ اصول مسلم ہے کہ قرآن کریم چونکہ اہل کتاب کے مختلف فیہ مسائل کی تنقیح کے لئے آیا ہے اس لئے اگر وہ اہل کتاب کے کسی عقیدہ کی تردید نہ کرے تو اس کا سکوت ہی تائید سمجھا جائے گا۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک جگہ لکھتا ہے: ”اب ہم دیکھتے ہیں کہ واقعہ صلیب سے متعلق قرآن شریف کیا کہتا ہے۔ اگر یہ خاموش ہے تو پتا چلا کہ یہود و نصاریٰ اپنے خیالات میں حق پر ہیں۔“

(ریویو آف ریلیجنز اپریل ۱۹۱۹ء شمارہ نمبر ۴ ج ۱۸ ص ۱۴۹ و ۱۵۰)

طریق استدلال

ان دونوں مقدموں سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ہمارا اور قادیانیوں کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم کی حیثیت اہل کتاب کے لئے حَکَم کی ہے۔ اور قرآن کریم کا ان کے کسی عقیدہ کی (جس کا صراحتاً یا اشارۃً ذکر قرآن کریم میں ہو) تردید نہ کرنا اس عقیدہ کی صحت کی دلیل ہے۔

اسی متفقہ عقیدہ کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق درج ذیل عقائد رکھتے ہیں:

صفحہ 284

(۱) الوہیت مسیح‘ (۲) ابنیت‘ (۳) تثلیث‘ (۴) صلیب اور کفارہ‘ (۵) رفع جسمانی ونزول جسمانی٭ اسی طرح یہودی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں متعدد خیالات رکھتے ہیں۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے رفع ونزول کے عقیدہ کے علاوہ باقی سب عقائد باطلہ کی واضح الفاظ میں تردید فرمادی ہے۔ دیکھئے:

لقد كفر الذين قالوا ان الله هو المسيح ابن مريم ۔ (المائدہ: ۷۲)

وقالت النصارى مسيح ابن الله ۔ (التوبہ: ۳۰)

لقد كفر الذين قالوا ان الله ثالث ثلثہ ۔ (المائدہ: ۷۳)

وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم ۔ (النساء: ۱۵۷)

نیز کفارہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ولا تزر وازرة وزر اخرى ۔ (فاطر: ۱۸)

لیکن پانچویں عقیدہ ”رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام“ کی تردید پورے قرآن مجید یا احادیث مبارکہ میں کہیں نہیں کی گئی۔ بلکہ قرآن نے اس کا اثبات کیا ہے۔ اور احادیث مبارکہ

٭ عیسائیوں کے عقائد بالا معلوم کرنے کے لئے درج ذیل تین حوالے محفوظ رکھنے چاہئیں:

حوالہ ۱: ”یہ کہہ کر وہ ان کو دیکھتے دیکھتے اوپر اٹھا لیا گیا۔ اور بدلی نے اسے ان کی نظروں سے چھپا لیا اور اس کے جاتے وقت جب وہ آسمان کی طرف غور سے دیکھ رہے تھے تو دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے ان کے پاس آ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : اے جلیلی مردو تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے اسی طرح پھر آئے گا۔ جس طرح تم نے اسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے۔“ (انجیل رسول کے اعمال باب ۱ آیت ۹‘ ۱۰‘ ۱۱ وباب ۳ آیت ۲۰‘ ۲۱ انجیل یوحنا باب ۲۰ آیت ۱۷ تا ۲۰)

حوالہ ۲: مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عیسائیوں کا یہی عقیدہ تھا۔ کہ درحقیقت مسیح ابن مریم ہی دوبارہ دنیا میں آئیں گے ۔“ (ازالۃ اوہام در روحانی خزائن ص ۳۱۸ ج ۳)

(ایک سوال کے تحت یہی عبارت مرزا نے ازالۃ اوہام در روحانی خزائن ص ۳۵۳ ج ۳ پر بھی نقل کی ہے)

حوالہ ۳: ان عقيدة حياتہ قد جاءت فى المسلمين من الملة النصرانية۔

(ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ۶۶۰ ج ۲۲ خزائن )

(ترجمہ از مرتب) ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا عقیدہ مسلمانوں میں عیسائی ملت کی طرف سے آیا ہے۔“

صفحہ 285

میں بھی صراحتاً تائید موجود ہے۔ یہاں اگر قرآن کا اس عقیدہ کی تردید سے صرف ساکت ہو جانا بھی ثابت ہو جاتا تو اس عقیدہ کی تائید ہو جاتی چہ جائیکہ خود قرآن اپنی زبان میں اس کی تصدیق کر رہا ہے۔ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ اور وَرَافِعُكَ اِلَيَّ کی آیتیں اس پر شاہد عدل ہیں تو خود آیت وما انزلنا عليك الخ اور مرزا کے بیان کردہ اصول کے مطابق عیسائیوں کا عقیدہ رفع ونزول صحیح ٹھہرا اب اس کی تردید کی گنجائش نہیں ہے اور اس سلسلہ میں جو بھی تاویلیں مرزائیوں نے کی ہیں وہ محض موشگافیوں سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔

رفع ونزول سے متعلق یہ بحث اور تقریر سن کر مرزائیوں کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ طرح طرح سے اپنے ﴿حضرت﴾ کے بچاؤ کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ بھی چند ایک اعتراض و جواب یاد رکھیں۔

اعتراضات از مرزا قادیانی

(اعتراض) ۱ : قرآن مجید کی تیس آیتوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا ثبوت ہوتا ہے تو جب آپ کی وفات ثابت ہوگئی تو رفع ونزول کا عقیدہ بھی باطل ہوگیا‘ لہٰذا بالواسطہ رفع ونزول کی تردید پائی گئی۔

(جواب) : اولاً تو ہمیں یہ تسلیم ہی نہیں کہ قرآن پاک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا ذکر ہے بلکہ قرآن سے تو ان کا رفع آسمانی ثابت ہے جیسا کہ ہم آگے ذکر کریں گے۔ اور اگر بالفرض تسلیم بھی کرلیں کہ قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو بیان کیا گیا تو اس سے بھی عیسائیوں کے نظریہ کی تردید نہیں ہوتی کیونکہ عیسائی تو خود موتِ عیسیٰ کے قائل ہیں۔ انجیل میں لکھا ہے کہ وہ تین دن یا ۴ دن تک بحالتِ موت رہے پھر آسمان پر اٹھائے گئے‘ اس کے بعد قیامت کے قریب نازل ہوں گے۔

(لوقا باب ۲۴ آیت نمبر ۴۶ تا ۵۳)

............ اور خود مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں اس کا اقرار کیا ہے۔

(ازالہ اوہام در

روحانی خزائن ص ۲۲۵ ج ۳) لہٰذا موت ثابت ہونے سے رفع ونزول کا بطلان نہیں ہوسکتا۔ ہماری دلیل اپنی جگہ برقرار ہے۔

صفحہ 286

دوسرا حربہ: دراصل بات یہ ہے کہ رفع ونزول کا عقیدہ عیسائیوں کے نزدیک متفق علیہ نہیں ہے۔ کیونکہ متی اور یوحنا (جو دونوں حواری ہیں) نے اس عقیدہ کی تصدیق نہیں کی۔ اور قرآن کریم اسی عقیدہ کی تردید کرتا ہے جو ان کے نزدیک متفق علیہ ہو۔ لہذا معلوم ہوا کہ عقیدہ رفع ونزول غلط ہے۔ (جواب از مرزا در ازالہ اوہام در خزائن ص۲۹۳ ج۳)

جواب ۱: یہ دعویٰ بالکل جھوٹ بلکہ سفید جھوٹ ہے۔ اور مرزائیوں کی جہالت کا عظیم شاہ کار ہے۔ ان دونوں انجیلوں میں صراحت کے ساتھ رفع ونزول کا عقیدہ موجود ہے۔ دیکھیے انجیل متی باب ۲۶ آیت ۶۴ ایضاً ۲۴۔۳۰ انجیل یوحنا باب ۲۰ آیت ۱۷۔

خدا کی قدرت کا کرشمہ

جواب ۲: ”دروغ گو را حافظہ نہ باشد“ کے مصداق اسی ازالہ میں ستر صفحہ قبل یہ لکھ چکا ہے کہ چاروں انجیلیں متفق ہیں۔ خود مرزا نے یہ لکھا ہے کہ رفع ونزول عیسائیوں کا بھی متفقہ عقیدہ ہے۔ دیکھیے :

حوالہ ۱: تمام فرقے نصاریٰ کے اسی قول پر متفق نظر آتے ہیں کہ تین دن تک حضرت عیسیٰ مرے رہے اور پھر قبر میں سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے‘ اور چاروں انجیلوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ (ازالہ اوہام در خزائن ج۳ ص۲۲۵)

حوالہ ۲: ”اور منجملہ انجیلی شہادتوں کے جو ہم کو ملی ہیں انجیل متی کی مندرجہ ذیل آیت ہے“...... ”اور اس وقت انسان کے بیٹے کا نشان آسمان پر ظاہر ہوگا اور اس وقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی اور انسان کے بیٹے کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔“ دیکھو متی باب ۲۴ آیت ۳۰۔

(مسیح ہندوستان میں ر۔ خ ج ۱۵ ص ۳۸)

اس حوالہ میں مرزا صاحب نے انجیل متی کے حوالہ سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع ونزول خود تسلیم کرلیا ہے۔ جبکہ ازالہ اوہام میں وہ اس کا انکار کر رہا ہے۔

حوالہ ۳: ”اب پہلے ہم صفائی بیان کیلئے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری

صفحہ 287

احادیث اور اخبار کی رو سے جن نبیوں کا اس وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔

(توضیح مرام ص ۳۔ رخ جلد ۳ ص ۵۲)

لہٰذا مرزا کا یہ جواب کہ یہ عیسائیوں کا متفقہ عقیدہ نہیں اور دو انجیلوں میں ہے اور دو میں نہیں یہ خود اس کے اپنے اقرار سے غلط ثابت ہوا۔ ؎

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

اب مرزائی خود ہی سوچ لیں کہ وہ جھوٹے ہیں یا ان کے ﴿حضرت صاحب﴾ نے جھوٹ لکھا ہے۔ اس کے بعد ہی مسلمانوں سے بحث کی جرات کریں۔

مرزائی عذر ۳: ایلیا نبی کے متعلق یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ بھی آسمانوں پر زندہ اٹھائے گئے ہیں۔ ان کے رفع کی تردید قرآن میں دکھاؤ، اگر تردید نہ مل سکے جیسا کہ حقیقت بھی یہی ہے تو ماننا پڑے گا کہ وہ بھی بقول تمہارے آسمان پر زندہ ہیں، حالانکہ کوئی بھی مسلمان اس کا قائل نہیں۔ اس سے تمہارا اصول ٹوٹ گیا اور ہمارے دعوے یعنی موت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف دلیل قائم نہ ہوسکی۔

جواب ۱: ؎

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

ہمارے اوپر اعتراض تو جب ہوتا جب مذکورہ اصول ہمارا خود ساختہ ہوتا۔ یہ اصول تو خود تمہارے حضرت کے نزدیک تسلیم شدہ ہے، جس کا حوالہ گزر چکا ہے۔

لہٰذا تمہیں بھی حضرت ایلیا علیہ السلام کے سلسلہ میں یہودیوں جیسا عقیدہ رکھنا پڑے گا۔ اور اپنے بچاؤ کے سلسلہ میں جو تم جواب دو گے وہی جواب ہماری طرف سے بھی آپ کو تسلیم کرنا ہوگا۔

جواب ۲: اصل بات یہ ہے کہ یہودیوں کے اس عقیدہ باطلہ کی تردید کا مطالبہ قرآن کریم سے کرنا سراسر جہالت اور نری حماقت ہے۔ اس لئے کہ قرآن کریم ان ہی عقائد

صفحہ 288

کی تردید یا تائید کرتا ہے جن کا ذکر ایجابی یا سلبی رنگ میں قرآن کریم میں موجود ہے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام وغیرہ کا ذکر۔ اس کے برخلاف ایلیا نبی کا ذکر قرآن کریم میں کہیں موجود نہیں ہے لہٰذا اس کی تردید بھی قرآن کریم سے تلاش نہیں کی جائے گی۔ اس عقیدہ کا محض بائبل میں پایا جانا یا تورات میں پایا جانا قرآن کریم کی تردید کا عنوان بننے کے لئے کافی نہیں ہے۔ اور ہمارا اصول اپنی جگہ برقرار ہے۔ لہٰذا ایلیا نبی کو حضرت عیسیٰ پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔

خلاصہ کلام

اصول بالا اور اس کے نتیجہ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ ہمارے اور مرزائیوں کے مابین اصل زیر بحث مسئلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کا ہے نہ کہ موت وحیات کا۔ اس لئے کہ:

اولاً : موت وحیات رفع ونزول کو لازم ہے نہ کہ رفع ونزول موت وحیات کو۔ لہٰذا اگر موت وحیات پر بحث بھی کی جائے تو اس وقت تک تام نہ ہوگی جب تک حیات کے بعد رفع ثابت نہ کیا جائے اور موت کے بعد عدم رفع کا ثبوت نہ ہو۔ اس لئے پھر رفع ونزول کو موضوع بنانا پڑے گا۔ اور اسی پر بحث فیصلہ کن ہوگی۔ بریں بنا رفع ونزول ہی موضوع بحث قرار دینا چاہیے۔

ثانیاً : رفع ونزول عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔ اور قرآن کریم کا ان کے اس عقیدہ کی تردید نہ کرنا اور اس کی صراحتاً تائید وتصدیق کرنا اس عقیدہ کی صحت کی دلیل ہے اب اگر قادیانی اس کے منکر ہیں تو انہیں اسی موضوع پر گفتگو کرنی چاہیے نہ کہ موت وحیات کے مسئلے پر جو کسی طرح نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتا۔

اس کے بعد ذیل میں قرآن وحدیث اجماع امت اور خود مرزا غلام احمد کے اقرار و اعتراف کی روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کی تائید اور وفات کے انکار کے دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔ ساتھ ساتھ ان موشگافیوں کا بھی اجمالی ذکر ہوگا جو ان مواقع پر مرزائیوں کی جانب سے کی جاتی ہیں۔

صفحہ 289

بحث اول

رفع ونزول کا اثبات آیاتِ قرآنیہ سے

(بقلم مرزا باقر مرزا)

پہلی دلیل: هو الذی ارسل رسوله بالھدی و دین الحق ۔ (توبہ:۳۳) ترجمہ:”وہ اللہ ایسا ہے کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔“

آیت بالا سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول دنیا پر استدلال کرتے ہوئے مرزا قادیانی رقم طراز ہے: هو الذی ارسل رسوله بالھدیٰ و دين الحق ليظهره على الدين كله ۔ ”یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ در روحانی خزائن ج ۱ ص ۵۹۳ چشمہ معرفت در خزائن ج ۲۳ ص ۹۱)

اس تحریر سے صاف معلوم ہو گیا کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کی دلیل ہے کیونکہ نزول اسی وقت ہوگا جب کہ پہلے سے رفع ثابت اور واقع ہو چکا ہو۔

دوسری دلیل

عسى ربكم ان يرحمكم وان عدتم عدنا ۔ لے

(ترجمہ)”عجب نہیں کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے۔“ (پ ۱۵ سورت بنی اسرائیل ترجمہ از حضرت تھانویؒ)

لے مرزا قادیانی نے اس قرآنی آیت کو اپنے اردو محاورے میں لکھا ہے: اردو میں کہتے ہیں وہ تم پر رحم کرے اس کے لئے مرزا قادیانی نے اس میں علیکم کا اضافہ کیا ہے۔ کیونکہ اس کے مخاطبین زیادہ اردو پڑھے لوگ تھے۔ یہ قرآن کریم میں صریح تحریف ہے۔

صفحہ 290

یہ آیت اگر چہ ہمارے نزدیک زیر بحث مسئلہ رفع و نزول کے لئے چنداں مفید نہیں ہے لیکن چونکہ مرزا قادیانی نے اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول دنیاوی پر استدلال کیا ہے اس لئے اس آیت کو بھی ہم نے اپنی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ کیونکہ فریق مخالف کا اقرار بھی ایک مستقل دلیل ہے خواہ وہ کسی بھی ضمن میں ہو۔ مرزا کی استدلالی تحریر حسب ذیل ہے:

”یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح علیہ السلام کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے۔ یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف و احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے............ اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے۔“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم در روحانی خزائن جلد ۱ ص ۶۰۱ ۔ ۶۰۲)

مرزائیوں کی بوکھلاہٹ

مرزا کی مذکورہ بالا عبارات اور استدلال سے مرزائیوں کی بوکھلاہٹ ایک فطری امر ہے۔ کیونکہ ان تحریروں کی موجودگی میں ان کی بحث کی ساری بنیاد ہی منہدم ہو جاتی ہے۔ اس لئے اپنے بچاؤ کے لئے وہ مختلف تدبیریں کرتے ہیں، لیکن جب کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی تو وہ تھک ہار کر آخری جواب دیتے ہیں۔ کہ یہ باتیں مرزا قادیانی نے محض رسمی طور پر لکھی ہیں جس کا خود مرزا نے اپنی کتاب اعجاز احمدی (در خزائن ج ۱۹ ص ۱۱۳) میں اعتراف کر کے اپنی غلطی تسلیم کی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ محض ٹالنے اور حق کو نہ تسلیم کرنے کا ایک بہانہ ہے۔ اس لئے کہ:

اولاً : یہ عقیدہ رسمی نہیں بن سکتا۔ کیونکہ مرزا نے اس کے ثبوت میں آیات قرآنیہ پیش کی ہیں جس سے ثابت ہوا کہ انہوں نے یہ عقیدہ رسمی طور پر نہیں بلکہ قرآن سے قبول کیا تھا۔

ثانیاً : اس وجہ سے بھی یہ ﴿عقیدہ نزول عیسیٰ﴾ مرزا کی اجتہادی غلطی نہیں قرار دیا جا

صفحہ 291

سکتا کہ یہ کتاب (براہین احمدیہ (جس میں یہ عقیدہ تحریر ہے) بقول مرزا قادیانی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے اور اس نے آپ کو اس کا نام قطبی بتایا ہے‘ یعنی وہ کتاب قطب ستارہ کی طرح مستحکم اور غیر متزلزل ہے۔ جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپے کا اشتہار دیا گیا ہے۔ (دیکھیے براہین احمدیہ در روحانی خزائن جلد اول ص ۲۷۵) لہٰذا اگر مرزائیوں کے بقول نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کو رسمی کہا جائے تو نہ یہ کتاب قطبی رہے گی اور نہ اس میں ذکر کردہ باتیں مستحکم اور غیر متزلزل قرار دی جائیں گی۔ خصوصاً جب یہ کتاب خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمائی ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایسی فاش غلطی (عقیدہ نزول) کو آپ نظر انداز فرمادیں جو مرزا کے نزدیک شرک عظیم ۱؎ ہے۔ (بہر حال آپؐ کا نکیر نہ فرمانا اس عقیدہ کی صحت پر کھلی دلیل سمجھنا چاہیے)

ثالثاً : یہ عقیدہ نزول اجتہادی غلطی اس لئے بھی نہیں بن سکتا کہ خود مرزا نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ”ہم نے اس کتاب میں کوئی دعویٰ اور کوئی دلیل اپنے قیاس سے نہیں لکھی۔“

ملاحظہ ہو عبارت:

”سوم یہ امر بھی ہر ایک صاحب پر روشن رہے ........... دعویٰ بھی وہی لکھا ہے جو کتاب ممدوح نے کیا ہے اور دلیل بھی وہی لکھی ہے جو اس پاک کتاب نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے نہ ہم نے فقط اپنے قیاس سے کوئی دلیل لکھی ہے اور نہ کوئی دعویٰ کیا ہے۔“

(براہین احمدیہ دوم روحانی خزائن ص ۸۸ ج ۱)

حاصل یہ نکلا کہ مرزا کا مذکورہ بالا اعتراف اپنی جگہ برقرار ہے اور اس کو کسی دوسرے معنی پر محمول کرنے کی کوشش کرنا یا اسے غلط قرار دینا بے سود ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔

رابعاً : مرزا خود معصوم عن الخطا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ لکھتا ہے:

”ان الله لا يتركني على خطاء طرفة عين و يعصمنى عن كل مین۔“ یعنی اللہ تعالیٰ مجھے غلطی پر ایک لمحہ بھی باقی نہیں رہنے دیتا۔ اور مجھے ہر ایک غلط بات سے محفوظ

الا شرك عظيم ياكل الحسنات و يخالف الحصاة بل هو توفى كمثل اخوانه ومات كمثل اهل زمانه وان عقيدة حياته قد جاءت في المسلمين من الملة النصرانية۔

(الاستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی در روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۶۶۰)

صفحہ 292

رکھتا ہے۔ (نورالحق ص ۷۲ حصہ دوم)

اس دعویٰ کے مطابق بھی مرزا نے ”براہین احمدیہ“ میں جو کچھ لکھا درست لکھا بصورت دیگر اس کا یہ دعویٰ غلط اور ایک سیاہ جھوٹ ہے۔

ثانیاً : مرزا کہتا ہے کہ میری ہر بات الہامات پر مبنی ہوتی ہے۔ (چنانچہ اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے) کلما قلت قلت من امرہ وما فعلت شیئاً من امری ۔ یعنی میں نے جو کچھ کہا وہ سب کچھ خدا کے امر سے کہا ہے اور اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا۔

(مواہب الرحمان ص ۳۔ ر۔خ جلد ۱۹ ص ۲۲۱)

مرزا ”براہین احمدیہ“ لکھتے وقت اپنے قول کے مطابق ملہم تھا۔ اور ملہم اس کے بقول غلطی نہیں کر سکتا۔ تو اس کا اعجاز احمدی میں یہ کہنا کہ میں نے براہین احمدیہ میں غلط لکھ دیا تھا۔ کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے؟۔

اس سے معلوم ہوا کہ وفات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کی بنیاد مرزا نے قرآن و حدیث پر نہیں اپنے الہام پر رکھی تھی۔ اور وہ اس کی بار بار صراحت کرتا ہے۔

ثالثاً : مرزا نے براہین احمدیہ کے بارے میں ایک خواب لکھا ہے جو حسب ذیل ہے:

”اسی زمانے کے قریب کہ جب یہ ضعیف اپنی عمر کے پہلے حصے میں ہنوز علم میں مشغول تھا۔ جناب خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خواب میں دیکھا۔ اور اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی۔ کہ جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔

آنحضرت نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے۔ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے۔ جس نام کی تعبیر اب اس اشتہاری کتاب کی تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے جس کا کامل استحکام پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے۔ غرض آنحضرت نے وہ کتاب مجھ سے لے لی اور جب وہ کتاب حضرت مقدس نبوی کے ہاتھ میں آئی۔ تو آنجناب کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوش رنگ اور خوبصورت میوہ بن گئی کہ جو

صفحہ 293

امرود سے مشابہہ تھا مگر بقدر تربوز تھا۔ آنحضرت نے جب اس میوہ کو تقسیم کرنے کیلئے قاش قاش کرنا چاہا تو اس قدر اس میں سے شہد نکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مبارک مرفق تک شہد سے بھر گیا۔“

(براہین احمدیہ ص ۲۴۹۔ رخ جلد اول ص ۲۷۵)

تبصرہ

اس خواب سے درج ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں:

خوشنودی فرمایا اور اسے معتبر قرار دیا۔

اگر مرزا کے بقول اس نے براہین احمدیہ میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ غلط لکھ دیا تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلطی کی نشاندہی کیوں نہیں کی؟

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس عقیدہ کے لکھنے پر تنقید نہ کرنا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ مرزا نے رفع ونزول مسیح کا عقیدہ درست لکھا تھا۔ اور بعد میں اس نے جو اپنے الہامات کی بنا پر اس کے غلط ہونے کا دعویٰ کیا وہ اصولاً غلط ہے۔

تعبیر یہ کی کہ یہ قطب ستارہ کی طرح مستحکم اور غیر متزلزل ہے۔ اب اگر اس عقیدہ کو غلط اور شرکیہ عقیدہ قرار دیا جائے ۔ تو وہ قطبی نہ رہی بلکہ غیر مستحکم اور متزلزل ہوگئی ۔

اب اگر اس میں درج شدہ عقیدہ کو غلط قرار دیا جائے تو یہ کتاب انعامی نہیں رہ سکتی۔

جب حضور اسے قاش قاش کرنے لگے تو اس میں سے اس قدر شہد نکلا کہ آپ کا ہاتھ مبارک کہنی تک شہد سے بھر گیا۔ اگر حیات مسیح بقول مرزا قادیانی شرکیہ عقیدہ اس میں درج تھا تو شہد کے ساتھ ساتھ کچھ ”گوہ“ (پاخانہ) بھی نکلنا چاہیے تھا کیونکہ مرزا قادیانی کے نزدیک شرک’ توحید کے مقابلہ گوہ ہے خالص شہد نکلنے سے بھی معلوم ہوا کہ یہ عقیدہ شرکیہ نہیں ہے بلکہ درست ہے۔

صفحہ 294

بالفرض ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ اسے آگاہ کر دیتے ہیں۔ مرزا کی عبارات ملاحظہ فرمائیں:

ہے۔“ (براہین احمدیہ حاشیہ ص ۴۴۸ طبع لاہور جدید۔ ر۔خ جلد اول ص ۵۳۶ حاشیہ پہلی فصل)

يخالفه وما مسها قلمی فی عمری ۔“ یعنی خدا جانتا ہے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اور میں نے کوئی کبھی ایسا کلمہ تک نہیں کہا جو خلاف خداوند تعالیٰ ہو اور مخالفت خداوندی میری قلم سے کبھی سرزد نہیں ہوتی۔

(حمامة البشریٰ ص ۱۰۔ ر۔خ جلد ۷ ص ۱۸۶)

مجتهداً فبه الشياطین متلاعبة ۔“ یعنی جو شخص کہ کوئی ایسا کلمہ کہے جس کی کوئی صحیح اصل شرع میں موجود نہ ہو خواہ وہ ملہم ہو یا مجتہد ہو اس سے شیطان کھیلتا ہے۔

تو اب قادیانی بتائیں کہ نزول مسیح کا عقیدہ جس کو مرزا نے براہین میں ذکر کیا ہے اور اسی طرح ختم نبوت کا عقیدہ جو اس نے اپنی پہلی کتابوں میں وضاحت سے تحریر کیا ہے اگر ان کی اصل شرع میں موجود نہیں تو کیا مرزا قادیانی سے شیاطین نہیں کھیلتے رہے خواہ وہ ملہم یا مجتہد ہو اور جس سے شیاطین کھیلتے ہوں اس کے کسی قول کا کیا اعتبار؟ شیطان اپنے دوستوں کی طرف وحی بھی بڑے شوق سے کرتے ہیں۔

تیسری دلیل

یہ عقیدہ اس کتاب میں لکھا ہے جو بغرض اصلاح و تجدید دین لکھی گئی تھی اور اس وقت لکھا ہے جب مرزا قادیانی ملہم، مجدد اور مامور من اللہ بزعم خود مجدد بن چکا تھا۔ حتیٰ کہ اس کتاب پر دس ہزار (۱۰,۰۰۰) روپے کا اشتہار بھی دیا گیا تھا۔ دیکھیے دیباچہ براہین احمدیہ حصہ اول روحانی خزائن جلد اول ص ۲۴۔

اور مجدد کی تعریف کرتے ہوئے خود مرزا نے لکھا ہے: کہ وہ مشکل وقت میں روح القدس سے سکھلائے جاتے ہیں۔ (فتح اسلام حاشیہ در خزائن ص ۷ ج ۳) اور اسے علوم لدنیہ اور آیات سماویہ عطا کی جاتی ہیں۔ (ازالہ اوہام در خزائن جلد ۳ ص ۱۷۹) لہٰذا اس کتاب میں وہی عقیدہ

صفحہ 295

ہونے کا اور غلط بات لکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

چوتھی دلیل

ومكروا ومكر الله والله خير الماكرين۔ (آل عمران:۵۴) ترجمہ: ”اور ان لوگوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب تدبیریں کرنے والوں سے اچھے ہیں۔“ (ترجمہ از حضرت تھانویؒ)

طرز استدلال

یہودِ بے بہبود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی تدبیر کی اور آپ کو ہلاک کرنے کی سازش رچائی، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ومکروا کے الفاظ میں فرمایا۔ ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تدبیر کو بیان کیا اور اسے بہتر قرار دیا۔ یہود کی تدبیر ناکام ہو گئی اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر غالب آئی۔ چنانچہ یہودا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں سے تھا ان کو پکڑوانے کے لئے اس مکان میں داخل ہوا اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت عیسیٰ کی شکل میں تبدیل کر دیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی کمال قدرت سے زندہ آسمان پر اُٹھا لیا۔ یہی وہ تفسیر ہے جو تقریباً سبھی قابلِ اعتبار مفسرین نے کی ہے۔ اس کے خلاف کوئی تفسیر پیش نہیں کی جا سکتی، کیونکہ یہود کی تدبیر یعنی سازشِ قتل کا جب بھی تدبیر خداوندی سے مقابلہ ہوگا تو یقیناً مقابلہ میں عدمِ قتل و موت کو رکھا جائے گا اور وہ صورت صرف رفع ہی کی ہے۔ اور جب رفع ثابت ہو گیا تو نزول خود بخود ثابت ہو جائے گا۔

قادیانی تدبیر

اس کے بالمقابل مرزا قادیانی نے جو خدائی تدبیر لکھی ہے وہ حسب ذیل ہے: ”بعد اس کے ایسا ہوا کہ پلاطوس نے آخری فیصلہ کے لئے اجلاس کیا اور نابکار مولویوں اور فقیہوں کو بہتیرا سمجھایا کہ مسیح کے خون سے باز آ جاؤ مگر وہ باز نہ آئے بلکہ چیخ چیخ کر بولنے لگے کہ ضرور صلیب دیا جائے دین سے پھر گیا ہے تب پلاطوس نے پانی منگوا کر ہاتھ دھوئے کہ دیکھو میں اس کے خون سے ہاتھ دھوتا ہوں تب سب یہودیوں اور

صفحہ 296

فقیہوں اور مولویوں نے کہا کہ اس کا خون ہم پر اور ہماری اولاد پر۔ پھر بعد اس کے مسیح ان کے حوالہ کیا گیا اور اس کو تازیانے لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچے کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے سے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا سب نے دیکھا آخر صلیب دینے کے لئے تیار ہوئے۔ یہ جمعہ کا دن تھا اور عصر کا وقت اور اتفاقاً یہ یہودیوں کی عید فسح کا بھی دن تھا اس لئے فرصت بہت کم تھی...... تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا تا شام سے پہلے ہی لاشیں اتاری جائیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ۳۷۹ تا ۳۸۱ ۔ رخ جلد ۳ ص ۳۹۵ ۔ ۳۹۶)

مرزا کی اس تحریر سے معلوم ہوا کہ اس کے بقول حضرت عیسیٰ کے متعلق خدائی تدبیر یہ تھی:

قرآن مجید اور خدائی وعدہ کے ساتھ یہ مرزائی تمسخر کھلے منہ کفر کا درجہ رکھتا ہے۔ قرآن کی اس سے زیادہ تحریف ممکن ہی نہیں ۔ گزشتہ چودہ سو سال کے مفسرین میں سے ایک بھی مرزائیوں کے موافق نہیں ہے اور نہ ہی کسی نے یہ تفسیر لکھی ہے۔ ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین۔

پانچویں دلیل

اذ قال اللہ یعیسی انی متوفیک ورافعک الی ومطھرک من الذین کفروا، الخ۔ (آل عمران:۵۵)

(ترجمہ) ’’جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ! بے شک میں تم کو وفات دینے

صفحہ 297

والا ہوں اور تم کو اپنی طرف اٹھائے لیتا ہوں اور تم کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جو منکر ہیں۔“

یہ آیت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و رفع جسمانی کی صریح دلیل ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی تدبیر کے مقابلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چار وعدے فرمائے ہیں:

یہ چار وعدے ظاہر ہے اس وقت کیے گئے جب یہود بے بہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے۔ یہاں رافعك الی سے تمام مفسرین و مجددین کے نزدیک رفع جسمانی ہی مراد ہے۔ تیرہ صدیوں میں کوئی بھی ایسا مفسر پیش نہیں کیا جاسکتا جس نے اس رفع سے رفع درجات یا رفع روحانی مراد لیا ہو...... البتہ متوفيك کے معنی میں مفسرین وعلماء کرام کی دو رائیں ہیں۔

نمبر ۱: اکثر علماء نے توفی کا معنی پورا پورا لینے یعنی جسم مع الروح اٹھانے کا کیا ہے۔

نمبر ۲: جب کہ بعض علماء نے توفی سے موت کے معنی مراد لیے ہیں۔ یعنی میں تجھے موت دوں گا۔ یہ معنی بھی ہمارے استدلال کے خلاف نہیں کیونکہ متوفی کا ممیت سے ترجمہ کرنے والے علماء اس آیت میں تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں۔ یعنی مميتك عند انقضاء اجلك ورافعك الان۔ (تجھے تیرے مقررہ وقت پر وفات دوں گا اور اب تجھے اٹھاؤں گا...... تفسیر ابن عباس) وجہ اس کی یہ ہے کہ واو مطلق جمع کے لئے آتا ہے اس میں ترتیب ملحوظ نہیں ہوتی یہاں بھی واو کے ذریعہ عطف کیا گیا ہے لہٰذا ترتیب کا ہونا ضروری نہیں ہے۔

مرزا قادیانی کی جھنجھلاہٹ

متوفيك کے معنی تو مرزا قادیانی نے وہی اختیار کیے ہیں جو دوسرے نمبر پر ذکر کیے گئے لیکن واو کو مطلق جمع کے لئے قرار دے کر ہم نے چونکہ اس قول کے سارے مضر اثرات کو

صفحہ 298

ہباء اً منثوراً کر دیا ہے اس لئے مرزا کو اس نکتہ کے انکشاف سے انتہائی جھنجھلاہٹ ہوئی اور اس نے نہایت غصہ میں لکھا:

”قرآن مجید کی ترتیب کو الٹنا یہ مسلمان کا کام نہیں ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم نہ تھا۔ وہ صحیح ترتیب سے کلام فرما دیتے۔ اے مسلمان مولویو: تمہیں اللہ تعالیٰ کے کلام میں تغیر و تبدل کرنے سے شرم نہیں آتی۔“ -

(مفہوم ازالہ اوہام، روحانی خزائن ص ۴۲۲ ج ۳)

مرزا کے اس اعتراض کا جواب ہم پانچ طریقوں سے دے سکتے ہیں:

جواب ۱: تمام ”علماء نحو“ اس بات پر متفق ہیں کہ واو ترتیب کے لئے نہیں بلکہ مطلق جمع کے لئے آتا ہے بخلاف ثم اور فاء کے۔ بایں ہمہ واو سے ترتیب ثابت کرنے پر زور دینا جہالت ہے۔

جواب ۲: قرآن کریم میں اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں واو کو محض جمع کیلئے استعمال کیا گیا ہے جیسے: واسجدی وارکعی ...... فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ والاولیٰ۔ ظاہر ہے کہ سجدہ بعد میں اور رکوع پہلے ہوتا ہے حالانکہ اول الذکر آیت میں سجدہ کا پہلے ذکر ہے، اور اسی طرح آخرت بعد میں ہے دنیا پہلے ہے لیکن دوسری آیت میں آخرت کو دنیا پر مقدم رکھا ہے۔

جواب ۳: کئی ایک مفسرین نے یہاں (متوفیک ورافعک) میں ترتیب الٹ کر تفسیر فرمائی ہے جیسا کہ حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر میں گزرا۔

جواب ۴: اگر بالفرض زیر بحث آیت میں بقول مرزا بیان ترتیب بھی مان لیں پھر بھی اس کا مزعومہ ثابت نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ترتیب مرزا صاحب کے نزدیک بھی چار وعدوں میں قائم نہیں رہتی۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی تفسیر کے مطابق ترجمہ یوں ہوگا:

”اے عیسیٰ! میں تجھے پہلے موت دینے والا ہوں اس کے بعد تیرا روحانی رفع یا رفع درجات کروں گا، اس کے بعد تجھے کافروں سے پاک کروں گا اور اس کے بعد تیرے متبعین کو تیرے دشمنوں پر غالب کروں گا۔“

اب دیکھئے مرزا کے خیال کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کشمیر کی طرف

صفحہ 299

ہجرت کرنے کے بعد تطہیر یعنی واقعہ صلیب سے ۸۷ سال بعد کشمیر میں ہوئی گویا کہ مطهرك من الذین کفروا کا وقوع پہلے اور موت و رفع بعد میں ہوا۔ حالانکہ ترتیب آیت میں یہ چیز تیسرے نمبر پر ہے‘ لہٰذا مرزائیوں کے مطابق بھی آیت اپنی ترتیب پر باقی نہ رہی اور ہم پر عدم ترتیب کا اعتراض کرنا سراسر فضول ہو گیا۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

جواب ۵: اگر بالفرض ﴿متوفیک﴾ کے معنی وہی لیے جائیں جو مرزائی لے رہے ہیں تو بھی یہ ان کے مقصد یعنی اثبات موت کے لئے چنداں مفید نہیں۔ اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ موت اور وفات نزول الی الارض کے بعد ہو جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پہلے سے دے دی اور چونکہ باتفاق علماء واو ترتیب کے لئے نہیں ہے اس لئے اس کا تحقق ورافعك الى سے پہلے ضروری نہیں ہے۔ نیز اگر ترتیب کے لئے واو کو مان لیا جائے تو بھی مرزائیوں کا مدعا انکار رفع ثابت نہیں ہو سکتا‘ کیونکہ یہ ممکن ہے کہ رفع الی السماء سے قبل آپ کو کچھ وقت کے لئے موت دے دی گئی ہو۔ پھر زندہ کر کے آسمان کی طرف اٹھایا گیا ہو۔ جیسا کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہیں جیسے حضرت وہب بن منبہ کا قول ہے۔

(ملخص الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح)

ترتیب آیت کی توجیہ

اور آیت بالا میں لفظی ترتیب نہ ہونے کا اصل اور حقیقی جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عیسائی اور یہودی دونوں افراط و تفریط کا شکار ہوئے۔ اگر ایک جانب عیسائیوں نے انہیں درجہ معبود تک پہنچا دیا تو یہودیوں نے ان کی رسالت و نبوت تک کو تسلیم نہ کر کے ان کی سخت توہین و تذلیل کا ارتکاب کیا۔ قرآن کریم اس آیت میں ان دونوں کے عقیدوں کی تردید کر دینا چاہتا ہے سب سے پہلے متوفیک اس لئے لایا گیا تاکہ عیسائی غور کر سکیں کہ جس پر موت آسکے وہ خدا کیسے ہو سکتا ہے؟ اور اس کے معاً بعد ورافعك الى لا کر یہ بتا دیا گیا کہ یہودیوں کا ان کی شان میں گستاخی کرنا سراسر ظلم ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی رسالت و نبوت کی بنا پر انہیں اپنے پاس بلا لیا یہ ان کی مقبولیت عنداللہ کی کھلی دلیل ہے‘ لہٰذا عیسائیوں کو

صفحہ 300

ان کے خدا ہونے کا اور یہودیوں کو ان کے کمتر ہونے کا عقیدہ ترک کر دینا چاہیئے اور افراط و تفریط چھوڑ کر اعتدال کا راستہ اپنانا چاہیے۔ اور چونکہ شرک خداوندی گستاخی رسول سے بڑا جرم تھا اس لئے تردید کرتے وقت بھی اس کا لحاظ کیا گیا اور متوفیک کو پہلے ذکر کیا گیا ہے۔

دوسری وجہ

یہود کی سازش قتل کو ناکام کرنا اور ان کے پروگرام سے حفاظت اہم تھی اس لئے بھی اسکا ذکر پہلے کیا گیا یعنی تسلی دی گئی۔

تحقیق لفظ توفی

اس لفظ کا مادہ وفا ہے‘ جب یہ مادہ باب تفعل میں چلا جائے تو اس کے حقیقی معنی پورا پورا لینے کے ہوں گے جیسے أتوفيت الثمن ؟ (کیا تو نے پوری قیمت لے لی؟) البتہ جب کوئی قرینہ موجود ہو تو موت اور نیند کے معنی میں بھی یہ لفظ مستعمل ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ: هو الذی يتوفاكم باللیل۔ (اور وہی ہے کہ قبضہ میں لے لیتا ہے تم کو رات میں) (ترجمہ شیخ الہند) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد: الله يتوفى الانفس حين موتها والتی لم تمت فی منامھا۔ ”اللہ ہی قبض کرتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت اور ان جانوں کو بھی جن کی موت نہیں آئی ان کے سونے کے وقت۔“ (حضرت تھانویؒ) یہ آیت اس بات کی صریح دلیل ہے کہ توفی کے معنی صرف موت کے نہیں ہیں بلکہ پورا لینے کے ہیں۔ اسی وجہ سے اس کا اطلاق موت اور نوم دونوں پر درست ہے۔ اگر صرف موت کے معنی ہوتے تو نوم پر توفی کا اطلاق کرنا درست نہ ہوتا۔ حالانکہ آیت میں دونوں پر توفی کا لفظ بولا گیا۔ توفی کے یہی معنی تفسیر کی معتبر کتابوں میں بھی تحریر ہیں۔ اور لطف یہ ہے کہ قادیانیوں کی معتبر کتاب عسلِ مصفیٰ میں ان کا حوالہ دیا گیا ہے۔

ملاحظہ فرمائیے اور لطف اٹھائیے!

الوفاة قبضاً ليس بموت . (مجمع البحار جلد۲ ص ۴۵۴ منقول از عسل مصفیٰ جلد اول ص ۱۷۵)

صفحہ 301

منہ ۔ (تفسیر صافی بحوالہ عسل مصفی ص ۲۶۳ ج ۱)

حوالہ ۳: یستعمل التوفی فی اخذ الشی وافیاً ای کاملاً والموت نوع

منہ ۔ (حاشیہ صاوی علی الجلالین ص ۳۱۵ ج ۱ عسل مصفی ص ۲۶۳ ج ۱)

ان حوالوں سے صاف طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ توفی کے معنی اصل میں پورا پورا لینے کے ہیں۔ اور موت اس معنی کا ایک جز ہے نہ کہ اس لفظ کے حقیقی معنی ۔

مرزا قادیانی کا زور دار انعامی چیلنج

علم نحو کا مطالبہ اور اس کی تجہیل

توفی کے مذکورہ معنی چونکہ مرزائیوں کی ساری عمارت باطلہ کو ڈائنامیٹ کر دیتے ہیں۔ اس لئے مرزا صاحب نے اپنی لاج رکھنے اور لوگوں پر اپنا رعب جمانے کے لئے ایک زور دار چیلنج شائع کیا کہ:

”توفی باب تفعل ہو‘ اللہ فاعل ہو‘ ذی روح مفعول ہو‘ لیل اور نوم کا قرینہ بھی نہ ہو تو وہاں قبض روح بمعنی موت ہی ہوگا۔ جو اس کے خلاف دکھاوے اس کو مبلغ ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔“

چیلنج کی عبارتیں حسب ذیل ہیں:

جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول ہو ہمیشہ اس جگہ توفی کے معنی مارنے

اور روح قبض کرنے کے آتے ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ در خزائن جلد ۱۷ ص ۱۶۲)

فاعل ہو اور کوئی انسان مفعول بہ ہو...... تو بجز قبض روح کرنے یا مارنے کے اور کوئی معنی نہیں لیے جائیں گے۔“

(ایام الصلح در روحانی خزائن ص ۳۸۴ ج ۱۴)

صفحہ 302

تعالیٰ فاعل ہے اور ذی روح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام مفعول ہیں۔ اس لئے حضرت مسیح موعود نے ایسی صورت میں توفی کے معنی سوائے قبض روح کے دکھانے والے کو ایک ہزار روپیہ انعام فرمایا ہے، مگر آج تک کوئی مرد میدان نہیں بنا۔ جو انعام حاصل کرتا اور نہ ہی ہوگا۔“

(احمدیہ پاکٹ بک ص ۴۴۱)

علیہ وسلم سے یا اشعار وقصائد ونظم ونثر، قدیم وجدید عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ کے فاعل ہونے کی حالت میں جو ذوی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو وہ بجز قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر بھی اطلاق پا گیا ہے یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے۔ تو میں اللہ جل شانہٗ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ایک ہزار روپیہ (۱۰۰۰) نقد دوں گا۔“ (ازالہ اوہام در روحانی خزائن ص ۶۰۳ ج ۳)

اس چیلنج کا جواب متعدد طریقوں سے دیا جا سکتا ہے

اگر کوئی مرزائی کسی نحو یا لغت کی کتاب میں یہ قاعدہ دکھا دے تو ہم اسے دس ہزار روپے انعام دیں گے۔

در خزائن ص ۶۲۰ ج ۱ میں متوفیک کے معنی لکھے ہیں : ﴿میں تجھے پوری نعمت دوں گا﴾ اسی طرح مرزا کی حسب ذیل تحریر: ﴿براہین احمدیہ کا وہ الہام یعنی یا عیسیٰ انی متوفیک جو سترہ برس سے شائع ہو چکا ہے اس کے اس وقت خوب معنی کھلے ہیں یعنی یہ الہام حضرت عیسیٰ کو اس وقت بطور تسلی ہوا تھا جب یہود ان کے مصلوب کرنے کے لئے کوشش کر رہے تھے اور اس جگہ بجائے یہود، ہنود کوشش کر رہے ہیں۔ اور الہام کے یہ معنی ہیں کہ میں تجھے ایسی ذلیل اور لعنتی موتوں سے

صفحہ 303

بچاؤں گا﴾ (سراج منیر در روحانی خزائن ص ۲۲ ج ۱۲ در حاشیہ)

عن ابن عمر ..... واذا رمى الجمار لا يدرى احد ماله حتى يتوفاه الله يوم القيامة ۔ (رواہ البزار و الطبرانی وابن حبان واللفظ له)

(الترغیب والترہیب ص ۲۰۵ ج ۲)

حدیث بالا میں مرزا کی ذکر کردہ تمام شرائط موجود ہیں لیکن کوئی احمق بھی یہاں اس کا ترجمہ موت نہیں کر سکتا۔

قادیانی امت کو چیلنج

ہم مرزائیوں کو کھلا چیلنج کرتے ہیں کہ وہ مرزا قادیانی کا تحریر کردہ قاعدہ علم نحو کی کسی کتاب سے دکھائیں۔ اور منہ مانگا انعام پائیں۔ یہ مرزا کی جہالت اور حماقت ہے کہ اس قاعدہ کو علم نحو کا قاعدہ بنا دیا۔ اس بیچارے کو پتہ نہیں کہ علم نحو کیا ہوتا ہے۔ عربی کا ادنیٰ سا طالبعلم بھی جانتا ہے کہ مذکورہ قاعدہ علم ادب کا تو ہو سکتا ہے علم نحو کا نہیں پھر بھی ہم نے اس کا من گھڑت قاعدہ توڑ دیا اور وہ ہمارا قاعدہ قیامت تک نہیں توڑ سکتے۔ فالحمد للہ ۔

ہمارا چیلنج

اور اس سے بڑھ کر ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ اگر وفا باب تفعل میں ہو، اللہ فاعل ہو اور ایسا انسان مفعول ہو جو بن باپ پیدا ہوا ہو تو وہاں توفی کے معنی موت کے کہیں نہیں آتے بلکہ زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کے ہوں گے۔ مرزائی اس کے برخلاف دکھا کر منہ مانگا انعام حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر ان شاء اللہ قیامت تک بھی وہ اس قاعدہ کو توڑنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ اگر کوئی ہمارے اس قاعدہ کا حوالہ مانگے تو آپ بلا جھجک کہدیں کہ جس نحو کی کتاب میں مرزا کا من گھڑت قاعدہ لکھا ہے اسی کتاب کے اگلے صفحہ پر یہ قاعدہ بھی درج ہے۔

چھٹی دلیل

ارشاد خداوندی ہے: وما قتلوه يقينا ۔ بل رفعه الله اليه ۔ (النساء: ۱۵۷)

صفحہ 304

(ترجمہ) ”اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا بلکہ ان کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔“ حکیم نور الدین (خلیفہ اول) نے بھی آیت کا ترجمہ یہی کیا ہے۔ کہ ”بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔“ (فصل الخطاب ص ۳۱۲ بر حاشیہ) یہ آیت بھی اثبات رفع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔

یہاں یہ نکتہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہودیوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قتل واقع نہیں ہوا تھا۔ یہ ان کا ایک جھوٹا دعویٰ تھا۔ اسی وجہ سے قرآن کریم نے یہودیوں کی خباثتوں کو گناتے ہوئے وقتلہم المسیح نہیں کہا بلکہ وقولہم انا قتلنا الخ کے الفاظ فرمائے گئے۔ یہ نکتہ اثبات رفع کی ایک الگ دلیل قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کے تناظر میں بل رفعہ اللہ الیہ کے معنی بالکل متعین ہو جاتے ہیں۔ کہ یہ رفع جسمانی ہے اس میں قطعاً کسی تاویل کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

ہمارا چیلنج ہے اگر مرزائی سچے ہیں تو تیرہ صدیوں کے مفسرین میں سے کسی ایک مفسر کا حوالہ دکھائیں کہ اس نے ہمارے بیان کردہ معنی کے خلاف قادیانیوں کا من گھڑت معنی کیا ہو۔

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

آیت کے بارے میں مرزائیوں کی تاویلات رکیکہ

عذر اول

اس محکم اور واضح آیت کے بارے میں مرزائیوں کا پہلا جواب عموماً یہ ہوتا ہے کہ یہاں رفع سے رفع جسمانی نہیں بلکہ رفع درجات اور رفع روحانی مراد ہے کیونکہ یہودیوں کے نزدیک صلیب کی موت لعنت کی موت شمار ہوتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے جواب میں فرمایا کہ وہ ان کو ذلیل نہیں کر سکے بلکہ ہم نے ان کے درجات بلند فرما دیئے۔

مرزائیوں کی اس تاویل کو حسب ذیل طریقوں سے رد کیا جاتا ہے: جواب ۱: یہ دعویٰ بالکل غلط اور بے دلیل ہے۔ ہم پورے دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتے

صفحہ 305

ہیں کہ تیرہ صدیوں میں کسی بھی مفسر یا محدث یا امام لغت نے یہاں رفع سے رفع روحانی مراد نہیں لیا بلکہ سب نے بالاتفاق اس سے جسم عنصری کے ساتھ رفع آسمانی مراد لیا ہے۔ لہٰذا مرزا کے بیان کردہ معیار کے مطابق رفع روحانی کا معنی غلط ہوگا وہ تیرہ صدیوں میں سے کسی ایک مفسر کی تائید وہ پیش نہیں کر سکتے۔

جواب ۲: یہ مفروضہ کہ یہودیوں کے نزدیک صلیب کی موت لعنتی ہوتی ہے سراسر لغو اور یہودیانہ ہے۔ اولاً اس لیے کہ اس کا دار و مدار بائبل پر ہے جو محرف ہے۔ دوم اس لئے کہ یہود نے اپنے رائج طریقہ سے متعدد انبیاء کو قتل کیا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ویقتلون الانبیاء بغیر حق تو ظاہر یہ ہے کہ ان انبیاء کو بھی صلیب کے ذریعہ قتل کیا ہوگا۔ تو پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلہ میں ان انبیاء کے لئے رفع کا لفظ کیوں استعمال نہیں فرمایا حالانکہ ان کا بوجہ قتل رفع درجات اور رفع روحانی ظاہر تھا۔ اور یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلہ میں جب کہ قتل واقع نہیں ہوا محض یہودیوں نے قتل کا قول کیا ہے۔ پھر بھی رفع کا لفظ لایا گیا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ یہاں رفع روحانی مراد نہیں ہو سکتا یہاں صرف رفع مع جسد عنصری مراد ہے۔

مرزائیوں کا دوسرا اشکال

مرزائی کہتے ہیں کہ بھلا حضرت عیسیٰ علیہ السلام انسان ہوتے ہوئے آسمان پر کیسے جا سکتے ہیں۔ آسمان و زمین کے بیچ کئی ﴿ناری کڑے﴾ ہیں جن سے گزرنے کی تاب انسان نہیں رکھتا اسی وجہ سے جب مشرکین مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ آسمان پر جائیں تو ہم ایمان لائیں گے۔ تو آپ نے جواب دیا تھا کہ ھل کنت الا بشراً رسولا۔ معلوم ہوا انسان یہ کام نہیں کر سکتا۔

جواب نہیں ایٹم بم

اس رکیک عذر کی ہم دو طریقوں سے دھجیاں اڑاتے ہیں۔ اولاً الزامی جواب سے ثانیاً تحقیقی انداز سے۔ الزامی جواب یہ جواب نہیں بلکہ ایسا کیمیاوی ایٹم بم ہے جو صرف مذکورہ عذر ہی نہیں بلکہ وفات عیسیٰ کے بارے میں مرزائیوں کے پورے عقیدہ کو اڑا کر رکھ دے گا۔

صفحہ 306

اور جگہ جگہ کام آئے گا۔ دل پر ہاتھ رکھ کر ملاحظہ کریں۔ جواب کے الفاظ یہ ہیں:

"حضرت عیسیٰ علیہ السلام ناری کروں سے گزر کر آسمان پر ایسے ہی چلے گئے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام چلے گئے ۔ اور جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں ویسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں ۔"

اور یہ کوئی ہماری ایجاد نہیں بلکہ خود مرزائیوں کے حضرت صاحب نے لکھا ہے:

دیکھیے حوالہ نمبر ۱ : بل حيوة كليم الله ثابت بنص القرآن الكريم الا تقرء فى القران ما قال الله تعالیٰ عزوجل ' فلا تكن فى مرية من لقائه ؟ وانت تعلم ان هذه الاية نزلت فى موسىٰ فهى دليل صريح على حياة موسىٰ عليه السلام لانه لقى رسول الله صلى الله عليه وسلم والاموات لا يلاقون الاحياء ولا تجد مثل هذه الايات فى شان عيسىٰ عليه السلام نعم جاء ذكر وفاته فى مقامات شتى ۔

(حمامة البشریٰ و روحانی خزائن ص ۲۲۱ ج ۷)

حوالہ نمبر ۲ : هذا هو موسىٰ فتى الله الذى اشار الله فى كتابه الىٰ حياته و فرض علينا ان نومن بانه حى فى السماء ولم يمت وليس من الميتين ۔ ترجمہ : یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے۔ اور مردوں میں سے نہیں ۔"

(نور الحق و روحانی خزائن ص ۶۹ ج ۸)

کوشش بے سود

مرزائی عموماً حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس رفع کو بھی رفع روحانی پر محمول کر کے جان چھڑانا چاہتے ہیں مگر جان چھوٹ جانا اتنا آسان تھوڑا ہی ہے۔

اس تاویل کا تحقیقی جواب یہ ہے:

حوالہ بالا میں خود مرزا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تقابل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو زندہ ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ یہ تقابل اسی وقت درست ہو سکتا ہے جب کہ رفع سے رفع بجسد عنصری مراد لی جائے۔ اور

صفحہ 307

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جسمانی موت اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جسمانی حیات مراد لی جائے مذہب قادیانی میں یہی ہے۔

قادیانی اس عبارت کی تاویل کرتے ہیں کہ حَیٌّ فِی السَّمَاءِ سے مراد روحانی حیات ہے اور آگے لَمْ یَمُتْ سے نفی بھی روحانی موت کی ہی ہو رہی ہے۔ یہ تاویل چند وجوہات سے باطل ہے۔

اوّلاً: کوئی شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام کی روحانی موت کا قائل نہیں ہے کہ ان کی روحانی حیات ثابت کرنے کی ضرورت پیش آئی تھی۔

ثانیاً: نور الحق میں مذکورہ عبارت کی چند سطروں کے بعد مرزا نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کا تقابل کیا ہے، کہتا ہے:

ولا تجد مثل ھذہ الایات فی شان عیسیٰ۔

اگر یہ تقابل مانا جائے اور مرزائیوں کی تاویل بھی مانی جائے تو اس عبارت سے حضرت عیسیٰ کی روحانی موت کا اقرار کرنا پڑے گا اور یہ کفر ہے لہٰذا دونوں جگہ جسمانی حیات ہی مراد لی جانی چاہئے۔

تحقیقی جواب ۱: مذکورہ بالا اعتراض و عذر کا جواب یہ ہے کہ.......... یہاں بحث خود جانے کی نہیں بلکہ منجانب خداوندی لے جانے کی ہے۔ کیا کوئی شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ بھی کسی کو آسمان پر لے جانے کی قدرت نہیں رکھتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بشریت کا اقرار کر کے مطالبہ پورا کرنے سے جو عذر کیا ہے اس میں خود جانے کی نفی ہے اللہ تعالیٰ کے لے جانے کی نفی نہیں ہے۔ چنانچہ معراج میں آپ منجانب خداوندی آسمان پر لے جائے گئے نہ کہ خود گئے۔

جواب ۲: مرزا صاحب خود تسلیم کرتے ہیں کہ آسمان پر بجسم عنصری جانا ناممکن نہیں بلکہ ممکن ہے۔ مرزا کی اپنی عبارت ملاحظہ فرمائیں:

”ہماری طرف سے یہ جواب ہی کافی ہے کہ اول تو خدا تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ انسان مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ جائے۔“ (چشمہ معرفت ص ۲۱۹ و روحانی خزائن جلد ۲۳ ص ۲۲۸)

صفحہ 308

جواب ۳ : مرزائیوں پر تعجب ہے کہ بابا گرو نانک کے چولہ کا آسمان پر سے اترنا تو مرزا کے نزدیک تسلیم ہو سکتا ہے اور اس کو آگ نہیں جلاتی، لیکن حضرت مسیح کے جانے یا آنے سے کرہ زمہریرہ یا کرہ ناریہ مانع ہے؟

مرزا کا یہ اقرار ست بچن ص ۳۷۔ رخ جلد ۱۰ ص ۱۷۵ پر ملاحظہ فرمائیں:

”بعض لوگ انگد کے جنم ساکھی کے اس بیان پر تعجب کریں گے کہ یہ چولہ آسمان سے نازل ہوا ہے اور خدا نے اس کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہے مگر خدا تعالیٰ کی بے انتہا قدرتوں پر نظر کر کے کچھ تعجب کی بات نہیں، کیونکہ اس کی قدرتوں کی کسی نے حد بست نہیں کی ۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا اور پھر نازل ہونا مرزا خود انجیل کے حوالہ سے تسلیم کرتا ہے۔ مرزا کی اپنی عبارت ملاحظہ فرمائیں:

”اور منجملہ انجیلی شہادتوں کے جو ہم کو ملی ہیں انجیل متی کی مندرجہ ذیل آیت ہے اور اس وقت انسان کے بیٹے کا نشان آسمان پر ظاہر ہو گا اور اس وقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی اور انسان کے بیٹے کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمانوں کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے دیکھو متی باب ۲۴ آیت ۳۰۔“

(مسیح ہندوستان میں ۔ رخ جلد ۱۵ ص ۳۸)

حاصل کلام یہ ہوا کہ قرآن وحدیث و بائبل سب مسیح کے حیات و نزول جسمانی و رفع جسمانی کے قائل ہیں لہٰذا اب کوئی آیت یا حدیث یا بائبل پیش کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔

جواب ۴: اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو زندہ بجسد عنصری آسمانوں پر لے گئے اور ناری کرہ ان کے لئے رکاوٹ نہ بنا اللہ تعالیٰ نے اس ناری کرہ کو اسی طرح ٹھنڈا کر دیا جس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور حواء کیلئے ٹھنڈا کیا اور انہیں جنت سے زمین پر اتارا اور جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کیلئے اللہ تعالیٰ نے آگ کو ٹھنڈا کر دیا اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیلئے بھی ناری کرہ کو ٹھنڈا کر دیا مرزا خود اعتراف کرتا ہے وہ لکھتا ہے:

ایک ابتلاء کے وقت خدا نے اس کی مدد کی جبکہ وہ ظلم سے آگ میں ڈالا گیا خدا نے

صفحہ 309

آگ کو اس کیلئے سرد کر دیا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی در روحانی خزائن ص۵۲)

(۲) اسی کا تھا معجزانہ اثر کہ نانک بچا جس سے وقت خطر
بچا آگ سے اور بچا آب سے اسی کے اثر سے نہ اسباب سے

(ست بچن ص۴۲ روحانی خزائن جلد۱۰ص۱۶۲)

خلاصہ بحث

اللہ رب العزت عام قوانین فطرت کے خلاف بھی کبھی کام کرتے ہیں۔ یہ اس کے خاص نوامیس فطرت ہیں یہ بات مرزا صاحب کے ہاں بھی مسلم ہے۔ اگر مرزا کی پیش کردہ مثالیں درست ہیں تو پھر ناری کروں کی موجودگی کے باوجود حضرت آدم کا اترنا اور حضرت عیسیٰ کا رفع و نزول بھی عام قانون قدرت کے خلاف ممکن ہے۔ اگر قادیانیوں نے یہی کہنا ہے کہ کوا سفید ہے حضرت عیسیٰ ناری کرہ سے کیسے گزر گئے؟ تو مرزائی ہم سے سوال کرنے سے قبل یہ اعلان کریں کہ مذکورہ حوالوں میں مرزا صاحب نے یکے بعد دیگرے کئی جھوٹ بولے ہیں۔؎

اُلجھا ہے پاؤں یار کا زُلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

مرزائیوں کا تیسرا اعتراض

آیت بالا (بل رفعہ اللہ) کے بارے میں مرزائی یہ بھی کہتے ہیں کہ بل ابطالیہ ماننا درست نہیں ہو سکتا کیونکہ علماء نحو نے تصریح کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں بل ابطالیہ آ ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس سے کلام الٰہی میں تضاد لازم آئے گا جو محال ہے۔

الجواب: اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ مرزائیوں نے مذکورہ قاعدہ نقل کرنے میں خیانت سے کام لیا ہے۔ کیونکہ جن نحویوں نے مذکورہ قاعدہ لکھا ہے انہوں نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کفار کا قول نقل کریں تو ان کی تردید میں بل ابطالیہ آ سکتا ہے۔ اس کا اقرار مرزائی پاکٹ بک کے مصنف نے بھی کیا ہے۔ (احمدیہ پاکٹ بک ص۴۷۳) اور قرآن مجید میں متعدد جگہ بل ابطالیہ استعمال ہوا ہے۔ مثلاً:

صفحہ 310

(البقرہ:۱۱۶)

(الانبیاء:۲۶)

(الم سجدہ:۳)

ایک اور تاویل

مرزائی یہ کہتے ہیں کہ رفعہ میں ضمیر کے مرجع کا فرق صنعت استخدام کے قبیل سے ہے۔............ اس کا جواب یہ ہے کہ صنعت استخدام اس وقت ہو سکتی ہے جب کہ عیسیٰ ابن مریم کے دو معنی ہوں، جس کا کوئی قائل نہیں ہے اور اس کے باوصف اسے استخدام کی صنعت قرار دینا مرزائیوں کی جہالت پر بین دلیل ہے۔

صنعت استخدام کی تعریف

ایک لفظ کے دو معنی ہوں اور لفظ بول کر اس کا ایک معنی مراد لیا جائے اور جب اس لفظ کی طرف ضمیر لوٹے تو دوسرے معنی مراد ہوں۔ یا دو ضمیریں ہوں ایک ضمیر لوٹا کر ایک معنی اور دوسری ضمیر لوٹا کر دوسرا معنی مراد لیا جائے۔ (از تلخیص المفتاح ص ۷۱)

اذا نزل السماء بارض قوم
رعیناہ وان كانوا غضابا

سماء کا معنی بارش ہے اور دوسرا معنی جس کی طرف رعیناہ کی ضمیر لوٹتی ہے سبزہ ہے جو اس بارش سے اُگا۔

ایک اہم نکتہ

یہاں یہ نکتہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جس کلام میں بل ابطالیہ استعمال ہوتا ہے اس میں بل کے ماقبل اور مابعد کے مضمون کے مابین منافات ہوتی ہے ورنہ بل ابطالیہ کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا۔ بریں بنا آیت مبحوث عنہا میں اگر رفع روحانی مراد لیا جائے تو ماقبل سے منافات نہ رہے گی۔ منافات اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب کہ رفع سے رفع عنصری مراد لیا جائے۔ کیونکہ رفع درجات اور قتل میں کوئی منافاۃ نہیں ہے۔ اور رفع حیا اور قتل میں منافات ظاہر ہے۔ لہٰذا بل

صفحہ 311

ابطالیہ مراد لینا ہی متعین ہے اور یہ ہمارے مستدل کے لئے مؤید ہے۔

مرزائیوں کی چوتھی تاویل

تھک ہار کر مرزائی ایک بہت دور کی کوڑی لائے کہ آیت بالا سے اثبات رفع اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ وما قتلوہ اور رفعہ دونوں کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک ہی کیفیت جسد مع الروح کی طرف راجع ہو۔ ہم اس کو نہیں مانتے بلکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ رفعہ کی ضمیر کا مرجع صرف روح عیسوی ہے نہ کہ جسد۔ اور اس کی نظیر قرآن کریم کی یہ آیت ہے ثم اماتہ فاقبرہ۔ جس میں بالاتفاق پہلی ضمیر کا مرجع جسد مع الروح اور دوسری ضمیر کا مرجع صرف روح یا صرف جسد ہے۔

جواب ۱: مرزائی اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ ہم نے یہ اعتراض کر کے کوئی بڑا تیر مار لیا ہے۔ کیونکہ جس آیت سے مرزائیوں نے استدلال کیا ہے وہ آیت مبحوث عنہا کی نظیر ہرگز نہیں بن سکتی۔ کیونکہ اماتہ کہنے کے بعد لامحالہ روح اور جسد میں انفصال ہو گیا تو اب اقبرہ کی ضمیر دونوں کی طرف راجع نہیں ہو سکتی ہے، ایک ہی کی طرف راجع ہوگی۔ اور ہماری ذکر کردہ آیت وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ میں قتل کی نفی کے بعد رفع کا اثبات کیا جا رہا ہے۔ گویا کہ صراحتاً جسد و روح کے انفصال کی نفی کی جا رہی ہے۔ اس لئے یہاں جسد مع الروح ہی مرجع قرار دیا جا سکتا ہے کسی ایک کو لینا اور دوسرے کو چھوڑنا درست نہ ہوگا۔

جواب ۲: مندرجہ بالا آیت میں موت واقع ہونے کے بعد جبکہ جسد اور روح میں انفصال ہو گیا تو لامحالہ دوسری ضمیر کا مرجع یا صرف جسد ہو گا یا صرف روح۔ دونوں نہیں بن سکتے بخلاف متنازعہ فیہ آیت کے کہ اس میں قتل اور صلیب (یعنی موت کی نفی) کے بعد رفع کیساتھ ضمیر آ رہی ہے تو لامحالہ یہاں رفع جسد مع الروح کا ہو گا نہ کہ فقط روح کا۔ لہٰذا اس آیت پر قیاس، قیاس مع الفارق کے قبیل سے ہے جو درست نہیں۔

جواب ۳: یہ ہے کہ اماتہ فاقبرہ میں بھی دونوں جگہ مرجع جسد مع الروح ہی ہے اور اس میں انسان کے متعدد احوال ذکر ہو رہے ہیں جو انسان معہود فی الذھن ہے۔ یہاں رفع روحانی اس لئے بھی نہیں ہو سکتا کہ یہاں پر چار جگہ واحد مذکر غائب کی ضمیر آئی ہے جن میں تین ضمیروں کا مرجع بالاتفاق عیسیٰ بن مریم جسد مع الروح ہے، ان ضمیروں کا مرجع نہ صرف جسد ہے اور نہ صرف روح۔ کیونکہ قتل اور صلیب کا فعل تب ہی واقع ہو سکتا ہے جب جسد

صفحہ 312

اور روح اکٹھے ہوں تو لامحالہ یہاں پر رفع کی ضمیر کا مرجع بھی جسد مع الروح ہی ہو گا‘ نہ کہ فقط روح نیز یہاں پر کان اللہ عزیزا حکیما کا جملہ اس بات کی قوی دلیل ہے کہ یہاں رفع جسمانی ہی ہے ورنہ رفع روحانی کیلئے ان صفات کے لانے کی ضرورت نہیں تھی اور یہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں زائد جملہ ہو جائے گا۔ اور یہ ہو نہیں سکتا قرآن کا ہر جملہ معنی خیز ہے۔

مرزائیوں کا پانچواں بزعم خود زور دار اعتراض

اپنے مزعومہ عقیدہ کو ثابت کرنے اور آیت بالا کے معنی میں تحریف کرنے کے لئے مرزائی ایک دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ حدیث میں آتا ہے۔ اذا تواضع العبد رفعه الله الى السماء السابعة (جب بندہ تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ساتویں آسمان پر اٹھا لیتے ہیں) یہاں رفع سے سب کے نزدیک رفع درجات مراد ہے۔ اور آیت میں بھی بعینہ اسی طرح کے الفاظ ہیں اس لیے وہاں بھی سوائے رفع روحانی کے کچھ مراد نہیں لیا جا سکتا۔

مارو گھٹنا‘ پھوٹے آنکھ

یہ قیاس‘ قیاس مع الفارق ہے‘ مرزائیوں کی اس دلیل پر درج بالا مثل پوری طرح صادق آتی ہے۔ کیونکہ حدیث شریف میں تواضع کا لفظ خود اس بات کا قرینہ ہے کہ وہاں رفع جسمانی مراد نہیں ہے اور آیت مبحوث عنہا میں قتل کی نفی کر کے رفع کا اثبات کیا گیا ہے۔ تو معنی اسی وقت درست ہوں گے جب کہ رفع جسمانی مراد لیا جائے۔ اس لیے رفع روحانی قتل کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے‘ الگ سے ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ لہٰذا مذکورہ بالا حدیث کے مفہوم سے آیت بل رفعه الله پر کچھ استدلال نہیں کیا جا سکتا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ آج تک کسی مفسر و مجدد نے آیت بالا میں رفع روحانی مراد نہیں لیا بلکہ سب ہی جسمانی رفع کا اثبات کرتے آئے ہیں۔

چیلنج

ہم دوبارہ قادیانی امت کو چیلنج دیتے ہیں کہ وہ اس آیت میں تیرہ صدیوں میں سے کسی ایک معتبر مفسر سے اپنی تائید پیش کریں جس نے رفع سے رفع روحانی مراد لیا ہو۔ اور منہ مانگا انعام پائیں۔ ہے کوئی اپنے باپ کا بیٹا جو میدان میں آئے۔

صفحہ 313

ترکش کا آخری تیر

آیت (بل رفعه الله) کے سلسلے میں بحث کرتے ہوئے ہر محاذ پر ناکام ہونے کے بعد مرزائی یہ نقض پیش کرتے ہیں کہ یہاں پر الیہ سے آسمانوں پر مراد لینا درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے‘ خود قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:

فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ۔ (البقره: ۱۱۵) ترجمہ : ”پس تم لوگ جس طرف منھ کرو ادھر اللہ تعالیٰ کا رخ ہے۔“

جواب ۱: تمام مفسرین نے آسمان مراد لیا ہے۔ اگر کسی نے اس کے خلاف لکھا ہے تو ثبوت پیش کریں۔

جواب ۲: اصل بات یہ ہے کہ بلندی کی نسبت اللہ تعالیٰ اپنی طرف کرتے ہیں اسی وجہ سے فرمایا گیا: اِلَیْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّب۔ (ترجمہ) ”اچھا کلام اسی تک پہنچتا ہے۔“ (فاطر: ۱۰) چونکہ صعود کے لیے بلندی لازم ہے اور وہ بلندی آسمان ہے جیسا کہ دیگر نصوص سے معلوم ہوتا ہے اس لیے مبحوث عنہا آیت میں الیہ سے آسمان مراد لینا صحیح ہے۔

جواب ۳: خود قرآنِ کریم گواہی دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں ہے دیکھیے : ارشاد ہے‘ ءَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ۔ (الملک: ۱۶)

جواب ۴: ”دروغ گو را حافظہ نہ باشد“ ایسے ہی کسی موقع کے لیے کہا گیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ ہم پر الزام ہے کہ الیہ سے آسمان مراد نہیں لے سکتے اور ان کے مرزا صاحب نے جو تواتر کے ساتھ اس جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا جاتا؟ ذیل میں ہم تین حوالے پیش کرتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کے آسمان پر ہونے اور رفع الی السماء کا ثبوت ہوتا ہے‘ دیکھیے :

حوالہ ۱: فرزند دلبند گرامی مظہر الحق والعلاء كأن الله نزل من السماء۔ (تذکرہ ۱۸۵) معلوم ہوا کہ مرزا کے نزدیک بھی اللہ تعالیٰ آسمان میں ہے۔

حوالہ ۲: الا يعلمون ان المسيح ينزل من السماء بجميع علومه۔ (قول مرزا) (آئینہ کمالات اسلام در روحانی خزائن ص ۴۰۹ ج ۵)

صفحہ 314

(ترجمہ) ’’کیا لوگ نہیں جانتے کہ مسیح آسمان سے تمام علوم کے ساتھ اتریں گے۔‘‘ پتا چلا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلے ہی آسمان پر اٹھائے گئے ہیں جبھی تو وہاں سے نازل ہوں گے۔

حوالہ ۳: مرزا غلام احمد کی ایک تحریر:

’’ہر ایک اپنے درجہ کے موافق آسمانوں کی طرف اٹھایا جاتا ہے اور اپنے قرب کے انداز کے موافق رفع سے حصہ لیتا ہے۔ اور انبیاء اور اولیاء کی روح اگرچہ دنیوی حیات کے زمانہ میں زمین پر ہو مگر پھر بھی اس آسمان سے اس کا تعلق ہوتا ہے‘ جو اس کی روح کے لئے جائے رفع ٹھہرایا گیا ہے‘ اور موت کے بعد وہ روح اس آسمان میں جا ٹھہرتی ہے جو اس کے لئے جائے رفع مقرر کیا گیا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام در روحانی خزائن جلد ۳ ص ۲۷۶)

اس حوالہ سے ثابت ہوا کہ الیہ سے مراد آسمان ہی ہے اور جائے رفع میں کوئی اختلاف نہیں ہے‘ بلکہ اختلاف مرفوع شی میں ہے کہ آیا صرف روح اٹھائی گئی‘ یا اس کے ساتھ جسم بھی تھا۔

(نوٹ)

اس آیت میں چار ضمیریں ہیں‘ تین کا مرجع بالاتفاق زندہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں‘ یعنی جَسَد مع الروح‘ لہٰذا چوتھی ضمیر کا مرجع بھی زندہ عیسیٰ علیہ السلام جسد مع الروح ہی ہوں گے۔ اور ﴿بل﴾ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ رفع جسمانی مراد لیا جائے تاکہ ﴿بل﴾ کے ماقبل اور مابعد میں تنافی قائم رہ سکے جو ﴿بل﴾ کا تقاضا ہے۔ موت اور رفع روحانی میں کوئی تنافی نہیں ہے۔

ساتویں دلیل

وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزاً حَكِيْمًا میں اللہ تعالیٰ کی جو دو صفات ذکر ہوئیں‘ وہ بھی رفع جسمانی کی دلیل ہیں۔ رفع روحانی یا رفع درجات کے لئے ان دو صفات کا ذکر بالکل بے محل ہے‘ کیونکہ روح لطیف چیز ہے اس کا رفع کوئی امر محال نہیں ہے جس کے لئے یہ کہنے کی ضرورت ہو کہ اللہ تعالیٰ بڑے زور والے ہیں‘ اور ﴿حَكِيْمًا﴾ کی صفت میں اس شبہ کا جواب

صفحہ 315

ہے کہ دیگر انبیاء علیہم السلام کا رفع جسمانی نہیں ہوا تو عیسیٰ علیہ السلام کا کیوں ہوا؟ جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حکمت والے ہیں، اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ اور انسان اللہ تعالیٰ کی ہر حکمت تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔

آٹھویں دلیل

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ۔

(سورہ نساء آیت ۱۵۹)

”اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے سو عیسیٰ پر یقین لاویں گے اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا ان پر گواہ۔“ (ترجمہ شیخ الہند)

آیت مذکورہ میں بِہٖ اور مَوتِہٖ دونوں ضمیروں کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ زمانہ میں جس قدر اہل کتاب موجود ہوں گے تمام حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے قبل ایمان لائیں گے۔ یہ آیت اس بات کی صریح دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک فوت نہیں ہوئے، اور قیامت کے قریب دوبارہ تشریف لائیں گے۔ تمام مفسرین نے آیت مذکورہ کا یہی معنی بیان کیا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ کی مشہور حدیث لیوشکن ان ینزل فیکم الخ کے اخیر میں یہ الفاظ ہیں، اِنْ شِئْتُمْ فَاقْرَؤُا وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ۔ حضرت ابو ہریرہؓ صحابی رسولؐ نے حدیثِ رسولؐ بیان کرنے کے بعد یہ آیت بطورِ استشہاد پیش کی ہے۔ اور چونکہ یہ مسئلہ قیاسی نہیں ہے اس لیے یہ تفسیر بھی براہِ راست مرفوع حدیث کا حکم رکھتی ہے۔ بنا بریں یہ محض حضرت ابو ہریرہؓ کا قول ہی نہیں بلکہ خود صاحبِ وحی کی جانب سے تفسیر ہے۔ اس کے برخلاف کسی بھی انسان کی تفسیر قابلِ قبول قرار نہیں دی جاسکتی۔

نیز اکابر مفسرین سلف نے بھی نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آیت مذکورہ کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے، دیکھیے :

فان قيل فما الدليل على نزول عيسىٰ عليه السلام من القرآن ۔

فالجواب الدليل على نزوله قوله تعالىٰ وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به

صفحہ 316

قبل موتہ۔ (الیواقیت والجواہر ص۲۲۹ ج۲)

(ترجمہ) کہ اگر کوئی قرآن سے نزول عیسیٰ علیہ السلام کی دلیل مانگے تو یہی آیت ان کے نزول کی دلیل ہے ﴿کہ اہل کتاب ان کی وفات سے پہلے ان پر بالضرور ایمان لائیں گے﴾

ب: حضرت ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں۔

ونزول عيسىٰ من السماء كما قال الله تعالىٰ وانه اى عيسىٰ لعلم للساعة اى علامة القيامة وقال الله تعالىٰ وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته اى قبل موت عيسىٰ بعد نزوله عند قيام الساعة فيصير الملل ملة

واحدة۔ (شرح فقہ اکبر ص۱۳۶)

عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول بقول اللہ تعالیٰ ’’کہ وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہیں ۔‘‘ نیز یہ ’’کہ اہل کتاب ان کی آسمان سے تشریف آوری کے بعد ان کی موت سے پہلے قیامت کے قریب ان پر ایمان لائیں گے۔ پس ساری ملتیں ایک ہو جائیں گی۔‘‘

مرزائی اعتراض

اس آیت سے نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے استدلال کو کالعدم کرنے کے لئے مرزائی یہ کہتے ہیں کہ قبل موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نہیں بلکہ اہل کتاب کی طرف راجع ہے۔ اور معنی یہ ہیں کہ ہر اہل کتاب اپنی موت سے قبل اس پر ایمان لے آتا ہے۔ چنانچہ بعض مفسرین نے اس ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہی کو ٹھہرایا ہے۔ نیز قَبْلَ مَوْتِهِمْ کی قرات شاذہ بھی اس کی مؤید ہے۔

جواب ۱ : پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول تفسیر کے بعد اس بارے میں قیل و قال کرنا بے معنی اور لا طائل ہے۔ اور جن مفسرین نے قبل موتہ کی ضمیر کا مرجع اہل کتاب کو بنایا ہے وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی اور نزول کے جمہور امت کی طرح قائل ہیں اس لیے اگر انہی حضرات کی اتباع کا خیال ہے تو اس رائے میں بھی ان کا اتباع کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں خود حکیم نور الدین بھیروی نے اپنی کتاب فصل الخطاب (جو مرزا کی تعریف و توثیق کردہ ہے) میں قبل موتہ کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دیا

صفحہ 317

ہے ۔ لہٰذا مرزائیوں سے کہنا چاہیے کہ پہلے اپنے خلیفہ اول کی اصلاح کرو بعد میں کسی اور سے الجھنا ۔

جواب ۲: اگر قَبْلَ مَوْتِهِمْ کو مانا جائے جو کہ قرات شاذہ ہے تو قرات متواترہ جو کہ قَبْلَ مَوْتِہٖ ہے‘ کو قرات شاذہ کے تابع کرنا پڑتا ہے اور یہ اصولاً درست نہیں۔

نویں دلیل

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا الخ ۔ (ترجمہ) ’’اور بے شک وہ قیامت کی نشانی ہے۔ پس اس میں شک مت کرو۔‘‘ یہ آیت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قیامت کے قریب نازل ہونے کی صریح دلیل ہے۔ تمام مفسرین نے اِنَّہٗ کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاماتِ قیامت میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ دنیا میں تشریف لانا ہے۔ حضرت شاہ عبد القادر صاحبؒ (جو مرزا قادیانی کے نزدیک تیرہویں صدی کے مجدد ہیں) نے بھی یہی ترجمہ کیا ہے۔ اور اسی طرح پہلے حوالہ میں گزر چکا ہے کہ حضرت ملا علی قاریؒ نے شرح فقہ اکبر میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے اثبات کے لئے آیت بالا کو مستدل بنایا ہے۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ مرزا غلام احمد سے بھی اللہ تعالیٰ نے اسی کی تائید میں تحریر لکھوا دی ہے۔ (اعجاز احمدی بنام ضمیمہ نزول المسیح در روحانی خزائن ص ۱۳۰ ج۱۹) میں اگرچہ مرزا نے اپنی من گھڑت تفسیر کی ہے ......... مگر قَبْلَ مَوْتِہٖ میں ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہی قرار دیا ہے۔

دسویں دلیل

قرآنِ کریم میں حضرت مسیح علیہ السلام پر انعاماتِ خداوندی گناتے ہوئے فرمایا گیا: وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلاً ۔ (آل عمران: آیت ۴۶) (ترجمہ) ’’اور باتیں کرے گا لوگوں سے ماں کی گود میں اور جبکہ پوری عمر کا ہوگا۔‘‘

طریق استدلال

اس آیت میں دو باتیں کہی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحالتِ

صفحہ 318

طفولیت جھولے میں باتیں کریں گے۔ جس کی تفصیل سورہ مریم کے دوسرے رکوع میں موجود ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ عالمِ کہولت یعنی ادھیڑ عمر میں تکلم فرمائیں گے۔ اب جب ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ مقدسہ پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک بات تو ان کے حق میں پوری ہو چکی یعنی مہد میں گفتگو کرنا لیکن دوسری بات کا تحقق ابھی تک نہیں ہوا ہے، کیونکہ بالاتفاق واقعہ صلیب، قتل یا رفع بحالتِ جوانی پیش آیا، کہولت کی عمر شروع نہیں ہوئی تھی۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ارشادِ ربانی غلط ہو یا اس کی بیان کردہ نعمت خلافِ حقیقت ہو لہٰذا یہ کہنا پڑے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اس کے بعد بحالتِ کہولت ان کا تکلم متحقق ہوگا اور قرآن کریم کی آیت کا مصداق پورا ہو گا بغیر اسے تسلیم کیے ہوئے آیت بالا کے معنی درست نہیں ہو سکتے............... اور یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ یہ آیت نعمائے خداوندی کے اظہار کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ اس میں ایک طرح سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کے احسانات جتائے گئے ہیں۔ جن کے ذیل میں مہد و کہولت میں گفتگو کرنے کا ذکر ہے۔ اور مہد میں گفتگو صراحتاً عظیم الشان احسان ہے، عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ اور اس کے ساتھ کہولت کا ذکر کیا گیا ہے تو کہولت بھی ایسی ہونی چاہیے جس میں تکلم فی المہد کی طرح خرقِ عادت امر پایا جائے اور یہ جبھی ہو سکتا ہے کہ نزول من السماء کے بعد کی کہولت مراد لی جائے۔ کیونکہ عام طور پر کہولت میں تو ہر انسان بولتا ہی ہے اس میں احسان جتانے کی کیا بات ہے؟ اگر عام کہولت مراد لیں تو یہ کلام ہی بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ جس طرح کسی شاعر نے اپنے محبوب کی تعریف اس طرح کی تھی ۔

دندان تو جملہ در دہانند
چشمان تو زیر ابرو ہانند

یعنی تیرے سارے دانت منہ کے اندر اور آنکھیں ابروؤں کے نیچے ہیں۔ حالانکہ یہ کوئی تعریف اور قابلِ ذکر بات نہیں ہے علاوہ ازیں سابق معتبر مفسرین کرام نے بھی آیت بالا سے وہی معنی مراد لیے ہیں جو ہم نے بیان کیے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں: ان المراد بقولہ کہلاً ان یکون کہلاً بعد ان ینزل من السماء فی آخر الزمان ویکلم الناس ویقتل الدجال قال الحسین بن الفضل وفی ہذہ الایۃ نص فی انہ سینزل الی الارض۔

(تفسیر رازی ج ۲ ص ۴۷۴ خازن ج ۲ ص ۲۹۱)

صفحہ 319

(ترجمہ) اللہ تعالیٰ کے قول (کہلاً) سے مراد یہ ہے کہ آخر زمانہ میں آسمان سے اترنے کے بعد بڑھاپے کو پہنچیں گے، اور لوگوں سے ہم کلام ہوں گے نیز دجال کو قتل کریں گے، حسین بن فضل کے بقول یہ آیت ان کی زمین پر دوبارہ تشریف آوری پر واضح دلیل ہے۔ یہ امام رازی کی تفسیر ہے جو کہ مرزا کے نزدیک چھٹی صدی ہجری کے مجدد ہیں۔

(عسل مصفیٰ جلد اوّل ص ۱۱۷)

گیارہویں دلیل

وَإِذ كَفَفْتُ بَنِی إِسْرَآئِیْلَ عَنْكَ۔ (مائدہ) (ترجمہ): ”اور جبکہ میں نے بنی اسرائیل سے تم کو باز رکھا۔“ (حضرت تھانویؒ)

یہ آیت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر احساناتِ خداوندی کے اظہار کے لئے لائی گئی ہے۔ جس کا محمل اسی وقت درست ہو سکے گا جب یہ ثابت کیا جائے کہ دشمنانِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حفاظتِ خداوندی کی وجہ سے حضرت عیسیٰ پر دست درازی نہ کر سکے اور اللہ تعالیٰ نے دشمنوں (یہودیوں) کی دسترس سے انہیں محفوظ رکھا اور ایسی جگہ اٹھا لیا جہاں دشمن پہنچ ہی نہیں سکتے تھے۔ یعنی آسمان پر رفع فرمایا۔ اگر یہ کہیں کہ بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اتنا مارا کہ ان کی پسلی ٹوٹ گئی۔ انہیں کانٹوں کا تاج پہنایا گیا تا آنکہ انہیں سولی پر چڑھا دیا گیا (نعوذ باللہ) جیسا کہ مرزائیوں کا عقیدہ ہے۔ تو یہ سب باتیں سراسر مذکورہ آیت کے خلاف ہوں گی جنہیں کوئی بھی صاحب ایمان تسلیم نہیں کر سکتا۔ پھر یہ احسان کیسا ہوا؟ مرزا کی تفسیر کے مطابق یہ احسان نہیں بن سکتا۔ اللہ کا کلام معاذ اللہ لغو ثابت ہو گا۔

بارہویں دلیل

وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيْلَ۔ (ترجمہ): ”اور جبکہ میں نے تم کو کتابیں اور سمجھ کی باتیں اور توریت اور انجیل کی تعلیم دیں۔“

قرآن کا محاورہ ہے کہ جب کتاب کے ساتھ حکمت کا لفظ آئے تو اس سے مراد آنحضرت کی سنت ہوتی ہے۔ آیت بالا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن وسنت سکھلائے جانے کی نعمت بیان ہوئی ہے۔ جو اس بات کی صریح دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے

صفحہ 320

وقت موجود ہوں گے جب کہ قرآن کا نزول ہو چکا ہوگا۔ اور وہ ان کے دوبارہ نزول کا وقت ہو گا یہی وجہ ہے کہ اور کسی نبی کو قرآن کی تعلیم نہیں دی گئی کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ کسی اور نبی کا بعثتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دنیا میں آنا مقدر نہیں تھا۔

ایک شبہ کا ازالہ

اس آیتِ شریفہ سے قادیانیوں کے ایک شبہ اور وسوسہ کا بھی ازالہ ہو گیا‘ وہ کہتے ہیں کہ بقول تمہارے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو کیا وہ کسی مدرسہ میں داخلہ لے کر قرآن وحدیث پڑھیں گے۔ یا ان کے لیے حضرت جبرئیل امین تشریف لائیں گے۔ کیونکہ انہوں نے زمین پر تو قرآن پڑھا نہیں ہوگا۔ (اس لیے کہ نزولِ قرآن سے قبل ان کا رفع ہوا تھا) تو اس آیت سے جواب خود معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ خود ہی انہیں آسمان پر قرآن و حدیث کی تعلیم دے کر انہیں زمین پر بھیجیں گے۔ جیسا کہ توریت وانجیل انہیں سکھائی گئی ہے اور اگر مرزا کی طرح وہ کسی فضل الٰہی سے پڑھ بھی لیں تو کیا فرق پڑیگا؟ مرزا قادیانی اگر فضل الٰہی سے قرآن پڑھ لے تو اس کی مسیحیت میں کوئی فرق نہیں آتا عیسیٰ علیہ السلام کیلئے انہیں اشکال ہے۔ یاد رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کسی ”فضل الٰہی“ نام کے انسان سے نہیں پڑھیں گے بلکہ الٰہی فضل سے پڑھیں گے۔

بحث دوم

رفع ونزول کا ثبوت احادیث مبارکہ سے

حدیث ۱ : عن عبدالله بن عمر قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم : ینزل عیسى بن مریم الى الارض فیتزوج ویولد له ویمکث خمساً واربعین سنة ثم یموت فیدفن معی فی قبری۔

(مشکوٰۃ شریف باب نزول عیسیٰ فصل ثالث ص ۴۸۰)

(ترجمہ) ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم (علیہ

صفحہ 321

السلام) زمین پر نازل ہوں گے پھر شادی کریں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی ۴۵ سال زندہ رہیں گے پھر ان کا انتقال ہوگا اور میرے ساتھ میری قبر کے متصل دفن ہوں گے۔“

مرزائیوں کی موشگافی

اس حدیث کے جواب میں مرزائی کہتے ہیں کہ حدیث میں فیدفن معی فی قبری کے الفاظ آئے ہیں جن کے معنی خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک میں دفن ہونے کے ہیں، حالانکہ کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے۔ اس لیے یہ حدیث معنی کے اعتبار سے ناقابل استدلال ہے۔

ناطقہ سر بگریباں الخ:

کاش! یہ سوال مرزائی خود اپنے حضرت سے کرتے۔ کیونکہ خود انہوں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ یہاں قبر کے معنی نفس قبر کے نہیں، بلکہ یہاں پورا روضہ اطہر حجرہ مبارکہ مراد ہے۔ دیکھیے :

”ظاہر پر ہی حمل کریں ممکن ہے کوئی مثیل مسیح ایسا بھی ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔“

(ازالہ اوہام ص ۴۷۱ روحانی خزائن جلد ۳ ص ۳۵۲)

اس حوالہ سے معلوم ہوا کہ قبر کے معنی کا اطلاق پورے روضہ پر ہے اور دوسرے یہ کہ مرزا کے نزدیک بھی یہ حدیث صحیح ہے جبھی تو وہ اس سے استدلال کر رہا ہے۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ بہت سی جگہ اس نے اس حدیث سے استشہاد کیا ہے۔

چنانچہ ضمیمہ انجام آتھم میں لکھتا ہے:

”اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ یتزوج و یولدلہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۳ روحانی خزائن جلد ۱۱ ص ۳۳۷)

ان شہادتوں کے بعد کسی بھی مرزائی کو یہ جرات نہ ہونی چاہیے کہ وہ مذکورہ بالا حدیث کو ناقابل استدلال جانے۔

صفحہ 322

حدیث ۲ : عن النواس بن السمعان اذ بعث اللہ المسیح بن مریم فینزل عندالمنارة البیضاء شرقی دمشق بین مهرودتین واضعاً کفیه علی اجنحة ملکین الخ فیطلبه حتی یدرکہ بباب لد فیقتله (الحدیث بطوله)

(مسلم شریف ص ۴۰۱ ج ۲ ترمذی شریف ص ۴۷ ج ۲)

(ترجمہ) ”کہ اچانک اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمائیں گے، وہ دمشق کی جامع مسجد کے سفید مشرقی مینار پر اتریں گے، وہ دو زرد چادریں پہنے ہوں گے، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے الخ پھر وہ دجال کی تلاش میں نکلیں گے تا آنکہ اسے باب لد کے مقام پر پائیں گے پھر اسے قتل کر دیں گے۔“

مرزائی اس حدیث کو اپنے حضرت پر فٹ کرنے کی بے سود کوشش کرتے ہیں، اور مرزائی کیا خود ان کے حضرت زندگی بھر اسی کوشش میں لگے رہے۔ کبھی کہتے ہیں دو زرد چادروں سے مراد میری دو بیماریاں ہیں۔ ایک جسم کے نچلے حصہ کی یعنی دن اور رات میں سو سو مرتبہ پیشاب کا آنا ایک جسم کے اوپر والے حصہ کی یعنی ”مراق اور مانخولیا“ سبحان اللہ! کیسی عمدہ تاویل ہے۔ اس پر تو قادیانیوں کے سر بھی ندامت سے جھک جاتے اور وہ اپنے سر پیٹ کر رہ جاتے ہیں۔

ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو زرد چادریں بطور علامت بیان کی ہیں۔ جو ہر ایک کو نظر آئیں گی مرزا نے ان سے مراد وہ دو بیماریاں بتائیں جو اس کے سوا اور کسی کو نظر آنے والی نہیں۔

ببیں تفاوت راہ از کجا تا بہ کجا

کبھی باب لد سے لدھیانہ مراد لیتے ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ عیسیٰ مسیح کا دعویٰ کرنے کے بعد جب علماء نے حدیث کے مطابق سوال کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو مینار پر اتریں گے تم کس مینار پر اترے ہو تو کہا کہ حدیث کے ظاہری الفاظ پورا کرنے کے لئے ایک ”مینار مسیح“ بنا دیتے ہیں۔ چنانچہ ایک اشتہار ”چندہ مینارۃ المسیح“ کے نام سے شائع کیا اور چندہ جمع کرنا شروع کر دیا اور لطیفہ یہ کہ مرزا موت کی آغوش میں پہلے چلا گیا اور مینارۃ المسیح اس کے

صفحہ 323

مرنے کے بعد مکمل ہوا۔ تف ہے ایسے بے عقل پر اور اس کے ماننے والوں پر۔ بہر حال ذیل میں ایک حوالہ پیش کیا جا رہا ہے جس سے معلوم ہوگا کہ مرزا غلام احمد کے نزدیک بھی باب لد سے لدھیانہ شہر نہیں بلکہ بیت المقدس کا ایک قریہ مراد ہے۔ دیکھئے مذکورہ حدیث کا ترجمہ کرتے ہوئے مرزا لکھتا ہے:

”جس وقت وہ اترے گا‘ اس کی زرد پوشاک ہوگی...... دونوں ہتھیلی اس کی دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہوں گی...... پھر حضرت ابن مریم دجال کی تلاش میں لگیں گے اور لد کے دروازہ پر جو بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے اس کو جا پکڑیں گے اور قتل کر ڈالیں گے۔“ (ازالہ اوہام ص ۲۲۰ روحانی خزائن ص ۲۰۹ ج ۳)

حدیث ۳: عن جابرؓ ۔ قال ۔ فينزل عیسیٰ بن مريم فيقول اميرهم: تعال! صل لنا فيقول: لا ۔ ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ شریف ص ۴۸۰ مسلم شریف ص ۸۷ ج ۱)

(ترجمہ) ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو ان (مسلمانوں) کا امیر (مہدی) ان سے کہے گا کہ تشریف لائیے اور ہمیں نماز پڑھائیے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے کہ نہیں (میں نہیں پڑھاتا) بلکہ تم میں سے بعض دوسرے پر امیر و امام ہیں۔ اس امت کے منجانب اللہ اکرام کی وجہ سے۔“

اس حدیث سے دو باتیں خاص طور پر معلوم ہوئیں۔ اولاً یہ کہ قیامت کے قریب تشریف لانے والے حضرت مسیحؑ وہی اسرائیلی نبی ہیں جو پہلے مبعوث ہو چکے ہیں نہ کہ اس امت کا کوئی اور شخص۔ لہٰذا مرزا کا اپنے کو عیسیٰ کہنا نری حماقت اور عقل سے بعید ہے۔ اور دوسری اہم بات یہ معلوم ہوئی کہ حضرت عیسیٰؑ اور حضرت مہدی دو الگ الگ شخصیتیں ہیں؟ یہ ایک ہی ذات کے دو نام نہیں ہیں۔ جیسا کہ مرزا اپنے لیے ثابت کرتا ہے...... یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ ابن ماجہ شریف کی حدیث لا مهدی الا عیسی تو اس کے خلاف ہے۔ کیونکہ یہ حدیث سند کے اعتبار سے ساقط الاعتبار ہے...... اور پھر خود مرزا نے دونوں کا الگ الگ ہونا تسلیم کیا ہے۔ دیکھیے ’تحفہ گولڑویہ میں تحریر ہے: ”اس لیے ماننا پڑا کہ مسیح موعود اور مہدی اور دجال تینوں مشرق ہی میں ظاہر ہوں گے۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ۸۱ روحانی خزائن ص ۱۲۷ ج ۱۷) لفظ ﴿تینوں﴾ سے پتہ

صفحہ 324

چلا کہ تینوں الگ الگ ہیں۔ اگر مسیح اور مہدی ایک ہی شخص ہے تو پھر مشرق سے تین نہیں دو کا ظہور ہوگا۔

حدیث ٤: عن ابی هریرة انه قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم والله لینزلن ابن مریم حكماً عادلاً فلیکسرن الصلیب ولیقتلن الخنزیر الخ۔

(صحیح مسلم شریف ص ۸۷ ج ۱)

(ترجمہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم عیسیٰ ابن مریم حاکم عادل کے طور پر نازل ہوں گے پس وہ صلیب توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے۔ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر نزول عیسیٰ کے بارے میں پیشگوئی فرمائی ہے۔ اور قسم کے متعلق مرزا کی یہ ہدایت گزر گئی ہے کہ اس میں کوئی تاویل نہیں چل سکتی اور قسم والا کلام ظاہر پر ہی محمول ہوتا ہے لہٰذا حدیث بالا اپنے مدلول پر پوری طرح صادق ہے اور اس میں کسی طرح کی تاویل کی گنجائش نہیں ہے۔

حدیث ۵: عن ابی هریرة ان النبی صلی الله علیه وسلم قال لیس بینی و بین عیسیٰ نبی وانه نازل فاذا رأیتموه فاعرفوه الخ۔

(ابوداؤد شریف ص ۲۵۴ ج ۲ فتح الباری ص ۳۵۷ ج ۶)

(ترجمہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور وہ نازل ہونیوالے ہیں۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو انہیں پہچان لینا (اس کے بعد آپ نے ان کی چند علامتیں ذکر فرمائیں، جن میں سے کوئی علامت دجال قادیان پر فٹ نہیں اترتی)۔

وضاحت: حدیث کے الفاظ انه نازل بتارہے ہیں کہ انه میں ضمیر ه حضرت عیسیٰ کی طرف راجع ہے اور وہی قیامت کے قریب نازل ہونگے جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں یہ ناممکن ہے کہ یہ ضمیر مرزا قادیانی کی طرف راجع کی جائے اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود آنا ہے، ان کے کسی ظل و بروز نے نہیں اترنا۔

حدیث ٦: عن الحسن قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم للیهود ان عیسیٰ لم یمت وانه راجع الیکم قبل یوم القیامة۔

(درمنثور ص ۲۴۶ ج ۲)

صفحہ 325

(ترجمہ) ”حضرت حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا کہ عیسیٰ کو موت نہیں آئی ہے اور وہ قیامت سے قبل تمہاری جانب لوٹیں گے۔۔۔۔۔۔“

یہ حدیث حضرت عیسیٰ کی عدم موت اور قیامت کے قریب ان کی مراجعت کا قطعی ثبوت ہے۔

مرزائی اعتراض

اس حدیث کے بارے میں مرزائی یہ اشکال کرتے ہیں کہ اس میں حضرت حسن بصریؒ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کسی صحابی کا واسطہ نہیں ہے لہٰذا یہ مرسل ہے اور قابل استدلال نہیں ہے۔

جواب سنیے! اس اعتراض کا جواب دو طریقوں پر دیا جا سکتا ہے۔ اولاً یہ کہ مراسیل حضرت حسن بصریؒ محدثین کے نزدیک حجت ہیں اور مرفوع متصل کے درجے میں ہیں۔ کیونکہ وہ عام طور پر اپنے استاذ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول احادیث بیان فرماتے ہیں۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر یہ حدیث درست نہ ہو۔ تو پورے ذخیرہ حدیث میں سے مرزائی کوئی ایک حدیث اس مضمون کے مخالف دکھا دیں جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰؑ کو موت آچکی ہے خواہ وہ حدیث مذکور کی طرح ”مرسل“ ہی ہو۔

حدیث ۷ : ”الانبیاء اخوة لعلات امهاتهم شتّى ودينهم واحد وانی اولى الناس بعيسى بن مريم لانه لم يكن بينى وبينه نبى وانه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه۔“

(ابوداؤد جلد ۲ ص ۲۳۸)

(ترجمہ): یعنی انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دین ایک ہوتا ہے اور میں عیسیٰ ابن مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں۔ کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں اور بے شک وہی نازل ہونیوالا ہے پس جب اسے دیکھو تو اسے پہچان لو۔ الخ۔

حدیث ۸ : الستم تعلمون ان ربنا حى لا يموت وان عيسى ياتى عليه

صفحہ 326

الفناء۔ (تفسیر غرائب القرآن ص ۲۹۵ ج ۱‘ حاشیہ تفسیر ابن جریر طبری ص ۱۳۰ ج ۳) یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں کے وفد سے مناظرہ کے دوران ارشاد فرمائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیسے الہ ہو سکتے ہیں جب کہ ان پر فنا آئے گی۔ اگر اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہوتے تو آپ اتی علیہ الفناء کے الفاظ ارشاد فرماتے کہ آپ پر فنا آ چکی۔

مرزائی شوشہ

یہاں مرزائی بڑے زور و شور سے دعویٰ کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا حدیث میں اتی علیہ الفناء کے الفاظ ہی صحیح ہیں۔ جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا ثبوت ملتا ہے۔

جواب : ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ حدیث میں یاتی علیہ الفناء ہی کے الفاظ ہیں۔ اور حدیث و تفسیر کی معتبر کتابوں میں یہ حدیث انہی الفاظ کے ساتھ مروی ہے۔ اور علامہ واحدی کے حوالہ سے جو اتی علیہ الفناء کے الفاظ نقل کیے جاتے ہیں وہ صحیح نہیں کیونکہ خود صاحب تفسیر غرائب القرآن علامہ نظام الدین قمی نے اپنی تفسیر میں علامہ واحدی سے یاتی علیہ الفناء کے الفاظ ہی نقل فرمائے ہیں۔ (دیکھئے ص ۲۹۵ ج ۱)

ہمارا چیلنج

مذکورہ بالا احادیث سے حضرت عیسیٰ کے متعلق بڑی صراحت سے یہ چند الفاظ ثابت ہوتے ہیں۔ ینزل ۔ یموت ۔ یدفن ۔ یاتی ۔ وغیرہ وغیرہ یہ تمام مضارع کے صیغے ہیں جو حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی اور عدم موت پر صریح دلیل ہیں۔ اگر یہ درست نہ ہو تو ہم روئے زمین کے تمام مرزائیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ ان الفاظ اور معانی کے برعکس ان کی نفی اور ضد کسی ایک حدیث صحیح سے ثابت کر دکھائیں۔ ان شاء اللہ قیامت تک بھی وہ اس کو ثابت نہ کر سکیں گے۔ اگر کوئی ثابت کرے تو فی لفظ دس ہزار روپیہ نقد انعام دیا جائے گا ہے کوئی اپنے باپ کا بیٹا جو مرد میدان بنے؟

دوسری اہم بات یہاں یہ قابل غور ہے کہ احادیث میں جگہ جگہ ابن مریمؑ کے نزول کی پیشگوئی ہے۔ معلوم ہوا کہ آنے والے مسیحؑ حضرت مریم ہی کے بیٹے ہوں گے۔ لہٰذا مرزا

صفحہ 327

غلام احمد جو ابن مریم نہیں بلکہ ابن چراغ بی بی ہے کسی بھی طرح ان احادیث کا مصداق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اور جو کسی تاویل کے ذریعے اس کو مسیح موعود ثابت کرتا ہے اس کو اپنی عقل پر ماتم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ تاویل کر کے خود اپنے حضرت صاحب کی ایک واضح ہدایت (یعنی قسمیہ کلام میں تاویل نہیں چل سکتی) کی کھلی خلاف ورزی کر کے بزعم خود اپنا ٹھکانہ جہنم بنارہا ہے یہ واضح ہدایت مرزا کی کتاب حمامتہ البشریٰ ص ۱۴ روحانی خزائن جلد ۷ ص ۱۹۲ حاشیہ میں درج ہے۔

قادیانیوں کا چیلنج

مرزائی صاحبان کم علم مسلمانوں کو متاثر کرنے کیلئے ایک چیلنج دیتے ہیں۔ کہ ہمیں وہ حدیث دکھاؤ جس میں صاف طور پر من السماء اور جسد عنصری کے الفاظ موجود ہوں۔

دلچسپ حوالے

ذیل میں مرزائیوں کی اطلاع کے لئے اور خاطر خواہ تواضع کی غرض سے خود ان ہی کے حضرت صاحب کے اہم ترین حوالے پیش کیے جارہے ہیں جن میں خود انہوں نے احادیث مبارکہ سے حضرت عیسیٰؑ کے نزول کی پیشگوئیاں تواتر کے ساتھ ثابت ہونے کا صاف الفاظ میں اقرار کیا ہے۔ اگر مرزائیوں کو کچھ بھی شرم و حیا اور غیرت کا لحاظ ہے تو انہیں ہمارے کہنے سے نہیں بلکہ اپنے حضرت صاحب کے منشاء کے مطابق عقیدہ نزول عیسیٰؑ کھلے دل سے تسلیم کر لینا چاہیے۔ وہ حوالے حسب ذیل ہیں:

جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ۵۵۷ روحانی خزائن ص ۴۰۰ ج ۳)

احادیث اور اخبار کی کتابوں کے رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے، دوسرے مسیح ابن

صفحہ 328

مسیحؑ جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں ان دونوں نبیوں کی نسبت عہد قدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کر رہے ہیں‘ کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اتریں گے۔ اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے انہیں کتابوں سے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔

(توضیح المرام ص ۳ روحانی خزائن جلد ۳ ص ۵۲)

اس حوالہ سے مرزائیوں کے دونوں مطالبے ”آسمان اور وجود عنصری“ کے الفاظ بقلم مرزا قادیانی احادیث سے ثابت ہو گئے۔

حوالہ ۳: ”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت عیسیٰؑ جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“

(ازالہ اوہام ص ۸۱ روحانی خزائن جلد ۳ ص ۱۴۲)

لباس روح پر ہوتا ہے یا جسد عنصری پر؟

حوالہ ۴: ”ان المسيح ينزل من السماء بجميع علومه ولا ياخذ شيئاً من الارض ما لهم لا يشعرون۔“ -

(آئینہ کمالات اسلام ص ۴۰۹ ج ۵)

اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان ہی سے شریعت محمدی و دیگر علوم حاصل کر کے آئیں گے اور زمین میں کسی کے شاگرد نہ ہوں گے (حالانکہ مرزا نے جو کچھ بھی پڑھا وہ دنیا میں اساتذہ سے پڑھا جس کا ذکر پہلے آچکا ہے)

یہ حوالے مرزائیوں کو آنکھ کھول کر دیدہ ریزی کے ساتھ پڑھنے چاہئیں اور انہیں ضمیر کی آواز پر عمل کرتے ہوئے اس کے برخلاف عقیدہ سے دائمی توبہ کرنی چاہیے۔ دنیا و آخرت کی خیر خواہی اور بھلائی کا راستہ یہی ہے۔

حلیہ مسیح علیہ السلام کی بحث

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حلیہ کے بارے میں چند روایات حسب ذیل ہیں:

كاحسن ما انت راء من اللمم تضرب لمته بين منكبيه يقطر راسه ماء ربعة

صفحہ 329

احمر كانما خرج من ديماس۔ (فتح الباری جلد ۶ ص ۳۴۹‘ وجلد ۱۳ ص ۸۵)

لم يصبه بلل۔ (سنن ابی داؤد جلد ۴ ص ۱۱۷ بحوالہ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص ۱۴۰ از مفتی محمد شفیع)

(کنز العمال ج ۷ ص ۲۶۸ بحوالہ التصریح ص ۲۲۳)

لغات: آدم گندم گوں سبط الشعر سیدھے بال لمہ زلف ربعہ درمیانہ قد ديماس حمام ممصرتین دو ہلکے زرد رنگ کی چادریں صلت وسیع البرنس لمبی ٹوپی۔

تشریح: (قوله في صفة عيسى ربعة) هو بفتح الراء وسكون الموحدة و يجوز فتحها وهو المربوع والمراد انه ليس بطويل جداً ولا قصير جداً بل وسط و قوله من ديماس هو بكسر المهمله وسكون التحتانية واخره مهملة (قوله ديماس يعنى الحمام) هو تفسير عبدالرزاق ولم يقع ذلك في رواية هشام والديماس في اللغة السرب ويطلق ايضا على الكن والحمام من جملة الكن والمراد من ذلك وصفه بصفاء اللون ونضارة الجسم وكثرة ماء الوجه حتى كانه كان فى موضع فخرج منه وهو عرقان وسياتي في رواية ابن عمر بعد هذا ينطف راسه ماء۔ (فتح الباری جلد ۶ ص ۳۷۵)

اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ مربوع سے مراد ہے درمیانہ قد جو نہ زیادہ لمبا ہو نہ زیادہ چھوٹا ہو۔ اور دیماس کا معنی ہے حمام اور اس سے مقصود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رنگ کی عمدگی، جسم کی خوبصورتی اور چہرہ پر پانی کی بکثرت موجودگی بیان کرنا ہے گویا کہ وہ پسینہ میں نہائے ہوئے کسی جگہ سے نکلے ہیں۔

روایات میں تطبیق

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حلیہ میں دو باتوں میں اختلاف ہے:

بالوں والے ہیں۔

صفحہ 330

گیا ہے۔

تطبیق

کا جسم گٹھا ہوا ہو گا اور مضبوط صورت میں ہوگا۔

سے کہا گیا ہے۔ انسانوں کے رنگ تین ہی ہوتے ہیں سفید، سیاہ اور گندمی۔ باقی رنگوں میں صرف ایک جھلک ہوتی ہے۔ کسی آدمی کا رنگ نیلا، نسواری یا سرخ نہیں ہوتا یہ رنگ کبھی ایک جھلک دیتے ہیں جسے کہا جاتا ہے سفید سرخی مائل یا گندمی سرخی مائل یا سیاہ نیلگوں مائل۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رنگ گندمی سرخی مائل ہے جھلک کو نمایاں کریں تو سرخ کہہ دیا سو ان میں کوئی تعارض نہیں۔ کسی عارضی وجہ سے ان کے چہرے پر سرخی نمایاں ہو گی۔ ایک روایت میں انه مربوع الى الحمرة والبیاض کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے بھی اس تطبیق کی تائید ہوتی ہے۔ اہل علم کے لئے حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی تحریر پیش خدمت ہے: "ووقع

فی روایة سالم الاتية فی نعت عیسی انه آدم سبط الشعر ووصفه بالجعودة فی جسمه لا شعره والمراد بذلك اجتماعه واكتنازه وهذا لاختلاف نظیر الاختلاف فی كونه آدم او احمر والاحمر عند العرب الشديد البياض مع الحمرة والادم الاسمر ويمكن الجمع بین الوصفین بانه احمر بسبب كالتعب وهو فی الاصل اسمر ۔"

(فتح الباری جلد ۶ ص ۳۷۷)

محدثین رفع تعارض کی ذمہ داری سے فارغ ہو چکے ہیں اور ان میں کوئی تعارض نہیں رہا تو افسوس ان قادیانیوں پر ہے جو اختلاف تعبیر کو اختلاف عقیدہ کی اساس ٹھہراتے ہیں۔ اس قسم کے کمزور دلائل سے عقائد ثابت نہیں کئے جاتے۔

صفحہ 331

بحث ۲۰

اجماع امت کے ذریعہ اثبات رفع ونزول

ذیل میں چند عبارتیں پیش کی جارہی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسد عنصری کے ساتھ رفع الی السماء اور پھر قیامت کے قریب نزول امت محمدیہ کا اجماعی عقیدہ ہے۔ یہ امت چودہ سو سال پہلے سے ایک عقیدہ پر چلی آرہی ہے وہ بھی کوئی مذہب ہے جو چودہ سو سال بعد طے ہو۔ اسلام کا طے شدہ مذہب ذیل میں ملاحظہ کیجئے:

احد من اهل الشريعة وانما انكر ذلك الفلاسفة والملاحدة ممالا يعتد بخلافه۔

(شرح عقیدہ سفارینیہ ج۲ ص۹۰)

(ترجمہ) ”امت کا حضرت عیسیٰ کے دوبارہ نازل ہونے پر اجماع ہے‘ اور اہل شریعت میں سے کسی نے اس میں اختلاف نہیں کیا البتہ فلاسفہ اور دہریوں نے جن کا اختلاف غیر معتد بہ ہے اس سے انکار کیا ہے۔“

العنصرى، مما اجمع عليه الامة و تواتر به الاحادیث۔

(تفسیر البحر المحیط ج۲ ص۴۷۳)

(ترجمہ) ”حضرت مسیح ؑ کا اپنے جسم کے ساتھ آج تک زندہ رہنا اور اسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان سے نازل ہونا ان عقائد میں سے ہے جن پر امت کا اجماع ہے اور جس کے بارے میں احادیث متواتر ہیں۔“

الدين۔

(تفسیر جامع البیان تحت آیت انی متوفیک ج۳ ص۱۸۴)

(ترجمہ) ”اور اس بات پر اجماع ہے کہ وہ (حضرت عیسیٰ ؑ) آسمان میں زندہ ہیں وہ نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور دین کو تقویت بخشیں گے۔“

(فتوحات مکیہ۔ شیخ اکبر ص۷۳)

صفحہ 332

(ترجمہ) ”اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ وہ (عیسیٰ ابن مریم) آخر زمانے میں نازل ہوں گے۔“

والفضل ما شهدت به الاعداء

مرزا غلام احمد نے بھی متعدد کتابوں میں رفع ونزول عیسیٰ پر اجماع نقل کیا ہے۔ مثلاً اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھتا ہے:

”بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس بات پر تمام خلف وسلف کا اجماع معلوم ہوتا ہے کہ مسیح اس عالم کو چھوڑ کر دوسرے عالم کے لوگوں میں جاملا ہے اور بلا کم وبیش انہیں کی زندگی کے موافق اس کی زندگی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ۵۵۷ روحانی خزائن ج ۳ ص ۵۰۷)

مرزا کی مذکورہ بالا عبارات سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی پہلے قرآن وحدیث اجماع امت اور بائبل کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی اور نزول آسمانی کا تمام امت کی طرح قائل اور معترف تھا۔ قرآن وحدیث سے یہ ثابت شدہ عقیدہ پھر اس نے اپنے الہامات کی وجہ سے تبدیل کیا ہے۔ نہ کہ قرآن وحدیث سے لہٰذا اب اس اجماعی عقیدہ کے خلاف کسی آیت یا حدیث یا بائبل کا حوالہ پیش کرنے کا اسے کوئی حق نہیں۔

مرزا کا اپنے الہامات سے عقیدہ تبدیل کرنا اس کی ان عبارات میں دیکھئے:

قدمات بموته الطبعی ۔"

(اتمام الحجۃ ص ۳۔ رخ جلد ۸ ص ۲۷۵)

بعد الالهام المتواتر المتتابع النازل كالوابل و بعد مكاشفات صريحة بينة.“

(حمامة البشریٰ ص ۱۳۔ رخ جلد ۷ ص ۱۹۱)

اور عیسیٰ فوت ہو گیا ہے تب تک میں اسی عقیدہ پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ۶۔ رخ جلد ۱۹ ص ۱۱۳)

قرآن‘ حدیث اور اجماع امت سے ثابت شدہ عقیدہ مرزا قادیانی نے محض اپنے الہامات سے تبدیل کیا ہے جو کسی دوسرے پر حجت نہیں ہو سکتا اور جو الہام قرآن وحدیث کے

صفحہ 333

خلاف ہو وہ الہام ربانی نہیں شیطانی ہے۔ قرآن کریم میں ہے:

وان الشياطين ليوحون الى اولياء هم۔

شیطانی الہامات سے عقائد تبدیل کرنا اسی طرح ہے جیسے کوئی شیطانی خواب سے رشتے ثابت کرنے لگ جائے۔ بریں علم و دانش بباید گریست۔

فاعتبروا يا اولى الابصار

بحث چہارم

تردید دلائل مرزائیہ بر وفات عیسیٰ علیہ السلام

از قرآن مجید

مسلمان مناظر کو اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے ان دلائل کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے جنھیں مرزائی اپنے اس عقیدہ کے لئے پیش کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ وفات پاچکے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ عام طور پر چار آیتیں پیش کر کے عوام کو بے وقوف بناتے ہیں۔ ہم اولاً وہ آیتیں لکھیں گے اور ان کا طرز استدلال پیش کریں گے، پھر ساتھ ہی ان کی ہر غلط تاویلات کے مسکت جواب بھی دیتے جائیں گے۔ دیکھیے :

آیت ۱: فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شى شہید۔

(پ ۷ مائدہ: ۱۱۷)

(ترجمہ) ”پس جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو، تو ہی ان پر نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔“

(ترجمہ از شیخ الہند)

مرزائی استدلال

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں، اگر ہم انہیں فوت شدہ تسلیم نہ کریں تو یہ اعتراض لازم آئے گا کہ اب جو عیسائی بگڑے ہوئے ہیں تو خود حضرت

صفحہ 334

عیسیٰ ہی ان کے بگاڑ کے ذمہ دار ہیں، چوں کہ انہوں نے جواب میں یہ فرمایا کہ جب تک میں ان میں زندہ تھا تو میں ان پر نگران رہا۔ لیکن جب تو نے مجھے وفات دے دی تو میں ذمہ دار نہیں رہا، اس جواب سے پتہ چلا کہ وہ فوت ہوچکے ہیں، ورنہ آج تک کے عیسائیوں کے سارے بگاڑ اور بدعقیدگی کے ذمہ دار وہ خود قرار پائیں گے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر انہیں فوت شدہ نہ مانا جائے تو یہ بات تو ضرور ہے کہ انہیں اپنی امت کی حالت کا علم ہوگا، خواہ آسمان پر رہتے ہوئے یا زمین پر نازل ہونے کے بعد۔ پھر جب ان سے قیامت کے دن ان کی امت، یعنی عیسائیوں کے بارے میں پوچھا جائے گا تو وہ لاعلمی کا اظہار کیوں کریں گے۔ سو اگر انہیں زندہ مانیں تو یہ اظہار لاعلمی سراسر جھوٹ ہوگا جو ایک نبی کی شان کے لائق نہیں اور لاعلمی تو اسی وقت درست ہوسکتی ہے جب کہ ان کو موت آنے کی وجہ سے اپنی قوم اور امت کے احوال کا علم نہ ہو سکا ہو، اس لیے لازماً یہ کہنا پڑے گا کہ وہ وفات پاچکے ہیں اور قرب قیامت میں دوبارہ نہ آئیں گے نہ اپنی قوم کی ان گمراہیوں پر مطلع ہوں گے۔

جوابات حاضر ہیں

مرزائیوں کی یہ لمبی چوڑی تقریر جاہلوں اور تفسیر قرآن سے نا آشنا لوگوں کو تو لبھا سکتی ہے، لیکن اہل علم اور صاحب وحی کے منشاء کو سمجھنے والوں کے لئے اس استدلال کی حیثیت کچھ نہیں ہے۔ اس لفظی عمارت کو تین طریقوں سے زمین بوس کیا جاسکتا ہے۔

جواب ۱: آیت مذکورہ میں توفیتنی کے معنی وفات اور موت نہیں۔ بلکہ رفع اور قبض کے معنی ہیں، اور تمام مفسرین و مجددین نے آیت مذکورہ کے یہی معنی کیے ہیں۔ ذخیرہ حدیث و تفسیر میں کسی بھی معتبر مفسر یا محدث کا قول نہیں ملتا کہ یہ آیت وفات مسیح پر دال ہے۔ اگر کسی بھی مفسر نے اس آیت میں توفی سے مراد موت لی ہے تو ہمارا چیلنج ہے کہ اس کا نام تحریر کریں۔ هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين۔

جواب ۲: پھر آیت بالا میں تقابل موت اور حیات کا نہیں ہے صرف موجودگی اور عدم موجودگی کا ہے جس پر ما دُمتُ فیھم کے الفاظ صراحۃً دال ہیں۔ چنانچہ ما دمت حیا نہیں فرمایا بلکہ ما دمت فیھم فرمایا۔ معلوم ہوا کہ وہ اپنے زمانہ موجودگی میں امت کے نگران اور عدم موجودگی کے زمانہ کے وہ ذمہ دار نہیں۔ اور یہ الفاظ خود اس بات کی طرف مشیر ہیں کہ

صفحہ 335

کوئی زمانہ ایسا بھی ہو جس میں حضرت عیسیٰؑ زندہ رہنے کے باوجود اپنی امت کے درمیان موجود نہ ہوں‘ چنانچہ ہمارے نزدیک یہ زمانہ ان کے آسمان کی طرف اٹھا لیے جانے کے بعد کا ہے۔

جواب ۳: مرزائیوں کا یہ دعویٰ بھی بے دلیل ہے کہ بگاڑ اور عدم بگاڑ میں حد فاصل موت ہے بلکہ خود مرزائی تحریرات اس پر شاہد ہیں کہ عیسائی حضرت عیسیٰؑ کے کشمیر چلے جانے کے بعد ان کی وفات سے قبل ہی عقائد باطلہ اختیار کر چکے تھے۔ دیکھیے (چشمہ معرفت‘ روحانی خزائن ج ۲۳ ص ۲۶۶ اور تحفہ گولڑویہ در خزائن ج ۱۷ ص ۳۱۱) اب اگر بگاڑ اور عدم بگاڑ کے درمیان حد فاصل موت وحیات کو مانا جائے تو جو اعتراض مرزائی ہم پر کر رہے تھے وہ ان پر بھی لازم آ جائے گا‘ لہٰذا پتہ چلا کہ وہ بھی حضرت عیسیٰؑ کی موجودگی اور عدم موجودگی کو ہی حد فاصل مانتے ہیں اور یہی ہمارا منشاء ہے۔

جواب ۴: اور مرزائیوں کی یہ بات کہ حضرت عیسیٰؑ کا اپنی اُمت کے احوال سے اظہارِ لاعلمی ان کی موت کی دلیل ہے۔ سراسر کج فہمی‘ تلبیس اور غلط بیانی ہے خود آیتِ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن حضرت عیسیٰؑ سے ان کی امت کے احوال کے علم ہونے یا نہ ہونے کا سوال نہ ہوگا بلکہ اس بات کا سوال ہوگا کہ کیا انہوں نے اپنی امت کو اللہ کے سوا اپنے اور اپنی ماں کو معبود بنانے کا حکم دیا تھا۔

سوال قول کا ہے علم کا نہیں

یہاں قول کی نفی کی گئی ہے علم کی نہیں قادیانیوں کا یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰؑ سے علم کا سوال ہوگا اور وہ لاعلمی کا اظہار کریں گے۔ یہ سب بکواس‘ جھوٹ اور کھلا دجل ہے۔ قرآن پر کیسی‘ دیدہ دلیری سے

۱۔ انجیل پر ابھی تیس برس بھی نہیں گزرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی۔ یعنی حضرت عیسیٰ خدا بنائے گئے۔ (چشمہ معرفت ص ۲۵۴ ر۔خ جلد ۲۳ ص ۲۶۶) اس عبارت سے صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ بگاڑ حضرت عیسیٰ کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا کیونکہ مرزا صاحب لکھتے ہیں: ”واقعہ صلیب اس وقت حضرت عیسیٰ کو پیش آیا تھا جبکہ آپ کی عمر صرف تینتیس برس اور چھ مہینے کی تھی اور یہ بات قطعی ہے کہ واقعہ صلیب سے پہلے انجیل کا نزول ہوا تھا اور یہ بات بھی مرزا صاحب کے قول سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ ایک سو بیس برس زندہ رہے۔“ (دیکھیے تحفہ گولڑویہ ص ۱۲۷ ر۔خ جلد ۱۷ ص ۳۱۱) مذکورہ بالا دونوں عبارتوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ جب حضرت عیسیٰ تریسٹھ برس کے تھے تو عیسائی بگڑ گئے اور آپ کے تقریباً ۵۷ سال کے طویل عرصہ حیات تک عیسائی بگڑے رہے۔

صفحہ 336

جھوٹ باندھ رہے ہیں اور انتہائی افسوس یہ کہ ہمارے بعض نادان بھائی ان کے جھوٹ پر گرفت کرنے کی بجائے اُلٹا ان کے جھوٹ کو سچ مان کر اس سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ جس کے جواب میں حضرت عیسیٰ اس قول سے انکار کریں گے۔ ملاحظہ فرمائیے قرآنی آیت: (مائدہ: آیت ۱۱۶۔۱۱۷)

. واذ قال اللہ یعیسیٰ ابن مریم أ انت قلت للناس اتخذونی و امی الہین من دون اللہ قال سبحانک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک انک انت علام الغیوب۔ ما قلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبد اللہ ربی وربکم۔

(ترجمہ) ”اور جب کہے گا اللہ اے عیسیٰ مریم کے بیٹے کیا تو نے کہا لوگوں کو کہ ٹھہرا لو مجھ کو اور میری ماں کو دو معبود سوا اللہ کے کہا تو پاک ہے مجھ کو لائق نہیں کہ کہوں ایسی بات جس کا مجھ کو حق نہیں اگر میں نے یہ کہا ہوگا تو تجھ کو ضرور معلوم ہوگا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے بے شک تو ہی ہے جاننے والا چھپی باتوں کا میں نے کچھ نہیں کہا ان کو مگر جو تو نے حکم کیا کہ بندگی کرو اللہ کی جو رب ہے میرا اور تمہارا۔“ (ترجمہ شیخ الہندؒ )

اس آیت سے ہرگز یہ نہیں معلوم ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی حالت سے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس پر دوسرا مقدمہ یعنی ان کی وفات کو مرتب کیا جائے اور درمیان آیت میں جو عدمِ علم کی بات آگئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علم کے سامنے اپنی ذات کی لا علمی ظاہر کرنا ہے جیسا کہ حضرات انبیاء علیہم السلام سے جب ان کی امتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ انہوں نے تم کو کیا جواب دیا تو وہ سب ایک ہی بات کہیں گے لا علم لنا۔

ارشادِ خداوندی ہے: یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا انک انت علام الغیوب۔ (مائدہ: ۱۰۹)

(ترجمہ) ”جس دن اللہ تعالیٰ تمام پیغمبروں کو جمع فرمائیں گے۔ پس فرمائیں گے تم کیا جواب دیے گئے تھے۔ عرض کریں گے، ہمیں علم نہیں بے شک تو ہی غیبوں کو جاننے والا ہے۔“ (ترجمہ شیخ الہندؒ )

جواب ۴: اور پھر اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی امت کی حالت سے لاعلمی کا اظہار کیا یا قیامت کے دن کریں گے۔ تو اس سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ ان کی وفات ہی ہوگئی اور آئندہ وہ دنیا میں تشریف نہ لائیں

صفحہ 337

گے ۔ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ انہیں اپنی قوم کی ساری حالتیں آسمان پر یا بزعم مرزا قبر میں معلوم ہوتی رہتی ہوں تو پھر عدم علم کہاں رہا؟ تو جس سے قادیانی بچنا چاہ رہے تھے وہ انہیں اس صورت میں بھی لازم آ جائے گا، اور عجیب بات یہ ہے کہ خود مرزا نے متعدد مقامات پر یہ تحریر کیا ہے کہ عیسائیوں کی حالت کی خبر آسمانوں پر حضرت عیسی علیہ السلام کو دے دی گئی ہے۔

صرف دو حوالے ملاحظہ فرمائیں:

گئی، حضرت عیسیٰ کو اس کی خبر دی گئی ۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ۲۵۲ روحانی خزائن ج ۵ ص ۲۵۴)

آسمان پر اس فتنہ کی اطلاع دے دی کہ تیری قوم اور تیری امت نے اس طوفان کو برپا کیا ہے ۔“ (ایضاً حاشیہ ج ۵ ص ۲۶۸)

لہٰذا اس ”علم“ کے بعد قیامت کے دن ”لاعلمی کے اظہار“ کا جو جواب مرزائی دیں گے وہی ہمارا جواب ہوگا، جواب کی ذمہ داری اب ہماری نہیں رہی بلکہ ان کی اپنی ہوگئی ہے۔

ما هو جوابکم فهو جوابنا ۔

دور کی کوڑی

گزشتہ استدلال کا جواب تو مرزائیوں کو ایسا ملا کہ دانت کھٹے ہی نہیں ہوئے کڑوے بھی ہو گئے ۔ اس کڑواہٹ کو دور کرنے کے لئے بڑی تگ و دو کے بعد بہت دور کی ایک کوڑی ان کے ہاتھ آ گئی مگر وہ کوڑی واقعی اسم با مسمیٰ کوڑی ہی ہے۔ اس سے زیادہ اس کی وقعت نہیں۔ بہر کیف جواب دینے کے لیے اسے یاد رکھنا چاہیے۔ اس کی تقریر اس طرح کی جاتی ہے کہ بخاری شریف کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن جب امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں سے کچھ لوگ جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس وقت حضرت عیسی علیہ السلام کے کلام کی طرح یہ الفاظ ارشاد فرمائیں گے فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم ۔ اور اس حدیث میں بالاتفاق توفیتنی سے موت ہی مراد ہے۔ تو یہی معنی حضرت عیسی علیہ السلام کے جواب میں بھی ملحوظ رہنے چاہئیں۔ یہ تفریق

صفحہ 338

کیوں ہے؟ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ معنی کیے جائیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے کچھ مطلب لیا جائے! لہٰذا دونوں جگہ صرف اور صرف موت کے معنی ملحوظ رکھے جائیں گے۔

جواب ۱: اس حدیث سے یہ استدلال کرنا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقولہ بعینہ حضرت عیسیٰ کا مقولہ ہے غلط ہے۔ یہاں پر لفظ ”کما“ بولا گیا ہے۔ اگر آپ کا مقولہ بھی عیسیٰ علیہ السلام والا ہوتا تو آپ ”کما“ کی بجائے ”ما“ کا لفظ استعمال کرتے کیا حضور اکرم جیسے فصیح و بلیغ ”کما“ اور ”ما“ کا فرق بھی نہیں سمجھتے تھے۔ فیا للعجب۔

جواب ۲: اس نکتہ کو پیدا کرنے کی ضرورت ہی نہیں خود ہم مرزا کی تحریروں کے حوالے سے ثابت کر چکے ہیں کہ بگاڑ اور عدم بگاڑ کے درمیان حد فاصل موجودگی اور غیر موجودگی ہے۔ اور غیر موجودگی کے معنی ایسے ہیں جو رفع الی السماء میں بھی متحقق ہیں اور طبعی موت پر بھی صادق ہیں۔ لہٰذا دونوں مقامات پر توفیتنی کے معنی مختلف ہوں گے ہر جگہ معنی حسب حال ہوگا نصوص متواترہ کی روشنی میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ لفظ بولا جائے گا تو معنی حسب حال موت ہوگا اور جب حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کیلئے بولا جائے گا تو معنی مراد ان کے حسب حال رفع الی السماء ہوگا۔ اہل علم جانتے ہیں کہ تشبیہ میں من کل الوجوہ مشابہت نہیں ہوتی۔

جواب ۳:

میں بھی یکساں ہوگی۔ کم عقلی اور عربی زبان سے ناواقفی کی دلیل ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: فاقول کما قال العبد الصالح وکنت علیہم شہیداً ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم۔ (مشکوٰۃ شریف ص ۴۸۳ بحوالہ صحیحین) حضور علیہ السلام نے اس حدیث میں اپنے قول کو حضرت عیسیٰ کے قول کے ساتھ تشبیہ دی ہے اپنی توفی کو حضرت عیسیٰ کی توفی سے تشبیہ نہیں دی تا کہ یہ لازم آئے کہ دونوں کی توفی ایک قسم کی تھی۔

صفحہ 339

اس درخت کا نام ذات انواط تھا۔ بعض صحابہ نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمارے لئے بھی ایک ذات انواط مقرر کر دیجئے۔ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ارشاد فرمایا: ھذا کما قال قوم موسیٰ اجعل لنا الھاً کما لھم الھۃ یعنی تمہاری درخواست تو ایسی ہے جیسے قوم موسی نے بتوں کو دیکھ کر یہ درخواست کی تھی کہ اے موسی ہمارے لئے بھی ایک خدا تجویز کر دیجئے جیسے ان بت پرستوں کے لئے خدا ہیں۔ اس تشبیہ سے ادنی درجہ کا مسلمان بھی یہ گمان نہیں کر سکتا کہ معاذ اللہ صحابہ کرامؓ نے بت پرستی کی درخواست کی تھی حاشا وکلّا معاذ اللہ۔ یہ تشبیہ تو محض قول میں تھی کہ انہوں نے کہا تھا اجعل لنا الھا تم نے کہا اجعل لنا ذات انواط۔

اللہ تعالیٰ نے پہلی مرتبہ والدین کے ذریعہ پیدا کیا تھا تو کیا کل قیامت کے دن دوبارہ پیدائش بھی والدین کے ذریعہ ہوگی؟

’’اور یہ ظاہر ہے کہ تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ مماثلت کی وجہ سے بلکہ صرف ایک جزو میں مشارکت کے باعث سے ایک چیز کا نام دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں مثلاً ایک بہادر انسان کو کہہ دیتے ہیں کہ یہ شیر ہے اور شیر نام رکھنے میں یہ ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ شیر کی طرح اس کے پنجے ہوں اور ایسے ہی بدن پر پشم ہو اور ایک دم بھی ہو بلکہ صرف صفت شجاعت کے لحاظ سے ایسا اطلاق ہو جاتا ہے اور عام طور پر جمیع انواع استعارات میں یہی قاعدہ ہے۔‘‘

(ازالۃ اوہام ص ۷۲ حصہ اول ر۔خ جلد ۳ ص ۱۳۸)

مثیل کہلائے بلکہ مشبہ اور مشبہ بہ میں کچھ مغائرت ضروری ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ در روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۱۹۳)

جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام رفع آسمانی کی وجہ سے اپنی قوم سے جدا ہو گئے

صفحہ 340

اور وہ اپنے بعد پیدا ہونے والی قوم کی گمراہی سے بے تعلق ہیں اسی طرح حضور علیہ السلام اپنی وفات کے بعد لوگوں سے جدا ہو گئے اور آپ کو معلوم نہیں کہ لوگوں نے آپ کی عدم موجودگی میں کیا کیا؟ آپ اُس سے بری اور بے تعلق ہیں۔

(معارف القرآن از مولانا کاندھلوی قدس سرہ جلد دوم ص ۴۳۷)

جواب ۴: پھر یہ کیا ضروری ہے کہ ایک لفظ جب دو شخصیتوں کے لیے بولا جائے تو دونوں جگہ معنی ایک ہی ہوں؟ قرائن اور مراتب کے اعتبار سے ایک ہی لفظ کے کئی معنی اور مدلول ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ اسی آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے لیے بھی لفظ نفس بولا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے بھی یہی لفظ استعمال کیا ہے تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک تو کیا دونوں نفس ایک ہی طرح کے مراد لیے جائیں گے؟ اگر کوئی بے وقوف حضرت عیسیٰ اور اللہ تعالیٰ کے نفس کو ایک ہی قرار دے تو اس کا ایمان ہی سلامت نہیں رہ سکے گا۔ اسی طرح توفی کا اطلاق جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے کیا جائے گا تو دیگر احادیث و نصوص کی روشنی میں اس کے معنی رفع کے ہوں گے اور جب یہی لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بولا جائے گا تو اس کے معنی وفات اور موت کے ہوں گے۔ اس میں کوئی استبعاد نہ ہونا چاہیے۔

قادیانیوں کی وفات مسیح پر دوسری دلیل

آیت ۲: ما المسیح بن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل۔ (ترجمہ) ”مسیح ابن مریم صرف رسول ہیں، اُن سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں ۔“

(مائدہ : ۷۵)

آیت۳: وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل۔

(آل عمران: ۱۴۴)

(ترجمہ) ”اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) صرف رسول ہی ہیں۔ آپ سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔“

(ترجمہ شیخ الہند)

صفحہ 341

استدلال

مذکورہ بالا دونوں آیتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے تمام رسول انتقال فرما چکے ہیں اور انہیں موت آ چکی ہے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل کے بھی تمام رسل فوت ہوچکے ہیں جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی شامل ہیں۔

جواب ۱ : کسی مفسر یا مجدد نے آیات بالا سے موت عیسیٰ پر استدلال نہیں کیا‘ ہمت ہے تو پیش کریں۔

جواب ۲ : پہلے حوالہ گزر چکا ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک حضرت موسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں تو آیات بالا کی موجودگی میں ان کی زندگی کے بارے میں جو جواب مرزائی دیں گے وہی ہمارا بھی جواب سمجھ لیا جائے۔

جواب ۳ : اور اصل بات یہ ہے کہ مذکورہ استدلال مرزائیوں کی کور چشمی اور تلبیس کی کھلی دلیل ہے۔ اس لیے کہ مذکورہ آیتوں میں خلت کے معنی فوت ہونے کے نہیں بلکہ گزرنے اور جگہ خالی کرنے کے ہیں۔ بمعنی مضت۔ اور تمام مفسرین نے اس کے یہی معنی کیے ہیں۔ اس کی نظائر بھی قرآن کریم کی دیگر آیتوں میں موجود ہیں۔ مثلاً :

علیحدہ ہوتے ہیں تو تم پر اپنی انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں مارے غیظ کے۔

(حضرت تھانوی)

”اسی طرح ہم نے بھیجا آپ کو ایسی امت میں جس سے پہلے بہت امتیں گزر چکی ہیں۔“ (ترجمہ شیخ الہند) کیا پہلی تمام امتیں مر چکی تھیں؟

جواب پر اعتراض

مذکورہ بالا جواب سن کر مرزائی یہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ تو تسلیم ہے کہ یہاں خلت کے معنی مضت کے ہیں لیکن یہ گزرنا کس طرح ہوا اس کی تشریح خود قرآن کریم نے کر دی ہے‘

صفحہ 342

چنانچہ فرمایا گیا: افائن مات او قتل لہٰذا معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل بھی تمام انبیاء میں انہی دو صورتوں کا حصر ہے۔ جس میں رفع الی السماء داخل نہیں ہے لہٰذا اس کا اثبات نہیں کیا جاسکتا۔

جواب ۱: یہاں حصر نہیں ہے عمومی صورتوں کا ذکر ہے رفع کی صورت خاص ہے اس کا ذکر نہیں ہے النادر کالمعدوم آپ نے بارہا سنا ہوگا۔

جواب ۲: اچھا اگر ایسی بات ہے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام بقول مرزا کیسے آسمان پر چلے گئے؟ جیسے مرزائی ان کے لئے رفع الی السماء ثابت کرتے ہیں اور مذکورہ آیتیں ان کے لیے مانع نہیں بنتیں۔ اسی طرح ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے قائل ہیں اور مذکورہ کیا کوئی بھی قرآنی آیت ہمارے عقیدہ کے معارض نہیں ہے۔

وفات عیسیٰ علیہ السلام پر اجماع امت کا دعویٰ

مرزائی یہاں ایک شوشہ یہ چھوڑتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جو خطبہ دیا اس میں بھی صرف موت اور قتل پر حصر کیا گیا ہے۔ رفع کا ذکر نہیں ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سے پہلے انبیاء کے ساتھ بھی صرف یہی دو صورتیں پیش آئی ہیں۔ تیسری کوئی صورت (رفع وغیرہ) کی پیش نہیں آئی، نیز صحابہ نے ان کی تقریر پر کوئی اعتراض بھی نہیں کیا، لہٰذا یہ اجماعی بات ہو گئی۔

جواب ۱: خود مرزا صاحب کو اس بات کا اعتراف ہے کہ حضرت عمرؓ کے جس ارشاد کے جواب میں حضرت صدیق اکبرؓ نے تقریر فرمائی ہے اس میں رفع عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر تھا۔ چنانچہ مرزا صاحب (تحفہ غزنویہ روحانی خزائن ج ۱۵ ص ۵۸۰) میں لکھتے ہیں:

اور ملل ونحل شہرستانی میں اس قصہ کے متعلق یہ عبارت ہے:

قال عمر بن الخطاب من قال ان محمداً مات فقتلته بسيفى هذا۔ وانما رفع الى السماء كما رفع عيسى بن مريم۔

(الملل والنحل ص ۱۵)

دیکھیئے، یہاں حضرت عمرؓ نے عیسیٰ علیہ السلام کو مقیس علیہ اور رفع محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو

صفحہ 343

مقیس بنایا ہے اور جواب میں حضرت ابو بکر صدیق نے صرف مقیس کی نفی فرمائی مقیس علیہ کا رد نہیں فرمایا کیونکہ وہ سب کے نزدیک ثابت شدہ بات تھی۔ اور صحابہ نے ان کی اس تردید پر انکار بھی نہیں کیا لہٰذا اس بات پر اجماع ہو گیا کہ رفع عیسیٰ تو ثابت ہے۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس طرح رفع نہیں ہوا ہے‘ لہٰذا یہ واقعہ اس امر پر بھی صریح دلیل ہے کہ تمام حضرات صحابہؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کے قائل تھے۔

رہا یہ اعتراض کہ جسدِ اطہر موجود ہوتے ہوئے حضرت عمرؓ نے یہ بات کیوں کہی تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ غم کی وجہ سے بے حال ہو گئے تھے۔

”وكان من الحزن كالمجانين۔
(ترجمہ) ”آپ شدتِ غم سے دیوانے سے ہو گئے تھے۔“

(تحفہ غزنویہ ص ۵۵ و روحانی خزائن ج ۱۵ ص ۵۸۸)

جواب ۲ : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر اجماعِ صحابہ کا دعویٰ غلط ہے۔ اس کے کئی دلائل ہمارے پاس موجود ہیں۔ مثلاً مرزا خود ہی اجماعِ صحابہؓ کی تردید کر رہا ہے‘ چنانچہ لکھا ہے:

ثابت ہوتی ہے اور ابتداء سے آج تک بعض اقوال صحابہؓ اور مفسرین بھی اس کو مانتے ہی چلے آئے ہیں تو اب آپ لوگ ناحق کی ضد کیوں کرتے ہیں۔“

(ازالۃ اوہام ص ۴۶۹ ر۔ خ جلد ۳ ص ۳۵۱)

کیا یہاں لفظ ’بعض‘ دعویٰ اجماع کی کھلی تردید نہیں؟

اگر کسی کا یہ مذہب لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم کو جسدِ عنصری کے ساتھ زندہ ہی اٹھایا گیا تو ساتھ اس کے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ بعض کا یہ بھی مذہب ہے کہ مسیح فوت ہو گیا ہے بلکہ ثقات صحابہ کی روایت سے فوت ہو جانے کے قول کو ترجیح دی ہے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہی مذہب بیان کیا گیا ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ۵۶۷ و روحانی خزائن ص ۵۰۸ جلد ۳)

کیا یہ سب اختلافات دعویٰ اجماع کی کھلی تردید نہیں؟

صفحہ 344

کہ درحقیقت یہ قول نیا تو نہیں اس کے پہلے راوی تو ابن عباس ہی ہیں لیکن اب خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر اس قول کی حقیقت ظاہر کر دی اور دوسرے اقوال کا بطلان ثابت کر دیا ۔“ (ازالۃ اوہام حصہ دوم ص ۴۵۹ در خزائن ص ۴۲۵ جلد ۳) جب دوسرے اقوال بھی موجود تھے تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان دنوں وفات پر اجماع ہوا ہوا تھا ۔

نام لیجئے جو اس بارے میں اپنی شہادت ادا کر گئے ہیں ورنہ ایک یا دو آدمی کے بیان کا نام اجماع رکھنا سخت بددیانتی ہے ۔“ (ازالۃ اوہام ص ۳۰۳۔ رخ جلد ۳ ص ۲۵۵)

مذکورہ حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ مرزائیوں کا وفات عیسیٰ علیہ السلام پر اجماع صحابہ کا دعویٰ خود مرزا کے الفاظ میں بھی بے اصل ہی ہے ۔

الزامی جواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ اگر بالفرض والمحال آنحضرت اور تمام انبیاء کا فوت ہونا تسلیم کر لیا جائے تو مرزا صاحب کو بھی اس آیت کے نازل ہونے کے وقت فوت شدہ ماننا پڑے گا ورنہ استغراق ثابت نہ ہو گا ۔

اور مرزائی جس طریقہ سے مرزا قادیانی کا استثناء کریں گے اسی طریقے سے اس آیت سے ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا استثناء کر لیں گے ۔

جواب ۳ : خود مرزائیوں کے ”حضرت صاحب“ نے آیت بالا میں خلت کا ترجمہ گزرنے کے ساتھ کیا ہے ۔ دیکھئے :

”یعنی مسیح ابن مریم میں اس سے زیادہ کوئی بات نہیں کہ وہ صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے ہیں ۔“

(جنگ مقدس و روحانی خزائن ج ۶ ص ۸۹)

جواب ۴ : اگر خلت کے عموم میں سارے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی داخل ہیں تو مرزائی صاحبان اس بات کا جواب دیں کہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے : ولقد ارسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم ازواجا وذرية۔ (رعد : ۳۸)

(اور تحقیق ہم نے بھیجا رسولوں کو آپ سے پہلے اور بنائی ہم نے ان کے لیے بیویاں اور اولاد )

صفحہ 345

تو کیا آیت کے عموم کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی نکاح کیا تھا اور ان کی اولاد ہوئی تھی۔ اور اگر اس آیت سے ان کا استثناء کیا جاسکتا ہے تو آیت مبحوث عنہا سے تو بدرجہ اولیٰ استثناء کیا جائے گا‘ کیونکہ وہاں استثناء کے لیے اور بھی بہت سی دلیلیں بھی موجود ہیں۔

جواب ۵ : کیا الرسل پر الف لام استغراق کا ہے؟

مرزا صاحب اور مرزائی اس بات پر بہت زور دیتے ہیں کہ آیت قد خلت من قبلہ الرسل سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیاء کرام فوت ہو چکے ہیں۔ اور اس آیت میں الف لام استغراق کے لئے ہے اور لفظ خلت موت پر دلالت کرتا ہے لہٰذا دیگر انبیاء کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی فوت ہو چکے ہیں۔

مرزائیوں کا دعویٰ کہ اس آیت میں الف لام استغراق کا ہے چند وجوہات سے باطل ہے۔

خود مرزا صاحب کے نزدیک بھی الف لام استغراق کا نہیں ہے۔

چند حوالے ملاحظہ فرمائیں :

یہ مسئلہ کہ اس میں الرسل پر جو الف لام ہے وہ استغراق کے لئے ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو دلیل پیش کرو کہ استغراق ہی مراد ہے اور پھر استغراق بھی حقیقی ہی ہو کیا وقفينا من بعده بالرسل میں الف لام استغراقی ہے۔ (جنگ مقدس ص ۷)

در حقیقت مسیح موعود کے آنے کی طرف ہے اور اس بات کا بیان مقصود ہے کہ وہ عین وقت پر آئے گا اور یاد رہے کہ کلام اللہ میں رسل کا لفظ واحد پر بھی اطلاق پاتا ہے اور غیر رسول پر بھی پاتا ہے...... اور اذا الرسل اقتت میں الف لام عہد خارجی پر دلالت کرتا ہے۔ (شہادۃ القرآن ص ۲۴)

پر الف لام استغراق کا نہیں کیونکہ مرزا نے خود اقرار کیا ہے کہ بعض احادیث غیر احاد ہیں۔ (حمامة البشریٰ ص ۲۰۵ ج ۷)

قرآن مجید میں متعدد آیات ہیں جن میں الف لام استغراقی مراد نہیں لیا جاسکتا

صفحہ 346

آیات ملاحظہ فرمائیں:

آیت٤ : کا نا یا کلان الطعام۔ (مائدہ:آیت۷۵) (ترجمہ) ”وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔“

طریق استدلال

اس آیت میں حضرت مریم وعیسیٰ علیہماالسلام دونوں کے کھانا کھانے کا ذکر ہے‘ اور یہ بات مسلمہ ہے کہ حضرت مریم علیہاالسلام کا موت کی وجہ سے کھانا کھانے کا عمل منقطع ہو چکا ہے لہٰذا ضرورتاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کھانے کا بھی انقطاع ثابت ہوا۔ اور اگر انقطاع نہ ہوا ہو تو بتایا جائے کہ وہ اس وقت کیا کھاتے ہیں۔

جواب ۱ : جو کھانا حضرت موسیٰ علیہ السلام کھاتے ہیں وہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی تناول فرماتے ہیں۔

جواب ۲ : اس کھانے سے یہ ضروری نہیں کہ متعارف کھانا ہی مراد لیا جائے‘ بلکہ وہ روحانی غذا بھی مراد لی جاسکتی ہے جو مخصوص بندگان خدا کو دی جاتی ہے۔ یہی طعام اور غذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ملتی ہے۔ خود مرزا صاحب نے اولیاء اللہ کے لئے روحانی غذا کا اقرار کیا ہے۔ ملاحظہ کریں:

”اس درجہ پر مومن کی روٹی خدا ہوتا ہے جس کے کھانے پر اس کی زندگی موقوف ہے اور مومن کا پانی بھی خدا ہوتا ہے جس کے پینے سے وہ موت سے بچ جاتا ہے‘ اور اس کی ٹھنڈی ہوا بھی خدا ہی ہوتا ہے جس سے اس کے دل کو راحت پہنچتی ہے۔“ (براہین احمدیہ پنجم در خزائن ج۲۱ ص۲۱۶)

صفحہ 347

جواب ۳ : علامہ شعرانی الیواقیت والجواہر میں بحث کرتے ہوئے اس سوال کا جواب ان الفاظ میں دیتے ہیں:

فان قيل: فما الجواب عن استغنائه عن الطعام والشراب مدة رفعه فان الله تعالىٰ قال 'وما جعلنهم جسداً لا ياكلون الطعام الاية- فالجواب: ان الطعام انما جعل قوة لمن يعيش فى الارض لانه مسلط عليه الهواء الحار والبارد فينحل بدنه فاذا انحل عوضه الله تعالىٰ بالغذاء اجراء لعادته فى هذه الخطة الغبراء وامامن رفعه الله الى السماء فحينئذٍ طعامه التسبيح وشرابه التهليل-

(الیواقیت والجواہر ج ۲ ص ۲۲۹)

(ترجمہ) ”اگر کوئی عیسیٰ علیہ السلام کی بابت یہ سوال کرے کہ آسمان پر قیام کے دوران انہیں کھانے پینے سے کیسے استغناء ہوگا؟ جبکہ ارشادِ باری ہے: ”کہ ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں بنایا کہ جو کھاتا پیتا نہ ہو ۔“ تو اس کا جواب یہ ہے ۔ کہ جو زمین پر رہنے والا ہے اس کے بدن کی قوت کے لئے کھانا بنایا گیا ہے اس لیے کہ اس کے جسم پر گرم اور سرد ہواؤں کا عمل دخل ہے جن سے جسم تحلیل ہوتا ہے۔ اس اثر پذیری کے پیشِ نظر قدرت نے کھانے کے عمل کو رکھ دیا ہے باقی جسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں اٹھا لیا بس اس کا وہاں کھانا پینا تسبیح و تہلیل ہے۔“

جواب ۴ : دنیا میں آنے سے قبل جو خوراک حضرت آدم علیہ السلام کی تھی وہی خوراک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہوتی ہوگی کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے قبیل سے ہیں۔ ارشادِ ربانی ہے: ان مثل عيسىٰ عند الله كمثل اٰدم- ”بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم کی حالت کی طرح ہے۔“ (آلِ عمران : ۵۹)

جواب ۵ : اصل بات یہ ہے کہ جو آیت یہاں مرزائیوں نے پیش کی ہے وہ دراصل حضرت عیسیٰ و مریم علیہما السلام کی الوہیت کے بطلان کے لیے بطور دلیل پیش ہوئی ہے۔ کہ جو کھانے پینے کے محتاج ہوں وہ معبود کیسے بن سکتے ہیں۔ تو اس دلیل کی تکمیل اور

صفحہ 348

الوہیت کی تردید کے لیے ان دونوں کا ایک مرتبہ کھانا بھی کافی ہے کہ وہ زندگی کے لئے کھانے کے محتاج تھے لیکن عدم الوہیت کے لئے ضروری نہیں کہ وہ کھاتے ہی رہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ ایک کھانا چھوڑ دے تو دوسرا بھی چھوڑ دے۔ یہ قیاس تو سراسر حماقت ہے۔ مثلاً کوئی یہ کہے کہ مرزا غلام احمد اور اس کی بیوی ایک ساتھ کھاتے تھے تو کیا مرزا کے مرنے سے اور کھانا چھوڑنے سے اس کی بیوی کا مرنا اور کھانا ترک کرنا بھی لازم آجائے گا۔ حالانکہ مرزا کی بیوی مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد مدت دراز تک زندہ رہی اور کھانا کھاتی رہی تقسیم ملک کے بعد پاکستان چناب نگر (ربوہ) میں آکر مری اور وہ ابھی تک امانتاً وہیں دفن ہے۔

ع ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیے

آیت ۵ : واوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ ما دمت حیا۔

(سورہ مریم آیت ۳۱)

(ترجمہ از حضرت تھانویؒ) ”اور اس نے مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں۔“

استدلال

آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندگی بھر نماز و زکوٰۃ ادا کرتے رہے۔ اگر وہ آج بھی زندہ ہیں تو بتایا جائے کہ وہ کس کو زکوٰۃ دیتے ہیں اور کس طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ اگر یہ نہ معلوم ہوسکے تو لازماً کہا جائے گا کہ ان کا انتقال ہوچکا ہے۔

جواب ۱: یہ استدلال مرزائیوں کی انتہائی کم علمی اور جہالت کی دلیل ہے ہر مسلمان جانتا ہے کہ نماز روزہ زکوٰۃ کچھ شرائط کے ساتھ مشروط ہیں وقت آئے گا تو نماز فرض ہوگی۔ رمضان آئے گا تو روزہ کی فرضیت متوجہ ہوگی، اور نصاب ہوگا تو زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسی جگہ اٹھائے گئے ہیں جہاں وقت ہی نہیں ہے کیونکہ آسمانی دنیا زمان سے خالی ہے، لہٰذا ان پر نماز فرض ہی نہیں، اور جب تک فرض تھی یعنی اٹھائے جانے سے قبل تو وہ پڑھتے تھے اور جب آئندہ فرض ہوگی یعنی نزول کے بعد تو اس وقت بھی ادا کریں گے۔ اسی طرح وہ صاحب نصاب نہ پہلے رہے اور نہ آئندہ ہوں گے اور نہ اس وقت ہیں اس لیے ان پر زکوٰۃ بھی فرض نہیں ہے، ہاں اگر مرزائی ان کا صاحب نصاب ہونا کسی دلیل شرعی سے ثابت کر دیں تو یہ جواب ہم دے دیں گے کہ وہ یہ روپیہ زکوٰۃ کا کن

صفحہ 349

فقیروں کو دیتے ہیں۔ ان شاء اللہ !

جواب ۲ : ان کے پیش رو حضرت موسیٰ علیہ السلام جدھر منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں ان ہی کی اقتداء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی نماز ادا کر لیتے ہیں۔

تردید دلائل مرزائیہ بروفات عیسیٰ علیہ السلام

از احادیث مبارکہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کرنے کے لیے مرزائیوں نے پورا ذخیرہ حدیث چھان مارا لیکن لے دے کے انہیں صرف دو حدیثیں ایسی ملیں جن سے انہوں نے زبردستی اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کچھ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن وہ دونوں حدیثیں روایۃً و درایۃً قطعاً ساقط الاعتبار ہیں۔ ذیل میں ہم وہ دونوں روایتیں اور ان کے جوابات ذکر کر رہے ہیں۔ دیکھیے :

حدیث ۱ : عن عائشة : ان عیسیٰ ابن مریم عاش عشرین و مائة سنة۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک سو بیس برس تک زندہ رہے۔ یہاں عاش ماضی کا صیغہ ہے جس سے معلوم ہوا کہ ایک سو بیس سال کے بعد ان کا انتقال ہو گیا تھا۔

جواب ۱ : یہ حدیث ابن لہیعہ کے واسطے سے مروی ہے جو محدثین کے نزدیک بالاتفاق مردود اور ناقابل اعتبار راوی ہے۔ اس لیے روایات صحیحہ کی موجودگی میں یہ روایت بالکل ناقابل قبول ہے۔

جواب ۲ : مرزائی اپنی تلبیس کی عادت قدیمہ پر عمل کرتے ہوئے یہ حدیث پوری نقل نہیں کرتے کیونکہ اگر پوری نقل کریں تو ان کا سارا پول کھل جائے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ حدیث عقلاً و درایۃً بھی اس قابل نہیں کہ اس کی طرف ادنیٰ سا بھی التفات کیا جائے۔ کیونکہ اس روایت کے شروع میں یہ مضمون بھی ہے کہ ہر بعد میں آنے والا نبی اپنے سے پہلے نبی کی آدھی عمر پاتا ہے۔ اب اگر اسے صحیح مان کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اوپر کے دس بیس انبیاء کی

صفحہ 350

عمریں شمار کی جائیں تو ان کی عمریں ہزاروں لاکھوں برسوں سے تجاوز کر جائیں گی اور حضرت آدم علیہ السلام کی عمر تو اتنی لمبی ہو جائے گی کہ موجودہ زمانہ کے سارے کلکیولیٹر اور کمپیوٹر اسے شمار کرنے سے عاجز آ جائیں گے۔

اگر حساب کیا جائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر بیسویں نبی کی عمر ۶ کروڑ ۲۹ لاکھ ۱۴ ہزار ۵ سو ساٹھ سال بنتی ہے اتنی عمر عقلاً عرفاً ناممکن ہے۔ حالانکہ خود قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی عمر ۹ سو پچاس برس بتائی گئی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بہت پہلے کے رسول ہیں...... لہٰذا جب روایت کا پہلا جز ہی ناقابل اعتبار ٹھہرا تو دوسرے جز پر کیسے اعتماد کیا جاسکے گا؟

جواب ۳: اگر حدیث کا پہلا جز درست ہے کہ ہر بعد میں آنے والا نبی پہلے سے آدھی عمر پاتا ہے تو اس کی رو سے مرزا بالکل جھوٹا ثابت ہوتا ہے کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال ہے۔ مرزا کی عمر اس حدیث کے لحاظ سے اکتیس، بتیس سال ہونی چاہیئے حالانکہ اس کی عمر ستر سال کے لگ بھگ ہے۔

جواب ۴: اگر بالفرض اس حدیث کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو دیگر احادیث متواترہ کو سامنے رکھ کر حدیث کی اس طرح تطبیق دی جائے گی کہ وہ نصوص کے مخالف نہ ہو چنانچہ ملا علی قاریؒ نے اس کی تطبیق اس طرح دینے کی کوشش کی ہے کہ نبوت سے قبل ۴۰ سال۔ نبوت کے بعد ۲۳ سال اور قیامت کے قریب نازل ہونے کے بعد ۴۵ سال اس طرح کل ۱۱۸ سال ہوئے حدیث میں کسر کو پورا کر کے ۱۲۰ سال کہہ دیا گیا ہے اور جس حدیث میں نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صرف ۷ سال زندہ رہنے کی بات ہے وہ قتل دجال کے بعد سات سال زندہ رہنے پر محمول کی جائے گی۔

حدیث ۲ : لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین لما وسعهما الا اتباعی۔

(ترجمہ) ”اگر موسیٰ وعیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوتا۔“

جواب ۱: اس حدیث کی کوئی سند نہیں ہے یہ ایک بے سند اور مردود قول ہے۔ صحیح روایت جو سند کے ساتھ احادیث کی کتابوں میں موجود ہے اس میں صرف حضرت موسیٰ علیہ

صفحہ 351

السلام کا نام ہے۔ مشکوٰۃ شریف میں ہے: لو کان موسٰی حیا لما وسعہ الا اتباعی۔ (مشکوٰۃ شریف ص ۳۰) اور شرح فقہ اکبر کی جو روایت پیش کی جاتی ہے جس میں لو کان عیسٰی حیاً کے الفاظ ہیں وہ کاتب کی غلطی ہے۔ ہندوستانی نسخوں میں لو کان موسٰی حیاً کے الفاظ ہیں اور خود شارح فقہ اکبر ملا علی قاریؒ حیات مسیح اور رفع سماوی کے پورے قائل ہیں۔

جواب ۲: اگر بالفرض یہ حدیث صحیح بھی ہو تو یہ مرزائیوں کے بھی خلاف پڑتی ہے کیونکہ اس حدیث سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی طرح حضرت موسٰی علیہ السلام کی وفات بھی ثابت ہوتی ہے حالانکہ مرزا غلام احمد حضرت موسٰی علیہ السلام کی حیات کا قائل ہے۔ (حوالہ متعدد بار گزر چکا ہے) فما ہو جوابکم ہو جوابنا۔

نہلے پہ تین دہلے

جواب ۳: مرزائی عام طور پر حیات مسیح علیہ السلام پر بحث کرتے ہوئے عوام کو بے وقوف بنانے اور ان کے جذبات کو بھڑکانے کیلئے بڑے زور و شور کے ساتھ یہ شعر پڑھتے ہیں ؎

غیرت کی جا ہے عیسٰی زندہ ہو آسماں پر
مدفون ہو زمیں میں شاہِ جہاں ہمارا

اس پر مسلمان مناظر کو خاموش نہ رہنا چاہیے بلکہ ترتیب وار حسب ذیل تین اشعار لحن داؤدی کے ساتھ مع تشریح پیش کر کے مرزائیوں کے دانت کھٹے کر دینے چاہئیں۔ وہ تین شعر یہ ہیں ؎

غیرت کی جا ہے موسٰی زندہ ہو آسماں پر
مدفون ہو زمین میں شاہِ جہاں ہمارا

(واضح ہو کہ مرزائی حضرت موسٰی علیہ السلام کی حیات اور آسمان پر اٹھائے جانے کے قائل ہیں)

مصطفٰے زیر زمین عیسٰی نہاں بر آسماں
زیر دریا دُر شود بالا حباب ناتواں

(حضرت عیسٰی علیہ السلام آسمان پر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زمین کے نیچے مدفون ہیں۔ موتی دریا کے نیچے ہوتا ہے اور اوپر بلبلے ہوتے ہیں)

صفحہ 352
اما ترى البحر يعلو فوقه حبب .
وتستقر باقصیٰ قعره الدرر

( کیا تجھے نہیں معلوم کہ سمندر کے اوپر والے حصہ میں بلبلے تیرتے ہیں اور اس کی اتھاہ گہرائیوں میں موتی پوشیدہ ہوتے ہیں)

جواب ٤ : اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر زندہ ماننا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہے تو کیا مرزا قادیانی کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر زندہ ماننا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین نہیں ہے۔ فما ھو جوا بکم ھو جوابنا۔

جواب ٥ : انسان تمام مخلوق سے بالاتفاق افضل ہے لیکن فرشتے جو انسان سے کم تر درجے کے ہیں وہ آسمانوں کے اوپر بلکہ عرش الٰہی کو تھامے ہوئے ہیں۔ تو وہ فرشتے اوپر ہونے سے انسان سے افضل ہوگئے اور چیلیں‘ گدھیں انسان سے اوپر اڑتی ہیں تو کیا وہ بھی انسانوں سے افضل ہوں گی۔ ہاں قادیانیوں سے تو وہ یقیناً افضل ہیں کیونکہ موت کے بعد ان کیلئے جہنم نہیں اور قادیانیوں کیلئے جہنم ہے۔ قادیانی شریعت اسلامیہ کی رو سے مرتد اور زندیق ہیں جو واجب القتل ہیں:

مرزائیوں کی حالت کی آئینہ دار ایک رباعی

اس پوری بحث سے آپ یقیناً اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہوں گے کہ پوری جماعت مرزائیہ دلائل سے بالکل عاری اور قلاش ہے۔ بس کہیں بھی کوئی معمولی سی بات مل جائے تو اسے ہی لے کر یہ اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ملنا چاہیے۔ ان کی اس حالتِ زار پر حسب ذیل رباعی بالکل فٹ ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ۔

یہ سب آثار ہیں جہل و جنوں کے
یہ سب اطوار ہیں زار و زبوں کے
یہ چاروں لفظ ہیں مکر و فسوں کے
اگر‘ لیکن‘ چنانچہ اور چوں کے

رئیس امروہوی

(اخبار جنگ‘ لاہور ۱۹۷۵ء ۲۱ مارچ)

صفحہ 353

پانچواں باب

مسئلہ ختم نبوت

(بحث اجرائے نبوت وعدم اجرائے نبوت)

تنقیح موضوع

مرزائیوں کے پاس سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کا ایک موضوع اجرائے نبوت بھی ہے یعنی نبوت کو اپنی طرف سے جاری کرنے کی کوشش کرنا۔ دور از کار تاویلات بے ہودہ استدلالوں اور رکیک تحریفات کے ذریعہ وہ اپنی مطلب برآری کی ناجائز اور بے ہودہ کوشش کرتے ہیں۔ اس موضوع پر گفتگو کرنے سے پہلے یہ لازم ہے کہ دعویٰ اور مستدل کی تنقیح کر لی جائے‘ اور بغیر تنقیح و تعین کے ہرگز گفتگو کا آغاز نہ کیا جائے۔ اگر دعویٰ کی تنقیح ہو گئی تو یہ سمجھ لیجئے کہ مرزائی اپنی رکیک تاویلات کی بیساکھی سے ایک انچ بھی آگے نہیں چل سکتے۔ اور یہ تنقیح آپ کے پاس ایسا ہتھیار ہوگا جس کے ذریعہ آپ ان کی پیش کردہ ہر دلیل کو ڈائنامیٹ کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ قادیانی مطلق اجرائے نبوت کے قائل نہیں ہیں۔ بلکہ ایک خاص قسم کی نبوت کے آنحضرت ﷺ کے بعد جاری رہنے کے قائل ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ

صفحہ 354

(۳) اگر وہ اپنے خاص دعویٰ پر خاص دلیل پیش کریں تو اس کے بعد ہی اس پر بحث کی جائے...... یہ نہ ہو کہ دعویٰ تو خاص ہو اور دلیل عام ہو کیونکہ یہ کھلی بددیانتی اور خلافِ عقل و درایت ایک دھوکہ دہی ہے۔ اس وضاحت کے بعد وہ حوالے یاد رکھنے چاہئیں جن سے مرزائیوں کے اجزائے نبوت کے خاص دعویٰ کی نشاندہی ہوتی ہے:

حوالہ ۱: ”میں نبیوں کی تین اقسام مانتا ہوں: (۱) جو شریعت والے ہوں۔ (۲) جو شریعت نہیں لائے۔ لیکن ان کو نبوت بلا واسطہ ملتی ہے۔ اور کام وہ پہلی ہی امت کا کرتے ہیں۔ جیسے سلیمان و زکریا اور یحییٰ علیہم السلام۔ (۳) اور ایک جو نہ شریعت لائے ہیں اور نہ ان کو بلا واسطہ نبوت ملتی ہے لیکن وہ پہلے نبی کی اتباع سے نبی ہوتے ہیں۔“

(قول فیصل، مرزا بشیر الدین محمود ص۱۴)

حوالہ ۲: ”اس جگہ یاد رہے کہ نبوت مختلف نوع پر ہے اور آج تک نبوت تین قسم پر ظاہر ہو چکی ہے: (۱) تشریعی نبوت۔ ایسی نبوت کو مسیح موعود نے حقیقی نبوت سے پکارا ہے۔ (۲) وہ نبوت جس کے لیے تشریعی یا حقیقی ہونا ضروری نہیں ہے۔ ایسی نبوت حضرت مسیح موعود کی اصطلاح میں مستقل نبوت ہے۔ (۳) ظلی اور امتی نبی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے مستقل اور حقیقی نبوتوں کا دروازہ بند کیا گیا اور ظلی نبوت کا دروازہ کھولا گیا۔“ (مسئلہ کفر و اسلام کی حقیقت، مرزا بشیر احمد ایم۔اے ص ۳۱)

حوالہ ۳: ”انبیاء کرام علیہم السلام دو قسم کے ہوتے ہیں: (۱) تشریعی (۲) غیر تشریعی، پھر غیر تشریعی بھی دو قسم کے ہوتے ہیں نمبر۱۔ براہِ راست نبوت پانے والے۔ نمبر۲۔ نبی تشریعی کی اتباع سے نبوت حاصل کرنے والے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش تر صرف پہلی دو قسم کے نبی آتے تھے۔“ (مباحثہ راولپنڈی ص ۱۷۵)

ان حوالہ جات سے قادیانیوں کا یہ دعویٰ واضح ہو گیا کہ ان کے نزدیک نبوت کی دو قسمیں بالکل بند ہیں اور ایک خاص قسم کی نبوت یعنی ظلی بروزی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہوتی ہے جاری ہے۔ نیز یہ خاص قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے

صفحہ 355

نہیں پائی گئی تھی آپ کے بعد ہی ظہور میں آئی ہے۔ اور اسے پانے کے لئے صرف ایک ہی شخص مخصوص کیا گیا ان کے ہاں یہ نبوت وہبی نہیں بلکہ کسبی ہے کیونکہ اس میں اتباع کا واسطہ ہے۔ تو گویا دعوٰی کے تین جز ہوئے: (الف) ظلی بروزی نبوت ۔ (ب) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جاری ہوئی۔ (ج) یہ کسبی ہے وہبی نہیں ......

اب ان تینوں تنقیحات کے بعد موضوع ہٰذا پر گفتگو کرتے وقت یہ دیکھنا چاہیے کہ مرزائی اپنے عقیدہ کے ثبوت میں جو دلیلیں پیش کریں وہ ان کے دعوے خاص سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں؟ اگر نہ رکھیں تو ان پر بالکل بحث نہ کی جائے۔ مثلاً ایسی دلیل اگر پیش کی جائے جس میں ظلی بروزی وہبی یا کسبی‘ اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یا پہلے ہونے کا ذکر نہ کیا گیا ہو تو اس جانب التفات نہ کیا جائے۔ عام طور پر قادیانی یہی عیاری کرتے ہیں اور عام آیت پیش کر کے اس پر بحث شروع کر دیتے ہیں ...... اور نا تجربہ کار مناظر ان کی اس چال کو سمجھ نہیں پاتے ۔ اس لیے یہیں پر بند لگا دینا چاہیے کہ دلیل بالکل دعوٰی کے مطابق ہو۔ کوئی بھی خاص دعوٰی عام دلیل سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اگر آپ اسی پر استقلال کے ساتھ جم جائیں تو ہمارا دعوٰی ہے کہ ان شاء اللہ کوئی بھی قادیانی قیامت تک اپنے مزعومہ خاص عقیدہ کے موافق ایک بھی دلیل پیش نہیں کر سکتا۔

ایک ضروری تنبیہ

جب کسی طرح کام نہیں چلتا تو مرزائی اپنے موضوع سے ہٹ کر امکان نبوت کی بحث چھیڑ دیتے ہیں۔ لہٰذا اس مرحلہ پر بھی ہوشیار رہنا چاہیے۔ اور اس پر بحث نہ کرنی چاہیے اور یہ کہنا چاہیے کہ یہاں امکان کی بات نہیں بلکہ وقوع کی بات ہے۔ اور اگر وہ پھر بھی مصر رہیں تو فوراً تریاق القلوب کی حسب ذیل پوری عبارت بلا کم و کاست پڑھ کر سنا دیں۔ ان شاء اللہ یہ نسخہ اس کے چپ کرنے میں نہایت زود اثر ثابت ہو گا‘ دیکھئے ۔

’’ایک شخص جو قوم کا چوہڑا یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دو وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے۔ اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا

صفحہ 356

ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہو کر اس کی رسوائی ہو چکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی ہو چکا ہے اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں۔ اور سب مردار کھاتے...... اور گوہ اٹھاتے ہیں۔ اب خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے۔ اور اسی گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لے کر آوے۔ اور کہے کہ جو شخص تم میں سے میری اطاعت نہیں کرے گا خدا اُسے جہنم میں ڈالے گا۔ لیکن باوجود اس امکان کے جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے کبھی خدا نے ایسا نہیں کیا۔

(تریاق القلوب ص۱۵۲ اور روحانی خزائن ج ۱۵ص۲۷۹-۲۸۰)

در حقیقت خود مرزا نے اپنی زبانی مذکورہ بالا عبارت میں اپنی حقیقت واضح کی ہے۔ لہٰذا امکان نبوت کے بعد بھی مرزا جیسے ناقص الدماغ کو نبی تسلیم کر لینا ممکن نہ ہوگا۔

نہیں قائل ہوا میں آج تک جھوٹی نبوت کا
خدا جن کا بروزی ہے نبی جن کا برازی ہے

ختم نبوت کے دلائل متواتر اور روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ مزید وضاحت کے لئے ختم نبوت (از مفتی محمد شفیع صاحبؒ) عقیدۃ الامۃ فی معنی ختم النبوۃ (از علامہ خالد محمود اور ہدایۃ المہتدی) اور ہدایۃ المہتدی وغیرہ کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔ ہم یہاں پر ان دلائل سے کم اور دلائل مرزائیہ کی تردید پر زیادہ زور صرف کریں گے کیونکہ مناظرہ میں زیادہ تر اسی کی ضرورت پیش آتی ہے۔

ختم نبوت کی تمہید

قرآن مجید نے جہاں خدا تعالیٰ کی توحید اور قیامت کے عقیدہ کو ہمارے ایمان کا

صفحہ 357

جزو لازم ٹھہرایا ہے۔ وہاں انبیاء ورسل علیہم السلام کی نبوت ورسالت کا اقرار کرنا بھی ایک لازم جزو قرار دیا ہے۔ تمام انبیاء کرام کی نبوتوں کو ماننا اور ان پر عقیدہ رکھنا ویسے ہی اہم اور لازمی ہے جس طرح خدا تعالیٰ کی توحید پر۔ لیکن قرآن مجید کو اول سے آخر تک دیکھ لیجئے۔ جہاں کہیں ہم انسانوں سے نبوت کا اقرار کرایا گیا ہو اور جس جگہ کسی وحی کو ہمارے لئے ماننا لازمی قرار دیا گیا ہو۔ وہاں صرف پہلے انبیاء کی نبوت و وحی کا ہی ذکر ملتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت حاصل ہو اور پھر اس پر خدا کی وحی نازل ہو کہیں کسی جگہ پر اس کا ذکر تک نہیں ملتا نہ اشارۃً نہ کنایۃً اگر پہلے انبیاء کی نسبت۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی فرد بشر کو نبوت عطا کرنا مقصود ہوتا تو اس کا ذکر زیادہ لازمی تھا اور اس پر تنبیہ کرنا از حد ضروری تھا۔ کیونکہ پہلے انبیاء کرام اور ان کی وحی تو گزر چکی۔ امت مسلمہ کو ان سے تو سابقہ پڑنا نہیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کی نبوتوں سے انہیں یقیناً دو چار ہونا تھا مگر قرآن کریم میں ان کا کہیں نام و نشان تک نہیں ملتا، بلکہ ختم نبوت کو قرآن مجید میں کھلے لفظوں بیان فرمانا صاف اور اس بات کی روشن دلیل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخصیت کو نبوت یا رسالت عطا نہ کی جائے گی۔ مندرجہ ذیل آیات پر غور فرمائیے:

بالآخرۃ ہم یوقنون ہ (سورۃ بقرہ آیت نمبر ٤)

(ترجمہ) ”ایمان لاتے ہیں اس پر جو تجھ پر نازل کی گئی ہے۔ اور اس پر جو تجھ سے پہلے نازل ہوئی اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔“

انزل الینا وما انزل من قبل ہ (سورۃ مائدہ آیت ٥٩)

(ترجمہ) ”اے اہل کتاب! تم لوگ ہم سے صرف اس چیز کو ناپسند کرتے ہو کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے ہیں اور اس چیز پر جو ہم پر اور ہم سے پہلے نازل کی گئی ہے۔“

یومنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک ہ

(سورۃ نساء آیت نمبر ١٦٢)

صفحہ 358

(ترجمہ) ”لیکن ان میں سے پختہ علم والے لوگ اور مومن لوگ ایمان لاتے ہیں۔ اس پر جو تم پر نازل کی گئی ہے اور اس پر جو تجھ سے پہلے نازل کی گئی ہے۔“

(۴) یا یها الذین آمنوا امنوا بالله ورسوله والكتاب الذی نزل علی رسوله والكتاب الذی انزل من قبل ہ (سورة نساء آیت نمبر ۱۳۶)

(ترجمہ) ”اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور کتاب کو جو اس نے اپنے رسول پہ نازل کی ہے۔ اور اس کتاب کو جو اس سے پہلے نازل کی گئی ہے مانو۔“

مندرجہ بالا تمام آیات میں خداوند تعالیٰ نے ہمیں صرف ان کتابوں الہامات اور وحیوں کی اطلاع دی ہے۔ اور ہم سے صرف انہی انبیاء کو ماننے کا تقاضا کیا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزر چکے اور بعد میں آنے والے کسی نبی کا ذکر نہیں فرمایا۔

یہ چند آیات لکھی گئی ہیں ورنہ قرآن پاک میں اس نوعیت کی اور بھی بہت سی آیات ہیں۔

مندرجہ بالا آیات میں ”من قبل یا من قبلك“ کا صریح طور پر ذکر تھا۔ اب چند وہ آیات بھی ملاحظہ فرمائیے جن میں خدا تعالیٰ نے ماضی کے صیغہ میں انبیاء کا ذکر فرمایا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کا منصب جن لوگوں کو حاصل ہونا تھا وہ ماضی میں ہو چکے اور مرتبہ نبوت انہیں حاصل ہو چکا اب ان کا ماننا داخل ایمان ہے۔ ہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسی شخصیت نہیں جس کو نبوت بخشی جائے اور اس کا ماننا ایمان کا جزو لازم قرار دیا جائے۔

(۱) قولوا آمنا بالله وما انزل الينا وما انزل الى ابراهيم ہ (سورة بقرة آیت نمبر ۱۳۶)

(ترجمہ) ”کہو کہ ہم ایمان لے آئے اللہ پر اور اس پر جو ہم پر نازل کی گئی اور اس پر جو حضرت ابراہیم پر نازل کی گئی۔“

(۲) قل آمنا بالله وما انزل علينا وما انزل علی ابراهيم ہ (سورۃ آل عمران آیت نمبر ۸۴)

صفحہ 359

(ترجمہ) ”کہہ دو کہ ہم نے مان لیا اللہ تعالیٰ کو اور اس کو جو ہماری طرف نازل کی گئی۔ اور اس کو جو حضرت ابراہیم کی طرف نازل کی گئی۔“

بعده واوحينا الى ابراهيم واسمعيل ہ

(سورۃ نساء آیت نمبر ۱۶۳)

(ترجمہ) ”ہم نے وحی کی تیری طرف جیسا کہ وحی کی نوح اور اس کے بعد کے نبیوں کی طرف اور جیسا کہ ہم نے وحی کی ابراہیم اور اسماعیل کی طرف۔

ان تینوں آیات میں دیگر ان جیسی اور آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں گذشتہ انبیاء اور ماضی کی وحی کو منوانے کا اہتمام کیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کی نبوت و رسالت کو کہیں صراحۃً و کنایۃً یا اشارۃً ذکر تک نہیں فرمایا۔ جس سے صاف ثابت ہو گیا کہ جن جن حضرات کو خلعت نبوت و رسالت سے نوازنا مقدر تھا۔ پس وہ ہو چکے اور گزر گئے۔ اب آئندہ نبوت پر مہر لگ گئی ہے۔ اور بعد میں نبوت کی راہ کو ابدالآباد کے لئے مسدود کر دیا گیا۔ اور اب انبیاء کے شمار میں اضافہ نہ ہو سکے گا۔ آیات مندرجہ بالا کے علاوہ ایک ایسی آیت بھی پیش کی جاتی ہے جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کی ضرورت ہی کو اٹھا دے اور وہ ایسی فلاسفی بتا دے کہ جس پر یقین کر کے ہر مومن اطمینان حاصل کرے کہ اب آئندہ کسی کو نبوت حاصل نہ ہو گی اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔

اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى ورضيت لكم الاسلام دينا ہ

(سورۃ مائدہ آیت نمبر ۳)

(ترجمہ) ”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا۔“

اس ارشاد خداوندی نے بتا دیا کہ دین کے تمام محاسن مکمل اور پورے ہو چکے ہیں۔ اب کسی متمم یا مکمل کی ضرورت نہیں۔ ظاہر ہے جب کسی متمم یا مکمل کی ضرورت نہیں رہی تو یقیناً آج کے بعد کسی کو نبی بنانے کی بھی کوئی حاجت نہیں۔

صفحہ 360

اس آیت کا معنی میں مرزا قادیانی کی زبان سے ہی کروا دیتا ہوں۔ مرزا نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ کے ص ۵۱ ر۔خ جلد ۱۷ ص ۱۷۴ پر لکھا ہے۔ کہ ”ایسا ہی آیت الیوم اکملت لکم دینکم اور آیت ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین میں صریح نبوت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر چکا ہے اور صریح لفظوں میں فرما چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔

نیز قرآن مجید نے اشارۃ ارشاد فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کرام کے بعد تشریف فرما ہوئے ہیں۔ جتنے نبی ہو چکے ہیں وہ سب کے سب آپؐ سے پہلے ہی ہیں۔ آپؐ کے بعد اب کسی کو نبوت سے نہ نوازا جائے گا۔

واذ اخذ اللہ میثاق النبین لما اتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ ہ

(سورۃ آل عمران آیت نمبر ۸۱)

(ترجمہ) ”اور لیا جب اللہ نے اقرار نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور علم پھر آئے گا تمہارے پاس رسول جو تمہارے پاس والی کتاب کی تصدیق کرتا ہو تو اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی امداد کرنا ہوگی۔“

اس جگہ یہ متعین کر دیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کے بعد آئیں گے اس آیت کو مرزا قادیانی نے حقیقۃ الوحی ص ۱۳۰‘ ۱۳۱ ر۔خ جلد ۲۲ ص ۱۳۳‘ ۱۳۴ میں نقل کر کے اس کے بعد یہ تحریر کیا ہے کہ اس آیت میں ثم جاء کم رسول سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

قرآن مجید کو اول سے آخر تک پڑھیے آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ نبوت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر دیا خود مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں:

”سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کافر و کاذب جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد اول ص ۲۳۰‘ ۲۳۱)

صفحہ 361

مرزائیوں کے چند عذر اور اُن کے جوابات

عذر نمبر ۱: مرزائی یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کا انکار اور محدثیت کا دعویٰ اپنی غلط فہمی کی بناء پر کیا تھا۔ ورنہ وہ درحقیقت نبی تھا جس کو وہ سمجھ نہ سکا۔

جواب: مرزائی یا تو یہ کہیں کہ مرزا قادیانی نے جب نبوت کا انکار کیا اور صرف محدثیت کا ہی دعویٰ کیا تھا۔ تو اس وقت خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کی اس حرکت سے بالکل بے خبر اور غافل تھا یا اس کی اس غلطی پر خدا تعالیٰ عمداً خاموش رہا۔ اور اس کو اس انکار نبوت سے نہ روکا۔ وہ دراصل نبی تھا اور خدا بھی جانتا تھا کہ وہ نبی ہے۔ مگر خدا نے اس جھوٹ سے عمداً اغماض کیا (والعیاذ باللہ) کیا ایسا ہو سکتا ہے اور کیا یہ خدا کی شان کے لائق ہے؟ دیکھیں گے کہ مرزا قادیانی کے چیلے اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔

عذر نمبر ۲: ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ کہہ دے کہ محدث اور نبی دراصل ایک ہی ہیں۔ گویا محدثیت کا اقرار کرنا نبوت کا اقرار ہی ہے۔

جواب: مگر ایسے شخص کو ازالہ اوہام ص ۴۲۱ ر۔خ ص ۳۲۰ جلد ۳ کی عبارت پر غور کرنا چاہیے۔ ’’نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ۔‘‘ اب بتائیے کیا نبوت اور محدثیت ایک ہے؟

اس کے علاوہ اور بہت سی عبارتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ محدث ومجدد اور ہوتے ہیں اور انبیاء غیر تشریعی ان کے علاوہ ہیں۔ محدث ہونا اور ہے اور نبی ہونا اور ہے۔

ایک عبارت شہادۃ القرآن کی بھی ملاحظہ فرمائیں کتنی واضح ہے:

’’نبی تو اس امت میں آنے کو رہے۔ اب اگر خلفائے نبی بھی نہ آویں اور وقتاً فوقتاً روحانی زندگی کے کرشمے نہ دکھلاویں تو پھر اسلام کی روحانیت کا خاتمہ ہے.............اس وقت تائید دین عیسوی کے لئے نبی آتے تھے اور اب محدث آتے ہیں۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص ۵۹‘۶۰ ر۔خ ص ۳۵۵‘۳۵۶ جلد ۶)

شہادۃ القرآن میں اس قسم کی اور بھی بہت سی عبارتیں ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد باقرار مرزا قادیانی بہت سے غیر تشریعی نبی اس کی

صفحہ 362

تائید کے لئے بغیر کتاب کے آئے تھے لیکن اس امت مرحومہ میں انبیاء غیر تشریعی بھی نہیں بلکہ مجددین ہی صرف آ سکتے ہیں۔ اب تشریعی اور غیر تشریعی کا سوال ہی درمیان سے جاتا رہا۔ اس ضروری تمہید اور وضاحت کے بعد ختم نبوت پر چند آیات ملاحظہ فرمائیں:

عقیدہ ختم نبوت قرآن مجید کی روشنی میں

آیت ۱: والذین یومنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک و بالاخرة ھم یوقنون۔ اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون۔

(ترجمہ) ”اور جولوگ ایمان رکھتے ہیں اس پر جو تجھ پر نازل کیا گیا اور جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہ ہدایت پر ہیں اپنے پروردگار کی طرف سے اور وہی ہیں کامیاب۔“ (بقرہ نمبر ۴) (ترجمہ شیخ الہندؒ)

یہ سورۃ بقرہ کی ابتدائی آیتوں کا ایک جزو ہے اور قرآن کریم کے دوسرے صفحہ پر ہی یہ آیت موجود ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فلاح و ہدایت کے لئے صرف دو وحیوں مآ انزل الیک (موجودہ) اور ومآ انزل من قبلک (سابقہ) پر ایمان لانا ضروری ہے اور بس......! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی عنداللہ وحی کا سلسلہ جاری رہتا تو یقیناً ہدایت و فلاح کا انحصار صرف موجودہ اور سابقہ وحیوں پر نہ ہوتا بلکہ آئندہ آنے والی وحی پر بھی ایمان لانا ضروری قرار دیا جاتا اور مذکورہ دو الفاظ کے ساتھ ساتھ ایک اور جملہ ومآ انزل من بعدک بھی لایا جاتا۔ جیسا کہ سابقہ اقوام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر دی جاتی رہی اور ان سے عہد لیا جاتا رہا کہ اگر وہ نبی تمہاری زندگی میں آ گئے تو تمہیں ان پر ایمان لانا اور ان کی نصرت کرنا ضروری ہوگا۔ مگر ہم نے پورے قرآن پر نظر ڈالی لیکن ہمیں کہیں مآ انزل من بعدک کے الفاظ نہیں ملے جبکہ میرے علم کے مطابق ومآ انزل من قبلک کا مضمون قرآن کریم میں تیس (۳۰) جگہ سے زائد مقامات پر ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آخری نبی ہیں اور آپؐ کے بعد وحی کا سلسلہ بالکل منقطع ہو چکا ہے۔ تحدیث نعمت کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ آیت بالا پر میری تقریر سن کر کئی قادیانیوں نے قادیانیت سے توبہ کی اور میرے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ والحمد لله علی ذلک۔

صفحہ 363

مرزا محمود کی موشگافی

اس دلیل پر مرزائیوں کا اضطراب ایک فطری امر تھا اس لیے ان کے دوسرے سربراہ مرزا محمود نے اس کا جواب دینے کی کوشش کی اور یہ کہا کہ آیت بالا میں جو "وبالآخرة هم يوقنون" فرمایا اس میں آخرۃ سے "ہمارے حضرت صاحب" کی وحی موعود مراد ہے۔ اس طرح تیسری وحی بھی ہدایت و فلاح کے انحصار میں داخل ہے۔ اور اس پر ایمان لانا بھی ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ قرآن کریم اور سابقہ کتابوں پر۔ مرزا محمود نے اس کا ترجمہ کیا ہے: آئندہ آنے والی موعود باتیں۔ (تفسیر صغیر ص ۵)

جہالت کی انتہا

قرآن کریم کے ترجمہ اور تفسیر سے ادنیٰ مناسبت رکھنے والا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ لفظ آخرۃ قرآن کریم میں جہاں بھی استعمال ہوا ہے اس کے صرف ایک ہی معنی لیے گئے ہیں اور وہ ہیں "قیامت" اس کی ایک نہیں ۱۱۵ نظیریں پیش کی جاسکتی ہیں اس لئے اس سے آخری وحی مراد لینا سراسر جہالت اور نادانی ہے۔ آج تک امت میں سے کسی مفسر یا مجدد نے وہ معنی اس لفظ سے مراد نہیں لیے جو مرزائی مراد لیتے ہیں۔ پھر وحی کا لفظ مذکر ہے اور "آخرۃ" کا لفظ مونث ہے یہ قواعد نحویہ کی رُو سے بھی وحی کی صفت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

بعض ناواقف لوگ مرزا کی نبوت منوانے کے لئے بالآخرة هم یوقنون کی آیت کو بے محل پیش کرتے ہیں۔ اور آخرت سے مراد آخری نبوت (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت) لیتے ہیں۔ لیکن خود مرزا قادیانی اس جگہ آخرۃ سے مراد قیامت سمجھتا ہے۔ (دیکھو الحکم نمبر ۲ جلد ۱۰‘ ۱۷ جنوری ۱۹۰۶ء ص ۵ کالم نمبر ۲۔۳) اس میں مرزا قادیانی نے بالآخرة هم یوقنون کا ترجمہ "اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں" کیا ہے۔

(ایضاً تفسیر سورۃ بقرہ بیان کردہ مرزا قادیانی طبع ربوہ ص ۱۱)

آیت ۲ : ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله و خاتم النبیین۔ (سورہ احزاب: آیت نمبر ۴۰) (ترجمہ) "محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں

صفحہ 364

لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں۔“ (حضرت تھانویؒ)

خاتم النبیین کا ترجمہ حضور علیہ السلام کی زبانی!

انا العاقب والعاقب الذى ليس بعده نبى۔ (ترجمہ) ”میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔“

(ترمذی شریف جلد۲ ص ۱۰۷)

انا خاتم النبين لا نبى بعدى۔ (ترجمہ) ”میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں‘ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“

(سنن ابی داؤد جلد۲ ص ۲۲۴)

خاتم النبیین کا ترجمہ مرزا قادیانی کی زبانی!

ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين۔ ”یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول ہے اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا۔“ (ازالہ اوہام ص ۶۱۴ وخزائن ص ۴۳۱ جلد۳)

ما كان محمد ابا احمد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين‘ الا تعلم ان الرب الرحيم المتفضل سمى نبينا صلى الله عليه وسلم خاتم الانبياء بغير استثناء وفسره نبينا فى قوله لا نبى بعدى ببيان واضح للطالبين؟ ولوجوزنا ظهور نبى بعد نبينا صلى الله عليه وسلم لجوزنا انفتاح باب وحى النبوة بعد تغليقها وهذا خلف كما لا يخفى على المسلمين۔ وكيف يجيئى نبى بعد رسولنا صلى الله عليه وسلم وقد انقطع الوحى بعد وفاته وختم الله به النبيين؟

”کیا تو نہیں جانتا کہ رب رحیم احسان کرنے والے نے ہمارے نبی کا نام بغیر استثناء کے خاتم الانبیا رکھا ہے اور اس کی تفسیر

صفحہ 365

ہمارے نبی نے اپنے قول ”لا نبی بعدی“ کے واضح بیان کے ساتھ کر دی ہے۔ طلب کرنے والے کے لئے اور اگر ہم اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد کسی نبی کا آنا جائز قرار دیں تو ہم وحی نبوت کے دروازہ کے بند ہونے کے بعد اس کو کھول دیں گے اور یہ خلاف قاعدہ ہے جیسا کہ مسلمانوں پر مخفی نہیں ہے۔‘‘ اور ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی دوسرا نبی کیسے آسکتا ہے حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوچکی ہے اور آپ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔

(حمامة البشریٰ ص ۲۰ و خزائن ص ۲۰۰ ج ۲۰)

یہ آیت اس بات کا کھلا اعلان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام نبیوں میں آخری اور سلسلہ نبوت و رسالت ختم کرنے والے ہیں۔ اب آپ کے بعد کسی نئے آدمی کو نبوت سے سرفراز نہیں کیا جائے گا۔ جنھیں نبوت ملنی تھی انہیں آپ سے پہلے ہی اس نعمت سے سرفراز کر دیا گیا۔ آپ کے بعد کسی کو یہ درجہ ملنے والا نہیں ہے۔ آپ خود بھی آخری ہیں آپ کی شریعت بھی آخری ہے اور آپ کا لایا ہوا دین ابدی ہے۔ اب اس میں نہ کسی ترمیم کی گنجائش ہے اور نہ تبدیلی کی اجازت۔

مرزائیوں کی بوکھلاہٹ

اس آیت کو دیکھ کر دعویٰ نبوت کے بعد مرزائے قادیان مسیلمہ پنجاب کے ہوش اڑ گئے اور اس نے یہ یقین کر لیا کہ جب تک یہ آیت اپنے متبادر اور ظاہری معنی پر محمول ہے اس کے خلاف اس کا کوئی دعویٰ بھی کسی صاحب عقل کے نزدیک معتبر نہیں مانا جا سکتا۔ اس لیے صرف جھوٹے نبی ہی نہیں بلکہ اس کی ساری امت اس تگ و دو میں لگ گئی کہ کسی نہ کسی طرح اس آیت کا مقصد فوت کیا جائے اور اس سے اپنی مطلب براری کی جائے۔ چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ آیت سے واضح ہونے والے عقیدہ ختم نبوت کو زک دینے کے لئے امت مرزائیہ کی جانب سے ایسی لچر، باطل اور لغو تاویلیں کی گئی ہیں جن کا تصور بھی کسی صحیح الدماغ انسان سے نہیں کیا جا سکتا۔ ذیل میں ان کی چند ہرزہ سرائیوں اور موشگافیوں کا مدلل تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے تاکہ اسلامی مناظرین وقت ضرورت اس سے نفع اٹھا سکیں۔

صفحہ 366

(1) خاتم النبیین کے معنی نبیوں کی مہر

مرزا کی تاویل باطل

آیت بالا میں ...... لفظ خاتم النبیین سے عقیدہ ختم نبوت اس لیے نہیں ثابت کیا جا سکتا کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کی مہر اور تصدیق سے انبیاء بنیں گے۔ اس معنی کے اعتبار سے آپ کا آخری نبی ہونا لازم نہیں ہے۔ بلکہ جب بھی (خواہ آپ سے پہلے یا بعد) کوئی نبی آئے گا تو اس کی نبوت آپ کی مہر سے ہی تصدیق یافتہ ہو گی‘ یہ معنی خود مرزا صاحب نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی ص ۲۷‘ ۲۸ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۲۹‘ ۳۰ میں لکھے ہیں۔

جواب : خاتم النبیین سے نبیوں کی مہر کے معنی کرنا دیگر تصریحات قرآنیہ‘ احادیث متواترہ اور اجماع امت کے علاوہ خود قواعد لغت کے خلاف ہے۔ عربی کا قاعدہ ہے کہ جب یہ لفظ جماعت یا قوم کی طرف مضاف ہوتا ہے تو اس سے آخری شخص ہی مراد لیا جاتا ہے۔ اگر وہی معنی مراد ہوں جو مرزائی کہتے ہیں تو خاتم القوم اور خاتم الاولاد کا مطلب یہ ہوگا کہ قوم اور اولاد اس کی مہر سے بنتی ہے پھر اسلاف کرام میں سے کسی مفسر اور مجدد نے وہ معنی نہیں کیے جو مرزائی کہہ رہے ہیں۔ بلکہ تفسیر کی کتابوں میں صراحت کے ساتھ اس معنی کے خلاف تفسیر موجود ہے۔ تفسیر ابن جریر طبریؒ میں حضرت قتادہؓ (۱۰۰ھ) سے خاتم النبیین کی یہ تفسیر منقول ہے۔ عن قتادةؓ ولكن رسول الله و خاتم النبيين اى اخرهم۔ (تفسیر ابن جریر ۲۲ ص ۱۱) علاوہ ازیں آیت بالا میں حضرت ابن مسعودؓ کی قراءت سے بھی واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مہر یا مصدق ہونے کے معنی مراد نہیں ہیں۔ بلکہ صرف اور صرف آخری نبی ہونے کے معنی ہیں۔ اس قراءت کے الفاظ یہ ہیں : ولکن نبیا ختم النبیین (لیکن آپ ایسے نبی ہیں جنھوں نے تمام نبیوں کو ختم کر دیا)

یہ قراءت تفسیر کی تمام ہی معتبر کتابوں میں منقول ہے۔ اور تواتر کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے خاتم النبیین کے اس معنی میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔

صفحہ 367

مرزائی ذرا اپنے گھر کی خبر لیں!

خود ان کے حضرت صاحب نے جابجا اپنی تصنیفات میں خاتم سے آخری ہی مراد لیا ہے۔ مزید معلومات کے لیے چند حوالے ملاحظہ ہوں:

یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر آنے والا ہے۔“

(چشمہ معرفت در روحانی خزائن ج۲۳ ص۳۳۳ در حاشیہ)

اس پر ختم ہیں۔ اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔“

(چشمہ معرفت در روحانی خزائن ج۲۳ ص۳۴۰ حاشیہ)

سماوی ہے۔“ (ازالہ اوہام در خزائن ج۳ ص۱۷۰)

خاتم الانبیاء ہے۔“ (تحفہ گولڑویہ در روحانی خزائن ج۱۷ ص۱۷۲)

کے خاتم الانبیاء کا نام جو احمد اور محمد ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم روحانی خزائن ج۲۱ ص۴۱۴)

سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا۔ اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا۔ اور میں ان کے لیے خاتم الاولاد تھا۔“

(تریاق القلوب در روحانی خزائن ج۱۵ ص۴۷۹)

ختم شد بر نفس پاکش ہر کمال
لاجرم شد ختم ہر پیغمبری

(ترجمہ) جب آپ کی ذات پاک پر کمال ختم ہوا تو نبوت اور اس کی جملہ انواع (جو کمالات میں سے ہیں) بھی لازماً آپ پر ختم ٹھہریں۔

(دیباچہ براہین احمدیہ چہار حصص ص۱۰۔ر۔خ ص۱۹ جلد۱)

صفحہ 368
ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوت را برو شد اختتام

(سراج منیر ص ۹۳ ۔ رخ جلد ۱۲ ص ۹۵)

ان سب حوالوں سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ مرزا صاحب کے نزدیک بھی خاتم الانبیاء خاتم الاولیاء اور خاتم الاولاد کے معنی آخری نبی، آخری ولی اور آخری اولاد کے ہیں۔

(۲) کیا نزول عیسیٰ ختم نبوت کے منافی ہے؟

آیت ختم نبوت پر جرح کرتے ہوئے مرزائی یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیسے آئیں گے۔ جب وہ آئیں گے تو وہی آخری نبی ہوں گے نہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس لیے ثابت ہوا کہ یا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی نہیں ہیں۔

جواب: مرزائیوں کی اس موشگافی کا جواب متعدد طریقوں سے دیا جاسکتا ہے۔

ہے اور اس کی تشریح یہ کی ہے کہ ”میرے بعد کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا نہیں ہوا،“ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہ ہوگا آپ سے پہلے جو پیدا ہوئے تھے وہ ہو چکے، آپ کے بعد یہ سلسلہ بند ہو چکا ہے اور چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ سے پہلے پیدا شدہ ہیں اور آسمان پر زندہ موجود ہیں اس لیے ان کی موجودگی اور قیامت کے قریب دنیا میں تشریف آوری سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

فوت ہونا لازم نہیں آتا۔ جس طرح کہ مرزا صاحب کے خاتم الاولاد ہونے سے ان کے بڑے بھائی بہن کی موت ثابت نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباسؓ (جنہیں ہجرت میں سابقین اولین میں شامل نہ ہونے کا افسوس تھا) کو اطمینان دلاتے

صفحہ 369

ہوئے فرمایا تھا:

"اطمئن یا عم فانک خاتم المہاجرین فی الہجرۃ کما انا خاتم النبیین فی النبوۃ ۔" (کنزالعمال ج ۶ ص ۱۷۸)

تو کیا کوئی ذی عقل و ہوش انسان حضرت عباسؓ کے خاتم المہاجرین ہونے سے یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ آپ کے خاتم المہاجرین ہوتے ہی بقیہ سب مہاجرین انتقال کر گئے تھے۔ بلکہ اس کا مطلب خود الفاظ حدیث سے واضح ہے کہ وہ عملی ہجرت میں آخری ہیں جس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبوت ملنے والوں میں آخری ہیں۔ یہ آخری ہونا اس امر کو مستلزم نہیں ہے کہ آپ سے قبل کے انبیاء فوت ہو چکے ہیں۔

(ج) خاتم النبیین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپؐ کے بعد کسی کو نبی نہیں بنایا جائے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ آپؐ سے پہلے نبی بنائے جا چکے ہیں اس لیے ان کا تشریف لانا ختم نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے منافی نہیں ہے۔ آیت کے یہی معنی معتبر مفسرین نے بیان فرمائے ہیں۔ چنانچہ صاحب تفسیر کشاف قادیانیوں کے اس شبہ کا جواب درج ذیل الفاظ میں دیتے ہیں:

فان قلت : کیف کان اخر الانبیاء و عیسیٰ علیہ السلام ینزل فی آخر الزمان؟ قلت معنی کونہ آخر الانبیاء انہ لا ینبا احد بعدہ و عیسیٰ ممن نبئ قبلہ ۔

(کشاف ج ۳ ص ۲۳۹ مطبوعہ بیروت)

کشاف کی عبارت کا ترجمہ

"اگر یہ اعتراض ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی کیسے ہوں گے جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اخیر زمانہ میں نزول فرمائیں گے۔ میرا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخر الانبیاء ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی کو نبی نہیں بنایا جائے گا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو ان لوگوں میں شامل ہیں جن کو آپ سے قبل نبی بنایا جا چکا ہے۔"

دیگر معتبر تفاسیر میں بھی مضمون اسی طرح وارد ہے۔

صفحہ 370

(۳) کیا آنحضرتﷺ صرف انبیاء سابقین کے خاتم ہیں؟

آیت ختم نبوت کے بارے میں بعض مرزائیوں نے یہ موشگافی بھی کی ہے کہ خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سے پہلے آنے والے تمام انبیاء کے خاتم ہیں، لہٰذا آپؐ کے بعد کسی نبی کا آنا آپؐ کے خاتم النبیین ہونے کے منافی نہیں ہے۔

پھر خصوصیت کیا رہی؟

اگر بالفرض خاتم النبیین کے وہی معنی لیے جائیں جو مرزائیوں نے لیے ہیں تو اس معنی سے تو ہر نبی خاتم النبیین قرار دیا جائے گا۔ کیونکہ وہ بھی اپنے سے پہلے انبیاء کا خاتم ہوگا۔ حالانکہ یہ لقب صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا اور کسی نبی کو خاتم النبیین نہیں کہا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ صفت صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور یہ جبھی صادق اور ممتاز ہو سکتی ہے کہ اس سے آخر الانبیاء ہی مراد لیے جائیں۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے تمام انبیاء پر کچھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے، ان میں سے دو خصوصیات یہ ہیں: ارسلت الی الخلق کافۃ و ختم بی النبیون۔ (ترمذی ج ۲ ص ۲۸۳) ”میں تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور نبیوں کا سلسلہ مجھ پر ختم کر دیا گیا۔“ سو مرزائیوں کے بیان کردہ معنی ان صریح نصوص کے خلاف ہیں۔

(۴) خاتم النبیین میں الف لام عہدی ہے یا استغراقی؟

مرزائی ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ النبیین میں الف لام استغراق کا نہیں ہے کہ آپ سارے ہی انبیاء کے آخر قرار دیئے جائیں بلکہ یہ الف لام عہدی ہے اور معنی یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب شرائع جدیدہ (تشریعی انبیاء) کے آخر ہیں لہٰذا آپؐ کے بعد غیر صاحب شریعت جدیدہ نبی کا آنا آیت کے خلاف نہیں ہے۔

صفحہ 371

جواب حاضر ہے!

استغراق کے معنی بلا تکلف صحیح ہیں اس لیے مجاز یعنی عہدی مراد لینے کی حاجت نہیں ہے۔

جدیدہ کا ذکر ہونا چاہیے۔ جو پورے قرآن میں کہیں نہیں ہے۔ قادیانی کے کسی شیطانی ملغوبہ میں ہو تو ہو۔

(۵) کیا خاتم النبیین کہنا خاتم المفسرین وغیرہ

القاب کے مانند ہے؟

آیت ختم نبوت کی تاویلات باطلہ میں مرزائیوں کی فخریہ تاویل یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خاتم النبیین کا اطلاق ایسا ہی ہے جیسے کسی کو خاتم المحدثین اور خاتم المفسرین کہہ دیتے ہیں۔ تو کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ اس کے بعد کوئی محدث یا مفسر پیدا نہ ہوگا بلکہ یہ کلام صرف بطور مبالغہ بولا جاتا ہے۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی بطور مبالغہ اس لفظ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ لہذا آپ کے بعد کسی نبی کا آنا اس تصریح کے خلاف نہ ہوگا۔

نعوذ باللہ!

حقیقت یہ ہے کہ امت مرزا کی تکفیر کے لیے ان کی صرف یہ ایک تاویل ہی کافی ہے۔ ذرا سوچیے تو سہی کہاں عام انسانوں کا اپنی جہالت کی بناء پر کسی کو خاتم المفسرین کہنا اور کہاں عالم الغیب والشہادۃ اللہ تبارک وتعالیٰ کا کسی پیغمبر کو خاتم النبیین قرار دینا؟ دونوں کو ایک درجہ میں رکھنا یہ کھلی حماقت اور اللہ تعالیٰ کے علم کے در پردہ انکار کو مستلزم ہے۔ یہ جسارت مرزائیوں اور ان کے ”حضرت صاحب“ ہی کو مبارک ہو، نعوذ باللہ منہ اور پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ نبوت ایک وہبی چیز ہے اور محدث ومفسر بننا کسبی امور میں سے ہے۔ اس لیے اگر واہب نبوت (اللہ تعالیٰ) کسی کو خاتم النبیین کہے تو اس کا صرف یہی مطلب ہوگا کہ اعطاء نبوت

صفحہ 372

کا سلسلہ اب بند ہو چکا ہے۔ برخلاف خاتم المفسرین وغیرہ کے کیونکہ کسب کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا وہاں کوئی بھی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہی متعین آدمی خاتم ہے‘ اور نہ یہ الفاظ کہتے وقت کسی کے ذہن میں یہ تصور آتا ہے...... لہٰذا خاتم المفسرین جیسے الفاظ محض مبالغہ کے لیے مستعمل ہوتے ہیں۔

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

جب مرزائی درج بالا موشگافیوں اور ہرزہ سرائیوں سے بالکل باز نہ آئیں تو ان کے سامنے خود ان کے حضرت صاحب کی عبارتیں تابڑ توڑ طریقہ پر پیش کرنی چاہئیں جو صراحۃً ختم نبوت پر دال ہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی نے متنازعہ آیت کا ترجمہ بعینہ وہی کیا ہے جو ہمارے نزدیک ہے۔ یہ حوالہ دلائلِ مرزائیہ کو اڑانے کے لیے انتہائی طاقت ور ایٹم بم کی حیثیت رکھتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔ مرزا صاحب کی زبانی آیت کا ترجمہ ”یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا۔“

(ازالہ اوہام در روحانی خزائن ج ۳ ص ۴۳۱ آیت ۲۱)

اسی طرح کا مضمون مرزا کی دیگر کتب نشان آسمانی‘ آئینہ کمالات اسلام‘ ایام الصلح اور حمامۃ البشریٰ میں بھی قدرے تفصیل و تاکید کے ساتھ موجود ہے۔

یہاں مرزائی یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کی مذکورہ بالا تحریرات ان کو نبوت ملنے سے قبل کی ہیں‘ بعد میں (۱۹۰۱ء) میں ان کا نظریہ بدل گیا تھا۔ اس لیے یہ سب تحریریں منسوخ اور ناقابل استدلال ہیں۔

کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے

اس فرضی شبہ کا جواب یہ ہے کہ عقائد میں نسخ نہیں ہوتا نسخ احکام میں ہوتا ہے یہ ناممکن ہے کہ پہلے کوئی چیز کفر ہو اور بعد میں وہ اسلام و ایمان ہو جائے۔ پھر انبیاء قبل نبوت بھی اسی طرح معصوم ہوتے ہیں جیسے کہ بعد نبوت اور بالفرض اگر نسخ تسلیم بھی کر لیں تو یا تو نسخ سے پہلے کا عقیدہ صحیح ہوگا‘ یا نسخ کے بعد کا۔ اگر نسخ سے پہلے کا عقیدہ صحیح مانا جائے تو مرزا قادیانی قیامت تک بھی نبی قرار نہیں دیا جا سکتا اور نسخ کے بعد کے عقیدہ یعنی اجزائے نبوت کے عقیدہ کو

صفحہ 373

اگر درست مانا جائے تو پہلے جو ساری امت ختم نبوت کی قائل رہی اس کی تکفیر لازم آئے گی اور پوری امت کو کافر کہنے والا خود کافر ٹھہرے گا۔ اس لیے بہر صورت امت مرزائیہ کا کفر طے شدہ ہے۔ اس طرح کے سطحی اور بے اصل شبہات واعتراضات سے کفر کی بلا کو نہ تو ٹالا جاسکتا ہے اور نہ مسیلمہ پنجاب کی نبوت تسلیم کرائی جاسکتی ہے۔

آیت ٣: هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ولو كره المشرکون۔ (سورہ صف آیت ٩)

(ترجمہ) ’’اللہ وہ ذات ہے کہ جس نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ تمام ادیان پر بلند اور غالب کرے۔ گو مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں۔‘‘ (تھانویؒ)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین محمدی ہی تمام ادیان پر غالب ہے۔ اور اس کے آنے کی وجہ سے بقیہ تمام ادیان منسوخ ہوگئے ہیں اور یہ غلبہ اسی وقت متصور ہوسکتا ہے جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اور نبی نہ آئے‘ کیونکہ اگر کوئی واقعی نبی آئے تو اس کی اتباع ضروری ہوگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا کافی نہ ہوگا۔ جو ان کے غالب ہونے کے منافی ہوگا۔

آیت ٤: یا یها النبی انا ارسلناك شاهدا ومبشرا ونذيرا و داعياً الى الله باذنه وسراجا منيرا۔

اس آیت کریم میں حضور علیہ السلام کے چند القاب ذکر کیے گئے ہیں: (١) شاهد‘ (٢) مبشر‘ (٣) نذير‘ (٤) داعی‘ (٥) سراجا منیرا۔ ہر ایک کی تشریح حسب ذیل ہے:

شاهد : گواہ۔ یعنی آپ اللہ کیلئے گواہ ہیں وحدانیت پر اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور آپ لوگوں پر اللہ کے گواہ ہوں گے قیامت کے دن۔ اس کی تفصیل درج ذیل آیات سے بھی ہوتی ہے:

صفحہ 374

مبشر: اس لفظ کا معنی ہے خوشخبری دینے والا ۔ حضور علیہ السلام مومنوں کو اجر عظیم اور جنت کی خوشخبری دینے والے ہیں۔

نذیر: نذیر کا لغوی معنی ہے ڈرانے والا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کو جہنم سے ڈرانے والے ہیں۔

داعی الی اللہ: حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ کے حکم سے لوگوں کو اللہ کے راستہ کی طرف بلانے والے ہیں۔

سراج منیر: آپ کی نبوت اتنی واضح ہے جتنا کہ سورج کی روشنی اور چمک کہ اس کا انکار معاند کے سواء کوئی نہیں کر سکتا۔ (تفسیر ابن کثیر ص ۴۹۸ ج سوم)

فائدہ:

سراج کا لفظ دو معانی پر دلالت کرتا ہے: (۱) چراغ‘ (۲) سورج۔ اس آیت میں سورج کا معنی مراد ہے۔ سورج کے لئے سراج کا لفظ قرآن مجید میں اور بھی کئی مقامات پر استعمال ہوا ہے:

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے ”سراجا منیرا“ کے لفظ کیوں آئے؟

شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی تحریر فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام آفتاب نبوت و ہدایت ہیں جس کے طلوع ہونے کے بعد کسی دوسری روشنی کی ضرورت نہیں رہی سب روشنیاں اسی نور اعظم میں مدغم ہو گئیں۔ (فوائد عثمانیہ تحت آیت ہذا)

حضرت مولانا قاسم نانوتوی (رحمۃ اللہ علیہ) کے چند اشعار اسی آیت کی مزید وضاحت کرتے ہیں۔

سب سے پہلے مشیت کے انوار سے نقش روئے محمد بنایا گیا
پھر اُسی نقش سے مانگ کر روشنی بزم کون و مکان کو سجایا گیا
وہ محمد بھی احمد بھی محمود بھی‘ حسن مطلق کا شاہد بھی مشہود بھی
علم و حکمت میں وہ غیر محدود بھی‘ وہ ظاہر اُمیوں میں اٹھایا گیا
صفحہ 375

آیت بالا حضور علیہ السلام کی ختم نبوت کی واضح دلیل بنتی ہے۔ آپؐ کے بعد کسی تشریعی، غیر تشریعی ظلی بروزی نبی کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

تشبیہ کی وجوہات

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب قدس سرہٗ نے تشبیہ کی چند وجوہات ذکر کی ہیں، وہ ہدیہ قارئین ہیں:

نباتات کی نشوونما سورج کے وجود کے ساتھ مشروط ہے۔ اسی طرح روح کی نشوونما، حرارت ایمانی، علم، اخلاق، معرفت الٰہی، قلبی واردات کی گرم بازاری بھی صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہے۔

اور وہ فلک ہے، اسی طرح روحانی آفتاب کے لئے بھی نبوت کا آسمان مرکز اور محور ہے۔

جب تاریکی بہت ہو جائے تو ستارے نکلتے ہیں۔ پورا آسمان جگمگا اُٹھتا ہے، پوری دنیا میں یکسانی کے ساتھ ہلکی روشنی آ جاتی ہے۔ پھر سورج نکلتا ہے تو اندھیرا مکمل طور پر بھاگ جاتا ہے۔

بعینہ اسی طرح جب کائنات میں ظلم، شرک، جہالت نفسانی خواہشات اور شبہات کے اندھیرے چھا گئے تھے۔ تو حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت عیسیٰؑ تک لاکھوں پیغمبر آسمان نبوت پر ستاروں کی طرح طلوع ہوئے لیکن لاکھوں ستارے مل کر بھی رات کو دن نہیں بنا سکتے۔ رات کی تاریکی دور کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آسمان نبوت پر نمودار ہوئے۔ تاریکیاں چھٹ گئیں۔ خزاں، بہار سے بدل گیا۔

رہتی۔ ایسے ہی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے آجانے کے بعد کسی بھی نجم ہدایت (پیغمبر) کے نور کی حاجت نہیں رہتی۔

صفحہ 376

پوری کردے۔ ایسے ہی حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر الانبیاء بھی بنایا گیا تا کہ آپ کا زمانہ بھی سب نبیوں کے آخر میں رہے تا کہ آخری عدالت کا فیصلہ ہر ابتدائی عدالت کے فیصلوں کے لئے حرف آخر اور ان کے حق میں ناسخ ثابت ہو سکے۔

(ماخوذ از آفتاب نبوت تصنیف حکیم الاسلام حضرت قاری محمد طیب صاحب نور اللہ مرقدہ)

مرزائی شبہ کا ازالہ

مرزائی کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے حضور اکرم ﷺ سے فیض حاصل کر کے نبوت کا درجہ پایا ہے۔ تو حضور اکرم ﷺ کی صفت ”سراج“ بیان کر کے ان کے اس شبہ کا بھی ازالہ کر دیا گیا کہ جس طرح سورج سے فیض حاصل کر کے آج تک کوئی چیز سورج نہیں بن سکی۔ اسی طرح ”آفتاب ہدایت“ حضور اکرم ﷺ سے فیض حاصل کر کے نبی نہیں بن سکتا۔ نبوت کے علاوہ بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے مجدد بن سکتا ہے ولی بن سکتا ہے محدث بن سکتا ہے قطب ابدال ہو سکتا ہے امام اعظم ابو حنیفہ بن سکتا ہے لیکن نبی نہیں بن سکتا۔

آیت ۵: الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا۔

(ترجمہ) ”آج میں نے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت کو تم پر تمام کر دیا اور تمہارے لئے دین اسلام ہی پسند کیا۔“

یہ آیت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن نازل ہوئی اور حسن اتفاق سے اس دن جمعہ تھا۔ (تفسیر خازن جلد ۱ ص ۲۴۵)

تم الهلال فصار بدراً کا مطلب ہے کہ اب پیچھے چاند کا کوئی حصہ نہیں رہا چاند سارا سامنے آ گیا اللہ تعالیٰ کے ہاں بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے جو نعمتیں مقدر تھیں اب ساری سامنے آگئیں اس کی نعمت بندوں پر تمام ہو گئی واتممت علیکم نعمتی تمام وہیں ہوتا ہے جہاں پیچھے کوئی ذخیرہ نہ رہے بعد میں ظاہر ہونے کے لئے تنکا تک رکھا نہ ہو۔ اس آیت میں دین کی نسبت تو صحابہ کی طرف کی اور نعمت کی نسبت اپنی طرف کی کہ نبوت اور رسالت کی پہل اسی کی طرف سے ہوتی ہے بندے کے عمل سے نہیں۔

دین کے مکمل ہونے سے مراد یہ ہے کہ اب اس دین میں قیامت تک کسی نئی ترمیم

صفحہ 377

اور کسی نئی تشریع کی ضرورت نہیں، عقائد، اعمال، اخلاق، معاملات، تجارت، سیاست، تہذیب و تمدن، معاشرت، معیشت غرضیکہ ہر شعبہ زندگی کے رہنما اصول وضوابط امت پر اس طرح کھول دیئے ہیں کہ وہ تا قیامت کسی نئے دین یا نئے نبی کی رہبری کے محتاج نہ رہی۔ چنانچہ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ جو کہ مرزا قادیانی کے نزدیک چھٹی صدی ہجری کے مجدد ہیں، اپنی تفسیر میں رقمطراز ہیں:

"هذه اكبر نعم الله تعالى على هذه الامة حيث اكمل تعالى دينهم فلا يحتاجون الى دين غيره ولا الى نبى غير نبيهم صلوات الله وسلامه عليه ولهذا جعله الله خاتم الانبياء وبعثه الى الانس والجن۔“

(ترجمہ) ”یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس نے اُن کے لئے دین کو کامل فرمایا اس لئے امت محمدیہ نہ کسی دین کی محتاج ہے نہ کسی اور نبی کی اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء بنایا اور تمام انسانوں اور جنوں کی طرف مبعوث فرمایا۔“ (تفسیر ابن کثیر جلد نمبر ۲ ص ۱۲)

مندرجہ بالا تفسیر سے درج ذیل نکات معلوم ہوتے ہیں:

بروزی نبی کی کوئی ضرورت اور گنجائش نہیں ہے۔

مفسر قرآن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”قوله "اليوم اكملت لكم دينكم“ وهو الاسلام اخبر الله نبيه صلى الله عليه وسلم والمومنين انه اكمل لهم الايمان فلا يحتاجون الى زيادة ابدا وقد اتمه الله فلا ينقصه ابدا وقد رضيه الله فلا يسخطه ابدا۔“

(ابن کثیر بحوالہ مذکورہ)

(ترجمہ) ”اللہ تعالیٰ کے ارشاد "اليوم اكملت لكم دينكم“

صفحہ 378

میں دین سے مراد اسلام ہے‘ اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کو خبر دی کہ اس نے ان کے لئے ایمان مکمل کر دیا ہے۔ پس وہ کسی اضافہ کے کبھی محتاج نہیں ہوں گے اور تحقیق اس نے اس کو مکمل کر دیا پس وہ کبھی بھی اسے کم نہیں کرے گا اللہ اس سے راضی ہوا پس کبھی اس سے بے پرواہ نہیں ہوگا۔“

امام رازی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نزول کے بعد ۸۱/۸۲ دن زندہ رہے۔

ولم یحصل فی الشریعۃ بعدہا زیادۃ ولا نسخ ولا تبدیل البتۃ۔ یعنی اس کے بعد شریعت میں کوئی اضافہ نہ ہوا‘ نہ کوئی حکم منسوخ ہوا اور نہ ہی کوئی تبدیلی ہوئی۔

امام رازی مزید لکھتے ہیں کہ اس معنی کی تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت صحابہؓ کے سامنے پڑھی تو وہ بہت خوش ہوئے۔ اور بڑی مسرت ظاہر کی مگر حضرت ابو بکر صدیق رو پڑے ان سے رونے کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ یہ آیت حضور اکرم کی وفات کا زمانہ قریب ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ کمال کے بعد زوال ہی ہوتا ہے پس یہ ابو بکر صدیقؓ کے کمال علم پر دلیل ہے کہ وہ ایسے نکتہ سے آگاہ ہوئے جس سے کوئی دوسرا اس وقت آگاہ نہ ہوسکا۔

(تفسیر کبیر جلد ۱۱ ص ۲۴۲ مطبوعہ بیروت)

اگر دین مکمل ہونے اور اتمام نعمت سے احکامات کے نزول کا اختتام اور وحی نبوت کا انقطاع اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات مراد نہ لی جائے تو حضرت ابو بکرؓ کا اس موقع پر رونا بے محل اور بے معنی ہو جائے گا۔ الغرض یہ آیت ختم نبوت کی ایک روشن دلیل ہے اور مذکورہ تفسیر کی تائید تمام مفسرین کرتے ہیں اس میں کسی شک و شبہ کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔

آیت ٦: واذ قال عیسی ابن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقاً لما بین یدی من التوراۃ ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد فلما جاء ھم بالبینت قالوا ھذا سحر مبین۔

(سورۃ الصف آیت نمبر ۶)

(ترجمہ) ”اور جب کہا عیسیٰ بن مریم نے اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں تصدیق کرنے والا ہوں اس وحی کی جو

صفحہ 379

مجھ سے پہلے نازل ہوئی یعنی تورات اور خوشخبری دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئیں گے ان کا نام نامی احمد ہوگا۔ پس جب وہ (رسول) ان کے پاس دلائل لے کر آیا انہوں نے کہا یہ کھلا جادو ہے۔“

مذکورہ بالا آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو خطاب کر کے کہا کہ میں تورات اور تمام آسمانی کتب اور انبیاء کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ اور ایک رسول کی خوشخبری دیتا ہوں جس کا نام گرامی ”احمد“ ہوگا۔ حضرت عیسیٰ کے بعد صرف ایک رسول کا آنا باقی تھا اور ظاہر ہے کہ آپؐ آگئے۔ انجیل مقدس میں ہزاروں تحریفات کے باوجود اب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت پائی جاتی ہے۔ چند عبارات ملاحظہ فرمائیں:

باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔ (یوحنا باب نمبر ۱۴ آیت ۲۵۔۲۶)

یعنی روح حق جو باپ سے صادر ہوتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا اور تم بھی گواہ ہو کیونکہ شروع سے میرے ساتھ ہو۔ (یوحنا باب نمبر ۱۵ آیت ۲۶۔۲۷)

نہ جاؤں تو وہ مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا اور وہ آ کر دنیا کو گناہ اور راست بازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا۔ (یوحنا باب نمبر ۱۶ آیت ۷ تا ۹)

آیت مذکورہ کی تفسیر، انجیل کے علاوہ احادیث اور مفسرین کرام کی تصریحات سے بھی واضح ہے۔ چنانچہ حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:

یعنی التوراة قد بشرت بی وانا مصداق ما اخبرت عنہ وانا مبشر بمن بعدی وہو الرسول النبی الامی العربی المکی احمد فعیسیٰ علیہ السلام وہو خاتم انبیاء بنی اسرائیل وقد اقام فی ملأ بنی اسرائیل مبشراً بمحمد وہو

صفحہ 380

احمد خاتم الانبیاء والمرسلین لا رسالة بعدہ ولا نبوۃ۔

(تفسیر ابن کثیر ج۴ ص ۳۵۹)

(ترجمہ) ”تورات نے میری بشارت دی اور میں اس خبر کا مصداق ہوں جو میرے بارے میں دی گئی اور اپنے بعد آنے والے کی بشارت دیتا ہوں اور وہ رسول نبی امی عربی ہی ہیں ان کا نام احمد ہے۔ پس عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبیوں کے خاتم ہیں اور تحقیق وہ بنی اسرائیل کے سرداروں میں کھڑے ہوئے حضرت محمد کی بشارت دی اور وہی احمد خاتم الانبیاء ہیں ان کے بعد نہ رسالت ہے اور نہ ہی نبوت۔“

صحیح مسلم کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ان لی اسماء انا محمد وانا احمد وانا الماحی الذی یمحو اللہ بہ الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی وانا العاقب۔

(ترجمہ) ”بے شک میرے کئی نام ہیں میں محمد ہوں میں احمد ہوں میں ماحی ہوں جس کے سبب اللہ کفر مٹاتا ہے اور میں ہی حاشر ہوں جس کے نقش قدم پر لوگ جمع کئے جائیں گے اور میں ہی عاقب ہوں۔“

اور ایک روایت میں حدیث پاک کے الفاظ یوں ہیں:

انا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی۔

(صحیح مسلم جلد دوم ص ۲۶۱)

”میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔“

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

انا دعوۃ ابی ابراہیم وبشری عیسیٰ ورأت امی حین حملت بی کانہ خرج منہا نور اضائت لہ قصور بصریٰ من ارض الشام۔

(تفسیر ابن کثیر ص ۳۶۰ ج ۴)

”میں اپنے باپ حضرت ابراہیم کی دعا اور حضرت عیسیٰ کی بشارت کا نتیجہ ہوں۔ اور میری والدہ نے خواب دیکھا جبکہ وہ مجھ سے حاملہ تھیں کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے ملک شام میں بصریٰ کے

صفحہ 381

محلات روشن ہو گئے۔“

قارئین کرام!

مذکورہ مختصر مگر جامع بحث سے یہ واضح ہوا کہ یہ آیت ختم نبوت کی بڑی روشن دلیل ہے اور ختم نبوت کا مضمون اس میں قطعی درجے میں مذکور ہے قادیانیوں کا اسے تحریف کرتے ہوئے ”احمد“ سے مرزا قادیانی مراد لینا تحریف قرآن کے ساتھ ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں سخت گستاخی ہے۔ تمام مفسرین کرام اس آیت کی تفسیر میں ہمارے ساتھ ہیں۔

مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کا اس بشارت سے اپنے باپ مرزا غلام احمد قادیانی کو لینا نہ صرف الحاد‘ زندقہ اور قرآن کریم میں تحریف ہے کیونکہ مرزا قادیانی کا نام ”احمد“ نہیں غلام احمد ہے وہ خود ”احمد“ نہیں بلکہ احمد کا غلام ہونے کا مدعی ہے۔ بلکہ اس کے باپ مرزا غلام کی تصریحات کے بھی خلاف ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اس آیت میں ”احمد“ کا مصداق حضور سرکار مدینہ کو لکھا ہے۔ دیکھئے اربعین نمبر ۴ صفحہ ۱۳۔ رخ جلد ۱۷ ص ۲۴۳ ............. اب قادیانی خود فیصلہ کریں کہ باپ سچا یا بیٹا بہرحال ایک تو اس بات میں ضرور جھوٹا ہے۔

اہم تنبیہ

مذکورہ تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوا کہ احمد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی ہے۔ جیسا کہ حدیث گزر چکی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”انا محمد وانا احمد“ پھر فرمایا کہ میں عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں۔ لہٰذا قادیانیوں کو احمدی کہنا‘ ان کے مذہب کو احمدیت کہنا حرام اور قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔ مسلمان اپنے بچوں کے نام منظور احمد‘ شہباز احمد‘ غلام احمد‘ مشتاق احمد وغیرہ رکھتے ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتے ہوئے رکھتے ہیں۔ نہ کہ مرزا قادیانی کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔

جو شخص احمد سے مراد مرزا قادیانی لیتا ہے اور احمدیت سے مراد مرزائیت لیتا ہے وہ حق کو باطل سے ملا رہا ہے۔ اور یہ ظاہر قرآن کے خلاف ہے۔ غیرت ایمانی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی حاصل کرنے کا تقاضا یہی ہے کہ اس جھوٹے دجال کے ماننے والوں کو احمدی نہ کہا جائے بلکہ مرزائی‘ قادیانی‘ غلامی یا غلمدی کہا جائے۔

صفحہ 382

غلام احمد مرکب اضافی ہے اور مرکب اضافی کے ساتھ یاء اضافت اسی طرح لگتی ہے جیسے عبدالقیس قبیلہ کے لوگ عبقسی کہلائے۔ غلام احمد سے لفظ غلمدی بنے گا نہ کہ احمدی۔

ختم نبوت پر چند احادیث مبارکہ

حدیث ۱: عن ابی ھریرۃؓ یحدث عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی و ستکون خلفاء فتکثر۔

(بخاری ج ۱ ص ۴۹۱ مسلم ج ۲ ص ۱۲۶)

(ترجمہ) ”حضرت ابوہریرہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو ان کے بعد دوسرا نبی آتا تھا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا البتہ خلفا ہوں گے اور بہت ہوں گے۔“

یہ حدیث روایۃً و درایۃً، سنداً اور متناً بڑے پایہ کی حدیث ہے جو صاف اعلان کر رہی ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپؐ کی اُمت کے لئے کسی قسم کا بھی نبی نہ ہوگا لا نبی بعدی کی نفی میں ہر طرح کی نبوت کی نفی شامل ہے اور خود حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امت میں ایسے انبیاء بھی نہیں آ سکتے جو بنی اسرائیل میں ان کی قیادت و سیادت کے لیے بھیجے جاتے تھے بلکہ نبوت کا دروازہ بند ہوا اب خلفاء ہوں گے جیسا کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کے بعد خلفاء کا سلسلہ شروع ہوا۔

کھسیانی بلی کھمبا نوچے

حدیث بالا نے مرزائیوں کی راتوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ اس لیے وہ نہایت بے حیائی اور ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ اس انتہائی مضبوط اور واضح حدیث میں بے جا تاویلیں کرتے رہتے ہیں۔ چند ایک تاویلات اور ان کے جوابات آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:

صفحہ 383

(الف) لا نبی بعدی میں نفی جنس نہیں بلکہ نفی کمال ہے، یعنی کامل نبی صاحب شریعت جدیدہ کا آنا آپؐ کے بعد بند ہو گیا ہے۔

جواب ۱: اگر کوئی بت پرست یہ کہے کہ میں لا الہ الا اللہ میں بھی نفی کمال مراد لیتا ہوں یعنی کامل خدا اللہ کے سوا کوئی نہیں البتہ غیر مستقل معبود ہو سکتے ہیں تو اس کو کیا جواب دیا جائے گا؟ جو جواب مرزائی لا الہ الا اللہ کے بارے میں غیر مسلم بت پرست کو دیں گے وہی جواب ہم لا نبی بعدی کا دے دیں گے۔

جواب ۲: خود مرزا قادیانی نے تسلیم کیا ہے کہ اس حدیث میں لا نفی کمال نہیں بلکہ نفی جنس کے لیے ہے۔ دیکھئے:

الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمی نبینا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء بغیر استثناء وفسرہ نبینا فی قولہ لا نبی بعدی ببیان واضح للطالبین ولو جوزنا ظھور نبی بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم لجوزنا انفتاح باب وحی النبوۃ بعد تغلیقھا وھذا خلف کما لا یخفی علی المسلمین وکیف یجیئی نبی بعد رسولنا صلی اللہ علیہ وسلم وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ وختم اللہ بہ النبیین۔

(حمامة البشریٰ در روحانی خزائن ج ۷ ص ۲۰۰)

(ترجمہ از مرزا صاحب) ”کیا تو نہیں جانتا کہ اس محسن رب نے ہمارے نبی کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے اور کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے طالبوں کے لیے بیان واضح سے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز رکھیں تو لازم آتا ہے کہ وحی نبوت کے دروازے کا انفتاح بھی بند ہونے کے بعد جائز خیال کریں اور یہ باطل ہے جیسا کہ مسلمانوں پر پوشیدہ نہیں اور آنحضرتؐ کے بعد کوئی نبی کیونکر آئے حالانکہ آپؐ کی وفات کے بعد وحی نبوۃ منقطع ہو گئی ہے اور آپؐ کے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا ہے۔“

صفحہ 384

دیکھیے‘ مرزا صاحب نے کس صراحت کے ساتھ ہمارے مسلک وعقیدہ کی تائید کی ہے۔ اس وضاحت کے بعد کسی بھی مرزائی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اس کے برخلاف معنی مراد لے ورنہ یا تو وہ نبی جھوٹا ہوگا یا اس کے ماننے والے!

(ب) لا نبی بعدی کے معنی یہ ہیں میرے زندہ رہتے ہوئے میرے مد مقابل نہیں آ سکتا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ کبھی بھی نہیں آ سکتا۔

جواب ۱: کسی شارح حدیث یا مجدد نے حدیث بالا میں وہ قید نہیں لگائی جس کے مرزائی مدعی ہیں۔ یہ قید بلا دلیل اور من گھڑت ہے۔

جواب ۲: بعدی سے مراد میری بعثت کے بعد ہے خواہ زندگی میں ہو یا وفات کے بعد چنانچہ آپ کی حیات ہی میں جھوٹے نبی پیدا ہونے شروع ہو گئے تھے۔

(ج) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے: قولوا خاتم النبيين ولا تقولوا لا نبي بعدہ۔ (درمنثور ج۵ ص۲۰۴‘ تکملہ مجمع البحار ص۸۵) یعنی خاتم النبیین تو کہو لا نبی بعدہ مت کہو۔ اس سے پتا چلا کہ حدیث لا نبی بعدہ صحیح نہیں ہے ورنہ انکار کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

جواب ۱: یہ اثر عائشہ ”مجہول الاسناد“ بخاری ومسلم شریفین کی احادیث مرفوعہ متواترہ کے مقابلہ میں حجت نہیں اور حدیث لا نبی بعدی اس قدر صحیح ہے کہ (کتاب البریہ در روحانی خزائن ج۱۳ ص۲۱۷) میں خود مرزا صاحب مقر ہیں کہ ”حدیث لا نبي بعدي ایسی مشہور ہے کہ اس کی صحت میں کسی کو کلام نہ تھا۔“

جواب ۲: اگر بالفرض اثر عائشہ رضی اللہ عنہا صحیح بھی مان لیں تو جواب اس طرح ہو گا کہ حضرت صدیقہؓ نے یہ ارشاد باعتبار نزول عیسیٰؑ کے فرمایا ہے تا کہ کوئی شخص اپنی سطحی نظر اور کم فہمی سے اجماعی عقیدہ نزول عیسیٰؑ کا انکار نہ کر بیٹھے کیونکہ عوام کے عقائد کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ تکملہ مجمع البحار ص ۸۵ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ نیز ایک دوسری روایت کے تناظر میں اثر عائشہؓ کے معنی بالکل کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ چنانچہ درمنثور میں ہے کہ کسی شخص نے حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کے سامنے کہا تھا صلی اللہ علی خاتم الانبياء لا نبي بعدہ تو حضرت مغیرہؓ نے فرمایا: حسبک اذا قلت خاتم الانبياء فانا کنا نحدث ان

صفحہ 385

عیسیٰ علیہ السلام خارج فان هو خرج فقد كان قبله و بعده۔ (درمنثور ج۵ ص۲۰۴) یعنی جب تم کہو تو تمہارے لئے خاتم الانبیاء کہہ دینا کافی ہے لا نبی بعدہ کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم سے حدیث بیان کی جاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنے والے ہیں پس جب وہ آجائیں گے تو وہ آپ سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ہوں گے۔ ــــــ مطلب صاف اور ظاہر ہے کہ کلمہ لا نبی بعدہ سے چونکہ بظاہر یہ ایہام پیدا ہوسکتا ہے کہ پہلے کا کوئی نبی جو پہلے مبعوث ہو چکا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد موجود نہیں رہ سکتا اور خاتم النبیین میں یہ ایہام نہیں۔ لہٰذا بوقت اندیشہ ایہام خلاف سے بچنے کے لئے خاتم النبیین پر اکتفاء کرنا مقصود کی ادائیگی کے لئے کافی ہے کہ آپ آخر الانبیاء ہیں آپ کے بعد کسی کو منصب نبوت عطا نہ ہوگا۔ اس میں ایہام خلاف مراد کا اندیشہ نہیں...... نیز ختم نبوت کے متعلق حضرت عائشہ کی صریح اور صحیح حدیث موجود ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:

عن عائشة عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال لا یبقیٰ بعدی من النبوة شیی الا المبشرات ،الخ۔

(کنزالعمال ج۸ ص۳۳)

”حضرت عائشہؓ راوی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت میں سے کوئی جز باقی نہ رہے گا سوائے مبشرات کے۔“

لہٰذا کسی بھی طرح حضرت عائشہؓ کے مذکورہ اثر سے لا نبی بعدی والی حدیث کو کم زور یا غیر صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا۔

حدیث ۲: عن جبیر بن مطعمؓ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال انا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی۔ (ترمذی شریف ج۲ ص۱۰۷)

”حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں عاقب ہوں اور عاقب وہ شخص ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔“

یہ حدیث بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر کھلی دلیل ہے۔ اسی مضمون کی حدیثیں انہی الفاظ کے ساتھ صحیحین میں بھی ہیں۔

حدیث ۳: عن ثوبانؓ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ سیکون فی امتی کذابون ثلٰثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی

صفحہ 386

بعدی۔ (ابوداؤد شریف ج۲ ص۲۲۴)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری اُمت میں تیس (۳۰) جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ (میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں ہو سکتا)

ایک شبہ کا ازالہ

اس حدیث پر یہ شبہ ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے آج تک بے شمار لوگ نبوت کا دعویٰ کر چکے حالانکہ حدیث شریف میں صرف تیس کے بارے میں پیشین گوئی کی گئی ہے۔ اس شبہ کا ازالہ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری شرح بخاری شریف میں بایں الفاظ فرمایا ہے: وليس المراد بالحديث من ادعى النبوة مطلقاً فانهم لا يحصون كثرة لكون غالبهم من نشأة جنون وسوداء غالبة وانما المراد من كانت له الشوكة۔ (فتح الباری مطبوعہ ہند دہلی ج۴ ص۳۴۳ وکذا فی عمدۃ القاری ج۷ ص۵۵۵ مصری) یعنی اس حدیث میں مطلقاً مدعی نبوت مراد نہیں، اس لیے کہ ایسے بے شمار ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ بے بنیاد دعوٰی عموماً جنون اور سوداویت سے پیدا ہوتا رہتا ہے۔ بلکہ اس حدیث میں جن تیس دجالوں کا ذکر ہے وہ وہی ہیں جن کی شوکت قائم ہو جائے متبع زیادہ ہوں اور ان کا مذہب چلے۔

حدیث ۷: عن ابی هریرةؓ ان رسول الله ﷺ قال ان مثلی ومثل الانبیاء كمثل رجل بنی بیتا فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس یطوفون به ویعجبون له ویقولون هلا وضعت هذه اللبنة وانا خاتم النبیین ۔ (رواہ البخاری فی کتاب الانبیاء و صحیح مسلم ص۲۴۸ جلد ۲ فی کتاب الفضائل واحمد فی مسندہ ص۳۹۸ جلد۲ والنسائی والترمذی) ،

وفی بعض الفاظه فكنت انا سددت موضع اللبنة وختم بي البنیان وختم بي الرسل هكذا فی الكنز عن ابي عساكر۔

(ترجمہ) حضرت ابو ہریرہؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ میری مثال مجھ سے پہلے انبیاء کے ساتھ ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کو بہت عمدہ اور آراستہ و پیراستہ بنایا، مگر اس کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ تعمیر سے چھوڑ دی،

صفحہ 387

پس لوگ اس کے دیکھنے کو جوق در جوق آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی (تاکہ مکان کی تعمیر مکمل ہو جاتی) چنانچہ میں نے اس جگہ کو پر کیا اور مجھ سے ہی قصر نبوت مکمل ہوا اور میں ہی خاتم النبیین ہوں (یا) مجھ پر تمام رسل ختم کر دیئے گئے۔

اس حدیث نے تمام قادیانی اوہام کا خاتمہ کر دیا۔ آنحضرت ﷺ نے قصر نبوت کی تکمیل کر دی ہے اب اس میں کسی تشریعی غیر تشریعی نبوت کی گنجائش نہیں ہے۔

اس کے برعکس مرزا قادیانی نے نہ صرف حضور اکرم ﷺ کی خاتمیت اور اکملیت کا انکار کیا بلکہ خود حضور علیہ السلام کے منصب خاتم و کامل پر فائز ہونے کا مدعی بن گیا۔ چنانچہ لکھتا ہے: ؎

روضہ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۱۳ روحانی خزائن جلد ۲۱ ص ۱۴۴)

فكان خالياً موضع لبنة اعنى المنعم عليه من هذه العمارة فاراد الله ان يتم النبأ ويكمل البناء باللبنة الاخيرة فانا تلك اللبنة ايها الناظرون۔

(ترجمہ از مرزا قادیانی) اور اس عمارت میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی یعنی منعم علیہ۔ پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیش گوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بنا کر کمال تک پہنچا دے۔ پس میں وہی اینٹ ہوں۔

(خطبہ الہامیہ ص ۱۷۷۔ ۱۷۸ روحانی خزائن جلد ۱۶ ص ۱۷۷۔ ۱۷۸)

نعوذ بالله تعالى من هذه الخرافات۔

ان کے علاوہ بہت سی احادیث صراحۃً ختم نبوت پر دال ہیں۔ تفصیل کے لئے ”هداية الممترى عن غواية المفترى“ اور حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کی کتاب ”ختم نبوت فی الحدیث“ اور ”عقيدة الامت فی معنی ختم النبوة“ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

صفحہ 388

ختم نبوت کے بارے میں علماء اُمت کے فیصلے

امت کا یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ ختم نبوت کا انکار کفر ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی طرح کے بھی نئے نبی آنے کے جواز کا عقیدہ رکھنے والا قطعاً کافر ہے۔ جس کا کچھ اندازہ حسب ذیل تصریحات سے لگایا جاسکتا ہے:

وصح ان وجود النبوۃ بعدہ علیہ السلام باطل لا یکون البتۃ۔

(الملل والنحل ج ۱ ص ۷۷)

(ترجمہ) ”اور یہ بات ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا وجود باطل ہے ہرگز نہیں ہوسکتا۔“

فرماتے ہیں: ان الامۃ فہمت بالا جماع من ہذا اللفظ ومن قرائن احوالہ انہ فہم عدم نبی بعدہ ابداً وعدم رسول اللہ ابداً وانہ لیس فیہ تاویل ولا تخصیص فمنکر ہذا لا یکون الا منکر الاجماع۔ ۱۲

(الاقتصاد فی الاعتقاد ص ۱۱۴ مطبوعہ مصر)

(ترجمہ) ”بے شک اُمت نے اس لفظ (یعنی خاتم النبیین اور لا نبی بعدی) سے اور قرائن احوال سے بالاجماع یہی سمجھا ہے کہ آپؐ کے بعد ابد تک نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ کوئی رسول۔ اور یہ کہ نہ اس میں کوئی تاویل چل سکتی ہے اور نہ تخصیص پس اس کا منکر اجماع کا منکر ہوگا۔“

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم او بعدہ ...... وادعی النبوۃ لنفسہ اوجوز اکتسابہا اوالبلوغ بصفاء القلب الیٰ مرتبتہا ...... وکذلک من ادعی منہم انہ یوحی الیہ وان لم یدع النبوۃ ...... فہولاء کلہم کفار مکذبون للنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لانہ اخبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہ خاتم النبیین لا نبی بعدہ۔

(الشفاء بہ تعریف حقوق المصطفیٰؒ ص ۲۴۷)

صفحہ 389

(ترجمہ) ”جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی کی نبوت کا یا ان کے بعد دعویٰ کرے یا اپنے لیے نبوت کا دعویٰ کرے یا صفاء قلب کے ذریعہ نبوت کے مرتبہ تک پہنچنے اور کسب سے اس کو حاصل کرنے کو جائز سمجھے اور ایسے ہی وہ شخص جو یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی نبوت آتی ہے اگرچہ صراحۃً نبوت کا مدعی نہ ہو۔ پس یہ سب کے سب کفار ہیں اور حضور علیہ السلام کی تکذیب کرنے والے ہیں۔ اس لیے کہ آپؐ نے خبر دی ہے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں اور آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

الیواقیت والجواہر ج۲ ص۷۱ میں فرماتے ہیں: قال الشیخ: اعلم ان الله تعالیٰ قد سد باب الرسالة عن کل مخلوق بعد محمد صلی الله علیه وآله وسلم الی یوم القيامة۔

(ترجمہ) ”جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسالت کا دروازہ قیامت تک بند کر دیا ہے۔“

علیه وآله وسلم کفر بالاجماع۔

(ترجمہ) ”ہمارے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔“

علاوہ ازیں فقہ و کلام کی تقریباً ہر کتاب میں صراحت کے ساتھ مکذب ختم نبوت کی تکفیر کا حکم مکتوب ہے اور بعض بزرگوں اور علماء امت کے بارے میں قادیانی جو جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہیں وہ سراسر بے بنیاد اور جھوٹ ہے۔ تفصیل کے لئے مطالعہ کریں: ”عقيدة الامة فی معنی ختم النبوة“ مصنفہ علامہ خالد محمود اور ”ختم نبوت و بزرگانِ امت“ مصنفہ مولانا لال حسین اختر مرحوم۔

صفحہ 390

اجرائے نبوت کے شوق میں

دلائل مرزائیہ کا پوسٹ مارٹم

پہلی دلیل

یا بنی ادم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایاتی۔ (اعراف:۳۵) (ترجمہ) اے بنی آدم اگر تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں بیان کریں تم سے میری ١؎ آیتیں۔

دیکھئے! اس آیت میں تمام انسانوں سے خطاب کیا جا رہا ہے کہ اگر ان کے پاس انہیں میں سے رسول آئیں الخ اور یہاں یاتینکم صیغہ مضارع لایا گیا ہے جس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ یہ سلسلہ برابر جاری رہے گا اور رسول برابر آتے رہیں گے۔ اگر رسالت و نبوت کا کسی وقت انقطاع مانیں تو پھر آیت بے معنی ہو جائے گی یہ آیت اجرائے نبوت پر کھلی دلیل ہے۔

جوابات: یہ استدلال جیسا کہ ظاہر ہے انتہائی سطحی اور لچر ہے۔ لیکن پھر بھی اتمام حجت کے لئے اور موقع پر استعمال کے لئے اس کے حسب ذیل دانت کھٹے کر دینے والے آٹھ جوابات یاد رکھنے چاہئیں:

جواب (۱): یہ دلیل مرزائیوں کے دعوے کے مطابق نہیں ہے ان کا دعویٰ تو خاص نبوت کا ہے جو اکتساب سے ملتی ہے لیکن دلیل عام رسالت کی لائی جا رہی ہے۔ اس کا

١؎ ترجمہ شیخ الہند۔

صفحہ 391

عموم خود مرزا قادیانی کو بھی مسلم ہے۔ چنانچہ لفظ رسول کی عمومیت کے بارے میں آئینہ کمالات اسلام میں لکھتا ہے: ”رسول کا لفظ عام ہے‘ جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں۔“ دیکھیے (آئینہ کمالات اسلام در روحانی خزائن ج ۵ ص ۳۲۲) مرزا صاحب کا تسلیم شدہ یہ قاعدہ ہے کہ عام لفظ کو خاص معنی میں محدود کرنا صریح شرارت ہے۔ (دیکھو نور القرآن در خزائن جلد ۹ ص ۴۴۴)

یاتینکم رسل منکم تو عام ہوا اور اجراء صرف ظلی نبوت کا مانا جائے یہ واقعی قادیانیوں کی صریح شرارت ہے۔

مرزائیوں کا دعویٰ خاص ہے اور دلیل عام ہے۔ اس لیے یہ دلیل دعوی مدعی کے مطابق نہیں سو یہ دلیل نہیں بن سکتی۔

جواب (۲) : اس قسم کی سب آیات جن میں رسول یا الرسل کا لفظ آتا ہے مرزائی مسلمات پر سب کی سب کا ایک ہی جواب ہے کہ اگر بفرض محال مان لیا جائے کہ ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت کے بعد رسول آیا کریں گے تو ہم کہتے ہیں کہ باقرار مرزا قادیانی رسول کا لفظ عام ہے۔ جو نبی تشریعی اور غیر تشریعی دونوں کو عام ہے اور قادیانی خود بھی تشریعی نبی کا آنا نہیں مانتے۔ بلکہ مرزا غلام احمد کے نزدیک یہ لفظ محدث و مجدد ہر دو کو شامل ہے۔ وہ لکھتا ہے:

”رسل سے مراد مرسل ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی ہوں یا محدث ہوں چونکہ ہمارے سید و رسول صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نبی نہیں آ سکتا اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے۔“

(شہادۃ القرآن ص ۲۷۔ رخ ص ۳۲۳‘ ۳۲۴ ج ۶)

”رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہوں خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یا محدث اور مجدد ہوں۔“

(ایام الصلح ص ۷۱ قدیم ص ۱۹۵ جدید)

پس اس قسم کی تمام آیات کا ایک ہی جواب کافی ہے کہ بالفرض اگر اس امت میں رسول آنے ہی ہیں اور مراد آیات سے وہی معنی محرف ہیں جو تم ارادہ کرتے ہو تو ہم اتنا تو مانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مجدد و محدث آئیں گے یہ رسالت کا دعویٰ کہاں سے آ گیا۔

صفحہ 392

جواب (۳): اگر آیت بالا اجرائے نبوت کی دلیل ہے تو اس سے تینوں قسم کی نبوتوں (تشریعی‘ مستقل اور ظلی) کو جاری ماننا پڑے گا کیونکہ رسول کا لفظ عام ہے۔ حالانکہ مرزائی بھی دو قسموں کا انقطاع تسلیم کرتے ہیں‘ تو یہ آیت جس طرح بقول ان کے ہمارے خلاف ہے عقیدہ مرزائیہ کے بھی خلاف ہے سو وہ اس کا جو جواب دیں گے وہی ہمارا جواب ہوگا۔

جواب (۴): آیت میں رسل منکم ہے‘ رسل منا نہیں ہے‘ اور بحث ختم نبوت اور رسالت من اللہ میں ہے کیونکہ مطلق رسالت کے معنی تبلیغ کے ہیں۔ سورۃ یٰسین کے دوسرے رکوع میں اس معنی میں رسل کا لفظ آیا ہے اور حدیث معاذ میں بھی آیا ہے‘ اس معنی میں تو تمام علماء امت اور مبلغین اسلام بھی رسل ہیں۔ مرزا بھی رسل کا لفظ عام مانتا ہے۔ دیکھیے (محمدیہ پاکٹ بک ۸۰۔۴۷۸) سو اس معنی میں رسولوں کی آمد ماننے میں کوئی حرج نہیں۔

جواب (۵): اگر یہ اجرائے نبوت کی دلیل ہوتی تو مرزا غلام احمد خود اپنی ڈوبتی نبوت کو تنکے کا سہارا دینے کے لئے ضرور اس آیت کو پیش کرتے ان کا نہ پیش کرنا ہی اس دلیل کے پھسپھسی ہونے کی روشن دلیل ہے۔

جواب (۶): بالفرض والتقدیر اگر اس دلیل کو اجرائے نبوت کا مستدل مان بھی لیا جائے تب بھی مرزا غلام احمد قیامت تک نبی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ وہ بقول خود آدم کی اولاد نہیں۔ یا بنی آدم میں وہ کیسے آسکتا ہے اور یہ آیت تو صرف بنی آدم سے متعلق ہے۔ اس نے خود اپنا تعارف بایں الفاظ کرایا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔ شعر! ؎

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ پنجم در روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۱۲۷)

اب اگر وہ بنی آدم میں سے تھا اور گو ہمارا اس کے بارے میں ابھی تک یہی خیال ہے تو پھر اس نے اپنی آدمیت کا انکار کر کے سفید جھوٹ بولا ہے۔ اور جھوٹا آدمی نبی نہیں بن سکتا۔ اور اگر واقعی وہ دائرہ آدمیت سے خارج تھا (انسانوں کی عار تھا) تو پھر یا بنی آدم‘ الخ کی آیت سے اس کی نبوت ثابت ہی نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے مرزائیوں کا اجرائے نبوت کے لیے یہ دلیل پیش کرنے کی کوشش کرنا سراسر سعی لاحاصل ہے۔

صفحہ 393

شعر میں تاویل

مذکورہ بالا شعر میں مرزائی یہ تاویل کرتے ہیں کہ دراصل ہمارے حضرت صاحب بہت زیادہ متواضع اور منکسر المزاج تھے اس لیے کسر نفسی کی بنا پر انہوں نے یہ شعر کہہ دیا اس سے اپنا اصلی تعارف کرانا مقصود نہ تھا۔ لہٰذا یہ شعر ہماری بحث سے خارج ہونا چاہیے۔

تاویل کا تجزیہ

پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی بھی عقل مند آدمی ایسی تواضع نہیں کرتا کہ اپنے آدمی ہونے کا ہی انکار کر دے اور ساتھ میں اپنے کو ”بشر کی جائے نفرت“ (شرمگاہ) قرار دے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ جو شخص متواضع ہوتا ہے وہ ہر جگہ اپنی تواضع اور کسر نفسی کا اظہار کرتا ہے یہ نہیں کہ ایک جگہ تو اپنے کو آدمیت سے ہی خارج کر دے اور دوسری جگہ اپنے کو دنیا کا سب سے عظیم المرتبت انسان قرار دے۔ لیکن اس الٹی منطق کا ارتکاب مرزا صاحب ایک نہیں بے شمار جگہ کرتے ہیں۔ چند ایک ان کی نام نہاد تواضع کے نمونے ملاحظہ ہوں جو مرزائیوں کی مذکورہ تاویل کا منہ چڑا رہے ہیں۔ دیکھیے ؎

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ۱؎ ہے

(دافع البلاء و روحانی خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰)

روضہ آدم کہ جو تھا نا مکمل اب تلک
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

(براہین احمدیہ در روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۱۴۴)

(۳) کربلائے ست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

۱۔ استاد محترم مولانا محمد حیات صاحب فاتح قادیان نے یہ شعر اس طرح بدلا ہے۔ ؎

ابن ملجم ٭ کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بدتر غلام احمد ہے

٭(ابن ملجم حضرت علیؓ کا قاتل ہے)

صفحہ 394
(۴) آدم نیز احمد مختار
در برم جامہ ہمہ ابرار
(۵) آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام
(۶) انبیا گرچہ بوده اند بسے
من بعرفان نہ کمترم ز کسے

(نزول المسیح در روحانی خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷)

خود ہی سوچئے‘ کیا کوئی ہوش مند انسان ایسے متکبر اور گھمنڈی کو منکسر المزاج کہہ سکتا ہے؟

جواب (۷) : اگر اس آیت سے نبوت کا جاری ہونا ثابت ہوتا ہے تو ہمارے پاس بھی اسی طرح کی ایک آیت ہے جس سے شریعت کا جاری ہونا بھی معلوم ہوتا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:

فاما یاتینکم منی ہدی فمن تبع ہدای فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون۔

(بقرہ آیت ۳۸)

حالانکہ شریعت جاری ہونا مرزائیوں کے نزدیک بھی بند ہے۔ تو اس آیت کا جو جواب مرزائی دیں ہم وہی ان کی پیش کردہ آیت کا جواب دے دیں گے اور اگر وہ جواب میں یہ کہیں کہ الیوم اکملت لکم الخ کی آیت سے شریعت کی تکمیل کا اعلان کردیا گیا ہے‘ اس لیے مزید کسی شریعت کی ضرورت نہیں رہی تو ہم بھی یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ ما کان محمد ...... الی ...... خاتم النبیین کی آیت سے قصر نبوت کی تکمیل کا علم ہو گیا اس لیے اب کسی بھی قسم کے نبی اور رسول کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

جواب (۸) : اور تحقیقی جواب اس دلیل کا یہ ہے کہ آیت یٰبنی آدم‘ الخ کا سیاق و سباق دیکھنے سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ یہاں کوئی نیا حکم اس امت کو نہیں دیا جا رہا ہے‘ بلکہ زمانہ ماضی کے واقعہ کی حکایت ہو رہی ہے۔ چنانچہ سورہ اعراف کے دوسرے رکوع میں حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام کی پیدائش کا ذکر ہے‘ اس کے بعد ان کے جنت میں

صفحہ 395

رہنے، اور پھر وہاں سے اتارے جانے کا قصہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اسی ضمن میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارنے کے بعد ان کی اولاد سے منجانب خداوندی خطاب کیا گیا تھا اور یہ خطاب عالم ارواح کا ہے۔ جیسے قرآن کریم میں حسب ذیل چار آیتوں میں ذکر کیا گیا ہے:

ان چاروں جگہوں میں اس وقت کی اولادِ آدم کو خطاب کیا گیا ہے۔ یہ براہِ راست اُمتِ محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو خطاب نہیں ہوا۔ بلکہ ان کے سامنے یہ ماضی کی حکایت کی گئی ہے۔ اس لیے کہ قرآن کریم کے اسلوب پر نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت دعوت کو یایھا الناس اور امتِ اجابت کو یایھا الذین امنوا کے الفاظ سے مخاطب بنایا گیا ہے۔ بہر حال قرآن کریم نے اس واقعہ اور الفاظِ خطاب کو ذکر کرنے کے بعد متعدد انبیاء اولوالعزم کا ذکر کیا ہے۔ گویا کہ یہ اما یاتینکم رسل منکم کی تشریح و تفصیل کی جا رہی ہے۔ سب کا ذکر کرنے کے بعد آخر میں سرور کائنات فخر دو عالم خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک ان الفاظ میں ہوتا ہے: الذین یتبعون الرسول

النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندہم فی التوراۃ والانجیل۔

(اعراف آیت ۱۵۷)

اور پھر آپ ہی کی زبانی اعلان کرایا جاتا ہے۔ قل یا ایھا الناس انی رسول الله الیکم جمیعا۔ (اعراف: ۱۵۸) ”اے نبیؐ آپ فرما دیجیے میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ۔“ اور اسی پر بس نہیں بلکہ اس باعظمت اعلان کی قرآن کریم کی متعدد سورتوں میں مختلف پیرایوں میں تاکید و تائید فرمائی گئی ہے تا کہ اس بارے میں کوئی شبہ اور شک باقی نہ رہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری رسول ہیں اور آخری شریعت لے کر آنے والے ہیں۔ چنانچہ کبھی ارشاد ہوا: ومآ ارسلنک الا کافة للناس۔ (سباء: آیت ۲۸) کبھی ارشاد ہوا: ومآ ارسلنک الا رحمة للعالمین۔ (انبیاء: آیت ۱۰۷) تا آنکہ بالکل وضاحت کے ساتھ اعلان

صفحہ 396

کیا گیا ہے۔ ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين۔ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن اللہ کے رسول نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں) اور پھر وحی غیر متلو یعنی احادیث مبارکہ میں بھی اس مضمون اور اعلان کی تشریح میں غیر معمولی اہمیت کا مظاہرہ کیا گیا۔ کیونکہ علم خداوندی میں یہ بات تھی کہ مرزا قادیانی جیسے دجال اس امت میں پیدا ہوں گے اور سادہ لوح مسلمانوں کو جہنم کا ایندھن بنائیں گے۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہوا: ان النبوة والرسالة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولانبی۔ (ترمذی ج ۲ ص ۵۱) ”بیشک رسالت ونبوت کا سلسلہ قطعاً منقطع ہو گیا‘ لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔“ تو اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم سے رسولوں کے بھیجنے کا وعدہ کیا تھا چنانچہ انبیاء ورسل بھیجے گئے اور وعدہ کا پوری طرح ایفاء کیا گیا تا آنکہ ہدایت کا سورج ذاتِ نبویؐ کی صورت میں طلوع ہوا جس کے بعد نہ رسول کی ضرورت باقی رہی اور نہ کسی نئی شریعت کی۔ اب وہی قیامت تک رسول ہیں اور انہی کی شریعت معمول بہا ہے۔ اور اسی پر سلسلہ رسل وانبیاء کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

چیلنج

اگر حضور اکرم کی امت اجابت یا امت دعوت میں رسالت ونبوت کا سلسلہ جاری ہوتا تو ”یایھا الذین آمنوا“ ”یا ایھا الناس“ کے الفاظ سے خطاب کر کے نبیوں اور رسولوں کی آمد بتائی جاتی۔ ہم قادیانیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ پورے قرآن میں کہیں کسی ایک جگہ ”یایھا الذین آمنوا“ یا ”یا ایھا الناس“ کے خطاب کے بعد رسولوں کی آمد کا تذکرہ دکھادیں اور منہ مانگا انعام پائیں۔

دوسری دلیل

الله يصطفى من الملئكة رسلا ومن الناس۔ (حج: آیت ۷۵)

ترجمہ : ”بے شک اللہ تعالیٰ فرشتوں اور آدمیوں میں سے پیغام پہنچانے والوں کو

چن لیتا ہے۔“ (حضرت تھانویؒ)

اس آیت سے بخوبی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ نبوت ورسالت کا سلسلہ بدستور جاری ہے کیونکہ یَصْطَفِیْ مضارع کا صیغہ ہے جو اپنے اندر حال اور مستقبل کے معنی رکھتا ہے۔ پتا چلا

صفحہ 397

کہ اللہ تعالیٰ مسلسل آدمیوں اور فرشتوں میں سے پیغام بروں کو چنتا رہے گا۔

جوابات

اس استدلال کا جواب تین طریقوں پر دیا جا سکتا ہے:

دعویٰ کے مطابق نہیں اس لیے اس دلیل سے مرزائیوں کی مزعومہ نبوت ثابت نہیں کی جا سکتی خود مرزا صاحب نے رسول کے معنی عام لیے ہیں۔ ۱؎

(ایام الصلح در روحانی خزائن حاشیہ ج ۱۴ ص ۴۱۹)

اور اس عام لفظ سے خاص معنی پر استدلال صریح شرارت قرار دیا جائے گا۔ چنانچہ خود مرزا صاحب ہماری تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”ایک عام لفظ کسی خاص معنے میں محدود کرنا صریح شرارت ہے۔“

(نور القرآن در روحانی خزائن ج ۹ ص ۴۴۴)

کے قائل ہیں اور اس آیت میں کہیں دور دور تک یہ قید نہیں ہے۔ لہٰذا اس اعتبار سے بھی دلیل دعویٰ کے مطابق نہیں ہے۔

خداوندی یعنی وہبی ہوگا اس میں کسب کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اور مرزائی جس نبوت کے قائل ہیں وہ کسبی ہے۔ اس لیے اس نکتہ کو دیکھتے ہوئے بھی یہ دلیل دعویٰ سے قطعاً میل نہیں کھاتی۔

آئے گا تو مستقبل کے لئے نہ ہوگا۔ استمرار تجددی کی بحث امر دیگر ہے۔

تیسری دلیل

ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیہم من النبیین والصدیقین والشہداء والصالحین وحسن اولئک رفیقاً۔ (النساء: ۶۹)

۱؎ یعنی مجدد، محدث، ملہم بھی رسول ہیں۔

صفحہ 398

(ترجمہ) ”اور جو شخص اللہ اور رسول کا کہنا مان لے گا تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے۔ یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صلحاء اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں ۔“ (حضرت تھانویؒ)

طرز استدلال

”اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو آپ کی اطاعت سے نبوت حاصل ہوتی ہے۔ جس طرح آپ کی اطاعت سے آپ کی امت میں صالح شہید اور صدیق بنتے ہیں اسی طرح آپ کی اطاعت سے نبی بھی بنتے ہیں۔ اور یہی ہمارا دعویٰ ہے کہ آپ کی اطاعت والی نبوت جاری ہے۔ اور یہ ہمارے دعویٰ کی صریح دلیل ہے کیونکہ آنحضرتؐ کی اطاعت سے بالاتفاق تین درجے حاصل ہوتے ہیں۔ تو ہم کہتے ہیں کہ آپ کی اطاعت سے چوتھا درجہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ اور وہ نبوت کا درجہ ہے۔ اس لیے اس آیت کا معنیٰ یوں کرنا درست نہیں ہوگا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے ان چار قسم کے لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔ اور انہیں ان کی رفاقت حاصل ہوگی۔ لہٰذا مَعَ اسی معنی میں استعمال ہوگا جیسا کہ توفنا مع الابرار میں ہے۔

جوابات پیش خدمت ہیں

اس دلیل کو پیش کر کے مرزائی یہ خیال نہ کریں کہ انہوں نے کوئی بڑا تیر مار لیا ہے اور اس کا کوئی توڑ نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دلیل بالا کو بے حقیقت بنانے کے لیے ہمارا ایک ہی جواب کافی ہے۔ مگر مزید اطمینان کے لیے ہم مختلف پیرایوں اور انداز سے مزے دار اور چٹ پٹے جوابات تھالی میں سجا کر امت مرزائیہ کو پیش کرنا چاہتے ہیں‘ تاکہ ان کی زبانوں پر تالا لگایا جا سکے اور ان میں بالفرض کوئی طالب صادق ہو تو اسے اپنے عقیدہ باطلہ سے رجوع کرنے کی ان جوابات کی بدولت توفیق حاصل ہو سکے۔ ملاحظہ فرمائیں:

جواب ۱: یہ دلیل قرآن کریم کی آیت سے ماخوذ ہے اس لیے مرزائی اپنے استدلال کی تائید میں کسی ایک مفسر یا مجدد کا قول پیش کریں‘ بغیر اس تائید کے ان کا استدلال مردود اور من گھڑت ہے۔

صفحہ 399

جواب ۲: اگر بالفرض یہ استدلال درست ہو تو اس سے ہر طرح کی نبوت جاری ہونے کا علم ہو گا جو خود مرزائیوں کے نزدیک بھی نا قابل تسلیم ہے۔ لہذا دلیل مرزائیوں کے دعوے کے مطابق نہیں اس لیے ساقط ہے۔

جواب ۳: مرزا قادیانی اور اس کی امت کے خیال میں واؤ ترتیب کیلئے آتی ہے تو گویا جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ مرزائیوں کے خیال کے مطابق پہلے نبی ہو گا پھر صدیق ہو گا پھر شہید ہو گا پھر عام صالحین میں جا کر داخل ہو گا۔ تو گویا نبی تو ہر ایک وہ شخص ہو گیا جو اللہ کی اطاعت کرے اگر چہ اس کو صدیق و شہید اور صالح کا مرتبہ ملے یا نہ ملے کیونکہ مرزائی واؤ کی ترتیب پر بڑا زور لگاتے ہیں۔ تو غالباً یہاں بھی اس سے انکار نہ کریں گے۔

جواب ۴: آیت بالا میں درجات تک پہنچنے کا ذکر ہی نہیں وہاں تو محض رفاقت کا ذکر ہے۔ اور یہ مطلب اس آیت کے شانِ نزول سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ثوبانؓ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ آپ قیامت کے دن بہت بلند مقام پر ہوں گے۔ اور ہم خدا جانے کہاں ہوں گے۔ کیا کوئی ایسی صورت ہوگی کہ ہم آپؐ سے شرفِ نیاز حاصل کر کے آپؐ کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر سکیں؟ دنیا میں آپ سے تھوڑی سی جدائی بھی ہم سے برداشت نہیں ہوتی تو آخرت میں بغیر دیدار کے کیسے گزر ہو گا؟ تو اس کے جواب میں یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ اطاعتِ خدا و رسول کرنے والے ان چاروں درجہ والوں (نبی، صدیق، شہید، صالح) کی رفاقت حاصل کریں گے۔ تو معلوم ہوا کہ یہاں درجات کا نہیں محض رفاقت کا ذکر ہے۔ اور ہم جو یہ کہتے ہیں کہ اطاعت کرنے سے آدمی درجہ صدیقیت و شہادت وغیرہ تک پہنچ سکتا ہے، مگر نبوت کے مقام تک رسائی نہیں ہو سکتی۔ تو اس کی دلیل آیت مبحوث عنہا نہیں بلکہ ایک دوسری واضح آیت ہے۔ چنانچہ سورہ حدید میں ارشاد ہے:

والذين امنوا بالله ورسله اولئك هم الصديقون والشهداء عندربهم۔

(حدید: آیت ۱۹)

(ترجمہ) ”اور جو لوگ ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر وہی لوگ ہیں صدیق اور شہداء اپنے پروردگار کے نزدیک۔“

چنانچہ اس آیت میں درجات کا ذکر ہے، معیت اور رفاقت کا ذکر نہیں اور من یطع

صفحہ 400

الآیۃ میں رفاقت کا ذکر ہے درجات کا ذکر نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ من یطع اللہ والرسول میں محض رفاقت مذکور ہے اور اولئک ہم الصدیقون والشہداء میں محض درجات کا بیان ہے۔ لہٰذا یہاں نبوت کا ذکر نہیں آیت من یطع اللہ والرسول کی کسی مفسر نے وہ تفسیر نہیں کی جو مرزائی کرتے ہیں اگر ان میں ہمت ہے تو اپنی اس من گھڑت تفسیر کی تائید کسی مسلم بین الفریقین مفسر سے پیش کریں اور منہ مانگا انعام پائیں۔

جواب ٥ : بخاری شریف اور مسلم شریف میں ایک حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: التاجر الصدوق الامین مع النبیین والصدیقین والشہداء والصالحین۔

(ترمذی جلد اول ص ۱۲۵ بحوالہ مشکوۃ شریف جلد اول ص ۲۴۳)

”سچا تاجر (قیامت میں) انبیاء‘ صدیقین‘ شہداء اور صلحاء کے ساتھ ہو گا“۔ تو مرزائیوں کی مذکورہ بالا دلیل کی رو سے ہر سچا دیانت دار تاجر نبی ہونا چاہیے۔ اور اگر تاجر محض تجارت کی وجہ سے نبی نہیں ہو سکتا تو کوئی امتی بھی بواسطہ اطاعت خدا و رسول نبی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

جواب ٦ : اگر مرزائیوں کے بقول اطاعت سے نبوت وغیرہ درجات حاصل ہوتے ہیں تو ہمارا سوال ہو گا کہ یہ درجے حقیقی ہیں یا ظلی بروزی۔ اگر نبوت کا ظلی بروزی درجہ حاصل ہوتا ہے جیسا کہ مرزائیوں کا عقیدہ ہے تو صدیق‘ شہید اور صالح بھی ظلی و بروزی ہونے چاہئیں حالانکہ ان کے بارے میں کوئی ظلی بروزی ہونے کا قائل نہیں ہے۔ اور اگر صدیق وغیرہ میں حقیقی درجہ ہے تو پھر نبوت بھی حقیقی ہی ماننا چاہیے۔ حالانکہ تشریعی اور مستقل نبوت کا ملنا خود مرزائیوں کو بھی تسلیم نہیں ہے۔ اس لیے یہ دلیل مرزائیوں کے دعویٰ کے مطابق نہ ہوگی۔ یہ تفریق بلا دلیل ہے چاروں درجے یکساں ہونے چاہئیں۔ یا چاروں درجات حقیقی ہوں یا چاروں ظلی بروزی ہوں۔

جواب ٧ : امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں سب سے اونچا مقام صدیقیت ہے۔ شہید اور صالح اس سے نیچے کے درجے ہیں۔ لہٰذا اطاعت خدا و رسول سے زیادہ سے زیادہ یہی تینوں درجے حاصل ہو سکتے ہیں یہ نہیں ہو سکتا کہ امتی نبی بن جائے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت جو اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اعلیٰ ترین مرتبہ پر فائز تھی جس نے اتباع نبوت کا ایسا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا کہ

صفحہ 401

رہتی دنیا تک پوری امت مل کر بھی اس کی نظیر نہیں پیش کرسکتی۔ انہیں دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ نے ابدی رضوان اور جنت کا سرٹیفکیٹ دے دیا تھا اور بقول مرزا صاحب ان میں حقیقت محمدیہ متحقق ہو چکی تھی۔ ان سب فضائل و امتیازات کے باوجود ان میں سے کوئی ایک بھی مقام نبوت پر فائز نہ ہوسکا۔ بلکہ حضرت ابوبکرؓ باوجود کمال اتباع کے صدیق ہی رہے اور حضرت عمرؓ باوجود عدلِ بے مثال کے شہید اور محدث کے درجہ پر ہی رکے رہے ان میں سے کوئی ظلی اور بروزی نبی بھی نہ بنا تو کیا ان کے بعد امت کا کوئی شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس نے ان حضرات سے بڑھ کر رسول کی اتباع کی ہے اور نبوت کا حق دار ہو گیا ہے۔ اور پھر کوئی نیک بھلا اور شریف آدمی دعویٰ کرے تو کوئی سوچے بھی۔ مرزا قادیانی جیسے نافرمانِ خدا اور رسول اور انگریز کے خودکاشتہ پودے کے بارے میں تو کوئی باہوش آدمی نبی تو کیا درجہ صلاح تک بھی پہنچنے کا تصور نہیں کرسکتا۔

جواب ۸: اگر اطاعت سے نبوت ملتی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نبوت حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کو کیوں نہ ملی؟ کیا وہ قیامت کے روز یہ سوال کرنے میں حق بجانب نہیں ہوں گے کہ یا اللہ! ہم نے تیری اور تیرے رسول برحق کی اتباع میں اپنا سب کچھ قربان کردیا، مگر تو نے ہمیں نبوت نہ دی۔ اور ایک ایسے شخص (غلام احمد) کو جو تیرے پکے دشمنوں یعنی انگریز کا ایجنٹ اور جاسوس تھا اس نعمت سے سرفراز فرما دیا کیا تیرے انصاف کا تقاضہ یہی تھا؟ ١؎ ہر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی بے انصافی ہرگز نہیں کرسکتا۔

جواب ۹: مرزائی ایک طرف تو دلیل بالا سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اطاعتِ رسول کے ذریعہ سے آدمی درجہ نبوت تک پہنچ سکتا ہے۔ دوسری طرف خود ”حضرت صاحب“ نے اس بات کا اقرار و اعتراف کیا ہے کہ اطاعت کرنے حتیٰ کہ فنا فی الرسول ہو جانے سے بھی نبوت نہیں مل سکتی۔ بس زیادہ سے زیادہ محدثیت کا درجہ حاصل ہوسکتا ہے۔ اس اعتراف کے ثبوت میں چند حوالے پیش خدمت ہیں: حوالہ ۱: ”جب کسی کی حالت اس نوبت تک پہنچ جائے (جو اس سے قبل ذکر کی

١؎ مرزا غلام احمد کی تحریر اطاعت انگریز کے بارے میں ملاحظہ ہو: ”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں: ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں، دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“ (شہادۃ القرآن۔ رخ جلد نمبر ۶ ص ۳۸۰)

صفحہ 402

گئی) تو اس کا معاملہ اس عالم سے وراء الوراء ہو جاتا ہے اور ان تمام ہدایتوں اور مقامات عالیہ کو ظلی طور پر پالیتا ہے جو اس سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو ملے تھے۔ اور انبیاء و رسل کا نائب اور وارث ہو جاتا ہے۔ وہ حقیقت جو انبیاء میں معجزہ کے نام سے موسوم ہوتی ہے وہ اس میں کرامت کے نام سے ظاہر ہوتی ہے۔ اور وہی حقیقت جو انبیاء میں عصمت کے نام سے نامزد کی جاتی ہے اس میں محفوظیت کے نام سے پکاری جاتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیاء میں نبوت کے نام سے بولی جاتی ہے۔ اس میں محدثیت کے پیرایہ میں ظہور پکڑتی ہے۔ حقیقت ایک ہی ہے لیکن بباعث شدت اور ضعف رنگ کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں۔ اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ملفوظات مبارکہ اشارۃً فرما رہے ہیں کہ محدث نبی بالقوۃ ہوتا ہے۔ اگر باب نبوت مسدود نہ ہوتا تو ہر یک محدث اپنے وجود میں قوت اور استعداد نبی ہونے کی رکھتا تھا۔ اور اسی قوت اور استعداد کے لحاظ سے محدث کا حمل نبی پر جائز ہے۔ یعنی کہہ سکتے ہیں کہ المحدث نبی جیسا کہ کہہ سکتے ہیں العنب خمر نظراً علی القوة والاستعداد ومثل هذا الحمل شائع متعارف فی عبارات القوم وقد جرت المحاورات علی ذلک کما لا یخفی علی کل ذکی عالم مطلع علی کتب الادب والکلام والتصوف.

(ماہنامہ ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ ماہ اپریل ۱۹۰۴ء بعنوان اسلام کی برکات ۔ ملحقہ آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۲۳۷‘

۲۳۸ ۔ رخ جلد ۵ ص ۲۳۷‘ ۲۳۸)

اس عبارت سے واضح ہوا کہ ظلی نبوت بھی درحقیقت محدثیت ہی ہے۔ اور کامل اتباع سے جو ظلی نبی بنتا ہے وہ دراصل محدث ہوتا ہے۔ اور یہاں جو محدث پر حمل نبی کا کیا گیا ہے وہ محض استعداد کی بنا پر ہے۔ یعنی اگر دروازہ نبوت بند نہ ہوتا تو وہ نبی بن جاتا۔ جیسا کہ عنب پر خمر کا اطلاق قوت و استعداد کی بنا پر کیا جاتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو خمر کا حکم ہے وہی عنب کا بھی حکم ہو بلکہ دونوں کے احکام اپنی جگہ الگ الگ ہیں اسی طرح اگر محدث پر نبی کا اطلاق بلحاظ استعداد کیا جائے گا تو دونوں کے احکام الگ الگ ہوں گے۔ نبی کا انکار کفر ہو گا اور محدث کی نبوت کا انکار کفر نہ ہوگا۔ حالانکہ مرزائی اپنے حضرت صاحب (ظلی نبی) کے منکرین کو پکا کافر گردانتے ہیں۔ یہ تو عجیب تضاد ہوا مرزا غلام احمد کچھ کہیں۔ مرزائی کچھ کہیں۔ اور آج کل کے جاہل کچھ کہیں۔ اسی سے اس لچر عقیدہ کے بطلان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

صفحہ 403

حوالہ نمبر ۲: ”ہمارے سید و رسول صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ۔“ (شہادۃ القرآن ص ۲۸ روحانی خزائن جلد ۶ ص ۳۲۴، ۳۲۲)

مرزا کی یہ عبارت بھی مرزائی تاویلات و توہمات کی عمارت کو زمین بوس کر رہی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس بوڑھی عورت کی طرح ہے جس کے بارے میں قرآن مجید میں مذکور ہے: ولا تكونوا كالتي نقضت غزلها من بعد قوة انكاثا۔ (النحل: ۹۲) مکہ مکرمہ میں ایک نیم دیوانی بڑھیا رہتی تھی سارا دن سوت کاتتی اور شام کو ریزہ ریزہ کر دیتی تھی۔

مرزا صاحب بھی اگر ایک مقام پر اپنے دلائل کو ہمالیہ کے برابر ٹھہراتے ہیں تو دوسرے مقام پر انہی دلائل کی خود زور دار تردید کرتے نظر آتے ہیں۔

حوالہ ۳: ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلی طور پر گویا آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی تھا۔“ (ایام الصلح در روحانی خزائن ج ۱۴ ص ۲۶۵)

مرزا کو خود تسلیم ہے کہ حضرت عمرؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظلی وجود تھے پھر بھی وہ نبی نہ کہلائے ۔ معلوم ہوا کہ اتباع نبی سے زیادہ سے زیادہ ظلی وجود تو مرزا کے نزدیک ہو سکتا ہے مگر نبوت نہیں مل سکتی۔

حوالہ ۴: ”صد ہا لوگ ایسے گزرے ہیں جن میں حقیقت محمدیہ متحقق تھی اور عند اللہ ظلی طور پر ان کا نام محمد یا احمد تھا۔“ (آئینہ کمالات اسلام در روحانی خزائن ج ۵ ص ۳۴۶)

اس عبارت سے بھی پتہ چلا کہ اگرچہ صد ہا لوگ ایسے گزر چکے ہیں جن کا نام ظلی طور پر احمد یا محمد تھا، مگر پھر بھی ان میں سے نہ کوئی نبی بنا اور نہ کسی نے دعویٰ نبوت کیا نہ اپنی الگ جماعت بنائی اور نہ اپنے منکرین کو کافر اور خارج از اسلام قرار دیا۔ تو عجیب بات ہے کہ اتنے بڑے بڑے متبعین خدا و رسول تو اس نعمت سے محروم ہی دنیا سے رخصت ہو گئے اور مرزا قادیانی ظلی نبی کے ساتھ ساتھ حقیقی نبی بھی بن گیا۔

جواب ۱۰: کتب سیر میں یہ روایت موجود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے وقت یہ الفاظ ارشاد فرمائے: مع الرفیق الاعلیٰ فی الجنۃ مع الذین انعمت علیہم من النبیین والصدیقین والشہداء والصالحین۔ تو مرزائی بتائیں کیا اس کا یہ مطلب ہے نعوذ باللہ کہ آپؐ نبی نہیں تھے اور اس دعاء کے ذریعہ نبوت وغیرہ کو طلب کر

صفحہ 404

رہے تھے؟ بلکہ عبارت دیکھنے سے ہی یہ بات معلوم ہو رہی ہے کہ یہاں رفاقت کا ذکر ہے درجات کا ذکر نہیں ہے۔

جواب ۱۱ : جو آیت مرزائیوں نے اپنی دلیل میں پیش کی ہے اس کے اخیر میں یہ جملہ بھی ہے وحسن اولئک رفیقاً ۔ (اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں) جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آیت صرف رفاقت پر دلالت کرتی ہے بعینہ نبی صدیق اور شہید بننے پر دال نہیں ہے۔

جواب ۱۲ : تو ہم کہتے ہیں کہ کوئی کسی کیساتھ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا وہ اس کا عین ہو گیا مثلاً کہتے ہیں فلاں شخص مع اہل وعیال آیا تو اس کا معنی یہ نہیں ہوتا کہ فلاں شخص اپنے اہل و عیال کا عین ہو گیا ہے۔ اگر مرزائیوں کے خیال کے مطابق عین ہی ہو جاتا ہے تو پھر لوگ صرف نبی ہی نہیں بلکہ خدا بھی بنیں گے۔

قرآن مجید میں ہے انی معکم کیا خدا اور فرشتے متحد ہو گئے۔ ان اللہ معنا کیا نبی علیہ السلام اور ابو بکر صدیق اور خدا تعالیٰ تینوں ایک ہو گئے۔

ان اللہ مع الصابرین میں کیا اللہ تعالیٰ اور صابر لوگ آپس میں متحد ہو گئے ہیں تو گویا دنیا میں ہندوؤں کی طرح ہزاروں خدا ماننے پڑیں گے۔

جواب ۱۳ : یہ کہ مرزا قادیانی نے جو اس آیت کا خود معنی کیا ہے اس سے تو یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے والے نبی بن جائیں گے بلکہ وہ تو کہتا ہے کہ آیت کی مراد یہ ہے کہ انبیاء وصدیقین وغیرہم کی صحبت میں آ جاؤ، دیکھو آئینہ کمالات اسلام ص ۲۹۸ لاہوری۔

”تم پنج وقت نمازوں میں یہ دعا پڑھا کرو اھدنا الصراط المستقیم یعنی اے ہمارے خدا اپنے منعم علیہم بندوں کی ہمیں راہ بتا وہ کون ہیں نبی اور صدیق اور شہید اور صلحاء اس دعا کا خلاصہ مطلب یہی تھا کہ ان چار گروہوں میں سے جس کا زمانہ تم پاؤ اس کے سایہ صحبت میں آ جاؤ اور اس سے فیض حاصل کرو۔“

(رسالہ ملحقہ آئینہ کمالات اسلام‘ قیامت کی نشانی‘ روحانی خزائن جلد ۵ ص ۶۱۲)

جواب ۱۴ : یہ کہ مرزا قادیانی نے اہل مکہ کیلئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو انبیاء و

صفحہ 405

رسل و صدیقین اور شہداء اور صالحین کی معیت نصیب کرے جیسے حمامۃ البشریٰ ص ۹۶ ۔ رخ جلد ۷ ص ۳۲۵ میں لکھا ہے:

”نسالہ ان يدخلكم فی ملكوته مع الانبياء والرسل والصديقين والشهداء والصالحين۔“ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مرزا دعا مانگ رہا ہے کہ اہل مکہ تمام کے تمام انبیاء اور رسول بن جاویں۔ اگر یہی مراد سمجھی جاوے تو مرزا نے گویا اہل مکہ کیلئے نبوت حاصل کرنے کی دعا کی ہے اور یقیناً اس کی دعا منظور ہوئی ہوگی۔ کیونکہ مرزا سے خدا نے الہام میں وعدہ کیا تھا کہ تیری ہر دعا قبول کروں گا۔ اجيب كل دعاءك الا فی شرکاءك تو پھر یقیناً مکہ والے لوگ نبی ہوگئے ہوں گے۔

(ماہنامہ ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ بماہ اپریل ۱۹۰۴ء بعنوان اسلام کی برکات)

نوٹ: گذشتہ تمہید سے ثابت ہوا کہ مرزائیوں کے خیال میں مکہ کے سب علماء نبی بن چکے تھے اب علماء مکہ نے مرزا پر جو کفر کا فتویٰ لگایا ہے تو کیا یہ فتویٰ آسمانی آواز شمار نہ ہوگا۔ لہٰذا باعتراف طائفہ قادیانیہ مرزا قادیانی پر مکہ مکرمہ کے سب انبیاء کا فتویٰ کفر لگے گا اور وہ پرلے درجے کا کافر ہوگا کیونکہ مرزا کی دعا کے نتیجہ میں یہ فتویٰ انبیاء کا فتویٰ ہوگا کسی عام آدمی یا مولوی کا فتویٰ نہیں ہے اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس فتویٰ پر امت مرزائیہ تعمیل کرتی ہے یا نہیں۔

ڈھٹائی کی انتہا

اتنے سارے دلائل واضحہ اور براہین جلیلہ ہونے کے باوجود مرزائی اسی اپنی باطل دلیل پر جمے نظر آتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ آیت من يطع الله والرسول فاولئك مع الذين الخ میں ”مع“ ”من“ کے معنی میں ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ منعم علیہم انبیاء وغیرہ میں سے ہوگا۔ نہ کہ محض ان کے ساتھ ہوگا‘ اور اس کی مثال قرآن کریم میں بھی موجود ہے۔ دیکھیے فرمایا گیا: وتوفنا مع الابرار۔ ای من الابرار۔ یعنی نیکوں میں سے بنا کر ہمیں وفات دیجیے۔

ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں!

آنکھوں میں دھول جھونک کر کچی گولیاں کھیلنے والوں کو تو رام کیا جا سکتا ہے لیکن دلائل

صفحہ 406

پر نظر رکھنے والے ارباب ہوش وخرد کے سامنے مرزائیوں کی ایسی خود ساختہ باتیں سراب سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں ۔ اس من گھڑت تاویل کا پوسٹ مارٹم پیش خدمت ہے۔

اگر یہ من کے معنی میں آتا تو مع پر من کا دخول ممتنع ہوتا حالانکہ عربی محاوروں میں من کا مع پر داخل ہونا ثابت ہے۔ لغت کی مشہور کتاب المصباح المنیر میں لکھا ہے۔ ودخول من نحو جئت من معه ، مع القوم ۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ من کبھی مع کے معنی میں نہیں ہو سکتا ورنہ ایک ہی لفظ کا تکرار لازم آئے گا۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ صابروں کے جز ہیں یا یہ کہ حضرات صحابہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ہیں۔

کیا مذکورہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا اور فرشتے اور دوسری آیت میں نبی علیہ السلام، حضرت ابو بکر صدیق اور خدا تعالیٰ تینوں ایک ہو گئے؟

معنی حقیقت ہیں اور کون سے مجاز۔ جب تک حقیقت پر عمل ممکن ہو مجاز اختیار کرنا درست نہیں ہوتا یہاں پر بہر حال مع رفاقت کے معنی میں حقیقت ہے اور اس پر عمل کرنا یہاں ممکن بھی ہے۔ کیونکہ اگلے جملہ وحسن اولئك رفیقاً سے صاف طور پر رفاقت کے معنی کی تائید ہو رہی ہے لہٰذا مع کو من کے مجازی معنی میں لے جانا ہرگز جائز نہ ہوگا۔

یا ہوتا ہے تو اس سے یہ کیسے لازم آیا کہ آیت مبحوث عنہا میں بھی مع ۔ من کے معنی میں ہے۔ کیا کسی مفسر یا مجدد نے یہاں پر مع کے بجائے من کے معنی مراد لیے ہیں؟

صفحہ 407

لیے پیش کرتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک آیت میں بھی مع من کے معنی میں نہیں ہے۔ ہمارے اور مرزائیوں کے معتبر مفسر امام رازی نے آیت وتوفنا مع الابرار کی تفسیر فرماتے ہوئے مرزائیوں کے سارے گھروندے کو زمین بوس کر دیا ہے۔ اور ان کی رکیک تاویل کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

"وفاتہم معہم ہی ان یموتوا علی مثل اعمالہم حتی یکونوا فی درجاتہم یوم القیامۃ قد یقول الرجل انا مع الشافعی فی ہذہ المسئلۃ ویرید بہ کونہ مساويا لہ فی ذلک الاعتقاد۔

(تفسیر کبیر ج ۳ ص ۱۸۱)

(ترجمہ) ”ان کا ان (ابرار) کے ساتھ وفات پانا اس طرح ہوگا کہ وہ ان نیکوں جیسے اعمال کرتے ہوئے انتقال کریں تاکہ قیامت کے دن ان کا درجہ پالیں جیسے کبھی کوئی آدمی کہتا ہے کہ میں اس مسئلہ میں شافعی کے ساتھ ہوں اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کا اعتقاد رکھنے میں وہ اور امام شافعیؒ برابر ہیں۔ (نہ یہ کہ وہ درجہ امام شافعیؒ تک پہنچ گیا)

اور یہی امام رازیؒ ومن یطع اللہ والرسول الخ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"ومعلوم انہ لیس المراد من کون ہولاء معہم ہو انہم یکونون فی عین تلک الدرجات لان ہذا ممتنع ۔

(تفسیر کبیر ج ۳ ص ۳۷۹)

(ترجمہ) ”یہ بات معلوم ہے کہ یہاں ان کے ساتھ ہونے سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ ان ہی کے درجہ میں ہوں گے۔ کیونکہ یہ بات محال ہے۔ امام رازی مرزا قادیانی کے نزدیک چھٹی صدی کے مجدد ہیں شاید انہیں بذریعہ کشف معلوم ہو گیا تھا کہ قادیانیوں نے اس آیت سے غلط استدلال کرنا ہے لہٰذا آٹھ سو سال قبل انہوں نے اس کی وضاحت کر کے قادیانیوں کے استدلال کی دھجیاں اُڑا دیں۔“

فالحمد للہ علی ذلک

صفحہ 408

بالکل سفید جھوٹ

اپنی ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں انسان کتنی بے شرمی اور بے حیائی پر اتر آتا ہے۔ اس کا کچھ اندازہ مرزائیوں کی اس جرأت سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے باطل استدلال کی تائید کے لیے جھوٹ کا ایک پلندہ تیار کر لیا ہے اور مشہور امام لغت راغب اصفہانی کے کاندھے پر سے بندوق چلانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امام راغب کی ایک عبارت سے ان کے بیان کردہ معنی آیت کی واضح تائید ہوتی ہے۔ وہ عبارت یہ ہے:

قال الراغب: ممن انعم عليهم من الفرق الاربع في المنزلة والثواب النبي بالنبي والصديق بالصديق والشهيد بالشهيد والصالح بالصالح واجاز الراغب ان يتعلق ”من النبيين“ بقوله ومن يطع الله والرسول اى من النبيين ومن بعدهم۔

(منقول از البحر المحیط للعلامة الاندلسی ج ۳ ص ۲۸۱ طبع بیروت)

(ترجمہ) ”امام راغب نے ان چاروں قسم کے لوگوں کے بارے میں کہا جن پر انعام کیا گیا ہے درجہ میں اور ثواب میں کہ نبی نبی کے ساتھ۔ صدیق صدیق کے ساتھ اور شہید شہید کے ساتھ اور صالح صالح کے ساتھ اور امام راغب نے اس بات کو درست قرار دیا ہے کہ ”من النبیین“ کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ارشاد ومن یطع اللہ والرسول سے ہو یعنی جو بھی اللہ اور رسول کی اطاعت کرے نبیوں میں سے یا ان کے بعد کے درجہ والوں میں سے۔“

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ من النبیین انعم اللہ علیہم سے نہیں بلکہ ومن یطع اللہ الخ سے متعلق ہے۔ لہٰذا آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ نبیوں وغیرہ میں سے جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ منعم علیہم کے ساتھ ہوگا۔ اور یہاں یطع مضارع کا صیغہ ہے جو حال واستقبال دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ اس امت میں بھی کچھ نبی ہونے چاہئیں جو رسولوں کی اطاعت کرنے والے ہوں اگر نبوت کا دروازہ بند ہو تو اس آیت کے مطابق وہ کون سا نبی ہوگا جو رسول اللہ کی اطاعت کرے گا؟

صفحہ 409

دسویں تاویل

مرزائیوں نے مذکورہ عبارت پیش کر کے انتہائی دجل و فریب کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ حوالہ علامہ اندلسی کی تفسیر البحر المحیط سے ماخوذ ہے مگر انہوں نے اس قول کو نقل کر کے اپنی رائے اس طرح بیان فرمائی ہے۔ وهذا الوجه الذی هو عنده ظاهر فاسد من جهة المعنی ومن جهة النحو۔ (تفسیر البحر المحیط ج ۳ ص ۲۸۷ طبع بیروت)

لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ قول بالکل مردود اور ساقط الاستدلال ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ امام راغبؒ کی کسی کتاب میں اس طرح کی عبارت نہیں ملتی ان کی طرف یہ قول منسوب کرنا صحیح نہیں ہے۔ ان کی طرف قول بالا کی غلط نسبت ہونے پر ہمارے پاس دو قرینے موجود ہیں۔ دیکھیے:

پہلا قرینہ

امام راغب اصفہانیؒ نے اس آیت کی تفسیر میں ایک مستقل رسالہ تصنیف فرمایا ہے جس کا نام الذریعۃ الی مکارم الشریعۃ ہے۔ اگر بالفرض امام راغبؒ کا وہ مسلک ہوتا جو بحر محیط میں نقل کیا ہے تو اس کتاب میں ضرور تحریر کرتے لیکن اس پوری کتاب میں کہیں اشارۃً کنایتاً بھی اس کا ذکر نہیں ہے جو کتاب مستقل اسی آیت کی تفسیر میں لکھی گئی ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ قول ان کی طرف غلط منسوب ہے۔

دوسرا قرینہ

اگر اس طرح کوئی عبارت امام راغب کی کسی اپنی کتاب میں ہوتی تو مرزائی مناظرین امام راغب کی اسی کتاب سے حوالہ دیتے اور وہیں سے نقل کرتے تا کہ دلیل پختہ ہوتی لیکن وہ لوگ تو بحر محیط کی ایک عبارت لے کر لکیر پیٹتے رہتے ہیں کیونکہ اس کا اصل ماخذ کہیں ہے ہی نہیں۔ (یہ بات ۱۹۵۴ء میں مرزائی مناظر قاضی نذیر کے ساتھ مناظرہ کے دوران معلوم ہوئی...... از چنیوٹی) اگر امام راغب کی اپنی کسی کتاب میں یہ عبارت ہوتی تو قادیانی اس کتاب کو پیش کرتے علامہ اندلسی کی کتاب سے خیانت کر کے اس عبارت کو پیش کرنے سے ذلیل و رسوا نہ ہوتے جو اس قول کو نقل کر کے اس کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ (فافہم)

صفحہ 410

چوتھی دلیل

آیت وعد الله الذين آمنوا منكم و عملوا الصالحات ليستخلفنهم فی الارض كما استخلف الذين من قبلهم سے بھی امت قادیانیہ استدلال کیا کرتی ہے اللہ تعالیٰ اس امت میں اسی قسم کے خلیفے قائم کرے گا۔ جیسا کہ پہلی امتوں میں خلفاء تھے اور پہلی امتوں میں مثلاً حضرت آدم و سلیمان اور داؤد خلفاء خداوندی نبوت سے ممتاز تھے اس لیے مشابہت تامہ کے لئے اس امت میں بھی خلفاء انبیاء ہی ہونے چاہئیں۔

الجواب

تمہارا پیر و مرشد مرزا غلام احمد قادیانی تو اس آیت میں خلفاء سے مراد انبیاء نہیں لیتا وہ تو خلفاء سے مراد ایسے معنی لیتا ہے جو حضرت ابو بکر صدیق و عمر بن خطاب و عثمان بن عفان اور علی المرتضیٰ (رضوان اللہ اجمعین) کو بھی شامل ہیں اور وہ خلیفے جو امت میں ہمیشہ ہمیشہ رہتے آئے ہیں۔ تمہاری طرح نہیں کہ اس سے مراد صرف نبی ہی ہو جو مرزا سے پہلے کوئی اس امت میں نبی نہیں ہوا۔ دیکھو مرزا کی کتاب شہادۃ القرآن ص ۳۷ طبع جدید ص ۷۵۔ ر۔خ ص ۳۵۳ جلد ۶ میں اس آیت کے ماتحت لکھتا ہے:

’’کیونکہ خلیفہ در حقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے۔ ........... پس جو شخص خلافت کو تیس (۳۰) برس تک مانتا ہے وہ اپنی نادانی سے خلافت کی علت غائی کو نظر انداز کرتا ہے۔‘‘

آگے چل کر ص ۵۹ ۔ ۶۰ ر ۔ خ ص ۳۵۵ ۔ ۳۵۶ میں لکھتا ہے:

’’نبی تو اس امت میں آنے کو رہے۔ اب اگر خلفائے نبی بھی نہ آویں اور وقتاً فوقتاً روحانی زندگی کے کرشمے نہ دکھلاویں تو پھر اسلام کی روحانیت کا خاتمہ ہے۔‘‘

مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارت صاف بتلا رہی ہے کہ خلفاء سے مراد نبی نہیں، بلکہ انبیاء کے جانشین مراد ہیں جو وہ نبی نہ ہوں گے۔ کیونکہ اس امت میں اب نبی نہیں آ سکتے بلکہ انبیاء کے خلفاء آئیں گے۔

صفحہ 411

نبوت وہبی ہے کسبی نہیں: (مرزا قادیانی کا اقرار)

شان النبوة.

(حمامة البشری ص ۸۲ ۔ ر خ ص ۳۰۱ جلد ۷)

(ترجمہ) ”اس میں ذرا شک و شبہ نہیں کہ مکالمت و مخاطبت الہیہ (وحی الہی) محض عطائے الہی ہے۔ کسی ریاضت یا محنت سے ہرگز حاصل نہیں ہوتی جیسا کہ شان نبوت کا معاملہ ہے۔ یعنی (جیسے مقام نبوت کسی اتباع یا ریاضت و مجاہدہ سے حاصل نہیں ہوتا اسی طرح مقام محدث بھی ہے)

الموهبة ."

(الاستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ۲۲۔ ر۔خ ص ۶۴۳ جلد ۲۲)

ہے۔ جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی ۔“

(حقیقۃ الوحی ص ۶۲، ر۔خ ص ۶۴ جلد ۲۲)

ہے۔ کسی عامل کا عمل نہیں ہے اور یہ ایک بزرگ صداقت ہے۔ جس سے ہمارے مخاطب برہمو وغیرہ بے خبر ہیں۔“

(براہین احمدیہ ص ۳۱۲ در روحانی خزائن ص ۳۹۸ جلد ۱)

نبوت وہبی ہے یا کسبی؟

ہم مرزائیوں سے پوچھتے ہیں اچھا یہ بتاؤ کہ نبوت کسب سے ملتی ہے یا منجانب خداوندی ہبہ کی جاتی ہے۔ اگر وہبی مانتے ہو تو تمہارا استدلال بیکار ہے۔ کیونکہ اطاعت کے ذریعہ ملنے والی نبوت تو کسبی ہی ہوگی۔ اور اگر اسے کسبی مانتے ہو تو یہ بالاجماع باطل ہے اور اگر یہ کہتے ہو کہ ہے تو وہبی مگر اس میں کچھ کسب کا بھی دخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: یہب لمن یشاء اناثاً، الخ ...... تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب اس میں ادنیٰ سا بھی شائبہ کسب کا پایا گیا تو وہ کسبی ہوگئی۔ اور جو آیت تم نے پیش کی ہے اس میں ہم کسب کا دخل مانتے ہی نہیں یہ اولاد دینا تو صرف اللہ کا فعل ہے اس میں بندہ کا دخل نہیں وہ چاہے تو زندگی بھر زوجین کی محنت کے باوجود کچھ نہ دے اور چاہے تو حضرت مریم علیہا السلام کو بلا سبب اولاد دے دے۔

صفحہ 412

لہٰذا آیت سے استدلال مطلقاً لغو ہے۔ الغرض کسی بھی طرح اگر نبوت کو کسب کا نتیجہ قرار دیا جائے گا (جیسا کہ مرزائی مانتے ہیں) تو یہ عقیدہ سراسر عصمت انبیاء کے منافی ہوگا۔ اس بارے میں یہ دو حوالے آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں:

فان قلت فهل النبوة مكتسبة او موهوبة فالجواب ليس النبوة مكتسبة حتى يتوصل اليها بالنسك والرياضات كما ظنه جماعة من الحمقاء وقد افتى المالكية وغيرهم بكفر من قال ان النبوة مكتسبة ۔

(الیواقیت والجواہر ص ۱۶۴۔ ۱۶۵ جلد۱)

(ترجمہ) ”کہ کیا نبوت کسبی ہے یا وہبی؟ تو اس کا جواب عرض خدمت ہے‘ کہ نبوت کسبی نہیں ہے کہ محنت و کاوش سے اس تک پہنچا جائے جیسا کہ بعض احمقوں (مثلاً قادیانی فرقہ از مترجم) کا خیال ہے مالکیہ وغیرہ نے کسبی کہنے والوں پر کفر کا فتویٰ دیا ہے۔“

من ادعى نبوة احد مع نبينا صلى الله عليه وسلم او بعدہ او من ادعى النبوة لنفسه او جوز اكتسابها او البلوغ بصفاء القلب الىٰ مرتبتها الخ وكذلك من ادعىٰ منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة فهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبى صلى الله عليه وسلم لانه اخبر صلى الله عليه وسلم انه خاتم النبيين لا نبی بعدہ۔

(شفاء للقاضی عیاضؒ جلد۲ ص ۲۴۶‘ ۲۴۷)

(ترجمہ) ”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی یا آپؐ کے بعد جو کوئی کسی اور کی نبوت کا قائل ہو یا اس نے خود اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا یا پھر دل کی صفائی کی بنا پر اپنے کسب کے ذریعہ نبوت کے حصول کے جواز کا قائل ہوا‘ یا پھر اپنے پر وحی کے اترنے کو کہا۔ اگرچہ نبوت کا دعویٰ

صفحہ 413

نہ کیا۔ تو یہ سب قسم کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ ”انا خاتم النبیین“ …… کی تکذیب کرنے والے ہوئے اور کافر ٹھہرے۔“

ان دونوں روشن حوالوں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ نبوت کے کسبی ہونے کا عقیدہ رکھنا اپنے اندر تکذیب خدا اور رسول کا عنصر رکھتا ہے اور اس عقیدہ کا رکھنے والا مالکیہ و دیگر علماء کے نزدیک قابل گردن زدنی اور کافر ہے۔

لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ پر اعتراض مع اجوبہ

اعتراض ۱ : لا نبی بعدی کا مفہوم یہ ہے کہ میرے بعد کوئی صاحب شریعت نبی نہیں ہوگا جیسا کہ بعض علماء کرام کی تصریحات سے ظاہر ہے۔ اگر لا نبی بعدی میں عام نفی مراد ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد نہ بتاتے۔

جواب ۱ : یہاں پر لا نفی جنس کا ہے اور نفی عام ہے۔ جیسا کہ مرزا نے خود تسلیم کیا ہے: الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمّی نبینا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین بغیر استثناء وفسرہ نبینا صلی اللہ علیہ وسلم فی قولہ لا نبی بعدی ببیان واضح للطالبین ولو جوزنا ظہور نبی بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم لجوزنا انفتاح باب وحی النبوۃ بعد تغلیقہا وھذا خلف کما لا یخفی علی المسلمین وکیف یجئی نبی بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ وختم اللّٰہ بہ النبیین۔

(حمامۃ البشریٰ ص ۲۰، ر۔خ جلد ۷ ص ۲۰۰)

مذکورہ بالا عبارت میں مرزا نے بڑی صراحت کے ساتھ خاتم النبیین اور لا نبی بعدی کا وہی ترجمہ اور مفہوم مراد لیا ہے جو ہم لیتے ہیں۔

باقی رہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام والا اعتراض تو اس کا جواب گزر چکا ہے کہ ان کی آمد سے کسی قسم کا فرق نہیں پڑتا کیونکہ انہیں نبوت پہلے سے ملی ہوئی ہے اور ان کے دوبارہ آنے سے انبیاء کرام کی فہرست میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوتا۔

جواب ۲ : جس طرح ”لا الہ الا اللّٰہ“ میں اللّٰہ کے بعد کوئی ظلی بروزی خدا نہیں

صفحہ 414

اس طرح لا نبی بعدی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی ظلی بروزی نبی کی گنجائش نہیں۔

اعتراض ۲ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے:

قولوا خاتم النبيين ولا تقولوا لا نبى بعده۔ (مجمع البحار در منثور )

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا لحاظ کرتے ہوئے یہ کہا ہے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ہیں لیکن ان کا زمانہ آنحضرتؐ سے قبل گزر چکا ہے وہ آنحضرت کے بعد کے نبی نہیں ہیں اور یہ تصریح اس حدیث کے ساتھ ہی مجمع البحار میں اس طرح دی گئی ہے۔

وهذا ناظراً الى نزول عيسى بن مريم۔

علامہ زمخشری بھی لکھتے ہیں:

فان قلت كيف كان اخر الانبياء ...... وعيسى ينزل فى اخر الزمان قلت معنى كونه اخر الانبياء انه لا ينبا احد بعده و عيسى ممن نبى قبله۔

(تفسیر کشاف)

جواب ۲ : اگر حضرت ام المومنین ختم نبوت کے اسلامی مفہوم کی مخالف اور مرزائی تحریف کی حامی ہوتیں تو وہ مندرجہ ذیل روایات کی راوی ہرگز نہ ہوتیں۔

النبوة الا المبشرات قالوا يا رسول الله وما المبشرات قال الرؤيا الصالحة يراها المسلم او ترى له۔ (كنز العمال)

(ترجمہ) "حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت میں سے کوئی جزو باقی نہیں رہے گا سوائے مبشرات کے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول مبشرات کیا چیز ہیں آپ نے فرمایا اچھے خواب جو کوئی مسلمان خود دیکھے یا اس کے لئے کوئی اور دیکھے۔"

"میں خاتم انبیاء ہوں اور میری مسجد انبیاء کی مسجدوں کی خاتم ہے۔"

بعدك فتاذن لى ان أدفن الى جنبك فقال وانى لك بذالك

صفحہ 415

الموضع ؟ ما فیہ الا موضع قبری و قبر ابی بکر و عمر و عیسی ابن مریم۔

(اخرجہ ابن عساکر کما فی کنز العمال ص ۲۶۸ جلد ۷)

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول میرا گمان ہے کہ میں آپ کے بعد زندہ رہوں گی کیا مجھے آپ کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت ہوگی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تو اس جگہ میں کیسے دفن ہو سکتی ہے؟ وہاں تو میری، ابوبکرؓ، عمرؓ اور حضرت عیسیٰ کی قبر کی جگہ ہے۔

وسلم ...... حتی یاتی فلسطین باب لد فینزل عیسی علیہ السلام فیقتلہ ثم یمکث عیسی علیہ السلام فی الارض اربعین سنۃ۔ اماما عدلا وحکماً مقسطاً۔

(الدر المنثور ۲: ۲۴۲، مسند احمد ۶: ۷۵)

حضرت عائشہ صدیقہؓ نے دجال کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا : ’’...... یہاں تک دجال فلسطین باب لد تک آئے گا۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اسے (دجال کو) قتل کریں گے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین میں امام عادل اور منصف حاکم بن کر چالیس سال رہیں گے ۔‘‘

یہ قادیانیوں کی ڈھٹائی کی انتہا ہے کہ وہ اپنا نظریہ قرآن وحدیث کے مطابق بنانے کی بجائے قرآن وحدیث کو اپنے خود ساختہ نظریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اس سلسلہ میں حضرت عائشہؓ سمیت اسلاف امت پر الزام تراشی سے بھی باز نہیں آتے۔

اعتراض ۳ : لا نبی بعدی میں لفظ بعدی مغائرت اور مخالفت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ فبای حدیث بعد اللہ وآیتہ یؤمنون۔

(سورۃ جاثیہ ع ۱)

آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کی آیات کے خلاف کون سی بات پر وہ ایمان لائیں گے۔ اس طرح لا نبی بعدی کا مطلب یہ ہے کہ مجھ کو چھوڑ کر یا میرے خلاف ہو کر کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں ہے:

فاولتہما کذابین لیخرجان بعدی احدہما العنسی والاخر مسیلمۃ۔

(کتاب المغازی صحیح بخاری شریف جلد ۲ ص ۶۲۸)

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دو کذاب ہیں جو میرے بعد یعنی میری مخالفت میں

صفحہ 415

الموضع؟ ما فيه الا موضع قبری و قبر ابی بکر و عمر و عیسی ابن مريم ۔ (اخرجہ ابن عساکر کما فی کنز العمال ص ۲۶۸ جلد ۷)

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول میرا گمان ہے کہ میں آپ کے بعد زندہ رہوں گی کیا مجھے آپ کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت ہوگی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تو اس جگہ میں کیسے دفن ہو سکتی ہے؟ وہاں تو میری، ابوبکرؓ، عمرؓ اور حضرت عیسیٰ کی قبر کی جگہ ہے۔

(٤) عن عائشة رضى الله عنها قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم .... حتى ياتى فلسطين باب لد فينزل عيسى عليه السلام فيقتله ثم يمكث عيسى عليه السلام فى الارض اربعين سنة ۔ اماما عدلا وحكماً مقسطاً ۔ (الدر المنثور ۲۴۲:۲، مسند احمد ۷۵:۶)

حضرت عائشہ صدیقہؓ نے دجال کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا : ”..... یہاں تک دجال فلسطین باب لد تک آئے گا۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اسے (دجال کو) قتل کریں گے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین میں امام عادل اور منصف حاکم بن کر چالیس سال رہیں گے۔“

یہ قادیانیوں کی ڈھٹائی کی انتہا ہے کہ وہ اپنا نظریہ قرآن وحدیث کے مطابق بنانے کی بجائے قرآن وحدیث کو اپنے خود ساختہ نظریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اس سلسلہ میں حضرت عائشہؓ سمیت اسلاف امت پر الزام تراشی سے بھی باز نہیں آتے۔

اعتراض ٣ : لا نبی بعدی میں لفظ بعدی مغائرت اور مخالفت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ فبای حدیث بعد الله وآيته يؤمنون۔ (سورۃ جاثیہ ع ۱)

آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کی آیات کے خلاف کون سی بات پر وہ ایمان لائیں گے۔ اس طرح لا نبی بعدی کا مطلب یہ ہے کہ مجھ کو چھوڑ کر یا میرے خلاف ہو کر کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ حدیث میں ہے:

فاولتهما كذابين ليخرجان بعدى احدهما العنسى والاخر مسيلمة ۔

(کتاب المغازی صحیح بخاری شریف جلد ۲ ص ۶۲۸)

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دو کذاب ہیں جو میرے بعد یعنی میری مخالفت میں

صفحہ 416

نکلیں گے۔

جواب ۱: خود مرزا نے لا نبی بعدی کا ترجمہ مسلمانوں کے مطابق کیا ہے کہ ”میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“ ”آنحضرت نے بار بار فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا۔ اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت کریمہ ولکن رسول الله وخاتم النبیین سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوچکی ہے۔“

(کتاب البریہ ص ۱۸۴۔ ر۔خ جلد ۱۳ ص ۲۱۷۔۲۱۸)

جواب ۲: بَعد کا ترجمہ ”مخالفت“ عربی محاورہ کے خلاف ہے۔ اور اہل زبان سے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اور دوسری حدیثیں بھی لا نبی بعدی کا مفہوم واضح کرتی ہیں لم یبق من النبوة الخ (مشکوٰۃ ص ۳۸۶) انی اخر الانبیاء ۔ (صحیح مسلم شریف ج ۱ ص ۴۴۶) ان احادیث میں بعد کا لفظ موجود نہیں ہے اور ہر قسم کی نبوت کی نفی کی گئی ہے‘ خواہ وہ موافقت میں ہو یا مخالفت میں۔

”فبای حدیث بعد الله وايته یومنون“ کا جواب یہ ہے کہ یہاں بعد کا مضاف الیہ محذوف ہے۔ ای بعد کتاب اللہ ۔ (دیکھئے خازن وابن جریر وکشاف)

اور حدیث فاولتهما‘ الخ کا جواب یہ ہے کہ یہاں بھی بعد کا مضاف الیہ محذوف ہے۔ یعنی یخرجان بعد نبوتی (فتح الباری) اور اس کی تائید بخاری شریف کی دوسری روایت سے بھی ہوتی ہے جس کے الفاظ ہیں: الكذابين الذين انا بينهما۔

ایک حضور علیہ السلام کے دنیا سے جانے سے پہلے ظاہر ہوا یعنی اسود العنسی اور دوسرا آپ کے بعد ہوگا یعنی مسیلمہ کذاب جو کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہد میں مارا گیا۔ پھر یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ مسیلمہ کذاب کا دعویٰ حضور ؐ کی مخالفت کا نہ تھا۔ اس کے ہاں جو اذان دی جاتی تھی‘ اس میں اشهد ان محمد رسول الله کا برابر ذکر ہوتا تھا۔ مسیلمہ کا یہ دعویٰ تھا کہ حضور علیہ السلام شہروں کیلئے نبی ہیں اور میں دیہاتوں کیلئے نبی ہوں‘ نبوت ہم دونوں کیلئے مشترک ہے۔

(تاریخ طبری)

صفحہ 417

جواب ۳: صحیح مسلم میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی حدیث میں لا نبی بعدی کی جگہ لا نبوۃ بعدی کے الفاظ ہیں جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد نبوت کسی کو نہ ملے گی یہ کسی کے مخالف یا موافق ہونے کی بحث نہیں۔

لفظ ”خاتم“ پر قادیانی اعتراضات اور ان کے جوابات

اعتراض ۱: خاتم النبیین کا معنی ہے کہ صاحب شریعت نبیوں کو ختم کرنے والا تمام نبیوں کو نہیں۔

جواب ۱: مرزا کی اپنی تحریروں سے بھی یہ تاویل رد ہوتی ہے۔

استثناء کے خاتم الانبیاء قرار دیا ہے۔ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خاتم النبیین کی تفسیر لا نبی بعدی کے ساتھ فرمائی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

(حمامة البشریٰ ص ۲۰ در خزائن ص ۲۰۰ جلد ۷)

(تشحیذ الاذہان ص ۱ جلد ۱)

جواب ۲: قادیانی صرف ظلی بروزی نبوت کو جاری مانتے ہیں۔ اور عام نبوت و رسالت کو بند مانتے ہیں۔ اگر اس آیت میں خاتم النبیین سے مراد خاتم الرسل ہے تو عموم نبوت جسے ان کی اصطلاح میں مستقل نبوت کہا جاتا ہے وہ کس دلیل سے بند ہوئی؟ جس دلیل سے وہ مستقل نبوت کا بند ہونا ثابت کرتے ہیں اسی سے ہم ظلی بروزی نبوت کی بندش ثابت کریں گے۔ (ما هو جوابكم فهو جوابنا)

جواب ۳: اگر آیت خاتم النبیین میں تمام انبیاء مراد نہیں بلکہ صرف رسول مراد ہیں تو قادیانی بتائیں کہ:

صفحہ 418

(البقرۃ) میں کیا تمام انبیاء پر ایمان ضروری نہیں؟

بعض انبیاء کو بشیر ونذیر بنایا اور بعض کو نہیں؟

بعض انبیاء سے عہد لیا اور بعض سے نہیں؟

اعتراض۲: خاتم النبیین کا معنی ہے افضل النبیین جیسا کہ خاتم الشعراء بمعنی افضل الشعراء استعمال ہوتا ہے۔

جواب۱: مرزا قادیانی نے مندرجہ ذیل عبارت میں مسلمانوں کے مطابق خاتم کا ترجمہ وتشریح کی ہے۔ (ملاحظہ فرمائیں)

نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا۔ اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوا۔ اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“

(تریاق القلوب ص ۱۵۷)

ایسا خلیفہ جو سب کے آخر آنے والا ہے۔“ (چشمہ معرفت ص ۳۱۸)

پرانا۔“ (ازالہ اوہام ص ۷۶۱)

جواب۲: حضرت عباسؓ کے خاتم المہاجرین ہونے والی روایت میں خاتم کا معنی افضل کرنا غلط ہے۔ خاتم کا معنی آخری ہے۔ کیونکہ حافظ ابن حجرؒ نے الاصابہ میں حضرت عباسؓ کے متعلق لکھا ہے:

ہاجر قبل الفتح بقلیل وشہد الفتح۔ (الاصابہ ص ۲۶۸ جلد سوم)

حضرت عباسؓ نے فتح مکہ سے چند دن پہلے ہجرت کی اور آپ فتح مکہ کے موقع پر حاضر تھے۔ آپ کے ہجرت کرنے کے بعد کسی اور نے ہجرت نہ کی اس سے ثابت ہوا کہ خاتم کا معنی آخری ہے اور افضل کرنا غلط ہے۔

صفحہ 421

کے احکام اور پیغام بندوں تک پہنچائے۔ جب اس کی نسبت خدا تعالیٰ کی طرف ہوگی تو وہ نبی کہلائے گا اور جب لوگوں کی طرف اس کی نسبت ہوگی تو وہی نبی رسول کہلائے گا۔ لہٰذا اس تعریف کی رو سے ہر نبی رسول ہوگا اور ہر رسول نبی کہلائے گا۔

نبی اور امتی میں فرق

ہو۔ اور ”امتی“ وہ ہوتا ہے جو نبی سے بالواسطہ یا بلا واسطہ علم حاصل کرے۔

دوسروں پر فرض نہیں ہوتا۔ اگر وہ حکم قرآن وسنت کے مطابق ہے تو قرآن وحدیث کی وجہ سے وہ واجب العمل ہے۔ اگر خلاف ہے تو وہ لائق رد ہے۔

ماننے والے جو مسلمان کہلاتے ہیں دوسرے نہ ماننے والے منکر جو کافر کہلاتے ہیں۔ امتی خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ اس سے دو گروہ مؤمنین اور کفار کے نہیں بنتے۔ لہٰذا اگر کوئی کہے کہ مجھے خدا تعالیٰ سے براہ راست علم ملتا ہے جس کا ماننا دوسروں پر فرض ہے (جیسا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے) تو وہ اپنے اس قول سے امتی نہ رہے گا اسے مدعی نبوت کہا جائے گا۔ مرزا قادیانی خدا تعالیٰ سے علم پانے کے دعویٰ کے مطابق ”نبی“ ہے ”امتی“ نہیں ۔ ”امتی نبی“ کی اصطلاح اسلام میں کوئی نہیں یہ قادیانیوں کا محض دھوکہ اور فراڈ ہے یہ دو متضاد صفتوں کا جمع کرنا ہے۔ اگر وہ نبی ہے تو امتی نہیں اور اگر وہ امتی ہے تو پھر نبی نہیں۔ یہ تو ایسے ہے جیسے کسی کو کہیں کہ وہ مرد بھی ہے اور عورت بھی۔

سے افضل ہونے کا دعویٰ کرے وہ امتی نہیں رہے گا۔ اسے مدعی نبوت کہا جائے گا کیونکہ انبیاء بعض بعضوں سے افضل ہوتے ہیں۔ امتی کسی نبی سے افضل نہیں ہوتا مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تمام صفات میں افضل ہونے کا مدعی ہے۔ نبی اور امتی کی مذکورہ بالا تشریح کے مطابق مرزا قادیانی ہر تعریف کے مطابق

صفحہ 419

اعتراض ۳: خاتم کا معنی مہر ہے یعنی حضور علیہ السلام کی مہر لگنے سے نبی بنتے ہیں۔ جواب ۱: مفصل حوالہ ماقبل گزر چکا ہے۔ کہ خاتم النبیین کا معنی ہے ”ختم کرنیوالا نبیوں کا۔“ (دیکھئے ازالہ اوہام ص ۶۱۴) جواب ۲: ماقبل حوالہ گزر چکا ہے کہ مرزا نے لکھا ہے کہ میں اپنے والدین کے لئے خاتم الاولاد تھا۔ کیا مرزائی اس عبارت میں مہر والا معنی گوارا کرلیں گے؟ جواب ۳: عسل مصفی ج ۱ ص ۱۷ میں درج مجددین کی فہرست میں سے کسی بھی مفسر محدث کا حوالہ دیں جس نے خاتم کا معنی ”مہر لگانے والا“ کیا ہو۔ ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین۔

اقوال بزرگان دین کا اجمالی جواب

مرزائی لوگ بسا اوقات ملا علی قاری و شیخ اکبر وغیرہم کی عبارتیں پیش کیا کرتے ہیں جن کا ماحصل مرزائیوں کے خیال میں یہ ہوتا ہے کہ نبوت تشریعی بند ہے اور اس کا مفہوم مخالف مرزائیوں کے خیال میں یہ ہوتا ہے کہ نبوت غیر تشریعی جاری ہے۔

جواب اس کا یہ ہے کہ بقول مرزا محمود قادیانی مسلمانوں کا عقیدہ یہ تھا کہ نبوت تشریعی ہی ہوتی ہے۔ دیکھو حقیقۃ النبوۃ ص ۱۲۲‘ ۱۲۳ تو ہم یہ کہیں گے کہ بقول محمود قادیانی اہل اسلام کے نزدیک صرف ایک ہی نبوت تھی یعنی تشریعی تو گویا کوئی نبوت جاری نہ ہوئی۔

عبارت حقیقۃ النبوۃ یہ ہے ص ۱۲۲‘ ۱۲۳‘ ۱۳۳‘ ۱۳۶:

”نبی کی وہ تعریف جس کی رو سے آپ اپنی نبوت سے انکار کرتے رہے ہیں یہ ہے کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جو کوئی نئی شریعت لائے یا پچھلی شریعت کے بعض احکام منسوخ کرے یا یہ کہ اس نے بلاواسطہ نبوت پائی ہو اور کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو یہ تعریف عام طور پر مسلمانوں میں مسلم تھی۔“

قادیانی جن اکابرین کی عبارتیں پیش کر کے دھوکہ دیتے ہیں کہ وہ تمام غیر تشریعی نبوت کے قائل تھے یہ سراسر ان پر بہتان ہے ان میں سے کوئی بزرگ بھی قادیانی نبوت (ظلی

صفحہ 420

بروزی) کے جاری ہونے کا قائل نہیں ہے اگر ان حضرات کی اس عبارت کے سیاق و سباق کو دیکھا جائے اور ان کی دیگر تصریحات کو سامنے رکھا جائے تو مطلب بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ ”اقوال بزرگان“ کے تفصیلی جوابات حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب کی کتاب ”عقیدۃ الامت“ میں موجود ہیں اس کا مطالعہ کرنا انتہائی مفید بلکہ ضروری ہے۔

ان تمام بزرگان کی عبارتوں کا ایک اجمالی جواب یہ ہے کہ ان حضرات نے جو اس قسم کی عبارتیں لکھی ہیں ان کے پیش نظر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی ہے۔ اس لئے وہ حضرات لکھتے ہیں کہ کوئی جدید شریعت والا نبی نہیں آسکتا بلکہ آپ کا تابع آسکتا ہے ان کی اس سے مراد صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوتے ہیں کیونکہ وہ جب دوبارہ تشریف لائیں گے تو کوئی نئی شریعت نہیں لائیں گے بلکہ وہ آپ کی اور آپ کی شریعت کی پیروی کریں گے۔ بس عیسیٰ علیہ السلام کو مستثنیٰ کرنے کی خاطر اس طرح کی عبارتیں ہوتی ہیں کہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صراحت آجاتی ہے کہیں نہیں۔ عبارت کے عموم سے سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں اس سے خبردار رہنا چاہئے۔ فافہم۔

فائدہ عظیمہ

نبی اور رسول میں فرق

نبی اور رسول کی تعریف میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے اور جو بھی تعریف کی جائے اس پر کوئی نہ کوئی نقض اور اعتراض وارد ہو جاتا ہے۔ مشہور یہ ہے کہ نبی عام ہے اور رسول خاص ہے۔ یعنی رسول وہ ہے جو صاحب کتاب ہو اور نبی عام ہے۔ بعض حضرات رسول کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ رسول وہ ہے جو قوم کفار کی طرف بھیجا جائے اور نبی عام ہے۔ مرزا قادیانی کے نزدیک اس کے برعکس رسول عام ہے اور نبی خاص ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں نبی اور رسول دونوں مترادف ہیں اور ایک دوسرے پر استعمال ہوتے ہیں۔ اور یہی درست معلوم ہوتا ہے جس پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ دراصل ”نبی اور رسول“ ایک ہی ذات کی دو صفات ہیں۔ ”نبی“ کہتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پاتا ہے اور رسول اسے کہتے ہیں جو خدا تعالیٰ

صفحہ 421

کے احکام اور پیغام بندوں تک پہنچائے۔ جب اس کی نسبت خدا تعالیٰ کی طرف ہوگی تو وہ نبی کہلائے گا اور جب لوگوں کی طرف اس کی نسبت ہوگی تو وہی نبی رسول کہلائے گا۔ لہٰذا اس تعریف کی رو سے ہر نبی رسول ہوگا اور ہر رسول نبی کہلائے گا۔

نبی اور امتی میں فرق

ہو۔ اور ”امتی“ وہ ہوتا ہے جو نبی سے بالواسطہ یا بلاواسطہ علم حاصل کرے۔

دوسروں پر فرض نہیں ہوتا۔ اگر وہ حکم قرآن وسنت کے مطابق ہے تو قرآن وحدیث کی وجہ سے وہ واجب العمل ہے۔ اگر خلاف ہے تو وہ لائق رد ہے۔

ماننے والے جو مسلمان کہلاتے ہیں دوسرے نہ ماننے والے منکر جو کافر کہلاتے ہیں۔ امتی خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ اس سے دو گروہ مؤمنین اور کفار کے نہیں بنتے۔ لہٰذا اگر کوئی کہے کہ مجھے خدا تعالیٰ سے براہ راست علم ملتا ہے جس کا ماننا دوسروں پر فرض ہے (جیسا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے) تو وہ اپنے اس قول سے امتی نہ رہے گا اسے مدعی نبوت کہا جائے گا۔ مرزا قادیانی خدا تعالیٰ سے علم پانے کے دعویٰ کے مطابق ”نبی“ ہے ”امتی“ نہیں۔ ”امتی نبی“ کی اصطلاح اسلام میں کوئی نہیں یہ قادیانیوں کا محض دھوکہ اور فراڈ ہے یہ دو متضاد صفتوں کا جمع کرنا ہے۔ اگر وہ نبی ہے تو امتی نہیں اور اگر وہ امتی ہے تو پھر نبی نہیں۔ یہ تو ایسے ہے جیسے کسی کو کہیں کہ وہ مرد بھی ہے اور عورت بھی۔

سے افضل ہونے کا دعویٰ کرے وہ امتی نہیں رہے گا۔ اسے مدعی نبوت کہا جائے گا کیونکہ انبیاء بعض بعضوں سے افضل ہوتے ہیں۔ امتی کسی نبی سے افضل نہیں ہوتا مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تمام صفات میں افضل ہونے کا مدعی ہے۔ نبی اور امتی کی مذکورہ بالا تشریح کے مطابق مرزا قادیانی ہر تعریف کے مطابق

صفحہ 422

مدعی نبوت ہے انہی وجوہ کی بناء پر قادیانی گروہ اسے ”نبی“ تسلیم کرتا ہے۔ لاہوری جماعت کا مرزا قادیانی کو مدعی نبوت تسلیم نہ کرنا نہ صرف یہ کہ دھوکہ اور فراڈ ہے بلکہ خود مرزا قادیانی اور اس کی تعلیمات کا بھی انکار ہے۔ فافہم وتدبر۔

قادیانیوں کی وجوہ تکفیر

مرزا قادیانی اور اس کے متبعین کافر کیوں ہیں؟ اس کی وجوہات تلاش کی جائیں تو دس سے زیادہ ہیں۔ تاہم اہم اور نمایاں وجوہ تکفیر درج ذیل ہیں:

شان میں بے ادبی و گستاخی۔

ان وجوہ کفر کی تشریح و تفصیل یہ ہے:

مرزا کے کفر کی پہلی وجہ

مرزا کا دعویٰ نبوت

بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۳، رخ جلد ۱۸ ص ۲۰۷)

صفحہ 423

نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔“

(تمۃ حقیقۃ الوحی ص ۶۸۔ رخ جلد ۲۲ ص ۵۰۳)

(دافع البلاء ص ۱۱۔ رخ جلد ۱۸ ص ۲۳۱)

احمد رکھا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز مجھے قرار دیا ہے۔“

(تمۃ حقیقۃ الوحی ص ۶۷۔ رخ جلد ۲۲ ص ۵۰۲)

مجھے اپنی طرف سے مامور کر کے بھیجا اور آدم سے لیکر اخیر تک جس قدر نبی گزر چکے ہیں سب کے نام میرے نام رکھ دیئے اور سب سے آخری نام میرا عیسیٰ موعود اور احمد اور محمد معہود رکھا اور دونوں ناموں کے ساتھ بار بار مجھے مخاطب کیا ان دونوں ناموں کو دوسرے لفظوں میں مسیح اور مہدی کر کے بیان کیا گیا۔“

(چشمہ معرفت ص ۳۱۳۔ رخ جلد ۲۳ ص ۳۲۸)

اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“ (چشمہ معرفت ص ۳۱۷۔ رخ جلد ۲۳ ص ۳۳۲)

مرزا کے کفر کی دوسری وجہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے

بن باپ پیدا ہونے کا انکار

بلکہ مسیح تو مسیح، میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی

صفحہ 424

ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار نے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔‘‘

(کشتی نوح ص ۱۶۔ رخ جلد ۱۹ ص ۱۸)

کام کرتے رہے ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص ۳۰۳۔ رخ جلد ۳ ص ۲۵۴۔ ۲۵۵)

بہنیں تھیں یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھیں۔‘‘

(کشتی نوح ص ۱۶۔ رخ جلد ۱۹ ص ۱۸)

یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے۔ اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۶۔ رخ جلد ۱۱ ص ۲۹۰)

مرزا کے کفر کی تیسری وجہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کا انکار

چیز ہے اور عقل کے خلاف ہے۔‘‘ (ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ۴۹۔ رخ جلد ۲۲ ص ۶۶۰)

فوت ہوا اور تم سن چکے ہو کہ سری نگر محلہ خان یار میں اس کی قبر ہے۔‘‘

(کشتی نوح ص ۵۳۔ رخ جلد ۱۹ ص ۵۷۔ ۵۸)

اور عیسیٰ فوت ہو گیا ہے تب تک میں اسی عقیدہ پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔

صفحہ 425

اسی وجہ سے کمال سادگی سے میں نے حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی نسبت براہین میں لکھا ہے جب خدا نے مجھ پر اصل حقیقت کھول دی تو میں اس عقیدہ سے باز آ گیا۔“

(اعجاز احمدی ص ۶۔ رخ جلد ۱۹ ص ۱۱۳)

ہونا اور پھر کسی وقت مع جسم عنصری زمین پر آنا یہ ان پر تہمتیں ہیں۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۲۳۰۔ رخ جلد ۲۱ ص ۴۰۶)

مرزا کے کفر کی چوتھی وجہ

حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کی شان میں

ناقابل بیان گستاخیاں

کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور برے برے ان کے نام رکھے۔“

(چشمہ مسیحی ص ۱۱ روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۳۴۶)

اپنے چار بھائی حقیقی اور رکھتا تھا جو بعض اس کے مخالف تھے اور اس کی حقیقی ہمشیرہ دو تھیں۔ کمزور سا آدمی تھا جس کو صلیب پر محض دو میخوں کے ٹھوکنے سے غش آ گیا۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ۲۳۔ رخ جلد ۲۰ ص ۲۵)

جائے بلکہ بعض دوسرے نبی معجزہ نمائی میں ان سے بڑھ کر تھے اور ان کی کمزوریاں گواہی دے رہی ہیں کہ وہ محض انسان تھے۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ۴۳۔ رخ جلد ۲۰ ص ۲۳۵۔ ۲۳۶)

صفحہ 426

خدا کا کلام نازل ہوا ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا اور جیسے اس کی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں میں یقینی طور پر ان معجزات کا مصداق اپنے نفس کو دیکھتا ہوں بلکہ ان سے زیادہ۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص ۲۳۔ رخ جلد ۲۰ص۳۵۴)

المقدس کی خادمہ ہو اور تمام عمر خاوند نہ کرے لیکن جب چھ سات مہینے کا حمل نمایاں ہو گیا تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نامی ایک نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص ۲۶۔ رخ جلد ۲۰ص۳۵۵۔۳۵۶)

ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسیٰ کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قویٰ سے محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص ۲۷۔۲۸۔ رخ جلد ۲۰ص۳۵۶)

سے۔‘‘

(کشتی نوح ص ۶۵۔ رخ جلد ۱۹ حاشیہ ص ۷۱)

زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ۷۔ رخ جلد ۱۱ص۲۹۱)

کفر کی پانچویں وجہ

حضرت عیسیٰ کے علاوہ دیگر انبیاء کرام

خصوصاً نبی اکرمﷺ کی اہانت

تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ و تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ۔ رخ جلد ۱۷ص۲۰۵)

صفحہ 427

والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم۔ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۴۔ رخ جلد ۱۸ ص ۲۰۷)

اللہ علیہ وسلم ہوں۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۵۲۱۔ رخ جلد ۲۲ ص ۵۲۱)

کسی کو کم مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدی کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کر کھڑا کیا۔“

(کلمۃ الفصل ص ۱۱۳ از مرزا بشیر احمد ایم اے)

سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔“

(اعجاز احمدی ص ۷۱۔ رخ جلد ۱۹ ص ۱۸۳)

حتیٰ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔“

(مرزا محمود کی ڈائری مندرجہ اخبار الفضل قادیان نمبر ۵ جلد ۱۰ مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء)

وہ نشان دکھلاتے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۳۷۔ رخ جلد ۲۲ ص ۵۷۵)

ہے کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۹۹۔ رخ جلد ۲۱ ص ۹۹)

من رسلہ میں داؤد اور سلیمان‘ زکریا اور یحییٰ علیہم السلام کو شامل کرتے ہیں وہاں مسیح موعود جیسے عظیم الشان نبی کو چھوڑ دیا جاوے۔“

(کلمۃ الفصل ص ۱۱۷ مؤلفہ مرزا بشیر احمد ایم۔اے)

صفحہ 428
(١٠) انبیاء گرچہ بودہ اند بسے من بعرفان نہ کمترم ز کسے
آنچہ دادست ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بہ تمام
زنده شد ہر نبی بآمدنم ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(ترجمہ) ”اگرچہ دنیا میں بہت سے نبی ہوئے ہیں میں عرفان میں ان نبیوں میں سے کسی سے کم نہیں ہوں۔ خداوند نے جو پیالے ہر نبی کو دیئے ہیں ان تمام پیالوں کا مجموعہ مجھے دیا ہے میری آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہو گیا ہر رسول میری قمیص میں چھپا ہوا ہے۔ مجھے اپنی وحی پر یقین ہے اور اس یقین میں، میں کسی نبی سے کم نہیں ہوں جو جھوٹ کہتا ہے وہ لعین ہے۔“

(نزول المسیح ص ۱۰۰ ر۔خ جلد ۱۸ص ۴۷۷۔۴۷۸)

مرزا کے کفر کی چھٹی وجہ

حضرت عیسیٰ کے معجزات کا انکار

کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۶ ر۔خ ص ۲۹۰ جلد ۱۱ حاشیہ)

ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم، مفلوج، مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے۔“

(ازالہ اوہام در روحانی خزائن جلد ۳ ص ۲۶۳ در حاشیہ)

کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔“

(حوالہ بالا)

صفحہ 429

روحانی طور پر معنی بھی کر سکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ امی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسیٰ نے اپنا رفیق بنایا گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی جس سے وہ پرواز کرنے

لگے۔ (ازالہ اوہام ص ۱۷۷ حاشیہ ۔ رخ ص ۲۵۵ جلد ۳)

اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں

عقل تیز ہو جاتی ہے۔ (ازالہ اوہام حاشیہ ص ۱۲۶۔ رخ جلد ۳ ص ۲۵۴)

القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہرحال یہ معجزہ (پرندے بنا کر اڑانے کام) صرف ایک

کھیل کی قسم میں سے تھا۔ (ازالہ اوہام ص ۱۳۵۔ رخ جلد ۳ ص ۲۶۳)

مرزا کے کفر کی ساتویں وجہ

اسلامی فریضہ جہاد کا انکار

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: الجهاد ماض الى يوم القيامة۔ جہاد یوم قیامت تک جاری رہے گا۔ یعنی جس وقت تک دنیا میں طاغوتی طاقتیں موجود ہیں اس وقت تک جہاد جاری رہے گا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد باطل اور طاغوتی طاقتیں ختم ہو جائیں گی۔ پھر جہاد بھی ختم ہو جائے گا کیونکہ جہاد ہوتا ہے اہل باطل سے جب کہ اس وقت کفار کا خاتمہ ہو جائے گا۔

انگریز کے اشارے پر مرزا قادیانی نے مسلمانوں سے جذبہ جہاد کو ختم کرنے کے

صفحہ 430

لئے حرمت جہاد کا اعلان کیا یہ کفر ہے۔

چند عبارتیں ملاحظہ فرمائیں:

(خطبہ الہامیہ ص ۱۷۔ رخ جلد ۱۶ ص ۱۷)

(مجموعہ اشتہارات جلد سوم ص ۱۹)

(شہادت القرآن ص ۸۲۔ رخ جلد ۶ ص ۳۸۰)

(۴) اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دین کیلئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۴۲۔ رخ جلد ۱۷ ص ۷۷۔۷۸)

مرزا کے کفر کی آٹھویں وجہ

تمام مسلمانوں کی تکفیر

(نزول المسیح ص ۴ حاشیہ۔ رخ جلد ۱۸ ص ۳۸۲)

صفحہ 431

نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ۱۱۰ از مرزا بشیر احمد ایم۔ اے)

تیری مخالفت اختیار کی وہ جہنمی ہے۔“

(تذکرہ ص ۱۶۸ طبع دوم)

اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“

(تذکرہ ص ۶۰۰ طبع دوم)

خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ۳۵ از مرزا بشیر الدین محمود)

صفحہ 432

خاتمۃ الکتاب

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے لعین قادیان مرزائے کذاب، غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کا پوسٹ مارٹم پوری طرح ہو چکا ہے۔ قادیانیوں کی دسیسہ کاریوں اور مغالطہ اندازیوں کا پردہ بھی پوری طرح چاک کیا جا چکا ہے اور مناظرین اسلام کے لیے ہم نے توفیق ایزدی سے ایسے ایسے ایٹم بم تیار کر دیئے ہیں کہ ان شاء اللہ وہ کسی محاذ پر مات نہیں کھا سکتے۔ ہر میدان انہی کے ہاتھ میں رہے گا۔ بس اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وابستگان دامان محمدی اور وارثان ملت مصطفوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام اس موضوع کی طرف متوجہ ہوں، اور ہمارے فراہم کردہ ہتھیاروں سے لیس ہوں۔ اور قادیانیوں کا ہر محاذ پر تعاقب کریں اور عشق مصطفوی اور غیرت ایمانی کا ثبوت دیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ختم نبوت کے تحفظ کے کام کی توفیق عطا فرمائیں اور آخرت میں زمرۂ غلامان محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں حشر فرماویں۔ اور اس کتاب کو بھٹکے ہوئے لوگوں کیلئے ہدایت کا ذریعہ بنائیں۔ آمین..........!

ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم، ولا تزغ
قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک
انت الوہاب، وصلی اللہ علی النبی الکریم وعلیٰ الہ
وصحبہ وعلی من تبعہم الی یوم الدین ۔

تمت

صفحہ 433

ادارہ کا تعارف و اپیل

قادیانی اپنے مبلغ تیار کر کے بیرون ملک بھیجتے ہیں جو دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمانوں کی دولت ایمان لوٹنے میں شب و روز مصروف ہیں۔ دنیا کی ہر اہم زبان میں قرآن مجید کے تحریف کردہ تراجم اور خلاف اسلام لٹریچر چھاپ کر لاکھوں کی تعداد میں تقسیم کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں مستقل ٹی وی چینل خرید کر وہاں سے مختلف زبانوں میں گمراہ کن پروگرام پیش کرتے ہیں۔ بلامبالغہ کروڑوں روپے وہ ان کاموں پر صرف کرتے ہیں۔ ہزاروں قادیانی اپنی آمدنی کا ۱/۱۰ حصہ مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لیے انجمن احمدیہ کو دیتے ہیں اور تقریباً تین چوتھائی قادیانیوں نے اپنی زندگیاں ارتدادی مشن کے لیے وقف کر رکھی ہیں۔

ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ ۱۹۷۰ء سے قادیانیت کی سرکوبی کر رہا ہے جس کے تحت سات شعبے کام کر رہے ہیں۔ صرف شعبہ تعلیم میں ۷۱۰ طلباء وطالبات مختلف درجات میں زیر تعلیم ہیں۔ ۴۵۰ طلباء وطالبات ایسے ہیں جن کی جملہ ضروریات (رہائش، خوراک اور علاج) کا ادارہ کفیل ہے۔ ۱۳۶ اساتذہ و ملازمین مصروف خدمت ہیں۔ ماہانہ اخراجات (-/2,25,000) ہیں۔ زیر تعمیر انٹرنیشنل ختم نبوت یونیورسٹی اور نشر واشاعت کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ گرانی کی وجہ سے ان میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔

حضرات محترم! صحابہ کرام نے ختم نبوت کے مقدس مشن کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کیں۔ آپ بھی اپنے صدقات، خیرات، عطیات اور تعمیری سامان کے ذریعہ دل کھول کر مستقل امداد فرمائیں اور دیگر احباب کو بھی متوجہ فرماتے رہا کریں۔ آپ کا تعاون صدقہ جاریہ اور نجات اُخروی کا ذریعہ ہوگا۔ ان شاء اللہ!

خادم ختم نبوت الداعی الی الخیر منظور احمد چنیوٹی

ناظم اعلیٰ ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ، پاکستان....... فون: 332820 (0466) ' فیکس: 331330 ترسیل زر کے لیے: اکاؤنٹ نمبر 21 الائیڈ بینک سرگودھا روڈ برانچ، چنیوٹ (زکوٰۃ مد) اکاؤنٹ نمبر 1766 الائیڈ بینک سرگودھا روڈ برانچ، چنیوٹ (عطیات مد) اکاؤنٹ نمبر 7-2488 نیشنل بینک مین برانچ، چنیوٹ (تعمیرات مد) Email: chinioti@fsdcomsat.net.pk

صفحہ 434

ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کی چند اہم مطبوعات

نمبرشمار کتاب زبان تصنیف و تالیف قیمت/

روپے

صفحہ 435

نمبر شمار کتاب زبان تصنیف و تالیف قیمت/ روپے

۲۰- چودہ میزائل اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۱۷۰ ۲۱- مباہلہ کا چیلنج منظور ہے اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۲۰ ۲۲- معرکہ حق و باطل اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۷۰ ۲۳- فتویٰ حیات مسیح اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۱۳۰ ۲۴- پنجابی نبی اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۳۰ ۲۵- مناظرہ ناروے اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۴۰ ۲۶- لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۴۰ ۲۷- معرکہ حق و باطل قادیانیت کے خلاف اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۴۰ ۲۸- ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۷۰ ۲۹- حرف ناقدانہ بجواب اک حرف ناصحانہ اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۲۰ ۳۰- ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانی سازشیں اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۲۵ ۳۱- نبوت کے نام پر شرمناک تحریف اردو عبدالرحیم منہاج ۳۰ سابق ڈیوڈ منہاس ۳۲- میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی؟ اردو قاضی خلیل احمد ۳۰ ۳۳- قرآن مجید اور عقیدہ ختم نبوت اردو مولانا محمد ابراہیم ۳۰ ۳۴- الحق الصریح بماتواتر فی حیاۃ المسیح اردو مولانا محمد ابراہیم ۳۵ ۳۵- ابن مریم زندہ ہیں حق کی قسم اردو مولانا محمد ابراہیم ۲۵ ۳۶- خاتم الانبیاء اور بزرگان دین اردو استاد گل محمد توحیدی ۳۰ ۳۷- تاریخ ساز تقریب اردو استاد اشفاق ناصر/ ۵۰ ماسٹر محمد روز ۳۸- تقریب سنگ بنیاد اردو استاد اشفاق ناصر/ ۵۰ عربی ملک مختار احمد ۳۹- خسوف و کسوف اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۳۰

صفحہ 436

چند کتب جن کا حاصل کرنا ضروری ہے

قبل الاخرہ (یہ مصر کے مشہور حنفی عالم ہیں)

(سابق شیخ الحدیث ندوۃ العلماء)

صفحہ 437

اس کے علاوہ مولانا مودودی کی ختم نبوت کے موضوع پر بھی ایک کتاب ہے اور خانقاہ مونگیری کے مولانا نعمت اللہ ہیں، ان کے تیس چالیس رسالے ہیں۔ علاوہ ازیں جو علماء یا جماعتیں مرزائیوں کے خلاف کام کر رہے ہیں ان سے مکمل رابطہ ہونا چاہیے، گاہے بگاہے نہایت مفید معلومات پر مشتمل چھوٹے چھوٹے رسائل مفت مل جاتے ہیں۔

ادارہ مرکزیہ دعوت ارشاد چنیوٹ سے بھی مختلف موضوعات پر لٹریچر دستیاب ہے جس کا آج تک مرزائی امت جواب دینے سے قاصر ہے۔

صفحہ 438

مرزا قادیانی کی کتابوں کا اجمالی تعارف

مرتبہ: عبدالباری قیوم شاہد ربوہ

نام کتاب سن نام کتاب سن اشاعت اشاعت براہین احمدیہ جلد اول و دوم ۱۸۸۰ء کرامات الصادقین ۱۸۹۳ء براہین احمدیہ جلد سوم ۱۸۸۲ء حمامۃ البشریٰ ۱۸۹۳ء براہین احمدیہ جلد چہارم ۱۸۸۴ء نور الحق جلد اول ۱۸۹۳ء پرانی تحریریں ۱۸۷۹ء / نور الحق جلد ثانی ۱۸۹۳ء ۱۸۸۹ء سرمہ چشم آریہ ۱۸۸۶ء اتمام الحجہ ۱۸۹۳ء شحنہ حق ۱۹۲۳ء سرالخلافہ ۱۸۹۳ء سبز اشتہار ۱۸۸۸ء انوار الاسلام ۱۸۹۳ء فتح اسلام ۱۸۹۱ء منن الرحمٰن ۱۸۹۵ء توضیح مرام ۱۸۹۰ء / ضیاء الحق ۱۸۹۵ء ۱۸۹۱ء ازالہ اوہام جلد اول و دوم ۱۸۹۱ء نورالقرآن نمبر ۱ ۱۸۹۵ء الحق مباحثہ لدھیانہ ۱۸۹۱ء نورالقرآن نمبر ۲ ۱۸۹۵ء الحق مباحثہ دہلی ۱۸۹۱ء معیار المذاہب ۱۸۹۵ء آسمانی فیصلہ ۱۸۹۱ء آریہ دھرم ۱۸۹۵ء نشان آسمانی ۱۸۹۱ء / ست بچن ۱۸۹۵ء ۱۸۹۲ء

صفحہ 439

نام کتاب سن نام کتاب سن اشاعت اشاعت آئینہ کمالات اسلام ۱۸۹۳ء اسلامی اصول کی فلاسفی ۱۸۹۶ء برکات الدعا ۱۸۹۳ء انجام آتھم ۱۸۹۶ء حجۃ الاسلام ۱۸۹۳ء استفتاء ۱۸۹۷ء سچائی کا اظہار ۱۸۹۳ء سراج منیر ۱۸۹۷ء جنگ مقدس ۱۸۹۳ء حجۃ اللہ ۱۸۹۷ء شہادۃ القرآن ۱۸۹۳ء تحفہ قیصریہ ۱۸۹۷ء تحفہ بغداد ۱۸۹۳ء محمود کی آمین ۱۸۹۷ء سراج دین عیسائی کے چار نزول مسیح ۱۹۰۲ء سوالوں کے جواب ۱۸۹۷ء کشتی نوح ۱۹۰۲ء کتاب البریہ ۱۸۹۸ء تحفۃ الندوہ ۱۹۰۲ء البلاغ یا فریاد درد ۱۸۹۸ء اعجاز احمدی ۱۹۰۲ء ضرورت الامام ۱۸۹۸ء حکم ربانی کا ریویو ۱۹۰۲ء نجم الہدیٰ ۱۸۹۸ء مواہب الرحمٰن ۱۹۰۳ء راز حقیقت ۱۸۹۸ء نسیم دعوت ۱۹۰۳ء کشف الغطا ۱۸۹۸ء سناتن دھرم ۱۹۰۳ء ایام الصلح ۱۸۹۸ء تذکرۃ الشہادتین ۱۹۰۳ء حقیقت الوحی ۱۸۹۹ء سیرت الابدال ۱۹۰۳ء مسیح ہندوستان میں ۱۸۹۹ء لیکچر لاہور ۱۹۰۴ء تریاق القلوب ۱۸۹۹ء/ لیکچر سیالکوٹ ۱۹۰۴ء ۱۹۰۲ء ستارۂ قیصرہ ۱۸۹۹ء لیکچر لدھیانہ ۱۹۰۵ء تحفہ غزنویہ ۱۹۰۰ء براہین احمدیہ جلد پنجم ۱۹۰۵ء

صفحہ 440

نام کتاب سن نام کتاب سن اشاعت اشاعت روئداد جلسہ دعا ۱۹۰۰ء الوصیت ۱۹۰۵ء خطبہ الہامیہ ۱۹۰۰ء-۲ احمدی اور غیر احمدی میں فرق ۱۹۰۵ء لجۃ النور ۱۹۰۰ء ضمیمہ الوصیت ۱۹۰۶ء رسالہ جہاد ۱۹۰۰ء چشمہ مسیحی ۱۹۰۶ء تحفہ گولڑویہ ۱۹۰۰ء-۲ تجلیات الٰہیہ ۱۹۰۶ء اربعین ۱۹۰۰ء قادیان کے آریہ اور ہم ۱۹۰۷ء اعجاز المسیح ۱۹۰۱ء حقیقت الوحی ۱۹۰۷ء ایک غلطی کا ازالہ ۱۹۰۱ء چشمہ معرفت ۱۹۰۸ء دافع البلاء ۱۹۰۲ء پیغام صلح ۱۹۰۸ء الہدیٰ والتبصرۃ لمن یریٰ ۱۹۰۲ء

(منقول از مطبوعہ اشتہار اجمالی تعارف ۴ - دارالفضل ربوہ)