معرفت اسم محمد ﷺ · محمد متین خالد
Marfat Isam Muhammad Salam · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

صلی اللہ علیہ وسلم

معرفت اسم محمد

حضور نبی کریم ﷺ کے اسم مبارک کے معارف و فضائل

اللہ

رسول

محمد

ترتیب و تحقیق

محمد متین خالد

PDF 2

بسم الله الرحمن الرحيم

معجزہ اسم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

PDF 3

”الفاظ مجموعۂ حروف ہوتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک حرف کو حذف کر دیا جائے تو بقیہ حروف اپنے معنی کھو بیٹھتے ہیں لیکن اس کلیہ سے لفظ ”اللہ“ اور لفظ ”محمد“ مستثنیٰ ہیں۔ اگر لفظ اللہ میں سے پہلا حرف الف کم کر دیا جائے تو باقی ”للہ“ رہ جاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے اللہ کے لیے۔ اگر لام کو بھی ہٹا دیا جائے تو باقی ”الٰہ“ رہ جاتا ہے جس کا مطلب ہے معبود اور اگر الف کو بھی الگ کر دیا جائے تو باقی ”لہ“ رہ جاتا ہے جس کا مطلب ہے اللہ کے لیے۔ اگر لام کو بھی ہٹا دیا جائے تو ”ہو“ باقی رہ جاتا ہے۔ یعنی وہی (اللہ) علیٰ ہٰذا القیاس، لفظ محمد کا ہر حرف بھی بامقصد اور بامعنی ہے۔ مثلاً اگر شروع کا ”م“ ہٹا دیا جائے تو حمد رہ جاتا ہے۔ یعنی حمد کرنے والا یا تعریف اور ابتدائی میم کے بعد اگر ”ح“ کو بھی حذف کر دیا جائے تو باقی ”مد“ رہ جائے گا۔ جس کا مفہوم ہے دراز اور بلند۔ یہ حضور ﷺ کی عظمت اور رفعت کی جانب اشارہ ہے اور اگر دوسرے میم کو بھی ہٹا لیا جائے تو صرف ”د“ (دال) رہ جاتا ہے۔ جس کا مفہوم ہے ”دلالت کرنے والا“ یعنی اسم محمد اللہ کی وحدانیت پر دال ہے۔“

PDF 4

معرفۃ اسم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

حضور نبی کریم ﷺ کے اسم مبارک کے معارف و فضائل

ترتیب و تحقیق

محمد متین خالد

فاتح پبلشرز 8-A یوسف مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار لاہور فون : 7352332-7232336 E-Mail:fateh_publishers@hotmail.com

صفحہ ٥

فہرست

صفحہ ٦

پہلو...... محمدؐ کی حیثیت

پر نام رکھنے کے فضائل و برکات

PDF 7

اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله ١٤٠٤

PDF 8

انتساب

خولہ، فاطمہ اور اسماء

کے نام

جن کی آنکھوں میں خاک مدینہ کا سرمہ ہے

صفحہ 9

تیرے ﷺ اوصاف کا اِک باب بھی پورا نہ ہوا

اسم محمد ﷺ.......بہت ہی خوبصورت اور بے حد پیارا نام.......

صفحہ 10
صفحہ 11

آئیے! ہم سب اسم محمد ﷺ کی معرفت اور اس کے فیوض و برکات سے مستفید ہوں۔

زندگیاں تمام ہوئیں اور قلم ٹوٹ گئے
تیرے اوصاف کا اک باب بھی پورا نہ ہوا

طالب شفاعت محمدی ﷺ بروز محشر محمد متین خالد

صفحہ 28
صفحہ 13

شکریہ !!!

میں بے حد تعاون فرمایا۔

والہانہ اظہار فرمایا۔

محبت برادر عزیز جناب عمران حسین چوہدری کا جنہوں نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی فرمائی۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان لاہور کا جنہوں نے کئی مفید تجاویز دیں۔

محمد متین خالد

PDF 14

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ

اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ

وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَظِيْمُ

مُحمّدؐ باپ نہیں کسی کا تمھارے مَردوں میں سے، لیکن رسول ہے اللہ کا اور مُہر سب نبیوں پر

Muhammad is not the father of any one of your men, but the

Messenger of ALLAH (God) and the Seal upon all the Prophets.

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ

ترجمہ: قطب عالم شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن قدس سرّہٗ

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

مَیں ”خاتم النَّبِیّین“ ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

صفحہ 15

معجزۂ اسم محمد ﷺ

صفحہ 28
صفحہ ١٧

حرفِ ارادت

وہ جس کا شوق سوچوں میں ستارے ٹانکتا ہے
اُسی کے نام ہیں عالی مرے اظہار سارے

قرطاس و قلم کے حوالے سے میرا موضوعِ سخن ایک ایسا خوش خصال انسان اور اُس کی روح پرور تالیف ”معرفت اسم محمد ﷺ“ ہے جس سے نسبتِ عقیدت کی تصریح کے لیے اشعار عرب کا ایک ادب پارہ زیب نظر ہے۔

”میں بستیوں سے پیار ان کے بسنے والوں کی خاطر کیا کرتا ہوں...... میں کوچہ محبوب سے بار بار گزرتا ہوں...... اسکی دیواروں اور دہلیزوں کو چومتا ہوں، میرے دل کی بیقراری کا یہی تقاضہ ہے...... لیکن یہ بات نہیں کہ مجھے اس کوچے سے محبت ہے بلکہ میں تو اس کوچے میں رہنے والے محبوب کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہو چکا ہوں۔“

یہ تو طیبہ کی محبت کا اثر ہے ورنہ
کون روتا ہے لپٹ کر در و دیوار کے ساتھ

ذکرِ محبوب کسی بھی عنوان سے ہو، محبوب ہوتا ہے

سجدے سے انکار کرنے والا، حسنِ آدم علیہ السلام سے بے خبر ابلیس، محروم محبت تھا، اس لیے راندۂ درگاہ قرار دے دیا گیا۔ ابلیس کا معبود تو تھا، محبوب نہیں تھا اور مردود ہونے کے لیے بس اتنا ہی کافی

صفحہ ١٨

ہے۔.......

محبت تعلق کا ریشم بنتی ہے، ارتباط کے رشتے کو جنم دیتی ہے اگر دل میں کسی کی محبت ہی نہ ہو تو تعلق کے ریشم کا گداز کہاں!....... روح میں ہجر کے تیکھے کانٹے کی چھبن کیسے.......

محبت تمہیں کچھ نہیں دیتی سوائے محبت کے
اور محبت تم سے کچھ نہیں لیتی سوائے محبت کے

محبت جس محبوب سے ہو اس سے نسبت رکھنے والی چیز بھی محبوب ہوتی ہے۔....... اور دیار محبت میں اس کی تکریم لازم....... مجھے اپنے قابل قدر دوست محمد متین خالد صاحب سے محبت اس لیے ہے کہ:

غازی علم الدین شہید علیہ الرحمہ کی طرح سر بکف حرمت رسول ﷺ پہ قربان ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔

آرا میں گندھا نظر آتا ہے۔

کوتاہ نظر کی دریدہ دہنی سے میرے حضور ﷺ کی عزت کے نازک آبگینوں کو کہیں ٹھیس نہ لگ جائے۔

رسول ﷺ کے ایک ایک تار کی کس طرح حفاظت کی جائے ۔

بر آں گروہ از عشق مصطفےٰ مستند
سلام ما بر سانید ہر کجا ہستند

چہرے پہ محبت کا نور....... بیاں میں بہاروں کا لوچ....... زباں میں شہد کی شیرینی....... دل میں اخلاص کی دولت....... تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا چلتا پھرتا پیکر....... عشق رسول ﷺ کی دل آویز تصویر....... حضور ﷺ کی محبت جس کی سوچ کا جھومر....... سرور دو عالم ﷺ سے گہری وابستگی جس کی شخصیت کی پہچان....... دھیمے لہجے میں جس کی گفتگو....... محبت آمیز برتاؤ میں جس کی پھول آسا شناسائی....... حسن کردار میں جس کی ناز آفریں رعنائی.......

صفحہ ١٩
کہاں کہاں لیے پھرتی ہے جستجوئے رسول ﷺ

کے سبب ایسے خوش بخت انسان سے میری ملاقات ...... خدا ساز بات ہے کچھ لوگ پھول میں خوشبو ...... آنکھ میں کاجل ...... لب پہ تبسم اور ...... دل میں دھڑکن کی طرح ہوتے ہیں۔ اور انہی کا نام ہونٹوں پہ حرف دعا کی طرح مچلتا رہتا ہے ۔

شعار جس کا ثنائے رسول ﷺ اکرم ہو
اس آدمی کی محبت خدا نصیب کرے

اس خوش جمال انسان کی عشق رسول ﷺ میں ڈوب کر لکھی ہوئی وجد آفریں تحریریں ایسی ہیں کہ پلکوں کی منڈیروں پہ آنسوؤں کے چراغ جلاتی ہیں ...... عقیدتوں کے دیپ روشن کرتی ہیں ...... ان کی جھلملاتی لو میں ہمارے محبوب ﷺ کا رخ انور پھول شبنم کی طرح نکھرتا چلا جاتا ہے ...... ان کا راہوار قلم نقش پائے محبوب ﷺ پہ جذبوں کے پھول اور ارادت کی کلیاں کچھ اس انداز میں نچھاور کرتا ہے کہ نظریں ادب گاہِ ﷺ محبت میں جھکتی چلی جاتی ہیں ...... جبین نیاز ہے کہ ان کی بارگاہِ ناز میں خم ہوتی چلی جاتی ہے ...... ان کا منزہ قلم الفاظ کے حسن ارتباط سے رنگ و نور کا ایسا سماں پیدا کرتا ہے کہ وجدان بے ساختہ پکار اٹھتا ہے ۔

جن سے مل کر زندگی سے پیار ہو جائے وہ لوگ
آپ نے دیکھے نہ ہوں گے ہاں مگر ایسے بھی ہیں

محمد متین خالد صاحب ایک صاحب طرز ادیب ہیں ان کے نوک قلم سے نکلی ہوئی تحریریں ان کا انداز واسلوب نہیں بلکہ محبت کے ریشم میں گندھا ہوا خواب ہیں ...... ان کی قلمی کاوشیں ان کے فکر کے عطر کا حاصل نہیں بلکہ محبوب ﷺ کی نظر کی عطا کا کمال ہیں ...... ان کے رشحات قلم:

بالخصوص میری دلی مبارکباد کے مستحق ہیں

۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف
صفحہ ٢٠

یہ وہ فرہاد ہیں جنہوں نے اپنی تحقیق کے دلگداز تیشے سے محبت کے ایسے ہیرے تراش دیئے ہیں جن کی جگمگاہٹ سے عشاق کے دلوں میں رنگ ونور کا دریا ہلکورے لے رہا ہے۔ ان کی یہ سب کاوشیں ان کی متاع ہنر اور سندر سوچوں کا حاصل نہیں بلکہ عقیدت کی آنکھ سے ٹپکے ہوئے وہ آنسو ہیں جو بارگاہ عشق ﷺ میں باریاب ہیں۔ بلاشبہ نگاہ دیدہ وران کے ہر گوہر انتخاب پہ یہ صدا اٹھتی ہے ؎

تم چاندنی ہو پھول ہو نغمہ ہو شعر ہو
اللہ رے حسن ذوق مرے انتخاب کا

ہے جس میں خوبصورت جذبوں کی ایک دنیا آباد ہے۔ محبت کے عطر میں بھیگے ہوئے پھولوں کی مہک ہے جس کی خوشبو عشاق کے مشام جاں کو رہتی دنیا تک معطر کرتی رہے گی......

کی عقیدت کا وہ نذرانہ ہے جو انہوں نے ختمی مرتبت کے حضور پیش کیا ہے اور ادب گاہ ﷺ محبت سے ان کے حسن ارادت نے پذیرائی کا شرف پا لیا ہے......

؎ کہیں ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو...... کے کئی کہکشاں رنگ ہیں۔ ملت اسلامیہ کی حیات عشق رسول ﷺ کے دم سے ہے...... وہ عشق جو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان سے کہلوائے:۔

”خدا کی قسم میں تو یہ بھی نہیں چاہتا کہ میری رہائی کے بدلے حضور ﷺ کے پائے مبارک میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے“

وہ عشق جس کے طفیل قدسی صفت انسانوں نے بدر وحنین کے معرکے سر کئے اور قیصر وکسریٰ کے ایوان الٹ دیئے...... وہ عشق جو عطا اللہ شاہ بخاریؒ ایسے خطیب کی شعلہ نوائی سے خرمن فکر میں آگ لگادے...... وہ عشق...... جو غازی علم الدین شہید علیہ الرحمہ کے گلاب ایسے شباب کو دار و رسن کی زینت بنادے......

صفحہ ٢١

شمع رسالت ﷺ کے وہ پروانے ہیں جنہوں نے حضور نبی کریم ﷺ پہ اپنی نقد جاں واری...... ناموس رسالت مآب ﷺ کے باب میں تاریخ رقم کرنے والی یہی وہ لائق صد تکریم ہستیاں ہیں جو قوم کی رہبری اور اس کی تعمیر حیات کرتی ہیں...... ان کا کردار مہر و مہ کو شرماتا اور ستاروں کو جگمگاتا ہے...... جب یہ انسانی قافلوں کے دوش بدوش رواں دواں ہوں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے اس دنیائے آب و گل میں چاند تارے سرگرم سفر ہوں...... ایسے لوگ یاد رکھے جاتے ہیں شام ابد تک، ان کی یاد دلوں میں بسائی جاتی ہے زندگی کے آخری سانسوں تک ۔

ہستی مسلم کا ساماں ہے فقط عشق رسول ﷺ
ہاں یہی ہے ہستی مسلم کا ساماں آج بھی
حفظ ناموس رسالت ﷺ کے لیے اہل حرم
جاں لٹا سکتے ہیں اپنی آج بھی ہاں آج بھی

میرے فاضل دوست کا طرز نگارش ایک اچھوتا انداز لیے ہوئے ہے۔ وہ دنیائے ادب سے محبت کے بکھرے ہوئے موتیوں اور عقیدت میں بسے پھولوں کو چن کر ایک خوبصورت مالا اور دل آویز گلدستے کی شکل میں اپنے محبوب ﷺ کی نذر کرتے ہیں اور وہیں سے ہی اس کی داد پاتے ہیں۔

کچھ پھول چن کے زینت داماں بنا لئے
وہ پھول جن سے لعل بدخشاں ہے شرمسار

انتخاب کا یہ عمل ایک وادئ پر خار کی صحرانوردی ہے جس میں ایک پھول کے حصول کے لیے کئی کانٹوں کو اپنے لہو سے گلرنگ کرنا پڑتا ہے...... انتخاب کرنے والا جب تک تخلیق کے جاں گسل عمل سے نہیں گزرتا، گوہر مقصود نہیں پاسکتا...... تالیف کی دنیا میں ادب پاروں کے انتخاب کا فن، تصنیف کے خارزاروں کے جاں کاہ سفر سے کچھ کم نہیں...... ندرت فکر سے کاغذ کے کینوس پر منفرد ادب پاروں کا حسن ابھارنا ہی وہ فن ہے جس سے قلمکار کا انتخاب، نظر کا جمال بنتا ہے پذیرائی کا حسن، تحسین کے سانچے میں ڈھلتا ہے، ہر نگاہ اٹھتی ہے اور کہتی چلی جاتی ہے ۔

ہر اک پھول بجائے خود ایک گلشن تھا
میں کس کو ترک کروں کس کا انتخاب کروں

یہ میری زندگی کی معراج ہے کہ میں ایک محبت آشنا شخص قابل قدر محمد متین خالد صاحب کی نظر عنایت سے حضور ختمی مرتبت ﷺ کے نام نامی سے معنون ان کے حسن انتخاب ”معرفت اسم محمد ﷺ“ میں جگہ پانے کے لیے ”حرف ارادت“ لکھنے کی ابدی سعادت حاصل کر رہا ہوں...... مجھے اپنی قاصر الکلامی اور

صفحہ ٢٢

انداز بیاں کی نارسائی کا اعتراف کی حد تک احساس ہے اسی سبب اپنے فاضل دوست کے محبت آمیز اصرار کے باوجود اس مرقع حسن و خوبی پہ مجھے قلم اٹھانے میں بہت تامل رہا۔ پھر بھی اسے میں اپنے عرق انفعال کے قطروں کا ہی افتخار سمجھتا ہوں جسے موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لیا...... کتنا حیات آفریں ہے یہ لمحہ۔

وہ ایک لمحہ ہے صدیوں کی زندگی پر محیط
وہ ایک لمحہ جو اُن کے حضور گزرا ہے

اسی ایک ہی لمحے میں تو میں بھر پور انداز میں جیا ہوں...... کتنی دل افروز ہے یہ گھڑی جو مجھے بلاتاخیر حضور ﷺ کے دامن عفو و کرم میں کھینچ لائی ہے۔......

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
میرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں

یہ حسن انتخاب قلمکار کے فکر کی پاکیزگی...... مقصد کی لگن...... جہد مسلسل اور حضور ﷺ کی ذات گرامی سے بے پناہ محبت کا پرخلوص نذرانہ ہے۔ حضور ﷺ کی مدح وثنا کے عظیم سرمائے کا حرف حرف سرور کونین ﷺ سے الفت و ارادت کے ارفع و اعلیٰ جذبوں کا مظہر ہے۔ ان بے لوث جذبوں میں سے حسین جذبوں کا انتخاب جوئے شیر لانے سے کسی طور کم نہیں۔

یہ آرزو ہے کہ بزم رسولؐ میں ہوں مقبول
چنے ہیں ان کی چاہت نے جو چند مدحت کے پھول

قطرے سے گہر ہونے تک میرے فاضل دوست نے نجانے اپنی زیست کے کتنے لمحوں کا سوز اور کتنی شبوں کا گداز صبح کے پرنور اجالوں میں شامل کیا ہوگا...... اپنے شبستاں کے کتنے رتجگوں کا ریاض اس میں سمویا ہوگا...... ہفت افلاک کے کتنے مہر و ماہ کی مانگ سے ستاروں کی افشاں چنی ہوگی...... گلشن مصطفیٰ ﷺ کے کتنے لالہ زاروں سے سرو سمن کا انتخاب کیا ہوگا...... ریاض رسول ﷺ کے کتنے عطر بیز پھولوں سے رنگ و نکہت مانگے ہوں گے...... گلشن مصطفیٰ ﷺ کی کتنی بہاروں سے بانکپن لیا ہوگا...... عشاق مصطفیٰ ﷺ کی گفتار سے کتنے گوہر تابدار اپنے دامن میں سمیٹے ہوں گے...... جب ان کے انتخاب کی کاوش نظر کا جمال بنتی ہیں تو بے ساختہ ان کا کمال فن اور جمال فکر کی داد دینے کو جی چاہتا ہے جس کے وہ بجا طور پر مستحق ہیں ۔

اے دوست اس چمن سے ایسے گلوں کو چن
کہ ہر شخص داد دے ترے انتخاب کی

سوچ کو عمل کے سانچے میں ڈھلنے کے لیے برسوں کی ریاضت درکار ہوتی ہے...... ’’معارف

صفحہ ٢٣

اسم محمد ﷺ، بھی فاضل مؤلف کی عمر کے طویل لمحوں کی فکر کا نتیجہ ہوگی..... جہاں تک حضور ﷺ کی ذات اور ان کے اسم گرامی سے اس کتاب کی نسبت کا تعلق ہے ؎

میری بینائی اور میرے ذہن سے محو ہوتا نہیں
میں نے روئے محمد ﷺ کو سوچا بہت اور چاہا بہت
میرے ہاتھوں سے اور میرے ہونٹوں سے خوشبوئیں جاتی نہیں
میں نے اسم محمد ﷺ کو لکھا بہت اور چوما بہت

”معرفت اسم محمد ﷺ“ عقیدتوں کے عطر میں بھیگے ہوئے پھولوں کا گلدستہ

اس کا مسودہ نظر نواز ہوا، میری آنکھوں نے اس کے ہر ہر لفظ کو چوما، میرے دل کی دھڑکنوں نے اس کی ہر ہر سطر کو محبت کا خراج ادا کیا، میرے وجدان نے اس صحیفہ عشق کے ہر باب کو اپنی روح کے رحل میں رکھا...... تو ”سیارہ ڈائجسٹ کے رسول ﷺ نمبر“ نے ان الفاظ میں در دل پہ تلاوت کی ”دستک“ دی:

”محمد ﷺ...... ایک حرف شوق ہے...... اس کو زباں سے ادا کیجئے تو لب پیوستہ پیوستہ ہوئے جاتے ہیں...... یوں لگتا ہے جیسے شیرینی کام و دہن میں رچی جارہی ہے...... اور یہ خنک خنک نام سانس کی ٹھنڈک بنتا جارہا ہے...... اس کا آہنگ قلب کی دھڑکن...... اور اس کا سرور آنکھوں کا نور بن کر جھلکتا ہے، یہ نام رگ مسلم میں خون بن کر دوڑتا ہے...... اس کی آرزو فکر و عمل کے لیے قوت محرکہ بن جاتی ہے...... محمد ﷺ ہماری زندگی میں...... اس سرچشمہ حیات سے دوری میں ہماری موت ہے۔“

اللہ اللہ نام حبیب خدا
کتنا شیریں اور کس قدر جانفزا
پھول سے کھل گئے لب سے لب مل گئے
جب زباں پر محمد ﷺ کا نام آ گیا

”تیرہ کروڑ افراد نہیں بلکہ چالیس کروڑ افراد محمد ﷺ سے پیار کرتے ہیں اس سے سمجھ لو کہ لفظ محمد ﷺ (فداہ امی و ابی) ضرور کوئی اثر رکھتا ہے جس سے

صفحہ ٢٤

تیرہ چودہ صدیوں کے بعد بھی کروڑ ہا انسانوں کے قلوب پر اس لفظ کا قبضہ ہے“ ۔

عطر آسودہ فضا اور فضاؤں میں درود
خوشبوئے اسم محمد ﷺ کی حدیں لامحدود

سائے میں سید ابوالخیر کشفی کے سینے سے یہ نوا بلند ہوئی جو صدیوں کے سینے میں محفوظ عشق کی جاوداں آوازوں میں شامل ہوگئی:

”سعودی عرب میں مغرب کے وقت جب بیت اللہ اور مسجد نبوی ﷺ کے موذن کے ہونٹوں پر اللہ کے ساتھ محمد ﷺ کا نام دعوت صلوٰۃ و فلاح میں آتا ہے تو وقت کی رفتار کا اندازہ کیا جاتا ہے اور گھڑیاں اس آواز پر اس طرح متحد ہو جاتی ہیں جس طرح کہ توحید ورسالت نے دنیائے اسلام کو متحد کر رکھا ہے۔“

یہ آواز صدیوں سے گونج رہی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس کائنات میں ۔

محمد ﷺ کا اب تک دھڑکتا ہے دل
یہ دل ہمیشہ دھڑکتا رہے گا

یہ نام چودہ سو سال کی مدت اور عہد حاضر کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔...... یہ نام نامی ...... یہ اسم گرامی ﷺ جو ایک زندہ حقیقت ہے اور سارے کرۂ ارض میں بسنے والے اہل ایمان کے لیے زندگی کی علامت اور عمل کی تحریک ہے ....... یہ علامت اور تحریک بیت اللہ سے دنیا کے ہر گوشے تک پھیلی ہوئی ہے۔...... یہ نام ابر کرم کی طرح گنگا سے ٹیمس تک ہر جگہ برسا ہے ..... قرآن نے ”سیرو فی الارض“ کی تعلیم دی ہے۔ اس سے ایک طرف تو ”عاقبۃ المکذبین“ سامنے آجاتی ہے اور دوسری طرف محمد ﷺ عربی کے انفاس پاک اور زندگی بخش آثار سے حقائق روشن ہو جاتے ہیں، صبح تاروں کی چھاؤں میں صلوٰۃ و سلام کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، اور وقت کا کوئی ایسا لمحہ نہیں گزرتا جب نبی کریم ﷺ پر دنیا کے کسی گوشے میں صلوٰۃ و سلام کے ہدیئے نہ پیش کئے جا رہے ہوں۔ حضور ﷺ کے روضہ مبارک کے سامنے کھڑے ہو کر افریقہ، ایشیا اور امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا کے ہر ملک اور خطے کے لوگ اپنی روح کے ساز پر یہ نغمہ فرشتوں کی ہمنوائی میں رسول کائنات ﷺ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں، درود وسلام ہوں سیدالکونین ﷺ پر۔“

صفحہ ٢٥

اے رسول ﷺ کائنات! آپ پر اللہ کی برکتیں ہوں اے محبوب ﷺ انس و جاں!...... تو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے تو ہمارے دلوں کا چین اور اللہ کا آخری پیامبر ہے تجھ پر اللہ اور فرشتوں کے سلام میں ہم بھی شریک ہیں اے امام الانبیاء ﷺ !...... تیری عظمت کی قسم ہم اپنی زندگی کے نقشے کو بدلنے کی کوشش کریں گے۔“

کیا اسم گرامی یہ نبی ﷺ صل علیٰ ہے
خوشبو نے ہر اک حرف کا منہ چوم لیا ہے

”کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ کرۂ ارض پر ایک سیکنڈ بھی ایسا نہیں گزرتا جس وقت لاکھوں موذن بیک وقت خدائے بزرگ و برتر کی وحدانیت اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا اعلان نہ کر رہے ہوں‘ انشاء اللہ یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔“

نفس نفس پہ برکتیں قدم قدم پہ رحمتیں
جہاں جہاں سے وہ شفیع عاصیاں گزر گیا
جہاں نظر نہیں پڑی وہاں ہے رات آج تک
وہیں وہیں سحر ہوئی جہاں جہاں گزر گیا

اسم محمد ﷺ“ میں یوں گوہر فشاں ہوتے ہیں کہ:

”دنیا میں کوئی لمحہ ایسا نہیں جس میں دنیا کے کسی نہ کسی شہر میں اذان نہ ہو رہی ہو ہر لمحہ موذن اللہ کے نام کے ساتھ ان ﷺ کا نام بلند کر رہا ہے وقت کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو اس نام سے خالی ہو“

درود پڑھ کے کہتے ہیں یہ غنچہ ہائے چمن
دعا میں روحِ اثر ہے حضور ﷺ آپ کا نام

عباس خاں کے کالم ”دن میں چراغ“ کی جھلملاتی لو میں جگمگاتے ہوئے یہ الفاظ نہ صرف لوح دل پہ رقم کرنے کے قابل ہیں بلکہ مولائے کل ختم الرسل ﷺ کی ارض و سما پہ محیط ہمہ گیر رسالت کا

صفحہ ٢٦

اک اٹوٹ ثبوت بھی ......

”نیل آرم سٹرانگ چاند پر پہلا قدم رکھنے والا انسان مصر گیا۔ کسی مسلمان ملک میں جانے کا اس کے لیے یہ پہلا موقع تھا وہاں پہلی رات صبح سویرے وہ بستر پر اچانک اٹھ کر بیٹھ گیا پھر وہ کھڑا ہو گیا کچھ دیر کھڑا رہنے کے بعد پریشانی کے عالم میں وہ کمرے سے نکل آیا۔ کمرے سے باہر اس کی بے چینی اور بڑھ گئی اس بے چینی کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ لان میں آگیا۔ جس جگہ وہ ٹھہرا ہوا تھا یہ ایک ہوٹل تھا ڈیوٹی پر موجود ہوٹل کے سٹاف نے اپنے اس قدر معزز مہمان کو پریشان دیکھا تو اس کے ارد گرد پروانہ وار جمع ہو گیا ”جناب ! آپ کیوں پریشان ہیں؟ ہم خدمت کے لیے حاضر ہیں“ ان میں سے ایک نے کہا ”میں کہاں ہوں؟“ اس نے الٹا ان پہ سوال کر دیا ۔ ” آپ اس وقت مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہیں ۔“ جواب آیا ” میں قاہرہ میں ہوں تو یہ آوازیں کہاں سے آ رہی ہیں“ اس نے فوراً وہ سوال کیا جو اس کو پریشان کر رہا تھا ...... ”جناب یہ قاہرہ کی مسجدوں سے اذانوں کی آوازیں ہیں ۔“ سٹاف نے یک زبان ہو کر کہا ...... یہ جواب پا کر وہ اتھاہ خاموشی میں ڈوب گیا جب محسوس کیا کہ اس کی خامشی پہ سٹاف پریشان ہے تو وہ خاموشی کی کیفیت سے باہر نکلا ...... ”میں چاند پر تھا تو وہاں بھی میں نے ایسی آوازیں سنی تھیں‘ یہاں انہیں دوبارہ سن کر میں بدحواس ہو گیا مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں چاند پر ہوں یا زمین پر“ یہ کہہ سٹاف کی طرف شکریے کا ہاتھ ہلاتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف چل دیا مگر وہ اب پہلے سے بھی زیادہ مضطرب تھا ۔“

پس عطر سخن یہ کہ حسن صوت و سماعت کا یہ ایمان افروز واقعہ پیغام رسالت کی آفاقیت کا نہ صرف ایک زندہ معجزہ ہے بلکہ عظمت مصطفیٰ ﷺ کی صدف کا اک انمول موتی بھی۔ بلاشبہ میرے حضور ﷺ وقت کے بحر بیکراں کی آغوش میں خوابیدہ ان زمانوں کے بھی رسول ہیں جو ابھی وجود میں ہی نہیں آئے۔ اس پر اگر اقبالؒ کے عشق کی سرمستی بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں یوں شبنم ریز ہو جائے تو بجا ہے ۔

ہر کجا بینی جہان رنگ و بو
آنکہ از خاکش بروید آرزو
صفحہ ٢٧
باز نور مصطفےٰ ﷺ او را بہا است
یا ہنوز اندر تلاش مصطفےٰ ﷺ است

قدسی مقال اقبال سیدنا بلالؓ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنی نظم میں ان کا تقابل سکندر رومی سے کرتے ہیں جس کا شمار دنیا کے عظیم فاتحین میں ہوتا ہے آج سکندر رومی کو تاریخ کے اوراق میں تو دیکھا جاسکتا ہے مگر عام انسانوں کے دلوں سے اس کی یاد اٹھ گئی ہے آج اس کی سلطنت باقی ہے اور نہ قصر سلطنت۔

اقبال کس کے عشق کا یہ فیض عام ہے
رومی فنا ہوا حبشی کو دوام ہے

اس کے برعکس دوسری شخصیت ایک ادنیٰ سا حبشی زادہ دنیا کے سب سے بڑے انسان ﷺ کے فیض نظر سے ایک ایسی صدا بلند کرتا ہے جو صدیوں کا فاصلہ طے کرتی ہوئی محبوب کی چوکھٹ پہ سجے گل تازہ کی صورت ہمیں آج بھی ہر روز سنائی دیتی ہے اور کانوں میں امرت رس گھولتی چلی جاتی ہے۔ اذان اور اس کا پہلا موذن دونوں زندہ جاوید ہیں صرف اس لیے کہ اس صدا کا مقصد تفریق محتاج و غنی اور تمیز بندہ و آقا نہیں بلکہ ”تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے“ کا اعتراف ہے اور عظمت کبریائی کا اقرار بھی۔ پس محمد ﷺ ہی وہ سحر آفریں نام ہے جس کی نوبت شاہانہ پوری کائنات میں دن میں پانچ مرتبہ مساجد کے فلک بوس میناروں سے بلند ہوتی ہے اور قیامت تک گونجتی رہے گی۔

کوئی کرن نہ پھوٹے کہیں روشنی نہ ہو
تیرا ﷺ جو نام اذاں میں نہ ہو صبح ہی نہ ہو
تیرا ﷺ وجود پاک ہے معراج آدمی
ورنہ ہجوم خلق تو ہو آدمی نہ ہو
دنیائے آب و گل میں کبھی ہو نہ رنگ و بو
گر روضے کی جالیوں سے کرن پھوٹتی نہ ہو

سوامی لکشمن پرشاد کی حضور ﷺ سے والہانہ عقیدت کی چاندنی ان کی معراج فکر ”عرب کا چاند“ کے پیش لفظ کی مینا میں گھل رہی ہے وہ ان الفاظ میں سخن سرا ہیں:

”جب میں مسجد کے سامنے سے گزرتا ہوں تو میری رفتار خود بخود سست پڑ جاتی ہے جیسے کوئی میرا دامن پکڑ رہا ہو میرے قدم وہیں رک جانا چاہتے ہیں گویا میری روح کے لیے تسکین کا سامان موجود ہو مجھ پر ایک بے خودی سی طاری

صفحہ ٢٨

ہونے لگتی ہے گویا مسجد کے اندر سے کوئی میری روح کو پیغام مستی دے رہا ہو جب موذن کی زباں سے اللہ اکبر کا نعرہ سنتا ہوں تو میرے دل کی دنیا میں ایک ہنگامہ بپا ہو جاتا ہے گویا کسی خاموش سمندر کو متلاطم کر دیا گیا ہو جب نمازیوں کو خداوند قدوس کے حضور سر بسجود دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں میں ایک بیداری سی پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ میری روح کو ایک متوحش خواب سے جگا دیا گیا ہو۔ لیکن جب مسجد سے چند قدم آگے بڑھ جاتا ہوں تو پھر میری آنکھوں کے سامنے مسلمانوں کی روز مرہ زندگی کا نقشہ آ جاتا ہے رنگ کس قدر پھیکا، خطوط کس قدر غیر متناسب، حدود کس قدر محدود اور ظرف کس قدر تنگ! مگر مسلمانوں کے کردار میں کشش نہ ہونے کے باوجود اسلام اور پیغمبر ﷺ اسلام کی سیرت میں اب بھی اتنی ہی جاذبیت ہے جتنی کہ پہلے تھی۔“

اے کہ در مدحت نہ تنہا دوستاں رطب اللساں
دشمناں ہم پیش پائے تو سپر انداختند

حاصل کلام کوئی محب اپنے محبوب ﷺ کی توصیف کرے یا کوئی غلام اپنے آقا ﷺ کی شان میں مدح سرا ہو تو کوئی بڑی بات نہیں لیکن عظمت کردار اور رفعت اخلاق میں فضیلت اس گواہی کو ہے جو دشمن دیں سردار بشن سنگھ بیکل دانائے سبل ﷺ کے حضور ان الفاظ میں اپنی محبت کے موتی نچھاور کرتے ہیں۔

اے رسول ﷺ پاک اے پیغمبر ﷺ عالی وقار
چشم باطن میں نے دیکھی تجھ ﷺ میں شان کردگار
کیوں نہ ہم بھی اس جہاں کا پیشوا مانیں تجھے ﷺ
کیوں نہ راہ حق میں اپنا رہنما جانیں تجھے ﷺ
دیکھنے کو دے خدا آنکھیں تو پہچانیں تجھے ﷺ
حق کی ہے بیکل صدا شمس الضحیٰ مانیں تجھے ﷺ
گر مسلمانوں کا اک پیغمبر ﷺ اعظم ہے تو ﷺ
اپنی آنکھوں میں بھی اک اوتار سے کب کم ہے تو ﷺ
صفحہ ٢٩

ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است کے باوصف

گلستان ”معرفت اسم محمد ﷺ“ کے سب عنادل قدسی مقال ہیں‘ اور ان کی جدت افکار پہ ساکنان عرش کی طرف سے تحسین کے پھولوں کی بارش...... بستان محمد ﷺ کا اگرچہ ہر پھول بہار آفریں ہے لیکن مفتی محمد زبیر تبسم اور پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نے سانسوں کی تال پر محبت کا نغمہ گایا ہے...... پھول کلیوں سے مرصع نثر کے پیرائے میں محمد ﷺ کے نام کی خوبصورت شاعری کی ہے...... عشاق کے دل ہیں کہ ایک ہی نام کی صد رنگ نکتہ آفرینی پہ جھوم جھوم جاتے ہیں۔ لفظ ہیں کہ مداحوں کی زباں پہ سیپ کے موتیوں کی طرح سجتے چلے جاتے ہیں...... سوچیں ہیں کہ طہارت کے پانی سے وضو کرتی نکھرتی چلی جاتی ہیں...... نظریں ہیں کہ محمد ﷺ کے نام مٹھاس سے اُنہیں انکھیں ہوتی نظر آتی ہیں...... ایسے میں بے ساختہ ذہن کے کسی گوشے میں یہ تخیل سرسراتا ہے ؎

جانے کب تک تجھے اللہ نے شاعر بن کر
شعر نازک کی طرح ذہن میں سوچا ہوگا
جب کہیں دہر کے ایوان مصور میں تجھے ﷺ
گنگناتے ہوئے گاتے ہوئے لکھا ہوگا

عین مدحت ہے محمدﷺ کہنا...... نام ایسا کہ ثنا ہو جیسے

محمد ﷺ یہ وہ نام نامی ہے جس کی تاثیر سے مصائب اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں‘ ان کے اسم گرامی سے منسوب ”معرفت اسم محمد ﷺ“ حسن معانی کا ایک دبستاں ہے...... یہ محض حرفوں کا ارتباط نہیں بلکہ محبت کے پاکیزہ جذبوں کی داستان ہے...... محبوب ﷺ انس و جاں کے حضور‘ مہر و وفا کے عطر بیز پھولوں کا ایک حسین گلدستہ ہے...... اس میں گلہائے رنگارنگ ہیں...... اس میں احساسات کی ایک دنیا آباد ہے...... جذبوں نے اپنی اپنی زباں میں کمال عقیدت کے پھول کھلائے ہیں...... ہر ثنا گر نے حضور ﷺ کے اسم گرامی کے نور کو اپنے دامن میں سمیٹا ہے...... ہر مدحت نگار نے حضور ﷺ کے نام کی بہار سے اپنے اپنے قلم کو مشکبو کیا ہے...... ان کے اسم گرامی کے حسن و جمال کو قرطاس و قلم کی زینت بنایا ہے...... ہر نام لیوا نے بارگاہ محبوب ﷺ میں نذر کرنے کے لیے چاہت کے پھولوں کو ایک خوبصورت مالا میں پرویا ہے...... ان محبوب نظر لوگوں نے ارادت کا ایک ایسا چمن کھلایا ہے جس کی مہک عشاق کے دلوں کو تادم زیست محبت رسول ﷺ کی لطافتوں سے آشنا کرتی رہے گی ؎

صفحہ ٣٠
بہت سے نام لکھے ہیں بڑی محبت سے
سر بیاض ہے سرتاج انبیاء ﷺ تیرا نام
چل چال ایسی کہ عمر خوشی سے کٹے تیری
کر کام ایسے کہ یاد تجھے سب کیا کریں
جس جا پہ تیرا ذکر ہو ہو ذکر خیر ہی
اور نام لیں تو ادب سے تیرا لیا کریں

مسکین حجازی کے الفاظ میں ”فنکار اپنی تخلیق و تدوین کے حوالے سے ہر دور میں زندہ رہتا ہے۔ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی لوگ آپ کو یاد رکھیں تو کچھ ایسی باتیں لکھ جائیں جو پڑھے جانے کے قابل ہوں یا کوئی ایسا کام کر جائیں جو لکھے جانے کے قابل ہو۔“

اور اگر یہ کام حضور ﷺ کی ذات و نسبت کے حوالے سے ہو تو اس کی عظمت کا کیا ٹھکانہ ۔

فرشتوں میں یہ چرچا ہے کہ خامہ سرور عالم
دبیر چرخ لکھتا کہ خود روح الامیں لکھتے
صدا یہ بارگاہ عالم فردوس سے آئی
کہ ہے یہ اور ہی کچھ لکھتے تو ہمیں لکھتے

اتنے میں ایک سیرت نگار کا ستارہ چمکا اور وہ یوں لب کشا ہوا

عجم کی مدح کی‘ عباسیوں کی داستاں لکھی
مجھے چندے مقیم آستانِ غیر ہونا تھا
مگر اب لکھ رہا ہوں سیرتِ پیغمبر عالم
خدا کا شکر ہے یوں خاتمہ بالخیر ہونا تھا

(علامہ شبلی نعمانیؒ)

بلاشبہ کسی بھی صاحب ایماں کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کوئی نہیں کہ اسے غلامانِ مصطفٰے ﷺ اور ثنا خوان محمد ﷺ میں شامل کر لیا جائے......خوش بخت ہیں وہ لوگ جن کے دلوں کے آنگن میں عشق رسول ﷺ کے پھول کھلے ہیں اور ان کی خوشبو ان کے رگ و پے میں بس گئی ہے۔ وہ بڑے لوگ ہیں اور ان سے بڑی دولت پوری کائنات میں نہیں۔

سرکار ﷺ دو عالم کی محبت ہے جو دل میں
اس زینے سے ہر دل میں اتر جائیں گے ہم لوگ
صفحہ ٣١

میرے فاضل دوست اپنی نگارشات کے حوالے سے انہی بیدار بخت لوگوں میں سے ہیں۔ یہ اسی سلسلۃ الذہب کی ایک کڑی ہیں یہ اسی سیپ کے اک موتی ہیں سچ پوچھئے تو ہجر رسول ﷺ میں عمر بھر روتی ہوئی محروم وصال آنکھوں، چشم عقیدت سے بہتے ہوئے آنسوؤں، تڑپتے ہوئے دلوں میں مچلتے ہوئے جذبوں کی قسم، عقیدت ان ہاتھوں کو چومنا چاہتی ہے جو محبوب انس و جاں ﷺ کی مدحت کے ہار پروتے ہیں۔...... محبت اس پیشانی پہ بوسہ دینا چاہتی ہے عشق مصطفےٰ ﷺ جس کی سوچ کا محور ہو...... نگاہ اس رخ روشن کا طواف چاہتی ہے حفظ ناموس رسول ﷺ جس کی بہاروں کا بانکپن ہے۔...... روح ان لبوں کے نثار ہوا چاہتی ہے جن کی مشکبو محرابوں پہ سرور کونین کی ثنا کے پھول کھلتے ہیں

میری تمنا و آرزو ہے کہ یہ صاحب سرور عشق رسول ﷺ کی بزم ہمیشہ سجاتے رہیں۔ توصیف مصطفےٰ ﷺ کے نام پر لعل و گہر کی تلاش ان کی منزل مراد رہے۔ ان کی تحریروں سے نمو پاتی ہوئی خوشبوؤں کا قافلہ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں ہمیشہ باریاب ہوتا رہے۔ حضور ﷺ کا اسم گرامی قلم کی پیشانی سے سینۂ قرطاس پہ منتقل کرنے کی لگن پہ اپنے اس دوست کے لیے میرے دل سے بے اختیار یہ دعا نکلتی ہے۔

قدم قدم پہ ملے اک نئی خوشی تم کو
اندھیری راہ میں مل جائے روشنی تم کو
مری دعا ہے خدا سے کہ کاش لگ جائے
مری حیات کے لمحوں کی زندگی تم کو

دعاؤں کا طالب ملک منیر احمد ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول کلروالی مظفر گڑھ

صفحہ ٣٢

اوصاف محمد ﷺ

محمد متین خالد

صفحہ 33
صفحہ 34
صفحہ 35
صفحہ 36
صفحہ 37
صفحہ 38
صفحہ 39
صفحہ 40
صفحہ ٤١
صفحہ ٤٢
صفحہ ٤٣
صفحہ ٤٤
صفحہ ٤٥
صفحہ ٤٦
صفحہ ٤٧
صفحہ 48
صفحہ 49
صفحہ 50
صفحہ 51
صفحہ 52
صفحہ 53
صفحہ 54
صفحہ 55
صفحہ ٥٦
صفحہ ٥٧
صفحہ ٥٨
صفحہ ٥٩
صفحہ ٦٠
صفحہ ٦١
صفحہ ٦٢
صفحہ ٦٣
صفحہ ٦٤
صفحہ ٦٥
یہ کون طائر سدرہ سے ہم کلام آیا
جہان خاک کو پھر عرش کا سلام آیا
جبیں بھی سجدہ طلب ہے یہ کیا مقام آیا
”زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لئے“
خط جبیں ترا ام الکتاب کی تفسیر
کہاں سے لاؤں ترا مثل اور تیری نظیر
دکھاؤں پیکر الفاظ میں تری تصویر
”مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر
کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لئے“
کہاں وہ پیکر نوری کہاں قبائے غزل
کہاں وہ عرش مکیں اور کہاں نوائے غزل
کہاں وہ جلوۂ معنی کہاں روائے غزل
”بقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لئے“
تھکی ہے فکر رسا اور مدح باقی ہے
قلم ہے آبلہ پا اور مدح باقی ہے
تمام عمر لکھا اور مدح باقی ہے
”ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لئے

(ناصر کاظمی مرحوم)

صفحہ ٦٦

اسم محمد ﷺ

معجزہ عظیم

محمد ریاض الرحیم

جامع المعجزات، صاحب آیات بینات، میرے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ بزم ہستی میں سراپا معجزہ اور مجسم کمال و خوبی بن کر جلوہ افروز ہوئے۔ اپنی تخلیق سے لے کر حیات دنیوی کے آخری لمحوں تک آپ ﷺ کی ہر ادا معجزہ تھی جو شعور و ادراک بشر سے ماوراء ہے اور جس کا زبان و قلم سے احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ آپ ﷺ کا ہر معجزہ بہت ہی روشن، تابندہ تر، عظیم الشان اور فیصلہ کن ہے کیونکہ اس سے آپ ﷺ کے عالم علوی میں تصرف فرمانے کا پتہ چلتا ہے جو آپ ﷺ کے سوا کسی اور دوسرے سے وجود میں نہ آیا۔ ایسے ہی معجزوں میں سے ایک معجزہ آپ ﷺ کے دونوں اسمائے ذاتی احمد ﷺ اور محمد ﷺ بھی ہیں۔ یہ زندۂ جاوید معجزے بعثت کے وقت سے لے کر آج تک اپنے فضائل کی شہادتیں پیش کر رہے ہیں۔ اللہ جل مجدہٗ نے قرآن مجید میں آپ ﷺ کے ان دونوں ناموں کا ذکر فرمایا ہے۔

معجزہ کا لفظ عجز سے بنا ہے جس کے لغوی معنی ہیں عدم قدرت، قاصر ہونا، طاقت نہ رکھنا، عاجز ہو جانا، اصطلاحی معنوں میں معجزہ سے مراد خارقِ عادت ہے یعنی کسی نبی یا رسول کا وہ کام یا فعل جو اللہ جل جلالہ اپنی طاقت اور قدرت سے اپنے رسول کی نصرت و تائید کے لیے ظاہر کرتا ہے۔

صفحہ ٦٧

بعض کے نزدیک معجزات کی دو قسمیں ہیں۔

1- کونیہ یا فانی معجزے

اس میں ظاہری و مادی‘ ارضی و سماوی سب معجزے شامل ہیں۔ معجزات کونیہ وقتی‘ عارضی اور فانی ہوتے ہیں۔

2- کلامیہ یا ابدی معجزے

کلامیہ معجزے ابدی اور آفاقی ہوتے ہیں اور یہ قیامت تک اپنے اثر اور نفوذ سے بنی نوع انسان کی معجزانہ رہنمائی اور ہدایت کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں گے۔ اس کی بہترین مثال اللہ جل شانہ کا آخری کلام ہے۔ اس ناچیز کی رائے میں میرے آقا و مولا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے دونوں ذاتی اسماء مبارکہ بھی کلامیہ معجزوں میں شمار کئے جاسکتے ہیں۔

اللہ عزوجل نے اپنے ہر نبی کو حالات کی مناسبت‘ وقت کے تقاضوں اور نبوت و رسالت کے دائرہ کار کے پیش نظر معجزات عطاء کئے ہیں۔ ایسے معجزے انبیاء کرام علیہم السلام کی صداقت کی ایک اہم نشانی یا علامت ہوتے ہیں جو ان کی حقانیت کی منہ بولتی دلیل کا بھی کام دیتے ہیں۔ جب میرے آقا و مولا نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا عہد میمنت مہد آیا اور آپ ﷺ کی نبوت اور رسالت کا دائرہ کار آفاقی‘ عالمگیر اور قیامت تک کے لیے قرار دیا گیا تو حسب ضرورت معجزات کونیہ اور کلامیہ سے آپ ﷺ کی تائید اور تصدیق کی گئی۔ نبی کریم ﷺ سے پہلے آنے والے انبیاء کرام کے معجزے تو ان کے ساتھ ہی رخصت ہو گئے لیکن قرآن مجید اور آپ ﷺ کے دونوں ذاتی اسماء مبارکہ احمد ﷺ اور محمد ﷺ آپ ﷺ کے ایسے علمی اور کلامی معجزات ہیں جو قیامت تک موجود رہیں گے کیونکہ آپ ﷺ کی نبوت بھی قیامت تک باقی رہنے والی ہے۔

آپ ﷺ کے دونوں اسماء ذاتی احمد ﷺ اور محمد ﷺ اعجاز لفظی‘ تاثیر معنوی‘ فضائل و برکات اور اسرار و رموز کے اعتبار سے بلاشبہ معجزہ عظیم ہیں۔

نام دو طرح کے ہوتے ہیں۔

ذاتی نام وہ ہوتا ہے جو صرف ذات کو بتائے۔ جبکہ صفاتی نام وہ ہوتا ہے جو ذات کے ساتھ ساتھ صفت کی طرف بھی اشارہ کرے۔ مثلاً ایک شخص کا نام عبدالغنی ہے۔ وہ حافظ و قاری بھی ہے تو حافظ

صفحہ 68

وقاری کے الفاظ اس کی صفات کا پتہ دے رہے ہیں۔ جبکہ عبدالغنی نے اس کی ذات کا پتہ دیا۔ بالکل اسی طرح اسم محمد ﷺ اور احمد ﷺ آپ ﷺ کی ذات کا پتا دیتے ہیں اور باقی اسماء گرامی مثلاً حاشر ﷺ‘ عاقب ﷺ‘ رحمۃ للعالمین ﷺ‘ شفیع المذنبین ﷺ وغیر ہم آپ ﷺ کی صفات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

عام لوگوں کے نام رکھتے وقت عموماً نام کے معنوں کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ ماں باپ صرف اور صرف محبت میں اپنے بچوں کے خوب صورت سے خوب صورت نام رکھ لیتے ہیں۔ یہ ہرگز ضروری نہیں ہے کہ اس نام کا اس بچے پر بھی کوئی اثر ہو۔ وہ سیاہ فام بچے کو چاند کہہ کر پکارتے ہیں اور کند ذہن اور غبی بچوں کا نام ذکی رکھ دیتے ہیں۔ مگر یہ سب کچھ بے حقیقت ہوتا ہے۔ جب اس بچے کو اس نام سے پکارا جاتا ہے تو صرف اس کی شخصیت کو اپنی طرف متوجہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس کے نام کی وصفیت کے ذریعے اس کی تعریف وتوصیف مقصود نہیں ہوتی۔ لیکن نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے ذاتی اسماء مبارکہ کی بات اس سے مختلف ہے۔ آپ ﷺ کے دونوں ناموں میں علمیت اور وصفیت ایک ساتھ جمع ہیں (یہاں یہ بات یاد رہے کہ عام لوگوں کے حق میں جن کو ان دونوں ناموں میں سے کسی بھی نام سے منسوب کیا جائے‘ یہ صرف علم محض ہوں گے وصف نہیں)۔

(ابن قیم۔ جلاء الافہام)

نرالی شان

واضح ہو کہ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی بھی نبی کا ایسا نام نہیں پایا جاتا جو اپنے مسمّٰی (نام والے) کے کمالات نبوت کا آئینہ دار ہو۔ مثلاً

آپ کے ماننے والوں میں سے ہیں۔

جل شانہ سے اولاد صالح کے لیے دعا کی تھی۔ آپ علیہ السلام کی دعا کے جواب میں حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔

ہوئے۔

صفحہ 69

یہ نام رکھا گیا۔

جیسا کہ ہم نے اوپر وضاحت کی عام طور سے اشخاص کے نام اور اوصاف باہم کوئی نسبت نہیں رکھتے۔ شاذ و نادر اتفاقی حیثیت سے تناسب بھی مل جاتا ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی انسان کا وہ نام رکھا گیا ہو جو اس کی تمام زندگی کا آئینہ اور اس کی حیات کی تفصیل ہو۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے اوپر دیئے گئے ان تمام ناموں اور ان کے معنوں پر غور کریں۔ ان میں سے ایک بھی اپنے مسمی (نام والے) کی عظمت روحانی یا نبوت کی طرف ذرا سا بھی اشارہ نہیں کرتا۔ مگر میرے حضور ﷺ کے دونوں اسماء ذاتی کی شان ہی نرالی ہے۔

احمد ﷺ اور محمد ﷺ کے الفاظ اتنے پیارے اور اتنے حسین ہیں کہ ان کے سنتے ہی ہر نگاہ فرط تعظیم اور فرط ادب سے جھک جاتی ہے ہر سر خم ہو جاتا ہے اور زبان پر درود و سلام کے زمزمے جاری ہو جاتے ہیں۔ لیکن کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ ان الفاظ کے معنی و مفہوم بھی ان کے ظاہری حسن و جمال کی طرح حسین اور دل آویز ہیں۔ یہاں صرف نام کے لغوی معنوں سے نام والے (مسمی) کی عظمت و برتری کا اظہار ہو رہا ہے۔ محمد ﷺ حمد سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ جس کا عام اور سادہ ترجمہ ہے۔

”وہ ذات جس کی تعریف کی گئی“

یعنی محمد ﷺ ہی وہ مقدس ہستی ہیں جن کی تعریف و توصیف زمین و آسمان کی تمام مخلوق نے کی ہے۔ اور احمد ﷺ کے معنی ہیں۔

”سب سے زیادہ تعریف کرنے والا“

یعنی احمد ﷺ ہی وہ مقدس ہستی ہیں جنہوں نے مخلوق میں سب سے بڑھ کر اللہ جل شانہ کی حمد و ستائش کی۔

رسول اللہ ﷺ کے ان دونوں ناموں کا اصل مادہ ایک ہی ہے۔ ح+م+د یعنی حمد (اللہ تعالیٰ کی تعریف و توصیف اور عظمت کا ذکر) اور یہ عجیب بات ہے کہ یہی آپ ﷺ کی ساری زندگی کا مقصد اور مشن قرار پایا یعنی حمد۔ کسی شخص کے نام سے اس کی زندگی کے مشن کا اظہار ایک بہت ہی نادر الوقوع بات ہے۔ ظاہر ہے جن لوگوں نے آپ ﷺ کی ولادت پر آپ ﷺ کے یہ دونوں نام رکھے

صفحہ 70

ان کے وہم وگمان میں بھی نہ ہوگا کہ چالیس سال بعد یہ نومولود کیا دعویٰ کرنے والا ہے۔ سورۃ الحمد بھی جسے قرآن مجید کا دیباچہ کہنا چاہئے درحقیقت پورے قرآن کا اور اس پیغام کا خلاصہ ہے جو آپ ﷺ نے دنیا کو پہنچایا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ﷺ کے یہ دونوں نام قدرت الہیہ کی طرف سے خود آیت عظیم ہیں‘ ایک معجزہ ہیں کہ ان کا سمیٰ (نام والا) ضرور امام الانبیاء اور تمام کائنات ومافیہا کا سرتاج ہے۔ (قاضی سلیمان سلمان منصور پوریؒ رحمۃ للعالمین ﷺ جلد سوم ص: 178)

یہی وہ خصوصیت ہے جس سے باقی انبیاء کرام علیہم السلام کے اسمائے گرامی ساکت و خاموش ہیں۔

وہ احمد ﷺ بھی ہیں محمد ﷺ بھی

ایک حدیث شریف ہے کہ:

زمین پر میرا نام محمد ﷺ اور آسمان پر احمد ﷺ ہے۔

یعنی یہ کہ اللہ اور اس کے فرشتے آپ ﷺ کو احمد ﷺ کے نام سے جانتے ہیں جب کہ زمین والوں کے لیے آپ کا نام محمد ﷺ ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ درحقیقت عالم ارواح میں آپ کا نام احمد ﷺ تھا۔

صوفیہ کرام کا متفقہ عقیدہ ہے کہ احمد ﷺ اور محمد ﷺ ایک ہی ہستی کی دو جدا جدا حقیقتیں ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ:

”احمد ﷺ رسول اللہ کا پہلا نام ہے۔ آپ ﷺ آسمان والوں میں اسی نام سے معروف ہیں۔ آپ ﷺ کے اس نام مبارک کو اللہ جل مجدہ کا خاص تقرب حاصل ہے اور یہ آپ ﷺ کے دوسرے نام (محمد ﷺ) سے ایک منزل زیادہ اللہ جل مجدہ کے نزدیک اور قریب ہے۔

(مکتوبات ربانی‘ دفتر سوم حصہ دوم‘ مکتوب نمبر: 94)

جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا احمد ﷺ اور محمد ﷺ کا اصل مادہ حمد (ح+م+د) ہے۔ حمد سے محمد ﷺ اسی طرح بنایا گیا ہے۔ جیسے علم سے معلم (امام ابن قیمؒ جلاء الافہام)

(ارباب تصوف کا کہنا ہے کہ ”محمد“ اللہ جل مجدہ کے نام ”احد“ سے مشتق ہے)۔

حمد کے معنی تعریف کرنے اور ثناء بیان کرنے کے ہیں۔ خواہ یہ تعریف کسی ظاہری خوبی مثلاً ظاہری حسن و جمال کی وجہ سے کی جائے یا کسی باطنی وصف مثلاً کسی ہنرمندی یا کسی فن میں مہارت کی بنا

صفحہ 71

پر۔

حمد اصل میں کسی کے اخلاق حمیدہ اور اوصاف پسندیدہ اور کمالات اصلیہ اور فضائل حقیقیہ اور محاسن واقعیہ کو محبت اور عظمت کے ساتھ بیان کرنے کو کہتے ہیں۔

لفظ محمد تحمید سے مشتق ہے۔ جو باب تفعیل کا مصدر ہے۔ جس کو وضع ہی مبالغہ اور تکرار کے لیے کیا گیا ہے (مولانا ادریس کاندھلوی ”سیرۃ المصطفیٰ“ جلد اوّل‘ ص: 63)۔ لہٰذا لفظ محمد کے جو تحمید کا اسم مفعول ہے معنی ہوں گے وہ قابل تعریف ہستی جس کے واقعی اور اصلی کمالات اور محاسن کو محبت اور عظمت کے ساتھ کثرت سے بار بار بیان کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں تحمید حمد سے زیادہ بلیغ ہے (مدارج)۔ یعنی محمد وہ ہے جس کی اچھی خصلتیں بہت ہوں۔ قاموس میں ہے کہ تحمید کے معنی ہیں اللہ جل شانہ کی بار بار تعریف وتوصیف (حمد) کرنا۔ اور محمد کو اسی سے مشتق کیا (نکالا) گیا ہے۔ گویا کہ وہ بار بار حمد (تعریف) کئے گئے۔ لہٰذا محمد کے (جو تحمید کا اسم مفعول ہے) یہ معنی ہوں گے کہ وہ قابل تعریف ذات جس کے واقعی اور اصلی کمالات اور محاسن کو محبت اور عظمت کے ساتھ کثرت سے بار بار بیان کیا جائے۔ جس کی بار بار تعریف کی جائے۔ چونکہ سرور کائنات ﷺ کی تعریف بار بار اور ہر بار نئے مدارج ومناقب سے ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی اس لیے آپ ﷺ کا نام نامی اسم گرامی محمد (ﷺ) رکھا گیا۔

میرے حضور احمد ﷺ بھی ہیں۔ احمد کے معنی ہیں حمد (تعریف) کرنے والا۔ قواعد کی رو سے یہ لفظ محمود یا حمید کا اسم تفضیل ہے۔ بمعنی زیادہ یا سب سے زیادہ قابل تعریف اور یا حامد کا، جس کا احتمال کم ہے، بمعنی اللہ جل مجدہ کی زیادہ یا سب سے زیادہ تعریف کرنے والے (قاضی عیاض، کتاب الشفاء، بتعریف حقوق المصطفیٰ)

بعض کے نزدیک احمد اسم مفعول کے معنی میں ہے اور بعض کے نزدیک اسم فاعل کے معنی میں ۔ اگر اسم مفعول کے معنی لیے جائیں تو احمد کے معنی ہوں گے ”سب سے زیادہ قابل تعریف“ تو بے شک مخلوق میں سے کوئی بھی آپ ﷺ سے زیادہ قابل تعریف نہیں ہے اور نہ ہی آپ ﷺ سے بڑھ کر کوئی سراہا گیا ہے۔ اور اگر اسم فاعل کے معنی میں لیا جائے تو احمد کے معنی ہوں گے کہ مخلوق میں اللہ جل شانہ کی سب سے زیادہ حمد وستائش کرنے والا۔ یہ بھی نہایت درست اور صحیح ہے۔ دنیا میں آپ ﷺ اور آپکی امت نے اللہ جل شانہ کی وہ حمد وثنا کی جو کسی نے آج تک نہیں کی۔ اسی وجہ سے انبیاء سابقین نے آپ ﷺ کے وجود باجود کی بشارت لفظ احمد ﷺ کے ساتھ اور آپ ﷺ کی امت کی شہادت حمادین کے لقب سے دی۔

احمد ﷺ وہ ہیں جنہوں نے اپنے خالق، اپنے مالک کی حمد وثناء سب سے بڑھ کر اور سب

صفحہ 72

سے زیادہ عرصہ کی ہے۔ آپ ﷺ باعث تخلیق کائنات ہیں اور اپنے تخلیق نور اور روح محمدی ﷺ کی پیدائش کے وقت ہی سے اس کی حمد وثناء کرنے والے ہیں اور اپنے رازق اپنے ہادی اپنے معطی کی تعریف وتکریم اور حمد ونعت کا ایک معیار قائم کرنے والے ہیں۔

آپ کے یہ دونوں اسم مبارک ببانگ دہل اعلان کر رہے ہیں کہ تاجدار مدینہ سرور سینہ ﷺ کے اوصاف محاسن مناقب ومحامد فضائل وخصائل وشمائل اتنے کثیر ہیں جن کی نہ کوئی حد ہے نہ نہایت۔ یہ احصاء وشمار کے پیمانوں سے بہت ہی وراء ہیں۔ دفتروں کے دفتر ختم ہو گئے۔ عمریں انتہاء کو پہنچ گئیں لیکن تاجدار کائنات ﷺ کے ایک وصف کی بھی توضیح کامل تشریح اکمل نہ ہوسکی۔

شمار کرنے چلیں اس کی خوبیوں کا اگر
تو ساتھ چھوڑ دیں تھک تھک کے نیل سنکھ پدم

محمد ﷺ اور احمد ﷺ میں فرق

شیخ عبدالحق محدث دہلوی مدارج النبوت میں لکھتے ہیں کہ: آپ ﷺ کے دونوں اسمائے مبارک یعنی محمد ﷺ اور احمد ﷺ حقیقت میں ایک اسم ہے جو حمد سے مشتق اور مبالغہ کے معنی میں مقید ہے۔ پہلا نام باعتبار کیفیت ہے جب کہ دوسرا نام باعتبار کمیت ہے۔ آپ ﷺ حق تعالیٰ کی حمد افضل محامد سے کرتے ہیں اور دنیا و آخرت میں کثرت محامد سے آپ ﷺ کی حمد و ستائش کی گئی۔ آپ ﷺ احمد الحامدین (حمد کرنے والوں میں سب سے زیادہ حمد کرنے والے) اور احمد المحمودین (تمام تعریف کئے ہوؤں میں سب سے زیادہ تعریف کئے گئے) وافضل من حمد (جو بھی حمد کرے ان سب سے برتر حمد کرنے والے) ہیں۔ (جلد اوّل باب ہفتم، صفحہ: 460)

آپ ﷺ نے اللہ کی اتنی حمد اور تعریف کی کہ آپ ﷺ احمد ﷺ ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی اتنی حمد اور تعریف کی کہ آپ محمد ﷺ ہو گئے۔

محمد ﷺ کے معنی ہیں جس کی حمد (تعریف) خود اللہ تعالیٰ کرے۔ قرآن کریم میں جا بجا نبی کریم ﷺ کی تعریف آئی ہے۔ احمد ﷺ کے معنی ہیں اللہ جل شانہ کی حمد (تعریف) کرنے والا۔ احادیث شریفہ میں ہزاروں جگہ اللہ جل مجدہ کی تعریف وتوصیف آئی ہے۔

محمد اور احمد کے معنی میں الگ الگ فرق یہ ہے کہ محمد وہ ہے جس کی حمد ونعت (تعریف) سب زمین اور آسمان والوں نے سب سے بڑھ کر کی ہو۔ اور احمد وہ ہے جس نے رب السمٰوات والارض کی حمد وثناء (تعریف) سارے اہل الارض والسموات سے بڑھ کر کی ہو (ﷺ)

صفحہ 73

محمد ﷺ وہ جو رب العزت کے اسم ذات اور اسمائے صفات کا ذکر کثرت سے کرے اور احمد ﷺ وہ جو ہر نام کے معنی اور مطلب پر غور کرے۔ یعنی حمد (تعریف) کی مقدار کا تعلق ”محمد“ ﷺ سے ہے اور معیار کا تعلق ”احمد“ ﷺ سے۔

اس بناء پر محمد ﷺ واحمد ﷺ میں فرق یہ رہے گا کہ محمد ﷺ وہ ہے جس کی تعریف اپنے اوصاف جمیلہ کی وجہ سے سب سے زیادہ کی جائے اور احمد ﷺ وہ ہے جس کی تعریف سب سے بہتر اور عمدہ ہو۔

دونوں ناموں کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ اپنے خلق وخصائل کی وجہ سے اس کے مستحق ہیں کہ آپ ﷺ کی سب سے زیادہ اور سب سے کامل تعریف کی جائے۔ اس تحقیق کے بعد ان دونوں کے مفہوموں کے لحاظ سے سطح عالم پر نظر ڈالئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ اسماء جتنی حقیقت اور جتنی صداقت کے ساتھ آپ ﷺ کی ذات مبارک پر چسپاں ہیں اتنے کسی اور پر نہیں۔ خالق سے مخلوق تک، انبیاء (علیہم السلام) سے لے کر جن اور فرشتوں تک، حیوانات سے لے کر جمادات تک، غرض ہر ذی روح اور غیر ذی روح سب ہی نے آپ ﷺ کی تعریفیں کی ہیں۔ اور آج بھی اربوں انسانوں کی زبانیں دن میں نہ معلوم کتنی بار آپ ﷺ کی تعریف کے لیے متحرک رہتی ہیں۔ اس لیے محمد ﷺ اور احمد ﷺ نام کی مستحق جتنی کہ آپ ﷺ کی ذات ہے اتنی کسی اور کی نہیں ہو سکتی۔ اگر احمد ﷺ کو اسم فاعل کے معنی میں لیجئے تو بھی اس اسم مبارک کی سب سے زیادہ مستحق آپ ﷺ ہی کی ذات پاک ہے۔ کیونکہ جس قدر اللہ جل مجدہ کی تعریف آپ ﷺ نے کی ہے اتنی کسی بشر نے نہیں کی اور اسی طرح آپ ﷺ نے اپنی امت کو بھی موقع بہ موقع اللہ جل مجدہ کی اتنی حمد سکھائی کہ کتب مقدسہ میں اس امت کا لقب ہی حمادون پڑ گیا یعنی کہ اللہ عزاسمہ کی بہت زیادہ تعریف کرنے والی امت۔

آپ پہلے احمد ﷺ پھر محمد ﷺ ہوئے

قاضی عیاض اور حافظ سہیلی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ محمد ﷺ اس کو کہا جائے گا جس کی بار بار تعریف کی جائے اور احمد ﷺ وہ ہے جو سب سے زیادہ تعریف کرنے والا ہو۔ آنحضرت ﷺ کے یہ دونوں اسماء واقع کے مطابق ہیں۔ یعنی آپ احمد ﷺ بھی ہیں اور محمد ﷺ بھی۔ یعنی وجود کے حساب سے بھی پہلے آپ احمد ﷺ ہیں اور بعد میں محمد ﷺ ۔ بلکہ احمد ﷺ ہونے کی وجہ سے ہی آپ محمد ﷺ ہوئے۔ آپ ﷺ نے پہلے اللہ عزاسمہ کی تعریف کی اس لیے آپ پہلے احمد ﷺ ہوئے۔ نبوت سے سرفرازی کے بعد پھر مخلوق نے آپ ﷺ کی تعریف کی اس لیے بعد میں آپ محمد ﷺ ہوگئے۔ محشر میں

صفحہ 74

بھی پہلے آپ ﷺ اللہ جل شانہ کی تعریف کریں گے اس لیے احمد ﷺ پہلے ہوں گے۔ پھر شفاعت کے بعد مخلوق آپ ﷺ کی تعریف کرے گی اس لیے بعد میں محمد ﷺ ہوں گے۔ غرض ازل سے ابد تک کی تاریخ بتاتی ہے کہ شان احمدی ﷺ شان محمد ﷺ پر مقدم ہے۔ اسی وجہ سے کتب سابقہ میں آپ ﷺ کی بشارت اسم احمد ﷺ سے مذکور ہے اور جب آپ ﷺ عالم وجود میں تشریف لے آئے تو محمد ﷺ کے نام سے پکارے گئے۔ (بحوالہ اسماء النبی ﷺ، شیخ الحدیث حضرت مولانا بدر عالم صاحب مہاجر مدنی)

عجیب نکتہ

شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ یہاں ایک اور عجیب نکتہ لکھ گئے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ حمد ہمیشہ آخر میں ہوتی ہے۔ مثلاً جب ہم کھا پی کر فارغ ہو لیتے ہیں تو اللہ جل شانہ کی حمد کرتے ہیں۔ جب کام ختم ہو جاتا ہے تو حمد کرتے ہیں۔ جب سفر ختم کر کے واپس آتے ہیں تو حمد کرتے ہیں۔ اسی طرح جب دنیا کا طویل و عریض سفر ختم کر کے جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ جل شانہ کی حمد کریں گے۔ اسی دستور کے مطابق مناسب تھا کہ جب سلسلہ رسالت ختم ہو تو یہاں بھی آخر میں اللہ جل شانہ کی حمد ہو۔ اس لیے جو نبی سب سے آخر میں آئے ان کا نام محمد ﷺ رکھا گیا۔

آپ ﷺ کا نام محمد ﷺ کب رکھا گیا

تخلیق کے عمل سے پہلے سوائے اللہ جل مجدہ کی ذات کے اور کچھ موجود نہ تھا۔ نہ مکان تھا نہ مکین، نہ روح تھی نہ مادہ، نہ وقت تھا نہ زمانہ، نہ عالم تھا نہ جہاں، نہ حالت تھی نہ کیفیت، نہ سمت تھی نہ جہت، بس اللہ تھا اور کچھ بھی نہ تھا۔ پھر کیا ہوا؟ پھر اس نے چاہا کہ اپنی خالقیت کا مظاہرہ کرے۔ اس کے ارادہ فرماتے ہی تخلیق عمل میں آگئی اور عدم کو ظہور مل گیا۔ اس نے کن فرمایا اور نیست کو ہست کی صورت مل گئی۔

بے شک بشریت کی ابتدا سرکار سیدنا آدم علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہوئی مگر سرور کائنات، فخر موجودات، خلاصہ کائنات، احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ کی تخلیق سیدنا آدم علیہ السلام سے بہت پہلے کی ہے۔

میرے آقا و سردار کا نام محمد ﷺ کب رکھا گیا؟ اس سلسلے میں بہت سی روایتیں ملتی ہیں۔ گو تمام راوی اس بات پر متفق ہیں کہ آپ ﷺ کا یہ نام حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے بہت پہلے رکھا گیا۔ لیکن اس میں اختلاف ہے کہ کتنا پہلے۔ ان روایات کے مطابق آپ ﷺ کا یہ نام تخلیق آدم

صفحہ 75

علیہ السلام سے کم سے کم دو ہزار سال پہلے اور زیادہ سے زیادہ نو لاکھ سال پہلے رکھا گیا۔ لیکن محدثین نے ایک ایسی حدیث شریف کا ذکر بھی کیا ہے جس سے آپ ﷺ کی ذات بابرکات کا نو لاکھ سال سے بھی پہلے موجود ہونا ثابت ہوتا ہے۔

مشہور و معروف صحابی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے ایک بار حضرت جبرئیل امین علیہ السلام سے پوچھا کہ تمہاری عمر کتنی ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں بہت زیادہ تفصیل سے اپنی عمر کا اندازہ نہیں لگا سکتا البتہ اتنا جانتا ہوں کہ چوتھے حجاب میں ایک ستارہ تھا۔ وہ ستارہ ہر ستر ہزار برس بعد ایک مرتبہ طلوع ہوتا تھا، میں نے اس ستارے کو بہتر ہزار بار طلوع ہوتا دیکھا ہے۔ یہ سن کر حضور پرنور ﷺ نے فرمایا کہ ”اے جبرئیل مجھے اپنے رب کریم جل جلالہ کی عزت کی قسم وہ ستارہ میں ہی تھا“ (مفہوم)۔ (سیرت حلبیہ جلد اوّل‘ ص:49‘ امام یوسف بن اسماعیل نبھانی‘ جواہر البحار‘ ص: 776‘ امام بخاری‘ تاریخ کبیر‘ تفسیر روح البیان‘ جلد اوّل‘ ص: 974)

تھا نور محمد ہی سر عرش معلیٰ
جبرئیل کو صد بار جو تارا نظر آیا

حساب کے عام قاعدہ کی رو سے اگر ہم ستر ہزار کو بہتر ہزار سے ضرب دیں تو حاصل جواب آئے گا، پانچ ارب چالیس کروڑ سال۔ اللہ جل مجدہ نے قرآن شریف میں اپنے ایک دن کو ہمارے ایک ہزار سال کے برابر قرار دیا ہے۔ (سورہ الحج، آیت: 47) اگر اس حدیث مبارکہ میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے بتائے ہوئے سالوں کا اس تناسب سے حساب لگائیں تو نور محمدی (ﷺ) کی تخلیق اس وقت ہوئی جہاں تک ہمارا کوئی حساب، کوئی گنتی، کوئی عدد نہیں پہنچ سکتا۔

تخلیق کائنات سے پہلے اسم محمد ﷺ

اس حدیث شریف سے پتہ چلتا ہے کہ سید الابرار نبی آخر الزماں ﷺ کا نام محمد ﷺ اس وقت رکھا گیا جب کچھ نہ تھا، نہ آسمان تھا نہ زمین تھی، نہ عرش تھا نہ کرسی تھی، نہ جہنم تھا نہ جنت تھی، نہ قلم تھا نہ لوح تھی، نہ سورج تھا نہ روشنی تھی، نہ چاند تھا نہ چاندنی تھی، نہ ستارے تھے نہ ان کی چمک تھی، نہ دن تھا نہ رات تھی، نہ صبح تھی نہ شام تھی، نہ فضا تھی نہ ہوا تھی، نہ ابر تھا نہ گھٹا تھی، نہ زمانہ تھا نہ مکان تھا، نہ حسن تھا نہ جمال تھا، نہ گل تھے نہ بوٹے تھے، نہ شجر تھے نہ حجر تھے، نہ گرمی تھی نہ سردی تھی، نہ نسیم تھی نہ شمیم تھی، نہ بہار تھی نہ خزاں تھی، نہ بلبل تھی نہ چہک تھی، نہ سبزہ تھا نہ مہک تھی، نہ ڈالی تھی نہ لچک تھی، نہ ہیرے تھے نہ جواہر، نہ زر

صفحہ ٧٦

تھے نہ خزینے نہ دولت تھی نہ دفینے نہ بحر تھے نہ سفینے نہ دریا تھا نہ کنارہ نہ موج تھی نہ حباب نہ صحرا تھے نہ گلشن نہ ہوا تھی نہ خاک نہ پانی تھا نہ آگ نہ طفلی تھی نہ شباب نہ نشیب تھا نہ فراز نہ ثریٰ تھا نہ ثریا نہ جبرئیل تھے نہ میکائل نہ اسرافیل تھے نہ عزرائیل نہ ملائکہ تھے نہ کروبیں نہ عقل تھی نہ حواس نہ آدم تھے نہ آدمیت نہ انسان تھے نہ انسانیت نہ حیوان تھے نہ حیوانیت نہ یہ چہل پہل تھی نہ یہ ریل پیل نہ دیوانگی تھی نہ شعور نہ ہجر تھا نہ وصال نہ اقرار تھا نہ انکار نہ آہ تھی نہ فریاد نہ رونا تھا نہ ہنسنا نہ جاگنا تھا نہ سونا نہ جذبہ تھا نہ احساس نہ جوانی تھی نہ بڑھاپا نہ ہوش تھا نہ خرد غرض یہ کہ کچھ بھی نہ تھا سب سے پہلے اللہ جل جلالہ نے آپ ﷺ کے نور کو پیدا فرما کر آپ ﷺ کا نام محمد ﷺ رکھا یہ نور کیا چمکا گویا زندگی میں بہار آ گئی سلسلہ چل نکلا۔ چراغ سے چراغ جلنے لگے دیکھتے ہی دیکھتے کائنات وجود میں آ گئی اور سارا جہاں جگمگانے لگا۔

معجزہ عظیم

صاحب قاموس مجدالدین فیروز آبادی لکھتے ہیں کہ ”منجملہ دیگر کمالات نبوت اور معجزات رسالت کے ایک معجزہ گرامی رسول کریم ﷺ کا نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ بھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ محمد ﷺ وہ ہیں جن کی تعریف کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو۔ تعریف کے بعد تعریف اور توصیف پر توصیف ہوتی رہے۔ زمانہ جوں جوں آگے بڑھتا جاتا ہے اور انسان اپنی سعی اور کوشش کے مطابق جس قدر ترقی کرتا جاتا ہے محض اعتقاداً نہیں بلکہ واقعتاً رسول عربی ﷺ کے کمالات پر سے پردہ اٹھتا جاتا ہے۔ یورپ کے علماء اور فضلاء کی اکثریت جیسے جیسے تاریخ اسلام کے ماتحت اپنا مطالعہ جس قدر گہرا کرتی جاتی ہے انہیں اسی راہ کی طرف آنا پڑتا ہے اور زبان اعتراف کھولنی پڑتی ہے کہ بلاشبہ رسول عربی ﷺ کے قانون دنیا کی ضرورتوں کے کفیل اور آپ ﷺ کی زندگی عالم انسانی کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔

اہل ایشیاء کا رجحان طبعی جتنا روحانیت اور سادگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسی قدر وہ سرکار دو عالم ﷺ کے قریب تر ہوتے جارہے ہیں۔ یہ دنیا کا واحد معجزہ ہے کہ چودہ سو برس سے بھی پہلے سے نام مبارک ان آنے والے حالات کا پتہ دے رہا ہے کہ مستقبل میں دنیا کی عمر جتنی دراز ہوگی۔ اسے کمالات نبوت محمدی ﷺ کے اعتراف کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ ہوگا۔“ (تفسیر روح البیان، جلد ہفتم، ص:220، منتہی الادب، جلد اوّل، ص:273، معالم التنزیل، جلد اوّل، ص:358)

مجموعہ خوبی

صاحب المفردات ابوالقاسم حسین بن الفضل راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ: ”مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ لفظ محمد کے معنی مجموعہ خوبی کے ہیں۔ قدرت نے ہر چیز کو

صفحہ ٧٧

پیدا کرنے کے لیے ایک معیار مقرر کیا ہے۔ مخلوقات کی ہر نوع‘ ہر قسم کا ایک درجہ کمال ہے کہ جس کے آگے اس کے قدم نہیں بڑھتے۔ حیوانات‘ نباتات اور جمادات تک میں اس کے ثبوت مل سکتے ہیں۔ صورتیں ایک ہیں‘ شکلیں متحد ہیں‘ اوصاف مختلف ہیں۔ لیکن ان مختلف اوصاف کی ایک انتہا ہے جسے جنس اعلیٰ سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ جس کے آگے کوئی درجہ نہیں۔ ہر نوع میں جنس اعلیٰ کو جس پر اوصاف‘ جامعیت کے ساتھ جا کر ختم ہوتے ہیں ہم مقصود فطرت اور نقطۂ تخلیق کہہ سکتے ہیں۔

آج انسان کی شکل و شباہت اس کے اعضاء و جوارح‘ اس کا ڈھانچہ‘ جسمانی ساخت غرضیکہ سب چیزیں ٹھیک وہی ہیں جو دنیا کے پہلے انسان کی تھیں۔ لیکن دماغی کیفیتوں کا حال ان سے جدا گانہ ہے۔ ان میں برابر ارتقاء اور اختلاف جاری ہے۔ اب اگر غور کیا جائے تو ارتقائے دماغی کی آخری سرحد اگر کوئی ہے تو وہ ذات قدسی صفات آقائے نامدار رسول عربی ﷺ کی ہے۔‘‘ (مفردات‘ صفحہ: 385‘ دیکھو المنجد ص: 103‘ الصراح‘ جلد اوّل‘ ص: 237‘ برہان الدین الحلبی‘ السیرۃ الحلبیہ‘ جلد اوّل‘ ص: 89)

مخلوق کامل

جیسا کہ اوپر آچکا ہے احمد ﷺ اور محمد ﷺ کا اصل مادہ حمد (ح+م+د) ہے۔ حمد سے محمد ﷺ اس طرح بنایا گیا ہے جیسے علم سے معلم۔ (امام ابن قیم‘ جلاء الافہام)

محاورات عرب سے حمد کے یہ بھی معنی ملتے ہیں کہ کسی کام کو اپنی قدرت‘ اپنی طاقت کے مطابق انجام دینا۔ ان معنوں کو سامنے رکھتے ہوئے بلا تأمل کہا جاسکتا ہے کہ لفظ محمد ﷺ کے معنی مخلوق کامل کے بھی ہیں۔ مدنی آقا ﷺ مخلوق کامل ہیں۔

محقق عظیم سیّد محمود آلوسی‘ قطب الدین رازی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:

’’وہ سارے فضائل و کمالات جو پروردگار عالم نے متفرق طور پر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک سارے انبیاء کرام اور رسل عظام علیہم السلام کو علیحدہ علیحدہ عطاء کئے تھے‘ وہ یک جا کر کے دامن مصطفےٰ میں ڈال دیئے۔‘‘ (روح المعانی‘ جلد ہفتم‘ ص: 217‘ یوسف بن اسمعیل نبہانی‘ جواہر البحار‘ جلد سؤم‘ ص: 345 وجلد چہارم‘ ص: 130‘ الکبیر جلد 13 ص: 71)

کسی نے کیا خوب کہا ہے۔

حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری
آں چہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
صفحہ ٧٨

قضاء الحق

حمد کے ایک معنی قضاء الحق کے بھی آئے ہیں، اس صورت میں لفظ محمد کے ایک معنی یہ بھی ہوئے کہ وہ جس کا پورا پورا حق ادا کر دیا گیا ہو۔ یعنی قدرت کی جانب سے نوع انسانی کو جس سرحد کمال تک پہنچانا مقصود تھا اور انسان کا اپنے خالق پر جو حق تخلیق مقرر تھا وہ آپ ﷺ پر پورا کر دیا گیا۔ علم وعمل، خلق وخلق، دماغ اور کردار، ارتقائے ذہنی وارتقائے عملی یہ سب چیزیں انسان کا خلاصہ اور اس کی تخلیق کائنات کا لب لباب ہیں۔ عمل علم پر، کردار دماغ پر، خلق خلق پر قائم ہے۔ ایک کا کمال دوسرے کے کمال کی علامت اور ایک کا نقصان دوسرے کے نقصان کی نشانی ہے۔

تاریخی طور پر یہ امر ثابت ہے کہ کردار اور اخلاق کی جملہ شاخوں کی پختگی اور تکمیل کا جو نمونہ رسول عربی ﷺ کی ذات مبارک نے پیش کیا۔ عالم انسانی اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ کے دشمن بھی اس کا اقرار کرتے تھے۔ خود اللہ جل شانہ آپ ﷺ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:

اِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِيْمٍ

(سورۃ القلم، آیت: 4)

مفہوم: بے شک آپ ﷺ بلند اخلاق ہیں۔

اور خود آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ:

"میں محاسن اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔"

(موطا امام مالک)

خاتم النبیین ﷺ

ایک اور عجیب امر یہ ہے کہ یہ نام مبارک آپ ﷺ کے نہ صرف نبی ہونے بلکہ خاتم النبیین ﷺ ہونے کی بھی دلیل ہے۔ لفظ محمد کے معنی مجموعہ خوبی اور مخلوق کامل کے جو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں اس کے آگے کوئی نقطہ ہے ہی نہیں۔ اسی حالت پر کمال کلی کی انتہا اور معارف کا اختتام ہے۔ جس کے بعد نہ کسی نبی کی حاجت اور نہ ہی کسی نبی کا وجود ممکن ہے۔ مستشرقین یورپ میں سے جن لوگوں نے آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا ہے۔ اعتراض کی ہزار کوششوں کے باوجود اعتراف کمال پر مجبور ہوئے۔ سر ولیم میور اور مارگولیث جیسے سخت متعصب لوگوں کو بھی کھلے اور چھپے الفاظ میں اقرار کرنا پڑا کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی تعلیم انتہائی سچائی اور حقیقی صداقت پر مبنی ہے۔ عہد نبوت میں بھی اس قسم کے واقعات پیش آ چکے ہیں کہ بعض سخت ترین منکرین ایک نگاہ اقدس کی تاب نہ لا سکے۔ نامور یہودی عالم عبداللہ بن سلام کا اسلام لانے کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے حالات

صفحہ ٧٩

اور واقعات اپنے اندر کچھ ایسی کشش رکھتے ہیں کہ مخالف سے مخالف اور سخت سے سخت دشمن بھی اعتراف حقیقت پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اسی خاصیت اور بے اختیارانہ کشش کو نام مبارک میں بیان کیا گیا ہے۔

آپ ﷺ کا جزو جزو قابل تعریف ہے

لفظ محمد ﷺ کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ وہ جس کا جزو جزو قابل تعریف ہو۔ اصلاح نفس سے لے کر تدبیر منزل تک زندگی کی وہ کون سی شاخ ہے جس کا عملی نمونہ ذات قدسی صفات محمد رسول ﷺ نے پیش نہ کر دیا ہو۔ انبیاء علیہم السلام کا تمام تر سلسلہ دنیا میں ایک خاص ترتیب اور نظام کے ساتھ آیا اور ہر ایک اپنے اندر کوئی نہ کوئی کمال لایا۔ یہ بابرکت سلسلہ جب اپنی حد و نہایت کو پہنچا تو ضرورت ہوئی کہ عالم انسانی کے سامنے ایک ایسا نمونہ کامل پیش کیا جائے جو ان تمام صفات اور فضائل کا آئینہ ہو جس کی زندگی سامنے رکھنے سے موسیٰ علیہ السلام کی مستی، عیسیٰ علیہ السلام کا اخلاق اور ابراہیم علیہ السلام کی محبت بیک وقت نظر کے سامنے آجائے اور پھر ان تمام اوصاف میں وہ اپنے متقدمین (پہلے آنے والوں) سے بالاتر بھی ہو۔

خوش تدبیر

خوش تدبیری اور حسن اسلوب کے موقع پر بھی حمد کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح لفظ محمد ﷺ کے ایک معنی یہ بھی قرار دیئے جاسکتے ہیں کہ وہ جس کے ہاتھوں خوش تدبیری نے ترقی کی۔ آپ ﷺ کی تعلیمات، آپ ﷺ کا لایا ہوا دین اللہ جل شانہ کی خاص مرضی اور خاص تدبیر سے جس سرعت سے اور بغیر کسی خاص جدوجہد کے عالم میں پھیل گیا، اس کی رفتار ترقی پر دنیا آج بھی انگشت بدنداں ہے۔

ایک عجیب پیشین گوئی

غور کریں کہ آپ ﷺ کے اسم مبارک کے لغوی معنی میں ایک پیشین گوئی بھی شامل ہے اور عالم الغیب والشہادۃ کی جانب سے جملہ اہل عالم پر یہ راز آشکارا کیا گیا ہے کہ اس اسم کے مسمّیٰ کی مدح و ثناء دنیا میں سب سے بڑھ کر سب سے زیادہ توالی و تواتر کے ساتھ کی جائے گی۔

ہے۔

صفحہ ٨٠

ہے ۔

پر رہنما ہے۔

بیشک وہ محمد ﷺ ہیں۔ اسم بھی محمد ﷺ ہے اور مسمیٰ بھی محمد ﷺ ہے۔ (قاضی سلیمان سلمان منصور پوریؒ رحمۃ للعالمین ﷺ جلد سوم، ص:178)

اسم محمد ﷺ سے دلیل توحید

اسلام کے رکن اوّل یعنی شہادت توحید و رسالت کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ عقیدہ توحید یعنی لا اله الا الله پر مشتمل ہے۔ دوسرا حصہ شہادت رسالت یعنی محمداً عبدہ و رسولہ سے عبارت ہے۔ ان دونوں حصوں کو بظاہر الگ الگ خیال کیا جاتا ہے۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ شہادت توحید ایک دعویٰ ہے اور شہادت رسالت محمدی ﷺ اس دعوے کا ثبوت اور اس کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے واحد و یکتا ہونے کا یقینی اور حتمی علم صرف حضور ﷺ کی ذات سے اور آپ ﷺ کی شہادت سے کائنات کو حاصل ہوا ہے۔

حضور ﷺ کا نہ کوئی ظاہری حسن و جمال میں شریک و ہمتا اور نہ کوئی باطنی حسن و جمال میں ہمسر ہے۔ انہی گونا گوں خصوصیات اور کمالات کی بنا پر اللہ جل شانہ کے بعد زمین و آسمان میں سب سے زیادہ تعریف و توصیف میرے آقا ﷺ کے حصے میں آئی ہے۔ اس لیے آپ کا نام محمد رکھا گیا (ﷺ)۔ یہی وجہ ہے کہ کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت میں میرے آقا ﷺ کی محمدیت کو اللہ رب العزت نے اپنی توحید و یکتائی کی واحد دلیل ٹھہرایا اور ارشاد فرمایا کہ میں واحد و یکتا ہوں اس لیے کہ میرا محبوب ﷺ اپنے حسن و جمال اور سیرت و کردار میں یکتا ہے۔ اور فرمایا جن لوگوں کو میری وحدانیت کی شہادت درکار ہو وہ میرے محبوب ﷺ کو دیکھ لیں، اُس کی سیرت طیبہ اور محاسن عالیہ کا مطالعہ کرلیں، انہیں دنیا میں توحید کا سب سے بڑا ثبوت اور سب سے بڑی دلیل ہاتھ آجائے گی۔

اہل خاندان کے اسماء کی عظمت

خداوند عالم نے اپنے محبوب کے لیے جو نام پسند فرمائے تھے اور بقول حضرت حسان رضی

صفحہ ٨١

اللہ تعالیٰ عنہ کے کہ ”اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کا اسم گرامی اپنے نام پاک سے مشتق کیا ہے پس وہ عرش والا محمود اور یہ محمد ﷺ ہیں“ ان کی خبر اللہ جل شانہ نہ صرف یہ کہ انبیاء ورسل کو دیتا رہا بلکہ آپ ﷺ کے اجداد کو بھی اس کی خبر پہنچادی گئی تھی۔ اسی لیے ان دونوں ناموں کی حفاظت بھی ہوتی رہی کہ کسی اور کو ان ناموں کے رکھنے کی جرات نہ ہو۔ یہی نہیں بلکہ ان ناموں کے صدقے میں یہاں تک اہتمام ہوا کہ آپ ﷺ کے قبیلے اور آباؤ اجداد کے ناموں میں بھی کوئی ایسا نام نہ آنے پائے جو کفر و شرک کی گندگی کا نشان یا علامت لیے ہوئے ہو۔ عرب کی فضا میں شرک اور بت پرستی کھلی ہوئی تھی۔ وہ اپنی اولادوں یا قبیلوں کے جو نام رکھتے وہ یا تو مشرکانہ ہوتے یا مکروہ اشیاء پر رکھے جاتے یا پھر بے معنی ہوتے۔ جیسے عبدالدار (آستانہ کا غلام)‘ عبدوُد (ودّ دیوتا کا غلام)‘ حرب (لڑائی)‘ جہل (جہالت)‘ عبدالشمس (سورج کا غلام)‘ عبدالعزیٰ (عزیٰ دیوی کا غلام)‘ حزن (غم)‘ شداد (تندخو) وغیرہ۔ عورتوں کے نام خنساء (چپٹی ناک والی)‘ عاصیہ (نافرمان)‘ رباب (باجہ)‘ عفراء (مٹی میں لتھڑی ہوئی) وغیرہ ہوتے۔

جبکہ قبیلوں کے نام بنواسد (شیر والے)‘ بنوضبہ (گوہ والے)‘ بنونمرہ (چیتے والے) وغیرہم ہوتے۔ یہ سارے نام کفر و جہالت کی نشانیاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ لیکن شانِ کریمی اور اپنے محبوب ﷺ سے محبت کا عالم دیکھئے کہ جس طرح اپنے محبوب ﷺ کے نام کی حفاظت اور بشارت مسلسل چلی آرہی ہے۔ اسی طرح اپنے محبوب ﷺ کے قبیلہ‘ خاندان اور اجداد کے ناموں میں اتنی احتیاط رکھی کہ کل کفار مکہ اور یہودی کسی بھی نام کو جو آپ ﷺ کے اب وجد (باپ‘ دادا) میں ہو مکروہ بتا کر طعنہ زنی نہ کرسکیں۔ اسی واسطے ان کے ناموں کی بھی حفاظت فرمائی اور یہ اہتمام فرمایا کہ کوئی بھی ایسا نام نہ رکھنے پائے جو اس کے محبوب ﷺ پر طعنہ زنی اور اس کی دل آزاری کا سبب بن سکے۔ اس خاص حفاظت کا نتیجہ ہے کہ آپ ﷺ کے اہل خاندان کے نام عبداللہ رضی اللہ عنہ (اللہ کا غلام)‘ آمنہ رضی اللہ عنہا (امن چاہنے والی)‘ حلیمہ رضی اللہ عنہا (حلم والی)‘ ام ایمن رضی اللہ عنہا (برکت والی)‘ ثویبہ رضی اللہ عنہا (اعلیٰ اخلاق و کردار والی)‘ عائشہ رضی اللہ عنہا (زندہ رہنے والی)‘ ام سلمہ رضی اللہ عنہا (سلامتی والی)‘ وہب (بخشش)‘ بنو ہاشم (قحط میں بھوکوں کو روٹی چورہ کرکے کھلانے والے)‘ بنوزہرہ (کلیوں‘ غنچوں والے)‘ بنوسعد (نیک بخت)‘ شیبہ (سفید بالوں‘ بزرگی والے)‘ مناف (شریف‘ ممتاز‘ بلند) وغیرہ رکھے گئے۔ ان تمام اسماء میں بندگی‘ شرافت‘ بزرگی‘ امن‘ بخشش‘ حلم‘ برکت‘ سلامتی‘ شجاعت‘ اعلیٰ اخلاق‘ نیک بختی اور خدمت جیسے اوصاف نمایاں ہیں۔ گویا اللہ جل شانہ نے آپ ﷺ کے قبیلے اور خاندان میں آپ ﷺ کی آمد سے پہلے ہی آپ ﷺ کے اوصاف حمیدہ کو ناموں کی شکل دے کر

صفحہ 82

پھیلا دیا تھا اور پھر ان سب کو سمیٹ کر یکجا کر کے آپ ﷺ کا جزو بنا دیا۔ یہ سب اللہ جل شانہ کی مشیت کے تحت ہی ہوا۔ میرے آقا ﷺ کے خاندان کے اسماء مبارک عرب کے جاہلانہ و بت پرستانہ ناموں کے مقابلے میں اس طرح خوبیوں اور وصف سے روشن اور ممتاز ہیں جیسے پتھروں میں ہیرے جواہرات‘ جیسے کانٹوں میں گلاب ہیں‘ حبیب کبریا ﷺ کے نام مبارک کی معنوی خوبیاں‘ شان و عظمت‘ جلال و ہیبت‘ لطف و عنایت‘ حسن و جمال‘ وصف و کمال‘ رموز و اسرار انسانی نگاہ سے چھپے ہوئے ہیں۔ لیکن صوری حسن بھی اتنا ہے کہ مداحان رسول ﷺ نے اس کی تفسیروں میں دفتروں کے دفتر گل و گلزار کر دیئے ہیں۔

اسرار پنہانی

نبی کریم ﷺ کے خاندان کے ناموں کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اللہ جل شانہ نے ان میں کیسے کیسے راز چھپا رکھے ہیں۔ آپ ﷺ کے والد مکرم کا نام عبداللہ رضی اللہ عنہ (اللہ کا غلام) ہے۔ گویا آپ ﷺ ایسے مقدس ہیں کہ آپ ﷺ کا پیکر اطہر عبودیت کے خون سے تشکیل پذیر ہوا۔ والدہ ماجدہ کا نام آمنہ رضی اللہ عنہا (امن چاہنے والی) ہے گویا آپ ﷺ نے امن و شانتی کے بطن میں مراتب وجود کو مکمل فرمایا۔ آپ ﷺ کی انا یعنی دایہ کا نام حلیمہ رضی اللہ عنہا (حلم والی) ہے۔ گویا آپ ﷺ نے حلم و بردباری کے دودھ سے تربیت فرمائی۔ یہ اسرار پنہانی جو ان اسماء مبارکہ میں ہیں‘ ان کا اجتماع (ایک جگہ جمع ہو جانا) محض اتفاق نہیں ہے۔ بلکہ قادر مطلق یہ بتا دینا چاہتا ہے کہ جس بچے کے پیکر عنصری میں ایسے فضائل ایک جگہ جمع ہوں‘ وہ حقیقتاً اسم بامسمیٰ ہوگا۔

آپ ﷺ کے ناموں کی حفاظت

آپ ﷺ کے دونوں اسمائے گرامی احمد ﷺ اور محمد ﷺ میں جہاں عجیب خصائص اور بدیع آیات ہیں‘ وہاں ایک اور نرالی بات یہ بھی ہے کہ سرور کون و مکاں ﷺ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جملہ انسانوں کو اپنے بچوں کا نام محمد اور احمد رکھنے سے روکے رکھا اور کسی کو ان ناموں سے موسوم نہ ہونے دیا۔ حالانکہ گزشتہ کتب سماویہ میں آپ ﷺ کے یہ دونوں نام مذکور تھے۔

انبیائے کرام علیہم السلام نے آپ ﷺ کے اسم گرامی احمد ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کی آمد کی خوش خبری سنائی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی ساری زندگی ”احمد ﷺ“ کے نام سے آپ ﷺ کے ذکر جمیل کا ڈنکا بجاتے رہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس نام کے رکھنے سے روکے رکھا۔ (یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی کریم ﷺ کے ظہور تک دنیا میں کسی

صفحہ 83

بھی بچے کا نام احمد اور محمد نہیں رکھا گیا)۔ قاضی عیاض اندلسی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ (ﷺ) میں لکھا ہے کہ آپ ﷺ سے پہلے کوئی اس نام کے ساتھ موسوم نہیں ہوا تا کہ ضعیف عقیدے والوں کے دلوں میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ پیدا ہونے پائے (اس صورت میں گمان ہوسکتا تھا کہ شاید اسی شخص کے بارے میں نبی آخر الزماں ﷺ ہونے کی بشارت دی گئی ہے)۔

اسی طرح آپ ﷺ سے پہلے عرب و عجم میں کسی کا نام محمد نہیں رکھا گیا۔ ہاں جب آپ ﷺ کی ولادت باسعادت کا زمانہ قریب آیا اور اس وقت کے اہل کتاب نے لوگوں کو آپ ﷺ کی آمد آمد کی خوشخبری سنائی لوگوں میں یہ شہرت عام ہوئی کہ نبی آخر الزماں ﷺ پیدا ہونے والے ہیں اور ان کا نام پاک محمد (ﷺ) ہوگا۔

اعجاز اسم محمد ﷺ

مروی ہے کہ محمد بن عدی سے پوچھا گیا کہ تمہارا نام محمد کیسے رکھا گیا۔ اس نے جواب دیا کہ میں نے بھی والد سے یہی سوال پوچھا تھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے تین ساتھی شام کے علاقے میں تجارت کی غرض سے گئے تھے۔ وہاں ایک بستی میں قیام کیا۔ بستی کے بت خانے والوں نے ہمیں اجنبی سمجھ کر ہم سے ہمارے وطن کے بارے میں دریافت کیا ہم نے انہیں بتایا کہ ہم عربی ہیں اور قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے ہیں۔ مندر کے پروہت نے ہمیں بتایا کہ ہماری قوم میں عنقریب نبی آخر الزماں ﷺ کا ظہور ہونے والا ہے۔ اور اس نے ہمیں ہدایت دی کہ ہم جلد واپس جا کر ان سے فیوض و برکات حاصل کریں کیونکہ وہ ہی خاتم النبیین ﷺ بھی ہوں گے۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ ان کا نام کیا ہوگا تو ہمیں بتایا گیا کہ ان کا نام محمد ﷺ ہوگا۔ اس پر ہم چاروں ساتھیوں نے منت مانی کہ اگر ہمارے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو ہم اس کا نام محمد رکھیں گے۔ چنانچہ ہم جب لوٹے تو ہم سب کے ہاں لڑکے پیدا ہوئے۔

اس روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے علماء کرام نے لکھا ہے کہ اگر حمل کے دوران یہ منت مان لی جائے کہ ہونے والے بچے کا نام محمد رکھا جائے گا تو یقیناً لڑکا پیدا ہوگا۔ اس آسان نسخے پر صدق دل سے عمل کریں۔ وقت مباشرت اللہ تعالیٰ سے عہد کریں کہ اے باری تعالیٰ میری رفیقہ حیات کا دامن زیست اگر سرسبز ہوا تو میں نومولود کا نام تیرے محبوب ﷺ کے نام پر محمد رکھوں گا تو انشاء اللہ تعالیٰ رحمت و کرم کا بادل چھم چھم برسے گا۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس کی عورت حمل سے ہو اور وہ نیت کر لے کہ پیدا ہونے والا بچہ کا نام محمد رکھوں گا تو انشاء اللہ تعالیٰ لڑکا ہی پیدا ہوگا۔ اگر حمل میں لڑکی بھی ہوگی تو اس

صفحہ 84

اسم مبارک کی برکت سے وہ لڑکا ہو جائے گا۔ (انسان العیون‘ جلد اوّل‘ ص:36) امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: جو چاہے کہ اس کی عورت کے حمل میں لڑکا ہو تو اسے چاہیے کہ حاملہ کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر عہد کرے کہ اگر لڑکا ہوا تو میں اس کا نام محمد رکھوں گا۔ اللہ کے فضل سے اس کے یہاں لڑکا ہی ہوگا۔

(فتاویٰ شمس الدین سخاوی)

اسم محمد ﷺ کا ہر لفظ بامعنی ہے

الفاظ مجموعہ حروف ہوتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک حرف کو بھی کم کر دیا جائے تو بقیہ حروف اپنے معنی کھو بیٹھتے ہیں۔ مثلاً ریاض ایک بامعنی لفظ ہے اور ر۔ ی۔ ا۔ ض کا مجموعہ ہے۔ اگر ان حروف میں سے ایک حرف بھی کم کر دیا جائے تو بقیہ حروف بے معنی ہو کر رہ جائیں گے لیکن رب العزت جل شانہ کا اسم ذاتی ”اللہ“ اور میرے آقا ومولا ﷺ کے دونوں اسمائے ذاتی محمد ﷺ اور احمد ﷺ اس قاعدے‘ کلیے‘ فارمولے سے مستثنیٰ ہیں۔

لفظ محمد ﷺ ایسا صحیح اور بامعنی لفظ ہے کہ اگر اس لفظ میں سے کوئی ایک حرف بھی کم کر دیا جائے تو بھی بقایا حروف بامعنی رہیں گے۔ مثلاً اگر اس کا پہلا حرف ”میم“ ہٹا دیا جائے تو ہمارے پاس ”حمد“ باقی رہ جاتا ہے جس کے معنی ہیں بے پایاں تعریف وتوصیف‘ یعنی محمد ﷺ ایسی ہستی ہیں جو بے پایاں ستائش وتوصیف کے لائق ہیں اور واقعی آج ہر دیدہ و بینا گواہ ہے کہ مغرب سے مشرق تک اور شمال سے لے کر جنوب تک کرہ ارض پر ہر جگہ وہر مقام پر نبی کریم ﷺ کی تعریف وتوصیف ہو رہی ہے۔ دنیا کا کوئی کونا ایسا نہیں ہے جس میں آپ ﷺ کا نام نامی لوگوں کے دلوں میں جاگزیں نہ ہو۔ ہر مسجد میں روزانہ پانچ بار آپ ﷺ کے نام نامی اسم گرامی کا ڈنکا بلند آواز سے بجتا ہے۔ دنیا میں قریہ قریہ‘ بستی بستی یہی حال ہے۔ پھر کائنات کا خالق حقیقی خود اور اس کے بے حد وحساب فرشتے ہر وقت میرے آقا ﷺ کے حضور درود وسلام کے گلدستے بھیج رہے ہیں۔ واقعی آپ اللہ جل شانہ کا وہ شاہکار ہیں جس کی جتنی تعریف وتوصیف کی جائے کم ہے۔

اگر محمد ﷺ میں سے ح کو کم کر دیا جائے تو ”مد“ باقی رہ جاتا ہے۔ یعنی مدد کرنے والا۔ عطائے خداوندی سے آپ ہمیشہ سے اپنے چاہنے والوں کی مدد فرماتے رہے ہیں۔

اگر محمد میں سے ابتدائی میم اور ح حذف کر دیئے جائیں تو باقی رہ جاتا ہے ”دَ“ جس کے معنی ہیں ”کشیدن“ یعنی کھینچنا۔ آپ ﷺ کی تعلیم پاک ایسی پرکشش ہے کہ ایک دنیا کو آپ ﷺ نے اپنی

صفحہ 85

طرف کھینچ لیا ہے اور آپ ﷺ کی کشش نے ایک دنیا کو آپ ﷺ کے قدموں میں لا ڈالا ہے۔ مد کے ایک معنی بلند اور دراز کے بھی ہیں۔ یہ میرے آقا ﷺ کی عظمت و رفعت کی طرف اشارہ ہے۔

اور اگر دوسرے میم کو بھی ہٹا دیا جائے تو صرف ”د“ (دال) باقی رہ جاتا ہے۔ جس کا ایک مفہوم ہے دلیل دینے والا۔ یعنی اسم محمد ﷺ اللہ کی وحدانیت پر دال ہے۔ دال کے ایک اور معنی ہیں رہنما۔ گویا حضور پرنور شافع یوم نشور ﷺ ساری دنیا کے لیے رہنما ہیں۔ ﷺ

لفظ محمد ﷺ کی طرح لفظ احمد ﷺ کا بھی ہر حرف با مقصد اور بامعنی ہے۔ شروع کا الف ہٹا دینے سے حمد باقی رہ جاتا ہے جو بامعنی لفظ ہے۔ اگر شروع کا الف اور ح نکال دیں تو ”مد“ رہ جاتا ہے۔ یہ بھی بامعنی لفظ ہے۔ اگر اس میں سے میم کو بھی حذف کر دیا جائے تو دال رہ جاتا ہے۔ یہ بھی بامعنی لفظ ہے اور ان سب الفاظ کی تشریح اوپر آ چکی ہے۔

ہر گل میں ہر شجر میں محمد ﷺ کا نور ہے

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث میں آیا ہے کہ کائنات کی ہر شے اپنی تخلیق میں نور محمد ﷺ کی مرہون منت ہے۔ آپ ﷺ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا۔ (امام محمد نووی شافعی‘ الدر الثمینۃ فی شرح خصائص النبویۃ ﷺ)

اللہ جل شانہ نے جب تکوین کائنات کا ارادہ کیا تو سب سے پہلے اپنے محبوب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کے نور کو پیدا فرمایا پھر اس نور سے کائنات کی ایک ایک شے وجود میں لائی گئی۔

ہر چیز‘ ہر نعمت‘ محبوب خدا ﷺ کے طفیل‘ انہی کی خاطر پیدا کی گئی ہے اور کل کائنات میں جو کچھ بھی ہے‘ خالق کل نے وہ سب کا سب اپنے حبیب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کے قبضہ و اختیار میں دے دیا ہے اور ہر شے پر نام ”محمد“ (ﷺ) لکھ دیا ہے تاکہ سب جان لیں کہ ہر چیز ”محمد“ (ﷺ) کی ملکیت ہے۔ ہر شے کے مالک محمد ہیں۔ ﷺ

محمد ﷺ کا جلوہ ہے کون ومکاں میں

نام محمد ﷺ کی کیا بات ہے! وہ چشم بینا کہاں سے لائیں جو زمین و آسمان میں اس نام نامی کے جلوے دیکھے۔ نام محمد ﷺ کہاں نہیں؟ محبتوں کی روزن سے نظارہ تو کرو۔ عالم بالا کا وہ کونسا عنصر ہے جس پر اس مقدس اسم کی حکمرانی اور سلطانی نہ ہو۔ زمین و آسمان کا وہ کونسا گوشہ ہے جس پر اس نام نامی کی بادشاہت نہیں ہے۔ حق تعالیٰ کو اپنے محبوب کا نام پاک‘ اسم مبارک محمد ﷺ اس قدر پیارا ہے کہ اس نے یہ نام کائنات کے ذرے ذرے پر لکھ دیا ہے۔

صفحہ 86

ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے کائنات آسمانی کا کونا کونا دیکھ ڈالا کوئی جگہ ایسی نہیں دیکھی جہاں اسم محمد ﷺ لکھا ہوا نہ ہو۔ آسمانوں کے کونے کونے پر ساق عرش پر لوح محفوظ میں حوروں کے سینوں پر فرشتوں کی آنکھوں کے درمیان جنت کے ہر دروازے پر یہ نام نامی اسم گرامی لکھا ہوا ہے۔

کتنے ہی خوش نصیبوں کو اللہ جل مجدہ نے اس عالم زریں میں اپنے محبوب ﷺ کے نام مقدس کا نظارہ کروایا جس کو خالق دو جہاں نے اس خاکدان گیتی کی مختلف اشیاء پر اپنی قدرت سے رقم فرمایا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ درختوں کے تنوں پر پھولوں کی پتیوں پر پھلوں پر مچھلیوں کے پہلوؤں پر سبز کیڑوں کی جلد پر بادلوں کی پیشانی پر سونے کی مدفون تختیوں پر پتھروں کے سینوں پر چٹانوں کے ماتھوں پر انسانوں کے چہروں پر بچوں کی آنکھوں پر گلاب کی پنکھڑیوں پر یہ ہی پیارا نام لکھا ہوا ہے۔

ہر صحف سماوی میں توریت میں انجیل میں زبور میں صحیفہ آدم علیہ السلام میں صحیفہ ابراہیم علیہ السلام میں صحیفہ اشعیاء علیہ السلام میں کتاب حبقوق علیہ السلام میں شعیب علیہ السلام کے اقوال میں سلیمان علیہ السلام کے مزامیر میں اور تو اور ہندوؤں کے ویدوں اور پرانوں میں گوتم بدھ کے ملفوظات میں آپ کے دونوں نام احمد ﷺ اور محمد ﷺ جلوہ گر ہیں۔ غرضیکہ نہ صرف کتابوں میں بلکہ زمین و آسمان ملک و فلک عرش و فرش حجر و مدر شجر و ثمر پر یہ پاکیزہ کلمہ مکتوب ہے۔ حتیٰ کہ یہ انسانی وجود میں بھی دیکھنے والوں نے نام نامی محمد ﷺ لکھا دیکھا ہے۔ دور جدید میں یہ عجیب انکشاف ہوا ہے کہ انسان کی سانس کی نالی پر لا الہ الا اللہ لکھا ہوا ہے اور داہنے پھیپھڑے پر محمد رسول اللہ مکتوب ہے۔

سبحان اللہ۔ عارف کامل حضرت سلطان باہو علیہ الرحمۃ کا یہ ارشاد کچھ معنی رکھتا ہے کہ ہر جاندار کا سانس اسم ’ہو‘ سے نکلتا ہے۔

نہاں میں عیاں میں غرض دو جہاں میں
محمد ﷺ کا جلوہ ہے کون و مکاں میں
وہ جن و بشر میں وہ حور و ملک میں
وہ روح رواں ہیں زمین و فلک میں
وہ ذروں تاروں کی نوری چمک میں
حسینوں کے چہروں کی تاب و جھلک میں
صفحہ 87
نہاں میں عیاں میں غرض دو جہاں میں
محمدﷺ کا جلوہ ہے کون و مکاں میں

........................

کلی میں‘ گلی میں‘ نبی و ولی میں
صدیق و عمر عثمان و علی میں
وہ ظاہر و باطن‘ خفی و جلی میں
اٹھاراں اکاسی لکھے ہر تلی میں
نہاں میں عیاں میں غرض دو جہاں میں
محمدﷺ کا جلوہ ہے کون و مکاں میں

........................

سفر میں حضر میں‘ وہ بیم و خطر میں
شجر میں حجر میں‘ قلب و نظر میں
وہ جینے میں مرنے میں‘ وہ ساتھی قبر میں
بجز اس کے کون ہوگا ساقی حشر میں
نہاں میں عیاں میں غرض دو جہاں میں
محمدﷺ کا جلوہ ہے کون و مکاں میں

........................

نمازوں میں اذانوں میں ہر ایک امر میں
پیشوں میں‘ جزموں میں‘ زیر و زبر میں
وہ میٹھا محمدﷺ جو ہے ہر ثمر میں
وہ چمکتا دمکتا شمس و قمر میں
نہاں میں عیاں میں غرض دو جہاں میں
محمدﷺ کا جلوہ ہے کون و مکاں میں

........................

جگمگ جگمگ نام محمدﷺ

اللہ جل مجدہ نے اپنے محبوب کے نام کو عالم میں روشن کر کے اعلان فرمادیا وَرَفَعْنَا لَکَ

صفحہ 88

ذِکْرَکَ ہم نے تمہارے نام کو بلند کر دیا۔ یہ کوئی دور کی بات نہیں 1926ء میں الہ آباد میں 1927ء میں جبل پور بھوپال بریلی اور ساگر میں 1928ء میں آگرہ پرتاب گڑھ فرید پور اور امرتسر میں ایک عالم نے نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ آسمان پر نورانی قلم سے لکھا دیکھا۔

الہ آباد میں اس روحانی منظر کا نظارہ کرنے والے خوش نصیبوں کا کہنا ہے کہ 2 فروری 1926ء کو بعد غروب آفتاب آسمان پر ایک سیدھا چمکتا ہوا خط نہایت تیزی کے ساتھ مثل بجلی کے ظاہر ہوا۔ اس کے بعد اس میں حرکت پیدا ہوئی جس سے پہلے میم پھر ح اس کے بعد پھر میم اور دال بنا اس طرح بخط عربی محمد ﷺ کا پورا نام مبارک آسمان پر جگمگا اٹھا۔ قریب دس پندرہ منٹ یہ صورت قائم رہی۔

بھوپال میں اس واقعہ کا مشاہدہ کرنے والوں کا بیان ہے کہ 8 فروری 1927ء کو بعد نماز مغرب انہوں نے دیکھا کہ آسمان کی مغربی سمت میں جہاں ایک چمک دار ستارہ شام سے نکلتا ہے، اس ستارے کے قریب ایک اور بہت روشن ستارہ ٹوٹا جس سے ایک روشن لکیر سی بن گئی جو رفتہ رفتہ ترتیب پا کر نام محمد ﷺ میں تبدیل ہو گئی۔ تقریباً نصف گھنٹے تک یہ نام مبارک آسمان پر قائم رہا پھر کم ہوتے ہوتے غائب ہو گیا۔

(مولانا مفتی محمد شفیع، شہادت کائنات)

ایسا ہی ایک اور دلربا منظر 1967ء میں نواب شاہ میں پیش آیا۔ مئی 1967ء کے پہلے عشرے میں ایک روز غروب آفتاب کے کافی دیر بعد مغرب کی طرف آسمان پر روشنی کی تیز شعاعیں نظر آئیں جو دیکھتے ہی دیکھتے میرے آقا و سردار کے اسم مبارک محمد ﷺ میں تبدیل ہو گئیں۔ یہ ایمان افروز نظارہ کوئی بیس منٹ تک نظر آیا آس پاس کے علاقے والوں نے بھی قدرت کے اس اعجاز کا مشاہدہ کیا۔

(روزنامہ مشرق لاہور 10 مئی 1967ء)

مرغوب ہے کیا صل علیٰ نام محمد ﷺ
آنکھوں کی ضیاء دل کی جلا نام محمد ﷺ
اللہ رے رفعت کہ سر عرش خدا نے
اپنے ید قدرت سے لکھا نام محمد ﷺ
ہر حور کے سینے پہ، ہر اک شے پہ جناں کی
ہے قدرت خالق سے کھدا نام محمد ﷺ
اوراق پہ طوبیٰ کے، فرشتوں کی نگہ میں
کس شان سے منقوش ہوا نام محمد ﷺ
صفحہ 89
تکبیر میں‘ کلموں میں‘ نمازوں میں‘ اذاں میں‘
ہے نام الٰہی سے ملا نام محمد ﷺ
دن حشر کے جنت میں وہ جائے گا بلا ریب
تعظیم سے یاں جس نے لیا نام محمد ﷺ

وَرَفَعْنَالَكَ ذِكْرَكَ

کائنات کا ذرہ ذرہ بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہے۔ پوری کائنات پروردگار عالم کے حضور تسبیح کے گلدستے پیش کر رہی ہے۔ تحت الثریٰ سے لے کر عرشِ علا تک ہر ذرہ حمد کے ترانے الاپ رہا ہے۔ اسی طرح کائنات کے ہر گوشے سے ذکر مصطفیٰ ﷺ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ کیونکہ جہاں جہاں خالقِ کل کی بادشاہت ہے‘ وہاں وہاں تاجدارِ مدینہ ﷺ کی رسالت و رحمت ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:

”اے میرے محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام جہاں جہاں میرا ذکر ہوگا‘ وہاں وہاں میرے ساتھ تمہارا ذکر بھی ہوگا۔“

تب ہی تو اہل مشاہدہ ہر جگہ دست قدرت سے مکتوب اسم گرامی کا نظارہ کرتے ہیں۔ لیکن اکثر لوگ یہ تصویر نہیں دیکھ پاتے۔ اس کی نظیر رب کائنات کا یہ فرمان ہے۔

”ہر شے باری تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح سمجھ نہیں پاتے۔“

(ملا علی قاری علیہ الرحمۃ شرح شفاء‘ جلد دوئم‘ ص:228)

کہت کبیر سنو بھئی سادھو نام محمد ﷺ آئے

سکھ مذہب کے بانی گرو نانک صاحب نے حساب کے ذریعے سے یہ ثابت کیا ہے کہ نورِ محمدی ﷺ کائنات کی ہر شے میں جلوہ گر ہے۔ اپنے ایک شبد میں انہوں نے بڑے یقین کے ساتھ کہا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی شے اسم محمد ﷺ سے خالی نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:

نام لیو جس پکش کا کرو چو گنا تا
دو ملاؤ پنچ گن کرو کاٹو بیس بنا
نانک جو بچے سونو گنے دو اس میں ملا
اس بدھ کے نام سے نام محمد ﷺ بنا
صفحہ ٩٠

یہی بات ہندی زبان کے مشہور شاعر بھگت کبیر داس بنارسی نے اپنے ایک عجیب و غریب دوھے میں کہی ہے جس کی رو سے دنیا کے تمام الفاظ اور جملوں سے ”محمد ﷺ“ کا عدد (92) برآمد ہوتا ہے۔ یہ دوھا اس بات کا غماز ہے کہ دنیا کی کوئی چیز نام محمد ﷺ سے خالی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ:

نام لو ہر وستو کا چوگن کر لو وائے
دو ملاؤ پنج گن کر لو اور بیس کا بھاگ لگائے
باقی بچے کو نوگن کر لو اور دو دیو ملائے
کہت کبیر ہر وستو میں نام محمد ﷺ پائے

یعنی دنیا کی کسی بھی چیز کا نام لو۔ پہلے ابجد کے حساب سے اس کے عدد نکالو۔ علم الاعداد کے ماہرین کسی چیز، جگہ، شے یا وجود کے نام کے اعداد نکالنے کے لیے حروف ابجد کی جدول سے استفادہ کرتے ہیں۔ یہ جدول درج ذیل ہے۔

ابجد ا ب ج د ١ ٢ ٣ ٤

ہوز ہ و ز ٥ ٦ ٧

حطی ح ط ی ٨ ٩ ١٠

کلمن ک ل م ن ٢٠ ٣٠ ٤٠ ٥٠

صفحہ ٩١

سعفص

س ع ف ص ٦٠ ٧٠ ٨٠ ٩٠

قرشت

ق ر ش ت ١٠٠ ٢٠٠ ٣٠٠ ٤٠٠

ثخذ

ث خ ذ ٥٠٠ ٦٠٠ ٧٠٠

ضظغ

ض ظ غ ٨٠٠ ٩٠٠ ١٠٠٠

علم الاعداد میں تمام حروف کی مندرجہ بالا قیمتیں شمار کی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل مزید امور کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔

کوئی عدد شمار نہیں کیا جاتا۔

صفحہ 92

ان اشارات کے مطابق ہم کسی بھی چیز شے یا وجود کے نام کے اعداد معلوم کر سکتے ہیں۔ میرا نام ریاض الرحیم ہے۔ علم الاعداد کے حساب سے میرے نام کے اعداد یہ ہوں گے۔

ر+ی+ا+ض+ا+ل+ر+ح+ی+م 40+5+10+200+30+1+800+1+10+200= 1297=

گرو نانک اور بھگت کبیر داس بنارسی کے فارمولے کے مطابق پھر اس حاصل شدہ عدد کو 4 سے ضرب دیں۔

1297 x 4 = 5188

حاصل ضرب میں دو جمع کر دیں۔

5188+2 = 5190

حاصل جمع کو 5 سے ضرب دیں۔

5190 x 5 = 25950

حاصل ضرب کو 20 پر تقسیم کر دیں۔

25950 ÷ 20

باقی بچیں گے 10۔

تقسیم کے بعد باقی بچنے والے عدد کو 9 سے ضرب دیں۔

10 x 9 = 90

حاصل ضرب میں 2 جمع کر دیں۔

90+2 = 92

اس عمل سے 92 کا عدد حاصل ہوگا جو محمد (ﷺ) کا عدد ہے۔ یعنی

م + ح + م + د = محمد

92 = 4 + 40 + 8 + 40

اس طرح آپ اس عمل کا ماحصل ہمیشہ نام محمد ﷺ پائیں گے۔ سبحان اللہ۔ اس سے پتا چلتا

صفحہ ٩٣

ہے کہ کائنات کی ہر شے نہ صرف یہ کہ نور محمدی ﷺ سے مشتق (پیدا کی گئی) ہے بلکہ اس کا نام بھی نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ سے مشتق ہے۔ اس طرح دیکھنے والی آنکھ دنیا کی ہر شے میں نور محمدیؐ کا جلوہ دیکھ سکتی ہے۔ یہ بھی ایک معجزہ ہے جو گرونانک اور کبیر داس بنارسی کے دوھے سے ثابت ہوتا ہے۔ در حقیقت یہ فارمولا سید العارفین حضرت ابوالحسن قدس سرہ عرف امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ کا ہے جسے ہندی کے شاعر کبیر داس اور سکھوں کے گرونانک سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔ اس حیرت انگیز کلیئے کی ایک اور سادہ اور آسان صورت یوں ہے۔

ہر شے میں محمد ﷺ ہیں یہ بڑھ بڑھ کے صدا دو
منکر کو حساب ابجد و ہوز کا سکھا دو
ہر شے پہ لکھا اسم مبارک ہے خدا نے
یہ صفت خالق ہے اسے سب کو بتا دو
ترکیب ہے یہ لفظ کے اعداد کی تجمع
مضروب کرو چار سے پھر دو کو ملا دو
پھر ضرب کرو پانچ سے اور بیس سے تقسیم
باقی جو بچیں ضرب انہیں نو سے ذرا دو!
پھر حاصل مضروب میں دو اور ملا دو!
زاں بعد محمد ﷺ کے عدد سب کو دکھا دو
بے شبہ ہوئے مالک کونین محمد ﷺ
یہ پیکر عاجز کا سخن سب کو سنا دو

۞

علم الاعداد اور فن جمل کے اعتبار سے نام نامی محمد (ﷺ) کا عدد 92 ہے۔ اس کو مختصر کریں تو 11 بنتے ہیں (11 = 9+2) مزید مختصر کریں تو 2 بنتے ہیں (2 = 1+1) اب اس عدد کی آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں جلوہ گری ملاحظہ فرمائیں۔

40 سال تھی اور آپ ﷺ کی 25۔ دونوں کے اعداد کا مجموعہ 65 ہوتا ہے اس کو مختصر کریں تو 11 بنتے ہیں (11 = 6+5) اسے اور مختصر کریں تو دو بنتے ہیں (2 = 1+1)۔

صفحہ 94

ہیں (11 = 3+6+2) مزید اور مختصر کریں تو 2 بنتے ہیں۔ (2 = 1+1)۔

ہیں۔ اس کو مختصر کریں تو 11 بنتے ہیں (11 = 1+1+3+6)۔ مزید اور مختصر کرنے پر 2 کا عدد حاصل ہوتا ہے۔ (2 = 1+1)۔

اللہ اور محمد ﷺ میں مماثلت

حضور اکرم ﷺ کے ذاتی نام مبارک ”محمد“ ﷺ اور رب جلیل کے ذاتی اسم مبارک ”اللہ“ جل جلالہ میں بہت مماثلت ہے۔

جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی ذات بادشاہ ہے۔

ہیں۔ (حرف احاد وہ حروف تہجی ہیں جن کا عدد ایک سے لے کر 9 تک یعنی اکائی۔ Unit ہو۔)

(حرف عشرات وہ حروف تہجی ہیں جن کا عدد دہائی میں ہو یعنی 10,20,30,40 تا 90)

حرف (م، م) ہیں۔

دو پر تقسیم ہوتی ہے۔

بھی تین پر تقسیم ہوتی ہے۔

صفحہ ٩٥

ہندسہ آتا ہے۔

66----- 6x6 = 36-----3+6 = 9

اسی طرح اگر اسم مبارک کے عدد 92 کی اکائی اور دھائی کو آپس میں ضرب دے کر حاصل ضرب کی اکائی اور دھائی کو جمع کر دیں تو 9 آتا ہے۔

92-----9x2 = 18 -----1+8 =9

9 کا عدد سب سے بڑا عدد ہے۔ اس کی خاصیت ہے کہ یہ کبھی فنا نہیں ہوتا۔ اس میں یہ عجیب تماشا ہے کہ سارے پہاڑے میں 9 کو گن جاؤ۔ نو ہی رہے گا۔ 9 ایکم 9 = 9 9 دونی 18 = 8+1 = 9 9 تیا 27 = 7+2 = 9 9 چوکے 36 = 6+3 = 9 الخ اسی طرح ایک سے لے کر آٹھ تک کی اکائیاں لو۔ جب کناروں کی اکائیاں ملاؤ گے تو 9 ہی بنے گا جیسے

1 2 3 4 = 9 5 6 7 8

میرے آقا و مولاﷺ کے نام مبارک کی دھائی کو ایسی بقاء ملی ہے تو ذات کا عالم کیا ہوگا؟

صفحہ 96

ماندہ حروف کے اعداد کبیر کو علم جفر کے طریقے پر بسیط، بسیط کو صغیر، صغیر کو اصغر بنائیں تو تین باقی رہتا ہے۔

اللہ (جل مجدہ)

ال ف۔ ل ام۔ ل ام۔ ھا اس میں ا۔ ل۔ م مکرر آئے ہیں۔ اس لیے ان تمام حروف کا ایک ایک حرف چھوڑ کر باقی حروف کم کردیں تو باقی رہیں گے۔ ا۔ ل۔ ف۔ م۔ ہ ان کے اعداد ہوئے۔ 5+40+80+30+1 تلخیص کے بعد یہ اعداد کم ہو کر رہ گئے۔ 5+4+8+3+1 = 21 2+1 = 3

بالکل اسی طرح اگر اسم رسالت محمد ﷺ کو بھی اس قاعدہ سے گزاریں تو تین ہی باقی رہے گا۔

محمد (ﷺ)

م ی م۔ ح ا۔ م ی م۔ م ی م۔ دال اس میں م۔ ی۔ ا۔ مکرر آئے ہیں۔ مکرر حروف کم کرنے کے بعد بچے۔ م۔ ی۔ ح۔ ا۔ د۔ ل۔ ان کے اعداد ہوئے۔ 30+4+1+8+10+40 تلخیص کے بعد یہ اعداد کم ہو کر رہ گئے۔ 3+4+1+8+1+4 = 21 2+1 = 3

اللہ کا نام لو تو دونوں ہونٹ علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ جس میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ کی ذات سب سے اونچی ہے۔ خالق اور مخلوق میں فاصلے ہی فاصلے ہیں اور وہاں تک پہنچنا ہمارے لیے ناممکن نہیں تو

صفحہ 97

مشکل ضرور ہے۔ لیکن جب محمد ﷺ کا نام لیتے ہیں تو نیچے کا ہونٹ اوپر والے ہونٹ سے مل جاتا ہے۔ جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات ہم حقیر بندوں کو اس اونچی ذات سے ملانے کا ذریعہ ہے۔

چار کا ماجرا

صفاتی ہیں۔ ان دونوں نام مبارک میں چار حرف ہیں اور رب تعالیٰ کے اسم ذات ”اللہ“ میں بھی چار ہی حرف ہیں۔

اور عیسیٰ علیہم السلام۔

علیہما السلام اور دو آسمانوں پر یعنی حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام (تفسیر درمنثور، جلد پنجم، ص:285)۔

احمد اور محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام۔

طرح کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ میں بھی صرف چار کلمے ہیں۔

عنہم۔

سہروردیہ۔

صفحہ 98

مالکؒ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہم۔

اور ہوا۔

برودت (ٹھنڈک)، رطوبت (پانی) اور یبوست (خشکی)۔

اور دریائے شراب۔

بچنا۔

کرنا۔

صفحہ 99

اللہ۔ واللہ اکبر۔

اللہ جانے چار میں کیا خصوصیت ہے۔

چار رسل، فرشتے چار، چار کتب ہیں، دین چار
سلسلے دونوں چار چار، لطف عجب ہے چار میں
آتش و آب و خاک و باد سب کا انہی سے ہے ثبات
چار کا سارا ماجرا، ختم ہے چار یار میں

حضرت خواجہ غلام فرید قدس سرہ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے اسم گرامی کے چاروں حروف ساری کائنات کے حاکم ہیں انہی کے اشارہ ابرو پر نظام کائنات قائم ہے جبکہ حضرت سلطان العارفین سلطان باہو قدس سرہ کا ارشاد ہے کہ اسم محمد (ﷺ) کے چاروں حروف سے دونوں جہان روشن ہیں۔

معنی اور مفاہیم کا سمندر

حروف مقطعات کی طرح آپ ﷺ کے دونوں اسم گرامی احمد ﷺ اور محمد ﷺ کا ایک ایک حرف اپنے اندر معنی اور مفاہیم کا سمندر سموئے ہوئے ہے۔ حضرت شیخ شہاب الدین احمد بن العماد الاقفہسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اسم گرامی محمد ﷺ کے چاروں حروف میں جو اسرار و رموز ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں۔

حرف اوّل میم کے ایک معنی ہیں مٹانا کفر کا دین اسلام کے ساتھ۔ اسی لیے آپ ﷺ کا ایک وصفی اسم مبارک ”ماحی ﷺ“ بھی ہے جس کے معنی ہیں کفر مٹانے والا۔ حرف اوّل کے ایک معنی یہ بھی ہیں مٹانا نبی کریم ﷺ کے غلاموں کے گناہوں کا۔ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ آپ ﷺ وقت ولادت سے ہی اپنی امت، جمیع کائنات کے مالک و قابض ہیں۔

حرف اوّل میم کے ایک اور معنی ہیں۔ مقام محمود۔ جی ہاں میدان حشر میں آپ ﷺ ہی مقام محمود پر جلوہ فگن ہوں گے۔ جہاں اولین و آخرین آپ ﷺ کی حمد و ثناء میں مشغول ہوں گے اور آپ ﷺ کی شفاعت کے طالب ہوں گے۔

اسم مبارک کے دوسرے حرف ”ح“ سے مراد ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے احکام کے ساتھ مخلوق میں حکم فرماتے ہیں۔ جو بھی بدبخت کاروبار حیات میں آپ ﷺ کا حکم تسلیم نہیں کرتا اور آپ ﷺ کے فیصلے پر دل و جان سے مطمئن نہیں ہوتا رب کائنات اس کے لیے فرماتا ہے کہ وہ ایمان

صفحہ 100

سے محروم ہے۔ (دیکھئے سورۃ النساء)۔ اس سے آپ ﷺ کی امت کے لیے پیغام حیات بھی مراد ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال علیہ الرحمۃ فرما گئے ہیں کہ:

ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو‘ خم بھی نہ ہو
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو‘ تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

میم ثانی نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت کے لیے اللہ جل شانہ کی مغفرت ساتھ لائی ہے۔ جی ہاں زندگی بھر رؤف الرحیم نبی کریم ﷺ اپنی امت کے لیے بخشش کی دعائیں فرماتے رہے۔ پیدائش کے وقت صفیہ بنت عبدالمطلب نے آپ ﷺ کے ہونٹ ہلتے دیکھے۔ اپنا کان قریب کیا۔ آپ ﷺ فرما رہے تھے۔ ”اے میرے پروردگار۔ میری امت کو بخش دے۔“

جبکہ حرف آخر ”دال“ سے دعوت الی اللہ کی طرف اشارہ ہے۔ بے شک معلم کائنات ﷺ نے دعوت الی اللہ کا حق ادا کردیا۔ اس حرف سے یہ بھی مراد ہے کہ آپ ﷺ انسانیت کو جہنم کی طرف جانے والے راستوں سے ہٹا کر جنت کی طرف گامزن کرنے کی دلیل ہیں۔ جی ہاں آپ ﷺ ہی دنیا میں جنت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور آخرت میں بھی آپ ﷺ ہی کے صدقے میں آپ ﷺ کی امت جنت میں داخل ہوگی۔

نکتہ در حروف محمد ﷺ

امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اسم محمد ﷺ کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

بعض صوفیاء نے مزید لکھا ہے کہ میم سے مراد منت‘ ح سے حب (محبت)‘ میم ثانی سے مراد مغفرت اور دال دوام (ہمیشگی) کی دلیل ہے۔

صفحہ 101

ایک اور تشریح یہ ہے کہ م سے ملکوت الٰہی کی طرف اشارہ ہے۔ عاشق زار نے اپنے محبوب کو ملکوت الٰہی پر حکمرانی عطا فرمائی ہے تب ہی تو عالم کے ذرے ذرے پر آپ ﷺ کا اسم گرامی منقوش ہے۔

ح سے حفظ و حیات کی طرف اشارہ ہے۔ نیز اس کائنات میں جو رنگینی حیات ہے، وہ اسی ذات اقدس کی وجہ سے ہے، وہی کائنات کے بدن کی روح ہے۔

حا کے بعد میم ثانی ملکوت ظاہر اور ملکوت باطن پر دلیل ہے۔ دونوں پر آپ ﷺ کی حکومت ہے۔

حرف آخر ”دال“ دوام کی طرف اشارہ ہے۔ ہر منٹ ہر سیکنڈ ان پر رب کریم کی عنایات کی چھم چھم بارش ہو رہی ہے۔ یہ سلسلہ ازل سے شروع ہے اور ابد تک جاری رہے گا۔

ایک صاحب ذوق عربی شاعر کیا خوب نکتہ سنجی کر رہا ہے۔

ترجمہ: محمد ﷺ کا میم، کفر کے لیے موت ہے۔ اور حا، قلب مومن کے لیے زندگی ہے۔

دوسرا میم، بخشائش کی موج ہے۔ اور دال، بلاشبہ بہترین دال ہے۔ گنہگاروں کی شفاعت کرنے والے اور جائے پناہ جو آپ ﷺ کا انکار کرے اس کے دونوں ہاتھ تباہ ہوں۔

آپ ﷺ کے اسم مبارک محمد ﷺ کا پہلا حرف میم ہے۔ اور میم کا مخرج ختام المخارج ہے۔ گویا اسم مبارک کا پہلا حرف نظر و فکر کو بتا رہا ہے کہ اس کا مسمّیٰ نبوت کے لعل بدخشاں تاج سے مشرف ہے۔

میم مشدّد کا ماجرا

اسم گرامی کی میم ثانی یعنی میم مشدّد میں ایک اور عجیب و غریب نکتہ بھی کارفرما ہے۔ یاد رہے کہ حرف مشدّد کا تعلق اپنے سے پہلے والے حرف سے بھی ہوتا ہے اور اپنے سے بعد والے حرف سے بھی۔ جبکہ پہلے اور بعد والے حروف کا ایک دوسرے سے تعلق اسی حرف مشدّد کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ اس نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو اسم مبارک کے میم مشدّد کا پہلا تعلق ح سے اور دوسرا (بعد والا) تعلق ”د“ سے ہے۔ ”ح“ سے حق کی طرف اشارہ ہے اور ”د“ سے دنیا کی طرف۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آپ ﷺ کا پہلا اور اوّل تعلق خالق کائنات سے ہے۔ اس کے بعد یہاں سے دنیا اور آخرت کی تمام نعمتوں کی برسات پہلے آپ ﷺ پر ہوتی ہے اور پھر آپ ﷺ کے ذریعہ سے ساری کائنات میں تقسیم ہوتی ہے۔

صفحہ 102

برزخ کبریٰ

اسی لیے علمائے حق آپ ﷺ کو برزخ کبریٰ بھی کہتے ہیں کہ مخلوق میں صفات الٰہی کا ظہور اور احکام خداوندی کا نزول آپ ﷺ کے توسط (ذریعہ) سے ہوتا ہے اور مخلوق کی دعائیں اور عرض داشتیں آپ ﷺ کے توسط اور وسیلہ سے اللہ جل مجدہ تک پہنچتی ہیں۔ آپ ﷺ نہ خالق سے قریب ہو کر مخلوق سے الگ اور نہ ہی مخلوق میں شامل ہو کر خالق سے بے تعلق ہیں ۔

ادھر اللہ سے واصل ادھر مخلوق میں شامل
خواص اس برزخ کبریٰ میں ہے حرف مشدد کا

حروف کا فیض

پروردگار عالم نے بعض انبیاء کرام علیہم السلام کو اپنے محبوب (ﷺ) کے نام اقدس کا ایک ایک حرف عطا فرمایا۔ میم آدم‘ ابراہیم‘ اسماعیل‘ موسیٰ‘ سلیمان‘ مسیح‘ سیموئیل اور ارمیا علیہم السلام کو عطا ہوا۔ حا نوح‘ صالح‘ یحییٰ اور اسحاق علیہم السلام کو ملا۔ دال ہود‘ داؤد‘ آدم اور ادریس علیہم السلام کو دی گئی۔

کل کائنات کی کنجی نام محمد ﷺ

سورہ انعام میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: عِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ (آیت:59) مفہوم: غیب کی چابیاں اسی کے پاس ہیں۔ اسی طرح سورہ الزمر اور سورہ الشوریٰ میں فرمایا کہ: لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ (آیت:63,12) مفہوم: آسمانوں اور زمینوں کی چابیاں اسی کے لیے ہیں۔ مفاتح اور مقالید دونوں کے لغوی معنی کنجیاں‘ چابیاں ہیں۔ اگر مفاتح کا پہلا اور آخری حرف یعنی ”م“ اور ”ح“ لیا جائے اور اسی طرح مقالید کا پہلا اور آخری حرف یعنی ”م“ اور ”د“ لیا جائے تو بنتا ہے محمد ﷺ ۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ میرے آقا و مولیٰ ﷺ کی ذات مبارک ہی ظہور عالم کی کنجی ہے۔

صفحہ 103

درد کا درماں زخم کا مرہم

آپ ﷺ کا اسم مبارک تسکین جان حزیں بھی ہے۔ اس مقدس نام سے اضطراب و پریشانی کی شدید آندھیاں تھم جاتی ہیں۔ بے قراریاں کوچ کر جاتی ہیں۔ کائنات کی سب سے عظیم مخلوق عرش معلیٰ ہے۔ جب اس کے ایک پائے پر لا الہ الا اللہ لکھا جاتا ہے تو وہ خوف و دہشت سے کانپنے لگتا ہے۔ لیکن جب اس کے دوسرے پائے پر محمد رسول اللہ نقش کیا جاتا ہے تو اضطراب سکون میں اور بے قراری طمانیت میں بدل جاتی ہے۔

بلاؤں سے بچے جو نام لے دل سے محمد ﷺ کا
اثر میم مشدد میں ہے ذوالقرنین کی سد کا

امیر مینائی

اختلاج قلب کا علاج

اس اسم میں سکون ہی سکون ہے۔ یہ نام بدن کی بے قراری کے لیے بھی باعث سکون ہے اور روح کے اضطراب کے لیے بھی۔ یہ عمل مجرب ہے کہ جس کو دل کی تکلیف ہو وہ اپنے دل کی جگہ پر سورۂ رعد کی آیت ”اَلا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ“ اپنی انگلی سے لکھ لے یا لکھوا لے اور نام محمد ﷺ کی بار بار تلاوت کرے۔ انشاء اللہ آرام ہوگا۔

دل کے سکوں کا راز ہے اتنا، جو پوچھے اس سے کہہ دینا
لیتے رہو بس نام محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم

بہزاد لکھنوی

نہ آدم علیہ السلام یافتے توبہ نہ نوح علیہ السلام از غرق نجینا

محدث ابن جوزی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ ہر نبی علیہ السلام مشکل کے وقت اپنے رب کے حضور نور محمدی ﷺ کے توسل سے پناہ مانگتا رہا۔ چنانچہ سیدنا آدم علیہ السلام کی لغزش اسی نام کے وسیلے سے قبول ہوئی۔ حضرت ادریس علیہ السلام کو اس نام کی وجہ سے ہی بلند مقام میں رفع کیا گیا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی میں انہی کا وسیلہ پکڑا اور حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی دعا میں اسی وسیلہ پر اعتماد فرمایا۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام انہیں کو شفیع لائے اور حضرت ایوب علیہ السلام نے اپنی مصیبت اور تکلیف میں آپ ﷺ ہی کو وسیلہ ٹھہرایا۔ (میلاد نبویؐ ص: 2)

صفحہ 104
کشتی نوح علیہ السلام میں نار نمرود میں
بطن ماہی میں یونس علیہ السلام کی فریاد پر
آپ ﷺ کا نام نامی اے صل علیٰ
ہر جگہ ہر مصیبت میں کام آگیا

سکندر لکھنوی

تسخیر کائنات

حضرت سلیمان علیہ السلام تمام روئے زمین پر حکمرانی کرتے تھے۔ تمام انسان وجن‘ چرند و پرند آپ ﷺ کی رعایا تھے اور ہر وقت خدمت اقدس میں ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے۔ یہ شاہی‘ یہ حکمرانی‘ یہ تعظیم‘ یہ ادب‘ یہ شان‘ یہ شوکت‘ یہ کروفر سب کا سب آپ علیہ السلام کی انگوٹھی کے سبب تھا جس پر حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ ابن ثابت سے مروی میرے آقا ومولا ﷺ کے ارشاد مبارک کے مطابق لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ نقش تھا۔

قدر و منزلت

خالق ارض وسماء کی بارگاہ میں اس نام کی کتنی قدر و قیمت ہے‘ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ تاقیامت قرآن حکیم میں اس کا یہ ارشاد محفوظ کر دیا گیا ہے کہ انجیر کی قسم۔ زیتون کی قسم۔ طورِ سیناء کی قسم۔ اس امن والے شہر کی قسم۔ ہم نے انسان کی تخلیق احسن تقویم پر کی۔ یہ احسن تقویم کیا ہے؟ جس کی خاطر رب العالمین نے تمام کبریائیوں‘ عظمتوں‘ بلندیوں اور رفعتوں کا مالک ہونے کے باوجود ایک‘ دو‘ تین‘ نہیں چار چار قسمیں کھائی ہیں۔ یہ قسمیں احسن تقویم کے حسن وجمال‘ رعنائی و زیبائی‘ عزت وشرف‘ عظمت ورفعت کی دلیل ہیں۔ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اللہ جل مجدہ کے نزدیک یہ احسن تقویم بڑی ہی شان وشوکت والی بڑی ہی معزز ومکرم شے ہے۔ یہ احسن تقویم کیا ہے؟

یہ احسن تقویم اسم محمد ﷺ کا نقش ہے۔

کعب الاحبار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حق تعالیٰ نے بنی آدم علیہ السلام کو مکرم مخلوق بنایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ”وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِىْ آدَمَ“۔ اس کی کرامت یہ ہے کہ وہ نام محمد ﷺ کی شکل پر پیدا ہوا۔ چنانچہ اس کا گول سر محمد ﷺ کی میم ہے۔ اور اس کے ہاتھ حا (ح) کے مانند ہے۔ اور اس کے پاؤں دال (د) کی طرح ہیں۔ اعلیٰ حضرت بریلوی اتنے مؤدب اور متقی تھے کہ کبھی پاؤں دراز کر کے نہ سوتے تھے۔ چوبیس گھنٹوں میں صرف ڈیڑھ دو گھنٹے آرام فرماتے اور وہ بھی داہنی کروٹ پر

صفحہ 105

اس طرح کہ دونوں ہاتھ ملا کر سر کے نیچے رکھ لیتے اور پاؤں مبارک سمیٹ لیتے گویا اسم محمد ﷺ کا نقشہ بن جاتے۔ اس طرح سونے کا فائدہ یہ ہے کہ ستر ہزار فرشتے رات بھر اس نام مبارک کے گرد درود شریف پڑھتے ہیں جن کا ثواب سونے والے کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔

وثائق الاخبار (صفحہ 3) میں ہے کہ نماز معراج المومنین اس لیے ہے کہ اس میں ”احمد ﷺ“ کا نقشہ بننا پڑتا ہے۔ قیام بصورت ”الف“ کے ہے۔ رکوع کی حالت میں ہم ”ح“ کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ جبکہ سجدے کی حالت میں ”میم“ اور قعدہ کی حالت میں ”دال“ کا منظر ہوتا ہے۔ ان تمام کا مجموعہ احمد ﷺ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ نماز اگرچہ مختصر سی عبادت ہے لیکن کیونکہ اس میں خالق کائنات کے محبوب ﷺ کے نام نامی اسم گرامی کا نقشہ بننا پڑتا ہے اس لیے یہ تمام عبادتوں کی سرتاج قرار پائی ہے۔

قیامت کے دن دنیا دیکھے گی کہ اہل جہنم کو دوزخ میں داخل کرنے سے پہلے ان کو انسانی شکل سے محروم کر دیا جائے گا۔ ان کے سر سے احسن تقویم کی چادر اتار کر ان کو میدان حشر میں ذلیل و رسوا کیا جائے گا۔

ایک حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ (مفہوم) جس کافر کو بھی دوزخ میں ڈالا جائے گا اس کی انسانی شکل کو مسخ کر کے شیطانی ہیئت پر پھیر دیا جائے گا کیونکہ انسانی شکل میرے نام (محمد ﷺ) کی شکل پر ہے۔ حق تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میرے نام کی صورت پر عذاب نازل کرے۔

(معارج النبوت)

برکتوں کا گنجینہ

میرے آقا و مولیٰ ﷺ کا نام مبارک برکتوں کا گنجینہ ہے۔ اس نام اقدس کی تعظیم و تکریم پر باران رحمت جھوم جھوم کے برستا ہے۔ اس نام پاک کے ادب و احترام پر عنایات خداوندی گنہگار سیہ کاروں کو اپنے دامن کرم میں چھپا لیتی ہیں۔ اس لیے جب بھی نام محمد ﷺ زبان پر شہد گھولے یا نام محمد ﷺ کی شیریں آواز پردہ سماعت پر قوس وقزح بکھیرے تو فوراً لبوں پر درود و سلام کے زمزمے بج اٹھنے چاہئیں۔ یہ تقاضا محبت ہے بلکہ صرف تقاضائے محبت ہی نہیں تقاضائے ایمان واسلام بھی ہے۔

تعظیم پر انعام واکرام

یہ نام اقدس اس مقدس ہستی کا ہے (ﷺ) جن کا عشق اصلی ایمان بھی ہے اور تکمیل ایمان بھی۔ اس لیے جب بھی جہاں بھی ذکر مصطفیٰ ہو (ﷺ) درود و سلام کا نذرانہ عقیدت ضرور پیش کریں۔ یقین کریں اللہ جل مجدہ کا وعدہ ہے کہ اگر تم یہ نذرانہ عقیدت ایک بار پیش کرو گے تو میری رحمتیں تم پر دس

صفحہ 106

ہار ٹوٹ ٹوٹ کر پڑیں گی۔

اس نغمہ محبت پر خالق کائنات کی طرف سے عطاؤں کی جو بارش برستی ہے اس کے تذکرہ سے قلم و زبان دونوں حیرت زدہ ہیں۔ یہ عنایات کثیرہ بھی ہیں اور عظیمہ بھی۔ مختصراً یہ سمجھ لیں کہ اخلاص اور محبت کے ساتھ جونہی زبان پر درود سلام کے نغمے کی شیرینی و حلاوت گھلتی ہے۔ خالق ارض وسماء جل وعلا کی رحمتیں چھم چھم برستی ہیں۔ قدسی استغفار کرنے لگتے ہیں۔ رحمت کی چادریں تن جاتی ہیں۔ خطائیں مٹا دی جاتی ہیں۔ پاکیزگی اعمال عطا کی جاتی ہے۔ درجات بلند کئے جاتے ہیں۔ گناہوں کو بخشش ڈھانپ لیتی ہے۔ دلوں کا زنگ دور ہوتا ہے۔ احد کے پہاڑ جتنا سونا خیرات کرنے کا اجر ملتا ہے۔ دنیا اور آخرت کے امور میں کفایت حاصل ہوتی ہے۔ غلام کو آزاد کر دینے سے بڑھ کر ثواب ملتا ہے۔ پریشانیوں سے نجات ملتی ہے۔ دعائیں مقبول ہوتی ہیں۔ زیارت مصطفیٰ ﷺ نصیب ہوتی ہے۔ شفاعت کی ضمانت ملتی ہے۔ رضائے الہی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ کے غصہ سے امان ملتی ہے۔ روز محشر عرش الہی کے سایہ میں جگہ نصیب ہوگی۔ قبر نور سے بھر دی جاتی ہے۔ نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوتا ہے۔ حوض کوثر سے جام طہور ملتے ہیں۔ دوزخ سے آزادی کا پروانہ ملتا ہے۔ پل صراط سے گزرنا آسان ہوگا۔ مرنے سے پہلے جنت میں اپنے مقام کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ حوروں کی کثیر تعداد دلہن بنتی ہے۔ بیس غزوات سے زیادہ کی فضیلت ملتی ہے۔ فقراء پر صدقہ کرنے جیسا اجر ملتا ہے۔ مال و دولت میں برکت ہوتی ہے۔ حاجات پوری ہوتی ہیں۔ فقر وتنگدستی دور ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا تقرب اور دربار رسالت کی حضوری کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور کائنات کی عظیم ترین سعادت دیدار مصطفیٰ ﷺ کی دولت نصیب ہوتی ہے۔

ہم نامی کا انعام

سیرت حلبی میں ہے کہ قیامت کے دن اعلان ہوگا کہ اے محمد ﷺ اٹھئے اور بغیر حساب و عذاب جنت الفردوس میں تشریف لے جائیے۔ یہ اعلان فرحت و مسرت تو در حقیقت صرف میرے آقا اور سردار ﷺ کی ذات بابرکات و کمالات کے لیے ہوگا۔ لیکن یہ مژدہ جاں فزا سن کر ہر وہ شخص جس کا نام محمد ہوگا۔ اس خیال سے کھڑا ہو جائے گا کہ یہ پکار شاید اس کے لیے بھی ہے۔ اب کیا ہوگا؟ محبت الہی کا سمندر جوش میں آئے گا اور اپنے محبوب ﷺ سے ہم نامی کے انعام میں ہر اس شخص کو جس کا نام احمد یا محمد ہوگا بغیر حساب و کتاب جنت میں داخلے کی سعادت عظمیٰ سے نواز دے گا۔

ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ جل مجدہ نے اپنے محبوب ﷺ سے وعدہ فرمایا ہے کہ

صفحہ ١٠٧

اے میرے محبوب ﷺ مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم میرے جس بندہ کا نام تمہارے نام پر ہوگا‘ اسے ہرگز ہرگز دوزخ کا عذاب نہیں دوں گا۔ (مفہوم)

ڈبل رحمت

حضرت علی شیر خدا کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ جس دستر خوان پر احمد یا محمد نام کا فرد حاضر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس گھر پر دن میں دو بار رحمت بھیجتا ہے۔

مشورہ میں برکت

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ سید دو جہاں ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی قوم باہم مشورہ کے لیے جمع ہو اور ان میں کوئی شخص محمد نامی ہو اور وہ اسے اپنے مشورہ میں شریک نہ کریں تو ان کے اس مشورہ میں ان کے لیے برکت نہیں ہوگی۔ (مفہوم)

نجات کا وسیلہ

صلوٰۃ مسعودی میں درمنثور کے حوالے سے امام جلال الدین سیوطی نے خصائص الکبریٰ میں‘ ابونعیم محدث نے حلیۃ الاولیاء میں اور علامہ اسماعیل حقی‘ علامہ حلبی اور علامہ یوسف نبھانی جیسے جلیل القدر محدثین اور مفسرین نے حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے روایت کیا ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص بہت گنہگار اور اللہ کا نافرمان تھا۔ جب وہ مر گیا تو لوگوں نے اس کی لاش کو اس کی بدکاری کے سبب کوڑے پر پھینک دیا۔ لوگوں کو اس کی موت سے دلی خوشی ہوئی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں نماز شکرانہ ادا کی۔ ادھر اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی بھیجی کہ اے موسیٰ! میرے بندوں میں سے میرا ایک بڑا پیارا بندہ فوت ہو گیا ہے۔ میرے دشمنوں نے اس کی لاش کو کوڑے پر پھینک دیا ہے۔ جاؤ اور اس شخص کی نعش کو غسل دے کر اس کی تجہیز و تکفین کرو اور اپنی قوم کو اس کی نماز جنازہ پر جمع کرو۔ تاکہ اس کی نماز جنازہ میں شرکت کی برکت سے وہ لوگ بھی نجات حاصل کریں۔ موسیٰ (علیہ السلام) فرمان خداوندی پر اس جگہ تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ ایک خستہ لاش منہ کے بل کوڑے پر پڑی ہے۔ غور سے دیکھا تو وہی فاسق وفاجر انسان تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ جل مجدہ سے عرض کیا کہ یا الٰہی ہر شخص یہ جانتا ہے کہ تیرے اس بندے نے دو سو سال تک تیری نافرمانی کی ہے پھر تو نے اس کو کیسے معاف کر دیا؟ فرمایا بے شک میرے بندوں نے اس شخص کی بے ادبیوں اور گستاخیوں کے سینکڑوں واقعات دیکھے ہیں اور یہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا کہ تم نے اس کے بارے میں کہا

صفحہ 108

مگر ایک روز جب یہ توریت پڑھ رہا تھا اس کی نظر میرے حبیب محمد مصطفیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے نام مبارک پر پڑی۔ اس کے دل میں میرے حبیب ﷺ کی محبت نے جوش مارا اور یہ دیوانہ وار ان اوراق کو چومنے اور آنکھوں پر ملنے لگا جس پر اسم محمد ﷺ لکھا ہوا تھا‘ (ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس نے آپ ﷺ پر درود بھیجا) مجھے اس کی یہ ادا بہت پسند آئی۔ اس کے شکریہ اور صلے میں میں نے اس کے تمام گناہ معاف کر کے اسے بخش دیا اور اسے اپنے مقربین میں جگہ دے کر ستر حوریں اس کے نکاح میں دے دیں۔ (خصائص الکبریٰ جلد اوّل ص: 42‘ سیرت حلبیہ جلد اوّل ص: 136‘ حجۃ اللہ علی العالمین ص: 124‘ حلیۃ الاولیاء جلد چہارم ص: 42)

سبحان اللہ! یہ ہے اعجاز حضور ﷺ کے نام نامی سے محبت کرنے کا جو آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے بھی وسیلۂ نجات تھا۔

اعزازی اعزاز

سید البشر میرے آقا و مولا ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک دن جبرئیل امین علیہ السلام میرے پاس آئے اور بولے کہ:

(مفہوم) ”یا محمد (ﷺ) آپ ﷺ کے رب نے آپ ﷺ کو سلام کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ مجھے اپنی عزت کی قسم ۔ مجھے اپنے جلال کی قسم جس شخص کا نام آپ ﷺ کے نام پر ہوگا اس پر میں نے جہنم کا عذاب حرام کر دیا ہے۔ میری محبت کو یہ ہرگز گوارا نہیں ہے کہ کسی کا وہ نام ہو جو میرے محبوب ﷺ کا نام ہے اور میں اسے عذاب میں مبتلا کردوں۔“ (ابونعیم فی الحلیہ)

دوزخ سے نجات کا پروانہ

حشر کا میدان ہے۔ برے اور بھلے کا انتخاب ہورہا ہے۔ اعمال بد کی پاداش میں حفاظ قرآن کے ایک گروہ کو جہنم میں داخل کیا جارہا ہے۔ اسم رسالت ان کے ذہن سے بھلا دیا گیا ہے۔

لیکن دیکھو کہ اس نام کو دربار ایزدی میں اتنی شرافت و عظمت حاصل ہے کہ رحمت الٰہی کو یہ بھی گوارا نہیں ہے کہ جس ذہن کی تختی پر اس کے محبوب ﷺ کا نام لکھا ہوا ہو اسے دوزخ کا عذاب دیا جائے۔ جبرئیل امین علیہ السلام کو حکم ہوتا ہے کہ ان عذاب الٰہی میں گرفتار حفاظ قرآن کو ان کے ذہنوں سے محو شدہ نام محمد (ﷺ) یاد دلاؤ۔ جیسے ہی یہ نام لوح قلب و ذہن پر ابھر کر زبان سے جاری ہوتا ہے جہنم کی آگ سرد پڑ جاتی ہے اور دوزخ سے نجات کا پروانہ مل جاتا ہے۔ (امام محمد المہدی الفاسی‘ مطالع

صفحہ 109

المسرات شرح دلائل الخیرات ،ص:49)

اللہ جل شانہ کو حیاء آتی ہے

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میرے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن دو بندوں کو اللہ جل مجدہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ حکم دیں گے کہ میرے ان دونوں بندوں کو جنت میں لے جاؤ۔ اس پر وہ دونوں بہت خوش ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب ہم جنت میں داخل ہونے کا ذرا سا بھی حق نہیں رکھتے کیونکہ جنتیوں کا سا کوئی بھی عمل ہمارے نامہ اعمال میں نہیں ہے۔ ہم اس عزت و اکرام کا سبب معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر اللہ جل جلالہ فرمائیں گے کہ تم میرے محبوب کے ہمنام ہو۔ لیکن تم نے دنیا میں اس کی لاج نہیں رکھی۔ تمہیں اس نام کے ساتھ میری نافرمانی کرتے وقت شرم بھی نہ آئی۔ لیکن مجھے حیاء آتی ہے کہ تمہیں عذاب دوں کیونکہ تمہارا نام میرے محبوب ﷺ کے نام پر ہے۔ پھر فرشتوں کو حکم ہوگا کہ انہیں جنت میں لے جاؤ۔

مفلسی دور ہوتی ہے

ایک حدیث شریف ہے کہ جس گھر میں احمد یا محمد یا عبداللہ نام کا شخص ہوگا اس گھر میں مفلسی کبھی بھی داخل نہیں ہوگی۔ (مفہوم)

گرہیں کھل جاتی ہیں

یہ نام مبارک سوئی ہوئی قسمت کو جگاتا ہے۔ خفتہ بخت کو بیدار کرتا ہے۔ مردہ روح کو زندگی عطا کرتا ہے۔

ہیثم بن ہنش سے روایت ہے کہ ایک دن ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس تھے۔ ان کا پیر سُن ہو گیا۔ کسی شخص نے انہیں مشورہ دیا کہ اے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے محبوب ترین شخص کا نام لو۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوراً نعرہ مستانہ بلند کیا۔

یا محمد (ﷺ)

پیر ایسے بیدار ہو گیا جیسے اس کی گرہ کھول دی گئی ہو۔

فرشتوں کی مزدوری میں شرکت

حدیث شریف ہے کہ جب بندہ مومن اپنے بیٹے کا نام محمد رکھتا ہے اور اس کو اس نام سے

صفحہ 110

پکارتا ہے تو تمام حاملین عرش جواب میں یا تو لبیک کہتے ہیں یا ”ولی اللہ“ سے جواب دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ اے ولی تجھے بشارت ہو کہ تو ہماری مزدوری یعنی ہماری اطاعت اور عبادت میں برابر کا شریک ہے اور تجھے اس شرکت کا اجر دیا جائے گا۔ (مفہوم)

رزق میں اضافہ

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ انہوں نے اہل مکہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جس گھر میں محمد نامی شخص رہتا ہو اس گھر میں برکت ہوتی ہے اور انہیں اور ان کے آس پاس کے (ہمسائیوں) کے چالیس گھرانوں کو اس نام کی برکت سے وافر روزی دی جاتی ہے۔

فرشتوں کی عبادت

حضرت شریح بن یونس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے بعض ایسے فرشتے پیدا فرمائے ہیں جو زمین پر گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ ان کا کام یہ ہے کہ ہر اس گھر کی زیارت کے لیے جاتے ہیں جہاں محمد یا احمد نام کا کوئی شخص رہتا ہو۔ ان فرشتوں کی عبادت یہی ہے۔

جاہل

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس کے تین بیٹے ہوں اور وہ ان میں سے ایک کا بھی نام محمد نہ رکھے تو یقیناً وہ جاہل ہے۔ (مفہوم) اپنے بچوں کا نام محمد یا احمد رکھنا تقاضائے عقل و عشق بھی ہے اور فرمان مصطفوی کی تعمیل بھی۔ آپ ﷺ کے نام مبارک پر اپنے بچے کا نام رکھنا باعث برکت، نفع دینے والا اور دنیا و آخرت میں حفاظت کا ضامن ہے۔

جنت میں داخلہ

ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر وہ بندہ مومن جو اپنے بیٹے کا نام میرے ساتھ دوستی و محبت کی بناء پر میرے نام پر رکھتا ہے وہ اور اس کا بیٹا یقیناً میرے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے۔ (مفہوم)

پاک نبی۔ پاکیزہ نام

غرضیکہ اسلام کی تمام معنوی خوبیوں کے ساتھ پیغمبر اسلام کے دونوں نام مبارک اپنے معنی

صفحہ 111

کے لحاظ سے مختلف خوبیوں کے مرقع، بے شمار برکات وفضائل کا خلاصہ اور معجزہ عظیم ہیں۔ ایک طرف وہ اپنے مسمّیٰ کے کام اور کام کے انجام کی پیشین گوئی ہیں تو دوسری طرف اس کے کاموں کی تاریخ اور اس کی تعلیم کا لب لباب ہیں۔ پاک ہے وہ اللہ جس نے اپنے نبی ﷺ کے ایسے پاک نام رکھے اور پاکیزہ ہے وہ نبی ﷺ جسے اس کے معبود نے ایسی فضیلتوں سے آراستہ کیا۔ ﷺ

لا یمکن الثناء کما کان حقّہٗ

غلو کبھی نہ کیا مدح مصطفیٰؐ میں امید
وہ لاجواب تھے ہم لاجواب لکھتے رہے

امید فاضلی

تاجدار مدینہ، شہ انبیاء، رحمت دو جہاں، جلوۂ نور حق ﷺ، اللہ جل مجدہ کے، جو خالق ہے ارض و سماء کا، مالک ہے کون و مکان کا، کے محبوب ہیں، اس کا فضل ہیں، اس کی رضاء ہیں، اس کا احسان ہیں۔ آپ ﷺ کے فضائل اور کمالات کی نہ کوئی حد ہے نہ شمار ہے۔ نہ کسی کی مجال کہ وہ ان کو صحیح صحیح اور مکمل طور پر بیان کر سکے۔ آپ ﷺ کی عزت و عظمت، مدح و ثناء کے باب میں ہم جو کچھ بھی کہہ جائیں، جتنا کچھ بھی بیان کر جائیں، وہ سب کچھ اس رتبہ عالی اور مقام اولیٰ سے جو ان کو ان کے رب نے عطا فرمایا ہے کم ہے، بہت کم ہے، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

مبالغہ مبالغہ نہیں رہتا

اس لیے رسول اللہ ﷺ کی تعریف و توصیف (مدح و ثناء) میں مبالغہ بھی مبالغہ نہیں رہتا۔ کیوں کہ شان حبیب رب المشرقین والمغربین ﷺ اور مراتب و مقام باعث ایجاد کل ﷺ تک کسی بھی انسان کی نہ تو نگاہ ہی جاسکتی ہے اور نہ ہی خیال۔ اور جہاں تک ہمارا خیال بھی نہ جاسکتا ہو وہاں تک مبالغہ جو فکر انسانی کا نتیجہ ہے، کیوں کر پہنچ سکتا ہے؟ یہ صرف میرا ہی خیال نہیں ہے بلکہ یہ کہنا ہے شیخ عبدالعزیز دیرینی قدس سرہ اور امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کا۔

امام دیرینی نے اپنی کتاب طہارۃ القلوب میں لکھا ہے کہ: (مفہوم) حضور ﷺ کے فضائل کا شمار ہو ہی نہیں سکتا اور نہ ہی آپ ﷺ کے شمائل کا اختتام ممکن ہے۔ اے نبی کریم ﷺ کی تعریف کرنے والے، آپ ﷺ کی تعریف میں جتنا بھی مبالغہ کر سکتا ہے کر لیکن یاد رکھ تو پھر بھی ہرگز ہرگز آپ ﷺ کی وہ تعریف و توصیف بیان نہیں کر سکتا جو آپ ﷺ کی شایان شان ہو۔ آپ ﷺ کی ستائش ثریا کی مانند ہے۔ بھلا ثریا تک بھی کسی کا ہاتھ پہنچا ہے؟

صفحہ 112

حضرت امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ اپنے مشہور زمانہ قصیدہ بردہ شریف میں فرماتے ہیں کہ: (مفہوم) ”حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں وہ نعت چھوڑ کر جو عیسائیوں نے اپنے نبی کی شان میں کہی کہ انہیں اللہ کا بیٹا بنا ڈالا اس کے سوا اپنے نبی کریم ﷺ کی شان اور عزت وعظمت میں جو کلمات جی چاہے بلا جھجک حکم لگا کر اور فیصلہ کر کے کہہ (شعر نمبر 45,44,43) آپ ﷺ کی شان اقدس میں نثر ونظم میں آج تک جتنی بھی نعتیں لکھی جاچکی ہیں، ان کا شمار ناممکن ہے۔ اور تو اور قرآن حکیم کی ان آیات کی تفسیر میں جن میں رسول مقبول علیہ الصلوۃ والسلام کی مدح وثناء (تعریف وتوصیف) بیان کی گئی ہے دفتر کے دفتر لکھے جاچکے ہیں لیکن یہ تفاسیر آج تک بھی مکمل نہیں ہوسکی ہیں اور یقیناً ان کے ایک ایک لفظ کی تشریحات کا سلسلہ تاقیامت جاری وساری رہے گا۔

غور فرمائیے کہ دنیا میں نہ جانے کتنی قومیں کتنی زبانیں وجود میں آئیں اور آ کر ختم ہوگئیں۔ جن میں سے کچھ کا ذکر کتابوں میں ملتا ہے۔ جیسے قبطی، سریانی، عبرانی، سنسکرت وغیرہ۔ جبکہ بہت سی ایسی قومیں اور زبانیں ہوں گی جو تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئیں اور جن کے بارے میں ہم کچھ بھی نہیں جانتے۔ یہ بات صرف اللہ جل مجدہ کے علم میں ہی ہوگی کہ آج تک کتنی قومیں اور زبانیں وجود میں آئیں اور اب ناپید ہیں۔ کتنی امتیں فنا ہوگئیں، کتنے آسمانی صحیفے نازل ہوئے جو اٹھا لیے گئے یا گم ہوگئے۔ ان تمام میں کس قدر نعت شاہ والا ﷺ لکھی گئیں، پڑھی گئیں، سنی گئیں۔ کون ان کا شمار کر سکتا ہے۔ بقائے انسانی کے ساتھ ساتھ فروغ نسل کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کون جانے آج سے قیامت تک کتنی نسلیں، کتنی قومیں اور کتنی زبانیں وجود میں آئیں گی۔ یہ عدم سے وجود میں آنے والے آپ ﷺ کی شان میں کیا کچھ نہ کہیں گے اس کا حساب کتاب کون لگا سکتا ہے۔

یہ تو تھا انسانوں کا ذکر جو اشرف المخلوقات ہے ان کے علاوہ اللہ کی کس کس مخلوق میں، کب سے، کس کس طرح حبیب کبریا ﷺ کا ذکر مبارک ہوتا رہا ہے ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا اس کا شمار کون کر سکتا ہے۔ روزانہ ستر ہزار فرشتے صبح اور ستر ہزار فرشتے شام کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے روضہ مبارک پر حاضر ہو کر آپ ﷺ کے حضور درود و سلام کے گلدستے پیش کرتے ہیں۔ جنات نے بھی نبی اکرم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے حضور مدح و ثناء کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ شجر و حجر نے سلام و کلام کیا ہے۔ جانوروں نے آپ ﷺ کے سایہ رحمت تلے پناہ لی ہے۔ حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہما السلام تک تمام انبیاء علیہم السلام نے آپ ﷺ کے ذکر کو حرز جاں بنایا ہے۔ مخلوق میں سے کسی کو بھی جنت کی وسعت اور اس کے طول و عرض کا کچھ بھی اندازہ نہیں ہے۔ اس حد خیال سے بھی زیادہ وسیع اور عریض بہشت بریں کے ہر برگ و شجر پر، ہر خیمے اور محل پر، ہر در و دیوار پر حتیٰ کہ حوروں کے سینوں پر اور

صفحہ 113

فرشتوں کی آنکھوں کے درمیان مکتوب آپ ﷺ کا نام نامی اسم گرامی آپ ﷺ کی مدحت بیان کر رہا ہے۔

پھر روز قیامت مقام محمود پر فائز ہونے پر آپ ﷺ کی جو مدح و ثناء ہوگی، ان تمام کو یکجا کرنے اور شمار کرنے سے عقل انسانی نہ صرف یہ کہ قاصر ہے بلکہ عاجز بھی ہے۔ اسی لیے تو امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ آپ ﷺ کی شان والا تبار میں جو کچھ کہنا چاہتے ہو، بلا جھجک کہہ دو اور جو حکم لگانا چاہو لگاؤ۔

عقل دنگ ہے

اب تک ہم نے جو کچھ پیش کیا ہے، وہ خود ماہرین شماریات کی عقلیں دنگ کر دینے کے لیے کافی ہے۔ لیکن ہم ایک قدم اور آگے چلتے ہیں اور باعث ایجاد کل، ختم الرسل، دانائے سبل ﷺ کی مدح و ثناء کے شمار بے شمار کا ایک ایسا حیران کن حوالہ پیش کرتے ہیں جس سے ایک دنیا محو حیرت ہو جائے گی۔

اس بیسویں (20) صدی میں جہاں سائنس اپنے معراج پر پہنچ چکی ہے۔ ہم خالق کون و مکان کی ان تمام نعمتوں کا جو اس نے اپنے بندوں کو از آدم علیہ السلام تا امروز عطا فرمائی ہیں، تذکرہ تو کجا صرف سمندروں میں پیدا ہونے والی مچھلیوں اور ان کی اقسام کا نہ تو حتمی طور پر شمار کر سکے ہیں اور نہ ہی کبھی کر سکیں گے۔ فضائے بسیط میں پھیلے ستاروں کی دنیا میں ہماری کہکشاں کی وہی حیثیت ہے جو ایک قطرے کی سمندر میں ہوتی ہے۔ ہماری اس کہکشاں میں کیا کچھ ہے، اہل علم ابھی اسی کی تلاش و جستجو میں غرق ہیں۔ باقی دنیا کے بارے میں تو کچھ کہنا ہی بیکار ہے۔ سائنس کی ترقی کا یہ حال ہے کہ انسان چاند کی تسخیر کے بعد اس سے بھی آگے جانے کی سوچ رہا ہے۔ لیکن ہمیں ابھی تک اپنے جسم کے مسام، بال، رگوں اور اعصاب تک کے صحیح شمار کا علم نہیں ہے۔

حیرت کا مقام

الغرض علم الابدان ہو یا علم الارض، علم سیارگان ہو یا علم نباتات، علم لسانیات ہو یا کوئی بھی دوسرا علم ان علوم میں اللہ جل شانہ کی نعمتوں کا شمار عقل انسانی کے بس سے باہر ہے۔ لیکن حیرت کا مقام ہے کہ اتنی بے شمار نعمتوں کے متعلق اللہ جل مجدہ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ:

قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ (سورہ النساء، آیت:77)

مفہوم: اے میرے محبوب ﷺ فرما دیجئے کہ دنیاوی متاع بہت تھوڑی ہے۔

کیا یہ مقام حیرت نہیں ہے کہ جن نعمتوں کا ایک چھوٹا سا خاکہ میں نے آپ کے سامنے پیش

صفحہ 114

کیا اور جس کو شمار کرنے سے عقل انسانی عاجز اور قاصر ہے اسے اس کا تخلیق کرنے والا قلیل (بہت تھوڑا) بہت کم) بتا رہا ہے

جب اللہ میاں اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ میری صفات عظیم ہیں تو یقیناً ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوتی کیونکہ وہ خالق کون و مکان ہیں۔ یہ ہنگام زندگی انہیں کا پیدا کردہ ہے۔ لیکن جب وہ یہ کہتے ہیں کہ جس طرح میری صفات عظیم ہیں اسی طرح میرے محبوب ﷺ کی صفات بھی عظیم ہیں تو نہ صرف یہ کہ حیرت ہوتی ہے بلکہ مسرت اور شادمانی بھی ہوتی ہے۔

قرآن حکیم کی سورۃ بقرہ کی 255 ویں آیت ( آیت الکرسی ) میں اپنے بارے میں اللہ میاں کا ارشاد ہے کہ:

وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ

مفہوم: میری صفات عظیم ہیں۔

دوسری طرف سورہ قلم کی چوتھی آیت میں اپنے محبوب ﷺ کے لیے ارشاد ہوتا ہے کہ:

وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيْمٍ

مفہوم : میرے محبوب کا اخلاق (خوب) عظیم ہے

جبکہ قرآن حکیم کی سورۃ النساء کی آیت 113 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:

وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا

مفہوم : اے محبوب ﷺ آپ پر اللہ کا فضل عظیم ہے۔

اس فضل عظیم میں آپ ﷺ کی تمامی صفات شامل ہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کی ہر صفت عظیم ہے۔

اندازہ لگائیے کہ اللہ جل مجدہ کی ذات پاک بھی عظیم، حضور سرور کائنات ﷺ کی سیرت پاک بھی عظیم اور حضور ﷺ پر اللہ جل مجدہ کا فضل و کرم بھی عظیم اور اس کے مقابلے میں ”متاع الدنیا“ جن کا شمار ہمارے بس سے باہر ہے وہ سب قلیل ہیں پھر کیونکر ممکن ہے کہ کوئی بوصیری، کوئی جامی، کوئی سعدی، کوئی رومی آپ ﷺ کی شان با کمال کو صحیح صحیح اور پوری طرح بیان کر سکے۔

يَا صَاحِبَ الجَمَالِ وَ يَا سَيِّدَ البَشَرِ
مِنْ وَجْهِكَ الْمُنِيرِ لَقَدْ نُوِّرَ الْقَمَرِ
لا يُمْكِنُ الثَّنَاءُ كَمَا كَانَ حَقَّهُ
بَعْدَ از خُدا بُزُرگ تُوئی قِصّہ مُخْتَصَرِ
صفحہ 115

آپ ﷺ کے فضائل و کمالات کا بیان ناممکن ہے

قرآن حکیم کی سورۃ الکہف کی آیت نمبر 109 میں اللہ جل مجدہ فرماتے ہیں کہ: قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ مفہوم: اے نبی ﷺ تم ان کو بتادو کہ اگر سمندر میرے رب کے کلمات لکھنے کے لیے سیاہی بن جائے تو لکھتے لکھتے یہ سمندر ختم ہو جائے گا لیکن میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی۔

بعض مفسرین کرام نے اس آیت کے لفظ کلمت (کلمات) سے اللہ جل مجدہ کی معلومات، اس کی قدرت و حکمت اور اس کی صفات مراد لی ہیں۔ یہ تفسیر بھی صحیح ہے۔ بیشک اللہ جل شانہ کے علم و قدرت، فضل و کمال کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ لیکن حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز نے کلمت سے حضور سرور عالم، نور مجسم ﷺ کے فضائل و کمالات اور آپ ﷺ کے علوم و برکات مراد لیے ہیں۔ (مدارج النبوت، جلد اوّل، ص:145) اس طرح اس آیت کے معنی یہ ہوئے کہ اگر دنیا بھر کے نعت خواں، نعت گو، واعظین، علماء، فضلاء، خطباء، مفکرین، دانشور اور کاتب حضرات سمندروں کے پانی کی روشنائی بنا کر حضور اقدس ﷺ کے صفات اور کمالات لکھنا چاہیں تو یہ روشنائی ختم ہو جائے گی۔ قلم رک جائے گا، زبان عاجز آجائے گی اور عقل و فکر کی جولانی سرد پڑ جائے گی مگر حضور ﷺ کے اوصاف جمیلہ بیان نہ ہو سکیں گے۔

انبیاء سابقین کلمۃ الرب ہیں اور ہمارے حضور ﷺ کلمات الرب ہیں

قرآن مجید کی سورہ النساء کی آیت نمبر 171 میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلمہ قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: اِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ مفہوم: مسیح عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں۔ چونکہ آپ علیہ السلام کی پیدائش کا کوئی ظاہری سبب نہ تھا۔ آپ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے اس لیے آپ علیہ السلام کی طرف ”کُن“ کی نسبت کی گئی۔ اس بناء پر خصوصی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کلمۃ اللہ کہا گیا۔ ورنہ ہر وہ چیز جو من جانب اللہ ہو، کلمۃ اللہ ہے۔ قرآن، آسمانی کتابیں، معجزات اور تمام انبیاء کرام چونکہ منجانب اللہ ہیں اس لیے ”کلمۃ اللہ“ ہیں۔

صفحہ 116

ظاہر ہے کہ انبیاء سابقین کو علیحدہ علیحدہ فرداً فرداً جو کمال عطا ہوا وہ منجانب اللہ ہی ہے تو اس بناء پر ہر نبی کلمہ رب ہے اور ہمارے نبی ﷺ میں تمام نبیوں کے کمالات ایک ساتھ جمع ہیں۔ کلمہ رب نہیں ”کلمات رب“ ہیں۔ نوح علیہ السلام کلمۃ الرب، موسیٰ علیہ السلام کلمۃ الرب، عیسیٰ علیہ السلام کلمۃ الرب اور ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کلمات الرب اور کلمات الرب کے بارے میں قرآن حکیم نے سورۃ کہف کی مذکورہ آیت میں وضاحت کر دی ہے کہ اگر کلمات رب کو لکھنے کے لیے سمندر کے پانی کو روشنائی قرار دے دیا جائے تو سمندر کا پانی ختم ہو جائے گا لیکن کلمات رب رقم نہ ہو سکیں گے۔

صرف اس ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ سورۂ لقمان میں مزید وضاحت فرمادی کہ: وَلَوْ اَنَّ مَافِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّانَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ

مفہوم: اور اگر زمین میں جس قدر درخت ہیں ان سب کے قلم بنائے جائیں اور تمام سمندر سیاہی میں تبدیل کر دیئے جائیں اور ان کے ساتھ سات ایسے ہی اور سمندر ملا لیے جائیں تب بھی یہ قلم اور سیاہی ختم ہو جائیں گے لیکن کلمات الٰہی ختم نہ ہوں گے۔ (آیت:27)

اللہ اکبر۔ دنیا کے سات سمندروں کی روشنائی بنائی جائے پھر ایسے ہی سات اور سمندر ہوں ان سے بھی روشنائی کا کام لیا جائے۔ دنیا بھر کے درختوں کی قلمیں بنالی جائیں اور کلمات الرب لکھنے کی کوشش کی جائے تو سات در سات سمندروں کا پانی اور درختوں کے قلم ختم ہو جائیں گے مگر کلمات الرب رقم نہ ہو سکیں گے۔ سبحان اللہ ! نور مجسم ﷺ کلمات الربّ ہیں اور کلمات الرب کا بیان و اظہار ناممکن ہے۔

شمار کرنے چلیں اس کی خوبیوں کا اگر
تو ساتھ چھوڑ دیں تھک تھک کے نیل، سنکھ، پدم

فکر انسانی نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے مرتبہ و مقام کے صحیح بیان سے عاجز ہے۔ یہ محض جذباتی بات نہیں ہے۔ بلکہ عقل و نقل سے واضح و ثابت ہے۔ کسی کی تعریف وہی کر سکتا ہے جو ممدوح (تعریف کئے گئے) کے متعلق پوری معلومات رکھتا ہو۔ اب اگر کوئی حضور ﷺ سے زیادہ یا آپ ﷺ کے برابر علم رکھتا ہو تو وہی آپ ﷺ کی تعریف کر سکتا ہے اور یہ بات متفق علیہ ہے کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی نہ تو آپ ﷺ کے برابر کا علم رکھتا ہے اور نہ ہی زیادہ تو پھر بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم آپ ﷺ کے شایان شان آپ ﷺ کی تعریف کر سکیں۔

صفحہ 117

نبوت ایسا عظیم منصب ہے جس کی معرفت عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ پھر آپ ﷺ عام نبی نہیں ہیں۔ نبیوں کے سردار ہیں۔ اس لیے آپ ﷺ کی تعریف اور تعارف صرف اللہ جل مجدہ ہی کر سکتے ہیں۔ غیر نبی میں یہ طاقت نہیں ہے کہ آپ ﷺ کے فضائل و کمالات کو شایان شان طور پر بیان کر سکے۔

غالب جو امراء و سلاطین کا قصیدہ خواں اور بارگاہ حسن و جمال میں شعر و شاعری کا امام مانا جاتا ہے جب میرے آقا اور سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے حسن و جمال اور فضائل و کمالات پر شعر موزوں کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو بہت جلد مذکورہ بالا حقیقت کو پا کر عرض کرتا ہے کہ:

غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتم
کاں ذات پاک مرتبہ داں محمد ﷺ است

واضح ہوا کہ ہمارے حضور رحمت دو عالم ﷺ کے مرتبہ و مقام کی عظمت کا بیان اور آپ ﷺ کے فضائل و کمالات کا اظہار ناممکن ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ نے اصدق الصادقین امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ: مفہوم: ”اے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری حقیقت کو سوائے میرے رب کے کوئی نہیں جانتا۔“

خدا و مصطفیٰ ﷺ کی رمز سے ادراک عاجز ہے
خدا کو مصطفیٰ ﷺ جانے محمد ﷺ کو خدا جانے

۞......۞......۞

صفحہ 118

حضرت محمد ﷺ

علامہ شاہ عبدالحق محدث دہلویؒ

سنت ابراہیمیؑ کے مطابق عربوں‘ بالخصوص قریش مکہ میں عقیقہ کرنے کا دستور تھا‘ چنانچہ جناب عبدالمطلب نے ساتویں دن اپنے لاڈلے پوتے کا عقیقہ کیا اور ختنہ کرایا (آپ کے مختون پیدا ہونے کی روایات بھی منقول ہیں۔) اس موقع پر جانور ذبح کرکے قریش کو کھانے کی دعوت بھی دی۔ کھانے کے بعد قریش نے پوچھا: اے عبدالمطلب! آپ نے اپنے جس بیٹے کے لیے ہماری ضیافت کی ہے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آسمان میں اللہ اور زمین میں اس کی مخلوق آپؐ کی تعریف کرے۔ اہل لغت کہتے ہیں کہ محمد ﷺ کا مفہوم ہے تمام صفات خیر اور اوصاف حمیدہ کا جامع۔ یہ بھی روایات ہیں کہ آپؐ کا اسم گرامی محمد الہامی ہے‘ نیز آپؐ کی والدہ ماجدہ نے خالقِ حقیقی کی طرف سے اشارہ پا کر آپؐ کا نام احمد رکھا (ابن سعد: طبقات‘ 104:1 ابن کثیر‘ السیرۃ النبویۃ 1:206-210‘ عیون الاثر 1:30)

آنحضرت ﷺ کے اسمائے گرامی محمد ﷺ اور احمد ﷺ کا مادہ حمد ہے اور حمد کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کے اخلاق حسنہ‘ اوصاف حمیدہ‘ کمالات جمیلہ اور فضائل ومحاسن کو محبت‘ عقیدت اور عظمت کے ساتھ بیان کیا جائے۔ اسم پاک محمدؐ مصدر تحمید (باب تفعیل) سے مشتق ہے اور اس باب کی خصوصیت مبالغہ اور تکرار ہے۔ لفظ محمد اسی مصدر سے اسم مفعول ہے اور اسی سے مقصود وہ ذات بابرکات ہے جس کے حقیقی کمالات‘ ذاتی صفات اور اصلی محامد کو عقیدت ومحبت کے ساتھ بکثرت اور بار بار بیان کیا جائے۔

صفحہ 119

لفظ محمد میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ وہ ذات ستودہ صفات جس میں خصال محمودہ اور اوصاف حمیدہ بدرجہ کمال اور بکثرت موجود ہوں۔ اسی طرح احمد اسم تفضیل کا صیغہ ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک یہ اسم فاعل کے معنی میں ہے اور بعض کے نزدیک اسم مفعول کے معنی میں۔ اسم فاعل کی صورت میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ مخلوق میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کرنے والا اور مفعول کی صورت میں سب سے زیادہ تعریف کیا گیا اور سراہا گیا۔ (الروض الانف 106:1، فتح الباری 403:6، لسان العرب اور تاج العروس بذیل مادہ)

رسول اللہ ﷺ سے پہلے زمانہ جاہلیت میں صرف چند اشخاص ایسے ملتے ہیں جن کا نام محمد تھا۔ لسان العرب اور تاج العروس میں سات آدمیوں کے نام ضبط کیے گئے ہیں اور بعض نے زیادہ بھی نقل کیے ہیں۔ ان لوگوں کے والدین نے اہل کتاب سے یہ سن کر کہ جزیرۃ العرب میں ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے جس کا نام محمد ہوگا، اس شرف کو حاصل کرنے کے لیے یہ نام رکھ لیا۔ البتہ کسی نے احمد نام نہیں رکھا۔ مشیئت الٰہی دیکھیے کہ محمد نام کے ان لوگوں میں سے کسی نے بھی نبوت و رسالت کا دعویٰ نہیں کیا۔۔ (فتح الباری 404:7-405)

آنحضرت ﷺ کا اسم گرامی احمد قرآن مجید میں صرف ایک مرتبہ مذکور ہے اور وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی کے طور پر:

وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُهُ اَحْمَد (61 الصف: 6)

یعنی میں (عیسیٰ) اس پیغمبر کی بشارت سناتا جو میرے بعد آئے گا اور جس کا نام احمد ہوگا۔ آپ کا اسم گرامی محمد چار مرتبہ قرآن مجید میں آیا ہے اور ہر مرتبہ آپ کے منصب رسالت کے سیاق و سباق میں:

یعنی محمد ﷺ تو اللہ کے رسول ہیں۔

النَّبِیّٖن (33 الاحزاب: 40)

یعنی محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور انبیاء (کی نبوت) کی مہر یعنی اس کو ختم کردینے والے ہیں۔

وَّهُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَاَصْلَحَ بَالَهُمْ (47 محمد: 2)

صفحہ 120

یعنی اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور جو (کتاب) محمد ﷺ پر نازل ہوئی اسے مانتے رہے اور وہ ان کے رب کی طرف سے برحق ہے ان سے ان کے گناہ معاف کر دیئے اور ان کی حالت سنوار دی۔ (4) مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ (48 الفتح: 29) یعنی محمد اللہ کے رسول ہیں۔

ان چاروں آیات میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کا نام لے کر آپؐ کی رسالت و نبوت کے منصب کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے تاکہ کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔

اسی مناسبت کی بنا پر آپؐ نے اور آپؐ کی امت نے دنیا کی تمام قوموں اور امتوں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد وستائش کی اور قیامت تک کرتی رہے گی۔ ہر کام کے آغاز واختتام پر اللہ تعالیٰ کی تعریف اور حمد کا حکم دیا گیا اور امت کا ہر فرد یہ فریضہ انجام دے رہا ہے۔ بالکل اسی طرح آنحضرت ﷺ کے محامد ومحاسن اور خصال محمودہ، اوصاف حمیدہ اور فضائل وکمالات کا بیان اور ذکر جس کثرت سے کیا گیا ہے اور ابد تک کیا جاتا رہے گا اس کی مثال بھی دنیا میں نہیں مل سکتی۔

صفحہ 121

اسم گرامی کے حروف کی برکات

علامہ شاہ عبدالحق محدث دہلویؒ

کعب الاحبار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے بنی آدم کو مکرم مخلوق بنایا وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْ اٰدَمَ اور اس کی کرامت یہ ہے کہ وہ نام محمد ﷺ کی شکل پر پیدا ہوا ہے چنانچہ اس کا گول سر محمد ﷺ کی میم ہے اور اس کے ہاتھ حا کی مانند ہیں اور جوف دار شکم میم ثانی اور اس کے پاؤں دال کی طرح ہیں یہی وجہ ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ جس کافر کو بھی دوزخ میں ڈالیں گے اس کی انسانی شکل کو مسخ کردیں گے اور شیطانی ہیئت پر پھیر دیں گے کیونکہ انسانی شکل میرے نام کی شکل پر ہے جو کہ محمد ﷺ ہے۔ حق تعالیٰ اس بات کو میرے نام کی صورت پر عذاب نہیں کرتا وہ بندہ جو میرا ہم نام‘ فرمانبردار اور محبّ ہو اس کو کیسے عذاب دے گا اس باب میں ایک الگ فصل لاتے ہیں۔ وَبِاللهِ تَوْفِیْقُ۔

احادیث میں حضور ﷺ کے اسمائے گرامی

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب قیامت کے روز تمام اولین و آخرین مخلوق سے ان کے برے اعمال کا مواخذہ ہوگا۔ دو بندوں کو خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا کریں گے حق سبحانہ وتعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے ان دونوں بندوں کو جنت میں لے جاؤ‘ وہ بندے انتہائی مسرت وخوشی سے واہب العطایا کے حضور مناجات کریں گے اور عرض کریں گے کہ خداوندا ہم اپنی ذات میں جنت میں داخل ہونے کی کوئی صلاحیت اور استحقاق نہیں رکھتے اور ہمارے نامہ اعمال میں جنتیوں کا سا کوئی بھی عمل نہیں ہے۔ ہم اپنے متعلق اس عزت واکرام کا سبب

صفحہ 122

معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ حکم ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ کیونکہ میرے کرم سے یہ بات بعید ہے کہ احمد اور محمد جس کا نام ہو اسے دوزخ میں ڈالوں۔

حدیث دوم

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جس گھر میں ان تین ناموں احمد محمد عبداللہ میں سے کسی نام والا شخص ہو اس گھر میں فقر نہیں آتا۔

حدیث سوم

ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں فرمایا۔ ہر وہ بندۂ مومن جو اپنے فرزند کا نام میرے ساتھ دوستی ومحبت کی بنا پر میرے نام پر رکھتا ہے وہ اور اس کا فرزند میرے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے۔

حدیث چہارم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ فرمایا جب بندۂ مومن اپنے بیٹے کا نام محمد رکھتا ہے اور جب وہ لڑکا خود کو محمد پکارتا ہے اور کہتا ہے۔ یا محمد۔ تمام حاملین لبیک یا ولی اللہ سے جواب دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں اے ولی تجھے بشارت ہو کہ تو ہماری مزدوری میں شریک ہے یعنی ہماری طاعات و عبادات میں ہمارے ساتھ شریک ہے اور اس کا اجر تجھے دیا جائے گا اور حق تعالیٰ اسے قیامت کے روز حاملین عرش کا ثواب عنایت فرمائے گا۔

حدیث پنجم

عبدالرحمٰن بن عمرو بن حبابہ رشدہ بنت سعید سے وہ ام کلثوم بنت عتبہ سے اور وہ اپنی مادر جلیلہ بنت عبدالجلیل سے نقل کرتا ہے اس نے کہا ایک روز میں نے مصطفیٰ ﷺ سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ میرے ہاں لڑکا پیدا ہوتا ہے مگر بچپن ہی میں فوت ہو جاتا ہے۔ مجھے آپ کیا حکم فرماتے ہیں۔ فرمایا اس دفعہ جب تجھے حمل ہو جائے تو تہیہ کر لینا کہ اپنے فرزند کا نام محمد رکھے گی۔ مجھے امید ہے کہ وہ لڑکا لمبی عمر پائے گا اور اس کی نسل میں برکت ہوگی۔ وہ کہتی ہیں میں نے ایسا ہی کیا۔ میرا وہ بچہ زندہ رہا اور بحرین میں جو ایک جگہ ہے اس کی اولاد سے زیادہ کسی قبیلہ کے افراد نہیں ہیں۔ وَاللّٰهُ الْهَادِیْ۔

صفحہ 123

حضرت محمد ﷺ

حافظ ابن کثیرؒ

دستور عرب اور نام

بیہقی (ابو عبداللہ الحافظ، محمد بن کامل قاضی، محمد بن اسماعیل سلمی، ابو صالح عبداللہ بن صالح، معاویہ بن صالح) ابوالحکم تنوخی سے نقل کرتے ہیں کہ قریش کے ہاں جب بچہ پیدا ہوتا تو دستور تھا اسے صبح تک قریشی عورتوں کے سپرد کر دیتے، وہ اس پر ہانڈی اوندھی ڈال دیتیں، چنانچہ عبدالمطلب نے آپ کو حسب دستور عورتوں کے سپرد کیا اور انہوں نے آپ پر ہانڈی الٹا کر رکھ دی۔ صبح سویرے انہوں نے دیکھا تو ہانڈی دو ٹکڑے ہو چکی تھی اور آپ آنکھیں کھولے آسمان کو دیکھ رہے تھے چنانچہ انہوں نے عبدالمطلب کو کہا، ہم نے ایسا بچہ کبھی نہیں دیکھا۔ ہم نے صبح دیکھا تو ہانڈی دو نیم تھی اور وہ آسمان کو آنکھیں کھولے دیکھ رہا تھا، تو عبدالمطلب نے کہا اس کی خوب حفاظت کرو مجھے امید ہے کہ وہ عظیم الشان انسان ہوگا۔ ساتویں روز کچھ جانور ذبح کر کے قریش کی دعوت کی، خوردونوش سے فارغ ہو کر انہوں نے عبدالمطلب سے بچے کا نام پوچھا تو عبدالمطلب نے ”محمد“ بتایا تو انہوں نے کہا کہ اپنے خاندانی ناموں سے ہٹ کر تم نے یہ نام کیوں تجویز کیا؟ تو اس نے کہا میری خواہش ہے کہ اللہ آسمان پر اس کی تعریف و ستائش کرے اور زمین پر مخلوق۔ بغوی کہتے ہیں کہ اچھی عادات و خصال کے جامع، ہر انسان کو محمد کہتے ہیں، کسی نے کہا۔

صفحہ 124
الیک ابیت اللعن اعملت ناقتی
الی الماجد القرم الکریم المُحَمَّد

بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اسم محمدؐ اللہ عزوجل نے ان کو الہام کیا تھا کیونکہ آپ عمدہ خصال و صفات کے پیکر تھے تاکہ اسم اور مسمی صورت ومعنی کے مطابق ہو جائے جیسا کہ ابو طالب نے کہا اور یہ حسان سے بھی منقول ہے۔

وَشَقَّ لَهُ مِنِ اِسْمِهِ لِيُجِلَّه
فذو العرش مَحْمُود وهذا مُحَمَّد

(اللہ تعالیٰ نے اس کی عظمت وجلالت ظاہر کرنے کے لیے اس کا نام اپنے نام سے مشتق کیا ہے‘ سنو! رب عرش محمود ہے اور وہ محمد ہے)

نام کی عظمت اور محمد نام کے چھ اشخاص

شفا میں قاضی عیاضؒ (544ھ/1149ء) نے بیان کیا ہے کہ اسم احمد جو آسمانی کتابوں میں مذکور ہے اور انبیائے کرام نے ان کی آمد کا مژدہ سنایا ہے۔ بہ تقاضائے حکمت الٰہی (یا حسن اتفاق سے) کوئی شخص بھی اس نام سے موسوم نہ ہوا اور نہ ہی اس نام سے کسی کو پکارا گیا کہ ضعیف الاعتقاد اور شکی مزاج انسان کو التباس نہ ہو۔ ایسے ہی اسم محمد کو بھی عرب وعجم میں کسی نے بطور نام استعمال نہیں کیا‘ البتہ رسول اکرم ﷺ کی پیدائش سے کچھ عرصہ قبل یہ مشہور ہوگیا تھا کہ محمد ﷺ نامی نبی مبعوث ہوگا پس نبوت کی امید میں بعض اہل عرب نے اپنے بیٹوں کا یہ نام تجویز کیا تھا (واللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ) اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کو کہاں رکھے گا‘ چنانچہ یہ ہیں چھ اشخاص جو اس نام سے موسوم ہوئے۔ (1) محمد بن احیحہ بن جلاح اوسی (2) محمد بن سلمہ انصاری (3) محمد بن براء کندی (4) محمد بن سفیان بن مجاشع (5) محمد بن حمران جعفی اور (6) محمد بن خزاعی سلمی‘ ان کا ساتواں کوئی نہیں۔ بعض کہتے ہیں سب سے اوّل محمد بن سفیان اس نام سے موسوم ہوا۔ یمنی کہتے ہیں محمد بن یحمد ازدی۔

جو شخص بھی اس نام سے موسوم ہوا‘ اللہ نے اس کو دعوائے نبوت سے محفوظ رکھا یا کسی نے بھی اس کی نبوت کا اقرار کیا ہو یا اس پر نبوت کے کچھ آثار ہویدا ہوئے ہوں جن سے اشتباہ کا خطرہ لاحق ہو‘ یہاں تک کہ دونوں باتیں آپ کے لیے بلا نزاع محقق ہو گئیں یعنی بذات خود دعوائے نبوت اور عوام کی تائید وتصدیق۔

صفحہ 125

محمد ﷺ

پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ

اسم مبارک

ایک روایت میں یہ مذکور ہے کہ نبی کریم ﷺ مختون پیدا ہوئے تھے لیکن دوسری روایات میں یہ ہے کہ ساتویں روز حضرت عبدالمطلب نے تمام قریش کو مدعو کیا اسی روز حضور کا ختنہ کیا گیا اور جانور ذبح کر کے عقیقہ کیا گیا اور آپ نے اپنے قبیلہ کی پر تکلف دعوت کا اہتمام فرمایا۔ جب وہ کھانا کھا چکے تو انہوں نے کہا۔ اے عبدالمطلب! جس بیٹے کے تولد کی خوشی میں آپ نے اس پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا ہے اور ہمیں عزت بخشی ہے یہ تو بتائیے کہ اس فرزند کا نام آپ نے کیا تجویز کیا ہے؟ آپ نے فرمایا میں نے اس کا نام ”محمد“ تجویز کیا ہے۔ از راہ حیرت وہ گویا ہوئے۔ آپ نے اپنے اہل بیت میں سے کسی کے نام پر اس کا نام نہیں رکھا۔ آپ نے جواب دیا اَرَدْتُ اَنْ يَّحْمَدَهُ اللّٰهُ فِى السَّمَاءِ وَ خَلْقُهُ فِى الْاَرْضِ میں نے اس لیے اس کا یہ نام تجویز کیا ہے تاکہ آسمانوں میں اللہ تعالیٰ اور زمین میں اس کی مخلوق اس مولود مسعود کی حمد و ثنا کرے۔“

کلمہ محمد کی تشریح

قَالَ اَهْلُ اللُّغَةِ كُلُّ جَامِعٍ بِصِفَاتِ الْخَيْرِ يُسَمّٰی مُحَمَّدًا

اہل لغت کہتے ہیں کہ جو ہستی تمام صفات خیر کی جامع ہو اسے محمد کہتے ہیں۔ امام محمد ابو زہرہ

صفحہ 126

اسم محمد کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: اَنَّ صِيْغَةَ التَّفْعِيْلِ تَدُلُّ عَلٰی تَجَدُّدِ الْفِعْلِ وَحُدُوْثِهٖ وَقْتًا بَعْدَ اٰخَرَ بِشَكْلٍ مُّسْتَمِرٍّ مُّتَجَدِّدًا اٰنًا بَعْدَ اٰنٍ وَعَلٰی ذٰلِكَ يَكُوْنُ مُحَمَّدًا اَىْ يَتَجَدَّدُ حَمْدُهٗ اٰنًا بَعْدَ اٰنٍ بِشَكْلٍ مُّسْتَمِرٍّ حَتّٰی يَقْبِضَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی اِلَيْهِ۔

تفعیل کا صیغہ کسی فعل کے بار بار واقع ہونے اور لمحہ بہ لمحہ وقوع پذیر ہونے پر دلالت کرتا ہے اس میں استمرار پایا جاتا ہے۔ یعنی ہر آن وہ نئی آن بان سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس تشریح کے مطابق محمد کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ ذات، جس کی بصورت استمرار ہر لمحہ ہر گھڑی نو بنو تعریف و ثنا کی جاتی ہو۔‘‘

علامہ سہیلی اس نام کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: فَالْمُحَمَّدُ فِى اللُّغَةِ هُوَالَّذِىْ يُحْمَدُ حَمْدًا بَعْدَ حَمْدٍ وَلَا يَكُوْنُ مُفَعَّلٌ مِّثْلَ مُضَرَّبٍ وَمُمَدَّحٍ اِلَّا لِمَنْ تَكَرَّرَفِيْهِ الْفِعْلُ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ

’’یعنی لغت میں محمد اس کو کہتے ہیں جس کی بار بار تعریف کی جائے کیونکہ مفعل کے وزن میں اس فعل کا تکرار مقصود ہوتا ہے۔ مضرب اور ممدح ان کا وزن بھی مفعل ہے اور ان کے معنی میں بھی تکرار ہے۔‘‘

دوسرا مشہور و معروف نام نامی احمد ہے۔ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہما السلام نے حضور ﷺ کو اس نام سے یاد کیا۔

احمد اسم تفضیل کا صیغہ ہے اس کا معنی ہے احمد الحامدین، یعنی ہر حمد کرنے والے سے زیادہ اپنے رب کی حمد کرنے والا۔

ویسے تو حضور ﷺ کا لمحہ لمحہ اپنے رب کریم کی حمد وثنا سے آباد ہے۔ حضور ﷺ کی تحمید و تمجید کی ہر ادا سب سے نرالی اور سب سے ارفع واعلیٰ ہے لیکن حضور ﷺ کی یہ شان احمدیت پوری آب وتاب سے روز محشر آشکارا ہوگی جب حضور ﷺ رب ذوالجلال کے عرش کے سامنے حاضر ہو کر سر بسجود ہوں گے اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی حمد کے لیے اپنے حبیب کا سینہ منشرح فرمائے گا۔ حمد کے سرمدی خزانوں کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ صدر انور میں معرفت الہٰی کا بحر بیکراں ٹھاٹھیں مارنے لگے گا۔ حضور کی زبان فیض ترجمان اس کی تہہ سے حمد کے موتی چن چن کر بکھیر رہی ہوگی جملہ اہل محشر پر کیف وسرور کی مستی چھا جائے گی اس بے مثل اور بے نظیر تحمید و تمجید کے صلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے

صفحہ 127

محبوب ﷺ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا دست مبارک میں لواء حمد تھمائے گا اس وقت انوار الہی کی ضوفشانیوں اور شان احمدی کی ضیاء پاشیوں کا کیا عالم ہو گا۔ ہر چیز وجد کناں 'سبحان اللہ' 'سبحان اللہ' 'الحمد للہ' 'اللہ اکبر' کے ترانے الاپ رہی ہو گی۔ ہم گنہ گاروں اور عصیاں شعاروں کی بھی بن آئے گی۔ حضور پہلے احمد تھے سب سے زیادہ اپنے رب کی تعریف وثنا کے زمزمے بلند ہوتے رہیں گے۔ نہ زبانیں خاموش ہوں گی اور نہ قلم کو یارا ئے صبر ہوگا نہ معانی ومعارف کے موتی ختم ہوں گے۔ نہ ان موتیوں کے ہار پرونے والے بس کریں گے۔ جمال مصطفوی کے گلشن میں نت نئے پھول کھلتے رہیں گے۔ سلیقہ شعار گل چین انہیں چنتے رہیں گے جھولیاں بھرتے رہیں گے۔ اور مشک بار گلدستے تیار کر کے بزم کونین کو سجاتے رہیں گے اور فضائے عالم کو عنبرین بناتے رہیں گے۔

رحمت عالم و عالمیان ﷺ کے بزم رنگ وبو میں رونق افروز ہونے سے پہلے یہ بات مشہور ہو چکی تھی کہ نبی آخرالزمان کی ولادت کا زمانہ قریب آ گیا ہے اور ان کا اسم گرامی محمد ہوگا کئی لوگوں نے اس آرزو میں اپنے بچوں کو اس نام سے موسوم کیا کہ شاید یہ سعادت انہیں ارزانی ہو۔ ابن فورک نے کتاب الفصول میں تین ایسے بچوں کا ذکر کیا ہے جو اس نام سے موسوم ہوئے۔ ساتھ ہی لکھا ہے کہ ایک چوتھا بچہ بھی تھا لیکن مجھے وہ یاد نہیں رہا۔

ابن فورک کا یہ قول نقل کرنے کے بعد علامہ ابن سیدالناس نے چھ ایسے بچوں کے نام گنوائے ہیں جو اس نام سے موسوم ہوئے اور وہ یہ ہیں:

لیکن ان میں سے کسی نے اپنے لیے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ کسی اور شخص نے ان میں سے کسی شخص کو نبی مانا اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم ﷺ کے دعویٰ نبوت کو ہر قسم کے التباس سے محفوظ رکھا تا کہ کوئی شخص اپنی سادہ لوحی سے کسی غیر نبی کو نبی سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہو کر راہ حق سے بھٹک نہ جائے۔

حضور نبی کریم ﷺ کے ویسے تو بے شمار اسماء گرامی ہیں جو حضور کی مختلف شانوں اور صفات

صفحہ 128

کی ترجمانی کرتے ہیں لیکن پانچ نام ایسے ہیں جن کو سرکار دوعالم ﷺ نے خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔ امام ترمذی نے جبیر بن مطعم کے حوالہ سے یہ حدیث نقل کی ہے:

قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّمَ اِنَّ لِیْ اَسْمَاءً اَنَا مُحَمَّدٌ وَّاَنَا اَحْمَدُ وَاَنَا الْمَاحِیُ الَّذِیْ يَمْحُوا اللّٰهُ بِيَ الْكُفْرَ وَاَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمِیْ وَاَنَا الْعَاقِبُ الَّذِیْ لَيْسَ بَعْدِیْ نَبِیٌّ

”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے کئی نام ہیں‘ میں محمد ہوں‘ میں احمد ہوں‘ میں الماحی ہوں یعنی اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ سے کفر کو مٹا دے گا‘ میں الحاشر ہوں لوگ حشر کے دن میرے قدموں پر جمع ہوں گے‘ میں عاقب ہوں۔ یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“

(عیون الاثر بن سید الناس ص 31 جلد اوّل)

امام ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے۔ امام بخاری‘ مسلم اور نسائی نے حضرت جبیر کی حدیث کو روایت کیا ہے۔

حضور ﷺ کا ذکر خیر تورات وانجیل میں

عطاء بن یسار سے مروی ہے آپ کہتے ہیں میری ملاقات حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے کہا حضور ﷺ کی جن صفات کا ذکر خیر تورات میں آیا ہے ان سے مجھے آگاہ فرمائیے آپ نے کہا بیشک تورات میں حضور ﷺ کی وہی صفات بیان کی گئی ہیں جو قرآن میں بیان ہیں۔ پھر آپ نے تورات کی مندرجہ ذیل آیت تلاوت کی۔

يٰاَيُّهَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا وَّحِرْزًا لِّلْاُمِّيِّيْنَ اَنْتَ عَبْدِیْ وَرَسُوْلِیْ سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ لَسْتَ بِفَظٍّ وَّلَا غَلِيْظٍ وَّلَا صَخَّابٍ فِی الْاَسْوَاقِ وَلَا تَجْزِیْ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلٰكِنْ تَعْفُوْ وَتَغْفِرُ وَلَنْ يَّقْبِضَهُ اللّٰهُ حَتّٰی يُقِيْمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِاَنْ يَّقُوْلُوْا لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ فَيَفْتَحَ بِهِ اَعْيُنًا عُمْيًا وَّاٰذَانًا صُمًّا وَّقُلُوْبًا غُلْفًا

(انفرد باخراجه البخاری)

تورات کی آیت کا ترجمہ:

”اے نبی! ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہ بنا کر‘ خوشخبری دینے والا۔ اور ڈرانے والا‘ امتیوں کے لیے جائے پناہ‘ تو میرا بندہ ہے اور میرا رسول ہے میں

صفحہ 129

نے تیرا نام المتوکل رکھا ہے نہ تو درشت خو ہے نہ سخت دل اور نہ بازاروں میں شور مچانے والا ہے۔ تو برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتا بلکہ معاف کر دیتا ہے اور بخش دیتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی طرف نہیں بلائے گا یہاں تک کہ ایک ٹیڑھی ملت کو آپ کے ذریعہ درست کر دے گا اور وہ سب کہنے لگیں لا الہ الا اللہ ۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے سے اندھی آنکھوں کو بینا‘ بہرے کانوں کو شنوا ۔ غلافوں میں لپٹے ہوئے دلوں کو نور ہدایت سے منور کر دے گا۔“

(الوفا لابن الجوزی صفحہ 38-37 جلد اوّل)

اس مفہوم کی بہت سی روایات ہیں جو علامہ ابن جوزی نے اس مقام پر تحریر کی ہیں۔ یہاں اس ایک روایت کے لکھنے پر اکتفا کرتا ہوں۔

بہت سی ایسی روایات بھی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ اہل کتاب حضور نبی کریم ﷺ کو پہچانتے تھے لیکن محض حسد اور عناد کی وجہ سے ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوتے تھے۔

علامہ ابن قیم لکھتے ہیں:

حضرت صفیہ (جن کو بعد میں ام المومنین بننے کا شرف حاصل ہوا) یہ حیی بن اخطب رئیس یہود کی بیٹی تھیں ان کے چچا کا نام ابو یاسر بن اخطب تھا۔ آپ کہتی ہیں کہ میرے والد اور میرے چچا تمام بچوں سے زیادہ میرے ساتھ محبت کرتے تھے۔ جب بھی میں ان سے ملاقات کرتی تو مجھے اٹھا کر سینے سے لگا لیتے جب اللہ کے پیارے رسول قبا ﷺ میں تشریف لائے اور بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں قیام فرمایا تو میرا والد اور میرا چچا صبح اندھیرے منہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گئے اور سورج غروب ہونے کے بعد واپس لوٹے۔ جب وہ واپس آئے میں نے محسوس کیا کہ وہ تھکے ہوئے ہیں۔ افسردہ خاطر ہیں اور بڑی مشکل سے ہولے ہولے چل رہے ہیں میں نے حسب معمول ان کو محبت بھرے کلمات سے مرحبا کہا لیکن ان دونوں میں سے کسی نے میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا میں نے اپنے چچا ابو یاسر کو اپنے باپ سے یہ کہتے ہوئے سنا کیا یہ وہی ہیں؟ اس نے کہا بیشک خدا کی قسم! پھر چچا نے پوچھا کیا تم نے ان کو تورات میں بیان کردہ نشانیوں اور صفات سے پہچان لیا ہے اس نے جواب دیا بیشک خدا کی قسم پھر چچا نے پوچھا بتاؤ اب کیا خیال ہے میرے باپ نے جواب دیا۔ ”عداوتہ واللہ مابقیت“ خدا کی قسم جب تک زندہ رہوں گا ان سے عداوت کرتا رہوں گا۔

(ہدایۃ الحیاری صفحہ 40 ابن قیم)

بنو قریظہ یہودی قبیلہ تھا جو یثرب میں دوسرے یہودی قبائل کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ عاصم

صفحہ 130

بن عمر بن قتادہ بیان کرتے ہیں کہ بنی قریظہ قبیلہ کے ایک رئیس نے مجھ سے پوچھا تمہیں معلوم ہے کہ شعبہ کے دونوں بیٹے اسد اور ثعلبہ اور عبید کا بیٹا اسد کیونکر مسلمان ہوئے؟ میں نے کہا نہیں! اس نے کہا کہ شام سے ایک یہودی ہمارے پاس آیا۔ اس کا نام ’ابن الہیبان‘ تھا۔ اور ہمارے پاس آ کر رہائش پذیر ہو گیا۔ بخدا ہم نے اس سے بہتر کوئی اور نماز پڑھنے والا نہیں دیکھا وہ حضور ﷺ کی بعثت سے دو سال قبل یہاں آیا تھا جب کبھی ہم قحط سالی کا شکار ہوتے تو ہم اس سے دعا کی درخواست کرتے وہ ہمیں صدقہ دینے کے لیے کہتا پھر وہ کھلے میدان میں جا کر دعا مانگتا جب وہ دعا مانگ رہا ہوتا تو بادل گھر کر آ جاتے اور بارش برسنے لگتی۔ یہ ہمارا بارہا کا تجربہ تھا۔ وہ جب مرنے لگا تو ہم سب اس کے اردگرد اکٹھے ہو گئے اس نے کہا اے گروہ یہود تم جانتے ہو کہ سرزمین شام جو ہر طرح کی آسائشوں اور فراوانیوں کی سرزمین ہے اسے چھوڑ کر میں تمہارے اس شہر میں کیوں آیا جہاں افلاس اور بھوک کے بغیر کچھ نہیں۔ ہم نے جواب دیا اس کی وجہ تو ہی بہتر جانتا ہے اس نے کہا کہ میں اس لیے اپنا وطن چھوڑ کر یہاں غریب الوطنی کی زندگی بسر کرتا رہا اور اب اسی حالت میں مر رہا ہوں۔ کیونکہ مجھے ایک نبی کے ظہور کی توقع تھی اور اس کے ظہور کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہے۔ اور یہ شہر اس کی ہجرت گاہ ہے اے گروہ یہود! جب وہ تشریف لائے تو اس کی پیروی اختیار کرنا اور خیال رکھنا کوئی اور تم سے اس معاملہ میں بازی نہ لے جائے۔ پھر وہ مر گیا پس جب وہ رات آئی جب بنو قریظہ کی گڑھیاں فتح ہوئیں وہ تینوں جوان آئے وہ بالکل نو عمر تھے انہوں نے کہا اے گروہ یہود! یہ نبی وہی ہے جس کا ذکر تمہارے سامنے ابن الہیبان نے کیا تھا یہودیوں نے کہا یہ وہ نہیں ہے ان نوجوانوں نے کہا بخدا! یہ وہی ہے اور اس میں وہ تمام صفات پائی جاتی ہیں جن کا ذکر اس نے کیا تھا۔ وہ اترے اور حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف باسلام ہو گئے۔ اپنے بال بچے اور مال دولت کی انہوں نے ذرا پرواہ نہ کی جو یہودیوں کے قبضہ میں تھا۔

(ہدایۃ الحیاری لابن قیم صفحہ 18-17 الوفا لابن الجوزی صفحہ 55)

الغرض اس قسم کے بہت سے واقعات ہیں جن سے کتب تاریخ بھری پڑی ہیں جو اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ یہودیوں میں سے جو اہل علم تھے وہ ان علامات کی وجہ سے حضور کو پہچانتے تھے جو تورات میں مذکور تھیں۔ لیکن حسد کی بنا پر وہ ایمان لانے سے محروم رہے۔

ابن ابی نملہ سے منقول ہے کہ یہود بنی قریظہ اپنی کتابوں میں نبی کریم ﷺ کا ذکر پڑھا کرتے۔ اور اپنی اولاد کو بھی حضور ﷺ کی صفات اور اسم مبارک سے آگاہ کرتے اور یہ بھی بتاتے کہ مدینہ حضور ﷺ کی ہجرت گاہ ہے لیکن جب حضور ﷺ مبعوث ہوئے تو مارے حسد و عناد کے حضور ﷺ پر ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ (الوفا لابن الجوزی صفحہ 42)

صفحہ 131

مالک بن سنان کہتے ہیں کہ میں ایک روز (ایک یہودی قبیلہ) بنی عبدالاشہل کے ہاں آیا کہ گفتگو کروں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب کہ ہمارے درمیان اور بنی عبدالاشہل کے درمیان عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہو چکا تھا۔ میں نے یوشع یہودی کو کہتے سنا کہ ایک نبی کے ظہور کا وقت قریب آ گیا ہے اس کا نام نامی احمد ہوگا جو حرم سے نکلے گا۔ خلیفہ بن ثعلبہ الاشہلی نے از راہ استہزاء کہا کہ اس کا حلیہ تو بتاؤ۔ یوشع نے کہا نہ وہ پست قد ہوگا نہ طویل قامت اس کی آنکھوں میں سرخی ہوگی وہ دستار باندھے گا اونٹ پر سوار ہوگا اس کی تلوار اس کی گردن میں حمائل ہوگی یہ شہر (یثرب) اس کی ہجرت گاہ ہے۔ مالک کہتے ہیں تو میں یہ سن کر اپنی قوم کے پاس گیا مجھے یوشع کی بات سے حیرت ہو رہی تھی۔ ہم میں سے ایک آدمی بولا یہ بات صرف یوشع تو نہیں کہتا بلکہ یثرب کا ہر یہودی کہتا ہے مالک بن سنان کہتے ہیں کہ وہاں سے میں بنی قریظہ کے پاس آیا وہاں ان کے چند آدمی جمع تھے انہوں نے نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا ذکر شروع کر دیا۔

قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ بَاطَا: قَدْطَلَعَ الْكَوْكَبُ الْاَحْمَرُ الَّذِيْ لَمْ يَطْلُعُ اِلَّا لِخُرُوْجِ نَبِيٍّ اَوْظُهُوْرِهٖ وَلَمْ يَبْقَ اَحَدٌ اِلَّا اَحْمَدُ وَهٰذَا مُهَاجَرُهُ ”زبیر بن باطا نے کہا کہ وہ سرخ ستارہ طلوع ہو گیا ہے یہ ستارہ صرف اس وقت طلوع ہوتا ہے جب کسی نبی کا ظہور ہو اور اب سوائے احمد کے اور کوئی نبی باقی نہیں رہا اور یہ شہر اس کی ہجرت گاہ ہے۔“

عیسائیوں میں بھی ان کے علماء حضور ﷺ کی آمد کے بارے میں پوری طرح باخبر تھے۔ اور حضور ﷺ کی علامات اور صفات ان کے ذہن میں نقش تھیں۔ چنانچہ اہل نجران کا جو وفد مدینہ طیبہ حاضر ہوا ان میں ابی حارثہ بن علقمہ ان کا سب سے بڑا عالم، امام اور مدرس تھا۔ اس کے علم و فضل کی وجہ سے روم کے عیسائی بادشاہ اس کی بڑی قدر و منزلت کرتے تھے۔ اور اس پر وقتاً فوقتاً انعامات کی بارش کرتے رہتے تھے جس سے اس کی مالی حالت بڑی مستحکم ہو گئی تھی۔ ایک روز وہ اپنے خچر پر سوار ہو کر بارگاہ رسالت میں حاضری دینے کے لیے جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا بھائی کرز بن علقمہ بھی جا رہا تھا۔ اچانک ابی حارثہ کا خچر پھسلا تو کرز نے کہا تَعِسَ الْاَبْعَدُ جو بہت دور ہے وہ ہلاک ہو اس کا اشارہ حضور ﷺ کی ذات پاک کی طرف تھا ابی حارثہ غصہ سے بے قابو ہو گیا کہنے لگا بَلْ اَنْتَ تَعِسْتَ وہ نہیں بلکہ تم ہلاک ہو۔ کرز نے پوچھا میرے بھائی یہ تم نے کیا کہا ابو حارثہ نے کہا بخدا یہ وہی نبی ہے جس کا ہم انتظار کر رہے تھے کرز نے کہا اگر حقیقت یہ ہے تو پھر تم حضور ﷺ پر ایمان کیوں نہیں لاتے اس نے کہا ہماری قوم ہماری بڑی عزت افزائی کرتی ہے انہوں نے مالی طور پر ہمیں خوشحال بنا دیا

صفحہ 132

ہے وہ ان پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔ اگر ان پر میں ایمان لے آؤں گا تو مجھے اس اعلیٰ منصب سے بھی محروم کر دیا جائے گا۔ اور مالی نوازشات کا سلسلہ بھی بند ہو جائے گا بایں ہمہ اس کا بھائی کرز اس کو مجبور کرتا رہا جب وہ مایوس ہو گیا تو کرز نے حضور ﷺ کے دست مبارک پر اسلام کی بیعت کر لی۔

(ہدایۃ الحیاریٰ صفحہ 27)

اسی طرح نجاشی کو جب حضور ﷺ کا گرامی نامہ ملا تو اس نے بلا تامل حضور ﷺ کی دعوت کو منظور کر لیا۔ اور اس بات پر بڑی حسرت کا اظہار کیا کہ حکومت کی مجبوریاں اس کے لیے زنجیر پا ہیں ورنہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور کفش برداری کی خدمت بجا لاتا۔

عہد قدیم کے کئی ملوک وسلاطین ایسے گزرے ہیں جنہوں نے حضور ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے حضور ﷺ کی نبوت پر ایمان لے آنے کا اعلان کیا۔ ان میں سے خاندان تبع کے ایک بادشاہ کا تذکرہ آپ پہلے حصہ میں پڑھ چکے ہیں۔

آگے بڑھنے سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ سابقہ آسمانی کتابوں میں حضور ﷺ کے محامد و کمالات کا ذکر خیر ہے یا نہیں۔ اس وقت عیسائیوں کے پاس چار انجیلیں ہیں جن کو مستند قرار دیا گیا ہے۔ انجیل متی، انجیل مرقس، انجیل لوقا، انجیل یوحنا۔ ان میں سے کوئی انجیل بھی 70ء سے پہلے مدون نہیں ہوئی انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے یہ الفاظ غور طلب ہیں:

It's exact date and exact place of origin are uncertain, but it appears to date from the later years of the 1st century.

”اس کی متعین تاریخ اور اس کے معرض وجود میں آنے کا صحیح مقام غیر یقینی ہے لیکن ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تعلق پہلی صدی کے آخری سالوں سے ہے۔“

(انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا صفحہ 513 جلد سوم)

اس کے چند سطر بعد اسی کالم میں رقمطراز ہیں:

We have no certain knowledge as to how or where the fourfold gospel canon came to be formed.

”ہمارے پاس کوئی یقینی علم نہیں ہے کہ یہ چار مستند انجیلیں کیسے اور کہاں معرض وجود میں آئیں۔“

صفحہ 133

جن لوگوں نے انہیں مرتب کیا وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحابہ میں سے نہ تھے بلکہ اس وقت انہوں نے نصرانیت کو قبول ہی نہیں کیا تھا۔ اور نہ ان مرتب کرنے والوں نے ان لوگوں کا نام بتایا ہے جن کے واسطہ سے ان تک یہ اناجیل پہنچی ہیں۔ آپ خود سوچیے کہ ستر سال تک جو کتاب مرتب نہیں ہوئی اور اس طویل عرصہ کے بعد جن لوگوں نے اسے مرتب کیا انہوں نے یہ بتانے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ کن لوگوں سے انہیں یہ چیز ملی ہے تاکہ ان کے بارے میں جانچ پڑتال کی جاسکے تو ایسے مجموعہ پر کس طرح اعتماد کیا جاسکتا ہے۔

اس پر طرہ یہ کہ وہ اصلی نسخے جو سریانی زبان میں لکھے گئے تھے وہ سرے سے غائب ہیں ان کا سراغ تک نہیں ملتا تاکہ ان تراجم کا اصل کے ساتھ موازنہ کیا جاسکے ان سریانی اناجیل کا ترجمہ بعد میں یونانی زبان میں کیا گیا۔ لیکن ان تراجم کا بھی کوئی اصلی نسخہ دستیاب نہیں۔ اناجیل کا جو سب سے قدیم یونانی ترجمہ ملتا ہے وہ چوتھی صدی کا تحریر شدہ ہے۔

جہاں صورت حال یہ ہو وہاں آپ بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اناجیل کیا سے کیا بن گئی ہوں گی؟ اور ان میں کس طرح کے تصرفات راہ پاچکے ہوں گے اس لیے اگر ایسی انجیلوں میں یہ بشارت نہ ملے تو قرآن پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی شان ملاحظہ ہو کہ تحریف و بگاڑ کے سیلاب کے باوجود جو صدیوں موجزن رہا اب بھی بڑی صریح عبارتیں موجود ہیں جن میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد کے بارے میں پیشین گوئیاں کی گئی ہیں یہاں بطور نمونہ انجیل کی چند آیتیں پیش کی جاتی ہیں۔

کروں گا کہ وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا۔

(انجیل یوحنا باب 14 آیت نمبر 16-17)

مددگار کے لفظ پر بائیبل کے حاشیہ میں یا وکیل یا شفیع بھی تحریر ہے۔

کچھ نہیں۔ (انجیل یوحنا باب 14‘ آیت 31)

کا روح جو باپ سے صادر ہوتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا۔ اور تم بھی گواہ ہو کیونکہ شروع سے میرے ساتھ ہو۔ (یوحنا باب 15‘ آیت 26-27) یہاں بھی مددگار کے لفظ پر حاشیہ میں یا وکیل یا شفیع مرقوم ہے۔

صفحہ 134

مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا۔ لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا۔ اور وہ آکر دنیا کو گناہ اور راست بازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا۔

(یوحنا باب 16 آیت 9-8)

مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا اس لیے وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا۔ لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔

(کتاب مقدس مطبوعہ پاکستان بائبل سوسائٹی انارکلی لاہور)

مندرجہ بالا حوالہ جات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کوئی آنے والا ہے جس کی آمد کی خبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بار بار اپنے امتیوں کو دے رہے ہیں۔ اس آنے والے کی جن صفات و خصوصیات کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے ان کا مصداق بجز ذات پاک حبیب کبریا ﷺ کے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ لیکن از راہ تعصب اگر کوئی اصرار کرے کہ مجھے انجیل میں حضور ﷺ کا اسم مبارک دکھاؤ تو ہم اس کی یہ خواہش بھی پوری کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن یہ بات اس کے ذہن نشین رہے کہ انجیل جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی سریانی زبان میں تھی کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سریانی تھی اس اصلی نسخے کا کہیں کوئی نام و نشان نہیں۔ 70ء میں اس کا یونانی میں ترجمہ ہوا ہے۔ اور یہ یونانی ترجمہ بھی نایاب ہے۔ انجیل کے جو یونانی ترجمے اس وقت موجود ہیں وہ چوتھی صدی عیسوی کے لکھے ہوئے ہیں ان یونانی تراجم کا پھر ترجمہ لاطینی زبان میں کیا گیا جو سلطنت رومہ کی علمی زبان تھی اس لاطینی ترجمہ سے دنیا بھر کی زبانوں میں انجیل کے ترجمے کیے گئے۔ ترجمہ در ترجمہ کے اس عمل سے اس انجیل میں جو ردو بدل اور تحریف وقوع پذیر ہوئی ہوگی وہ محتاج بیان نہیں اگر ان تراجم میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اسم گرامی نہ ملے تو قطعاً محل تعجب نہیں۔

لیکن طالبان حق کی خوش قسمتی ملاحظہ ہو کہ جب مسلمانوں نے فلسطین وغیرہ ممالک کو فتح کیا تو اس وقت وہاں کے لوگوں کی زبان بدستور سریانی تھی۔ مسلمان علماء اہل کتاب کے علماء سے وقتاً فوقتاً ملاقات کرتے رہتے تھے اور ان ملاقاتوں میں افادہ اور استفادہ کا سلسلہ ان کی مادری زبان میں ہوتا تھا۔ اس طرح اناجیل کے بارے میں علماء اسلام کو جو معلومات وہاں کے علماء اہل کتاب سے حاصل ہوئیں وہ اصل سے زیادہ قریب تھیں کیونکہ وہ انہیں سریانی سے بلا واسطہ عربی میں منتقل کرتے تھے ترجمہ در ترجمہ کے جو حجابات عیسائیوں کو درپیش آئے، مسلمان علماء کو ان سے سابقہ نہیں پڑا اس لیے جب ہم سیرت ابن

صفحہ 135

ہشام کا مطالعہ کرتے ہیں تو حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ یادرہے کہ علامہ ابن ہشام نے جن کی وفات 213ھ میں ہوئی محمد بن اسحاق سے جن کی وفات 151ھ میں ہوئی اپنے استاد ابو محمد البکائی العامری کے واسطہ سے نقل کی ہے بکائی کی وفات کا سال 183ھ ہے اس میں یوحنا کے باب 15 کی آیت 26 کا عربی متن یوں ہے:

فَلَوْ قَدْجَاءَ الْمُنْحَمَّنَّا هَذَا الَّذِي يُرْسِلُهُ اللَّهُ إِلَيْكُمْ مِّنْ عِنْدِ الرَّبِّ رُوحِ الْقُدُسِ هَذَا الَّذِي مِنْ عِنْدِ الرَّبِّ خَرَجَ فَهُوَ شَهِيدٌ عَلَيَّ وَأَنْتُمْ أَيْضًا لِأَنَّكُمْ قَدِيمًا كُنْتُمْ مَعِيْ فِي هَذَا قُلْتُ لَكُمْ لِكَيْ مَالَا تَشُكُّوْا

’’اور جب منحمنا آئے گا جسے اللہ تعالیٰ رسول بنا کر بھیجے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے آئے گا تو وہ میری سچائی کا گواہ ہوگا اور تم بھی میری سچائی کے گواہ ہو کیونکہ تم عرصہ دراز سے میرے ساتھ ہو میں نے تم سے یہ باتیں اس لیے کہی ہیں تاکہ تم شک میں مبتلا نہ ہو جاؤ۔‘‘

اس کے بعد لکھتے ہیں:

اَلْمُنْحَمَّنَا بِالسُّرِيَانِيَةِ مُحَمَّدٌ صلى الله تعالى عليه وسلم وهو بالرومية البرقليطس یعنی منحمنا‘ سریانی لفظ ہے اور اس کا معنی محمد ہے۔ رومی زبان میں اس کا ترجمہ برقلیطس ہے۔ برقلیطس کا رومی ہجہ اگر یہ ہو (Perklytos) پھر تو معاملہ صاف ہے۔ اور اس کا معنی ہے تعریف کیا گیا اور ”محمد“ کا بھی بعینہ یہی معنی ہے۔ لیکن اگر اس کا ہجہ یوں ہو (Paracletus) تو اگر چہ دونوں لفظوں کے تلفظ میں بڑی مشابہت ہے لیکن اس کا معنی پہلے لفظ سے مختلف ہے خود انجیل کے مترجمین کو اس کا ترجمہ کرنے میں بڑی دقت پیش آئی۔ اردو کی بائبل کے متن میں اس کا ترجمہ مددگار کیا گیا ہے اور حاشیہ پر وکیل یا شفیع مرقوم ہے کسی نے اس کا ترجمہ (ابن ہشام جلد اوّل ص 215 مطبع حجازی مصر) (Consolator) ”تسلی دینے والا“ کسی نے (Teacher) ٹیچر‘ استاذ‘ آگسٹائن نے (Advocate) وکیل کیا ہے۔

کیا خبر الفاظ کا یہ ہیر پھیر عیسائی علماء کے معمول کا کرشمہ ہو اور اسی وجہ سے وہ خود بھی پریشانی کا شکار ہو گئے ہوں۔

یہ صورت حال تو اس وقت ہے جب کہ ان چار انجیلوں پر اعتماد کیا جائے لیکن صدیوں کی گمنامی کے بعد پردۂ غیب سے ایک انجیل ظہور میں آئی ہے جس کو انجیل برنا باس کہتے ہیں۔ اس کے مطالعے سے بڑے بڑے پیچیدہ عقدے حل ہو جاتے ہیں اور شکوک و شبہات کا غبار خود بخود چھٹ جاتا

صفحہ 136

ہے۔ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بیسیوں ایسے ارشادات موجود ہیں جن میں نام لے لے کر حضور ﷺ کی آمد کی بشارتیں دی گئیں ہیں اور بار بار اپنے امتیوں کو حضور ﷺ کا دامن رحمت مضبوطی سے تھام لینے کے تاکیدی احکام دیئے گئے ہیں۔ اس سے پیشتر کہ ہم وہ ایمان افروز حوالہ جات آپ کے سامنے پیش کریں پہلے برناباس اور اس کی انجیل کے بارے میں کچھ وضاحتیں ضروری ہیں تاکہ کوئی شخص بلاوجہ اور نامعقول اعتراض کر کے آپ کو پریشان نہ کر سکے۔

برناباس قبرص کا باشندہ تھا۔ اس کا پہلا مذہب یہودیت تھا۔ اس کا نام Joses تھا۔ لیکن دین عیسوی کی اشاعت اور ترقی کے لیے اس نے سر دھڑ کی بازی لگا دی تھی۔ حواری اس کو برناباس کے نام سے پکارتے تھے جس کا معنی ہے ”واضح نصیحت کا فرزند“ بڑا کامیاب مبلغ تھا۔ جاذب قلب و نظر شخصیت کا مالک تھا۔ حضرت مسیح کے ساتھ مدت العمر جو قرب اسے نصیب رہا اس نے اس کو اپنے حلقے میں بڑا اہم مقام عطا کر دیا تھا۔

ابتداء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکار اپنے آپ کو یہود سے الگ کوئی امت تصور نہیں کیا کرتے تھے۔ نہ ان کی علیحدہ عبادت گاہیں تھیں لیکن یہودی انہیں شک و شبہ کی نظر سے دیکھتے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت آپ کی فطرت اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ آپ کا تعلق ان کے پہلے ماننے والوں کے نزدیک قطعاً وجہ نزاع نہ تھا۔ سب آپ کو انسان اور اللہ کا برگزیدہ بندہ سمجھتے تھے۔ اس وقت کے عیسائی یہودیوں سے بھی زیادہ توحید پرست تھے۔ یہاں تک کہ سینٹ پال نے عیسائی مذہب قبول کیا۔ اس طرح عیسائیت میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا جس کے نظریات اور معتقدات کا منبع انجیل یا حضرت مسیح کے اقوال نہ تھے بلکہ اس کی ذاتی سوچ بچار کا نتیجہ تھے۔ پال یہودی تھا۔ طرسوس کا باشندہ تھا۔ کافی عرصہ روم میں رہا۔ ان کے فلسفہ اور مشرکانہ عقائد سے وہ بہت متاثر ہوا۔ عیسائیت کو اس نے اسی مشرکانہ سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جو عوام کو بہت پسند تھا۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اپنے مذہب کی ترقی اور اشاعت کے لیے برناباس اور سینٹ پال کچھ عرصہ ایک ساتھ کام کرتے رہے لیکن دن بدن اختلافات کی خلیج بڑھتی گئی۔ پال نے حلال و حرام کے بارے میں موسوی احکام کو بالائے طاق رکھ دیا۔ نیز ختنہ کی سنت ابراہیمی کو بھی نظر انداز کر دیا۔ برناباس کے لیے اس کے ساتھ مل کر کام کرنا مشکل ہو گیا۔ چنانچہ دونوں علیحدہ ہو گئے۔ پال کو عوام الناس کی تائید کے علاوہ حکومت کی ہمدردیاں بھی حاصل تھیں۔ اس لیے اس کے پھیلائے ہوئے عقائد کو لوگوں نے دھڑا دھڑ قبول کرنا شروع کر دیا۔ اس طرح برناباس اور اس کے ساتھی پس منظر میں چلے گئے۔ بایں ہمہ چوتھی صدی عیسوی تک برناباس کے ہم عقیدہ لوگ کافی تعداد میں موجود تھے جو خدا

صفحہ 137

کی باپ کی حیثیت سے نہیں بلکہ مالک الملک اور قادر مطلق کی حیثیت سے عبادت کرتے تھے۔ اس وقت انطاکیہ کے بشپ پال کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ نہ خدا ہیں نہ خدا کے بیٹے بلکہ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ انطاکیہ کا دوسرا بشپ جس کا نام Lucian تھا اور جو تقویٰ اور علم میں بڑی شہرت کا مالک تھا۔ وہ بھی تثلیث کے عقیدے کا سخت مخالف تھا۔ اس نے انجیل سے ایسی عبارتیں نکال دیں جن سے تثلیث ثابت ہوتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ جملے بعد میں بڑھائے گئے۔ اس کو 312ھ میں شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد اس کا شاگرد Arius نے توحید کا پرچم بلند کیا۔ اسے کئی بار کلیسا کے عہدے پر بھی فائز کیا گیا اور کبھی معزول کیا گیا۔ لیکن اس نے اپنا مشن جاری رکھا۔ کلیسا کی مخالفت کرنا آسان کام نہ تھا۔ لیکن Arius نے ان مشرکانہ عقائد کی ڈٹ کر مخالفت کی اور لوگ جوق در جوق اس کے نظریات کو قبول کرتے چلے گئے۔

اسی اثناء میں دو ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے یورپ کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ شاہ قسطنطین جس نے یورپ کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا‘ اس نے عیسائیت قبول کیے بغیر عیسائیت کی امداد شروع کر دی‘ لیکن عیسائی فرقوں کے باہمی اختلافات نے اسے سراسیمہ کر دیا۔ شاہی محل میں بھی یہ نظریاتی کشمکش زوروں پر تھی۔ مادر ملکہ تو پال کے نظریات کی حامل تھی جب کہ بادشاہ کی بہن ایریس کی معتقد تھی۔ بادشاہ کے پیش نظر تو صرف ملک میں امن و امان کا قیام تھا اور اس کی صرف یہ صورت تھی کہ سارے فرقے ایک کلیسا کو قبول کر لیں۔ ایریس اور بشپ الیگزینڈر کی مخالفت روز بروز شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ بادشاہ کے لیے مداخلت ناگزیر ہو گئی‘ چنانچہ 325ء میں ”نیقیا“ کے مقام پر ایک کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ متواتر کئی روز تک اس کے اجلاس ہوتے رہے۔ فیصلہ نہ ہو سکا۔ بادشاہ نے امن وامان کی خاطر کلیسا کی حمایت حاصل کرنا ضروری سمجھا‘ اس لیے اس نے ایریس کو جلاوطن کر دیا۔ اس طرح توحید کے بجائے تثلیث کا عقیدہ ملک کا رسمی مذہب بن گیا۔ کلیسا کی منظور شدہ انجیل کے بغیر کوئی انجیل اپنے پاس رکھنا جرم قرار دیا گیا۔ دوسو ستر مختلف انجیلوں کے نسخے نذر آتش کر دیئے گئے۔ شہزادی قسطنطامین کو یہ بات ناپسند ہوئی۔ اس کی کوشش سے 346ء میں ایریس کو واپس بلایا گیا۔ جب وہ فاتحانہ انداز میں قسطنطنیہ میں داخل ہو رہا تھا‘ اس کی موت واقع ہو گئی۔ بادشاہ نے اسے قتل عمد قرار دیا۔ اس جرم کی پاداش میں سکندریہ کے بشپ کو دو اور بشپوں کے ساتھ جلاوطن کر دیا اور خود ایریس کے ایک معتقد بشپ کے ہاتھ پر عیسائیت قبول کر لی توحید سرکاری مذہب قرار پایا۔ 341ء میں انطاکیہ میں ایک کانفرنس ہوئی اور توحید کو عیسائی مذہب کا بنیادی عقیدہ قرار دیا گیا۔ چنانچہ 359ء میں سینٹ جیروم (S.Jerome) نے لکھا کہ ایریس کا مذہب مملکت کے تمام باشندوں نے قبول کر لیا۔ پوپ ہونوریس

صفحہ 138

(Honorious) (یہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہم عصر تھا) کا بھی یہی عقیدہ تھا۔ 638ء میں اس نے وفات پائی۔ لیکن 680ء میں پھر تثلیث کے حق میں ایک لہر اٹھی قسطنطنیہ میں پھر اجلاس ہوا جس میں پوپ ہونوریس کو مطعون اور مردود قرار دیا گیا اور اس کے نظریات کو مسترد کر دیا گیا۔ اگرچہ آج عیسائی دنیا تثلیث کو ایک مسلمہ اصول کی حیثیت سے تسلیم کرتی ہے‘ اس کے باوجود ان میں ایسے لوگ بکثرت موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل ہیں۔ لیکن اس کے اظہار سے کتراتے ہیں۔

برناباس کی انجیل 325ء تک مستند انجیل تسلیم کی جاتی رہی۔ ایرانیئس (Iranaeus) نے جب سینٹ پال کے مشرکانہ عقائد کے خلاف مہم شروع کی‘ تو اس نے برناباس کی انجیل سے بکثرت استدلال کیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ پہلی دو صدیوں میں یہ انجیل معتبر تسلیم کی جاتی تھی اور اپنے دین کے بنیادی مسائل ثابت کرنے کے لیے اس کی عبارتوں کو بطور حجت پیش کیا جاتا تھا‘ لیکن 325ء میں جو کانفرنس نیقیا میں ہوئی‘ اس میں یہ طے پایا کہ عبرانی زبان میں جتنی انجیلیں موجود ہیں۔ ان سب کو ضائع کر دیا جائے۔ جس کے پاس یہ انجیل ملے‘ اس کی گردن اڑا دی جائے۔

383ء میں پوپ نے انجیل برناباس کا نسخہ حاصل کیا اور اپنی پرائیویٹ لائبریری میں اسے محفوظ کر لیا۔ زینو بادشاہ کی حکمرانی کے چوتھے سال برناباس کی قبر کھودی گئی۔ اس انجیل کا ایک نسخہ جو اس نے اپنے قلم سے لکھا تھا‘ اس کے سینے پر رکھا ہوا ملا۔ پوپ (Siritus) (1585-90ء) کا ایک دوست تھا جس کا نام فرمارینو (Fra Marino) تھا۔ اسے پوپ کی ذاتی لائبریری میں اس کا وہ نسخہ ملا۔ فرا کو اس سے بڑی دلچسپی تھی۔ کیونکہ اس نے ایرانیئس کی تحریروں کا مطالعہ کیا تھا جس میں اس نے برناباس کی انجیل کے بکثرت حوالے دیئے تھے۔ اطالوی زبان میں لکھا ہوا یہ مسودہ مختلف لوگوں سے ہوتا ہوا ایمسٹرڈم (Amsterdam) کی ایک مشہور ومعروف ہستی کے ہاں پہنچا۔ یہاں سے پرشیا کے بادشاہ کے مشیر جے۔ ایف کریمر کو ملا۔ اس سے سیوے کے ایک علم دوست شہزادے یوگین (Eugene) نے 1713ء میں حاصل کیا۔ 1738ء میں شہزادے کی پوری لائبریری کے ساتھ یہ نسخہ بھی وائنا پہنچا۔ اب بھی یہ نسخہ وہاں محفوظ رکھا ہے۔

ٹولینڈ (Toland) نے اپنی تصنیف "Miscellaneous Works" جو اس کی وفات کے بعد 1747ء میں شائع ہوئی‘ کی جلد اوّل صفحہ 380 پر ذکر کیا کہ انجیل برناباس کا قلمی نسخہ اب بھی محفوظ ہے۔ اسی کتاب کے پندرہویں باب میں لکھا ہے کہ 496ء میں ایک حکم کے ذریعے اس انجیل کو ان کتب میں شامل کیا گیا جن کو کلیسا نے ممنوع قرار دے دیا تھا۔ اس سے پہلے 465ء میں پوپ انویسنٹ (Pope Innocent) نے بھی اسی قسم کا حکم جاری کیا تھا۔ نیز 382ء میں مغربی کلیسا نے

صفحہ 139

متفقہ طور پر اس پر بندش عائد کی تھی۔ مسٹر اور مسز ریگ (Ragg) نے 1907ء میں ایک لاطینی نسخے سے اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا جو اب ہمارے سامنے ہے آکسفورڈ کے کلیرنڈن پریس نے اسے چھاپا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے اسے شائع کیا۔ جب اس کا انگریزی ترجمہ چھپ کر بازار میں آیا تو اس کے سارے نسخے پُر اسرار طریقے پر بازار سے غائب کر دیئے گئے۔ صرف دو نسخے محفوظ رہے۔ ایک برٹش میوزیم میں اور دوسرا واشنگٹن کی کانگریس لائبریری میں۔ یہ پیش نظر انگریزی ترجمہ مائیکرو فلم کے ذریعے پبلشر نے ایک دوست کی وساطت سے واشنگٹن کی کانگریس لائبریری سے حاصل کیا ہے۔

برناباس کے حالات اور اس کی انجیل کی تاریخ کو قدرے شرح وبسط کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ تاکہ قارئین کرام کو حالات کا پوری طرح علم ہوا اور اس الزام کی قلعی کھل جائے جو بعض عیسائی حلقوں کی طرف سے لگایا جا رہا ہے کہ اس انجیل کا مصنف کوئی ایسا شخص ہے جو عیسائیت سے مرتد ہو کر مسلمان ہوا اور دجل وتزویر سے ایک کتاب تصنیف کر کے اسے برناباس کی طرف منسوب کر دیا۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی تشریف آوری سے کئی سال پہلے کلیسا نے اس کتاب کو ممنوع لٹریچر میں شامل کر دیا تھا اور اس شخص کو واجب القتل قرار دیا تھا جس کے پاس یہ کتاب پائی جائے۔ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں جو بشارتیں اس میں بکثرت موجود ہیں، کلیسا کے غیظ وغضب کا گو سبب نہ تھیں، لیکن ان کے علاوہ اس میں کچھ ایسی تعلیمات تھیں جو سینٹ پال کے پیش کردہ عیسائی مذہب کی بیخ کنی کرتی تھیں، اس لیے کلیسا کو یہ آخری اقدام کرنا پڑا۔ قدم قدم پر اس میں عقیدۂ تثلیث کا بطلان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کو زور دار دلائل سے بڑے حسین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ارشادات سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ آپ نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے، بلکہ اس کے بندے اور رسول تھے۔ کلیسا کے نزدیک یہ باتیں ناقابل برداشت تھیں، اس لیے انہوں نے اس کو اپنی مقدس کتب کی فہرست سے خارج کر دیا۔

برناباس نے اپنے رسول کی تعلیمات کو بلاکم وکاست بیان کیا۔ اسی طرح حضور سرور عالم ﷺ کے بارے میں جو بشارتیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک بار نہیں، بلکہ بار بار دی تھیں، ان کا اس میں مندرج ہونا بھی قدرتی امر ہے، چنانچہ ان بے شمار بشارتوں میں سے صرف چند پیش کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔ ان کا مطالعہ کیجئے اپنے ایمان کو تازہ کیجئے اور انہی کی روشنی میں اس آیت کی صحیح تفسیر ملاحظہ فرمائیے:

انجیل برناباس کے باب 17 کا ایک حوالہ سماعت فرمائیے:

"But after me shall come the splendour of all

صفحہ 140

the prophets and holy ones, and shall shed light upon the darkness of all that the prophets have said beause he is the messenger of God."

”لیکن میرے بعد وہ ہستی تشریف لائے گی جو تمام نبیوں اور نفوس قدسیہ کے لیے آب و تاب ہے اور پہلے انبیاء نے جو باتیں کی ہیں اُن پر روشنی ڈالے گی‘ کیونکہ وہ اللہ کا رسول ہے۔“

For I am not worthy to enloose the ties of the hosen or the latchets of the shoes of the messenger of the God whom ye call "Messiah" who was made before me. And shall come after me. And shall bring the words of truth. So that his faith shall have no end.

”یعنی جس ہستی کی آمد کا تم ذکر کر رہے ہو۔ میں تو اللہ کے اس رسول کی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے لائق بھی نہیں، جس کو تم مسیحا کہتے ہو۔ اس کی تخلیق مجھ سے پہلے ہوئی اور تشریف میرے بعد لے آئے گا۔ وہ سچائی کے الفاظ لائے گا اور اس کے دین کی کوئی انتہاء نہ ہوگی۔“ (باب 42)

"I am indeed sent to the house of Israel as a prophet of salvation, but after me shall come the Messiah sent of God to all the world, for whom God hath made the world and then through all the world will God be worshipped. And mercy received."

حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں: ”بے شک میں تو فقط اسرائیل کے گھرانے کی نجات کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں‘ لیکن میرے بعد مسیحا تشریف لائے گا جسے اللہ تعالیٰ سارے جہاں کے لیے مبعوث فرمائے گا۔ اسی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات تخلیق کی ہے اور اسی کی کوششوں کے باعث ساری دنیا میں

صفحہ 141

اللہ تعالیٰ کی پرستش کی جائے گی اور اس کی رحمت نصیب ہوگی۔“ (باب 82) آپ پریشان ہیں کہ لوگوں نے آپ کو خدا اور خدا کا بیٹا کہنا شروع کر دیا ہے۔ رومی گورنر اور بادشاہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتے ہیں کہ ہم روم کے شہنشاہ سے ایک ایسا فرمان جاری کروائیں گے جس میں سب کو آپ کے متعلق ایسی باتیں کہنے سے روک دیا جائے گا۔ ان کے جواب میں آپ فرماتے ہیں مجھے تمہاری ان باتوں سے اطمینان حاصل نہیں ہوا۔

"But my consolation is in the coming of messenger who shall destroy every false opinion of me, and his faith shall spread and shall take hold of the whole world, for so hath God promised to Abraham our father."

”بلکہ میرا اطمینان تو اس رسول کی تشریف آوری سے ہوگا جو میرے بارے میں تمام جھوٹے نظریات کو نیست و نابود کر دے گا۔ اس کا دین پھیلے گا اور سارے جہاں کو اپنی گرفت میں لے لے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے باپ ابراہیم سے اسی طرح کا وعدہ کیا ہے۔“

اس کے بعد پادری نے ایک اور سوال پوچھا کہ کیا اس رسول کی آمد کے بعد اور نبی بھی آئیں گے؟ آپ نے ارشاد فرمایا:

"There shall not come after him true prophets sent by God, but there shall come a great deal of false prophets, where at I sorrow for satan shall raise them up."

”یعنی آپ ﷺ کے بعد اللہ کا بھیجا ہوا کوئی سچا نبی نہیں آئے گا، البتہ کثرت سے جھوٹے نبی آئیں گے جنہیں شیطان کھڑا کرے گا۔“

اس پادری نے دوسرا سوال کیا: اس مسیحا کا نام کیا ہوگا اور کن علامات سے اس کی آمد کا پتہ چلے گا؟ اس کے جواب میں آپ ارشاد فرماتے ہیں:

"The name of the Messiah is Admirable, for God himself gave him the name when had

صفحہ 142

created his soul. And placed it in celestial splendour. God said: "wait Muhammad for thy sake I will to create paradise. The world, and a great multitude of creatures." ...I shall send thee into the world I shall send thee as my Messenger of salvation and thy word shall be true. In so much that heavan and earth shall fail, but thy faith shall never fail." "Muhammad is his blessed name."

”مسیحا کا نام قابل تعریف“ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب ان کی روح مبارک کو پیدا کیا اور آسمانی آب و تاب میں رکھا تو خود ان کا نام رکھا۔ اللہ نے فرمایا: ”اے محمد ﷺ! انتظار کرو میں نے تیری خاطر جنت کو پیدا کیا ہے۔ ساری دنیا کو پیدا کیا ہے اور بے شمار مخلوقات کو پیدا کیا ہے۔ جب میں تجھے دنیا میں بھیجوں گا تو تمہیں نجات دہندہ رسول بنا کر بھیجوں گا۔ تیری بات سچی ہو گی۔ آسمان اور زمین فنا ہو سکتے ہیں، لیکن تیرا دین کبھی فنا نہیں ہو سکتا۔“ آپ نے کہا کہ محمد ﷺ اس کا بابرکت نام ہے۔“

پھر تمام سامعین نے یہ سن کر یہ کہتے ہوئے فریاد کرنی شروع کی:

"O God send us thy messenger O Muhammad, come quickly for the salvation of the world."

”اے خدا! اپنے رسول کو ہماری طرف بھیج۔ یا رسول اللہ ! دنیا کی نجات کے لیے جلدی تشریف لے آئیے۔“ (باب 97)

حضرت مسیح اپنے حواری برناباس سے اپنے آخری حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میرے قتل کی سازش کی جائے گی۔ چند ٹکوں کے عوض مجھے میرا ایک حواری گرفتار کرا دے گا۔ لیکن وہ مجھے پھانسی نہیں دے سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ مجھے زمین سے اٹھا لے گا اور جس نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے، اُس کو میرے بجائے سولی پر چڑھا دیا جائے گا۔ فرماتے ہیں:

صفحہ 143

I shall abide in that dishonour for a long time in the world, but when Muhammad shall come, the sacred messenger of God, that infamy shall be taken away and this shall God do, because I have confessed the truth of the messiah. who shall give me this reward, that I shall be known to be alive and to be a stranger to that death of infamy.

”طویل عرصہ تک لوگ مجھے بدنام کرتے رہیں گے، لیکن جب محمد ﷺ تشریف لائیں گے جو خدا کے مقدس رسول ہیں، تب میری یہ بدنامی اختتام پذیر ہوگی اور اللہ تعالیٰ یوں کرے گا، کیونکہ میں اس مسیحا کی صداقت کا اعتراف کرتا ہوں، وہ مجھے یہ انعام دے گا۔ لوگ مجھے زندہ جاننے لگیں گے اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اس رسوا کن موت سے میرا دور کا بھی واسطہ نہیں۔“ (باب 112)

آپ نے متعدد مقامات پر اس بات کی تصریح کی ہے کہ یہ ذی شان رسول حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ہوگا۔ اس مقام کی تنگ دامانی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ میں ان تمام حوالوں کو آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ امید ہے اگر بنظر انصاف آپ ان اقتباسات کا مطالعہ کریں گے تو حقیقت کا روئے زیبا یقیناً بے نقاب ہو جائے گا۔

رہا آخری سوال کہ جس شخص کا نام غلام احمد ہو، وہ اس آیت کا مصداق بن سکتا ہے اور اسے احمد قرار دیا جا سکتا ہے؟

اس کے بارے میں اتنا ہی سمجھ لیں کہ ایک شخص جس کا نام عبداللہ ہو وہ اپنے نام سے ”عبد“ حذف کر کے اگر اللہ نہیں کہلا سکتا تو اسی طرح غلام احمد نامی شخص غلام کا لفظ کاٹ کر اپنے آپ کو احمد کہلائے گا تو اس سے بڑھ کر قرآن کی کوئی تحریف نہیں ہو سکتی۔ پس جب وہ رسول جس کا نام نامی احمد ہے حضرت مسیح کی پیش گوئی کے مطابق تشریف لے آیا اور روشن معجزات سے اپنی صداقت کو آشکارا کر دیا۔ تو ان لوگوں کو ایمان لانے کی توفیق نصیب نہ ہوئی اور معجزات نبوت کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

۞.......۞.......۞

صفحہ 144

اسم پاک محمد ﷺ

مولانا عبد الماجد دریا آبادی

حضور ﷺ کا نام نامی آپ کے دادا ”عبدالمطلب“ نے رکھا تھا۔ عام طور پر اس کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ رجاء ان یحمد عبدالمطلب نے آثار نیک دیکھ کر محمد نام رکھا کہ مستقبل میں یہ مولود سعید آقائے نامدار ﷺ مجموعہ محامد اور مرجع خلائق بنے۔ ارباب تصوف موشگافی کی انتہا کر دیتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لفظ ”محمد“ خدا کے نام ”احد“ سے مشتق ہے۔

اگر چہ عام طور پر نام کی صرف اس قدر ضرورت سمجھی جاتی ہے کہ چند چیزوں میں باہم امتیاز قائم رہے لیکن نام کی صحیح اور حقیقی غرض یہ نہیں۔ اسم کو اپنے مسمّٰی کے صفات‘ خواص اور حالات کا آئینہ ہونا چاہیے۔ افراد کے نام رکھنے میں تو اس کا کم لحاظ کیا جاتا ہے۔ لیکن عموماً انواع و اجناس کے نام اسی مقصد کو پورا کرتے ہیں۔ مثلاً انسان‘ مسلم قوم‘ شاذ و نادر طریقہ پر افراد و اشخاص کے ناموں میں بھی اس کا لحاظ کر لیا جاتا ہے جیسے ”مسیح“ اور ”بدھ“ یہ دونوں نام اپنے مسمّٰی کے اوصاف اور خواص کو بتلاتے ہیں۔

یہ امر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جیسا کہ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ آپ سے پہلے عرب میں کہیں اس نام کا پتہ نہیں چلتا۔ مورخین اکثر لکھتے ہیں وَلَمْ يَكُنْ شَائِعًا بَيْنَ الْعَرَبِ هٰذَا الاِسْم اس حالت کو تسلیم کرتے ہوئے دیکھا جائے تو اتفاقی طور سے ”نام مبارک“ کا ”عبدالمطلب“ کے ذہن میں آنا منشاء خداوندی معلوم ہوتا ہے کہ جب اس نام کا محلِ کامل دنیا کو اپنے وجود گرامی سے مشرف کر چکا تو پھر اسم بھی فطری طور سے نام رکھنے والے کے ذہن میں وارد ہوا۔

صفحہ 145

نام مبارک کا عام اور سادہ ترجمہ یہی کیا جاتا ہے کہ ”وہ ذات جس کی تعریف کی گئی“ اس ترجمہ کی صحت میں کوئی شبہ نہیں۔ لیکن اس جامعیت کبریٰ برزخ کامل اور مقصود آفرینش کے فضائل و کمالات کے سامنے ترجمہ ہیچ ہے۔ خدا کے تمام نبی اس کے نزدیک موجب توصیف ہیں۔ دنیا کے تمام حکیم فاتح عام انسانوں کی نظروں میں لائق مدح وستائش ہیں اس لیے اس ترجمہ کی صحت کو پورے طور پر تسلیم کرتے ہوئے تفحص کو اور زیادہ وسعت دیں۔ صاحب مفردات ”محمد“ کے معنی لکھتے ہیں الذی اجمعت فیہ الخصال المحمودۃ یعنی مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ لفظ محمد کے معنی ’مجموعہ خوبی کے ہیں‘۔

اے کہ تو مجموعہ خوبی بچہ نامت خوانم

کارساز قدرت کی وسعت لامحدود اس کے کرشمے ناقابل شمار اس کی خلقت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے وا ہے۔ غور کرنے سے ہم اپنی عقل کے مطابق اس فیصلہ پر پہنچتے ہیں کہ قدرت نے تخلیق انواع کے لیے ایک معیار مقرر کیا ہے۔ مخلوقات کی ہر نوع کا ایک درجہ کمال ہے کہ جس کے آگے اس کا قدم نہیں بڑھتا ”حیوانات“ ”نباتات“ اور ”جمادات“ تک میں اس کے شواہد مل سکتے ہیں، صورتیں ایک ہیں شکلیں متحد ہیں، اوصاف مختلف ہیں، لیکن ان مختلف اوصاف کی ایک انتہا ہے جسے جنس اعلیٰ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ جس کے آگے کوئی درجہ نہیں، ہر نوع میں جنس اعلیٰ کو جس پر اوصاف جامعیت کے ساتھ جا کر ختم ہوتے ہیں ہم مقصود فطرت اور نقطہ تخلیق کہہ سکتے ہیں۔ اس نقطہ تخلیق کی اصطلاح کو پوری تشریح کے ساتھ ذہن میں رکھنا چاہیے دوسرے تمام انواع کی طرح اس مقصود فطرت کو انسانوں کی جماعت میں بھی تلاش کرنا ضروری ہے۔ دوسری مخلوقات اور انسانوں میں ایک عام اور بین فرق یہ ہے کہ وہاں نوع کے سینکڑوں افراد ہیں اور یہاں اوصاف و خصوصیات کے اعتبار ہر ہر فرد اپنے مقام پر نوع مستقل ہے۔ آفرینش انسان کی مجمل یا مفصل تاریخ پر ایک اجمالی نظر بتلاسکتی ہے کہ آج بھی انسان کی شکل و شباہت اس کے اعضاء و جوارح اس کا ڈھانچہ جسمانی ساخت ٹھیک وہی ہے، سب چیزیں وہی ہیں جو دنیا کے پہلے انسان کی تھیں۔ لیکن دماغی کیفیتوں کا حال ان سے جدا گانہ ہے۔ ان میں برابر ارتقاء و اختلاف جاری ہے۔ اب اگر انسان کی اس ارتقائے دماغی پر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ماقبل و مابعد ادبوں زبانوں کی تاریخ میں ارتقائے دماغی کی آخرترین سرحد اگر کوئی معلوم ہوسکتی ہے تو وہ ذات قدسی صفات آقائے نامدار رسول خدا ﷺ کی ہے۔ لغات قاموس نے لفظ ”حمد“ کے ایک معنی قضاء الحق کے بھی بتلائے ہیں پس لفظ ”محمد“ کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ جس کا حق پورا کر دیا گیا ہو یعنی قدرت کی جانب سے نوع انسان کو جس سرحد کمال تک پہنچانا مقصود تھا اور انسان کا اپنے خالق پر جو حق تخلیق مقرر تھا

صفحہ 146

وہ محمد ﷺ پر پورا کر دیا گیا۔ علم وعمل خَلْق وخُلْق دماغ وکیرکٹر ارتقائے ذہنی وارتقائے عملی یہی دو چیزیں انسان کا خلاصہ اور اس کی کائنات تخلیق کا لب لباب ہیں اول ثانی کے لیے بنیاد ہے عمل علم پر، کیرکٹر دماغ پر، خُلق خَلق پر قائم ہے، یہ ایک عجیب نکتہ ہے جس کی تشریح کسی دوسرے مقام پر آئے گی کہ جتنی ہی کسی انسان کی حالت مکمل ہوگی اسی قدر اس کی خَلقی کیفیت راسخ ومستحکم ہوگی۔ ایک کا کمال دوسرے کے کمال کی علامت اور ایک کا نقصان دوسرے کے نقصان کی نشانی ہے۔ تاریخی طور پر یہ امر ثابت ہے کہ کیرکٹر اور اخلاق کی جملہ شاخوں کی پختگی اور تکمیل کا جو نمونہ آنحضرت ﷺ کی ذات مبارک نے پیش کیا، عالم انسانی اس کی نظیر سے عاجز ہے حتیٰ کہ خود دشمنوں کے اقرار سے اس کو فرمادیا گیا۔ انک لعلیٰ خُلُق عظیم محاورات عرب سے حمد کے یہ بھی معنی معلوم ہوتے ہیں کہ کسی کام کو اپنی قدرت کے مطابق انجام دینا۔ حماسیات میں نیزہ کے بھر پور پڑنے کے وقت حَمِدْتُ بَلاءَہٗ (میں نے وار پورا کیا) کا محاورہ بہت مشہور ہے۔ اس معنی کو سامنے رکھتے ہوئے اور اوپر کے مضمون کو پیش نظر رکھ کر بے تامل کہا جاسکتا ہے کہ لفظ محمد ﷺ کے معنی مخلوق کامل کے بھی ہیں۔

منجملہ دیگر کمالات نبوت و معجزات رسالت کے ایک معجزہ گرامی، حضور اقدس کا نام نامی بھی ہے۔ یہ زندہ جاوید معجزہ بعثت کے وقت سے تا ہنوز اپنے فضائل کی شہادتیں پیش کر رہا ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ مُحَمَّدٌ اَلَّذِی یُحْمَدُ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ جس کی تعریف کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو۔ تعریف اور توصیف پر توصیف ہوتی رہے۔ زمانہ جوں جوں بڑھتا جاتا ہے اور انسان اپنی سعی و کوشش کے مطابق جس درجہ ترقی کرتا جاتا ہے محض اعتقاداً نہیں بلکہ واقعۃً رسالت مآب روحی فداہ ﷺ کے کمالات سے پردہ اٹھتا جاتا ہے۔ علماء وفضلاء یورپ کی اکثریت تاریخ اسلام کے ماتحت اپنا مطالعہ جس قدر گہرا کرتی جاتی ہے دنیا کی مختلف پریشانیوں اور بے قراریوں کو معدوم کرنے کی ضرورت جتنی ہی ان کے نزدیک بڑھتی جاتی ہے بادل ناخواستہ انہیں اسی راہ کی طرف آنا پڑتا ہے اور زبان اعتراف کھولنا پڑتا ہے کہ بے شبہ پیغمبر عرب کے قانون دنیا کی ضرورتوں کے کفیل اور ان کی زندگی عالم انسان کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔ اہل ایشیا کا رجحان طبعی جتنا روحانیت اور سادگی کی طرف بڑھ رہا ہے اسی قدر وہ پیغمبر عالم محمد ﷺ سے قریب تر ہوتا جاتا ہے۔ ”یہ دنیا کا صرف واحد معجزہ ہے کہ نام مبارک تیرہ سو برس پہلے سے اس آنے والی حالت کا پتہ دے رہا ہے۔ مستقبل میں دنیا کی عمر جس قدر دراز ہوگی خواہ وہ اپنی موجودہ حالت میں ترقی کرے جس کی بظاہر امید نہیں اور خواہ اپنے پچھلے سبق دہرائے دونوں حالتوں میں اسے کمالات نبوت کے اعتراف سے چارہ نہ ہوگا اس حیثیت سے نام مبارک محمد ﷺ کا ترجمہ سلسلۂ اوصاف و محامد ہوگا۔

صفحہ 147

جیسا اوپر کہا گیا ہے عام طور سے اشخاص کے نام اور اوصاف باہم کوئی نسبت نہیں رکھتے شاذ و نادر اتفاقی حیثیت سے تناسب بھی مل جاتا ہے اور ایسا تو کبھی نہیں ہوا کہ کسی انسان کا وہ نام رکھا گیا ہو جو اس کی تمام زندگی کا آئینہ اور اس کے شعبہ ہائے حیات کی تفصیل ہو۔ مگر نام نامی آقائے نامدار اس سے مستثنیٰ ہے۔ اسی مطابقت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس خاص نام کے رکھنے کے متعلق ضرور عبدالمطلب کو ایک غیبی تحریک ہوئی۔ اب غور کیا جائے کہ آنحضرت ﷺ کی زندگی کا خلاصہ دوست و دشمن کی یکساں تنقید حاضر و غائب کی رائے زنی کا ماحصل اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ علم و عمل‘ ظاہر و باطن‘ خُلق و خَلق ہر حیثیت سے حضور کی زندگی قابل تعریف تھی اور اسی خلاصۂ حیات کا ترجمہ ہے محمد ﷺ۔

اس سے بھی زیادہ عجیب امر یہ ہے کہ نام مبارک حضور کے نہ صرف نبی بلکہ خاتم النبیین ہونے کی دلیل بھی ہے۔ کمال و کمالِ اخلاق بھی انبیاء علیہم السلام کی مخصوص اور ممتاز صفات میں سے ہیں۔ دوسرے انبیاء علیہم السلام کا کمال علمی و عملی کسی ایک خاص صفت میں مخصوص تھا لیکن حضور کی جامعیت آپؐ کی سوانح و تعلیمات سے معلوم کی جاسکتی ہے۔ لفظ ”محمد“ کے معنی مجموعہ خوبی اور ”مخلوق کامل“ کے جو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں‘ اس کے آگے کوئی نقطہ ہی نہیں ہے۔ اسی حالت پر کمالِ کلی کی انتہا اور معارف کا اختتام ہے جس کے بعد نہ کسی نبی کی حاجت نہ کسی نبی کا وجود ممکن ہے۔ مستشرقینِ یورپ میں سے جن لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا ہے وہ باوجود ہزار سعی تنقیص‘ اعتراف کمال پر مجبور ہوئے ہیں۔ سرولیم میور اور مارگولیٹ جیسے سخت لوگوں کو بھی کھلے اور چھپے لفظوں میں اس کا اقرار کرنا پڑا کہ پیغمبر اسلام کی تعلیم انتہائی سچائی اور حقیقی صداقت پر مبنی نظر آتی ہے۔ عہد نبوت میں بھی اسی قسم کے واقعات آچکے ہیں کہ بعض سخت ترین منکر ایک توجہ نظر اقدس کی تاب نہ لا سکے۔ عبداللہ بن سلام جو نامور علماء یہود میں سے تھے وہ جس طرح اسلام لائے معلوم ہے۔ بعثت کے حالات‘ سیرتِ طیبہ‘ تعلیم و تلقین اپنے اندر کچھ ایسی کشش رکھتی ہے کہ مخالف سے مخالف اور سخت سے سخت حریف اعتراف پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اسی خاصیت اور بے اختیارانہ کشش کو نام مبارک میں بیان کیا گیا لفظ ”محمد“ عربی زبان میں تحمید سے مشتق ہے جو باب تفعیل کا مصدر ہے اس باب کے معنی کے خواص میں سے ہے کہ کسی کام کا وجود میں آنا اس طور پر مانا جائے کہ گویا کسی مخفی یا ظاہر طاقت نے اس کو وجود میں آنے کے لیے مجبور کیا جیسے صَرَّفَ (پھیر دیا) یعنی کسی طاقت نے بے اختیار کر کے پھیر دیا اسی طرح ”محمد“ کے معنی ہیں وہ جس کی تعریف بے اختیار کی گئی ہو۔ اس معنی سے اسی قوت جاذبہ اور کشش اصلی کی طرف اشارہ ہے۔ عبداللہ بن سلام کے متعلق مروی ہے کہ وہ چہرۂ اقدس کو دیکھتے ہی پکار اٹھے هٰذَا لَیسَ بِوَجْهِ كَذَّاب۔ یورپ میں بڑی ہوشیارانہ تدبیر سے محمد رسول اللہ ﷺ کو بدترین پیرایوں میں دکھلانے کی

صفحہ 148

کوششیں کی گئی ہیں لیکن اب آج کل بعض جماعتوں اور خدا ترس بندوں کی طرف سے جو مساعی جمیلہ کی جارہی ہیں انہوں نے تجربہ کرا دیا کہ جب کبھی اصل صورت ان کے سامنے پیش کی گئی ہے تو انہوں نے یہی کہا کہ یہی تو ہمارا کعبہ مقصود ہے۔

اس باب کی دوسری خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ کسی کام کے اس طور پر ہونے کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے تمام پہلوؤں کا استقصاء کیے ہوئے ہے کوئی جزو اس سے چھوٹا ہوا نہیں استعمال میں آتا ہے قَتَّلَهُ تقتيلا یعنی خوب خوب قتل کیا اس خاصیت کا لحاظ رکھتے ہوئے نام مبارک کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ ”محمد“ یعنی جس کا جزو جزو قابل تعریف ہے ”اصلاح نفس“ تدبیر منزل اور تدبیر مدن کی وہ کونسی شاخ ہے جس کا عملی نمونہ ذات قدسی صفات محمد رسول اللہ ﷺ نے پیش نہیں کر دیا۔ انبیاء علیہم السلام کا تمام تر سلسلہ عالم میں ایک خاص ترتیب و نظام کے ساتھ آیا اور ہر ایک اپنے اندر کوئی نہ کوئی کمال اخلاقی یا عرفانی یا انتظامی لایا یہ بابرکت سلسلہ جب اپنی حد و نہایت کو پہنچا تو ضرورت ہوئی کہ عالم انسان کے سامنے ایک ایسا نمونہ کامل پیش کیا جائے جو ان تمام صفات کا مجمع اور فضائل کا آئینہ ہو۔ جس کی زندگی کو سامنے رکھنے سے موسویانہ مستی، مسیحانہ اخلاق ابراہیمی محبت بیک وقت نظر کے سامنے آجائے۔ اور پھر ان تمام اوصاف میں وہ اپنے متقدمین سے بالا تر ہو۔ وہ ہستی جامع اور برزخ کامل ذات پاک حضرت محمد ﷺ ہے اسی لیے حضرت مسیح نے اپنی بشارت میں لفظ ”احمد“ فرمایا۔ یعنی وہ آئے گا جو اپنے تمام پہلے آنے والوں کا سردار اور سب پر فائق ہوگا۔ دنیا کے تمام بڑے بڑے مذاہب نے اپنی کامل نشو و نما جب ہی پائی ہے جب وہ معرفت و روحانیت کی آغوش سے نکل کر سلطنت اور حکومت کی گود میں چلے گئے ہیں۔ مسیحی مذہب کی ترقی، رومی بادشاہوں کی رہین احسان ہے۔ بُدھ نے بہت کچھ تبلیغ کی لیکن اس کا عالمگیر مذہب بھی اسی وقت اپنی تکمیل کر سکا جب وہ اشوک خاندان کی سر پرستی میں آگیا۔ لیکن اسلام اپنی تاریخ میں بالکل علیحدہ ہے وہ جن جن ملکوں میں گیا اور جن جماعتوں میں پھیلا اخلاق و روحانیت سے گیا۔ عرب تلوار اسلام میں روحانیت اور مذہب کے داخلہ کے بعد گئی ہے۔ افریقہ اور ہندوستان کی نظیریں اس بارہ میں بہت صاف ہیں۔ اس خاص نعمت تبلیغ کو بھی نام مبارک میں ظاہر کر دیا گیا ہے۔ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ بظاہر اسباب ان مفاسد کے مٹنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی لیکن فطرت کی تدبیریں اندر اندر جاری رہتی ہیں اور ایک وقت معین پر ظاہر ہو جاتی ہیں۔ فطرت کی رفتار ہوا کی طرح تیز اور شبنم کی طرح نرم ہوتی ہے۔ خوش تدبیری اور حسن اسلوب کے موقع پر بھی حمد کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے پس لفظ ”محمد“ کے ایک یہ بھی معنی قرار دیئے جاسکتے ہیں کہ وہ جس کے ساتھ خوش تدبیری نے ترقی کی آپؐ کی تعلیم کا انتشار آپؐ کا لایا ہوا دین خدا کی

صفحہ 149

خاص مرضی اور خاص تدبیر سے عالم میں پھیل گیا جس کی سرعت اور بغیر جدوجہد رفتار ترقی سے اس وقت بھی دنیا متحیر ہے۔

الغرض اسلام کی تمام معنوی خوبیوں کے ساتھ ساتھ پیغمبر اسلام کا نام مبارک بھی اپنے معانی کے لحاظ سے مختلف خوبیوں کا مرقع بہتیرے فضائل کا خلاصہ ہے ایک طرف وہ اپنے مسمیٰ کے کام اور کام کے انجام کی پیشین گوئی ہے دوسری طرف اس کے کاموں کی تاریخ اور اس کی تعلیم کا لب لباب ہے۔

پاک ہے وہ اللہ جس نے اپنے نبی کا ایسا پاک نام رکھا اور پاکیزہ ہے وہ نبی جسے اس کے معبود نے ایسی فضیلتوں سے آراستہ کیا۔

وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ

صفحہ 150

محمد ﷺ اور احمد ﷺ

محمد صادق سیالکوٹی

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ اِنَّ لِيْ اَسْمَاءً اَنَا مُحَمَّدٌ وَاَنَا اَحْمَدُ وَاَنَا الْمَاحِي الَّذِيْ يَمْحُو اللهُ بِيَ الْكُفْرَ وَاَنَا الْحَاشِرُ الَّذِيْ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰى قَدَمَيَّ وَاَنَا الْعَاقِبُ الَّذِيْ لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ o

(بخاری شریف، مسلم شریف)

"حضرت جبیرؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ سے فرمایا آپ نے میرے لیے نام ہیں (بہت سے) اور میرا (ایک مشہور نام) محمدؐ ہے۔ اور (دوسرا) احمدؐ ہے۔ اور میرا نام ماحی ہے کہ مٹاتا ہے اللہ تعالیٰ ساتھ میرے (یعنی میری دعوت و تبلیغ کے ساتھ) کفر کو اور میرا نام حاشر (بھی) ہے کہ اٹھائے جائیں گے لوگ (قیامت کو) میرے قدم پر اور میرا نام عاقب (بھی) ہے۔ اور عاقب وہ ہے کہ جس کے پیچھے کوئی نبی نہ ہو۔“

محمد ﷺ نام ہی طغرائے لوح مدحت ہے
فلاطوں طفلکے باشد بہ یونانے کہ من دارم
مسیحا رشک می دارد بہ درمانے کہ من دارم

(آہی)

صفحہ 151

”افلاطون جیسا دانا اور فلسفی ایک طفل ہے سامنے اس یونان کے جو میں رکھتا ہوں۔“ یعنی ملک یونان کو مان ہے کہ اس نے افلاطون جیسا فلاسفر پیدا کیا۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ جو میرا یونان ہے (حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ) اس کے آگے افلاطون ایک طفل مکتب ہے۔

حضرت مسیح علیہ السلام (باوجود معجزہ احیائے موتیٰ رکھنے کے ) رشک کرتے ہیں اس درمان پر جو میں رکھتا ہوں۔“ یعنی میرے محمد ﷺ درماں ہیں، دارو ہیں، علاج ہیں مرضِ شرک و کفر کا، جو صدیوں سے ملک عرب میں وبا کے طور پر پھیلا ہوا تھا۔

حضرت مسیح علیہ السلام نے کچھ عرصہ علم توحید بلند رکھا۔ انہوں نے معجزہ سے مردے زندہ کیے۔ مادر زاد اندھے اور کوڑھی تندرست کیے۔ لیکن یہودی ملعون ان کی جان کے دشمن بن کر ان کے قتل کے درپے ہو گئے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔

لیکن لاکھوں درود و سلام ہوں، بشیر، نذیر، مبشر، رسولِ امین، خواجہ بدر و حنین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر کہ تمام کائنات عرب کے کفر و شرک کی ملی بھگت نے آپ کو ایذا پہنچانے، دکھ دینے، ستانے اور جان لینے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ دشمنی کے جھکڑ چلے، بغض و عناد کے طوفان امڈے، قتل کے منصوبے کی سیاہ رات چھائی۔ لاکھوں مربع میل میں پھیلے ہوئے کفر کی آندھی آئی۔ لیکن یقین و ایمان کا فلک بوس پہاڑ اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ سب جھکڑ، طوفان، چڑھاؤ، سیلاب، طغیانیاں، آندھیاں، غل، شور، فساد، بلوے، ہنگامے، جھگڑے اور لڑائیاں اپنی پوری قوت، اور شدت سے سربراہِ مرسلاں ﷺ کی چٹانِ ایمان سے ٹکرائیں، اور پاش پاش ہو گئیں۔ بالآخر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات تمام مفاسد پر غالب آئی اور تیئیس برس کے تھوڑے عرصہ میں سارا عرب توحید کے نور سے جگمگا اٹھا۔ تو حضور درماں بن کے آئے امراضِ شرک و کفر کا۔ علاج بن کے آئے رذائل و مفاسد کا، بے شک

مسیحا رشک می دارد بہ درمانے کہ من دارم

حضور مسیح علیہ السلام رشک کرتے ہیں۔ اس درماں پر جو امت۔ امتِ خیرالوریٰ کو ملا ہے۔ الحاصل کیا حضرت مسیح علیہ السلام اور کیا دوسرے تمام انبیاء و رسل (خدا کا ان سب پر درود و سلام ہو ) سب کے سب حضورؐ کی اقتداء پر نازاں ہیں اور حاملِ لوائے حمد۔ جنابِ رحمت للعالمین، ان سب کے امام ہیں۔

ہر زمانے میں پیمبر بھی، نبی بھی آئے
مصلحِ ملتی و ملکی بھی، رشی بھی آئے
صفحہ 152
حق کے جوئندہ اور حق کے ولی بھی آئے
واقف محرم سرّ ازلیٰ بھی آئے
آئے دنیا میں بہت پاک مکرم بن کر
کوئی آیا نہ مگر رحمتِ عالمؐ بن کر

(جگر مرادآبادی)

محمد ﷺ نام کے گلاب کی مہک

حضورؐ نے فرمایا۔ اِنَّ لِیْ اَسْمَاءً بے شک میرے لیے (بہت سے) نام ہیں۔ اَنَا مُحَمَّدٌ۔ ایک نام میرا محمدؐ ہے وَ اَنَا اَحْمَدُ۔ اور دوسرا نام میرا احمدؐ ہے۔ یعنی میں محمد بھی ہوں اور احمد بھی ہوں۔

قرآن میں بھی آپ کا محمدؐ نام کئی جگہ آیا ہے:

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ (پ۴ع۶) ”اور نہیں محمد ﷺ مگر رسول۔“

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ (پ۲۶ع۱۲) ”محمد اللہ کے رسول ہیں۔“

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ (پ۲۲ع۲) محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔“

نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ (پ۲۶ع۵) ”اتارا گیا (قرآن) اوپر محمد ﷺ کے۔“

بے شک آپ کا نام محمد ﷺ ذاتی نام ہے۔ اور محمد ﷺ حمد سے مشتق ہے اور حمد کے معنی ایسی تعریف کے ہیں جو محمود کی تکریم و تعظیم کے لحاظ سے کی جائے اور درحقیقت محمود میں پائی جائے۔ اور لفظ محمد ﷺ اسم مفعول ہے، جس کے معنی ہیں بہت تعریف کیا گیا۔ حضور ﷺ میں نہایت اعلیٰ اوصاف، نہایت اچھی عادتیں اور خصلتیں تھیں۔ آپ بالکل اسم بامسمّیٰ تھے۔ سراپا حسن ہی حسن، تعریف ہی تعریف، خوبی ہی خوبی تھے۔ ذات اور صفات کے لیے دنیا اور آخرت میں حد درجہ تعریف کیے گئے ہیں۔ بے حد اور بے شمار سراہے گئے۔ حضور ﷺ کے اچھے وصفوں، اعلیٰ خوبیوں اور پاکیزہ سیرت کی جتنی تعریف آج تک ہو چکی ہے، اور ہو رہی ہے، اور قیامت تک ہوگی، ساری اولادِ آدم میں سے اتنی کسی کی نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ آسمان میں فرشتوں سے اور زمین میں انسانوں اور جنوں سے حضور ﷺ کی

صفحہ 153

تعریف کراتا ہے۔ یہاں تک کہ سب رسولوں اور نبیوں سے بھی اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی تعریف کرائی ہے۔ اپنوں کے علاوہ غیر مذہب کے لوگوں نے بھی آپ کی توصیف کی ہے۔ دیکھئے ہری چند اختر آنجہانی یوں مدح سرا ہے ؎

کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا
کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا
زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں ان کے نام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
شوکت مغرور کا کس شخص نے توڑا طلسم
منہدم کس نے الٰہی قصر کسریٰ کر دیا
کس کی حکمت نے یتیموں کو کیا در یتیم
اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولا کر دیا
کہہ دیا لَا تَقْنَطُوْا اختر کسی نے کان میں
اور دل کو سر بسر محو تمنا کر دیا!
سات پردوں میں چھپا بیٹھا تھا حسن کائنات
اب کسی نے اس کو عالم آشکارا کر دیا

حضور کے نام محمد کی تحمید کہ غیر مذہب کے لوگوں کی زبانیں بھی آپ کی شان میں نواسنج توصیف ہیں۔ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ قَدْرَ حُسْنِہٖ وَجَمَالِہٖ وَکَمَالِہٖ وَشَانِہٖ۔ پس محمد نام...... نہایت پیارا، دل کش، دل کشا، دلربا، دل نواز، روح پرور، عطر ریز، عنبر بار، بلاغت آمیز، ذخیرہ حسن دو جہاں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں، رسولوں اور ساری اولاد آدم کے اوصاف حمیدہ اور خصائل عالیہ حضور ﷺ کی ذات میں کوٹ کوٹ کر بھر دیئے تھے۔ تو گویا آپ تمام ذریت آدم کے حسن و جمال، اوصاف و خصائل، تعریفوں، خوبیوں، صفتوں، بھلائیوں، نیکیوں، کمالوں، ہنروں، خلقوں اور پاکیزہ سیرتوں کے مجموعہ ہیں۔ اسم محمد ﷺ کا مسمیٰ ﷺ اپنی پیدائش کے روزِ اوّل سے لے کر تا امروز تعریفوں اور مداحوں کا محور رہا ہے اور تا نور نیرین رہے گا۔ نام ہو آپ کا محمد نہایت تعریف کیا گیا، تو پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ آپ کی مدح نہ ہو۔

صفحہ 154

گریبانے کہ من دارم

فلک یک مطلع خورشید دارد باہمہ شوکت
ہزاروں ایں چنیں دارد گریبانے کہ من دارم

(آسی)

آسمان باوجود اتنی شان وشوکت (بلندی فراخی‘ وسعت) کے ایک ہی مطلع خورشید رکھتا ہے۔ لیکن جو گریبان (ایمان بالرسالت کا) میں رکھتا ہوں۔ وہ ایسے ہزاروں مطلع خورشید رکھتا ہے‘ یعنی آسمان جو اتنی وسعت‘ فراخی اور بلندی کی شان وشوکت رکھتا ہے۔ اس پر ایک سورج چمکتا ہے‘ اور میرے گریبان محبت مصطفےٰ ﷺ پر ایسے ہزاروں آفتاب روشن ہیں۔

آفتاب فلک کی مادی روشنی سے دنیا جگمگا رہی ہے۔ اس روشنی کے بیشمار فائدے ہیں۔ اس سے جہان آباد ہے۔ اسی سے زندگی کی چہل پہل ہے۔ لیکن میرے (مسلمان کے) گریبان ایمان پر سرور کائنات ﷺ کی سیرت واسوہ کے ہزاروں خورشید دمک رہے ہیں۔ نقشِ پا کے آفتاب درخشاں ہیں‘ جن کی روشنی سے میری روحانی دنیا آباد ہے۔ میرے ایمان کا جہان جگمگا رہا ہے۔ ان آفتابوں سے میرے روح اور ایمان منور ہیں۔ میری قبر روشن ہے۔ حشر روشن ہے‘ پل صراط روشن ہے۔ ان خورشیدوں (حدیثوں) کے نورِ عمل سے میری دنیا اور دین دونوں سنور رہے ہیں۔ نعم ما قیل۔

اُدھر لاکھوں ستاروں سے ہے بزم کہکشاں روشن
اِدھر اک شمع روشن ہے کہ ہیں دونوں جہاں روشن

(ثمر)

آسمان پر لاکھوں کروڑوں ستاروں سے کہکشاں کی بزم روشن ہے رات کو آپ یہ بزم کہکشاں دیکھتے ہیں۔ لیکن اِدھر ...... ہماری دنیا میں ایک ایسی شمع (رسالت محمدیہ) روشن ہے‘ جس نے دونوں جہانوں کو روشن کر رکھا ہے۔ ﷺ

اسم محمد ﷺ اتنا معنی خیز اور محامد کا بحرِ عمیق ہے۔ سمندر اور مہا ساگر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنے عبدہ کو مرتبے رتبے‘ شانیں اور صفتیں بخشی ہیں۔ ان کے بیان کے لیے طومار درکار ہے۔ حضور ﷺ کا چچا باوجود مسلمان نہ ہونے کے آپ کی شان میں مدحت سرا ہے۔

اسم محمد ﷺ کا معنوی اعجاز

مشرکین قریش نے ایک روز خیال کیا کہ محمد ﷺ تو ہمارا دشمن ہے۔ ہمارے مذہب کا دشمن

صفحہ 155

ہے ہمارے بزرگوں لات و ہبل کی تکذیب کرتا ہے۔ ان کو برا کہتا ہے۔ اور ہمیں جب اس کو بلانا پڑتا ہے تو خواہ مخواہ نام لینا پڑتا ہے۔ اور محمد ﷺ کے معنی ہیں از حد تعریف کیا گیا۔ تو اس کو ہم دل سے برا جانتے ہیں۔ لیکن جب ہم کہتے ہیں۔ محمد ﷺ نے آج یہ کہا تو اس کی خود بخود تعریف ہو جاتی ہے۔ اس لیے اس کا کوئی ایسا نام تجویز کرو کہ جب اس نام سے اس کا ذکر کیا جائے تو اس میں ذم پایا جائے۔ چنانچہ انہوں نے حضور ﷺ کے لیے مذمم نام تجویز کیا۔ جو محمد ﷺ کی نقیض ہے۔ مذمم کے معنی مذمت کیا گیا۔ صحابہؓ نے سنا تو وہ بہت مغموم ہوئے۔ اور بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ حضور ﷺ مشرکین قریش نے آپ کو برا کہنے کے لیے مذمم نام تجویز کیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور حکمت اور دانائی کا دریا بہا دیا: اَلَا تَعْجَبُوْنَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللّٰهُ عَنِّیْ شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ يَشْتِمُوْنَ مُذَمَّمًا وَّاَنَا مُحَمَّدٌ (بخاری شریف)

”فرمایا حضور ﷺ نے کیا تم تعجب نہیں کرتے کہ کیونکر باز رکھا مجھ سے اللہ تعالیٰ نے مشرکین قریش کا برا کہنا۔ اور ان کا لعنت کرنا۔ (غور کرو) وہ برا کہتے ہیں مذمم کو۔ اور میں محمد ہوں۔“

یعنی وہ لعن طعن مذمم کو کرتے ہیں۔ اور میں تو مذمم نہیں ہوں بلکہ محمد ﷺ ہوں ان کی گالی مجھے لگتی ہی نہیں۔ خدا تعالیٰ نے دور اور دفع کر دیا ہے ان کی لعن کو مجھ سے اور بچایا ہے مجھ کو ان کے بد کہنے سے محمد کی ذات کے نزدیک مذمت پھٹک بھی نہیں سکتی۔

مشرکین قریش کی بکواس مذمت ایک ظلمت ہے۔ جو اسم محمد ﷺ کی روشنی سے دور ہو جاتی ہے۔

دیکھئے دوسرے انبیاء علیہم السلام کے پاک ناموں کے ترجمے اور معنوں پر نظر کریں تو اسم محمد ﷺ کے معنی کے مانند وہ محامد کے حامل نہیں ہیں:

”حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معنی ہیں۔ باپ بڑے گروہ کا۔“ ”حضرت ایوبؑ کے معنی شیر کے ہیں۔“ ”حضرت یوسفؑ کے معنی ہیں زیادہ کیا ہوا۔“ ”حضرت اسماعیلؑ کے معنی ہیں۔ اے اللہ میری فریاد سن۔“ ”حضرت یعقوب کے معنی ہیں۔ پیچھے آنے والا۔“ ”لیکن محمد ﷺ کے معنی ہیں از حد تعریف کیا گیا۔“

صفحہ 156

تو نام کے لحاظ سے بھی رسول اللہ ﷺ تمام اولاد آدم کے سردار ہوئے۔ اور یہ خدا کا فضل ہے۔ جس پر چاہے اس کی بارش کردے۔

اسم احمد کا جمال:

اسم محمد ﷺ کے جمال کے بعد اب اسم احمد ﷺ کا جمال دیکھیں۔ فرمایا حضور ﷺ نے: وَ اَنَا اَحْمَدُ ۔ اور میں احمد ﷺ ہوں۔ یعنی میرا نام احمد ﷺ بھی ہے۔

احمد مصدر حمد سے اسم تفضیل ہے، جو فاعل کے معنی دیتا ہے تو احمد کے معنی ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی از حد حمد کرنے والا۔ خدا کی نہایت ستائش کرنے والا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت خیرالوریٰ ﷺ تمام نبیوں سے زیادہ خدا کی حمد کرنے والے ہیں۔ یوں کہئے کہ ساری اولاد آدم میں سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنے والے ہیں۔ دریائے ستائش کے سب سے بڑے پیراک ہیں۔ کوئی بھی حضور ﷺ کے جبل حمد کی چوٹی کو سر نہیں کر سکا، ﷺ

قرآن مجید جو آپ پر اتارا گیا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد کی بہت تاکید آئی ہے۔ دیکھئے! قرآن کی سب سے پہلی سورت، جو نمازوں میں بار بار دہرائی جاتی ہے۔ وہ شروع ہی الحمدللہ سے ہوتی ہے، اور سارے قرآن میں اللہ کی حمد بہ کثرت مذکور ہے۔ اس کے علاوہ کتب احادیث میں بے شمار حضور ﷺ کی دعائیں آئی ہیں۔ جن میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کی گئی ہے اور ان دعاؤں سے حضور ﷺ احمد ثابت ہورہے ہیں۔

ایک روایت دارمی شریف میں آئی ہے، جو کعب احبار سے مروی ہے کہ کتب سابقہ میں حضرت انور ﷺ کی امت کو حمادون کے نام سے بیان کیا گیا، جو ہر حال میں اللہ کی حمد کریں گے۔ اور حمادون کے معنی ہیں، خدا کی بہت حمد کرنے والے۔ سبحان اللہ۔ امت کے رسول ﷺ محمد ﷺ نہایت تعریف کئے گئے۔ احمد ﷺ اللہ کی نہایت حمد کرنے والے، اور امت حمادون۔ اللہ کی بہت حمد کرنے والی۔

قیامت کو حضور ﷺ کے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا، مقام محمود آپ کی جگہ، جہاں آپ کھڑے ہوں گے اور سب اہل محشر آپ کو دیکھ کر آپ کی تعریف کریں گے۔ یہ ہیں احمد رسول ﷺ ساری خدائی میں سب سے بڑھ کر حمد الٰہی کے نغمہ سرا!

حضرت احمد ﷺ کی حمد سرائی

رسول اللہ ﷺ کی زبان پاک ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تحمید، تہلیل، تکبیر، تقدیس، تمجید، اور ذکر سے تر رہتی تھی۔ سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، چلتے پھرتے ہر گھڑی ہر لمحہ اللہ کی حمد و ستائش کا

صفحہ 157

آب حیات نوش جان فرماتے۔ حضور ﷺ اللہ کی حمد اور شکر اس حد تک کرتے‘ کہ کوئی بھی ذریت آدم میں سے اتنا نہیں کرسکا۔ غور کریں‘ کہ جب آپ بیت الخلا سے فارغ ہوکر نکلتے تو اس طرح شکر کرتے:

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ اَذْهَبَ عَنِّیْ الْاَذٰی وَعَافَانِیْ

(مشکوٰۃ شریف)

”سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے‘ جس نے دور کی مجھ سے پلیدی اور عافیت دی مجھ کو۔“

نوٹ: جس کا بول و براز بند ہو جائے۔ یہ پلیدی خارج نہ ہو تو وہ متعدد امراض کا شکار ہو جاتا ہے‘ جو مہلک بھی ہو سکتی ہیں۔ اور دائمی قبض والے تو کئی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ جب تک ہر روز اجابت بافراغت نہ ہو‘ آدمی کی صحت درست نہیں ہو سکتی۔ تو رحمت عالم ﷺ نے اجابت بافراغت پر اللہ کا شکر کیا کہ اس نے اس ایذا کو دور کرکے‘ صحت اور عافیت بخشی۔

کبھی حضور ﷺ فراغت کے بعد اس طرح حمد کرتے:

”اَلْحَمْدُلِلّٰهِ اَذَاقَنِیْ لَذَّتَهُ وَاَبْقٰی فِیَّ قُوَّتَهُ وَاَذْهَبَ عَنِّیْ اَذَاهُ

(طبرانی شریف)

”سب تعریف اللہ کے لیے ہے کہ چکھائی اس نے مجھے لذت کھانے کی‘ اور باقی رکھی مجھ میں قوت اس کی۔ اور دور کی مجھ سے پلیدی اس کی۔ خدایا ہم تیری پردہ پوشی چاہتے ہیں۔“

نوٹ:۔ یعنی حمد ہے اس ذات لم یزل کی جس نے بے شمار قسم کے کھانے اور پینے کی چیزوں کی لذت بخشی‘ بہت سے اثمار و فواکہ کے ذائقوں‘ اور مزوں سے کام و دہن‘ اور جسم و جان کو فائدہ پہنچایا۔ اور پھر ان غذاؤں‘ اور سب مشروبوں کی قوت‘ طاقت‘ تفریح‘ تسکین‘ اور سب فوائد کو جسم میں باقی رکھا۔ اور فضلات کو جو مضر تھے‘ ان کو خارج کر دیا۔ یعنی ماکولات‘ اور مشروبات کے منافع کو جسم میں باقی رہنے دیا۔ اور مضار کو بصورت بول و براز دفع کر دیا۔ رحمت عالم ﷺ اس بات پر بھی اللہ کی حمد بجالا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی جیسی اور جتنی حمد حضور ﷺ نے کی ہے‘ اس کی مثال نہیں ملتی۔

صفحہ 158

محمد ﷺ

صاحبزادہ طارق محمود

حضرت عبدالمطلب نے اپنی بہو سیدہ آمنہ سے فخر کائنات ﷺ کا نام رکھنے کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ میں اس بچے کے انوارات و برکات دیکھ کر محسوس کرتی ہوں کہ میرے دل پر میرا اختیار نہیں۔ مائیں اپنے ہونے والے لاڈلوں کے بے شمار نام سوچتی ہیں۔ لیکن میری عجیب حالت ہے آکاش ذہن پر صرف نام محمد ﷺ ہی آتا ہے۔ حضرت عبدالمطلب نے کہا ہاں بیٹی جب بچہ منفرد ہے تو اس کا نام بھی منفرد ہی ہونا چاہیے۔ بزرگوں کی روایتوں کے مطابق حضرت عبدالمطلب اور اماں آمنہ دونوں کو رویائے صالحہ کے ذریعہ نام احمد اور محمد ﷺ رکھنے کا اشارہ کیا گیا۔

لفظ محمد ﷺ کی جامعیت

مقدمہ مشکوٰۃ کی شرح میں ملا علی قاری نے کیا خوب فرمایا ہے کہ اَلْاَسْمَاءُ تَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ نام آسمانوں سے اترتے ہیں۔ حضرت عبدالمطلب کا اپنے تمام بیٹوں میں سے صرف آپ کے والد ماجد کا نام عبداللہ تجویز کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھا۔ یہ القاء ربانی تھا۔ اسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اسم گرامی محمد اور احمد ﷺ رکھنا بھی بلاشبہ الہام ربانی تھا۔ جیسا کہ علامہ انور نووی نے ابن فارس سے نقل کیا ہے۔ یہی دو نام اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمائے ہیں۔ مثلاً ”مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ وَمُبَشِّرًاۢ بِرَسُوْلٍ يَّأْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي اِسْمُهُ اَحْمَدُ۔ اپنے بعد آنے والے رسول کی بشارت دینے والا جن کا نام احمد ہوگا۔

(شرح مسلم)

صفحہ 159

محمد کا اصل مادہ حمد ہے۔ حمد کے معنی تعریف کے ہیں۔ کسی کے اخلاق حمیدہ اوصاف پسندیدہ محاسن وکمالات فضائل ومناقب کو محبت وعقیدت کے ساتھ بیان کرنا حمد کہلاتا ہے۔ لفظ محمد جو تحمید کا اسم مفعول ہے۔ اس کے معانی بزرگوں نے یہ بیان کیے ہیں کہ وہ ذات اقدس جس کے حقیقی فضائل و خصائل کو کثرت کے ساتھ بار بار بیان کیا جائے۔ پس محمد ﷺ ہی وہ ذات گرامی ہیں جن کی سب سے زیادہ تعریف بیان کی گئی ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ روایت ہے کہ ابوطالب یہ شعر پڑھا کرتے تھے:

وَشَقَّ لَهُ مِنِ اسْمِهِ لِيُجِلَّهُ
فَذُو الْعَرْشِ مَحْمُود وَ ھذَا مُحَمَّد

(تاریخ صغیر)

”خداوند تعالیٰ نے آپ کی عزت افزائی کے لیے اپنے نام سے آپ کا نام نکالا۔ پس عرش والا محمود اور آپ محمد ﷺ ہیں۔“ قاموس میں ہے کہ محمد ﷺ وہ ہیں جن کی تعریف بار بار ہوتی ہے اور کبھی ختم نہ ہو۔

اَلَّذِیْ یُحْمَدُ مَرَّةً بَعدَ مَرَّةٍ

مالک کائنات خالق کائنات نے خود اپنے محبوب محمد مصطفےٰ ﷺ کی تعریف فرمائی ہے جو اکرام خداوندی کا عظیم شاہکار ہے۔ لطف وکرم یہ کہ ایسی تعریف اور کوئی نہیں کرسکا‘ فرمایا۔ ورفعنا لک ذکرک ”میرے محبوب ہم نے آپ کا ذکر بلند کیا۔ ہم نے آپ کا نام بلند کیا‘ آج بحرالکاہل کے مغربی کنارے سے لے کر دریائے ہوانگ ہو کے مشرقی کنارے تک ایک ہی نام کی صدائیں ہیں۔ مشرق ومغرب‘ شمال وجنوب اور کرہ ارض کے کونے کونے میں یہ نام مبارک سربلند ہے۔ اسی کے چرچے ہیں۔ یہ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ کی عملی تفسیر ہے۔

سرکار دوعالم ﷺ نے دنیا میں رب العزت کی حمد وثنا بیان کرنے کا جو اعزاز حاصل کیا۔ وہ پہلے انبیاء میں سے کسی کو نصیب نہیں ہوا۔ قیامت کے روز سرور کونین ﷺ کو آپ کی عظمت ورفعت کے پیش نظر مقام محمود اور لواء حمد عطا ہوگا۔ خدا تعالیٰ اور آقائے نامدار ﷺ کا رشتہ عابد ومعبود‘ ساجد و مسجود اور حامد ومحمود کا ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت نے بھی اپنے نبی مکرم کی پیروی کرتے ہوئے باقی امتوں کی نسبت سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور ستائش بیان کی‘ ہر دعا کے بعد رسول اکرم ﷺ اور آپ کی امت کو حمد وثنا پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

لغت کی مشہور کتاب منتہی الارب میں حمد کے معانی حق ادا کرنے کے بھی لکھے ہیں۔ حمد کا

صفحہ 160

ایک معنی قضاء الحق بھی ہے۔ جس کا مطلب کمال کی انتہا تک پہنچنا ہے اس سے معلوم ہوا کہ نام محمد ﷺ میں ختم نبوت کا تصور بھی موجود ہے۔ جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں۔ (بخاری و مسلم)

رحمت ﷺ قیامت کے روز سب سے پہلے اپنی قبر سے اٹھیں گے۔ اور آپ ہی اس دن سب کے امام اور پیشوا ہوں گے۔

الفاظ: ”اَنَا الْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدِیْ نَبِيٌّ.“ میں عاقب ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ امام مالک نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: الذی ختم اللہ بہ الانبیاء جس پر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا سلسلہ ختم فرمایا۔

قاضی عیاض شفا میں اور فتح الباری میں حافظ سید الناس عیون الاثر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عرب وعجم کے دلوں اور زبانوں پر ایسی مہر لگا دی کہ کسی کو محمد اور احمد نام رکھنے کا خیال تک نہیں آیا اسی بناء پر تو قریش نے متعجب ہو کر سردار مکہ حضرت عبدالمطلب سے سوال کیا تھا کہ یہ منفرد نام آپ نے کیوں منتخب کیا ہے؟ لیکن جب آپ کے ظہور قدسی کا زمانہ قریب آیا تو علماء بنی اسرائیل کے علاوہ کاہنوں اور نجومیوں نے اس نام کو بہت مشہور کر دیا۔ بعض لوگوں نے اسی امید پر اپنے بیٹوں کے نام محمد اور احمد رکھنے شروع کر دیئے۔ لیکن بعض روایتوں میں ان ناموں کی تعداد چھ سات سے زیادہ نہیں مگر حکمت خداوندی ملاحظہ ہو کہ پروردگار عالم نے اسم محمد کی کس طرح حفاظت فرمائی کہ ان میں سے کسی نے دعویٰ نبوت نہیں کیا، اسم محمد واحمد کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ سب لوگوں سے زیادہ تعریف ومدحت کے لائق اور مستحق ہیں۔ اس صورت میں حمد اور محمد کا معنی ایک ہو جائے گا دونوں ناموں کا مجموعی مطلب یہ ہے کہ سب سے زیادہ اور سب سے اچھی ستائش وعقیدت اور تعریف کے حق دار آپ ﷺ ہی ہیں۔

۞......۞......۞

صفحہ 161

فضائل اسم محمد ﷺ

مفتی محمد زبیر تبسم

محمد ﷺ نام نامی ہے اس نور مجسم نیر اعظم کا...... جو تخلیق آدم کا باعث ہوا جس نے خاک کے ذروں کو جامۂ حیات پہنایا...... جس نوری پیکر کی برکت سے سیدنا آدمؑ مسجود ملائکہ ٹھہرائے گئے۔ خلافت کبریٰ کا تاج پایا اور نیابت الٰہیہ کے تخت جلال پر فروکش ہوئے۔

محمد ﷺ اسم گرامی ہے اس آسمان رسالت کے سراج منیر کا...... جس کے نور کی ضیا پاشیوں سے آفاق عالم منور و روشن ہے۔ جس کے نور کی تابانیوں سے یہ چمکتا آفتاب، یہ دمکتا مہتاب، یہ زرنگار گنبد، یہ مسکراتے ستارے، یہ برق پاش کہکشاں، یہ گرجتا بادل، یہ سربفلک کوہسار، یہ نشاط انگیز آبشار، یہ نورانی فرشتے، یہ رعنا حوریں، یہ ناری جن، یہ باکمال انسان غرضیکہ عالم رنگ و بو کا ہر ہر ذرہ اور ہر ہر قطرہ معرض وجود میں آیا۔

روشن ہوئی ہیں تم سے دو عالم کی وسعتیں
صبح ازل کے مہر درخشاں تمہیں تو ہو

محمد ﷺ نام نامی ہے اس حسن ازل کے مظہر اتم کا...... جو حسن و جمال کا لطیف پیکر اور دلکشی و رعنائی کا منتہائے کمال ہے جس کے جسم و جان، زبان و دل، رگ و ریشہ، خلق و عمل اور علم و فہم کو نورانیت تامہ بخشی گئی تھی۔ حور و ملک، جن و انس کے حسن و رعنائی کی جہاں انتہا ہوتی ہے، محبوب خدا کے حسن و جمال کا وہاں سے آغاز ہوتا ہے۔

صفحہ 162

دل سے نگاہ تک، روح سے جسم تک، سر سے پیر تک، حسن ہی حسن، پاکیزگی ہی پاکیزگی، لطافت ہی لطافت، نزاکت ہی نزاکت اور رعنائی ہی رعنائی چھائی ہوئی تھی جس کا بچپن پاکیزگی وزیبائی کا معیار آخر اور جس کی جوانی پھولوں سے بڑھ کر بے داغ اور شبنم سے زیادہ اجلی اور شفاف تھی۔

رُخِ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ ہماری بزمِ خیال میں نہ دکانِ آئینہ ساز میں
آفاقہا گر دیدہ ام مہر بتاں ورزیدہ ام
بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگرے

زندگیاں، سیرتیں اور خوبیاں جمع ہو گئی تھیں۔

وہ جن کا ذکر ہوتا ہے زمینوں، آسمانوں میں
فرشتوں کی دعاؤں میں مؤذن کی اذانوں میں

محمد ﷺ وہ مقدس نام ہے جس کے زبان پر آتے ہی دل جھوم اٹھتے ہیں، سینے مچل جاتے ہیں۔

صفحہ 163
خدایا میری زباں پہ یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے میری زبان کے لیے

اور شام ابد بھی تابناک اور درخشاں ہے۔

قبول ہوئی۔

اگر نام محمد ﷺ را نیاور دے شفیع آدم
نہ آدم یافتے توبہ نہ نوح از غرق نجینا

کے لبوں کو ازلی سعادتیں عطا کرتا اور قلب و روح کو ابدی مسرتیں عطا کرتا ہے۔

جس کی تکرار اور پیہم یاد دل کی نشاط اور روح کی انبساط کا سامان ہے۔ جس کی برکت سے بگڑے ہوئے کام سنور جاتے ہیں۔

یہ نام کوئی کام بگڑنے نہیں دیتا
بگڑے بھی بنا دیتا ہے یہی نام محمد

شمس و قمر، شجر و حجر، جن و انس، حور و ملک بھی نام مقدس کے عظیم المرتبت مسمی کو اپنے دلوں اور روحوں میں موجود پاتے ہیں اور جن کے ذکر خیر کے تذکرے فردوس کی بہاروں اور لامکان کی قدسی فضاؤں تک پہنچ چکے ہیں۔

عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش پہ طرفہ دھوم دھام
کان جدھر لگائیے تیری ہی داستان ہے

حضور سرور کائنات ﷺ کے اسمائے گرامی کتب سیر میں ایک ہزار تک بیان کیے گئے ہیں، جن کے معانی و معارف پر علمائے اسلام نے بے شمار کتابیں تحریر فرمائی ہیں لیکن اس مضمون میں سرکار ابد قرار ﷺ کے ذاتی اسم پاک محمد ﷺ کے متعلق کچھ عرض کرنا مقصود ہے۔

آپ کا ذاتی اسم گرامی محمد ﷺ آپ کے دادا جان حضرت عبدالمطلب نے رکھا۔ اس کی وجہ تسمیہ بتاتے ہوئے آپ نے ایک خواب کا ذکر کیا کہ مجھے امید ہے اس مولود مبارک کی زمین و آسمان

صفحہ 164

میں بہت زیادہ تعریف کی جائے گی۔

خصائص کبریٰ میں ہے ابن عساکر نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کی جب ولادت باسعادت ہوئی تو حضرت عبدالمطلب نے ایک دنبہ کا عقیقہ کیا اور آپ کا اسم گرامی محمد ﷺ رکھا اس موقع پر کسی نے ان سے کہا اے ابوالحارث کیا وجہ ہے؟ کہ آپ نے حضور ﷺ کا نام محمد ﷺ رکھا۔ اور اپنے آباؤ اجداد کے ناموں پر نہ رکھا۔

حضرت عبدالمطلب نے جواب دیا میں نے چاہا کہ آسمانوں میں اللہ تعالیٰ میرے پوتے کی مدح فرمائے اور زمین پر ساکنان خاک آپ کی تعریف کریں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس آرزو کو پورا کر دیا کہ آج آفاق عالم اس نام نامی سے گونج رہا ہے۔

(خصائص کبریٰ)

حضور تاجدار کائنات، فخر موجودات، نورِ مجسم، فخرِ آدم و بنی آدم ﷺ کے اسم گرامی محمد ﷺ کی تشریح کرتے ہوئے نامور مفسر و سیرت نگار حضور ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری قدس سرہ العزیز نے ”ضیاء النبی“ میں تحریر فرمایا ہے۔

کلمہ محمد ﷺ کی تشریح:

قَالَ اَهْلُ اللُّغَةِ كُلُّ جَامِعٍ بِصِفَاتِ الْخَيْرِ يُسَمّٰى مُحَمَّدًا

اہل لغت کہتے ہیں کہ جو ہستی تمام صفات خیر کی جامع ہو اسے محمد کہتے ہیں۔

امام ابوزہرہ اسم محمد کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

اَنَّ صِيْغَةَ التَّفْعِيْلِ تَدُلُّ عَلٰى تَجَدُّدِ الْفِعْلِ وَحُدُوْثِهٖ وَقْتًا بَعْدَ اٰخَرَ بِشَكْلٍ مُّسْتَمِرٍّ مُتَجَدِّدًا اٰنًا بَعْدَ اٰنٍ وَعَلٰى ذٰلِكَ مُحَمَّدٌ اَىْ يَتَجَدَّدُ حَمْدُهٗ اٰنًا بَعْدَ اٰنٍ بِشَكْلٍ مُّسْتَمِرٍّ حَتّٰى يَقْبِضَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى اِلَيْهِ

”تفعیل کا صیغہ کسی فعل کے بار بار واقع ہونے اور لمحہ بہ لمحہ وقوع پذیر ہونے پر دلالت کرتا ہے اس میں استمرار پایا جاتا ہے۔ یعنی ہر آن وہ نئی آن بان سے ظاہر ہوتا ہے اس تشریح کے مطابق محمد کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ ذات جس کی بصورت استمرار ہر لمحہ ہر گھڑی نو بنو تعریف و ثنا کی جاتی ہو۔“

علامہ سہیلی اس نام کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

فَالْمُحَمَّدُ فِى اللُّغَةِ هُوَ الَّذِىْ يُحْمَدُ حَمْدًا بَعْدَ حَمْدٍ وَلاَ يَكُوْنُ مُفَعَّل مِثْلَ مُضَرَّب وَمُمَدَّح اِلاَّ لِمَنْ تَكَرَّرَ فِيْهِ الْفِعْلُ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ

صفحہ 165

”یعنی لغت میں محمد اس کو کہتے ہیں جس کی بار بار تعریف کی جائے کیونکہ مفعل کے وزن میں اس فعل کا تذکرہ مقصود ہوتا ہے مضعف اور ممدح ان کا وزن بھی مفعل ہے اور ان کے معنی میں بھی تکرار ہے۔“ دوسرا مشہور معروف نام نامی احمد ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضور ﷺ کو اس نام سے یاد کیا۔

احمد اسم تفضیل کا صیغہ ہے‘ اس کا معنی ہے احمد الحامدین یعنی ہر حمد کرنے والے سے زیادہ اپنے رب کی حمد کرنے والا۔

ویسے تو حضور ﷺ کا لمحہ لمحہ اپنے رب کریم کی حمد و ثناء سے آباد ہے۔ حضور کی تحمید و تمجید کی ہر ادا سب سے نرالی اور سب سے ارفع و اعلیٰ ہے۔ لیکن حضور ﷺ کی یہ شان احمدیت پوری آب و تاب سے روز محشر آشکارا ہوگی جب حضور ﷺ رب ذوالجلال کے عرش کے سامنے حاضر ہو کر سر بسجود ہوں گے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی حمد کے لیے اپنے حبیب کا سینہ منشرح فرمائے گا۔ حمد کے سرمدی خزانوں کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ صدر انور میں معرفت الٰہی کا بحر بیکراں ٹھاٹھیں مارنے لگے گا۔ حضور کی زبان فیض ترجمان اس کی تہہ سے حمد کے موتی چن چن کر بکھیر رہی ہوگی جملہ اہل محشر پر کیف و سرور کی مستی چھا جائے گی۔ اس بے مثل اور بے نظیر تحمید و تمجید کے صلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا۔ دست مبارک میں لواء حمد تھمائے گا۔ اس وقت انوارِ الٰہی کی ضوفشانیوں اور شانِ احمد کی ضیا پاشیوں کا کیا عالم ہوگا۔ ہر چیز وجد کناں سبحان اللہ سبحان اللہ الحمدللہ الحمدللہ اللہ اکبر کے ترانے آلاپ رہی ہوگی ہم گنہگاروں اور عصیاں شعاروں کی بھی بن آئے گی۔

حضور پہلے احمد تھے۔ سب سے زیادہ اپنے رب کی حمد و ثنا اور تعریف کرنے والے‘ اس کی برکت سے محمد ہوئے‘ تا ابد بار بار ان کی تعریف و ثنا کے زمزمے بلند ہوتے رہیں گے۔ نہ زبانیں خاموش ہوں گی نہ قلم کو یارائے صبر ہوگا نہ معانی و معارف کے موتی ختم ہوں گے نہ ان موتیوں کے ہار پرونے والے بس کریں گے۔ جمال مصطفوی کے گلشن میں نت نئے پھول کھلتے رہیں گے‘ سلیقہ شعار گل چین انہیں چنتے رہیں گے‘ جھولیاں بھرتے رہیں گے‘ مشکبار گلدستے تیار کر کے بزم کونین کو سجاتے رہیں گے اور فضائے عالم کو عنبرین بناتے رہیں گے۔

رحمت عالم و عالمیان ﷺ کی بزم رنگ و بو میں رونق افروز ہونے سے پہلے یہ بات مشہور ہو چکی تھی کہ نبی آخر الزماں کی ولادت کا زمانہ قریب آ گیا ہے اور ان کا اسم گرامی محمد ﷺ ہوگا۔

(ضیاء النبی ص 62-63)

صفحہ 166

قرآن حکیم میں چار مقامات پر یہ اسم گرامی ذکر کیا گیا ہے: سورۃ آل عمران میں ہے۔ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ...... سورۃ احزاب میں ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ سورۃ محمد میں ہے۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ سورۃ فتح میں ارشاد ربانی ہے: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ اَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ

اسم محمد ﷺ کا ہر حرف بامعنی ہے:

محمد ﷺ حضور پُرنور ﷺ کا اسم ذات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جیسے حضور سرورِ کائنات ﷺ تمام مخلوق سے افضل تمام رسولوں کے تاجدار اور سردار ہیں۔ اسی طرح آپ کا نامِ مقدس بھی تمام نبیوں کے بلکہ تمام مخلوق کے ناموں کا سردار ہے۔ اس نامِ پاک کو اللہ تعالیٰ کے علم ذاتی یعنی لفظ اللہ سے بہت مناسبت ہے۔ جس طرح لفظ اللہ کا ہر ہر حرف بامعنی ہے اسی طرح لفظ محمد ﷺ کا ہر ہر حرف بامعنی ہے۔

اسم ذات اللہ کے شروع سے پہلا حرف ہٹا دیں تو للہ رہ جاتا ہے اس کا معنی ہے اللہ کے لیے۔ جیسے قرآن حکیم میں ہے: لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے اگر اس اسمِ پاک سے پہلا لام ہٹا دیں تو باقی لہ رہ جاتا ہے لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰی كُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرٌ اسی کے لیے بادشاہت اور اسی کے لیے حمد و ستائش اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اگر دوسرا لام بھی مٹادیں تو باقی رہ جاتا ہے ہُ اس کا معنی ہے وہ عربی زبان میں اس کا نام ضمیر ہے۔ اور متکلم مخاطب اور غائب کے حوالے سے اس کی تین قسمیں ہیں یہاں ہُ سے مراد بھی اسی کی ذاتِ اقدس ہے۔

(منہاج البخاری)

اسی طرح لفظ محمد ﷺ بھی دلالت میں حرفوں کا محتاج نہیں اگر پہلی میم الگ ہو جائے تو حمد

صفحہ 167

رہ جاتا ہے، جس کا معنی ہے تعریف کرنا۔ اگر ح کو بھی ہٹا دیا جائے تو م د رہ جاتا ہے، جس کا معنی ہے مدد کرنے والا اور اگر میم کو مٹا دیا جائے تو باقی ح د رہ جاتا ہے، جس کا معنی ہے دراز اور بلند‘ یہ حضور سرور کائنات ﷺ کی عظمت اور رفعت کی طرف اشارہ ہے۔ اور اگر دوسرے میم کو بھی مٹا دیا جائے تو صرف (دال) ”د“ رہ جاتا ہے، جس کا مفہوم ہے دلالت کرنے والا یعنی اسم محمد ﷺ اللہ کی وحدانیت پر دال ہے۔ (سیرۃ الرسول)

اسم کو اپنے مسمّٰی کی صفات کا آئینہ دار ہونا چاہیے مگر اکثر اس کے برعکس ہوتا ہے۔ شاذ و نادر ہی بعض اوصاف میں تناسب مل جاتا ہے تو ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی انسان کا وہ نام رکھا گیا ہو جو اس کی تمام زندگی کا آئینہ دار ہو۔ لیکن اسم پاک محمد ﷺ اس سے مستثنیٰ ہے۔ اس مبارک نام کی عظمتیں جہاں جمع ہوتی ہیں اور اس نام کا مظہر اتم اور محلِ کامل ہے۔ اسی کا نام ہی تو ذاتِ پاک محمد ﷺ ہے، اس ذاتِ پاک کی بے شمار عظمتوں کو ایک نام سے موسوم کرنے کا ذریعہ اسم شریف محمد ﷺ ہے۔

اہلِ ایمان کی تعریف میں حقیقت کے ساتھ ساتھ عقیدت بھی جلوہ گر ہوتی ہے۔ مگر آیئے ایسے انسان کی تحقیق بھی پیش کرتا جاؤں جو ایمان کی دولت سے تو محروم رہا مگر حقیقت کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ فرانسیسی مفکر مسٹر لے مارٹائین لکھتا ہے:

”علم و حکمت کا پیکر، فصیح و بلیغ مقرر‘ خدائی پیغمبر، ماہر قانون دان، بہادر مجاہد‘ نظریات کا ماہر‘ شائستہ اصولوں کو قائم کرنے والا‘ بیس دنیاوی حکومتوں اور ایک روحانی سلطنت کا بانی، جس میں یہ ساری صفات بیک وقت موجود ہوں‘ اس کا نام محمد ﷺ ہے۔ انسانی عظمت کو پرکھنے کے جتنے معیار ہیں‘ ان کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ہم دنیا سے پوچھتے ہیں کیا مصطفےٰ ﷺ سے بڑا بھی کوئی انسان ہوسکتا ہے؟

رُخِ مصطفےٰ ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ ہماری بزمِ خیال میں، نہ دکانِ آئینہ ساز میں

(ماہنامہ ضیائے حرم جنوری 1984ء)

کتاب الشفا میں قاضی عیاض اندلسیؒ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتنے انبیاء کرام کو پہلے اسمائے حسنیٰ کی خلعت سے نوازا ہے۔ جیسا کہ حضرت اسحاقؑ ، حضرت اسماعیلؑ کو علیم وحلیم نام دے کر حضرت ابراہیمؑ کو حلیم کے ساتھ‘ حضرت نوحؑ کو شکور کے ساتھ‘ حضرت عیسیٰؑ، یحییٰ علیہم السلام کو بر کے ساتھ‘ حضرت موسیٰؑ کریم وقوی کے ساتھ‘ حضرت یوسفؑ کو حفیظ وعلیم کے ساتھ‘ حضرت ایوب کو صابر کے ساتھ‘ حضرت اسماعیل کو صادق الوعد کے ساتھ نوازا ہے۔ جن کی گواہی قرآنِ پاک دے رہا ہے‘ اسی طرح اللہ کریم نے ہمارے آقا ومولیٰ‘ شبِ اسریٰ کے دولہا سیدنا ومولانا محمد رسول اللہ ﷺ کو

صفحہ 168

بھی یہ فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اور اپنے کتنے ہی اسمائے حسنیٰ کی خلعت سے نوازا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں ایک حمید ہے جو محمود کے معنی میں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی تعریف فرمائی ہے اور بندے بھی اس کی حمد و ثنا بیان کر رہے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے حمد سے متعلق اپنے حبیب ﷺ کو دو نام عطا فرمائے ہیں یعنی محمد ﷺ اور احمد ﷺ۔

محمد ﷺ اللہ کے نام محمود سے مشتق ہے جیسا کہ حضرت حسان بن ثابت فرماتے ہیں ؎

اَغَرُّ عَلَيْهِ لِلنُّبُوَّةِ خَاتِم
مِنَ اللّٰهِ مِنْ نُّوْرِ يَلُوحُ وَيَشْهَدُ
وَضَمَّ الْاِلٰهُ اِسْمُ النَّبِيِّ بِاسْمِهِ
اِذَا قَالَ فِى الْخَمْسِ الْمُؤَذِّنُ اَشْهَدُ
وَشَقَّ لَهُ مِنْ اِسْمِهِ لِيُجِلَّهُ
فَذُوالْعَرْشِ مَحْمُوْدٌ وَهٰذَا مُحَمَّدٌ

آپ پر ختم نبوت ناز کرتی ہے۔

شہادت دیتا ہے) ملا دیا ہے۔

شوکت میں اضافہ ہو۔ عرش کے خدا کا نام محمود ہے اور آپ کا نام محمد ﷺ ہے۔

نکتے اسم محمد واحمد ﷺ کے:

احمد ﷺ کے الف میں اشارہ ہے کہ آپ ﷺ فاتح اور مقدم ہیں اس لیے کہ الف کا مخرج تمام مخارج میں پہلا ہے اور محمد ﷺ کے میم میں اشارہ ہے کہ آپ خاتم اور مؤخر ہیں اس لیے کہ میم کا مخرج خاتم المخارج ہے۔ جیسا کہ حضور پُر نور شافع یوم النشور ﷺ نے فرمایا نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ ہم آخری اور سبقت لینے والے ہیں نیز میم میں اشارہ ہے کہ آپ چالیس سال کی عمر میں اعلان نبوت فرمائیں گے۔ (روح البیان)

نکتے دربارہ ختم نبوت:

آپ ﷺ کے اسم گرامی کی ابتداء میں میم ہے اور یہ مخارج میں سب سے آخری مخرج ہے

صفحہ 169

اس میں اشارہ ہے کہ آپ تمام انبیاء علیہم السلام کے بعد تشریف لائیں گے اور ختم نبوت کا تاج آپ کے سر سجایا جائے گا۔

(روح البیان)

نام محمد ﷺ وظیفہ ہے فرشتوں کا:

حضرت کعب الاحبار سے ابن عساکر راوی ہیں کہ حضرت آدم ؑ نے اپنے فرزند حضرت شیث علیہ السلام سے فرمایا اے میرے فرزند! میرے بعد جب تم میرے قائم مقام ہو تو اس منصب و خلافت کو عمارۃ التقویٰ اور عروۃ الوثقی کے ساتھ لو۔ اور جب تم حق تبارک و تعالیٰ کا ذکر کرو تو اس کے ساتھ ہی نام نامی محمد رسول اللہ ﷺ کا لیا کرو کیونکہ میں نے عرش الہی کے ستونوں پر آپ کا نام نامی اس وقت لکھا دیکھا جب کہ میں روح اور مٹی کے درمیانی مرحلہ میں تھا۔ اس کے بعد مجھے آسمانوں میں پھرایا گیا تو میں نے آسمان میں ہر جگہ اور ہر مقام پر محمد ﷺ لکھا دیکھا۔ پھر میرے رب نے مجھے جنت میں ٹھہرایا تو میں نے جنت میں ہر محل اور ہر دریچہ پر اسم محمد ﷺ لکھا دیکھا۔ نیز میں نے نام محمد ﷺ کو حورالعین کی پیشانیوں پر اور جنت کے درختوں کے پتوں پر اور درخت طوبیٰ کے ہر ہر پتے پر اور سدرۃ المنتہی کے ہر ہر ورق پر اور پردوں کے ہر ہر گوشے پر اور فرشتوں کی آنکھوں کے درمیان نام محمد ﷺ لکھا دیکھا ہے۔ تو تم اس گرامی وقار کا کثرت سے ذکر کرو کیونکہ فرشتے ہر آن اس کا ورد کرتے ہیں۔

ثنائے زلف و رخسار تو اے ماہ
ملائک ورد صبح و شام کردند

(روح البیان خصائص کبریٰ، انوار محمدی)

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شب معراج جب مجھے سجایا گیا تو میں نے عرش اعلیٰ کے ستونوں پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا دیکھا۔

گویا عرش اعلیٰ کی بلندیوں پر ہر ہر چیز پر نام خدا اور نام مصطفےٰ ﷺ کا لکھا جانا گویا اس بات کی دلیل ہے کہ یا خالق کا نام ہے یا مالک کا نام ہے۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ احمد رضا خان بریلوی نے کیا خوب ارشاد فرمایا۔

میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب
یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا

فضائل اسم محمد ﷺ:

صفحہ 170

تبرک حاصل کرنے کی نیت سے میرے نام پر ”محمد“ رکھا تو وہ اور اس کا بیٹا جنت میں ہوں گے۔

میں نہ ہو تو انہیں اس کام میں کوئی برکت نہ ہوگی۔

اسم محمد ﷺ چومنے کی برکت:

روح البیان میں علامہ اسماعیل حقیؒ نے اور خصائص کبریٰ میں علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے دو سو سال تک خدا کی نافرمانی کی، پھر وہ مر گیا تو بنی اسرائیل نے اسے کوڑے پر پھینک دیا اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ جاؤ وہاں سے اٹھا کر اس کی نماز جنازہ پڑھو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی اے رب کریم! بنی اسرائیل گواہی دیتے ہیں کہ اس نے دو سو سال تک تیری نافرمانی کی ہے۔ حق تعالیٰ نے دوبارہ وحی فرمائی واقعی وہ ایسا ہی شخص تھا۔ لیکن وہ جب بھی تورات کو تلاوت کے لیے کھولتا اور اسم گرامی محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ ﷺ پر نظر پڑتی تو اسے بوسہ دیتا اور اسے اٹھا کر اپنی آنکھوں سے لگاتا اور آپ پر درود بھیجتا تھا تو میں نے اس کا یہ بدلہ دیا کہ میں نے اس کے گناہوں کو بخش دیا اور ستر حوروں سے اس کا نکاح کر دیا۔

نہ آدمؑ یافتے توبہ:

روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ السلام سے لغزش (ظاہری خطا) ہوئی تو بارگاہِ رب العالمین میں عرض کی:

یَا رَبِّ اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ ﷺ اِنْ غَفَرْتَ

اے اللہ میں تجھ سے حضرت محمد ﷺ کے طفیل بخشش کا سوال کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

کیف عرفت محمد ﷺ

اے آدمؑ! تو نے حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو کیسے پہچانا؟

حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کی

لانک لما خلقتنی بیدک و نفخت فی من روحک رفعت راسی

صفحہ 171

فَرَأَيْتُ عَلَى قَوَائِمِ الْعَرْشِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ فَعَلِمْتُ اَنَّكَ لَمْ تَضِفْ اِلَى اسْمِكَ اِلَّا اَحَبَّ الْخَلْقِ اِلَيْكَ

اس لیے کہ جب تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے بنا کر میرے اندر روح پھونکی تو میں نے سر اٹھایا تو قوائم عرش پر لکھا دیکھا لا اله الا الله محمد رسول اللہ اس لیے میں نے سمجھا کہ تو نے اپنے ساتھ محبوب ترین اسم کو ملایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا صَدَقْتَ يَا آدَمُ انه لاخر النبيين من ذريتك ولو لاه لما خلقتك

اے آدم تو نے سچ کہا بے شک وہ آخر الانبیاء ہیں اور آپ کی اولاد سے ہیں۔ وہ نہ ہوتے تو میں تجھے بھی پیدا نہ کرتا۔

اگر نام محمد ﷺ را نیاوردے شفیع آدمؑ
نہ آدمؑ یافتے توبہ نہ نوح از غرق نجینا
صفحہ 172

محمد ﷺ

حفیظ الرحمن طاہر

مرحبا سیدی مکی مدنی العربی
دل و جان باد فدائیت چہ عجب خوش لقبی
من بے دل بہ تو عجب حیرانم
اللہ اللہ چہ جمال است بدیں بوالعجبی

محمد ﷺ کا نام بلند ہے۔ پانچوں وقت اذانوں میں نام محمد ﷺ کی منادی ہوتی ہے۔ یہ مبارک نام ایک تحریک ہے۔ عالم اسلام کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چلے جائیے۔ ہر جگہ ہر مقام پر یہ مبارک نام ایک قدر مشترک نظر آئے گا۔ دنیا بھر میں کسی بھی ملک کسی بھی خطۂ ارض میں بسنے والے مسلمان خواہ وہ یورپ کے سفید فام ہوں افریقہ کے سیاہ فام برصغیر ہند و پاک کے گندم گوں یا چین و جاپان کے زرد چہرہ مسلم سب کے سب اسی ایک نام سے وابستہ ہیں۔ قوم رنگ و نسل کے گونا گوں اختلافات کے باوجود یہ سب اگر کسی بات پر متفق و متحد ہیں تو وہ نام محمد ﷺ ہے بلاشبہ نام محمد ﷺ ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ جب تک ہم اسے پورے شعور اور خلوص کے ساتھ تھامے رہے گردش دوراں کی باگ ڈور بھی ہمارے ہی ہاتھ میں رہی اور جب سے ہم نے اطاعت محمد ﷺ کے اس رشتے کو چھوڑا ہم ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ہمارا شیرازہ بکھر گیا اور زمانے کی ٹھوکروں نے ہمیں غبار راہ بنا کر اُڑا دیا۔

محمد ﷺ کا نام ایک قوت ہے ایک عظیم انقلابی قوت۔ اسی قوت نے اس رہتی بستی دنیا میں

صفحہ 173

ملت مسلمہ کو ایک ایسا امتیازی وجود بخشا اور ایک ایسا مخصوص شعار عطا کیا کہ اس کی سوچ بچار اس کے رہن سہن اس کی رفتار و گفتار سے ایک اچھوتا اور قابل فخر انسانی تمدن وجود میں آگیا۔ محمد ﷺ اللہ کے رسول‘ تہذیب و تمدن‘ علم وفکر‘ حرکت وعمل کے ایک سنہرے دور کے سر آغاز پر کھڑے ہوئے عالم انسانیت کو خیر و فلاح کی طرف بلاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ محمد ﷺ ایک حرف شوق ہے‘ اس کو زبان سے ادا کیجئے تو لب پیوستہ ہوئے جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے شیرینی کام و دہن میں رچی جارہی ہے۔ اور خنک خنک نام سانس کی ٹھنڈک بنا جارہا ہے‘ اس کا آہنگ قلب کی دھڑکن اور اس کا سرور آنکھوں کا نور بن کر چھلکتا ہے۔ یہ نام رگ مسلم میں خون بن کر دوڑتا ہے اس کی آرزو فکر وعمل کے لیے قوت محرکہ بن جاتی ہے۔ محمد کا نام لازمۂ حیات ہے۔ بات صرف پرستش کی ہوتی تو اللہ کے سامنے جھک جانا کیا مشکل تھا؟ تعظیماً خم ہو جاتے۔ اپنے آپ کو اس کے حضور گرا دیتے۔ زمین بوس ہو جاتے۔ ماتھے خاک پر رکھ دیتے۔ اور جس طرح بھی بن پڑتا ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اس کی حمد وتوصیف بیان کرتے۔ مگر معرفت رب کا تقاضا صرف پرستش تک محدود نہیں بلکہ پوری زندگی میں اطاعت کا مطالبہ بھی کرتا ہے اور یہ زندگی! زندگی بجائے خود ایک آئینہ خانہ ہے کہ ہزار رنگ رکھتا ہے‘ ہزار جلوے دکھاتی ہے اور ہر جلوے میں کتنے ہی روپ بدلتی ہے‘ احساسات وجذبات کے لطیف سے لطیف تر ارتعاش سے لے کر مسائل ومعاملات کے سنگین وحوصلہ آزما مرحلوں تک اس کی رنگا رنگی اور بوقلمونی حیران وعاجز کیے دیتی ہے۔ گویا ایک طرف زندگی اپنے تمام تر تقاضوں کے ساتھ دست تزئین کی منتظر ہے۔ دوسری طرف عقل کے ہاتھوں سے شانہ مشاطہ گری چھوٹا جارہا ہے کہ وہ حسن آرائی کے سلیقے سے نابلد ہے۔ ایسے میں طالبان صدق وصفا کیا کریں؟ کہاں جائیں؟ کس سے پوچھیں کہ ان کا رب ان سے کیا چاہتا ہے؟ کون ہے جو آرزو مندان تسلیم و رضا کو راہ بتائے‘ ان کی راہنمائی کرے‘ انہیں لغزشوں سے بچائے۔ ان کے حوصلے بڑھائے اور انہیں ساتھ لیے منزل مقصود تک پہنچادے۔ کون؟ وہ کون ہو سکتا ہے؟ کتنا مشکل سوال ہے! مگر کتنا آسان کہ جواب بے اختیار زبان پر آجاتا ہے۔

ذرا ٹھہرو۔ اس جواب کو نوک زبان پر روک لو‘ سوچو کہ اتنے مشکل سوال کا جواب بلا تامل بے ساختہ زبان پر کیسے آگیا؟ صرف اس لیے کہ ہمارے سامنے ایک اسوۂ کامل ہے۔ ایک مکمل شخصیت ہے جس نے اللہ کا پیغام پہنچایا اور پھر ایک بھر پور اور کامیاب خدا پرستانہ زندگی بسر کر کے حیات انسانی کے ہر شعبے میں ایک بے مثل نمونہ قائم کر دیا۔ اب امت رسول کے لیے اس سوال کا جواب کوئی مشکل نہیں رہا کہ اللہ کو اپنا نصب العین الٰہ بنا کر کس طرح زندگی بسر کی جاسکتی ہے۔ اب تو زندگی کے ہر پہلو میں‘ ہر معاملے میں اور ہر شعبے میں اسوۂ حسنہ راہنمائی کے لیے موجود ہے۔ اسلام کے نظام فکر وعمل میں رسول

صفحہ 174

آپ ﷺ کی سنت کی یہی اہمیت ہے۔ رسول ﷺ انسانی زندگی میں اللہ کی پسند و ناپسند سے آگاہی دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو مقصود و مطلوب اور نصب العین بنا کر زندگی بسر کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ خواہ وہ ایک فرد کی نجی زندگی ہو خواہ ایک قوم اور معاشرے کی اجتماعی زندگی۔ محمد ﷺ ہماری زندگی ہیں۔ اس سرچشمۂ حیات سے دور رہنے میں ہماری موت ہے۔ امت مسلمہ جیسے جیسے اس آب حیات سے دور ہوتی جا رہی ہے عالم اسلام پر ایک نظر ڈال کر دیکھ لو کہ وہ قریب المرگ ہوتی جاتی ہے۔ اس لیے آج محمد ﷺ کے نام کو زندہ رکھنے کے لیے نہیں...... کیونکہ اس کو زندہ تابندہ رکھنے والا تو رب العالمین ہے۔ بلکہ اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تذکار محمد ﷺ کی تکرار کرتے رہیں۔ اسوۂ محمد ﷺ کی ہر جھلک ہمارے لیے حیات نو کا پیغام بن سکتی ہے شرط یہ ہے کہ قلب مضطر آئینہ تکرار طلب بن جائے۔

صفحہ 175

سیرت رسولؐ کا اسمی پہلو...... محمد ﷺ کی حیثیت

ضیاء الرحمن فاروقی

نام کا اثر ذات پر پڑتا ہے اچھا نام اچھی طبیعت کا حسن بتاتا ہے اس اکثری قاعدے کے مطابق آنحضرت کے معظم محترم نام سے آپ کی لازوال شخصیت کا کتبہ دکھائی دیتا ہے۔

آنحضرت کے بہت سے اسمائے گرامی ہیں ہر ایک اسم آپ کی شخصیت کے محاسن کی خبر دیتا ہے۔ امام نوویؒ نے ”تہذیب“ اور قاضی ابوبکر ابن العربی نے ”الاحوذی“ میں لکھا ہے۔ ”اللہ جل شانہ کے ہزاروں اسماء ہیں اسی طرح آنحضرت کے اسماء ایک ہزار ہیں۔“

قسطلانی کہتے ہیں:

”ایک ہزار اسماء مبارکہ سے مراد آپ کے اوصاف حمیدہ ہیں۔ تمام اسماء آپ کی صفات اور کمالات ہیں۔ اس طرح آپؐ کی ہر صفت کے لیے ایک نام ہو گیا۔“

”تہذیب“ میں ابن عباس سے مروی ہے:

حضور علیہ السلام نے فرمایا ”میرا نام قرآن میں محمدؐ انجیل میں احمد اور تورات میں احید ہے آخر الذکر نام اس لیے رکھا گیا کہ میں اپنی امت کو دوزخ سے ہٹانے والا ہوں۔“

عبدالمطلب نے اپنے پوتے کا نام محمد رکھا تا کہ سب سے زیادہ اس کی مدح کی جائے محمد نام

صفحہ 176

ایسا ہے کہ خطاط کے نکتوں سے بھی پاک ہے۔

انجیل میں آپ کا نام احمد ہے، مقام محمود کا جو لفظ آیا ہے اس سے آپ کے جنتی قصر کی طرف اشارہ کرتے ہے۔

احادیث کو دیکھئے آپ کے ہمنواؤں کو حمادون کہا گیا۔ قریش نے آپ کو مذمم کہا...... مگر آپ پیدا ہی محمد ہوئے تھے۔ حذیفۃ الیمان کا بیان ہے۔

میں بارہا حضور سے ملا ہوں آپؐ فرمایا کرتے تھے میں محمد ہوں میں احمد ہوں میں نبی رحمت ہوں۔ میں نبی توبہ ہوں خاتم النبیین ہوں۔ میں جہاد کرنے والا ہوں۔

(اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ عربی)

ابوموسیٰ اشعری فرماتے ہیں:

حضور نے فرمایا میں مقفیٰ (آخر میں آنے والا) ہوں۔ کلام پاک میں آپ کو اُمی، شاہد، مبشر، ہادی، داعی الی اللہ، نذیر، رؤف، رحیم ذکر کیا گیا۔

قسطلانی ”مواہب“ میں باجوری ”حاشیہ الشمائل“ میں کعب الاحبار سے نقل کرتے ہیں۔

اہل جنت کے نزدیک آپؐ کا نام عبدالکریم ...... اہل دوزخ کے نزدیک عبدالجبار ...... اہل عرش کے نزدیک ...... عبدالحمید ہے۔ جمیع ملائکہ میں آپ عبدالمجید ہیں۔ انبیاء کے حلقے میں عبدالوہاب ہیں۔ شیاطین کے خیال میں عبدالقہار ہیں۔ آپ سمندروں میں عبدالمہیمن ہیں ...... حشرات الارض میں عبدالمغیث ہیں۔ درندوں میں عبدالسلام ہیں، جنگلی جانوروں میں عبدالرزاق، چوپایوں میں عبدالمومن اور پرندوں میں عبدالغفار ہیں تورات میں آپؐ کا نام ”ماذ ماذ“ ہے (سہیلی فرماتے ہیں یہ لفظ علماء بنی اسرائیل سے سنا گیا اس کے معنی ہیں طیب طیب) انجیل میں طاب طاب، دوسرے صحیفوں میں عاقب اور زبور میں آپ کو فاروق کہا گیا ہے۔

مواہب میں ہے:

”اللہ کے نزدیک آپ طٰہٰ اور یٰسین بھی ہیں“ انسانوں میں آپ کا نام محمد اور کنیت ابوالقاسم ہے کیونکہ آپؐ جنت کے مقیمین پر نعمتیں بھی تقسیم فرمائیں گے۔

علامہ جلال الدین سیوطی اسماء النبویہ میں رقمطراز ہیں:

”آنحضرت کے پانچ سو صفاتی نام ہیں۔“

علامہ سخاوی نے ”القول البدیع“ اور قاضی عیاض ”شفا میں ابن عربی نے القبس والاحکام میں آپ کے چار سو نام ذکر کیے ہیں۔ یہ اسماء ان کی کتابوں میں حروف تہجی کے اعتبار سے مرقوم ہیں۔

صفحہ 177

مندرجہ بالا اسماء میں 201 اسماء کو امام جزولی نے دلائل الخیرات میں بھی نقل کیا۔ امام نوویؒ کا بیان ہے:

”جبرائیل نے آپؐ کو ابراہیم کی کنیت سے پکارا۔ انس کی ایک روایت کے مطابق تخلیق کائنات سے دو ہزار سال قبل آپ کا نام محمد ﷺ رکھا گیا۔“

(شمائل الرسول علامہ یوسف بن اسمعیل النبھانیؒ طبع مصری)

ابن عامر نے کعب الاحبار کے حوالے سے بیان کیا۔

”آدم علیہ السلام نے اپنے بیٹے شیث کو وصیت فرمائی اے بیٹے تو میرے بعد میرا نائب وخلیفہ ہے۔ تقویٰ اور پرہیز گاری کو اپنا شعار بنالے اور جب بھی خدا کے ذکر کی توفیق ہو اس کے ساتھ محمد نام ضرور لینا‘ میں نے ان کا نام عرش الٰہی کے پایہ پر لکھا ہوا دیکھا میں نے تمام آسمانوں کی سیر کی۔ وہاں کوئی جگہ ایسی نہ پائی جس پر محمد کا نام نہ لکھا ہوا ہو۔ میرے پروردگار آقا نے مجھے جنت میں رکھا وہاں میں نے کوئی محل‘ کوئی حجرہ کا ایسا نہ دیکھا جس پر محمد نام نہ درج ہو ۔“

(شمائل الرسول علامہ یوسف بن اسمعیل النبھانیؒ طبع مصری)

ابن عامر کی اس روایت میں حضرت آدم مزید کہتے ہیں:

”میں نے محمد کا نام حوروں کے سینوں پر جنت کے درختوں کے پتوں پر‘ شجر طوبیٰ کے پتوں پر پردوں کے کونوں پر اور فرشتوں کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا دیکھا۔ تم ان کا ذکر کثرت سے کرنا اس لیے کہ فرشتے کثرت سے ان کا ذکر کرتے ہیں۔

علامہ ابن قیم نے زاد المعاد میں نبی الملحمہ‘ فاتح‘ صادق‘ مصدوق/ مصدق‘ متوکل‘ منخوک قتال‘ سراج منیر‘ سیّد ولد آدم کو بھی آپ کے اسماء میں شمار کیا ہے۔

آنحضرت کا نام محمد کیوں رکھا گیا

حکمتیں.......رموز.......امور

عرب.......کی جہالت اہل عرب کے جاہلانہ ناموں سے ظاہر تھی۔ ان کے نام مشرکانہ ان کے القاب جاہلانہ اور ان کے رسوم عادیانہ تھے۔ مکروہ سے مکروہ معنی رکھنے والا نام ان کا نام تھا۔

مثلاً.......عبدالدار.......آستانے کا غلام

صفحہ 178

عبدشمس...... سورج کا غلام عبدعزیٰ...... عزیٰ دیوی کا غلام عبدود...... دیوتا کا غلام حرب...... لڑائی حزن...... غم جمح...... سرکش لہب...... شعلہ شداد...... تند خو

غرض نہ اسم کی تمیز تھی نہ مسمیٰ کا خیال‘ اس طرح عورتوں کے نام بھی جہالت کا عنوان تھے۔

خنساء...... چپٹی ناک والی عاصیہ...... نافرمان باجا...... خاک آلود عفیرہ...... پہاڑی بکری...... وغیرہ

قبائل کو دیکھئے۔...... بنواسد۔ شیر والے اور بنوضب...... گوہ والے۔

ادھر آنحضرت کے خاندان پر نظر اٹھائیے معاملہ برعکس نظر آتا ہے۔ حالانکہ ابھی تک ان کے پاس کوئی ہادی نہ آیا تھا۔

آنحضرت کے والد کا نام...... عبداللہ...... اللہ کا بندہ آنحضرت کے نانا کا نام...... وہب...... بخشش آنحضرت کی والدہ کا نام...... آمنہ...... امن دینے والی‘ امانت والی آنحضرت کی دایہ...... حلیمہ...... حلم والی آنحضرت کی ابتدائی محافظہ...... ام ایمن...... برکت والی آنحضرت کی زوجہ...... عائشہؓ...... زندہ رہنے والی آنحضرت کی زوجہ...... ام سلمہؓ...... سلامتی والی

آنحضرت کے قبائل کو دیکھئے۔

ددھیال...... بنوہاشم...... یعنی حاجیوں کے خدمت گار ننھیال...... بنوزہرہ...... یعنی غنچوں والے

صفحہ 179

آنحضرت کی دایہ کا قبیلہ ..... سعد ..... نیک بختی والے

بغور دیکھئے جہالت کی ظلمت میں گرے ہوئے معاشرہ میں یہ مبارک اسماء کیا ہی بلند مقام رکھتے ہیں۔ صرف اس کی حکمت میں آنحضرت کی مبارک ذات پر آپ کے مبارک نام محمد کی عظمت نمایاں ہونے والی تھی۔

آنحضرت کا نام (محمد) صفت بھی ہے اور موصوف بھی..... کمالات نبوت پر دال بھی ہے اور مدلول بھی علامہ ابن قیم (زاد المعاد ج 1 ص 18) کے مطابق محمد ﷺ ..... حمد کی کثرت و کمیت اور احمد ﷺ ..... صفت و کیفیت کا معنی دیتا ہے۔ ایک توجیہ میں آپ اہل عرش کے لیے احمد اور اہل فرش کے لیے محمد ہیں۔ اگر احمد ﷺ کو اسم تفضیل کا صیغہ نہ بنایا جائے کمالات علمی میں آپ محمد اور عملی میں احمد ہیں۔

قرآن میں جہاں محمد کا ذکر ہے وہاں پر رسول اللہ بھی فرمایا گیا یعنی وہ محمد (ﷺ) صرف خدا کا فرستادہ ہے..... پس عبداللہ کے لخت جگر، مکی، المدنی، امی الہاشمی، القریشی الکنانی، العدنانی، فخر اسمعیل، دعائے ابراہیم نوید مسیحا ہی ایسی ذات ہے جس کے ایک ہی نام سے ساری کائنات سے زیادہ کمالات پھوٹ رہے ہیں۔

صلی اللہ علیہ النبی الامی۔ اس کے علاوہ بھی آخر وہ کیا نہیں..... وہ سب کچھ ہے..... ہاں وہ خدا نہیں سب کچھ ہے۔

وہ معلم ہے..... کہ دنیائے انسانیت کو زندگی کا ہر سبق سکھاتا ہے۔

امانت کا حامل ہے۔

نے برہان کہا۔ (قد جائکم برهان من ربکم)

انسانیت کے علوم اس کی صفت علم کا پرتو ہیں۔

صفحہ 180

توحید سے ایسا مخمور کہ لہو ٹپک گیا زخم کھل گئے ہوش قربان ہوئے مگر وہ جام عشق کا سزاوار تھا۔

عکاسی کر رہے ہیں۔

اصولوں کو پنہاں رکھتا ہے۔

کے حجابات کا سراج، بیابانوں کے سناٹوں کا...... سراج۔

باغات جنت میں آ جائیں۔

رحمت جس کا ظرف وسیع ہے (ان رحمتی وسعت کل شئی)۔ وسعت تو عام ہی ہو گئی جب فرمایا گیا اہل خسران اس سے فیض پا گئے اہل ایقان نفع اٹھا گئے۔ عورتوں نے، بچوں نے، یتیموں نے، رانڈوں نے، مسافروں نے، اسیروں نے، غلاموں نے، لونڈیوں نے، امراء نے، غرباء نے، حکماء نے، حکمرانوں نے، علماء نے، فلسفیوں نے، مدبروں نے ہر ایک

صفحہ 181

نے ہر جگ نے ہر کسی نے ہر زمانے نے فیض اٹھایا...... تعلیم سیکھی...... اصول سمجھے...... نصیحت پائی...... دستور دیکھا...... قوانین پڑھے...... ہدایت اور رشد کا لباس پہنا۔

وہ بھی سیّد ہو گئے سیادت اس کے گھر کی لونڈی ہے...... پر وہ سیّد کہلانے کا محتاج نہیں...... وہ سیّد ولدِ آدم ہے......

ہے سچائی کا تاجدار ہے۔

عفت ہے۔

کا سرمایۂ افتخار ہے۔

ہاں! وہ فاتح ہے مگر انسانیت کا قاتل نہیں ہے۔

صفحہ 182

ہاں! وہ فاتح ہے مگر مخالفوں کو تہہ تیغ کرنے والا نہیں ہے۔ ہاں! وہ فاتح ہے مگر ہزیمت خوردوں کی بستیاں اجاڑنے والا نہیں ہے۔ ہاں! وہ فاتح ہے مگر بچوں بوڑھوں اور عورتوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ ہاں! وہ فاتح ہے مگر عیش پرست نہیں ہے۔ ہاں! وہ فاتح ہے مگر انانیت و استکبار کا خوگر نہیں ہے۔ ہاں! وہ فاتح ہے مگر عاجزی و انکساری کا کوہ گراں ہے۔ ہاں! وہ فاتح ہے مگر بے چاروں کے لیے چارہ گر بے رحموں کے لیے رحیم اور معتوبوں کے لیے رحمت ہے۔

ایسا کوئی فاتح دنیا نے نہ دیکھا ہوگا جو مکہ کی سلطنت کا والی ہے جہاں سے اسے تنگ کر کے نکالا گیا...... اس کے رفقاء کو تپتی ریت پر گھسیٹا گیا تھا آگ کے انگاروں پر جلایا گیا تھا...... مگر وہ کشور کشا فاتح بن کر اس شہر میں آیا کوئی قہر زبان نہ تھا معافی کا عام اعلان کر رہا تھا اور عاجزی و نیاز کے ساتھ اپنے رب کے آگے سر بسجود تھا۔

وہ مصطفےٰ ہے...... یعنی ساری خدائی سے چنا گیا ہے۔

وہ قاسم ہے...... جو علوم الٰہیہ کا قاسم ہے کیونکہ

آج ساری دنیا ذلہ خوار کرم مصطفےٰ ﷺ ہے
آج سارا عالم نمک خوار مصطفےٰ ﷺ ہے

وہ قاسم ہے ہمدردیوں کا وہ قاسم ہے دانائیوں کا وہ قاسم ہے مہمان نوازیوں کا وہ قاسم ہے الفتوں کا وہ قاسم ہے دانش و آگہی کا وہ قاسم ہے درس اصلاح و عمل کا وہ قاسم ہے ساری کائنات کے لیے اسوۂ حسنہ کا

وہ مطاع...... کہ قرآن کی اطاعت کی تاکید کرتا ہے۔ (وان تطیعوہ تھتدوا ومن یطع الرسول فقد اطاع اللہ)

وہ ماحی (مٹانے والا) ہے...... کفر و ضلالت کا، ظلمت و غوایت کا، کفران کا، طغیان و عصیاں

صفحہ 183

کا فسق و فجور کا‘ تکبر و غرور کا۔

وہ عاقب ہے...... کہ سب سے بعد میں آیا ہے۔

وہ حاشر ہے...... کہ ساری خدائی روز محشر آپ کے قدموں میں جمع ہوگی۔

وہ نور ہے...... کیوں نہیں جس نے سارے جگ کو منور کردیا۔ جس نے بتوں کی وادی میں توحید کا چراغ روشن کردیا۔

قرآن جس کو صفت میں نور بتلا رہا ہے۔ اور مجیب الدعوات کے روبرو اسی عالی رسول نے دعا فرمائی تھی۔

الہی میرے قلب میں نور ہو
الہی میری آنکھوں میں نور ہو
الہی میرے کانوں میں نور ہو
الہی میرے دائیں بائیں اور آگے پیچھے نور ہو
الہی میرے خون میں نور ہو
الہی میرے بالوں میں نور ہو
الہی میرے چہرے میں نور ہو
الہی میرے پٹھوں میں نور ہو
الہی مجھے نور عطا فرما (رحمۃ للعالمین ج 3 ص 626)

تو پھر وہ نور کیوں نہ تھے ہاں بشریت کا جامہ تھا۔ نہیں ذات بشر اور صفت نور تھی۔

وہ مدثر ہے...... کہ ساری دنیا کے بگڑے احوال کو اپنی ہدایت کے جامع اصولوں سے درست کرتا ہے۔

وہ مزمل ہے...... کہ اس کی آنکھیں دنیائے تیرہ و تاریک کے بدنما چہرہ کو دیکھ نہیں پاتیں مگر وہ ایسا خلوت گزیں ہے کہ رہبانیت کو چھوڑ تجمل سے منہ موڑتا ہے۔ غار حرا کے سناٹوں میں شب بیداری کر کے واپس لوٹتا ہے دین ہدایت کی گتھی سلجھاتا ہے‘ معاملات کی اچھائی کا درس دیتا ہے انسانیت کو راہ پہ ٹوکتا ہے‘ ہلاکت و تباہی کی موڑ پر تنبیہ کرتا ہے...... ہاں وہ ایوب کا صبر ہے فرعونیوں کے لیے موسیٰ کا شکوہ اور اہل ایمان کے لیے عیسیٰ کا یقین ہے۔ (رحمۃ للعالمین ص 227)

وہ مشہود ہے...... امام قرطبی کا بیان ہے اور انبیاء شاہدین‘ آپ مشہود ہیں۔

صفحہ 184

وہ رؤف الرحیم ہے..... خدا کی رحمتوں کا پرتو ہے اور اللہ کی عظمتوں کا مہر منیر ہے۔

وہ مذکر ہے...... کہ وحی مبارک کی نصیحت کرنے والا جس کی نصیحت سے بے ہدایتوں کو شعور آدمیت میسر آیا۔

وہ مبارک ہے..... کہ برکتیں اسی کے دم قدم سے وجود میں آئی ہیں۔

وہ ہادی ہے...... چراغ ہدایت اور مشعل وحدت ہے۔

وہ خاتم النبیین ہے..... اب اس کے بعد کوئی نئی ہدایت لانے والا نہ آئے گا، بس اسی کی سنت کا گلدستہ قیامت تک نشان راہ رہے گا۔

وہ مہاجر ہے..... خدا کے حکم سے اپنا مولد و وطن چھوڑنے والا ہے۔

وہ مصدوق ہے...... کہ صداقت کی مہر اس کے مخالفوں نے بھی ثبت کی ہے۔

وہ شافع ہے...... اس وقت کا جب کوئی یار و مددگار نہ ہوگا۔

وہ جامع ہے...... ہر کمال کا ہدایت کا اور مقام ہدایت رکھتا ہے۔

٭.......٭.......٭

صفحہ 185

معارف اسم محمد ﷺ

علامہ طاہر القادری

محمد کا لفظ اتنا پیارا اور اتنا حسین ہے کہ اس کے سنتے ہی ہر نگاہ فرطِ تعظیم اور فرطِ ادب سے جھک جاتی ہے ہر سر خم ہو جاتا ہے اور زباں پر درود و سلام کے زمزمے جاری ہو جاتے ہیں۔ لیکن کم لوگ جانتے ہیں کہ اس لفظ کا معنی و مفہوم بھی اس کے ظاہر کی طرح کس قدر حسین اور دلآویز ہے۔

لفظ محمد مادۂ حمد سے مشتق ہے۔ حمد کے معنی تعریف کرنے اور ثنا بیان کرنے کے ہیں۔ خواہ یہ تعریف کسی ظاہری خوبی مثلاً ظاہری حسن و جمال کی وجہ سے کی جائے یا کسی باطنی وصف مثلاً کسی ہنرمندی یا کسی فن میں مہارت کی بنا پر کی جائے‘ تعریف کا مفہوم ادا کرنے کے لیے شکر کا لفظ بھی بولا جاتا ہے‘ مگر شکر اور حمد میں فرق ہے۔ شکر سے مراد وہ تعریف ہے جو کسی کے احسان کا تذکرہ کرتے ہوئے کی جائے۔ اور حمد سے مراد مطلق تعریف و توصیف ہے جو ممدوح کی عظمت و کبریائی کو مد نظر رکھتے ہوئے بیان کی جائے۔

لفظ محمد اسم مفعول کا صیغہ ہے اور اس سے مراد وہ ذات ہے:

اَلَّذِی يُحْمَدُ حَمْدًا مَّرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ

وہ ذات جس کی کثرت کے ساتھ اور بار بار تعریف کی جائے۔

امام راغب الاصفہانی لفظ محمد کا مفہوم بیان کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:

وَمُحَمَّدٌ اِذَا كَثُرَت خِصَالُه الْمَحْمُودَة

(مفردات‘ ص385)

صفحہ 186

اور محمد ﷺ اسے کہتے ہیں جس کی قابل تعریف عادات حد سے بڑھ جائیں۔

قرآن حکیم میں لفظ محمد کا ذکر متعدد مقامات پر ہوا ہے، سورۃ الفتح میں ارشاد ہے: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ (الفتح 29:48) محمد اللہ کے رسول ہیں۔

سورۂ محمد میں آپؐ کا اسم مبارک یوں آتا ہے: وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ

(محمد 2:47)

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے اور وہ اس سب پر ایمان لائے جو حضرت محمدؐ پر نازل کیا گیا ہے۔

اسی طرح ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے: وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ (آل عمران 144:3) اور محمد تو (اللہ کے) رسول ہی ہیں۔

ایک اور آیت میں یوں آیا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ (الاحزاب 40:33) یعنی محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور انبیاءؑ (کی نبوت) کی مہر یعنی اس کو ختم کر دینے والے ہیں۔

اسم محمد ﷺ ...... کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت کا حصہ

یوں تو حضور نبی اکرم ﷺ کے متعدد اسمائے گرامی ہیں۔ بعض محدثین کے مطابق اللہ رب العزت کی طرح سرور کائنات ﷺ کے بھی ننانوے نام ہیں جبکہ بعض علماء کے بقول آپؐ کے اسماء مبارکہ تین سو ہیں۔ صاحب ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں لکھتے ہیں کہ حضور کے ایک ہزار نام ہیں۔ ان میں سے ہر نام آپ کی سیرت و کردار کے کسی نہ کسی انوکھے پہلو پر روشنی ڈالتا ہے۔ لیکن جس طرح اللہ رب العزت کے ہزاروں نام ہیں مگر ذاتی نام صرف ایک، یعنی ”اللہ“ ہے، اسی طرح سرور کائنات ﷺ کے بھی سینکڑوں نام ہونے کے باوجود ذاتی اور شخصی نام ایک ہی ہے، یعنی محمد ﷺ۔ یوں تو آپؐ نبی بھی ہیں، رسول بھی، بشیر و نذیر اور ہادی برحق بھی، مگر لفظ محمدؐ کو آپؐ کی

صفحہ 187

ذاتِ اقدس سے جو تعلق ہے وہ کسی اور صفاتی نام کو نہیں۔ یہ وہ نام ہے جو قدرت کی طرف سے روزِ اوّل ہی سے آپ کے لیے خاص کر دیا گیا تھا اور سابقہ انبیاء کی کتب مقدسہ میں…… آپ کا اسم مبارک بار بار بیان ہوتا رہا پہلے پہل یہ نام حضرت سلیمان علیہ السلام کی تسبیحات میں آیا…… جنہوں نے آپ کی آمد کی خبر دیتے ہوئے فرمایا:

”خلو محمدیم زہ دودی زہ رعی“

(تسبیحات سلیمان‘ پ 5-12 بحوالہ النبی الخاتم‘ ص 23 از مناظر احسن گیلانی)

وہ ٹھیک محمد ﷺ ہیں وہ میرے محبوب اور میری جان ہیں۔

اسم محمد ﷺ سے دلیل توحید

اسم محمد کے خصائص ومعارف جاننے سے پہلے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ اسلام کے رکن اوّل یعنی شہادتِ توحید ورسالت کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ عقیدہ توحید یعنی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پر مشتمل ہے اور دوسرا حصہ شہادت رسالت یعنی مُحَمَّدٌ عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ سے عبارت ہے۔ ان دونوں حصوں کو بظاہر الگ الگ خیال کیا جاتا ہے‘ مگر واقعہ یہ ہے کہ شہادت توحید ایک دعویٰ ہے‘ اور شہادتِ رسالت محمدی اس دعوے کا ثبوت اور اس کی دلیل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے واحد و یکتا ہونے کا یقینی اور حتمی علم صرف حضور ﷺ کی ذات سے اور آپ کی شہادت سے کائنات کو حاصل ہوا ہے۔

محمد…… بطور اسم معرفہ

شہادت توحید کے دو حصے ہیں پہلا نفی اور دوسرا مثبت منفی حصے میں ماسویٰ اللہ سے الوہیت کی کامل نفی اور مثبت حصے میں اللہ رب العزت کے لیے الوہیت کا اثبات کیا جاتا ہے اور مطلق لفظ ”الہ“ کا مطلب ہوتا ہے‘ معبود یہ معبود کوئی بھی ہو سکتا ہے‘ مگر جب لفظ ”الہ“ کے ساتھ الف لام کا اضافہ کر دیا جاتا ہے تو یہ ”اللہ“ بن جاتا ہے۔ اور اس سے مراد صرف اللہ کی ہی ذات ہے۔ اسی طرح جب لفظ ”کتاب“ بولا یا لکھا جاتا ہے تو اس سے کوئی بھی کتاب مراد ہو سکتی ہے‘ خواہ کسی زبان میں ہو‘ کسی ملک اور کسی موضوع سے متعلق ہو مگر جب اس پر ”ال“ کا اضافہ ہو جائے اور ”الکتاب“ بن جائے تو اس سے صرف اور صرف کلام اللہ مقصود ہوگا۔ علیٰ ہٰذا القیاس ”حمد“ کا لفظ اور اس کے دیگر مشتقات عام ہیں۔ تعریف کسی کی ہو سکتی ہے‘ تعریف کرنے والا کوئی بھی ہو سکتا ہے اور محمود بننے کا اعزاز کسی کو بھی حاصل ہو سکتا ہے لیکن جب لفظ ”محمد“ وجود میں آجائے تو اس سے مراد فقط ایک ہی ہستی‘ ایک ہی شخصیت اور ایک ہی ذات ہوگی‘ جن کے لیے مبدءِ کائنات نے ازل سے یہ نام مختص کر دیا تھا‘ اسے اپنے عرش کے

صفحہ 188

پائے پر لکھ دیا تھا اور جملہ کائنات میں فقط اسی ذات پاک کو اس نام سے معنون کیا تھا۔

قاضی عیاضؒ اپنی کتاب ”الشفا“ میں فرماتے ہیں:

”آج تک دنیا میں کسی شخص نے اپنی اولاد کا یہ نام نہیں رکھا۔ واضع قدرت نے ازل سے یہ نام آپ کی ذات کے لیے مخصوص فرما دیا تھا۔“

(الشفاء قاضی عیاض جلد اوّل ص 145)

اسم ”محمد“ کا ہر حرف بامعنی ہے

الفاظ مجموعہ حروف ہوتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک حرف کو حذف کر دیا جائے تو بقیہ حروف اپنے معنی کھو بیٹھتے ہیں مثلاً طاہر ایک بامعنی لفظ ہے اور ط، ا، ہ، ر کا مجموعہ ہے اگر ان حروف میں سے پہلے حرف ط کو حذف کر دیا جائے تو بقیہ حروف ”اہر“ بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ لیکن اس کلیے سے لفظ ”اللہ“ اور لفظ ”محمد“ مستثنیٰ ہیں۔ اگر لفظ اللہ میں سے پہلا حرف الف کم کر دیا جائے تو باقی ”للہ“ رہ جاتا ہے جس کا مطلب ہے ”اللہ کے لیے“ اگر دوسرا حرف یعنی پہلا لام ہٹا دیا جائے تو باقی ”الہ“ رہ جاتا ہے جس کا مطلب ہے ”معبود“ اور اگر الف کو بھی الگ کر دیا جائے تو باقی ”لہ“ رہ جاتا ہے جس کا مطلب ہے ”اللہ کے لیے“ اگر لام کو بھی ہٹا دیا جائے تو ”ہُ“ (ہو) رہ جاتا ہے۔ یعنی وہی (اللہ)

علیٰ ہٰذا القیاس لفظ ”محمد“ کا ہر حرف بھی بامقصد اور بامعنی ہے۔ مثلاً اگر شروع کا ”م“ ہٹا دیا جائے تو ”حمد“ رہ جاتا ہے جس کا مفہوم تعریف وتوصیف ہے اور اگر ”ح“ کو مزید کم کر دیا جائے تو ”مد“ رہ جاتا ہے یعنی مدد کرنے والا۔ اور ابتدائی میم کو اگر حذف کر دیا جائے تو باقی ”مَد“ رہ جائے گا۔ جس کا مفہوم ہے دراز اور بلند۔ یہ حضور ﷺ کی عظمت اور رفعت کی جانب اشارہ ہے اور اگر دوسرے میم کو بھی ہٹا لیا جائے تو صرف ”د“ (دال) رہ جاتا ہے جس کا مفہوم ہے دلالت کرنے والا۔ یعنی اسم محمد اللہ کی وحدانیت پر دال ہے۔

محمد اور احمد ..... حضور ﷺ کے دو ذاتی نام

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حضور کے صفاتی نام تو بے شمار ہیں مگر آپ کے ذاتی نام صرف دو ہیں: محمد اور احمد۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ زمین پر میرا نام ”محمد“ اور آسمان پر ”احمد“ ہے۔ احمد کا ذکر قرآن مجید میں صرف ایک موقع پر آیا ہے۔ جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو حضور ﷺ کی آمد سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُهٗ اَحْمَدُ (الصف 6:61)

صفحہ 189

اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والے ہیں، جن کا اسم (مبارک) احمد ہوگا‘ میں ان کی بشارت دینے والا ہوں۔

یہاں یہ اشکال پیدا ہو سکتا ہے کہ حضور ﷺ کے مذکورہ بالا ارشاد کے مطابق زمین پر آپ کا نام محمد اور آسمان پر احمد ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضور ﷺ کی آمد کی خبر زمین والوں کو سنائی تھی نہ کہ آسمان والوں کو۔ انہیں اس موقع پر زمین والے نام کا ذکر کرنا چاہیے تھا نہ کہ آسمان والے کا۔ اس اشکال کا مختصر جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر پیدا ہوئے زمین والوں میں رہے اور یہیں زندگی بسر کی، مگر فی الواقع ان کی پیدائش سے لے کر رفع سماوی تک ان کے بہت سے احوال آسمان والوں سے مشابہ تھے۔ ان کی پیدائش مروجہ انسانی طریقے سے ہٹ کر ہوئی۔ آسمان کے ایک جلیل القدر فرشتے حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور حضرت مریمؑ کے دامن پر پھونک ماری اسی کے اثر سے ان کی پیدائش ہوئی۔ پھر مختصر ارضی زندگی بسر کرنے کے بعد دوبارہ ان کا آسمان پر عروج ہو گیا، گویا آغاز اور اختتام کے اعتبار سے ان کی حیات آسمانی مخلوق سے مشابہت رکھتی ہے، اسی بنا پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور ﷺ کے اس نام سے آگاہ تھے جس سے آپ کو آسمانوں پر پکارا جاتا تھا۔ یہ آسمانی دنیا سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واقفیت اور ان کی من جانب اللہ غیر معمولی خلقت کی زبردست شہادت ہے۔

حضور ﷺ کے متعدد اسماء ”حمد“ سے مشتق ہیں

حضور ﷺ کے اسماء مبارکہ میں مادۂ حمد خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس مادے سے حضور ﷺ کے کم از کم چار نام مشتق ہیں۔ محمد، احمد، حامد اور محمود۔ ان میں سے اسمائے مبارکہ (محمد، احمد اور محمود) ”تعریف کیے گئے“ کا مفہوم رکھتے ہیں۔ محمد اسم مفعول اور احمد اسم تفضیل کا صیغہ ہے، اور دونوں میں حمد کے معنی کی وسعت اور کثرت کی طرف اشارہ ہے۔ حضور ﷺ کے یہ تینوں اسمائے مبارکہ آپ کی تعریف و توصیف کی کثرت کے مظہر ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کی تعریف صرف مخلوق یعنی کائناتِ جن و انس اور ملائکہ مقربین ہی نہیں کرتے بلکہ خود اللہ رب العزت بھی آپ کی تعریف میں رطب اللسان ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا: اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (الاحزاب 56:33)

بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس پیغمبر پر، اے ایمان والو

صفحہ 190

تم بھی آپؐ پر درود......اور خوب سلام بھیجا کرو۔ در حقیقت سارا قرآن ہی آپ کی حمد وثنا اور بے پایاں تعریف وتوصیف سے معمور ہے۔

محمد ﷺ کے معنی کی وسعت وعمومیت

جب یہ طے پا گیا کہ حضور ﷺ کے ذاتی نام محمد اور احمد ہیں اور ان دونوں کا مفہوم ہے وہ ذات جس کی بار بار اور کثرت سے تعریف کی جائے...... یہاں یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ تعریف ہمیشہ خوبی اور کمال پر کی جاتی ہے نقص اور عیب پر نہیں کی جاتی۔ اس اعتبار سے حضورؐ کے مندرجہ بالا دونوں اسماء کے لغوی مفہوم میں حضور ﷺ کا ہر انسانی لغزش وخطا اور ہر بشری نقص وعیب سے پاک ہونا اور اس کے ساتھ ہر صفت کاملہ کا فطری طور پر موجود ہونا ثابت ہو رہا ہے لہٰذا ہر دو اسماء گرامی میں حضور ﷺ کی سیرت و کردار حضور ﷺ کے خلق عظیم کا ہر پہلو اور ہر گوشہ پوری شان کے ساتھ نمایاں ہے۔ یہ اسماء مبارکہ ثابت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کی ذات فطری اور جبلی طور پر ہر ظاہری اور باطنی عیب و نقص سے مبرا و منزہ ہے۔ شاعر بارگاہ نبوت حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ان دو نعتیہ اشعار کا بھی یہی مفہوم ہے:

وَأَحْسَنَ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِي
وَأَجْمَلَ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّءً مِّنْ كُلِّ عَيْبٍ
كَأَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ

ترجمہ: حضور ﷺ سے حسین چہرہ میں نے آج تک نہیں دیکھا اور حضور ﷺ سے خوبصورت شخص کسی ماں نے نہیں جنا۔ آپؐ ہر (جسمانی و روحانی) عیب سے خلقی طور پر پاک اور مبرا پیدا ہوئے تھے گویا آپؐ ویسے ہی پیدا ہوئے جس طرح کہ آپؐ خود چاہتے تھے۔

حضرت حسان بن ثابت کے متذکرہ الصدر اشعار میں حضور ﷺ کے اسم گرامی (محمد واحمد) کے ظاہری اور باطنی محاسن کی طرف جس عمدگی سے اشارہ کیا گیا ہے وہ محتاج تفصیل نہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ جس طرح حضور ﷺ کی ذات منفرد حیثیت کی حامل ہے اسی طرح حضور ﷺ کا اسم گرامی بھی تمام ناموں سے منفرد اور نرالا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ رب کائنات نے اپنے محبوب کے لیے یہ نام تجویز کیا ہے۔ انجیل برنباس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول بیان ہوا ہے کہ تخلیق کائنات کے وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کا نام اپنے نام کے ساتھ ملا کر عرش بریں پر تحریر فرمایا تھا کیونکہ حضور

صفحہ 191

ﷺ جیسا جامع کمالات انسان نہ پہلے پیدا ہوا اور نہ قیامت تک پیدا ہوگا۔

حضور ﷺ کا ظاہری حسن و جمال

حضرت حسانؓ کے مذکورہ اشعار حضور کے ظاہری حسن و جمال اور شخصی وجاہت پر دلالت کرتے ہیں۔ واقعہ بھی یہی ہے کہ حضور ﷺ سے زیادہ حسین چہرہ آج تک روئے زمین پر نہیں دیکھا گیا۔ حضور ﷺ حسن ظاہری کا بھی مرقع تھے اور حسن باطنی میں بھی یکتائے روزگار تھے۔ آپ اکثر دعا فرمایا کرتے تھے ”اَللّٰهُمَّ اَحْسِنْ سِیْرَتِیْ كَمَا حَسَّنْتَ صُوْرَتِیْ“ اے اللہ! میری سیرت بھی ایسی ہی حسین کردے جیسی تو نے میری صورت حسین بنائی ہے۔ آپ کو دیکھنے والے خوش نصیب افراد اکثر آپ کے حسن بے مثال کو یاد کر کے بے چین ہو جایا کرتے تھے۔ ایک صحابی حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضور ﷺ کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوا۔ دیکھا کہ حضور سرخ دھاری دار لباس پہنے بستر پر استراحت فرما ہیں...... اوپر چودھویں کا چاند چمک رہا ہے۔ میں کبھی چاند کو اور کبھی حضور ﷺ کے رخ زیبا کو دیکھتا اور فیصلہ نہ کر سکا کہ چاند زیادہ حسین ہے یا آپ ﷺ۔

حضرت جابرؓ ایک مرتبہ حضور ﷺ کے حسن و جمال کے بارے میں گفتگو فرما رہے تھے۔ اسی دوران فرمایا: حضور ﷺ کا چہرہ تلوار پھر فرمایا نہیں بلکہ سورج اور چاند کی طرح چمک دار اور آبدار تھا۔ (الشفا قاضی عیاض جلد اول ص 39)

اکثر صحابہؓ سے حضور ﷺ کے ظاہری حسن و جمال پر مبنی روایات منقول ہیں۔ قاضی عیاض کے مطابق کم از کم پندرہ جلیل القدر صحابہ کرامؓ کی یہ متفقہ شہادت ہے کہ حضور ﷺ جسمانی حسن و جمال کا بے مثال نمونہ تھے۔ بعض صحابہ کرامؓ کا قول ہے کہ جب آپ مسکراتے تو محسوس ہوتا:

كَأَنَّهَا قِطْعَةُ قَمَرٍ
گویا آپ چاند کا ایک ٹکڑا ہیں

حضور ﷺ کے حسن کو بے مثال بنانے کی غرض و غایت بھی قابل فہم ہے۔ چونکہ آپ کو تمام انسانوں میں ”محبوب خدا“ کے مقام پر فائز ہونا تھا۔ وہ خدا جو رب العالمین ہے اور جس نے کائنات کا ایک ایک ذرہ تخلیق کیا، جس کے حرف کن سے یہ حسین و جمیل مخلوق معرض وجود میں آئی، اس خدا نے اپنے محبوب کے حسن و جمال کو سنوارنے اور اسے درجہ کمال تک پہنچانے میں کیا کسر اٹھا رکھی ہوگی۔ خاص طور پر اس لیے کہ:

اَللّٰهُ جَمِيْلٌ وَّيُحِبُّ الْجَمَالَ
صفحہ 192

اللہ تعالیٰ پیکر جمال ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے۔ اس لیے قیاس یہ کہتا ہے کہ حضور ﷺ کو حسن و جمال اور مردانہ وجاہت کی جو دولت عطا ہوئی وہ دنیا کے کسی فردِ بشر کے حصے میں نہیں آئی...... حضرت امام بوصیریؒ فرماتے ہیں:

فَهُوَ الَّذِیْ تَمَّ مَعْنَاهُ وَ صُوْرَتُهُ
ثُمَّ اصْطَفَاهُ حَبِيْبًا بَارِئُ النَّسَمِ
مُنَزَّهٌ عَنْ شَرِيْكٍ فِیْ مَحَاسِنِهِ
فَجَوْهَرُ الْحُسْنِ فِيْهِ غَيْرُ مُنْقَسِمِ

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ظاہری اور باطنی حسن کو درجہ کمال تک پہنچایا اور پھر اپنی محبت کے لیے آپ کو منتخب کر لیا۔ حضور اپنے کمالات میں شریک و سہیم نہیں رکھتے، پس آپ کا جوہر حسن غیر منقسم ہے۔

امام موصوف مزید فرماتے ہیں:

فَاقَ النَّبِيِّيْنَ فِیْ خَلْقٍ وَّفِیْ خُلُقٍ
وَلَمْ يُدَا نُوْهُ فِیْ عِلْمٍ وَّلَا كَرَمِ

ترجمہ: آپ انبیاء سے خلقت اور اخلاق میں بڑھ گئے ہیں آپ کے جود و کرم کی کوئی حد ہے اور نہ علم و فضل کا کوئی ٹھکانہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہ حسن جو حضرت یوسف علیہ السلام میں جلوہ گر ہوا تھا اور جس نے انہیں دنیا کا حسین ترین شخص بنادیا تھا اور وہ جمال جو حضرت موسیٰ ؑ کے ید بیضا میں منعکس ہوا تھا جس سے ان کا ہاتھ بقعۂ نور ہو گیا تھا۔ اور وہ حسن جو حضرت ابراہیمؑ حضرت اسماعیلؑ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام میں تجلی پذیر ہوا، وہ تمام حسن و جمال آپ ﷺ کی ذات اقدس میں جمع کر دیا گیا۔ اسی لیے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

اسم محمد ﷺ...... توحید خداوندی کی دلیل

القصہ حضور ﷺ کا نہ کوئی ظاہری حسن میں شریک و ہمتا ہے اور نہ کوئی باطنی حسن و جمال میں ہمسر ہے...... انہی گوناگوں خصوصیات اور کمالات کی بنا پر خداوند تعالیٰ کے بعد زمین و آسمان میں سب سے زیادہ تعریف و توصیف حضور ﷺ کے حصے میں آئی ہے اسی لیے حضور کا نام ”محمد“ رکھا گیا

صفحہ 193

ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت میں حضور کی محمدیت کو اللہ رب العزت نے اپنی توحید و یکتائی کی واحد دلیل ٹھہرایا اور ارشاد فرمایا کہ میں واحد و یکتا ہوں‘ اس لیے کہ میرا محبوب اپنے حسن و جمال اور سیرت و کردار میں یکتا ہے۔ اور فرمایا۔ جن لوگوں کو میری وحدانیت کی شہادت درکار ہو‘ وہ میرے محبوب کو دیکھ لیں‘ حضور کی سیرت طیبہ اور محاسن عالیہ کا مطالعہ کر لیں‘ انہیں دنیا میں سب سے بڑا ثبوت اور توحید کی سب سے بڑی دلیل ہاتھ آجائے گی۔

حضور ﷺ کی نبوت کی دلیل

حضور ﷺ کی ذات جس طرح رب العالمین کی ربوبیت اور توحید کی سب سے بڑی دلیل ہے‘ اسی طرح حضور ﷺ کی حیات طیبہ خود آپ کی نبوت و رسالت کی بھی ناقابل تردید شہادت ہے۔ حضورؐ نے قریش مکہ کے ایک ایک خاندان کو ”یا آل غالب“ کہہ کر کوہ صفا کے دامن میں جمع کیا اور ان کے سامنے اپنی نبوت و رسالت کا اعلان کیا یہ ایسا موقع تھا جب عام طور پر لوگ نبوت کی سب سے بڑی دلیل طلب کیا کرتے ہیں‘ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یدبیضا اور عصا کا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے احیاء موتیٰ اور ابراء ابرص واکمہ (برص اور کوڑھ سے شفا) کا معجزہ پیش کر کے اعلان نبوت کیا۔ اگر حضور ﷺ بھی اعلان نبوت کے اس موقع پر چاہتے تو چاند کے دو ٹکڑے کر سکتے تھے‘ سورج کو مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہوتا دکھاسکتے تھے‘ پہاڑوں کو اپنی جگہ بدلنے پر مجبور کر سکتے تھے‘ مگر نہیں‘ حضور نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس موقع پر سب سے منفرد اور سب سے نرالی دلیل پیش کی اور فرمایا:

فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ (یونس 10:16)

میں تمہارے اندر اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزار چکا ہوں۔

یہاں میں نے کم و بیش زندگی کے چالیس سال گزارے ہیں‘ میں تمہارے سامنے پیدا ہوا‘ پلا اور بڑھا ہوں‘ تم نے مجھے ہر روپ اور ہر رنگ میں دیکھا اور پرکھا ہے۔ بچے کے روپ میں بھی‘ بکریوں کے نگہبان کے روپ میں بھی‘ نوجوان تاجر کے رنگ میں بھی‘ مہربان اور شفیق خاوند اور معاشرے کے ایک پروقار فرد کی حیثیت میں بھی۔ میری یہ تمام زندگی کھلی کتاب کی طرح تمہارے سامنے ہے۔ کھول کر بتلاؤ کہ تمہیں میری چہل سالہ زندگی میں کہیں کوئی عیب اور نقص دکھائی دیا‘ کبھی تم نے میرے اندر کوئی انسانی و بشری کمزوری محسوس کی؟ اگر میرا دامن زمانہ جاہلیت کے اس پرآشوب دور میں بھی ہر انسانی عیب اور نقص سے مبرا و منزہ رہا ہے تو پھر تمہیں یقین کر لینا چاہیے کہ میں ہی تمہیں صحیح راہ دکھا سکتا ہوں۔ اور وہ سیدھی راہ یہ ہے جس ذات نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے‘ یقین کر لو کہ وہ بھی نقص اور

صفحہ 194

خامی و کمزوری سے ماوراء ہے۔۔۔۔۔۔ آپ کے ہونٹوں سے یہ دلیل سنتے ہی عالم کفر کی گردنیں جھک گئیں۔ اس مجمع میں ہر قسم کے مخالف اور بغض و عناد رکھنے والے افراد موجود تھے۔ اگر حضور ﷺ کے سیرت و کردار میں ذرہ بھر بھی کوئی عیب ہوتا تو دشمن فوراً پکار اٹھتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دشمنان اسلام نے اسلام اور پیغمبر اسلام کو نیست و نابود کرنے کے لیے سب کچھ کیا، لیکن ان میں سے کسی ایک کو بھی کسی موقع پر آپ کی سیرت و کردار پر انگلی اٹھانے کی جرأت نہ ہوسکی۔

توحید کی سب سے بڑی اور نرالی دلیل

توحید کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہ تھا۔ عرب اسے سن کر مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتے تھے ان کی گردنیں تن جاتی تھیں، ان کے ہاتھ تلواروں اور نیزوں پر جا پہنچتے تھے۔ اسی بنا پر سورۂ الزمر میں ارشاد ہے:

وَإِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ

(الزمر 45:39)

اور جب فقط اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل منقبض ہو جاتے ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو اسی وقت وہ لوگ خوش ہو جاتے ہیں۔

جو مسئلہ جتنا نازک اور حساس ہو اس مسئلے کے لیے اتنی ہی بڑی اور عظیم دلیل پیش کی جاتی ہے۔ کیونکہ معمولی دلیل تو مخالفین فوراً رد کر دیتے ہیں۔ اس لیے اس موقع پر پیش کی گئی دلیل توحید ربانی کی سب سے بڑی دلیل تھی۔

قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يٰاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ كُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا

(النساء 175:4)

اے لوگو یقیناً تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے ایک دلیل آچکی ہے اور ہم نے تمہارے پاس صاف نور بھیجا ہے۔

اگر خدا کی طرف سے پیش کی جانے والی یہ دلیل کمزور ہوتی تو پھر خدا کی توحید جیسے غیر معمولی اور انتہائی اہم مسئلے کو آسانی سے ثابت نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لیکن 14 سو سال گزر جانے کے باوجود آج تک عالم کفر کی طرف سے اس دلیل کا کوئی جواب نہیں دیا جاسکا۔

صفحہ 195

اللہ اور حضور ﷺ کے ناموں کا اتصال

کلمہ طیبہ پر ایک مرتبہ پھر نگاہ ڈالیے اور دیکھیے کہ جہاں سے اللہ کی ”ھ“ ختم ہوتی ہے وہیں سے محمد کی ”میم“ شروع ہو جاتی ہے۔ درمیان میں واؤ عاطفہ تک نہیں رکھی گئی۔ یعنی یہ نہیں کہا گیا: وَمُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ جس کی وجہ یہ ہے کہ واؤ عاطفہ کے درمیان میں آنے سے بعد اور فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے اور اللہ رب العزت یہ چاہتا ہے کہ میرے نام کے فوراً بعد میرے حبیب کا نام آئے جو میری توحید و یکتائی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

ایک اشکال اور اس کا جواب

سرور کائنات ﷺ کے اسماء مبارکہ میں محمد احمد اور محمود تینوں کا مفہوم ہے ”بہت زیادہ تعریف کیا گیا“ حالانکہ سورۂ فاتحہ کے آغاز میں ارشاد ہوتا ہے:

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ

تمام تعریفیں سزاوار ہیں اللہ کو جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔

ادھر تو تمام تعریفوں کا مستحق صرف اور صرف اللہ رب العزت کو قرار دیا جارہا ہے اور دوسری طرف حضور ﷺ کو دنیا میں سب سے زیادہ محمود (تعریف کیا ہوا) ٹھہرایا جا رہا ہے بادی النظر میں ان دونوں میں تعارض دکھائی دیتا ہے۔

اس اشکال کو رفع کرنے کے لیے لفظ رب پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ لغوی طور پر رب پالنے اور پرورش کرنے والی اس ذات کو کہتے ہیں جو اپنے زیر تربیت افراد یا اشیاء کو آہستہ آہستہ نشوونما کے ذریعے درجہ کمال تک پہنچا دے خواہ یہ نشوونما اجسام و ظواہر کی ہو یا علوم و بواطن کی۔ اسی لیے لغوی اعتبار سے والدین کو اپنی اولاد کا مجازی رب کہا جاتا ہے قرآن حکیم میں ارشاد ہے:

رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا (بنی اسرائیل 24:17)

میرے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرمائیے جیسا انہوں نے مجھ کو بچپن میں پالا اور پرورش کیا ہے۔

وجہ ہے کہ وہ اولاد کی کفالت اور ان کی ضروریات کی بظاہر نگہداشت کرتے ہیں۔ اسی طرح استاد شاگردوں کا مجازی رب ہوتا ہے کیونکہ وہ علمی اعتبار سے ان کی پرورش کرتا اور انہیں منزل کمال تک پہنچاتا ہے۔

ان تمام صورتوں میں ہم نے تربیت کے عمل کو جاری دیکھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تربیت کسے

صفحہ 196

کہا جاتا ہے؟ تربیت اس عمل کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کوئی بڑا اپنے سے چھوٹے کی اس طرح پرورش کرے کہ خود اس کے اوصاف کی جھلک اس کے زیر تربیت فرد یا مربوب میں پیدا ہو جائے۔ اگر اس طرح کوئی استاد اپنے شاگردوں کی یا والدین اپنی اولاد کی تربیت نہ کر سکے تو وہ تربیت حقیقی نہیں ہوگی۔ حقیقی اور اصلی تربیت تو یہ ہے کہ مربوب (تربیت یافتہ فرد) اپنے مربی کے اوصاف و صفات کا آئینہ دار بن جائے لہٰذا رب ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مربوب پر اپنی صفات کا رنگ چڑھا دے اور مربوب کے لیے لازمی ہے کہ آئینہ کمالاتِ مربی ہو جائے۔ اب خدا تعالیٰ اگر رب ہے اور تمام تعریفوں کا مستحق ہے تو اس لیے کہ اس ذاتِ کبریاء نے اپنی صفات کی جھلک اپنی مخلوق میں پیدا کر دی: قوتِ حیات سے تمام کائنات میں زندگی کی شمع روشن کی‘ اپنی صفت کلام کا عکس ڈال کر بندوں کو نطق و گویائی کی دولت سے مالا مال کیا‘ لوگوں کو قوت اور شہ زوری کی دولت دی‘ ماں کو اپنی صفت رحمت سے مامتا کی محبت اور پیار عنایت کیا۔ الغرض خدا تعالیٰ نے کائنات کو اس طرح وجود عطا فرمایا کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات کا پرتو بن گئی ہے۔

اگر شاگرد کا کمال دیکھ کر اس کے استاد کی تعریف کی جائے تو یہ شاگرد کی نہیں بلکہ استاد کی تعریف ہوتی ہے۔ اولاد کی ظاہری و معنوی صحت کی تحسین‘ خود والدین کی پرورش و ستائش کی قائم مقام خیال کی جاتی ہے‘ کسی اچھی عمارت کی پذیرائی‘ اس کے صانع اور معمار و نقشہ ساز کی پذیرائی سمجھی جاتی ہے‘ اسی لیے کائنات کے جس حصے اور جس ذرے کی بھی تعریف کی جائے‘ یہ تعریف اس کے صانع و خالق یعنی خدا تعالیٰ کی تعریف ہے کیونکہ اللہ رب العزت نے اپنی تمام صفات کو کائنات میں منتشر کر دیا ہے۔ اسی لیے ارشاد فرمایا:

سَنُرِیْہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِیْ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ

(حم السجده ۵۳:۴۱)

ہم عنقریب ان کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں ان کے گرد و نواح میں بھی دکھا دیں گے اور خود ان کی ذات میں بھی۔ یہاں تک کہ ظاہر ہو جائے گا کہ وہ حق ہے۔

پھر جب کائنات خدا کے حسن کے جلوؤں سے مستنیر ہو گئی تو اس نے چاہا کہ کوئی وجود ان منتشر جلوؤں کا مرقع بنا دیا جائے جسے دیکھنے سے کائنات کے تمام حسن و جمال کا اندازہ کیا جا سکے۔ ارشاد ہے:

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ

(التین ۴:۹۵)

ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچے میں ڈھالا ہے۔

صفحہ 197

اس طرح عالم انسانیت منصہ شہود پر جلوہ گر ہو گیا۔ پھر جب عالم انسانیت کے تمام جلوے اپنے منتہائے کمال کو پہنچے تو منصب ولایت معرضِ وجود میں آ گیا اور عالم ولایت کے جملہ کمالات سمٹ کر درجہ نبوت میں جمع ہو گئے‘ اور پھر جب اوّل تا آخر کائنات کی نبوت و رسالت کے جلوؤں اور رفعتوں کو مجتمع کیا تو وجود مصطفوی کائنات میں ظہور پذیر ہو گیا۔ اس لیے اب یہ وجودِ پاک تمام کائنات کے جملہ محاسن و کمالات‘ ارض و سما کے حسن و جمال کا مجموعہ اور خلاصہ ہے۔

اب جس نے خدا کی تمام صناعی اور خلاقی کو مجتمع دیکھنا ہو‘ وہ وجودِ مصطفوی کو دیکھ لے۔ اس ایک وجود میں تمام کائنات اور جملہ مخلوق کی منتشر قوتیں اور قدرتیں نظر آ جائیں گی حضور ﷺ کا وجود آئینہ صفاتِ رب العزت بن گیا ہے‘ لہٰذا اب اگر کوئی شخص اس وجودِ پاک کی تعریف کرتا ہے‘ اس نفسِ کاملہ کے محاسن و کمالات بیان کرتا ہے‘ اور حضور ﷺ کی مدح و ستائش میں رطب اللسان ہوتا ہے‘ تو وہ در حقیقت خدا تعالیٰ ہی کی تعریف کرتا ہے۔ اسی لیے حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

جس دعا کے اوّل و آخر میں درود شریف‘ یعنی مجھ پر صلوٰۃ و سلام نہ پڑھا جائے وہ دعا بارگاہِ رب العزت تک رسائی حاصل نہیں کرتی۔

لہٰذا اگر حضور ﷺ کی تعریف و توصیف کی جاتی ہے تو یہ ”الحمد للّٰہ رب العالمین“ کی عین تفسیر ہے نہ کہ اس کے متضاد اور مخالف۔

اختتام پر مناسب ہوگا کہ اسم محمد ﷺ کی معرفت و حقیقت تک رسائی سے اپنی بے بسی اور عجز کا اعتراف کر لیا جائے۔ کیونکہ واقعہ یہ ہے۔

غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است

٭......٭......٭

صفحہ 198

معارف اسم محمد ﷺ

پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد

ان کی رحمت دو عالم کی بہار...... ان کی معیشت غریبوں کا سنگھار...... ان کی بخشش گناہگاروں کی سوغات...... ان کی شفقت سیہ کاروں کی بارات...... ان کی چال زمین کی معراج...... ان کی پرواز فلک کی معراج...... ان کا نور نور الانوار...... ان کا سرّ سرالاسرار...... ان کا آفتاب آفتابوں کا آفتاب...... ان کا مہتاب مہتابوں کا مہتاب...... ان کا نام نامی جان موجودات...... ان کا کرم آن کائنات۔

فَمَا الْكَوْنُ اِلَّا حُلَّةٌ وَ مُحَمَّدٌ
طِرَازٌ بِاَعْلَامِ الْهِدَايَةِ مُعْلَمُ

ذکر مصطفےٰ کہاں نہیں؟...... کوئی جگہ نہیں جہاں نہیں...... اللہ اللہ!...... اُن کے کرم سے موجودات نے لباس وجود پہنا...... اُن کا چرچا آسمانوں میں...... ان کا چرچا زمینوں میں...... ان کا چرچا سمندروں میں...... انبیاء و رسل فلک و ملک جن و انس سب ان کی آمد آمد کے منتظر...... ان کا نام نامی بہار زندگی...... ان کا وجود گرامی شباب زندگی...... ان کی راتیں مغفرت کی برسات...... ان کے دن رحمت کی پھوار...... ان کا تبسم طلوع فجر...... ان کا غم غروب سحر...... ان کی عنایت دلوں کی ٹھنڈک...... ان کا کرم روحوں کی فرحت...... ان کا دیدار آنکھوں کی روشنی...... ان کا کردار انسانوں کی معراج۔

صفحہ 199

ذکر مصطفیٰ بڑی سعادت ہے...... وہ دل‘ دل نہیں جو ان کی محبت میں نہ دھڑکے...... وہ زبان‘ زبان نہیں جو ان کی مدح و ثناء میں نہ کھلے...... ہاں رگوں میں خون دوڑ رہا ہے...... دل میں جذبات امنڈ رہے ہیں...... دماغ میں خیالات پھوٹ رہے ہیں...... زبان پر الفاظ مچل رہے ہیں...... جسم میں ہلچل مچی ہے...... پھر کیوں نہ اس جانِ جاں کا ذکر کریں!...... ہاں رب العالمین خود ان کا ذکر فرما رہا ہے...... اللہ اللہ ! وہ ذکر کی کن بلندیوں پر فائز ہیں...... اس سے بڑھ کر بلندی اور کیا ہوگی کہ نامِ نامی ربِ کریم کے حضور اس طرح سرفراز ہوا کہ ہر سرفرازی‘ اس سرفرازی کے قدم چومنے لگی...... ہمارا کیا منہ؟...... ہماری کیا اوقات؟ ہماری کیا بساط؟ جو ان کا ذکر کریں...... عقل نہیں جو ان کی بلندیوں کو پاسکے...... دماغ نہیں جو اس جوامع الکلم کی بات سمجھ سکے...... آنکھ نہیں جو ان کے جلوؤں کو دیکھ سکے...... کیا کریں اور کیا نہ کریں؟...... دل بے قرار ہے...... آنکھیں اشکبار ہیں...... اللہ اللہ ! مگر وہ تو غریب نواز ہیں‘ ہاں؎

اِک ننگِ غمِ عشق بھی ہے منتظرِ دید
صدقے تیرے اے صورتِ سلطانِ مدینہ

نورِ محمدی ﷺ کی تخلیق‘ کائنات کا نقطہ آغاز ہے...... سب سے پہلے اس نے اپنے نور سے‘ نورِ محمدی ﷺ کو پیدا فرمایا اور جب یہ نور حریمِ ناز میں سجدہ ریز ہوا تو اس کا نام نامی محمد ﷺ رکھا...... پھر اس نور سے عرش و کرسی‘ لوح و قلم‘ آفتاب و ماہتاب‘ ایک ایک کر کے پیدا ہوتے گئے...... قلم کو لکھنے کا حکم ملا تو اس نے لا الہ الا اللہ لکھا...... پھر حکم ہوا تو محمد رسول اللہ (ﷺ) لکھا...... جس طرح کائنات میں اللہ نے سب سے پہلے آپ کو وجود عطا فرمایا‘ اپنے نام کے بعد آپ کا نام رکھا‘ اسی طرح اپنے نام کے بعد آپ کا نام لکھوایا...... اسی سے اسمِ محمد ﷺ کی بلندیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے...... ان کا نام نامی کیا ظاہر ہوا‘ کائنات میں بہار آنے لگی‘ ہاں؎

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا‘ وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی‘ جان ہے تو جہان ہے

نورِ محمدی ﷺ اربوں اور کھربوں سال فضاؤں میں چمکتا دمکتا رہا...... اللہ کی حمد کرتا رہا...... وہ دیکھتا رہا جو کسی آنکھ نے نہ دیکھا...... وہ سنتا رہا جو کسی کان نے نہ سنا...... اللہ نے اپنے کرم سے اپنا علم دکھایا...... فرمایا:

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ

(سورۃ مجادلہ آیت: 7)

صفحہ 200

”کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے‘ سب جانتا ہے؟“ جب زمین و آسمان پیدا ہو رہے تھے‘ آپ مشاہدہ فرما رہے تھے...... ارشاد ہوا: أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ

(سورۃ ابراہیم آیت: 19)

”کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان و زمین کو ٹھیک ٹھیک پیدا فرمایا؟“ ......ہاں‘ وقت آیا اللہ نے جب نور محمدی ﷺ کو آشکار کرنا چاہا تو آدم علیہ السلام کی پیشانی میں رکھا جو آفتاب کی طرح چمک رہا تھا...... فرشتوں کو نور محمدی ﷺ کی تعظیم و تکریم کا حکم ملا...... اُن کی آن میں سب سر بسجود ہو گئے (سورۃ حجر آیت 30‘ سورۃ اعراف آیت 11‘ سورۃ کہف آیت 5)...... مگر ابلیس‘ نظر سے محروم تھا‘ کھڑا رہا‘ مردود ہوا...... اور یہ راز پہلی مرتبہ کھلا کہ محبوب کریم ﷺ کی تعظیم و تکریم اللہ ہی کی تعظیم و تکریم ہے...... جو یہ راز نہیں سمجھتا وہ حرفِ محبت سے نا آشنا ہے۔

ہاں‘ نور محمدی ﷺ پہلی بار پیکرِ آدم میں فرشتوں کے سامنے آیا تو پھر پاک پشتوں اور پاکیزہ ماؤں میں منتقل ہو گیا...... منتقل ہوتے ہوتے ابراہیم علیہ السلام تک پہنچا...... پھر ہاجرہ علیہا السلام میں منتقل ہوا‘ پھر اسماعیل علیہ السلام میں منتقل ہوا...... ہاں‘ ابراہیم علیہ السلام جب نور محمدی ﷺ کے امین تھے تو آگ کیسے جلاتی؟...... اسمٰعیل علیہ السلام جب نور محمدی کے امین تھے تو کیسے پیاسے رہتے اور کیوں قربان کر دیئے جاتے؟...... ہاجرہ علیہا السلام کی بے قراریاں رنگ لائیں‘ اسمٰعیل علیہ السلام کے پیروں تلے چشمہ پھوٹ پڑا...... ہاجرہ علیہما السلام کے نشانِ راہ (صفا و مروہ) کو شعائر اللہ بنا دیا گیا اور ابراہیم (علیہ السلام) کے نقشِ قدم کو حرمِ کعبہ میں مصلیٰ بنا دیا گیا (سورۃ آل عمران آیت 97‘ سورۃ بقرہ آیت: 125)...... اللہ اللہ! نور محمدی ﷺ کی پاسداریاں تو دیکھئے۔

ہاں‘ تو ذکر تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا...... جب نمرود سے آپ مسئلہ توحید پر بھرے دربار میں مناظرہ فرما رہے تھے تو سرکارِ دو عالم ﷺ مشاہدہ فرما رہے تھے...... ارشاد ہوا: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ

(سورۃ بقرہ آیت: 258)

”کیا تم نے اس کو نہ دیکھا جو ابراہیم سے بحث کر رہا تھا (وہ اس لیے مغرور ہو گیا) کہ ہم نے اس کو سلطنت عطا فرمائی۔“

جب بنی اسرائیل وبا کے خوف سے شہر چھوڑ کر باہر گئے‘ باہر نکلتے ہی سب کے سب مر گئے‘ پھر کچھ عرصہ کے بعد زندہ کر دیئے گئے...... ہزاروں کی تعداد میں بنی اسرائیل کا مرنا اور جینا سرکارِ دو عالم

صفحہ 201

ﷺ مشاہدہ فرما رہے تھے...... ارشاد ہوا۔

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوْتُوْا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ (سورة بقره آيت : 243)

’’کیا تم نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جو ہزاروں کی تعداد میں موت کے ڈر سے اپنے شہر سے نکل کھڑے ہوئے پھر اللہ نے کہا تم سب مر جاؤ (وہ مر گئے) پھر ان کو زندہ کر دیا......‘‘

ہاں حضور انور ﷺ ایک ایک حادثے ایک ایک واقعے کو مشاہدہ فرما رہے تھے...... اور جب آپ ﷺ بطن مادر میں تشریف لائے تو ابھی ظہور قدسی میں کچھ روز باقی تھے کہ شاہ حبشہ ابرہہ ہاتھیوں کا عظیم لشکر لے کر بیت اللہ پر حملہ آور ہوا‘ حملے سے پہلے ہی اس کا پورا لشکر خس و خاشاک بنا دیا گیا...... ہاں‘ یہ سب کچھ آپ مشاہدہ فرما رہے تھے...... ارشاد ہوا۔

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيْلِ أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِيْ تَضْلِيْلٍ وَّأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيْلَ تَرْمِيْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُوْلٍ (سورة فيل آيت : 1 تا 5)

’’کیا تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟...... کیا ان کی چال کو خاک میں نہ ملا دیا اور ان پر پرندوں کی ٹکڑیاں بھیجیں کہ انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے‘ یہاں تک کہ وہ کھائی کھیتی بن گئے......‘‘

ہاں وہ بطن مادر میں بھی یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے‘ قرآن حکیم شاہد ہے...... دو جہاں کے سردار ﷺ بطن مادر میں کیا آئے کہ انبیاء علیہم السلام کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا...... نو مہینے تک جلیل القدر انبیاء علیہم السلام حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے آتے رہے...... اللہ اللہ‘ کون کون آئے؟...... حضرت آدم علیہ السلام‘ حضرت ادریس علیہ السلام‘ حضرت نوح علیہ السلام‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام‘ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام‘ حضرت داؤد علیہ السلام‘ حضرت سلیمان علیہ السلام‘ حضرت عیسیٰ علیہم السلام...... حضرت آمنہ سرکار دو عالم ﷺ کی برکت و رحمت سے وہ کچھ دیکھ رہی تھیں جو دوسروں کو نظر نہیں آ رہا تھا اور وہ کچھ سن رہی تھیں جس سے دوسروں کے کان محروم تھے...... ہاں جو آتا گیا آمنہ سے کہتا کہ جب وہ آنے والا آئے تو اس کا نام محمد ﷺ رکھنا...... (ابن جوزی مولد العروس (ترجمہ اردو) مطبوعہ لاہور 1988ء ص : 17)

ہاں ظہور قدسی کی منزل آ گئی...... بس چند راتیں رہ گئیں...... ہاں وہ رات آ گئی جس کا ۔

صفحہ 202

سارے عالم کو انتظار تھا...... حضرت حوا حضرت آسیہ حضرت مریم (علیہن السلام) حاضر ہیں‘ جنت کی حوریں حاضر ہیں‘ آمنہ کی آنکھوں سے پردہ اٹھایا جا رہا ہے اور مشرق و مغرب کی بہاریں دکھائی جا رہی ہیں....... تین جھنڈے لگائے جا رہے ہیں....... ایک مشرق میں ایک مغرب میں ایک بیت اللہ پر....... فرشتے فوج در فوج حاضر ہیں....... سبز چونچوں اور سرخ چونچوں والے جنتی پرندے فضاؤں میں بھرے ہوئے ہیں....... آمنہ کو شدت کی پیاس لگی ہے....... ایک پرندہ بڑھ کر پانی کی بوندیں ٹپکا رہا ہے‘ سبحان اللہ!....... برف سے زیادہ ٹھنڈی‘ شہد سے زیادہ میٹھی....... دل کو چین آیا آنکھوں میں سرور آیا....... پھر جب وہ تشریف لائے تو ہر طرف روشنیاں پھیل گئیں....... سارا عالم نور علی نور ہو گیا....... ہاں وہ تشریف لائے گھٹنوں کے بل اپنے مولیٰ کے حضور جھکے ہوئے‘ ہاتھ پھیلائے ہوئے‘ نگاہیں آسمان کی طرف لگائے ہوئے....... چہرہ نور سے جگمگ کر رہا تھا‘ دنیا حیران تھی....... جو کچھ دیکھ رہی تھی وہ تو کبھی نہ دیکھا تھا....... ہاں وہ تشریف لے آئے آتش کدۂ ایران جو ہزار سال سے روشن تھا آن کی آن میں بجھ کر رہ گیا....... کسرائے ایران کے محل کے کنگرے ٹوٹ پھوٹ کر بکھرنے لگے....... ہاں آج وہ آیا ہے دنیا کی جھوٹی عظمتیں جس کے پیروں تلے روندی جائیں گی.......

جو کچھ عرض کیا گیا یہ کوئی افسانہ نہیں حقیقت ہے....... امام المحدثین حضرت علامہ ابن جوزی علیہ الرحمۃ نے تقریباً نو سو برس پہلے اپنی کتاب ”مولد العروس“ میں یہ تفصیلات بیان فرمائی ہیں....... جس کو سب نے مانا اور سب نے تسلیم کیا ہے....... شاید اہل عقل نہ مانیں‘ مگر وہ تو بچوں کی طرح ضد کرتے ہیں‘ پھر مانتے چلے جاتے ہیں....... ہزاروں باتیں جو کل نہ مانتے تھے آج ماننے لگے....... سینکڑوں باتیں جو آج نہیں مانتے‘ کل ماننے لگیں گے....... عقل بے مایہ پر کیا بھروسہ کیا جائے کہ جب تک وحی اس کی انگلی نہ پکڑے وہ سیدھے راستہ پر چل نہیں سکتی....... اسی لیے تو اقبال نے کہا تھا۔

عقل بے مایہ امامت کی سزاوار نہیں

ہم اس کو امام بناتے ہیں‘ جس کی آنکھ نہیں‘ اسی لیے وہ ہم کو حیرت کدے پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے۔......

ہے دانش برہانی حیرت کی فراوانی

ہاں تاجدار دو عالم ﷺ تشریف لے آئے جن کا غلغلہ آسمانوں اور زمینوں میں تھا وہ تشریف لے آئے....... جن کا چرچا آسمانی کتابوں اور صحیفوں میں تھا‘ تشریف لے آئے....... غریبوں کے غم خوار اور مظلوموں کے ہمدرد و غمگسار تشریف لے آئے....... ہاں محمد ﷺ تشریف لے آئے....... ہاں احمد ﷺ تشریف لے آئے....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام خوشخبری سنا رہے ہیں۔

صفحہ 203

مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّاتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُهُ اَحْمَدُ (سورۃ صف آیت:6) عالم کا پالنہار فرما رہا ہے:

(سورۃ احزاب آیت:40)

(سورۃ فتح آیت:29)

ہاں آپ کا نام نامی احمد بھی ہے اور محمد ﷺ بھی ...... احمد کے معنی ہیں ’’بہت تعریف کرنے والا‘‘ ...... اور محمد کے معنی ’’بہت ہی تعریف کیا گیا‘‘ ...... تعریف کرنے والا ایک سے زیادہ کی بھی تعریف کرسکتا ہے اور کرتا ہے مگر ایسا تعریف کرنے والا کہیں نہ ملے گا‘ جس نے ایک کی تعریف کی ہو ...... ہاں صرف ایک اللہ کی ...... جب زبان سے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (سورۃ فاتحہ آیت:1) فرمایا تو اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیا ...... جب نور محمدی ﷺ جلوہ فرما ہوا‘ حمد کا سلسلہ شروع ہوا ...... کروڑوں سال بیت گئے ...... لاکھوں سال گزر گئے ...... نہ معلوم کب سے وہ رب جلیل کی حمد و ثناء میں مصروف رہے ...... اس کائناتِ ارضی و سماوی میں کوئی ایسا نہیں جس نے اللہ کی اتنی حمد و ثناء کی ہو جتنی آپ ﷺ نے فرمائی ...... عبدیت میں آپ ﷺ یکہ و تنہا ہیں‘ کوئی آپ کا عدیل و نظیر نہیں۔

بے مثالی کی ہے مثال وہ حسن
خوبی یار کا جواب کہاں!

ہاں کوئی احمد نہیں آپ ہی احمد ہیں ...... آپ اللہ کی طرف متوجہ ہیں اور اللہ آپ کی طرف ...... آپ اللہ کی حمد و ثناء فرما رہے ہیں اور اللہ آپ پر رحمتیں بھیج رہا ہے فرشتے حمد و ثناء کر رہے ہیں ...... نہ معلوم کب سے! ...... زمین و آسمان میں جو اللہ کی حمد کر رہا ہے وہ آپ کی نعت بھی پڑھ رہا ہے ...... اس قدر تعریف اور اس شان کی تعریف آج تک کسی مخلوق و محبوب کی نہیں کی گئی ...... بے شک آپ محمد ﷺ ہیں ...... محمد کے معنی ہیں ’’بہت ہی تعریف کیا گیا‘‘ ...... آپ محبّ بھی ہیں‘ محبوب بھی ...... آپ عاشق بھی ہیں‘ معشوق بھی ...... جو عاشق ہوتا ہے وہ معشوق نہیں ہوتا ...... جو معشوق ہوتا ہے وہ عاشق نہیں ہوتا ...... دنیائے محبت کا یہ ایک حیرت انگیز سنگم ہے کہ جو چاہ رہا ہے وہ چاہا بھی جا رہا ہے ...... جو عاشق ہے وہ معشوق بھی ہے سبحان اللہ سبحان اللہ! یہی نہیں بلکہ جو اس جانِ جاں کے نقشِ

صفحہ 204

قدم پر چل رہا ہے وہ بھی محبوب بنایا جا رہا ہے۔...... يُحْبِبْكُمُ اللهُ (سورۃ آل عمران آیت 31)......ہم نے تو یہ سنا تھا اور یہ دیکھا تھا کہ جو جس کا کہا مانتا ہے وہی اُس سے محبت کرتا ہے۔...... یہ نہ سنا اور نہ دیکھا کہ کہا کسی کا مانا جائے اور محبت کوئی کرے اللہ اکبر ! ...... خالق کائنات کو اپنے محبوب کریم ﷺ سے کس کمال کی محبت و انسیت ہے! ...... جو آپ کا کہنا مانتا ہے جو آپ کے نقش قدم پر چلتا ہے وہ خدا کا محبوب بن جاتا ہے۔......

اللہ تعالیٰ نے نام محمد ﷺ اپنے نام سے نکالا اور اپنے نام ہی کے ساتھ رکھا ...... حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نگاہ محبت کہاں تک پہنچی ! ...... سنئے سنئے وہ کیا فرما رہے ہیں؎

وَ شَقَّ لَهُ مِن إِسْمِهِ ليجله
ذُوالْعَرْشِ مَحْمُود وَ هَذَا مُحَمَّد

نام نامی احمد اور محمد ﷺ مسمی کا بھر پور آئینہ دار ہے ...... حالانکہ نام کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ مسمیٰ کی عکاسی کرتا ہو...... اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ ایسی معنویت لیے ہوئے ہو کہ نام سے ایک ایک حرف نکالتے چلے جائیں پھر بھی معنویت ذرہ برابر مجروح نہ ہونے پائے ...... نام احمد اور محمد ﷺ کی شان یہ ہے کہ ایک ایک حرف کم کرتے جائیے جو بچ رہے گا وہ ہرگز بے معنی نہ ہوگا ...... بیشک جو ان کے دامن کرم سے وابستہ ہو گیا وہ بے فیض نہیں رہ سکتا ...... اس نام کی ایک یہ بھی خوبی ہے کہ اکثر انبیاء علیہم السلام کے ناموں میں اس نام نامی کا کوئی حرف ضرور ہے ...... گویا جس طرح کائنات کی ہر شے مستفیض ہے یہ نام بھی مستفیض ہیں ...... اللہ نے اپنے نور سے آپ کو پیدا فرمایا اور نام بھی ایسا رکھا جس میں اس کے نام کی جھلک ہے ...... نام اللہ میں کوئی حرف نقطہ والا نہیں، نام محمد ﷺ میں بھی کوئی حرف نقطہ والا نہیں ...... پھر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ لفظ قرآن بھی چار حروف ہیں، جس زبان میں نازل ہوا اس کے بھی چار حروف ہیں، جس نے نازل کیا اس کے بھی چار حروف ہیں، جس پر نازل ہوا اس کے بھی چار حروف ہیں ...... حروف کی یہ یکسانیت ضرور کوئی معنی رکھتی ہوگی ...... جس طرح عالم اجسام اور عالم ارواح ہیں اسی طرح عالم الفاظ و حروف اور عالم معانی بھی ہیں ...... غواص ہی حقیقت کو پا سکتے ہیں ......

نام محمد ﷺ کی کیا بات ! ...... وہ چشم بینا کہاں سے لائیں جو زمین و آسمان میں اس نام نامی کے جلوے دیکھے ! ...... نام محمد ﷺ کہاں نہیں؟ ...... ساق عرش پر لا اله الا الله محمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے ...... لوح محفوظ میں لا اله الا الله محمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے ...... جنت کے ہر

صفحہ 205

دروازے پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے...... صحف سماوی میں نام احمد اور محمد ﷺ...... توریت میں، انجیل میں، زبور میں، صحیفہ ابراہیم میں، صحیفہ اشعیاء میں، کتاب حقوق میں، اقوال شعیب میں، اقوال سلیمان میں (علیہم السلام)...... اور تو اور ہندوؤں کے ویدوں اور اپنشدوں میں...... گوتم بدھ کے ملفوظات میں نام احمد و محمد ﷺ جلوہ گر ہے......

اللہ نے دنیا میں آنے والے تمام انبیاء کو جمع کر کے ان سے عہد لیا کہ جب وہ آنے والا آئے تو اس پر ایمان لانا اور اس کی تائید وحمایت کرنا...... ہر نبی نے سنا اور سر جھکایا، وعدہ کیا اور اپنے عہد پر گواہ ہوا اور اللہ تعالیٰ ان سب پر گواہ ہوا...... اللہ اکبر! کس اہتمام سے عہد لیا گیا...... جب سارے عالم کے نبیوں نے نام محمد ﷺ سنا اور عہد بھی کیا تو پھر ہر نبی نے اپنی امت میں آپ کی آمد آمد کا ذکر نہ کیا ہوگا؟...... یقیناً کیا ہوگا...... تو یہ کہنا سچ اور حق ہے کہ کوئی نبی ورسول ایسا نہیں جس نے اپنی امت میں سرکار دوعالم ﷺ کا ذکر نہ کیا ہو...... سب نے کیا پھر سن سن کے اوروں نے بھی کیا...... ہر مذہب وملت کی کتابوں میں اور ہر دور کی فضاؤں میں آپ کے نام نامی کی گونج سنائی دے رہی ہے سبحان اللہ !...... نہ صرف کتابوں میں بلکہ آسمان وزمین، شجر وحجر حتیٰ کہ انسانی وجود میں بھی دیکھنے والوں نے نام نامی محمد ﷺ دیکھا ہے...... درختوں پر پتوں پر پھولوں پر پھلوں پر...... پھولوں کے اندر پھلوں کے اندر...... اور دور جدید میں یہ عجیب انکشاف ہوا ہے کہ انسان کے سانس کی نالی میں ”لا الہ الا اللہ“ لکھا ہوا ہے اور داہنے پھیپھڑے پر محمد رسول اللہ...... سبحان اللہ...... (اس وقت حیرت واستعجاب کی انتہا نہ رہی جب حرس وطنی جدہ کے ہسپتال میں ایک شخص کے سینے کا کمپیوٹر کے ذریعہ ایکسرے لیا گیا...... یہ پوزیشن سانس کی نالی اور داہنے پھیپھڑے کی ہے اس میں کلمہ طیبہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے یہ قدرت کی نشانی اور معجزہ ہے قرآن کہتا ہے ”ہم لوگوں کو کائنات کے اندر اور خود ان کی جانوں میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ کھل جائے گا کہ حق یہ ہے۔“

(روزنامہ البلاد‘ مطبوعہ سعودی عرب‘ شمارہ یکم شعبان المعظم 1412ھ)

اللہ اللہ ! انسانی وجود میں نام اللہ (جل جلالہ) اور نام محمد ﷺ...... اللہ تعالیٰ نے یہ نام نامی پشت مبارک پر مہر نبوت کی صورت میں بھی ظاہر فرمایا تا کہ کسی شک کرنے والے کو شک نہ رہے اور ہر یقین کرنے والا دل سے یقین کرے کہ آپ ہی محمد ﷺ ہیں...... حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو اسی نشانی سے پہچانا...... آپ کی غائبانہ محبت نے اپنے مذاہب سے بیگانہ اور اپنے وطن سے دل اچاٹ کردیا...... رواں دواں ملک ملک کی خاک چھانتے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے...... مگر کسی کے غلام تھے، آپ کے غلام بننے آئے تھے...... سرکار نے کرم فرمایا بندوں کی غلامی

صفحہ 206

سے نجات دلا کر اپنا غلام بنالیا......سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری نشانیاں دیکھ لی تھیں، ایک نشانی مہر نبوت رہ گئی تھی وہ نشانی بھی دکھا دی، دیکھتے ہی ایمان لے آئے کہ یہ زندہ گواہی تھی جو خود بول رہی تھی کہ یہی محمد ﷺ ہیں ہاں ؎

ایک ہی بار ہوئیں وجہ گرفتاری دل
التفات ان کی نگاہوں نے دوبارہ نہ کیا

اللہ نے اپنے محبوب کریم ﷺ کے نام کو روشن کر دیا......اعلان فرمادیا...... وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکَ (سورة الم نشرح آیت:4)......ہم نے تمہارے لیے تمہارے نام کو بلند کر دیا......ہماری کوئی غرض نہیں، ہمیں تو بس تم سے محبت ہے اور ہم یہی چاہتے ہیں کہ سب کو تم سے محبت ہو......سبحان اللہ! کس کمال کی محبت ہے کہ نام نامی کلمہ طیبہ میں اپنے نام کے ساتھ ملا کر بتا دیا۔

وہ زندہ ہیں واللہ وہ زندہ ہیں واللہ!

حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

وضم الا لٰہ إسم النبي الى إسمہ
إذ قال في الخمسين المؤذن اشهد

ایک مغربی اسکالر فلپ کے ہتی نے لکھا ہے کہ دنیا میں کوئی لمحہ ایسا نہیں جس میں دنیا کے کسی نہ کسی شہر میں اذان نہ ہو رہی ہو، ہر لمحہ مؤذن اللہ کے نام کے ساتھ ان کا نام بلند کر رہا ہے۔ کوئی لمحہ خالی نہیں......ہاں ؎

وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکَ کا ہے سایہ تجھ پر
بول بالا ہے تیرا ذکر ہے اونچا تیرا

پھر رفعت ذکر کے لیے یہ رسم محبت ایجاد کی کہ محبوب کریم ﷺ پر خود صلوٰۃ کے گجرے بھیجے اور فرشتوں نے صلوٰۃ کی تھالیاں نذر کیں۔ یہی نہیں سارے عالم کے مسلمانوں کو حکم دیا۔

صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (سورة احزاب آیت:56)

ہاں اے مسلمانو! تم بھی درود بھیجو تم بھی سلام بھیجو......بے دلی سے نہ بھیجنا، دل سے بھیجنا کہ سلام کا حق ادا ہو جائے۔ وہ ہم سے الگ نہیں ان کو الگ نہ سمجھنا ؎

تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو
اللہ ہی کو معلوم ہے کہ تم کون ہو اور کیا ہو!

قرآن کریم میں فرمایا کہ کوئی شے ایسی نہیں کہ جو ہمارا ذکر نہ کرتی ہو (سورة اسراء

صفحہ 207

آیت:44) اور فرمایا کہ سب پرندے اپنی اپنی نمازیں پڑھتے ہیں (سورۃ نور آیت:41)...... جب نمازیں پڑھتے ہیں تو درود و سلام ضرور بھیجتے ہوں گے....... اللہ کا ذکر رسول کریم ﷺ کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ ذکر الٰہی میں حلاوت ذکر رسول ہی سے آتی ہے....... یہ راز اہل محبت جانتے ہیں جو محبت سے ناآشنا ہے وہ کچھ نہیں جانتا خواہ اپنے زعم میں وہ یہ سمجھتا ہو کہ وہ بہت کچھ جانتا ہے....... معرفت الٰہی محبت رسول ﷺ کے بغیر ممکن نہیں...... یہ محبت ہی تھی جس نے اسم محمد ﷺ کو مشکل کشا بنا دیا...... سنئے......

قبیلہ بکر بن وائل کے سردار حارثہ کی فوج کا فارس کی عظیم الشان فوج سے ٹکراؤ ہوا‘ اس وقت تک حارثہ مسلمان نہ ہوئے تھے مگر دل میں محبت رسول ﷺ کی ایک چنگاری دبی ہوئی تھی...... حارثہ کی فوج نہایت کمزور...... مقابلہ پر ایک طاقتور فوج...... حارثہ حیران و پریشان...... کچھ اور تو نہ سوجھا‘ سوجھا تو یہی سوجھا کہ اچانک اعلان کرا دیا...... ”ہمارے لشکر کا نشان محمد ﷺ“...... اللہ اکبر! فارس کی طاقت ور فوج سے مقابلہ ہوا اور آن کی آن میں وہ فوج شکست کھا گئی...... اسم محمد ﷺ کے طفیل حارثہ کو شاندار کامیابی نصیب ہوئی اور فتح و نصرت نے ان کے قدم چومے (جلال الدین سیوطی‘ علامہ: خصائص الکبریٰ ج اول ص: 358)....... اللہ اللہ نام محمد ﷺ کی برکتیں کیا بیان کروں؟....... رب تعالیٰ جب قیامت کے دن آپ کو پکارے گا تو آپ کے ہم نام سب امتی اس آواز پر دوڑ پڑیں گے....... رب تعالیٰ مسکرائے گا اور نام محمد ﷺ کے طفیل ہم ناموں کو بھی جنت میں داخلے کی بشارت مل جائے گی....... غیرت الٰہی کو گوارا نہیں کہ جس امتی کا نام محمد ہو وہ دوزخ میں جائے!...... سبحان اللہ....... ہاں نام محمد ﷺ شفاء ہے....... ایک سائنس دان نے تحقیق کی کہ درود پڑھ کر جو دم کیا جاتا ہے تو سانس میں ایک قسم کی برقی رو پیدا ہوتی ہے جو مریض پر خوشگوار اثر ڈالتی ہے.......

نام محمد ﷺ معمولی نام نہیں....... اسی لیے اللہ نے نام لے کر پکارنے کو سختی سے منع فرمایا...... تم محمد رسول اللہ کو اس طرح نہ پکارو جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارا کرتے ہو (سورۃ نور آیت: 63)....... ہاں؎

ادب گاہے ست زیر آسمان از عرش نازک تر

شاہِ ایران خسرو پرویز کے نام مکتوب گرامی لے کر صحابی پہنچے....... خسرو پرویز نے نامہ گرامی پڑھنا شروع کیا...... من محمد رسول اللہ الیٰ کسریٰ عظیم فارس....... اپنے نام سے پہلے نام محمد ﷺ دیکھ کر طیش میں آ گیا....... نامہ گرامی ٹکڑے ٹکڑے کر دیا....... جب سرکار دو عالم ﷺ کو معلوم ہوا تو جلال نبوت میں فرمایا.......

صفحہ 208

”اس نے میرے خط کو ٹکڑے ٹکڑے کیا‘ اللہ نے اس کے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔“

(غلام ربانی عزیز‘ ڈاکٹر : سیرت طیبہ‘ مطبوعہ لاہور 1990ء ص: 232)

اور ایسا ہی ہوا نام نامی کو ریزہ ریزہ کرنے والا خود اپنے بیٹے شیرویہ کے ہاتھوں مارا گیا...... سچ کہا ہے؎

از خشم تو لرزاں‘ لرزاں دو عالم
وز زلف برہم‘ برہم نظامے

نام نامی کتنا عظیم ہے!...... کتنا پیارا ہے!...... کتنا میٹھا ہے!...... اس کی مٹھاس کا عالم صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھئے...... نام نامی سن کر بے ساختہ انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگائے اور حضرت آدم علیہ السلام کی سنت کو زندہ کر گئے...... انجیل برناباس میں لکھا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے جب آنکھ کھولی تو عرش پر کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا دیکھا...... دل مچل گیا‘ آرزوؤں نے کروٹ لی...... کاش لا الہ الا اللہ میرے داہنے انگوٹھے پر آ جائے اور اے کاش محمد رسول اللہ بائیں انگوٹھے پر آجائے...... وہاں کیا دیر تھی...... ادھر آرزو دل سے نکلی ادھر پوری ہوئی...... داہنے انگوٹھے پر لا الہ الا اللہ نورانی حروف میں لکھا ہوا چمک رہا تھا اور بائیں انگوٹھے پر محمد رسول اللہ دمک رہا تھا...... حضرت آدم علیہ السلام نے دونوں انگوٹھے بے ساختہ چوم کر آنکھوں سے لگا لیے (انجیل برناباس‘ مطبوعہ آکسفورڈ 1907ء)...... محبت وعشق کے معاملے عقل والوں کی سمجھ سے بالاتر ہیں یہاں عقل کا گزر نہیں کہ وہ کثیف ہے...... یہاں تو لطافت ہی لطافت ہے...... یہاں عقل کے پیمانوں کا چلن نہیں...... یہاں کے زمین و آسمان اور شب و روز ہی اور ہیں...... جس نے یہ دنیا دیکھی ہی نہیں اس کو کیا بتایا جائے کیا سمجھایا جائے ہاں؎

عاشق نہ شدی محنت الفت نہ کشیدی
کس پیش تو غم نامہ ہجراں چہ کشاید؟

سچ پوچھئے تو اسم محمد ﷺ میں تعظیم وتکریم کی روح اس طرح چھپی ہے جس طرح پھولوں میں خوشبو!...... یہ خوشبو وہی سونگھ سکتا ہے جس کے دل میں عشق مصطفےٰ ﷺ ہو...... غور کریں اور خوب غور کریں......

صفحہ 209

کی تعظیم ہے.......

تعظیم ہے.......

کی تعظیم ہے.......

فرمانا، آپ کی تعظیم ہے.......

ہے.......

نہ کرنا، آپ کی تعظیم ہے.......

ہاں، یہ تعظیم، محبت کی روح ہے....... اور یہ محبت، ملت کی جان ہے....... یہ نکل گئی تو پھر کیا رہ گیا؟ قرآن کریم کھولیے اور گلشنِ محبت کی بہار دیکھئے ہاں؎

پیشِ نظر وہ نوبہار سجدے کو دل ہے بے قرار
روکیے سر کو روکئے ہاں یہی امتحان ہے
صفحہ 210

سرکار دو عالم ﷺ کی بات تو بہت ہی اونچی ہے۔ تعظیم کرنے والوں نے آپ کے موئے مبارک کی بھی تعظیم کی ہے...... حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ موئے مبارک اپنے عمامہ میں رکھتے تھے اور جب ایک جنگ میں لڑتے ہوئے یہ عمامہ گر گیا تو شدید جنگ کر کے جب تک عمامہ کو حاصل نہ کر لیا چین نہ آیا...... حضور انور ﷺ کانوں کی لو تک بال رکھتے تھے جب حج کے موقع پر آپ نے حلق کرایا تو بے شمار تقسیم کیے گئے...... محبت والوں نے ایک ایک بال جان سے لگا کر رکھا......

اللہ اللہ! نام نامی احمد و محمد ﷺ کیسا پر بہار ہے اور اس بہار کی باتیں کیسی جاں نواز ہیں، قلم رکتا ہی نہیں، دل مانتا ہی نہیں، چلتا چلا جاتا ہے۔...... مصطفیٰ ﷺ کی باتیں اللہ ہی کی باتیں ہیں...... درخت قلم بن بن کر گھس جائیں اور سمندر سیاہی بن بن کر سوکھ جائیں، اللہ کی باتیں پوری نہیں ہوسکتیں...... تو پھر مصطفیٰ ﷺ کی باتیں کیسے پوری ہوسکتی ہیں...... وہ تو کائنات کی جان ہیں...... ہاں ان کا نام جپے جائیے...... درود و سلام پڑھے جائیے...... ایک ایک ادا کو اپناتے جائیے...... ایک ایک بات کو دل میں بٹھاتے جائیے...... پھر چاند بن کر ابھریئے اور چاندنی بن کر سارے عالم میں پھیل جائیے۔ ہاں؎

دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے!
صفحہ 211

سرکار ﷺ کے اسم مبارک پر نام رکھنے کے

فضائل و برکات

محمد نعیم احمد برکاتی

حضرت علامہ ملاعلی قاری علیہ الرحمۃ نے ”شرح الشفاء“ میں ایک طویل حدیث نقل فرمائی ہے، جس کے آخر میں سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیٰ آلہ وبارک وسلم یوں ارشاد فرماتے ہیں: اَلْحَمْدُلِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنِیْ عَلٰی جَمِیْعِ النَّبِیّٖنَ حَتّٰی فِیْ اِسْمِیْ وَصِفَتِیْ۔ یعنی تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے مجھے جملہ انبیاء پر فضیلت بخشی حتیٰ کہ میرے نام اور صفت میں۔

(شرح الشفاء للقاری)

اس کے متعلق حضرت علامہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے خصائص میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کے اسم مبارک پر نام رکھنا مبارک و نافع اور دنیا و آخرت میں حفاظت و نجات کا باعث ہے۔

چنانچہ حافظ امام ابونعیم رحمۃ اللہ علیہ نے ”حلیۃ الاولیاء“ میں حضرت محیط بن شریط رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی وَعِزَّتِیْ وَجَلَالِیْ لَا أُعَذِّب أَحَدًا تَسَمّٰی بِاسْمِکَ فِی النَّارِ

ترجمہ: فرمایا اللہ تعالیٰ عزوجل نے کہ مجھے اپنے عزت وجلال کی قسم! جس کا نام تمہارے نام پر ہوگا اسے دوزخ کا عذاب نہ دوں گا۔

صفحہ 212

(حلیۃ الاولیاء مدارج النبوۃ جلد اول ص 247 طیب الوردہ شرح قصیدہ بردہ ص 380)

اس وعدۂ خداوندی کے جواب میں ایک حدیث رسول بھی آپ ملاحظہ فرمائیں:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز حضور پُرنور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز دو آدمی دربارِ خداوندی میں پیش ہوں گے۔ حکم ہوگا کہ انہیں جنت میں لے جاؤ۔ یہ حکم سن کر انہیں تعجب ہوگا اور حق تبارک وتعالیٰ سے وہ عرض کریں گے کہ یا الہ العالمین ہم نے تو کوئی نیک عمل نہیں کیا، پھر بھی ہم جنت میں کیوں بھیجے جا رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا: ”تم جنت میں جاؤ۔ میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ جس شخص کا نام محمد یا احمد ہوگا اس کو جہنم میں داخل نہیں کروں گا۔“

(مدارج النبوۃ جلد اوّل ص 246)

اس حدیث کو امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ”مواہب اللدنیہ“ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے استحی ان اعذب بالنار من اسمه اسم حبیبی یعنی اللہ شرم فرماتا ہے اس (بات) سے کہ اسے عذاب دے، جس کا نام میرے حبیب ﷺ کے نام پر ہو۔

(طیب الوردہ شرح قصیدہ بردہ ص 380)

حضرت علامہ امام یوسف بن اسماعیل نبھانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ جس شخص کا نام محمد ہے قیامت کے روز اسے لایا جائے گا۔ اللہ عزوجل اس سے فرمائے گا کہ تجھے گناہ کرتے ہوئے شرم نہ آئی؟ حالانکہ تو نے میرے حبیب کا نام رکھا ہے لیکن مجھے شرم آتی ہے کہ میں تجھے عذاب دوں، جب کہ تو نے میرے حبیب کا نام اختیار کیا ہے۔ جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ۔ (افضل الصلوٰۃ علیٰ سید السادات ص 151)

حضرت جعفر بن محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد محترم سے روایت فرماتے ہیں کہ قیامت کے روز ایک منادی ندا کرے گا کہ اے لوگو! خبردار ہو جاؤ تم میں سے جس کا نام محمد یا احمد ہے وہ جنت میں داخل ہو جائے۔ اس حکم سے اللہ رب العزت اپنے محبوب ﷺ کے اسم مبارک کی عظمت دکھانا چاہے گا۔ (کتاب الشفاء القسم الاوّل باب سوم بحوالہ جواہر البحار شریف جلد اوّل ص 133)

نیز ابن عساکر و حافظ حسین بن احمد بن عبداللہ بن بکیر حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وبارک وسلم فرماتے ہیں۔ من ولد له مولود فسماه محمدا حبا لی وتبرکا باسمی کان هو ومولوده فی الجنۃ۔

ترجمہ: جس کے (یہاں) لڑکا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام پاک سے تبرک کے

صفحہ 213

لیے اس کا نام محمد رکھے وہ اور اس کا لڑکا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (احکام شریعت حصہ اوّل ص 80)

خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: هذا امثل حديث ورد فی هذا الباب واسنادہ حسن یعنی جس قدر حدیثیں اس باب میں آئیں یہ سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔

ونازعہ تلمیذہ الشامی بما ردہ العلامہ الزرقانی فراجعہ

(احکام شریعت حصہ اوّل ص 80)

ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جس کا نام ”محمد“ ہوگا‘ حضور شفیع المذنبین ﷺ (بروز حشر) اس کی شفاعت فرمائیں گے اور جنت میں داخل کرائیں گے۔ (مدارج النبوۃ جلد اوّل ص 247)

چنانچہ حضور محدث اعظم ہند علیہ الرحمۃ نے کیا ہی خوب فرمایا ہے:

محشر میں گنہ گاروں کے لیے دامن کا سہارا کافی ہے
دامن تو بڑی شے ہے مجھ کو تو نام تمہارا کافی ہے
سچ ہے سیّد کا بیکار یہاں اس سے کوئی نہیں کام ہوا
ہمنام کے ذمہ دار ہو تم تو نام ہمارا کافی ہے

حضرت علامہ قاضی ابوالفضل عیاض رحمۃ اللہ علیہ ”کتاب الشفاء“ میں فرماتے ہیں: انّ اللہ تعالیٰ وملائکتہ یستغفرون لمن اسمہ محمد و احمد یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بخشش و رحمت کرتے ہیں اس پر جس کا نام محمد یا احمد ہو۔ (طیب الوردہ شرح قصیدہ بردہ ص 380)

غرض کہ حضور پرنور شافع یوم النشور ﷺ کے اسم مبارک کی برکت وعظمت اور رحمت کے یہ وہ جلوے اور مژدے ہیں جو بروز حشر اپنی جلوہ ریزیاں دکھائیں گے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے نام سرکار کے اسم مبارک سے مزین ہیں۔

بشرطیکہ مومن ہو اور مومن عرف قرآن وحدیث اور صحابہ میں اسی کو کہتے ہیں جو سنی صحیح العقیدہ ہو۔ کما نص علیہ الائمہ فی التوضیح وغیرہ ورنہ بدمذہبوں کے لیے تو حدیثیں یہ ارشاد فرماتی ہیں کہ وہ جہنم کے کتے ہیں‘ ان کا کوئی عمل قبول نہیں۔ بدمذہب (اگر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان مظلوم قتل کیا جائے اور اپنے اس مارے جانے پر صابر و طالب ثواب رہے‘ جب بھی اللہ عزوجل اس کی کسی بات پر نظر نہ فرمائے اور اسے جہنم میں ڈالے۔ یہ حدیثیں دارقطنی و ابن ماجہ و بیہقی و ابن الجوزی و غیرہم نے حضرت ابو امامہ و حذیفہ و انس رضی اللہ عنہم سے روایت کیں اور فقیر (اعلیٰ حضرت) نے اپنے فتاویٰ میں متعدد جگہ لکھیں...... تو محمد بن عبدالوہاب نجدی وغیرہ گمراہوں کے لیے ان حدیثوں میں اصلاً

صفحہ 214

بشارت نہیں، نہ کہ سید احمد خان کی طرح کفار، جس کا مسلک کفر قطعی، کہ کافر پر تو جنت کی ہوا تک یقیناً حرام ہے۔ (احکام شریعت حصہ اوّل ص 80)

اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ایسے ہی لوگ کھلے عام ان احادیث طیبات کا خود ہی انکار کرتے ہیں اور انہیں ضعیف قرار دیتے ہیں۔ گویا کہ اس بشارت سے محرومی کا خود ہی اقرار کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کے نام اقدس پر اگر کسی نے اپنا نام رکھا تو یہ اس کے لیے صرف یوم آخرت ہی نہیں بلکہ اس دنیا میں بھی باعث خیر و برکت ہوگا اور وہ شخص جس گھر میں بھی ہو یا کسی محفل میں ہو یا کسی اور جگہ ہو ان تمام صورتوں میں رب کریم محض اپنے فضل و کرم سے اس جگہ بیش بہا نعمتوں و برکتوں اور رحمتوں کی بارش نازل فرمائے گا۔

چنانچہ ابن ابی عاصم نے ابن ابی فدیک، مجمع بن عثمان سے انہوں نے ابن حبیب سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ جس نے میرے نام پر اپنا نام رکھا اور مجھ سے برکت کی امید رکھی تو اس کو برکت حاصل ہوگی۔ اور وہ برکت قیامت تک جاری رہے گی۔ (خصائص الکبریٰ جلد دوم ص 434)

اسی طرح ایک اور جگہ ابن سعد نے عثمان عمری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ما ضر احد کم لو کان فی بیتہ محمد و محمدان و ثلثة یعنی اگر تم میں سے کسی کے گھر میں ایک یا دو یا تین محمد (نام والے) ہوں تو کیا حرج ہے۔ تمہارے گھر میں تو بہت برکت ہوگی۔

(طبقات ابن سعد۔ بے مثل بشر ص 273)

حضرت ابن قاسم علیہ الرحمة نے اپنی کتاب جامع میں اور ابن وہب علیہ الرحمة نے اپنی جامع میں امام مالک رحمة اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ میں نے مکہ مکرمہ والوں سے سنا ہے وہ کہتے ہیں کہ جس گھر میں محمد نامی کوئی آدمی رہتا ہو وہ گھر برکت والا ہے اور اس کے ہمسایوں کو بغیر کسی خاص مشقت کے رزق ملتا رہتا ہے۔ (کتاب الشفاء القسم الاوّل باب سوم بحوالہ جواہر البحار شریف جلد اوّل ص 133)

امام مالک رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ما کان فی اہل بیت اسم محمد الا کثر برکتہ

ترجمہ: جس گھر والوں میں کوئی محمد نام کا ہوتا ہے اس گھر کی برکت زیادہ ہوتی ہے۔

(احکام شریعت حصہ اوّل ص 83)

ذکرہ المنادی فی شرح التیسیر تحت الحدیث العاشر والزرقانی فی شرح المواہب

صفحہ 215

نیز یہ بھی مروی ہے کہ کوئی گھر نہیں ہے جس میں ’محمد‘ نام والے ہوں مگر یہ کہ حق تعالیٰ انہیں برکت دے۔

(مدارج النبوۃ جلد اوّل ص 247)

حضرت سریج بن یونس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے مقرر کردہ بعض فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور جس گھر میں کوئی محمد یا احمد نام کا آدمی رہتا ہو اس میں ٹھہر جاتے ہیں۔

(کتاب الشفاء القسم الاوّل باب سوم بحوالہ جواہر البحار شریف جلد اوّل ص 133)

اسی لیے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ہر گھر میں ایک بلکہ دو بلکہ تین شخص ایسے ہونے چاہئیں جن کا نام محمد ہو۔

(کتاب الشفاء القسم الاوّل باب سوم بحوالہ جواہر البحار شریف جلد اوّل ص 133)

چنانچہ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی قدس سرہٗ فرماتے ہیں ’میرا یہ معمول رہا ہے کہ جتنے بیٹے بھتیجے پیدا ہوئے‘ عقیقے میں سب کا نام نام اقدس سرکار (ﷺ) پر رکھا۔

(مکتوبات امام احمد رضا ص 46)

اسی طرح ایک اور جگہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہٗ فرماتے ہیں: لہٰذا فقیر غفر اللہ تعالیٰ نے اپنے سب بیٹوں، بھتیجوں کا عقیقے میں صرف محمد نام رکھا۔ پھر نام اقدس کے حفظ (یاد رکھنے) و آداب اور باہم تمیز کے لیے عرف جدا مقرر کیے، بحمد للہ تعالیٰ فقیر کے یہاں پانچ ’محمد‘ اب موجود ہیں سلّمھم اللہ تعالیٰ وعافاھم والى مدارج الکمال رقاھم اور پانچ سے زائد اپنی راہ گئے۔ جعلھم اللہ لنا اجرا وذخرا وفرطا بحرمۃ و بعزۃ اسم محمد ﷺ امین۔

(احکام شریعت حصہ اوّل ص 82)

طبرانی کبیر و امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ومن ولد لہ ثلثۃ اولاد فلم یسم احد منھم محمد فقد جھل ۔ یعنی جس کے تین بیٹے پیدا ہوں اور وہ ان میں سے کسی کا نام ’محمد‘ نہ رکھے تو بلاشبہ وہ ضرور جاہل ہے۔

(خصائص الکبریٰ جلد دوم ص 433‘ احکام شریعت حصہ اوّل ص 82)

امام ابو منصور دیلمی نے ’مسند الفردوس‘ میں اور ابن عدی کامل و ابو سعید نقاش بسند صحیح اپنے معجم شیوخ میں اور علامہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’مدارج النبوۃ‘ میں اور ان کے علاوہ حافظ ابن بکیر علیہ الرحمۃ نے امیر المومنین سیّدنا علی کرم اللہ وجہہ سے روایت فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ما اطعم طعام علی مائدۃ ولا جلس علیھا وفیھا اسمی الا وقدسوا کل یوم مرتین ۔ ترجمہ: کوئی دستر خوان نہیں ہے کہ بچھایا گیا ہو اور اس پر لوگ کھانے کے لیے آئیں اور ان

صفحہ 216

میں احمد یا محمد کے نام والے ہوں مگر یہ کہ حق تعالیٰ اس گھر کو جس میں یہ دستر خوان کھانے کا بچھایا گیا ہو اسے روزانہ دو مرتبہ پاک نہ فرمائے۔ (مدارج النبوۃ جلد اوّل ص 247 ‘ احکام شریعت حصہ اوّل ص 81)

حاصل یہ کہ جس گھر میں ان پاک ناموں کا کوئی شخص ہو تو دن میں دو بار اس مکان میں رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے۔ ولہٰذا حدیث امیر المومنین کے الفاظ یہ ہیں: مامن مائدة وضعت فحضر عليها من اسمه احمد او محمد الا قدس الله ذالك المنزل كل يوم مرتين۔

(احکام شریعت حصہ اوّل ص 81)

نیز یہ بھی روایت ہے کہ جس گھر میں اسم رسول موجود ہو اس گھر میں تنگدستی نہیں آتی۔ چنانچہ صاحب نزہۃ المجالس حضرت علامہ عبدالرحمٰن صفوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے ’’کتاب البرکۃ‘‘ میں نبی کریم ﷺ کی ایک روایت دیکھی کہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جس گھر میں میرا نام ہو اس میں تنگدستی نہ آئے گی۔ (نزہۃ المجالس جلد دوم ص 218)

ان احادیث سے اس بات کا بھی ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کیوں نہ ہم اپنے مکانوں اور دوکانوں میں نام محمد ﷺ کے طغرے آویزاں کر کے اس نام پاک کی رحمت و برکت سے مالا مال ہوں جو کہ مکانوں ودکانوں میں باعث خیر و برکت کے علاوہ آفات وبلیات سے محفوظ و مامون رہنے کا موثر ذریعہ بھی ہوگا۔ اور یہ ظاہر بات ہے کہ جب خود خالق کائنات نے عرش و فرش پر اس نام پاک کو تحریر فرما کر کائنات کی ہر شے کو اس نام پاک سے زینت بخشی ہو نیز جنت کی ہر چیز اور حور وغلماں کی مقدس آنکھوں حتیٰ کہ عرش اعظم اور شجر طوبیٰ کے پتوں کو اس نام محمد ﷺ سے سجایا ہو تو کیوں کر یہ امر ہمارے لیے باعث خیر و برکت نہ ہو گا کہ ہم اپنے گھروں اور دکانوں وغیرہ میں حضور پرنور ﷺ کے نام پاک کے طغرے لگائیں؟ یقیناً یہ ہمارے لیے باعث خیر و برکت اور ذریعہ صد ہا نعمت و رحمت ہی ہوگا۔

حضرت علامہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ جو قوم کسی مشورے کے لیے جمع ہوئی اور ان میں کوئی شخص ایسا موجود ہے جس کا نام ’محمد‘ ہے تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان کے نام میں برکت عطا فرمائے گا۔ (مدارج النبوۃ جلد اوّل ص 243)

اسی طرح خرائطی و ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہما امیر المومنین سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ما اجتمع قوم قط فى مشورة وفيهم رجل اسمه محمد لم يدخلوه فى مشورتهم الا لم يبارك لهم فيه۔ یعنی جب کوئی قوم کسی مشورے کے لیے جمع ہو اور ان میں کوئی شخص ’محمد‘ نامی ہو اور اسے اپنے مشورے میں شریک نہ کریں تو ان کے لیے اس

صفحہ 217

مشورے میں برکت نہ رکھی جائے گی۔ (احکام شریعت حصہ اوّل ص 82‘ نزہۃ المجالس جلد دوم 218)

اسم محمد ﷺ کے احترام کے پیش نظر بزار نے ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا کہ جب تم بچہ کا نام محمد رکھو تو اسے نہ مارو اور نہ محروم رکھو۔ (خصائص الکبریٰ جلد دوم ص 433)

ایک اور جگہ حضرت علامہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم بچے کا نام ’محمد‘ رکھو تو اس کی عزت کرو‘ اسے محفل میں جگہ دو اور اسے چہرے کی بدصورتی کی بددعا نہ دو۔ (جامع صغیر)

اسی طرح حضرت علامہ عبدالرحمن صفوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ جب تم کسی کا نام ’محمد‘ رکھو تو اس کی تعظیم کیا کرو‘ اس کی نشست گاہ کشادہ رکھو اور اس سے منہ مت بگاڑو۔

(نزہۃ المجالس جلد دوم ص 218)

یوں ہی حاکم و خطیب نے تاریخ میں اور دیلمی نے مسند الفردوس میں امیر المومنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: اذا سميتم الولد محمدا فاكرموه واوسعوا له في المجلس ولا تقبحوا له وجها۔ یعنی جب لڑکے کا نام ’محمد‘ رکھو تو اس کی عزت کرو اور مجلس میں اس کے لیے جگہ کشادہ کرو اور اسے برائی کی طرف نسبت نہ کرو۔ یا اس پر برائی کی دعا نہ کرو۔ (احکام شریعت حصہ اوّل ص 82)

نیز بزار‘ ابن عدی‘ ابو یعلیٰ اور حاکم نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ اپنے بچوں کا نام ’محمد‘ رکھتے ہو‘ اس کے بعد ان بچوں پر لعنت کرتے ہو۔

(خصائص الکبریٰ جلد دوم ص 433)

صاحب روح البیان حضرت علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس بچے کا نام ’محمد‘ ہو اس کا ادب و احترام کیا جائے۔ غرض کہ اس کے بہت سے آداب ہیں۔ (تفسیر روح البیان)

یہی وجہ تھی کہ ہمارے اسلاف نے جب کبھی اپنی اولاد کا نام سرکار کے نام پر رکھا تو ہمیشہ اس نام کا ادب بھی برقرار رکھا۔

چنانچہ حضرت محبوب الہٰی خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ ذکر اللہ بالخیر نے یہ حکایت بیان فرمائی کہ شیخ نجیب الدین متوکل رحمۃ اللہ علیہ کے دو لڑکے تھے۔ ایک کا نام ’محمد‘ اور دوسرے کا ’احمد‘ تھا‘ شیخ نجیب الدین اگر ان پر خفا ہوتے تو فرماتے کہ اے خواجہ محمد تم نے ایسا کیا۔

صفحہ 218

اور اے خواجہ احمد یہ کام تمہارے لائق نہ تھا۔ گویا آپ کو کیسا ہی سخت غصہ ہوتا لیکن ہر حال میں آپ کے نام کا ادب ملحوظ رکھتے۔ (فوائد الفواد مجلس ص 35-283)

سچ فرمایا ہے شاعر قمر انجم صاحب نے:

زباں کو پاک جب تک کر نہ لیں اشک محبت سے
نبی کا نام لب پر اہل دل لایا نہیں کرتے

اسم محمد ﷺ کی برکت کے پیش نظر حضرت ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ نے بروایت ابن جریج حضرت نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ جس کے یہاں حمل ہو۔ اور وہ پختہ ارادہ کرلے کہ میں اس کا نام ’محمد‘ رکھوں گا تو خدا اسے لڑکا عطا فرمائے گا۔ (نزہۃ المجالس جلد دوم ص 217) سیرت حلبیہ جلد اول ص 284)

حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بیوی کے حمل سے لڑکا پیدا ہو تو وہ اپنا ہاتھ اپنی حاملہ بیوی کے پیٹ پر رکھ کر یہ کہے: ”اگر اس حمل سے میرے یہاں لڑکا پیدا ہوا تو میں اس کا نام محمد رکھوں گا“ تو اس (نیت کے اثر) سے اس کے یہاں لڑکا پیدا ہوگا۔ (سیرت حلبیہ جلد اول ص 283)

واقعات کی روشنی میں

حضرت ابو العباس البکری ناقل ہیں کہ محمد بن جریر طبری‘ محمد بن خزیمہ‘ محمد بن نصر اور محمد بن ہارون رویانی رحمۃ اللہ علیہم‘ یہ چاروں ’محمد‘ نامی محدثین اپنی طالب علمی کے زمانے میں مصر میں مجتمع ہوگئے۔ اور چاروں مفلسی و فاقہ کشی سے مجبور ولاچار ہوگئے۔ ایک دن ان چاروں نے یہ طے کیا کہ قرعہ نکالو۔ جس کے نام کا قرعہ نکلے وہ خدا تعالیٰ سے دعا مانگے۔ ..... چنانچہ جب قرعہ ڈالا گیا تو محمد بن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ کے نام کا قرعہ نکلا۔ اس پر انہوں نے کہا: ٹھہرو! میں نماز پڑھ کر دعا مانگوں گا۔ چنانچہ جیسے ہی انہوں نے دعا مانگی‘ ایک غلام موم بتی لیے ہوئے دروازے پر کھڑا نظر آیا۔ اور اس نے کہا: محمد بن نصر کون ہیں؟ لوگوں نے ان کی طرف اشارہ کیا تو اس نے ان کو پچاس دینار کی تھیلی دی۔ پھر باقی تینوں کو بھی ان کا نام پوچھ پوچھ کر پچاس پچاس دینار کی تھیلی دی اور کہا کہ امیر مصر سو رہا تھا تو اس نے خواب میں دیکھا کہ چار ’محمد‘ نام کے طالب علم بھوکے ہیں۔ چنانچہ اس نے آپ لوگوں کے لیے خرچ کے واسطے یہ تھیلی بھیجی ہے۔ اور میں آپ لوگوں کو قسم دیتا ہوں کہ جب یہ رقم خرچ ہوجائے تو آپ لوگ ضرور مجھے مطلع فرمائیں۔ (تذکرۃ الحفاظ جلد دوم ص 282 بحوالہ روحانی حکایات حصہ اوّل ص 100)

صاحب ”مدارج النبوۃ“ حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک

صفحہ 219

مرتبہ خواب میں حضور غوث الثقلین سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا کہ ان کے سامنے کھڑے ہیں۔ حاضرین مجلس نے عرض کیا کہ محمد عبدالحق (محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ) سلام عرض کر رہے ہیں۔ حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور شیخ محمد عبدالحق سے معانقہ فرمایا اور فرمایا ”تم پر آتش دوزخ حرام ہے۔“ بظاہر یہ بشارت ہی نام رکھنے کی برکت کے نتیجہ میں ہے۔ کیونکہ علماء کا اس پر اتفاق ہے۔ (مدارج النبوۃ جلد اول ص 247)

چنانچہ امام محمد بن سعید بوصیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

فان لی ذمۃ منہ بتسمیتی محمدا وہو اوفی الخلق بالذمم

ترجمہ: پس میرے لیے امان ہے حضور ﷺ کی ذاتِ رحمت سے بہ سبب میرے نام کے کہ میرا نام ’محمد‘ ہے اور وہ ذاتِ مقدس ﷺ تمام مخلوق میں سب سے زیادہ اپنا وعدہ وفا کرنے والی ذات ہے۔

شرح: اس کی شرح میں شارح قصیدہ بردہ شریف حضرت علامہ ابوالحسنات محمد احمد قادری رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس شعر میں حضرت شیخ شرف الدین ابی عبداللہ بن سعید بوصیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے باپ نے میرا نام ’محمد‘ رکھا۔ اور حدیث شریف میں حضور ﷺ نے وعدہ فرمایا ہے کہ جس کا نام ’محمد‘ ہوگا وہ دوزخ میں نہ جائے گا۔ اور حضور سے زیادہ وعدہ وفا کرنے والا دنیا میں کون ہو سکتا ہے؟ تو مجھے اس پر گھمنڈ اور ناز ہے کہ میرا نام ’محمد‘ ہے۔ (طیب الوردہ شرح قصیدہ بردہ ص 380)

الغرض ان تمام احادیث سے اور ہمارے اسلاف کے ان ارشادات سے آپ یہ اندازہ کریں کہ سرکار مدینہ ﷺ کے نام اقدس پر اپنا نام رکھنے میں کس قدر برکتیں و رحمتیں اور بیش بہا نعمتیں پوشیدہ ہیں۔ کاش ! آج لوگ اپنی اولاد کے نام رکھنے میں جدت اور نت نئے ناموں کے پیچھے نہ دوڑ کر بے معنی اور بے مفہوم والے نام رکھنے کی بجائے اپنے رسول اور اللہ کے محبوب ﷺ کے نام نامی کو اپناتے ہوئے اپنے لڑکوں کا نام حضور ﷺ کے نام پر رکھتے، جس سے ایک طرف اتباع نام نامی ہوتی تو دوسری طرف عظیم ترین برکتوں و بیش بہا نعمتوں اور احادیث طیبات کی روشنی میں مژدۂ شفاعت، جہنم سے نجات اور بہشت کی بشارت بھی نصیب ہوتی۔ نیز اپنے معاشرے و ماحول اور مکانوں میں دن رات رحمتوں و برکتوں کی بارش بھی ہوتی اور خداوند قدوس کا خاص فضل و کرم بھی ہوتا۔ اور اس کے علاوہ چہروں کی زینت اور گھروں کی رونقوں میں اضافہ ہوتا اور ان بے شمار احادیث طیبات پر عمل بھی ہوتا۔

نبی کریم ﷺ کے اسم مبارک پر نام رکھنے سے متعلق امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث نقل فرمائی ہے: قال ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم سموا

صفحہ 220

باسمی ولا تكتنوا بکنیتی (صحیح بخاری جلد دوم باب کنیت النبی ﷺ) یعنی فرمایا ابوالقاسم ﷺ نے کہ میرا نام رکھ لیا کرو۔ لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو۔ (بخاری شریف جلد دوم ص 238)

حضور ﷺ کی کنیت ”ابوالقاسم“ ہے۔ اور نام محمد و احمد ہے۔ ﷺ

مسئلہ

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء سرکار کے اسم مبارک اور آپ کی کنیت دونوں کو جمع کر کے نام رکھنے کو منع فرماتے ہیں۔ اور ایک ایک کر کے رکھنے کو جائز کہتے ہیں۔ (یعنی یا تو ابوالقاسم نام رکھو یا محمد نام رکھو۔ دونوں کو ملا کر محمد ابوالقاسم ہرگز نہ رکھو۔) یہ قول زیادہ صحیح ہے۔ (مدارج النبوۃ جلد اوّل ص 247)

یونہی نام محمد (ﷺ) کے ساتھ لفظ صاحب کا ملانا (یعنی محمد صاحب کہنا) آریوں اور پادریوں کا شعار ہے۔ جیسے شیخ صاحب پنڈت صاحب مرزا صاحب لہٰذا اس سے احتراز چاہیے۔ ہاں یوں کہا جائے کہ حضور ﷺ ہمارے صاحب ہیں آقا ہیں مالک ومولیٰ ہیں۔

(فتاویٰ رضویہ جلد نمبر 6 ص 120)

بہتر یہی ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے۔ اس کے ساتھ صاحب جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا انہیں اسمائے مبارکہ کے وارد ہوئے ہیں۔ (احکام شریعت حصہ اوّل ص 83)

ہر درد کی دوا ہے نام مصطفےٰ محمد ﷺ

قرآن حکیم میں اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے: اَلَا بِذِکْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ

(سورۃ رعد آیت 28)

ترجمہ: خبردار اللہ کے ذکر سے دل چین میں آتے ہیں۔ (کنزالایمان)

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ بھی حضور ﷺ کی کھلی نعت ہے۔ اس میں مسلمانوں کو دل کی بے قراری اور بے چینی کا علاج بتایا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ ذکر اللہ سے دل چین میں آتے ہیں۔ اور یہاں ذکر اللہ سے مراد یا تو اللہ کی ذات ہے یا ذکر اللہ حضور علیہ السلام کا اسم شریف ہے۔ کیونکہ ذکر اللہ حضور ﷺ کا نام پاک بھی ہے۔ دیکھو دلائل الخیرات حزب اوّل۔

سَيِّدُنَا ذِکْرُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (دلائل الخیرات باب اسماء النبی ﷺ)

صفحہ 221

وَكُلَّمَا ذَكَرَهُ الذَّاكِرُوْنَ وَغَفَلَ عَنْ ذِكْرِهِ الْغَافِلُوْنَ (دلائل الخیرات الحزب الاول) ترجمہ: اور جب یاد کریں آپ (ﷺ) کو یاد کرنے والے اور غافل رہیں آپ کے ذکر سے غفلت برتنے والے۔

ویسے گذشتہ صفحات میں بھی یہ بات آپ ملاحظہ کرچکے ہیں کہ حضور ﷺ کا ذکر اللہ ہی کا ذکر ہے۔

آگے فرماتے ہیں حکیم الامتؒ کہ اس آیت کے اگر پہلے معنی کیے جائیں تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ کی یاد سے دل کو چین آتا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ اکثر اوقات دل کی بے چینی اور بے قراری گناہوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ہر چہ آید بر تو از ظلمات و غم
ایں ز بے باکی و گستاخی ست ہم
ابر نہ آید از پئے منع زکوٰۃ
وز زنا افتد وبا اندر جہات

قرآن حکیم میں رب غفور فرماتا ہے: وَمَا اَصَابَكُمْ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ

ترجمہ: جو تم کو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی سے ہے اور رب تو بہت کو معاف فرما دیتا ہے۔ اور اللہ کی یاد گناہوں کے لیے ایسی ہے جیسا کہ پلیدی کے لیے دریا کا پانی کہ جہاں گندی چیز کو دھویا، وہ پاک ہوگئی۔ اسی طرح گناہوں کا میل اور گندگی اللہ کی یاد سے دور ہوتی ہے۔ گناہ معاف ہوئے اور غم دور ہوئے۔

اور اگر دوسرے معنی کیے جائیں تو آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ ذکر اللہ یعنی رسول اللہ ﷺ سے بے چین دل کو چین ہوتا ہے حضور علیہ السلام کو ذکر اللہ اس لیے کہتے ہیں کہ آپ کو دیکھ کر رب یاد آتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے: اِنَّمَا اَنْتَ مُذَكِّرٌ اے محبوب آپ ہی اللہ کی یاد دلانے والے ہیں۔ ذکر اللہ یعنی اللہ کو یاد دلانے والے۔ حضور علیہ السلام سے بے چین دل اس لیے چین میں آتے ہیں کہ قاعدہ ہے: لِقَاءُ الْخَلِیْلِ شِفَاءُ الْعَلِیْلِ۔ یعنی دوست کی ملاقات بیمار کی شفاء ہے۔ اور حضور علیہ السلام ہر مسلمان کے محبوب ہیں۔ تو لازمی ہے کہ ان کا نام مسلمان کا چین ہو۔ مریض عشق کی دوا ذکر حبیب ﷺ ہے۔

(شانِ حبیب الرحمٰن ص 87-85)

صفحہ 222

ان کا مبارک نام بھی بے چین دل کا چین ہے جو مریض لا دوا ہو اس کی دوا یہ ہی تو ہیں اور یہ عمل مجرب ہے کہ کسی کو اختلاج قلب کا مرض ہو تو مریض کو چاہیے کہ اپنے دل کی جگہ پر یہ آیت أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ انگلی سے لکھ لے یا لکھوا لے اور ”یا محمد ﷺ“ کی بار بار تلاوت کرے۔ انشاء اللہ آرام ہوگا۔ (شان حبیب الرحمٰن ص 87)

چنانچہ شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے:

آفتیں ٹل جائیں گی سب گردشیں تھم جائیں گی
صدق دل سے کرلے واحد ورد نامِ مصطفٰے (ﷺ)

اس لفظ ”محمد“ میں بہت سی تاثیرات ہیں۔ اگر کسی کے فقط لڑکیاں ہوتی ہوں تو وہ اپنی حاملہ بیوی کے شکم پر انگلی سے یہ لکھ دیا کرے: مَنْ كَانَ فِي هٰذَا الْبَطْنِ فَاسْمُهُ مُحَمَّدٌ۔ چالیس روز تک یہ عمل کیا جائے مگر ابتدائے حمل ہو تو انشاء اللہ لڑکا ہی پیدا ہوگا۔

(تفسیر روح البیان شان حبیب الرحمٰن ص 142)

فتاویٰ امام شمس الدین سخاوی میں ہے کہ ابو شعیب حرانی نے امام عطا (تابعی جلیل الشان استاذ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ) سے روایت کی ہے: من اراد ان يكون حمل زوجة ذكر فليضع يده على بطنها ويقل ان كان ذكرا فقد سميته محمدا فانه يكون ذكرا۔ یعنی جو یہ چاہے کہ اس کی عورت کے حمل میں لڑکا ہو اسے چاہیے کہ اپنا ہاتھ عورت کے پیٹ پر رکھ کر کہے: ان كان ذكر افقد سميته محمدا (اگر لڑکا ہے تو میں نے اس کا نام محمد رکھا) انشاء اللہ العزیز لڑکا ہی ہوگا۔ (احکام شریعت حصہ اوّل ص 83)

حضرت سیدنا امام حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس شخص کے بیوی کے حمل ہو اور وہ یہ نیت کرے کہ وہ اس (ہونے والے بچے) کا نام ”محمد“ رکھے گا تو چاہے وہ بچہ لڑکی ہی کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ اس کو لڑکا بنا دیتا ہے۔

(سیرت حلبیہ جلد اوّل ص 284)

اس حدیث کے راویوں میں سے ایک نے کہا کہ میں نے اپنے یہاں سات مرتبہ یہ نیت کی اور سب کا نام ”محمد“ ہی رکھا۔ (یعنی ہر مرتبہ اس حدیث کی سچائی کا تجربہ ہوا کہ لڑکا ہی پیدا ہوا۔ اور میں نے نیت کے مطابق ہر ایک کا نام ”محمد“ رکھا۔ (سیرت حلبیہ جلد اوّل ص 284)

ایک مرتبہ حضرت جلیلہ بنت عبدالجلیل رضی اللہ عنہا نے سرکار سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں ایسی عورت ہوں کہ میرے بچے زندہ نہیں رہتے۔ آپ نے فرمایا: خدا تعالیٰ سے نذر کر کہ جو

صفحہ 223

لڑکا اللہ تعالیٰ تجھے عطا فرمائے اس کا نام محمدؐ رکھو گی۔ چنانچہ اس عورت نے ایسا ہی کیا۔ اور اس کے نتیجہ میں بفضلِ خدا اس کا وہ بچہ زندہ رہا اور اس نے غنیمت حاصل کی۔

(نزہۃ المجالس جلد دوم ص 217 سیرت حلبیہ جلد اوّل ص 284)

چنانچہ وصی سیتا پوری صاحب نے کیا ہی خوب شعر ارشاد فرمایا ہے:

حاصل ہر دعا آپ کا نام ہے عین مشکل کشا آپ کا نام ہے

نیز روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مرتبہ پاؤں سن ہو گیا۔ دوستوں نے کہا: اُذْکُرْ اَحَبَّ النَّاسِ اِلَیْکَ یعنی ”جو سب سے زیادہ آپ کو محبوب ہے اسے یاد کیجئے۔“ حضرت عبداللہ ابن عمر نے فوراً نعرہ لگایا: یا محمد (ﷺ) بس اتنا ہی کہنا تھا کہ پاؤں کی سب تکلیف جاتی رہی۔ (خطبات حصہ اوّل ص 143)

چنانچہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہٗ فرماتے ہیں:

پریشانی میں نام ان کا دلِ صد چاک سے نکلا
اجابت شانہ کرنے آئی گیسوئے توسل کو

یہ روایت کتاب ”ہدیۃ المہدی“ میں بھی درج ہے جو کہ حضراتِ اہل حدیث کی بڑی ہی معتبر کتاب مانی جاتی ہے، جسے مولوی وحید الزماں کیرانوی نے تالیف کیا ہے۔ کتاب ”ہدیۃ المہدی“ کی عبارت اس طرح ہے: وقال ابن عمر حین زل قدمہ وامحمداہ (ہدیۃ المہدی ص 23) اور اس روایت کے علاوہ ایک دوسری روایت بھی اس کتاب میں لکھی ہے کہ حضور ﷺ نے ایک نابینا صحابی کو ایک دعا سکھائی تھی جس میں یہ الفاظ موجود تھے: یا محمد انی اتوجہ بک الی ربی

(ہدیۃ المہدی ص 23، خطبات حصہ اوّل ص 143)

٭......٭......٭

صفحہ 224

خصائص اسم محمد ﷺ

ترجمہ: مولانا محمد اکرام اللہ زاہد

حضور سید عالم نور مجسم ﷺ کا اسم گرامی ”محمد“ بھی آپ ﷺ کی طرح اپنے دامن میں بے شمار خصائص و فضائل سموئے ہوئے ہے دنیائے اسلام کے عظیم محدث حضرت علامہ حافظ ابن حجر قسطلانی رحمۃ اللہ (المتوفی: 943ھ) نے حضور سید عالم ﷺ کے اسمائے گرامی کے بہت سارے فضائل و خصائص اپنی شہرہ آفاق تصنیف لطیف ”المواہب اللدنیہ“ کے ذاتی اسمائے گرامی ”محمد“ ، ”احمد“ ﷺ سے متعلق ساری بحث کو اردو کے قالب میں ڈھال کر اردو خوان طبقہ کے لیے پیش کرنے کی سعادت پا رہا ہوں۔ ملاحظہ ہو:

رسول اللہ ﷺ کی مبارک کنیت

حضرت محمد ﷺ کی مشہور کنیت ”ابوالقاسم“ ہے جو متعدد صحیح احادیث میں مذکور ہے۔ اور آپ ﷺ کی کنیت ”ابو ابراہیم“ بھی ہے جس کی دلیل سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ حضرت جبرائیل امین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہِ عالیہ میں تشریف لائے اور یوں کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا اَبَا اِبْرَاهِیْمَ ”اے ابوابراہیم آپ پر سلام ہو۔“

(رواہ البیہقی)

اور ابن دحیہ وغیرہ کے قول کے مطابق آپ ﷺ کی کنیت ”ابوالارامل“ اور ”ابوالمومنین“ بھی وارد ہے۔

صفحہ 225

اسم ”احمد“ اور ”محمد“ کی تشریح

یہ امر قابل تسلیم ہے کہ ہم یہاں تمام اسمائے شریفہ کی شرح کو کما حقہ احاطہ تحریر میں نہیں لا سکتے، کیونکہ مضمون کی طوالت ہماری غرض یعنی اختصار سے عدول کا موجب بنتی ہے۔ پھر بھی ہم ان اسمائے مبارکہ کی شرح کو زیر تحریر لانے کی کوشش کرتے ہیں جو حضور نبی کریم ﷺ کے خصائص پر دلالت کرتے ہیں یعنی جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ہی مخصوص فرمایا۔ ہم اس امر عظیم میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد کے طلبگار ہیں۔

حضور سید دو عالم ﷺ کا ذاتی اسم گرامی ”حمد“ کے معنی سے ماخوذ ہے۔ اور آپ کے تمام اوصاف کے نام اسی کی طرف راجع ہیں۔ اور یہ اسم مبارک معنی کے اعتبار سے تو واحد ہے اور اشتقاق کے اعتبار سے دو صیغے ہیں۔

یعنی اس سے آگے کوئی اور منتہی نہیں۔ اور یہ آپ ﷺ کا اسم گرامی ”احمد“ ہے۔

سے باہر ہو۔ اور آپ ﷺ کا وہ اسم مبارک ”محمد“ ہے۔

علامہ سہیلی کی تقریر

علامہ سہیلی کہتے ہیں کہ ”محمد“ صفت سے منقول ہے اور لغت میں محمد اس کو کہتے ہیں جس کی بار بار تعریف کی جائے:

اَلَّذِیْ یُحْمَدُ حَمْدًا بَعْدَ حَمْدٍ ”وہ ہستی جس کی تعریف پر تعریف کی جائے۔“

اور یہ ”مفعل“ کا صیغہ اسی لیے استعمال ہوتا ہے جس کے لیے فعل کا یکے بعد دیگرے تکرار ہو۔ جیسے مضرب (بہت مارا ہوا) اور ممدح (بہت تعریف کیا ہوا)۔

اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اسم مبارک ”احمد“ جو کہ حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ علیٰ نبینا و علیہما الصلوٰۃ والسلام کی زبان پر جاری ہوا۔ یہ بھی اس صفت سے منقول ہے جس کا معنی تفضیل ہے تو احمد کا معنی یہ ہوا کہ تمام تعریف کرنے والوں سے زیادہ اپنے پروردگار کی تعریف کرنے والا اور یہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خاصہ ہے کیونکہ اللہ رب العزت مقام محمود میں آپ ﷺ پر ان محامد کا انکشاف فرمائیں گے جو آپ سے پہلے کسی پر واضح نہ ہوئے اور حضور نبی کریم ﷺ انہی محامد کے ساتھ اپنے

صفحہ 226

پروردگار کی تعریف کریں گے اور اسی وجہ سے ہی لواء الحمد بھی آپ کے دستِ اقدس میں تھمایا جائے گا۔ اسم ”محمد“ بھی صفت سے ہی منقول ہے‘ اور وہ ”محمود“ کے معنی میں ہے۔ لیکن اس میں مبالغہ اور تکرار پایا جاتا ہے۔ تو محمد وہ ہستی ہے جس کی بار بار تعریف کی جائے۔ جیسے مکرم اسے کہتے ہیں جس کی بار بار تعظیم کی جائے اور اسی طرح ممدح وغیرہ۔ لہٰذا اسم محمد بھی اپنے معنی کے مطابق ہوا۔ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سب سے پہلے یہ نام مبارک اپنے حبیب لبیب ﷺ کا رکھا‘ جو کہ آپ کے نبوت کے ناموں میں سے ایک ہے‘ کیونکہ یہ نام آپ پر کما حقہ صادق آتا ہے۔ پس حضور سرورِ کائنات ﷺ نورِ ہدایت ہونے اور علم و حکمت کی تعلیم دینے کے سبب دنیا میں محمود ہیں اور آخرت میں شفاعتِ عظمیٰ کی بدولت۔ لہٰذا احمد کے معنی کا تکرار ہو گیا جیسا کہ لفظ کا تقاضا ہے۔

یہ امر بھی قابلِ انکشاف ہے کہ محمد اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک احمد نہ ہو۔ اور اپنے رب کی حمد اور شرف و عظمت کا اعلان نہ کرے‘ یہی وجہ ہے کہ نامِ احمد نامِ محمد پر مقدم ہے‘ سیّدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی نام مبارک کا ذکر کرتے ہوئے یوں گویا ہوئے:

وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِيْ مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ اَحْمَدُ

(سورۃ الصف: 6)

”اور بشارت سنانے والا ہوں اس رسول کی جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔“

اور سیّدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ یہ احمد کی امت ہے تو آپ نے بھی اسی نام مبارک کا ذکر کرتے ہوئے یوں عرض کیا:

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِى مِنْ أُمَّةِ أَحْمَدَ

”اے اللہ! مجھے احمد (ﷺ) کا امتی بنادے۔“

تو معلوم ہوا کہ محمد کے ذکر سے احمد نام کا ذکر پہلے کیا گیا‘ کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے رب کی تعریف اس سے پہلے کی کہ لوگ آپ کی تعریف کریں۔ تو جب آپ ﷺ نے فرشِ زمین کو شرفِ قدم بخشا اور مبعوث ہوئے تو آپ بالفعل محمد ہو گئے۔ اور اسی طرح ہی شفاعت میں بھی‘ کہ آپ ﷺ اپنے رب کی ان محامد کے ساتھ تعریف کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر ہی واضح فرمائے تو آپ تمام تعریف کرنے والوں سے اپنے رب کی زیادہ تعریف کرنے والے ٹھہریں گے‘ پھر آپ (ﷺ) شفاعت کریں گے اور اس شفاعت پر آپ کی تعریف کی جائے گی۔

اب غور کیجئے کہ یہ نام مبارک ذکر و وجود اور دنیا و آخرت میں دوسرے نام مبارک سے پہلے کس طرح مرتب ہوا‘ اور ان دو ناموں کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ خاص فرمانے کی حکمت الٰہیہ

صفحہ 227

بھی آپ پر واضح ہوگئی۔“

قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ کی ایمان افروز تقریر

قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ ”حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام محمد ہونے سے پہلے احمد ہیں‘ جیسا کہ وجود میں واقع ہے۔ کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مبارک نام احمد پہلی کتابوں میں موجود ہے اور آپ کا مبارک نام محمد قرآن حکیم میں وارد ہوا۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے رب کی تعریف اس سے پہلے کی کہ لوگ آپ کی تعریف کریں۔“

قاضی عیاض کا موقف علامہ سہیلی کے موافق ہے اور فتح الباری میں بھی یہی مذکور اور مسلم ہے‘ جو نام احمد کی سبقیت کا تقاضا کرتا ہے۔ جبکہ ابن قیم کا دعوٰی اس کے خلاف ہے۔

علامہ ابن قیم کا موقف

ابن قیم کا اسم ”احمد“ کے بارے میں یہ موقف ہے کہ ”یہ بمعنی مفعول ہے اور تقدیر عبارت یوں ہوگی: احمد الناس‘ یعنی لوگوں میں سے افضل اور سب سے زیادہ حقدار کہ اس کی تعریف کی جائے‘ تو یہ بھی معنی کے اعتبار سے محمد ہی ہوگا‘ لیکن ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ محمد وہ ہے جس کے بیشمار خصائل حمیدہ پر تعریف کی جائے اور احمد وہ ہے جس کی محض ماسوا سے فضیلت کی بناء پر تعریف کی جائے۔ پس محمد کثرت و کمیت میں اور احمد صفت و کیفیت میں ہے۔ اور وہ اپنے غیر سے کہیں زیادہ حمد کا مستحق ہے یعنی اس حمد سے افضل ہے جو کسی بشر نے کی۔ لہٰذا یہ دونوں اسم صیغہ مفعول پر واقع ہیں۔

اور کہا کہ اس صورت میں حضور علیہ السلام کی مدح میں مبالغہ اور معنی میں کمال ہے‘ اگر فاعل کا معنی مراد ہوتا تو احمد کی بجائے ”حماد“ زیادہ موزوں تھا جس کا معنی ”بہت زیادہ تعریف کرنے والا“ ہے اور یقیناً آپ تمام لوگوں سے زیادہ اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں‘ اگر اس اعتبار سے آپ کا نام احمد ہے تو ”حماد“ اس سے بہتر تھا‘ جیسا کہ آپ کی امت کا نام ”حمادین“ رکھا گیا۔ لہٰذا یہ دونوں نام آپ ﷺ کے ان اخلاق اور خصائل محمودہ سے مشتق ہیں جن کی بدولت آپ مستحق ہوئے کہ آپ کا نام محمد اور احمد رکھا جائے۔“

(زاد المعاد: 93/1)

قاضی عیاض کا مقولہ

قاضی عیاض ”تشریفہ تعالیٰ لہ علیہ الصلوٰۃ والسلام بما سماہ بہ من اسمائہ الحسنیٰ“ کے باب میں فرماتے ہیں: کہ احمد حمد معروف سے مشتق ”اکبر“ کے معنی میں ہے اور حمد مجہول

صفحہ 228

سے مشتق ”اجل“ کے معنی میں۔

اسم محمد کے خصائص

حضور سرور کائنات ﷺ کے مبارک نام ”محمد“ کے کئی خصائص ہیں۔ جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔

کے موافق رہے۔ اور اسم جلالت کے حروف کی تعداد محمد کے مطابق ہو۔

عظمت بخشی ہے یعنی اشرف المخلوقات بنایا ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آدمی کی صورت اس مبارک لفظ (محمد) کی شکل پر ہے۔ یعنی پہلی میم اس کا سر حاء اس کے دونوں بازو دوسری میم اس کی ناف اور دال اس کے دونوں پیر۔ مروی ہے کہ ”دخول جہنم کا مستحق بھی جہنم میں داخل نہیں ہوگا مگر اس صورت میں کہ اس کی صورت بگاڑ دی جائے گی کیونکہ اس مقدس لفظ کی صورت کی تعظیم لازم ہے۔“

مندرجہ بالا دونوں خصوصیتوں کو علامہ ابن مرزوق نے بیان کیا ہے اور ان کے ثبوت پر دلیل پیش کرنے میں سخت تکلف ہے۔ اور پہلی خصوصیت کو ابن عماد نے بھی اپنی کتاب ”کشف الاسرار“ میں بیان کیا ہے۔

”محمود“ سے مشتق کیا ہے۔ جس کی دلیل سیدنا حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا کلام ہے:

أغر عليه للنبوة خاتم من الله من نور يلوح و يشهد
وضم الاله اسم النبى الى اسمه اذا قال فى الخمس المؤذن أشهد
وشق له من اسمه ليجله فذوالعرش محمود وهذا محمد

”اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نورانی مہر نبوت لگا دی گئی جو آپ کی ختم نبوت کی واضح دلیل ہے۔ اور معبود حقیقی نے نبی (ﷺ) کے نام کو اپنے نام کے ساتھ ملا دیا۔ جب موذن پانچوں وقت کہتا ہے اشھد (ان محمدا رسول اللہ) اور اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام اپنے نام سے مشتق کیا تا کہ اس کی بزرگی اور عظمت میں اضافہ ہو پس صاحب عرش محمود ہے اور یہ محمد ہیں۔“ (ﷺ)

صفحہ 229

امام بخاری نے اپنی ”تاریخ صغیر“ میں علی بن زید کے طریق سے یہ نقل کیا ہے کہ حضرت ابوطالب یوں کہا کرتے تھے:

وشق له من اسمه ليجله فذوالعرش محمود وهذا محمد

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق کائنات سے بیس لاکھ سال پہلے یہ مبارک نام اپنے حبیب ﷺ کے لیے منتخب فرمایا۔ یہ روایت ابونعیم کے طریق سے مناجات موسیٰ میں منقول ہے۔

ابن عساکر نے حضرت کعب احبار سے روایت کیا: کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام پر جمیع انبیاء و مرسلین کی تعداد کے مطابق دستاویز نازل فرمائیں۔ پھر آپ نے وہ اپنے بیٹے حضرت شیث (علیہ السلام) کے سپرد کیں اور کہا: اے بیٹے! تم میرے بعد میرے خلیفے ہو لہٰذا تقویٰ کو قائم رکھنے اور اس کے ساتھ وابستہ رہنے کے لیے ان کو پکڑ لو۔ اور جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو تو اس کے ساتھ اسم محمد کا بھی ذکر کرو میں نے یہ مبارک نام عرش کے پائے پر لکھا ہوا دیکھا ہے اور میں روح اور مٹی کے درمیان تھا۔ پھر میں نے آسمانوں کی سیر کی تو میں نے افلاک میں کوئی ایسی جگہ نہیں دیکھی جس پر محمد کا نام نہ لکھا ہو اور میرے پروردگار نے مجھے جنت میں سکونت بخشی تو میں نے جنت میں کوئی محل اور کوئی کمرہ ایسا نہیں دیکھا جس پر محمد کا نام نہ لکھا ہو حتیٰ کہ میں نے حوران بہشت کی گردنوں پر گلشن جنت کی ٹہنیوں کے پتوں پر شجرِ طوبیٰ سدرۃ المنتہیٰ کے پتوں پر جنت کے پردوں کے کناروں پر اور ملائکہ کی آنکھوں کے درمیان نام محمد کو لکھا ہوا دیکھا ہے۔ پس اس نام کا ذکر اکثر ہے فرشتے ہر لمحے اس نام کے ذکر میں مگن رہتے ہیں۔

بدا مجده من قبل نشأة آدم فأسمائه في العرش من قبل تكتب

”آپ ﷺ کی بزرگی و برتری تخلیق آدم سے پہلے کی ظاہر ہے اور آپ کے اسمائے مبارکہ عرش میں اس سے پہلے کے لکھے جا چکے ہیں۔“

ہم نے حسن بن عرفہ بن یزید العبدی کے رسالہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کو روایت کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا:

لَمَّا عُرِجَ بِيْ إِلَى السَّمَاءِ مَا مَرَرْتُ بِسَمَاءٍ إِلَّا وَجَدْتُ أَيْ عَلِمْتُ اِسْمِيْ فِيْهَا مَكْتُوْبًا: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَأَبُوْبَكْرٍ خَلْفِيْ

(رواہ ابویعلی و الطبرانی والبزار)

”جب مجھے آسمانوں کی معراج ہوئی تو میں جس آسمان سے بھی گزرا وہاں ہی میں نے دیکھا کہ میرا نام لکھا ہوا ہے: محمد اللہ کے رسول ہیں اور ابوبکر میرا خلیفہ

صفحہ 230

ہے ۔“

وہ اخبار جن کی صحت میں نظر ہے

”محمد متقی‘ اصلاح کرنے والے اور امانت دار ہیں ۔“

الخط میں یہ لکھا ہوا تھا: بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ جَاءَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَكَتَبَهُ مُوْسٰى بْنُ عِمْرَانَ ”اے اللہ تیرے نام کے ساتھ واضح عربی زبان میں تیرے رب کی طرف سے حق آیا‘ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد اللہ کے رسول ہیں‘ اور اس کو موسیٰ بن عمران نے لکھا۔“

الہ الا اللہ اور دوسرے پر محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا۔

محمد رسول اللہ ۔

گھرے ہوئے تھے کہ سخت طوفان نے ہمیں آلیا تو ہم ایک جزیرے میں پہنچ گئے وہاں ہم نے سرخ گلاب کا ایک پھول دیکھا جس کی خوشبو نہایت عمدہ اور سونگھنے میں بڑی دلکش تھی اور اس میں سفید رنگ کا یہ لکھا ہوا تھا: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور ایک سفید رنگ کا پھول تھا جس پر زرد رنگ میں یہ لکھا ہوا پایا: بَرَاءَةٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ إِلَى جَنَّاتِ نَعِيْمٍ، لَا اله الا الله محمد رسول الله ۔

میں ایک سیاہ رنگ کا بڑا پھول دیکھا جس کی خوشبو بڑی نفیس اور خوش کن تھی‘ اس پر سفید رنگ میں یہ تحریر تھا: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ابوبکر الصدیق‘ عمر الفاروق ۔ کہتے ہیں کہ مجھے اس میں شک ہوا کہ یہ مصنوعی ہے تو میں نے اس کا اندازہ کرنے کے لیے پتے کو ٹٹولا اور غور کیا تو وہ

صفحہ 231

مصنوعی چیز کی طرح نہ کھلا۔ وہ یقیناً قدرتی امر تھا‘ اس بستی میں اس قسم کی کئی چیزیں موجود تھیں اور وہاں کے باشندے پتھر کو پوجتے تھے وہ اللہ تعالیٰ کو نہیں پہچانتے تھے۔

سرزمین میں داخل ہوا‘ تو ایک شہر کی طرف ہولیا‘ جس کو نملہ یا مخملہ کہا جاتا ہے۔ میں نے وہاں ایک بہت بڑا درخت دیکھا جس پر بادام کی طرح کا چھلکے دار پھل لگا ہوا ہے‘ جب میں نے اس کا ایک دانہ توڑا تو اس سے ایک سبز رنگ کا لپٹا ہوا پتا نکلا‘ جس پر سرخ رنگ میں یہ تحریر تھا: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ اور اہل ہند اس کو بطور تبرک استعمال کرتے اور جب بارش نہ ہوتی تو اس کے توسل سے بارش طلب کرتے۔

ایک درخت دیکھا‘ جس پر بادام کی طرح چھلکے دار پھل تھا‘ جب اس نے توڑا تو اس سے ایک تروتازہ سبز رنگ کا پتا نکلا‘ جس پر جلی حروف سے سرخ رنگ میں یہ تحریر تھا: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ اور وہاں کے لوگ اس سے برکت حاصل کرتے تھے۔ کہتے ہیں: کہ میں نے یہ واقعہ ابو یعقوب الصباء سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: کتنا عظیم امر ہے‘ میں نہر ابلہ پر شکار کر رہا تھا کہ ایک مچھلی میرے جال میں آئی‘ جس کے دائیں پہلو پر لا الہ الا اللہ اور بائیں پر محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا‘ جب میں نے یہ دیکھا تو اس نام کی تعظیم کے لیے میں نے اسے پانی میں پھینک دیا۔

شخص مچھلی لایا تو اس نے مچھلی کے ایک کان کی لو پر لا الہ الا اللہ‘ اور دوسری پر محمد رسول اللہ لکھا ہوا دیکھا۔

کی قدرتی کئی لکیریں تھیں‘ اور ہر ایک لکیر کی ایک طرف عربی رسم الخط میں اللہ‘ اور دوسری جانب عزاسمہ تحریر تھا۔ اور یہ تحریر اتنے واضح خط میں تھی کہ کوئی بھی خط سمجھنے والا اس میں شک نہ کرتا۔

کے ساتھ سیاہ رنگ میں تحریر تھا‘ محمد۔

صفحہ 232

ایک جزیرہ میں بہت بڑا درخت دیکھا، جس کے پتے بڑے اور خوشبودار تھے، جن کی سبز رنگت میں سرخ اور سفید رنگ کی کتابت واضح تھی اور قدرتی ہونے کا بین ثبوت تھی، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے بنایا، ہر پتے میں تین سطور تھیں۔ پہلی پر: لا الہ الا اللہ، دوسری پر: محمد رسول اللہ اور تیسری پر: اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْإِسْلَامُ تحریر تھا۔

زمانہ جاہلیت اور اسم محمد

ابن تیمیہ کہتے ہیں: کہ یہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت کے ناموں میں سے ہے۔ اور آپ سے پہلے یہ ”محمد“ نام کسی کا نہیں رکھا گیا۔ یہ اس مبارک نام کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت ہے۔ جس طرح حضرت یحیٰی علیہ السلام کے نام کی حفاظت کی گئی کہ آپ سے پہلے یہ نام ”یحیٰی“ کسی کا نام رکھا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ نام مبارک پہلی کتابوں میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا رکھا، اور انبیاء نے اسی نام کے ساتھ بشارتیں دیں۔ اگر یہ نام لوگوں میں مشترک ہوتا تو ضرور شبہ واقع ہوتا، (کہ کون نبی ہے) لیکن جب آپ کا زمانہ قریب ہوا اور اہل کتاب نے آپ کی قرب ولادت کی بشارتیں دیں، تو لوگوں نے اپنی اولاد کا یہ نام رکھنا شروع کر دیا، اس امید پر کہ شاید یہ وہی ہو، جس کی خوشخبریاں مل رہی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ اپنی رسالت کو کہاں رکھنا ہے:

ماكل من زارالحمى سمع الندا من اهله اهلا بذاك الزائر

یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔

قاضی عیاض نے ان کے تعداد چھ بتائی ہے اور یہ بھی کہا: کہ ساتواں کوئی نہیں۔ ابو عبد اللہ بن خالویہ (متوفی ۳۷۰) نے اپنی کتاب ”لیس“ میں، اور علامہ سہیلی نے ”الروض“ میں ذکر کیا ہے کہ نبی ﷺ سے پہلے عرب میں محمد نام تین افراد کے علاوہ کسی کا نہ تھا۔

حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: کہ ”یہ حصر مردود ہے۔ اور تعجب تو یہ ہے کہ سہیلی کا طبقہ قاضی عیاض سے متاخر ہے، شاید وہ اس کے کلام سے واقف نہ ہو۔“

اور فرماتے ہیں: کہ ”میں نے اس نام کے لوگوں کو ایک الگ رسالہ میں جمع کیا۔ تو ان کی تعداد بیس تک پہنچ گئی۔ باوجودیکہ بعض میں تکرار اور بعض میں وہم تھا۔ پھر ان سے تلخیص (چھانٹی) کی، تو پندرہ افراد رہ گئے۔ جن کے اسماء مندرجہ ذیل ہیں ۔

صفحہ 233

البکری العتواری۔

کیونکہ یہ شخص نبی کریم ﷺ کے بیس سال سے زائد عرصہ بعد پیدا ہوا اور محمد بن محمد، جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے؛ یہ قاضی عیاض کے نزدیک چھٹا ہے اور کوئی ساتواں فرد نہیں۔ پہلے مذکورہ فرد کے علاوہ کسی نے اسلام کا دور نہیں پایا۔ تاریخ اسی بات کا ہی ثبوت دیتی ہے۔ اس کے علاوہ چوتھا مذکورہ نام ”محمد بن براء“ کا ہے، جو یقینی طور پر صحابی ہیں۔“

(المواہب اللدنیہ بحوالہ فتح الباری: 556/6)

صفحہ 234

عرفان اسم محمد ﷺ

ترجمہ: مولانا محمد اکرم اللہ زاہد قادری

قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی میں سے ایک ”حمید“ ہے جس کا معنی ہے ”محمود“ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کی خود بھی تعریف کرتا ہے اور اس کے بندے بھی اس کی ستائش کرتے ہیں اور اس کا معنی ”حامد“ بھی صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کا اور نیک اعمال کا حامد ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کا نام نامی اسم گرامی ”محمد اور احمد“ رکھا اور ”محمد“ بمعنی ”محمود“ ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی زبور میں آپ ﷺ کا اسم گرامی اسی طرح واقع ہے۔

اور شاعرِ رسول حضرت سیدنا حسان بن ثابت خزرجی انصاری (متوفی 54ھ) رضی اللہ عنہ نے اس معنی کی یوں مدح سرائی کی:

اَغَرَّ عَلَيْهِ لِلنُّبُوَّةِ خَاتَمُ
مِنَ اللّٰهِ مِنْ نُّوْرٍ يَّلُوْحُ وَ يَشْهَدُ

”آپ ﷺ پر نورانی مہر چمک رہی ہے جو اس بات کی واضح شہادت دے رہی ہے۔ کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں۔“

وَضَمَّ الْاِلٰهُ اِسْمَ النَّبِيِّ اِلٰی اِسْمِهِ
اِذَا قَالَ فِی الْخَمْسِ الْمُؤَذِّنُ اَشْهَدُ

”اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کا نام مبارک اپنے اسم گرامی سے ملا دیا ہے جس کا مظاہرہ

صفحہ 235

مؤذن کی پانچوں وقت کی اذانوں میں ہوتا ہے جب وہ اشھد..... کہتا ہے۔“

وَشَقَّ لَهُ مِنْ اِسْمِهِ لِيُجِلَّهُ
فَذُوالْعَرْشِ مَحْمُودٌ وَّهٰذَا مُحَمَّدُ

”اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا نام مبارک اپنے اسم گرامی سے مشتق کیا تا کہ آپ ﷺ کی عظمت و بزرگی پر دلیل ہو پس نتیجہ یہ ہے کہ وہ عرش والا محمود ہے اور یہ محمد ہیں (ﷺ)

میں (امام جلال الدین سیوطیؒ) آپ ﷺ کی شرح کا آغاز آپ ﷺ کے نام نامی اسم گرامی محمد (ﷺ) سے کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتا ہوں بیشک وہی حقیقی قریب اور مجیب ہے۔ اور میری توفیق محض اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہے اسی پر میرا توکل ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ارشاداتِ عالیہ ہیں۔

”محمد اللہ کے رسول ہیں۔“

”اور محمد تو ایک رسول ہیں۔“

(الاحزاب :40)

”محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔“

وہ تمام احادیث جن میں حضور پرنور ﷺ نے اپنے اسماء کا تذکرہ فرمایا ان سب میں اس اسم مبارک یعنی محمد (ﷺ) کا ذکر سرفہرست ہے اور یہ آپ ﷺ کے اسمائے گرامی میں سے سب سے زیادہ مشہور اور عظمت والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درج ذیل امور میں اسی اسم گرامی کو ہی مختص کیا گیا ہے۔

رسول اللہ اور یہاں محمد کی بجائے احمد کا تلفظ کافی نہیں ہے، البتہ حلیمی (امام ابو عبداللہ حسین بن حسن حلیمی جرجانی شافعی متوفی 403ھ) نے اسے جائز قرار دیا ہے اور یہ شرط لگائی ہے کہ اس کے ساتھ ابوالقاسم کا اضافہ کرے اور اسنوی نے تمہید (صفحہ 4) میں اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ (امام ابو عبداللہ حلیمی کی منہاج الدین میں عبارت یوں ہے، لَوْ قَالَ اَحْمَدُ اَبُوالْقَاسِمِ

صفحہ 236

رَسُوْلُ اللّٰهِ فَهُوَ كَقَوْلِهِ مُحَمَّدٌ ”اگر اس نے یوں کہا کہ احمد ابوالقاسم اللہ کے رسول ہیں‘ تو یہ اس کے محمد کہنے کے مترادف ہے۔“)

کا تلفظ کافی ہے‘ جیسا کہ شرح المہذب میں ہے اور خطبہ میں بھی اسی طرح ہی ہے۔

ہی ”محمد“ نقش کروا رکھا ہو تو پھر بھی استنجاء کے وقت اسے ہاتھ سے اتارنا واجب ہے۔

ہے‘ جو کسر وبسط کے ساتھ ضرب سے حاصل ہوتی ہے اور مرسلین کی تعداد تین سو تیرہ ہے۔ اور اس نام مبارک (محمد) سے اس کی تخریج کا طریقہ یہ ہے کہ اس نام مبارک میں ایک پہلی میم ہے اور ایک دوسری جو کہ مشددہ ہے اور یہ دو حروف کے قائم مقام ہے لہٰذا نام مبارک میں میم کا حرف تین بار آیا‘ اور ہر میم اپنی تکسیر کے ساتھ حساب میں نوے (90) کا عدد رکھتی ہے۔ یعنی ایک میم کی تکسیر سے تین حروف سامنے آئے: ”میم‘ ی اور میم“ جبکہ میم کے عدد چالیس (40) ہیں اور یاء کے دس (10)‘ ایک میم کی تکسیر میں دو دفعہ ”م“ آئی لہٰذا ان کا مجموعہ اسی (80) ہوا اور دس عدد یاء کے جمع کیے تو کل اعداد نوے (90) ہوئے۔ یہ ایک میم کی تکسیر ہے۔ اسی طرح اسم ”محمد“ میں تین دفعہ میم آئی ہے اور ہر ایک اپنی تکسیر سے نوے (90) کا عدد رکھتی ہے اور نوے (90) کو تین سے ضرب دینے سے دو صد ستر (270) کا عدد حاصل ہوا۔

پھر دال کے تکسیر کریں تو ”د‘ ا اور ل“ حاصل ہے جبکہ دال کے عدد چار (4)‘ الف کا ایک اور لام کے تیس (30) ہیں‘ جن کا مجموعہ پینتیس (35) ہوا۔

اور حاء کے عدد آٹھ (8) ہوتے ہیں اس حرف میں تکسیر نہیں ہے۔

اب ان سب کے اعداد یعنی دو صد ستر (270)‘ پینتیس (35) اور آٹھ (8) کو جمع کرنے سے تین صد تیرہ (313) کا عدد حاصل ہوا‘ جو کہ بعینہ مرسلین (علیہم السلام) کی تعداد ہے۔

پس ”محمد“ علم ہے‘ اور صحاح میں ہے کہ حمد ذم کی نقیض ہے۔ اور تو کہے کہ حَمِدْتُ الرَّجُلَ اَحْمَدُهُ حَمْدًا اور مَحْمِدَةً ”میں نے اس آدمی کی بہت زیادہ تعریف کی۔“ تو وہ شخص حمید اور محمود ہوا‘ اور تحمید حمد سے ابلغ ہے یعنی اس میں تعریف کا مادہ بہت ہی زیادہ ہے‘ پس محمد وہ ہستی ہوئی جس کی خصال محمودہ بیشمار ہوں۔

صفحہ 237

امام بخاری اور امام ترمذی نے نافع کے طریق سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے: کہ

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّنَقَشَ فِيْهِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللَّهِ وَنَهَى اَنْ يُّنْقَشَ أَحْمَدُ عَلَيْهِ

”رسول اللہ ﷺ نے اپنی چاندی کی انگوٹھی میں ”محمد رسول اللہ“ کندہ کرایا اور اس پر ”احمد“ کندہ کرنے سے منع فرمایا۔“

امام ترمذی کا کہنا ہے کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ آپ ﷺ نے کسی کو اپنی انگوٹھی پر ”محمد رسول اللہ“ کندہ کروانے سے منع فرمایا۔

آپ ﷺ کا نام ”محمد“ رکھنے کا سبب

مجھے (امام سیوطی ) شیخ امام شمنی نے قرأۃ اور ابوالفضل ابن الکویک نے سماعاً خبر دی، یہ دونوں سلسلہ سند یوں بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ابوالطاہر بن ابی الیمن نے، کہ ہمیں ابراہیم بن علی قطی نے، ہمیں محمد بن مزید نے، ہمیں ابوالمجد بن حسن قزوینی نے، ہمیں ابوبکر بن ابراہیم سحاذی نے، ہمیں ابوالاسعد نے، ہمیں میری دادی فاطمہ بنت استاد ابوعلی دقاق نے، ہمیں محمد بن حسن حسی نے، ہمیں محمد بن محمد علی انصاری بطوس نے خبر دی کہ ہم سے محمد بن عبداللہ بن ابراہیم بخاری نے، ہم سے میرے باپ نے، ہم سے بحر بن نضر نے، ہم سے عیسیٰ بن موسیٰ بن غنجار نے خارجہ سے، انہوں نے داؤد بن ابی ہند سے، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے:

لَمَّا وُلِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنْهُ عَبْدُالْمُطَّلِبِ بِكَبْشٍ وَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا فَقِيْلَ لَهُ: يَا اَبَا الْحَارِثِ مَا حَمَلَكَ عَلَى اَنْ سَمَّيْتَهُ مُحَمَّدًا وَلَمْ تُسَمِّهُ بِاِسْمِ آبَائِهِ فَقَالَ اَرَدْتُّ أَنْ يَّحْمَدَهُ اللَّهُ فِي السَّمَاءِ وَيَحْمَدَهُ النَّاسُ فِي الْأَرْضِ

”جب نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی تو عبدالمطلب نے آپ ﷺ کا ایک مینڈھے سے عقیقہ کیا اور آپ کا نام محمد رکھا۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ اے ابوالحارث اس نومولود کا نام محمد رکھنے پر کس چیز نے تمہیں ابھارا کہ تم نے اپنے آباؤ اجداد کا نام نہیں رکھا۔ تو انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اس نومولود کی اللہ تعالیٰ آسمانوں میں حمد کرے گا اور لوگ زمین میں اس کی تعریف

صفحہ 238

کریں گے۔“

اس روایت کو ابن عبدالبر نے بھی ”الاستیعاب“ میں عطاء خراسانی کے طریق سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔

حافظ بیہقی ”دلائل النبوۃ“ میں کہتے ہیں کہ ہمیں ابوعبداللہ حافظ نے خبر دی کہ مجھے احمد بن کامل قاضی نے خبر دی کہ محمد بن اسماعیل نے انہیں خبر دی کہ ابوصالح عبداللہ بن صالح نے ہم سے بیان کیا، کہ ہم سے معاویہ بن صالح نے ابوالحکم تنوخی سے بیان کیا کہ لوگوں نے عبدالمطلب سے پوچھا کہ:

اَرَأَيْتَ ابْنَكَ مَا سَمَّيْتَهُ؟ قَالَ سَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا

”تم اپنے بیٹے کا نام کیا رکھنا چاہتے ہو تو انہوں نے کہا کہ میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے۔“

تو لوگوں نے کہا کہ تم اپنے خاندان کے ناموں سے کیوں اعراض کر رہے ہو تو انہوں نے کہا کہ:

اَرَدْتُّ اَنْ يُّحْمِدَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى فِى السَّمَاءِ وَخَلْقُهُ فِى الْاَرْضِ

”میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کی آسمانوں میں تعریف کرے اور اس کی مخلوق زمین میں۔“

اور ایک سند سے منقول ہے کہ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ سیدہ آمنہ بنت وہب رسول اللہ ﷺ کی والدہ محترمہ بیان کرتی ہیں کہ جب میں محمد ﷺ سے حاملہ ہوئی تو کسی نے مجھے آ کر کہا کہ تو اس امت کے سردار سے حاملہ ہوئی ہے لہٰذا جب یہ نور روئے زمین کی طرف منتقل ہو تو تم یوں کہو کہ ہر نیکی اور عبادت کے کام میں ہر حسد کرنے والے کے شر سے میں اسے اللہ وحدہ لاشریک کی پناہ میں دیتی ہوں یقیناً یہ تیرا نومولود عبدالحمید اور بزرگ و برتر ہے نیز:

يَحْمَدُهُ اَهْلُ السَّمَاءِ وَاَهْلُ الْاَرْضِ وَاِسْمُهُ فِى الْاِنْجِيْلِ اَحْمَدُ يَحْمَدُهُ اَهْلُ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ وَاِسْمُهُ فِى الْفُرْقَانِ مُحَمَّدٌ فَسَمَّتْهُ بِذٰلِكَ

”عرش و فرش والے اس کی حمد و ستائش کریں گے اور اس کا نام انجیل میں احمد ہے عرش و فرش والے اس کی تعریف و توصیف کریں گے اور اس کا نام قرآن میں محمد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیدہ آمنہ نے آپ ﷺ کا نام محمد رکھا۔“

(مذکورہ بالا دونوں روایات کو حافظ بیہقی نے بھی ”دلائل النبوۃ: 92/93/1“ میں نقل کیا ہے۔

ابوربیع بن سالم اپنی سیرت میں رقمطراز ہیں مروی ہے کہ عبدالمطلب نے جو آپ ﷺ کا

صفحہ 239

نام محمد رکھا وہ اس خواب کی وجہ سے تھا جو انہوں نے دیکھا کہ ”ان کی پشت سے ایک چاندی کا زنجیر نکلا ہے‘ جس کا ایک کنارہ آسمان میں ہے اور دوسرا زمین میں‘ اور اس کا ایک کنارہ مشرق میں ہے اور دوسرا مغرب میں‘ پھر وہ ایک درخت کی صورت اختیار کر گیا جس کے ہر پتے پر ایک نہر ہے۔ پس اچانک مشرق ومغرب والے اس درخت سے چمٹ جاتے ہیں۔“

جب انہوں نے یہ خواب بیان کیا تو اس کی تعبیر یہ بتائی گئی کہ ان کی پشت سے ایک ایسا بیٹا ہوگا‘ مشرق ومغرب والے جس کی پیروی کریں گے اور عرش و فرش پر اس کی حمد وستائش کے پرچم لہرائیں گے۔ لہٰذا ایک یہ سبب بنا اور دوسرا وہ جو آپ ﷺ کی والدہ نے بیان کیا‘ کہ عبدالمطلب نے آپ ﷺ کا نام محمد رکھا۔

اسم محمد ﷺ کے فضائل

مجھے (امام سیوطی) ابوالفضل محمد بن عمر بن عمر بن حسین وفائی نے خبر دی کہ ہمیں ابوالفرج غزی نے‘ ہمیں حافظ قطب الدین عبدالکریم بن عبدالنور حلبی وغیرہ نے‘ ہمیں عز حرانی نے‘ ہمیں ابوعلی اسماعیل بن صالح صفار نے‘ ہمیں حسن بن عرفہ نے خبر دی کہ مجھ سے عبداللہ بن ابراہیم غفاری مدنی نے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم سے بیان کیا انہوں نے سعید بن ابوسعید مقبری سے‘ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَيْلَةَ عُرِجَ بِيْ إِلَى السَّمَاءِ فَمَا مَرَرْتُ بِسَمَاءٍ إِلَّا وَجَدْتُ اِسْمِيْ فِيْهَا مَكْتُوْبًا: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ

”جس رات مجھے آسمانوں کی معراج ہوئی تو میں جس آسمان سے بھی گزرتا اسی میں اپنا نام یوں لکھا ہوا پایا: محمد رسول اللہ۔“

اس روایت کو ابویعلیٰ نے حسن بن عرفہ سے نقل کیا ہے۔

احمد بزار کہتے ہیں کہ قتیبہ بن مرزبان نے ہم سے بیان کیا ہے کہ ہم سے عبداللہ بن ابراہیم غفاری نے‘ ہم سے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم نے اپنے باپ سے‘ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَمَّا عُرِجَ بِيْ إِلَى السَّمَاءِ مَا مَرَرْتُ بِسَمَاءٍ إِلَّا وَجَدْتُ اِسْمِيْ مَكْتُوْبًا فِيْهَا مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ

جب مجھے آسمانوں کی معراج کرائی گئی تو میں جس آسمان سے بھی گزرا‘ اپنا نام

صفحہ 240

اس میں یوں لکھا ہوا پایا’ محمد رسول اللہ۔‘‘

اور امام طبرانی ’’الصغیر‘‘ میں کہتے ہیں کہ محمد بن داؤد بن اسلم صدفی (مصری) نے ہم سے بیان کیا کہ ہم سے احمد بن سعید مدنی (فہری) نے‘ ہم سے عبداللہ بن اسماعیل مدنی نے‘ عبدالرحمن بن زید بن اسلم سے‘ انہوں نے اپنے باپ سے‘ انہوں نے اپنے دادا سے‘ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَمَّا اَذْنَبَ اٰدَمُ الذَّنْبَ الَّذِيْ اَذْنَبَهُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى الْعَرْشِ فَقَالَ: اَسْاَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ اِلَّا غَفَرْتَ لِيْ فَاَوْحَى اللّٰهُ إِلَيْهِ: وَمَنْ مُّحَمَّدٌ فَقَالَ: تَبَارَكَ اسْمُكَ لَمَّا خَلَقْتَنِيْ رَفَعْتُ رَأْسِيْ إِلَى عَرْشِكَ فَاِذَا فِيْهِ مَكْتُوْبٌ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ فَعَلِمْتُ اَنَّهُ لَيْسَ اَحَدٌ اَعْظَمُ عِنْدَكَ قَدْرًا مِمَّا جَعَلْتَ اِسْمَهُ مَعَ اسْمِكَ فَاَوْحَى اللّٰهُ اِلَيْهِ: يَا اٰدَمُ اِنَّهُ اٰخِرُالنَّبِيّٖنَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ (وَاَنَّ اُمَّتَهُ اٰخِرُالْاُمَمِ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ وَلَوْلَاهُ يَا اٰدَمُ مَا خَلَقْتُكَ

’’جب حضرت آدم علیہ السلام سے بظاہر خطا ہوئی تو انہوں نے اپنا سر عرش کی طرف اٹھایا اور کہا کہ (اے اللہ) میں تجھ سے محمد کے حق سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے بخش دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی فرمائی کہ کون محمد؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ تیرا نام برکت والا ہے جب تو نے مجھے پیدا فرمایا تو میں نے اپنا سر تیرے عرش کی طرف اٹھایا تو اس میں یہ لکھا پایا ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ تو میں نے جان لیا کہ اس سے بڑھ کر تیرے نزدیک کوئی قدر و منزلت والا نہیں جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ رکھا ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی فرمائی کہ اے آدم بیشک یہ تیری اولاد سے آخری نبی ہے (اور ان کی امت آخری امت ہے) اگر یہ نہ ہوتے تو اے آدم میں تجھے بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘

(حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت اسی سند سے ہی مروی ہے‘ اور اس میں احمد بن سعید متفرد ہے)

اس کو امام حاکم نے ’’المستدرک‘‘ میں بھی نقل کیا ہے اور امام بیہقی نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں اسے صحیح کہا۔ اور امام حاکم کا کہنا ہے کہ عبدالرحمن بن زید اس میں متفرد ہے جو کہ ضعیف ہے۔

اور ابونعیم ’’الحلیۃ‘‘ میں کہتے ہیں کہ ہم سے قاضی ابواحمد محمد بن احمد نے‘ ہم سے احمد بن حسن بن عبدالملک نے‘ ہم سے علی بن جمیل نے‘ ہم سے جریر نے بیان کیا ہے کہ مجاہد نے حضرت ابن عباس

صفحہ 241

رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَا فِی الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ عَلَيْهَا وَرَقَةٌ اِلَّا مَكْتُوبًا عَلَيْهَا: لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ

"جنت میں ہر درخت کے ہر پتے پر یہ لکھا ہوا ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔"

"حلیہ" میں ہے کہ لیث کی مجاہد سے روایت غریب ہے، علی بن جمیل رقی اسے جریر سے روایت کرنے میں متفرد ہے۔

زیرِ زمیں خزانہ اور اسم محمد ﷺ

بزار وغیرہ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ وہ خزانہ، جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن میں ذکر فرمایا ہے، وہ سونے کی ایک تختی تھی جس پر یہ عبارت مرقوم تھی:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ عَجِبْتُ لِمَنْ اَيْقَنَ بِالْقَدْرِ ثُمَّ يَنْصَبُ عَجِبْتُ مِمَّنْ ذَكَرَ النَّارَ ثُمَّ يَضْحَكُ عَجِبْتُ مِمَّنْ ذَكَرَ الْمَوْتَ ثُمَّ غَفَلَ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ

"اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، تعجب ہے اس پر جو تقدیر پر یقین رکھے اور پھر پریشان ہو اور تعجب ہے اس پر جسے دوزخ یاد ہو اور پھر وہ ہنسے، اور تعجب ہے اس پر جسے موت یاد ہو اور وہ غافل رہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد اللہ کے رسول ہیں۔"

اور امام بیہقی نے "دلائل النبوۃ" میں ہشام بن ابراہیم مخزومی کے طریق سے نقل کیا ہے کہ ہم سے موسیٰ بن جعفر بن ابی کثیر نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان عالیشان:

وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَّهُمَا

"اور اس (دیوار) کے نیچے ان دو (یتیم بچوں) کا خزانہ تھا۔"

کے بارے جو مجھے بات پہنچی ہے وہ یہ ہے کہ وہ خزانہ سونے کی ایک تختی تھی، جس میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی:

عَجَبًا لِّمَنْ أَيْقَنَ بِالْمَوْتِ كَيْفَ يَفْرَحُ عَجَبًا لِّمَنْ اَيْقَنَ بِالْحِسَابِ كَيْفَ يَضْحَكُ عَجَبًا لِّمَنْ اَيْقَنَ بِالْقَدْرِ كَيْفَ يَحْزَنُ، عَجَبًا لِّمَنْ

صفحہ 242

يَرَى الدُّنْيَا وَزَوَالَهَا وَتَقَلُّبَهَا بِأَهْلِهَا كَيْفَ يَطْمَئِنُّ إِلَيْهَا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ

”تعجب ہے اس پر جو موت پر یقین رکھے وہ کس طرح خوش رہتا ہے‘ تعجب ہے اس پر جو حساب پر یقین نہیں رکھتے وہ کس طرح ہنستا ہے‘ تعجب ہے اس پر جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے وہ کس طرح غمگین ہوتا ہے‘ تعجب ہے اس پر جو دنیا‘ اس کا زوال اور اس کا دنیا والوں کے ساتھ بدلتے رہنا دیکھتا ہے وہ اس پر کس طرح مطمئن رہتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘ محمد اللہ کے رسول ہیں۔“

اور امام بیہقی نے ہی جویبر کے طریق سے ضحاک نزال بن سبرہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس فرمان ”وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَّهُمَا“ کے بارے فرماتے ہیں کہ:

لَوْحٌ مِّنْ ذَهَبٍ مَّكْتُوْبٌ فِيْهِ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ

”(وہ خزانہ) سونے کی ایک تختی تھی جس پر لکھا تھا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔“

حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی اور اسم محمد ﷺ

مجھے (امام سیوطی) ابوالفضل عبدالرحمن بن احمد حمصی نے خبر دی کہ ہمیں محمد بن حسن فریسی نے‘ ہمیں حافظ ابوالفتح یعمری نے خبر دی کہ ہمیں ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم مقدسی اور ابو عبداللہ محمد بن عبدالمومن بن ابوالفتح دونوں نے یوں خبر دی کہ ہمیں ابوالبرکات داؤد بن احمد بن محمد بن ملاعب نے‘ ہمیں ابوالفضل محمد بن عمر بن یوسف ادموی نے‘ ہمیں ابوالقاسم یوسف بن احمد بن محمد نہروانی نے‘ ہمیں ابوعلی محمد بن عمر عسکری نے خبر دی کہ ہم سے ابوصالح سہل بن اسماعیل موسونی نے‘ ہم سے ابوالعباس عبداللہ بن وہب غزنی نے‘ ہم سے محمد بن ابی السری عسقلانی نے‘ ہم سے شیخ بن ابوخالد بصری نے‘ ہم سے حماد بن سلمہ نے عمرو بن دینار سے بیان کیا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ

”حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام کی انگوٹھی کا نقش ’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ تھا۔“

اور امام طبرانی ”الکبیر“ میں کہتے ہیں کہ ہم سے ازہر بن زفر مصری نے‘ ہم سے محمد بن مخلد رعینی نے حمید بن محمد حمصی سے بیان کیا‘ انہوں نے ارطاۃ بن منذر سے‘ انہوں نے خالد بن معدان سے کہ

صفحہ 243

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: كَانَ فَصُّ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ سَمَاوِيًّا فَاُلْقِيَ إِلَيْهِ فَوَضَعَهُ فِي خَاتَمِهِ اَنَا لَا اِلٰهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ عَبْدِيْ وَ رَسُوْلِيْ ”سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) کا نگینہ آسمانی تھا جو ان کی طرف پہنچایا گیا اور انہوں نے اسے اپنی انگوٹھی میں رکھ لیا (یہ عبارت اس پر مرقوم تھی) میں وہ اللہ ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں محمد میرے بندے اور میرے رسول ہیں۔“

نام محمد ﷺ کی برکت

محمد نام رکھنے کی فضیلت کے سلسلے میں حفاظ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی صحیح حدیث وارد نہیں ۔ اور ابن تیمیہ کا کہنا ہے کہ جتنی احادیث اس سلسلے میں وارد ہیں وہ سب کی سب موضوع ہیں۔ البتہ ابوبکیر کی اس مسئلہ میں ایک معروف تالیف ہے جس میں اس موضوع پر کئی احادیث جمع کی گئی ہیں‘ اور ان میں سے صحیح ترین حدیث ابو امامہ کی ہے۔ (جو درج ذیل ہے)

ابن بکیر کہتے ہیں کہ ہم سے ابوالحسن حامد بن حماد بن مبارک بن عبداللہ بن عسکری نے بیان کیا کہ ہمیں اسحاق بن سیار بن محمد ابو یعقوب نصیبی نے خبر دی کہ ہم سے حجاج بن منھال نے‘ ہم سے حماد بن مسلمہ نے برد بن سنان سے بیان کیا انہوں نے مکحول سے بیان کیا کہ حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ: مَنْ وُلِدَ لَهُ مَوْلُوْدٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدٌ اَحَبَّ لِيْ وَتَبَرُّكًا بِاِسْمِيْ كَانَ هُوَ وَمَوْلُوْدُهُ فِی الْجَنَّةِ ”جس کے ہاں بچہ پیدا ہوا‘ اور اس نے محض مجھ سے محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کی خاطر اس کا نام محمد رکھا‘ تو وہ خود اور اس کا بیٹا جنتی ہے۔“

اس سند میں کوئی حرج نہیں‘ البتہ ابن جوزی نے جو اسے ”موضوعات“ میں نقل کیا ہے ہم اس کے موضوع شمار کرنے پر اتفاق نہیں کرتے‘ جیسا کہ میں نے ”مختصر الموضوعات“ اور ”القول الحسن فی الذب عن السنن“ میں اس کی وضاحت کی ہے۔

۞.......۞.......۞

صفحہ 244

اسم محمد ﷺ

پروفیسر صاحبزادہ محمد ظفر الحق بندیالوی

نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم اما بعد

حضور اکرم ﷺ کے بیشمار نام ہیں جن کا ذکر قرآن وحدیث اور دیگر کتب آسمانی میں موجود ہے۔ علماء کرام نے آپ کے اسماء مبارکہ کی تعداد ننانوے بیان کی ہے۔ بعض نے تین سو اور بعض نے چار سو۔ اور صاحب تفسیر روح البیان نے لکھا ہے کہ آپ کے ناموں کی تعداد ایک ہزار ہے۔

(روح البیان 184/7)

ذاتی نام

حضور اکرم ﷺ کے صفاتی نام تو بیشمار ہیں مگر ذاتی نام صرف دو ہیں ”احمد“ اور ”محمد“ ﷺ اور ان دونوں کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔ اسم احمد قرآن میں ایک بار آیا ہے قرآن مجید میں عیسیٰ علیہ السلام کا اعلان موجود ہے۔

مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد

ترجمہ: ”میں تمہیں اپنے بعد آنے والے رسول احمد ﷺ کی آمد کی خوشخبری دیتا ہوں۔“

اسم محمد ﷺ کا ذکر قرآن میں چار دفعہ

صفحہ 245

اسم محمد ﷺ کب رکھا گیا؟

شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں۔ کہ تسمیہ کرد حق تعالیٰ رسول اکرم ﷺ از آفرینش ہزار سال ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کا نام مبارک تخلیق کائنات سے ہزار سال قبل رکھا۔ (مدارج النبوت 257/1)

حضرت عبدالمطلب کا خواب

شیخ عبدالحق محدث دہلوی مدارج النبوت جلد اوّل میں لکھتے ہیں حضرت عبدالمطلب نے خواب دیکھا کہ ان کی پشت سے ایک زنجیر نکلی جس کا ایک سرا مشرق میں اور دوسرا سرا مغرب میں تھا۔ اور اس زنجیر نے درخت کی صورت اختیار کر لی۔ اس کے ہر پتے کے ساتھ نور تھا۔ اہل مشرق و مغرب اس کے ساتھ لٹک گئے۔ آپ نے یہ خواب معبروں سے بیان کر کے تعبیر چاہی تو انہوں نے بتایا تمہاری پشت سے ایک لڑکا ہوگا۔ جس کی اطاعت مشرق ومغرب تک ہوگی۔ اور زمین و آسمان میں اس کی تعریف ہوگی۔ اس لیے حضرت عبدالمطلب نے آپ کا نام محمد (ﷺ) رکھا۔

حضرت عبدالمطلب سے سوال

حضور اکرم ﷺ کے دادا جان نے جب آپ کا اسم گرامی محمد (ﷺ) رکھا تو لوگوں نے آپ سے کہا کہ آپ سے قبل یہ نام آپ کے آباؤ اجداد میں سے کسی نے بھی نہیں رکھا تو آپ کے دادا جان حضرت عبدالمطلب نے فرمایا: رجوت ان یحمد فی السماء والارض (روح البیان: 184/7) ترجمہ: میں امید رکھتا ہوں کہ اس کی تعریف زمین وآسمان میں ہوگی۔

سلطان محمود غزنوی اور احترام اسم محمد (ﷺ)

محمود غزنوی کا خاص غلام ایاز تھا۔ اس کے بیٹے کا نام محمد تھا۔ محمود ہمیشہ اس کو محمد کہہ کر پکارتا ایک دن اس نے اس کے بیٹے کو ”ایاز کے بیٹے“ کہہ کر پکارا۔ ایاز کو فکر ہوا کہ شاید محمود ناراض ہے۔ وجہ

صفحہ 246

پوچھی بادشاہ نے کہا میں ناراض نہیں وجہ یہ ہے کہ اس وقت میرا وضو نہیں تھا۔ مجھے شرم آئی۔ کہ بے وضو سرکار دو عالم (ﷺ) کا نام لوں (تفسیر روح البیان 185/7)

جنت کا ملنا

سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اپنے بیٹے کا نام میری محبت اور میرے اسم سے برکت حاصل کرنے کے لیے محمد رکھا۔

كان هو ومولوده فى الجنة (روح البيان 184/7)

ترجمہ: وہ اور اس کا بیٹا جنت میں جائے گا۔

حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا بروز قیامت دو شخص اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اور بارگاہ خداوندی سے حکم ہوگا۔ کہ تم دونوں جنت میں چلے جاؤ۔ وہ عرض کریں گے اے اللہ ہمارے لیے جنت میں داخلہ کیسے حلال ہو گیا۔ ہم نے تو ایسا کوئی کام نہیں کیا۔ جو جنت میں جانے کا سبب بن جائے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ۔

فانى اليت على نفسى ان لايدخل النار من اسمه احمد و محمد

(المواہب اللدنیہ ص 316 شفا 150/1)

ترجمہ: اس لیے کہ میں نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ جس شخص کا نام احمد' محمد ہو گا وہ دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔

حضرت امام جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔

من اسمه محمد فليدخل الجنة لكرامة اسمه

ترجمہ: جس کا نام محمد ہو گا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا یہ اس اسم گرامی کی عزت کے لیے ہے۔ (شفا شریف)

اذان میں اسم محمد (ﷺ) سن کر کیا کرے؟

حضور اکرم ﷺ مسجد میں تشریف لائے اور ایک ستون کے قریب بیٹھ گئے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے برابر بیٹھے تھے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر اذان پڑھنا شروع کی۔ جب انہوں نے اشهد ان محمد الرسول الله کہا تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں انگوٹھوں کے ناخنوں کو اپنی آنکھوں پر رکھا۔ اور کہا قرة عينى بک يا رسول الله جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان پڑھ چکے تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا اے ابو بکر جو شخص ایسا کرے

صفحہ 247

جیسا کہ تم نے کیا ہے خدا اس کے گناہوں کو خواہ پرانے ہوں یا نئے‘ عمداً ہوں یا خطاء بخش دے گا۔

(تفسیر روح البیان 229/6)

عظیم حنفی فقیہہ ابن عابدین شامی اور علامہ طحطاوی کا فرمان

واعلم انہ یستحب ان یقال عند سماع الاولی من الشہادۃ صلی اللہ علیک یا رسول اللہ وعند الثانیۃ منہا قرت عینی بک یا رسول اللہ ثم یقول اللہم متعنی بالسمع والبصر بعد وضع ظفری ابہامین علی العینین فانہ علیہ السلام یکون قائداً لہ الی الجنۃ

(شامی 293/1‘ طحطاوی علی مراقی الفلاح ص 101)

ترجمہ: جان لو بے شک اذان کی پہلی شہادت کے سننے پر صلی اللہ علیک یا رسول اللہ اور دوسری شہادت کے سننے پر قرة عینی بک یا رسول اللہ کہنا مستحب ہے۔ پھر اپنے انگوٹھوں کے ناخن اپنی آنکھوں پر رکھے اور کہے اللھم متعنی بالسمع والبصر بے شک حضور اکرم ﷺ اس کے جنت کی طرف قائد ہوں گے۔

بنی اسرائیل کے ایک شخص کا احترام اسم محمد ﷺ کرنا

بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے طویل عرصہ اللہ کی نافرمانی میں گزارا۔ جب وہ مرا تو لوگوں نے اسے غسل نہ دیا ۔ نہ دفن کیا بلکہ آبادی سے باہر کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر اس کی میت کو ڈال دیا۔

فاوحی اللہ الیٰ موسیٰ ان اخرجہ وصل علیہ

(خصائص کبریٰ 16/1‘ روح البیان 185/7)

ترجمہ: اللہ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ اس کی میت کو وہاں سے اٹھاؤ اور اس کی نماز جنازہ پڑھو۔

موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا یہ تو بڑا گنہگار تھا۔ تو بارگاہ خداوندی سے جواب آیا:

انہ ہکذا الا انہ کان کلما نشر التوراۃ ونظر الی اسم محمد قبلہ ووضعہ علی عینیہ

ترجمہ: وہ واقعی ایسا ہی تھا مگر یہ کہ جب بھی تورات کھولتا اور اسم محمد پر اس کی نظر

صفحہ 248

پڑتی تو اسے چومتا اور آنکھوں پر لگاتا تھا۔

کسی عاشق نے سچ کہا ؎

تعظیم جس نے کی ہے محمدؐ کے نام کی
اللہ نے اس پر آتش دوزخ حرام کی

برکت اسم محمد سے عبداللہ بن عمر کی مشکل کشائی

حضرت عبداللہ بن عمر کا پاؤں سن ہو گیا تو کسی دوست نے مشورہ دیا یقیناً وہ مشورہ دینے والا یا صحابی ہو گا یا تابعی ہو گا کہ:

اذکر احب الناس الیک فقال یا محمدا فانعشرت

(شفا 18/2 ‘ الادب المفرد 432)

ترجمہ: لوگوں میں جو تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے اسے یاد کر پس انہوں نے یا محمداہ کہا پاؤں صحیح ہو گیا۔

معلوم ہوا نام محمد مشکل کشا بھی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے تعظیم اسم نبی کا حکم دیا

ارشاد ربانی ہے لا تجعلو دعاء الرسول بینکم کدعا بعضکم بعضا

ترجمہ: تم رسول اکرم ﷺ کو ایسے مت پکارو جیسے تمہارا بعض؛ بعض کو پکارتا ہے۔ تمام جلیل القدر مفسرین نے اس کی تفسیر یہی بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو ”محمد“ کہہ کر پکارنا منع ہے اور القاب سے پکارنے کا حکم ہے جیسے۔ یا رحمۃ اللعالمین یا خاتم النبیین اور اس میں مزید قابل غور بات یہ ہے کہ اللہ نے کئی انبیاء کو پکارا تو نام لے کر پکارا لیکن پورے قرآن میں کہیں بھی اللہ تعالیٰ نے یا محمد کہہ کر نہیں پکارا بلکہ جب بھی پکارا ۔ یا ایہا النبی‘ یا ایہا الرسول یا ایہا المزمل یا ایہا المدثر کہہ کر پکارا۔

سرکار دو عالم ﷺ کا خود اپنے نام کی تعظیم کا حکم دینا

رغم انف رجل من ذکرت عندہ ولم یصل علی

ترجمہ: اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا نام لیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہیں پڑھا۔ اللھم صلی علیٰ سیّدنا محمدٍ و علیٰ آلہ و اصحابہ و بارک وسلم

سرکار دو عالم ﷺ کا خود اپنے صحابی کو اپنے نام کو غائبانہ پکار کر دعا کرنے کا حکم دینا

صفحہ 249

ایک نابینا شخص خدمت سرکار میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے آنکھوں کی بینائی عطا فرمائے ۔ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا اچھی طرح وضو کر پھر یہ دعا مانگ ۔

اللهم انى اسئلك واتوجه اليك بمحمد نبى الرحمة يا محمد انى قد توجهت بك الى ربى فى حاجتى هذه لتقضى اللهم فشفعه

فی (ابن ماجہ ص 100، ترمذی 197/1)

طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے کہ ایک شخص کو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کام تھا مگر ملاقات نہ ہوتی تھی انہوں نے اس پریشانی کا ذکر حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے یہی دعا انہیں سکھائی ۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خود بلا لیا۔ اور کہا جب ضرورت ہو آ جایا کرو۔ اب ابن ماجہ ترمذی اور نشر الطیب مصنفہ مولوی اشرف علی تھانوی میں موجود مذکورہ بالا صحیح حدیث سے درج ذیل امور روز روشن کی طرح ثابت ہوئے ۔

عالم ﷺ کے دربار میں عرض کرتے تھے۔

والی دعا سکھائی ۔ اور غائبانہ یا محمد ﷺ پکار کر دعا مانگنے کا طریقہ سکھایا ۔

کافروں کو پریشانی

مکے کے کافر حضور اکرم ﷺ پر اعتراض کرتے اور عیب جوئی کرتے ایک دن وہ آپس میں کہنے لگے کہ ہم کتنے بیوقوف ہیں کہ کہتے ہیں محمد ﷺ میں یہ عیب ہے یہ عیب ہے اور محمد ﷺ کا معنی ہے بار بار تعریف کیا ہوا ایک طرف محمد ﷺ کہتے ہیں دوسری طرف عیب جوئی کرتے ہیں یا محمد کہنا چھوڑو۔ یا پھر اعتراض کرنا چھوڑو۔ آخر فیصلہ یہ ہوا کہ آج کے بعد ہم آپ کو محمد ﷺ کی بجائے مذمم کہیں گے ۔ (نعوذ باللہ ) میرے آقا ﷺ کو پتہ چلا تو فرمایا كيف يصرف الله عنى شتم قريش يشتمون مذمماً ويلعنون مذمماً وانا محمد (ابوداؤد) ترجمہ: ”اللہ نے قریش کی گالیوں کو کیسے مجھ سے پھیر دیا ہے کہ گالیاں دیتے ہیں مذمم کو اور لعنت کرتے ہیں مذمم پر اور میں تو محمد ﷺ ہوں۔“

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا سرکار کے حکم کے بغیر نام محمد ﷺ لکھوانا

سرکار دو عالم ﷺ نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو انگوٹھی دی کہ سنار سے اس پر اللہ لکھوا

صفحہ 250

لاؤ۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سنار کے پاس گئے اور کہا اس پر اللہ اور محمد ﷺ لکھ دو۔ جب انگوٹھی لے کر سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت میں آئے تو اس پر اللہ محمد ابوبکر لکھا تھا۔ اس پر سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا ابوبکر ! میں نے صرف اللہ کہا تھا تم محمد ﷺ اور ابوبکر بھی لکھوا لائے۔ تھوڑی دیر میں جبریل آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آپ نے صدیق اکبر کو صرف اللہ لکھوانے کا کہا ان کی محبت نے گوارا نہ کیا کہ اللہ کا نام ہو اور محمد ﷺ کا نہ ہو اور ہماری رحمت نے یہ پسند نہ کیا کہ جو تیرا نام لکھواتا ہے ہم اس کا نام کیوں نہ لکھوائیں۔ (تفسیر کبیر)

تاریخ اور سیرت کی تمام کتابوں میں موجود ہے کہ صلح حدیبیہ کی شرائط لکھنے والے حضرت علیؓ تھے۔ انہوں نے لکھا محمد الرسول اللہ، کافروں کے نمائندے نے رسول اللہ کے الفاظ پر اعتراض کیا کہ ان کو مٹاؤ۔ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا علی تم رسول اللہ کے الفاظ مٹا دو۔ حضرت علیؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ علی کے ہاتھ آپ کا مبارک نام مٹا نہیں سکتے۔ آپ نے خود مٹایا۔ معلوم ہوا صحابہ کی سنت نام محمد ﷺ لکھنا ہے مٹانا نہیں۔

٭......٭......٭

صفحہ 251

محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

شہزادہ محمد امین جاوید

اے محمد ﷺ فرما دو کہ دنیاوی سامان تھوڑا ہے۔ مگر اس کے باوجود کوئی شخص بھی دنیا کو شمار نہیں کر سکتا۔ اخلاق محمد ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ“ آپ تو بڑے ہی اخلاق والے ہیں جب تمام انسان قلیل کو شمار نہیں کر سکتے تو اس عظیم اخلاق والے پیارے محمد ﷺ کے فضائل کو کس کی طاقت ہے کہ شمار کر سکے۔

شریف“ میں درست ہی تو فرمایا کہ ”نور احدی نے تنہائی وحدت کی ڈولی سے نکل کر عالم کثرت میں ظہور فرمایا اور بعد نقاب میم محمدیؐ اوڑھ کر صورت محمدی اختیار کی“ جس طرح پوری کائنات میں اللہ تعالیٰ کی کوئی مثال نہیں اسی طرح محمد ﷺ بھی بے مثال ہیں۔

تعالیٰ سے پیار کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کائنات کی ہر چیز سے بڑھ کر اپنے حبیب محمد ﷺ سے پیار کرتے ہیں۔

حق تعالیٰ نے قرآن پاک میں بہت سے احکامات ارشاد فرمائے مثلاً نماز روزہ حج وغیرہ لیکن کسی حکم یا کسی اعزاز واکرام میں یہ نہیں فرمایا کہ میں بھی یہ کام کرتا ہوں۔ اور تم بھی کرو۔

صفحہ 252

لیکن محمد ﷺ کے لیے رب تعالیٰ نے درود شریف کی نسبت پہلے اپنی طرف سے اس کے بعد پاک فرشتوں کی طرف سے اور پھر ایمان والے مسلمانوں کو حکم فرمایا۔ کہ اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اے مومنو! تم بھی محمد ﷺ پر درود بھیجو۔ آیت شریفہ لفظ ”انَّ“ کے ساتھ شروع فرمایا۔ جو نہایت تاکید کے زمرے میں آتا ہے۔

مدینہ کی بستی کے قریب آ پہنچی۔ شہر والے امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس فریاد لائے آپ رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ آگ کے سامنے جا کر کہہ دو کہ یہ محمد ﷺ کی بستی ہے۔ اے آگ خبردار! آگے نہ بڑھ۔ لوٹ جا! اس حکم کا پانا تھا کہ آگ بجھ گئی اور بستی بچ گئی۔

حضرت کعب احبارؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کی رحلت کا وقت قریب آیا تو آپ نے اپنے صاحبزادہ حضرت شیث علیہ السلام کو وصیت کی کہ اے جان پدر۔ تم میرے بعد میرے نائب ہوگے۔ جب خدائے برتر کا تم ذکر کرو تو ساتھ محمد ﷺ کا نام بھی لیا کرو۔ کیونکہ میں نے اس نام مبارک کو ساقِ عرش پر لکھا دیکھا ہے۔ جب کہ میں ابھی روح اور مٹی کے درمیان تھا۔ پھر میں نے گھومنا شروع کیا اور تمام جہانوں کی سیر کی تو ساتوں آسمانوں پر میں نے کوئی ایسی جگہ نہ دیکھی۔ جہاں حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کا نام مبارک نہ ہو۔ میرے رب نے مجھے جنت میں ٹھہرایا تو میں نے جنت کا کوئی محل اور دریچہ ایسا نہ دیکھا۔ جس پر اسم محمد ﷺ نہ لکھا ہو۔ اور میں نے اسم محمد جنت کے ہر مکان و منزل پر ہی نہیں بلکہ جنت کی حوروں کی پیشانیوں پر جنت کے درختوں کے پتوں پر ان کی شاخوں پر سدرۃ المنتہیٰ کے ہر پتے پر فرشتوں کی آنکھوں پر اور ان کے ذاتی چہروں پر ہر طرف سے یہ نام مبارک

محمد ﷺ لکھا دیکھا۔ (ابن عساکر مواہب المدینہ)

عارفوں کے بادشاہ حضرت سخی سلطان محمد باہوؒ فرماتے ہیں کہ ”جو شخص اسم محمد ﷺ کا تصور کرتا ہے۔ تو فوراً نبی کریم ﷺ کی روح پاک تشریف لا کر اسے تعلیم و تلقین کرتی ہے۔ (عین الفقر

از حضرت سخی سلطان محمد باہوؒ)

بابا گورو نانک ”بانی سکھ دھرم“ اپنی کتاب گرنتھ میں لکھتے ہیں:

لکھیا وچ کتاب دے اوّل ایک خدا
دوجا نور محمدی ﷺ جس چانن کیتا آ

وہ مزید کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کا نور مبارک دنیا کی ہر چیز میں جلوہ گر ہے۔ اگر کسی کو شک ہے تو وہ

صفحہ 253

دیکھ لے۔ اس بارے میں ان کی ایک رباعی ملاحظہ فرمائیں۔

ہر عدد کو چوگن کر لو دو کو اس میں دو بڑھائے
پورے جوڑ کو پنج گن کر لو بیس سے اس میں بھاگ لگائے
باقی بچے کو نو گن کرلو اس میں پھر دو بڑھائے
گورو نانک یوں کہے ہر شے میں محمد ﷺ کو پائے

ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ 1 2 2 400 400 500 3 3 8 600

د ڈ ذ ر ڑ ز ژ س ش ص 4 4 700 200 200 7 7 60 300 90

ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل 800 9 900 70 1000 8 100 20 20 30

م ن و ہ ء ی ے 40 50 6 5 10 10

محمد ﷺ کے نام کے عدد

92 = 4 + 40 + 8 + 40 م ح م د

ہر عدد کو چار گنا کرلو پھر اس میں دو بڑھا دو پورے جوڑ کر پانچ گنا کر لو۔ بیس سے تقسیم کر دو جو باقی بچتا ہے اسے نو گنا کرلو اس میں پھر دو بڑھا دو۔ گورو نانک یوں کہے ”ہر شے میں محمد ﷺ کو پائے“۔ دنیا کا ذرہ ذرہ محمد ﷺ محمد ﷺ پکار رہا ہے

مثلاً دیکھئے تفصیل

عدد 20 چار گنا کیا 4x 80 دو جمع کیا 2+ 82 پانچ سے ضرب دی 5x

صفحہ 254

20 20 سے تقسیم کیا 20)410 40 10 باقی بچے 10 9 سے ضرب دی 9 × 90 2 کو جمع کیا 2 + 92

92 = محمد ﷺ کے نام کے عدد بھی 92 ہیں۔

ہندو دلورام کوثری لکھتے ہیں:

عظیم الشان ہے شان محمد ﷺ
خدا بھی ہے مرتبہ دان محمد ﷺ
بتاؤں کوثریؔ کیا شغل اپنا
میں ہوں ہر دم ثنا خوان محمد ﷺ

شیر سنگھ شمیم فرخ آبادی (سٹی مجسٹریٹ فرخ آباد) اپنی عقیدت کا اظہار یوں کرتے ہیں۔

رواں ہوں جانب کوئے محمد ﷺ
دکھا دے اے خدا روئے محمد ﷺ
ہیں عنبر بار گیسوئے محمد ﷺ
صبا لائی ہے خوشبوئے محمد ﷺ
جنہیں ہو دیکھنا نور الٰہی
وہ دیکھیں جلوہ روئے محمد ﷺ
مسلم ہوں خواہ غیر مذاہب کے آدمی
سب پہ شمیم فرض ہے طاعت محمد ﷺ

مہندر سنگھ بیدی سحرؔ اپنی محبت کا اظہار یوں کرتے ہیں۔

عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارا تو نہیں
صرف مسلم کا محمد ﷺ پہ اجارا تو نہیں
صفحہ 255
مجھ گنہگار کو حشر میں جنت ہو نصیب
کملی والے کا کہیں اس میں اشارہ تو نہیں
خود بخود ان کے تصور سے سنور جاتا ہے
ہم نے خود اپنے مقدر کو سنوارا تو نہیں

قصہ مختصر یہ وہ نام پاک ہے۔ یہ وہ لفظ پاک ہے جس کو سمجھنے کے لیے دیکھنے کے لیے غور کرنے کے لیے جتنی بھی گہرائی میں جایا جائے گا۔ وہ کم ہے۔ زندگی ختم ہو جائے گی لیکن نام محمد ﷺ کے متعلق مکمل آگہی نہ ملی ہے اور نہ ملے گی۔ کیونکہ یہ خالق کائنات اور محمد ﷺ کا آپس میں بھید ہے۔ جسے صرف اور صرف خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ عام بندے میں کیا طاقت۔ جب سے دنیا بنی ہے دنیا ختم ہونے تک ہر کسی نے نام محمد ﷺ پر غور کیا ہے۔ غور کرے گا۔ لیکن بات مکمل نہ ہو گی۔

آنکھ والا تیرے جوبن کا تماشا دیکھے
دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے

٭……٭……٭

صفحہ 256

اذان

محمد بن متین

دنیا میں ہر وقت گونجنے والی صدا اذان ہے۔ اگر دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ اسلامی ممالک میں انڈونیشیا کرہ ارض کے عین مشرق میں واقع ہے۔ یہ ملک ہزاروں جزیروں پر مشتمل ہے۔ جن میں جاوا، سماٹرا، بورنیو، سیلیبز بڑے بڑے جزیرے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے انڈونیشیا گنجان آباد ہے اور اس کی آبادی 18 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ طلوع سحر سیلیبز کے مشرق میں واقع جزائر میں ہوتی ہے۔ طلوع سحر کے ساتھ ہی انڈونیشیا کے انتہائی مشرقی جزائر میں فجر کی اذان شروع ہو جاتی ہے اور بیک وقت ہزاروں موذن اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضور نبی اکرم ﷺ کی رسالت کا اعلان کرتے ہیں۔

مشرقی جزائر سے یہ سلسلہ مغربی جزائر کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اور ڈیڑھ گھنٹہ بعد جکارتہ کے موذن کی اذان کی باری آتی ہے۔...... جکارتہ کے بعد یہ سلسلہ سماٹرا میں شروع ہو جاتا ہے۔...... اور سماٹرا کے مغربی قصبوں اور دیہات میں اذانیں شروع ہونے سے پہلے ہی ملایا کی مسجدوں میں اذانوں کا یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔...... اور ایک گھنٹہ بعد ڈھاکہ پہنچتا ہے۔...... بنگلہ دیش میں ابھی یہ اذانیں ختم نہیں ہوتیں کہ کلکتہ سے سری لنکا تک فجر کی اذانیں شروع ہو جاتی ہیں۔...... دوسری طرف یہ سلسلہ کلکتہ سے بمبئی کی طرف بڑھتا ہے اور پورے ہندوستان کی فضا توحید و رسالت کے اعلان سے گونج اٹھتی ہے۔...... سری نگر اور سیالکوٹ میں فجر کی اذان کا وقت ایک ہی ہے۔...... سیالکوٹ سے کوئٹہ کراچی اور گوادر تک چالیس منٹ کا فرق ہے۔ اس عرصے میں فجر کی اذان پاکستان میں بلند ہوتی رہتی ہے۔...... پاکستان

صفحہ 257

میں یہ سلسلہ ختم ہونے سے پہلے افغانستان اور مسقط میں یہ اذانیں شروع ہو جاتی ہیں...... مسقط کے بعد بغداد تک ایک گھنٹے کا فرق پڑ جاتا ہے۔ اس عرصے میں اذانیں سعودی عرب‘ یمن‘ متحدہ عرب امارات‘ کویت اور عراق میں گونجتی رہتی ہیں۔

بغداد سے اسکندریہ تک پھر ایک گھنٹہ کا فرق ہے۔ اس وقت شام‘ مصر‘ صومالیہ اور سوڈان میں اذانیں بلند ہوتی ہیں۔ اسکندریہ اور استنبول ایک ہی طول و عرض پر واقع ہے...... مشرقی ترکی سے مغربی ترکی تک ڈیڑھ گھنٹے کا فرق ہے۔ اس دوران ترکی میں اذانوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے...... اسکندریہ سے طرابلس تک ایک گھنٹہ کا فرق ہے۔ اس عرصہ میں شمالی افریقہ میں‘ لیبیا اور تیونس میں اذانوں کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے۔ فجر کی اذان جس کا آغاز انڈونیشیا کے مشرقی جزائر سے ہوتا ہے ساڑھے نو گھنٹے کا سفر طے کر کے بحر اوقیانوس کے مشرقی کنارے تک پہنچتی ہے۔...... فجر کی اذان بحر اوقیانوس تک پہنچنے سے پہلے مشرقی انڈونیشیا میں ظہر کی اذان کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے....... اور ڈھاکہ میں ظہر کی اذانیں شروع ہو جانے تک مشرقی انڈونیشیا میں عصر کی اذانیں بلند ہونے لگتی ہیں...... یہ سلسلہ ڈیڑھ گھنٹہ تک بمشکل جکارتہ تک پہنچتا ہے کہ مشرقی جزائر میں مغرب کی اذان کا وقت ہو جاتا ہے...... مغرب کی اذانیں سلیبز سے ابھی سماٹرا تک ہی پہنچتی ہیں کہ اتنے میں انڈونیشیا کے مشرقی جزائر میں عشا کی اذانیں گونج رہی ہوتی ہیں۔

کرۂ ارض پر ایک سیکنڈ بھی ایسا نہیں گزرتا جب ہزاروں سینکڑوں موذن اللہ تعالیٰ کی توحید اور محمد ﷺ کی رسالت کا اعلان نہ کر رہے ہوں اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔

صفحہ 258

دستک

مرحبا سید مکی مدنی العربی!
دل و جان باد فدایت چہ عجب خوش لقبی
من بے دل بہ جمال تو عجب حیرانم
اللہ اللہ چہ جمال است بدیں بوالعجبی

محمد ﷺ کا نام بلند ہے

پانچوں وقت اذانوں میں نام محمد ﷺ کی منادی ہوتی ہے۔

یہ مبارک نام ایک تحریک ہے۔

عالم اسلام کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چلے جایئے ہر جگہ ہر مقام پر یہ مبارک نام ایک قدر مشترک نظر آئے گا۔

دنیا بھر میں کسی بھی ملک کسی بھی خطۂ ارض میں بسنے والے کلمہ گو مسلمان خواہ وہ یورپ اور امریکہ کے سفید فام ہوں کہ افریقہ کے سیاہ فام۔ ایران و ترکیہ کے سرخ رو مسلمان ہوں کہ برعظیم ہند و پاک کے گندم گوں یا چین و جاپان کے زرد چہرہ مسلم...... سب کے سب اسی ایک نام سے وابستہ ہیں۔

قوم نسل رنگ و زبان کے گوناگوں اختلافات کے باوجود یہ سب اگر کسی ایک بات پر متفق و متحد ہیں تو وہ نام محمد ﷺ ہے۔۔۔۔۔ بلاشبہ نام محمد ﷺ ہی ”حبل اللہ“ ہے!

صفحہ 259

اور تاریخ گواہ ہے کہ جب تک ہم اسے پورے شعور اور خلوص کے ساتھ تھامے رہے گردش دوراں کی باگ ڈور بھی ہمارے ہی ہاتھوں میں رہی۔

اور جب سے ہم نے اطاعت محمد ﷺ کے اس رشتے کو چھوڑا ہم ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے، ہمارا شیرازہ بکھر گیا اور زمانے کی ٹھوکروں نے ہم کو غبار راہ بنا کر اڑا دیا۔

محمد ﷺ کا نام ایک قوت ہے

ایک عظیم انقلابی قوت!

اسی قوت نے اس رہتی بستی دنیا میں ملت مسلمہ کو ایک ایسا امتیازی وجود بخشا، اور ایک ایسا مخصوص شعار عطا کیا کہ اس کی سوچ بچار، اس کے رہن سہن، اس کی رفتار و گفتار سے ایک اچھوتا اور قابل فخر انسانی تمدن وجود میں آگیا۔

محمد ﷺ ...... اللہ کے رسول ...... تہذیب و تمدن، علم و فکر، حرکت و عمل کے ایک سنہرے دور کے سر آغاز پر کھڑے ہوئے عالم انسانیت کو خیر و فلاح کی طرف بلاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

محمد ﷺ ایک حرف شوق ہے

اس کو زبان سے ادا کیجئے تو لب پیوستہ پیوستہ ہوئے جاتے ہیں۔

یوں لگتا ہے جیسے شیرینی کام و دہن میں رچی جا رہی ہے، اور یہ خنک خنک نام سانس کی ٹھنڈک بنا جا رہا ہے۔ اس کا آہنگ قلب کی دھڑکن اور اس کا سرور آنکھوں کا نور بن کر چھلکتا ہے۔

یہ نام رگ مسلم میں خون بن کر دوڑتا ہے ......

اس کی آرزو فکر و عمل کے لیے قوت محرکہ بن جاتی ہے۔

محمد ﷺ کا نام لازمہ حیات ہے

بات صرف پرستش کی ہوتی تو اللہ کے سامنے جھک جانا کیا مشکل تھا؟

تعظیماً خم ہو جاتے ــــــ

اپنے آپ کو اس کے حضور گرا دیتے! ــــــ

زمین بوس ہو جاتے! ــــــ

ماتھے خاک پر رکھ دیتے اور جس طرح بھی بن پڑتا ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اس کی حمد و توصیف بیان کرتے۔

صفحہ 260

مگر، معرفت رب کا تقاضا صرف پرستش تک محدود نہیں، بلکہ پوری زندگی میں اطاعت کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔

اور یہ زندگی؟-------

زندگی بجائے خود ایک آئینہ خانہ ہے کہ ہزار رنگ رکھتی ہے، ہزار جلوے دکھاتی ہے اور ہر جلوے میں کتنے ہی روپ بدلتی ہے۔

احساسات و جذبات کے لطیف سے لطیف تر ارتعاش سے لے کر مسائل و معاملات کے سنگین و حوصلہ آزما مرحلوں تک، اُس کی رنگارنگی اور بوقلمونی حیران و عاجز کیے دیتی ہے۔

گویا ایک طرف زندگی اپنے تمام تر تقاضوں کے ساتھ دست تعاون کی منتظر ہے۔

دوسری طرف عقل کے ہاتھوں سے شانہ مشاطہ گری چھوٹا جا رہا ہے، کہ وہ حسن آرائی کے سلیقے سے نابلد ہے۔

ایسے میں طالبان صدق و صفا کیا کریں؟

کہاں جائیں؟

کس سے پوچھیں کہ ان کا رب ان سے کیا چاہتا ہے؟

کون ہے جو آرزومندان تسلیم و رضا کو راہ بتائے، ان کی رہنمائی کرے، انہیں لغزشوں سے بچائے، ان کے حوصلے بڑھائے، اور انہیں ساتھ ساتھ لیے منزل مقصود تک پہنچاوے؟

کون؟ وہ کون ہو سکتا ہے؟

کتنا مشکل سوال ہے۔

مگر کتنا آسان کہ جواب بے اختیار زبان پر چلا آتا ہے۔

ذرا ٹھہرو!

اس جواب کو نوک زبان پر روک لو......

سوچو کہ اتنے مشکل سوال کا جواب بلا تامل بے ساختہ زبان پر کیسے آگیا؟

صرف اس لیے کہ ہمارے سامنے ایک اسوہ کامل ہے۔

ایک مکمل شخصیت ہے جس نے اللہ کا پیغام پہنچایا، اور پھر ایک بھرپور اور کامیاب خدا پرستانہ زندگی بسر کر کے حیات انسانی کے ہر شعبے میں ایک بے مثل نمونہ قائم کر دیا۔

اب امت رسول کے لیے اس سوال کا جواب کوئی مشکل نہیں رہا کہ اللہ کو اپنا نصب العین...... الٰہ...... بنا کر کس طرح زندگی بسر کی جا سکتی ہے۔

صفحہ 261

اب تو زندگی کے ہر پہلو میں ہر معاملے میں اور ہر شعبے میں اسوۂ حسنہ رہنمائی کے لیے موجود ہے۔

اسلام کے نظام فکر و عمل میں رسول ﷺ کی سنت کی یہی اہمیت ہے۔ رسول ﷺ انسانی زندگی میں اللہ کی پسند اور ناپسند سے آگاہی دیتا ہے۔...... رسول ﷺ، اللہ کو مقصود و مطلوب اور نصب العین بنا کر زندگی بسر کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ خواہ وہ ایک فرد کی نجی زندگی ہو خواہ ایک قوم اور معاشرے کی اجتماعی زندگی......

محمد ﷺ ہماری زندگی ہیں

اس سرچشمہ حیات سے دوری میں ہماری موت ہے۔ امت مسلمہ جیسے جیسے اس آب حیات سے دور ہوتی جاتی ہے، عالم اسلام پر ایک نظر ڈال کر دیکھ لو کہ وہ قریب المرگ ہوتی جاتی ہے۔ اس لیے آج محمد ﷺ کے نام کو زندہ رکھنے کے لیے نہیں— کیونکہ اس کو زندہ و تابندہ رکھنے والا تو رب العالمین ہے— بلکہ اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تذکار محمد ﷺ کی تکرار کرتے رہیں۔ اسوۂ محمد ﷺ کی ہر جھلک ہمارے لیے حیات نو کا پیغام بن سکتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ قلب مضطر آئینہ قرار طلب بن جائے۔

بہ ہزار ولولہ و شوق!
بہ صد ادب و احترام!
بہ نہایت عجز و انکسار!

بارگاہ رسالت میں کھڑے ہوئے در محمد ﷺ پر دستک دے رہے ہیں۔

بستہ ام بر یک دگر غنچے ز خارستان طبع
سوئے فردوس بریں مشتے گیاہ آوردہ ام

(جامی)

❁......❁......❁

صفحہ 262

اسم محمد ﷺ

جملہ صفات حق کا یہ آئینہ دار ہے
اس نام سے خدا کا جلال آشکار ہے
قائم اسی سے اہل رضا کا وقار ہے
یہ راز دار قدرت پروردگار ہے
اٹھتا ہے شور اس پہ درود و سلام کا
یہ نام اک بہانہ ہے الطاف عام کا
سب کو ہے شان اسم محمد کا اعتراف
کرتی ہیں ساری عظمتیں اس نام کا طواف
لیتے نہیں یہ نام ہو جب تک زباں نہ صاف
یہ نام لو تو کرتی ہے قدرت خطا معاف
یہ اسم پاک چشمۂ فیضان عام ہے
نام خدا کے ساتھ یہی ایک نام ہے
اس نام سے لرزتے ہیں شاہان ذی حشم
اس نام سے فرشتے بھی ہوتے ہیں سر بہ خم
شیرازے اس سے دین و سیاست کے ہیں بہم
پنہاں اسی کی شرح میں ہے قسمت امم
جتنی جہاں میں اس کی ہے توصیف کی گئی
اتنی کسی کی بھی نہیں تعریف کی گئی

محشر رسول نگری

صفحہ 263

نام کی خوشبو

اداسی کے سفر میں جب ہوا رک رک کے چلتی ہے
سواد ہجر میں ہر آرزو چپ چاپ جلتی ہے
کسی نادیدہ غم کا کہر میں لپٹا ہوا سایہ
زمیں تا آسماں پھیلا ہوا محسوس ہوتا ہے
گزرتا وقت بھی ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے
تو ایسے میں تری خوشبو
محمد مصطفےٰ صلی علیٰ کے نام کی خوشبو
دل حسرت زدہ کے ہاتھ پر یوں ہاتھ رکھتی ہے
تھکن کا کوہ غم ہٹا ہوا محسوس ہوتا ہے
سفر کا راستہ کٹا ہوا محسوس ہوتا ہے

امجد اسلام امجد

صفحہ 264
میں بے نوا سہی مرا آقا عظیم ہے
نسبت کو میری دیکھئے مجھ پر نہ جائیے
آنکھیں ملا کے بات نہ کر مجھ سے آفتاب
میں ذرۂ دیار رسالت مآب ہوں
ثنا تیری بیان کیا ہو صفت تیری رقم کیا ہو
نہ اس قابل زباں نکلی، نہ اس لائق قلم نکلا
عجز گویائی کا مظہر بن گئی ہے میری نعت
کس لغت سے لفظ ڈھونڈوں جس سے ہو تیری ثنا
حضورؐ عجز بیاں کو بیاں سمجھ لیجئے
تہی ہے دامن فن آستاں پہ کیا لاؤں
آج مضموں باندھتا ہوں مدحت سرکارؐ کا
حق ادا کرتا ہوں اپنی طاقت گفتار کا
لیکن اس منزل میں سب کا حوصلہ ہے دم بخود
فکر کا، جوش تخیل کا، لب اظہار کا