احتساب قادیانیت جلد 15 · مولانا حسین احمد مدنی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 15 · Maulana Hussain Ahmad Madni
PDF 1

رَدِّ قادیانیّت

رسائل

احتساب قادیانیّت

پانزدہم

عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون : 4514122

PDF 2

ردّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

پانزدہم

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4514122

صفحہ ٣

بسم الله الرحمن الرحيم!

احتساب قادیانیت جلد پانزدہم

شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ شیر اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ

٤٩٤ مئی ٢٠٠٦ء اصغر پرنٹنگ پریس لاہور ٢٠٠ روپے

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان دفاتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مکتبہ لدھیانوی نزد جامعہ علوم اسلامیہ کراچی ادارہ اسلامیات انارکلی لاہور مکتبہ سید احمد شہید اردو بازار لاہور مکتبہ علم و عرفان اردو بازار لاہور مکتبہ مدنیہ اردو بازار لاہور

بسم الله الرحمن الرحيم!

فہرست !

عرض مرتب ❁ ٤

شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ ❁

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ ❁

مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ ❁

مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ ❁

شیر اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ❁

شیر اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ❁

صفحہ ٤

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

عرض مرتب !

الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی ۔ اما بعد ! احتساب قادیانیت کی چودھویں جلد دسمبر ٢٠٠٤ء میں شائع ہوئی۔ اب مئی ٢٠٠٦ء ہے۔ ایک سال چار ماہ تک احتساب قادیانیت کے کام میں تعطل پیدا ہوا۔ اللہ رب العزت معاف فرمائیں۔ آج یہ سطور لکھنے بیٹھا تو اندازہ ہوا کہ سوا سال تک یہ کام رکا رہا۔ لیکن میں اسے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کا تعطل سمجھتا تھا۔ لیکن وقت گزرتے پتہ نہیں چلتا۔ آج اس فروگزاشت بلکہ مجرمانہ فعل پر احساس ندامت سے دل پر چوٹ سی لگی۔ تاہم اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس سوا سال کے عرصہ میں فتاویٰ ختم نبوت کی تین جلدیں ”فراق یاراں“ بھی شائع ہو گئیں۔ غرض وقت ضائع نہیں ہوا۔ فالحمدللہ !

لیکن احتساب قادیانیت کے کام میں تعطل ضرور ہوا۔ اس طویل غیر حاضری، تعطل کی درخواست معافی کے ساتھ قارئین کی خدمت میں احتساب قادیانیت کی پندرہویں جلد پیش خدمت ہے:

کے رد قادیانیت کے سلسلہ میں رشحات قلم کو شامل اشاعت کیا گیا ہے۔ ان حضرات کے سن وفات کو سامنے رکھ کر کتاب کی ترتیب قائم کی ہے۔

اللہ رب العزت جامعہ خیر المدارس کے استاذ التفسیر حضرت مولانا محمد عابد صاحب مدظلہ کو جزائے خیر دیں کہ انہوں نے ان اکابر کے رد قادیانیت پر رسائل کو ایک جلد میں یکجا کرنے کا صائب مشورہ دیا۔ ویسے بھی جمعیت علمائے ہند اور جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی چوٹی کی

صفحہ ٥

قیادت کے اس عنوان پر رسائل یکجا ہو گئے جو ہمارے لئے نیک فال و سعادت کبریٰ اور نعمت عظمیٰ ہے۔ ان حضرات کے رد قادیانیت پر تمام رسائل شامل اشاعت ہیں۔ ہر کتاب کا تعارف کتاب کے شروع میں لگا دیا گیا ہے۔ قارئین وہاں ملاحظہ فرمائیں گے۔ رسائل کے اسماء فہرست صفحہ ٣ پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہاں ان کا تذکرہ لاحاصل تکرار ہوگا۔ البتہ اس جلد کی اشاعت میں چند توضیحات کا ذکر کئے بغیر چارہ نہیں۔

المہدی فی الاحادیث الصحیحہ“ فن حدیث سے تعلق رکھتا ہے۔ یہاں اسے شامل کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ مرزا قادیانی ملعون نے جہاں اور لایعنی و مجنونانہ کفریہ دعاویٰ کئے وہاں اس ملعون نے مہدی ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ اس رسالہ میں احادیث صحیحہ جمع کی گئی ہیں۔ ان کی روشنی میں مرزا قادیانی ملعون کو جانچا جاسکتا ہے۔

مفکر اسلام قائد جمعیت علمائے اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے پڑھا تھا۔ اس مناسبت سے آپ کے نام سے شائع کیا جارہا ہے۔ (یہ کتاب جو حضرت مفتی صاحبؒ نے اسمبلی میں پڑھی وہ صفحہ ٢٦٧ تک ہے۔ اس کے بعد کا تمام مواد بعد میں موضوع کی مناسبت سے شامل کیا گیا۔)

القادیانی“ عربی میں ہے۔ یہ کتاب مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی خواہش و فرمان پر آپ نے عرب ممالک کے باشندگان کو قادیانی فتنہ کی سنگینی سے باخبر کرنے کے لئے تحریر فرمائی۔ لیتھو کتابت پر اول ایڈیشن شائع ہوا۔ بعد میں ہمارے مخدوم حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب مدظلہ مہتمم جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کی نظر ثانی سے کمپیوٹر ایڈیشن بھی مجلس نے شائع کیا۔ لیکن ہم نے اصل کاتب کی لیتھو کتابت کا عکس شائع کیا ہے۔ تاکہ اصل تبرک حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا محفوظ ہو جائے۔ لیتھو کتابت پلیٹ میکنگ کے وقت ضائع ہو جاتی ہے۔ اس لئے اشاعت اول کے عکس پر گزارہ کئے بغیر چارہ نہ تھا۔ عکس بھی مدہم ہے۔ تاہم

صفحہ ٦

حفاظت تبرک کے جذبہ کی قدر کرتے ہوئے قارئین اسے نظر انداز کر کے ممنون فرمائیں گے۔ اس طرح اس کتابچہ میں خزائن کے حوالہ جات کی تخریج نہیں کی۔ یہ اضافہ بھی اصل کتابچہ میں ہم پر ثقیل گزرا۔ اس امر کو بھی قارئین نظر انداز فرما کر ممنون فرمائیں گے۔

اللہ رب العزت کا کرم ہے کہ اس جلد میں فقیر کے دل و دماغ پر حکمرانی کرنے والے اکابر کے تبرکات محفوظ ہوگئے ہیں۔ ان حضرات سے یہ نسبت اللہ کرے آخرت میں ان کی مصاحبت و خوشہ چینی کا باعث ہو۔ وما ذالك على الله بعزیز!

مناسب ہوگا کہ قارئین سے ہم اس امر کا وعدہ کریں یا خوشخبری سنائیں کہ احتساب قادیانیت کی جلد نمبر ٦ مکمل کمپوز ہوگئی ہے۔ اس میں کن کن حضرات کے رسائل ہیں۔ اس کے لئے انتظار کی زحمت فرمائیں۔ جلد نمبر ٧ کی کمپوزنگ شروع ہے۔ انشاء اللہ العزیز! سابقہ تعطل و تاخیر کی تلافی سے آپ خوش ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھیں۔ سالانہ کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر جو امسال ستمبر ٢٠٠٦ء میں منعقد ہوگی۔ اس وقت تک امید ہے کہ کئی اور جلدیں آجائیں گی۔ قادر کریم مختار مطلق ایسا فرمادیں۔ اس کے اختیار کن فیکون! کے سامنے کیا مشکل ہے۔

خاکپائے!
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ
شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ
مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ
شیر اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ

فقیر ...... اللہ وسایا ١٤٢٧/٤/١٢ھ ٢٠٠٦/٥/١١ء بعد العشاء دفتر مرکزیہ ملتان

صفحہ ٧

الخليفة المهدی

فی

الأحاديث الصحيحة

لسماحة الشيخ المحدث النبيل السيد حسين احمد المدنی

قدمه وضبطه وخرج أحاديثه

فضيلة الشيخ حبيب الرحمن القاسمی

الأستاذ بدار العلوم ديوبند

صححه وراجعه

محمد ابراهيم سرور الغنی

الناشر

مجلس تحفظ ختم النبوة العالمی

ملتان - پاکستان

صفحہ ٨

كلمة الفقير!

بسم الله الرحمن الرحيم .

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ خاتم النبیین ، اما بعد!

شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کی عربی تصنیف ”الخليفة المهدى فى الاحادیث الصحیحه“ کا مکمل تعارف اور اس کے حصول کی مکمل تفصیل آپ آگے ملاحظہ فرمائیں گے۔ سب سے پہلے یہ دارالعلوم دیوبند سے شائع ہوئی۔

امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان تشریف لائے تو ہماری درخواست پر دیوبند جاکر اس کا ایک نسخہ ارسال فرمایا۔ جامعہ مدنیہ لاہور کے ترجمان ماہنامہ انوارِ مدینہ لاہور نے اسے بالاقساط شائع کیا۔ پاکستان میں کتابی شکل میں اسے شائع کرنے کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو سعادت نصیب ہوئی۔ یہ بڑے سائز پر تھی۔ اب اسے ”احتساب قادیانیت“ میں لانے کے لئے 7X4 کے سائز پر دوبارہ کمپوز کرایا گیا ہے۔

فضیلۃ الشیخ مولانا محمد ابراہیم جنہوں نے مجلس کی کتاب ”آئینہ قادیانیت“ کا بھی عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب الخلیفۃ المہدی کی تصحیح ومراجعت کے لئے ان سے فون پر درخواست کی۔ موصوف سے کسی ایک آدھ دینی جلسہ میں فقیر کی ملاقات ہوئی ہے۔ تفصیلی ان سے نہ جان نہ پہچان۔ لیکن وہ خیر کی توفیق سے ایسے سرفراز کئے گئے ہیں کہ ہماری استدعا پر انہوں نے جدید کمپوزنگ کرا کر ارسال کیا جس پر ان کے غائبانہ شکر گزار ہیں۔

حق تعالیٰ کی عنایت واحسان سے اس کتاب کو احتساب کی پندرہویں جلد میں شائع کرنے کی مجلس تحفظ ختم نبوت کو سعادت نصیب ہو رہی ہے۔ اس خدمت سے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سے جو تعلق نصیب ہو رہا ہے اس پر رب کریم کے حضور سجدہ ریز ہیں۔

فقیر: اللہ وسایا ... ١٤٢٧/٤/١٠ھ ... ٢٠٠٦/٥/٩ء

صفحہ ٩

مُقَدِّمَہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ وَ - النَّبِيِّيْنَ وَعَلٰی اٰلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِيْنَ، اَمَّا بَعْد!

قیامت ایک امر غیبی ہے جس کا حقیقی علم بجز خدائے عالم الغیب کے کسی کو نہیں ہے قرآن مجید ناطق ہے: ﴿اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ﴾ اللہ تعالیٰ ہی کو قیامت کا علم ہے۔

ایک دوسرے موقع پر ارشاد الہی ہے: ﴿يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰهَا ؕ فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِکْرٰهَا اِلٰی رَبِّکَ مُنْتَهٰهَا﴾ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں وہ کب آئے گی۔ آپ کو اس کے ذکر سے کیا کام اس کے علم کا منتہی تو آپ کے رب کے پاس ہے۔

رسول خدا ﷺ کی حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کے وقوع کا علم اللہ کے رسول ﷺ کو بھی نہیں تھا۔ حدیث جبرائیل میں ہے۔ ﴿فَاَخْبِرْنِيْ عَنِ السَّاعَةِ؟ قَالَ مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ﴾ (مشکوۃ ۔ ص ١١، ج ١) حضرت جبریل علیہ السلام نے چوتھا سوال کیا اچھا مجھے قیامت کے وقت وقوع کی خبر دیجیے؟ آنحضرت ﷺ نے اس کے جواب میں اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔ اسکے بارے میں مسئول (پوچھا جانے والا) سائل (پوچھنے والے) سے زیادہ نہیں جانتا مطلب یہ کہ قیامت کے وقتِ وقوع کے نہ جاننے میں ہم دونوں برابر ہیں۔

البتہ اس کی کچھ علامتیں ہیں جنھیں بطور پیشین گوئی کے آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے۔ ان میں بعض صغریٰ علامتیں یعنی چھوٹی علامتیں کہلاتی ہیں جو معمول و عادات کے

صفحہ ١٠

مطابق ظہور پذیر ہوتی رہیں گی۔ ان کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ مثلاً حدیث جبرائیل ہی میں پانچویں سوال کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے قیامت کی جن علامتوں کا ذکر کیا ہے وہ علاماتِ صغریٰ ہی کے قبیل سے ہیں۔ حدیث پاک کے الفاظ یہ ہیں: ﴿قَالَ فَاخْبِرْنِىْ عَنْ اَمَارَاتِهَا ﴾ اس کی کچھ علامتیں بتائیے ﴿ قَالَ اَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا وَاَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُوْنَ فِى الْبُنْيَانِ﴾ لونڈیاں اپنی مالکہ کو جننے لگیں ”یعنی لڑکیاں اپنی ماؤں پر حکم چلانے لگیں“ اور ننگے پیر، ننگے بدن تنگدست بکریوں کے چرواہوں کو تو دیکھے کہ عالی شان مکانات پر شیخی بگھار رہے ہیں تو سمجھ لو کہ اب قیامت کا زمانہ قریب آگیا ہے۔

اسی طرح رسول پاک ﷺ کے درج ذیل فرمان میں جن علامتوں کا ذکر ہے ان کا تعلق بھی علامتِ صغریٰ سے ہے۔ ﴿عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ لَاُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيْثاً لَّا يُحَدِّثُكُمْ اَحَدٌ بَعْدِيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ : اِنَّ مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَةِ اَنْ يَّقِلَّ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَظْهَرَ الزِّنَاءُ وَتَكْثُرَ النِّسَاءُ وَيَقِلَّ الرِّجَالُ حَتَّىٰ يَكُوْنَ لِخَمْسِيْنَ امْرَأَةً اَلْقَيِّمُ الْوَاحِدُ﴾ . (بخاری کتاب العلم ص ١٨، ج ١)

حضرت قتادہ ؒ حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی نہیں بیان کرے گا۔ میں نے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ علامات قیامت میں سے یہ ہے کہ علم کم ہو جائے گا، جہل پھیل جائے گا۔ زنا بکثرت ہوگا۔ عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی اور مرد کم ہو جائیں گے۔ حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا نگران صرف ایک مرد ہوگا۔

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ ﷺ إِنَّ مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَةِ اَنْ يُّرْفَعَ الْعِلْمُ وَ يَثْبُتَ الْجَهْلُ وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا

صفحہ ١١

(بخاری کتاب العلم ص ١٨، ج ١)

ان مذکورہ علامتوں کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے ظہور کے بعد قیامت بالکل قریب آجائیگی۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ قیامت سے پہلے ان کا وجود میں آنا ضروری ہے اسی لیے بہت سے واقعات وحوادث کے بارے میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تک یہ واقعات ظہور پذیر نہ ہو جائیں۔ خود رحمت عالم ﷺ کی بعثت بھی علامتِ قیامت میں شمار کی جاتی ہے۔ حالانکہ آپ ﷺ کی بعثت کو چودہ سو سال ہوچکے ہیں اور خدا جانے ابھی کتنی مدّت کے بعد قیامت قائم ہوگی۔

ان کے علاوہ بعض علامتیں وہ ہیں جنہیں علامتِ کُبریٰ کہا جاتا ہے۔ یہ علامتیں بالعموم قیامت کے قریب تر زمانہ میں پے بہ پے ظاہر ہوں گی اور عادت ومعمول کے خلاف ہوں گی۔ ان علامتوں کا ذکر بھی بہت سی حدیثوں میں متفرق طور پر موجود ہے۔ اور حضرت حذیفہ بن اُسید الغفاریؓ کی ایک روایت میں اکٹھی دس علامتوں کا بیان ہے۔

حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں:

﴿اِطَّلَعَ النَّبِيُّ ﷺ عَلَيْنَا وَ نَحْنُ نَتَذَاكَرُ فَقَالَ مَا تَذَاكَرُوْنَ؟ قَالُوْا نَذْكُرُ السَّاعَةَ قَالَ إِنَّهَا لَنْ تَقُوْمَ حَتَّى تَرَوْا قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ فَذَكَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ، وَالدَّابَّةَ وَطُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَنُزُوْلَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَيَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ وَثَلَاثَةَ خُسُوْفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَ خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيْرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذَالِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ ﴾

(مسلم باب الفتن واشراط الساعة ص ٣٩٣، ج ٢)

حضرت حذیفہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ بالاخانہ سے ہماری طرف نمودار ہوئے اور ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے دریافت کیا ۔ تم لوگ

صفحہ ١٢

کس چیز کا تذکرہ کر رہے ہو۔ لوگوں نے عرض کیا قیامت کا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ قیامت برپا نہیں ہوگی تاوقتیکہ تم اس سے پہلے دس علامتیں نہ دیکھ لو، پھر آپ ﷺ نے ان دسوں کو بیان کیا جو یہ ہیں۔ (١) دھواں (٢) دجال (٣) دابۃ الارض (٤) پچھم (مغرب) سے سورج کا نکلنا (٥) حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السّلام کا آسمان سے اترنا (٦) یاجوج ماجوج کا نکلنا (٧، ٨، ٩) زمین میں تین مقامات میں لوگوں کا دھنس جانا، ایک مشرق میں دوسرے مغرب میں اور تیسرے عرب میں (١٠) اور ان سب کے آخر میں آگ یمن سے نکلے گی جو لوگوں کو گھیر کر ان کو محشر میں پہنچادے گی۔

قیامت کی علامت کبریٰ ہی میں سے مہدی آخرالزمان کا ظہور ان کی خلافت اور حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا ان کی اقتداء میں ایک نماز یعنی فجر کا پڑھنا وغیرہ بھی ہے۔ اوپر بحوالہ حدیث جن دس ١٠ نشانیوں کا ذکر ہے ان سے پہلے حضرت امام مہدی کا ظہور ہوگا۔ چنانچہ امام السفارینی لکھتے ہیں:

﴿ای من العلامات العظمی وہی اولہا ان یظہر الامام المقتدی الخاتم للائمۃ ...... محمد المہدی﴾

(لوائح الانوار البہیۃ ج ٢، ص ٦٧)

قیامت کی بڑی یعنی قریب تر اور اولین نشانیوں میں خاتم الائمہ محمد مہدی کا ظہور ہے۔

بخاری میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کو غزوۂ تبوک کے موقع پر قیامت کی چھ ٦ نشانیاں بتائیں جن میں بنی الاصفر یعنی عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان صلح ہو جانے کا بھی تذکرہ فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ عیسائی بد عہدی کر کے تمھارے مقابلے میں آئیں گے۔ اس وقت ان کے اسی ٨٠ جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے تحت بارہ ہزار سپاہی ہوں گے یعنی ان کی مجموعی تعداد نو لاکھ ہو گی۔

صفحہ ١٣

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مسلمان ہر طرف سے گھر جائیں گے اور ان کی حکومت صرف مدینہ منورہ سے خیبر تک رہ جائے گی تو مسلمان مایوس ہو کر امام مہدی کی تلاش شروع کر دیں گے۔ وہ اس وقت مدینہ منورہ میں ہوں گے اور امامت کے بارگراں سے بچنے کی غرض سے مکہ مکرمہ چلے جائیں گے۔ مکہ کے لوگ انہیں پہچان لیں گے اور انکار کے باوجود ان سے بیعت خلافت کر لیں گے۔ خلافت کی خبر جب مشہور ہوگی تو ملک شام سے ایک لشکر آپ کے مقابلہ کے لیے نکلے گا، مگر اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی مقام بیداء میں جو مکہ مدینہ کے درمیان ہے زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ اس واقعہ کی اطلاع پا کر شام کے ابدال اور عراق کے متقی لوگ حضرت مہدی کی خدمت میں پہنچ جائیں گے۔ اس کے بعد آپ سے جنگ کے لیے ایک قریشی النسل بنو کلب پرمشتمل ایک لشکر بھیجے گا جس سے حضرت مہدی کی فوج جنگ کرے گی اور فتحیاب ہوگی۔

احادیث میں امام مہدی کا نام، ولدیت، حلیہ وغیرہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ نیز ان کے زمانہ خلافت میں عدل و انصاف کی ہمہ گیری اور مال و دولت کی فراوانی کا تذکرہ بھی ہے۔ غرضیکہ امام مہدی کے متعلق اس کثرت سے احادیث مروی ہیں کہ اصول محدثین کے اعتبار سے وہ حد تواتر کو پہنچ گئی ہیں۔ چنانچہ امام ابوالحسین محمد بن الحسین الآبری السجزی الحافظ المتوفی ٣٦٣ھ اپنی کتاب مناقب الشافعی میں لکھتے ہیں:

﴿وقد تواترت الاخبار واستفاضت بكثرة رواتها عن المصطفى ﷺ فى المهدى وانه من اهل بيته وانه يملك سبع سنين ويملاء الارض عدلاً وان عيسى عليه الصلوة والسلام يخرج فيساعده على قتل الدجال وانه يؤم هذه الامة وعيسى خلفه فى طول من قصته وامره﴾

(تہذیب التہذیب ص ١٢٦، ج ٩ فی ضمن ترجمۃ محمد بن خالد الجندی المؤذن)

صفحہ ١٤

”امام مہدی سے متعلق مروی روایتیں اپنے راویوں کی کثرت کی بنا پر تواتر اور شہرت عام کے درجہ میں پہنچ گئی ہیں کہ وہ بیعہ رسول سے ہوں گے۔ سات سال تک دنیا میں حکومت کریں گے۔ اپنے عدل وانصاف سے دنیا کو معمور کردیں گے اور عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر قتل دجال میں ان کی مساعدت اور نصرت کریں گے اور اس امت میں مہدی ہی کی امامت میں عیسیٰ علیہ السلام (ایک) نماز ادا کریں گے وغیرہ، طویل واقعات ان کے سلسلے میں احادیث میں بیان ہوئے ہیں“۔

حافظ آبری کے اس قول کو حافظ ابن القیم نے المنار المنیف میں اور شیخ محمد بن احمد سفارینی نے اپنی مشہور کتاب لوامع الانوار البہیہ میں علامہ مرعی بن یوسف الکرمی کی کتاب فوائد الفکر کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔ علاوہ ازیں امام القرطبیؒ صاحب الجامع لاحکام القرآن نے بھی التذکرہ فی احوال الموتیٰ وامور الآخرہ میں اسے نقل کیا ہے۔

شیخ محمد البرزنجی المدنیؒ المتوفی ١١٠٣ھ الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ص ١١٢ پر لکھتے ہیں:

﴿وقد علمت ان احادیث المہدی وخروجہ اخر الزمان وانہ من عترۃ رسول اللہ ﷺ من ولد فاطمۃ رضی اللہ عنہا بلغت حد التواتر المعنوی فلا معنی لانکارہا﴾

”محقق طور پر معلوم ہے کہ مہدی سے متعلق احادیث کہ آخری زمانہ میں ان کا ظہور ہوگا اور وہ آنحضرت ﷺ کی نسل اور فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں ہوں گے تواتر معنوی کی حد کو پہنچی ہوئی ہیں۔ لہٰذا ان کے انکار کی کوئی وجہ اور بنیاد نہیں ہے“

امام سفارینیؒ کا بیان ہے:

﴿قد کثرت الاقوال فی المہدی حتی قیل لامہدی الا عیسیٰ والصواب الذی علیہ اھل الحق ان المہدی غیر عیسیٰ وانہ یخرج قبل نزول عیسیٰ

صفحہ ١٥

عليه السلام وقد كثرت بخروجه الروايات حتى بلغت حد التواتر المعنوى وشاع ذلك بين علماء السنة حتى عد من معتقداتهم “ (لوائح

الانوار البهيه) ( ص ٧٩-٨٠، ج ٢)

حضرت مہدیؑ کے بارے میں بہت سارے اقوال ہیں حتی کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ہی مہدیؑ ہیں اور صحیح بات جس پر اہل حق ہیں یہ ہے کہ مہدیؑ کی شخصیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے الگ ہے۔ ان کا ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے پہلے ہوگا۔ ظہور مہدی سے متعلق روایات اتنی زیادہ ہیں کہ تواتر معنوی کی حد کو پہنچ گئی ہیں اور علماء اہل سنت کے درمیان اس درجہ عام اور شائع ہو گئی ہیں کہ ظہور مہدی کو ماننا اہل سنت والجماعت کے عقائد میں شمار ہوتا ہے۔

حضرت جابر، حذیفہ، ابوہریرہ، ابوسعید خدری اور حضرت علی رضی اللہ عنہم سے منقول روایتوں کے ذکر اور نشاندہی کے بعد لکھتے ہیں:

﴿ وقد روى عمن ذكر من الصحابة وغير ما ذكر منهم رضى الله عنهم بروايات متعددة وعن التابعين من بعدهم ما يفيد مجموعه العلم القطعى فالايمان بخروج المهدى واجب كما هو مقرر عند اهل العلم ومدون فى

عقائد اهل السنة والجماعة ﴾ (ايضاً ص ٨٠، ج ٢)

اوپر مذکور حضرات صحابہؓ اور ان کے علاوہ دیگر اصحابِ رسول ﷺ سے اور ان کے بعد تابعین سے اتنی روایتیں مروی ہیں کہ ان سے علم قطعی حاصل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ظہور مہدیؑ پر ایمان لانا واجب ہے جیسا کہ یہ امر اہل علم کے نزدیک ثابت شدہ ہے اور اہل سنت والجماعت کے عقائد میں مدون ومرتب ہے۔

یہی بات شیخ الحسن بن علی البربہاری الحنبلیؒ المتوفی ٣٢٩ھ نے بھی اپنے عقیدہ میں لکھی ہے

صفحہ ١٦

عقیدۃ البربہاری کو ابن ابی یعلیٰ نے طبقات الحنابلہ میں شیخ البربہاری کے ترجمہ میں مکمل نقل کر دیا ہے۔

نواب صدیق حسن خان قنوجی بھوپالی المتوفی ١٣٠٨ھ اپنی تالیف الاذاعۃ لما کان و یکون بین یدی الساعۃ میں صراحت کرتے ہیں:

﴿والاحادیث الواردۃ فی المہدی علی اختلاف روایاتہا کثیرۃ جداً تبلغ حد التواتر وہی فی السنن وغیرھا من دواوین الاسلام من المعاجم والمسانید ﴾

(ص ٥٢ مطبوعہ ١٢٩٢ھ مطبع الصدیقی بھوپال)

امام مہدیؑ سے متعلق احادیث مختلف روایتوں کے ساتھ بہت زیادہ ہیں جو حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں یہ حدیثیں سنن کے علاوہ معاجم، مسانید وغیرہ اسلامی دفتروں میں موجود ہیں۔ اسی کتاب کے صفحہ ٥٧ پر لکھتے ہیں۔

﴿اقول لاشک ان المہدی یخرج فی اخر الزمان من غیر تعیین لشھر وعام لما تواتر من الاخبار فی الباب واتفق علیہ جمہور الامۃ خلفا عن سلف الا من لا یعتد بخلافہ﴾

میں کہتا ہوں اس بات میں ادنیٰ شک نہیں ہے کہ آخری زمانہ میں ماہ وسال کی تعیین کے بغیر امام مہدیؑ کا ظہور ہوگا کیوں کہ اس باب میں احادیث متواتر ہیں اور سلف سے خلف تک جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے۔ البتہ بعض ایسے لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے جن کے اختلاف کا اہل علم کے نزدیک کوئی اعتبار نہیں۔

علامہ محمد بن جعفر الکتانی المتوفی ١٣٤٥ھ اپنی مشہور تصنیف نظم المتناثر من الحدیث المتواتر میں رقم طراز ہیں:

﴿وتتبع ابن خلدون فی مقدمتہ طرق احادیث خروجہ مستوعبا علی

صفحہ ١٧

حسب وسعہ فلم تسلم لہ من علۃ لکن ردوا علیہ بان الاحادیث الواردۃ فیہ علی اختلاف رواتہا کثیرۃ جدا تبلغ حد التواتر وہی عند احمد والترمذی و ابی داؤد وابن ماجہ والحاکم والطبرانی وابی یعلی الموصلی والبزار و غیرہم من دواوین الاسلام من السنن والمعاجم والمسانید واسندوہا الی جماعۃ من الصحابۃ فانکارہا مع ذالک مما لا ینبغی﴾

(ص ١٤٥)

مشہور فیلسوف مؤرخ علامہ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں اپنی وسعت علمی کے مطابق جملہ طرق احادیث کی تخریج کے استیعاب کی کوشش کی ہے اور نتیجتاً ان کے نزدیک کوئی حدیث علت سے خالی نہیں ہے۔ لیکن محدثین نے علامہ ابن خلدون کے اس خیال کو رد کر دیا ہے کیونکہ امام مہدیؑ کے بارے میں وارد احادیث اپنے راویوں کے مختلف ہونے کے باوجود بہت زیادہ ہیں جو حد تواتر کو پہنچ گئی ہیں۔ جنھیں امام احمد بن حنبل، امام ابو داؤد، امام ابن ماجہ، امام حاکم، امام طبرانی، امام ابو یعلی موصلی، امام بزار وغیرہم رحمہم اللہ تعالیٰ نے دواوین اسلام یعنی سنن، معاجم، مسانید میں روایت کی ہیں اور ان احادیث کو صحابہؓ کی ایک جماعت کی جانب منسوب کیا ہے۔ لہٰذا ان امور کے ہوتے ہوئے ان کا انکار کسی طرح مناسب و درست نہیں ہے۔

امام مہدیؑ سے متعلق جن حضرات صحابہؓ سے حدیثیں منقول ہیں ان میں حسب ذیل اکابر صحابہ رضوان اللہ علیہم شامل ہیں :۔ خلیفہ راشد حضرت عثمان غنیؓ، خلیفہ راشد حضرت علی مرتضیٰؓ، طلحہ بن عبید اللہؓ، عبد الرحمن بن عوفؓ، عبد اللہ بن مسعودؓ، عبد اللہ بن عمرؓ، عبد اللہ بن عمروؓ، عبد اللہ بن عباسؓ، ام المومنین ام سلمہؓ، ام المومنین ام حبیبہؓ، ابو ہریرہؓ، ابو سعید خدریؓ، جابر بن عبد اللہؓ، انس

صفحہ ١٨

بن مالک، عمران بن حصین، حذیفہ بن یمان، عمار بن یاسر، جابر بن ماجد صدفی، ثوبان مولی رسول اللہ ﷺ، عوف بن مالک رضی اللہ عنہم اجمعین۔

علامہ ابن خلدون اگرچہ فن تاریخ اور علم الاجتماع میں بلند مقام و مرتبہ کے مالک ہیں۔ لیکن محدث نہیں تھے۔ اس لئے اس باب میں ان کی بات علمائے حدیث اور ارباب جرح و تعدیل کے مقابلہ میں لائق قبول نہیں ہے۔ چنانچہ علامہ محمد بن جعفر الکتانی مزید لکھتے ہیں:

﴿ولولا مخافة التطويل لاوردت ههنا ما وقفت عليه من احاديثه لانى رايت الكثير من الناس فى هذا الوقت يتشككون فى امره ويقولون ما ترى هل احاديثه قطعية ام لا وكثير منهم يقف مع كلام ابن خلدون و يعتمده، مع انه ليس من اهل هذا الميدان والحق الرجوع فى كل فن لاربابه﴾

(نظم المتناثر من الحديث المتواتر ص ١٤٦)

”اگر کتاب کے دراز ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اس موقع پر امام مہدی سے متعلق ان احادیث کو درج کرتا جن کی مجھے واقفیت ہے۔ کیوں کہ اس وقت بہت سارے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ انہیں امام مہدی کے امر میں تردد ہے اور اس سلسلے میں وہ یقینی معلومات کے متلاشی ہیں اور دیگر بہت سے لوگ ابن خلدون کے قول پر قائم اور اسی پر اعتماد کرتے ہیں جب کہ ابن خلدون اس میدان کے آدمی نہیں تھے۔ اور حق تو یہ ہے کہ ہر فن میں اس فن کے ماہرین کی جانب رجوع کیا جائے۔“

ان ساری تفصیلات سے یہ بات روز روشن کی طرح آشکارا ہوگئی کہ امام مہدی سے متعلق احادیث نہ صرف صحیح و ثابت ہیں بلکہ متواتر اور اپنے مدلول پر قطعی الدلالت ہیں جن پر ایمان لانا بحسب تصریح علامہ سفارینی واجب اور ضروری ہے۔ اسی بنا پر ظہور مہدی کا مسئلہ اہل سنت والجماعت کے عقائد میں شمار ہوتا ہے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ یہ اسلام

صفحہ ١٩

کے اہم ترین اور بنیادی عقائد میں داخل نہیں ہے۔ مسئلہ کی اسی اہمیت کے پیش نظر ہر دور کے محدثین واکابر علماء نے مسئلہ مہدیؑ پر ضمناً و مستقلاً شرح وبسط کے ساتھ مدلل کلام کیا ہے۔ جن میں سے بہت سی کتابوں کی نشاندہی خود علامہ ابن خلدون نے بھی مقدمہ میں کی ہے۔ اسی طرح علماء حدیث اور ماہرین نے اس مسئلہ سے متعلق ابن خلدون کے نظریہ کی پرزور تردید کی ہے اور اصول محدثین کی روشنی میں علامہ ابن خلدون کے ظاہر کردہ اشکالات کو دور کر کے ظہور مہدی کی حقیقت اور سچائی کو پورے طور پر واضح کر دیا ہے۔

علماء امت کی ان مساعی جمیلہ کے باوجود ہر دور میں ایک ایسا طبقہ موجود رہا ہے جو علامہ ابن خلدون کے بیان کردہ اشکالات سے متاثر ہو کر ظہور مہدیؑ کے بارے میں شکوک وشبہات میں مبتلا رہا ہے۔ اس لیے علمائے دین بھی اپنے اپنے عہد میں حسب ضرورت تحریر و تقریر کے ذریعہ اس مسئلہ کی وضاحت کرتے رہے۔

حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہٗ نے بھی اسی مقصد کے تحت یہ زیر نظر رسالہ مرتب کیا تھا چنانچہ اپنے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں:

﴿ إِنَّه قَدْ جَرَى بِبَعْضِ أَنْدِيَةِ الْعِلْمِ ذِكْرُ الْمَهْدِيِّ الْمَوْعُودِ فَأَنْكَرَ بَعْضُ الْفُضَلَاءِ الْكَامِلِينَ صِحَّةَ الْأَحَادِيْثِ الْوَارِدَةِ فِيْهِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَجْمَعَ الْأَحَادِيْثَ الصَّحِيحَةَ فِيْ هَذَا الْبَابِ وَأَتْرُكَ الْحِسَانَ وَالضِّعَافَ رَجَاءَ انْتِفَاعِ النَّاسِ وَتَبْلِيغِ مَا آتَى بِهِ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَأَنْ لَّا يَغْتَرَّ النَّاسُ بِكَلَامِ بَعْضِ الْمُصَنِّفِيْنَ الَّذِينَ لَا إِلْمَامَ لَهُمْ بِعِلْمِ الْحَدِيْثِ كَابْنِ خَلْدُوْنَ (١) وَغَيْرِهِ فَإِنَّهُمْ وَإِنْ كَانُوا مِنَ الْمُعْتَمَدِيْنَ فِي التَّارِيخِ وَأَمْثَالِهِ فَلَا اعْتِدَادَ لَهُمْ فِيْ عِلْمِ الْحَدِيْثِ “ الخ ص ١ ﴾

”بعض مجالس علمیہ میں مہدی موعود کا ذکر آیا تو کچھ ماہرین علم نے مہدی موعود

صفحہ ٢٠

سے متعلق وارد حدیثوں کی صحت سے انکار کیا تو مجھے یہ بات اچھی لگی کہ اس موضوع سے متعلق مروی حسن وضعیف روایتوں سے قطع نظر صحیح حدیثوں کو جمع کر دوں تاکہ لوگ اس سے نفع اٹھائیں اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی تبلیغ بھی ہو جائے۔ نیز ان حدیثوں کے جمع و تدوین سے ایک غرض یہ بھی ہے کہ بعض ان مصنفین کے کلام سے لوگ دھوکا نہ کھا جائیں جنھیں علم حدیث سے لگاؤ نہیں ہے جیسے علامہ ابن خلدون وغیرہ یہ حضرات اگر چہ فن تاریخ میں معتمد ومستند ہیں لیکن علم حدیث میں ان کے قول کا اعتبار نہیں ہے۔“

حضرت شیخ الاسلامؒ نے اپنے اس رسالہ میں بطور خاص اس بات کا التزام فرمایا ہے کہ جن صحیح احادیث پر علامہ ابن خلدون نے کلام کر کے ان کی صحت مشکوک ثابت کرنے کی کوشش کی تھی جرح وتعدیل سے متعلق ائمہ حدیث کے مقرر کردہ اصول کی روشنی میں ان کی صحت وحجیت کو مدلل ومبرہن کر دیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ رسالہ ایک قیمتی دستاویز کی حیثیت کا حامل ہے۔ اور اس موضوع پر لکھی گئی ضخیم کتابوں سے بھی زیادہ مفید ہے۔

صفحہ ٢١

کچھ باتیں کتاب کے متعلق

آج سے دس گیارہ سال پہلے کی بات ہے کہ ایک دن بیٹھا ماہنامہ الرشید ساہیوال کا خصوصی شمارہ مدنی و اقبال نمبر دیکھ رہا تھا۔ اس میں حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ کے غیر مطبوعہ مکاتیب کا ایک مختصر سا مجموعہ مرتبہ جناب محمد دین شوق صاحب بعنوان ”مکتوبات مدنیہ“ بھی شریک اشاعت ہے۔ (جسے بعد میں الگ سے پاکستان کے ایک مکتبہ نے شائع کر دیا ہے) اس مجموعہ کا تیسرا مکتوب جو ڈربن افریقہ کے کسی صاحب کے جواب میں ٢٢ صفر ١٣٥٣ھ کو لکھا گیا ہے۔ اس میں امام مہدیؒ آخر الزمان کے بارے میں حضرت شیخ الاسلامؒ تحریر فرماتے ہیں۔

”حضرت امام مہدیؒ قیامت سے پہلے بلکہ نزول عیسیٰ علیہ السلام اور خروج دجال اور فتنہ یاجوج وماجوج ودابۃ الارض وطلوع شمس من المغرب وغیرہ سے پہلے ظاہر ہوں گے۔ قیامت میں تو تمام انبیاء اور اولیاء کا اجتماع ہوگا۔ حضرت مہدیؒ دنیا میں مذہب اسلام کی زندگی اور اس کی تقویت کے باعث ہوں گے۔ وہ اس وقت ظہور فرمائیں گے جبکہ دنیا ظلم وستم سے بھر گئی ہوگی۔ اُن کی وجہ سے دنیا عدل وانصاف ، دین وایمان سے بھر جائے گی ۔ ان کا اور ان کے باپ کا نام جناب رسول اللہ ﷺ کے نام اور آپؐ کے والد ماجد کے نام کے مطابق ہوگا۔ صورت بھی آپؐ کی صورت کے مشابہ ہوگی آپؐ ہی کی اولاد سے ہوں گے۔ یعنی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نسل میں سے۔“

مکہ مکرمہ میں ظاہر ہوں گے اول جو جماعت ان کے ہاتھ پر بیعت کرے گی وہ تین سو تیرہ آدمی ہوں گے۔ حسب عدد اصحاب بدر واصحاب طالوت ۔لوگوں میں یکبارگی انقلاب پیدا ہوگا۔ حجاز کی اصلاح کے بعد سیریہ اور فلسطین وغیرہ کی اصلاح کریں گے۔

صفحہ ٢٢

دار السلطنت بیت المقدس ہوگا۔ ان کی حکومت پانچ یا سات یا نو برس ہوگی۔ اس بارہ میں صحیح روایتیں تقریباً چالیس میری نظر سے گزری ہیں اور حسن وضعیف بہت زیادہ ہیں۔ ترمذی شریف، مستدرک حاکم، ابوداؤد، مسلم شریف وغیرہ میں یہ روایات موجود ہیں۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر قیامت آنے میں صرف ایک دن باقی رہ جائے گا جب بھی اللہ تعالیٰ مہدی کو ضرور ظاہر کرے گا اور قیامت ان کے بعد لائے گا۔ لہٰذا اس میں بجز تسلیم کے کوئی چارہ نہیں۔ بہت سے جھوٹوں نے اب تک مہدی ہونے کا دعویٰ کیا مگر کسی میں یہ علامتیں نہیں پائی گئیں جو مہدی موعود کے متعلق ذکر کی گئی ہیں۔

میں نے مالٹا جانے سے پہلے مدینہ منورہ کے کتب خانہ میں تلاش کر کے صحیح صحیح روایتیں جمع کی تھیں، مگر افسوس کہ وہ رسالہ روسی انقلاب میں جاتا رہا۔ اب میرے پاس وہ نہیں رہا اور جن لوگوں نے اس کو نقل کیا تھا وہ بھی وفات پاگئے اور رسالہ پھر نہ مل سکا۔

اس مکتوب سے پہلے نہ کسی سے سنا تھا اور نہ ہی کسی تحریر میں دیکھا تھا کہ حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ کی اس موضوع پر کوئی تالیف ہے۔ اس لیے فطری طور پر اس نئے انکشاف پر بے حد مسرت ہوئی اور ساتھ ہی دل میں یہ خواہش بھی مچلنے لگی کہ اے کاش کسی طرح یہ قیمتی رسالہ دستیاب ہو جاتا تو اسے شائع کر دیا جاتا، لیکن حضرت کے اس آخری جملے سے کہ 'اب میرے پاس وہ نہیں رہا..... اور رسالہ پھر مل نہ سکا'۔ ایک طرح کی مایوسی طاری ہو جاتی اسی بیم ورجا اور امیدی و ناامیدی کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ اس دُرّ مکنون کی طلب وتحصیل کی تدبیریں سوچنے لگا۔ ایک دن اچانک دل میں یہ بات آئی کہ اس انقلاب میں حضرت کا سارا اثاثہ حکومت نے ضبط کر لیا تھا۔ اس لیے ممکن ہے کہ اس ضبطی کے بعد آپ کی کتابیں اور دیگر کاغذات کسی سرکاری کتاب خانے میں جمع کر دیے گئے ہوں۔ اس موہوم خیال نے دھیرے دھیرے جڑ پکڑ لیا اور نا امیدی پر امید کا غلبہ ہو گیا۔ بالآخر اس

صفحہ ٢٣

خیال کا اظہار اپنے لائقِ صد احترام اور مشفق و مہربان رفیق بلکہ بزرگ صاحبزادہ محترم مولانا سید ارشد مدنی اعلیٰ اللہ مراتبۂ سے کیا اور ان سے عرض کیا کہ حرمین شریفین کے سفر میں اہم سرکاری کتب خانوں میں پتہ لگائیں۔ عین ممکن ہے کہ کہیں یہ گمشدہ رسالہ مل جائے۔ چونکہ مولانا موصوف کو حضرت شیخ قدس سرہٗ کے بعض تلامذہ کے ذریعہ یہ بات پہنچی تھی کہ دوران درس حضرت نے اس رسالہ کا تذکرہ فرمایا تھا اس لیے اس تراثِ علمی جس کے وہ سچے حقدار ہیں ان میں خود طلب و جستجو کی فکر تھی، چنانچہ حسب معمول عمرہ و زیارت کے لیے شعبان میں حرمین شریفین حاضر ہوئے تو اہل علم و خبر سے اس سلسلے میں معلومات کی مگر کہیں کوئی سراغ نہ مل سکا۔ دوسرے سال جب پھر جانا ہوا تو مزید معلومات حاصل کیں۔ وہاں مقیم بعض لوگوں نے نشاندہی کی کہ اگر یہ رسالہ ضائع نہیں ہوا ہے تو اندازہ ہے کہ مکتبۃ الحرم مکہ معظمہ میں ضرور ہوگا۔ مولانا موصوف مکتبۃ الحرم پہنچ گئے اور خدا کی قدرت مخطوطات کی فہرست میں یہ مل گیا اور خود شیخ الاسلام قدس سرہٗ کے ہاتھ کا لکھا ہوا۔ چنانچہ اس کا فوٹو لے لیا۔ اس طرح تقریباً پون صدی کی گم نامی کے بعد یہ نادر و قیمتی علمی سرمایہ دوبارہ معرضِ وجود میں آگیا۔

حضرت شیخ الاسلام قدس سرہٗ کے مکتوب سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رسالہ امام مہدی سے متعلق صحیح چالیس احادیث پر مشتمل تھا اور بعض لوگوں نے اس کی نقل بھی لی تھی۔ مگر دستیاب مخطوطہ میں کل ٣٧ احادیث ہیں پھر اس میں متعدد مقامات پر حک و فک بھی ہے۔ بعض جگہ سبقت قلمی بھی ہے اس لیے اندازہ یہ ہے کہ یہ مبیضہ کی بجائے اصل مسودہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

مہدی موعود سے متعلق بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں بعض نہایت مفصل اور ضخیم بھی ہیں۔ لیکن یہ مختصر رسالہ اس اعتبار سے خاص اہمیت و افادیت کا حامل ہے کہ اس

صفحہ ٢٤

میں صرف صحیح احادیث کو جمع کیا گیا ہے۔ جب کہ دوسری کتابوں میں اس کا التزام نہیں ہے۔ علاوہ ازیں امام ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں مہدی موعودؓ سے متعلق وارد احادیث پر جو ناقدانہ کلام کیا ہے جس سے متاثر ہو کر بہت سے اہل علم بھی مہدی موعودؓ کے ظہور کے بارے میں منکر یا متردد ہیں۔ حضرت شیخ نے علامہ ابن خلدونؒ کے اٹھائے ہوئے سارے اعتراضات کا اسمائے رجال اور اصول محدثین کی روشنی میں جائزہ لے کر مدلل طور پر ثابت کر دیا ہے کہ ان کے یہ اعتراضات درست نہیں ہیں اور بلاریب رسالہ میں منقول احادیث صحیح و حجت ہیں۔ اس لیے یہ رسالہ بقامت کہتر و بقیمت بہتر کا صحیح مصداق ہے احقر نے اپنی بضاعت و ہمت کے مطابق اس نادر و بیش بہا علمی تحفہ کو مفید سے مفید تر بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔ حضرت شیخ الاسلام قدّس سرّہٗ نے جن کتب حدیث سے احادیث نقل کی ہیں۔ ان کی جلد و صفحہ کا حوالہ دے دیا ہے۔ اسی طرح رجال سند پر حضرتؒ نے جہاں جہاں کلام کیا ہے۔ اس کا حوالہ نقل کر دیا ہے اور حسب ضرورت بعض رجال پر حضرتؒ کے مختصر کلام کی تفصیل کر دی ہے۔ بعض احادیث کے بارے میں نشاندہی کر دی ہے کہ کن کن ائمہ حدیث نے ان کی تخریج کی ہے۔ غریب و مشکل الفاظ کی کتب لغت سے تشریح بھی نقل کر دی ہے۔ اسی کے ساتھ رسالہ کو مکمل تر بنانے کی غرض سے بطور تکملہ آخر میں چند احادیث صحیحہ کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ پھر اس قیمتی علمی سرمایہ کو مفید عام بنانے کی غرض سے تمام حدیثوں کا ترجمہ بھی کر دیا ہے۔ والحمد للّٰہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات و صلّی اللّٰہ علی النبی الکریم وعلیٰ جمیع اصحابہ وبارک وسلّم۔

حبیب الرحمن قاسمی خادم التدریس دارالعلوم دیوبند

صفحہ ٢٥

بسم الله الرحمن الرحيم اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهٗ وَ نَسْتَعِيْنُهٗ وَ نَسْتَغْفِرُهٗ وَ نُؤْمِنُ بِهٖ وَ نَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ وَ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّاٰتِ اَعْمَالِنَا مَنْ يَّهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهٗ وَمَنْ يُّضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ وَ نَشْهَدُ اَنْ سَيِّدَنَا وَ مَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ صَلّٰى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَعَلٰى اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ، اَمَّا بَعْدُ، فَيَقُوْلُ اَحْقَرُ طَلَبَةِ الْعُلُوْمِ الدِّيْنِيَّةِ بِبَلْدَةِ سَيِّدِ الْاَنَامِ وَ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ عَلَيْهِ وَعَلٰى اٰلِهِ اَلْفُ اَلْفِ صَلَاةٍ وَّ تَحِيَّةٍ، اَلرَّاجِىْ عَفْوَ رَبِّهِ الصَّمَدِ عَبْدُهٗ الْمَدْعُوُّ بِحُسَيْنِ اَحْمَدَ غَفَرَ لَهٗ وَلِوَالِدَيْهِ وَ مَشَايِخِهِ الرُّءُوْفُ الْاَحَدُ ، اِنَّهٗ قَدْ جَرٰى فِىْ بَعْضِ اَنْدِيَةِ الْعِلْمِ ذِكْرُ الْمَهْدِىِّ الْمَوْعُوْدِ فَاَنْكَرَ بَعْضُ الْفُضَلَاءِ الْكَامِلِيْنَ صِحَّةَ الْاَحَادِيْثِ الْوَارِدَةِ فِيْهِ فَاَحْبَبْتُ اَنْ اَجْمَعَ الْاَحَادِيْثَ الصَّحِيْحَةَ فِىْ هٰذَا الْبَابِ وَاَتْرُكَ الْحِسَانَ وَالضِّعَافَ رَجَاءَ انْتِفَاعِ النَّاسِ وَ تَبْلِيْغِ مَا اَتٰى بِهِ النَّبِىُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَاَنْ لَّا يَغْتَرَّ النَّاسُ بِكَلَامِ بَعْضِ الْمُصَنِّفِيْنَ الَّذِيْنَ لَا اِلْمَامَ لَهُمْ بِعِلْمِ الْحَدِيْثِ كَابْنِ خَلْدُوْنَ (١) وَغَيْرِهٖ فَاِنَّهُمْ وَاِنْ كَانُوْا مِنَ الْمُعْتَمَدِيْنَ

(١) قاضی القضاة عبدالرحمن بن محمد بن خلدون الاشبيلي الحضرمي المالكي المتوفى ٨٠٨هـ ولد في تونس سنة ٧٣٢هـ مؤرخ وفيلسوف ورجل سياسي درس المنطق و الفلسفة والفقه والتاريخ فعينه أبو عنان سلطان تونس والى الكتابة ثم سافر إلى الاندلس فانتدبه ابن الأحمر صاحب غرناطة سفيراً إلى ملك قشتاله ثم رحل إلى مصر و درس فى الازهر وتولى قضاء المالكية ولم يتزى بزى القضاة محتفظاً بزى بلاده وعزل و اعيد وتوفى فجأة فى القاهرة كان فصيح المنطق جميل الصورة عاقلاً صادق اللهجة طامحاً للمراتب العالية اشتهر بكتابه " العبر و ديوان المبتدأ والخبر فى تاريخ العرب والعجم والبربر " فى

صفحہ ٢٦

فِي التَّارِيْخِ وَاَمْثَالِه فَلَا اعْتِدَادَ لَهُمْ فِيْ عِلْمِ الْحَدِيْثِ وَقَدْ كُنْتُ اَسْمَعُ قَبْلَ ذلِكَ الْاِنْكَارَ مِنْ بَعْضِ الْعَوَامِ اَيْضًا لكِنْ لَّمْ يَحْمِلْنِيْ اِنْكَارُهُمْ عَلَى الْجَمْعِ وَلَمَّا رَاَيْتُ فُضَلَاءَ الْاَوَانِ وَاَئِمَّةَ الزَّمَانِ يَتَرَدَّدُوْنَ فِيْهِ شَمَّرْتُ ذَيْلِيْ لِهذَا الْمَقْصَدِ الْمُنِيْفِ لَعَلَّه يَكُوْنُ ذَرِيْعَةً لِإِزَالَةِ الْاِشْتِبَاهِ عَنْ هذَا الدِّيْنِ الْحَنِيْفِ وَعَلَى اللهِ التُّكْلَانُ . وَحَيْثُ اِنَّ بَعْضَ الْاَحَادِيْثِ قَدْ تَكَفَّلَ بِه اِمَامٌ مِّنْ اَئِمَّةِ الْحَدِيْثِ اَتَيْتُ بِه بِغَيْرِ تَعَرُّضٍ لِرِجَالِه وَمَا لَمْ يَكُنْ كَذلِكَ تَعَرَّضْتُ لِرِجَالِه فَمَنْ كَانَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيْحَيْنِ اِكْتَفَيْتُ بِذِكْرِ ذلِكَ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ كَذلِكَ اَتَيْتُ بِاَلْفَاظِ التَّوْثِيْقِ الَّتِيْ ذَكَرَهَا اَئِمَّةُ الْجَرْحِ وَالتَّعْدِيْلِ وَلَمَّا كَانَ الْحَاكِمُ اَبُوْ عَبْدِ اللهِ النَّيْسَابُوْرِيُّ رَحِمَهُ الله تَعَالَى (١) يُرْمى بِالتَّسْهِيْلِ فِيْ تَصْحِيْحِ الْحَدِيْثِ لَمْ اَكْتَفِ بِتَصْحِيْحِه فَقَطْ بَلِ

سبعة مجلدات اولها المقدمة وهى تعد من اصول علم الاجتماع ومن كتبه ”شرح البردة وكتاب في الحساب ورسالة في المنطق وشفاء السائل لتهذيب المسائل“ ـ وقد طعن ابن خلدون في أحاديث المهدي في مقدمته في الفصل الثاني والخمسين ولكن لا اعتداد بقوله في تصحيح حديث و تضعيفه عند أهل الحديث لأنه ليس من رجال الحديث كما قال الشيخ رحمه الله وقال ايضا الشيخ احمد شاكر في تخريجه الأحاديث لمسند الإمام أحمد ج ٥ ص ١٩٧ أما ابن خلدون فقد قفا ما ليس به علم واقتحم قحما لم يكن من رجالها

(الأعلام للزركلى ج ٣ ص ٣٣٠ والمنجد في الأعلام ص ١٧٩)

(١) ابو عبدالله محمد بن عبدالله بن محمد بن حمدوية الحاكم الضبى النيسابورى المعروف بابن البيع على وزن قيم صاحب التصانيف التى لم يسبق إلى مثلها كتاب الإكليل وكتاب المدخل إليه وتاريخ نيسابور و فضائل الشافعى والمستدرك على كتاب الصحيحين وغير ذلك توفى عام ٤٠٥هـ وهو متساهل في الصحيح واتفق الحفاظ على أن تلميذه البيهقى أشد تحرياً منه، (الرسالة المستطرفة ص ١٩)

صفحہ ٢٧

اعْتَمَدْتُ عَلى تَلْخِيْصِ صِحَاحِ الْمُسْتَدْرَكِ لِلذَّهَبِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالى (١) فَمَا جَرَحَ فِي صِحَّتِهِ تَرَكْتُه وَمَا قَبِلَه أَتَيْتُ بِهِ وَتَرَكْتُ كَثِيْرًا مِّنَ الْأَحَادِيْثِ لِعَدَمِ الْإِطْلَاعِ عَلى اَسَانِيْدِهَا مِمَّا ذَكَرَهُ صَاحِبُ كَنْزِ الْعُمَّالِ وَغَيْرُه (٢) وَاعْتَمَدْتُ فِي تَعْدِيْلِ الرُّوَاةِ وَتَوْثِيْقِهِمْ عَلَى تَهْذِيْبِ التَّهْذِيْبِ وَخُلَاصَةِ التَّهْذِيْبِ ، هَذَا وَعَلَى اللهِ الْإِعْتِمَادُ وَهُوَ حَسْبِي وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ ﴾

(١) الحافظ شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان التركماني الفاروقي الأصل الذهبى نسبة الى الذهب كما فى التبصير توفي بدمشق سنة ٧٤٨ هـ قد لخص الذهبي المستدرك للحاكم وتعقب كثيراً منه بالضعف والنكارة او الوضع وقال في بعض كلامه : إن العلماء لا يعتدون بتصحيح الترمذى ولا الحاكم (ايضا ص ٢٠).

(٢) الشيخ علاء الدين على الشهير بالمتقى بن حسام الدين عبدالملک بن قاضی خان الشاذلى القادرى الهندى ثم المدنى فالمكى فقيه من علماء الحديث أصله من جونفور ومولده في برهانفور من بلاد الدكن بالهند علت مكانته عند السلطان محمود ملک غجرات وسكن في المدينة ثم اقام بمكة مدة طويلة و توفي بها سنة ٩٧٥ هـ له مصنفات الحديث وغيره منها كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال في ثمانية أجزاء ومختصر كنز العمال ومنهج العمال في سنن الأقوال (مخطوطة) الجمع بين الحكم القرآنية والحديثية (مخطوطة) قال العيدروسى : مؤلفاته نحو مأة ما بين كبير و صغير وقد أفرد عبد القادر بن أحمد الفاكهى مناقبه في تأليف سماه " القول النقى في مناقب المتقى " . ( الرسالة المستطرفة ص : ١٤٩ ، الأعلام للزركلى ج ٤، ص ٣٠٩.

صفحہ ٢٨

ترجمہ :

حمد وصلوٰۃ کے بعد ..... تمام مخلوق کے سردار اور تمام مخلوق میں سب سے بہتر ہستی (ان پر اللہ کی کروڑوں رحمتیں ہوں) کے شہر (مدینہ طیبہ) کے دینی طلباء میں سے سب سے حقیر بندہ جو اپنے بے نیاز پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے جسے حسین احمد کہا جاتا ہے۔ خدائے مشفق ومہربان وحدہٗ لاشریک اس کی اور اس کے والدین کی مغفرت فرمائے۔ عرض رساں ہے کہ بعض مجالس علمیہ میں مہدی موعود کا ذکر آیا تو کچھ ماہرین علم نے مہدی موعود سے متعلق وارد حدیثوں کی صحت سے انکار کیا تو مجھے یہ بات اچھی لگی کہ اس موضوع سے متعلق مروی حسن وضعیف روایتوں سے قطع نظر صحیح حدیثوں کو جمع کردوں تاکہ لوگ اس سے نفع اٹھائیں اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی تبلیغ بھی ہو جائے، نیز ان حدیثوں کی جمع وتدوین سے ایک غرض یہ بھی ہے کہ بعض ان مصنفین کے کلام سے لوگ دھوکا نہ کھا جائیں جنھیں علم حدیث سے لگاؤ نہیں ہے جیسے علامہ ابن خلدون وغیرہ یہ حضرات اگرچہ فن تاریخ میں معتمد ومستند ہیں، لیکن علم حدیث میں ان کے قول کا اعتبار نہیں ہے۔ میں اس سے پہلے بھی بعض عوام سے مہدی موعود کے بارے میں مروی احادیث کا انکار سن رہا تھا، لیکن عوام کے انکار سے مجھے ان احادیث کے جمع کرنے کی رغبت نہیں ہوئی تھی، لیکن جب فضلاء وقت اور علماء زمانہ کو میں نے اس بارے میں متردد دیکھا تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس بلند مقصد کے لیے میں تیار ہوگیا تاکہ یہ دین حنیف سے شبہات کے دور کرنے کا ذریعہ بن جائے اور چونکہ کچھ احادیث تو ایسی ہیں جن کی ائمہ حدیث میں سے کسی نہ کسی امام نے ذمہ داری لی ہے اور کچھ ایسی نہیں ہیں، لہٰذا اگر مجھے کوئی ایسی حدیث ملی جسکی صحت کی کسی نہ کسی معتبر امام حدیث نے ذمہ داری لی ہے تو میں اسے اس کے رجال سے تعرض کیے بغیر ذکر

صفحہ ٢٩

کروں گا اور جو حدیث ایسی نہ ہوگی تو میں اس کے رجال کے بارے میں بحث کروں گا ........... پھر اگر رجال صحیحین کے ہوں گے تو میں صرف صحیحین کے ذکر پر اکتفاء کروں گا اور جو رجال صحیحین کے نہ ہوں گے تو پھر میں ان الفاظ توثیق کو لاؤں گا جن کو ائمہ جرح و تعدیل نے ذکر کیا ہوگا۔ امام حاکم ابو عبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ پر چونکہ تصحیح احادیث میں تساہل کا الزام ہے اس لیے میں نے صرف ان کی تصحیح کو کافی نہیں سمجھا بلکہ امام ذہبی رحمہ اللہ کی مستدرک پر جو تلخیص ہے اس پر اعتماد کیا ہے اور جس حدیث کی صحت پر امام ذہبیؒ نے جرح کی ہے میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے اور جن احادیث کو انھوں نے قبول کیا ہے ان کو میں نے بھی ذکر کیا ہے اور میں نے بہت سی احادیث سند معلوم نہ ہونے کی بناء پر ترک کر دی ہیں۔ جن کو صاحب کنز العمال وغیرہ نے ذکر کیا ہے اور رُواۃ کی تعدیل و توثیق میں میں نے تہذیب التہذیب اور خلاصۃ التہذیب پر اعتماد کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی مجھے کافی ہیں اور بہترین کارساز ہیں۔

صفحہ ٣٠

قَالَ الْإِمَامُ الْحَافِظُ اَبُوْ عِيْسَى مُحَمَّدُ بْنُ عِيْسَى بْنِ سَوْرَةَ التِّرْمِذِیُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالىٰ فِیْ جَامِعِه (١)

امام حافظ ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورۃ ترمذی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’جامع ترمذی‘‘ میں فرماتے ہیں۔

(١)....... حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ اَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْقُرَشِیُّ نَا اَبِیْ نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرٍّ (٢) عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ’’لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتّٰی يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِّنْ اَهْلِ بَيْتِیْ يُوَاطِیُ (٣) اسْمُهُ اسْمِیْ‘‘ الخ. وَفِی الْبَابِ عَنْ عَلِیٍّ وَّاَبِیْ سَعِيْدٍ وَّاُمِّ سَلَمَةَ وَاَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللهُ تَعَالٰی عَنْهُمْ هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ (٤)

(١)...... حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی یہاں تک کہ میرے اہل بیت (آلِ اولاد) میں سے ایک شخص عرب کا بادشاہ ہو جائے، جس کا نام میرے نام کے مطابق (یعنی محمد ) ہوگا۔

(١) محمّد بن عيسى بن سورة بن موسى السلمى البوغى الترمذى أبو عيسى توفى سنة ٢٧٩هـ من أئمة علماء الحديث وحفاظه من أهل ترمذ (على نهر جيحون) تلمذ على البخارى وشاركه فى بعض شيوخه وقام برحلات إلى خراسان والعراق والحجاز وعمى فى آخر عمره وكان يضرب به المثل فى الحفظ مات بـ”ترمذ“ و من تصانيفه ”الجامع الكبير“ المعروف باسم الترمذى فى الحديث مجلدان والشمائل النبوية والتاريخ والعلل فى الحديث (الاعلام ج ٢، ص ٣٢٢)

(٢) زر فى المغنى زر بكسر زاء وشدة راء.

(٣) يواطئ أى يوافق ويماثل.

(٤) الترمذی ج ٢ ص ٤٧.

صفحہ ٣١

(٢)...... حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَلِيْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِيْ يُوَاطِئُ اسْمُهُ اِسْمِيْ قَالَ عَاصِمٌ وَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰى عَنْهُ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمًا لَطَوَّلَ اللهُ ذٰلِكَ الْيَوْمَ حَتّٰى يَلِيَ. الخ، هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ (١)

(٢)...... حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ میرے اہل بیت سے ایک شخص خلیفہ ہوگا جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ اگر دنیا کا ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اسی دن کو دراز کر دیں گے یہاں تک کہ وہ شخص (یعنی مہدیؑ) خلیفہ ہو جائے۔

ان دونوں حدیثوں کا حاصل یہ ہے کہ اس مرد اہل بیت کا قیامت کے آنے سے پہلے خلیفہ ہونا ضروری ہے۔ اس کی خلافت کے بعد ہی قیامت آئے گی۔

(١) اَيْضاً وأخرجه الإمام أبو داؤد فى سننه وسكت عنه و الحافظ أبو بكر البيهقي فى باب ما جاء فى خروج المهدى و له شاهد صحيح عن على عند أبى داؤد وعن أبى سعيد الخدرى عند ابن ماجة و الحاكم و أحمد.

صفحہ ٣٢

وَقَالَ الْإِمَامُ الْحَافِظُ الْحُجَّةُ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْقُشَيْرِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى .

(٣)........حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو نَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَامِرِيِّ عَنْ يُوسُفَ ابْنِ مَاهَكٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ (١) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيَعُوذُ بِهَذَا الْبَيْتِ يَعْنِي الْكَعْبَةَ قَوْمٌ لَيْسَ لَهُمْ مَنَعَةٌ (٢) وَلَا عَدَدٌ وَلَا عُدَّةٌ يُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ حَتَّى إِذَا كَانُوْا بِبَيْدَاءَ (٣) مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ . قَالَ يُوْسُفُ وَ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَئِذٍ يَسِيْرُوْنَ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ أَمَا وَاللَّهِ مَا هُوَ بِهَذَا الْجَيْشِ وَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عِنْدَهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا قَالَتْ عَبَثَ (٤) رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِهِ فَقُلْنَا يَا رَسُوْلَ اللَّهِ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) صَنَعْتَ شَيْئًا فِي مَنَامِكَ لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ فَقَالَ الْعَجَبُ إِنَّ نَاساً مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّوْنَ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ لَجَأَ بِالْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كَانُوْا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الطَّرِيْقَ قَدْ يَجْمَعُ النَّاسَ قَالَ نَعَمْ فِيْهِمُ الْمُسْتَبْصِرُ (٥) وَالْمَجْبُورُ وَابْنُ السَّبِيْلِ يَهْلِكُوْنَ مَهْلَكًا وَاحِدًا وَ يَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ . الخ (٦)

(١) قال الدار قطنی هی عائشة (شرح صحيح مسلم للامام للنووى ج ٢ ، ص ٣٨٨)

(٢) منعة بفتح النون وكسرها ای لیس لهم من يحميهم و يمنعهم

(٣) البيداء كل ارض لمعاء لا شئی بها

(٤) عبث قيل معناه اضطرب بجسمه وقيل حرک اطرافه كمن ياخذ شيئا او يدفعه

(٥) المستبصر فهو المستبين لذالك القاصد له عمداً .

(٦) مسلم ج ٢، ص ٣٨٨ و قد ذکر مسلم الحدیث قبل هذه الرواية من رواية أم سلمة.

(٣)......حضرت ام ا رسول خدا ﷺ نے ف شوکت وحشمت اور افو کے لئے ایک لشکر (مکہ درمیان) ایک چٹیل میـ حضرت عا کہ ایک مرتبہ نیند کی معمول) حرکت ہوئی سے ایسا کام ہوا ہے جواب میں آپ ﷺ (یعنی مہدی) سے جو مقام بیداء (یعنی مکہ دھنسا دیے جائیں گے بھی ہو سکتے ہیں (جو دھنسایا جائے گا) آپ ، کچھ مجبور ہوں گے ( سب کے سب اکٹھے لحاظ سے ہوگا۔ مطلـ عذاب سے محفوظ نہیـ قیامت کے دن سب

صفحہ ٣٣

(٣)...... حضرت ام المؤمنین (یعنی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) روایت کرتی ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا۔ زمانہ قریب میں مکہ معظمہ کے اندر ایک قوم پناہ گزیں ہوگی جو شوکت و حشمت اور افرادی اور ہتھیاروں کی طاقت سے تہی دست ہوگی ۔اس سے جنگ کے لئے ایک لشکر (ملک شام سے ) چلے گا۔ یہاں تک کہ یہ لشکر جب ( مکہ و مدینہ کے درمیان ) ایک چٹیل میدان میں پہنچے گا تو اسی جگہ زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری روایت میں یوں مروی ہے کہ ایک مرتبہ نیند کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کے جسم مبارک میں (خلاف معمول ) حرکت ہوئی تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! آج نیند میں آپ ﷺ سے ایسا کام ہوا ہے جسے آپ ﷺ نے (اس سے پہلے ) کبھی نہیں کیا؟ اس سوال کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا عجیب بات ہے کہ کعبۃ اللہ میں پناہ گزیں ایک قریشی (یعنی مہدیؓ ) سے جنگ کے ارادے سے میری امت کے کچھ لوگ آئیں گے اور جب مقام بیداء (یعنی مکہ و مدینہ کے درمیان واقع چٹیل بیابان ) میں پہنچیں گے تو زمین میں دھنسا دیے جائیں گے۔ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ان میں تو بہت سے راہ گیر بھی ہو سکتے ہیں (جو اتفاقاً راستہ میں ان کے ساتھ ہو گئے ہوں گے تو انھیں کس جرم میں دھنسایا جائے گا ) آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ان میں کچھ بارادہ جنگ آنے والے ہوں گے ، کچھ مجبور ہوں گے (یعنی زبردستی انھیں ساتھ لے لیا جائے گا ) اور کچھ راہ گیر ہوں گے۔ یہ سب کے سب اکٹھے دھنسا دیے جائیں گے۔ البتہ قیامت میں ان کا حشر ان کی نیتوں کے لحاظ سے ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ نزولِ عذاب کے وقت مجرمین کے ساتھ رہنے والے بھی عذاب سے محفوظ نہیں ہوں گے، بلکہ عذاب کی ہمہ گیری میں وہ بھی شامل ہوں گے، البتہ قیامت کے دن سب کے ساتھ معاملہ ان کی نیت و عمل کے مطابق ہوگا۔

صفحہ ٣٤

(٤)...... حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَّ اللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا نَا إِسْمَاعِيْلُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِيْ نَضْرَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ يُوْشِكُ أَهْلُ الشَّامِ أَنْ لَّا يُجْبٰى إِلَيْهِمْ دِيْنَارٌ وَلَا مُدْیٌّ (١) قُلْنَا مِنْ أَيْنَ ذٰلِكَ قَالَ مِنْ قِبَلِ الرُّوْمِ ثُمَّ سَكَتَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُوْنُ فِيْ آخِرِ أُمَّتِيْ خَلِيْفَةٌ يَحْثِى (٢) الْمَالَ حَثْيًا وَلَا يَعُدُّه عَدًّا قَالَ قُلْتُ لِأَبِيْ نَضْرَةَ وَأَبِي الْعَلَاءِ أَ تَرَيَانِ أَنَّهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيْزِ فَقَالَا لَا الخ (٣)

(٤)......ابونضرہ تابعی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ کی خدمت میں تھے کہ انھوں نے فرمایا قریب ہے وہ وقت جب اہل شام کے پاس نہ دینار لائے جاسکیں گے اور نہ ہی غلہ، ہم نے پوچھا یہ بندش کن لوگوں کی جانب سے ہوگی؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا رومیوں کی طرف سے۔ پھر تھوڑی دیر خاموش رہ کر فرمایا! رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ میری آخری امت میں ایک خلیفہ ہوگا (یعنی خلیفہ مہدی) جو مال لپ بھر بھر دے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا۔

اس حدیث کے راوی الجریری کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے شیخ ) ابونضرہ اور ابوالعلاء سے دریافت کیا۔ کیا آپ حضرات کی رائے میں حدیث پاک میں مذکور خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ ہیں؟ تو ان دونوں حضرات نے فرمایا نہیں یہ خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے علاوہ ہوں گے۔

صفحہ ٣٥

قُلْتُ وَلَا يُقْلِقُكَ اَنَّكَ لَا تَجِدُ فِى شَيْئٍ مِّنْ هٰذِهِ الرِّوَايَاتِ ذِكْرُ الْمَهْدِىِّ اَنَّ الْاَحَادِيْثَ الصَّحِيْحَةَ الَّتِى سَيَاتِى ذِكْرُهَا تُصَرِّحُ اَنَّ ذَالِكَ الرَّجُلَ الْعَائِدَ بِالْبَيْتِ اِنَّمَا هُوَ الْمَهْدِىُّ وَكَذَالِكَ الْخَلِيْفَةُ الَّذِى يَحْثِى الْمَالَ حَثْيًا هُوَ الْمَهْدِىُّ وَ اَنَّ الْاَحَادِيْثَ يُفَسِّرُ بَعْضُهَا بَعْضًا كَمَا لَا يَخْفٰى عَلٰى مَنْ لَّهُ نَوْعُ اِلْمَامٍ بِالْحَدِيْثِ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ .

تنبیہ ٭ اوپر مذکور ان احادیث میں اگر چہ صراحتاً خلیفہ مہدی کا ذکر نہیں ہے لیکن دیگر صحیح حدیثوں میں صاف طور پر مذکور ہے کہ کعبۃ اللہ میں پناہ لینے والے خلیفہ مہدی ہی ہوں گے جن سے جنگ کے لئے سفیانی کا لشکر شام سے چلے گا اور جب مقام بیداء میں پہنچے گا تو دھنسا دیا جائے گا اسی طرح صحیح احادیث میں یہ تصریح موجود ہے کہ بغیر شمار کیے لپ بھر بھر کے مال عطا کرنے والے خلیفہ مہدی ہی ہیں اس لئے بلا ریب ان مذکورہ حدیثوں میں خلیفہ مہدی کی طرف واضح اشارہ ہے اور یہ حدیثیں انہی سے متعلق ہیں۔

وَقَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْحُجَّةُ اَبُوْ دَاوُدَ سُلَيْمَانُ ( ١ ) بْنُ الْاَشْعَثِ السِّجِسْتَانِىُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى فِى سُنَنِهِ .

(١) الحافظ الحجة سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير الأزدى السجستاني أبو داؤد إمام أهل الحديث في زمانه ، أصله من سجستان رحل رحلة كبيرة وتوفى بالبصرة سنة ٢٧٥ هـ ، له السنن في جزئين وهو أحد الكتب الستة جمع فيه ٤٨٠٠ حديثاً انتخبها من ٥٠٠٠٠٠ حديثا وله المراسيل الصغيرة في الحديث وكتاب الزهد . مخطوطة في خزانة القرويين بخط اندلسي والبعث والنشور مخطوطة رسالة وتسمية الاخوة مخطوطة رسالة: الاعلام ج ٣ ، ص ١٢٢ .

صفحہ ٣٦

(٥)....... حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُمُ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ نَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِى ابْنَ عَيَّاشٍ ح وَثَنَا مُسَدَّدٌ نَا يَحْيٰى عَنْ سُفْيَانَ ح وَ ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ نَا عُبَيْدُ اللّٰهِ بْنُ مُوسٰى أَنَا زَائِدَةُ حَ ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثَنَى عُبَيْدُ اللّٰهِ بْنُ مُوسٰى عَنْ فِطْرٍ الْمَعْنٰى كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ قَالَ زَائِدَةُ لَطَوَّلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ الْيَوْمَ حَتّٰى يَبْعَثَ رَجُلاً مِّنِّى أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِى يُوَاطِئُ اسْمُهُ اِسْمِى وَاسْمُ أَبِيْهِ بِاسْمِ أَبِى زَادَ فِى حَدِيثِ فِطْرٍ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَ عَدْلاً كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَ جَوْرًا وَقَالَ فِى حَدِيثِ سُفْيَانَ لَا تَذْهَبُ أَوْ لَا تَنْقَضِى الدُّنْيَا حَتّٰى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ بَيْتِى يُوَاطِئُ اسْمُهُ اِسْمِى قَالَ أَبُوْ دَاوُدَ لَفْظُ عَمْرٍو وَأَبِى بَكْرٍ بِمَعْنٰى سُفْيَانَ (١)

(٥)......حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر دنیا کا صرف ایک دن باقی بچے گا تو اللہ تعالیٰ اسی دن کو دراز فرما دیں گے تاکہ میرے اہل بیت سے ایک شخص کو پیدا فرمائیں جس کا نام اور ولدیت میرے نام اور ولدیت کے مطابق ہوگی۔ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ (یعنی پوری دنیا میں عدل و انصاف ہی کی حکمرانی ہوگی) جس طرح وہ (اس سے پہلے) ظلم و زیادتی سے بھری ہوگی۔

قُلْتُ مَدَارُ هٰذِهِ الرِّوَايَةِ عَلٰى عَاصِمٍ (٢) بْنِ بَهْدَلَةَ الْمَعْرُوْفِ بِابْنِ أَبِى

(١) سنن ابی داؤد اول کتاب المهدی ج ٢، ص ٥٨٨. (٢) عاصم بن بهدله راجع تهذيب التهذيب ج ٥ ، ص ٣٥ وخلاصة التذهيب ص ١٨١ وزر بن حبيش تهذيب التهذيب ج ٣، ص ٢٧٧.

صفحہ ٣٧

النَّجُوْدِ اَحَدِ الْقُرَّاءِ السَّبْعَةِ اَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالٰی مَقْرُوْنًا وَالْاَرْبَعَةُ، وَثَّقَهُ اَحْمَدُ وَالْعِجْلِيُّ وَيَعْقُوْبُ بْنُ سُفْيَانَ وَاَبُوْزُرْعَةَ وَأَمَّا زِرٌّ فَهُوَ ابْنُ حُبَيْشٍ الْاَسَدِيُّ الْكُوْفِيُّ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ وَأَمَّا عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ الصَّحَابِيُّ الْفَقِيْهُ الْمَعْرُوْفُ فَعُلِمَ مِمَّا ذُكِرَ اَنَّ الْحَدِيْثَ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِهِمَا قَالَ أَبُوْ عَبْدِ اللّٰهِ الْحَاكِمُ فِيْ مُسْتَدْرَكِهِ مَا نَصُّهُ وَالْحَدِيْثُ الْمُفَسِّرُ بِذٰلِكَ الطَّرِيْقِ وَطُرُقِ حَدِيْثِ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ كُلُّهَا صَحِيْحَةٌ اَىْ كُلُّ طُرُقِهِ صَحِيْحَةٌ عَلٰی مَا اَصَّلْتُه فِيْ هٰذَا الْكِتَابِ بِالْاِحْتِجَاجِ بِاَخْبَارِ عَاصِمِ ابْنِ اَبِي النَّجُوْدِ اِذْ هُوَ اِمَامٌ مِنْ اَئِمَّةِ الْمُسْلِمِيْنَ (١)

(٦)......حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِيْ شَيْبَةَ ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ اَبِيْ بَزَّةَ عَنْ اَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدَّهْرِ اِلَّا يَوْمٌ لَبَعَثَ اللّٰهُ رَجُلاً مِّنْ اَهْلِ بَيْتِيْ يَمْلَأُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا اِلخ (٢)

(١) المستدرک کتاب الفتن والملاحم ج ٢ ،ص٥٥٧ ـ وقال صاحب عون المعبود سکت عنه ابو داؤد و المنذری وابن القيم وله شاهد صحيح من حديث على عند أبى داؤد و رواه الترمذى كما مرّ وابن ماجة وأحمد من حديث أبى سعيد الخدرى الحديث صحيح بشواهده واللّٰه أعلم .

(٢)سنن أبى داؤد ج ٢، ص ٥٨٨.

صفحہ ٣٨

(٦)...... حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اگر زمانہ سے ایک ہی دن باقی رہ جائے گا (جب بھی ) اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو بھیجے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے معمور کر دے گا جس طرح وہ ( اس سے قبل ) ظلم سے بھری ہوگی۔ ایضاً

أَقُولُ أَمَّا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ فَهُوَ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَبْسِيُّ أَبُو الْحَسَنِ الْكُوفِيُّ الْحَافِظُ اَحَدُ الْاَعْلَامِ اَخْرَجَ لَهُ الشَّيْخَانِ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَةَ قَالَ ابْنُ مَعِيْنٍ ثِقَةٌ أَمِيْنٌ (١) وَأَمَّا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ فَهُوَ عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ الزُّهَيْرِ التَّيْمِيُّ مَوْلَى الِ طَلْحَةَ اَبُوْ نُعَيْمٍ الْكُوفِيُّ الْمُلَائِيُّ الاَحْوَلُ الْحَافِظُ الْعَالِمُ قَالَ أَحْمَدُ ثِقَةٌ يَقْظَانُ عَارِفٌ بِالْحَدِيْثِ وَقَالَ الْفَسْوِيُّ أَجْمَعَ اَصْحَابُنَا عَلَى اَنَّ أَبَا نُعَيْمٍ كَانَ غَايَةً فِي الْإِتْقَانِ أَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ، وَاَمَّا فِطْرٌ فَهُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ الْقُرَشِيُّ الْمَخْزُوْمِيُّ أَبُو بَكْرِ الْحَنَّاطُ الْكُوفِيُّ اَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِيُّ وَالْاَرْبَعَةُ،

(١) عثمان بن أبى شيبة روى عنه الجماعة سوى الترمذى و سوى النسائى ،فروى فى " اليوم والليلة “ عن زكريا بن يحيى السجزى عنه و مسند على عن ابى بكر المروزى عنه ـ تهذيب التهذيب ج٧، ص ١٤٥ ـ الفضل بن دكين ولد سنة ١٣٠ هـ ومات سنة ٢١٨ هـ روى عنه البخارى فاكثر راجع تهذيب التهذيب ج٨، ص ٢٤٣ وخلاصة تذهيب ص ٣٠٨ـ فطر بن خليفة القرشى المخزومى مولاهم ابو بكر الخياط الكوفى قال العجلى كوفى ثقة حسن الحديث وكان فيه تشيع قليل و قال النسائى بأس به وقال فى موضع آخر ثقة،حافظ، كيس مات سنة ١٥٣ هـ روى له البخارى مقرونا وقال ابن سعد كان ثقة ان شاء الله ومن الناس من يستضعفه وكان لا يدع أحداً يكتب عنه وكان أحمد بن حنبل يقول هو خشبى مفرط (أى من الخشبية فرقة من الجهمية) قال الساجى وكان يقدم علياً على عثمان وقال السعدى زائغ غير ثقة وقال الدارقطنى فطر زائغ ولم يحتج به البخارى وقال عدى له احاديث صالحة عند الكوفيين وهو متماسك وارجو انه لا بأس به تهذيب التهذيب ج٨،ص ٢٧٠ وخلاصة تذهيب ص ٣١١.

صفحہ ٣٩

وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِيْنٍ وَالْعِجْلِيُّ وَابْنُ سَعْدٍ. أَمَّا الْقَاسِمُ بْنُ أَبِيْ بَزَّةَ (١) فَهُوَ أَبُو الطُّفَيْلِ فَهُوَ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ الْكِنَانِيُّ اللَّيْثِيُّ أَحَدُ الصَّحَابَةِ وَآخِرُهُمْ وَفَاتًا عَلَى الْإِطْلَاقِ وَأَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْحَدِيْثَ صَحِيْحٌ (٢) عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِي رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى.

(٧)...... حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ ثَنِيْ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ جَعْفَرِ الرَّقِيُّ ثَنَا أَبُو الْمَلِيْحِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ عَنْ زِيَادِ بْنِ بَيَانٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ عَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ الْمَهْدِيُّ مِنْ عِتْرَتِيْ (٣) . مِنْ وُلْدِ فَاطِمَةَ وَقَالَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَسَمِعْتُ أَبَا الْمَلِيْحِ ثَنِيْ عَلِيُّ بْنُ نُفَيْلٍ وَيُذْكَرُ مِنْهُ صَلَاحًا (٤)

(١) القاسم بن أبى بزة (بزة بفتح الموحدة وتشديد الزاء) المخزومى مولاهم وجده من فارس اسلم على يد السائب بن صيفى وكان ثقة قليل الحديث وقال ابن حبان لم يسمع التفسير من مجاهد أحد غير القاسم وكل من يروى عن مجاهد التفسير فانما أخذه من كتاب القاسم وذكر البخارى فى الاوسط بسنده مات سنة ١١٥هـ تهذيب التهذيب ج٨، ص ٢٧٨ وخلاصة تذهيب ص ٣١١.

(٢) وفى مشكوة المصابيح ج ٣، ص ٤٧٠ من عترتى من اولاد فاطمة.

(٣) عترتى قال الخطابى العترة ولد الرجل من صلبه وقد تكون العترة الاقرباء وبنى العمومة.

(٤) سنن أبى داؤد أول كتاب المهدى ج ٢، ص ٥٨٨.

صفحہ ٤٠

فرماتے ہوئے سنا کہ مہدیؒ میری نسل اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوگا۔

أَقُوْلُ أَمَّا أَحْمَدُ بْنُ (١) إِبْرَاهِيْمَ فَهُوَ أَبُوْ عَلِيٍّ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ خَالِدِ الْمَوْصِلِيُّ نَزِيْلُ بَغْدَادَ كَتَبَ عَنْهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِيْنٍ وَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ وَقَالَ صَاحِبُ تَارِيْخِ الْمَوْصِلِ كَانَ ظَاهِرَ الصَّلَاحِ وَالْفَضْلِ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ إِبْرَاهِيْمُ بْنُ الْجُنَيْدِ عَنِ ابْنِ مَعِيْنٍ ثِقَةٌ صَدُوْقٌ أَخْرَجَ لَهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَةَ فِي تَفْسِيْرِهِ وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ(٢) بْنُ جَعْفَرِ الرَّقِيُّ فَهُوَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ غَيْلَانَ الْأُمَوِيُّ وَثَّقَهُ أَبُوْ حَاتِمٍ أَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ . وَأَمَّا أَبُو الْمَلِيْحِ(٣) الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ فَهُوَ ابْنُ يَحْيَى الْفَزَارِيُّ أَبُو الْمَلِيْحِ الرَّقِيُّ قَالَ أَحْمَدُ ثِقَةٌ ضَابِطُ الْحَدِيْثِ صَدُوْقٌ أَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِيُّ تَعْلِيْقًا وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَةَ قَالَ أَبُوْ زُرْعَةَ ثِقَةٌ وَقَالَ أَبُوْ حَاتِمٍ يُكْتَبُ حَدِيْثُه وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : ثِقَةٌ وَقَالَ عُثْمَانُ الدَّارِمِيُّ عَنِ ابْنِ مَعِيْنٍ : ثِقَةٌ ، وَأَمَّا زِيَادُ بْنُ (٤) بَيَانٍ فَهُوَ الرَّقِيُّ الْعَابِدُ .

معين ثقة وقال النسائى ليس به باس قيل أن يتغير وقال هلال بن العلاء ذهب بصره سنة (٢١٦) وتغير سنة (٢١٨) هـ ومات سنة ٢٢٠ هـ وقال ابن حبان فى الثقات لم يكن اختلاطه فاحشا ربما خالف ووثقه العجلى تهذيب التهذيب ج ٥، ص ١٥١.

تهذيب التهذيب ج ٢، ص ٢٦٧ و خلاصة التذهيب ص ٨٠.

التهذيب ص ٨٣ و خلاصة التذهيب ص ١٢٧ وقال البخارى فى اسناده (اى زياد بن بيان) نظر وقال ابن عدى والبخارى انما انكر من حديث زياد بن بيان هذا الحديث وهو معروف به والظاهر ان زياد بن بيان وَهَمَ فى رفعه. لكن هذا الحديث اسناده جيد لان زياد بن بيان صدوق عابد وعلى بن نفيل لا بأس به فليس للوهم وجود علما بان هناك احادیث اخرى تشهد له.

صفحہ ٤١

قَالَ الْبُخَارِيُّ قَالَ عَبْدُ الْغَفَّارِ ثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ بَيَانٍ وَذَكَرَ فَضْلَهُ وَقَالَ النَّسَائِيُّ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ كَانَ شَيْخًا صَالِحًا. وَأَمَّا عَلِيُّ (١) بْنُ نُفَيْلٍ فَهُوَ ابْنُ نُفَيْلِ بْنِ زِرَاعِ النَّهْدِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ الْجَزَرِيُّ الْحَرَّانِيُّ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ الرَّقِيُّ سَمِعْتُ أَبَا الْمَلِيْحِ الرَّقِيَّ يُثْنِي عَلِيَّ بْنَ نُفَيْلٍ وَيَذْكُرُ مِنْهُ صَلَاحًا وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ لَا بَأْسَ بِهِ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَذَكَرَهُ الْعُقَيْلِيُّ فِي كِتَابِهِ وَقَالَ لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيْثِهِ فِي الْمَهْدِي وَلَا يُعْرَفُ إِلَّا بِهِ وَفِي الْمَهْدِي حَدِيثٌ جِيَادٌ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ وَأَمَّا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَهُوَ إِمَامٌ مَشْهُورٌ. فَالْحَدِيْثُ صَحِيْحٌ لَا ضُعْفَ فِيهِ وَأَمَّا قَوْلُ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ فِي الْمَهْدِي فَلَا يَضُرُّ فِي صِحَّةِ الْحَدِيْثِ إِذْ لَا يُشْتَرَطُ فِي صِحَّتِهِ وُجُودُ الْمُتَابِعِ . وَتَبَيَّنَ مِنْ قَوْلِ الْعُقَيْلِي أَنَّ الْأَحَادِيثَ الصَّحِيحَةَ مَوْجُودَةٌ فِي الْمَهْدِي.

(٨)...... حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَامِ بْنِ بَزِيعٍ نَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ نِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَهْدِيُّ مِنِّي أَجْلَى(٢) الْجَبْهَةِ أَقْنَى(٣) الْأَنْفِ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا وَيَمْلِكُ سَبْعَ سِنِينَ الخ(٤)

(١) علی بن نفیل ۔ خلاصة التذهیب ص ٢٧٨ و تهذیب التهذیب ج ٧ ص ٣٤٢،

والتقریب ص ١٨٦.

(٢) اجلى الجبهة: الذی انحسر الشعر عن جبهته.

(٣) اقنى الأنف : الذی طول فی انفه ورقة فی أرنبته مع حدب فی وسطه.

(٤) سنن ابی داؤد اول کتاب المهدی ج ٢، ص ٥٨٨ واخرجه الحافظ ابوبکر البیهقی فی

البعث والنشور.

صفحہ ٤٢

(٨)...... حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مہدی مجھ سے ہوگا (یعنی میری نسل سے ہوگا) اس کا چہرہ خوب نورانی، چمک دار اور ناک ستواں و بلند ہوگی۔ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا، جس طرح پہلے وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی۔

(مطلب یہ ہے کہ مہدی کی خلافت سے پہلے دنیا میں ظلم وزیادتی کی حکمرانی ہوگی اور عدل و انصاف کا نام ونشان تک نہ ہوگا) ایضاً

أَقُوْلُ أَمَّا سَهْلُ (١) بْنُ تَمَامِ بْنِ بَزِيْعٍ فَهُوَ الطَّفَاوِيُّ السَّعْدِيُّ اَبُو عَمْرٍو النَّصْرِيُّ قَالَ اَبُوْ زُرْعَةَ لَمْ يَكُنْ بِكَذَّابٍ رُبَّمَا وَهِمَ فِى الشَّئِ وَقَالَ اَبُوْ حَاتَمٍ شَيْخٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ يُخْطِئُ اَخْرَجَ لَه اَبُوْدَاوُدَ وَأَمَّا عِمْرَانُ (٢) الْقَطَّانُ فَهُوَ عِمْرَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَمِّيُّ اَبُو الْعَوَّامِ الْبَصْرِيُّ اَحَدُ الْعُلَمَاءِ وَاَثْنىٰ عَلَيْهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيْدٍ الْقَطَّانُ وَوَثَّقَه عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ وَقَالَ اَحْمَدُ اَرْجُوْ اَنْ يَّكُوْنَ صَالِحَ الْحَدِيْثِ قَالَ فِى التَّقْرِيْبِ صَدُوْقٌ يَهِمُ وَرُمِيَ بِرَأْيِ الْخَوَارِجِ وَفِى تَهْذِيْبِ التَّهْذِيْبِ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ كَانَ ابْنُ مَهْدِيٍّ يُحَدِّث عَنْهُ وَكَانَ يَحْيىٰ لَا يُحَدِّثُ عَنْهُ وَقَدْ ذَكَرَه يَحْيىٰ يَوْمًا فَاَحْسَنَ الثَّنَاءَ عَلَيْهِ وَقَالَ الْآجِرِيُّ عَنْ اَبِيْ دَاوُدَ هُوَ مِنْ اَصْحَابِ الْحَسَنِ وَمَا سَمِعْتُ اِلَّا خَيْرًا وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ هُوَ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيْثُه وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ السَّاجِيُّ: صَدُوْقٌ وَثَّقَه عَفَّانُ ،

(١) سہل بن تمام بن بزیع الطفاوی : تہذیب التہذیب ج ٣ ، ص ٢١ . (٢) عمران القطان بن داؤد العمی البصری ابو العوام تہذیب التہذیب ج ٨، ص ١١٥، ١١٦، ١١٧ وتقریب التہذیب ص ١٩٧ وخلاصة التذھیب ص ٢٩٥

صفحہ ٤٣

وَقَالَ الْعُقَيْلِيُّ مِنْ طَرِيْقِ ابْنِ مَعِيْنٍ كَانَ يَرَى رَأَى الْخَوَارِجِ وَلَمْ يَكُنْ دَاعِيَةً

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ قَالَ الْبُخَارِيُّ صَدُوْقٌ يَهِمُ وَقَالَ ابْنُ شَاهِيْنٍ فِي الثِّقَاتِ كَانَ مِنْ أَخَصِّ النَّاسِ بِقَتَادَةَ وَقَالَ الْعِجْلِيُّ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ وَقَالَ الْحَاكِمُ صَدُوْقٌ الخ.

فَهٰذِهِ أَقْوَالُ الْاَئِمَّةِ فِي تَعْدِيلِهِ وَقَدْ جَرَحَهُ قَوْمٌ بِجَرْحٍ مُّبْهَمٍ فَقَالَ الدُّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ مَعِيْنٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَقَالَ مَرَّةً لَيْسَ بِشَيْءٍ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَهٰذَا الْقَوْلُ مِنِ ابْنِ مَعِيْنٍ لَا يَضُرُّهُ فَإِنَّ الْجَرْحَ الْمُبْهَمَ لَا يُتَرَجَّحُ عَلَى التَّعْدِيلِ. وَعَدَمُ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ لَا يَدُلُّ عَلَى مَجْرُوحِيَّتِهِ وَقَدْ نُقِلَ عَنْهُ حُسْنُ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ كَمَا تَقَدَّمَ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ مَرَّةً ضَعِيفٌ أَفْتَى فِي أَيَّامٍ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ بِفَتْوَى شَدِيدَةٍ فِيْهَا سَفْكُ الدِّمَاءِ قَالَ وَ قَدَّمَ أَبُو دَاوُدَ اَبَا هِلَالِ الرَّاسِبِ عَلَيْهِ تَقْدِيمًا شَدِيدًا وَقَالَ النَّسَائِيُّ ضَعِيفٌ الخ وَهٰذَا أَيْضًا جَرْحًا مُّبْهَمًا لَّا يَتَقَدَّمُ عَلَى تَعْدِيلِهِ وَقَدْ نَقَلْنَا عَنْ أَبِي دَاوُدَ أَنَّهُ قَالَ مَا سَمِعْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا وَأَمَّا مَا قَالَهُ أَبُو الْمِنْهَالِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ كَانَ حَرُورِيًّا كَانَ يَرَى السَّيْفَ عَلَى أَهْلِ الْقِبْلَةِ فَقَدِ انْتَقَدَهُ الْحَافِظُ الْعَسْقَلَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ حَيْثُ قَالَ قُلْتُ فِي قَوْلِهِ حَرُورِيًّا نَظَرٌ وَلَعَلَّهُ شِبْهُهُ بِهِمْ قَدْ ذَكَرَ أَبُو يَعْلَى فِي مُسْنَدِهِ الْقِصَّةَ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ فِي تَرْجَمَةِ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَفْظُهُ قَالَ يَزِيدُ كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ لَّمَّا خَرَجَ يَطْلُبُ الْخِلَافَةَ اسْتَفْتَاهُ عَنْ شَيْءٍ فَأَفْتَاهُ بِفُتْيَاهُ قُتِلَ بِهَا رِجَالٌ مَّعَ إِبْرَاهِيمَ الخ وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ وَ مُحَمَّدٌ خَرَجَا عَلَى الْمَنْصُورِ فِي طَلَبِ الْخِلَافَةِ لِأَنَّ الْمَنْصُورَ كَانَ فِي زَمَنِ أُمَيَّةَ بَايَعَ مُحَمَّدًا بِالْخِلَافَةِ فَلَمَّا زَالَتْ دَوْلَةُ بَنِي أُمَيَّةَ

صفحہ ٤٤

وَوَلِيَ الْمَنْصُوْرُ الْخِلَافَةَ يَطْلُبُ محمداً فَفَرَّ فَاَلَحَّ فِي طَلَبِهِ فَظَهَرَ بِالْمَدِيْنَةِ وَبَايَعَهُ قَوْمٌ وَاَرْسَلَ اَخَاهُ إِبْرَاهِيمَ إِلَى الْبَصْرَةِ فَمَلَكَهَا وَبَايَعَهُ قَوْمٌ فَقُدِّرَ اَنَّهُمَا قُتِلَا وَقُتِلَ مَعَهُمَا جَمَاعَةٌ كَثِيرَةٌ وَلَيْسَ هَؤُلَاءِ مِنَ الْحَرُوْرِيَّةِ فِي شَيْئ الخ كَلَامُ الْحَافِظِ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.

وَخُلَاصَةُ الْكَلَامِ اَنَّ الْمُعَدِّلِيْنَ فِي شَانِ عِمْرَانَ اَكْثَرُ، ثَنَاءُ هُمْ اَقْوى وَاَمَّا الْجَارِحُوْنَ فَاَقَلُّ، وَجَرْحُهُمْ غَيْرُ مُعْتَدٍ بِهِ وَمِنْ ههُنَا تَرَى الْحَافِظَ ابْنَ حَجَرٍ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فِي تَقْرِيبِهِ لَمْ يَذْهَبْ اِلَى جَرْحِهِ بَلِ اخْتَارَ تَعْدِيْلَهُ وَ تَوْثِيْقَه حَيْثُ قَالَ صَدُوقٌ يَهِمُ وَقَدْ صَحَّحَ الْحَاكِمُ رِوَايَاتِهِ وَإِنَّمَا اَطْنَبْنَا الْكَلَامَ فِيْهِ لِاَنَّ الذَّهَبِيَّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى لَمْ يُسَلِّمْ تَصْحِيْحَ الْحَاكِمِ لِرِوَايَاتٍ وَقَعَ فِيْهَا ذِكْرُ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ وَاسْتَنَدَ بِجَرْحِ بَعْضِ الْاَئِمَّةِ فِيْهِ حَيْثُ قَالَ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ جَرَحَ عَلَيْهِ غَيْرُ وَاحِدٍ مِّنَ الْاَئِمَّةِ مَعَ اَنَّه، لَمْ يُوَازِنْ بَيْنَ جَرْحِهِ وَتَعْدِيْلِهِ حَتَّى يَتَبَيَّنَ الرَّاجِحُ حَسْبَ الْقَوَاعِدِ الْاُصُوْلِيَّةِ وَقَدْ اَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِيُّ تَعْلِيقًا وَالْاَرْبَعَةُ وَاللَّهُ تَعَالَى اَعْلَمُ. وَاَمَّا قَتَادَةُ (١) فَهُوَ ابْنُ دِعَامَةَ السَّدُوْسِيُّ اَحَدُ الْاَئِمَّةِ الْمَعْرُوفِيْنَ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ. وَاَمَّا اَبُو نَضْرَةَ (٢)

(١) قتادة بن دعامة: تهذيب التهذيب ج٨،ص ٣١٥ وتقريب التهذيب ص ٢٠٨ وفى خلاصة التذهيب ص ٣١٥ :احد الائمة الأعلام حافظ مدلس وقد احتج به أرباب الصحاح.

(٢) أبو نضرة المنذر بن مالك بن قطعة بضم قاف وفتح المهملة العبدى العوقى بفتح المهملة والواو ثم قاف البصرى ثقة من الثالثة مات سنة ثمان أو تسع مأة - تقريب التهذيب ص ٢٥٣ وفى تهذيب الكمال العوقة بطن من عبدالقيس حاشية تهذيب التهذيب ج١،ص٢٦٨۔ وفى خلاصة التذهيب ص٣٨٧ قطعة بكسر القاف وسكون المهملة. قال ابن أبى حاتم سئل أبى عن أبى نضرة و عطية فقال :أبو نضرة أحب إلى وقال ابن سعد: كان كثير الحديث وليس كل أحد يحتج به وأورده العقيلى فى الضعفاء ولم يذكر فيه قدحاً لأحد. تهذيب التهذيب ج١٠، ص٢٦٨، ٢٦٩.

صفحہ ٤٥

فَهُوَ الْمُنْذِرُ بْنُ قِطْعَةَ الْعَبْدِيُّ الْعَوْفِيُّ أَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِيُّ تَعْلِيْقًا وَ مُسْلِمٌ وَالْأَرْبَعَةُ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِيْنٍ وَّالنَّسَائِيُّ وَأَبُوْزُرْعَةَ وَابْنُ سَعْدٍ، وَ حَاصِلُ الْكَلَامِ أَنَّ الْحَدِيْثَ صَحِيْحٌ لَا غُبَارَ عَلَيْهِ.

(٩)...... حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ثَنِيْ أَبِيْ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيْلِ عَنْ صَاحِبٍ لَّه عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيْهِ نَاسٌ مِّنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُوْنَه وَهُوَ كَارِهٌ فَيُبَايِعُوْنَه بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ مِّنَ الشَّامِ فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ ( ١ ) الشَّامِ

(١) الأبدال: قوم من الصالحين لا تخلو الدنيا منهم، إذا مات واحد منهم أبدل الله تعالى. مكانه بآخر والواحد بدل: مجمع البحار ج ١، ص ٨١ ـ وقال الشيخ المحقق عبد الفتاح أبو غدة في تعليقه على ”المنار المنيف“ ص ١٣٧ وقد شغلت مسألة الأبدال في العصور المتأخرة كثيراً من العلماء فاطالوا الكلام فيها وافردها بعضهم بالتأليف كما ترى السخاوى في المقاصد الحسنة قد اطال فيها ص ٨ - ١٠ وأفردها بجزء سماه ”نظام الآل على الأبدال“، وكذلك معاصره السيوطى أطال فيها في اللآلئ المصنوعة ٢/ ٣٣٠ـ٣٣٢ ثم قال وقد جمعت طرق هذا الحديث كلها في تأليف مستقل فاغنى عن سوقها هنا وتأليفه هو الخبر الدال على وجود القطب والأوتاد والنجباء والأبدال وهو مطبوع في ضمن كتابه الحاوى للفتاوى، وساق ابن القيم هذا الخبر ص ١٤٤ وصححه بينما هو في ص ١٣٦ قد عد احاديث الأبدال كلها من الأحاديث الباطلة وهذا التعميم خطاء والصواب ان معظمها باطل وليس كلها ولا سيما وقد صحح هو حديث منها (حاشية عقد الدرر ص ١٣٩).

صفحہ ٤٦

وَعَصَائِبُ(١) اَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُوْنَهُ ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِّنْ قُرَيْشٍ اَخْوَالُهُ كَلْبٌ فَيَبْعَثُ اِلَيْهِمْ بَعْثًا فَيَظْهَرُوْنَ عَلَيْهِمْ وَذَلِكَ كَلْبٌ وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَّمْ يَشْهَدْ غَنِيْمَةَ كَلْبٍ فَيَقْسِمُ الْمَالَ وَيَعْمَلُ فِى النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُلْقِى الْاِسْلَامُ بِجِرَانِهِ اِلَى الْاَرْضِ فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِيْنَ ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّى عَلَيْهِ الْمُسْلِمُوْنَ قَالَ اَبُوْدَاوُدَ وَ قَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامٍ تِسْعَ سِنِيْنَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ سَبْعَ سِنِيْنَ.

(١٠)...... ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنَا هَارُوْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ اَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْحَدِيْثِ قَالَ تِسْعَ سِنِيْنَ قَالَ غَيْرُ مُعَاذٍ عَنْ هِشَامٍ تِسْعَ سِنِيْنَ.

(١١)...... حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى قَالَ ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ قَالَ اَبُو الْعَوَّامِ نَا قَتَادَةُ عَنْ اَبِى الْخَلِيْلِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيْثِ وَحَدِيْثُ مُعَاذٍ اَتَمُّ اِلَخ (٢)

(٩۔١٠۔١١)......حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا رسول خدا ﷺ کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ ایک خلیفہ کی وفات کے وقت (نئے خلیفہ کے انتخاب پر مدینہ کے مسلمانوں میں) اختلاف ہوگا ایک شخص (یعنی مہدیؑ اس خیال سے کہ کہیں لوگ مجھے نہ خلیفہ بنا دیں) مدینہ سے مکہ چلے جائیں گے۔ مکہ کے کچھ لوگ (جو انہیں بحیثیت مہدیؑ کے پہچان لیں گے)

(١) العصائب جمع عصابة وهم الجماعة من الناس من العشرة إلى الأربعين لا واحد لها من لفظها وقيل أريد جماعة من الزهاد سماهم العصائب (النهاية) جران: باطن العنق ومعناه قر قراره و استقام كما أن البعير إذا برك و استراح مدّ عنقه على الأرض.

(٢) سنن أبى داؤد كتاب المهدى ج٢، ص ٥٨٩.

صفحہ ٤٧

فَيُبَايِعُونَهُ ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِّنْ قُرَيْشٍ اَخْوَالُهُ كَلْبٌ فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ وَذَلِكَ كَلْبٌ وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَّمْ يَشْهَدْ غَنِيمَةَ كَلْبٍ فَيَقْسِمُ الْمَالَ وَيَعْمَلُ فِى النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُلْقِى الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّى عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ (١) وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامٍ تِسْعَ سِنِينَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ سَبْعَ سِنِينَ.

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ تِسْعَ سِنِينَ قَالَ غَيْرُ مُعَاذٍ عَنْ هِشَامٍ تِسْعَ سِنِينَ.

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى أَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ قَالَ أَبُو الْعَوَامِ نَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَحَدِيثُ مُعَاذٍ أَتَمُّ الْخ (٢)

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا رسول خدا ﷺ کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ ایک خلیفہ کے انتقال کے وقت (خلیفہ کے انتخاب پر مدینہ کے مسلمانوں میں) اختلاف ہوگا (اس وقت) ایک شخص اس خیال سے کہ کہیں لوگ مجھے نہ خلیفہ بنا دیں) مدینہ سے مکہ چلے جائیں گے، مکہ کے کچھ لوگ (جو انہیں بحیثیت مہدی کے پہچان لیں گے)

م الجماعة من الناس من العشرة إلى الأربعين لا واحد لها من هاد سماهم العصائب (النهاية) جران: باطن العنق ومعناه إذا برك و استراح مدّ عنقه على الأرض. ی ج ٢، ص ٥٨٩ .

ان کے پاس آئیں گے اور انھیں (مکان) سے باہر نکال کر حجر اسود و مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت (خلافت) کر لیں گے (جب ان کی خلافت کی خبر عام ہوگی) تو ملک شام سے ایک لشکر ان سے جنگ کے لیے روانہ ہوگا (جو آپ تک پہنچنے سے پہلے ہی) مکہ و مدینہ کے درمیان بیداء (چٹیل میدان) میں زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا (اس عبرت خیز ہلاکت کے بعد) شام کے ابدال اور عراق کے اولیاء آکر آپ سے بیعتِ خلافت کریں گے۔ بعد ازاں ایک قریشی النسل شخص (یعنی سفیانی) جس کی ننہال قبیلہ کلب میں ہوگی خلیفہ مہدی اور ان کے اعوان و انصار سے جنگ کے لیے ایک لشکر بھیجے گا۔ یہ لوگ اس حملہ آور لشکر پر غالب ہوں گے یہی (جنگ) کلب ہے اور خسارہ ہے اس شخص کے واسطے جو کلب سے حاصل شدہ غنیمت میں شریک نہ ہو (اس فتح و کامرانی کے بعد) خلیفہ مہدی خوب داد و دہش کریں گے اور لوگوں کو ان کے نبی ﷺ کی سنت پر چلائیں گے اور اسلام مکمل طور پر زمین میں مستحکم ہو جائیگا (یعنی دنیا میں پورے طور پر اسلام کا رواج و غلبہ ہوگا) بحالت خلافت، مہدی دنیا میں سات سال اور دوسری روایات کے اعتبار سے نو سال رہ کر فوت ہو جائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے۔

٭ ضروری وضاحت: ”ابدال“ بدل کی جمع ہے۔ ابدال اولیائے کرام کی اس جماعت کو کہتے ہیں جن کا بدل اللہ تعالیٰ پیدا کرتا رہتا ہے۔ دنیا ان کے وجود سے کبھی خالی نہیں ہوتی۔ ایک کی وفات ہوتی ہے اور دوسرا اس کی جگہ آجاتا ہے۔ تبادلہ کے اسی غیر منقطع سلسلہ کی بناء پر انہیں ابدال کہا جاتا ہے، ابدال کے بارے میں امام سخاویؒ نے ”مقاصدِ حسنہ“ میں طویل کلام کیا ہے۔ اسی طرح امام سیوطیؒ نے الحاوی للفتاویٰ میں مبسوط بحث کی ہے۔ علاوہ ازیں ایک مستقل رسالہ بھی اس موضوع پر لکھا ہے جو ان کے فتاویٰ الحاوی میں شامل ہے۔ ابدال سے متعلق اگرچہ اکثر روایتیں غیر معتبر اور بے اصل ہیں، لیکن بلاشبہ بعض روایتیں صحیح بھی ہیں چنانچہ پیش نظر روایت صحیح ہے اور اس میں بصراحت ابدال کا ذکر موجود ہے۔ اس لیے جن لوگوں نے اس سلسلہ کی روایتوں کو سرے سے باطل قرار دیا ہے۔ ان کا قول صحت سے بعید ہے۔

صفحہ ٤٨

أَقُوْلُ هَذَا الْحَدِيْثُ بِالطُّرُقِ الثَّلَاثَةِ فِيْ غَايَةٍ مِّنَ الْقُوَّةِ وَالصِّحَّةِ فَإِنَّ مُحَمَّدَ (١) بْنَ الْمُثَنَّى هُوَ الْعَنَزِيُّ أَبُوْ مُوْسَى الزَّمَنِيُّ الْبَصْرِيُّ الْحَافِظُ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حُجَّةٌ ـ وَأَمَّا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ (٢) فَهُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ الْبَصْرِيُّ نَزِيْلُ الْيَمَنِ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ، وَاَمَّا اَبُوْهُ فَهُوَ هِشَامُ (٣) بْنُ أَبِيْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَنْبَرِ الدَّسْتُوَائِيُّ أَبُوْ بَكْرِ نِ الْبَصْرِيُّ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ وَأَمَّا قَتَادَةُ فَهُوَ ابْنُ دِعَامَةَ السَّدُوْسِيُّ أَبُو الْخَطَّابِ الْبَصْرِيُّ الْأَكْمَهُ اَحَدُ الْأَئِمَّةِ الْاَعْلَامِ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ. وَاَمَّا صَالِحٌ (٤) أَبُو الْخَلِيْلِ فَهُوَ ابْنُ أَبِيْ مَرْيَمَ الضُّبَعِيُّ أَبُو الْخَلِيْلِ الْبَصْرِيُّ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ وَاَمَّا صَاحِبُهُ فَهُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ وَقَدْ صَرَّحَ بِهِ فِى الرِّوَايَةِ إِحْدَى عَشَرَةَ وَ نَصَّ عَلَيْهِ فِيْ كُتُبِ الرِّجَالِ،

٣٥٧.

حديث كثير ربما يغلط وأرجو انه صدوق خلاصة التذهيب ص ٣٨٠ وفى تقريب التهذيب ص ٢٤٨ صدوق ربما وهم من التاسعة مات سنة مائتين.

من دستواء فنسب إليها قال على بن الجعد: سمعت شعبة يقول: كان هشام أحفظ منى وأعلم عن قتادة وقال البزار الدستوائى أحفظ من أبى هلال ـ تهذيب التهذيب ج ١١ ،ص ٤٠ - ٤١.

التهذیب ص ١١٢ و خلاصة التذهيب ص ١٧١.

صفحہ ٤٤٩

وصریح ہے کہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔ ان کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔

مرزائی خیانت

"لم یکن بینی وبینکم کا معنی مرزا محمود نے یہ کیا کہ اس کے اور میرے درمیان نبی نہیں، حالانکہ لفظ لم یکن کا معنی ہے کوئی نبی نہیں ہوا۔ یہ ماضی کا بیان ہے جس کو خلیفہ محمود نے چھپایا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہی عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے تو معلوم ہوا کہ انھیں کا رفع ہوا ہے اور وہ زندہ آسمان میں موجود ہیں کیونکہ بقول مرزا غلام احمد قادیانی نزول فرع ہے صعود کی۔ ملاحظہ ہو (انجام آتھم ص ١٦٨، خزائن ج ١١ ص ١٦٨) اس حدیث پاک نے بھی مرزائی تاویلات کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔

دوسری خیانت

مرزا محمود قادیانی نے دوسری خیانت یہ کی کہ ابو داؤد شریف میں مذکور حدیث کے الفاظ "ویقاتل الناس علی الاسلام" کو سرے سے کھا گئے کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مقاتلہ نہ کبھی کیا نہ اس کے حق میں تھے۔ وہ تو صرف انگریزوں کے لیے دعائیں کرنا جانتے تھے۔

حدیث نمبر ٣

عن عبدالله ابن عمر وابن العاص قال قال رسول اللہﷺ ینزل عیسى ابن مریم الى الارض فیتزوج ویولد له ویمکث خمسا واربعین سنة ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسى ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر ۔

(رواہ ابن جوزی فی الوفا باحوال المصطفیٰ ص ٨٣٢، مشکوٰۃ ص ٤٨٠ باب نزول عیسیٰ )

"حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص نے روایت کی کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے یہاں شادی کریں گے۔ ان کی اولاد بھی ہو گی۔ اور زمین میں ٤٥ سال رہ کر وفات پائیں گے اور میرے ساتھ گنبد خضریٰ میں دفن ہوں گے۔

اس روایت کو مرزا قادیانی نے نقل کر کے "فیتزوج ویولد" کے حصہ سے محمدی بیگم کے مرزا غلام احمد قادیانی کے نکاح میں آنے کی خوشخبری پر محمول کیا ہے اور "یدفن فی قبری" سے اپنا فانی الرسول ہونا ثابت کیا ہے۔ بہر حال حدیث کو صحیح تسلیم کر لیا ہے۔

١٤١

صفحہ ٤٥٠

یہ حدیث امام ابن جوزیؒ نے نقل فرمائی ہے جو مرزائیوں کے مسلم مجدد صدی ششم ہیں۔ گویا صحت حدیث سے انکار ہی نہیں ہو سکتا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ:

نازل ہوں گے معلوم ہوا کہ زمین پر پہلے سے نہیں ہیں۔

کرنے کا ذکر بھی کر دیا۔

و عمرؓ کے درمیان معہ عیسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوں گے۔

مرزائی وہم

یہاں مرزائی یہ کہہ دیتے ہیں کہ حضور کی قبر میں کیسے دفن ہوں گے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی نے خود (نزول المسیح ص ٤٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٥) پر لکھا ہے کہ ان (یعنی حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمرؓ) کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرت ﷺ سے ایسے ملحق دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے۔ یہی مطلب مرقاۃ میں مرزائیوں کے مسلم مجدد حضرت ملا علی قاریؒ نے بیان فرمایا ہے۔

اجازت چاہی کہ میں آپ کے پہلو میں دفن ہو جاؤں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا وہاں تو جگہ نہیں ہے صرف ایک قبر کی جگہ ہے جہاں عیسیٰ علیہ السلام دفن ہوں گے۔ ان کی قبر چوتھی ہو گی۔ اس روایت نے بھی مرزائیوں کی تمام تاویلی خرافات کو ختم کر کے رکھ دیا۔

حدیث نمبر ٤

ان روح اللہ عیسیٰ نازل فیکم فاذا رأیتموہ فاعرفوہ فانہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض ...... ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون.

(رواہ الحاکم عن ابی ہریرۃؓ فی المستدرک ص ٣٩٠)

یہ حدیث مرزائیوں کے امام اور مجدد صدی چہارم نے روایت کیا ہے۔ اس لیے اس کی صحت میں تو شک ہو ہی نہیں سکتا۔ اس حدیث میں حضور ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے قرآنی لقب ”روح اللہ“ سے یاد فرمایا۔ تمام باتوں کا ذکر کر کے فرمایا جاتا ہے کہ اس کے بعد وہ فوت ہوں گے اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔

١٤٤

صفحہ ٤٥١

حدیث نمبر ٥

عن ابی هریرةؓ انه قال قال رسول الله ﷺ کیف انتم اذ نزل ابن مریم من السماء فیکم و امامکم منکم.

(کتاب الاسماء للامام البیہقی ص ٤٢٤)

"حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس وقت (مارے خوشی کے) تمہارا کیا حال ہوگا۔ جب مریم کے بیٹے تم میں آسمان سے نازل ہوں گے اور تمھارا امام (نماز کا) تمھیں میں سے ہوگا۔" روایات میں آتا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نماز پڑھانے کے لیے تیار ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو جائیں گے۔ وہ ان سے نماز پڑھانے کا کہیں گے وہ انکار کرتے ہوئے فرمائیں گے کہ اس نماز کی اقامت آپ کے لیے کی گئی ہے۔ (آپ ہی پڑھائیں گے)

اور بعض روایات میں ہے کہ اس امت کو اللہ تعالیٰ نے فضیلت دی ہے۔ بہر حال وہ نماز خود حضرت مہدی علیہ السلام ہی پڑھائیں گے۔ اس حدیث میں من السماء کا صاف لفظ موجود ہے اور اس کو مرزائیوں کے مسلم مجدد صدی چہارم امام بیہقیؒ نے روایت کیا ہے اس لیے اور زیادہ معتبر ہے۔

حدیث نمبر ٦

عن ابن عباسؓ (فی حدیث طویل) قال رسول الله ﷺ فعند ذالک ینزل اخی عیسیٰ بن مریم من السماء علی جبل افیق اماماً ھادیاً حكماً عادلاً

(کنز العمال ج ١٤ ص ٦١٩، حدیث نمبر ٣٩٧٢٦)

(١) اس حدیث میں سرور عالم ﷺ نے من السماء کا لفظ اضافہ کر کے مرزا قادیانی کا منہ بند کر دیا ہے۔ (٢) اس میں اخی (میرا بھائی) فرما کر عیسیٰ علیہ السلام جو پیغمبر ہیں وہی میرے بھائی ہیں (کوئی چراغ بی بی کا بیٹا حضور کا معنوی بھائی نہیں ہے)

اس حدیث کو مرزا غلام احمد قادیانی نے (حمامة البشریٰ ص ١٨، خزائن ج ٧ ص ١٩٧) میں نقل کیا مگر خیانت کر کے من السماء کا لفظ کھا گیا۔

حدیث نمبر ٧

عن عبدالله بن عمرؓ (فی حدیث طویل) قال قال رسول الله ﷺ فبعث الله عیسیٰ ابن مریم کانه عروة بن مسعود فیطلبه فیھلکہ.

(رواہ مسلم بحوالہ مشکوٰۃ باب لا تقوم الساعۃ ص ٤٨١)

١٤٣

صفحہ ٤٥٢

حضور سرور عالم ﷺ نے جیسے کہ مشکوٰۃ شریف (باب بدء الخلق) میں ہے معراج کے ذکر میں آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ملاقات کے ذکر میں فرمایا کہ: فاذا اقرب من رایت به شبیها عروة بن مسعود.

(مشکوٰۃ ص ٥٠٨، باب بدء الخلق)

”حضرت عیسیٰ کی مشابہت زیادہ تر عروہ بن مسعودؓ سے تھی۔“

اب آپ خود ہی فرمائیں جس عروہ بن مسعودؓ کے مشابہ ہستی کو آسمان میں دیکھا۔ حدیث نمبرے میں انہی کے نزول کا ذکر فرماتے اور پھر حضرت عروہ بن مسعودؓ سے تشبیہ دے کر ارشاد کرتے ہیں کہ یہ دجال کا پیچھا کر کے اس کو ہلاک کریں گے۔ اس حدیث میں آپ نے خر دماغ انسانوں کو بھی بتا دیا کہ نازل ہونے والے وہی عیسیٰ ابن مریم ہیں جو حضرت عروہ بن مسعودؓ کے مشابہ ہیں۔ جن کو آسمان میں دیکھا تھا۔

حدیث نمبر٨

عن نواس بن سمعان رضى الله عنه قال قال رسول الله ﷺ ...... فبينما هو كذالك اذبعث الله المسيح بن مريم فينزل عندالمنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهرودتين واضعاً كفيه على اجنحة ملكين اذا طأ طأ رأسه قطر واذا رفعه تحدرمنه جمان كاللؤلؤفلا يحل كافر يجد ريح نفسه الامات ونفسه ينتهى حيث ينتهى طرف فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله.

(مسلم ج ٢ ص ٤٠١)

مرزا نے اپنی کتاب (ازالۃ الاوہام حصہ اول ص٢٠٢ تا ٢٠٦، خزائن ج ٣ ص ١٩٩ تا ٢٠١) پر یہ حدیث نقل کی ہے۔ مسلم شریف کی اس حدیث نے بھی مرزا غلام احمد کی نیند حرام کر رکھی۔ کبھی کہتا ہے یہ خواب یا کشف تھا حالانکہ اس طویل حدیث کے الفاظ میں ہے ”ان يخرج وانا فيكم فانا حجيجه لكم“ اگر وہ خروج کرلے جبکہ میں تم میں ہوں تو میں اس سے جھگڑوں گا۔ کوئی بھی عقل مند اس کو خواب یا کشف نہیں کہہ سکتا۔ کبھی کہتا ہے امام بخاری نے اس کو ضعیف سمجھ کر روایت نہیں کیا۔ حالانکہ امام بخاری کا کسی حدیث کو نقل نہ کرنا ضعف کی دلیل نہیں ورنہ حدیث مجدد۔ کسوف وخسوف کی حدیث ”ان لمهدينا آیتین“ اور حدیث ابن ماجہ ”لا مهدی الا عیسیٰ“ بخاری میں نہیں ہیں جن پر مرزا نے اپنی مسیحیت کی بنیاد رکھی ہے۔ اس حدیث اور تمام احادیث نزول مسیح سے، مراد نزول من السماء ہے خود اسی حدیث

١٤٤

نواس بن سمعان کے بارہ میں ( حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے رنگ کا ہوگا۔“ (جادو وہ جو سر چڑ

حدیث نمبر٩

حضرت ابو ہریرةؓ والذي نفسي بـ اوليفنيهما. مجھے اس ذات کی قسم کے لیے لبیک کہیں گے یا عمرے ۔ اس حدیث میں بھی ظاہر پر ہی محمول کرنا ہوگا حضر- نہیں کرے گا) اور حج روحانیت مراد ہوگا۔

حدیث نمبر١٠

حضرت ربیعؓ سے رو اور جھگڑنے لگے۔ عیسیٰ ابن مریم الكذب والبهتان فقال وهو يشبهه اباه قالوا بـ عيسىٰ ياتنی علیه الصـ عیسائی رسول کریم ﷺ کی خدمـ بارہ میں جھگڑنے لگے کہنے لگے کـ خدا کا بیٹا ہے) آپؐ نے فرمایا ہوتی ہے آپؐ نے فرمایا پھر تمہار- یقیناً موت آئے گی تو انھوں نے بہت آسان تھا کہ آپ الوہیت کیسے خدا ہو سکتے ہیں۔ یہ بات ا

صفحہ ٤٥٣

نے جیسے کہ مشکوٰۃ شریف (باب بدء الخلق) میں ہے معراج عیسیٰ علیہ السلام کی ملاقات کے ذکر میں فرمایا کہ: رایت به شبها عروة بن مسعود.

(مشکوٰۃ ص ٥٠٨، باب بدء الخلق)

کی مشابہت زیادہ تر عروۃ بن مسعودؓ سے تھی۔“ ی فرمائیں جس عروۃ بن مسعودؓ کے مشابہ عیسیٰ کو آسمان میں دیکھا۔ نزول کا ذکر فرماتے اور پھر حضرت عروہ بن مسعودؓ سے تشبیہ دے کر کا پیچھا کر کے اس کو ہلاک کریں گے۔ اس حدیث میں آپ نے فر کہ نازل ہونے والے وہی عیسیٰ ابن مریم ہیں جو حضرت عروہ بن کو آسمان میں دیکھا تھا۔

بن سمعان رضى الله عنه قال قال رسول الله ﷺ ـ اذبعث الله المسيح بن مريم فينزل عند المنارة البيضاء مهرودتين واضعاً كفيه على اجنحة ملكين اذا طأ طأ رأسه ومنه جمان كاللؤلؤ فلا يحل كافر يجد ريح نفسه الا مات تهى طرف فيطلبه حتى يدركه بباب لدفيقتله.

(مسلم ج ٢ ص ٤٠١)

کتاب (ازالۃ الاوہام حصہ اول ص ٢٠٢ تا ٢٠٦ ، خزائن ج ٣ ص ١٩٩ تا ٢٠١) پر م شریف کی اس حدیث نے بھی مرزا غلام احمد کی نیند حرام کر رکھی۔ کبھی تھا حالانکہ اس طویل حدیث کے الفاظ میں ہے ”ان يــخــرج جيجة لكم“ اگر وہ خروج کر لے جبکہ میں تم میں ہوں تو میں اس سے س مند اس کو خواب یا کشف نہیں کہہ سکتا۔ کبھی کہتا ہے امام بخاری نے ت نہیں کیا۔ حالانکہ امام بخاری کا کسی حدیث کو نقل نہ کرنا ضعف کی دلیل کسوف وخسوف کی حدیث ”ان لمھدینا آیتین“ اور حدیث ابن ماجہ سی“ بخاری میں نہیں ہیں جن پر مرزا نے اپنی مسیحیت کی بنیاد رکھی ہے۔ دیث نزول مسیح سے، مراد نزول من السماء ہے خود اسی حدیث

١٤٤

نواس بن سمعان کے بارہ میں (ازالۃ الاوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤١) پر لکھا ہے۔ ”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“ (جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے)

حدیث نمبر ٩

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ والذی نفسی بیده لیهلن ابن مریم بفج الروحاء حاجاً او معتمراً او ليثنيهما.

(رواہ مسلم فی صحیحہ ج ١ ص ٤٠٨)

مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ ابن مریم فجّ روحاء میں حج کے لیے لبیک کہیں گے یا عمرے کے لیے یا دونوں کی نیت کر کے۔

۔ اس حدیث میں بھی سرور دو عالم ﷺ نے قسم کھائی ہے اس لیے تمام الفاظ حدیث کو ظاہر پر ہی محمول کرنا ہو گا حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود حج کریں گے (کوئی اور ان کی طرف سے نہیں کرے گا) اور فجّ روحاء سے مراد وہی روحاء کی گھاٹی ہو گی۔ نزول سے مراد نیچے اترنا ہی مراد ہوگا۔

حدیث نمبر ١٠

حضرت ربیعؒ سے روایت ہے۔ انھوں نے کہا کہ نصاریٰ حضور ﷺ کے پاس آئے اور جھگڑنے لگے۔ عیسیٰ ابن مریم کے بارہ میں وقالوا له من ابوه وقالوا على الله الكذب والبهتان فقال لهم النبى ﷺ الستم تعلمون انه لا يكون ولد الا وهو يشبهه اباه قالوا بلى قال الستم تعلمون ان ربنا حى لايموت وان عيسى ياتى عليه الفناء فقالوا بلى (درمنثور ج ٢ ص ٣) ربیعؒ کہتے ہیں کہ نجران کے عیسائی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں جھگڑنے لگے کہنے لگے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کون ہے۔ (مطلب یہ تھا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے) آپؐ نے فرمایا کہ بیٹے میں باپ کی مشابہت ہوتی ہے یا نہیں۔ انھوں نے کہا ہوتی ہے آپؐ نے فرمایا پھر تمھارا رب زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔ حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام پر یقیناً موت آئے گی تو انھوں نے کہا کیوں نہیں۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے تھے تو یہاں پر بہت آسان تھا کہ آپ الوہیت مسیح کے ابطال کے لیے فرما دیتے کہ عیسیٰ علیہ السلام تو مر گئے وہ کیسے خدا ہو سکتے ہیں۔ یہ بات ابطال الوہیت واہنیت پر زیادہ صاف دلیل ہو جاتی یا یوں ہی

١٤٥

صفحہ ٤٥٤

فرما دیتے کہ تمھارے خیال میں تو وہ مر گئے ہیں تو پھر خدا یا خدا کے بیٹے کس طرح ہو سکتے ہیں۔ پھر بھی بہترین دلیل تھی مگر ممکن تھا کہ کوئی مرزائی چودھویں صدی میں اپنی کورچشمی سے اسی سے موت مسیح ثابت کر دیتا سرور دو عالم ﷺ نے نہایت صفائی سے حق اور صرف حق فرمایا کہ خدا تعالیٰ حیّ ہیں جو کبھی نہیں مرتے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فنا آئے گی یعنی بجائے ماضی کے مستقبل کا صیغہ استعمال فرمایا۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام وفات پا گئے ہوتے تو یقیناً اس بحث میں یہی بہتر تھا کہ عیسیٰ ، قداتی علیه الفنا فرما دیتے۔

حدیث نمبر ١١

عن الحسن قال قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة (درمنثور ج ٢ ص ٣٦) یہ راوی حضرت حسن بصریؒ ہیں جو سرتاج اولیاء ہیں اور جو تابعی ہو کر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گویا یقیناً انھوں نے حدیث کسی صحابی سے حاصل فرمائی۔ یوں بھی مرسل حدیث کو جو کسی صحابی کے توسط کے بغیر حضور کی طرف منسوب ہو گئی۔ حضرت ملاعلی قاریؒ نے فرمایا کہ حجت ہے (شرح نخبہ) حضرت ملاعلی قاریؒ صدی دہم کے مسلمہ مجدد تھے۔ ان کا قول کون رد کر سکتا ہے۔ بہر حال اس حدیث نے تصریح کر دی کہ ”ان عیسیٰ لم یمت“ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں ہیں بلکہ وہ لوٹ کر دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ لفظ لم یمت بھی ہے اور راجع بھی۔

حدیث نمبر ١٢

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے ابن ماجہ اور مسند امام احمد میں روایت ہے کہ:

لما كان ليلة اسرى برسول الله ﷺ لقى ابراهيم عليه السلام وموسى عليه السلام وعيسى عليه السلام فتذاكروا الساعة فبدوا بابراهيم فسئلوه عنها فلم يكن عنده منها علم ثم سألوا موسى فلم يكن عنده فرد علم الحديث الى عيسى بن مريم فقال قد عهد الى فيما دون وجبتها فاما وجبتها فلا يعلمها الا الله فذكر خروج الدجال قال فانزل فاقتله ہ

(ابن ماجه باب فتنة الدجال وخروج عیسیٰ ابن مریم ص ٢٩٩)

”حضرت عبداللہ بن مسعود صحابی فرماتے ہیں کہ معراج کی رات رسول کریم ﷺ نے ملاقات کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے۔ پس انھوں نے قیامت کا ذکر چھیڑا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے متعلق سوال

١٤٦

صفحہ ٤٥٥

کیا۔ انھوں نے لاعلمی ظاہر کی۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی یہی جواب دیا۔ آخر الامر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میرے ساتھ قرب قیامت کا ایک وعدہ کیا گیا تھا۔ اس کا ٹھیک وقت سوائے خدا عزوجل کسی کو معلوم نہیں۔ پس انھوں نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ پھر میں اتروں گا اور دجال کو قتل کروں گا۔ (آخر تک)“

یہ حدیث امام احمد نے مرفوعاً بیان فرمائی ہے کہ یہ تمام الفاظ گویا خود حضور ﷺ کے ہیں۔ امام احمد صدی دوم کے مسلم مجدد ہیں اس لیے حدیث کی صحت میں بحث ہی نہیں ہو سکتی جیسے کہ اصول تفسیر میں لکھا جا چکا ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہو گیا کہ دجال ایک شخص کا نام ہے۔ پادریوں کے گروہ کا نام نہیں جیسے مرزا نے کہا ہے۔ اس حدیث سے بھی یہ ثابت ہو گیا کہ جو عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہیں وہی اتر کر دجال کو قتل کریں گے۔ قتل دجال نے بھی دلیل وغیرہ سے قتل کی نفی کر دی جیسے کہ مرزائی ہرزہ سرائی ہے کیا معراج کی رات میں مرزا قادیانی نے اپنے نزول کا ذکر کیا تھا۔ کیا یہی مرزا قادیانی اس آسمان سے اترے ہیں۔ کیا انھوں نے ہی دجال کو قتل کیا ہے۔

حدیث نمبر ١٣

عن جابرؓ قال قال رسول الله ﷺ ........ فينزل عيسىٰ ابن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة.

(مشكوة باب نزول عيسىٰ ص ٤٨٠)

مرزا غلام احمد قادیانی ”وامامكم منكم“ سے ثابت کرتے ہیں کہ نماز بھی یہی پڑھائیں گے۔ یہ امت محمدیہ میں سے ہوں گے۔ حالانکہ یہ قطعاً غلط ہے و امامكم منكم کا معنیٰ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کے بیان کے مطابق لیں تو یہ عطف بیان ہو گا جس کے لیے واؤ نہیں لائی جاتی جو یہاں موجود ہے۔

یہ تو عربی قواعد کو ذبح کرنے کے مترادف ہے۔ حدیث مذکور نے صاف کر دیا ہے کہ امیر قوم (یعنی مہدی علیہ السلام) کہیں گے آؤ آگے ہو کر نماز پڑھاؤ وہ انکار کرتے ہوئے فرمائیں گے کہ اللہ نے اس امت کے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ اب مرزائی اگر ایمان چاہتے ہیں تو ان کو مرزا کے معنوں کی بجائے سرور دو عالم ﷺ کے بیان کردہ معنوں کو قبول کر لینا چاہیے۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا ارشاد اور حضرت حسن بصریؒ کی قسم

(فتح الباری ج ٦ ص ٤٩٣) میں ہے کہ امام ابن جریر نے اسناد صحیح کے

١٤٧

صفحہ ٤٥٦

ساتھ سعید بن جبیر سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے اسی طرح جزم فرمایا ہے کہ لیؤمنن به قبل موتہ میں دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے ایمان لے آئیں گے اور اسی کتاب میں اسی صفحہ پر حضرت حسن بصری سے جو اولیاء کے سرتاج ہیں نقل کیا ہے کہ انھوں نے بھی قبل موتہ کا معنی قبل موت عیسیٰ ”واللہ انہ الآن لحی ولكن اذا نزل آمنوا بہ اجمعون.“ کیا پھر قسم کھائی اور کہا خدا کی قسم کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام اس وقت زندہ موجود ہیں۔ جب نازل ہوں گے وہ سب ان پر ایمان لے آئیں گے۔

یہاں تک آپ کو احادیث سے تفسیر کا علم ہوا جس کا انکار ایک صحابی نے بھی نہیں کیا۔

نزول مسیح ابن مریم کی نشانیاں

پیغمبر اعظم علیہ الصلوٰۃ والسلام بے ضرورت بات نہیں فرماتے تھے، جو بات فرماتے تو وہ مختصر مگر جامع اور تمام امور کو صاف کرنے والی ہوتی تھی۔

حضرت عیسیٰ ابن مریم کے نزول کے سلسلے میں آپ ﷺ نے نشانات کا اتنا اہتمام فرمایا کہ اس سے بڑھ کر محال ہے تا کہ کوئی نادان مسیحیت کا جھوٹا دعویٰ کر کے امت کو گمراہ نہ کرے۔ آپ نے ارشاد فرمایا۔

فرع ہے۔ جب نزول تواتر سے ثابت ہو گیا تو صعود و عروج خود ہی ثابت ہو گیا )

استعمال فرمایا راجع الیکم کہ وہ تمھارے پاس دوبارہ آئیں گے۔

ہوں گے۔

گے، اور زمین کی طرف وہی آتا ہے جو پہلے زمین میں نہ ہو۔

١٤٨

ہوگا جو بن باپ پیدا ہوا اور قرآ

الدنیا والآخرہ تھے۔ ع تھے۔ بنی اسرائیل نے پھر بھی مسلمان ہو جائیں گے۔ ساری ہو جائیں گی جو پہلے نہ ہوئی تھیں

ہجرت ساری زمین سے تھی۔ ا قائم فرمائیں گے۔

گے تا کہ اس کو قتل کر دیا جائے۔

گا۔

ہوگی۔

صفحہ ٤٥٧

ہوگا جو بن باپ پیدا ہوا اور قرآن نے ان کو ماں ہی کے نام سے پکارا۔

الدنیا والآخرہ تھے۔ نفخ جبرائیل سے پیدا ہوئے تھے۔ ان کو زبردست معجزات دیئے گئے تھے۔ بنی اسرائیل نے پھر بھی نہ مانا تو وہ آکر بنی دجال کو قتل کریں گے اور تمام اہل کتاب مسلمان ہو جائیں گے۔ ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا اور ان کے شایان شان تمام باتیں ہو جائیں گی جو پہلے نہ ہوئی تھیں۔

ہجرت ساری زمین سے تھی۔ اس لیے وہ واپس زمین میں آکر ساری زمین میں عادلانہ نظام قائم فرمائیں گے۔

گے تاکہ اس کو قتل کر دیا جائے۔

گا۔

ہوگی۔

١٤٩

صفحہ ٤٥٨

ندہ ہیں گے۔ دوسرے مال کی سخت بہتات ہوگی۔

ہوئی تھیں اور انھوں نے کہا تھا کہ اتر کر دجال کو قتل کروں گا۔

والسلام) پر عمل کریں گے اور کرائیں گے۔

حضورؐ کے درمیان کوئی پیغمبر نہ تھا۔

نام کی طرح ہوگا۔

کافر۔

پتہ لگے گا۔

١٥٠

صفحہ ٢٥٩

فت بہتات ہو گی۔ ں کو دیں گے۔ یہاں تک کہ کوئی قبول کرنے والا نہ ہوگا۔ ساری دنیا سے زیادہ بہتر ہوگا۔ وہی عیسیٰ علیہ السلام ہوگا جن سے آسمان میں قیامت کی باتیں ل اتر کر دجال کو قتل کروں گا۔ گے مگر ابھی تک ان پر فنا نہیں آئی۔ میں زندہ رہیں گے۔

یک کہیں گے۔ ی اب شادی کریں گے۔ وقت کے رسول تھے اور اب شریعت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوٰۃ مائیں گے۔ ہوگی مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔ روضہ مبارک میں دفن ہوں گے۔ گے ایک حربہ (ہتھیار) لے کر دجال کو قتل کریں گے۔ اتنا عدل ہو گا کہ شیر اور بکرا ایک گھاٹ سے پانی پئیں گے۔ لام ہوں گے جو حضورؐ سے چند صدیاں پہلے تھے اور ان کے اور تھا۔ کا نام روح اللہ بھی تھا۔ امع ہوں گے جو نماز پڑھائیں گے۔ وہ مہدی ہوں گے۔ ں گے۔ نام کے مطابق ہوگا۔ اور ان کے والد کا نام حضورؐ کے والد کے

کریں گے وہ کانا ہوگا۔ اس کے ماتھے پر ک ف ر لکھا ہو گا یعنی

کے عجائبات دکھائے گا۔ جس سے لوگوں کو کفر اور ایمانی پختگی کا

١٥٠

پہرے ہوں گے ان دو شہروں میں داخل نہ ہو سکے گا۔

آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے لیے بددعا فرمائیں گے اور لڑ بھڑ کر مرجائیں گے۔

طرف حضورؐ نے کیف انتم سے اشارہ فرمایا ہے۔

نفرت دلانے کے لیے ایسا کیا جائے گا۔ آج کل بھی یہ فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں تو لوگ جمع ہو کر ان کے قتل کا انتظام کرتے ہیں۔

السلام مسلمانوں کو لے کر پہاڑ پر چڑھیں گے۔ پھر دعا فرمائیں گے۔ بارش ہوگی وہ بدبو دور کر دی جائے گی (او کما قال)

کیا سرور عالم ﷺ جیسی ہستی نے کسی اور بات کے لیے بھی اتنا اہتمام فرمایا ہے۔ اس سے مقصد یہ ہے کہ کوئی اور دجال مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہ کر بیٹھے۔

١٥١

صفحہ ٤٦٠

اب اگر ایک احمق کہے کہ عیسیٰ سے مراد غلام احمد ہے۔۔۔۔۔ مریم سے مراد چراغ بی بی ہے۔ دمشق سے مراد قادیان ہے۔۔۔۔۔ باب لد سے مراد لدھیانہ ہے۔ قتل سے مراد مباحثہ میں غالب آنا ہے۔۔۔۔۔ مسیح سے مراد مثیل مسیح ہے۔ زرد چادروں سے مراد میری دو بیماریاں ہیں۔۔۔۔۔ دجال سے مراد پادری ہیں۔ خر دجال سے مراد ریل ہے۔ جس پر وہ خود بھی سوار ہوا ہے۔

مہدی سے مراد بھی غلام احمد ہے۔

حارث سے مراد بھی غلام احمد ہے۔

رجل فارس سے مراد بھی غلام احمد ہے

منارۃ سے مراد قادیان کا منارہ ہے جو بعد میں مرزا غلام احمد قادیانی نے بنایا: نزول سے مراد سفر کر کے کہیں اترنا ہے۔۔۔۔۔ آسمان سے مراد آسمانی نشانیاں ہیں۔۔۔۔۔ عیسیٰ بن مریم سے مراد غلام احمد قادیانی ہے۔۔۔۔۔ غلام احمد عیسیٰ علیہ السلام سے متحد ہے۔۔۔۔۔ غلام احمد عین محمد ہے۔۔۔۔۔ غلام احمد آنے والا کرشن اوتار ہے۔۔۔۔۔ غلام احمد حضور ہی کی بعثت ثانیہ ہے۔

غلام احمد کے زمانہ میں وہ عالم گیر غلبہ اسلام ہوا۔ جو حضور کے زمانہ میں نہ ہو سکا۔

نماز میں جو دعا مانگی گئی ہے (غیر المغضوب علیہم) اس میں مرزا قادیانی کو دکھ دینے والوں سے علیحدگی کی دعا ہے۔

میری وحی قرآن کے برابر ہے۔۔۔۔۔ مجھ میں تمام پیغمبروں کے کمالات جمع ہیں۔

میں حضرت حسینؓ سے قطعی افضل ہوں۔ وہ کیا ہیں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہوں۔ ان کا بروز اور مثیل ہو کر بھی ان سے آگے نکل گیا ہوں۔

بلکہ تمام انبیاء سے میرے معجزے زیادہ ہیں اور میں معرفت میں کسی پیغمبر سے کم نہیں ہوں۔ پھر وہ اپنے بیٹے کو کہے یہ گویا خدا آسمان سے اتر آیا۔ اور وہ بیٹا کہنے لگے۔ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ سے بڑھ سکتا ہے۔

اور اس کے چیلے اکمل کے اشعار ذیل کے مطابق حضور سے افضل ہے (معاذ اللہ)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

پھر ان شعروں کو مرزا غلام احمد قادیانی سن کر تحسین کریں اور جزاک اللہ کہیں۔

اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ شخص اور اس کو مسلمان جاننے والے کیسے مسلمان رہ سکتے ہیں۔

١٥٢

صفحہ ٤٦١

متفرقات

خودکاشتہ پودا

مرزائی نمائندہ (امام جماعت مرزائیہ) مرزا ناصر احمد نے خودکاشتہ پودے کے بارہ میں کہا کہ خاندان کو کہا گیا ہے۔ مگر اٹارنی جنرل صاحب نے ممبروں کی لکھی ہوئی فہرست بتائی جو مرزا غلام احمد قادیانی نے وہیں لکھی ہے گویا مرزا غلام احمد قادیانی اس فرقہ کو خودکاشتہ پودا کہہ رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں چلو مرزا غلام احمد قادیانی کا خاندان ہی انگریز کا خودکاشتہ پودا ہوا تو مرزا غلام احمد قادیانی اسی انگریزی پودے کی شاخ ہوئے۔ اگر وہ پودا پلید ہے تو پودے کی شاخیں کس طرح پاک ہوسکتی ہیں۔

اتمام حجت

مرزا ناصر احمد نے عام مسلمانوں کو بڑا کافر کہنے سے گریز کر کے چھوٹا کافر قرار دیا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ ان پر اتمام حجت نہیں ہوئی۔ کیونکہ مرزا ناصر احمد کے ہاں اتمام حجت کے لیے ضروری ہے کہ دوسرے کا دل یہ مان جائے کہ بات تو سچی ہے پھر انکار کرے۔ تو دنیا کے ستر کروڑ مسلمان تو مرزا غلام احمد قادیانی کو کاذب مفتری سمجھتے ہیں۔ ان پر ان کے ہاں اتمام حجت نہیں ہوئی۔ اس لیے یہ امت اسلامیہ سے خارج یعنی بڑے کافر نہیں ہیں۔ لیکن خود کاشتہ پودا تھے بڑی احتیاط سیکھی تھی۔ پہلے لکھ دیا کہ میں مثیل مسیح موعود ہوں۔

(مجموعہ اشتہارات ص ٢٠٧)

کم فہم لوگ مجھے مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں پھر بعد میں بڑے زور شور سے خود ہی مسیح موعود بن گئے (ازالہ اوہام ص ٣٩ خزائن ج ٣ ص ١٩٢)۔ اور جب دیکھا کہ علماء کرام کے سامنے دال نہیں گلتی تو فنا فی الرسول کی آڑ لی اور عین محمد ہونے کا دعویٰ کر ڈالا۔

(خطبہ الہامیہ ص ٢٧١ خزائن ج ١٦ ص ایضا)

زبردست اور لاجواب چیلنج

ہم تمام امت مرزائیہ کو چیلنج کرتے ہیں کہ تیرہ سو سال کے کسی مجدد محدث صحابی اور ولی کے کلام سے یہ ثابت کرو کہ عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں۔ مسیح ابن مریم یا عیسیٰ ابن مریم سے مراد کوئی ان کا مثیل مراد ہے۔ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں آئیں گے۔ یا ان سے مراد غلام احمد بن چراغ بی بی ہے۔ اگر تم سچے ہو تو تیرہ سو سال کے کسی محدث یا مجدد کا قول پیش کرو۔

١٥٣

صفحہ ٤٦٢

دوسرا چیلنج

تیرہ سو سال کے اندر کسی زمانہ کے بارہ میں یہ ثابت کرو کہ کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہو۔ اور مسلمانوں نے اس کو طاقت ہوتے ہوئے برداشت کیا ہو۔ یا کسی نے کسی مدعی نبوت سے یہ دریافت کیا ہو کہ تمھارا دعویٰ تشریعی نبوت کا ہے یا غیر تشریعی کا بروزی اور ظلی کا یا مستقل کا۔ تو اس طرح آپ ڈبل کافر ہو جاتے ہیں۔

ایک اور ڈھونگ

مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزائیوں نے دنیا بھر میں یہ ڈھونگ رچایا ہے کہ نبوت بند ہوگئی یا نبی آ سکتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کے ہاں نہ مرزا قادیانی سے پہلے کوئی نبی آیا نہ بعد میں قیامت تک آئے گا۔ تو یہ ساری بحث صرف امت کو الجھانے کے لیے ہے۔ بات یہ کرو کہ مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام بن سکتے ہیں یا آنے والا وہی ہے جس کو تیرہ سو سال کے تمام محدثین صحابہ کرام اور مجددین نے مسیح ابن مریم قرار دیا ہے کہ وہی آئیں گے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی پریشانی

اس سلسلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی پریشانی کا یہ عالم ہے کہ مسیح کے آنے کی پیش گوئی کو مشہور و معروف اور متواتر بھی قرار دیا اور (ازالۃ الاوہام ص ٥٥٧ خزائن ج ٣ ص ٤٠٠) پر صاف لکھ دیا ”یہ اول درجہ کی پیش گوئی ہے۔ اس کو تواتر کا اول درجہ حاصل ہے۔“ مگر یہ لکھ مارا کہ ”خدا نے قرآن کے معنی لوگوں سے چھپا دئیے۔“ (آئینہ کمالات ص ٣٢٦ خزائن ج ٥ ص ٣٢٦) حتیٰ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مامور و مجدد بنا کر ان پر دس سال تک نہ کھولے۔ اور یہ بھی لکھ مارا کہ حیات مسیح کا عقیدہ شرک عظیم ہے۔ اور بچنے کے لیے پرانے اولیاء صلحاء اور صحابہ کو معذور قرار دے دیا کہ ان سے اجتہادی غلطی ہوئی۔ پھر کبھی یہ کہا کہ پہلا اجماع وفات مسیح پر ہوا تو پھر مسئلہ مسلمانوں سے کیسے چھپا رہا۔ کبھی شرک عظیم کہہ کر خود بھی مشرک بنے رہے۔ اور کبھی اپنی ضرورت کے لیے تیرہ سو سال بعد قرآن دانی کا دعویٰ کر کے خود مسیح ابن مریم بن بیٹھے۔ بھلا جو چیز شرک عظیم ہے جس کے ماننے سے آدمی مشرک اعظم بنتا ہے۔ خدا ایسے قرآنی مسئلے کو لوگوں سے چھپا سکتا ہے۔ پھر قرآن کے نزول کا فائدہ کیا ہوا۔

تیسرا چیلنج

کیا یہ ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن کے بعض معانی قرون اولیٰ سے چھپا دیں اور

صفحہ ٤٦٣

اور کسی زمانہ کے بارہ میں یہ ثابت کرو کہ کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا طاقت ہوتے ہوئے برداشت کیا ہو۔ یا کسی نے کسی مدعی نبوت کادعویٰ تشریعی نبوت کا ہے یا غیر تشریعی کا بروزی اور ظلی کا یا مستقل کافر ہو جاتے ہیں۔

قادیانی اور مرزائیوں نے دنیا بھر میں یہ ڈھونگ رچایا ہے کہ نبوت بند مگر خود ان کے ہاں نہ مرزا قادیانی سے پہلے کوئی نبی آیا نہ بعد میں ری بحث صرف امت کو الجھانے کے لیے ہے۔ بات یہ کرو کہ مرزا سکتے ہیں یا آنے والا وحی ہے جس کو تیرہ سو سال کے تمام محدثین ح ابن مریم قرار دیا ہے کہ وحی آئیں گے۔

پریشانی

رزا غلام احمد قادیانی کی پریشانی کا یہ عالم ہے کہ مسیح کے آنے کی پیش تواتر بھی قرار دیا اور (ازالۃ الاوہام ص ٥٥٧ خزائن ج ٣ ص ٤٠٠) پر پیش گوئی ہے۔ اس کو تواتر کا اول درجہ حاصل ہے ۔ “مگر یہ لکھ مارا لوگوں سے چھپادیئے۔“ (آئینہ کمالات ص ٣٢٦ خزائن ج ٥ ص ٣٢٦) کو مامور و مجدد بنا کر ان پر دس سال تک نہ کھولے۔ اور یہ بھی لکھ مارا عظیم ہے۔ اور بچنے کے لیے پرانے اولیاء صلحاء اور صحابہ کو معذور بتادی غلطی ہوئی۔ پھر بھی یہ کہا کہ پہلا اجماع وفات مسیح پر ہوا تو پھر ہا رہا۔ کبھی شرک عظیم کہہ کر خود بھی مشرک بنے رہے۔ اور کبھی اپنی ں بعد قرآن دانی کا دعویٰ کر کے خود مسیح ابن مریم بن بیٹھے۔ بھلا جو ننے سے آدمی مشرک اعظم بنتا ہے۔ خدا ایسے قرآنی مسئلے کو لوگوں ا کے نزول کا فائدہ کیا ہوا۔

کہ خدا تعالیٰ قرآن کے بعض معانی قرون اولیٰ سے چھپادیں اور

١٥٤

صدیوں کے مجددین اولیاء کرام اور علماء کرام مشرکانہ معنی پر جمے رہیں۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی مجدد و مامور ہو کر بھی دس سال تک عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانتے رہے۔ اور کیا شرک عظیم کو اجتہاد کی وجہ سے برداشت کیا جاسکتا ہے۔ کیا خود قرآن پاک نے انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون نہیں فرمایا کہ ہم ہی نے قرآن (ذکر) اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے...... کیا حفاظت کا یہ مطلب ہے کہ اس کے معانی کو صدیوں تک بہترین حضرات کی آنکھوں سے خود خدا اوجھل کردے۔ حالانکہ خود مرزا نے بھی کہا کہ قرآن پاک ذکر ہے اور ذکر قیامت تک رہے۔ اس کا مفہوم دلوں میں رہے گا۔ اس کے مقاصد و مطالب کی حفاظت اصل کام ہے۔

(شہادۃ القرآن ص ٥٥۔٥٤ خزائن ج ٦ ص ٣٥١)

چوتھا چیلنج

کیا کسی نبی نے کافر حکومت کی اتنی خوشامد کی ہے اور اتنی دعائیں دی ہیں اور اتنی خدمت کی ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریزی حکومت کی کی ہے۔

پانچواں چیلنج

اگر کوئی ایسا نبی آنا تھا جس کا انکار کر کے ساری امت کافر ہو جاتی تو کیا سرور عالم ﷺ نے جہاں اور خبریں مستقبل کی دیں وہاں یہ ضروری نہ تھا کہ ستر کروڑ آدمیوں کی امت کو کفر سے بچانے کے لیے کچھ فرما دیتے۔ کیا لا نبی بعدی فرما کر اور عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا ذکر کر کے اور مریم کے بیٹے کے نازل ہونے اور دوبارہ آنے کی متواتر خبریں دے کر خود آپ نے امت کے لیے سامان کفر (العیاذ باللہ) تجویز نہیں کیا۔

مرزا ناصر احمد نے اتمام حجت کے ساتھ دل سے صحیح مان لینے کی دم لگا کر ایجاد بندہ کا کام کیا ہے۔ خود مرزا کا قول ہے۔ ”اور خدا نے اپنی حجت پوری کردی ہے اب چاہے کوئی قبول کرے چاہے نہ کرے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)

دیکھیے اس عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اتمام حجت کے ساتھ دل سے سچا سمجھ کر انکار کرنے کی دم نہیں لگائی۔

اس سے ظاہر ہے کہ اگلا مانے یا نہ مانے سمجھے یا نہ سمجھے جب اس کی سامنے دلیل سے بات ہوگئی۔ دعوت حق پہنچ گئی اب اس پر اتمام حجت ہو گیا چاہے مانے یا نہ مانے۔

١٥٥

صفحہ ٤٦٤

اگر اس طرح نہ کیا جائے تو دنیا کے زیادہ تر کافر جو حضورﷺ کو نبی نہیں سمجھتے ان کے انکار سے وہ کیوں بڑے کافر ہوئے۔

مرزا غلام احمد نے کہا ہے کہ مرزا قادیانی کے انکار سے خدا آخرت میں سزا دے گا۔ دنیا میں یہ مسلمانوں ہی میں شمار ہیں اور ان سے ملکی و سیاسی سلوک مسلمانوں کی طرح ہوگا۔ اس طرح وہ اپنی تکفیر پر پردہ ڈالتے ہیں۔ مگر ان کو معلوم ہو کہ دل کی بات خدا جانتا ہے۔ یہاں قاضی اور عدالت بھی ظاہر پر فیصلہ کریں گے۔ اگر مرزا نبی ہے تو اس کا انکار کفر ہے پھر کوئی آدمی جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ مانے مسلمان نہیں رہ سکتا۔ اور اگر نبوت ختم ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے سب قطعی کافر ہیں۔

دوسری طرح سنیے قرآن پاک میں ہے۔ ”وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا“ ”کہ ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں دیتے۔“

یہاں صرف رسول کے بھیجنے کا ذکر ہے۔ اس کو دل سے سچا سمجھ کر انکار کا ذکر نہیں ہے اور رسول بھیجنے کے بعد منکر رسول کو صرف عذاب اخروی نہیں دیا جاتا بلکہ وہ مسلمان بھی نہیں سمجھا جاتا۔ پھر قرآن نے صرف یہ بتایا ہے کہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ ”ماجاء نامن نذیر“ کہ ہمارے پاس کوئی نذیر نہیں آیا۔ اس میں سمجھنے نہ سمجھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ یہ صرف ایجاد مرزا ہے۔ ہاں بعض کافر ایسے بھی ہیں جو دل سے سچا سمجھنے کے باوجود انکار کرتے ہیں مگر بعض دوسرے بھی ہیں۔

تکفیر کو چھپانے کا نیا ڈھونگ

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین نے عام مسلمانوں کو کافر کہا لیکن اپنی اس تکفیر کو عجیب طریقہ سے چھپالیا۔ کہ چونکہ دوسروں نے مجھے کافر کہا اور مسلمان کو کافر کہنے سے وہ خود ہی کافر ہو گئے۔ یا انہوں نے قرآن وحدیث کے بیان کردہ مسیح موعود کا انکار کیا۔ اس لیے وہ خود ہی کافر ہو گئے۔

واہ جی مرزا واہ! آپ اگر خدا بن بیٹھیں تو آپ کو لوگ گلے لگائیں گے یا کافر مطلق کہیں گے۔ پھر آپ کہیں گے کیا کروں یہ لوگ مجھے کافر کہنے کی وجہ سے خود کافر ہو گئے۔ آپ نبی بنیں پیغمبروں کی توہین کریں مسلمان مجبوراً آپ کو کافر کہیں گے۔ پس آپ کے لیے یہ بہانہ کافی ہے کہ یہ لوگ مجھے کافر کہنے سے کافر ہو گئے۔

سچ پوچھیں تو آپ ڈبل کافر ہو جاتے ہیں۔ ایک غلط دعوؤں کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں کو اپنی منطق کے لحاظ سے کافر بن جانے کا سبب بننے سے......

١٥٦

(٢٦)...... وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ أَبِي سَـ

صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَـ

عِتْرَتِيْ فَيَمْلِكُ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا فَـ

وَ ظُلْمًا (١)

(٢٦)...... حضرت ابو سعید خدری رضی

(آخری زمانہ میں) زمین جور و ظلم سے

سات سال یا نو سال خلافت کرے گا

سے بھر دے گا جس طرح سے پہلے وہ

قَالَ أَبُوْ عَبْدِ اللَّهِ هَذَا حَدِيْثٌ

وَأَخْرَجَهُ الذَّهَبِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِيْ

قَالَ الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَبُو الْعَبَّاسِ

فِيْ مَجْمَعِ الزَّوَائِدِ (٣).

(١) المستدرک ج٤، ص ٥٥٨ .

(٢) و سکت عنه الذهبي مكتفياً بكلا

قبل هذا الموضع بصفحة في ج٤، ص

(٣) هو العلامة الإمام الحافظ نور الدين

المصري القاهري ولد سنة ٧٣٥ هـ و

الحديث منها مجمع الزوائد ومنبع الفو

كتب الحديث بل لم يوجد مثله كتاب

في الذيل على معجم الزوائد، لكنه لـ

تقريب البغية في ترتيب أحاديث الحليـ

و مجمع البحرين في زوائد المعجمين

(مخطوطة) وزوائد ابن ماجة على الكتـ

حبان و غاية المقصد في زوائد احمد،

في زوائد المعجم الكبير، وبغية الباحث

صفحہ ٦٥

(٢٦)....... وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ نِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُمْلَأُ الْأَرْضُ جَوْرًا وَ ظُلْمًا فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِّنْ عِتْرَتِي فَيَمْلِكُ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا وَقِسْطًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا (١)

(٢٦)...... حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آخری زمانہ میں) زمین جور وظلم سے بھر جائے گی تو میری اولاد سے ایک شخص پیدا ہوگا اور سات سال یا نو سال خلافت کرے گا (اور اپنے زمانہ خلافت میں) زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح سے پہلے وہ جور و ظلم سے بھر گئی ہوگی۔

قَالَ اَبُوْ عَبْدِ اللَّهِ هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهِ وَأَخْرَجَهُ الذَّهَبِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي تَلْخِيْصِهِ ثُمَّ سَكَتَ عَلَيْهِ (٢).

قَالَ الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَبُو الْعَبَّاسِ الْعَلَّامَةُ نُوْرُ الدِّيْنِ الْهَيْثَمِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي مُجْمَعِ الزَّوَائِدِ (٣).

قبل هذا الموضع بصفحة في ج ٤، ص ٥٥٧ ونقله الشيخ أيضاً تحت رقم ٢٢ والله أعلم

المصرى القاهرى ولد سنة ٧٣٥ هـ وتوفى سنة ٨٠٧ هـ له كتب و تخاريج في الحديث منها مجمع الزوائد ومنبع الفوائد طبع في عشرة أجزاء قال الكتاني و هو من أنفع كتب الحديث بل لم يوجد مثله كتاب ولا صنف نظيره فى هذا الباب وللسيوطى بغية الرائد في الذيل على معجم الزوائد، لكنه لم يتم و ترتيب الثقات لابن حبان ،(مخطوطة) و تقريب البغية في ترتيب أحاديث الحلية (مخطوطة) ومجمع البحرين فى زوائد المعجمين والمقصد العلى فى زوائد أبي يعلى الموصلی (مخطوطة) وزوائد ابن ماجة على الكتب الخمسة (مخطوطة) وموارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان و غاية المقصد فى زوائد احمد، والبحر الزخار فى زوائد مسند البزار، والبدر المنير في زوائد المعجم الكبير، وبغية الباحث عن زوائد مسند الحارث، الأعلام للزركلي ج

صفحہ ٦٦

(٢٧)...... عَنْ أَبِي سَعِيدِنِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبْشِرُكُمْ بِالْمَهْدِيِّ يُبْعَثُ فِي أُمَّتِي عَلَى اخْتِلَافٍ مِّنَ النَّاسِ وَزَلْزَالٍ فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ يَقْسِمُ الْمَالَ صِحَاحًا. قَالَ لَهُ رَجُلٌ مَّا صِحَاحًا؟ قَالَ بِالسَّوِيَّةِ بَيْنَ النَّاسِ وَيَمْلَأُ اللهُ قُلُوبَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِنًى وَ يَسَعُهُمْ عَدْلُه حَتَّى يَأْمُرَ مُنَادِيًا فَيُنَادِي فَيَقُولُ : مَنْ لَّه فِي الْمَالِ حَاجَةٌ ؟ فَمَا يَقُومُ مِنَ النَّاسِ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ فَيَقُولُ : أَنَا فَيَقُولُ لَه ائْتِ السَّدَانَ يَعْنِي الْخَازِنَ فَقُلْ لَه إِنَّ الْمَهْدِيَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي مَالًا فَيَقُولُ لَه احْتُ فَيَحْتِي حَتَّى إِذَا جَعَلَه فِي حِجْرِهِ وَاتَّزَرَهُ نَدِمَ فَيَقُولُ كُنْتُ أَجْشَعَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسًا أَوْ عَجَزَ عَنِّي مَا وَسِعَهُمْ؟ قَالَ فَيَرُدُّهُ فَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ فَيُقَالُ لَه : إِنَّا لَا نَأْخُذُ شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ فَيَكُونُ كَذَالِكَ سَبْعَ سِنِيْنَ أَوْ ثَمَانَ سِنِيْنَ أَوْ تِسْعَ سِنِيْنَ ثُمَّ لَا خَيْرَ فِى الْعَيْشِ بَعْدَهُ أَوْ قَالَ ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْحَيَاةِ بَعْدَهُ.

(٢٧)۔۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! میں تمھیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو میری امت میں اختلاف واضطراب کے زمانہ میں بھیجا جائے گا تو وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ (اس سے پہلے ) ظلم وجور سے بھری ہوگی۔ زمین اور آسمان والے اس سے خوش ہوں گے۔ وہ لوگوں کو مال یکساں طور پر دے گا (یعنی اپنے داد و دہش میں وہ کسی کا امتیاز نہیں برتے گا ) اللہ تعالیٰ (اس کے دورِ خلافت میں ) میری امت کے دلوں کو استغناء و بے نیازی سے بھر دے گا۔ (اور بغیر امتیاز و ترجیح کے ) اس کا انصاف سب کو عام ہوگا وہ اپنے منادی کو حکم دے گا کہ عام اعلان کر دے کہ جسے مال کی حاجت ہو (وہ مہدی کے پاس آجائے اس اعلان پر)

مسلمانوں کی جماعت میں سے بجز ا کہے گا! خازن کے پاس جاؤ اور اس ۔ (یہ شخص خازن کے پاس پہنچے گا ) تو خا (حسب خواہش ) دامن میں بھر لے گا پر ) ندامت ہوگی اور (اپنے دل میں سب سے بڑھ کر لالچی اور حریص میں ہے جو دوسروں کے واسطے کافی ووافی ۔ اس سے یہ مال قبول نہیں کیا جائے گا اور لیتے ۔ مہدی عدل و انصاف اور داد ود وفات کے بعد زندگی میں کوئی خوبی نہیں

قُلْتُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ بِاخْتِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ ( (٢٨)...... وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَكُونُ اخْتِلَا هَاشِمٍ فَيَأْتِي مَكَّةَ فَيَسْتَخْرِجُهُ ا وَالْمَقَامِ فَيَتَجَهَّزُ إِلَيْهِ جَيْشُ مِّن فَيَأْتِيهِ عَصَائِبُ الْعِرَاقِ وَأَبْدَالُ الـ فَيُجَهَّزُ إِلَيْهِ جَيْشٌ فَيَهْزِمُهُمُ الله

(١) مجمع الزوائد ج ٧، ص ٣١٣.

صفحہ ٦٧

مسلمانوں کی جماعت میں سے بجز ایک شخص کے کوئی بھی نہیں کھڑا ہوگا ۔ مہدی اس سے کہے گا! خازن کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ مہدی نے مجھے مال دینے کا تمھیں حکم دیا ہے (یہ شخص خازن کے پاس پہنچے گا ) تو خازن اس سے کہے گا اپنے دامن میں بھر لے چنانچہ وہ (حسب خواہش ) دامن میں بھر لے گا اور خزانے سے باہر لائے گا تو اسے (اپنے اس عمل پر ) ندامت ہوگی اور (اپنے دل میں کہے گا کیا ) امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام میں سب سے بڑھ کر لالچی اور حریص میں ہی ہوں یا یوں کہے گا ، میرے ہی لیے وہ چیز ناکافی ہے جو دوسروں کے واسطے کافی ووافی ہے۔ (اس ندامت پر ) وہ مال واپس کرنا چاہے گا، مگر اس سے یہ مال قبول نہیں کیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ ہم دے دینے کے بعد واپس نہیں لیتے۔ مہدی عدل وانصاف اور داد و دہش کے ساتھ آٹھ یا نو سال زندہ رہے گا۔ اس کی وفات کے بعد زندگی میں کوئی خوبی نہیں ہوگی ۔

قُلْتُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيْدِهِ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ (١)

(٢٨)...... وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيْفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِّنْ بَنِى هَاشِمٍ فَيَأْتِي مَكَّةَ فَيَسْتَخْرِجُهُ النَّاسُ مِنْ بَيْتِهِ وَهُوَ كَارِهٌ فَيُبَايِعُوْهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ فَيُتَجَهَّزُ إِلَيْهِ جَيْشٌ مِّنَ الشَّامِ حَتَّىٰ إِذَا كَانُوْا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ فَيَأْتِيْهِ عَصَائِبُ الْعِرَاقِ وَأَبْدَالُ الشَّامِ وَيَنْشَأُ رَجُلٌ بِالشَّامِ وَأَخْوَالُهُ مِنْ كَلْبٍ فَيُجَهِّزُ إِلَيْهِ جَيْشٍ فَيَهْزِمُهُمُ اللَّهُ فَتَكُونُ الدَّائِرَةُ عَلَيْهِمْ فَذَالِكَ يَوْمُ كَلْبٍ

(١) مجمع الزوائد ج ٧، ص ٣١٣.

صفحہ ٦٨

الْخَائِبُ مَنْ خَابَ مِنْ غَنِيْمَةِ كَلْبٍ فَيَفْتَحُ الْكُنُوْزُ وَيُقْسِمُ الْاَمْوَالَ وَيُلْقِى الْاِسْلَامُ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ فَيَعِيْشُوْنَ بِذَالِكَ سَبْعَ سِنِيْنَ اَوْ قَالَ تِسْعَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُه رِجَالُ الصَّحِيحِ (١)

(٢٨)...... حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ خلیفہ کی وفات پر اختلاف ہوگا۔ (یعنی اس کی جگہ دوسرے خلیفہ کے انتخاب پر، یہ صورت حال دیکھ کر) خاندان بنی ہاشم کا ایک شخص (اس خیال سے کہیں لوگ میرے اوپر بار خلافت نہ ڈال دیں) مدینہ سے مکہ چلا جائے گا۔ (کچھ لوگ اسے پہچان کر کہ یہی مہدی ہیں) اسے گھر سے نکال کر باہر لائیں گے اور حجر اسود و مقام ابراہیم کے درمیان زبردستی اسکے ہاتھ پر بیعت خلافت کر لیں گے (اس کی بیعت خلافت کی خبر سن کر ایک لشکر مقابلہ کے لیے) شام سے اس کی سمت روانہ ہوگا۔ یہاں تک کہ جب مقام بیداء (مکہ و مدینہ کے درمیانی میدان) میں پہنچے گا تو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس کے پاس عراق کے اولیاء اور شام کے ابدال حاضر ہوں گے اور ایک شخص شام سے (سفیانی) نکلے گا جس کی ننہال قبیلہ کلب میں ہوگی اور اپنا لشکر خلیفہ مہدی کے مقابلہ کے لیے روانہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ سفیانی کے لشکر کو شکست دے دے گا۔ یہی کلب کی جنگ ہے۔ وہ شخص خسارہ میں رہے گا جو کلب کی غنیمت سے محروم رہا پھر خلیفہ مہدی خزانوں کو

(١) مجمع الزوائد ج ٧، ص ٣١٥ وحكاه ابن القيم فى المنار المنيف ص ١٤٤ وقال رواه الامام احمد باللفظين و رواه ابو داؤد من وجه آخر عن قتادة عن ابى الخليل عن عبدالله بن الحارث عن ام سلمة نحوه (وقد مر تحت رقم ١١) و رواه ابو يعلى الموصلي في مسنده من حديث قتادة عن صالح ابى الخليل عن صاحب له وربما قال صالح عن مجاهد عن ام سلمة والحديث حسن ومثله مما يجوز أن يُقَالَ فيه صحيح.

صفحہ ٦٩

کھول دیں گے اور خوب داد و دہش کریں گے اور اسلام پورے طور پر دنیا میں تمام ہو جائے گا۔ لوگ اسی عیش و راحت کے ساتھ سات یا نو سال رہیں گے، (یعنی جب تک خلیفۂ مہدی حیات رہیں گے لوگوں میں فارغ البالی اور چین وسکون رہے گا)۔

(٢٩) ...... وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَهْدِيَّ قَالَ إِنْ قَصُرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا ثَمَانٌ وَإِلَّا فَتِسْعٌ وَلَيَمْلَأَنَّ الْأَرْضَ قِسْطًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُه ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ بَعْضُ ضَعْفٍ (١)

(٢٩) ...... حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مہدی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اگر انکی مدت خلافت کم ہوئی تو سات برس ہوگی ورنہ آٹھ یا نو سال ہوگی وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔ جس طرح اس سے پہلے ظلم وجور سے بھری ہوگی۔

(٣٠) ...... وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُوْنُ فِي أُمَّتِي خَلِيْفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ فِي النَّاسِ حَثْيًا لَا يَعُدُّه عَدًّا ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِه لَيَعُودَنَّ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُه رِجَالُ الصَّحِيْح (٢)

(٣٠) ...... حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! میری امت میں ایک خلیفہ ہوگا۔ جو لوگوں کو مال لپ بھر بھر تقسیم کرے گا، شمار نہیں کرے گا۔ (یعنی سخاوت اور دریا دلی کی بناء پر بغیر گنے کثرت سے لوگوں میں عطایا تقسیم کرے گا) اور قسم ہے اس ذات پاک کی جس کی قدرت میں میری جان ہے، البتہ ضرور لوٹے گا (یعنی امر اسلام مضمحل ہو جانے کے بعد ان کے زمانہ میں پھر سے فروغ حاصل کر لے گا)۔

(١) مجمع الزوائد ج٧، ص ٣١٧.

(٢) مجمع الزوائد ج٧، ص ٣١٧.

صفحہ ٧٠

(٣١)...... وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُوْنُ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ إِنْ قُصِرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا ثَمَانٌ وَإِلَّا فَتِسْعٌ تَنْعَمُ أُمَّتِي فِيْهَا نِعْمَةً لَّمْ يَنْعَمُوْا مِثْلَهَا يُرْسِلُ السَّمَاءُ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا وَلَا تَدَّخِرُ الْأَرْضُ شَيْئًا مِّنَ النَّبَاتِ وَالْمَالِ كَدُوْسٌ يَقُوْمُ الرَّجُلُ يَقُوْلُ يَا مَهْدِيُّ اَعْطِنِيْ فَيَقُوْلُ خُذْهُ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُه ثِقَاتٌ (١) قَالَ الْإِمَامُ الْحَافِظُ الْحُجَّةُ اَبُوْ بَكْرِ بْنُ اَبِيْ شَيْبَةَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى (٢)

(٣١)...... حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں ایک مہدی ؑ ہوگا (اس کی مدت خلافت ) اگر کم ہوئی تو سات یا آٹھ یا نو سال ہوگی۔ میری امت اس کے زمانہ میں اس قدر خوش حال ہوگی کہ اتنی خوش حالی اسے کبھی نہ ملی ہوگی۔ آسمان سے (حسب ضرورت ) موسلا دھار بارش ہوگی اور زمین اپنی تمام پیداوار کو اُگا دے گی۔ ایک شخص کھڑا ہو کر مال کا سوال کرے گا تو مہدی ؑ کہیں گے (اپنی حسب خواہش خزانہ میں جا کر ) خود لے لو۔

(١) مجمع الزوائد ج ٧ ، ص ٣١٧

(٢) الإمام أبوبكر عبداللہ بن محمد بن أبي شيبة العبسي مولاهم الكوفي ولد سنة ١٥٩ وتوفى سنة ٢٣٥ هـ حافظ الحديث له فيه كتب منها المسند والمصنف جمع فيه الأحاديث على طريقة المحدثين بالأسانيد وفتاوى التابعين وأقوال الصحابة مرتباً على الكتب والأبواب على ترتيب الفقه وهو أكبر من مصنف عبدالرزاق بن همام رتبة (الأعلام للزركلي ج ٤، ص ١١٧ ، ١١٨ والمستطرفة للكتانى ص ٣٦)

صفحہ ٧١

(٣٢)...... حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَينِ (١) وَأَبُو دَاوُدَ (٢) عَنْ يَاسِين (٣) الْعِجْلِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ (٤) بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ أَبِيهِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلِ الْبَيْتِ يُصْلِحُهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي لَيْلَةٍ (٥)

(١) الفضل بن دكين وهو لقب واسمه عمرو بن حماد بن زهير بن درهم التيمى مولى آل طلحة أبو نعيم الملائى الكوفى الأحول روى عنه البخارى فأكثر قال أحمد أبو نعيم صدوق ثقة موضع للحجة فى الحديث وقال ابن سعد وكان ثقة مأموناً كثير الحديث حجة .الخ

(تهذیب التهذیب ج٨ ،ص ٢٣٣ - ٢٣٨).

(٢) عمر بن سعد بن عبيد أبو داؤد الحفرى الكوفى و حفر موضع بالكوفة قال ابن معين ثقة، وقال ابو حاتم صدوق كان رجلا صالحا وقال الآجرى عن ابي داؤد كان جليلا جدا وقال ابن سعد كان ناسكا زاهدا له فضل وتواضع الخ تهذیب التهذیب ج٧، ص ٣٩٧۔ ٣٩٨.

(٣) ياسين بن شيبان ويقال ابن سنان العجلى الكوفى ـ تهذیب التهذیب ج ١١، ص ١٥٢ وقال الحافظ ايضا فى التقريب ياسين بن شيبان وابن سنان العجلى الكوفى لا بأس به من السابعة ووهم من زعم انه ابن معاذ الزيات ـ ص ٢٧٣،

(٤) ابراهيم بن محمد ابن الحنفية قال محمد بن اسحاق العجلى ثقة الخ تهذیب التهذیب ج ١، ص ١٣٦.

(٥) مصنف ابن ابى شيبة ج ١٥ ، ص ١٩٧ طبع الدار السلفية ،بمبئی الهند ـ تهذیب التهذیب ج ١١، ص ١٠٩ - ١١٣. اى يتوب عليه ويوفقه ويلهمه ويرشده بعد ان لم يكن كذلك (الفتن والملاحم ابن كثير ج ١، ص ٣١) وهذا الحديث اخرجه الحفاظ في كتبهم منهم الحافظ ابو عبدالله محمد بن يزيد ابن ماجة فى سننه فى كتاب الفتن والحافظ ابو بكر البيهقى والامام احمد بن حنبل فى مسند على بن ابى طالب وقال الشيخ احمد شاكر اسناده صحيح.

صفحہ ٧٢

(٣٣) حَدَّثَنَا وَكِيْعٌ (١) عَنْ يَاسِيْنَ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ (٢)

(٣٣-٣٢)...... حضرت علیؓ سے مرفوعاً و موقوفاً مروی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا مہدیؑ میرے اہل بیت سے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اسے ایک ہی رات میں صالح بنادے گا (یعنی اپنی توفیق وہدایت سے ایک ہی شب میں ولایت کے اس بلند مقام پر پہنچادے گا جہاں وہ پہلے نہیں تھے)۔

اَقُوْلُ اِنَّ الْفَضْلَ بْنَ دُكَيْنٍ وَاَبَادَاوُدَ اَعْنِى الْحَفْرِىَّ الْكُوْفِىَّ وَوَكِيْعًا مِنَ الْاَئِمَّةِ الْمَعْرُوْفِيْنَ اَخْرَجَ لَهُمُ السِّتَّةُ اِلَّا اَبَادَاوُدَ الْحَفْرِىَّ فَلَمْ يُخْرِجْ اِلَّا مُسْلِمٌ رَّحِمَهُ اللهُ تَعَالٰى وَالْاَرْبَعَةُ وَاَمَّا يَاسِيْنُ فَهُوَ ابْنُ شَيْبَانَ وَيُقَالُ ابْنُ سِنَانَ الْكُوْفِىُّ قَالَ الدُّوْرِىُّ عَنِ ابْنِ مَعِيْنٍ لَّيْسَ بِهِ بَأْسٌ ، وَقَالَ اِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ عَنِ ابْنِ مَعِيْنٍ صَالِحٌ وَقَالَ اَبُوْزُرْعَةَ: لَا بَأْسَ بِهِ وَقَالَ الْبُخَارِىُّ فِيْهِ نَظَرٌ وَلَا اَعْلَمُ حَدِيْثًا غَيْرَ هٰذَا وَقَالَ يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ : رَاَيْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِىَّ يَسْأَلُ يَاسِيْنَ عَنْ هٰذَا الْحَدِيْثِ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ وَهُوَ مَعْرُوْفٌ بِهِ وَوَقَعَ فِى سُنَنِ ابْنِ مَاجَةَ عَنْ يَاسِيْنَ غَيْرُ مَنْسُوْبٍ فَظَنَّهُ بَعْضُ الْحُفَّاظِ الْمُتَأَخِّرِيْنَ يَاسِيْنَ بْنَ مُعَاذِ نِ الزَّيَّاتَ فَضَعَّفَ الْحَدِيْثَ بِهٖ فَلَمْ يَصْنَعْ شَيْئًا اِلخ ( مِنْ تَهْذِيْبِ

(١) وكيع بن الجراح بن مليح الرؤاسي ابو سفيان الكوفى الحافظ قال الامام احمد بن حنبل ما رأيت اوعى للعلم من وكيع ولا احفظ منه وقال نوح بن حبيب القدسي رأيت الثورى ومعمرا ومالكا فما رأت عيناى مثل وكيع الخ تهذيب التهذيب ج ١١، ص ١٠٩ - ١١٤۔

(٢) مصنف ابن ابی شيبة ج ١٥، ص ١٩٧ ، طبع الدار السلفية ، بمبئی.

صفحہ ٧٣

التَّهْذِيْبِ) وَأَمَّا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ فَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ الْعِجْلِيُّ ثِقَةٌ أَخْرَجَ لَهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَةَ وَالنَّسَائِيُّ فِي مُسْنَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الخ وَالْحَاصِلُ أَنَّ الرِّوَايَةَ رِجَالُهَا ثِقَاتٌ وَتَبَيَّنَ مِنْ كَلَامِ الْحَافِظِ ابْنِ حَجَرٍ الْعَسْقَلَانِي رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى أَنَّ تَضْعِيْفَ مَنْ ضَعَّفَ الْحَدِيْثَ إِنَّمَا كَانَ نَاشِئًا بِظَنِّهِ الْفَاسِدِ وَلِأَجْلِ هَذَا صَرَّحَ فِي التَّقْرِيْبِ أَيْضًا، نَعَمْ لَوْ كَانَ الْمُرَادُ يَاسِيْنَ الزَّيَّاتَ لَكَانَتِ الرِّوَايَةُ ضَعِيْفَةً وَقَدْ نَصَّ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَلَى أَنَّهُ الْعِجْلِيُّ فَالْحَدِيْثُ لَا غُبَارَ عَلَيْهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.

(٣٤)......حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ثَنَا فِطْرٌ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَبْعَثَ اللهُ رَجُلاً مِّنْ اَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِي اِسْمُه اِسْمِيْ وَاسْمُ اَبِيْهِ اِسْمَ اَبِي الخ (١)

(٣٤)...... حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! دنیا ختم نہ ہوگی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص ( مراد مہدی ہیں) بھیجے گا جس کا نام میرے نام کے اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام کے مطابق ہو گا۔ (یعنی اس کا نام بھی محمد بن عبداللہ ہوگا ۔)

أَقُولُ رِجَالُ هَذَا السَّنَدِ كُلُّهُمْ رِجَالُ الصِّحَاحِ السِّتَّةِ غَيْرَ فِطْرٍ فَإِنَّه لَمْ يَرْوِ عَنْهُ مُسْلِمٌ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى وَأَمَّا الْبُخَارِيُّ وَالْأَرْبَعَةُ فَقَدْ أَخْرَجُوْا لَه، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِيْنٍ وَالْعِجْلِيُّ وَابْنُ سَعْدٍ وَمِنَ النَّاسِ

(١) مصنف ابن أبى شيبة ج ١٥، ص ١٩٨.

صفحہ ٧٤

مَنْ يَسْتَضْعِفُهُ . (١)

(٣٥) ...... حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ثَنَا فِطْرٌ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا يَوْمٌ لَبَعَثَ اللَّهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلَأُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا (٢)

(٣٥)...... حضرت علی رضی اللہ عنہ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا اگر دنیا کا صرف ایک دن باقی رہ جائے گا (تو اللہ تعالیٰ اسی کو طویل اور دراز کر دے گا اور) میرے اہل بیت میں سے ایک شخص (مہدیؑ) کو پیدا کریگا۔ جو دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ (اس سے پہلے) ظلم سے بھری ہوگی۔

أَقُوْلُ رِجَالُ هَذَا السَّنَدِ كُلُّهُمْ رِجَالُ الصِّحَاحِ السِّتَّةِ غَيْرُ فِطْرٍ فَإِنَّهُ مِنْ رُوَاةِ الْبُخَارِي وَالْأَرْبَعَةِ خَلَا مُسْلِمٍ كَمَا مَرَّ .

(١) فطر بن خليفة القرشي المخزومي مولاهم أبو بكر الخياط الكوفي قال الإمام أحمد بن حنبل: ثقة صالح الحديث وقال أحمد كان عند يحيى بن سعيد ثقة، قال ابن أبي خيثمة عن ابن معين ثقة وقال العجلی كوفى ثقة حسن الحديث وكان فيه تشيع قليل وقال أبو حاتم صالح الحديث وقال أبو داؤد عن أحمد بن يونس كنا نمرّ على فطر وهو مطروح لا نكتب عنه وقال النسائى لا بأس به وقال فى موضع آخر ثقة، حافظ ،كيس . وقال ابن سعد كان ثقة ان شاء الله ومن الناس من يستضعفه وقال الساجی صدوق . وقال الساجي أيضاً وكان يقدّم علياً على عثمان وكان أحمد بن حنبل يقول هو خشبي (أى من الخشبية فرقة من الجهمية) وقال الدار قطنی فطر زائغ ولم يحتج به البخاري. الخ تهذيب التهذيب ج٨، ص٢٧٠۔٢٧١)

(٢) مصنف ابن أبي شيبة ج١٥، ص١٩٨.

صفحہ ٧٥

(٣٦)...... حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ ثَنِي عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَاصِرُ ثَنِي مُجَاهِدٌ ثَنِي فُلَانٌ رَجُلٌ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمَهْدِيَّ لَا يَخْرُجُ حَتَّى يُقْتَلَ النَّفْسُ الزَّكِيَّةُ فَإِذَا قُتِلَتِ النَّفْسُ الزَّكِيَّةُ غَضِبَ عَلَيْهِمْ مَّنْ فِي السَّمَاءِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ فَأَتَى النَّاسُ الْمَهْدِيَّ فَزَفُّوهُ كَمَا تُزَفُّ الْعَرُوسُ إِلَى زَوْجِهَا لَيْلَةَ عِرْسِهَا وَهُوَ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَّعَدْلًا وَّيُخْرِجُ الْأَرْضُ نَبَاتَهَا وَتُمْطِرُ السَّمَاءُ مَطَرَهَا وَتَنْعَمُ أُمَّتِي فِي وِلَايَتِهِ نِعْمَةً لَّمْ تَنْعَمْهَا قَطُّ (١)

(٣٦)...... امام مجاہدؒ (مشہور تابعی) ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا ”نفسِ زکیہ“ کے قتل کے بعد ہی خلیفہ مہدی کا ظہور ہوگا۔ جس وقت نفسِ زکیہ قتل کردیے جائیں گے تو زمین و آسمان والے ان قاتلین پر غضب ناک ہوں گے۔ بعدازاں لوگ مہدی کے پاس آئیں گے اور انھیں دلہن کی طرح آراستہ و پیراستہ کریں گے اور ساری زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے۔ (ان کے زمانہ خلافت میں) زمین اپنی پیداوار کو اگادے گی اور آسمان خوب برسے گا اور ان کے دورِ خلافت میں امت اس قدر خوش حال ہوگی کہ ایسی خوش حالی اسے کبھی نہ ملی ہوگی۔

﴿ضروری تنبیہ﴾ ایک نفسِ زکیہ محمد بن عبداللہ بن حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم ہیں جنھوں نے خلیفہ منصور عباسی کے خلاف ١٤٥ھ میں خروج کیا تھا اور شہید ہوئے تھے۔ حدیث بالا میں مشہور ”نفسِ زکیہ“ سے مراد یہ نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے بزرگ ہیں

(١) مصنف ابن ابی شیبۃ ج ١٥، ص ١٩٩ ھو من کلام الصحابی ولکن لہ حکم المرفوع لانہ لا یعلم من قبل الرای.

صفحہ ٧٦

جو آخر زمانہ میں ہوں گے اور ان کی شہادت کے فوراً بعد مہدیؑ کا ظہور ہوگا۔ شیخ محمد بن عبدالرسول البرزنجیؒ نے اپنی مشہور تالیف ’’الإشاعة لأشراط الساعة ‘‘ میں یہ بات بصراحت تحریر کی ہے۔

أَقُوْلُ أَمَّا عَبْدُ اللّٰهِ (١) بْنُ نُمَيْرٍ فَهُوَ الْهَمْدَانِيُّ الْخَارِفِيُّ الْكُوْفِيُّ أَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ وَأَمَّا مُوْسَى (٢) الْجُهَنِيُّ فَهُوَ مُوْسَى بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ أَوِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْجُهَنِيُّ الْكُوْفِيُّ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِيْنٍ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ أَبُوْ حَاتِمٍ لَا بَأْسَ بِهِ ثِقَةٌ صَالِحٌ أَخْرَجَ لَهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَةَ وَأَمَّا عُمَرُ (٣) بْنُ قَيْسٍ الْمَاصِرُ فَهُوَ الْكُوْفِيُّ وَ ثَّقَهُ ابْنُ مَعِيْنٍ وَأَبُوْ حَاتِمٍ وَأَبُوْ دَاوُدَ رَحِمَهُمُ اللّٰهُ تَعَالَى أَخْرَجَ لَهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْأَدَبِ الْمُفْرَدِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَ ذَكَرَهُ ابْنُ شَاهِيْنٍ فِي الثِّقَاتِ

(١) عبدالله بن نمير الهمداني الخارفي أبو هشام الكوفي ثقة صاحب حديث من أهل السنة من كبار التاسعة الخ (تقريب ص ١٤٤ وخلاصة التذهيب ص ٢١٧) وقال العجلي ثقة صالح الحديث صاحب سنة وقال ابن سعد كان ثقة كثير الحديث صدوق تهذيب التهذيب ج ٤، ص ٥٢۔٥٣

(٢) موسى الجهني فهو موسى بن عبدالله ويقال ابن عبدالرحمن الجهني ابو سلمة الكوفي ثقة عابد، لم يصح ان القطان طعن فيه (التقريب ص ٢٥٧) ووثقه القطان وقال العجلي ثقة في عداد الشيوخ وقال ابوزرعة صالح و ذكره ابن حبان في الثقات وقال ابن سعد كان ثقة قليل الحديث (تهذيب التهذيب ج١٠، ص ٣١٦)۔

(٣) عمر بن قيس الماصر بن ابی مسلم الكوفي ابو الصباح مولى ثقيف قال ابن معين وابو حاتم ثقة وقال الآجرى سئل ابو داؤد عن عمر بن قيس فقال من الثقات وابوه اشهر واو ثق و ذكره ابن حبان في الثقات وذكره ابن شاهين فى الثقات (تهذيب التهذيب ج ٧ ص ٤٣٠۔٤٣١)۔

(١) اما مجاهد، فهو مـ

على امامة مجاهد والا

(٢) مصنف ابن ابی شـ

صفحہ ٧٧

قَالَ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ يَعْنِي الْبَصْرِيَّ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ ثِقَةٌ وَأَمَّا مُجَاهِدٌ (١) فَهُوَ إِمَامٌ مَشْهُورٌ اَخْرَجَ لَهُ الْأَئِمَّةُ السِّتَّةُ وَغَيْرُ هُمْ فَالْحَاصِلُ أَنَّ الرِّوَايَةَ صَحِيحٌ وَرِجَالُهَا كُلُّهُمْ مُوَثَّقُوْنَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

(٣٧)...... حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُوْنَ نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ أَبَا قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُبَايَعُ لِلرَّجُلِ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَلَنْ يَسْتَحِلَّ الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ فَإِذَا اسْتَحَلُّوْهُ فَلَا تَسْئَلُ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَأْتِي الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَ خَرَابًا لَا يُعَمَّرُ بَعْدَهُ أَبَدًا وَهُمُ الَّذِيْنَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ (٢)

(٣٧)...... حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا! ایک شخص (یعنی مہدیؑ) سے حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کی جائے گی اور کعبہ کی حرمت و عظمت اس کے اہل ہی پامال کریں گے اور جب اس کی حرمت پامال کر دی جائے گی تو پھر عرب کی تباہی کا حال مت پوچھو (یعنی ان پر اس قدر تباہی آئے گی جو بیان سے باہر ہے) پھر حبشی چڑھائی کر دیں گے اور مکہ معظمہ کو بالکل ویران کر دیں گے اور یہی کعبہ کے (مدفون) خزانہ کو نکالیں گے۔

(١) اما مجاهد، فهو مجاهد بن جبر امام مشهور من كبار التابعين قال الذهبی اجمعت الامة علی امامة مجاهد والا حتجاج به (تہذیب التہذیب ج١٠، ص٣٨ - ٤٠) (٢) مصنف ابن ابی شیبۃ ج ١٥، ص ٥٣.

صفحہ ٧٨

أَقُولُ اَمَّا يَزِيدُ (١) بْنُ هَارُونَ فَهُوَ السُّلَمِيُّ اَبُو خَالِدِ نِ الْوَاسِطِيُّ اَحَدُ الْأَعْلَامِ الْحُفَّاظِ الْمَشَاهِيْرِ رَوَى عَنْهُ السِّتَّةُ قَالَ اَحْمَدُ كَانَ حَافِظًا مُتْقِنًا وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ اِمَامٌ لَا يُسْئَلُ عَنْ مِثْلِهِ وَاَمَّا اِبْنُ اَبِي ذِئْبٍ (٢) فَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْمُغِيْرَةِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذِئْبِ الْقُرَشِيُّ الْعَامِرِيُّ مِنْ أَئِمَّةِ الْمَدَنِيِّ أَحَدُ الْاَعْلَامِ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ قَالَ أَحْمَدُ يُشْبِهُ بِابْنِ الْمُسَيَّبِ وَهُوَ أَصْلَحُ وَ أَوْرَعُ وَاَقْوَمُ بِالْحَقِّ مِنْ مَالِكٍ وَاَمَّا سَعِيْدُ بْنُ سَمْعَانَ (٣) فَهُوَ الْاَنْصَارِيُّ الزُّرَقِيُّ أَخْرَجَ لَهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِيْ جُزْءِ الْقِرَاءَةِ وَقَالَ النَّسَائِيُّ ثِقَةٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ الْبَرْقَانِيُّ عَنِ الدَّارَ قُطْنِيِّ ثِقَةٌ وَقَالَ الْحَاكِمُ تَابِعِيٌّ مَعْرُوْفٌ وَقَالَ الْاَزْدِيُّ ضَعِيفٌ الخ

(١) يزيد بن هارون بن زاذى ويقال زاذان بن ثابت السلمى مولاهم ابو خالد الواسطى احد الاعلام الحفاظ المشاهير قيل اصله من بخارى قال احمد كان حافظا للحديث وقال ابن المدينى ما رأيت احفظ منه وقال ابن معين ثقة وقال العجلى ثقة ثبت وقال ابو حاتم ثقة امام صدوق لا يسأل عن مثله (تهذيب التهذيب ج ١١، ص ٣٢١ - ٣٢٣)

(٢) ابن ابى ذئب فهو محمد بن عبدالرحمن بن المغيرة بن الحارث بن ابى ذئب القرشى العامرى وابو الحارث المدنى قال احمد صدوق افضل من مالك الا مالكا أشد ثقة للرجال منه وقال ابن معين ابن ابى ذئب ثقة وكل من روى عنه ابن ابى ذئب ثقة الا ابا جابر البياضى وكل من روى عنه مالك ثقة الا عبدالكريم ابا امية وقال ابن حبان فى الثقات كان من فقهاء اهل المدينة وعبادهم وكان اقوم اهل زمانه للحق (تهذيب التهذيب ج ٩، ص ٢٧٠ - ٢٧٢)

(٣) سعيد بن سمعان الانصارى الزرقى مولاهم المدنى (تهذيب التهذيب ج ٤، ص ٤٠)

وقال الحافظ فى التقريب سعيد بن سمان الانصارى الزرقى مولاهم المدنى ثقة لم يصب الازدى فى تضعيفه من الثالثة . ( ٢٣٨ طبع فى بيروت ١٣٠٨هـ).

صفحہ ٧٩

﴿تشریح﴾ مشکوٰۃ میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک اہل حبشہ تم سے جنگ نہ کریں تم بھی ان سے نہ لڑو کیونکہ خانہ کعبہ کا خزانہ دو چھوٹی پنڈلیوں والا نکالے گا۔ اس مضمون کی دیگر صحیح حدیثیں بھی موجود ہیں۔ حضرت شاہ رفیع الدین دہلوی قُدِّسَ سِرُّہٗ اپنے رسالہ ”قیامت نامہ“ میں لکھتے ہیں کہ جب سارے ایمان دار جہان سے اٹھ جائیں گے، تو حبشیوں کی چڑھائی ہوگی اور ان کی سلطنت ساری روئے زمین پر پھیل جائے گی۔ وہ کعبہ کو ڈھا ڈالیں گے اور حج موقوف ہو جائے گا۔

(ترجمہ قیامت نامہ ص ٢٢ از مولانا محمد ابراہیم داناپوریؒ)

وَهٰذَا مَا وَجَدْنَاهُ بِخَطِّ الشَّيْخِ الْمَدَنِيِّ قُدِّسَ سِرُّه وَقَدِ اطَّلَعْتُ عَلَىٰ طَائِفَةٍ مِّنَ الْاَحَادِيْثِ الصَّحِيْحَةِ الْوَارِدَةِ فِيْ ذِكْرِ الْمَهْدِيِّ فَاَوْرَدْتُّهَا تَتِمَّةً وَّتَعْمِيْمًا لِّلْفَائِدَةِ وَإِلَيْكُمُ تِلْكَ الْاَحَادِيْثَ.

صفحہ ٨٠

الذيل والاستدراك

(١)...... عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ (١) رَوَاهُ الْإِمَامُ الْبُخَارِيُّ فِيْ صَحِيْحِهِ فِي كِتَابِ الْأَنْبِيَاءِ، بَابُ نُزُوْلِ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ. (٢)

(١)...... حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم لوگوں کا (اس وقت خوشی سے) کیا حال ہوگا۔ جب تم میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (آسمان سے) اتریں گے اور تمہارا امام تمہی میں سے ہوگا۔

(٢)...... وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِّنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُوْنَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِيْنَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ وَيَنْزِلُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُوْلُ أَمِيْرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ لَنَا فَيَقُوْلُ لَا، إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ تَكْرِمَةَ اللهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ (٣)

(١) إمامكم منكم معناه يصلى (اى عيسى عليه السلام) معكم بالجماعة والإمام من هذه الأمة (عمدة القارى ج ١٦، ص ٤٠) وقال ملا على القارى والحاصل إن إمامكم واحد منكم دون عيسى عليه السلام (مرقاة شرح المشكوة ج ٥، ص ٢٢٢) وقال الحافظ ابن حجر قال أبو الحسين الخسعمى الآبرى فى مناقب الشافعى تواترت الأخبار بأن المهدى من هذه الأمة وإن عيسى عليه السلام يصلى خلفه (فتح البارى ج ٦ ،ص ٤٩٣). (٢) صحيح البخارى : ج ١ ، ص ٤٩٠ . (٣) أَخْرَجَهُ الْإِمَامُ مُسْلِمٌ فِيْ صَحِيْحِهِ ج ١ ص ٨٧ .

صفحہ ٨١

فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت میں سے ایک جماعت قیامِ حق کے لیے کامیاب جنگ قیامت تک کرتی رہے گی۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں ان مبارک کلمات کے بعد آپﷺ نے فرمایا آخر میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (آسمان سے) اتریں گے تو مسلمانوں کا امیر ان سے عرض کرے گا تشریف لائیے ہمیں نماز پڑھائیے (اس کے جواب میں) عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے (اس وقت) امامت نہیں کروں گا۔ تمہارا بعض بعض پر امیر ہے (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت امامت سے انکار فرماویں گے) اس فضیلت و بزرگی کی بناء پر جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عطا کی ہے۔

﴿تشریح﴾ مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نزول کے وقت جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں گے اور امام خود عیسیٰ علیہ السلام نہیں ہوں گے، بلکہ امت کا ایک فرد یعنی خلیفہ مہدیؒ ہوں گے، چنانچہ حافظ ابن حجر بحوالہ مناقب الشافعی از امام ابوالحسین آبریؒ لکھتے ہیں کہ اس بارے میں احادیث متواتر ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک نماز خلیفہ مہدیؒ کی اقتداء میں ادا کریں گے۔ (١)

إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُ أَمِيْرُهُمُ الْمَهْدِيُّ تَعَالَ صَلِّ لَنَا، الْحَدِيْثُ ذَكَرَهُ الشَّيْخُ ابْنُ الْقَيِّمِ فِي الْمَنَارِ الْمُنِيفِ (١٤٧) وَعَزَاهُ لِلْحَافِظِ ابْنِ أَبِي أُسَامَةَ فِي مُسْنَدِهِ وَقَالَ وَهَذَا إِسْنَادٌ جَيِّدٌ.

(١) فتح الباری ج ٦، ص ٤٩٣

صفحہ ٨٢

(٣)...... حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (آسمان سے ) اتریں گے تو امت کا امیر مہدی ان سے عرض کرے گا ،آگے تشریف لائیے اور نماز پڑھائیے تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے تمہارا بعض بعض پر امیر ہے۔ اس فضیلت کی بناء پر جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو مرحمت فرمائی ہے۔(١)

﴿تشریح﴾ اس حدیث میں امام کے بارے میں تصریح آگئی کہ وہ خلیفہ مہدی ہوں گے۔ لہذا بخاری شریف ومسلم شریف کی مذکورہ حدیث میں بھی امام اور امیر سے مراد خلیفہ مہدی ہی ہیں۔

اَقُوْلُ الْحَارِثُ بْنُ اَبِیْ اُسَامَةَ هُوَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ اَبُوْ مُحَمَّدِنِ الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ اَبِیْ اُسَامَةَ التَّمِيْمِيُّ الْبَغْدَادِیُّ صَاحِبُ الْمُسْنَدِ (الْمُتَوَفَّى ٢٨٢ھ) (٢) وَاَمَّا اِسْمَاعِيْلُ بْنُ عَبْدِالْكَرِيْمِ فَهُوَ اِسْمَاعِيْلُ بْنُ عَبْدِالْكَرِيْمِ بْنِ مَعْقَلِ بْنِ مُنَبِّهِ اَبُوْ هِشَامِ الصَّنْعَانِيُّ صَدُوْقٌ اَخْرَجَ لَه اَبُوْدَاوُدَ فِیْ سُنَنِه وَابْنُ مَاجَةَ فِیْ تَفْسِيْرِه (٣) وَاَمَّا اِبْرَاهِيْمُ فَهُوَابْنُ عَقِيْلِ بْنِ مَعْقَلِ الصَّنْعَانِيُّ صَدُوْقٌ اَخْرَجَ لَه اَبُوْدَاوُدَ(٤) وَاَمَّا عَقِيْلٌ فَهُوَ ابْنُ مَعْقَلِ بْنِ مُنَبِّهِ الْيَمَانِيُّ ابْنُ اَخِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّةٍ صَدُوْقٌ اَخْرَجَ لَه اَبُوْ دَاوُدَ (٥) وَاَمَّا وَهْبُ

(١) المنار المنیف ١٤٧ بحوالة مسند ابی اسامة. (٢) الرسالة المستطرفة ص ٥٦. (٣) تہذیب التہذیب ص ٨. (٤) تقریب التہذیب ص ٩٢. (٥) تقریب التہذیب ص ٣٩٦

صفحہ ٨٣

فَهُوَ ابْنُ مُنَبِّهِ بْنِ كَامِلِ الْيَمَانِيُّ أَبُو عَبْدِ اللّٰهِ الْأَبْنَاوِيُّ (بِفَتْحِ الْهَمْزَةِ وَسُكُوْنِ الْمُوَحَّدَةِ بَعْدَه نُوْنٌ) ثِقَةٌ أَخْرَجَ لَه أَصْحَابُ السِّتَّةِ سِوَى ابْنِ مَاجَةَ وَهُوَ اَخْرَجَ لَه أَيْضًا فِى تَفْسِيْرِه (١) فَالْحَاصِلُ اِسْنَادُ هٰذَا الْحَدِيْثِ جَيِّدٌ كَمَا قَالَ الشَّيْخُ ابْنُ قَيِّمٍ وَقَدْ صَرَّحَ فِيْهِ وَصَفَ الْاَمِيْرَ الْمَذْكُوْرَ بِأَنَّه الْمَهْدِيُّ فَيَكُوْنُ هٰذَا الْحَدِيْثُ مُفَسِّرًا لِلْمُرَادِ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ الَّذِي أَوْرَدَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فَتَنَبَّه.

(٤)....... وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِى خِفَّةٍ مِّنَ الدِّيْنِ وَذِكْرِ الدَّجَّالِ ثُمَّ قَالَ ثُمَّ يَنْزِلُ عِيْسٰى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَيُنَادِى مِنَ السَّحَرِ فَيَقُوْلُ يَا اَيُّهَا النَّاسُ مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَخْرُجُوْا إِلٰى هٰذَا الْكَذَّابِ الْخَبِيْثِ فَيَقُوْلُوْنَ هٰذَا رَجُلٌ جِنِّيٌّ فَيَنْطَلِقُوْنَ فَإِذَا هُمْ بِعِيْسٰى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَتُقَامُ الصَّلٰوةُ فَيُقَالُ لَه تَقَدَّمْ يَا رُوْحَ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ لِيَتَقَدَّمْ اِمَامُكُمْ فَلْيُصَلِّ بِكُمْ فَإِذَا صَلَّوْا صَلٰوةَ الصُّبْحِ خَرَجُوْا إِلَيْهِ قَالَ فَحِيْنَ يَرَاهُ الْكَذَّابُ يَنْمَاثُ كَمَا يَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ. (رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِى الْمُسْتَدْرَكِ وَقَالَ هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْاِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ. وَقَالَ الشَّيْخُ الذَّهَبِيُّ فِى تَلْخِيْصِه هُوَ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ)(٢) لِيَتَقَدَّمْ اِمَامُكُمْ فَلْيُصَلِّ بِكُمْ وَالْاِمَامُ حِيْنِئِذٍ هُوَ الْمَهْدِيُّ كَمَا جَاءَ التَّصْرِيْحُ فِى الْحَدِيْثِ رَقم ٤٠.

(١) تقريب التهذيب ص ٥٨٥ (٢) المستدرک ج٤، ص ٥٣٠.

صفحہ ٨٤

کمزور ہو جانے کی حالت میں دجال نکلے گا اور دجال سے متعلق تفصیلات بیان کرنے کے بعد فرمایا بعد ازاں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (آسمان سے) اتریں گے اور بوقت سحر (یعنی صبح صادق سے پہلے) آواز دیں گے کہ اے مسلمانو! تمہیں اس جھوٹے خبیث سے مقابلہ کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟ تو لوگ کہیں گے کہ یہ کوئی جنات ہے۔ پھر آگے بڑھ کر دیکھیں گے تو انہیں عیسیٰ علیہ السلام نظر آئیں گے۔ پھر نماز فجر کے لیے اقامت ہوگی تو ان کا امیر کہے گا، اے روح اللہ امامت کے واسطے آگے تشریف لائیے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے، تمہارا امام ہی تمہیں نماز پڑھائے۔ جب لوگ نماز سے فارغ ہو جائیں گے تو (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں) دجال سے مقابلہ کے لیے نکلیں گے۔ دجال جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو (مارے خوف کے) نمک کے پگھلنے کی طرح پگھلنے لگے گا۔

تَنْعَمُ أُمَّتِي فِي زَمَنِ الْمَهْدِيِّ نِعْمَةً لَّمْ يَنْعَمُوْا قَطُّ وَيُرْسِلُ السَّمَاءُ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا وَّلَا تَدَعُ الْأَرْضُ شَيْئًا مِنْ نَّبَاتِهَا إِلَّا اَخْرَجَتْهُ . اَوْرَدَهُ الْهَيْثَمِيُّ فِي مَجْمَعِ الزَّوَائِدِ وَقَالَ اَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْاَوْسَطِ وَرِجَالُه ثِقَاتٌ (١) .

کے زمانہ میں میری امت اس قدر خوشحال ہوگی کہ ایسی خوشحالی اسے کبھی نہ ملی ہوگی۔ آسمان سے (حسب ضرورت) بارش ہوگی اور زمین اپنی تمام پیداوار اُگاوے گی۔

(١) مجمع الزوائد ج ٧، ص ٣١٧.

صفحہ ٨٥

(٢)...... عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا فَقَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ بِنْتُ أَبِي الْعَكَرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ هُمْ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ وَجُلُّهُمْ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ وَإِمَامُهُمْ رَجُلٌ صَالِحٌ قَدْ تَقَدَّمَ يُصَلِّي بِهِمُ الصُّبْحَ إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِمْ ابْنُ مَرْيَمَ الصُّبْحَ فَرَجَعَ ذَلِكَ الْإِمَامُ يَنْكُصُ يَمْشِي الْقَهْقَرَى لِيَتَقَدَّمَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَيَضَعُ عِيسَى يَدَه بَيْنَ كَتِفَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ لَه تَقَدَّمْ فَصَلِّ فَإِنَّهَا لَكَ أُقِيمَتْ فَيُصَلِّي بِهِمْ إِمَامُهُمُ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْحَافِظُ ابْنُ مَاجَةَ الْقَزْوِينِيُّ وَذَكَرَهُ الْمُحَدِّثُ الْكَشْمِيرِيُّ فِي كِتَابِهِ التَّصْرِيحِ ص ١٤٢ وَ عَزَاهُ إِلَى ابْنِ مَاجَةَ (١) وَقَالَ إِسْنَادُه قَوِيٌّ وَأَمَّا فِي الْحَدِيثِ وَإِمَامُهُمْ رَجُلٌ صَالِحٌ فَالْمُرَادُ بِهِ الْمَهْدِيُّ كَمَا جَاءَ التَّصْرِيحُ بِهِ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي مَرَّ سَابِقًا تَحْتَ رَقْمَ ( ١١ )

(٢)...... حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے ایک طویل حدیث روایت کرتے ہیں جس میں ہے کہ ایک صحابیہ ام شریک بنت ابی العکر رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! عرب اس وقت کہاں ہوں گے؟ (مطلب یہ ہے کہ اہل عرب دین کی حمایت میں مقابلے کے لیے کیوں سامنے نہیں آئیں گے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! عرب اس وقت کم ہوں گے اور ان میں بھی اکثریت بیت المقدس (یعنی شام ) میں ہوں گے اور ان کا امام و امیر ایک رجل صالح (مہدی) ہوگا۔ جس وقت ان کا امام نماز فجر کے لیے آگے بڑھے گا۔ اچانک عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اسی وقت (آسمان سے) اتریں گے۔ امام پیچھے ہٹے گا تا کہ عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھائیں۔ عیسیٰ علیہ السلام امام کے مونڈھوں کے درمیان

(١) سنن ابن ماجه في حديث طويل ص ٣٠٧،٣٠٨.

صفحہ ٨٦

ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے، آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤ کیونکہ تمہارے ہی لیے اقامت کہی گئی ہے تو امام لوگوں کو نماز پڑھائے گا۔

عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ صَلٰوةِ الْفَجْرِ فَيَقُولُ لَهُ اَمِيرُهُمْ يَا رُوحَ اللَّهِ تَقَدَّمْ صَلِّ فَيَقُولُ هٰذِهِ الْأُمَّةُ اُمَرَاءُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَيَتَقَدَّمُ اَمِيرُهُمْ فَيُصَلِّى ، الْحَدِيثَ.

رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِى الْمُسْتَدْرَكِ وَصَحَّحَهُ وَاَوْرَدَهُ الشَّيْخُ الْهَيْثَمِىُّ فِى مَجْمَعِ الزَّوَائِدِ عَنْ اَحْمَدَ وَ الطَّبَرَانِى ثُمَّ قَالَ وَفِيهِ عَلِىُّ بْنُ زَيْدٍ وَفِيهِ ضُعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ (١)

ﷺ نے فرمایا ! عیسیٰ علیہ السلام نمازِ فجر کے وقت (آسمان سے ) اتریں گے تو مسلمانوں کا امام ان سے عرض کرے گا، اے روح اللہ آگے تشریف لائیے ، نماز پڑھائیے ، تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے۔ اس امت کا بعض بعض پر امیر ہے تو مسلمانوں کا امیر آگے بڑھے گا اور نماز پڑھائے گا۔

﴿تشریح﴾ عیسیٰ علیہ السلام اس دن کی نمازِ فجر اس وقت کے امام کی اقتداء میں ادا کریں گے۔ اس کے بعد پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی امامت کے فرائض انجام دیں گے جیسا کہ دیگر حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے۔

(٢) المستدرک ج ٤، ص ٤٧٨ و مجمع الزوائد ج٧، ص ٣٤٢.

صفحہ ٨٧

وَسَلَّمَ قَالَ تَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ فِتْنَةٌ يَحْصُلُ النَّاسُ فِيْهَا كَمَا يَحْصُلُ الذَّهَبُ فِي الْمَعْدِنِ فَلَا تَسُبُّوا أَهْلَ الشَّامِ وَلَكِنْ سُبُّوا شِرَارَهُمْ فَإِنَّ فِيهِمُ الْأَبْدَالَ يُوْشِكُ أَنْ يُرْسَلَ عَلٰى أَهْلِ الشَّامِ سَيْبٌ مِّنَ السَّمَاءِ فَيُغْرِقُ جَمَاعَتَهُمْ حَتَّى لَوْ قَاتَلَتْهُمُ الثَّعَالِبُ غَلَبَتْهُمْ فَعِنْدَ ذَلِكَ يَخْرُجُ خَارِجٌ مِّنْ أَهْلِ بَيْتِيْ فِي ثَلٰثِ رَايَاتِ الْمُكْثِرُ يَقُولُ لَهُمْ خَمْسَةَ عَشَرَ أَلْفًا وَالْمُقَلِّلُ يَقُولُ إثْنَا عَشَرَ، اَمَارَاتُهُمْ اَمَّتْ اَمَّتْ يَلْقَوْنَ سَبْعَ رَايَاتٍ تَحْتَ كُلِّ رَايَةٍ رَجُلٌ يَطْلُبُ الْمُلْكَ فَيَقْتُلُهُمُ اللهُ جَمِيعًا وَ يَرُدُّ اللهُ إِلَى الْمُسْلِمِينَ اُلْفَتَهُمْ وَ نَعِيمَهُمْ وَقَاصِيْهُمْ وَدَانِيَهُمْ.

قَالَ الشَّيْخُ الْهَيْثَمِيُّ أَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيْهِ ابْنُ لَهِيْعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَرَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ وَقَالَ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَأَقَرَّهُ الذَّهَبِيُّ وَفِيهِ رِوَايَةٌ ثُمَّ يَظْهَرُ الْهَاشِمِيُّ فَيَرُدُّ اللهُ النَّاسَ أَلْفَتَهُمْ وَلَيْسَ فِي هَذَا الطَّرِيقِ ابْنُ لَهِيْعَةَ وَهُوَ إِسْنَادٌ صَحِيْحٌ كَمَا ذُكِرَ (١).

میں فتنے برپا ہوں گے۔ ان فتنوں سے لوگ اس طرح چھٹ جائیں گے جس طرح سونا کان سے چھانٹا جاتا ہے۔ (یعنی فتنوں کی کثرت وشدّت کی وجہ سے پختہ مومن ہی ایمان پر ثابت رہیں گے )۔ لہذا تم لوگ اہل شام کو بُرا بھلا مت کہو بلکہ ان میں جو بُرے لوگ ہیں

(١) مجمع الزوائد ج٧، ص ٣١٧ والمستدرک ج ٤، ص ٥٥٣.

صفحہ ٨٨

ان کو بُرا بھلا کہو، اس لیے کہ اہل شام میں اولیاء بھی ہیں۔ عنقریب اہل شام پر آسمان سے سیلاب آئے گا (یعنی آسمان سے موسلا دھار بارش ہوگی جو سیلاب کی شکل اختیار کرلے گی) جو ان کی جماعت کو غرق کردے گا۔ (اس سیلاب کی بناء پر ان کی حالت اس قدر کمزور ہو جائے گی کہ) اگر ان پر لومڑی حملہ کردے تو وہ بھی غالب ہو جائے گی۔ اس (انتہائی فتنہ و ضعف کے زمانہ میں) میرے اہل بیت سے ایک شخص (یعنی مہدیؑ) تین جھنڈوں میں ظاہر ہوگا (یعنی ان کا لشکر تین جھنڈوں پر مشتمل ہوگا) اس کے لشکر کو زیادہ تعداد میں بتانے والے کہیں گے کہ ان کی تعداد پندرہ ہزار ہے اور کم بتانے والے اسے بارہ ہزار بتائیں گے۔ اس لشکر کا علامتی کلمہ امت امت ہوگا۔ (یعنی جنگ کے وقت اس لشکر کے سپاہی لفظ امت امت کہیں گے تاکہ ان کے ساتھی سمجھ جائیں کہ یہ ہمارا آدمی ہے، عام طور پر جنگوں کے موقع پر اس طرح کے الفاظ باہم طے کر لیے جاتے تھے۔ بطور خاص شب خون کے موقعوں پر اس اصطلاح کا استعمال اہم سمجھا جاتا تھا تاکہ لاعلمی میں اپنے آدمی کے ہاتھوں اپنا ہی آدمی نہ مار دیا جائے۔ ویسے امت امت کا معنی یہ ہے کہ اے اللہ دشمنوں کو موت دے یا اے مسلمانو! دشمنوں کو مارو) مسلمانوں کا یہ لشکر سات جھنڈوں پر مشتمل لشکر سے مدّ مقابل ہوگا۔ جس میں سے ہر جھنڈے کے تحت لڑنے والا سربراہ ملک وسلطنت کا طالب ہوگا۔ (یعنی یہ لوگ ملک وسلطنت حاصل کرنے کی غرض سے مسلمانوں سے جنگ کریں گے) اللہ تعالیٰ ان سب کو (مسلمانوں کے لشکر کے ہاتھوں) ہلاک کردے گا (نیز) اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی جانب ان کی باہمی یگانگت والفت، نعمت و آسودگی لوٹا دے گا اور ان کے قریب و دور کو جمع کردے گا۔

(٩)...... وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ فَاطِمَةَ. رَوَاهُ الْحَاكِـ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَـ النَّوَّابَ صِدِّيْقٌ حَسَنٌ خـ

(٩)...... اُمّ المؤمنین اُمّ سـ مہدیؑ کا ذکر کرتے ہوئے اور ثابت ہے) اور وہ فاطمہ

قَدْ تَمَّ التَّعْلِيْقُ الْعَاجِزِ حَبِيْبِ الرَّحْمٰنِ ا أَوَّلًا وَاٰخِرًا وَصَلَّى اللّٰهُ

(١) المستدرک ج ٤ ص ٥٥٣

(٢) الإذاعة لما كان ويكون

صفحہ ٨٩

(٩) ...... وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْمَهْدِيَّ فَقَالَ: هُوَ حَقٌّ وَهُوَ مِنْ بَنِيْ فَاطِمَةَ.

رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ مِنْ طَرِيْقِ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَسَكَتَ ، وَأَيْضًا عَنْهُ الْإِمَامُ الذَّهَبِيُّ (١) وَ أَوْرَدَهُ النَّوَّابُ صِدِّيْقٌ حَسَنٌ خَانُ الْقَنَّوْجِيُّ فِي الْإِذَاعَةِ وَقَالَ صَحِيْحٌ (٢)

(٩)......اُمُّ المؤمنین اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مہدیؑ کا ذکر کرتے ہوئے سنا آپ ﷺ نے فرمایا مہدیؑ حق ہے۔ (یعنی ان کا ظہور برحق اور ثابت ہے) اور وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوگا۔

قَدْ تَمَّ التَّعْلِيْقُ وَالتَّحْقِيْقُ وَالْإِسْتِدْرَاكُ بِعَوْنِ اللَّهِ عَزَّ اسْمُهُ عَلَى يَدِ الْعَاجِزِ حَبِيْبِ الرَّحْمٰنِ الْقَاسِمِيِّ فِيْ ١٢ ، رَبِيعِ الثَّانِيْ ١٤١٢هـ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ أَوَّلاً وَآخِرًا وَصَلَّى اللهُ عَلَى النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ.

(١) المستدرک ج ٤ ص ٥٥٧ . (٢) الإذاعة لما كان ويكون بين يدى الساعة ص ٦٠ مطبوعة الصديقى بريس ١٣٩٢هـ .

PDF 90

رعایتی قیمت مطبوعات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان رعایتی قیمت

تحفہ قادیانیت جلد اول مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت:-/150

خاتم النبین حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ ترجمہ: مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت:-/70

مقدمہ قادیانی مذہب پروفیسر محمد الیاس برنیؒ قیمت:-/75

قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ پروفیسر محمد الیاس برنیؒ قیمت:-/150

تحفہ قادیانیت جلد چہارم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت:-/150

تحفہ قادیانیت جلد پنجم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت:-/150

تحفہ قادیانیت جلد ششم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت:-/150

تحفہ قادیانیت جلد دوم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت:-/150

احتساب قادیانیت جلد چہارم حضرت کشمیریؒ ، حضرت تھانویؒ حضرت مدنیؒ ، حضرت میرٹھیؒ قیمت:-/125

احتساب قادیانیت جلد سوم مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ قیمت:-/125

احتساب قادیانیت جلد دوم مولانا ادریس کاندھلویؒ قیمت:-/125

احتساب قادیانیت جلد اول مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ قیمت:-/125

احتساب قادیانیت جلد ہشتم مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ قیمت:-/125

احتساب قادیانیت جلد ہفتم مولانا محمد علی مونگیریؒ قیمت:-/125

احتساب قادیانیت جلد ششم قاضی سلیمان منصور پوریؒ پروفیسر یوسف سلیم چشتی قیمت:-/125

احتساب قادیانیت جلد پنجم مولانا سید محمد علی مونگیریؒ قیمت:-/125

احتساب قادیانیت جلد دوازدہم بابو پیر بخش قیمت:-/125

احتساب قادیانیت جلد یازدہم بابو پیر بخش قیمت:-/125

احتساب قادیانیت جلد دہم مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ قیمت:-/125

احتساب قادیانیت جلد نہم مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ قیمت:-/125

قادیانی شبہات کے جوابات جلد اول مولانا اللہ وسایا قیمت:-/50

آئینہ قادیانیت مولانا اللہ وسایا قیمت:-/50

قومی تاریخی دستاویز مولانا اللہ وسایا قیمت:-/100

احتساب قادیانیت جلد سیزدہم مفتی شفیعؒ ، مولانا عبدالشکور لکھنویؒ علامہ شمس الحق افغانیؒ قیمت:-/125

رفع نزول عیسیٰ علیہ السلام مولانا عبداللطیف مسعودؒ قیمت:-/100

سوانح مولانا تاج محمودؒ صاحبزادہ طارق محمود قیمت:-/80

رئیس قادیان مولانا محمد رفیق دلاوریؒ قیمت:-/100

قادیانی شبہات کے جوابات جلد دوم مولانا اللہ وسایا قیمت:-/100

نوٹ تحفہ مکمل سیٹ رعایتی قیمت -/600 ، احتساب قادیانیت مکمل سیٹ رعایتی قیمت -/1300

رابطہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان فون: 514122

نوٹ: ڈاک خرچ کتب منگوانے والے حضرات کے ذمہ ہو گا

PDF 91

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

مسلمانوں کے مرزائیت سے نفرت کے اسباب

اور مرزا قادیانی کے متضاد اقوال

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ

صفحہ ٩٢

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تعارف

مخدوم العلماء والصلحاء شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کا وجود اسلامیان وطن کے لیے عطیہ خداوندی تھا۔ آپ کی ذات گرامی سے حق تعالیٰ نے پاکستان میں احیاء اسلام کے لیے گرانقدر کام لیا۔ آپ کے خطبات جمعہ، ملفوظات مجالس، کتب ورسائل، ترجمہ قرآن مجید کے فیوض وبرکات سے آج ایک زمانہ متمتع ہورہا ہے۔ آپ کل پاکستان جمعیۃ علماء اسلام کے پہلے امیر مرکزیہ تھے۔ یہ سب آپ کی باقیات الصالحات ہیں۔ تقریباً ہر بد دین فتنہ کے خلاف تحریری وتقریری طور پر آپ نے کام کیا۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے آپ کی ایمان پرور یادیں، جہاد آفریں کوششیں تاریخ کا انمٹ حصہ ہیں۔ انھیں یادوں میں سے ایک یہ کتابچہ بھی ہے۔ جسے ”احتساب قادیانیت“ کی اس جلد میں شائع کرنے کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو سعادت نصیب ہورہی ہے۔

خاکپائے حضرت لاہوریؒ فقیر اللہ وسایا، ١٠ دسمبر ٢٠٠٥ء

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم.

برادران اسلام! تقسیم ملک سے پہلے مرزائیوں کے باطل فرقہ کی اشاعت کا دروازہ تقریباً بند ہوچکا تھا۔ کیوں کہ مسلمانوں کے علماء کرام نے اپنی تقریروں اور تحریروں سے اس باطل اور کفر پرست فرقہ کا پول اس قدر کھول دیا تھا کہ انھیں اتنی ہمت نہیں ہوسکتی تھی کہ کہیں اہل سنت والجماعت کے مقابلہ پر آئیں۔ انھیں مناظروں میں اتنی شکستیں مل چکی تھیں کہ انھیں مقابلے میں آنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔ بالخصوص مجلس احرار ہند کے صدر مجاہد اعظم، مجسمہ شجاعت، عاشق قرآن، حافظ قرآن، مقرر سحر بیان، حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے احراری فوج کی معیت میں مرزائیت کے قلعہ پر اپنی تقریروں کے گولوں سے وہ بمباری کی کہ مرزائیت کے قلعہ کی اینٹ سے اینٹ بج گئی۔ مرزائیت کے قلعہ کے مسمار ہوجانے کے بعد مسلمانوں کے دلوں سے مرزائیوں کے مسلمان ہونے یا ان کے خادم اسلام ہونے کا خیال نکل گیا۔ بلکہ مسلمانوں کے دلوں میں عقیدہ راسخ ہوگیا کہ فرقہ مرزائیہ اسلام کے بھیس میں اسلام سے دشمنی کررہا ہے۔

صفحہ ٩٣

تقسیم ملک

کے بعد اس فرقہ باطلہ نے پھر سر اٹھایا۔ کیونکہ پاکستان میں ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ کئی مرزائی معزز عہدوں پر برسر اقتدار آ گئے۔ اور وہ لوگ اپنے ہم خیال لوگوں کی پوری پوری امداد کرتے اور ہر ممکن کوشش کر کے انھیں اچھی سی اچھی جگہیں دلانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ اس لیے بہت سے نوجوان روٹی کی خاطر مرزائیت کی رو میں بہتے نظر آتے ہیں۔ ابھی چند دن کا ذکر ہے کہ میرے پاس ایک نوجوان کلرک آیا اور کہا کہ ہم چند دوست ہیں سوائے میرے باقی سب مرزائی ہونے پر آمادہ ہو چکے ہیں کہ ہمارے مسلمان افسر ہماری کوئی مدد نہیں کرتے۔ اور مرزائی افسر اپنے چھوٹے چھوٹے آدمی کے لیے پوری امداد کرتے ہیں۔ اور اسے کامیاب کر دیتے ہیں۔

ڈاکٹر سر اقبال مرحوم کی رائے

راقم الحروف (مولانا احمد علی لاہوری) ایک مرتبہ ڈاکٹر سر اقبال مرحوم و مغفور سے ملا اور ان سے میں نے سوال کیا کہ ڈاکٹر صاحب! نوجوان طبقہ کیوں مرزائیت کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ فرمانے لگے، مولوی صاحب! روٹی کے باعث ادھر جھک جاتے ہیں۔

روٹی کے لیے ایمان نہ بیچیں

برادران اسلام! رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ابھی ماں کے پیٹ ہی میں انسان ہوتا ہے۔ اس وقت فرشتہ اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے انسان کا رزق مقدر لکھ دیتا ہے۔ میرے بھائیو! جو رزق ماں کے پیٹ میں مقدر ہو چکا ہے۔ اس میں سے ایک دانہ بھی چھوڑ کر انسان دنیا سے نہیں جائے گا اور نہ اس رزق مقدر سے ایک دانہ زائد کھا کر جائے گا۔ جب واقعہ یہ ہے تو پھر خدا تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ مسلمان روٹی کے لیے اپنا ایمان نہ بیچیں۔ ورنہ یاد رکھیے۔ ایمان بیچ کر روٹی حاصل کرنے میں دنیا تو برباد ہوگی مگر اس کے ساتھ آخرت بھی برباد ہو جائے گی۔

نفرت بلاسبب نہیں ہے

برادران ملت! مرزائیوں سے مسلمانوں کی نفرت بلاسبب نہیں ہے بلکہ اس کے لیے کئی اسباب ہیں۔ ان کی مختصر سی فہرست پیش کرتا ہوں۔

پہلا سبب: مرزا غلام احمد نے ایسی امت تیار کی ہے جو کہ انگریزوں کی وفادار فوج ہے۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے:

٣

صفحہ ٩٤

”سو خدا تعالیٰ نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ محسن گورنمنٹ کی، جیسا کہ یہ گورنمنٹ برطانیہ ہے۔ سچی اطاعت کی جائے اور سچی شکر گزاری کی جائے۔ سو میں اور میری جماعت اس اصول کے پابند ہیں۔ چنانچہ میں نے اس مسئلہ پر عملدرآمد کرانے کے لیے بہت سی کتابیں عربی، فارسی اور اردو میں تالیف کیں اور ان میں تفصیل سے لکھا کہ کیونکر مسلمان برٹش انڈیا اس گورنمنٹ برطانیہ کے نیچے آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں اور کیونکر آزادی سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے پر قادر ہیں اور تمام فرائض منصبی بے روک ٹوک بجا لاتے ہیں۔ پھر اس مبارک اور امن بخش گورنمنٹ کی نسبت کوئی خیال بھی جہاد کا دل میں لانا کس قدر ظلم اور بغاوت ہے۔ یہ کتابیں ہزارہا روپے کے خرچ سے طبع کرائی گئیں اور پھر اسلامی ممالک میں شائع کی گئیں اور میں جانتا ہوں کہ یقیناً ہزارہا مسلمانوں پر ان کتابوں کا اثر پڑا ہے بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت و مریدی رکھتی ہے۔ وہ ایک ایسی سچی مخلص اور خیر خواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ان کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لیے ایک وفادار فوج ہے۔ جن کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔“

(تحفہ قیصریہ، ص ٢١١، خزائن ج ١٢، ص ٢٦٣۔٢٦٤)

مسلمانوں کی نظر میں انگریز

مسلمان گورنمنٹ برطانیہ کو اس کے موجودہ خیالات و حالات کی بناء پر خدا تعالیٰ کا دشمن، رسول اللہ ﷺ کا دشمن، قرآن کا دشمن، اسلام کا دشمن، مسلمان کا دشمن جانتے ہیں۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی مسلمانوں کو اس کی وفادار فوج بنانا چاہتا ہے جس کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔

نتیجہ: ان حالات میں مسلمان کیوں نہ مرزائیت سے متنفر ہوں۔

دوسرا سبب...... خدا تعالیٰ کی توہین

(اپنے خدا ہونے کا دعویٰ)

ایک طرف تو مرزا غلام احمد قادیانی خدا تعالیٰ کا رسول ہونے کا مدعی ہے۔ اپنی کتاب دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨، ص ٢٣١ میں کہتا ہے۔

”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

اور دوسری طرف خود خدا ہونے کا مدعی ہے کیا کبھی کسی نبی نے خدا ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے اور کیا یہ دعویٰ نمرود اور فرعون جیسا نہیں ہے؟ مرزا کی عبارت ملاحظہ ہو۔

٤

صفحہ ٩٥

”میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں۔“

(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣، ص ١٠٣)

تیسرا سبب ...... خدا کا باپ ہونے کا دعویٰ

اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعُلٰی کَانَّ اللّٰهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ .

(ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ٨٥ خزائن ج ٢٢ ص ٧١٢ )

چوتھا سبب ...... خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ

انت منی بمنزلة اولادی.

(حاشیہ اربعین نمبر ٢ ، ص ١٩، خزائن ج ١٧، ص ٤٥٢ )

پانچواں سبب ...... رسول اللہ ﷺ کی توہین

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار بدر نمبر ٤٣ جلد ٢، ص ١٤ مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)

کیا ان شعروں میں رسول اللہ ﷺ کی توہین نہیں ہے؟ جو شخص انگریزوں کے لیے ظاہر و باطن فوج تیار کرنے والا ہو۔ اور جو شخص خود کو گورنمنٹ برطانیہ کا خود کاشتہ پودا کہے اور جو شخص انگریز کے خلاف جہاد کو حرام قرار دے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہلائے ۔ بلکہ رسول ﷺ سے اپنے آپ کو افضل سمجھے، کیا مسلمان اس سے خوش ہو سکتے ہیں؟ کیا یہ رسول اللہ ﷺ کی توہین نہیں ہے؟

نوٹ: یہ اشعار اس نظم کے ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی کے مرید اکمل آف گولیکے نے لکھی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے رو برو مجمع عام میں پڑھی گئی اور خوشخط لکھے ہوئے قطعے کی صورت میں پیش کی گئی اور مرزا قادیانی اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے اور اس وقت خود مرزا قادیانی اور کسی دوسرے نے بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ حالانکہ محمد علی امیر جماعت احمدیہ اور اعوانہم وہیں موجود تھے۔ (الفضل قادیان ج ٣٢ش ١٩٦ ص ٤ مورخہ ٢٢؍اگست ١٩٤٤ء)

تین ہزار لکھی ہے۔ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧، ص ١٥٣)

٥

صفحہ ٩٦

اور اپنے معجزات کی تعداد، (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦ خزائن ج ٢١ ص ٧٢) پر دس لاکھ بتلائی ہے۔ کیا یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین نہیں ہے؟

کا مصداق ہے۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

اس عبارت میں نبوت تشریعی کے ساتھ ساتھ یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہمارے رسول اللہ ﷺ اس آیت کے مصداق نہیں ہیں جو صریح کفر ہے۔

چھٹا سبب ...... رسول اللہ ﷺ کی حدیث کی توہین

”میرے اس دعویٰ کی بنیاد حدیث نہیں بلکہ قرآن اور وحی ہے جو میرے لیے نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کر سکتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩، ص ١٤٠، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠، حاشیہ خزائن ج ١٧، ص ٥١)

مسلمانوں کے متعلق مرزا بشیر الدین محمود کے فتوے

”قرآن شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو بظاہر ایمان لے آیا ہے لیکن حقیقی طور پر اس کے دل کا کفر معلوم ہو گیا ہے تو اس کا بھی جنازہ جائز نہیں ہے پھر غیر احمدی کا جنازہ کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔“

(انوار خلافت ص ٩٢)

”غیر احمدیوں کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے۔ اور علاوہ اس کے کہ وہ نکاح جائز ہی نہیں ہے۔ لڑکیاں چونکہ طبعاً کمزور ہوتی ہیں...... اس لیے وہ جس گھر میں بیاہی جاتی ہیں اس کے خیالات و اعتقادات کو اختیار کر لیتی ہیں اور اس طرح اپنے دین کو تباہ کر لیتی ہیں۔“

(برکات خلافت ص ٧٣، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود)

”باہر سے لوگ بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے۔ اتنی دفعہ میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں، جائز نہیں، جائز نہیں۔“

(انوار خلافت، ص ٨٩)

٦

صفحہ ٩٧

”جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے۔ وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا۔ اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو۔“

(ملائکۃ اللہ ص ٤٦، مصنفہ بشیر الدین محمود)

”سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انھوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔“ (آئینہ صداقت ص ٣٥)

”پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہوا۔ اس لیے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہیے۔“ (انوار خلافت ص ٩٣)

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے خدا ہونے کا دعویٰ کیا

”میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں۔“

(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین بزبان مرزا غلام احمد قادیانی

عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(حاشیہ ضمیمہ آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کی اطاعت اور جہاد کی ممانعت میں کتابوں کی

٧

صفحہ ٩٨

پچاس الماریاں لکھیں: ”میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے۔ اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥، ص ١٥٥)

ساتواں سبب مرزا قادیانی کو نبی نہ ماننے والے سب مسلمان حرام زادے ہیں ”ان میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے مگر رنڈیوں (زنا کاروں) کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“

(ترجمہ عربی عبارت آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧-٥٤٨، خزائن ج ٥، ص ایضاً)

آٹھواں سبب: مرزا کے مخالف سور اور ان کی عورتیں کتیوں سے بھی بدتر ہیں: ”میرے مخالف جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں۔“

(ترجمہ عربی نجم الہدیٰ، ص ١٠، خزائن ج ١٤، ص ٥٣)

نواں سبب: مرزا کے معجزات کو نہ ماننے والا شیطان ہے: ”خدا نے مجھے ہزارہا نشانات (معجزات) دیئے ہیں لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔“ (چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣، ص ٣٣٢)

کیا یہی شرافت ہے؟

برادران اسلام! کیا یہی شرافت ہے جس کے بل بوتے پر مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو نبی اور رسول کہتے ہیں کیا پیغمبروں کے یہی اخلاق ہوتے ہیں؟ مرزا غلام احمد نے اپنے نہ ماننے والے سب مسلمانوں کو حرام زادہ سور اور شیطان سے تعبیر کیا ہے اور سب مسلمان عورتوں کو کتیاں بنا دیا ہے ایسے گرے ہوئے اخلاق کا انسان شریف انسان بھی نہیں ہو سکتا۔ چہ جائے کہ نبی اور رسول ہو۔

پیغمبر کا اخلاقی مرتبہ

پیغمبر تو سب سے بڑھ کر اعلیٰ درجے کا با اخلاق ہوتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق قرآن مجید میں اعلان ہے: ”بے شک تو (اے پیغمبر) بڑے خلق والا ہے۔“ (القلم۔٤)

٨

صفحہ ٩٩

دسواں سبب......انگریزوں کا خود کاشتہ پودا

نبوت کا دعویٰ

”اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تو وہ انہی میں سے ہے۔“

(مائدہ، ٥١)

اللہ تعالیٰ تو فرمائے کہ جو یہود اور نصاریٰ سے دوستی رکھے وہ انھیں میں سے۔ اور مرزا قادیانی مسلمانوں کے نبی بنتے ہیں اور نصاریٰ کے یار غار ہیں:

”صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں۔ ”اس خود کاشتہ پودا“ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا۔ اور نہ اب فرق ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ خدمات گزشتہ کے لحاظ سے سرکار، دولت مدار کی پوری عنایت اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں۔ تاکہ ہر ایک شخص بے وجہ ہماری آبروریزی کے لیے دلیری نہ کر سکے۔“ درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ۔ منجانب: خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان، مورخہ ٢٤ فروری ١٨٩٨ء، (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)

حاصل: یہ کہ: مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت خدا داد نہیں تھی۔ بلکہ انگریزوں نے اسے نبی بنایا تھا۔ اس لیے انگریزوں کی حمایت کے لیے مرزا صاحب نے پچاس الماریاں کتابوں کی لکھ کر تمام ممالک اسلامیہ میں وہ کتابیں شائع کیں۔

گیارہواں سبب

عیسائی حکومت کے خلاف جہاد کرنے والے حرامی ہیں:

برادرانِ اسلام! آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں جو

٩

صفحہ ١٠٠

عیسائیت کی تصویر اور اس کے خال و خط تھے، وہ اسلام کے مخالف تھے۔ اسی لیے اس وقت کے عیسائی اسلام سے ٹکرائے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے پیش گوئی فرمائی تھی:

ہلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ، واذا ہلک قیصر فلا قیصر بعدہ . (بخاری ج ٢،ص ٩٨١۔ باب کیف کان یمین النبی ﷺ )

”کسریٰ ہلاک ہو جائے گا اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا۔ قیصر ہلاک ہوگا اور اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا۔“

اس فرمان کی بنا پر صحابہ کرامؓ نے قیصر کی حکومت کو تباہ کیا۔ اس کے بعد صلیبی جنگوں میں عیسائی طاقتیں مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی رہیں۔ گویا کہ ابتداء اسلام سے آج تک عیسائیوں سے جہاد ہوتا رہا۔ انگریزوں نے ہی خلافتِ اسلامی کو پارہ پارہ کیا۔ انگریزوں نے ہی فلسطین میں یہودیوں کو آباد کیا۔ اب مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ انگریزوں سے جہاد کرنے والے حرامی ہیں:

”بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں؟ سو یہ یاد رہے کہ سوال ان کا نہایت ہی حماقت کا ہے کیونکہ جن کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض ہے اور واجب ہے اس سے جہاد کیسا؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔“ (اشتہار گورنمنٹ کی توجہ کے لائق، ملحقہ شہادت القرآن، ص ٨٤، خزائن ج ٦، ص ٣٨٠)

بارہواں سبب: ممانعت جہاد اور اطاعت انگریزی میں کتابوں کی:

پچاس الماریاں

”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے جہاد کی ممانعت اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار تقسیم کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب، مصر اور شام، کابل اور روم تک پہنچایا۔ میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ بن جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥، ص ١٥٥)

تیرہواں سبب: مرزا کا دین انگریز کی وفاداری

”دوستو! میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں۔ یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں ایک یہ کہ خدا کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس

١٠

صفحہ ١٠١

نے ظالموں کے ہاتھوں سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔‘‘ (اشتہار گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ملحقہ شہادت القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦، ص ٣٨٠)

وہ حکومت برطانیہ جو خدا کی دشمن (بحیثیت تثلیث پرست ہونے کے) رسول اللہ ﷺ کی دشمن (کہ آپ کو سچا نبی نہیں مانتی) قرآن کی دشمن (کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ نہیں مانتی) اسلام کی دشمن (کہ اس کے مٹانے کے درپے رہے) مسلمان کی دشمن (کہ ہمیشہ مسلمانوں کے درپے آزار رہی) ایسی بے ایمان و دشمن اسلام حکومت کی وفاداری مرزا قادیانی کا جزو ایمان ہے کیا کوئی سچا مسلمان مرزا قادیانی کے اس عقیدہ میں ہم خیال ہو سکتا ہے؟ ہاں وہ لوگ مرزا قادیانی کے ہمنوا ہو سکتے ہیں جو اپنے گناہوں کے سبب سے اپنی عقل سلیم کھو چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی سمجھ بوجھ سلب کر لی ہو۔ اللہم لا تجعلنا منہم.

چودھواں سبب...... نبوت کا دعویٰ

’’سچا وہ خدا ہے جس نے قادیان میں رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلا ص ١١، خزائن ج ١٨، ص ٢٣١)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد تیس دجال پیدا ہوں گے۔ ان میں ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ لہٰذا مسلمان ہر جھوٹے مدعی نبوت کو اس حدیث کی بنا پر دجال کہتے ہیں۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی بھی مسلمانوں کے عقیدہ میں انھیں دجالوں میں سے ایک ہیں۔

پندرھواں سبب...... عیسیٰ ابن مریم ہونے کا دعویٰ

’’اس خدا کی تعریف جس نے مسیح بن مریم بنایا۔‘‘ (حاشیہ حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٥، اربعین نمبر ٣، ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٢١)

یہ دعویٰ تو تقریباً تمام کتابوں میں موجود ہے۔ مسلمان تو اس عیسیٰ ابن مریم کی آمد کے قائل ہیں جو رسول اللہ ﷺ سے تقریباً پونے پانچ سو سال پہلے پیدا ہوئے تھے اور جو دمشق میں آسمان سے نازل ہوں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت فرمائیں گے۔ نہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح اپنا دین بنائیں گے۔

سولھواں سبب...... ابراہیم ہونے کا دعویٰ

’’آیت: واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی ۔ اس کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ

١١

صفحہ ١٠٢

جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا۔ اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا جو اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔‘‘

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٢ خزائن ج ١٧، ص ٤٢١)

اس دعویٰ میں قرآن کی آیت کی تحریف ہے اللہ تعالیٰ ایسی بے ایمانیوں سے بچائے کیا رسول اللہ ﷺ سے لے کر آج تک مسلمان گمراہ ہی رہے کہ انھوں نے اس آیت کا مصداق رسول اللہ ﷺ کو غلط معنی پہنائے رکھا تھا؟ (معاذ اللہ)

برادرانِ اسلام! آئندہ درج شدہ حوالہ جات سے یہ صاف ظاہر ہو جائے گا کہ قادیانی نبی اپنے ہی فیصلہ کے مطابق کافر ہے، خارج از اسلام ہے، ملعون ہے، پاگل ہے، منافق ہے، مخبوط الحواس ہے اور جھوٹا ہے۔

قادیانی نبی کی متضاد باتیں

”قادیان طاعون سے اس لیے محفوظ رکھی گئی ہے کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔“

(دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)

”اگرچہ طاعون تمام بلاد پر اپنا پرہیبت اثر ڈالے گی مگر قادیان یقیناً اس کی دستبرد سے محفوظ رہے گا۔“ (اخبار الحکم ١٠ اپریل ١٩٠٢ء)

”طاعون کے دنوں میں جب قادیان میں طاعون زور پر تھا۔ میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا۔“

(حقیقۃ الوحی حاشیہ ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

چونکہ یہ امر ممنوع ہے کہ طاعون زدہ لوگ اپنے دیہات کو چھوڑ کر دوسری جگہ جائیں اس لیے اپنی جماعت کے ان تمام لوگوں کو جو طاعون زدہ علاقہ میں ہیں۔ منع کرتا ہوں کہ وہ اپنے علاقہ سے نکل کر قادیان یا دوسری جگہ جانے کا ہرگز قصد نہ کریں اور دوسروں کو بھی روکیں اور اپنے مقامات سے ہرگز نہ ہلیں۔ (اشتہار لنگر خانہ کا انتظام مجموعہ اشتہارات ج ٣، ص ٤٧٦ حاشیہ)

”مجھے معلوم ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہیے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ ورنہ خدا تعالیٰ سے لڑنے والے ٹھہرائے جائیں گے۔“ (ریویو ج ٩، ص ٣٦٥ ستمبر ١٩٠٧ء مریدوں کے لیے عام ہدایت)

١٢

صفحہ ١٠٣

برادران اسلام! میں اس رسالہ میں مرزا صاحب کی کتابوں کے حوالے سے ثابت کر چکا ہوں کہ مرزا قادیانی کو نبی نہ ماننے والے مسلمان حرام زادے ہیں۔ مرزا قادیانی کے مخالف سور اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں۔ مرزا قادیانی کو نہ ماننے والے شیطان ہیں۔

”کسی انسان کو حیوان کہنا بھی ایک قسم کی گالی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٦، حاشیہ خزائن ج ٣، ص ١١٥)

”جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے۔“

(ازالہ ص ١٣، خزائن ج ٣، ص ١٠٩)

”گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا طریق شرافت نہیں۔“ (ضمیمہ اربعین نمبر ٣، ٤، ص ٥، خزائن ج ١١، ص ٤٢٧)

”ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی قرار نہیں دے سکتے چہ جائیکہ نبی قرار دیں۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، حاشیہ خزائن ج ١١، ص ٢٩٣)

مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی تھا۔

(البشریٰ جلد نمبر ١، صفحہ ٢٤)

”حضرت مسیح خدا کے متواضع اور حکیم اور عاجز اور بے نفس بندے تھے۔“ (مقدمہ براہین احمدیہ ص ١٠٤، حاشیہ خزائن ج ١، ص ٩٤)

مرزا قادیانی مسیح کے معجزے کے متعلق کہتے ہیں: ”ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن مجید سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔“ (ازالہ اوہام ص ٣٠٧، حاشیہ خزائن ج ٣، ص ٢٥٦)

”حضرت مسیح کی چڑیاں باوجود یہ کہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٦٨، خزائن ج ٥، ص ایضاً)

”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے (یسوع) معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم، حاشیہ خزائن ج ١١، ص ٢٩٠)

”اور سچ صرف اس قدر ہے کہ یسوع مسیح نے بھی بعض معجزات دکھلائے جیسا کہ نبی دکھلاتے تھے۔“ (ریویو آف ...... ج ١ نمبر ٩، ص ٣٤٢، ماہ ستمبر ١٩٠٢ء)

”حضرت مسیح کی حقیقت نبوت کی یہ ہے کہ وہ براہِ راست بغیر اتباع آنحضرت ﷺ کے ان کو حاصل ہے۔“ (اخبار بدر ج ١ نمبر ٢٨ ص ٢٨، ٨ رمضان ١٣٢٠ھ)

”حضرت مسیح کی جو بزرگی ملی۔ وہ بوجہ تابعداری حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ملی۔“

(مکتوب احمدیہ، ج ٣، ص ١٢)

١٣

صفحہ ١٠٤

”خدا نے مسیح کو بن باپ پیدا کیا تھا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٦٨)

”حضرت مسیح بن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ ٢٢برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ٣٠٣، حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)

”یہ قرآن شریف کا مسیح اور اس کی والدہ پر احسان ہے کہ کروڑ ہا انسانوں کو یسوع کی ولادت کے بارے میں زبان بند کردی۔ اور ان کو تعلیم دی کہ تم یہی کہو کہ وہ بے باپ پیدا ہوا ۔“ (ریویو آف ریلیجنز ج١، نمبر ٤، ص ١٥٩، اپریل ١٩٠٢ء)

”خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

نوٹ: مرزا قادیانی کے نزدیک یسوع مسیح حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کے نام ہیں۔ چنانچہ مرزا کی عبارت ملاحظہ ہو۔ ”مسیح ابن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“ (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق متضاد باتیں

”میرا یہ دعوے ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیشگوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١١٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٥)

”اس عاجز نے جو مثل مسیح کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود کا خیال کر بیٹھے ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ١٩٥، خزائن ج ٣، ص ١٩٢)

”وہ ابن مریم جو آنے والا ہے کوئی نبی نہیں ہوگا۔“ (ازالہ اوہام ص ٢٩١، خزائن ج ٣، ص ٤٣٩)

”جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتا لگتا ہے اس کا انھیں حدیثوں میں یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی ہو گا۔“ (حقیقۃ الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣١)

”یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں آگئے ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ٤٢٣، خزائن ج ٣ ص ٣٣٦)

”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امتی قرار دینا کفر ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٩٢، خزائن ج ٢١ ص ٣٦٥)

١٤

صفحہ ١٠٥

”حضرت مسیح بن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ ٢٢ برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص

٣٠٣، حاشیہ خزائن ج ٣، ص ٢٥٥)

”خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، حاشیہ خزائن ج ١١، ص ٢٩٣)

نوٹ: مرزا قادیانی کے نزدیک یسوع مسیح حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کے نام ہیں۔ چنانچہ مرزا کی عبارت ملاحظہ ہو۔ ”مسیح ابن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں“۔ (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣، ص ٥٢)

کے متعلق متضاد باتیں

”اس عاجز نے جو مثل مسیح کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود کا خیال کر بیٹھے ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ١٩٥، خزائن ج ٣،

ص ١٩٢)

”جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتا لگتا ہے اس کا انھیں حدیثوں میں یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی ہو گا۔“ (حقیقة الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢، ص ٣١)

”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امتی قرار دینا کفر ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ

حصہ ٥ ص ١٩٢، خزائن ج ٢١، ص ٣٦٥)

”ہاں بعض احادیث میں عیسیٰ ابن مریم کے نزول کا لفظ پایا جاتا ہے لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں پاؤ گے کہ اس کا نزول آسمان سے ہوگا۔“ (حمامة البشری ص ٣١، خزائن ج ٧، ص ٢٠٢)

”مسیح آسمان پر جب اترے گا تو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔“

(تحفۃ الاذہان، ج ١ نمبر ٢ ص ٥، ماہ جون ١٩٠٦ء

ملفوظات ج ٨، ص ٤٤٥)

”بائبل اور ہماری حدیثوں اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“

(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣، ص ٥٢)

”حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں اور ان کا زندہ آسمان پر مع جسم عنصری جانا اور اب تک زندہ ہونا اور پھر کسی وقت مع جسم عنصری زمین پر آنا۔ یہ سب ان پر تہمتیں ہیں۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٢٣٠،

خزائن ج ٢١، ص ٣٠٦)

”آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے کچھ نہ تھا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧،

خزائن ج ١١، ص ٣٩١)

”ہم تو قرآن شریف کے فرمودہ کے مطابق حضرت عیسیٰ کو سچا نبی مانتے ہیں۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٠١،

خزائن ج ٢١، ص ٢٦٣)

”حضرت عیسیٰ تو انجیل کو ناقص کی ناقص چھوڑ کر آسمان پر جا بیٹھے۔“ (براہین احمدیہ

ص ٣٦١، خزائن ج ١، ص ٤٣١)

”حضرت عیسیٰ پر یہ ایک تہمت ہے کہ گویا وہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے۔“

(نصرۃ الحق براہین احمدیہ، ص ٤٥، خزائن ج ٢١، ص

٥٨)

”میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔“ (تریاق

القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥، ص ٤٣٢)

”دوسرے یہ کفر کہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا۔“

(حقیقة الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢، ص ١٨٥)

مسیح کے چال چلن کے متعلق مرزا لکھتا ہے:۔ ”ایک کھاؤ پیو، شرابی نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار خود بین خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“ (مکتوبات احمدیہ، ج ٣، ص ٢٣، ٢٤)

”انھوں نے (مسیح نے) اپنی نسبت کوئی ایسی دعویٰ نہیں کیا۔ جس سے وہ خدائی کے مدعی ثابت ہوں۔“ (لیکچر سیالکوٹ ص ٣٤،

خزائن ج ٢٠، ص ٢٣٦)

١٥

صفحہ ١٠٦

مرزا صاحب کا اپنے متعلق فیصلہ کہ خارج از اسلام اور کافر ہے

”وما کان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین“ اور مجھے کہاں یہ حق پہنچتا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جا کر مل جاؤں۔ یہ کیوں کر ممکن ہے کہ مسلمان ہو کر نبوت کا ادعا کروں۔ (حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧، ص ٢٩٧)

”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ (اخبار بدر، ٥ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠، ص ١٢٧) نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔ (حقیقة الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢، ص ٤٠٦)

”اور خدا کی پناہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی اور سردار دو جہان محمد مصطفےٰ کو خاتم النبیین بنا دیا۔ میں نبوت کا مدعی بنوں۔“ (حمامة البشریٰ ص ٨٣، خزائن ج ٧، ص ٣٠٢)

”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“ (دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨، ص ٢٣١)

مرزا کا اپنے ملعون ہونے کا فیصلہ

”ان پر واضح ہو کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل ہیں۔ اور آنحضرت صلعم کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“ (تبلیغ رسالت ج ٢، ص ٣٢۔ مجموعہ اشتہارات ج ٢، ص ٢٩٧)

”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“ (اخبار بدر ٥ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)

”نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔“ (حقیقة الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢، ص ٤٠٦)

مرزا کا اپنے متعلق فیصلہ کہ منافق اور پاگل ہیں

”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیوں کہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“ (ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠، ص ١٤٣)

١٦

صفحہ ١٠٧

مرزا کا اپنے متعلق فیصلہ کہ مخبوط الحواس ہیں

”اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی ص ١٨٢، خزائن ج ٢٢،ص ١٩١)

مرزا کا اپنے متعلق فیصلہ کہ دانش مند نہیں

اور ان کے حواس درست نہیں

”کوئی دانشمند اور قائم الحواس آدمی ایسے دو متضاد اعتقاد ہرگز نہیں رکھ سکتا۔“

(ازالۃ اوہام، ص ٢٣٩،خزائن ج ٣،ص ٢٢٠)

مرزا کا اپنے متعلق فیصلہ کہ جھوٹے ہیں

”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ، ص ١١١، ج ٥، خزائن ج ٢١،ص ٢٧٥)

برادران اسلام: بندہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی صحیح پوزیشن آپ کے سامنے واضح کر دی ہے۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کے دین اسلام پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمادے۔ اور جو لوگ مرزائی ہو کر دائرہ اسلام سے خارج ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں تائب ہو کر پھر اسلام کا متبع بنائے۔ آمین یا الہ العالمین۔

١٧

PDF 108

حضور ساقی کوثر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اللہ اللہ ! مُحَمَّد ترا نام اے ساقی اُن گنت تجھ پہ درود اور سلام اے ساقی
بعد اللہ کے ہے تیرا مقام اے ساقی کس کی جُرأت ہے کرے اِس میں کلام اے ساقی
از اَزَل تا بہ اَبَد تیری ہے سرداری ہے سَیِّدُ الکُل ہے تُو ہے سب کا امام اے ساقی
تجھ پہ اللہ کی رحمت کا ہے سایہ ہر دم کُل جہاں پر تری رحمت ہے مُدام اے ساقی
فرشیوں پر تو عنایات کی کچھ حد ہی نہیں عرشیوں پر بھی ترا فیض ہے عام اے ساقی
واسطہ تجھ کو براہیم کی فرزندی کا ایک کوثر کا چھلکتا ہُوا جام اے ساقی
آلِ اطہار کے صدقے ہو عطا اک ساغر اک پیالہ پئے اصحابِ کرام اے ساقی
خستہ جانوں سے کوئی پوچھے حلاوت اس کی راحتِ جان و جگر ہے ترا نام اے ساقی
کبھی تنہائی میں محسوس کیا کرتا ہوں، صحنِ دل میں ترا آہستہ خرام اے ساقی
مہ جبیں لاکھ سہی شہرہ آفاق مگر اُن کے حلقے میں ہے تو ماہِ تمام اے ساقی
نازنیں ایک سے اِک بڑھ کے چمن میں آئے ہے تری ذات مگر رشکِ گلفام اے ساقی
وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکْ ہے خدا کا اِرشاد اَز اَزَلْ تا بہ اَبَدْ تیرا پیام اے ساقی
مٹنے والے ہیں سبھی نقش جہانداروں کے نقش ہے تیرا فقط نقشِ دوام اے ساقی
تجھ پہ اللہ کا اور اُس کے فرشتوں کا سلام ہم غلاموں کی بھی جانب سے سلام اے ساقی
سوچتا ہوں، غمِ دل عرض کروں یا نہ کروں اِن دنوں فکر سے ہے جینا حرام اے ساقی
خوار ہے عالمِ اِسلام نصاریٰ کے تلے آج اُمت کا دِگرگُوں ہے نظام اے ساقی
نگہِ لُطف غریباں پہ خُدارا ہو جائے پھر سنور جائے یہ بگڑا ہُوا کام اے ساقی
دل میرا ڈوب رہا ہے کہ تہی دامن ہوں ہونے والی ہے اُدھر زیست کی شام اے ساقی
ایک اُمیدِ شفاعت ہے فقط زادِ سفر جس سے ہمت سی بندھے کچھ گام بہ گام اے ساقی
لاج رکھنا کہ ترے رحم و کرم پر ہے نفیسؔ یہ ترے در کا غلام ابنِ غلام اے ساقی

نفیسؔ

PDF 109

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میرے بعد کوئی نبی نہیں

ملت اسلامیہ کا موقف

مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ

صفحہ ٢

بسم الله الرحمن الرحيم!

تعارف!

نحمده ونصلى على رسوله خاتم النبيين، امابعد!

١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں ربوہ اور لاہوری پارٹی کے مرزائی سربراہوں نے اپنا اپنا موقف قومی اسمبلی میں پیش کیا۔

امت محمدیہ کی طرف سے شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی زیر نگرانی مولانا محمد حیاتؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے مرزائیت سے متعلق مذہبی و سیاسی مواد جمع کیا جس سے مرزائیت کی مذہبی و سیاسی حیثیت کو سمجھا، پرکھا، ناپا، تولا جاسکتا ہے۔ مذہبی حصہ کی ترتیب و تدوین حضرت مولانا محمد تقی عثمانی جسٹس سپریم کورٹ وفاقی شرعی عدالت اور سیاسی حصہ کی ترتیب و تدوین مولانا سمیع الحق ممبر سینٹ آف پاکستان نے کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فوری طور پر اسی ہزار روپے کی لاگت سے اسے شائع کر دیا۔ جسے مفکر اسلام مولانا مفتی محمود صاحبؒ نے قومی اسمبلی میں پڑھا۔ یہ کتاب رد قادیانیت پر لٹریچر کا نچوڑ ہے۔ اسے عربی، انگریزی میں بھی جماعت نے شائع کیا۔ اکوڑہ خٹک و مکتبہ امدادیہ ملتان نے اس کا اردو ایڈیشن شائع کیا ہے۔

اب اسے احتساب قادیانیت کی پندرھویں جلد میں شائع کرنے کی سعادت نصیب ہورہی ہے۔ اللہ رب العزت حضرت مولانا مفتی محمود مفکر اسلام سے اس تعلق کو ہمارے لئے سعادت دارین کا باعث بنائیں۔ وما ذالك على الله بعزيز!

فقیر: اللہ وسایا... ١٤٢٧/٤/١٠ھ... ٢٠٠٦/٥/٩ء

صفحہ ١١١

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَ لَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ.

”اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے، یا کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے، حالانکہ اس پر کوئی وحی نہ آئی ہو۔“ (انعام ٩٣)

ارشاد آنحضرت ﷺ

اِنَّهٗ سَيَكُوْنُ فِىْ اُمَّتِىْ كَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ اَنَّهٗ نَبِىٌّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِىَّ بَعْدِىْ.

”میری امت میں تیس کذاب پیدا ہوں گے۔ ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ (حدیث صحیح)

(ابو داؤد جلد دوم ص ١٢٧ باب الفتن ترمذی، جلد دوم ص ٤٥ ابواب الفتن)

مصور پاکستان کی فریاد

”میری رائے میں حکومت کے لیے بہترین طریق کار یہ ہوگا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کرلے، یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا اور مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا، جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملے میں اختیار کرتا ہے۔“ حرف اقبال، ص ١٢٨: مطبوعہ لاہور

”ملت اسلامیہ کو اس مطالبے کا پورا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا، کہ حکومت اس نئے مذہب کی سرپرستی کر رہی ہے۔ حکومت نے ١٩١٩ء کا انتظار نہ کیا، اب وہ قادیانیوں کو (ہندوؤں سے) الگ کرنے سے کیوں انکار کر رہی ہے۔ (حرف اقبال، ص ١٢٨)

صفحہ ١١٢

مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے

مرزا بشیر احمد قادیانی کی رائے

”مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کا یہ دعویٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مامور ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے، دو حالتوں سے خالی نہیں، یا تو وہ نعوذ باللہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے اور محض افتراء علی اللہ کے طور پر دعویٰ کرتا ہے، تو ایسی صورت میں نہ صرف وہ کافر بلکہ بڑا کافر ہے، اور یا مسیح موعود اپنے دعویٰ الہام میں سچا ہے اور خدا سچ مچ اس سے ہم کلام ہوتا تھا، تو اس صورت میں بلاشبہ یہ کفر انکار کرنے والے پر پڑے گا۔ پس اب تم کو اختیار ہے کہ یا مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان کہہ کر مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگاؤ، اور یا مسیح موعود کو سچا مان کر اس کے منکروں کو کافر جانو۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ تم دونوں کو مسلمان سمجھو۔“ ”کلمۃ الفصل“ ص ١٤٣ مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ج ١٤ مارچ و اپریل ١٩١٥ء

قادیانی لاہوری جماعت کے امیر محمد علی لاہوری کا ایک بیان

The Ahmadiyya Movement stands in the same relation to Islam in which christianity stood to judaism.

”تحریک احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ تھا۔“

(اقتباس از ”مباحثہ راولپنڈی“ مطبوعہ قادیان، ص ٢٤٠)

٤

صفحہ ١١٣

عقیدۂ ختم نبوت

اور

مرزائی جماعتیں

ہم نے اپنی قرارداد میں کہا ہے کہ!

”یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔“

٥

صفحہ ١١٤

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قرارداد

جناب اسپیکر، قومی اسمبلی پاکستان محترمی!

ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں:

ہر گاہ کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد قادیانی نے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا، نیز ہر گاہ کہ نبی ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان، بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھیں۔

نیز ہر گاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔

نیز ہر گاہ کہ پوری امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار، چاہے وہ مرزا غلام احمد قادیانی مذکور کی نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

نیز ہر گاہ ان کے پیروکار چاہے انھیں کوئی بھی نام دیا جائے مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

نیز ہر گاہ کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کانفرنس میں جو مکۃ المکرمہ مقدس شہر میں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر انتظام ٦ اور ١٠ اپریل ١٩٧٤ء کے درمیان منعقد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے ١٤٠ مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی۔ متفقہ طور پر یہ رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی

٦

صفحہ ١١٥

تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔

اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کارروائی کرنی چاہیے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار، انھیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو مؤثر بنانے کے لیے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔

محرکین قرارداد

٧

نوٹ بعد میں حسب ذیل ارکان نے بھی قرارداد پر دستخط کیے۔

صفحہ ١١٦

بسم الله الرحمن الرحيم

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَوٰةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِهِ خَاتَمِ النَّبِيّيْنَ، وَعَلَى اٰلِهِ وَ اَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ وَعَلَى مَنْ تَبِعَهُمْ بِاِحْسَانٍ اِلَى يَوْمِ الدِّيْنِ.

اسلام کی بنیاد توحید اور آخرت کے علاوہ جس اساسی عقیدے پر ہے، وہ یہ ہے کہ، نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نبوت اور رسالت کے مقدس سلسلے کی تکمیل ہو گئی اور آپ ﷺ کے بعد کوئی بھی شخص کسی بھی قسم کا نبی نہیں بن سکتا اور نہ آپ ﷺ کے بعد کسی پر وحی آ سکتی ہے اور نہ ایسا الہام جو دین میں حجت ہو۔ اسلام کا یہی عقیدہ ”ختم نبوت“ کے نام سے معروف ہے اور سرکار دو عالم ﷺ کے وقت سے لے کر آج تک پوری امت مسلمہ کسی ادنیٰ اختلاف کے بغیر اس عقیدے کو جزو ایمان قرار دیتی آئی ہے۔ قرآن کریم کی بلا مبالغہ بیسیوں آیات اور آنحضرت ﷺ کی سینکڑوں احادیث اس کی شاہد ہیں۔ یہ مسئلہ قطعی طور پر مسلّم اور طے شدہ ہے اور اس موضوع پر بے شمار مفصل کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں۔

یہاں ان تمام آیات اور احادیث کو نقل کرنا غیر ضروری بھی ہے اور موجب تطویل بھی۔ البتہ یہاں جس چیز کی طرف بطور خاص توجہ دلانا ہے وہ یہ ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے عقیدہ ختم نبوت کی سینکڑوں مرتبہ توضیح کے ساتھ یہ پیشگی خبر بھی دی تھی کہ:

لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيْباً مِنْ ثَلَاثِيْنَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ اَنَّهٗ رَسُولُ اللّٰهِ. ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تیس کے لگ بھگ دجال اور کذاب پیدا نہ ہوں جن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔“

(صحیح بخاری ص ١٠٥٢ ج ٢ کتاب الفتن ، صحیح مسلم ص ٣٩٧ ج ٢ کتاب الفتن)

نیز ارشاد فرمایا تھا کہ:

اِنَّهُ سَيَكُونُ فِيْ اُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلٰثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ اَنَّهٗ نَبِيٌّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي. ”قریب ہے کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“

(ابوداؤد ص ٤٢٧ ج ٢ باب الفتن ، ترمذی ص ٤٥ ج ٢ ابواب الفتن)

٨

صفحہ ١١٧

اس حدیث میں آپ ﷺ نے اپنے بعد ہونے والے مدعیان نبوت کے لیے ”دجال“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کے لفظی معنی ہیں، ”شدید دھوکہ باز“ اس لفظ کے ذریعہ سرکار دو عالم ﷺ نے پوری امت کو خبردار فرمایا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد جو مدعیان نبوت پیدا ہوں گے وہ کھلے لفظوں میں اسلام سے علیحدگی کا اعلان کرنے کے بجائے دجل و فریب سے کام لیں گے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے نبوت کا دعویٰ کریں گے اور اس مقصد کے لیے امت کے مسلمہ عقائد میں ایسی

صفحہ ١١٨

بات بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ عقیدۂ توحید کے مطابق بڑا خدا تو صرف ایک ہی ہے لیکن چھوٹے چھوٹے معبود اور دیوتا بہت سے ہو سکتے ہیں، اور وہ سب قابل عبادت ہیں۔ اگر اس قسم کی تاویلات کو دائرہ اسلام میں گوارا کر لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسلام کا اپنا کوئی عقیدہ، کوئی فکر، کوئی حکم اور کوئی اخلاقی قدر متعین نہیں ہے بلکہ (معاذ اللہ) یہ ایک ایسا جامہ ہے جسے دنیا کا بدتر سے بدتر عقیدہ رکھنے والا شخص بھی اپنے اوپر فٹ کر سکتا ہے۔ لہٰذا امت مسلمہ قرآن وسنت کے متواتر ارشادات کے مطابق اپنے سرکاری احکام، عدالتی فیصلوں اور اجتماعی فتاویٰ میں اسی اصول پر عمل کرتی آئی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد جس کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا، خواہ وہ مسیلمہ کذاب کی طرح کلمہ گو ہو، اسے اور اس کے متبعین کو بلا تأمل کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا چاہے وہ عقیدۂ ختم نبوت کا کھلم کھلا منکر ہو، یا مسیلمہ کی طرح یہ کہتا ہو کہ آپ ﷺ کے بعد چھوٹے چھوٹے نبی آ سکتے ہیں یا سجاح کی طرح یہ کہتا ہو کہ مردوں کی نبوت ختم ہو گئی اور عورتیں اب بھی نبی بن سکتی ہیں، یا مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح اس بات کا مدعی ہو کہ غیر تشریعی ظلی اور بروزی اور امتی نبی ہو سکتے ہیں۔

امت مسلمہ کے اس اصول کی روشنی میں جو قرآن وسنت اور اجماع امت کی رو سے قطعی طے شدہ اور ناقابل بحث و تاویل ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے مندرجہ ذیل دعوؤں کو ملاحظہ فرمائیے۔

”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

”میں رسول اور نبی ہوں، یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے، میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔“ (نزول مسیح ص ٣ خزائن ج ١٨ ص ٣٨١)

”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔“ (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٨ خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

”میں جبکہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بہ چشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں اور جبکہ خود خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کر دوں یا اس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٦ خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

”خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام

١٠

صفحہ ١١٩

میری طرف منسوب کیے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں اسمعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں عیسیٰ ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمد ﷺ اور احمد ہوں۔‘‘

(حاشیۃ حقیقۃ الوحی ص ٧٢ خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

”چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا، حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے، حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوئی اس میں بیسیوں الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صد ہا بار، پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)

”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“

(ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)

”انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بہ عرفان نہ کمترم ز کسے“

(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

یعنی ”انبیاء اگرچہ بہت سے ہوئے ہیں مگر میں معرفت میں کسی سے کم نہیں ہوں۔“ یہ صرف ایک انتہائی مختصر نمونہ ہے ورنہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں اس قسم کے دعوؤں سے بھری پڑی ہیں۔

مرزا قادیانی کے درجہ بدرجہ دعوے بعض مرتبہ مرزائی صاحبان مسلمانوں کو غلط فہمی میں ڈالنے کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی کے ابتدائی دور کی عبارتیں پیش کرتے ہیں جن میں انھوں نے علی الاطلاق دعوائے نبوت کو کفر قرار دیا ہے لیکن خود مرزا قادیانی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ مجدد، محدث، مسیح موعود اور مہدی کے مراتب سے ”ترقی“ کرتے ہوئے درجہ بدرجہ نبوت کے منصب تک پہنچے ہیں۔ انھوں نے اپنے دعوؤں کی جو تاریخ بیان کی ہے، اسے ہم پوری تفصیل کے ساتھ انہی کے الفاظ میں نقل کرتے ہیں تاکہ ان کی عبارت کو پورے سیاق و سباق میں دیکھ کر ان کا پورا مفہوم واضح ہو سکے۔ کسی نے مرزا قادیانی سے سوال کیا تھا کہ آپ کی عبارتوں میں یہ تناقض نظر آتا ہے کہ کہیں آپ اپنے آپ کو ”غیر نبی“ لکھتے ہیں اور کہیں اپنے آپ کو ”مسیح سے تمام شان میں بڑھ کر“ قرار دیتے ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے مرزا قادیانی حقیقۃ الوحی میں لکھتے ہیں:

١١

صفحہ ١٢٠

”اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا، مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں، اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول ﷺ نے دی تھی مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا۔ اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے، اس لیے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا۔ لیکن بعد اس کے اس بارے میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے اور ساتھ اس کے صدہا نشان ظہور میں آئے اور زمین و آسمان دونوں میری تصدیق کے لیے کھڑے ہو گئے اور خدا کے چمکتے ہوئے نشان میرے پر جبر کر کے مجھے اس طرف لے آئے کہ آخری زمانہ میں مسیح آنے والا میں ہی ہوں ورنہ میرا اعتقاد تو وہی تھا....... جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا۔

اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے؟ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی....... میں اس کی پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں...... میں تو خدا تعالیٰ کی وحی کی پیروی کرنے والا ہوں، جب تک مجھے اس سے علم نہ ہوا۔ میں وہی کہتا رہا جو اوائل میں میں نے کہا اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٤٩، ١٥٠ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣،١٥٤)

مرزا قادیانی کی یہ عبارت اپنے مدعا پر اس قدر صریح ہے کہ کسی مزید تشریح کی حاجت نہیں، اس عبارت کے بعد اگر کوئی شخص ان کی اس زمانے کی عبارتیں پیش کرتا ہے۔ جب وہ دعوائے نبوت کی نفی کرتے تھے اور جب (بزعم خویش) انھیں اپنے نبی ہونے کا علم نہیں ہوا تھا تو اسے دجل و فریب کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے؟

١٢

صفحہ ١٢١

مرزا قادیانی کا آخری عقیدہ حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا آخری عقیدہ جس پر ان کا خاتمہ ہوا یہی تھا کہ وہ نبی ہیں، چنانچہ انھوں نے اپنے آخری خط میں جو ٹھیک ان کے انتقال کے دن اخبار عام میں شائع ہوا، واضح الفاظ میں لکھا کہ: ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں؟ میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔“

(اخبار عام ٢٦ مئی ١٩٠٨ء منقول از حقیقۃ النبوۃ مرزا محمود ص ٢٧١ و مباحثہ راولپنڈی ص ١٤٦)

یہ خط ٢٣ مئی ١٩٠٨ء کو لکھا گیا اور ٢٦ مئی کو اخبار عام میں شائع ہوا اور ٹھیک اسی دن مرزا قادیانی کا انتقال ہو گیا۔

غیر تشریعی نبوت کا افسانہ بعض مرتبہ مرزائی صاحبان کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے غیر تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور غیر تشریعی نبوت عقیدہ ختم نبوت کے منافی نہیں لیکن دوسری مرزائی تاویلات کی طرح اس تاویل کے بھی صغریٰ کبریٰ دونوں غلط ہیں۔ اوّل تو یہ بات ہی سرے سے درست نہیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ صرف غیر تشریعی نبوت کا تھا۔

مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت تشریعی حقیقت تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے روز افزوں دعاویٰ کے دور میں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا ہے جب انھوں نے غیر تشریعی نبوت سے بھی آگے قدم بڑھا کر واضح الفاظ میں اپنی وحی اور نبوت کو تشریعی قرار دیا ہے اور اسی بناء پر ان کے متبعین میں سے ظہیر الدین اروپی کا فرقہ انھیں کھلم کھلا تشریعی نبی مانتا تھا۔ اس سلسلے میں مرزا قادیانی کی چند عبارتیں یہ ہیں۔ اربعین نمبر ٤ میں لکھتے ہیں: ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں، کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔ اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام

صفحہ ١٢٢

ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰی صُحُفِ اِبْرَاهِيْمَ وَمُوْسٰی یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفا امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥، ٤٣٦)

مذکورہ بالا عبارت میں مرزا قادیانی نے واضح الفاظ میں اپنی وحی کو تشریعی وحی قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ دافع البلاء میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

(دافع البلاء ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام تشریعی نبی تھے اور جو شخص آپ سے ”تمام شان میں“ یعنی ہر اعتبار سے بڑھ کر ہو تو وہ تشریعی نبی کیوں نہیں ہوگا؟ اس لیے یہ کہنا کسی طرح درست نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کبھی اپنی تشریعی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔

اس کے علاوہ مرزائی صاحبان عملاً مرزا قادیانی کو تشریعی نبی ہی قرار دیتے ہیں، یعنی ان کی ہر تعلیم اور ان کے ہر حکم کو واجب الاتباع مانتے ہیں۔ خواہ وہ شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے خلاف ہو، چنانچہ مرزا قادیانی نے اربعین میں لکھا ہے:۔

”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کیے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لیے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٣ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)

حالانکہ نبی کریم ﷺ کا واضح اور صریح ارشاد موجود ہے کہ اَلْجِهَادُ مَاضٍ منذ بعثنی اللّٰه الیٰ ان یقاتل آخر امتی الدجال. (ابوداؤد ج ١ ص ٢٥٢ باب الغزو مع أئمۃ الجور) ”یعنی جہاد بعثت نبوی ﷺ سے قیامت تک جاری رہے گا۔“ مرزائی صاحبان شریعت محمدیہ کے اس صریح اور واضح حکم کو چھوڑ کر مرزا قادیانی کے حکم کی اتباع کرتے ہیں۔ اس طرح شریعت محمدیہ میں جہاد، خمس، فئی، جزیہ اور غنائم کے تمام احکام جو حدیث اور فقہ کی کتابوں

١٤

صفحہ ١٢٣

میں سینکڑوں صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں، ان سب میں مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا قول کے مطابق تبدیلی کے قائل ہیں۔ اس کے بعد تشریعی نبوت میں کون سی کسر باقی رہ جاتی ہے؟

ختم نبوت میں کوئی تفریق نہیں اور اگر بالفرض یہ درست ہو کہ مرزا قادیانی ہمیشہ غیر تشریعی نبوت ہی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں تب بھی ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ عقیدۂ ختم نبوت میں یہ تفریق کرنا کہ فلاں قسم کی نبوت ختم ہو گئی ہے اور فلاں قسم کی باقی ہے، اسی ”دجل و تلبیس“ کا ایک جزو ہے جس سے سرکارِ دو عالم ﷺ نے خبردار فرمایا تھا۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کریم کی کون سی آیت یا سرکارِ دو عالم ﷺ کے کون سے ارشاد میں یہ بات مذکور ہے کہ ختمِ نبوت کے جس عقیدے کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے سینکڑوں بار دہرایا جا رہا ہے وہ صرف تشریعی نبوت کے لیے ہے اور غیر تشریعی نبوت اس سے مستثنیٰ ہے؟ اگر غیر تشریعی انبیاء کا سلسلہ آپ ﷺ کے بعد بھی جاری تھا تو قرآن کریم کی ابدی آیات نے سرکارِ دو عالم ﷺ کی لاکھوں احادیث میں سے کسی ایک حدیث نے، یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بے شمار اقوال میں سے کسی ایک قول ہی نے یہ بات کیوں بیان نہیں کی؟ بلکہ کھلے لفظوں میں ہمیشہ یہی واضح کیا جاتا رہا کہ ہر قسم کی نبوت بالکل منقطع ہو چکی اور اب کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا، ختمِ نبوت کی سینکڑوں احادیث میں سے خاص طور پر مندرجہ ذیل احادیث دیکھئے:

اِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِيْ وَلَا نَبِيَّ

(رواہ الترمذی ج ٢ ص ٥٣ ابواب الرؤیا وقال صحیح)

”بے شک رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی۔ پس نہ میرے بعد کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی۔“

یہاں اوّل تو نبی اور رسول کے ساتھ نبوت اور رسالت کے وصف ہی کو بالکلیہ منقطع قرار دیا گیا، دوسرے رسول اور نبی دو لفظ استعمال کر کے دونوں کی علیحدہ علیحدہ نفی کی گئی اور یہ بات طے شدہ ہے کہ جہاں یہ دونوں لفظ ساتھ ہوں وہاں رسول سے مراد نئی شریعت لانے والا اور نبی سے مراد پرانی شریعت ہی کا متبع ہوتا ہے۔ لہٰذا اس حدیث نے تشریعی اور غیر تشریعی دونوں قسم کی نبوت کو صراحۃً ہمیشہ کے لیے منقطع قرار دے دیا۔

آنحضرت ﷺ نے اپنے آخری اوقاتِ حیات میں جو بات بطور وصیت ارشاد فرمائی، اس میں حضرت ابن عباسؓ کی روایت کے مطابق یہ الفاظ بھی تھے۔

١٥

صفحہ ١٢٤

يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ.

(رواہ مسلم ج ١ ص ١٩١ باب النہی عن قراءة القرآن فی الرکوع والسجود، النسائی وغیرہ)

”اے لوگو! مبشرات نبوت میں سے سوائے اچھے خوابوں کے کچھ باقی نہیں رہا۔“

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ فُوْا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ أَعْطُوْهُمْ حَقَّهُمْ. ”بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء علیہم السلام کرتے تھے، جب کوئی نبی وفات پاتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لے لیتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا خلفاء کے بارے میں آپ ﷺ کا کیا ارشاد ہے، فرمایا کہ یکے بعد دیگرے ان کی بیعت کا حق ادا کرو۔“

(صحیح بخاری ص ٤٩١ ج ١ کتاب الانبیاء و مسلم ص ١٢٦ ج ٢ کتاب الامارة)

اس حدیث میں جن انبیائے بنی اسرائیل کا ذکر ہے وہ کوئی نئی شریعت نہیں لائے تھے، بلکہ حضرت موسیٰ ؑ ہی کی شریعت کا اتباع کرتے تھے لہٰذا غیر تشریعی نبی تھے۔ حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بتا دیا کہ میری امت میں ایسے غیر تشریعی نبی بھی نہیں ہوں گے۔ نیز لَا نَبِيَّ بَعْدِي کہنے کے ساتھ آپ ﷺ نے اپنے بعد آنے والے خلفاء تک کا ذکر کر دیا لیکن کسی غیر تشریعی یا ظلی بروزی نبی کا کوئی اشارہ بھی نہیں دیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ مرزائی اعتقاد کے مطابق دنیا میں ایک ایسا عظیم نبی آنے والا تھا، جو تمام انبیائے بنی اسرائیل سے افضل تھا۔ اس میں (معاذ اللہ) تمام کمالات محمدیہ ﷺ دوبارہ جمع ہونے والے تھے اور اس کے تمام انکار کرنے والے کافر، گمراہ، شقی اور عذاب الٰہی کا نشانہ بننے والے تھے اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے نہ صرف یہ کہا کہ آپ ﷺ کے بعد تمام نبوت کا دعویٰ کرنے والے دجال ہوں گے اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا بلکہ آپ ﷺ کے بعد کے خلفاء تک کا ذکر کیا گیا، لیکن ایسے عظیم الشان نبی کی طرف کوئی اشارہ تک نہیں کیا گیا۔ اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا نکلتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے (معاذ اللہ) اپنے بندوں کو جان بوجھ کر ہمیشہ کے لیے ایک گمراہ کن دھوکے میں مبتلا کر دیا تاکہ وہ علی الاطلاق ہر قسم کی نبوت کو ختم سمجھیں اور آنے والے غیر تشریعی نبی کو جھٹلا کر کافر، گمراہ اور مستحق عذاب بنتے رہیں کیا کوئی شخص دائرہ اسلام میں رہتے ہوئے اس بات کا تصور بھی کر سکتا ہے؟

صفحہ ١٢٥

عربی صرف ونحو کا ابتدائی طالب علم بھی جانتا ہے کہ عربی زبان کے قواعد کی رو سے لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ (میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا) کا جملہ ایسا ہی ہے جیسے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) لہٰذا اگر اول الذکر جملے میں کسی چھوٹے درجے کے غیر تشریعی یا طفیلی نبی کی گنجائش نکل سکتی ہے تو کوئی شخص یہ کیوں نہیں کہہ سکتا کہ مؤخر الذکر جملے میں ایسے چھوٹے خداؤں کی گنجائش ہے جن کی معبودیت (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ کا ظل، بروز ہونے کی وجہ سے ہے، اور جو مستقل بالذات خدا نہیں۔ ہر باخبر انسان کو معلوم ہے کہ دنیا کی بیشتر مشرک قومیں ایسی ہیں جو مستقل بالذات خدا صرف اللہ تعالیٰ کو قرار دیتی ہیں اور ان کا شرک صرف اس بنا پر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کچھ ایسے دیوتاؤں اور معبودوں کے بھی قائل ہیں جن کی خدائی مستقل بالذات نہیں۔ کیا ان کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کے قائل ہیں؟ اگر بالواسطہ خداؤں کے اعتقاد کے ساتھ اسلام کا پہلا عقیدہ یعنی عقیدۂ توحید سلامت نہیں رہ سکتا تو آپ ﷺ کے بعد بالواسطہ یا غیر تشریعی انبیاء کے اعتقاد کے ساتھ اسلام کا دوسرا عقیدہ یعنی عقیدۂ ختم نبوت کیسے سلامت رہ سکتا ہے؟

یہاں یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ حضرت مسیح ؑ کی حیات اور نزول ثانی کے عقیدے کو عقیدۂ ختم نبوت سے متصادم قرار دینا اسی خلط مبحث کا شاہکار ہے جسے احادیث میں مدعیانِ نبوت کے ”دجل“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ختم نبوت کی آیات اور احادیث کو پڑھ کر ایک معمولی سمجھ کا انسان بھی وہی مطلب سمجھے گا، جو پوری امت نے اجماعی طور پر سمجھے ہیں، یعنی یہ کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوسکتا، اس سے یہ نرالا نتیجہ کوئی ذی ہوش نہیں نکال سکتا کہ آپ ﷺ کے بعد پچھلے انبیاء علیہم السلام کی نبوت چھن گئی ہے یا پچھلے انبیاء میں سے کوئی باقی نہیں رہا۔ اگر کسی شخص کو آخِرُ الْاَوْلَاد یا خَاتِمُ الْاَوْلَاد یعنی فلاں شخص کا آخری لڑکا قرار دیا جائے تو کیا کوئی شخص بقائمی حواس اس کا یہ مطلب سمجھ سکتا ہے کہ اس لڑکے سے پہلے جتنی اولاد ہوئی تھی وہ سب مر چکی؟ پھر آخر خاتم الانبیاء یا آخر الانبیاء کے لفظ کا یہ مطلب کونسی لغت، کونسی عقل اور کونسی شریعت کی روشنی میں لیا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام تشریف لائے تھے وہ سب وفات پا چکے؟

خود مرزا قادیانی ”خاتم الاولاد“ کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”سو ضرور ہوا کہ وہ شخص جس پر بہ کمال و تمام دورۂ حقیقت آدمیہ ختم ہو وہ خاتم الاولاد ہو، یعنی اس کی موت کے بعد کوئی کامل انسان کسی عورت کے پیٹ سے نہ نکلے۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧ خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)

صفحہ ١٢٦

آگے لکھتا ہے:

”میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا اور میں ان

(تریاق القلوب ص ١٥٧ خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)

کے لیے خاتم اولاد تھا۔“

خود مرزا قادیانی کی اس تشریح کے مطابق بھی خاتم النبیین کے معنی اس کے سوا اور کیا ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی ماں کے پیٹ سے نہیں نکلے گا۔ لہذا حضرت مسیح ؑ کی حیات اور نزول کا عقیدہ عقل و خرد کی آخر کون سی منطق سے آیت خاتم النبیین کے منافی ہو سکتا ہے؟

ظلی اور بروزی نبوت کا افسانہ

اسی طرح مرزائی صاحبان بعض اوقات یہ بہانہ تراشتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت ظلی اور بروزی نبوت تھی جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کا پرتو ہونے کی وجہ سے عقیدہ ختم نبوت میں رخنہ انداز نہیں ہے لیکن درحقیقت اسلامی نقطہ نظر سے ظلی اور بروزی نبوت کا عقیدہ مستقل بالذات نبوت سے بھی کہیں زیادہ سنگین، خطرناک اور کافرانہ ہے۔ جس کی وجوہ مندرجہ ذیل ہیں۔

ہندوانہ تصور ہے اور اسلام میں اس کی کوئی ادنیٰ جھلک بھی کہیں نہیں پائی جاتی۔

سے ایسا نبی پچھلے تمام انبیاء سے زیادہ افضل اور بلند مرتبہ ہوتا ہے کیونکہ وہ (معاذ اللہ) افضل الانبیاء ﷺ کا بروز یعنی (معاذ اللہ) آپ ﷺ ہی کا دوسرا جنم یا دوسرا روپ ہے۔ اسی بنا پر مرزا غلام احمد قادیانی نے متعدد مرتبہ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اپنے آپ کو براہ راست سرکار دو عالم ﷺ قرار دیا ہے۔ چند عبارتیں ملاحظہ ہوں۔

آنحضرت ہونے کا دعویٰ

”اور آنحضرت کے نام کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظلی طور

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٧٣ خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

پر محمد اور احمد ہوں۔“

”میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔“

(نزول المسیح ص ٣ خزائن ج ١٨ ص ٣٨١ حاشیہ)

”میں بموجب آیت وَاٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد

١٨

صفحہ ١٢٧

رکھا ہے اور مجھے آنحضرت کا وجود قرار دیا ہے پس اس طور سے آنحضرت کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں، پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمد کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمد ہی نبی رہے نہ اور کوئی۔ یعنی جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

ان الفاظ کو نقل کرتے ہوئے ہر مسلمان کا کلیجہ تھرائے گا، لیکن انھیں اس لیے نقل کیا گیا ہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ یہ ہے خود مرزا قادیانی کے الفاظ میں ”ظلی“ اور ”بروزی“ نبوت کی تشریح، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے مستقل بالذات نبوت کا دعویٰ لازم نہیں آتا۔ سوال یہ ہے کہ جب اس ظل اور بروز کے گورکھ دھندے کی آڑ میں مرزا قادیانی نے (معاذ اللہ) ”تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے“ اپنے دامن میں سمیٹ لیے تو اب کون سا نبی ایسا رہ گیا جس سے اپنی افضلیت ثابت کرنے کی ضرورت رہ گئی ہو؟ اس کے بعد بھی اگر ظلی بروزی نبوت کوئی ہلکے درجے کی نبوت رہتی ہے اور اس کے بعد بھی عقیدہ ختم نبوت نہیں ٹوٹتا تو پھر یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ عقیدہ ختم نبوت (معاذ اللہ) ایسا بے معنی عقیدہ ہے جو کسی بڑے سے بڑے دعوائے نبوت سے بھی نہیں ٹوٹ سکتا۔

مرزا قادیانی پچھلے نبیوں سے افضل خود مرزائی صاحبان اپنی تحریروں میں اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ مرزا قادیانی کی ظلی نبوت بہت سے ان انبیاء علیہم السلام کی نبوت سے افضل ہے، جنھیں بلا واسطہ نبوت ملی ہے، چنانچہ مرزا قادیانی کے منجھلے بیٹے مرزا بشیر احمد، ایم اے قادیانی لکھتے ہیں:

”اور یہ جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ظلی یا بروزی نبوت گھٹیا قسم کی نبوت ہے۔ یہ محض ایک نفس کا دھوکہ ہے جس کی کوئی بھی حقیقت نہیں کیونکہ ظلی نبوت کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان نبی کریم ﷺ کی اتباع میں اس قدر غرق ہو جائے کہ ”من تو شدم تو من شدی“ کے درجہ کو پالے۔ ایسی صورت میں وہ نبی کریم ﷺ کے جمیع کمالات کو عکس کے رنگ میں اپنے اندر اترتا پائے گا حتیٰ کہ ان دونوں میں قرب اتنا بڑھے گا کہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کی چادر بھی اس پر چڑھائی جائے گی، تب جا کر ظلی نبی کہلائے گا۔ پس جب ظل کا یہ تقاضا

١٩

صفحہ ١٢٨

ہے کہ اپنے اصل کی پوری تصویر ہو اور اسی پر تمام انبیاء علیہ السلام کا اتفاق ہے تو وہ نادان جو مسیح موعود کی ظلی نبوت کو ایک گھٹیا قسم کی نبوت سمجھتا یا اس کے معنی ناقص نبوت کے کرتا ہے۔ وہ ہوش میں آئے اور اپنے اسلام کی فکر کرے، کیونکہ اس نے اس نبوت کی شان پر حملہ کیا ہے جو تمام نبوتوں کی سرتاج ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ لوگوں کو کیوں حضرت مسیح موعود کی نبوت پر ٹھوکر لگتی ہے اور کیوں بعض لوگ آپ کی نبوت کو ناقص نبوت سمجھتے ہیں کیونکہ میں تو یہ دیکھتا ہوں کہ آپ آنحضرت کے بروز ہونے کی وجہ سے ظلی نبی تھے اور اس ظلی نبوت کا پایہ بہت بلند ہے۔ یہ ظاہر بات ہے کہ پہلے زمانوں میں جو نبی ہوتے تھے ان کے لیے یہ ضروری نہ تھا کہ ان میں وہ تمام کمالات رکھے جائیں جو نبی کریم ﷺ میں رکھے گئے، بلکہ ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطا ہوتے تھے کسی کو بہت، کسی کو کم، مگر مسیح موعود کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔‘‘

(کلمۃ الفصل، ریویو آف ریلیجنز ج ١٤ نمبر ٣ ص ١١٣ مارچ و اپریل ١٩١٥ء)

آگے مرزا قادیانی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی افضل قرار دے کر لکھتے ہیں:۔

’’پس مسیح موعود کی ظلی نبوت کوئی گھٹیا نبوت نہیں، بلکہ خدا کی قسم اس نبوت نے جہاں آقا کے درجے کو بلند کیا ہے وہاں غلام کو بھی اس مقام پر کھڑا کر دیا ہے۔ جس تک انبیائے بنی اسرائیل کی پہنچ نہیں۔ مبارک وہ جو اس نکتہ کو سمجھے اور ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے اپنے آپ کو بچالے۔‘‘

(حوالہ بالا ص ١١٤)

اور مرزا قادیانی کے دوسرے صاحبزادے اور ان کے خلیفہ دوئم مرزا بشیر الدین محمود لکھتے ہیں:

’’پس ظلی اور بروزی نبوت کوئی گھٹیا قسم کی نبوت نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو مسیح موعود کس طرح ایک اسرائیلی نبی کے مقابلہ میں یوں فرماتا کہ:۔

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(القول الفصل ص ١٢ مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان ١٩١٥ء)

خاتم النبیین ماننے کی حقیقت یہ ہے خود مرزائی صاحبان کے الفاظ میں اس ظلی

٢٠

صفحہ ١٢٩

اور بروزی نبوت کی پوری حقیقت جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عقیدہ ختم نبوت میں رخنہ انداز نہیں ہے۔ جس شخص کو بھی عقل و فہم اور دیانت و انصاف کا کوئی ادنیٰ حصہ ملا ہے وہ مذکورہ بالا تحریریں پڑھنے کے بعد اس کے سوا اور کیا نتیجہ نکال سکتا ہے کہ ”ظلی اور بروزی نبوت“ کے عقیدے سے زیادہ کوئی عقیدہ بھی ختم نبوت کے منافی اور اس سے متصادم نہیں ہو سکتا، ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا اور ظلی بروزی نبوت کا عقیدہ یہ کہتا ہے کہ نہ صرف آپ ﷺ کے بعد نبی آ سکتا ہے بلکہ ایسا نبی آ سکتا ہے جو حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت عیسیٰ ؑ تک تمام انبیاء سے افضل اور اعلیٰ نبوت کا حامل ہو، جو افضل الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے ”تمام کمالات“ اپنے اندر رکھتا ہو اور جو تمام انبیاء کے مراتب کمال کو پیچھے چھوڑتا ہوا سرکار دو عالم ﷺ کے پہلو بہ پہلو کھڑا ہو سکے۔ (معاذ اللہ)

آنحضرت ﷺ سے بھی افضل

بلکہ اس عقیدے میں اس بات کی بھی پوری گنجائش موجود ہے کہ کوئی شخص مرزا قادیانی کو معاذ اللہ ثم معاذ اللہ سرکار دو عالم ﷺ سے بھی افضل قرار دے دے۔ کیونکہ جب مرزا قادیانی آپ ﷺ ہی کا ظہور ثانی قرار پائے تو آپ کا ظہور ثانی پہلے ظہور سے اعلیٰ بھی ہو سکتا ہے اور یہ محض ایک قیاس ہی نہیں ہے بلکہ مرزائی رسالے ”ریویو آف ریلجنز“ کے سابق ایڈیٹر قاضی ظہور الدین اکمل کی ایک نظم ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء کے اخبار ”بدر“ میں شائع ہوئی تھی جس کے دو شعر یہ ہیں:

امام اپنا عزیز اس زمان میں غلام احمد ہوا دارالامان میں
غلام احمد ہے عرش رب اکرم مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار ”بدر“ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء ج ٢ نمبر ٤٣ ص ١٤)

یہ محض ”مریدانہ غلو عقیدت“ والی شاعری نہیں ہے، بلکہ یہ اشعار شاعر نے خود مرزا

٢١

صفحہ ٢٢

غلام احمد قادیانی کو سنائے اور انھیں لکھ کر پیش کیے، اور مرزا قادیانی نے ان پر جزاک اللہ کہہ کر داد دی ہے۔ چنانچہ قاضی اکمل ٢٢ اگست ١٩٤٤ء کے الفضل میں لکھتے ہیں:۔ ”وہ اس نظم کا ایک حصہ ہے جو حضرت مسیح موعود کے حضور میں پڑھی گئی اور خوش خط لکھے ہوئے قطعے کی صورت میں پیش کی گئی اور حضور (مرزا قادیانی) اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ اس وقت کسی نے اس شعر پر اعتراض نہ کیا، حالانکہ مولوی محمد علی (امیر جماعت لاہور) اور اخوانہم موجود تھے اور جہاں تک حافظہ مدد کرتا ہے، بوثوق کہا جا سکتا ہے کہ سن رہے تھے اور اگر وہ اس سے بوجہ مرورِ زمانہ انکار کریں تو یہ نظم ”بدر“ میں چھپی اور شائع ہوئی۔ اس وقت ”بدر“ کی پوزیشن وہی تھی بلکہ اس سے کچھ بڑھ کر جو اس عہد میں ”الفضل“ کی ہے مفتی محمد صادق ایڈیٹر سے ان لوگوں کے محبانہ اور بے تکلفانہ تعلقات تھے۔ وہ خدا کے فضل سے زندہ موجود ہیں ان سے پوچھ لیں اور خود کہہ دیں کہ آیا آپ میں سے کسی نے بھی اس پر ناراضی یا ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور حضرت مسیح موعود کا شرف سماعت حاصل کرنے اور جزاک اللہ تعالیٰ کا صلہ پانے اور اس قطعے کو اندر خود لے جانے کے بعد کسی کو حق ہی کیا پہنچتا تھا کہ اس پر اعتراض کر کے اپنی کمزوری ایمان اور قلت عرفان کا ثبوت دیتا۔“

(الفضل ج ٣٢ نمبر ١٩٦ مورخہ ٢٢ اگست ٤٤ء ص ٦ کالم نمبر ١)

آگے لکھتے ہیں: ”یہ شعر خطبہ الہامیہ کو پڑھ کر حضرت مسیح موعود کے زمانے میں کہا گیا اور ان کو سنا بھی دیا گیا اور چھاپا بھی گیا۔“

(ایضاً ص ٦ کالم ٢، ٣)

اس سے واضح ہے کہ یہ محض شاعرانہ مبالغہ آرائی نہ تھی، بلکہ ایک مذہبی عقیدہ تھا، اور ظلی بروزی نبوت کے اعتقاد کا وہ لازمی نتیجہ تھا جو مرزا قادیانی کے خطبہ الہامیہ سے ماخوذ تھا، اور مرزا قادیانی نے بذات خود اس کی نہ صرف تصدیق بلکہ تحسین کی تھی، خطبہ الہامیہ کی جس عبارت سے شاعر نے یہ شعر اخذ کیے ہیں۔ وہ یہ ہے، مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی ﷺ کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے، جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی بس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں، یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے، اس لیے تلوار اور لڑنے والے گروہ کی محتاج نہیں، اور اس لیے خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کی بعثت کے لیے

صفحہ ١٣١

صدیوں کے شمار کو رسول کریم ﷺ کی ہجرت سے بدر کی راتوں کے شمار کے مانند اختیار فرمایا تاکہ یہ شمار اس مرتبہ پر جو ترقیات کے تمام مرتبوں سے کمال تمام رکھتا ہے، دلالت کرے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٢٧١، ٢٧٢ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا بروزی طور پر آنحضرت ﷺ سے بڑھ جانا خود مرزا قادیانی کا عقیدہ تھا جسے انھوں نے خطبہ الہامیہ کی مذکورہ بالا عبارت میں بیان کیا اس کی تشریح کرتے ہوئے قاضی اکمل نے وہ اشعار کہے اور مرزا قادیانی نے ان کی تصدیق وتحسین کی۔

ہر شخص آنحضرت ﷺ سے بڑھ سکتا ہے

پھر بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ مرزائی صاحبان کا عقیدہ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ ہے کہ صرف مرزا قادیانی ہی نہیں، بلکہ ہر شخص اپنے روحانی مراتب میں ترقی کرتا ہوا (معاذ اللہ) آنحضرت ﷺ سے بڑھ سکتا، چنانچہ مرزائیوں کے خلیفہ دوم مرزا بشیر الدین محمود کہتے ہیں:۔

”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“

(الفضل قادیان ج ١٠ نمبر ١٧٥ مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء ص ٩ عنوان خلیفہ المسیح کی ڈائری)

یہیں سے یہ حقیقت بھی کھل جاتی ہے کہ مرزائی صاحبان کی طرف سے بعض اوقات مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے جو دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں، اس کی اصلیت کیا ہے؟ خود مرزا قادیانی اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا ہے یعنی آپ ﷺ کو افاضہ کمال کے لیے مہر دی، جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی، اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٩٧ حاشیہ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

ظل و بروز کے مذکورہ بالا اعتقادات کے ساتھ مرزا قادیانی کے نزدیک خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے پاس افاضہ کمال کی ایسی مہر تھی جو بالکل اپنے جیسے، بلکہ اپنے سے افضل و اعلیٰ نبی تراشتی تھی۔ نہ قرآن وحدیث، لغت عرب اور عقل انسانی

٢٣

صفحہ ١٣٢

کے ساتھ اس کھلے مذاق کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کے ’’معبودِ واحد‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کائنات عالم میں وہ تنہا ذات ہے۔ جس کی قوتِ قدسیہ خدا تراش ہے اور اپنے جیسے خدا پیدا کر سکتی ہے اگر قرآن کریم کی آیات اور امت کے بنیادی عقائد کے ساتھ ایسی گستاخانہ دل لگی کرنے کے بعد بھی کوئی شخص دائرہ اسلام میں رہ سکتا ہے تو پھر روئے زمین کا کوئی انسان کافر نہیں ہو سکتا۔

دعویٰ نبوت کا منطقی نتیجہ مرزا قادیانی کا دعوائے نبوت پچھلے صفحات میں روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکا ہے، اور قرآن، حدیث، اجماع اور تاریخ اسلام کی روشنی میں یہ بات طے ہو چکی ہے کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، وہ اور اس کے متبعین کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ یہ صرف اسلام ہی کا نہیں، عقل عام کا بھی فیصلہ ہے۔ مذاہب عالم کی تاریخ سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والا ہر شخص اس بات کو تسلیم کرے گا کہ جب کبھی کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو حق و باطل کی بحث سے قطع نظر، جتنے لوگ اس وقت موجود ہیں وہ فوراً دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ایک گروہ وہ ہوتا ہے جو اس شخص کی تصدیق کرتا ہے اور اسے سچا مانتا ہے، اور دوسرا گروہ وہ ہوتا ہے جو اس کی تصدیق اور پیروی نہیں کرتا۔ ان دونوں گروہوں کو دنیا میں کبھی بھی ہم مذہب قرار نہیں دیا گیا بلکہ ہمیشہ دونوں کو الگ الگ مذہبوں کا پیرو سمجھا گیا ہے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:

”ہر نبی اور مامور کے وقت دو فرقے ہوتے ہیں ایک وہ جس کا نام سعید رکھا ہے

؎١ یہ اور بات ہے کہ خود مرزا قادیانی کے اعتراف کے مطابق اس عظیم الشان مہر سے صرف ایک ہی نبی تراشا گیا اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی تھے فرماتے ہیں کہ ”اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال و اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا“

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

یہ لکھتے وقت مرزا قادیانی کو یہ خیال بھی نہ آیا کہ خاتم النبیین جمع کا صیغہ ہے لہٰذا اس مہر سے کم از کم تین نبی تو تراشے جانے چاہیے تھے۔

٤٤

صفحہ ١٣٣

اور دوسرا وہ جو شقی کہلاتا ہے۔ ؎ ١

(الحکم ج ١، ٢٨ دسمبر ١٩٠٠ء منقول از ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ١٣٣ مطبوعہ احمدیہ کتاب گھر قادیان ١٩٣٥ء)

مذاہب عالم کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے یہ حقیقت پوری طرح واشگاف ہو جاتی ہے کہ دعوائے نبوت کے ماننے ہوئے یہ دو فریق کبھی ہم مذہب نہیں کہلائے، بلکہ ہمیشہ حریف مذہبوں کی طرح رہے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے پہلے سارے بنی اسرائیل ہم مذہب تھے، لیکن جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے تو فوراً دو بڑے بڑے حریف مذہب پیدا ہو گئے ایک مذہب آپ کے ماننے والوں کا تھا جو بعد میں عیسائیت یا مسیحیت کہلایا اور دوسرا مذہب آپ کی تکذیب کرنے والوں کا تھا جو یہودی مذہب کہلایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کے متبعین اگرچہ پچھلے تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان رکھتے تھے، لیکن یہودیوں نے کبھی ان کو اپنا ہم مذہب نہیں سمجھا اور نہ عیسائیوں نے کبھی اس بات پر اصرار کیا کہ انھیں یہودیوں میں شامل سمجھا جائے۔ اسی طرح جب سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت پچھلے تمام انبیاء علیہم السلام کی تصدیق کی اور تورات، زبور اور انجیل تینوں پر ایمان لائے۔ اس کے باوجود نہ عیسائیوں نے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے متبعین کو اپنا ہم مذہب سمجھا، اور نہ مسلمانوں نے کبھی یہ کوشش کی کہ انھیں عیسائی کہا اور سمجھا جائے، پھر آپ ﷺ کے بعد جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کے متبعین مسلمانوں کے حریف کی حیثیت سے مقابلے پر آئے اور مسلمانوں نے بھی انھیں امت اسلامیہ سے بالکل الگ ایک مستقل مذہب کا حامل قرار دے کر ان کے خلاف جہاد کیا حالانکہ مسیلمہ کذاب آنحضرت ﷺ کی نبوت کا منکر نہیں تھا، بلکہ اس کے یہاں جو اذان دی جاتی تھی اس میں اشہد ان محمداً رسول اللہ کا کلمہ شامل تھا۔ تاریخ طبری میں ہے کہ:۔

وكان يؤذن للنبى ﷺ ويشهد فى الاذان ان محمداً رسول الله وكان الذى يؤذن له عبدالله بن النواحة وكان الذى يقيم له حجير بن عمير.

(تاریخ طبری ج ٢ ص ٢٧٦ سن ١١ھ)

”مسیلمہ نبی کریم ﷺ کے نام پر اذان دیتا تھا اور اذان میں اس بات کی شہادت دیتا تھا کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اس کا مؤذن عبداللہ بن نواحہ تھا اور اقامت

؎ ١ یہ قرآن کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں انسانوں کی دو قسمیں قرار دی ہیں ایک شقی یعنی کافر اور دوسرا سعید یعنی مسلمان پھر پہلی قسم کو جہنمی اور دوسری کو جنتی قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد ہے۔ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ. (ھود ١٠٥)

صفحہ ١٣٤

کہنے والا جہیر بن عمیر تھا۔“

مذاہب عالم کی یہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کسی مدعی نبوت کو ماننے والے اور اس کی تکذیب کرنے والے کبھی ایک مذہب کے سائے میں جمع نہیں ہوئے۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت کا یہ سو فیصد منطقی نتیجہ ہے کہ جو فریق ان کو سچا اور مامور من اللہ سمجھتا ہے وہ ان لوگوں کے مذہب میں شامل نہیں رہ سکتا جو ان کے دعووں کی تکذیب کرتا ہے۔ ان دونوں فریقوں کو ایک دین کے پرچم تلے جمع کرنا صرف قرآن وسنت اور اجماع امت ہی سے نہیں، بلکہ مذاہب کی پوری تاریخ سے بغاوت کے مترادف ہے۔

مرزائی صاحبان کی جماعت لاہور کے امیر محمد علی لاہوری قادیانی نے ١٩٠٦ء کے ریویو آف ریلیجنز (انگریزی) میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:۔

"The Ahmadiyya movement stands in the same relation to Islam in which christianity stood to judaism."

(منقول از مباحثہ ١؎ راولپنڈی ص ٢٤٠)

یعنی ”احمدیت کی تحریک اسلام کے ساتھ وہی نسبت رکھتی ہے جو عیسائیت کو یہودیت کے ساتھ تھی۔“

کیا عیسائیت اور یہودیت کو کوئی انسان ایک مذہب قرار دے سکتا ہے؟

خود مرزائیوں کا عقیدہ کہ وہ الگ ملت ہیں

مرزائی صاحبان کو اپنی یہ پوزیشن خود تسلیم ہے کہ ان کا اور ستر کروڑ مسلمانوں کا مذہب ایک نہیں ہے، وہ اپنی بے شمار تقریروں اور تحریروں میں اپنے اس عقیدے کا برملا اعلان کر چکے ہیں کہ جن مسلمانوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعووں میں ان کی تکذیب کی ہے وہ سب دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی مذہبی کتابوں کی تصریحات درج ذیل ہیں:

مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریریں

مرزا غلام احمد قادیانی اپنے خطبہ الہامیہ میں جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے

١؎ یہ مرزائی صاحبان کی دونوں جماعتوں کا باہمی تحریری مباحثہ ہے جو دونوں کے مشترک خرچ پر شائع کیا گیا تھا۔ لہٰذا اس میں جو عبارتیں منقول ہیں وہ دونوں جماعتوں کے نزدیک مستند ہیں۔

٢٦

صفحہ ١٣٥

کہ وہ پورے کا پورا بذریعہ الہام نازل ہوا تھا۔ کہتے ہیں:

”وَاتَّخَذَتْ روحانیت نبینا خیر الرسل مظہراً من امتہ لتبلغ کما لظہورہا و غلبہ نورہا کما کان وعد اللہ فی الکتاب المبین فانا ذلک المظہر الموعود والنور المعہود فامن ولا تکن من الکافرین وان شئت فاقرأ قولہ تعالیٰ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ.“

”اور خیر الرسل کی روحانیت نے اپنے ظہور کے کمال کے لیے اور اپنے نور کے غلبہ کے لیے ایک مظہر اختیار کیا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کتاب مبین میں وعدہ فرمایا تھا پس میں وہی مظہر ہوں، پس ایمان لا اور کافروں سے مت ہو اور اگر چاہتا ہے تو اس خدا تعالیٰ کے قول کو پڑھ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٢٦٧ خزائن ج ١٢ ص ایضاً)

اور حقیقۃ الوحی میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:۔

”کافر کا لفظ مومن کے مقابلے پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے۔ (اوّل) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لیے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں، کیونکہ جو شخص باوجود شناخت کر لینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٧٩، ١٨٠ خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥، ١٨٦)

اسی کتاب میں ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

”یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں، حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے، کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔“

آگے لکھتے ہیں:

”علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشگوئی موجود ہے۔“

مزید لکھتے ہیں:

٢٧

صفحہ ١٣٦

”خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لیے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کیے اور آسمان پر کسوف خسوف رمضان میں ہوا، اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا تعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہو سکتا ہے اور اگر وہ مومن ہے تو میں بوجہ افترا کرنے کے کافر ٹھہرا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، ١٦٤ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧، ١٦٨)

ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کے نام اپنے خط میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“

(تذکرہ ص ٦٠٧)

نیز ”معیار الاخیار“ میں مرزا قادیانی اپنا ایک الہام اس طرح بیان کرتے ہیں:

”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“

(اشتہار معیار الاخیار ص ٨ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)

نزول المسیح میں لکھتے ہیں:

”جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔“

(نزول المسیح ص ٤ خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢)

اور اپنی کتاب الہدیٰ میں اپنے انکار کو سرکار دو عالم ﷺ کے انکار کے مساوی قرار دیتے ہوئے رقمطراز ہیں:

”فی الحقیقت دو شخص بڑے ہی بدبخت ہیں اور انس و جن میں ان سا کوئی بھی بدطالع نہیں ایک وہ جس نے خاتم الانبیاء کو نہ مانا، دوسرا وہ خاتم الخلفاء (یعنی بزعم خود مرزا قادیانی) پر ایمان نہ لایا۔“

(الہدیٰ ص ٢٥ خزائن ج ١٨ ص ٢٥)

اور انجام آتھم میں لکھتے ہیں:

”اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے، جو کچھ کہتا ہے، اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٢ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

نیز اخبار بدر ٢٤ مئی ١٩٠٨ء میں لکھا ہے کہ:

”حضرت مسیح موعود سے ایک شخص نے سوال کیا کہ جو لوگ آپ کو کافر نہیں کہتے، ان کے پیچھے نماز پڑھنے میں کیا حرج ہے؟“

٢٦

صفحہ ١٣٧

اس کا طویل جواب دیتے ہوئے آخر میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”ان کو چاہیے کہ ان مولویوں کے بارے میں ایک لمبا اشتہار شائع کر دیں کہ یہ سب کافر ہیں کیونکہ انھوں نے ایک مسلمان کو کافر بنایا۔ تب میں ان کو مسلمان سمجھ لوں گا بشرطیکہ ان میں کوئی نفاق کا شبہ نہ پایا جائے اور خدا کے کھلے کھلے معجزات کے مکذب نہ ہوں، ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّ الْمُنَافِقِيْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ یعنی منافق دوزخ کے نیچے کے طبقے میں ڈالے جائیں گے۔“

(اخبار بدر ٢٤؍مئی ١٩٠٨ء منقول از نہج المصلیٰ مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ص ٤٠٧ ج ١)

مرزائی خلیفہ اوّل حکیم نور الدین قادیانی کے فتوے

مرزائی صاحبان کے پہلے خلیفہ جن کی خلافت پر دونوں مرزائی گروپ متفق تھے، فرماتے ہیں۔ ”ایمان بالرسل اگر نہ ہو تو کوئی شخص مومن مسلمان نہیں ہو سکتا اور اس ایمان بالرسل میں کوئی تخصیص نہیں، عام ہے، خواہ وہ نبی پہلے آئے یا بعد میں آئے، ہندوستان میں ہوں یا کسی اور ملک میں کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ ہمارے مخالف حضرت مرزا قادیانی کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ کہ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔“

(نہج المصلیٰ مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ص ٢٧٥ ج ١ بحوالہ اخبار الحکم ج ١٥ نمبر ٨ مورخہ ٧ مارچ ١٩١١ء)

نیز ایک اور موقعہ پر کہتے ہیں: ”محمد رسول اللہ ﷺ کے منکر یہود و نصاریٰ اللہ کو مانتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے رسولوں، کتابوں، فرشتوں کو مانتے ہیں۔ کیا اس انکار پر کافر ہیں یا نہیں؟ کافر ہیں۔ اگر اسرائیلی مسیح رسول کا منکر کافر ہے تو محمدی مسیح رسول کا منکر کیوں کافر نہیں؟ اگر اسرائیلی مسیح موسیٰ کا خاتم الخلفاء یا خلیفہ یا متبع ایسا ہے کہ اس کا منکر کافر ہے تو محمد رسول اللہ ﷺ کا خاتم الخلفاء یا خلیفہ یا متبع کیوں ایسا نہیں کہ اس کا منکر بھی کافر ہو۔ اگر وہ مسیحا ایسا تھا کہ اس کا منکر کافر ہے تو یہ مسیح بھی کسی طرح کم نہیں۔“

(نہج المصلیٰ فتاویٰ احمدیہ ص ٤٨٥ ج ١ بحوالہ الحکم نمبر ١٩ ج ١٨، ٢٨ مئی ١٩١٤ء)

خلیفہ دوم مرزا محمود احمد قادیانی کے فتاویٰ

اور مرزائی صاحبان کے خلیفہ دوم مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کہتے ہیں:۔ ”جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا ہے؟ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا کسی

٢٩

صفحہ ١٣٨

عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے، ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دے دیتے ہو؟ کیا اس لیے دیتے ہو کہ وہ تمہاری قوم کا ہوتا ہے؟ مگر جس دن سے کہ تم احمدی ہوئے تمہاری قوم تو احمدیت ہو گئی شناخت اور امتیاز کے لیے اگر کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتا سکتے ہو۔ ورنہ اب تو تمہاری قوم تمہاری گوت تمہاری ذات احمدی ہی ہے پھر احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو، مومن کا تو یہ کام ہوتا ہے کہ جب حق آجائے تو باطل کو چھوڑ دیتا ہے۔“

(ملائکۃ اللہ ص ٤٦، ٤٧ از مرزا محمود قادیانی)

نیز انوار خلافت میں کہتا ہے: ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“

(انوار خلافت ص ٩٠ از محمود قادیانی)

اور آئینہ صداقت میں تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ جن لوگوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کا نام تک نہیں سنا وہ بھی کافر ہیں، کہتا ہے:۔ ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انھوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥ از مرزا محمود قادیانی)

مرزا بشیر احمد، ایم اے قادیانی کے اقوال

اور مرزا غلام احمد قادیانی کے منجھلے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے قادیانی لکھتا ہے: ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ ؑ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ ؑ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ ؑ کو مانتا ہے مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا اور یا محمد ﷺ کو مانتا ہے، پر مسیح موعود (مرزا) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر، بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١١٠ از مرزا بشیر قادیانی پسر مرزا قادیانی)

اسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”مسیح موعود کا یہ دعویٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مامور ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے۔ دو حالتوں سے خالی نہیں یا تو وہ نعوذ باللہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے اور محض افتراء علی اللہ کے طور پر دعویٰ کرتا ہے تو ایسی صورت میں نہ صرف وہ کافر بلکہ بڑا کافر ہے، اور یا مسیح موعود اپنے دعویٰ الہام میں سچا ہے اور خدا سچ مچ اس سے

٣٠

صفحہ ١٣٩

ہمکلام ہوتا تھا تو اس صورت میں بلاشبہ یہ کفر انکار کرنے والے پر پڑے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خود فرمایا ہے۔ پس اب تم کو اختیار ہے کہ یا مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان کہہ کر مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگاؤ، اور یا مسیح موعود کو سچا مان کر اس کے منکروں کو کافر جانو۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ تم دونوں کو مسلمان سمجھو، کیونکہ آیت کریمہ صاف بتا رہی ہے کہ اگر مدعی کافر نہیں ہے تو مکذب ضرور کافر ہے، پس خدارا اپنا نفاق چھوڑو اور دل میں کوئی فیصلہ کرو۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص ١٢٣)

محمد علی لاہوری قادیانی کے اقوال

محمد علی لاہوری قادیانی (امیر جماعت لاہور) انگریزی ریویو آف ریلیجنز میں لکھتے ہیں:

The Ahmadiyya movement stands in the same relation to Islam in which christianity stood to judaism.

’’یعنی احمدی تحریک اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ تھا۔‘‘

(منقول از مباحثہ راولپنڈی ص ٢٤٠)

اس میں محمد علی لاہوری قادیانی نے ’’احمدیت‘‘ کو ’’اسلام‘‘ سے اسی طرح الگ مذہب قرار دیا ہے جس طرح عیسائیت یہودیت سے بالکل الگ مذہب ہے۔

نیز ریویو آف ریلیجنز میں لکھتے ہیں۔

’’افسوس ان مسلمانوں پر جو حضرت مرزا قادیانی کی مخالفت میں اندھے ہو کر انہی اعتراضوں کو دہرا رہے ہیں جو عیسائی آنحضرت ﷺ پر کرتے ہیں۔ بعینہ اسی طرح جس طرح عیسائی آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں اندھے ہو کر ان اعتراضوں کو مضبوط کر رہے ہیں اور دہرا رہے ہیں جو یہودی حضرت عیسیٰ ؑ پر کرتے تھے۔ سچے نبی کا یہی ایک بڑا بھاری امتیازی نشان ہے کہ جو اعتراض اس پر کیا جائے گا وہ سارے نبیوں پر پڑے گا جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو شخص ایسے مامور من اللہ کو رد کرتا ہے وہ گویا کل سلسلہ نبوت کو رد کرتا ہے۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج ٥ نمبر ٨ ص ٣١٨، اگست ١٩٠٦ء و منقول از تبدیلی عقائد مؤلفہ محمد اسمعیل قادیانی ص ٤٢)

یہاں یہ واضح رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی یا ان کے متبعین کی عبارتوں میں کہیں کہیں سہواً اپنے مخالفین کے لیے ’’مسلمان‘‘ کا لفظ استعمال ہو گیا ہے اس کی حقیقت بیان

٣١

صفحہ ١٤٠

کرتے ہوئے ملک محمد عبداللہ قادیانی ریویو آف ریلیجنز کے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:۔

”آپ نے اپنے منکروں کو ان کے ظاہری نام کی وجہ سے مسلمان لکھا ہے، کیونکہ عرفِ عام کی وجہ سے جب ایک نام مشہور ہو جائے تو پھر خواہ حقیقت اس میں موجود نہ بھی رہے اسے اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔“

(احمدیت کے امتیازی مسائل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز دسمبر ١٩٤١ء ج ٢٠ نمبر ١٢ ص ٣٨)

مسلمانوں سے عملی قطع تعلق مذکورہ بالا عقائد کی بنا پر مرزائی صاحبان نے خود اپنے آپ کو ایک الگ ملت قرار دے دیا، اور جیسا کہ پیچھے عرض کیا جا چکا ہے، ان کا یہ طرزِ عمل مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوؤں اور تحریروں کا بالکل منطقی نتیجہ ہے۔ چنانچہ انھوں نے مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنے، ان کے ساتھ شادی بیاہ کے تعلق قائم کرنے اور ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کی بالکلیہ ممانعت کر دی۔

غیر احمدی کے پیچھے نماز چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ:

”تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہے اس لیے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے، کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ پس یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمھارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو، بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ اِمَامُکُمْ مِّنْکُمْ یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمھیں دوسرے فرقوں کو جو دعوائے اسلام کرتے ہیں، بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمھارے سر پر ہو اور تمھارے اعمال حبط ہو جائیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٨ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٦٤)

غیر احمدیوں کے ساتھ شادی بیاہ مرزا بشیر الدین محمود (خلیفہ دوم قادیانی) لکھتے ہیں:۔

”حضرت مسیح موعود نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو، لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اوّل نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا، اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں

٣٢

صفحہ ١٤١

اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجودیکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا (اب میں نے اس کی سچی توبہ دیکھ کر قبول کر لی ہے)۔‘‘

(انوار خلافت ص ٩٣، ٩٤ از مرزا محمود قادیانی)

آگے لکھتے ہیں:

’’میں کسی کو جماعت سے نکالنے کا عادی نہیں لیکن اگر کوئی اس حکم کے خلاف کرے گا تو میں اس کو جماعت سے نکال دوں گا۔‘‘

(ایضاً)

البتہ مسلمانوں کی لڑکیاں لینے کو قادیانی مذہب میں جائز قرار دیا گیا ہے، اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی کے دوسرے صاحبزادے مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں کہ:۔

’’اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص ١٦٩)

غیر احمدیوں کی نماز جنازہ مرزا بشیر الدین محمود لکھتے ہیں:

’’اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے، اس لیے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے۔ لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟ اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے۔ شریعت وہی مذہب ان کے بچے کا قرار دیتی ہے پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لیے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہیے۔‘‘

(انوار خلافت ص ٩٣ از مرزا محمود قادیانی)

قائد اعظم کی نماز جنازہ چنانچہ اپنے مذہب اور خلیفہ کے حکم کی تعمیل میں چودھری ظفر اللہ خان قادیانی سابق وزیر خارجہ پاکستان نے قائداعظم کی نماز جنازہ میں بھی شرکت نہیں کی۔ منیر انکوائری کمیشن کے سامنے اس کی وجہ انھوں نے یہ بیان کی کہ:۔

’’نماز جنازہ کے امام مولانا شبیر احمد عثمانی احمدیوں کو کافر، مرتد اور واجب القتل قرار دے چکے تھے، اس لیے میں اس نماز میں شریک ہونے کا فیصلہ نہ کر سکا جس کی امامت مولانا کر رہے تھے۔‘‘

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت پنجاب ص ٢١٢)

لیکن عدالت سے باہر جب ان سے یہ بات پوچھی گئی کہ آپ نے قائداعظم کی نماز جنازہ کیوں ادا نہیں کی؟ تو اس کا جواب انھوں نے یہ دیا۔

٣٣

صفحہ ١٤٢

”آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر۔“

(زمیندار لاہور ٨ فروری ١٩٥٠ء)

جب اخبارات میں یہ واقعہ منظر عام پر آیا تو جماعت ربوہ کی طرف سے اس کا یہ جواب دیا گیا کہ:۔

”جناب چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔ تمام دنیا جانتی ہے کہ قائد اعظم احمدی نہ تھے لہٰذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔“ (ٹریکٹ نمبر ٢٢ بعنوان ”احراری علماء کی راست گوئی کا نمونہ“)

اور قادیانی اخبار ”الفضل“ کا جواب یہ تھا کہ:

”کیا یہ حقیقت نہیں کہ ابوطالب بھی قائد اعظم کی طرح مسلمانوں کے بہت بڑے محسن تھے، مگر نہ مسلمانوں نے آپ کا جنازہ پڑھا اور نہ رسول خدا نے۔“

(الفضل ٢٨ اکتوبر ١٩٥٢ء ص ٤ کالم ٢، ج ٤٠ شمارہ نمبر ٢٥٢)

بعض لوگ چودھری ظفر اللہ خان قادیانی کے اس طرز عمل پر اظہار تعجب کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں تعجب کا کوئی موقع نہیں۔ انھوں نے جو دین اختیار کیا تھا یہ اس کا لازمی تقاضا تھا ان کا دین، ان کا مذہب، ان کی امت، ان کے عقائد، ان کے افکار ہر چیز مسلمانوں سے نہ صرف مختلف بلکہ ان سے بالکل متضاد ہے، ایسی صورت میں وہ قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں پڑھتے؟

خود اپنے آپ کو الگ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ

مذکورہ بالا توضیحات سے یہ بات دو اور دو چار کی طرح کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ مرزائی مذہب مسلمانوں سے بالکل الگ مذہب ہے جس کا امت اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں، اور اپنی یہ پوزیشن خود مرزائیوں کو مسلم ہے کہ ان کا اور مسلمانوں کا مذہب ایک نہیں ہے اور وہ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر سے الگ ایک مستقل امت ہے۔ چنانچہ انھوں نے غیر منقسم ہندوستان میں اپنے آپ کو سیاسی طور پر بھی مسلمانوں سے الگ ایک مستقل اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ مرزا بشیر الدین محمود کہتے ہیں:۔

”میں نے اپنے نمائندے کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کیے جائیں جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ ہو، اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی

٣٤

صفحہ ١٤٣

تو مذہبی فرقہ ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کیے گئے ہیں، اسی طرح ہمارے بھی کیے جائیں، تم ایک پارسی پیش کر دو، اس کے مقابلہ میں دو دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔“

(مرزا بشیر الدین محمود کا بیان مندرجہ ”الفضل“ ١٣ نومبر ١٩٤٦ء)

کیا اس کے بعد بھی اس مطالبے کی معقولیت میں کسی انصاف پسند انسان کو کوئی ادنیٰ شبہ باقی رہ سکتا ہے کہ مرزائی امت کو سرکاری سطح پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے؟

مرزائی بیانات کے بارے میں ایک ضروری تنبیہ

یہاں ایک اور اہم حقیقت کی طرف توجہ دلانا از بس ضروری ہے اور وہ یہ کہ مرزائی صاحبان کا نوے سالہ طرز عمل یہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے جماعتی مفادات کی خاطر بسا اوقات صریح غلط بیانی سے بھی نہیں چوکتے۔ پیچھے ان کی وہ واضح اور غیر مبہم تحریریں پیش کی جاچکی ہیں جن میں انھوں نے مسلمانوں کو کھلم کھلا کافر قرار دیا ہے اور جتنی تحریریں پیچھے پیش کی گئی ہیں۔ اس سے زیادہ مزید پیش کی جاسکتی ہیں، لیکن اپنی تقریر و تحریر میں ان گنت مرتبہ ان صریح اعلانات کے باوجود منیر انکوائری کمیشن کے سوال کے جواب میں ان دونوں جماعتوں نے یہ بیان دیا کہ ہم غیر احمدیوں کو کافر نہیں سمجھتے۔

ان کا یہ بیان ان کے حقیقی عقائد اور سابقہ تحریرات سے اس قدر متضاد تھا کہ منیر انکوائری کمیشن کے جج صاحبان بھی اسے صحیح باور نہ کر سکے۔ چنانچہ وہ اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں:۔

”اس مسئلے پر کہ آیا احمدی دوسرے مسلمانوں کو ایسا کافر سمجھتے ہیں جو دائرہ اسلام سے خارج ہے؟ احمدیوں نے ہمارے سامنے یہ موقف ظاہر کیا ہے کہ ایسے لوگ کافر نہیں ہیں، اور لفظ ”کفر“ جو احمدی لٹریچر میں ایسے اشخاص کے لیے استعمال کیا گیا ہے اس سے کفر خفی یا انکار مقصود ہے یہ ہرگز کبھی مقصود نہیں ہوا کہ ایسے اشخاص دائرہ اسلام سے خارج ہیں، لیکن ہم نے اس موضوع پر احمدیوں کے بے شمار سابقہ اعلانات دیکھے ہیں اور ہمارے نزدیک ان کی کوئی تعبیر اس کے سوا ممکن نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نہ ماننے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(پنجاب کی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ اردو ص٢١٢، ١٩٥٤ء)

چنانچہ جب تحقیقات کی بلا ٹل گئی تو وہی سابقہ تحریریں جن میں مسلمانوں کو برملا کافر کہا گیا تھا پھر شائع ہونی شروع ہوگئیں، کیونکہ وہ تو ایک وقتی چال تھی جس کا اصل عقیدے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

٣٥٠

صفحہ ١٤٤

یہی حال سرکار دو عالم ﷺ کو آخری پیغمبر ماننے کا ہے کہ مرزائی پیشواؤں کی ایسی صریح تحریروں کا ایک انبار موجود ہے جس میں انھوں نے اپنے اس عقیدے کا برملا اعلان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبیوں کی آمد بند نہیں ہوئی بلکہ آپ ﷺ کے بعد بھی نبی پیدا ہو سکتے ہیں، مثلاً ان کے خلیفہ دوم مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا تھا کہ:۔

”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا تو جھوٹا ہے، تو کذاب ہے آپ کے بعد نبی آ سکتے ہیں اور ضرور آ سکتے ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٦٥ مطبوعہ امرتسر ١٩١٦ء)

لیکن حال ہی میں جب پاکستان کے دستور میں صدر اور وزیراعظم کے حلف نامے میں یہ الفاظ بھی تجویز کیے گئے کہ ”میں آنحضرت ﷺ کے آخری پیغمبر ہونے پر اور اس بات پر ایمان رکھتا ہوں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔“ تو قادیانیوں کے موجودہ خلیفہ مرزا ناصر احمد قادیانی نے اعلان فرمایا کہ:۔

”میں نے اس حلف نامے کے الفاظ پر بڑا غور کیا ہے اور میں بالآخر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ایک احمدی کے راستے میں اس حلف کو اٹھانے میں کوئی روک نہیں۔“

(الفضل ربوہ ١٣ مئی ١٩٧٣ء ج ٢٧،٢٦ نمبر ١٠٦ ص ٤، ١٥ کالم نمبر ١،٢)

ملاحظہ فرمائیے کہ جو بات خلیفہ دوم کے نزدیک انسان کو جھوٹا اور کذاب بنا دیتی ہے اور جس کا اقرار تلواروں کے درمیان بھی جائز نہیں تھا، جب عہدۂ صدارت و وزارت عظمیٰ اس پر موقوف ہو گیا تو اس کے حلفیہ اقرار میں بھی کچھ حرج نہ رہا۔

لہٰذا مرزائی صاحبان کے بارے میں حقیقت تک پہنچنے کے لیے وہ بیانات ہمیشہ گمراہ کن ہوں گے جو وہ کوئی بپتا پڑنے کے موقع پر دیا کرتے ہیں۔ ان کی اصل حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان کی اصل مذہبی تحریروں اور ان کے نوے سالہ طرز عمل کا مطالعہ ضروری ہے، یا تو وہ اپنے تمام سابقہ عقائد، تحریروں اور بیانات سے کھلم کھلا توبہ کر کے ان سب سے برأت کا اعلان کریں اور اس بات کا عملی ثبوت فراہم کریں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی پیروی سے ان کا کوئی تعلق نہیں رہا۔ یا پھر جرأت مندی سے اپنے ان عقائد اور بیانات کو قبول کر کے اپنی اس پوزیشن پر راضی ہوں جو ان کی روشنی میں ثابت ہوتی ہے اس کے سوا جو بھی تیسرا راستہ اختیار کیا جائے گا وہ محض دفع الوقتی کی ترکیب ہوگی جس سے کسی ذمہ دار ادارے یا حق کے طلب گار کو دھوکے میں نہیں آنا چاہیے۔

صفحہ ١٤٥

لاہوری جماعت کی حقیقت

مرزائی صاحبان کی لاہوری جماعت، جس کے بانی محمد علی لاہوری قادیانی تھے، بہ کثرت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتی، بلکہ مسیح موعود، مہدی اور مجدد مانتی ہے۔ اس لیے اس پر ختم نبوت کی خلاف ورزی کے الزام میں کفر عائد نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا مختصر سا جواب تو یہ ہے کہ جس شخص کا جھوٹا دعویٰ نبوت ثابت ہو چکا ہو۔ اسے صرف نبی ماننا ہی نہیں سچا ماننا اور واجب الاطاعت سمجھنا بھی کھلا کفر ہے۔ چہ جائیکہ اسے مسیح موعود، مہدی اور مجدد اور محدث (صاحب الہام) قرار دیا جائے۔ جیسا کہ پیچھے بیان کیا جا چکا ہے، کسی شخص کا دعویٰ نبوت جو دو حریف مذہب پیدا کرتا ہے، وہ اسے سچا ماننے والوں اور جھوٹا ماننے والوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جو جماعت اسے سچا قرار دیتی ہے وہ ایک مذہب کی پیرو قرار پاتی ہے اور جو جماعت اس کی تکذیب کرتی ہے وہ دوسرے مذہب میں شامل ہوتی ہے۔ لہٰذا جب مرزا غلام احمد قادیانی کا مدعی نبوت ہونا روز روشن کی طرح ثابت ہو چکا ہے تو اب اس کو پیشوا ماننے والی تمام جماعتیں ایک ہی مذہب میں داخل ہوں گی، خواہ وہ اسے نبی کا نام دیں، یا مسیح موعود، مہدی معہود اور مجدد کا، لیکن اس مختصر جواب کے ساتھ لاہوری جماعت کی پوری حقیقت واضح کر دینا بھی مناسب ہوگا۔

واقعہ یہ ہے کہ عقیدہ و مذہب کے اعتبار سے ان دونوں جماعتوں میں عملاً کوئی فرق نہیں۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں اور ان کے بعد ان کے خلیفہ اوّل حکیم نورالدین کے انتقال تک جماعت قادیان اور جماعت لاہور کوئی الگ جماعتیں نہ تھیں۔ اس پورے عرصہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام متبعین خواہ مرزا بشیر الدین ہوں یا محمد علی لاہوری پوری آزادی کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کو ”نبی“ اور ”رسول“ کہتے اور مانتے رہے۔ محمد علی لاہوری عرصہ دراز تک مشہور قادیانی رسالے ”ریویو آف ریلیجنز“ کے ایڈیٹر رہے اور اس عرصہ میں انھوں نے بے شمار مضامین میں نہ صرف مرزا قادیانی کے لیے ”نبی“ اور ”رسول“ کا لفظ استعمال کیا، بلکہ ان کے لیے نبوت و رسالت کے تمام لوازم کے قائل رہے ان کے ایسے مضامین کو جمع کیا جائے تو ایک پوری کتاب بن سکتی ہے۔ تاہم یہاں محض

٣٧

صفحہ ١٤٦

نمونے کے طور پر ان کی چند تحریریں پیش کی جاتی ہیں۔

١٣ مئی ١٩٠٤ء کو گورداسپور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک بیان دیا جس کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ جو شخص مرزا قادیانی کی تکذیب کرے۔ وہ ”کذاب“ ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسے شخص کو اگر مرزا قادیانی نے کذاب لکھا تو ٹھیک کہا۔ اس بیان میں وہ لکھتے ہیں:۔

”مکذب مدعی نبوت کذاب ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی ملزم مدعی نبوت ہے۔ اس کے مرید اس کو دعویٰ میں سچا اور دشمن جھوٹا سمجھتے ہیں۔“

(حلفیہ شہادت بعدالت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ

گورداسپور مورخہ ١٣ مئی ١٩٠٤ء منقول از ماہنامہ فرقان قادیان ج ١ نمبر ١ ص ١٥ ماہ جنوری ١٩٤٢ء)

”آنحضرت کے بعد خداوند تعالیٰ نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کے دروازے بند کر دیے۔ مگر آپ کے متبعین کامل کے لیے جو آپ کے رنگ میں رنگیں ہو کر آپ کے اخلاق کاملہ سے نور حاصل کرتے ہیں۔ ان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوا۔“

(ریویو آف ریلیجنز ج ٥

نمبر ٥ ص ٨٦ مئی ١٩٠٦ء بحوالہ تبدیلی عقائد از محمد اسماعیل قادیانی ص ٢٢ مطبوعہ احمدیہ کتاب گھر قادیان)

”جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں دنیا کی اصلاح کے لیے مامور اور نبی کر کے بھیجا ہے وہ بھی شہرت پسند نہیں۔ بلکہ ایک عرصہ دراز تک جب تک اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نہیں دیا کہ وہ لوگوں سے بیعت توبہ لیں۔ آپ کو کسی سے کچھ سروکار نہ تھا اور سالہا سال تک گوشہ خلوت سے باہر نہیں نکلے، یہی سنت قدیم سے انبیاء کی چلی آئی ہے۔“

(ریویو ج ٥ نمبر ٤ ص ١٣٢)

”مخالف خواہ کوئی ہی معنی کرے، مگر ہم تو اسی پر قائم ہیں کہ خدا نبی پیدا کر سکتا ہے صدیق بنا سکتا ہے اور شہید اور صالح کا مرتبہ عطا کر سکتا ہے مگر چاہیے مانگنے والا...... ہم نے جس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) وہ صادق تھا۔ خدا کا برگزیدہ اور مقدس رسول تھا۔“

(تقریر محمد علی در احمدیہ بلڈنگز مندرجہ الحکم ١٨ جولائی ١٩٠٨ء بحوالہ ماہنامہ فرقان

قادیان جنوری ١٩٤٢ء ج ١ نمبر ١ ص ١١)

یہ اقتباسات تو محض بطور نمونہ محمد علی لاہوری قادیانی بانی جماعت لاہوری کی تحریروں سے پیش کیے گئے ہیں لیکن یہ صرف انہی کا عقیدہ نہ تھا بلکہ پوری جماعت لاہور نے اپنے ایک حلفیہ بیان میں انہی عقائد کا اقرار کیا ہے۔

لاہوری جماعت کا حلفیہ بیان ”پیغام صلح“ جماعت لاہور کا مشہور اخبار ہے۔ اس کی ١٦ اکتوبر ١٩١٣ء کی اشاعت میں پوری جماعت کی طرف سے یہ حلفیہ بیان شائع ہوا:۔

”معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو کسی نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہذا

٣٨

صفحہ ١٤٧

کے ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک سیّدنا وہادینا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود مہدی معہود کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت سے اخبار پیغام صلح کے ساتھ تعلق ہے۔ خدا تعالیٰ کو جو دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔ حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں، کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی پھیلانا محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی، رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔“

(پیغام صلح ١٦ اکتوبر ١٩١٣ء ص ٢ بحوالہ ماہنامہ فرقان قادیان جنوری ١٩٤٢ء ج ١ نمبر ١ ص ١٣، ١٤)

اس حلفیہ بیان کے بعد لاہوری جماعت کے اصل عقائد سے ہر پردہ اٹھ جاتا ہے۔ لیکن جب مرزائیوں کے خلیفہ اوّل حکیم نور الدین کا انتقال ہوتا ہے اور خلافت کا مسئلہ اٹھتا ہے تو محمد علی لاہوری قادیانی مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کے ہاتھ پر بیعت کرنے اور انھیں خلیفہ تسلیم کرنے سے انکار کر کے قادیان سے لاہور چلے آتے ہیں اور یہاں اپنی الگ جماعت کی داغ بیل ڈالتے ہیں۔ ١٤ مارچ ١٩١٤ء کو مرزا بشیر الدین خلیفہ دوم مقرر کیے گئے اور ٢٢ مارچ ١٩١٤ء کو اس فیصلے سے اختلاف کرنے والی جماعت لاہور کا پہلا جلسہ ہوا۔ اس جلسے میں جو قرارداد منظور کی گئی وہ یہ تھی:۔

”صاحبزادہ قادیانی (مرزا بشیر الدین) کے انتخاب کو اس حد تک ہم جائز سمجھتے ہیں کہ وہ غیر احمدیوں سے احمد کے نام پر بیعت لیں، یعنی اپنے سلسلہ احمدیہ میں ان کو داخل کرلیں۔ لیکن احمدیوں سے دوبارہ بیعت لینے کی ہم ضرورت نہیں سمجھتے۔ اس حیثیت میں ہم انھیں امیر تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس کے لیے بیعت کی ضرورت نہ ہوگی اور نہ ہی امیر اس بات کا مجاز ہوگا کہ جو حقوق و اختیارات صدر انجمن احمدیہ کو حضرت مسیح موعود نے دیے ہیں اور اس کو اپنا جانشین قرار دیا ہے۔ اس میں کسی قسم کی دست اندازی کرے۔“

(ضمیمہ پیغام صلح ٢٤ مارچ ١٩١٤ء بحوالہ فرقان قادیان جنوری ١٩٤٢ء ج ١ نمبر ١ ص ٧)

اس قرارداد سے واضح ہے کہ لاہوری جماعت کو اس وقت نہ جماعت قادیان کے عقائد پر اعتراض تھا اور نہ وہ مرزا بشیر الدین کو خلافت کے لیے نااہل قرار دیتے تھے، جھگڑا تھا تو اس بات پر تھا کہ تمام اختیارات انجمن احمدیہ کو دیے جائیں نہ کہ خلیفہ کو، لیکن جب مرزا بشیر الدین محمود نے اس تجویز کو منظور نہ کیا تو محمد علی لاہوری نے لکھا:

”خلافت کا سلسلہ صرف چند روزہ ہوتا ہے، تو کس طرح تسلیم کر لیا جائے کہ اگر

٣٩

صفحہ ١٤٨

ایک شخص کی بیعت کر لی تو اب آئندہ بھی کرتے جاؤ۔‘‘

(پیغام صلح ١٢ اپریل ١٩١٣ء منقول از فرقان جنوری ١٩٤٢ء ج ١ نمبر ١ ص ٧ حوالہ بالا)

یہ تھا قادیانی اور لاہوری جماعتوں کا اصل اختلاف جس کی بنا پر یہ دونوں پارٹیاں الگ ہوئیں اس سیاسی اختلاف کی بنا پر جب قادیانی جماعت نے لاہوری جماعت پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تو لاہوری گروپ مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے پر مجبور ہوا چنانچہ جب جماعت لاہور نے اپنا الگ مرکز قائم کیا تو کچھ اپنی علیحدگی کو خوبصورت بنانے کی تدبیر، کچھ قادیانی جماعت کے بغض اور کچھ مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی فکر کی وجہ سے اس جماعت نے اپنے سابقہ عقائد اور تحریروں سے رجوع اور توبہ کا اعلان کیے بغیر یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں بلکہ مسیح موعود، مہدی اور مجدد مانتے ہیں۔

قادیان اور لاہور کی جماعتوں میں کوئی فرق نہیں

لیکن اگر لاہوری جماعت کے ان عقائد کو بھی دیکھا جائے جن کا اعلان انھوں نے ١٩١٤ء کے بعد کیا ہے۔ تب بھی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان کا یہ موقف محض ایک لفظی ہیر پھیر ہے اور حقیقت کے اعتبار سے ان کے اور قادیانی جماعت کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ہے، جس طرح وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے الہام کو حجت اور واجب الاتباع مانتے ہیں، اسی طرح یہ بھی اسے حجت اور واجب الاتباع سمجھتے ہیں۔ جس طرح وہ مرزا قادیانی کی تمام کفریات کی تصدیق کرتے ہیں، اسی طرح یہ بھی اسے واجب التصدیق قرار دیتے ہیں جس طرح وہ مرزا قادیانی کی تمام کتابوں کو اپنے لیے الہامی سند اور مذہبی اتھارٹی سمجھتے ہیں، اسی طرح یہ بھی انھیں مذہبی ماخذ کی حیثیت دیتے ہیں جس طرح وہ مرزا قادیانی کے مخالفین کو کافر کہتے ہیں اسی طرح یہ بھی مرزا قادیانی کو کافر اور جھوٹا قرار دینے والوں کے کفر کے قائل ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قادیانی جماعت مرزا قادیانی کے لیے لفظ نبی استعمال کرنے کو علی الاطلاق جائز سمجھتی ہے اور لاہوری جماعت مرزا قادیانی کے لیے اس لفظ کے استعمال کو صرف لغوی یا مجازی حیثیت میں جائز قرار دیتی ہے۔

اس حقیقت کی تشریح اس طرح ہوگی کہ لاہوری جماعت جن بنیادی عقیدوں میں اپنے آپ کو قادیانی جماعت سے ممتاز قرار دیتی ہے، وہ دو عقیدے ہیں:

لاہوری جماعت کا دعویٰ ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتی بلکہ صرف مجدد

٤٠

مانتی ہے اور غیر احمدیوں کو کافر کی حقیقت ملاحظہ فرمائیے:

نبی نہ ماننے کی حقیقت

قادیانی کو نبی نہیں مانتے، بلکہ جسے قادیانی جماعت ظلی اور ”النبوۃ فی الاسلام“ میں جو جما

”انواع نبوت میں فی الرسول سے ملتی ہے، جیسا ا تحدید ختم نبوت سے باہر ہے ا طور پر ایک طرف محدثوں کا وج قرار دیا ہے۔ گویا نبوت تو ختم ان لوگوں کو ملتی ہے جو کامل طور کے مقام تک پہنچ جاتے ہیں۔ غلام احمد قادیانی) کی سب س نبوتیں اس پر ختم ہیں اور اس کی وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی نہیں ۔ کیونکہ وہ محمدی نبوت س مظہر ہے۔“

اب دیکھو کہ یہاں آ ہے اور وہ وہی ہے جو آنحضرت پر یہ بھی صاف لکھ دیا ہے کہ وہ مبشرات والی نبوت ہے۔“

آگے مرزا غلام احمد قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

”در حقیقت جو کچھ فر اس کے الفاظ میں تھوڑا تھوڑا تغیر

صفحہ ١٤٩

مانتی ہے اور غیر احمدیوں کو کافر کے بجائے صرف فاسق قرار دیتی ہے۔ اب ان دونوں باتوں کی حقیقت ملاحظہ فرمائیے: نبی نہ ماننے کی حقیقت لاہوری جماعت اگرچہ اعلان تو یہی کرتی ہے کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے، بلکہ ”مجدد“ مانتے ہیں۔ لیکن ”مجدد“ کا مطلب کیا ہے؟ بعینہٖ وہ جسے قادیانی جماعت ظلی اور بروزی نبی کہتی ہے چنانچہ محمد علی لاہوری قادیانی اپنی کتاب ”النبوۃ فی الاسلام“ میں جو جماعت لاہوری کی علیحدگی کے بہت بعد کی تصنیف ہے، لکھتے ہیں: ”انواع نبوت میں سے وہ نوع جو محدث کو ملتی ہے وہ چونکہ باعث اتباع اور فنا فی الرسول کے ملتی ہے، جیسا توضیح المرام میں لکھا تھا کہ وہ نوع مبشرات ہے۔ اس لیے وہ تحدید ختم نبوت سے باہر ہے اور یہ حضرت مسیح موعود ہی نہیں کہتے بلکہ حدیثوں نے صاف طور پر ایک طرف محدثوں کا وعدہ دے کر اور دوسری طرف مبشرات کو باقی رکھ کر یہی اصول قرار دیا ہے۔ گویا نبوت تو ختم ہے، مگر ایک نوع نبوت باقی ہے اور وہ نوع مبشرات ہیں، وہ ان لوگوں کو ملتی ہے جو کامل طور پر اتباع حضرت نبی کریم ﷺ کا کرتے ہیں اور فنا فی الرسول کے مقام تک پہنچ جاتے ہیں۔ اب بعینہٖ اسی اصول کو ”چشمہ معرفت“ میں جو آپ (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کی سب سے آخری کتاب ہے۔ بیان کیا ہے، (دیکھو ص ٣٢٤) ”تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے، مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں، یعنی وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں ۔ کیونکہ وہ محمدی نبوت ہے، یعنی اس کا ظل ہے اور اسی کے ذریعہ سے ہے اور اسی کا مظہر ہے۔“

اب دیکھو کہ یہاں بھی نبوت کو تو ختم ہی کہا ہے۔ لیکن ایک قسم کی نبوت باقی بتائی ہے اور وہ وہی ہے جو آنحضرت ﷺ کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور اسی کتاب کے ص ١٨٢ پر یہ بھی صاف لکھ دیا ہے کہ وہ نبوت جس کو ظلی نبوت یا نبوت محمدیہ قرار دیتے ہیں، وہ وہی مبشرات والی نبوت ہے۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص ١٥٠ مطبوعہ لاہور ١٩٧٤ء)

آگے مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارتوں کی تشریح کرتے ہوئے اور انھیں درست قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”در حقیقت جو کچھ فرمایا ہے (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی نے جو کچھ کہا ہے) گو اس کے الفاظ میں تھوڑا تھوڑا تغیر ہو، مگر ماحصل سب کا ایک ہی ہے، یعنی یہ کہ اوّل فرمایا کہ

٤١

صفحہ ١٥٠

صاحب خاتم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔ پھر فرمایا کہ صاحب خاتم ہونے سے یہ مراد ہے کہ اس کی مہر سے ایک ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لیے امتی ہونا لازمی ہے۔ اب امتی ہونے کے معنی یہی ہیں کہ کامل اطاعت آنحضرت ﷺ کی جائے اور اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کی محبت میں فنا کر دیا جائے تب آپ ﷺ کے فیض سے ایک قسم کی نبوت بھی مل سکتی ہے، وہ نبوت کیا ہے؟ اس کو آخر میں جا کر صاف حل کر دیا ہے کہ وہ ایک ظلی نبوت ہے جس کے معنی ہیں فیض محمدی سے وحی پانا اور یہ بھی فرمایا کہ وہ قیامت تک باقی رہے گی۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص ١٥٣ از محمد علی لاہوری قادیانی)

محمد علی لاہوری قادیانی کی ان عبارتوں کو اہل قادیان اور اہل ربوہ کے ان عقائد سے ملا کر دیکھئے جو پیچھے بیان ہو چکے ہیں۔ کیا کہیں کوئی فرق نظر آتا ہے؟ لیکن آگے فرق ظاہر کرنے کے لیے لفظوں کا یہ کھیل بھی ملاحظہ فرمائیں:

”حضرت مسیح موعود نے اپنی پہلی اور پچھلی تحریروں میں ایک ہی اصول باندھا ہے اور وہ اصول یہ ہے کہ باب نبوت تو مسدود ہے مگر ایک نوع کی نبوت مل سکتی ہے یوں نہیں کہیں گے کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہے بلکہ یہ کہیں گے کہ نبوت کا دروازہ بند ہے۔ مگر ایک نوع کی نبوت باقی رہ گئی ہے اور قیامت تک رہے گی۔ یوں نہیں کہیں گے کہ ایک شخص اب بھی نبی ہو سکتا ہے، یوں کہیں گے کہ ایک نوع کی نبوت اب بھی آنحضرت ﷺ کی پیروی سے حاصل ہو سکتی ہے، اس کا نام ایک جگہ مبشرات، ایک جگہ جزوی نبوت، ایک جگہ محدثیت، ایک جگہ کثرت مکالمہ رکھا ہے مگر نام کوئی بھی رکھا ہو، اس کا بڑا نشان یہ قرار دیا ہے کہ وہ ایک انسان کامل محمد رسول اللہ ﷺ کی اتباع سے مل سکتی ہے وہ فنا فی الرسول ١؎ سے حاصل ہوتی ہے، وہ نبوت محمدیہ ﷺ کی مستفاض ہے۔ وہ چراغ نبوی ﷺ کی روشنی ہے، وہ اصلی کوئی چیز نہیں، ظل ہے۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص ١٥٨ مطبوعہ لاہور ١٩٧٤ء)

کیا یہ لفظوں کے معمولی ہیر پھیر سے ظل و بروز کا بعینہ وہی فلسفہ نہیں ہے جو مرزا قادیانی اور قادیانی جماعت کے الفاظ میں پیچھے بیان کیا جا چکا ہے؟ اگر ہے اور یقیناً ہے تو حقیقت کے لحاظ سے قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت میں فرق کیا رہ گیا؟ اور یہ صرف محمد علی لاہوری قادیانی ہی کا نہیں، پوری لاہوری جماعت کا عقیدہ ہے۔ چنانچہ قادیانی

١؎ فنا فی الرسول سے نبوت مل جاتی ہے تو شاید فنا فی اللہ سے خدائی بھی مل جاتی ہوگی۔

٤٢

صفحہ ١٥١

جماعت اور لاہوری جماعت کے درمیان جو مباحثہ راولپنڈی میں ہوا اور جسے دونوں جماعتوں نے مشترک خرچ پر شائع کیا اس میں لاہوری جماعت کے نمائندے نے صراحۃً کہا کہ:

"حضرت (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) آنحضرت ﷺ کے اخلاق میں ایک کامل ظل ہیں۔ پس ان کی بیوی اس لیے ام المؤمنین ہے اور یہ بھی ظلی طور پر مرتبہ ہے۔"

(مباحثہ راولپنڈی ص ١٩٦)

نیز اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ:

"حضرت مسیح موعود نبی نہیں، مگر آنحضرت ﷺ کی نبوت ان میں منعکس ہے۔"

(مباحثہ راولپنڈی ص ١٩٦)

یہ سب وہ عقائد ہیں جنھیں لاہوری جماعت اب بھی تسلیم کرتی ہے۔ اس سے واضح ہو گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے مسئلہ میں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت میں صرف لفظی ہیر پھیر کا اختلاف ہے۔ لاہوری جماعت اگرچہ مرزا قادیانی کا لقب مسیح موعود اور مجدد رکھتی ہے۔ لیکن ان الفاظ سے اس کی مراد بعینہٖ وہ ہے جو قادیانی جماعت ظلی، بروزی یا غیر تشریعی یا امتی نبی کے الفاظ سے مراد لیتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ لاہوری جماعت کا مسلک یہ ہے کہ "مسیح موعود"، "مجدد" اور "مہدی" کا یہ مقام جسے مرزا قادیانی نے ہزارہا مرتبہ لفظ "نبی" سے تعبیر کیا اور جس کے لیے وہ خود ١٩١٤ء تک بلا تکلف یہی لفظ استعمال کرتے رہے، خلافت کا نزاع پیدا ہونے کے بعد اس کے لیے "نبوت" کا لفظ اور صرف لفظ مجازی یا لغوی قرار پا گیا جسے مرزا قادیانی کی عبارتوں کی تشریح کے لیے اب بھی استعمال کیا جاتا ہے، لیکن عام تحریروں میں اس کا استعمال مصلحۃً ترک کر دیا گیا ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال مرحوم نے بالکل صحیح بات کہی تھی کہ:

"تحریک احمدیت دو جماعتوں میں منقسم ہے جو قادیانی اور لاہوری جماعتوں کے نام سے موسوم ہیں۔ اوّل الذکر جماعت بانی احمدیت کو نبی تسلیم کرتی ہے۔ آخرالذکر نے اعتقاداً یا مصلحۃً قادیانیت کی شدت کو کم کر کے پیش کرنا مناسب سمجھا۔"

(حرف اقبال ص ٤٩ المنار اکادمی مطبوعہ ١٩٤٠ء)

یہاں یہ حقیقت بھی واضح کر دینا مناسب ہے کہ لاہوری صاحبان نے جو تاویل کی ہے کہ مرزا قادیانی نے ہر جگہ اپنے لیے لفظ "نبی" مجازی یا لغوی طور پر استعمال کیا ہے حقیقی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ ١؎ اس تاویل کے لیے انھوں نے "حقیقی نبوت" کی ایک مخصوص

١؎ اگرچہ مرزا قادیانی کی بے شمار تحریریں اس دعویٰ کی بھی تردید کرتی ہیں۔

٤٣

صفحہ ١٥٢

اصطلاح گھڑی ہے جو شرعی اصطلاح سے بالکل الگ ہے، اس حقیقی نبی کے لیے انھوں نے بہت سی شرائط عائد کی ہیں جن میں سے چند یہ بھی ہیں:

جبرئیل ؑ کے بغیر کوئی حقیقی نبی نہیں ہو سکتا۔" (تلخیص النبوۃ فی الاسلام از محمد علی لاہوری ص ٢٨)

کر سکے۔"

(تلخیص النبوۃ فی الاسلام طبع لاہور ١٩٧٣ء ص ٤٧)

(تلخیص النبوۃ فی الاسلام مطبوعہ لاہور ١٩٧٤ء ص ٦٠)

حقیقی نبوت کے لیے اس طرح کی بارہ شرائط عائد کرنے کے بعد انھوں نے ثابت کیا ہے کہ چونکہ یہ شرائط مرزا قادیانی کی نبوت میں نہیں پائی جاتیں۔ اس لیے ان پر حقیقی معنی میں لفظ نبی کا اطلاق درست نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ شریعت کی معروف اصطلاح میں نبی کے لیے نہ کتاب لانا ضروری ہے، نہ یہ ضروری ہے کہ اس کی وحی عبادتوں میں ضرور پڑھی جائے، نہ یہ لازمی ہے کہ نبی اپنے سے پہلی شریعت کو ہمیشہ منسوخ ہی کر دے اور نہ نبوت کی تعریف میں یہ بات داخل ہے کہ اس میں وحی لانے والے ہمیشہ جبرئیل ؑ ہی ہوں۔ لہٰذا "حقیقی نبوت" صرف اسی نبوت کو قرار دینا جس میں یہ ساری شرائط موجود ہوں، محض ایک ایسا حیلہ ہے جس کے ذریعے کبھی مرزا قادیانی کو نبی قرار دینا اور کبھی ان کی نبوت سے انکار کرنا آسان ہو جائے کیونکہ یہ شرائط عائد کر کے تو بہت سے انبیائے بنی اسرائیل کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ "حقیقی نبی" نہیں تھے، کیونکہ نہ ان پر کتاب اتری نہ ان کی وحی کی تلاوت کی گئی اور نہ وہ کوئی نئی شریعت لے کر آئے لیکن وہ انبیاء تھے۔

تکفیر کا مسئلہ لاہوری جماعت جس بنیاد پر اپنے آپ کو اہل قادیان سے ممتاز قرار دیتی ہے، وہ اصل میں تو نبوت ہی کا مسئلہ ہے جس کے بارے میں پیچھے واضح ہو چکا کہ وہ صرف لفظی ہیر پھیر کا فرق ہے، ورنہ حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ دوسرا مسئلہ جس کے بارے میں جماعت لاہور کا دعویٰ ہے کہ وہ جماعت قادیان سے مختلف ہے، تکفیر کا مسئلہ ہے، یعنی لاہوریوں کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ غیر احمدیوں کو مسلمان قرار دیتی ہے، لیکن

٤٤

یہاں بھی بات اتنی۔ قادیانی نے ایک مسئل پڑھنے کے بعد ان کا ماننے والوں کی دو قسم

بھی نہیں کہتے۔ ایسے

مسلک بھی یہی ہے "گویا آ کو کاذب یعنی جھوٹا دوسرے منکروں کا حک آگے چل "حضرت نہیں دیا۔ بلکہ وجہ کفر لیے اسی حدیث کے مزید لکھ "چونکہ کا کی دونوں تکفیر کر ۔ ہیں۔" (رد تکفیر ال نیز لاہور "جو (مر ان پر فتویٰ کفر لوٹ ٹھہراتے ہیں۔" اس سے کاذب (جھوٹا) قرا کرتی ہے۔ صرف ک

صفحہ ١٥٣

یہاں بھی بات اتنی سادہ نہیں جتنی بیان کی جاتی ہے اس مسئلہ پر امیر جماعت محمد علی لاہوری قادیانی نے ایک مستقل کتاب ”رد تکفیر اہل قبلہ“ کے نام سے لکھی ہے۔ اس کتاب کو بغور پڑھنے کے بعد ان کا جو نقطہ نظر واضح ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود نہ ماننے والوں کی دو قسمیں ہیں:

بھی نہیں کہتے۔ ایسے لوگ ان کے نزدیک بلاشبہ کافر نہیں ہیں بلکہ فاسق ہیں۔“

(ملخص النبوۃ فی الاسلام مطبوعہ لاہور ١٩٧٤ء ص ٢١٥)

مسلک بھی یہی ہے کہ وہ ”کافر“ ہیں۔ چنانچہ محمد علی قادیانی لکھتے ہیں:

”گویا آپ (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کی تکفیر کرنے والے اور وہ منکر جو آپ کو کاذب یعنی جھوٹا بھی قرار دیتے ہیں، ایک قسم میں داخل ہیں اور ان کا حکم ایک ہے، اور دوسرے منکروں کا حکم الگ ہے۔“

آگے پہلی قسم کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔

”حضرت مسیح موعود نے اب بھی اپنے انکار یا اپنے دعویٰ کے انکار کو وجہ کفر قرار نہیں دیا۔ بلکہ وجہ کفر صرف اسی بات کو قرار دیا ہے کہ مفتری کہہ کر اس نے مجھے کافر کہا۔ اس لیے اسی حدیث کے مطابق جو کافر کہنے والے پر کفر لوٹاتی ہے۔ اس صورت میں بھی کفر لوٹا۔“

مزید لکھتے ہیں:

”چونکہ کافر کہنے والا اور کاذب کہنے والا معنی یکساں ہیں یعنی مدعی (مرزا قادیانی) کی دونوں تکفیر کرتے ہیں اس لیے دونوں اس حدیث کے ماتحت خود کفر کے نیچے آ جاتے ہیں۔“

(رد تکفیر اہل قبلہ مصنفہ محمد علی لاہوری ص ٤٢، مطبوعہ انجمن اشاعت اسلام ١٩٢٦ء)

نیز لاہوری جماعت کے معروف مناظر اختر حسین گیلانی لکھتے ہیں:

”جو (مرزا قادیانی) کی تکذیب کرنے والے ہیں ان کے متعلق ضرور فرمایا کہ ان پر فتویٰ کفر لوٹ کر پڑتا ہے، کیونکہ تکذیب کرنے والے حقیقۃً مفتری قرار دے کر کافر ٹھہراتے ہیں۔“

(مباحثہ راولپنڈی ص ٢٥١ مطبوعہ قادیان)

اس سے صاف واضح ہے کہ جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنے دعوؤں میں کاذب (جھوٹا) قرار دیتے ہیں یا انھیں کافر کہتے ہیں۔ ان کو لاہوری جماعت بھی کافر تسلیم کرتی ہے۔ صرف تکفیر کی وجہ کا فرق ہے۔ جو لوگ لاہوریوں کے نزدیک کفر کے فتوے سے

٤٥

صفحہ ١٥٤

مستثنیٰ ہیں اور صرف فاسق ہیں وہ صرف ایسے غیر احمدی ہیں جو مرزا قادیانی کو کاذب یا کافر نہیں کہتے ۔ اب غور فرمائیے کہ عالم اسلام میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی کی تکذیب نہیں کرتے؟ ظاہر ہے کہ جتنے مسلمان مرزا قادیانی کو نبی یا مسیح موعود نہیں مانتے وہ سب ان کی تکذیب ہی کرتے ہیں لہٰذا وہ سب لاہوری جماعت کے نزدیک بھی فتوائے کفر کے تحت آ جاتے ہیں کیونکہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود نہ ماننا اور ان کی تکذیب کرنا عملاً ایک ہی بات ہے خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

”جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٦٣ روحانی خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)

منیر انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں جج صاحبان نے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مرزا قادیانی کو نہ ماننا اور ان کی تکذیب کرنا ایک ہی بات ہے۔ لہٰذا جو فتویٰ تکذیب کرنے والوں پر لگے گا وہ در حقیقت تمام غیر احمدیوں پر عائد ہوگا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔

”نماز جنازہ کے متعلق احمدیوں نے ہمارے سامنے بالآخر یہ موقف اختیار کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک فتویٰ حال ہی میں دستیاب ہوا ہے جس میں انھوں نے احمدیوں کو اجازت دی ہے کہ وہ ان مسلمانوں کی نماز جنازہ میں شریک ہو سکتے ہیں جو مرزا قادیانی کے مکذب اور مکفر نہ ہوں۔ لیکن اس کے بعد بھی معاملہ وہیں کا وہیں رہتا ہے، کیونکہ اس فتویٰ کا ضروری مفہوم یہی ہے کہ اس مرحوم کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی جو مرزا قادیانی کو نہ مانتا ہو، لہٰذا اس اعتبار سے یہ فتویٰ موجودہ طرز عمل ہی کی تائید و تصدیق کرتا ہے۔“

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت پنجاب ١٩٥٣ء ص ٢١٢)

اب غور فرمائیے کہ فتویٰ کفر کے اعتبار سے عملاً لاہوری اور قادیانی جماعتوں میں کیا فرق رہ گیا؟ قادیانی کہتے ہیں کہ تمام مسلمان غیر احمدی ہونے کی بنا پر کافر ہیں، اور لاہوری جماعت والے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو کاذب کہنے کی وجہ سے کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ فتوائے کفر کے لوٹ کر پڑنے کی وجہ سے کافر ہیں۔ اب اس اندرونی فلسفے کو وہ خود طے کریں کہ مسلمانوں کو کافر کہنے کی وجہ کیا ہے؟ لیکن عملی اعتبار سے مسلمانوں کے لیے اس کے سوا اور کیا فرق پڑا کہ ؎

ستم سے باز آ کر بھی جفا کی
تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی

بعض مرتبہ لاہوری جماعت کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ ہم مرزا قادیانی کی

صفحہ ١٥٥

تکذیب کرنے والوں کو جو کافر قرار دیتے ہیں، اس سے مراد ایسا کفر نہیں جو دائرۂ اسلام سے خارج کر دے، بلکہ ایسا کفر ہے جو ”فسق“ کے معنی میں بھی استعمال ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ”کفر“ سے ان کی مراد فسق ہی ہے تو پھر جو غیر احمدی مرزا قادیانی کو کافر یا کاذب نہیں کہتے، ان کے لیے اس لفظ کفر کا استعمال کیوں درست نہیں؟ جبکہ وہ بھی لاہوریوں کے نزدیک ”فاسق“ ضرور ہیں۔

(دیکھئے کلمۃ فی الاسلام ص ٢١٥ طبع دوم و مباحثہ راولپنڈی ص ٢٤٧)

لاہوری جماعت کی وجوہ کفر

مذکورہ بالا تصریحات سے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے درمیان بنیادی عقائد کے اعتبار سے کوئی عملی فرق نہیں۔ فرق اگر ہے تو وہ الفاظ و اصطلاحات اور فلسفیانہ تعبیروں کا فرق ہے اور ان کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ یہ فرق لاہوری جماعت نے ضرورتاً اور مصلحتاً پیدا کیا ہے، اسی لیے ١٩١٤ء کے تنازعہ خلافت سے پہلے اس کا کوئی نشان نہیں ملتا، اب منقح طور پر ان کے کفر کی وجوہ، درج ذیل ہیں:

روشنی میں یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ہرگز وہ مسیح نہیں جس کا قرب قیامت میں وعدہ کیا گیا ہے۔ اور ان کو مسیح موعود ماننا قرآن کریم، متواتر احادیث اور اجماعِ امت کی تکذیب ہے، لاہوری مرزائی چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود مانتے ہیں، اس لیے کافر اور دائرہ اسلام سے اسی طرح خارج ہیں جس طرح قادیانی مرزائی۔“

کو کافر کہنے کے بجائے اپنا دینی پیشوا قرار دینے والا مسلمان نہیں ہو سکتا۔“

جماعت اس بات کی قائل ہے کہ (معاذ اللہ) وہ آنحضرت ﷺ کا بروز تھا اور آنحضرت ﷺ کی نبوت اس میں منعکس ہو گئی تھی، اور اس اعتبار سے اسے نبی کہنا درست ہے، یہ عقیدہ دائرہ اسلام میں کسی طرح نہیں کھپ سکتا۔“

ہیں۔ (جن کی کچھ تفصیل آگے آ رہی ہے) لاہوری جماعت مرزا قادیانی کی تمام تحریروں کو

٧٤

صفحہ ١٥٦

حجت اور واجب الاطاعت قرار دے کر ان تمام کفریات کی تصدیق کرتی ہے۔ محمد علی لاہوری قادیانی لکھتے ہیں:

”اور مسیح موعود کی تحریروں کا انکار در حقیقت مخفی رنگ میں خود مسیح موعود کا انکار ہے۔“

(النبوت فی الاسلام ص ١١١ طبع دوم لاہور)

یہاں یہ واضح رہنا بھی ضروری ہے کہ اسلام میں ”مجدد“ کا مفہوم صرف اتنا ہے کہ جب اسلام کی تعلیمات سے روگردانی عام ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا کوئی بندہ پھر سے لوگوں کو اسلامی تعلیمات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ان مجددین کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، نہ ان کی کسی بات کو شرعی حجت سمجھا جاتا ہے، نہ وہ اپنے مجدد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہ لوگوں کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ انھیں ضرور مجدد مان کر ان کے ہاتھ پر بیعت کریں، بلکہ یہ بھی ضروری نہیں کہ لوگ انھیں مجدد کی حیثیت سے پہچان بھی جائیں چنانچہ چودہ سو سالہ تاریخ میں مجددین کے ناموں میں بھی اختلاف رہا ہے اسی طرح اگر کوئی شخص انھیں مجدد تسلیم نہ کرے تو شرعاً وہ گنہگار بھی نہیں ہوتا، نہ وہ اپنے تجدیدی کارنامے الہام کی بنیاد پر پیش کرتے ہیں اور نہ ان کے الہام کی تصدیق شرعاً واجب ہوتی ہے۔

اس کے بالکل برعکس لاہوری جماعت مرزا قادیانی کے لیے ان تمام باتوں کی قائل ہے لہٰذا اس کا یہ دعویٰ کہ ”ہم مرزا قادیانی کو صرف مجدد مانتے ہیں۔“ مغالطے کے سوا کچھ نہیں۔

٤٨

صفحہ ١٥٧

مرزائی نبوت کی جھلکیاں ایک نظر میں

ہم نے اپنی قرارداد میں کہا ہے کہ ! ”ہر گاہ کہ نبی ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان، بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھیں۔“

مرزائیوں کی مزید کفریات اور گستاخیاں

عقیدہ ختم نبوت کی صریح خلاف ورزی کے علاوہ مرزا قادیانی کی تحریریں بہت سی کفریات سے بھری ہوئی ہیں یہاں تمام کفریات کا ذکر کرنا تو مشکل ہے لیکن نمونے کے طور پر چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا بروز تو قرار دیا ہی تھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے متعدد مقامات پر اپنے آپ کو خدا کا بروز بھی قرار دیا ہے۔ چنانچہ ١٥ مارچ ١٩٠٦ء کے خود ساختہ الہامات میں ایک الہام یہ بھی تھا کہ:

اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ بُرُوْزِیْ

یعنی ”تو مجھ سے میرے بروز کے رتبے میں ہے۔“

(تذکرہ ص ٦٠٤) (ریویو آف ریلیجنز ج ٥ نمبر ٥ ماہ اپریل ١٩٠٦ء ص ١٦٢)

نیز انجام آتھم میں اپنے الہامات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

”اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِی تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔“ (تذکرہ ص ٤٢٠ اربعین نمبر ٣ ص ٣٣ خزائن ج ١٧ ص ٤١٠ انجام آتھم ص ٥ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

نیز لکھتے ہیں:

”میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں۔“ (کتاب البریہ ص ٧٨ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣ و آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

”اور دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں خدا کی مانند، یہ گویا اس الہام کے مطابق ہے جو براہین احمدیہ میں ہے۔ انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی۔“ (اربعین نمبر ٣ ص ٢٣ خزائن ج ١٧ ص ٤١٠)

٤٩

صفحہ ١٥٨

قرآن کریم کی تحریف اور گستاخیاں

مرزا قادیانی نے قرآن کریم میں اس قدر لفظی اور معنوی تحریفات کی ہیں کہ ان کا شمار مشکل ہے یہاں تک کہ اس شخص نے یہ جسارت بھی کی ہے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیات جو صراحۃً آنحضرت ﷺ کی شان میں نازل ہوئیں تھیں ان کو اپنے حق میں قرار دیا اور جو القاب اور امتیازات قرآن کریم نے سرکار دو عالم ﷺ کے لیے بیان فرمائے تھے تقریباً سب کے سب اس نے اپنے لیے مخصوص کر لیے اور یہ کہا کہ مجھے بذریعہ وحی ان القاب سے نوازا گیا ہے۔ مثلاً مندرجہ ذیل آیات قرآنی:

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٣ خزائن ج ١٧ ص ٤١٠)

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)

(حقیقۃ الوحی ص ٧٥ خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)

(حقیقۃ الوحی ص ٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)

(حقیقۃ الوحی ص ٨٠ خزائن ج ٢٢ ص ٨٣)

(حقیقۃ الوحی ص ٩٤ خزائن ج ٢٢ ص ٩٧)

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)

(حقیقۃ الوحی ص ١٠١ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

خاص آنحضرت ﷺ کا امتیاز بتانے کے لیے نازل ہوئی تھی اور اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ”ہم نے آپ ﷺ کو کوثر عطا کی ہے“ لیکن مرزا قادیانی نے اس سورت کو اپنے حق میں قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ ”اِنَّا شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ (بے شک آپ کا دشمن مقطوع النسل ہے) میں شانی یعنی بدگو اور دشمن سے مراد ان کا ایک ”شقی، خبیث، بدطینت، فاسد القلب، ہندوزادہ، بدفطرت“ مخالف یعنی نومسلم سعد اللہ ہے۔“

(ملاحظہ ہو انجام آتھم ص ٥٨ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

کرتے ہوئے لکھا کہ یہ میرے بارے میں کہا گیا ہے کہ:

٥٠

صفحہ ١٥٩

سُبْحٰنَ الَّذِيٓ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ لَيْلاً۔ وہ پاک ذات وہی خدا ہے جس نے ایک رات میں تجھے سیر کرا دیا۔

(دیکھئے حقیقۃ الوحی ص ٧٨ خزائن ج ٢٢ ص ٨١)

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰی. مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ آیت بھی اپنی طرف منسوب کی ہے۔

(حقیقۃ الوحی ص ٧٦ خزائن ج ٢٢ ص ٧٩)

تشریف آوری کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا تھا: وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِيْ مِنْ بَعْدِی اسْمُهٗ اَحْمَدُ. ”اور میں ایک رسول کی خوش خبری دینے کے لیے آیا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ﷺ ہوگا۔“ مرزا غلام احمد قادیانی نے انتہائی جسارت اور ڈھٹائی سے دعویٰ کیا کہ ”اس آیت میں میرے آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے اور احمد سے مراد میں ہوں۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٧٣ خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)

چنانچہ مرزائی صاحبان اسی پر ایمان رکھتے ہیں کہ اس آیت میں احمد سے مراد آنحضرت ﷺ کے بجائے (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ قادیانیوں کے خلیفہ دوم مرزا بشیر الدین محمود نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے ٢٧ دسمبر ١٩١٥ء کو ایک مستقل تقریر کی جو انوار خلافت میں ان کی نظر ثانی کے بعد چھپی ہے۔ اس کے آغاز میں وہ کہتے ہیں:

”پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آیا حضرت مسیح موعود کا نام احمد تھا۔ یا آنحضرت ﷺ کا، اور کیا سورۂ صف کی آیت جس میں ایک رسول کی جس کا نام احمد ہوگا بشارت دی گئی ہے، آنحضرت ﷺ کے متعلق ہے۔ یا حضرت مسیح موعود کے متعلق؟ میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں، لیکن اس کے خلاف کہا جاتا ہے کہ احمد نام رسول کریم ﷺ کا ہے اور آپ کے سوا کسی اور شخص کو احمد کہنا آپ ﷺ کی ہتک ہے۔ لیکن میں جہاں تک غور کرتا ہوں میرا یقین بڑھتا جاتا ہے۔ اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ احمد کا جو لفظ قرآن کریم میں آیا ہے، وہ حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کے متعلق ہی ہے۔“

(انوارِ خلافت ص ١٨)

یہ شرمناک، اشتعال انگیز، جگر سوز اور ناپاک جسارت اس حد تک بڑھی کہ ایک قادیانی مبلغ سید زین العابدین ولی اللہ شاہ نے ”اسمہ احمد“ کے عنوان سے ١٩٣٤ء کے جلسہ

٥١

صفحہ ١٦٠

سالانہ قادیان میں ایک مفصل تقریر کی جو الگ شائع ہوچکی ہے۔ اس میں اس نے صرف یہ ہی دعویٰ نہیں کیا کہ ”مذکورہ آیت میں احمد سے مراد آنحضرت ﷺ کے بجائے مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ بلکہ یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سورہ صف میں صحابہ کرام کو فتح و نصرت کی جتنی بشارتیں دی گئی ہیں وہ صحابہ کرام کے لیے نہیں قادیانی جماعت کے لیے تھیں۔ چنانچہ اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے وہ کہتا ہے: ”پس یہ اُخْرىٰ ١؂ کتنی بے بہا نعمت ہے جس کی صحابہ تمنا کرتے رہے مگر وہ اسے حاصل نہ کر سکے اور آپ کو مل رہی ہے۔“

(اسنۃ احمد ص ٧٤)

غور فرمائیے کہ سرکار دوعالم ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب کرام کی یہ توہین اور قرآن کریم کی آیات کے ساتھ یہ گھناؤنا مذاق مسلمانوں جیسا نام رکھنے کے بغیر ممکن تھا؟

مرزائی ”وحی“ قرآن کے برابر

پھر یہ جسارت یہیں پر ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس پر نازل ہونے والی نام نہاد وحی (جس میں انتہائی درجے کی کفریات اور بازاری باتیں بھی موجود ہیں) ٹھیک قرآن کے برابر ہے، چنانچہ اپنے ایک فارسی قصیدے میں وہ کہتا ہے:

آنچہ من بشنوم ز وحی خدا
بخدا پاک دانمش ز خطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطا ہا ہمیں است ١؂ ایمانم

(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

”یعنی خدا کی جو وحی میں سنتا ہوں خدا کی قسم میں اسے ہر غلطی سے پاک سمجھتا ہوں قرآن کی طرح اسے تمام غلطیوں سے پاک یقین کرتا ہوں۔ یہی میرا ایمان ہے۔“

مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قرآن کی طرح میری وحی بھی حد اعجاز کو پہنچی ہوئی ہے اور اس کی تائید میں انھوں نے ایک پورا قصیدہ اعجازیہ تصنیف کیا ہے جو ان کی کتاب ”اعجاز احمدی“ میں شائع ہو گیا ہے۔“

انبیاء علیہم السلام کی توہین

اس کے علاوہ پوری امت مسلمہ انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانے اور ان کی تعظیم و

١ آیت قرآنی : وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِيْبٌ. (الصف ١٣/٦١)

٥٢

صفحہ ١٦١

تقدیس کو جزو ایمان سمجھتی ہے سرکار دو عالم محمد مصطفیٰ ﷺ بغیر کسی ادنیٰ شبہ کے تمام انبیاء سے افضل تھے لیکن کبھی آپ ﷺ نے کسی دوسرے نبی کے بارے میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں فرمایا جو ان کے شایان شان نہ ہو لیکن مرزا غلام احمد قادیانی انسانی پستیوں کے تحت الثریٰ میں کھڑے ہو کر بھی انبیاء علیہم السلام کی شان میں جو گستاخیاں کرتے رہے۔ اس کا نمونہ ملاحظہ فرمائیے:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(کشتی نوح حاشیہ ص ٦٦ خزائن ج ١٩ ص ٧١)

بعض وقت سو سو دفعہ ایک ایک دن میں پیشاب آیا ہے۔۔۔۔۔۔ ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لیے افیون مفید ہوتی ہے پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے میں نے جواب دیا کہ اگر میں ذیابیطس کے لیے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“

(نسیم دعوت ص ٦٩ خزائن ج ١٩ ص ٤٣٤، ٤٣٥)

ابنِ مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

اور اس کے بعد لکھتے ہیں: ”یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور اگر تجربہ کی رو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔“

(دافع البلاء ص ٢٠، ٢١ خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تا بہ نہد پا بہ منبرم

(ازالہ اوہام ص ١٥٨ خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

یعنی! ”یہ میں ہوں جو بشارتوں کے مطابق آیا ہوں۔ عیسیٰ کی کیا مجال کہ وہ میرے منبر پر پاؤں رکھ سکے۔“

٥٣

صفحہ ١٦٢

شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔"

(دافع البلاء ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

٦...... "مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔" (حقیقۃ الوحی ص ١٤٨ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)

٧...... "مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔١؂ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور (باعفت) رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا، کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔" (مقدمہ دافع البلاء خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)

٨...... نیز تمام انبیاء علیہم السلام پر اپنی فضیلت ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

١؂ نا انصافی ہوگی۔ اگر یہاں خود مرزا قادیانی کی "راست باز" سیرت کے دو ایک واقعے ذکر نہ کیے جائیں۔ مرزا قادیانی کے مرید خاص مفتی محمد صادق، مرزا قادیانی کے "غض بصر" یعنی نگاہیں نیچی رکھنے کے بیان میں لکھتے ہیں۔

"حضرت مسیح موعود کے اندرون خانہ ایک نیم دیوانی سی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی ایک دفعہ اس نے کیا حرکت کی کہ جس کمرے میں حضرت بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے وہاں ایک کونے میں گھڑا تھا جس کے پاس پانی کے گھڑے رکھے تھے۔ وہاں اپنے کپڑے اتار کر اور ننگی بیٹھ کر نہانے لگ گئی حضرت اپنے کام تحریر میں مصروف رہے اور کچھ خیال نہ کیا کہ وہ کیا کرتی ہے۔"

(ذکر حبیب ص ٣٨ مولفہ محمد صادق قادیانی)

نیز ایک نوجوان عورت عائشہ نامی مرزا قادیانی کے پاؤں دبایا کرتی تھی، اس کے شوہر غلام محمد لکھتے ہیں، "حضور کو مرحومہ کی خدمت پاؤں دبانے کی بہت پسند تھی۔" (الفضل ٢٠ مارچ ١٩٢٨ء ص ٧ ج ١٥ نمبر ٧٤)

اس کے علاوہ جو اجنبی عورتیں مرزا قادیانی کے گھر میں رہتی تھیں اور ان کی مختلف خدمات پر مامور تھیں ان کی تفصیل کے لیے (ملاحظہ ہو سیرت المہدی از مرزا بشیر احمد ایم ۔ اے ص ٢١٠ ج ٣، ص ٢١٣ ج ٣، ص ٢٧٣ ج ٣، ص ٨٨ ج ٣، ص ١٢٦ ج ٣، ص ٣٥ ج ٣، ص ٤٣ ج ٣، ص ٢٥٩ ج ١)

جبکہ عوام کے لیے فتویٰ یہ تھا کہ بوڑھی عورت سے بھی مصافحہ کرنا جائز نہیں۔

(سیرت المہدی ج ٢ ص ٧٦)

اور مفتی محمد صادق لکھتے ہیں:

"ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا جو مکان کے قریب ہی تھا...... حضرت نے فرمایا ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے تا کہ معلوم ہو کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔" (ذکر حبیب ص ١٨)

٥٤

صفحہ ١٦٣

"میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ہزارہا میری ایسی کھلی کھلی پیشگوئیاں ہیں جو نہایت صفائی سے پوری ہوگئیں جن کے لاکھوں انسان گواہ ہیں، ان کی نظیر اگر گزشتہ نبیوں میں تلاش کی جائے تو بجز آنحضرت ﷺ کے کسی اور جگہ ان کی مثال نہیں ملے گی۔"

(کشتی نوح ص ٦ خزائن ج ١٩ ص ٦)

آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی

پھر تمام انبیاء علیہم السلام پر اپنی فضیلت ظاہر کر کے بھی انھیں تسلی نہیں ہوتی، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی گستاخیوں نے سرکارِ دو عالم رحمتہ للعالمین محمد مصطفیٰ ﷺ کے دامن عظمت پر بھی دست درازی کی کوشش کی ہے، لکھا ہے کہ:

"خوب توجہ کر کے سن لو کہ اب اسم محمد ﷺ کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں، کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں، اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔"

(اربعین نمبر ٤ ص ١٥ خزائن ج ١٧ ص ٤٤٥)

اور خطبہ الہامیہ کی وہ عبارت پیچھے گزر چکی ہے جس میں اس نے اپنے کو سرکار دو عالم ﷺ کا بروز ثانی قرار دے کر کہا ہے کہ یہ نیا ظہور پہلے سے اشد اقویٰ اور اکمل ہے۔

(دیکھئے خطبہ الہامیہ ص ٢٧٢ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

نیز اپنے قصیدہ اعجازیہ میں (جسے قرآن کی طرح معجز قرار دیا ہے) یہ شعر بھی کہا ہے کہ:

لَہٗ خَسَفَ القمر المنير وان لى
غساً القمران المشرقان انكر

اس یعنی آنحضرت ﷺ کے لیے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا؟ (اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

سچ ہے کہ ؎

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں

صحابہؓ کی توہین جو شخص اس دیدہ دلیری کے ساتھ انبیاء علیہم السلام کی توہین کر سکتا ہو، وہ صحابہ کرامؓ کو تو کیا خاطر میں لا سکتا ہے؟ چنانچہ مندرجہ ذیل عبارتیں بلا تبصرہ پیش خدمت ہیں:

٥٥

صفحہ ١٦٤

١...... ”جو شخص میری جماعت میں داخل ہوا درحقیقت سردارِ خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٢٥٨ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

٢...... ”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ابوبکرؓ کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔“

(اشتہار معیار الاخیار ص ١١ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)

٣...... ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو، ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کو تلاش کرتے ہو۔“

(ملفوظات احمدیہ ص ١٣١ ج ١)

٤...... ”بعض نادان صحابی جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا وہ ابھی اس عقیدے سے بے خبر تھے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٢٠ خزائن ج ٢١ ص ٢٨٥)

یہاں ”نادان صحابی“ کا لفظ حضرت عمرؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ کے لیے استعمال کیا ہے۔

(دیکھئے خطبہ الہامیہ ص ١٤٩ و حقیقت الوحی ص ٣٣، ٣٤ خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)

اہل بیت کی توہین

١...... گستاخی اور جسارت کی انتہا ہے کہ لکھتے ہیں: ”حضرت فاطمہؓ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص ٩ خزائن ج ١٨ ص ٢١٣)

٢...... ”میں خدا کا کشتہ ہوں، لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ تھا۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٨١ خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

٣...... ”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا، اور تمہارا درد صرف حسین ہے کیا تو انکار کرتا ہے؟ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٨٢ خزائن ج ١٩ ص ١٩٤)

٤......

کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

٥...... آنحضرت ﷺ کے اہل بیت کی توہین کے بعد اپنی اولاد کو ”پنج تن“ کے لقب سے مقدس قرار دیتے ہوئے کہا:

میری اولاد سب تیری عطا ہے
ہر ایک تیری بشارت سے ہوا ہے

٥٦

شعائر اسلامی کی تـ...

”اس زما... ہے، اس لیے اب و... دودھ پئے گی۔“

آگے کہتے... ”حضرت ... یہاں نہیں آتے، مجھے کاٹا جائے گا تم ڈرو کـ... ماؤں کا دودھ سوکھ جایا...

”آج جلسہ... لوگوں کے قبضہ میں نـ... قادیان کو اس کام کے...

(خطبہ جمعہ مرزا محمود قادیا...

٣...... اور مرزا غلام احمـ...

اسلام اور مسـ... بیت عظامؓ کی شان میں رسول، اللہ کا بروز، خاتم کو صحابہ کرام کہا گیا اور ام المؤمنین قرار دیا گیا۔ ارضِ حرم اور ’ام القریٰ‘

صفحہ ١٦٥
یہ پانچوں جو کہ نسل سیدہ ہے
یہی ہیں پنج تن جن پر بنا ہے

(درثمین اردو ص ٤٥)

شعائر اسلامی کی توہین مرزا بشیر الدین محمود لکھتے ہیں:

”اس زمانے میں خدا تعالیٰ نے قادیان کو تمام دنیا کی بستیوں کی اُمّ قرار دیا ہے۔ اس لیے اب وہی بستی پورے طور پر روحانی زندگی پائے گی۔ جو اس کی چھاتیوں سے دودھ پیے گی۔“

(حقیقۃ الرؤیا ص ٤٥)

آگے کہتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہیں آتے، مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے، پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا، آخر ماؤں کا دودھ سوکھ جایا کرتا ہے، کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔“

(حقیقۃ الرؤیا ص ٤٥، ٤٦)

”آج جلسہ کا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔...... حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے، جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں، اس لیے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لیے مقرر کیا ہے۔“

(خطبہ جمعہ مرزا محمود قادیانی مورخہ ٢٥ دسمبر ١٩١٣ء برکات خلافت ص ٩ طبع اول ضیاء الاسلام پریس قادیان)

زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین ص ٥٢)

اسلام اور مسلمانوں کی مکرم ترین شخصیات انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظامؓ کی شان میں ایسی کھلم کھلا گستاخیوں کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی جیسے شخص کو نبی، رسول، اللہ کا بروز، خاتم انبیاء اور محمد مصطفیٰ ﷺ، جیسے خطابات دیے گئے، اس کے مریدوں کو صحابہ کرام کہا گیا اور ان کے ساتھ رضی اللہ عنہم لکھا گیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کو ام المؤمنین قرار دیا گیا۔ مرزا کے جانشینوں کو خلفاء اور صدیقین کے لقب عطا ہوئے، قادیان ارضِ حرم اور ”امّ القریٰ“ کہلایا اور اپنے سالانہ جلسے کو ”حج“ کہا گیا۔ اس کے باوجود یہ اصرار

صفحہ ١٦٦

ہے کہ مسلمان ہیں تو بس یہی، اور اسلام ہے تو صرف قادیانیوں کے مذہب میں ۔

تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو

مرزا قادیانی کے چند الہامات معزز ارکان اسمبلی کی معلومات اور دلچسپی کے لیے مرزا قادیانی کے چند خاص الہامات اور ان کی زندگی کے چند اہم گوشے پیش کرتے ہیں تا کہ وہ یہ اندازہ کر سکیں کہ مرزائی صاحبان جس شخص کو نبی اور رسول کہتے ہیں وہ کیا تھا؟ اور عقیدہ ختم نبوت سے قطع نظر، اس مزاج اور اس انداز کے انسان میں کہیں دور دور ”نبوت“ کے مقدس منصب کی کوئی بو نظر آتی ہے؟ پہلے الہامات کو لیجئے جو بلا تبصرہ حاضر ہیں:

”زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“

(نزول المسیح ص ٥٧ خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)

حالانکہ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ. (ابراہیم ٤) (ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم ہی کی زبان میں تا کہ انھیں کھول کر بتا دے)

اسی طرح خود مرزا قادیانی نے بھی چشمہ معرفت میں تحریر کیا ہے: ”بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے۔ اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔“ (چشمہ معرفت ص ٢٠٩ خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

اب مرزا قادیانی کے ایسے الہامات اور مکاشفات ملاحظہ فرمائیے قرآن حکیم اور اپنے فیصلے کے خلاف مرزا قادیانی کو ان زبانوں میں بھی الہامات ہوئے ہیں جن کو وہ خود بھی نہیں سمجھ سکتے۔

ہم بطور نمونہ مرزا قادیانی کے چند الہام درج کرتے ہیں:

کیوں چھوڑ دیا۔ آخری فقرہ اسی الہام کا یعنی ایلی آوس بباعث سرعت ورود مشتبہ رہا اور نہ اس کے کچھ معنی کھلے۔“

(البشریٰ ج ١ ص ٣٦ مجموعہ الہامات مرزا قادیانی)

براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں

٥٨

صفحہ ١٦٧

نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے...... مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا۔ درد زہ مجھے تنہ کھجور کی طرف لے آئی اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا بس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“

(کشتی نوح ص ٤٦، ٤٧ خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

٣...... ”یریدون ان یروا طمثک یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھائے گا، جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ بچہ ہو گیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٤٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

٤...... ”اِشْنا عَاج ہمارا رب عاجی ہے۔ عاج کے معنی ابھی تک نہیں کھلے۔“

(براہین احمدیہ ہر چہار حصص ص ٥٥٦ خزائن ج ١ ص ٦٦٢)

٥...... ”ایک دفعہ ٥ مارچ ١٩٠٥ء کے مہینے میں بوقت آمدنی لنگر خانہ کے مصارف میں بہت دقت ہوئی کیونکہ کثرت سے مہمانوں کی آمد تھی اور اس کے مقابل پر روپیہ کی آمدنی کم، اس لیے دعا کی گئی ٥ مارچ ١٩٠٥ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا نام کچھ نہیں میں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی۔ ٹیچی۔

(حقیقۃ الوحی ص ٣٣٢ خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)

مرزا قادیانی کے فرشتہ نے یا پہلے جھوٹ بولا یا بعد میں جس نبی کا فرشتہ جھوٹ بولتا ہے وہ نبی کیسے سچا ہو سکتا ہے؟

٦...... ”٢٤ فروری ١٩٠٥ء حالت کشفی میں جبکہ حضرت کی طبیعت ناساز تھی ایک شیشی دکھائی گئی جس پر لکھا ہوا تھا۔ خاکسار پیپر منٹ۔“

(تذکرہ ص ٥٢٧)

٧...... مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید قاضی یار محمد قادیانی بی۔ او۔ ایل پلیڈر اپنے مرتبہ ٹریکٹ نمبر ٣٤ موسوم ”اسلامی قربانی ص ١٢ میں تحریر کرتے ہیں ”جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا، سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔“

٨...... ”پھر بعد اس کے خدا نے فرمایا: شَعْنَا، نَعْسًا دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں۔ اور ان کے معنی ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے پھر بعد اس کے دو فقرے انگریزی میں جن کے الفاظ کی

صفحہ ١٦٨

صحت بباعث سرعت الہام ابھی تک معلوم نہیں اور وہ یہ ہیں آئی لو یو، آئی شیل گو یو، لارج پارٹی اوف اسلام۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦ خزائن ج ١ ص ٦٦٤)

ودیو۔ آئی شیل ہیلپ یو آئی کین وہٹ آئی ول ڈو۔ پھر بعد اس کے بہت زور سے جس سے بدن کانپ گیا یہ الہام ہوا۔ وی کین وٹ وی ول ڈو۔ اور اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا کہ ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا بول رہا ہے اور باوجودیکہ وحشت ہونے کے پھر اس میں ایک لذت تھی جس سے روح کو معنی معلوم کرنے سے پہلے ہی ایک تسلی اور تشفی ملتی تھی اور یہ انگریزی زبان کا الہام اکثر ہوتا رہتا ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات مرزا ص ٦٣، ٦٤)

گوپال تیری استت گیتا میں لکھی ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات مرزا ص ٣٨٠)

گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی ہے۔“

(تذکرہ ص ٣٨٠)

میں ہی ہوں اور یہ دعوٰی صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے۔ جو کرشن آخری زمانے میں ظاہر ہونے والا تھا، وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ۔“

(تذکرہ ص ٣٨١)

الفضل ٥ اپریل ١٩٢٧ء ”امین الملک جے سنگھ بہادر“

(تذکرہ الہامات مرزا ص ٦٧٢)

مرزا قادیانی کی پیشینگوئیاں

مرزا غلام احمد قادیانی تحریر کرتے ہیں کہ: ”بدخیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لیے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

اب ہم یہاں مرزا غلام احمد قادیانی کی صرف دو پیشگوئیاں بطور نمونہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں، جنھیں پورا کرنے کے لیے جناب مرزا قادیانی نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا حیلے حوالے کیے، ٹوٹکے استعمال کیے اور یہاں تک کہ رشوت تک دینے کی بھی پیش کش کی مگر وہ پوری نہ ہو سکیں۔

٦٠

صفحہ ١٦٩

محمدی بیگم سے نکاح مرزا قادیانی کی چچا زاد بہن کی ایک لڑکی تھی جس کا نام محمدی بیگم تھا۔ والد اس لڑکی کا اپنے کسی ضروری کام کے لیے مرزا قادیانی کے پاس آیا۔ پہلے تو مرزا قادیانی نے شخص مذکور کو حیلوں بہانوں سے ٹالنے کی کوشش کی مگر جب وہ کسی طرح بھی نہ ٹلا اور اس کا اصرار بڑھا تو مرزا قادیانی نے الہام الٰہی کا نام لے کر ایک عدد پیشگوئی کر دی کہ ”خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو الہام ہوا ہے کہ تمہارا یہ کام اس شرط پر ہو سکتا ہے کہ اپنی بڑی لڑکی کا نکاح مجھ سے کر دو۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

وہ شخص غیرت کا پتلا تھا۔ یہ بات سن کر واپس چلا گیا۔ مرزا قادیانی نے بعد ازاں ہر چند کوشش کی نرمی، سختی، دھمکیاں، لالچ، غرض ہر طریقہ کو استعمال کیا مگر وہ شخص کسی طرح بھی رام نہ ہو سکا۔ آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ مرزا قادیانی نے چیلنج کر دیا کہ: ”میں اس پیشگوئی کو اپنے صدق و کذب کے لیے معیار قرار دیتا ہوں اور یہ خدا سے خبر پانے کے بعد کہہ رہا ہوں۔“

(ملاحظہ ہو انجام آتھم ص ٢٢٣ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

اور فرمایا کہ: ”ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار (اس لڑکی کو خدا تعالیٰ) اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)

آخر کار مرزا قادیانی کی ہزار کوششوں کے باوجود محمدی بیگم کا نکاح ان سے نہ ہو سکا۔ اور سلطان محمد نامی ایک صاحب سے اس کی شادی ہو گئی۔ اس موقع پر مرزا قادیانی نے پھر پیشگوئی کی کہ: ”نفس پیشگوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔“

آگے اپنا الہام ان الفاظ میں بیان کیا: ”میں اس عورت کو اس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بدلے گی۔“

(مجموعہ اشتہارات ص ٤٣ ج ٢)

اور ایک موقع پر یہ دعا کی کہ: ”اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا، یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے طور سے ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو ...... اور اگر اے خداوند! یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔“

(مجموعہ اشتہارات ص ١١٦ ج ٢)

٦١

صفحہ ١٧٠

لیکن محمدی بیگم بدستور اپنے شوہر کے گھر میں رہی اور مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آنا تھا نہ آئی اور مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو ہیضہ کے مرض میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے۔

(حیات ناصر ص ١٢)

اس کے بعد کیا ہوا؟ مرزا قادیانی کے منجھلے صاحبزادے مرزا بشیر احمد ایم۔اے رقمطراز ہیں:

”بسم اللہ الرحمن الرحیم ۝ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ ایک دفعہ مرزا قادیانی جالندھر جا کر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرا دینے کی کوشش کی تھی مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکے (تانگے) میں آیا جایا کرتا تھا اور وہ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا۔ اس لیے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے یہ شخص اس معاملہ میں بدنیت تھا اور حضرت صاحب (مرزا قادیانی) سے فقط کچھ روپیہ اڑانا چاہتا تھا، کیونکہ بعد میں یہی شخص اور اس کے دوسرے ساتھی اس لڑکی کے دوسری جگہ بیاہے جانے کا موجب ہوئے۔“

(سیرت المہدی حصہ اول طبع دوم ص ١٩٢، ١٩٣)

حالانکہ مرزا قادیانی خود تحریر کرتے ہیں کہ:

”ہم ایسے مرشد کو اور ساتھ ہی ایسے مرید کو کتوں سے بدتر اور نہایت ناپاک زندگی والا خیال کرتے ہیں کہ جو اپنے گھر سے پیشگوئیاں بنا کر پھر اپنے ہاتھ سے اپنے مکر سے، اپنے فریب سے ان کے پوری ہونے کی کوشش کرے اور کراوے۔“

(سراج منیر ص ٢٥ خزائن ج ١٢ ایضاً)

اور محمدی بیگم اپنے خاوند مرزا سلطان محمد کے گھر تقریباً چالیس سال بخیر و خوبی آباد رہی اور اب لاہور میں اپنے جواں سال ہونہار مسلمان بیٹوں کے ہاں ١٩ نومبر ١٩٦٦ء کو انتقال فرما گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ (ہفتہ وار الاعتصام لاہور اشاعت ٢٥ نومبر ١٩٦٦ء)

آتھم کی موت کی پیشینگوئی

مرزا قادیانی نے عبداللہ آتھم پادری سے امرتسر میں پندرہ دن تحریری مناظرہ کیا جب مباحثہ بے نتیجہ رہا تو مرزا قادیانی نے ٥ جون ١٨٩٣ء کو

٦٢

صفحہ ١٧١

ایک عدد پیشگوئی صادر فرمادی جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

”مباحثہ کے لحاظ سے فی دن ایک ماہ مراد ہوگا۔ یعنی پندرہ ماہ (میں فریق مخالف) ہاویہ میں گرایا جائے................... وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ایک سے ایک سزا کے اٹھانے کے لیے تیار ہوں، مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے مجھ کو پھانسی دیا جائے، ہر ایک بات کے لیے تیار ہوں۔“ (جنگ مقدس ص ٢١٠ روحانی خزائن ج ٦ ص ٢٩٢، ٢٩٣)

غرض مرزا قادیانی کی پیشگوئی کے مطابق عبداللہ آتھم کی موت کا آخری دن ٥ ستمبر ١٨٩٤ء بنتا تھا۔ اس دن کی کیفیت مرزا قادیانی کے فرزند ارجمند جناب مرزا محمود احمد خلیفہ قادیانی کی زبانی ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں:

”قادیان میں ماتم“ ”آتھم کے متعلق پیشگوئی کے وقت جماعت کی جو حالت تھی وہ ہم سے مخفی نہیں۔ میں اس وقت بچہ سا بچہ تھا اور میری عمر کوئی پانچ ساڑھے پانچ سال کی تھی مگر مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے کہ جب آتھم کی پیشگوئی کا آخری دن آیا تو کتنے کرب و اضطراب سے دعائیں کی گئیں۔ میں نے تو محرم کا ماتم بھی کبھی اتنا سخت نہیں دیکھا حضرت مسیح موعود ایک طرف دعا میں مشغول تھے۔ اور دوسری طرف بعض نوجوان (جن کی اس حرکت پر بعد میں برا بھی منایا گیا) جہاں حضرت خلیفہ اوّل مطب کیا کرتے تھے اور آج کل مولوی قطب الدین صاحب بیٹھتے ہیں۔ وہاں اکٹھے ہو گئے اور جس طرح عورتیں بین ڈالتی ہیں، اس طرح انھوں نے بین ڈالنے شروع کر دیے، ان کی چیخیں سوسو گز تک سنی جاتی تھیں اور ان میں سے ہر ایک کی زبان پر یہ دعا جاری تھی کہ یا اللہ! آتھم مر جائے، یا اللہ! آتھم مر جائے مگر اس کہرام اور آہ وزاری کے نتیجے میں آتھم تو نہ مرا۔“

(خطبہ مرزا محمود احمد، مندرجہ الفضل قادیان ٢٠ جولائی ١٩٤٠ء ص ٤ نمبر ١٦٣ کالم نمبر ٤)

اور اس قادیانی اضطراب پر مزید روشنی مرزا قادیانی کے منجھلے صاحبزادے بشیر احمد ایم۔ اے کی روایت سے پڑتی ہے کہ ابا جان نے آتھم کی موت کے لیے کیا کیا تدبیریں اختیار کیں اور کون کون سے ٹوٹکے استعمال کیے۔ چنانچہ تحریر کرتے ہیں:

”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم o بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعود نے مجھ سے اور میاں حامد علی سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے بتائے تھے)

٦٣

صفحہ ١٧٢

لے لو اور ان پر فلاں سورۃ کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو (مجھے وظیفہ کی تعداد بھی یاد نہیں رہی) میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورۃ یاد نہیں رہی مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورۃ تھی جیسے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحَابِ الْفِيْلِ الخ اور ہم نے یہ وظیفہ قریب ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا۔ وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کے پاس لے گئے کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا۔ اس کے بعد حضرت صاحب (مرزا قادیانی) ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا دانے کسی غیر آباد کنویں میں ڈالے جائیں گے اور فرمایا کہ جب میں دانے کنویں میں پھینک دوں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہیے اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) نے ایک غیر آباد کنوئیں میں ان دانوں کو پھینک دیا اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا۔“

(سیرت المہدی جلد اوّل طبع دوم ص ١٧٨)

مگر دشمن ایسا سخت جان نکلا کہ بجائے ٥ کے ٦ ستمبر کا سورج بھی غروب ہو گیا مگر وہ نہ مرا اور یہ پیشگوئی بھی جھوٹی نکلی۔

تمہی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے؟

انبیاء علیہم السلام کے بارے میں یہ بات طے شدہ ہے کہ وہ دشنام طرازی کبھی نہیں کرتے، انھوں نے کبھی گالیوں کے جواب میں بھی گالیاں نہیں دیں۔ اس معیار کے مطابق مرزا قادیانی کی مندرجہ ذیل عبارتیں ملاحظہ فرمائیں ۔

وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے، اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا، وہی عوام کالانعام کو بھی پلوا دیا۔“ (انجام آتھم ص ٢١ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)

جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥ خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)

ہیں، خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کے تمام گروہ، علیہم نعال لعن اللہ الف

صفحہ ١٧٣

الف مرۃ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠ خزائن ج ١١ ص ٣٣٤)

اللہ ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٦ خزائن ج ١١ ص ٣٤٠)

مولویوں کا منہ کالا کیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

والمودة و ينتفع من معارفها و يقبلني و يصدق دعوتي الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون. (آئینہ کمالات ص ٥٤٧، ٥٤٨ خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”ان میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے مگر رنڈیوں (زنا کاروں) کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“

٩...... إِنَّ العِدَى صاروا خنازير الفلا
ونسائهم من دونهن الا کلب

(نجم الہدیٰ ص ١٠ خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

”میرے دشمن جنگلوں کے سور ہو گئے ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔“

قادیانی کی پیشگوئی غلط اور عیسائیوں کی فتح ہوئی) اور کچھ شرم وحیا کو کام نہیں لائے گا اور بغیر اس کے جو ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے۔ انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“

(انوار الاسلام ص ٣٠ خزائن ج ٩ ص ٣١)

یہ شیریں زبانی ملاحظہ فرمائیے اور مرزائیوں سے پوچھیے ؎

محمد ﷺ بھی تیرا، جبریل ؑ بھی، قرآن بھی تیرا
مگر یہ حرفِ شیریں ترجمان تیرا ہے یا میرا

لَنْ تَجْتَمِعَ أُمَّتِي عَلَى الضَّلَالَةِ

”میری امت گمراہی پر ہرگز جمع نہیں ہوگی۔“

(حدیث نبوی ابن ماجہ ص ٢٤١ ابواب الفتن)

لے یعنی ان پر ہزار ہزار بار لعنت کے جوتے پڑیں۔

٦٥

صفحہ ١٧٤

عالم اسلام کا فیصلہ

گزشتہ صفحات میں جو ناقابل انکار دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ ان کی وجہ سے اس بات پر پوری امت اسلامیہ کا اجماع ہو چکا ہے کہ مرزائی مذہب کے متبعین کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ہم اپنی اس یادداشت کے ساتھ علماء کرام کے ان فتاویٰ اور عدالتی مقدمات کے فیصلوں کی مطبوعہ نقول بطور ضمیمہ منسلک کر رہے ہیں جو عالم اسلام کے مختلف مکاتب فکر، مختلف حلقوں اور اداروں نے شائع کیے ہیں۔ لیکن ان کا خلاصہ ذیل میں پیش خدمت ہے۔

فتاویٰ مرزائیوں کے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے پر عالم اسلام میں جو فتوے دیئے گئے ان کا شمار بھی مشکل ہے۔ تاہم چند اہم مطبوعہ فتاویٰ کا حوالہ درج ذیل ہے۔

”فتویٰ تکفیر قادیان“ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ اس میں دیوبند، سہارنپور، تھانہ بھون، رائے پور، دہلی، کلکتہ، بنارس، لکھنؤ، آگرہ، مراد آباد، لاہور، امرتسر، لدھیانہ، پشاور، راولپنڈی، ملتان، ہوشیار پور، گورداسپور، جہلم، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، گجرات، حیدر آباد دکن، بھوپال اور رام پور کے تمام مکاتب فکر اور تمام دینی مراکز کے علماء نے باتفاق مرزائیوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔

(ملاحظہ ہو فتویٰ تکفیر قادیان)

مرزائیاں“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے، اور اس میں برصغیر کے تمام مکاتب فکر کے علماء کے دستخط موجود ہیں۔

بھی شامل تھے۔

(دیکھئے فتاویٰ مندرجہ ”حجت شرعیہ“ شائع کردہ مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور وملتان)

ہے جس میں حرمین شریفین، بلاد حجاز و شام کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کا فیصلہ درج ہے اس کے چند جملے یہ ہیں:

”لا شک ان اذنابہ من القادیانیۃ واللاھوریۃ کلھا کافرون۔“

(القادیانیۃ فی نظر علماء الامۃ الاسلامیۃ ص ١١ طبع مکہ مکرمہ)

اس میں شک نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام متبعین خواہ قادیانی ہوں یا

٦٦

صفحہ ١٧٥

لاہوری سب کافر ہیں۔“

پاکستان کے ٣٣ علماء کا مطالبہ ترمیم

١٩٥١ء میں پاکستان کے دستور پر غور کرنے کے لیے تمام مکاتب فکر کے مسلمہ نمائندہ علماء کا جو مشہور اجتماع ہوا اس میں ایک ترمیم یہ بھی تھی کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت قرار دے کر پنجاب اسمبلی میں ان کے لیے ایک نشست مخصوص کر دی جائے اور دوسرے علاقوں کے قادیانیوں کو بھی اس نشست کے لیے کھڑے ہونے اور ووٹ دینے کا حق دے دیا جائے۔ اس ترمیم کو علماء نے ان الفاظ کے ساتھ پیش کیا ہے:

ترمیم ”یہ ایک نہایت ضروری ترمیم ہے۔ جسے ہم پورے اصرار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ملک کے دستور سازوں کے لیے یہ بات کسی طرح موزوں نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک کے حالات اور مخصوص اجتماعی مسائل سے بے پرواہ ہو کر محض اپنے ذاتی نظریات کی بنا پر دستور بنانے لگیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ملک کے جن علاقوں میں قادیانیوں کی بڑی تعداد مسلمانوں کے ساتھ ملی جلی ہے وہاں اس قادیانی مسئلے نے کس قدر نازک صورت حال پیدا کر دی ہے۔ ان کو پچھلے دور کے بیرونی حکمرانوں کی طرح نہ ہونا چاہیے جنھوں نے ہندو مسلم مسئلہ کی نزاکت کو اس وقت تک محسوس ہی نہ کیا جب تک متحدہ ہندوستان کا گوشہ گوشہ دونوں قوموں کے فسادات سے خون آلودہ نہ ہو گیا۔ جو دستور ساز حضرات خود اس ملک کے رہنے والے ہیں، ان کی یہ غلطی بڑی افسوس ناک ہوگی کہ وہ جب تک پاکستان میں قادیانی مسلم تصادم کو آگ کی طرح بھڑکتے ہوئے نہ دیکھ لیں اس وقت تک انھیں اس بات کا یقین نہ آئے کہ یہاں ایک قادیانی مسلم مسئلہ موجود ہے جسے حل کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ اس مسئلہ کو جس چیز نے نزاکت کی آخری حد تک پہنچا دیا ہے وہ یہ ہے کہ قادیانی ایک طرف مسلمان بن کر مسلمانوں میں گھلتے بھی ہیں اور دوسری طرف عقائد، عبادات اور اجتماعی شیرازہ بندی میں مسلمانوں سے نہ صرف الگ بلکہ ان کے خلاف صف آراء بھی ہیں۔ اور مذہبی طور پر تمام مسلمانوں کو اعلانیہ کافر قرار دیتے ہیں اس خرابی کا علاج آج بھی یہی ہے اور پہلے بھی یہی تھا۔ جیسا کہ علامہ اقبال مرحوم نے اب سے بیس برس پہلے فرمایا تھا کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت قرار دے دیا جائے۔“

رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد مکہ مکرمہ مقدس شہر میں جو مرکز اسلام کی حیثیت رکھتا ہے، ربیع الاوّل ١٣٩٤ھ مطابق اپریل ١٩٧٤ء میں پورے عالم اسلام کی دینی تنظیموں کا ایک عظیم

٦٧

صفحہ ١٧٦

الشان اجتماع منعقد ہوا جس میں اسلامی ممالک بلکہ مسلم آبادیوں کی ١٤٤ تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔ یہ مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک کے مسلمانوں کا ایک نمائندہ اجتماع تھا۔ اس میں مرزائیت کے بارے میں جو قرارداد منظور ہوئی وہ مرزائیت کے کفر ہونے پر تازہ ترین اجماع امت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قرارداد کا متن حسب ذیل ہے۔

القاديانية نحلة هدامة تتخذ من اسم الاسلام شعارا لتسوية اغراضها الخبيثة وأبرز مخالفتها للاسلام ادعاء زعمها النبوة و تحريف النصوص القرآنية وابطالهم للجهاد، القاديانية ربيبة الاستعمار البريطاني ولا تظهر الا فى ظل حمايته تخون القاديانية قضا يا الامة الاسلامية وتقف موالية للاستعمار والصهيونية تتعاون مع القوى المناهضة للاسلام و تتخذ هذه القوى واجهة لتحطيم العقيدة الاسلامية و تحريفها و ذلك بماياتى.

المنحرف.

نشاطها التخريبى لحساب القوى المعادية للاسلام و تقوم القاديانية بنشر ترجمات محرفة لمعانى القرآن الكريم بمختلف اللغات العالمية و لمقاومة خطرها قرر المؤتمر:

ملاجئهم وكل الامكنة التي يمارسون فيها نشاطهم الهدام. في منطقها و كشف القاديانيين والتعريف بهم للعالم الاسلامى تفاديا للوقوع في حبائلهم.

اجتماعيا و ثقافيا و عدم التزوج منهم وعدم دفنهم في مقابر المسلمين و معاملتهم باعتبارهم كفارا.

مدعى النبوة و اعتبارهم اقلية غير مسلمة و يمنعون من تولى الوظائف الحساسة للدولة.

٦٨

صفحہ ١٧٧

الترجمات القادیانیہ لمعانی القرآن والتنبیہ علیہا و منع تداول ھذہ الترجمات.“ ترجمہ قرارداد قادیانیت ایک باطل فرقہ ہے جو اپنی اغراض خبیثہ کی تکمیل کے لیے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی بنیادوں کو ڈھانا چاہتا ہے۔ اسلام کے قطعی اصولوں سے اس کی مخالفت ان باتوں سے واضح ہے۔

قادیانیت کی داغ بیل برطانوی سامراج نے رکھی اور اسی نے اسے پروان چڑھایا۔ وہ سامراج کی سرپرستی میں سرگرمِ عمل ہے۔ قادیانی اسلام دشمن قوتوں کا ساتھ دے کر مسلمانوں کے مفادات سے غداری کرتے ہیں اور ان طاقتوں کی مدد سے اسلام کے بنیادی عقائد میں تحریف و تبدیل اور بیخ کنی کے لیے کئی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً

قائم کرنا۔

ان ہی کے مقاصد کی تکمیل۔

خطرات کے پیش نظر کانفرنس میں طے کیا گیا کہ:

دنیا بھر کی ہر اسلامی تنظیم اور جماعتوں کا فریضہ ہے کہ وہ قادیانیت اور اس کی ہر قسم کی اسلام دشمن سرگرمیوں کی ان کے معابد، مراکز، یتیم خانوں وغیرہ میں کڑی نگرانی کریں اور ان کے تمام دُر پردہ سیاسی سرگرمیوں کا محاسبہ کریں اور اس کے بعد ان کے پھیلائے ہوئے جال، منصوبوں، سازشوں سے بچنے کے لیے عالم اسلام کے سامنے انھیں پوری طرح بے نقاب کیا جائے۔ نیز

سے انھیں مقاماتِ مقدسہ حرمین وغیرہ میں داخلہ کی اجازت نہیں دی جا سکے گی۔ مسلمان قادیانیوں سے کسی قسم کا معاملہ نہیں کریں گے اور اقتصادی، معاشرتی، اجتماعی، عائلی وغیرہ ہر میدان میں ان کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

٦٩

صفحہ ١٧٨

پابندی لگائیں۔ ان تمام وسائل اور ذرائع کو ضبط کیا جائے اور کسی قادیانی کو کسی اسلامی ملک میں کسی قسم کا بھی ذمہ دارانہ عہدہ نہ دیا جائے۔

تراجم قرآن کا شمار کر کے لوگوں کو ان سے متنبہ کیا جائے اور ان تمام تراجم کی ترویج کا انسداد کیا جائے۔

عدالتوں کے فیصلے اب ان عدالتی فیصلوں کا خلاصہ پیش خدمت ہے جن میں مرزائیوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے۔

فیصلہ مقدمہ بہاولپور باجلاس جناب منشی محمد اکبر خان صاحب بی۔ اے۔ ایل۔ ایل۔ بی ڈسٹرکٹ جج ضلع بہاولپور بمقدمہ مسماۃ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش سکنہ احمد پور شرقیہ۔ ریاست بہاولپور، بنام عبدالرزاق ولد مولوی جان محمد سکنہ موضع مہند تحصیل احمد پور شرقیہ۔ ریاست بہاولپور۔ دعویٰ دلا پانے ڈگری استقراریہ متضمن فسخ نکاح فریقین بوجہ ارتداد شوہر مدعا علیہ تاریخ فیصلہ ٧ فروری ١٩٣٥ء۔

عدالت مذکور نے مقدمہ کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد آخر میں اپنا فیصلہ مندرجہ ذیل الفاظ میں تحریر کیا اور سنایا۔

”اوپر کی تمام بحث سے یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ مسئلہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین بایں معنی نہ ماننے سے کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں ارتداد واقع ہو جاتا ہے اور عقائد اسلام کی رو سے ایک شخص کلمہ کفر کہہ کر بھی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی کو عقائد قادیانی کی رو سے نبی مانتا ہے اور ان کی تعلیم کے مطابق یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ امت محمدیہ میں قیامت تک سلسلہ نبوت جاری ہے یعنی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین یعنی آخری نبی تسلیم نہیں کرتا آنحضرت ﷺ کے بعد کسی دوسرے شخص کو نیا نبی تسلیم کرنے سے جو قباحتیں لازم آتی ہیں ان کی تفصیل اوپر بیان کی جا چکی ہے۔ اس لیے مدعا علیہ اس اجماعی عقیدۂ امت سے منحرف ہونے کی وجہ سے مرتد سمجھا جائے گا اور اگر ارتداد کے معنی کسی مذہب کے اصولوں سے بکلی انحراف کے لیے جائیں تو بھی مدعا علیہ مرزا قادیانی کو نبی ماننے سے ایک نئے مذہب کا پیرو سمجھا جائے گا کیونکہ اس صورت میں اس کے لیے قرآن کی تفسیر اور معمول

٧

صفحہ ١٧٩

یہ مرزا قادیانی کی وحی ہوگی نہ کہ احادیث واقوال فقہا جن پر کہ اس وقت تک مذہب اسلام قائم چلا آیا ہے۔ اور جن میں سے بعض کے مستند ہونے کو خود مرزا قادیانی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ علاوہ ازیں احمدی مذہب میں بعض احکام ایسے ہیں کہ شرع محمدی پر مستزاد ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں مثلاً چندہ ماہواری کا دینا جیسا کہ اوپر دکھایا گیا ہے زکوٰۃ پر ایک زائد حکم ہے۔ اسی طرح غیر احمدی کا جنازہ نہ پڑھنا، کسی احمدی کی لڑکی غیر احمدی کو نکاح میں نہ دینا، کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھنا، شرع محمدی کے خلاف اعمال ہیں۔ مدعاعلیہ کی طرف سے ان امور کی توجیہیں بیان کی گئی ہیں کہ وہ کیوں غیر احمدی کا جنازہ نہیں پڑھتے، کیوں ان کو نکاح میں لڑکی نہیں دیتے، لیکن یہ توجیہیں اس لیے کارآمد نہیں کہ یہ امور ان کے پیشواؤں کے احکام میں مذکور ہیں۔ اس لیے وہ ان کے نقطہ نگاہ سے شریعت کا جزو سمجھے جائیں گے جو کسی صورت میں بھی شرع محمدی کے موافق تصور نہیں ہو سکتے اس کے ساتھ جب یہ دیکھا جائے کہ وہ تمام غیر احمدی کو کافر سمجھتے ہیں تو ان کے مذہب کو مذہب اسلام سے ایک جدا مذہب قرار دینے میں کوئی شک نہیں رہتا۔ علاوہ ازیں مدعاعلیہ کے گواہ مولوی جلال الدین شمس قادیانی نے اپنے بیان میں مسیلمہ وغیرہ کاذب مدعیان نبوت کے سلسلہ میں جو کچھ کہا ہے اس سے یہ پایا جاتا ہے کہ گواہ مذکور کے نزدیک دعویٰ نبوت کاذبہ ارتداد ہے اور کاذب مدعی نبوت کو جو مان لے وہ مرتد سمجھا جاتا ہے۔ مدعیہ کی طرف سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کاذب مدعی نبوت ہیں اس لیے مدعاعلیہ بھی مرزا قادیانی کو نبی تسلیم کرنے سے مرتد قرار دیا جائے گا۔ لہٰذا ابتدائی تنقیحات جو ٤ نومبر ١٩٢٦ء کو عدالت منصفی احمد پور شرقیہ سے وضع کی گئی تھیں بحق مدعیہ ثابت قرار دے جا کر یہ قرار دیا جاتا ہے کہ مدعاعلیہ قادیانی عقائد اختیار کرنے کی وجہ سے مرتد ہو چکا ہے لہٰذا اس کے ساتھ مدعیہ کا نکاح تاریخ ارتداد مدعاعلیہ سے فسخ ہو چکا ہے اور اگر مدعاعلیہ کے عقائد کو بحث مذکورہ بالا کی روشنی میں دیکھا جائے تو بھی مدعاعلیہ کے ادعا کے مطابق مدعیہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی امتی نبی نہیں ہو سکتا اور اس کے علاوہ جو دیگر عقائد مدعاعلیہ نے اپنی طرف منسوب کیے ہیں وہ گو عام اسلامی عقائد کے مطابق ہیں لیکن ان عقائد پر وہ انہی معنوں پر عمل پیرا سمجھا جائے گا۔ جو معنی کہ مرزا قادیانی نے بیان کیے ہیں اور یہ معنی چونکہ ان معنوں کے مغائر ہیں جو جمہور امت آج تک لیتی آئی، اس لیے بھی وہ مسلمان نہیں سمجھا جا سکتا ہے اور ہر دو صورتوں میں وہ مرتد ہی ہے اور مرتد کا نکاح جو ارتداد سے فسخ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ڈگری بدیں مضمون بحق مدعیہ صادر کی جاتی ہے کہ وہ تاریخ ارتداد ٧١

صفحہ ١٨٠

مدعاعلیہ سے اس کی زوجیت نہیں رہی۔ مدعیہ خرچہ مقدمہ بھی ازاں مدعاعلیہ لینے کی حقدار ہو گی۔ اس ضمن میں مدعاعلیہ کی طرف سے ایک سوال یہ پیدا کیا گیا ہے کہ ہر دو فریق چونکہ قرآن مجید کو کتاب اللہ سمجھتے ہیں اور اہل کتاب کا نکاح جائز ہے اس لیے بھی مدعیہ کا نکاح صحیح قرار نہیں دینا چاہیے۔ اس کے متعلق مدعیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ جب دونوں فریق ایک دوسرے کو مرتد کہتے ہیں تو ان کے اپنے اپنے عقائد کی رو سے بھی ان کا باہمی نکاح قائم نہیں رہتا۔ علاوہ ازیں اہل کتاب عورتوں سے نکاح جائز ہے نہ کہ مردوں سے بھی۔ مدعیہ کے دعویٰ کی رو سے چونکہ مدعاعلیہ مرتد ہو چکا ہے اس لیے اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے بھی اس کے ساتھ مدعیہ کا نکاح قائم نہیں رہ سکتا۔ مدعیہ کی یہ حجت وزن دار پائی جاتی ہے۔ لہٰذا اس بنا پر بھی وہ ڈگری پانے کی مستحق ہے۔“

مدراس ہائی کورٹ وغیرہ کے فیصلے کا جواب

”مرزائیوں کی طرف سے مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ بڑے زور و شور سے دیا جاتا ہے۔ فاضل جج نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے:

”مدعاعلیہ کی طرف سے اپنے حق میں چند نظائر قانونی کا بھی حوالہ دیا گیا تھا ان میں سے پٹنہ اور پنجاب ہائی کورٹ کے فیصلہ جات کو عدالت عالیہ چیف کورٹ نے پہلے واقعات مقدمہ ہذا پر حاوی نہیں سمجھا اور مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کو عدالت عظمیٰ اجلاس خاص نے قابل پیروی قرار نہیں دیا۔ باقی رہا عدالت عالیہ چیف کورٹ بہاولپور کا فیصلہ بمقدمہ مسمات جندوڑی بنام کریم بخش اس کی کیفیت یہ ہے کہ یہ فیصلہ جناب مسٹر اودھو داس صاحب جج چیف کورٹ کے اجلاس سے صادر ہوا تھا اور اس مقدمہ کا صاحب موصوف نے مدراس ہائی کورٹ کے فیصلہ پر ہی انحصار رکھتے ہوئے فیصلہ فرمایا تھا اور خود ان اختلافی مسائل پر جو فیصلہ مذکور میں درج تھے کوئی محاکمہ نہیں فرمایا تھا مقدمہ چونکہ بہت عرصہ سے دائر تھا اس لیے صاحب موصوف نے اسے زیادہ عرصہ معرضِ تعویق میں رکھنا پسند نہ فرما کر باتباع فیصلہ مذکور اسے طے فرما دیا۔ دربار معلیٰ نے چونکہ اس فیصلہ کو قابل پابندی قرار نہیں دیا جس فیصلہ کی بنا پر کہ وہ فیصلہ صادر ہوا اس لیے فیصلہ زیر بحث بھی قابل پابندی نہیں رہتا۔

فریقین میں سے مختار مدعیہ حاضر ہے اسے حکم سنایا گیا۔ مدعاعلیہ کارروائی مقدمہ ہذا ختم ہونے کے بعد جبکہ مقدمہ زیر غور تھا فوت ہو گیا ہے اس کے خلاف یہ حکم زیر آرڈر ٢٢ رول ٦ ضابطہ دیوانی تصور ہوگا۔ پرچہ ڈگری مرتب کیا جائے اور مثل داخل دفتر ہو۔“

٧٢

صفحہ ١٨١

٧ فروری ١٩٣٥ء بمطابق ٣ ذیقعدہ ١٣٥٣ھ بمقام بہاول پور دستخط محمد اکبر ڈسٹرکٹ جج ضلع بہاول نگر ریاست بہاول پور (بحروف انگریزی)

فیصلہ مقدمہ راولپنڈی

باجلاس جناب شیخ محمد اکبر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی سول اپیل ١٩٥٥ء۔ امتہ الکریم بنت کرم الٰہی راجپوت جنجوعہ مکان نمبر B/٥٠٠ محلہ ٹرنک بازار راولپنڈی (مرزائی) بنام لیفٹیننٹ نذیر الدین ملک خلف ماسٹر محمد دین اعوان محلہ کرشن پورہ راولپنڈی (مسلمان) تاریخ فیصلہ ٣ جون ١٩٥٥ء

عدالت مذکورہ نے مقدمہ کی تفصیلات پر بحث کرنے کے بعد آخر میں اپنا فیصلہ مندرجہ ذیل الفاظ میں تحریر کیا اور فیصلہ سنایا۔

”مندرجہ بالا صورت میں حسب ذیل نتائج پر پہنچا ہوں۔

کسی اور نبی کو نہیں آنا ہے۔

ہو وہ مسلمان نہیں ہے۔

آتی ہے جو وحی نبوت کے برابر ہے۔

نبوت کی تکذیب کرتے ہیں۔

ڈھونگ ہے۔

کے دائرہ سے خارج ہے۔

مندرجہ بالا استدلال اور نتائج کی بناء پر میں سمجھتا ہوں کہ ابتدائی سماعت کرنے

صفحہ ١٨٢

والی عدالت کا فیصلہ صحیح ہے اور میں سارے فیصلے کی توثیق کرتا ہوں۔ مسمات امت الکریم کی اپیل میں کوئی وزن نہیں اور میں اپیل خارج کرتا ہوں۔ جہاں تک لیفٹیننٹ نذیر الدین کی اپیل کا تعلق ہے اس کے متعلق مسٹر ظفر محمود ایڈووکیٹ نے مجھے بہت کم باتیں بتائیں۔ امت الکریم کے جہیز کا سامان ان کے قبضے میں پایا گیا، اس کی قیمت لگائی جا چکی ہے۔ ان کی اپیل میں بھی کوئی وزن نہیں ہے اس لیے اسے بھی خارج کرتا ہوں۔ چونکہ دونوں فریقوں کی اپیل خارج ہو گئی ہے۔ اس لیے میں خرچہ کے متعلق کوئی حکم نہیں دیتا۔‘‘ دستخط شیخ محمد اکبر، سیشن جج بمقام راولپنڈی، ٣ جون ١٩٥٥ء

مقدمہ جیمس آباد کا فیصلہ

فیملی سوٹ نمبر ١٩٦٩/٩ء

’’مسماۃ امۃ الہادی دختر سردار خان مدعیہ بنام حکیم نذیر احمد برق مدعا علیہ مندرجہ بالا بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ مدعیہ جو ایک مسلمان عورت ہے کی شادی مدعا علیہ کے ساتھ جس نے شادی کے وقت خود اپنا قادیانی ہونا تسلیم کیا ہے اور اس طرح خود غیر مسلم قرار پایا ہے۔ غیر مؤثر ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ مدعیہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مدعاعلیہ کی بیوی نہیں۔ تنسیخ نکاح کے بارے میں مدعیہ کی درخواست کا فیصلہ اس کے حق میں کیا جاتا ہے اور مدعا علیہ کو ممانعت کی جاتی ہے کہ وہ مدعیہ کو اپنی بیوی قرار نہ دے مدعیہ اس مقدمے کے اخراجات بھی وصول کرنے کی حقدار ہے۔ یہ فیصلہ ١٣ جولائی ١٩٧٠ء کو شیخ محمد رفیق گورایہ کے جانشین جناب قیصر احمد حمیدی نے جو ان کی جگہ جیمس آباد کے سول اور فیملی کورٹ جج مقرر ہوئے ہیں کھلی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔‘‘

ماریشس سپریم کورٹ میں سب سے بڑا مقدمہ

’’مسجد روز ہل کے مقدمہ‘‘ کو تاریخ ماریشس کا سب سے بڑا مقدمہ کہا جاتا ہے کیونکہ پورے دو سال تک سپریم کورٹ نے بیانات لیے، شہادتیں سنیں اور پہلی مرتبہ یہ فیصلہ دیا کہ:

’’مسلمان الگ امت ہیں اور قادیانی الگ۔‘‘

یہ مقدمہ لڑنے کے لیے مسلمانوں اور قادیانیوں دونوں نے دوسرے ممالک سے مشہور وکلاء منگوائے۔ قادیانیوں سے مسجد واپس لینے کے سلسلہ میں روز ہل کے جن مسلمانوں نے کام کیا ان میں محمود اسحاق جی، اسمعیل حسن جی، ابراہیم حسن جی، قابل ذکر ہیں۔ یہ لوگ وہاں کے تجارتی حلقوں میں بڑا مقام رکھتے تھے انھوں نے جو مقدمہ دائر کیا اس کی بنیاد یہ تھی:

٧٤

صفحہ ١٨٣

دعویٰ روز ہل کی مسجد جہاں مسلمانوں کے حنفی (سنی) فرقہ کے لوگ نماز پڑھتے تھے یہ مسجد انھوں نے تعمیر کروائی تھی اور مسلسل قابض چلے آ رہے تھے اس پر قادیانیوں نے قبضہ کر لیا ہے جن کا تعلق امت اسلامیہ سے نہیں ہے، قادیانی ہم مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتے، ہمارے پیچھے ان کی نماز نہیں ہوتی، ایسی صورت میں ان کو مسجد سے باہر نکالا جائے۔

چنانچہ ٢٦ فروری ١٩١٩ء کو یہ مقدمہ دائر ہوا، قادیانیوں کے خلاف ٢١ شہادتیں پیش کی گئیں ان شہادتوں میں مولانا عبداللہ رشید نواب کی شہادت خاص طور سے قابل ذکر ہے۔ آپ نے عدالت عالیہ میں نہایت جرأت و بے باکی سے قادیانیوں کو بے نقاب کیا اور سینکڑوں کتب، اخبارات، رسائل و جرائد پیش کر کے عدالت کو یہ باور کرانے کی یہ کامیاب کوشش کی کہ قادیانی اور مسلمان الگ الگ امتیں ہیں، مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب اور حوالے مولانا رشید نے پیش کیے۔

قادیانیوں کی طرف سے غلام محمد قادیانی بی۔ اے نے وکلاء کی مدد کی اور جواب دعویٰ تیار کیا غلام محمد قادیانی اس مقصد کے لیے خاص طور سے قادیان گیا تھا۔ مسلمانوں کے وکلاء میں مسٹر رولرڈ کے سی، ای سویژ، کے سی، ای اسنوف اور آئی نیاریک تھے، جبکہ قادیانیوں کا وکیل مسٹر آر پزانی تھا۔

عدالت عالیہ کی کارروائی کے دوران ہزاروں مسلمان موجود ہوتے، اور ملک میں پہلی مرتبہ یہ علم ہوا کہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کے بھیس میں اپنا مقصد حاصل کرتے ہیں۔

چنانچہ ١٩ نومبر ١٩٢٠ء کو چیف جج سر اے ہر چیز وڈر نے یوں فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

فیصلہ ”عدالت عالیہ اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ مدعا علیہ (قادیانی) کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ روز ہل مسجد میں اپنی پسند کے امام کے پیچھے نماز ادا کریں، اس مسجد میں صرف مدعی (مسلمان) ہی نماز ادا کر سکیں گے، اپنے اعتقادات کی روشنی میں۔“

اسی عدالت کے ایک دوسرے جج جناب ٹی۔ ای روز لی نے بھی اس فیصلہ سے اتفاق کیا۔

مصور پاکستان علامہ اقبال کی رائے

آخر میں شاعر مشرق، مصور پاکستان علامہ اقبال صاحب کے کچھ ارشادات پیش کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے مرزائیت کی اسلام دشمنی محسوس کر کے ساری امت کو اس خطرے

٧٥

صفحہ ١٨٤

سے خبردار کرنے کے لیے بے شمار مضامین لکھے ہیں ان تمام مضامین کو یہاں پیش کرنا مشکل ہے البتہ چند ضروری اقتباسات پیش خدمت ہیں۔ وہ اسٹیٹسمین کی ١٠ جون ١٩٣٥ء کی اشاعت میں فرماتے ہیں:

”اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے جس کی حدود مقرر ہیں یعنی وحدت الوہیت پر ایمان، انبیاء پر ایمان اور رسول کریم ﷺ کی ختم رسالت پر ایمان۔ دراصل یہ آخری یقین ہی وہ ایک حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس امر کے لیے فیصلہ کن ہے کہ فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں؟ مثلاً برہمو خدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں۔ لیکن انھیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعے وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کی ختم نبوت کو نہیں مانتے، جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کر سکا۔ ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے تسلیم کیا، کہ وہ الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں...... میری رائے میں تو قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں، یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ قبول کریں ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو، تاکہ انھیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔“

(حرف اقبال ص ١٤٦، ١٤٧)

ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں:

”نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختم نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا اور مغربیت کی ہوا نے اسے حفظ نفس کے جذبے سے بھی عاری کر دیا ہے، بعض ایسے ہی نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کو رواداری کا مشورہ دیا ہے۔“

(حرف اقبال ص ١٢٤)

آگے ہندوستان کی غیر مسلم حکومت سے خطاب کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”حکومت کو موجودہ صورت حالات پر غور کرنا چاہیے اور اس معاملہ میں جو قومی وحدت کے لیے اشد اہم ہے عام مسلمانوں کی ذہنیت کا اندازہ لگانا چاہیے، اگر کسی قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہتا کہ وہ معاندانہ قوتوں کے خلاف اپنی مدافعت کرے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مدافعت کا کیا طریقہ ہے؟ وہ

٧٦

صفحہ ١٨٥

طریقہ یہی ہے کہ اصل جماعت جس شخص کو تلعب بالدین (دین کے ساتھ کھیل کرتے پائے) اس کے دعاوی کو تقریر وتحریر کے ذریعے سے جھٹلایا جائے۔ پھر کیا یہ مناسب ہے کہ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے، حالانکہ اس کی وحدت خطرے میں ہو۔ اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو اگرچہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو۔ اگر کوئی گروہ جو اصل جماعت کے نقطہ نظر سے باغی ہے حکومت کے لیے مفید ہے تو حکومت اس کی خدمات کا صلہ دینے کی پوری طرح مجاز ہے دوسری جماعتوں کو اس سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہو سکتی، لیکن یہ توقع رکھنی بیکار ہے کہ خود جماعت ایسی قوتوں کو نظر انداز کر دے جو اس کے اجتماعی وجود کے لیے خطرہ ہیں۔‘‘

(حرف اقبال ص ١٢٦، ١٢٧)

کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے بعض لوگ ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں لہٰذا ان کے فتوؤں کا کوئی اعتبار نہیں رہا، اس کا جواب دیتے ہوئے شاعر مشرق تحریر فرماتے ہیں:

’’اس مقام پر یہ دہرانے کی غالباً ضرورت نہیں کہ مسلمانوں کے بے شمار فرقوں کے مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی مسائل پر کچھ اثر نہیں پڑتا، جن مسائل پر سب فرقے متفق ہیں اگرچہ وہ ایک دوسرے پر الحاد کے فتوے ہی دیتے ہیں۔‘‘

(حرف اقبال ص ١٢٦، ١٢٧)

پھر شاعر مشرق قادیانی مسئلہ کا حل تجویز کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’میری رائے میں حکومت کے لیے بہترین طریق کار یہ ہوگا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کر لے، یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا، اور مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا، جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملے میں اختیار کرتا ہے۔‘‘

(حرف اقبال ص ١٢٨، ١٢٩)

یہ وہ مطالبہ ہے کہ جو ڈاکٹر اقبال مرحوم نے انگریز کی حکومت سے کیا تھا اب جو مملکت شاعر مشرق کے خوابوں کی تعبیر کی حیثیت سے انہی کا نام لے کر وجود میں آئی ہے۔ یہ اس کا پہلا فریضہ ہے کہ وہ شاعر مشرق کی اس آرزو کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔

٧٧

صفحہ ١٨٦

ضمیمہ

بعض مرزائی مغالطے

چند شبہات کا ازالہ

جب مسلمانوں کی طرف سے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو مرزائی صاحبان طرح طرح سے مغالطے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں مختصراً ان مغالطوں کا ایک جائزہ پیش خدمت ہے۔

کلمہ گو کی تکفیر کا مسئلہ مرزائیوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ جو شخص کلمہ گو ہو، اور اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتا ہو، کسی بھی شخص کو اسے کافر قرار دینے کا حق نہیں پہنچتا۔ یہاں سب سے پہلے تو یہ بوالعجبی ملاحظہ فرمائیے کہ یہ بات ان لوگوں کی طرف سے کہی جا رہی ہے جو دنیا کے ستر کروڑ مسلمانوں کو کھلم کھلا کافر کہتے ہیں اور جو کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر اور اس کے تمام ضروری تقاضوں پر صحیح معنی میں ایمان رکھنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج، شقی، بدطینت، یہاں تک کہ ”کنجریوں کی اولاد“ ١؎ قرار دینے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ گویا ہر ”کلمہ گو“ کو مسلمان کہنا صرف ایک طرفہ حکم ہے جو صرف غیر احمدیوں پر عائد ہوتا ہے اور خود مرزائی صاحبان کو کھلی چھٹی ہے کہ خواہ وہ مسلمانوں کو کتنی شد و مد سے کافر کہیں، خواہ انھیں بازاری گالیاں دیں خواہ ان کے اکابر اور مقدس ترین شخصیات کی ناموس پر حملہ آور ہوں۔ ان کے ”اسلام“ میں کبھی کوئی فرق نہیں آ سکتا اور نہ ان پر کلمہ گو کو کافر کہنے کا الزام لگ سکتا ہے۔ یہ ہے اس مرزائی مذہب کا انصاف جو شرم و حیا اور دیانت و اخلاق کا منہ نوچ کر اپنے آپ کو روحانیت ”محمدﷺ“ کا ظہور ثانی قرار دیتا ہے۔

پھر خدا جانے یہ اصول کہاں سے گھڑا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو وہ مسلمان ہے اور اسے کوئی شخص کافر قرار نہیں دے سکتا؟ سوال یہ ہے کہ کیا مسیلمہ کذاب کلمہ شہادت نہیں پڑھتا تھا؟ پھر خود آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے اسے کافر قرار دے کر اس کے خلاف جہاد کیوں کیا؟ اور خود مرزا غلام احمد قادیانی نے جا

١؎ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میری کتابوں کو ہر شخص محبت کی نگاہ سے دیکھ کر ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے۔ سوائے ”بغایا“ (فاحشاؤں، کنجریوں) کی اولاد کے جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی، وہ انھیں نہیں مانتے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ـ ١ ـ

صفحہ ١٨٧

بجائے صرف مسیلمہ کذاب بلکہ آپ ﷺ کے بعد اپنے سوا مدعی نبوت کو کافر اور کذاب کیوں کہا؟ اگر آج کوئی نیا مدعی نبوت کلمہ پڑھتا ہوا اٹھے اور آنحضرت ﷺ کے سوا تمام انبیاء کو جھٹلائے، آخرت کے عقیدے کا مذاق اڑائے، قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ماننے سے انکار کرے، اپنے آپ کو افضل الانبیاء قرار دے، نماز روزے کو منسوخ کر دے، جھوٹ شراب، زنا، سود اور قمار کو جائز کہے اور کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے سوا اسلام کے ہر حکم کی تکذیب کر دے تو کیا اسے پھر بھی ”کلمہ گو“ ہونے کی بنا پر مسلمان ہی سمجھا جائے گا؟ اگر اسلام ایسا ہی ڈھیلا ڈھالا جامہ ہے جس میں کلمہ پڑھنے کے بعد دنیا کا ہر برے سے برا عقیدہ اور برے سے برا عمل سما سکتا ہے تو پھر فضول ہی اسلام کے بارے میں یہ دعویٰ کیے جاتے ہیں کہ وہ دنیا کے تمام مذاہب میں سب سے زیادہ بہتر، مستحکم، منظم اور باقاعدہ مذہب ہے۔

جو لوگ ہر ”کلمہ گو“ کو مسلمان کہنے پر اصرار کرتے ہیں، کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کلمہ (معاذ اللہ) کوئی منتر یا ٹوٹکا ہے جسے ایک مرتبہ پڑھ لینے کے بعد انسان ہمیشہ کے لیے ”کفر پروف“ ہو جاتا ہے اور اس کے بعد برے سے برا عقیدہ بھی اسے اسلام سے خارج نہیں کر سکتا؟

اگر عقل وخرد اور انصاف و دیانت دنیا سے بالکل اٹھ ہی نہیں گئی تو اسلام جیسے علمی اور عقلی دین کے بارے میں یہ تصور کیسے کیا جا سکتا ہے کہ محض چند الفاظ کو زبان سے ادا کرنے کے بعد انسان جہنمی سے جنتی اور کافر سے مسلمان بن جاتا ہے۔ خواہ اس کے عقائد اللہ اور رسول ﷺ کی مرضی کے بالکل خلاف ہوں؟

واقعہ یہ ہے کہ کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (معاذ اللہ) کوئی جادو یا طلسم نہیں ہے، یہ ایک معاہدہ اور اقرار نامہ ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کو معبودِ واحد قرار دینے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے کا مطلب یہ معاہدہ کرنا ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہر بات کی تصدیق کروں گا۔ لہٰذا اللہ یا اس کے رسول ﷺ کی بتائی ہوئی جتنی باتیں ہم تک تواتر اور قطعیت کے ساتھ پہنچی ہیں ان سب کو درست تسلیم کرنا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان کا لازمی جز اور اس کا ناگزیر تقاضا ہے اگر کوئی شخص ان متواتر قطعیات میں سے کسی ایک چیز کو بھی درست ماننے سے انکار کر دے تو درحقیقت وہ کلمہ توحید پر ایمان نہیں رکھتا، خواہ زبان سے لا الہ الا اللہ پڑھتا ہو اس لیے اس کو مسلمان نہیں کہا جا سکتا۔ عقیدۂ ختم نبوت چونکہ قرآن کریم کی بیسیوں آیات اور سرکارِ دو عالم ﷺ کے سینکڑوں ارشادات سے بطریقِ تواتر ثابت ہے، اس لیے باجماعِ امت وہ انہی قطعیات میں سے

صفحہ ١٨٨

ہے جن پر ایمان لانا کلمہ طیبہ کا لازمی جز ہے اور جس کے بغیر انسان مسلمان نہیں ہو سکتا۔

اس سلسلے میں بعض ان احادیث سے استدلال کی کوشش کی جاتی ہے جن میں سے آنحضرت ﷺ نے مسلمان کی علامتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ”جو ہماری طرح نماز پڑھے۔ ہمارے قبلے کی طرف رُخ کرے اور ہمارا ذبح کیا ہوا جانور کھائے وہ مسلمان ہے۔“ لیکن جس شخص کو بھی بات سمجھنے کا سلیقہ ہو وہ حدیث کے اسلوب و انداز سے یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہاں مسلمان کی کوئی قانونی اور جامع و مانع تعریف نہیں کی جا رہی بلکہ مسلمانوں کی وہ معاشرتی علامتیں بیان کی جا رہی ہیں جن کے ذریعہ مسلم معاشرہ دوسرے مذاہب اور معاشروں سے ممتاز ہوتا ہے، اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ جس شخص کی ظاہری علامتیں اس کے مسلمان ہونے کی گواہی دیتی ہوں اس پر خواہ مخواہ بدگمانی کرنا یا بلاوجہ اس کی عیب جوئی کرنا درست نہیں، لیکن اس کا یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ اگر وہ خود مسلمانوں کے سامنے علانیہ کفریات کا اقرار کرتا پھرے، بلکہ ساری دنیا کو ان کفریات کی دعوت دے کر اپنے متبعین کے سوا تمام مسلمانوں کو کافر قرار دے تب بھی وہ صرف مسلمانوں کا ذبیحہ کھانے کی وجہ سے مسلمان کہلانے کا مستحق ہوگا۔ خواہ لا الہ الا اللہ اور اس کے تقاضوں کا بھی قائل نہ ہو۔

در حقیقت اس حدیث میں مسلمان کی تعریف نہیں بلکہ اس کی ظاہری علامتیں بیان کی گئی ہیں۔ مسلمان کی پوری تعریف در حقیقت آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد میں بیان کی گئی ہے:

امرت ان اقاتل الناس حتی یشهدوا أن لا اله الا الله و یؤمنوا بی و

بما جئت بہ . (رواہ مسلم عن ابی ہریرۃ ج ١ص ٣٧ باب الامر بقتال الناس حتی یقولون لا اله الا الله)

”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور مجھ پر ایمان لائیں اور ہر اس بات پر جو میں لے کر آیا ہوں۔“

اس میں مسلمان کی پوری حقیقت بیان کر دی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی ہر تعلیم کو ماننا اشہد ان محمد رسول اللہ کا لازمی جزو ہے اور آپ ﷺ کا یہ ارشاد قرآن کریم کی اس آیت سے ماخوذ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا. (النساء ٦٥) ”پس نہیں، تمھارے رب کی قسم یہ لوگ مومن نہ ہوں گے جب تک یہ تمھیں اپنے ہر متنازعہ معاملے میں

١٠

صفحہ ١٨٩

حکم نہ مان لیں، پھر تمھارے فیصلے سے اپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے خوشی سے تسلیم نہ کریں۔“

یہ ہے کلمہ گو کی حقیقت اور اس کے برخلاف محض کلمہ پڑھ لینے کے بعد ہمیشہ کے لیے کفر سے محفوظ ہو جانے کا تصور ان دشمنان اسلام کا پیدا کردہ ہے جو یہ چاہتے تھے کہ اسلام اور کفر کی درمیانی حد فاصل کو مٹا کر اسے ایک ایسا معجون مرکب بنا دیا جائے جس میں اپنے سیاسی اور مذہبی مفادات کے مطابق ہر برے سے برے عقیدے کی ملاوٹ کی جا سکے۔

انتہا یہ ہے کہ بعض لوگ مسلمان کی تعریف کے سلسلے میں اس آیت قرآنی کو بھی پیش کرنے سے نہیں چوکتے جس میں ارشاد ہے:

لَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء ٩٤) ”یعنی جو شخص تمھیں سلام کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔“

چلیے پہلے تو مسلمان ہونے کے لیے کم از کم کلمہ پڑھنا ضروری تھا، اس آیت کو مسلمان کی تعریف میں پیش کرنے کے بعد اس سے بھی چھٹی ہو گئی، اب مسلمان ہونے کے لیے صرف ”السلام علیکم“ بلکہ صرف ”سلام“ کہہ دینا بھی کافی ہو گیا، اور ہر وہ ہندو، پارسی، بدھسٹ اور عیسائی یہودی بھی مسلمان بننے کے قابل ہو گیا جو مسلمانوں کو ”سلام“ کہہ کر خطاب کر لے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔

مسلمانوں کی باہم تکفیر کے فتوے اور ان کی حقیقت

اصل مسئلہ سے توجہ ہٹانے کے لیے دوسرا مغالطہ مرزائیوں کی طرف سے یہ دیا جاتا ہے کہ جو علماء ہم پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں۔ وہ خود آپس میں ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے آئے ہیں۔ لہٰذا ان کے فتوؤں کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔ لیکن اس ”دلیل“ کی مثال بالکل ایسی ہے۔ جیسے کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ چونکہ بعض عطائیوں اور ڈاکٹروں نے کچھ لوگوں کا غلط علاج کیا ہے۔ اس لیے اب کوئی ڈاکٹر مستند نہیں رہا اب پوری میڈیکل سائنس ہی ناکارہ ہو گئی ہے اور وہ طبی مسئلے بھی قابل اعتبار نہیں ہیں جن پر تمام دنیا کے ڈاکٹر متفق ہیں۔

حال ہی میں مرزائی جماعت کی طرف سے ایک کتابچہ شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے ”ہم غیر احمدیوں کے پیچھے کیوں نماز نہیں پڑھتے“ اور اس میں مسلمان مکاتب فکر کے باہمی اختلافات اور ان فتاویٰ کو انتہائی مبالغہ آمیز انداز میں پیش کیا گیا ہے جن میں ایک دوسرے کی تکفیر کی گئی ہے، لیکن اوّل تو اس کتابچے میں بعض ایسے فتوؤں کا حوالہ ہے جن

٨١

صفحہ ١٩٠

کے بارے میں پوری ذمہ داری سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے کہنے والوں کی طرف بالکل غلط منسوب کیے گئے ہیں۔ دوسرے اس کتابچے میں اگرچہ کافی محنت سے وہ تمام تشدد آمیز مواد اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو باہمی اختلافات کے دوران منظر عام پر آیا ہے، لیکن ان بیسیوں اقتباسات میں مسلمان مکاتب فکر کے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے کل پانچ ہیں۔ باقی فتوے نہیں بلکہ وہ عبارتیں ہیں جو ان کے افسوس ناک باہمی جھگڑوں کے درمیان ان کے قلم یا زبان سے نکلیں۔ ان میں ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان تو بے شک استعمال کی گئی ہے لیکن انھیں کفر کے فتوے قرار دینا کسی طرح درست نہیں۔

تیسرے یہ پانچ فتوے بھی اپنے اپنے مکاتب فکر کی مکمل نمائندگی نہیں کرتے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ جن مکاتب فکر سے وہ تعلق رکھتے ہیں وہ پورا مکتب فکر ان فتوؤں سے متفق ہو۔ اس کے بجائے ہر مسلمان مکتب فکر میں محقق اور اعتدال پسند علماء نے ہمیشہ اس بے احتیاطی اور عجلت پسندی سے شدید اختلاف کیا ہے۔ جو اس قسم کے فتوؤں میں روا رکھی گئی ہے۔ لہٰذا ان چند فتاویٰ کو پیش کر کے یہ تاثر دینا بالکل غلط، بے بنیاد اور گمراہ کن ہے کہ یہ سارے مکاتب فکر ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں۔ اس کے بجائے حقیقت یہ ہے کہ ہر مکتب فکر میں ایک عنصر ایسا رہا ہے جس نے دوسرے کی مخالفت میں اتنا تشدد کیا کہ وہ تکفیر کی حد تک پہنچ جائے لیکن اسی مکتب فکر میں ایک بڑی تعداد ایسے علماء کی ہے جنھوں نے فروعی اختلافات کو ہمیشہ اپنی حدود میں رکھا اور ان حدود سے نہ صرف یہ کہ تجاوز نہیں کیا بلکہ اس کی مذمت کی ہے اور عملاً یہی محتاط اور اعتدال پسند عنصر غالب رہا ہے جس کی واضح مثال یہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کا کوئی مشترک مسئلہ پیدا ہوتا ہے ان تمام مکاتب فکر کے مل بیٹھنے میں بعض حضرات کے فتوے کبھی رکاوٹ نہیں بنتے۔

یہ مسلمان فرقے جن کی فرقہ بندی کا پروپیگنڈہ دنیا بھر میں گلا پھاڑ پھاڑ کر کیا گیا ہے اور جن کے اختلافات کا شور مچا مچا کر لوگوں نے اپنے باطل نظریات کی دکانیں چمکائی ہیں۔ وہی تو ہیں جو ١٩٥١ء میں پاکستان کی دستوری بنیادیں طے کرنے کے لیے جمع ہوئے اور کسی ادنیٰ اختلاف کے بغیر اسلامی دستور کے اساسی اصول طے کر کے اٹھے جبکہ پروپیگنڈہ یہ تھا کہ اس قسم کا اتفاق ایک امر محال ہے ١٩٥٣ء کے موقعہ پر جب مجوزہ دستور میں متعین اسلامی ترمیمات طے کرنے کا مرحلہ آیا تو انھوں نے اکٹھے ہو کر متفقہ سفارشات پیش کیں جبکہ یہ کام پہلے کام سے زیادہ غیر متوقع سمجھا جاتا تھا ١٩٥٣ء ہی میں انھوں نے قادیانیت کے مسئلہ پر اجتماعی طریقے سے ایک مشترکہ مؤقف اختیار کیا۔ ١٩٧٢ء میں دستور سازی کے

٨٢

صفحہ ١٩١

دوران شیر و شکر رہ کر اس بنیادی کام میں شریک رہے۔ دنیا بھر میں شور تھا کہ یہ لوگ مل کر مسلمان کی متفقہ تعریف بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن ١٩٧٤ء میں انھوں نے ہی کامل اتفاق و اتحاد سے اس پروپیگنڈے کی قلعی کھولی اور اب پھر یہ مرزائیت کے کھلے کفر کے مقابلے میں شانہ بشانہ موجود ہیں۔ غرضیکہ جب بھی اسلام اور مسلمانوں کا کوئی مشترکہ مذہبی مسئلہ سامنے آیا تو ان کے باہمی مذہبی اختلافات اجتماعی موقف اختیار کرنے میں کبھی سدراہ ثابت نہیں ہوئے۔ لیکن کیا کبھی کسی نے دیکھا ہے کہ اس قسم کے اجتماعات میں کسی مرزائی کو بھی دعوت دی گئی ہو؟

اس طرز عمل پر غور کرنے سے چند باتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔

اوّل! یہ کہ باہم ایک دوسرے کی تکفیر کے فتوے انفرادی حیثیت رکھتے ہیں۔ کسی مکتب فکر کی نمائندہ حیثیت نہیں، ورنہ یہ مکاتب فکر کبھی بحیثیت مسلمان جمع نہ ہوتے۔

دوسرے! یہ کہ ہر مکتب فکر میں غالب عنصر وہی ہے جو فروعات کو فروعات ہی کے دائرے میں رکھتا ہے اور آپس کے اختلافات کو تکفیر کا ذریعہ نہیں بناتا۔ ورنہ اس قسم کے اجتماعات کو قبول عام حاصل نہ ہوتا۔

تیسرے! یہ کہ اسلام کے بنیادی عقائد جو واقعتاً ایمان اور کفر میں حد فاصل کی حیثیت رکھتے ہیں ان میں یہ سب لوگ متفق ہیں۔

لہٰذا اگر کچھ حضرات نے تکفیر کے سلسلہ میں غلو اور تشدد کی روش اختیار کی ہے تو اس سے یہ نتیجہ کیسے نکالا جا سکتا ہے کہ اب دنیا میں کوئی شخص کافر ہو ہی نہیں سکتا اور اگر یہ سب لوگ مل کر بھی کسی کو کافر کہیں تو وہ کافر نہیں ہوگا۔

کیا دنیا میں عطائی قسم کے لوگ علاج کر کے انسانوں پر مشق ستم نہیں کرتے؟ بلکہ کیا ماہر سے ماہر ڈاکٹر سے بھی غلطی نہیں ہوتی؟ لیکن کیا کبھی کوئی انسان جو عقل سے بالکل ہی معذور نہ ہو یہ کہہ سکتا ہے کہ ان انفرادی غلطیوں کی سزا کے طور پر ڈاکٹروں کے طبقے کی کوئی بات قابل تسلیم نہیں ہونی چاہیے۔ کیا عدالتوں کے فیصلوں میں ججوں سے غلطیاں نہیں ہوتیں؟ لیکن کیا کسی نے سوچا ہے کہ ان انفرادی غلطیوں کی وجہ سے عدالتوں میں تالے ڈال دیے جائیں۔ یا ججوں کا کوئی فیصلہ مانا ہی نہ جائے؟ کیا مکانات، سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر میں انجینئر غلطی نہیں کرتے؟ لیکن کبھی کسی ذی ہوش نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ ان غلطیوں کی بنا پر تعمیر کا ٹھیکہ انجینئروں کی بجائے گورکنوں کو دے دیا جائے؟ پھر یہ اگر

٨٣

صفحہ ١٩٢

چند جزوی نوعیت کے فتوؤں میں بے احتیاطیاں یا غلطیاں ہوئی ہیں تو اس کا مطلب یہ کیسے نکل آیا کہ اب اسلام اور کفر کے فیصلے قرآن وسنت کی بجائے مرزائی تحریفات کی بنیاد پر کرنے چاہئیں۔

شاعر مشرق مصور پاکستان علامہ اقبال مرحوم نے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے بالکل صحیح بات کہی تھی: ”مسلمانوں کے بیشمار فرقوں کے مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی مسائل پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ جن مسائل پر سب فرقے متفق ہیں۔ اگر چہ وہ ایک دوسرے پر الحاد کے فتوے دیتے ہوں۔“

(حرف اقبال ص ١٢٧)

دو روایتیں مرزائی صاحبان نے لاکھوں احادیث کے ذخیرہ میں سے دو ضعیف وسقیم روایتیں نکال کر اور انھیں من مانا مفہوم پہنا کر ان سے اپنی خود ساختہ نبوت کے لیے سہارا لینے کی کوشش کی ہے اس لیے یہاں ان پر بھی ایک نظر ڈال لینا مناسب ہوگا۔

قولوا خاتم النبیین ولا تقولوا لا نبی بعدہ

پہلی منقطع الاسناد روایت ”درمنثور“ سے لی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: (آنحضرت ﷺ کو) ”خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“ پہلے تو اس بات پر غور فرمائیے کہ یہ روایت کہاں سے لائی گئی ہے۔ اگر آپ حدیث کی کسی معروف کتاب میں اسے تلاش کرنا چاہیں گے تو آپ کو مایوسی ہوگی، کیونکہ یہ روایت بخاری، مسلم تو کجا نسائی، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی، مسند احمد، غرض حدیث کی کسی دستیاب کتاب میں موجود نہیں! اسے لایا کہاں سے گیا ہے؟ علامہ سیوطیؒ کی ”درمنثور“ سے جس کے بارے میں ادنیٰ طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ اس میں ہر قسم کی رطب و یابس ضعیف اور موضوع روایات بھی بغیر کسی چھان پھٹک کے صرف جمع کر دی گئی ہیں۔ پھر حدیث میں سارا مدار اس کی سند پر ہوتا ہے اور اس روایت کی کوئی سند متصل معلوم نہیں۔ اب یہ سرکار دو عالم ﷺ کے الفاظ میں مدعیانِ نبوت کا ”دجل“ نہیں تو اور کیا ہے؟ کہ ایک طرف تو مرزائی صاحبان کی نگاہ میں قرآن کریم کی صاف اور صریح آیات اور آنحضرت ﷺ کی سینکڑوں متواتر اور صحیح احادیث ناقابل التفات ہیں اور دوسری طرف یہ منقطع الاسناد روایت جس کا علم حدیث کی رو سے کچھ بھی اعتبار نہیں ایسی قطعی اور یقینی ہے کہ

٨٤

صفحہ ١٩٣

ان میں بے احتیاطیاں یا غلطیاں ہوئی ہیں تو اس کا مطلب یہ کیسے کفر کے فیصلے قرآن وسنت کی بجائے مرزائی تحریفات کی بنیاد پر

مفکر پاکستان علامہ اقبال مرحوم نے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا صحیح بات کہی تھی: کہ بیشمار فرقوں کے مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی مسائل پر کچھ اثر جن پر سب فرقے متفق ہیں۔ اگرچہ وہ ایک دوسرے پر الحاد کے فتوے

(حرف اقبال ص ١٢٧)

ان صاحبان نے لاکھوں احادیث کے ذخیرہ میں سے دو ضعیف وسقیم من مانا مفہوم پہنا کر ان سے اپنی خود ساختہ نبوت کے لیے سہارا لیے یہاں ان پر بھی ایک نظر ڈال لینا مناسب ہوگا۔ النبيين ولا تقولوا لا نبي بعده. سند روایت ”درمنثور“ سے لی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ

(کو) ”خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی اس بات پر غور فرمائیے کہ یہ روایت کہاں سے لائی گئی ہے۔ اگر معروف کتاب میں اسے تلاش کرنا چاہیں گے تو آپ کو مایوسی ہوگی، بخاری، مسلم تو کجا نسائی، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی، مسند احمد، غرض کسی کتاب میں موجود نہیں! اسے لایا کہاں سے گیا ہے؟ علامہ سیوطیؒ کی اس کے بارے میں ادنیٰ طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ اس میں ہر قسم کی اور موضوع روایات بھی بغیر کسی چھان پھٹک کے صرف جمع کر دی گئی سارا مدار اس کی سند پر ہوتا ہے اور اس روایت کی کوئی سند متصل معلوم سرور عالم ﷺ کے الفاظ میں مدعیان نبوت کا ”دجل“ نہیں تو اور کیا ہے؟ ان صاحبان کی نگاہ میں قرآن کریم کی صاف اور صریح آیات اور بیسیوں متواتر اور صحیح احادیث ناقابل التفات ہیں اور دوسری طرف یہ جن کا علم حدیث کی رو سے کچھ بھی اعتبار نہیں ایسی قطعی اور یقینی ہے کہ

٨٤

اسے ختم نبوت جیسے متواتر قطعی اور اجماعی عقیدے کو توڑنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے کیا کسی نبی کی نبوت ایسی ہی روایات سے ثابت ہوا کرتی ہے؟ لیکن یہ بات اس شخص سے کہی جائے جو کسی علمی یا عقلی قاعدے اور ضابطے کا پابند ہو اور جہاں عقل، علم اور اخلاق پر مبنی آیات کا جواب سوائے خود ساختہ الہام کے اور کچھ نہ ہو وہاں دلائل و براہین کا کتنا انبار لگا دیجئے۔ مرزا قادیانی کے الفاظ میں اسکا جواب یہی ملے گا کہ ”خدا نے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں۔ تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں اور یا سرے سے موضوع ہیں اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرے میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کردے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٥ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤٠١)

پھر اس روایت میں جو بات بیان کی گئی ہے اس کا مرزائی اعتقادات سے دور دور کوئی واسطہ نہیں بلکہ یہ روایت تو نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے میں مرزائی نظریہ کی صریح تردید کر رہی ہے۔ اس کا مقصد محض اتنا ہے کہ اگر صرف یہ جملہ بولا جائے کہ ”آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا“ تو ایک ناواقف آدمی اسے مسیح علیہ السلام کے نزول ثانی کے عقیدے کے خلاف سمجھ سکتا ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام بھی تشریف نہیں لائیں گے۔ لہٰذا جو مقصد ”خاتم النبیین“ کہنے سے مکمل طور پر حاصل ہو سکتا ہے اس کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو ناواقفوں کے لیے کسی غلط فہمی کا سبب بن سکتے ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے ”لا نبی بعدی“ فرمایا تو ساتھ ساتھ ایک دو مرتبہ نہیں سینکڑوں مرتبہ اس کی تشریح بھی فرما دی کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جنھیں پہلے ہی سے نبوت حاصل ہے اور جو بہت پہلے پیدا ہو چکے ہیں۔ وہ دوبارہ نزول فرمائیں گے۔ اس کے برخلاف اگر کوئی دوسرا شخص صرف اتنا جملہ کہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو صرف اتنی بات سننے والا کوئی ناواقف انسان کسی غلط فہمی کا شکار ہو سکتا ہے۔

حضرت عائشہؓ کی طرف منسوب اس قول کی یہ تشریح خود درمنثور ہی میں موجود ہے: عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ خَاتِمِ الْأَنْبِيَاءِ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ حَسْبُكَ إِذَا قُلْتَ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ فَإِنَّا كُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّ عِيسَى عليه السلام خَارِجٌ فَإِنْ هُوَ خَرَجَ فَقَدْ كَانَ قَبْلَهُ وَبَعْدَهُ.

٨٥

صفحہ ١٩٤

”حضرت شعبیؒ جو ایک جلیل القدر تابعی ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے سامنے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ جناب محمد ﷺ پر رحمت نازل فرمائے، جو خاتم الانبیاء ہیں اور جن کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ حضرت مغیرہؓ نے فرمایا کہ ”خاتم الانبیاء“ کہہ دینا کافی تھا، کیونکہ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہونے والے ہیں جب وہ نازل ہوں گے تو آپ ﷺ سے پہلے بھی آئے اور آپ ﷺ کے بعد بھی آئیں گے۔“

(درمنثور ص ٢٠٤ ج ٥)

لہٰذا حضرت عائشہؓ اور حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کی یہ ہدایت، اگر بالفرض سنداً ثابت ہو حضرت علیؓ کے اس ارشاد کے مطابق ہے جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ: حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ لوگوں سے وہ باتیں بیان کرو جن کو وہ سمجھ سکیں۔“

(صحیح بخاری ج ١ ص ٢٤ باب من خص بالعلم)

اور اس روایت سے مرزائی اعتقادات کو نہ صرف یہ کہ کوئی سہارا نہیں ملتا ہے، بلکہ یہ صراحۃً ان کی تردید کرتی ہے، ورنہ جہاں تک حضرت عائشہؓ کا تعلق ہے امام احمد بن حنبلؒ کی مسند میں خود ان کی یہ روایت موجود ہے:

عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ لَا يَبْقَى بَعْدِيْ مِنَ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوْا يَارَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ.“ حضرت عائشہؓ روایت فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد نبوت کا کوئی جز باقی نہیں رہے گا سوائے مبشرات کے...... صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ مبشرات کیا چیز ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اچھے خواب جو کوئی مسلمان خود دیکھے یا اس کے لیے کوئی اور دیکھے۔“

(مسند امام احمد ص ١٢٩ ج ٦)

کیا اس کے بعد بھی اس بات میں کوئی شک و شبہ رہ جاتا ہے، کہ حضرت عائشہؓ کے نزدیک نبوت کی ہر قسم اور سوائے اچھے خوابوں کے اس کا ہر جزء آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گیا اور اب کسی بھی شخص کو کسی بھی صورت میں یہ منصب عطا نہیں کیا جاسکتا۔

٢...... دوسری ضعیف روایت سنن ابن ماجہؒ سے نقل کی جاتی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:

لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا . (اگر یہ زندہ رہتے تو صدیق نبی ہوتے)

اس حدیث کا حال بھی یہ ہے کہ حدیث کے ناقد آئمہ نے اسے ضعیف بلکہ باطل قرار دیا ہے۔ امام نوویؒ جیسے بلند پایہ محدث فرماتے ہیں:

٨٦

صفحہ ١٩٥

”هٰذَا الْحَدِيْثُ بَاطِلٌ یہ حدیث باطل ہے۔“ (موضوعات کبیر ص ٥٨) اس حدیث کے ایک راوی ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان کے بارے میں امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ ثقہ نہیں ہے۔ امام ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ ”مُنْكَرُ الْحَدِيْث“ ہے امام نسائی لکھتے ہیں کہ ”مَتْرُوْكُ الْحَدِيْثُ ہے۔ امام جوزجانیؒ کہتے ہیں کہ ”اس کا اعتبار نہیں“۔ امام ابو حاتمؒ کا ارشاد ہے کہ یہ ”ضعیف الحدیث“ ہے۔

(ملاحظہ ہو تہذیب التہذیب ج ١ ص ٩٥ نمبر ٢٥٧)

البتہ اس روایت کے الفاظ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ کے اثر کے طور پر اس طرح مروی ہیں: لَوْ قُضِیَ اَنْ يَّكُوْنَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ نَبِیٌّ عَاشَ اِبْنُهُ وَلٰكِنْ لَا نَبِیَّ بَعْدَهُ. (بخاری ج ٢ ص ٩١٣ باب من سمی باسماء الانبیاء) ”اگر محمد ﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت مقدر ہوتی تو آپ ﷺ کے صاحبزادے زندہ رہتے لیکن آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔“

ان الفاظ نے ابن ماجہ کی ضعیف روایت کی حقیقت بھی واضح کر دی ہے کہ اس کا اصل مقصد کیا ہے؟ اور وہ ختم نبوت کے خلاف تو کیا ہوتی در حقیقت اس سے یہ عقیدہ اور زیادہ پختہ مؤکد اور ناقابل تردید ہو جاتا ہے۔

یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ صحیح بخاری قرآن کریم کے بعد تمام کتابوں میں سب سے زیادہ صحیح کتاب ہے۔ لہٰذا اگر کوئی ضعیف روایت کہیں اور آئی ہو یا اس کی تشریح صحیح بخاری کے الفاظ سے بھی مانی جائے اگر تطبیق ممکن نہ ہو تو ضعیف روایت کو چھوڑ کر صحیح بخاری کی روایت کو اختیار کیا جائے گا، مرزا قادیانی کا حال تو یہ ہے کہ وہ صحیح مسلم کی ایک حدیث کو محض اس بنا پر ترک کر دیتے ہیں کہ امام بخاریؒ نے اسے ذکر نہیں کیا۔ چنانچہ ”ازالہ اوہام“ میں لکھتے ہیں: ”یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسماعیل بخاریؒ نے چھوڑ دیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٠٩ خزائن ج ٣ ص ٢٠٩، ٢١٠)

حالانکہ صحیح مسلمؒ خود نہایت معتبر ہے اور امام بخاریؒ کا محض کسی روایت کو چھوڑ دینا اس کے ضعف کی دلیل نہیں اس کے برخلاف ابن ماجہؒ کی یہ روایت ضعیف ہے اور صحیح بخاری میں اس کی واضح تشریح موجود ہے۔ مگر مرزائی صاحبان ہیں کہ اسے بار بار اپنی دلیل کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں وجہ ظاہر ہے کہ کوئی صحیح دلیل ہو تو پیش کی جائے۔ اگر ایسی روایت

٨٧

صفحہ ١٩٦

میں صراحۃً عقیدۂ ختم نبوت کی تردید کی گئی ہوتی تب بھی وہ ایک متواتر عقیدے کے مقابلے میں قطعاً قابل اعتبار نہ ہوتی اور یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ اگر اسے صحیح مان لیا جائے تب بھی اس میں محض ایک مفروضے کا بیان ہے۔ جس کے وجود میں آنے کا کوئی امکان نہیں۔ اگر حضرت ابراہیم کی زندگی میں یہ بات کہی جاتی تب تو اس سے کسی درجے میں یہ بات نکل سکتی تھی کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ کے بارے میں ان کی زندگی ہی میں آپ ﷺ نے اس جیسی بات ارشاد فرمائی تھی، وہاں چونکہ نبوت کے جاری رہنے کا شبہ ہو سکتا تھا۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے وہاں بالکل دوسری تعبیر اختیار فرمائی اور اس شبہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا اور ارشاد فرمایا کہ:

لَوْ كَانَ بَعْدِیْ نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ.

(رواہ الترمذی ج ٢ ص ٢٠٩ مناقب عمرؓ)

”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب ہوتے۔“

مطلب یہ ہے کہ میرے بعد چونکہ نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ اس لیے حضرت عمرؓ نبی نہیں بن سکتے اسی طرح آپ ﷺ نے غزوۂ تبوک کے موقعہ پر مدینہ طیبہ میں حضرت علیؓ کو اپنا نائب مقرر فرمایا تو ان سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: أَمَا تَرْضٰی اَنْ تَكُوْنَ بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی اِلَّا اَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِی.

(رواہ بخاری ومسلم واللفظ لمسلم)

”کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے ساتھ ایسے ہو جاؤ جیسے موسیٰ ؑ کے ساتھ ہارون ؑ (کہ کوہ طور پر جاتے وقت حضرت موسیٰ ؑ انھیں نائب بنا کر گئے تھے) لیکن میرے بعد نبوت نہیں۔“

یہاں آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو حضرت ہارون ؑ سے تشبیہ محض نائب بنا کر جانے میں دی تھی لیکن چونکہ اس سے ختم نبوت کے خلاف غلط فہمی کا اندیشہ تھا اس لیے آپ ﷺ نے فوراً اِلَّا اَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِی (مگر میرے بعد کوئی نبوت باقی نہیں) فرما کر اس اندیشے کا خاتمہ فرما دیا۔

البتہ حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں یہ بات چونکہ ان کی وفات کے بعد کہی جا رہی تھی اور ان کے زندہ رہنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہا تھا۔ اس لیے الفاظ یہ استعمال کیے گئے کہ:۔

”اگر وہ زندہ رہتے تو صدیق نبی ہوتے۔“ لیکن چونکہ زندہ نہیں رہے اس لیے نبی ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ”لہٰذا یہ ایسا ہی ہے جیسے قرآن کریم میں ہے کہ لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا (اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کچھ معبود ہوتے تو

٨٨

صفحہ ١٩٧

زمین و آسمان میں فساد مچ جاتا) ظاہر ہے کہ یہ محض ایک مفروضہ ہے اور اگر کوئی شخص اس سے یہ استدلال کرنے بیٹھ جائے کہ معاذ اللہ کائنات میں اللہ تعالیٰ کے سوا معبودوں کا وجود ممکن ہے تو یہ زبردستی نہیں تو اور کیا ہے۔“

یہ تھی لاکھوں احادیث نبوی ﷺ کے ذخیرے میں سے مرزائی ”استدلال“ کی کل کائنات جس کی بنیاد پر اصرار کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم کی بیسیوں آیات کو، آنحضرت ﷺ کی سینکڑوں صریح اور متواتر احادیث کو اور امت مسلمہ کے قطعی اجماع کو چھوڑ کر مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی تسلیم کرو، ورنہ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے۔

قرآن کریم کی ایک آیت مسلمانوں کو متاثر کرنے کے لیے یہ بھی ضروری تھی کہ مرزا قادیانی کی ”نبوت“ کے لیے قرآن کریم سے بھی کوئی تائید تلاش کی جاتی، تاکہ کم از کم کہنے کو یہ کہا جا سکے کہ قرآن سے بھی ”استدلال“ کیا گیا ہے اس مقصد کے لیے قرآن کریم کی جو آیت مرزائی صاحبان کی طرف سے تلاش کر کے لائی گئی ہے وہ یہ ہے:

وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِیْنَ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًا۔ (النساء ٦٩) ”اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا ہے۔ یعنی نبیوں کے ساتھ اور صدیقوں کے ساتھ اور شہداء کے ساتھ اور صالحین کے ساتھ اور یہ لوگ بہترین ساتھی ہیں۔“

اس آیت کو بار بار پڑھ کر دیکھئے، کیا اس میں خوردبین لگا کر بھی کہیں یہ بات نظر آتی ہے کہ نبوت کا سلسلہ جاری ہے؟ اور کوئی شخص اب بھی نبی بن سکتا ہے؟ لیکن جو مذہب ”دمشق“ سے ”قادیان“ مراد لے سکتا ہو، جسے ”قادیان“ کا ذکر دکھائی دیتا ہو اور جو ”خاتم النبیین“ کا ایسا مطلب نکال سکتا ہو، جس سے تمام ”نبوتوں کا سرتاج“ نبوت کا دروازہ کھلا رہے۔ وہ اس آیت سے بھی نبوت کے جاری رہنے پر استدلال کر لے تو کون سی تعجب کی بات ہے۔

اس آیت میں صاف طور سے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والا آخرت میں انبیاء، صدیقین شہداء اور صالحین کا ساتھی ہوگا۔ لیکن مرزائی صاحبان اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ وہ خود نبی بن جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں لفظ ”مَعَ“ (ساتھ) استعمال ہوا ہے، جو اس معنی میں بھی لیا جا سکتا ہے کہ انسان انبیاء وغیرہ

٨٩

صفحہ ١٩٨

کے گروہ کے محض ساتھ ہی نہیں ہوگا۔ بلکہ ان میں شامل ہو جائے گا۔ لیکن جو شخص مذکورہ بالا آیت کے الفاظ سے بالکل ہی آنکھیں بند کر کے نہیں بیٹھ گیا وہ دیکھ سکتا ہے کہ اسی آیت کے آخر میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے:

حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا۔ ”اور یہ لوگ بہترین ساتھی ہیں۔“

اس آخری جملے میں لفظ رفیق نے یہ بات واضح کر دی کہ اگر بالفرض کہیں ”مَعَ“ کے معنی کچھ اور ہو بھی سکتے ہیں تو یہاں سوائے ساتھی بننے کے کوئی اور مطلب نہیں۔ کیونکہ آگے اس کی تشریح کے لیے صراحۃً لفظ ”رفیق“ آ رہا ہے۔

پھر اگر (معاذ اللہ) مطلب یہی تھا کہ ہر شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کر کے نبی بن سکتا ہے تو کیا پوری امت میں اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے والا ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہی پیدا ہوا ہے۔ اور کسی نے اللہ اور رسول کی اطاعت نہیں کی۔ حالانکہ قرآن (معاذ اللہ) یہ کہہ رہا ہے کہ جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا۔ وہ نبیوں کے زمرے میں شامل ہو جائے گا۔ اگر اسی کا نام ”استدلال“ ہے تو نہ جانے قرآن کی معنوی تحریف کیا چیز ہوگی۔

بعض صوفیاء کے غلط حوالے

مرزائی صاحبان بعض صوفیاء کے ناتمام اور مبہم حوالے ڈھونڈ کر انھیں اپنی خود ساختہ نبوت کی تائید میں پیش کرتے ہیں۔ ان کے پیش کیے ہوئے ایسے غلط حوالوں کا مسلمانوں کی طرف سے انتہائی مدلل اور اطمینان بخش جواب دیا جا چکا ہے اور بار بار دیا جا چکا ہے۔ یہاں اس کو بالتفصیل دھرانے کی ضرورت نہیں۔ البتہ چند اصولی حقائق کی طرف اشارہ ضروری ہے۔

دین میں اقوال سلف کی حقیقت

سب سے پہلے یہ بات قابل ذکر ہے کہ دین کا اصل سرچشمہ قرآن کریم، سرکارِ دو عالم ﷺ کی احادیث اور اجماع امت ہے۔ اور اکا دُکا افراد کی ذاتی آراء اس مسئلے پر کبھی اثر انداز نہیں ہو سکتیں جو دین کے ان بنیادی سرچشموں میں وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہو۔ خاص طور سے نبوت و رسالت جیسا بنیادی عقیدہ تو خبر واحد سے بھی ثابت نہیں ہوتا، چہ جائیکہ اسے کسی انفرادی تحریر سے ثابت کیا جائے۔ اس لیے اس مسئلے میں قرآن و حدیث کی متواتر تصریحات اور اجماع امت کے خلاف اگر کچھ انفرادی تحریریں ثابت ہو بھی جائیں تو وہ قطعی طور پر خارج از بحث ہیں اور انھیں بطور استدلال پیش نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا جن صوفیاء کے مبہم جملوں سے مرزائی صاحبان سہارا لینے کی کوشش

٩٠

صفحہ ١٩٩

کرتے ہیں ان کی تشریح و توجیہہ سے ہمارا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ اگر بالفرض ان کی تحریروں کا مفہوم عقیدہ ختم نبوت سے متضاد ثابت ہو جائے تو اس محکم اور مسلمہ عقیدے کو کوئی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے بلکہ جس کسی نے ان کے کلام کی صحیح تشریح پیش کی ہے اس کا اصل مقصد صرف یہ ہے کہ ان پر ایک غلط الزام لگایا گیا ہے۔ جسے انصاف اور دیانت کی رو سے رفع کرنا ضروری ہے۔ بہ الفاظ دیگر ان حضرات کی تحریروں کو ختم نبوت سے متصادم بنا کر پیش کرنے سے عقیدہ ختم نبوت پر کوئی الزام عائد نہیں ہوتا بلکہ ان بزرگوں پر یہ الزام عائد ہوتا ہے۔ لہٰذا ان حضرات کے کلام کی تشریح میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ عقیدہ ختم نبوت کا دفاع نہیں بلکہ ان بزرگوں کا دفاع ہے، لہٰذا وہ ہمارے موضوع بحث سے خارج ہے۔

مرزائی مذہب میں اقوالِ سلف کی حقیقت

دوسری بات یہ ہے کہ مرزائی صاحبان کو تو اپنے مذہب کے مطابق کسی بھی درجے میں یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان بزرگوں کے اقوال سے استدلال کریں کیونکہ کتنے ہی معاملات ایسے ہیں جن میں انھوں نے اجماع امت کو بھی درست قرار نہیں دیا بلکہ اسے حجت شرعیہ ماننے سے ہی انکار کیا ہے۔ چنانچہ عقیدہ نزول مسیح ؑ کی تردید کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں:۔

"جبکہ پیشگوئیوں کے سمجھنے کے بارے میں خود انبیاء سے امکانِ غلطی ہے تو پھر امت کا کورانہ اتفاق یا اجماع کیا چیز ہے؟"

(ازالہ ص ١٤٢ خزائن ج ٣ ص ١٧٢)

اور آگے لکھتے ہیں:

"میں پھر دوبارہ کہتا ہوں کہ اس بارے میں عام خیال مسلمانوں کا، گو ان میں اولیاء بھی داخل ہوں، اجماع کے نام سے معصوم نہیں ہو سکتا۔"

(ایضاً)

اور جب اجماع کا یہ حال ہے تو سلف کے انفرادی اقوال کی حیثیت تو خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

"اور اقوال سلف و خلف درحقیقت کوئی مستقل حجت نہیں، اور ان کے اختلاف کی حالت میں وہ گروہ حق پر ہوگا جن کی رائے قرآن کریم کے مطابق ہے۔"

(ازالہ اوہام ص ٥٣٨ خزائن ج ٣ ص ٣٨٩)

نیز مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

"ومن تفوہ بکلمۃ لیس لَہٗ اصل صحیح فی الشرع ملہماً کان او مجتہداً فیہ الشیاطین متلاعبۃ " یعنی "اگر کوئی شخص کوئی ایسی بات زبان سے نکال

٩١

صفحہ ٢٠٠

دے جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو وہ صاحب الہام ہو یا مجتہد ہو تو درحقیقت وہ شیاطین کا کھلونا ہے۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢١ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

لہٰذا مرزائی صاحبان کے لیے قرآن کریم کی صریح آیات اور متواتر احادیث کو چھوڑ کر چند صوفیاء کے اقوال سے استدلال کیسے درست ہوسکتا ہے؟

صوفیاء کرام کا اسلوب تیسری اصولی بات یہ ہے کہ دنیا کے مسلمہ اصول کے مطابق ہر علم وفن کا موضوع، اس کی غرض و غایت، اس کی اصطلاحات اور اس کے ماہرین جدا ہوتے ہیں اور اسی اعتبار سے ہر علم وفن کا اسلوب بیان بھی الگ ہوتا ہے جو شخص کسی علم وفن کا ماہر اور تجربہ کار نہ ہو۔ بسا اوقات اس فن کی کتابیں پڑھ کر شدید غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی عام آدمی میڈیکل سائنس کی کتابیں پڑھ کر اس سے اپنا علاج شروع کر دے تو یہ اس کی ہلاکت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ یہی معاملہ اسلامی علوم کا ہے کہ تفسیر، حدیث، فقہ، عقائد اور تصوف میں سے ہر ایک علم کا وظیفہ، اس کی اصطلاحات اور اس کا اسلوب بالکل الگ ہے، اور ان میں سب سے زیادہ دقیق اور پیچیدہ تعبیرات ان کتابوں میں ملتی ہیں جو تصوف اور اس کے فلسفے پر لکھی گئی ہیں کیونکہ ان کتابوں کا تعلق نظریات اور ظاہری اعمال کے بجائے ان باطنی تجربات اور ان واردات و کیفیات سے ہے جو صوفیاء کرام پر اپنے اشغال کے دوران طاری ہوتی ہیں۔ اور معروف الفاظ وکلمات کے ذریعے ان کا بیان دشوار ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جہاں تک دین کے بنیادی مسائل، عقائد اور عملی احکام کا تعلق ہے وہ نہ علم تصوف کا موضوع ہیں اور نہ علمائے امت نے تصوف کی کتابوں کو ان معاملات میں کوئی مأخذ یا حجت قرار دیا ہے۔ اس کے بجائے عقائد کی بحثیں علم کلام میں اور عملی احکام وقوانین کے مسائل علم فقہ میں بیان ہوتے ہیں اور انہی علوم کی کتابیں اس معاملے میں معتبر سمجھی جاتی ہیں۔ خود صوفیاء کرام ان معاملات میں انہی علوم کی کتابوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور یہ تصریح کرتے ہیں، کہ جو شخص تصوف کے ان باطنی اور نفسیاتی تجربات سے نہ گزرا ہو اس کے لیے ان کتابوں کا دیکھنا بھی جائز نہیں۔ بسا اوقات ان کتابوں میں ایسی باتیں نظر آتی ہیں جن کا بظاہر کوئی مفہوم سمجھ میں نہیں آتا۔ بعض اوقات جو مفہوم بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے وہ بالکل عقل کے خلاف ہوتا ہے لیکن لکھنے والے کی مراد کچھ اور ہوتی ہے، اس قسم کی عبارتوں کو ”شطحیات“ کہا جاتا ہے۔ اس لیے کسی بنیادی عقیدے کے

٩٢

صفحہ ٢٠١

مسئلہ میں تصوف کی کتابوں سے استدلال ایک ایسی اصولی غلطی ہے جس کا نتیجہ گمراہی کے سوا کچھ نہیں۔ اس اصول کو خود اکابر صوفیاء نے بھی تسلیم کیا ہے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ تصوف کے بھی امام ہیں۔ لیکن وہ تحریر فرماتے ہیں:

”پس مقرر شد کہ معتبر در اثبات احکام شرعیہ کتاب وسنت است و قیاس مجتہدان و اجماع امت نیز مثبت احکام است۔ بعد ازیں چہار ادلہ شرعیہ ہیچ دلیلے مثبت احکام شرعیہ نمی تواند شد۔ الہام مثبت حل وحرمت نہ بود و کشف از باطن اثباتِ فرض وسنت نہ نماید۔“

(مکتوب نمبر ٥٥، مکتوبات دفتر دوم ص ١٥٥)

ایک اور جگہ صوفیاء کی ”شطحیات“ سے کلامی مسائل مستنبط کرنے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”قائل آں سخناں شیخ کبیر یمنی باشد یا شیخ اکبر شامی، کلام محمد عربی علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام درکار است، نہ کلام محی الدین ابن عربی و صدر الدین قونوی و عبد الرزاق کاشی، مارا بہ نص کار است نہ بفص، فتوحات مدنیہ از فتوحات مکیہ مستغنی ساختہ است۔“

”یہ باتیں خواہ شیخ کبیر یمنی نے کہی ہوں، یا شیخ اکبر شامی نے، ہمیں محمد عربی ﷺ کا کلام چاہیے، نہ کہ محی الدین ابن عربیؒ، صدر الدین قونویؒ اور عبد الرزاق کاشیؒ کا کلام ہمیں ”نص“ (یعنی قرآن وحدیث) سے غرض ہے نہ کہ فص سے (یہ ابن عربیؒ کی فصوص الحکم کی طرف اشارہ ہے) فتوحات مدنیہ نے ہمیں فتوحات مکیہ سے مستغنی کر دیا ہے۔“

(مکتوبات حصہ دوم دفتر اوّل مکتوب نمبر ١٠٠)

ان تین بنیادی باتوں کے بعد عقائد کے اس بنیادی مسئلے میں جو قرآن و حدیث اور اجماع امت کی رو سے کفر و اسلام کا مسئلہ ہے۔ صوفیاء کرام کی کتابوں سے استدلال قطعی طور پر خارج از بحث ہے، اور اگر بالفرض بعض صوفیاء سے اس قسم کی ”شطحیات“ ثابت بھی ہوں تو ان سے عقیدۂ ختم نبوت کی قطعیت اور استحکام میں ذرہ برابر کمی نہیں آتی۔

البتہ یہ درست ہے کہ جن صوفیائے کرامؒ پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ غیر تشریعی نبوت کے باقی رہنے کے قائل ہیں۔ ان پر یہ ایک ایسا اتہام ہے جو محض ان کی اصطلاحات اور اسلوب بیان سے ناواقفیت کی بنا پر عائد کیا گیا ہے۔ یہاں ہم ان کے کلام کی صحیح صحیح تشریح کریں تو اس کے لیے طویل مضمون درکار ہوگا، اور چونکہ ہماری مذکورہ بالا معروضات کی روشنی میں یہ عقیدۂ ختم نبوت کا نہیں، بلکہ ان بزرگوں کا دفاع ہے۔ اس لیے یہ ہمارے موضوع سے خارج بھی ہے۔ لیکن یہاں ان حضرات کی بعض صریح عبارتیں نقل کی جاتی ہیں

٩٣

صفحہ ٢٠٢

جن سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ پوری امت کی طرح ختم نبوت کے عقیدے پر مستحکم ایمان رکھتے ہیں۔

مجدد الف ثانیؒ کی عبارت میں مرزا کی صریح تحریف

اس سلسلے میں سب سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ ڈھٹائی اور دیدہ دلیری ملاحظہ فرمائیے کہ انھوں نے اپنی نبوت ثابت کرنے کے لیے مجدد الف ثانیؒ کی ایک عبارت نقل کی ہے اور اس میں ایک لفظ خود اپنی طرف سے بڑھا دیا ہے، لکھتے ہیں:

”بات یہ ہے کہ جیسا مجدد صاحب سرہندیؒ نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کیے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩٠ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

حالانکہ حضرت مجدد صاحبؒ کی جس عبارت کا حوالہ مرزا قادیانی نے دیا ہے وہ یہ ہے: واذ اکثر ھذا القسم من الکلام مع واحدٍ منھم یسمّٰی محدثاً ”اور جب اللہ کی طرف سے اس قسم کا کلام کسی کے ساتھ بکثرت ہونے لگے تو اسے محدث کہا جاتا ہے۔“

(مکتوبات ج ٢ ص ١٩٩ مکتوب نمبر ٥١)

ملاحظہ فرمائیے کہ حضرت مجدد صاحب کی عبارت میں ”محدث“ کے لفظ کو مرزا قادیانی نے کس طرح ”نبی“ کے لفظ سے بدل دیا۔ محمد علی لاہوری قادیانی اس کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”جب ہم مجدد صاحب سرہندیؒ کے مکتوبات کو دیکھتے ہیں تو وہاں یہ نہیں پاتے کہ کثرتِ مکالمہ و مخاطبہ پانے والا نبی کہلاتا ہے۔ بلکہ وہاں لفظ محدث ہے۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص ٢٤٨)

پھر آگے اس صریح خیانت کی تاویل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ درحقیقت مرزا قادیانی نے یہاں لفظ ”نبی“ کو ”محدث“ ہی کے معنی میں استعمال کیا ہے اور:۔

”اگر اس توجیہہ کو قبول نہ کیا جائے تو حضرت مسیح موعود پر یہ الزام عائد ہوگا کہ آپ نے نعوذ باللہ اپنی مطلب براری کے لیے مجدد صاحب کی عبارت میں تحریف کی ہے۔“

(النبوۃ فی الاسلام از محمد علی لاہوری ص ٢٤٨)

حالانکہ مرزا قادیانی خود لفظ نبی کو اپنے کلام میں محدث کے معنی میں استعمال کرتے تو ایک بات بھی تھی، حضرت مجدد صاحبؒ کی طرف زبردستی لفظ ”نبی“ منسوب کر کے

٩٤

صفحہ ٢٠٣

اسے ”محدث“ کے معنی میں قرار دینا کون سی شریعت، کون سے دین اور کون سی عقل کی رو سے جائز ہے؟ حیرت ہے ان لوگوں کی عقلوں پر جو مرزا قادیانی کے کلام میں ایسی ایسی صریح خیانتیں دیکھتے ہیں، اور پھر بھی انھیں نبی، مسیح موعود اور مجدد قرار دینے پر مُصر ہیں۔

ملا علی قاریؒ دوسرے بزرگ جن کی طرف یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ وہ ختم نبوت کے خلاف نبوت کی کسی قسم کو جائز سمجھتے ہیں، ملا علی قاریؒ ہیں۔ لیکن ان کی درج ذیل عبارت ملاحظہ فرمائیے:

”التحدی فرع دعوی النبوة و دعوی النبوة بعد نبینا ﷺ کفر بالاجماع.“

(شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢)

”اس قسم کا چیلنج دعویٰ نبوت کی ایک شاخ ہے اور ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بہ اجماع کفر ہے۔“

یہ عبارت ملا علی قاریؒ نے اس شخص کے بارے میں لکھی ہے جو محض معجزے میں دوسرے کے مقابلے پر غلبہ پانے کا دعویٰ کر رہا ہو۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہاں گفتگو محض غیر تشریعی نبوت میں ہے اور اس کا دعویٰ بھی ملا علی قاریؒ نے کفر قرار دیا ہے۔

شیخ ابن عربیؒ اور شیخ شعرانیؒ شیخ محی الدین ابن عربی کی طرف خاص طور پر یہ بات زور و شور سے منسوب کی جاتی ہے کہ وہ غیر تشریعی نبوت کے قائل ہیں، مگر ان کی درج ذیل عبارت ملاحظہ ہو۔

”فما بقى للاولياء اليوم بعد ارتفاع النبوة الا التعريفات وانسدت ابواب الاوامر الالهية والنهى فمن ادعاها بعد محمد ﷺ فهو مدع شريعة اوحى بها اليه سواء وافق بها شرعنا أو خالف.“ ”پس نبوت کے ختم ہو جانے کے بعد اولیاء اللہ کے لیے صرف معارف باقی رہ گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی امر (کسی چیز کا حکم) یا نہی (کسی چیز سے منع کرنا) کے دروازے بند ہوچکے۔ اب ہر وہ شخص جو اس کا دعویٰ کرے وہ درحقیقت شریعت کا مدعی ہے خواہ اس کا الہام ہماری شریعت کے موافق ہو یا مخالف۔“

(فتوحات مکیہ ج ٣ ص ٣٩)

اس عبارت نے واضح کر دیا کہ:

احکام لائے بلکہ وہ مدعی نبوت بھی ان کے نزدیک مدعی شریعت ہے جس کی وحی بالکل

٩٥

صفحہ ٢٠٤

شریعت محمدیہ کے موافق ہی ہو۔

محمدیہ ﷺ کے موافق وحی کا دعویٰ بھی ختم نبوت کا انکار ہے۔

وہ نبوت شریعت جدیدہ کی مدعی ہو خواہ شریعت محمدیہ ﷺ کی موافقت کا دعویٰ کرے، پس غیر تشریعی نبوت سے مراد وہ کمالات نبوت اور کمالات ولایت ہوں گے جن پر شارع نبوت کا اطلاق نہیں کرتا اور وہ نبوت نہیں کہلاتی۔

عارف باللہ امام شعرانیؒ نے ”الیواقیت والجواہر“ میں شیخ اکبرؒ کی مندرجہ بالا عبارت نقل کرتے ہوئے اس کے ساتھ یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں:۔

”فان كان مکلّفًا ضربنا عنقه والا ضربنا عنہ صفحا۔“

(الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ٣٨)

”اگر وہ شخص مکلف یعنی عاقل بالغ ہو تو ہم پر اس کا قتل واجب ہے۔ ورنہ اس سے اعراض کیا جائے گا۔“

٩٦

صفحہ ٢٠٥

مرزائیت کی اسلام دشمنی

ہم نے اپنی قرارداد میں کہا ہے کہ!

جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھیں نیز یہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا، اور اس کا واحد مشن مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔ نیز ان کے پیروکار، چاہے انھیں کوئی بھی نام دیا جائے۔ مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

٩٧

صفحہ ٢٠٦

بسم الله الرحمن الرحيم

سیاسی پس منظر

٣٠ جون ١٩٧٤ء کو قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ہماری قرارداد میں مرزا غلام احمد قادیانی کے جہاد کو ختم کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر ہے اور یہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا تھا اور یہ کہ مرزائی خواہ انھیں کوئی بھی نام دیا جائے۔ اسلام کے فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

ہم ان حسب ذیل چار باتوں کا جائزہ مرزائی تحریرات اور ان کی سرگرمیوں اور عزائم کی روشنی میں لیتے ہیں:

میں قطعی حرام ناجائز اور منسوخ کرانا۔

یورپی استعمار اور مرزائیت پہلی بات کہ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکار یورپی استعمار کے آلہ کار ہیں۔ ایک ایسی کھلی حقیقت ہے جس کا نہ صرف مرزا قادیانی کو اعتراف ہے بلکہ وہ فخر و مباہات کے ساتھ ببانگ دہل ان باتوں کا اپنی ہر تحریر اور تصنیف میں اعلان کرتے پھرتے ہیں۔ وہ بلا جھجک اپنے کو انگریزوں کا خود کاشتہ پودا اور خاندانی وفادار اور سلطنت انگلشیہ کو آقائے ولی نعمت اور رحمت خداوندی اور انگریزوں کی اطاعت کو مقدس دینی فریضہ قرار دیتے ہیں۔ ادھر انگریزی حکام اور سامراج بھی دل کھول کر ان کی وفا شعاریوں کو سراہتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یورپ اور برطانیہ، مرزا کو اپنے استعماری اور اسلام دشمن مقاصد کے لیے کن طریقوں سے استعمال کرتے رہے۔

اٹھارھویں صدی کا نصفِ آخر اور یورپی استعمار اٹھارہویں صدی عیسوی

٩٨

صفحہ ٢٠٧

کے نصف آخر ہی میں یورپی سامراج دنیا کے بیشتر حصوں پر اپنے نو آبادیاتی عزائم کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ ان سامراجی طاقتوں میں برطانیہ پیش پیش تھا، اطالوی، فرانسیسی اور پرتگالی براعظم افریقہ کو اطالوی صومالی لینڈ، فرانسیسی صومالی لینڈ، پرتگالی مشرقی افریقہ، جرمنی مشرقی افریقہ اور برطانوی مشرقی افریقہ میں منقسم کرنے کے بعد مشرق وسطیٰ کے بعض علاقوں میں سامراجی ریشہ دوانیوں میں مصروف تھے۔ اٹلی نے اریٹیریا، فرانس نے جزیرہ مڈغاسکر اور برطانیہ نے روڈیشیا اور یوگنڈا کو نو آبادیوں میں تقسیم کر دیا۔ نام نہاد خود مختار علاقوں میں یونین آف ساؤتھ افریقہ کے علاوہ مصر، حبشہ اور لائبیریا کا شمار ہوتا تھا۔ یورپی سامراج نے اس زمانے میں ہندوستان، برما اور لنکا کو زیر نگیں لانے کے لیے کشمکش کا آغاز کر دیا تھا اور بحر ہند کو اپنی استعماری سرگرمیوں کی آماجگاہ بنا لیا۔ مشرقی ساحل پر ملائی ریاستوں میں سنگاپور ایک اہم بحری اڈہ تھا جس کو بنیاد بنا کر بحر ہند، بحر الکاہل، ڈچ ایسٹ انڈیز اور جنوبی اسٹریلشیا کو جدا جدا کیا جا سکتا تھا۔ استعماری طاقتوں کو اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل میں اس وقت زیادہ آسانی ہو گئی جب ١٨٦٩ء میں نہر سویز کی تعمیر کا مرحلہ اختتام پذیر ہوا۔ اس کی وجہ سے راس امید کا لمبا چکر لگانے کی بجائے بحیرہ قلزم اور بحیرہ احمر کا آسان راستہ اختیار کیا جانے لگا۔ ١٨٧٨ء تک برطانیہ جبرالٹر اور مالٹا کو زیر اثر لا کر قبرص پر تسلط جما چکا تھا، عدن ١٨٣٩ء میں محکوم بنایا جا چکا تھا اب پورے جنوب مغربی ایشیاء پر قبضہ کرنا باقی تھا۔

انگریز اور برصغیر

انگریز نے جب برصغیر اور عالم اسلام میں اپنا پنجہ استبداد جمانا شروع کیا تو اس کی راہ میں دو باتیں رکاوٹ بننے لگیں۔ ایک تو مسلمانوں کی نظریاتی وحدت دینی معتقدات سے غیر متزلزل وابستگی اور مسلمانوں کا وہ تصور اخوت جس نے مغرب و مشرق کو جسد واحد بنا کے رکھ دیا تھا۔ دوسری بات مسلمانوں کا لافانی جذبہ جہاد جو بالخصوص عیسائی یورپ کے لیے صلیبی جنگوں کے بعد وبال جان بنا ہوا تھا اور آج ان کے سامراجی منصوبوں کے لیے قدم قدم پر سد راہ ثابت ہو رہا تھا۔ اور یہی جذبہ جہاد تھا جو مسلمانوں کی ملی بقاء اور سلامتی کے لیے گویا حصار اور قلعہ کا کام دے رہا تھا۔ انگریزی سامراج ان چیزوں سے بے خبر نہ تھی اس لیے اپنی معروف ابلیسی سیاست لڑاؤ اور حکومت کرو (Divide and rule) سے عالم اسلام کی جغرافیائی اور نظریاتی وحدت کو ٹکڑے کرنا چاہا۔ دوسری طرف عالم اسلام بالخصوص برصغیر میں نہایت عیاری سے مناظروں اور مباحثوں کا

٩٩

صفحہ ٢٠٨

بازار گرم کر کے مسلمانوں میں فکری انتشار اور تذبذب پیدا کرنا چاہا اور اس کے ساتھ ہی انگریزوں پر سلطان ٹیپو شہید، سید احمد شاہ شہیدؒ اور شاہ اسمعیل شہیدؒ اور ان کے بعد جماعت مجاہدین کی مجاہدانہ سرگرمیاں اور علماء حق کا ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر جہاد کا فتویٰ دینا اور بالآخر ١٨٥٧ء کے جہاد آزادی نہ صرف ہندوستان بلکہ باہر عالم اسلام میں مغربی استعمار کے خلاف مجاہدانہ تحریکات سے یہ حقیقت اور بھی عیاں ہو کر سامنے آ گئی کہ جب تک مسلمانوں کے اندر جذبہ جہاد قائم ہے، سامراج کبھی بھی اور کہیں بھی اپنا قدم مضبوطی سے نہیں جما سکے گا۔ مسلمانوں کی یہ چیز نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں یورپ کے لیے وبال جان بنی ہوئی تھی۔

مرزا قادیانی کے نشو و نما کا دور اور عالم اسلام کی حالت

انیسویں صدی کا نصف آخر جو مرزا قادیانی کے نشو و نما کا دور ہے اکثر ممالک اسلامیہ جہاد اسلامی اور جذبہ آزادی کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے۔ برصغیر کے حالات تو مختصراً معلوم ہو چکے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہی زمانہ ہے جب برصغیر کے باہر پڑوسی ممالک افغانستان میں ٧٩، ١٨٧٨ء میں برطانوی افواج کو افغانوں کے جذبہ جہاد و سرفروشی سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ جو بالآخر انگریزوں کی شکست اور پسپائی پر ختم ہو جاتا ہے۔

ترکی میں ١٨٧٦ء سے لے کر ١٨٧٨ء تک انگریزوں کی خفیہ سازشوں اور درپردہ معاہدوں کو دیکھ کر جذبہ جہاد بھڑکتا ہے۔ طرابلس الغرب میں شیخ سنوسی الجزائر میں امیر عبد القادر (١٨٨٠ء) اور روس کے علاقہ داغستان میں شیخ محمد شامل (١٨٧٠ء) بڑی پامردی اور جانفشانی سے فرانسیسی اور روسی استعمار کو للکارتے ہیں۔ ١٨٨١ء میں مصر میں مصری مسلمان سر بکف ہو کر انگریزوں کی مزاحمت کرتے ہیں۔

سوڈان میں انگریز قوم قدم جمانا چاہتی ہے تو ١٨٨١ء میں مہدی سوڈانی اور ان کے درویش جہاد کا پھریرا بلند کر کے بالآخر انگریز جنرل گارڈن اور اس کی فوج کا خاتمہ کرتے ہیں۔

اسی زمانہ میں خلیج عرب، بحرین عدن وغیرہ میں برطانوی فوجیں مسلمانوں کے جہاد اور استخلاص وطن کے لیے جان فروشی اور جان نثاری کے جذبہ سے دوچار تھیں۔

مسلمانوں کی ان کامیابیوں کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے ایک انگریز مصنف لکھتا ہے کہ مسلمانوں میں دینی سرگرمی بھی کام کرتی تھی کہتے تھے کہ فتح پائی تو غازی مرد

١٠٠

صفحہ ٢٠٩

میں فکری انتشار اور تذبذب پیدا کرنا چاہا اور اس کے ساتھ ہی یہ، سید احمد شاہ شہیدؒ اور شاہ اسمعیل شہیدؒ اور ان کے بعد جماعت علماء اور علماء حق کا ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر جہاد کا فتویٰ اور جہاد آزادی نہ صرف ہندوستان بلکہ باہر عالم اسلام میں مغربی تحریکات سے یہ حقیقت اور بھی عیاں ہو کر سامنے آگئی کہ جب تک جہاد قائم ہے، سامراج کبھی بھی اور کہیں بھی اپنا قدم مضبوطی سے نہیں جما سکتا۔ یہ چیز نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں یورپ کے لیے موت کا پیغام تھی۔

علماء کا دور اور عالم اسلام کی حالت

انیسویں صدی کا نصف آخر جو مرزا قادیانی کے نشوونما کا دور ہے اکثر ممالک اسلامیہ میں جہاد آزادی کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے۔ برصغیر کے حالات تو مختصراً اوپر گزر چکے ہیں کہ یہی زمانہ ہے جب برصغیر کے باہر پڑوسی ممالک افغانستان وغیرہ میں برطانوی افواج کو افغانوں کے جذبہ جہاد وسرفروشی سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور ان کی شکست اور پسپائی پر ختم ہو جاتا ہے۔

١٨٧٠ء سے لے کر ١٨٧٨ء تک انگریزوں کی خفیہ سازشوں اور در پردہ حملوں کا سلسلہ ابھرتا ہے۔ طرابلس الغرب میں شیخ سنوسی، الجزائر میں امیر عبدالقادر اور روس کے علاقہ داغستان میں شیخ محمد شامل (١٨٧٠ء) بڑی پامردی کے ساتھ فرانسیسی استعمار کو للکارتے ہیں۔ ١٨٨١ء میں مصر میں مصری مسلمان انگریزی افواج سے مزاحمت کرتے ہیں۔

فرانس جب تیونس پر قدم جمانا چاہتی ہے تو ١٨٨١ء میں مہدی سوڈانی اور ان کے رفقاء جہاد کا اعلان کر کے بالآخر انگریز جنرل گارڈن اور اس کی فوج کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

اسی طرح مسقط، عمان، بحرین، عدن وغیرہ میں برطانوی فوجیں مسلمانوں کے بے مثل جذبہ شہادت، جان فروشی اور جان نثاری کے جذبہ سے دوچار تھیں۔ یہ مسلمانوں کی کامیابیوں کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے ایک انگریز مصنف ولیم میور جس کی اسلام دشمنی سرگرمی بھی کام کرتی تھی کہتے تھے کہ فتح پائی تو غازی مرد

١٠٠

کہلائے، حکومت حاصل کی، مر گئے، تو شہید ہو گئے۔ اس لیے مرنا یا مار ڈالنا بہتر ہے اور پیٹھ دکھانا بیکار۔“

(تاریخ برطانوی ہند ٣٠٢)

ایک حواری نبی کی ضرورت

ایک برطانوی دستاویز ”دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا“ میں ہے اور بیرونی تمام شواہد بھی اس کی تائید کرتے ہیں کہ ”١٨٦٩ء میں انگلینڈ سے برطانوی مدبروں اور مسیحی رہنماؤں کا ایک وفد اس بات کا جائزہ لینے ہندوستان آیا کہ مسلمانوں کو رام کرنے کی ترکیب اور برطانوی سلطنت سے وفاداری کے راستے نکالنے پر غور کیا جائے۔ اس وفد نے ١٨٧٠ء میں دو رپورٹیں پیش کیں جن میں کہا گیا تھا کہ ”ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی رہنماؤں کی اندھا دھند پیروکار ہے۔ اگر اس وقت ہمیں کوئی ایسا آدمی مل جائے جو اپاسٹالک پرافٹ (Apostolic prophet) (حواری نبی) ہونے کا دعویٰ کرے تو بہت سے لوگ اس کے گرد اکٹھے ہو جائیں گے۔ لیکن مسلمانوں میں ایسے کسی شخص کو ترغیب دینا مشکل نظر آتا ہے۔ یہ مسئلہ حل ہو جائے تو پھر ایسے شخص کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں بطریق احسن پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ اب کہ ہم پورے ہندوستان پر قابض ہیں تو ہمیں ہندوستانی عوام اور مسلمان جمہور کی داخلی بے چینی اور باہمی انتشار کو ہوا دینے کے لیے اس قسم کے عمل کی ضرورت ہے۔“

(The arrivalof british Enpire in India)

(بحوالہ عجمی اسرائیل ص ١٩)

سامراجی ضرورتیں ..... مرزا قادیانی اور ان کا خاندان

یہ ماحول تھا اور سامراجی ضرورتیں تھیں جس کی تکمیل مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت اور تنسیخ جہاد کے اعلان نے کی اور بقول علامہ اقبال یہ حالات تھے کہ ”قادیانی تحریک فرنگی انتداب کے حق میں الہامی سند بن کر سامنے آئی۔“

(حرف اقبال ص ١٤٥)

انگریز کو مرزا غلام احمد قادیانی سے بڑھ کر کوئی اور موزوں شخص ان کے مقاصد کے لیے مل بھی نہیں سکتا تھا۔ اس لیے کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں کافروں کی حمایت اور مسلم دشمنی اس کو خاندانی ورثہ میں ملی تھی۔

مرزا قادیانی کا والد غلام مرتضیٰ قادیانی اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج میں داخل ہوا اور سکھوں کے لیے قابل قدر خدمات انجام دیں۔ پہلے سکھوں سے مل کر مسلمانوں سے لڑا۔ جس کے صلہ میں رنجیت سنگھ نے ان کو کچھ جائیداد واگزار کر دی۔

١٠١

صفحہ ٢١٠

مرزا قادیانی کی سیرت میں ہے کہ ١٨٤٢ء میں ان کا والد ایک پیادہ فوج کا کماندان بنا کر پشاور روانہ کیا گیا اور ہزارہ کے مفسدے (یعنی سید احمد شہید اور مجاہدین کے جہاد) میں اس نے کارہائے نمایاں انجام دیے (آگے ہے) کہ یہ تو تھا ہی سرکار کا نمک حلال ١٨٤٨ء کی بغاوت میں ان کے ساتھ اس کے بھائی غلام محی الدین (مرزا غلام احمد قادیانی کے چچا) نے بھی اچھی خدمات انجام دیں ان لوگوں نے سکھوں کے باغیوں سے مقابلہ کیا ان کو شکست فاش دی۔

(سیرت مسیح موعود ص ٥ مرتبہ مرزا بشیر الدین محمود)

١٨٥٧ء کے جہاد آزادی میں مرزا غلام احمد قادیانی کے والد مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی نے انگریز کا حق نمک یوں ادا کیا کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی کو اعتراف ہے کہ: ”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جو اس گورنمنٹ کا پکا خیرخواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی۔ اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے۔ اور ١٨٥٧ء میں انھوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو امداد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیے تھے۔“

(اشتہار واجب الاظہار منسلک کتاب البریہ ص ٣ خزائن ج ١٣ ص ٤)

اس کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کے والد اور بھائی غلام قادر قادیانی کو انگریزی حکام نے اپنی خوشنودی کے اظہار اور ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر جو خطوط لکھے ان خطوط کا تذکرہ بھی محولہ بالا کتاب میں مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا ہے کہ مسٹر ڈسن نے ان کے والد مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی کو لکھا ہے کہ: ”میں خوب جانتا ہوں بلاشبہ آپ اور آپ کا خاندان سرکار انگریزی کا جاں نثار، وفادار اور ثابت قدم خدمت گار رہا ہے۔“

(کتاب البریہ ص ٤ خزائن ج ١٣ ص ٤ خط ١١ جون ١٨٤٩ء لاہور مراسلہ ص ٣٥٣)

مسٹر رابرٹ کسٹ کمشنر لاہور بنام مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی اپنے خط مورخہ ٢٠ ستمبر ١٨٥٨ء میں ١٨٥٧ء کے جہاد آزادی میں انگریز کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف اور اس کے بدلے خلعت اور خوشنودی سے نوازنے کی اطلاع دیتے ہیں۔

یہ خاندانی اطاعت جس شخص کی گھٹی میں شامل تھی اس نے اپنی وفا شعاریوں کا یوں اعتراف کیا ہے۔ ستارہ قیصرہ میں مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ١٠٢

صفحہ ٢١١

ہزار کے قریب کتابیں اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک میں اور نیز دوسرے بلاد اسلام میں ایسے مضمون شائع کیے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکے اور مدینے میں بھی بخوشی شائع کر دیں۔ اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا، اشاعت کر دی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیے جو نا فہم ملاؤں کی تعلیم سے اُن کے دلوں میں تھے یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھا نہیں سکا۔“

(ستارۂ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)

یہی نہیں بلکہ پورے برٹش انڈیا میں اتنی بے نظیر خدمت کرنے والے شخص نے بقول خود انگریزی اطاعت کے بارہ میں اتنا کچھ لکھا کہ ”پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“

(دیکھو تریاق القلوب ص ١٥ خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

مرزا قادیانی سرکار برطانیہ کے متعلق لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کو ایک چٹھی میں اپنے خاندان کو پچاس برس سے وفادار و جان نثار اور اپنے آپ کو انگریز کا ”خود کاشتہ پودا“ لکھتا ہے اور اپنی ان وفاداریوں اور اخلاص کا واسطہ دے کر اپنے اور اپنی جماعت کے لیے خاص نظر عنایت کی التجا کرتا ہے۔

(تبلیغ رسالت ج ٧ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)

١٠٣

صفحہ ٢١٢
ہو اگر قوت فرعون کی در پردہ مرید
قوم کے حق میں ہے لعنت وہ کلیم الٰہی

(اقبال ضرب کلیم)

اسلام کے ایک قطعی عقیدہ جہاد کی تنسیخ

انگریز کی ان وفا شعاریوں کا نتیجہ تھا کہ مرزا قادیانی نے کھلم کھلا جہاد کے منسوخ ہونے کا اعلان کر دیا۔ جہاد اسلام کا ایک مقدس دینی فریضہ ہے اسلام اور مسلمانوں کی بقا کا دار و مدار اسی پر ہے شریعت محمدی نے اسے قیامت تک اسلام اور عالم اسلام کی حفاظت اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ بنایا ہے۔ قرآن کریم کی بے شمار آیات اور حضور اقدس ﷺ کی بے شمار احادیث اور خود حضور اقدس ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی عملی زندگی ان کا جذبہ جہاد و شہادت یہ سب باتیں جہاد کو ہر دور میں مسلمانوں کے لیے ایک ولولہ انگیز عبادت بناتی رہیں۔ آنحضرت ﷺ کا واضح ارشاد ہے۔ اَلْجِهَادُ مَاضٍ اِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

(مجمع الزوائد ج ١ ص ١١١ باب لا یکفر اھل القبلۃ بذنب)

وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ و یکون الدین للہ (بقرہ ١٩٣) ”اور ان کے ساتھ اس حد تک لڑو کہ فتنہ کفر و شرارت باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے ۔“

حضور ﷺ نے ایک دوسری حدیث میں فریضہ جہاد کی تاقیامت ابدیت اس طرح ظاہر فرمائی ہے۔ لَنْ يَبْرَحَ هٰذَا الدِّيْنُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَةِ .

(مسلم ج ٢ ص ١٣٣ باب قولہ لا تزال طائفۃ من امۃ ظاہرین علی الحق ومشکوۃ ص ٣٣٠ کتاب الجہاد)

”حضور ﷺ نے فرمایا ہمیشہ یہ دین قائم رہے گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت قیامت تک جہاد کرتی رہے گی ۔“

لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کے بچاؤ اور تحفظ اور عالم اسلام کو ہمیشہ ان کی طوق غلامی میں باندھنے اور کافر حکومتوں کے زیر سایہ مسلمانوں کو اپنی سیاسی اور مذہبی

١٠٤

صفحہ ٢١٣

سازشوں کا شکار بنانے کی خاطر نہایت شد و مد سے عقیدۂ جہاد کی مخالفت کی اور نہ صرف برصغیر میں بلکہ پورے عالم اسلام میں جہاں جہاں بھی اس کو ظاہری اور خفیہ سرگرمیوں کا موقعہ مل سکا جہاد کے خلاف نہایت شدت سے پروپیگنڈہ کیا گیا۔ مرزا قادیانی کو جہاد حرام کرانے کی ضرورت کیا تھی۔ اس کا جواب ہمیں لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند کے نام قادیانی جماعت کے ایڈریس مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٤ جولائی ١٩٢١ء سے نہایت واضح طور پر مل سکتا ہے۔ جس میں کہا گیا۔

”جس وقت آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) نے دعویٰ کیا۔ اس وقت تمام عالم اسلام جہاد کے خیالات سے گونج رہا تھا اور عالم اسلامی کی ایسی حالت تھی کہ وہ پٹرول کے پیپے کی طرح بھڑکنے کے لیے صرف ایک دیا سلائی کا محتاج تھا۔ مگر بانی سلسلہ نے اس خیال کی لغویت اور خلاف اسلام اور خلاف امن ہونے کے خلاف اس قدر زور سے تحریک شروع کی کہ ابھی چند سال نہیں گزرے تھے کہ گورنمنٹ کو اپنے دل میں اقرار کرنا پڑا کہ وہ سلسلہ جسے وہ امن کے لیے خطرہ کا موجب خیال کر رہی تھی اس کے لیے غیر معمولی اعانت کا موجب تھا۔“ (حوالہ بالا)

جہاد منسوخ ہونے اور دنیا سے جہاد کا حکم تا قیامت اٹھ جانے پر مرزا قادیانی کس شد و مد سے زور دیتے ہیں۔ ان کا اندازہ ان کی حسب ذیل عبارات سے لگایا جا سکتا ہے۔

اپنی کتاب اربعین میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ١؎ اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کیے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لیے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مؤاخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود (یعنی بزعم خود مرزا قادیانی) کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“ (اربعین نمبر ٤ ص ١٣ خزائن ج ١٧ ص ٤٤٢)

ضمیمہ خطبہ الہامیہ میں لکھتے ہیں:

”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا۔ خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔

١؎ نعوذ باللہ یہ ایک برگزیدہ پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کتنا صریح بہتان ہے مومنوں اور شیر خوار بچوں کو اگر قتل کرتا تھا تو فرعون اور اس کا لشکر، مرزا قادیانی نے اس انداز میں یہ بات پیش کی گویا ایمان لانے کے باوجود اور شیر خوار بچوں کی بھی شریعت موسوی میں بچنے کی گنجائش نہیں تھی۔

صفحہ ٢١٤

اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے۔ وہ اس رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے۔ جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا۔“

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ٢٨، ٢٩ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ میں مرزا قادیانی کا یہ اعلان درج ہے کہ:

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے دین کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، ٢٧ خزائن ج ١٧ ص ٧٧، ٧٨)

نیز انگریزی حکومت کے نام ایک معروضہ میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”یہی وہ فرقہ (یعنی مرزا قادیانی کا اپنا فرقہ) ہے جو دن رات کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے خیالات میں سے جہاد کی بے ہودہ رسم کو اٹھا دے۔“

(از ریویو بریلیجنز ج ١ نمبر ٤ ص ٣٩٥)

رسالہ گورنمنٹ انگریز اور جہاد پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”دیکھو میں (غلام احمد قادیانی) ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں، وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٤٢)

ان تمام عبارات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک جہاد کی مخالفت کا حکم خاص حالات سے مجبوریوں کا تقاضا نہیں بلکہ اب اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منسوخ حرام اور ختم سمجھا جائے نہ اس کے لیے شرائط پوری ہونے کا انتظار رہے اور کسی پوشیدہ طور پر بھی اس کی تعلیم جائز نہیں۔

تریاق القلوب روحانی خزائن ج ١٥ ص ٥١٨ میں لکھتے ہیں کہ: ”اس فرقہ (مرزائیت) میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں۔ نہ اس کا انتظار ہے بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم ہرگز ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے کہ دین کی اشاعت کے لیے لڑائیاں کی جائیں۔“ ”اب سے زمینی جہاد بند کیے گئے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا۔“

(از ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ١٧ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

صفحہ ٢١٥

”سو آج سے دین کے لیے لڑنا حرام کیا گیا ۔“

(ایضاً)

مرزائی تاویلات کی حقیقت

نسخ جہاد کے بارے میں ان واضح عبارات کے باوجود مرزائیوں کی دونوں جماعتیں آج کہتی ہیں کہ چونکہ ١٨٥٧ء کے بعد انگریزی سلطنت قائم ہوگئی اور وسائل جہاد مفقود تھے اس لیے وقتی طور پر جہاد کو موقوف کیا گیا۔ آئیے ہم اس تاویل اور مرزا کی غلط وکالت کا جائزہ لیں۔

کے ہاں جہاد کی ممانعت ایک وقتی حکم نہیں ۔ نہ وہ کچھ وقت کے لیے موقوف بلکہ وہ مکمل طور پر جہاد کے خاتمہ اس کی انتظار تک کی نفی اور ظاہری اور پوشیدہ قسم کی تعلیم کو بھی ناجائز اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دین کے لیے لڑنا ممنوع اور منسوخ قرار دیتے ہیں۔

جہاد کی مخالفت کرتے ہیں تو ١٨٥٧ء اور اس سے قبل ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد کے فوراً بعد مجاہدین سید احمد شہیدؒ کے جہاد میں مرزا قادیانی اور ان کا پورا خاندان سکھوں اور انگریزی استعمار کے لیے میدان ہموار کرنے کے لیے جانی اور مالی قربانیاں دیتے رہے۔ جس کا مرزا قادیانی نے انگریزی حکام کے نام خطوط اور چٹھیوں میں بڑے فخر سے اعتراف کیا ہے اور ان مساعی کی نہ صرف تائید کی بلکہ تحسین بھی کی ہے۔ ان کے خاندانی بزرگوں نے سکھوں سے مسلمانوں کے جہاد میں سکھوں کی حمایت کی۔ مرزا قادیانی کے والد نے ١٨٥٧ء میں پچاس سوار سرکار انگریز کی امداد کے لیے فراہم کیے۔ مرزا غلام احمد نے ١٨٥٧ء میں جہاد آزادی کے غیور اور جان نثار مجاہدین کو جہلاء اور بدچلن کہا ۔“

(براہین احمدیہ ج ١ ص الف اشتہار اسلامی انجمنوں سے التماس مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٥)

انگریز کے ہاتھوں ہندوستان میں مسلمانوں کی مظلومیت پر ہند کا ذرہ ذرہ اشکبار تھا۔ اسلامیاں ہند کی عظمتیں لٹ رہی تھیں ۔ ہزار سالہ عظمت رفتہ رفتہ پاش پاش ہو رہی تھیں۔ علماء اور شرفاء ہند کو سؤر کے چمڑوں میں سی کر اور زندہ جلا کر دہلی کے چوکوں میں پھانسی پر لٹکایا جا رہا تھا اور انگریزوں کا شقی القلب نمائندہ جنرل نکلسن ، ایڈورڈ سے ایسے آئینی اختیارات مانگ رہا تھا کہ مجاہدین آزادی کے زندہ حالت میں چمڑے ادھیڑے جا سکیں اور انھیں زندہ جلایا جا سکے۔ مگر وہ شقی اور ظالم نکلسن اور مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے خاندان کو ہندوستان میں اپنے مفادات کا نگران اور وفادار ٹھہرا رہا تھا۔ جنرل نکلسن نے

١٠

صفحہ ٢١٧

مرزا غلام قادر کو سند دی جس میں لکھا کہ ١٨٥٧ء میں خاندان قادیان ضلع گورداسپور کے تمام دوسرے خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا۔

(سیرت مسیح موعود ص ٦، ٥ از مرزا بشیر الدین محمود)

اور وہی مرزا قادیانی جو ابھی تک اپنے تشریعی نبی ہونے کی حیثیت سے سامنے نہیں آئے تھے اور خود براہین احمدیہ اور دیگر تحریروں میں جہاد کے فرض واجب اور غیر منقطع ہونے کا اعتراف کر چکے تھے۔ دعویٰ نبوت کے بعد ایک قطعی حکم کو حرام قرار دیتے ہوئے عملاً بھی قرآن کریم کی تمام آیات جہاد، سنت نبوی کو منسوخ قرار دے کر تشریعی نبی ہونے کا ثبوت دیتے ہیں لیکن جس دور میں وہ جہاد کو فرض کہتے ہیں کیا مرزا قادیانی خود عملی طور پر بھی اس پر عمل پیرا رہے اس کا جواب ہمیں انگریز لیفٹیننٹ گورنر کے نام چٹھی سے مل جاتا ہے، وہ اس درخواست میں اپنی اصل حقیقت کو اس طرح واشگاف الفاظ میں ظاہر کرتے ہیں۔

”میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک (گویا ١٨٣٩ء سے لے کر جو ١٨٥٧ء سے بہت ہی پہلے کا زمانہ ہے) جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں۔ اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلیشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کو دور کروں جو ان کی دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔“

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ١٠ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)

انگریزی سلطنت کی وجہ سے بعض مجبوریوں کی بناء پر اتنی شد و مد سے جہاد کی مخالفت کی۔ لیکن اگر حقیقت یہی ہوتی تو مرزا قادیانی کی ممانعت جہاد اور اطاعت انگریز کی تبلیغ صرف برٹش انڈیا تک محدود ہوتی مگر یہاں تو ایسے کھلے شواہد اور قطعی ثبوت موجود ہیں کہ مرزا قادیانی کی تحریک و تبلیغ کا اصل محرک نہ صرف انڈیا بلکہ پورے عالم اسلام اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد نکالنا اور انگریزوں کے لیے یا کسی بھی کافر سلطنت کے لیے راستہ ہموار کرنا تھا تاکہ اس طرح ایک نئی امت اور نئے نبی کے نام سے پوری ملت مسلمہ اور امت محمدیہ کا سارا نظام درہم برہم کیا جائے اور پورے عالم اسلام کو انگریز یا ان کے حلیفوں کے قدموں میں لا گرایا جائے اس لیے مرزا قادیانی نے مخالفت جہاد کی تبلیغ صرف برٹش انڈیا تک محدود نہ رکھی اور نہ صرف اردو لٹریچر پر اکتفا کیا۔ بلکہ فارسی عربی انگریزی میں لٹریچر لکھ لکھ کر بلاد روم، شام، مصر، ایران، افغانستان، بخارا یہاں تک کہ مکہ اور مدینہ تک پھیلاتا رہا تاکہ بخارا میں اگر زار روس کے لشکر آئیں تو کوئی مسلمان ہاتھ مزاحمت

کے لیے نہ اٹھائے۔ فرانس، تیونس، الجزائر اور مراکش سمجھیں۔ عرب اور مصر دل و جان سے انگریز کے مطیع ب ایمانی ہمیشہ کے لیے جذبہ جہاد سے خالی ہو کر سرد پڑ جا

اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کے اعترافات د

”میں نے نہ صرف اس قدر کام کیا کہ برٹش کی سچی اطاعت کی طرف جھکا دیا بلکہ بہت سی کتابیں کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطیع کیا۔“ (تبلیغ رسال

اسی کتاب میں لکھتے ہیں:

”ان نادان مسلمانوں کے پوشیدہ خیالات انگلیشیہ کی شکر گزاری کے لیے ہزارہا اشتہارات شائع شام وغیرہ تک پہنچائی گئیں۔“ (تبلیغ رسالت ج ٦ ص

”اس لیے میں نے عربی اور فارسی میں بعض اور مصر اور بخارا وغیرہ کی طرف روانہ کیے اور ان میں درج کیے اور بخوبی ظاہر کر دیا کہ اس محسن گورنمنٹ بعض شریف عربوں کو وہ کتابیں دے کر بلاد شام و رو مکہ اور مدینہ کی طرف بھیجا گیا اور بعض بلاد فارس کی بھی کتابیں بھیجیں اور یہ ہزار ہا روپیہ کا خرچ تھا جو محض

اور یہ سب کچھ مرزا قادیانی نے اس لیے ک

”تاکہ کج طبیعتیں ان نصیحتوں سے راہ را گورنمنٹ کا شکر کرنے اور اس کی فرمانبرداری کے س بلائیں کم ہو جائیں۔“ (نور الح

اس ساری جدوجہد کا حاصل مرزا قادیانی

ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویس گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکا گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ضمیمہ ص ٧ تما

”ہر ایک شخص میری بیعت کرتا ہے اور مجھ

صفحہ ٢١٧

میں لکھا کہ ١٨٥٧ء میں خاندان قادیان ضلع گورداسپور کے یادہ نمک حلال رہا۔ (سیرت مسیح موعود ص ٥، ٦ از مرزا بشیر الدین محمود) بانی جو ابھی تک اپنے تشریعی نبی ہونے کی حیثیت سے سامنے ا احمدیہ اور دیگر تحریروں میں جہاد کے فرض واجب اور غیر منقطع ۔ دعوٰی نبوت کے بعد ایک قطعی حکم کو حرام قرار دیتے ہوئے عملاً نہ جہاد نفسی و قلمی کو منسوخ قرار دے کر تشریعی نبی ہونے کا ثبوت وہ جہاد کو فرض کہتے ہیں کیا مرزا قادیانی خود عملی طور پر بھی اس پر میں انگریز لیفٹیننٹ گورنر کے نام چٹھی سے مل جاتا ہے، وہ اس ت کو اس طرح واشگاف الفاظ میں ظاہر کرتے ہیں۔

سے اس وقت تک (گویا ١٨٣٩ء سے لے کر جو ٥٧ء سے قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں۔ اپنی زبان اور قلم سے اس کہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلیشیہ کی سچی محبت اور خیر پھیروں اور ان کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کو ا اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔“

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ١٠ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)

بالفرض ہم تسلیم کیے دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے برصغیر میں بعض مجبوریوں کی بناء پر اتنی شد و مد سے جہاد کی مخالفت کی۔ ز مرزا قادیانی کی ممانعت جہاد اور اطاعت انگریز کی تبلیغ صرف مگر یہاں تو ایسے کھلے شواہد اور قطعی ثبوت موجود ہیں کہ مرزا صل محرک نہ صرف انڈیا بلکہ پورے عالم اسلام اور دنیا بھر کے بہ جہاد نکالنا اور انگریزوں کے لیے یا کسی بھی کافر سلطنت کے ۔ اس طرح ایک نئی امت اور نئے نبی کے نام سے پوری ملت ا نظام درہم برہم کیا جائے اور پورے عالم اسلام کو انگریز یا ان ی لا گرایا جائے اس لیے مرزا قادیانی نے مخالفت جہاد کی تبلیغ و نہ رکھی اور نہ صرف اردو لٹریچر پر اکتفا کیا۔ بلکہ فارسی عربی بلاد روم، شام، مصر، ایران، افغانستان، بخارا یہاں تک کہ مکہ اور بارا میں اگر زار روس کے لشکر آئیں تو کوئی مسلمان ہاتھ مزاحمت

کے لیے نہ اٹھائے۔ فرانس، تیونس، الجزائر اور مراکش پر لشکر کشی ہو تو مسلمان جہاد کو حرام سمجھیں۔ عرب اور مصر دل و جان سے انگریز کے مطیع بن جائیں اور ترک و افغان کی غیرت ایمانی ہمیشہ کے لیے جذبہ جہاد سے خالی ہو کر سرد پڑ جائے۔

اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کے اعترافات دیکھئے وہ لکھتے ہیں:

”میں نے نہ صرف اس قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمان کو گورنمنٹ انگلینڈ کی سچی اطاعت کی طرف جھکا دیا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطیع کیا ۔“

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٠ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)

اسی کتاب میں لکھتے ہیں:

”ان نادان مسلمانوں کے پوشیدہ خیالات کے برخلاف دل و جان سے گورنمنٹ انگلشیہ کی شکر گزاری کے لیے ہزار ہا اشتہارات شائع کیے گئے اور ایسی کتابیں بلاد عرب و شام وغیرہ تک پہنچائی گئیں۔“

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٣ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٥)

”اس لیے میں نے عربی اور فارسی میں بعض رسائل تالیف کر کے بلاد شام و روم اور مصر اور بخارا وغیرہ کی طرف روانہ کیے اور ان میں اس گورنمنٹ کے تمام اوصاف حمیدہ درج کیے اور بخوبی ظاہر کر دیا کہ اس محسن گورنمنٹ کے ساتھ جہاد قطعاً حرام ہے۔۔۔۔۔ اور بعض شریف عربوں کو وہ کتابیں دے کر بلاد شام و روم کی طرف روانہ کیا اور بعض عربوں کو مکہ اور مدینہ کی طرف بھیجا گیا اور بعض بلاد فارس کی طرف بھیجے گئے اور اسی طرح مصر میں بھی کتابیں بھیجیں اور یہ ہزار ہا روپیہ کا خرچ تھا جو محض نیک نیتی سے کیا گیا ۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٢٧)

اور یہ سب کچھ مرزا قادیانی نے اس لیے کیا کہ:۔

”تاکہ کج طبعتیں ان نصیحتوں سے راہ راست پر آ جائیں اور تاکہ وہ طبعتیں اس گورنمنٹ کا شکر کرنے اور اس کی فرمانبرداری کے لیے صلاحیت پیدا کریں اور مفسدوں کی بلائیں کم ہو جائیں۔“

(نور الحق حصہ اول ص ٣٠ خزائن ج ٨ ص ٤١)

اس ساری جدوجہد کا حاصل مرزا قادیانی کے الفاظ میں یہ ہے کہ ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ضمیمہ ص ٧ میں لکھتے ہیں:

”ہر ایک شخص میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے۔ اسی روز سے اس

صفحہ ٢١٨

کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعی حرام ہے کیونکہ مسیح آ چکا خاص کر میری تعلیم کے لحاظ سے اس گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیر خواہ اس کو بننا پڑتا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٤٧)

یہ حقیقت کہ مرزائی تبلیغ و تلقین اور تمام کوششوں کے محرکات اور مقاصد کیا تھے۔ مرزائی مذہب کے بانی کے مذکورہ اقوال سے خود ظاہر ہو جاتی ہے۔ اس پر بھی اگر تاویل کے پردوں میں اس حقیقت کو چھپایا جاتا ہے تو آنکھیں کھولنے کے لیے حسب ذیل واقعات اور اعترافات کافی ہیں:

”کہ مرزا قادیانی نہ صرف ہندوستان میں بلکہ آزاد اسلامی ممالک میں بھی کسی قسم کے جہاد کے روادار نہ تھے۔ افغانستان کے امیر امان اللہ خان کے عہد حکومت میں نعمت اللہ خان مرزائی اور عبد اللطیف مرزائی کو علماء افغانستان کے متفقہ فتویٰ سے مرتد قرار دے کر قتل کر دیا گیا۔ اس قتل کے محرکات یہی تھے کہ یہ لوگ مبلغین کے پردہ میں جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اور یہ محض اس لیے کہ انگریزوں کا اقتدار چھا جائے حالانکہ افغانستان میں جہاد اسلامی کی شرائط مکمل موجود تھیں۔ اس سلسلہ میں مرزا بشیر الدین محمود احمد کا خطبہ جمعہ مندرجہ الفضل ج ٢٣ نمبر ٣١ ص ٤ مورخہ ٦ اگست ١٩٣٥ء ملاحظہ کیجئے:

”عرصہ دراز کے بعد اتفاقاً ایک لائبریری میں ایک کتاب ملی۔ جو چھپ کر نایاب بھی ہو گئی تھی۔ اس کتاب کا مصنف ایک اطالوی انجینئر جو افغانستان میں ذمہ دار عہدہ پر فائز تھا۔ ”وہ لکھتا ہے کہ صاحبزادہ عبد اللطیف (قادیانی) کو اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ اس سے افغانوں کا جذبہ حریت کمزور ہو جائے گا اور ان پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔ ایسے معتبر راوی کی روایت سے یہ امر پایہ ثبوت تک پہنچ جاتا ہے کہ اگر صاحبزادہ عبد اللطیف خاموشی سے بیٹھے رہتے اور جہاد کے خلاف کوئی لفظ بھی نہ کہتے تو حکومت افغانستان کو انھیں شہید کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔“

اخبار الفضل بحوالہ امان افغان مورخہ ٣ مارچ ١٩٢٥ء نے افغانستان گورنمنٹ کے وزیر داخلہ کے حوالہ سے مندرجہ ذیل بیان نقل کیا۔

”کابل کے دو اشخاص ملا عبد الحلیم و ملا نور علی دکاندار قادیانی عقائد کے گرویدہ ہو چکے تھے اور لوگوں کو اس عقیدہ کی تلقین کر کے انھیں راہ سے بھٹکا رہے تھے۔ ان کے خلاف مدت سے ایک اور دعویٰ دائر ہو چکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیر ملکی لوگوں

صفحہ ٢١٩

کے سازشی خطوط ان کے قبضے سے پائے گئے۔ جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھ بک چکے تھے۔“

خلیفہ قادیان اپنے ایک خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل ج ٢٢ نمبر ٥٤ مورخہ یکم نومبر ١٩٣٤ء میں اعتراف کرتا ہے کہ نہ صرف مسلم ممالک بلکہ غیر مسلم ممالک اور اقوام بھی مرزائیوں کو آلہ کار سمجھتے تھے۔ دنیا ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔ چنانچہ ”جب جرمنی میں احمدیہ عمارت کی افتتاح کی تقریب میں ایک جرمن انگریز نے شمولیت کی تو حکومت نے اس سے جواب طلب کیا کہ کیوں تم ایسی جماعت کی کسی تقریب میں شامل ہوئے جو انگریزوں کی ایجنٹ ہے۔“

اسلامی جہاد منسوخ مگر مرزائی جہاد جائز

سے منسوخ اور حرام قرار دیا مگر دوسری طرف انگریزوں کی فوج میں شامل ہو کر مسلمانوں کے ساتھ لڑنا نہ صرف ان کے لیے جائز بلکہ ضروری تھا۔ گویا ممانعت جہاد کی یہ ساری جدوجہد صرف انگریزوں اور کافروں کے ساتھ مسلمانوں کو جہاد سے روکنے کے لیے تھی کہ وہ نہ تو اپنی عزت و ناموس اور نہ ملک و ملت کی بقا کے لیے لڑیں نہ اپنے دین، اسلامی شعائر معابد و مساجد کے لیے علم جہاد بلند کریں لیکن انگریزی اقتدار کے فروغ و تحفظ کے لیے ان کی فوجوں میں شامل ہو کر بلاد اسلامیہ پر بمباری ایک مقدس فریضہ تھا مرزا محمود احمد نے کہا:

”صداقت کے قیام کے لیے گورنمنٹ کی فوج میں شامل ہو کر ان ظالمانہ روکوں کو دفع کرنے کے لیے گورنمنٹ کی مدد احمدیوں کا مذہبی فرض ہے۔“

(خطبہ مرزا محمود احمد الفضل ٦ مئی ١٩١٩ء)

قادیانی جماعت نے لارڈ ریڈنگ کو اپنے ایڈریس میں بھی اپنی جنگی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”کابل سے جنگ میں ہماری جماعت نے علاوہ ہر قسم کی مدد کے ایک ڈبل کمپنی اور ایک ہزار افراد کے نام بھرتی کے لیے پیش کیے اور ہمارے موجودہ امام کے چھوٹے بھائی چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں رضا کارانہ کام کرتے رہے۔“

(الفضل ٤ جولائی ١٩٣١ء)

ایک اور خطبہ جمعہ میں مرزا محمود احمد نے کہا کہ شاید کابل کے ساتھ ہمیں کسی وقت جہاد ہی کرنا پڑتا (آگے چل کر کہا) کہ پس نہیں معلوم کہ ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا چاہیے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔

صفحہ ٢٢٠

(الفضل ٢٧ فروری ٢ مارچ ١٩٣٢ء)

امن و آشتی اور اسلامی نظریہ جہاد کو ملاؤں کے وحشیانہ اور جاہلانہ بے ہودہ خیالات قرار دینے والے مرزائیوں کے حقیقی خدوخال مرزا محمود احمد خلیفہ ثانی کے ان الفاظ سے اور بھی عیاں ہو جاتے ہیں انھوں نے کہا کہ ”اب زمانہ بدل گیا ہے دیکھو پہلے جو مسیح (حضرت عیسیٰ ؑ) آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا مگر اب مسیح اس لیے آیا ہے کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار دے۔“

(عرفان الٰہی ص ٩٣، ٩٤)

”پہلے عیسیٰ کو تو یہودیوں نے صلیب پر لٹکا دیا تھا مگر آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) اس زمانے کے یہودی صفت لوگوں کو سولی پر لٹکائیں گے۔“

(تقدیر الٰہی ص ٢٩ مصنفہ مرزا محمود قادیانی)

اس سے اندازہ ہوا کہ اسلام کے نظریہ جہاد کو منسوخ قرار دینے اور سارے عالم اسلام میں اس کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے بعد اپنے لیے اور سامراجی مقاصد کے لیے جہاد اور قتال کو جائز قرار دینے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا جا رہا تھا۔ ان تمام باتوں کو سامنے رکھ کر ہم اس نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ مرزائیوں کے نزدیک مسلمانوں کا کافروں یا خود ان کے خلاف لڑنا تو ہمیشہ کے لیے حرام تھا، مگر عیسائیت کے جھنڈے تلے یا کسی کافر حکومت کے مفاد میں یا خود مرزائیوں کے لیے جہاد اور قتال اور لڑنا لڑانا سب جائز ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزائیوں کی تبلیغی خدمات کی حقیقت

افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک میں قادیانیوں کی تبلیغ کے نام پر استعماری سرگرمیوں سے ان کی تبلیغ اسلام کی خدمات کی قلعی تو کھل جاتی ہے مگر بہت سے لوگ مرزا قادیانی کی خدمات کے سلسلہ میں ان کی مدافعت اسلام میں مناظرانہ بحث ومباحثہ اور علمی کوششوں کا ذکر کرتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ انھوں نے آریہ سماج اور عیسائیوں سے اسلام کے دفاع میں بڑے معرکے سر کیے اور اب بھی قادیانی دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرتے پھرتے ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ غیر مسلموں جیسا سلوک نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے ہم اس غلط فہمی کو جس میں بالعموم تعلیم یافتہ افراد بھی مبتلا ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی ایک دو عبارتوں ہی سے دور کرنا چاہتے ہیں جو بانی قادیانیت کے تبلیغی مقاصد اور نیت کو خود ہی بڑی خوبی سے عیاں کر رہی ہیں کہ انھوں نے عیسائی مشنریوں کی اشتعال انگیز تحریروں اور اسلام پر ان کے جارحانہ حملوں سے مسلمانوں کے اندر انگریزوں کے خلاف پرجوش ردعمل کا خطرہ محسوس کیا تو اس عام جوش کو دبانے کے لیے حکمت عملی کی بناء پر عیسائیوں کا کسی قدر سختی سے

صفحہ ٢٢١

جواب دیا اور سخت کتابیں عیسائیوں کے خلاف لکھیں۔ تریاق القلوب ضمیمہ ٣ بعنوان ”گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست“ میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنے بیس برس کی تمام علمی اور تصنیفی کاوش کا خلاصہ مسلمانوں کے دل سے جہاد اور خونی مہدی وغیرہ کے معتقدات کا ازالہ اور انگریز کی وفاداری پیدا کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

”اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ کی خدمت میں جرأت سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ بست سالہ میری خدمت ہے جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان پیش نہیں کر سکتا، یہ بھی ظاہر ہے کہ اس قدر لمبے زمانے تک جو بیس برس کا زمانہ ہے۔ ایک مسلسل طور پر تعلیم مذکورہ بالا بدستور دیتے جانا کسی منافق اور خود غرض کا کام نہیں ہے، بلکہ ایسے شخص کا کام ہے جس کے دل میں اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی ہے۔ ہاں میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مباحثہ بھی کیا کرتا ہوں...... جبکہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہو گئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی اور بالخصوص پرچہ ”نور افشاں“ میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی ﷺ کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کیے کہ یہ شخص ڈاکو تھا، چور تھا، زنا کار تھا اور صد ہا پرچوں میں یہ شائع کیا کہ یہ شخص اپنی لڑکی پر بدنیتی سے عاشق تھا اور بایں ہمہ جھوٹا تھا اور لوٹ مار اور خون

صفحہ ٢٢٢

(٣)...... خدا تعالیٰ کے الہام نے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٤٠ تا ١٤٢)

دوسری بڑی وجہ مرزا قادیانی کے ایسے علمی تحریرات اور مناظروں کی یہ تھی کہ وہ ابتداءً اس طرح عام مسلمانوں کی عقیدت اور توجہات اپنی طرف مبذول کراتے چلے گئے اور ساتھ ہی ساتھ اسلام کے دفاع میں جن مسائل پر بحث کا بازار گرم کرتے اسی میں آئندہ اپنے دعویٰ نبوت و رسالت کے لیے فضا بھی ہموار کرتے چلے گئے اور اسلام کی تبلیغ کے نام پر شکر میں لپٹی ہوئی زہر کی ایک مثال آریہ سماج سے معجزات انبیاء کے اثبات پر مرزا قادیانی کا مناظرہ ہے جس میں اثبات معجزات کے ضمن میں انھوں نے یہ بھی ثابت کرنا چاہا ہے کہ ہر دور اور ہر زمانہ میں معجزات کا صدور متوقع ہے ظاہر ہے کہ معجزہ بنیادی طور پر نبوت و رسالت کا لازمہ ہے اور جب نبوت و رسالت حضور نبی کریم ﷺ پر ختم ہو چکی تھی تو اس کے لوازمات، معجزات، وحی وغیرہ کا ہر دور میں متوقع ہونا بحث و مناظروں کے پردہ میں اپنی جھوٹی نبوت کے لیے پیش بندی نہ تھی...... تو اور کیا چیز تھی؟

تصنیفی ذخیرہ

درحقیقت جب ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی ربع صدی کی تصنیفی و علمی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کی تمام تحریری اور تقریری سرگرمیوں کا محور صرف یہی ملتا ہے کہ انھوں نے چودہ سو سال کا ایک متفقہ، طے شدہ اجماعی ”مسئلہ حیات و نزول مسیح“ کو نشانہ تحقیق بنا کر اپنی ساری جدوجہد وفات مسیح اور مسیح موعود ہونے کے دعویٰ پر مبذول کر دی۔ مسلمانوں کو عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث اور ہندوؤں کے عقیدہ تناسخ کی طرح ظلی و بروزی اور مجازی گورکھ دھندوں میں الجھانا چاہا۔ جدلیات اور سفسطوں کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر۔ یہ مرزا قادیانی کی علمی و تبلیغی خدمات کا دوسرا نام ہے اگر ان کی تصنیفات سے ان کے متضاد دعویٰ اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل و مباحث نکال لیے جائیں تو جو کچھ بچتا ہے وہ جہاد کی حرمت اور حکومت انگلشیہ کی اطاعت دلی وفاداری اور اخلاص کی دعوت ہے جبکہ ہندوستان پہلے سے ذہنی و فکری اور سیاسی انتشار کا مرکز بنا ہوا تھا اور عالم اسلام مغرب مادہ پرست تہذیب اور خود فراموش تمدن کی لپیٹ میں تھا مگر ہمیں مرزا قادیانی کی تصانیف اور ”علمی خدمات“ میں انبیاء کرام کے طریق دعوت کے مطابق کوئی بھی وقیع اور کام کی بات نہیں ملتی، سوائے اس کے کہ انھوں نے اپنے قلم اور زبان کے ذریعے مذہبی اختلافات اور دینی جھگڑوں کے شکار ہندوستانی مسلمانوں کو مزید ذہنی، انتشار اور غیر ضروری مذہبی کشمکش میں ڈال کر ان کا شیرازہ اتحاد پاش پاش کرنے کی کوشش کی۔

١١٤

صفحہ ٢٢٣

تے“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٤٠ تا ١٤٢)

قادیانی کے ایسے علمی تحریرات اور مناظروں کی یہ تھی کہ وہ عقیدت اور توجیہات اپنی طرف مبذول کراتے چلے گئے ع میں جن مسائل پر بحث کا بازار گرم کرتے اسی میں آئندہ لیے فضا بھی ہموار کرتے چلے گئے اور اسلام کی تبلیغ کے نام ثال آریہ سماج سے معجزات انبیاء کے اثبات پر مرزا قادیانی جزات کے ضمن میں انھوں نے یہ بھی ثابت کرنا چاہا ہے کہ ا صدور متوقع ہے ظاہر ہے کہ معجزہ بنیادی طور پر نبوت و ت ورسالت حضور نبی کریم ﷺ پر ختم ہو چکی تھی تو اس کے ہر دور میں متوقع ہونا بحث و مناظروں کے پردہ میں اپنی نہ تھی ...... تو اور کیا چیز تھی؟

زا غلام احمد قادیانی کی ربع صدی کی تصنیفی وعلمی زندگی پر نظر اور تقریری سرگرمیوں کا محور صرف یہی ملتا ہے کہ انھوں نے دہ اجماعی ”مسئلہ حیات و نزول مسیح“ کو نشانہ تحقیق بنا کر اپنی ح موعود ہونے کے دعویٰ پر مبذول کر دی۔ مسلمانوں کو ہندوؤں کے عقیدہ تناسخ کی طرح ظلی و بروزی اور مجازی جدلیات اور سفسطوں کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر ۔ یہ مرزا دوسرا نام ہے اگر ان کی تصنیفات سے ان کے متضاد دعویٰ سائل ومباحث نکال لیے جائیں تو جو کچھ بچتا ہے وہ جہاد کی اعت دلی وفاداری اور اخلاص کی دعوت ہے جبکہ ہندوستان انتشار کا مرکز بنا ہوا تھا اور عالم اسلام مغرب مادہ پرست لپیٹ میں تھا مگر ہمیں مرزا قادیانی کی تصانیف اور ”علمی یق دعوت کے مطابق کوئی بھی وقیع اور کام کی بات نہیں ملتی، اپنے قلم اور زبان کے ذریعے مذہبی اختلافات اور دینی مانوں کو مزید ذہنی، انتشار اور غیر ضروری مذہبی کشمکش میں ش کرنے کی کوشش کی۔

١١٤

ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملت
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد

(اقبال ضرب کلیم)

مرزائیت اور عالم اسلام

اسلامی وحدت ختم نبوت ہی سے استوار ہوتی ہے ”ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو لیکن اپنی بناء نئی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے۔ مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لیے خطرہ تصور کرے گا، اور یہ اس لیے کہ اسلامی وحدت ختم نبوت ہی سے استوار ہوتی ہے۔...... قادیانیت باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لیے مہلک ہے۔...... یہ تمام چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں۔ گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔“

(اقبال: حرفِ اقبال ص ١٢٢، ١٢٣)

سامراجی عزائم کی تکمیل سابقہ تفصیلات کے علاوہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت نے پورے عالم اسلام کے ساتھ استعماری عزائم کی تکمیل کی خاطر جو رویہ اختیار کیا اس کی چند مثالوں پر اکتفاء کرتے ہوئے فیصلہ خود ہر انصاف پسند شخص پر چھوڑا جاتا ہے کہ کیا ایسی جماعت سامراجی جماعت کہلانے کی مستحق نہیں اور یہ کہ اس نے پورے عالم اسلام کے اتحاد اور سلامتی کو برباد کرنے کی کوششیں کیں یا نہیں؟ اور یہ کہ عالم اسلام کو نو آبادیاتی نظام میں جکڑنے اور انگریزوں کا غلام بنانے میں قادیانیوں کی تمام تر ہمدردیاں انگریزوں کے ساتھ تھیں یا نہیں؟ وہ انگریزوں کی فتح پر چراغاں مناتے خوشی کے جشن برپا کرتے انگریزی فوج کو ”ہماری فوج“ اور مقابلہ میں مسلمانوں کو دشمن کی فوج قرار دیتے۔

عراق و بغداد جب انگریزوں نے عراق پر قبضہ کرنا چاہا اور اس غرض کے لیے لارڈ ہارڈنگ نے عراق کا دورہ کیا تو مشہور قادیانی اخبار الفضل نے لکھا ”یقیناً (اس نیک دل افسر و لارڈ ہارڈنگ) کا عراق میں جانا عمدہ نتائج پیدا کرے گا۔ ہم ان نتائج پر خوش ہیں......

١١٥

صفحہ ٢٢٤

کیونکہ خدا ملک گیری اور جہان بانی اسی کے سپرد کرتا ہے جو اس کی مخلوق کی بہتری چاہتا ہے اور اسی کو زمین پر حکمران بناتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے۔ پس ہم پھر کہتے ہیں کہ ہم خوش ہیں کیونکہ ہمارے خدا کی بات پوری ہوتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ برٹش حکومت کی توسیع کے ساتھ ہمارے لیے اشاعت اسلام کا میدان بھی وسیع ہو جائے گا اور غیر مسلم کو مسلم بنانے کے ساتھ ہم مسلمان کو پھر مسلمان کریں گے۔“

(الفضل قادیان ج ٢ نمبر ١٠٣ مورخہ ١١ فروری ١٩١٥ء ص ٣)

پھر اس واقعے کے آٹھ سال بعد انگریزوں نے بغداد پر قبضہ کر لیا اور مسلمانوں کو شکست ہوئی تو ”الفضل“ نے لکھا:

”حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میں مہدی معہود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلہ میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق، عرب ہو، یا شام ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔“

(الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٤٢۔ ٧ دسمبر ١٩١٨ء ص ٩)

یہ بات جسٹس منیر نے بھی لکھی ہے کہ:

”جب پہلی جنگ عظیم میں ترکوں کو شکست ہوگئی تھی بغداد پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا تھا۔ تو قادیان میں اس فتح پر جشن منایا گیا۔“

(تحقیقاتی رپورٹ ص ٢٠٨، ٢٠٩ مرتبہ جسٹس منیر)

یہ بات بھی جسٹس منیر ہی نے لکھی کہ:

”بانی قادیانیت نے اسلامی ممالک کا انگریزی حکومت کے ساتھ توہین آمیز مقابلہ و موازنہ کیا۔“

(تحقیقاتی رپورٹ ص ٢٠٨ مرتبہ جسٹس محمد منیر)

فتح عراق کے بعد پہلا مرزائی گورنر

سقوط بغداد میں مرزائیوں کی اس انگریز نوازی کا اتنا حصہ تھا کہ جب انگریزوں نے عراق فتح کیا تو مرزا بشیر الدین محمود احمد کے سالے میجر حبیب اللہ شاہ کو ابتداء عراق پر اپنا گورنر نامزد کیا۔ میجر حبیب اللہ شاہ پہلی جنگ عظیم میں بھرتی ہو کر عراق گئے تھے اور وہاں فوج میں ڈاکٹر تھے۔

مسئلہ فلسطین اور قیام اسرائیل سے لے کر اب تک

اخبار الفضل قادیان جلد ٩ نمبر ٢٦ رقمطراز ہے:

”اگر یہودی اس لیے بیت المقدس کی تولیت کے مستحق نہیں ہیں کہ وہ جناب مسیح

١١٦

صفحہ ٢٢٥

جہان بانی اسی کے سپرد کرتا ہے جو اس کی مخلوق کی بہتری چاہتا ہے بناتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے۔ پس ہم پھر کہتے ہیں کہ ہم خوش بات پوری ہوتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ برٹش حکومت کی توسیع عتِ اسلام کا میدان بھی وسیع ہو جائے گا اور غیر مسلم کو مسلم بنانے مسلمان کریں گے۔“

(الفضل قادیان ج ٢ نمبر ١٠٣ مورخہ ١١ فروری ١٩١٥ء ص ٣)

کے آٹھ سال بعد انگریزوں نے بغداد پر قبضہ کر لیا اور مسلمانوں کو نے لکھا:

موعود فرماتے ہیں کہ میں مہدی معہود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ مقابلہ میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام فتح سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق، عرب ہو، یا شام ہم ہر جگہ اپنی ہیں۔“

(الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٤٢۔ ٧ دسمبر ١٩١٨ء ص ٩)

منیر نے بھی لکھی ہے کہ:

عظیم میں ترکوں کو شکست ہو گئی تھی بغداد پر انگریزوں کا قبضہ ہو فتح پر جشن منایا گیا۔“ (تحقیقاتی رپورٹ ص ٢٠٨، ٢٠٩ مرتبہ جسٹس منیر)

منیر ہی نے لکھی کہ: نے اسلامی ممالک کا انگریزی حکومت کے ساتھ توہین آمیز

(تحقیقاتی رپورٹ ص ٢٠٨ مرتبہ جسٹس محمد منیر)

مرزائی گورنر

مرزائیوں کے اس انگریز نوازی کا اتنا حصہ تھا کہ جب انگریزوں الدین محمود احمد کے سالے میجر حبیب اللہ شاہ کو ابتداءً عراق پر ب اللہ شاہ پہلی جنگِ عظیم میں بھرتی ہو کر عراق گئے تھے اور وہاں

اسرائیل سے لے کر اب تک

ن جلد ٩ نمبر ٢٦ رقمطراز ہے: لیے بیت المقدس کی تولیت کے مستحق نہیں ہیں کہ وہ جناب مسیح

١١٦

اور حضرت نبی کریم ﷺ کی رسالت و نبوت کے منکر ہیں...... اور عیسائی اس لیے غیر مستحق ہیں، کہ انھوں نے خاتم النبیین کی رسالت کا انکار کر دیا تو یقیناً یقیناً غیر احمدی (مسلمان) بھی مستحق تولیت نہیں۔ اگر کہا جائے کہ مرزا قادیانی کی نبوت ثابت نہیں تو سوال ہوگا، کن کے نزدیک؟ اگر جواب یہ ہے کہ نہ ماننے والوں کے نزدیک تو اس طرح یہود کے نزدیک مسیح اور آنحضرت کی اور مسیحوں کے نزدیک آنحضرت کی نبوت اور رسالت بھی ثابت نہیں اگر منکرین کا فیصلہ ایک نبی کو غیر ٹھہراتا ہے تو کروڑوں عیسائیوں اور یہودیوں کا اجماع ہے کہ نعوذ باللہ کہ آنحضرت منجانب اللہ، رسول نہ تھے۔ پس اگر غیر احمدی بھائیوں کا یہ اصل درست ہے کہ بیت المقدس کی تولیت کے مستحق تمام نبیوں کے ماننے والے ہی ہو سکتے ہیں ’تو ہم اعلان کرتے ہیں کہ احمدیوں کے سوا خدا کے تمام نبیوں کا مومن اور کوئی نہیں۔“

صرف یہی نہیں بلکہ جب فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کو ان کے صدیوں پرانے وطن سے نکال کر عربوں کے سینے میں مغربی سامراجیوں کے ہاتھوں اسرائیل کی شکل میں خنجر بھونکا جا رہا ہے تو قادیانی امت ایک پورے منصوبہ سے اس کام میں صہیونیت اور مغربی سامراجیت کے لیے فضا بنانے میں مصروف تھی، ایک قادیانی مبلغ لکھتا ہے:

”میں نے یہاں کے ایک اخبار میں اس پر آرٹیکل دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ وعدہ کی زمین ہے جو یہود کو عطا کی گئی تھی۔ مگر نبیوں کے انکار اور بالآخر مسیح کی عداوت نے یہود کو ہمیشہ کے واسطے وہاں کی حکومت سے محروم کر دیا اور یہود کو سزا کے طور پر حکومت رومیوں کو دے دی گئی۔ جو بت پرست قوم تھی بعد میں عیسائیوں کو ملی۔ پھر مسلمانوں کو ...... اب اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے وہ زمین نکلی ہے تو پھر اس کا سبب تلاش کرنا چاہیے کیا مسلمانوں نے بھی کسی نبی کا انکار تو نہیں کیا ...... سلطنتِ برطانیہ کے انصاف اور امن اور آزادیِ مذہب کو ہم دیکھ چکے ہیں۔ آزما چکے ہیں اور آرام پا رہے ہیں۔ اس سے بہتر کوئی حکومت مسلمانوں کے لیے نہیں ...... بیت المقدس کے متعلق جو میرا مضمون یہاں (انگلستان) کے اخبار میں شائع ہوا ہے۔ اس کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں اس کے متعلق وزیر اعظم برطانیہ کی طرف سے ان کے سیکرٹری نے شکریہ کا خط لکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ مسٹر لائڈ جارج اس مضمون کی بہت قدر کرتے ہیں۔“

(الفضل قادیان ج ٥ نمبر ٨٥ ص ٨، ٩ کالم ٢، ٥ مورخہ ١٩ مارچ ١٩١٨ء)

فلسطین کے قیام میں مرزائیوں کی عملی کوششوں کے ضمن میں مولوی جلال الدین شمس قادیانی اور خود مرزا بشیر الدین محمود کی سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں غالباً ١٩٢٦ء

١١٧

صفحہ ٢٢٦

میں مولوی جلال الدین شمس مرزائی مبلغ کو شام بھیجا گیا۔ وہاں کے حریت پسندوں کو پتہ چلا تو قاتلانہ حملہ کیا۔ آخر تاج الدین الحسنی کی کابینہ نے شام بدر کر دیا۔ جلال الدین شمس فلسطین چلا آیا اور ٢٨ء میں قادیانی مشن قائم کیا اور ١٩٣١ء تک برطانوی انتداب کی حفاظت میں عالمی استعمار کی خدمت بجا لاتا رہا۔ تاریخ احمدیت مؤلفہ دوست محمد شاہد قادیانی سے ثابت ہوتا ہے کہ ١٩١٧ء میں قیام فلسطین کے برطانوی منصوبے کے اعلان کے بعد مرزا بشیر الدین محمود نے ١٩٢٤ء میں فلسطین میں قیام کیا اور فلسطین کے ایکٹنگ گورنر سر کلیٹن سے ساز باز کر کے ایک لائحہ عمل مرتب کیا اور جلال الدین شمس قادیانی کو دمشق میں یہودی مفادات کا نگران مقرر کیا گیا۔

(ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک ج ٩ نمبر ٢ ص ٢٤، ٢٥ بابت نومبر دسمبر ١٩٧٣ء از تاریخ احمدیت مؤلفہ دوست محمد شاہد)

٤٧ء تک قادیانی سرگرمیاں فلسطین میں پھلتی پھولتی رہیں۔ اللہ دتہ جالندھری، محمد سلیم، چوہدری محمد شریف، نور احمد، منیر، رشید احمد چغتائی جیسے معروف قادیانی مبلغ کے بھیس میں عربوں کو محکوم بنانے کی مذموم سازشیں کرتے رہے۔ ٣٤ء میں مرزا محمود خلیفہ قادیان نے اپنے استعماری صیہونی مقاصد کی تکمیل کے لیے تحریک جدید کے نام سے ایک تحریک کی بنیاد رکھی اور جماعت سے سیاسی مقاصد کے لیے اس تحریک کے لیے بڑی رقم کا مطالبہ کیا۔

(ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک ایضاً بحوالہ تاریخ احمدیت ص ١٩)

بیرون ہند قادیانی جماعتوں میں سب سے زیادہ حصہ فلسطین کی جماعت نے لیا اور تاریخ احمدیت کے مطابق فلسطین کی جماعت حیفہ اور مدرسہ احمدیہ کبابیر نے قربانی اور اخلاص کا نمونہ پیش کیا، اور مرزا محمود نے اس کی تعریف کی۔ (ایضاً ص ٤٠) بالآخر جب برطانوی وزیر خارجہ مسٹر بالفور کے ١٩١٧ء کے اعلان کے مطابق ١٩٤٨ء میں بڑی ہوشیاری سے اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ تو چن چن کر فلسطین کے اصل باشندوں کو نکال دیا گیا۔ مگر یہ سعادت صرف قادیانیوں کو نصیب ہوئی کہ وہ بلا خوف و جھجک وہاں رہے اور ان سے کوئی تعرض نہ کیا گیا۔ خود مرزا بشیر الدین محمود نہایت فخریہ انداز میں اس کا اعتراف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”عربی ممالک میں بے شک ہمیں اس قسم کی اہمیت حاصل نہیں جیسی ان (یورپی اور افریقی) ممالک میں حاصل ہے لیکن پھر بھی ایک طرح کی اہمیت ہمیں حاصل ہو گئی ہے اور وہ یہ کہ فلسطین کے عین مرکز میں اگر مسلمان رہے ہیں تو وہ صرف احمدی ہیں۔“

(الفضل ج ٢٨/٤ نمبر ٢٠١ ص ٥ ۔ ٣٠ اگست ١٩٥٠ء)

١١٨

صفحہ ٢٢٧

مرزا محمود کی جماعت کو اس طرح کی اہمیت کیوں نہ ملتی۔ جبکہ مرزا محمود خلیفہ دوم نے فلسطین میں یہودی ریاست اسرائیل کے قیام و استحکام میں صیہونیوں سے بھر پور تعاون کیا۔“

(ماہنامہ الحق ج ٩ ش ٢ نومبر دسمبر ١٩٧٣ء، بحوالہ تاریخ احمدیت از دوست محمد شاہد قادیانی)

اور جب عربوں کے قلب کا یہ رستا ہوا ناسور اسرائیل قائم ہوا۔ تمام مسلمان ریاستوں نے اس وقت سے اب تک اس کا مقاطعہ کیا۔ پاکستان کا کوئی سفارتی یا غیر سفارتی مشن وہاں نہیں۔ اس لیے کہ اسرائیل کا وجود بھی پاکستان کے نزدیک غلط ہے پاکستان عربوں کا بڑا حمایتی ہے۔ مونٹ اکرمل کبابیر وغیرہ میں ان کے استعماری اور جاسوسی سرگرمیوں کے اڈے قادیانی مشنریوں کے پردے میں قائم ہوئے۔ یہ تعجب اور حیرت کی بات نہیں تو کیا ہے۔ کافی عرصہ تک جس اسرائیل میں کوئی عیسائی مشن قائم نہ ہو سکا اور بعد میں کچھ عیسائی مشنیں قائم ہوئیں۔ اسرائیل کے سب سے بڑی ربی شلوگورین نے آرچ بشپ آف کنٹربری، ڈاکٹر رمبزے اور کارڈینل پادری ہی نان سے خصوصی ملاقات کر کے ان پر زور دیا کہ اسرائیل میں عیسائی مشنریوں پر پابندی عائد کریں۔

(ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک ج ٩ ص ٢٦۔٢٧ بحوالہ مارننگ نیوز کراچی ٢٦ ستمبر ١٩٧٣ء)

عیسائی مشنوں کے خلاف اسرائیل میں منظم تحریک چلی۔ عیسائی مراکز پر حملے ہوئے دکانوں اور بائیبل کے نسخوں کا جلانا معمول بن گیا۔ مگر ١٩٢٨ء سے لے کر اب تک یہودیوں نے قادیانیوں کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائی۔ نہ ان کے لٹریچر کو روکا۔ نہ کوئی معمولی رکاوٹ ڈالی جو اس کا واضح ثبوت ہے کہ وہ مرزائیوں کو اپنے مفادات کی خاطر تحفظ دے رہے ہیں۔

اسلام کی تبلیغ ...... کے نام پر مسلمانوں اور پاکستان کے سب سے بڑے دشمن اسرائیل میں قادیانیوں کا مشن ایک لمحہ فکریہ نہیں تو اور کیا ہے۔ اس لمحہ فکریہ کا عربوں کے لیے مختلف وقفوں سے بے چینی اور اضطراب اور پاکستان سے سوء ظن کا باعث بن جانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مشن عرب ریاستوں کی جاسوسی، فوجی راز معلوم کرنے، عالم اسلام کے معاشی اخلاقی حالات اور دینی جذبات معلوم کرنے عرب گوریلوں کے خلاف کاروائیاں کرنے اور عالمی استعمار اور یہودی استحصال کے لیے راہیں تلاش کرنے میں سرگرم عمل رہتے ہیں۔

اسرائیلی مشن قیام اسرائیل سے لے کر اب تک مسٹر ظفر اللہ خان کی اس سلسلہ میں تگ و دو کسی سے مخفی نہیں۔ لیکن جب آپ وزیر خارجہ تھے۔ تو کسی نے ربوہ کے ماتحت اس

١١٩

صفحہ ٢٢٨

اسرائیلی مشن کے بارہ میں سوال کیا تو آپ نے روایتی عیاری سے کام لے کر کہا کہ حکومت پاکستان کو تو اس کا علم نہیں۔

؎ الاماں از حرف پہلو دار تو

لیکن جب پچھلے دنوں اخبارات میں اسرائیل کے قادیانی مشن کا چرچا ہوا۔ تو بڑی ہوشیاری سے کہا گیا کہ ایسے مشن ہیں مگر قادیان بھارت کے ماتحت ہیں۔ یہ ایک ایسا جھوٹ تھا کہ خود ربوہ کی تحریک جدید کے سالانہ بجٹ ٦٧۔١٩٦٦ء سے اس کی قلعی کھل جاتی ہے۔ اس بجٹ کے صفحہ ٢٥ پر مشنہائے بیرون کے ضمن میں اسرائیل میں واقع حیفا کے قادیانی مشن کی تفصیل دی گئی۔ (جس کی فوٹوسٹیٹ کاپی منسلک ہے ۔)

تفصیل آمد و خرچ مشنہائے بیرون (١١٢) حیفا (اسرائیل) مشن ٦٧۔١٩٦٦ء

خرچ آمد شمار نام مدات اصل اعداد ٦٥۔٦٦ مطالبات ٦٦۔٦٧ بجٹ ٦٦۔٦٧ شمار نام مدات اصل اعداد ٦٥۔٦٦ مطالبات ٦٦۔٦٧ بجٹ ٦٦۔٦٧ ١ مرکزی مبلغین ٩٨٢ ٩٨٢ ٩٨٢ ١ چندہ تحریک جدید ٢ عام و حصہ آمد ٣٢٧٥ ٣٢٧٥ ٣٤٠٠ ٣ زکوٰۃ میزان محلہ ٩٨٢ ٩٨٢ ٩٨٢ ٤ عید فنڈ ٥ فطرانہ ١٢٥ ١٢٥ ٦ متفرق میزان آمد ٣٤٠٠ ٣٤٠٠ ٣٤٠٠

سائر شمار نام مدات اصل اعداد ٦٥۔٦٦ مطالبات ٦٦۔٦٧ بجٹ ٦٦۔٦٧ ١ اشاعت لٹریچر ٤٠ ٤٠ ٢ تبلیغی مجالس و عیدین ٢٠ ٢٠ ٣ آمدورفت و سفر خرچ ٢٠ ٢٠ ٤ مہمان نوازی ٥٠ ٥٠ ٥ کرایہ مکان، فرنیچر ١،٠٥٠ ٦ بجلی، پانی، کیمیا وغیرہ ٧ سٹیشنری ١٥ ١٥ خلاصہ ٨ ڈاک تار و ٹیلیفون ٥٠ ٥٠ آمد ٣،٤٠٠ ٩ کتب و اخبارات ٥٠ ٥٠ خرچ ٣،٤٠٠ ١٠ متفرق ٥٠ ٥٠ خالص - ١١ اخراجات رسالہ بشارۃ ٧٠٠ ٧٠٠ میزان سائر ١،٠٥٠ ١،٠٥٠ ١،٠٥٠

کل میزان محلہ و سائر ٢،٠٣٢ ٢،٠٣٢ ٢،٠٣٢ بقیہ ذمہ مرکز ١٣٦٨ ١٣٦٨ ١٣٦٨ کل میزان ٣،٤٠٠ ٣،٤٠٠ ٣،٤٠٠

(احمدیہ تحریک جدید کے سالانہ بجٹ 1966-67ء کے صفحہ 25 کا عکس)

صفحہ ٢٢٩

اسرائیل مشن

ہم یہاں اسرائیل میں قادیانی مشن کا ایک اور ثبوت مع اصل عبارت پیش کرتے ہیں۔ یہ اقتباس قادیانیوں ہی کی شائع کردہ کتاب ”آور فارن مشن“ مؤلفہ مبارک احمد ص ٧٨ شائع کردہ احمدیہ فارن مشن ربوہ سے لیا گیا ہے، مؤلف کتاب مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے ہیں۔

احمدیہ مشن اسرائیل میں حیفہ (ماؤنٹ کرمل) کے مقام پر واقع ہے اور وہاں ہماری ایک مسجد، ایک مشن ہاؤس، ایک لائبریری، ایک بک ڈپو اور ایک سکول موجود ہے۔ ہمارے مشن کی طرف سے ”البشریٰ“ کے نام سے ایک ماہنامہ عربی رسالہ جاری ہے جو تیس مختلف ممالک میں بھیجا جاتا ہے۔ مسیح موعود کی بہت سی تحریریں اس مشن نے عربی میں ترجمہ کی ہیں۔ فلسطین کے تقسیم ہونے سے یہ مشن کافی متاثر ہوا۔ چند مسلمان جو اس وقت اسرائیل میں موجود ہیں۔ ہمارا مشن ان کی ہر ممکن خدمت کر رہا ہے اور مشن کی موجودگی سے ان کے حوصلے بلند ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ہمارے مشنری کے لوگ حیفہ کے میئر سے ملے اور ان سے گفت و شنید کی، میئر نے وعدہ کیا کہ احمدیہ جماعت کے لیے کبابیر میں حیفہ کے قریب وہ ایک سکول بنانے کی اجازت دے دیں گے۔ یہ علاقہ ہماری جماعت کا مرکز اور گڑھ ہے۔ کچھ عرصہ بعد میئر صاحب ہماری مشنری دیکھنے کے لیے تشریف لائے۔ حیفہ کے چار معززین بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ان کا پروقار استقبال کیا گیا۔ جس میں جماعت کے سرکردہ ممبر اور اسکول کے طالب علم بھی موجود تھے۔ ان کی آمد کے اعزاز میں ایک جلسہ بھی منعقد ہوا، جس میں انھیں سپاسنامہ پیش کیا گیا۔ واپسی سے پہلے میئر صاحب نے اپنے تاثرات مہمانوں کے رجسٹر میں بھی تحریر کیے۔ ہماری جماعت کے مؤثر ہونے کا ثبوت ایک چھوٹے سے مندرجہ ذیل واقعہ سے ہو سکتا ہے۔ ١٩٥٦ء میں جب ہمارے مبلغ چوہدری محمد شریف صاحب ربوہ پاکستان واپس تشریف لا رہے تھے۔ اس وقت اسرائیل کے صدر نے ہماری مشنری کو پیغام بھیجا کہ چوہدری صاحب روانگی سے پہلے صدر صاحب سے ملیں۔ موقع سے فائدہ اٹھا کر چوہدری صاحب نے ایک قرآن حکیم کا نسخہ جو جرمن زبان میں تھا صدر محترم کو

١٤١

صفحہ ٢٣٠

پیش کیا، جس کو خلوص دل سے قبول کیا گیا، چوہدری صاحب کا صدر صاحب سے انٹرویو اسرائیل کے ریڈیو پر نشر کیا گیا اور ان کی ملاقات کو اخبارات میں جلی سرخیوں سے شائع کیا گیا۔

This extract has been taken from page 79 of the fourth revised edition of the book styled as "OUR FOREIGN MISSION" written by Mirza Mubarak Ahmad son of Late Mirza Bashiruddin Mahmood Ahmad and Grandson of Mirza Ghulam Ahmad which published in 1965 by Ahmadiyya Muslim foreign Missions Rabwah. West Pakistan, and printed at Nusrat Art Press, Rabwah.

Israel Mission

The Ahmadiyya Mission in Israel is situated in Haifa at Mount Karmal. We have a mosque there a Mission House, a library, a book depot, and a school. The mission also brings out a monthly, entitled Al-Bushra which is sent out to thirty defferent countries accessible throught the medium of Arabic. Many works of the Promised Massih have been translated into Arabic through this mission.

In many ways this Ahmadiyya Mission has been deeply affected by the Partition of what formerly was called palestine. The small number of Muslims left in Israel derive a grest deal of strength from the presence of our mission which never misses a chapce of being of service to them. Some time a go our missionary bad an discussion on many points, he offered to build for us a school at Kababeer, a village near Haifa, where we have a strong and well established Ahmadiyya community of palestinian Arabs. He also promised that he would come to see our missionary at Kababeer, which he did later, accompanied by four notable from Haifa. He was duly received by members of the community, and by the students of our school, a meeting having been held to welcome the guests. Before his return he entered his impressions in the Visitors' Book.

Another small incident. Which wonld give readers some idea of the position our mission in Israel occepies, is that in 1956 when our missionary Choudhry Muhammad Sharif,

١٢٢

صفحہ ٢٣١

returned to the Headquarters of the movement in Pakistan, the president of Israel sent word that he (our missionary) should see him befor embarking on the journey back: Choudhry Muhammad Sharif utilized the opportunity to present a copy of the Geman translation of the Holy Quran to the president, which he gladly accepted. This interview and what transpired at it was widely reported in the Israeli Press and a brief account was also broadcast on the radio.

(OUR FOREIGN MISSIONS) (By Mirza Mubarak Ahmad)

یہودیوں اور قادیانیوں کی نظریاتی مماثلت اور اشتراک کا تجزیہ کرتے ہوئے آج سے ٢٨ سال قبل علامہ اقبال نے کہا تھا کہ مرزائیت اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہے کہ گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔ (حرف اقبال ص ١٢٣) مگر ١٩٣٦ء میں تو یہ ایک نظری بحث تھی۔ جس پر رائے زنی کی گنجائش ہو سکتی تھی۔ لیکن بعد میں علم و نظر کے دائرہ سے لے کر سعی و عمل کے میدان میں دونوں یعنی قادیانیت اور صیہونیت کا باہمی اشتراک اور تماثل ایک بدیہی حقیقت کی شکل میں سامنے آیا۔

مرزائیت اور یہودیت کا باہمی اشتراک

یہ باہمی ربط و تعلق کن مشترکہ مقاصد پر مبنی ہے۔ اس کے لیے ہمیں زیادہ غور و فکر کی ضرورت نہیں۔ انگریزی سامراج کی اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور صیہونی استعمار بھی مغرب کا آلہ کار بن کر مسلمان بالخصوص عربوں کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ دونوں کے مقاصد اور وفاداریاں اسلام سے عداوت پاکستان دشمنی کا منطقی نتیجہ قادیانیوں اور اسرائیل کے باہمی گہرے دوستانہ تعلقات کی شکل میں برآمد ہوا عالم عرب کے بعد اگر اسرائیل اپنا سب سے بڑا دشمن کسی ملک کو سمجھتا تھا تو وہ پاکستان ہی تھا۔ اسرائیل کے بانی ڈیوڈ بن گوریان نے اگست ١٩٦٧ء میں سارابون یونیورسٹی پیرس میں جو تقریر کی وہ اس کا واضح ثبوت ہے بن گوریان نے کہا:

”پاکستان دراصل ہمارا آئیڈیالوجیکل چیلنج ہے۔ بین الاقوامی صیہونی تحریک کو کسی طرح پاکستان کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہیے اور نہ ہی پاکستان کے خطرہ سے غفلت کرنی چاہیے۔“

(آگے چل کر پاکستان اور عربوں کے باہمی رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا) کہ:

١٢٣

صفحہ ٢٣٢

”لہٰذا ہمیں پاکستان کے خلاف جلد از جلد قدم اٹھانا چاہیے۔ پاکستان کا فکری سرمایہ اور جنگی قوت ہمارے لیے آگے چل کر سخت مصیبت کا باعث بن سکتا ہے لہٰذا ہندوستان سے گہری دوستی ضروری ہے، بلکہ ہمیں اس تاریخی عناد ونفرت سے فائدہ اٹھانا چاہیے جو ہندوستان، پاکستان کے خلاف رکھتا ہے۔ یہ تاریخی عناد ہمارا سرمایہ ہے۔ ہمیں پوری قوت سے بین الاقوامی دائروں کے ذریعے سے اور بڑی طاقتوں میں اپنے نفوذ سے کام لے کر ہندوستان کی مدد کرنی اور پاکستان پر بھرپور ضرب لگانے کا انتظام کرنا چاہیے یہ کام نہایت راز داری کے ساتھ اور خفیہ منصوبوں کے تحت انجام دینا چاہیے۔“

(یروشلم پوسٹ ١٩ اگست ١٩٦٧ء از روزنامہ نوائے وقت لاہور ص ١ مورخہ ٢٢ مئی ١٩٧٢ء و ٣ دسمبر ١٩٧٣ء)

بن گوریان نے پاکستان کے جس فکری سرمایہ اور جنگی قوت کا ذکر کیا ہے وہ کون سی چیز ہے اس کا جواب ہمیں مشہور یہودی فوجی ماہر پروفیسر ہرٹر سے مل جاتا ہے وہ کہتے ہیں: ”پاکستانی فوج اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ سے غیر معمولی عشق رکھتی ہے یہی وہ بنیاد ہے جس نے پاکستان اور عربوں کے باہمی رشتے مستحکم کر رکھے ہیں۔ یہ صورت حال عالمی یہودیت کے لیے شدید خطرہ رکھتی ہے اور اسرائیل کی توسیع میں حائل ہو رہی ہے لہٰذا یہودیوں کو چاہیے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے پاکستانیوں کے اندر سے حب رسول ﷺ کا خاتمہ کریں۔“

(نوائے وقت ص ٦۔ ٢٢ مئی ١٩٧٢ء نیز جرائد برطانیہ میں صیہونی تنظیموں کا آرگن جیوش کرانیکل ١٩ اگست ١٩٦٧ء)

بن گوریان کے بیان کے پس منظر میں یہ بات تعجب خیز ہو جاتی ہے کہ پاکستان سے اس شدت سے نفرت کرنے والے اسرائیل نے ایسی جماعت کو سینے سے کیوں لگائے رکھا جن کا ہیڈ کوارٹر یعنی پاکستان ہی ان کے لیے نظریاتی چیلنج ہے۔ ظاہر ہے پاکستانی فوج کے فکری اساس رسول عربی ﷺ سے غیر معمولی عشق اور جنگی قوت کا راز جذبہ جہاد، ختم کرنے کے لیے جو جماعت نظریہ انکار ختم نبوت اور ممانعت جہاد کی علمبردار بن کر اٹھی تھی وہی پورے عالم اسلام اور پاکستان میں ان کی منظور نظر بن سکتی تھی۔ واضح رہے کہ بہت جلد جب سامراجی طاقتوں اور صیہونیوں کو مشرقی پاکستان کی شکل میں اپنے جذبات عناد نکالنے کا موقعہ ہاتھ آیا تو اسرائیلی وزیر خارجہ ابا ایبان نے نہ صرف اس تحریک علیحدگی کو سراہا بلکہ بروقت ضروری ہتھیار بھی فراہم کرنے کی پیش کش کی۔“

(ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک ج ٧ ش ٩ ص ٨ بحوالہ ماہنامہ فلسطین بیروت جنوری ١٩٧٢ء)

اس تاثر کو موجودہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اس بیان سے اور زیادہ تقویت ملتی ہے جس میں انھوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے عام انتخابات ٧٠ء میں اسرائیلی

١٣٤

صفحہ ٢٣٣

روپیہ پاکستان آیا اور انتخابی مہم میں اس کا استعمال ہوا۔ آخر وہ روپیہ مرزائیوں کے ذریعے نہیں تو کس ذریعے سے آیا اور پاکستان کے وجود کے خلاف ”تل ابیب“ میں تیار کی گئی سازش جس کا انکشاف بھٹو صاحب نے ”الاہرام“ مصر کے ایڈیٹر حسنین ہیکل کو انٹرویو دیتے کیا۔ کیسے پروان چڑھی جب کہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سوائے قادیانی مشنوں کے اور کوئی رابطہ نہیں تھا۔

اگر قادیانی جماعت بین الاقوامی صیہونیت کی آلہ کار نہ ہوتی اور عالم اسلام اور پاکستان کے خلاف اس کا کردار نہایت گھناؤنا نہ ہوتا تو کبھی بھی اسرائیل کے دروازے ان پر نہ کھل سکتے۔ قادیانی اس بارہ میں ہزار مرتبہ تبلیغ و دعوتِ اسلام کے پردہ میں پناہ لینا چاہیں مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم رہے گا کہ اسرائیل میں کیا یہ تبلیغ ان یہودیوں پر کی جا رہی ہے جنھوں نے صیہونیت کی خاطر اپنے بلاد اور اوطان کو خیر باد کہا اور تمام عصبیتوں کے تحت اسرائیل میں اکٹھے ہوئے یا ان بچے کھچے مسلمان عربوں پر مشق تبلیغ کی جا رہی ہے جو پہلے سے محمد عربی ﷺ کے حلقہ بگوش ہیں اور صیہونیت کے مظالم سہہ رہے ہیں۔

اسرائیل نے ١٩٦٥ء اور پھر ٧٣ء میں عربوں پر مغربی حلیفوں کی مدد سے بھر پور جارحانہ حملہ کیا جنگ چھڑی تو قادیانیوں کو اسرائیل سے باہمی روابط و تعلقات کے تقاضے پورا کرنے اور حق دوستی ادا کرنے کا موقعہ ملا اور دونوں نے عالم اسلام کے خلاف جی بھر کر اپنی تمنائیں نکالیں۔ قادیانیوں کی وساطت سے عرب گوریلا اور چھاپہ مار تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی رہیں۔ ان تنظیموں میں مسلمان ہونے کے پردہ میں قادیانی اثر و رسوخ حاصل کر کے داخلی طور پر سبوتاژ کرتے رہے اور حالیہ عرب اسرائیل جنگوں میں وہ یہودیوں کے ایسے وفادار بنے جیسے کہ برطانوی دور میں انگریز کے، اور یہ اس لیے بھی کہ عربوں کی زبردست تباہی کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی کا وہ خود ساختہ الہام بھی پورا ہوا جس میں عربوں کی تباہی کے بعد سلسلہ احمدیہ کی ترقی و عروج کی خبر ان الفاظ میں دی گئی جو در حقیقت الہام نہیں بلکہ الہام کے پردہ میں اپنے بیٹے کو آئندہ اسلام اور عرب دشمن سازشوں کی راہ دکھائی گئی تھی۔

”خدا نے مجھے خبر دی ہے...... کہ ایک عالمگیری تباہی آئے گی اور اس تمام واقعات کا مرکز ملک شام ہوگا۔ صاحبزادہ صاحب (یعنی ان کے مخاطب پیر سراج الحق قادیانی) اس وقت میرا لڑکا موعود ہوگا خدا نے اس کے ساتھ ان حالات کو مقدر کر رکھا ہے ان واقعات کے بعد ہمارے سلسلہ کو ترقی ہوگی اور سلاطین ہمارے سلسلہ میں داخل ہوں

١٢٥

صفحہ ٢٣٤

گے ۔ تم اس موعود کو پہچان لینا ۔“

(تذکرہ ص ٧٩٩ طبع سوم)

علامہ اقبال نے ایسے ہی الہامات کے بارے میں کہا تھا ۔

محکوم کے الہام سے اللہ بچائے
غارتگر اقوام ہے وہ صورت چنگیز

خلافت عثمانیہ اور ترکی

(قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت ایڈورڈ میکلیگن لیفٹیننٹ گورنر پنجاب اخبار الفضل ٢٢ دسمبر ١٩١٩ء ج ٧ نمبر ٤٨)

”ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ مذہباً ہمارا ترکوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اپنے مذہبی نقطہ خیال کے اس امر کے پابند ہیں کہ اس شخص کو اپنا پیشوا سمجھیں جو مسیح موعود کا جانشین ہو اور دنیاوی لحاظ سے اس کو اپنا بادشاہ اور سلطان یقین کریں ، جس کی حکومت کے نیچے ہم رہتے ہیں پس ہمارے خلیفہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے خلیفہ ثانی ہیں اور ہمارے بادشاہ حضور سلطان ملک معظم ہیں۔ سلطان ترکی ہرگز خلیفۃ المسلمین نہیں ۔“

(صیغہ امور عامہ قادیان کا اعلان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ٧ نمبر ١٦١ ، ١٦ جنوری ١٩٢٠ء)

”اخبار لیڈر الہ آباد مجریہ ٢١ جنوری ١٩٢٠ء میں خلافت کانفرنس کا ایڈریس بخدمت جناب وائسرائے شائع کیا گیا۔ فہرست دستخط کنندگان میں مولوی ثناء اللہ امرتسری کے نام سے پہلے کسی شخص محمد علی قادیانی کا نام درج ہے۔ محمد علی کے نام کے ساتھ قادیانی کا لفظ محض اس لیے لگایا گیا کہ لوگوں کو دھوکا دیا جائے ورنہ قادیان سے تعلق رکھنے والا احمدی نہیں ہے جو سلطان ترکی کو خلیفۃ المسلمین تسلیم کرتا ہو۔ معلوم ہوتا ہے یہ مولوی صاحب لاہوری سرگروہ کے غیر مبائع ہیں لیکن وہ لفظ قادیان کے ساتھ لکھنے کے ہرگز مستحق نہیں۔ نہ اس لیے کہ وہ قادیان کے باشندے ہیں اور نہ اس لیے کہ مرکز قادیان سے تعلق رکھنے والے کسی احمدی کا یہ عقیدہ نہیں کہ سلطان ترکی خلیفۃ المسلمین ہے۔“

خلافت عثمانیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور عربوں کو ترکوں سے لڑانے میں قادیانی انگریز کے شانہ بشانہ شریک رہے اس کا ایک اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے جو دمشق کے ایک مطبوعہ رسالہ القادیانیتہ میں مرزائیوں کے سیاسی خط و خال اور استعماری فرائض و مناصب کی نشاندہی کے بعد لکھا گیا ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں انگریزوں نے مرزا بشیر الدین محمود احمد قادیانی کے سالے ولی اللہ زین العابدین کو سلطنت عثمانیہ بھیجا وہاں پانچویں ڈویژن کے کمانڈر جمال پاشا کی معرفت ١٩١٧ء میں قدس یونیورسٹی میں دینیات کا لیکچرر ہو گیا لیکن

١٢٦

صفحہ ٢٣٥

(تذکرہ ص ٢٩٧ طبع سوم)

یہی الہامات کے بارے میں کہا تھا

کے الہام سے اللہ بچائے
قوام ہے وہ صورت چنگیز

(قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت ایڈورڈ میکلیگن ٢٢ دسمبر ١٩٠٩ء ج ٧ نمبر ٤٨)

تے ہیں کہ مذہباً ہمارا ترکوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اپنے د پابند ہیں کہ اس شخص کو اپنا پیشوا سمجھیں جو مسیح موعود کا س کو اپنا بادشاہ اور سلطان یقین کریں، جس کی حکومت کے فہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے خلیفہ ثانی ہیں اور ظم ہیں۔ سلطان ترکی ہرگز خلیفۃ المسلمین نہیں ۔“

ا اعلان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ٧ نمبر ٦١، ١٦ جنوری ١٩٢٠ء)

مرخہ ٢١ جنوری ١٩٢٠ء میں خلافت کانفرنس کا ایڈریس۔ یا گیا۔ فہرست دستخط کنندگان میں مولوی ثناء اللہ امرتسری دیانی کا نام درج ہے۔ محمد علی کے نام کے ساتھ قادیانی کا کو دھوکا دیا جائے ورنہ قادیان سے تعلق رکھنے والا احمدی لمسلمین تسلیم کرتا ہو۔ معلوم ہوتا ہے یہ مولوی صاحب ن وہ لفظ قادیان کے ساتھ لکھنے کے ہرگز مستحق نہیں۔ نہ ے ہیں اور نہ اس لیے کہ مرکز قادیان سے تعلق رکھنے لطان ترکی خلیفۃ المسلمین ہے۔“

ڑے کرنے اور عربوں کو ترکوں سے لڑانے میں قادیانی ں کا ایک اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے جو دمشق مرزائیوں کے سیاسی خط و خال اور استعماری فرائض و ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں انگریزوں نے مرزا بشیر الدین زین العابدین کو سلطنت عثمانیہ بھیجا وہاں پانچویں ڈویژن اء میں قدس یونیورسٹی میں دینیات کا لیکچرر ہو گیا لیکن

١٢٦

جب انگریزی فوجیں دمشق میں داخل ہو گئیں تو ولی اللہ نے اپنا لبادہ اتارا اور انگریزی لشکر میں آ گیا اور عربوں کو ترکوں سے لڑانے بھڑانے کی مہم کا انچارج رہا عراقی اس سے واقف ہو گئے تو گورنمنٹ انڈیا نے وہاں ان کے لئے رہنے پر زور دیا لیکن عراقی حکومت نہ مانی تو بھاگ کر قادیان آ گیا اور ناظر امور عامہ بنا دیا گیا۔ (عجمی اسرائیل ص ٤٧ بحوالہ القادیانیہ طبع دمشق)

یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد رسالہ القادیانیۃ نے لکھا ہے کہ کسی بھی مسلمان عرب ریاست میں مرزائیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں بلکہ ان کے ایسے کارناموں کی بدولت پاکستان کو عربوں میں ہدف بنایا جاتا ہے۔ سقوط خلافت عثمانیہ کے بعد مصطفےٰ کمال کے دور میں بھی مرزائیوں کی سازشیں جاری رہیں اور یہ روایت عام ہے کہ ترکی میں دو قادیانی مصطفےٰ صغیر کی ٹیم کا رکن بن کر گئے مصطفےٰ صغیر کے بارہ میں مشہور ہے کہ وہ قادیانی تھا اور مصطفےٰ کمال کو قتل کرنے پر مامور ہوا تھا لیکن راز فاش ہونے پر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

افغانستان

گورنمنٹ افغانستان کے خلاف سازشی خطوط اور جہاد کے جذبہ کی مخالفت کا ذکر پہلے مدلل طور پر آ چکا ہے۔ چند مزید حقائق سنئے۔

جمعیۃ الاقوام سے افغانستان کے خلاف مداخلت کی اپیل

”جماعت احمدیہ کے امام مرزا بشیر الدین محمود قادیانی خلیفۃ المسیح الثانی نے ”لیگ عوام“ سے پر زور اپیل کی کہ حال میں پندرہ....... پولیس کانسٹیبلوں اور سپرنٹنڈنٹ کے روبرو دو احمدی مسلمانوں کو محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے حکومت کابل نے سنگسار کر دیا ہے اس لیے دربار افغانستان سے باز پرس کے لیے مداخلت کی جائے کم از کم ایسی حکومت اس قابل نہیں کہ مہذب سلطنتوں کے ساتھ ہمدردانہ تعلقات رکھنے کے قابل سمجھی جائے ۔“

(الفضل قادیان ج ١٢ نمبر ٩٥ ، ٢٨ فروری ١٩٢٥ء)

امیر امان اللہ خان نے نادانی سے انگریزوں کے خلاف جنگ شروع کی

میاں محمود احمد نے اپنے خطبہ جمعہ مطبوعہ الفضل میں کہا: ”اس وقت (بعہد شاہ امان اللہ خان) جو کابل نے گورنمنٹ انگریز سے نادانی سے جنگ شروع کی ہے۔ احمدیوں کا فرض ہے کہ گورنمنٹ کی خدمت کریں کیونکہ گورنمنٹ کی اطاعت ہمارا فرض ہے لیکن افغانستان کی جنگ احمدیوں کے لیے ایک نئی حیثیت رکھتی

١٢٧

صفحہ ٢٣٦

ہے کیونکہ کابل وہ زمین ہے جہاں ہمارے نہایت قیمتی وجود مارے گئے اور ظلم سے مارے گئے اور بے سبب اور بلاوجہ مارے گئے۔ پس کابل وہ جگہ ہے جہاں احمدیت کی تبلیغ منع ہے اور اس پر صداقت کے دروازے بند ہیں۔ اس لیے صداقت کے قیام کے لیے گورنمنٹ (برطانیہ) کی فوج میں شامل ہو کر ان ظالمانہ روکوں کو دفع کرنے کے لیے گورنمنٹ (برطانیہ) کی مدد کرنا احمدیوں کا مذہبی فرض ہے۔ پس کوشش کرو کہ تمھارے ذریعے سے وہ شاخیں پیدا ہوں جن کی مسیح موعود نے اطلاع دی۔

(الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٩٠ ص ٨ کالم ٢، ١/ ٢٧ مئی ١٩١٩ء)

جنگ کابل میں مرزائیوں کی انگریزوں کو معقول امداد

”جب کابل کے ساتھ جنگ ہوئی تب بھی ہماری جماعت نے اپنی طاقت سے بڑھ کر مدد دی اور علاوہ کئی قسم کی خدمات سرانجام دیں۔ ایک ڈبل کمپنی پیش کی بھرتی بوجہ جنگ ہونے کے رُک گئی۔ ورنہ ایک ہزار سے زائد آدمی اس کے لیے نام لکھوا چکے ہیں۔ اور خود ہمارے سلسلے کے بانی کے چھوٹے صاحبزادے اور ہمارے موجودہ امام کے چھوٹے بھائی نے اپنی خدمات پیش کیں اور چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں آنریری طور پر کام کرتے رہے۔

افریقی ممالک میں استعماری اور صیہونی سرگرمیاں

افریقہ دنیا کا واحد براعظم ہے جہاں سے برٹش ایمپائر نے اپنا پنجۂ استبداد سب سے آخر میں اٹھایا اور آج تک کچھ علاقے برطانوی سامراجی اثرات کے تابع ہیں مغربی افریقہ میں قادیانیوں نے ابتداء ہی میں برطانوی سامراج کے لیے اڈے قائم کیے اور ان کے لیے جاسوسی کی۔ ”دی کیمبرج ہسٹری آف اسلام“ مطبوعہ ١٩٧٠ء میں مذکور ہے۔

"The Ahmadiyya first appeared on the west african coast during the first world war, when several young men in lagos and free town joined by mail. In 1921 the first Indian missionarry arrived. Too unorthodon to gain a footing in the muslim interior, the Ahmadiyya remain confined princeparry to southern nigeria, southern gold coast sierraleone. It strengthened the ranks of those muslims actively loyal to the british, and it contributed to the mooernization of Islamic organization in the area."

(The cambridge history of Islam vol II editid by Holt,

١٢٨

صفحہ ٢٣٧

ہے جہاں ہمارے نہایت قیمتی وجود مارے گئے اور ظلم سے مارے مارے گئے۔ پس کابل وہ جگہ ہے جہاں احمدیت کی تبلیغ منع ہے وازے بند ہیں۔ اس لیے صداقت کے قیام کے لیے گورنمنٹ حائل ہو کر ان ظالمانہ روکوں کو دفع کرنے کے لیے گورنمنٹ بل کا مذہبی فرض ہے۔ پس کوشش کرو کہ تمہارے ذریعے سے وہ موعود نے اطلاع دی۔“

(الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٩٠ ص ٨ کالم ٢، ١/ ٢٧ مئی ١٩١٩ء)

وں کی انگریزوں کو معقول امداد

ساتھ جنگ ہوئی تب بھی ہماری جماعت نے اپنی طاقت سے تم کی خدمات سرانجام دیں۔ ایک ڈبل کمپنی پیش کی بھرتی بوجہ نہ ایک ہزار سے زائد آدمی اس کے لیے نام لکھوا چکے ہیں۔ اور چھوٹے صاحبزادے اور ہمارے موجودہ امام کے چھوٹے بھائی چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں آنریری طور پر کام کرتے رہے۔

اری اور صہیونی سرگرمیاں

راعظم ہے جہاں سے برٹش ایمپائر نے اپنا پنجہ استبداد سب ۔ کچھ علاقے برطانوی سامراجی اثرات کے تابع ہیں مغربی ہ ہی میں برطانوی سامراج کے لیے اڈے قائم کیے اور ان ج ہسٹری آف اسلام“ مطبوعہ ١٩٧٠ء میں مذکور ہے۔

"The Ahmadiyya first appeared coast during the first world war, whe in lagos and free town joined by mail. I missionarry arrived. Too unorthodox to muslim interior, the Ahmadiyya remain to southern nigeria, southern gold strengthened the ranks of those muslim british, and it contributed to the mo organization in the area."

(The cambridge history of Isla

١٢٨

lambton, and lewis, cambridge universty press 1970, P-400)

ترجمہ: پہلی جنگ عظیم کے دوران احمدی فرقہ کے لوگ مغربی افریقہ کے ساحل تک پہنچے جہاں لاگوس اور فری ٹاؤن کے چند نوجوان ان تک پہنچے۔ ١٩٢١ء میں پہلی ہندوستانی مشنری وہاں آئی اگرچہ یہ لوگ کسی عقیدہ کا پرچار نہیں کر سکے لیکن ان کا ارادہ مسلم آبادی کے اندرونی علاقوں میں قدم جمانا تھا یہ لوگ زیادہ تر جنوبی نائیجیریا، جنوبی گولڈ کوسٹ اور سیرالیون میں سرگرم عمل رہے ان لوگوں نے ان مسلمان دستوں کو مضبوط کیا جو کہ مملکت برطانیہ کے حد درجہ وفادار تھے۔ اور ان علاقوں میں اسلام کو جدید تقاضوں سے ہمکنار کرتے رہے۔“

اس اقتباس سے صاف ظاہر ہے کہ قادیانی ١٩٢١ء کے بعد زیادہ تر جنوبی گولڈ کوسٹ اور سیرالیون میں سمٹے رہے اور غلام ہندوستان کی طرح یہاں کے مسلمان کو برطانوی اطاعت اور عقیدہ جہاد کی ممانعت کی تبلیغ کر کے برطانیہ سے وفاداریوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی، حال ہی میں قادیانیوں نے ”افریقہ سپیکس“ کے نام سے مرزا ناصر احمد کے دورۂ افریقہ کی جو روئداد چھاپی ہے وہ افریقہ میں قادیانی ریشہ دوانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے اس میں یہ عبارت خاص طور پر قابل غور ہے۔

"One of the main points of Ghulam Ahmad's has been rejection of "Holy Wars" and forcible conversion."

(Africa speaks' page 93 published by Majlis Nusrat

Jahan Tahrik Jadid, Rabwah)

یعنی غلام احمد کے اہم معتقدات میں سے ایک مقدس جنگ (جہاد) کا انکار ہے آخر ماریشس ایک افریقی جزیرہ ہے۔ ١٩٦٧ء میں یہاں سے ”وی مسلم ان ماریشس“ یعنی ماریشس میں مسلمان کے نام سے جناب ممتاز عمریت کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کا دیباچہ ماریشس کے وزیراعظم نے لکھا کتاب میں فاضل مصنف نے بڑی محنت سے قادیانیوں کی ایک ایسی تخریبی سرگرمیوں کا ذکر کیا جو مسلمانوں کے لیے تکالیف کا باعث بن رہی ہیں...... انھوں نے اس سلسلہ میں مسلمانوں کی طرف سے دائر کردہ ایک مقدمہ کا ذکر کیا ہے۔ مسجد روزہل کا یہ مقدمہ بقول مصنف کے تاریخ ماریشس کا سب سے بڑا مقدمہ کہا جاتا ہے جس میں دو سال تک سپریم کورٹ نے بیانات لیے شہادتیں سنیں اور ١٩ نومبر ١٩٢٠ء کو چیف جج سرائے ہر چیز وڈر نے فیصلہ دیا کہ ”مسلمان الگ امت ہیں اور قادیانی الگ۔“

١٢٩

صفحہ ٢٣٨

کتاب کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں بھی ان کی آمد برطانوی فوج کی شکل میں ان کے استعماری مقاصد ہی کے لیے ہوئی۔ وہ لکھتے ہیں کہ قادیانی مذہب سے تعلق رکھنے والے دو فوجی ماریشس پہنچے ان میں سے ایک کا نام دین محمد اور دوسرے کا نام بابو اسماعیل خان تھا وہ سترھویں رائل انفنٹری سے تعلق رکھتے تھے۔ ١٩١٥ء تک یہ فوجی اپنی تبلیغی کارروائیاں (فوجی ہو کر تبلیغی کارروائیاں؟ قابل غور) کرتے رہے۔

(تفصیل کے لیے دیکھئے المنبر لائلپور ج ٩ ش ٢٢ ص ٧، ٨)

”دو سال قبل افریقہ میں تبلیغ کے نام پر جو دو سکیمیں نصرت جہاں ریزرو فنڈ اور آگے بڑھو سکیم کی جاری کی گئیں اس کی داغ بیل لندن ہی میں رکھی گئی اور مرزا ناصر احمد نے اکاؤنٹ کھلوایا۔“

(الفضل ربوہ ج ٢٧/٦١ نمبر ٧٢/ ص٣۔ ٢٩ جولائی ١٩٧٢ء)

افریقہ میں اپنی کارکردگیوں کے بارہ میں قادیانی مبلغ برطانیہ میں مقیم ان ممالک کے ہائی کمشنروں سے رابطہ قائم کرتے رہتے ہیں اور انھیں معلومات بہم پہنچاتے ہیں برطانوی وزارت خارجہ قادیانیوں کی ان تمام مشنوں کی حفاظت کرتی ہے۔

اور جب کچھ لوگ برطانوی وزارت خارجہ سے اس تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ براعظم افریقہ میں قادیانیوں کے اکثر مشن برطانوی مقبوضات ہی میں کیوں ہیں اور برطانیہ ان کی حفاظت کرتی ہے اور وہ دیگر مشنریوں سے زیادہ قادیانیوں پر مہربان ہے تو وزارت خارجہ نے جواب دیا کہ سلطنت کے مقاصد تبلیغ کے مقاصد سے مختلف ہیں جواب واضح تھا کہ سامراجی طاقتیں اپنی نو آبادیات میں اپنے سیاسی مفادات اور مقاصد کو تبلیغی مقاصد پر ترجیح دیتی ہیں اور وہ کام عیسائی مبلغین سے نہیں مرزائی مشنوں ہی سے ہو سکتا ہے۔

افریقہ میں صہیونیت کا ہراول دستہ

برطانوی مفادات کے تحفظ کے علاوہ یہ قادیانی مشن افریقہ میں اسرائیل اور صہیونیت کے بھی سب سے مضبوط اور وفادار ہراول دستہ ہیں مرزا ناصر احمد قادیانی نے ١٣ جولائی ١٩٧٣ء سے ٢٦ ستمبر ١٩٧٣ء تک بیرونی ممالک کا جو دورہ کیا اس کی غرض و غایت بھی قطعاً سیاسی تھی لندن مشن کے محمود ہال میں جو پوشیدہ سیاسی میٹنگیں ہوئیں ان کا مقصد افریقہ میں اسرائیل اور یورپی استعمار کے سیاسی مقاصد کی تکمیل تھی۔

(ماہنامہ الحق ج ٩ ش ٢ ص ٢٥ نومبر، دسمبر ١٩٧٣ء)

الفضل ربوہ یکم جولائی ١٩٧٢ء نے لندن مشن کے پریس سیکرٹری خواجہ نذیر احمد کی اطلاع کے مطابق مغربی افریقہ کے ان ممالک کے ان سفیروں سے ملاقات کی گئی جن کا

١٤٠

صفحہ ٢٣٩

مرزا ناصر احمد دورہ کر چکے ہیں۔ پریس سیکرٹری لکھتے ہیں:۔ ”مغربی افریقہ کے ان چھ ممالک کے سفراء کو اپنی مساعی اور خدمات سے روشناس کرانے کے لیے مکرم و محترم بشیر احمد خان رفیق امام مسجد فضل لندن نے سہ رکنی وفد کی قیادت فرماتے ہوئے جس میں مکرم چوہدری ہدایت اللہ سینئر سیکرٹری سفارت خانہ پاکستان اور خاکسار خواجہ نذیر احمد پریس سیکرٹری مسجد فضل لندن، ہز ایکسی لینسی ایچ وی ایچ سیکی ہائی کمشنر غانا متعینہ لندن سے ملاقات کی۔“

(الفضل ربوہ ج ٦١/ ٦٦ نمبر ١٤٥ ص ٤ کالم ١، ٢٨ جون ١٩٧٢ء)

افریقہ میں ان سرگرمیوں کی وسعت کارکردگی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تو عالمی صیہونی تنظیم (WZO) اور اس کی تمام ایجنسیاں اور اسرائیل کی ”جیوش ایجنسی“ کھل کر افریقہ میں قادیانیوں کو اپنے مذموم مقاصد کے آلہ کار بنانے کی خبریں عربوں کے لیے تشویش کا باعث بن چکی ہیں۔ عرب اسرائیل جنگ کے بعد جن افریقی ممالک نے اسرائیل سے تعلقات توڑے قادیانیوں نے ایسے ممالک کی مخالف حکومت تحریکوں کے ساتھ مل کر ان پر سیاسی دباؤ ڈالا۔

لاکھوں کروڑوں کا سرمایہ افریقی ممالک میں ان مقاصد کے لیے لاکھوں اور کروڑوں روپے کا سرمایہ کہاں سے فراہم ہوتا ہے؟ یہ ایک معمہ ہے جس نے عالم عرب کے مشہور مصنف علامہ محمد محمود الصواف کو بھی ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ وہ اپنی ایک تازہ تصنیف: المخططات الاستعمارية لمكافحة الاسلام کے ص ٢٥٣ پر رقمطراز ہیں:

ولا تزال هذه الطائفة الكافرة تعيث فى الارض فساداً و تسعى جاهدةً لحرب و مكافحة الاسلام فى كل ميدان خاصةً فى افريقيا ولقد وصلتنى رسالة من يوغندا بافريقيا الشرقية ومعها كتاب ”حمامة البشرى“ وهو من مؤلفات كذاب قاديان احمد المسيح المدعو المهدى المعهود بزعمهم وقد وزّع منه الكثير هناك وهو ملئ بالكفر والضلال.

والرسالة التى وردتنى من احد كبار الدعاة الاسلاميين هناك يقول فيها: ”لقد دهانا ودهى الاسلام من القاديانية شئ عظيم لقد استفحل امرهم جداً و نشطوا كثيراً فى دعايتهم و ينفقون اموالاً لا تدخل تحت الحصر، ولا شك أنها أموال الاستعمار والمبشرين بل بلغنى نبأ يكاد يكون مؤكداً أن

١٤١

صفحہ ٢٤٠

هناك جمعية تبشيرية قوية مركزها أديس أبابا عاصمة الحبشة بان ميزانية هذه الجمعية ٣٥ مليون دولار وأنها متركزة لمحاربة الاسلام.“

یہ کافر جماعت ہمیشہ زمین میں فساد پھیلا کر اسلام کی مخالفت ہر میدان میں کرتی چلی آ رہی ہے خاص کر افریقہ میں ان کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں مجھے اس سلسلہ میں مشرقی افریقہ کے یوگنڈا سے ایک خط ملا جس کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کذاب کی جو ان کے زعم میں مسیح اور مہدی موعود ہیں۔ کتاب حمامۃ البشریٰ بھی تھی جو وہاں بڑی تعداد میں تقسیم کی گئی اور جو کفر اور گمراہی سے بھری پڑی ہے۔

یہ خط جو مجھے مسلمانوں کے ایک بہت بڑے داعی اور رہنما نے لکھا تھا اس میں یہ کہا گیا ۔

”یہاں قادیانیوں کی روز افزوں سرگرمیاں ہمارے لیے اور اسلام کے لیے سخت تشویش کا باعث بن گئی ہیں یہ لوگ یہاں اتنی دولت خرچ کر رہے ہیں جو حساب سے باہر ہے اور بلاشبہ یہ مال و دولت سامراج اور اس کے مشنری اداروں ہی کا ہو سکتا ہے۔ مجھے تو یہاں تک ثقہ اطلاع پہنچی ہے کہ وہاں حبشہ کے عدیس ابابا میں ان لوگوں کے ایک مضبوط مشن کا سالانہ بجٹ ٣٥ ملین ڈالر ہے اور یہ مشن اسلام دشمنی ہی کے لیے قائم کیا گیا ہے۔“

علامہ صواف نے عدیس ابابا حبشہ کے جس مشن کے ٣٥ ملین ڈالروں (پاکستان حساب سے ٣٥ کروڑ روپے) کا ذکر کیا ہے معلوم نہیں پچھلے کئی سال سے حبشہ میں مسلمانوں کی حسرت ناک تباہی اور بربادی میں اس کا کتنا حصہ ہوگا؟ یہ راز کھل جائے تو جوبلی فنڈ سکیم کے لیے مرزا ناصر احمد کے ڈیڑھ کروڑ روپیہ کی اپیل کے جواب میں نو کروڑ روپے تک جمع ہونے کا امکان کی گتھی بھی سلجھ جائے جس کا مژدہ انھوں نے (الفضل ربوہ ج ٦٣ / ٢٨ نمبر ٥١ ص ٣ کالم ١، ٥ مارچ ١٩٧٣ء) میں اپنے پیروؤں کو سنایا ہے مذکورہ تفصیل پڑھ کر سوائے اس کے اور کیا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر افریقہ ابھی تک فرنگی شاطروں کے پنجہ استبداد سے مکمل طور پر نجات حاصل نہیں کر سکا اور وہ عالمی صیہونیت کی بھی آماجگاہ بنا ہوا ہے تو اور وجوہات کے علاوہ اس کی ایک وجہ اسلام اور عالم اسلام سے دیرینہ غداری کرنے والی مرزائیوں کی جماعت بھی ہے۔

مسلمانان برصغیر کی فلاح و بہبود کی تنظیمیں اور مرزائیوں کا کردار

اب ہم برصغیر کے تحریک آزادی، مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی تحریکوں اور قیام

١٤٢

صفحہ ٢٤١

پاکستان کے سلسلے میں ابتداء سے لے کر اب تک مرزائیوں کے کردار اور قیام پاکستان کے بعد ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ایک قادیانی سٹیٹ کے قیام یا بصورت دیگر اکھنڈ بھارت کے لیے ان کے خطرناک سیاسی عزائم اور سرگرمیوں کا مختصراً جائزہ لیتے ہیں۔ انگریز کے دور حکمرانی میں برصغیر میں مسلمانوں کے نشاۃ ثانیہ کے لیے جتنی بھی تحریکیں اٹھیں۔ مذکورہ تفصیلات سے بخوبی واضح ہو چکا کہ مرزائیوں نے نہ صرف انگریز کی خوشنودی کے لیے اسے نقصان پہنچایا بلکہ ایسے تمام موقعوں پر جہادِ آزادی ہو یا کوئی اور تحریک مرزائیوں کا کام انگریز کے لیے جاسوسی اور ان کو خفیہ معلومات فراہم کرنا اور در پردہ استعماری مقاصد کے لیے ایسی تحریکوں کو غیر موثر بنانا تھا۔ جہاد اور انگریزی استعمار کے سلسلہ میں ہند و بیرون ہند اس جماعت کی سرگرمیاں سابقہ تفصیلات سے سامنے آ چکی ہیں۔ یہ جاسوسی سرگرمیاں اگر عرب اور مسلم ممالک میں جاری رہیں تو دوسری طرف مرزا قادیانی نے جبکہ علمائے حق نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا جمعہ وغیرہ کے نام پر شوشے چھوڑ کر ایک اشتہار برطانوی افسران کے پاس بھیجا اور انگریز حکومت کو مشورہ دیا کہ مسئلہ جمعہ کے ذریعہ اس ملک کو دارالحرب قرار دینے والے نالائق نام کے بدباطن مسلمانوں کی شناخت ہو سکے گی جمعہ جو عبادت کا مقدس دن تھا مرزا قادیانی نے اسے کمال عیاری سے بقول ان کے انگریز گورنمنٹ کے لیے ایک سچے مخبر اور کھرے اور کھوٹے کے امتیاز کا ذریعہ بنا دیا۔

(تبلیغ رسالت ج ٥ مجموعہ اشتہارات ملخصاً ج ٢ ص ٢٤٤)

ایک دوسرے اشتہار قابل توجہ گورنمنٹ میں مرزا قادیانی نے ایسے ایک جاسوسی کارنامے کا ذکر بڑے فخر سے کیا اور کہا۔ ”چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لیے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کیے جائیں جو دَر پردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض سے تجویز کیا گیا ہے تاکہ اس میں ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں۔ (آگے چل کر کہا) کہ ہم نے اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹیکل خیر خواہی کی نیت سے ایسے شریر لوگوں کے نام ضبط کیے ہیں یہ نقشے ایک پولیٹیکل راز کی طرح ہمارے پاس محفوظ ہیں۔“ آگے ایسے نقشے تیار کر کے بھیجنے کا ذکر ہے جس میں ایسے لوگوں کے نام معہ پتہ و نشان ہیں۔

(تبلیغ رسالت ج ٥ ص ١١)

مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تحریکات سے غداری کی ایک مثال انجمن اسلامیہ لاہور کے اس میمورنڈم سے لگائی جا سکتی ہے جو اس نے مسلمانوں کے معاشی اور تعلیمی ترقی، اردو زبان کی ترویج وغیرہ مطالبات مرتب کروانے کے سلسلہ میں

١٣٣

صفحہ ٢٤٢

مشاہیر کو روانہ کیا۔ مرزا قادیانی نے مسلمانوں کے ان مطالبات کی شدومد سے مخالفت کرتے اور ایسی سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انگریز کے دل میں نقش وفاداری جمانا چاہیے اور کہا کہ انجمن اسلامیہ کو ایسے میمورنڈم پھیلانے کے بجائے برصغیر کے علماء سے ایسے فتویٰ حاصل کرنے چاہئیں جن میں مربی ومحسن سلطنت انگلشیہ سے جہاد کی صاف ممانعت ہو اور ان کو خطوط بھیج کر ان کی مہریں لگوا کر مکتوبات علماء ہند کے نام سے پھیلایا جائے۔

(اسلامی انجمن کی خدمت میں التماس براہین احمدیہ خزائن ج اول ص ١٣٩)

١٩٠٦ء میں جب مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ اس وقت اس جماعت کا مقصد ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کے معاشی حقوق کے لیے جدوجہد کرنا تھے تو مرزا قادیانی نے نہ صرف اس لیے شرکت سے انکار بلکہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا کہ کل یہ جماعت انگریز کے خلاف بھی ہو سکتی ہے۔

(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ۔ از مرزا غلام احمد قادیانی اور سیرت مسیح موعود از مرزا بشیر الدین ص ٤٣، ٤٤)

یہی وطیرہ ان کے بعد ان کے جانشینوں کا رہا۔ ١٩٣١ء میں کشمیر کمیٹی کا قیام اور بالآخر مرزا بشیر الدین محمود کی خفیہ سرگرمیوں سے اس کے شکست و ریخت اور علامہ اقبال کا اس کمیٹی سے علیحدہ ہونا اور کمیٹی کو توڑ دینا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے یہ سب باتیں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ علامہ اقبال کو وثوق سے یہاں تک معلوم ہوا کہ:

”کشمیر کمیٹی کے صدر (مرزا بشیر الدین محمود) اور سیکرٹری (عبدالرحیم) دونوں وائسرائے اور اعلیٰ برطانوی حکام کو خفیہ اطلاعات بہم پہنچانے کا نیک کام بھی کرتے ہیں۔“

(پنجاب کی سیاسی تحریکیں ص ٢١٠ عبداللہ ملک)

یہ جاسوسی سرگرمیاں مرزائی جماعت کے ”مقدس کام“ کا اتنا اہم حصہ ہیں کہ نہ صرف برصغیر بلکہ پورے عالم اسلام میں اس کا جال تب سے لے کر اب تک بچھا ہوا ہے۔ اور آج بھی مشرق سے لے کر مغرب تک ایشیا افریقہ اور یورپ میں مرزائی مشن مسلمانوں کے خلاف دشمنوں کے لیے انٹیلی جنس بیورو کا کام دے رہی ہے ان سرگرمیوں اور اس کے مالی ذرائع وغیرہ کا مختصراً کچھ ذکر آئے گا۔ الغرض علامہ اقبال مرحوم کے الفاظ میں مسلمانوں کی بیداری کی ایسی تمام کوششوں کی مخالفت اس لیے کی جاتی رہی کہ ”اصل بات یہ ہے کہ قادیانی بھی مسلمانان ہند کی سیاسی بیداری سے گھبرائے ہوئے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانان ہند کے سیاسی وقار کے بڑھ جانے سے ان کا یہ مقصد فوت ہو جائے گا کہ رسول عربی کی امت میں قطع برید کر کے ہندوستانی نبی کے لیے ایک جدید امت تیار کریں۔“

(حرف اقبال ص ١٤٠، ١٤١)

١٤٤

صفحہ ٢٤٣

مسلمانوں سے دینی، سماجی، معاشرتی ہر قسم کے تعلقات و روابط کو قطعی حرام قرار دینے والے مذہب میں برصغیر کے اسلامی اداروں اور انجمنوں سے تعاون اور اشتراک کی گنجائش بھی تھی۔ کسی مرزائی نے کہا جب مسیح موعود کا مقصد صرف اشاعت اسلام تھا تو ہمیں دیگر مسلمان تحریکوں اور تنظیموں سے تعاون کرنا چاہیے۔ تو سید سرور شاہ قادیانی نے الفضل قادیان ج ٢ ص ٧٢ مورخہ ٢٠ جنوری ١٩١٥ء میں بڑی سختی سے اس کی ممانعت کی اور حلفاً کہا کہ مسیح موعود کا اپنی زندگی میں غیر احمدیوں سے کیا تعلق تھا۔ انھوں نے غیر احمدیوں سے کبھی چندہ مانگا ہرگز نہیں۔ اگر یہی احمدیت تھی تو اور لوگ جو حضرت مسیح کے زمانہ میں اشاعت اسلام کے لیے اٹھے تھے۔ ان کے لیے حضرت مسیح موعود کو خوشی کا اظہار کرنا چاہیے تھے اور آپ ان کی انجمنوں میں شریک ہوتے۔ انھیں چندہ دیتے مگر آپ نے کبھی اس طرح نہیں کیا...... کسی مسلمان یتیم اور بیوہ کے لیے چندہ کی تحریک پر میاں بشیر الدین محمود سے اجازت مانگی گئی تو کہا مسلمانوں کے ساتھ مل کر چندہ دینے کی ضرورت نہیں۔

(الفضل قادیان ج ١٠ ص ٣٥۔ ٧ دسمبر ١٩٢٢ء)

اکھنڈ بھارت

ہندو اور قادیانی دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت کا احساس

سیاسیات کے تعلق سے قادیانیوں اور انگریزوں میں تو چولی دامن کا ساتھ تھا ہی لیکن جب جدوجہد آزادی کے نتیجہ میں اور بین الاقوامی سیاسیات کی مدوجزر سے ہندوستان پر برطانوی استعمار کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی تو مرزا محمود نے جو اس وقت مرزا غلام احمد قادیانی کے خلیفہ ثانی بن چکے تھے کروٹ بدلی اور کانگرس کے ہمنوا بن گئے ادھر ہندو سیاست اور ذہنیت بھی قادیانی تحریک کو سیاسی اعتبار سے مفید مطلب پا کر اور مسلمانوں کے اندر اس کی ففتھ کالمسٹ حیثیت کو سمجھ کر اس کی حمایت اور وکالت پر اتر آئی۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے جو اپنے آپ کو برملا سوشلسٹ اور دہریہ کہتے تھے ایک ایسی جماعت کی تائید کا بیڑا اٹھایا جو اپنے آپ کو خالص مسلمان مذہبی جماعت کہنے پر مصر تھی نہرو جیسے زیرک انسان سے قادیانیوں کے در پردہ یہ سیاسی عزائم مخفی نہ رہ سکے اور انھوں نے اپنی دہریت مآبی کے باوجود ماڈرن ریویو کلکتہ میں مسلمان اور احمد ازم کے عنوان سے لگاتار تین مضمون لکھے اور ڈاکٹر اقبال مرحوم سے بحث تک نوبت آئی۔ یہ بحثیں رسالوں اور اخباروں میں شائع ہو چکی ١٤٥

صفحہ ٢٤٤

ہیں یہاں ان کے دہرانے کی ضرورت نہیں۔

الغرض اقبال نے انھیں سمجھایا کہ یہ لوگ اپنے برطانوی استعماری عزائم اور منصوبوں کی بنا پر نہ مسلمانوں کے مفید مطلب ہو سکتے ہیں نہ آپ کے، تو تب انھوں نے خاموشی اختیار کی اور جب نہرو پہلی مرتبہ انڈین نیشنل کانگریس کے لیڈر کی حیثیت سے لندن گئے تو واپسی پر انھوں نے یہ تاثر ظاہر کیا کہ جب تک اس ملک میں قادیانی فعال ہیں انگریز کے خلاف جنگ آزادی کا کامیاب ہونا مشکل ہے۔ بہر حال جب تک قادیانیت کا یہ استعماری پہلو پنڈت جواہر لال کی سمجھ میں نہ آیا۔ مسلمانوں میں مستقل پھوٹ ڈالنے کے لیے مطلوبہ صلاحیت پر پورے اترنے کے لیے ہندوؤں کی نگاہ انتخاب مسلمانوں میں سے مرزائیوں ہی پر رہی اور آج بھی قادیان کے رشتے اور اکھنڈ بھارت کے عقیدہ سے وہ انھیں جاسوسی اور تخریبی سرگرمیوں کے لیے آلہ کار بنائے ہوئے ہیں، بہر حال جب قادیانی اور ہندوؤں دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت اور اہمیت کا احساس ہوا اور آقائے برطانیہ کا بسترہ گول ہوتا ہوا محسوس ہوا تو دیکھتے ہی دیکھتے قادیان ہندو سرگرمیوں کا مرکز بن گیا اور بقول قادیانی امت کے لاہوری ترجمان پیغام صلح ٣ جون ١٩٣٦ء۔ جب ٢٩ مئی ١٩٣٦ء کو پنڈت جواہر لال نہرو لاہور آئے تو قادیانی امت نے اپنے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کے زیر ہدایت اور چوہدری ظفر اللہ کے بھائی چوہدری اسد اللہ خاں قادیانی ممبر پنجاب کونسل کے زیر قیادت ان کا پُرجوش استقبال کیا اور اس کے بعد کانگریس قادیانی گٹھ جوڑ نے مستقل حیثیت اختیار کر لی۔

قادیان کو ارض حرم اور مکہ معظمہ کی چھاتیوں کے دودھ کو خشک بنا کر اور مسلمانوں کو تکفیر کے چھرے سے ذبح کرنے کی خوشی ہندوؤں سے بڑھ کر اور کسے ہو سکتی تھی اور جس طرح یہود نے بیت المقدس سے منہ موڑ کر سامریہ کو قبلہ بنایا اسی طرح قادیانیوں نے مکہ اور مدینہ سے مسلمانوں کا رُخ قادیان کی طرف موڑنا چاہا تو اس مسجد ضرار کی تعمیر پر ہندو لیڈروں نے جی بھر کر انھیں داد دی چنانچہ ڈاکٹر شنکر داس مشہور ہندو لیڈر کا بیان اس کے لیے کافی ہے انھوں نے بندے ماترم میں لکھا:

”ہندوستانی قوم پرستوں کو اگر کوئی امید کی شعاع دکھائی دیتی ہے تو وہ احمدیت کی تحریک ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان جس قدر احمدیت کی طرف راغب ہوں گے اسی طرح قادیان کو مکہ تصور کرنے لگیں گے۔ مسلمانوں میں اگر عربی تہذیب اور پان اسلامزم کا خاتمہ کر سکتی ہے تو وہ یہی احمدی تحریک ہے جس طرح ایک ہندو کے مسلمان بن

١٣٦

صفحہ ٢٤٥

جانے پر اس کی شردھا (عقیدت) رام کرشن گیتا ..... اور رامائن سے اٹھ کر حضرت محمد ﷺ قرآن مجید اور عرب کی بھومی (ارض حرم) پر منتقل ہو جاتی ہے اسی طرح جب کوئی مسلمان احمدی بن جاتا ہے تو اس کا زاویہ نگاہ بھی بدل جاتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ سے اس کی عقیدت کم ہوتی چلی جاتی ہے اور جہاں پہلے اس کی خلافت عرب میں تھی اب وہ قادیان میں آ جاتی ہے۔

ایک احمدی خواہ وہ دنیا کے کسی گوشہ میں بھی ہو روحانی شکتی حاصل کرنے کے لیے وہ اپنا منہ قادیان کی طرف کرتا ہے۔ پس کانگریس اور ہندو مسلمانوں سے کم از کم جو کچھ چاہتی ہے کہ اس ملک کا مسلمان اگر ہر دوار نہیں تو قادیان کی یاترا کرے۔‘‘

(گاندھی جی کا اخبار بندے ماترم ٢٤ اپریل ١٩٢٤ء بحوالہ قادیانی مذہب)

اخبار پیغام صلح لاہور ج ٢٢ ص ٢٩ مورخہ ٢١ اپریل ١٩٣٥ء کے ان الفاظ سے مزید وضاحت ہو سکتی ہے کہ:

”ہندو اخبارات اور پولیٹیکل لیڈروں کے یہ خیالات ہندوستان کے مسلمانوں کو وضاحت سے بتا رہے ہیں کہ گذشتہ دنوں قادیانی ہٹلر (مرزا بشیر الدین محمود) اور کانگریس کے جواہر (جواہر لال نہرو) میں جو چہ میگوئیاں (سرگوشیاں) ہو رہی تھیں وہ اس سمجھوتہ کی بناء پر تھیں کہ محمود (خلیفہ قادیان) مسلمانوں کی اس قوت کو توڑنے کے لیے کیا کرے گا، اور کانگریس اس کے معاوضے میں کیا دے گی۔‘‘

قیام پاکستان کی مخالفت کے اسباب

قیام پاکستان سے قبل احمدیوں نے جس شد و مد سے آخر وقت تک قیام پاکستان کی مخالفت کی۔ اس کا اندازہ اگلی چند عبارات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے اس سلسلہ میں اوّلاً تو ان کی انتہائی کوشش رہی کہ انگریز کا سایہ عاطف جسے وہ رحمت خداوندی سمجھتے ہیں کسی طرح بھی ہندوستان سے نہ اٹھے اور جب برٹش سامراج کا سورج ہندوستان میں غروب ہونے لگا تو انھوں نے بجائے کسی مسلم ریاست کے قیام کے اپنا سارا وزن اکھنڈ بھارت کے حق میں ڈال دیا اور اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ تھی کہ مرزائی تحریک کو مسلمانوں کے اندر کام کے لیے جس بیس کی ضرورت ہے وہ کوئی ایسی ریاست ہو سکتی ہے جو یا تو قطعی طور پر غیر مسلم ہو یا پھر بصورت دیگر کم از کم اسلامی بھی نہ ہو، تا کہ مسلمان قوم ایک کافر حکومت کے پنجے میں بے بس ہو کر ان کی شکار گاہ اور لقمہ تر بنی رہے اور یہ اس کافر یا لادینی حکومت کے

١٤٧

صفحہ ٢٤٦

پکے وفادار بن کر اس کا شکر کرتے رہیں۔ ایک آزاد اور خود مختار مسلمان ریاست ان کے لیے بڑی سنگلاخ زمین ہے جہاں ان کے مساعی ارتداد مشکل سے برگ و بار لاسکتی ہیں اس کا کچھ اندازہ ان تحریرات سے بھی لگایا جا سکتا ہے جس میں مرزا قادیانی نے کہا :۔

”اگر ہم یہاں (سلطنت انگلشیہ) سے نکل جائیں تو نہ ہمارا مکہ میں گزارہ ہو سکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں۔

(ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ٤٦)

تبلیغ رسالت ج ششم ص ٦٩ پر لکھتے ہیں:

”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ، نہ روم، نہ شام میں، نہ ایران میں، نہ کابل میں مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لیے دعا کرتا ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)

یہ تو سوچو اگر تم اس گورنمنٹ کے سائے سے باہر نکل جاؤ تو پھر تمہارا ٹھکانا کہاں ہے؟ ہر ایک اسلامی سلطنت تمھیں قتل کرنے کے لیے دانت پیس رہی ہے کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو۔ (تبلیغ رسالت ج دہم ص ١٢٣ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٤)

الفضل ١٣ ستمبر ١٩١٤ء میں مسلمانوں کی تین بڑی سلطنتوں ٹرکی ایران اور افغانستان کی مثالیں دے کر سمجھایا گیا ہے کہ کسی بھی اسلامی سٹیٹ میں ہمیں اپنے مقاصد کی تکمیل کی کھلی چھٹی نہیں مل سکتی ایسے ممالک میں ہمارا حشر وہی ہو سکتا ہے جو ایران میں مرزا علی محمد باب اور سلطنت ٹرکی میں بہاء اللہ اور افغانستان میں مرزائی مبلغین کا ہوا۔“

ایک صاحب نے مرزا بشیر الدین محمود سے انگریزوں کی سلطنت سے ہمدردی اور اس کے لیے ہر طرح ظاہری و خفیہ تعاون کے بارہ میں یہاں تک کہ جنگ میں اپنے لوگوں کو بھرتی کروا کر مدد دینے کے بارہ میں دریافت کیا تو انھوں نے اپنے مسیح موعود کے حوالے سے کہا کہ جب تک جماعت احمدیہ نظام حکومت سنبھالنے کے قابل نہیں اس وقت تک ضروری ہے اس دیوار (انگریزوں کی حکومت) کو قائم رکھا جائے تاکہ یہ نظام کسی ایسی طاقت (مسلمان ہی مراد ہو سکتے ہیں) کے قبضہ میں نہ چلا جائے جو احمدیت کے مفادات کے لیے زیادہ مضر اور نقصان رساں ہو۔

(الفضل قادیان ٣ جنوری ١٩٤٥ء)

یہ تھے قیام پاکستان کی مخالفت کے اصل اسباب

تقسیم ہند کے مسلمان مخالف

اس میں شک نہیں کہ احمدیوں کے علاوہ کچھ مسلمان بھی تحریک پاکستان سے متفق

١٤٦

صفحہ ٢٤٧

نہ تھے مگر مذکورہ عبارات سے بخوبی واضح ہو گیا کہ مرزائیوں کی مخالفت اور بعض مسلمان عناصر کی مخالفت میں زمین و آسمان کا فرق تھا مؤخر الذکر یعنی کچھ مسلمانوں کی انفرادی مخالفت ان کے صوابدید میں مسلمانوں کے مفاد ہی کی وجہ سے تھی وہ اپنی مخالفت کے اسباب اور وجوہات بیان کرتے ہوئے تقسیم کو مسلم مفاد ...... کے حق میں نقصان رساں اور دوسرا فریق یعنی قیام پاکستان کے داعی حضرات اسے مفید سمجھتے تھے۔ گویا دونوں کو مسلمانوں کے مفاد سے اتفاق تھا۔ طریق کار کا فرق تھا یہ ایک سیاسی اختلاف تھا جو سیاسی بصیرت پر مبنی تھا۔

جنھوں نے مخالفت کی نہ تو وہ الہام کے مدعی تھے نہ کسی وحی کے نہ انھوں نے اسے مشیت الٰہی اور کسی نام نہاد نبی کی بعثت کا تقاضا سمجھ کر ایسا کیا۔ ان میں سے مذہبًا اور عقیدتًا دونوں کو اسلامی نظام عدل و انصاف اور اسلامی خلافت راشدہ پر ایمان تھا دونوں مسلمانوں ہی کی خاطر اپنے اپنے میدانوں میں سرگرم کار رہے اور بالآخر جب پاکستان بن گیا تو مخالفت کرنے والے مسلمان زعماء نے اس وقت سے لے کر اب تک اپنی ساری جدوجہد اس نوزائیدہ ریاست کے استحکام و سالمیت میں لگا دی ہے۔ مگر جہاں تک احمدیوں کا تعلق ہے ان کا تصور اکھنڈ بھارت نہ صرف سیاسی بلکہ مذہبی عقیدہ بھی تھا۔ مرزا محمود کہا کرتے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے اور یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی بعثت کا تقاضا ہے اس طرح اکھنڈ بھارت کے تصور کو الہام اور مشیت ربانی کا درجہ دے کر ہر قادیانی کو مشیت الٰہی کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کا پابند کر دیا گیا اور جن لوگوں نے (اب تک) پاکستان کی سالمیت کی خاطر اکھنڈ بھارت نہ بننے دیا خواہ وہ قائد اعظم تھے یا سیاسی زعماء عوام اور خواص مرزائیوں کے عقیدہ میں گویا سب نے مشیت الٰہی کے خلاف کام کیا۔

احمدیوں کے ہاں اکھنڈ بھارت اس لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ سمجھتے ہوئے کسی بھی مسلمان ریاست کے مقابلہ میں غیر مسلم اسٹیٹ کو مفید مقصد سمجھتے تھے آج بھی وہ پاکستان کی شکل میں ایک مسلم ریاست جس کا جغرافیائی حدود اربعہ بھی محدود ہے کے مقابلہ میں سیکولر اکھنڈ بھارت کو اپنے لیے مضبوط اور مفید سمجھتے ہیں جبکہ ان کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی کی بعض پیشگوئیوں نے اس تصور کو تقدس کا جامہ بھی پہنا دیا ہے۔

کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہونے کی کوشش

چنانچہ ٣ اپریل ٤٧ء کو چوہدری ظفر اللہ خان کے بھتیجے کے نکاح کے موقعہ پر سابق خلیفہ ربوہ مرزا بشیر الدین محمود نے ایک اپنا رؤیا بیان کیا اور اس رؤیا (خواب) کی تعبیر

صفحہ ٢٤٨

اور اس سلسلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی پیشگوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری ظفر اللہ خان کی موجودگی میں کہا۔

”حضور نے فرمایا جہاں تک میں نے ان پیشنگوئیوں پر نظر دوڑائی ہے جو مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے متعلق ہیں اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فعل پر جو مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بعثت سے وابستہ ہے غور کیا ہے۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہندوستان میں ہمیں دوسری اقوام کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہیے اور ہندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ مشارکت رکھنی چاہیے۔“

”حقیقت یہی ہے کہ ہندوستان جیسی مضبوط بیس جس قوم کو مل جائے اس کی کامیابی میں کوئی شک نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کی اس مشیت سے کہ اس نے احمدیت کے لیے اتنی وسیع بیس مہیا کی ہے۔ پتہ لگتا ہے کہ وہ سارے ہندوستان کو ایک سٹیج پر جمع کرنا چاہتا ہے اور سب کے گلے میں احمدیت کا جوا ڈالنا چاہتا ہے۔ اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں تاکہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں بے شک یہ کام بہت مشکل ہے مگر اس کے نتائج بہت شاندار ہیں اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں تاکہ احمدیت اس وسیع بیس پر ترقی کرے۔ چنانچہ اس رؤیا میں اس طرف اشارہ ہے ممکن ہے کہ عارضی طور پر کچھ افتراق ہو اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں جدا جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہو جائے بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر ہو کر رہیں۔“

(روزنامہ الفضل قادیان ٥ اپریل ١٩٤٧ء)

”میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے۔ یہ اور بات ہے کہ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضا مند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔“

(میاں مرزا محمود خلیفہ بحوالہ الفضل ١٧ مئی ١٩٤٧ء)

١٤٠

صفحہ ٢٤٩

ویٹیکن سٹیٹ کا مطالبہ

پاکستان کی حد بندی کے موقع پر غداری

جماعت احمدیہ تقسیم کی مخالف تھی لیکن جب مخالفت کے باوجود تقسیم کا اعلان ہو گیا تو احمدیوں نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ایک اور زبردست کوشش کی جس کی وجہ سے گورداسپور کا ضلع جس میں قادیان کا قصبہ واقع تھا پاکستان سے کاٹ کر بھارت میں شامل کر دیا گیا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ حد بندی کمیشن جن دنوں بھارت اور پاکستان کی حد بندی کی تفصیلات طے کر رہا تھا کانگرس اور مسلم لیگ کے نمائندے دونوں اپنے اپنے دعاوی اور دلائل پیش کر رہے تھے۔ اس موقع پر جماعت احمدیہ نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنا الگ ایک محضر نامہ پیش کیا اور اپنے لیے کانگرس اور مسلم لیگ دونوں سے الگ مؤقف اختیار کرتے ہوئے قادیان کو ویٹیکن سٹی قرار دینے کا مطالبہ کیا اس محضر نامہ میں انھوں نے اپنی تعداد اپنے علیحدہ مذہب، اپنے فوجی اور سول ملازمین کی کیفیت اور دوسری تفصیلات درج کیں۔ نتیجہ یہ ہوا، احمدیوں کا ویٹیکن سٹیٹ کا مطالبہ تو تسلیم نہ کیا گیا البتہ باؤنڈری کمیشن نے احمدیوں کے میمورنڈم سے یہ فائدہ حاصل کر لیا کہ احمدیوں کو مسلمانوں سے خارج کر کے گورداسپور کو مسلم اقلیت کا ضلع قرار دے کر اس کے اہم ترین علاقے بھارت کے حوالے کر دیے اور اس طرح نہ صرف گورداسپور کا ضلع پاکستان سے گیا بلکہ بھارت کو کشمیر ہڑپ کر لینے کی راہ مل گئی اور کشمیر پاکستان سے کٹ گیا۔

چنانچہ سید میر نور احمد سابق ڈائریکٹر تعلقات عامہ اپنی یادداشتوں ”مارشل لاء سے مارشل لاء تک“ میں اس واقعہ کو یوں تحریر کرتے ہیں۔

لیکن اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ایوارڈ پر ایک مرتبہ دستخط ہونے کے بعد ضلع فیروز پور کے متعلق جس میں ١١ اگست اور ١٧ اگست کے درمیان عرصہ میں رد و بدل کیا گیا اور ریڈ کلف سے ترمیم شدہ ایوارڈ حاصل کیا گیا۔

کیا ضلع گورداسپور کی تقسیم اس ایوارڈ میں شامل تھی جس پر ریڈ کلف نے ٨ اگست کو دستخط کیے تھے یا ایوارڈ کے اس حصہ میں بھی ماؤنٹ بیٹن نے نئی ترمیم کرائی۔ افواہ یہی

١٤١

صفحہ ٢٥٠

ہے اور ضلع فیروز پور والی فائل سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ اگر ایوارڈ کے ایک حصہ میں ناجائز طور پر ردو بدل ہوسکتا تھا تو دوسرے حصوں کے متعلق بھی یہ شبہ پیدا ہوتا ہے۔ پنجاب حد بندی کمیشن کے مسلمان ممبروں کا تاثر ریڈ کلف کے ساتھ آخری گفتگو کے بعد یہی تھا کہ گورداسپور جو بہرحال مسلم اکثریت کا ضلع تھا قطعی طور پر پاکستان کے حصے میں آ رہا ہے لیکن جب ایوارڈ کا اعلان ہوا تو نہ ضلع فیروز پور کی تحصیلیں پاکستان میں آئیں اور نہ ضلع گورداسپور (ماسوائے تحصیل شکر گڑھ) پاکستان کا حصہ بنا۔ کمیشن کے سامنے وکلاء کی بحث کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کمیشن کے سامنے کشمیر کے نقطہ نگاہ سے ضلع گورداسپور کی تحصیل پٹھان کوٹ کی اہمیت کا کوئی ذکر آیا تھا یا نہیں غالباً نہیں آیا تھا۔ کیونکہ یہ پہلو کمیشن کے نقطہ نگاہ سے قطعاً غیر متعلق تھا۔ ممکن ہے ریڈ کلف کو اس نقطے کا کوئی علم ہی نہ تھا۔ لیکن ماؤنٹ بیٹن کو معلوم تھا کہ تحصیل پٹھان کوٹ کے ادھر اُدھر ہونے سے کن امکانات کے راستے کھل سکتے ہیں۔ اور جس طرح وہ کانگرس کے حق میں ہر قسم کی بے ایمانی کرنے پر اُتر آیا تھا۔ اس کے پیش نظر یہ بات ہرگز بعید از قیاس نہیں کہ ریڈ کلف عواقب اور نتائج کو پوری طرح سمجھا ہی نہ ہو اور اس پاکستان دشمنی کی سازش میں کردار عظیم ماؤنٹ بیٹن نے ادا کیا ہو۔ ضلع گورداسپور کے سلسلے میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے اس کے متعلق چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی جو مسلم لیگ کی وکالت کر رہے تھے خود بھی ایک افسوس ناک حرکت کر چکے ہیں۔ انھوں نے جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ عام مسلمانوں سے (جن کی نمائندگی مسلم لیگ کر رہی تھی) جداگانہ حیثیت میں پیش کیا۔ جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ بے شک یہی تھا کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا پسند کرے گی لیکن جب سوال یہ تھا کہ مسلمان ایک طرف اور باقی سب دوسری طرف تو کسی جماعت کا اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کرنا مسلمانوں کی عددی قوت کو کم ثابت کرنے کے مترادف تھا اگر جماعت احمدیہ یہ حرکت نہ کرتی تب بھی ضلع گورداسپور کے متعلق شاید فیصلہ وہی ہوتا جو ہوا۔ لیکن یہ حرکت اپنی جگہ بہت عجیب تھی۔“

(روزنامہ مشرق ٣ فروری ١٩٦٤ء)

اب اس سلسلہ میں خود حد بندی کمیشن کے ایک ممبر جسٹس محمد منیر کا ایک حوالہ بھی ملاحظہ فرمائیں: ”اب ضلع گورداسپور کی طرف آیئے کیا یہ مسلم اکثریت کا علاقہ نہیں تھا۔“ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ضلع میں مسلم اکثریت بہت معمولی تھی لیکن پٹھان کوٹ تحصیل اگر بھارت میں شامل کر دی جاتی تو باقی ضلع میں مسلم اکثریت کا تناسب خود بخود بڑھ جاتا۔

صفحہ ٢٥١

مزید برآں مسلم اکثریت کی تحصیل شکر گڑھ کو تقسیم کرنے کی مجبوری کیوں پیش آئی اگر اس تحصیل کو تقسیم کرنا ضروری تھا تو دریائے راوی کی قدرتی سرحد یا اس کے ایک معاون نالے کو کیوں نہ قبول کیا گیا بلکہ اس مقام سے اس نالے کے مغربی کنارے کو سرحد قرار دیا گیا۔ جہاں یہ نالہ ریاست کشمیر سے صوبہ پنجاب میں داخل ہوتا ہے۔ کیا گورداسپور کو اس لیے بھارت میں شامل کیا گیا کہ اس وقت بھی بھارت کو کشمیر سے منسلک رکھنے کا عزم و ارادہ تھا۔

اس ضمن میں میں ایک بہت ناگوار واقعہ کا ذکر کرنے پر مجبور ہوں میرے لیے یہ بات ہمیشہ ناقابل فہم رہی ہے کہ احمدیوں نے علیحدہ نمائندگی کا کیوں اہتمام کیا۔ اگر احمدیوں کو مسلم لیگ کے موقف سے اتفاق نہ ہوتا تو ان کی طرف سے علیحدہ نمائندگی کی ضرورت ایک افسوس ناک امکان کے طور پر سمجھ میں آسکتی تھی۔ شاید وہ علیحدہ ترجمانی سے مسلم لیگ کے موقف کو تقویت پہنچانا چاہتے تھے۔ لیکن اس سلسلے میں انھوں نے شکر گڑھ کے مختلف حصوں کے لیے حقائق اور اعداد و شمار پیش کیے اس طرح احمدیوں نے یہ پہلو اہم بنا دیا کہ نالہ بھین اور نالہ بسنتر کے درمیانی علاقے غیر مسلم اکثریت میں ہیں اور اس دعوٰی کے لیے دلیل میسر کر دی کہ اگر نالہ اُجھ اور نالہ بھین کا درمیانی علاقہ بھارت کے حصہ میں آیا تو نالہ بھین اور نالہ بسنتر کا درمیانی علاقہ از خود بھارت کے حصہ میں آجائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ علاقہ ہمارے پاکستان کے حصے میں آ گیا ہے۔ لیکن گورداسپور کے متعلق احمدیوں نے اس وقت سے ہمارے لیے سخت مخمصہ پیدا کر دیا۔

(روزنامہ نوائے وقت ٧ جولائی ١٩٦٤ء)

اس معاملہ کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف قادیانی ریڈکلف کمیشن کو الگ سٹیٹ کا میمورنڈم دے رہے تھے اور دوسری طرف وہی چوہدری ظفر اللہ خاں کمیشن کے سامنے پاکستانی کیس کی وکالت کر رہے تھے جو بقول ان کے اپنی جماعت کے اس خلیفہ کو مطاعِ مطلق کہتے تھے۔ جن کا عقیدہ یہ تھا کہ اکھنڈ بھارت اللہ کی مشیت اور مسیح موعود کی بعثت کا تقاضا ہے ایک ایسے شخص کو پاکستانی وکالت سپرد کر دینا جس کا ضمیر ہی پاکستان کی حمایت گوارہ نہ کر سکے نادانی نہیں تو اور کیا تھا اور خود چوہدری ظفر اللہ کا ایسے در پردہ خیالات و مقاصد کے ہوتے ہوئے پاکستانی کیس کو ہاتھ میں لینا منافقت نہیں تو اور کیا تھا بہر حال ادھر چوہدری صاحب ریڈکلف کے سامنے پاکستانی کیس لڑ رہے تھے ادھر ان کے امیر اور مطاعِ مطلق مرزا محمود احمد نے علیحدہ میمورنڈم پیش کر دیا اس طرح یہ دو دھاری تلوار کی جنگ گورداسپور ضلع کی تین تحصیلوں کو پاکستان سے کاٹ کر بھارت جانے پر ختم ہوئی اور کشمیر کو پاکستان سے کاٹ دینے کی راہ بھی ہموار کر دی گئی۔

١٤٨٧

صفحہ ٢٥٢

سیاسی عزائم اور منصوبے

ملک دشمن سیاسی سرگرمیاں

اب ہم اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ بظاہر ایک خالص مذہبی جماعت کہلانے والی تنظیم اور تحریک کے سیاسی عزائم اور مساعی کیا ہیں۔

مرزائی حضرات بیک وقت کئی کھیل کھیلتے ہیں۔ ایک طرف مذہب اور اس کی تبلیغ کی آڑ لے کر ایک خالص مذہبی جماعت ہونے کے دعویدار ہوتے ہیں۔ دوسری طرف ان کے سیاسی عزائم اور منصوبے نہایت شدت سے اور منظم طریقے سے جاری رہتے ہیں اور اگر کہیں مسلمانوں کی اکثریت ان کے سیاسی مشاغل اور ارادوں کا محاسبہ کرے تو ایک مظلوم مذہبی اقلیت کا رونا رو کر عالمی ضمیر کو معاونت کے لیے پکارا جاتا ہے۔ حالیہ واقعات میں لندن میں بیٹھ کر چوہدری ظفر اللہ خان کا واویلا اور اس کے جواب میں مغربی دنیا کی چیخ و پکار اسی تکنیک کی واضح مثال ہے۔

مذہبی نہیں سیاسی تنظیم مذہب اور سیاست کے اس دو طرفہ ناٹک میں اصل حقیقت نگاہوں سے مستور ہو جاتی ہے اور حقائق سے بے خبر دنیا سمجھتی ہے کہ واقعی پاکستان کے ”مذہبی جنونی“ ایک بے ضرر چھوٹی سی اقلیت کو کچلنا چاہتے ہیں لیکن واقعات اور حقائق کیا ہیں اس کا اندازہ حسب ذیل چند حوالوں اور پاکستانی سیاست میں اس جماعت کے عملی کردار سے لگانا چاہیے۔ مرزا محمود احمد قادیانی نے ١٩٢٢ء میں خطبہ جمعہ کے دوران کہا تھا: ”ہمیں معلوم نہیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا چاہیے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔“ (الفضل ٢٧ فروری ٢٩ مارچ ٢٢ء)

اس سے پہلے ١٤ فروری ١٩٢٢ء کو ”الفضل“ میں خلیفہ محمود احمد کی یہ تقریر شائع ہوئی۔ ”ہم احمدی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔“

١٩٣٥ء میں کہا کہ: ”اس وقت تک کہ تمہاری بادشاہت قائم نہ ہو جائے تمھارے راستے سے یہ

١٤٤

صفحہ ٢٥٣

کاٹے ہرگز دور نہیں ہو سکتے۔“

(الفضل ٨ جولائی ١٩٣٥ء)

١٩٤٥ء میں انھوں نے اپنے سیاسی عزائم کا اظہار اس طرح کیا کہ: ”جب تک جماعت احمدیہ نظام حکومت سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتی اس وقت تک ضروری ہے کہ اس دیوار (انگریزی حکومت) کو قائم رکھا جائے۔“

(الفضل قادیان ٣ جنوری ٤٥ء)

١٩٤٥ء کے بعد حصول اقتدار کے یہ ارادے تحریروں میں عام طور پر پائے جانے لگے۔ جسٹس منیر نے بھی اپنی رپورٹ کے صفحہ ٢٠٩ پر لکھا ہے کہ: ”١٩٤٥ء سے لے کر ١٩٤٧ء کے آغاز تک ان کی (احمدیوں کی) بعض تحریروں سے منکشف ہوتا ہے کہ وہ برطانیہ کے جانشین بننے کا خواب دیکھ رہے تھے۔“

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ص ٢٠٩)

ان سیاسی عزائم سے مزید پردہ ٦٥ء میں لندن میں منعقد ہونے والے جماعت احمدیہ کے پہلے یورپی کنونشن سے اٹھ جاتا ہے جس کا افتتاح سر ظفر اللہ نے کیا روزنامہ جنگ راولپنڈی ٤ اگست ٦٥ء جلد ٧ شمارہ ٣٠٩ فرسٹ ایڈیشن میں خبر دی گئی ہے کہ: لندن ٣ اگست (نمائندہ جنگ) جماعت احمدیہ کا پہلا یورپی کنونشن جماعت کے لندن مرکز میں منعقد ہو رہا ہے جن میں تمام یورپی ممالک کے احمدیہ مشن شرکت کر رہے ہیں۔ کنونشن کا افتتاح گذشتہ روز ہیگ کے بین الاقوامی عدالت کے جج سر ظفر اللہ خان نے کیا یہ کنونشن ٧ اگست تک جاری رہے گا۔ جماعت نے مختلف ٧٥ ممالک میں اپنے مشن قائم کر لیے ہیں۔ برطانیہ میں جماعت کے ١٨ مراکز قائم ہو چکے ہیں۔ کنونشن میں شریک مندوبین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر احمدی جماعت برسراقتدار آ جائے تو امیروں پر ٹیکس لگائے جائیں اور دولت کو از سر نو تقسیم کیا جائے ساہوکاری اور سود پر پابندی لگا دی جائے اور شراب نوشی ممنوع قرار دی جائے۔

اس خبر کے خط کشیدہ الفاظ میں احمدی جماعت کے برسراقتدار آنے کی صورت میں مجوزہ اصلاحات کا ذکر ہے کیا کوئی غیر سیاسی جماعت اس قسم کے امکانات اور اصلاحات پر غور کر سکتی ہے؟

پاکستان میں قادیانی ریاست کا منصوبہ

مرزا محمود نے ٥٢ء کے شروع میں یہ اعلان کرا دیا تھا کہ: ”اگر ہم ہمت کریں اور تنظیم کے ساتھ محنت سے کام کریں تو ٥٢ء میں انقلاب

١٤٥

صفحہ ٢٥٤

برپا کر سکتے ہیں (آگے چل کر کہا) ٥٢ء کو گزرنے نہ دیجئے جب احمدیت کا رعب دشمن اس رنگ میں محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت مٹائی نہیں جاسکتی اور وہ مجبور ہو کر احمدیت کی آغوش میں آ گرے۔"

(الفضل ١٦ جنوری ٥٢ء)

واضح رہے کہ یہ اعلان ربوہ میں قادیانی فرقہ کے سیاسی فوجی اور کلیدی ملازمتوں پر فائز اہم عہدہ داروں کے اہم اجتماع اور مشورے کے بعد کرایا گیا تھا اور ابھی پندرہ ماہ گزرنے نہ پائے تھے کہ اس اعلان انقلاب کی ایک صورت فسادات پنجاب ٥٣ء کی شکل میں ظاہر ہوئی۔

اس سلسلہ میں موجودہ مرزا ناصر احمد کے اعلانات دس ہزار گھوڑوں کی تیاری اور اس طرح کے کئی منصوبے اس کثرت سے ان کے اخبارات میں آتے رہے کہ سب پر عیاں ہیں۔ سیاسی عزائم کی یہ ایک معمولی سی جھلک تھی اور قیام پاکستان کے فوراً بعد مرزائیوں کے حصول اقتدار کا رجحان ابھر کر بڑی شدت سے حسب ذیل صورتوں میں سامنے آنے لگا۔

حصول کا ذریعہ بنایا جائے۔

سر ظفر اللہ خاں کا کردار اس پروگرام اور سیاسی عزائم کے حصول کا آغاز چوہدری ظفر اللہ خاں نے اپنے دور وزارت میں بڑے زور و شور سے کیا۔ چوہدری ظفر اللہ بڑے فخر سے کہا کرتے کہ وہ چین جائیں یا امریکہ ہر جگہ مرزائیت کی تبلیغ کریں گے۔ وہ اپنی جماعت کے امیر کو مطاع مطلق سمجھتے تھے وہ نہ صرف احمدیت کو خدا کا لگایا ہوا پودا سمجھتے تھے بلکہ یہ بھی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود کو نکال دیا جائے تو اسلام کا زندہ مذہب ہونا ثابت نہیں ہو سکتا ایسے خیالات کا اظہار وہ صرف نجی مجالس بلکہ سرکاری ملازم ہوتے ہوئے احمدیت کے تبلیغی اجتماعات میں بھی برملا کیا کرتے تھے۔

(ملاحظہ ہو الفضل ٣١ مئی ٥٢ء ص ٥ ج ٢٠ نمبر ١٣٠ کراچی کے احمدی اجتماع کی تقریر)

پاکستان بننے کے بعد ایسے شخص کو جب وزارت خارجہ جیسا اہم عہدہ دیا گیا جس کی نگرانی میں تمام دنیا میں سفارت خانوں کا قیام اور پاکستان سے روابط قائم کرانے کا کام

١٤٦

صفحہ ٢٥٥

بھی تھا تو شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی مرحوم نے اس وقت کے وزیراعظم کو لکھا کہ اگر کلیدی مناصب پر ایسے لوگوں کو فائز کرنے کا یہ تلخ گھونٹ آج گلے سے اُتار لیا گیا تو آئندہ زہر کا پیالہ پینے کو تیار رہنا چاہیے۔

مگر یہ نصیحت بوجوہ کارگر نہ ہوسکی اور ہمیں زہر کا ایک پیالہ نہیں کئی کئی پیالے پینے پڑے۔ چوہدری ظفر اللہ موصوف تقسیم سے پہلے بھی اپنی سرکاری پوزیشن سے سراسر ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانی مفادات کے لیے کام کرتے رہے مگر تقسیم کے بعد اس میں بڑھ چڑھ کر اضافہ کر دیا۔ وزارتِ خارجہ کے سہارے سے انھوں نے غیر ممالک میں قادیانی تحریک کو تقویت پہنچائی اور اس وقت سے لے کر اب تک یہ لوگ پاکستان کے سفارتی ذرائع سے اپنے باطل تبلیغ کے نام پر عالمِ اسلام کے خلاف سیاسی، جاسوسی اور سامراجی مفادات حاصل کر رہے ہیں۔ ایسے قادیانی حاشیہ برداروں نے ملکی زرمبادلہ اتنی بے دردی سے ضائع کیا کہ جب بھی اس طرح کی خبریں آئیں مسلمانوں میں تشویش اور اضطراب کی لہر دوڑی اور قومی اسمبلی تک اس بارہ میں آوازیں اٹھائی گئیں۔

٥٣ء کے فسادات پنجاب کی افسوس ناک صورت ایسے مطالبات ہی کے نتیجہ میں پیدا ہوئی جس میں سوادِ اعظم نے دیگر مطالبوں کے علاوہ سر ظفر اللہ اور دیگر مرزائیوں کا کلیدی مناصب سے علیحدگی پر زور دیا گیا تھا مگر ہم ان کے بیرونی آقاؤں مغربی سامراج کے ہاتھوں اتنے بے بس ہو چکے تھے کہ سینکڑوں مسلمانوں کی شہادت کے بعد بھی ”اس وقت کے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے سر ظفر اللہ کی علیحدگی کے بارہ میں یہ قطعی رائے ظاہر کی کہ وہ اس اہم معاملہ میں کوئی کاروائی نہیں کر سکتے۔“

وزارت خارجہ جیسے اہم منصب پر فائز یہی شخص تھا جس کے افسوس ناک کردار کا ایک رخ حال ہی میں لندن میں ان کی پریس کانفرنس مورخہ ٥ جون ٧٤ء کی شکل میں سامنے آیا یہ پریس کانفرنس پاکستانی اخبارات میں آ چکی ہے۔ مغربی پریس، بی بی سی اور آکاش وانی بھارت نے اس پریس کانفرنس کے عنوان سے اسی پروپیگنڈہ کی مہم چلائی جس قسم کی مہم المیہ مشرقی پاکستان سے پہلے چلائی گئی تھی۔

بہرحال یہ ایک مثال تھی اس بات کی کہ کلیدی مناصب پر فائز ہونے کی شکل میں ان لوگوں کے ہاتھوں ملک و ملت کے مفادات کو کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے۔

صفحہ ٢٥٦

تمام محکموں اور کلیدی مناصب پر قبضہ کرنے کا منصوبہ

مرزائیوں کے ذہن میں کلیدی مناصب کی یہ اہم اور نازک پوزیشن پہلے سے موجود ہے۔ اور ان کی تحریرات، اعلانات اور سرکاری محکموں پر منظم قبضہ کرنے کے پروگرام کا واضح ثبوت مل جاتا ہے۔

مرزا محمود نے اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

”جب تک سارے محکموں میں ہمارے آدمی موجود نہ ہوں ان سے جماعت پوری طرح کام نہیں لے سکتی۔ مثلاً موٹے موٹے محکموں سے فوج ہے، پولیس ہے، ایڈمنسٹریشن ہے، ریلوے ہے، فنانس ہے، کسٹمز ہے، انجینئرنگ ہے، یہ آٹھ دس موٹے موٹے صیغے ہیں جن کے ذریعے سے جماعت اپنے حقوق محفوظ کر سکتی ہے۔ ہماری جماعت کے نوجوان فوج میں بے تحاشا جاتے ہیں اس کے نتیجے میں ہماری نسبت فوج میں دوسرے محکموں کی نسبت سے بہت زیادہ ہے اور ہم اس سے اپنے حقوق کی حفاظت کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ باقی محکمے خالی پڑے ہیں۔ بے شک آپ لوگ اپنے لڑکوں کو نوکری کرائیں لیکن وہ نوکری اس طرح کیوں نہ کرائی جائے جس سے جماعت فائدہ اٹھا سکے۔ پیسے بھی اس طرح کمائے جائیں کہ ہر صیغے میں ہمارے آدمی ہوں اور ہر جگہ ہماری آواز پہنچ سکے۔“

(خطبہ مرزا محمود احمد مندرجہ الفضل ١١ جنوری ١٩٥٢ء ص ٤ ج ٦٠ نمبر ١٠)

کلیدی مناصب کی اہمیت اور مطالبہ علیحدگی کے دلائل

اس واضح پروگرام اور منصوبوں کو دیکھ کر اور سرکاری محکموں میں مرزائیوں کا اپنی آبادی سے بدرجہا بڑھ کر قبضہ کرنے پر مسلمان بجا طور پر بے چین ہیں ان کی سابقہ روش کو دیکھ کر اگر وہ یہ مطالبہ کرتے کہ آئندہ دس سال میں ملک کے ہر محکمے میں کسی بھی مرزائی کی بھرتی بند کر دی جائے تب بھی یہ مطالبہ عین قرین انصاف تھا۔ مگر مسلمان اس سے کم تر مطالبہ یعنی قادیانیوں کو کلیدی مناصب سے ہٹانے پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔ جس کی معقولیت کی بنیاد صرف یہ مذہبی نظریہ نہیں کہ کسی اسلامی سٹیٹ میں قرآن و سنت کی واضح ہدایات کی بناء پر کسی بھی غیر مسلم کو کلیدی مناصب پر مامور نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے علاوہ یہ مطالبہ اس لیے بھی کیا جا رہا ہے کہ:

عنایات سے ناجائز فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے نام پر مسلمانوں کی ملازمتوں کے کوٹہ کا

١٤٨

صفحہ ٢٥٧

استحصال کرتے آئے ہیں۔

اقلیت نے شرح آبادی کے تناسب سے بدرجہا زیادہ ملازمتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

بھرتی کر کے اور اپنے ماتحت اکثریتی طبقہ مسلمانوں کے حقوق پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھائی۔

انتظامیہ، مالیات، منصوبہ بندی، ذرائع ابلاغ وغیرہ پر انھیں اجارہ داری حاصل ہو گئی اور ملک کی قسمت کا فیصلہ ایک مٹھی بھر غیر مسلم جماعت کے ہاتھوں میں چلا گیا۔

قادیانیت کی تبلیغ و اشاعت کے لیے استعمال کیا اور انہی ہدایات پر عمل کیا جو ان کے امام اور خلیفہ نے ٥٢ء میں انھیں دی تھیں اور کہا تھا کہ ”مرزائی ملازمین اپنے محکموں میں منظم صورت میں مرزائیت کی تبلیغ کریں۔“

(الفضل ١١ جنوری ٥٢ء ص ٤)

غداری کے مرتکب ہوتے رہے۔ اس سلسلہ میں ایئر مارشل ظفر چوہدری اور کئی دوسرے جرنیلوں کا کردار قوم اور حکومت کے سامنے آچکا ہے۔ بنگلہ دیش اور پاک بھارت جنگ کے سلسلہ میں ان لوگوں کا کردار موضوع عام خاص ہے۔

ان چند وجوہات کی بناء پر مرزائیوں کا کلیدی مناصب پر برقرار رہنا صرف مذہبی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ ملک کی اکثریت کے معاشی، سماجی، سیاسی، معاشرتی مفادات کے تحفظ اور ملک وملت کی سالمیت کا بھی تقاضا ہے۔

متوازی نظام حکومت

پاکستان بننے کے بعد قادیانی جماعت کی سیاسی تنظیم نے حکومت پاکستان کے مقابلے میں ایک متوازی نظام حکومت قائم کر لیا ہے۔ ربوہ کے مقام پر خالص قادیانیوں کی بستی آباد کر کے اس نظام حکومت کا مرکز بنا لیا گیا۔ قادیانی جماعت کا لیڈر ”امیر المؤمنین“ کہلاتا ہے جو مسلمانوں کے فرمانروا کا معین شدہ لقب ہے۔ اس امیر المؤمنین کے ماتحت ربوہ میں مرزائی سٹیٹ کی نظارتیں باقاعدہ قائم ہیں۔ نظارت امور داخلہ ہے، نظارت نشر و

١٤٩

صفحہ ٢٥٨

اشاعت ہے، نظارت امور عامہ ہے، نظارت امور مذہبی ہے۔ یہ نظارتیں کسی ریاست یا سلطنت کے نظام کے شعبوں کی طرح کام کر رہی ہیں۔ اس نظام حکومت نے خدام الاحمدیہ کے نام سے ایک فوجی نظام بھی بنا رکھا ہے۔ خدام الاحمدیہ میں ”فرقان بٹالین“ کے سابق سپاہی اور افسر شامل ہیں۔

قادیانی لیڈروں کو یقین ہے کہ اب ان کے لیے پاکستان کا حکمران بن جانا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ سابقہ خلیفہ ربوہ مرزا بشیر الدین محمود نے اپنے سالانہ جلسہ میں اعلان کیا تھا۔ ہم فتحیاب ہوں گے اور تم مجرموں کے طور پر ہمارے سامنے پیش ہو گے۔ اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابو جہل اور اس کی پارٹی کا ہوا تھا۔

بلوچستان پر قبضے کا منصوبہ

ابھی قیام پاکستان کو ایک برس بھی نہ گزرنے پایا تھا کہ ٢٣ جولائی ٤٨ء کو قادیانی خلیفہ نے کوئٹہ میں ایک خطبہ دیا جو ١٣ اگست کے الفضل میں ان الفاظ میں شائع ہوا:

”برٹش بلوچستان جو اب پاکی بلوچستان ہے۔ کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے۔ یہ آبادی اگر چہ دوسرے صوبوں کی آبادی سے کم ہے مگر بوجہ ایک یونٹ ہونے کے اسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ دنیا میں جیسے افراد کی قیمت ہوتی ہے۔ یونٹ کی بھی قیمت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کی کانسٹی ٹیوشن ہے۔ وہاں اسٹیٹس سینٹ کے لیے اپنے ممبر منتخب کرتے ہیں یہ نہیں دیکھا جا سکتا کہ کسی اسٹیٹ کی آبادی دس کروڑ ہے یا ایک کروڑ ہے۔ سب اسٹیٹس کی طرف سے برابر ممبر لیے جاتے ہیں۔ غرض پاکی بلوچستان کی آبادی ٥، ٦ لاکھ ہے اور اگر ریاستی بلوچستان کو ملا لیا جائے تو اس کی آبادی ١١ لاکھ ہے لیکن چونکہ یہ ایک یونٹ ہے اس لیے اسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ زیادہ آبادی کو تو احمدی بنانا مشکل ہے لیکن تھوڑے آدمیوں کو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلدی احمدی بنایا جاسکتا ہے۔ یاد رکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ہماری Base مضبوط نہ ہو۔ پہلے Base مضبوط ہو تو پھر تبلیغ پھیلتی ہے پس پہلے اپنی Base مضبوط کر لو کسی نہ کسی جگہ اپنی Base بنا لو کسی ملک میں ہی بنا لو اگر ہم سارے صوبے کو احمدی نہ بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے اور یہ بڑی آسانی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔“

١٥٠

صفحہ ٢٥٩

کشمیر

مرزائی حضرات جس قادیانی ریاست کا خواب دیکھتے ہیں اس کی تعبیر کے لیے انھوں نے ابتداء ہی سے کشمیر کو بھی مناسب حال سمجھا اس دلچسپی کی بعض وجوہات کو تاریخ احمدیت کے مؤلف دوست محمد شاہد نے کتاب کی جلد ششم ص ٤٢٥ تا ٤٧٩ میں ذکر بھی کیا ہے۔

دارالامان اور مکہ و مدینہ کا ہم پلہ بلکہ ان سے بھی افضل قرار دیتے ہیں۔

(الفضل ١١ دسمبر ٣٢ء تقریر مرزا محمود قادیانی حقیقۃ الرؤیا ص ٤٦ از مرزا محمود)

اور قادیان کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ مرزا غلام احمد کی پیشنگوئی کے مطابق قادیان قادیانیوں کو ضرور ملے گا، وہ اپنے چھوٹے بچوں کو ابتدائی نصاب میں یہی بات راسخ کرتے رہتے ہیں کہ:

”قادیان سے ہجرت کی حالت عارضی ہوگی آخر ایک وقت آئے گا کہ قادیان جماعت احمدیہ کو واپس مل جائے گا۔“ (راہ ایمان ٨٢ بچوں کی ابتدائی دینی معلومات کا مجموعہ)

قادیان اور جموں و کشمیر کے جغرافیائی اتصال کو برقرار رکھنے کی کوششوں سے باؤنڈری کمیشن کو احمدی میمورنڈم کی وجہ سے ضلع گورداسپور کو پاکستان سے کاٹنے اور بھارت کو کشمیر ہڑپ کر لینے کی راہ مل گئی۔

کے بقول وہاں تقریباً اسی ہزار احمدی ہیں۔

کے پیروکاروں کی بڑی تعداد وہاں آباد ہے اور جس ملک میں دو مسیحوں کا دخل ہو وہاں کی حکمرانی کا حق صرف قادیانیوں کو مل سکتا ہے۔

قادیانی کے والد بھی ان کے ساتھ تھے۔

اور خسر تھے۔ مدتوں ہی کشمیر میں رہے بہرحال جس طرح بلوچستان پر ان کی نظر افرادی آبادی کی قلت کی وجہ سے پڑی تو کشمیر پر ہر دور میں ان کی نظر کسی عام انسانی ہمدردی اور

١٥١

صفحہ ٢٦٠

مسلمانوں کی خیر خواہی کی وجہ سے نہیں بلکہ سابقہ شخصی اور عصبیتی مفادات کی وجہ سے پڑتی رہی ہے اس سلسلہ میں کشمیر کو قادیانی سٹیٹ بنانے کی پہلی سازش ١٩٣٠ء میں برطانوی آقاؤں کے اشارے پر کی گئی مرزا بشیر الدین کی کشمیر کمیٹی سے دلچسپی انھیں سیاسی عزائم کی پیداوار تھی جسے ڈاکٹر اقبال مسلمان زعما اور عام مسلمانوں کی مشترکہ کوششوں نے ناکام بنا دیا۔ اور علامہ اقبالؒ نے یہیں سے ان کے سیاسی عزائم بھانپ کر اس تحریک کا سختی سے مقابلہ شروع کیا۔‘‘

١٩٤٨ء کی جنگ کشمیر اور فرقان بٹالین

قیام پاکستان کے تیسرے مہینے اکتوبر ٤٧ء میں پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کا مطالبہ کیا اور ٤٨ء میں جنگ چھڑی تو قادیانی امت نے فرقان بٹالین کے نام سے ایک پلاٹون تیار کی جو جموں کے محاذ پر متعین کی گئی اس سے پہلے اپنی طویل تاریخ میں مرزائیوں کو مسلمانوں کے کسی ابتلاء اور مصیبت میں حصہ لینے کی توفیق نہیں ہوئی تھی مگر آج وہ آزادی کشمیر کے لیے فرقان بٹالین کے نام سے جانیں پیش کرنے لگے اس وقت پاکستان کے کمانڈر انچیف جنرل سر ڈگلس گریسی تھے جو نہ تو کشمیر کی لڑائی کے حق میں تھے نہ پاکستانی فوج کو کشمیر میں استعمال کرنا چاہتے تھے بلکہ یہاں تک ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بعض جنگی معلومات بھارت کے کمانڈر انچیف جنرل سر آکسن لیک تک پہنچاتے رہے لیکن دوسری طرف وہی انگریز کمانڈر انچیف، پبلک سے تعلق رکھنے والی ایک آزاد فورس کو اس جنگ میں کھلی اجازت دیتا ہے، انہی جنرل گریسی نے بطور کمانڈر انچیف فرقان بٹالین کو داد و تحسین کا پیغام بھی بھیجا جو تاریخ احمدیت مؤلفہ دوست محمد شاہد قادیانی ص ٦٧٤ اور نظارت دعوۃ وتبلیغ ربوہ کی شائع کردہ ٹریکٹ میں بھی ہے۔ فرقان فورس نے کشمیر کی اس جنگ کے دوران کیا خدمات انجام دیں۔ یہاں اس کی تفصیلات کی گنجائش نہیں لیکن جب اس جہاد کے بعد اس تنظیم کے کارنامے جلسوں میں زیر بحث آنے لگے اور اخبارات میں کشمیری رہنماؤں اللہ رکھا ساغر اور آفتاب احمد سیکرٹری جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے بیانات آئے اس سے اس وقت کے فوجی سربراہوں اور حکومت میں کھلبلی مچ گئی۔ سردار آفتاب احمد کا اصل بیان یہ تھا۔

’’اس فرقان بٹالین نے جو کچھ کیا اور ہندوستان کی جو خدمات سرانجام دیں۔ مسلم مجاہدین کی جوانیوں کا جس طرح سودا چکایا اگر اس پر خون کے آنسو بھی بہائے جائیں

١٥٢

صفحہ ٢٦١

تو کم ہیں جو سکیم بنتی ہندوستان پہنچ جاتی جہاں مجاہدین مورچہ بناتے دشمن کو پتہ چل جاتا، جہاں مجاہدین ٹھکانہ کرتے ہندوستان کے ہوائی جہاز پہنچ جاتے۔‘‘

(ٹریکٹ نظارت دعوت تبلیغ انجمن احمدیہ ربوہ بحوالہ ٹریکٹ کشمیر اور مرزائیت)

الفضل ٢ جنوری ١٩٥٠ء صفحہ ٤ کالم ٤ کے مطابق مرزا بشیر الدین محمود نے ان بیانات اور تقریروں پر واویلا مچایا کہ اگر ہم غدار تھے تو حکومت نے ہمیں وہاں کیوں بٹھائے رکھا اور اس طرح اس وقت کی حکومت اور جنرل گریسی کی غداری کو بھی طشت از بام کرانے کا سگنل مرزا بشیر الدین نے دے دیا۔ چنانچہ اس وقت جنرل گریسی نے ایک تو فرقان فورس کو پُر اسرار اور فوری طور پر توڑ دیا اور دوسری طرف خود جنرل گریسی نے آفتاب احمد خان کے الزام کی تردید کی ضرورت محسوس کی مگر مرزا بشیر الدین کے کہنے کے مطابق حکومت کے دباؤ سے الزام لگانے والوں نے گول مول الفاظ میں تردید کر دی مگر ایک ماہ ہوا کہ پھر وہی اعتراض شائع کر دیا۔‘‘

(ملاحظہ ہو الفضل ٢ جنوری ١٩٥٠ء ص ٤ مرزا بشیر الدین کی تقریر)

سوال یہ ہے کہ ایسے الزامات اگر غلط تھے تو اتنی جلدی میں فرقان فورس کو توڑ دینے کی ضرورت کیا تھی؟ اور یہ الزامات اگر غلط تھے تو الزام لگانے والے مدتوں برسرعام اس کو دہراتے چلے گئے مگر اس وقت کی حکومت اور کمانڈر انچیف نے اس کی عدالتی انکوائری کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی پاکستانی افواج کے ہوتے ہوئے متوازی فوج کیسے اور کیوں؟ یہ سوالات اب تک جواب طلب ہیں مگر اس وقت آفتاب احمد صاحب سیکرٹری جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے کہے گئے یہ الفاظ اب بھی حقیقت کی غمازی کر رہے ہیں کہ مرزائی ٤٠ سال سے (اور اب تو ٥٦ سال) آزاد کشمیر کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔‘‘

فرقان فورس، ایک احمدی بٹالین اور متوازی فوجی تنظیم

چنانچہ فرقان فورس اس وقت توڑ دی گئی مگر ربوہ کے متوازی حکمران یہی سمجھتے تھے کہ عوام کا حافظہ کمزور ہوتا ہے۔ حقائق بین نگاہیں بہت کم ہوتی ہیں آگے چل کر بہت جلد اسے اور شکلوں میں قائم رکھا گیا اور اب یہ فورسیں اطفال الاحمدیہ، خدام الاحمدیہ، انصار اللہ وغیرہ نیم فوجی تنظیموں کی صورت میں قائم ہیں۔ جسٹس منیر نے فسادات ٥٣ء کے تحقیقاتی رپورٹ ص ٢١١ پر فرقان فورس کی موجودگی کے علاوہ مرزائی سٹیٹ کے خود ساختہ سیکرٹریٹ کی خبر ان الفاظ میں دی ہے۔

احمدی ایک متحد و منظم جماعت ہیں ان کا صدر مقام ایک خالص احمدی قصبے میں

١٥٣

صفحہ ٢٦٢

واقع ہے جہاں ایک مرکزی تنظیم قائم ہے جس کے مختلف شعبے ہیں مثلاً شعبہ امور خارجہ، شعبہ امور داخلہ، شعبہ امور عامہ، شعبہ نشر و اشاعت یعنی وہ شعبے جو ایک باقاعدہ، سیکرٹریٹ کی تنظیم میں ہوتے ہیں۔ وہ سب یہاں موجود ہیں ان کے پاس رضا کاروں کا ایک جیش بھی ہے جس کو خدام دین کہتے ہیں فرقان بٹالین اسی جیش سے مرکب ہے اور خالص احمدی بٹالین ہے۔

(تحقیقاتی رپورٹ ص ٢١١)

٦٦ء میں اس رسوائے زمانہ فرقان فورس کو مرزائیوں نے ٦٥ء کی جنگ کی غیور پاکستانی افواج اور مجاہدین اور شہداء کے بالمقابل اس طرح پیش کیا کہ جب پاکستانی افواج کے بہادر مجاہدین کو تمغے دیے جانے لگے تو ”الفضل“ میں اس طرح کے اعلانات شائع ہونے لگے۔

”فرقان فورس میں شامل ہو کر جن قادیانیوں نے ٤٥ دن یعنی ٣١ دسمبر ٤٨ء (فائر بندی کی تاریخ) کشمیر کی لڑائی میں حصہ لیا تھا وہ اب مندرجہ ذیل نمونہ کی رسید بنا کر اس پر دستخط ثبت کر کے مقامی قادیانی جماعت کے امیر کے دستخط کروا کر ملک محمد رفیق دارالصدر غربی بی ربوہ کو بھجوا دیں جس افسر کو ایڈریس کرنا ہے وہ جگہ خالی چھوڑ دی جائے یہ رسیدیں ربوہ سے راولپنڈی جائیں گی راولپنڈی سے ان لوگوں کے کشمیر میڈل ربوہ آئیں گے اور اس کی اطلاع ”الفضل“ میں شائع ہو گی اور پھر یہ میڈل ربوہ میں ان قادیانیوں کو تقسیم کیے جائیں گے۔

(٢٣ مارچ ١٩٦٦ء ”الفضل“)

١٩٦٥ء میں یتیم ہونے والے بچوں اجڑنے والے سہاگوں کے مقابلہ میں کشمیر میڈل کا قصہ چھیڑنا کیا ٦٥ء کے شہیدوں اور ان کی قربانیوں سے مذاق نہیں تھا؟

مجاہدین ٦٥ء کے مقابلہ میں ١٨ برس بعد فرقان فورس کے قادیانیوں کو کشمیر میڈل ملنے کا قصہ؟ اس خطرناک سکینڈل سے پردہ اٹھانا۔ انٹیلی جنس بیورو کا کام ہے۔ ہم محکمہ دفاع کی نزاکت اور تقدس ملحوظ رکھتے ہوئے اس کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتے۔ کشمیر کے سلسلہ میں فرقان فورس کا یہ تو ضمنی ذکر تھا اصل مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں بظاہر یہ معمولی باتیں بھی قابل غور ہیں کہ پاک بھارت جنگ کے ہر موقع پر کشمیر و قادیان سے ملحق سرحدات کی کمان عموماً قادیانی جرنیلوں ہی کے ہاتھ میں کیوں رہتی ہے۔ ٦٥ء کی جنگ سے پہلے اور اس کے بعد بھی صدر ایوب کے دور میں سر ظفر اللہ قادیانی اور دوسرے مرزائی عمائدین کی طرف سے کشمیر پر چڑھائی اور اس کے لیے موزوں وقت کی نشاندہی کے پیغامات اور فتح کشمیر کی بشارتیں کیوں دی جاتی رہیں؟

١٥٤

صفحہ ٢٦٣

سے غداری کی۔

روح کا کام دیتا ہے مگر جو جماعت جہاد پر ایمان نہیں رکھتی وہ پاکستان کی افواج میں مقتدر حیثیت اختیار کرتی گئی اور نتیجۃً پاک و بھارت جنگ کے ہر موقعہ پر انھوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی سے گریز کیا۔ حالیہ صمدانی ٹربیونل میں قادیانی گواہ مرزا عبد السمیع وغیرہ کی تصریح آچکی ہے کہ وہ ٦٥ء کی جنگ کو جہاد تسلیم نہیں کرتے۔

حصہ ہے جس کے بہت سے حقائق اپنے وقت پر پیش کیے جاسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں سر ظفر اللہ کی جنگ کے ایام میں یحییٰ اور مجیب کے درمیان تگ و دو بے معنی نہ تھی۔

تھے۔ جس کا ثبوت عدالت سے ہوچکا ہے۔

مرزائی ریشہ دوانیوں کے نتیجہ میں ٥٣ء میں ملک کو پہلی بار مارشل لاء کی لعنت کا سامنا کرنا پڑا۔

خلاصہ کلام ان واضح شواہد پر مبنی تفصیلات کو پڑھ کر مرزائیت کے سیاسی اور شرعی وجود کے متعلق کوئی غلط فہمی باقی نہیں رہتی۔ ہر حوالہ اپنی جگہ مکمل اور اس کے عزائم و مقاصد کی صحیح تصویر پیش کرتا ہے۔ یہی وجوہ ہیں جن کی بنا پر مسلمانوں کے تمام فرقوں نے متفقہ طور پر مرزائیت کو اسلام کا باغی اور ان کے پیروؤں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ اس تحریک کے احوال و نتائج اور آثار و مظاہر تمام مسلمانوں کے علم میں ہیں۔

مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ نیا نہیں بلکہ علامہ اقبال نے پاکستان بننے سے کہیں پہلے انگریزی حکومت کو خطاب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ :

”ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو پھر سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل ہونے کے لیے کیوں مضطرب ہیں؟ ملت اسلامیہ کو اس مطالبے کا پورا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی

١٥٥

صفحہ ٢٦٤

علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔“

(سٹیٹسمین کے نام خط ١٠ جون ١٩٣٥ء)

علامہ اقبال نے حکومت کے طرزِ عمل کو جھنجھوڑتے ہوئے مزید فرمایا تھا: ”اگر حکومت کے لیے یہ گروہ مفید ہے تو وہ اس خدمت کا صلہ دینے کی پوری طرح مجاز ہے لیکن اس ملت کے لیے اسے نظر انداز کرنا مشکل ہے جس کا اجتماعی وجود اس کے باعث خطرہ میں ہے۔“

ان شواہد و نظائر کے پیشِ نظر آپ حضرات سے یہ گزارش کرنا ہم اپنا قومی وملی فرض سمجھتے ہیں کہ یورپی سامراج کے اس ففتھ کالم کی سرگرمیوں پر نہ صرف کڑی نگاہ رکھی جائے بلکہ اس جماعت کو پاکستان میں اقلیت قرار دے کر بلحاظ آبادی ان کے حدود و حقوق متعین کیے جائیں۔ ورنہ مرزائی استعماری طاقتوں کی بدولت ملک وملت کے لیے مستقلاً خطرہ بنے رہیں گے اور خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ملک وملت کو ایک ایسے سانحہ سے دوچار ہونا پڑے، جو سانحہ کہ آج ملت اسلامیہ عربیہ کی حیات اجتماعی کے لیے اسرائیلی سرطان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

آخری دردمندانہ گزارش

معزز اراکین اسمبلی ! ہر چند اختصار کو مدنظر رکھنے کے باوجود مرزائیت کے بارے میں ہماری گزارشات کچھ طویل ہو گئیں لیکن امتِ اسلامیہ پر مرزائیت کی ستم رانیوں کی داستان اس قدر طویل ہے کہ دو سو صفحات سیاہ کرنے کے باوجود ہمیں بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ اس موضوع سے متعلق جتنی اہم باتیں معزز اراکین کے سامنے پیش کرنی ضروری تھیں۔ ان کا بہت بڑا حصہ ابھی باقی ہے۔ ملتِ اسلامیہ تقریباً نوے سال سے مرزائیت کے ستم سہہ رہی ہے۔ اس مذہب کی طرف سے اسلام کے نام پر اسلام کی جڑیں کاٹنے کی جو طویل مہم جاری ہے، اس کی ایک معمولی سی جھلک پچھلے صفحات میں آپ کے سامنے آ چکی ہے۔ اسلام کے بنیادی عقائد کی دھجیاں بکھیری گئی ہیں، قرآنی آیات کے ساتھ کھلم کھلا مذاق کیا گیا ہے۔ احادیثِ نبوی ﷺ کو کھلونا بنایا گیا ہے، انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرامؓ کے مقدس گروہ، اہلِ بیت عظامؓ اور اسلام کی جلیل القدر شخصیتوں پر اعلانیہ کیچڑ اچھالا گیا ہے۔ اسلامی شعائر کی برملا توہین کی گئی ہے، انتہا یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی جیسے بدکردار کو اس رحمۃ للعالمین ﷺ کے ”پہلو بہ پہلو“ کھڑا کرنے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے جس کے مقام عظمت و رفعت کے آگے فرشتوں کا سر نیاز بھی خم ہے۔ جس کے نامِ نامی

١٥٦

صفحہ ٢٦٥

سے انسانیت کا بھرم قائم ہے اور جس کے دامن رحمت کی فیاضیوں کے آگے مشرق ومغرب کی حدود بے معنی ہیں ۔

مرزائیت اسی رحمۃ للعالمین ﷺ کے شیدائیوں کے خلاف نوے سال سے سازشوں میں مصروف ہے، اس نے ہمیشہ اسلام کا روپ دھار کر امت مسلمہ کی پشت میں خنجر گھونپنے اور دشمنانِ اسلام کے عزائم کو اندرونی اڈے فراہم کرنے کی کوشش کی ہے، اس نے عالم اسلام کے مختلف حصوں میں فرزندانِ توحید کے قتلِ عام اور مسلم خواتین کی بے حرمتی پر گھی کے چراغ جلائے ہیں اور اس نے اپنے آپ کو امت مسلمہ کا ایک حصہ ظاہر کر کے اسلام دشمنوں کی وہ خدمات انجام دی ہیں جو اس کے کھلم کھلا دشمن انجام نہیں دے سکتے تھے۔

ملت مسلمہ نوے سال سے مرزائیت کے یہ مظالم جھیل رہی ہے، انہی مظالم کی بنا پر تمام مسلمانوں اور مصورِ پاکستان علامہ اقبال مرحوم نے اپنے زمانے کی انگریز حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ مرزائی مذہب کے متبعین کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر انھیں مسلمانوں کے جسدِ ملی سے علیحدہ کر دیا جائے، لیکن وہ ایک ایسی حکومت کے دور میں پیدا ہوئے تھے۔ جس نے مرزائیت کا پودا خود کاشت کیا تھا اور جس نے ہمیشہ اپنے مفادات کی خاطر مرزائیت کی پیٹھ تھپکنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی تھی۔ لہٰذا پوری ملت اسلامیہ اور خاص طور سے علامہ اقبال کی درد میں ڈوبی ہوئی فریادیں ہمیشہ حکومت کے ایوانوں سے ٹکرا کر رہ گئیں۔ مسلمان بے دست و پا تھے، اس لیے وہ مرزائیت کے مظالم سہنے کے سوا کچھ نہ کر سکے۔

آج اسی مصورِ پاکستان کے خوابوں کی تعبیر پاکستان کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ یہاں ہم کسی بیرونی حکومت کے ماتحت نہیں تھے لیکن افسوس ہے کہ ستائیس سال گزرنے کے بعد بھی ہم ملت اسلامیہ کی اس ناگزیر ضرورت، اس کے دیرینہ مطالبے اور حق و انصاف کے اس تقاضے کو پورا نہیں کر سکے اور اس عرصہ میں مرزائیت کے ہاتھوں سینکڑوں مزید زخم کھا چکے ہیں۔

معزز اراکینِ اسمبلی! اب ایک طویل انتظار کے بعد یہ اہم مسئلہ آپ حضرات کے سپرد ہوا ہے اور صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ پورے عالم اسلام کی نگاہیں آپ کی طرف لگی ہوئی ہیں، پوری مسلم دنیا آپ کی طرف دیکھ رہی ہے اور ان خلد آشیاں مسلمانوں کی روحیں آپ کے فیصلے کی منتظر ہیں، جنھوں نے غلامی کی تاریک رات میں مرزائیت کے بچھائے ہوئے کانٹوں پر جان دے دی تھی جو حق و انصاف کے لیے پکارتے رہے مگر ان کی شنوائی نہ ہو سکی اور جو ستائیس سال سے اس مسلم ریاست کی طرف دیکھ رہے ہیں جو آزادی

١٥٧

صفحہ ٢٦٦

کے خوابوں کی تعبیر ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوئی ہے اور جو دو سو سالہ غلامی کے بعد مسلمانوں کی پناہ گاہ کے طور پر حاصل کی گئی ہے۔

معزز اراکین! مسلمان کسی پر ظلم کرنا نہیں چاہتے۔ مسلمانوں کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ اس مرزائی ملت کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے جس نے اسلام سے کھلم کھلا خود علیحدگی اختیار کی ہے جس نے اسلام کے مسلمہ عقائد کو جھٹلایا ہے، جس نے ستر کروڑ مسلمانوں کو برملا کافر کہا ہے اور جس نے خود عملاً اپنے آپ کو ملت اسلامیہ سے کاٹ لیا ہے۔ ان کی عبادت گاہیں مسلمانوں سے الگ ہیں۔ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان شادی بیاہ کے رشتے دونوں طرف سے ناجائز سمجھے جاتے ہیں اور عدالتیں ایسے رشتوں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہیں۔ مسلمان مرزائیوں کے اور مرزائی مسلمانوں کے جنازوں میں شرکت جائز نہیں سمجھتے اور ان کے آپس میں ہم مذہبوں کے سے تمام رشتے کٹ چکے ہیں۔ لہٰذا اسمبلی کی طرف سے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا اقدام کوئی اچنبھا یا مصنوعی اقدام نہیں ہوگا، بلکہ یہ ایک ظاہر و باہر حقیقت کا سرکاری سطح پر اعتراف ہوگا جو پہلے ہی عالم اسلام میں اپنے آپ کو منوا چکی ہے۔ پچھلے صفحات میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تجویز کوئی ایسی تجویز نہیں ہے جو کسی شخصی عداوت یا سیاسی لڑائی نے وقتی طور پر کھڑی کر دی ہو، بلکہ یہ قرآن کریم کی بیسیوں آیات کا، خاتم الانبیاء ﷺ کے سینکڑوں ارشادات کا، امت کے تمام صحابہ و تابعین اور فقہاء و محدثین کا، تاریخ اسلام کی تمام عدالتوں اور حکومتوں کا، مذاہب عالم کی پوری تاریخ کا، دنیا کے موجودہ ستر کروڑ مسلمانوں کا، پاکستان کے ابتدائی مصوروں کا، خود مرزائی پیشواؤں کے اقراری بیانات کا اور ان کے نوے سالہ طرز عمل کا فیصلہ ہے اور اس کا انکار عین دوپہر کے وقت سورج کے وجود کا انکار ہے۔

چونکہ مرزائی جماعتیں اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے امت مسلمہ کے مفادات کے خلاف کارروائیوں میں مصروف رہتی ہیں اس لیے ان کے اور مسلمانوں کے درمیان اس وقت منافرت و عداوت کی ایسی فضا قائم ہے جو دوسرے اہل مذاہب کے ساتھ نہیں ہے۔ اس صورت حال کا اس کے سوا کوئی حل نہیں ہے، کہ مرزائیوں کو سرکاری سطح پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔ اس کے بعد دوسری اقلیتوں کی طرح مرزائیوں کے جان و مال کی حفاظت بھی مسلمانوں کی ذمہ داری ہوگی۔ مسلمانوں نے اپنے ملک کے غیر مسلم باشندوں کے ساتھ ہمیشہ انتہائی فیاضی اور رواداری کا سلوک کیا ہے، لہٰذا مرزائیوں کو سرکاری سطح پر غیر

٥١

صفحہ ٢٦٧

مسلم اقلیت قرار دینے کے بعد ملک میں ان کے جان مال کا تحفظ زیادہ ہوگا اور منافرت کی وہ آگ جو وقفے وقفے سے بھڑک اٹھتی ہے ملک کی سالمیت کے لیے کبھی خطرہ نہیں بن سکے گی۔

لہٰذا ہم آپ سے اللہ کے نام پر، شافع محشر ﷺ کی ناموس کے نام پر، قرآن و سنت اور امت اسلامیہ کے اجماع کے نام پر، حق وانصاف اور دیانت وصداقت کے نام پر، دنیا کے ستر کروڑ مسلمانوں ١؎ کے نام پر، یہ اپیل کرتے ہیں کہ ملت اسلامیہ کے اس مطالبے کو پورا کرنے میں کسی قسم کے دباؤ سے متاثر نہ ہوں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی حاصل کرنے کی فکر کریں جن کی شفاعت میدان حشر میں ہمارا آخری سہارا ہے۔

اگر ہم نے اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہ کیا تو ملت اسلامیہ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اقتدار و اختیار ڈھل جاتا ہے لیکن غلط فیصلوں کا داغ موت کے بعد تک نہیں مٹتا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح فیصلہ کی توفیق دے۔

(محرکین قرارداد)

١؎ بلکہ اب ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے نام پر۔

١٥٩

صفحہ ٢٦٨

٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو مسئلہ ختم نبوت پر

پاکستان قومی اسمبلی کا متفقہ فیصلہ

ان صفحات میں خصوصی کمیٹی کی قرارداد کا متن، آئین میں ترمیم کا بل اور وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر کا متن دیا جا رہا ہے جو انھوں نے ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو اس وقت کی، جبکہ پارلیمنٹ نے ختم نبوت کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے قانون پاس کیا۔

قرارداد

قومی اسمبلی کے کل ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی متفقہ طور پر طے کرتی ہے کہ حسب ذیل سفارشات قومی اسمبلی کو غور اور منظوری کے لیے بھیجی جائیں۔

کل ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی اپنی رہنما کمیٹی اور ذیلی کمیٹی کی طرف سے اس کے سامنے پیش یا قومی اسمبلی کی طرف سے اس کو بھیجی گئی قراردادوں پر غور کرنے اور دستاویزات کا مطالعہ کرنے اور گواہوں بشمول سربراہان انجمن احمدیہ، ربوہ اور انجمن احمدیہ اشاعت الاسلام، لاہور کی شہادتوں اور جرح پر غور کرنے کے بعد متفقہ طور پر قومی اسمبلی کو حسب ذیل سفارشات پیش کرتی ہے۔

آپ کو احمدی کہتے ہیں) کا ذکر کیا جائے۔

بالا سفارشات کے نفاذ کے لیے خصوصی کمیٹی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور شدہ مسودہ قانون منسلک ہے۔

تشریح:۔ کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ ٢٦٠ کی شق (٣) کی تصریحات کے مطابق محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے وہ دفعہ ہٰذا کے تحت مستوجب سزا ہوگا۔

١٦٠

صفحہ ٢٦٩

١٩٧٤ء میں مجوزہ قانونی اور ضابطہ کی ترمیمات کی جائیں۔

و مال، آزادی، عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کیلئے اسلامی جمہوریہ

پاکستان میں مزید ترمیم کرنے کے لیے ایک بل

ہرگاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازیں درج اغراض کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔

لہٰذا بذریعہ ہٰذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔

گا۔ (٢) یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔

آئین کہا جائے گا، دفعہ ١٠٦ کی شق (٣) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین ”اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں)“ درج کیے جائیں گے۔

نئی شق درج کی جائے گی، یعنی

”(٣) جو شخص محمد ﷺ، جو آخری نبی ہیں، کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے، وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لیے مسلمان نہیں ہے۔“

بیان اغراض و وجوہ

جیسا کہ تمام ایوان کی خصوصی کمیٹی کی سفارش کے مطابق قومی اسمبلی میں طے پایا ہے، اس بل کا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اس طرح ترمیم کرنا ہے تاکہ ہر وہ شخص جو محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے، اسے غیر مسلم قرار دیا جائے۔ عبدالحفیظ پیرزادہ، وزیر انچارج

١٦١

صفحہ ٢٧٠

وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر

جناب ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم پاکستان کی اس تقریر کا متن جو انھوں نے قومی اسمبلی میں ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو کی تھی۔

جناب اسپیکر! میں جب یہ کہتا ہوں کہ یہ فیصلہ پورے ایوان کا فیصلہ ہے تو اس سے میرا مقصد یہ نہیں کہ میں کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے اس بات پر زور دے رہا ہوں۔ ہم نے اس مسئلے پر ایوان کے تمام ممبروں سے تفصیلی طور پر تبادلہ خیال کیا ہے، جن میں تمام پارٹیوں کے اور ہر طبقہ خیال کے نمائندے موجود تھے۔ آج کے روز جو فیصلہ ہوا ہے، یہ ایک قومی فیصلہ ہے، یہ پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے مسلمانوں کے ارادے، خواہشات اور ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ فقط حکومت ہی اس فیصلے کی تحسین کی مستحق قرار پائے۔ اور نہ ہی میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی ایک فرد اس فیصلے کی تعریف و تحسین کا حقدار بنے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ یہ مشکل فیصلہ، بلکہ میری ناچیز رائے میں کئی پہلوؤں سے بہت ہی مشکل فیصلہ، جمہوری اداروں اور جمہوری حکومت کے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا۔

یہ ایک پرانا مسئلہ ہے۔ نوے سال پرانا مسئلہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا۔ اس سے ہمارے معاشرے میں تلخیاں اور تفرقے پیدا ہوئے لیکن آج کے دن تک اس مسئلے کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جاسکا۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ ماضی میں بھی پیدا ہوا تھا، ایک بار نہیں، بلکہ کئی بار، ہمیں بتایا گیا کہ ماضی میں اس مسئلے پر جس طرح قابو پایا گیا تھا، اسی طرح اب کی بار بھی ویسے ہی اقدامات سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اس سے پہلے کیا کچھ کیا گیا، لیکن مجھے معلوم ہے کہ ١٩٥٣ء میں کیا گیا تھا۔ ١٩٥٣ء میں اس مسئلے کے حل کے لیے وحشیانہ طور پر طاقت کا استعمال کیا گیا تھا جو اس مسئلے کے حل کے لیے نہیں، بلکہ اس مسئلے کو دبا دینے کے لیے تھا۔ کسی مسئلے کو دبا دینے سے اس کا حل نہیں نکلتا۔ اگر کچھ صاحبان عقل و

١٦٢

صفحہ ٢٧١

فہم حکومت کو یہ مشورہ دیتے کہ عوام پر تشدد کر کے اس مسئلہ کو حل کیا جائے، اور عوام کے جذبات اور ان کی خواہشات کو کچل دیا جائے، تو شاید اس صورت میں ایک عارضی حل نکل آتا، لیکن یہ مسئلے کا صحیح اور درست حل نہ ہوتا۔ مسئلہ دب تو جاتا، اور پس منظر میں چلا جاتا، لیکن یہ مسئلہ ختم نہ ہوتا۔

ہماری موجودہ مساعی کا مقصد یہ رہا ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے اور میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ ہم نے صحیح اور درست حل تلاش کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی یہ درست ہے کہ لوگوں کے جذبات مشتعل ہوئے، غیر معمولی احساسات ابھرے۔ قانون اور امن کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ جائیداد اور جانوں کا اتلاف ہوا۔ پریشانی کے لمحات...... بھی آئے۔ تمام قوم گذشتہ تین ماہ سے تشویش کے عالم میں رہی اور اس پر کشمکش اور بیم و رجا کے عالم میں رہی۔ طرح طرح کی افواہیں کثرت سے پھیلائی گئیں اور تقریریں کی گئیں، مسجدوں اور گلیوں میں بھی تقریروں کا سلسلہ جاری رہا۔ میں یہاں اور اس وقت یہ دہرانا نہیں چاہتا کہ ٢٢ اور ٢٩ مئی کو کیا ہوا تھا۔ میں موجودہ مسئلے کی وجوہات کے بارے میں بھی کچھ کہنا نہیں چاہتا کہ یہ مسئلہ کس طرح رونما ہوا اور کس طرح اس نے جنگل کی آگ کی طرح تمام ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میرے لیے اس وقت یہ مناسب نہیں کہ میں موجودہ معاملات کی تہ تک جاؤں، لیکن میں اجازت چاہتا ہوں کہ اس معزز ایوان کی توجہ اس تقریر کی طرف دلاؤں جو میں نے قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے ١٣ جون کو کی تھی۔

اس تقریر میں، میں نے پاکستان کے عوام سے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ یہ مسئلہ بنیادی اور اصولی طور پر مذہبی مسئلہ ہے۔ پاکستان کی بنیاد اسلام پر ہے۔ پاکستان مسلمانوں کے لیے وجود میں آیا تھا۔ اگر کوئی ایسا فیصلہ کر لیا جاتا، جسے اس ملک کے مسلمانوں کی اکثریت، اسلام کی تعلیمات اور اعتقادات کے خلاف سمجھتی تو اس سے پاکستان کی علت غائی اور اس کے تصور کو بھی ٹھیس لگنے کا اندیشہ تھا۔ چونکہ یہ مسئلہ خالص مذہبی مسئلہ تھا۔ اس لیے میری حکومت کے لیے یا ایک فرد کی حیثیت میں میرے لیے مناسب نہ تھا کہ اس پر ١٣ جون کو کوئی فیصلہ دیا جاتا۔

لاہور میں مجھے کئی ایک ایسے لوگ ملے جو اس مسئلے کے باعث مشتعل تھے۔ وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ آپ آج ہی، ابھی ابھی اور یہیں وہ اعلان کیوں نہیں کر دیتے جو کہ پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت چاہتی ہے۔ ان لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ یہ اعلان کر دیں تو اس سے آپ کی حکومت کو بڑی داد و تحسین ملے گی اور آپ کو ایک فرد کے طور پر

١٦٣

صفحہ ٢٧٢

نہایت شاندار شہرت اور ناموری حاصل ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ نے عوام کی خواہشات کو پورا کرنے کا یہ موقع گنوا دیا تو آپ اپنی زندگی کے ایک سنہری موقعے سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ میں نے اپنے ان احباب سے کہا کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور بسیط مسئلہ ہے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو نوے سال سے پریشان کر رکھا ہے اور پاکستان بننے کے ساتھ ہی یہ پاکستان کے مسلمانوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنا ہے۔ میرے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ میں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا، اور کوئی فیصلہ کر دیتا۔ میں نے ان اصحاب سے کہا کہ ہم نے پاکستان میں جمہوریت کو بحال اور قائم کیا ہے۔ پاکستان کی ایک قومی اسمبلی موجود ہے جو ملکی مسائل پر بحث کرنے کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ میری ناچیز رائے میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے قومی اسمبلی ہی مناسب جگہ ہے اور اکثریتی پارٹی کے رہنما ہونے کی حیثیت میں میں قومی اسمبلی کے ممبروں پر کسی طرح کا دباؤ نہیں ڈالوں گا۔ میں اس مسئلے کے حل کو قومی اسمبلی کے ممبروں کے ضمیر پر چھوڑتا ہوں، اور ان میں میری پارٹی کے ممبر بھی شامل ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر میری اس بات کی تصدیق کریں گے کہ جہاں میں نے کئی ایک مواقع پر انھیں بلا کر اپنی پارٹی کے موقف سے آگاہ کیا، وہاں اس مسئلے پر میں نے اپنی پارٹی کے ایک ممبر پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی۔ سوائے ایک موقع کے جبکہ اس مسئلے پر کھلی بحث ہوئی تھی۔

جناب اسپیکر ! میں آپ کو یہ بتانا مناسب نہیں سمجھتا کہ اس مسئلے کے باعث اکثر میں پریشان رہا اور راتوں کو مجھے نیند نہیں آئی۔ اس مسئلے پر جو فیصلہ ہوا ہے، میں اس کے نتائج سے بخوبی واقف ہوں۔ مجھے اس فیصلے کے سیاسی اور معاشی ردعمل اور اس کی پیچیدگیوں کا علم ہے، جس کا اثر، مملکت کے تحفظ پر ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے، لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا۔ پاکستان وہ ملک ہے جو برصغیر کے مسلمانوں کی اس خواہش پر وجود میں آیا کہ وہ اپنے لیے ایک علیحدہ مملکت چاہتے تھے۔ اس ملک کے باشندوں کی اکثریت کا مذہب اسلام ہے۔ میں اس فیصلے کو جمہوری طریقے سے نافذ کرنے میں اپنے کسی بھی اصول کی خلاف ورزی نہیں کر رہا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا پہلا اصول یہ ہے کہ اسلام ہمارا دین ہے۔ اسلام کی خدمت ہماری پارٹی کے لیے اولین اہمیت رکھتی ہے۔ ہمارا دوسرا اصول یہ ہے کہ جمہوریت ہماری پالیسی ہے چنانچہ ہمارے لیے فقط یہی درست راستہ تھا کہ ہم اس مسئلے کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کرتے۔ اس کے ساتھ ہی میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپنی پارٹی کے اس اصول کی بھی پوری طرح سے پابندی کریں گے کہ پاکستان کی

١٦٤

صفحہ ٢٧٣

معیشت کی بنیاد سوشلزم پر ہو۔ ہم سوشلسٹ اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ جو کیا گیا ہے، اس فیصلے میں ہم نے اپنے کسی بھی اصول سے انحراف نہیں کیا۔ ہم اپنی پارٹی کے تین اصولوں پر مکمل طور سے پابند رہے ہیں۔ میں نے کئی بار کہا ہے کہ اسلام کے بنیادی اور اعلیٰ ترین اصول، سماجی انصاف کے خلاف نہیں اور سوشلزم کے ذریعے معاشی استحصال کو ختم کرنے کے بھی خلاف نہیں ہیں۔

یہ فیصلہ مذہبی بھی ہے اور غیر مذہبی بھی۔ مذہبی اس لحاظ سے کہ یہ فیصلہ ان مسلمانوں کو متاثر کرتا ہے جو پاکستان میں اکثریت میں ہیں اور غیر مذہبی اس لحاظ سے کہ ہم دورِ جدید میں رہتے بستے ہیں۔ ہمارا آئین کسی مذہب وملت کے خلاف نہیں بلکہ ہم نے پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق دیے ہیں۔ ہر پاکستانی کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ فخر و اعتماد سے بغیر کسی خوف کے اپنے مذہبی عقائد کا اظہار کر سکے۔ پاکستان کے آئین میں پاکستانی شہریوں کو اس امر کی ضمانت دی گئی ہے۔ میری حکومت کے لیے اب یہ بات بہت اہم ہو گئی ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔ یہ نہایت ضروری ہے اور میں اس بات میں کوئی ابہام کی گنجائش نہیں رکھنا چاہتا۔ پاکستان کے شہریوں کے حقوق کی حفاظت ہمارا اخلاقی اور مقدس اسلامی فرض ہے۔

جناب اسپیکر! میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں اور اس ایوان کے باہر کے ہر شخص کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ فرض پوری طرح اور مکمل طور پر ادا کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسی شخص کے ذہن میں شبہ نہیں رہنا چاہیے۔ ہم کسی قسم کی غارتگری اور تہذیب سوزی یا کسی پاکستانی طبقے یا شہری کی توہین اور بے عزتی برداشت نہیں کریں گے۔

جناب اسپیکر! گزشتہ تین مہینوں کے دوران اور اس بڑے بحران کے عرصے میں کچھ گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ کئی لوگوں کو جیل میں بھیجا گیا اور چند اور اقدامات کیے گئے۔ یہ بھی ہمارا فرض تھا۔ ہم اس ملک پر بدنظمی کا اور نزاعی عناصر کا غلبہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ جو ہمارے فرائض تھے، ان کے تحت ہمیں یہ سب کچھ کرنا پڑا۔ لیکن میں اس موقعے پر جبکہ تمام ایوان نے متفقہ طور سے ایک اہم فیصلہ کر لیا ہے، آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم ہر معاملے پر فوری اور جلد از جلد غور کریں گے، اور جب کہ اس مسئلے کا باب بند ہو چکا ہے، ہمارے لیے یہ ممکن ہوگا کہ ان سے نرمی کا برتاؤ کریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ مناسب وقت کے اندر اندر کچھ ایسے افراد سے نرمی برتی جائے گی اور انھیں رہا کر دیا جائے گا جنھوں نے ١٦٥

صفحہ ٢٧٤

اس عرصہ میں اشتعال انگیزی سے کام لیا یا کوئی اور مسئلہ پیدا کیا۔

جناب اسپیکر ! جیسا کہ میں نے کہا ہمیں امید کرنی چاہیے کہ ہم نے اس مسئلے کا باب بند کر دیا ہے۔ یہ میری کامیابی نہیں، یہ حکومت کی بھی کامیابی نہیں، یہ کامیابی پاکستان کے عوام کی کامیابی ہے جس میں ہم بھی شریک ہیں۔ میں سارے ایوان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، مجھے احساس ہے کہ یہ فیصلہ متفقہ طور پر نہ کیا جا سکتا اگر تمام ایوان کی جانب سے اور اس میں تمام پارٹیوں کی جانب سے تعاون اور مفاہمت کا جذبہ نہ ہوتا۔ آئین سازی کے موقع کے وقت بھی ہم میں تعاون اور سمجھوتے کا یہ جذبہ موجود تھا۔ آئین ہمارے ملک کا بنیادی قانون ہے۔ اس آئین کے بنانے میں ستائیس برس صرف ہوئے اور وہ وقت پاکستان کی تاریخ میں تاریخی اور یادگار وقت تھا جب اس آئین کو تمام پارٹیوں نے قبول کیا اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اسی جذبہ کے تحت، ہم نے یہ مشکل فیصلہ بھی کر لیا ہے۔

جناب اسپیکر ! کیا معلوم کہ مستقبل میں ہمیں زیادہ مشکل مسائل کا سامنا کرنا پڑے، لیکن میری ناچیز رائے میں جب سے پاکستان وجود میں آیا، یہ مسئلہ سب سے زیادہ مشکل مسئلہ تھا۔ کل کو اس سے زیادہ پیچیدہ اور مشکل مسائل ہمارے سامنے آسکتے ہیں۔ جن کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن ماضی کو دیکھتے ہوئے اس مسئلے کے تاریخی پہلوؤں پر اچھی طرح غور کرتے ہوئے میں پھر کہوں گا کہ سب سے زیادہ مشکل مسئلہ تھا گھر گھر میں اس کا اثر تھا، ہر دیہات میں اس کا اثر تھا۔ اور ہر فرد پر اس کا اثر تھا۔ یہ مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا چلا گیا۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک خوفناک شکل اختیار کر گیا ہمیں اس مسئلے کو حل کرنا ہی تھا۔ ہمیں تلخ حقائق کا سامنا کرنا ہی تھا۔ ہم اس مسئلے کو ہائی کورٹ یا اسلامی سیکرٹریٹ کے سپرد کر سکتے تھے یا اسلامی، سیکرٹریٹ کے سامنے پیش کیا جا سکتا تھا۔ ظاہر ہے کہ حکومت اور حتیٰ کہ افراد بھی مسائل کو ٹالنا جانتے ہیں اور انھیں جوں کا توں رکھ سکتے ہیں اور حاضرہ صورت حال سے نپٹنے کے لیے معمولی اقدامات کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم نے اس مسئلے کو اس انداز سے نپٹانے کی کوشش نہیں کی۔ ہم اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ اس جذبے کے تحت قومی اسمبلی ایک کمیٹی کی صورت میں خفیہ اجلاس کرتی رہی۔ خفیہ اجلاس کرنے کے لیے قومی اسمبلی کی کئی ایک وجوہات تھیں۔ اگر قومی اسمبلی خفیہ اجلاس نہ کرتی، تو جناب! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ تمام سچی باتیں اور حقائق ہمارے سامنے آسکتے! اور

١٦٦

صفحہ ٢٧٥

لوگ اس طرح آزادی اور بغیر کسی جھجک کے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے؟ اگر ان کو معلوم ہوتا کہ یہاں اخبارات کے نمائندے بیٹھے ہوئے ہیں، اور لوگوں تک ان کی باتیں پہنچ رہی ہیں۔ اور ان کی تقاریر اور بیانات کو اخبارات کے ذریعے شائع کر کے ان کا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے تو اسمبلی کے ممبر اس اعتماد اور کھلے دل سے اپنے خیالات کا اظہار نہ کر سکتے، جیسا کہ انھوں نے خفیہ اجلاسوں میں کیا۔ ہمیں ان خفیہ اجلاسوں کی کارروائی کا کافی عرصہ تک احترام کرنا چاہیے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ کوئی بات بھی خفیہ نہیں رہتی۔ لیکن ان باتوں کے اظہار کا ایک موزوں وقت ہے چونکہ اسمبلی کی کارروائی خفیہ رہی ہے، اور ہم نے اسمبلی کے ہر ممبر کو، اور ان کے ساتھ ان لوگوں کو بھی جو ہمارے سامنے پیش ہوئے یہ یقین دلایا تھا کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کو سیاسی، یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے گا۔ میرے خیال میں یہ ایوان کے لیے ضروری اور مناسب ہے کہ وہ ان خفیہ اجلاسوں کی کارروائی کو ایک خاص وقت تک ظاہر نہ کریں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے لیے ممکن ہوگا کہ ہم ان خفیہ اجلاسوں کی کارروائی کو آشکار کر دیں، کیونکہ اس کے ریکارڈ کا ظاہر ہونا بھی ضروری ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ ان خفیہ اجلاسوں کے ریکارڈ کو دفن ہی کر دیا جائے، ہرگز نہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ بات ہوگی۔ میں فقط یہ کہتا ہوں کہ اگر اس مسئلے کے باب کو ختم کرنے کے لیے اور ایک نیا باب کھولنے کے لیے نئی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے، آگے بڑھنے کے لیے اور قومی مفاد کو محفوظ رکھنے کے لیے اور پاکستان کے حالات کو معمول پر رکھنے کے لیے اس مسئلے کی بابت ہی نہیں بلکہ دوسرے مسائل کی بابت بھی، ہمیں ان امور کو خفیہ رکھنا ہوگا۔ میں ایوان پر یہ بات عیاں کر دینا چاہتا ہوں کہ اس مسئلے کے حل کو، دوسرے کئی مسائل پر تبادلہ خیال اور بات چیت اور مفاہمت کے لیے نیک شگون سمجھنا چاہیے۔ ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ یہ حل ہمارے لیے خوشی کا باعث ہے، اور اب ہم آگے بڑھیں گے اور تمام نئے قومی مسائل کو مفاہمت اور سمجھوتے کے جذبے کے تحت طے کریں۔

جناب اسپیکر ! میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ اس معاملے کے بارے میں میرے جو احساسات تھے میں انھیں بیان کر چکا ہوں۔ میں ایک بار پھر دہراتا ہوں کہ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے، یہ ایک فیصلہ ہے جو ہمارے عقائد سے متعلق ہے اور یہ فیصلہ پورے ایوان کا فیصلہ ہے اور پوری قوم کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق ہے۔ میرے خیال

١٦٧

صفحہ ٢٧٦

میں یہ انسانی طاقت سے باہر تھا کہ یہ ایوان اس سے بہتر کچھ فیصلہ کر سکتا، اور میرے خیال میں یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ اس مسئلے کو دوامی طور پر حل کرنے کے لیے موجودہ فیصلے سے کم کوئی اور فیصلہ ہو سکتا تھا۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہو سکتے ہیں، جو اس فیصلے سے خوش نہ ہوں۔ ہم یہ توقع بھی نہیں کر سکتے کہ اس مسئلے کے فیصلے سے تمام لوگ خوش ہوسکیں گے جو گذشتہ نوے سال سے حل نہیں ہو سکا۔ اگر یہ مسئلہ آسان ہوتا اور ہر ایک کو خوش رکھنا ممکن ہوتا، تو یہ مسئلہ بہت پہلے حل ہو گیا ہوتا۔ لیکن یہ نہیں ہو سکا۔ ١٩٥٣ء میں بھی یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ ١٩٥٣ء میں حل ہو چکا تھا۔ وہ لوگ اصل صورت حال کا صحیح تجزیہ نہیں کر سکے۔ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں اور مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس فیصلے پر نہایت ناخوش ہوں گے۔ اب میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں ان لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کروں۔ لیکن میں یہ کہوں گا کہ یہ ان لوگوں کے طویل المیعاد مفاد کے حق میں ہے کہ یہ مسئلہ حل کر لیا گیا ہے۔ آج یہ لوگ ناخوش ہوں گے ان کو یہ فیصلہ پسند نہ ہوگا، ان کو یہ فیصلہ ناگوار ہوگا، لیکن حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اور مفروضے کے طور پر اپنے آپ کو ان لوگوں میں شمار کرتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ ان کو بھی اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ اس فیصلے سے یہ مسئلہ حل ہوا اور ان کو آئینی حقوق کی ضمانت حاصل ہوگئی، مجھے یاد ہے جبکہ حزب مخالف سے مولانا شاہ احمد نورانی نے یہ تحریک پیش کی تو انھوں نے ان لوگوں کو مکمل تحفظ دینے کا ذکر کیا تھا جو اس فیصلے سے متاثر ہوں گے۔ ایوان اس یقین دہانی پر قائم ہے۔ یہ ہر پارٹی کا فرض ہے، یہ حکومت کا فرض ہے، حزب مخالف کا فرض ہے، اور ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کی یکساں طور پر حفاظت کریں۔ اسلام کی تعلیم رواداری ہے، مسلمان رواداری پر عمل کرتے رہے ہیں۔ اسلام نے فقط رواداری کی تبلیغ ہی نہیں کی، بلکہ تمام تاریخ میں اسلامی معاشرے نے رواداری سے کام لیا ہے۔ اسلامی معاشرے نے اس تیرہ و تاریک زمانے میں یہودیوں کے ساتھ بہترین سلوک کیا، جبکہ عیسائیت ان پر یورپ میں ظلم کر رہی تھی اور یہودیوں نے سلطنت عثمانیہ میں آکر پناہ لی تھی۔ اگر یہودی دوسرے حکمران معاشرے سے بچ کر عربوں اور ترکوں کے اسلامی معاشرے میں پناہ لے سکتے تھے، تو پھر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری مملکت اسلامی مملکت ہے۔ ہم مسلمان ہیں، ہم پاکستانی ہیں اور یہ ہمارا مقدس فرض ہے کہ ہم تمام فرقوں، تمام لوگوں اور پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں طور پر تحفظ دیں۔

١٦٨

صفحہ ٢٧٧

جناب اسپیکر صاحب! ان الفاظ کے ساتھ میں اپنی تقریر ختم کرتا ہوں۔ آپ کا شکریہ!

قادیانی بدستور غیر مسلم ہیں

حکومت پاکستان کی توثیق (١٩٨٢ء)

قادیانی فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی آئینی حیثیت کے متعلق مختلف حلقوں میں کچھ عرصے سے شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان شبہات کو دور کرنے کی غرض سے صدر مملکت نے گزشتہ ماہ کی بارہویں تاریخ کو ترمیم دستور (استقرار) کا فرمان مجریہ سال ١٩٨٢ء (صدارتی فرمان نمبر ٨ مجریہ سال ١٩٨٢ء) جاری کیا تھا، جس کی رو سے اعلان کیا گیا ہے اور مزید توثیق کی گئی ہے کہ وفاقی قوانین (نظرثانی و استقرار) آرڈی نینس مجریہ سال ١٩٨١ء (نمبر ٢٧ مجریہ سال ١٩٨١ء) کے جدول اوّل میں دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء (نمبر ٤٩ بابت سال ١٩٧٤ء) کی شمولیت سے ان ترامیم کا جو اس کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور، ١٩٧٣ء، میں قادیانیوں کی حیثیت کے بارے میں عمل میں لائی گئی ہیں، تسلسل متاثر ہوا ہے اور نہ ہوگا اور وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور، ١٩٧٣ء کے جزو کی حیثیت سے برقرار رہیں گی۔ نیز قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کے اشخاص کی (جو خود کو ”احمدی“ کہتے ہیں) ”غیر مسلم“ کے طور پر حیثیت تبدیل ہوئی ہے اور نہ ہوگی، اور وہ بدستور ”غیر مسلم“ ہیں۔ وضاحتی فرمان کے بعد عام حالات میں اس مسئلے کی نسبت چہ میگوئیوں کا سلسلہ بند ہو جانا چاہیے تھا، مگر باایں ہمہ چند مفاد پرست عناصر حقائق کا رُخ موڑ کر اس ضمن میں بے چینی اور بے اطمینانی کی فضا پیدا کرنے میں بدستور کوشاں نظر آتے ہیں۔ ان عناصر کی ریشہ دوانیوں کا موثر طریقے سے سدباب کرنے کی خاطر اس مسئلے کی مزید صراحت اور وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔

مجلس شوریٰ کے گذشتہ اجلاس میں راجہ محمد ظفر الحق، قائم مقام وزیر قانون و پارلیمانی امور، نے قاری سعید الرحمٰن اور مولانا سمیع الحق، ممبران وفاقی کونسل، کی جانب سے قادیانیوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں پیش کردہ تحاریک التواء کے متعلق مورخہ ١٢ اپریل ١٩٨٢ء کو ایک مفصل بیان دیا تھا۔

وزیر موصوف نے اس مسئلے کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء (نمبر ٤٩ بابت سال ١٩٧٤ء) کے ذریعے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور، ١٩٧٣ء، کے آرٹیکل ٢٦٠ میں شق (٣) کا اضافہ کیا گیا اور

١٦٩

صفحہ ٢٧٨

قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ اس ضمن میں آرٹیکل ١٠٦ کی شق (٣) میں صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم نشستوں کی تقسیم کی وضاحت کرتے ہوئے قادیانی فرقہ کے افراد کو غیر مسلم اقلیت کے زمرے میں شامل کیا گیا۔ متذکرہ بالا آئینی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے موجودہ حکومت نے برسر اقتدار آنے کے بعد عوام کی نمائندگی کے ایکٹ مجریہ سال ١٩٧٦ء میں دفعہ ٤٧ الف کا اضافہ کیا جس کا تعلق غیر مسلم اقلیتی نشستوں سے ہے۔ اس جدید دفعہ ٤٧ الف میں بھی قادیانی گروپ سے متعلق افراد کو ”غیر مسلموں“ کے زمرے میں شامل کر دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ تبدیلی بھی قادیانیوں کی آئینی حیثیت بطور ”غیر مسلم“ اقلیت متعین ہو جانے کی بنا پر معرضِ وجود میں آئی۔ اسی طرح ایوان ہائے پارلیمان و صوبائی اسمبلیوں کے (انتخابات) کے فرمان مجریہ سال ١٩٧٧ء (فرمان صدر بعد از اعلان نمبر ٥ مجریہ سال ١٩٧٧ء) میں بھی بذریعہ صدارتی فرمان نمبر ١٧ مجریہ سال ١٩٧٨ء ترمیم کر کے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے سلسلے میں اہلیت اور نااہلیت کے متعلق ”مسلم“ اور ”غیر مسلم“ کے الگ الگ زمرے طے کر دیے گئے۔ جس کے نتیجے میں کوئی شخص اس وقت تک کسی اسمبلی کے انتخابات کے لیے اہل قرار نہیں پا سکتا جب تک کہ اس کا نام ”مسلمانوں“ یا ”غیر مسلموں“ کی نشستوں سے متعلق جداگانہ انتخابی فہرستوں میں سے کسی ایک میں درج نہ ہو۔

بعد ازاں فرمان عارضی دستور مجریہ سال ١٩٨١ء جاری کرتے وقت بھی قادیانیوں کی متذکرہ بالا حیثیت بطور غیر مسلم برقرار رکھی گئی۔ چنانچہ فرمان عارضی دستور کے آرٹیکل ٢ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور، ١٩٧٣ء جو فی الحال معطل ہے، کے کچھ آرٹیکل کو فرمان عارضی دستور کا حصہ بناتے وقت آرٹیکل ٢٦٠ کو بھی شامل کیا گیا۔ اس واضح قانونی پوزیشن کے باوجود کچھ حلقوں میں قادیانیوں کی آئینی و قانونی حیثیت کے متعلق شک کا اظہار کیا گیا، جسے دور کرنے کے لیے فرمان عارضی دستور مجریہ سال ١٩٨١ء میں آرٹیکل نمبر ١۔ الف کا اضافہ کیا گیا جس کی رو سے یہ قرار پایا کہ ١٩٧٣ء کے دستور اور مذکورہ فرمان نیز تمام وضع شدہ قوانین اور دیگر قانونی دستاویزات میں مسلم اور غیر مسلم سے مراد وہی لی جائے گی جس کا ذکر فرمان عارضی دستور مجریہ سال ١٩٨١ء کے حوالے سے ترمیم دستور (استقرار) کے فرمان مجریہ سال ١٩٨٢ء میں ہے۔ فرمان عارضی دستور مجریہ ١٩٨١ء سال کے آرٹیکل ١۔ الف میں مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کرتے ہوئے قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کے اشخاص کو (جو خود کو ”احمدی“ کہتے ہیں) غیر مسلموں کے زمرے میں شامل کیا گیا۔

وزیر موصوف نے وفاقی قوانین (نظرثانی و استقرار) آرڈی نینس مجریہ سال

١٧٠

صفحہ ٢٧٩

(١٩٨١ء) کے جدول میں دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء (نمبر ٤٩ بابت سال ١٩٧٤ء) کی شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ عام طے شدہ مروجہ طریقہ کار کے مطابق وزارت قانون وقتاً فوقتاً ایک تنسیخی اور ترمیمی قانون کا نفاذ کرواتی ہے۔ جس کے ذریعے ان قوانین کو، جن سے مروجہ قوانین میں ترمیم کی گئی ہو اور جو اپنا مقصد حاصل کر چکے ہوں، منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ اسی مروجہ طریقہ کار کے پیش نظر متذکرہ بالا وفاقی قوانین (نظرثانی و استقرار) آرڈی نینس مجریہ سال ١٩٨١ء جاری کیا گیا۔ اس ضمن میں وزیر موصوف نے قانون عبارات عامہ بابت سال ١٨٩٧ء کی دفعہ ٦۔الف کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہر وہ ترمیم جو کسی ترمیمی قانون کے ذریعے کسی دیگر قانون میں عمل میں لائی گئی ہو، ترمیمی قانون کی تنسیخ کے باوجود مؤثر رہتی ہے، بشرطیکہ ترمیمی قانون کی تنسیخ کے وقت وہ باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو۔ اس سے یہ بات واضح اور عیاں ہے کہ ترمیم کرنے والے قانون کی تنسیخ کے باوجود اس کے ذریعے معرض وجود میں آنے والی ترمیم زندہ اور مؤثر رہتی ہے اور ترمیمی قانون کا عدم اور وجود ایسی ترمیم کی بقاء کے لیے یکساں ہے۔ اس لیے یہ کہنا قطعاً بجا نہ ہوگا کہ ترمیم اسی صورت میں باقی رہے گی جبکہ متعلقہ ترمیمی قانون کا وجود باقی رہے گا۔ ترمیمی قانون منسوخ کر دیا جائے یا موجود رہے، ترمیم بہر حال نافذ العمل رہتی ہے۔ چنانچہ دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء کی وفاقی قوانین (نظرثانی و استقرار) آرڈی نینس مجریہ سال ١٩٨١ء کی جدول اوّل میں شمولیت سے مذکورہ ترمیمی قانون کے ذریعہ سے کی جانے والی ترامیم پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور وہ بدستور قائم اور رائج ہیں۔ ان سب امور کے باوصف اس مسئلہ کو پھر سیاسی رنگ دینے اور ابہام پیدا کرنے کی ناجائز کوشش جاری رہی۔ لہٰذا جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے ”ان مقامات سے بھی بچنا چاہیے جہاں تہمت لگنے کا اندیشہ پایا جائے ۔“ مذکورہ بالا شک و ابہام کو دور کرنے کے لیے حکومت نے ایک مزید قدم اٹھایا اور صدر مملکت نے ایک انتہائی واضح اور مکمل فرمان جاری کیا جو کہ صدارتی فرمان نمبر ٨ مجریہ سال ١٩٨٢ء کے نام سے موسوم ہے۔ اس کا متن حسب ذیل ہے۔

چونکہ دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء (نمبر ٤٩ بابت سال ١٩٧٤ء) کے ذریعے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور، ١٩٧٣ء، میں ترامیم کی گئی تھیں تاکہ صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی کی غرض سے قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کے اشخاص (جو خود کو ”احمدی“ کہتے ہیں) غیر مسلموں میں شامل کیا جائے اور تاکہ یہ قرار دیا جائے کہ کوئی شخص جو خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان نہ

١٧١

صفحہ ٢٨٠

رکھتا ہو یا حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویدار ہو، یا ایسے دعویدار کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو، دستور یا قانون کی اغراض کے لیے مسلمان نہیں ہے۔

اور چونکہ فرمان صدر نمبر ١٨ مجریہ سال ١٩٧٨ء کے ذریعے منجملہ اور چیزوں کے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم بشمول قادیانی گروپ اور لاہوری گروپ کے اشخاص کی (جو خود کو ”احمدی“ کہتے ہیں) مناسب نمائندگی کے لیے حکم وضع کیا گیا تھا۔

اور چونکہ فرمان عارضی دستور، ١٩٨١ء (فرمان سی۔ ایم۔ ایل۔ اے نمبر ١ مجریہ سال ١٩٨١ء) نے مذکورہ بالا دستور کے ایسے احکام کو جو متعلقہ تھے اپنا جز قرار دیا تھا۔

اور چونکہ مذکورہ بالا فرمان میں واضح طور پر لفظ ”مسلم“ کی تعریف کی گئی ہے جس سے ایسا شخص مراد ہے جو وحدت و توحید قادر مطلق اللہ تبارک و تعالیٰ، خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہو نہ اسے مانتا ہو جس نے حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے اور لفظ ”غیر مسلم“ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلم نہ ہو جس میں عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ، یا پارسی فرقہ سے تعلق رکھنے والا شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی شخص (جو خود کو ”احمدی“ یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) یا کوئی بہائی اور جدولی ذاتوں میں سے کسی ایک سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔

اور چونکہ مذکورہ بالا دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء نے دستور میں مذکورہ بالا ترامیم شامل کرنے کا اپنا مقصد حاصل کر لیا تھا۔

اور چونکہ وفاقی قوانین (نظر ثانی و استقرار) آرڈی نینس مجریہ سال ١٩٨١ء (نمبر ٢٧ مجریہ سال ١٩٨١ء) مسلمہ طریقہ کار کے مطابق اور مجموعہ قوانین سے ایسے قوانین کو بشمول مذکورہ بالا ایکٹ نکال دینے کے مقصد سے جاری کیا گیا تھا، جو اپنا مقصد حاصل کر چکے تھے۔

اور چونکہ، جیسا کہ مذکورہ بالا آرڈی نینس میں واضح طور پر قرار دیا گیا ہے، مذکورہ بالا دستور یا دیگر قوانین کے متن میں جو ترامیم مذکورہ بالا ایکٹ یا دیگر ترمیمی قوانین کے ذریعے کی گئی ہیں مذکورہ بالا آرڈی نینس کے اجراء سے متاثر نہیں ہوئی ہیں۔

لہٰذا، اب ٥ جولائی ١٩٧٧ء کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر

١٧٢

صفحہ ٢٨١

کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے ہو، یا ایسے دعویدار کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو، دستور یا قانون کی نہیں ہے۔

رمان صدر نمبر ١٧ مجریہ سال ١٩٧٨ء کے ذریعے منجملہ اور چیزوں کے اسمبلیوں میں غیر مسلم بشمول قادیانی گروپ اور لاہوری گروپ کے حمدی“ کہتے ہیں) مناسب نمائندگی کے لیے حکم وضع کیا گیا تھا۔

رمان عارضی دستور، ١٩٨١ء (فرمان سی۔ ایم۔ ایل۔اے نمبر ١ مجریہ وہ بالا دستور کے ایسے احکام کو جو متعلقہ تھے اپنا جز قرار دیا تھا۔

ورہ بالا فرمان میں واضح طور پر لفظ ”مسلم“ کی تعریف کی گئی ہے جس جو وحدت وتوحید قادر مطلق اللہ تبارک وتعالیٰ، خاتم النبیین حضرت کمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور مان رکھتا ہو نہ اسے مانتا ہو جس نے حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے ئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلم نہ ہو جس میں عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ، یا کھنے والا شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی شخص (جو خود م سے موسوم کرتے ہیں) یا کوئی بہائی اور جدولی ذاتوں میں سے کسی کوئی شخص شامل ہے۔

ورہ بالا دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء نے دستور میں رنے کا اپنا مقصد حاصل کرلیا تھا۔

تی قوانین (نظرثانی و استقرار) آرڈی نینس مجریہ سال ١٩٨١ء (نمبر مسلمہ طریقہ کار کے مطابق اور مجموعہ قوانین سے ایسے قوانین کو بشمول یے کے مقصد سے جاری کیا گیا تھا، جو اپنا مقصد حاصل کر چکے تھے۔

یسا کہ مذکورہ بالا آرڈی نینس میں واضح طور پر قرار دیا گیا ہے، مذکورہ کے متن میں جو ترامیم مذکورہ بالا ایکٹ یا دیگر ترمیمی قوانین کے بالا آرڈی نینس کے اجراء سے متاثر نہیں ہوئی ہیں۔

جولائی ١٩٧٧ء کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں اسے مجاز رات کو استعمال کرتے ہوئے صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر

١٧٢

نے قانونی صورت حال کے استقرار اور اس کی مزید توثیق کے لئے حسب ذیل فرمان جاری کیا ہے۔

مجریہ سال ١٩٨٢ء کے نام سے موسوم ہوگا۔ (٢)....... یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔

(نظر ثانی واستقرار) آرڈی نینس مجریہ سال ١٩٨١ء (نمبر ٢٧ مجریہ سال ١٩٨١ء کی جدول اوّل میں دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء (نمبر ٤٩ بابت سال ١٩٧٤ء) کی شمولیت سے، جس کی رو سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور، ١٩٧٣ء میں مذکورہ بالا ترامیم شامل کی گئی تھیں۔

جزو کی حیثیت سے برقرار ہیں یا

غیر مسلم کے طور پر حیثیت تبدیل نہیں ہوئی ہے اور نہ ہوگی اور وہ بدستور غیر مسلم ہیں۔

متذکرہ بالا متن سے ظاہر ہے کہ قادیانیوں کی آئینی وقانونی حیثیت بطور غیر مسلم قطعی طور پر مسلمہ قائم ہے۔ کچھ حلقوں نے اس اندیشہ کا اظہار کیا ہے کہ متذکرہ بالا صدارتی فرمان اور فرمان عارضی دستور مجریہ سال ١٩٨١ء چونکہ عارضی قانونی اقدامات ہیں، لہٰذا ان کے منسوخ ہو جانے پر مسلم اور غیر مسلم کی تعریف جو فرمان عارضی دستور کے آرٹیکل نمبر ١۔ الف میں بیان کی گئی ہے، بھی ختم ہو جائے گی اور چونکہ دستور (ترمیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء (نمبر ٤٩ بابت سال ١٩٧٤ء) جس کی رو سے ١٩٧٣ء کے دستور میں ترامیم کر کے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا، وفاقی قوانین (نظر ثانی واستقرار) آرڈی نینس مجریہ سال ١٩٨١ء کے ذریعے منسوخ ہو چکا ہے، اس لئے دستور کے بحال ہونے پر قادیانیوں کی قانونی و آئینی حیثیت اسی طرح ہوگی جیسی کہ دستور (ترامیم ثانی) ایکٹ بابت سال ١٩٧٤ء کے نفاذ سے پیشتر تھی۔

جیسا کہ مفصل بیان کیا جاتا ہے، دستور (ترامیم ثانی) ایکٹ سال ١٩٧٤ء کی رو سے جو ترامیم ١٩٧٣ء کے دستور کے آرٹیکل ٢٦٠ و آرٹیکل ١٠٦ میں لائی گئی تھیں وہ بدستور قائم اور نافذ ہیں۔

شائع کردہ، وزارت اطلاعات ونشریات، محکمہ فلم و مطبوعات، اسلام آباد، ١٨ مئی ١٩٨٢ء

١٧٣

صفحہ ٢٨٢

نئے آرڈی نینس کا اجراء (١٩٨٤ء)

قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیاں

پیش لفظ صدر مملکت نے قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اور قانون میں ترمیم کے لیے ایک آرڈی نینس بنام قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیاں (امتناع و تعزیر) ١٩٨٤ء نافذ کیا ہے۔ یہ آرڈی نینس ٢٦ اپریل ١٩٨٤ء کو نافذ کیا گیا ہے۔

تعزیرات پاکستان میں دفعہ ٢٩٨ بی کا اضافہ کیا گیا ہے جس کی رو سے قادیانی گروپ، لاہوری گروپ کے کسی بھی ایسے شخص کو جو زبانی یا تحریری طور پر یا کسی فعل کے ذریعے مرزا غلام احمد کے جانشینوں یا ساتھیوں کو ”امیر المومنین“ یا ”صحابہ“ یا اس کی بیوی کو ”ام المومنین“ یا اس کے خاندان کے افراد کو ”اہل بیت“ کے الفاظ سے پکارے یا اپنی عبادت گاہ کو ”مسجد“ کہے، تین سال کی سزا اور جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔

اس دفعہ کی رو سے قادیانی گروپ، لاہوری گروپ یا احمدیوں کے ہر اس شخص کی بھی یہی سزا ہوگی جو اپنے ہم مذہب افراد کو عبادت کے لیے جمع کرنے یا بلانے کے لیے اس طرح کی اذان کہے یا اس طرح کی اذان دے جس طرح کہ مسلمان دیتے ہیں۔

ایک نئی دفعہ ٢٩٨ سی کا تعزیرات پاکستان میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کی رو سے متذکرہ گروپوں میں سے ہر ایسا شخص جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے اور اپنے عقیدے کو اسلام کہے یا اپنے عقیدے کی تبلیغ کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی انداز میں مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرے اس سزا کا مستحق ہوگا۔

اس آرڈی نینس نے قانون فوجداری ١٨٩٨ء کی دفعہ ٩٩ اے میں بھی ترمیم کر دی ہے جس کی رو سے صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ ایسے اخبار، کتاب اور دیگر دستاویز کو جو کہ تعزیرات پاکستان میں اضافہ شدہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شائع کی گئی، کو ضبط کرسکتی ہے۔

اس آرڈی نینس کے تحت ویسٹ پاکستان پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈی نینس ١٩٦٣ء کی دفعہ ٢٤ میں بھی ترمیم کر دی گئی ہے جس کی رو سے صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ ایسے پریس کو بند کر دے جو تعزیرات پاکستان کی اس نئی اضافہ شدہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی کتاب یا اخبار چھاپتا ہے۔ اس اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کر دے جو متذکرہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتا ہے اور ہر اس کتاب یا اخبار پر قبضہ کر لے جس کی چھپائی یا اشاعت پر اس دفعہ کی رو سے پابندی ہے۔

آرڈیننس فوری طور پر نافذ ہو گیا ہے۔ آرڈیننس کا متن مندرجہ ذیل ہے۔

١٧

صفحہ ٢٨٣

آرڈی نینس نمبر ٢٠

مجریہ ١٩٨٤ء

قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلافِ اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لیے قانون میں ترمیم کرنے کا آرڈی نینس۔

چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلافِ اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لیے قانون میں ترمیم کی جائے۔

اور چونکہ صدر کو اطمینان ہے کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بنا پر فوری کارروائی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

لہٰذا اب ٥ جولائی ١٩٧٧ء کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے صدر نے حسب ذیل آرڈی نینس وضع اور جاری کیا ہے۔

حصہ اوّل

ابتدائیہ

١۔ مختصر عنوان اور آغاز نفاذ

(امتناع و تعزیر) آرڈی نینس ١٩٨٤ء کے نام موسوم ہوگا۔

٢۔ آرڈی نینس، عدالتوں کے احکام اور فیصلوں پر غالب ہوگا

اس آرڈی نینس کے احکام کسی عدالت کے کسی حکم یا فیصلے کے باوجود مؤثر ہوں گے۔

١٧٥

صفحہ ٢٨٤

حصہ دوم

مجموعہ تعزیرات پاکستان

(ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء) کی ترمیم

٣۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعات

٢٩٨ ب اور ٢٩٨ ج کا اضافہ

مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر ٤٥، ١٨٦٠ء میں باب ١٥ میں، دفعہ ٢٩٨ الف کے بعد حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کیا جائے گا۔ یعنی......

٢٩٨ ۔ ب بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لیے

مخصوص القاب، اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال

کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے، خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے ۔

المومنین، خلیفۃ المسلمین صحابی یا رضی اللہ عنہ کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔

منسوب کرے یا مخاطب کرے۔

بیت کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔

اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔

ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے

١٧٦

صفحہ ٢٨٥

اپنے مذہب میں عبادت کے لیے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہوگا۔

٢٩٨۔ ج قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے

یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے۔

قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلا واسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے۔ کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے، اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔

حصہ سوم

مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء

(ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) کی ترمیم

٤۔ ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء کی دفعہ ٩٩۔ الف کی ترمیم

مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) میں جس کا حوالہ بعد ازیں مذکورہ مجموعہ کے طور پر دیا گیا ہے دفعہ ٩٩، الف میں، ذیلی دفعہ (١) میں۔

”اس نوعیت کا کوئی مواد جس کا حوالہ مغربی پاکستان پریس اور پبلیکیشنز آرڈی نینس ١٩٦٣ء کی دفعہ ٢٤ کی ذیلی دفعہ (١) کی شق (ی ی) میں دیا گیا ہے۔“ شامل کر دیے جائیں گے، اور

ب یا دفعہ ٢٩٨۔ ج شامل کر دیے جائیں گے۔

١٧٧

صفحہ ٢٨٦

ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء کی جدول دوم کی ترمیم

مذکورہ مجموعہ میں جدول دوم میں دفعہ ٢٩٨۔الف سے متعلق اندراجات کے بعد حسب ذیل اندراجات شامل کر دیے جائیں گے۔ یعنی

١ ٢ ٣ ٤ ٥ ٦ ٧ ٨ ٢٩٨۔ب بعض مقدس شخصیات ایضاً ایضاً ناقابل ایضاً تین سال کے لیے کسی ایضاً کے لیے مخصوص القاب، ضمانت ایک قسم کی سزائے قید اوصاف اور خطابات اور جرمانہ وغیرہ کا ناجائز استعمال ٢٩٨۔ج قادیانی گروپ وغیرہ کا ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً شخص جو خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے

حصہ چہارم

مغربی پاکستان پریس اور پبلی کیشنز آرڈی نینس ١٩٦٣ء

(مغربی پاکستان آرڈی نینس نمبر ٣٠ مجریہ ١٩٦٣ء) کی ترمیم

٦۔مغربی پاکستان آرڈی نینس ١٩٦٣ء کی دفعہ ٢٤ کی ترمیم

مغربی پاکستان پریس اور پبلی کیشنز آرڈی نینس ١٩٦٣ء (مغربی پاکستان آرڈی نینس نمبر ٣٠ مجریہ ١٩٦٣ء) میں دفعہ ٢٤ میں ذیلی دفعہ (١) میں شق (ی) کے بعد حسب ذیل نئی شق شامل کر دی جائے گی۔ یعنی:۔

”(ی ی) ایسی نوعیت کی ہوں جن کا حوالہ مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء) کی دفعات ٢٩٨۔الف، ٢٩٨۔ب یا ٢٩٨۔ج میں دیا گیا ہے، ’یا‘“

شائع کردہ

محکمہ فلم و مطبوعات، وزارتِ اطلاعات و نشریات، اسلام آباد، پاکستان ١٩٨٤ء

١٧٨

PDF 287

قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرىٰ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَىْءٌ

وَقَالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

وَاِنَّهُ سَيَكُوْنُ فِىْ اُمَّتِىْ كَذَّابُوْنَ ثَلٰثُوْنَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ اَنَّهُ نَبِىٌّ وَّاَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ

لَا نَبِىَّ بَعْدِىْ

المتنبئ القاديانى

نُبْذَةٌ مِّنْ اَحْوَالِهٖ وَاَكَاذِيْبِهٖ

المفتی محمود

رکن مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

و

شَيْخُ الْحَدِيْثِ بِمَدْرَسَةِ قَاسِمِ الْعُلُوْمِ مُلْتَان

وَعُضْوُ الْبَرْلَمَانِ الْبَاكِسْتَانِى سَابِقًا

قَامَ بِنَشْرِهٖ وَطَبْعِهٖ

مَوْلَانَا مُحَمَّد عَلِي الْجَالَنْدَهَرِى

رئيس مجلس تحفظ ختم النبوة۔ ملتان (باكستان الغربية)

صفحہ ٢٨٨

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين والصلوۃ والسلام على خاتم النبيين ، سيدنا محمد وعلى آله وصحبه ومن تبعهم اجمعين ۔ اما بعد فهذه كلمات عديدة تُنبئ عن احوال المتنبئ القاديانى مرزا غلام احمد الهندى جمعتها ليكون قارئها على بصيرة من هذه الفتنة العظيمة ۔

الكلمة الاولى فى بدأ هذه الفتنة !

هذه الفتنة القاديانية قد ظهرت فى أخر القرن التاسع عشر الميلادى فى الهند بعد استقرار الحكومة الانجليزية ، ان المتنبئ بدأ فى اول الامر فى اظهار الالهامات والتحديات حتى كتب فى حاشية البراهين الاحمدية وذلك فى شهر مارس ١٨٨٢م مانصه حرفا ۔ لقد الهمت أنفا يا احمد بارك الله فيك وما رميت اذ رميت ولكن الله رمى الرحمن علم القرآن لتنذر قوما ما انذر اباؤهم ولتستبين سبيل المجرمين قل انى امرت وانا اول المؤمنين قل جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا كل بركة من محمد صلى الله عليه وسلم فتبارك من علم وتعلم قل ان افتريته فعلىّ اجرامى هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله لا مبدل لكلمت الله ظنوا ان الله على نصرهم لقدير انا كفيناك المستهزئين يقولون انّى لك هذا انّى لك هذا ان هذا الا قول البشر وأعانه عليه قوم أخرون افتأتون السحر وانتم تبصرون هيهات هيهات لما توعدون من هذا الذى هو مهين ولا يكاد يُبين جاهل

٢

صفحہ ٢٨٩

او مجنون قل هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين هذا من رحمة ربك يتم نعمته عليك ليكون آية للمؤمنين انت على بينة من ربك فبشر وما انت بنعمة ربك بمجنون قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونى يحببكم الله (فى عبارة طويلة)

وقد كان هذا الدجال يُعلن بمثل هذه الالهامات والتحديات فى بدأ امره ويمتنع من ادعاء النبوة فى صراحة ووضوح حتى اذا رأى ان امره يظهر ادعى للنبوة والف رسالة فى عام ١٩٠٢ م سماها تحفة الندوة وجهها الى اعضاء ندوة العلماء فى لكهنو (الهند) وادعى فيها النبوة وكتب فيها بالعربية ما نصها حرفاً :

ايها الناس عندى شهادة من الله فهل انتم مؤمنون ايها الناس عندى شهادات فهل انتم مسلمون وان تعدوا شهادات الله لا تحصوها فاتقوا الله ايها المستعجلون أكلما جاءكم رسول بما لا تهوى انفسكم ففريقا كذبتم وفريقا تقتلون انا نُصرنا من ربنا ولا تُنصرون من ايده ايها الخائنون اتقتلوننى بفتوى القتل او دعاوى رفعتموها الى الحكام ثم لا تندمون كتب الله لاغلبن انا ورسلى ولن تعجزوا الله ايها المحاربون -

ويقول فى هذه الرسالة فى لغة صريحة واسلوب سافر فكما ذكرت مرارا ان هذا الكلام الذى اتلوه هو كلام الله بطريق القطع واليقين كالقرآن التوراة وانا نبى ظلى وبروزى من الله وتجب على كل مسلم اطاعتى فى الامور الدينية ويجب على كل مسلم ان يؤمن بانى المسيح الموعود وكل من بلغته دعوتى فلم يطعنى ولم يؤمن بانى المسيح الموعود ولم يؤمن بان الوحى ينزل علىّ من الله هو مسئول محارب فى السماء وان كان مسلما لانه قد رفض الامر الذى وجب عليه قبوله فى وقته اننى لا اقتصر على قولى ان لو كنت كاذبا لهلكت بل اضيف الى ذلك اننى صادق كموسى وعيسى وداؤد ومحمد صلى الله عليه وسلم وقد انزل الله

٣

صفحہ ٢٩٠

لتصديقي آيات سماوية تربي على عشرة آلاف وقد شهد لى القرآن وشهد لى الرسول وقد عين الانبياء زمان بعثتى وذلك هو عصرنا هذا والقرآن يعين عصرى وقد شهدت لى السماء والارض وما من نبي الا وقد شهد لى ـ تحفة الندوة صـ

ثم قال في الملفوظات الاحمدية الجزء الرابع ص ١٤٢ ما ترجمته بالعربية :- الكمالات المختلفة التي توجد في سائر الانبياء انما جُمعت كلها في ذات محمد صلى الله عليه وسلم والآن اعطيتُ انا تلك الكمالات بطريق الظل ولهذا سميتُ باسم آدم وابراهيم وموسى ونوح وداود ويوسف وسليمان ويحيى و عيسى ـ كان قبل ذلك كل واحد من الانبياء ظلاً لنبي الكريم محمد صلى الله عليه وسلم في البعض الخاص من صفاته والآن انا ظل له صلى الله عليه وسلم في جميع صفاته أه

وبالجملة هذا المتنبئ صرح بنبوته الظلية بأوضح صراحة واعلن باستجماعه لجميع كمالات النبوة صارخا وحتى قال في حقه ابنه بشير احمد ايم ـ اے في كلمة الفصل صـ المندرجة في ريويو آف ريلجنز من شهر مارس وابريل سنة الميلادى ما ترجمته بالعربية :-

ومن الظاهر ان الانبياء الذين كانوا في الازمنة السابقة لا يلزم ان يوجد فيهم جميع الكمالات التي كانت في محمد صلى الله عليه وسلم بل أُعطى كل واحد منهم من الكمالات ما يناسب استعداده وفيما نرى تعديه بالزيادة والنقصان واما المسيح الموعود (ميرزا غلام احمد) فانما أُعطى النبوة بعد ما استجمع جميع كمالات النبوة المحمدية واستحق ان يقال له نبي ظلى ـ وهذه النبوة لم تؤخر قدمه عن مقامه بل انما قدّمه في حد اقامه بجنب محمد النبي الكريم انتهى

ثم بعد ذلك هذا المتنبئ ترقّى في ضلالته وادعى نبوة مستقلة تشريعية

٤

صفحہ ٢٩١

وكفى من لم يقنع بنبوته وادعى تفوقه على سائر الانبياء حتى على سيد المرسلين وخاتم النبيين سيدنا محمد صلى الله عليه وسلم فانه قد جاء فى مؤلفاته ما يدل على انه كان مقتنعاً بانه نبي مستقل صاحب شريعة وامر ونهي فقد ذكر فى كتابه " الاربعين " ان النبي التشريعي هو الذى يشتمل وحيه على امر ونهى وان كان هذا الامر والنهى قد تقرر ما فى كتاب نبى سابق ولا يشترط لنبى صاحب شريعة ان يأتى باحكام جديدة

(حقيقة الوحى ص ٩)

ثم يطبق ذلك على نفسه ويقول ان وحيى يشتمل على الامر والنهى مثلاً الهمت من الله قل للمؤمنين يغضوا من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذلك ازكى لهم فان قال قائل ان المراد بالشريعة الشريعة التى تشتمل على احكام جديدة انتقض هذا القول لان الله تعالى يقول ان هذا لفى الصحف الاولى صحف ابراهيم وموسى

(الاربعين رقم ٤ ص ٦)

ونسخه للجهاد الذى شرعه الله وجعله ذروة سنام الاسلام والغاؤه لذلك بكل صراحة دليل على انه كان يعتقد انه نبى صاحب شريعة وامر و نهى يستطيع ان ينسخ شريعة سيدنا محمد صلى الله عليه وسلم ويستلزم ذلك انه يدعى لنفسه الشريعة المستقلة بل اعلن هذا المتنبئ " ان الروضة الانسانية كانت لا تزال ناقصة وقد تمت باوراقها واثمارها لقدومى "

البراهين الاحمدية جـ ٥ ص ١١٣

وكانت نتيجة دعوى النبوة المستقلة تكفير جميع من لا يؤمن بها وقد قال فى الجزء الخامس من براهين احمدية ستؤسس جماعة وينفخ الله الروح فيه لتأثيرها وينجذب الى هذا الصوت كل سعيد ولا يبقى الا الاشقياء الذين حقت عليهم الضلالة وخلقوا ليملأوا جهنم ـ " براهين احمديه ص "

٥

صفحہ ٢٩٢

وقد جاء فى الهام له نشره فى اليوم الخامس والعشرين من مايو سنة ١٩٠٠ "ان الذى لا يتبعك ولا يدخل فى بيعتك ويبقى مخالفا لك عاص لله ولرسوله وجهنمى"

(معيار الاخبار صـ )

وبذلك تبينت الديانة القاديانية حتى قال ابنه ميرزا بشير الدين خليفة المسيح الثانى فى كتابه آئينه صداقت صـ ٣٥ ان كل مسلم لم يدخل فى بيعة المسيح الموعود سواء سمع باسمه او لم يسمع كافر خارج عن دائرة الاسلام على هذا الاساس يعاملون المسلمين فى باكستان فلا يصاهرونهم ولا يصلون خلفهم ولا يصلون على امواتهم حتى ان القاديانى الكبير ظفر الله خان الذى كان وزير للخارجية فى باكستان لم يصل فى عهد وزارته على المستر محمد على جناح مؤسس باكستان حين وفاته لانه لم يكن متدينا بالديانة القاديانية -

ولم يقتصر هذا المتنبئ على التنبؤ بل جاء فى كتبه وكلامه ما يشعر بتفوقه على اكثر الانبياء فقد قال فى الجزء الخامس من براهين احمدية لقد اعطيت نصيبا من جميع الحوادث والصفات التى كانت لجميع الانبياء سواء كانوا من بنى اسرائيل او من بنى اسماعيل وما من نبى الا اوتيت قسطا من احواله او حادثه - يقول لقد اراد الله ان يتمثل جميع الانبياء والمرسلين فى شخص رجل واحد واننى ذلك الرجل -

بل قد جاء فى كلامه ما يصرح بتفوقه على النبى صلى الله وسلم لانه يعتقد ان روحانية النبى صلى الله عليه وسلم انما تجلت فى مكة بصفات اجمالية ثم تجلت هذه الروحانية فى القرن العشرين باكمل وجه -

وهنا نص عبارته بعربيتها التى يسميها الخطبة الالهامية :- فكذلك طلعت روحانية نبينا محمد صلى الله عليه وسلم فى الالف الخامس باجمال صفاتها و

٢

صفحہ ٢٩٣

ما كان ذلك الزمان منتهى ترقياتها ثم كملت وتجلت تلك الروحانية في آخر الالف السادس اعنى في هذا الحين كما خلق آدم في اليوم السادس باذن الله احسن الخالقين -

وجاء في ملحق حقيقة الوحي صـ ٦٨ وأتاني ما لم يؤت احداً من العالمين وازداد المتنبئ الكذاب تطرفاً في الدعاوى فادعى انه عين محمد صلى الله عليه وسلم (نزول المسيح صـ٣ على الهامش) وقال من فرّق بيني وبين المصطفى فما عرفني وما رأى الخطبة الالهامية صـ١٧١ -

الحكمة الثانية في الغائه الجهاد وتأييد الحكومة

الانجليزية

لقد هجمت اوربا على الدول الاسلامية في القرن التاسع عشر وبسطت سلطتها على الشرق الاوسط والهند وكان في مقدمتها بريطانيا التي تولت كبر هذا الزحف والهجوم السياسي والمادي واستولت على الهند ومصر وبدأت تتسرب في الجزيرة العربية وتبذر فيها بذور الفساد هذا وقد اصبحت مسيطرة على الهند الاسلامية حتى صارت الدولة المسلمة الاخيرة رهينة او اسيرة في يدها تتصرف في المملكة الهندية المسلمة تصرف السلطان المخدوم وما قنع الانجليز بهذه السلطة الغاصبة وتثبيت حكومته الظالمة بل كان الافرنجيون رُسل الفساد والالحاد والخلاعة والاباحة وكان هذا الاستعمار كانه ثورة على القيم الروحية والخلقية التي جاء بها الانبياء ونزلت بها الصحف وسيرة الانبياء وخلفائهم انهم يكونون دائماً حرباً على الظالمين الطاغين كما هو شأنهم فقد قال سيدنا موسى عليه الصلوة والسلام رب بما انعمت عليّ فلن أكون ظهيراً للمجرمين

٧

صفحہ ٢٩٤

ودعا على فرعون مصرح ربنا انك اتيت فرعون وملأه زينة واموالا فى الحيوة الدنيا ربنا ليضلوا عن سبيلك ربنا اطمس على اموالهم واشدد على قلوبهم فلا يؤمنوا حتى يروا العذاب الاليم والله عز وجل خاطب المؤمنين بقوله ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار وما لكم من دون الله من اولياء ثم لا تنصرون ۔ وقال النبى صلى الله عليه وسلم افضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر ولكن بالعكس من تعاليم القرآن الكريم وروح الدين الاسلامى وبالعكس من اسوة الانبياء والمرسلين واصحابهم وخلفائهم يبرز هذا المتنبئ غلام احمد المرزا اكبر فراعنة عصره الانجليز ويحرص على تأييد الحكومة الانجليزية الغاشمة الظالمة ويتملقها فى اسلوب سافر حتى نسخ الجهاد والغاه لاسيما ضد الانجليز واتى بشريعة جديدة معظم تعاليمها الغاء الجهاد ونسخه للتحريض على اطاعة الانجليز حتى قال فى كتابه ترياق القلوب ص ١٥ ”لقد قضيت معظم عمرى فى تأييد الحكومة الانجليزية ونصرتها وقد الفت فى منع الجهاد ووجوب طاعة اولى الامر الانجليز من الكتب والاعلانات والنشرات ما لو جمع بعضها الى بعض لملأ خمسين خزانة وقد نشرت جميع هذه الكتب فى البلاد العربية ومصر والشام وتركيا وكان هدفى دائما ان يصبح المسلمون مخلصين لهذه الحكومة وتمحى من قلوبهم قصص المهدى السفاك والمسيح السفاح والاحكام التى تبعث فيهم عاطفة الجهاد وتفسد قلوب الحمقى ۔

وقال فى آخر كتابه شهادة القرآن ان عقيدتى التى اكررها ان للاسلام جزأين الجزء الاول اطاعة الله والجزء الثانى اطاعة الحكومة التى بسطت الامن وآوتنا فى ظلها من الظالمين وهى الحكومة البريطانية (ملحق شهادة القرآن)

ويقول فى رسالة قدمها الى نائب حاكم المقاطعة عام ١٨٩٨م ۔ لقد ظللت

٨

صفحہ ٢٩٥

منذ حداثة سنّي وقد ناهزت اليوم الستين اجاهد بلساني وقلمي لاصرف قلوب المسلمين الى الاخلاص للحكومة الانجليزية والنصح لها والعطف عليها وألغي فكرة الجهاد التي يدين بها بعض جهّالهم والتي تمنعهم من الاخلاص لهذه الحكومة وأرى ان كتاباتي قد اثرت في قلوب المسلمين واحدثت تحولا في مائة ألافهم. (تبليغ رسالت المجلد السابع ص ١ تاليف قاسم علي القادياني)

وقال في موضع آخر لقد الفت عشرات من الكتب العربية والفارسية والاردوية اثبتّ فيها انه لا يحل الجهاد اصلا ضد الحكومة الانجليزية التي احسنت الينا بل بالعكس من ذلك يجب على كل مسلم ان يطيع هذه الحكومة بكل اخلاص وقد انفقت على طبع هذه الكتب اموالا كبيرة وارسلتها الى البلاد الاسلامية و انا عارف ان هذه الكتب قد اثرت تاثيرا عظيما في اهل هذه البلاد الهند. (من رسالة مقدّمة الى الحكومة الانجليزية بقلم المرزا غلام احمد)

ويقول في محل آخر لقد نشرت خمسين الف كتاب ورسالة واعلان في هذه البلاد وفي البلاد الاسلامية تفيد ان الحكومة الانجليزية صاحبة الفضل والمنة على المسلمين فيجب على كل مسلم ان يطيع هذه الحكومة اطاعة صادقة وقد الفت هذه الكتب في اللغات الاردوية والفارسية واذعتها في اقطار العالم الاسلامي حتى وصلت وذاعت في البلدين المقدسين مكة والمدينة وفي الاستانة و بلاد الشام ومصر وافغانستان وكان نتيجة ذلك ان اقلع الوف من الناس عن فكرة الجهاد التي كانت من وحي العلماء الجامدين وهذه مأثر اتباهى بها يعجز المسلمون في الهند ان ينافسوني فيها (ستارة قيصر تصنيف المرزا غلام احمد)

وقال هذا المتنبّئ في كتابه نور الحق بعبارة عربية هذا نصّها ولا يخفى على هذه الدولة المباركة انا من خير اخلائها ونصحائها ودواعي خيرها من قديم

٩

صفحہ ٢٩٦

وجئناها فى كل وقت بقلب صميم وكان لابى عندها زلفى وخطاب التحسين و لنا لدى هذه الدولة ايدى طولى منة -

ويقول هذا المتنبئ فى رسالة قدمها الى نائب حاكم المقاطعة الانجليزى فى اليوم الرابع والعشرين من فبراير ١٨٩٨م " والمأمول من الحكومة ان تعامل هذه الاسرة التى هى من غرس الانجليز انفسهم ومن صنائعهم بكل حزم واحتياط وتحقيق ورعاية وتوصى رجال حكومتها ان تعاملنى وجماعتى بعطف خاص ورعاية فائقة "

(تبليغ الرسالة المجلد السابع ص ١٩ - ٢٥)

وقال فى كتاب ترياق القلوب ص ٣١٠ " لقد غلا بعض القسوس المبشرين فى كتاباتهم وجاوزوا حد الاعتدال ووقعوا فى عرض رسول الله صلعم وخفت على المسلمين الذين يعرفون بحماستهم الدينية ان يكون لهم رد فعل عنيف و ان تشتد ثائرتهم على الحكومة الانجليزية ورأيت من المصلحة ان اقابل هذا الاعتداء بالاعتداء حتى تهدأ ثورة المسلمين وكان كذلك "

وقال فى كتاب الاربعين " لقد ألغى الجهاد فى عصر المسيح الموعود الغاءً باتاً -

وقال فى الخطبة الالهامية لقد آن ان تفتح ابواب السماء وقد عطل الجهاد فى الارض وتوقفت الحروب كما جاء فى الحديث ان الجهاد للدين يحرم فى عصر المسيح فيحرم الجهاد من هذا اليوم وكل من يرفع السيف للدين ويقتل الكفار باسم الغزو والجهاد يكون عاصيا لله ولرسوله .

ويقول فى كتابه ترياق القلوب ص ٣٣٢ ان الفرقة الاسلامية التى قلدنى الله امانتها وسيادتها تمتاز بانها لا ترى الجهاد بالسيف ولا تنتظره بل ان الفرقة المباركة لا تستحله سراً كان او علانية وتحرمه تحريما باتاً -

١٠

صفحہ ٢٩٧

وقال هذا المتنبئ وقد امدت هذه الحركة وهذه الفئة الحكومة الانجليزية بجواسيس لمصالحها واصدقاء اوفياء ومتطوعين متحمسين كانوا موضع ثقة الحكومة الانجليزية ومن خيار رجالها مخلصين للحكومة الانجليزية فى الهند وخارج الهند وبذلوا انفسهم ودمائهم فى سبيلها بسخاء كعبد اللطيف القاديانى الذى كان فى افغانستان يدعوا الى القاديانية وينكر على الجهاد وخافت حكومة افغانستان ان تقضى دعوته على عاطفة الجهاد و روح الحرية التى يمتاز بها الشعب الافغانى فقتلته . كذلك الملا عبد الحليم والملا نور على القاديانيان عثرت الحكومة الافغانية عندهما على رسائل و وثائق تدل على انهما وكيلان للحكومة الانجليزية وانهما يريدان مؤامرة ضد الحكومة الافغانية وكان جزاؤهما القتل كما صرح بذلك وزير الداخلية لافغانستان نفسه ونقل ذلك مجلة الفضل صحيفة القاديانية فى ٣ مارس ١٩٢٥ء .

وبالجملة كانت الجماعة القاديانية من اول يوم عميلة للانجليز حريصة على خدمة مصالحهم السياسية حتى ان المفكرين أجمعوا على ان هذا الدعىّ كان من وحى الانجليز وكان هذا المتنبئ وليد السياسة الانجليزية وغرسها .

ولهذا قال الدكتور محمد اقبال فى حق هذا المتنبئ انه كان مريداً مخلصاً . للسادة الانجليز وانه يعتقد ان بقاء الاسلام ومجده فى حياة العبودية و ان سعادة المسلمين فى ان لا يزالوا مستخدمين أذلاء بين يدى الانجليز و انه كان يعد حكومة الاجانب المستعمرين رحمة الهية لقد رفض ذلك الرجل تولى الكنيسة ومضى لسبيله .

١١

صفحہ ٢٩٨

الكلمة الثالثة فى بذاءتہ وسلاطة لسانہ

نقل بالسند الصحیح ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما کان فاحشا ولا متفحشا ولا سخابا فى الاسواق . وعن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیس المؤمن بالطعان ولا باللعان ولا الفاحش ولا البذئ رواهما الترمذى ۔

ولکن ھذا المتنبئ القادیانی فکان ھجاء بذاء سلیطا طویل اللسان علی المعاصرین وعباد اللہ الصالحین یقول فى رسالتہ التى وجھھا الی علماء الھند وشیوخھا الکبار باللغة العربیة بعبارة رکیکة قال لعب علینا کل ذی غوایة ونعق علینا کل ابن دایة محروم عن درایة وعوى کل خلیع خلع الرسن ونبح کل کلب ولو کان کالیقن الى أخرة .

وقال فى المکتوب العربی الملحق بانجام آتھم ص ٢٥٢ فى حق العلماء الراسخین والمشائخ الکاملین الذین کانوا شموس الھدایة والیقین یقول مخاطبا للشیخ محمد حسین البطالوی فمنھم شیخک الضال الکاذب نذیر المشوم رئیس شر الدھلوی عبد الحق رئیس المتصلفین ثم سلطان المتکبرین الذی اضاع دینہ بالکبر والتوھین ثم الحسن الامروھی الذی اقبل على اقبال من لبس الصفاقة وخلع الصداقة واعتلقت اظفارہ بمرضى کالذئاب وثعلب یتوثب کالکلاب ونطق بکلم لا ینطق بمثلھا الا شیطن لعین وأخزاہ الشیطان الرجیم والغول الاغوى یقال لہ رشید احمد الجنگوھی وھو شقی بالاخرة ومن الملعونین ۔

انظرو الى ھذا المتنبئ وخرافاتہ فى حق العلماء الربانیین الذین

١٢

صفحہ ٢٩٩

النفثة فى بذاءته وسلاطة لسانه

إن رسول الله صلى الله عليه وسلم ما كان فاحشا ولا متفحشا عن ابن مسعود رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله طعان ولا باللعان ولا الفاحش ولا البذئ رواه احمد

وكان هجاء بذاء سليط طويل اللسان على صالحين يقول فى رسالته التى وجهها الى علماء الهند لعربية بعبارة ركيكة قال لعب علينا كل ذى غواية محروم عن دراية دعوى كل خليع خلع الرسن ونبذ لأخره.

عربى الملحق باتمام الحجة ص ٢٥٢ فى حق العلماء الراسخين كانوا شموس الهداية واليقين يقول مخاطبا للشيخ هو شيخك الضال الكاذب نذير المبشرين ثم المتصلفين ثم سلطان المتكبرين الذى أضاع الحسن الامروهى الذى اقبل على اقبال من ليس انشبت اظفاره بترهنى كالذئاب ومخالبه كأنى يمسها الا شيطان لعين وأخرجه الشيطان الاغوى رشيد احمد الجنجوهى وهو شقى فالامروهى من

ه والى خرافاته فى حق العلماء الربانيين الذين

١٢

كانوا جبال العلم وهكذا كانت عادته يسب ويشتم كل من لا يؤمن به حتى قال فى كتابه " أئينه كمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨ " أشار الى كتب وكتب " تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها ويقبلنى ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون.

ومن امثلة اشعاره الهجائية فى حق من لا يؤمن به . ه

ان العدى صاروا خنازير الفلا نساؤهم من دونهن الاكلب

ويقول فى شعره عن الشيخ الشهير والعالم الكبير مهر على الكولروى الجشتى ه

فقلت لك الويلات يارض جولره لعنت بملعون فانت تدمّر

ويقول عن الشيخ سعد الله اللدهيانوي ه

ومن اللئام ارى رجيلا فاسقا غولا لعينا نطفة السفهاء ٢
شكس خبيث مفسد ومزوّر نحس يسمى السعد فى الجهلاء
أذيتنى خبثا فلستُ بصادق ان لم تمت بالخزى يا بن بغاء

الكلمة الرابعة فى سَبّه وشتمه النبى الصّادق المَعْصُوم

سَيّدَنَا عِيسَى عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام وَأُمَّهُ الصِّدِّيقَة

ان سيدنا عيسى على نبينا وعليه الصلاة والسلام كان من اولى العزم من الرسل وامه صديقة . قال الله تعالى فى حقها ومريم ابنت عمران التى احصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا وصدقت بكلمت ربها وكتبه وكانت من القنتين (سورة التحريم)

ه بحواله ص ٧٩ ٢ اعجاز احمدی ص ٤٣ و ٤ ج ص ٨١

١٣

صفحہ ٣٠٠

وقال الله تعالى واذ قالت الملئكة يٰمريم ان الله اصطفك وطهرك و اصطفك على نساء العلمين

(اٰل عمران)

وقال الله تعالى وجعلنها وابنها اٰية للعلمين

(الانبياء)

وقال الله تعالى انما المسيح عيسى بن مريم رسول الله وكلمته القها الى مريم وروح منه

(النساء)

وقال الله تعالى واذ قالت الملئكة يٰمريم ان الله يبشرك بكلمة منه اسمه المسيح عيسى بن مريم وجيها فى الدنيا والاخرة ومن المقربين

(اٰل عمران)

وقال الله تعالى ولنجعله اٰية للناس ورحمة منا

(مريم)

وقال الله تعالى ان هو الا عبد انعمنا عليه وجعلنه مثلا لبنى اسرائيل

(زخرف)

وقال الله تعالى ويعلمه الكتب والحكمة والتورٰية والانجيل

(اٰل عمران)

وقال الله عز وجل وأتينا عيسى بن مريم البينت وأيدنه بروح القدس

(البقرة)

لكن على عكس هذه النصوص القطعية قال هذا المتنبئ ان سيدتنا مريم حملت من الزنا والعياذ بالله، ثم اجبرها اهلها على النكاح لتستر هذه القبيحة ـ

قال فى كتابه "كشتى نوح ص ١٦" انا اعظم المسيح بن مريم لانى بحسب الروحانية خاتم الخلفاء فى الاسلام كما كان المسيح بن مريم خاتم الخلفاء فى الاسرائيليين وكان ابن مريم هو المسيح الموعود فى سلسلة موسى وانا المسيح الموعود فى سلسلة محمد بهذه المناسبة انا اعظم من كنت نبيّا ومن يقول انّى لا اعظم المسيح بن مريم فهو المفسد المفترى بل وانا

١٤

صفحہ ٣٠١

اعظم اخوته الاربعة لان هؤلاء الخمسة من بطن ام واحدة وفى حق ذلك انى اعظم واقدس اخوته لان هؤلاء الاكابر كلهم من بطن مريم البتول وشان مريم انها منعت نفسها مدة من النكاح وبعد ذلك نكحت بسبب حملها باجبار اكابر قومها وكان للناس الاعتراض عليها بانها نكحت فى عين حال حملها على خلاف تعليم التورية ونقضت عهد تبتلها من النكاح ووضعت اساس تعدد الازواج يعنى مع ان يوسف النجار كان له زوجة واحدة قبل ذلك ثم رضيت مريم بالنكاح معه وكانت هى زوجته الثانية ولكن اقول كان هذا كله بسبب الاعذار التى اتفقت فى ذلك الوقت و كانوا حينئذ احق بالرحمة والعطوفة لا ان يلزموا بالاعتراضات وقال هذا الكذاب فى حق سيدنا عيسى عليه السلام استهزاء ان اسرته كانت طاهرة مطهرة غاية التطهر كانت الثلث من جداته الابوية والاموية من الزوانى التى يكتسبن بالزنا وهذا عيسى قد تولد من دمائهن۔ (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص٧)

ويقول فى كتابه نور القرآن ص١١٢ الاعتراض المتعلق بجدات عيسى الابوية والاموية هل تأملتم فى الجواب عنه اما نحن فقد تملأنا من التأمل وما جاء فى خيالنا الجواب الصحيح من ذلك ۔ نعم الآله الذى كانت بدائته متصفة بهذه الكمال انتهى

وقال فى المكتوبات الاحمدية ص ٢٤ ج ٣ كان من عاداته (اى المسيح) انه كان اكالا ما كان زاهدا ولا عابدا ولا متبعا للحق كان متكبرا معجبا بنفسه مدعيا للالوهية انتهى

وقال فى ضمیمة انجام آتھم ص٥ كان ميله الى الزوانى وصحبته معهن بسبب

١٥

صفحہ ٣٠٢

انه كان بينه وبينهن مناسبة جبلية والا فالرجل المتقى لا يستطيع ان يمكن الزانية ان تضع يدها النجسة على رأسه وتطيب رأسه من الطيب الذى كان من كسب زناها وتمسح رجليه بشعرها فليفهم المتفهم من هذا طهره وعادته انتهى .

وقال هذا المتنبئ فى حق سيدنا عيسى على نبينا وعليه الصلاة والسّلام " ولكن المسيح فى عصره لم يكن فائقا فى صدقه على سائر الصادقين بل كان يحيى النبى افضل منه لانه لا يشرب الخمر وما سمع منه ان المرأة الفاحشة تطيب رأسه من كسبها وتمسح بدنه بشعرها وما سمع منه ان المرأة الشابة غير المحرمة تخدمه ولهذا سمّى الله تعالى فى كتابه يحيى باسم الحصور ولم يسم المسيح بهذا الاسم لان مثل هذه الوقائع كانت مانعة من تسميته باسم الحصور

( دافع البلاء ٹائٹل پیج آخری )

وكنتُ متحيرا فى ان الرجل المتملق الذليل بين يدى الانجليز كيف يسبُّ سيدنا عيسى عليه السلام لانى كنتُ اظن ان هذا هو السبب القوى لسخط الافرنجيين العيسائيين فكيف يباشره هذا الذى هو مهين ثم انى ظفرتُ على مكتوب مندرج فى تاليفه ترياق القلوب ص ٣٠٨ و ٣٠٩ كتبه هذا المتنبئ الى الحكومة البريطانية فى ذلك الوقت وعنونه باقتراح العاجز الى حضرة الحكومة العالية - فازاح عنّى هذا المكتوب ما اجده واظهر هذا المتنبئ ان بذاءته وسبّه فى حق سيدنا عيسى عليه السلام تحت حكمة عملية وداعية سياسية يريد بها ابراد نار غضب عامة المسلمين على الافرنجيين لا سيّما على المبشرين منهم -

قال هذا المتنبئ فى مكتوبه هذا ما ترجمته انا اعترف انه لما تشدّد من بعض القسيسين والمبشرين كلامهم وتجاوز عن حد الاعتدال مقاله و

١٦

صفحہ ٣٠٣

استعمل هؤلاء المبشرون فى حق النبى الكريم صلى الله عليه وسلم كلمات فظيعة مثلا انه قاطع الطريق وانه سارق ................. (لا استطيع ان اذكر بعض الكلمات الآتية فتركت البياض) فخفت بعد ما طالعت مثل هذه الكتب والمجلات ان المسلمين الذين هم ارباب الثورة على الانجليز تشتعل نار قلوبهم على ضد الحكومة الانجليزية العيسائية فعلمت ان المناسب لاطفاء هذه الشعلة ودفع هذه الثورة ان يختار فى جواب هذه الطائفة التبشيرية شدة فى الكلام على خلاف عيسى عليه السلام كى لا يختل الامن فى المملكة وافتانى ضميرى ان السلوك على هذا المسلك الصعب يكفى فى اطفاء نار غضب المسلمين المتوحشين فقلت ما قلت فى عيسى عليه السلام وفزتُ بما رُمتُ (الى آخر ما قال)

الكلمة الخامسة فى الانموذج من تفاسيره

والآن اريد ان اذكر تحريفاته التفسيرية التى تفوه بها هذا اللعين -

من كان مثيل نبى من الانبياء سمّى باسمه فيسمّى مثيل موسى بموسى ومثيل عيسى بعيسى ولما كنت مثيل عيسى سميتُ باسم عيسى وذكر فى القرآن المجيد اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم اى يا الله اجعلنا مثيلين للرسل والانبياء.

(ازالة الاوهام ص٤٧٣ الطبعة الخامسة مؤلف مرزا غلام احمد)

الآية تشير الى ان الامة المحمدية كلما صارت فرقاً كثيرة فولد فى آخر الزمان ابراهيم فتكون الفرقة التى تتبع ابراهيم هى الناجية وكانه يومئ الى ابراهيم الفرقة

١٧

صفحہ ٣٠٤

القاديانية التي تتبعني هي الناجية (والعياذ بالله) (الاربعين ص٢)

المؤمنين بظهور المسيح في قرن من القرون الآتية يكون عدده مساويا للبدر التام - (يعني في القرن الرابع عشر الهجري) يريد نفسه (اعجاز المسيح ص١٣)

والمراد بالجنة زوجتي. (ترياق القلوب ص١٥)

هذه الآية احمد ان المراد بالأولى رسولنا احمد المصطفى المجتبى والمراد بالآخرة احمد الذى يكون في آخر الزمان اسمه المسيح والمهدى (يريد نفسه)

(اعجاز المسيح ص١٣)

الى المسجد الاقصى الذى باركنا حوله الآية يقول : المراد بالمسجد الاقصى المسجد الذى فى قاديان مسجد المسيح الموعود (يريد نفسه)

(الخطبة الهامية ص٢١ ، طبع جديد ، ربوة )

هذه الآية في الحقيقة متعلقة بزمان هذا المسيح (يريد به نفسه)

(ازالة الاوهام ص٢ الطبعة الخامسة)

به محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم بل المراد باحمد في هذه الآية هو المرزا غلام احمد. (ازالة الاوهام ص٢٥ الطبعة الخامسة)

١٨

صفحہ ٣٠٥

المرزا غلام احمد۔ (ازالة الاوهام ص٢٩٣ الطبعة الخامسة) منها (ا) جاء في الحديث ان سيدنا عيسى عليه السلام ينزل من السماء في لباس اصفر اللون - لا يراد باللباس الثوب بل المراد منه المرض

(ازالة الاوهام ص٣ الطبعة الخامسة)

(ب) الرداءان الاصفران اللذان ذكر ان المسيح ينزل فيهما هما الرداءان اللذان يشملانى الرداء الواحد يختص بالنصف الاعلى منى وهى مرض مثل وجع الرأس ودوران سر وقلة النوم ومرض القلب وغير ذلك والرداء الآخر يختص بنصفى الاسفل وهو داء السكر البولى الذى اخذ بذيلي منذ مدة مديدة ربما احتاج الى البول في اليوم او الليلة مائة مرة -

(اربعين ص١١٣)

وقال هذا المتنبئ افتراء على الله ان الآيات المسطورة في الذيل نزلت في شأنى والعياذ بالله -

وما رميت اذ رميت ولكن الله رمى

(ضميمة حقيقة الوحي ص٧٩)

دنى فتدلى فكان قاب قوسين او ادنى

(ايضا ص٨٠)

قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونى يحببكم الله

(ايضا ص٨٠)

انا فتحنا لك فتحا مبينا ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر

(ايضاً)

انا اعطيناك الكوثر -

(ايضا ص٨٠)

امر الله ان يبعثك مقاماً محموداً -

(الاستفتاء ص٨)

لعلك باخع نفسك ان لا يكونوا مؤمنين -

(حقيقة الوحي ص٨٠)

ما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى -

(الاربعين ص١١٢)

وما كان الله ليعذبهم وانت فيهم

(دافع البلاء ص٣)

واصنع الفلك بأعيننا ووحينا -

(ايضا ص٢٧)

١٩

صفحہ ٣٠٦

وما ارسلنك الا رحمة للعلمين - (حقيقة الوحى ص٩٩)

الكلمة السادسة فى الانموذج من استدلالاته

هذا الكتاب يكون فى خمسين جزءاً واستلم ثمن خمسين جزءاً من المشترين قبل طبعها فلما طبع اربعة اجزاء وارسلها الى المشترين تغافل عن سائرها وسكت فلما طالبه المشترون على لجاجة بعد ثلثة وعشرين سنة طبع الجزء الخامس منه وكتب فى اوله انه قد اوفى وعده السابق وتم وعد خمسين بالجزء الخامس لان الفرق بين الخمس والخمسين يكون بالصفر (والصفر لا اعتبار له) فاوفيت ما وعدت

(البراهين الاحمدية مـ)

توبة فاستفتى اهلها من العلماء عن هذا المال الذى اكتسبت بزناها فاجاب العلماء بانه لا يجوز استعمال هذا المال وهو حرام فطلب منهم المرزا غلام احمد هذا المال وتسلمه منهم فلما اعترض المسلمون وقالوا ان مدعى النبوة لياكل المال الحرام فاجاب بان المالك للمال فى الحقيقة هو الله تعالى والعبد نائب عنه فاذا عصى العبد مالكه يعود المال على مالكه فبهذا السبب لا يكون العبد وقت عصيانه مالكا لهذا المال وانما المالك هو الله تعالى فليس بحرام انتهى - ولا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم -

(آئينه کمالات اسلام ص ٣٨٣ طبع لاهور)

اللهم دمر هذه الفتنة واهلها واحفظنا وجميع المسلمين منها يا رب العلمين -

اللهم تقبل منا انك انت السميع العليم - الخامس من ذى القعدة ١٣٨٧ هـ

٢٠

صفحہ ٣٠٧

جماعة تحفظ ختم النبوة

لما ظهرت الفتنة القاديانية فى الهند وانتشرت فيها بتأييد الحكومة الانجليزية حتى توجهت الى البلاد العربية الاسلامية وبدأت تتسرب فى العراق وسوريا وتنتشر فى اندونيسيا ومن اعظم امانيها واكبر اهدافها ان تنتشر فى جزيرة العرب مهد الاسلام ومركز دعوة سيدنا محمد صلى الله عليه وسلم - توجه علماء المسلمين ورجال الدعوة الاسلامية الى دفع هذه الفتنة من اول تأسيسها وعلى رأس هذه الطائفة العلامة السيد محمد انور الكشميرى رئيس المدرسين بدار العلوم الديوبندية ومولانا السيد عطاء الله شاه البخارى ومولانا حبيب الرحمن اللديانوى رحمهم الله تعالى والآن تخلفهم جماعة تسمى بمجلس تحفظ ختم النبوة رئيس هذه الجماعة الخطيب الشهير والمجاهد الكبير مولانا محمد على الجالندهرى الذى امرنى بتسويد هذه الاوراق - هذه الجماعة تدافع عن هذه الفتنة الضالة اقوى دفاع وتلتهب غيرة على الاسلام وكرامة الرسول صلى الله عليه وسلم -

هذه الجماعة لها اعضاء من العلماء الكبار ما يبلغ عددهم الى ثلثين يؤدون فرائض تبليغ الاسلام فى اقطار مملكة باكستان بل وخارج المملكة ايضا حتى ان الامين العام لهذه الجماعة مولانا تاج محمود سافر الآن فى اوربا يريد ان ينظم امر المسلمين هناك ليكونوا على حذر من

٢١

صفحہ ٣٠٨

الطوائف القاديانية التي توجه دعوتها في مسلمي اوربا وافريقيا۔ ان جماعت ختم النبوة اشاعت الكتب الكثيرة في ردّ القاديانية و اذاعت كتاب القاديانى والقاديانية باللغة العربية ليعلم علماء العرب حقيقة هذه الفتنة حتى يصح لهم الحكم عليها ويمكنهم نقضها وتزييفها حركة هذه الجماعة صارت سبباً لاجماع العلماء على تضليل القاديانيين وتكفيرهم حتى اصدرت مراكز الفتاوى احكاماً صريحة بكفرهم وارتدادهم واصدرت المحكمة الحكومية فى بهاولفور سنة ١٩٣٥م بعد مناقشة طويلة الحكم بكفرهم وحرمة نكاح المسلمة بالقاديانى وكتب القاضى (جج) محمد اكبر خان ان نكاح عائشة بنت الهى بخش مع عبد الرزاق القاديانى باطل لارتداده وبالجملة هذه الجماعة لها منن كثيرة على المسلمين كثّرها الله و ادامها لترويج الدين القويم۔

٢٢

PDF 309

خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

جواب محضر نامہ

(مرزائی قطعی کافر اور غیر مسلم اقلیت ہیں)

شیر اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ

صفحہ ٣١٠

بسم الله الرحمن الرحیم

تعارف

الحمدللہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ ۔ اما بعد

١٩٧٤ء کی مقدس تحریک ختم نبوت میں بطل حریت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ قومی اسمبلی پاکستان کے معزز رکن تھے۔ قادیانیوں نے قومی اسمبلی میں اپنا محضر نامہ پیش کیا۔ اس کے مقابلے میں آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان نے ’’موقف ملت اسلامیہ‘‘ پیش کیا۔ (جو اس جلد میں شامل اشاعت ہے) مجلس عمل کی طرف سے امت مسلمہ کے موقف کو پیش کرنے اور اسمبلی میں پڑھنے کی سعادت حق تعالیٰ نے مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو نصیب فرمائی۔ جبکہ قادیانی جماعت کے محضر نامہ کے جواب تیار کرنے، کتاب مرتب کرنے اور اسمبلی میں پڑھنے کی سعادت حق تعالیٰ نے بطل حریت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے مقدر میں لکھی تھی۔ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، علامہ الدھر علامہ سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ کے شاگرد رشید تھے۔ دارالعلوم دیوبند میں پڑھانے کا اعزاز بھی آپ نے حاصل کیا۔ تقسیم سے قبل مجلس احرار اسلام ہند کے ممتاز رہنماؤں میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد ’’کل پاکستان جمیعۃ علماء اسلام‘‘ کی بنیاد رکھنے اور خون جگر سے اس کی آبیاری کرنے والے سرفروش گروہ میں آپ پیش پیش تھے۔ ایک زمانے میں پاکستان میں آپ علماء حق کے قافلہ کے سرخیل تھے۔ قادیانیت کے خلاف آپ کے گرانقدر کارنامے تاریخ ختم نبوت کا روشن باب ہیں۔ جواب محضر نامہ پر آپ کے علاوہ آپ کے دو گرامی قدر رفقاء مولانا عبدالحکیم ہزارویؒ، ایم این اے اور مولانا عبدالحق بلوچستانی ایم این اے کے بھی دستخط تھے۔ جواب محضر نامہ حضرت ہزارویؒ کی باقیات الصالحات میں سے ہے۔ جسے شائع کرنے کی مجلس تحفظ ختم نبوت کو سعادت نصیب ہورہی ہے۔ فللہ الحمد اولاً و آخراً۔

فقیر......اللہ وسایا ١٠ دسمبر ٢٠٠٥ء

صفحہ ٣١١

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمدللہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ

مرزائی قطعی کافر اور غیر مسلم اقلیت ہیں

قومی اسمبلی کو فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے

قادیانیوں کے خلیفہ مرزا ناصر احمد آف ربوہ نے بتاریخ ٢٢ جولائی ١٩٧٤ء کو اپنی پارٹی سمیت، پاکستان کی قومی اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے (جو تمام ممبران قومی اسمبلی پر مشتمل ہے) تحریری جواب پیش کیا۔ یہ بیان انھوں نے دو دن میں مکمل کیا۔ اس کے بیان کے چند عنوان یہ ہیں:

پہلا عنوان

’ایوان کی حالیہ قراردادوں پر ایک نظر‘ اس کے ذیل میں خلیفہ قادیانی نے ایک غلطی یہ کی ہے کہ صرف دو قراردادوں کا ذکر کیا ہے۔ ممکن ہے ان کو اطلاع ہی ایسی دی گئی ہو۔ مگر رہبر کمیٹی میں حضرت مولانا عبدالحکیم صاحب ایم این اے اور مولانا عبدالحق صاحب ایم این اے بلوچستانی اور میں نے بھی ایک قرارداد پیش کی ہے (قرارداد ہذا کتاب کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں)۔ خلیفہ ربوہ نے ایک اصولی سوال اٹھایا ہے کہ آیا کسی اسمبلی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی شخص سے یہ بنیادی حق چھین سکے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو۔ یا مذہبی امور میں دخل اندازی کرتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کرے کہ کسی جماعت یا فرد کا کیا مذہب ہے؟ ربوہ جماعت کی طرف سے کہا گیا کہ ہم ان دونوں باتوں کو نہیں مانتے۔ اس سلسلے میں انھوں نے اقوام متحدہ کے دستور، انجمنوں اور اسی طرح پاکستانی دستور دفعہ نمبر ٢٠ کی آڑ لی ہے۔

مرزائیوں کو جواب

فیصلے صرف قرآن و شریعت کی روشنی میں کرنا چاہتے ہیں اور اسی کو قانون زندگی کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ مگر مرزائی اقوام متحدہ کو دیکھتے ہیں۔ کبھی عالمی انجمنوں کو اور کبھی انسان کے بنائے ہوئے دستور اور قانون کو ہم تو تمام امور میں صرف دین اور اس کے فیصلے کو دیکھتے ہیں۔

نہ شبم نہ شب پرستم کہ حدیث خواب گویم
چوں غلام آفتابم ہمہ ز آفتاب گویم
صفحہ ٣١٢

میں نہ رات ہوں نہ رات کا پجاری کہ خواب کی باتیں کروں۔ میں جب آفتاب (آفتاب رسالت) کا غلام ہوں تو میری باتوں کا ماخذ وحی آفتاب ہوگا۔ تعجب ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت جھوٹا ہے۔ مگر جھوٹے دعوے کی لاج بھی وہ اور اس کے جانشین نہیں رکھتے۔ پیغمبر تو دنیا بھر کے قوانین کو بدلتے آتے ہیں اور ساری دنیا کو اپنے پیچھے چلانا چاہتے ہیں۔ وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن اللہ۔ (نساء ٦٤) ’’اور ہم نے جو بھی پیغمبر بھیجے اسی لیے کہ لوگ خدا کے حکم سے اسی کی پیروی کریں‘‘ تو ہم کو تو قرآن وحدیث کی رو سے دیکھنا ہے کہ مرزائی غیر مسلم ہیں یا نہیں؟ اور اس مسئلے میں کسی بھی مسلمان کو شک نہیں ہے۔ صرف قانونی شکل دینے کی بات ہے۔

بجائے مسلمانوں کی سب سے پہلی اسمبلی انصار ومہاجرین کو دیکھتے۔ کیا انصار ومہاجرین کے مشورے، اسلامی روشنی میں نہ ہوتے تھے؟ مگر آپ سے یہ توقع ہی نہیں کہ آپ صحابہ کرام کے راستے پر چلیں۔ ورنہ انصار ومہاجرین کی اسمبلی نے منکرین زکوٰۃ ومنکرین ختم نبوت سے مسلمان کہلانے کا حق چھین کر ان سے جہاد کیا تھا۔

نہیں؟ ممبران اسمبلی کی سخت توہین کی ہے۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کروڑوں مسلمانوں کے نمائندے ہیں۔ اور مسلمان بھی وہ جن کا کھلا دعویٰ ہے کہ ’’ہمارا دین اسلام ہے‘‘۔ کیا یہ ممبر صاحبان اتنا بھی نہیں جانتے کہ مسلمان کون ہے اور غیر مسلم کون؟ مرزائیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ کافر وہی ہوتا ہے جو ضروریات دین اور قطعیات دین کا انکار کرے۔ (مسلمان کی تعریف کی بحث آگے آتی ہے)۔ کیا کوئی ممبر اسمبلی یہ نہیں جانتا کہ پانچ ارکان اسلام فرض ہیں؟ کیا کوئی مسلمان نہیں جانتا کہ توحید ورسالت پر ایمان لانے کے سوا تمام پیغمبروں، آسمانی کتابوں، فرشتوں، قیامت، تقدیر، اور دوبارہ زندگی کو دل سے قبول کرنا بھی جزو ایمان ہے؟ کیا کوئی مسلمان اس میں بھی شک کر سکتا ہے کہ حضور سرور عالم ﷺ کے بعد وحی نبوت کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔ اب نہ براہ راست کسی کو نبی بنایا جا سکتا ہے نہ کسی کی متابعت سے؟ یہی وجہ ہے کہ تاریخ اسلام کے تقریباً ١٤ سو سال میں جس کسی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تو اس کو اہل اسلام نے ہرگز معاف نہیں کیا۔ مرزائی کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی حضور ﷺ میں فنا ہو چکے تھے۔ اس لیے وہ عین محمد بن کر نبی ہوئے (انا للہ وانا الیہ راجعون) بہر حال اسلام کے بدیہی مسائل کو اسمبلی کے تمام ممبران سمجھتے ہیں اور تجربہ رکھتے ہیں بلکہ وہ مرزا ناصر احمد سے بھی زیادہ

٤

صفحہ ٣١٣

سمجھتے ہیں۔

کو امریکہ اور لندن کا مقلد بنانا چاہتے ہیں؟

اس کو ختم نبوت اور قرآن وحدیث کے مقتضیات کو ماننے کا حلف اٹھانا پڑے گا۔ (شاید مرزائیوں کو اس سے بھی تکلیف ہوئی ہو۔)

ہو؟ کیا یہ بات دستور میں نہیں ہے؟

اکثریت کو قطعاً حق نہ ہو کہ وہ ان مٹھی بھر تازہ پیدا وار اور مخصوص اغراض کے لیے کھڑے ہونے والوں کو غیر مسلم کہے؟ ہم کو حق ہے کہ اسمبلی کے اندر اپنے حق کا مطالبہ کریں یا اسمبلی سے باہر۔ پاکستانی حکومت اسمبلی کا نام ہے اور اسمبلی عوام کی نمائندہ ہے۔ ان کا فرض ہے کہ ملک کے نفع و نقصان پر سوچیں۔

بے شک اپنے کو نصرانی، عیسائی، قادیانی، احمدی، مرزائی وغیرہ مذاہب کی طرف منسوب کر سکتے ہیں۔ مگر جب آپ کو یہ حق ہے تو ٩٩ فی صد اکثریت کو کیوں یہ حق نہیں کہ وہ اس پاک مذہب کی طرف منسوب ہو جس میں سرور عالم ﷺ کے بعد کسی کو نبی بنانا کفر ہو اور ایسا سمجھنے والے کو اپنے سے خارج سمجھیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اقل قلیل جو چاہے کہے اور کرے اور غالب اکثریت صم بکم بنی رہے اس کو بات کرنے کی اجازت نہ ہو۔

مسلمانوں کو کافر بھی کہیں۔ پھر انہی مسلمانوں کے نام سے عہدوں، منصبوں اور مختلف ملازمتوں پر قبضہ بھی کریں۔ آپ جب کروڑوں مسلمانوں کو مرزا قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے مسلمان نہیں سمجھتے۔ اور اسی طرح آپ کے غیر اسلامی عقیدوں کی وجہ سے مسلمان بھی آپ کو مسلمان نہ سمجھیں تو اب رونے کی کیا ضرورت ہے؟ اب تو آپ کی بات پوری ہو رہی ہے ”نہ تم ہم میں سے اور نہ ہم تم میں سے۔“

اسمبلی قوم کی نمائندہ جماعت ہے۔ اس کو قوم کی نمائندگی کرنی ہے۔ جب قوم کا ایک متفقہ مطالبہ

صفحہ ٣١٤

ہے تو وہ خود اسمبلی کا مطالبہ ہو جاتا ہے اور اس کے فرائض میں داخل ہو جاتا ہے۔

ہیں، مگر آپ پاکستان کی بنیاد بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کا معنی کیا ہے؟ کیا پاکستان مسلم قومیت کے نام سے نہیں بنا؟ کیا مسلم قومیت کی بنیاد مذہب پر نہیں ہے؟ اور کیا حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور علامہ اقبالؒ کا نزاع لفظی ہو کر ختم نہیں ہو گیا تھا؟ اور کوئی مسلمان اس سے انکار کر سکتا ہے کہ دین اسلام، اعتقادات، معاملات، عبادات اور سیاسیات سب پر حاوی ہے؟ اور اب تو حکومت ہی عوامی ہے اور عوامی خیالات اور معتقدات کی ترجمان۔ پھر اس کو کیوں عوامی مطالبات پر خاص کر جو مذہبی ہوں غور کرنے کا حق نہیں ہے؟ جبکہ سرکاری مذہب ہی اسلام ہے۔

سے مسلمانوں کا متفقہ مسئلہ چلا آ رہا ہے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت سب کو معلوم ہے۔ ہاں حالیہ فسادات اور فسادی مرزائیوں کی خرمستی نے اس کو قوت دے دی بلکہ ہو سکتا ہے کہ مرزائیوں نے یہ فساد اور مسلمانوں کے پرامن جلوسوں پر گولیاں ہی دشمنان ملک کے ایماء پر چلائی ہوں۔ تا کہ پاکستان دو طرفہ مشکلات میں بھی گھرا ہو، اور اندر فسادات ہوں اور دشمن اپنا الو سیدھا کر سکے۔

مرزا ناصر احمد کا اقرار

دوران جرح میں جب مرزا ناصر احمد نے یہ کہا کہ جو شخص اپنے کو مسلمان کہتا ہے کسی دوسرے شخص یا اسمبلی کو یہ حق نہیں کہ وہ اس کو غیر مسلم قرار دے۔ جب اسی سلسلہ میں محترم اٹارنی جنرل نے ان پر سوال کیا کہ ایک شخص یہودی اور عیسائی ہے لیکن وہ غلط طور سے مفاد کی خاطر اپنے کو مسلمان کہتا ہے اور اس کی یہ فریب دہی اور بے ایمانی دیکھ کر اس کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا جاتا ہے تو کیا عدالت کو یہ حق نہیں ہے کہ قطعی ثبوت ملنے کے بعد اس کے فریب کا پردہ چاک کر کے اس کو غیر مسلم، یہودی یا عیسائی قرار دے دیں؟

مرزا ناصر احمد نے بڑی ہی ٹال مٹول کے بعد عدالت کے اس حق کو تسلیم کیا۔ گویا اس طرح مرزا ناصر احمد نے اقرار کر لیا کہ کسی بااختیار ادارے کو یہ حق حاصل ہے کہ نبوت کے بعد وہ کسی شخص کے دعوے کو غلط قرار دے دے۔

اب اس اقرار کے بعد قومی اسمبلی کو جس کا کام قانون سازی ہے یہ حق کیوں حاصل نہیں

٢

صفحہ ٣١٥

کہ وہ مرزائیوں کے غلط دعویٰ اسلام کا بھانڈا پھوڑ کر عوام کو ان کے فریب سے بچائے؟

فرضی باتیں

آپ (مرزا ناصر) نے صفحہ چار پر انسان کے بنیادی حق اور دستور کے عنوان سے فرضی باتیں لکھ کر اپنا دل خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر آپ یقین کریں کہ دنیا کی کسی حکومت نے اب تک اس قسم کے سوالات نہ اٹھائے نہ امکان ہے۔ زیادہ سے زیادہ آپ کو بھارت کا خطرہ ہے۔ مگر وہاں بھی مسلمان ان کے مقابلہ میں ایک ہیں اور ایک ہی بات کہتے ہیں۔

کہتے ہیں چوہے کی نظر ایک بالشت تک ہوتی ہے اس سے آگے نہیں دیکھ سکتا۔

مرزائیوں کو معلوم نہیں کہ خانہ کعبہ میں اہل اسلام کس طرح اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ پھر بھارت میں کس طرح تمام مسلم جماعتیں اکٹھی ہو کر بھارتی گورنمنٹ کے سامنے اپنی بات رکھتی ہیں؟ پھر لاہور میں ماضی قریب میں کس طرح دنیا بھر کے سربراہان اسلام نے جمع ہو کر مرزائیوں اور دیگر دشمنان اسلام کے سینے پر مونگ دلے؟

مسلمانوں کو ڈراوا

مرزا ناصر احمد نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بہت سے نقصانات صفحہ ٤، ٥ پر گنائے ہیں اور یہ صرف رونے کے مترادف ہے ورنہ ہمیں قرآن وحدیث اسلام وشریعت کو دیکھنا ہے۔ نہ یہ کہ دوسرے کیا کرتے ہیں اور اگر خود مسلمانوں کی مذہبی صلابت اور مضبوطی دوسرے دیکھیں تو ان کو بھی ہمارا لوہا ماننا پڑے۔ جیسے کہ خیر القرون میں تھا۔

مرزا ناصر احمد نے عیسائی حکومتوں کی عددی اکثریت کا ذکر کر کے وہاں کے مسلمانوں کو شہری حقوق سے محروم کرنے کا ڈراوا بھی سنایا ہے۔ دراصل تحریک رد مرزائیت اور قوم کی مشترکہ آواز کے مقابلے میں اب ان (مرزا ناصر) کو سوچنے اور سمجھنے کا ہوش بھی نہیں رہا۔ مرزا ناصر یہ کس نے کہا کہ ہم مرزائیوں کو ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کی طرح غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کے شہری حقوق بھی غصب کر لیں گے؟ کیا اسلام نے کافر رعایا کی جان و مال اور عزت و آبرو بلکہ ان کے معابد کی آزادی کی ضمانت نہیں دی؟ نہ ہم یہ معاملہ عیسائیوں سے کر رہے ہیں اور نہ مرزائیوں سے کریں گے۔ ہمارے ہاں پرانے مسیحی اور نئے مسیحی دونوں کے جان و مال کی حفاظت حکومت کے ذمے ہے۔ بشرطیکہ وہ ذمی بنے رہیں۔ اگر بغاوت کریں گے تو پھر ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔

صفحہ ٣١٦

ایک خطرناک دھوکہ:

ایک خطرناک دھوکہ صفحہ ٦ پر یہ دیا گیا ہے کہ ”اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے تو دنیا کے تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی جماعتوں کے متعلق ان کے عہد کی اکثریت کے فیصلے قبول کرنے پڑیں گے ۔“ یہ کھلا دھوکا ہے۔ مرزا ناصر احمد کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام جامع مذہب ہے اس میں مغلوب یا اقلیت میں ہونے کے وقت کے لیے بھی راہنمائی موجود ہے اور غلبہ اکثریت میں ہونے کے وقت کے لیے بھی احکام موجود ہیں۔ لیکن پیغمبروں کا ذکر اپنی روایتی گستاخی کی طرح خوامخواہ درمیان میں لا کر اپنا شوق پورا کیا ہے۔ اب اوپر کی عبارت دوبارہ پڑھیں کہ ”آیا ان کے زمانے کی اکثریت یعنی غیر مسلم اکثریت کے فیصلے انبیاء علیہم السلام نے مانے“ اگر مرزا ناصر احمد یہ لکھ دیتے تو اپنے اوپر فتویٰ کفر کی ایک دفعہ کا اضافہ کرا دیتے۔ مگر انھوں نے بڑی ہوشیاری سے لکھا کہ اکثریت کے فیصلے قبول کرنے پڑیں گے۔ مرزا ناصر ! یہ فیصلے آپ قبول کریں اور نہ دنیا کا کوئی مسلمان کافر اکثریت کے فیصلے پیغمبروں کے خلاف قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اور آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ دارالندوہ (مکہ معظمہ میں قریش کی اسمبلی) نے حضورﷺ کے خلاف فیصلے کیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ کی کافر حکومتوں نے جو اس وقت کے رواج کے مطابق عوام کی نمائندہ تھیں، پیغمبروں کے خلاف فیصلے کیے۔ جن کو انھوں نے تسلیم نہیں کیا، اور آج ہم اکثریت میں ہو کر اقلیت کے غیر شرعی مسائل کو نہ ٹھکرائیں؟ نہ غیر مسلم حکومتوں کے فیصلے بغیر قوت حاصل کرنے کے روکے جاسکتے ہیں۔ نہ اسلام ہم کو اس کے لیے مجبور کرتا ہے اور نہ ہم دوسروں کے کاموں کے خدا تعالیٰ کے ہاں ذمہ دار ہیں۔ ہم کو اپنے ہاں اور اپنے حدود اختیار واقتدار میں شریعت کی روشنی میں فیصلے کرنے ہیں۔

لا اکراہ فی الدین کے قرآنی ارشاد سے دھوکہ:

مرزا ناصر احمد نے اپنے سارے بیان میں یہی ایک بات صحیح کی ہے کہ کسی کا مذہب جبراً تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ آیت کا مفہوم بھی یہی ہے۔ مگر اپنے روایتی فریب کو یہاں بھی کام میں لائے کہ ”زبردستی کسی مسلمان کو غیر مسلم قرار دینا بھی جبکہ وہ اسلام پر شرح صدر رکھتا ہو۔ اس آیت کی نافرمانی میں داخل ہے“ یہاں آیت کریمہ بھی قطعی ہے اور اس کا مطلب بھی واضح ہے۔ بھلا جس شخص نے دل سے اسلام کو قبول نہیں کیا۔ اس کو مسلمان بنا کر کیا کریں گے اور وہ مسلمان کیسے ہوگا؟ یہ درست ہے۔ مگر ہم نے کب کہا ہے کہ مرزائی کو جبراً مسلمان کرو۔ آپ

صفحہ ٣١٧

اپنی مرزائیت پر رہ کر اپنا شوق پورا کرتے رہیں۔ ہم آپ کو قطعا تبدیل مذہب کے لیے مجبور نہ کریں گے۔ لیکن آپ کو مسلمان نہ سمجھنا یہ ہمارا اعتقاد اور مذہب ہے۔ کیا آپ اکثریت کو اس کے اپنے اعتقاد پر رہنے اور قانونی طور سے اس کی اشاعت کی اجازت نہیں دیتے؟ یہ سوچنا قومی اسمبلی کا کام ہے، جس کے سامنے سب سے پہلا اور بڑا کام قانون شریعت ہے۔ کہ آیا وہ آپ جیسی اقلیت کو مسلمان کے نام سے اکثریت کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت دے یا آپ کو اسلام کی روشنی میں آپ کے ہی اقوال واعتقادات کے پیش نظر غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ٩٩ فیصد کے حقوق غصب کرنے سے روک دے، اور اس دھوکہ سے کہ نکاح، جنازہ وغیرہ کے احکام میں کھلم کھلا اسلامی اصول کی خلاف ورزی ہو۔ قوم کو نکال دے۔ اگر آپ اپنے کافرانہ مذہب پر قائم رہیں ہم آپ پر جبر نہ کریں گے۔ مگر ہمیں اپنے اصول کے تحت جھوٹے نبوت کے مدعیوں اور ان کے پیروکاروں اور اس کو مجدد ماننے والوں کو غیر مسلم تصور کرنے دیں۔ کیا دنیا بھر کے مسلمان مرزائیوں کو اسلام سے خارج نہیں کہتے؟ اور کیا آپ کے مرزا غلام احمد قادیانی کو تکفیر عمومی کا یہ شوق نہیں چرایا؟ پھر بات تو ختم ہے۔ اب صرف بات اس قدر ہے آپ چاہتے ہیں کہ اسی طرح دو قومیں ہوتے ہوئے ہم مسلمان کے نام سے ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے رہیں اور ملک میں نفاق اور فساد جاری رہے۔ پھر کیوں نہ اس کو قانونی جامہ پہنا کر ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ پھر آپ اپنے لیے آزادی چاہتے ہیں اور ہمارے لیے پابندی، ہم سرور عالم ﷺ کی معراج جسمانی، حیات عیسیٰ ابن مریم اور ختم نبوت کے منکر کو مسلمان کہنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کیا آپ ہم کو اپنا عقیدہ بدلنے کے لیے مجبور کر کے قرآن پاک کی مذکورہ آیت کے خلاف نہیں کر رہے؟

آیت کریمہ سے غلط مطلب براری:

مندرجہ آیت کریمہ سے قتل مرتد کے اسلامی مسئلہ کے خلاف بھی کام لیا جاتا ہے۔ مگر یہ بھی غلط ہے، جب ایک شخص پاکستان کی رعیت نہیں اس پر کوئی پاکستانی قانون لاگو نہیں۔ مگر جب وہ خود پاکستانی بن جائے اور یہاں کے سارے قوانین کی پابندی کو مان لے۔ پھر اس کی خلاف ورزی پر اس کو سزا دی جائے گی۔ اسی اصول پر زنا، چوری، ڈاکہ، قتل، بغاوت اور ارتداد وغیرہ کی سزاؤں کا دارو مدار ہے۔ یہ اسلام کے اندر رہنے والوں کے لیے ہے، لیکن کسی باہر والے شخص کو اسلام لانے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ یہی آیت کریمہ کا مفہوم ہے۔

٩

صفحہ ٣١٨

سلام کرنے والے کو مومن نہ کہنے کا حکم:

قرآن کی اس آیت سے بھی مرزا ناصر احمد نے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔ مگر ہم یہ بحث مسلمان کی تعریف میں کریں گے (ان شاء اللہ تعالیٰ) حضرت اسامہؓ کی حدیث بھی ناصر احمد نے نقل کی ہے کہ جنگ میں ایک شخص نے کلمہ پڑھا۔ انھوں نے پھر اس کو قتل کر دیا۔ اس پر سرور عالمﷺ نے خفگی کا اظہار فرمایا۔ اس پر بھی مسلمان کی تعریف کے وقت روشنی ڈالی جائے گی۔ (ان شاء اللہ تعالیٰ)

تہتر فرقوں والی حدیث

مرزا ناصر احمد نے نکتۂ استحقاق پیش کیا ہے کہ حدیث میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا۔ ستفترق هذه الامة علی ثلاث وسبعین فرقة کلها فی النار الا واحده o

(مشکوٰۃ ص ٣٠ باب الاعتصام بالکتاب السنۃ)

’’یہ امت عنقریب تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ سب فرقے آگ میں ہوں گے سوائے ایک کے۔‘‘

یہاں مرزا ناصر نے اگلے لفظ کھا لیے ہیں مگر آگے چل کر مودودی صاحب کے ترجمان القرآن جنوری ١٩٤٥ء سے نقل کیا ہے اس کے آخر میں باقی الفاظ نقل کر دیے ہیں۔ قالوا من هی یارسول الله قال ما انا علیه واصحابی o ’’صحابہؓ نے عرض کیا کہ وہ نجات پانے والا فرقہ کون ہے۔ آپؐ نے فرمایا جو میرے اور میرے صحابہؓ کے طریقے پر ہو۔‘‘

صفحہ ١٠ پر مرزا ناصر نے مودودی صاحب کی تحریر سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ وہ مودودی صاحب کے حوالہ سے لکھتے ہیں۔ ’’اس حدیث میں اس جماعت کی دو علامتیں نمایاں طور پر بیان کر دی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ آنحضرتﷺ اور آپؐ کے صحابہ کے طریق پر ہوگی۔ دوسری یہ کہ نہایت اقلیت میں ہوگی۔‘‘ مرزا ناصر کا نکتۂ استحقاق یہ ہے کہ حضورﷺ کے مندرجہ بالا فرمان کے بالکل برعکس اپوزیشن کے علماء کی طرف سے پیش کردہ ریزولیشن یہ ظاہر کر رہا ہے کہ امت مسلمہ کے بہتر فرقے تو جنتی ہیں اور صرف ایک دوزخی ہے جو قطعی طور پر حضرت خاتم الانبیاءﷺ کی حدیث مبارک کے خلاف اور آپؐ کی صریح گستاخی ہے۔

١٠

صفحہ ٣١٩

یہاں گویا مرزا ناصر گھبرا رہے ہیں کہ صرف وہی جہنم کے ایندھن ہوں گے باقی سب جنتی ہیں۔ یہ تمام تقریر بناء فاسد علی الفاسد ہے۔ اس حدیث میں بہتر فرقوں کے ناری اور ایک کی نجات کا ذکر ہے۔ یہ جنتی اور دوزخی ہونے کے بارہ میں ہے اور ظاہر ہے کہ بعض گناہ گار مسلمان بھی ایک بار جہنم میں داخل ہوں گے۔ بہر حال اس حدیث میں کافر اور مسلم کے الفاظ نہیں بلکہ دوزخی اور جنتی کے ہیں۔ اب ان دونوں نے اس حدیث سے غلط فائدہ اٹھایا اور خواہ مخواہ عوام کو دھوکہ دینے کی کوششیں کی ہیں۔

بہتر اور تہتر فرقے:

نہ یہ تہترواں فرقہ تمام بہتر فرقوں کو کافر کہتا ہے نہ وہ بہتر فرقے اس تہترویں فرقے کو کافر کہتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان فرقوں میں سے کوئی آدمی حد سے گزر کر صاف کفریہ عقیدے رکھے تو وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔ مگر یہ ان بہتر فرقوں کے ساتھ خاص نہیں۔ تہترویں فرقۂ اہل سنت والجماعت کا کوئی فرد بھی اگر کسی بدیہی اور قطعی عقیدے کا انکار کرے تو وہ بھی مسلمان نہیں رہ سکتا۔ مثلاً ختم نبوت کا انکار کر دے یا زنا اور شراب کو حلال کہے۔ بہر حال اس حدیث کا کفر و اسلام کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں اور مرزائیوں کا مسئلہ اس کے بالکل برعکس ہے کہ وہ غیر مسلم اقلیت ہیں وہ قطعی کافر ہیں۔ انھوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مان رکھا ہے۔ یہ حیات مسیح علیہ السلام کا انکار کرتے ہیں ، معراج جسمانی کے منکر ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی کو قطعی کہتے اور اس پر قرآن کی طرح ایمان رکھتے ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور تمام پیغمبروں کی توہین کرنے والے کو مجدد اور مسیح کہتے ہیں۔ ان کو کون ان بہتر فرقوں میں داخل کرتا ہے؟ بلکہ یہ ان سب سے خارج اور قطعی کافر ہیں۔ ہم نے یہ جو لکھا ہے کہ مرزا ناصر نے مودودی صاحب کی تحریر سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اس لیے کہ مودودی صاحب نے بقول مرزا ناصر احمد کے یہ لکھا ہے کہ ناجی فرقہ کی علامت یہ ہے کہ وہ نہایت اقلیت میں ہوگا۔ حالانکہ سرور عالم ﷺ کا ارشاد ہے۔ اتبعو السواد الاعظم فانه من شذ شذ فی النارہ

(مشکوٰۃ ص ٣٠ باب الاعتصام باالکتاب السنۃ)

”بڑی جماعت کے ساتھ رہو۔ اس لیے جو علیحدہ ہوا وہ جہنم میں گیا۔“

پھر اپنے اس فریب کو ان الفاظ میں چھپایا اور ”اس معمور دنیا میں اس کی حیثیت اجنبی اور بیگانہ لوگوں کی ہوگی۔“

١١

صفحہ ٣٢٠

معمور دنیا میں تو کافر بھی ہیں جو زیادہ ہیں اور حدیث جو بڑے گروہ کے ساتھ رہنے کا حکم دیتی ہے۔ تو کیا وہ کفار کے ساتھ بھی رہنے کا یہی حکم دیتی ہے۔ یہ ہیں چودھویں صدی کے مجتہد، مجدد اور خود ساختہ خلفاء۔ درحقیقت مسلمانوں کا ذکر ہے اور مسلمانوں ہی میں بڑی جماعت اور سواد اعظم کے اتباع کا حکم ہے۔ تو معلوم ہوا کہ بڑی جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی۔ چنانچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ چودہ سو سال گزرنے پر بھی دنیا بھر کے مسلمانوں میں صحابہ کرامؓ کا اتباع کرنے والوں کی کثرت ہے۔ یہی اہل سنت والجماعت ہیں۔ مگر اس حدیث میں باقی بہتر فرقوں کو کافر نہیں کہا گیا۔

مرزائیوں سے نزاع کفر و اسلام کا ہے۔ اس لیے مرزا ناصر احمد کا یہ نکتۂ استحقاق بالکل غلط ہے۔ انھوں نے صرف مودودی صاحب کی عبارت سے اپنی اقلیت کو اشارۂ حق پر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ یا غلط امید رکھی ہے۔ مرزا ناصر احمد کو معلوم ہونا چاہیے کہ مودودی صاحب نے بھی صحابہؓ کو معیار حق نہ مان کر اس حدیث کے معنی سے بغاوت کی ہے اور اقلیت کی بات اپنی طرف سے گھسیڑ کر اپنی مٹھی بھر جماعت کو مرزائیوں کی طرح برحق ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کی ہے۔

صفحہ ١١ فضول ہے

مرزا ناصر احمد نے محضرنامے میں صفحہ ١١ پر اپنی گزشتہ تحریروں کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ صرف احتیاط کا وعظ ہے اور غیر جانبدار دنیا میں تضحیک کا واویلا کر کے ڈرانے کی کوشش کی ہے۔

مرزا ناصر احمد سے

ہم بھی مرزا ناصر کو وعظ کرتے ہیں کہ لندن کی جمہوریت دنیا بھر کی جمہوریتوں میں مشہور ہے۔ لیکن وہاں کی پارلیمنٹ نے لواطت کو جائز قرار دیا ہے۔ کیا ہم ان لوگوں کے ہنسنے سے ڈریں یا ان پر ہنسیں یا امریکہ سے شرمائیں جو کسی کمیونسٹ کو کلیدی آسامی پر مقرر نہیں کر سکتا۔ یا روس کا خیال کریں جو کسی امریکی جمہوریت پسند کو ذمہ دارانہ عہدہ نہیں دے سکتا۔ کیونکہ وہ اصولی حکومتیں ہیں جو شخص ان کے اصول کو نہ مانے اس کو وہ نہ رکھیں، پھر ہمارا مملکتی مذہب اسلام ہے۔ ہمارا دین اسلام ہے تو جو شخص اس اسلام کے اصول کے خلاف ہو اس کو ہم کیوں برداشت کر کے اپنے اوپر مسلط کریں اگر آپ واقعی حق پسند ہیں تو مرزائیت ترک کر

١٢

صفحہ ٣٢١

دیں ۔ آپ کو اپنا اجر بھی ملے گا اور ان دوسرے مرزائیوں کا بھی جو مسلمان ہوں گے۔

مرزا ناصر!

مغربی دنیا میں ابھی تک کالے، گورے کی تفریق موجود ہے۔ انھوں نے سیاست کو مذہب سے علیحدہ رکھا ہے۔ وہ سرقہ اور زنا کی اسلامی سزاؤں کے خلاف ہیں اور اسی لیے وہاں ان جرائم کی بھر مار ہے۔ وہ عورتوں کو وراثت دینے کے خلاف ہیں۔ وہ اسلامی طلاق اور تعدد ازدواج کو غلط کہتے ہیں۔ شرعی پردہ پر اعتراض کرتے ہیں۔ ان کی اخلاقی حالت تباہ ہو چکی ہے۔ وہ کبھی شراب کو قانوناً بند کر دیتے ہیں اور کبھی اجازت دے دیتے ہیں۔ کیا ہم ان کی خاطر اسلام کے کسی حصے کو ترک کر سکتے ہیں۔ اور کیا ہم ان ہی کی طرف دیکھتے رہیں گے۔

اے تماشا گاہ عالم روئے تو تو کجا بہر تماشائی روئی

مسلمان کی تعریف

”مسلمان“ کی تعریف کے لیے پاکستانی مسلمان عرصہ دراز سے مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ بغیر تعریف کے مسلمان کے نام سے پاکستان میں غیر مسلم مرزائی عہدوں پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ اور یہ اسکیم انگریز کی تھی جو اس وقت تو کامیاب نہ ہوئی لیکن اس نے مسلمانوں کو الجھن میں ڈال رکھا ہے۔ بہرحال جب پہلے دستور میں صدر مملکت کے لیے مسلمان ہونا شرط کیا گیا۔ ہم نے اسی وقت سے مسلمان کی تعریف کرنے کا مطالبہ شروع کر دیا تھا۔ اور یہ بالکل قانونی اور فطری بات تھی۔ جب صدر کے لیے مسلمان ہونا شرط ہے تو مسلمان کی تعریف خود آئین میں ہونی لازمی ہو گئی۔ ورنہ ہر ایرا غیرا اپنے کو مسلمان کہہ کر صدارت کا امیدوار بن سکتا تھا۔ اور اب نئی حکومت نے تو صدر اور وزیر اعظم دونوں کے لیے مسلمان ہونا شرط قرار دے دیا ہے۔ اور اگرچہ صاف طور پر مسلمان کی تعریف سے گریز کیا گیا ہے۔ مگر صدر اور وزیر اعظم کے حلف کے لیے جو الفاظ تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں ختم نبوت پر ایمان اور سرور عالم ﷺ کے بعد کسی کے نبی نہ بننے قر آن وحدیث کے تمام مقتضیات پر ایمان لانے کا بھی ذکر شامل ہے۔ موجودہ حکومت کا یہ وہ کارنامہ ہے جس سے کفر کی دلدادہ طاقتیں بوکھلا گئی ہیں۔ اس سے مرزائی بھی خاص طور سے گھبرا گئے ہیں۔ انھوں نے پہلے پہل عہدوں اور ممبر یوں پر قبضہ کرنے کی غرض سے پیپلز پارٹی کی حمایت کی تھی اب یکدم اصغر خان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ (بحوالہ لولاک لائلپور ) پھر مرزائی ظفر چوہدری (سابق ائیر مارشل)

١٣

صفحہ ٣٢٢

نے جو کردار ادا کیا جس کی اس کو سزا بھی مل گئی وہ سب کے سامنے ہے۔ بعد ازاں بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا۔ اور چند ہی دن بعد ربوہ اسٹیشن پر مرزائیوں نے فساد اور ظلم کا ارتکاب کیا۔ مرزائی لوگ کبھی ملک کے وفادار نہیں ہو سکتے۔ یہ حکومت کے پابند نہیں اپنے خلیفہ کے پابند ہیں۔

مسلمان کی تعریف :۔ اب جب کہ ملک میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبہ میں بیس سال کے بعد پھر طاقت آئی ہے تو مرزائیوں کو بھی مسلمان کی تعریف کا شوق چرایا۔ تاکہ ہم کسی نہ کسی طرح مسلمانوں میں شمار ہو جائیں۔ اس عنوان کے تحت صفحہ ١٥ پر مرزائی محضر نامے کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ کسی ایسی تعریف کو جائز نہیں سمجھتے جو کتاب اللہ اور خود سرور کائنات ﷺ کی فرمائی ہوئی تعریف کے بعد کسی زمانہ میں کی جائے۔

اس کی تائید صفحہ ١٩ سطر نمبر ٧ سے ہوتی ہے، جہاں لکھا ہے کہ ”پس جماعت احمدیہ کا موقف یہ ہے کہ مسلمان کی وہی دستوری اور آئینی تعریف اختیار کی جائے۔ جو حضرت خاتم الانبیاء ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرمائی۔“ اس سلسلہ میں تین حدیثیں پیش کیں۔ گویا زبان نبوی کی تعریفیں ہیں۔ مگر آپ حیران ہوں گے کہ مرزا ناصر احمد نے صفحہ ٢١ سطر نمبر ١٥ میں قرآن پاک سے اسلام کا ایک اور اصطلاحی معنی بیان کر دیا۔

دروغ گورا حافظہ نباشد

حالانکہ یہ تعریف پرانی تعریفوں کے زمانہ مرزائیت کی ہے۔ سچ ہے دروغ گورا حافظہ نہ باشد۔ مرزا ناصر نے یہ اصطلاحی معنی مرزا غلام احمد قادیانی ہی کے الفاظ میں (آئینہ کمالات اسلام صفحہ ٥٧ تا صفحہ ٦٢ خزائن ج ٥ ص ایضاً) سے نقل کیا ہے ان چار صفحات میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے تصوف کا سکہ جمانا چاہا ہے اور اپنی تقریر سے یہ تصور دینے کی کوشش کی کہ گویا وہ بھی کوئی خدا رسیدہ اور متصل الی اللہ ہے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی کا مقصد بھی دھوکہ دینا تھا اور یہی مقصد مرزا ناصر احمد کا بھی معلوم ہوتا ہے۔ ورنہ حدیث کی تین تعریفوں کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کی اس چوتھی تعریف اور اس تقریر کے نقل کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی، مگر باور یہ کرانا تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اتنے فنا فی اللہ ہیں کہ ان کی کوئی حرکت حکم الٰہی کے سوا نہیں ہو سکتی۔ اس سلسلہ میں ہم مجبور ہیں کہ مرزا قادیانی کی معاشرتی زندگی قوم کے سامنے پیش کریں۔ کیا اس قماش کے آدمی کو اس تقریر سے ایک فی لاکھ بھی نسبت ہے، مگر پہلے ہم مسلمان کی تعریف کی بحث ختم کرنا چاہتے ہیں۔

١٤

مسلمان کی تعریف میں م پہلی حدیث: خدمت میں آ کر یوں گویا یا محمد اخبرنی ع الاسلام ان تشهد وان محمد رس الصلوة وتؤتی رمضان وتص استطعت الیه سب فعجبنا له يسئ فاخبرنی عن تؤمن بالله وملئک والیوم الآخر وتو وشره قال صدق (مسلم شریف

دوسری حدیث: جاء رجل الی من اهل نجد دوی صوته لا دنا. فاذا هو فقال رسول صلوة فی

صفحہ ٣٢٣

مسلمان کی تعریف میں منقولہ احادیث

پہلی حدیث :۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام انسانی بھیس میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آکر یوں گویا ہوئے۔

يا محمد اخبرنى عن الاسلام قال الاسلام ان تشهد ان لا اله الا الله وان محمد رسول الله وتقيم الصلوٰة وتؤتی الزکوٰة وتصوم رمضان وتحج البيت ان استطعت اليه سبيلاً قال صدقت فعجبنا له يسئله ويصدقه قال فاخبرنى عن الايمان قال ان تؤمن بالله وملئكته وكتبه ورسله واليوم الآخر وتؤمن بالقدر خيره وشره قال صدقت.

(مسلم شریف ج ١ ص ٢٧ کتاب الایمان)

اے محمدؐ مجھے اسلام بتائیے، آپ نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور تم نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو۔ اور رمضان کے روزے رکھو اور حج بیت اللہ کرو۔ اگر وہاں جانے کی طاقت ہو اس شخص نے کہا آپ نے سچ کہا ہم متعجب ہوئے کہ پوچھتا بھی ہے، پھر تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اس نے کہا کہ مجھے ایمان بتائیں، آپ نے فرمایا کہ وہ یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور قیامت کے دن پر اور تقدیر پر، چاہے اچھائی ہو یا برائی۔ اس شخص نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا۔

دوسری حدیث :

جاء رجل الى رسول الله ﷺ من اهل نجد ثائر الراس نسمع دوى صوته لا نفقه ما يقول حتى دنا. فاذا هو يسأل عن الاسلام فقال رسول الله ﷺ خمس صلوات فى اليوم والليلة فقال

نجد کا ایک آدمی سرور عالم ﷺ کے پاس آیا سر کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی گنگناہٹ ہم سنتے تھے مگر اس کا مفہوم نہیں سمجھ رہے تھے، یہاں تک کہ وہ قریب آ گیا۔ دیکھا تو اس نے اسلام کے بارے میں پوچھا آپ

١٥

صفحہ ٣٢٤

هل على غيرها قال لا الا ان تطوع قال رسول الله ﷺ وصيام رمضان قال هل على غيرها قال لا الا ان تطوع قال وذكر له رسول الله ﷺ الزكوة قال هل على غيرها قال لا الا ان تطوع قال فادبر الرجل وهو يقول والله لا ازيد على هذا ولا نقص قال رسول الله ﷺ افلح ان صدق.

(صحیح بخاری ج١ ص١١، ١٢ باب الزکوة من الاسلام)

نے فرمایا۔ رات دن میں پانچ نمازیں، اس نے کہا کیا اس کے سوا کوئی اور بھی میرے ذمہ ہے، آپ نے فرمایا نہیں۔ ہاں نفل ہو سکتے ہیں، پھر آپ نے رمضان کے روزوں کا فرمایا۔ اس نے کہا کیا اس کے سوا کوئی چیز تو ضروری نہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں، ہاں نفل کرو۔ (تو تمھارا اختیار ہے) پھر آپ نے زکوٰۃ کا ذکر فرمایا۔ اس نے پھر وہی سوال کیا کہ کیا اس کے سوا کچھ اور بھی ہے۔ آپ نے فرمایا۔ نہیں ہاں اگر نفل کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ آدمی یہ کہتے ہوئے واپس چلا گیا۔ خدا کی قسم! میں اس پر نہ زیادہ کروں گا، نہ کم کروں گا۔ آپ نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہو کر فلاح پا گیا۔

تیسری حدیث: من صلى صلوتنا واستقبل قبلتنا واكل ذبيحتنا فذالك المسلم الذي له ذمة الله وذمة رسوله فلا تخفر والله في ذمته.

(بخاری ج١، ص٥٦، باب فضل استقبال

القبلة)

جس نے ہماری نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور کھایا، تو یہ وہ مسلمان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہے، تو اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری میں اس کے ساتھ دغا بازی نہ کرو۔ (یہ ترجمہ مرزا ناصر کا کیا ہوا ہے جو اس نے مودودی صاحب سے نقل کیا ہے)

دیں جو مرزا ناصر احمد نے محضر نامے میں صفحہ ٢٣ سے صفحہ ٢٦ تک نقل کی ہے۔

١٦

صفحہ ٣٢٥

اب ہم چاہتے ہیں کہ جن امور کو مرزا ناصر احمد نے مسلمان کی تعریف سے جدا کر کے ضمنی طور پر بیان کر دیا ہے ان کا ذکر بھی کر دیں تا کہ پھر اکٹھی سب پر بحث ہو سکے۔

ولا تقولوا لمن القى الیکم السلام لست مومنا

(نساء ٩٤)

”اور جو شخص تمھیں سلام کہے۔ اس کو (آگے سے) یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں“۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سلام کہنے والے کو بھی آپ کافر یا غیر مسلم نہیں کہہ سکتے ۔

فرماتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے ہمیں جہینہ قبیلہ کے غطفان کی طرف بھیجا۔ ہم نے صبح صبح ان کے چشموں پر ہی ان کو جا لیا۔ میں نے اور ایک انصاری نے ان کے ایک آدمی کا تعاقب کیا۔ جب ہم نے اس کو جا لیا اور اسے مغلوب کر لیا، تو وہ بول اٹھا۔ لا الہ الا اللہ (خدا کے سوا کوئی معبود نہیں) اس بات سے میرا انصاری ساتھی اس سے رک گیا۔ لیکن میں نے اس پر نیزے کا وار کر کے اس کو قتل کر دیا۔ جب ہم مدینہ واپس آئے اور آنحضرتؐ کو اس بات کا علم ہوا۔ تو آپؐ نے فرمایا۔ اے اسامہ! کیا لا الہ الا اللہ پڑھ لینے کے باوجود تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ۔ وہ صرف بچاؤ کے لیے یہ الفاظ کہہ رہا تھا۔ آپؐ بار بار یہ دہرائے جاتے تھے، یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ کاش آج سے پہلے میں مسلمان ہی نہ ہوتا ۔

اور ایک اور روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب اس نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیا، پھر بھی تو نے اسے قتل کر دیا۔ میں نے عرض کیا ۔ اے اللہ کے رسول اس نے ہتھیار کے ڈر سے ایسا کیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا کہ اس نے دل سے کہا ہے یا نہیں؟ حضورؐ نے یہ بات اتنی بار دہرائی کہ میں تمنا کرنے لگا کہ کاش آج میں مسلمان ہوا ہوتا۔

( بخاری، کتاب المغازی )

اس سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ کلمہ پڑھ لینا ہی اسلام ہے۔ دل چیر کر دیکھنا تو مشکل ہے۔

اب ہم چند اور روایات اسی قسم کی نقل کرتے ہیں۔

لی رسول اللہ ﷺ واعطانی ﷺ نے مجھے اپنے نعلین (چپل نعلیہ وقال اذھب فمن لقیت من مبارک) عطا فرمائے اور فرمایا کہ جاؤ

١٧

صفحہ ٣٢٦

وراء هذا حائط يشهد ان لا اله الا الله مستيقنا بها قلبه فبشره بالجنة (مسلم، ج١، ص ٤٥، باب الدليل على ان من مات على التوحيد) عن ابى ذر قال قال رسول الله ﷺ ما من عبد قال لا اله الا الله ثم مات على ذالك الا دخل الجنة قلت وان زنى وان سرق قال وان زنى وان سرق الخ متفق عليه (بخاری، ج٢، ص٨٦٧، باب الثياب البيض)

جو ملے اور وہ لا الہ الا اللہ سچے دل سے پڑھتا ہو اس کو جنت کی بشارت دے دو۔ حضرت ابوذر کو حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو بندہ بھی لا الہ الا اللہ کہے پھر اسی عقیدہ پر مر جائے تو وہ جنتی ہے۔ ابوذر نے پوچھا چاہے وہ زنا اور چوری بھی کرتا ہو۔ حضور نے تین بار فرمایا اگر چہ وہ زنا اور چوری بھی کرتا ہو۔ متفق علیہ دونوں روایتیں اختصار سے بیان ہوئی ہیں۔

(مشکوۃ ص ١٤، کتاب الایمان)

اگر وہاں سے اذان کی آواز آتی، تو حملہ نہ کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان کہنے سے وہ مسلمان ثابت ہو رہے تھے۔

زکوۃ نہ دینا یا اس کا انکار کفر ہے۔

جس سے معلوم ہوا کہ ختم نبوت کا مسئلہ بھی جزو ایمان ہے اور اس کا منکر اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

جسٹس منیر یا مرزا ناصر احمد

اب اگر جسٹس منیر یا مرزا ناصر احمد علماء کرام کا مذاق اڑائیں، یا اسلام کی تعریف پر متفق ہونے کو قابل اعتراض قرار دیں، تو ان کا یہ اعتراض علمائے کرام پر نہیں، خود سرور عالم ﷺ پر العیاذ باللہ ہو جاتا ہے۔

جسٹس منیر تو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس ہو کر دنیوی مراد کو پہنچ گیا۔ قیامت کا تعلق اللہ تعالیٰ اور توبہ سے ہے، باقی مرزا ناصر احمد سے توبہ کی زیادہ امید نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو مسلمان ہونے کی توفیق دیں تاکہ ان ہزاروں مرزائیوں کے مسلمان ہونے کا ثواب بھی اس کو

١٨

صفحہ ٣٢٧

مل جائے، ورنہ پھر اللہ تعالیٰ نے جنت اور دوزخ دونوں تیار کر رکھے ہیں۔ جو جہاں کا مستحق ہو گا وہاں پہنچ جائے گا۔

اظہار حقیقت: کیا جو باتیں مندرجہ بالا دس نمبروں میں بیان کی گئی ہیں، یہ اسلام کی یا مسلمان کی تعریف ہے، اور کیا ان میں باہم کوئی تضاد یا کمی بیشی ہے یا نہیں، اگر یہ تعریفیں ایک طرح کی نہیں تو جسٹس منیر کا اعتراض سرور عالم ﷺ تک جا پہنچتا ہے اور بے چارہ مرزا ناصر احمد تو کسی شمار و قطار میں ہی نہیں۔

ان تعریفوں کا اختلاف

اب دیکھیں کہ حدیث نمبر ١ جبرائیل کی روایت میں ایمان و اسلام جدا جدا بیان کئے گے۔ نمبر ٢ نجد والے سادہ شخص کے سامنے آپ نے اسلام کی تعریف میں حج کا بیان ہی نہیں کیا اور حدیث جبرائیل کے مطابق ایمان کے ارکان کا ذکر ہی نہیں ہے، جن کو مانے بغیر کوئی مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔ نمبر ٣ روایت میں تو ہماری طرح نماز پڑھنے قبلہ رو ہونے اور ہمارے ہاتھ کا ذبیحہ کھانے کا ذکر ہے، باقی ان باتوں کا جو پہلی کی دو حدیثوں میں بیان ہوئیں کوئی ذکر ہی نہیں۔ حدیث نمبر ٥ میں حکم ہے کہ سلام کہنے والے کو ہم غیر مسلم نہ کہیں، گویا سلام کرنا ہی اسلام اور ایمان کے لیے کافی ہے۔ نمبر ٦ روایت میں آپ نے بار بار حضرت اسامہؓ سے فرمایا کہ لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد تم نے اس کو قتل کر دیا۔ کیا تم نے اس کا دل چیر کے دیکھا تھا۔ اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ صرف لا الہ الا اللہ کہنے سے مسلمان ہو گیا تھا۔ ابھی تک اس نے اور کوئی عمل نہیں کیا تھا۔ معلوم ہوا کہ مسلمان ہونے کے لیے یہی کلمہ کافی ہے۔ روایت نمبر ٧ میں صرف لا الہ الا اللہ کہنے ہی کو سبب دخول جنت فرمایا گیا ہے۔

بمطابق روایت نمبر ٩ اور نمبر ١٠ میں حضرت صدیق اکبر نے جھوٹے مدعیان نبوت سے لڑائی کی اور منکرین زکوٰۃ سے بھی۔ جس کا معنی یہ ہے کہ ان دو جرموں کی وجہ سے وہ مسلمان نہ رہے تھے۔

مسیلمہ کذاب اور دوسرے جھوٹے مدعیان نبوت کی بات تو صاف ہے لیکن جب حضرت صدیق اکبر نے منکرین زکوٰۃ سے جہاد کا اظہار فرمایا، حضرت عمرؓ نے کہا کہ وہ لا الہ الا اللہ کہتے ہیں۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا ہے، امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ (کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں، جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں) مطلب یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ کہنے سے انھوں نے اپنے اموال اور جانیں بچالیں۔

١٩

صفحہ ٣٢٨

حضرت صدیق اکبر نے حضرت عمر سے نہ مناظرہ کیا نہ دلیل بازی، بلکہ فرمایا جو ایک تسمہ بھی زکوٰۃ کا حضور کو دیتا تھا اور مجھے نہ دے۔ میں اس سے لڑوں گا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ جو بھی زکوٰۃ وصلوٰۃ میں فرق کرے گا میں اس سے لڑوں گا۔ (اللہ اکبر) کیا باطن تھا، کیا صفائے قلب تھی۔ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ابو بکر کا دل حق کے لیے کھول دیا ہے، پھر بالاتفاق جہاد شروع ہوا۔

مسلمانوں کی تعریف کی تحقیق

پہلے آپ قرآن پاک کی آیات سنیں:

اللّٰه كذبا او كذب باياته انه لا جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرے یا اللہ تعالیٰ يفلح الظالمون۔ (الانعام ٢١) کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بے شک نہیں فلاح پاتے ظالم۔

فقالوا يا ليتنا نرد ولا نكذب کھڑے کر دیے جائیں گے اور کہیں بايات ربنا ونكون من گے کاش ہم واپس لوٹا دیے جائیں اور المومنين۔ (الانعام ٢٧) ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلائیں اور یہ کہ ہم ایمان والوں میں سے ہو جائیں۔

الحجر المرسلين۔ (حجر ٨٠) پیغمبروں کو۔

المرسلين۔ (شعراء ١٧٦) لانے والوں کو۔

لسانا فارسله معی ردا يصدقنی ہے اس کو میرے ساتھ رسول بنا دیں انی اخاف ان يكذبون۔ (مددگار) جو میری تصدیق کریں، مجھے (قصص ٣٤) خطرہ ہے کہ وہ لوگ جھٹلا دیں گے۔

٢٠

به اولئک هـ

(مدثر، ٤٦)

كذب وتولى

بالحسنى (ليل ٥-٧)

(علق ١٣)

بالدين۔ (الـ

ہے، جس کا ما جبرائیل علیہ السلا طرح آمنوا سے شرعی تصدیق اس کفر۔ اگر کوئی ق حسد، تعصب، نہیں ۔ جیسے شا کرنے سے الـ يعرفون ابناء وم

صفحہ ٣٢٩

به اولئک هم المتقون. سب لوگ متقی ہیں۔ (زمر، ٣٣)

(مدثر، ٤٦)

كذب وتولى. (سورۃ القیامۃ : ٣١) نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیرا۔

بالحسنى فسنيسره لليسرى. اور سچ باتوں کی تصدیق کی، تو اس کو ہم (لیل ٥-٧) یسریٰ کی توفیق دیں گے۔

(علق ١٣) اور منہ پھیر دے۔

بالدين. (الماعون، ١) کو جھٹلاتا ہے۔

ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ نیک کام تو حدیث جبرائیل علیہ السلام سے معلوم کیے جا چکے ہیں کہ اچھے کام ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوۃ اور اسی طرح آمنوا سے بھی اسی حدیث کے تحت ایمان کی تفصیل ہوتی ہے۔

شرعی تصدیق

اب دیکھنا یہ ہے کہ قرآن پاک میں جا بجا تصدیق کو ایمان کہا گیا ہے اور تکذیب کو کفر۔ اگر کوئی شخص یہ پوری طرح سمجھ لے کہ اسلام سچا دین ہے، اور اس کو یقین ہو، مگر اس کو حسد، تعصب، ہٹ دھرمی یا کسی جھوٹے وقار کی خاطر دل سے قبول کرنے کو تیار نہ ہو، وہ مسلمان نہیں ۔ جیسے شاہ روم ہرقل نے اسلام کے اصولوں کو سچا قرار دیا، مگر اہل دربار کے شور سے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ قرآن پاک میں اہل کتاب کے بارہ میں ہے۔ ويعرفونه كما يعرفون ابناء هم۔ (بقرہ ،١٤٦)

”اور اس پیغمبر کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے لڑکوں کو پہچانتے ہیں ۔“

مطلب یہ ہے کہ ان کو اسلام کی صداقت میں شبہ نہیں، مگر پھر بھی وہ اس کو قبول نہیں

٢١

صفحہ ٣٣٠

کرتے۔ اس لیے کافر ہیں۔

اس تمام تقریر سے میرا مطلب یہ ہے کہ قرآن وحدیث بالکل صاف ہیں، جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر نہیں لگا دی، وہ سمجھ سکتے ہیں۔ اب آپ خود غور فرمائیں کہ حضرت اسامہ بن زیدؓ کی روایت میں کلمہ پڑھ لینے کے بعد اس آدمی کے قتل پر کتنا رنج ظاہر فرمایا، حالانکہ اس وقت اس کے پلے میں سوائے کلمہ طیبہ کے اور کوئی عمل نہیں تھا۔ تو اس کا معنیٰ یہ تھا کہ اس نے دین اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس کے خلاف تکذیب کا کوئی ثبوت نہیں تھا، اس لیے رحمۃ للعالمین نے رنج ظاہر فرمایا۔

”اصل ایمان اور کفر“

تو اصل ایمان خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کو تمام باتوں میں سچا جاننا اور دل سے سچا قبول کر لینا ہے اور کفر اس کے مقابلے میں خدا تعالیٰ یا رسول کی کسی ایک بات کو بھی جھٹلا دینا ہے۔

اب آپ کو نہ علماء کی تعریفوں میں اختلاف نظر آئے گا، نہ سرور عالمﷺ کے ارشادات میں، نہ قرآن پاک کے مفہوم میں اس وقت سارے صحابہؓ جانتے تھے کہ حضورؐ کو مان لینا ہی اسلام ہے اور حضورؐ کو نہ ماننے کا نام کفر ہے اور یہ بات اتنی ظاہر تھی کہ ہر چھوٹا بڑا جانتا تھا۔ گویا ہر شخص اس حقیقت کو جانتا تھا کہ دین کو دل سے قبول کر لینا مسلمانی ہے، اور نہ کرنا بے ایمانی اور کفر ہے۔

ایمان اور کفر کی نشانیاں

بات یہ ہے کہ جو کچھ دس روایات میں بیان کیا گیا ہے، یہ سب نشانیاں ہیں۔ چونکہ دل سے ماننا یا نہ ماننا یہ دل کی باتیں ہیں۔ اس لیے قضاء شریعت میں اس کی جگہ نشانیوں پر حکم لگایا جائے گا۔ اس لیے اگر آپ کسی شخص میں ایمان کی علامت دیکھیں تو اس کو مسلمان کہیں گے اور اگر کفر کی نشانی دیکھیں، تو اس کو غیر مسلم تصور کریں گے۔

ماننے والا ہے۔ آپ کو حق نہیں کہ اس کو کہیں، تو مومن نہیں یا کافر ہے۔ مگر یہی شخص تھوڑی دیر کے بعد باتوں باتوں میں قیامت کا انکار کر دے تو اب اس میں کفر کی نشانی پائی گئی۔ اس لیے اب اس کو کافر کہیں گے۔

٢٢

صفحہ ٣٣١

اب اس کو مسلمان ہی سمجھیں گے۔ اگر وہی شخص تھوڑی دیر کے بعد کہے کہ زنا حلال ہے تو پھر ہم اس کو کفر اور جھٹلانے کی نشانی ظاہر ہونے کی وجہ سے کافر کہیں گے۔

سمجھے گا، کیونکہ ان میں تصدیق کی نشانی پائی گئی ہے۔ لیکن اگر وہ تھوڑی دیر کے بعد کہیں کہ حضورؐ کے بعد کسی کو نبوت مل سکتی ہے۔ اب یہ تکذیب اور جھٹلانے کی نشانی ظاہر ہوگئی۔ اب ان کو کافر کہیں گے۔

چھوٹے چھوٹے دیوتے بھی مانتے تھے۔ یعنی چھوٹے چھوٹے خدا۔ اس لیے اس وقت لا الہ الا اللہ کہنا اس بات کی نشانی تھی کہ اس نے دین اسلام قبول کر لیا ہے۔ لیکن اگر ایسا شخص اس کے بعد سود، زنا کو حلال کہے اور نماز کو فرض نہ سمجھے، تو اب اس کو کافر کہیں گے، کیونکہ اب اس میں تکذیب کی نشانی ثابت ہوگئی۔

ماننے کا اقرار کرتا ہے، مگر پھر وہ قرآن پاک کو (العیاذ باللہ) گندے نالے میں سب کے سامنے پھینک دیتا ہے، تو اب یہ انکار اور تکذیب کی نشانی ظاہر ہوگئی۔ اب اس کو باقی باتیں کفر سے نہیں بچا سکتیں۔

نہیں کی اور جہاد و قتال کے سوا ان کا کوئی علاج ہی نہیں سمجھا۔

جنگ کرنے میں تامل ہوا۔ مگر حضرت صدیق اکبرؓ کا ارشاد ان کا ہادی ثابت ہوا کہ جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا میں اس سے لڑوں گا۔ مطلب یہ تھا کہ یہ صرف عملی کوتاہی نہیں ہے بلکہ یہ اس اسلامی حق کو معاف کرا کر اس کی فرضیت ہی کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور یہ اسلامی احکام کی تکذیب ہے۔ سبحان اللہ العظیم، کیا اللہ والے تھے کہ بغیر بحث کے چند جملوں میں حضرت عمرؓ کو شرح صدر ہو گیا......!

پاک زمانہ

صحابہؓ کا زمانہ پاک زمانہ تھا، وہ حضرات بحث و تمحیص، حجت بازی اور لمبے چوڑے دلائل کے بغیر ہی منشاء نبوت کو سمجھ جاتے تھے۔ اسی لیے جب وہ حضرت محمد ﷺ کو کوئی مشورہ

٢٣

صفحہ ٣٣٢

دینا چاہتے تو پہلے بڑے ادب سے دریافت فرما لیتے۔ یا رسول اللہ یہ حکم ہے یا مشورہ ہے۔ وہ جانتے تھے کہ رسول کا حکم نہ ماننے سے کفر کا خطرہ ہے، کیونکہ بالمشافہ حکم نہ ماننے کا معنی یہ ہو سکتا ہے کہ وہ گویا کم از کم اس خاص بات میں آنحضرت ﷺ کو سچا نہیں مانتا اور یہ قطعی کفر ہے۔ اس لیے صحابہ کرامؓ نے جب کبھی مشورہ دینا چاہا، پہلے دریافت فرما لیا۔ ورنہ حضور کا ایک حکم بھی نہ ماننا وہ دین کے خلاف سمجھتے تھے۔

پس ایمان یہ ہے کہ خدا اور رسول کی تمام باتوں کو سچا سمجھے اور دل سے ان کو قبول کرے اور کفر یہ ہے کہ کسی ایک بات میں بھی رب العزت جل وعلا یا اس کے پاک رسول کو جھٹلایا جائے تو یہ قطعی کفر ہے مگر یہ تصدیق و تکذیب دل کی صفات ہیں، اس لیے اسلام میں علامتوں اور نشانیوں پر حکم کا دارومدار رکھا گیا، اور دنیا کی ہر عدالت ظاہری کو دیکھتی ہے۔

صحابہ کرامؓ اور خیرالقرون کے مسلمان ان حقائق کو ایمانی بصیرت ، اپنی صحیح قرآن دانی اور صحبت نبوی کی برکت سے پوری طرح سمجھتے تھے اور یہ ان کے ہاں قابل بحث چیز ہی نہ تھی۔ وہ حضور کے ماننے کو ایمان اور نہ ماننے کو کفر سمجھتے تھے اور یہی ہماری تحقیق کا خلاصہ ہے۔ اب آپ تمام احادیث آیات و روایات کو اس پر منطبق کر سکتے ہیں۔ سارا قرآن پڑھنے والے اور برسوں آپؐ کی صحبت میں رہنے والے صحابہؓ اس مسئلہ کو قابل بحث نہیں سمجھتے تھے کہ اسلام اور کفر کیا ہے۔ مسلمان اور کافر کون ہے۔ ان کے سامنے ایک ہی بات تھی جس نے آپ ﷺ کو مان لیا۔ وہ مسلمان ہو گیا اور جس نے حضور نبی کریمؐ کو نہ مانا وہ کافر ہے۔

مرزا ناصر احمد کی تردید خود مرزا قادیانی نے کر دی

مرزا ناصر احمد نے تین حدیثیں مسلمان کی تعریف میں پیش کیں، مگر مرزا قادیانی نے بلیٰ من اسلم وجهه لله وهو محسن فله اجره عند ربه ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون (البقره، ١١٢) سے اس کی تردید کر دی۔

یعنی وہ مسلمان ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دے۔ آگے دو صفحوں میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ گویا یہ تین حدیثوں کے سوا چوتھی تعریف ہے۔ اس کو اپنی طرف سے اضافہ کر کے مسلمان کی تعریف بنا ڈالا ہے۔ دراصل آگے چار صفحات میں اس نے جو مضمون لکھا ہے وہ اس لیے ہے کہ پڑھنے والے سمجھیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایسے ہی بلند مسلمان ہیں۔ اسی طرح محضر نامے میں مرزا ناصر احمد نے ذات باری کا عرفان اور دوسرا عنوان قرآن عظیم کی اعلیٰ وارفع شان کے تحت جو کچھ لکھا ہے، وہ بھی اور شان خاتم الانبیاء

صفحہ ٣٣٣

تصوف کے عنوانات سے جتنے مضامین لکھے ہیں، وہ مرزا غلام احمد کی کتابوں سے نقل کیے ہیں اور ان سب سے مقصد عوام پر اور ناواقف مسلمانوں پر اپنی بزرگی، تقدس اور معارف کا رعب ڈالنا ہے۔ حالانکہ یہ سب باتیں ہر وہ شخص کہہ اور لکھ سکتا ہے جس نے صوفیائے کرام کی کتابیں دیکھی ہیں۔ ان باتوں سے مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی نبوت، ظلی نبوت، بروزی نبوت، غیر تشریعی نبوت، تابع نبوت، لغوی نبوت، عین محمد اور فنا فی الرسول ہونا ظاہر کر کے لوگوں کو دھوکا دیا ہے۔

ساری بحث کا نتیجہ

کفر اور اسلام کی بحث سے آپ پر کافر کی تعریف واضح ہوگئی۔ اس تعریف کے لحاظ سے جس کی تردید نہیں کی جاسکتی، مرزا غلام احمد قادیانی قطعی کافر اور اسلام سے خارج ہے۔ اور اسی لیے اس کے پیرو چاہے وہ قادیانی ہوں یا لاہوری یعنی چاہے اس کو نبی مانیں یا مجدد یا مسلمان وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی میں تکذیب کی بہت سی نشانیاں اکٹھی پائی جاتی ہیں۔

دیا ہے اور اس دعویٰ کی اس کے جانشین مرزا ناصر احمد بھی تصدیق کرتے اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ اور اس کو امتی نبی کہہ کر اس کے دعویٰ نبوت کو ایک طرح چھپاتے ہیں۔ حالانکہ قادیانی مرزائی مرزا غلام احمد قادیانی کو ایسا حقیقی نبی تسلیم کرتے ہیں جس پر دیگر پیغمبروں کی طرح قطعی وحی آتی ہے۔ جو اسی طرح قطعی اور غلطیوں سے پاک ہے جس طرح کہ قرآن۔ اور اگر دعویٰ نبوت تکذیب کی نشانی نہیں ہوسکتی تو اس سے بڑھ کر کون سی چیز ہوسکتی ہے۔ ختم نبوت کا مسئلہ ایسا ہے جو قرآن پاک اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور اس کے معنی پر تمام امت کا اجماع ہے۔ جیسے کہ اپنی جگہ اس کا ذکر آئے گا۔

دین اور تکذیب رسل کی کھلی نشانی ہے۔ اس کا ذکر بھی اپنی جگہ آپ پڑھ سکتے ہیں۔

کی کھلی توہین کی ہے۔

آسمانی کتابوں کی طرح قرار دیا۔

٢٥

صفحہ ٣٣٤

ختم نبوت، نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام، حیات مسیح علیہ السلام اور دیگر قطعی اور متواتر مسائل ثابت ہوتے ہیں جس کا مطلب زندقہ ہے کہ قرآن پاک کے الفاظ تو وہی رہیں لیکن ان کے معانی بالکل بدل دیئے جائیں۔ یہ تحریف قرآنی اور تیرہ سو سال کے اولیاء، صلحا، علماء اور مجتہدین ومجددین امت کے متفقہ معانی و مطالب کے خلاف قطعی کفر ہے۔

ہی کافر کہا جیسے خدا اور رسول کا انکار ہے۔ یہ بھی پرانے دین اسلام کی کھلی تکذیب اور قطعی کفر ہے۔

پس ثابت ہو گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے تمام پیرو چاہے لاہوری ہوں یا قادیانی قطعی کافر اور اسلام سے خارج ہیں۔

مرزائیوں کا نیا فریب

مرزائی فرقہ سمجھ چکا ہے کہ اب اس بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والوں کو قطعی کافر کہا ہے اور مرزا بشیر الدین محمود احمد نے اس تکفیر کو اور بھی پکا کر کے اعلان کر دیا ہے کہ عام مسلمانوں (غیر احمدیوں) کا جنازہ نہ پڑھا جائے نہ ان کو رشتہ دیا جائے اور عام اہل اسلام کی اقتداء میں نماز کو تو خود مرزا قادیانی نے ہی بحکم خدا حرام قرار دے دیا تھا۔

اب انھوں نے مسلمانوں میں ملنے اور اسلام کے نام سے مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے جس کا چسکہ ان کو انگریز پھر ظفر اللہ خان لگا چکا ہے یہ بات گھڑی ہے کہ کفر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک کفر تو ایسا ہے جس سے آدمی ملت اسلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے اس کے ساتھ تو اسلامی تعلقات نہیں رکھے جاسکتے مگر دوسرا کفر اس درجے کا ہے کہ وہ مسلمانوں میں ملے گھلے رہنے سے نہیں روکتا۔ مگر قیامت میں یہ ماخوذ ہو گا جو بات صرف خدا ہی جانتا ہے۔ ایسے لوگ جب تک اپنے کو مسلمان کہیں گے تو ان کو مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔

یہ ہے تازہ بتازہ فریب

جس کا مطلب یہ ہے کہ مرزائی اور خود مرزا غلام احمد قادیانی مسلمانوں کو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کہتے، مگر ہمارے محترم اٹارنی جنرل کے سوالات سے تنگ آکر مرزا ناصر احمد کو یہ ماننا ہی پڑا کہ عام مسلمان جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانتے وہ کافر اور اسلام سے خارج ہیں۔ لیکن یہ اسلام کے چھوٹے دائرے سے خارج ہیں۔ بڑے سے خارج نہیں۔

٢٦

صفحہ ٣٣٥

ہمارا چیلنج

ہم مرزا ناصر احمد اور اس کے تمام مرزائیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ تیرہ ساڑھے تیرہ سو برس کے عرصہ میں ایک آدمی ایسا ثابت کریں جس نے زنا، شراب کو حلال کہا ہو۔ یا نبوت اور وحی کا دعویٰ کیا ہو۔ اور پھر مسلمانوں نے اس کو اس عقیدے پر رہتے ہوئے مسلمانوں میں ملائے رکھا ہو۔ اس کے مقابلہ میں ہم نے بتا دیا کہ صرف زکوٰۃ کا انکار کرنے سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے منکرین زکوٰۃ سے جہاد کیا۔ حالانکہ وہ باقی سارا اسلام مانتے اور اپنے کو مسلمان کہتے تھے۔

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا

مرزا ناصر احمد نے مرزائیوں کو مسلمانوں سے ملے جلے رہنے کے لیے عام مسلمانوں کو بھی کافر اور اسلام سے خارج تو کہا مگر ملت اسلامیہ کا ایک بڑا دائرہ بنا کر اس کے اندر رہنے دیا۔ اس دائرے میں رکھ کر بھی ان سے نکاح، شادی، جنازہ، نماز علیحدہ کرنے کو صحیح قرار دیا اور اس سلسلہ میں قرآن پاک میں ملت کا لفظ ڈھونڈ کر فتح کا نقارہ بجانے کی کوشش کی۔ کہا کہ قرآن میں ملت ابراہیمی کا ذکر تو ہے مگر دائرہ اسلام کا ذکر نہیں ہے اور پھر یہ آیت کریمہ پڑھی۔

ملة ابيكم ابراهيم هو سماكم تمھارے باپ ابراہیمؑ کی ملت المسلمين. (الحج، ٧٨) (جماعت) انھوں نے ہی تمھارا نام مسلمان رکھا۔

بھلا اس آیت میں کہاں ہے کہ خدا اور رسول کی قطعی باتوں کا انکار کر کے بھی وہ ملت ابراہیمی میں رہ سکتا ہے۔ خود اسی آیت میں ھو سماکم المسلمین فرما کر بتا دیا کہ ملت ابراہیمی مسلمانوں ہی کا نام ہے۔ اب جو مسلمان ہی نہ ہو وہ ملت ابراہیمی میں کیسے رہ سکتا ہے۔ دوسری جگہ قرآن پاک میں صاف ارشاد ہے۔

ورضيت لكم الاسلام دينا. اور ہم نے تمھارے لیے دین اسلام کو (المائده، ٣) پسند کر لیا۔

یہاں دین کا لفظ بھی ہے اور اسلام کا بھی۔ اب جو اسلام سے خارج ہو وہ دین اسلام میں کیسے رہ سکتا ہے۔ اور مرزا قادیانی جماعت کے قطعیات دین کا انکار کر کے کس طرح مسلمان کہلا سکتے ہیں۔ مرزا ناصر احمد نے یہ کہہ کر جو اپنے کو مسلمان کہے اس کو اسلام

٢٧

صفحہ ٣٣٦

سے خارج کرنے کا کسی کو حق نہیں۔ اگرچہ اس طرح پہلے سے انھوں نے خود اپنے دادا مرزا قادیانی اور اپنے والد مرزا بشیر الدین محمود کی تردید کر دی ہے جنھوں نے مسلمانوں کو ایسا ہی کافر کہا جیسے کسی نبی کے منکر کو کہا جاتا ہے۔ مگر یہ کہہ کر انھوں نے اپنے کو مضحکۃ الناس بھی بنا ڈالا ہے۔

اتمام حجت

مرزا ناصر احمد نے ملت اسلامیہ سے خارج ہونے کے لیے جرح میں بار ہا اس شرط کا ذکر کیا ہے کہ اتمام حجت ہونے کے بعد جو انکار کرے وہ ملت اسلامیہ سے بھی خارج ہے۔ لیکن آپ مرزا ناصر احمد کو داد دیں گے جنھوں نے اپنے مقصد کے لیے اتمام حجت کا معنی ہی بدل ڈالا۔ یہ کہتے ہیں اتمام حجت کا مطالبہ یہ ہے کہ دلائل سن کر دل مان جائے۔ مگر حق سمجھنے کے بعد پھر بھی انکار کرے۔ یہ شخص ایسا کافر ہے جو ملت اسلامیہ سے بھی خارج ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کئی بار یہ آیت کریمہ دھرائی۔ وجحدوا بها واستيقنتها انفسهم نمل آیت ١٤ (اور ان کافروں، فرعونوں اور اس کی جماعت نے انکار کر دیا حالانکہ ان کے دلوں نے یقین کر لیا تھا) مرزا غلام احمد قادیانی ہم آپ کو آپ کے مطلب کی ایک اور آیت بھی پڑھ کر سنا دیتے ہیں۔

يعرفونه كما يعرفون ابناءهم۔ وہ اس قرآن یا نبی کو اس طرح جانتے
(بقرہ آیت ١٤٦) ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو۔

مگر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ پہلی آیت میں فرعونوں کا ذکر ہے اور دوسری آیت میں اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کا۔ اس میں کیا شک ہے کہ بہت سے کافر اسلام کو صحیح سمجھ کر بھی از راہ ضد و عناد انکار کرتے تھے۔ وہ تو تھے ہی کافر مرزا ناصر احمد نے اتمام حجت کے دو اجزاء یعنی اتمام اور حجت کے معنوں میں بحث کر کے وقت ضائع کیا ہے۔

حجت کا معنی دلیل اور اتمام کا معنی پورا کر دینا۔ اس میں لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی شخص کے سامنے دعویٰ ثابت کرنے کے لیے پوری وضاحت ہو جائے۔ دعویٰ کے دلائل بیان کر دیے جائیں اب اگر وہ نہ مانے تو کہیں گے۔ اس پر اتمام حجت ہو گئی۔ اس میں شرط نہیں ہے کہ وہ دل سے آپ کے دعوے کو صحیح سمجھ کر بھی ماننے سے انکار کر دے۔ یہ نئے معنے مرزا ناصر احمد کی اپنی لیاقت ہے۔ قرآن پاک سنیں۔

٢٨

صفحہ ٣٣٧

لئلا يكون للناس على الله حجة ہم نے مندرجہ بالا پیغمبر مبشر اور منذر بنا بعد الرسل . (نساء ١٦٥) کر بھیجے، تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ (کے خلاف) پر کوئی دلیل باقی نہ رہے۔

جب اللہ تعالیٰ نے رسول بھیج دیئے انھوں نے ایمان والوں کو جنت کی خوشخبری سنا دی اور کافروں کو دوزخ کا ڈر سنا دیا۔ توحید کی طرف دعوت دی اپنے کو دلیل کے ساتھ خدا تعالیٰ کا رسول بتایا تو اب کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا۔

ماجاء نـا مـن بشير ولا نذير کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں (مائده ١٩) آیا۔

حجت پوری ہو گئی اب مانیں یا نہ مانیں۔ اگر مرزا ناصر احمد کا مطلب یہ ہے کہ ستر کروڑ مسلمانوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت وحی وغیرہ کو دل سے صحیح سمجھنے کے بعد انکار نہیں کیا۔ بلکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوؤں کو ہی غلط سمجھتے رہے۔ اس لیے یہ کافر تو ہیں مگر چھوٹے کافر ہیں۔ بڑے کافر نہیں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ جب مرزا قادیانی اپنے کو مسیح موعود نہ کہنے والوں کو خدا اور رسول کے منکر کی طرح کافر کہتے ہیں تو پھر خدا اور رسول کا منکر کس طرح کسی درجہ میں بھی مسلمان رہ سکتا ہے؟

پھر اگر مرزا ناصر احمد کی منطق درست مان لی جائے تو دنیا کے اکثر کافر جنھوں نے کسی پیغمبر کو دل سے سمجھا ہی نہیں۔ نہ ان کو اطمینان ہوا کہ یہ سچا نبی ہے ان پر تو اتمام حجت نہ ہوا۔ پھر ان کے لیے خلود فی النار اور دائمی جہنم کیسے جو کافروں کے لیے مخصوص ہے۔ اپنے دادا کی پیروی میں یہاں تو مرزا ناصر احمد نے کھلم کھلا کہہ دیا کہ کافر بھی بالآخر جہنم سے نکال دیئے جائیں گے۔ جو قرآن پاک کی مندرجہ ذیل آیات کے خلاف ہے۔

الا طريق جهنم خالدين فيها ابداً مگر جہنم کا راستہ جس میں وہ ہمیشہ رہیں (پ ٦ رکوع ٣ نساء آیت ١٦٩) گے۔ ان الله لعن الكافرين واعدلهم یقیناً اللہ نے کافروں پر لعنت کی اور ان سعيراً ہ خالدين فيها ابدا (پ ٢٢ کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے جس میں رکوع ٥ احزاب آیت ٦٤ ، ٦٥) وہ ہمیشہ رہیں گے۔

٢٩

صفحہ ٣٣٨

ومن يعص الله ورسوله فان له اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی نار جهنم خالدین فیها ابداً. کرے تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ہمیشہ رہیں گے۔

(پ ٢٩ رکوع ١٢ الجن ٢٣)

مرزا ناصر احمد سے

زبردست فیضان سے نبی بن سکتے ہیں پھر خاتم النبیین میں نبیین جمع کا صیغہ ہے تو آپ کے فیضان سے کم از کم تین چار پیغمبر تو بننے چاہئیں تھے۔ جب کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کے بغیر کسی کا نبی ہونا قیامت تک تسلیم نہیں کرتے۔

کا پورا عکس مرزا غلام احمد قادیانی میں آ گیا تو پھر سرور عالمﷺ تو صاحب شریعت اور افضل الانبیاء تھے تو مرزا غلام احمد قادیانی کیوں ذی ظل کے مطابق صاحب شریعت نبی نہ ہوں اور کیوں حضور کی مطابقت سے ظلی طور پر افضل الانبیاء نہ ہوں؟

علیہ السلام کی پیشگوئی (ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد الصف آیت ٦) کے مصداق مرزا رسول ہیں۔ تو رسول کے انکار سے کیسے ملت کے اندر رہ کر مسلمان رہ سکتے ہیں۔

در حقیقت اکمل کے اشعار جو مرزا قادیانی کے سامنے پڑھے گئے اور جن کی مرزا غلام احمد قادیانی نے تصدیق کی۔ اس بات کے مظہر ہیں کہ مرزائی غلام احمد کو خود سرور عالم ﷺ سے بھی افضل تصور کرتے ہیں۔ اکمل کے اشعار یہ ہیں۔

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(بدر قادیان نمبر ٤٣ ج ٢ ص ١٤، ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)

ان کفریہ عقائد و خیالات کی وجہ سے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے (قادیانی ولاہوری) قطعی کافر اور ملت اسلامیہ سے خارج ہیں۔

ختم نبوت

تیرہ سو سال سے دنیا بھر کے مسلمان اس بات پر متفق تھے کہ سرور عالمﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کفر ہے اور ہر زمانہ میں ایسے مدعیوں کو اتمام حجت کے بعد سزا دی گئی۔ اس

٣٠

صفحہ ٣٣٩

مسئلہ میں مرزا قادیانی کے ادعا سے پہلے اہل علم اور عام اہل اسلام میں کوئی اختلاف نہ تھا۔

مسیلمہ کذاب

اسلام میں سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ ختم نبوت پر ہوا جبکہ تمام مسلمانوں نے مسیلمہ کذاب جھوٹے مدعی نبوت کے مقابلے میں خلافت صدیقیہ میں جہاد بالسیف کیا۔ چونکہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اپنے گرد ربیعہ قوم کی چالیس ہزار جماعت جمع کر دی تھی۔ تمام صحابہؓ انصار و مہاجرین نے اس سے جہاد کرنے پر اتفاق کیا۔ اور ہزاروں صحابہؓ نے جام شہادت نوش کر کے مسیلمہ کذاب کی جھوٹی نبوت کا قلعہ مسمار کر دیا۔ نیز مسیلمہ کذاب کے علاوہ دوسرے جھوٹے مدعیان نبوت کے ساتھ بھی جہاد کیا گیا۔ اور ہمیشہ کے لیے اہل اسلام کو عملی طور سے یہ تعلیم دی گئی کہ اسلام کا منشا ہی یہی ہے کہ ان کے حدود اقتدار میں کوئی شخص دعویٰ نبوت نہیں کر سکتا اور یہ دعویٰ کفر صریح اور موجب جہاد ہے چنانچہ بعد کے کسی زمانے میں بھی جس کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کے دعوے کو برداشت نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس کو سخت سزا دی گئی۔ کسی وقت کسی حاکم اور کسی عالم نے مدعی نبوت سے یہ دریافت نہیں کیا کہ تمھارا دعویٰ کس قسم کی نبوت کا ہے۔ نبوت مستقلہ ہے یا غیر مستقلہ تشریعی یا غیر تشریعی۔ مستقل نبی یا غیر مستقل تابع نبی یا امتی نبی ہونے کا، بلکہ اس کا دعویٰ نبوت ہی اس کے مجرم ہونے کے لیے کافی تھا۔

اس وقت سے یہ تفریق کسی کے ذہن میں نہ تھی کہ بروزی نبی آسکتے ہیں یا تشریعی یا غیر مستقل یا تابع نبی یا امتی نبی۔ یہ سب الفاظ دعویٰ نبوت کو ہضم کرنے کے لیے ہیں۔ جس کو امت نے تیرہ سو سال تک نا قابل برداشت قرار دیا اور ہر دور کی اسلامی حکومت نے ان کو سزائے موت دی۔

چند اور نظائر

آپ نے وحی کے ذریعہ سے خبر پا کر صحابہ کرامؓ کو اطلاع کر دی لیکن جب قاصد خوشخبری لے کر مدینہ طیبہ پہنچا تو سرور عالم ﷺ وصال فرما چکے تھے۔

(تاریخ طبری ج ٢ ص ٢٥٠ بیروت، ابن اثیر ج ٢ ص ٢٠٣، ٢٠٤ بیروت۔ بن خلدون ج ٢ ص ٣٩٥ ب ۔ ت)

کذاب سے مل گئی۔ بعد ازاں مسلمانوں کے لشکر کے مقابلہ میں روپوش ہو گئی اور بالآخر مسلمان ہو کر فوت ہو گئی۔

(ابن اثیر ج ٢ ص ١٨٦ تا ٢١٣)

٣١

صفحہ ٣٤٠

زُبیرؓ کے حکم سے قتل ہوا۔

(تاریخ الخلفاء ص ١٨٥)

لیے سولی پر لٹکایا۔

(تاریخ ابن عساکر ج ٦ ص ١٥٣ حالات حارث بن سعید الکذاب نمبر ١٠١)

عبدالملک بن مروان دمشقی خود تابعی تھے اور سینکڑوں صحابہؓ کو انھوں نے دیکھا اور ان سے حدیثیں روایت کی تھیں۔

زمانہ خلافت میں دعویٰ نبوت کیا۔ عراق میں ان کے امیر خالد بن عبداللہ قسری نے ان کو قتل کیا ہشام بن عبدالملک کی خلافت کے وقت جلیل القدر تابعین اور اجلہ علماء موجود تھے۔

(طبری ج ٤ ص ١٧٤، ١١٦)

خیرالقرون کے بعد

خیرالقرون صحابہؓ، تابعینؒ، اور تبع تابعینؒ کے بعد دوسرے ادوار میں بھی مسلم حکمرانوں نے جھوٹے مدعیان نبوت کا یہی حشر کیا۔

ایران میں بہاء اللہ کا انجام برا ہوا۔ اور آج بھی وہاں بہائی فرقہ خلاف قانون ہے۔

کابل میں تو مرزائے قادیان کی نبوت کی تصدیق کرنے والے عبداللطیف کو بھی قتل کر دیا گیا۔ سعودی عرب میں قادیانیوں کے داخلے پر پابندی ہے۔

بہر حال تمام عالم اسلام نے شام، عراق، حرمین شریفین، کابل، ایران اور مصر تک کے علماء کرام اور سلاطین عظام نے جھوٹے مدعیان نبوت کے قتل کی حمایت و تصویب کی۔ اس ملک میں مرزا غلام احمد قادیانی صرف انگریز کی پشت پناہی سے بچا رہا۔

دلائل ختم نبوت

مسئلہ ختم نبوت کے لیے دلائل کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ یہ بدیہیات اور ضروریات دین میں سے ہے۔ سب جانتے تھے کہ سرور عالم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا۔ اور جو دعویٰ کرے اس کی سزا موت ہے۔ انگریز کی عملداری سے فائدہ اٹھا کر یا خود انگریزوں کے ایما سے مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ دعویٰ بھی اس نے تدریجاً کیا۔ پہلے مبلغ اسلام بنا، پھر محدث بنا، پھر مثیل مسیح بنا اور بعد میں خود مستقل مسیح موعود بن بیٹھا اور مسیح موعود کی

٣٢

صفحہ ٣٤١

اصطلاح بھی خود اسی نے ایجاد کی ہے۔ پرانی کتابوں میں اس اصطلاح کا وجود ہی نہیں ہے۔ بعد ازاں نبی غیر تشریعی، نبی بروزی، نبی امتی، ہونے کا دعویٰ کیا اور مجازی نبوت سے اصلی نبوت کی طرف ترقی کر لی۔ پھر صاحب شریعت نبی بن گیا۔ پھر خدا کا بیٹا ہونے کا الہام بھی اس کو ہوا اور آخر کار خواب میں خود خدا بن گیا اور زمین و آسمان پیدا کیے۔ یہ باتیں مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں پھیلی ہوئی اور عام شائع و ذائع ہیں۔

جب مرزا غلام احمد قادیانی کو آنے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ خود مسیح موعود کی اصطلاح گھڑ کر خود مسیح موعود بننے کی ضرورت محسوس ہوئی تو بات یوں بنائی۔ آنے والے کا مثیل یہی ذات شریف ہے۔ مگر وہ تو نبی تھے۔ یہاں تو انگریزی وفاداری ہی تھی۔

ناچار نبی بننے کے لیے فنا فی الرسول ہونے کی آڑ لی اور خود عین محمد بن کر نبی کہلانے کی سعی کی۔ آخری سہارا جو مرزا غلام احمد قادیانی نے لیا وہ امتی نبی کا ہے جس کا معنیٰ یہ ہے کہ پہلے پیغمبروں کو براہ راست نبوت ملتی تھی مگر مجھے سرور عالم ﷺ کی اتباع سے ملی ہے۔ یعنی نبوت تو ملی ہے۔ مگر حضور کی برکت سے۔ علماء کرام نے مرزا غلام احمد قادیانی کی اس دلیل کے بھی پرخچے اڑا دیئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی مسلمان سرور عالم ﷺ کے بعد کسی کا نبی بننا برداشت ہی نہیں کر سکتا۔ یہ مسئلہ ایسا ہے کہ جس پر ساری امت کا اجماع ہے۔

اس مسئلہ کے تفصیلی دلائل کے لیے آپ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب سابق مفتی دارالعلوم دیوبند کی کتابیں۔ ختم نبوت فی القرآن، ختم نبوت فی الحدیث اور ختم نبوت فی الآثار کا مطالعہ کریں۔ جن کی کاپی لف ہذا ہے۔ یا پھر حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلویؒ کی تصانیف ختم نبوت اور حضرت علامہ انور شاہ صاحبؒ کی کتابیں تو اس سلسلہ میں لاجواب پر از معلومات اور مرزائیوں پر حجت قاطع ہیں۔ ہم یہاں اسمبلی کی ضرورت کے تحت کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔

ختم نبوت کے سلسلہ میں بنیادی آیت کریمہ

ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبیین O احزاب ٤٠

”حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ تم میں سے کسی مرد بالغ کے باپ نہیں ہیں۔ ہاں وہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔“

آپ کی صاحبزادیاں تھیں۔ اور بچے بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے۔ حضرت زید

٣٤٣

صفحہ ٣٤٢

بن حارثہ آپ کے غلام تھے۔ جس کو آپ نے آزاد کر کے متبنیٰ بیٹا بنا لیا تھا۔ چنانچہ لوگ ان کو زید بن محمد کہنے لگ گئے تھے۔ مگر قرآن پاک نے جو صرف اور صرف حقیقت پر لوگوں کو چلانا چاہتا ہے۔ ایسا کہنے سے روک دیا۔ اب لوگ ان کو زید بن حارثہ کہنے لگ گئے۔ حضورﷺ نے ان کی شادی اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینبؓ سے کرادی۔ لیکن خاوند بیوی میں اتفاق نہ ہو سکا۔ حضرت زیدؓ نے انھیں طلاق دے دی۔ اب ایک آزاد کردہ غلام سے ایک قریشی عورت کی شادی پھر طلاق۔ دو طرح سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا پر اثر پڑا۔ پھر آپﷺ نے ان سے نکاح کر لیا جس سے حضرت زینبؓ کی تمام کدورتیں دور ہو گئیں۔ مگر مخالفین نے بڑا پروپیگنڈہ کیا۔ کہ منہ بولے بیٹے کی بیوی سے آپ نے نکاح کر لیا۔ اس پر اس آیت نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا۔ فرمایا۔ کہ حضورﷺ کسی کے باپ نہیں ہیں۔ یعنی زبان سے کہہ دینے سے حضرت زیدؓ کے حقیقی باپ نہیں بن سکتے کہ نکاح ناجائز ہو جائے۔ پھر پیغمبر کی شفقت بھی باپ سے زیادہ ہوتی ہے اور آپ کی شفقت ساری امت کے لیے ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور یہ شفقت کہیں ختم بھی نہ ہوگی کیونکہ قیامت تک آپؐ کے بعد کسی کو نبی بننا نہیں ہے۔ اس لیے آپؐ قیامت تک کے لیے تمام امت کے روحانی باپ پیغمبر اور بہترین شفیق ہوئے اور یہ وہم کہ جب آپ روحانی باپ ہوئے اور امت روحانی اولاد ہوئی تو روحانی وراثت یعنی نبوت بھی جاری رہ سکتی ہے۔ اس ارشاد سے وہ وہم بھی رفع ہو گیا۔ نیز اس فرمان سے کہ آپ نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ یہ وراثت بھی نہیں رہے گی اس لیے حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ نبی نہیں ہوئے۔

آیت کا معنی

آیت کا معنی اور مختصر مفہوم بیان ہو گیا۔ یہی آیت وہ مرکزی آیت ہے جس نے سرور عالمﷺ کے بعد نبی بننے کے تمام دروازے بند کر دیئے ہیں۔ اگر کسی نے ان تمام آیات کا استیعاب کرنا اور پورا دیکھنا ہو تو ہم نے ختم نبوت فی القرآن ساتھ منسلک کر دی ہے۔ اس میں سو آیتوں سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ آپؐ نے نبیوں کی تعداد پوری کر دی ہے اور آپؐ خاتم النبیین ہیں۔ ہم یہاں صرف مختصراً ایک آیت کریمہ پر بحث کریں گے۔

قرآن کی تفسیر قرآن سے:

یہ قرآن کے معانی کے بیان کا مسلمہ اصول ہے کہ پہلے ہم یہ دیکھیں گے کہ قرآن کی اسی آیت کا معنی خود قرآن سے کیا معلوم ہوتا ہے تو اس اصول کے تحت اسی آیت "ولکن

٣٤

صفحہ ٣٤٣

رسول اللہ وخاتم النبیین“ کی دوسری قرأت جو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی قرأت ہے اور تفاسیر میں درج ہے یہ ہے۔ ”ولکن نبیا ختم النبیین.“ لیکن آپ ایسے نبی ہیں جنھوں نے تمام نبیوں کو ختم کر ڈالا۔ اس قرأت نے ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کا معنی بالکل واضح کر دیا کہ آپ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ اس تفسیر سے ان تمام غلط تاویلوں کے راستے ہی بند ہو گئے۔ کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں۔ آئندہ آپ کی مہر سے نبی بنا کریں گے۔ کیونکہ اب معنی بالکل صاف ہو گیا کہ اس نبی نے تمام نبیوں کو ختم کر ڈالا، گویا خاتم کا معنی ختم کرنے والا ہو گیا۔

سرور دوعالم ﷺ کی تفسیر

ظاہر ہے کہ جس ذات مبارک پر قرآن نازل ہوا ان سے بڑھ کر اس قرآن کا معنی کون سمجھ سکتا ہے۔ یہ اصول بھی سب سے مسلم ہے۔ اب آپ حضورؐ کی تفسیر سنیئے۔ مسلم شریف کی حدیث ہے جس کی صحت میں کلام نہیں ہے۔

انه سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لانبى بعدى 0

(ترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب ماجاء

لاتقوم الساعة حتى يخرج الكذابون)

تحقیق بات یہ ہے کہ میری امت میں تیس کذاب (جھوٹے) ظاہر ہوں گے ہر ایک کا زعم یہ ہو گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

اس مبارک، صحیح اور کفر شکن حدیث سے چند باتیں معلوم ہوئیں۔

دعویٰ کرنا ہی اس کے جھوٹے اور دجال ہونے کے لیے کافی ہے۔

امت میں ہونے کا دعویٰ نہ کریں تو کون ان کی بات پر کان دھرے۔ ان الفاظ سے امتی نبی کے ڈھونگ کا پتہ بھی لگ گیا۔

اس حدیث میں آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ میری امت میں بعض جھوٹے نبی آئیں گے اور بعض سچے بھی ہوں گے۔ دیکھنا ان کا انکار کر کے سب کے سب کافر نہ بن جانا نہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ بروزی ظلی عکسی اور غیر تشریعی نبی ہوں تو کذاب ودجال نہ کہنا۔ نہ آپ نے یہ فرمایا کہ تیرہ سو سال تک سب دجال ہوں گے۔ بعد والوں کو مان لینا۔ اور اگر کوئی شخص نبوت

٣٥

صفحہ ٣٤٤

کا دعویٰ کر کے انگریز کے خلاف لڑنے اور جہاد کو حرام کہہ کر ساری دنیا میں لٹریچر پہنچائے تو اس انگریزی نبی کو بھی مان لیتا اور یہ کہ تیرہ سو سال تک جھوٹی نبوت بند ہے بعد میں آزادی ہے (معاذ اللہ) بہر حال جناب خاتم النبیین ﷺ کی اس پاک حدیث نے مخالفین ختم نبوت کے سارے وسوسے خاک میں ملا دیئے۔

نبی کریم ﷺ کا دوسرا ارشاد

آپ کا دوسرا ارشاد بھی ملاحظہ فرمائیں کہ جو بخاری اور مسلم دونوں میں ہے۔

عن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ مثلى ومثل الانبياء كمثل قصر احسن بنيانه ترك منه موضع لبنة فطاف به النظار يتعجبون من حسن بنيانه الا موضع تلك اللبنة فكنت انا سددت موضع اللبنة. وختم بى الرسل وفى رواية فانا اللبنة وانا خاتم النبيين (مسلم ج ٢ ص ٢٢٨ باب ذکر کونه خاتم النبیین)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری اور پیغمبروں کی مثال ایک ایسے محل کی ہے جو نہایت خوبصورت بنایا گیا ہو۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو۔ اس کو دیکھنے والے تعجب کرتے ہیں کہ کیسی اچھی تعمیر ہے۔ ہاں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے (کیوں چھوڑ دی گئی) تو میں نے اس اینٹ کی جگہ پر کر دی۔ اور میرے ذریعے پیغمبر ختم کر دیئے گئے اور ایک روایت میں ہے تو میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔

اس حدیث نے تو خاتم النبیین کا معنی حسی طور پر بیان فرما دیا کہ نبوت کا محل پورا تھا صرف ایک اینٹ کی جگہ باقی تھی۔ وہ حضورؐ سے پوری ہو گئی۔ اب مرزا قادیانی اس محل میں گھسنا چاہتا ہے مگر کون گھسنے دیتا ہے۔ مرزائیوں کے پاس اس کا کیا جواب ہے۔ بخاری اور مسلم کی حدیث میں کیڑے نکالتے اور کہتے ہیں کہ صاحب لولاک کی شان اور ایک چھوٹی سی اینٹ کو کیا نسبت۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)۔ یہ مثال تو آپ نے سارے جہاں کی بیان نہیں کی صرف قصر انبیاء کی بیان کی ہے۔ پھر ان مرزائیوں کو کیا معلوم ہے کہ اس ایک اینٹ کی کتنی جگہ ہے۔ وہ کتنی خوبصورت اینٹ ہے۔ وہ کتنی بڑی ہے۔ محل، سارا حسن اسی ایک اینٹ سے دوبالا کیوں نہیں ہوسکتا۔

٣٦

صفحہ ٣٤٥

حدیثی نکتہ

اس مبارک حدیث نے یہ وہم بھی دور کر دیا کہ آیت خاتم النبیین کا تعلق آنے والوں سے ہے آپ نے تمام آنے والے پیغمبروں کا ذکر کر کے صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی رہنے کی بات فرمائی۔ اور اپنے کو آخری اینٹ فرما کر خاتم النبیین فرما دیا۔ مطلب صاف ہو گیا کہ خاتم کا تعلق سابقین سے ہے۔ لاحقین اور آنے والوں سے نہیں ہے کہ آپ کی مہر اور قدسی قوت نبی تراش رہے گی اور آپ کی مہر سے لوگ نبی بنا کریں گے اور امتی نبی کہلائیں گے۔

مرزائی کفر پر کفر

مرزائی ابوالعطا جالندھری نے اس حدیث کے سلسلہ میں لکھا ہے کہ آخری زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام جب آئیں گے تو محل میں تو جگہ خالی نہ ہو گی وہ کہاں ہوں گے؟

افسوس ہے کہ مرزائی گندی باتوں سے اور خاص کر پیغمبروں کے بارے میں غلط بیانیوں سے باز نہیں آتے۔ پہلے تو آپ ویسے ہی اس کا جواب سن لیں۔ جب مرزا غلام احمد قادیانی آئیں گے اور کسی اینٹ کی جگہ خالی نہ ہو گی۔ یہ مرزا غلام احمد قادیانی کہاں لگنے کی کوشش کریں گے؟ یہ ایسی ہی بات ہوئی جیسے ایک میراثی نے بات بنائی تھی کہ جب انبیاء سب باری باری خدا کے سامنے سے گزر جائیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کی باری آئے گی تو اس پر اعتراض ہو گا کہ تمھارا تو نام فہرست میں نہیں۔ تم کدھر سے نبیوں میں رہے۔ تو فوراً شیطان ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو جائے گا کہ یا الہٰی آپ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے۔ میں نے صرف یہ ایک بھیجا تھا اس کو تو داخل کر لو۔

مرزائیو! پیغمبروں کا مذاق اڑا کر پھر مذاق سے خفا نہ ہوں۔ اور حقیقی جواب سن لو۔ یہ صرف مثال ختم نبوت کے محل کی ہے۔ اور امت کو سمجھانے کے لیے اس سے پیغمبر اینٹ کی طرح بے حس و حرکت اور بے جان ثابت نہیں ہوتے۔ نبوت کا محل مع حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضور ﷺ کے ذریعے مکمل ہو چکا ہے۔ وہ تعداد پوری ہو چکی ہے۔ آخری نبی کی عزت نوازی کے لیے جس پرانے پیغمبر کو لے آئے۔ پیغمبر آخر الزمان کی عزت افزائی کے لیے ان کو زندہ رکھ کر پھر آپ کی امت کی امداد کرا کر وہ صاحب اختیار ہے۔ مرزائی کون ہوتے ہیں جو اس میں دخل دیں۔ بحث کو علیحدہ مسئلہ حیات عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام میں مفصل دیکھئے۔

٣٧

صفحہ ٣٤٦

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ یا ایہا الناس انہ لم یبق من النبوۃ الا المبشرات۔ (رواہ البخاری فی کتاب التعبیر ج ١، ص ١٩١)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سرور عالم ﷺ نے فرمایا۔ اے لوگو (سن لو) بات یہ ہے کہ نبوت میں سے صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔

ایک روایت میں ہے کہ سرور عالم ﷺ سے پوچھا گیا مبشرات کیا ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ”اچھے خواب جو مسلمان دیکھے یا دوسرا اس کے لیے دیکھے۔“

ایک روایت میں ہے کہ مبشرات نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں۔ بہرحال نبوت کے اجزا کو اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔ نبوت، شرف ہمکلامی، اسرار الہیہ، تقدیر اور اسباب، مخلوق اور خالق کا تعلق، نبوت کا واسطہ یہ اور اس قسم کے مباحث ...... ہماری عقول اور افہام سے بہت بلند ہیں۔ ان سب کو راز میں رکھا گیا۔ دو اجزا ظاہر کیے گئے۔ اچھی اور سچی خوابیں۔ کون ہے جو ان غیبی امور کے بارے میں خواب کی اطلاعات کی حقیقت بیان کر سکے۔ دوسرا جز مکالمات الہیہ ہے۔ نہ رب العزت جل وعلا کی ذات ہمارے احاطہ علم میں ہے اور نہ اس کی صفات اور خاص کر مکالمہ الہیہ۔ آخر یہ مکالمہ کس طرح ہوتا ہے۔ بالمشافہ رب العزت جل وعلا سے، ملائکہ کے توسط سے، دل میں القاء سے، پردے کے پیچھے سے یا غیب کی آوازیں سنائی دینے سے، پھر ہر ایک کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔ ہمارے خیال میں یہ مقام قرب اور مقام معیت کی باتیں ہیں۔ بہرحال یہ اجزاء نبوت ہیں۔ جزیات نبوت نہیں ہیں۔ نبی جس قسم کا ہو چاہے صاحب کتاب و صاحب شریعت ہو۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام وغیرہ۔ چاہے بغیر شریعت و کتاب ہو جیسے ہارون اور سارے انبیاء بنی اسرائیل۔ یہ اصلاح خلق کے لیے مامور ہوتے ہیں ان سے مکالمہ ہوتا ہے۔ ان کو مبعوث کیا جاتا ہے اور نبوت کا منصب عطا ہوتا ہے۔ ان پر وہ وحی آتی ہے جو فرشتہ پیغمبروں پر لاتا ہے۔ یہ شریعت کے اجزاء کے لیے مامور ہوتے ہیں۔ ان کی وحی میں شریعت کی باتیں ہوتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عہدہ نبوت پر فائز ہوتے ہیں۔ ان دونوں نبوتوں کو اولیاء کرام شرعی نبوت کہہ دیتے ہیں اور دونوں کو بند اور ختم بتاتے ہیں۔

عام اہل علم کلام، علم شریعت والے پہلی کو نبوت تشریعی اور دوسری کو نبوت غیر تشریعی کہتے ہیں۔ اور ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین کے بعد دونوں کو ختم بتاتے ہیں۔ اولیاء کرام میں سے بعض کو شرف مکالمہ نصیب ہوتا ہے لیکن نبی اور نبوت کے نام کو غیر نبی کے لیے

٣٨

صفحہ ٣٤٧

استعمال کرنے کو وہ کفر سمجھتے ہیں۔ وہ بھی صرف مکالمات کو نبوت غیر تشریعی کہہ دیتے ہیں۔ جس سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس ذات مبارک کو نبی کا نام دیتا ہے اور منصب نبوت سے سرفراز کر کے اصلاح خلق کے لیے پرانے یا نئے احکام وحی کر کے بھیجتا ہے یہ وہ نبوت نہیں ہے اس سے دھوکا دیا جاتا ہے کہ شیخ اکبر وغیرہ تشریعی نبوت کی بقاء اور اجراء کے قائل ہیں۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ارباب علم و کلام و شریعت جن دو نبوتوں کا علیحدہ ذکر کر کے ختم ہوجاتے ہیں تو بعض اولیاء ان دونوں کو نبوت تشریعی کہہ کر ختم بتا دیتے ہیں۔ مقصد دونوں کا ایک ہی ہو جاتا ہے۔ مطلب بالکل صاف ہے کہ انسان کے کسی جزو مثلاً پاؤں کو انسان نہیں کہتے۔ مجموعہ اجزاء کو انسان کہتے ہیں، مگر حیوان کے جزیات کو حیوان کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً گھوڑا، گدھا، بلی وغیرہ سب کو حیوان کہہ سکتے ہیں۔ یہ جزیات ہیں۔ لیکن گھوڑے کے سر کو گھوڑا نہیں کہہ سکتے۔ مجموعہ اعضاء کو کہیں گے۔ اب انبیاء علیہم السلام کی نبوت کے چھیالیس اجزاء جمع ہوں تو کوئی نبی ہے۔ مگر ان اجزاء کا جمع ہونا اور منصب نبوت ملنا محض موہبت اور فضل خداوندی ہے۔ حدیث بہر حال بخاری کی ہے اور ختم نبوت کی صاف دلیل ہے یہی تفسیر ہو گئی اس پہلی آیت کی۔ مرزا غلام احمد کے ایک پیرو مرزائی ابو العطا نے لکھا ہے کہ دیکھو پانی کا ایک قطرہ دریا کا جزو ہے لیکن دونوں کو پانی کہتے ہیں۔ یہ سراسر دھوکہ ہے اور جزو اور جزئی میں امتیاز نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ قطرہ بھی پانی ہے اور دریا بھی۔

قطرات پانی کے اجزاء نہیں ہیں۔ پانی کے اجزا ہائیڈروجن اور آکسیجن ہیں۔ کیا کوئی شخص ان دو اجزاء میں سے کسی ایک کو پانی کہہ سکتا ہے۔ جیسے چھوٹا گدھا اور بڑا گدھا دونوں حیوان کے جزیات ہیں۔ دونوں کو حیوان کہہ سکتے ہیں۔ مگر گدھے کے کسی جزو کو گدھا نہیں کہہ سکتے۔ ابو العطا مرزائی باتیں بنا کر قرآن اور حدیث کا مقابلہ کرتا ہے۔

حضور ﷺ کا چوتھا ارشاد

بخاری غزوہ تبوک میں یہ حدیث درج ہے۔

الا ترضی ان تکون منی بمنزلة کیا تم اس پر خوش نہیں ہوتے کہ تم مجھ ہارون من موسیٰ الا انه لا نبی سے اس طرح ہو جاؤ جیسے ہارون علیہ بعدی ہ (بخاری ج ٢، ص ٦٣٣، السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام سے باب غزوہ تبوک) تھے ۔ بات یہ ہے کہ میرے بعد نبی کوئی نہیں۔

٣٩

صفحہ ٤٤٨

جب آپ نے غزوہ تبوک کو جاتے ہوئے حضرت علیؓ کو اہل خانہ وغیرہ کی نگرانی کے لیے چھوڑا تو حضرت علیؓ نے بچوں اور عورتوں کے ساتھ پیچھے رہنے کو محسوس کیا جس پر آپ نے ان کو یہ فرما کر تسلی دے دی۔

حضرت ہارون علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چچا زاد بھائی تھے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تابع نبی تھے۔ مستقل صاحب شریعت نہ تھے۔ نہ صاحب کتاب تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر جاتے وقت ان کو نگرانی کے لیے چھوڑ گئے۔ یہی بات آپ نے حضرت علیؓ سے فرما کر ان کی تسلی کرا دی۔ لیکن چونکہ ہارون علیہ السلام پیغمبر تھے۔ یہ غلط فہمی اس ارشاد سے دور فرما دی کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہو سکتا۔ گویا تابع غیر مستقل نبی اور بغیر شریعت کے بھی آپ کے بعد کوئی نہیں بن سکتا۔ آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ نبوت ایک عظیم منصب اور بھاری انعام ہے اور محض موہبت اور بخشش سے ملتا ہے۔ اس میں کسی کے اتباع و اطاعت کا دخل نہیں ہوتا۔ مرزا قادیانی نے امتی نبی کی خود ساختہ اصطلاح گھڑ کر لوگوں کو کافر بنایا ہے۔ امت میں سے جو چاہے ہر جس کو اللہ تعالیٰ چاہے یہ منصب دے دیں وہ نبی ہے، لیکن اب یہ دروازہ بند ہو چکا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اسی لیے تو کبھی صدیقیت کی کھڑکی کھولتے ہیں کبھی فنا فی الرسول اور آپ کے اتباع کا سہارا ڈھونڈتے ہیں۔ یہ سب دجل و فریب اور دھوکہ ہے۔ امتی نبی کی اصطلاح یا مسیح موعود کی اصطلاح کوئی مرزائی پرانے دین میں نہیں بتا سکتا۔

عن ابی هريرةؓ عن النبی ﷺ كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبی خلفه نبی وانه لا نبی بعدی وسيكون خلفاء فيكثرون قالوا فما تامرنا قال فوا ببيعة الاول فالاول اعطوهم حقهم فان الله سائلهم عما استرعاهم ۔ (بخاری کتاب الانبیاء ج ١، ص ٤٩١، مسلم، کتاب الامارة، ج ٢، ص ١٢٦)

حضرت ابو ہریرة فرماتے ہیں سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست اور انتظام ان کے پیغمبر کرتے تھے۔ جب ایک چل بستا تو اس کی جگہ دوسرا آجاتا۔ اور حقیقی بات یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں (البتہ) خلفاء (وامراء) ہوں گے اور وہ بہت ہوں گے صحابہؓ نے عرض کیا کہ آپ کا حکم ہم کو کیا ہے۔ آپ نے فرمایا پہلے جس سے بیعت کی ہے اس کا حق پورا کرو (اسی طرح درجہ بدرجہ) ان کا حق ان کو دو (اگر تمھارا حق ادا نہ کریں) تو اللہ

صفحہ ٣٤٩

تعالیٰ خود ان سے رعیت کے متعلق پوچھ لیں گے۔

ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی نبوتیں حضرت موسیٰ کے تابع تھیں۔ مستقل اور تشریعی نبوتیں نہ تھیں۔ مگر سرورِ عالم ﷺ نے اپنی امت میں سے ان کی بندش اور ختم ہونے کا بھی اعلان کر دیا۔ وہاں سارا کام نبی کرتے تھے۔ یہاں حضور کے بعد خلفاء، امراء، علماء اور اولیاء کریں گے۔

حضور نبی کریم ﷺ کا چھٹا ارشاد

لو كان بعدى نبى لكان عمر اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ (ترمذی شریف، ج٢، ص٢٠٩، باب مناقب ہوتے۔ ابی حفص عمرؓ بن الخطاب)

حضرت عمرؓ کے محدث ہونے کی تصریح بھی آپ فرما چکے ہیں کہ ان سے مکالمات ہوتے تھے۔ مگر پھر بھی فرمایا کہ وہ نبی نہیں اور وجہ صرف یہ بتائی کہ میرے بعد نبی نہیں ہو سکتا۔ واقعی جو ہستی مکارم الاخلاق، کمالاتِ نبوت اور تمام اعلیٰ صفاتِ نبوت کی جامع ہو۔ اور تمام انبیاء و مرسلین سے افضل اور سب کی سرتاج اور امام ہو۔ ایسی ہی پاک ہستی کو لائق ہے تمام انبیاء علیہم السلام کے بعد آنا اور منصب نبوت کا خاتم ہونا۔ معلوم ہوا کہ محدث بھی نبی نہ ہو سکتا نہ کہلا سکتا ہے اور اگر کسی کو یہ دعویٰ ہو کہ اس کو حضرت عمرؓ سے بھی زیادہ مکالمات کی دولت نصیب ہوئی ہے تو اپنے دماغ کا علاج کرائے۔

جناب امام الانبیاء علیہ السلام کا ساتواں ارشاد

عن ابي هريره ان رسول الله حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ﷺ قال فضلت على الانبياء آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے بست اعطيت جوامع الكلم تمام انبیاء علیہم السلام پر چھ باتوں میں ونصرت بالرعب واحلت لى فضیلت دی گئی ہے۔ مجھے جوامع الکلم الغنائم وجعلت لى الارض دیئے گئے ہیں۔ اور رعب کے ذریعے طهورا ومسجدا وارسلت الی میری مدد کی گئی ہے۔ غنیمت کا مال

٤١

صفحہ ٣٥٠

الخلق كافة و ختم بی النبیون۔

(مسلم، ج ١، ص ١٩٩، کتاب

المساجد ومواضع الصلوة)

میرے لیے حلال کر دیا گیا ہے (جبکہ پہلی امتوں میں مال غنیمت کے ڈھیر کو آسمان کی آگ جلا دیتی تھی اور یہی اس کی قبولیت کی نشانی تھی) اور ساری زمین میرے لیے مسجد اور طہور بنا دی گئی (نماز زمین پر ہر جگہ پڑھ سکتے ہیں) (اور بوقت ضرورت تیمم بھی کر سکتے ہیں) اور میں تمام مخلوق کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں اور میرے ساتھ تمام پیغمبروں کو ختم کر دیا گیا ہے (یعنی یہ سلسلہ بند ہو گیا اور تعداد معین پوری ہو گئی)

اس مبارک ارشاد میں آخری جملہ صاف اور صریح ہے جس میں کسی مرزائی کی تاویل یا وسوسہ کی گنجائش نہیں۔ صاف صاف فرمان ہے کہ میرے آنے سے سارے نبی ختم کر دیئے گئے ہیں۔ یہاں مہر وغیرہ کا معنی نہیں چل سکتا۔

آٹھواں ارشاد رسول ﷺ

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ”فانی آخر الانبیاء و مسجدی آخر المساجد.“

(مسلم ج ١ ص ٣٣٩، باب فضل الصلوٰۃ بمسجدی مکۃ والمدینۃ)

اس حدیث شریف کے پہلے حصے نے تو سرورِ عالم ﷺ کے آخری نبی ہونے کی تصریح فرما دی ہے۔ لیکن مرزائی بڑے خوش ہیں کہ ان کو احادیث کا معنی بدلنے کا موقعہ اس حدیث کے دوسرے جزو سے ہاتھ آ گیا وہ کہتے ہیں کہ جیسے حضورؐ کی مسجد کے بعد ہزاروں مسجدیں بنی ہیں اسی طرح آپؐ کے بعد اور نبی آ سکتے ہیں مگر قدرت کو یہی منظور ہے کہ ہر ہر جگہ یہ لاجواب اور رسوا ہوں۔ چنانچہ اسی حدیث کو امام دیلمی، ابن نجار اور امام بزازؒ نے نقل فرمایا اور اس میں یہ الفاظ ہیں۔ ومسجدی آخر المساجد الانبیاء کہ میری مسجد پیغمبروں کی مساجد میں سے آخری مسجد ہے۔ (کنز العمال) لیجیے حدیث کی تشریح خود دوسری حدیث نے کر دی اور مرزائیوں کی خوشی خاک میں ملا دی۔

٤٢

صفحہ ٣٥١

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تفسیر

ان روایات سے آپ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تفسیر کا بھی علم ہو گیا۔ کسی صحابی نے کسی ایک حدیث کے مطلب کا انکار نہیں کیا اور کر کیسے سکتے تھے۔ وہ تو حضور اکرم ﷺ کے اشاروں پر جان قربان کرنے والے تھے۔

امت کا اجماع

تیرہ سو سال تک انہی معانی پر اور سرور کائنات ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر تمام علماء کرام، محدثین، مجددین، اور مجتہدین بلکہ عام اہل اسلام کا اتفاق رہا اور مدعی نبوت سے کبھی نہیں پوچھا گیا کہ تو کس قسم کی نبوت کا مدعی ہے بلکہ اس کو سخت ترین سزا دی گئی۔

نقل اجماع

روایات کے بعد کسی اجماع کے نقل کی ضرورت نہیں۔ جبکہ کسی صحابی نے اس معروف و مشہور تفسیر کا انکار بھی نہیں کیا، جبکہ اس کا تعلق کفر و ایمان سے تھا۔ تو یہ بات بجائے خود تمام اسلاف کا اجماع ہو گیا کہ سرور عالم ﷺ کی تشریف آوری اور بعثت سے انبیاء علیہم السلام کی تعداد پوری ہو چکی ہے اور خاتم النبیین کے بعد کسی قسم کا پیغمبر کسی نام سے نہیں بن سکتا۔ اور اگر یہ مان لیا جائے تو خاتم النبیین اور لا نبی بعدی اور خاتم الانبیاء کا معنی تیرہ سو سال تک صحابہ اور تابعین اور کاملین اسلام پر باوجود پوری کوشش و کاوش کے کھل نہ سکا تو قرآن پاک ہدایت کی کتاب کیسی ہوئی (العیاذ باللہ) چیستان ہو گئی اور پھر آج کے نئے معنوں کا کیا اعتبار رہ سکتا ہے۔

وكونه ﷺ خاتم النبيين مما نطق به الكتاب وصدعت به السنة واجمعت عليه الامة فيكفر مدعى خلافه ويقتل ان اصر. (روح المعانی جز ٢٢، ص ٣٩، زیر آیت خاتم النبیین)

اور آنحضرت ﷺ کا آخر النبیین ہونا ان مسائل میں سے ہے جن پر قرآن نے تصریح کی ۔ اور جن کو احادیث نے صاف صاف بیان کیا اور جن پر امت نے اجماع کیا۔ اس لیے اس کے خلاف دعویٰ کرنے والے کو کافر سمجھا جائے گا۔ اور توبہ نہ کرے بلکہ اپنی بات

٤٣

صفحہ ٣٥٢

پر اصرار کر کے قتل کر دیا جائے گا۔

فی بیان من یجب التکفیر من الفرق“ میں اس مسئلہ کو یوں بیان فرمایا ہے کہ جس نے اس کی تاویل کی وہ بکواس ہے۔ امت کا اجماع ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں آسکتا۔ اس میں کسی قسم کی تاویل و تخصیص نہیں ہے۔

ہے۔

اس مسئلہ پر ہم اتنے ہی پر اکتفا کرتے ہیں اور ساتھ ہی حضرت مولانا مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب کراچی کی کتاب منسلک کر دی ہے جس میں سو آیات سے اور دوسو حدیثوں سے اور سینکڑوں اقوال سلف صالحین سے مسئلہ ختم نبوت ثابت کیا گیا ۔ اور مخالفین کے تمام اوہام اور وساوس کا تار و پود بکھیر کے رکھ دیا ہے جو تفصیل دیکھنا چاہے یہ کتاب دیکھے۔

البتہ مرزائیوں کا منہ بند کرنے کے لیے خود مرزا غلام احمد قادیانی کے تین قول نقل کر دیتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب حمامة البشریٰ میں لکھا ہے)

اس لیے کہ یہ خدا تعالیٰ کے اس قول کے (١) لانه يخالف قول الله عز و مخالف ہے۔ ما كان محمد ابا جل ما كان محمد ابا احد من احد من رجالكم ولكن رسول رجالكم ولكن رسول الله و خاتم الله وخاتم النبيين کیا تو نہیں جانتا النبيين الا تعلم ان الرب الرحيم کہ خدائے مہربان نے ہمارے نبی کا نام المتفضل سمى نبينا ﷺ خاتم بغیر استثناء کے خاتم الانبیاء رکھا اور الانبياء بغير استثناء وفسره نبينا ہمارے نبی نے اس کی تفسیر لا نبي في قوله لا نبي بعدى ببيان بعدی میں واضح بیان سے صاحب واضح للطالبين ...... وقد انقطع طلب لوگوں کے لیے کر دی (دوسروں الوحى بعد وفاته وختم الله به کے بعد) اور وحی منقطع ہو چکی ہے آپ النبيين. (حمامة البشریٰ، ص ٢٠، خزائن کی وفات کے بعد اور اللہ تعالیٰ نے آپ ج ٧، ص ٢٠٠) کے ذریعہ نبیوں کو ختم کر ڈالا ہے۔

مرزا غلام احمد کے اس قول سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ سرور عالم ﷺ کی وفات شریف کے بعد وحی بند ہوچکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی استثناء کے آپ کو خاتم الانبیاء قرار

٤٤٤

صفحہ ٣٥٣

دیا دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ حضور کا یہ ارشاد لا نبی بعدی قرآن پاک کی واضح تفسیر ہے۔

(٢) مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی کتاب میں لکھا ہے۔

ما كان لى ان ادعى النبوة اور میرے لیے یہ جائز نہیں کہ نبوت کا واخرج من الاسلام والحق بقوم دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں كافرين. (حمامة البشرىٰ ص ٧٩، خزائن اور کافروں سے جاملوں۔ ج ٧ ص ٢٩٧)

یعنی دعویٰ نبوت کرنا کافر ہونا ہے۔

(٣) ما كان محمد ابا احد من یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے رجالكم ولكن رسول الله و خاتم باپ نہیں ہیں۔ مگر وہ رسول اللہ ہیں اور النبيين. (ازالۃ الاوہام ص ٦١٤، خزائن ختم کرنے والا ہے۔ ج ٣ ص ٤٣١)

اب مرزائیوں کو خاتم النبیین کے معنوں میں بحث نہیں کرنی چاہیے۔

ختم نبوت یا نبی تراشی

١....... ”جو دین نبی ساز نہ ہو وہ ناقص ہے۔“ یہ بات قطعاً غلط ہے بلکہ سچ پوچھیں تو خود مرزا قادیانی کے ہاں بھی یہ غلط ہے، کیونکہ اس نے لکھا ہے کہ نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔ دوسرے اس کے مستحق نہ تھے حتیٰ کہ صحابہ سے لے کر آج تک کوئی بھی مرزا کی طرح نہ تھا، چنانچہ اسی مضمون کو اس نے اپنی کتاب (حقیقۃ الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢، ص ٤٠٦) میں درج کر کے یہ بھی لکھ دیا کہ وہ ایک ہی ہوگا تو دین نبی ساز کہاں رہا۔ یہ تو صرف مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنے نفس کی پیروی اور تسویل ہے۔

٢....... اور یہ کہنا کہ آپ کی قوت قدسی نبی تراش ہے۔ اور آپ کی مہر سے نبی ہی بنتے رہیں گے اور نبوت ختم کرنا خدا تعالیٰ کی رحمت و برکت کو روکنا اور ختم کرنا ہے۔ قطعاً درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو پیدا فرمایا ہے اس کو ختم کرنا ہے۔ اگر ایک رسی کا ایک سرا ہے تو دوسرا سرا بھی ہوتا ہے۔ اگر ایک دریا کا ایک کنارہ ہے تو دوسرے کنارے پر جا کر ختم ہو جاتا ہے۔ اگر دن صبح کو شروع ہوتا ہے تو مغرب کو ختم ہوتا ہے۔ اگر دنیا کی ابتدا ہوئی ہے تو اس کی انتہا بھی ہوگی۔ اگر نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کی ہے تو اس کو بڑھا بڑھا کر خاتم کمالات نبوت حضرت خاتم النبیین پر پورا کامل کر کے ختم کرنا ہے۔ یہاں ہر چیز کی

٤٥

صفحہ ٣٥٤

حد ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ کل شی عندہ بمقدار ۔ (رعد:٨) ”اس کے ہاں ہر چیز کی مقدار معین ہے۔“

اگر چہ بارش رحمت ہے لیکن یہ ضرورت کی حد تک رحمت ہے اگر چند دن مسلسل بارش ہو تو سب روکنے کے لیے دعائیں کریں گے۔

کرتے آخری کمال پر پہنچا کر ختم کرنا کمال ہے۔ ناقص نبی بنا کر ختم کرنا کمال نہیں ہے۔

صدیوں کے بعد کسی ایک مدعی نبوت پر ایمان نہ لانے سے کروڑوں کی تعداد میں امت کافر ہو جائے، جس مدعی کا کوئی ذکر نہ کیا گیا ہو۔ اور نہ حضرت رحمۃ للعالمین نے تمام آنے والی نسلوں کو کفر سے بچانے کے لیے کچھ ارشاد فرمایا ہو جبکہ آپ نے اور بیسیوں امور کی خبریں دیں۔ بلکہ آپ نے لا نبی بعدی کہہ کر گویا اپنی امت کو آمادہ کیا کہ کسی نبی کا بھی اقرار نہ کرو۔ اگر کوئی نبی آنے والا تھا جس کا انکار کفر تھا تو کیا حضور نے (العیاذ باللہ) خاموشی اختیار نہیں کی؟ بلکہ اپنی امت کے کافر بننے کا سامان کیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

اور بہتر ہے کہ تمام امت کا تعلق اپنے نبی سے بلا واسطہ قائم رہے۔

ہے نہ ”لاحقین“ اور آئندہ والوں سے مرزا غلام احمد قادیانی نے اور اس کے چیلوں نے کہا کہ خاتم النبیین کا معنی ہے کہ سارے نبیوں کی مہر ہیں۔ آپ نبی تراش ہیں۔ اور آپ کی قوت قدسیہ سے نبی بنتے ہیں۔ دراصل دائرہ نبوت کا مرکزی نقطہ آپ کی ذات ہے۔ آپ نے تمام کمالات نبوت خود طے فرما کر کمال تک پہنچا دئے اور ختم کر دئیے۔ آپ اسی لیے آخر میں آئے۔ جیسے صدر جلسہ تمام انتظامات کے بعد آتے ہیں جن کے لیے جلسہ منعقد کیا گیا ہو۔ اسی وجہ سے آدم علیہ السلام بھی تمام انتظامات کے بعد لائے گئے کہ وہ انتظامات آپ کے لیے تھے۔ جیسے زمین و آسمان اور سورج و چاند وغیرہ کی پیدائش۔ پھر جب نبوت کو ختم کرنا تھا تو کامل کر کے ایک کامل کے ذریعے ختم کرنا زیادہ مناسب تھا۔ اسی لیے بیت المقدس میں تمام پیغمبر امامت کے لیے آپ کا انتظار کرتے رہے اور اسی لیے آپ نے ارشاد فرمایا:

٤٦

صفحہ ٣٥٥

ہے ۔ کل شئی عنده بمقدار (رعد : ٨) ”اس کے ہاں ہر چیز کی رحمت ہے لیکن یہ ضرورت کی حد تک رحمت ہے اگر چند دن مسلسل کے لیے دعائیں کریں گے۔ کامل نہیں بلکہ نبوت آدم علیہ السلام سے شروع کر کے اس کو کامل کرنے کو ختم کرنا کمال ہے ۔ ناقص نبی بنا کر ختم کرنا کمال نہیں ہے۔ نہیں ہے کہ اس دین کے تمام اجزاء پر ایمان لانے کے باوجود مدعی نبوت پر ایمان نہ لانے سے کروڑوں کی تعداد میں امت کافر کا ذکر نہ کیا گیا ہو۔ اور نہ حضرت رحمۃ اللعالمین نے تمام آنے والی کے لیے کچھ ارشاد فرمایا ہو جبکہ آپ نے اور بیسیوں امور کی خبریں نبی بعدی کہہ کر گویا اپنی امت کو آمادہ کیا کہ کسی نبی کا بھی اقرار نہ الاخامس کا انکار کفر تھا تو کیا حضور نے (العیاذ باللہ) خاموشی اختیار کافر بننے کا سامان کیا ۔ انا لله و انا اليه راجعون ۔ کہ امت کا تعلق اپنے کامل نبی سے واسطہ در واسطہ ہو۔ بلکہ یہ کمال تعلق اپنے نبی سے بلاواسطہ قائم کرے۔ ”خاتم“ کا تعلق سابقین اور گزرے ہوئے انبیاء علیہم السلام سے والوں سے مرزا غلام احمد قادیانی نے اور اس کے چیلوں نے کہا کہ سارے نبیوں کی مہر ہیں۔ آپ نبی تراش ہیں۔ اور آپ کی قوت حاصل دائرہ نبوت کا مرکزی نقطہ آپ کی ذات ہے۔ آپ نے تمام کر کمال تک پہنچا دئے اور ختم کر دئیے۔ آپ اسی لیے آخر میں نتظامات کے بعد آتے ہیں جن کے لیے جلسہ منعقد کیا گیا ہو۔ اسی تمام انتظامات کے بعد لائے گئے کہ وہ انتظامات آپ کے لیے سورج و چاند وغیرہ کی پیدائش۔ پھر جب نبوت کو ختم کرنا تھا تو کامل پر ختم کرنا زیادہ مناسب تھا۔ اسی لیے بیت المقدس میں تمام پیغمبر ر کرتے رہے اور اسی لیے آپ نے ارشاد فرمایا: ٤٦

نحن الآخرون والسابقون (منتخب ہم آخری اور پہلے کے ہیں۔ کنز العمال على هامش مسند احمد ج ٤ ص ٣٠١) اور دوسری حدیث جس کو ابن ابی شیبہ اور ابن سعد وغیرہ نے روایت کیا ہے۔ كنت اول النبين في الخلق و آخرهم میں پیدائش میں سب سے پہلا نبی تھا اور في البعث (منتخب کنز العمال علی حاشیہ مبعوث ہونے میں سب سے آخری۔ مسند ج ٤ ص ٣٠١) اور اسی لیے قیامت میں بھی ”لواء حمد“ آپ کو ملے گا اور تمام انبیاء علیہم السلام شفاعت کبریٰ کا معاملہ آپ کے سپرد فرمائیں گے۔ اور ایک حدیث نے اس کی تصریح کی ہے جو شرح السنہ اور مسند امام احمد میں ہے۔ انى عند الله مكتوباً بخاتم النبين میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس وقت خاتم وان آدم لمنجدل في طينته النبیین تھا جبکہ آدم علیہ السلام ابھی (مشكوة ، ص ٥٣١) گارے میں تھے۔

یہاں صرف یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ پہلے سے یہ جانتے تھے اور تقدیر ہی یہ تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر پیغمبر اور اس کے وقت کو جانتے تھے بلکہ مراد یہ ہے کہ آپ کو ایک طرح یہ خصوصیت اور خلعت ختم نبوت کا شرف عطا ہو چکا تھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبوت وہی نعمت ہے یہ کسبی نہیں ہے۔ یہ نبوت کا آپ پر خاتمہ دین کا نقصان نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ساری امتوں کو ایک طرف اور اس ساری امت کو دوسری طرف رکھا ہے۔ چنانچہ چند آیتیں حسب ذیل ہیں۔ كنتم خير امة اخرجت للناس تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی خاطر (آل عمران : ١١٠) پیدا کی گئی ہو۔ وكذالك جعلناكم امة وسطا اور ایسے ہی ہم نے تم کو درمیانی (اور لتكونوا شهداء على الناس بہترین) امت بنایا تاکہ تم باقی لوگوں پر ويكون الرسول عليكم شهيدا گواہ بنو اور رسول تم پر گواہی دے۔ وہ فكيف اذا جئنا من كل امة کیسا وقت ہوگا کہ جب ہم ہر امت میں بشهيد وجئنابک علی ھؤلاء سے گواہ لائیں گے اور آپ کو ان ٤٧

صفحہ ٣٥٦

(سب) پر گواہ بنائیں گے۔

شہیدا۔ (بقرہ ١٤٣)

ایسی بہت سی آیات ہیں۔ بہرحال اگر کثرت کا کوئی انضباط نہ ہو تو وہ بھیڑ ہو جاتی ہے۔ اگر اس میں نظم و ضبط ہو تو وہ ایک طاقت ہوتی ہے۔ کثرت اگر کسی وحدت پر ختم ہو تو وہ مربوط اور قوی طاقت ہوتی ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام سرور عالم ﷺ کے ماتحت ہیں۔ اور اس وحدت کا مظاہرہ معراج کی رات مسجد اقصیٰ میں ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ساری امتوں کو ایک طرف اور آپ کی امت کو دوسری طرف رکھا اس لیے کہ آپؐ آخری نبی اور آپؐ کی امت آخری امت ہے۔

یہاں تکمیل دین و شریعت کا کام پورا ہو چکا ہے۔

اليوم اكملت لكم دينكم آج میں نے تمھارا دین مکمل کر دیا اور واتممت عليكم نعمتى ورضيت اپنی مہربانی تم پر پوری کر دی ۔ اور لكم الاسلام دينا . (مائده ٣) تمھارے لیے دین اسلام پسند کر لیا ۔

بقاء و تحفظ شریعت کی ذمہ داری بھی خود خدا نے لے رکھی ہے۔

انا نحن نزلنا الذكر وانا له ہم نے ہاں ہم ہی نے یہ قرآن اتارا اور لحافظون . (الحجر: ٩) ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔

سیاست اور ملکی انتظام کا کام خلفاء کے سپرد ہو چکا ہے۔ حدیث شریف میں ہے۔

كانت بنو اسرائيل تسوسهم بنی اسرائیل کا انتظام پیغمبر کیا کرتے الانبياء كلما هلك نبى خلفه تھے جب ایک نبی جاتا دوسرا آ جاتا۔ نبى ولكن لا نبى بعدى وسيكون مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ البتہ الخلفاء فيكثرون . (اوكما قال) خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ (بخاری کتاب الانبیاء، ج ١ ص ٤٩١، مسلم اور تم پہلے خلیفہ سے وفاداری کرتے کتاب الامارۃ ج ٢ ص ١٢٦) رہنا ۔

اور مبشرات سچے خوابوں کی طرح نبوت کا جز ہے۔ بعینہ نبوت نہیں نہ جز کو کل کا نام دیا جاتا ہے۔ آدمی کی ٹانگ کو آدمی نہیں کہا جاسکتا ۔ نہ اس کی ایک آنکھ کا نام انسان ہوتا ہے۔ یہ اجزاء انسانی ہیں۔ ہاں انسان کی تمام جزئیات کو انسان کہا جائے گا۔ جیسے مرد ، عورت ، کالا ،

٤٨

صفحہ ٣٥٧

گورا۔ بہر حال اجزاء اور جزئیات کا فرق ہر پڑھا لکھا جانتا ہے یا حیوان ہر گھوڑے، گدھے اور بلی کو کہہ سکتے ہیں لیکن کسی پاؤں یا سر کو حیوان نہیں کہہ سکتے۔ اب کسی نئے نبی یا نئی شریعت کی اس امت کو ضرورت نہیں ہے اور سرور عالم ﷺ نے صاف اور واضح اعلان فرما کر ہر طرح کی نبوت کا دروازہ بند کر دیا۔ مرزائیوں کو سرور عالم ﷺ کی مخالفت میں مزہ آتا ہے۔ مبشرات کا معنی خود حدیث میں سرور عالم ﷺ نے سچے خواب بتایا ہے۔

٣٠٦) جیسے کہ مرزا قادیانی اور اس کے چیلے چانٹے کہتے ہیں۔ بالکل غلط ہے۔ یہ بات تو پہلی امتیں بھی کہہ سکتی تھیں پھر تمھاری کون سی تخصیص ہے! پہلی امتوں نے اپنے اپنے پیغمبر کی اطاعت کر کے نبوت کے سوا باقی مراتب قرب حاصل کیے اور جس کو اللہ تعالیٰ نے چاہا نبوت عطا کی۔ وہ دین نبی ساز نہ تھا۔ بلکہ نبیوں کی تعداد باقی تھی اس کو پورا کرنا تھا۔ ان امتوں کی اپنے نبی سے تعلق و نسبت بھی قائم رہی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ یہ آخری امت اپنی نسبت قیامت تک اپنے نبی آخرالزمان سے رکھتے ہوئے مراتب قرب حاصل کرتی رہے۔ کسی دوسرے کا واسطہ درمیان میں نہ ہو۔ یہ بات تو شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہی تھی کہ ذاتی طور سے میں آدم سے بہتر ہوں۔ آپ کے انتخاب اور اجتباء پر دارو مدار کیوں ہو۔ کہ آپ آدم کو سجدہ کراتے ہیں۔ اسی لیے شیطان ملعون و مردود ہوا۔ اور آدم علیہ السلام نے عبودیت اور اطاعت اختیار کی وہ مقبول ہوگئے۔ یہاں بھی مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا کہ نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص ہوں۔ دوسرے کوئی اس کے مستحق نہیں۔ گویا یہ بھی شیطان کی وراثت تھامے ہوئے اپنا استحقاق اور شدت اتباع ثابت کرتا ہے۔ اور اب اس کے گم کردہ راہ چیلے چانٹے اس سے وابستہ رہ کر اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں۔

یہاں سے مرزا قادیانی کی یہ جہالت بھی ظاہر ہوگئی ہے کہ پہلے پیغمبر براہِ راست پیغمبر ہوئے۔ موسیٰ علیہ السلام یا کسی دوسرے پیغمبر کے اتباع کا اس میں دخل نہ تھا۔ مگر یہاں مجھے حضور کی اتباع اور غایت اطاعت سے نبوت کا مقام ملا ہے۔ (حقیقۃ الوحی) اس لیے کہ پہلے کے پیغمبر بھی کسی نہ کسی پیغمبر کے دین کا اتباع کرتے تھے اور ہم بھی کرتے ہیں۔ نبوت تو موہبت اور بخشش ہے۔ جہاں ظرف اس کے مناسب دیکھا وہاں عطا فرما دی۔ اور ظرف بھی خود مہربانی کر کے عنایت کرتے تھے۔

الله اعلم حيث يجعل رسالته خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کہاں اپنی نبوت (الانعام: ١٢٤) دے۔

٤٩

صفحہ ٣٥٨

مگر اب تو سلسلہ نبوت کی تکمیل کر کے اس کو بند فرما دیا۔ جتنے نبی آنے تھے وہ آگئے اور دائرہ نبوت کی ساری مسافت آپ نے طے کر لی۔ اور تکمیل شریعت فرما گئے۔ اب آپ کی نبوت کے ہوتے ہوئے اگر کوئی اور بھی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ ایسے ہے جیسے کوئی احمق الذی دوپہر کے وقت پوری روشنی میں اپنا چراغ جلا کر بھینس ڈھونڈتا پھرے۔ اسی احمق الذی کی عقل کو بھینس ہی کی عقل کہہ سکتے ہیں۔

قادیانی ہی نبی بن سکا اور وہ بھی ایسا جو انگریزوں کی اطاعت فرض قرار دے۔ اور غیر محرم عورتوں سے مٹھیاں بھروائے اور اپنے نہ ماننے والے کروڑوں افراد امت کو کافر قرار دے۔ اور جو بدنامی کا، ڈراوے کا اور لالچ کا اور نقد روپیہ دے کر محمدی بیگم کو حاصل نہ کر سکا، بلکہ مسلسل بیس سال تک اس کی شادی کے زبانی مزے بھی لیتا رہا اور عقل کے اندھے مگر گانٹھ کے پکے مریدوں کو بتلاتا اور پھسلاتا رہا۔ اور اپنے ساتھ سرور عالم ﷺ کو بھی شریک کر کے جھوٹا کرنے کی ناپاک کوشش کی اور یہ وحی بھی ایسی تھی بلکہ اس کو مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دے کر دنیا کو چیلنج کیا تھا۔

کیا اسی بل بوتے پر ہم اس کی بات یا گپ کو سچ مان لیں کہ میری وحی قرآن کی طرح ہے۔ پھر ایسا شخص کہ جو اپنے نہ ماننے والوں کو کنجریوں کی اولاد کہے۔ اپنے مخالفین کو جنگل کے سور لکھے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑہ شریف کو ملعون کہے، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کو اندھا شیطان لکھے، مولوی سعد اللہ کو نسل بدکاراں قرار دے۔ تمام علماء کو بدذات فرقہ مولویاں سے تعبیر کرے اور حضرت حسینؓ کے مبارک ذکر کو گوہ کے ڈھیر سے تشبیہ دے، اپنے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل کہے۔ بلکہ تمام پیغمبروں کی صفات و کمالات کا اپنے کو جامع قرار دے۔ (یہ منہ اور مسور کی دال) اسی طرح اس نے پیشگوئی کی کہ عبداللہ آتھم پندرہ ماہ میں مر جائے گا۔ جب وہ نہ مرا تو جھوٹا اعلان شائع کر دیا کہ اس نے رجوع الی الحق کر لیا تھا اور جب ٢٢ ماہ بعد وہ اپنی موت مرا تو اعلان کر دیا کہ میری پیشگوئی یہ تھی کہ جھوٹا سچے کے سامنے مرے گا۔ لعنتہ اللہ علی الکاذبین۔

اللہ تعالیٰ مرزا ناصر احمد اور سارے قادیانیوں کو سمجھ دے۔ بہت سے نیک آدمیوں کے باپ دادا گمراہ گزرے ہیں۔ اگر یہ بھی توبہ کر کے سچے مسلمان ہو جائیں اور مرزا قادیانی کو خدا کے حوالے کریں۔ پیسے تو اب بہت ہو گئے عزت بھی مل گئی اور اگر یہ خیال ہو جیسے کہ آپ کی گفتگو سے بو آتی ہے کہ کوئی آپ کا سرپرست آپ کو بچا لے گا تو ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ

٧٠

صفحہ ٣٥٩

آپ کو خدا کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ وہ وقت گیا جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ آپ نے عام مسلمانوں کو بدنام اور ذلیل کرنے کی اپنے بیان میں کوشش کی ہے۔ اس لیے ہم نے یہ چند سطریں لکھ دی ہیں۔

ہیں۔ آپ ﷺ نے سابقین کی تعداد ختم کر دی جو آنے تھے آ گئے۔ اب کسی کو آپ کے بعد نبوت نہیں مل سکتی۔ خاتم النبیین کا معنی خاتم الانبیاء نہیں ہے کہ آنے والے آپ کی مہر سے آیا کریں گے۔ یہ تو اللہ پر جھوٹ بولا گیا، کیونکہ آپ کی مہر سے کون کون آئے کیا مرزا غلام احمد قادیانی یا اس کا پوتا مرزا ناصر احمد بتا سکتے ہیں؟ کیا مرزا غلام احمد قادیانی کے بغیر تیرہ سو سال میں آپ کی قوت قدسیہ نامکمل رہی۔ خاتم النبیین میں پرانے پیغمبروں کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے ان کی تعداد کو ختم کر دیا اور قصر نبوت کی تکمیل فرما دی۔ اب کوئی شخص نبوت نہ پا سکے گا۔ یہ اضافت اشخاص کی طرف ہے۔ باقی نبوت ورسالت کے خاتمہ کے لیے وہ مبارک الفاظ زیادہ موزوں ہیں جو امام ترمذیؒ نے روایت کیے ہیں۔ وہ حدیث یہ ہے:

ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی (قال) فشق ذالک علی الناس فقال لکن المبشرات فقالوا وما المبشرات قال رؤیا المسلم وهی جزء من اجزاء النبوة۔ (ترمذی ج ٢، ص ٣، باب ذهبت النبوة وبقیت المبشرات)

”رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی ہے تو اب میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا نہ نبی (راوی کہتا ہے) یہ بات لوگوں کو مشکل نظر آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ لیکن مبشرات باقی ہیں۔ انھوں نے دریافت کیا کہ مبشرات کا کیا مطلب ہے۔ آپ نے فرمایا۔ مسلمان کا خواب اور وہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔“

اس حدیث نے تمام مرتدوں کی کمر توڑ دی ہے۔ جس سے صاف صاف معلوم ہو گیا کہ آپ ﷺ کے بعد نہ کسی کو رسول بنایا جا سکتا ہے کہ جس کے پاس کتاب یا شریعت ہو۔ نہ کسی کو نبی بنایا جا سکتا ہے چاہے وہ دوسرے نبی کا تابع ہو اور کوئی نئی شریعت یا نئے احکام اس کو نہ دیئے گئے ہوں۔ جیسے لفظ خاتم النبیین نے اگلے پیغمبروں کی تعداد ختم کر دی۔ اس حدیث کے مبارک الفاظ نے بعد میں دعویٰ کرنے والوں کی حقیقت بھی کھول دی۔ اب نہ کسی کے پاس وحی نبوت آسکتی ہے نہ وحی رسالت ۔ اب یہ کہنا کہ مستقل نبی ختم ہو گئے غیر مستقل باقی ہیں۔ یا یہ کہ صاحب شریعت نہ آئیں گے مگر تابع اور غیر تشریعی نبی آ سکتے ہیں۔ یہ سب بکواس ہے کفر ہے

PDF 360

ی@PAGE ٣٦٠ اور دین سے استہزاء ہے۔ اللہ تعالیٰ بچائے۔ آمین! مرزا غلام احمد قادیانی کبھی بروزی اور ظلی نبوت کی آڑ لیتا ہے۔ کبھی فنا فی الرسول ہو کر نبی بننے لگتا ہے۔ کبھی مسیح موعود بننے کے لیے تنکوں کا سہارا لیتا ہے۔ کبھی مریم بنتا ہے۔ پھر مرزا غلام احمد قادیانی کو حیض آتا ہے۔ پھر مریم سے عیسیٰ بن جاتا ہے۔ کبھی آسمان میں اپنا نام محمد واحمد ظاہر کرتا ہے۔ کبھی اپنا نام ہی ابن مریم رکھ لیتا ہے، کبھی محدث ومجدد کا روپ اختیار کرتا ہے اور کبھی مہدی کی حدیثوں کو اپنے اوپر چسپاں کرتا ہے، کبھی کرشن کا اوتار بنتا ہے اور کبھی جے سنگھ بہادر، کبھی عین محمد بنتا ہے، کبھی مثیل مسیح کہلاتا ہے تو کبھی (ان سے) افضل۔ کبھی انسان کی جائے نفرت بنتا ہے۔ کبھی انگریز کی عدالت میں توبہ نامہ داخل کرتا ہے اور کبھی اپنے معجزات حضورﷺ سے بڑھ کر ظاہر کرتا ہے۔ غرضیکہ مرزا غلام احمد قادیانی عجیب چیز اور ایک چیستان تھے۔ ہم اس کو صرف انگریز کا کمال تصور کرتے ہیں۔ یہ کمال مرزا ناصر احمد کو مبارک ہو۔ اگر ایسا نہیں تو پھر شیطان نے جو تلعب اس سے کیا ہے، بہت کم ہی کسی اور سے کیا ہوگا۔

ایک فریب اور اس کا جواب

مرزائی لوگ شیخ اکبر کی بعض عبارتیں پیش کر کے ثابت کرتے ہیں کہ وہ بھی غیر تشریعی نبوت کو باقی سمجھتے ہیں۔ یہ صریح دھوکہ ہے اور علمی جہالت ہے۔ دراصل بعض اولیاء یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے مکالمہ و مخاطبہ ہو سکتا ہے جس کو لغت میں نبوت بھی کہتے ہیں۔ لیکن وہ ساتھ ہی یہ کہتے ہیں کہ نہ کوئی نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ اس کی اجازت ہے۔ یہ جو مکالمہ ہوتا ہے اس کا معنی یہ نہیں کہ وہ بیان شریعت کے لیے مامور ہو کر خدا تعالیٰ کے ہاں منصب نبوت پا لیتا ہے۔ وہ صرف اس مکالمے کو غیر تشریعی نبوت کہتے ہیں۔ تشریعی نبوت وہ ہر اس وحی نبوت کو کہتے ہیں جس میں شریعت کے لیے احکام ہوں۔ نئے یا پرانے اور یہ صرف نبی کے لیے ہو سکتا ہے۔ گویا لغوی طور پر وہ مکالمہ الٰہیہ کا نام غیر تشریعی رکھتے ہیں۔ جس کا معنی یہ ہے کہ شرعی وحی اور نبی کی وحی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ نبی اور رسول ایک عہدہ ہے جو اب ختم ہو چکا ہے۔ اس میں کوئی استثناء نہیں ہے۔ گویا ان اولیاء کے ہاں تشریعی نبوت میں دونوں نبوتیں شامل ہیں جو ختم ہو چکی ہیں۔ نئی شریعت والی اور پرانی شریعت والی یعنی وہ غیر تشریعی کا اطلاق بھی کبھی ولایت پر کر دیتے ہیں۔ لیکن کسی نے آج تک ان میں سے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ نہ نبی ہونے کے اعلان کی اجازت دی۔ اگر مرزائیوں میں سکت ہے تو کسی ولی کا دعویٰ نبوت ثابت کریں۔

٥٢

صفحہ ٣٦١

یہاں مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک قول اولیاء کی اطلاق واصطلاح کے بارے میں سن لیجیے۔

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔ ’’لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے۔ بعض اوقات خدا تعالیٰ کے الہامات میں ایسے الفاظ استعارہ اور مجاز کے طور پر اس کے بعض اولیاء کی نسبت استعمال ہو جاتے ہیں۔ اور وہ حقیقت پر محمول نہیں ہوتے۔ سارا جھگڑا یہ ہے جس کو نادان متعصب اور طرف کھینچ کر لے گئے ہیں ۔ آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبان مقدس حضرت نبوی سے نبی اللہ نکلا ہے وہ انہی مجازی معنوں کی رو سے ہے جو صوفیائے کرام کی کتابوں میں مسلم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا‘‘ (انجام آتھم ص ٢٨، حاشیہ خزائن ج ١١، ص ایضاً)

اس عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے بہت دجل کیے ہیں۔ مثلاً عبارت مذکورہ میں صحیح مسلم کے حوالہ سے لکھا (کہ آنے والے مسیح موعود کا نام) حالانکہ صحیح مسلم میں مسیح موعود کا لفظ نہیں ہے۔ یہ اصطلاح خود مرزا غلام احمد قادیانی نے گھڑی ہے۔ مگر یہاں ہم کو صرف یہ بتانا ہے کہ شیخ اکبر وغیرہ کے الفاظ جو نبوت غیر تشریعی کے آئے ہیں۔ وہ صرف مکالمات الہیہ کی وجہ سے آپ کی اصطلاح ہے۔ ورنہ نبوت کا عہدہ اور نبی کے نام کا اطلاق وہ بھی ناجائز سمجھتے ہیں۔ جیسے یہاں مرزا غلام احمد قادیانی نے تصریح کر دی ہے۔ بہرحال قرآن پاک نے خاتم النبیین فرما کر نبیوں کا باب بند کر دیا اور جو تعداد اللہ تعالیٰ کے علم میں مقرر تھی اس کے پورا ہونے کا اعلان فرما دیا۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی نے خاتم النبیین کا مطلب نبی تراش قرار دیا یعنی آپ کی پیروی سے نبی بنتا ہے۔ یہ صریح طور پر خدا تعالیٰ کا ایسا مقابلہ ہے جو شیطان نے کیا تھا کہ اے اللہ آپ کیوں آدم کو سجدہ کرواتے ہیں۔ میں اس سے اچھا ہوں یعنی اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت اور رضا اور ارادے پر راضی نہ ہوا، بلکہ اپنا حق جتایا۔ اس صریح عدول حکمی اور حجت بازی سے کافر و مردود ہو گیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ دروازہ خاتم النبیین کہہ کر بند فرمانا چاہتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس کا مطلب نبی تراش بنا کر اس کو کھلا رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہر گاما گھسیٹا قادیانی الرسول بن کر نبی بن جایا کرے۔

ایں کار از تو آید و مرداں چناں کنند
صفحہ ٣٦٢

بنا اور تمام مسلمانوں میں ہلچل پڑ گئی۔ یہ ستر کروڑ مسلمانوں کو کافر کہتے اور وہ سب ان کو کافر سمجھتے ہیں۔ اگر سرور عالم ﷺ ان جھوٹے نبیوں کا سلسلہ بند اور ان سے بچنے کی تاکید نہ فرماتے تو اب تک امت محمدیہ میں کتنے ہی فرقے اور کتنی ہی امتیں ہوتیں۔ جو ایک دوسری کو کافر کہتیں۔ اس لیے مسئلہ ختم نبوت رحمت الہیہ ہے۔ چنانچہ تفسیر ابن کثیر میں ہے۔

وهذه اكبر نعم الله على هذه ا اور یہ اللہ تعالیٰ کی اس امت پر بڑی لامة حيث اكمل تعالى لهم نعمت ہے اور مہربانی ہے کہ اس خدائے دينهم فلا يحتاجون الى دين برتر نے ان کا دین مکمل کر دیا اب وہ غيره ولا الى نبى غير نبيهم کسی اور دین کے محتاج ہیں نہ اپنے نبی صلوة الله وسلامه عليه کے بغیر کسی اور نبی کے اور اس لیے ان ولذا جعله خاتم الانبياء وبعثه الى کو خاتم الانبیاء بنا کر جن و انس کی الانس والجن O (تفسیر ابن کثیر ج طرف بھیجا گیا۔ ٣ ص ٢٢)

مسئلہ صاف ہو گیا

یہاں تک لکھا گیا تھا کہ آٹھ اگست ١٩٧٤ء کو مرزا ناصر احمد امام جماعت احمدیہ ربوہ نے خصوصی کمیٹی کے سامنے بیان دے دیا کہ سرور عالم ﷺ کے بعد تیرہ سو برس تک کوئی نبی آیا نہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد کوئی نبی آئے گا چاہے امتی نبی ہی کیوں نہ ہو۔ جب محترم اٹارنی جنرل نے سوال کیا کہ ابو العطا جالندھری نے لکھا ہے کہ آپ کی خاتمیت نے وسیع دروازہ کھول دیا ہے۔ آپ کی امت کے لیے آپ کی پیروی کے طفیل وہ تمام انعامات ممکن الحصول ہیں جو پہلے منعم علیہ لوگوں کو ملتے رہے ہیں۔ تو کیا حضور اس فیضان سے پہلے تیرہ سو برس میں کوئی نبی یا امتی نبی آیا ہے یا مرزا غلام احمد کے بعد آئے گا؟ اس کا جواب مرزا ناصر نے قطعاً انکار میں دیا اور ابو العطاء کی بات کو صرف امکان عقلی پر محمول کیا۔ یعنی ہو تو سکتا ہے لیکن ہوگا نہیں اور اس سلسلہ میں مرزا ناصر احمد نے مولانا اسمعیل شہید کا قول نقل کیا کہ اللہ تعالیٰ کو قدرت ہے کہ ایک آن میں کروڑوں فرشتے جبرائیل اور محمد جیسے پیغمبر پیدا کر دے حالانکہ ان کا ایمان تھا کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کوئی بھی محمد رسول اللہ کی طرح پیدا نہیں ہوگا، بلکہ آپ خاتم النبیین ہیں صرف خدا کی قدرت کا بیان ہے۔ مرزا ناصر احمد کے اس بیان کے بعد سارا مسئلہ صاف ہو گیا۔ بقاء نبوت اور اجراء

صفحہ ٣٦٣

نبوت کی ساری بحثیں فضول ہیں۔ حضورﷺ پر نبوت ختم ہو گئی ہے۔ نہ تیرہ سو برس میں پہلے کوئی نبی آیا نہ مرزا غلام احمد کے بعد آئے گا بقول مرزا ناصر احمد کے ایک ہی مرزا غلام احمد امتی نبی بنایا گیا کیونکہ مسلم شریف میں چار جگہ آنے والے کو نبی کہا گیا، حالانکہ مسلم شریف اور سینکڑوں احادیث میں ایک مسیح کے نزول کی خبر ہے جو آسمان سے نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے، چالیس سال دنیا میں رہیں گے۔ ساری دنیا مسلمان ہو جائے گی، پھر وفات ہو گی۔ دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کا ابتداء ہی سے یہی عقیدہ رہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ اٹھائے گئے ہیں اور قرب قیامت کو وہی دوبارہ نازل ہوں گے اور مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں اور آنے والا مسیح میں ہوں۔

دو مسئلے

یہاں دو مسئلے ہیں (١) کہ آیا واقعی حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں یا زندہ آسمان میں موجود ہیں اور آخری زمانہ میں دوبارہ نازل ہوں گے۔

٢...... دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر بالفرض وہ فوت ہو چکے ہیں تو کیا مرزا غلام احمد قادیانی وہی آنے والا مسیح ابن مریم ہو سکتا ہے۔ جس کی خبر سینکڑوں حدیثوں میں موجود ہے۔ ہم یہاں دوسرے مسئلہ پر پہلے بحث کریں گے۔ فرض کیجیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تو کیا مرزا غلام احمد قادیانی آنے والا مسیح ہو سکتا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی: ہمارے خیال میں یہ دعویٰ جھوٹ، افتراء اور قرآن و حدیث سے مذاق و استہزاء کے مترادف ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح ابن مریم تو کیا مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔ مندرجہ ذیل امور ملاحظہ فرمائیں۔

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢١٠)

(سیرت المہدی حصہ سوم ص ٢١٣)

کوششیں کیں۔ مگر محمدی بیگم کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے اس کی شادی دوسری جگہ کرا دی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے بیٹے فضل احمد سے اس کی بیوی کو طلاق دلوائی جو احمد بیگ والد محمدی بیگم کی بھانجی تھی۔

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٤٩)

٥٥

صفحہ ٣٦٤

احمد نے ان سے قطع تعلق کر دیا تو مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کو طلاق دے دی۔

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٤٤)

سے محروم اور عاق کر دیا۔ کیونکہ یہ بھی مخالفانہ کوشش کرتے رہے۔

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٤٣)

لکھا ہے۔ کہ جب مکالمات الہیہ کی کثرت ہو تو پھر وہ نبی کہلاتا ہے۔ حالانکہ اس مکتوب میں نبی کا لفظ نہیں بلکہ محدث کا لفظ ہے۔ اور خود مرزا غلام احمد قادیانی نے اس سے پہلے جب تک کہ ان کو نبی بننے کا شوق نہیں چرایا تھا۔ (ازالۃ الاوہام ص ٩١٥ خزائن ج ٣ ص ٦٠١) میں محدث کا لفظ لکھا۔ اب شوق نبوت میں امام ربانی پر جھوٹ بولا اور اسی لیے مکتوبات کا حوالہ بھی درج نہیں کیا۔

زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت آسمان سے آواز آئے گی۔ ھذا خلیفۃ اللہ المہدی۔ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ کی ہے جو ایسی کتاب میں ہے جو اصح الکتاب بعد کتاب اللہ ہے ۔“ (شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧) کیا کوئی مرزائی یہ حدیث بخاری شریف میں بتلا سکتا ہے؟

میں دس ہزار یہودی قتل کیے گئے۔ اس سلسلہ میں بعض مرزائی یہ عذر لنگ پیش کرتے ہیں۔ دس ہزار کے ہندسوں میں دراصل کاتب سے ایک صفر کا اضافہ ہو گیا۔ یہ غلط بیانی ہے اس لیے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ کئی ہزار یہودی ایک دن میں قتل کیے گئے۔ یہ سب جھوٹ ہے اور خواہ مخواہ سرور عالم ﷺ کو بدنام کرنا ہے۔ ورنہ غزوہ خندق کے بعد جب بنو قریظہ نے ہتھیار ڈالے تو خود انھوں نے کہا تھا کہ ہمارا فیصلہ سعد بن معاذ کریں۔ انھوں نے تورات کے مطابق فیصلہ دیا جس کے تحت چار سو یا چھ سو آدمیوں کو قتل کیا گیا۔ یہ وہ یہودی تھے جو ہمیشہ اسلام کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ غزوہ خندق میں اگر یہ کامیاب ہو جاتے تو ہزاروں مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کا قتل عام ہو جاتا اور جزیرۃ العرب کے سارے مسلمان شہید کر دیئے جاتے۔

٤٦

صفحہ ٣٦٥

گوئی کی کہ پندرہ ماہ میں مرجائے گا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ مگر آتھم ١٥ ماہ میں نہ مرا۔

(جنگ مقدس ص ٢١١ خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)

علیحدہ لکھی گئی ہیں۔

دفعہ ساتھ ساتھ ہندسہ لکھتے گئے (نورالحق ص ١٥٨ تا ١٦٢ خزائن ج ٨ ص ١٥٨ تا ١٦٢) حالانکہ لکھنو کی بھٹیاری لکھ لعنت کہہ کر ہی معاملہ ختم کر دیتی تھی۔ اب کوئی مرزائی ہو جو لعنت لعنت کے ان چار صفحات کو پڑھ پڑھ کر ثواب کمائے۔

آدمی پھنس گئے ہیں نبی بن بیٹھا۔ حالانکہ یہ تدریج خود غرضی اور بناوٹی سکیم کی غمازی کرتی ہے۔

(ملاحظہ ہو ضمیمہ دعاوی مرزا از مفتی محمد شفیع مشمولہ احتساب قادیانیت ج ١٤)

تھا یا وہ آنے والا ہے۔ چنانچہ کرشن کا مثیل بنا۔

چسپاں کیے حوالہ کے لیے ضمیمہ دعاوی مرزا ملاحظہ ہو۔ (مشمولہ احتساب قادیانیت ج ١٤)

خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) اور اپنے دس لاکھ بتائے۔ (براہین احمدیہ پنجم ص ٥٦ خزائن ج ٢١ ص ٧٢)

(دافع البلاء ص ٣٩ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

(اعجاز احمدی ص ٨٢ خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

دی اور کہا کہ خدا نے مجھ سے زوجکھا فرمایا ہے۔ (کہ ہم نے اس لڑکی سے تمھارا نکاح کر دیا ہے ۔)

٥٧

صفحہ ٣٦٦

چیز نہیں ہے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

جبکہ اس کی یہ پیش گوئی غلط ثابت ہو گئی اور بیس برس تک اس کو مایوس رکھ کر آخر کار جھوٹا ثابت کر دیا۔

ہے۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔

کے تمھارے پاس اس عورت کو واپس لاؤں گا۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

خیال آیا تو قدرت نے تسلی دی کہ اس میں شک نہ کرو۔ یہ ہو کر رہے گا تب میں سمجھا کہ جب پیغمبر مایوس ہونے لگتے ہیں تو اس طرح خدا ان کو تسلی دیتا ہے۔

(ازالۃ الاوہام ص ٣٩٨ خزائن ج ٣ ص ٣٠٦)

ہو یا ثیبہ ہو خدا لوٹا کر میرے پاس لائے گا (ازالۃ الاوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)

طفل تسلی کرتا اور عوام کو الو بناتا رہا۔ مگر آخر کار بے نیل مرام چل بسا۔

محمدی بیگم کا نکاح کر دیا۔ اگر خدا نے نکاح کیا ہوتا تو کوئی اور اس کو کیسے بیاہتا۔ پھر نکاح پر نکاح کا مقدمہ نہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا اور نہ ہی ان کے مریدوں نے۔

ساتھ کیسے نکاح پڑھا؟

ہوا کہ آسمانی نکاح کی وحی اللہ تعالیٰ پر افتراء تھا جو صریح کفر ہے۔

پوری نہ ہوئی تو میں بد سے بدتر ہوں گا۔ کیا اس طرح وہ بد سے بدتر نہ ہو گیا۔ کیا بد سے بدتر کی تعبیر سخت سے سخت نہیں ہو سکتی اور کیا اس کو کافر مفتری علی اللہ نہیں کہہ سکتے۔

٥٨

صفحہ ٣٦٧

ثابت نہ ہوگیا۔ جب کہ اس پیش گوئی کو مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے صادق یا کاذب ہونے کی دلیل ٹھہرایا تھا اور اتنا بڑا جھوٹ بولنے والا آدمی حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا محمد رسول اللہ ﷺ کی ہمسری کا دعویٰ کر سکتا ہے؟

میں پہنچایا۔

(ستارہ قیصرہ ص ٣ خزائن ج ١٥ ص ١١٤)

(شہادۃ القرآن کا آخری اشتہار خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

ذلیل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

(ملاحظہ ہو ستارہ قیصرہ و تحفہ قیصرہ)

وغیرہ۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٥٠)

مگر پھر ایک نبی بھی نہ گھڑا گیا صرف خود ہی نبی بن بیٹھا۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٢٧٥)

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢٨٩)

کسی کو اپنا جانشین بنایا ہے۔

الہامات شائع نہ کروں گا گویا یہ توبہ نامہ لکھا۔

حاصل کرنے کے لیے انگریزوں کی سندیں اور چٹھیاں شائع کیں۔

٥٩

صفحہ ٣٦٨

(شہادۃ القرآن ص ٨٩ تا ٩١ خزائن ج ٦ ص ٣٨٥ تا ٣٨٧)

پیش کر کے فخر کیا اور اپنے خاندان کو انگریزوں کا وفادار ثابت کیا۔

(ستارہ قیصرہ ص ٣ خزائن ج ١٥ ص ١١٣)

ڈاکوؤں سے تشبیہ دی۔

چنانچہ وہ مولوی ثناء اللہ کے سامنے مر گیا اور اسی طرح اس کے جھوٹے ہونے کا قرآنی فیصلہ ہو گیا۔

روپے کی (آج کل شاید ان کی قیمت بیس ہزار روپے ہو داخل کیے ) یہ عین محمد ہیں جن کے دولت خانہ میں آگ نہیں جلتی تھی۔

لگائی کہ خدا کا کلام مجھ پر اس قدر نازل ہوا ہے کہ وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧)

بھلا بیس جزو کلام الٰہی کا کیا مطلب ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی نے کیوں چھپایا جبکہ باقی شائع کر دیا۔

قادیانی کی دعاوی سے آپ کو معلوم ہوگا۔

وحی کو قرآن پاک کی طرح قطعی سمجھا جا سکتا ہے۔ اور کیا کوئی نبی وحی کا معنی سمجھنے میں بیس سال یا موت تک قاصر رہ سکتا ہے ہم مرزائیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ کیا کسی قطعی امر کے انکار کرنے والے آدمی کو یہ کہہ کر معاف کیا جائے کہ یہ ملت اسلامیہ سے خارج ہے۔ خود مرزائی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ پچھلی صدیوں میں علماء کے فتوؤں سے فلاں فلاں کو سزا دی گئی۔ اگر وہ نہیں ثابت کر سکتے اور قطعی ثابت نہیں کریں گے۔ پھر معلوم ہوا کہ کافر اور اسلام سے خارج کر کے ملت اسلامیہ میں باقی رہنے کی بات ایجاد بندہ ہے۔ اور مرزائیوں نے صرف اپنے بچاؤ

٦٠

صفحہ ٣٦٩

کے لیے ڈھونگ بنایا ہے۔

(٥٢) یہ سب جھوٹ، بناوٹ اور فریب ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت حضورؐ کے اتباع اور مکمل طور پر فنافی الرسول ہونے سے ملی کیونکہ محدثیت (خدا تعالیٰ سے ہم کلامی) ہو یا نبوت یہ محض خدا تعالیٰ کی بخشش سے ملتی ہے۔ اس میں عمل اور کسب کو قطعاً دخل نہیں ہوتا۔ اس حقیقت کو خود مرزا قادیانی نے تسلیم کرتے ہوئے لکھا ہے۔

ولا شك ان التحديث موهبة مجردة لاتنال بكسب البتة كما هو شان النبوة

(حمامة البشریٰ ص ٨٢ خزائن ج ٧ ص ٣٠١)

اور اس میں شک وشبہ نہیں کہ محدث ہونا محض اللہ تعالیٰ کی بخشش ہے یہ کسی طرح کی (محنت وعمل اور) کسب سے نہیں مل سکتی جیسے نبوت کی شان ہے۔ (یعنی جس طرح نبوت کسی عمل یا اکتساب کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ اسی طرح محدث ہونا بھی)

مرزا قادیانی نے کماہوشان النبوۃ کہہ کر اس حقیقت کو اور بھی زیادہ واضح کر دیا کہ محدث اور نبی کسی عمل کے نتیجہ میں نہیں بن سکتا۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت ملی ہے۔ جیسے کہ مرزا ناصر احمد اور سارے مرزائی بلکہ خود مرزا قادیانی بھی کہتے ہیں تو وہ محض خدائی بخشش اور محبت الٰہیہ ہے جس طرح پہلے نبیوں کو ملا کرتی تھی۔ اور اس نبوت میں یا محدث ہونے میں حضورؐ کے اتباع اور فنافی الرسول ہونے کا کوئی دخل نہ تھا اور یہ کفر صریح ہے کہ حضور کے بعد کوئی نبی بننے لگے۔ یا کسی کو نبی مانا جائے عین محمد کی کپی اور کامل اتباع کے دعوے سے مرزا غلام احمد قادیانی نہیں ہو سکتے اور نہ ہی عیسیٰ ابن مریم نام رکھنے سے حضرت عیسیٰ ہو سکتے ہیں۔

عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرے چند

مرزا ناصر احمد ناراض نہ ہوں آپ نے بحیثیت امام جماعت احمدیہ جو محضر نامہ قومی اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے سنایا۔ اس کے صفحہ ٩١ سطر ٨ پر جو لکھا کہ ”اس طرح ممتنع نہیں کہ وہ چراغِ نبوت محمدیہ سے مکتسب اور مستفاض ہو................... بوجہ اکتساب انوار محمدیہ نبوت کے کمالات بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔“ یہ قطعاً غلط اور اپنے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارت مذکورہ اور متفقہ عقیدہ کے قطعاً خلاف اور جھوٹی نبوت کے لیے ایک ڈھونگ ہے۔

فتویٰ کفر کی حیثیت

یہ عنوان مرزا ناصر احمد نے اپنے محضر نامے کے صفحہ ٢٢ میں قائم کیا ہے۔ اس سے

٦١

صفحہ ٣٧٠

معلوم ہوتا ہے کہ سواد اعظم والے ارشاد سے مرزا ناصر احمد پر کپکپی پڑی ہوئی ہے۔ مرزا موصوف نے مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے فتوے ایک دوسرے کے خلاف نقل کر کے گویا ایک طرح دنیائے کفر کو مسلمانوں پر ہنسنے کا موقعہ فراہم کیا ہے ورنہ دنیائے کفر اس گئی گزری ہوئی حالت میں بھی مسلمانوں سے لرزاں ہیں اور وہ ان کے اتفاق سے خائف اور نفاق ڈالنے کے لیے کوشاں ہے۔ مرزا ناصر احمد کو معلوم ہے کہ مسلمانوں کا سواد اعظم (عظیم اکثریت) ان کو کافر سمجھتی ہے تو انھوں نے محضر نامے کے صفحہ ٢٣ سطر نمبر ٩ پر لکھ دیا ”کہ کسی ایک فرقہ کو خاص طور پر مدنظر رکھا جائے تو اس کے مقابل پر دیگر تمام فرقے سواد اعظم کی حیثیت اختیار کر جائیں گے اور اس طرح باری باری ہر ایک فرقے کے خلاف بقیہ سواد اعظم کا فتویٰ کفر ثابت ہوتا چلا جائے گا۔“

اس عبارت میں جو دھوکا اور فریب ہے وہ ظاہر ہے۔ مرزا ناصر احمد کو معلوم ہونا چاہیے۔

نہیں دیا۔ یہ بعض افراد ہیں اور ایسے افراد ہر ہر فرقہ میں ہو سکتے ہیں۔

ہے۔

جھوٹ بولتا ہے۔ حالانکہ یہ بات سب کے ہاں کفر صریح ہے۔

دراصل بات صرف اتنی ہے جو خود مرزا ناصر احمد نے تسلیم کر لی ہے کہ شاہ اسمعیل شہیدؒ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ایک آن میں کروڑوں فرشتے جبرائیل کی طرح اور کروڑوں پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرح پیدا کر سکتے ہیں۔ مرزا ناصر احمد نے اقرار کیا کہ شاہ اسمعیل شہیدؒ حضور کو خاتم النبیین سمجھتے اور یقین کرتے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ بن سکے گا مگر صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت بیان کر دی گئی ہے۔

اسی طرح خود احقر ہزاروی نے بعض علماء بریلوی سے گفتگو کی۔ انھوں نے حضور ﷺ کے بشر ہونے سے بالکل اختلاف نہ کیا اور کر کیسے سکتے تھے۔ جبکہ قرآن میں ایسا کہا گیا اور دنیا کا کوئی فرد سرور عالم ﷺ کے اولاد آدم میں سے ہونے کا انکار نہیں کر سکتا۔ رہا آپ کا درجہ اور مرتبہ تو یہ ہماری سمجھ عقل اور وہم سے بھی بالاتر ہے۔

اسی طرح احقر ہزاروی نے بریلوی حضرات سے رسول کے حاضر و ناظر ہونے پر

٦٢

صفحہ ٣٧١

گفتگو کی تو انھوں نے اس کا خلاصہ وہی علم غیب بتایا۔

علم غیب میں بالواسطہ اور بلاواسطہ کی بحث بھی ہے پھر خدا تعالیٰ کے برابر علم ہونے یا نہ ہونے کی بھی بحث ہے بہرحال خود حضرت مولانا اشرف علی تھانوی دیوبندی نے بریلویوں کی تکفیر سے انکار کیا۔

شیعہ حضرات ہیں ان کی کتابوں میں تحریف قرآن کا قول موجود ہے مگر آج کوئی شیعہ دوست قرآن کی تحریف کا اقرار نہیں کرتا۔ باقی شان صحابہ کے بارہ میں ان کا رویہ تو مولانا مظہر علی اظہر (احرار لیڈر) جو تحریک مدح صحابہ کے سلسلہ میں لکھنؤ گئے اور انھوں نے تقریر کی کہ جب حضرت علیؓ نے بیس سال کے قریب ان صحابہ کے پیچھے نمازیں پڑھیں تو ہم کیوں ان کی اقتداء نہ کریں۔ بہرحال شیعہ فرقہ پر بحیثیت فرقہ کسی نے بحیثیت فرقہ کوئی فتویٰ نہیں لگایا۔ یہی حال اہل حدیث حضرات کا ہے۔

کے دارالحکومت قسطنطنیہ میں اتاریں تو خلیفہ ترکی سے اپنے حق میں فتویٰ دلا دیا۔ انگریزوں کی دسیسہ کاریوں کا علم ہونا آسان نہ تھا اور نہ اب ہے۔

بھی ہوں پھر بھی ہندو ہوں۔ سناتنی دھرمی بت پرستی کریں اور آریہ بت پرستی کے خلاف ہوں پھر بھی رشتے ناطے جاری ہوں۔ دین اسلام کی حدود ہیں۔ ان حدود کو پھلانگنے والا ظاہر ہے ان حدود سے باہر سمجھا جائے گا مگر اسلامی وحدت، اسلامی حکومت اور خلافت کا شیرازہ منتشر ہونے کے بعد مختلف طبقات میں افتراق پیدا ہوئی اور اسی لیے اسلامی عہد کے بہت ہی کم واقعات مرزا ناصر بیان کر سکا ہے۔ ان میں بھی کسی جگہ نیک نیتی اور کہیں بدنیتی کا دخل ہے۔

مرزا ناصر احمد! جب کوئی فرقہ بحیثیت فرقہ دوسرے کو کافر نہیں کہتا تو سب مل کر کسی ایک کو کیسے کافر کہہ سکتے ہیں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ صحابہ کو ماننے والے سوادِ اعظم کے مصداق کبھی ایسا نہیں کر سکتے۔ نہ آج تک کیا ہے نہ آئندہ کریں گے۔

ہے کہ دوسرا انبیاء علیہم السلام کی توہین کرتا ہے۔ مگر دوسرا فریق اس الزام کے ماننے سے منکر ہے بلکہ وہ اصول میں متفق ہے کہ توہین انبیاء علیہم السلام کفر ہے۔ آیا اس عبارت سے توہین ہوتی ہے یا نہیں صرف اس میں بحث ہے۔

٦٣

صفحہ ٣٧٢

مسائل ہیں۔

اب مرزائیوں کا حال سنیں

حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل کہتے ہیں۔

نبوت کی مہر توڑ کر غلط تاویلوں سے اس کو چھپاتے ہیں۔

مرزائیوں کو کافر کہتے اور سمجھتے ہیں۔ خود مرزا ناصر احمد نے سب کے فتاویٰ اپنے خلاف نقل کیے ہیں اور یہ بات حق ہونے کی کھلی دلیل ہے کہ آپس میں مختلف ہو کر بھی وہ سب کے سب مرزائیوں کو قطعی کافر اور غیر مسلم اقلیت سمجھتے ہیں۔

ہے (یہ جرات اس کو انگریزی سرپرستی سے ہوئی ورنہ وہ کبھی ایسا کہنے کی جرات نہ کرتا۔)

ہونے میں شک بھی کرے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔

دیتے اور رشتے ناطے اور نمازیں علیحدہ کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اب یہ کس طرح ایک قوم رہ سکتے ہیں۔ یہ کیوں مسلمان کے نام سے مسلم حقوق اور منصبوں پر قبضہ کرتے ہیں اور کیوں اپنی حقیقت کو چھپاتے ہیں۔

کا۔ کہ سارے فرقے مل کر کبھی ایک فرقہ کے خلاف ہو کر سواد اعظم نہیں بنے نہ بنیں گے نہ بن سکتے ہیں۔

کی بھی حقیقت واضح ہو گئی اور مرزائیوں کا ان اختلافات کو ہوا دینا اسلام دشمنی سے کم نہیں ہے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کو ذلیل کرنے کے مترادف ہے۔

٦٤

صفحہ ٣٧٣

بعض دیگر الزامات

اسی طرح لگے ہاتھوں ہم مرزا ناصر احمد کے محضر نامے صفحہ ١٤٩ کا بھی جواب دیتے ہیں جو انھوں نے (بعض دیگر الزامات) کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ اس میں انھوں نے مرزائیوں کا مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا ذکر کیا ہے۔ اس موضوع میں مرزا ناصر احمد کا برا حال رہا ہے۔ انھوں نے جان چھڑانے کے لیے صفحہ ١٥٣ سطر ١٣ سے لے کر صفحہ ١٦٢ تک فتاویٰ نقل کر کے یہ لکھا ہے کہ ہم ان میں سے کس کے پیچھے نماز پڑھیں جن کو فلاں نے کافر کہا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکا۔ پڑھیں تو فتویٰ دینے والے کے ہاں کافر ہوتے ہیں نہ پڑھیں تو غیر مسلم اقلیت۔

مرزا ناصر احمد اس سوال میں بری طرح پھنسے ہیں۔ وہ صاف نہیں کہتے کہ مسلمانوں کے پیچھے نماز ہم کس طرح پڑھیں کہ وہ ایک نبی کے منکر اور کافر ہیں۔ جبکہ مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ کے حکم سے شک کرنے والے کے پیچھے نماز پڑھنے سے روک دیا ہے۔ گویا مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا انکار اور اس کو مفتری سمجھنا ہی نماز نہ پڑھنے کی وجہ ہے۔ باقی لفاظی ہے مرزا ناصر احمد نے باتیں بنائی ہیں باقی طبقات کا کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا حکم دینا دعویٰ نبوت کے انکار کی وجہ سے نہیں ہے۔ اسی لیے وہ باہم اختلاف رکھنے کے باوجود مرزائیوں کے سلسلہ میں ایک ہیں۔

ان تینوں عنوانات میں سے پہلے دو عنوانوں کا تو کسی مسلمان کو انکار نہیں تیسرے عنوان کا جواب لکھ دیا گیا ہے اور دراصل یہ ساری بحث مسلمان قوم کو الجھانے کے لیے ہے ورنہ بحث کسی نبی کے آنے میں نہیں ہے۔ صرف مرزا قادیانی کی ذات میں ہے۔ باقی دو عنوان سے جو لکھا گیا ہے اگر چہ عنوان مسلم ہے مگر ان عبارات اور مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال سے نقل کرنے، اصلی مقصد مرزا قادیانی کی شخصیت بنانا اور اس کو محدث نبی اور مسیح موعود جتلانا ہے اور کوئی مقصد نہیں ہے۔ چنانچہ صفحہ ٤٢ سطر ١١، صفحہ ٤٣ سطر ١٢، صفحہ ٤٤ سطر ١٥ اور سطر ١٥، صفحہ ٤٨ سطر ٢، صفحہ ٥٧ سطر ٣، صفحہ ٥٨ سطر ٨، صفحہ ٦١ سطر ٤، صفحہ ٦٥ سطر ١٨، صفحہ ٧٠ سطر ٣ سے ظاہر ہے۔ یہ صرف اپنے لیے مرزا غلام احمد قادیانی نے راستہ صاف کرنے کی سعی کی ہے۔

صفحہ ٣٧٤

مقام خاتم النبیین صفحہ ٢٩ تا ٣٦

اس عنوان کے تحت مرزائیوں نے خواہ مخواہ خاتم النبیین کا معنی بدل کر اور بزرگان دین کے اقوام سے غیر تشریعی نبوت کا بقاء و اجراء ثابت کرتے ہوئے مغز پاشی کی ہے۔ جب آپ نے مان لیا کہ سوائے قادیانی کے نہ پہلے کوئی نبی بن سکا ہے نہ بعد میں آئے گا۔ تو اب خاتم النبیین کے معنی میں بحث فضول ہے۔ بحث صرف اتنی ہے کہ آنے والے مسیح واقعی مسیح ابن مریم عیسیٰ رسول اللہ ہیں جو آسمان پر زندہ ہیں اور نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے اور چالیس سال زندہ رہ کر وفات پائیں گے اور حضور ﷺ کے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔ یا وہ مر چکے ہیں اور آنے والے مسیح (نظر بد دور) مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔

مرزا ناصر احمد نے خاتم النبیین کا معنی بیان کرتے ہوئے مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، شیخ اکبر، ملا علی قاریؒ وغیرہ وغیرہ حضرات کے نام لیے ہیں کہ یہ غیر تشریعی نبوت کو باقی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ان حضرات کی مراد صرف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے وہ ہماری شریعت کو چلائیں گے اور کوئی شریعت نہیں لائیں گے نہ چلائیں گے۔ اس کی خاطر انھوں نے بعض الفاظ لکھے ہیں۔

مرزا ناصر احمد کو چیلنج

اگر یہ بات نہیں تو ہم مرزا ناصر احمد کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ کسی ولی یا عالم کی کتاب سے دکھائیں کہ فلاں آدمی حضور ﷺ کے بعد سچا نبی بنا ہے۔

خود مرزا مذکور نے اقرار کیا ہے کہ کوئی سچا نبی مرزا قادیانی سے پہلے نہیں آیا تو بحث ختم ہوگئی۔ آپ خاتم النبیین کے معنوں میں کیوں مسلمانوں کو الجھاتے اور تیرہ صدیوں کے متفقہ معانی کی تردید کرتے ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے اور خود مرزا ناصر احمد نے تو یہ بھی اقرار کیا کہ مرزا قادیانی کے بعد بھی قیامت تک کوئی نبی نہ آئے گا تو ساری بحث اس پر کرو کہ سینکڑوں حدیثوں میں مسیح ابن مریم کے نزول اور ساری دنیا پر حکومت کرنے اور چالیس سال کے بعد وفات پا جانے کی حدیثیں غلط ہیں یا صحیح۔

ہم خود شیخ اکبرؒ اور ملا علی قاریؒ وغیرہ کے ارشادات سے ثابت کریں گے کہ حضرت مسیح ابن مریم آسمان میں ہیں اور وہ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے جب یہ حضرات خود کسی

٦٦

صفحہ ٣٧٥

اور کوئی نہیں مانتے اور انھیں مسیح ابن مریم کو آسمان سے نازل ہونے والا بتاتے ہیں تو مرزا قادیانی تو ان کے ہاں بھی جھوٹا ثابت ہو گیا اس لیے ہم اس عنوان کے تحت زیادہ بحث نہیں کریں گے۔ البتہ ختم نبوت کے عنوان سے جو باب لکھا گیا وہ مرزا ناصر احمد کے مندرجہ بالا اقرار سے پہلے لکھا گیا۔ ناظرین اس کو بھی دیکھ لیں۔

آئندہ صفحات میں ہم مرزا غلام احمد قادیانی، ان کے دعاوی، توہین انبیاء علیہم السلام، ان کی اخلاقی حالت، جہاد کے بارے میں ان کے کفریہ خیالات، انگریز کی دربار میں ان کے عجز وانکسار اور وفاداری کے مشت نمونہ از خروارے حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی

یہ ضلع گورداس پور قصبہ قادیان میں مغل خاندان کا بقول خود گمنام آدمی تھا۔ روزگار کے سلسلہ میں ملازم ہوا، مگر ضرورت کے تحت مختاری کے امتحان میں شریک ہوا جس میں فیل ہو گیا۔ اس زمانے کے مطابق اردو، عربی، فارسی جانتا تھا۔ جب یہ مختاری کے امتحان میں فیل ہوا تو اس نے ایک اور طریقہ اختیار کیا۔ عیسائیوں اور آریوں سے مباحثات شروع کر دیئے اور بعض کتابوں کو چھاپنے کے اشتہارات شائع کر کے عوام سے خوب پیسے بٹورے۔ مبلغ اسلام بنا پھر مجدد و مامور بنا۔ اس کے بعد مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا اور مسیح موعود ہونے کی سختی سے تردید کی۔

(ازالۃ الاوہام ص ١٩، خزائن ج ٣، ص ١٩٠)

مگر چند ہی دنوں کے بعد مسیح موعود بن بیٹھا یہ اس کی اپنی گھڑی ہوئی اصطلاح ہے۔ کتابوں میں صرف مسیح یا عیسیٰ ابن مریم کا ذکر آتا ہے۔ پہلے پہل اس نے دعویٰ نبوت کا انکار کیا بلکہ اس کو کفر ٹھہرایا۔

(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧، ص ٢٩٧)

مگر جب خاصے چیلے چانٹے جمع ہو گئے تو نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا۔ اپنے معجزات سرور عالم ﷺ سے بھی زیادہ بتائے۔ اور دس لاکھ تک کی گپ لگا دی۔ اس کو علم تھا کہ مسلمان قوم میں نبی ہونا مشکل ہے تو اس نے اپنا شوق پورا کرنے کے لیے نزول مسیح ابن مریم والی حدیث کی آڑ لی مگر چونکہ تیرہ سو سال سے مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ چلا آ رہا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں اور قرب قیامت میں نازل ہو کر دجال کو قتل کر کے دین اسلام کی خدمت کریں گے۔ اس لیے اس کو حضرت مسیح علیہ السلام کو قرآن وحدیث سے وفات شدہ ثابت کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اور پوچ دلائل سے چند فرنگی زدہ افراد کو اپنا پیرو بنایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرنے اور خود مسیح بننے کے لیے اس کو بڑے پاپڑ

٦٧

صفحہ ٣٧٦

بیلنے پڑے۔ اس نے انگریزوں کے لیے دعائیں کیں اور اشتہارات چھاپ چھاپ کر اور ممانعت جہاد کے مضامین لکھ لکھ کر تمام مسلم ممالک میں پھیلائے اب اس کو روپوں کی کیا کمی ہو سکتی تھی۔

مگر اس کو علمائے حق کے مقابلے سے بڑی ذلت اٹھانی پڑی۔ اتنے میں اس کو ایک نابالغ بچی مسمات محمدی بیگم سے نکاح کا شوق چرایا اور حضور ﷺ کی نقل اتارتے ہوئے اپنی اس وحی کا اعلان کر دیا۔ زوجنکہا ہم نے (عرش پر یا آسمان پر) تمھارا نکاح محمدی بیگم سے کر دیا۔ شاید اسی نقل اتارنے کی اس کو سزا ملی اور محمدی بیگم کے رشتہ داروں نے اس کی شادی سلطان محمد نامی شخص سے کر دی اس کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی پر بڑے بڑے خود ساختہ الہامات ہوتے رہے کہ باکرہ ہو یا ثیبہ اس کو تمھاری طرف لوٹاؤں گا۔ مگر اس کی بیس سالہ جدوجہد اور وحی کی شکل میں ساری پیشگوئیاں غلط ہوئیں۔ اگرچہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اعلان کیا کہ اس کے ساتھ میرا نکاح تقدیر مبرم اور اٹل ہے اور اس کے پورے نہ ہونے کی شکل میں میں بد سے بدتر اور جھوٹا ہوں گا۔ مگر آخرکار ١٩٠٨ء میں یہ نامراد چل بسا۔ اس پیشگوئی نے اس کی لٹیا ڈبو دی۔ اور جھوٹی مسیحیت کا بھانڈا پھوڑ کے رکھ دیا۔

یہ انگریز کا خاص وفادار آدمی تھا۔ جہاں جہاں انگریز گیا اس کی تحریک بھی گئی۔ ترکی، افغانستان اور حجاز میں نہ جا سکی۔ مصر و شام وغیرہ میں جب تک فرنگی اثرات تھے یہ دندناتے رہے۔ جب انقلاب آیا ان ممالک نے ان کو خلاف قانون کر ڈالا اور ان کے دفاتر ضبط کر لیے۔ یہودی فلسطین حیفا میں اب تک ان کا دفتر موجود ہے۔

حال ہی میں عالم اسلام کے نمائندوں نے حجاز مقدس میں مرزائیوں کے دعوائے اسلام کی قلعی کھول دی ہے۔ وائسرائے ہند نے چوہدری ظفراللہ خان مرزائی کو اپنی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر بنایا۔ اب مرزائیوں کو مسلمانوں کے پھنسانے کا خوب موقع ملا۔ پاکستان بنا تو چوہدری ظفراللہ خان وزارت خارجہ کا قلمدان تھامے ہوئے تھے۔ مختلف آسامیوں پر مرزائیوں کا قبضہ کرایا گیا۔ انگریز گیا تو امریکی حکومت کو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ پاکستان میں مذہب کے علمبردار مرزائی ہیں۔ خواجہ ناظم الدین مرحوم نے ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں یہ بیان دیا تھا کہ اگر میں ظفراللہ خان کو نکال دوں گا تو امریکہ گندم نہیں دے گا۔ (تحقیقاتی رپورٹ، ص ٣١٩) چوہدری ظفراللہ قادیانی مذکور نے بیرونی دنیا میں سفارتخانوں کے ذریعے مرزائی بھر دیئے۔ خدا خدا کر کے یہ ملک سے باہر گیا تو بعض دوسرے مرزائیوں نے گل کھلائے۔ آخرکار سیاسی حرکات کی وجہ سے ایئر مارشل ظفر چوہدری کو ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم پاکستان نے علیحدہ

٦٨

صفحہ ٣٧٧

کر کے کروڑوں مسلمانوں کو مطمئن کیا۔

پاکستان بننے کے بعد انگریزوں کا دخل

ہماری قسمت میں یہی لکھا تھا کہ پاکستان بننے کے بعد صوبہ سرحد کا گورنر کنگھم انگریز ہو۔ ساری پاکستانی فوج کا کمانڈر انچیف مسٹر گریسی انگریز ہو۔ جبکہ ہندوستان کا گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن تھا۔ مسٹر گریسی کے زمانہ میں مرزائیوں کی ایک فوج بنائی گئی جس کا نام فرقان بٹالین تھا۔ جس کو بعد میں مسلمانوں کے شدید مطالبہ پر مسٹر گریسی نے توڑا۔ مگر بے انتہا تعریف کے ساتھ کشمیر کی لڑائی میں میجر جنرل نذیر احمد پیش پیش رہا چوہدری ظفر اللہ خان کا ہم زلف تھا۔ اور آخر کار شہید ملت لیاقت علی خان کے سازش کیس میں گرفتار ہو کر ملازمت سے علیحدہ ہوا۔ تعجب ہے کہ کچھ عرصہ بعد اس مجرم کو لاہور کارپوریشن کا ”میئر“ بنا دیا گیا جس کے خلاف (مولانا غلام غوث ہزارویؒ) نے مغربی پاکستان اسمبلی ١٩٦٢ء میں آواز اٹھائی۔

اب اس بیان کی ضرورت نہیں کہ کس طرح مرزائی فرقہ آہستہ آہستہ ہزاروں آسامیوں پر فائز ہو کر مسلمانوں کے لیے مار آستین بنا۔ ہمارے بچوں کے حقوق تباہ ہوئے، عقائد کی جنگ شروع ہوئی جس سے مذہب کو عظیم نقصان پہنچا۔ ایک بات سے اس پر تھوڑی روشنی پڑتی ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان نے ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں منیر کمیشن کے سامنے کہا کہ جب لیاقت علی خان مرحوم باہر جاتے تو وزارت عظمیٰ کا قلمدان میرے سپرد کرتے۔

فرنگی نے متحدہ ہندوستان سے جاتے جاتے مرزائی وفاداری کا حق یوں ادا کیا کہ پنجاب کے گورنر انگریز سر موڈی نے ان کو چنیوٹ کے پاس بہت بڑی زمین کوڑیوں کے مول دے دی جو انجمن احمدیہ کے نام وقف ہے۔ مگر مرزا بشیر الدین محمود نے اس زمین کے ساتھ ذاتی جائیداد کا سا معاملہ بنا ڈالا۔ یہیں بہشتی مقبرہ بنایا اور یہیں نبوت کا کاروبار چلایا۔

موجودہ فساد اور اسمبلی

اب جبکہ مرزائیوں نے ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو ربوہ سٹیشن پر کالج کے طلبہ پر حملہ کر کے ان کو زد و کوب کیا تو ملک میں جو پہلے ہی سے ان کے خلاف تھا۔ جس کی نشاندہی مسٹر منیر جج انکوائری کورٹ پہلے سے کر چکے تھے۔ خطرناک ہلچل شروع ہو گئی اور ان کے خلاف دریا امڈ آیا۔ ہم نے قومی اسمبلی میں پھر لاہور ٹربیونل کے سامنے یہ کہا کہ ہو سکتا ہے کہ مرزائیوں نے ربوہ سٹیشن کی حرکت پاکستان دشمنوں کی سازش سے کی ہو تاکہ ملک میں فسادات ہوں اور دشمن اپنا الو سیدھا

٦٩

صفحہ ٣٧٨

کرے۔ اس کا ایک قرینہ یہ ہے جبکہ مرزائیوں نے مسلمانوں کے پر امن جلوسوں پر گولیاں چلائیں۔ عوامی حکومت نے عوامی مطالبہ کے پیش نظر اسمبلی سے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں مرزائیوں کی مذہبی پوزیشن کا تعین کرے۔

پہلے بطور تمہید کے چند باتیں عرض کی جاتی ہیں۔ پھر مسئلہ ختم نبوت پر بحث کی جائے گی۔

عقائد فاسدہ کی بھرمار

کی موت ثابت کرنے کے لیے سینکڑوں آیتوں، حدیثوں اور روایات اسلامیہ کا انکار یا ان کی مضحکہ خیز تاویلات کرنی پڑیں۔

سے بالکل خالی تھا۔ اس لیے اس نے سرور عالم ﷺ کے اتباع کی آڑ لی اور آپ کا تابع نبی بنا۔ اسی طرح غیر مستقل اور غیر تشریعی نبوت بھی اس کو ثابت کرنی پڑی اور ختم نبوت کی سینکڑوں آیتوں، حدیثوں اور امت کے اجماعی فیصلے کے خلاف رکیک باتیں بنانی پڑیں۔

زندہ لے جائے گئے۔ تو مرزا غلام احمد قادیانی نے آسمان پر جانے کو محال ثابت کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی معراج جسمانی سے بھی انکار کر دیا۔

عیسائیوں نے لکھا کہ پھر زندہ ہو کر آسمان پر لے جائے گئے اسی طرح قرآن پاک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزہ احیاء موتیٰ یعنی مردے زندہ کرنے کا ذکر کرتا ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی کو ان آیتوں کا بھی انکار کرنا پڑا۔ جن سے دنیا میں حسب فرمان و بیان قرآن مردہ زندہ کرنے کا ذکر ہے اور ایسی آیتیں قرآن میں بہت ہیں۔

اس نے سرے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان معجزات کا بھی انکار کر دیا۔

سرور عالم ﷺ کو بھی ملوث کرنا چاہا کہ وہ بھی کبھی کبھی اپنی وحی اور الہام کا معنی نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ یہاں تک تہمت لگا دی کہ ایک بار چار سو نبیوں کی پیشگوئی غلط ثابت ہوئی۔ (استغفر اللہ)

٧٠

صفحہ ٣٧٩

عیسیٰ پیدا ہو کر خود عیسیٰ ابن مریم بنا۔ کبھی روحانی و اخلاقی مماثلت ثابت کر کے مسیح بنا۔ کبھی ابجد کا حساب لڑا کر مسیح بنا۔ کبھی کہا کہ مخالف میرا حیض دیکھنا چاہتے ہیں وہ اب کہاں رہا۔ وہ اب بچہ بن گیا ہے۔ اس طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے مریمی مرتبہ سے عیسوی مرتبہ میں داخل ہونے کی سبیل نکالی۔ کبھی بروز وحلول کا سہارا لے کر مسیح بنا۔ پھر مسیح کے نزول کی سینکڑوں روایات کے معانی اپنی طرف سے گھڑنے پڑے۔

مریم حضرت عیسیٰ کے سوا کسی کو ماننے کے لیے تیار نہ تھی تو اس نے سرور عالم ﷺ کی اتباع کی آڑ لی۔ اس لیے آپ کی تمام صفات کا مدعی بنا بلکہ اس کو ثانی الرسول ہونے اور حضرت سرور عالم ﷺ سے متحد الذات ہونے کی گپیں لگانی پڑیں۔

کے بہانے محدث اور ناقص نبی بنا۔

اور ان کی وفات ثابت کرنے کے لیے تمام کتابوں میں رطب و یابس جمع کیا۔

چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی ہندوؤں کو ساتھ ملانے کے لیے کرشن کا اوتار بنے۔ اسی طرح ردر گوپال بھی بنا۔ اور سکھوں کے لیے جے سنگھ بہادر بھی۔ اس نے مہدی۔ مسیح بلکہ تمام پیغمبروں کے نام اپنے اوپر چسپاں کیے۔

اپنے اوپر اتروائی ”آہن“ جس کا معنی بھی خود مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا کہ ”خدا تمھارے اندر اتر آیا ہے“ (معاذ اللہ ) وہ کون سا کفر ہے کہ جو مرزا غلام احمد قادیانی نے اختیار نہ کیا ہو۔

خدائی کا دعویٰ

خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں پھر میں نے زمین و آسمان پیدا کئے۔ (ظاہر ہے کہ پیغمبر کا خواب وحی ہوتا ہے تو اب اس وحی کو آپ خود دیکھیں شیطانی ہے یا رحمانی )

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥، ص ایضاً)

٧١

صفحہ ٣٨٠

دعویٰ یہ ہے کہ میں پیغمبر ہوں۔ مگر پیغمبر دین کا محافظ ہوتا ہے۔ کسی پیغمبر نے ایسا خواب یا کشف بیان نہیں کیا۔

اور مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کے دعا گو تھے اس لیے فتح سے روحانی اور مباحثے کی فتح مراد لی اور اس کے مریدوں نے روحانی فتح کو خوب ہوا دی۔ مگر اس میں بھی چاروں شانے چت رہا۔ علمائے حق نے اس کا ناطقہ بند کردیا۔ اور باوجود سرکاری سرپرستی کے مرزا کسی جگہ کامیاب مقابلہ ومناظرہ نہ کر سکے۔ بھاگ بھاگ کر روحانی فتح کا نقارہ بجاتے رہے۔ جیسے پہلے جنگ عظیم میں کسی نے کہا تھا کہ فتح انگلش کی ہوتی ہے۔ قدم جرمن کا بڑھتا ہے۔

کے لیے قرآن وحدیث ہی تھے۔ مگر مرزا قادیانی نے حیات مسیح کے سلسلہ میں حدیث کا قصہ یوں ختم کیا۔ اس نے لکھا ”میں حکم بن کر آیا ہوں مجھے اختیار ہے۔ حدیثوں کے جس ڈھیر کو چاہوں خدا سے وحی پا کر ردی کردوں چاہے ایک ہزار حدیث ہوں۔

(دیکھو حاشیہ ضمیمہ گولڑویہ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٥١۔ اسی طرح اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩، ص ١٤٠)

اب حدیث سے بھی اس کو نہیں پرکھا جاسکتا۔ بس آنکھیں بند کر کے اس پر ایمان لانا ہوگا ورنہ ستر کروڑ مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہو جائیں گے۔ قرآن وحدیث سے کسی الہام یا انسان کو پرکھنے کا راستہ تو اس نے بند کردیا۔ اب جو چاہے کرے۔ دینی بحث سرور عالم ﷺ اور آپ کے مبارک صحابہ سے منقول روایات کے ذریعے ہوسکتی ہے۔ دین ہے ہی وہ جو پیچھے سے نقل ہوتا چلا آرہا ہے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (اربعین نمبر ٤ ص ١٠، خزائن ج ١٧، ص ٤٥٣) پر لکھ دیا ہے کہ مجھے خدا نے مسیح کر کے بھیجا اور بتا دیا ہے کہ فلاں حدیث سچی اور فلاں جھوٹی ہے اور قرآن کے صحیح معنوں سے مجھے اطلاع بخشی ہے تو پھر میں کس بات میں اور کس غرض کے لیے ان لوگوں سے منقولی بحث کروں جبکہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ایمان ہے جیسے کہ توریت، انجیل اور قرآن پر۔

میں مذہبی حدود کے اندر رہنا کافی نہ سمجھا بلکہ اس نے اپنی تحریرات میں وہ طریقہ اختیار کیا جو کسی دائرہ تہذیب میں نہیں آسکتا۔ حالانکہ اس کا دعویٰ نبوت اور مسیحیت کا تھا اور وہ سرور عالم ﷺ کی تمام صفات واخلاق اپنے اندر جذب ہونے کا بھی مدعی تھا۔ اس نے ظاہری طور پر سہی مگر اپنے جھوٹے دعوؤں کی لاج نہ رکھی۔ (چنانچہ اس کی گالیاں بطور ضمیمہ علیحدہ آپ ملاحظہ کریں)

٧٢

صفحہ ٣٨١

عین محمد ہونے کا دعویٰ

(١٧) اس بل بوتے پر مرزا قادیانی دعویٰ کرتے ہوئے ایک غلطی کا (ازالہ ص١٢، خزائن ج ١٨ص٢١٦) میں لکھتے ہیں کہ میں عین محمد ہوں اس طرح مہر نبوت نہ ٹوٹی اور محمد کی نبوت محمد ہی کے پاس رہی۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون) کیا زبردست چور ہے کہ مہر بھی نہ ٹوٹی اور مال بھی چرا لے گیا۔) ہم پوچھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ جو کہا ہے کہ میں عین محمد ہوں واقعی وہ دو شخص نہیں ایک ہی ہیں۔ تو یہ صاف غلط اور مشاہدے کے خلاف ہے۔ اور اگر دو ہیں تو مہر نبوت ٹوٹ گئی اور یہ کہنا غلط ہوا کہ محمد کی نبوت محمد ہی کے پاس رہی اور اگر حضورﷺ کی روح پاک مرزا غلام احمد قادیانی میں آگئی تو یہ ہندوؤں کا عقیدہ تناسخ ہے جو قطعاً باطل ہے اور اگر مراد یہ ہے کہ مرزا قادیانی آپ کے اخلاق و صفات کے مظہر ہیں تو اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی غلط بیانی نہیں ہو سکتی کیونکہ جس پیغمبر کے اخلاق و عادات کے سامنے بڑے بڑے مخالفین نے ہتھیار ڈال دیئے۔ اس کی ہمسری کا دعویٰ مندرجہ بالا حوالہ جات و واقعات والا شخص کرے۔ یہ قطعاً صحیح نہیں۔

(١٨) ظاہر ہے کہ ظل (سایہ) اور ذی ظل (جس کا سایہ ہے) قطعاً ایک نہیں ہو سکتے۔ سایہ میں وہ تمام صفات نہیں آ سکتیں۔ اور اگر کوئی شخص بعض صفات کی وجہ سے عین محمد بنے تو ہم پوچھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اربعین نمبر٤ (ص٦ خزائن ج١٧ ص٤٣٧) میں لکھا۔ یقیناً سمجھو کہ خدا کی اصلی اخلاقی صفات چار ہیں (١) رب العالمین سب کو پالنے والا (٢) رحمان بغیر عوض کسی خدمت کے خود بخود رحمت کرنے والا۔ (٣) رحیم ۔ کسی خدمت پر حق سے زیادہ انعام۔ انعام و اکرام کرنے والا اور خدمت کرنے والا اور خدمت قبول کرنے والا اور ضائع نہ کرنے والا۔ (٤) اپنے بندوں کی عدالت کرنے والا۔ سو احمد وہی ہے جو ان چاروں صفتوں کو ظلی طور پر اپنے اندر جمع کرے۔ تو کیا مرزا غلام احمد قادیانی یا رسول اللہ ﷺ ظلی طور پر خدا اور عین خدا ہو گئے؟ یہ سب غلط اور ہذیان صرف نبی بننے کے شوق کو پورا کرنا ہے۔

(١٩) ایک بات اس سے معلوم کہ جب مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں کہ محمد کی نبوت محمد ہی کے پاس رہی اور مہر نبوت نہیں ٹوٹی تو وہ اس بات کے معترف ہو گئے کہ نبوت تو ختم ہے اور کوئی جدا شخص نبی نہیں بن سکتا۔ رہ گیا میں تو میں عین محمد ہوں مجھ میں اور سرور عالم ﷺ میں کوئی دوئی نہیں ہے۔ میں بالکل وہی ہوں۔ (یہ منہ اور مسور کی دال)

٧٣

صفحہ ٣٨٢

دعاوی مرزا

(از مفتی محمد شفیع)

یوں تو مہدی بھی ہو عیسےٰ بھی ہو سلمان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

دنیا میں بہت سے گمراہ فرقے پیدا ہوئے اور آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن مرزائی فرقہ ایک عجیب چیستان ہے اس کے دعوے اور عقیدہ کا پتہ آج تک خود مرزائیوں کو بھی نہیں لگا جس کی وجہ اصل میں یہ ہے کہ اس فرقہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے خود اپنے وجود کو دنیا کے سامنے لا یحل معمے کی شکل میں پیش کیا ہے اور ایسے متناقض اور متضاد دعوے کیے کہ خود ان کی امت بھی مصیبت میں ہے کہ ہم اپنے گرو کو کیا کہیں۔ کوئی تو ان کو مستقل صاحب شریعت نبی کہتا ہے کوئی غیر تشریعی نبی مانتا ہے اور کسی نے ان کی خاطر ایک نئی قسم کا نبی لغوی تراشا ہے اور ان کو مسیح موعود مہدی اور لغوی یا مجازی نبی کہا ہے۔

اور یہ حقیقت ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا وجود ایک ایسی چیستان ہے جس کا حل نہیں۔ انھوں نے اپنی تصانیف میں جو کچھ اپنے متعلق لکھا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ متعین کرنا بھی دشوار ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی انسان ہیں یا اینٹ پتھر۔ مرد ہیں یا عورت۔ مسلمان ہیں یا ہندو۔ مہدی ہیں یا حارث۔ ولی ہیں یا نبی۔ فرشتے ہیں یا دیو۔

نوٹ: اگر کوئی مرزائی یہ ثابت کردے کہ یہ عبارت مرزا غلام احمد قادیانی کی نہیں ہے تو فی عبارت دس روپے انعام۔

مرزائیوں کے تمام فرقوں کو کھلا چیلنج

اس لیے دعوے کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ مرزائی امت کے تینوں فرقے مل کر قیامت تک یہ بھی متعین نہیں کر سکتے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ کیا ہے اور وہ کون ہیں اور کیا ہیں۔ دنیا سے اپنے آپ کو کیا کہلوانا چاہتے ہیں۔ لیکن جب ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریرات کو بغور پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعاوی میں اختلاط و اختلاف بھی ان کی ایک گہری چال ہے۔ وہ اصل میں خدائی کا دعویٰ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن سمجھے کہ قوم اس کو تسلیم نہیں کرے گی۔ اس لیے تدریج سے کام لیا۔ پہلے خادم اسلام مبلغ بنے۔ پھر مجدد ہوئے۔ پھر مہدی ہو گئے اور جب دیکھا کہ قوم میں ایسے بے وقوفوں کی کمی نہیں جو ان کے ہر دعویٰ کو مان لیں تو پھر کھلے بندوں۔ نبی، رسول، خاتم الانبیاء وغیرہ سبھی کچھ ہو گئے اور ہونہار مرد نے اپنے آخری

٧٤

صفحہ ٣٨٣

دعویٰ (خدائی) کی بھی تمہید ڈال دی تھی جس کی تصدیق عبارات مذکورہ صفحہ ٢٦ لغایت ٣٠ سے بخوبی ہوتی ہے۔ لیکن قسمت سے عمر نے وفا نہ کی ورنہ مرزائی دنیا کا خدا بھی نئی روشنی اور نئے فیشن کا بن گیا ہوتا۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارات ذیل اس تدریجی ترقی اور اس کے سبب ہمارے دعویٰ کی گواہ ہیں۔

(براہین احمدیہ ص٥٣، حاشیہ خزائن ج ١، ص ٦٨) پر لکھتے ہیں۔ میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت ایک وحی الٰہی ایک مسیح موعود کا دعویٰ تھا (اور پھر لکھتا ہے) علاوہ اس کے اور مشکلات یہ معلوم ہوئیں کہ بعض امور اس دعوت میں ایسے تھے کہ ہرگز امید نہ تھی کہ قوم ان کو قبول کرسکے اور قوم پر تو اس قدر بھی امید نہ تھی کہ وہ اس امر کو بھی تسلیم کرسکیں کہ بعد زمانہ نبوت وحی غیر تشریعی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا اور قیامت تک باقی ہے۔

نیز حقیقۃ الوحی کی عبارت ذیل بھی خود اس تدریجی ترقی کی شاہد ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلے مرزا غلام احمد قادیانی ختم نبوت کے قائل تھے اور اپنے کو نبی نہیں کہتے تھے۔ بعد ازاں غلبہ نے نبی بنا دیا۔

’’اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کے متعلق ظاہر ہوتا تھا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔

(حقیقت الوحی ص١٥٠، خزائن ج ٢٢، ص ١٥٢)

اس کے بعد ہم مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاویٰ خود ان کی تصانیف سے معہ حوالہ صفحات نقل کرتے ہیں جو دعوے متعدد کتابوں اور مختلف مقامات میں موجود ہیں۔ بغرض اختصار عبارت تو ان میں سے ایک ہی نقل کردی گئی ہے باقی حوالہ صفحات درج کر دیئے گئے ہیں۔

مبلغ اسلام اور مصلح ہونے کا دعویٰ

’’یہ عاجز مولف براہین احمدیہ حضرت قادر مطلق جل شانہ کی طرف سے مامور ہوا ہے کہ بنی اسرائیل مسیح کے طرز پر کمال مسکینی وفروتنی وغربت وتذلل وتواضع سے اصلاح خلق کے لیے کوشش کرے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ١، ص ٢٠)

مجدد ہونے کا دعویٰ

اب بتلاویں کہ اگر یہ عاجز حق پر نہیں ہے تو پھر وہ کون آیا جس نے اس چودھویں

٧٥

صفحہ ٣٨٤

صدی کے سر پر مجدد ہونے کا ایسا دعویٰ کیا جیسا کہ اس عاجز نے کیا ۔“

(ازالہ اوہام ص ١٥٤، خزائن ج ٣ ص ١٧٩)

محدث ہونے کا دعویٰ

”اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لیے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث یہی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے گو اس کے لیے نبوت تامہ نہیں مگر تاہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے۔“

(توضیح المرام ص ١٨ خزائن ج ٣ ص ٦٠)

امام زمان ہونے کا دعویٰ

میں لوگوں کے لیے تجھے امام بناؤں گا تو ان کا رہبر ہوگا۔

(حقیقت الوحی ص ٨٧ خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)

مہدی ہونے کا دعویٰ

اشتہار معیار الاخیار وریویو آف ریلیجنز نومبر و دسمبر ١٩٠٣ء صفحہ ٤٧٧ وغیرہ۔ یہ دعویٰ مرزا غلام احمد قادیانی کی اکثر تصانیف میں بکثرت موجود ہے اس لیے نقل عبارت کی حاجت نہیں۔“

خلیفہ الٰہی اور خدا کا جانشین ہونے کا دعویٰ

میں نے ارادہ کیا کہ اپنا جانشین بناؤں تو میں نے آدم کو یعنی تجھے پیدا کیا۔

(کتاب البریہ ص ٨٧ خزائن ج ١٣ ص ١٠٥)

حارث مددگار مہدی ہونے کا دعویٰ

”واضح ہو کہ یہ پیشن گوئی جو ابو داؤد کی صحیح میں درج ہے کہ ایک شخص حارث نام یعنی حارث ماوراء النہر سے یعنی سمرقند کی طرف سے نکلے گا جو آل رسول کو تقویت دے گا جس کی امداد اور نصرت ہر ایک مومن پر واجب ہوگی۔ الہامی طور پر مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ پیشن گوئی اور مسیح کے آنے کی پیشن گوئی جو مسلمانوں کا امام اور مسلمانوں میں سے ہوگا۔ دراصل ان دونوں کا مصداق یہ ہی عاجز ہے۔“

(ازالہ ص ٩ خزائن ج ٣ ص ١٤١)

نبی امتی اور بروزی وظلی یا غیر تشریعی ہونے کا دعویٰ

”اور چونکہ وہ محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں۔ اس سے بروزی رنگ کی

٧٦

صفحہ ٣٨٥

نبوت مجھے عطا کی گئی۔“

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ خزائن ج ١٨ ص ٢١٥)

نبوت ورسالت اور وحی کا دعویٰ

سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ دافع البلاء صفحہ ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١ حق یہ ہے ”کہ خدا کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)

اپنی وحی کا بالکل قرآن کے برابر واجب الایمان ہونے کا دعویٰ

”میں خدا کی تیئیس برس کی متواتر وحی کو کیوں کر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں،

(حقیقۃ الوحی ص ١٥٠ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)

سارے عالم کے لیے مدارِ نجات ہونے کا دعویٰ اپنی......

امت کے سوا امت محمدیہؐ کے چالیس کروڑ مسلمان کافر و جہنمی

”کفر دو قسم پر ہے ایک کفر یہ کہ ایک شخص اسلام سے انکار کرتا ہے آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارہ میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتاب میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لیے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی ص ١٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)۔ اور اس بات کو قریباً نو برس کا عرصہ گزر گیا کہ جب میں دہلی گیا تھا اور میاں نذیر حسین غیر مقلد کو دعوتِ دین اسلام کی گئی۔“ (اربعین نمبر ٤ ص ٦ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) اور فرماتے ہیں اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے مدار نجات ٹھہرایا (اربعین ٤ ص ٦ ایضاً)

(مستقل تشریعی نبی ہونے کا دعویٰ اور یہ کہ وہ احادیث نبویہ پر حاکم ہے جس کو چاہے

قبول کرے اور جس کو چاہے ردی کی طرح پھینک دے)

اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا

٧٧

صفحہ ٣٨٦

مصداق ہے۔ "ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھر علی الدین کلہ"

(اعجاز احمدی ص ٧ خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

اس عبارت میں نبوت تشریعیہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہمارے رسول ﷺ اس آیت کے مصداق نہیں جو صریح کفر ہے (اور فرماتے ہیں) اگر یہ کہو کہ صاحب شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اول تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعے چند امر ونہی بیان کیے۔ وہ صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی مثلاً یہ "الہام قل للمومنین یغضوا من ابصار ھم یحفظوا فروجھم ذلک از کی لھم" یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر ٢٣ برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسے ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی الخ۔

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٦)

"اور ہم اس کے جواب میں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعوے کی بنیاد حدیث نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ وہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔

(اعجاز احمدی ص ٣٥، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

اپنے لیے دس لاکھ معجزات کا دعویٰ

"اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔ اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشانات ظاہر کیے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔ اور (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦ خزائن ج ٢١ ص ٧٢) میں دس لاکھ معجزات شمار کیے ہیں۔

تمام انبیاء سابقین سے افضل ہونے کا دعویٰ اور سب کی توہین

"بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثنا ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے اب چاہے کوئی قبول کرے چاہے نہ

٧٨

صفحہ ٣٨٧

کرے۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٦ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)

آدم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کو اس کلام میں آدم علیہ السلام قرار دیا ہے یا ”آدم اسکن انت وزوجک الجنۃ“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٣ خزائن ج ١٧ ص ٤١٠)

ابراہیم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

”آیت ’واتخذوا من مقام ابراہیم مصلیٰ‘ اس کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا جو اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٢ خزائن ج ١٧ ص ٤٢١)

نوح، یعقوب، موسیٰ، داؤد، شیث، یوسف، اسحق ہونے کا دعویٰ

میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں، اور آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں، یعنی ظلی طور پر میں محمد اور احمد ہوں۔

(حاشیہ حقیقۃ الوحی ص ٧٢ خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

تمام انبیاء اسرائیلی وغیر اسرائیلی ہر نبی کی فطرت کا نقش ہوں۔

(براہین پنجم ص ٨٩ خزائن ج ٢١ ص ١١٦)

عیسیٰ ابن مریمؑ ہونے کا دعویٰ

اس خدا کی تعریف جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا۔ (حاشیہ حقیقۃ الوحی ص ٧٢ خزائن ج ٢٢ ص ٧٦) یہ دعویٰ تو تقریباً سب ہی کتابوں میں موجود ہے۔

عیسیٰؑ سے افضل ہونے کا دعویٰ اور ان کو مغلظات بازاری گالیاں

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔

(دافع البلاء ص ٢٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس سے پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مسیح بن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں ہرگز نہ دکھلا سکتا۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٤٨ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)۔

٧٩

صفحہ ٣٨٨

آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار کسبی عورتیں تھیں ، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشن گوئی کیوں نام رکھا۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ خزائن ج ١١ ص ٢٨٨) ۔ یہ بھی یادرہے کہ آپ کو کس قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ (حاشیہ ضمیمہ

انجام آتھم ص ٥ خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

نوح ہونے کا دعویٰ اور ان کی توہین

اور خدائے تعالیٰ میرے لیے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے ۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٧ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)

مریم علیہا السلام ہونے کا دعویٰ

پہلے خدا نے میرا نام مریم رکھا اور بعد میں اس کو ظاہر کیا کہ اس مریم میں خدا کی طرف سے روح پھونکی گئی اور پھر فرمایا کہ روح پھونکنے کے بعد مریمی مرتبہ عیسوی مرتبہ کی طرف منتقل ہو گیا اور اس طرح مریم سے عیسیٰ پیدا ہو کر ابن مریم کہلایا۔

(حاشیہ حقیقۃ الوحی ص ٧٢ خزائن ج ٢٢ ص ٧٥)

آنحضرت ﷺ کے ساتھ برابری کا دعویٰ

یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس نام محمد واحمد سے مسمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔ (ایک غلطی کا ازالہ خزائن ج ١٨ ص ٢١١) بار بار بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت واخرین منہم لما یلحقوا بہم ۔ بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں ۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٢١٢) میں نے اکثر ان اوصاف کو اپنے لیے ثابت کیا ہے جو آنحضرت ﷺ کے لیے مخصوص ہیں۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٥١٣)

ہمارے نبی ﷺ سے افضل ہونے کا دعویٰ

”ہمارے رسول اکرم ﷺ کے معجزات کی تعداد صرف تین ہزار لکھی ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠ خزائن ج ١٧ ص ٤٠)

٨٠

صفحہ ٣٨٩

اور اپنے معجزات کی تعداد (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦ خزائن ج ٢١ ص ٧٢) پر دس لاکھ بتلائی ہے "له خسف القمر المنیر و ان لی. غسا القمران المشرقان اتنکر "اس کے لیے یعنی آنحضرت ﷺ کے لیے ایک چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا۔" (اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) اس میں آپ پر فضیلت کے دعوے کے ساتھ معجزہ شق القمر کا انکار اور توہین بھی ہے۔

میکائیل ہونے کا دعویٰ

اور دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے۔

(حاشیہ اربعین نمبر ٣ ص ٢٥ خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)

خدا کے مثل ہونے کا دعویٰ

اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں۔ خدا کے مانند۔

(حاشیہ اربعین نمبر ٣ ص ٢٥ خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)

اپنے بیٹے کے خدا کا مثل ہونے کا دعویٰ

انا نبشرک بغلام مظہر الحق والعلیٰ کان اللہ نزل من السماء

(استفتاء ص ٧٥ خزائن ج ٢٢ ص ٧١٢)

خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ

انت منی بمنزلہ اولادی. (حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٩ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)

اپنے اندر خدا کے اتر آنے کا دعویٰ

آپ کو الہام ہوا آہاہن جس کی تفسیر (کتاب البریہ ص ٨٤ خزائن ج ١٣ ص ١٠٢) پر خود ہی یہ کرتے ہیں کہ خدا تیرے اندر اتر آیا۔

خود خدا ہونا بحالت کشف اور زمین و آسمان پیدا کرنا

اور میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہ ہی ہوں (پھر بھونکتا ہے) اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے (پھر کہتا ہے) اور اس حالت میں۔ یوں کہہ رہا ہوں کہ ہم ایک نیا نظام اور نئی زمین چاہتے ہیں تو میں نے پہلے تو آسمان و زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی پھر میں نے منشاء حق

٨١

صفحہ ٣٩٠

کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھتا تھا میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا انا زینا السماء الدنیا بمصابیح۔ پھر میں نے کہا کہ اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور میری زبان پر جاری ہوا ”اردت ان استخلفک فخلفت آدم انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم“ یہ الہامات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر ظاہر ہوئے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

مرزا غلام احمد قادیانی میں حیض کا خون ہونا اور پھر اس کا بچہ ہو جانا

منشی الہی بخش کی نسبت یہ الہام ہوا۔ یہ لوگ خون حیض تجھ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یعنی ناپاکی اور پلیدی اور خباثت کی تلاش میں ہیں اور خدا چاہتا ہے اپنی متواتر نعمتیں جو مجھ پر ہیں دکھلا دے اور خون حیض سے تجھے کیونکر مشابہت ہو اور وہ کہاں تجھ میں باقی ہے۔ پاک تغیرات نے اس خون کو خوبصورت لڑکا بنا دیا اور وہ لڑکا جو اس خون سے بنا میرے ہاتھ سے پیدا ہوا۔

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٩ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)

حاملہ ہونا

عبارت مذکورہ کشتی نوح ۔

(ص ٤٧ خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

حجر اسود ہونے کا دعویٰ

الہام یہ ہے۔ یکے پائے من مے بوسید و من میگفتم کہ حجر اسود منم۔

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٥ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

سلمان ہونے کا دعویٰ

الہام ہوا۔ انت سلمان ومنی یاذ البرکات۔

(ریویو آف ریلیجنز ج ٥ نمبر ٤ ص ١٦٢ بابت اپریل ١٩٠٦ء)

کرشن ہونے کا دعویٰ

”آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن میں ہی ہوں ۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٨٥ خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

صفحہ ٣٩١

آریوں کا بادشاہ ہونے کا دعویٰ

”اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے ہی نہیں بلکہ خدا نے بار بار مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٨٥ خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢)

چونکہ آریوں کا بادشاہ بننا ظاہر طور سے بھی آسان نہ تھا اس لیے اس کے بعد الہام کی تفسیر یوں کرتا ہے اور بادشاہت سے مراد صرف آسمانی بادشاہت ہے۔ یہ ہے عمرو عیار کی زنبیل جس کے چالیس مظاہر آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

توہین انبیاء علیہم السلام

یوں تو دعاوی مرزا کے زیر عنوان بعض حوالہ جات پیش کیے گئے ہیں۔ لیکن مشت نمونہ از خروارے چند اور حوالے بھی ملاحظہ کیے جائیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی نبی نہیں تو پھر کوئی بھی نبی نہیں ہوا

ان سے بڑھ کر دلائل اور صاف الفاظ حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق موجود ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے اگر مسیح موعود نبی نہیں تو دنیا میں کوئی نبی ہوا ہی نہیں۔“

(حقیقۃ النبوۃ حصہ اول ص ٢٠٠ از مرزا محمود)

(مرزا غلام احمد قادیانی) آیت ”فلا یظہر علیٰ غیبہ احداً الا من ارتضی من رسول“ کا مصداق ہے۔

(حقیقۃ النبوۃ ص ٢٠٢)

انبیاء علیہم السلام کی سخت توہین

اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧ خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

مزید توہین انبیاء علیہم السلام

٨٤

صفحہ ٣٩٢

معجزات اور پیش گوئیاں ہیں تو اس جگہ اکثر گزشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیش گوئیاں موجود ہیں بلکہ بعض گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیش گوئیوں کو ان معجزات اور پیش گوئیوں سے کچھ نسبت نہیں۔“

(بحوالہ تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٢٩٢)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت کلی

سے افضل اس لیے نہیں قرار دیا کہ آپ کو معلوم ہو گیا کہ غیر نبی نبی سے افضل ہوتا ہے۔ بلکہ اس لیے آپ کو اللہ تعالیٰ کی وحی نے صریح طور پر نبی کا خطاب دیا اور وہ بارش کی طرح آپ پر نازل ہوئی اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آپ نے تریاق القلوب والے عقیدہ کو بدل دیا کیونکہ آپ نے تریاق القلوب میں لکھا تھا کہ مسیح سے صرف جزوی فضیلت رکھتا ہوں اور بعد میں فرمایا کہ میں تمام شان میں اس سے بڑھ کر ہوں۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٧ حصہ اول)

حضرت عیسیٰؑ سے میری افضلیت پر اعتراض شیطانی وسوسہ ہے

فرماتے ہیں بلکہ آپ فرماتے ہیں کہ آپ کے حضرت مسیح سے افضل ہونے پر اعتراض کرنا شیطانی وسوسہ ہے۔ اور یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعود نبی نہیں کہلا سکتے۔ خدا تعالیٰ سے جنگ کرنے کے مترادف ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢١)

حضرت عیسیٰؑ کی صریح توہین اور قرآن پر بہتان

نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(حاشیہ دافع البلاء ص ٥ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)

اس حوالے سے چند باتیں ثابت ہوئیں (١) پہلی یہ کہ مرزا قادیانی نے جو توہین یسوع مسیح کے نام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کی ہے۔ وہ مرزا نے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی توہین کی ہے (٢) دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ یہ وہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں جن کا ذکر

٨٤

صفحہ ٣٩٣

قرآن میں ہے۔ (٣) تیسری بات یہ ثابت ہوئی کہ مرزا قادیانی کے خیال میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر الزامات کی تصدیق خود خدا تعالیٰ نے بھی کر دی ہے ورنہ کسی پیغمبر پر غلط الزام کی تو خدا تعالیٰ صفائی کیا کرتے ہیں۔

جناب نبی کریم علیہ السلام کی توہین

پیش گوئی فرمائی ہے کہ ”یتزوج ویولد لہ“ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ اس سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“

(انجام آتھم حاشیہ ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

مرزا غلام احمد قادیانی کو محمدی بیگم کی محبت نے اندھا بہرا کر دیا تھا۔ اس نے سرور عالم ﷺ کو بھی ملوث کرنے کی کوشش کی کہ گویا حضور نے بھی محمدی بیگم کے نکاح کی طرف اشارہ کیا تھا۔ کیا حضور ﷺ یہ اشارہ کر رہے تھے۔ کہ محمدی بیگم مرزا کے نکاح میں آئے گی اور یہ نہ جانتے تھے کہ وہ کبھی نہ آئے گی۔

قرآن میں مرزا کا نام ”احمد“ ہے

جگہ آیت ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ سے ثابت ہے کہ آنے والے مسیح کا نام اللہ تعالیٰ رسول رکھتا ہے۔

(حقیقۃ الوحی ص١٨٨)

ایضاً

یلحقوا بہم“ کی آیت ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ کے بعث بتائے گئے ۔ پس ضروری ہے کہ دوسرا بعث بھی رسالت کے ساتھ ہو!

(حقیقۃ الوحی ص١٨٩)

٨٥

صفحہ ٣٩٤

مرزا غلام احمد قادیانی کی اخلاقی حالت مرصع اور غلیظ گالیاں

تم یہوديانہ خصلت کو چھوڑ دو گے۔ اے ظالم مولویو، تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔"

(انجام آتھم ص ٢١ خزائن ج ١١ ص ٢١)

جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥ خزائن ج ١١ ص ٣٠٨)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)

میرے مخالف جنگل کے سور ہیں

میرے مخالف جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔

(نجم الہدیٰ ص ٥٣ خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

مولوی سعد اللہ کی نسبت

وَمِنَ اللئامِ ارى رُجَيْلاً فَاسِقاً غُوْلاً لَّعِيْناً نُّطْفَةَ السُّفَهَاءِ

"اور لئیموں میں سے ایک فاسق آدمی کو دیکھتا ہوں کہ ایک شیطان ملعون ہے۔ سفیہوں کا نطفہ۔"

نِكْسٌ خَبِيْثٌ مُفْسِدٌ وَمُزَوَّرٌ نَحْسٌ يُسَمَّى السَّعْدُ فِي
الْجُهَلَاءِ

"بد گو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھانے والا منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے۔"

آذَيْتَنِي خُبْثًا فَلَسْتُ بِصَادِقٍ إِنْ لَّمْ تَمُتْ بِالْخِزْيِ يَا ابْنَ بَغَاءِ

"تو نے اپنی خباثت سے مجھے بہت دکھ پہنچایا ہے۔ پس میں سچا نہیں ہوں گا اگر ذلت کے ساتھ تیری موت نہ ہو (اے نسل بدکاراں)۔"

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٤ و ص ١٥۔ خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٦۔ ٤٤٥)

صفحہ ٣٩٥

میرے مخالف کنجریوں کی اولاد ہیں

مَعَارِفِهَا وَيَقْبَلُنِيْ وَيُصَدِّقُ دَعْوَتِيْ إِلَّا ذُرِّيَّةُ الْبَغَايَا.

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

”ان میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے سوائے کنجریوں کی اولاد کے۔“

اے مردار خور مولویو اور گندی روحو!

”بعض خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں...... دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے۔ مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لیے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔ اے مردار خور مولویو! اور گندی روحو تم پر افسوس کہ تم نے میری عداوت کے لیے اسلام کی سچی گواہی کو چھپایا اے اندھیرے کے کیڑو...... سو تم جھوٹ مت بولو اور وہ نجاست نہ کھاؤ جو عیسائیوں نے کھائی۔

(انجام آتھم ص ٢١ خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

چور، قزاق، حرامی

”ہم ١٨٥٧ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس زمانے کے مولویوں کے فتووں پر نظر ڈالتے ہیں، جنھوں نے عام طور پر مہریں لگا دی تھیں۔ جو انگریزوں کو قتل کر دینا چاہیے تو ہم بحر ندامت میں ڈوب جاتے ہیں۔ یہ کیسے مولوی تھے اور کیسے ان کے فتوے تھے جن میں نہ رحم تھا نہ عقل، نہ اخلاقانہ انصاف۔ ان لوگوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا اس کا نام جہاد رکھا۔ (حاشیہ ازالۃ اوہام ص ٧٢٨ خزائن ج ٣ ص ٤٩٠)

حرامی، بدکار

”اس گورنمنٹ ....... سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے۔ اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو

٨٧

صفحہ ٣٩٦

میرا یہ مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہ ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت (یعنی گورنمنٹ برطانیہ) کی جس نے امن قائم کیا ہو۔‘‘

(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ازالہ اوہام ص ٢٤ خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

مولوی ثناء اللہ

’’اے عورتوں کے عار ثناء اللہ کب تک مردان جنگ کی طرح پختگی دکھلائے گا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص ٨٣ خزائن ج ١٩ ص ١٩٦)

حضرت امام حسینؓ کی نسبت

کربلا ایست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم (دُرثمین ص ١٦٧)

تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمھارا ورد صرف حسینؓ ہے۔ کیا تو انکار کرتا ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص ٨٢ خزائن ج ١٩ ص ١٩٤)

’’اور مجھ میں اور تمھارے حسین میں بہت فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو۔ اب تک تم روتے ہو سوچ لو۔‘‘

(اعجاز احمدی ص ٦٩ خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی نسبت

’’اندھا شیطان اندھا گمراہ دیو۔‘‘

(انجام آتھم ص ٢٥٢ خزائن ج ١١ ص ٢٥٢)

(اسی کے ساتھ مولوی نذیر حسین، مولانا احمد علی سہارنپوری، مولانا عبدالحق دہلوی، محمد حسن امروہوی پر بھی مذکورہ کتاب میں تبرا ء کیا ہے)

پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی نسبت

زن۔ پس میں نے کہا اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت تو ملعون کے سبب سے ملعون ہوگئی۔ پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔‘‘

٨٨

صفحہ ٣٩٧

دامن جھوٹ سے پاک ہے۔“

قرار تھا۔“

کرتا ہے۔“

توہین کرتے اور گالیاں دیتے اور کافر کہتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٥، ٢٧، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨، ١٨٩)

شیعہ عالم علی حائری کی نسبت

”میں تمھیں حیض والی عورت کی طرح دیکھتا ہوں۔ نہ اس عورت کی طرح جو حیض سے پاک ہوتی ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٦٨، خزائن ج ١٩ ص ١٨٠)

مسلمانوں سے بائیکاٹ

”حضرت مسیح موعود کا حکم ہے اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے۔“

(برکات خلافت ص ٧٥ بحوالہ قادیانی مذہب)

”ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کی طرح غیر احمدی بچوں کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہیے۔“

(انوار خلافت ص ٩٣ ملائکۃ اللہ ص ٤٦)

مرزا غلام احمد قادیانی کی گالیاں...... بحساب حروف تہجی

اب ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی گالیاں اور ان کے ”مستقبح الفاظ“ ابجد کے طریقے پر الف سے ی تک نقل کرتے ہیں تا کہ مرزائی پڑھ کر لطف اٹھائیں۔ الف: ”اے بدذات فرقہ مولویان۔ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا۔ وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔ اندھیرے کے کیڑو، ایمان وانصاف سے دور بھاگنے والو۔ اندھے نیم دہریہ۔ ابولہب۔ اسلام کے دشمن اسلام کے عار مولویو۔ اے جنگل کے وحشی۔ اے نابکار۔ ایمانی روشنی سے مسلوب۔ احمق مخالف۔ اے پلید دجال۔ اسلام کو بدنام کرنے والے۔ اے بدبخت۔

٨٩

صفحہ ٣٩٨

مفتریو۔ احمق۔ اشرار۔ اول کافرین۔ اوباش۔ اے بدذات خبیث دشمن اللہ اور رسول کے۔ ان بے وقوفوں کے بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔“

ب پ: بے ایمان اندھے مولوی۔ پلید طبع۔ پاگل۔ بدذات۔ بد گوہری ظاہر نہ کرتے۔ بے حیائی سے بات بڑھانا۔ بددیانت۔ بے حیا انسان۔ بدذات فتنہ انگیز۔ بدقسمت منکر۔ بدچلن۔ بخیل۔ بداندیش۔ بدطینت۔ بدبخت قوم۔ بدگفتار۔ بدباطن۔ باطنی جذام۔ بخل کی سرشت والے۔ بے وقوف جاہل۔ بیہودہ۔ بدعلماء۔ بے بصر۔

ت: تمام دنیا سے بدتر۔ تنگ ظرف۔ ترک حیا۔ تقویٰ و دیانت کے طریق کو بکلی چھوڑ دیا۔ ترک تقوے کی شامت سے ذلت پہنچ گئی۔ تکبر ولعنت کی جھاگ منہ سے نکالنے کے لیے۔

ث: ثعلب لومڑی۔ ثم اعلم ایھا الشیخ الضال والدجال البطال۔

ج چ: جھوٹ کی نجاست کھائی۔ جھوٹ کا گوہ کھایا۔ جاہل وحشی۔ جادۂ صدق و ثواب سے منحرف و دور۔ جعلساز۔ جیتے جی جی مرجانا۔ چوہڑے۔ چمار۔

ح: حمار۔ حقا حق وراستی سے منحرف۔ حاسد۔ حق پوش۔

خ: خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ خنزیر سے زیادہ پلید۔ خطا کی ذلت انہی کے منہ پر۔ خاکی گدھے۔ خائن۔ خیانت پیشہ خاسرین خالیۃ من نور الرحمن۔ خام خیال۔ خفاش۔

د ڈ: دل سے مجذوم۔ دھوکا دہ۔ دیانت، ایمانداری، راستی سے خالی۔ دجال دروغ گو۔ ڈوموں کی طرح مسخرہ۔ دشمن سچائی۔ دشمن قرآن دلی تاریکی۔

ذ: ذلت کی موت۔ ذلت کے ساتھ پردہ داری۔ ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو سوروں اور بندروں کی طرح کر دیں گے۔

ر: رجس الدجالین۔ ریش سفید کو منافقانہ سیاہی کے ساتھ قبر میں لے جائیں گے۔ روسیاہ۔ روباہ باز۔ رئیس المصلفین۔ راس المعتدین۔ راس الغاوین۔

ز: زہر ناک مادے والے۔ زندیق۔ زور کم یفشوا لی مواحی الزوارا۔

س: سچائی چھوڑنے کی لعنت انہی پر پڑی۔ سفلی ملا۔ سیاہ دل منکر۔ سخت بے حیا۔ سیاہ دل فرقہ کس قدر شیطانی افتراؤں سے کام لے رہا ہے۔ سادہ لوح۔ سازشی۔ سفہا۔ سفلہ۔ سلطان المتکبرین الذی اضاع دینہ بالکبر و التواہین۔ سگ بچگان۔

ش: شرم وحیا سے دور۔ شرارت۔ خیانت و شیطانی کارروائی والے۔ شریف از سفلہ مے ترسد۔ بلکہ از سفلگی او مے ترسد۔ شریر مکار۔ شقاوت سے بہرہ ور۔ شیخ نجدی۔

٩٠

صفحہ ٣٩٩

ص: صدر القناة نهوش صدرک ضربه وبریک رمانی بحار دماء.

ض: ضال. ضررهم اكثر من ابليس لعين.

ط: طالع منحوس۔ طبعتم نفسا بالغاء الحق والدين۔

ظ: ظالم۔ ظلمانی حالت۔

ع: علماء السوء عداوت اسلام۔ عجب و پندار والے۔ عدو احمق۔ عقارب۔ عقب الکلب۔ عدوہا۔

غ: غول الاغوی۔ غدار سرشت۔ غالی۔ غافل۔

ف: فضحت يا عبد الشيطان۔ فریبی۔ فن عربی سے بے بہرہ فرعونی رنگ۔

ق: قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے۔ قست قلوبهم. قد سبق الكل في الكذب.

ک، گ: کتے۔ گدھا۔ کینہ ور۔ گندے اور پلید فتویٰ والے۔ کمینہ۔ گندی کارروائی والے۔ کمہاء (مادر زاد اندھے) گندی عادت۔ گندے اخلاق۔ گندہ دہانی۔ گندے اخلاق والے ذلت سے غرق ہو جا۔ کج دل قوم۔ کوتاہ نظر۔ کھوپڑی میں کیڑا۔ کیڑوں کی طرح خود ہی مرجاویں گے۔ گندی روح۔

ل: لاف وگزاف والے۔ لعنت کی موت۔

م: مولویت کو بدنام کرنے والے۔ مولویوں کا منہ کالا کرنے کے لیے۔ منافق۔ مفتری۔ مورد غضب۔ مفسد۔ مرے ہوئے کیڑے۔ مخذول۔ مہجور۔ مجنون۔ مغرور۔ منکر۔ مخبوط مولوی۔ نجس طینت۔ مولوی کی بک بک۔ مردار خور مولویو۔

ن: نجاست نہ کھاؤ۔ نااہل مولوی۔ ناک کٹ جائے گی۔ ناپاک طبع لوگوں تے۔ نابینا علماء۔ نمک حرام۔ نفسانی۔ ناپاک نفس۔ نابکار قوم۔ نفرتی۔ ناپاک شیوہ۔ نادان متعصب۔ نالائق۔ نفس امارہ کے قبضہ میں۔ نااہل حریف۔ نجاست سے بھرے ہوئے۔ نادانی میں ڈوبے ہوئے۔ نجاست خوری کا شوق۔

و: وحشی طبع۔ وحشیانہ عقائد والے۔

ہ: ہامان۔ ہالکین۔ ہندوزادہ۔

ی: یک چشم مولوی۔ یہود یانہ تحریف۔ یہودی سیرت۔ يا ايها الشيخ الضال والمفتری البطال۔ یہود کے علماء۔ یہودی صفت وغیرہ وغیرہ۔

(از عصائے موسیٰ)

٩١

صفحہ ٤٠٠

جہاد اور مرزا غلام احمد قادیانی کے کفریہ خیالات

جہاد حرام ہے

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

دین کے لیے جنگ ختم ہے

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

جہاد کا فتویٰ فضول ہے

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

جہاد کرنے والا خدا کا دشمن ہے

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٨)

تلوار کا جہاد سراسر غلط اور نہایت خطرناک ہے

تلوار کے جہاد کو اپنے مذہب کا ایک رکن سمجھتے ہیں۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٩، خزائن ج ١٥ ص ١٢٠)

قرآن میں جہاد کی ممانعت ہے

(ستارہ قیصریہ ص ٩، خزائن ج ١٥ ص ١٢٠)

میں جہاد کو ختم کرنے آیا ہوں

جہاد کا خاتمہ ہے مگر اپنے نفسوں کے پاک کرنے کا جہاد باقی ہے۔“

(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ١٥)

٩٢

صفحہ ٤٠١

میرا آنا دینی جنگوں کے خاتمہ کے لیے ہے

الحرب یعنی جب مسیح آئے گا تو دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔"

(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص ١٥، خزائن ج ١٧، ص ١٥)

جہاد قبیح اور حرام ہے

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧، ص ٧٧)

جہاد کی شدت کم ہوتے ہوتے مرزا قادیانی کے وقت قطعاً موقوف ہو گیا

موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا۔ اور شیر خوار بچے بھی قتل کیے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا۔ اور پھر بعض قوموں کے لیے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذے سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔"

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧، ص ٤٤٣)

ان عبارات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن وحدیث کا ایک حکم منسوخ کیا، جبکہ حدیث میں ہے الجھاد ماض الی یوم القیامۃ۔ جہاد قیامت تک باقی رہے گا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے بخاری سے بھی استدلال کیا ہے جہاں آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت کے لیے فرمایا۔ ویضع الحرب بعض میں یضع الجزیۃ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کفار مغلوب ہو جائیں گے اور جو باقی ہوں گے وہ بھی مسلمان ہو جائیں گے جیسے کہ حدیث میں ہے تو جزیہ کافر رعایا سے لیا جاتا ہے۔ اب جب سب لوگ مسلمان ہو جائیں گے تو جزیہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اسی طرح جب اہل عالم مسلمان ہو جائیں گے تو لڑائی خود بخود ختم ہو جائے گی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے شریعت کا حکم منسوخ کر دینے کا معنیٰ سمجھا۔ یا جان بوجھ کر دھوکہ دیا۔

قادیان میں مگر مرزا غلام احمد قادیانی کو خبر نہیں کہ آخری زمانہ میں دمشق میں زبردست جنگیں

٩٣

صفحہ ٤٠٤

ہوں گی، جس کی تیاری مہدی علیہ السلام کر رہے ہوں گے۔ اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ ہر درخت آواز دے گا کہ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ جب تمام مخالف ایمان لے آئیں گے تو لڑائی بند ہو جائے گی اور جزیہ بھی نہ رہے گا۔

اور کیا جہاد پہلے سے شروع نہ تھا۔ کیا خود مرزا غلام احمد قادیانی نے حوالہ نمبر ١٧ میں نہیں کہا کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔ گویا پہلے تھا۔ اب یہ پیغام لے کر مرزا غلام احمد قادیانی منسوخ کرنے آئے ہیں۔

اور حوالہ نمبر ١ کے مطابق ”کہ نزول مسیح کا وقت ہے اب جنگوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ گویا پہلے سے جنگیں جاری تھیں اب مسیح نے آکر بند کرا دیں۔ ان حوالوں میں ایک طرح اقرار ہے کہ جہاد پہلے صحیح اور جاری تھا مگر افسوس کہ جا بجا مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ ”دین کے لیے تلوار اٹھانا غلط ہے۔ اسلام کو پھیلانے کے لیے جہاد کرنا خطا ہے۔ اور سرحدی و کوہستانی علاقوں میں علماء جہالت سے لوگوں کو ان غلط کاموں میں لگاتے ہیں۔ یہ کوئی جہاد نہیں ہے۔

اور حضور ﷺ نے جو تلوار اٹھائی تھی وہ ان لوگوں کے مقابلہ میں اٹھائی تھی ، جنھوں نے پہلے مسلمانوں پر بڑا ظلم روا رکھا تھا۔ ورنہ اسلام میں تلوار کا جہاد نہیں ہے۔“

حالانکہ یہ صدیوں پہلے مسلمانوں کے دین و فہم پر بڑا حملہ ہے۔ اور تاریخی لحاظ سے بھی غلط ہے۔ قریش نے ہمیشہ پہل کی اور اسلام اور مسلمانوں کے استیصال کے در پے رہے۔ پھر روم و ایران نے مسلمانوں کو پریشان کیا۔ سلطنت عثمانیہ (ترکی) کے وقت یورپ ترکی کے خلاف نبرد آزما تھا اور ترکی حکومت کو وہ مرد بیمار کہتے رہے۔ یہاں تک کہ طرابلس اور بلقان کی ریاستیں مسلمانوں سے چھین لیں۔

آخر میں انگریز نے ہندوستان کی مسلم حکومت کو دجل و فریب اور خاص چالبازیوں سے تباہ کیا۔ حتیٰ کہ قبائلی علاقوں تک جا پہنچا۔ قبائل اور پہاڑی علاقے کے لوگ کیا کرتے وہ جانتے تھے کہ نرمی اختیار کرنے سے انگریز سب کو ہڑپ کر جائے گا۔ وہ بھی جنگ کے لیے مجبور تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو معلوم ہے کہ مدافعانہ جنگ کیا ہوتی ہے۔

کر دیں۔ اس وقت بھی ان کی قوت کو توڑنا اور ان کو پہل کر کے کمزور کرنا دفاعی جنگ ہے۔

٩٠

فریق جنگ میں ہیں۔

کرتے ہیں تو معاہدہ چاہیے۔ پھر دونوں ط آزادی کے لیے ضرو یہ تمام باتیں دراصل حسد یا ڈر سے مسلمانو تھا اور مسلمان اپنی جا جاتا رہا۔ مگر جب م شروع کیے۔ تمام صلح نکمیں تھا۔ اسی طرز سہی مگر پھر بھی مسلما کرے اگر ایک خطہ پھر بھی غنیمت ہوگا ،

یہ کہنا با مسلمان کیا۔ لیکن ف کوسینگ، کسی کو ڈا کر بھاگتے ہی رہ کی بقاء کے لیے ض

اگر کو قادیانی نے اس تعریفیں اور خوشا توصیف اور وفا قادیانی اپنی کفر

صفحہ ٤٠٣

فریق جنگ میں ہیں۔

کرتے ہیں تو معاہدہ کی خلاف ورزی جائز نہیں۔ اس دشمن کو معاہدہ کی منسوخی کی اطلاع کر دینی چاہیے۔ پھر دونوں حکومتیں ہوشیار رہیں گی۔ اگر مسلمان اپنی بقاء اور اسلامی تبلیغ کی حریت و آزادی کے لیے ضروری تصور کریں تو بے شک اعلان جنگ کر دیں مگر پہلے فسخ معاہدہ کرنا ہو گا۔ یہ تمام باتیں دراصل اپنا دفاع ہیں اور کافر اسلام کی قدرتی کشش اور روز افزوں پھیلاؤ دیکھ کر حسد یا ڈر سے مسلمانوں کی بیخ کنی کے درپے ہوتے تھے۔ مگر مدینہ منورہ کا کرنٹ جب تک باقی تھا اور مسلمان اپنی جانیں محض خدا کے لیے قربان کرتے تھے۔ اس وقت تک اسلام آگے ہی کو جاتا رہا۔ مگر جب معاملہ برعکس ہوا۔ دوسری طرف ملک کی توسیع ہوئی تو قدرتاً مخالفین نے حملے شروع کیے۔ تمام صلیبی لڑائیاں اسی طرح ہوئیں۔ ربع مسکون کا بڑا حصہ جو مسلمانوں کے زیر نگیں تھا۔ اسی طرح دشمنوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ خدا خدا کر کے اب دوبارہ انفرادی طور سے سہی مگر پھر بھی مسلمانوں نے کروٹ لی ہے اور تقریباً سارے ملک آزاد ہو گئے ہیں۔ خدا کرے اگر ایک خلافت قائم نہیں ہوتی تو نہ سہی مگر سب کا آپس میں معاہدہ اور تعاون رہے تو پھر بھی غنیمت ہو گا۔

یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کی تبلیغ کے لیے تلوار اٹھائی یا کسی کو جبراً مسلمان کیا۔ لیکن ضروری دفاع اور اپنی بقاء کے لیے اللہ تعالیٰ نے کسی حیوان کو پنجے دیئے تو کسی کو سینگ، کسی کو ڈاڑھیں کسی کو لاتیں لمبی دے دی ہیں۔ اگر مرزائی یہ چاہیں کہ مسلمان خرگوش بن کر بھاگتے ہی رہیں تو یہ مذہب ان کو مبارک ہو۔ ہم جہاد اور جہادی قوت کو اسلام اور مسلمانوں کی بقاء کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ اور یہی اسلام کا حکم ہے۔

مرزائی وہم کا جواب

اگر کوئی مرزائی یہ کہے کہ دراصل جہاد کی ضرورت نہ تھی اس لیے مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کو حرام کیا تو یہ قطعاً غلط ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کی اس قدر تعریفیں اور خوشامدیں کیں کہ اس سے بڑھ کر کوئی ٹوڈی نہیں کر سکتا۔ مگر یہ سب تعریف و توصیف اور وفاداری محض اس لیے تھی کہ انگریزوں کی سرپرستی اور پہرے میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کفریات خوب پھیلاتے اور روپیہ کماتے رہے۔ ورنہ کیا انگریز کے زمانہ میں کسی کو ٩٥

صفحہ ٤٠٤

یہ طاقت تھی کہ زنا یا چوری کی شرعی سزا جاری کرتا ۔ اور کیا انگریزی حکومت باقی دنیا کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ نہیں توڑ رہی تھی؟ اور کیا فارورڈ پالیسی کے تحت سرحد کی مسجدیں اور عورتوں، بچوں کو شہید نہیں کر رہی تھی۔ کیا جب تم پر انگریز نے احسان کیا تو اس کو اجازت ہونی چاہیے کہ وہ قسطنطنیہ میں داخل ہو کر عراق پر قبضہ کرے۔ وہ پیرس کے حلیف مسلمان بچوں اور عورتوں کو قتل کرے اور اس کے حلیف یونانی سمرنا میں مسلمان عورتوں کی چھاتیاں کاٹیں اور عسکی شہر پر قبضہ کر کے انقرہ پر چڑھائی کی تیاریاں کریں تا کہ ترکوں کو بالکل ختم کر دیا جائے ۔ کیا انگریزوں کو مرزا غلام احمد قادیانی پر احسان کرنے کے عوض ہم اجازت دیں کہ وہ دنیا بھر سے یہود کو جمع کر کے فلسطین میں بسائے اور عربوں کے سینے پر مونگ دلے۔ کیا عدن ویمن کی جنگ آزادی ظلم تھا۔ کیا نہر سویز کو واپس لینا ظلم تھا ؟ کیا موپلہ قوم کو انگریزوں نے زمانہ خلافت میں سارے ہندوستان کی جیلوں میں تقسیم کر کے پھانسیاں دے کر ظلم نہیں کیا؟

دوسرا وہم

مرزائی دوسرا وہم یہ پیش کرتے ہیں کہ بعض دوسروں نے بھی جہاد کے بارے میں یا انگریز سے جنگ نہ کرنے کے بارہ میں یوں کہا ............. اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ کسی کا انفرادی قول ہو سکتا ہے مستقل کسی مسلمان فرقے نے یہ فیصلہ نہیں کیا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر کسی نے الا ان تتقوا منھم تقۃ کے تحت صرف اپنے بچاؤ کے لیے کیا ہے تو اس کی حیثیت اور ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی نے بحوالہ عبارت نمبر ١٠ صاف صاف نہیں لکھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں جہاد میں بڑی شدت تھی۔ سرور عالم ﷺ نے اس میں بہت سی نرمی کی بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کے قتل سے روک دیا اور مسیح (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی ) کے وقت بالکل ہی موقوف ہو گیا۔

اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی انگریز کے لیے اسلام کا مسئلہ جہاد بالکل ختم کرنا چاہتا تھا۔ جو فرض ہے کبھی تو فرض عین اور کبھی فرض کفایہ۔

ابن مریم کے نام سے مسلمانوں کو دھوکا دینے والے کو دوسروں پر قیاس کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے۔

ان کی مثال مرزا قادیانی اور چوہدری ظفر اللہ ہیں۔

٦٦

صفحہ ٤٠٥

جہاد کو حرام یا موقوف نہیں کیا۔ (ان میں بڑا فرق ہے)

ایک خاص دجل

مرزائیوں اور ان کے نمائندوں نے مسئلہ جہاد اور اسلام بالجبر کو ملا کر غلط طور پر غلط بحث کیا ہے۔ کیا آج یہود اور شام کی جنگ جہاد نہیں۔ کیا اس میں مسلمان ظلم کر رہے ہیں۔ کیا خدا نخواستہ اگر دمشق میں عظیم نقصان ہو جائے اور مسلمانوں کی باگ ڈور کوئی اللہ والا سنبھال کر تمام مشرق وسطیٰ کو دوبارہ منظم کر دے۔ پھر یہودی کوئی بڑی طاقت مقابلہ کے لیے آ جائے تو یہ غلط ہو گا کہ حضرت مسیح ابن مریم ہمارے اجماعی عقیدے کے مطابق نازل ہو کر اس یہودی طاقت کو تہس نہس کر دیں۔

کیا حالیہ عرب و اسرائیل جنگ میں عرب لیڈروں کو خونی لیڈر کہہ سکتے ہیں کیا یہ جنگ عرب اس لیے لڑ رہے ہیں کہ یہود و نصاریٰ کو جبراً مسلمان کر دیں۔ اگر یہ جنگ جائز ہے تو اس کی امداد بھی جائز ہے اور کمزوری کی صورت میں فرض ہے۔ کیا مرزائی ابھی تک نہیں سمجھے کہ مشرق وسطیٰ میں یہود نے مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں پر کتنے انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں۔

انگریز سے وفاداری

عنوان بالا کے تحت مرزا کی بارگاہ ملکہ و سرکار انگریز میں عاجزی و انکساری کے چند حوالے ملاحظہ کیے جائیں۔ کیا یہ شان نبوت ہے؟

عالی جناب قیصرۂ ہند ملکہ معظمہ دام اقبالہا

”اور یہ نوشتہ ایک ہدیہ شکر گزاری ہے کہ جو عالی جناب قیصرۂ ہند ملکہ معظمہ والی انگلستان ہند دام اقبالہا بالقابہا کے حضور میں بتقریب جلسہ جوبلی شصت سالہ بطور مبارکباد پیش کیا گیا۔ مبارک۔ مبارک۔ مبارک۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٣)

میری جماعت کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے

”بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت و مریدی رکھتی ہے۔ ایسی سچی مخلص اور خیر خواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعویٰ سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لیے ایک وفادار فوج ہے جن کا ظاہر و

صفحہ ٤٠٦

باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١٢، خزائن ج ١٢، ص ٢٦٤)

اے ہماری ملکہ! تجھ پر بے شمار برکتیں نازل ہوں

”اے ہماری ملکہ معظمہ تیرے پر بے شمار برکتیں نازل ہوں۔ خدا تیرے وہ تمام فکر دور کرے جو دل میں ہیں۔ جس طرح ہو سکے اس سفارت کو قبول کر۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٥، خزائن ج ١٢، ص ٢٧٧)

ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا

”ان واقعات پر نظر ڈالنے سے نہایت آرزو سے دل چاہتا ہے کہ ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا بھی قیصر روم کی طرح......“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٧، خزائن ج ١٢، ص ٢٧٩)

اے قادر و کریم ہماری ملکہ کو خوش رکھ

”اے قادر و کریم اپنے فضل و کرم سے ہماری ملکہ معظمہ کو خوش رکھ جیسا کہ ہم اس کے سایہ عاطفت کے نیچے خوش ہیں۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٣٢، خزائن ج ١٢، ص ٢٨٤)

میرے والد انگریزی سرکار کے دل سے خیر خواہ تھے

”اور میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ دربار گورنری میں کرسی نشین بھی تھے۔ اور سرکار انگریز کے ایسے خیر خواہ اور دل کے بہادر تھے کہ مفسدہ ١٨٥٧ء (یعنی جہادِ آزادی) میں پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس جوان جنگ جو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ اس گورنمنٹ عالیہ کو مدد دی تھی۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١٨، خزائن ج ١٢، ص ٢٧٠)

خدا کا حکم ہے کہ اس گورنمنٹ کے لیے دعا میں مشغول رہوں

”بلکہ خدا سے مامور ہوں کہ جس گورنمنٹ کے سایہ عطوفت کے نیچے میں امن کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہوں اس کے لیے دعا میں مشغول ہوں۔ اور اس کے احسانات کا شکر کروں اور اس کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھوں۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١٤، خزائن ج ١٢، ص ٢٦٦)

ملکہ کے لیے دل اور وجود کے ذرہ ذرہ سے دعا

”اس موقعہ جوبلی پر جناب ملکہ معظمہ کے ان متواتر احسانات کو یاد کر کے جو ہماری جان و مال اور آبرو کے شامل حال ہیں ہدیہ شکر گزاری پیش کرتا ہوں اور وہ ہدیہ دعائے سلامتی

صفحہ ٤٠٧

”وہ دعا ملکہ ممدوحہ ہے جو دل سے اور وجود کے ذرہ ذرہ سے نکلتی ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١٤، خزائن ج ١٢، ص ٢٦٤)

ملکہ معظمہ کی اقبال وسلامتی کے لیے ہماری روحیں سجدہ کرتی ہیں

”ہماری روحیں تیرے اقبال اور سلامتی کے لیے حضرت احدیت میں سجدہ کرتی ہیں۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٥، خزائن ج ١٢، ص ٢٧٧)

ملکہ کا وجود ملک کے لیے خدا کا بڑا فضل ہے

”خدا تجھے ان نیکیوں کی بہت بہت جزا دے جو تجھ سے اور تیری با برکت سلطنت سے اور تیرے امن پسند حکام سے ہمیں پہنچی ہے۔ ہم تیرے وجود کو اس ملک کے لیے خدا کا بڑا فضل سمجھتے ہیں۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٧، خزائن ج ١٢، ص ٢٧٩)

شکریہ کے لیے الفاظ نہ ملنے پر ہمیں شرمندگی ہے

”اور ہم ان الفاظ کے نہ ملنے سے شرمندہ ہیں جن سے ہم اس شکر کو پورے طور پر ادا کر سکتے ہیں۔ ہر ایک دعا جو ایک سچا شکر گزار تیرے لیے کر سکتا ہے۔ ہماری طرف سے تیرے حق میں قبول ہو۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٣٢، خزائن ج ١٢، ص ٢٨٤)

خدا نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ

محسن گورنمنٹ برطانیہ کی سچی اطاعت کی جائے

”سو خدا تعالیٰ نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ محسن گورنمنٹ کی جیسا کہ یہ گورنمنٹ برطانیہ ہے سچی اطاعت کی جائے اور سچی شکر گزاری کی جائے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١٨، خزائن ج ١٢، ص ٢٧٠)

گورنمنٹ کی سچی اطاعت کے لیے تصانیف

”سو میں اور میری جماعت اس اصول کے پابند ہیں، چنانچہ میں نے اس مسئلہ پر عملدرآمد کرانے کے لیے بہت سی کتابیں عربی، فارسی اور اردو میں تالیف کیں۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١١، خزائن ج ١٢، ص ٢٦٣)

صفحہ ٤٠٨

گورنمنٹ برطانیہ کی نسبت خیال جہاد بھی ظلم اور بغاوت ہے

’’پھر اس مبارک اور امن بخش گورنمنٹ کی نسبت کوئی خیال بھی جہاد کا دل میں لانا کس قدر ظلم اور بغاوت ہے۔‘‘

(تحفہ قیصریہ ص ١٢، خزائن ج ١٢، ص ٢٦٢)

ملکہ سے وفاداری پر عظیم الشان خوشی

’’اس خدا کا شکر ہے جس نے آج ہمیں یہ عظیم الشان خوشی کا دن دکھلایا کہ ہم نے اپنی ملکہ معظمہ قیصرہ ہند وانگلستان کی شست سالہ جوبلی کو دیکھا۔ جس قدر اس دن کے آنے سے مسرت ہوئی کون اس کا اندازہ کر سکتا ہے؟ ہماری محسنہ قیصرہ مبارکہ کو ہماری طرف سے خوشی اور شکر سے بھری ہوئی مبارکباد پہنچے۔ خدا ملکہ معظمہ کو ہمیشہ خوشی سے رکھے۔‘‘

(تحفہ قیصریہ ص ٢، خزائن ج ١٢، ص ٢٥٤)

مرزا غلام احمد قادیانی کی کلمۂ شاہانہ کے لیے تڑپ

اور دربار انگریزیہ میں انتہائی عاجزانہ وفاداری

’’مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا اور میرا کانشنس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ وہ ہدیہ عاجزانہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ حضور ملکہ معظمہ میں پیش ہوا ہو۔ اور پھر میں اس کے جواب سے ممنون نہ کیا جاؤں۔ یقیناً کوئی اور باعث ہے۔ جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارادہ اور مرضی اور علم کو کچھ دخل نہیں۔ لہٰذا اس حسن ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ میں اس تحفہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں۔ اسی غرض سے یہ عریضہ روانہ کر رہا ہوں۔‘‘

(حوالہ ستارہ قیصریہ ص ٢، خزائن ج ١٥ ص ١١٢)

حکومت انگریزی کے قیام سے میرے والد کو جواہرات کا خزانہ مل گیا

’’اور پھر جب گورنمنٹ انگریزی کا اس ملک پر دخل ہو گیا تو وہ اس نعمت یعنی انگریزی حکومت کی قائمی سے ایسے خوش ہوئے کہ گویا ان کو ایک جواہرات کا خزانہ مل گیا ہو۔‘‘

(ستارہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١١٣)

میرے والد سرکار انگریزی کے بڑے خیر خواہ جانثار تھے

’’اور وہ سرکار انگریزی کے بڑے خیر خواہ جانثار تھے۔ اسی وجہ سے انھوں نے ایام ...

صفحہ ٤٠٩

غدر ١٨٥٧ء (یعنی جہاد آزادی) میں پچاس گھوڑے معہ سواران بہم پہنچا کر سرکار انگریزی کو بطور مدد دیئے تھے اور وہ بعد اس کے بھی ہمیشہ اس بات کے لیے مستعد رہے کہ اگر پھر بھی کسی وقت ان کی مدد کی ضرورت ہو تو بدل و جان اس گورنمنٹ (برطانیہ) کو مدد دیں۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٥ص ١١٣)

مرزا غلام احمد قادیانی نے سرکار انگریز کی خدمت کے لیے

پچاس ہزار کے قریب کتابیں، رسائل اور اشتہارات لکھے

”اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کیے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٥ص ١١٣)

گورنمنٹ برطانیہ کی سچی اطاعت ہر مسلمان کا فرض ہے

”لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اس گورنمنٹ (برطانیہ) کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٥ص ١١٣)

ممالک اسلامیہ میں انگریزی وفاداری کی اشاعت

”اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٥ص ١١٣)

میری کوشش سے لاکھوں مسلمانوں نے جہاد کے غلط خیالات چھوڑ دیئے

”جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی گئی۔ جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیے جو نا فہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہ سکا۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٤، خزائن ج ١٥ص ١١٤)

دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں

”میں معہ اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ یا الٰہی اس

صفحہ ٤١٠

مبارک قیصرہ ہند دام ملکہا کو دیر گاہ تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ اور اس کے ہر ایک قدم کے ساتھ اپنی مدد کا سایہ شامل حال فرما اور اس کے اقبال کے دن بہت لمبے کر۔“

(ستارہ قیصریہ ص٤، خزائن ج١٥ ص١١٤)

عالی شان جناب ملکہ معظمہ کی عالی خدمت میں

”اور میں اپنی عالی شان جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی عالی خدمت میں اس خوشخبری کو پہنچانے کے لیے بھی مامور ہوں کہ جیسا کہ زمین پر اور زمین کے اسباب سے خدا تعالیٰ نے اپنی کمال رحمت اور کمال مصلحت سے ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا کی سلطنت کو اس ملک اور دیگر ممالک میں قائم کیا ہے تا کہ زمین کو عدل اور امن سے بھرے۔“

(ستارہ قیصریہ ص٥، خزائن ج١٥ ص١١٥)

غیب سے، آسمان سے، روحانی انتظام

”اس نے آسمان سے ارادہ فرمایا ہے کہ اس شہنشاہ مبارکہ کے دلی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے جو عدل اور امن اور آسودگی عامہ خلائق اور رفع فساد اور تہذیب اخلاق اور وحشیانہ حالتوں کا دور کرنا ہے۔ اس کے عہد مبارک میں اپنی طرف سے اور غیب سے اور آسمان سے کوئی ایسا روحانی انتظام قائم کرے جو حضور ملکہ معظمہ کے دلی اغراض کو مدد دے۔ اور جس امن اور عافیت اور صلح کاری کے باغ کو آپ لگانا چاہتی ہیں۔ آسمانی آبپاشی سے اس میں امداد فرماوے۔“

(ستارہ قیصریہ ص٥، خزائن ج١٥ ص١١٥۔١١٦)

مرزا غلام احمد قادیانی کے مسیح موعود بننے کا مقصد

”سو اس نے اپنے قدیم وعدہ کے موافق جو مسیح موعود کے آنے کی نسبت تھا۔ آسمان سے مجھے بھیجا ہے۔ تا میں اس مرد خدا کے رنگ میں ہو کر جو بیت اللحم میں پیدا ہوا، اور ناصرہ میں پرورش پائی۔ حضور ملکہ معظمہ کے نیک اور بابرکت مقاصد کی اعانت میں مشغول ہوں۔ اس نے مجھے بے انتہا برکتوں کے ساتھ چھوا۔ اور اپنا مسیح بنایا۔ وہ ملکہ معظمہ کے پاک اغراض کو خدا آسمان سے مدد دے۔“

(ستارہ قیصریہ ص٥، خزائن ج١٥ ص١١٦)

ملکہ کے نور کی کشش

”سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور نازل کیا کیونکہ نور نور کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور تاریکی تاریکی کو کھینچتی ہے۔ اے مبارک اور با اقبال ملکہ زمان جن کتابوں

صفحہ ٤١١

میں مسیح موعود کا آنا لکھا ہے۔ ان کتابوں میں صریح تیرے پر امن عہد کی طرف اشارات پائے جاتے ہیں۔“

(حوالہ ستارہ قیصریہ ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١١٧)

ہماری پیاری قیصرہ ہند

”سوائے ہماری پیاری قیصرہ ہند خدا تجھے دیر گاہ تک سلامت رکھے۔ تیری نیک نیتی اور رعایا کی سچی ہمدردی قیصر روم سے کم نہیں۔ بلکہ ہم زور سے کہتے ہیں کہ اس سے بہت زیادہ ہے۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٧، خزائن ج ١٥ ص ١١٨)

مرزا غلام احمد قادیانی کی بعثت ملکہ وکٹوریہ کی برکت سے ہوئی

”سو یہ مسیح موعود دنیا میں آیا تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا نتیجہ ہے۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٨، خزائن ج ١٥ ص ١١٨)

خدا کا ہاتھ ملکہ وکٹوریہ کی تائید کر رہا ہے

”تیرا عہد حکومت کیا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے۔ تیری ہمدردی رعایا اور نیک نیتی کی راہوں کو فرشتے صاف کر رہے ہیں۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٨، خزائن ج ١٥ ص ١١٩)

تیری سلطنت کے ناقدر شریر اور بدذات ہیں

”تیرے عدل کے لطیف بخارات بادلوں کی طرح اٹھ رہے ہیں تا تمام ملک کو رشک بہار بنا دیں۔ شریر ہیں وہ انسان جو تیری عہد سلطنت کی قدر نہیں کرتا اور بدذات ہے وہ نفس جو تیرے احسانوں کا شکر گزار نہیں۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٩، خزائن ج ١٥ ص ١١٩)

مرزا غلام احمد قادیانی کی ملکہ وکٹوریہ سے دلی محبت

”چونکہ یہ مسئلہ تحقیق شدہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے۔ اس لیے مجھے ضرورت نہیں کہ میں اپنی زبان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں اور میرے دل میں خاص طور پر آپ کی محبت اور عظمت ہے۔ ہماری دن رات کی دعائیں آپ کے لیے ایک آب رواں کی طرح جاری ہیں۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٩، خزائن ج ١٥ ص ١١٩)

١٠٣

صفحہ ٤١٤

اے بابرکت قیصرہ ہند جس ملک پر تیری نگاہ اس پر خدا کی نگاہ

”اے بابرکت قیصرہ ہند تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اس ملک پر ہیں جس پر تیری نگاہیں ہیں۔ خدا کی رحمت کا ہاتھ اس رعایا پر ہے جس پر تیرا ہاتھ ہے۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٩، خزائن ج ١٥ ص ١٢٠)

خدا نے مرزا کو ملکہ کی پاک نیتوں کی تحریک سے بھیجا ہے

”تیری ہی (ملکہ ہند) پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے۔ تاکہ پرہیز گاری اور نیک اخلاقی اور صلح کاری کی راہوں کو دوبارہ دنیا میں قائم کروں۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٩، خزائن ج ١٥ ص ١٢٠)

ملکہ کی خدمت پورے طور سے اخلاص، اطاعت

اور شکر گزاری کے جوش کو ادا نہیں کر سکے

”اب میں مناسب نہیں دیکھتا کہ اس عریضہ نیاز کو طول دوں۔ گو میں جانتا ہوں کہ جس قدر میرے دل میں یہ جوش تھا کہ میں اپنے اخلاص اور اطاعت اور شکر گزاری کو حضور قیصرہ ہند دام ملکہا میں عرض کروں۔ پورے طور پر میں اس جوش کو ادا نہیں کر سکا۔ بلکہ ناچار دعا سے ختم کرتا ہوں...... وہ (اللہ تعالیٰ) آسمان پر سے اس محسنہ قیصرہ ہند دام ملکہا کو ہماری طرف سے نیک جزا دے۔“

(ستارہ قیصریہ ص ١٢، خزائن ج ١٥ ص ١٢٥)

گورنمنٹ برطانیہ کے مخالف، چور، قزاق اور حرامی ہیں

”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن (گورنمنٹ برطانیہ) کی بدخواہی کرنا حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔“

(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق، ص٣)

اسلام کے دو حصے ہیں دوسرا حصہ گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت

”میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“

(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق، ص٣۔ ملحقہ شہادۃ القرآن ص ٤۔ خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

صفحہ ٤١٣

میں نے ابتداء سے آج تک گورنمنٹ برطانیہ کی بے نظیر خدمت کی ہے

میں نے اپنی قلم سے گورنمنٹ کی خیر خواہی میں ابتداء سے آج تک وہ کام کیا ہے جس کی نظیر گورنمنٹ کے ہاتھ میں ایک بھی نہیں ہو گی۔

(انجام آتھم ص ٦٨، خزائن ج ١١ ص ٦٨)

گورنمنٹ برطانیہ کی مخالفت سخت بدذاتی ہے

”اور میں نے ہزار ہا روپیہ کے صرف سے کتابیں تالیف کر کے ان میں جا بجا اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں کو اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی چاہیے اور رعایا ہو کر بغاوت کا خیال بھی دل میں لانا نہایت درجہ کی بدذاتی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٨، خزائن ج ١١ ص ٦٨)

مرزا قادیانی اور ملکہ انگلستان

آپ حوالہ جات مذکورہ کو بار بار پڑھیں اور انصاف سے کہیں کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی پوری روحانیت مجھ میں اتر آئی ہے اور کبھی کہتا ہے کہ میں عین محمدﷺ ہوں، میں نبی اور رسول ہوں۔ پھر یہ کافر حکومت کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے اور بار بار ملکہ لنڈن کے لیے دعائیں کرے اور دام اقبالہا کہہ کہہ کر اس کی زبان خشک ہو جائے اور آرزو کرے کہ ایک لفظ شاہانہ ہی ملکہ اس کو لکھ کر بھیج دے۔ اپنے نور کے نزول کو ملکہ معظمہ کی کشش قرار دے انگریز کی حکومت کو خدا کی رحمت کہے اور تمام ملکوں میں اس کی خیر خواہی کے لیے اشتہارات بھیجے۔ کتنے افسوس اور شرم کی بات ہے۔ ایسے آدمی کو عام لوگ انگریز کا ٹوڈی کہتے ہیں۔ کاش کہ یہ اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر مسلمانوں کو ذلیل و رسوا نہ کرتا۔ ناظرین ان عبارتوں کو پڑھ کر خود سوچیں اور عبرت حاصل کریں۔ کیا خدا کے پیغمبر ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔

پہلا مسئلہ ....... حیات مسیح علیہ السلام

ناظرین کرام ...... جیسا کہ ہم نے دو مسئلے کے زیر عنوان لکھا تھا کہ مرزا ناصر احمد کے بیان کے بعد اب ساری بحث ان دو مسئلوں پر ہو گی۔ (١) آیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں یا زندہ آسمان پر موجود ہیں اور آخری زمانہ میں دوبارہ نازل ہوں گے۔ (٢) اگر بالفرض وہ فوت ہو چکے ہیں تو کیا مرزا غلام احمد قادیانی وہی آنے والا مسیح ابن مریم ہو سکتا ہے

١٠٥

صفحہ ٤١٤

جس کی خبر سینکڑوں حدیثوں میں موجود ہے۔ چنانچہ مسئلہ نمبر ٢ پر کافی بحث کر دی گئی جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی قطعاً آنے والا مسیح ہی نہیں بلکہ وہ مسلمان بھی ثابت نہیں ہو سکتا ۔ اب ہم مسئلہ نمبر ١ یعنی حیات عیسیٰ علیہ السلام پر بحث کرتے ہیں۔

اسلامی عقائد اور موجودہ سائنس

پہلے پہل جو سائنس کا چرچا ہوا اور انگریزوں کی غلامی کا طوق بھی گردنوں میں تھا اور ہر ایرے غیرے کو سائنس کے نام سے اسلامی عقائد پر اعتراض کر کے اپنے کو روشن خیال ثابت کرنے کا شوق تھا، اس وقت قیامت کے دن ہاتھ پاؤں کی گواہی بھی قابل اعتراض سمجھی جاتی تھی۔ دور سے سننا بھی سمجھ میں نہ آتا تھا، وزن اعمال پر بھی بحث تھی، جسم کے ساتھ معراج اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی سے انکار تھا، اور ان کے معجزات مردوں کو زندہ اور بیماروں کو اچھا کرنے پر بھی اعتراض تھا۔ حتیٰ کہ آسمانوں اور فرشتوں کا وجود بھی محل نظر سمجھا جاتا تھا۔ مگر جوں جوں جدید فلسفے نے ترقی کی تمام شبہات خود بخود دور ہوتے چلے گئے۔ گراموفون کی سوئی اور پلیٹ نے جو انسانی دماغ کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ہاتھ پاؤں کی گواہی کو سمجھا دیا جس کا لوہے کی سوئی سے زیادہ انسانی دماغ سے تعلق ہے۔ ریڈیو کی ایجاد نے بھی بہت سے مسائل حل کر دیئے۔ فلموں نے تمام انسانی اعمال کے محفوظ ہونے کا مسئلہ بھی سمجھا دیا۔ ڈاکٹروں نے مردہ مینڈک کو زندہ کر کے بھی اپنا کمال دکھایا۔ چاند پر جانے اور مریخ کو راکٹ پہنچانے نے، اوپر جانے کی بات بھی سمجھا دی۔

ایسے ایسے اجرام (جسموں) کے ثبوت نے جو ہم سے اربوں کھربوں میل سے بھی زیادہ دور ہیں اور تمام کے تمام باقاعدہ حرکت کرتے اور مقررہ راستوں پر چلتے اور باہم ٹکراتے بھی نہیں۔ نے تمام ان باتوں کو معقول ثابت کر دیا جو غیر معقول معلوم ہو رہی تھیں اور ذرہ بے مقدار کے تجربے سے روشنی، کڑک اور حرارت کی زبردست پیدائش نے تو طاقت کا معیار ہی بدل دیا۔ ہوائی جہاز کی اڑان نے تخت سلیمانی علیہ السلام کا مسئلہ بھی حل کر دیا۔ اس دریافت نے کہ درخت ہوا میں سے آکسیجن جدا کر کے اپنی غذا بناتے ہیں۔ ہواؤں اور عناصر کے جدا کرنے اور ملانے کا فلسفہ بلکہ تجربہ بھی بتا دیا۔ غرضیکہ ایک ناچیز انسان کی مادی توجہات سے وہ وہ کام دیکھے گئے جن کو سو سال پہلے کوئی نہ مانتا۔ حالانکہ یہ تمام امور مادیات سے تعلق رکھتے ہیں اور مادیات سے تعلق رکھنے والی بجلی کا یہ عالم ہے کہ لوہے کی بیس ہزار میل موٹی چادر سے وہ آن

١٠٦

صفحہ ٤١٥

کی آن میں گزر سکتی ہے اور روشنی جو اجسام سے تعلق رکھتی ہے وہ منٹوں میں کروڑوں میل کی رفتار سے چلتی ہے۔ اب آپ اس خدائے برتر کی طاقت کا کیا اندازہ لگا سکتے ہیں جس نے ان سب میں یہ یہ قوتیں رکھی ہیں پھر ان قوتوں کو صرف دریافت کیا گیا ہے ان کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں ہو سکتی۔ پھر جو رسول اسی خدائے برتر سے سن کر اور معلوم کر کے فرماتے ہیں۔ ان کی بات میں شبہ کرنا کسی صحیح الفطرت آدمی کا کام نہیں ہو سکتا۔

دراصل پہلے کسی کام کا امکان دیکھا جائے آیا ایسا ہونا ممکن ہے، اگر ممکن ہے تو پھر پاک اور سچے پیغمبروں کی اطلاع پر یقین کیوں نہ کیا جائے جو لاکھ سے زیادہ ہو کر بھی سب متفق ہیں۔

بحث حیات مسیح علیہ السلام کی حیثیت

لہٰذا اب بحث صرف اس بات پر کرنی ہے کہ خدا اور اس کے رسول نے اس بارہ میں کیا فرمایا۔ اس میں تو بحث ہی نہیں رہی کہ ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں اور ہم کو بحیثیت مسلمان ہونے کے اس بات کو دیکھنا ہے کہ آیا قرآن وحدیث نے یہ بتایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودی سولی دے رہے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں اٹھا کر آسمان پر لے جا کر بچا لیا اور قرب قیامت کو پھر نازل کر کے یہود و نصاریٰ کو راہِ راست پر لائیں گے اور اسلام کو ساری دنیا میں پھیلائیں گے۔ اگر قرآن وحدیث سے یہ بات ثابت ہو جائے تو پھر بحیثیت مسلمان کے ہم کو انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ وہ جھوٹے لوگ جو مسیح کے نام سے آتے ہیں یا آئے ہیں سب کذاب اور جھوٹے ثابت ہو جائیں گے۔

مسئلہ کے دو پہلو

اس مسئلہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت مسیح بن مریم آسمان کو اٹھائے گئے، دوسرا یہ کہ وہ نازل ہونے والے ہیں۔ نزول رفع جسمانی کی فرع ہے اگر نزول ثابت ہو جائے تو یہ بات خود بخود ثابت ہو جائے گی کہ وہ جسم سمیت آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور رفع ثابت ہو جائے تو نزول وصعود بالتقابل زیادہ واضح ہو جاتے ہیں۔

قرآن پاک کی تفسیر کے چند اصول، مسلمہ قادیانی

تائید قرآن شریف ہی (گویا شاہد قرآنی) میں دوسری آیات سے ہوتی ہے۔“

(برکات الدعاء ص ١٧ تا ١٨، خزائن ج ٦ ص ١٧ تا ١٨)

١٠٧

صفحہ ٤١٦

پاک آپ پر نازل ہوا اور آپ ہی اس کے معانی بہتر جانتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی (برکات الدعاء ص ١٨، خزائن ج ٦ ص ١٨) میں اس کو تسلیم کیا ہے۔

تھے۔ اس کو بھی مرزا غلام احمد قادیانی نے (برکات الدعاء ص ١٨، خزائن ج ٦ ص ١٨) میں تسلیم کیا ہے۔

(برکات الدعاء ص ١٨، خزائن ج ٦ ص ١٨)

کی تجدید کرے گا۔

(فتح الاسلام ص ٨، خزائن ج ٣ ص ٦)

کچھ کمی و بیشی نہیں کرتے ہاں گم شدہ دین کو پھر دلوں میں قائم کرتے ہیں۔“

اس بات پر اجماع ہو چکا ہے کہ نصوص کو ظاہر پر حمل کیا جائے۔ اس کو مرزا غلام احمد قادیانی نے تسلیم کیا ہے۔

(ازالۃ حصہ دوم ص ٥٤١، خزائن ج ٣ ص ٣٩٠)

بھی (حمامۃ البشریٰ ص ١٤، خزائن ج ٧ ص ١٩٢) میں لکھتے ہیں۔ والقسم يدل على ان الخبر محمول على الظاهر لا تاويل فيه واستثنا والافاى فائدة فى ذكر القسم. ”اور قسم کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس حدیث کے ظاہری معنی ہی قابل قبول ہیں۔ کوئی تاویل اور استثناء نہیں ہوتی ورنہ قسم کھانے میں کیا فائدہ تھا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٣٢٨، خزائن ج ٣ ص ٢٦٧)

یہ حدیث شریف کا مضمون ہے کہ جس نے قرآن پاک میں اپنی رائے کو دخل دیا تو اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے اور بعض روایات میں ہے کہ اس نے صحیح بھی کیا تو بھی غلطی کی۔ بہر حال قرآن پاک کی تفسیر وہی معتبر ہوگی جو خود قرآن کی کسی دوسری آیت سے ہو

١٠٨

صفحہ ٤١٧

پھر وہ تفسیر قابل اعتماد ہوگی جو خود سرور کائنات ﷺ نے بیان فرمائی ہو۔ تیسرا نمبر صحابہ کا ہے جنھوں نے اپنے علوم سرورِ عالم ﷺ سے حاصل کیے ہیں۔ اس کے بعد ان حضرات کی تفسیر کا نمبر ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے دین کے تازہ کرنے کے لیے، بعد ہر صدی میں پیدا کیا ہے۔ ان چار باتوں کے سوا جو تفسیر اپنی رائے سے کی جائے گی یہ قطعاً جائز نہیں نہ مومن کا کام ہے۔ اور اگر کسی آیت یا حدیث میں قسم کے لفظ ہوں تو ان کو تاویل و استثناء کے بغیر ظاہری معنوں پر حمل کیا جائے گا۔

ان اصول کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں۔ ان کو مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی تسلیم کیا ہے جس کے حوالے ہم نے بتا دیئے ہیں۔

تیرہ صدیوں کے مجددین کی مسلمہ فہرست

ایک کتاب ہے ”عسل مصفیٰ“ جس کو خدا بخش مرزائی نے لکھا ہے۔ یہ کتاب مرزا غلام احمد قادیانی کو سنائی گئی، اس پر مرزائیوں کے خلیفہ دوم اور محمد علی لاہوری کی تصدیق و تقریظ درج ہے اس نے تیرہ صدیوں کے مجددین شمار کیے ہیں جو تقریباً اسی ہیں۔ ہم ان میں مشہور تیس حضرات کے نام لکھتے ہیں۔

١٠٩

صفحہ ٤١٨

(عسل مصفی، ج ١، ص ١٦٢ تا ١٦٥)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عقائد

یہودیوں کا عقیدہ

یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ ہم نے حضرت مسیح علیہ السلام کو سولی دے کر قتل کر دیا ہے۔ انھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت کی۔ پھر بادشاہ سے کہہ کر ان کے خلاف حکم جاری کر دیا اور پولیس کے ذریعے ان کو اپنے خیال کے مطابق سولی پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ قرآن

١١٠

صفحہ ٤١٩

پاک نے اس کی سختی سے تردید کی بلکہ ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے۔ ان پر لعنت کی۔ اور ظاہر ہے کہ یہود کا دعویٰ یہی تھا کہ ہم نے سولی کے ذریعے ان کو قتل کر دیا ہے۔

عیسائیوں کا عقیدہ

عیسائیوں نے خود تو دیکھا نہ تھا۔ حوارین موقعہ پر موجود نہ تھے۔ یہودیوں کے کہنے سے انھوں نے بھی یہ مان لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے قتل کر ڈالا۔ پھر کفارے کا عقیدہ گھڑ لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ساری امت اور مخلوق کی نجات کے لیے اپنی قربانی دے دی۔ سب کی طرف سے وہی کفارہ ہو گئے۔

بعض عیسائی کہتے ہیں

البتہ بعض عیسائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پھر زندہ ہو کر آسمان پر تشریف لے گئے۔

مسلمانوں کا عقیدہ

اس سلسلہ میں مسلمانوں کا عقیدہ وہی ہے جو قرآن پاک نے بیان کیا ہے۔ قرآن پاک اپنے پاک پیغمبروں کے بارہ میں تہمتوں اور غلط بیانیوں کی اصلاح فرما دیتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خدا تعالیٰ کا بیٹا ہونے کی تردید اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے خدا ہونے کی تردید فرمادی۔ عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث (تین خدا مل کر ایک خدا ہونے) کی تردید بھی کر دی۔ اور حضرت مریم علیہا السلام کو صدیقہ کہہ کر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا قصہ بیان کر کے کہ یہ فرشتے کی پھونک مارنے سے، بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ حضرت مریم علیہا السلام کی صفائی بیان کی۔ قرآن جو صحیح فیصلے کرنے، اور اختلافات میں حق کا اعلان کرنے آیا تھا۔ اس نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں یہود ونصاریٰ کے عقیدہ کی تردید کرتے ہوئے قتل اور سولی کی نفی کر دی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لینے کا اعلان فرما دیا۔ اور یہ بھی اعلان کر دیا کہ تمام یہودیوں اور نصرانیوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لانا ہوگا۔ اور یہ بھی اعلان کر دیا کہ یہود نے بھی ایک تدبیر کی تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے کر قتل کر دیں اور ہم نے بھی تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ سب مدبروں سے بڑھ کر بہترین تدبیر کرنے والے ہیں۔ یہی

١١١

صفحہ ٤٢٠

مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ ساڑھے تیرہ سو سال سے مسلمان یہی کہتے لکھتے اور مانتے چلے آئے ہیں کہ یہود نے سولی دینی چاہی۔ مگر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرشتوں کے ذریعے آسمان پر اٹھا لے گئے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل پر یعنی باتوں اور صورت میں ایک ایسے شخص کو کر ڈالا جس نے حواری ہو کر غداری کی اور اپنی طرف سے پولیس کو لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑوانا چاہا۔ جب پولیس آئی تو اس شخص کو گرفتار کر کے سولی دے دی۔ جس کی شکل وصورت اور باتیں ہو بہو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہوچکی تھیں۔ اس طرح یہودیوں کی تدبیر دھری کی دھری رہ گئی۔ غدار کو بھی سزا مل گئی اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر غالب آئی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے درمیان سے اٹھا کر آسمان پر لے گئے۔ یہی فیصلہ قرآن پاک نے دیا اور اسی پر مسلمانوں کا ایمان ہے۔ اور سینکڑوں حدیثوں میں حضورﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم دوبارہ زمین پر آسمان سے نازل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے۔ ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا اور اسی وجہ سے لڑائی ختم ہوجائے گی اور اسی وجہ سے کسی سے جزیہ (غیر مسلموں کا ٹیکس) نہ لیا جائے گا ٤٠ برس تک وہ زندہ رہیں گے حج کریں گے، شادی کریں گے۔ پھر وفات ہوگی۔ اور حضورﷺ کے روضۂ پاک میں دفن ہوں گے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ

مرزا قادیانی نے نہ مسلمانوں کے عقیدے کو صحیح قرار دیا نہ یہود ونصاریٰ کی بات کو درست مانا، بلکہ اس نے چونکہ خود آنے والا مسیح ابن مریم بننا تھا۔ اس لیے پہلے تو یہ کہا کہ اصلی عیسیٰ بن مریم فوت ہوچکے ہیں اور فوت شدہ کوئی آدمی دنیا میں دوبارہ نہیں آسکتا۔ اس لیے آنے والا مسیح بن مریم میں ہوں اور اپنی طرف سے مسیح موعود کی اصطلاح گھڑ لی۔ حالانکہ تمام پرانی کتابوں میں مسیح ابن مریم یا عیسیٰ ابن مریم مذکور ہے۔ مسیح موعود کا لفظ کہیں نہیں ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ یہودی قتل تو نہیں کر سکے مگر سولی پر عیسیٰ علیہ السلام کو ضرور چڑھایا۔ ان کو گرفتار کیا۔ ان کے منہ پر تھوکا، ان کے منہ پر طمانچے مارے، ان کا مذاق اڑایا اور سولی پر چڑھایا۔ ان کے جسم میں میخیں ٹھونکیں اور ان کو مار کر اپنی طرف سے مرا ہوا سمجھ کر سولی سے اتار لیا۔ مگر دراصل اس میں ابھی رمق باقی تھی۔ مرہم لگائے گئے۔ خفیہ علاج کیا گیا اور اچھا ہو کر وہ وہاں سے چپکے سے نکل گئے اور ماں سمیت کہیں چلے گئے۔ جاتے جاتے وہ افغانستان پہنچے۔ وہاں سے پنجاب آئے۔ پھر کشمیر چلے گئے اور سری نگر میں دن گزارے وہیں مر گئے ان کی قبر بھی وہیں ہے۔

صفحہ ٤٢١

اور آنے والا مسیح ابن مریم میں ہوں اور آگیا ہوں۔ مجھ پر ایمان لے آؤ میں کہتا ہوں انگریز سے جہاد حرام ہے۔ اس کی اطاعت آدھا اسلام ہے ١٨٥٧ء کا جہاد غنڈوں کا کام تھا، میرے سارے خاندان نے انگریز کی خدمات بجا لائیں۔ میں فقیر تھا اور کچھ نہ ہوا تو ممانعت جہاد کی کتابیں لکھ لکھ کر سارے مسلمان ملکوں تک پہنچادیں۔ خدا قیصرہ لندن کا اقبال ہمیشہ قائم رکھے۔ اس کی سلطنت میں ہم سب کچھ کر سکتے ہیں، کسی نے کہا کہ آنے والے مسیح تو پہلے زمانے میں نبی تھے اور اب بھی ان کی شان نبوت اسی طرح رہے گی۔ وہ امت محمدیہ کی خدمت اسی شریعت کی رو سے کر کے اس کو غالب بنائیں گے۔ تو مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا میں بھی نبی ہوں اور بے شک نبوت ختم ہو گئی ہے۔ مگر میں فنا فی الرسول ہو کر نبی بنا ہوں حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ، حضرت پیران پیرؒ، حضرت خواجہ اجمیریؒ، امام ربانی اور شیخ اکبرؒ کوئی بھی میرے برابر درجہ حاصل نہیں کر سکا۔ نبوت کا نام صرف مجھے ملا ہے قیامت تک، اور کبھی امت میں سے کوئی نبی نہ ہوگا میری شان اس پرانے عیسیٰ بن مریم سے ہر طرح بلند ہے بلکہ میرے معجزات اتنے ہیں کہ ایک ہزار پیغمبروں کی پیغمبری ان سے ثابت ہو سکتی ہے یہ ہے مرزا قادیانی اور یہ ہے اس کا عقیدہ۔ اب ہم قرآن وحدیث سے اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔ آپ تمہید میں بیان کیے ہوئے اصول کو پھر پڑھیں اور پیش نظر رکھیں۔ نیز مجددوں کی تفسیر کی اہمیت بھی سمجھ رکھیں۔

قرآنی آیات سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت

پہلی آیت:۔ واذقالت الملائکۃ یٰمریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم وجیھا فی الدنیا والآخرۃ

(آل عمران ٤٥)

اور جب کہا فرشتوں نے اے مریم بے شک اللہ تعالیٰ تم کو خوشخبری سناتا ہے اپنے ایک کلمہ کی (یعنی بچے کی) اس کا نام مسیح ابن مریم ہے جو دنیا میں بھی صاحب عزت و وجاہت ہے اور آخرت میں بھی۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دینوی وجاہت کا ذکر ہی نہیں کیا۔ بلکہ اس کی خوشخبری دی۔ اب یہ وجاہت وہ وجاہت و عزت تو ہے نہیں جو دنیا داروں کو عام طور پر حاصل ہوتی ہے۔ ورنہ اس کے ذکر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ خاص کر ذکر انعام واکرام کے موقعہ پر۔ روحانی وجاہت بھی مراد نہیں ہے۔ وہ تو حضرت مریم علیہا السلام کو لفظ کلمہ سے اور اخروی وجاہت سے معلوم ہو سکتا تھا۔ وجیہاً فی الدنیا کے بیان کا کیا مقصد ہے۔ پھر اللہ

صفحہ ٤٢٢

تعالیٰ کی دی ہوئی عزت ووجاہت معمولی عزت و وجاہت بھی نہیں ہو سکتی جو خاص طور پر بطور نعمت وبشارت کے ہو۔

اب ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو پہلی عمر میں دینوی وجاہت تو حاصل نہیں ہوئی بلکہ یہود کی مخالفت نے جو گل کھلائے وہ سب کے سامنے ہیں۔ لازماً اس سے وہی وجاہت مراد ہے جو نزول کے بعد ہو گی۔ اس وقت تمام اہل کتاب بھی آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ ساری دنیا مسلمان ہو جائے گی وہ چالیس سال تک دنیا بھر میں شریعت محمدیہ کی روشنی میں دین کی خدمت کریں گے۔ بیوی اور اولاد بھی ہو گی۔ اس سے بڑھ کر دینوی وجاہت کیا ہو سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں مرزائی حوالہ جات بھی ملاحظہ ہوں۔

مسیح علیہ السلام کو اس زندگی میں وجاہت ، یعنی عزت ، مرتبہ،عظمت بزرگی ملے گی۔ اور آخرت میں بھی اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح نے ہیرو دیس اور پیلا طوس کے علاقہ میں کوئی عزت نہیں پائی۔ بلکہ غایت درجہ تحقیر کی گئی ۔‘‘

عیسیٰ علیہ السلام کو یہود بیت المقدس میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

(تفسیر بیان القرآن ج١ ص ٢١١، آل عمران ٤٥)

انھوں نے بھی (براہین احمدیہ ص ٤٩٩ خزائن ج١ ص ٥٩٣) میں لکھا۔

”ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا۔‘‘

پس مسلمانوں کے اس معنی کو مانے بغیر کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آ کر دینوی جاہ وجلال کے مالک ہوں گے چارہ ہی نہیں ہے۔ اس کے سوا سری نگر میں کسی وجاہت کی بات کسی مفسر یا مجدد کے قول سے مرزائی ثابت نہیں کر سکتے ۔

دوسری آیت:۔ فلما احس عیسیٰ منہم الکفر قال من انصاری الی اللہ ط قال الحواریون نحن انصار اللہ ج آمنا باللہ ج واشہد بانا مسلمون O ربنا امنا بما انزلت واتبعنا الرسول فاکتبنا مع الشاہدین O ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین O

(آل عمران آیت نمبر ٥٢ تا ٥٤)

١١٤

صفحہ ٤٢٣

”پھر جب عیسیٰ علیہ السلام نے ان لوگوں کی طرف سے انکار محسوس کیا فرمایا کون کون اللہ کی راہ میں میرے مددگار ہوں گے۔ حوارین نے کہا ہم اللہ کے دین کی مدد کریں گے۔ ہم اللہ پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے اس پر جو آپ نے نازل کیا اور پیغمبر کی ہم نے اطاعت کی۔ تو ہم کو گواہوں میں لکھ دے۔ اور انھوں (یہودیوں) نے تدبیر کی اور اللہ نے بھی تدبیر کی۔ اور اللہ تعالیٰ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔“ (تمام مدبروں سے بڑھ کر)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ یہودیوں نے تدبیر کی اور ہم نے بھی تدبیر کی اور ہماری تدبیر سے کس کی تدبیر بہتر ہو سکتی ہے۔

یہودیوں کی تدبیر یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کرا کر سولی پر چڑھا دیں تاکہ بقول مرزا غلام احمد قادیانی تورات کی تعلیم کے مطابق (معاذ اللہ) وہ لعنتی ہو جائیں۔

اللہ تعالیٰ کی تدبیر یہ تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو فرشتے کے ذریعے آسمان پر اٹھا لیا۔ اور ان کی شکل وصورت کے مشابہ ایک اور آدمی کو کر دیا کہ جس نے جاسوسی کر کے آپ کو پکڑوا کر سولی دلانی تھی۔ چنانچہ وہی (جاسوس) سولی پر چڑھایا گیا۔ اس کا سارا واویلا فضول گیا۔ سب نے اس کو مسیح ابن مریم ہی سمجھا۔ وہ لوگوں کو پاگل سمجھ رہا تھا کہ مجھ بے گناہ کو کیوں قتل کر رہے ہیں اور لوگ اس کو پاگل سمجھتے اور کہتے تھے کہ اب موت سے بچنے کے لیے یہ پاگل بنتا ہے۔ اب آپ مرزا غلام احمد قادیانی کی قابلیت کی داد دیں ”کہ تورات کی تعلیم یہ تھی کہ جو سولی پر لٹکایا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے۔ کیا کوئی بے گناہ سولی پر لٹکائے جانے سے خدا کے ہاں لعنتی ہو سکتا ہے؟ تورات میں بھی گناہ گار اور مجرم آدمی کا ذکر ہے۔

بے گناہ تو کتنے پیغمبر خود قرآن کے ارشادات کے مطابق قتل کیے گئے جو شہید ہوئے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی دوسری قابلیت کی بھی داد دیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام گرفتار ہوئے۔ ان کے منہ پر (معاذ اللہ) تھوکا گیا، طمانچے مارے گئے، سولی پر چڑھائے گئے۔ میخیں ٹھونکیں گئیں۔ خوب مذاق اڑایا گیا اور وہ چیخ چیخ کر خدا کو پکارتے رہے۔ اور آخر کار ان کو مقتول سمجھ کر اتار دیا گیا۔ بھلا یہ خدا کی تدبیر تھی جو بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ اس طرح تو یہود کی تدبیر کامیاب ہوئی اور بقول مرزا غلام احمد قادیانی کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہر طرح ذلیل کیا گیا اور جو یہودی چاہتے تھے وہ کر گزرے۔ حتیٰ کہ نصرانیوں کو بھی یقین دلا دیا کہ ہم نے یسوع مسیح کو قتل کر دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ خدا کی تدبیر یہ ہوئی کہ جان نہیں نکلنے دی۔

صفحہ ٤٢٤

کیا یہی وہ تدبیر تھی کہ جس کو قیامت میں اللہ تعالیٰ بطور احسان کے جتلائیں گے؟ پس معلوم ہوا کہ جو مسلمان سمجھے ہیں وہ حق ہے۔ اس آیت کریمہ کے ضمن میں مجددینؒ نے کیا لکھا ہے وہ سن لیجیے۔

آل عمران آیت نمبر ٥٤) میں لکھا ہے کہ یہود کی تدبیر تو قتل کی تیاری تھی اور خدا کی تدبیر یہ تھی کہ جبرائیلؑ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مکان کے روزن سے آسمان کو اٹھا لے گئے۔ اور ایک اور شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل پر کر دیا جس کو یہودیوں نے سولی پر چڑھا دیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہود کا شر ان تک نہ پہنچنے دیا۔

مجدد صدی ششم حضرت حافظ ابن کثیر کی تفسیر

عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر لے جایا گیا۔ اور ان کی جگہ اس غدار شخص کو سولی دی گئی۔ جس کی شکل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح کر دی گئی تھی۔

کے قتل کے لیے انتظام کیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہ تدبیر کی کہ ان کو آسمان پر اٹھا لیا اور ایک اور آدمی کو ان کی شکل پر کر دیا۔ جس کو سولی دے دی گئی۔ (جلالین ص ٥٢، آل عمران: ٥٤)

عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نے آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ اور دوسرے آدمی کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر قتل کر دیا گیا۔

اب ان مجددین کی تفسیر کو صحیح نہ ماننے والا کیسے مسلمان ہوگا؟

آیت نمبر ٣:۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تدبیر کی تفصیل بتا کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اطمینان دلایا۔ واذقال اللہ یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطهرک من الذین کفرو اوجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامة ثم الی مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون ۝ (آیت نمبر ٥٥ آل عمران) جب کہا اللہ نے اے عیسیٰ میں تم کو پوری طرح اپنی طرف اٹھاؤں گا اور کافروں سے پاک کروں گا اور تمھارے متبعین کو کافروں پر (قرب) یوم قیامت تک غالب رکھوں گا۔ پھر میرے پاس آؤ گے اور میں تمھارے درمیان فیصلہ کروں گا۔

صفحہ ٤٢٥

یہاں بھی مرزا قادیانی کی جہالت آپ پر خوب واضح ہو جائے گی۔ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے متوفیک کا معنی کیا ہے۔ ”میں تجھے موت دوں گا“ بھلا یہ بھی کوئی تسلی ہے کہ یہودی تو کہیں ہم اس کو قتل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تسلی دیتے ہیں کہ میں موت دوں گا۔ یوں تو اور ڈرانا اور پریشان کرنا ہے۔ متوفیک کے معنی میں ان مجددین کے اقوال ملاحظہ فرمائیں کہ جو مرزا ئیوں کے ہاں بھی مسلم مجدد ہیں۔

ایک مجدد کی تفسیر

اس آیت کا معنی اور مطلب مجدد صدی ششم امام رازیؒ (تفسیر کبیر ج ٤ جز ٨ ص ٧٢ تا ٧١ آل عمران آیت ٥٥) میں وہی لکھتے ہیں جو ہم نے یہاں بیان کیا۔ فرماتے ہیں توفی کے معنی ہیں اخذ الشی وافیاً۔ یعنی کسی چیز کو ہر لحاظ سے اپنے قابو میں کر لینا۔ اے عیسیٰ میں تیری عمر پوری کروں گا اور پھر تجھے وفات دوں گا۔ میں ان یہود کو تیرے قتل کے لیے نہیں چھوڑوں گا، بلکہ تجھے آسمان کی طرف اٹھا لوں گا اور تجھ کو ان کے قابو میں آنے سے بچالوں گا۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ بعض لوگ خیال کریں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم نہیں بلکہ روح اٹھائی گئی تھی۔ اس لیے متوفیک فرمایا تا کہ معلوم ہو کہ روح اور جسد دونوں آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔ اگر کہا جائے کہ جب توفی کے معنی پوری طرح قابو کر لینا ہے تو پھر اس کے بعد رافعک کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پوری طرح قابو کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک توفی موت کے ذریعے ہوتی ہے۔ ایک بمعہ جسم آسمان کی طرف اٹھا لینے سے۔ ورافعک نے دوسرے معنی کو متعین کر دیا۔ (یہ سارا بیان حضرت امام رازی کا تھا)

دوسرے مجدد کی تفسیر

امام جلال الدین سیوطیؒ جو قادیانی - لاہوری دونوں کے ہاں مجدد صدی نہم ہیں۔ اور ان کو اس درجہ کا آدمی سمجھتے ہیں کہ وہ ”متنازع فیہ مسائل میں آنحضرت ﷺ سے بالمشافہ پوچھ لیتے تھے ۔“ (ازالہ اوہام ص ١٥١ خزائن ج ٣ ص ١٧٧) وہ فرماتے ہیں۔

یا عیسیٰ انی متوفیک (قابضک) ورافعک الیّ ومن الدنیا من غیر موت۔

(تفسیر جلالین ص ٥٢ آل عمران آیت نمبر ٥٥)

ہم نے قرآن پاک کے وہ معانی کیے جن کی تائید دوسری آیت بھی کرتی ہے۔ پھر حضور ﷺ قسم کھا کر نزول عیسیٰ ابن مریم کا ذکر کرتے ہیں۔ جو بلحاظ اصول مذکورہ ظاہر پر محمول ہے۔ پھر صحابہؓ نے یہی فرمایا اور دو مجددوں کی تفسیر بھی آپ کے سامنے ہے۔ مگر مرزائی ایک ہی

١١٧

صفحہ ٤٢٦

رٹ لگاتے چلے جاتے ہیں۔ اور اس مقولے پر عمل کیے ہوئے ہیں۔ ”کہ جھوٹ اتنا بولو کہ اس کے سچ ہونے کا گمان ہونے لگے۔ مرزائی ہلدی کی گرہ لے کر پنساری بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور خاص کر ابن عباسؓ کے معنی کو لے کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ توفی کے معنی اور حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر پر ذرا تفصیلی روشنی ڈالیں۔

لفظ توفی کی تحقیق

توفی کا لغوی معنی اخذ الشئ وافیاً۔ یعنی کسی چیز کو پورا پورا قابو کر لینا یا پورا پورا لے لینا۔ یہ وفا سے ہے وفات سے نہیں۔ اس کا اصلی معنی وہی ہے جو دو مجددین نے بیان کر دیا۔ اب ان مجددین کے مقابلہ میں ہم انگریز کے خاص وفادار مرزا قادیانی کی بات کیسے مان سکتے ہیں۔

تیسرے مجدد کی تفسیر

امام ابن تیمیہؒ مجدد صدی ہفتم۔ اپنی کتاب ”الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح“ پر لکھتے ہیں۔

"لفظ التوفی فی لغتہ العرب معناہ الاستیفاء والقبض وذالک ثلثہ انواع احدھا توفی النوم والثانی توفی الموت والثالث توفی الروح والبدن جمیعاً فانہ بذالک خرج عن حال اھل الارض۔“

توفی کا معنی لغت عرب میں استیفاء اور قبض (یعنی کسی چیز کو پورا پورا لے لینا اور اس کو اپنے قابو میں کر لینا ہے) اس کی پھر تین قسمیں ہیں ایک نیند کی توفی ایک موت کی توفی اور ایک جسم اور روح دونوں کی توفی۔ اور عیسیٰ علیہ السلام اسی تیسرے طریقہ سے اہل زمین سے جدا ہو گئے ہیں۔

قرآن پاک اور لفظ توفی

قرآن پاک میں لفظ توفی بائیس مقامات پر آیا ہے۔ اگر توفی کا حقیقی معنی بقول مرزا غلام احمد قادیانی کے موت دینے کے مانے جائیں تو بعض مقامات پر معنی ہی نہیں بنتا۔

التی قضی علیھا الموت ویرسل الاخری الی اجل مسمیٰ O

(الزمر آیت نمبر ٤٢)

صفحہ ٤٢٧

اللہ تعالیٰ قابو کر لیتا ہے۔ روحوں کو ان کی موت کے وقت جو مری نہیں ان کو قابو کر لیتا ہے۔ نیند میں پھر جن کا فیصلہ موت کا کیا اس کو روک دیتے ہیں اور دوسری روحوں کو واپس کر دیتے ہیں۔ معین میعاد تک۔ اگر موت دینا مراد لیں تو معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ روحوں کو موت دیتے ہیں حالانکہ یہ غلط ہے، بلکہ معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ روحوں کو قابو کر لیتے ہیں موت کے وقت بھی اور نیند کے وقت بھی۔

(الانعام آیت نمبر ٦٠)

"خدا وہ ہے جو تم کو رات کے وقت قابو کر لیتا ہے اور جو تم دن کو کرتے ہو اس کو جانتا ہے۔"

یہاں بھی توفی سے مراد نیند ہے ورنہ لازم آئے گا کہ رات کو سارے لوگ مر جایا کریں۔

ہیں) جب قرأت زبر کے ساتھ ہو تو پھر یہاں موت دینے کے معنی بن ہی نہیں سکتے ورنہ معنی نہ ہوگا جو لوگ اپنے کو موت دیتے ہیں۔

توفی کا اصلی اور لغوی معنی تو یہ ہوا۔ اور چونکہ موت میں بھی روح قابو (قبض) کی جاتی ہے اس لیے اس کو توفی کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح نیند میں بھی روح کو ایک طرح قبض کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کو بھی توفی کہہ دیا جاتا ہے۔ مگر اصلی معنی کے سوا باقی معانی کے لیے قرینے اور دلیل کی ضرورت ہوتی ہے جیسے قرآن پاک کی بعض دوسری آیات میں قرینے موجود ہیں۔ جن کی وجہ سے وہاں موت کا معنی ہوتا ہے۔

ایک مسئلہ

باقی رہا یہ مسئلہ کہ کسی لفظ کا استعمال زیادہ تر اس کے اصلی معنی کی بجائے شرعی معنی یا عرفی معنی میں ہونے لگے تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اب اصلی معنی میں یہ لفظ کبھی استعمال نہ ہوگا، یہ قطعاً غلط ہے۔

پہلی مثال

مثلاً صلوٰۃ کے معنی دعا کے ہیں، مگر شرعی اصطلاح میں صلوٰۃ ایک خاص عبادت ہے جس میں رکوع اور سجدے وغیرہ ہوتے ہیں اور قرآن پاک میں اس اصطلاحی معنی میں سینکڑوں

١١٩

صفحہ ٤٤٨

جگہ صلوٰۃ کا استعمال ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً قرآن پاک میں ہے۔ وصل عليهم ان صلوتک سکن لهم O

(التوبہ نمبر ١٠٣)

”اور آپ ان کے لیے دعا کریں اس لیے کہ آپ کی دعا ان کے لیے باعث سکون ہے۔“

دوسری مثال

اسی طرح زکوٰۃ کا لفظ ایک خاص معنی میں زیادہ استعمال ہوتا ہے یعنی مالی عبادت کا ایک مخصوص طریقہ مگر اصلی معنی میں بھی بلا روک ٹوک استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً وحناناً من لدنا وزکوٰةً O وكان تقیاً O

(سورہ مریم: ١٣)

”اور یحییٰ علیہ السلام کو ہم نے اپنی طرف سے شوق دیا اور ستھرائی اور تھا پرہیز گار۔“

یہاں زکوٰۃ اپنے اصلی معنی پاکی میں مستعمل ہوا۔ یعنی ستھرائی اور پاکیزگی۔ اسی طرح توفی کا لفظ ہے، زیادہ تر اس کا استعمال روح کو قبض کرنے میں ہوتا ہے، چاہے نیند کی صورت میں ہو یا موت کی صورت میں، لیکن کبھی اس کا استعمال روح اور جسم دونوں کے قبض کرنے میں بھی ہوتا ہے اور یہی اس کے اصل معنی ہیں۔ یعنی: اخذ الشیئ وافیاً ۔ (کسی چیز کو پوری طرح قابو کر لینا) جیسے کہ اہل لغت اور مجددین نے کہا ہے۔

ایک مرزائی ڈھکوسلہ اور اس کا جواب

مرزا قادیانی اور اس کے پیرو کہہ دیا کرتے ہیں کہ توفی کا فاعل خدا ہو اور مفعول کوئی ذی روح ہو تو اس کا معنی قبض روح اور موت ہی کے ہوتے ہیں۔ یہ ایک دھوکہ یا ڈھکوسلہ ہے۔ ہم کہتے ہیں توفی کا فاعل خدا ہو مفعول ذی روح ہو اور اس کے بعد رفع کا ذکر ہو تو توفی کا معنی جسم و روح دونوں کا اٹھایا جانا مراد ہوتا ہے۔

ایک اور دھوکہ

مرزائیوں بلکہ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت ابن عباسؓ کے اس قول سے مسلمانوں کو بڑا دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے کہ انھوں نے بخاری میں ”متوفیک“ کا معنی ”ممیتک“ کیا ہے۔ میں تجھے موت دینے والا ہوں...... گویا وہ وفات مسیح کے قائل ہیں۔ یہ قطعاً دھوکہ اور غلط ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ”متوفیک“ کا معنی ”ممیتک“ کیا ہے۔ یہ تو تسلی اور وعدہ ہے کہ میں تجھے توفی کر کے اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ اب یہ بات کہ یہ وعدہ کب خدا

صفحہ ٤٢٩

نے پورا کیا ہم کہتے ہیں کہ جب وہ سولی پر چڑھانے کا ارادہ کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کے مطابق ان کو پوری طرح قبض کر کے آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ مرزائی کہتے ہیں کہ پوری پوری تکلیف اور ایذاؤں کے بعد سسک سسک کر موت دی۔ موت تو ہر شخص کو دی جاتی ہے یہ کیا وعدہ تھا۔ کیا اللہ تعالیٰ کے شایان شان یہی تھا۔

لیکن اماتت کے حقیقی معنی صرف مارنا اور موت دینا نہیں بلکہ سلانا اور بے ہوش کرنا بھی اس میں داخل ہے۔

(دیکھو مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٩٢٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦١)

تو معنی یہ ہوا کہ اے عیسیٰ میں تجھے سلا کر یا بے ہوش کر کے آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں۔ تو اب تمام آیات اور تفسیریں ایک طرح ہو گئیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر ممیتک کا معنی وہی موت دینے کے لیے جائیں تو ا سکا مطلب یہ ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھے موت دوں گا یہ نہیں کہہ سکتے کہ فی الحال آسمان کی طرف اٹھاتا ہوں اور ان لوگوں سے تم کو پاک کرتا ہوں۔ گویا آیت میں وہ تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں کہ موت میں دوں گا لیکن بعد میں اور فی الحال تم کو اٹھاتا ہوں۔

یہ معنی ہم اپنی طرف سے ، مرزائیوں کی طرح نہیں کرتے بلکہ مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ نے خود حضرت ابن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ تابعی ضحاک حضرت ابن عباسؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ مراد اس جگہ یہ ہے کہ میں تجھے اٹھاؤں گا اور پھر آخری زمانہ میں فوت کروں گا۔

(درمنثور)

اسی طرح مجدد صدی دہم حضرت علامہ محمد طاہر گجراتی مصنف مجمع البحار نے فرمایا کہ : انی متوفیک ورافعک الی علی التقدیم و التاخیر ویجیء اخر الزمان لتواتر خبر النزول . ”یہ متوفیک اور رافعک الی تقدیم و تاخیر کے ساتھ ہیں ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں آئیں گے۔ کیونکہ ان کے نزول کی خبر متواتر ہے۔“

امام رازیؒ نے تفسیر کبیر ج دوم سورہ آل عمران میں لکھا ہے کہ یہاں واؤ سے ترتیب ثابت نہیں ہوتی کہ پہلے وفات ہو پھر رفع، بلکہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام کریں گے، باقی کب کریں گے؟ کس طرح کریں گے؟ تو یہ بات دلیل پر موقوف ہے اور دلیل سے ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور حضورؐ سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے۔ پھر ان کو اللہ تعالیٰ اس کے بعد وفات دیں گے۔ اور یہ تقدیم و تاخیر قرآن میں بہت ہے مثلاً

١٢١

صفحہ ٤٣٠

"اے مریم اپنے رب کی عبادت کر اور سجدہ اور رکوع کر۔" تو یہاں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رکوع سے سجدہ پہلے کرے۔ کیونکہ سجدے کا ذکر پہلے آ گیا ہے۔

والاسباط وعیسیٰ و ایوب و یونس و ھارون و آتینا داؤد زبورا۔" (سورہ نساء: ١٦٣) اس آیت میں بھی واؤ سے ترتیب ثابت نہیں ہوتی کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مذکور باقی انبیاء علیہم السلام سے بعد میں آئے ہیں۔ مگر آیت میں ان کا ذکر پہلے ہے۔

عمر آیا پھر بکر اور آخر میں خالد آیا۔ واؤ ترتیب کے لیے نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سب حضرات آئے۔ باقی کس طرح اور کس ترتیب سے آئے اس کا ذکر نہیں ہے۔

مطلب یہ ہوا کہ حضرت ابن عباسؓ کے لفظوں کا معنی موت دینا ہی لے لیں تو بھی وہ حیات مسیح کے قائل ہیں اور آیت میں تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں۔

چند نکات اور سوالات

ہوں گے۔ ایسی کوئی مثال نہیں ہے۔

تدبیر فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی طرح کون بہتر تدبیر کر سکتا ہے۔ اب آپ فرمائیں کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کی تفسیر مان لیں اور متوفیک کا مفہوم ہم تیرہ سو برسوں کے مجددین ومحدثین کے مطابق نہ لیں تو پھر کس کی تدبیر غالب آئی۔ یہود کی یا خدا تعالیٰ کی، بقول مرزا غلام احمد قادیانی کے یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑوایا، مذاق اڑایا، منہ پر تھوکا، منہ پر طمانچے مارے، سولی پر چڑھایا، ان کے اعضا میں میخیں ٹھونکیں اور جو کچھ کر سکتے تھے کیا۔ آخر کار مرا ہوا سمجھ کر سولی سے اتارا۔ حالانکہ ان میں ابھی جان تھی۔ خفیہ علاج کیا گیا وہ بچ گئے اور زخم اچھے ہونے کے بعد ماں سمیت وہاں سے چلے گئے اور دو ہزار سال پہلے کے جنگلوں، صحراؤں، دریاؤں، بیابانوں کو طے کرتے کرتے افغانستان پہنچے۔ خدا جانے کس طرح پھر پنجاب آئے۔ کسی نہ کسی طرح سری نگر جا پہنچے وہاں ساری عمر گمنامی میں گزاری اور مر گئے۔

١٢٢

صفحہ ٤٣١

یہودیوں نے اپنی طرف سے قتل کر کے ان کو لعنتی قرار دے دیا، عیسائیوں کو جو موقعہ پر موجود نہ تھے یقین دلا دیا، جنھوں نے کفارے کا عقیدہ گھڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ اتنا ہی کر سکے کہ سولی پر جان نہ نکلنے دی۔

کیا یہ خدا تعالیٰ کی بہترین تدبیر تھی، پھر اسی تدبیر کا قیامت کے دن احسان جتائیں گے کہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے روکے رکھا کیا یہی روکنا تھا؟

کی کون سی تخصیص ہے۔

رافعک کا لفظ زائد اور بے سود ہو جاتا ہے جس سے قرآن کی بلاغت قائم نہیں رہتی۔ جس کی شان سب سے اعلیٰ و ارفع ہے اور نہ عربی میں ایسا ہوتا ہے۔

انی متوفیک فرمایا گیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے مطابق یہ رفع روحانی اس وقت ہوا اور موت اس وقت واقع ہوئی جبکہ تمام طرح کی تکالیف گزر چکی تھیں۔ اچھی تسلی دی گئی!

آیت نمبر ٤

وبکفرهم وقولهم علی مریم بهتانا عظیما ہ وقولهم انا قتلنا المسیح عیسی ابن مریم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولکن شبه لهم ط وان الذین اختلفوا فیه لفی شک منه ط مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه یقیناً ہ بل رفعه الله الیه وکان الله عزیزا حکیما ہ

(سورہ النساء: آیت ١٥٧، ١٥٨)

” (اور ہم نے ان یہود پر لعنت کی) ان کے کفر اور مریم پر بڑا بہتان باندھنے کی وجہ سے اور یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح ابن مریم کو قتل کر ڈالا ہے جو اللہ کے رسول ہیں۔ حالانکہ انھوں نے ان کو نہ قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا۔ البتہ ان کے لیے (ایک آدمی) مشابہ کر دیا۔ اور اس میں اختلاف کرنے والے (خود) شک کے اندر ہیں۔ ان کو اس واقعہ کا کوئی قطعی علم نہیں ہے۔ صرف ظن (تخمین) کی پیروی ہے۔ اور انھوں نے اس کو (عیسیٰ علیہ السلام) یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ بڑے غالب اور حکمت والے ہیں۔“

اس آیت کریمہ نے اصل مسئلے کا بالکل فیصلہ کر دیا کہ نہ تو یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا اور نہ ہی سولی چڑھایا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔

١٢٣

صفحہ ٤٣٢

مرزا غلام احمد قادیانی کبھی کہتے ہیں کہ روح کو اٹھایا کبھی کہتے ہیں اٹھانا بمعنی عزت دی۔ بھلا آپ خود غور کریں۔

کرتے تھے تو کیا وہ روح کو قتل کرتے تھے۔ یا جسم اور روح دونوں پر قتل کا فعل واقع ہونا تھا۔ اس سے صاف وصریح معلوم ہوا کہ رفع اس کا ہوا جس کو وہ قتل کرنا یا سولی پر چڑھانا چاہتے تھے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم اور روح دونوں تھے۔ صرف روح نہ تھی۔

السلام کی طرف راجع ہیں تو پھر رفعہ اللہ کی ضمیر کیوں ان کی طرف راجع نہیں۔

تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی روح کا رفع مراد لے کر ٨٧ سال بعد کشمیر میں رفع روحانی کہتے ہیں۔

ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند

تھے۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”وما قتلوہ و ما صلبوہ“ تو اس کا معنی یہ ہوا کہ ان یہودیوں نے ان کو قتل نہیں کیا۔ اور نہ ہی سولی پر چڑھایا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا ترجمہ یوں ہے کہ نہ ان کو قتل کیا نہ سولی پر قتل کیا۔ (کتنا بھدا ترجمہ ہے)

ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ ہر عقلمند جانتا ہے کہ بل کے بعد والی بات بل سے پہلے والی بات کی ضد ہوتی ہے۔ جیسے کہا جائے کہ زید لاہور نہیں گیا بلکہ سیالکوٹ گیا۔ یا یوں کہیں زید مسلمان نہیں بلکہ مرزائی ہے تو اس کا یہی معنی ہے کہ دوسری بات پہلی بات کے خلاف ہے۔

اب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ان کو قتل نہیں کیا بلکہ میں نے اپنی طرف اٹھا لیا تو یہ تب ہی صحیح ہوسکتا ہے کہ رفع جسمانی مراد ہو۔ ورنہ مرزا غلام احمد قادیانی کا معنی یہ ہوگا کہ انھوں نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو موت دے دی تو قتل اور موت میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ قتل میں بھی موت ہوتی ہے۔ اس ”بل“ نے بھی مرزائیوں کا بل نکال دیا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ قتل میں بھی موت خدا ہی دیا کرتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہوا کہ انھوں نے قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے موت دے دی۔

١٤٤

صفحہ ٤٣٣

اٹھا کر بچا لیا۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں کہ اس واقعہ سے ٨٧ سال بعد سری نگر میں گمنامی کی موت مرے۔ (معاذ اللہ)

مجددین امت کے بیانات

"اور نہ قتل کر سکے۔ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور نہ پھانسی پر ہی لٹکا سکے۔ بلکہ بات یوں ہوئی کہ یہود کے لیے حضرت مسیح علیہ السلام کی شبیہہ بنادی گئی اور وہی قتل کیا گیا اور سولی دیا گیا۔

(تفسیر جلالین ص ٩١)

تفسیر جلالین زیر آیت کریمہ

"نہ انھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا نہ سولی چڑھایا۔"

(ترجمہ شاہ عبدالقادر، ص ١٤٢)

قدرت اور کمال علم حاصل ہے تو اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا سے آسمانوں کی طرف اٹھانا۔ اگر چہ آدمیوں کے لیے تعذر رکھتا ہے۔ مگر میری قدرت و حکمت کے لحاظ سے اس میں کوئی تعذر نہیں ہے۔ یہ تفسیر حضرت امام رازی مجدد صدی ششم نے بیان فرمائی ہے۔

پہلی بات

یہاں پانچ باتیں ہیں۔ اگر صلیب کا معنی سولی پر قتل کرنا ہے تو سولی پر چڑھانے کے لیے عرب میں کون سا لفظ ہے۔

دوسری بات

یہ ہے کہ اگر سولی پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو چڑھایا تھا تو بجائے اس کے کہ لعنت کی وجہ ان کے قتل کا قول بناتے۔ یوں فرماتے (وبصلبهم) یعنی ان پر لعنت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھانے کی وجہ سے ہوئی۔

تیسری بات

یہ ہے یہودی تو قائل ہی اس بات کے تھے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے کر قتل کیا ہے۔ تو پھر وما قتلوہ کافی تھا۔ وما صلبوہ کی کیا ضرورت تھی۔ معلوم ہوا کہ

١٢٥

صفحہ ٤٣٤

صرف سولی پر چڑھانے کو صلب کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ مکمل طور پر حقیقت آشکارا کرنا چاہتے تھے۔

چوتھی بات

یہ ہے کہ واقعہ صلیب کا ضرور ہوا تھا۔ لاکھوں لوگوں کو علم تھا۔ ایک آدمی کو سولی دی گئی تھی اور مشہور کیا گیا تھا کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام تھے۔ تو سوال پیدا ہوتا تھا کہ سولی دی گئی تھی اگر وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ تھے تو پھر کون تھا۔ اس کا جواب قرآن پاک نے دیا ”بل شبہ لہم“ کہ ایک شخص پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہہ ڈال دی گئی (یہی غدار یہودا تھا) اس کو سولی پر لٹکا کر کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا۔

پانچویں بات

یہ ہے کہ پھر مسیح علیہ السلام کدھر گئے۔ اس کا جواب دیا گیا کہ ”بل رفعہ اللہ الیہ“ (النساء، ١٥٨) کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔

آخر میں ”عزیزاً حکیماً“ فرما کر مسلمانوں کے عقیدے کو مضبوط سے مضبوط فرما دیا۔

آیت نمبر ٥

”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا۔“ (النساء، ١٥٩) ۔

”جتنے فرقے ہیں۔ اہل کتاب کے سو عیسیٰ علیہ السلام پر یقین لاویں گے اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا ان پر گواہ۔“

مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب سارے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے پہل ایمان لے آئیں گے اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔ اس آیت کریمہ نے تو بہت ہی صفائی سے اعلان کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ ان کے مرنے سے پہلے یہود و نصاریٰ ان پر ایمان لائیں گے۔ گویا وہ بیسیوں حدیثیں اس آیت کی شرح ہیں جن میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عادل حاکم (فیصلے کرنے والے) ہو کر نازل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے۔ اس وقت اسلام تمام اکناف عالم میں پھیل جائے گا اور جو یہود و نصاریٰ بچیں گے۔ سب ان پر ایمان لے آئیں گے اور ایسے معجزات اور فتوحات دیکھنے کے بعد جو

١٢٦

صفحہ ٤٣٥

اسلامی روایات کے عین مطابق ظہور پذیر ہوں گے کیوں ایمان نہ لائیں گے۔ اب آپ ذرا چوتھی اور پانچویں آیت کا ترجمہ ملا کر پڑھیں۔

کبھی کہتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ تو قیامت تک باقی رہیں گے۔ حالانکہ صور پھونکنے (بگل بجانے) کے بعد کون زندہ رہے گا۔ ایسی تمام آیتوں میں مراد قرب قیامت ہوتی ہے ورنہ عام محاورہ ہے۔ مثلاً یہ کہیں کہ مرزائی قیامت تک مرزا غلام احمد کو مسلمان ثابت نہیں کر سکتے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارا مناظرہ قیامت تک جاری رہے گا۔

بات پر ایمان لے آتے ہیں کیونکہ موت کے وقت ان کو حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔ ان باتوں سے مرزا غلام احمد قادیانی اپنے مریدوں کو قابو رکھنے اور سادہ لوگوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ ورنہ سب سمجھ سکتے ہیں کہ آیت کریمہ میں (لیومنن) کے صیغے نے اس بات کو مستقبل کے ساتھ خاص کر لیا ہے کہ آئندہ ایسا ہو گا کہ وہ ضرور ایمان لائیں گے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی اس کا معنی لیومنن کی جگہ لیومن کرتے ہیں کہ تمام اہل کتاب ایمان لے آتے ہیں حالانکہ یہ گرائمر (صرف نحو کے) قواعد کے لحاظ سے بالکل غلط ہے۔

(غرغرہ اور نزع کے وقت) کا ایمان ہے جو ایمان مقبول نہیں جیسے فرعون کا ایمان ڈوبتے وقت کا نامنظور تھا۔ حالانکہ قرآن پاک میں صرف ایک سورۃ بقرہ میں ایمان یا اس کے مشتقات تقریباً پچاس جگہ ذکر ہوئے ہیں۔ ان سب مقامات پر بلکہ قرآن پاک کی دوسری سینکڑوں جگہوں پر ایمان سے مراد ایمان مقبول ہے۔

جب مرزا غلام احمد قادیانی کسی آیت کے معنی میں دھوکہ دینا چاہتے ہیں تو لکھ مارتے ہیں کہ یہ لفظ قرآن میں اتنی جگہ اس معنی میں استعمال ہوا ہے مگر یہاں سینکڑوں مقامات پر ایمان کے معنی ایمان مقبول سے گریز کر کے دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے۔

موتہ“ نہ کہا جاتا کیونکہ مرنے سے پہلے کا ایمان تو مقبول و منظور ہے۔ ہاں موت کے وقت یعنی غرغرے کا ایمان مقبول نہیں ہوتا تو ”قبل موتہ“ کی جگہ ”عند موتہ“ ہونا چاہیے تھا کہ ان اہل کتاب کو موت کے وقت حقیقت کا پتا چل جاتا ہے، حالانکہ قرآن پاک جیسی فصیح و بلیغ کتاب ”عند موتہ“ نہیں فرماتی بلکہ ”قبل موتہ“ فرماتی ہے۔

١٢٧

صفحہ ٤٣٦

(٥) کبھی مرزائی آڑ لیتے ہیں کہ ”قبل موتہ“ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع نہیں ہے اور ایک شاذ قرأت کا سہارا لیتے ہیں جس میں ”قبل موتہ“ کی جگہ ”قبل موتھم“ آیا ہے، حالانکہ پہلے تو قرأت متواترہ کے مقابلہ میں قرأت شاذہ کا کیا اعتبار ہے جبکہ وہ کمزور ہے۔ پھر اگر مان لیا جائے تو اس صورت میں معنی اس طرح کریں گے جو قرأت متواترہ کے مطابق ہوں۔ اس طرح معنی یوں ہوں گے کہ جب (عیسیٰ علیہ السلام) دوبارہ آئیں گے تو اس وقت کے بچے ہوئے سارے اہل کتاب اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔

اور یہ معنی ان بیسیوں حدیثوں کے عین مطابق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔

(٦) اب آیت نمبر ٤ اور آیت نمبر ٥ کو ملا کر پھر پڑھیں یہاں ذکر ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے۔ ان کو قتل نہیں کیا۔ ان کو سولی نہیں دی۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ ان پر ان کے مرنے سے پہلے تمام اہل کتاب کو ایمان لانا ہوگا۔ اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔ تمام ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں انھیں کا ذکر ہے۔ اس کے سوا کوئی اور معنی کرنا قرآن پاک سے مذاق کرنے کے مترادف ہے۔ قرآن پاک کا فیصلہ بالکل صاف ہے۔

(٧) اب آپ مرزا قادیانی کا ترجمہ دیکھ کر ذرا لطف اٹھائیں۔ وہ اس کا معنی (ازالہ اوہام طبع اول ص ٣٧٢ خزائن ج ٣ ص ٢٩١) میں یوں لکھتے ہیں: ”کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ پر جو ہم نے (خدا نے) اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کیے ہیں۔ ایمان نہ رکھتا ہو۔ قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لاوے جو مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا۔“

پہلے تو مرزا غلام احمد قادیانی کے اس ترجمے کا مطلب ہی کوئی نہ سمجھے گا اگر سمجھ بھی جائے تو مرزا ناصر احمد اور سارے مرزائی بتائیں کہ یہ الفاظ جو مرزا غلام احمد قادیانی نے ترجمہ میں گھسیڑے ہیں قرآن پاک کے کن الفاظ کا ترجمہ ہے۔ ورنہ پھر حدیث رسولؐ کے مطابق جہنم کے لیے تیار رہیں۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ ”مومن کا کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کرے۔“

(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٢٨، خزائن ج ٣ ص ٢٦٧)

اگر ایمان ہے تو تیرہ سو سال کے مجددین یا کسی حدیث سے یہ معنی ثابت کریں۔ اس آیت کریمہ کا مطلب بالکل صاف ہے۔

١٢٨

صفحہ ٤٣٧

مگر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مزید وضاحت یا تائید کے لیے بعض بزرگان سلف کے ارشادات بیان کر دیئے جائیں۔ امام شعرانی (الیواقیت والجواہر ج ٢، ص ١٤٦) میں لکھتے ہیں ۔ الدلیل علی نزولہ قولہ تعالیٰ وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای حین ینزل...... والحق انہ رفع بجسدہ الی السماء والایمان بہ واجب۔

”اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی دلیل یہ آیت ہے ”وان من اہل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای حین ینزل......“ اور حق یہ ہے کہ وہ جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور اس بات پر ایمان لانا واجب ہے۔“

المسیح (ج ٢ ص ٢٨٣) میں فرماتے ہیں۔

”الا لیؤمنن بہ میں ایمان نافع مراد ہے جو قبل از موت ہے۔ موت کے وقت غرغرے اور نزع کے وقت کا ایمان نہیں ہے۔ جس سے کوئی فائدہ نہیں اور تمام کافروں کے لیے ہے اور تمام باتوں کے مان لینے کے لیے ہے۔ جس سے بھی انکار کرتے تھے اس میں حضرت مسیح کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔ لیؤمنن مستقبل ہی میں مستعمل ہوتا ہے اور سب اہل کتاب حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات سے پہلے ایمان لے آئیں گے۔“

آیت کریمہ پڑھی اور بتایا کہ اس آیت کریمہ میں اسی مسیح علیہ السلام کی زندگی کا ذکر کیا ہے۔ جن کے نزول کی خبر سرور عالم ﷺ نے دی ہے۔ ہزاروں صحابہؓ میں سے کسی نے انکار نہیں کیا۔ اور اس طرح اس مسئلہ پر اجماع صحابہؓ منعقد ہو گیا۔

(بخاری ج ١، ص ٤٩٠، باب نزول عیسیٰ بن مریم)

ایک چیلنج

مسلمہ معنی کے لحاظ سے تو معنی ظاہر ہیں مگر مرزا جی بتائیں کہ ’یوم القیمۃ یکون علیہم شہیدا“ کا کیا معنی ہے وہ کس بات کے گواہ ہوں گے، حق و ناحق کو تو تمام کافر موت کے وقت پہچان لیں گے۔ تو وہ کس پر گواہی دیں گے اور کس بات کی دیں گے۔

دوسرا چیلنج

کیا کسی ایک محدث، مفسر اور مجدد کا نام لیا جا سکتا ہے جس نے اس آیت کا وہ معنی کیا

١٢٩

صفحہ ٤٣٨

ہو جو مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا ہے؟ اگر یہ من گھڑت معنی ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی کے اس قول کو یاد رکھیں کہ ”ایک نیا معنی اپنی طرف گھڑنا الحاد و زندقہ ہے ۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٧٥، خزائن ج ٣ ص ٥٠١)

آیت نمبر ٦

واذقال الله يا عيسى ابن مريم اذكر نعمتى عليك وعلى والدتك اذ ايدتك بروح القدس تكلم الناس فى المهد و كهلا O واذ علمتك الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل واذ تخلق من الطين كهيئة الطير باذنى فتنفخ فيها فتكون طيرا باذنى و تبرئ الا كمه والابرص باذنى واذ تخرج الموتى باذنى واذ كففت بنى اسرائيل عنك اذ جيتهم بالبينات فقال الذين كفروا منهم ان هذا الا سحر مبين O (المائدہ: ١١٠)

”اور جب کہے گا اللہ اے عیسیٰ بیٹے مریم کے میری مہربانی یاد کر جو تم پر اور تمہاری والدہ پر میں نے کی۔ جب میں نے تمہاری مدد روح القدس سے کی۔ تم گود میں اور بڑی عمر میں لوگوں سے باتیں کرتے تھے۔ اور جب میں نے تمھیں کتاب وحکمت اور تورات وانجیل کی تعلیم دی۔ اور جب تم گارے سے پرندے کی شکل میرے حکم سے بنا کر اس میں پھونک دیتے تھے تو وہ پرندہ ہو جاتا میرے حکم سے۔ اور جب میں نے بنی اسرائیل کو روکے رکھا تم سے۔ جب تم ان کے پاس کھلے دلائل لائے تو کافروں نے ان میں سے کہا یہ تو بس صاف صاف جادو ہے۔“

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے علاوہ اور احسانات کے یہ بھی فرمائیں گے کہ میں نے ان کو تم سے روکے رکھا۔ یعنی دست درازی اور ہاتھوں کو روکنا تو درکنار ہم نے ان کو آپ تک پہنچنے بھی نہ دیا۔ اس میں کمال حفاظت کی نعمت کا ذکر ہے اور اسی صورت میں یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور احسان ہے ورنہ جس طرح مرزا قادیانی نے بیان کیا۔ وہ ایک مذاق ہی ہے۔

یہاں مرزائیوں نے اعتراض کیا ہے کہ وعدہ عصمت کے بعد رسول اللہ ﷺ کو جنگ احد میں تکلیف پہنچی۔ پہلے تو اس کا جواب یہ ہے کہ عصمت اور بچانا اور چیز ہے اور ”کف“ بمعنی روکے رکھنا اور چیز ہے۔ پھر یہ آیت کریمہ سورہ مائدہ کی ہے جو ٥ ہجری اور ٧ ہجری کے درمیان نازل ہوئی۔ محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور نے اپنی (تفسیر بیان القرآن ص

١٣٠

صفحہ ٤٣٩

٤٣٦) میں اس بات کا اقرار کیا ہے اور خاص کر یہ آیت کریمہ واللہ یعصمک من الناس دورانِ سفر ذات الرقاع غزوہ انمار میں نازل ہوئی تھی جو ٥ ہجری میں واقع ہوا۔ یہ بات مرزائیوں کے مسلم مجدد صدی نہم امام سیوطیؒ نے ”تفسیر اتقان جزو اول ص ٣٢“ میں لکھی ہے۔ پس (نزول المسیح ص ٥١، خزائن ج ١٨ ص ٥٤٩) میں مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ وعدہ عصمت کے بعد حضورؐ کو جنگِ احد میں تکلیف پہنچی تھی بالکل جھوٹ ثابت ہو جاتا ہے۔ اب مجددین کی رائے ملاحظہ ہوں۔

اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات میں صفائی سے یہ بیان کیا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو تم سے روکے رکھا۔ جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاں تو خدا تعالیٰ نے ان یہود کو اس طرح روکے رکھا کہ وہ پکڑ کر لے گئے۔ منہ پر تھوکا، طمانچے مارے۔ مذاق اڑایا، سولی پر چڑھایا، اعضا میں میخیں ٹھونکیں، وہ چیختا رہا کہ اے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ پھر یہودیوں نے اس کو مردہ سمجھ کر اتار دیا۔ خفیہ علاج ہوا۔ مرہم رکھتے رہے آخر اچھا ہو کر وہ وہاں سے بھاگے اور پہاڑوں اور دریاؤں ، بیابانوں کو طے کرتے ہوئے سرحد پنجاب پہنچے۔ پھر کسی طرح کشمیر پہنچ گئے اور سری نگر میں (توبہ کر کے) خاموش زندگی گزار دی اور وہیں مر گئے۔ مرزائیوں کے ہاں یہ اللہ تعالیٰ کی کامیاب تدبیر تھی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہود کو عیسیٰ علیہ السلام تک نہیں پہنچنے دیا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

کف کا معنی

کف کا معنی عربی میں روکے رکھنے کے ہیں قرآن پاک میں ہے۔ سورۃ نساء آیت نمبر ٩١ میں ...... یکفوا ایدیہم سورۃ مائدہ آیت نمبر ١١ میں ...... فکف ایدیہم عنکم سورۃ نساء آیت نمبر ٧٧ میں ...... کفوا ایدیکم سورۃ فتح آیت نمبر ٢٠ میں ...... ”و کف ایدی الناس عنکم“ سورۃ فتح آیت نمبر ٢٤ میں ...... ”الذی کف ایدیہم عنکم وایدیکم عنہم“ ان تمام مقامات میں قرآن پاک نے اسی کف کو روکے رکھنے کے معنی میں استعمال کیا ہے۔

قرآن پاک کا اعجاز

چونکہ ان جگہوں میں ایک دوسرے کا سامنا ہوا یا مقابلہ کی شکل بنی تو اللہ تعالیٰ نے

١٤١

صفحہ ٤٤٠

فرمایا کہ ہم نے ایک کے ہاتھ دوسرے تک پہنچنے سے روکے رکھے۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں یہود اور پولیس سے مقابلے اور آمنے سامنے ہونے کی نوبت ہی نہیں آئی اس لیے ”ایدی“ نہیں فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو آپ سے روکے رکھا۔ نہ تو وہ آپ تک پہنچنے پائے اور نہ ہی مقابلے کی صورت پیدا ہوئی۔ ایک صورت اعجاز کی یہ بھی ہے۔ اب آپ مجددین کی رائے ملاحظہ فرمائیں۔

”وكهلا“ يفيد نزوله قبل الساعة لانه رفع قبل الكهولة كما سبق في آل عمران . (جلالین شریف)

”وکہلاً“ سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے نازل ہوں گے اس لیے کہ وہ کہولت سے پہلے ہی اٹھا لیے گئے تھے۔

نقل ان عمر عيسى عليه السلام الى ان رفع كان ثلاثا وثلاثين سنة و ستة اشهر وعلى هذا التقدير فهو ما بلغ الكهولة والجواب من وجهين ...... والثاني قول الحسين بن الفضل ان المراد بقوله وكهلا ان يكون كهلا بعد ان ينزل من السماء فى آخر الزمان ويكلم الناس ويقتل الدجال قال الحسين بن الفضل وفى هذه الاية نص على انه عليه السلام سينزل الى الارض.

”نقل ہے جب عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے گئے ان کی عمر ساڑھے ٣٣ برس تھی۔ (گویا انھوں نے ادھیڑ عمر میں لوگوں سے باتیں نہیں کیں) حضرت حسین بن الفضل فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ نزول کے بعد کہولت کے زمانہ میں وہ باتیں کریں گے۔ دو ہزار سال کے بعد بوڑھا نہ ہونا پھر ادھیڑ عمر ہو کر باتیں کرنا یہ وہ نعمت ہے جس کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جتائیں گے۔ حضرت حسین بن فضل فرماتے ہیں کہ آیت میں تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عنقریب زمین پر اتریں گے۔“

باقی دوسرا احسان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پنگھوڑے میں باتیں کرنا یہ کیا مشکل ہے جب جبرائیل علیہ السلام کے پاؤں کے نیچے کی مٹی سے سامری کا بچھڑا جو دھات سے بنا تھا بول اٹھا، تو جو بزرگ پیدا ہی جبرائیل علیہ السلام کی پھونک سے ہوئے تھے۔ ان کا بچپن میں باتیں کرنا کیوں تعجب خیز ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے تو لکھا ہے کہ میرے اس لڑکے نے دو بار ماں کے پیٹ میں باتیں کیں۔ خدا جانے کہاں کان رکھ کر یہ باتیں سنی گئیں۔ بہر حال یہ اس

١٣٢

صفحہ ٤٤١

سے زیادہ مشکل ہے۔

آیت نمبر ٧

واذ قال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم أ انت قلت للناس اتخذونی و امی الہین من دون اللہ قال سبحانک مایکون لی ان اقول ما لیس لی بحق ط ان کنت قلتہ فقد علمتہ ط تعلم ما نفسی ولا اعلم ما فی نفسک ط انک انت علام الغیوب ط ما قلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا اللہ ربی وربکم ، و کنت علیہم شہیدا ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم ط وانت علی کل شیء شہید ط ان تعذبہم فانہم عبادک وان تغفر لہم فانک انت العزیز الحکیم۔ (المائدہ: ١١٨)

”اور جب کہیں گے اللہ تعالیٰ اے عیسیٰ بن مریم کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا تعالیٰ کے سوا معبود بنا لو۔ وہ عرض کریں گے کہ اے اللہ آپ برتر اور شرک سے پاک ہیں، یہ میرے لیے کیسے ممکن ہے کہ وہ بات کہوں جس کا کسی طرح مجھے حق نہیں۔ اگر میں نے کہا تھا تو آپ اس کو جانتے ہیں۔ آپ میرے دل کی بات جانتے ہیں میں آپ کی بات نہیں جانتا۔ آپ بے شک غیب کی باتوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں نے ان کو وہی بات کہی ہے جس کا آپ نے حکم دیا کہ میرے اور اپنے مالک کی عبادت کرو اور میں ان کا نگہبان (یا گواہ) تھا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا آپ خود ہی نگہبان (یا گواہ) تھے اور آپ ہر بات کے گواہ (اور واقف) ہیں اگر آپ ان کو عذاب دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں۔ (آپ کو حق حاصل ہے) اور اگر آپ ان کو بخش دیں تو آپ (پوری طرح) غالب اور حکمتوں والے ہیں۔ (سب کچھ کر سکتے ہیں)۔“

یہاں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا ذکر فرماتے ہیں۔ یہ اس لیے نہیں کہ اللہ تعالیٰ جانتے نہیں یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ باللہ) ملزم ہیں، بلکہ اہل کتاب کو ذلیل و رسوا اور لا جواب کرنے کے لیے پوچھا جائے گا۔ کیونکہ عیسائی ان کو خدا اسی لیے بناتے تھے کہ ان کا خیال تھا یا جان بوجھ کر جھوٹ گھڑ لیا تھا کہ یہ تعلیم حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی ہے۔ اس سوال کے جواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہی کچھ کہیں گے جو ایک پیغمبر کے شایانِ شان ہے۔ آخر میں فرمائیں گے جب تک میں ان میں رہا ان کا نگران تھا، مگر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا پھر آپ خود ہی نگران اور گواہ تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہاں بھی ”توفیتنی“ کا معنی غلط کیا

١٣٣

صفحہ ٤٤٢

ہے کہ ”جب آپ نے مجھے وفات دی“ مگر صریحاً غلط ہے کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی تو ستاسی سال واقعہ صلیب کے بعد سری نگر میں ان کو مارتے ہیں اور اس وقت تک بقول ان کے وہ زندہ تھے اور عیسائی ان سے پہلے ہی بگڑ چکے تھے۔

چنانچہ (چشمہ معرفت ص ٢٥٤، خزائن ج ٢٣، ص ٢٦٦) پر لکھتا ہے۔

”انجیل پر ابھی تیس برس بھی نہیں گزرے تھے کہ خدا کی جگہ عاجز انسان کی پرستش نے لے لی۔“

اس طرح بقول مرزا غلام احمد قادیانی کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے اسی نوے سال پہلے عیسائی بگڑ چکے تھے۔ تو وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مرنے سے پہلے میں گواہ تھا۔ وہ تو دروں، پہاڑوں، دریاؤں اور بیابانوں میں پریشان پھرتے پھراتے سری نگر پہنچے جبکہ اس زمانہ میں وہاں بغیر لشکر کے پہنچنا اور اپنی قوم کے حالات سے واقف ہونا مشکل تھا۔ نیز آیت کریمہ سے مرزائی ترجمہ کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی علیحدگی ان لوگوں سے موت کے ذریعے ہوئی تھی۔ حالانکہ بقول مرزا غلام احمد قادیانی علیحدگی عرصہ دراز پہلے ہوئی اور موت بعد میں۔

اب آپ آیت کریمہ کا اعجاز ملاحظہ کریں کہ ”مادمت فیہم“ فرمایا ہے۔ ”مادمت حیا“ نہیں فرمایا کہ جب تک میں زندہ رہا۔ بلکہ یہ فرمایا کہ جب تک میں ان میں رہا۔ مطلب صاف ہے کہ جب آپ آسمان کی طرف لے جائے گئے تو آپ کی ذمہ داری یا نگرانی کیسے باقی رہی۔

مرزا غلام احمد قادیانی لوگوں کو احمق بنانے کے لیے کہتے ہیں کہ جب ان کو دوبارہ آنا ہے تو وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مجھے کوئی علم نہیں۔

السلام کے بارہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کا کیا خیال ہے جب ان سے قیامت میں پوچھا جائے گا۔ ماذا اجبتم قالوا لاعلم لنا ہ ”تمھیں کیا جواب دیا گیا وہ عرض کریں گے ہمیں کوئی علم نہیں۔“

مرزا غلام احمد قادیانی، جو جواب یہاں دیں گے وہی جواب ہمارا بھی سمجھ لیں۔

السلام کو ان کی امت کی بے راہ روی کا علم ہوا تو انھوں نے زمین پر اپنا مثیل اور صفاتی رنگ میں اپنا بروز چاہا۔ جب مرزا غلام احمد قادیانی کو بروزی مسیح بننے کی ضرورت ہوئی تو یہاں تک

١٣٤

صفحہ ٤٤٣

مان لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان میں ان کی امت کی برائیوں کا علم ہوا۔ اور جب مسلمانوں کو دھوکا دینا ہو تو یوں گویا ہوتے ہیں کہ ”لاعلمی ظاہر کریں گے؟ حالانکہ آنے سے پہلے ہی ان کو اللہ تعالیٰ نے سب باتوں کا علم دے دیا ہوتا ہے اور غیاب کے زمانہ کی کوئی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوتی نہ وہ نگران ہوتے ہیں۔ باقی انھوں نے علم سے انکار نہیں کیا ہے۔ ”کنت انت الرقیب علیہم“ میں شہید کے مقابلہ میں رقیب استعمال کر کے صاف بتا دیا کہ یہاں علم کا سوال ہی نہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ میں نے ان غلط باتوں کا نہیں کہا اور جب تک میں ان میں رہا میں نگران تھا۔ میرے اٹھائے جانے کے بعد آپ خود ہی نگران تھے۔

آیت نمبر ٨

وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون ط هذا صراط مستقيم.

(الزخرف، ٦١)

”اور یقینا وہ (عیسیٰ علیہ السلام) یقینی نشانی ہیں قیامت کی سو شک نہ کرو اس میں اور میری تابعداری کرو، یہ سیدھی راہ ہے۔“

اس آیت میں صاف صاف بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور دوبارہ تشریف لانا قیامت کی دلیل ہے۔ جس کا ذکر ہم عنقریب کریں گے ان شاء اللہ۔

عیسیٰ علیہ السلام یا ان کا نزول قیامت کی نشانی ہے۔

ایک اور روایت درج کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ جس رات حضور کو معراج ہوئی اس رات سرور عالم ﷺ کی ملاقات حضرت ابراہیمؑ ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ سے ہوئی۔ قیامت کا تذکرہ چلا تو حضرت ابراہیمؑ نے اس کے علم سے انکار کر دیا۔ اس طرح حضرت موسیٰؑ نے بھی انکار کر دیا۔ جب حضرت عیسیٰؑ کا نمبر آیا۔ انھوں نے فرمایا کہ وقوع قیامت کا علم سوائے خدا کے کسی کو نہیں اور جو عہد میرے ساتھ ہے وہ اتنا ہے کہ قرب قیامت میں دجال خارج ہوگا۔ میں نازل ہو کر اس کو قتل کروں گا۔“

(ابن ماجہ۔ مسند احمد۔ حاکم۔ ابن جریر اور بیہقی بحوالہ درمنثور)

حضرت عیسیٰ کا قیامت سے پہلے تشریف لانا مراد لیتے ہیں۔

١٣٥

صفحہ ٤٤٤

صدی ششم نے (تفسیر کبیر ج ١٣ جزء ١، ص ٢٢٢) میں اس آیت کریمہ کے تحت انه کی ضمیر حضرت عیسیٰؑ کی طرف راجع کی اور ان کے نزول کو قرب قیامت کی نشانی قرار دیا۔

تصدیق از انجیل

(انجیل متی باب ٢٤، انجیل مرقس باب ١٣) اور انجیل لوقا میں ہے کہ ”میرے نام سے بہتیرے آئیں گے یقین نہ کرنا۔ یسوع سے پوچھا گیا کہ دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے اور یہ باتیں کب ہوں گی، جبکہ وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا، اس نے کہا جھوٹے نبی اور جھوٹے مسیح تم کو گمراہ نہ کریں کسی کی بات نہ ماننا، جیسے بجلی کوند کر پورب سے پچھم کو جاتی ہے اسی طرح ابن مریم آئے گا قدرت اور جلال کے ساتھ۔

اس سے یہ نتائج برآمد ہوئے۔

یہی مضمون قرآن وحدیث میں بھی موجود ہے۔ ...... مرزائیوں کو چاہیے کہ اس پر ایمان لا کر مسلمان ہو جائیں۔

آیت نمبر ٩

ويكلم الناس فى المهد وكهلا. (الایۃ۔ آل عمران: ٤٦)

یہ دراصل وہی پہلی آیت ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر ہے۔ یہاں اس طرف توجہ دلانی مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ خاص طور پر زمانہ ”کہولت“ (ادھیڑ عمر) میں باتیں کرنے کا ذکر فرماتے ہیں۔ پھر قیامت کے دن اپنے احسانات میں بھی زمانہ کہولت میں باتیں کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔

حالانکہ بڑی عمر میں باتیں کرنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خاص نہیں ہے کہ ان پر احسان جتایا جائے۔ یہ تو سب انسانوں کو حاصل ہے۔ بات یہی ہے کہ چونکہ بڑی عمر میں باتیں کرنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ وہ آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے۔ اس لیے جب دوبارہ آئیں گے تو وہ زمانہ کہولت میں لوگوں سے باتیں کریں گے۔ یہ خاص اور معجزانہ انداز کی باتیں ہوں گی۔

١٤٦

صفحہ ٤٤٥

مرزا غلام احمد قادیانی کی تصدیق

ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب دوبارہ آئیں گے تو چونکہ پہلے ان کی شادی نہ ہوئی تھی۔ اس لیے وہ شادی بھی کریں گے۔ اس ضمن میں مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں۔ ”شادی تو ہر شخص کرتا ہے۔ اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١، ص ٣٣٧)

(اس مقام پر مرزا غلام احمد قادیانی نے محمدی بیگم کے ساتھ اپنے نکاح کے بارہ میں سرور عالم ﷺ کو بھی ملوث کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔ اگر حضور نے تیرہ سو برس پہلے فرمایا تھا کہ محمدی بیگم سے مرزا غلام احمد قادیانی کی شادی ہوگی اور اس ارشاد کا معنی وفات شریف تک آپ پر نہ کھلا تو آپ پیغمبر کیسے ہوئے۔ (العیاذ باللہ )

اس طرح ہم کہتے ہیں کہ ادھیڑ عمر میں باتیں کرنا کون سا کمال ہے کہ پیدائش کے ذکر میں بھی اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہیں اور قیامت میں بھی احسان جتائیں گے۔ معلوم ہوا کہ یہ کہولت معجزانہ کہولت ہے جو دو ہزار سال گزرنے کے بعد کی ہے۔

انجیل کا فیصلہ

قرآن کریم کے فیصلے کے ساتھ انجیل کا فیصلہ بھی ملاحظہ کریں۔ انجیل برنباس جس کو مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب ”سرمہ چشم آریہ“ (ص ٢٤٠، خزائن ج ٢، ص ٢٨٨) میں نہایت معتبر قرار دیا ہے کہ (فصل نمبر ٢١٤، ٢١٥، ٢١٦، ٢١٧) اسی طرح (فصل ٢٢٢۔٢٢٤) میں حضرت عیسیٰ کے حواری برنباس نے تفصیل سے لکھا ہے کہ:

جب یہود نے حضرت یسوع مسیح کو پکڑ کر سولی کے ذریعے قتل کرنا چاہا اور جاسوسی کا کام یہودا اسخریوطی سے لیا تو اللہ نے یہودا کی شکل وصورت اور آواز حضرت عیسیٰ کی طرح بنا ڈالی اور حضرت عیسیٰ کو فرشتے کے ذریعے چھت کے روزن سے آسمان پر (زندہ جسم سمیت) اٹھا لیا۔ یہودا ہر چند چیخا چلایا مگر سب نے اس کو مسیح ابن مریم ہی سمجھا اور بڑی ذلت سے لے جا کر اس کو سولی پر چڑھایا۔ میخیں ٹھونکیں اور قتل کے بعد لاش کو اتار دیا۔ برنباس کہتا ہے کہ میں اور حضرت یسوع مسیح کی ماں سب یہودا کو اس کی آواز اور صورت وشکل کی وجہ سے مسیح ہی سمجھ رہے تھے۔ اس وقت ہم سولی کے قریب تک گئے وہ تکلیف اور غم بیان سے باہر ہے۔ بعد میں اصل حقیقت کھلی مگر یہودیوں نے مشہور کر دیا کہ ہم نے ان کو قتل کر ڈالا۔ حواری بھاگ گئے تھے اور کوئی موجود نہ تھا۔” بعض عیسائیوں نے تین دن کے بعد آسمان پر زندہ کر کے اٹھانے کا

١٤٧

صفحہ ٤٤٦

عقیدہ گھڑا حق چھپ گیا اور باطل نے اس کو دبا لیا۔ انجیل برنباس کا یہ بیان قرآن پاک کے بالکل مطابق ہے۔

عقل و دانش کا تقاضا

جب قرآن پاک اصلاح کے لیے نازل ہوا ہے اور اس نے یہودیوں اور عیسائیوں کے غلط عقیدوں کی تردید کر دی ہے تو پھر جب عیسائیوں کی اکثریت ان کے آسمان پر زندہ ہونے کا عقیدہ رکھتی تھی تو قرآن پاک نے ”رفعک“ اور ”بل رفعہ الله الیہ“ فرما کر کیوں ان کے غلط عقیدے پر مہر تصدیق ثبت کی؟

قرآن کریم نے تو اس طرح صاف و صریح بیان کیا کہ تمام صحابہؓ اور تیرہ سو سال کے مجددین و محدثین نے یہی سمجھا کہ وہ زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے ہیں۔ اگر واقعی وہ زندہ جسم سمیت آسمان پر نہ اٹھائے گئے ہوتے تو پہلے تو قرآن پاک واضح طور سے ان کی تردید کرتا ورنہ ایسے الفاظ تو قطعا استعمال نہ کرتا کہ جس سے ان کی تائید ہو سکتی۔

سرور عالم ﷺ کی تفسیر

قرآن کے معانی حضورؐ سے بڑھ کر کون سمجھ سکتا ہے۔ اب ہم آپ کو حضورؐ کے بیان کردہ معانی بتاتے ہیں۔

حدیث نمبر ١

عن ابی ھریرةؓ قال قال رسول الله ﷺ والذی نفسی بیدی لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكما عدلا فیکسر الصلیب و یقتل الخنزیر ویضع الجزیة ویفیض المال حتی لا یقبله احد حتی تکون السجدة الواحدة خيرا من الدنیا وما فیها ثم یقول ابوھریرة فاقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتب الا لیؤمنن به قبل موته. (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسیٰ ومسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عیسیٰ)

”حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ تحقیق ضرور آئیں گے تم میں ابن مریم حاکم و عادل ہو کر پس صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے۔ ان کے زمانہ میں مال اس قدر ہوگا کہ کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔ اگر تم چاہو تو (قرآن کی یہ آیت) پڑھو و ان من اھل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موتہ o

١٤٨

صفحہ ٤٤٧

اس ارشاد میں سرور عالم ﷺ نے قسم کھا کر بیان فرمایا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے کہنے کے مطابق قسم کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کلام میں کوئی تاویل یا استثناء نہیں ہے ورنہ قسم بے فائدہ ہو جاتا ہے۔ پس یقینی ثابت ہو گیا کہ:

میں دھکے کھاتے رہے)

دی تھی اور اپنے ایک لڑکے کو عاق اور وراثت سے محروم کر دیا تھا اور دوسرے سے بیوی طلاق کروائی تھی)

پرستی میں کمی آئی)

کتابوں، مہمانوں اور کبھی مینارۃ المسیح کے لیے چندے کی اپیلیں کرتے کرتے تھک گئے تھے)

نمازوں اور سجدوں میں نمایاں کمی آ گئی۔ پھر جلیل القدر صحابی حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ اور کوئی اہل کتاب نہیں رہے گا مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے ان پر ایمان لائے گا۔

آنے والے کو قرآن کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرار دیتے اور ان کی زندگی کا اعلان کرتے ہیں۔ باقی ہزاروں کی تعداد میں صحابہؓ موجود تھے۔ ان میں سے کسی نے بھی تردید نہیں کی۔ اور حدیث ہے بھی بخاری اور مسلم شریف کی۔ ان الفاظ نے تو آیت کا معنی متعین کر کے معاملہ ہی صاف کر دیا۔

بڑی بات

یہ ہے کہ حدیث میں حضور نبی کریم ﷺ نے قسم کھائی ہے اور مرزا کے مسلم اصول کے

١٣٩

صفحہ ٤٤٨

تحت اس میں کوئی تاویل واستثناء نہیں ہو سکتی ورنہ قسم میں فائدہ ہی کیا ہے۔ اب آپ خود اندازہ فرمائیں کہ اس حدیث شریف سے مریم علیہ السلام کے بیٹے کا نزول مراد ہے یا چراغ بی بی کے بیٹے کا۔ اور حدیث میں بیان کی گئیں باقی باتیں بھی مرزا غلام احمد قادیانی پر منطبق ہوتی ہیں؟

حدیث نمبر ٢

عن ابی ھریرۃؓ عن النبی ﷺ قال الانبیاء اخوۃ لعلات امھاتھم شتی ودینھم واحد ولانی اولی الناس بعیسی ابن مریم لانہ لم یکن بینی وبینہ نبی وانہ نازل فاذا رأیتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض علیہ ثوبان ممصران رأسہ یقطر وان لم یصبہ بلل فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیہ ویدعو الناس الی الاسلام فتھلک فی زمانھا الملل کلھا الاسلام وترتع الاسود مع الابل والنمار مع البقر والذیاب مع الغنم وتلعب الصبیان بلحیات فلا تضرھم فیمکث اربعین سنۃ ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون۔

(رواہ ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٥، مسند احمد ج ٢ ص ٤٠٦)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا انبیاء علیہم السلام پدری بھائی ہیں۔ ان کی مائیں جدا جدا ہیں اور دین ایک ہے اور میں عیسیٰ ابن مریم کے سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں۔ اس لیے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔ اور وہ نازل ہوں گے۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو پہچان لو وہ درمیانہ قامت۔ سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ۔ زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا۔ گو سر پر پانی نہ ڈالا ہو وہ صلیب کو توڑیں گے۔ اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ اور جزیہ ترک کردیں گے اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے۔ ان کے زمانے میں سارے مذاہب ہلاک ہو جائیں گے۔ سوائے اسلام کے۔ اور شیر اونٹوں کے ساتھ اور چیتے گائے بیلوں کے ساتھ۔ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے۔ اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے۔ اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے۔ پس عیسیٰ ابن مریم چالیس سال تک رہیں گے اور پھر فوت ہو جائیں گے۔ اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔

(ہم نے اس روایت کو مرزا بشیر الدین محمود کی کتاب (حقیقتہ النبوہ حصہ اول ص ١٩٢) سے انہی کے ترجمہ کے ساتھ نقل کیا ہے)

اس حدیث کی صحت تو فریقین کے ہاں مسلم ہے۔ اس میں حضور کا ارشاد صاف

١٤٠

صفحہ ٤٤٩

مصرح ہے کہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔ ان کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔

مرزائی خیانت

”لم یکن بینی وبینہ“ کا معنی مرزا محمود نے یہ کیا کہ اس کے اور میرے درمیان نبی نہیں، حالانکہ لفظ لم یکن کا معنی ہے کوئی نبی نہیں ہوا۔ یہ ماضی کا بیان ہے جس کو خلیفہ محمود نے چھپایا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہی عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے تو معلوم ہوا کہ انھیں کا رفع ہوا ہے اور وہ زندہ آسمان میں موجود ہیں کیونکہ بقول مرزا غلام احمد قادیانی نزول فرع ہے صعود کی۔ ملاحظہ ہو (انجام آتھم ص ١٦٨، خزائن ج ١١ ص ١٦٨) اس حدیث پاک نے بھی مرزائی تاویلات کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔

دوسری خیانت

مرزا محمود قادیانی نے دوسری خیانت یہ کی کہ ابو داؤد شریف میں مذکور حدیث کے الفاظ ”ویقاتل الناس علی الاسلام“ کو سرے سے کھا گئے کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مقاتلہ نہ کبھی کیا نہ اس کے حق میں تھے۔ وہ تو صرف انگریزوں کے لیے دعائیں کرنا جانتے تھے۔

حدیث نمبر ٣

عن عبداللہ ابن عمر وابن العاص قال قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسی ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد له ویمکث خمسا واربعین سنة ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسی ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر ۔

(رواہ ابن جوزی فی الوفا باحوال المصطفیٰ ص ٨٣٢، مشکوٰۃ ص ٤٨٠ باب نزول عیسیٰ)

”حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے روایت کی کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے یہاں شادی کریں گے۔ ان کی اولاد بھی ہوگی۔ اور زمین میں ٤٥ سال رہ کر وفات پائیں گے اور میرے ساتھ گنبد خضریٰ میں دفن ہوں گے۔

اس روایت کو مرزا قادیانی نے نقل کر کے ”فیتزوج ویولد“ کے حصہ سے محمدی بیگم کے مرزا غلام احمد قادیانی کے نکاح میں آنے کی خوشخبری پر محمول کیا ہے اور ”یدفن فی قبری“ سے اپنا فنا فی الرسول ہونا ثابت کیا ہے۔ بہرحال حدیث کو صحیح تسلیم کر لیا ہے۔

١٤١

صفحہ ٤٥٠

یہ حدیث امام ابن جوزی نے نقل فرمائی ہے جو مرزائیوں کے مسلم مجدد صدی ششم ہیں ۔ گویا صحت حدیث سے انکار ہی نہیں ہو سکتا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ:

نازل ہوں گے معلوم ہوا کہ زمین پر پہلے سے نہیں ہیں۔

کرنے کا ذکر بھی کر دیا۔

وعمرؓ کے درمیان بمعہ عیسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوں گے۔

مرزائی وہم

یہاں مرزائی یہ کہہ دیتے ہیں کہ حضور کی قبر میں کیسے دفن ہوں گے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی نے خود (نزول المسیح ص ٤٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٥) پر لکھا ہے کہ ان (یعنی حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمرؓ) کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرتﷺ سے ایسے ملحق دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے۔ یہی مطلب مرقاۃ میں مرزائیوں کے مسلم مجدد حضرت ملا علی قاریؒ نے بیان فرمایا ہے۔

اجازت چاہی کہ میں آپ کے پہلو میں دفن ہو جاؤں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا وہاں تو جگہ نہیں ہے صرف ایک قبر کی جگہ ہے جہاں عیسیٰ علیہ السلام دفن ہوں گے۔ ان کی قبر چوتھی ہوگی۔ اس روایت نے بھی مرزائیوں کی تمام تاویلی خرافات کو ختم کر کے رکھ دیا۔

حدیث نمبر ٤

ان روح اللہ عیسیٰ نازل فیکم فاذا رأیتموہ فاعرفوہ فانہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض...... ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون۔

(رواہ الحاکم عن ابی ہریرۃ فی المستدرک ص ٣٩٠)

یہ حدیث مرزائیوں کے امام اور مجدد صدی چہارم نے روایت کیا ہے۔ اس لیے ان کی صحت میں تو شک ہو ہی نہیں سکتا۔ اس حدیث میں حضورﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے قرآنی لقب ”روح اللہ“ سے یاد فرمایا۔ تمام باتوں کا ذکر کر کے فرمایا جاتا ہے کہ اس کے بعد وہ فوت ہوں گے اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔

١٤٢

صفحہ ٤٥١

حدیث نمبر ٥

عن ابي هريرة انه قال قال رسول الله ﷺ كيف انتم اذ نزل ابن مريم من السماء فيكم و امامكم منكم.

(کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص ٤٢٤)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس وقت (مارے خوشی کے) تمہارا کیا حال ہوگا۔ جب مریم کے بیٹے تم میں آسمان سے نازل ہوں گے اور تمھارا امام (نماز کا) تمھیں میں سے ہوگا۔" روایات میں آتا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نماز پڑھانے کے لیے تیار ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو جائیں گے۔ وہ ان سے نماز پڑھانے کا کہیں گے وہ انکار کرتے ہوئے فرمائیں گے کہ اس نماز کی اقامت آپ کے لیے کی گئی ہے۔ (آپ ہی پڑھائیں گے)

اور بعض روایات میں ہے کہ اس امت کو اللہ تعالیٰ نے فضیلت دی ہے۔ بہر حال وہ نماز خود حضرت مہدی علیہ السلام ہی پڑھائیں گے۔ اس حدیث میں من السماء کا صاف لفظ موجود ہے اور اس کو مرزائیوں کے مسلم مجدد صدی چہارم امام بیہقی نے روایت کیا ہے اس لیے اور زیادہ معتبر ہے۔

حدیث نمبر ٦

عن ابن عباس (في حديث طويل) قال رسول الله ﷺ فعند ذالك ينزل اخی عيسى ابن مريم من السماء على جبل العيق اماماً هادياً حكماً عادلاً

(کنز العمال ج ١٤ ص ٢١٩، حدیث نمبر ٣٩٧٢٦)

(١) اس حدیث میں سرور عالم ﷺ نے من السماء کا لفظ اضافہ کر کے مرزا قادیانی کا منہ بند کر دیا ہے۔ (٢) اس میں اخی (میرا بھائی) فرما کر عیسیٰ علیہ السلام جو پیغمبر ہیں وہی میرے بھائی ہیں (کوئی چراغ بی بی کا بیٹا حضور کا مصنوی بھائی نہیں ہے) اس حدیث کو مرزا غلام احمد قادیانی نے (حمامتہ البشریٰ ص ١٨، خزائن ج ٧ ص ١٩٧) میں نقل کیا مگر خیانت کر کے من السماء کا لفظ کھا گیا۔

حدیث نمبر ٧

عن عبد الله بن عمر (في حديث طويل) قال قال رسول الله ﷺ فيبعث الله عيسى ابن مريم كانه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلكه.

(رواہ مسلم بحوالہ مشکوٰۃ باب لا تقوم الساعۃ ص ٤٨١)

١٤٣

صفحہ ٤٥٢

حضور سرور عالم ﷺ نے جیسے کہ مشکوٰۃ شریف (باب بدء الخلق) میں ہے معراج کے ذکر میں آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ملاقات کے ذکر میں فرمایا کہ: فاذا اقرب من رايت به شبیہاً عروة بن مسعود.

(مشکوٰۃ ص ٥٠٨ ، باب بدء الخلق)

’’حضرت عیسیٰ کی مشابہت زیادہ تر عروۃ بن مسعودؓ سے تھی۔‘‘

اب آپ خود ہی فرمائیں جس عروۃ بن مسعودؓ کے مشابہ ہستی کو آسمان میں دیکھا۔ حدیث نمبر ٧ میں انہی کے نزول کا ذکر فرماتے اور پھر حضرت عروۃ بن مسعودؓ سے تشبیہ دے کر ارشاد کرتے ہیں کہ یہ دجال کا پیچھا کر کے اس کو ہلاک کریں گے۔ اس حدیث میں آپ نے خر دماغ انسانوں کو بھی بتا دیا کہ نازل ہونے والے وہی عیسیٰ ابن مریم ہیں جو حضرت عروۃ بن مسعودؓ کے مشابہ ہیں۔ جن کو آسمان میں دیکھا تھا۔

حدیث نمبر ٨

عن نواس بن سمعان رضی الله عنه قال قال رسول الله ﷺ ......فبينما هو كذالك اذ بعث الله المسيح بن مريم فينزل عندالمنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهرودتين واضعاً كفيه على اجنحة ملكين اذا طأ طأ رأسه قطر واذا رفعه تحدر منه جمان كاللؤلؤ فلا يحل كافر يجد ريح نفسه الا مات ونفسه ينتهى حيث ينتهى طرف فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله.

(مسلم ج ٢ ص ٤٠١)

مرزا نے اپنی کتاب (ازالۃ الاوہام حصہ اول ص ٢٠٢ تا ٢٠٦ ، خزائن ج ٣ ص ١٩٩ تا ٢٠١) پر یہ حدیث نقل کی ہے۔ مسلم شریف کی اس حدیث نے بھی مرزا غلام احمد کی نیند حرام کر رکھی۔ کبھی کہتا ہے یہ خواب یا کشف تھا حالانکہ اس طویل حدیث کے الفاظ میں ہے ’’ان یخرج وانا فیکم فانا حجیجۃ لکم‘‘ اگر وہ خروج کرلے جبکہ میں تم میں ہوں تو میں اس سے جھگڑوں گا۔ کوئی بھی عقل مند اس کو خواب یا کشف نہیں کہہ سکتا۔ کبھی کہتا ہے امام بخاری نے اس کو ضعیف سمجھ کر روایت نہیں کیا۔ حالانکہ امام بخاری کا کسی حدیث کو نقل نہ کرنا ضعف کی دلیل نہیں ورنہ حدیث مجدد۔ کسوف و خسوف کی حدیث ’’ان لمهدينا آيتين‘‘ اور حدیث ابن ماجہ ’’لا مهدي الا عيسى‘‘ بخاری میں نہیں ہیں جن پر مرزا نے اپنی مسیحیت کی بنیاد رکھی ہے۔ اس حدیث اور تمام احادیث نزول مسیح سے، مراد نزول من السماء ہے خود اسی حدیث

١٤٤

صفحہ ٤٥٣

نواس بن سمعان کے بارہ میں (ازالۃ الاوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢) پر لکھا ہے۔ ”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“ (جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے)

حدیث نمبر ٩

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔

والذی نفسی بیدہ لیهلن ابن مریم بفج الروحاء حاجاً او معتمراً او لیثنیهما.

(رواہ مسلم فی صحیحہ ج ١ ص ٤٠٨)

مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ ابن مریم فجّ روحاء میں حج کے لیے لبیک کہیں گے یا عمرے کے لیے یا دونوں کی نیت کرکے۔

- اس حدیث میں بھی سرور دو عالم ﷺ نے قسم کھائی ہے اس لیے تمام الفاظ حدیث کو ظاہر پر ہی محمول کرنا ہوگا حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود حج کریں گے (کوئی اور ان کی طرف سے نہیں کرے گا) اور فجّ روحاء سے مراد وہی روحاء کی گھاٹی ہوگی۔ نزول سے مراد نیچے اترنا ہی مراد ہوگا۔

حدیث نمبر ١٠

حضرت ربیعؒ سے روایت ہے۔ انھوں نے کہا کہ نصاریٰ حضور ﷺ کے پاس آئے اور جھگڑنے لگے۔ عیسیٰ ابن مریم کے بارہ میں وقالوا له من ابوه وقالوا علی الله الکذب والبهتان فقال لهم النبی ﷺ الستم تعلمون انه لایکون ولد الا وهو یشبه اباه قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان ربنا حی لایموت وان عیسٰی یاتی علیه الفناء فقالوا بلیٰ (در منثور ج ٢ ص ٣) ربیعؒ کہتے ہیں کہ نجران کے عیسائی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں جھگڑنے لگے کہنے لگے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کون ہے۔ (مطلب یہ تھا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے) آپؐ نے فرمایا کہ بیٹے میں باپ کی مشابہت ہوتی ہے یا نہیں۔ انھوں نے کہا ہوتی ہے آپؐ نے فرمایا پھر تمھارا رب زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔ حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام پر یقیناً موت آئے گی تو انھوں نے کہا کیوں نہیں۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے تھے تو یہاں پر بہت آسان تھا کہ آپ الوہیت مسیح کے ابطال کے لیے فرما دیتے کہ عیسیٰ علیہ السلام تو مرگئے وہ کیسے خدا ہوسکتے ہیں۔ یہ بات ابطال الوہیت مسیح پر زیادہ صاف دلیل ہوجاتی یا یوں ہی

١٤٥

صفحہ ٤٥٤

فرما دیتے کہ تمھارے خیال میں تو وہ مر گئے ہیں تو پھر خدا یا خدا کے بیٹے کس طرح ہو سکتے ہیں۔ پھر بھی بہترین دلیل تھی مگر ممکن تھا کہ کوئی مرزائی چودھویں صدی میں اپنی کور چشمی سے اسی سے موت مسیح ثابت کر دیتا سرور دو عالم ﷺ نے نہایت صفائی سے حق اور صرف حق فرمایا کہ خدا تعالیٰ حی ہیں جو کبھی نہیں مرتے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فنا آئے گی یعنی بجائے ماضی کے مستقبل کا صیغہ استعمال فرمایا۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام وفات پا گئے ہوتے تو یقیناً اس بحث میں یہی بہتر تھا کہ عیسیٰ ، قد اتٰی علیہ الفنا فرما دیتے۔

حدیث نمبر ١١

عن الحسن قال قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة (درمنثور ج٢ ص ٣٦) یہ راوی حضرت حسن بصریؒ ہیں جو سرتاج اولیاء ہیں اور جو تابعی ہو کر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گویا یقیناً انھوں نے حدیث کسی صحابی سے حاصل فرمائی۔ یوں بھی مرسل حدیث کو جو کسی صحابی کے توسط کے بغیر حضور کی طرف منسوب ہو گئی۔ حضرت ملا علی قاریؒ نے فرمایا کہ حجت ہے (شرح نخبہ) حضرت ملا علی قاریؒ صدی دہم کے مسلمہ مجدد تھے۔ ان کا قول کون رد کر سکتا ہے۔ بہر حال اس حدیث نے تصریح کر دی کہ ”ان عیسیٰ لم یمت“ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں ہیں بلکہ وہ لوٹ کر دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ لفظ لم یمت بھی ہے اور راجع بھی۔

حدیث نمبر ١٢

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے ابن ماجہ اور مسند امام احمد میں روایت ہے کہ: لما كان ليلة اسرى برسول الله ﷺ لقى ابراهيم عليه السلام وموسى عليه السلام وعيسى عليه السلام فتذاكروا الساعة فبدؤا بابراهيم فسئلوه عنها فلم يكن عنده منها علم ثم سألوا موسى فلم يكن عنده فرد علم الحديث الى عيسى بن مريم فقال قد عهد الى فيما دون وجبتها فاما وجبتها فلا يعلمها الا الله فذكر خروج الدجال قال فانزل فاقتله ہ

(ابن ماجہ باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ ابن مریم ص ٢٩٩)

”حضرت عبداللہ بن مسعودؓ صحابی فرماتے ہیں کہ معراج کی رات رسول کریم ﷺ نے ملاقات کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے۔ پس انھوں نے قیامت کا ذکر چھیڑا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے متعلق سوال

١٤٦

صفحہ ٤٥٥

کیا۔ انھوں نے لاعلمی ظاہر کی۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی یہی جواب دیا۔ آخر الامر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میرے ساتھ قرب قیامت کا ایک وعدہ کیا گیا تھا۔ اس کا ٹھیک وقت سوائے خدا عز وجل کسی کو معلوم نہیں۔ پس انھوں نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ پھر میں اتروں گا اور دجال کو قتل کروں گا۔ (آخر تک)“

یہ حدیث امام احمد نے مرفوعاً بیان فرمائی ہے کہ یہ تمام الفاظ گویا خود حضور ﷺ کے ہیں۔ امام احمد صدی دوم کے مسلم مجدد ہیں اس لیے حدیث کی صحت میں بحث ہی نہیں ہو سکتی جیسے کہ اصول تفسیر میں لکھا جا چکا ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہو گیا کہ دجال ایک شخص کا نام ہے۔ پادریوں کے گروہ کا نام نہیں جیسے مرزا نے کہا ہے۔ اس حدیث سے بھی یہ ثابت ہو گیا کہ جو عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہیں وہی اتر کر دجال کو قتل کریں گے۔ قتل دجال نے بھی دلیل وغیرہ سے قتل کی نفی کر دی جیسے کہ مرزائی ہرزہ سرائی ہے کیا معراج کی رات میں مرزا قادیانی نے اپنے نزول کا ذکر کیا تھا۔ کیا یہی مرزا قادیانی اس آسمان سے اترے ہیں۔ کیا انھوں نے ہی دجال کو قتل کیا ہے۔

حدیث نمبر ١٣

عن جابر قال قال رسول الله ﷺ ........ فينزل عيسى ابن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة.

(مشکوۃ باب نزول عیسیٰ ص ٤٨٠)

مرزا غلام احمد قادیانی ”وامامکم منکم“ سے ثابت کرتے ہیں کہ نماز بھی یہی پڑھائیں گے۔ یہ امت محمدیہ میں سے ہوں گے۔ حالانکہ یہ قطعاً غلط ہے و امامکم منکم کا معنیٰ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کے بیان کے مطابق لیں تو یہ عطف بیان ہو گا جس کے لیے واؤ نہیں لائی جاتی جو یہاں موجود ہے۔

یہ تو عربی قواعد کو ذبح کرنے کے مترادف ہے۔ حدیث مذکور نے صاف کر دیا ہے کہ امیر قوم (یعنی مہدی علیہ السلام) کہیں گے آؤ آگے ہو کر نماز پڑھاؤ وہ انکار کرتے ہوئے فرمائیں گے کہ اللہ نے اس امت کے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ اب مرزائی اگر ایمان چاہتے ہیں تو ان کو مرزا کے معنوں کی بجائے سرور دو عالم ﷺ کے بیان کردہ معنوں کو قبول کر لینا چاہیے۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا ارشاد اور حضرت حسن بصریؒ کی قسم

(فتح الباری ج ٦ ص ٤٩٣) میں ہے کہ امام ابن جریر نے اسناد صحیح کے

١٤٧

صفحہ ٤٥٦

ساتھ سعید بن جبیر سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے اسی طرح جزم فرمایا ہے کہ لیؤمنن بہ قبل موتہ میں دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے ایمان لے آئیں گے اور اسی کتاب میں اسی صفحہ پر حضرت حسن بصریؒ سے جو اولیاء کے سرتاج ہیں نقل کیا ہے کہ انھوں نے بھی قبل موتہ کا معنیٰ قبل موت عیسیٰ۔ ”واللہ انہ الآن لحی ولکن اذا نزل آمنوا بہ اجمعین۔“ کہا پھر قسم کھائی اور کہا خدا کی قسم کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام اس وقت زندہ موجود ہیں۔ جب نازل ہوں گے وہ سب ان پر ایمان لے آئیں گے۔

یہاں تک آپ کو احادیث سے تفسیر کا علم ہوا جس کا انکار ایک صحابی نے بھی نہیں کیا۔

نزول مسیح ابن مریم کی نشانیاں

پیغمبر اعظم علیہ الصلوۃ والسلام بے ضرورت بات نہیں فرماتے تھے، جو بات فرماتے تو وہ مختصر مگر جامع اور تمام امور کو صاف کرنے والی ہوتی تھی۔

حضرت عیسیٰ ابن مریم کے نزول کے سلسلے میں آپ ﷺ نے نشانات کا اتنا اہتمام فرمایا کہ اس میں شبہ کی گنجائش نہ رہے تا کہ کوئی نادان مسیحیت کا جھوٹا دعویٰ کر کے امت کو گمراہ نہ کرے۔ آپ نے ارشاد فرمایا۔

فرع ہے۔ جب نزول تواتر سے ثابت ہو گیا تو صعود وعروج خود ہی ثابت ہو گیا)

استعمال فرمایا راجع الیکم کہ وہ تمھارے پاس دوبارہ آئیں گے۔

ہوں گے۔

گے، اور زمین کی طرف وہی آتا ہے جو پہلے زمین میں نہ ہو۔

١٤٨

صفحہ ٤٥٧

ہوگا جو بن باپ پیدا ہوا اور قرآن نے ان کو ماں ہی کے نام سے پکارا۔

الدنیا والآخرة تھے۔ نفخ جبرائیل سے پیدا ہوئے تھے۔ ان کو زبردست معجزات دیئے گئے تھے۔ بنی اسرائیل نے پھر بھی نہ مانا تو وہ آ کر بنی دجال کو قتل کریں گے اور تمام اہل کتاب مسلمان ہو جائیں گے۔ ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا اور ان کے شایان شان تمام باتیں ہو جائیں گی جو پہلے نہ ہوئی تھیں۔

ہجرت ساری زمین سے تھی۔ اس لیے وہ واپس زمین میں آکر ساری زمین میں عادلانہ نظام قائم فرمائیں گے۔

گے تاکہ اس کو قتل کر دیا جائے۔

گا۔

ہوگی۔

١٤٩

صفحہ ٤٥٨

نہ رہیں گے۔ دوسرے مال کی سخت بہتات ہو گی۔

ہوئی تھیں اور انھوں نے کہا تھا کہ اتر کر دجال کو قتل کروں گا۔

والسلام) پر عمل کریں گے اور کرائیں گے۔

حضورؐ کے درمیان کوئی پیغمبر نہ تھا۔

نام کی طرح ہو گا۔

کافر۔

پتہ لگے گا۔

١٥٠

صفحہ ٤٥٩

پہرے ہوں گے ان دو شہروں میں داخل نہ ہو سکے گا۔

آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے لیے بددعا فرمائیں گے اور لڑ بھڑ کر مر جائیں گے۔

طرف حضورؐ نے کیف انتم سے اشارہ فرمایا ہے۔

نفرت دلانے کے لیے ایسا کیا جائے گا۔ آج کل بھی یہ فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں تو لوگ جمع ہو کر ان کے قتل کا انتظام کرتے ہیں۔

السلام مسلمانوں کو لے کر پہاڑ پر چڑھیں گے۔ پھر دعا فرمائیں گے۔ بارش ہوگی وہ بدبو دور کر دی جائے گی (او کما قال)

کیا سرور عالم ﷺ جیسی ہستی نے کسی اور بات کے لیے بھی اتنا اہتمام فرمایا ہے۔ اس سے مقصد یہ ہے کہ کوئی اور دجال مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہ کر بیٹھے۔

١٥١

صفحہ ٤٦٠

اب اگر ایک احمق

کہے کہ عیسیٰ سے مراد غلام احمد ہے ...... مریم سے مراد چراغ بی بی ہے۔ دمشق سے مراد قادیان ہے ...... باب لد سے مراد لدھیانہ ہے۔ قتل سے مراد مباحثہ میں غالب آنا ہے ...... مسیح سے مراد مثیل مسیح ہے۔ زرد چادروں سے مراد میری دو بیماریاں ہیں ...... دجال سے مراد پادری ہیں۔ خر دجال سے مراد ریل ہے۔ جس پر وہ خود بھی سوار ہوا ہے۔

مہدی سے مراد بھی غلام احمد ہے۔

حارث سے مراد بھی غلام احمد ہے۔

رجل فارس سے مراد بھی غلام احمد ہے

منارہ سے مراد قادیان کا منارہ ہے جو بعد میں مرزا غلام احمد قادیانی نے بنایا : نزول سے مراد سفر کر کے کہیں اترنا ہے ۔...... آسمان سے مراد آسمانی ہدائتیں ہیں۔ ...... عیسیٰ بن مریم سے مراد غلام احمد قادیانی ہے۔ ...... غلام احمد عیسیٰ علیہ السلام سے متحد ہے۔ ...... غلام احمد عین محمد ہے۔ ...... غلام احمد آنے والا کرشن اوتار ہے۔ ...... غلام احمد حضور ہی کی بعثت ثانیہ ہے۔

غلام احمد کے زمانہ میں وہ عالم گیر غلبہ اسلام ہوا۔ جو حضور کے زمانہ میں نہ ہو سکا۔

نماز میں جو دعا مانگی گئی ہے (غیر المغضوب علیہم) اس میں مرزا قادیانی کو دکھ دینے والوں سے علیحدگی کی دعا ہے۔

میری وحی قرآن کے برابر ہے ۔...... مجھ میں تمام پیغمبروں کے کمالات جمع ہیں۔

میں حضرت حسینؓ سے قطعی افضل ہوں۔ وہ کیا ہیں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہوں۔ ان کا بروز اور مثیل ہو کر بھی ان سے آگے نکل گیا ہوں۔

بلکہ تمام انبیاء سے میرے معجزے زیادہ ہیں اور میں معرفت میں کسی پیغمبر سے کم نہیں ہوں۔ پھر وہ اپنے بیٹے کو کہے یہ گویا خدا آسمان سے اتر آیا ہے۔ اور وہ بیٹا کہنے لگے۔ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ سے بڑھ سکتا ہے۔

اور اس کے چیلے اکمل کے اشعار ذیل کے مطابق حضور سے افضل ہے (معاذ اللہ)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

پھر ان شعروں کو مرزا غلام احمد قادیانی سن کر تحسین کریں اور جزاک اللہ کہیں۔

اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ شخص اور اس کو مسلمان جاننے والے کیسے مسلمان رہ سکتے ہیں۔

١٥٢

صفحہ ٤٦١

متفرقات

خودکاشتہ پودا

مرزائی نمائندہ (امام جماعت مرزائیہ) مرزا ناصر احمد نے خودکاشتہ پودے کے بارہ میں کہا کہ خاندان کو کہا گیا ہے۔ مگر اٹارنی جنرل صاحب نے ممبروں کی لکھی ہوئی فہرست بتائی جو مرزا غلام احمد قادیانی نے دی تھی۔ گویا مرزا غلام احمد قادیانی اس فرقہ کو خودکاشتہ پودا کہہ رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں چلو مرزا غلام احمد قادیانی کا خاندان ہی انگریز کا خودکاشتہ پودا ہوا تو مرزا غلام احمد قادیانی اسی انگریزی پودے کی شاخ ہوئے۔ اگر وہ پودا پلید ہے تو پودے کی شاخیں کس طرح پاک ہو سکتی ہیں۔

اتمام حجت

مرزا ناصر احمد نے عام مسلمانوں کو بڑا کافر کہنے سے گریز کر کے چھوٹا کافر قرار دیا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ ان پر اتمام حجت نہیں ہوئی۔ کیونکہ مرزا ناصر احمد کے ہاں اتمام حجت کے لیے ضروری ہے کہ دوسرے کا دل یہ مان جائے کہ بات تو سچی ہے پھر انکار کرے۔ تو دنیا کے ستر کروڑ مسلمان تو مرزا غلام احمد قادیانی کو کذاب مفتری سمجھتے ہیں۔ ان پر ان کے ہاں اتمام حجت نہیں ہوئی۔ اس لیے یہ امت اسلامیہ سے خارج یعنی بڑے کافر نہیں ہیں۔ لیکن خود کاشتہ پودا تھے بڑی احتیاط سیکھی تھی۔ پہلے لکھ دیا کہ میں مثیل مسیح موعود ہوں۔

(مجموعہ اشتہارات ص ٢٠٧)

کم فہم لوگ مجھے مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں پھر بعد میں بڑے زور شور سے خود ہی مسیح موعود بن گئے (ازالہ اوہام ص ١٩٠ خزائن ج ٣ ص ١٩٢)۔ اور جب دیکھا کہ علماء کرام کے سامنے دال نہیں گلتی تو فنا فی الرسول کی آڑ لی اور عین محمد ہونے کا دعویٰ کر ڈالا۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٧١ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

زبردست اور لاجواب چیلنج

ہم تمام امت مرزائیہ کو چیلنج کرتے ہیں کہ تیرہ سو سال کے کسی مجدد محدث صحابی اور ولی کے کلام سے یہ ثابت کرو کہ عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں۔ مسیح ابن مریم یا عیسیٰ ابن مریم سے مراد کوئی ان کا مثیل مراد ہے۔ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں آئیں گے۔ یا ان سے مراد غلام احمد بن چراغ بی بی ہے۔ اگر تم سچے ہو تو تیرہ سو سال کے کسی محدث یا مجدد کا قول پیش کرو۔

١٥٣

صفحہ ٤٦٢

دوسرا چیلنج

تیرہ سو سال کے اندر کسی زمانہ کے بارہ میں یہ ثابت کرو کہ کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہو۔ اور مسلمانوں نے اس کو طاقت ہوتے ہوئے برداشت کیا ہو۔ یا کسی نے کسی مدعی نبوت سے یہ دریافت کیا ہو کہ تمھارا دعویٰ تشریعی نبوت کا ہے یا غیر تشریعی کا بروزی اور ظلی کا یا مستقل کا۔ تو اس طرح آپ ڈبل کافر ہو جاتے ہیں۔

ایک اور ڈھونگ

مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزائیوں نے دنیا بھر میں یہ ڈھونگ رچایا ہے کہ نبوت بند ہو گئی یا نبی آسکتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کے ہاں نہ مرزا قادیانی سے پہلے کوئی نبی آیا نہ بعد میں قیامت تک آئے گا۔ تو یہ ساری بحث صرف امت کو الجھانے کے لیے ہے۔ بات یہ کرو کہ مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام بن سکتے ہیں یا آنے والا وہی ہے جس کو تیرہ سو سال کے تمام محدثین صحابہ کرام اور مجددین نے مسیح ابن مریم قرار دیا ہے کہ وہی آئیں گے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی پریشانی

اس سلسلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی پریشانی کا یہ عالم ہے کہ مسیح کے آنے کی پیش گوئی کو مشہور و معروف اور متواتر بھی قرار دیا اور (ازالۃ الاوہام ص ٥٥٧ خزائن ج ٣ ص ٤٠٠) پر صاف لکھ دیا ”یہ اول درجہ کی پیش گوئی ہے۔ اس کو تواتر کا اول درجہ حاصل ہے۔“ مگر یہ لکھ مارا کہ ”خدا نے قرآن کے معنی لوگوں سے چھپا دیئے۔“ (آئینہ کمالات ص ٤٢٦ خزائن ج ٥ ص ٤٢٦) حتیٰ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مامور و مجدد بنا کر ان پر دس سال تک نہ کھولے۔ اور یہ بھی لکھ مارا کہ حیات مسیح کا عقیدہ شرک عظیم ہے۔ اور بچنے کے لیے پرانے اولیاء صلحاء اور صحابہ کو معذور قرار دے دیا کہ ان سے اجتہادی غلطی ہوئی۔ پھر کبھی یہ کہا کہ پہلا اجماع وفات مسیح پر ہوا تو پھر مسئلہ مسلمانوں سے کیسے چھپا رہا۔ کبھی شرک عظیم کہہ کر خود بھی مشرک بنے رہے۔ اور کبھی اپنی ضرورت کے لیے تیرہ سو سال بعد قرآن دانی کا دعویٰ کر کے خود مسیح ابن مریم بن بیٹھے۔ بھلا جو چیز شرک عظیم ہے جس کے ماننے سے آدمی مشرک اعظم بنتا ہے۔ خدا ایسے قرآنی مسئلے کو لوگوں سے چھپا سکتا ہے۔ پھر قرآن کے نزول کا فائدہ کیا ہوا۔

تیسرا چیلنج

کیا یہ ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن کے بعض معانی قرون اولیٰ سے چھپا دیں اور

١٥٤

صفحہ ٤٦٣

صدیوں کے مجددین اولیاء کرام اور علماء کرام مشرکانہ معنی پر جمے رہیں۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی مجدد و مامور ہو کر بھی دس سال تک عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانتے رہے۔ اور کیا شرک عظیم کو اجتہاد کی وجہ سے برداشت کیا جا سکتا ہے۔ کیا خود قرآن پاک نے انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون نہیں فرمایا کہ ہم ہی نے قرآن (ذکر) اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے...... کیا حفاظت کا یہ مطلب ہے کہ اس کے معانی کو صدیوں تک بہترین حضرات کی آنکھوں سے خود خدا اوجھل کردے۔ حالانکہ خود مرزا نے بھی کہا کہ قرآن پاک ذکر ہے اور ذاکر قیامت تک رہیں۔ اس کا مفہوم دلوں میں رہے گا۔ اس کے مقاصد و مطالب کی حفاظت اصل کام ہے۔

(شہادۃ القرآن ص ٥٥۔٥٤ خزائن ج ٦ ص ٣٥١)

چوتھا چیلنج

کیا کسی نبی نے کافر حکومت کی اتنی خوشامد کی ہے اور اتنی دعائیں دی ہیں اور اتنی خدمت کی ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریزی حکومت کی کی ہے۔

پانچواں چیلنج

اگر کوئی ایسا نبی آنا تھا جس کا انکار کر کے ساری امت کافر ہو جاتی تو کیا سرور عالم ﷺ نے جہاں اور خبریں مستقبل کی دیں وہاں یہ ضروری نہ تھا کہ ستر کروڑ آدمیوں کی امت کو کفر سے بچانے کے لیے کچھ فرما دیتے۔ کیا لانبی بعدی فرما کر اور عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا ذکر کر کے اور مریم کے بیٹے کے نازل ہونے اور دوبارہ آنے کی متواتر خبریں دے کر خود آپ نے امت کے لیے سامان کفر (العیاذ باللہ) تجویز نہیں کیا۔

مرزا ناصر احمد نے اتمام حجت کے ساتھ دل سے صحیح مان لینے کی دم لگا کر ایجاد بندہ کا کام کیا ہے۔

خود مرزا کا قول ہے۔ ”اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے اب چاہے کوئی قبول کرے چاہے نہ کرے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٦ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)

دیکھیے اس عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اتمام حجت کے ساتھ دل سے سچا سمجھ کر انکار کرنے کی دم نہیں لگائی۔

اس سے ظاہر ہے کہ اگلا مانے یا نہ مانے سمجھے یا نہ سمجھے جب اس کی سامنے دلیل سے بات ہو گئی۔ دعوت حق پہنچ گئی اب اس پر اتمام حجت ہو گیا چاہے مانے یا نہ مانے۔

١٥٥

صفحہ ٤٦٤

اگر اس طرح نہ کیا جائے تو دنیا کے زیادہ تر کافر جو حضور ﷺ کو نبی نہیں سمجھتے ان کے انکار سے وہ کیوں بڑے کافر ہوئے۔

مرزا ناصر احمد نے کہا ہے کہ مرزا قادیانی کے انکار سے خدا آخرت میں سزا دے گا۔ دنیا میں یہ مسلمانوں ہی میں شمار ہیں اور ان سے ملکی و سیاسی سلوک مسلمانوں کی طرح ہوگا۔ اس طرح وہ اپنی تکفیر پر پردہ ڈالتے ہیں۔ مگر ان کو معلوم ہو کہ دل کی بات خدا جانتا ہے۔ یہاں قاضی اور عدالت بھی ظاہر پر فیصلہ کریں گے۔ اگر مرزا نبی ہے تو اس کا انکار کفر ہے پھر کوئی آدمی جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ مانے مسلمان نہیں رہ سکتا۔ اور اگر نبوت ختم ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے سب قطعی کافر ہیں۔

دوسری طرح جسے قرآن پاک میں ہے۔ "وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا" "کہ ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں دیتے۔"

یہاں صرف رسول کے بھیجنے کا ذکر ہے۔ اس کو دل سے سچا سمجھ کر انکار کا ذکر نہیں ہے اور رسول بھیجنے کے بعد منکر رسول کو صرف عذاب اخروی نہیں دیا جاتا بلکہ وہ مسلمان بھی نہیں سمجھا جاتا۔ پھر قرآن نے صرف یہ بتایا ہے کہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ "ماجاءنا من نذیر" کہ ہمارے پاس کوئی نذیر نہیں آیا۔ اس میں سمجھنے نہ سمجھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ یہ صرف ایجاد مرزا ہے۔ ہاں بعض کافر ایسے بھی ہیں جو دل سے سچا سمجھنے کے باوجود انکار کرتے ہیں مگر بعض دوسرے بھی ہیں۔

تکفیر کو چھپانے کا نیا ڈھونگ

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین نے عام مسلمانوں کو کافر کہا لیکن اپنی اس تکفیر کو عجب طریقہ سے چھپالیا۔ کہ چونکہ دوسروں نے مجھے کافر کہا اور مسلمان کو کافر کہنے سے وہ خود ہی کافر ہو گئے۔ یا انہوں نے قرآن وحدیث کے بیان کردہ مسیح موعود کا انکار کیا۔ اس لیے وہ خود ہی کافر ہوگئے۔

واہ جی مرزا واہ! آپ اگر خدا بن بیٹھیں تو آپ کو لوگ گلے لگائیں گے یا کافر مطلق کہیں گے۔ پھر آپ کہیں گے کیا کروں یہ لوگ مجھے کافر کہنے کی وجہ سے خود کافر ہو گئے۔ آپ نبی بنیں پیغمبروں کی توہین کریں مسلمان مجبورا آپ کو کافر کہیں گے۔ پس آپ کے لیے یہ بہانہ کافی ہے کہ یہ لوگ مجھے کافر کہنے سے کافر ہوگئے۔

سچ پوچھیں تو آپ ڈبل کافر ہو جاتے ہیں۔ ایک غلط دعوؤں کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں کو اپنی منطق کے لحاظ سے کافر بن جانے کا سبب بننے سے

١٥٦

صفحہ ٤٦٥

چھٹا چیلنج

کیا قتل کا واقعہ شام میں ہو اور گواہ لدھیانہ کا کہے ! وہ گواہ مردود نہ ہوگا۔…… کیا دعویٰ زید بن عمر پر ہو تو اس کی جگہ خالد بن سلیم کو پکڑا جا سکتا ہے۔

کیا واقعہ لاہور کا ہو اور ہم لاہور کا معنی تاویلیں کر کے راولپنڈی کریں تو اس طرح دنیا کے کام چل سکتے ہیں؟…… کیا نکاح احمد خان ساکن ہری پور کا ہو اور عورت کے پاس غلام احمد ساکن کراچی آ دھمکے اور کہے کہ احمد خان سے مراد غلام احمد خان ہی ہے اور ہری پور سے کراچی ہی مراد ہے۔

کیا اس قسم کی باتیں مان لی جائیں تو نظام عالم درہم برہم نہ ہو جائے گا۔

کیا مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے اور مرزائیوں کے خلیفہ دوم مرزا محمود نے (حقیقۃ النبوۃ حصہ اول ص ١٨٨) پر یہ نہیں لکھا کہ قرآن میں ”ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“ میں مرزا قادیانی ہی کو رسول کہا گیا ہے اور کیا اس طرح وہ احمد کا بھی مصداق نہ ہو جائے گا۔ کیا یہ قرآن پاک سے تلعب اور مذاق نہیں ہے۔

ساتواں چیلنج

کیا مرزا قادیانی کے سامنے یہ اشعار نہیں پڑھے گئے اور اس نے تحسین نہیں کی تھی !

(اخبار البدر قادیان ٢٥ / اکتوبر ١٩٠٦ء اور الفضل قادیان ٢٢ / اگست ١٩٤٤ء)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

مرزا ناصر احمد نے اس کے جواب میں کہا کہ ان کے بعد والا شعر اس کا جواب ہے شعر یہ ہے ؎

غلام احمد مختار ہو کر یہ رتبہ تو نے پایا ہے جہاں میں

خوب غلام غلام کہہ کر عیسیٰ علیہ السلام سے افضل بنو، حضور سے اپنی شان بڑھا لو، غلام بن کر حضور کی ٧٠ کروڑ امت کو کافر کر ڈالو نسخہ اچھا ہے۔ مرزا ناصر احمد یہ شعر سن کر پہلے تو بڑے پریشان ہوئے اور پھر کے بعد (جب اخبارات پیش ہوئے) یہ جواب گھڑ لیا۔ کیا مرزا ناصر اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں تو انھوں نے حضور کی دو بعثتیں مانی ہیں اور دوسری بعثت کو پہلی سے اکمل بتایا ہے۔

١٥٧

صفحہ ٤٦٦

آٹھواں چیلنج

مرزائی فرقہ کے لوگوں اور مرزا ناصر احمد نے کوشش کی ہے کہ شیخ اکبرؒ کے نام سے مسلمانوں کو دھوکہ دیا جائے کہ وہ غیر تشریعی نبوت کو باقی سمجھتے تھے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ شیخ اکبرؒ اور بعض دوسرے اولیاء نے جو کہا ہے کہ شرعی نبوت باقی ہے وہ صرف مکالمات و مبشرات (سچی خوابیں) اور ولایت ہے۔ نبی تشریعی مستقل صاحب کتاب جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام انبیاء غیر تشریعی جیسے (دوسرے انبیاء بنی اسرائیل) اس سے ان کے کلام کا تعلق ہی نہیں ان دونوں کو وہ شرعی نبوت کہتے ہیں جس میں کسی کو نبی کہا جائے یا نبوت کا دعویٰ کیا جائے وہ جانتے ہیں کہ منصب نبوت، ولایت، قابلیت اور روحانی ارتقاء سے نہیں ملتا یہ خدا کی دین ہے۔ ورنہ تیرہ سو سال میں کوئی صحابیؓ مجدد، محدث اور ولی بھی دعویٰ نبوت نہ کرتا یا نبی نہ کہلاتا؟ دوسرے ان کے پیش نظر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا تھا کہ ان کی حیات اور آمد ثانی سے انکار کر کے کوئی کافر نہ ہو جائے۔ اس لیے وہ لکھتے رہے کہ وہ جب آئیں گے۔ تو نہ اپنی پرانی شریعت پر عمل کریں گے نہ کوئی نئی شریعت لائیں گے۔ بلکہ شریعت محمدیہ پر ہی عمل کریں گے۔ کرائیں گے یہی مقصد شیخ اکبرؒ کا اور یہی مقصد ملا علی قاریؒ اور دوسرے حضرات کا ہے۔

حضرت شیخ اکبرؒ کا کلام

امام ابن عربی شیخ اکبر نے حدیث معراج کے ضمن میں فرمایا۔ ....... جب سرور عالمﷺ دوسرے آسمان میں داخل ہوں گے۔ وہاں عیسیٰ علیہ السلام بعینہ جسم و جسد کے ساتھ موجود ہوں گے۔ اس لیے کہ وہ ابھی تک فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس آسمان تک اٹھا کر وہاں سکونت بخشی۔ (فتوحات مکیہ ج٣ ص٣٤١)

دوسری عبارت کا اردو ترجمہ

میرے بعد کوئی نبی آئے گا نہ رسول جو میری شریعت کے خلاف شریعت جاری کرے۔ (اس کے بعد لکھا ہے) اس لیے کہ اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے (یہ اجماعی عقیدہ ہے) کہ عیسیٰ علیہ السلام نبی اور رسول ہیں اور یہ بھی امت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ وہ آخر زمانہ میں نازل ہوں گے یہ بڑے عدل و انصاف سے ہماری شریعت محمدی پر عمل کریں گے اور کرائیں گے۔ کسی دوسری شریعت اور اپنی سابقہ شریعت پر بھی عمل نہ کریں گے۔ (فتوحات مکیہ ج دوم ص٣)

١٥٨

صفحہ ٤٦٧

کے بارے میں لکھا ہے“ پھر ان کی عبارت نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”مسیح موعود کے قیامت کے دن دو حشر ہوں گے۔ ایک رسولوں کے ساتھ بحیثیت رسولوں کے اور ایک ہمارے ساتھ بحیثیت ولی کے تابع ہوگا۔ محمد ﷺ کے“ اس طویل عبارت میں شیخ اکبرؒ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ اور پھر قیامت میں ان کے علیحدہ جھنڈے اور رسول اللہ ﷺ کے عام جھنڈے جس کے نیچے سارے پیغمبر ہوں گے پھر حضور کے خاص جھنڈے جس کے نیچے امت اور امت کے اولیا ہوں گے۔ اب فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے اس جھنڈے کے نیچے بھی ان کا حشر ہو گا جس میں وہ تمام اولیا امت کے سردار ہوں گے۔ اور اپنا علیحدہ جھنڈا بھی ہو گا جس کے نیچے ان کے امتی ہوں گے۔ یہاں مرزے کا کون سا ذکر ہے مگر مرزا محمود نے مسیح موعود کا لفظ ترجمہ میں بڑھا کر خیانت کی ہے۔

عبارات حضرت ملا علی قاریؒ مجدد اسلام

روی انس مرفوعاً ینزل عیسیٰ ابن مریم علی المنارۃ البیضاء شرقی دمشق․ حضرت انسؓ نے مرفوع روایت کی ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دمشق کے مشرقی منارہ پر نازل ہوں گے۔

فینزل عیسیٰ بن مریم من السماء علٰی منارۃ مسجد دمشق فیاتی القدس․ ”پھر عیسیٰ علیہ السلام مریم کے بیٹے آسمان سے دمشق کی مسجد کے مینارے پر اتریں گے پھر قدس تشریف لے جائیں گے“

فرماتے ہیں علامہ طیبیؒ نے ارشاد فرمایا کہ آیت کریمہ ”وان من اہل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ سے آخری زمانہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر استدلال فرمایا ہے۔

کے خیال سے ترک کرتے ہیں۔ کیا مرزائی بتائیں گے کہ ان میں سے کسی بزرگ نے نبوت یا ظلی نبوت کے دعویٰ کی اجازت دی ہے یا کسی مدعی کو مانا ہے۔ بلکہ ان کے سامنے صرف حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام تھے۔

١٥٩

صفحہ ٤٦٨

نواں چیلنج

کیا کوئی مرزائی کسی ولی ۔ شیخ اکبر امام ربانی مجدد الف ثانی شاہ ولی اللہ دھلویؒ ، امام رازیؒ یا کسی مجدد و محدث کا قول پیش کر سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں اور آخری زمانہ میں آنے والے وہ نہ ہوں گے ۔ بلکہ کوئی مثیل یا دوسری قسم کا مدعی بن کر آئے گا ۔ اور شریعت میں مستعمل ہونے والے تمام الفاظ کے معانی بدل کے رکھے گا ۔ اگر کوئی مرزائی صداقت کی رتی رکھتا ہے تو تیرہ صدیوں کے مجددین میں سے کسی ایک مجدد کا عقیدہ یا قول بتا دے کہ عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں اور اب ان کی جگہ کوئی اور آئے گا ۔ اگر نہیں ہے تو توبہ کرو ۔ جہنم سے بچو۔ تم اور تمھارا مرزا قادیانی تیرہ صدیوں کے مجددین، محدثین علماء و صلحاء اور اولیاء کرام سے زیادہ علم نہیں رکھتے نہ زیادہ شریعت کو جانتے ہو۔ تو اگر یہ دعویٰ ہے ، یہ دعویٰ شیطان کر کے تباہ ہوا ہے جس نے کہا ۔ انا خیر منہ ۔ میں آدم علیہ السلام سے بہتر ہوں

مرزا قادیانی کے خلاف عدالتی فیصلے

آج کل عدالتوں پر اعتماد کیا جاتا ہے اور بڑی حد تک وہ تحقیق بھی کرتے ہیں ۔ مرزائی تو بہت ہی جلد ان عدالتوں کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ اب آپ ان عدالتوں کے فیصلے ہی سن لیں ۔

ایک فیصلہ

ڈسٹرکٹ جج بہاولنگر (بہاولپور) کا فیصلہ ہے جس میں مسلمانوں اور مرزائیوں کے بڑوں نے پورا پورا زور صرف کر دیا تھا۔ عدالت نے جو فیصلہ لکھا وہ تاریخی ہے اور ریاست بہاولپور کا بڑا کارنامہ ہے اگر کوئی منصف مزاج ہے تو اسی فیصلے سے اس کو عبرت حاصل کرنی چاہیے اس فیصلے میں فاضل جج نے صرف مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت ہی ذکر نہیں کیا ۔ اس کا دعویٰ وحی جو قرآن کے برابر ہے اس کی توہین انبیاء علیہم السلام وغیرہ سب کفریات لکھے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بہترین تحقیق کی ہے اور اس میں حضرت علامہ محمد انور شاہؒ صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند جیسی شخصیتوں کی شہادتیں ہیں ۔ اور قادیانیوں کے چوٹی کے ملازم مربی بھی شریک تھے ۔ یہ فیصلہ ٧ فروری ١٩٣٥ء بمطابق ٣ ذی القعد ١٣٥٣ھ میں ہوا ۔

دوسرا فیصلہ

ڈسٹرکٹ جج ضلع کیمبل پور شیخ محمد اکبر کا ہے جو ٣ جون ١٩٥٥ء کو بمقام راولپنڈی

١٦٠

صفحہ ٤٦٩

میں ہوا۔ اس میں تمام امت مرزائیہ کے کفر کی تصدیق کی گئی۔

تیسرا فیصلہ

شیخ محمد رفیق گوریجہ جج سول اور فیملی کورٹ جیمس آباد (سندھ) کا ہے اس میں بھی مسلمان عورت کا نکاح مرزائی سے ناجائز اور مرزائی کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔

چوتھا فیصلہ

مسٹر کھوسلہ کا فیصلہ ہے جو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ کے خلاف کیس کے بارہ میں ہوا اور عدالت نے حضرت شاہ صاحب کو تا برخواست عدالت سزا دے دی تھی اس تقریر میں حضرت شاہ صاحب نے مرزائیوں کو ”دم کٹے سگانِ برطانیہ“ کہا تھا اور بھی بہت سی باتیں تھیں۔ اس فیصلے میں عدالت نے لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی لاہور کی پلومر کی دکان سے ٹانک وائن (شراب) منگواتا تھا اور مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا محمود نے تسلیم کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک بار کسی مرض کی وجہ سے شراب پی تھی۔

بہر حال اس مقدمہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی خوراک کی تفصیل بھی پیش کی گئی تھی۔ جس میں یاقوتیاں ۔ وغیرہ مقویات اور قیمتی غذائیں درج ہیں۔

مرزائیوں سے سوال

لیکن مرزائیوں نے پہلے کے مقدمات کی اپیل کیوں نہیں کی۔ کیوں سکوت کر کے اپنے اوپر کفر کی مہر کی تصدیق کر دی۔ وہ جانتے تھے کہ اگر ہائی کورٹ نے بھی ماتحت عدالت کے فیصلے کی توثیق کر دی تو یہ قانون بن جائے گا۔ پھر مفر کی راہ ہی بند ہو جائے گی۔

فتاویٰ

مرزا ناصر احمد نے اپنے خلاف تمام فرقوں اور علماء کرام کے فتاویٰ بیان کیے ہیں۔ ہم ان کی معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ کلکتہ سے دیو بند تک کے علماء کرام نے اور عرب ممالک نے بھی مرزائیوں پر کفر کے فتوے دیئے اور یہ آج کے فتوے نہیں ہیں یہ انگریز کے زمانہ کے فتاوے ہیں۔ اور پرانے ہیں بہر حال اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی یا مجدد یا مسلمان سمجھنے والے اس کی کفریات کی تصدیق کرتے ہیں اس لیے قطعی کافر ہیں۔ یہی فیصلہ ماضی قریب میں مکہ معظمہ کے اور تمام عالم اسلام کے نمائندوں نے جمع ہو

صفحہ ٤٧٠

کر کیا۔

علامہ اقبال مرحوم اور مرزائی

مرزائیوں نے اپنے حق میں بہت سے مشہور حضرات کے نام بھی پیش کیے ہیں اور نہایت ڈھٹائی سے علامہ اقبال مرحوم کا نام نامی بھی لیا ہے مگر مسلمان قوم اب کسی نام سے دھوکہ نہیں کھاتی۔ جب تک کسی کو مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد، مرزائی خیالات معلوم نہ تھے اس وقت ان کی تحریرات کو پیش کرنا دجل و فریب ہے۔ کیا دنیا کو معلوم نہیں ہے کہ علامہ اقبال مرحوم نے مرزائیوں کو انجمن حمایت اسلام لاہور سے خارج کر دیا تھا۔ کیا ان کو علامہ مرحوم کے مندرجہ ذیل خیالات کا علم نہیں ہے۔

ملت اسلامیہ سڑا ہوا دودھ ہے....... مرزائیت باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لیے مہلک ہے۔

نبوت کے بعد مدعی نبوت کاذب اور واجب القتل ہے۔

ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا جب ایک نئی نبوت...... بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا گیا۔ اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی۔ جب میں نے تحریک (مرزائیت) کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مسلمان قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے مطالبے میں حق بجانب ہیں۔

حکومت کو مشورہ

علامہ محمد اقبال مرحوم نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کرے۔ (یہ تمام حوالجات حرف اقبال کے مجموعہ مولف لطیف احمد شیروانی ایم اے سے لیے گئے ہیں۔)

(اب آپ خود مرزا ناصر احمد کے دعوؤں کا اندازہ لگائیں) بعض دوسرے حضرات کا بھی یہی حال ہے اور جب مرزا قادیانی کے جھوٹ ثابت ہیں تو ہم کیوں اس کی امت کو جھوٹ کی طرف منسوب نہ کریں۔

١٦٢

صفحہ ٤٧١

انھوں نے مختلف اکابر امت کی طرف غلط بات منسوب کی وہ بھی غیر تشریعی نبوت کی بقاء کے حق میں تھے جن میں سے شیخ اکبر اور علامہ ملاعلی قاریؒ کی عبارتیں ہم نے پیش کر کے جھوٹ کی قلعی کھول کے اصلی مطلب کو واضح کر دیا ہے۔ آخر میں ہم محترم ممبران قومی اسمبلی کی توجہ اپنے اس بل کی طرف مبذول کراتے ہیں جو ہم نے رہبر کمیٹی قومی اسمبلی پاکستان کے سامنے پیش کی ہے۔

متن بل ہرگاہ کہ:

اتباع سے یہ مقام پایا ہے اور وحی نے مجھے صریح نبی کا لقب دیا ہے۔

(حقیقتہ الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)

کیا ہے۔ جب کہ براہین احمدیہ لکھنے تک اس کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔

(حقیقتہ الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)

وحدیث اور امت کا فیصلہ ہے کہ آپؐ کو جاگتے ہوئے جسم مبارک کے ساتھ معراج ہوئی۔

ہے اس کا اپنا شعر یہ ہے

اب چھوڑ دو اے دوستو جہاد کا خیال
دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور جدال

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

پاک کی طرح کہا ہے۔

آنچہ من بشنوم زوحی خدا بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم از خطا ہا ہمینست ایمانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧ تا ٤٧٨)

اور اس سلسلہ میں امام ربانی مجدد الف ثانیؒ پر جھوٹ بولا اور بہتان باندھا ہے ”کہ جب مکالمات الہیہ کی کثرت ہو جائے تو اس آدمی کو نبی کہتے ہیں ۔“ حالانکہ انھوں نے محدث

صفحہ ٤٧٢

لکھا ہے نبی قطعا نہیں لکھا۔

کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“

(دافع البلاء ص ٢٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

اینک منم کہ حسب بشارت آمدم عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم

خزائن ج ١٠ ص ٢٩٧) اور پیغمبروں کی بھی توہین کی ہے۔ اس کے اشعار یہ ہیں۔

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے من بہ عرفان نہ کمترم ز کسے
آنکہ دادست ہر نبی را جام داد آں جام رامرا بہ تمام

(نزول المسیح ص ١٠٠ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧، ٤٧٨)

قول کیا ہے جو قرآن پاک کی نصوص کے قطعاً خلاف ہے اور ہر گاہ کہ یہ تمام امور کفریہ ہیں ان کے کہنے اور ماننے سے آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

ہے جیسے قرآن اور حدیث کا انکار کرنے والوں کو۔

غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے اور اس مسئلہ میں بھی شک و شبہ نہیں ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو چاہے اس کو نبی مانیں یا مجدد یا مسیح موعود اسلام سے خارج ہیں۔

اور ہر گاہ کہ پاکستان کے عوام تمام مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور ان کو کلیدی آسامیوں سے ہٹانے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بنا بریں پاکستان قومی اسمبلی کے اس اجلاس میں ہم یہ بل پیش کرتے ہیں۔

چاہے وہ قادیانی کہلائیں یا لاہوری یا احمدی...... سب کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔

متعین نہ کیا جائے۔

سکیں۔

١٦٤

صفحہ ٤٧٢

اپنے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل قرار دیا ہے۔ ”ابن مریم غلام احمد ہے۔“

(دافع البلاء ص ٢٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

یہ بشارت آمد کہ عیسیٰ کجا است تا نہد پا بہ منبرم

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شرابی لکھا ہے (کشتی نوح حاشیہ ص ٧٣)

پیغمبروں کی بھی توہین کی ہے۔ اس کے اشعار یہ ہیں ۔

ہ انبیاے من بہ عرفان نہ کمترم ز کسے
نبی را جام داد آن جام را مرا بہ تمام

(نزول المسیح ص ١٠٠ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧، ٤٧٨)

کافر کے جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کا انکار اور آخر کار ان کے نکلنے کا ی نصوص کے قطعاً خلاف ہے اور ہر گاہ کہ یہ تمام امور کفریہ ہیں ان اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اپنے کو مسیح موعود نہ ماننے والے تمام مسلمانوں کو اسی طرح کافر کہا کا انکار کرنے والوں کو۔ سے شادی کرنے اور ان کا جنازہ پڑھنے سے روکا ہے۔ بھر کی تمام نمائندہ جماعتوں نے مکہ معظمہ میں جمع ہو کر مرزائیوں کو اور اس مسئلہ میں بھی شک و شبہ نہیں ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے مجدد یا مسیح موعود اسلام سے خارج ہیں۔ ستان کے عوام تمام مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور ان کو نے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

قومی اسمبلی کے اس اجلاس میں ہم یہ بل پیش کرتے ہیں۔ قادیانی کے پیروں کو چاہے وہ مرزا کو نبی مانیں یا مجدد و مسیح موعود ہوری یا احمدی ...... سب کو غیر مسلم قرار دیا جائے ۔ آسامیوں سے علیحدہ کر دیا جائے اور آئندہ ان کو ان آسامیوں پر میں شہر نہ ہو جہاں بیٹھ کر وہ ملک کے خلاف ہر طرح کی سازشیں کر

١٦٤

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتا ہوں

لاہوری مرزائیوں کے محضر نامہ کا جواب

شیر اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ

صفحہ ٤٧٤

بسم الله الرحمن الرحيم

تعارف

الحمدلله وحده والصلوة والسلام على من لانبی بعده. اما بعد.

٢٩ مئی ١٩٧٤ء سانحہ ربوہ (چناب نگر) ردّعمل میں پاکستان میں تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء چلی۔ تب پاکستان وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانی مسئلہ پر قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی بن کر یہ مسئلہ اس کے سپرد کر دیا۔ قومی اسمبلی میں قادیانی جماعت کے چیف گروہ مرزا ناصر قادیانی آنجہانی اور لاہوری مرزائیوں کے لاٹ پادری صدر الدین لاہوری مرزائی آنجہانی پیش ہوئے انھوں نے اپنے محضر نامے پیش کیے ان پر جرح ہوئی۔ اور پھر اسمبلی نے متفقہ فیصلہ دیا۔ لاہوری مرزائیوں کی جانب سے جو محضر نامہ قومی اسمبلی میں پیش ہوا۔ اس کا جواب ہمارے مخدوم، مخدوم العلماء، بطل حریت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے کتاب شکل میں پیش کیا۔ جسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت احتساب قادیانیت کی اس جلد میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہی ہے۔ فلحمد لله اولاً و آخراً.

فقیر...... اللہ وسایا ١٠ دسمبر ٢٠٠٥ء

٢

صفحہ ٤٧٥

تمہید

ہم نے جماعت مرزائیہ ربوہ کے محضر نامے کا جواب لکھ کر قومی اسمبلی کی کمیٹی میں پیش کر دیا ہے۔ یہ محضر نامہ مرزائیوں کے امام مرزا ناصر احمد نے پڑھ کر سنایا تھا۔ ہم نے اس کے جواب میں مسئلہ حیات مسیح ابن مریم علیہ السلام کو قرآن پاک، ارشاد رسول، تشریح صحابہ کرام، تیرہ سو سال کے مجددین کی تفسیروں اور اجماع امت سے ثابت کر دیا ہے۔ اگر لاہوری مرزائی اس کتاب کو بنظر انصاف دیکھیں گے تو مرزا کو کذاب و دجال کہنے لگ جائیں گے۔ اس کتاب میں ہم نے خود مرزا غلام احمد قادیانی کا کچا چٹھا بھی کھول دیا ہے اور اس کا انگریزوں کا ٹوڈی ہونا۔ ملکہ قیصرہ ہند کی انتہائی خوشامد کرنا اور مسئلہ جہاد کو بھی واضح کر دیا ہے۔ کیا ایسا شخص عین محمد ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ اب اس مختصر رسالے میں لاہوری مرزائیوں سے خطاب کر کے بقیہ باتیں عرض کی جاتی ہیں۔

مرزا غلام احمد کا دعویٰ نبوت اور مرزا ناصر احمد کی حرکات مذبوحی

لاہوری مرزائیوں کی قابل رحم حالت

الاوہام حصہ اول ص ٤٢١ خزائن ج ٣ ص ٣١٤) پھر مسیح موعود بنے پھر نبی بن گئے اور آخر کار عین محمد بنے۔ مرزا ناصر احمد صاحب ان کو نبی و رسول بھی کہتے ہیں۔ مگر سوال کے جواب میں پریشان ہو کر کہہ دیتے ہیں وہ تو غلام ہیں۔ وہ ہیں ہی نہیں۔ جو کچھ ہے۔ خود حضرت محمد ﷺ ہیں۔ لاہوری بیچارے نبی کہنے سے بھی گھبراتے ہیں، لغوی بروز عکس فنا فی الرسول اور ظل کے الفاظ میں چھپ کر مرزا جی کی نبوت کا انکار بھی نہیں کر سکتے۔ دراصل مرزا جی نے دونوں طرح کی باتیں لکھی ہیں تا کہ عندالضرورت کام دے سکیں۔ جب اونٹوں کو بیگار میں پکڑا جانے لگا تو شتر مرغ نے کہہ دیا کہ میں تو مرغ ہوں۔ جب پرندوں کی باری آئی کہہ دیا کہ میں اونٹ ہوں۔

اسی طرح مرزا جی کی پٹاری میں دعویٰ نبوت اور انکار نبوت دونوں آپ کو ملیں گے اور یہ اس نے جان بوجھ کر کیا ہے ورنہ حضور ﷺ کیوں یوں فرماتے کہ میری امت میں سے تیس بڑے جھوٹے اور فریبی آئیں گے؟ اب ہم اختصار سے مرزا جی کے دعویٰ نبوت ذکر کرتے ہیں۔

تورات، انجیل اور قرآن پر اور انہی کتابوں کی طرح سمجھا۔“ جیسے کہ آپ پڑھ چکے ہیں۔

صفحہ ٤٧٦

(٢) ”اس نے معجزات کا دعویٰ کیا اور اپنے معجزات اتنے بتائے کہ ان سے ہزار پیغمبروں کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“

(٣) اس نے اپنے نہ ماننے والوں کو کافر کہا جیسے کہ حقیقت الوحی کے حوالے سے آپ پڑھ چکے ہیں۔

(٤) مرزا جی نے اعجاز احمدی میں لکھا۔ مجھے بتایا گیا کہ

”تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے۔ اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔

هو الذی ارسل رسوله بالهدی ودین الحق ليظهره على الدين كله ۝

(اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

”خدا وہ ہے جس نے اپنا رسول بھیجا۔ ہدایت اور دین الحق دے کر۔ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔“

یہ قرآن پاک کی آیت ہے اور مرزا کہتا ہے کہ اس کا مصداق میں ہوں۔

(٥) ”اس طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا۔ کہ مجھ کو مسیح بن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا۔ اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی......

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣، ١٥٤)

(٦) میں خدا تعالیٰ کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں...... اس لیے خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھے...... میں کیا کروں کس طرح خدا کے حکم کو چھوڑ سکتا ہوں...... خلاصہ یہ کہ میری کلام میں کچھ تناقض نہیں۔ میں تو خدا تعالیٰ کی وحی کی پیروی کرنے والا ہوں۔ جب تک مجھے اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کی مخالف کہا۔ میں انسان ہوں مجھے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں...... میں نہیں جانتا کہ خدا نے ایسا کیوں کیا...... پس خدا دکھلاتا ہے کہ اس رسول کے ادنیٰ خادم اسرائیلی مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٠ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤، ١٥٥)

(٧) ”یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعویٰ میں نبی کا نام سن کر دھوکہ کھاتے ہیں۔ اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو

صفحہ ٤٧٧

ملی ہے۔ لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ میرا ایسا دعویٰ نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت ﷺ کے افاضۂ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لیے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔ اس لیے میں صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔ بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔ اور میری نبوت آنحضرت ﷺ کی ظل ہے نہ کہ اصلی نبوت۔ اسی وجہ سے حدیث اور میرے الہام میں جیسا کہ میرا نام نبی رکھا گیا۔ ایسا ہی میرا نام امتی بھی رکھا ہے۔ تاکہ معلوم ہو کہ ہر کمال مجھ کو آنحضرت ﷺ کے اتباع اور آپ کے ذریعہ سے ملا ہے۔“

(حقیقتہ الوحی ص ١٥٠ حاشیہ خزائن ص ١٥٤)

نبوت اس کو بخشتا ہے اور یہ تو تمام برکت محمد ﷺ سے ہے۔

(حقیقتہ الوحی ص ١٩٥ خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٢)

وجد ورائ O ”میرے پاس آئل آیا۔ اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا۔ کہ خدا کا وعدہ آ گیا۔ پس مبارک وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے۔ (حاشیہ پر ہے) اس جگہ آئل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے۔ اس لیے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔

(حقیقت الوحی ص ١٠٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)

نے میرا نام یہ رکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی سے صرف میں اس نام کا مستحق ہوں۔ اور یہ کہنا کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ کس قدر جہالت ، کس قدر حماقت اور کس قدر حق سے خروج ہے۔ اے نادانو میری مراد نبوت سے یہ نہیں کہ نعوذ باللہ آنحضرتؐ کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں۔ یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔ صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت ومخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرتؐ کی اتباع سے مخاطبہ حاصل ہے سو مکالمہ ومخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔ یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ ومخاطبہ رکھتے ہیں۔ میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں (ولکل ان یصطلح)

(تتمہ حقیقتہ الوحی ص ٦٨ خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور

صفحہ ٤٧٨

اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٨ خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

کیا ہے کہ مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدیٰ سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لیے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انھی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔ اور میرا یہ قول کہ ”من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب“ اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں....... یہ تمام فیوض بلاواسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے۔ جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے۔ یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مُسمّیٰ ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔ یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔ اور اس طور سے خاتم النبیین کی مہر محفوظ رہی کیونکہ میں نے انعکاسی اور ظلی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔ اگر کوئی شخص اس وحی الٰہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے۔ تو یہ اس کی حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مہر نہیں ٹوٹتی۔“

(حاشیہ)...... اس طریق سے نہ تو خاتم النبیین کی پیش گوئی کی مہر ٹوٹی۔ نہ امت کے کل افراد مفہوم نبوت سے جو آیت لا یظھر علی غیبہ کے مطابق محروم رہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، ٧ خزائن ج ١٨ ص ٢١٠، ٢١١)

کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔ تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٢١٣)

حسینؓ کی اور کبھی عباسؓ کی لیکن آنحضرت ﷺ کا صرف یہ مقصود تھا۔ کہ وہ فرزندوں کی طرح اس کا وارث ہو گا۔ اس کے نام کا وارث اس کے خلق کا وارث اس کے علم کا وارث اور روحانیت کا وارث...... پس جیسا کہ ظلی طور پر اس کا نام لے گا۔ اس کا خلق لے گا۔ اس کا علم

٦

صفحہ ٤٧٩

لے گا۔ ایسا ہی اس کا نبی لقب بھی لے گا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٠ خزائن ج ١٨ ص ٢١٤)

(١٥) ’’اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہیے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے ...... یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعے سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔

(حاشیہ) اس امت کے لیے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام کو پالے گی جو پہلے نبی اور صدیق پاچکے ہیں۔ پس من جملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیش گوئیاں ہیں جن کی رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔ لیکن قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت ’’فلا یظهر على غیبه احداً الا من ارتضیٰ من رسول‘‘ سے ظاہر ہے۔ پس مصفی غیب پانے کے لیے نبی ہونا ضروری ہوا۔ اور آیت انعمت علیهم گواہی دیتی ہے کہ اس مصفی غیب سے یہ امت محروم نہیں اور مصفی غیب حسب منطوق آیت نبوت و رسالت کو چاہتی ہے اور وہ طریق براہ راست بند ہے۔ اس لیے ماننا پڑتا ہے کہ اس موہبت کے لیے محض بروز اور ظلیت اور فنا فی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

(١٦) ’’اور جب کہ خود خدا تعالیٰ نے میرے یہ نام رکھے ہیں۔ تو میں کیونکر رد کردوں یا کیونکر اس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦ خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

(١٧) ’’مرزا جی پر بقول اس کے چند وحیاں نازل ہوئیں جن میں سے بعض کا ذکر کیا جاتا ہے۔ سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔

(دافع البلاء ص ١٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

(١٨) وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین

(حقیقۃ الوحی ص ٨٢ خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)

(اور ہم نے آپ کو عالمین پر رحمت کے لیے بھیجا)

(١٩) لا تخف انه لا يخاف لدی المرسلون

(حقیقۃ الوحی ص ٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٩٤)

(نہ ڈرو میرے ہاں رسول نہیں ڈرا کرتے)

(٢٠) انا ارسلنا الیکم رسولاً شاهداً علیکم کما ارسلنا الى فرعون رسولاً

(حقیقۃ الوحی ص ١٠١ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

(ہم نے آپ کی طرف پیغمبر بھیجا جو تم پر گواہ ہے جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔)

(٢١) انی مع الرسول اجیب اخطی واصیب

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)

٧

صفحہ ٤٨٠

(میں رسول کے ساتھ ہو کر جواب دوں گا۔ خطا بھی کروں گا اور صواب بھی)

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٣ تا ١٠٤ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧)

(میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ افطار کروں گا اور روزہ بھی رکھوں گا۔)

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٦ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٩)

(نبیوں کا چاند آئے گا)

(حقیقۃ الوحی ص ٧١ خزائن ج ٢٢ ص ٧٤)

(وہ خدا جس نے اپنا رسول دین حق اور ہدایت دے کر بھیجا تا کہ اس کو ہر دین پر غالب کر دے)

(حقیقۃ الوحی ص ٧٤ خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)

(اور ان پر پڑھ جو آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے وحی کی گئی ہے)

(حقیقۃ الوحی ص ٨٠ خزائن ج ٢٢ ص ٨٣)

(جو لوگ تیرے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں وہ خدا کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔

زمانہ میں اور پانچ سو عیسائی یہودا اسکریوطی مرتد عیسیٰ کے زمانہ میں اور چراغ دین جموں والا عبدالحکیم خان ہمارے اس زمانہ میں مرتد ہوئے۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٥٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٣)

ایک اسلامی سلطنت تمھارے قتل کرنے کے لیے دانت پیس رہی ہے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو۔“

موافق نبی ہوں۔“

(اخبار عام ٢٣ مئی ١٩٠٨ء)

(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٣٩ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٨ حاشیہ)

٨

صفحہ ٤٨١

لاہوریوں کو دھوکہ اور ان کی قابلیت

ان کی علمی قابلیت کے لیے دو ہی باتوں کا بیان ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ جب لاہوری مرزائی اپنا مطبوعہ بیان خصوصی کمیٹی (قومی اسمبلی) کے سامنے پڑھ چکے تو میں نے توجہ دلائی کہ فلاں صفحہ کی سطر فلاں میں کوئی غلطی تو نہیں۔ انھوں نے کہا نہیں۔ میں نے کہا پھر اچھی طرح دیکھو۔ انھوں نے خوب دیکھا اور بتایا کہ بالکل ٹھیک ہے اس سے ان کی عربی قابلیت کا پتہ لگ گیا۔

اس سطر میں حدیث کی یہ عبارت نقل کی گئی تھی۔ لم يبق من النبوة الا المبشرات (کہ نبوت کے اجزاء میں سے صرف خوابیں باقی رہ گئی ہیں) اس میں لفظ لم آیا ہے جس کی وجہ یبقی کا حرف علت (آخر کا الف) گر جاتا ہے۔ مگر ان مبلغوں نے لم یبقی الف کے ساتھ لکھا اور توجہ دلانے پر بھی اس کو صحیح کہا۔

دوسری بات یہ ہے کہ جب ان حضرت کو جرح کے لیے بلایا گیا تو یہی بیان پڑھنے والے بار بار کہتے تھے واللہ العظیم (خدائے عظیم کی قسم) ہا کی پیش کے ساتھ جس سے ہم کو کوفت ہوئی اور احقر ہزاروی نے کھڑے ہو کر صدر کمیٹی کو متوجہ کیا کہ ان حضرات سے فرمائیں کم از کم عبارت تو صحیح پڑھیں واو حرف جار ہے جو مدخول کو جر دیتا ہے۔ دراصل لفظ یوں ہے واللہِ العظیمِ ہاء کے زیر کے ساتھ مگر یہ لائق مبلغ واللہُ العظیمُ پڑھتے رہے۔ اس سے ان کی قابلیت کا بھانڈا چوراہے میں پھوٹ گیا۔

اس طرح ان کی اس بات سے مسلمانوں کو دھوکہ ہو سکتا ہے کہ پھر ان کو کیوں کافر کہا جائے یہ تو مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے نہ بقاء نبوت کے قائل ہیں؟ یہ بھی سراسر دھوکہ ہے (١) پہلے تو مرزا نے دعویٰ نبوت کا کیا ہے۔ (٢) پھر یہ بھی کسی نہ کسی درجے میں اس کو نبی کہتے یا اس کے دعوؤں کی تاویلیں کرتے ہیں۔ لیکن قطعیات دین میں کوئی تاویل مسموع اور قابل قبول نہیں ہو سکتی، مثلاً توحید کا انکار کر کے کہے کہ توحید کا معنیٰ قوم کا اتحاد ہے۔ وحدت قومی کے بغیر توحید کا دعویٰ غلط ہے۔ شرک کا معنی اختلاف ہے۔ اگر قوم میں اتحاد ہے تو ظاہری طور پر

٩

صفحہ ٤٨٢

بتوں کو سجدہ کرنے سے آدمی مشرک نہیں ہوتا۔ نماز کی فرضیت سے انکار کرتے ہوئے کہے کہ صلوٰۃ کا معنی دعا ہے۔ یہ مشہور نماز مراد نہیں۔ یہ سب تاویلیں اس شخص کو کفر سے نہیں بچا سکتیں۔ اسی طرح دعویٰ نبوت کا کر کے بروز ظلیت انعکاس اور فنا فی الرسول کے الفاظ سے اس کی تاویل کرنے سے آدمی بچ نہیں سکتا۔ نہ مرزا قادیانی بچ سکتے ہیں نہ لاہوری مرزائی۔

چند باتیں لکھی جاتی ہیں۔

صدیق سے لے کر خواجہ اجمیری تک۔ اہل بیت، تمام اولیاء امت، علماء صلحاء، مجددین، محدثین، مجتہدین اور ائمہ کرام اس نام کے مستحق نہ تھے)

دی اور وعدہ آجانے کا اعلان کیا۔

کہہ سکتے۔

مسیلمہ کذاب مرتد کہلایا اور عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں یہودا اسکریوطی مرتد تھا۔

اس مضمون سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی اپنے نہ ماننے والوں کو مسیلمہ کذاب اور یہودا اسکریوطی کی طرح کافر مرتد سمجھتے تھے۔ حالانکہ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ مرزا قادیانی کے دعوؤں میں ان کی تصدیق نہیں کرتے تھے۔

پھر مرزا قادیانی نے قرآن پاک کے وہ تمام کلمات اپنے اوپر اتارے جو صرف حضور کے لیے تھے اور ان میں نبوت کی بات تھی۔

و باطل کی امتیازی شان ہے کہ حق ہمیشہ ایک ہی مسلک پر قائم رہتا ہے۔ اور باطل اپنا پینترا بدلتا رہتا ہے۔ اسی طرح لاہوریوں نے مرزا قادیانی کے نہ بدلنے پر شہادت بھی پیش کی ہے۔

مگر اب آپ خود غور کر لیں اور ہمارے دو نمبر پڑھیں ”نمبر ٥ اور نمبر ٦“ کہ مرزا غلام احمد قادیانی پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی کلی فضیلت نہیں مانتے تھے۔ اس لیے کہ وہ پیغمبر

١٠

صفحہ ٤٨٣

تھے۔ مگر وحی بارش کی طرح برسی اور آخر کار وہ بدل گئے اور پھر اس بدلنے کی ذمہ داری خدا پر ڈالتے ہیں جس نے اس کو صریح نبی کا نام دیا۔ اسی طرح براہین احمدیہ لکھنے تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان میں مانا۔ پھر بدل گئے اور خود ہی عیسیٰ بن بیٹھے۔ اسی طرح مسلمانوں کو کافر نہیں کہتے تھے۔ اب کہنے لگ گئے۔

برسول ياتی من بعدی اسمه احمد“ (جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی قرآن میں درج ہے) کا مصداق اپنے کو قرار دیا۔

اسی طرح ”هو الذی ارسل رسوله بالهدی و دین الحق ليظهره علی الدین کلہ“ کا مصداق اپنے کو قرار دیا۔

پھر ”فلا یظهر علیٰ غیبه احداً الا من ارتضىٰ من رسول“ سے اپنا رسول ہونا ثابت کیا۔

کیا یہ کرتوتیں ایسے شخص کی ہو سکتی ہیں جو دل سے نبی کہلانے کا شوق نہ رکھتا ہو؟

ہمارا نمبر ١٢ پڑھیں۔ اس نے کھینچ تان کر تین واسطوں سے اپنی نبوت ثابت کی۔ ایک جملہ یہ ہے (میں نے اپنے رسول مقتدیٰ سے باطنی فیوض حاصل کرکے) دوسرا جملہ یہ ہے (اور اپنے لیے اس کا نام لے کر) تیسرا جملہ یہ ہے (اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے) رسول اور نبی ہوں۔ دیکھئے کس مصیبت سے نبی بننا پڑا؟ اس لیے لوگ اس کو کھینچواں نبی کہتے ہیں۔

میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں) دیکھا آپ نے نبوت محمدیہ بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے آئینے میں آ گئی ہے؟ حالانکہ آئینے میں صرف سامنے کی ایک صورت آتی ہے اندر کی چیزیں اور خصائل اور اخلاق نہیں آیا کرتے۔ لیکن اگر مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ مان لیا جائے کہ نبوت محمدیہ کا عکس بھی آ گیا تو حضور کی نبوت تو مستقل نبوت اور باشریعت تھی تو پھر آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو بروزی طور پر مستقل صاحب شریعت نبی کیوں نہیں کہتے؟

بروز محمد ہونے کا معنی سمجھائے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ دونوں مل کر ایک ہی آدمی بن گئے یہ تو بکواس اور ظاہر کے خلاف ہے۔ دونوں تو ختم نبوت کی مہر ٹوٹ گئی۔ اگر حضور کی روح مرزا قادیانی

١١

صفحہ ٤٨٤

میں آئی تو یہ ہندوؤں کا مسئلہ تناسخ ہے جو قطعاً غلط اور باطل ہے۔ زیادہ سے زیادہ آپ صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا اٹھنا، بیٹھنا، سونا، جاگنا، کھانا، پینا، عادات و عبادات، اخلاق، اعتقادات، چال چلن، معاشرہ تمدن، سیاست، حقوق اللہ، حقوق العباد معاملات، انسانی مساوات، شفقت اور دردِ تبلیغ، تواضع و انکسار، زہد و تقویٰ، کمزوری کے وقت قوت کا اظہار اور قوت میں تواضع کا اظہار۔ اسلامی اخوت اور کفر سے مخالفت اور کافر بادشاہوں سے خطاب غرض یہ کہ ہر بات میں مرزا قادیانی سرور عالم ﷺ ہی کی طرح تھے۔ یہ دعویٰ دنیا میں صحابہؓ سے لے کر آج تک کوئی نہیں کر سکا نہ اس طرح ہو سکتا ہے تو مرزا قادیانی جن کے حالات ہم نے ربوہ پارٹی کے محضر نامہ کے جواب میں لکھے ہیں کس طرح عین محمد ہو سکتے ہیں؟ (انا للہ وانا الیہ راجعون) آپ بروز، ظل، عکس وغیرہ الفاظ سے لوگوں کو دھوکہ ہی دھوکہ دیتے ہیں۔

(س) جب نبوت ختم ہے اور آپ بھی مانتے ہیں تو ہیر پھیر کر کے کیوں مرزا قادیانی کو مسلمان ثابت کرتے ہیں؟ مرزا قادیانی نے صرف آنے والے عیسیٰ ابن مریم بن کر اپنا کاروبار چلانے کی کوشش کی۔

مگر آپ ربوہ جماعت کے محضر نامہ کے جواب میں ہماری کتاب دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آنے والے مسیح ابن مریم وہی اصلی عیسیٰ ابن مریم ہیں کوئی بناوٹی مسیح نہیں ہے۔ دلائل سے بھی اور نشانیوں سے بھی مرزا قادیانی کے حالات سے بھی۔

(ع) آپ ہمارا نمبر ١٥ کا حاشیہ پڑھیں۔ کس مصیبت سے مرزا قادیانی نے اپنے لیے اطلاع علی الغیب ثابت کرنے کی کوشش کی ہے؟ لاہوریوں نے بلکہ خود مرزا قادیانی نے آیت پوری نقل نہ کر کے دھوکہ دیا ہے۔ پوری آیت یوں ہے۔ ”عالم الغيب فلا يظهر على غيبه احداً الا من ارتضىٰ من رسول فانه يسلك من بين يديه ومن خلفه رصداً“ ٠

”خدا عالم الغیب ہے وہ اپنے بھید (غیب اور وحی) پر کسی کو (پوری طرح) مطلع نہیں کرتا مگر جس کو رسول چن لے۔ پھر یقیناً اس کے آگے پیچھے وہ پہرا لگا دیتے ہیں۔“

یہ اس وحی بھید اور غیب کا ذکر ہے جس کو فرشتے پیغمبر کے پاس پہروں کے اندر لاتے ہیں۔ اس غیب اور وحی میں اسی لیے کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ یہ وحی پیغمبروں کے پاس آتی ہے۔ اس میں مرزا شریک ہو کر پیغمبر بنتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ چونکہ ایسا مصفیٰ غیب بغیر پیغمبر بنے ملتا نہیں چار و ناچار حضور کا بروز بن کر ہی کچھ بننا پڑتا ہے۔

(ف) مرزا قادیانی نے آخری مضمون جو زندگی کے آخری دن میں اشتہار عام کر دیا اس

١٢

صفحہ ٤٨٥

میں بھی اپنی نبوت کا ڈھنڈورا پیٹا۔ تو لاہوریو! بتاؤ اگر اس نے نبی کے لفظ سے روکا تھا یا انکار کیا تھا تو پھر کیا ضرورت تھی کہ مرتے مرتے بھی اپنے کو نبی کہہ کر اپنی اولاد کو تباہ و برباد کر ڈالا اور آپ جیسے سادہ آدمیوں کو بھی۔

(یہ مضمون جو مرزا قادیانی نے اخبار عام کو بھیجا یہ (تبلیغ رسالت حصہ دہم ص ١٣٣

مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧) پر درج ہے)

لاہوری مرزائی

اٹارنی جنرل کے سوال پر کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے نہ ماننے والوں کو کافر کہا ہے آئیں بائیں شائیں کی ہے۔ کفر دون کفر کی آڑ لی ہے اور مرزا ناصر احمد کی تقلید ہی میں چھٹکارا سمجھا ہے۔ حالانکہ ایک زکوٰۃ کے انکار سے انصار ومہاجر صحابہؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں ان سے جہاد کیا۔ ان کو یہ کہہ کر کہ یہ ملت سے خارج نہیں ہیں معاف نہیں کیا اور کفر دون کفر کا فائدہ دے کر ان کو زندہ نہیں رہنے دیا گیا۔ یہ ڈھکوسلہ ہے۔ آپ کسی کافرانہ اور خلاف شریعت فعل وعمل کو کافرانہ فعل کہہ سکتے ہیں کیونکہ خدا کے حکم کی تعمیل نہ کرنا دراصل انکار ہی کا تقاضا ہے مگر آپ کسی مسلمان کی ایسی عملی کمزوری سے اس کو اسلام سے خارج مرتد اور کافر قرار نہیں دے سکتے۔ اس طرح کی بات والے کو کفر دون کفر کا مصداق مانا جاسکتا ہے۔ لیکن مدعی نبوت، مدعی وحی قطعی، انبیاء علیہ السلام کی توہین کرنے والے، معراج جسمانی کے منکر حیات مسیح اور نزول مسیح ابن مریم کے منکر اور قطعیات اسلام کے منکر اور قرآن وحدیث کے معانی بدلنے والے کو نہ آپ کسی درجے کا مسلمان کہہ سکتے ہیں نہ اس کو کفر دون کفر کا مصداق بنا سکتے ہیں نہ کسی بزرگ، صحابی، محدث، فقیہ یا مجدد نے ایسا کہا ہے۔

مرزا قادیانی اپنے انکار کو خدا اور رسول کا انکار قرار دیتے ہیں۔ بھلا خدا اور رسول کے انکار سے کوئی کسی درجے میں بھی مسلمان رہ سکتا ہے؟

لاہوری مرزائیو!

اب ہم آپ کے سامنے مرزا غلام احمد قادیانی کی چند باتیں نقل کرتے ہیں۔ کیا اس قسم کا جھوٹا آدمی مجدد، محدث یا مسیح بن سکتا ہے۔

اور یہ باتیں اس لیے نقل کرتے ہیں کہ لاہوری مرزائی تبلیغی شوق میں اس غلط کار آدمی کی پیروی کر کے خواہ مخواہ گندے نہ ہوں اور سیدھے سادے مسلمان بن کر تبلیغ کریں اور دونوں جہاں کی سرخروئی حاصل کریں۔

١٣

صفحہ ٤٨٦

لکھ دیا کہ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ جس شخص سے مکالمات الٰہیہ زیادہ ہو جائیں وہ محدث کہلاتا ہے۔ (ازالۃ الاوہام ص ٩١٥ خزائن ج ٣ ص ٤٠١) لیکن جب خوشامدی مریدوں کی مہربانی سے نبوت کا شوق چرایا تو اسی مکتوب کے حوالے سے لکھ دیا کہ ایسے شخص کو نبی کہا جاتا ہے اور چالاکی کر کے یہاں مکتوب کا نمبر نہیں دیا تاکہ راز فاش نہ ہو۔

کہ ”میرا دعویٰ مثیل مسیح کا ہے۔ کم فہم لوگ اس کو مسیح موعود سمجھ بیٹھے ہیں۔“ ازالۃ الاوہام ص گویا مسیح موعود کہنے والے کو کم فہم کا لقب دیا اور اپنے کو صرف مثیل کہا مگر جب دیکھا کہ چیلے چانٹے مانتے ہی چلے جاتے ہیں تو اسی کتاب میں اور پھر تمام تحریروں میں کھلم کھلا اپنے کو مسیح موعود لکھنا شروع کر دیا۔

کے بعد سب کتابوں سے زیادہ صحیح ہے یہ حدیث موجود ہے کہ مہدی کے لیے آسمان سے آواز آئے گی کہ یہ خدا کا خلیفہ ہے۔ اس حدیث کو دیکھو کس پائے کی ہے اور کتنی معتبر کتاب میں درج ہے۔ (شہادۃ القرآن ص ٤١ خزائن ج ٦ ص ٣٣٧) (حالانکہ یہ حدیث بخاری شریف میں قطعاً نہیں ہے)

کرائے۔ (حقیقۃ الوحی ص ١٥٧ خزائن ج ٢٢ ص ١٦١) پھر اسی کتاب کے (ص ١١١ خزائن ج ٢٢ ص ١١٤) لکھ دیا کہ کئی ہزار یہودی قتل کرائے یہ قطعاً جھوٹ ہے صرف بنو قریظہ کا ایک واقعہ ہے جس میں چار سے چھ سو تک یہودی قتل کیے گئے تھے لیکن وہ ان کے اپنے تجویز کردہ ایک ثالث کے فیصلے سے قتل ہوئے اور تورات کے عین مطابق ہوئے اور یہ بھی وہ یہودی تھے جنھوں نے غزوہ خندق کے نازک موقع پر ٢٤ ہزار لشکر کفار سے مل کر مسلمانان مدینہ کے قتل عام کا انتظام کر دیا تھا، بلکہ نفس اسلام کے استیصال پر کمر باندھ رکھی تھی۔

زلزلوں کے حوادث عیسیٰ پرستی کی وجہ سے ظاہر ہوں گے) تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٤ خزائن ج ٢٢ ص ٤٩٩ مرزا بتاؤ! قرآن پاک میں کہاں لکھا ہے؟

١٤

صفحہ ٤٨٧

انجیل اور دوسرے نبیوں کی کتاب میں جہاں میرا ذکر ہے وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے۔“ اربعین نمبر ٣ ص ٢٥ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤١٣ مرزائیو! مسلم شریف میں حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے نزول کے ذکر میں ان کو نبی کہا گیا ہے مگر یہ تو اس بات کی دلیل ہے کہ آنے والے وہی ابن مریم پیغمبر ہوں گے۔ کوئی بناوٹی مسیح نہ ہوں گے مگر ہم بحث مختصر کرنے کے لیے پوچھتے ہیں کہ بخاری شریف اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں کہاں مرزا قادیانی کو نبی کہا گیا ہے؟ ذرا اپنے مرشد کو سچا تو ثابت کریں۔ پھر کہتے ہیں کہ ان سب کتابوں میں میرا ذکر ہے۔ کیا پدی کیا پدی کا شوربا۔

پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا مسیح موعود جب ظاہر ہو گا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ اور وہ اس کو کافر قرار دیں گے۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٧ خزائن ج ١٧ ص ٥٣)

مرزائیو! مل کر قرآن شریف میں سے کوئی آیت ایسی نکالو جس میں یہ لکھا ہو ورنہ چھوڑو اس جھوٹے کو، پھر قرآن اور حدیث میں سے کسی کتاب میں مسیح موعود کا لفظ بتا دو تو انعام حاصل کرو۔

مرزا قادیانی ادھیڑ تھے تو اپنے اوپر وحی اتار دی کہ اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا ہے (زوجنکھا) انجام آتھم ص ٤٠ خزائن ج ١١ ایضاً کہ ہم نے اس محمدی بیگم کا نکاح تم سے کر دیا ہے۔ یہ خدا تعالیٰ پر صریح جھوٹ تھا۔ اگر خدا نے نکاح کیا تھا تو پھر وہ دلا کیوں نہ سکا۔ اور اگر رکاوٹیں بہت تھیں جن کو خدا دور نہ کر سکتا تھا تو نکاح کیوں کر ڈالا؟ اور مرزا قادیانی کا خدا اتنا بھی نہ سمجھا کہ بیس سال کے مسلسل کوشش کے بعد یہ لڑکی نہ مل سکے گی۔ خواہ مخواہ نکاح کر ڈالا۔ (مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کو آپ اس کی ساری کتابوں میں پائیں گے)

مردوں سے پردہ کرنا ضروری ہے۔ (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢١٠) پھر بانو نام کی عورت سے مٹھیاں بھروائیں (سیرۃ المہدی ص ٢١٣) اور اندھیری راتوں میں اپنے پہرہ پر مائی بھجو نٹیانی اور مائی رسول بی بی مقرر کی۔ ایک جوان لڑکی زینب تمام رات خدمت کرتی پنکھا ہلاتی۔ صبح تک خوشی اور سرور حاصل ہوتا (سیرت المہدی حصہ سوم ص ٢٧٣) آپ بتائیں کہ فتویٰ صحیح ہے یا ان غیر محرم عورتوں کی یہ کاروائی؟

١٥

صفحہ ٤٨٨

لکھا۔ (کہ اے بے وقوفو! یہ ہو کر رہے گا۔ حضور نے بھی ارشاد فرمایا ہے) حالانکہ یہ محض جھوٹ تھا صرف عشق محمدی بیگم نے مرزا قادیانی کو اندھا بہرا کر رکھا تھا۔ جیسے بھوکے نے دو دو نے چار کا معنی چار روٹیاں بتایا تھا۔ بھلا رسول اللہ ﷺ کو مرزا قادیانی اور محمدی بیگم کی شادی کی غلط اطلاع ہو سکتی تھی تو صحیح اطلاع کیوں نہ ہو سکتی تھی کہ یہ شادی نہ ہوگی اور مرزا قادیانی کی ناک کٹ جائے گی۔

المسجد الاقصیٰ) میں مسجد اقصیٰ سے مراد میری یہی مسجد قادیان ہے۔ اسی کو برکت دی گئی ہے۔ تبلیغ رسالت حصہ نہم ص ٧١ اور لکھا ہے کہ مسجد اقصیٰ سے مراد یروشلم کی مسجد نہیں ہے بلکہ مسیح موعود کی مسجد ہے تبلیغ رسالت حصہ نہم ص ٧٢ ( خیال کریں کہ کس طرح لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کی سعی کی ہے) پھر کہا کہ قادیان کا ذکر قرآن میں موجود ہے (ص ٧٣ تبلیغ رسالت حصہ نہم مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٨ حاشیہ نمبر ١)

بڑا بیٹا مرزا فضل احمد مرزا قادیانی پر ایمان نہ لایا اور وہ مر گیا تو مرزا قادیانی نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی تو کیا وہ بھی کنجری کا بیٹا ہو گیا؟ اور اگر اس کی والدہ مرزا قادیانی کی بیوی ایسی تھی تو پھر جس پاک گھر میں ایسی عورتیں اور لڑکے ہوں وہ کتنا پاک گھر ہوا؟ (یہ سب اس بکواس کی سزا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں مرزا قادیانی نے کی ہے) اور اس عورت کے خاوند کا کیا حال ہوا۔

ہوں گے۔ اپنے قادیانی منارے کو بتایا اور کہا کہ وہ منارہ یہی ہے۔ تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٧٣ تا ٧٩ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣١٥، ٣١٦۔ گویا منارہ سے مراد منارہ ہی ہے لیکن دمشق سے مراد قادیان ہے۔ (ایں کار از تو آید و مردان چنیں کنند) مرزا قادیانی ذرا سوچا تو ہوتا کہ مسیح علیہ السلام اس منارے کے پاس نازل ہوں گے۔ گویا منارہ پہلے سے موجود ہوگا مگر مرزا قادیانی نے تو چندہ کر کر اپنی ولادت شریفہ یا نزول کے بعد یہ منارہ بنایا۔ یہاں اگر ایک افیونی کا قصہ ذکر کر دیا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ وہ جب پاخانے جاتا تو پانی کا لوٹا بھر لے جاتا مگر افیونی تھا اس کو قبض رہتی تھی اور لوٹے میں سوراخ تھا جب تک وہ فارغ ہوتا پانی لوٹے سے ختم ہو جاتا۔ ایک دن اس کو غصہ آیا اور پاخانے میں جاتے ہی پہلے استنجاء کر ڈالا بعد میں پاخانہ کرنے لگا اور کہا کہ سرے اب دیکھوں کیسے تو ختم ہوتا ہے؟

١٦

صفحہ ٤٨٩

ور نے بھی ارشاد فرمایا ہے) حالانکہ یہ محض یوانہ سا بنا کر رکھا تھا۔ جیسے بھوکے نے دو دو ﷺ کو مرزا قادیانی اور محمدی بیگم کی شادی کی تی کہ یہ شادی نہ ہوگی اور مرزا قادیانی کی

ت (من المسجد الحرام الى میری یہی مسجد قادیان ہے۔ اسی کو برکت دی گئی صٰی سے مراد یروشلم کی مسجد نہیں ہے بلکہ مسیح یں کہ کس طرح لوگوں کی آنکھوں میں دھول آن میں موجود ہے (ص ٣٩ تبلیغ رسالت حصہ نہم

کو کنجریوں کی اولاد کہا۔ مگر خود مرزا قادیانی کا اور وہ مر گیا تو مرزا قادیانی نے اس کی نماز کر اس کی والدہ مرزا قادیانی کی بیوی ایسی تھی ہ وہ کتا پاک گھر ہوا؟ (یہ سب اس بکواس کی رزا قادیانی نے کی ہے) اور اس عورت کے

مشرق کو ہو گا جس کے پاس حضرت مسیح نازل ہ منارہ یہی ہے۔ تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٣٧ تا ٣٩ مراد منارہ ہی ہے لیکن دمشق سے مراد قادیان قادیانی ذرا سوچا تو ہوتا کہ مسیح علیہ السلام اس سے موجود ہوگا مگر مرزا قادیانی نے تو چندہ کر ۔ یہاں اگر ایک افیونی کا قصہ ذکر کر دیا جائے مر لے جاتا مگر افیونی تھا اس کو قبض رہتی تھی اور وٹے نے ختم ہو جاتا۔ ایک دن اس کو غصہ آیا میں پاخانہ کرنے لگا اور کہا کہ سرے اب

(ضمیمہ حقیقۃ الوحی الاستفتاء ص ٤٩ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٦)

پھر لکھ مارا کہ قرآن اس کے بن باپ کی پیدائش کو رد کرتا ہے (حقیقۃ الوحی ص ٤١ ج ٢٢ خزائن ص ٤٣) (دیکھو یہ ہے مرزا جی کی قرآن دانی اب دو باتوں میں سے ایک تو ضرور جھوٹی ہو گی جو مرزا قادیانی کو کذاب ثابت کر کے حدیث کی تصدیق کرے گی)

کے کامل اتباع اور فنافی الرسول ہونے کی وجہ سے عین محمد بنے اور اس طرح نبی کہلائے۔

دیکھئے اور یقین کر لیجیے کہ نبوت محض موہبت اور خدا تعالیٰ کی بخشش ہے یہ کسی عمل یا کسب یا اتباع سے نہیں ملتی بلکہ جس کو اللہ تعالیٰ چاہیں نبوت دے دیں۔ اس نے پہلے سے ان کا ظرف ہی ایسا بنایا ہوتا ہے اور وہی بہتر سمجھتے ہیں کہ کس کو پیغمبر بنائیں۔

الله اعلم حيث يجعل رسالته ۝ (انعام ١٢٤)

”اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ اپنی پیغمبری کس کو دیں۔“

خود مرزا قادیانی نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔

لاشک ان التحديث موهبة مجردة لاتنال بكسب البتة كما هو شان النبوة ۝ (حمامة البشریٰ ص ٨٢ خزائن ج ٧ ص ٣٠١)

”اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ محدث ہونا محض خدا کی بخشش ہے یہ کسی کسب اور عمل سے نہیں ملتی جیسے نبوت کا حال ہے۔

پس فنافی الرسول ہونا، کثرت اتباع سے امتی نبی ہونا یہ سب ڈھونگ ہے ورنہ حضورﷺ نے یہی ارشاد فرمایا کہ میری امت میں سے کذاب و دجال پیدا ہوں گے۔ ہر ایک کہے گا میں نبی ہوں۔

اس ارشاد میں اس کی نشانی یہ بتائی گئی ہے کہ وہ امت میں سے ہوگا اور اس کے دجل و فریب کا ذکر کر کے مرزا قسم کے ان تمام لوگوں کے دعوؤں اور دجل و فریب کی طرف اشارہ کیا گیا۔ جو مرزا قادیانی کے حالات میں ہم نے ربوہ پارٹی کے محضر نامے کے جواب میں بیان کیے۔

لاہوری مرزائی

١٧

صفحہ ٤٩٠

پہلے تو آپ ان سینکڑوں اقوال کو رد نہیں کر سکتے جو مرزا قادیانی نے نبوت کے لیے کہے۔

موقع پر کام آسکیں۔ یہی دجل ہے۔

کے عقیدے کے خلاف ہے۔ اور اس طرح آپ اور قادیانی گروہ دونوں اس کو مسیح موعود کہہ کر ایک ہی ہو جاتے ہیں۔ اور نبی بھی اس لیے کہتے ہیں کہ مسلم شریف کی حدیث میں حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کے ذکر میں نبی کا لفظ آ گیا ہے۔ تو کیا حضور نے بھی نبی لغوی ہی استعمال کیا؟ آپ نے بروز استعارہ اور لغت کو ایسا عام کر دیا ہے کہ سب جگہ استعارہ ہی استعارہ ہو گیا ہے۔

قادیانی کی بات ماننی پڑتی ہے۔

کرتے ہیں۔

و تورات کی طرح قطعی اور پاک سمجھتے ہیں۔

ہیں۔

اور جہاد کو موقوف کیا گیا ہے۔

معجزات مسمریزم تھے۔ (اور خود مرزا قادیانی بھی ایسا کر سکتا تھا) اور حضورؐ کا معراج روحانی تھا۔ (اور خود مرزا قادیانی کو بھی اس طرح کی معراج ہوئے)

١٨

صفحہ ٤٩١

پرانے پیغمبروں کی نفی کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کا انکار کرتے ہیں۔ جو متواتر ہے اور جس کا انکار کفر ہے۔

پاک کے اصلی معانی جن میں عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا ذکر تھا قرون اولیٰ سے چھپا رکھے تھے۔ حتیٰ کہ خود مجدد بننے تک مرزا قادیانی بھی نہ سمجھے۔

قرآن وحدیث سے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ مگر قرآن پاک کو خود خدا تعالیٰ کی نظروں سے اوجھل کر دے۔ اور حدیثوں کے جس ڈھیر کی مرزا قادیانی اپنی وحی کے خلاف سمجھیں رد کر دیں تو ہمارے ہاتھ میں کون سی کسوٹی رہ گئی؟

مرزا قادیانی (براہین احمدیہ حصہ پنجم) کے دیباچہ (ص ٧ خزائن ج ٢١ ص ٩) پر کے ”پہلے پچاس حصے (براہین احمدیہ کے) لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا۔ اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لیے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“

مرزائیو! سچ کہو پچاس ہزار قرضہ ہو تو پانچ ہزار دے کر تم جان چھڑا سکتے ہو؟ یا پانچ لاکھ کا مال منگوایا گیا تم پچاس ہزار دے کر عہدہ برآ ہو سکتے ہو؟ اگر مرزا قادیانی کو یہ منطق مان لی جائے تو دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے۔ کیوں اس عجیب و غریب آدمی کی پیروی کر کے اپنی عاقبت خراب کر رہے ہو۔

لاہوریوں سے اپیل

ہم آخر میں لاہوری مرزائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ قادیانیوں نے تو باپ دادا کی گدی بنا ڈالی۔ کروڑوں روپے کما لیے ان پر عصبیت غالب ہو سکتی ہے مگر آپ اب اسی غلطی سے باہر آ کر سچی توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی ساری قدرتوں اور پرانے دین کو مان کر مسلمانوں میں مل جائیں تاکہ آپ کی دین دنیا بہتر ہو جائے۔ آپ تبلیغ کریں مسلمان آپ پر فدا ہوں گے ورنہ مرزا غلام احمد قادیانی کا اتباع ستر کروڑ مسلمانوں کے عقیدے میں غلط اور قرآن وحدیث اور اجماع امت کے خلاف ہے۔ ان سطور کے بعد ہم اس بل کی حمایت کرتے ہیں جو ہم نے پیش کیا ہے جس میں

١٩

صفحہ ٤٩٢

مرزائیوں کی دونوں پارٹیوں قادیانی اور لاہوریوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے، ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے اور مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے محروم کرنے کا ذکر ہے۔

غلام غوث ہزاروی ...... ایم ۔ این ۔ اے عبدالحکیم ............ ایم ۔ این ۔ اے عبدالحق ...... (بلوچستانی) ایم ۔ این ۔ اے

٢٠

صفحہ ٤٩٣

احتساب قادیانیت کی ترتیب کی ایک جھلک

رد قادیانیت پر مشتمل اکابر امت کے قدیم رسائل کو شائع کرنے کی ایک تحریک !

نمبر شمار نام کتاب مصنف تعداد رسائل تعداد صفحات ١ ...... احتساب قادیانیت جلد اوّل مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ ١٥ عدد ٣١٢ ٢ ...... احتساب قادیانیت جلد دوم شیخ التفسیر مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ١٠ عدد ٥٤٤ ٣ ...... احتساب قادیانیت جلد سوم مناظر اسلام مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ ١٨ عدد ٥٤٤ ٤ ...... احتساب قادیانیت جلد چہارم امام العصر مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ ١٤ عدد ٦٨٠ حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ محدث کبیر مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھیؒ ٥ ...... احتساب قادیانیت جلد پنجم شیخ المشائخ مولانا سید محمد علی مونگیریؒ ٢٤ عدد ٥٢٨ ٦ ...... احتساب قادیانیت جلد ششم حضرت مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ ٥ عدد ٤٩٦ حضرت مکرم پروفیسر محمد یوسف سلیم چشتیؒ ٧ ...... احتساب قادیانیت جلد ہفتم شیخ المشائخ مولانا سید محمد علی مونگیریؒ ١٠ عدد ٦٤٠

صفحہ ٤٩٤

٨ ...... احتساب قادیانیت جلد ہشتم مناظر اسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ١٦ عدد ٥٧٦

٩ ...... احتساب قادیانیت جلد نہم مناظر اسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ١٨ عدد ٦١٦

١٠ ...... احتساب قادیانیت جلد دہم مناظر اسلام مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ ١٩ عدد ٥٧٥

عارف باللہ مولانا غلام دستگیر قصوریؒ

١١ ...... احتساب قادیانیت جلد یازدہم جناب بابو پیر بخش لاہوریؒ ٩ عدد ٥٠٤

١٢ ...... احتساب قادیانیت جلد دوازدہم جناب بابو پیر بخش لاہوریؒ ٣ عدد ٥٢٨

١٣ ...... احتساب قادیانیت جلد سیزدہم مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ ١٢ عدد ٤٤٠

مفسر قرآن حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ

شیخ التفسیر حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ

١٤ ...... احتساب قادیانیت جلد چہاردہم مبلغ اسلام جناب ابو عبیدہ نظام الدینؒ بی اے ٤ عدد ٣٩٢

١٥ ...... احتساب قادیانیت جلد پانزدہم شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ ٦ عدد ٤٩٤

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ ١٨٣ ٧٨٦٩

مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ

شیر اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ

١٨٣ ٧٨٦٩