تذکرہ خواجہ خواجگان
شیخ المشائخ، مرشد العلماء، پاسبان ختم نبوت
حضرت مولانا خواجہ خان محمد نور اللہ مرقدہ
ترتیب
مناظر ختم نبوت، حضرت مولانا
اللہ وسایا صاحب مدظلہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
www.amtkn.com 061 4783486 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان / عرض مرتب ameer@khatm-e-nubuwwat.com
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
نام کتاب : تذکرہ خواجہ خواجگان (حضرت اقدس مولانا خان محمد صاحبؒ) مصنف : (مولانا) اللہ وسایا صفحات : ۳۴۴ قیمت : ۱۵۰ روپے مطبع : ناصر زین پریس لاہور طبع اوّل : ستمبر ۲۰۱۰ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان / فہرست ameer@khatm-e-nubuwwat.com
بسم الله الرحمن الرحيم
فہرست عنوانات
پیش لفظ ۱۵ باب اوّل ...... ولادت، خاندان، تعلیم، خانقاہ سراجیہ کی مسند نشینی ۱۷ ابتدائی تعلیم ۱۸ لطیفہ غیبی ۱۹ بھیرہ میں تعلیم ۲۰ قدرت کے فیصلے ۲۰ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں داخلہ ۲۲ حضرت بنوریؒ خانقاہ سراجیہ میں ۲۳ دارالعلوم دیوبند میں داخلہ ۲۴ وادیٔ سلوک میں ۲۵ محنت کا صلہ ۲۶ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء ۲۷ حضرت خواجہؒ صاحب کی گرفتاری ۳۲
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگانؒ / فہرست ameer@khatm-e-nubuwwat.com
خانقاہ سراجیہ کی مسند نشینی ۳۳ جمعیت علماء اسلام سے وابستگی ۳۴ حضرت قبلہؒ و حضرت پیر شریفؒ ۳۶ اکابر سے حضرت قبلہؒ کے تعلقات ۳۷
باب دوم ...... حضرت قبلہؒ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۳۹
- ١...... اجلاس ہالیجی شریف ۵۴
- ٢...... چناب نگر (ربوہ) میں مرکز ختم نبوت کا قیام ۵۴
- ٣...... چناب نگر میں پہلا عوامی اجتماع ۵۵
- ۴...... حضرت مولانا خان محمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ ربوہ میں ۵۶
- ۵...... حضرت بنوریؒ کی زیرصدارت آخری شوریٰ کا اجلاس ۵۹
- ٦...... حضرت قبلہؒ کو امیر منتخب کر لیا گیا ۶۱
- ٧...... حضرت قبلہؒ کا تاریخی خط ۶۱
- ٨...... ۱۰؍ اگست کی کاروائی کا فیصلہ نمبر ۱: الیکشن اور قادیانی ۶۵
- ٩...... ۱۰؍ اگست ۷۷ء کی کاروائی کا فیصلہ نمبر ۲! مسلم کالونی چناب نگر ۶۶
- ١٠...... الف: مسجد ۶۷
- ١١...... ب: دارالمبلغین ۶۷
- ١٢...... ج: چناب نگر میں مدرسہ عربی ۶۸
- ١٣...... د: اساتذہ و مبلغین کے رہائشی کوارٹر ۶۹
- ١۴...... ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کا آغاز ۶۹
- ١۵...... حضرت قبلہؒ اپنے استاذ کے نقش قدم پر ۷۰
- ١٦...... پہلا اجلاس ۷۴
- ١٧...... ضیاء الحق کے زمانہ میں ووٹر فارم کی عبارت میں تبدیلی ۷۴
- ١٨...... مجلس کے مرکزی حضرات کا اختلاف رائے اور حضرت قبلہؒ کی کرامت ۷۶
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگانؒ فہرست ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۱۹...... دفتر مرکزیہ کی تعمیر اور حضرت قبلہؒ کی کرامت ۷۸
- ۲۰...... دارالمبلغین کی توسیع ۸۰
- ۲۱...... مجلس عمومی کا اجلاس، امیر و نائب امیر کا چناؤ مارچ ۱۹۸۱ء ۸۱
- ۲۲...... مولانا محمد شریف جالندھریؒ ناظم اعلیٰ ۸۲
- ۲۳...... قبلہ حضرت صاحبؒ اور مجلس کے نئے دفاتر و مراکز کی تعمیر ۸۳
- ۲۴...... ۱...... گوجرانوالہ میں مرکز ختم نبوت کی تعمیر ۸۳
- ۲۵...... ۲...... سیالکوٹ میں مجلس کے مرکز کی تعمیر ۸۴
- ۲۶...... ۳...... سکھر میں مجلس کے مرکز کی تعمیر ۸۴
- ۲۷...... ۴...... کراچی میں مجلس کے مرکز کی تعمیر ۸۵
- ۲۸...... ۵...... حیدر آباد میں ختم نبوت مرکز کی تعمیر ۸۵
- ۲۹...... ۶...... کوٹری ضلع حیدر آباد میں مرکز کی تعمیر ۸۶
- ۳۰...... ۷...... کنری میں ختم نبوت مسجد و مدرسہ کا قیام ۸۶
- ۳۱...... ۸...... سرگودھا دفتر ختم نبوت کی تعمیر ۸۶
- ۳۲...... ۹...... ٹالہی میں ختم نبوت مسجد و مدرسہ کا قیام ۸۶
- ۳۳...... ۱۰...... ختم نبوت مسجد و دفتر گمبٹ کی تعمیر ۸۷
- ۳۴...... ۱۱...... دفتر ختم نبوت رحیم یار خان کی تعمیر ۸۷
- ۳۵...... ۱۲...... دفتر لاہور کی خریداری و تعمیر ۸۷
- ۳۶...... ۱۳...... دفتر ختم نبوت کوئٹہ کی خریداری ۸۷
- ۳۷...... ۱۴...... ژوب بلوچستان میں مجلس کے دفتر کی خریداری ۸۸
- ۳۸...... ۱۵...... دفتر ختم نبوت فیصل آباد کی تعمیر ۸۸
- ۳۹...... ۲۹؍مئی ۱۹۸۲ء کو ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کا اجراء ۸۸
- ۴۰...... ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کا آغاز ۸۹
- ۴۱...... جنرل ضیاء الحق کا قانون کو منسوخ کرنا ۹۰
- ۴۲...... ۱۹۸۳ء میں قادیانی جارحیت ۹۴
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگانؒ ؍ فہرست ameer@khatm-e-nubuwwat.com
۴۳...... مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے احیاء کی کاروائی کا جائزہ ۹۵ ۴۴...... وفاقی مجلس شوریٰ میں ترمیم ۱۹۷۴ء کے متعلق قانون سازی کی جدوجہد کا جائزہ ۹۷ ۴۵...... حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کی گرفتاری و رہائی ۹۷ ۴۶...... اسلم قریشی کیس ۹۹ ۴۷...... تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء ۱۰۳ ۴۸...... امتناع قادیانیت آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء ۱۰۵ ۴۹...... قادیانیت سے عدالتی جنگ ۱۱۰ ۵۰...... کیس نمبر ۱...... وفاقی شرعی عدالت ۱۱۱ ۵۱...... کیس نمبر ۲...... قادیانی اپیل، در اپیل بنچ سپریم کورٹ وفاقی شرعی عدالت ۱۱۵ ۵۲...... کیس نمبر ۳...... ہائیکورٹ لاہور (قادیانیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین) ۱۱۶ ۵۳...... کیس نمبر ۴...... فیصلہ ہائیکورٹ بلوچستان ۱۱۸ ۵۴...... کیس نمبر ۵...... صد سالہ جشن کیس لاہور ہائیکورٹ ۱۱۹ ۵۵...... مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کی جفاکشی ۱۲۳ ۵۶...... کیس نمبر ۷...... لاہور ہائیکورٹ ۱۲۴ ۵۷...... کیس نمبر ۸...... لاہور ہائیکورٹ ۱۲۵ ۵۸...... کیس نمبر ۹...... لاہور ہائیکورٹ بابت نمبرداری ۱۲۵ ۵۹...... کیس نمبر ۱۰...... توہین رسالت کی سزا فیڈرل شریعت کورٹ ۱۲۵ ۶۰...... کیس نمبر ۱۱...... فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان ۱۲۶ ۶۱...... حضرت قبلہؒ کی بیقراری ۱۳۰ ۶۲...... لٹریچر کی ترسیل ۱۳۲ ۶۳...... دیوبند میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام ۱۳۶ ۶۴...... عالمی مجلس ۱۳۷ ۶۵...... ربوہ کی دھرتی پر حضرت قبلہؒ کا انتخاب ۱۳۷
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان؍ فہرست ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ٦٦......فتاویٰ ختم نبوت کی ترتیب واشاعت ۱۳۹
- ٦٧......قادیانی سربراہ کی طرف سے مباہلہ کا چیلنج اور حضرت قبلہؒ کا نعرۂ حق ۱۳۹
- ٦٨......۱۹۸۸ء کا الیکشن اور قادیانی ۱۴۱
- ٦٩......قادیانیوں کا سالانہ جلسہ ۱۴۲
- ٧٠......سال ختم نبوت ۱۹۸۹ء ۱۴۳
- ٧١......مالی کے ہزاروں افراد کا قبول اسلام ۱۴۴
- ٧٢......مجلس عمومی کا اجلاس ۱۸؍ اکتوبر ۱۹۹۱ء ۱۴۵
- ٧٣......وفاق المدارس کے نصاب میں ردّ قادیانیت کا مضمون ۱۴۸
- ٧٤......اسلامی وزرائے خارجہ کانفرنس کراچی ۱۴۸
- ٧٥......تاریخ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء ۱۴۸
- ٧٦......مجلس کے مدارس کا وفاق سے الحاق ۱۴۹
- ٧٧......کفالت فنڈ ۱۴۹
- ٧٨......ماہنامہ لولاک ملتان سے ۱۴۹
- ٧٩......دیوبندی جماعتوں کا اتحاد ۱۵۰
- ٨٠......سندھ میں کانفرنسیں ۱۵۱
- ٨١......مجلس عمومی کا اجلاس ۱۵۲
- ٨٢......پرویزی دور حکومت، ۸؍ مئی ۲۰۰۰ء عمومی ختم نبوت کنونشن لاہور ۱۵۲
- ٨٣......مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی شہادت ۱۵۳
- ٨٤......مجلس عمومی کا اجلاس ۱۵۴
- ٨٥......دارالقرآن چناب نگر کی تعمیر ۱۵۴
- ٨٦......ووٹر لسٹوں میں تبدیلی ۱۵۵
- ٨٧......پاسپورٹ سے مذہب کے خانہ کا اخراج و بحالی ۱۵۵
- ٨٨......احتساب قادیانیت ۱۵۸
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگانؒ فہرست ameer@khatm-e-nubuwwat.com
باب سوم ...... مسند نشینی، خانقاہ سراجیہ کی تعمیر و ترقی، خلفاء، اولاد ۱۵۹
مسند نشینی ۱۶۰
خانقاہ سراجیہ کی تعمیر و ترقی ۱۶۰
اپنے شیخؒ کی اولاد کی کفالت ۱۶۱
خانقاہ سراجیہ کی تعمیر ۱۶۱
مدرسہ عربیہ سراجیہ کی ترقی ۱۶۲
لائبریری کی توسیع ۱۶۲
خانقاہی نظام کا عروج ۱۶۳
خلفائے کرام ۱۶۳
اولاد ۱۶۵
بڑی صاحبزادی ۱۶۵
حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب ۱۶۵
مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب ۱۶۶
صاحبزادہ حافظ رشید احمد صاحب ۱۶۷
صاحبزادہ ملک سعید احمد صاحب ۱۶۷
حضرت صاحبزادہ نجیب احمد صاحب ۱۶۸
باب چہارم ...... حضرت قبلہؒ کے مختلف دلچسپ واقعات ۱۶۹
- ۱...... سب سے زیادہ ۱۷۰
- ۲...... ملکی و غیر ملکی اسفار ۱۷۰
- ۳...... متبع سنت ۱۷۱
- ۴...... ایفائے عہد ۱۷۱
- ۵...... نقد قبولیت ۱۷۱
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگانؒ فہرست ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۶...... ختم نبوت کے صدقے؟ ۱۷۱
- ۷...... غیبت سے اجتناب ۱۷۱
- ۸...... حضوریٔ قلب ۱۷۱
- ۹...... خاموشی سے فائدہ ۱۷۲
- ۱۰...... حضرت لدھیانویؒ ۱۷۲
- ۱۱...... حضرت لدھیانویؒ کو سنے ۱۷۲
- ۱۲...... حضرت لدھیانویؒ میری زبان ہیں۔ ۱۷۲
- ۱۳...... عورتوں کا اختلاف ۱۷۲
- ۱۴...... اصابت رائے ۱۷۲
- ۱۵...... سترہ دینی جماعتوں کا اتحاد ۱۷۳
- ۱۶...... حضرت درخواستیؒ کا احترام ۱۷۳
- ۱۷...... بے پناہ ضبط ۱۷۵
- ۱۸...... تعویزوں کا مسئلہ ۱۷۶
- ۱۹...... گول گپے ۱۷۶
- ۲۰...... موئے مبارک ۱۷۶
- ۲۱...... حضرت رائے پوریؒ و حضرت ثانیؒ ۱۷۷
- ۲۲...... حضرت رائے پوریؒ کی خدمت ۱۷۸
- ۲۳...... حضرت رائے پوریؒ کی نصیحت ۱۷۸
- ۲۴...... نعروں سے روک دیا ۱۷۸
- ۲۵...... ذاتیات پر بحث سے منع فرمانا ۱۷۹
- ۲۶...... تصوف کے امام ۱۷۹
- ۲۷...... مولانا ضیاء القاسمیؒ کی دعوت ۱۸۰
- ۲۸...... خوش طبعی ۱۸۰
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگاںؒ فہرست ameer@khatm-e-nubuwwat.com
۲۹...... حسنؓ، حسینؓ الہامی نام ۱۸۰ ۳۰...... امریکہ، یورپ ۱۸۰ ۳۱...... علامہ اقبالؒ فلسفی تھے ۱۸۱ ۳۲...... پہلے ابوالکلامؒ بنو پھر...... ۱۸۱ ۳۳...... عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی، قیامت کی نشانی ۱۸۱ ۳۴...... سنت کا مقام و احترام ۱۸۱ ۳۵...... مخدوم و خادم ۱۸۱ ۳۶...... عزیز احمد سے پوچھو ۱۸۲ ۳۷...... دل کی اپنی دنیا ہے ۱۸۲ ۳۸...... قربت صحبت کے اثرات ۱۸۲ ۳۹...... مجذوب سے خطاب ۱۸۲ ۴۰...... عورت کی حکمرانی ۱۸۳ ۴۱...... ذوق مطالعہ ۱۸۳ ۴۲...... نماز اور حضرتؒ کی دعا ۱۸۳ ۴۳...... داڑھی منڈوں کی اصلاح ۱۸۴ ۴۴...... اچھی تقریر اور استغفار ۱۸۴ ۴۵...... تقریر کے لئے وظیفہ ۱۸۵ ۴۶...... حضرت کا عصا مبارک ۱۸۵ ۴۷...... عالمی مجلس کے ناظم اعلیٰ ومجلس عمل کے رابطہ سیکرٹری ۱۸۵ ۴۸...... مولانا سلیم اللہ خان ۱۸۶ ۴۹...... مولانا تاج محمودؒ ۱۸۶ ۵۰...... وعدہ کی لاج ۱۸۷ ۵۱...... روئیداد مقدمہ بہاولپور ۱۸۷
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگانؒ فہرست ameer@khatm-e-nubuwwat.com
۵۲...... پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ ۱۸۹ ۵۳...... مراقبہ میں دیکھا ۱۹۱ ۵۴...... افغانستان کا سفر؟ ۱۹۱ ۵۵...... لیبیا کا سفر؟ ۱۹۲ ۵۶...... ایرانی علماء سے ملاقات؟ ۱۹۲ ۵۷...... ایران کا سفر؟ ۱۹۲ ۵۸...... حکومتی حج ۱۹۳ ۵۹...... نورانی میاںؒ سے ملاقات ۱۹۳ ۶۰...... مولانا نورانیؒ خانقاہ سراجیہ میں ۱۹۳ ۶۱...... لال مسجد ۱۹۳ ۶۲...... مولانا عبید اللہ انورؒ ۱۹۴ ۶۳...... مولانا محمد شاہ امروٹیؒ ۱۹۴ ۶۴...... حضرت بنوریؒ کی دعا ۱۹۵ ۶۵...... حضرتؒ کے خادم پر حضرت بنوریؒ کی شفقت ۱۹۵ ۶۶...... حضرت شیخ بنوریؒ ۱۹۶ ۶۷...... صاحبزادوں کی بات ۱۹۶ ۶۸...... حضرت مفتی محمودؒ ۱۹۶ ۶۹...... اولاد پر مہربان ۱۹۶ ۷۰...... تیمارداری ۱۹۷ ۷۱...... شفقتوں کی بارش ۱۹۷ ۷۲...... سلیقہ کی زندگی ۱۹۷ ۷۳...... زندگی بھر ۱۹۸ ۷۴...... طالب علموں کی لڑائی ۱۹۸
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگانؒ فہرست ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۷۵......حضرت قبلہؒ کا صاحبزادی کو نصیحت ۱۹۸
- ۷۶......خوب رہا ۱۹۹
- ۷۷......حج و عمرہ ۱۹۹
- ۷۸......بانیؒ تبلیغ مولانا محمد الیاسؒ سے ملاقات ۲۰۰
- ۷۹......حضرت حاجی عبدالوہاب امیر تبلیغ ۲۰۰
- ۸۰......حضرت قبلہؒ کی عرب کو نصیحت ۲۰۱
- ۸۱......ٹیپ کا خاموش ہونا ۲۰۱
- ۸۲......حضرت کا کمال ضبط ۲۰۲
- ۸۳......حضرت کا اثر ۲۰۲
- ۸۴......لالہ سعید کا کمال ۲۰۳
- ۸۵......طالب علموں پر شفقت ۲۰۳
- ۸۶......بیعت نے مزاج بدل دیا ۲۰۴
- ۸۷......جامعہ اشرفیہ میں ورود مسعود ۲۰۴
- ۸۸......حافظ ابوذر بخاریؒ ۲۰۵
- ۸۹......پوچھو کیا کام ہے ۲۰۵
- ۹۰......لطائف تصوف ۲۰۶
- ۹۱......حرم میں عصر ۲۰۶
- ۹۲......کرسی پر طواف ۲۰۶
- ۹۳......حضرتؒ کی بشاشت ۲۰۷
- ۹۴......مقام حضوری ۲۰۷
- ۹۵......اپنے قلب کو شیخ کے قلب کی طرف متوجہ رکھیں ۲۰۷
- ۹۶......آپ کی دعا نے صلح کرا دی ۲۰۸
- ۹۷......دیر تک دیکھتے رہے ۲۰۸
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگانؒ فہرست ۱۳ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
۹۸......تین بھائیوں کے لئے علیحدہ علیحدہ دعا ۲۰۸ ۹۹......حسنؒ نام رکھنا ۲۰۹ ۱۰۰......حضرت قبلہؒ کی دعا کا اثر ۲۰۹ ۱۰۱......نمبرداری پر بحال ہو گیا ۲۰۹ ۱۰۲......مولانا احمد خانؒ کا مقام ۲۱۰ ۱۰۳......مولانا حسین علیؒ کی وضاحت ۲۱۰ ۱۰۴......سنت کی پیروی ۲۱۱ ۱۰۵......سنت کا اتباع ۲۱۱ ۱۰۶......فوری اثر ۲۱۲ ۱۰۷......مولانا حسین علیؒ کے صاحبزادہ کی گواہی ۲۱۲ ۱۰۸......مولانا فضل الرحمٰن کی پالیسی پر اطمینان ۲۱۲ ۱۰۹......بدنظری سے بچیں ۲۱۳ ۱۱۰......سر پر پٹے ۲۱۴ ۱۱۱......یہودی آفیسر کی گواہی ۲۱۴ ۱۱۲......خالق کی تابعداری کے اثرات ۲۱۵ ۱۱۳......مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹیؒ کا جنازہ ۲۱۶ ۱۱۴......بچوں کی ذہانت کے لئے نسخہ ۲۱۷ ۱۱۵......مشکل مسائل کے حل کے لئے وظیفہ ۲۱۷ ۱۱۶......وظیفہ پورا پڑھو ۲۱۸
باب پنجم ...... رشحاتِ قلم (مقالات ، مکتوبات) ۲۱۹
۱......تحریک ختم نبوت منزل بہ منزل ۲۲۰ ۲......۷؍ ستمبر ایک تاریخ ساز دن ۲۳۳
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگانؒ فہرست ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۳......جنرل محمد ضیاء الحق کی خدمت میں مسئلہ ختم نبوت سے متعلق مثبت تجاویز ۲۴۰
- ۴......خطبۂ صدارت ۲۴۵
- ۵......خطبۂ صدارت ۲۵۶
- ۶......خطبۂ صدارت ۲۷۳
- ۷......رسالة دينية هامة الى الحكومات الاسلامية ۲۸۳
فہرست......مکتوبات گرامی حضرت اقدس ۳۰۰ مکتوب گرامی نمبر: ۱ ۳۰۱ مکتوب گرامی نمبر: ۲ ۳۰۲ مکتوب گرامی نمبر: ۳ ۳۰۴ مکتوب گرامی نمبر: ۴ ۳۰۷ مکتوب گرامی نمبر: ۵ ۳۰۸ مکتوب گرامی نمبر: ۶ ۳۰۹ مکتوب گرامی نمبر: ۷ ۳۱۲ مکتوب گرامی نمبر: ۸ ۳۱۳ مکتوب گرامی نمبر: ۹ ۳۱۴ مکتوب گرامی نمبر: ۱۰ ۳۱۷ مکتوب گرامی نمبر: ۱۱ ۳۱۸ مکتوب گرامی نمبر: ۱۲ ۳۱۹ مکتوب گرامی نمبر: ۱۳ ۳۲۱ مکتوب گرامی نمبر: ۱۴ ۳۲۸
خاتمۃ الکتاب ...... علالت، انتقال، جنازہ ۳۳۱ خانقاہ سراجیہ کی مسند نشینی ۳۳۸ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم کا خطاب ۳۴۱
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
پیش لفظ
بسم الله الرحمن الرحيم! نحمده ونصلى على رسوله الكريم . اما بعد!
انسان ہزار بار خواہش کرے، ہوتا وہی ہے جو اللہ رب العزت چاہتے ہیں۔ دو تین سال سے متواتر حضرت مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب مدظلہ، مجھے اصرار وتکرار سے حکم فرما رہے تھے کہ حضرت قبلہ مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کے حالات پر مشتمل تفصیلی مضمون لکھوں۔ جو تحفہ سعدیہ کے کمپیوٹر ایڈیشن کی پہلی اشاعت کے اوائل میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے لئے صاحبزادہ صاحب نے تحفہ سعدیہ کی اشاعت کو بھی روکے رکھا۔ فقیر صدق دل سے اس سعادت کے حصول کے لئے شدید خواہش مند تھا۔ لیکن جب بھی اس کام کا آغاز کرنا چاہا، راستہ میں کوئی نہ کوئی رکاوٹ آجاتی۔ کئی بار حضرت قبلہؒ کے حالات لکھنے کے لئے جن کتابوں سے مدد ملنے کی توقع تھی وہ جمع بھی کرلیں۔ ان کا مطالعہ کیا۔ ضرورت کی چیزوں کو نشان زد کیا۔ اس کام کے لئے گزشتہ دو سالوں کے رمضان المبارک میں دس دس دن نکال کر خانقاہ شریف حاضری بھی ہوئی۔ مشاورت بھی تمام صاحبزادہ صاحبان سے مکمل ہوگئی۔ لیکن کام اس لئے روکنا پڑا کہ حضرت مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب، حضرتؒ کے خود نوشت حالات وواقعات جو حضرتؒ کی ڈائریوں میں محفوظ تھے۔ انہیں کتابی شکل میں شائع کرنا چاہتے تھے۔ اس کے لئے خاصہ کام بھی انہوں نے مکمل فرمالیا تھا۔ ڈائریوں کا مسودہ آپ کمپوزنگ کے لئے بھجوا چکے تھے۔ خیال ہوا کہ حضرت قبلہؒ کی ڈائریوں پر مشتمل کتاب شائع ہوجائے تو اس کی مدد سے حضرتؒ کے حالات پر جامع مضمون لکھوں گا۔ لیکن ”عرفت ربی بفسخ العزائم“ کا معاملہ ہوا کہ اس دوران میں حضرتؒ کا ۵؍ مئی ۲۰۱۰ء کو وصال ہوگیا۔ انا لله وانا اليه راجعون!
جو کام کئی سالوں سے التواء کا شکار تھا۔ اب شدید تقاضا ہوا کہ حضرتؒ پر ”ماہنامہ لولاک“ کے لئے تعزیتی مضمون لکھا جائے۔ اسے اللہ رب العزت کا انعام اور حضرتؒ کی کرامت سمجھتا ہوں کہ تعزیتی مضمون لکھتے لکھتے ایسی راہیں کھلتی گئیں کہ یہ کتاب تیار ہوگئی۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
قارئین! تعزیتی مضمون نے کتاب کی شکل اختیار کرنے کا راستہ اختیار کیا تو اس دوران میں برطانیہ کا سفر پیش آ گیا۔ اگر وہ سفر نہ ہوتا تو یہ کتاب بہت پہلے مکمل ہو جاتی۔ اب واپسی پر اسے مکمل کیا اور قلم روک روک کر اتنی ضخامت پر اکتفاء کیا۔ اس لئے موقعہ بموقعہ رسائل سے واقعات کی مناسبت سے حوالہ جات یا اقتباسات شامل کئے جاتے تو ایک کی بجائے دو جلدوں میں بھی یہ کام مکمل نہ ہو پاتا۔
راقم نے محض اشارات پر مشتمل یہ کتاب آپ کے ہاتھوں میں پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ آپ چاہیں تو اسے حضرت کی ”کتاب زندگی“ کا متن بھی قرار دے سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں اور قیامت کے دن حضرت کی روح پر فتوح کے سامنے شرمساری سے بچ جائیں۔ تو گویا ”دل کی بے قراری کو قرار آ گیا“ کا معاملہ ہو جائے۔ بہت شکر گزار ہوں۔ مخدوم گرامی مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ، صاحبزادہ حافظ رشید احمد صاحب، محترم صاحبزادہ سعید احمد صاحب اور اپنے مرشد گرامی جناب صاحبزادہ نجیب احمد صاحب کا، کہ موقعہ بموقعہ ان سے رہنمائی ملتی رہی۔ ایک بار پھر خصوصیت سے شکریہ ادا کرنا ہے۔ حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب کا کہ آپ نے کمال شفقت کا مظاہرہ فرمایا۔ اس کتاب کی ترتیب وتدوین میں۔ وہ گویا ہر وقت فقیر کی انگلی پکڑے سفر کراتے رہے۔
اس کتاب کے نام کے لئے مخدوم زادہ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی سے مشورہ مانگا۔ بالآخر حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری زید مجدہم کے حکم پر مخدوم العلماء حضرت مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی مدظلہ سے درخواست کی تو آپ نے یہ نام تجویز فرمایا۔ فلحمد للہ !
اللہ رب العزت اس کتاب کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں۔ اگر واقعات کے بیان میں کوئی سہو ہوا ہو، تو اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کے ساتھ ساتھ قارئین سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ تحریراً مطلع فرمائیں گے تو آئندہ ایڈیشن میں تصحیح کر دی جائے گی۔
محتاج دعاء فقیر اللہ وسایا!
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
باب اوّل
ولادت، خاندان، تعلیم
خانقاہ سراجیہ کی مسند نشینی
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ہمارے حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کا سلسلہ نسب یہ ہے۔ ملک خواج عمر بن ملک مرزا خان بن ملک غلام محمد۔ قوم تلوکر۔ جو راجپوت برادری کی ایک شاخ ہے۔ تلوکر قوم کا قدیم پیشہ زمیندارہ ہے۔ خواج عمر صاحب خدا ترس، نیک خصلت، سادہ منش زمیندار تھے۔ خانقاہ موسیٰ زئی شریف کے سراج الاولیاء حضرت خواجہ سراج الدینؒ سے بیعت کا تعلق تھا۔ آپ ان کے خدمت گار، محبّ ومخلص مرید تھے۔ حضرت خواجہ صاحبؒ آپ کو ’’نکا مرید‘‘ سے یاد فرماتے تھے۔ ’’نکا‘‘ سرائیکی زبان میں چھوٹے کو کہتے ہیں۔ نکا مرید یعنی چھوٹا مرید۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ خواج عمر صاحب، حضرت خواجہ ابوالسعد احمد خانؒ بانی خانقاہ سراجیہ کے چچازاد بھائی تھے۔ خواجہ ابوالسعد احمد خانؒ کی بیعت بھی حضرت خواجہ سراج الدینؒ سے تھی۔ وہ بڑے مرید اور آپ کے چچازاد بھائی خواج عمر صاحب کو شاید اسی نسبت سے نکا مرید (چھوٹا مرید) کے نام سے یاد فرماتے۔
خواج عمر کو اللہ تعالیٰ نے چار صاحبزادے بالترتیب ملک شیر محمدؒ، مولانا خواجہ خان محمدؒ، ملک فتح محمدؒ، ملک محمد افضلؒ ودیعت فرمائے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کی تاریخ پیدائش حتمی طور پر متعین کرنا مشکل ہے۔ اس لئے کہ اس زمانہ میں تاریخ پیدائش کے لکھنے کا خاندان میں رواج نہ تھا۔ البتہ قرائن و واقعات کو سامنے رکھ کر آپ کے سوانح نگاروں نے ۱۹۲۰ء سال پیدائش لکھا ہے۔ اب آپ کے وصال کے بعد خانقاہ شریف کی لائبریری میں موجود دلائل الخیرات کے حواشی پر دیکھنے والوں کے قول کے مطابق خاندان کے دیگر حضرات کے علاوہ حضرت خواجہ خان محمد صاحبؒ کی تاریخ پیدائش ۱۹۰۹ء حضرت اعلیٰؒ کے قلم سے لکھی ہوئی ملی ہے۔ ۱۹۲۰ء کی تاریخ کا تعین کیا جائے آپ کی عمر مبارک اکانوے سال اور ۱۹۰۹ء کا اعتبار کیا جائے تو پھر عمر مبارک ایک سو سال بنتی ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب) موضع کھولہ، بستی ڈنگ، نزد کندیاں میں آپؒ کی پیدائش ہوئی۔ یہاں پر ہی خواج عمر اور آپ کا پورا خاندان آباد تھا۔ چشمہ بیراج کی تعمیر پر وہاں سے نقل مکانی کر کے اکثر خاندان موجودہ خانقاہ سراجیہ کی جگہ میں آ کر آباد ہوا۔ خانقاہ سراجیہ کی بعد میں بنیاد رکھی گئی۔
ابتدائی تعلیم
حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب جب تعلیم کے قابل ہوئے تو آپ کو بستی ڈنگ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کے قریب موضع کھولہ کے لوئر مڈل سکول میں داخل کرایا گیا۔ آپ نے چھٹی جماعت تک یہاں پر تعلیم حاصل کی۔
لطیفہ غیبی
ایک دن خانقاہ سراجیہ کے بانی حضرت مولانا خواجہ ابوالسعد احمد خانؒ المعروف ”اعلیٰ حضرت“ نے اپنے چچازاد اور پیر بھائی ملک خواجہ عمرؒ سے فرمایا کہ آپ کے پاس ایسی تین چیزیں ہیں جو میرے پاس نہیں۔ ان میں سے ایک مجھے دے دیں۔ ان دنوں خانقاہ سراجیہ کے لنگر خانہ میں دودھ دینے والی کوئی بھینس نہ تھی۔ خواجہ عمر صاحبؒ کے پاس تین بھینسیں دودھ دینے والی تھیں۔ اس لئے آپ سمجھے کہ لنگر کے لئے بھینس کا حضرت اعلیٰؒ اشارہ فرما رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تینوں بھینسیں لنگر کے لئے حاضر ہیں۔ حضرت اعلیٰؒ مسکرائے اور فرمایا کہ ہمیں آپ کی بھینسوں سے سروکار نہیں۔ آپ اپنے تینوں بیٹوں میں سے (ابھی ملک محمد افضلؒ آپ کے سب سے چھوٹے بیٹے کا تولد نہ ہوا تھا) ایک مجھے دے دیں۔ خواجہ عمر صاحبؒ نے ایک لمحہ سوچے بغیر فرمایا کہ جون سا بیٹا آپ فرمائیں حاضر ہے۔ حضرت اعلیٰؒ نے ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ کی بابت فرمایا کہ یہ ہمیں دے دیں۔ سچ ہے کہ: ”قدر زر زرگر بداند قدر جوہر جوہری“۔ حضرت اعلیٰؒ کی خدمت اور آپ کی علمی و روحانی وراثت و جانشینی، خانقاہ سراجیہ کی ترقی، سلسلہ نقشبندیہ کی ترویج اور دین اسلام کی اشاعت کے لئے یوں ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب کو اللہ رب العزت نے منتخب فرما لیا۔ فالحمد للہ!
ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب سکول چھوڑ کر دینی تعلیم کے لئے وقف ہو گئے۔
اس زمانہ میں خانقاہ سراجیہ، جامع مسجد، کتب خانہ، تسبیح خانہ، مہمان خانہ کی تعمیر کا کام ہو رہا تھا۔ حضرت اعلیٰؒ کی سرکردگی میں آپ کے خلیفہ و جانشین حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانویؒ المعروف ”حضرت ثانیؒ“ اس کام کے نگران تھے۔ حضرت ثانیؒ دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے۔ حضرت اعلیٰؒ نے ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب کو پڑھانے کے لئے حضرت ثانیؒ اور حضرت مولانا سید عبداللطیف شاہؒ احمد پور سیال کو حکم فرمایا۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ان اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور دینی تعلیم میں مشغول ہو گئے۔ تعلیم کے ساتھ اپنے اساتذہ گرامی ذی وقار کے ساتھ خانقاہ سراجیہ کی ابتدائی تعمیر میں بھی شامل رہے۔ آپ نے مولانا عبداللطیف شاہؒ سے قرآن مجید اور ابتدائی کتب اور حضرت ثانیؒ سے صرف و نحو کی تعلیم مکمل کی۔ قرآن مجید، فارسی نظم و نثر، صرف و نحو کی تکمیل کے بعد بھیرہ ۱۹۳۷ء میں بقیہ تعلیم کے لئے تشریف لے گئے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
بھیرہ میں تعلیم
انجمن حزب الانصار بھیرہ کے زیر اہتمام دارالعلوم عزیزیہ بھیرہ کا اس دور میں چہار سو شہرہ تھا۔ حضرت مولانا نصیر الدین بگوئیؒ اور حضرت مولانا ظہور احمد بگوئیؒ دونوں خانقاہ سراجیہ کے بانی حضرت اعلیٰؒ سے بیعت تھے۔ اس تعلق کی بناء پر آپ کو دارالعلوم عزیزیہ بھیرہ میں حضرت اعلیٰؒ نے داخل کرایا۔ اس زمانہ میں دارالعلوم عزیزیہ کا اہتمام حضرت مولانا ظہور احمد بگوئیؒ کے پاس تھا۔ آپ بہت ہی متبحر عالم، مناظر اور مبلغ اسلام تھے۔ ان دنوں بھیرہ حزب الانصار کے ناظم تبلیغ حضرت مولانا عبدالرحمٰن میانویؒ تھے۔ مولانا عبدالرحمٰن میانویؒ بہت بڑے خوش الحان مقرر اور شعلہ نوا، جفاکش خطیب تھے۔ بعد میں آپ نے مجلس احرار اسلام کل ہند کے پلیٹ فارم سے آزادی ہند کے لئے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ پاکستان بننے کے بعد حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے اپنے گرامی قدر رفقاء کے ساتھ مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی تو بانی ممبران میں مولانا عبدالرحمٰن میانویؒ بھی شامل تھے۔ زندگی کے آخری سانس تک عالمی مجلس کے شعبہ تبلیغ سے وابستہ رہے۔ اسی طرح بہاولپور کے معروف مذہبی و سیاسی رہنماء حضرت مولانا علامہ رحمت اللہ ارشدؒ مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن تھے۔ پنجاب اسمبلی کے قائد حزب اختلاف بھی رہے۔ بلاء کے پارلیمنٹرین مقرر تھے۔ تراش، خراش کر قدرت نے ملکہ خطابت آپ کو دیا تھا۔ وہ بھی ان دنوں دارالعلوم عزیزیہ بھیرہ میں مدرس تھے۔ ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب نے اس ماحول میں بھیرہ میں تین سال تک دیگر علوم کی تحصیل کی۔ بھیرہ دارالعلوم کے حضرات، خانقاہ سراجیہ سے بیعت و ارشاد کا تعلق رکھتے تھے۔ اس لئے حضرت قبلہؒ کو اس نسبت سے اساتذہ نے شفقتوں سے بھرپور مالا مال کیا۔ آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی نظر رکھی۔ آپ نے اپنی ذاتی شرافت، کم گوئی، بھرپور محنت و خداداد قابلیت سے اساتذہ کی نظروں میں مقبولیت حاصل کر لی۔ دارالعلوم کی انتظامیہ نے آپ کی انتظامی صلاحیتوں کو بھانپ کر، دوران تعلیم ہی آپ کو دارالعلوم کے مطبخ کا انچارج بنا دیا۔ آپ نے مطبخ کا نظم اس خوبصورتی سے چلایا کہ اساتذہ، منتظمہ اور طلباء میں آپ کو ہر دلعزیزی حاصل ہوگئی۔
قدرت کے فیصلے
دارالعلوم عزیزیہ میں آپ کی تعلیم کے درمیان میں ناظم تبلیغ مولانا عبدالرحمٰن میانویؒ تھے۔ جب آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر اور پھر امیر بنے تو انہی مولانا عبدالرحمٰن
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
میانوالی نے آپ کی زیر صدارت تبلیغی خدمات سر انجام دیں۔ اسی طرح مولانا رحمت اللہ ارشدؒ جو آپ کی تعلیم کے دنوں دارالعلوم عزیزیہ کے مدرس تھے۔ جب حضرت قبلہؒ خانقاہ سراجیہ کے گدی نشین اور پھر مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر بنے تو ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت چلی۔ تو انہیں مولانا رحمت اللہ ارشدؒ نے آپ کا بہاولپور اسٹیشن پر استقبال کیا۔ جب بھی حضرت قبلہؒ کا خانقاہی یا مجلس کے پروگرام کے سلسلہ میں بہاولپور کا سفر ہوتا تو استقبال والوداع کے لئے اسٹیشن پر ضرور تشریف لانے میں اپنی سعادت سمجھتے اور حضرت قبلہؒ بھی ان سے بہت ہی عزت وتکریم کا معاملہ فرماتے۔ مولانا رحمت اللہ ارشدؒ نے ایک دن مجلس میں فرمایا کہ:
”مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کی زبان پر تقدیر بولتی ہے ۔“ حاضرین نے اس جملہ پر ان کی طرف تعجب سے دیکھا تو انہوں نے اپنا واقعہ سنایا کہ ایوب خان کے عہد اقتدار میں میرے بھائی ولی اللہ اوحد پر مارشلاء میں کیس چلا، سزا ہوگئی۔ اس کے لئے میں بہت فکر مند تھا۔ لاہور ، اسلام آباد اپنے متعلقین سے پورا اثر ورسوخ استعمال کرنے ، سفارشیں کروانے کے باوجود کامیابی نہ ہوئی۔
اسی سلسلہ کے ایک سفر سے بہاولپور اسٹیشن اترا تو اسٹیشن پر دوسری طرف بہت سے تعلق والے علماء، صلحاء کے جم غفیر کو دیکھا۔ ملنے پر معلوم ہوا کہ مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کی تشریف آوری ہے۔ استقبال کی غرض سے یہ حضرات جمع ہیں۔ استقبالیوں کے ساتھ میں بھی انتظار میں کھڑا ہوگیا۔ ٹرین آئی، حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب اترے تو باری آنے پر مصافحہ کرتے ہی ولی اللہ اوحد اپنے بھائی کی سزا کی بابت اپنی پریشانی کا عرض کیا۔ حضرت قبلہؒ نے سن کر ایک لمحہ توقف کیا اور پھر فرمایا کہ : ” آپ اسلام آباد چلے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ بھلا فرمائیں گے ۔“ میں ضرورت مند تھا۔ کس کے پاس جانا ہے؟۔ کیا کرنا ہے؟۔ کچھ نہ پوچھا۔ اتنے میں کراچی سے ٹرین آرہی تھی۔ ٹکٹ لیا اور راولپنڈی چلا آیا۔ وی آئی پی لاونج میں ایوب خان کے بھائی بہادر خان مل گئے۔ جو ان کے استقبال کے لئے آئے تھے۔ ان سے ساری صورتحال عرض کی۔ انہوں نے حامی بھر لی۔ بہادر خان نے ایوب خان سے سزا کالعدم قرار دلوانے کے لئے میرے حوالہ سے گذارش کی۔ ایوب خان نے ہاٹ لائن پر آرڈر جاری کیا۔ میں اگلی ٹرین سے لاہور آیا۔ وہاں سے ٹرین پکڑی بہاولپور شادان و فرحان، کامیاب و کامران اترا۔ ایک درویش خدا رسیدہ کی اتنی بات کہ: ” اسلام آباد چلے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ بھلا فرمائیں گے ۔“ فرما دینے سے میرا کام ہوگیا۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
یہاں پر مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی خطیب غلہ منڈی و ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ ٹیک سنگھ کی روایت عرض کئے بغیر چارہ نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ: ”شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ سے بارہا سنا۔ آپ فرماتے تھے کہ برصغیر میں مولانا عبدالعزیز سرگودھویؒ (جو حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری کے خلیفہ و جانشین تھے) سے بڑا عبادت گزار کوئی نہیں اور مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب سے بڑا مستجاب الدعوات کوئی نہیں۔“ یہ عام آدمی کی بات نہیں اپنے زمانہ کے سب سے بڑے عالم دین کی اپنے شاگرد حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب سے متعلق شہادت ہے۔
العظمة لله ولرسوله وللمؤمنين، فالحمدلله اولاً وآخراً!
جامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں داخلہ
ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب نے بھیرہ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد جامعہ اسلامیہ ڈابھیل ضلع سورت صوبہ گجرات انڈیا میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخلہ لیا۔ یہ آپ کی تعلیم کا موقوف علیہ کا سال تھا۔ آپ نے تفسیر سے جلالین، حدیث شریف سے مشکوٰۃ، فقہ سے ہدایہ اور عربی ادب سے مقامات حریری، ایسی کتابیں حضرت مولانا عبدالرحمٰن امروہیؒ، حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا محمد ادریس سکروڈھویؒ، حضرت مولانا عبدالعزیز کیمبل پوریؒ (اٹک) ایسے یگانہ روزگار اساتذہ سے پڑھیں۔ یہاں پر ایک واقعہ جو ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب کی جلالت شان پر دلالت کرتا ہے۔ اسے درج کرنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ آپؒ نے ڈابھیل سے دیگر اساتذہ کے علاوہ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ سے بھی شرف تلمذ حاصل کیا۔ کچھ عرصہ بعد پاکستان بنا۔ حضرت بنوریؒ ابتدائی کچھ عرصہ پاکستان بننے کے بعد بھی ڈابھیل میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پھر پاکستان میں دارالعلوم ٹنڈوالہ یار خان سندھ میں تشریف لائے۔ پھر مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیوٹاؤن کراچی میں قائم کیا۔ جو آج جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے نام سے چہار دانگ عالم میں مشہور یونیورسٹی کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔
ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب نے اگلا سال ١٩٤٠ء دیوبند میں گزارا۔ پھر خانقاہ سراجیہ تشریف لائے۔ حضرت ثانیؒ سے تصوف کی تکمیل کی۔ آپ کی رحلت کے بعد خانقاہ سراجیہ کی مسند نشینی پر فائز ہوئے۔ آپ کی شہرت رفتہ رفتہ ملک گیر ہوئی۔ حضرت مولانا سید محمد
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
یوسف بنوریؒ تک آپ کی بزرگی اور شیخ وقت ہونے کے حوالہ سے روایات پہنچیں۔ آپ کے دل میں خانقاہ سراجیہ حاضری اور ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب سے ملاقات کا داعیہ اور پھر شوق پیدا ہوا۔ ویسے آپ خانقاہ سراجیہ سے متعارف تھے۔ اس لئے کہ یہاں حضرت اعلیٰؒ کے زمانہ میں حضرت بنوریؒ کے آئیڈیل اور استاذ، نابغہ روزگار حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ تشریف لاچکے تھے۔ اپنے استاذ کی زبانی خانقاہ کے مشہور عالم نادر کتب پر مشتمل کتب خانہ کی تعریف سن چکے تھے۔
حضرت بنوریؒ خانقاہ سراجیہ میں
چنانچہ آپ خانقاہ سراجیہ تشریف لائے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب خانقاہی سفر کے سلسلہ میں ہری پور تشریف لے جاچکے تھے۔ حضرت بنوریؒ نے مزارات پر حاضری دی۔ خانقاہ شریف کے ماحول سے دل خوش کیا۔ کتب خانہ دیکھا۔ آپ نے بھی یہاں سے سرحد جانا تھا۔ تو آپ نے اپنے دورہ کی ترتیب بدلی اور ہری پور تشریف لے گئے۔ ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب ہری پور محلہ درویش میں مولانا قاضی شمس الدینؒ کے ہاں قیام پذیر تھے۔ صبح حضرت بنوریؒ، مولانا قاضی شمس الدینؒ کی قیام گاہ پر بغیر اطلاع کے تشریف لائے۔ ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب آپ کے رفقاء اور ہری پور کی دینی قیادت وعلماء تصور نہیں کرسکتے تھے کہ بغیر پروگرام واطلاع کے حضرت شیخ بنوریؒ ایسے تبحر عالم دین اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود یہاں تشریف فرماہوسکتے ہیں۔ ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب، قاضی شمس الدینؒ کے ہاں ناشتہ کے لئے دسترخوان پر بیٹھے ہی تھے کہ گلی میں شور ہوا کہ حضرت بنوریؒ تشریف لائے ہیں۔ اچانک یہ خبر سنتے ہی سب عید کے چاند کی طرح حضرت بنوریؒ کے استقبال کے لئے کھڑے ہوگئے۔ اتنے میں حضرت بنوریؒ کمرہ میں داخل ہوئے۔ سب نے استقبال کیا۔ حضرت بنوریؒ نے ہمارے خواجہ خان محمدؒ صاحب سے فرمایا کہ حضرت! آپ کی تعریف سنی۔ خانقاہ شریف حاضر ہوا، کتب خانہ دیکھا، مزارات پر حاضری دی۔ آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے کا سنا۔ دعا وملاقات کی غرض سے پروگرام تبدیل کرکے ہری پور چلا آیا۔ ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب، حضرت شیخ بنوریؒ کی باادب اور دوزانو ہوکر بات سنتے رہے اور پھر گویا ہوئے ۔ حضرت! میں کیا اور میری ملاقات کیا۔ مجھے کراچی بلوا بھیجتے۔ سعادت سمجھ کر سر کے بل حاضر ہوتا۔ یہ سب آپ کا فیض ہے۔ میں تو آپ کا شاگرد ہوں۔ حضرت بنوریؒ یہ سن کر
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۲۴ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
چونکے۔ فرمایا وہ کیسے؟ ۔ مجھے تو بالکل یاد نہیں۔ کہاں، کب اور کیا پڑھا مجھ سے؟ ۔ حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب نے فرمایا کہ ڈابھیل میں فلاں سال مقامات آپ سے پڑھی۔ حضرت بنوریؒ نے تعجب سے پھر ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب کو بغور دیکھا اور فرمایا بالکل یاد نہیں آ رہا۔ اچھا تو کون کون سے ساتھی آپ کے ہم کلاس تھے۔ ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب نے بعض ہم درس ساتھیوں کے نام بتائے۔ حضرت شیخ بنوریؒ نے اس پر بھی فرمایا بالکل یاد نہیں آ رہا۔ خیر حضرت بنوریؒ نے دعا کے لئے فرمایا۔ حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب نے آپ کے ہاتھ باادب پکڑ کر دعاء کے لئے ایسے انداز میں التجا کی، جیسے بیٹا باپ سے یا مرید شیخ سے کرتا ہے۔ حضرت بنوریؒ کے آنسو ابل پڑے۔ دعاء ہو گئی۔ حضرت بنوریؒ نے اجازت چاہی۔ ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب نے سواری تک استاذ محترم کو الوداع کہنے کے لئے مشایعت کی۔ چلتے چلتے حضرت بنوریؒ نے وعدہ لیا کہ جب کراچی آنا ہو قیام میرے مدرسہ میں ہوگا۔ آپؒ نے بسر و چشم قبول کیا۔ حضرت بنوریؒ رخصت ہوئے۔ واپسی پر حضرت بنوریؒ نے ساتھیوں سے فرمایا کہ حضرت مولانا خان محمدؒ صاحب کو جو سنا تھا اس سے بھی بڑھ کر پایا۔ ایک تو ان کی مجلس کے برکات دیکھے۔ دوسرا چہرہ پر نور ولایت ملاحظہ کیا۔ تیسرا بے نفسی کی انتہاء کو پہنچے ہوئے، خدا رسیدہ ہیں۔ اگر ذرہ برابر ان میں دنیا داری ہوتی کبھی ظاہر نہ کرتے کہ میں آپ کا شاگرد ہوں۔ مریدوں پر رعب جمانے کے لئے خاموش رہتے کہ کتنا کامل ہوں کہ بنوریؒ جیسے شخص مجھے ملنے کے لئے میرے دروازے پر آئے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب نے سب حقیقت کھول کر بیان کردی۔ یہ ان کی بے نفسی کا کمال ہے اور مجھے خوشی ہوئی کہ ایسے باکمال سے استاذ ہونے کا تعلق قائم ہے۔ غرض:
دارالعلوم دیوبند میں داخلہ
ڈابھیل سے اگلے سال (۱۹۴۰ء) میں دارالعلوم دیوبند میں دورہ حدیث شریف کے لئے داخلہ لیا۔ تب دارالعلوم دیوبند کی مسند حدیث وصدر مدرس کی سیٹ پر شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ براجمان تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا کرنا، ہوا ایسے کہ حضرت مدنیؒ نے بخاری شریف کا افتتاحى سبق پڑھایا اور پھر تحریک آزادی میں سرگرم حصہ لینے کے باعث حوالہ زندان ہو گئے۔ حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاویؒ، حضرت مولانا اعزاز علیؒ اور ذی قدر مشائخ وقت سے آپ نے صحاح ستہ، موطین، طحاوی، پڑھ کر دارالعلوم دیوبند سے تحصیل علوم کی سند
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
فراغ حاصل کی۔ دیگر حضرات کے علاوہ جامعہ محمدی شریف ضلع جھنگ کے معروف عالم دین و شیخ وقت، محقق و مصنف حضرت مولانا محمد نافع بھی حضرت قبلہؒ کے دورہ حدیث کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب ۱۹۴۱ء میں دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے۔ جب کہ حضرت مولانا ابوالسعد احمد خانؒ آپ کے مربی، سرپرست اور مرشد اوّل کا انتقال بھی ۱۹۴۱ء میں ہوا۔
وادئ سلوک میں
علوم متداولہ کی تحصیل و تکمیل اور دارالعلوم دیوبند سے فراغت سے قبل خانقاہ سراجیہ کے بانی حضرت مولانا خواجہ ابوالسعد احمد خانؒ وصال فرما چکے تھے۔ اب آپ کے جانشین و خلیفہ اجل حضرت مولانا محمد عبداللہ المعروف حضرت ثانیؒ مسند نشین تھے۔ ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب کی آپ سے شاگردی کی نسبت پہلے سے قائم تھی۔ آپ نے حضرت ثانیؒ سے بیعت کی اور آپ سے علم تصوف حاصل کرنے کے لئے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ مکتوبات حضرت مجدد الف ثانیؒ تین بار مکمل، کنز الہدایات مولانا محمد باقر لاہوریؒ، مکتوبات حضرت شاہ غلام علیؒ، مکتوبات حضرت خواجہ محمد معصومؒ اور ہدایۃ الطالبین جیسی کتب تصوف کو سبقاً سبقاً حضرت ثانیؒ سے پڑھا۔ حضرت ثانیؒ نے طلب صادق پاتے ہی مرید کامل بنانے کے لئے توجہ دینے کے ساتھ ساتھ سلسلہ جاری رکھا۔ ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب کی اس زمانہ کی مصروفیات کو دیکھا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ آپ اپنے یومیہ معمولات کیونکر مکمل کر لیتے تھے؟
صرف تدریس کو لیجئے۔ آپ یومیہ کئی اسباق پڑھاتے۔ مولانا محمد عبداللہ خالدؒ مانسہروی، حافظ محمد شریف برمنگھم، حضرت خواجہ خان محمد صاحبؒ کے ابتدائی شاگردوں میں سے ہیں۔ مولانا عبداللہ صاحبؒ نے ابتداء سے ہدایہ تک اور حافظ محمد شریف صاحب نے کریما سے مثنوی تک حضرت خواجہ صاحبؒ سے کتابیں پڑھیں۔ غرض تصوف کے اسباق پڑھنے، مدرسہ کے طلباء کو کئی درسی کتب پڑھانی، اپنے گھر بار کی ضروریات، اپنے مرشد اوّل حضرت خواجہ ابوالسعد احمد خانؒ کے گھر بار کی خدمت، ذکر و اذکار، تلاوت، مراقبہ کے یومیہ معمولات اور پھر اپنے شیخ و استاذ کی ہمہ نوع کی خدمت، صبح و شام ان کے مزاج کی رعایت سے چائے بنانا، بستر لگانا، وضو کا انتظام کرنا، شیخ کی خدمت میں حاضر باش رہنا۔ خانقاہ شریف کے واردین و مہمانان کے جملہ لوازمات سمیت انتظامات، اپنے مربی و مرشد اور خانقاہ شریف کے لنگر کی اشیاء
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
خوردونوش کی خریداری، اپنے مرشد کے ساتھ مہینوں اسفار، غرض گرمی، سردی، دھوپ، بارش، صبح وشام، دن رات کی مصروفیات، آپ کے مجاہدہ کی عملی مثال پیش کرنا اس دور میں نہ صرف مشکل ہے بلکہ اسے سمجھنا بھی دشوار ہے۔
محنت کا صلہ
آپ کی انہیں مجاہدانہ بھر پور محنت نے بڑی سرعت کے ساتھ آپ کو اپنے مرشد ثانیؒ کا نقشِ ثانی بنادیا۔ حضرت ثانیؒ بھی بال بال اور ہر حال آپ سے نہ صرف خوش بلکہ دل و جان سے راضی ومہربان تھے۔ ہرچند کہ راقم اس وادی کا مسافر نہیں۔ لیکن پڑھا اور سنا ہے کہ نقشبندی سلسلہ میں توجہ شیخ، نسخہ تصوف کا جزو اعظم ہے۔ قدرت جب کرم کرے تو مرشد حضرت اعلیٰؒ کو حضرت ثانیؒ جیسا جانشین، حضرت ثانیؒ کو ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب جیسا مسند نشین دے دے۔ جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں اپنے اپنے شیخ کے تمام کمالات کو اپنے اندر سمولیا۔
حضرت بنوریؒ نے اپنے صاحبزادہ مولانا سید محمد بنوریؒ کو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ کی خدمت میں مدینہ طیبہ بھیج دیا۔ حضرت بنوریؒ کے کسی ملنے والے نے کسی دوست سے پوچھا کہ محمد بنوریؒ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا۔ دو شیوخ کی نظروں میں ہیں۔ بڑے خوش نصیب ہیں۔ دو شیوخ سے مراد ایک حضرت بنوریؒ خود اور دوسرے حضرت شیخ الحدیثؒ ۔ یہ کسی اہل دل کا مقولہ ہے۔ جو ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب پر سو فیصد ایسا صحیح فٹ آتا ہے کہ دنیا دیکھ کر عش عش کر اٹھی کہ حضرت اعلیٰؒ، حضرت ثانیؒ اپنے اپنے وقت کے دو شیوخ کی نظر التفات و توجہ کرم نے ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب کو بھی اپنے وقت کا صرف شیخ نہیں، بلکہ شیخ الشیوخ بنادیا۔ اسے ایک مرید کے مبالغہ پر محمول نہ کیا جائے۔ بلکہ انصاف سے دیکھا جائے تو اس وقت آپ کی ٹکر کا شیخ وقت ڈھونڈنے پر بھی نہ ملے گا۔ یہ سب اللہ رب العزت کا کرم اور شیخ زمانہ کی توجہات عالیہ اور خود ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب کی طلب صادق پر انعام الٰہی نہیں تو اور کیا ہے؟
حضرت شیخ الہندؒ کی توجہات نے مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کو شیخ العرب والعجم بنادیا تو حضرت ثانیؒ کی فکر احسان نے مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کو مرشد العلماء والصلحاء اور شیخ الشیوخ بنادیا۔ ذالك فضل الله يؤتيه من يشاء!
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب نے بھی اپنے مربی و مرشد، استاذ و محسن کے کمال ادب کا نیا ریکارڈ قائم کیا کہ ان کی زندگی بھر خدمت کی سعادت حاصل کی۔ آپ کے وصال کے بعد آپ کے صاحبزادہ حافظ محمد عابدؒ صاحب کی تعلیم و تربیت، رہائش، مکان و شادی اور جملہ ضروریات کے صرف متکفل ہی نہیں رہے بلکہ ان کو بعض امور میں اولاد سے بھی زیادہ وقعت دی۔ انہیں خصائل مبارکہ و عادات کریمانہ و طلب صادق و احترام کا یہ نتیجہ نکلا کہ جس طرح حضرت اعلیٰؒ نے اپنی حیات میں حضرت ثانیؒ کو اپنا جانشین نامزد کر دیا تھا اسی طرح حضرت ثانیؒ نے بھی ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب کو چاروں سلاسل میں مجاز بیعت و خلیفہ اپنا جانشین اور خانقاہ سراجیہ کا مہتمم و متولی نامزد فرما کر سنت شیخ پر عمل کی مثال قائم کر دی۔
تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء
خانقاہ سراجیہ کندیاں خالصۃً اصلاحی مرکز ہے۔ جو خلق خدا کا ذکر وفکر، مراقبہ و معمولات کے ذریعہ خالق سے رشتہ جوڑنے میں مصروف عمل ہے۔ ساتھ ہی خانقاہ سراجیہ ہر دینی تحریک، اور اسلام کی پاسداری کے لئے اٹھنے والی ہر صدا کی صحیح رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔ جب تحریک مسجد شہید گنج شروع ہوئی تو مجلس احرار اسلام کو تحریک شہید گنج کے رہنماؤں نے تنقید کے نشانہ پر رکھ لیا۔
ماسٹر تاج الدین انصاریؒ نے تحریک شہید گنج سے قبل قادیان سے احرار رہنماء چوہدری افضل حقؒ کو اطلاع بھجوائی کہ مرزا محمود نے قادیان سے بہت سا لٹریچر بنڈلوں میں بند کر کے ملک کے مختلف حصوں میں بھجوایا ہے۔ جس میں احرار کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ چند دنوں بعد تحریک شہید گنج شروع ہوگئی تو مجلس احرار کو نشانہ پر رکھ لیا گیا۔ منصوبہ تھا کہ اس تحریک میں مجلس احرار شریک ہو تو، حکومتی گولیوں سے اسے بھون دیا جائے۔ اگر احرار علیحدہ رہے تو اسے تنقید کا نشانہ بنا کر عوام میں اتنا بدنام کر دیا جائے کہ وہ اس تحریک کے ملبوں نیچے دم توڑ دے۔
مشہور عالم بہاولپور مقدمہ کی تین جلدوں میں کارروائی سید عبد الماجد لاہور سے شائع کرنے لگے تو مولانا محمد مالک کاندھلویؒ کے ذریعہ ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب سے مقدمہ تحریر کرایا۔ اس میں حضرت نے تحریر فرمایا ہے کہ: ”مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ نے تحریک شہید گنج کے بعد ایک مجلس میں فرمایا کہ ہندوستان کے دو بزرگوں نے ہماری رہنمائی کی۔ ایک خانقاہ سراجیہ کے بانی مولانا ابوالسعد احمد خانؒ اور دوسرے حضرت مولانا شاہ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
عبدالقادر رائے پوریؒ نے۔ کہ اس تحریک سے مجلس احرار علیحدہ رہے۔“ مولانا ابوالسعد احمد خانؒ نے مجلس احرار کے رہنماؤں کو جو پیغام بھجوایا ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب نے اس کے یہ الفاظ تحریر فرمائے۔ ”مجلس احرار تحریک مسجد شہید گنج سے علیحدہ رہے اور مرزائیت کی تردید کا کام رکنے نہ پائے۔ اسے جاری رکھا جائے۔ اس لئے کہ اگر اسلام باقی رہے گا تو مسجدیں باقی رہیں گی۔ اگر اسلام باقی نہ رہا تو مسجدوں کو کون باقی رہنے دے گا۔“
۲؍ جولائی ۱۹۳۹ء کو لالہ موسیٰ میں حضرت امیر شریعتؒ کی ایک تقریر کے مفہوم کو جعل سازی سے بدل کر حضرت امیر شریعتؒ پر بغاوت کا کیس دائر ہوا۔ لدھا رام رپورٹر نے عدالت میں اپنے بیان سے انحراف کیا تو حضرت امیر شریعتؒ بری ہو گئے۔
اس کیس کے سلسلہ میں سالہا سال تک حضرت امیر شریعتؒ جیل میں رہے تو اس دوران جیل سے ایک بااعتماد ملاقاتی کے ذریعہ حضرت امیر شریعتؒ نے خانقاہ سراجیہ کے بانی مولانا ابوالسعد احمد خانؒ کو پیغام بھجوایا کہ آپ کے ہوتے ہوئے میں جیل میں ہوں۔ یہ بات وارہ نہیں کھاتی۔ حضرت اعلیٰؒ کو پیغام ملا تو آپؒ نے لمبا ٹھنڈا سانس لیا اور فرمایا کہ اس وقت بوڑھا ہو گیا ہوں۔ ورنہ شاہ جیؒ ایک دن بھی اندر نہ رہتے۔ غالباً کوئی عمل کرنا پڑتا جس کی مشقت اب بڑھاپے میں حضرت اعلیٰؒ کے لئے ممکن نہ تھی۔ غرض یہ کہ حضرت امیر شریعتؒ ایسے مجاہد ختم نبوت اور تحریک آزادی کے جرنیل بھی مشکل گھڑی میں جن بزرگوں کی دعاؤں کے سہارے کی ضرورت محسوس کرتے ان میں خانقاہ سراجیہ کے بانی بھی شامل تھے۔
اسی طرح راقم نے خود حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے یہ روایت سنی ہے کہ اس بغاوت کے کیس میں حضرت امیر شریعتؒ جب جیل میں تھے تو ایک رات آخری حصہ میں مولانا ابوالسعد احمد خانؒ اچانک اپنی چارپائی پر اٹھ کر بیٹھ گئے اور سر جھکا لیا۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ حضرت ثانیؒ اسی حجرے میں خادم خاص کی حیثیت سے رہتے تھے۔ حضرت اعلیٰؒ کے یوں اچانک خلاف معمول جاگنے پر وہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئے۔ حضرت اعلیٰؒ کے قریب ہو کر ادب سے پوچھا کہ حضرت کوئی تکلیف ہے کہ اٹھ کر بیٹھ گئے؟ تو حضرت اعلیٰؒ نے فرمایا نہیں کوئی تکلیف نہیں۔ بس امیر شریعتؒ کے جیل میں قید ہونے کا تصور مجھے سونے نہیں دیتا۔ اس پر حضرت ثانیؒ نے گھبرا کر کہا کہ حضرت کوئی پریشانی کی بات ہوگئی؟ فرمایا بالکل نہیں، اپنی گود کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ امیر شریعتؒ تو میری جھولی میں ہیں۔ اس واقعہ سے بھی جنگ آزادی
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کے رہنماؤں سے خانقاہ سراجیہ کے بانی کے تعلقات کا نقشہ سمجھا جاسکتا تھا۔ ۱۹۴۱ء میں حضرت اعلیٰ کا وصال ہوا۔ حضرت ثانیؒ مسند نشین خانقاہ سراجیہ ہوئے۔ پاکستان بنا، قادیانی منہ زور گھوڑے کی طرح بدکنے لگے تو مشہور زمانہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء چلی۔ خانقاہ سراجیہ کی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے حضرت ثانیؒ نے اس تحریک کا بھر پور ساتھ دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ”تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء“ نام سے کتاب شائع ہوئی۔ اس میں مولانا محمد عبداللہ بھکر والوں کی تحریر کردہ میانوالی ضلع کی رپورٹ بھی شائع ہوئی۔ اس میں یہ حصہ بطور خاص قابل توجہ ہے۔
”حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحبؒ (حضرت ثانیؒ) اس دور کے اکابر اولیاء میں تھے۔ ان کے مقام کو وہی لوگ جان سکتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے باطن کی آنکھیں عطاء فرمائیں۔ میں نے اپنے شیخ حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوری قدس سرہ العزیز سے حضرت مولانا کی تعریف سنی تھی اور حضرت کے یہ الفاظ اب تک یاد ہیں کہ: ”وہ اللہ کے بندے ہیں۔“ حضرت امیر شریعتؒ کو ایک مجلس میں دیکھا۔ حضرت مولانا جھوم جھوم کر تذکرہ فرما رہے تھے۔“
- ۱...... حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحبؒ خانقاہ کے مسند نشین اور ہزاروں اہل دل
اور اصحاب درد کے شیخ اور مربی تھے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ملکی اور عالمی حالات پر نظر رکھتے تھے۔ تحریک ختم نبوت کے ساتھ انہیں قلبی لگاؤ تھا۔ ان کی فکر مندی اور دلچسپی دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ اس معاملے میں کوئی خاص ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں۔ ۱۹۵۲ء بمطابق ۱۳۷۱ھ میں حج کے لئے تشریف لے جا رہے تھے۔ ظفر اللہ کی کراچی والی تقریر کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور جلسے شروع ہو گئے تھے۔ حکومت نے بعض مقامات پر رہنماؤں اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی تھی۔ مرزائیوں کے متعلق مطالبات تسلیم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ راست اقدام کے حالات پیدا ہو رہے تھے۔ آپ نے حج کا ارادہ ملتوی فرما دیا اور راستے سے واپس تشریف لے آئے۔ پورے ملک میں اپنے متوسلین کو ہدایت فرمائی کہ وہ تحریک میں سرگرمی سے کام کریں اور تحریک کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں۔
- ۲...... حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی مرحوم حضرت کے متوسلین میں
تھے۔ ۲۷؍ فروری ۱۹۵۳ء کو مرکزی رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں تو مولانا گرفتاری سے کسی طرح بچ گئے اور لاہور میں تحریک کا مرکز سنبھالا۔ مولانا غلام غوث صاحبؒ کے متعلق حکم تھا کہ جہاں ملیں
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
گولی مار دی جائے۔ لاہور سے سیدھے خانقاہ سراجیہ اپنے شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت نے معتمد خصوصی صوفی احمد یار صاحب کے ذمہ لگایا کہ وہ مولانا کی حفاظت کا انتظام کریں۔ صوفی صاحب نے اپنے علاقہ بھلوال کے دیہات میں انتظام کیا۔ مولانا غلام غوث صاحبؒ وہاں آرام اور سکون سے رہے۔ تمام رہنماء رہا ہو گئے اور حالات پوری طرح معمول پر آگئے تو مولانا بھی حضرت کی اجازت سے اپنے گھر تشریف لے گئے۔
- ۳...... ۱۹؍ جون ۱۹۵۳ء کو گورنر پنجاب نے آرڈیننس جاری کر کے تحقیقاتی
عدالت قائم کی۔ جسے ”تحقیقاتی عدالت برائے تحقیقات فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء“ کا نام دیا گیا۔ اس عدالت نے مجلس عمل اور مجلس احرار کو بھی الگ الگ فریق قرار دیا کہ وہ عدالت میں اپنا مؤقف پیش کریں۔ تمام رہنما جیل میں تھے۔ تحقیقات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ اپنا مؤقف مدلل طریقے سے پیش کرنے کے لئے بڑی تیاری کی ضرورت تھی۔ اس نازک اور اہم موقع پر حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحبؒ (حضرت ثانیؒ) نے کام کو سنبھالا۔ لاہور میں حکیم عبدالمجید سیفی مرحوم کے مکان کا نچلا حصہ خالی کرایا۔ باقاعدہ دفتر قائم کیا۔ مولانا عبدالرحیم صاحب اشعرؒ کو مستقل طور پر وہاں بٹھایا گیا۔ مذہبی اور قانونی کتابیں اکٹھی کیں۔ مجلس عمل کی وکالت مولانا مرتضیٰ احمد خان میکشؒ نے اپنے ذمہ لی اور مجلس احرار کی مولانا مظہر علی اظہرؒ نے یہ حضرات اور ان کے علاوہ بھی علماء اور قانون دان دفتر میں تشریف لاتے مشورے ہوتے اور یہیں سے عدالت کے لئے بیانات وغیرہ کی تیاری ہوتی تھی۔ حضرتؒ وقفے وقفے سے لاہور تشریف لے جاتے اور کئی کئی دن وہاں قیام فرماتے اور کام کرنے والے حضرات کو ہدایات اور مشوروں سے سرفراز فرماتے تھے۔
- ۴...... اپنے ضلع (میانوالی) میں بھی حضرتؒ کی سرپرستی، دعائیں اور توجہات
ہمارے لئے بہت بڑا سرمایہ تھیں۔ آپ کے حکم سے حضرت مولانا خان محمدؒ صاحب نے علاقے میں بہت کام کیا تھا۔ اس زمانے میں سڑکیں نہیں تھیں۔ ایک بستی سے دوسری بستی میں پہنچنا بھی مسئلہ ہوتا تھا۔ حضرت مولانا خان محمدؒ صاحب نے پورے علاقے میں دورے کئے۔ دیہات کے علماء سے ملے۔ انہیں تحریک کا ہمنوا بنایا۔ دور دراز کی بستیوں اور فوجی چکوک میں بھی تشریف لے گئے۔ جہاں لوگ نئے آباد ہو رہے تھے اور حضرت مولاناؒ کی شخصیت اور خانقاہ شریف کے مقام سے پوری طرح واقف نہ تھے۔ آپ نے تحریک کے لئے رضا کار بھرتی کئے اور ان کی فہرستیں ہمیں میانوالی بھیجیں۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۵...... اپنے چھوٹے بھائی ملک محمد افضل صاحب کو رضا کاروں کے ساتھ گرفتاری
دینے کے لئے میانوالی بھیجا اور انہوں نے ۱۳؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو جلوس کے ساتھ گرفتاری پیش کی۔
- ۶...... مارچ کے آخر میں جب ضلعی رہنماء گرفتار ہو گئے تو آپ نے میانوالی میں
تحریک کا مرکز سنبھالا۔ مارچ کے پہلے عشرے میں آپ (مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب) نے ایک دورے کے بعد جو رضا کاروں کی فہرستیں بھیجیں میں ایک فہرست کے نیچے میرے (مولانا محمد عبداللہ بھکر کے) نام جو تحریر لکھی وہ چند سال پہلے پرانے کاغذات میں سامنے آئی اور میں نے اسے محفوظ کر لیا۔ یہ مختصر سی تحریر مبارک دنوں میں مبارک ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہے جو ہمارے لئے اچھی اور مبارک یادگار ہے۔ وہ تحریر حسب ذیل ہے۔
’’موضع ڈنگ کے رضا کاروں کی مزید فہرست آج صبح کی گاڑی سے پہنچی تھی اور مولانا غلام یٰسین صاحب قریشی نے خود وہ فہرست ساتھ لانی تھی۔ لیکن وہ کسی شدید عارضہ کی وجہ سے آج نہیں پہنچ سکے۔ دو تین روز میں فہرست پہنچ جاوے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ! موضع علووالی میں بھی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ وہاں کثیر تعداد میں رضا کار بھرتی ہونے کی قوی امید ہے۔ موضع علووالی کی جملہ کارروائی بھی دو تین روز میں صدر دفتر پر پہنچ جاوے گی۔ موضع ساجری اور اس کے مضافات کے فوجی چکوں میں بھی مجلس عمل کے مطالبات اور پروگرام کی اشاعت کا کام شروع کر دیا ہے۔ پہلے تحریک کی وضاحت اور اس کی دینی و دنیاوی اہمیت لوگوں کے ذہن نشین کرانی لازمی ہے اور بعد ازاں اس میں حصہ لینے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ فنڈ کی فراہمی کی طرف ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ کیونکہ اگر دیہات میں اس کو بھی ساتھ اپنایا جاوے تو لوگوں کا حصہ لینا ناممکن ہو جاتا ہے اور پھر اس قحط و گرانی میں بہت ہی مشکل ہے۔ ’’گر جاں طلبی میدہم گر زر طلبی سخن درین است‘‘ والا معاملہ ہے اور اس وقت تو بے چارے زمینداروں کے پاس کوئی چیز ہی نہیں۔ تاہم پھر بھی بعض لوگوں سے نجی طور پر فنڈ فراہم کرنے کا ارادہ ہے۔ مولیٰ پاک کامیابی نصیب فرماوے‘‘۔
العارض خان محمد عفی اللہ عنہ از خانقاہ پاک سراجیہ مجددیہ کندیاں ضلع میانوالی!
(تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء ص ۴۴۰ تا ۴۴۲)
اس طویل اقتباس میں نمبرات لگا دیئے ہیں۔ جس سے یہ امور واضح ہوتے ہیں کہ:
- ۱...... حضرت ثانیؒ نے تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے باعث حج کا سفر ملتوی کیا۔
- ۲...... حضرت ثانیؒ نے اپنے مرید خاص مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی روپوشی اور
تحریک کے لئے کام کرنے کا نظم بنایا۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۳...... تحریک کے رہنماؤں کے لئے اپنے مرید خاص حکیم عبدالمجید سیفی کا مکان
مہیا کیا اور انکوائری کے دوران عدالتی رہنمائی کے لئے لاہور کے حضرت ثانیؒ کے ساتھ سفر کئے۔
- ۴...... ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب نے حضرت ثانیؒ کے حکم پر تحریک کو پروان
چڑھانے کے لئے دن، رات ایک کر دیا اور گرفتاری پیش کی۔ (اس کی تفصیل آگے آتی ہے)
- ۵...... ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب کے چھوٹے بھائی ملک محمد افضل نے تحریک
کے کارکنوں کے ساتھ گرفتاری دی۔
- ۶...... ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب نے میانوالی میں تحریک کی قیادت سنبھالی۔
حضرت خواجہؒ صاحب کی گرفتاری
حضرت قبلہؒ نے ۱۵؍ اپریل ۱۹۵۳ء کو گرفتاری دی اور میانوالی جیل میں رہے۔ پھر ۲۵؍ اپریل کو لاہور سنٹرل جیل منتقل ہوئے اور بعدہ ۲۸؍ اپریل کو بورسٹل ، ۱۱؍ اگست کو پھر سنٹرل جیل منتقل ہوئے۔ کئی ماہ سنت یوسفی پر عمل کیا۔
اس قید میں تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں حضرت امیر شریعتؒ، مولانا ابوالحسنات قادریؒ، مولانا خلیل احمد قادریؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا عبدالحامد بدایونیؒ، صاحبزادہ فیض الحسنؒ شاہ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ، مولانا سید ابوالاعلیٰؒ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا قاضی احسان احمدؒ شجاع آبادی کے ساتھ جیل میں وقت گزارا۔
اس قید کے دوران جیل میں جامعہ خیر المدارس کے شعبہ قرأت کے صدر مدرس حضرت قاری رحیم بخشؒ صاحب سے قرأت وتجوید کے ساتھ قرآن مجید پڑھا اور آخری پارے بھی انہی سے حفظ کئے۔
حضرت قبلہؒ سے راقم نے خود سنا کہ حضرت ثانیؒ نے فرمایا کہ اس تحریک میں مجھے گرفتاری دینی چاہئے۔ اس پر ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب نے فرمایا کہ آپ کی طرف سے میں گرفتاری دیتا ہوں۔ گویا حضرت ثانیؒ نے تحفظ ناموس رسالت، وتحفظ ختم نبوت کی خاطر حضرت قبلہ کو گرفتاری کی اجازت دے کر ان دونوں امور کے لئے آپ کو تیار کر دیا۔ اسی کی برکت ہی سمجھی جائے کہ پھر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر اور پھر امیر کی حیثیت سے ۱۹۷۴ء کی تحریک میں بھر پور شمولیت اور ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت کی قیادت فرمائی۔ یہ سب حضرت ثانیؒ کی دعاؤں کے ثمرات ہیں۔ فالحمد للہ!
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
میں اس حصہ کو مولانا محمد عبداللہ بھکر والوں کی تحریر کے ان جملوں پر ختم کرتا ہوں۔
”حضرت مولانا خان محمدؒ صاحب بھی لاہور میں ساتھیوں کے ساتھ رہا ہوئے اور ساتھ ہی ریل میں تشریف لائے اور کندیاں سے خانقاہ شریف تشریف لے گئے۔ آپ کا جیل میں ساتھیوں کے ساتھ رہنا ساتھیوں کے لئے اطمینان اور استقامت میں ممد ثابت ہوا۔ آپ اس وقت سجادہ نشین نہیں تھے۔ لیکن خانقاہ کے سجادہ نشین حضرت مولانا محمد عبداللہؒ کے عزیز ترین خلیفہ مجاز اور معتمد ترین نمائندہ تھے۔ آپ کی خاندانی عظمت سے بھی سب لوگ واقف تھے۔ ایسے حضرات کا جیل میں کارکنوں کے ساتھ ہونا سب کے لئے ثابت قدمی کا باعث ہوا کرتا ہے۔“
(تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء ص ۴۴۰)
خانقاہ سراجیہ کی مسند نشینی
بہت حد تک موقع بموقع تفصیلات گذر چکی ہیں کہ ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد مسلسل شب و روز ۱۶؍سال حضرت ثانیؒ کی سرپرستی و نگرانی میں گزارے اور اگر حضرت اعلیٰؒ کی زندگی سے حضرت ثانیؒ کے وصال تک کا عرصہ شمار کیا جائے تو قریباً نصف صدی ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب نے اپنے مرشد، مربی، استاذ، محسن کی زیر صحبت گزارے۔ حضرت اعلیٰؒ کا انتخاب، حضرت ثانیؒ کی صحبت صالح، نے آپ کو چمکتے دمکتے چاندی کی طرح یا موتی آبدار یا کندن خالص بنادیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ثانیؒ نے اپنے وصال سے قبل ہمارے حضرت خواجہ صاحبؒ کو گویا اپنا جانشین نامزد فرمادیا۔ حضرت ثانیؒ نے جو امانت حضرت اعلیٰؒ سے حاصل کی تھی۔ حضرت اعلیٰؒ کے عزیز بلکہ عزیز القدر کو وہ تمام امانت بمعہ اپنے کمالات کے سب کچھ سپرد فرما کر اپنے شیخ حضرت اعلیٰؒ کی روح پر فتوح کے سامنے سرخرو ہوگئے۔ حضرت ثانیؒ کا وصال جون ۱۹۵۶ء میں ہوا۔ آپ کی تدفین کے بعد مجمع عام میں حضرت اعلیٰؒ کے خلفاء، حضرت چن پیرؒ خوشاب اور ڈاکٹر محمد شریفؒ اور حضرت ثانیؒ کے خلفاء حضرت حکیم عبدالمجیدؒ سیفی لاہور، مولانا مفتی عطاء محمدؒ ڈیرہ اسماعیل خان نے اولاً ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب کے ہاتھ پر تجدید بیعت کی۔ اس کے بعد حاضرین کے جم غفیر نے تجدید بیعت کی اس سے اگلے روز بعد میں پہنچنے والے جمیع مریدان وخلفاء حضرت ثانیؒ نے آپ کے ہاتھ پر تجدید بیعت کی۔ یوں خانقاہ سراجیہ کے خلفاء، متعلقین، مریدین متوسلین کا آپ کی جانشینی پر اجماع منعقد ہو گیا۔
پورے ملک میں آپ کے دورے ہوئے۔ جہاں جہاں تشریف لے گئے ہر ایک نے آپ کی ذات گرامی سے فیض حاصل کیا اور داخل طریقت ہوئے۔ فالحمد للہ!
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
جمعیت علماء اسلام سے وابستگی
۸؍ اکتوبر ۱۹۵۶ء میں جمعیت علماء اسلام کل پاکستان کی مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں بنیاد پڑی۔ جمعیت علماء اسلام کے پہلے امیر مرکزیہ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ تھے۔ حضرت ہزارویؒ کا روحانی رشتہ خانقاہ سراجیہ سے تھا۔ اس نسبت اور دوسری کئی نسبتوں کے باعث ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب یوم تاسیس سے تاوصال جمعیت علماء اسلام کے ساتھ وابستہ رہے۔ مرکزی نائب امیر، مرکزی شوریٰ کے رکن اور وصال کے وقت سرپرست اعلیٰ تھے۔ آپ کی اصابت رائے کا یہ عالم تھا کہ جب جمعیت علماء اسلام کے دوگروپ بنے۔ ہزاروی گروپ اور درخواستی گروپ۔ ہرچند کہ مولانا غلام غوث ہزارویؒ سے بہت تعلقات تھے۔ لیکن آپ درخواستی گروپ جس کے مرکزی ناظم اعلیٰ مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ صاحب تھے۔ آپ اور آپ کے متوسلین ان کے ساتھ رہے۔ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے بھی اختلاف رائے کے باوجود خانقاہ سراجیہ اور ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب سے اپنے روحانی تعلق میں سر مو فرق نہیں آنے دیا۔ اسی طرح حضرت قبلہؒ بھی مولانا غلام غوث ہزارویؒ پر برابر شفقت و محبت فرماتے رہے۔
مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کے وصال کے بعد ایم، آر، ڈی کے مسئلہ پر پھر جمعیت دو رائے کا شکار ہوئی۔ ایک دھڑا درخواستی گروپ اور دوسرا دھڑا فضل الرحمن گروپ کہلایا تو ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب نے اپنا تمام تر وزن مولانا فضل الرحمن کے جمعیت والے حصہ میں ڈال دیا۔ اس وقت حضرت درخواستیؒ کا پورے ملک بالخصوص پنجاب میں طوطی بولتا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ پنجاب کے مساجد و مدارس کی اکثریت حضرت درخواستی والے حصہ جمعیت کے ساتھ تھی۔ واحد ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب کی ذات گرامی ہے کہ آپ کے باعث پنجاب کے مدارس ومساجد کا معتدبہ حصہ مولانا فضل الرحمن صاحب کے ساتھ رہا۔ آپ کا فیصلہ کتنا صحیح تھا کہ اس وقت جمعیت نام ہی اس حصہ کا ہے۔ جس کے ساتھ آپ ہمیشہ رہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت سے وابستگی کی تفصیلات تو آگے آئیں گی۔ جمعیت اور مجلس کے حوالہ سے ایک بات یہاں جوڑ کھاتی ہے جسے ذکر کئے بغیر چارہ نہیں کہ ایم۔ آر، ڈی کے مسئلہ پر مولانا فضل الرحمن، درخواستی گروپ منقسم ہوئے تو مولانا فضل الرحمن والے حصہ کے امیر مرکزیہ کا مسئلہ درپیش تھا۔ آپ نے اس حصہ کے سرکردہ حضرات کے سامنے رائے رکھی کہ مولانا سراج احمد دین پوری کو امیر بنایا جائے۔ چنانچہ اعلان ہو گیا۔ مولانا محمد لقمان علی پوری اور جمعیت کے دوسرے
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
رفقاء کا وفد گیا اور آپ کو آمادہ کر لیا گیا۔ جمعیت علماء اسلام جمہوری ادارہ ہے۔ اگلے الیکشن میں حضرت مولانا عبد الکریمؒ بیر شریف والے امیر منتخب ہوئے تو ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب نے خانقاہ سراجیہ سے جا کر دین پور شریف مولانا سراج احمد دین پوری مدظلہ کو پوری صورتحال پیش فرمائی اور ان کو آمادہ کیا۔ بعد میں حضرت میاں سراج احمد صاحب نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ (آگے تفصیل آئے گی) سردست یہاں پر میاں سراج احمد دین پوری کے حوالہ سے اتنا عرض ہے کہ پیپلز پارٹی کا ان دنوں جنرل ضیاء الحق سے خوب تناؤ تھا۔ مولانا محمد لقمان علی پوری کے گاؤں بستی رنوجہ جلسہ تھا۔ ہمارے حضرت خواجہؒ صاحب کی صدارت تھی۔ میاں سراج احمد دین پوری نے بیان کے دوران جنرل ضیاء الحق پر تنقید کرتے ہوئے ایک جملہ حضرت خواجہؒ صاحب کے متعلق کہہ دیا۔ جو آپ کی شان سے فروتر تھا۔ میاں سراج احمد کو اگلے لمحہ احساس ہوا کہ مجھ سے یہ سہو ہو گیا ہے۔ اسی وقت کرسی سے اٹھ کر حضرت خواجہؒ صاحب کے پاؤں پر ہاتھ رکھ دیئے اور پبلک کے سامنے ہاتھ باندھ کر معافی کے خواست گار ہوئے۔ حضرت خواجہؒ صاحب اٹھے۔ میاں صاحب کو سینے سے لگایا اور مسکرا دیئے۔
اس واقعہ سے میاں سراج احمد دین پوری کی بے نفسی کے اظہار کے ساتھ ساتھ حضرت خواجہؒ صاحب کے عالی حوصلہ پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ بجائے میاں صاحب پر اظہار ناراضگی کے، فوراً گلے سے لگا لیا۔ سچ ہے کہ ان اکابر کی شان بہت ہی نرالی ہے۔ ترتیب تو یاد نہیں۔ مولانا حامد میاںؒ بھی جمعیت علماء اسلام کے امیر رہے۔ ان کے انتقال کے بعد ایک مرحلہ آیا کہ جمعیت علماء اسلام کی امارت اور اتنی بڑی اہم ذمہ داری کے لئے جمعیت کے تمام حضرات کی رائے ہوئی کہ حضرت خواجہؒ صاحب کو امیر بنایا جائے۔ مولانا محمد خان شیرانی نے دوسرے رفقاء کے ساتھ سفر کیا اور خانقاہ شریف حاضر ہو کر جمعیت کی امارت کے لئے آپ سے استدعا کی۔ آپ نے عذر فرمایا کہ خانقاہ شریف اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت کی ذمہ داری کے علاوہ مزید بوجھ کا میں متحمل نہیں۔ انہوں نے اصرار کیا تو آپ نے صاف صاف انکار فرما دیا۔ مولانا شیرانی مصر رہے اور پھر فرمایا کہ ہم آپ کے انکار کے باوجود منتخب کر کے اعلان کر دیں گے۔
اس پر حضرت نے فرمایا کہ جمعیت مجھے دل و جان سے عزیز ہے۔ اپنی جماعت ہے۔ لیکن امارت کا اعلان کیا تو میں تردید کر دوں گا۔ وہ مایوس ہو گئے۔ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن، حضرت مولانا عبد الکریمؒ بیر شریف کا والا نامہ لے کر خود تشریف لائے۔ آپ نے والا نامہ پڑھا اور احترام سے رکھ دیا۔ مثبت، منفی کوئی جملہ نہ فرمایا۔ حضرت مولانا
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
فضل الرحمٰن نے خاموشی کو رضا خیال فرمایا۔ ملتان میں جمعیت کا انتخابی اجلاس ہوا۔ حضرت قبلہؒ کے انکار کرتے کرتے اعلان ہوگیا۔ آپ نے سخت غصہ میں فرمایا کہ فیصلہ تبدیل کریں۔ ورنہ میں اجلاس سے اٹھ کر چلا جاؤں گا۔ تمام حضرات پریشان ہو گئے۔ خیر حضرت قبلہؒ کے واضح انکار کو سامنے رکھ کر حضرت قبلہؒ ہی کی تجویز پر حضرت پیر شریفؒ والوں کو امیر بنا دیا گیا۔ اس انکار و اصرار پر اجلاس کا خاصہ وقت خرچ ہوا۔
اجلاس کے بعد حضرت مولانا فضل الرحمٰن، سرگانہ ہاؤس ملتان، حضرت قبلہؒ کی رہائش گاہ پر تشریف لائے اور فرمایا کہ حضرت پیر شریفؒ والوں کا خط لے کر جب میری خانقاہ سراجیہ حاضری ہوئی تو آپ کی خاموشی کو میں رضا سمجھا تھا۔ اس پر حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ حضرت پیر شریفؒ والوں کے احترام میں خط پر فوری انکار نہ کیا۔ مصمم ارادہ اس وقت بھی یہی تھا کہ میں امارت قبول نہیں کروں گا۔ بلکہ حضرت پیر شریفؒ والوں کو، اگر وہ نہ مانے تو آپ (مولانا فضل الرحمٰن) کو امیر بنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی شان پر قربان کہ حضرت قبلہؒ کی رائے کو اللہ تعالیٰ نے ایسے شرف قبولیت سے نوازا کہ اگلے انتخاب میں جمعیت نے متفقہ طور پر مولانا فضل الرحمٰن کی امارت کا فیصلہ کر لیا۔ پھر جس طرح مولانا کے عہد امارت میں جمعیت نے ترقی کی منزلیں طے کیں وہ حضرت قبلہؒ کی اصابت رائے پر واضح دلیل ہے۔
حضرت قبلہؒ و حضرت پیر شریفؒ
لیجئے! موقعہ کی مناسبت سے ایک اور واقعہ بھی عرض کئے دیتا ہوں کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک تبلیغی لمبے دورہ پر حضرت قبلہؒ، پیر شریف، پیر طریقت، حضرت مولانا عبدالکریمؒ قریشی پیر شریف والوں سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔ صاحبزادہ حافظ محمد عابد صاحبؒ، فقیر راقم اور مولانا جمال اللہ حسینیؒ اور دوسرے رفقاء بھی ہمراہ تھے۔ دونوں اکابر گھنٹوں ایک دوسرے کے سامنے دوزانو بیٹھے رہے۔ مختلف موضوعات پر گفتگو رہی۔ دونوں بزرگوں کے خدام بھی مجلس میں موجود، خاموشی یعنی مراقبہ کی کیفیت بھی مجلس پر گاہے بگاہے طاری رہتی۔ پھر گفتگو، کھانا، چائے، دعاء، خاصہ وقت حضرت قبلہؒ، حضرت پیر شریفؒ کے ساتھ رہے۔ جب اجازت چاہی تو حضرت پیر شریفؒ والوں نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور علیحدگی میں تشریف لے جا کر دروازہ بند کر دیا۔ دونوں بزرگوں کے رفقاء باہر انتظار میں کھڑے رہے۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا۔ باہر تشریف لائے۔ الوداعی معانقہ مصافحہ ہوا اور حضرت قبلہؒ اگلے سفر پر روانہ ہو گئے۔ غالباً حضرت صاحبزادہ حافظ محمد عابدؒ کے کہنے پر مولانا جمال اللہ صاحبؒ نے حضرت قبلہؒ سے عرض کیا کہ حضرت پیر شریفؒ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
والے آپ کو علیحدہ لے گئے۔ کسی خاص امر پر مشاورت تھی؟ پہلے تو حضرت قبلہؒ نے خاموشی اختیار کی۔ مولانا جمال اللہؒ کے اصرار پر فرمایا کہ حضرت بیر شریفؒ والوں کی محبت ہے۔ مجھے بٹھایا خود میرے سامنے دراز ہوئے۔ قلب مبارک سے کپڑا اٹھایا اور فرمایا کہ نقشبندی طریقہ پر میرے قلب کو توجہ دے دیں۔ میں نے حکم کی تعمیل کی۔ انہوں نے اظہار مسرت فرمایا اور باہر آ گئے۔ اس سے حضرت بیر شریفؒ والوں کی قدر دانی کہ وہ خود پیر طریقت اور شیخ وقت لیکن حضرت قبلہؒ کو اس وقت مجددی، نقشبندی سلسلہ کا امام یقین فرماتے ہوئے کسب فیض کے لئے عرض کی۔ حضرت بیر شریفؒ والوں کی بے نفسی اور حضرت قبلہؒ کا مقام ان دونوں کو ایک اس واقعہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔
لیجئے! لگے ہاتھوں ایک اور واقعہ بھی ہو جائے کہ ایک بار حضرت بیر شریفؒ والوں نے حضرت قبلہؒ سے ملاقات کے لئے سندھ سے سفر کیا۔ خانقاہ سراجیہ تشریف لائے۔ چناب نگر ختم نبوت کانفرنس کے شروع ہونے سے ایک دن قبل حضرت قبلہؒ چناب نگر تشریف لائے۔ یاد رہے کہ حضرت قبلہؒ اپنی صحت کے زمانہ میں چناب نگر ختم نبوت کانفرنس کے شروع ہونے سے ایک دن قبل تشریف لاتے۔ کانفرنس کے اختتام کے بعد مزید بھی ایک رات قیام فرماتے۔ یہ تقریباً آپ کا معمول تھا۔ اب خانقاہ سراجیہ سے حضرت بیر شریفؒ والوں کو پتہ چلا کہ حضرت قبلہؒ چناب نگر تشریف لے گئے ہیں تو خانقاہ شریف سے چناب نگر صبح آٹھ، نو بجے تشریف لائے۔ ہم خدام کی عید ہو گئی۔ گھنٹہ بھر حضرت قبلہؒ سے ملاقات رہی اور اجازت چاہی، حضرت قبلہؒ نے اجازت دے دی۔ حضرت بیر شریفؒ والوں کو جاتا دیکھ کر ہم خدام دوڑے کہ حضرت کانفرنس چند ساعتوں میں شروع ہونے والی ہے۔ آپ افتتاحی بیان فرمادیں۔ حضرت بیر شریفؒ والے مسکرائے اور فرمایا کہ کانفرنس میں شرکت ہو گئی۔ گھر سے صرف حضرت قبلہؒ کی ملاقات کے لئے چلا تھا۔ اس سفر میں حضرت قبلہؒ کی ملاقات کے علاوہ اور کسی مصروفیت کی آمیزش پر دل نہیں مانتا۔ ہم دل مسوس کر رہ گئے۔ حضرت قبلہؒ بھی مسکرا دیئے اور حضرت بیر شریفؒ والے چل دیئے۔ سچ ہے کہ بڑوں کی باتیں بڑے ہی جانتے ہیں۔ ہم چھوٹوں کو دخل دینا۔ دخل در معقولات نہیں۔ بلکہ سوئے ادبی کے زمرہ میں آتا ہے۔
اکابر سے حضرت قبلہؒ کے تعلقات
یہاں پر ایک اور بات بھی سن لیجئے کہ برطانیہ بری میں دارالعلوم کے بانی اور مہتمم حضرت مولانا یوسف متالا بہت بڑے شیخ وقت اور برطانیہ کے لئے آیۃ من آیات اللہ ہیں۔ حضرت قبلہؒ جب بھی برطانیہ کے سفر پر جاتے ان کی ملاقات کے لئے تشریف لے جاتے۔ وہ بھی
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۳۸ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
احترام کا حق ادا کر دیتے۔ گھنٹوں مجلس میں اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کی بارش کا سماں بندھ جاتا۔ گزشتہ کئی سالوں سے کمزوری کے باعث حضرت قبلہؒ کا برطانیہ کا سفر نہیں ہوا۔ کانفرنس کے بعد مولانا حافظ محمد مکین، مولانا محمد ابراہیم خطیب بریڈفورڈ، اور فقیر راقم دارالعلوم بری حضرت متالا کی ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔ آپ نے شفقتوں کی انتہاء کر دی۔ جب اجازت چاہی تو دروازہ میں ہمیں کھڑا کر کے خود بالا خانہ پر تشریف لے گئے۔ کچھ دیر کے بعد لفافہ میں چھ عدد غالباً اعلیٰ عطر کی شیشیاں لائے اور راقم سے فرمایا کہ یہ میری طرف سے حضرت قبلہؒ کو ہدیہ پیش کر کے حضرت قبلہؒ کی ایک مستعملہ پگڑی کی درخواست کرنا۔ پھر بہت دیر تک حضرت قبلہؒ کے لئے بڑے وقیع جذبات کا اظہار فرماتے رہے۔ وہ حضرت شیخ الحدیث کے خلیفہ مجاز اور شیخ طریقت، و شیخ زمانہ ہیں۔ لیکن حضرت قبلہؒ کی مستعملہ پگڑی کے لئے خواہش کا اظہار خوب حضرت قبلہؒ کی رفیع شان پر دلالت کرنے والی بات ہے۔ وہی جو پہلے عرض کیا کہ بڑوں کی باتیں بڑے ہی جانتے ہیں۔
خانقاہ قادریہ راشدیہ دین پور شریف کے مسند نشین ثانی حضرت مولانا میاں عبد الہادیؒ صاحب بہت کامل بزرگ اور جامع شریعت و طریقت مسلمہ رہنما تھے۔ آپ یومیہ کئی پارے تلاوت بلا ناغہ کرتے تھے۔ اس میں کسی سے میل ملاقات بات چیت نہ کرتے تھے۔ فجر کے بعد اور ظہر تا عصر تو تلاوت کا معمول تھا ہی۔ اس دوران سب کو معلوم تھا کہ ملاقات ناممکن ہے۔ حضرت قبلہؒ ایک سفر کے دوران میں دین پور تشریف لے گئے۔ وقت ایسا تھا کہ حسب معمول حضرت میاں عبد الہادیؒ تلاوت میں مصروف تھے۔ حضرت قبلہؒ نے بھی سفر کرنا تھا۔ کسی خادم خاص نے جا کر حضرت میاں صاحبؒ سے حضرت قبلہؒ کی تشریف آوری کا بتایا۔ آپ نے تلاوت کو روکا۔ تشریف لائے، معانقہ و مصافحہ ہوا۔ خیر خیریت پوچھی۔ بیٹھے رہے۔ خانقاہ دین پور کے تمام خدام ششدر کہ یہ سب کچھ خلاف معمول کیسے ہو گیا۔ جب حضرت قبلہؒ نے جانے کے لئے اجازت طلب کی تو حضرت میاں صاحبؒ نے بہت ہی محبت سے فرمایا کہ حضرت قیامت میں بھی خیال رکھنا۔ آپ نے سر جھکا کر جواباً ارشاد فرمایا۔ ”اللہ تعالیٰ بھلی فرمائیں گے“ دونوں بزرگ باہمی احترام اور محبت سے ایسے ایک دوسرے سے رخصت ہوئے کہ موجود حضرات پر وجد آفرین کیفیت کی بہار چھا گئی۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
باب دوم
حضرت قبلہؒ
اور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دوسرے امیر خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے انتقال کے بعد حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ بہت سے اکابر کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت کے لئے آمادہ کرتے رہے۔ راقم نے خود حضرت قبلہؒ سے سنا۔ آپ نے فرمایا کہ حضرت جالندھریؒ میرے پاس بھی تشریف لائے تھے اور مجھے بھی امارت قبول کرنے کے لئے فرمایا۔ لیکن میں نے کہا کہ آپ کے ہوتے ہوئے کسی اور کی امارت کا سوچنا بھی ٹھیک نہیں۔ آپ (حضرت جالندھریؒ) سے بڑھ کر اس کام کو اور کون احسن انداز میں چلاسکتا ہے؟ اور پھر حضرت قبلہؒ نے مسکرا کر فرمایا کہ یہ جو مجلس کی امارت میرے سپرد ہوئی حضرت جالندھریؒ کی اس زمانہ کی پیشکش کو اللہ تعالیٰ نے یوں پورا فرمادیا۔ اللہ رب العزت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔
غرض حضرت قاضی صاحبؒ کے بعد حضرت جالندھریؒ ان کے بعد مولانا لال حسین اخترؒ، ان کے بعد عارضی طور پر مولانا محمد حیاتؒ فاتح قادیان (چھ ماہ کے لئے) امارت کے عہدہ پر فائز رہے۔ ۹؍اپریل ۱۹۷۴ء میں مجلس کا سہ سالہ انتخاب ہونا تھا۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ، حضرت مولانا تاج محمودؒ اور ملک کے دیگر بہت سے مجلس کے بہی خواہ بزرگ اس کوشش میں تھے کہ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کو اس منصب کے لئے آمادہ کیا جائے۔ اس کی کئی وجوہات تھیں۔ مثلاً:
- ۱...... قادیانیت ان دنوں منہ زور گھوڑے کی طرح دولتیاں مار رہی تھی۔ مسلمان خواص وعوام
میں بھی ردعمل عروج پر تھا۔
- ۲...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت کے لئے بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیت کی
ضرورت تھی۔ اس لئے کہ بیرون ملک بھی قادیانی خرمستیاں زوروں پر تھیں۔
- ۳...... اندرون ملک بھی کام کے لئے ایسی جامع شخصیت کی ضرورت تھی۔ جن کے
احترام کا حلقہ ایسا مسلّم ہو کہ سب اس شخصیت کی قیادت میں جمع ہوکر قادیانیت کا تعاقب کرسکیں۔
- ۴...... حضرت شیخ بنوریؒ ان تمام خصوصیات کے حامل تھے۔ علاوہ ازیں آپ حضرت مولانا سید
محمد انور شاہ کشمیریؒ کی نسبت شاگردی کے نہ صرف حامل تھے بلکہ پاکستان میں بلاشبہ وہ حضرت سید کشمیریؒ کے علمی جانشین کے طور پر جانے پہچانے اور مانے جاتے تھے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۵...... اور درحقیقت یہ کہ قدرت کی طرف سے قادیانیوں کی آئینی رسوائی کا وقت بھی آن پہنچا تھا۔ اس جدوجہد کی قیادت کے لئے قدرت کا فیصلہ بھی حضرت بنوریؒ ہی کے لئے تھا۔
- ۶...... مجلس کے تمام رہنماء صرف اور صرف اس کام کے لئے اوّل و آخر صرف حضرت بنوریؒ کے لئے ہی کوشاں تھے۔ وہ متبادل کے طور پر کسی اور کا سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ انہوں نے بھی پورا زور حضرت بنوریؒ پر لگایا۔
- ۷...... حضرت جالندھریؒ کے عہد امارت میں حضرت بنوریؒ مجلس کی شوریٰ کے رکن بھی رہے۔ وہ مجلس کے مزاج سے واقف اور مجلس کے حضرات ان کے مزاج شناس۔ اس لئے کسی اور پر نظر نہ جاتی تھی۔
- ۸...... مسلمہ دینی شخصیات مثلاً مولانا قاضی عبدالقادرؒ جھاوریاں والے تبلیغی جماعت کے معروف رہنماء اور شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز ، خانقاہ قادریہ راشدیہ دین پور شریف کے سجادہ نشین حضرت میاں عبدالہادیؒ دین پوری، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ مہاجر مدنی اور دیگر بہت سے اکابر نے اس کام کے لئے حضرت شیخ بنوریؒ کو آمادہ کرنے کی سعی بلیغ و مشکور فرمائی۔
- ۹...... قدرت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ مجلس کے اکابر کو معلوم نہ تھا کہ یہ بزرگ بھی شیخ بنوریؒ کی مجلس کی امارت کے لئے کوشش فرما رہے ہیں۔ ہاں ان اکابر حضرات کو معلوم ہوگا کہ مجلس کی قیادت حضرت بنوریؒ کو امارت کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس لئے کہ مجلس کے حلقہ میں دن رات ہر جگہ حضرت بنوریؒ کے حوالہ سے تذکرہ عام تھا کہ وہ امیر بن رہے ہیں۔
- ۱۰...... ان تمام تر کوششوں کے باوجود حضرت بنوریؒ کے سامنے اپنی علمی مصروفیات ، اور جامعۃ العلوم الاسلامیہ کی ذمہ داری۔ اس لئے خیال کیا جاسکتا ہے کہ حضرت بنوریؒ دونوں امور کو سامنے رکھ کر کوئی واضح فیصلہ کرنے میں تاخیر کا شکار تھے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمومی کا اجلاس
ان حالات میں روز بروز مجلس عمومی کے اجلاس کی تاریخیں قریب سے قریب تر ہو رہی تھیں۔ اجلاس میں شرکت کے لئے حضرت بنوریؒ آمادہ تو ہو گئے۔ لیکن آپ نے حکم فرمایا کہ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اجلاس میں بطور خاص حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کو میرے حوالہ سے دعوت دے کر ان کی آمد کو یقینی بنایا جائے۔ اب یاد نہیں کہ حضرت خواجہؒ صاحب کے پاس کون گئے؟ کیا ہوا؟ بہر حال حضرت قبلہؒ نے اپنے استاذ حضرت شیخ بنوریؒ کے حکم پر اجلاس میں شریک ہونے کا وعدہ فرما لیا۔ جس کی حضرت بنوریؒ کو اطلاع کر دی گئی۔ آپ نے بھی انشراح صدر کے ساتھ اجلاس میں شرکت کا یقینی وعدہ فرما لیا۔
اس موقعہ پر راقم اپنا تاثر اس طرح بیان کر سکتا ہے کہ غالباً حضرت بنوریؒ اپنی مصروفیات اور مجلس کی امارت کی اہمیت دونوں میں تطبیق اس طرح فرمانا چاہتے ہوں گے کہ ایسی معتمد اور جامع شخصیت جو مجلس کی امارت کے بوجھ کو اٹھا سکے۔ وہ ان کو امیر بنا کر اور خود اپنی رہنمائی وتعاون کے ساتھ پیچھے رہ کر ان دونوں کاموں کی تقسیم کار کرنا چاہتے تھے۔ تا کہ جامعہ اور مجلس کے کام، دونوں کماحقہ چلتے رہیں۔ اس لئے آپ کی نظر انتخاب حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب پر پڑی۔ چنانچہ آپ سے بطور خاص اجلاس میں ملتان تشریف لانے کا پختہ وعدہ لیا گیا۔ قرائن بتاتے ہیں کہ اس کے لئے انہوں نے مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کو بھی اعتماد میں لیا۔ یہ دونوں بزرگ اس زمانہ میں ہر اہم کام میں ایک دوسرے کے مشورہ کو ضروری سمجھتے تھے۔ لیکن جب عمومی کا اجلاس ہوا تو صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت قبلہؒ نے جس ٹرین کو کندیاں سے پکڑنا تھا۔ اس سے رہ گئے۔ جو صبح ملتان پہنچتی ہے۔ دوسری ٹرین جو صبح کندیاں سے چلتی ہے اس نے ملتان اجلاس کے اختتام پر پہنچنا تھا۔ اس لئے آپ کندیاں سے واپس خانقاہ آگئے اور اجلاس کے وقت پر نہ پہنچ سکنے کے باعث سفر ملتوی کر دیا۔ مولانا محمد عبداللہ صاحب بھکر والوں کو بھی آپ نے فرما دیا تھا کہ وہ رات کی ٹرین سے ملتان کے لئے سفر کریں۔
حضرت قبلہؒ خود تو رہ گئے۔ مولانا محمد عبداللہ بروقت پہنچ گئے۔ حضرت شیخ بنوریؒ بھی صبح کے جہاز پر کراچی سے ملتان تشریف فرما ہو گئے۔ اجلاس شروع ہونے کا وقت ہو گیا۔ اب حضرت قبلہؒ موجود نہیں تو مولانا عبداللہ نے عرض کیا کہ پروگرام تو پختہ تھا۔ ممکن ہے کہ ٹرین چھوٹ گئی ہو تو اب دوسری ٹرین سے دوپہر تک تشریف لائیں۔ حضرت بنوریؒ نے فرما دیا کہ صبح دس بجے کی بجائے اجلاس مؤخر کر دیا جائے۔ اس زمانہ میں ڈائریکٹ ڈائلنگ کا نظم نہ تھا۔ ہوتا بھی تو خانقاہ سراجیہ میں فون کی سہولت موجود نہ تھی۔ اس زمانہ میں چشمہ کالونی کے ایک ارادت مند کے ذریعہ رابطہ ہوتا تھا۔ کال بک کرائی جاتی تو بھی گھنٹوں باری کی انتظار کرنا پڑتی تھی۔ اس تگ و دو میں ظہر
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کے بعد اجلاس شروع ہوا۔ جب دوسری ٹرین آگئی اس پر حضرت قبلہؒ تشریف نہ لائے۔ اب حضرت قبلہؒ بھی تشریف نہیں لا سکے۔ حضرت شیخ بنوریؒ آپ سے مشورہ بھی نہیں کر سکے۔ ادھر اجلاس حضرت بنوریؒ کی صدارت میں شروع۔ تلاوت کے بعد سابقہ اجلاس عمومی کی کارروائی پڑھی گئی۔ اس کی توثیق ہوتے ہی حضرت بنوریؒ کا نام پیش ہوا۔ تمام حاضرین نے یک زبان ہو کر نہ صرف تائید کی بلکہ ہاتھ بھی بلند کر دیئے۔ حضرت بنوریؒ کچھ فرمانا چاہتے تھے کہ حضرت امیر شریعتؒ کے ساتھی، مفتی کفایت اللہؒ کے شاگرد، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رکن اور سرائیکی زبان کے نامور خطیب مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ کھڑے ہو گئے۔ ان کو دیکھ کر حضرت بنوریؒ نے گفتگو کا آغاز روک دیا۔ حضرت بہاولپوریؒ نے کہا کہ: ”حضرت (حضرت بنوریؒ) ختم نبوت کا کام آپ کے استاذ حضرت انور شاہ کشمیریؒ نے حضرت امیر شریعتؒ کے ذمہ لگایا تھا۔ ہم سب نے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر حضرت امیر شریعتؒ کے ساتھ امکانی حد تک جو بن پڑا، قادیانیت کو لگام دی۔ حضرت امیر شریعتؒ، ان کے رفقاء حضرت قاضیؒ صاحب، حضرت جالندھریؒ، حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، یکے بعد دیگرے ہمیں یتیم کر گئے۔ ان کی جدائی سے خمیدہ کمر، شکستہ دل اس ٹیم کی آپ امارت قبول فرمائیں۔“
اس پر پورے اجتماع میں آہوں اور سسکیوں کا ایسا ماحول بنا کہ شام غریباں پر ان کے خطیب کیا بناتے ہوں گے۔ خود حضرت بنوریؒ، مولانا محمد حیاتؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور دیگر حضرات نے بھی رو رو کر اپنی داڑھیوں کو آنسوؤں سے تر کر لیا۔ اس پر مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ نے پھر بات کا آغاز کیا کہ: ”حضرت (حضرت بنوریؒ) آپ امارت قبول کریں تو جس طرح حضرت امیر شریعتؒ کی اطاعت کر کے قادیانیوں کو نتھ ڈالی۔ اس طرح تیار ہیں بلکہ بڑھ کر اطاعت کا وہ نمونہ پیش کریں گے کہ اولاد بھی اپنے والدین کی وہ اطاعت نہیں کر سکتی۔ جو ہم آپ کی کریں گے، اور اگر امارت پر آپ آمادہ نہیں تو مولانا محمد شریف جالندھریؒ سے چابیاں لے کر جذبات میں حضرت بنوریؒ کی طرف بڑھا دیں کہ یہ چابیاں ہیں۔ اس دفتر کو بند کر دیں۔ ہم بھی گھروں کو جاتے ہیں۔“ اس پر پھر وہی آہ و بکا کی کیفیت، حضرت بنوریؒ نے صرف اتنا فرمایا بہت اچھا۔ پورا اجلاس خیر مقدمی کلمات سے گونج اٹھا۔ حضرت بنوریؒ کچھ فرمانا چاہتے تھے کہ مولانا حسین علیؒ وار برٹن کے کھڑے ہوئے اور نائب امارت کے لئے مولانا محمد شریف جالندھریؒ کا نام پیش کر دیا۔ اس کا بھی ایک پس منظر ہے۔ وہ یہ کہ مجلس کے دستور کے اعتبار سے
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مرکزی ناظم اعلیٰ کو امیر مرکزیہ نامزد کرتے ہیں۔ اس وقت ناظم اعلیٰ مولانا عبدالرحیم اشعرؒ تھے۔ جب کہ تمام مبلغین بھی اور اراکین عمومی اس کام کے لئے مولانا محمد شریف جالندھریؒ کو موزوں سمجھتے تھے۔ مگر رکاوٹ یہ کہ ناظم اعلیٰ کا اختیار وہ امیر مرکزیہ کے پاس تھا۔ البتہ امیر مرکزیہ اور نائب امیر کا چناؤ وہ مجلس عمومی نے کرنا تھا۔ مولانا منظور احمد شاہ حجازیؒ، مولانا خدا بخشؒ، مولانا قاضی اللہ یارؒ، خود راقم اور اکثر دوست تیاری کے ساتھ مجلس عمومی کو قائل کر کے آئے تھے کہ مجلس عمومی مولانا محمد شریف جالندھریؒ کو نائب امیر بنا دے۔ ناظم اعلیٰ نہ سہی نائب امیر تو وہ ہو جائیں گے۔ مولانا حسین علیؒ وار برٹن اچھے خطیب، خوب جہیر الصوت، ایک پاؤں سے معذور جس کے باعث ڈنڈا ہاتھ میں، پگڑی پہنے، چشمہ لگائے، انہوں نے حضرت شیخ بنوریؒ کے کچھ فرمانے سے قبل ڈنڈا اٹھایا۔ اس کے سہارے کھڑے ہوئے۔ خوب تیزی اور بلند آواز سے نائب امیر کے لئے مولانا محمد شریف جالندھریؒ کا جوں ہی نام پیش کیا، مقابلہ میں کسی اور کا نام آنے کا موقعہ ہی نہ آنے دیا کہ اتنے میں ہال میں اکثر رفقاء کے ہاتھ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کی نائب امارت کے لئے بلند ہو گئے۔ کہاں حضرت بنوریؒ امیر بننے کے لئے خوشی سے آمادہ نہیں اس پر سب نے مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ کی قیادت میں رو رو کر آپ کو آمادہ کر لیا۔ اب حضرت بنوریؒ کچھ فرمانا چاہتے ہیں کہ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کی نائب امارت کنفرم ہونے کو ہے۔
حضرت بنوریؒ نے ہال کے اس منظر کو دیکھا۔ اکثر و بیشتر عمومی کے ارکان، علماء، مشائخ یا حضرت امیر شریعتؒ، حضرت جالندھریؒ کے تربیت یافتہ تھے۔ جیسے پہلے عرض کیا ہے کہ حضرت بنوریؒ کا ارادہ تھا کہ حضرت قبلہ مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کو امیر بنائیں گے۔ اجلاس نے حضرت بنوریؒ کو امیر بنا لیا۔ اب نائب امیر کے لئے مولانا محمد شریف جالندھریؒ کو لایا جا رہا ہے تو حضرت بنوریؒ نے ماحول کو دیکھا اور مولانا حسین علیؒ سے فرمایا۔ مولوی صاحب! بیٹھ جائیے۔ حضرت بنوریؒ کے اس جملہ پر پوری عمومی نے حضرت کے احترام میں سر جھکا لئے۔ تو حضرت بنوریؒ نے فرمایا دیکھئے کہ اگر میں امیر ہوں تو نائب امیر مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب ہوں گے اور بس۔ اس پر کوئی بات سننے کے لئے آمادہ نہیں اور آپ میں سے کوئی کچھ نہ کہے۔ اب عمومی کے اکثر ارکان اور غالباً تمام مبلغین جو مولانا محمد شریف جالندھریؒ کو آگے لانا چاہتے تھے۔ لگے بغلیں جھانکنے۔ خلاف توقع سارا منصوبہ ہی ناکام ہو گیا۔ ایک تو حضرت الامیر اور وہ بھی حضرت بنوریؒ، ان کا حکم، دوسرا یہ کہ حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب کے نام سامنے آتے ہی پورے اجتماع میں سے ایک
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۴۵ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
شخص بھی اس سے انکار کا سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ لیکن حضرت بنوریؒ ایسے خدارسیدہ، معاملہ فہم رہنما، اگلے ہی جملہ میں سب کے دل جوڑ دیئے۔ فرمایا کہ نائب امیر تو مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب ہی ہوں گے۔ ہاں آپ دوستوں کی اکثریت چاہتی ہے کہ مولانا محمد شریف جالندھریؒ اہم ہیں۔ تو میں انہیں ناظم اعلیٰ نامزد کرتا ہوں۔ اب تو پورا اجتماع سبحان اللہ! ماشاء اللہ! ٹھیک ہے۔ بالکل منظور ہے۔ منظور ہے۔ کی صداؤں سے گونج اٹھا۔ لیجئے! حضرت شیخ بنوریؒ نے جو امیر بنتے ہی پہلا فیصلہ کیا ’’اگر میں امیر تو نائب امیر بہرحال مولانا خان محمدؒ صاحب ہوں گے اور آپ کہتے ہیں تو ناظم مولانا محمد شریف جالندھریؒ ہوں گے‘‘ اس پر ایسا اتفاق رائے ہوا کہ حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب کے مقابلہ میں دوسرا نام آنے کا نہ سوچا جا سکتا تھا اور نہ ہی پیش ہو سکتا تھا۔ نہ سوچا جا سکا۔ نہ پیش ہو سکا۔ نہ حضرت بنوریؒ نے کسی کی پیش جانے دی۔ اس انتخاب کو میرے جیسا مجلس کا نیازمند خالصۃً منشاء خداوندی سے تعبیر کرتا ہے۔ حضرت شیخ بنوریؒ نے پھر نصائح فرمائیں۔ بیوروکریسی، بہرحال بیوروکریسی ہوتی ہے۔ چاہے حکومتی ہو یا کسی دینی ادارے کی۔ حضرت بنوریؒ کے بیان کے دوران ہی مجلس عمومی کے رجسٹر پر حضرت بنوریؒ کے امیر مرکزیہ اور حضرت قبلہؒ کے نائب امیر اور مولانا محمد شریف جالندھریؒ کے ناظم اعلیٰ ہونے کی پانچ سطری عمومی کی کارروائی لکھ کر دعا سے قبل جونہی حضرت بنوریؒ کا بیان ختم ہوا، رجسٹر پیش کر کے مولانا محمد شریف جالندھریؒ کی نظامت علیاء پر بھی ساتھ دستخط کرا لئے۔ دعاء ہوگئی۔ میرے خیال میں مجلس عمومی کی سب سے مختصر کارروائی جو رجسٹر پر درج ہوئی وہ اس اجلاس کی ہے۔
اس کے پیچھے یہ کہانی کارفرما تھی۔ جو عرض کر دی ہے۔ نہ اس کارروائی میں مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ کی تقریر کے مندرجات، نہ حضرت بنوریؒ کی تقریر کے مندرجات، نہ یہ تفصیل جو اوپر بیان ہوئی۔ خدشہ تھا کہ کہیں شوریٰ حضرت بنوریؒ سے مولانا شریف جالندھریؒ کے علاوہ کسی اور کو ناظم اعلیٰ نہ بنوا دے۔ اسے پکا کرانے کے لئے فوری کارروائی میں درج کر کے اس راستہ کو بند کر دیا گیا۔
قارئین محترم! راقم مجلس کی تاریخ نہیں لکھ رہا۔ بلکہ حضرت قبلہؒ کے حالات قلمبند کر رہا ہے۔ اچھا ہوا کہ قدرے تفصیل آ گئی۔ اس سے اگلے واقعات سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ اجلاس ختم ہوا۔ سب اپنے اپنے گھروں کو شادان وفرحان روانہ ہو گئے۔ حضرت شیخ بنوریؒ نے کراچی کی فلائٹ پکڑنا تھی۔ تو آپ نے مولانا محمد شریف جالندھریؒ کو حکم فرمایا کہ آپ میری طرف سے خواجہ خان محمدؒ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
صاحب کو خط لکھ دیں کہ آپ کا بہت انتظار کیا۔ آپ کی وجہ سے اجلاس میں تاخیر کی۔ آپ تشریف نہ لاسکے۔ لیکن بنوریؒ نے آپ کو نائب بنا دیا ہے۔ اب انکار کی گنجائش نہیں۔ (یہ خلاصہ عرض کیا ہے)
مولانا محمد شریف جالندھریؒ دارالعلوم دیوبند کے فاضل، حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد، حضرت امیر شریعتؒ، حضرت قاضیؒ صاحب، حضرت جالندھریؒ کے تربیت یافتہ پہلے احرار پھر عالمی مجلس میں آپ کی صلاحیتوں نے اپنا سکہ منوایا۔ بلا کے زیرک انسان، نام و نمود سے کوسوں دور، کام کے دھنی، مقدر کے شہنشاہ، خدمت خلق، رفاہ عامہ کے کاموں کے خوگر۔ آپ کو ناظم اعلیٰ کیا بنایا گیا، گویا قدرت نے تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے لئے ایک خاموش اور دور رس سوچ کے حامل جرنیل کو قادیانیت کے مقابلہ میں لا کھڑا کیا۔
لیجئے صاحب! مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے حضرت شیخ بنوریؒ کے حکم پر حضرت قبلہؒ کے نام خط لکھا۔ بڑے سائز کے لیٹر پیڈ کے مکمل صفحہ پر پوری تفصیلات درج تھیں۔ افسوس وہ خط محفوظ نہیں رہ سکا۔ ورنہ تاریخی خط تھا۔ اس خط کو حضرت قبلہؒ کی خدمت میں لے جانے کی سعادت راقم کے حصہ میں قدرت نے رکھی تھی۔ اگلے روز خانقاہ شریف حاضر ہوا، خط پیش کیا۔ حضرت قبلہؒ اپنے کمرہ میں مریدوں کی جماعت کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ آپ کی جوانی تھی۔ آج سے سینتیس سال قبل کی بات ہے۔ داڑھی مبارک میں شاید ہی گنتی کے چند بال سفید ہوں گے۔ مجلس کے حوالہ سے پہلی سفارت، راقم کی حضرت قبلہؒ سے ملاقات، خط پڑھا۔ تہہ کر کے دراز میں رکھا۔ سر اوپر اٹھایا۔ میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا مولوی صاحب کیا نام ہے؟ عرض کیا۔ اللہ وسایا۔ تو آپ نے فرمایا کہ اچھا آپ بھی مولانا محمد شریفؒ صاحب کو نائب امیر بنوانے والوں میں شامل تھے؟ میرے تو اوسان خطاء ہو گئے۔ یا اللہ یہ کیا ہو گیا۔ حضرت قبلہؒ کو مجھ سے پہلے کارروائی کس نے بتادی۔ کون مجھ سے پہلے یہاں پہنچ گیا؟ کارروائی ختم ہونے کے بعد میرے خیال میں راقم پہلا آدمی تھا کہ جو ملتان سے خانقاہ شریف آیا ہو، مجھ سے پہلے کون آیا اور کارروائی کی رپورٹ بھی منفی پیش کی۔ کیس ہی خراب ہو گیا۔
راقم نے کانپتے جسم اور لرزتے ہونٹوں سے عرض کیا کہ حضرتؒ آپ کے نام پر تو کسی نے اختلاف ہی نہیں کیا۔ آپ کے مقابلہ میں کوئی نام ہی نہیں آیا۔ پہلے ہاؤس نے رائے دی کہ مولانا محمد شریف جالندھریؒ نائب امیر ہوں۔ جب حضرت شیخ بنوریؒ نے آپ کا اعلان فرمایا کہ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اگر مجھے امیر بنانا ہے تو نائب امیر مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب ہوں گے۔ اس پر کسی نے اختلاف نہیں کیا۔ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا، نہ سوچا گیا اور یہ کہ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کا اوّل میں جو نام پیش ہوا، اس میں بھی دوسرے مولانا صوفی اللہ وسایاؒ ہیں وہ ڈیرہ غازیخان کے تھے۔ وہ بولے تھے۔ میں تو لائل پور میں مجلس کا مبلغ ہوں۔ (اور واقعہ بھی یہی تھا کہ مولانا محمد شریف جالندھریؒ والی تجویز کا فقیر گو حامی تھا۔ لیکن ساری عمر پیچھے رہ کر راقم گیم بناتا رہا۔ خود کبھی آگے نہیں آیا۔ اس دن بھی یہی کیا تھا) اس پر حضرت قبلہ مسکرائے۔ فرمایا بہت اچھا اور ساتھ ہی فرمایا کہ حضرت الاستاذ حضرت شیخ بنوریؒ کا حکم ہے۔ کیسے ٹال سکتا ہوں؟ یہ فرما کر تصویب و قبولیت کا بھی اظہار فرمایا۔ جوابی خط بھی تحریر فرمایا۔ جس کا قریباً یہی مفہوم تھا۔ کھانا کھایا، ظہر کے بعد کی مجلس میں حاضری رہی، رات کی گاڑی سے ملتان آ گیا۔ دو چار روز چھوڑ کر پھر حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ خانقاہ سراجیہ تشریف لے گئے تو حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ میں تو جمعیت علماء اسلام سے وابستہ ہوں۔ آپ نے مجھے نائب امیر بنا دیا۔ اس پر مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے عرض کیا کہ یہ تو آپ جانیں اور آپ کے استاذ (حضرت شیخ بنوریؒ) اس پر حضرت قبلہ مسکرا دیئے۔ اس ملاقات میں مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے عرض کیا کہ حضرت مہینہ میں ایک دن دفتر مرکزیہ کے لئے مختص فرما دیں تاکہ مہینہ بھر کی رپورٹ پیش کی جا سکے اور اگلے مہینہ کے پروگراموں کی بابت مشورہ ہو جایا کرے۔ چنانچہ سالہا سال اس پر عمل ہوتا رہا۔
تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء
۹ اپریل ۱۹۷۴ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کی حضرت بنوریؒ نے امارت اور حضرت قبلہؒ نے نائب امارت سنبھالی۔ ایک ماہ بیس دن بعد ۲۹ مئی کو اسٹیشن چناب نگر (ربوہ) پر ملتان نشتر میڈیکل کے طلباء کی ٹرین پر قادیانی اوباشوں نے مرزا طاہر کی قیادت میں حملہ کر دیا۔ ٹرین کے فیصل آباد پہنچنے سے قبل مولانا تاج محمودؒ کو جونہی اطلاع ہوئی شہر فیصل آباد میں اعلان کرا دیا۔ چناب ایکسپریس کے پہنچنے سے قبل اسٹیشن پر پورا فیصل آباد امڈ آیا۔ گوجرہ، ٹوبہ، شورکوٹ، عبدالحکیم، خانیوال، ملتان، جہاں جہاں ٹرین کے سٹاپ تھے وہاں کے مسلمانوں کو مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے اطلاعیں کیں۔ ہر جگہ احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو حضرت بنوریؒ سرحد کے سفر پر تھے۔ سردار میر عالم لغاری کو کراچی فون کر کے حضرت بنوریؒ کو فوری
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۴۸ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
راولپنڈی پہنچنے کا عرض کیا گیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ راولپنڈی سے سوات حضرت بنوریؒ کو اطلاع دہی کے لئے مولانا قاری زرین احمد مدرس جامعہ فرقانیہ کی ڈیوٹی لگی۔ وہ بھی ہمارے حضرت قبلہؒ کے مرید ہیں۔ حضرت بنوریؒ اسلام آباد تشریف لائے۔ حضرت مفتی محمودؒ اسمبلی کے اجلاس کے سلسلہ میں اسلام آباد تھے۔ ان سے مشورہ کے بعد ۳/جون کو راولپنڈی اجلاس طلب کیا گیا۔ اس اجلاس میں شرکت کے لئے مولانا تاج محمودؒ، مولانا مفتی زین العابدینؒ، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ کو لالہ موسیٰ گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم اجلاس ہوا۔ اس میں بھی حضرت قبلہؒ تشریف لائے۔ اس اجلاس میں طے ہوا کہ ۹/جون کو لاہور میٹنگ طلب کی جائے۔ جس میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی تشکیل کی جائے۔ شیرانوالہ میں اجلاس ہوا۔ اس میں ملک بھر کی دینی قیادت جہاں جمع تھی ہمارے حضرت قبلہؒ بھی موجود تھے۔ چنانچہ اس میں حضرت بنوریؒ کو مجلس عمل کا کنوینر مقرر کیا گیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی نمائندگی کے لئے مرکزی مجلس عمل میں چار حضرات کو شامل کیا گیا۔ حضرت قبلہؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، سردار میر عالم خان لغاری، اس اجلاس میں ۱۴/جون کو قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے لئے ملک بھر میں ہڑتال کی اپیل کی گئی۔ پورے ملک میں اس ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے اور ملک میں تحریک کو منظم کرنے کے لئے بھرپور جدوجہد کا اعلان کیا گیا۔ جناب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آ کر لاہور ڈیرے لگائے۔ علماء سے ملاقاتیں کیں، کس کس طرح اس ہڑتال کی اپیل کو واپس لینے کی کوشش کی۔ ہڑتال ہوئی اور پورے ملک میں ہوئی۔ ایسی ہڑتال کہ شاید اس کی مثال پیش نہ کی جاسکے۔
۱۶/جون کو فیصل آباد میں مجلس عمل کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں جہاں ملک بھر کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہان شریک تھے۔ حضرت قبلہؒ بھی تشریف لائے۔ رات کو جامع مسجد کچہری بازار میں جلسہ عام ہوا۔ حضرت شیخ بنوریؒ، حضرت قبلہؒ، حضرت مفتی محمودؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، نوابزادہ نصر اللہ خانؒ، جب ایک ساتھ سٹیج پر تشریف فرما ہوئے تو فلک سے فرشتوں نے بھی جھوم جھوم کر اس قیادت کو دیکھا کہ رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے دشمن قادیانیوں کے مقابلہ میں امت کس طرح اکٹھی ہے؟ مجلس عمل کے اجلاس میں شرکت کے لئے حضرت بنوریؒ تشریف لائے تو آپ کا قیام حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ کے مکان پر تھا۔ حضرت قبلہؒ ملنے کے لئے گئے تو حضرت بنوریؒ سروقد کھڑے ہوگئے۔ گھنٹوں اجلاس کے بارہ میں اور پورے ملک کی صورتحال پر حضرت بنوریؒ و حضرت قبلہؒ کا مشورہ جاری رہا۔ اس ملاقات میں حضرت قبلہؒ حضرت
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
بنوریؒ کے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھے تو حضرت بنوریؒ نے فرمایا۔ آپ ایسے نہ بیٹھیں۔ مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن حضرت قبلہؒ اپنے استاذ کے احترام میں برابر اس طرح بیٹھے رہے۔ حضرت بنوریؒ نے بھی حضرت قبلہؒ کے قلبی احترام کی یہ کیفیت دیکھی تو اصرار چھوڑ دیا۔
اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پیش ہوا تو امت کی طرف سے محضر نامہ، اسمبلی میں پیش کرنے کے لئے حضرت بنوریؒ، حضرت مفتی صاحبؒ مصروف ہو گئے۔ اب اس خلاء کو ملک بھر میں پر کرنے کے لئے حضرت قبلہؒ نے دورے کئے۔ اس دوران میں حضرت بنوریؒ، حضرت مفتی صاحبؒ کا حضرت قبلہؒ سے برابر رابطہ رہا۔
یکم جولائی کو مرکزی مجلس عمل کا راولپنڈی میں اجلاس ہوا۔ حضرت بنوریؒ، حضرت مفتی محمودؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا عبدالحقؒ، آغا شورش کاشمیریؒ، نوابزادہ نصر اللہ خاںؒ، علامہ احسان الہی ظہیرؒ، مولانا حبیب اللہ بنوریؒ اور دیگر قائدین کے شانہ بشانہ حضرت قبلہؒ بھی اجلاس میں تشریف فرما ہوئے اور اپنی رائے عالی سے قائدین کو نوازا۔ حضرت قبلہؒ نے خانقاہ سراجیہ کے جملہ متعلقین کو ملک بھر میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا جہاں حکم فرمایا وہاں خانقاہ شریف میں برابر دعاؤں کا بھی اہتمام کیا۔ میانوالی کے ارکان اسمبلی کو قائل کرنے کے لئے اپنا اثر رسوخ استعمال کیا۔ غرض اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے آپ نے شب و روز ایک کر دیئے۔
۱۴؍جولائی کو گول مسجد سرگودھا میں دن کو کنونشن، رات کو جلسہ عام ہوا۔ جہاں مرکزی قیادت نے شرکت فرمائی۔ وہاں حضرت قبلہؒ بھی تشریف لائے۔ ۱۳؍اگست کو مرکزی مجلس عمل کا فیصل آباد میں اجلاس ہوا۔ یکم؍ستمبر کو دن شیرانوالہ ملک بھر کے علماء کا کنونشن، رات کو شاہی مسجد میں جلسہ عام ہوا۔ حضرت قبلہؒ کنونشن، و شاہی مسجد کے جلسہ عام میں حضرت بنوریؒ، حضرت مفتی محمودؒ، میاں عبد الہادیؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا عبداللہ درخواستیؒ، خواجہ قمر الدین سیالویؒ، مولانا عبد القادر روپڑیؒ کے شانہ بشانہ تمام اجلاسوں میں شریک رہے۔ آخری اجلاس راولپنڈی میں منعقد ہوا۔ اس سے قبل ”بندر انائیکے“ کے اعزاز میں ایک استقبالیہ میں جناب ذوالفقار علی بھٹو اور چوہدری ظہور الٰہی کا آمنا سامنا ہوا۔ ظہور الٰہی جھانسہ دے کر نکلنا چاہتے تھے۔ بھٹو صاحب نے آواز دے کر کہا کہ چوہدری صاحب کیوں چھپ کر جا رہے ہو؟ ادھر آؤ۔ اتنے میں لاء سیکرٹری
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
افضل چیمہ آگئے۔ تو بھٹو صاحبؒ نے چیمہ صاحب کو کہا کہ آپ ظہور الٰہیؒ کو سمجھائیں۔ یہ میرا مخالف ہو گیا ہے۔ ظہور الٰہیؒ نے کہا کہ نہیں ہمیں آپ سے اصولی اختلاف ہیں۔ ہم اخلاص سے آپ سے اختلاف کرتے ہیں۔ اس سے آگے مولانا تاج محمودؒ کی زبانی سنئے۔ فرماتے ہیں ظہور الٰہیؒ نے کہا کہ: ”ہم اخلاص اور نیک نیتی سے آپ پر تنقید کرتے ہیں۔ اب ختم نبوت کا مسئلہ آپ کے سامنے ہے۔ اسے حل کیجئے اور قوم کے ہیرو بن جائیے۔ بھٹو صاحبؒ نے کہا کہ اگر میں ۱۴ جون کو (ملک گیر ہڑتال کے دن) اس مسئلہ کو مان لیتا تو ہیرو بن سکتا تھا۔ لیکن اب بعد از خرابی بسیار مسئلہ ماننے سے ہیرو کیسے بن سکتا ہوں؟ افضل چیمہ نے کہا کہ بھٹو صاحبؒ باقی علماء کو تو مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر اتنا اصرار نہیں ہے۔ البتہ چوہدری ظہور الٰہی صاحبؒ بڑا اصرار کر رہے ہیں۔ اڑ رہا ہے اور ضد کر رہا ہے۔ میں نے کہا کہ بھٹو صاحبؒ یہ چیمہ صاحب آپ کے سامنے اپنے نمبر بنا رہے ہیں۔ میں ضد نہیں کر رہا۔ علماء کرام کا اپنا مؤقف ہے وہ میرے تابع نہیں ہیں۔ ایک دینی مؤقف اور شرعی امر ہے۔ علماء کرام کو یوں مطعون کرنا چیمہ صاحب کے لئے مناسب نہیں ہے اور صرف علماء کرام نہیں بلکہ اس وقت تمام اسلامیان پاکستان اس مسئلہ کو حل کرانے کے لئے سراپا تحریک بنے ہوئے ہیں۔
دنیائے اسلام کی نگاہیں اس مسئلہ کے لئے آپ کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ دنیائے اسلام کے مسلمان اس مسئلہ کا مثبت حل چاہتے ہیں۔ اسے صرف مولویوں کا مسئلہ کہہ کر چیمہ صاحب آپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔ علماء کرام قطعاً اس مسئلہ میں کسی قسم کی معمولی سی لچک پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ آپ اس بارے میں علماء کرام سے خود دریافت کرلیں۔ بلکہ میں ایسے عالم دین کا نام بتاتا ہوں جو آپ کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ آپ ان سے پوچھ لیں کہ مسئلہ ختم نبوت فروعی امر ہے یا دین کا بنیادی مسئلہ ہے۔ اس کا تحفظ کرنا مسلمان حکومت کے لئے ضروری ہے یا نہیں؟ بھٹو صاحبؒ نے کہا کون سے عالم دین۔ میں نے کہا کہ مولانا ظفر احمد انصاریؒ آپ ان سے پوچھ لیں اگر وہ ختم نبوت کے مسئلہ کو فروعی مسئلہ سمجھتے ہوں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم تحریک سے لا تعلق ہو جائیں گے۔ بھٹو صاحبؒ نے چیمہ صاحب کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ مجھے (ظہور الٰہی) ساتھ لے کر مولانا ظفر احمد انصاریؒ سے ملیں اور ان کا مؤقف معلوم کریں۔ چنانچہ اب وقت ہو گیا ہے۔ چیمہ صاحب میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ ہم دونوں نے مولانا ظفر احمد انصاریؒ سے ملنا
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ہے۔ مولانا مفتی زین العابدینؒ اور مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ کے چیمہ صاحب اور مولانا ظفر احمد انصاریؒ سے اچھے تعلقات تھے۔ چیمہ صاحب تو ویسے بھی فیصل آباد کے علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ طے ہوا کہ یہ دونوں حضرات بھی آپ کے ساتھ جائیں۔ چوہدری ظہور الٰہیؒ، افضل چیمہ، حکیم عبدالرحیم اشرفؒ، مولانا مفتی زین العابدینؒ اور مولانا ظفر احمد انصاریؒ کی طویل گفتگو ہوئی۔ مولانا ظفر احمد انصاریؒ نے صراحۃً فرمایا کہ ختم نبوت کا مسئلہ دین کا بنیادی مسئلہ ہے۔ اس کو فروعی مسئلہ قرار دینا غلط ہے۔ حقیقت میں خود افضل چیمہ اس مسئلہ میں ضد کر رہے تھے۔ تمام حضرات کی گرفت سے چیمہ صاحب نرم ہو گئے، تو ہاتھ جھٹک کر کہا کہ اگر آپ لوگ ملک کی جڑیں اس طرح کھوکھلی کرنا چاہتے ہیں تو بڑے شوق سے جو چاہے کر جائیے۔ بہر حال مولانا ظفر احمد انصاریؒ کی گفتگو کی رپورٹ بھٹو صاحب کو دی گئی۔‘‘
اس کے بعد قومی اسمبلی کے دفاتر میں سب کمیٹی کا اجلاس تھا۔ ظہور الٰہیؒ، مفتی محمودؒ، پروفیسر غفور احمدؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، حفیظ پیرزادہ، مولانا کوثر نیازیؒ، افضل چیمہ شریک ہوئے۔ اجلاس میں جاتے وقت مولانا مفتی محمودؒ نے ہمیں (مولانا تاج محمودؒ) حکم فرمایا کہ آپ لوگ چل کر راجہ بازار میں مجلس عمل کی میٹنگ کریں۔ میں نے مفتی محمودؒ سے استدعا کی کہ سب کمیٹی کی مثبت یا منفی جو بھی کارروائی ہو ہمیں حکومت کے رویہ سے ضرور باخبر رکھیں۔ تا کہ اس کی روشنی میں ہم مجلس عمل میں اپنی پالیسی طے کر سکیں۔ دارالعلوم (راجہ بازار) میں میٹنگ شروع ہوئی۔ آغا شورش کاشمیریؒ کی صحت ناساز تھی۔ وہ میٹنگ میں لیٹ کر شریک ہوئے۔ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے اجلاس کی صدارت فرمائی۔ سید مظفر علی شمسیؒ، سید محمود احمد رضویؒ، مولانا خواجہ خان محمدؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، سردار میر عالم خان لغاری، بندہ تاج محمودؒ، مفتی زین العابدینؒ، حکیم عبدالرحیم اشرفؒ، علی غضنفر کراروی، مولانا غلام اللہ خانؒ، مولانا غلام علی اوکاڑویؒ، مولانا احسان الٰہی ظہیرؒ، مولانا عبید اللہ انورؒ، نوابزادہ نصر اللہ خانؒ، زمان خان اچکزئی، مولانا محمد علی رضویؒ، مولانا عبدالرحمن جامعہ اشرفیہ، مولانا صاحبزادہ فضل رسول حیدر اور دوسرے کئی حضرات شریک اجلاس ہوئے۔ پوری مجلس عمل اس پر غور کر رہی تھی کہ اگر حکومت مطالبات تسلیم نہ کرے تو پھر ہمیں تحریک کو کن خطوط پر چلانا ہوگا اور اب مرزائیوں سے زیادہ حکومت سے مقابلہ ہوگا۔ سبھی حضرات تحفظ ناموس ختم نبوت کے لئے جان کی بازی لگانے پر تیار تھے۔ اتنے میں مولانا مفتی محمودؒ کا فون آ گیا کہ حالات پر امید ہیں توقع
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ہے کہ سب کمیٹی کسی متفقہ مسودہ پر کامیاب ہو جائے گی۔ حفیظ پیرزادہ نے بھٹو صاحبؒ کو فون کر کے سب کمیٹی کی کارروائی سے باخبر کیا۔ بھٹو صاحبؒ نے تمام اراکین کمیٹی کو اپنے ہاں طلب کرلیا۔ تھوڑی دیر گفتگو ہوئی۔ بھٹو صاحبؒ نے تمام کا مؤقف سنا اور کہا کہ اب مزید وقت ضائع نہ کریں۔ رات بارہ بجے دوبارہ اجلاس ہوگا۔ آپ تمام حضرات تشریف لائیں۔ اس وقت دو ٹوک فیصلہ کریں گے۔ ہم لوگ اپنی میٹنگ سے فارغ ہوئے۔ امید و یاس کی کیفیت طاری تھی۔ میں (مولانا تاج محمودؒ) سخت پریشان تھا۔ بھٹو صاحبؒ جیسے چالاک آدمی سے پالا پڑا تھا۔ کسی وقت بھی وہ جھٹکا دے کر تحریک کو کچلنے کا فیصلہ کر سکتے تھے۔ تمام حالات ہمارے سامنے تھے۔ میں انتہائی پریشانی کے عالم میں مولانا محمد رمضان علویؒ کے گھر گیا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ اگر فیصلہ صحیح نہ ہوا تو میری جان نکل جائے گی۔ ان کے ہاں کروٹیں بدلتے وقت گذرا۔ رات کو راجہ بازار کی جامع مسجد میں جلسہ عام منعقد ہوا۔
مقررین نے بڑی گرم تقریریں کیں۔ ہجوم آتش فشاں پہاڑ کی شکل اختیار کئے ہوئے تھا۔ اعلان کیا گیا کہ کل اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو راجہ بازار میں شہیدان ختم نبوت کی لاشوں کا انبار ہوگا۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا جلسہ کی تقریروں میں شدت پیدا ہوتی جارہی تھی۔ بھٹو صاحبؒ جلسہ کی ایک ایک منٹ کی کارروائی سے باخبر تھے۔ تمام حالات ان کے سامنے تھے۔ رات بارہ بجے حسب پروگرام بھٹو صاحب کی صدارت میں کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ پنڈی میں جلسہ ہو رہا تھا۔ اسلام آباد میں میٹنگ ہو رہی تھی۔
ڈیڑھ بجے کے قریب مولانا مفتی محمودؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، پروفیسر غفور احمدؒ اور چوہدری ظہور الٰہیؒ ڈیڑھ گھنٹہ کے مذاکرات کے بعد جلسہ میں تشریف لائے۔ مولانا مفتی محمودؒ نے سٹیج پر چڑھنے سے قبل مجھے (مولانا تاج محمودؒ) اشارہ سے بلوایا اور فرمایا۔ مبارک ہو۔ کل آپ کی انشاء اللہ العزیز جیت ہو جائے گی۔ لیکن اس کا ابھی افشاء نہ کریں کہ حکومت کا اعتبار نہیں ہے۔ میں سٹیج پر آیا۔ شیخ بنوریؒ کے کان میں کہا کہ افشاء نہ کریں۔ لیکن آپ کو مبارک ہو۔ شیخ بنوریؒ کے منہ سے بے ساختہ زور سے نکلا۔ الحمدللہ!
(تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء ج ۳ ص ۳۲۵ تا ۳۲۹)
آپ نے یہ طویل اقتباس ملاحظہ کیا۔ اگلے دن ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء ظہر کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا اور متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ سامعین گرامی! اس طویل اقتباس سے اتنی بات عرض کرنا مقصود تھی کہ ایک تو تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء جن نازک مراحل سے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
گذری۔ اس کی تفصیل آپ کے سامنے آجائے۔ دوسرا یہ کہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ اپنے گرامی رفقاء کے ساتھ جناب بھٹو اور ان کے رفقاء سے مشورے کر رہے تھے اور ادھر شیخ بنوریؒ اور مولانا خواجہ خان محمدؒ پورے ملک کی دینی قیادت کے ساتھ سر جوڑ کر حالات کی گتھی سلجھانے کے لئے فکر مند تھے۔ حضرت قبلہؒ بھی حضرت بنوریؒ کے ساتھ تحریک کے ہر لمحہ و ہر آن میں برابر کے شریک تھے۔ تحریک کامیاب ہوئی۔ اس پر دو باتوں کو پھر یاد کریں۔
- ......۱ حضرت اعلیٰؒ نے حضرت خواجہ عمرؒ سے مولانا خواجہ خان محمدؒ کو کیوں مانگا تھا؟
- ......۲ حضرت ثانیؒ نے تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں حضرت قبلہؒ کو اپنی جگہ کیوں گرفتار کرایا
اور ان دو باتوں کو حضرت ثانیؒ کے اس فرمان کی روشنی میں پڑھیں۔ ”میں مولانا خواجہ خان محمد صاحب کو تیار کر رہا ہوں۔“
وہ تیاری تھی امت مسلمہ کی مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے قیادت و سیادت کی، جو حضرت شیخ بنوریؒ کے بعد حضرت قبلہؒ کے حصہ میں آئی۔
قارئین! اب یہاں سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر یا امیر مرکزیہ ہونے کے ناتے آپ نے جو امت مسلمہ کی خیر خواہی اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے خدمات سرانجام دیں۔ ان کارہائے نمایاں کا ذکر شروع کرتے ہیں۔
قارئین! اللہ رب العزت کا فضل و کرم ہوا کہ قادیانی حماقت و ظلم سے جو تحریک ختم نبوت ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کو چناب نگر (ربوہ) ریلوے اسٹیشن سے شروع ہوئی وہ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ کے فیصلہ پر منتج ہوئی۔ جس میں مرزا قادیانی ملعون کے ماننے والوں کے دونوں گروپ، لاہوریوں اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ یہ فیصلہ ۱۹؍ شعبان ۱۳۹۴ھ کو ہوا۔ جس کے دس دن بعد رمضان شریف آگیا۔ رمضان المبارک میں خانقاہ سراجیہ کی قیام اللیل کی جو بہاریں ہوتی ہیں وہ محتاج بیان نہیں۔ قبلہ حضرت صاحبؒ اس میں مصروف تھے۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے رمضان شریف حرمین شریفین میں گزارا۔ شوال میں آپ کا قادیانیت کے تعاقب میں افریقی و یورپی ممالک کا سفر ہوا۔ جہاں سے واپسی کے بعد ۱۵؍ ذیقعدہ ۱۳۹۴ھ مطابق ۳۰؍ نومبر ۱۹۷۴ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس ملتان میں ہوا۔ قبلہ حضرت صاحبؒ سفر حج پر تھے۔ اس اجلاس میں آپ شریک نہ ہو سکے۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۵۴ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
۱...... اجلاس ہالیجی شریف
سندھ میں تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے بعد کام کرنے اور اسے وسعت دینے کے لئے خانقاہ ہالیجی شریف میں ۳۰/ جمادی الثانی ۱۳۹۵ھ مطابق ۱۱/ جولائی ۱۹۷۵ء کو شیخ الاسلام حضرت بنوریؒ نے اجلاس رکھا۔ اس میں حضرت مولانا عبدالکریم قریشیؒ وعدہ کے باوجود اچانک اتفاقی حادثہ کے باعث تشریف نہ لاسکے۔ صاحبزادہ مولانا محمود اسعدؒ، مولانا محمود الحسنؒ، مولانا نذیر حسینؒ، مولانا محمد انورؒ، مولانا گل محمدؒ، مولانا جمال اللہ الحسینیؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، سردار میر عالم خان لغاری، جہاں اس میں شریک ہوئے وہاں حضرت قبلہؒ بھی شریک اجلاس ہوئے۔ اس اجلاس کی برکتیں ہیں کہ آج سکھر، گمبٹ، حیدر آباد، کنری، ٹالہی، کراچی۔ غرض کئی مقامات پر سندھ میں مجلس کے عظیم الشان دفاتر، مراکز اور مساجد ہیں اور اندرون سندھ میں قادیانیت کا بھرپور اور مؤثر تعاقب جاری ہے اور اسلامیان سندھ بھی کسی طرح قادیانیت کے احتساب میں باقی امت سے پیچھے نہیں۔ بعد میں کئی بار کئی ہفتوں کے دوروں پر اندرون سندھ حضرت قبلہؒ تشریف لے گئے۔ چھوٹے بڑے شہروں کے اس دوران میں سفر ہوئے۔ حق تعالیٰ حضرت قبلہؒ کی تربت پر اپنی رحمتوں کی موسلادھار بارش نازل فرمائیں۔ آپ نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جس جانفشانی کے ساتھ کام کرنے کی طرح ڈالی ہے۔ اب بڑے سے بڑا صاحب عزیمت بھی اس معیار کو شاید برقرار نہ رکھ سکے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں تو کوئی کمی نہیں۔ ورنہ دور دور تک اس خلاء کے پر ہونے کی صورت بظاہر نہیں آتی۔ لیکن، وما ذالك علی اللہ بعزیز!
۲...... چناب نگر (ربوہ) میں مرکز ختم نبوت کا قیام
۷/ ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلہ کے نتیجہ میں جہاں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ وہاں قادیانیوں کے مرکز چناب نگر (ربوہ) کو کھلا شہر قرار دینے کے لئے چناب نگر میں آر ایم مقرر ہوئے۔ چناب نگر کو سب تحصیل قرار دیا گیا۔ پولیس، ڈاک، بجلی، ریلوے، بلدیہ تمام، تعلیمی وسرکاری محکموں میں قادیانیوں کی بجائے مسلمان عملہ تعینات ہوا۔ ۲۶/ دسمبر ۱۹۷۴ء کو آر ایم کی عدالت کے ایک تھڑا پر مولانا سید ممتاز الحسن شاہؒ نے پہلی نماز پڑھائی۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا عزیز الرحمٰن خورشید، جناب منیر احمد خان لغاری آر ایم چناب نگر اور دو دیگر مسلمان نمازی تھے۔ پھر مستقل اسی تھڑا پر نمازیں ہوتی رہیں۔ جمعہ آر ایم صاحب کی عدالت کے
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ہال میں پڑھا جاتا رہا۔ ۱۰؍ جنوری ۱۹۷۶ء کو بنوری ٹاؤن کراچی میں حضرت بنوریؒ کی زیر صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا۔ دیگر حضرات کے علاوہ حضرت قبلہؒ بھی شریک اجلاس ہوئے۔
- ۱...... اس اجلاس میں ملتان حضوری باغ روڈ پر نئے مرکز کے تعمیر کرنے کا فیصلہ ہوا۔
- ۲...... چناب نگر (ربوہ) میں کام کو وسعت دینے کا بھی فیصلہ ہوا۔
چنانچہ ۲۵؍ جنوری ۱۹۷۶ء کو ریلوے اسٹیشن چناب نگر کے معائنہ کے لئے جو افسر تشریف لائے مولانا تاج محمودؒ کی ان سے ملاقات تھی۔ انہوں نے عملہ سے مسجد بنانے کا اشارہ کیا۔ سید محمد اسحاق شاہؒ ریلوے اسٹیشن ماسٹر چناب نگر تھے۔ انہوں نے ہمت کی۔ مولانا تاج محمودؒ نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ مسجد محمدیہ کی تعمیر شروع ہوگئی۔ مجلس نے اس کے جملہ مصارف برداشت کئے۔ امام و خطیب کا اہتمام بھی مجلس نے کیا۔ پھر اسی مسجد میں جمعہ، عیدین، تراویح، کانفرنسیں ۔ اس کی لمحہ بہ لمحہ تاریخ کو قلمبند کرنے کی ضرورت ہے۔
۳...... چناب نگر میں پہلا عوامی اجتماع
قارئین کرام! راقم نے یہ کہانی اس لئے شروع کی کہ دسمبر میں چنیوٹ میں مجلس کے زیر اہتمام آل پاکستان سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوتی تھی۔ ایک بار کانفرنس میں جمعہ کا دن بھی آگیا۔ تو فیصلہ کیا کہ جمعہ چناب نگر مسجد محمدیہ میں ہوگا۔ یہ مجلس کا چناب نگر میں پہلا عوامی اجتماع تھا۔ اس کا اعلان کر دیا گیا۔ جمعہ حضرت قبلہؒ کا پڑھانا طے ہوا۔ دسمبر کی سردی، حضرت قبلہؒ رات ایک بجے ماڑی انڈس ٹرین پر تشریف لائے۔ رات اسی مسجد میں قیام فرمایا اور صبح جمعہ کی فجر سے عصر تک یہاں قیام فرمایا۔ شام کو چنیوٹ تشریف لیجا کر وہاں کانفرنس میں شمولیت فرمائی۔ اس طرح مسجد محمدیہ میں جمعہ کا سب سے بڑا عوامی پہلا اجتماع ہوا۔ مسجد کا اندر باہر اسٹیشن کے دور دور تک صفیں تھیں۔ آپ کی امامت میں جمعہ ادا کیا گیا۔ فالحمد للہ!
چناب نگر کو کھلا شہر قرار دینے کے لئے گورنمنٹ نے دوسرا اقدام یہ کیا کہ چناب نگر کی حدود میں توسیع کرکے اس میں چھنی وغیرہ چکوک شامل کئے۔ اس میں مسلمان آباد تھے۔ وہ چناب نگر کے رہائشی بن گئے۔ تیسرا اقدام حکومت نے یہ کیا کہ چناب نگر کے مشرق میں دریائے چناب کے کنارے مسلم کالونی پچاس ایکڑ پر ڈیزائن کی۔ اوائل ۱۹۷۶ء میں مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے چپکے سے اس کالونی کے ۹ کنال پلاٹ مسجد ومدرسہ کے حصول کی
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۵۶ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
درخواست دے دی۔ ۲۸؍جون ۱۹۷۶ء کو اس پلاٹ کا قبضہ ملا۔ اب فوری طور پر اس جگہ مسجد و مدرسہ کے اجراء کا مرحلہ سر کرنا تھا۔ اس کے لئے بھی حق تعالیٰ نے ہمارے حضرت قبلہ مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کا انتخاب فرمایا۔ اس سلسلہ میں ہفت روزہ لولاک فیصل آباد کی اشاعت یکم جنوری ۱۹۷۸ء کے ایک مضمون سے بمع سرخی ذیل کے اقتباس کو ملاحظہ فرمائیں:
۴...... حضرت مولانا خان محمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ ربوہ میں
’’۷؍جولائی ۱۹۷۶ء مطابق ۸؍رجب ۱۳۹۶ھ بروز بدھ مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ (ان دنوں نائب امیر تھے) شیخ طریقت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم ومتع اللہ المسلمین بطول حیاتہم سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں مسلم کالونی ربوہ تشریف لائے۔ اس پلاٹ پر عصر کی باجماعت نماز پڑھائی اور دعا کی کہ اللہ رب العزت اس مسجد کو رشد و ہدایت اور تعلیم و تبلیغ کا مرکز بنائے اور ہم سب کو اس کی تعمیر اور آباد کرنے کی توفیق ارزاں فرمائے۔ اس تقریب سعید کا گو پہلے سے اعلان نہ کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود ربوہ میں رہنے والے مسلمان نماز میں شریک ہوئے۔ حضرت الامیر کے علاوہ مولانا محمد شریف جالندھریؒ مرکز کی نمائندگی کر رہے تھے۔ فیصل آباد سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا تاج محمودؒ، مولانا فقیر محمد، حاجی بشیر احمد، رانا نصر اللہ خانؒ، جناب برکت دارا پوریؒ نمائندہ نوائے وقت شریک ہوئے۔ چوہدری ظہور احمدؒ، شیخ مقبول احمدؒ، شیخ منظور احمدؒ، سالار فیروزؒ اور بیسیوں کارکن چنیوٹ سے تشریف لائے۔ چک جھمرہ سے سید ظفر علیؒ شاہ کی قیادت میں ایک دستہ رضا کاروں اور کارکنوں کا پہنچ گیا تھا۔ گوجرہ کے احباب بھی شریک ہوئے۔ یہ سادہ اور پرخلوص تقریب ۲ گھنٹے تک جاری رہی۔ حضرت امیر شریعتؒ کے پرانے رفیق کار مولانا عبدالرحمن میانویؒ اجتماعی دعا میں شریک نہ ہوسکے۔ لیکن بعد میں انہوں نے بھی اس پلاٹ میں نماز پڑھی اور پرخلوص دعا کی۔ یہ ایمان پرور تقریب دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ حضرت مولانا تاج محمودؒ پاؤں پر چوٹ کی وجہ سے چل نہیں سکتے تھے۔ کار سے نماز کی جگہ تک چوہدری ظہور احمدؒ آپ کو کندھوں پر اٹھا کر لائے۔ اس حالت کو دیکھ کر ساتھیوں کو اس دن ہی یقین ہو گیا تھا کہ ان حضرات کے اس خلوص کے صدقے اللہ رب العزت اس جگہ کو ضرور آباد فرمائیں گے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ اور دوسرے ہزاروں بزرگوں کی تمنا تھی کہ اللہ رب العزت اس دارالکفر ربوہ میں مسلمانوں کو، محمد عربی ﷺ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کی ختم نبوت کا جھنڈا لہرانے کی سعادت سے بہرہ فرمائیں ۔ وہ حضرات گو آج اس تقریب میں موجود نہ تھے ۔ لیکن ان کی روحیں یقیناً شادماں ہونگی کہ ان کے جانشین حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ ، ان کے حدی خواں حضرت مولانا خان محمد صاحبؒ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ ان کے ساتھی حضرت مولانا تاج محمودؒ ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ ، مولانا محمد حیاتؒ ، مولانا عبدالرحمن میانویؒ کے ہاتھوں ان کی دیرینہ خواہش و تمنا کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے ۔ اسی دن ہی عارضی مسجد اور حجرہ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا اور نیت یہ تھی کہ اس عارضی مسجد کی شرعی حیثیت ایک مصلے کی ہوگی ۔ مستقل نقشہ کے مطابق ردو بدل کیا جائے گا ۔ اب اس جگہ کو آباد کرنے کا مسئلہ تھا ۔ چنانچہ گوجرانوالہ سے مولانا حافظ عبدالرزاق رحیمی کا ربوہ تبادلہ کر دیا گیا ۔ چھ ماہ تک آپ نے یہاں کام کیا ۔ اس کے بعد مولانا عبدالحمید آزادؒ تشریف لائے ۔‘‘
مبارک باد کے خطوط
۷ جولائی ۱۹۷۶ء کو حضرت مولانا خان محمد صاحبؒ نے افتتاح کیا تھا ۔ ۸ جولائی کو اخبار میں خبر چھپی ۔ اہل اسلام کو جب اس کامیابی کا علم ہوا تو خطوط ، تاریں ، فون، پیغامات کے ذریعہ مجلس کے نمائندوں سے بے پناہ محبت و شفقت کا مظاہرہ کیا گیا ۔ مسلمانوں کو کس قدر خوشی ہوئی اس کا بیان کرنا کم از کم میرے جیسے کم علم آدمی کے لئے مشکل ہے۔
شکر گزار ہوں
اس عنوان سے مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے ۲۸ اگست ۱۹۷۶ء کو درج ذیل بیان جاری کیا: ’’پچھلے ماہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ربوہ میں ۹ کنال زمین برائے مسجد و مدرسہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو الاٹ کر دی گئی ۔ مجلس کے نائب امیر حضرت پیر طریقت مولانا خان محمد صاحبؒ کندیاں شریف نے عصر کی نماز اس پلاٹ پر پڑھائی ۔ جس میں سینکڑوں کارکنوں اور رہنماؤں نے شرکت کی ۔ وہاں پر عارضی مسجد کا حجرہ بنا دیا گیا ہے ۔ تاکہ ابتدائی کام شروع ہو ۔ مستقل تعمیر حضرت اقدس مولانا محمد یوسف بنوری دامت برکاتہم امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے دست مبارک سے سنگ بنیاد رکھنے کے بعد شروع کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ حضرت بنوری کو صحت کاملہ اور عاجلہ عطا فرمائے اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم رکھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو تحریک ختم نبوت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی الف سے شروع ہوئی تھی وہ حضرت بنوریؒ کی یا پر تکمیل
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
پذیر ہوئی۔ حضرت کا وجود پوری امت مسلمہ کے لئے بالعموم اور ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والوں کے لئے بالخصوص غنیمت ہے۔ حضرت بنوریؒ کے صحت یاب ہونے پر ہم وہاں سنگ بنیاد کی تقریب منعقد کریں گے۔ جس میں ملک بھر کے جماعتی احباب کو مدعو کیا جائے گا۔ اس کے بعد مستقلاً تعمیر شروع ہو جائے گی۔ اس کامیابی پر ملک بھر کے جماعتی احباب اور بزرگوں نے بے پناہ جوش وخروش، محبت وعقیدت خوشی وانبساط کا مظاہرہ کیا۔ دعاؤں سے نوازا۔ خطوط لکھے۔ تاریں دیں۔ فون کئے۔ پیغامات ارسال کئے۔ ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔ ان میں سے بعض احباب کے خطوط مجلس کے آرگن ہفتہ وار لولاک میں بھی شائع ہوئے۔ سینکڑوں خطوط کا جواب دینا میرے لئے مشکل امر ہے۔ میں ملک بھر کے جماعتی احباب اور بزرگوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنی دعاؤں سے ہماری سرپرستی فرمائی۔ لولاک کے ذریعہ تمام احباب سے فرداً فرداً جواب نہ دینے کی معذرت چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت، آقائے نامدار ﷺ کی ختم نبوت کے صدقے، شہدائے ختم نبوت کے خون کے بدلے، حضرت انورشاہ کشمیریؒ، حضرت امیر شریعتؒ، حضرت قاضی صاحبؒ، حضرت مولانا جالندھریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ اور دوسرے بزرگوں کی قربانیوں کے طفیل اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ کامیابی عنایت فرمائی ہے۔ ہر وہ شخص مبارک باد کا مستحق ہے جس نے ختم نبوت کے لئے تھوڑا بہت کام کیا ہے۔ حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت اقدس مولانا خان محمد سجادہ نشینؒ خانقاہ سراجیہ کی قیادت باسعادت، مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد حیاتؒ، مولانا عبدالرحمن میانویؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، مولانا غلام محمدؒ، سردار میر عالم خان لغاری کی رفاقت باکرامت کے صدقے یہ مشن پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔ ملک بھر کے مبلغین ختم نبوت اور کارکنان و بہی خواہان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی جدوجہد کو تیز کردیں۔ تاکہ جلد از جلد منزل مقصود کو حاصل کریں۔‘‘
والسلام، دعاؤں کا محتاج، محمد شریف جالندھریؒ
یہ طویل اقتباس آپ نے ملاحظہ فرمایا۔ اب اس پلاٹ واقع مسلم کالونی پر جہاں حضرت قبلہ مولانا خواجہ خان محمدؒ نے ۷ جولائی ۱۹۷۶ء کو عصر کی نماز پڑھائی وہاں پہلے عارضی مصلیٰ تیار کیا گیا۔ اس کے ساتھ گارے کا ایک کمرہ، اس کے عقب میں باورچی خانہ و واش روم تعمیر ہوئے۔ حضرت مولانا محمد حیاتؒ تشریف لائے۔ ان کے ساتھ قاری محمد منیر صاحب مدرس وامام کے طور پر مقرر ہوئے۔ مسافر طلباء رکھے گئے۔ پھر آٹھ کمروں کا ایک بلاک تعمیر ہوا۔ پھر موجودہ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی تعمیر ہوئی۔ پھر ۱۹۸۲ء سے پہلی ختم نبوت کانفرنس یہاں منعقد ہوئی۔ پھر مدرسہ کے دیگر کمرے، لائبریری ہال، مہمان خانہ، دو قرآن ہال، اوپر چار رہائش گاہیں، باورچی خانہ، دوسری منزل پر چار ہال جن میں آج بچیوں کا مدرسہ للبنات بھی قائم ہے۔ اس پلاٹ پر تمام بہاریں ہمارے خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کی مساعی جمیلہ اور آپ کے بابرکت عہد امارت کی برکتیں و ثمرات ہیں۔ (ایک بار پھر اس عنوان کو لینا پڑے گا۔ اس لئے سردست اس کو یہاں چھوڑتا ہوں)
۵...... حضرت بنوریؒ کی زیر صدارت آخری شوریٰ کا اجلاس
۱۰؍اگست ۱۹۷۷ء مطابق ۲۴؍شعبان ۱۳۹۷ھ حضرت بنوریؒ کی زیر صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس ملتان میں منعقد ہوا۔ اس میں دیگر حضرات کے علاوہ ہمارے حضرت قبلہ خواجہ خان محمد صاحبؒ بھی شریک ہوئے۔ یہ اجلاس حضرت بنوریؒ کی زیر صدارت آخری اجلاس تھا۔ اس لئے کہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۷۷ء کو سی ایم ایچ راولپنڈی میں آپ کا وصال ہوگیا۔ اس اجلاس میں جو فیصلے ہوئے ان میں یہ زیادہ توجہ کے مستحق ہیں۔
- ۱...... اگر کسی جماعت نے کوئی قادیانی الیکشن میں کھڑا کیا یا کسی امیدوار نے من
حیث الجماعت مرزائیوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تو مجلس تحفظ ختم نبوت اس کی بھرپور مخالفت کرے گی۔
- ۲...... مسلم کالونی چناب نگر کا جو نقشہ کرنل امیر حسین صاحب کراچی نے تیار
کیا ہے۔ اس کی بجائے مجلس کی ضرورت کے مطابق: الف...... مسجد۔ ب...... اس کے ساتھ دارالمبلغین جہاں سے اندرون و بیرون ملک کے لئے مبلغین تیار کئے جائیں۔ ج...... بہت بڑے درجہ کا عربی مدرسہ جس میں انگریزی کی تعلیم بھی ساتھ ہو۔ د...... اساتذہ، مبلغین کے رہائشی کوارٹر۔
- ۳...... برطانیہ میں کام کو وسیع کیا جائے۔
- ۴...... لولاک کی اشاعت کو وسیع کیا جائے۔
قارئین کرام! ان چار اہم فیصلہ جات کو سامنے رکھیں۔ فیصلہ نمبر ۲ کی تمام جزئیات بھی ذہن نشین رہیں۔ لیکن خیال رہے کہ اس اجلاس کو ہوئے سوا دو ماہ بھی مکمل نہ ہوئے تھے کہ حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کا سانحہ ارتحال پیش آگیا۔ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۷۷ء کو ۳؍ذیقعدہ ۱۳۹۷ھ تھی۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ ذیقعدہ کے اواخر میں حج پر تشریف لے گئے۔ مجلس کے دستور کے مطابق امیر مرکزیہ کا کسی وجہ سے عہدہ خالی ہو جائے تو نائب امیر چھ ماہ کے لئے قائمقام ہو جاتے ہیں۔ قائمقام امیر مرکزیہ کے لئے چھ ماہ کے اندر مجلس عمومی کا اجلاس بلا کر امیر مرکزیہ کا چناؤ ضروری ہوتا ہے۔
قارئین کرام! یہاں پہنچ کر دل کے جذبات آنکھوں سے آنسوؤں کی شکل میں دریا کی سی روانگی اختیار کرتے ہیں۔ ان سطور کے لکھتے وقت تینتیس برس قبل جس کیفیت سے دوچار ہوئے تھے۔ آج اس سے کہیں زیادہ بحران کا شکار ہیں۔ تب تو حضرت بنوریؒ کی جگہ ہمارے قبلہؒ نے سنبھال لی تھی۔ اب حضرت قبلہؒ کی جگہ سنبھالنے والا دور دور تک کوئی نظر نہیں آ رہا۔ ہائے کیا سے کیا ہو گیا؟۔ لیکن صرف امید نہیں بلکہ ایمان بھی ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے پہلے اس کام کو چلایا آئندہ بھی چلائیں گے۔ ذیقعدہ ۱۳۹۷ھ کے اوائل میں حضرت شیخ بنوریؒ کا وصال ہوا۔ وسط ذیقعدہ میں حضرت قبلہؒ حج پر تشریف لے گئے۔ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ کے اوائل میں حج سے واپسی ہوئی تو ۲۶/ ۲۷/ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۷ء کو چنیوٹ میں کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس تھی۔ چنانچہ حضرت قبلہؒ کی طرف سے ۲۷ دسمبر ۱۹۷۷ء مطابق ۱۶ محرم الحرام بروز منگل بعد از ظہر چنیوٹ گورنمنٹ زنانہ ہائی سکول کے ہال میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی جنرل کونسل (مجلس عمومی) کا اجلاس برائے چناؤ امیر مرکزیہ منعقد ہوا۔ اللہ رب العزت کی شانِ کریمی ملاحظہ ہو کہ حضرت قبلہؒ کی طرف سے طلب کردہ اجلاس تھا۔ لیکن حضرت قبلہؒ کی طبیعت علیل ہو گئی۔ سفر کے قابل نہ رہے۔ آپ نے حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد اور کنڈیاں جامع مسجد غوثیہ کے خطیب حضرت مولانا نذیر احمد کو اجلاس میں اپنی نمائندگی کے لئے روانہ فرمایا۔
قارئین! انسان بھی عجیب چیز ہے۔ ابھی چند سطور پہلے دل ماتم کدہ بنا تھا۔ یہاں پہنچ کر خوشی سے بلیوں اچھل رہا ہے۔ خوشی اس امر کی کہ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد و مولانا نذیر احمد صاحب کے ہاتھ حضرت قبلہؒ نے اپنے ہاتھ مبارک سے لکھا ہوا تحریری پیغام بھی مجلس عمومی کے نمائندگان کے لئے ارسال فرمایا۔ یہ تحریر سو فیصد آپ کی اپنی تحریر کردہ ہے۔ اس سے آپ کے ذوق تحریر اور قلم کی پختگی، رائے کی اصابت، قلم کی روانگی، خیالات کا ٹھہراؤ، سب کچھ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کرم کا معاملہ دیکھیں۔ وہ تحریری پیغام مجلس شوریٰ کے رجسٹر پر درج ہے۔ اسے یہاں پر نقل کرتا ہوں۔ لیکن ٹھہریئے۔ پہلے حضرت قبلہؒ کی عدم تشریف آوری کے باوجود
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اجلاس ہوا تو اس کی کاروائی کیا تھی۔ وہ بھی ملاحظہ ہو۔ پھر تحریر۔ اس اجلاس میں مجلس عمومی کے ۸۲ ممبران شریک ہوئے۔
٦......حضرت قبلہؒ کو امیر منتخب کرلیا گیا
کاروائی رجسٹر مرکزی مجلس شوریٰ، سے وہ کاروائی من وعن پیش خدمت ہے:
”۲۷؍دسمبر ۱۹۷۷ء بمطابق ۱۶ محرم ۱۳۹۸ھ بروز منگل بعد از ظہر گورنمنٹ زنانہ مڈل سکول چنیوٹ کے ہال میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی جنرل کونسل کا اجلاس برائے انتخاب امیر مرکزیہ و نائب امیر منعقد ہوا۔ جس کی صدارت فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ نے کی۔ تلاوت کلام پاک مولانا قاری محمد اجمل خانؒ لاہور نے کی۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے سابقہ جنرل کونسل کے اجلاس منعقدہ ملتان بتاریخ ۹؍اپریل ۱۹۷۴ء کی کاروائی پڑھ کر سنائی۔ مولانا تاج محمودؒ نے شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری مرحوم کی وفات حسرت آیات کو مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی یتیمی اور عالم اسلام کے لئے عظیم نقصان اور سانحہ فاجعہ قرار دیا۔ حضرت مرحوم کی علمی خدمات اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی شاندار قیادت باسعادت پر آپ کو خراج تحسین پیش کیا۔ اندرون وبیرون ملک آپ کے عظیم دینی منصوبہ جات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عہد کیا۔ مولانا تاج محمودؒ کی اپیل پر شرکاء اجلاس نے چشم پرنم سے حضرت مرحوم کے لئے دعا فرمائی اور آپ کے مشن تحفظ ختم نبوت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عہد کیا۔ بعد ازاں حضرت مولانا نذیر احمد خطیب کندیاں ضلع میانوالی نے حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم کا درج ذیل تاریخی پیغام پڑھ کر سنایا۔
٧......حضرت قبلہؒ کا تاریخی خط
بعد الحمد والصلوٰۃ وارسال التسلیمات والتحیات فقیر ابو الخلیل خان محمد عفی عنہ نائب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف سے حضرات گرامی قدر اراکین کرام مجلس شوریٰ وعاملہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ...... سلمکم اللہ تعالیٰ وعافاکم!
مطالعہ فرماویں کہ آپ حضرات کا اس مبارک اجتماع میں شریک ہونا سلف صالحین کرام اور غازیان اسلام کی یاد تازہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اسلاف کرام کی پوری پوری اتباع ہم سب کو نصیب فرمائے اور اپنے اکابر کے مسلک پر استقامت اور اس کی حفاظت واشاعت کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین!
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
سب سے پہلے آپ حضرات کی خدمت میں حضرت اقدس شیخ الاسلام علامہ بنوری نور اللہ تعالیٰ مرقدہ کی رحلت سے متعلق تعزیت عرض ہے۔ یہ حادثہ فاجعہ ہم سب کے لئے اور سارے عالم اسلام کے لئے مشترک المیہ ہے اور ہم سب اس غم میں برابر کے شریک ہیں۔ سارے عالم اسلام اور پاکستان کے لئے عموماً اور مسلک حقہ اسلام، دیوبند سے تعلق رکھنے والوں اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے خصوصاً یہ عظیم حادثہ ہے اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ یہ ایک ایسا خلاء پیدا ہوا ہے جس کی تلافی ناممکن ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت شیخ الاسلام، رئیس العلماء والصلحاء مولانا محمد یوسف بنوری قدس سرہ العزیز امیر کل پاکستان مجلس تحفظ ختم نبوت کا دور امارت ہر لحاظ سے بفضلہ تعالیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقاصد عظیمہ کی فقید المثال کامیابی اور فائز المرامی کا دور ثابت ہوا ہے۔ حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی رہنمائی میں اندرون ملک اور عالمی سطح پر تحفظ ختم نبوت کے ادارے نہ صرف قائم ہوئے بلکہ ملحدین و زنادقہ اور فرقہ ضالہ مرزائیہ کے ظاہراً اور خفیہ اڈوں اور کمین گاہوں پر مبلغین تحفظ ختم نبوت کی مضبوط تبلیغی پیش قدمی کے راستے کھل گئے اور عالمی سطح پر دشمنان اسلام کی اہل اسلام کو گمراہ کرنے کی ناپاک سرگرمیاں سرد پڑ گئیں اور اہل اسلام پر ان کا دجل و فریب، گمراہی اور کفر واضح ہو گیا اور حضرت اقدس نے بنفس نفیس خود افریقہ اور لندن وغیرہ کا دورہ کیا اور اس پیرانہ سالی کے باوجود فرقہ ضالہ مرزائیہ کا تعاقب کیا اور کامیابی و کامرانی کے ساتھ واپسی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ آئندہ بھی نصرت و تائید فرمائے۔ آمین!
اگر اندرون اور بیرون ملک مبلغین اراکین و ہمدردان اور مخلصان تحفظ ختم نبوت کی تبلیغ دعوت و ارشاد کی رفتار اور پیش قدمی اسی طرح جاری رہی، تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور نصرت سے امید ہے کہ اس بدترین فتنہ مرزائیت کے بقیہ آثار اور ادارے حرف غلط کی طرح مٹ جائیں گے اور دین حقہ اسلام کا دور دورہ ہوگا اور خلافت الہیہ علی منہاج الکتاب والسنۃ کا قیام ممکن ہو سکے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!
فقیر کی صحت بحمد اللہ تعالیٰ روبہ ترقی ہے۔ لیکن ابھی کافی کمزوری ہے اور اسی عذر کی وجہ سے اس مہتم بالشان اور بابرکت اجتماع میں شرکت اور حاضری کی سعادت حاصل نہیں کر سکا۔ امید ہے کہ آپ حضرات اس فقیر کا عذر قبول فرمائیں گے اور اپنی دعاؤں سے اس ناچیز کی فلاح دارین کے لئے مدد فرمائیں گے۔ والعذر عند کرام الناس مقبول!
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اسی لئے اپنی طرف سے مولانا نذیر احمد صاحب خطیب جامع مسجد کندیاں اور فرزندی عزیز احمد آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں۔ اس اجتماع میں آپ حضرات کو آئندہ کے لئے تنظیمی انتخاب کرنا ہے اور اس میں خاص طور پر امیر مرکزیہ کا انتخاب خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اب آپ حضرات کو حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی جگہ پر کرنے کے لئے انہی کے علم وفضل اور عمل واخلاص کے پایہ کے، عالم حق کو اس منصب کے لئے منتخب کرنا ہے جو صاحب قلم بھی ہو اور قادر الکلام مقرر بھی۔ عالم باعمل بھی ہو اور عالمی شہرت کا حامل بھی ہو اور ادارہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی اہمیت وافادیت کا دل وجان سے قائل بھی ہو۔ اس کے علاوہ کسی مرکزی حیثیت کے شہر کا جو ذرائع آمدورفت کی سہولتوں سے پوری طرح بہرہ ور ہو قیام پذیر بھی ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو ایسے عالم حق کے انتخاب کی رہنمائی اور توفیق عطاء فرمادے۔ آمین!
جہاں تک اس فقیر کا تعلق ہے۔ اپنے آپ کو تحفظ ختم نبوت کا ایک ادنیٰ خادم ہی بننا اپنے لئے ذریعہ فلاح دارین سمجھتا ہے۔ ایک دور دراز گوشۂ ملک میں رہتا ہے۔ جہاں آمدورفت کے وسائل محدود اور دشوار ہیں، نہ اہل قلم ہے نہ ہی مقرر ہے، اور اس عظیم مرتبہ کے لئے ضروری اوصاف سے بالکل عاری اور نا آشنا ہے۔ یہ کسر نفسی نہیں بلکہ حقیقت کا اظہار ہے۔ اس ناچیز کا اس منصب جدید کے لئے زیر غور لانا حقیقتاً اس منصب عالیہ کی توہین اور اہانت ہے۔ آپ نے اگر نائب امیر ہونے کی حیثیت سے اس موئے کو سامنے رکھا تو یہ آپ حضرات کی دیانتدارانہ رائے کے سراسر خلاف ہوگا اور آپ حضرات اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی کے مرتکب ہوں گے۔ اگر اس فقیر کو اپنی تمام نالائقی کے باوجود منتخب کر لیا گیا اور اس فقیر سے اپنی نالائقی کی بنا پر کوتاہیاں سرزد ہوئیں جو کہ یقینی ہیں اور یأتی بالعجائب کا نمونہ پیش کیا تو اس میں آپ حضرات برابر کے شریک ہوں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ محفوظ ومصون رکھے۔ آمین! لہٰذا آپ حضرات کی خدمت میں نہایت دردمندانہ اپیل ہے کہ اس کے متعلق اپنی دیانت کے مطابق پوری سوچ اور فکر کے ساتھ فیصلہ کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کی مدد ونصرت اور رہنمائی فرمادے اور صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق رفیق گردانے۔ آمین!
فقیر دعا گو ہے کہ مولائے کریم ورحیم جل شانہ آپ حضرات اور جملہ اراکین وہمدردان مجلس تحفظ ختم نبوت اور جملہ اہل اسلام کو اقصائے عالم میں ظاہری وباطنی خیر وبرکت اور صحت وعافیت دارین اور فتح ونصرت اور تمکن ورسوخ سے نوازے اور دین حقہ اسلام کی بیش از
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ہمیشہ خدمت تبلیغ اور اشاعت کی توفیق کرامت فرمادے اور اپنے فضل وکرم اور رضا وحفظ خاص سے سرفراز فرما کر اپنے انصار اللہ اور حزب اللہ کے زمرہ میں محشور فرمادے۔ آمین ! باالنبی الامی خاتم الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم !
دستخط: فقیر خان محمد عفی عنہ خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی
مورخہ ۱۴؍ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ
پیغام کے پڑھے جانے کے بعد مولانا تاج محمودؒ نے اجلاس سے خطاب کیا اور فرمایا کہ حضرت مولانا خان محمدؒ صاحب نے جن شرائط اور صلاحیتوں کا اس پیغام میں ذکر فرمایا ہے وہ تمام کی تمام حضرت موصوف میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ ہم نے اس پیغام کا ایک ایک حرف دل کی گہرائیوں سے سنا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اکابرین کی یہ امانت، مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی صحیح قیادت حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب فرما سکتے ہیں۔ اس لئے آئندہ تین سال کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر مرکزیہ کے لئے میں حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کا نام پیش کرتا ہوں۔ ان کے بعد حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے تائیدی کلمات کہے۔ مولانا تاج محمودؒ کی تجویز اور مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کی تائید سے تمام شرکاء اجلاس نے بھر پور تائید کے ذریعہ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کو آئندہ تین سال کے لئے دستور کی دفعہ نمبر ۹ شق نمبر ۱ کے تحت امیر مرکزیہ منتخب کر لیا گیا۔
امیر مرکزیہ کے انتخاب کے بعد مولانا تاج محمودؒ نے تجویز پیش کی کہ حضرت امیر مرکزیہ نے ایک گونہ امارت سے بزرگانہ معذرت فرمائی ہے۔ اس لئے اس ہاؤس کے جذبات حضرت کی خدمت میں پہنچانے کے لئے مجلس کے خدام کا ایک وفد خانقاہ سراجیہ جائے گا اور حضرت سے درخواست کرے گا کہ وہ کاروانِ بخاری کے اس لٹے پٹے یتیموں کے قافلہ کی سرپرستی فرمائیں۔ جسے ہاؤس نے بالا تفاق منظور کر لیا۔ اس کے بعد مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے حضرت مولانا محمد عبداللہ شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ ساہیوال کا نائب امارت کے لئے نام پیش کیا جسے بالا تفاق منظور کر لیا گیا۔ مولانا تاج محمودؒ کے حکم پر مولانا حبیب اللہ فاضل جالندھریؒ نے دعاء کرائی۔ آپ کی دعاء پر یہ اجلاس بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا۔
مجلس عمومی (جنرل کونسل) کی کارروائی آپ نے ملاحظہ فرمائی۔ اس میں ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک وفد حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کی خدمت میں جائے گا اور
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
آپ سے امارت سنبھالنے کے لئے مجلس عمومی کے ارکان کے جذبات کی ترجمانی کرے گا۔ اللہ رب العزت معاف فرمائیں۔ راقم مسکین کو ایسے یاد پڑتا ہے۔ فیصل آباد سے مولانا تاج محمودؒ، فقیر راقم، ملتان سے مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا غلام محمدؒ، کراچی سے سردار میر عالم لغاری حاضر ہوئے۔ حضرت قبلہؒ نے شفقت فرمائی کہ انکار کا ایک لفظ بھی نہیں فرمایا۔ فاالحمدللہ!
راقم کا خیال ہے کہ آگے چلنے سے قبل حضرت بنوریؒ کی زیر صدارت جو آخری اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اس میں جو فیصلے ہوئے۔ اب حضرت بنوریؒ کی جگہ حضرت قبلہؒ تشریف لائے تو آپ کی امارت میں ان پر کیا عمل درآمد ہوا؟ اس حصہ کو مکمل کر لیا جائے تو پھر آگے چلنے میں آسانی ہو جائے گی۔
۸......۱۰؍اگست کی کاروائی کا فیصلہ نمبر ۱: الیکشن اور قادیانی
’’الیکشن میں قادیانی کھڑا ہوا تو مجلس اس کے لئے رکاوٹ بنے گی۔‘‘ الحمدللہ! اس فیصلہ کے بعد سے لے کر آج تک قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ میں ایک بھی قادیانی، عام الیکشن لڑ کر نہیں جاسکا۔ اللہ رب العزت کروڑوں کروڑ رحمتیں نازل فرمائیں۔ ہمارے مخدوم قبلہ حضرت صاحبؒ کی روح پر فتوح پر کہ آپ کی نیم شبانہ دعائیں۔ شبانہ روز محنت، بھرپور جدوجہد کے باعث پورے ملک کی فضا اب ایسے بن گئی ہے کہ قادیانیوں کا عام الیکشن میں حصہ لینا، الیکشن لڑنا تو رہا درکنار، کوئی قادیانی الیکشن لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور بڑے سے بڑا لبرل سیاستدان بھی قادیانی حمایت حاصل کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔ (۱) یہ محض اللہ رب العزت کا فضل۔ (۲) مسئلہ ختم نبوت کی برکت (۳) اور ہمارے حضرت خواجہ خان محمد صاحبؒ کی قیادت باسعادت کے ثمرات و نتائج ہیں۔ اس پر اللہ رب العزت کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ فاالحمدللہ اوّلاً و آخراً!
حضرت قبلہؒ کی قیادت باسعادت میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا۔ جس کے تحت قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلا سکتے۔ الیکشن لڑنے کے لئے ووٹ کا ہونا ضروری ہے۔ ووٹ بنوانے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مساعی جمیلہ (جو محض اللہ رب العزت کا فضل ہی ہے اور بس) قادیانی شاطر قیادت ایسی بری طرح پھنسی ہے کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ اس لئے کہ ووٹر فہرستیں جناب بھٹو صاحبؒ کے دور سے اس وقت تک ایسے بنتی ہیں کہ مسلمانوں کی فہرستیں
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
علیحدہ، غیر مسلموں کی فہرستیں علیحدہ۔ اب قادیانی خود کو مسلمان لکھوائیں اور مسلمانوں کی ووٹر لسٹوں میں نام درج کرائیں تو ”امتناع قادیانیت آرڈیننس“ کے تحت قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتے۔ مسلمان کہلوائیں تو کیس درج ہو، اور تین سال کے لئے جیل جائیں اور اگر غیر مسلموں میں ووٹ بنوائیں تو ان کا یہ دعویٰ غلط کہ ہم تو مسلمان ہیں۔ ایسی مشکل میں قادیانیت پھنسی ہے کہ وہ ووٹر لسٹوں میں اپنا نام درج نہیں کراتے۔ الیکشن لڑنا تو رہا درکنار، وہ کسی مسلمان کو ووٹ دے کر بلیک میل کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہے۔ ابھی پرویز مشرف کے دور میں طریقہ انتخاب، مخلوط الیکشن کا بحال کیا گیا۔ تو اس کی آڑ میں ووٹر فہرستوں سے مسلم و غیر مسلم کی تمیز ختم کر دی گئی۔ اس پر مجلس تحفظ ختم نبوت نے احتجاج کیا۔ اللہ رب العزت نے کرم فرمایا کہ کفر ہار گیا۔ اسلام جیت گیا۔ اب الیکشن مخلوط ہوں یا جدا گانہ۔ ووٹر فہرستیں بہر حال جداگانہ ہی تیار ہوتی ہیں۔ فیصلہ حضرت بنوریؒ کے عہد امارت میں ہوا۔ اس پر مکمل عمل درآمد اور اس کے کوثر و تسنیم سے دھلے نتائج یہ ہمارے قبلہؒ کے عہد امارت میں حاصل ہوئے۔ فالحمدلله اوّلاً وآخراً!
۹......۱۰/ اگست ۱۹۷۷ء کی کاروائی کا فیصلہ نمبر ۲! مسلم کالونی چناب نگر
مسلم کالونی چناب نگر (الف) مسجد۔ (ب) دارالمبلغین۔ (ج) بہت بڑا عربی مدرسہ جس میں انگلش بھی پڑھائی جائے۔ (د) اساتذہ و مبلغین کے رہائشی کوارٹر تعمیر کئے جائیں۔
قارئین کرام! ۲۴/دسمبر ۱۹۷۴ء سے چناب نگر، آر۔ایم کی عدالت میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے نمازوں کا اہتمام کر دیا تھا۔ جنوری ۱۹۷۶ء سے مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن کی تعمیر کا بھی آغاز ہو گیا۔ مسلم کالونی چناب نگر کا بننا، اس میں مسجد و مدرسہ کا پلاٹ رکھا جانا، اس پلاٹ کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو مل جانا۔ ۷/جولائی ۱۹۷۶ء کو حضرت خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کا نماز عصر کا پڑھانا۔ یہ تمام امور حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے عہد امارت میں طے ہو گئے تھے۔ ان تمام کامیابیوں کے باوجود دن رات یہ ادھیڑ بن ہوتی رہی کہ اس مسلم کالونی چناب نگر میں حضرت بنوریؒ تشریف لائیں۔ پروگرام بنتے اور ٹوٹتے رہے۔ کبھی حکومتی اجازت کی مشکل پیش آ جاتی، کبھی حضرت شیخ بنوریؒ کی مصروفیات آڑے آ جاتیں۔ کبھی موسم کا بہانہ کھڑا ہو جاتا۔ غرض ان تمام تاویلوں کی بجائے یہ کہا جائے تو بہت بہتر ہو گا کہ حق تعالیٰ کے علم ازلی کے مطابق ابھی یہ وقت نہیں آیا تھا۔ کام کا آغاز تو حق تعالیٰ نے حضرت بنوریؒ کے عہد میں کرا دیا۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۶۷ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
لیکن وہ خود یہاں تشریف نہ لاسکے۔ اس کام کو آگے بڑھانے، نگرانی و سرپرستی کرنے، دن رات اس کے متعلق دعائیں کرنا یہ تمام سعادتیں حضرت قبلہؒ کے عہد امارت کے حصہ میں اللہ رب العزت نے مقدر فرما رکھیں تھیں۔
۱۰...... الف:مسجد
جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کا ہال 65×35 کا ہے۔ برآمدہ 65×14 کا ہے۔ نچلے برآمدہ پر اوپر دوسری منزل میں بھی اتنے سائز کا برآمدہ ہے۔ مسجد کے ہال میں کوئی پلر نہیں ہے۔ وسیع و عریض ہال، برآمدہ کے علاوہ صحن 65×125 کا ہے۔ مسجد کا مینار ایک سو بیس فٹ بلند ہے۔ مسجد کے ہال میں چھت کے نیچے شمال کی دیوار نصف، مغرب کی دیوار مکمل۔ جنوب کی دیوار نصف پر خوبصورت اوپر کی لائن میں اسماء الٰہی اور نیچے کی لائن میں اسماء النبیؐ بہت خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔ اسمائے مبارکہ ماربل کی ٹائلوں پر ہیں۔ مسجد کے ہال و برآمدہ میں دیواروں کا حاشیہ اور فرش پر عمدہ چپس کا کام کیا گیا ہے۔ مینار پر مکمل عمدہ ماربل لگا ہوا ہے۔ اسی طرح مسجد کے پورے فرنٹ پر عمدہ ماربل لگا ہوا ہے۔ مسجد کے مکمل صحن میں مضبوط لوہے کی تاروں کی وائرنگ کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ پنکھے لٹکائے گئے ہیں۔ ایک سو پچیس فٹ کے لمبے صحن میں کوئی پلر نہیں ہے۔ اس وقت آٹھ صفوں کے اوپر پنکھے لگوائے ہیں۔ مسجد کا یہ تمام کام حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں ہوا ہے۔
۱۱...... ب: دارالمبلغین
الحمد للہ ! اس پر بھی عمل درآمد ہو رہا ہے۔ حوالہ جاتی کتب پر مشتمل عظیم الشان بخاری لائبریری، مسلم کالونی چناب نگر کے مدرسہ میں موجود ہے۔ جس میں حوالہ جاتی کتب (ریفرنس بکس) دس ہزار کے قریب موجود ہیں۔ وسیع و عریض لائبریری ہال اب تنگی دامن کا گلہ کرتا ہے۔ اب لائبریری کے لئے نیا لائبریری ہال زیر تجویز ہے۔ ملتان میں ہر سال ماہ شعبان میں دارالمبلغین کی کلاس لگتی تھی۔ ۱۴۱۶ھ سے اسے چناب نگر منتقل کیا گیا۔ اس وقت تک اس سے ہزاروں علماء نے سالانہ رد قادیانیت کا کورس کیا ہے۔ دارالمبلغین کورس کا چناب نگر میں اجراء، آغاز اور عروج یہ سب کچھ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کے عہد امارت میں ہوا۔ قارئین کرام ! یہاں پہنچ کر دل کے اس دکھڑے کا اظہار کئے بغیر چارہ نہیں کہ اس کورس کے آغاز و اختتام
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
پر حضرت قبلہؒ خود تشریف لاتے تھے۔ اگر آغاز پر تشریف نہیں لاسکے تو درمیان میں کم از کم ایک رات کورس کے شرکاء میں چناب نگر ضرور گزارتے۔ طلباء کی عید ہو جاتی۔ بیعت ہوتے، زیارت کرتے۔ مجلس میں بیٹھتے، اختتام پر تشریف لانا تو آپ کا معمول تھا۔ بیماری کے باوجود تکلیف اٹھا کر بھی مسکینوں کی گذارش کو شرف قبولیت بخشتے اور تشریف لاتے۔ سوائے آخری چند سالوں کے کبھی بھی ناغہ نہیں ہوا۔ دارالمبلغین کے اس فیصلہ پر عمل درآمد اور اس شان وشوکت کے ساتھ، یہ سب ہمارے حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں ہوا۔ اس وقت پنجاب کے کامیاب ترین کورسوں میں سے ایک یہ کورس بھی ہے۔ جسے حضرت قبلہؒ کی سرپرستی کا اعزاز حاصل رہا ہے اور انشاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا۔ یہ سب ہمارے حضرت قبلہؒ کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔
۱۲......ج: بہت بڑا چناب نگر میں مدرسہ عربی
جس میں انگلش کی بھی تعلیم ہو۔ اس فیصلہ پر عمل درآمد بھی حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں ہوا۔ اس وقت تین حفظ کی کلاسیں، ایک گردان کی، درجہ ثالثہ تک عربی کتب، میٹرک تک کی تعلیم جاری ہے۔ بچیوں کی تعلیم علاوہ ازیں ہے۔ قرآن مجید کے درجہ کے چار استاذ، درجہ کتب عربی کے تین اساتذہ، درجہ انگلش و اردو کے تین اساتذہ اور دو استانیاں پڑھا رہی ہیں۔ خادم، گیٹ کیپر، مبلغ، باورچی خانہ کا عملہ علاوہ ازیں ہیں۔ یہ سب کچھ بھی حضرت خواجہ صاحبؒ کے عہد امارت میں ہوا۔ انشاء اللہ اس میں مزید درمزید ترقی ہوگی۔ صبح درس قرآن ہوتا ہے۔ تبلیغ کے لئے جماعتیں نکلتی ہیں۔ ان کی چلت پھرت، ہر روز عشاء کے بعد مراقبہ و ذکر کی مجلس ہوتی ہے۔ صبح کو کلاسیں شروع ہونے سے قبل سورہ یٰسین کا ختم، ہر روز عصر کے بعد درود شریف کی مجلسیں جاری ہیں۔ یہ سب ہمارے حضرت قبلہؒ کا فیض ہے۔ اللھم رب تقبل وزد فزد آمین!
مدرسے کے نچلے حصہ میں تیرہ کمرے ہیں۔ ان میں پانچ ہال ہیں۔ مہمان خانہ، طلباء کی رہائش و درسگاہوں کا ان سے کام لیا جا رہا ہے۔ اوپر کی دوسری منزل میں چار ہال ہیں۔ ایک کمرہ ہے۔ کمرہ اور ایک بہت بڑا ہال بچیوں کی تعلیم کے لئے وقف ہے۔ دو دارالقرآن ہیں جو 25x25x80 پر مشتمل ہیں۔ ان کے درمیان میں گیلری ہے۔ جو 80x16 پر مشتمل ہے۔ وسیع و عریض دو ہال مطعم کے ہیں۔ ان میں روٹی پکانے کی مشین، گیس کے تندور لگے ہیں۔ باورچی خانہ کے سٹور علاوہ ازیں ہیں۔ مسجد و مدرسہ کے صحن میں درمیان میں تین گرین بیلٹ ہیں۔ سبز قدرتی قالین بچھا ہے۔ یہ سب ہمارے حضرت قبلہؒ کے عہد امارت کی فتوحات ہیں۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۶۹ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
فالحمدللہ ! ایک سو سے زائد لیٹرین، وسیع و عریض ٹینکی جس میں کئی ہزار لیٹر پانی ذخیرہ رہتا ہے۔ وضو خانہ، مسجد کے صحن کی جنوبی بغل میں جس پر بیک وقت ساٹھ ستر آدمی وضو کر سکتے ہیں۔
۱۳...... و: اساتذہ و مبلغین کے رہائشی کوارٹر
مسجد کے عقب میں ایک رہائشی کوارٹر ہے اور اس کوارٹر کو اعزاز حاصل ہے کہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے موقعہ پر (سوائے ایک سال کے) ہمیشہ ۱۹۸۲ء سے گذشتہ سال تک جب بھی حضرت قبلہؒ کی تشریف آوری ہوتی۔ آپ اسی مکان پر فروکش ہوتے تھے۔ چار کوارٹر قرآن ہالوں کی بالائی منزل پر ہیں۔ کالونی کے غربی حصہ میں پانچ مرلوں کے پلاٹ پر دو رہائشی کوارٹر ہیں۔ یہ سب مجلس کے ملکیتی ہیں اور ان کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ یہ کل سات عدد ہیں۔ حضرت قبلہؒ کی زیر صدارت جو آخری اجلاس مجلس شوریٰ کا اس سال خانقاہ شریف میں ہوا۔ چھ کوارٹروں کی تعمیر کی منظوری شوریٰ نے دی۔ قارئین! جس دن حضرت قبلہؒ خانقاہ شریف سے ملتان تشریف لائے اسی روز وہاں پر تعمیر کا آغاز ہوا۔ اس وقت ان سطور میں فقیر راقم اس بحث کو سمیٹ رہا ہے کہ حضرت شیخ بنوریؒ کے آخری اجلاس کے فیصلوں پر عمل در آمد حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں ہوا۔ لیکن حضرت قبلہؒ کے عہد امارت کے آخری اجلاس کے فیصلہ پر عمل در آمد کا آغاز بھی حق تعالیٰ نے حضرت قبلہؒ کی زندگی کے آخری دنوں میں کرا دیا۔ کس زبان سے حق تعالیٰ کے کرم کا شکر ادا کیا جائے۔ یا اللہ میرے حضرتؒ کے فیض کو قیامت کی صبح تک موسلا دھار بارش کی طرح جاری وساری رکھ۔ قارئین کرام! انشاء اللہ ایسے ہی ہوگا۔
۱۴...... ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کا آغاز
پاکستان بننے کے بعد جنوری ۱۹۴۹ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ تب سے قادیانیوں کے مقابلہ میں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کا چنیوٹ میں آغاز کیا گیا۔ قادیانیوں کا سالانہ جلسہ ۲۵ تا ۲۷؍ دسمبر منعقد ہوتا تھا۔ اس کے مقابلہ میں ختم نبوت کی کانفرنس ۲۶ تا ۲۸ دسمبر منعقد ہوتی تھی۔ ایک دن تاخیر سے کانفرنس کا آغاز ہوتا تھا۔ نتیجہ میں ختم بھی ایک دن بعد ہوتی تھی۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ چناب نگر میں قادیانیوں کے مقرر جو کہتے تھے۔ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں اس کا ساتھ ساتھ جواب دیا جاتا تھا۔ حق و باطل کا یہ معرکہ جاری رہا۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے نتیجہ میں پہلے چناب نگر ریلوے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اسٹیشن پر چنیوٹ کی کانفرنس کے درمیان کا کوئی جمعہ وہاں رکھ لیا جاتا۔ ایک دو بھر پور جمعہ جات چناب نگر قادیانیوں کے شہر کے قلب میں ہو گئے۔ تو اب قادیانیوں کا یہ پروپیگنڈہ کہ اہل اسلام کی ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں منعقد ہوئی تو فساد ہو جائے گا۔ قادیانیوں کا یہ پروپیگنڈا ھباء منثورا ثابت ہوا۔ تو اب سالانہ ختم نبوت کانفرنس بجائے چنیوٹ کے چناب نگر منعقد کرنے کا اعلان ہوا۔ ساتھ یہ بھی فیصلہ ہوا کہ چنیوٹ کی ختم نبوت کانفرنس حسب سابق دسمبر میں منعقد ہوا کرے گی۔ چنانچہ ہمارے حضرت قبلہ خواجہ خان محمدؒ صاحب کی زیر قیادت پہلی سیرت کانفرنس ۷؍ستمبر ۱۹۸۱ء کو ہوئی ۔ ۲۳،۲۴؍اکتوبر ۱۹۸۲ء کو اہل اسلام کا قافلہ ایک بار پھر نئی شان کے تحت چناب نگر میں داخل ہوا اور یوں ختم نبوت کانفرنس کی بنیاد ۱۹۸۲ء سے چناب نگر میں ڈالی گئی۔ اللہ رب العزت کا فضل و کرم ہے کہ ربع صدی سے زائد عرصہ ہو گیا ہے۔ یہ کانفرنس بڑی آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ اس کانفرنس کی تاریخ مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے علیحدہ کتاب کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی ساتھی کو توفیق دے دیں تو وما ذالك علی اللہ بعزیز!
۱۹۸۲ء تا ۱۹۸۴ء چناب نگر اکتوبر کی ختم نبوت کے ساتھ ساتھ چنیوٹ کی ختم نبوت کانفرنس دسمبر میں بھی منعقد ہوتی رہی۔ ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس آجانے کے باعث قادیانیوں کے سالانہ جلسہ پر پابندی لگ گئی تو چنیوٹ کی ختم نبوت کانفرنس منعقد کرنے کا داعیہ ختم ہو گیا۔ اب صرف چناب نگر میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوتی ہے۔ قارئین کرام! ایک وقت ہوتا تھا کہ چناب نگر میں کسی مسلمان کو قدم رکھنے کی اجازت نہ تھی۔ اب کفر کی زبوں حالی کا یہ عالم ہے کہ ان کا سالانہ جلسہ چناب نگر میں نہیں ہو سکتا۔ لیکن اہل اسلام کا اجتماع بڑی دھوم دھام سے منعقد ہوتا ہے۔ چناب نگر کی اس کانفرنس میں پاکستان کی پوری دینی قیادت کے علاوہ انڈیا، سعودی عرب، افریقہ، برطانیہ سے مقررین تشریف لاتے رہے۔ اہل اسلام کا یہ نظریاتی اجتماع ہر سال منعقد ہوتا ہے۔ یہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی حسنات میں سے ہے۔ جس کا آغاز حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کے مبارک ہاتھوں سے ہوا۔ حق تعالیٰ اس کی بہاروں کو تا ابد تر و تازہ رکھیں۔ آمین بحرمۃ النبی الکریم!
۱۵...... حضرت قبلہؒ اپنے استاذ کے نقش قدم پر
- ۱...... پہلے گزر چکا ہے کہ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے عالمی مجلس
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
تحفظ ختم نبوت کی امارت اس شرط پر قبول فرمائی کہ نائب امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب ہوں گے۔ بعینہ اس طرح ۲۷؍ دسمبر ۱۹۷۷ء کو چنیوٹ ختم نبوت کانفرنس کے موقعہ پر حضرت قبلہؒ کو امیر مرکزیہ بنایا گیا۔ حضرت قبلہؒ کے معذرت کرنے کے باعث طے ہوا کہ مجلس کا وفد خانقاہ شریف جا کر چنیوٹ میں ہونے والے فیصلہ کی حضرت قبلہؒ سے توثیق کرائے۔ چنانچہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۷۸ء کو خانقاہ شریف میں مجلس کے ذمہ داران شریک اجلاس ہوئے۔ حضرت قبلہؒ نے اس فیصلہ کی توثیق فرمائی۔ بائیس رکنی شوریٰ کے ناموں کا اعلان فرمایا۔ دیگر عہدوں کو بھی پر کیا۔ البتہ مرکزی خازن کے عہدہ کو زیر تجویز رکھا۔ اس کی تھوڑی سی تفصیل ہے۔ وہ یہ کہ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے عہد امارت میں ۱۹۶۹/۶۸ء میں حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری ملتان دفتر مرکزیہ تشریف لائے اور مجلس کے خازن کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔ حضرت جالندھریؒ کے وصال کے بعد بھی مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے عہد امارت اور فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ کے عہد امارت کے اوائل میں بھی اس عہدہ پر شاندار خدمات سرانجام دیں۔ حضرت مولانا محمد حیاتؒ کے (عارضی) عہد امارت کے اواخر میں آپ نے فیروزہ میں اپنی جدی زرعی زمین کو آباد کرنے کے لئے سعی کی۔ اس میں ایسے منہمک ہوئے کہ رہائش بھی وہیں منتقل کر لی تو اب دفتر مرکزیہ میں مرکزی خازن کے لئے وقت نکالنا ان کے لئے ممکن نہ رہا۔ تب حضرت مولانا غلام محمد صاحبؒ کو عارضی طور پر خازن مقرر کیا گیا۔ ۲۹؍ اپریل ۱۹۷۴ء سے ۱۷؍ جنوری ۱۹۷۸ء تک وہ خازن کی ذمہ داریوں کو نبھاتے رہے۔ لیکن ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت اور اس کے متصل بعد حضوری باغ روڈ ملتان پر مجلس کے نئے دفتر کی تعمیر اور تحریک کے بعد بیرون ممالک کے مجلس کے وفود۔ غرض کام اتنا پھیلا کہ چار سال ۱۳۹۴ھ تا ۱۳۹۷ھ کا آڈٹ نہ ہوسکا اور مولانا غلام محمد مرحوم کے لئے اس پھیلے ہوئے حساب کو سمیٹنا، دریا کو کوزہ میں بند کرنے کی طرح مشکل ہو گیا۔
قارئین کرام! حضرت بنوریؒ نے فرمایا تھا کہ میں امیر، تو مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب نائب امیر ہوں گے۔ اسی طرح آج ۱۷؍ جنوری ۱۹۷۸ء کو حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کے فیصلہ کی بھی یہی تعبیر سب سے مناسب ہے کہ اگر میں امیر تو مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی خازن ہوں گے۔ حضرت قبلہؒ نے والا نامہ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے نام تحریر فرمایا کہ آپ اپنی تمام تر مصروفیات کو بتدریج سمیٹ کر کلیۃً دفتر مرکزیہ تشریف لا کر خازن
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کے عہدہ کو سنبھالیں اور جب تک کلیتہً ہمہ وقتی ملتان دفتر تشریف لانا ممکن نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ یعنی تین ہفتے (بائیس دن) ملتان اور ایک ہفتہ فیروزہ اپنے کام کو دیں۔ یہ خط حضرت مولانا تاج محمودؒ کے سپرد کیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ فلاں دن یہ خط لے کر اللہ وسایا فیروزہ جائے گا۔ اسی دن شام کو میر عالم خان لغاری خانپور آ جائیں گے۔ اگر تو حضرت قبلہؒ کے خط پر حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری آمادہ ہو جائیں تو فالحمد للہ! ورنہ اللہ وسایا خانپور آ کر سردار میر عالم خان لغاری کو رپورٹ دے تا کہ وہ خود جا کر حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کو آمادہ کریں۔ راقم الحروف خانقاہ شریف سے فیصل آباد گیا۔ اگلے روز حضرت قبلہؒ کے خط کے ہمراہ اپنی طرف سے دوسرا خط مولانا تاج محمودؒ نے تحریر فرمایا۔ وہ دونوں خط ایک لفافہ میں لے کر فقیر فیصل آباد سے فیروزہ گیا۔ پوری رات کا سفر اگلے روز ۹، ۱۰ بجے فیروزہ مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے زمینوں پر قائم ڈیرہ پر حاضر ہوا۔ حضرت مولانا حافظ حبیب الرحمن جالندھریؒ، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حافظ حفظ الرحمن جالندھری تینوں بھائیوں سے ملاقات ہوئی۔ اپنے چھوٹے بھائی حافظ حفظ الرحمن کو دونوں بھائیوں نے کھانا لانے کے لئے بھیج دیا۔ فقیر نے خط پیش کئے۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے ایک خط پڑھا اور بھائی حبیب الرحمن کو دے دیا۔ دوسرا خط پڑھا اور بھائی حبیب الرحمن کو دے دیا۔ غرض کھانا چائے آنے تک ان حضرات کی مشاورت مکمل ہو گئی۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے دن مقرر کر دیا کہ فلاں روز پہلے فیصل آباد حاضر ہوں گا۔ حضرت مولانا تاج محمودؒ سے ملاقات و مشاورت کے بعد خانقاہ شریف حضرت قبلہؒ کی خدمت میں حاضر ہوں گا۔ ظاہر ہے کہ مثبت پیش رفت تھی۔ اب خانپور سے لغاری صاحب کو فیروزہ زحمت دینے کی ضرورت نہ رہی۔ فقیر نے واپس آ کر رپورٹ دی۔ حسب وعدہ مولانا عزیز الرحمن فیصل آباد آئے۔ حضرت مولانا تاج محمودؒ کو ملے۔ چچا، بھتیجا راضی تے کیا کرے بیچارہ قاضی!
مولانا تاج محمودؒ نے مولانا عزیز الرحمن جالندھری کو آمادہ کر لیا۔ وہ سردست ۲۲ دن ملتان قیام کے لئے آمادہ ہو گئے۔ بظاہر تو اس جدو جہد کی کہانی عرض کر رہا ہوں۔ لیکن اگر قارئین کا ذوق ساتھ دے تو عرض کروں گا کہ غیب سے قدرت باری تعالیٰ یوں ہمارے حضرت خواجہ صاحبؒ کی تمناؤں کو قبولیت کے ثمرات سے سرفراز فرما رہی تھی۔ چنانچہ مولانا عزیز الرحمن جالندھری خانقاہ شریف گئے۔ حضرت قبلہؒ سے ہدایات لیں۔ واپسی ملتان دفتر تشریف لائے۔ حسابات کی ترتیب کے لئے مولانا غلام محمدؒ کو خطوط متعین کر کے دیئے۔ واپس فیروزہ گئے۔ اپنے
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کام کا عارضی متبادل انتظام کیا۔ ملتان تشریف لائے۔ مولانا غلام محمدؒ کا حساب تو موجود تھا۔ اسے ترتیب دیا۔ کھتیان کیا۔ بل ترتیب دیئے اور چند ہفتوں میں چار سال کا حساب آڈٹ کے لئے بھجوا دیا۔ یوں بائیس دن ملتان، ایک ہفتہ فیروزہ کچھ عرصہ چلتا رہا۔ پھر حضرت قبلہؒ کے حکم پر مستقل ملتان تشریف لائے۔
قارئین! گو فقیر نے بہت لمبا سفر کرایا۔ لیکن اس کے بغیر بات کو سمجھنا مشکل تھا۔ اب توجہ فرمائیے تو دو حرفی بات یہ ہے کہ : ”حضرت قبلہ خواجہ خان محمدؒ صاحب، حضرت شیخ بنوریؒ کی دریافت تھے تو حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری ہمارے حضرت خواجہ صاحبؒ کی دریافت ہیں۔“ تینتیس سال حضرت خواجہ صاحبؒ نے مجلس کی امارت کی کشتی کو چلایا ہے تو تینتیس سال مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے آپ کے زیر سایہ قدم بقدم دفتر مرکزیہ اور مرکزی نظم کو چلایا ہے۔ ایک تو مثال حضرت قبلہ خواجہ خان محمدؒ کے اپنے استاذ کے نقش پر چلنے کی فقیر نے یہ عرض کی ہے۔ اب ایک اور بھی سنئے۔
- ۲...... مورخہ ۹؍اپریل ۱۹۷۴ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت
بنوریؒ بنے۔ ۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر قادیانیوں نے ملتان نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر حملہ کیا۔ پورے ملک میں شدید ردعمل ہوا۔ اس پر سوچ وبچار کے لئے ۳؍جون ۱۹۷۴ء کو راولپنڈی میں مجلس عمل کا اجلاس طلب کیا گیا۔ مولانا تاج محمودؒ، مولانا مفتی زین العابدینؒ، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ، مولانا محمد اسحاق چیمہؒ کی لالہ موسیٰ اسٹیشن پر گرفتاری کے باعث وہ اجلاس نہ ہوسکا۔ چنانچہ ۱۰؍جون ۱۹۷۴ء کو شیرانوالہ انجمن خدام الدین لاہور میں دوبارہ اجلاس رکھا گیا۔ اس میں تمام دینی جماعتوں نے متفقہ طور پر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کو آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا عارضی کنوئیر مقرر کر دیا اور باضابطہ انتخاب کے لئے ۱۶؍جون کو فیصل آباد میں اجلاس رکھا گیا۔ جس میں حضرت شیخ بنوریؒ کو مرکزی مجلس عمل کا سربراہ مقرر کردیا گیا۔ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی تو ملتان کے ایک اجلاس میں حضرت بنوریؒ نے انکشاف فرمایا کہ میں نے ۱۶؍جون کے اجلاس سے قبل علیحدہ کمرہ میں صلوٰۃ الحاجت پڑھ کر رو رو کر اللہ رب العزت سے دعا کی تھی کہ میں مجلس عمل کی قیادت کے قابل نہیں ۔ یہ عہدہ باری تعالیٰ کسی اور کو دے دیں۔ لیکن اللہ رب العزت نے ”ہما“ کو میرے سر پر بٹھا دیا۔
بعینہ اس طرح ۲۷؍دسمبر ۱۹۷۷ء چنیوٹ کے انتخابی اجلاس مجلس تحفظ ختم نبوت سے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
قبل حضرت قبلہؒ نے خط لکھ کر اس عہدہ سے معذرت کی۔ تو معذرت حضرت شیخ بنوریؒ نے بھی کی، اور معذرت حضرت قبلہؒ نے بھی کی۔ شاگرد استاذ کے قدم بقدم چل رہا ہے۔ دعاؤں کے باوجود جس طرح حق تعالیٰ نے مرکزی مجلس عمل کی صدارت کا بارگراں حضرت شیخ بنوریؒ کے کندھوں پر رکھ دیا۔ ادھر بھی انکار کے باوجود اللہ رب العزت نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت کا بارگراں حضرت شیخ المشائخ مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کے کندھوں پر رکھ دیا۔ طابق النعل بالنعل! اس کو کہتے ہیں۔ یعنی قدم بقدم!
۱۶...... پہلا اجلاس
۱۹؍ فروری ۱۹۷۸ء کو حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کی نامزد کردہ مجلس شوریٰ کا پہلا اجلاس ملتان میں منعقد ہوا۔ اس میں دیگر فیصلہ جات کے علاوہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق، مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ پر مشتمل نشر واشاعت کے کام کو جدید خطوط پر وسعت دینے کے لئے کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کمیٹی کے سربراہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ مقرر ہوئے۔ قارئین فروری ۱۹۷۸ء سے مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی شہادت تک جتنا نشر واشاعت کا کام ہوا۔ یہ ہمارے حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب کی زیر صدارت پہلے اجلاس کے فیصلہ کی برکات ہیں۔
۱۷...... ضیاءالحق کے زمانہ میں ووٹر فارم کی عبارت میں تبدیلی
قبلہ حضرت صاحبؒ نے جب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت سنبھالی۔ اس وقت ملک میں جناب جنرل محمد ضیاءالحق صاحبؒ کا عہد اقتدار تھا۔ جنرل صاحب نے نوے دن کے اندر الیکشن کرانے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ عہد تو رہا اپنی جگہ۔ موصوف نے سالہا سال تک خود کو حکومت پر براجمان کئے رکھا۔ موصوف نے اوّلاً قومی اتحاد کو حکومت میں شمولیت کے لئے دعوت دی۔ تب جماعت اسلامی، جنرل صاحب کی حکومت میں شمولیت کے لئے اتنی بے تاب تھی۔ اگر قومی اتحاد ان کی بات نہ مانتا تو وہ قومی اتحاد کو خیر باد کہنے کے لئے بھی تیار تھے۔ تب قومی اتحاد کے سربراہ مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ تھے۔ مفتی صاحبؒ اور نوابزادہ نصر اللہ خانؒ نے کڑوا گھونٹ بھرا اور قومی اتحاد نے حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ جنرل صاحب نے الیکشن ملتوی کیا۔ پھر ریفرنڈم۔ غرض اس دوران دو تین بار ایسے مواقع پیش آئے کہ قادیانیوں کے متعلق جو ترمیم تھی وہ غتر بود ہوتی نظر آئی۔ اس موقعہ پر مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت پر فائز
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ہمارے حضرت قبلہؒ نے کس طرح امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا۔ اس کا نمونہ ذیل کے واقعہ سے آپ محسوس کریں گے۔
پاکستان دو قومی نظریہ کے نام پر بنایا گیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد پہلے الیکشن جداگانہ ہوئے۔ پھر ملک میں مخلوط طریقہ انتخاب نافذ ہو گیا۔ اب جنرل محمد ضیاء الحق نے مخلوط کی بجائے جداگانہ طرز انتخاب کا اعلان کیا۔ جناب بھٹو صاحب مرحوم کے عہد حکومت سے مسلم ووٹروں کے لئے ووٹر فارم میں ایک حلف نامہ شامل تھا۔ بھٹو صاحب اور حضرت مفتی محمودؒ کے درمیان گویا حکومت ومجلس عمل ختم نبوت کے درمیان قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلہ پر عمل درآمد کی یہ ایک شکل تھی۔ تاکہ قادیانی کسی طرح مسلمانوں میں اپنے ووٹ نہ بنوا سکیں۔
جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں جسٹس مولوی مشتاق حسین نے جناب بھٹو صاحب کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ جنرل صاحب نے اس خوشی میں انہیں چیف الیکشن کمشنر بنا دیا۔ اسی وقت قادیانی جماعت کا چیف گرو مرزا ناصر تھا۔ وہ رات کی تنہائی میں مولوی مشتاق سے ملا۔ اس کا مطالبہ تھا کہ الیکشن فارم کے حلف نامہ میں ایسی تبدیلی کر دی جائے۔ جس سے کہ قادیانی وہ حلف پر کر کے مسلمانوں میں اپنا ووٹ درج کرا سکیں۔ اس کے بدلہ میں مرزا ناصر نے وعدہ کیا کہ مولوی مشتاق حسین کو عالمی عدالت میں جج لگوا دیں گے۔ تاکہ پاکستان میں اگر پیپلز پارٹی برسراقتدار آ جائے تو مولوی مشتاق حسین سے بھٹو صاحب کے خلاف فیصلہ لکھنے کا انتقام نہ لے سکیں۔ اللہ رب العزت کی شان بے نیازی کہ اس ملاقات کی مولانا تاج محمودؒ کو بھنک پڑ گئی۔
آپ نے ہفتہ وار لولاک میں اس پر شدید احتجاج کیا۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے مرکزی الیکشن آفس سے معلوم کیا۔ ووٹر فارموں میں حلف نامہ کی تبدیلی کا معلوم ہوا۔ مولانا نے درخواست جمع کرائی کہ ووٹر فارموں میں جو پہلا حلف نامہ ہے وہ برقرار رکھا جائے۔ اس میں تبدیلی نہ کی جائے۔ بیورو کریسی نے دیکھا کہ یہ معاملہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ نئے تبدیل شدہ حلف والے ووٹر فارم شائع کرنے شروع کر دیئے۔ ادھر حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کی زیر صدارت دفتر مرکزیہ ملتان میں مجلس کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا۔ فیصلہ ہوا کہ حضرت قبلہؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ سے ملیں اور پھر جنرل محمد ضیاء الحق کو اس گھپلہ سے باخبر کیا جائے اور جو عبارت پہلے تھی۔ جب تک وہ عبارت بحال نہ ہو اس سے ایک حرف کی تبدیلی پر راضی نہ ہوا جائے اور حلف نامہ کی عبارت
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
وہ جو شناختی کارڈ کے فارموں پر موجود ہے۔ وہی ہو۔ اجلاس ختم ہوتے ہی اکتوبر ۱۹۷۸ء کو مولانا محمد شریف جالندھریؒ راولپنڈی گئے۔ تاکہ مفتی صاحبؒ سے وقت لے کر حضرت قبلہؒ اور مولانا تاج محمودؒ کو راولپنڈی بلایا جاسکے۔ صورتحال عرض کی تو مفتی صاحبؒ نے فوری نوابزادہ صاحبؒ کو فون کیا۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ ان سے جا کر ملے۔ انہوں نے ضیاء الحق سے بات کی۔ انہوں نے الیکشن آفس سے معلوم کیا تو انہیں بتایا گیا کہ اتنے کروڑ فارم چھپ گئے ہیں۔ ان کو منسوخ کیا تو اتنا خزانہ کا نقصان ہوگا۔ یہ کہ الیکشن میں بھی تاخیر ہو جائے گی۔ نوابزادہ صاحبؒ نے مفتی صاحبؒ سے ضیاء الحق کا جواب بیان کیا۔
مفتی صاحبؒ نے مولانا محمد شریف جالندھریؒ کو فرمایا کہ بیوروکریسی کھیل کھیلنا چاہتی ہے۔ وہ ہماری آئینی ترمیم دربارہ قادیانیت کو غیرمؤثر بنانے کے لئے حربے استعمال کر رہی ہے۔ آپ ملک بھر میں اس پر احتجاج کریں۔ میں جنرل ضیاء سے خود بات کرتا ہوں۔ اس دن شام کو کراچی، عصر کے بعد فیصل آباد جامع مسجد کچہری بازار، لاہور میں جو اجتماع نمازیان کے ملے۔ سخت دھواں دار احتجاج کر کے اخبارات میں خبریں لگوائی گئیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے احتجاجی اشتہار بھی نوائے وقت و جنگ میں شائع ہوئے۔ غرض ایک دن میں اس ظلم و تعدی کے خلاف اتنا کام ہو گیا کہ الیکشن آفس میں قادیانی نواز چوہے سوچ بھی نہ سکتے ہوں گے۔ اب حضرت مفتی محمودؒ نے ضیاء الحق کو فون کیا تو وہ ہوائی اڈہ پر سعودیہ عمرہ پر جانے کے لئے جا چکے تھے۔ ہوائی اڈہ پر فون ملایا تو جہاز پر سوار ہونے کا مژدہ سنایا گیا۔ مفتی صاحب نے بھی تعاقب جاری رکھا۔ وزارت خارجہ کو کہا کہ سعودیہ میں پاکستانی سفیر کو پابند کریں کہ جونہی ضیاء الحق صاحب اتریں ان سے میری بات کرائی جائے۔ خلاصہ یہ کہ مفتی صاحبؒ کا ضیاء صاحبؒ سے رابطہ ہوا۔ قادیانی سازش ہباء منثورا ہوگئی۔ فارم ضائع کئے گئے۔ مرزا ناصر کی ملعونی میں اضافہ ہوا۔ مشتاق صاحب کا چہرہ بھی دل کی طرح سیاہ ہوا اور وہ ووٹر فارموں میں اصل حلف نامہ بحال ہوا۔ یہ سب کچھ ہمارے حضرت قبلہ مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کے عہد امارت میں ہوا۔ فلحمد للہ اوّلاً و آخراً!
۱۸...... مجلس کے مرکزی حضرات کا اختلاف رائے اور حضرت قبلہؒ کی کرامت
حضرت شیخ بنوریؒ کے بعد ۲۷ دسمبر ۱۹۷۷ء کو حضرت قبلہ امیر مرکزیہ کی مسند پر جلوہ گر ہوئے تو ایک دقت یہ پیش آئی کہ سردار میر عالم لغاری جو حضرت بنوریؒ کے پرائیویٹ سیکرٹری
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com تھے۔ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے حضرات کو اس پر کچھ تحفظات تھے۔ حضرت شیخ بنوریؒ مجلس کے امیر بنے تو سردار میر عالم لغاری کو بھی حضرت شیخ بنوریؒ نے نہ صرف شوریٰ کا رکن بنایا۔ بلکہ تعمیراتی کمیٹی وغیرہ بعض امور میں ان کا بہت زیادہ عمل دخل تھا۔ حضرت بنوریؒ کے وصال کے بعد بنوری ٹاؤن کے حضرات نے سردار میر عالم لغاری کو جامعۃ العلوم الاسلامیہ کی تمام ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میں حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ مرکزی شوریٰ کے رکن، کراچی مجلس کے امیر حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ، یہ تینوں حضرات بیک وقت بنوری ٹاؤن جامعہ سے بھی منسلک اور مجلس میں بھی ان کا وجود انعام الٰہی۔ اب سردار میر عالم لغاری سے متعلق جو بنوری ٹاؤن میں تحفظات تھے۔ وہ مجلس تحفظ ختم نبوت میں بھی در کر آئے۔ اب مجلس میں مولانا محمد شریف جالندھریؒ کی رائے بنوری ٹاؤن کے حضرات کے ساتھ۔ جبکہ مولانا تاج محمودؒ، الحاج بلند اختر نظامیؒ اور دیگر حضرات کی رائے سردار میر عالم لغاری کے ساتھ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ رائے کا اختلاف مجلس کے مبلغین حضرات میں بھی منتقل ہوا۔ ان حالات میں حضرت قبلہؒ نے ملتان میں شوریٰ کا اجلاس طلب کر لیا۔ ۱۷؍ فروری ۱۹۷۸ء کو اجلاس تھا۔ حضرت قبلہؒ ۱۶؍ فروری کو ملتان تشریف لائے۔ مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، حضرت لدھیانویؒ، سردار میر عالم لغاری کو ساتھ بٹھایا۔ ظہر سے عشاء تک گفتگو ہوتی رہی۔ خیال تھا کہ کھل کر یہاں باتیں ہو جائیں۔ تاکہ یہ بحث شوریٰ میں نہ جائے۔ وہاں ضابطہ کی بات اور فیصلہ ہو۔ چنانچہ بہت سارے امور پر دونوں طرف کے حضرات کے موقف میں لچک آئی۔ لیکن مکمل ہم آہنگی نہ ہوسکی۔ جبکہ اگلے روز حاجی بلند اخترؒ اور ادھر کراچی سے باوا صاحب نے بھی آنا تھا۔ بہت حد تک امکان تھا کہ معاملہ پھر نہ الجھ جائے۔ عشاء کے بعد کھانا ہوا۔ حضرت قبلہؒ نے یہ رات سردار فضل محمود صاحبؒ خاکوانی کے مکان پر گزارنا تھی۔ اگلے روز ۹؍ بجے اجلاس شروع ہوا۔ تمام مبلغین حضرات اور اجلاس کے موقعہ پر دیگر ملنے والوں سے ہال کمرہ خالی کرا لیا گیا۔ تاکہ اگر اجلاس میں آواز بلند ہو تو باہر کوئی ساتھی سن نہ سکے۔ اجلاس تغلق روڈ کے دفتر کے کمرہ میں شروع ہوا۔ فون پر فقیر راقم کی ڈیوٹی تھی۔ ۱۰؍ بجے، ۱۲؍ بجے، ۲؍ بجے دو تین بار ڈاکٹر خالد خاکوانیؒ کا فون آتا رہا کہ اجلاس کی کیا صورت حال ہے؟۔ فقیر عرض کرتا کہ خیریت ہے کمرہ بند ہے۔ اجلاس شروع ہے۔ ظہر کے قریب اجلاس ختم ہوا۔ کھانا رکھا گیا۔ سب حضرات کھانا میں شریک ہوئے۔ دوران www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کھانا حدیث الطعام میں وہی پیار محبت، گپ شپ ۔ باہمی اعتماد، اخوت کے مناظر۔ گویا اختلاف نام کی کوئی چیز ہی نہ تھی ۔ کھانا سے فارغ ہوئے ۔ ظہر کی نماز پڑھی ۔ ڈاکٹر خالد خاکوانیؒ حضرت قبلہؒ کو لینے آئے تو پھر فقیر سے دریافت کیا کہ اجلاس کیسے رہا؟۔ فقیر نے عرض کیا کہ فیصلوں کی تو بھنک نہیں پڑی کہ کیا ہوئے ۔ البتہ یہ کہ باہمی پیار ومحبت سے پتہ چلتا ہے کہ خیریت ہی رہی ۔ اس پر ڈاکٹر خالد صاحب نے فرمایا خیر ہی ہوگی اور پھر انہوں نے بتایا کہ حضرت قبلہؒ عشاء سے لے کر فجر کی نماز تک پوری رات مصلے پر رہے ۔ ایک منٹ کے لئے آرام نہیں فرمایا۔ اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ اجلاس غیر معمولی ہے ۔ اس کا حضرت قبلہؒ کی طبیعت پر اثر ہے ۔
قارئین کرام ! واقعی اللہ رب العزت نے کرم فرمایا ۔ پوری رات حضرت قبلہؒ کے جاگنے کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا کہ صبح اجلاس میں تمام گتھیاں خود بخود سلجھتی گئیں اور جب اجلاس ختم ہوا تو تمام حضرات کے قلوب سے تمام اختلاف دور ہو چکا تھا۔ یہ حضرت قبلہؒ کی کرامت اپنی آنکھوں سے دیکھی ۔ اب یہاں پہنچ کر دل مسوس رہا ہے کہ اب مجلس کے لئے پوری پوری رات جا کر دعائیں کرنے والی شخصیت کون ہوگی ؟۔
۱۹...... دفتر مرکزیہ کی تعمیر اور حضرت قبلہؒ کی کرامت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی دفتر ملتان ، لوہاری گیٹ ، کچہری روڈ اور قدیر آباد کرایہ کے مکان میں رہا ۔ تغلق روڈ ملتان پر مجلس کے ملکیتی مرکزی دفتر کی تعمیر حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی مساعی جمیلہ کی مرہون منت ہے ۔ جب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ بنے تو حضوری باغ روڈ پر پہلے پچاس مرلہ زمین خرید کی گئی۔ (موجودہ گرین بیلٹ کا حصہ بعد میں خرید کیا گیا) اس پر سہ منزلہ دفتر مرکزیہ کی تعمیر کا حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے اہتمام فرمایا ۔ جس ٹھیکیدار کو تعمیر کا ٹھیکہ دیا وہ لاہور کا تھا۔ تقریباً اسی (۸۰) فیصد حصہ مکمل ہو گیا۔ بیس فیصد حصہ باقی تھا کہ ٹھیکدار نے مطالبہ کر دیا کہ مہنگائی ہوگئی ہے۔ ٹھیکہ کے ریٹ بڑھائے جائیں ۔ سردار میر عالم لغاری ، مولانا تاج محمودؒ ، حاجی عبدالقیوم مدنی وغیرہم حضرات کا موقف تھا کہ اسے ادائیگی بروقت ہوتی رہی ۔ اگر تاخیر ہوئی تو اس کا اپنا قصور ہے۔ اسی تاخیر میں ریٹ بھی بڑھے تو وہ خود ذمہ دار ہے۔
جبکہ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کا موقف تھا کہ یہ مجلس کا مخلص پرانا ساتھی ہے۔ اس کے ساتھ رعایت کی جائے ۔ مجلس کے حضرات کی دو آراء سامنے آجانے کا ٹھیکیدار کو بھی علم ہو گیا۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
وہ بگڑ گیا۔ پہلے منتیں کرتا تھا۔ اب قانون، عدالت کے راستے اسے سوجھنے لگے۔ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کا وصال ہو گیا تھا۔ ۱۰،۱۱؍ فروری ۱۹۸۰ء کے اجلاس شوریٰ میں فیصلہ ہوا کہ نمازیں نئے دفتر میں شروع کی جائیں۔ مولانا تاج محمودؒ، مولانا سید محمد بنوریؒ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، ان حضرات کا خانقاہ شریف میں فیصلہ ہوا کہ ٹھیکدار کو بے دخل کر دیا جائے۔ دفتر کی صفائی ستھرائی کر کے اسے نماز و رہائش کے قابل بنایا جائے۔ باقی تعمیر ٹھیکدار یا خود کرائیں۔ یہ ثانوی مسئلہ ہے۔ دفتر اسی (۸۰) فیصد تعمیر کے باوجود استعمال کے قابل نہیں۔ اسے استعمال کے قابل بنایا جائے۔ اس کو اوّلیت ہے۔ اب مشکل یہ درپیش تھی کہ ٹھیکدار نے بلڈنگ میں چوکیدار نگران رکھا ہوا تھا۔ اس کی اہلیہ بھی ساتھ تھیں۔ ٹھیکدار کی چوکیدار کو ہدایت تھی کہ میری اجازت بغیر کسی کو بلڈنگ میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ ہم جاتے ہیں چوکیدار شور کرتا ہے۔ بات تھانہ تک جاتی ہے تو مجلس کی سبکی نہ ہو۔ سردار فضل محمودؒ، مولانا تاج محمودؒ صاحب نے فرمایا کہ مقدمہ کی صورت میں پولیس سے ہم نپٹیں گے۔ آپ دفتر ٹھیکدار سے واگزار کرائیں۔ چنانچہ مختلف احباب کو شام کے وقت دفتر تغلق روڈ بلایا گیا کہ صبح نماز کے بعد نئے دفتر کو کھلوائیں گے۔
ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ دو دن کی رخصت پر گھر گئے ہوئے تھے۔ جس شام کو احباب جمع ہوئے۔ آخری مشورہ کے لئے سردار فضل محمود خاںؒ سے مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے رابطہ کیا تو سردار فضل محمودؒ نے مولانا عزیز الرحمن صاحب سے پوچھا کہ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ سے آپ حضرات نے قبضہ کے لئے اجازت طلب کی تھی۔ تو حضرت خواجہ صاحبؒ نے کیا فرمایا؟ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے فرمایا کہ مختلف آراء سامنے آنے کے بعد حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ: ”چکی کا ہتھہ ہاتھ میں ہونا ضروری ہے“ تو سردار فضل محمودؒ جو ریٹائرڈ ایس۔ پی تھے اور اعلیٰ حضرتؒ و حضرت ثانیؒ کے دور سے خانقاہ سراجیہ سے وابستہ تھے۔ پھول کی طرح شگفتہ ہو گئے۔ چہرہ پر خوشی سے مسکراہٹ چھا گئی۔
مولانا عزیز الرحمن جالندھریؒ سے فرمایا کہ مولانا! میں اس خانقاہ سے تین ادوار سے وابستہ ہوں۔ ان حضرات کی زبان پر تقدیر بولتی ہے۔ حضرت قبلہؒ کا یہ فرمانا کہ: ”چکی کا ہتھہ ہاتھ میں ہونا ضروری ہے“ یہ سند ہے۔ آپ اطمینان سے صبح کاروائی کا آغاز کریں۔ کچھ بھی نہیں ہوگا۔ ایک ککھ بھی آپ کے اوپر نہیں اڑے گا۔ چنانچہ رات تغلق روڈ دفتر میں رہے۔ صبح نماز کے بعد حضوری باغ روڈ، دس بارہ ساتھی گئے۔ جھاڑو، کسی، تغاری ہاتھ میں لئے۔ دروازہ جا کھٹکھٹایا۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
چوکیدار نے دروازہ کھولا۔ غالباً یہ بدھ کا روز تھا۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے چوکیدار سے فرمایا کہ صفائی کرانی ہے۔ کراچی کے مہمان تشریف لا رہے ہیں۔ جمعہ کا آغاز کرنا ہے۔ چوکیدار بغیر ایک لفظ کہے مان گیا۔ اب صفائی شروع ہوگئی۔ اوپر کے کمرے جو مکمل تھے ان کی صفائی کر کے مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کا وہاں دفتر قائم کر دیا۔ پرانے دفتر سے کتب خانہ، نئے دفتر منتقل کر دیا۔ تین چار گھنٹوں میں نیا دفتر رہائش کے قابل ہو گیا۔
ٹھیکدار کے ذمہ چوکیدار کی کچھ تنخواہ تھی۔ وہ مولانا عزیز الرحمن صاحب نے ادا کر دی تو وہ اہلیہ سمیت پرانے دفتر منتقل ہو گیا۔ اسی روز سپیکر نصب کر کے ظہر کی جماعت کا اہتمام ہو گیا۔ دن رات ایک کر کے ہر چند کہ ابھی مسجد کا فرش نہ پڑا تھا۔ اس کا روڑا برابر کیا۔ صفیں بچھانے کے لئے قابل کر کے جمعہ کا اعلان کر دیا۔ کراچی سے مولانا محمد بنوریؒ، خانقاہ شریف سے حضرت قبلہؒ جمعہ کو تشریف لائے تو ”چکی کا ہتھہ ہاتھ میں تھا“ اب جب سوچتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے حضرت قبلہؒ کتنے مستجاب الدعوات تھے۔ کہاں وہ ٹھیکدار کی تعلیاں۔ ادھر مجلس کے حضرات کا مختلف الرائے ہونا۔ اس کے باوجود نہ پتہ ہلا، نہ لکھ اڑا اور یہ معرکہ مار لیا گیا۔ یہ صرف حضرت قبلہؒ کی کرامت تھی اور بس۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کو اس کاروائی کا گھر پر معلوم ہو گیا۔ وہ دو روز بعد تشریف لائے تو پرانے دفتر جانے کی بجائے نئے دفتر تشریف لائے۔ ہم ٹاٹ بچھائے تپائیاں لگائے، دفتر قائم کئے ہوئے تھے۔ مولانا اندر داخل ہوئے تو مسکرائے اور فرمایا ماشاء اللہ میرے شیروں نے اکیلے یہ میدان فتح کر لیا۔ چلو ٹھیک ہوا۔ اسی میں خیر ہوگی۔ ایک تپائی اٹھائی اپنے سامنے رکھ کر فرمایا یہ میری مسند ہے۔ یہ فرما کر کام کرنا شروع ہو گئے۔ اس کے بعد کی تمام تعمیر و مرمت حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ، حضرت مولانا تاج محمودؒ کی مشاورت و حضرت قبلہؒ کی سر پرستی سے مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے مکمل کرائی۔ یہ ۱۴۰۰ھ کا واقعہ ہے۔ اس بات کو تیس سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے۔ اب لکھنے میں کوئی کمی بیشی ہو گئی ہو تو اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں۔ آمین!
۲۰......دارالمبلغین کی توسیع
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دارالمبلغین میں رد قادیانیت پر کورس کرائے جاتے تھے۔ اس کی دو صورتیں تھیں۔
- ۱...... دفتر مرکزیہ میں گاہے بگاہے سہ ماہی کلاسیں لگتی تھیں۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۲...... رمضان المبارک میں جہاں کہیں دورہ تفسیر القرآن، دورہ صرف ونحو کے
کورس ہوتے ہیں وہاں ہفتہ دس دنوں کے لئے مجلس کے مبلغین تشریف لے جا کر رد قادیانیت پر ان کو تربیت دیتے تھے۔
حضرت قبلہؒ جب مجلس کے امیر مرکزیہ منتخب ہوئے۔ ایک تو مرکزی شوریٰ کے اجلاس ایک روز کی بجائے دو دو روز منعقد ہونے لگے۔ مثلاً ۱۰، ۱۱ / فروری ۱۹۸۰ء کا اجلاس دو روز ہوا۔ پہلے دن اجلاس صبح دس بجے سے عصر تک، رات کو بعد از عشاء تا رات بارہ بجے، دوسرے دن ۹؍ بجے سے تین بجے دن اجلاس منعقد ہوئے۔ اس میں بڑی تفصیل سے ایک ایک بات پر گفتگو ہونے لگی اور پھر فیصلے اور ان پر عملدرآمد کی صورتحال پر بحث ہوئی۔ اسی طرح ۱۴، ۱۵ / دسمبر ۱۹۸۰ء کو اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں فیصلہ کیا گیا کہ مجلس کے دارالمبلغین کے تحت سہ ماہی کلاس شوال تا ذی الحجہ ضرور لگے۔ فارغ التحصیل علماء کو وظیفہ دے کر تربیت دی جائے اور شعبان میں رد قادیانیت کورس کا اہتمام کیا جائے۔ جس میں مدارس کے طلباء، علماء شریک ہوں۔ تب سے اس وقت تک حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں ان سالانہ کورسوں کا اہتمام ہوا۔ پہلے ملتان، اب چناب نگر میں یہ کورس ہوتے ہیں۔ ہزارہا علماء نے اس سے استفادہ کیا۔ اسی طرح سال بھر میں مختلف مجلس کے دفاتر جیسے لاہور، فیصل آباد، بہاول پور، رحیم یار خان، کراچی، کوئٹہ، گوجرانوالہ کے کورسز سے ہر سال ہزار ہا لوگوں نے استفادہ کیا۔ سہ ماہی کورس ملتان میں بھی ہو رہا ہے۔ یہ سب ہمارے حضرت قبلہؒ کی فیوض و برکات ہیں۔
۲۱...... مجلس عمومی کا اجلاس، امیر و نائب امیر کا چناؤ مارچ ۱۹۸۱ء
پہلے گزر چکا ہے کہ ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۷ء میں حضرت خواجہ صاحبؒ کو مجلس کا امیر مرکزیہ منتخب کیا گیا۔ تین سال پورے ہونے پر ۸ / مارچ ۱۹۸۱ء کو ملتان دفتر جدید حضوری باغ روڈ میں مجلس عمومی کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں اس کثرت سے وفود و قافلے شریک ہوئے کہ سابقہ سب ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اہم ترین حضرات کے رجسٹر پر دستخط کرائے گئے تو ان کی تعداد بھی اڑھائی صد سے زائد ہو گئی۔ اتنی کثرت سے ممبرشپ، عمومی کے ممبران اور پھر اس ذوق سے ان کی شرکت۔ یہ بہاریں ہمارے حضرت قبلہؒ کے وجود مبارک کی برکتیں تھیں۔ مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے اجلاس کی غرض و غایت بیان کی۔ صدر اجلاس قبلہ حضرت صاحبؒ کے حکم پر مولانا تاج محمودؒ نے قیام مجلس سے لے کر اس وقت کی صورتحال، قادیانیت کی پسپائی اور مجلس کی کامیابیوں و کامرانیوں و فتوحات
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۸۲ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
پر تفصیل سے گفتگو کر کے آئندہ تین سال کے لئے حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب کا نام امیر مرکزیہ کے لئے تجویز کیا۔ اس پر پورے ہاؤس نے تائیدی آراء اور تحسین کے جذبات کا اظہار کیا۔ محترم باوا صاحب نے مولانا مفتی احمد الرحمن صاحبؒ، مولانا صوفی اللہ وسایا صاحبؒ ڈیرہ غازیخان نے مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ، شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ کا نام نائب امیر کے لئے پیش کیا۔ اس پر ہر ایک مجوز نے مختصراً اپنی رائے پر دلائل بھی دیئے۔ اب سوائے استصواب کے چارہ نہ رہا۔ تو حضرت مولانا غلام محمد صاحبؒ مدرسہ قاسم العلوم ڈیرہ غازیخان نے تجویز دی کہ استصواب کی بجائے مناسب ہوگا کہ تینوں حضرات کے متعلق آراء آچکی ہیں۔ اب تمام حضرات، حضرت امیر مرکزیہ قبلہ حضرت صاحبؒ سے استدعا کریں کہ وہ جن کے متعلق فرما دیں وہی نائب امیر ہوں گے۔ استصواب کی ضرورت نہیں۔ اس تجویز کو پورے ہاؤس نے اتفاق سے قبول کر لیا تو حضرت قبلہؒ سے درخواست کی گئی۔ آپ نے نائب امیر کے لئے حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحبؒ کا نام منتخب فرمایا۔ چنانچہ وہ آئندہ تین سال کے لئے نائب امیر منتخب ہو گئے۔
قارئین کرام! ہمارے حضرت قبلہؒ کی کم گوئی کے تو سب گواہ ہیں۔ لیکن یہ واقعہ ہے کہ کبھی کبھار کسی ضرورت سے حضرت قبلہؒ کو اظہار خیال کی ضرورت پیش آ جاتی۔ آپ تمام بحث کو ایک آدھ جملہ میں سمیٹ دیتے تو وہ حاصل مجلس یا یہ آپ کی اصابت رائے کی چمکتی دمکتی تصویر ہوتی تھی۔ یہ آپ کے تقویٰ اور اصابت رائے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات سے قوی تعلق کی دلیل ہے۔ ایسے موقعہ پر آپ کی زبان، ترجمان حق کی آئینہ دار ہوتی تھی۔
۲۲.......مولانا محمد شریف جالندھریؒ ناظم اعلیٰ
مولانا محمد شریف جالندھریؒ بہت زیرک، معاملہ فہم، محنتی اور جفاکش، مجاہد فی سبیل اللہ عالم دین تھے۔ آپ دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد رشید تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی جب بنیاد رکھی گئی تو وہ کارروائی بھی مولانا نے لکھی اور جب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو اس کی خیر مقدمی قرارداد بھی آپ نے تحریر فرمائی تھی۔ آپ نے پہلے مجلس احرار میں اور پھر مجلس تحفظ ختم نبوت میں کام کیا۔ آپ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے عہد امارت مورخہ ۹؍اپریل ۱۹۷۴ء سے ۲۷؍دسمبر ۱۹۷۷ء تک مجلس کے ناظم اعلیٰ رہے۔ جماعتی فیصلہ کے باعث دسمبر ۱۹۷۷ء سے مارچ ۱۹۸۱ء تک کے دور میں مولانا
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
عبدالرحیم اشعر کو مرکزی ناظم اعلیٰ بنایا گیا اور ان تین سالوں میں قریباً حالات پر حضرت قبلہؒ کی نیم شبانہ دعاؤں نے قابو پالیا۔ تو مارچ ۱۹۸۱ء میں دوبارہ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کو حضرت قبلہؒ نے ناظم اعلیٰ نامزد فرمادیا۔
قارئین! ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت سے قبل مولانا محمد شریف جالندھریؒ کا ناظم اعلیٰ بننا اور ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت سے قبل پھر آپ کا نظامت علیاء کے عہدہ پر فائز ہونا تحریک ختم نبوت کی کامیابی کے لئے قدرت کی طرف سے انتظام ہی کہا جاسکتا ہے تو اس کی تقرری کے لئے حضرت بنوریؒ و حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب سے اللہ رب العزت کا یہ کام لینا بھی یقیناً ان ہر دو حضرات کی عنداللہ مقبولیت کی دلیل ہے۔
۲۳...... قبلہ حضرت صاحبؒ اور مجلس کے نئے دفاتر و مراکز کی تعمیر
۹ اگست ۱۹۸۱ء کو مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ کا ملتان میں اجلاس ہوا۔ اس میں فیصلہ ہوا کہ قادیانیت کے متعلق مطالبات کو ترتیب دینے کا کام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کریں۔ پھر وہ مطالبات، حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ راولپنڈی، حضرت مولانا محمد عبداللہ خطیب لال مسجد اسلام آباد (یہ ہر دو حضرات بھی مجلس کی شوریٰ کے رکن تھے) کے ذریعہ راجہ ظفر الحق صاحب کو پیش کئے جائیں تاکہ وہ جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کو ان مطالبات کے پورا کرنے پر آمادہ کریں۔ ادھر فیصلہ ہوا کہ ۷ ستمبر ۱۹۸۱ء کو سیرت کانفرنس کا چناب نگر میں اہتمام کیا جائے۔ اسٹیشن پر گورنمنٹ نے منظوری نہ دی تو پھر مسلم کالونی میں اجلاس ہوا۔ اگلے سال یعنی اکتوبر ۱۹۸۲ء میں باقاعدہ ختم نبوت کانفرنس کی مسلم کالونی میں داغ بیل ڈالی گئی۔ اس وقت سے تاامروز ہر سال یہ کانفرنس حضرت قبلہؒ کی زیر صدارت منعقد ہوتی رہی۔ اس اجلاس اگست ۱۹۸۱ء میں فیصلہ ہوا کہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سکھر، کراچی میں مجلس کے پلاٹ موجود ہیں۔ ان کی تعمیر کا آغاز کیا جائے۔
۲۴......۱....... گوجرانوالہ میں مرکز ختم نبوت کی تعمیر
قارئین کرام! گوجرانوالہ اندرون سیالکوٹی گیٹ مجلس کا ملکیتی دفتر موجود ہے۔ جو شہر کے وسط میں ہے۔ لاہور روڈ کنگنی والا میں حضرت حاجی محمد یوسف صاحب ساکن کھیالی کی سکنی زمین تھی۔ ۴ کنال انہوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے اور ۴ کنال اس کے ساتھ ملحقہ دارالعلوم دیوبند کے لئے وقف کی۔ جو چار کنال انہوں نے مجلس کے لئے وقف کی۔ اس پر تعمیر
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کے لئے حضرت قبلہؒ کے عقیدت مند و مرید حافظ نذیر احمد جو خانقاہ سراجیہ کے متعلقین سے ہیں۔ ان کی زیر نگرانی مسجد و مدرسہ کی تعمیر کا کام کرنے کا حضرت قبلہؒ نے اس اجلاس میں فیصلہ فرمایا۔ محترم حافظ نذیر احمد صاحب عالمی مجلس کی شوریٰ کے بھی رکن ہیں۔ آپ نے تعمیر کے لئے بھرپور جدوجہد فرمائی۔ مسجد و مدرسہ اور باہر بائیس دکانوں کی تعمیر ہوئی۔ اب وہاں پر دفتر قائم ہے۔ سالانہ ریفریشر کورس سکولز و کالج کے طلباء کے لئے رد قادیانیت پر منعقد ہوتے ہیں۔ نمازیں، صبح کا درس، جمعہ، بچوں بچیوں کی قرآنی تعلیم کا انتظام ہے۔ مکمل انتظام کی مرکز کی طرف سے مقامی جماعت نگرانی کرتی ہے۔ اس کی ابتدائی تعمیر سے لے کر اس وقت تک کی ترقی تک خالصۃً حضرت قبلہؒ کی حسنات کا حصہ ہے۔ حق تعالیٰ نے گوجرانوالہ میں مجلس کو یہ جو مرکز نصیب کیا۔ اس کی تعمیر کے آغاز پر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ، حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی تشریف آوری، حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ کا بیان، رفقاء کا جمع ہونا۔ اس منظر کا اس تحریر کے وقت خیال کرتا ہوں تو سرور سے روح وجد کرنے لگتی ہے کہ اللہ رب العزت نے کس طرح کی برکات کا ہمارے حضرت قبلہؒ کو مظہر بنایا تھا۔
۲۵......۲...... سیالکوٹ میں مجلس کے مرکز کی تعمیر
سیالکوٹ ڈیفنس روڈ پر ایک نئی کالونی میں مجلس کو مسجد و دفتر کے لئے پلاٹ الاٹ ہوا۔ عالمی مجلس سیالکوٹ کے پیر بشیر احمد گیلانی اس پلاٹ کو مجلس کے لئے وقف کرنے کے داعی بنے۔ (اگست ۱۹۸۱ء) میں اس کی تعمیر کا فیصلہ ہوا۔ آج وہاں جامع مسجد بنوریؒ، اس کی دوسری منزل میں عظیم الشان دفتر قائم ہے۔ اس مرکز کی تعمیر کا ثواب بھی ہمارے قبلہ حضرت صاحبؒ کے لئے ذخیرہ آخرت ہے۔ اس کی تعمیر کا خواب بھی شرمندہ تعبیر حضرت قبلہؒ کے عہد زریں میں ہوا۔ ہمارے سیالکوٹ کے موجودہ امیر پیر شبیر احمد گیلانی کی نگرانی میں دوسری منزل میں کئی لاکھ روپیہ کے مصرف سے مجلس مرکزیہ نے دفتر تعمیر کرایا ہے۔ جس میں رہائش، دفتر، لائبریری، مہمان خانہ کی سہولیات حاصل ہیں۔ فالحمدللہ اوّلا و آخراً!
۲۶......۳...... سکھر میں مجلس کے مرکز کی تعمیر
معصوم شاہ مینارہ روڈ سکھر بلند پہاڑی کا کچھ حصہ مجلس کو دفتر و مدرسہ کے لئے الاٹ ہوا۔ پہاڑی کو کاٹ کر سڑک کے برابر کیا گیا۔ اس پر خاصہ خرچہ ہوا۔ نیچے دس دکانیں تعمیر کر کے فرسٹ فلور پر دفتر و تعلیم القرآن مدرسہ کے لئے بلڈنگ تعمیر کی گئی۔ دوسری منزل پر مبلغ کی رہائش
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کے لئے خوبصورت مکان تعمیر ہوا۔ اس پر لاکھوں خرچ آئے۔ اس کا فیصلہ بھی اگست ۱۹۸۱ء کی میٹنگ میں ہوا، اور یہ تعمیر بھی حضرت قبلہؒ کے عہد امارت کی خوبصورت و حسین یادگار ہے۔
۲۷.......کراچی میں مجلس کے مرکز کی تعمیر
اگست ۱۹۸۱ء کی اس میٹنگ میں کراچی مسجد باب الرحمت پرانی نمائش کی خستہ مسجد کو گرا کر دفتر، رہائش گاہیں اور جامع مسجد کی نئی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان بننے کے بعد جنوری ۱۹۴۹ء میں جب مجلس کی بنیاد رکھی گئی تو کراچی میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر بندر روڈ سائرہ مینشن بالمقابل ریڈیو پاکستان کراچی میں قائم کیا گیا۔ ۱۹۵۳ء کی جب تحریک ختم نبوت چلی تو مولانا لال حسین اخترؒ اسی دفتر کے انچارج تھے۔ اسی تحریک میں حضرت امیر شریعتؒ، مولانا ابوالحسنات قادریؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، سید مظفر علی شمسیؒ اسی دفتر سے گرفتار ہوئے تھے۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں یہی دفتر تھا۔ اب یہ عمارت بہت پرانی ہو گئی تھی۔ نیز یہ کہ دفتر بھی کرایہ پر تھا۔ چنانچہ مسجد باب الرحمت پرانی نمائش کا ایک ٹرسٹ رجسٹرڈ کرایا گیا۔ تب ٹرسٹ کے صدر حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحبؒ تھے۔ اسی مسجد میں مجلس کا دفتر قائم کیا گیا۔ جیسے کیسے نظم چلتا رہا۔ لیکن یہ مسجد بھی اتنی بوسیدہ اور خستہ تھی کہ اس کی تعمیر جدید ضروری تھی۔ اس کی تعمیر نو کا فیصلہ ہوا۔ اللہ رب العزت ہمارے حضرت خواجہ خان محمد صاحبؒ، مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ، مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، مولانا منظور احمد الحسینیؒ کی قبور پر اپنی رحمتوں کی موسلا دھار بارش نازل فرمائیں کہ اللہ رب العزت کا نام لے کر اس کام کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کوہ قامت دفتر، عظیم الشان دو منزلہ مسجد، چار رہائش گاہیں، لائبریری، ہال کمرہ، مہمان خانہ تیار ہو گئے۔ جو حضرات، اللہ رب العزت کو پیارے ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبور کو بقعۂ نور بنائے۔ جو زندہ سلامت ہیں اللہ تعالیٰ ان کی مساعی کو ذخیرہ آخرت بنائیں۔ آمین!
۲۸.......حیدر آباد میں ختم نبوت مرکز کی تعمیر
ہر چند کہ اگست ۱۹۸۱ء کے فیصلہ کے مطابق جو ختم نبوت کے مراکز و دفاتر حضرت قبلہؒ کے حکم یا عہد امارت میں تعمیر ہوئے ان کا ذکر چل رہا تھا۔ اب ذیل میں چند اور مراکز کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ان کا اگست ۱۹۸۱ء کی میٹنگ سے تو تعلق نہیں۔ لیکن حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں ان کی تعمیر ہوئی۔ اس لئے ان کا تذکرہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ ان مراکز میں سے ایک
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
حیدرآباد دفتر کی تعمیر ہے۔ جو آٹو بھان روڈ، لطیف آباد نمبر ۲ میں مجلس کا ملکیتی دو منزلہ دفتر ہے۔ اس کے پلاٹ کی خریداری اور تعمیر و توسیع سب کچھ حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں ہوا۔
۲۹......۶...... کوٹری ضلع حیدرآباد میں مرکز کی تعمیر
کوٹری سندھ میں گوہر شاہی ملعون کا مرکز تھا۔ اس کے توڑ کے لئے وہاں مسجد و مدرسہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے قائم کئے۔ وہ دونوں مراکز تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دے رہے جو حضرت قبلہؒ کے عہد امارت کی خوبصورت یادیں ہیں۔
۳۰.......۷...... کنری میں ختم نبوت مسجد و مدرسہ کا قیام
کنری میں ختم نبوت کی مساجد و مراکز حضرت محمد علی جالندھریؒ کے عہد امارت کی یادیں ہیں۔ ان کی توسیع حضرت شیخ بنوریؒ کے عہد امارت میں ہوئی۔ تکمیل حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں ہوئی۔
۳۱.......۸....... سرگودھا دفتر ختم نبوت کی تعمیر
سرگودھا میں ختم نبوت کا دفتر بلاک نمبر ۱۴، کچہری بازار مختلف مقامات پر رہا۔ ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کی درخواست پر حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی کو حضرت قبلہؒ نے سرگودھا میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا مبلغ مقرر کیا۔ مولانا طوفانی صاحب مجلس کا دفتر فاطمہ جناح روڈ پر مولانا قاری محمد اقبال کی مسجد میں لائے۔ پھر لکڑ منڈی سرگودھا کی مسجد میں دفتر کو منتقل کیا۔ اس مسجد کے ساتھ مولانا نے جگہ خریدی۔ اس کا مجلس کے نام انتقال کرایا۔ اب وہاں پر مجلس کا ملکیتی دفتر موجود ہے۔ اس کا حضرت قبلہؒ نے ۲۳ اکتوبر ۱۹۸۵ء کو افتتاح فرمایا۔ اس کی خریداری و تعمیر پر مولانا محمد اکرم طوفانی نے سرگودھا مجلس کے رفقاء اہل خیر سے زیادہ تر انتظام کیا۔ تاہم ضرورت کے تحت گاہے بگاہے لاکھوں کے حساب سے مرکز نے بھی تعاون کیا۔ یہ بھی ہمارے حضرت قبلہؒ کا فیض ہے۔ اللہ رب العزت کو منظور ہے تو جب تک یہ دفتر قائم ہے۔ اس میں خیر و برکت کے امور انجام پارہے ہیں۔ تب تک ہمارے حضرت قبلہؒ کی روح پرفتوح کو ثواب مل رہا ہے اور ملتا رہے گا۔ انشاء اللہ العزیز!
۳۲.......۹...... ٹالہی میں ختم نبوت مسجد و مدرسہ کا قیام
ٹالہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر قادیانیوں کی جاگیریں ہیں۔ وہاں عالمی مجلس تحفظ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۸۷ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ختم نبوت نے پلاٹ خرید کر مسجد و مدرسہ کی تعمیر کی سعادت حاصل کی ۔ یہ حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں ہوا۔
۳۳......۱۰......ختم نبوت مسجد و دفتر گمبٹ کی تعمیر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مسجد و مدرسہ گمبٹ ضلع خیر پور میرس میں قائم ہوئے۔ گمبٹ کی مجلس نے اس کے لئے جان توڑ محنت کی ۔ عالمی مجلس مرکزیہ نے بھی خطیر رقم سے اس کی تکمیل میں ہاتھ بٹایا۔ یہ بھی حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں ہوا۔
۳۴......۱۱......دفتر ختم نبوت رحیم یار خان کی تعمیر
سرکلر روڈ پر دو منزلہ دفتر ختم نبوت رحیم یار خان کی تعمیر کے محرک مولانا قاری حماد اللہ شفیقؒ بنے اور اس کے لئے جان توڑ جدوجہد مولانا حافظ احمد بخش مرحوم، مولانا قاضی عزیز الرحمن، مولانا قاری محمد اکمل ہاشمیؒ کے حصہ میں آئی۔ حضرت قبلہؒ نے اس کا سنگ بنیاد رکھا۔ تعمیر مکمل ہونے پر افتتاح فرمایا۔
۳۵......۱۲......دفتر لاہور کی خریداری و تعمیر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر بیرون دہلی دروازہ میں کرایہ پر تھا۔ ۸؍جون ۱۹۹۰ء کو جامع مسجد عائشہ کو لاہوری گروپ سے واگزار کرائی گئی۔ مسجد کے قریب کا حصہ مالک مکان سے حضرت والا کے دور میں خطیر رقم خرچ کر کے خریدا اور تعمیر کیا گیا۔ یہ بھی ہمارے حضرت قبلہؒ کی باقیات الصالحات میں سے ہے۔
۳۶......۱۳......دفتر ختم نبوت کوئٹہ کی خریداری
کوئٹہ میں قدیم سے لیاقت بازار میں ختم نبوت کا دفتر کرایہ کے ایک چوبارہ پر واقع تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے امیر حضرت مولانا منیر الدینؒ مقرر ہوئے۔ تب کرایہ کے دفتر کے مالکان نے دفتر کی عمارت خالی کرنے کا مطالبہ کیا۔ مولانا منیر الدین صاحبؒ نے فرمایا کہ فوراً خالی کر دیں۔ مالک کے تقاضا کے بعد اپنے تصرف میں رکھنا جائز نہیں۔ اب نئے دفتر کی تلاش کا کام شروع ہوا۔ آرٹ سکول روڈ پر ملکیتی دفتر مل گیا۔ یہ بھی ہمارے حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں ہوا۔ اب کوئٹہ، کراچی، لاہور، اسلام آباد میں مجلس کے ملکیتی دفاتر موجود ہیں۔ صرف پشاور میں موجود نہیں۔ اللہ رب العزت کرم فرمادیں تو ان کے خزانہ میں کیا کمی ہے۔ یہ سب کچھ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
بہاریں، مراکز ، مدارس، مساجد کی رونقوں میں ہمارے حضرت قبلہؒ کی سحر گاہی کی دعاؤں کا صرف حصہ نہیں۔ بلکہ ان دعاؤں کے ثمرات مبارک ہیں۔
۳۷......۱۴...... ژوب بلوچستان میں مجلس کے دفتر کی خریداری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ژوب (فورٹ سنڈیمین بلوچستان) مجاہد ملت حضرت جالندھریؒ کے عہد امارت میں قائم ہوئی۔ پاکستان میں ژوب واحد ضلع ہے جہاں کوئی قادیانی آفیسر مقرر نہیں ہوسکتا۔ مولانا شمس الدینؒ نے تحریک ختم نبوت کے لئے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ محترم الحاج محمد عمر صاحبؒ اور الحاج صوفی محمد علی صاحبؒ نے اپنے دور میں مجلس کے کام کو بام عروج تک پہنچایا۔ اب ان ہر دو حضرات کے صاحبزادگان اس کام کو برابر آگے بڑھا رہے ہیں۔ وہاں اب ویگن اڈہ کے قریب اپنا ملکیتی دفتر ایک کنال سے بھی زائد رقبہ پر مشتمل خرید کیا ہے۔ اس کی منظوری و تعمیر کا آغاز ہمارے حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں ہوا۔ اللہ رب العزت ہمارے حضرات کی اس یاد کو تا دیر آباد و شاد رکھیں۔ آمین!
۳۸......۱۵...... دفتر ختم نبوت فیصل آباد کی تعمیر
فیصل آباد میں پہلے دفتر امین پور بازار میں تھا۔ پھر ریلوے مسجد، پھر طارق آباد، پھر گرو نانک پورہ مسجد قباء میں منتقل ہوتا رہا۔ حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں ڈاکٹر محمد صولت نواز صاحب نے ۷ مرلہ قطعہ اراضی بھی مجلس کے نام کرایا اور پھر تعمیر بھی خود کرا کر مجلس کے سپرد کیا۔ اس کی تعمیر میں مجلس نے معمولی حصہ ڈالا۔ یہ ڈاکٹر محمد صولت نواز صاحب کا صدقہ جاریہ اور ہمارے حضرت قبلہؒ کی یادگار ہے۔
۳۹......۲۹ مئی ۱۹۸۲ء کو ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کا اجراء
قارئین! حضرت شیخ بنوریؒ کے بعد پہلی بار حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب ۲۸؍دسمبر ۱۹۷۷ء کو مجلس کے مرکزی امیر بنے۔ دوسری بار ۱۹۸۱ء میں، تین سال کے بعد دوبارہ امیر منتخب ہوئے۔ دوبارہ منتخب ہونے کے بعد مجلس شوریٰ کا یہ دوسرا اجلاس تھا۔ جو ۲۵؍مئی ۱۹۸۲ء میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں یہ خوشخبری و کامیابی سننے کو ملی کہ مجلس اپنے یوم تاسیس سے ختم نبوت کے نام پر ڈیکلریشن حاصل کرنے کے لئے ساعی رہی۔ قادیانی عفریت نے حکومتی دوائر میں ایسا پھن پھیلا رکھا تھا کہ حکومت نے اجازت نہ دی۔ اب ضیاء الحق کے زمانہ میں کراچی سے ہفت روزہ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ختم نبوت کے ڈیکلریشن کی درخواست دی۔ خیر سے وہ بھی مسترد ہو گئی۔ ان دنوں راجہ ظفر الحق صاحب وفاقی مذہبی امور کے وزیر تھے۔ انہوں نے مداخلت کی تو ڈیکلریشن مل گیا۔ ۲۹؍ مئی ۱۹۸۲ء کو اس کا پہلا پرچہ جاری ہوا۔ اس میں حضرت قبلہؒ کا پیغام تہنیت آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ اس پرچہ کا اجراء آپ کے عہد مبارک میں ہوا۔ جب تک یہ پرچہ جاری رہے گا۔ حضرت قبلہؒ کی یادوں کی خوشبو چہار سو پھیلتی رہے گی۔ اشاعت اوّل میں دیگر حضرات کے علاوہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کا پیغام بھی شائع ہوا۔
قارئین! ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کو چناب نگر (ربوہ) اسٹیشن پر قادیانی درندوں نے مسلمان طلباء پر قاتلانہ حملہ کیا۔ جس کے ردّعمل میں تحریک چلی جو قادیانیوں کے غیر مسلم قرار دیئے جانے پر منتج ہوئی۔ اس حوالہ سے ہفت روزہ ختم نبوت کے اجراء کے لئے ۲۹؍ مئی ۱۹۸۲ء کی تاریخ طے کی گئی۔ اسی موقعہ پر چناب نگر جلسہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس میں امام اہل سنت مولانا قاضی مظہر حسینؒ (چکوال) کو دعوت دی گئی کہ وہ جاکر ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کا ربوہ میں افتتاح فرمائیں۔ یہ اس لئے کیا گیا کہ مولانا قاضی مظہر حسینؒ کے والد گرامی قاضی کرم الدینؒ ، مدعی مرزا قادیانی کے خلاف عدالتوں میں برسر پیکار رہے۔ اس کی یاد اور اس نسبت کی برکت کے حصول کے لئے قبلہ قاضی مظہر حسینؒ کو دعوت دی گئی کہ وہ ہفت روزہ ختم نبوت کا چناب نگر سے افتتاح کریں۔ ختم نبوت کے نام پر پرچہ کا ڈیکلریشن حضرت مولانا جالندھریؒ کے عہد امارت سے اس پر باقاعدہ محنت شروع ہوئی۔ قدرت نے یہ سعادت حضرت قبلہؒ کے عہد امارت کے مقدر میں لکھی تھی کہ ختم نبوت کے نام پر پرچہ کا ڈیکلریشن آپ کے عہد میں ملا۔
۴۰...... ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کا آغاز
۷؍ ستمبر ۱۹۸۱ء کو سیرت کانفرنس ریلوے اسٹیشن چناب نگر کا اشتہار شائع کیا گیا۔ گورنمنٹ نے کہا کہ اسٹیشن کی بجائے مسلم کالونی میں یہ کانفرنس کرو۔ چنانچہ سیرت کانفرنس ۷؍ ستمبر ۱۹۸۱ء مسلم کالونی میں ہوئی۔ اب راستہ کھل گیا تھا۔ چنانچہ ۲۵؍ مئی ۱۹۸۲ء کے شوریٰ کے اجلاس میں حضرت قبلہؒ کی زیر صدارت فیصلہ ہوا کہ اکتوبر ۱۹۸۲ء میں چناب نگر میں ختم نبوت کانفرنس کا آغاز کیا جائے۔ چنانچہ آپ نے استقبالیہ کا سرپرست مولانا تاج محمودؒ ، استقبالیہ کا صدر مولانا محمد اشرف ہمدانی، استقبالیہ کمیٹی میں لاہور سے حاجی بلند اختر، گوجرانوالہ سے چوہدری غلام نبی، ملتان سے مولانا محمد شریف جالندھریؒ ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اور چناب نگر سے فقیر راقم کو شامل کیا گیا۔ کانفرنس ہوئی، دھوم دھام سے ہوئی۔ رشحات قلم میں پہلی کانفرنس کا خطبہ صدارت شامل اشاعت ہے۔
۲۰۰۷ء میں حضرت قبلہؒ کے صاحبزادگان نے حضرت قبلہؒ کے اسفار پر پابندی لگا رکھی تھی۔ فقیر حاضر ہوا۔ اشتہار پیش کیا۔ دعاء کے لئے درخواست کی تو حضرت قبلہؒ نے ازخود فرمایا کہ اس کانفرنس کے لئے میں سفر کروں گا۔ ۲۰۰۸ء میں بھی تیار تھے۔ اچانک سفر کے روز زیادہ نقاہت ہوگئی کہ مجبوراً تشریف نہ لاسکے۔ گذشتہ سال ۲۰۰۹ء میں تو بالکل سفر کے قابل نہ تھے لیکن سفر کیا۔ دن بھر شریک رہے اور رات کے اجلاس کی صدارت بھی فرمائی۔ بہت کمزوری تھی۔ جب دعاء کے لئے ہاتھ اٹھائے تو کمزوری کے باعث ہاتھ مبارک کانپ رہے تھے۔ اس کیفیت پر اجتماع پر جو اثر ہوا۔ اس کا تو قارئین اندازہ فرما سکتے ہیں۔ اب آپ کے وصال کے بعد ۹؍ مئی ۲۰۱۰ء کی ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد میں حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب کے چناب نگر کانفرنس کے موقعہ پر کانپتے ہاتھوں سے دعاء کا مولانا فضل الرحیم اشرفی نے ذکر کیا تو اجتماع پر غم کی چادر تن گئی۔
قارئین ! اب کیا عرض کیا جائے کہ صرف یادیں رہ گئیں۔ ان مناظر کے دیکھنے کو زندگی بھر آنکھیں ترستی ہی رہیں گی۔ آپ کے بعد اب زندگی گزرے گی تو سہی۔ لیکن بے کیف، وہ بہاریں، وہ رونقیں، انہیں ڈھونڈو چراغ رخ زیبا لے کر۔ فقیر راقم کی طرح بہت سارے احباب کو یاد ہوگا۔ ۲۰۱۰ء میں ختم نبوت کانفرنس کا اختتامی اجلاس بعد از جمعہ شروع ہوا۔ آپ کو جمعہ پڑھ کر ویل چیئر پر اجتماع کے قریب سے گاڑی پر سوار کرانے کے لئے گزارا گیا۔ تو جس کی نظر پڑی، پھٹی آنکھوں، دل گرفتہ حالت کا وہ منظر آنکھوں کے سامنے اب لایا جائے تو اک ہوک سی اٹھتی ہے۔ اب اسی ہوک وکوک سے ہی واسطہ رہے گا۔ (چلئے آگے چلتے ہیں ورنہ تو اپنی حالت یہ ہے کہ دل کا جانا ٹھہر گیا۔ صبح گیا کہ شام گیا)
۴۱....... جنرل ضیاء الحق کا قانون کو منسوخ کرنا
۲۵؍ مئی ۱۹۸۱ء کے اجلاس شوریٰ میں ایک مسئلہ یہ بھی زیر بحث آیا کہ: ’’جنرل محمد ضیاء الحق صدر مملکت نے آرڈیننس نمبر ۲۷، مجریہ ۸؍ جولائی ۱۹۸۱ء کو ۳۳۴ قوانین منسوخ کئے۔ جو پی۔ ایل۔ ڈی جنوری ۱۹۸۲ء میں گورنمنٹ نے شائع کئے۔ اس سیریل ۲۷۲ پر ترمیم نمبر ۲، ۱۹۷۴ء جس کے ذریعہ آئین پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ منسوخ تھی۔ نیز سیریل نمبر ۳۱۲ پر ترمیمی آرڈیننس (۷) مجریہ ۱۹۷۹ء بھی منسوخ تھا۔ جس کی بناء پر قادیانی ہر دو گروپ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
صرف غیر مسلم اقلیتوں کی نشست پر ہی انتخاب میں حصہ لے سکتے تھے اور ان کے ووٹر بھی صرف قادیانی ہی ہو سکتے تھے۔
پی۔ایل۔ڈی جنوری ۱۹۸۲ء شائع ہونے کے بعد ملک میں ان ہر دو قوانین کی منسوخی پر ہیجان پیدا ہوا۔ مجلس نے اس آواز کو اٹھایا۔ پریس کانفرنسیں ہوئیں۔ وفاقی مجلس شوریٰ میں بھی صدائے بازگشت پہنچی۔ صدر مملکت نے آرڈیننس ۱۹۸۲ء کے ذریعہ نمبر ۲۷۲ پر منسوخ ہونے والی ترمیم نمبر ۲، ۱۹۷۴ء کو بحال کر دیا۔ لیکن آرڈیننس میں نمبر ۳۱۳ پر منسوخ ہونے والی عبوری آئین کی دفعہ جس کے ذریعہ قادیانی غیر مسلم نشستوں پر قادیانی غیر مسلم ووٹر کے پابند تھے اس کی بحالی کا ذکر تک نہیں۔ مجلس شوریٰ، مجلس تحفظ ختم نبوت نے فیصلہ کیا کہ عبوری آئین کی اس دفعہ کی بحالی کے لئے وفاقی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں آواز اٹھائی جائے۔‘‘
(از رجسٹر نمبر ۳ کاروائی مجلس شوریٰ ص ۶)
اس کی تلافی کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ۱۲۵ وکلاء و نامور قانون دانوں کی رائے گرامی پر مشتمل اشتہار نوائے وقت میں شائع کیا۔ مولانا قاری سعید الرحمنؒ، مولانا سمیع الحق، مولانا مفتی زین العابدینؒ، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ کے ذریعہ ضیاء الحق صاحب تک اپنی آواز پہنچائی۔ چنانچہ ان کی طرف سے آرڈیننس جاری ہوا جس میں وضاحت تھی کہ ترمیم نمبر ۲ مجریہ ۱۹۷۴ء اور سیریل نمبر ۳۱۳ ترمیمی آرڈیننس مجریہ ۱۹۷۹ء علی حالہ دونوں مؤثر ہیں اور قانون میں قادیانیوں کے متعلق جو حیثیت پہلے سے موجود تھی اب مارشل لاء دور میں بھی وہ موجود ہے کہ قادیانی کافر ہیں۔ مرزا قادیانی ملعون کے ماننے والے دونوں گروہوں کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں یہ کامیابی بھی حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں ختم نبوت کے محاذ کو نصیب ہوئی۔ اس سلسلہ میں حضرت قبلہؒ نے حضرت مولانا سمیع الحق صاحب مدظلہ کو ذیل کا والا نامہ تحریر فرمایا:
محترم المقام حضرت مولانا سمیع الحق صاحب زید مجدکم!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
بعد از سلام مسنون کے مطالعہ فرماویں کہ کل یہاں سے ایک رجسٹری بھجوانے کے بعد آپ کی رجسٹری موصول ہوئی۔ آپ کی اس کرم فرمائی کا بہت بہت شکریہ کہ اس حقیر کو اپنی اس شفقت وعنایت کے قابل سمجھا۔ جزاك الله تعالى عنا خير الجزاء!
قادیانیت کے سلسلہ میں آئینی ترمیم کی بحالی کے متعلق آپ حضرات کی مساعی کا بھی
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
بہت بہت شکریہ۔ جزاكم اللہ تعالیٰ عنا خیر الجزاء!
اللہ تعالیٰ آپ حضرات کی مساعی کو قبول فرماوے اور اس دور کے فتن سے دین حقہ اسلام کی حفاظت وصیانت کی مزید برآں توفیق رفیق گردانے۔ آمین!
تحریک تحفظ ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں تو آپ براہ راست شریک رہے ہیں۔ ”ملت اسلامیہ کے مؤقف“ کی تیاری میں آپ کا بہت سا حصہ ہے۔ اس لئے آپ پر اس مؤقف کی حفاظت کی ذمہ داری بھی آپ کا اپنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس فریضہ کی ادائیگی کی کماحقہ توفیق نصیب فرماوے۔ آمین!
گزارش ہے کہ پنجاب ہائیکورٹ بار کے وکلاء کی جو عرض داشت صدر صاحب کی خدمت میں پیش کی گئی تھی اس میں دو ترمیموں کی منسوخی کی نشان دہی کی گئی تھی۔ صدر صاحب نے ایک ترمیم کی منسوخی کو بحال کیا ہے اور دوسری ترمیم کی منسوخی کو اسی طرح باقی رہنے دیا ہے۔ وہ عرض داشت ارسال خدمت ہے۔ خط کشیدہ ترمیم کی منسوخی بدستور باقی ہے۔ اس طرح یہ آدھا کام باقی ہے۔ اس کی تکمیل کے لئے مسلسل محنت اور جدوجہد کی ضرورت لازمی ہے۔ اس پہلے کام کی تکمیل کے لئے سوچ و بچار اور غور و فکر جاری تھا کہ ایک اور افتاد میں مبتلا کر دیئے گئے ہیں اور وہ یہ بیان حلفی ہے جو کہ حج فارموں، پاسپورٹ فارموں، شناختی کارڈ فارموں میں درج ہے اور یہ درخواست گزار مسلمان کو اس پر دستخط کرنے لازمی ہیں۔ اس بیان حلفی کے تیسرے پیرے کو حذف کر دیا گیا ہے۔ پہلے بھی ووٹوں کے اندراج کے وقت یہ بیان حلفی تبدیل کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کروڑھا رحمتیں نازل فرماوے۔ حضرت مفتی محمودؒ کی قبر پر ان کی مداخلت سے یہ مسئلہ حل ہوا تھا اور حکومت کو کروڑھا روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا اور کروڑوں فارم طبع شدہ کو ضائع کرنا پڑا اور نئے فارم صحیح بیان حلفی پر چھپوانے پڑے تھے۔ اسی کے متعلق صدر صاحب کی خدمت میں فقیر نے عریضہ ارسال کیا۔ جس کی ایک کاپی آپ کی خدمت میں پیش کی ہے۔
جب سے مارشل لاء نافذ ہوا ہے اور صدر ضیاء الحق صاحب نے مسند اقتدار کو زینت بخشی ہے۔ قادیانیوں کی حفاظت، سرپرستی اور ان کی نمائندگی کے فریضہ کی ادائیگی کو اپنا فرض سمجھ رکھا ہے۔ صدر کی اس روش نے خود ان کے متعلق شک و شبہات کو تقویت پہنچا رہی ہے۔
کیا آئین اسلام کے نفاذ کے سلسلہ میں قادیانیت کا تحفظ ضروری ہے اور لادین عناصر کے تعاون کے بغیر یہ کام سرانجام نہیں دیا جاسکتا۔ اس معمہ کو سمجھنے کے لئے عامۃ المسلمین
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کے اذہان قاصر ہیں۔
امور مملکت خویش خسروان دانند واجب الاحترام حضرت مولانا مدظلہ العالی کی خدمت سلام مسنون اور درخواست دعا۔
والسلام! فقیر: ابوالخلیل خان محمد عفی عنہ از خانقاہ سراجیہ ۲۳؍ رجب ۱۴۰۲ھ، مطابق ۱۷؍ مئی ۱۹۸۲ء
حضرت مولانا سمیع الحق مدظلہ کے نام حضرت قبلہؒ کے والا نامہ میں وکلاء کی طرف سے جس اپیل یا عرضداشت کا ذکر ہے۔ وہ روزنامہ جنگ میں ۲۳؍ مارچ ۱۹۸۲ء کو شائع ہوئی جو یہ ہے:
عرضداشت بخدمت جناب صدر مملکت و چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پاکستان
جناب عالی! براہ کرم مذکورہ ذیل معروضات پر ہمدردانہ غور فرما کر مناسب حکم صادر فرمائیں۔ امت مسلمہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قادیانی ولاہوری مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس بناء پر مرزائی نہ اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی مسلمان کے شعائر اختیار کر سکتے ہیں۔ مسلمانان پاکستان کی عظیم قربانی کے باعث ستمبر ۱۹۷۴ء میں ترمیم نمبر ۲ کے ذریعہ مرکزی اسمبلی نے قادیانیوں (ہر دو گروپ) کو آئینی وقانونی طور پر غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا۔
نہیں معلوم قادیانیوں کے متعلق کوئی نہ کوئی ایسی صورت کیوں پیدا ہو جاتی ہے کہ اس سے عامۃ المسلمین شک وشبہ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب آئینی عبوری حکم جاری کیا گیا تو اس میں آئین ۱۹۷۳ء کی دفعہ نمبر ۱۰۶ جس میں قادیانی ، لاہوری مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیتوں میں شمار کیا گیا تھا، حذف تھی۔
ممتاز علماء کرام نے جب یہ امر جناب کی خدمت میں پیش کیا تو جناب والا کی ذاتی توجہ سے اس کمی کو پورا کیا گیا اور عبوری آئین میں دفعہ نمبر ۱۰۶ کا مفہوم پہلے سے بھی اچھی صورت میں داخل کر لیا گیا۔
جناب والا! عامۃ المسلمین کے خلاف دوسری تخریبی قانون سازی آرڈیننس نمبر ۲۷ مجریہ جولائی ۱۹۸۱ء کے ذریعہ کی گئی۔ ان وفاقی قوانین (اعادہ واستقرار) کی دفعہ نمبر ۲ میں واضح
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
طور پر لکھا گیا ہے کہ شیڈول اوّل میں مندرجہ تمام قوانین کلی طور پر ختم و کالعدم کر دیئے گئے ہیں۔ اسی طرح ”شیڈول اوّل“ عنوان کے تحت ”منسوخ شدہ قوانین“ کے الفاظ درج ہیں۔ اسی شیڈول میں سیریل نمبر ۲۷۲ پر آئینی ترمیم نمبر ۲ مجریہ ستمبر ۱۹۷۴ء کا منسوخ ہونا درج ہے اور سیریل نمبر ۳۱۳ (آرڈیننس) عوامی نمائندگی کا ترمیمی آرڈیننس (۷) مجریہ ستمبر ۱۹۷۹ء کا منسوخ کیا جانا درج ہے۔ جس کی بناء پر قادیانی (ہر دو گروپ) صرف غیر مسلم اقلیتی نشستوں پر انتخاب میں حصہ لے سکتے تھے اور ان کے ووٹر بھی صرف قادیانی ہی ہو سکتے تھے۔ وفاقی قوانین (اعادہ واستقرار) کے اجراء کے بعد قادیانی ہر دو گروپ ۱۹۷۴ء کا آئین بحال ہونے کے بعد غیر مسلم اقلیت نہ رہیں گے اور آج عبوری آئین کی موجودگی میں قادیانی ہر دو گروپ پر غیر مسلم سیٹوں اور غیر مسلم ووٹروں کے ذریعہ انتخاب لڑنے کی پابندی ختم ہے۔
مؤدبانہ گذارش ہے کہ اس نئے آرڈیننس نے عامتہ المسلمین سے ان تمام جانوں کا صلہ چھین لیا۔ جو انہوں نے ختم نبوت کی حفاظت کے لئے قربان کیں۔ ان شہیدوں کا خون رائیگاں گیا جو انہوں نے رسول اکرم ﷺ کے نام پر پیش کیا۔ پرزور اور پرسوز گذارش ہے کہ اس نئے آرڈیننس کے شیڈول میں سے سیریل نمبر ۲۷۲، ۳۱۳ حذف فرمایا جاوے اور حکم دیا جاوے کہ وہ شروع سے ہی حذف تصور ہوں گے۔ جیسا کہ شیڈول میں شامل ہی نہ تھے۔
ہم ہیں آپ کے نیاز مند، ہائیکورٹ بار لاہور کے ۱۶۹ معزز اراکین کے دستخط۔
(قارئین! فقیر یہ تمام تفصیلات اس لئے عرض کر رہا ہے کہ آگے ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت جو حضرت قبلہؒ کی قیادت میں چلی تھی اس کو سمجھنا آسان ہو جائے۔ اس کے لئے ان مبادیات کا ذکر کرنا بہت ضروری تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا کہ ضیاء صاحب نے متذکرہ امر کی تلافی کردی)
۴۲......۱۹۸۳ء میں قادیانی جارحیت
۲۷ اپریل ۱۹۸۳ء کو ملتان دفتر مرکزیہ میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کی زیر صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا۔ حضرت مولانا تاج محمودؒ نے اجلاس میں ابتدائی تقریر فرمائی۔ فرمایا کہ جب مرزائی چوتھا خلیفہ مرزا طاہر احمد انتخاب میں کامیاب ہوا تو ہمارا فوراً اس طرف خیال گیا کہ اب مرزائی محاذ پر خیریت نہ رہے گی۔ کیونکہ مرزا ناصر احمد قادیانی خلیفہ ثالث تعلیم یافتہ آدمی تھا اور متانت سے کام لیتا تھا۔ یہ صاحب غنڈہ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
صفت ہیں۔ اپنی کمزوریاں اور غنڈہ گردی کو چھپانے کے لئے نئے مسائل پیدا کرے گا۔ چنانچہ ہمارا یہ خیال درست نکلا۔ محمد اسلم قریشی کو سیالکوٹ ایسے شہر سے اغوا کرلیا گیا۔ اندرون ربوہ بھی فضا خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ مولانا عبدالہادی شیخوپورہ کو قادیانیوں نے پیٹا۔ قادیانی جارحانہ اقدامات کر رہے ہیں۔ چنانچہ اس وقت اصل مسئلہ محمد اسلم قریشی کا نہیں بلکہ قادیانی جارحیت کا ہے۔ آج تک اکابر علماء دیوبند نے ہماری سرپرستی فرمائی ہے۔ مجلس کے اکابر واصاغر نے بھی علماء دیوبند کی اطاعت اور خدمت کی۔ اب علماء حق میں خود تشتت وافتراق ہے۔ جس کے باعث ہماری جماعتی زندگی بھی کمزوری کا شکار ہے۔ اس لئے اب نہایت بیدار مغزی اور جفاکشی کے ساتھ کام کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے کی طرف پوری توجہ دینی چاہئے۔ حاجی لال حسین صاحبؒ کراچی نے جماعت کی مفصل تاریخ اور کام کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی۔ قادیانی محاذ پر جماعت کی جس قدر خدمات ہیں۔ وہ کسی دوسرے ادارہ کی کسی باطل محاذ کے خلاف اتنی نہیں اور نہ ہی آج کوئی ادارہ مجلس تحفظ ختم نبوت ایسی تنظیم، مبلغین کی ہمہ وقتی جدوجہد، تردید قادیانیت بذریعہ پمفلٹ ورسائل کی مثال پیش کرسکتا ہے اور پھر مجلس ایک خاص طرز عمل سے لاکھوں کا بجٹ سالانہ پورا کر رہی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے نہایت بیدار مغزی سے کام کی ایسی صورت پیدا فرمائی ہے کہ اب ان حضرات کی سعی بار آور ہو رہی ہیں اور مجلس سے بڑھ کر کوئی ادارہ یکجہتی اور نظم سے کام کر ہی نہیں رہا۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ نے قادیانی جارحیت اور اس کے مقابلہ میں بیدار مغزی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت پر جامع گفتگو فرمائی۔ فیصلہ ہوا کہ قادیانی چونکہ ملک وملت کے وفادار نہیں۔ اس لئے یہ اشتعال انگیزیاں ان کی طرف سے ملک کے خلاف سازش ہیں۔ انہیں کھل کر بیان کیا جائے۔ رائے عامہ کو قادیانیوں کے متعلق خبردار کیا جائے اور گورنمنٹ سے بذریعہ وفود واجلاس عام مطالبہ کیا جائے کہ قادیانیوں کے خلاف اس وقت اقدام ضروری ہے۔
۴۳...... مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے احیاء کی کاروائی کا جائزہ
امت مسلمہ مختلف فرقوں شیعہ، سنی، اہل حدیث، حنفی، دیوبندی، بریلوی میں بٹ کر اصل مقصد سے دور جاچکی ہے۔ ماضی میں ہمارے بزرگوں نے تمام مسلمان فرقوں کو قادیانیوں کے تعاقب کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ تو اس کے نتائج بہت ہی شاندار نکلے۔ سب سے پہلا مجلس عمل کا قیام ۱۹۵۳ء میں ہوا اور ختم نبوت کے تحفظ کے لئے مثالی کام ہوا۔ دوبارہ ۱۹۷۴ء
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
میں زیر قیادت حضرت بنوریؒ مجلس عمل قائم ہوئی اور قادیانیوں کو پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نے غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور امت مسلمہ کا دیرینہ مطالبہ تسلیم کرلیا گیا۔ اتحاد امت نے ہمیشہ ہی باطل کے خلاف عظیم کامیابیاں حاصل کیں۔ ۱۹۷۴ء کے بعد قادیانیوں نے کچھ دیر خاموشی کے بعد دوبارہ تنظیم اور اصراف زر سے کام کرنا شروع کر دیا اور بدقسمتی سے مسلمان فرقوں کے رہنماؤں نے باہمی اختلاف کو ہی مقصد حیات قرار دینا شروع کر دیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا بنیادی مقصد ہی تمام مسلمان فرقوں کا اتحاد ہے۔ اس لئے مجلس نے سر توڑ کوشش کی۔ لیکن وہ موجودہ دور میں ایسے اتحاد کے وجود قائم کرنے میں ناکام رہی اور پھر موجودہ حکومت مارشل لاء میں قادیانیوں کو بے پناہ مراعات سے نوازا گیا۔ قادیانی آئینی طور پر غیر مسلم ہونے کے باوجود برملا کہتے اور لکھتے رہے کہ وہی خالص مسلمان ہیں۔ اہل اسلام کی طرف سے بارہا مطالبہ کے باوجود حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ الٹا قادیانی افسروں کی ترقیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ عبدالسلام سائنسدان اور ڈاکٹر محمود الحسن کی مثال سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ مارشل لاء حکومت قادیانیوں کے خلاف کچھ کرنا نہیں چاہتی۔ محمد اسلم قریشی کو اغوا کر لیا گیا۔ مجلس نے ہر جگہ سے مطالبہ کیا کہ ان کا سراغ قادیانیوں کو تفتیش میں لینے سے ہی ملے گا۔ لیکن حکومت نے قادیانیوں سے پہلو تہی کی۔ اب قیام مجلس عمل میں دو رکاوٹیں ہیں۔ گورنمنٹ قادیانیت نوازی سے اس مسئلہ کو کمزور کرنے کا باعث ہے۔ مسلمان فرقوں کی باہمی مناقشت دن بدن تیز ہو رہی ہے۔ کوئی فرقہ بالخصوص بریلوی حضرات جن کی ملک میں اکثریت ہے۔ قطعاً اس طرف نہیں آتے۔ ایسے میں مرکزی شوریٰ نے فیصلہ کیا کہ مجلس عمل کے قیام کی کوشش جاری رہے اور مولانا تاج محمودؒ فیصل آباد، مولانا حکیم عبدالرحمان آزادؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ باہم تاریخ مقرر کریں تمام مسلمان فرقوں کے رہنماؤں سے رابطہ قائم کر کے قیام مجلس عمل کی کوشش کریں۔ فیصلہ کیا کہ جماعت کی طرف سے کام میں شدت پیدا کرتے ہوئے ضلعی کانفرنسیں کی جائیں۔ مجلس کے مرکزی رہنما ایسی کانفرنسوں میں شرکت کریں اور دیگر مکاتب فکر کے رہنماؤں کو بھی بلایا جائے۔ تاکہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے لئے راستہ ہموار ہو۔ محمد اسلم قریشی کی بازیابی کے لئے ۲۰ مئی ۱۹۸۳ء کی تاریخ برائے اجتماع مقرر کی گئی۔ فیصلہ ہوا کہ بذریعہ اشتہارات ملک بھر میں یوم احتجاج منایا جائے۔ قراردادیں مرکز اور صوبائی حکومت کو بھیجی جائیں۔ سیالکوٹ میں یوم دعاء کے لئے ایک عظیم اجتماع بلایا جائے۔ ملک بھر سے فدایان ختم نبوت کو شرکت کی دعوت دی جائے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
۴۴......وفاقی مجلس شوریٰ میں ترمیم ۱۹۷۴ء کے متعلق قانون سازی کی جدوجہد کا جائزہ
مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے جنرل ضیاء الحق کی طرف سے قیام مجلس شوریٰ سے لے کر آج تک کی جدوجہد کی تفصیل بیان کی اور کہا کہ وفاقی شوریٰ کے صدر خواجہ محمد صفدر سیالکوٹ کے باشندے ہیں اور قادیانیوں کے متعلق ان کے جذبات مصالحانہ ہیں۔ انہوں نے بلطائف الحیل قانون سازی کے مسودہ کو بحث کے لئے پیش نہیں ہونے دیا۔ خود وفاقی مجلس شوریٰ کا طریق کار اتنا پیچیدہ ہے کہ قیام شوریٰ سے لے کر ہم آج تک ہر اجلاس کے وقت اسلام آباد جاتے رہے۔ مطالبات کے متعلق پمفلٹ ہر رکن شوریٰ تک پہنچائے۔ ملاقاتیں کر کے اراکین کو تیار کیا کہ جب یہ مسودہ پیش ہو تو اس کی تائید کریں۔ تمام اراکین سے ان کے علاقوں میں کارکنان ختم نبوت نے ملاقاتیں کیں۔ تمام اراکین گرمجوشی سے تائید کے لئے تیار ہیں۔ لیکن باوجود قاری سعید الرحمٰنؒ، مولانا سمیع الحق، قاضی عبداللطیفؒ کی کوششوں کے مسودہ آج تک کسی اجلاس میں پیش نہیں ہوا۔ مجلس شوریٰ نے فیصلہ کیا کہ اس وقت عارضی طور پر اولیت محمد اسلم قریشی کی بازیابی کو ہے۔ تاہم قانون سازی کے لئے بھی مکمل جدوجہد جاری رکھی جائے۔ (عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوریٰ کے رجسٹر کو سامنے رکھ کر کاروائی قلمبند کرتے ہوئے بہت آگے نکل گئے۔ کچھ ضروری واقعات رہ گئے۔ ان کا تذکرہ ہو جائے پھر دوبارہ اس ترتیب کو شروع کریں گے۔ ترتیب کے ٹوٹنے پر معذرت)
۴۵......حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کی گرفتاری و رہائی
مئی ۱۹۸۲ء کی آخری رات اسلام آباد جامع مسجد دارالسلام میں ختم نبوت کانفرنس تھی۔ جس میں حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ، جناب راجہ ظفر الحق، مولانا عبدالشکورؒ دین پوری، مولانا محمد لقمانؒ علی پوری، قاری محمد امینؒ راولپنڈی، مولانا عبدالرؤفؒ جتوئی، جناب سید امین گیلانیؒ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس سے قبل مولانا قاری احسان اللہ نے ارشاد فرمایا کہ میری مسجد جامع قاسمیہ 3-8-F کے عقب میں قادیانی جماعت کا گیسٹ ہاؤس ہے۔ اس میں قادیانی جماعت کا چیف گرو مرزا ناصر احمد اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ ہنی مون منانے کے لئے آیا ہوا ہے۔ قادیانی گیسٹ ہاؤس اور میری مسجد کے درمیان صرف سڑک کا فاصلہ ہے۔ اگر کل وہاں کانفرنس ہو جائے تو بہت مناسب ہوگا۔ چنانچہ دارالسلام
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کی مسجد ہی میں اعلان کر دیا گیا کہ یکم جون ۱۹۸۲ء بعد از مغرب قاری احسان اللہ صاحب کی مسجد میں کانفرنس ہوگی۔ چنانچہ کانفرنس ہوئی۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کی زیر صدارت مولانا عبدالشکورؒ دین پوری، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا قاری محمد امینؒ ، جناب سید امین گیلانیؒ کے بیانات ہوئے۔ راقم اللہ وسایا نے اس موقع پر جو خطاب کیا وہ کیسٹ سے نقل کر کے جناب ساجد اعوان نے ارسال کیا۔ جسے ”حقائق بولتے ہیں“ کے نام پر مانسہرہ کی جماعت نے شائع کیا۔ یہ بیان براہ راست مرزا ناصر سن رہا تھا۔ اس خطاب کے دوران مرزا ناصر پر دل کا دورہ پڑا۔ جو آگے چل کر اس کی موت کا سبب بن گیا۔ جونہی ختم نبوت کانفرنس ختم ہوئی۔ مولانا عبدالشکورؒ دین پوری، قاری محمد امینؒ اور حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ رات بھر آپؒ تھانہ میں رہے۔ اگلے دن راجہ ظفر الحق کو معلوم ہوا۔ انہوں نے پولیس آفیسران کو کہا کہ تم جانتے ہو تم نے کس شخصیت کو گرفتار کیا ہے؟ یہ حضرت قبلہ خواجہ خان محمد صاحبؒ ہیں۔ جنہیں ملنے کے لئے دو بار جنرل ضیاء الحق درخواست کر چکے ہیں اور آپ نے ملاقات نہیں کی۔ انہیں فوراً سے بھی پہلے رہا کر دو۔ ورنہ ضیاء الحق صاحب کو معلوم ہو گیا تو تمہاری ملازمت و وردی کی خیر نہیں۔ یوں حضرت خواجہ صاحبؒ نصف رات سے صبح ۹ بجے تک تھانہ میں سنت یوسفی ادا کرنے کے بعد رہا ہو گئے۔ باقی حضرات کی عدالت سے ضمانتیں ہوئیں۔ قادیانی سربراہ آنجہانی ہو گیا اور کیس سے عدالت نے باقی حضرات کو بھی بری کر دیا۔ حضرت قبلہؒ کی گرفتاری پر مولانا عبید اللہ انورؒ نے نظام العلماء پاکستان کے سیکرٹری جنرل ہونے کے ناتے ذیل کا بیان اخبارات کے نام جاری کیا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
ماہ رواں کی یکم (جون ۱۹۸۲ء) تاریخ کو اسلام آباد میں قادیانی امت کے سربراہ مرزا ناصر احمد کی کوٹھی کے سامنے مسلمانوں کی مسجد میں حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی سرپرستی اور موجودگی میں مولانا عبدالشکور دین پوری، مولانا اللہ وسایا اور راولپنڈی کے سرکردہ علماء کرام نے ایک دینی اجتماع سے خطاب کیا اور قادیانیوں کے بارے میں ملت اسلامیہ کے جذبات کا اظہار کیا۔
اجتماع کے فوراً بعد اسلام آباد پولیس نے ایک مجسٹریٹ کی سرکردگی میں اس اجتماع میں شرکت کرنے والے دو درجن سے زائد حضرات کو راستہ بلاک کر کے حراست میں لے لیا اور حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ العالی جیسی بزرگ شخصیت کے ساتھ مجسٹریٹ مذکور نے اور
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
بدسلوکی کا شرمناک مظاہرہ کیا۔
حضرت مولانا خان محمد مدظلہ العالی سمیت ان حضرات کو صبح دس بجے تک تھانہ میں رکھا گیا اور پھر سات علماء کے خلاف دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کے بعد باقی حضرات کو رہا کیا گیا۔
انتہائی حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ ایک طرف تو قادیانی امت اپنے بارے میں آئین کے واضح اور متفقہ فیصلہ کو تسلیم کرنے سے کھلم کھلا انکار کر کے عملاً بغاوت اور غداری کی مرتکب ہے۔ لیکن حکومت اس کا نوٹس نہیں لے رہی اور دوسری طرف ایک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے دفعہ ۱۴۴ کے تحت عارضی پابندیوں کی خلاف ورزی پر دارالحکومت کی انتظامیہ اس قدر سیخ پا ہوتی ہے کہ اس کا فوری اور ہنگامی طور پر نوٹس لیا گیا ہے اور راتوں رات ساری کاروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ حتیٰ کہ حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم جیسی بزرگ اور مقتدر شخصیت کو بھی بدسلوکی کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا گیا۔
قادیانیت کے بارے میں حکومت کا یہ جانبدارانہ طرز عمل پورے ملک کے علماء کرام اور عوام کے لئے سخت تکلیف دہ اور باعث حیرت ہے۔ میں ملک بھر میں علماء اور خطباء سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ۱۱؍ جون کو جمعۃ المبارک کے خطبات میں اسلام آباد انتظامیہ کی اس کاروائی پر پرزور احتجاج کریں اور اخباری بیانات، خطبات اور صدر کے نام ٹیلی گراموں کے ذریعہ مطالبہ کریں کہ آئینی فیصلہ تسلیم نہ کرنے پر قادیانیوں کے خلاف غداری کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے اور اسلام آباد میں ہونے والے شرمناک واقعہ کے ذمہ دار افسران کے خلاف فوری اور مؤثر کاروائی کر کے اسلامیان پاکستان کو مطمئن کیا جائے۔
منجانب: عبیداللہ انور ناظم عمومی نظام العلماء پاکستان ۷؍ جون ۱۹۸۲ء
۴۶...... اسلم قریشی کیس
اسلام آباد (سی۔ ڈی۔ اے) میں شعبہ الیکٹریشن میں ایک ملازم تھے۔ ان کا نام تھا اسلم قریشی۔ جنرل یحییٰ خان کی کابینہ میں ایم۔ ایم احمد قادیانی (مرزا مظفر احمد قادیانی) سینئر وزیر تھا۔ جنرل یحییٰ خان کے زمانہ میں یہ منصوبہ بندی کا چیئرمین بھی رہا۔ ایم۔ ایم احمد قادیانی جب
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com پاکستان بنا تو یہ سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر تھا۔ گورداسپور اور سیالکوٹ کی حدود آپس میں ملتی ہیں۔ تقسیم سے قبل شکر گڑھ کی تحصیل گورداسپور کی تحصیل تھی۔ تب قادیانی قادیان سے اٹھے اور انہوں نے سرحد پار کی اور سیالکوٹ میں ڈیرے لگالئے۔ ایم ۔ ایم احمد قادیانی نہ صرف قادیانی بلکہ قادیانی رائل فیملی کا فرد اور ملعون قادیان مرزا غلام احمد قادیانی کا پوتا تھا۔ جب مشرقی پاکستان میں علیحدگی کے جراثیم نے زور پکڑا۔ تب ایم ایم احمد قادیانی نے اعداد و شمار تیار کر کے یحییٰ کابینہ کو بریفنگ دی کہ مغربی پاکستان کی ترقی کا انحصار مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر ہے۔ اس لئے کہ تمام وسائل سیلاب وغیرہ کے پیش نظر وہاں خرچ ہو جاتے ہیں۔ سقوط ڈھاکہ سے کچھ روز قبل یحییٰ خان ڈھاکہ گئے۔ مجیب الرحمن وغیرہ سے مذاکرات کے لئے طرح ڈالی، تو مجیب نے پہلی شرط یہ لگائی کہ ایم ایم احمد قادیانی یہ مشرقی پاکستان کا قاتل ہے۔ اس کو ڈھاکہ سے چلتا کرو۔ تب آپ سے مذاکرات کرنے یا نہ کرنے پر سوچا جا سکتا ہے۔ یہ تفصیلات احتساب قادیانیت جلد اوّل میں حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے بیان میں موجود ہیں جو آپ نے مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بعد اس کی انکوائری کے لئے جب حمود الرحمن کمیشن بنا تھا۔ اس میں آپ نے دیا تھا۔ ایم۔ ایم احمد قادیانی نے ایک بار سالانہ وفاقی بجٹ بھی پیش کیا تھا۔ غرض منصوبہ بندی کا چیئرمین، کابینہ کا سینئر وزیر، گویا یحییٰ خان کی آنکھوں کا تارا تھا۔ یحییٰ خان کو جتنی اخلاق باختگی کی لت پڑی ہوئی تھی۔ اس کے لئے خام مال ربوہ سے ایم ۔ ایم احمد قادیانی کے ذریعہ سے ملتا تھا۔ پانچوں گھی میں، سر کڑاہی میں۔ ایم ۔ ایم احمد قادیانی کے پاؤں زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ چنانچہ یحییٰ خان ایک بار ایران کے دورہ پر جانے لگے تو ایم۔ ایم احمد قادیانی کو قائم مقام صدر پاکستان بنا کر گئے۔ اسلم قریشی نے کسی اخبار میں قادیانی عقائد پڑھے تھے۔ اگلے دن لفٹ میں اسلم قریشی نے اس پر حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا۔ پاکستان کی صدارت کی کرسی پر بیٹھنے کی بجائے اسے سٹریچر پر ڈال کر ہسپتال لے جایا گیا۔ اسلم قریشی گرفتار ہوگئے۔ اس پر مارشل لاء کے تحت کیس چلا۔ تب راجہ ظفر الحق صاحب وکالت کرتے تھے۔ ان کو مجلس تحفظ ختم نبوت نے وکیل کیا۔ مولانا محمد رمضان علویؒ، مولانا قاری محمد امینؒ، مولانا محمد عبداللہؒ اسلام آبادی کیس کے لئے راجہ صاحب سے رابطہ میں رہتے۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے کیس لڑنے میں جان کھپادی۔ اس واقعہ سے پہلے نہ اسلم قریشی کو مجلس جانتی تھی نہ اس کا کسی سے رابطہ تھا۔ وقوعہ کے بعد خبر ہوئی تو مجلس نے اپنا فرض سمجھا کہ قانونی امداد اسے مہیا کی جائے۔ تا کہ قادیانیت کا عفریت اس مسلمان کو زندہ نہ نگل لے۔ خیر اسلم www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
قریشی کو پندرہ سال کی سزا ہوئی۔ جنرل موسیٰ خان گورنر تھے۔ اپیل ان کے پاس گئی تو حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے اس میں تخفیف کرادی۔ اڑھائی سال بعد یہ رہا ہوگیا۔ رہا ہونے کے بعد اب ملازمت سے یہ فارغ ہوا تو مجلس نے سوچا کہ ایک پڑھا لکھا نوجوان ہے۔ قادیانیت کے خلاف اسے معلومات ہیں تو سیالکوٹ میں مجلس کا اسے مبلغ بنا دیا۔
اس نے پورے ضلع میں قادیانیت کے خلاف تبلیغ کرکے عوام کو نیا شعور دیا۔ چنانچہ قادیانی اس کے نام سے خار کھانے لگے۔ ۱۷؍ فروری ۱۹۸۳ء کو اسلم قریشی معراجکے ضلع سیالکوٹ میں تقریر کے لئے گیا۔ واپس نہ آیا تو ان کے اغواء کا کوشش بسیار کے بعد ۲۳؍ فروری ۱۹۸۳ء کو جا کر کیس درج ہوا۔ اس کیس نے ایسی پیچیدگی اختیار کی کہ اس کو اغواء کرنے میں قادیانیوں کا ہاتھ ہے۔ مثلاً:
- ۱...... معراجکے قادیانی جماعت کے سربراہ کو تفتیش کے لئے پولیس نے بلایا تو
اس نے جیب سے ڈاکٹر کا نسخہ نکال کر دے دیا کہ میں دل کا مریض ہوں۔ مجھے کچھ ہوا تو پولیس ذمہ دار ہوگی۔
- ۲...... ڈی۔ آئی۔ جی، ایس۔ پی نے ایک میٹنگ میں کہا کہ چار دنوں بعد اسلم
قریشی آپ کو مل جائے گا۔
- ۳...... ہمیں ایک خط ملا کہ ساہیوال میں فلاں قادیانی کے مکان کے تہہ خانہ میں
اسلم قریشی ہے۔ اس زمانہ میں آئی۔ جی سپیشل برانچ میاں عبدالقیوم تھے۔ ان سے رابطہ کیا۔ چار دنوں بعد انہوں نے کہا کہ اس مکان میں تو تہہ خانہ ہی نہیں۔ ہمیں یقین ہوگیا کہ ہمیں خط کے ذریعہ غلط بریف کیا گیا۔ لیکن معلوم کیا تو پتہ چلا کہ تہہ خانہ ہے۔ بلدیہ کے ریکارڈ سے اس مکان کا نقشہ حاصل کیا۔ اس میں بھی تہہ خانہ موجود۔ موقع پر بھی موجود۔ اب جا کر پھر میاں عبدالقیوم صاحب سے ملے تو انہوں نے پولیس کی روایتی مسکراہٹ میں معاملہ گول کر دیا۔
- ۴...... میجر مشتاق احمد ڈی۔ آئی۔ جی تھے۔ انہوں نے اس کی برآمدگی کا اعلان
کیا۔ ذمہ داری قبول کی۔ لیکن نتیجہ ڈھاک کے تین پات۔ قادیانیوں نے خود ایسی کہانیاں تراشیں کہ وہ جرح کے بعد تار عنکبوت کی طرح تار، تار ہو جاتیں۔ تحریک چلی۔ نتیجہ میں ’’امتناع قادیانیت آرڈیننس‘‘ ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو نافذ ہوگیا۔ اسلم قریشی کی برآمدگی معمہ بنی رہی۔ حتیٰ کہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۸۴ء کو لاہور میں آئی۔ جی پنجاب نے کہا کہ اسلم قریشی برآمد ہوگیا ہے۔ کہاں
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
سے؟۔ ایران سے۔ کیسے؟۔ کہ کوئٹہ کی پولیس نے بارڈر کراس کرتے ہوئے پکڑا ہے۔ رہا کہاں؟ جی ایران کی فوج میں۔ اب ہم نے ان واقعات کی تحقیق شروع کی۔ کوئٹہ میں ایران کے قونصلیٹ سے ملے۔ انہوں نے انکوائری کرا کر ہمیں بتایا کہ ایران میں اس نام کا کوئی آدمی اتنا عرصہ سے پاکستان سے داخل نہیں ہوا۔ رہا فوج میں شمولیت تو غیر ملکی ہماری فوج میں کیسے شامل ہو سکتا ہے؟ یہ جھوٹ ہے۔ اب کوئٹہ بلوچستان کے آئی۔ جی سے ملے کہ آپ نے ایران کی سرحد سے کہاں سے اسے برآمد کیا؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسے برآمد نہیں کیا۔ پنجاب پولیس جھوٹ بولتی ہے۔ ہمیں اس کا سرے سے معلوم نہیں۔ اب اسلم قریشی کو برآمد کر کے قادیانی اور قادیانی نوازوں نے مجلس عمل کو بدنام کرنے کے لئے دن رات ایک کر دیئے۔
اسلم قریشی کے ورثاء بیٹا وغیرہ اس سے ملے۔ انہوں نے رپورٹ دی کہ اس کے پاؤں زخمی ہیں۔ دماغی کیفیت صحیح نہیں۔ خیر اسلم قریشی سیالکوٹ آ گیا۔ ایک پیشی کے لئے عدالت گیا۔ سامنے قادیانی وکیل آ گیا۔ اسلم قریشی نے عدالت کی ٹیبل سے ویٹ پیپر اٹھایا اور اس کے مار دیا۔ خود بھی جذبات سے مغلوب ہو کر گرا اور ہسپتال پہنچ گیا۔ جب قادیانی وکیل کے ویٹ پیپر مارا تو یہی کہا کہ یہ مجھے اغواء کرنے والے ہیں۔ غرض اس کی دماغی کیفیت اس قابل نہ رہنے دی گئی کہ صحیح صورتحال سامنے آتی۔ اب قادیانی پروپیگنڈہ کہ مجلس عمل نے غلط بیانی کی یہ اغواء نہیں ہوا۔ ہمارا موقف کہ یہ سب کیا دھرا قادیانی جماعت کا ہے۔ حالات کچھ بھی ہوں ایک بات واضح ہے کہ اس پورے پیریڈ میں ایک بار بھی قادیانی خود کو بری ثابت نہ کر سکے۔ ان کے مشکوک طرز عمل نے ہمیں مزید پختگی دی کہ اس کہانی کے تمام کردار ربوہ سے ہو کر گذرتے ہیں۔
قارئین! اللہ رب العزت کو گواہ بنا کر عرض کرتا ہوں کہ پوری مجلس عمل میں ایک آدمی بھی ایسا نہ تھا جسے یہ معلوم ہو کہ یہ جھوٹ ہے یا یہ کہ قادیانی ملوث نہیں۔ ہمیں یقین کامل تھا۔ وہ یقین کیسے بنا۔ واقعات سے۔ ہاں اگر کسی نے غلط بیانی سے دھوکہ دہی سے واقعات کو خلط کر کے اسے غلط طور پر پیش کیا تو یہ اس فرد کی غلطی ہو سکتی ہے۔ جماعت، ادارہ یا اس کے کار پردازان کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ اس پر اللہ رب العزت کو گواہ بناتا ہوں کہ اس میں ہمارا کوئی قصور نہ تھا۔ رہا قادیانی طرز عمل تو سو گنڈے بھی کھائے، سو ڈنڈے بھی کھائے۔ اسلم قریشی بھی دینا پڑا اور امتناع قادیانیت آرڈیننس بھی سہنا پڑا اور قادیانی جماعت کے گرو کو ملک بھی چھوڑنا پڑا۔ وتعز من تشاء وتذل من تشاء!
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
۴۷...... تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء
قارئین کرام! ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قادیانیوں کے متعلق دوسری ترمیم کے ذریعہ فیصلہ ہوا کہ یہ غیر مسلم ہیں۔ اس پر قانون سازی ہونا تھی کہ رمضان المبارک آگیا۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا مفتی محمودؒ اور پاکستان کے وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے درمیان طے پایا کہ رمضان المبارک کے بعد اس پر قانون سازی کریں گے۔ اس زمانہ میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب حنیف رامے تھے۔ جو خود سوشلسٹ اور ان کی اہلیہ شاہین رامے وہ کوئٹہ کے قادیانی جماعت کے امیر کی صاحبزادی تھیں۔ رمضان شریف ایک مہینہ کا وقفہ ملا۔ قادیانی لابی نے جناب بھٹو مرحوم اور قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمودؒ کے درمیان اتنی دوری کر دی کہ پھر یہ حضرات باہمی سر جوڑ کر نہ بیٹھ سکے۔ مثلاً تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے دوران کے تمام قیدی رہا کرنے تھے۔ حنیف رامے نے نہ ہونے دیئے۔ حنیف رامے نے کہا کہ مولوی حلوہ کے بھوکے ہیں۔ مجلس عمل کے رہنما مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے کہا کہ بھٹو صاحب کو مجبوراً یہ مسئلہ ماننا پڑا۔ بھٹو صاحبؒ نے جواب میں کہا کہ ان کی داڑھی میں جوئیں ہیں۔ غرض قادیانیوں نے دونوں طرف سے اتنی غلطی فہمی پیدا کر دی کہ اس ترمیم پر قانون سازی نہ ہوسکی۔ یہی قادیانی چاہتے تھے۔ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے عید کے بعد مجلس عمل کے ذریعہ بھٹو صاحبؒ سے مذاکرات کی کوشش کی تو بھٹو صاحبؒ کے مشیران آڑے آگئے۔ چنانچہ سرے سے ملاقات نہ ہونے دی گئی۔ اس کش مکش میں اسمبلیاں ٹوٹیں ۔ نئے الیکشن ۷۷ء کا اعلان ہوا۔ الیکشن میں دھاندلی کے بہانہ سے بھٹو صاحبؒ کے خلاف تحریک چلی تو نتیجہ میں بھٹو صاحبؒ کی حکومت کا دھڑن تختہ ہو گیا۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ نوے دن کے لئے آئے اور ایک عشرہ کرسی صدارت کو رونق بخشتے رہے۔ اس دوران میں ہمارے مخدوم حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کا وصال ہو گیا۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ عالمی مجلس کے امیر بنے۔ آپ کی سربراہی میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان قائم ہوئی۔ حضرت مولانا مفتی مختار احمد نعیمیؒ اس کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ سیکرٹری بنے۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ رابطہ سیکرٹری، اللہ رب العزت کا نام لے کر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سٹیج سے حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ نے ملک بھر کا تبلیغی دورہ کیا۔ جگہ جگہ ختم نبوت کی کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ تمام مکاتب فکر ایک سٹیج پر براجمان ہوئے۔ فیصل آباد، کوئٹہ، کراچی، سیالکوٹ، لاہور کی عدیم المثال ختم نبوت
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۱۰۴ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کانفرنسوں کے بعد ”۲۷ اپریل ۱۹۸۴ء کو راولپنڈی چلو‘ کی کال دی گئی۔ حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ نے پورے پنجاب کا دورہ کر کے پنجاب کو بیدار کر دیا۔ گوجرانوالہ سے کانفرنس کر کے پنڈی جاتے ہوئے آپ کو ڈنگہ جہلم کے قریب سے گرفتار کر کے بہاولپور جیل روانہ کر دیا گیا۔ اس دوران میں ۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء کو حضرت مولانا تاج محمودؒ داغ مفارقت دے گئے۔ اس سانحہ نے حضرت قبلہ خواجہ خان محمد صاحبؒ کو مزید اس کام کے لئے متوجہ کر دیا۔
قارئین! یہ واقعہ ہے کہ ایک رات حضرت خواجہ خان محمد صاحبؒ نے فیصل آباد کارخانہ بازار میں ختم نبوت کانفرنس کی صدارت کی۔ اگلے روز گیارہ بجے کراچی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اسی رات کوئٹہ میں ختم نبوت کانفرنس کی صدارت۔ اگلے روز کہروڑ پکا باب العلوم کے جلسہ کی صدارت۔ اسی شام کراچی سے حیدر آباد جا کر ختم نبوت کانفرنس کی صدارت فرمائی۔ ان دنوں کے آپ کے معمولات پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہ ایک جرنیل جو اپنی فوجوں کو ہر محاذ پر منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لئے در پے ہوتا ہے۔ یہی کیفیت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ پر طاری تھی۔ نہ دن کا چین نہ رات کو آرام۔ محض رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت کے دشمنوں کو نتھ ڈالنے کے لئے شب و روز ایک کئے ہوئے۔ فقیر راقم نہ مجلس کی تاریخ قلمبند کر رہا ہے۔ نہ تحریک ۱۹۸۴ء کی رپورٹنگ کر رہا ہے۔ مجھے تو محض حضرت قبلہؒ کے حوالہ سے ان داستانوں کو چھیڑنا پڑا ہے۔
قارئین! اب اعلان ہو گیا کہ اگر گورنمنٹ نے قادیانیت سے متعلق آئینی ترمیم پر قانون سازی نہ کی، تو ۲۷ اپریل ۱۹۸۴ء کو راولپنڈی راجہ بازار تعلیم القرآن میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوگی اور اس کے بعد جلوس نکالا جائے گا۔ اللہ رب العزت کی کروڑوں کروڑ رحمتیں ہوں۔ ہمارے حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ اور آپ کے گرامی قدر رفقاء کی بیدار مغزی پر کہ آج جب ان حالات کو دیکھتے ہیں تو روح پر وجد کی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ ادھر تحریک جاری ہے۔ ادھر حکومتی دوائر میں کیا ہو رہا ہے۔ اس پر مکمل آگاہی کے لئے اسلام آباد میں رفقاء کی ڈیوٹی لگا رکھی ہے۔ حکومت نے راولپنڈی، اسلام آباد سے چاروں جانب ایک ایک سو کلو میٹر پر تمام سڑکوں کی ناکہ بندی کرا دی۔ جو داڑھی والا ملتا، اسے اتار لیا جاتا۔ ہر ٹرین کی آمد کے وقت راولپنڈی اسٹیشن کو چاروں طرف سے گھیر کر ایک ایک مسافر کو چیک کیا جاتا۔ تا کہ کوئی شخص ختم نبوت کانفرنس راجہ بازار راولپنڈی میں شریک نہ ہو سکے۔ ملک بھر سے قافلے روانہ ہوئے۔ جس کو جہاں روکا گیا وہاں پر ختم نبوت کا جلسہ شروع ہو گیا۔ کراچی سے آنے والے
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
چوبیس اپریل کو روانہ ہوئے۔ ادھر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کی ہدایت پر مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈال دیئے تھے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے کیا سفارش کی؟ ۔ وزارت قانون کیا مسودہ تیار کر رہی ہے؟ ۔ ایک ایسا موقعہ آیا کہ راجہ ظفر الحق، مولانا محمد شریف جالندھریؒ کو لے کر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم سے ملے۔ ضیاء الحق صاحب سے ملاقات کیا ہوئی۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے ضیاء الحق کے جو خدشات تھے سب کو دور کر کے انہیں قادیانیت کے سامنے لا کھڑا کیا۔ رات ہی رات مولانا محمد شریف جالندھریؒ خانقاہ سراجیہ گئے۔ حضرت قبلہؒ سے پوری صورتحال عرض کی۔ حضرت قبلہؒ نے ہدایات دیں۔ آپ اگلی صبح پھر اسلام آباد۔ غرض پورے ملک کا رخ اسلام آباد کی طرف ہوگیا۔ حضرت قبلہؒ بھی بچ بچا کر اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ پہلے کار پر گھر سے سفر شروع کیا۔ گورنمنٹ کو یہی اطلاع تھی کہ آپ کار سے تشریف لا رہے ہیں۔ آپ نے ممکنہ خدشہ کے پیش نظر راستہ میں کار چھوڑ کر ٹرین پکڑ لی اور ٹرین پکڑنے میں یہ احتیاط کی کہ راولپنڈی سے پہلے اسٹیشن گولڑہ پر اتر گئے۔ ساتھیوں کے ہمراہ کچے پکے راستہ سے ٹیکسی لی اور مارگلہ پہاڑیوں سے ہوتے ہوئے حضرت حاجی محمد یعقوب کے گھر تشریف فرما ہوگئے۔ ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو جنرل محمد ضیاء الحق نے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کو مذاکرات کی دعوت دی۔ حضرت قبلہ خواجہ خان محمد صاحبؒ کی سربراہی میں علماء کرام کا وفد جنرل محمد ضیاء الحق سے ملا۔ وفد کو انہوں نے مسودہ دکھایا۔ راجہ ظفر الحق صاحب نے ایک بار پھر پورا مسودہ پڑھ کر سنایا۔ سب حضرات نے اطمینان کیا تو جنرل محمد ضیاء الحقؒ نے دستخط کر دیئے۔ حضرت خواجہ صاحبؒ نے ایوان صدر میں جماعت کرائی۔ تمام حضرات نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ یوں اللہ رب العزت نے کرم کا معاملہ فرمایا کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء جو آپ کی قیادت باسعادت میں چلی تھی۔ ۲۶؍ اپریل کی شام کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ قادیانی ایک بار پھر رسوا ہوئے۔ امت مسلمہ سرخرو ہوئی۔ کفر ہار گیا۔ اسلام جیت گیا۔ اس موقعہ پر جو آرڈیننس جاری ہوا وہ یہ ہے۔
۴۸...... امتناع قادیانیت آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء
تازہ ترین آرڈیننس کا مکمل متن درج ذیل ہے۔ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کرنے کا آرڈیننس۔
چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی جائے۔
اور چونکہ صدر کو اطمینان ہے کہ ایسے حالات موجود ہیں۔ جن کی بناء پر فوری کارروائی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ لہٰذا اب پانچ جولائی ۱۹۷۷ء کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلہ میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے صدر نے حسب ذیل آرڈیننس وضع اور جاری کیا ہے۔
حصہ اوّل ...... ابتدائیہ
۱...... مختصر عنوان اور آغاز نفاذ
- ۱...... یہ آرڈیننس قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام
سرگرمیاں (امتناع وتعزیر) آرڈیننس، ۱۹۸۴ء کے نام سے موسوم ہوگا۔
- ۲...... یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔
- ۲...... آرڈیننس عدالتوں کے احکام اور فیصلوں پر غالب ہوگا۔ اس آرڈیننس
کے احکام کسی عدالت کے کسی حکم یا فیصلے کے باوجود مؤثر ہوں گے۔
حصہ دوم ...... مجموعہ تعزیرات پاکستان
(ایکٹ نمبر ۴۵، بابت ۱۸۶۰ء کی ترمیم)
- ۳...... ایکٹ نمبر ۴۵ بابت ۱۸۶۰ء میں نئی دفعات ۲۹۸ ب اور ۲۹۸ ج کا اضافہ
مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر ۴۵، ۱۸۶۰ء) میں باب ۱۵ میں دفعہ ۲۹۸ الف کے بعد، حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کیا جائے گا۔ یعنی ۲۹۸ ب، بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لئے مخصوص القاب، اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال۔
- ۱...... قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی، یا کسی دوسرے نام سے
موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے، خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے:
- الف ...... حضرت محمد ﷺ کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو امیر المؤمنین، خلیفۃ المسلمین،
خلیفۃ المؤمنین، صحابی، یا رضی اللہ عنہ کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۱۰۷ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ب...... حضرت محمد ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ کے علاوہ کسی ذات کو ام المؤمنین کے طور پر
منسوب کرے یا مخاطب کرے۔
- ج...... حضرت محمد ﷺ کے خاندان (اہل بیت) کے کسی فرد کے علاوہ کسی شخص کو اہل بیت
کے طور پر منسوب کرے۔
- د...... اپنی عبادت گاہ کو مسجد کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے یا پکارے۔
تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہوسکتی ہے اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔
- ۲...... قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے
موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقہ یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح کہ مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہوسکتی ہے اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔
۲۹۸۔ قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو
مسلمان کہے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے
قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلا واسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے۔ کسی ایک قسم کی سزائے قید، اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہوسکتی ہے اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔
حصہ سوم...... مجموعہ ضابطہ فوجداری ۱۸۹۸ء
(۱ ایکٹ نمبر ۵ بابت ۱۸۹۸ء) کی ترمیم
- ۴...... ۱ ایکٹ نمبر ۵ بابت ۱۸۹۸ء کی دفعہ ۹۹ الف کی ترمیم
مجموعہ ضابطہ فوجداری، ۱۸۹۸ء ۱ ایکٹ ۵ بابت ۱۸۹۸ء میں جس کا حوالہ بعد ازیں
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مذکورہ مجموعہ میں، دفعہ ۹۹الف میں ذیلی دفعہ (۱) میں:
الف ...... الفاظ اور سکتہ، اس طبقہ کے بعد کے الفاظ ہندسے قوسین ، حرف اور سکتے یا اس نوعیت کا کوئی مواد جس کا حوالہ مغربی پاکستان پریس اور پبلیکیشنز آرڈیننس ۱۹۶۳ء کی دفعہ ۲۴ کی ذیلی دفعہ ۱ کی شق (ی ی) میں دیا گیا ہے، شامل کر دیئے جائیں گے۔
ب ...... ہندسہ اور حروف ۲۹۸ الف کے بعد الفاظ ہندسے اور حروف یا دفعہ ۲۹۸ ب یا دفعہ ۲۹۸ ج شامل کر دیئے جائیں گے۔
۵...... ایکٹ نمبر ۵ بابت ۱۸۹۸ء کی جدول دوم کی ترمیم
مذکورہ مجموعہ میں جدول دوم میں، دفعہ ۲۹۸ الف سے متعلق اندراجات کے بعد حسب ذیل اندراجات شامل کر دیئے جائیں گے۔ یعنی:
۱ ۲ ۳ ۴ ۵ ۶ ۷ ۸ ۲۹۸ب بعض ایضاً ایضاً ناقابل ایضاً تین ایضاً مقدس ضمانت سال شخصیات کے لئے کے لئے کسی مخصوص ایک قسم القاب، کی اوصاف سزائے اور قید اور خطابات جرمانہ وغیرہ کا ناجائز استعمال
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۱۰۹ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
۲۹۸ ج قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے ایضاً ایضاً ناقابل ضمانت ایضاً تین سال کے لئے کسی ایک قسم کی سزائے قید اور جرمانہ ایضاً
حصہ چہارم...... مغربی پاکستان پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس ۱۹۶۳ء
(مغربی پاکستان آرڈیننس نمبر ۳۰ مجریہ ۱۹۶۳ء کی ترمیم)
۶...... مغربی پاکستان آرڈیننس ۱۹۶۳ء کی دفعہ ۲۴ کی ترمیم
مغربی پاکستان پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس ۱۹۶۳ء (مغربی پاکستان آرڈیننس نمبر ۳۰ مجریہ ۱۹۶۳ء) میں دفعہ ۲۴ میں ذیلی دفعہ (۱) میں شق (ی) کے بعد حسب ذیل نئی شق شامل کر دی جائے گی۔ یعنی:
”(ی ی) ایسی نوعیت کی ہوں جن کا حوالہ مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر ۴۵ بابت ۱۸۶۰ء) کی دفعات ۲۹۸ الف، ۲۹۸ ب، یا ۲۹۸ ج میں دیا گیا ہے۔ یا“
جنرل محمد ضیاء الحق (صدر پاکستان)
اس آرڈیننس کے جو فوری نتائج حاصل ہوئے وہ یہ تھے۔
- ۱....... قادیانی ولاہوری خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ......۲ قادیانی ولاہوری مرزا قادیانی کے دیکھنے والوں کو صحابہ نہیں کہہ سکتے۔
- ......۳ قادیانی ولاہوری گروپ کے سربراہ خود کو امیر المؤمنین نہیں کہہ سکتے۔
- ......۴ قادیانی ولاہوری گروپ کے سربراہ خود کو خلیفۃ المسلمین نہیں کہہ سکتے۔
- ......۵ قادیانی ولاہوری، مرزا قادیانی کے دیکھنے والوں کو رضی اللہ عنہ نہیں کہہ سکتے۔
- ......۶ قادیانی ولاہوری مرزا قادیانی کی بیوی کو ام المؤمنین نہیں کہہ سکتے۔
- ......۷ قادیانی ولاہوری گروپ مرزا قادیانی کے خاندان کو اہل بیت نہیں کہہ سکتے۔
- ......۸ قادیانی ولاہوری اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے۔
- ......۹ قادیانی ولاہوری عبادت کے لئے آذان نہیں کہہ سکتے۔ اس لئے کہ آذان
مسلمانوں کا شعار ہے اور قادیانی کافر ہیں۔
- ......۱۰ قادیانی ولاہوری اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ نہ ایسا باور کراسکتے ہیں۔
- ......۱۱ قادیانی ولاہوری اپنے مذہب (قادیانیت) کو اسلام نہیں کہہ سکتے۔
- ......۱۲ قادیانی ولاہوری اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں یا تشہیر نہیں کر سکتے۔ نہ ہی دوسروں کو
قادیانیت قبول کرنے کی دعوت دے سکتے ہیں۔
اگر وہ ایسے کریں گے تو تین سال کی سزا اور جرمانہ کے مستوجب سزا ہوں گے۔
امتناع قادیانیت آرڈیننس ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء کی شام کو نافذ ہوا۔ اگلے دن قادیانی مرکز، چناب نگر (ربوہ) میں قادیانی اذانیں نہیں دے پائے۔ قادیانی سربراہ کے لئے پاکستان میں رہنا دشوار ہوگیا۔ وہ پاکستان سے مجرمانہ فرار اختیار کر کے لندن کو روانہ ہوا۔ چناب نگر کے قادیانیوں کے پاس ایمان پہلے نہیں تھا۔ اب سربراہ بھی نہ رہا۔ غرض قادیانی قیادت کے لئے حضرت قبلہ مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ نے ایسا شکنجہ تیار کیا کہ قادیانی اس میں پھڑ پھڑا کر بال و پر سے محروم ہوگئے۔ العظمة لله ولرسوله وللمؤمنين!
۴۹......قادیانیت سے عدالتی جنگ
۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا۔ اس آرڈیننس کے بعد:
- ......۱ قادیانی گروپ کا لیڈر مرزا طاہر ملک عزیز پاکستان سے مجرمانہ فرار اختیار کر کے یکم
مئی ۱۹۸۴ء کو انگلستان چلا گیا اور تا دم مرگ وہاں رہا۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۱۱۱ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۲...... قادیانی جماعت کے سالانہ جلسہ (جسے وہ نعوذباللہ ظلی حج کا درجہ دیتے ہیں) پر
پابندی لگ گئی۔
- ۳...... قادیانیوں کے اخبار الفضل پر پابندی لگ گئی۔ قادیانیوں اور لاہوریوں نے فوری
طور پر اس آرڈیننس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کردیا کہ یہ آرڈیننس قرآن وسنت کے منافی ہے۔
۵۰...... کیس نمبر ۱...... وفاقی شرعی عدالت
وفاقی شرعی عدالت کے پانچ رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی۔ بینچ جسٹس آفتاب احمد، جسٹس فخر عالم، جسٹس چوہدری محمد صدیق، جسٹس مولانا ملک غلام علی، جسٹس مولانا عبدالقدوس قاسمی پر مشتمل تھا۔
قادیانیوں کی طرف سے مجیب الرحمن ایڈووکیٹ قادیانی اور لاہوری مرزائیوں کی طرف سے کیپٹن ریٹائرڈ عبدالواحد لاہوری مرزائی پیش ہوئے۔ جبکہ مدعا علیہ حکومت پاکستان کی طرف سے حاجی شیخ غیاث محمد ایڈووکیٹ، جناب ایم بی زمان ایڈووکیٹ اور سید ڈاکٹر ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ نے پیروی کی۔ ۱۵؍جولائی ۱۹۸۴ء سے ۱۲؍اگست ۱۹۸۴ء تک (سوائے چھٹیوں) کے سماعت جاری رہی۔ کیس کی سماعت کے سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کے حکم پر مفکر اسلام مولانا محمد شریف جالندھریؒ (جو ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ تھے) نے مندرجہ ذیل اقدامات کئے:
- ☆...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی لائبریری ملتان سے بیسیوں بکسوں پر مشتمل
ضروری کتب ورسائل وریکارڈ لاہور منگوا لیا۔
- ☆...... کراچی سے عالم اسلام کے معروف سکالر اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
کے ناظم نشر و اشاعت (ان دنوں) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور ملتان سے مناظر اسلام اور عالمی مجلس کے ناظم تبلیغ (ان دنوں) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ اور ربوہ سے راقم اللہ وسایا کو لاہور طلب کر لیا۔ لاہور میں ان حضرات کی معاونت کے لئے مولانا کریم بخش علی پوریؒ جو ان دنوں لاہور مجلس کے مبلغ تھے کی ڈیوٹی لگائی گئی۔
- ☆...... ایک فوٹوسٹیٹ مشین کرایہ پر حاصل کر لی گئی۔
- ☆...... جامعہ اشرفیہ لاہور کے استاذ الحدیث مولانا عبدالرحمن اشرفی اور مولانا
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
عبید اللہ صاحب مہتمم جامعہ، مولانا فضل الرحیم نائب مہتمم نے جامعہ کی لائبریری ان حضرات کے لئے کھول دی۔
- ☆ ...... تقریباً مہینہ بھر میں اکیس دن سماعت ہوئی۔
- ☆ ...... عدالت نے مولانا صدر الدین الرفاعی، پروفیسر محمود احمد غازی، علامہ تاج
الدین حیدری، پروفیسر محمد اشرف، علامہ مرزا محمد یوسف، پروفیسر مولانا طاہر القادری اور قاضی مجیب الرحمن کو اپنی معاونت کے لئے بلایا جن کے تفصیلی بیانات ہوئے۔ مفکر اسلام مولانا علامہ خالد محمود نے مناظر اسلام مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کی معاونت سے ایک تحریری بیان مرتب کیا جو عدالت میں پڑھا تو نہ جاسکا۔ البتہ عدالت میں جمع کرا دیا گیا۔ (بعد میں اسے جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے ترجمان الرشید میں ”قادیانیوں کی قانونی حیثیت“ کے نام سے مستقل اشاعت میں شائع بھی کر دیا گیا ۔)
- ☆ ...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمدؒ، حضرت سید
انور حسین نفیس رقمؒ، کی سربراہی میں لاہور کے علماء عدالت میں ہر روز تشریف لاتے رہے۔
- ☆ ...... عدالت میں اتنا رش ہوتا کہ عدالت کا وسیع وعریض ہال اپنی تمام تر
وسعتوں کے باوجود ناکافی ہوجاتا۔ آخر میں عدالت کو پاس جاری کرنے پڑے۔
- ☆ ...... ہر روز کی کاروائی کے بعد شام کو مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا
محمد یوسف لدھیانویؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کے ساتھ مسلمان وکلاء کی جامعہ اشرفیہ فیروز پور لاہور کی لائبریری میں گھنٹوں ملاقات ہوتی۔ متعلقہ امور پر مشاورت، حوالہ جات کی تلاش ہوتی۔ ان کے فوٹوسٹیٹ حاصل کئے جاتے۔ بیانات لکھے جاتے۔ قادیانی وساوس ودجل وفریب کے جواب تیار کئے جاتے اور یوں حق تعالیٰ کی طرف سے عنایت کردہ توفیق وکرم سے مہینہ بھر یہ محنت جاری رہی۔
- ☆ ...... جب مسلمان وکلاء کے بیانات وبحث شروع ہوئی تو عدالت کے سامنے
وکلاء کے ساتھ پہلی لائن میں وسیع وعریض دو میز رکھے ۔ جن پر اسلامی اور قادیانی کتب کا ذخیرہ سلیقہ سے رکھا جاتا۔ وکلاء کو پہلے سے تیار شدہ حوالہ جات وکتب دینے کی ذمہ داری مناظر اسلام مولانا عبدالرحیم اشعرؒ اور فقیر اللہ وسایا نے نبھائی۔
- ☆ ...... قادیانی وکلاء جب پیش ہوتے اور لا یعنی تاویلیں کرتے تو مسلمانوں میں
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اشتعال اور قادیانی حاضرین پر اوس پڑ جاتی۔
- ☆ ...... جب مسلمان وکلاء نے اپنے دلائل و براہین کے انبار لگاتے تو مسلمانوں
کے چہرے ہشاش بشاش اور قادیانیوں پر شرمندگی کے آثار قابل دید ہوتے۔
- ☆ ...... مسلمان وکلاء کے دلائل سے متاثر ہو کر کچھ قادیانیوں نے حضرت مولانا
عبدالقادر آزاد خطیب بادشاہی مسجد لاہور کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ (اخبارات میں خبریں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں)
قومی پریس نے ہر روز کی کاروائی شہ سرخیوں سے شائع کی۔ جس سے اندرون وبیرون ملک تمام مسلمانوں کی نگاہیں اس کیس کی طرف لگ گئیں۔
اللہ رب العزت کی رحمت و کرم اور رحمت دو عالم ﷺ کی توجہات عالیہ امت مسلمہ کے لئے واحد سہارا تھیں۔ قادیانی اپنے طور پر اندرون و بیرون ملک سے دباؤ بڑھا رہے تھے۔ ملک کی تمام بے دین لابیاں اسے اپنے لئے موت وحیات کا مسئلہ بنائے کھڑی تھیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم ایک مارشل لاء کے ذریعہ برسر اقتدار آئے تھے۔ اس کی آمریت کا ڈھنڈورا پیٹنے کے لئے سیکولر جماعتوں کے بعض کارکنوں کو قادیانیوں نے خوب خوب استعمال کیا۔ تاکہ کسی طرح ” امتناع قادیانیت آرڈیننس “ منسوخ ہو جائے۔ ادھر عدالتی کاروائی جاری تھی۔
غرض یہ کہ کفر اور اسلام کا معرکہ تھا۔ حق و باطل کی جنگ تھی۔ مسلمان اور قادیانی مقابل میں برسر پیکار تھے۔ قادیانی اپنے طور پر خوش تھے کہ جسٹس آفتاب پہلے ڈیرہ غازی خان کی ایک مسجد کے کیس میں قادیانیوں کے حق میں فیصلہ دے چکا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اپنے زمانہ میں یہودیوں کی ایک تنظیم فری میسن پر پابندی لگادی تھی۔ یہودیوں اور ان کے آلہ کاروں نے لاہور ہائیکورٹ میں اس پابندی کو چیلنج کیا تو اسی جسٹس آفتاب نے یہودی تنظیم پر سے پابندی ختم کر دی تھی۔ ایسے ڈھب کے جج صاحب کا قادیانیوں کی مطلب برآری کے لئے مفید ہونے میں کوئی شبہ نہ تھا۔ آخر حق تعالیٰ کی شان کریمی کا اظہار ہوا۔ رحمت دو عالم ﷺ کی دعائیں امت کے کام آگئیں اور ۱۲؍ جولائی ۱۹۸۴ء کو اسی جسٹس آفتاب صاحب کے قلم سے قادیانیوں کی اپیلیں خارج کر دی گئیں۔ قادیانیوں کو ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور امت مسلمہ کو ایک بار پھر جھوٹی امت قادیانیت پر فتح حاصل ہو گئی۔ ۱۲؍ جولائی کو پہلے وقت جب بحث سمیٹی گئی تو تمام حاضرین ہال کے باہر آگئے۔ جج صاحبان فیصلہ لکھنے کے لئے عدالت سے ملحقہ ریٹائرنگ روم میں چلے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
گئے۔ عدالت کے لان میں ایک پیپل کے درخت کے زیر سایہ علماء و مشائخ جمع تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ اور قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز حضرت سید انور حسین نفیسؒ ہر دو بزرگوں نے زمین پر بیٹھتے ہی سر جھکائے اور مراقبہ میں چلے گئے۔ اس منظر کی آسان تعبیر یہ ہوگی کہ عدالت کے اندر جج صاحبان فیصلہ کے لئے قلم تول رہے تھے اور عدالت سے باہر یہ بزرگ اپنے رب کی رحمتوں کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔ اللہ رب العزت کا کرم و فضل ہوا کہ جسٹس آفتاب نے دوصفحاتی اجمالی فیصلہ لکھا۔
باقی تمام جج صاحبان نے دستخط کئے۔ متفقہ طور پر فیصلہ ہوا۔ وکلاء کو اندر بلا لیا گیا۔ اہل اسلام کے وکیل اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی سعادت حاصل کرنے والے ایڈووکیٹ جناب سید ریاض الحسن گیلانی جب فیصلہ سن کر عدالت کے کمرے سے وکٹری کا نشان بنائے باہر آئے تو مسلمانوں نے عشق نبویؐ سے سرشار ہو کر صدائے اللہ اکبر بلند کی۔ نعرہ تکبیر کی آواز پر حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ اور سید انور حسین نفیسؒ نے مراقبہ سے سر اٹھایا تو دونوں بزرگوں کے چہرہ پر خوشی کے آنسوؤں کی جھڑیاں لگی ہوئی تھیں۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا اور حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ فیصلہ سنتے ہی سربسجود ہوگئے۔ اسلام زندہ باد، قادیانی مردہ باد۔ یہ منظر کبھی نہ بھولے گا کہ فیصلہ کے بعد قادیانی وکیل تو کسی عقبی دروازہ سے کھسک گئے اور باقی قادیانی ایسے گم ہوئے جیسے مرزا قادیانی کے دل سے حیاء گم ہوگئی تھی۔ اس دوصفحاتی فیصلہ میں لکھا تھا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں دیا جائے گا۔ جسٹس آفتاب ریٹائرڈ ہوگئے تو اس کے بعد جسٹس فخر عالم صاحب چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت بنے۔ وہ بینچ کے بھی سینئر رکن تھے۔ انہوں نے اس مقدمہ کا تفصیلی فیصلہ ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۸۴ء کو سنایا۔ جو اردو ایڈیشن کے ۴۲۷ صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ فیصلہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔
اس فیصلہ نے قادیانیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے بند باندھ دیا۔ قادیانیوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ مرزائیت رسوا ہوگئی۔ اسلام جیت گیا۔ کفر ہار گیا۔ قل جاء الحق وزھق الباطل کی عملی تفسیر مسلمانوں نے ایک بار پھر اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔ فاالحمدللہ اوّلا و آخراً!
وفاقی شرعی عدالت نے آرڈیننس کو قرآن وسنت کے مطابق قرار دے دیا۔ اس
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
”امتناع قادیانیت آرڈیننس“ کے ذریعہ پریس آرڈیننس میں بھی ترمیم کر دی گئی تھی۔ جس کے تحت الفضل ربوہ بند ہو گیا تھا۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی صاحبزادی بیگم زرداری محترمہ بے نظیر بھٹو تشریف لائیں تو پریس کی آزادی کے ضمن میں اقدامات کرتے ہوئے پریس آرڈیننس کی ترمیم کو اڑا دیا۔ جناب صدر مملکت غلام اسحاق خان نے اس پر تائیدی دستخط کر دیئے۔ الفضل جاری ہو گیا۔ محترمہ بے نظیر اور اسحاق خان کی اس حرکت کا ہمارے پاس سوائے افسوس کے اور کوئی علاج نہ تھا۔ حضرت مولانا فضل الرحمن ان دنوں قومی اسمبلی کے ممبر تھے۔ انہوں نے بڑی کوشش وسعی کی۔ مگر بے نظیر بھٹو اور وزیر داخلہ اعتزاز صاحب نے پٹھے پر ہاتھ نہ دھرنے دیا۔ الفضل نے اپنی ترنگ میں آکر چوکڑی بھرنی چاہی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اسے مقدمات میں الجھا دیا۔ اسے چھٹی کا دودھ یاد آ گیا۔
۵۱...... کیس نمبر ۲...... قادیانی اپیل، در اپیل بنچ سپریم کورٹ وفاقی شرعی عدالت
”امتناع قادیانیت آرڈیننس“ کو قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے اسے قرآن وسنت کی تعلیمات اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دینے کی درخواست کی۔ فاضل عدالت کے پانچ جج صاحبان نے اپنے مفصل اور متفقہ فیصلہ کے ذریعے قادیانیوں کی اپیلوں کو خارج کر دیا اور آرڈیننس کو قرآن وسنت اور بنیادی حقوق کے مطابق قرار دیا۔ قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کو سپریم کورٹ آف پاکستان کی وفاقی شرعی اپیلانٹ بنچ میں کالعدم قرار دینے کی اپیل کی۔
سپریم کورٹ کے ۵ رکنی اپیل بنچ نے اس کی سماعت کی۔ جناب جسٹس محمد افضل اس کے چیئر مین تھے۔ اراکین میں جسٹس نسیم حسن شاہ (چیف جسٹس آف پاکستان بھی بعد میں بنے) جسٹس شفیع الرحمن، جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری، جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی شامل تھے۔ سماعت کے لئے جو نہی کوئی تاریخ نکلتی، قادیانی درخواست دے کر سماعت رکوا دیتے۔ اڑھائی سال تک اسی طرح ہوتا رہا۔ بالآخر ۱۰/جنوری ۱۹۸۸ء کو اس کی راولپنڈی سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہوئی۔ قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں نے پھر دجل سے کام لیا۔ عدالت کے کام میں روڑے اٹکائے۔ غیر ضروری طوالت دینے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال میں لائے اور بالآخر ایک درخواست کے ذریعہ عدالت سے اپنی اپیلوں کو واپس لینے کی استدعا کی۔ قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کی واپسی اپیلوں کی درخواست پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچوں جج صاحبان
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
نے متفقہ فیصلہ تحریر فرمایا۔ یہ فیصلہ مسٹر جسٹس محمد افضل نے جو اس وقت اپیل بنچ کے چیئرمین تھے اور بعد میں چیف جسٹس آف پاکستان بنے، نے تحریر فرمایا اور باقی جج صاحبان نے اس سے اتفاق کیا۔ فیصلہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے وفاقی شرعی عدالت اپیلانٹ بنچ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کو بحال رکھا۔ حق تعالیٰ شانہ نے امت محمدیہؐ کی ایک دفعہ پھر دستگیری فرمائی۔ قادیانی ایک اور ذلت سے دوچار ہوئے۔
۵۲....... کیس نمبر ۳...... ہائیکورٹ لاہور (قادیانیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین)
قادیانیوں کے بھگوڑے سربراہ مرزا طاہر نے پاکستان میں بسنے والے قادیانیوں کو حکم جاری کیا کہ وہ صدارتی ”امتناع قادیانیت آرڈیننس“ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے مکانوں، دکانوں اور عبادت گاہوں پر کلمہ طیبہ تحریر کریں اور سینوں پر کلمہ طیبہ کے بیج لگائیں۔ تاکہ وہ عوام الناس میں خود کو مسلمان ظاہر کر سکیں۔ چنانچہ قادیانیوں نے اپنے گرو کے حکم پر یہ فعل شنیع شروع کر دیا۔ روڈہ ضلع خوشاب کے رہنے والے ایک اکھڑ مزاج، فرعون صفت اور دریدہ دہن قادیانی جہانگیر جوئیہ ایڈووکیٹ نے قسم کھائی کہ وہ ساری زندگی اپنے سینہ سے کلمہ طیبہ کا بیج نہیں اتارے گا۔ جہانگیر جوئیہ ایڈووکیٹ خوشاب کا زمیندار تھا اور وہیں وکالت کرتا تھا۔ مقامی مسلمانوں نے اس کی دل آزار حرکتوں پر پولیس سے رابطہ قائم کیا اور اس کے خلاف پرچہ درج کرایا۔ کیس عدالت میں چلا۔ جہانگیر جوئیہ نے ضمانت کرالی۔ لیکن دوبارہ پھر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کلمہ طیبہ کا بیج لگا لیا۔ اس کے خلاف دوبارہ پرچہ درج ہوا۔ لیکن ضمانت پر رہا ہو گیا۔ اسی طرح کئی مرتبہ وہ قانون کی دھجیاں اڑاتا اور ضمانت پر رہا ہوتا رہا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت خوشاب کے امیر مولانا غلام ربانی اور دیگر مسلمان اس قادیانی کی ان رذیل حرکتوں سے بہت تنگ آچکے تھے۔ ایک دن جہانگیر جوئیہ اپنے سینہ پر کلمہ طیبہ کا بیج لگائے سرگودھا کے ایک بازار میں کپڑا خریدنے کے لئے آیا۔ اس کے ساتھ اس کے گاؤں کے دو قادیانی زمیندار بھی تھے اور انہوں نے بھی اپنے سینوں پر کلمہ کے بیج لگا رکھے تھے۔ اتفاق کی بات ہے کہ حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی بھی اسی دکان پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے جب اس کے غلیظ سینہ پر کلمہ طیبہ کا مقدس بیج دیکھا تو فوراً اسے اتارنے کو کہا۔ لیکن اس نے بڑی رعونت سے مولانا کو کہا ”چل اوئے، دنیا کی کوئی طاقت میرے سینے سے یہ بیج نہیں اتار سکتی۔“
طوفانی صاحب نے جھپٹ کر تینوں کے سینوں سے بیج اتار لئے۔ اتنے میں مجلس تحفظ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ختم نبوت کے کافی کارکن اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے تینوں قادیانیوں کو پکڑ لیا۔ طوفانی صاحب نے فوری طور پر تھانہ فون کیا۔ انسپکٹر محمد اکرم ان کو فون پر ملے۔ طوفانی صاحب نے انہیں مختصراً صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ فوراً پہنچیں۔ ورنہ حالات خراب ہونے کا شدید اندیشہ ہے۔ کیونکہ مسلمان بہت بپھرے ہوئے ہیں۔ انسپکٹر صاحب نے طوفانی صاحب کو کہا کہ میں صرف پانچ منٹ میں تمہارے پاس پہنچتا ہوں۔ انسپکٹر محمد اکرم پانچ منٹ سے پہلے ہی جیپ لے کر موقعہ پر پہنچ گئے اور تینوں قادیانیوں کو پکڑ کر جیپ میں بٹھا لیا۔ جیپ میں بیٹھتے ہی جہانگیر جوئیہ نے اپنی جیب سے نیا بیج نکالا اور سینہ پر لگا لیا۔ وہ بیج بھی تھانے میں اتروا لیا گیا۔ جوئیہ قادیانی انیس دن جیل میں رہا۔ پیشی پر عدالت میں بیج لگا کر آیا۔ سیشن جج نے ضمانت خارج کر دی۔ ملزم جوئیہ نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کر دی۔ ہائی کورٹ کے جناب جسٹس محمد رفیق تارڑ صاحب نے ملزم کی ضمانت خارج کر دی اور کہا کہ چونکہ قادیانی ”محمد رسول اللہ“ سے مراد ”مرزا قادیانی“ لیتے ہیں۔ اس لئے وہ توہین رسالتﷺ کے مرتکب ہوتے ہیں۔
پنجاب حکومت کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل جناب خلیل الرحمٰن رمدے صاحب پیش ہوئے۔ (موصوف آج کل سپریم کورٹ کے جج ہیں) جناب خلیل الرحمٰن رمدے نے اس کیس کو کفر و اسلام کی جنگ سمجھ کر لڑا۔ انہوں نے اپنے دلائل قاہرہ کے ہتھوڑوں سے عدالت کے ایوان میں کفر و ارتداد کے بتوں کو پاش پاش کر دیا۔ محمد عربیﷺ کی عزت و ناموس کے اس محافظ نے قادیانیوں کو وہ چرکے لگائے کہ قادیانی آج بھی ان زخموں کو چاٹ رہے ہیں۔ میرا دل کہتا ہے کہ وکیل ختم نبوت اور عاشق رسولؐ جناب خلیل الرحمٰن رمدے صاحب نے دنیا کے میدان میں آمنہؓ کے لال کی عزت و عصمت کی حفاظت کا کیس لڑ کر حشر کے میدان کے لئے شفاعت محمدیﷺ کا پروانہ حاصل کر لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کے سایہ میں رکھے اور مزید ترقیوں سے نوازے۔ جناب ریاض الحسن گیلانی ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان اور جناب رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ نے بڑی جانفشانی اور جگر کاوی سے مقدمہ کی تیاری کی اور پوری امت کی طرف سے وکالت کا حق ادا کر دیا۔ ان کے دلائل کا ہر ہر جملہ قادیانیت کے ناپاک جسد پر بجلی بن کے گرتا اور اسے جلا کر خاکستر بناتا محسوس ہوتا۔ جب کہ حزب شیطان کی طرف سے مجیب الرحمٰن، ملک مجید اور مرزا نصیر احمد ایڈووکیٹ نے پیش ہو کر دنیا و آخرت کی روسیاہی کا سامان اکٹھا کیا۔ ۲۸؍ جون ۱۹۸۷ء کو یہ فیصلہ جناب جسٹس محمد رفیق تارڑ نے تحریر فرمایا۔ تارڑ صاحب بعد میں لاہور ہائیکورٹ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کے چیف جسٹس بھی بنے اور صدر پاکستان بھی رہے۔
۵۳....... کیس نمبر ۴....... فیصلہ ہائیکورٹ بلوچستان
قادیانیوں نے مسلمانوں کی دینی حمیت کو للکارا اور کلمہ طیبہ کے بیج لگائے۔ کوئٹہ بلوچستان میں سب سے پہلے ایک قادیانی محمد حیات کو لیاقت بازار میں کلمہ طیبہ کا بیج لگائے ہوئے دیکھ کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک پرعزم کارکن حاجی محمد رفیق بھٹی مرحوم نے مجلس کے مبلغ اور مجاہد ختم نبوت مولانا نذیر احمد تونسویؒ کو اطلاع دی۔ انہوں نے حیات قادیانی کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ سٹی تھانہ کے ایس۔ ایچ۔ او چوہدری محمد شریف نے مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کیا۔ ایک دینی جذبہ سے سرشار پولیس افسر سب انسپکٹر نذیر احمد نے تفتیش کی۔ مولانا نذیر احمد تونسویؒ نے دو اور قادیانیوں ظہیر الدین اور عبد الرحمان کو بھی پکڑ کر پولیس کے حوالہ کیا۔ دینی حمیت سے سرشار پولیس افسران انسپکٹر حاجی راجہ ارشاد احمد، انسپکٹر شاہنواز وٹو، سب انسپکٹر عبد العزیز اور سید رفیع اللہ شاہ نے مقدمہ کی احسن طریقے سے پیروی کر کے حق ادا کیا۔ پی۔ ڈی۔ ایس۔ پی اور اب ایس۔ پی سردار دریمن حاجی ملک محمد سرور اعوان، پی۔ ڈی۔ ایس۔ پی سید امتیاز شاہ اور پراسیکیوٹنگ انسپکٹر ملک نثار عباس نے مقدموں میں معاونت کی۔ سٹی مجسٹریٹ رحیم شاہ عبد اللہ زئی پہلے پاکستانی ہیں۔ جو سب سے پہلے دشمنان رسول کو سزا دے کر شافع محشر کی شفاعت کے حقدار بن گئے۔ علاوہ ازیں ایڈیشنل سیشن جج جناب سردار نادر خان، جناب چوہدری محمد اسلم مرحوم بھی رحمت دو عالم کی شفاعت کے حقدار بن گئے۔
مولانا نذیر احمد تونسویؒ نے مقدمات میں وکلاء کی شاندار معاونت کی۔ دینی غیرت و حمیت کے پیش نظر بڑی تعداد میں وکلاء صاحبان نے مقدموں کی پیروی کی۔ اس کا اصل کریڈٹ وکیل ختم نبوت چوہدری اعجاز یوسف، زاہد مقیم انصاری، وکیل سرکار جناب جاوید غزنوی صاحب، اسپیکر بلوچستان اسمبلی ملک سکندر خان ایڈووکیٹ کو جاتا ہے۔ جنہوں نے اس کیس کی بھرپور وکالت کی۔ یہ پانچ اپیلیں تھیں۔ جو ہائیکورٹ کوئٹہ میں دائر ہوئیں۔ (۱) فوجداری نگرانی نمبر ۳۸/۸۷۔ (۲) فوجداری نگرانی نمبر ۳۹/۸۷۔ (۳) فوجداری نگرانی نمبر ۴۰/۸۷۔ (۴) فوجداری نگرانی نمبر ۴۱/۸۷۔ (۵) فوجداری نگرانی نمبر ۴۲/۸۷۔
ان کیسوں کی سماعت جناب جسٹس امیر الملک مینگل نے ۹ /ستمبر ۱۹۸۷ء اور ۳، ۴، ۵ /اکتوبر ۱۹۸۷ء کو فرمائی اور ۲۲ /دسمبر ۱۹۸۷ء کو ان تمام اپیلوں کو خارج کر دیا۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
پی۔ایل۔ڈی کوئٹہ ۱۹۸۸ء ص ۲۲ پر یہ فیصلہ موجود ہے۔
۵۴...... کیس نمبر ۵...... صد سالہ جشن کیس لاہور ہائیکورٹ
اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں قادیانیت کا فتنہ ایک ایسا فتنہ ہے۔ جسے اسلام واہل اسلام کے لئے بلاشبہ خطرناک، مہلک اور بدترین قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس فتنہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی نے ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کو لدھیانہ (بھارت) میں اس فتنہ کی بنیاد رکھی۔ چنانچہ اس فتنہ کے سو سال پورے ہونے پر قادیانی ۲۳ / مارچ ۱۹۸۹ء کو صد سالہ جشن منانا چاہتے تھے۔ اس کے لئے انہوں نے اپنے پاکستانی مرکز ربوہ میں یہ انتظام کیا کہ:
- ۱...... پورے ربوہ (چناب نگر) اور گرد ونواح کی پہاڑیوں اور عمارتوں پر چراغاں کے لئے
لائٹ اینڈ ڈیکوریشن پارٹیوں سے گوجرانوالہ ، سرگودھا ، فیصل آباد ، راولپنڈی اور جھنگ وغیرہ سے سامان کرایہ پر لینے کے لئے معاہدے کئے۔ ہزاروں روپیہ ایڈوانس دیا اور اسٹام پر تحریریں حاصل کیں۔
- ۲...... بجلی بند ہونے کی صورت میں وسیع پیمانہ پر جنریٹروں کا انتظام کیا۔
- ۳...... مٹی کے ”دیئے“ کئی ٹرکوں پر منگوائے جو سرسوں کے تیل سے جلانے تھے۔
- ۴...... صد سالہ جشن کی مناسبت سے ربوہ میں سو گھوڑے، سو ہاتھی اور سو ملکوں کے جھنڈے
لہرانے کا انتظام کیا۔
- ۵...... اس موقعہ پر ربوہ میں عورتوں اور مردوں کے لئے فوجی وردی تیار کی گئی۔ جسے پہن کر
انہیں عسکری طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔
- ۶...... اس کے علاوہ تقسیم مٹھائی، جشن، جلسے اور تقریبات وغیرہ کے دیگر لوازمات کا اہتمام
کیا۔ غرض اس طرح وہ اپنے کفر کی تبلیغ کے لئے سرگرم عمل تھے اور تماشہ دیکھئے کہ جھوٹے کے جھوٹ کے سو سال مکمل ہونے پر صد سالہ جشن اور وہ بھی آئین وقانون کی خلاف ورزی اور مسلمانوں کے لئے اشتعال کا باعث۔
قادیانی جماعت کی اس تیاری پر اسلامیان پاکستان کو تشویش لاحق ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فوری طور پر اپنی مرکزی ورکنگ کمیٹی کا دفتر مرکزیہ ملتان میں ۱۲ / مارچ ۱۹۸۹ء کو اجلاس طلب کیا۔ حضرت قبلہؒ نے صدارت فرمائی اور اس تشویشناک صورتحال پر غور کر کے اہم فیصلے کئے۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۱...... روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، راولپنڈی، کراچی، ملتان، روزنامہ جنگ
لاہور، کراچی، راولپنڈی، کوئٹہ کے تمام ایڈیشنوں میں آخری صفحہ پر ہزاروں روپیہ کی لاگت سے اشتہار دیا۔ جس میں جشن پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا اور پابندی نہ لگنے کی صورت میں ۲۳؍ مارچ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن ربوہ پر ”آل پاکستان ختم نبوت ریلی“ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔
- ۲...... ۱۷؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو پورے ملک کے تمام مکاتب فکر نے یوم احتجاج منایا۔
- ۳...... ۱۲؍ مارچ کو ملتان، ۱۸؍ مارچ کو بہاولنگر، ۱۹؍ مارچ دوالمیال چکوال میں
عظیم الشان احتجاجی کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ ربوہ میں مشترکہ جمعہ اور سرگودھا، جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ اپنے رفقاء کی ٹیم لے کر پورے پنجاب میں سرگرم عمل ہو گئے۔
- ۴...... ۱۸؍ مارچ کو سرگودھا میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا محمد اکرم
طوفانی کی قیادت میں مسلمانان سرگودھا نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جس میں تمام دینی جماعتوں نے بھرپور حصہ لے کر نمایاں کردار ادا کیا۔
- ۵...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا اور چنیوٹ نے ۲۳؍ مارچ کو سرگودھا اور
چنیوٹ سے ربوہ کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا۔
- ۶...... پورے ملک کے اخبارات میں احتجاجی بیانات اور غم وغصہ کا اظہار کیا گیا۔
اس سلسلہ میں مولانا فقیر محمد صاحب سیکرٹری اطلاعات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد نے بھرپور اور مؤثر کردار ادا کیا۔ یوں پورے ملک میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنان و رہنما سراپا احتجاج بن گئے۔
- ۷...... پورے ملک سے وفود اور قافلے ”جشن“ بند نہ ہونے کی صورت میں
احتجاج کے لئے ربوہ پہنچنے کی تیاری کرنے لگے۔
- ۸...... مولانا زاہد الراشدی سیکرٹری اطلاعات مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت
پاکستان نے گوجرانوالہ کی لائٹ اینڈ ڈیکوریشن کی پارٹیوں سے ملاقات کی اور مرزائیوں کے خود ساختہ جشن پر چراغاں کا سامان سپلائی نہ کرنے کا وعدہ لیا اور تمام مکاتب فکر کی طرف سے ایک مشترکہ فتویٰ مرتب کیا کہ مرزائیوں کے جشن پر مسلمانوں کا سامان چراغاں مہیا کرنا تعاون علیٰ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
الکفر کے باعث قطعاً حرام اور ناجائز ہے۔ مولانا کی کاوش سے گوجرانوالہ کی لائٹ اینڈ ڈیکوریشن کی پارٹیوں نے نہ صرف سامان دینے کے معاہدے منسوخ کئے۔ بلکہ ایک وفد مرتب کیا اور تمام ایسے شہر جہاں سے مرزائیوں نے سامان کی بکنگ کا معاہدہ کیا تھا، کا دورہ کر کے تمام مسلمان پارٹیوں کو سامان دینے سے روکا۔ جس پر انہوں نے اپنی دینی حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرزائیوں کو کورا جواب دے دیا۔
۹...... مولانا منظور احمد چنیوٹی ان دنوں پنجاب اسمبلی کے ممبر تھے۔ انہوں نے اسمبلی میں آواز بلند کی۔
مرزائیوں نے یہ صورتحال دیکھ کر ربوہ میں جشن کے انتظامات کے علاوہ بھارتی سرحد کے قریب جلو موڑ سے تقریباً تین کلو میٹر آگے ’وانڈھو‘ نامی گاؤں میں وسیع قطعہ اراضی لے کر اس پر بلڈوزر اور کرینیں لگا کر پنڈال بنایا۔ ٹیوب ویل بور کئے، پانی کے پائپ بچھائے اور متبادل انتظام کی مکمل تیاری کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے امیر الحاج بلند اختر نظامی کو ایک گمنام خط کے ذریعہ اس کی اطلاع ہوئی۔ مرزائیوں کی اس سازش پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت خواجہ خان محمد صاحبؒ نے اخبارات کو بیان جاری کیا۔ جو روزنامہ جنگ لاہور کے صفحہ اوّل پر مورخہ ۱۷؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو شائع ہوا۔ عالمی مجلس نے لاہور کے کمشنر، ڈی۔سی، اور ہوم سیکرٹری پنجاب کو ٹیلی گرام دیئے۔ یوں قادیانی کفر نے مسلمانوں کو الجھانے کے لئے ربوہ کے علاوہ دوسرا محاذ بھی کھول دیا۔
لاہور کے قریب اس سازش کی اخبارات میں خبر آتے ہی مولانا عبدالتواب صدیقی نے باغبانپورہ سے داروغہ والا تک ۲۲؍ مارچ کو لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ جمعیت علماء اسلام کے نائب امیر محترم مولانا قاری محمد اجمل خانؒ، مولانا محمد اجمل قادری اور جامع مسجد وزیر خاں لاہور کے خطیب مولانا خلیل احمد قادریؒ سرگرم عمل ہو گئے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے وفاقی حکومت کی سربراہ بے نظیر بھٹو کو اس طرف متوجہ کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ اعتزاز احسن، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار بہادر خان اسے صوبائی مسئلہ کہہ کر فارغ ہو گئے۔
حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ نے ۲۰؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو اسلام آباد میں مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس جامع مسجد دارالسلام میں طلب کر لیا۔ اسلام آباد میں عالمی مجلس کے مبلغ مولانا عبدالرؤفؒ، مولانا قاری محمد امینؒ، مولانا محمد رمضان علویؒ اور مولانا محمد عبداللہؒ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اراکین شوریٰ شب و روز ایک کر کے اسے کامیاب بنانے پر لگ گئے۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خاںؒ کے جانشین مولانا قاضی احسان الحقؒ نے اپنی راجہ بازار کی جامع مسجد میں ۲۰/ مارچ کو ختم نبوت کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔
۱۸/ مارچ ۱۹۸۹ء کی شام کو ڈی سی، اور ایس پی جھنگ ربوہ گئے۔ جہاں عالمی مجلس کے رہنما مولانا محمد اشرف ہمدانی، صاحبزادہ طارق محمودؒ، مولانا فقیر محمد اور مولانا خدا بخشؒ نے ان سے ملاقات کر کے سارے ملک کی صورتحال سے ان کو باخبر کیا۔ صوبائی حکومت، عالمی مجلس، مرکزی مجلس عمل، اسلامیان پاکستان اور تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو دیکھ رہی تھی۔
۲۰/ مارچ کو اسلام آباد میں مجلس عمل کا اجلاس منعقد ہوا۔ اسلام آباد، راولپنڈی کے تمام علماء کرام، جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام، جمعیت اہل حدیث، جمعیت علماء پاکستان اور منہاج القرآن، غرضیکہ تمام مکاتب فکر اور دینی جماعتوں کے پچاس نمائندگان نے شرکت کی۔ مولانا سید چراغ الدین نے مولانا سمیع الحق صاحب سے ہسپتال جا کر ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ میری عیادت کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب جناب محمد نواز شریف آ رہے ہیں۔ ان سے میں دو ٹوک بات کروں گا۔ وفاقی وزارت داخلہ و مذہبی امور کے نمائندگان عجیب ذہنی کیفیت اور دوغلی پالیسی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔
مجلس عمل کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ مولانا زاہد الراشدی آئی۔ جے۔ آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) کی جماعت کا وفد لے کر ہوم سیکرٹری پنجاب کو ملیں۔ اتحاد العلماء کے مولانا محمد عبدالمالک نے حضرت امیر مرکزیہ قبلہ مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کے نام قاضی حسین احمد صاحب کا پیغام پہنچایا کہ اس جدوجہد میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہی پیغام ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے ان کے نمائندے لائے۔
صوبائی حکومت آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل کی کارروائی سے لمحہ بہ لمحہ آگاہی حاصل کر رہی تھی۔ پورے صوبہ کی صورتحال ان کے سامنے تھی۔ مجلس عمل کا یہ فیصلہ کہ اگر مرزائی جشن بند نہ ہوا تو ۲۳/ مارچ کو پورے ملک کا رخ ربوہ کی طرف ہوگا۔ اس فیصلہ کی اطلاع ملتے ہی لاہور میں ہوم سیکرٹری نے مجلس عمل کے نمائندگان کو بلایا اور اسی وقت ۲۰/ مارچ کو ڈی۔سی اور ایس۔پی جھنگ ربوہ گئے۔ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا محمد اشرف ہمدانی، صاحبزادہ طارق
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
محمودؒ اور مولانا فقیر محمد، ربوہ اور چنیوٹ کے رفقاء سمیت ان افسران سے ملے اور پنجاب حکومت کی ہدایت پر ڈی۔سی جھنگ نے قادیانی جشن پر مکمل پابندی کا اعلان کر دیا۔ مولانا فقیر محمد صاحب قادیانیوں کے تمام پروگراموں سے باخبر تھے۔ انہوں نے ان کی تفصیل ڈی۔سی کو بتائی۔ انہوں نے تمام پروگراموں کو منسوخ کرنے کا آرڈر جاری کر دیا۔
۵۵...... مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کی جفاکشی
۲۰؍ مارچ کی رات کو راولپنڈی راجہ بازار میں ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ اس سے قبل ریڈیو کے ذریعہ پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے ”جشن“ پر پابندی کا اعلان ہو چکا تھا۔ کانفرنس سے فارغ ہوتے ہی حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ گوجرانوالہ، فیصل آباد کے راستہ ربوہ روانہ ہوئے۔ صوفی ریاض الحسن گنگوہی اور دوسرے رفقاء فیصل آباد سے آپ کے ہمراہ ہو گئے۔ ۲۳؍ مارچ کو آپ نے اپنی آنکھوں سے ربوہ میں مرزائی سازش کی ناکامی کا منظر دیکھا اور خدا کے حضور سجدۂ شکر بجالائے۔ اس مختصر دورہ کے بعد آپ خانقاہ عالیہ تشریف لے گئے۔ یوں ایک بار پھر کفر ہار گیا اور اسلام اور مسلمان جیت گئے۔ فالحمد للہ!
ربوہ کی طرح ”وانڈھو“ گاؤں میں بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ لاہور پولیس نے سب سامان اٹھوا دیا۔ مرزائی، مرزا قادیانی کو ماننے کے گناہ سمیت جلسہ کا سامان سروں پر رکھ کر دوڑے۔ پورے پنجاب میں مرزائیوں کے جشن پر پابندی لگ چکی تھی۔ بلوچستان اور سرحد کے مسلمانوں کے سامنے بھی مرزائیوں کی سازش کامیاب نہ ہو سکی۔ البتہ سندھ میں جہاں خالصتاً پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، بعض مقامات پر مرزائیوں نے پروگرام کئے۔ مگر انتہائی راز داری سے بزدلانہ طریقہ پر چھپ کر۔ الحمدللہ! یوں ۲۳؍ مارچ کا سورج مرزائیت کی رسوائی کا سامان لے کر طلوع ہوا۔ فالحمد للہ !
مرزائیوں نے اس پابندی کے خلاف ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر دی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ کے حکم ”پابندی جشن“ کو چیلنج کیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے عزت مآب جسٹس خلیل الرحمٰن خان کے ہاں کیس لگا۔ ہائیکورٹ کے قابل احترام جج نے مرزائیوں کو کہا کہ اب جشن کا وقت گزر گیا ہے۔ اب یہ رٹ بعد از وقت ہے۔ مگر مرزائی مصر تھے کہ نہیں جناب فیصلہ ہونا چاہئے کہ یہ پابندی جائز تھی یا ناجائز۔
مرزائیوں کی طرف سے اصرار پر عدالت میں کارروائی شروع ہوئی۔ مرزائیوں کے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
وکیل مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا پنڈورہ بکس لے کر آئے۔ ادھر پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کی سعادت و وکالت کے لئے قدرت نے جناب مقبول الٰہی ملک ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نذیر احمد غازی صاحب کو منتخب فرمایا۔ جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ اور جناب رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ بھی مرزائیت کے مقابلہ میں خم ٹھونک کر میدان میں آگئے۔ اس موقعہ پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اللہ رب العزت نے پھر توفیق بخشی۔ ملتان مرکز سے مرزائیت کی کتابوں کا سیٹ لے کر حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، لاہور کے حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور سندھ سے مولانا احمد میاں حمادی پہنچ گئے۔ پاکستان کے نامور عالم دین ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحب نے بھی دن رات ایک کر دیا۔
مرزائیوں کے جواب الجواب کا جب مرحلہ آیا تو قدرت نے عالی جناب محترم ومکرم، مجاہد و محافظ ناموس مصطفےٰ ﷺ جناب نذیر احمد غازی صاحب اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو توفیق دی۔ ان کے رفقاء و متوسلین جناب پروفیسر سید قمر علی زیدی، جناب پروفیسر ملک خالق داد، جناب مسعود ایڈووکیٹ، فقیر اللہ وسایا اور محترم مولانا کریم بخش صاحب اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے پوری رات جاگ کر جواب الجواب تیار کیا۔ غازی نذیر احمد صاحب نے اس کیس کو رحمت عالم ﷺ کی طرف سے اپنے لئے باعث سعادت سمجھ کر اس کی تیاری کی۔ صبح جب عدالت میں پیش ہوئے اور گھنٹوں دلائل و براہین کے ساتھ نپے تلے انداز میں مرزائیوں کا جواب الجواب دیا تو عدالت میں سناٹا چھا گیا۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ ایمان و اسلام کا نمائندہ اور ختم نبوت کا وکیل دل کی دنیا سے ایمان و وجدان، محبت و عشق سے نغمہ ساز ہے۔ مرزائیت پر اوس پڑ گئی۔ ان کے چہرے ان کے دلوں کی طرح سیاہ ہوگئے اور مورخہ ۲۲ مئی ۱۹۹۱ء کو سماعت مکمل ہوگئی۔ عالی جناب عزت مآب جسٹس خلیل الرحمٰن خاں نے مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۹۱ء کو فیصلہ سنایا۔ یہ فیصلہ ایمان پرور بھی ہے۔ حقائق افروز بھی۔ اس فیصلہ سے ایک بار پھر لاہور ہائیکورٹ کے عزت و وقار میں مزید اضافہ ہوا۔ فیصلہ کا ایک ایک حرف قدرت کی طرف سے مرزائیت کی رگ جان کے لئے نشتر ہے۔
۵۶....... کیس نمبر ۷ ....... لاہور ہائیکورٹ
ننکانہ کے ایک قادیانی ناصر نے ایک دعوت نامہ میں اسلامی اصطلاحات استعمال
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کیس۔ الحاج عبدالحمید رحمانی نے کیس درج کرایا۔ ملزم گرفتار ہوا تو اس کی ضمانت کے لئے مسٹر جسٹس میاں نذیر احمد کی عدالت لاہور ہائیکورٹ میں کیس آیا۔ اس فیصلہ کا ایک ایک لفظ قادیانیت کی رگ جان کے لئے نشتر ہے۔ ۲؍اگست ۱۹۹۲ء کو فیصلہ دیا۔
۵۷....... کیس نمبر ۸....... لاہور ہائیکورٹ
نفیس نامی وغیرہ قادیانی طلبہ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کے داخلہ فارم کے مذہب کے خانہ میں اپنے آپ کو ”احمدی مسلمان“ لکھا۔ یونیورسٹی کی داخلہ کمیٹی نے قادیانی طلباء کو کہا کہ آئین کے اعتبار سے قادیانی غیر مسلم ہیں۔ لہٰذا آپ درستگی کریں۔ قادیانی طلباء نے ایسا کرنے سے اور یونیورسٹی حکام نے داخلہ سے انکار کر دیا۔ مبشر لطیف قادیانی وکیل کے ذریعہ قادیانی طلباء نے عدالت عالیہ لاہور میں رٹ دائر کر دی۔ عزت مآب جسٹس گل محمد خاں نے سماعت کے بعد قرار دیا کہ ”(سائلان کو) آئین کے مطابق جواب دینا لازم تھا۔ انہیں امید نہیں کرنی چاہئے تھی کہ حکام ان کے غیر آئینی جوابات میں ان کا ہاتھ بٹائیں گے۔“ رٹ خارج کر دی گئی اور لازم قرار دیا گیا کہ ”قادیانی از روئے قانون اپنے کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے۔“
۵۸....... کیس نمبر ۹....... لاہور ہائیکورٹ بابت نمبرداری
فیصل آباد (لائل پور) کے ایک گاؤں کی نمبرداری کی سیٹ خالی ہونے پر دیگر امیدواروں کے علاوہ قادیانی بھی نمبرداری کے لئے آئے۔ معاملہ اسسٹنٹ کمشنر کے سپرد ہوا۔ انہوں نے جانچ پڑتال کے بعد مسلمان کو نمبرداری تفویض کر دی۔ ان دنوں فیصل آباد سرگودھا ڈویژن میں شامل تھا۔ قادیانی گروہ نے، سرگودھا کمشنر کے ہاں اپیل دائر کی۔ جو خارج کر دی گئی۔ انہوں نے ریونیو بورڈ میں اور وہاں سے مسترد ہونے پر عدالت عالیہ لاہور میں رٹ کر دی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس میاں محبوب احمد نے کیس کی سماعت کی اور قادیانی موقف کو کمزور قرار دے کر رٹ خارج کر دی۔ عزت مآب میاں محبوب احمد بعد میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی مقرر ہوئے۔ یہ فیصلہ ۲؍دسمبر ۱۹۸۱ء کو دیا گیا۔
۵۹....... کیس نمبر ۱۰....... توہین رسالت کی سزا فیڈرل شریعت کورٹ
جناب ضیاء الحق نے اہانت رسول کی سزا قانون میں سزائے موت یا عمر قید مقرر کی۔ جناب محمد اسماعیل قریشی نے فیڈرل شریعت کورٹ میں کیس دائر کیا کہ اہانت رسول کی سزا صرف
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
سزائے موت ہے۔ عمر قید کی سزا غیر شرعی ہے۔ فیڈرل شریعت کورٹ کے پانچ جج صاحبان نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس گل محمد خان، جسٹس عبدالکریم کنڈی، جسٹس عبادت یار خان، جسٹس عبدالرزاق تھہیم، جسٹس فداء محمد خان نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ اہانت رسول کی سزا سزائے موت ہے اور بس!
۶۰...... کیس نمبر ۱۱...... فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان
مارشل لا دور حکومت میں جناب جنرل محمد ضیاء الحق صاحب نے ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو ”امتناع قادیانیت آرڈیننس“ جاری کیا۔ قادیانیوں نے صریحاً قانون کی خلاف ورزی کی اور آئین شکنی پر اتر آئے۔ سول عدالتوں سے معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچا۔ قادیانیوں کے کفر پر ہائی کورٹ نے بھی مہر تصدیق ثبت کی۔ قادیانیوں نے ہائی کورٹ کے ان فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیلیں دائر کیں۔ جوں جوں فیصلے ان کے خلاف ہوتے گئے۔ وہ سپریم کورٹ سے رجوع کرتے رہے۔ ۱۹۸۸ء سے ۱۹۹۲ء تک کل اپیلوں یا رٹ، پٹیشنز کی تعداد آٹھ ہوگئی۔
آج سے سالہا سال قبل کراچی سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہوئی تو قادیانیوں نے آئیں، بائیں، شائیں کی۔ سپریم کورٹ کے بنچ کے معزز جج صاحبان نے مقدمات، چیف جسٹس صاحب کو بھجوا دیئے کہ ان کی سماعت کے لئے بڑا بنچ تشکیل دیا جائے۔ ان دنوں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس محمد افضل ظلہ تھے۔ انہوں نے ان کیسوں کی سماعت کے لئے پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا۔
۱۹۹۱ء کے اواخر میں ان کیسوں کی سماعت کے لئے تاریخ مقرر ہوئی۔ قادیانیوں نے سماعت کے روز، وکیل کی مصروفیت کا عذر داغ دیا۔ سماعت ملتوی ہوگئی۔ جسٹس محمد افضل ظلہ صاحب ۱۹۹۲ء میں کئی ماہ کے لئے امریکہ و برطانیہ کے دورہ پر گئے تو ربوہ میں یہ صدا گونجنے لگی کہ قادیانی لیڈران اور تحفظ حقوق انسانی کمیشن کے ارکان کی چیف جسٹس صاحب سے قادیانی مقصد براری کے لئے ملاقاتوں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ قادیانی اس قسم کے مذموم پروپیگنڈے سے جو مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ہم اس سے بے خبر نہ تھے۔ چیف جسٹس صاحب واپس تشریف لائے۔ بنچ تشکیل دیا جو جسٹس شفیع الرحمن، جسٹس عبدالقدیر چوہدری، جسٹس محمد افضل لون، جسٹس ولی محمد اور جسٹس سلیم اختر پر مشتمل تھا۔ مقدم الذکر اس بنچ کے سربراہ مقرر ہوئے۔ تاریخ مقرر
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ہوئی۔ سماعت کے روز عدالت میں مسلمانوں کے آنے سے قبل قادیانی بمع اپنے وکیلوں کے براجمان تھے۔ ہمارا ماتھا ٹھنکا کہ اس دفعہ یہ پھرتیاں کیوں؟۔ ربوہ میں ہونے والا پروپیگنڈہ بھی ہمارے سامنے تھا۔ قادیانیوں نے اس بار مسٹر فخر الدین جی ابراہیم بوہری کو بھی وکیل کیا ہوا تھا۔ خود بھی ان کی ٹیم بڑے غرور و تکبر سے جمع تھی۔
پاکستان گورنمنٹ کی طرف سے اٹارنی جنرل مسٹر عزیز اے منشی کے علاوہ چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت مذہبی امور کی طرف سے ماہر قانون دان جناب سید ریاض الحسن گیلانی پیش ہوئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مکرم محترم جناب راجہ حق نواز صاحب وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اور فدائے ختم نبوت، محافظ ناموس مصطفیٰ جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پیش ہوئے۔ قادیانی اپنے اثر و رسوخ، مال و دولت پر نازاں تھے اور مسلمان، محمد عربی ﷺ کے امتی ہونے کے ناطے رب کریم کے حضور اس کی رحمت کے طلب گار تھے۔ حق و باطل کا معرکہ ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ان تمام کیسوں میں فریق رہی ہے۔ حتیٰ کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلوں میں تو مدعی بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مجاہد مبلغ مولانا نذیر احمد تونسویؒ تھے۔ سپریم کورٹ میں سماعت کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما مولانا احمد میاں حمادی، فقیر اللہ وسایا راولپنڈی پہنچ گئے۔ معاونت کے لئے مولانا محمد عبداللہ، قاری محمد امینؒ، حکیم قاری محمد یونسؒ، اراکین شوریٰ، مجاہد مبلغ مولانا عبدالرؤف ازہریؒ اور مولانا محمد علی صدیقی حال مبلغ میر پور سندھ ان دنوں پنڈی کے مبلغ تھے، کمر بستہ ہو گئے۔ مولانا قاری احسان الحق، مولانا محمد شریف ہزاروی، مولانا قاضی احسان الحق، شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف، مولانا نذیر احمد فاروقی، اسلام آباد کے جناب ایم سلیم، مولانا قاری زرین احمد اور دوسرے حضرات راولپنڈی سے (جن حضرات کے نام یاد نہیں ان سے معذرت) اپنے رفقاء سمیت ہر روز عدالت عظمیٰ میں تشریف لاتے ۔ مسلمانوں کی طرح قادیانیوں نے بھی اس میں گہری دلچسپی لی۔ کاروائی کے آغاز سے عدالت کا ہال اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود ناکافی ہوتا۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب بھی سماعت کے دوران میں اسلام آباد تشریف لائے اور فقیر اللہ وسایا سے نہ صرف کیس کی تفصیلات دریافت فرمائیں بلکہ ہر قسم کی سرپرستی و اعانت سے نوازا۔ ۳۰؍ جنوری ۱۹۹۳ء سے ۳؍ فروری تک مسلسل پانچ روز سماعت ہوئی۔ میجر ریٹائرڈ میر افضل اور میجر ریٹائرڈ محمد امین منہاس نے بھی مسلمانوں کی طرف سے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
قادیانیوں کی بحث ہوگئی تو جناب ریاض الحسن گیلانی کا بیان ہوا۔ بڑا معتدل، واضح اور ایمان پرور بیان تھا۔ جناب محمد اسماعیل قریشی نے اپنی ایمانی جرأت سے عدالت عظمیٰ کے در و دیوار کو مسحور کیا۔ ان کے بیان کا ہر ہر لفظ اہل اسلام کی روح کی بالیدگی اور قادیانیوں کی رگ جان کے لئے نشتر ثابت ہو رہا تھا۔ جناب عزیز اے منشی اٹارنی جنرل آف پاکستان نے متعدد سپریم کورٹوں کے فیصلہ جات، امریکہ، بھارت، آسٹریلیا، فرانس کی عدالتوں کے حوالہ جات دے کر قانونی لحاظ سے جنگ جیت لی۔ آخری دن پھر قادیانی جماعت کے وکیل فخر الدین جی ابراہیم بوہری نے بحث کو سمیٹا۔ عدالت عظمیٰ نے اعلان کیا کہ کوئی شخص اگر عدالت کی معاونت کے لئے اپنا تحریری بیان داخل کرانا چاہے تو اجازت ہے۔ عزت مآب جناب راجہ حق نواز صاحب پہلے ہی عدالت سے درخواست کرچکے تھے کہ وہ تحریری بیان داخل کرائیں گے۔ چنانچہ راجہ صاحب اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر اول مفکر اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے علیحدہ علیحدہ اپنے بیانات تحریری عدالت کو بھجوائے۔ حضرت المخدوم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کا بیان ”عدالت عظمیٰ کی خدمت میں“ کے نام سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر نے ہزاروں کی تعداد میں شائع کیا۔ راجہ صاحب نے قانونی طور پر اور حضرت لدھیانویؒ نے شرعی اور عقلی دلائل سے جہاں اہل اسلام کی بھر پور وکالت فرمائی، وہاں عدالت عظمیٰ کے لئے بھی یہ دونوں بیانات بڑی ہی وقعت رکھتے ہیں۔
۳؍ فروری ۱۹۹۳ء کو مقدمہ کی سماعت مکمل ہو کر فیصلہ محفوظ ہوا۔ اس کے ٹھیک دوسرے دن ۵؍ فروری ۱۹۹۳ء کو قادیانی جماعت کے بھگوڑے سربراہ مرزا طاہر نے لندن میں تقریر کرتے ہوئے کہا:
- ۱...... ”دیر سے (مقدمات) دائر کئے تھے۔ سالہا سال پہلے سے۔ لیکن ہماری عدالت
عالیہ خود بہتر جانتی ہے کہ کس حکمت کے پیش نظر مگر ان مقدمات کو سننے کی طاقت نہیں رکھتی تھی۔ (جھوٹ، حالانکہ خود قادیانی سماعت کی تاخیر کا باعث بنے)
- ۲...... اب فضا بدلی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
- ۳...... میں پاکستان کو مبارک باد دیتا ہوں کہ تم ہلاکت سے بچائے گئے ہو۔
- ۴...... اس ملک کے دن پھر جائیں گے۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۵...... ضرور یہ ملک حق کی طرف واپس نہیں لوٹتا تو لوٹا دیا جائے گا۔
- ۶...... یہ خدا کی تقدیر کی طرف بہت پیارا مجھے اشارہ دکھائی دیا ہے۔ جیسی لمبی اندھیروں کی
رات کے بعد روشنی کی رمق دکھائی دے۔
- ۷...... بعض دفعہ بجھا ہوا دل ایک دم کھل اٹھتا ہے۔
- ۸...... اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ یہ زمانے بدل دے گا۔
- ۹...... آخر اتنی لمبی رات کے بعد پاکستان میں بھی نور کی ایک شعاع پھوٹی ہے۔‘‘
(ماہنامہ بینات کراچی ص ۴۰، ۴۱، بابت اگست ۱۹۹۳ء)
اس اقتباس کے ایک ایک لفظ میں ہزار ہا قادیانی سازشوں کا تانا بانا ٹپک رہا ہے۔ اہل اسلام فکر مند تھے۔ اس لئے کہ اگر فیصلہ دلائل کی بنیاد پر ہوتا ہے تو اہل حق کی فتح ظاہر وبین تھی اور اگر پالیسی کی بنیاد پر ہوتا ہے تو ہزاروں خدشات موجود تھے۔ اللہ رب العزت کا کرم ہوا۔ عدالت عظمیٰ کا وقار بڑھا۔ قدرت نے دست گیری فرمائی۔ رحمت حق سایہ فگن ہوئی۔ آنحضرت ﷺ کی امت پر شفقتوں ورحمتوں کے نزول میں موسلا دھار بارش کی طرح اضافہ ہوا۔ ورنہ اس مندرجہ بالا اقتباس کے باعث قادیانی سازش عیاں تھی۔ ماہنامہ بینات سے ذیل کے اقتباس سے امت محمدیہ کی پریشانی کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں:
’’ہم اپنی معزز عدالت سے درخواست کریں گے کہ غلامان محمد عربی ﷺ ایک عجمی سازش کے ہاتھوں نہایت ہی مظلوم ہیں۔ خداوند کریم کے احکامات، محمد عربی ﷺ کے فرامین، شریعت محمدیہ، امت مسلمہ کے اجماع، پاکستان واسلامی ممالک کے فیصلوں، وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ، اپیل بنچ کے فیصلہ، ہائی کورٹ کے فیصلوں کی موجودگی میں ان کے خلاف یہ قادیانی سربراہ کیا بک رہا ہے۔ وہ کیا تاثر دینا چاہتا ہے؟ یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ آپ کی توجہ عالیہ کا مستحق ہے۔ ہر چند کہ بعض ضروری فوری مقدمات کی سماعت کے باعث فیصلہ سنانے میں تاخیر ہوئی۔ مگر اب تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ اسلامیان پاکستان آپ کے فیصلہ کو سننے کے لئے بے تاب ہیں............ عدالت عالیہ میں محفوظ فیصلہ پر رائے زنی کرنا، قادیانی سرشت ہے۔ ہم اس پر قطعاً ایک لفظ قبل از وقت نہ کہتے۔ لیکن قادیانیت کی ہر سازش کا پول کھولنا، قادیانیوں کے سربراہ کے ایک ایک لفظ وحرکت پر نظر رکھنا، اس کا احتساب کرنا ہمارے فرائض میں شامل ہے۔‘‘
(ص ۴۹ بالا)
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
۶۱......حضرت قبلہؒ کی بیقراری
غرضیکہ کفر و اسلام کی اس جنگ میں فریقین نبرد آزما تھے۔ فیصلہ کے صادر ہونے میں جتنی تاخیر ہوتی گئی اتنے ہی قادیانی پراپیگنڈہ سے مسلمانوں کے کان پک گئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ حضرت مخدوم المشائخ مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ عمرہ کے لئے حجاز مقدس کے سفر پر تھے۔ وہ سماعت کی کاروائی سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے فون کرتے رہے۔ حضرت لدھیانویؒ کے حکم پر ملک بھر کے دینی مدارس کے تحفیظ القرآن کے مدارس کو اجتماعی دعاؤں کے لئے متوجہ کیا گیا۔ رحمت حق جوش میں آئی اور ۳؍ جولائی ۱۹۹۳ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ دیا۔ جس کی رو سے تمام قادیانی درخواستیں، اپیلیں، رٹیں خارج کردی گئیں۔ سپریم کورٹ نے بھی قادیانیوں کے کفر پر مہر لگادی۔ قادیانیت رسواء ہوئی۔ اسلام اور مسلمان جیت گئے۔ مرزا طاہر کی نور کی شعائیں قادیانیت کے لئے ایک بار پھر گھٹا ٹوپ اندھیرا ثابت ہوئیں۔ فالحمد لله حمداً كثيراً طيباً مباركاً فيه!
پانچ جج حضرات میں سے چار جج حضرات نے متفقہ فیصلہ سے قادیانی موقف کو مسترد کیا اور عزت مآب جسٹس عبدالقدیر چوہدری کے مبارک ہاتھوں سے لکھے ہوئے فیصلہ سے اتفاق کیا۔ ایک جج جو خیر سے بنچ کے سربراہ بھی تھے شفیع الرحمن صاحب، انہوں نے جزوی طور پر امتناع قادیانیت آرڈیننس کی بعض شقوں کو آئین سے متصادم قرار دیا۔ گویا انہوں نے بھی اس آرڈیننس کو اسلامی احکامات کے خلاف قرار نہیں دیا۔ بلکہ پیراگراف نمبر ۴۳ میں واضح طور پر لکھا کہ:
’’جہاں تک دفعہ ۲۹۸ سی کی شق کا تعلق ہے۔ اس کی رو سے کسی خاص گروہ یا عام لوگوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا قابل تعزیر ٹھہرایا گیا ہے۔ وہ مذہبی آزادی یا آزادی تقریر کے منافی نہیں ہے۔ کسی شخص کو یہ بنیادی حق حاصل نہیں۔ نہ ہی ایسا حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مذہب یا عقیدہ کی تبلیغ کرتے وقت دوسروں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرے۔ پس دفعہ ۲۹۸ سی کی شق (الف) و (ہ) دستور کا آرٹیکل ۱۹، ۲۰ اور ۲۶ (۳) میں شامل احکام کے عین مطابق ہے۔‘‘
دنیا جانتی ہے کہ ہمارا قادیانیوں سے یہی جھگڑا ہے کہ وہ قادیانیت کو جب عین اسلام قرار دے کر پیش کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف یہ کہ اسلام کی توہین ہوتی ہے۔ بلکہ مسلمانوں کا تشخص اور دل بھی مجروح ہوتا ہے۔
البتہ جسٹس موصوف نے تحریر کیا کہ:
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
’’کسی احمدی کا ایسا بیج لگانا، جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہو نہ تو مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرنے کا مترادف ہے۔ نہ ہی خود کو مسلمان ظاہر کرنے کے برابر۔‘‘
(ملاحظہ ہو پیراگراف نمبر ۲۲)
اس سلسلہ میں عرض ہے کہ جسٹس خلیل الرحمن صاحب اپنے فیصلہ میں قرار دے چکے ہیں کہ قادیانی جب محمد رسول اللہ کہتے ہیں تو اس سے ان کی مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہوتا ہے۔ جیسا کہ ان کے لٹریچر سے ثابت ہے۔ نیز ایک شخص شراب کی بوتل پر آب زمزم کا لیبل لگا دے یا بکرے کے گوشت کا لیبل لگا کر خنزیر کا گوشت فروخت کرے تو کیا یہ قابل اعتراض و قابل گرفت ہے یا نہیں؟۔ کفر کے سینہ پر کلمہ طیبہ کا بورڈ لگا دینا بھی اسی طرح ہی ہے۔ نہ معلوم اتنی عام فہم بات ہمارے جج صاحب کی سمجھ میں کیوں نہیں آئی۔ جسٹس شفیع الرحمن صاحب سے درخواست ہے کہ یہ آپ کا پہلا اعتراض نہیں۔ آپ سے پہلے آپ کے پیشہ سے تعلق رکھنے والے جسٹس منیر صاحب یہ سوال کر چکے ہیں اور اس کا امت محمدیہ کی طرف سے جواب بھی دیا جا چکا ہے۔ اسلامی شعائر و مخصوص اصطلاحات قادیانی استعمال کریں تو کیوں نا قابل برداشت ہے؟۔ سوال و جواب ملاحظہ ہو۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فرمایا کہ:
’’تحقیقاتی عدالت میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ مسلمان لوگ مرزائیوں کی تقریروں اور تحریروں سے اس لئے بھی مشتعل ہوتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کی مخصوص اصطلاحات کو استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً یہ لوگ مرزا قادیانی کی بیٹی کو سیدۃ النساء کہتے ہیں۔ اس پر مسٹر منیر نے مرزائی وکیل سے سوال کیا تو اس نے جواب دیا کہ سیدۃ النساء کا معنی ہے ’’عورتوں کی سردار‘‘ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے مرزا قادیانی کی بیٹی صاحبہ اپنے فرقہ کی عورتوں کی سردار تھیں۔ اس پر مسٹر منیر نے میری طرف دیکھا تو میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ جناب اگر چماروں کی کوئی پنچایت ہو اور ان کا سرپنچ کسی معاملہ کا فیصلہ کرے اور پھر ان چماروں میں سے کوئی آدمی سرپنچ کی جگہ چیف جسٹس کا لفظ بولے اور یوں کہے کہ ہمارے چیف جسٹس نے یوں فیصلہ دیا ہے تو کیا اس طرح کہنا جائز ہوگا؟۔ مسٹر منیر نے کہا کہ ہرگز نہیں۔ قانوناً اس طرح کہنا جائز نہ ہوگا۔ کیونکہ یہ لفظ عدالت عالیہ کے ججوں کے لئے مخصوص ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ یہ لوگ ہم مسلمانوں کی اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کی بیٹی کو سیدۃ النساء کہتے ہیں۔ حالانکہ یہ لفظ کسی نبی کی بیوی کے لئے نہیں بولا گیا۔ بلکہ خود حضور نبی کریم ﷺ کی بیویوں کے لئے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۱۳۲ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
نہیں بولا گیا۔ بلکہ حضورﷺ کی تین بیٹیوں کے لئے بھی نہیں بولا گیا۔ یہ لفظ صرف حضورﷺ کی چوتھی بیٹی حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے لئے مخصوص ہے۔ جس کو اب یہ لوگ بلاتکلف استعمال کرتے ہیں اور مسلمانوں کا دل دکھاتے ہیں۔ چنانچہ میں نے اخبار الفضل نکال کر دکھایا جس میں مرزا قادیانی کی بیوی کے انتقال کے موقع پر پہلے صفحہ پر جلی حروف میں یہ سرخی دی گئی تھی کہ سیدۃ النساء کا انتقال۔ اس پر ججوں نے کہا تھا کہ اس پر مسلمانوں کا مشتعل ہونا حق بجانب ہے۔‘‘
(تذکرہ مجاہدین ختم نبوت ص۱۸۳،۱۸۴)
جسٹس منیر ایسا قادیانی نواز شخص تو اس جواب پر مطمئن ہو گیا تھا۔ نہ معلوم جسٹس شفیع الرحمن صاحب مطمئن ہوئے یا نہیں۔ تاہم یہ ان کا معاملہ ہے۔ لیکن اتنی درخواست ضرور ہے کہ وہ جسٹس منیر کے انجام کو ضرور سامنے رکھیں کہ آج بھی پارلیمنٹ سے لے کر عدالت تک ہر شخص اس پر پھٹکار بھیجتا ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!
قدرت حق کا کرشمہ دیکھئے کہ بنچ کے سربراہ کے فیصلہ کے خلاف چاروں معزز اراکین بنچ کا متفق ہو جانا ہمارے خیال میں ...................... اتنا ہی کافی ہے۔ (اس سے بڑھ کر حق کی اور کیا فتح ہو سکتی ہے؟۔)
جناب جسٹس شفیع الرحمن صاحب کے تمام خدشات مزعومہ کا عزت مآب جسٹس عبدالقدیر چوہدری صاحب کے گرانقدر قیمتی و سنہری حروف سے لکھے جانے کے لائق تاریخی فیصلہ میں جواب آ گیا ہے۔ لہٰذا محض طوالت سے بچنے کی غرض سے اس پر مزید تبصرہ کی چنداں ضرورت نہیں۔
۳؍جولائی ۱۹۹۳ء کو یہ فیصلہ سنایا گیا۔ غرض یہ تمام تر عدالتی کامیابی ہمارے حضرت قبلہ مولانا خواجہ خان محمدؒ کی محنت شاقہ، قیادت با برکت اور نیم شبانہ دعاؤں کا صدقہ ہے۔ والحمد للہ علیٰ ذالک!
۶۲......لٹریچر کی ترسیل
قارئین کرام! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا ملتان میں سالانہ اجلاس حضرت قبلہؒ کی زیر صدارت ۶؍ مارچ ۱۹۸۸ء کو ہوا۔ کاروائی شوریٰ کے رجسٹر کے ص ۵ پر اس سال میں عالمی مجلس نے لٹریچر شائع کر کے بذریعہ ڈاک ارسال کیا۔ اس کی
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
رپورٹ یہ درج ہے۔
”لاکھوں روپے کا لٹریچر شائع کر کے مفت تقسیم کیا گیا۔ اندرون و بیرون ملک لٹریچر کی فراوانی سے تقسیم کے اچھے اور حوصلہ افزاء نتائج سامنے آرہے ہیں۔ قومی اسمبلی، سینٹ، چاروں صوبائی اسمبلیوں کے جملہ اراکین، وفاقی وصوبائی کابینہ کے اراکین، وفاقی و چاروں صوبائی سیکرٹریٹ کے جملہ سیکرٹری صاحبان، ملک بھر کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آئی۔جی، ڈی۔آئی۔جی، ایس۔پی، ڈی۔ایس۔پی، تحصیلدار، حتیٰ کہ ملک بھر کے تھانوں کے ایس۔ایچ۔اوز کو ڈاک سے لٹریچر ارسال کیا گیا۔
یوں مجلس کی تاریخ میں پہلی باضابطہ مہم تھی کہ ایوان صدر سے لے کر تھانہ تک پوری سرکاری مشینری، افسران واہل کاران کو فتنہ قادیانیت سے آگاہ اور باخبر کیا گیا۔ یہ پہلا مرحلہ تھا۔ جس کی کامیابی کے بعد دوسرے مرحلہ میں ملک بھر کے تمام تعلیمی وفنی اداروں کے سربراہوں کو یونیورسٹیز سے لے کر نرسری سکولوں تک لٹریچر بھجوایا گیا۔ اب پنجاب میں کالجز کی سطح پر طلباء میں لٹریچر کی تقسیم کا کام شروع ہے۔“
(ص۵)
اس موقعہ پر ہفت روزہ ختم نبوت کراچی میں جو رپورٹ شائع ہوئی وہ یہ ہے:
”دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے عملے اور مقامی رہنماؤں نے گذشتہ پندھرواڑہ بہت مصروف گذارا۔ مرکزی مجلس ملتان کی طرف سے مجلس کے مرکزی رہنما حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کا ایک کتابچہ ”قادیانیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین“ عمدہ کاغذ اور نفیس ٹائٹل کے ساتھ ایک لاکھ کی تعداد میں تاج کمپنی لمیٹڈ سے طبع کرا کے شائع کیا گیا۔
اس کے علاوہ ”قادیانیوں کی کلمہ مہم“ کے عنوان سے بڑا پوسٹر پچاس ہزار اور چھوٹے اشتہار اور اسٹیکر پونے دو لاکھ کی تعداد میں شائع کئے گئے۔ جو نہ صرف کراچی کے چپے چپے پر چسپاں کئے گئے۔ بلکہ تقسیم بھی کئے گئے۔ علاوہ ازیں وہ اشتہارات پورے ملک میں بذریعہ ڈاک بھیجے گئے۔
گذشتہ ہفتہ، ہفتہ ڈاک کے طور پر منایا گیا۔ جناب عبدالرحمن یعقوب احمد باوا، مولانا منظور احمد الحسینی، حافظ محمد حنیف، مولوی محمد یوسف محمودی رنگونی، مولوی ریاض احمد جنجوعہ، شاہ نواز ہزاروی اور فیصل آباد مجلس کے مبلغ مولانا اللہ وسایا نے شب و روز ایک کر کے:
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۱...... قادیانیوں کی کلمہ مہم
- ۲...... کلمہ کی توہین
- ۳...... قادیانی جنازہ، (انگریزی، اردو)
- ۴...... شناخت
- ۵...... نزول مسیح علیہ السلام
- ۶...... حضرت مسیح علیہ السلام، مرزا قادیانی کی نظر میں
- ۷...... الہامی گرگٹ
- ۸...... قادیانیوں سے متعلق صدارتی آرڈیننس
لفافے میں پیک کر کے انہیں سینیٹر، ممبران قومی اسمبلی، چاروں صوبائی اسمبلی کی ارکان کے علاوہ علی گڑھ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ کم وبیش ایک ہزار حضرات، اضلاع کے تمام ڈپٹی کمشنروں، تمام ایس۔ پی، ڈی۔ایس۔پی، اے۔سی اور تمام تحصیلدار حضرات کو بھیجے گئے۔ ان تمام حضرات کے مطبوعہ پتے حاصل کر لئے گئے تھے۔ جن کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے اور جس پر مجلس نے ہزاروں روپیہ صرف کیا۔ ان تمام کتابچوں اور اشتہار کے ساتھ امیر مرکزیہ مولانا خان محمد صاحب مدظلہ کا مندرجہ گرامی نامہ فوٹو سٹیٹ کر کے بھیجا گیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ تمام کام مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی نائب امیر حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب اور مرکزی ناظم نشر واشاعت حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی نگرانی میں ہوا۔
حضرت امیر مرکزیہ کا گرامی نامہ جو ساتھ بھیجا گیا، وہ یہ ہے:
محترم ومکرم .................................... جناب عالی!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوگا۔
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ قادیانیت کا مسئلہ، مملکت خداداد پاکستان کا حساس ترین مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کی سنگینی کا احساس یقیناً آپ کو بھی ہوگا کہ مسئلہ ختم نبوت کے حل کے لئے ملک میں تین بار تحریک چل چکی ہے۔ ۱۰،۰۰۰(دس ہزار) مسلمانوں نے صرف لاہور میں تحریک تحفظ ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ لیکن ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر پاکستان کے مسلمانوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور اپریل ۱۹۸۴ء میں صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق نے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ایک آرڈیننس کے ذریعہ قادیانیوں کو اپنے آپ کو مسلمان کہلانے ، اسلامی اصطلاحات کے استعمال اور قادیانیت کی تبلیغ سے روک دیا گیا۔
اس وقت میں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔ میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ملک کے استحکام اور سالمیت کے لئے قادیانی ٹولہ سب سے خطرناک رہا ہے اور اب بھی ہے۔ مشرقی پاکستان کو توڑنے کا سب سے اہم کردار ایم ۔ ایم احمد قادیانی نے ادا کیا۔ آج بھی یہی ٹولہ ملک میں فرقہ وارانہ، لسانی وعلاقائی تعصبات کی آگ بھڑکانے میں نہایت خفیہ طریقہ سے کام انجام دے رہا ہے۔ سرکاری اداروں میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز قادیانی، ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ یہ مسئلہ بھی آپ کی توجہ کا متقاضی ہے۔
قادیانیوں نے ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم کی طرح صدر ضیاء الحق کے نافذ کردہ آرڈیننس کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے مرزائیوں نے ”کلمہ مہم“ چلا رکھی ہے۔ اپنی عبادت گاہوں پر کلمہ طیبہ کے بورڈ لگا کر مسلمانوں کی دل آزاری کر رہے ہیں۔ کیا پاکستان کا کوئی مسلمان کلمہ کا بورڈ کسی گرجہ گھر، مندر یا گردوارہ پر لگانے کی اجازت دے گا؟ قادیانیوں کا اس طرح کلمہ طیبہ کا بورڈ لگانے کا مقصد صرف اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا ہے۔ جو شرعاً اور قانوناً جرم ہے۔
مسئلہ قادیانیت، الحمد للہ، علماء کرام کی محنت اور پاکستان کے مسلمانوں کی قربانیوں کے نتیجہ میں منبر و محراب سے نکل کر اسمبلی کے ایوانوں میں گونجنے لگا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتی سطح پر قادیانیت کا تعاقب کیا جائے۔ میں آپ کی خدمت میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے شائع کردہ رسائل کے سیٹ بھیج رہا ہوں۔ تاکہ آپ پر قادیانیت کی حقیقت واضح ہو۔ اگر جناب قادیانیت کے بارے میں مزید معلومات چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ قائم فرمائیں۔ انشاء اللہ ہم راہنمائی کریں گے۔
اس سلسلے میں آپ سے درخواست ہے کہ اگر آپ قومی یا صوبائی یا سینٹ کے ممبر ہیں تو اس مسئلے کے لئے کلمہ حق بلند کیجئے۔ اگر آپ کا تعلق پولیس یا انتظامیہ سے ہے تو آرڈیننس پر عملدرآمد کرانا آپ کا شرعی وقانونی فریضہ ہے۔ اگر آپ جج، وکیل، ڈاکٹر، تاجر، ملازم، مزدور، استاد یا طالب علم ہیں یا آپ کا تعلق کسی بھی پیشہ سے ہو۔ آپ کا دینی فریضہ ہے کہ آپ اپنے دائرہ میں ناموس رسالت مآبﷺ کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
یقین جانئے کہ اگر آپ آنحضرت ﷺ کی شفاعت چاہتے ہیں تو اس مسئلے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوں۔ اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ مسلمانان کا بھلا ہوگا اور مملکت خداداد ان کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ ہوگی۔‘‘
فقیر: خان محمد عفی عنہ
امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، ملتان
ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، ج ۳ ش ۴۵، مورخہ ۱۰؍ مئی ۱۹۸۵ء
قارئین کرام! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کام کی یہ وسعت ملک بھر کی دیگر دینی تنظیموں کے مقابلہ میں شاندار ریکارڈ کی حامل ہے۔ یہ سب کچھ ہمارے حضرت المخدوم حضرت قبلہؒ کے عہد امارت کی وقیع و شاندار خدمات کا سنہری باب ہے۔ حق تعالیٰ ہمارے حضرت قبلہؒ کی تربت پر اپنی رحمتوں کی موسلادھار بارش نازل فرمائیں۔ آمین!
۶۳...... دیوبند میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام
پاکستان میں ختم نبوت کے محاذ پر مختلف ادارے اپنی اپنی ہمت کے مطابق کام کر رہے تھے۔ برطانیہ میں بھی مختلف افراد مختلف ناموں سے کام کر رہے تھے۔ جب پاکستان میں قادیانی جماعت کی سرگرمیوں پر قانون کی گرفت ہوئی۔ قادیانی جماعت کا سربراہ لندن کو سدھارا تو ہندوستان کی قادیانی جماعت نے ہندوستان میں پر پرزے جھاڑنے شروع کئے۔ جمعیت علماء ہند کے سربراہ ان دنوں حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ تھے۔ آپ نے حضرت قبلہؒ کو پیغام بھجوایا کہ مجلس کا تمام لٹریچر دیوبند بھجوایا جائے۔ نمونہ کی کاپیاں بھجوائی گئیں۔ پھر ان کا حکم آنے پر مزید چار ہزار لٹریچر کی کاپی ارسال کی گئی۔ حضرت مولانا سید حامد میاں مرحوم کی راہنمائی میں یہ کام ہوا۔
حضرت مولانا سید اسعد مدنی مرحوم بہت ہی بیدار مغز قائد تھے۔ اسی بناء پر آپ کو بجا طور پر ’’امیر الہند‘‘ قرار دیا گیا۔ آپ نے ہندوستان میں فتنہ قادیانیت کے احتساب کے لئے مستقل جماعت کی تشکیل کا فیصلہ فرمایا اور اس کا نام ’’کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ طے ہوا۔ اس کا مرکزی دفتر دارالعلوم دیوبند میں قائم ہوا۔ اس کی شاخیں ملک بھر میں قائم کی گئیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے شائع شدہ سینکڑوں کتب و رسائل ہزارہا کی مقدار میں شائع کر کے انہوں نے وہاں پر تقسیم کئے۔ اس سلسلہ میں ان حضرات نے ہندوستان میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسوں، کورسز، سیمیناروں کا اہتمام کر کے پورے ہندوستانی اہل اسلام کو قادیانی کفر کے مقابلہ میں لاکھڑا کیا۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۱۳۷ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ کی ملتان دفتر مرکزیہ، ختم نبوت کانفرنس چناب نگر، ختم نبوت کانفرنس برطانیہ میں شمولیت حضرت قبلہؒ پر اظہار اعتماد اور ہندوستان میں رد قادیانیت کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام پر جماعت کی تشکیل یہ سب کچھ ہمارے حضرت قبلہ خواجہ صاحبؒ کی برکات ہیں۔ جن کا حصہ عالمی مجلس کو بھی اللہ تعالیٰ نے نصیب فرمایا۔
۶۴...... عالمی مجلس
ہمارے حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں قادیانیت کے خلاف باہر کی دنیا میں بھرپور کام کا منظم انداز میں آغاز ہوا تو مجلس تحفظ ختم نبوت سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نام تجویز ہوا۔
قارئین کرام! حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاعبادیؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، حضرت مولانا محمد حیاتؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ، اپنے اپنے دور میں مجلس کے امراء رہے۔ ان کی تمام تر خدمات کا تسلسل موجودہ کام ہے۔ لیکن یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ وہ اکابر ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے امیر تھے اور ہمارے حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے امیر تھے۔ گویا اپنے اکابر اور پیش رو حضرات کے کام کو حضرت قبلہؒ نے اس تیز رفتاری کے ساتھ بڑھایا کہ چہار سو عالم ختم نبوت کے تذکروں سے جہان گونج اٹھا۔ زندہ باد حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ۔
۶۵...... ربوہ کی دھرتی پر حضرت قبلہؒ کا انتخاب
قارئین کرام! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تاریخ میں ۱۴/ اکتوبر ۱۹۸۸ء کو پہلی بار ایسا موقعہ آیا کہ عالمی مجلس کی مجلس عمومی کا ربوہ کی دھرتی پر پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ جس سے حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کو آئندہ تین سال کے لئے ۱۹۸۹ء، ۱۹۹۰ء، ۱۹۹۱ء کے لئے امیر مرکزیہ منتخب کیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمومی کا یہ پہلا اجلاس تھا جو ربوہ (چناب نگر) میں منعقد ہوا۔ جس شہر میں داخل ہو کر مجلس کے اکابر کلمہ حق بلند کرنے کا عزم رکھتے تھے۔ مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کی قیادت باسعادت میں کاروان ختم نبوت عرصہ ہوا، یہاں داخل ہوا اور آج تو تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا کہ دشمنان ختم نبوت کے قائم کردہ شہر میں خادمان ختم نبوت کی قیادت باسعادت کا انتخاب ہوا۔ اس اجلاس میں ۱۶۸ ارکان مجلس عمومی نے شرکت فرمائی، اور
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
آپ اس اجلاس کی اہمیت وافادیت، اس کے مؤقر ومؤثر ہونے کا اس سے اندازہ فرمائیں۔ سب سے پہلے نمبر پر حضرت خواجہ خان محمد صاحبؒ کے دستخط ہیں اور سب سے آخری ۱۶۸ نمبر پر دستخط حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ کے ہیں۔ اس اجلاس کی غرض وغایت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے پیش کی۔ مجلس کے کام کی رپورٹ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے پیش فرمائی اور پھر امارت کے لئے نام پیش کرنے سے قبل آپ نے فرمایا: ’’آج ہمارے لئے کس قدر خوشی کا مقام ہے کہ اس سرزمین (ربوہ) پر جس پر ایک وقت تھا کہ قادیانیت کے امیر کا انتخاب ہوتا تھا۔ آج سرور کائنات ﷺ کی ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والی جماعت ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے امیر کا انتخاب ہورہا ہے۔ ہم بارگاہ رب العالمین میں نہایت ہی عاجزی سے دست بدعا ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک نیک فال ہے اس فتنہ خبیثہ کے اختتام کی۔ انشاء اللہ! اب اس سرزمین پر تحفظ ختم نبوت کے امیر کا ہی انتخاب ہوگا اور قادیانیت کے امیر کا یہاں سے بوریا بستر لپٹ چکا۔ اب ہم اپنے اکابر کے معمول پر عمل پیرا ہوتے ہوئے انتخابی عمل کا آغاز کرتے ہیں اور اپنی اور آپ تمام شرکاء کی طرف سے مخدوم العلماء والصلحاء حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی خدمت میں التماس کرتا ہوں کہ آپ نے جس طرح پہلے اکابر کے اٹھ جانے پر ہمارے سر پر ہاتھ رکھا۔ ہماری سرپرستی اور رہنمائی فرمائی۔ آئندہ بھی آپ شفقت جاری رکھتے ہوئے ہمارے سروں پر ہاتھ رکھیں اور ہماری سرپرستی فرمائیں اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مسند امارت کو اپنے فیوض وبرکات سے اور تجلیات کے مہبط وجود مجسم سے زینت بخشیں اور ہمارے دلوں کی گہرائیوں سے نکلنے والی اس گذارش کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے ہماری دلجوئی اور حوصلہ افزائی فرمائیں۔ تاکہ ہم آپ کے ظل عاطفت میں اس عظیم مقصد اور مقدس مشن کو لے کر رواں دواں ہوں۔ ہمیں آپ کی کریمانہ نوازشات سے امید ہے کہ آپ ہمیں مایوس اور محروم نہیں فرمائیں گے۔‘‘
تمام حاضرین نے مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی تجویز کی تائید میں پرمسرت تائیدی انداز میں ہاتھ بلند کئے۔ جس پر حضرتؒ نے اپنے الطاف کریمانہ سے نوازا۔ والحمد لله علیٰ ذالك!
(کاروائی رجسٹر شوریٰ، رجسٹر نمبر۴، ص۲۰، ۲۱)
قارئین کرام! حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کی موجودگی میں گویا آپ کی طرف سے مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے جو فرمایا اسے ایک بار پھر پڑھیں کہ: ’’قادیانی امیر کا بستر لپیٹا
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
جاچکا۔ اب یہاں پر ختم نبوت کے امیر کا انتخاب ہوگا۔“ قدرت نے مولانا کی بات کو ایسے طور پر قبول فرمایا کہ ۱۹۸۸ء کے بعد ۲۰۰۹ء تک عالمی مجلس کی مجلس عمومی کے جتنے اجلاس امیر مرکزیہ کے انتخاب کے لئے ہوئے وہ سب ربوہ (چناب نگر) کی دھرتی پر ہوئے۔ قادیانی گرو مرزا طاہر باہر آنجہانی ہوا۔ قادیانی موجودہ چیف گرو مرزا مسرور کا بھی انتخاب باہر ہوا۔ چناب نگر سے قادیانی قیادت کا بوریا بستر نہیں جنازہ نکل چکا۔ فالحمدللہ!
۶۶...... فتاویٰ ختم نبوت کی ترتیب واشاعت
جب سے قادیانی فتنہ نے جنم لیا اور اہل اسلام نے قادیانیت کا تعاقب شروع کیا۔ تب سے مسجد و مدرسہ، منبر ومحراب کی طرح قانون وافتاء کے حضرات یعنی ججز اور مفتیان کرام نے بھی تردید قادیانیت میں اپنا برابر کا حصہ ڈالا۔
۱۴ / اکتوبر ۱۹۸۸ء کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ آج تک قادیانیت کے خلاف جتنے فتاویٰ جات شائع ہوئے۔ انہیں جمع کر کے کتابی شکل میں شائع کیا جائے۔ چنانچہ ”فتاویٰ ختم نبوت“ کے نام پر تین جلدوں مولانا مفتی سعید احمد جلالپوریؒ نے یہ کام مکمل کیا۔ جب سے برصغیر میں رد قادیانیت کا کام شروع ہوا۔ اس نہج پر پہلی فتاویٰ کی کتاب تین جلدوں میں جو صرف رد قادیانیت پر مشتمل ہے۔ پہلی بار ہمارے حضرت قبلہؒ کے عہد سعید میں یہ مبارک کام ہوا۔ اس طرح اعلیٰ عدالتوں کے خلاف فیصلہ جات پر مشتمل کتاب بھی پہلی آپ کے عہد امارت میں ملک فیاض صاحب نے مرتب کر کے شائع کی۔ رب کریم کی شان پر قربان ۔ سبحان اللہ! فتاویٰ ختم نبوت کے مرتب مولانا سعید احمد جلالپوریؒ یا اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے مرتب ملک فیاض صاحب دونوں حضرت قبلہؒ کے مریدان باصفاء اور عقیدت کیش تھے۔ دیکھئے! حضرت قبلہؒ سے تعلق رکھنے والوں نے کس کس محاذ پر کس کس طرح حضرت قبلہؒ کے فیض کو عام کیا۔ سبحان اللہ!
۶۷...... قادیانی سربراہ کی طرف سے مباہلہ کا چیلنج اور حضرت قبلہؒ کا نعرہ جنگ
قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر نے ۱۰ / جون ۱۹۸۸ء کو مباہلہ کا چیلنج دیا اور اس کی آڑ میں پوری ملت اسلامیہ کی غیرت کو چیلنج کیا۔ اللہ رب العزت کی شان بے نیازی پر قربان جائیں۔ کراچی سے لے کر خیبر تک کے تمام اہم پاکستانی علماء کرام اور جنوبی افریقہ، شمالی امریکہ،
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
یورپ، اسٹریلیا، جنوبی امریکہ، ایشیاء غرضیکہ پوری دنیا کے وہ تمام علماء اسلام جن کو مرزائیوں نے مباہلہ کا چیلنج دیا تھا وہ تمام کے تمام مباہلہ کے لئے تیار ہو گئے۔ ان میں سے کسی ایک نے انکار نہ کیا۔ جب کہ مرزائیوں نے مرزا قادیانی اور نصاریٰ نجران کی سنت پر عمل کر کے کہیں بھی مباہلہ کے لئے میدان میں نہ آئے۔ عالم دنیا کے مسلمانوں کا مباہلہ کے لئے تیار ہونا ایک دفعہ پھر گویا تمام مسلمانوں کا مرزائیت کے کفر پر اجماع منعقد ہو گیا۔ مرزائیوں کے لئے پوری دنیا میں منہ چھپانے کے لئے جگہ نہ رہی۔ پوری امت نے مباہلہ کے سلسلہ میں جس طرح آپ ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے دشمن کو فیصلہ کن جواب دے کر اپنی ذمہ داری کو پورا کیا۔ اس پر جتنا مولائے کریم کا شکر کیا جائے کم ہے اور امت کی مرزائیت کے تعاقب کے لئے بیداری نیک فال ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت قبلہؒ کی سربراہی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے جو خدمات انجام دیں وہ یہ ہیں۔
- ☆...... اندرون ملک اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ، کراچی، پشاور میں ۱۴/ اگست
۱۹۸۸ء کی تاریخ مقرر کر کے اخبارات میں اشتہارات کے ذریعہ مرزائی قیادت کو للکارا کہ وہ مباہلہ کے لئے میدان میں آئے۔ ہم امت کے منتخب نمائندہ علماء کرام کو لے کر ان مقامات پر انتظار کرتے رہے۔ مگر کسی بھی مرزائی کو آنے کی جرأت نہ ہوئی۔ یوں اس تاریخ کو لاہور شاہی مسجد، پشاور چوک یادگار، کوئٹہ میزان چوک، اسلام آباد جامع مسجد فیصل، کراچی جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں پانچ مباہلہ کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء شریک ہوئے۔ اس سے مرزائیوں کے پروپیگنڈہ کی قلعی کھل گئی۔ مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے اور مرزائیوں پر اوس پڑ گئی۔
- ☆...... ۲۱/ اگست ۱۹۸۸ء کو ویمبلے لندن میں جماعت کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس
تھی اس موقعہ پر مرزا طاہر کو لندن میں ہی مباہلے کے لئے اخبارات کے ذریعہ بلایا گیا۔ حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ بیسیوں علماء کرام اور ہزاروں مسلمانوں کے ہمراہ مرزائیوں کی انتظار کرتے رہے اور شام کو مرزائیوں کے نہ آنے کے باعث ان کی شکست کا اعلان کر دیا۔ ان اقدامات و جوابی کاروائی سے مرزائیوں کے منفی پروپیگنڈہ کا اثر ختم ہوا۔ الٹا مرزائیوں کو لینے کے دینے پڑ گئے۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
☆...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی شعبہ نشرواشاعت کی جانب سے مرزائیوں کے مباہلہ نامی پمفلٹ کے تین جواب شائع کئے گئے۔ سب سے پہلے لندن میں راقم اللہ وسایا نے اپنے تین رفقاء کے دستخطوں سمیت جواب تیار کر کے مرزا طاہر کو رجسٹری کیا۔ پھر لندن اور پاکستان کے اخبارات میں اس کو شائع کیا، لندن کانفرنس کے موقعہ پر اس کا پہلا ایڈیشن تمام شرکاء کانفرنس میں تقسیم کیا گیا۔ بعد میں پاکستان میں اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا گیا۔
دوسرا جواب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما ملک عزیز کے نامور صاحب طرز ادیب حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے تحریر فرمایا۔ اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہوا۔ تیسرا جواب قادیانی جماعت کے سابق فرد عبدالرحمن مصری کے صاحبزادے حافظ بشیر احمد مصری (مسلم) نے تحریر کیا۔ اسے بھی عالمی مجلس کے مرکزی شعبہ نشرواشاعت نے شائع کیا۔ اس کے علاوہ مقامی جماعتوں اور شاخوں نے اپنے اپنے طور پر جو جوابات تحریر کئے وہ دو درجن سے زائد ہوں گے۔
الحمدللہ! تحریر و تقریر کے ذریعہ مباہلہ نامی مرزائیت کی سازش کو عالمی مجلس نے ناکام بنایا اور اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے اپنی ذمہ داری کو احسن طریق پر نبھانے کی سعادت حاصل کی۔ یہ سب قبلہ حضرت صاحبؒ کی قیادت باسعادت کا صدقہ تھا۔
۶۸...... ۱۹۸۸ء کا الیکشن اور قادیانی
۱۹۸۸ء کے عام انتخابات میں قادیانیوں نے کھل کر پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا۔ تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازیخان کی سیٹ پر صوبائی اسمبلی کے لئے مرزائیوں نے اپنے نمائندہ منظور خان قیصرانی کے لئے ٹکٹ حاصل کر لیا۔ عالمی مجلس نے مولانا صوفی اللہ وسایا، ڈیرہ غازیخان والوں کی قیادت میں وہاں تحریک چلائی۔ گاؤں، گاؤں کا چکر لگایا۔ لٹریچر تقسیم کیا۔ انفرادی ملاقاتیں کیں۔ جلسہ ہائے عام منعقد کئے اور یوں اللہ رب العزت کے فضل و احسان سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا نذیر احمد تونسویؒ، مولانا عبدالعزیز لاشاری پر مشتمل وفد نے دن رات محنت کر کے ایسی فضا قائم کر دی کہ مرزائی امیدوار الیکشن میں شکست کھا گیا۔
اسی طرح آزاد امیدوار کے طور پر ملتان کی شہری سیٹ سے صوبائی اسمبلی کے لئے مبینہ لاہوری مرزائی نصیر اے شیخ نے الیکشن میں حصہ لیا۔ اس کے حلقہ میں بھی لٹریچر وغیرہ تقسیم کرایا۔ یوں اللہ رب العزت کے فضل سے کوئی مرزائی الیکشن میں کامیاب نہ ہوسکا۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
۶۹...... قادیانیوں کا سالانہ جلسہ
الیکشن ۱۹۸۸ء کے بعد بے نظیر بھٹو حکومت کے برسر اقتدار آتے ہی قادیانیوں کی سرگرمیوں میں تشویش ناک اضافہ ہو گیا۔ جس پر فوری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اخبارات میں درج ذیل اشتہار شائع کرایا اور یوں پورے ملک کے مسلمانوں کو قادیانی سرگرمیوں سے باخبر کر کے ان میں بیداری کی لہر پیدا کی۔ اشتہار یہ ہے:
قادیانی فتنہ کی اشتعال انگیز سرگرمیوں کے خلاف احتجاج
مرکزی حکومت و صوبائی حکومت قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا فوری نوٹس لے۔ حالیہ عام انتخابات کے بعد قادیانی جماعت کی شرانگیز سرگرمیوں میں اچانک تشویش ناک اضافہ ہو گیا ہے۔
- ☆ ...... چار برس کی قانونی بندش کے بعد قادیانی جماعت کے ترجمان روزنامہ الفضل ربوہ کی
دوبارہ اشاعت۔
- ☆ ...... قادیانیوں کے دسمبر میں سالانہ تبلیغی جلسہ پر گذشتہ چار سال کی پابندی کے بعد دوبارہ
انعقاد کا چرچا۔
- ☆ ...... قادیانی جماعت کے بھگوڑے سربراہ مرزا طاہر احمد کو پاکستان واپس لانے کے لئے
قادیانیوں کی پراسرار سرگرمیاں۔
- ☆ ...... مارچ ۱۹۸۹ء میں قادیانیوں کی جعلی نبوت کے جشن صد سالہ کا اعلان۔
قادیانیوں کی اچانک اشتعال انگیز سرگرمیاں ملک میں نئی منتخب حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنے اور امن عامہ کو تباہ کرنے کی گہری سازش ہیں۔ ہم منتخب مرکزی حکومت و حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانیوں پر عائد شدہ پابندیاں برقرار رکھی جائیں اور ان کی اسلام دشمن اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کاروائی کر کے اسلامیان پاکستان کے دینی جذبات کا احترام کیا جائے۔
منجانب: مولانا خواجہ خان محمد امیر مرکزیہ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان، پاکستان
(روزنامہ نوائے وقت لاہور مورخہ ۶؍ دسمبر ۱۹۸۸ء)
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اسی طرح یہ اشتہار جنگ لاہور وراولپنڈی میں بھی جماعت نے شائع کرایا۔ قومی وصوبائی اور سینٹ کے ارکان کو حضرت الامیرؒ کی طرف سے مبارک بادی کے خطوط اور اس متذکرہ اشتہارات کے کٹنگ بھیجے گئے۔
مرزائی اپنے اخبار الفضل میں اپنے سالانہ جلسہ کی تاریخ کا نہ صرف اعلان کر چکے تھے۔ بلکہ ربوہ میں دیگیں پکا کر خوشی کا اظہار کیا اور یوں پوری قادیانی جماعت اپنے سالانہ جلسہ کی تیاری کے لئے کوشاں تھی۔
عالمی مجلس کا اشتہار اخبار میں شائع ہوا۔ یوں کفر واسلام دونوں آپس میں اس مرحلہ میں ایک بار پھر آمنے سامنے آکر اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے لگے۔ مسلمانوں اور قادیانیوں کا ایک دوسرے کو گرانے کے لئے مقابلہ شروع ہوا۔ عالمی مجلس نے سرگودھا میں ڈویژنل ختم نبوت کانفرنس منعقد کر کے تمام مکاتب فکر کو جمع کیا۔ چناب نگر (ربوہ) کی مسجد محمدیہ میں اجتماعی جمعہ پڑھا۔ جھنگ میں یک روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد کی۔ ان تمام پروگراموں میں حضرت الامیرؒ نے شرکت فرمائی۔ ریزولیشن، قراردادیں، احتجاجی بیانات وتاریں حکومتی ارکان سے ملاقاتیں کیں۔ یوں شب وروز کی محنت سے کفر ہار گیا، اسلام جیت گیا اور مرزائی سالانہ جلسہ پر پابندی لگ گئی۔ اس پر جتنا اللہ رب العزت کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شکر کرے کم ہے۔
۷۰...... سال ختم نبوت ۱۹۸۹ء
۲۱؍ اگست ۱۹۸۸ء کی ختم نبوت کانفرنس لندن میں حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ نے اعلان فرمایا کہ چونکہ ۱۹۸۹ء میں قادیانی صد سالہ جشن منا رہے ہیں۔ تو اس کے مقابلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۹۸۹ء کو سال ختم نبوت کے طور پر منائے گی۔ ۱۹۸۹ء میں برطانیہ میں مرکزی کانفرنس کے علاوہ چار علاقائی کانفرنسیں ہوں گی۔
- ۲...... اس سال دس لاکھ روپے کا لٹریچر شائع کر کے تقسیم کیا جائے گا۔
- ۳...... اس سال امریکہ میں کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی۔
- ۴...... پاکستان کے ڈویژنل مقامات اور علاقائی کانفرنسوں کا بھی انتظام کیا جائے گا۔
اللہ رب العزت کا فضل ہے کہ ان امور پر عمل درآمد ہوا۔ سرگودھا، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، بہاولپور، ربوہ (چناب نگر) میں کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ مارچ ۱۹۸۹ء میں راولپنڈی، اٹک، ہری پور، ایبٹ آباد، گوجرہ، مانسہرہ میں کانفرنسیں ہوئیں۔ رمضان المبارک کے بعد پھر سندھ،
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۱۴۴ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
سرحد، بلوچستان و پنجاب میں کانفرنسیں ہوئیں۔ اسی طرح لٹریچر واشتہارات ملتان و کراچی سے شائع کئے گئے۔ نئے انداز میں بھر پور محنت سے لٹریچر مہم کو شروع کیا گیا۔ آٹھ رسائل انگلش میں لاکھوں کی تعداد میں چھپ کر تقسیم کئے۔ اخبارات میں ضرورت کے مطابق اشتہارات دیئے گئے۔ غرضیکہ اس سال لٹریچر کے اعتبار سے بھی مثالی محنت ہوئی۔ یہ سب حضرت قبلہ کی قیادت باسعادت میں کام ہوا۔ احتساب قادیانیت کی اشاعت کا آغاز بھی ۱۹۸۹ء سے ہوا۔ (اس کی تفصیل آگے آئے گی)
۱۷ جولائی ۱۹۸۹ء کو قادیانی جماعت کے عربی سیکشن کا انچارج حسن عودہ مسلمان ہوگیا۔ اس کا عالمی مجلس کے مرکز لندن سے رابطہ ہوا۔ اس کی مختلف موقعوں پر عالمی مجلس نے مالی امداد کی اور اب پھر رابطہ عالم اسلامی سے مل کر اس کی امداد کے لئے پندرہ صد پونڈ منظور کرائے۔ اب چھ ماہ تک وہ عالمی مجلس لندن میں کام کرے گا۔ اس کے اخراجات بھی رابطہ ادا کرے گا۔ اس کے سپانسر شپ کے کاغذات لندن قیام کے لئے عالمی مجلس کا لندن دفتر مہیا کرے گا۔
اس کے ذریعہ باہر لٹریچر بھی جانا شروع ہو گیا اور وہ اس سال عالمی مجلس کی طرف سے پہلی بار لندن سے اسرائیل میں رد قادیانیت کا عربی کا لٹریچر پہنچا۔ حسن عودہ کا بھائی اس لٹریچر کو پڑھ کر اسرائیل میں نہ صرف قادیانیت سے تائب ہوا۔ بلکہ اس نے بھی وہاں مرزائیت کی تردید کا کام اپنے حلقہ میں شروع کر دیا ہے۔ فاالحمدللہ علیٰ ذالک!
۷۱...... مالی کے ہزاروں افراد کا قبول اسلام
مولانا منظور احمد الحسینیؒ نے بتایا کہ مرزا طاہر نے لندن کے ایک اپنے اجتماع سے خطاب کے دوران قادیانیوں کو نئے سال کا تحفہ قرار دیتے ہوئے یہ خبر سنائی کہ مالی جمہوریہ میں تیس سے چالیس ہزار مسلمانوں کو قادیانی بنالیا گیا ہے اور یہ سارا ڈرامہ انہوں نے جمہوریہ مالی کے شیخ عمر کانتے کے ذریعہ سٹیج کیا۔ مولانا حسینی صاحبؒ، باوا صاحب نے اس کی کیسٹ اور ویڈیو دیکھا۔ مکہ المکرمہ حرم کعبہ میں حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ سے مشاورت ہوئی۔ آپ نے اپنی دعاؤں سے نوازا، اور جمہوریہ مالی کے سفر کی اجازت مرحمت فرمائی۔ رابطہ عالم اسلامی کے مرکز سے جمہوریہ مالی کے صدر کے نام عالمی مجلس نے خط حاصل کیا۔ وہاں کے پتہ جات سے آگاہی ہوئی۔ چنانچہ پاکستان آ کر اس سفر کے لئے تیاری کی اور ۱۸ جنوری ۱۹۹۰ء سے
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com یکم فروری تک کا وہاں کا عالمی مجلس کے دو نمائندگان محترم باوا صاحب، مولانا منظور احمد الحسینیؒ نے دورہ کیا۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ مشہور صحابی حضرت عقبہ بن عامرؓ پہلی صدی ہجری میں یہاں تشریف لائے اور یوں ان کی تبلیغ سے یہ ملک مسلمان ہوا۔ ہمارے علاقہ کی نسبت وہ ”السابقون الاولون“ میں سے ہیں۔ جمہوریہ مالی کے شہر ”باکو“ کے علماء کرام کی جمعیت مالی الاتحاد و تقدم الاسلام نے مہمان نوازی کی، وزیر داخلہ جمہوریہ مالی جناب عیسیٰ انگوئیسا سے ملاقات ہوئی۔ قادیانیت کے خلاف عالمی مجلس کا عربی و انگلش لٹریچر ان کو دیا گیا۔ مالی الاتحاد و تقدم الاسلام کے رہنماؤں کی معیت میں عمر کانتے جو قادیانی ہو گیا تھا۔ اس کے علاقہ کا دورہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے سامنے قادیانیت کو اسلام کے نام پر پیش کیا گیا اور احمدیت کو اسلام ہی کی ایک منظم تنظیم کے طور پر روشناس کرایا گیا اور یہ کہ اس تنظیم قادیانیت کی طرف سے ہمارے علاقہ میں سڑکوں، کالجز، یونیورسٹی، شفاخانے قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ ملک انتہائی غریب و پسماندہ ہے۔ ایک اسلامی تنظیم کے نام پر اس تعاون کی غرض سے لوگ دھوکہ میں آئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد نے جب قادیانیوں کے کفریہ عقائد، مرتدانہ عزائم ان کے سامنے رکھے تو وہ توبہ توبہ پکار اٹھے۔ ان تمام لوگوں نے جو اسلام کے نام پر دھوکہ سے قادیانیت کے دام تزویر میں پھنس گئے تھے۔ شیخ عمر کانتے سمیت تمام نے قادیانیت سے براءت و توبہ کا اظہار کیا۔ مرزا قادیانی ملعون پر لعنت بھیجی اور یوں اجتماعی طور پر وہ دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مساعی جمیلہ کو اللہ رب العزت قبولیت سے نوازیں کہ یہ جمہوریہ مالی کے تیس سے پینتیس ہزار افراد کے ایمان بچانے کا باعث بنی۔
وفد نے دوبارہ مالی کے دارالحکومت میں وزیر داخلہ سے ملاقات کی۔ مرزائیوں کی مالی میں رجسٹریشن کے لئے درخواست آئی ہوئی تھی۔ وہ مسترد کر دی۔ اب صرف مالی میں چار قادیانی باقی تھے جو پہلے سے قادیانی تھے۔ ان کی گرفتاری کے آرڈر کئے اور یوں یہ وفد کامیاب و کامران سرفراز بامراد واپس آیا۔ مکۃ المکرمہ کے اخبار المسلمون، جنگ کراچی میں اس دورہ کے ایڈیشن شائع ہوئے۔ جنگ لاہور، نوائے وقت کراچی، لاہور، پنڈی، تکبیر، لولاک، ختم نبوت، اقراء ڈائجسٹ، زندگی وغیرہ میں اس وفد کی تفصیل دورہ کی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ فاالحمدللہ!
۷۲...... مجلس عمومی کا اجلاس ۱۸/اکتوبر ۱۹۹۱ء
۱۸/ اکتوبر ۱۹۹۱ء کو مجلس عمومی کا چناب نگر مسلم کالونی میں اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
آئندہ تین سال کے لئے امیر مرکزیہ اور نائب امیر کا انتخاب کرنا تھا۔ اس موقعہ پر مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کی خدمت میں کس طرح خراج تحسین پیش کیا ملاحظہ ہو:
”میرے قابل احترام رفقاء: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابر نے درد دل اور اخلاص نیت کے ساتھ جماعت کی بنیاد رکھی تھی۔ ملتان کی ایک کوٹھڑی سے اٹھنے والی ایک نحیف آواز آج چاردانگ عالم پہنچ چکی ہے۔ اس کی صدائے بازگشت حکومت کے ایوانوں میں گونج رہی ہے اور رحمت کردگار اس آواز کو مزید عالم گیر بنا رہی ہے اور ”اصلھا ثابت وفرعھا فی السماء“ کی عملی تفسیر ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
میرے قابل قدر حاضرین: مجھے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس مجلس عمومی کے اجلاس میں آپ کے دلوں کی ترجمانی کرتے ہوئے یہ کہنا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میں آپ سب کی طرف سے اللہ رب العزت کے حضور ایک عہد کو دھرا رہا ہوں کہ ضابطہ ودستور کے لحاظ سے تو ہم اپنے امیر مرکزیہ و نائب امیر کے انتخاب کے لئے یہاں پر جمع ہیں۔ لیکن یہ محض دستوری کاروائی ہے۔ ہم لوگ دراصل ہر تین سال بعد تجدید عہد کرتے ہیں۔ اپنے امیر کو اپنی طرف سے مکمل سمع وطاعت کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ اس جذبہ سے کہ بیٹا اپنے باپ کی اتنی عزت واطاعت نہیں کر سکے گا جتنا ہم اپنے امیر کی اطاعت کریں گے۔ (اس پر سامعین میں وجد کی ایک کیفیت طاری ہوگئی اور ہاؤس نے بلند آواز سے صدقت صدقت کی صداء بلند کی)
رفقاء وحاضرین: حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ نے شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے سانحہ ارتحال کے بعد جس طرح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا بوجھ اٹھانے کے لئے اپنے کندھے پیش کئے۔ بڑھاپے، مصروفیات کے باوجود جماعت کے کام کو، مشن کو، اس کارِ خیر کو، جس طرح آگے بڑھایا۔ اس کارواں کی جس طرح سرپرستی فرمائی۔ اس کے لئے اپنی راحتوں کو قربان کیا۔ اس پر جتنا اللہ رب العزت کا شکر ادا کریں کم ہے۔ ہم ایسے یتیم ومسکین لوگوں کے سروں پر جو دست شفقت رکھا۔ یہ یداللہ علی الجماعة کا پرتو نہیں تو اور کیا ہے؟
دیکھئے! آج سے چودہ سو سال قبل رحمت عالمﷺ نے ایک درخت کے نیچے اپنے صحابہ کرامؓ سے ایک بیعت لی تھی۔ جس کے نقشے خداوند کریم نے قرآن مجید میں ہمیشہ کے لئے بیان کر کے آنے والی مسلمان قوم کے لئے مشعل راہ بنا دیا۔ وہ بیعت رضوان تھی۔ خدا تعالیٰ کا
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
پیغمبر، مال و جان کی بیعت لے رہا تھا۔ ”اذ يبايعونك تحت الشجرة . يدالله فوق ايدهم“ آیئے! رفقاء کرام، رحمت عالمﷺ کے صحابہ کرام سے ایک ادنیٰ تعلق قائم کرنے کے لئے ان کے نقش قدم پر چلنا تو ہمارے ایسے گنہگار، کمزور ایمان لوگوں کے لئے مشکل ہے۔ لیکن ان کی سنت ادا کرنے کے لئے، یا کم از کم ان کی سنت کی نقل اتارنے کے لئے، شاید اللہ رب العزت اس نقل کو اصل سے جوڑ دیں۔ انہیں حضرات کی رحمتوں سے ہمیں کچھ حصہ مل جائے۔ رحمت عالمﷺ نے صحابہ کرامؓ سے دم عثمانؓ اور حرمت کعبہ کی بیعت لی تھی۔ آج رسول مقبولﷺ کے ایک غلام میرے اور آپ کے مخدوم مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی ذات گرامی پر اعتماد کے لئے آگے بڑھیے۔ فضا میں ہاتھ لہرائیے۔ اللہ رب العزت کے گھر میں وعدہ کیجئے کہ ہم ناموس مصطفیٰﷺ کے تحفظ کے لئے دشمن سے اس وقت تک نبرد آزما رہیں گے جب تک کہ ہماری جانوں میں جان ہے اور رگوں میں خون۔ ہم دشمن پیغمبر کو چین سے نہ بیٹھنے دیں گے۔ اس کے ہر شیطانی منصوبہ ہر طاغوتی سازش کو ناکام بنائیں گے۔ آپ لوگ ہاتھ اٹھائیں، رحمت حق اس کا نظارہ دیکھے اور خدام ختم نبوت میں آپ کا نام بھی لکھا جائے۔“
مولانا عزیز الرحمٰن کی اس ایمان پرور تقریر نے وجدانی کیفیت پیدا کر دی۔ سامعین کا ہر شخص تائید و تجدید عہد کے لئے آگے بڑھنا چاہتا تھا۔ اجتماع میں سمندر کا مدوجزر پیدا ہو گیا۔ جذبات کے سمندر کے اس ارتعاش میں آپ نے ضابطہ کے مطابق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دستور کی دفعہ نمبر ۷، شق نمبر ۱ کو پڑھا اور پھر اس کی روشنی میں آئندہ تین سال کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ کے انتخاب کے لئے حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کا نام گرامی اور دستور کی دفعہ نمبر ۷، شق نمبر ۱ کے تحت نائب امیر کے لئے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کا اسم گرامی تجویز کیا۔ پورے ہاؤس نے بالاتفاق تائید کے لئے ہاتھ بلند کئے۔ ایک بھی شخص نے اس کے خلاف ایک لفظ تک نہ کہا۔ اس بھر پور تائید اور توثیق تجدید عہد نے ایک بار پھر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ”بالاتفاق“ کی سابقہ روایت کو زندہ کر دیا گیا۔ فاالحمدلله على ذالك!
حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ نے کمال مہربانی سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے اپنے بوڑھے کندھے ایک بار پھر پیش کر دیئے۔ حاضرین وسامعین کی ایمانی خوشی قابل دید تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سابق نائب امیر حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کے ساتھ حضرت اقدس نے تمام رفقاء و حاضرین
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کے اخلاص عمل وحسن خاتمہ کی دعا فرمائی۔ یوں تقریباً گیارہ بج کر دس منٹ پر یہ اجلاس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔
۷۳...... وفاق المدارس کے نصاب میں رد قادیانیت کا مضمون
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوریٰ نے اپنے ایک اجلاس ۱۹۸۸ء میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ وفاق المدارس کے نصاب میں رد قادیانیت پر کوئی کتاب رکھوائی جائے۔ اس کے لئے حضرت الامیر المرکزیہ حضرت قبلہؒ کی طرف سے وفاق المدارس کی قیادت سے خط و کتابت ہوئی۔ پہلے سے موجودہ کتابوں کی بجائے وفاق المدارس نے حکم فرمایا کہ اس غرض کے لئے نئی کتاب ترتیب دی جائے۔ چنانچہ انہوں نے خطوط بھی متعین کر کے دیئے۔ جس کے مطابق ”آئینہ قادیانیت“ نامی کتاب مرتب ہوئی۔ وہ وفاق کے ذمہ دار حضرات کو بھجوائی گئی۔ یہ کتاب وفاق کی نصاب کمیٹی کے سپرد ہوئی۔ (تفصیلات ترک کرتے ہیں) اس لئے جملہ خط و کتابت، رابطہ، وفاق کے عہدیداران و اراکین عاملہ سے مسلسل صورتحال پر تبادلہ خیال اور ان کو متوجہ کرنے کے لئے جو خط و کتابت ہوئی وہ بھی خانقاہ سراجیہ کے پتہ پر، الغرض اللہ تعالیٰ نے کامیابی سے ہمکنار فرمایا۔ اس تمام خط و کتابت کی تفصیلات درج کی جائیں تو کتاب کا بہت حجم بڑھ جائے گا۔ اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔
۷۴...... اسلامی وزرائے خارجہ کانفرنس کراچی
اسلامی ممالک کے وزراء خارجہ کی کراچی میں ۲۳ تا ۲۹؍ اپریل ۱۹۹۳ء کو کانفرنس منعقد ہونا تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ ہونے کے ناتے حضرت قبلہؒ نے حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق سکندرؒ سے ایک عربی میں ایک عرض داشت مرتب کرائی۔ اس کا انگلش ترجمہ بھی کرایا۔ جب کانفرنس منعقد ہوئی تو وہ کتابچہ اعلیٰ طباعت اور خوبصورت پیکنگ میں تمام اسلامی وزراء خارجہ تک پہنچایا گیا۔ یوں دنیائے اسلام کے تمام ممالک کی قیادت کو قادیانی کفر سے حضرت قبلہؒ نے آگاہ فرما کر پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا فرمایا۔ اسی کتاب میں ”رشحات قلم“ یعنی اس کتاب کے باب پنجم میں وہ کتابچہ شامل کر دیا ہے۔ ملاحظہ فرمایا جائے۔
۷۵...... تاریخ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء
قارئین کرام! آپ جانتے ہیں کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد میں ۱۹۵۳ء کی
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
تحریک ختم نبوت کا ایک مرکزی کردار ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے لے کر شیخ الاسلام حضرت سید بنوریؒ تک، اپنے اپنے ادوار میں بھر پور جدوجہد میں مصروف رہے۔ ۱۹۷۴ء میں جب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا اور ایک گونہ یہ جدوجہد نتیجہ خیز ہوئی تو ضرورت محسوس ہوئی کہ اب تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی تاریخ مرتب کی جائے۔ اللہ رب العزت کی کروڑ رحمتیں ہوں۔ ہمارے حضرت خواجہ خان محمد صاحب قبلہؒ کی روح پر فتوح پر کہ آپ کی توجہ اور دعا کے نتیجہ میں تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کتاب مرتب ہوئی۔ اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ غرض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ اس تحریک کی تاریخ مرتب کرنے کا جو قرض تھا وہ حضرت قبلہؒ نے اتار کر مجلس کو سرفراز فرمایا۔
۷۶...... مجلس کے مدارس کا وفاق سے الحاق
عالمی مجلس کے تحت میں کئی قرآنی مکاتب اور درجہ کتب کے مدارس ہیں۔ حضرت قبلہؒ نے ان مدارس کی تعلیم کو ایک نیا رخ دیا اور تمام مدارس کے نظام تعلیم کو منظم بنانے اور وفاق کے تحت کرانے کے لئے ان مدارس کا وفاق المدارس العربیہ سے الحاق کرایا۔
۷۷...... کفالت فنڈ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی حضرات نے فیصلہ فرمایا تھا کہ مجلس کے نظم میں شامل ہو کر جو رفقاء کام کریں وہ اپنے مشاہرہ سے دس فیصد ماہ بماہ کفالت فنڈ جمع کرائیں۔ ان کے معذور ہو جانے یا فوت ہو جانے پر ان کو یا ان کے ورثاء کو ان کے جمع شدہ فنڈ کے برابر مزید مجلس اپنی طرف سے شامل کر کے ان کو یا ان کی اولاد کو سہولت دے گی۔ یہ فیصلہ حضرت امیر شریعتؒ، حضرت جالندھریؒ کے زمانہ کی مجلس شوریٰ میں ہوا۔ پھر دوبارہ زیر مشورہ آ کر منظوری کے باوجود عمل درآمد نہ ہوسکا۔ حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں اس پر پھر مشاورت ہوئی۔ ۱۴۱۶ھ سے اس پر عمل درآمد ہونا شروع ہوا۔ یہ ہمارے حضرت قبلہؒ کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔
۷۸...... ماہنامہ لولاک ملتان سے
حضرت مولانا تاج محمودؒ نے ہفت روزہ لولاک فیصل آباد سے ۱۹۶۴ء میں شائع کرنا شروع کیا۔ آپ نے آگے چل کر اسے مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان بنادیا۔ محترم صاحبزادہ طارق محمودؒ بھی اسے یوں چلاتے رہے۔ لیکن انہوں نے ۱۴۲۷ھ کے مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۱۵۰ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
تجویز رکھی کہ اسے فیصل آباد سے جاری رکھنا میرے لئے مشکل ہے۔ اسے فیصل آباد سے ملتان لایا جائے اور یہ کہ اسے ہفت روزہ کی بجائے ماہنامہ کر دیا جائے تاکہ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی سے اور ماہنامہ لولاک ملتان سے شائع ہوا، اور مجلس کے یوں دو ترجمان، ایک ہفت روزہ دوسرا ماہنامہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ حضرت اقدس قبلہ مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ نے اس تجویز سے اتفاق فرماتے ہوئے مجلس شوریٰ سے منظوری دلوائی۔ فیصل آباد سے ملتان لانے کے لئے ڈیکلریشن وغیرہ کی تبدیلی کے بعد محرم الحرام ۱۴۱۸ھ سے یہ برابر ملتان سے شائع ہو رہا ہے۔ جب سے اشاعت ملتان سے شروع ہوئی ہے۔ تب سے اس کا ایک شمارہ بھی شارٹ نہیں ہوا۔ یہ سب ہمارے حضرت قبلہ کا فیضان نظر ہے۔
۷۹...... دیوبندی جماعتوں کا اتحاد
ایک بار شدید ضرورت پیش آئی کہ دیوبندی جماعتوں کے ذمہ داران کا ایک اجلاس ہو جائے۔ تاکہ اس میں باہمی مل بیٹھنے اور سر جوڑ کر مشترکہ موقف اختیار کرنے کی فضا قائم ہو جائے۔ چنانچہ ۲۹؍ شوال ۱۴۱۷ھ مطابق ۱۰؍ مارچ ۱۹۹۷ء کو اسلام آباد میں حضرت قبلہ کی دعوت پر
مولانا فضل الرحمن جمعیت علماء اسلام مولانا سمیع الحق // شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف خان آزاد کشمیر مولانا عزیز الرحمن جالندھری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا حبیب اللہ مختار وفاق المدارس، و جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی مولانا فداء الرحمن درخواستی شریعت کونسل مولانا اسفندیار خان سواد اعظم پاکستان مولانا عبد الستار تونسوی تنظیم اہل سنت پاکستان مولانا سید عبد المجید ندیم تحفظ حقوق اہل سنت مولانا عبد الغفور حقانی مجلس علماء اہل سنت مولانا محمد اشرف علی جمعیت اشاعۃ التوحید والسنۃ مولانا محمد عبد اللہ جمعیت اہل سنت
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مولانا محمد نذیر فاروقی جمعیت علماء اسلام آزاد کشمیر مولانا مفتی محمد جمیل خان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
ان حضرات نے اس اجلاس میں شرکت فرمائی۔ اجلاس حضرت قبلہؒ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ بہت ہی محبت بھرا ماحول تھا۔ اس اجلاس کی روشنی میں مولانا محمد جمیل خانؒ نے بعد میں علماء کونسل کے نام پر اپنے مکتب فکر کی تمام جماعتوں کے کئی اجلاس طلب کئے۔ وہ حضرات جو انتہائی متضاد و متقابل کناروں پر کھڑے تھے۔ وہ اکٹھے ہوئے۔ بہت ساری غلط فہمیاں دور ہوئیں۔ یہ سب قبلہ حضرتؒ کا تیار کردہ نقشہ تھا۔ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ رحمۃ واسعۃ!
۸۰......سندھ میں کانفرنسیں
۱۹۹۷ء میں سندھ میں ضرورت محسوس کی گئی کہ صوبہ سندھ میں ایک خاص ترتیب کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کی جدوجہد کو مربوط کیا جائے۔ تاکہ پورے صوبہ کے اندرون کے عوام میں رد قادیانیت پر صدا بلند ہو جائے۔ چنانچہ حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ نے اسی مضمون پر مشتمل ایک والا نامہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحبؒ بیر شریف والوں کے نام تحریر فرمایا۔ حضرت بیر شریفؒ والوں کو اللہ رب العزت نے اندرون سندھ کے دیوبندی مسلک کا بے تاج بادشاہ بنایا تھا۔ مولانا جمال اللہ الحسینیؒ یہ خط لے کر حضرت بیر شریفؒ والوں کی خدمت میں گئے۔ حضرت بیر شریفؒ والوں نے سندھ کے علماء کے نام ایک عمومی خط سندھی زبان میں تحریر فرمایا اور دوسرا یہ کہ مولانا ڈاکٹر خالد محمود صاحب سومرو کو حکم فرمایا کہ پورے سندھ میں ختم نبوت کے پروگرام رکھیں۔
چنانچہ مورخہ ۱۰ تا ۱۷؍ جون ۱۹۹۷ء یعنی:
- ۳؍ صفر ۱۴۱۸ھ: دن کو میر پور خاص میں ختم نبوت کنونشن، رات کو عمر کوٹ میں ختم نبوت کانفرنس
- ۴؍ صفر ۱۴۱۸ھ: دن کو ٹنڈو آدم میں ختم نبوت کنونشن، رات کو بدین میں ختم نبوت کانفرنس
- ۵؍ صفر ۱۴۱۸ھ: دن کو سجاول میں ختم نبوت کنونشن، رات کو حیدر آباد میں ختم نبوت کانفرنس
- ۶؍ صفر ۱۴۱۸ھ: دن کو نواب شاہ میں ختم نبوت کنونشن، رات کو کنڈیارو میں ختم نبوت کانفرنس
- ۷؍ صفر ۱۴۱۸ھ: دن کو خیر پور میرس میں ختم نبوت کنونشن، رات کو پنوعاقل میں ختم نبوت کانفرنس
- ۸؍ صفر ۱۴۱۸ھ: دن کو سکھر، گھوٹکی میں ختم نبوت پر اجتماعی جمعہ، رات کو کندھ کوٹ میں کانفرنس
- ۹؍ صفر ۱۴۱۸ھ: دن کو جیکب آباد میں ختم نبوت کنونشن، رات کو شکار پور میں ختم نبوت کانفرنس
- ۱۰؍ صفر ۱۴۱۸ھ: دن کو ٹھٹھہ میں ختم نبوت کنونشن، رات کو لاڑکانہ میں ختم نبوت کانفرنس
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
یوں ایک ہفتہ کے دورہ میں پورے سندھ میں ختم نبوت کے پیغام کو گھر گھر پہنچادیا گیا۔ یہ ہمارے حضرت قبلہ مولانا خان محمد صاحبؒ کے ایک خط کی برکت اور حضرت مولانا عبدالکریم صاحبؒ بیر شریف والوں کی ایک توجہ تھی کہ ہفتہ بھر میں پورا صوبہ سندھ، ختم نبوت کے ترانوں سے گونج اٹھا۔
۸۱......مجلس عمومی کا اجلاس
۳/ اکتوبر ۱۹۹۷ء کو چناب نگر مسلم کالونی جامعہ مسجد میں صبح نو بجے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمومی کا انتخابی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ۱۲۰۸ ارکان مجلس عمومی نے شرکت کی۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت مولانا یوسف لدھیانویؒ کے بیانات ہوئے۔ حضرت قبلہؒ نے صدارت فرمائی۔ اس اجلاس میں ۱۹۹۸ء، ۱۹۹۹ء، ۲۰۰۰ء تین سال کے لئے حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب اور حضرت مولانا یوسف لدھیانویؒ کو بالترتیب امیر مرکزیہ اور نائب امیر منتخب کیا گیا۔ فاالحمدللہ!
۸۲...... پرویزی دور حکومت ، ۸/ مئی ۲۰۰۰ء عمومی ختم نبوت کنونشن لاہور
۱۲/ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو پرویز مشرف نے نواز شریف کو چلتا کیا اور اس کی جگہ خود صدارت پاکستان کے عہدہ پر براجمان ہوگیا۔ اس نے آئین پاکستان کو معطل کیا۔ پی۔ سی۔ او، لایا۔ اس کے تحت میں اندیشہ ہوا کہ کہیں اسلامی دفعات اور قادیانیوں کے متعلق جو کچھ قانون و آئین میں موجود ہے وہ غتر بود نہ ہوجائے۔ ادھر قادیانیوں نے بھی کہنا شروع کیا کہ ہمارے متعلق جو کچھ قانون میں ہے وہ تبدیل ہوجائے گا۔ اس پر ملک بھر میں تشویش پائی جاتی تھی۔ ہمارے حضرت قبلہؒ کی زیر قیادت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے تبلیغی سفر کو جاری رکھا۔ جگہ جگہ ختم نبوت کے جلسے منعقد ہوتے رہے اور فتنہ قادیانیت کی سنگینی سے عوام و خواص میں برابر آواز پہنچتی رہی۔ اس دوران میں اپریل ۲۰۰۰ء کے درمیان میں جناب خان محمد خان لغاری کراچی سے مولانا شاہ احمد نورانیؒ کا پیغام لائے کہ ختم نبوت کے عنوان پر ایک قومی کنونشن لاہور میں ہوجائے۔ چنانچہ مولانا شاہ احمد نورانیؒ کا پیغام لے کر فقیر راقم خانقاہ سراجیہ گیا۔ حضرت قبلہؒ نے اس کی منظوری دی اور اسے انعام الہی قرار دیا۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد اور فقیر راقم، مولانا نورانی میاںؒ اور حضرت قبلہؒ کا پیغام لے کر ڈیرہ اسماعیل خان مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ چنانچہ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مولانا شاہ احمد نورانی نے جونسی تاریخ مقرر کی تھی وہ مولانا فضل الرحمن کی مصروفیت تھی۔ مولانا نے ذمہ داری قبول کی کہ نورانی میاںؒ سے میں خود بات کر کے تاریخ مقرر کر کے آپ کو اطلاع کروں گا۔ چنانچہ اسی شام مولانا نے خانقاہ سراجیہ پیغام دیا کہ ۸ مئی ۲۰۰۰ء کو لاہور میں ختم نبوت قومی کنونشن منعقد ہوگا اور اس کی میزبانی مولانا شاہ احمد نورانی کریں گے۔ چنانچہ حضرت قبلہؒ نے ۶ مئی کو ملتان میں مجلس شوریٰ کا دن کو اجلاس رکھا اور رات کو جلسہ عام۔ نیز یہ کہ مجلس شوریٰ کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمن اور حضرت مولانا محمد عبداللہ بھکر والوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔ تاکہ ملک عزیز کی تازہ ترین جو صورتحال ہے۔ اس پر غور کیا جاسکے۔ چنانچہ مجلس شوریٰ کا دن کو اجلاس اور رات کو جلسہ عام میں ختم نبوت کے حوالہ سے آئین میں موجود شقوں کو پی۔سی۔او کا حصہ بنانے کے لئے قراردادیں منظور کی گئیں۔
چنانچہ ۷ مئی کی شام ملتان سے حضرت قبلہؒ اور مولانا فضل الرحمن نے ایک ساتھ سفر کیا۔ اگلے دن لاہور اعلیٰ درجہ کے ہوٹل میں مولانا شاہ احمد نورانی کی زیر صدارت ختم نبوت قومی کنونشن منعقد ہوا۔ حضرت قبلہؒ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، فقیر راقم نے اس کنونشن میں مجلس کی نمائندگی کی۔ اس کنونشن میں دیگر قراردادوں کے علاوہ ختم نبوت اور اسلامی دفعات کو پی۔سی۔او کا حصہ بنانے کی قرارداد منظور کی گئی۔ (چنانچہ یہ مطالبہ آگے چل کر منظور ہوا۔ پرویز مشرف نے ان دفعات کو پی۔سی۔او میں تحفظ دیا) اس کنونشن میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ قادیانی اور مسیحی تعلیمی اداروں کو جنہیں قومی تحویل میں لیا گیا ہے۔ یہ عیسائیوں اور قادیانیوں کو واپس نہ کئے جائیں۔ کنونشن کامیاب رہا۔ اس کنونشن میں تحفظ ناموس رسالت قانون میں کسی بھی قسم کی ترمیم نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
۸۳...... مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی شہادت
۱۳ صفر ۱۴۲۱ھ مطابق ۱۸ مئی ۲۰۰۰ء کو شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کو بیدردی سے پیشہ ور ملعون قاتلوں کی جماعت نے شہید کرا دیا۔ ان کی شہادت سے عالم اسلام کے مسلمانوں کو شدید ذہنی اذیت ہوئی۔ لیکن سب سے زیادہ نقصان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو ہوا۔ اس لئے کہ مولانا مرحوم عالمی مجلس کے مرکزی نائب امیر تھے۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے حوالہ سے آپ کی اتنی زیادہ خدمات ہیں کہ وہ ختم نبوت کے عنوان کی ایک
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
شناخت بن گئے تھے۔ ویسے مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ ہمارے قبلہ مرحوم کے دست و بازو، آپ کے مزاج شناس تھے۔ حضرت خواجہ صاحبؒ نے ایک موقعہ پر ان کو اپنا ترجمان قرار دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ ان کا بیان میرا بیان ہے۔ جو مجھے سننا چاہتا ہے وہ مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کو سنے۔ ظاہر ہے کہ مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی شہادت کا بہت گہرا صدمہ حضرت قبلہؒ کو ہوا۔ آپ ان کی شہادت کی خبر سن کر خانقاہ شریف سے راولپنڈی تشریف لے گئے۔ وہاں سے جہاز کے ذریعہ کراچی تشریف آوری ہوئی۔ چنانچہ اگلے روز آپ نے شہید اسلامؒ کا جنازہ پڑھایا۔ شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کا جنازہ کراچی کی تاریخ کا تاریخ ساز جنازہ تھا۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی شہادت کے بعد ۱۰؍ جون ۲۰۰۰ء کے اجلاس مجلس منتظمہ میں ہمارے حضرت قبلہ مرحوم نے مخدوم الصلحاء حضرت سید انور حسین نفیسؒ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا تا انتخاب جدید نائب امیر نامزد فرمایا۔
۸۴......مجلس عمومی کا اجلاس
چنانچہ ۳؍ اکتوبر ۲۰۰۰ء بروز جمعہ صبح نو بجے جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمومی کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ۲۳۳، ارکان مجلس عمومی نے شرکت فرمائی اور آئندہ تین سال کے ۲۰۰۱ء تا اختتام ۲۰۰۳ء کے لئے حضرت قبلہ خواجہ مولانا خان محمد صاحبؒ کو امیر مرکزیہ اور حضرت قبلہؒ سید نفیس الحسینیؒ کو نائب امیر منتخب کر لیا گیا۔
۸۵......دارالقرآن چناب نگر کی تعمیر
پہلے گزر چکا ہے کہ چناب نگر میں تمام تر کام حضرت قبلہ خواجہ خان محمد صاحبؒ کی قیادت با سعادت میں ہوا۔ اس سلسلہ میں ایک اہم پیش رفت کا ذکر کرنا ناگزیر ہے کہ شوال المکرم ۱۴۲۲ھ کو ملتان میں مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں منظوری دی گئی کہ چناب نگر مدرسہ عربیہ ختم نبوت کے پلاٹ کے شمال مغرب سائیڈ پر دارالقرآن تعمیر کر لیا جائے۔ چنانچہ 80×16 کے تین ہال تعمیر کئے گئے۔ ان کے اوپر اساتذہ کی چار رہائش گاہیں تعمیر کی گئیں۔ ان پر سولہ لاکھ اکاون ہزار چار سو اکانوے روپے خرچ آئے۔ ان سطور کی تحریر کے وقت ان دارالقرآن کے ہالوں میں ڈیڑھ صد مسافر اور پچاس کے قریب مقامی بچے چار اساتذہ کے پاس قرآن مجید حفظ کر رہے ہیں۔ ان ہالوں پر چار اساتذہ کرام کی خوبصورت رہائش گاہیں ہیں۔ جو ضروریات زندگی کی تمام
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
سہولتوں سے مزین ہیں۔ یہ ہمارے حضرت قبلہؒ کا صدقہ جاریہ ہے۔ ’’اللھم رب تقبل ، امین بحرمۃ النبی الکریم‘‘ (نوٹ: ۳؍ اکتوبر ۲۰۰۳ء کو آئندہ تین سال یعنی ۲؍ اکتوبر ۲۰۰۶ء تک کے لئے حضرت قبلہؒ کو امیر مرکزیہ اور حضرت سید نفیس الحسینیؒ کو نائب امیر چناب نگر میں مجلس عمومی نے منتخب کیا)
۸۶...... ووٹر لسٹوں میں تبدیلی
پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا۔ پاکستان میں انتخاب جداگانہ اور مخلوط رہے ۔ غرض ہر حکمران نے اپنے اپنے عہد میں پاکستان کو تجربہ گاہ بنائے رکھا۔ بھٹو صاحب کے عہد اقتدار میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو ان کے لئے طے ہوا کہ ان کی ووٹر لسٹیں غیر مسلموں کے ساتھ علیحدہ بنیں گی۔ چنانچہ بھٹو صاحب زمانہ میں ۱۹۷۷ء کا الیکشن مخلوط بنیادوں پر ہوا۔ لیکن قادیانی کی ووٹر لسٹیں مسلمانوں سے علیحدہ غیر مسلموں میں بنیں۔
ضیاء الحق صاحب کے زمانہ میں جداگانہ طرز پر الیکشن ہوا۔ تب بھی قادیانیوں کی ووٹر لسٹیں غیر مسلموں میں علیحدہ بنیں۔ اب پرویزی عہد اقتدار آیا تو ملک میں پھر مخلوط طرز انتخاب رائج کیا گیا اور ووٹر لسٹوں کی تیاری میں مسلم و غیر مسلم کی تمیز ختم کر دی گئی۔ چنانچہ اس کے لئے تحریک چلائی۔ جماعتی سطح پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ سب سے زیادہ تعاون جمعیت علماء اسلام نے کیا۔ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب نے اس کام کی قیادت کی اور پرویز مشرف کے نظریہ الحاد پر پہلی ضرب کاری یہ پڑی کہ ووٹر لسٹوں کی تیاری مسلم و غیر مسلم کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ پرویز مشرف کا پہلا فیصلہ کینسل ہوا۔ غرض کفر ہار گیا۔ اسلام جیت گیا۔ یہ بھی ہمارے حضرت قبلہؒ کے عہد امارت میں معرکہ سر ہوا۔ فاالحمدلله اوّلاً وآخراً!
۸۷...... پاسپورٹ سے مذہب کے خانہ کا اخراج و بحالی
پاسپورٹ کسی بھی ملک کا ترجمان ہوتا ہے۔ اس کے ذریعہ اس بات کی شناخت ہوتی ہے کہ حامل پاسپورٹ کس ملک کا شہری ہے۔ اسی طرح پاسپورٹ میں موجود مذہب کے خانے سے یہ شناخت ہوتی ہے کہ حامل پاسپورٹ کا مذہب کیا ہے۔ پاکستان کے قیام کو پچاس سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد ملک میں عشروں سے رائج پاسپورٹ کے مندرجات میں تبدیلی لاتے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۱۵۶ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ہوئے حکومت نے مذہب کے خانہ کو حذف کر دیا۔ جس سے ملک کی نظریاتی اساس کو شدید دھچکا لگا۔ اس اقدام سے جہاں مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ وہاں یہ اقدام قادیانیوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں تقویت پہنچانے کا ذریعہ بن سکتا تھا۔ سابقہ پاسپورٹوں کے مندرجات کے ذریعہ یہ شناخت ہو جاتی تھی کہ حامل پاسپورٹ مسلمان ہے یا قادیانی۔ جس کی وجہ سے سعودی عرب جیسے ملک میں قادیانیوں کا داخلہ ناممکن بن گیا تھا۔ حال ہی میں رائج کردہ پاسپورٹ کی وجہ سے یہ شناخت ناممکن ہوگئی اور اس طرح قادیانیوں کو حرمین شریفین جانے سے روکنا انتہائی مشکل ہو گیا۔ کیونکہ حالیہ رائج شدہ پاسپورٹ کے ذریعہ ان کی شناخت کو ناممکن بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کی اور صدر، وزیر اعظم اور وزیر خارجہ تک اپنی آواز پہنچانے کی سعی کی اور اصولی مؤقف کو واضح کیا۔ اس کے ساتھ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمدؒ نے تمام مکاتب فکر کی نمائندہ سیاسی قوت متحدہ مجلس عمل کو اس حوالے سے ہم خیال بنانے کے لئے متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے اراکین کے نام خطوط ارسال فرمائے۔ جن میں ان حضرات کے سامنے صورتحال رکھی اور ان سے اس حوالے سے ایکشن لینے پر زور دیا۔ حضرت اقدس امیر مرکزیہؒ کے خط کے مندرجات درج ذیل ہیں:
بخدمت جناب قابل تکریم وتعظیم اراکین سپریم کونسل متحدہ مجلس عمل السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مزاج گرامی!
اسلام کی سربلندی اور استحکام پاکستان کے لئے آپ کی مساعی جمیلہ کو اللہ تعالیٰ شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ اس وقت ایک اہم مذہبی وقومی امر کی طرف آپ کی توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ وفاقی حکومت نے ربع صدی سے پاسپورٹ میں موجود مذہب کے خانہ کو ختم کر دیا ہے۔
- الف...... پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ قادیانیوں سے متعلق آئینی ترمیم کا تقاضا تھا۔
- ب...... پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ، نہ ہونے کے باعث حرمین شریفین میں قادیانی مسلم بن
کر چلے جاتے تھے۔ اس کے لئے یہ روک تھا۔
- ج...... آئینی طور پر قادیانیوں اور مسلمانوں میں اس سے ایک تمیز قائم ہوگئی تھی۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اسے حذف کرنا قادیانیوں سے متعلق آئینی ترمیم کو غیر مؤثر بنانے کی خوفناک چال ہے۔ کھڑے پانی میں انہوں نے پتھر پھینکا ہے۔ اس کا مداوا نہ ہوا تو مزید اسے غیر مؤثر بنانے کے وہ اقدام کریں گے۔
عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہمیشہ تمام مکاتب فکر نے مشترکہ طور پر جدوجہد کی ہے۔ اتحاد بین المسلمین کا سب سے مؤثر ادارہ متحدہ مجلس عمل ہے۔ آپ کی طرف اسلامیان عالم کی نظریں ہیں کہ وہ اس اہم دینی حساس اور اساسی مسئلہ میں کیا ہماری رہنمائی فرماتے ہیں؟ ہم سب اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے آپ کی نظر کرم کے منتظر ہیں۔
- ۱...... جمعۃ المبارک پر احتجاج۔
- ۲...... حکومت کو اس کی غلطی پر متنبہ کرنے کے لئے ممکنہ اقدامات۔
- ۳...... آپ کی طرف سے اس مسئلہ پر آل پارٹیز کنونشن جو بھی ممکن ہو اس کا فیصلہ فرمائیں۔
اللہ رب العزت آپ کا حامی و ناصر ہو۔
(مولانا) خان محمد امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، ملتان ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، مورخہ ۳/دسمبر ۲۰۰۴ء
چنانچہ پاسپورٹ میں خانہ مذہب کی بحالی کے لئے جدوجہد کا آغاز ہوا۔ پہلے مرحلہ میں مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب اور فقیر راقم ڈیرہ اسماعیل خان حاضر ہوئے۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے فرمایا کہ اسلام آباد میں متحدہ مجلس عمل کا اجلاس ہے۔ اس میں فیصلہ کریں گے۔
چنانچہ مندرجہ بالا خط متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کو دیا گیا۔ پہلے مرحلہ میں ۲۶/نومبر کو لاہور میں آل پارٹیز اجلاس کیا گیا۔ پھر اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا۔ ہمارے حضرت قبلہؒ اس اجلاس کے مہمان خصوصی تھے۔ اجلاس میں تمام مکاتب فکر کی تمام جماعتوں کے سربراہوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کیا جائے اور اس کی بحالی کی جدوجہد کو منظم کرنے کے لئے حضرت حافظ حسین احمد صاحب کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی۔ جس کے ارکان جناب لیاقت بلوچ، جناب محمد خان لغاری، مولانا عبدالقدیر خاموش، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، فقیر راقم، مولانا صاحبزادہ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
عزیز احمد اور مولانا عبدالجلیل نقوی شامل تھے۔ ملک بھر میں یوم احتجاج کی کال دی گئی۔ اسلام آباد میں مظاہرہ رکھا گیا۔ حکومت نے خانہ مذہب بحال کرنے کی بجائے کابینہ کی کمیٹی بنادی۔ ہم نے اس پر اپنا دباؤ بڑھایا۔ متحدہ مجلس عمل کے تحت یہ کارواں چل رہا تھا۔ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب نے فقیر راقم کو حکم کیا کہ اس میں شامل ہوں۔ سکھر، حیدرآباد، کراچی، لاہور متحدہ مجلس عمل کے کارواں کے جلسوں میں پاسپورٹ کے مسئلہ پر فقیر کے بیانات ہوئے۔ چنانچہ اللہ رب العزت نے کرم کیا کہ ۲۰۰۴ء کی آخری سہ ماہی سے شروع ہونے والی جدوجہد ۲۴/مارچ ۲۰۰۵ء کو بار آور ہوئی۔ پرویز مشرف کی گردن کا سریا ٹیڑھا ہوا اور مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ میں خانہ مذہب بحال ہوا۔ یہ سب ہمارے حضرت قبلہؒ کی امارت کی برکات ہیں۔ فاالحمد للہ تعالیٰ!
۸۸...... احتساب قادیانیت
ہمارے مخدوم حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ نے ۱۹۸۹ء کو سال ختم نبوت قرار دیا۔ (اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے) دیگر کاموں کے علاوہ اس سال ختم نبوت میں احتساب قادیانیت کے نام پر مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ کے مجموعہ رسائل رد قادیانیت کو جمع کیا گیا۔ ۱۹۸۹ء میں احتساب قادیانیت کی پہلی جلد شائع ہوئی۔ ابھی حضرت قبلہؒ کے وصال سے چند روز قبل احتساب قادیانیت کی بتیسویں جلد شائع ہوئی ہے۔
ان بتیس جلدوں میں ۸۴ حضرات کے رد قادیانیت پر جو رسائل شائع ہوئے ان کی تعداد ۳۷۵ ہے۔ بتیس جلدوں کے کل صفحات ۱۷۸۵۷ ہیں۔ یہ ہمارے قبلہؒ کا فیض ہے۔ اللہ رب العزت نے اس مقبول و محبوب نیک بندے کے عہد امارت میں اس کام کو شروع کرایا۔ خدا کرے تادیر یہ سلسلہ بلکہ مبارک سلسلہ سلامت روی کے ساتھ رواں دواں رہے۔ انشاء اللہ العزیز! اللہ تعالیٰ ایسا فرمائیں گے۔ آمین!
اس باب کو یہاں پر ختم کیا جاتا ہے۔ قلم روک، روک کر چلا۔ لیکن پھر بھی یہ باب سو سے زائد صفحات پر جا کر ختم ہوا۔ اس کے باوجود یہ صرف حضرت قبلہؒ کی ختم نبوت کے لئے مساعی کی فہرست تفصیل کے لئے تو دفتر چاہئے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
باب سوم
مسند نشینی، خانقاہ سراجیہ کی
تعمیر و ترقی، خلفاء، اولاد
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مسند نشینی
۷؍ جون ۱۹۵۶ء کو پیر طریقت حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانویؒ المعروف حضرت ثانیؒ کا وصال ہوا۔ اس موقعہ پر موجود خانقاہ سراجیہ کے متوسلین و متعلقین، بانی خانقاہ سراجیہ حضرت مولانا ابو السعد احمد خانؒ اور حضرت ثانیؒ کے خلفاء، علماء کرام، مفتیان عظام، شیوخ و بزرگان نے خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کو متفقہ طور پر خانقاہ سراجیہ کا مسند نشین تسلیم کر لیا۔ آپ کے ہاتھ پر تمام حضرات نے تجدید بیعت کی اور یوں خانقاہ سراجیہ کے ہر دو اکابر کے فیوض و برکات کے آپ امین و قاسم قرار پائے۔
اللہ رب العزت کی ہر وقت نئی شان کا ظہور ہے۔ آپ نے خانقاہ سراجیہ کی مسند کیا سنبھالی کہ گویا اپنے ہر دو پیش رو بانیان سلسلہ کے فیوض و برکات کو دنیا بھر میں تقسیم کا عمل شروع فرما دیا۔
خانقاہ سراجیہ کی تعمیر و ترقی
بانی خانقاہ سراجیہ حضرت مولانا ابو السعد احمد خانؒ نے خانقاہ شریف کی بنیاد رکھی۔ مسجد، خانقاہ شریف، لائبریری، تسبیح خانہ، بمع برآمدہ کی تعمیر مکمل ہو گئی۔ مسجد کا پلستر، رنگ روغن، فرش کا کام باقی تھا کہ آپ کا ۱۹۳۱ء میں وصال ہو گیا۔ آپ کے بعد خانقاہ سراجیہ کے مسند نشین حضرت مولانا عبداللہ لدھیانویؒ ہوئے۔ آپ نے اپنے آپ کو خانقاہ شریف کا ایک امین سمجھا اور اپنے مرشد کی امانت میں ذرہ برابر حتیٰ کہ ایک اینٹ کا بھی اضافہ نہ کیا۔ جوں کی توں سولہ سال تک اس کی آبیاری و نگرانی فرماتے رہے۔ خانقاہ شریف، لنگر کے جملہ معاملات کو حضرت اعلیٰؒ کی اہلیہ محترمہ کے سپرد کئے رکھا۔ خانقاہ شریف کے واردین و صادرین اگر کوئی ہدیہ یا تعاون پیش کرتے تو آپ اس کی طرف التفات کئے بغیر حضرت اعلیٰؒ کے گھر بھجوا دیتے۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب کی روایت ہے کہ حضرت ثانیؒ نے اپنی پگڑی کو اتنا عرصہ استعمال کیا کہ وہ بہت بوسیدہ ہو کر بالکل استعمال کے قابل نہ رہی تو آپ نے حضرت اعلیٰؒ کی اہلیہ محترمہ سے درخواست کر کے اپنے لئے نئی پگڑی منگوائی۔ خانقاہ شریف کو اپنے شیخؒ کی امانت سمجھنے اور اس میں ذرہ برابر تصرف نہ کرنے اور اپنے شیخؒ کے وصال کے بعد دنیا سے بے رغبتی اور ہر وقت ذکر الٰہی میں مصروف ہونا۔ خلق خدا کی تصوف کی لائن میں خدمت اور فکر
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
آخرت میں منہمک رہنے کی اس سے اعلیٰ مثال پیش کرنا بہت دشوار ہے۔ حضرت ثانیؒ کا یہ کردار شہنشاہ ولایت کے شاہسوار کا کردار ہے۔ حضرت ثانیؒ کے وصال کے بعد جب حضرت قبلہؒ مسند آراء خانقاہ سراجیہ ہوئے۔ آپ نے خانقاہ شریف کے نظم کو اپنے ہر دو پیش رو اکابر کے منہج پر نہ صرف قائم رکھا بلکہ اسے انہیں بنیادوں پر آپ نے اسے ترقی پذیر کیا۔
اپنے شیخؒ کی اولاد کی کفالت
حضرت قبلہؒ کے شیخ حضرت ثانیؒ نے حضرت اعلیٰ کے وصال کے بعد خانقاہ سراجیہ کی تعمیر کو نہیں چھیڑا تو اپنا مکان بنانے کا کیا فکر کرنا تھا؟ چنانچہ حضرت قبلہؒ نے اپنے شیخ حضرت ثانیؒ کے وصال کے بعد (چونکہ حضرت ثانیؒ کا پورا قبیلہ پاکستان بننے کے بعد سلیم پور لدھیانہ سے ترک سکونت کر کے خانیوال کے قریب بستی سراجیہ میں آ کر آباد ہو گئے تھے ) آپ کی اولاد کے لئے بستی سراجیہ خانیوال میں بہت عمدہ اور آرام دہ رہائشی مکان تعمیر کرایا۔ مولانا صاحبزادہ حافظ محمد عابد صاحبؒ ان کی والدہ محترمہؒ اور ہمشیرہ محترمہ سمیت یہاں اس مکان میں آباد ہو گئے۔ صاحبزادہ حافظ محمد عابد صاحبؒ کو حضرت قبلہؒ نے دارالعلوم کبیروالا میں داخل کرایا۔ آپ نے مشکوٰۃ شریف تک وہاں پر کتابیں پڑھیں اور پھر حضرت قبلہؒ کے ساتھ اپنی زندگی کے آخری سانس تک اس طرح ساتھ رہے کہ جس طرح کہ حضرت قبلہؒ اپنے شیخ حضرت ثانیؒ کے ساتھ رہے۔ حضرت قبلہؒ، حافظ صاحبزادہ محمد عابد صاحبؒ کا دل سے خیال رکھتے تھے۔ بہت محبت و احترام کا معاملہ فرماتے۔ صاحبزادہ محمد عابد صاحبؒ بھی حضرت قبلہؒ کو پھولوں کی طرح اٹھاتے، پھرتے۔ سفر و حضر میں حضرتؒ کا بہت خیال رکھتے۔
خانقاہ سراجیہ کی تعمیر
اپنے شیخ حضرت ثانیؒ کے اہل و عیال کی کفالت سے فراغت اور حضرت حاجی جان محمدؒ باگڑ سرگانہ اور حضرت علامہ مولانا عبدالخالق صاحبؒ بانی دارالعلوم کبیروالا ہر دو حضرات چونکہ حضرت ثانیؒ کے خلفاء میں سے تھے اور بستی سراجیہ خانیوال کے قریب رہتے تھے۔ حضرت ثانیؒ کے اہل و عیال بستی سراجیہ آگئے تو حضرت قبلہؒ کو ایک گونہ اطمینان ہو گیا کہ اب حضرت ثانیؒ کے اہل و عیال پھولوں کی طرح رہیں گے۔ چنانچہ آپ نے اب خانقاہ سراجیہ کی تعمیر کے لئے توجہ فرمائی۔ حضرت اعلیٰؒ نے جن مستریوں سے مسجد کا کام کرایا تھا۔ اس پوری ٹیم یا ان کے شاگردوں کو ۱۱/ اپریل ۱۹۶۲ء کو بلا کر تعمیر ثانی کا آغاز کیا۔ مسجد کے پلستر، گنبدوں کی تزئین، مسجد و محراب کی
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
تکمیل، رنگ و روغن، اندرونی بیرونی پلستر کا کام مکمل کرایا۔ ٹیوب لگوایا، وضوخانہ کی نئی تعمیر ہوئی، تسبیح خانہ کے ساتھ گھر کی طرف جو گلی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ والا کمرہ جہاں حضرت قبلہؒ کی مسند ہوتی تھی۔ یہ حضرت حاجی جان محمد صاحبؒ نے اپنے لئے حضرت اعلیٰؒ کے زمانہ میں تعمیر کرایا تھا۔ حضرت ثانیؒ کے احترام کو دیکھئے۔ آپ نے اپنی مسند وہاں نہیں بنائی جہاں اعلیٰ حضرتؒ کی مسند تھی۔ بلکہ آپ نے حضرت حاجی جان محمد صاحبؒ سے یہ کمرہ لے کر یہاں پر اپنی رہائش ومصلیٰ رکھا۔ حضرت ثانیؒ کے وصال کے بعد حضرت قبلہؒ نے بھی اسی کمرہ کی اس مسند کو رونق بخشی۔ اس کمرہ کے ساتھ مشرق کی جانب خانقاہ شریف کے واردین، متوسلین و مہمانوں کے لئے لمبی کمروں کی قطار اور برآمدہ حضرت قبلہؒ نے مکمل کرائے۔ مدرسہ کو ترقی دی۔ اپنے شیخ کے شیخ حضرت اعلیٰؒ کے عزیزان ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ اندرون خانہ مکانات بنوائے۔ لنگر خانہ ومدرسہ کو ترقی دی۔ خانقاہ شریف میں موسم بہار کی کیف لانے میں ہمارے حضرت قبلہؒ کی ریاضت کا بہت بڑا دخل ہے۔ حضرت اعلیٰؒ کے لگائے ہوئے پودا کو خون جگر سے سینچ کر شب و روز کی آبیاری سے کوہ قامت ثمر آور درخت بنانے میں حضرت قبلہؒ کی مساعی جمیلہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
مدرسہ عربیہ سراجیہ کی ترقی
حضرت قبلہؒ کے زمانہ میں مدرسہ عربیہ سراجیہ کا وفاق المدارس سے الحاق ہوا اور مشکوٰۃ شریف تک اس کی تعلیم جا پہنچی۔ حضرت قبلہؒ نے اپنی زندگی میں مدرسہ کے کام کی تمام تر ذمہ داری مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب (موجودہ سجادہ نشین) کو منتقل فرمادی تھی۔ مکانات کے مشرقی حصہ کی جانب میں حضرت قبلہؒ کی ذاتی زمین پر حضرت قبلہؒ کی زندگی میں بہت بڑا مدرسہ قائم ہو گیا۔ اس کی شاندار نفیس عمارت اپنی رعنائیوں کے ساتھ ہر آنے والے کو حضرت قبلہؒ کی جیتی جاگتی نیکی و صدقہ جاریہ کا ثبوت بہم پہنچا رہی ہے۔ اس میں رہائش و تعلیم کی تمام سہولتیں موجود ہیں۔ سادہ کم خرچ بالا نشین کا مظہر، یہ عمارت ہے۔ اس کے کئی وسیع وعریض خوبصورت ہال ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوریٰ کے کئی اجلاس حضرت قبلہؒ کی صدارت میں یہاں پر منعقد ہوئے۔
لائبریری کی توسیع
حضرت قبلہؒ نے حضرت اعلیٰؒ کی لائبریری کی بتمام و کمال حفاظت فرمائی۔ اس میں ترقی ہوئی۔ الحمدللہ! اب مدرسہ کی لائبریری میں جدید کتب، حضرت اعلیٰؒ کی لائبریری کی قدیم کتب کا
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ذخیرہ اور مدرسہ کی لائبریری میں جدید کتب کا ذخیرہ، کتب کی دنیا میں قدیم و جدید کا حسین امتزاج پیش کئے ہوئے ہے۔
خانقاہی نظام کا عروج
حضرت اعلیٰؒ وحضرت ثانیؒ کے منہج پر ان حضرات کے بعد حضرت قبلہؒ نے خانقاہی نظام کو جس طرح وسعت دی، وہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔ حضرت مولانا حسین علیؒ واں بھچراں کے صاحبزادے مولانا عبدالرحمن صاحبؒ ایک بار واں بھچراں سے خانقاہ سراجیہ حضرت قبلہؒ کو مبارکباد دینے کے لئے تشریف لائے کہ آپ نے جس طرح نقشبندی سلسلہ کی رونقوں کو سدا بہار بنایا ہوا ہے۔ یہ قابل رشک ہے۔ واقعہ بھی یہی ہے کہ حضرت قبلہؒ کے آخری دور حیات میں تو خانقاہ سراجیہ کی برکات، سلسلہ نقشبندیہ کی توسیع دنیا کے تمام براعظموں تک پھیل گئی۔
سرہند شریف سے خانقاہ موسیٰ زئی شریف، وہاں سے خانقاہ سراجیہ اور پھر وہاں سے پوری دنیا میں نظر دوڑائی جائے تو یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ آپ روئے زمین پر اللہ رب العزت کے ان مقبول بندوں میں سے تھے۔ جن کے ذریعہ بے حد و شمار مخلوق خدا کی اصلاح باطن کا کام ہوا۔ اس پر حضرت قبلہؒ کی مقبولیت کے آسمانوں اور زمینوں پر چرچے ہوئے۔ اس کی تصویر تو کوئی صاحب دل ہی کھینچ سکتا ہے۔ فقیر راقم اس وادی کا مسافر نہیں۔ نہ ہی تسبیح و دانہ کا آدمی ہے۔ البتہ حضرت قبلہؒ کی رفاقت کے صدقہ میں اس کی بہاروں کا خوب نظارہ کیا ہے۔ وانا، وزیرستان میں بنگلہ دیش میں اور خود خانقاہ سراجیہ کی ایک ایک مجلس میں سینکڑوں آدمیوں کو لمبا سا کپڑا پکڑے سلک نقشبند میں پروئے جانے کا منظر اب بھی آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ یا بیعت و توبہ کے کلمات کی تلقین کے وقت فرش تا عرش جو فضاء میں ارتعاش کا پیدا ہونا، نزول رحمت کا وہ دلکش روح پرور ایمان افروز، جہاد آفرین، حقائق ومعارف کے خزائن کے منہ کھلنے کا وہ دلربا کیف وسرور الفاظ کی دنیا میں بیان کرنا مجھ مسکین کے لئے ممکن نہیں۔ لیجئے دیانت داری سے اس وادی کے مسافر، بادہ پیماء، ماہرین فن حضرات جو اپنے اپنے زمانہ میں علم وفضل کے پہاڑ تھے۔ ان سب کی متفقہ رائے تھی کہ اس وقت روئے زمین پر مجددی سلسلہ کے سب سے بڑے فیض رساں، نقشبندی سلسلہ کے امام اور اولیائے امت کے سرتاج حضرت قبلہؒ ہیں۔
خلفائے کرام
خانقاہ سراجیہ کے خوشہ چین جناب نذیر احمد رانجھا نے اپنی کتاب ’احوال ومناقب
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مولانا ابوالخلیل خان محمدؒ’ کے ص ۳۷ پر حافظ نذیر احمد صاحب کی کتاب حضرات کرام نقشبندیہ کے حوالہ سے حضرت قبلہؒ کے خلفاء کی تعداد سولہ لکھی ہے۔ حافظ نذیر احمد صاحب نے بھی حضرات کرام نقشبندیہ کے ص ۳۷۵ پر حضرت قبلہؒ کے خلفاء کی تعداد سولہ لکھی ہے۔ لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ رانجھا صاحب نے مولانا غلام غوث ہزارویؒ کا نام لکھا ہے۔ جب کہ حافظ نذیر احمد صاحب نے یہ نام خلفاء میں نہیں لکھا۔ اسی طرح نذیر احمد رانجھا نے حافظ عبدالرشید صاحب چیچہ وطنی والوں کا نام حضرت قبلہؒ کے خلفاء میں نہیں لکھا۔ جب کہ حافظ نذیر احمد صاحب نے یہ نام لکھا ہے۔ اسی طرح ابھی ان سطروں کی تحریر کے وقت حضرت قبلہؒ کی ڈائریوں پر مشتمل کتاب مرتبہ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب موصول ہوئی۔ اس کے آخری صفحہ پر حضرت قبلہؒ کے خلفاء میں مولانا غلام غوث ہزارویؒ کا نام نہیں البتہ حافظ عبدالرشید مرحوم چیچہ وطنی کا نام ہے۔ فقیر نے اس فرق کا محترم صاحبزادہ مولانا عزیز احمد صاحب سے معلوم کیا تو آپ نے فرمایا کہ حضرت ثانیؒ کے جتنے خلفاء حضرت قبلہؒ کی جانشینی کے وقت زندہ تھے۔ سب کو حضرت قبلہؒ نے خلافت دی یا خانقاہ شریف کے مزاج کے مطابق وہ حضرت قبلہؒ کے خلفاء سمجھے گئے۔ مولانا غلام غوث ہزارویؒ حضرت ثانیؒ کے خلیفہ تھے۔ اب حضرت قبلہؒ کے خلیفہ بھی سمجھے گئے۔ اس لئے ان کا نام خلفاء کی فہرست میں صحیح ہے۔ (گویا رانجھا صاحب کی فہرست کی حضرت صاحبزادہ صاحب نے توثیق فرمائی) البتہ حضرت حافظ عبدالرشید صاحب مرحوم چیچہ وطنی والے وہ حضرت ثانیؒ کے یا حضرت قبلہؒ کے خلیفہ نہ تھے۔ بلکہ وہ حضرت حاجی جان محمد صاحبؒ باگڑ والوں کے خلیفہ تھے۔ اس لئے ان کا نام حضرت قبلہؒ کے خلفاء کی فہرست میں آجانا محل نظر ہے۔ سب سے پہلے حافظ نذیر احمد صاحب کی فہرست میں یہ درج ہوا تو پھر بعد والوں نے بھی نقل در نقل سے کام چلا لیا۔ حضرت صاحبزادہ صاحبؒ کی اس وضاحت کے بعد اب جو فہرست خلفاء کرام کی محترم نذیر رانجھا صاحب نے احوال و مناقب نامی کتاب کے ص ۳۶، ۳۷ پر نقل کی ہے۔ اسے درج کرتا ہوں اور اس میں مرحوم حضرات کا نام پہلے ہوگا اور جو حضرات زندہ سلامت ہیں۔ ان کا نام آخر میں دیا ہے۔
- ۱...... حضرت مولانا محبوب الٰہیؒ بیڈن روڈ لاہور
- ۲...... مولانا سید انظر شاہؒ دیوبند، بھارت
- ۳...... مولانا احمد رضاؒ بجنور، بھارت
- ۴...... مولانا غلام غوث ہزارویؒ بفہ، مانسہرہ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۵...... مفتی احمد سعیدؒ سراج العلوم سرگودھا
- ۶...... حافظ احمد سعیدؒ جنجو شریف ضلع بھکر
- ۷...... مولانا حافظ احمد دینؒ دادڑ ہڑپہ ضلع ساہیوال
- ۸...... مولانا غلام محمدؒ ضلع جھنگ
- ۹...... حافظ قطب الدینؒ کوٹ حبیب اللہ، نزد ہڑپہ ضلع ساہیوال
- ۱۰...... حضرت ماسٹر شادی خانؒ گوجرانوالہ
- ۱۱...... حافظ غلام علی صاحبؒ خالق آباد ضلع خوشاب
- ۱۲...... حضرت مولانا نذر الرحمن مدظلہ العالیٰ رائے ونڈ
- ۱۳...... حضرت مولانا عبدالغفور مدظلہ العالیٰ ٹیکسلا
- ۱۴...... حضرت مولانا محب اللہ مدظلہ العالیٰ لورالائی
- ۱۵...... حضرت حاجی عبدالرشید مدظلہ العالیٰ رحیم یار خان
- ۱۶...... حضرت مولانا گل حبیب مدظلہ العالیٰ لورالائی
فہرست کے آخری پانچ حضرات اس وقت زندہ سلامت ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں تادیر صحت وسلامتی والی لمبی زندگی نصیب فرمائیں۔ ان سب میں سینئر خلیفہ وہ حضرت حاجی عبدالرشید صاحب رحیم خان والے ہیں۔ انہوں نے ہی اب حضرت قبلہؒ کے سب سے بڑے صاحبزادہ حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب مدظلہ اور ان سے چھوٹے صاحبزادہ حضرت مولانا خلیل احمد کو خلافت سے سرفراز فرمایا اور حضرت مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب مدظلہ کو خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کا مسند نشین بھی قرار دیا۔ اللھم رب زد فزد ۔ آمین بحرمۃ النبی الکریم !
اولاد
ہمارے حضرت قبلہؒ کو اللہ رب العزت نے ایک بیٹی اور پانچ بیٹے نصیب فرمائے۔
بڑی صاحبزادی
الحمد للہ ! زندہ سلامت ہیں۔ عبادت و ریاضت کم گوئی میں حضرت قبلہؒ کا پرتو ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت وسلامتی نصیب فرمائیں۔
حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب
حضرت قبلہؒ کے سب سے بڑے صاحبزادے مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
یکم محرم ١٣٧٥ھ مطابق ۵؍ستمبر ١٩٥٥ء کو پیدا ہوئے۔ آپ فارغ التحصیل عالم دین ہیں۔ آپ نے دورہ حدیث شریف دارالعلوم کبیر والا سے کیا۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی دامت برکاتہم کے محبوب و مایہ ناز شاگرد اور ان کے خلیفہ مجاز ہیں۔ اس وقت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میں اپنے والد گرامی حضرت قبلہؒ کی طرف سے لگائی ہوئی ڈیوٹی کو دین سمجھ کر بڑی تندہی سے نبھا رہے ہیں۔ خانقاہ سراجیہ ڈھاکہ کے جملہ امور کی تفویض حضرت قبلہؒ نے اپنے دور حیات میں ان کو فرمائی تھی۔ جسے آپ بڑی آب و تاب سے ادا کر رہے ہیں۔ جملہ برادران ان کو بہت احترام دیتے ہیں۔ خانقاہ سراجیہ اور گھریلو معاملات میں ان کی رائے کو فیصلہ کن کا درجہ حاصل ہے۔ حضرت قبلہؒ کے وصال کے بعد برادری نے حضرت قبلہؒ کی جگہ برادری میں آپ کو جانشین نامزد کیا اور حضرت قبلہؒ کی پگڑی آپ کے سر پر رکھی۔ وضو کرنے اور کم بولنے اور بہت ساری باتوں میں حضرت قبلہؒ کی ان میں جھلک پائی جاتی ہے۔ صائب الرائے ہیں۔ معاملہ فہم بھی ہیں۔ البتہ کبھی کبھی روٹھ جاتے ہیں تو منانا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن ذمہ داریوں کے بوجھ نے ان کو چمکتا ہیرا بنا دیا ہے۔ ان کی بہت وسیع لائبریری ہے۔ انٹرنیٹ و کمپیوٹر کا شوقیہ استعمال کرتے ہیں۔ کپڑے ان کی سیرت کی طرح اجلے رہتے ہیں۔ دل کے غنی، مقدر کے دھنی ہیں۔
مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب
پیدائش ١٩؍ ربیع الاول ١٣٧٩ھ مطابق ٢٤؍ ستمبر ١٩٥٩ء میں ہوئی۔ آپ کا نام خلیل احمد تجویز ہوا۔ انہی صاحبزادہ صاحب کے نام کی نسبت سے قبلہ حضرت صاحبؒ اپنی کنیت ابوالخلیل استعمال کیا کرتے تھے۔ آپ نے کبیر والا، باب العلوم کہروڑ پکا، جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں تعلیم حاصل کی۔ فارغ التحصیل عالم دین ہیں۔ حضرت قبلہؒ کے زمانہ میں نمازوں کی امامت، مراقبات، ختمات، مدرسہ کا تمام نظم ان کے سپرد تھا۔ بہت باصلاحیت ہیں۔ کم گوئی اور بہت ساری باتوں میں اپنے والد گرامی کی صفات کے مظہر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک صاحبزادہ دیا ہے۔ جس کا نام سعد احمد ہے۔ شادی شدہ ہے۔ دیگر پوتوں پوتیوں کی طرح اس سے بھی حضرت قبلہؒ محبت فرمایا کرتے تھے۔ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب کو کبھی کبھار غصہ آتا ہے۔ مگر وہ سب کسریں نکال دیتا ہے۔ اب ذمہ داریوں کے بوجھ نے ”سب اچھا“ کر دیا ہے۔ صاحبزادہ صاحب کو خانقاہ سراجیہ کا سجادہ نشین نامزد کیا گیا ہے۔ حق تعالیٰ ان کے ذریعہ ہمارے قبلہؒ کے فیض کو تا قیامت جاری و ساری رکھیں۔ صاحبزادہ صاحب خانقاہ شریف کی ذمہ داریوں کے علاوہ جمعیت علماء
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اسلام ضلع میانوالی کے امیر، مرکزی شوریٰ کے بھی رکن رہے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اپنے والد گرامی کی نشانی سمجھ کر اس کی آبیاری کے لئے فکر رکھتے ہیں۔ وفاق المدارس کے ضلعی مسؤل ہیں۔ علماء کے حلقہ میں آپ کا بہت احترام ہے۔
صاحبزادہ حافظ رشید احمد صاحب
حضرت قبلہؒ کے یہ تیسرے نمبر کے صاحبزادہ ہیں۔ پیدائش ۱۵؍محرم ۱۳۸۴ھ بمطابق ۲۸؍مئی ۱۹۶۴ء کو ہوئی۔ خانقاہ سراجیہ، میرن شاہ ضلع رحیم یار خان، گوجرانوالہ میں تعلیم حاصل کی۔ قرآن مجید کے حافظ ہیں۔ دنیاوی تعلیم میٹرک تک حاصل کی ہے۔ عربی کتب کے بھی کئی درجات پڑھے ہیں۔ حضرت قبلہؒ کی اجازت و سرپرستی میں آپ نے لاہور میں مرکز سراجیہ قائم کیا ہے۔ بچوں کی دینی تعلیم، خانقاہی سلسلہ کے علاوہ بہت بڑی وقیع ویب سائٹ اس مرکز کی طرف سے دنیا بھر میں کام کر رہی ہے۔ آپ نے سمرقند، بخارا کے سفر کر کے متعدد اکابر نقشبندیہ کی خانقاہوں پر حاضری دی ہے۔ کم گو ہیں۔ اپنی مگن میں مست رہتے ہیں۔ بہت ہی ملنسار طبیعت پائی ہے۔ کسی وقت طبیعت پر کسی کام کا بوجھ ہو تو موبائل بند، دنیا سے رابطہ ختم کر کے عزلت نشین ہو جاتے ہیں۔ برطانیہ وغیرہ کے کئی سفر کئے ہیں۔ تلاوت خوبصورت کرتے ہیں۔ امامت میں قرأت سے سماں باندھ دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمتوں کا مورد بنائیں۔ (متذکرہ ایک صاحبزادی، تین صاحبزادے یہ حضرت قبلہؒ کی پہلی اہلیہ سے ہیں)
صاحبزادہ ملک سعید احمد صاحب
حضرت قبلہؒ کے چوتھے صاحبزادے جناب صاحبزادہ ملک سعید احمد صاحب ہیں۔ ۸؍محرم ۱۳۸۹ھ مطابق ۲۷؍مارچ ۱۹۶۵ء کو پیدا ہوئے۔ ماشاء اللہ بہت متشرع ہیں۔ نماز، روزہ کے پابند۔ حضرت والد صاحب قبلہؒ کے بہت ہی چہیتے صاحبزادہ ہیں۔ تعلیم واجبی سی سکول سے حاصل کی۔ پھر حضرت قبلہؒ کی خدمت کو حرز جان بنالیا۔ حضرت قبلہؒ کے زمانہ حیات میں خانقاہ شریف کے لنگر خانہ کا نظام ان کے سپرد رہا۔ ویسے بھی بہت منتظم مزاج ہیں۔ برادری اور خانقاہ شریف کے کاموں کے لئے افسران سے میل ملاپ رکھنا اور ان سے کام لینے کا ان کو ڈھنگ آتا ہے۔ سیاست میں اترے تو ایک بار ناظم بھی منتخب ہوئے۔ سیاست میں ان کی رائے کو احترام کا درجہ حاصل ہے۔ مقدر کے دھنی ہیں۔ مٹی پہ ہاتھ رکھ دیں تو سونا ہو جاتی ہے۔ سراجیہ سی۔این۔جی اور دیگر کئی کام شروع کر رکھے ہیں۔ جن سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رزق کے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
دروازے کھول دیئے ہیں۔ خود زیادہ نہیں پڑھے تو اب وہ تمام حسرت اپنی اولاد پر نکال رہے ہیں۔ انہیں پڑھنے کے لئے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخل کر رکھا ہے۔ ایک سیاست دان یا برادری کے ملک و وڈیرے والی تمام صلاحیتیں ان میں موجود ہیں۔ مزاجاً سخت واقع ہوئے ہیں۔ رو رعایت ان کے مشرب میں شامل نہیں۔ جب موڈ بنے اندھے کی لٹھ چلانے کے خوگر ہیں۔ اس تمام تر مزاج کی سختی کے باوجود اپنے والد گرامیؒ کی وفات پر بلک بلک کر روتے دیکھ کر کئی لوگوں پر گریہ طاری ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہمارے حضرت قبلہؒ کے بعد اسی طرح خوش وخرم رکھے۔ جس طرح وہ اپنے والد گرامیؒ کے زمانہ میں رہتے تھے۔
حضرت صاحبزادہ نجیب احمد صاحب
یہ ہمارے حضرت قبلہؒ کے سب سے چھوٹے صاحبزادے ہیں۔ پیدائش ۲۶ / رجب ۱۳۹۱ھ مطابق ۱۷ / ستمبر ۱۹۷۱ء ہے۔ قرآن مجید، ناظرہ، دینی ابتدائی تعلیم خانقاہ سراجیہ میں حاصل کی۔ دنیاوی تعلیم اعلیٰ درجہ میں ایم۔ اے پاس کیا۔ بہت حد تک شکل و شباہت میں اپنے والد گرامیؒ کی کاپی ہیں۔ جب سے ان کی شادی ہوئی۔ حضرت قبلہؒ کا کھانا ان کے گھر سے تیار ہو کر آتا رہا۔ حضرت قبلہؒ کی سفر وحضر میں خوب خدمت کی ہے۔ شریف النفس، مجذوب طبیعت ہیں۔ لیکن بکار خویش ہوشیار کا مصداق ہیں۔ کریم النفس ہیں۔ کسی کو فائدہ نہ دیں تو نقصان بھی نہیں دیتے۔ ان کی سعادت دیکھئے کہ حضرت قبلہؒ سے سبقاً تمام تصوف کے طریقوں کو حاصل کیا اور اجراء کرایا۔ حضرت قبلہؒ کے بہت ہی لاڈلے صاحبزادے ہیں۔ ایک ثقہ روایت کے مطابق حضرت قبلہؒ نے ان کو اجازت سے بھی سرفراز فرمایا۔ میرے مخدوم بھی ہیں۔ مخدوم زادہ بھی۔ وہ مجھے بھائی جان کہتے ہیں۔ میں انہیں مرشد کہتا ہی نہیں مانتا بھی ہوں۔ ( باقیوں کو صرف کہتا ہوں ان کو مانتا بھی ہوں ) صاحبزادہ سعید احمد صاحب، صاحبزادہ نجیب احمد صاحب یہ دونوں صاحبزادہ صاحبان حضرت قبلہؒ کی دوسری اہلیہ مرحومہ سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت قبلہؒ کی تمام اولاد کو حضرتؒ کا صحیح معنوں میں جانشین بنائیں۔ ان کے اتفاق و محبت، ترقی سے تمام احباب کو خوشی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ایسے ہی فرمائیں۔ آمین!
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
باب چہارم
حضرت قبلہؒ کے
مختلف دلچسپ واقعات
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۱۷۰ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
قبلہ حضرت صاحبؒ کی فقیر نے پہلی زیارت ۱۹۶۷ء جامعہ مخزن العلوم عیدگاہ خانپور کے سالانہ اجتماع میں کی۔ اس سہ روزہ اجتماع میں ہماری دستار بندی ہوئی۔ تب قبلہ حضرت صاحبؒ بھی تشریف لائے ہوئے تھے اور آپ کی داڑھی مبارک بالکل سیاہ تھی۔
دوسری بار زیارت کا شرف اس وقت نصیب ہوا۔ جب ۱۹۶۸ء میں رد قادیانیت کورس ملتان دفتر مرکزیہ میں حضرت مولانا محمد حیات صاحب فاتح قادیان کی خدمت میں کیا۔ تب کندیاں میں کسی قادیانی سے گفتگو کے لئے استاذ محترم کے ہمراہ جانا ہوا۔ خانقاہ سراجیہ میں قیام رہا۔ اعلیٰ قسم کا مفتی رومال کڑھائی کیا ہوا عربی، حضرت فاتح قادیانؒ کو قبلہ حضرت صاحبؒ نے ہدیہ فرمایا تھا۔
تیسری بار ۱۹۷۰ء کے الیکشن سے قبل مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے ہمراہ حاضری کی سعادت حاصل کی۔ گردو نواح میں (پپلاں یا ہرنولی) حضرت جالندھریؒ کا خطاب تھا۔ تب آپ خانقاہ شریف بھی قبلہ حضرت صاحبؒ سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔ فقیر نے بھی حضرت جالندھریؒ کے صدقہ میں حاضری کا شرف حاصل کیا۔
چوتھی بار شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے حکم پر حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے رقعہ تحریر فرمایا۔ ملتان میں حضرت بنوریؒ کے امیر اور حضرت قبلہؒ کے نائب امیر مقرر ہونے کے بعد باضابطہ اطلاع دینے کے لئے وہ رقعہ لے کر فقیر حاضر ہوا۔
اس کے بعد تو اللہ رب العزت کے فضل سے حضرتؒ سے نیازمندی و تعلق خاطر کا ایسا سلسلہ جڑا جو آپ کی زندگی کے آخری لمحہ تک قائم رہا۔ اللہ رب العزت قیامت کے دن بھی ایسا فرما دیں۔
۱...... سب سے زیادہ
پہلی زیارت ۱۹۶۷ء سے وفات ۲۰۱۰ء تک تینتالیس بنتے ہیں۔ کسر حذف کر دیں۔ چالیس سالہ دور غلامی میں پوری دینی قیادت کی نسبت سب سے زیادہ تقریریں حضرت قبلہؒ کی موجودگی میں کرنے کی فقیر کو سعادت نصیب ہوئی اور فقیر کے لئے یہ ایک اعزاز ہے۔
۲...... ملکی و غیر ملکی اسفار
بعض ملکی اسفار میں کئی کئی ہفتے اور غیر ملکی اسفار میں کئی کئی مہینے کا ساتھ رہا۔ عمرہ کے لئے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
برطانیہ سے واپسی پر حضرت قبلہؒ کے ساتھ حرمین شریفین میں بھی کئی کئی ہفتوں کا ساتھ رہا۔
۳......متبع سنت
خدا لگتی شہادت دیتا ہوں کہ سفر و حضر کے اس چالیس سالہ دور میں اپنے علم کی بنیاد پر کوئی کام حضرت قبلہؒ کا خلاف سنت نہیں دیکھا۔
۴......ایفائے عہد
۱۹۷۴ء سے ۲۰۱۰ء تک سینتیس سالہ دور میں کبھی بھی آپ کو وعدہ خلافی کرتے نہیں دیکھا۔
۵......نقد قبولیت
اس سینتیس سالہ دور میں ایک بار بھی ایسے نہیں ہوا کہ ختم نبوت کے پروگرام کے لئے وقت مانگا ہو اور آپ نے انکار فرمایا ہو۔ جب بھی عرض کیا، عرض کرنے کی دیر ہوتی قبولیت میں کبھی وقت نہیں لگا۔ نقد قبولیت۔
۶......ختم نبوت کے صدقے؟
کراچی حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ یا دوسرے حضرات نے اقرء یا دوسرے دینی اداروں کے لئے وقت لینا ہوتا تو مجلس کے رفقاء کو آمادہ کرتے کہ آپ ختم نبوت کا پروگرام رکھیں تاکہ اسی کے ضمن میں ہمیں بھی وقت مل جائے۔
۷......غیبت سے اجتناب
اس دور بلکہ قریباً چالیس سال کے عرصہ میں کبھی آپ کو غیبت سنتے نہیں دیکھا۔ غیبت کرنا تو دور کی بات ہے۔
۸......حضوری قلب
دنیا جانتی ہے کہ آپ طبعاً کم گو تھے۔ مسند نشینی سے قبل آپ تقریریں بھی فرماتے تھے۔ ۱۹۵۳ء میں بھی آپ نے تقاریر کیں۔ مسند نشینی کے بعد تو ایسا حضور قلبی نصیب ہوا، زبان ہر وقت تالو سے لگی رہتی اور دل یاد الٰہی سے معمور رہتا۔ بخدا اپنی زندگی میں ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا۔ جن کا ہر وقت دل پر دھیان ہو کہ میرا دل کرتا ہے اللہ اللہ، یہی جملہ حضرت قبلہؒ اپنے ہر مرید سے بیعت کے بعد فرمایا کرتے تھے اور خود بھی عمر بھر اس پر عمل پیرا رہے۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
۹...... خاموشی سے فائدہ
جیسا کہ عرض کیا کہ حضرت قبلہؒ مبالغہ کی حد تک کم گو تھے ۔ ہر وقت خاموش رہتے تھے ۔ صرف ناگزیر موقع پر بولتے تھے ۔ ایک بار کسی صاحب نے برطانیہ کے سفر میں عرض کیا کہ حضرت آپ کچھ ارشاد فرمائیں ۔ آپ مسکرائے اور کسی بزرگ کا قول نقل فرمایا کہ : ’’جو ہماری خاموشی سے فائدہ نہیں اٹھاتا وہ ہمارے کلام کرنے سے بھی فائدہ نہیں اٹھائے گا ۔‘‘
۱۰...... حضرت لدھیانویؒ
برطانیہ کے سفر میں ایک بار حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے حضرت قبلہؒ سے فرمایا کہ حضرت میں بہت بڑ بولا ہوں ۔ (یعنی بہت بولتا ہوں) اپنی خاموشی سے مجھے بھی کچھ عنایت فرمائیں ۔ حضرت قبلہؒ بہت مسکرائے اور فرمایا کہ حضرت (مولانا لدھیانویؒ) آپ خوب بولیں میرے حصہ کا بھی آپ نے بولنا ہے۔
۱۱......
ایک موقع پر فرمایا ۔ جس نے مجھے سننا ہو وہ حضرت لدھیانویؒ کو سنے ۔
۱۲......
ایک بار یوں بھی فرمایا کہ حضرت لدھیانویؒ میری زبان ہیں ۔
۱۳...... عورتوں کا اختلاف
ایک بار محترم باوا صاحب اور مولانا منظور احمد الحسینیؒ میں بعض امور پر رائے اختلاف شدت اختیار کر گیا ۔ اس اختلاف کا باعث دونوں حضرات کے اہل خانہ کی ایک گفتگو ہوئی ۔ حضرت لدھیانویؒ بہت ہی پریشان خیال ، طبیعت میں سخت تکدر ، بات شروع کی تو ایک ایک بات پر انا للّٰہ وانا الیہ راجعون! پڑھتے ، پریشانی کا اظہار کرتے ۔ غرض سخت دلبرداشتہ جب حضرت لدھیانویؒ نے بات ختم فرمائی تو حضرت قبلہؒ نے فرمایا ۔ بادشاہ آدمی ہو۔ دو عورتوں کی لڑائی کا اتنا اثر دماغ پر لے لیا ۔ حضرت لدھیانویؒ اس پر کھلکھلا پڑے اور فرمایا کہ حضرت آپ کے اس ایک جملہ نے میری ہفتوں کی پریشانی کو ختم کر دیا ۔
۱۴...... اصابت رائے
حضرت قبلہؒ رائے کے اتنے پکے اور صائب الرائے تھے کہ سبحان اللہ ! کسی مسئلہ پر
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
گھنٹوں رائے زنی ہوتی جب متکلمین تھک جاتے تو آپ سے فیصلہ کے لئے عرض کر دیا جاتا۔ آپ ایک جملہ میں اپنی رائے کا اظہار فرما دیتے۔ وہ بات اتنی بروقت ہوتی کہ گویا قدرت کی طرف سے القاء ہے۔
۱۵...... سترہ دینی جماعتوں کا اتحاد
ایک بار مولانا حق نواز جھنگویؒ مرحوم کی گرفتاری کے خلاف آواز منظم کرنے کے لئے سترہ دیوبندی جماعتوں کا ملتان میں اجلاس ہوا۔ مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب اور مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کا کسی امر پر اختلاف رائے ہو گیا۔ دونوں خطیب حضرات نے دلائل کے انبار لگا دیئے۔ جب دونوں تھکے تو فیصلہ کے لئے حضرت قبلہؒ کو حکم بنا لیا۔ اب حضرت قبلہؒ جس طرف رائے دیں دوسرے صاحب کی طبیعت پر گرانی کا اندیشہ۔ آپ نے فرمایا کہ رائے شماری کرالو۔ رائے شماری میں مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کی رائے کو اکثریت حاصل ہو گئی۔ حضرت قبلہؒ صدر اجلاس مولانا سید عبدالمجید ندیم مدظلہ آپ کے مرید۔ لیکن اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ جوتے اٹھائے اور اجلاس سے بائیکاٹ کر گئے۔ اب اگر حضرت قبلہؒ نے فیصلہ فرمایا ہوتا تو ظاہر ہے کہ اس پر بھی ایسا ہی ردعمل ہونا تھا۔ حضرت قبلہؒ نے رائے شماری کا حکم فرما کر خود کو اس صورتحال سے بچا لیا۔ کتنا بروقت صحیح فیصلہ تھا۔
۱۶...... حضرت درخواستیؒ کا احترام
بسا اوقات ایسے ہوتا کہ حضرت قبلہؒ کوئی بات فرمانا چاہتے ہیں۔ لیکن خود آپ فرمائیں؟ بجائے اس کے، اللہ تعالیٰ حاضرین میں سے کسی کے دل میں وہ بات ڈال دیتے۔ فقیر خود اپنا واقعہ بیان کرتا ہے کہ جب حضرت مولانا سید عطاء الحسن شاہ صاحبؒ زندہ سلامت تھے۔ مجلس احرار میں تینوں برادران یک قلب و جان تھے۔ اس زمانہ میں ایک روز صبح آٹھ، نو بجے کے قریب حضرت قبلہؒ دفتر مرکزیہ ختم نبوت میں تشریف لائے۔ پہلے سے تشریف لانے کی کسی کو خبر نہ تھی۔ ابھی آپ نے تشریف رکھی ہی تھی کہ مولانا فضل الرحمن درخواستی، مولانا سید عطاء المومن بخاری، ڈاکٹر محمد اعظم چیمہ صاحب (چیچہ وطنی) تشریف لائے۔ ناشتہ وغیرہ کی تیاری شروع ہوئی۔ اب اچانک حضرت قبلہؒ کی تشریف آوری کے ساتھ ہی ان حضرات کا تشریف لانا سمجھ میں نہ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
آرہا تھا کہ معاملہ کیا ہے؟ راقم نے عرض کیا کہ حضرت قبلہؒ! شعبان کے آخری دن، رمضان شریف کی آمد آمد، خلاف معمول اچانک سفر! خیریت تو تھی؟ آپ نے یہ سنا تو ان تینوں حضرات کی طرف دیکھا۔ ان میں سے ایک صاحب بولے کہ حضرت درخواستیؒ کی خواہش ہے کہ دیوبندی مکتب فکر کے تمام طبقات متحد ہو جائیں۔ حضرت قاضی مظہر حسینؒ، حضرت مولانا عبدالعزیز سرگودھاؒ، مولانا عبداللطیف جہلمیؒ اور اس طرح کے دیگر حضرات کو یکجا کیا جائے۔ اس کے لئے حضرت درخواستیؒ نے حضرت خواجہ صاحبؒ کو خان پور تشریف آوری کا فرمایا ہے۔ ہم خانقاہ شریف کندیاں گئے تھے۔ آج کا دن طے ہوا کہ دفتر ختم نبوت میں جمع ہوں گے اور پھر خانپور جانا ہے۔ ابھی چائے پی اور چلے۔
فقیر نے یہ سنا تو یکدم دیوانگی کی ایسی کیفیت طاری ہوئی۔ ہر چند کہ حضرت درخواستیؒ راقم کے استاذ محترم ہیں۔ تاہم عرض کیا کہ ان تمام شخصیات یا اداروں کی اگر شکر رنجی ہے تو حضرت درخواستیؒ کے ساتھ ہے۔ حضرت قبلہؒ پر تو کوئی ناراض نہیں۔ ناراض کوئی کرے، راضی کرنے کے لئے سفر کوئی کرے۔ یہ کیا حکمت عملی ہوئی؟ حضرت درخواستیؒ کو خود سفر کرنا چاہئے نہ کہ حضرت قبلہؒ کو۔ آپ اس حالت میں حضرت قبلہؒ کو سفر کرا کر زیادتی کر رہے ہیں۔ آپ کو ہرگز ایسا نہ کرنا چاہئے تھا۔ اس پر غالباً ڈاکٹر صاحب تو مارے غصہ کے لال پیلے ہو گئے۔ ذاتیات پر اتر آئے کہ آپ جیسے لوگ صلح نہیں ہونے دیتے۔ ایک بات بنتی نظر آتی ہے۔ آپ رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ فقیر نے بھی جواب غزل میں عرض کیا کہ آپ کی جماعت کے آرگن نے کسی قابل قدر شخصیت کو معاف کیا ہے؟ حضرت مفتی محمود صاحبؒ سے لے کر مولانا فضل الرحمن، نوابزادہ نصر اللہ خاںؒ سے مولانا احتشام الحق تھانویؒ، قاضی مظہر حسینؒ سے لے کر مولانا سید محمد امین شاہؒ، مولانا محمد امین اوکاڑویؒ سے مولانا محمد انور اوکاڑوی تک کوئی شخصیت ہے جس کی کردار کشی آپ کے ادارہ یا اس کے ترجمان میں نہ ہوئی ہو۔ آپ کا سب کیا کرایا ہے۔ سو چوہوں کے بعد اب حج کو چلے ہیں۔ مہربانی فرمائیں۔ جنہوں نے ناراض کیا ہے خود راضی کریں۔ ہمارے حضرت قبلہؒ کو کیوں زحمت دیتے ہیں؟ اتنے میں ناشتہ آ گیا۔ ناشتہ سے فراغت کے بعد حضرت قبلہؒ واش روم گئے۔ واپس آئے تو وضو بنانے کے لئے مجلس کے مرکزی دفتر ملتان کے گرین بلٹ کے کنارے چوکی رکھی گئی۔ راقم نے خادم سے وضو کا لوٹا لے کر وضو کرانا شروع کیا۔ اس دوران گذارش کی کہ حضرت مجھ سے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
حماقت ہوئی۔ آج ان حضرات سے تلخی ہوگئی۔ آپ کی مجلس میں اونچی آواز سے بولا مجھے معاف فرمادیں۔ اس پر حضرت قبلہؒ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ اتنی وضاحت ضروری تھی۔ خیر حضرت قبلہؒ کو لے کر یہ حضرات خانپور حضرت درخواستیؒ کی خدمت میں گئے۔ پہلے مرحلہ میں حضرت قاضی مظہر حسینؒ سے بات کرنے کے لئے حضرت قبلہؒ کا جانا طے پایا۔ رمضان شریف میں قطعاً آپ کا سفر کا معمول نہ تھا۔ لیکن حضرت درخواستیؒ کے احترام میں آپ نے زحمت کی۔ چکوال تشریف لے گئے۔ حضرت قاضی مظہر حسینؒ نے پوری تفصیل سن کر فرمایا کہ حضرت درخواستیؒ واقعی مسلک کو جمع کرنا چاہتے ہیں۔ تو پہلے جمعیت علماء اسلام کے دونوں دھڑوں (فضل الرحمٰن، سمیع الحق) کو جمع کریں۔ از خود پورا مسلک جمع ہو جائے گا۔ حضرت قبلہؒ واپس تشریف لائے۔ حضرت درخواستیؒ کو حضرت قاضیؒ کا پیغام بھیجوایا۔
۱۷...... بے پناہ ضبط
ایک بار ڈاکٹر خالد خاکوانیؒ دوسرے خاکوانی حضرات کے ساتھ خانقاہ سراجیہ میں حضرت قبلہؒ کی مجلس میں اکٹھے ہوگئے۔ اتنے میں دریا خان سے کسی مدرسہ کے بانی، مہتمم یا سفیر معمر بزرگ نے حضرت قبلہؒ سے دریا خان کے لئے وقت طلب کیا۔ گذشتہ سال یہ حضرت قبلہؒ کو لے کر گئے تو سخت زحمت اٹھانا پڑی۔ یہ داعی مخلص ضرور تھے۔ لیکن انتظامی اعتبار سے عقل کی جگہ بھی اخلاص نے گھیر رکھی تھی۔ حضرت حاجی عبدالرشید نے ان کو روکا کہ خبردار دریا خان کے لئے کوئی وقت نہیں۔ داعی بھی بگڑ گئے۔ بات تلخی تک جا پہنچی۔ کوئی اور پیر صاحب ہوتے دونوں کو مجلس سے نکال باہر کرتے۔ لیکن حضرت قبلہؒ کا ضبط، اللہ اکبر کبیراً! آپ مراقبہ میں چلے گئے۔ من پسند ذکر الٰہی کی لذت سے ایسے سرشار کہ گویا پتہ ہی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ نہ بولے، نہ ماتھے پر شکن، نہ روکا نہ ٹوکا۔ اتنے میں دونوں حضرات کی گفتگو کی آواز اور رفتار نے ترقی پکڑ لی تو فوراً فقیر نے حضرت قبلہؒ سے عرض کیا کہ برطانیہ کے سفر کی کیا ترتیب ہے۔ حضرت قبلہؒ نے مراقبہ سے سر مبارک اٹھایا۔ مسکرا کر جواب دیا۔ سمجھ گئے کہ مولوی صاحب ماحول کو تبدیل کرنے کے لئے بات کا رخ بدل رہے ہیں۔ جواب دیا۔ فقیر نے ایک اور سوال کر دیا۔ غرض دوسری باتیں شروع ہونے سے دونوں حضرات کی گفتگو سے رخ تبدیل ہو گیا۔ اس دن میں سمجھتا ہوں کہ حق تعالیٰ نے فقیر سے حضرت
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۱۷۶ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
قبلہؒ کی راحت کے لئے بلوایا۔ العظمۃ للہ تعالیٰ!
۱۸...... تعویذوں کا مسئلہ
ایک بار حاجی محمد یعقوب اسلام آباد والے خانقاہ شریف کے حجرہ میں حضرت قبلہؒ کے سامنے بیٹھے تعویذوں والی کتاب کھولے جو جس ضرورت کا تعویذ مانگتا، حاجی صاحب وہ تعویذ کاپی سے نکال کر حضرت قبلہؒ کی خدمت میں پیش کرتے۔ حضرت قبلہؒ اسے تہہ کر کے اس پر کچھ دم کر کے وہ تعویذ مانگنے والے کو عنایت فرما دیتے۔ اتنے میں حاجی یعقوب نے حضرت قبلہؒ سے عرض کیا کہ حضرت! اللہ وسایا کو تعویذوں کی اجازت دے دیں۔ یہ جہاں جائیں گے تعویذ دیتے رہیں گے۔ خلق خدا کی خدمت ہوگی۔ آپ نے فرمایا۔ مولوی صاحب جو کام کر رہے ہیں وہ کرنے دو۔ وہ زیادہ اہم ہے۔ تعویذوں کے کام میں پڑ گئے تو جو کام کر رہے ہیں اس سے بھی جائیں گے۔
۱۹...... گول گپے
حضرت قبلہؒ کبھی خوش طبعی کی بات بھی فرما دیتے تھے۔ ایک دفعہ فرمایا کہ لوگوں کی عقلوں کے مطابق بات کرنی چاہئے۔ فرمایا کہ ایک مولوی صاحب دیوبند سے دورہ حدیث شریف کر کے تشریف لائے۔ بازار میں ایک صاحب گول گپے بیچ رہے تھے۔ اسے دیکھ کر مولانا صاحب نے فرمایا کہ میاں عدداً بیچتے ہو یا وزناً بیچتے ہو۔ اس بیچارہ کے پلے نہ پڑا کہ مولانا کیا پوچھ رہے ہیں۔ تو فوراً اس نے کہا کہ نہ عدداً بیچتا ہوں نہ وزناً بیچتا ہوں میں تو گول گپے بیچتا ہوں۔
۲۰...... موئے مبارک
ایک بار خانقاہ شریف حاضری کے موقعہ پر مولانا محمد یعقوب ربانی فاروق آباد ضلع شیخوپورہ نے فقیر سے فرمایا کہ حضرت قبلہؒ کے پاس موئے مبارک ہے۔ آپ (راقم) حضرت قبلہؒ سے عرض کریں تو شاید زیارت ہو جائے۔ فقیر کو سرے سے معلوم نہ تھا کہ حضرت قبلہؒ کے ہاں موئے مبارک ہے۔ نہ یہ معلوم کہ زیارت کے کیا آداب ہیں۔ مولانا یعقوب نے میرا کندھا استعمال کیا اور میری حماقت کہ میں نے حضرت قبلہؒ سے درخواست کر دی۔ صبح مراقبہ کے بعد کمرہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت عرض کیا۔ آپ خاموش رہے۔ جب مجلس برخاست کی تو مجھے حکم فرمایا کہ ڈیرہ پر آجائیں۔ میں نے مولانا یعقوب کو بھی ساتھ لیا۔ تھوڑی دیر بعد گھر سے ڈیرہ کے گیٹ پر بذات خود حضرت قبلہؒ تشریف لائے۔ ہم دونوں کو گھر لے گئے۔ پہلے سے پردہ کرایا ہوا
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
تھا۔ اب ہمیں برآمدہ میں کھڑا کر کے حضرت قبلہؒ اندر تشریف لے گئے۔ موئے مبارک جو چاندی کے شوکیس میں موم کے اندر لگایا ہوا تھا۔ باہر برآمدہ میں لائے۔ بادل تھے۔ بالکل باریک ہونے کے باعث نظر آنے میں دقت ہوتی تھی۔ تو حضرت قبلہؒ نے عینک لگائی۔ اس چاندی کے بکس کا پہلو بدلا۔ بغور دیکھنے سے زیارت نصیب ہوگی۔ قارئین بخدا عرض کرتا ہوں کہ حضرت قبلہؒ موئے مبارک کے پاس جتنا زائر کو لے جانا ممکن تھا، لے کر گئے۔ موئے مبارک کو زائرین کے پاس نہیں لائے۔ احترام میں یہ احتیاط۔
دوسرا یہ کہ جب تک موئے مبارک حضرت قبلہؒ کی گود میں رہا۔ حضرت قبلہؒ پر جو کیفیت احترام کی طاری تھی۔ اس کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ وہ منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا نہ کہ بیان کرنے سے۔ واپسی پر حضرت قبلہؒ نے پوچھنے پر موئے مبارک کے حکیم صاحب نابینا دہلویؒ سے ملنے کا واقعہ بھی بیان فرمایا۔ فقیر نے عرض کیا کہ اسے لولاک یا ختم نبوت میں شائع کردیں۔ اس پر فرمایا کہ کیا ضرورت ہے؟ قارئین حضرت قبلہؒ کی شفقتوں کو آج یاد کرتا ہوں تو بخدا دل کی عجیب کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ حضرت قبلہؒ کے مجھ مسکین پر اتنے احسان اور کرم ہیں کہ والد شاید اپنی اولاد کو اتنی محبت نہ دے جتنی حضرت قبلہؒ اپنے متعلقین کو محبت دیا کرتے تھے۔
۲۱......حضرت رائے پوریؒ و حضرت ثانیؒ
ایک بار حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ پپلاں یا کلورکوٹ کے سفر پر تشریف لائے۔ تو حضرت ثانیؒ ملنے کے لئے پپلاں یا کلورکوٹ تشریف لے گئے۔ اسی روز حضرت رائے پوریؒ خانقاہ سراجیہ حضرت ثانیؒ سے ملنے کے لئے روانہ ہوئے۔ حضرت ثانیؒ وہاں پہنچ گئے۔ حضرت رائے پوریؒ خانقاہ سراجیہ تشریف لائے۔ پہنچنے پر دونوں حضرات کو صورتحال کا علم ہوا تو حضرت رائے پوریؒ نے واپس جاتے ہوئے خانقاہ سراجیہ کے خدام سے فرمایا کہ راستہ میں حضرت ثانیؒ سے ملاقات ہو گئی تو فالحمدللہ ! ورنہ دوبارہ خود آؤں گا۔ حضرت ثانیؒ مجھے ملنے کے لئے سفر کی زحمت نہ فرمائیں۔ اللہ رب العزت کی شان بے نیازی کہ راستہ میں واپسی پر بھی ان حضرات کی ملاقات نہ ہوسکی۔ ایک روز حضرت رائے پوریؒ نے پیغام بھیجا کہ میں خانقاہ سراجیہ کل حاضر ہوں گا۔ حضرت ثانیؒ نے خانقاہ سراجیہ کے متوسلین سے فرمایا کہ حضرت رائے پوریؒ سلسلہ قادریہ کے وقت کے امام ہیں۔ وہ ذکر جہری کرتے ہیں۔ کل وہ ہمارے مہمان ہوں گے تو ان کے احترام
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
میں ہم نقشبندی سلسلہ کے حاملین بھی ذکر جہری سلسلہ قادریہ کے مطابق کریں گے۔ اگلے روز جب حضرت رائے پوریؒ چلنے لگے تو اپنے خدام سے فرمایا کہ ہم خانقاہ سراجیہ جارہے ہیں۔ یہ خانقاہ سلسلہ نقشبندیہ کی خانقاہ ہے۔ وہ حضرات ذکر خفی کرتے ہیں تو ہم قادری سلسلہ والوں کو ان کے احترام میں ذکر خفی کرنا ہوگا۔ چنانچہ جب خانقاہ شریف میں قادری، ونقشبندی حلقہ کے حضرات جمع ہوئے تو قادری نقشبندی طریقہ پر اور نقشبندی قادری طریقہ پر ذکر کر رہے تھے۔ جہری والے خفی اور خفی والے جہری طریقہ پر ذکر کا یہ منظر حاضرین نے دیکھا۔ خانقاہ رحیمیہ قادریہ کے مفتی عبدالخالق، حضرت قبلہؒ کی تعزیت کے لئے خانقاہ سراجیہ تشریف لائے۔ راقم نے عرض کیا کہ فقیر راقم نے یہ واقعہ خود حضرت قبلہؒ سے سنا ہے۔ تو مولانا مفتی عبدالخالق نے بھی تائید فرمائی کہ یہ واقعہ حضرت قبلہؒ سے میں نے بھی اسی طرح سنا ہے۔
۲۲...... حضرت رائے پوریؒ کی خدمت
اس موقعہ پر موجود مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے فرمایا کہ حضرت قبلہؒ فرماتے تھے کہ حضرت رائے پوریؒ کی آمد پر کھانا میں (حضرت قبلہؒ) نے اپنے ہاتھوں خود پکایا تھا۔
۲۳...... حضرت رائے پوریؒ کی نصیحت
اسی موقعہ یا اس کے علاوہ کسی موقعہ پر حضرت ثانیؒ نے حضرت رائے پوریؒ کے حضور حضرت قبلہؒ (مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ) کو پیش کر کے فرمایا کہ انہیں کوئی نصیحت فرمادیں۔ حضرت رائے پوریؒ نے مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کا ہاتھ مبارک اپنے مبارک ہاتھوں میں لے کر جھٹکا دے کر (متوجہ کرنے کے لئے) حضرت ثانیؒ کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ ان کا دامن نہ چھوڑنا۔ کامیاب رہو گے۔ بن جاؤ گے۔
۲۴...... نعروں سے روک دیا
جب مولانا حق نواز مرحوم کی جھنگ میں شہادت ہوئی۔ فقیر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تھا۔ شور کوٹ جانا تھا۔ یہ خبر سنی تو بجائے شور کوٹ کے ملتان آگیا۔ اگلے روز جمعہ تھا۔ ملتان دفتر میں جمعہ پڑھایا تو کافر کافر کے نعرے لگوائے۔ ہفتہ کو حضرت قبلہؒ کے ہمراہ دھریجہ نزد کوٹلہ رحم علی شاہ تحصیل علی پور ضلع مظفر گڑھ میں جلسہ تھا۔ فقیر نے تقریر کی تو واقعہ سے اتنا مغلوب الحال کہ کافر کافر کے نعرے لگوائے۔ فقیر کے بعد حضرت مولانا عبدالعزیز شجاع آبادیؒ کا بیان ہوا۔ بھرتی ڈال کر اونچا
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
تھڑا بنا کر اس سے سٹیج کا کام لیا گیا تھا۔ عصر کے قریب جب جلسہ حضرت قبلہؒ کی دعاء پر ختم ہوا۔ سٹیج سے اترنے لگے تو فقیر نے پہلے اتر کر سہارا کے لئے حضرت قبلہؒ کے سامنے اپنا کندھا پیش کیا۔ حضرت قبلہؒ سہارا دینے سے سٹیج سے اترے اور فقیر کا ہاتھ تھام لیا چلتے ہوئے فرمایا ساری دنیا کافر کافر کا نعرہ لگائے آپ نہ لگوایا کریں۔ فقیر مارے شرم کے عرق آلود ہو گیا۔ عرض کیا حضرت وعدہ رہا آئندہ ایسے نہ ہوگا۔ قارئین انشاء اللہ اپنے حضرت قبلہؒ سے کئے ہوئے عہد کو نبھاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ توفیق بخشیں۔ حضرت قبلہؒ کے روکنے کا مقصد یہ تھا کہ ختم نبوت کے عنوان پر کام کرنے والوں کو ان مباحث میں نہیں پڑنا چاہئے۔ تاکہ ختم نبوت کے کام میں حرج نہ ہو۔
۲۵...... ذاتیات پر بحث سے منع فرمانا
اب چناب نگر کی ختم نبوت کانفرنس آئی تو مولانا حق نوازؒ کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے ان دنوں جناب میاں نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے۔ ان کا نام لے کر کہا کہ میاں صاحب جب انگریز کے زمانہ میں ہمارے اکابر آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے۔ آپ کے والد صاحب لوہا کوٹ رہے تھے۔ کانفرنس کا اجلاس ختم ہوا تو فقیر کا ہاتھ پکڑ کر حضرت قبلہؒ مسجد کے عقب میں اپنی رہائش گاہ پر تشریف لائے اور فرمایا کہ لوہا کوٹ رہے تھے۔ یہ اخلاق سے گری ہوئی بات ہے۔ ذاتیات پر نہ جایا کریں۔ آئندہ یہ لفظ زبان پر نہ آئے۔ فقیر نے سر جھکا لیا۔ اب اس واقعہ کو تحریر کرتے وقت سوچتا ہوں کہ اب میری ان بے تکی باتوں کی کون اصلاح فرمائیں گے۔ بھائیو! حضرت قبلہؒ صرف ہمارے امیر ہی نہ تھے روحانی باپ بھی تھے۔
۲۶...... تصوف کے امام
ایک بار دھریجہ تحصیل علی پور میں جلسہ تھا۔ حضرت قبلہؒ کی صدارت تھی۔ جلسہ کے اختتام پر رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔ مولانا عبد العزیز شجاع آبادیؒ نے تصوف کی دو اصطلاحیں پیش کر کے ان کی علیحدہ علیحدہ تعریف کی اور اس تعریف کو مترادف المعنی قرار دے کر وجہ دریافت کی کہ مفہوم ایک ، اصطلاحیں دو کیوں؟ حضرت قبلہؒ مسکرائے۔ فرمایا پہلی اصطلاح کی تعریف میں آپ نے یہ جملہ چھوڑ دیا اور یہی وجہ دونوں اصطلاحوں میں فرق کو واضح کرتا ہے۔ مولانا عبد العزیز نے سر جھکا لیا اور پھر دوستوں سے فرمایا کہ حضرت قبلہؒ صرف صوفی نہیں بلکہ فن تصوف کے امام ہیں۔ یہی اشکال میں نے کئی مشائخ کے سامنے کیا۔ مگر
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
حضرت قبلہؒ نے ایک جملہ میں میرے اعتراض کو ہباء منثورا بنا دیا۔
۲۷......مولانا ضیاء القاسمیؒ کی دعوت
۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں ایک بار مجلس عمل کا اجلاس حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کی رہائش گاہ پر رکھا گیا۔ مولانا مرحوم بہت سخی دل تھے۔ آپ نے پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا تو حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ حضرت ثانیؒ فرماتے تھے کہ جب کوئی عالم دین، کسی عالم دین کی دعوت کرتا ہے تو آسمان پر ایک فرشتہ نقارہ بجاتا ہے۔ باقی فرشتے پوچھتے ہیں کہ کیا انہونی ہوئی؟ تو وہ کہتا ہے کہ ایک عالم نے دوسرے عالم کی دعوت کی ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ آج مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کی دعوت پر تو کئی فرشتوں نے نقارے بجائے ہوں گے۔ اس خوش مزاجی میں آپؒ نے ان کی دستر خوان کی وسعت بیان کر کے مجلس کو بھی زعفران بنا دیا۔
۲۸......خوش طبعی
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ ایک بار کندیاں کا ایک دیہاتی آیا۔ اپنی شادی کی داستان سنائی۔ اولاد کے نہ ہونے کا تذکرہ کر کے اولاد ہونے کے لئے تعویذ مانگا۔ آپ نے تعویذ دے دیا اور اس دیہاتی کا ہاتھ پکڑ کر مسکراتے ہوئے فرمایا۔ ’’نری تعویذ تے ٹیک ناں رکھیں‘‘ فقط تعویذ پر ہی انحصار نہ کرنا۔
۲۹......حسنؓ ، حسینؓ الہامی نام
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے فرمایا کہ شیخ محمد حنیف ایڈووکیٹ میانوالی میں رہتے ہیں۔ فوجداری میں ڈویژن بھر کے کامیاب ترین وکیل ہیں۔ ایک دن انہوں نے حضرت قبلہؒ سے پوچھا کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ یہ نام آنحضرتﷺ نے پہلی بار رکھے یا یہ کہ پہلے سے یہ رائج تھے۔ حضرت قبلہؒ نے صرف اتنا فرمایا کہ یہ الہامی نام ہیں۔
۳۰......امریکہ ، یورپ
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ اسی شیخ محمد حنیف ایڈووکیٹ نے سوال کیا کہ امریکہ ، یورپ ، مغربی ممالک میں اسلام کے پھیلنے کی بڑی داستانیں سن رہے ہیں۔ ان کی حقیقت کیا ہے؟ حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ وہ اپنے حال پر مطمئن ہیں ۔ (یعنی تمام غیر مسلم اپنے اپنے نظام پر مطمئن ہیں ۔ اکا دکا مسلمان ہو جاتے ہوں تو انکار نہیں ۔ فوج در
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
فوج اسلام میں داخل ہورہے ہوں یہ صرف داستانیں ہیں)
۳۱...... علامہ اقبالؒ فلسفی تھے
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بار علامہ اقبالؒ کی شخصیت پر دلائل دیئے کہ وہ فلسفی تھے۔ عاشق رسول تھے۔ سید انور شاہ کشمیریؒ ان کے پاس تشریف لائے وغیرہ وغیرہ۔ حضرت قبلہؒ سب کچھ سنتے رہے۔ آخر میں فرمایا کہ سب دلائل ٹھیک ہیں۔ انہیں عاشق رسول یا فلسفی رہنے دو، انہیں پیغمبر نہ بناؤ۔
۳۲...... پہلے ابوالکلام بنو پھر ......
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ ایک بار میں نے مولانا ابوالکلام آزادؒ کی مجاہدانہ زندگی ، استقامت، جیل، ان کے علمی تبحر ، ان کا صاحب قلم ہونا، اتنے بڑے آدمی، اکابر علماء کا ان کے علم کے سامنے سرنگوں ہونا وغیرہ بیان کرکے عرض کیا کہ وہ سگریٹ پیتے تھے۔ تو کیا یہ جائز ہے؟ حضرت قبلہؒ مسکرائے پھر فرمایا کہ پہلے کوئی ابوالکلام بن کر دکھائے پھر یہ سوال پوچھے۔
۳۳...... عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی، قیامت کی نشانی
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ ایک صاحب آئے اور مسلمانوں کے سسٹم کی دگرگونی بیان کر کے عرض کیا کہ حضرت دعا فرمائیں کہ حالات ٹھیک ہو جائیں۔ حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آنے دیں۔ ان کے راستہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔
۳۴...... سنت کا مقام و احترام
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے فرمایا کہ آج کل تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ حرمین شریفین کے آئمہ کی وضع قطع سنت کے مطابق ہے۔ ورنہ میں نے بہت پہلے دیکھا کہ آئمہ حرمین کی بھی داڑھی پوری نہ ہوتی تھی۔ اس زمانہ میں حضرت قبلہؒ کا معمول یہ تھا کہ تمام نمازیں آئمہ حرمین کے پیچھے حرم شریف میں ہی ادا فرماتے تھے۔ البتہ سلام پھیرتے ہی چپکے سے ہر نماز کا اعادہ کر لیتے تھے۔
۳۵...... مخدوم و خادم
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ سفر میں ہمیشہ حضرت قبلہؒ صحت کے زمانہ میں ہمسفر ساتھیوں کے ساتھ برابر کا کام کرتے تھے۔ سامان اٹھانا ہو، نظم کرنا ہو، کھانا پکانا ہو، تب ساتھی
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
حضرت قبلہؒ کو کام کرنے سے بوجہ ادب کے روکتے تھے کہ آپ کام نہ کریں۔ آپ فرماتے تھے کہ سفر میں ادب کے تقاضے اٹھ جاتے ہیں۔
۳۶......عزیز احمد سے پوچھو
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ میری دو شادیاں ہیں۔ کبھی کبھار کوئی شخص آ کر اپنے گھریلو حالات بیان کر کے دوسری شادی کی اجازت طلب کرتا یا مشورہ کرتا تو حضرت قبلہؒ کا معمول یہ تھا کہ اس شخص کو فرماتے تھے کہ اس مسئلہ میں عزیز احمد کو تجربہ ہے۔ ان سے مشورہ کریں۔ یہ لطیف مزاجی بھی تھی اور سو فیصد حقیقت بھی۔
۳۷......دل کی اپنی دنیا ہے
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے فرمایا کہ ایک بار سفر کے دوران چاندنی چوک یا سرائے مہاجر ،حضرت قبلہؒ وضو فرما رہے تھے اور قریب کے ہوٹل پر عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کا گانا ٹیپ پر چل رہا تھا۔ ”ایہا ساڈی غلطی اے...... دل سوچ کے نہ لایا“ حضرت قبلہؒ نے میری طرف دیکھ کر فرمایا کہ اس بے وقوف سے کوئی پوچھے کہ دل سوچ کر لگایا جاتا ہے؟
۳۸......قربت صحبت کے اثرات
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے فرمایا کہ ایک بار حاجی یعقوب صاحب نے جھنگوی زبان کے ماہیا کا ایک بند پڑھا۔ (دھاگے دریاں دے...... یار گوانڈھی بھاگ بھریاں دے) یعنی وہ بڑی قسمت والے ہوتے ہیں جن کے ہمسائے آشنا ہوں۔ اس کو حضرت قبلہؒ بار گنگناتے رہے کہ واقعی وہ بہت نصیب والے ہوتے ہیں جو قرب صحبت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ (دھاگے دریاں دے...... یار گوانڈھی بھاگ بھریاں دے)
۳۹......مجذوب سے خطاب
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کے سقوط سے قبل خانقاہ شریف میں ایک مجذوب کا آنا جانا شروع ہوا۔ جب حضرت قبلہؒ سے سامنا ہوتا تو عرض کرتا بہت خون ہوگا۔ بہت نقصان ہوگا۔ اس کو روک دیں۔ حضرت قبلہؒ سُن کر خاموش رہتے وہ خانقاہ شریف میں پھرتا رہتا۔ جب حضرت قبلہؒ سے ملتا یہی عرض کرتا۔ باقی کسی سے کلام نہ کرتا۔ دو چار روز رہ کر پھر چلا جاتا۔ دس بارہ روز کے بعد پھر آ جاتا۔ وہی عرض کرتا۔ چار روز رہ کر پھر چلا جاتا۔ دس بارہ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
روز کے بعد پھر آ جاتا۔ وہی عرض کرتا۔ چار روز رہ کر پھر چلا جاتا۔ مشرقی پاکستان کے سقوط سے چند ہفتے پہلے آیا اور خلاف معمول حضرت قبلہؒ کے پاؤں دبانے لگ گیا اور ساتھ ساتھ عرض کئے گیا۔ ”اپنی کری جاندی او ...... ساڈی وی تے من لیا کرو“ یعنی اپنی مرضی کرتے ہیں کبھی ہماری بھی تو مان لیں۔ یہ سن کر پہلی بار حضرت قبلہؒ نے اسے فرمایا کہ ”فیصلے نہیں بدلا کرتے“ اس پر اس نے جھرجھری بھری اور اٹھ کر یہ کہتا ہوا چلا گیا۔ ”ساڈا کی اے ...... ہوندا تے ہو جائے“ یعنی ہمارا کیا ہے۔ ہونا ہے تو ہو جائے۔ ہم نے اپنی ڈیوٹی پوری کی ہے۔ اس کے بعد پھر وہ کبھی نہیں آیا اور اس کے جانے کے چند ہفتوں بعد سقوط ڈھاکہ ہو گیا۔
۴۰...... عورت کی حکمرانی
ایک بار صادق آباد، رحیم یار خان کے دوستوں نے کہا کہ عورت کی حکمرانی کیسے ہے؟ آپ نے فرمایا یہ سوال نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی رہنما ہیں۔ جب انہیں ووٹ دیتے ہو تو وہ پھر حکمران بنیں گی۔ اگر عورت کی حکمرانی روکنی ہے تو پھر ووٹ کیوں دیتے ہو۔ ووٹ بھی دو، کامیاب بھی کراؤ اور پھر پوچھو کہ عورت کی حکمرانی کیسے ہے۔ یہ طرز عمل و طرز سوال تو ٹھیک نہیں ہے۔
۴۱...... ذوق مطالعہ
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ میں دارالعلوم کبیر والا میں پڑھتا تھا۔ ۱۹۷۱ء، ۱۹۷۲ء کا دور تھا۔ ایک بار حضرت قبلہؒ لاہور سے دارالعلوم کبیر والا تشریف لائے۔ بیگ منگوایا اور مجھے فرمایا کہ آپ کے مطالعہ کے لئے ایک کتاب لایا ہوں۔ اس کا ضرور مطالعہ کرنا اور پھر مطالعہ میں رکھنا۔ جب کتاب دی تو وہ معروف دانشور دیوان سنگھ مفتون کی ”ناقابل فراموش“ کتاب تھی۔ خدمت خلق، مظلوموں کی مدد کرنا، رفاہ عامہ کے کام، ظالموں کے سامنے سد سکندری بن جانا۔ یہ اس کتاب کا موضوع ہے۔ کتاب پڑھ کر اندازہ ہوا کہ حضرت قبلہؒ کا انتخاب کتنا صحیح ہے۔ یا یہ آپ کی سوچ کتنی پاکیزہ اور بلند ہے۔
۴۲...... نماز اور حضرتؒ کی دعا
فیصل آباد میں الحاج خلیل احمد لدھیانویؒ اور ان کے بھائی الحاج جناب حنیف رضاؒ ہوتے تھے۔ جناب حنیف رضا کے صاحبزادہ الحاج جناب خالد عمران کا حضرت قبلہؒ سے بیعت کا
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
تعلق ہے۔ پہلے یہ سپاہ کے بہادر رہنما تھے۔ آج کل اپنے والد گرامی کی قلم کی آبرو کے پاسبان ہیں۔ روزنامہ اسلام کے ادارتی ذمہ دار حضرات میں سے ہیں۔ ان کی روایت ہے کہ رات گئے کام کرنے کے باعث صبح کی نماز کے لئے اٹھنا میرے لئے بہت مشکل تھا۔ حضرت قبلہؒ سے عرض کیا آپ مسکرائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بھلی فرمائیں گے۔ اگلے روز فجر کی اذانوں کے قریب میری کمر میں شدید درد شروع ہو گیا۔ اٹھا، وضو کیا، اتنے میں اذانیں ہوگئیں۔ نماز پڑھی۔ درد جاتا رہا۔ اگلے روز پھر اسی طرح کہ اچانک نماز کے قریب درد کا دورہ ہو گیا۔ وضو کیا، درد ختم، متواتر کئی روز ایسے ہوا۔ تو صبح اٹھنے کی عادت پڑ گئی۔ اب اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا کہ درد بھی جاتا رہا اور نماز کا ناغہ بھی نہیں ہوتا۔
۴۳....... داڑھی منڈوں کی اصلاح
فقیر راقم عرض کرتا ہے کہ ہمارے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی اصلاح خلق میں عادت مبارک یہ تھی کہ اگر کوئی داڑھی منڈا آپ کے پاس آتا اسے محبت و شفقت سے پہلے قائل کر کے داڑھی رکھواتے یا کم از کم وعدہ لیتے۔ پھر بیعت کرتے۔ آپ نے سینکڑوں بندگان خدا کے چہرہ کو ہاتھوں میں لیا۔ ہاتھ پھیرا، شفقت بھری چار باتیں کیں۔ اس کا دل جیتا اور داڑھی رکھنے کا وعدہ کرا کر چھوڑا۔
اس کے برخلاف حضرت قبلہ خواجہ خان محمد صاحبؒ کی خدمت میں اگر کوئی داڑھی منڈا آتا۔ آپ معمول کی گفتگو فرماتے۔ اگر وہ بیعت ہونا چاہتا آپ بیعت بھی فرما لیتے۔ لیکن یہ واقعہ ہے کہ ہر وہ شخص جس نے بھی حضرت قبلہؒ کی بیعت کی بالآخر ایک وقت اس پر ضرور ایسا آتا کہ وہ اس مبارک تعلق کے باعث داڑھی رکھ لیتا۔ دونوں ہمارے بزرگ تھے۔ دونوں کا انداز اصلاح اپنا اپنا، نتیجہ ایک کہ جو ان حضرات سے تعلق جوڑ لیتا وہ سنت رسولؐ کا شیدائی بن جاتا۔
۴۴....... اچھی تقریر اور استغفار
فقیر راقم عرض کرتا ہے کہ حضرت قبلہؒ سے فقیر نے عرض کیا کہ حضرت جب اچھا بیان ہو جاتا ہے تو طبیعت میں بہت فرحت ہوتی ہے۔ کہیں یہ ریاء میں تو شامل نہیں۔ فقیر کی طرف دیکھا مسکرائے اور فرمایا کہ اچھا بیان ہو جانے پر طبیعت میں فرحت کا ہونا یہ تو فطری تقاضہ ہے۔ اس کا ریاء کاری سے کیا تعلق؟ بالکل ریاء کا وہم بھی دل میں نہ لائیں۔ البتہ تقریر کے بعد استغفار کے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کلمات پڑھ لینے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ بھلی فرمائیں گے۔
۴۵...... تقریر کے لئے وظیفہ
اس موقعہ پر یا کسی دوسرے موقعہ پر فرمایا کہ اوّل آخر طاق عدد درود شریف درمیان میں پچیس بار ”اللهم نور قلبى بعلمك واستعمل بدنى بطاعتك“ کا ورد کیا کریں۔ فقیر عرض گزار ہے کہ جب اس وظیفہ کو ادا کرنے کے بعد بیان کیا وہ بیان بہت کامیاب رہا۔
۴۶...... حضرت کا عصا مبارک
اسی طرح فقیر کی عادت ہوگئی تھی کہ جب حضرت قبلہؒ کی موجودگی میں بیان کرنا ہوتا کھڑے ہو کر بیان کرتا اور بڑے ہال میں حضرت قبلہؒ کے عصا مبارک کو بیان سے قبل پہلے ہاتھ میں لیتا۔ اس کے سہارے کھڑے ہو کر بیان کرتا اور یہ تو ایسی عادت ہوگئی کہ اس کا حضرت قبلہؒ کو معلوم ہو گیا۔ چنانچہ آج جب اس بات کو لکھنے بیٹھا تو عجیب کیفیت سے دوچار ہوں کہ حضرت قبلہؒ نے کئی بار ایسے ہوا کہ ادھر فقیر کے بیان کا اعلان ہوتا ادھر حضرت قبلہؒ اپنا عصا مبارک فقیر کی طرف اٹھا کر بڑھا دیتے اور یہ بات یقینی طور پر فقیر کے دل و دماغ پر ایسی حاوی ہوئی اور واقعہ بھی یہی ہے کہ جب کبھی حضرت قبلہؒ کا عصا مبارک ہاتھ میں لے کر گفتگو کرتا وہ گفتگو ماسٹر پیس ہوتی۔
۴۷...... عالمی مجلس کے ناظم اعلیٰ و مجلس عمل کے رابطہ سیکرٹری
حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ کا وصال ہوا تو حضرت قبلہؒ نے ملتان تشریف لا کر عیدگاہ میں جنازہ پڑھایا۔ پھر جنازہ کے ہمراہ مولانا مرحوم کے رہائشی گاؤں تشریف لے گئے۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ اور آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رابطہ سیکرٹری تھے۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کے وصال کے بعد مرکزی مجلس عمل کا اسلام آباد دفتر ختم نبوت میں اجلاس منعقد ہوا۔ مولانا زاہد الراشدی نے اجلاس میں حضرت قبلہؒ سے درخواست کی کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مجلس عمل کے رابطہ سیکرٹری مولانا محمد شریف جالندھریؒ تھے۔ اب بھی مجلس کی طرف مجلس عمل کو رابطہ سیکرٹری ملنا چاہئے تو اس پر حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ مولانا محمد شریف جالندھریؒ ملتان میں بیمار تھے۔ ان کی تیمارداری کے لئے گیا تو مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے مجھے (حضرت قبلہؒ) فرمایا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا ناظم اعلیٰ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ہوں۔ میرے بعد یہ کام مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کے سپرد کیا جائے اور دوسرا یہ کہ میں مرکزی مجلس عمل کا رابطہ سیکرٹری ہوں۔ یہ کام اللہ وسایا کے سپرد کر دیا جائے۔ یوں مولانا زاہد الراشدی نے جو نکتہ اٹھایا تھا اس پر عمل درآمد کو حضرت قبلہؒ نے حل فرما دیا۔ لیکن قارئین! حضرت قبلہؒ کی شفقت و برخوردار نوازی کو دیکھئے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ اور مرکزی مجلس عمل کے رابطہ سیکرٹری کا تقرر آپ کے اختیار میں تھا۔ آپ نے دونوں تقرریاں فرمائیں اور ان دونوں امور کو اپنے ایک مرحوم کارکن و رہنما مولانا محمد شریف جالندھریؒ کی طرف منسوب فرمایا۔ یہ حضرتؒ کی برخوردار نوازی کی اعلیٰ درجہ کی مثال ہے۔
۴۸......مولانا سلیم اللہ خان
وفاق المدارس العربیہ کے صدر حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان کے صاحبزادے حضرت مولانا محمد خالد نے ارشاد فرمایا کہ حضرت قبلہ مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کے جنازہ میں شمولیت کے لئے قبلہ والد صاحب مولانا سلیم اللہ خان اپنی علالت کے باوجود تیار ہو گئے۔ حالانکہ چند روز پیشتر ملاقات کر کے تشریف لائے تھے۔ حال ہی میں آپ کو اختلاج قلب کی تکلیف شروع ہوئی ہے۔ اس لئے ایسا زحمت آمیز سفر تو کسی طرح ٹھیک نہیں تھا۔ مگر حضرت شیخ الحدیث کی خواہش کے سامنے کسی کو انکار کی گنجائش نہ تھی۔ خانقاہ شریف سے اڑھائی کلومیٹر قبل اتنی رکاوٹ تھی کہ لوگوں کو سڑک پر جہاں بھی جگہ ملی گاڑی پارک کی اور جنازہ میں شرکت کے لئے چل دوڑے۔ اب اڑھائی کلومیٹر قبل بالکل گاڑی کا سفر کرنا ممکن نہ رہا۔ مجبوراً وہ سفر مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ کو موٹر سائیکل سے کرنا پڑا۔ کھیتوں کی زمین ، دھکے ، پھر کھالے۔ جگہ جگہ اترنے چڑھنے ، دھکوں کی جو صورت تھی وہ دیکھی نہ جاتی تھی۔ اس مشکل میں حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ نے بیماری ، علالت ، معذوری کے باوجود سفر کیا اور جنازہ میں شرکت کی۔ سچ ہے کہ : ”قدر زر زرگر بداند، قدر جوہر جوہری۔“
۴۹......مولانا تاج محمودؒ
ایک بار ایک جماعتی امر میں حضرت مولانا تاج محمودؒ کی طبیعت پر منفی اثر تھا۔ خیال تھا کہ شاید آپ شوریٰ کے اجلاس ملتان میں تشریف نہ لائیں۔ چنانچہ حضرت قبلہؒ نے شاہ کوٹ کے جلسہ سے واپسی کے بعد فیصل آباد کا سفر کیا۔ حضرت مولانا تاج محمودؒ سے ملے تو آپؒ نے فرمایا کہ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مولانا اگر تو آپ نے ملتان تشریف لانا ہے تو اجلاس شوریٰ کا ملتان میں ہوگا۔ اگر آپ نے ملتان تشریف نہیں لانا تو اجلاس ہم فیصل آباد میں آپ کے مکان پر رکھیں گے۔ آپ فرمائیں کہ اب کیا کرنا ہے؟ حضرت قبلہؒ کے اتنا فرمانے سے مولانا تاج محمودؒ کی طبیعت کا تکدر دور ہو گیا۔ انہوں نے مسکرا کر فرمایا کہ حضرت آپ جب چاہیں ملتان میں اجلاس رکھیں۔ سر کے بل حاضر ہوں گا۔ یوں حضرت قبلہؒ نے اپنی حکمت عملی سے اس مسئلہ کو سیکنڈوں میں حل فرما دیا۔
۵۰...... وعدہ کی لاج
شاہ کوٹ مدرسہ اشرفیہ میں حافظ محمد شفیع جو منڈی شاہ نکڈر کے رہنے والے تھے۔ وہ حضرت قبلہؒ سے بیعت تھے۔ وہ مدرسہ اشرفیہ شاہ کوٹ میں مدرس تھے۔ حضرت مولانا عبداللطیف شاہ کوٹی نے اپنے صاحبزادوں کو خانقاہ سراجیہ میں پڑھنے کے لئے بھیجا۔ ایک بار شاہ کوٹ میں مدرسہ اشرفیہ کا جلسہ تھا۔ ان حضرات نے حضرت قبلہؒ سے وعدہ لے لیا۔ گرمی کا موسم تھا۔ کندیاں سے بس کے ذریعہ آپ شاہ کوٹ تشریف لے گئے۔ جمعہ پڑھایا۔ عصر تک شریک جلسہ رہے۔ مغرب کے قریب فیصل آباد تشریف لائے۔ کھانا کھایا، رات ایک بجے ماڑی انڈس ٹرین سے کندیاں کے لئے تشریف لے جانا تھا۔ عشاء کے بعد مولانا تاج محمودؒ نے مسجد کے برآمدہ کی چھت پر چارپائیاں لگوائیں۔ پنکھا لگوایا۔ وہاں ایک بجے تک حضرت قبلہؒ نے قیام فرمایا۔ نیند تو خیر کیا آنا تھی۔ خوب یاد ہے کہ ٹرین کے آنے تک مولانا تاج محمودؒ بھی جاگتے رہے۔ حضرت قبلہؒ کو سوار کرا کر مولانا نے پھر آرام کیا۔ اتنی زحمت کا سفر، تکلیف دہ گرمی کا موسم، ایک قصبہ کا جلسہ، مولانا تاج محمودؒ نے عرض کیا کہ حضرت! جلسہ والے حضرات تو ضرورت مند ہوتے ہیں۔ آپ اپنی صحت کا خیال فرمائیں۔ آپ سخت تھکے ہوئے تھے۔ مولانا تاج محمودؒ نے آپ کے دل کی بات کہی تھی۔ لیکن اس کے باوجود آپ نے اتنا فرمایا کہ بس مروت کی وجہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
۵۱...... روئیداد مقدمہ بہاولپور
فقیر راقم عرض کرتا ہے کہ ایک بار بہاولنگر کے کسی دور کے شہر جیسے ہارون آباد یا منچن آباد کے سفر پر تھا۔ غالباً ملتان سے اطلاع ملی کہ ملتان پہنچیں۔ فوراً ملتان آیا۔ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے فرمایا کہ حضرت قبلہؒ کا خانقاہ شریف سے حکم آیا ہے کہ اللہ وسایا جہاں کہیں ہے اسے خانقاہ شریف بھیجو۔ مزید کرید کیا تو معلوم ہوا کہ صرف اتنا پیغام ہے۔ کیوں پہنچو؟
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کیا کام ہے؟ کون سی ضرورت پیش آئی؟ کچھ معلوم نہیں۔ اسی وقت جو ٹرین یا بس جاتی تھی لی اور دوپہر تک خانقاہ شریف جا حاضر ہوا۔ ظہر کی نماز کے بعد آپ کے کمرہ میں ملاقات ہوئی۔ دیکھا، مسکرائے اور پھر فرمایا کہ آپ کو کھٹک سی لگی ہوگی کہ کیوں بلایا؟ (یعنی آپ کے دل میں بار بار واہمہ اٹھتا ہوگا کہ کیوں بلایا؟) بلایا اس لئے ہے کہ حضرت مولانا محمد مالک کاندھلویؒ کا خط آیا ہے وہ مقدمہ بہاولپور کی پوری کارروائی شائع کرنا چاہتے تھے۔ کتاب کا مقدمہ انہوں نے لکھنے کے لئے تقاضا کیا ہے۔ ان کا خط پڑھ کر خیال آیا کہ یہ کام آپ سے کرانا چاہئے۔ (بہاولپور کے سید عبدالماجد صاحب تھے۔ حضرت سید نفیس الحسینیؒ کے توجہ دلانے پر انہوں نے مقدمہ بہاولپور کی پہلے دن کی درخواست سے فیصلہ تک پورے گیارہ سال کی عدالتی فائل فوٹو کرائی۔ اس کے بعد حوالے ملتان دفتر لائبریری سے ٹیلی کئے۔ تب مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے حوالہ جات کے لئے ان کی مدد کی۔ پوری عدالتی فائل کی تین ضخیم جلدیں تیار ہوئیں۔ اب اسے وہ سیٹ کی شکل میں شائع کرنا چاہتے تھے۔ اس کام میں ان کی رہنمائی حضرت مولانا محمد مالک کاندھلویؒ بھی فرما رہے تھے۔ انہوں نے آپ کی خدمت میں عریضہ لکھا کہ اس مقدمہ کی مکمل کارروائی یکجا پہلی بار اشاعت پذیر ہورہی ہے۔ آپ (حضرت قبلہؒ) اس کا مقدمہ تحریر فرمائیں۔ اس کام کے لئے فقیر راقم کے متعلق حضرت قبلہؒ نے حکم فرمایا کہ جہاں کہیں ہے اسے خانقاہ شریف بھیجا جائے) فقیر نے عرض کیا کہ حضرت اقدسؒ کچھ اس کے متعلق رہنما اصول بیان فرمادیں۔ دعاء بھی فرمادیں۔ حضرت قبلہؒ نے گفتگو فرمائی۔ فقیر اس کے نوٹس لیتا رہا۔ اتفاق سے خانقاہ شریف کی لائبریری میں فیصلہ مقدمہ بہاولپور اور حجت شرعیہ یعنی بیانات علمائے ربانی در مقدمہ بہاولپور دونوں موجود تھیں۔ فقیر نے وہ لیں۔ لائبریری کا کمرہ راقم کو دے دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کام شروع کر دیا۔ رات گئے تک کام مکمل کر لیا۔ اگلے روز فجر کے بعد مسودہ لے کر حضرت کے کمرہ میں حاضر ہوا۔ حضرت قبلہؒ نے ایک ایک حرف سنا اور اس میں بہت ساری ترامیم فرمائیں۔ فقیر نے وہ ترامیم نوٹ کر لیں اور ناشتہ کے بعد اللہ تعالیٰ کا نام لے کر دوبارہ کام شروع کر دیا۔ پورا دن اس کام پر لگ گیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ وہ مکمل مسودہ ایک ایک لفظ حضرت قبلہؒ کا ہی منظور شدہ ہے۔ گویا مکمل تحریر وہ حضرت قبلہؒ کی املاء کردہ سمجھی جائے۔
عصر کے بعد کمرہ کے باہر آپ کی چارپائی بچھائی گئی۔ سامنے دری بچھائی گئی۔ گرمیوں میں عموماً عصر کے بعد یہاں کمرہ کے باہر حضرتؒ کی مسند لگائی جاتی اور یہاں مجلس قائم ہوتی۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
حضرت قبلہؒ چار پائی پر دونوں پاؤں لٹکا کر قبلہ رخ تشریف فرما تھے۔ فقیر مسودہ لے کر حاضر ہوا۔ حضرت قبلہؒ نے سرہانہ لیا اسے گود میں رکھا ان پر دونوں ہاتھ مبارک کی کہنیاں ٹکائیں۔ اپنے چہرہ کو دونوں ہاتھوں میں لیا اور راقم سے فرمایا کہ سنانا شروع کریں۔ قبلہ رخ ہو کر گردن جھکائے پورا مسودہ حضرت قبلہؒ نے سنا۔ حضرت قبلہؒ پر عجیب کیفیت طاری تھی۔ سامعین ومریدین پر بھی حضرت شیخؒ کی برکت کی طمانیت کا خاص پرتو تھا۔ اس کے آخری حصہ جس کا مفہوم ہے کہ ختم نبوت کا کام رحمت خداوندی اور شفاعت نبوی کا باعث ہے۔ اس پر پہنچا تو حضرت قبلہؒ کی طبیعت پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ رومال لیا اور چہرہ پر رکھ لیا۔ فقیر نے مسودہ ختم کیا۔ حضرت قبلہؒ پھر بھی اسی طرح مراقب رہے۔ کافی دیر کے بعد سر مبارک اٹھایا۔ چہرہ سے رومال ہٹایا اور راقم کی طرف دیکھ کر فرمایا ماشاءاللہ! اللہ تعالیٰ برکت دیں۔ ماشاءاللہ!
قارئین! اس وقت کی جو پوری مجلس پر یا حضرت قبلہؒ کے رخ انور پر انوار کی کیفیت تھی وہ بیان کرنی ناممکن ہے۔ یہ مضمون شائع ہونے کے بعد کوئی دوست جو اس مجلس میں حاضر تھا وہ پڑھے گا تو اس سے مزید کیفیات کا بیان سنا جا سکتا ہے۔ بہرحال فقیر کے لئے وہ مجلس بھی یادگار مجلس ہے۔ مسودہ دونوں ہاتھوں سے حضرت قبلہؒ کے سپرد کیا۔ آپ نے خادم کو عنایت کیا۔ انہوں نے آپ کے کمرہ میں رکھ لیا۔ فقیر نے عرض کی کہ یہ جلدی میں لکھا ہے۔ دوبارہ صاف لکھا جائے۔ فرمایا کہ یہ ہو جائے گا۔ فقیر نے سفر کے لئے اجازت طلب کی تو فرمایا بڑی خوشی سے۔ چنانچہ شام کی ٹرین سے واپسی ملتان ہوگئی۔ حضرت قبلہؒ نے یہ مسودہ خوشخط لکھوانے کے لئے حضرت حاجی عبدالرشید کے سپرد کیا۔ مقدمہ بہاولپور کی کارروائی میں یہ ضخیم مقدمہ شائع شدہ ہے۔ فقیر نے شائع ہونے کے بعد پڑھا تو اس میں بہت ساری نئی چیزیں تھیں۔ بہت سے ناموں کا اضافہ تھا۔ غالباً وہ حاجی عبدالرشید کی محنت ہے۔ جو انہوں نے حضرت قبلہؒ کی منظوری سے کی ہوگی۔ بعد میں ”تعارف مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے نام پر اسی مضمون کو حضرت حافظ نذیر احمد نے گوجرانوالہ سے شائع کیا اور پھر تحریک ختم نبوت منزل بمنزل کے نام پر جناب ملک فیاض اختر نے لاہور سے شائع کیا۔ حضرت قبلہؒ کی چوبیس گھنٹوں کی توجہ سے بہت عمدہ اور تاریخی مقالہ قلمبند ہو گیا۔ جو حضرت قبلہؒ کی طرف سے امت کے لئے ایک یادگار چیز ہے۔
۵۲......پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ
پرویز مشرف کے زمانہ اقتدار میں ”مشین ریڈایبل پاسپورٹ“ تیار ہوا۔ اس کی
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com ڈیزائننگ کرتے ہوئے خانہ مذہب کو حذف کر دیا گیا۔ حضرت مولانا فضل الرحمن سے ہم نے درخواست کی۔ آپ کی منظوری ورہنمائی اور تقسیم کار سے عالمی مجلس نے اپنا کام شروع کر دیا۔ بہت لمبی محنت کرنی پڑی۔ کئی ماہ اس جدوجہد پر لگ گئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے کرم کیا۔ پرویز مشرف کی گردن کا سریا ٹیڑھا ہوا۔ کفر ہار گیا۔ اسلام والے جیت گئے۔ پاسپورٹ میں خانہ مذہب بحال ہو گیا۔ (اے کاش کوئی اللہ کا بندہ اس پوری تحریک کی کارروائی قلمبند کرے) انہیں دنوں ملک بھر میں جگہ جگہ جلسے رکھنے پڑے۔ راجن پور میں مولانا محمد یوسف نقشبندی مبلغ تھے۔ انہوں نے جلسہ رکھا۔ فقیر کا کوئی اور اہم سفر درپیش تھا۔ حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی کو مرکز سے حکم ملا۔ بارشوں کا موسم تھا۔ آپ نے گاڑی نکالی۔ جناب محمد اسلام، جناب محمد اکمل کے ہمراہ سرگودھا سے ملتان۔ وہاں سے ڈیرہ غازیخان۔ آگے ڈیرہ غازیخان سے پوری سڑک کا ستیاناس نہیں بلکہ سوا ستیاناس۔ پوری ادھیڑ کر نئی بنارہے تھے۔ جیسے کیسے طوفانی صاحب راجن پور پہنچے آگے جلسہ میں صرف پچاس آدمی، طبیعت پر جبر کر کے رہ گئے۔ واپسی پر بجائے ملتان جانے کے ڈیرہ غازیخان سے ڈیرہ اسماعیل خان کے راستہ خانقاہ شریف جانے کا فیصلہ کر لیا۔ تونسہ کے قریب مین روڈ پر ایک نہر کا پل ٹوٹا ہوا تھا۔ نہر کی پٹڑی پر دوسری سمت گاڑی چلا دی۔ دس کلومیٹر کے بعد دوسری پل سے نہر عبور کر کے لنک روڈ سے مین روڈ کی طرف سفر شروع کیا۔ تو لنک روڈ پر موٹا موٹا روڑہ۔ گاڑی کی کمانی ٹوٹ گئی۔ اس حالت میں گاڑی ہانپتی کانپتی مین روڈ پر پہنچی۔ ویلڈ کرائی۔ سفر شروع۔ آگے ڈیرہ اسماعیل خان سے چشمہ بیراج کی بجائے بھول کر بھکر روڈ پکڑ لیا۔ اب بھکر سے خانقاہ سراجیہ آئے تو عشاء کی نماز ہو چکی تھی۔ پورا دن سفر کی نذر ہو گیا۔ خیال ہوا کہ حضرت قبلہؒ گھر تشریف لے گئے تو ملاقات صبح ہو گی۔ خیر گئے تو ابھی عشاء کے بعد حضرت قبلہؒ اپنے کمرہ میں تشریف فرما تھے۔ حضرت طوفانی دو دن سے روڈ پر دھکے کھا رہے تھے۔ طبیعت سخت نڈھال تھی۔ حضرت قبلہؒ نے دیکھ کر فرمایا (کیویں مہربانی فرمائی اے) کیسے تشریف آوری ہوئی۔ طوفانی صاحب نے عرض کیا۔ حضرت ! تھک گئے ہیں۔ جان نکل گئی۔ مردود مشرف حکومت پاسپورٹ میں خانہ مذہب بحال نہیں کر رہی۔ آپ دعا فرما دیں۔ حضرت قبلہؒ نے ہاتھ مبارک اٹھائے اور دیر تک دعا کرائی۔ مولانا طوفانی کا کہنا ہے کہ مجھے مجلس کے اثرات سے لگا کہ کام ہو گیا ہے۔ حضرت طوفانی صاحب فرماتے ہیں کہ اگلے دن شام اللہ وسایا نے فون کیا کہ خانہ بحال ہو گیا۔ طوفانی www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
صاحب نے فرمایا کہ میرے حضرت قبلہؒ کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالیا۔ فاالحمدللہ! یوں کئی ماہ کی محنت رنگ لائی اور مسئلہ حل ہو گیا۔
۵۳......مراقبہ میں دیکھا
مدینہ طیبہ مسجد نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں قاضی مولانا محمد ہارون راولپنڈی نے بتایا کہ ہمارے ہاں سے علماء کی ایک جماعت خانقاہ شریف حاضر ہوئی۔ وہ سب حضرت قبلہؒ کے مرید تھے۔ جا کر معلوم کیا تو پتہ چلا کہ حضرت قبلہؒ کے باہر تشریف لانے میں ابھی کچھ دیر ہے۔ ان حضرات نے موقع غنیمت جانا۔ وضو کر کے مراقب ہو گئے۔ مراقبہ میں خانقاہ شریف کے درختوں کا ایک ایک پتہ ذکر کرتا نظر آیا۔ یہ حضرات مراقبہ میں اتنے محو ہوئے۔ بھول گئے کہ ہم حضرت قبلہؒ سے ملنے آئے ہیں۔ حضرت تشریف لائے۔ حضرت بیٹھے رہے۔ مجلس ختم ہو گئی۔ حضرت قبلہؒ گھر تشریف لے گئے۔ یہ حضرات اس کے بعد مراقبہ سے فارغ ہوئے۔ ایسے ذکر الٰہی میں مستغرق ہوئے کہ مقصود حاصل ہو گیا۔ دل میں شیخ بھی نہ رہا۔ کچھ نہ رہا۔ سوائے ذات الٰہی کی یادوں کے۔ ظہر کے بعد حضرت تشریف لائے۔ کیفیت عرض کی تو فرمایا اللہ کا شکر ادا کرو۔ جس ذات کی تلاش تھی وہ مل گئی۔ بس اس کیفیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرو۔ یہ حضرات خانقاہ سراجیہ سے موسیٰ زئی شریف بھی تشریف لے گئے۔ مراقب ہوئے۔ خانقاہ سراجیہ، موسیٰ زئی شریف کی شاخ ہے۔ لیکن خانقاہ سراجیہ کے مشاہدے حضرت قبلہؒ کی موجودگی کے باعث دو بالا تھے۔
۵۴......افغانستان کا سفر؟
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ دوست محمد قندھاریؒ بانی خانقاہ موسیٰ زئی شریف قندھار کے تھے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کے پورے افغانستان میں اثرات ہیں۔ طالبان کی خواہش تھی کہ آپ (حضرت قبلہؒ) وہاں تشریف لائیں۔ آپ نے انکار فرما دیا۔ ان حضرات نے سمجھا کہ شاید بڑھاپے کے باعث سفر کی ہمت نہیں باندھ رہے۔ انہوں نے آپ سے عرض کیا کہ ہم سپیشل ہیلی کاپٹر لے آتے ہیں۔ کندیاں سے اٹھائے گا اور افغانستان کے دورہ کے بعد پھر کندیاں اتارے گا۔ آپ نے انکار فرما دیا۔ اس پر میں (صاحبزادہ عزیز احمد) نے عرض کیا کہ سفر میں کیا حرج ہے؟ فرمایا بھائی ہم نے کوئی ایسا کام نہیں کرنا جو مجلس کے مفاد کے خلاف ہو۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے جب وہاں ان کی اپنی حکومت
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
قائم تھی اور اس کا دنیا میں غلغلہ تھا۔ اس وقت آپ کا فیصلہ اور پھر بعد کے حالات نے اس کی تصدیق کی۔ اسے کہتے ہیں ”اتقوا فراسة المؤمن فانہ ینظر بنور اللہ“
۵۵...... لیبیا کا سفر؟
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ ایک بار بہت سارے علماء کا لیبیا کا ٹور کرنے کا پروگرام بنا۔ میں نے بھی پاسپورٹ جمع کرا دیا۔ ویزا لگ گیا۔ سفر کی تاریخ طے ہو گئی۔ اجازت کے لئے قبلہ حضرت صاحبؒ سے عرض کیا۔ آپ نے سختی سے منع کر دیا۔ دل مسوس کر رہ گیا۔ انکار کی گنجائش نہ تھی۔ میری بے قراری دیکھ کر فرمایا کہ لیبیا جانا کوئی اسلامی خدمت نہیں۔ کل کسی اسلامی خدمت کے لئے یورپ جانا پڑا تو آپ کے اسی سفر کی وجہ سے آپ کو مشکوک نظروں سے دیکھا جائے گا۔
۵۶...... ایرانی علماء سے ملاقات؟
فقیر راقم عرض کرتا ہے کہ حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی مرحوم اور فقیر کا پہلا سفر حج ایک ساتھ ہوا اور یہ ۱۹۸۰ء کی بات ہے۔ تب بحری جہاز سے سفر کیا۔ حضرت قبلہؒ اور محترم صاحبزادہ حافظ محمد عابد صاحبؒ بھی حج پر تشریف لائے۔ بینک الجزیرہ کے اوپر مکہ مکرمہ میں آپ کا قیام تھا۔ فقیر راقم جب موقع ملتا زیارت کے لئے حاضر ہوتا رہتا۔ اس سفر میں جناب مولانا غضنفر کراروی بھی حج کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔ مولانا کراروی نے تجویز پیش کی کہ ایران کے علماء کا وفد حضرت قبلہؒ سے ملنے کے لئے میں لے کر آتا ہوں۔ فقیر نے حضرت قبلہؒ سے عرض کیا۔ آپ نے سختی سے منع کر دیا اور فرمایا کہ ایرانیوں نے حجاز مقدس میں بہت سارے کام ایسے کئے ہیں۔ جس سے سعودی حکومت ان پر ناراض ہے۔ ہمارا ان سے ملنا خود اپنے آپ کو مشکوک بنانا ہے۔
۵۷...... ایران کا سفر؟
ایک بار فقیر نیو مسلم ٹاؤن مسجد عائشہ دفتر ختم نبوت میں قیام پذیر تھا۔ مولانا علی غضنفر کراروی کو معلوم ہوا تو ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ دوران ملاقات فرمایا۔ آغا مرتضیٰ پویا کو ایران حکومت نے پیشکش کی ہے کہ وہ پاکستان کے علماء کے وفود انقلاب ایران دیکھنے کے لئے ایران روانہ کریں۔ چنانچہ کراروی صاحب نے تجویز دی کہ مجلس کے علماء کا ایک وفد ایران کا دورہ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کرے۔ اس زمانہ میں جماعت اسلامی، نورانی میاں اور بہت سارے حضرات کے وفود ایران گئے۔ ہم نے حضرت قبلہؒ سے عرض کی۔ آپ نے سختی سے منع فرمادیا کہ بالکل اجازت نہیں۔
۵۸...... حکومتی حج
حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ تھے۔ ساری زندگی فقر وفاقہ میں گزری۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں محترم راجہ ظفر الحق حج واوقاف اور مذہبی امور کے وزیر تھے۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کا راجہ صاحب سے دوستانہ تھا۔ راجہ صاحب نے مولانا محمد شریف جالندھریؒ کو پیشکش کی کہ سرکاری وفد میں آپ کو شامل کرتے ہیں۔ آپ حج کر لیں۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے حج نہیں کیا تھا۔ حضرت قبلہؒ سے اجازت چاہی۔ آپ نے فرمایا مولانا آپ پر حج فرض نہیں۔ فرض ہوا تو اللہ تعالیٰ حج کرا بھی دیں گے۔ آپ مجلس کے ناظم اعلیٰ ہیں۔ سرکاری وفد میں حکومت سے اتنا فائدہ بھی نہ اٹھائیں۔ یہ مجلس کے مفاد کے خلاف ہے۔ چنانچہ انہوں نے راجہ صاحب کو انکار کردیا۔
۵۹...... نورانی میاںؒ سے ملاقات
۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت کے آغاز میں حضرت قبلہؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ کو ساتھ لے کر نورانی میاںؒ سے کراچی میں ملے اور تحریک کے لئے ساتھ دینے درخواست کی۔ نورانی میاںؒ نے فرمایا کہ حالات تحریک پیدا کرتے ہیں۔ ضرورت ہوگی مل بیٹھیں گے۔ اس وقت ضرورت نہیں۔ حضرت قبلہؒ اس سے مایوس نہ ہوئے۔ مولانا عبدالستار خان نیازیؒ کو ساتھ ملایا۔ مولانا مفتی مختار احمد نعیمیؒ کو ساتھ کیا۔ تحریک چلی اور نتیجہ خیز ہوئی۔
۶۰...... مولانا نورانیؒ خانقاہ سراجیہ میں
یا تو یہ کہ مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے تحریک میں ساتھ چلنے کے لئے وقت کو موزوں نہ ہونے کا عذر کیا۔ یا پھر یہی حضرت نورانی صاحبؒ خانقاہ سراجیہ تشریف لائے۔ دعوت کھائی، لائبریری دیکھی اور بہت خوش ہوئے۔ پھر ملتان ختم نبوت کانفرنس پر تشریف لائے۔ اگلے روز دفتر ملتان حضرت قبلہؒ کے ساتھ ناشتہ کیا۔ قاری زوار بہادر سے قصیدہ بردہ کی تلاوت سنی اور پھر حضرت قبلہؒ سے دعا کرائی۔
۶۱...... لال مسجد
جس وقت لال مسجد اپریشن کی بات چل رہی تھی۔ جناب اعجاز الحق وفاقی مذہبی امور
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کے وفاقی وزیر تھے۔ حضرت قبلہؒ سے انہوں نے رابطہ کیا کہ مولانا عبدالعزیز کو آپ فرمائیں کہ وہ لائبریری کا قبضہ چھوڑ دیں اور مصالحت کی طرف آئیں۔ حضرت قبلہؒ نے فرمایا۔
- الف ...... ان کے والد گرامی حضرت مولانا محمد عبداللہ سے تو بہت گہرے مراسم
تھے۔ وہ ہماری مجلس شوریٰ کے رکن تھے۔ حضرت مولانا عبدالعزیز سے رسمی ملاقات ہو تو اور بات ہے۔ ورنہ دور کی یاد اللہ ہے۔
- ب ...... حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر
مدظلہ، مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہ کے بعد اب میرے کہنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
- ج ...... اگر کسی مرحلے پر ضرورت ہوئی تو اپنے دوستوں، عالمی مجلس، جمعیت علماء
اسلام، وفاق المدارس ان حضرات کے کہنے پر مولانا عبدالعزیز سے کچھ کہنا، سمجھ میں آتا ہے۔ حکومت کے کہنے پر ان سے کچھ کہوں بالکل سمجھ سے بالاتر ہے۔ (اس لئے معذرت فرمادی)
۶۲......مولانا عبیداللہ انورؒ
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں ڈیرہ اسماعیل خان کی سیٹ سے حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے جناب بھٹو صاحب کو شکست دی۔ تو ملک بھر کے علماء و مشائخ حضرت مفتی صاحبؒ کو مبارک باد دینے کے لئے مفتی صاحب کے گھر ڈیرہ اسماعیل خان تشریف لائے۔ حضرت قبلہؒ بھی خانقاہ شریف سے عبدالخیل ڈیرہ اسماعیل خان تشریف لے گئے۔ حضرت مولانا عبیداللہ انورؒ بھی لاہور سے تشریف لائے ہوئے تھے۔ حضرت مفتی صاحبؒ کے ساتھ کافی دیر مجلس رہی۔ مفتی صاحبؒ گھر تشریف لے جانے لگے تو حضرت قبلہؒ سے فرمایا کہ آپ تھوڑا آرام فرمالیں۔ آپ لیٹے تو حضرت مولانا عبیداللہ انورؒ نے آپ کو دبانا شروع کر دیا۔ حضرت قبلہؒ نے آپ کو بہت روکا۔ لیکن مولانا عبیداللہ انورؒ بتکرار و با اصرار آپ کو دباتے رہے۔ اس سے جہاں مولانا عبیداللہ انورؒ کی بے نفسی کا ثبوت ملتا ہے وہاں حضرت قبلہؒ کی رفعت شان کا بھی پتہ چلتا ہے۔
۶۳......مولانا محمد شاہ امروٹیؒ
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ جنرل محمد ضیاء الحقؒ کے عہد اقتدار میں ایم۔آر۔ڈی کی تحریک چلی۔ اس موقعہ پر حضرت مولانا سید محمد شاہ مرحوم امروٹی سجادہ نشین امروٹ شریف کا قیام خانقاہ سراجیہ میں دو ہفتہ رہا۔ اس دوران میں جب موقعہ ملتا وہ حضرت قبلہؒ کو
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
دبانے لگ جاتے ۔ حضرت قبلہؒ کے روکنے و منع کرنے کے باوجود وہ اصرار سے حضرت قبلہؒ کو خاموش کرا کر خدمت کرتے رہتے۔
۶۴...... حضرت بنوریؒ کی دعا
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں۔ ایک بار حضرت قبلہؒ کراچی تشریف لے گئے تو اپنے استاذ حضرت بنوریؒ کی زیارت و ملاقات کے لئے مدرسہ میں تشریف لے گئے ۔حضرت بنوریؒ نے آپ کی تشریف آوری پر دلی خوشی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ جب کراچی تشریف لائیں تو قیام جامعہ علوم الاسلامیہ میں ہو ۔ اس پر حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ آپ نے اپنے لئے دعا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی کہ ہر سال حج پر تشریف لے جاتے ہیں۔ میرے لئے (حضرت قبلہؒ کے لئے ) بھی دعا فرمائیں ۔باقی رہا جامعہ العلوم الاسلامیہ میں حاضری تو کراچی سفر کے دوران ضرور حاضری ہوگی ۔ حضرت بنوریؒ نے فرمایا دعاء بھی ہوجائے گی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے کرم کیا کہ حج کا ایسے دروازہ کھلا کہ جب تک سکت رہی کبھی ناغہ نہیں ہوا۔
۶۵...... حضرتؒ کے خادم پر حضرت بنوریؒ کی شفقت
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ لاہور کے جناب محمد صادق تھے ۔جنہیں ہم چچا صادق کہتے تھے وہ حضرت قبلہؒ کے مخلص ، خادم تھے۔ حضرت قبلہؒ نے حج کے لئے سفر کیا۔ اس سفر میں حضرت قبلہؒ کے ساتھ میں (صاحبزادہ عزیز احمد ) صاحبزادہ حافظ محمد عابدؒ ، سردار فضل محمودؒ خان کویت سے کوثر صاحب اور دوسرے حضرات کا سفر ہوا۔ کویت سے روڈ کے ذریعہ حجاز مقدس کا سفر ہوا۔ مدینہ طیبہ رباط مکی پہنچے تو آگے چچا صادق گلی میں دیوانہ وار گویا جھولتے جھالتے نظر آئے۔ تعجب ہوا کہ ان کو تو خانقاہ سراجیہ چھوڑ کر آئے تھے ۔ یہ مدینہ طیبہ کیسے آگئے ؟ گاڑی سے اترے ۔تو وہ ملے۔ حضرت قبلہؒ نے پوچھا میاں صادق تم یہاں کیسے؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ کے خانقاہ شریف سے سفر حج کے بعد میں نے ٹرین سے سفر کیا ۔ کراچی آیا۔ حضرت بنوریؒ سے ملا اور عرض کیا کہ میں حضرت خواجہ خان محمد صاحبؒ کا مرید ہوں ۔ وہ حج پر چلے گئے ہیں ۔ مجھے چھوڑ گئے ہیں۔ میری طبیعت سخت بے چین ہے۔ اس بے چینی میں کراچی کا سفر کیا۔ آپ (حضرت بنوریؒ) مجھے حج پر بھجوائیں ۔حضرت بنوریؒ نے میرا پاسپورٹ بنوایا۔ فون کر کے کراچی سعودی سفارت
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۱۹۶ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
خانے سے ویز لگوایا۔ اپنی جیب سے حضرت بنوریؒ نے ٹکٹ خرید کر دیا اور کراچی ائیر پورٹ پر خود چھوڑ کر گئے۔ اس واقعہ سے اندازہ فرمایئے کہ حضرت شیخ بنوریؒ، حضرت قبلہؒ کے خدام پر اتنے شفیق تھے تو حضرت قبلہؒ کے لئے آپ کے دل میں کتنی محبت ہوگی؟
۶۶...... حضرت شیخ بنوریؒ
حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ اگر حضرت شیخ بنوریؒ کو کراچی سے حضرت قبلہؒ کے سفر حج کا معلوم ہو جاتا تو کراچی ائیر پورٹ پر سوار کرانے کے لئے ضرور تشریف لاتے۔
۶۷...... صاحبزادوں کی بات
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ میں ۱۹۷۱ء، ۱۹۷۲ء میں دارالعلوم کبیر والا میں پڑھتا تھا۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کبھی کبیر والا تشریف لاتے، تو کبھی میں ان کو ملنے قاسم العلوم ملتان چلا جاتا۔ حضرت مفتی محمودؒ، حضرت مولانا فضل الرحمٰن کی تربیت کے مسئلہ پر اتنا سخت مؤقف رکھتے تھے کہ ان کو سیر سپاٹا کی بہت کم اجازت ملتی۔ البتہ جب کبیر والا ہمارے ملنے کے لئے اجازت مانگتے تو حضرت مفتیؒ کبھی انکار نہ فرماتے۔
۶۸...... حضرت مفتی محمودؒ
اسی طرح مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ جب کبھی میں قاسم العلوم جاتا۔ حضرت مفتی صاحبؒ ہمیشہ باالالتزام مجھے اپنی چار پائی پر سرہانے کی جانب بٹھاتے۔ حالانکہ میری حیثیت ان کے بچوں جیسی تھی۔ لیکن حضرت قبلہ خواجہ خان محمد صاحبؒ کا حضرت مفتی صاحبؒ کے دل میں اتنا احترام تھا کہ ہمیشہ مجھے سرہانے کی جانب بیٹھنے کا حکم فرماتے۔
۶۹...... اولاد پر مہربان
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ خانقاہ سراجیہ پہلے والے مکان میں حضرت قبلہؒ کے کمرہ کے ساتھ میرا کمرہ تھا۔ اس زمانہ میں گھر پر گیزر نہ تھا۔ فجر سے قبل ڈبے میں پانی گرم کرتے۔ ہر روز حضرت قبلہؒ پانی کے دو لوٹے میرے لئے بھی گرم کرتے۔ ایک طہارت کے لئے ایک وضو کے لئے۔ پھر مجھے جگاتے کہ عزیز احمد پانی گرم تیار ہے اٹھو نماز کی تیاری کرو۔ بحیثیت باپ کے اولاد پر آپ کی شفقتوں کی یہ بارش تھی۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
◆ ۷۰...... تیمارداری
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ ۱۹۶۸ء میں مجھے شدید ٹائیفائڈ کا اٹیک ہوا۔ جس کے اثرات تین ماہ تک رہے۔ حضرت قبلہؒ برابر تین ماہ ہر روز میری عیادت فرماتے اور مجھے گردن وسر سے لے کر پاؤں تک دباتے۔ بحیثیت باپ کے شفقتوں ومحبت کی موسلادھار بارش کا یہ انداز تھا۔
۷۱...... شفقتوں کی بارش
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ ایک بار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوریٰ کا اجلاس رکھنا تھا۔ میرا اصرار تھا کہ اجلاس خانقاہ شریف ہو جائے۔ آپ کی صحت متحمل نہیں۔ آپ لمبا سفر نہ کریں۔ لیکن حضرت قبلہؒ کا اصرار تھا کہ مجھے ملتان جانے میں تھوڑی بہت دقت ہوگی۔ خیر ہے، مہمان اتنا لمبا سفر کر کے خانقاہ شریف آئیں؟ تو مجھے ملتان چلے جانا چاہئے۔ میرے اصرار کے باوجود حضرت قبلہؒ نے ملتان اجلاس کی تاریخ رکھنے کا فیصلہ دے دیا۔ ملتان اطلاع کر دی گئی۔ میری بات نہ مانی گئی۔ میں نے موڈ بنالیا۔ منہ بسوڑا کپڑا تان کر حضرت قبلہؒ کے کمرہ کے ایک کونہ میں لیٹ گیا۔ نماز کا ٹائم ہوا۔ حضرت قبلہؒ نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ آپ کے جانے کے بعد میں بھی گیا۔ نماز پڑھی۔ آپ کو مسجد سے گھر لے کر حاضر ہوا۔ کافی دیر کمرہ میں گم سم موڈ بنائے بیٹھا رہا۔ کافی دیر کے بعد جب گھر جانے کے لئے اجازت چاہی تو مصافحہ کے لئے میرے دونوں ہاتھ اپنے مبارک ہاتھوں میں لئے اور فرمایا کہ: ”ناراض نہیں ہوا کرتے۔“ اس بات سے میں پانی پانی ہو گیا۔ کلفت جاتی رہی۔ آج حضرت قبلہؒ کی ان شفقتوں کو یاد کرتے ہیں تو دل ڈوب ڈوب جاتا ہے۔
۷۲...... سلیقہ کی زندگی
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے ایک (کی رنگ) چابی کا چھلہ دکھایا جو ٹوٹا ہوا تھا۔ فرمایا کہ حضرت قبلہؒ کی چابیاں عمر بھر اس چھلہ میں رہیں۔ آخری چند سالوں کی بات ہے۔ وہ چابیاں صاحبزادہ نجیب احمد کو الماری کھولنے کے لئے عنایت کیں۔ الماری کا تالا جب بند کیا تو چھلہ سے نجیب کھیلنے لگ گئے۔ مروڑ دیا تو اس سے وہ ٹوٹ گیا۔ حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ بھیرہ طالب علمی کے زمانہ میں چابیوں کا یہ چھلہ خریدا تھا۔ قریباً ستر، پچھتر سال آپ کے پاس رہا۔ اس سے سمجھ میں
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
آسکتا ہے کہ آپ نے کس طرح قرینہ وسلیقہ سے زندگی گزاری۔ (وہ ٹوٹا ہوا چھلہ آپ نے پھر الماری میں رکھ دیا۔ اب وفات کے بعد محترم صاحبزادہ عزیز احمد نے وہ سنبھال لیا ہے)
۷۳...... زندگی بھر
محترم صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ زندگی بھر حضرت قبلہؒ نے کپڑوں کے چار سے زیادہ جوڑے نہیں رکھے۔
۷۴...... طالب علموں کی لڑائی
مولانا محمود الحسن مبلغ عالمی مجلس لندن نے بتایا کہ حضرت قبلہؒ مدرسہ کے طالب علموں پر بہت شفیق تھے۔ عصر کے بعد طالب علم گیند کھیلتے۔ اگر وہ حضرت قبلہؒ کے سامنے آ کر گرتی۔ حتیٰ کہ پاؤں یا جھولی میں گرتی تب بھی آپ ناراض نہ ہوتے۔ بلکہ خندہ پیشانی سے طالب علموں کو واپس فرما دیتے۔ ایک بار میانوالی کا نیازی طالب علم عبیداللہ نے دوسرے نابینا طالب علم فاروق سے مذاق کیا کہ اس پر چاقو تان کر اس کو مرعوب کرنا چاہا۔ نابینا طالب علم نے شوخی میں انگڑائی لی تو اس کے کندھوں کے درمیان پورے چاقو کا پھل چلا گیا۔ مشکل سے نکالا۔ خون کے فوارے جاری ہو گئے۔ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد نے فاروق کو لیا اور میانوالی ہسپتال لے گئے۔ اتنے میں حضرت قبلہؒ گھر سے تشریف لائے تو بہت سارے ساتھیوں نے شکوہ کیا کہ چاقو مارا۔ وہ لہولہان ہو گیا۔ کپڑے خون سے رنگین ہو گئے۔ خون بند نہ ہوتا تھا۔ اس حالت میں ہسپتال لے کر گئے ہیں۔ اب خیال تھا کہ اس واقعہ پر حضرت قبلہؒ کا کتنا شدید ردّعمل ہوتا ہے؟ اب شکایتیوں نے جب شکایات کے انبار ختم کئے تو آپ نے صرف اتنا فرمایا کہ کیا ہوا۔ گھر میں بچوں کی لڑائی نہیں ہوا کرتی؟ طلباء پر شفقت کا یہ عالم تھا۔ جس کی ادنیٰ مثال یہ واقعہ ہے۔
۷۵...... حضرت قبلہؒ کی صاحبزادی کو نصیحت
محترم صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ ہم پانچ بھائیوں کی ایک ہمشیرہ ہیں اور وہ سب سے بڑی ہیں۔ بالکل خاموش طبع ،لیکن کبھی کبھار اگر کسی بات پر غصہ کا اظہار ہوتا ہے تو شدید! کہ پورے گھر والے ان کے غصہ سے خائف ہوجاتے ہیں۔ حضرت قبلہؒ کی صرف یہ اکیلی بیٹی ہیں۔ آپ سے بھرپور محبت کرتی ہیں۔ بچپنے سے اب تک اس ہمشیرہ کا معمول یہ رہا کہ جب
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۱۹۹ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
حضرت قبلہؒ اندر گھر تشریف لاتے یہ آپ کے پہلو میں بیٹھی رہتیں۔ حضرتؒ بھی ان سے بہت شفقت فرماتے۔ صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ ہمیں اندیشہ تھا کہ حضرت قبلہؒ کی وفات کے سانحہ پر اس بہن کو اتنا شدید صدمہ ہونا ہے کہ ان کو سنبھالنا مشکل معرکہ ہوگا۔ لیکن اللہ رب العزت کی شان بے نیازی کہ ادھر حضرت قبلہؒ کا وصال ہوا۔ ادھر ہمشیرہ محترمہ صبر و رضا کا ایسا پیکر بنیں کہ ایک آنسو نہیں ٹپکا اور ایک بار رونے کا نام نہیں لیا۔ ہمیں شدید حیرت ہوئی کہ یہ انقلاب کیسے آگیا؟ ہمیں تو ان کی طرف سے کھٹکا تھا کہ ان پر وصال کا ایسا شدید دباؤ ہوگا کہ شاید ان کو سنبھالنا مشکل کام ہوگا۔ چنانچہ پوچھا، بہن کیا ہوا؟ تو انہوں نے فرمایا کہ وفات سے دو روز قبل حضرت قبلہ والد گرامیؒ خواب میں ملے اور مجھے فرمایا کہ میرے جانے کا وقت قریب آگیا ہے۔ آپ نے بے صبری بالکل نہیں کرنی اور نہ رونا ہے۔ میں نے خواب میں وعدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا صبر دے دیا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں۔
۷۶...... خوب رہا
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ کوہاٹ کے مجاہد ختم نبوت بھائی محمد علی جنازہ پر تشریف لائے تو دیکھا کہ کوہاٹ کے جناب مولانا جمشید جو دبئی میں ہوتے ہیں۔ جن سے محمد علی کا برابر کا رابطہ ہوتا ہے۔ وہ جنازہ پر خانقاہ شریف موجود ہیں۔ بہت تعجب ہوا کہ یہ تو دبئی میں تھے۔ یہ اتنی جلدی یہاں کیسے آگئے؟ پھر یہ کہ آنے کی اطلاع بھی نہیں کی، تو تعجب کے ساتھ ان سے پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ حضرت قبلہؒ کی وفات سے ایک ہفتہ قبل خواب میں زیارت ہوئی۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میرے جانے کا وقت آ گیا ہے۔ خواب میں آپ سے پوچھا کہ کتنے روز بعد۔ فرمایا کہ ایک ہفتہ بعد۔ میں صبح اٹھا تو چھٹی کی درخواست دی۔ پاکستان آنے کی تیاری کرنے لگ گیا۔ تین چار روز بعد چھٹی منظور ہو گئی۔ پھر سیٹ کی بکنگ ہو گئی۔ بدھ مورخہ ۵؍مئی شام کو لاہور اترا۔ گاڑی پر بیٹھا سرگودھا آیا۔ تو وہاں کے دوستوں نے بتایا کہ حضرت قبلہؒ کا وصال ہو گیا ہے اور یہ ٹھیک خواب کے مطابق ایک ہفتہ ہی بنتا ہے۔ سرگودھا سے بجائے گھر جانے کے سیدھا خانقاہ شریف آگیا۔ سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس پر مہربانی فرما دیں تو ایسے ہو جاتا ہے۔
۷۷...... حج وعمرہ
صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ عمر بھر حضرت قبلہؒ صحت کے زمانہ میں حج وعمرہ کرتے
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
رہے۔ جب صحت سفر کے قابل نہ رہی تو حج کا سفر موقوف ہوا۔ جس سال سے آپ کا سفر حج موقوف ہوا۔ اس سال سے ہر سال بے شمار دوست حضرت قبلہؒ کی طرف سے حج بدل کرتے ہیں۔ ایک سال جن دوستوں نے (حضرت قبلہؒ کی زندگی میں) آپ کی طرف سے حج بدل کیا ان کا شمار کیا تو اسی کے قریب تعداد ہوگئی۔ اسی طرح وصال کے بعد جو عمرے یا طواف دوستوں نے کئے وہ تو بلا مبالغہ شمار سے بھی زیادہ۔
۷۸...... بانی تبلیغ مولانا محمد الیاسؒ سے ملاقات
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند میں تعلیم کے دوران ہم طلباء کا وفد دہلی گیا۔ وہاں سے نظام الدین گئے۔ تب حضرت مولانا محمد الیاسؒ وہاں تشریف فرما تھے۔ ہم آپ کے کمرہ میں داخل ہوئے۔ اسلام علیکم کہا۔ آپ کسی ایک آدمی سے گفتگو فرما رہے تھے۔ اشارہ سے کمرہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ہم باہر رک گئے۔ اس آدمی سے فارغ ہوئے۔ ہم اندر داخل ہوئے۔ آپ نے بہت اکرام کیا۔ علیک سلیک ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ جب دو آدمی علیحدگی میں بات کر رہے ہوں تو داخل نہیں ہوا کرتے۔ پھر تعارف ہوا۔ جب ہم نے بتایا کہ ہم دارالعلوم دیوبند کے دورہ حدیث کے طلباء ہیں تو بہت خوشی کا اظہار کیا۔ موقعہ کی مناسبت سے کھلایا پلایا بھی اور ساتھ ہی فرمایا کہ آپ علماء کو تبلیغی جماعت کے ساتھ مل جانا چاہئے۔ اگر علماء نہ ملے تو مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں اس پر جہلاء کا قبضہ نہ ہو جائے۔ اگر ایسے ہو گیا تو پھر بہت نقصان کی بات ہو گی۔
۷۹...... حضرت حاجی عبدالوہاب امیر تبلیغ
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ حضرت قبلہؒ کو ایک بار رمضان شریف میں ایک ران پر پھوڑا نکل آیا۔ مجبوراً آپریشن کرایا۔ اس دوران میں بہت سے علماء و مشائخ عیادت کے لئے تشریف لائے۔ دیگر حضرات کے علاوہ حاجی عبدالوہاب بھی تشریف لائے۔ (یہ ۱۹۸۶ء، ۱۹۸۷ء کی بات ہے) تب محترمہ بے نظیر صاحبہ وزیراعظم تھیں۔ پنجاب میں نواز شریف وزیر اعلیٰ تھے۔ اندرون سندھ میں مدتوں سے قیام پذیر پنجابیوں کو نکالا جا رہا تھا۔ روز روز قافلے در قافلے سندھ جائیدادیں چھوڑ کر پنجاب آ رہے تھے تو اس موقعہ پر حاجی عبدالوہاب نے فرمایا کہ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
سندھ سے آ رہا ہوں۔ وہاں کے حالات یکسر بدل رہے ہیں۔ عصبیت زوروں پر ہے۔ یہی حال رہا تو پتہ نہیں ملک کا کیا بنے گا؟ میرے خیال میں دو آدمی اس صورتحال پر کنٹرول کر سکتے ہیں اور وہ دونوں آپ (حضرت خواجہ صاحبؒ ) کا حکم مانیں گے۔ ان کا اندرون سندھ کا دورہ رکھا جائے تو انشاء اللہ یہ صورتحال ٹھیک ہو جائے گی اور ملک کا فائدہ ہوگا۔ وہ دو حضرات ایک تو نوابزادہ نصر اللہ خانؒ ، دوسرے مولانا فضل الرحمن ہیں۔ ان کو آپ سندھ بھجوائیں۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ ڈیڑھ دو گھنٹہ حاجی عبدالوہاب، حضرت قبلہؒ کے پاس رہے اور یہی گفتگو فرماتے رہے۔ اس دن اندازہ ہوا کہ حاجی صاحب صرف تبلیغ کے رہنما نہیں بلکہ سیاسی حالات پر بھی ان کی گہری نظر ہے۔
۸۰...... حضرت قبلہؒ کی عرب کو نصیحت
برطانیہ کے جناب ڈاکٹر عبدالرحمن خالد فرماتے ہیں کہ ہمارے حضرت قبلہؒ تشریف لائے۔ ملنے کے لئے بہت سارے حضرات آئے۔ ملے اور چلے گئے۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ آپ کے شیخ نے تو کوئی بات بھی نہ فرمائی۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ نے کوئی بات پوچھی ہو، جواب نہ دیا ہو پھر تو فرمائیں؟ بلا سوال کے نہ بولنا تو محل اعتراض نہیں۔ فرماتے ہیں کہ اسی سفر میں ایک عرب دوست جن کی چھوٹی چھوٹی کھونٹی سی داڑھی تھی۔ مجھے کہا کہ آپ کے شیخ سے مجھے ملنا ہے۔ میں نے حضرت قبلہؒ سے عرض کی آپ نے اجازت دی۔ فرمایا کہ بلاؤ۔ وہ عرب آئے۔ حضرت قبلہؒ سے محبت سے ملے۔ بیٹھتے ہی انہوں نے کہا کہ حضرت مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ آپ کی داڑھی سنت کے خلاف ہے۔ حضرت قبلہؒ نے اپنی داڑھی کو ہاتھوں میں لے کر فرمایا کہ اس طرح قبضہ برابر داڑھی مسنون ہے۔ اسی وقت عرب نے کہا کہ واللہ آپ سے (حضرت قبلہؒ ) وعدہ رہا کہ آئندہ کبھی داڑھی نہ کٹواؤں گا۔ تا آنکہ قبضہ برابر نہ ہو جائے۔ حضرت قبلہؒ نے انبساط سے دعائیہ کلمات ارشاد فرمائے اور وہ عرب فرحاں فرحاں رخصت ہوئے اور پھر انہوں نے داڑھی رکھ لی۔
۸۱...... ٹیپ کا خاموش ہونا
مولانا محمد مکین امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت برطانیہ فرماتے ہیں کہ میں اور ڈاکٹر
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۲۰۲ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
عبدالرحمن خالد دونوں نے ”ایضاح الطریقہ“ تصوف کی کتاب حضرت قبلہؒ سے سبقاً پڑھنی شروع کی۔ ختم نبوت کانفرنس برطانیہ کے لئے آپ کی تشریف آوری ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب کے ہاں قیام تھا۔ فرصت میں ہم کتاب لے کر حضرت قبلہؒ سے سبق پڑھتے۔ ایک دن ہم دونوں نے کہا کہ چپکے سے آج ٹیپ ریکارڈ لگا لیتے ہیں۔ سبق ٹیپ ہو جائے گا۔ ہم نے خفیہ ٹیپ ریکارڈ لگا دی اور سبق پڑھنے بیٹھ گئے۔ اس دن سبق بھی لمبا ہو گیا۔ حضرت قبلہؒ نے وضاحت میں بیان بھی خوب فرمایا۔ لیکن جب سبق سے فراغت کے بعد ٹیپ ریکارڈ چلایا تو ایک حرف بھی ٹیپ نہیں ہوا تھا۔ تب سمجھ میں آیا کہ شیخ سے چوری چوری جو کام کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے ناکام کر دیا۔
۸۲......حضرت کا کمال ضبط
مولانا محمد نگین فرماتے ہیں کہ حرم شریف میں ترکی برآمدے میں عین قبلہ جہت حضرتؒ مراقب تھے۔ کچھ دیر بعد آپ نے مراقبہ سے سر اٹھایا تو میں نے بڑھ کر گذارش کی کہ پانی نوش فرمائیں گے؟ آپ نے اثبات میں اشارہ کیا۔ میں جلدی میں اٹھا اور تعمیل ارشاد کا ایسا مجھ پر غلبہ تھا کہ زمزم کا پانی لیتے ہوئے ٹھنڈے کولر کی بجائے گرم کولر سے گلاس بھر کے لے آیا۔ آپ نے نوش جان فرمایا۔ آخری چند گھونٹ مجھے بھی عنایت فرمائے۔ میں نے وہ پیئے تو وہ گرم زمزم تھا۔ ندامت سے مر گیا۔ ٹھنڈا زمزم لے کر آیا اور پیش کیا۔ آپ نے وہ بھی نوش فرمایا۔ اس کے بھی آخری چند گھونٹ مجھے عنایت فرمائے۔
۸۳......حضرت کا اثر
مولانا محمد نگین فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت قبلہؒ کی خدمت میں رہتے ہوئے ایسے اندازہ ہو جاتا تھا کہ اب آپ کو پانی ضرورت ہے۔ اب کھانا تناول کرنا چاہتے ہیں۔ اب وضو بنانا چاہتے ہیں۔ اب آرام فرمانا چاہتے ہیں۔ اب چائے کو طبیعت کرتی ہے۔ جونہی جس چیز کا میرے دل پر خیال کا غلبہ ہوا۔ عرض کیا تو آپ نے اسی چیز کو لانے کا حکم فرمایا۔ مولانا نگین صاحب کا کہنا ہے کہ حضرت قبلہؒ کی طبیعت مبارک میں جس چیز کی طلب کا داعیہ ہوتا اسی چیز کا حضرت قبلہؒ کی برکت سے میرے قلب پر داعیہ پیدا ہو جاتا اور بغیر حضرت قبلہؒ کے مانگنے کے آپ سے اجازت لے کر وہ چیز آپ کی خدمت میں پیش کر دی جاتی۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
۸۴....... لالہ سعید کا کمال
محترم صاحبزادہ سعید احمد نے بتایا کہ برمنگھم ختم نبوت کانفرنس کے موقعہ پر حاجی محمد شریف کے ہاں قیام تھا۔ حضرت قبلہؒ نے چائے نوش کرنی تھی۔ میں باورچی خانہ میں گیا۔ دیکھا کہ خوبصورت نفیس مرتبان میں چینی رکھی تھی۔ میں نے سیپرٹ چائے بنائی۔ دستر خوان پر لا کر رکھی۔ حضرت قبلہؒ کے کپ میں تین چمچ ڈالے ۔ چائے بنائی ۔ پیش کر دی ۔ آپ نے نوش فرمانا شروع کر دی ۔ باقی متوسلین کی اجازت و خواہش سے کسی کے کپ میں ایک چمچ کسی کے کپ میں دو چمچ ۔ آخر میں ایک کپ اپنے لئے بنایا تو اس میں بھی ایک چمچ ڈالا ۔ چائے بنائی اور بڑے مزے سے پہلا گھونٹ لیا تو میری حیرت کی انتہاء نہ رہی۔ جسے میں چینی سمجھ کر اٹھا لایا تھا وہ تو خیر سے نمک ہے ۔ اب میں نے عرض کی کہ حضرت قبلہؒ یہ کیا ہوا آپ تمام حضرات میں سے کوئی بھی نہیں بولا ؟ اور اتنے تیز نمک کی چائے بن گئی ۔ حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ تمہارے ہاتھوں میٹھی چائے ملتی تھی پی لیتے تھے ۔ آج نمکین ملی تو وہ بھی لے لی ۔ بولنے کی ضرورت اس لئے نہ سمجھی کہ آخر آپ نے اپنے لئے بنانی ہے ۔ جب پئیں گے تو ہمارے بولے بغیر آپ کو احساس ہو جائے گا۔ تو جو بن بولے کام ہو جانا ہے اس پر بولنے کا کیا فائدہ؟ صاحبزادہ فرماتے ہیں کہ میں نے تمام کپ واپس لئے۔ نئی چائے بنائی اور اسی طرح کا دوسرا مرتبان جس میں چینی تھی چکھ کر وہ لے آیا اور دوبارہ سب کو چائے پلائی ۔
۸۵....... طالب علموں پر شفقت
ڈاکٹر عبدالرحمن خالد فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانویؒ المعروف حضرت ثانیؒ کی مسند نشینی کے دور میں مدرسہ کا تمام نظم حضرت قبلہ مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کے سپرد تھا۔ ایک دن میں عصر کے بعد تسبیح خانہ کے برآمدہ کے کونہ میں بیٹھا تھا۔ چھٹی ہوئی۔ طالب علم وہاں سے جو بھی گزرے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، واپس ہوں تو پھر بھی۔ جو آئے ”السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ“ خاصی دیر تو میں جواب دیتا رہا۔ اتنے میں حضرت قبلہؒ تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت ان تمام طلباء حضرات نے تو میرا شکنجہ کس دیا ہے۔ ”السلام علیکم ورحمتہ اللہ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
وبرکاتہ“ کی لائن لگی ہے۔ کیا کروں؟ حضرت قبلہ مسکرائے فرمایا بھائی یہ مدرسہ کے طالب علم ہیں۔ ان کو تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی تربیت دی جاتی ہے کہ آتے جاتے جو سامنے ملے اسے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ پورا سلام کئے بغیر نہ گزرو۔ اب اتفاق سے آپ گزرگاہ پر بیٹھے ہیں۔ تو ایسے تو ہوگا۔ تھک گئے ہو تو ادھر ادھر ہو جاؤ۔ ورنہ ان طلباء نے تو اپنے وظیفہ کا ناغہ نہیں کرنا۔
۸۶...... بیعت نے مزاج بدل دیا
مولانا محمد نگین فرماتے ہیں کہ ہم چھچھ کے رہنے والے اور پھر خاندانی طور پر ملک برادری بات بات پر الجھاؤ۔ جھگڑا، لڑائی، ڈانٹ ڈپٹ تو ہمارے مزاج کا حصہ تھی۔ حضرت قبلہؒ سے بیعت ہوئی تو مزاج بدل گیا۔ ہمارے گاؤں سے پانچ حضرات حضرت قبلہؒ کی زیارت کے لئے خانقاہ شریف آئے کہ اس پیر کی زیارت کرنی ہے۔ جس نے ہمارے ملکوں کی لڑائی الجھاؤ والی طبیعت بدل دی ہے۔ وہ آئے تو زیارت کے لئے تھے۔ مگر خود بھی بیعت ہو کر گئے۔ مولانا نگین فرماتے ہیں کہ اب تو مزاجاً لڑائی جھگڑا کو پسند نہیں کرتا۔ (گویا حضرت قبلہؒ کی بیعت نے مزاج یعنی جبلت ہی بدل دی)
۸۷...... جامعہ اشرفیہ میں ورود مسعود
صاحبزادہ سعید احمد فرماتے ہیں کہ ۲۰۰۹ء کی ختم نبوت کانفرنس چناب نگر پر سخت معذوری کے باوجود حضرت قبلہؒ تشریف لے گئے۔ وہاں سے لاہور کا سفر ہوا۔ لیکن طے کر لیا کہ لالہ رشید احمد کے مرکز سراجیہ میں حضرت کا قیام ہوگا۔ کہیں حضرت قبلہؒ کو لے کر نہیں جانا۔ جس نے ملنا ہے حضرت قبلہؒ کی قیام گاہ پر آجائے۔ لاہور جامعہ اشرفیہ کے حضرات کا اصرار بڑھا تو میں نے سوچا کہ اتنے علماء، مشائخ، اساتذہ، طلباء وہ کیسے حضرت قبلہؒ کی جائے قیام پر آئیں۔ اچھا ہے کہ حضرت قبلہؒ کے وہاں کا سفر ہو جائے۔ اتنے میں ایک اور ساتھی جس نے اپنی فیکٹری بنائی۔ جناب آصف بھٹی ان کا مجھ پر شدید دباؤ کہ ایک بار حضرت ایک منٹ کے لئے چار دیواری میں تشریف لائیں تو میں نے ان سے بھی وعدہ کر لیا۔ جس دن ائیر پورٹ جانا تھا۔ ذرا جلدی کی اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ پہلے جامعہ اشرفیہ والوں کو اطلاع تھی۔ مین گیٹ سے مسجد کے دروازہ تک دورویہ علماء طلباء کھڑے، مسجد کے دروازہ پر اساتذہ و مشائخ جمع۔ اس دوران میں حضرت قبلہؒ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۲۰۵ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کی گاڑی گذری تو نعروں کی گونج سے جامعہ کے درودیوار جھوم اٹھے۔ مدرسہ و مسجد کے گیٹ پر گاڑی میں بیٹھے بیٹھے علماء سے مصافحہ ودعا فرمائی اور چل دیئے۔ راستہ میں آصف بھٹی کے ہاں بھی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ایک گلاس جوس کا نوش کیا۔ دعا فرمائی اور چل دیئے۔ بعد میں حضرت قبلہؒ کے وصال کے بعد آصف بھٹی نے خواب میں دیکھا کہ حضرت قبلہؒ کو ویل چیئر پر بٹھا کر میں (لالہ سعید احمد) فیکٹری کا وزٹ کرا رہا ہوں۔ آصف صاحب نے علماء سے تعبیر پوچھی تو انہوں نے کہا کہ شیخ کے تیرے ہاں تشریف لانے سے رکاوٹیں دور ہوں گی۔ برکات کی بارش ہوگی۔
۸۸...... حافظ ابوذر بخاریؒ
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ مولانا سید حافظ ابوذر بخاریؒ ملتان گھر پر زیر علاج تھے۔ حضرت قبلہؒ عیادت کے لئے تشریف لے گئے تو ابن امیر شریعت سید ابوذر بخاریؒ پر گریہ کی کیفیت طاری ہوگئی اور فرمایا کہ میں خانقاہ شریف آنے کے لئے بے قرار تھا۔ ساتھیوں سے عرض کیا کہ مجھے جیسے کیسے لے چلو۔ حضرت قبلہؒ کی زیارت سے دل کی دنیا کو قرار آجائے۔ آپ نے کرم کیا کہ خود کنواں پیاسے کے پاس آ گیا۔ خیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں تو حافظ سید ابوذر بخاریؒ کی طبیعت میں بشاشت آ گئی۔ چائے آئی، حضرت قبلہؒ سمیت سب مہمانوں نے پی۔ اب حضرت قبلہؒ نے اجازت چاہی تو حافظ سید ابوذر بخاریؒ نے فرمایا کہ حضرت سو روپیہ کا لال لال نوٹ عنایت فرمادیں۔ حضرت قبلہؒ نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور حضرت حافظ سید ابوذر بخاریؒ کو سو روپیہ کا نوٹ تھما دیا۔ تو اس پر حافظ سید ابوذر بخاریؒ نے فرمایا کہ میں اپنے ابا جی (حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ) سے بھی ایسے ہی پیسے مانگا کرتا تھا۔ ان کی اس اپنائیت ومحبت بھری گفتگو پر پوری مجلس سراپا رقت بن گئی۔
۸۹...... پوچھو کیا کام ہے
محترم صاحبزادہ سعید احمد فرماتے ہیں کہ ایک بار دوپہر کو حضرت قبلہؒ کو کھانا کھلایا مہمان مستورات آئی ہوئی تھیں۔ ان کو زیارت کرائی۔ دروازہ بند کیا۔ حضرت قبلہؒ کو چار پائی پر لٹایا اور خود نیچے فرش پر لیٹ گیا۔ خود بھی تھکا ہوا تھا۔ چند منٹ گزرے کہ حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ باہر دیکھو کوئی عورت ہے۔ میں نے عرض کی حضرت کوئی نہیں سب نے ملاقات کر لی ہے۔ حضرت خاموش
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ہو گئے۔ میری آنکھ لگنے لگی تو حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ باہر کوئی عورت ہے۔ پوچھو کیا کام ہے؟ میں نے عرض کیا حضرت سب مہمان عورتوں نے زیارت کر لی ہے۔ اب دوپہر کا وقت ہے۔ دروازہ بند ہے۔ یہاں کسی کو کیا کام ہے؟ آپ آرام فرمائیں۔ حضرت قبلہ لیٹ گئے۔ تھوڑی دیر بعد پھر تیسری بار آواز دی۔ سعید احمد باہر دیکھو کوئی عورت ہے۔ کیا کہتی ہے؟ صاحبزادہ سعید احمد کہتے ہیں کہ مجھ پر نیند کے غلبہ کی کاہلی سوار تھی۔ لیکن حضرت قبلہؒ کا حکم تھا۔ دروازہ کھولا تو گیلری میں کوئی نہ تھا۔ برآمدہ میں گیا تو واقعی ایک بہن جو لاہور سے تشریف لائی تھیں۔ برآمدہ میں بیٹھی تھیں۔ ان کو بلا کر لایا۔ انہوں نے حضرت قبلہؒ سے دعا کرائی اور اس کے بعد پھر حضرت قبلہؒ نے آرام فرمایا۔
۹۰...... لطائف تصوف
حضرت مولانا محمد نگین فرماتے ہیں کہ نقشبندی سلسلہ طریقت میں جو لطائف کے اسباق دیئے جاتے ہیں۔ ایک لطیفہ سے دوسرے کی طرف انتقال کرنے میں شیخ کامل کی توجہ اکسیر اعظم کا درجہ رکھتی ہے اور یہی کمال حضرت الشیخ حضرت قبلہؒ کو حاصل تھا کہ ادھر توجہ ہوئی۔ ادھر ایک لطیفہ سے دوسرے لطیفہ کی طرف انتقال ہو جاتا اور اس انتقال کی جو کیفیت ہوتی وہ بھی اسی وقت محسوس ہوتی۔
۹۱...... حرم میں عصر
مولانا محمد نگین فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کی کہ سعودی حضرات تو مثلِ اوّل میں عصر پڑھ لیتے ہیں۔ جبکہ احناف کے نزدیک ابھی عصر کا وقت داخل نہیں ہوتا تو حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ میرے حضرتؒ (یعنی حضرت ثانیؒ) کبھی ان کے ساتھ پڑھ لیتے اور کبھی مثل ثانی میں اپنی جماعت کراتے۔ البتہ علمائے دیوبند ان کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں۔ اس لئے ساتھ مثلِ اوّل میں پڑھ لینی چاہئے۔
۹۲...... کرسی پر طواف
مولانا محمد نگین فرماتے ہیں کہ میں اور صاحبزادہ محمد عابدؒ ، حضرت قبلہؒ کے ساتھ تھے۔ صاحبزادہ محمد عابدؒ وہیل چیئر لے کر آئے اور حضرت قبلہؒ سے عرض کیا کہ طواف وسعی آپ کو اسی پر کرانی ہے۔ یہ پہلی بار کرسی پر طواف کرانا تھا۔ حضرت قبلہؒ نے انکار کر دیا۔ صاحبزادہ صاحبؒ نے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
عرض کیا کہ نہیں آپ کرسی پر تشریف رکھیں۔ آپ کمزور ہیں۔ طواف کر بھی لیا تو اتنی تھکاوٹ ہو جائے گی کہ سعی کرنی آپ کے لئے ناممکن ہو جائے گی۔ وہ تو لامحالہ کرسی پر ہی کرانی پڑے گی اور پھر ایک طواف سے اتنے تھک جائیں گے کہ رہائش سے حرم شریف آنے کی سکت نہ رہے گی۔ یہ کرسی حاضر ہے۔ مولانا نگین طواف و سعی کرائیں گے۔ آپ مہربانی فرمائیں۔ حضرت قبلہؒ مان گئے۔ یوں حضرت قبلہؒ نے زندگی میں پہلی بار طواف و سعی کرسی پر کی اور یہ سعادت میرے (مولانا محمد نگین) حصہ میں آئی۔ جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ بہت ہی سہولت رہی۔
۹۳...... حضرتؒ کی بشاشت
مولانا محمد نگین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قبلہؒ کے چہرہ مبارک سے اندازہ فرمایا کہ جب ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے آتے تو حضرت قبلہؒ کی بشاشت طبع واضح طور پر چہرہ سے عیاں ہوتی تھی۔ اسی طرح جب مولانا فضل الرحمٰن تشریف لاتے تب بھی حضرت قبلہؒ کی طبیعت شگفتہ ہو جاتی تھی۔ ایک بار برطانیہ میں حضرت قبلہؒ کے ایک ملنے والے نے جوں مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف باتیں شروع کیں۔ حضرت قبلہؒ سنتے رہے۔ جوں ہی اس کی بات ختم ہوئی آپ نے فرمایا کہ سیاست میں ہمارے ایک مولانا ہیں۔ لوگ ان سے بہت جلتے اور حسد کرتے ہیں۔ وہ صاحب اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔
۹۴...... مقامِ حضوری
مولانا محمد نگین فرماتے ہیں کہ آخری سالوں میں میں (مولانا نگین) نے مشاہدہ کیا کہ حضرت قبلہؒ کی زبان مبارک اور دل کا خیال مبارک ہر وقت یاد الٰہی کی طرف مشغول رہتا۔ جب کوئی شخص مصافحہ کرتا یا کوئی سوال یا بات چیت کرتا تب بڑے تکلف سے حضرت اپنے ذکر دائمی کے ماحول سے نکل کر اس کی طرف متوجہ ہوتے۔ لیکن فوراً پھر ذکر دائمی یا حضور قلبی کے ماحول میں چلے جاتے۔ یہ حضرت قبلہؒ کا کمال تھا اور سو فیصد صحیح واقعہ ہے کہ حضرت قبلہؒ دائمی حضوری کے منصب سے سرفراز تھے۔
۹۵...... اپنے قلب کو شیخ کے قلب کی طرف متوجہ رکھیں
مولانا محمد نگین فرماتے ہیں کہ میں نے سفر برطانیہ، سفر حرمین، سفر پاکستان میں حضرت
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
قبلہؒ سے بہت ساری تصوف کی کتابیں پڑھی ہیں۔ حضرت قبلہؒ فرماتے تھے کہ جب شیخ کے پاس بیٹھو تو اپنے قلب کو شیخ کے قلب کی طرف متوجہ رکھو اور تصور کرو کہ شیخ کے قلب سے یاد الٰہی کی کیفیات وبرکات کا میرے دل پر نزول ہورہا ہے۔ چنانچہ جب میں (مولانا ننگین) ایسے کرتا تو اس وقت دل کی کیفیت عروج پر ہوتی۔
۹۶...... آپ کی دعا نے صلح کرادی
مولانا محمد ننگین فرماتے ہیں کہ میرے ایک چچا اور دوسرے چچازاد بھائیوں میں زمین کا ایک قضیہ شدت اختیار کرگیا۔ حضرت قبلہؒ سے عرض کی کہ حضرت! میرے قریبی رشتہ داروں میں زمین کا تنازعہ ہے۔ معاملہ حل نہیں ہورہا۔ اندیشہ ہے کہ معاملہ قتل وقتال تک نہ پہنچ جائے۔ بہت کوشش کی ہے مسئلہ حل نہیں ہورہا۔ کیا کریں۔ حضرت قبلہؒ نے فرمایا ایک بار پھر کوشش کریں کہ صلح ہوجائے۔ حضرت قبلہؒ کے یہ الفاظ سن کر میں گھر گیا۔ معاملہ کو پھر چلایا۔ تو وہ چچا جو پہلے بات ہی نہ سنتے تھے وہ خاموش ہوگئے۔ ایک عزیز نے کہا کہ اب چچا میاں کا منہ کیسے بند ہوگیا۔ میں (مولانا ننگین) نے کہا کہ میانوالی سے بندھوا کر آیا ہوں۔ خیر بات چلی اور صلح ہوگئی اور قتل وقتال کا اندیشہ ختم ہوگیا۔
۹۷...... دیر تک دیکھتے رہے
محترم صاحبزادہ سعید احمد فرماتے ہیں کہ آخری بار جب ملتان ہسپتال میں عیادت کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے اجازت چاہی تو حضرت قبلہؒ نے صرف مصافحہ کیا اور کوئی بات نہ فرمائی۔ حالانکہ مولانا فضل الرحمٰن پہلے جب بھی اجازت کے لئے مصافحہ کرتے تو حضرتؒ ڈھیر ساری دعائیں فرماتے۔ اس روز بالکل خاموش رہے۔ البتہ مولانا فضل الرحمٰن کے باڈی گارڈ قیوم خان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن مصافحہ کر کے چلنے لگے تو حضرت قبلہؒ نے سر مبارک اوپر کیا اور جب تک مولانا فضل الرحمٰن سامنے چلتے رہے حضرت قبلہؒ ان کی طرف دیکھتے رہے۔
۹۸...... تین بھائیوں کے لئے علیحدہ علیحدہ دعا
برطانیہ کے سرور صاحب اور جناب کلیم اللہ کا کہنا ہے کہ ہم تین بھائی حضرت قبلہؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دعاؤں کا عرض کیا۔ ایک کے متعلق فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو راحتیں نصیب
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
فرمائے۔ دوسرے کو فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو برکتیں دے۔ تیسرے کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو خوشیاں نصیب فرمائے۔ واقعہ میں پھر اسی طرح ہر ایک کے ساتھ ظہور میں آیا۔
۹۹...... حسنؓ نام رکھنا
سرور صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قبلہؒ سے عرض کیا کہ حضرت میری نرینہ اولاد نہیں ہے۔ آپ دعا فرمادیں۔ آپ نے تھوڑی دیر بعد سر مبارک اٹھایا۔ فرمایا کہ آپ اپنے بیٹے کا نام کیا رکھیں گے؟ میں نے عرض کیا کہ رحمت عالم ﷺ کے نواسوں میں سے حسنؓ یا حسینؓ نام رکھوں گا۔ آپ نے فرمایا کہ حسن نام رکھنا۔ اگلے سال حضرتؒ تشریف لائے تو میں نے چھوٹے سے حسن کو آپ کی گود میں رکھا۔ آپ نے بہت دعائیں دیں۔ اس وقت وہ دین کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔
۱۰۰...... حضرت قبلہؒ کی دعا کا اثر
جناب سرور و کلیم اللہ جو ڈنکاسٹر برطانیہ میں رہتے ہیں۔ یہ دونوں حضرات گوجرہ کے ماسٹر منظور احمد کے نواسے ہیں۔ ماسٹر صاحبؒ قبلہ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز تھے۔ یہ دونوں روایت کرتے ہیں کہ حضرت قبلہؒ گوجرہ میں حضرت ماسٹر صاحب کے ہاں تشریف لائے ہوئے تھے۔ اس زمانہ میں گوجرہ کی آبادی کا وہ حصہ جس میں ہماری رہائشیں تھیں وہ چونکہ منظور شدہ کالونی نہ تھی۔ حکومت نے نوٹس دے دیا کہ پوری کالونی خالی کر دی جائے۔ دو ماہ کے بعد اس کالونی کو مکمل گرا دیا جائے گا۔ اس سے ہم بہت پریشان تھے۔ حضرت قبلہؒ سے دعا کے لئے عرض کیا۔ اس دن خلاف معمول بڑے جلال سے فرمایا کہ اس آبادی کو کسی کا باپ بھی نہیں گرا سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ چند ماہ بعد اس کالونی کی پوری آبادی کو بجائے گرانے کے مالکانہ حقوق مل گئے۔ فالحمد للّٰہ!
۱۰۱...... نمبرداری پر بحال ہو گیا
یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاں ایک دوست پڑھے لکھے سادہ اور شریف الطبع تھے۔ ان کے والد صاحب نمبردار تھے۔ ان کا انتقال ہوا تو نمبرداری کا حق بڑے بیٹے کا تھا۔ مگر چھوٹے نے مل ملا کر کے نمبرداری اپنے نام کرالی۔ بڑا بیٹا حضرت قبلہؒ کے پاس خانقاہ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
سراجیہ گیا۔ ساری کہانی سنائی۔ حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ گوجرہ میں پیر صاحب (ماسٹر منظور احمد خلیفہ مجاز حضرت رائے پوریؒ) سے دعا کرائیں۔ یہ صاحب واپس گوجرہ ماسٹر صاحب کے پاس آئے۔ حضرت قبلہؒ کی گفتگو نقل کی تو ماسٹر صاحب نے فرمایا کہ اچھا ہمارے حضرت قبلہؒ پیر صاحب (حضرت خواجہ خان محمد صاحبؒ) کا حکم ہے۔ چلو اس پیشی پر آپ نمبردار بن جائیں گے۔ چنانچہ پیشی پر فیصلہ ان کے حق میں ہوگیا۔
۱۰۲...... مولانا احمد خانؒ کا مقام
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قبلہ والد گرامیؒ (حضرت قبلہؒ) سے سنا آپ فرماتے تھے کہ اعلیٰ حضرت مولانا ابوالسعد احمد خانؒ حسب معمول صبح نماز پڑھانے کے لئے ایک روز تشریف لائے تو کتب خانہ کے پیچھے دروازہ پر حضرت مولانا حسین علیؒ واں بھچراں والے کھڑے تھے۔ مولانا ابوالسعد احمد خانؒ نے ان کو اس حالت میں دیکھا تو بہت تعجب ہوا۔ مولانا احمد خانؒ نے فرمایا مولانا! آپ نے کمال کیا۔ بغیر اطلاع کے تشریف لائے۔ مجھے حکم کیا ہوتا آدمی بھیجتے۔ آپ اہتمام سے تشریف لاتے۔ رات کب سے تشریف لائے۔ بستر، کھانا بھی ملا یا نہیں۔ غرض بہت تعجب کا اظہار کیا تو مولانا حسین علیؒ واں بھچراں نے مولانا احمد خانؒ سے فرمایا کہ میں رات حسب معمول لیٹا تو خواب میں آنحضرتﷺ کی زیارت ہوئی۔ آپؐ نے فرمایا کہ جو شخص صبح سب سے پہلے مولانا احمد خانؒ کو دیکھے گا وہ جنت میں جائے گا۔ بس یہ ارشاد عالی سن کر واں بھچراں سے پیدل چل پڑا کہ صبح گھر سے نکلتے وقت میں دروازہ پر موجود ہوں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آسانی کی کہ بروقت حاضر ہوگیا اور زیارت بھی ہوگئی۔
۱۰۳...... مولانا حسین علیؒ کی وضاحت
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا حسین علیؒ بھی خانقاہ موسیٰ زئی شریف کے حضرت خواجہ سراج الدینؒ کے خلیفہ مجاز تھے اور بہت بڑے آدمی تھے۔ حضرت مولانا احمد خانؒ بانی خانقاہ سراجیہ کے ہاں جب مولانا حسین علیؒ واں بھچراں والے تشریف لاتے۔ آپ ان کو اپنے ساتھ اپنی مسند پر بٹھاتے۔ ایک دفعہ مولانا حسین علیؒ واں بھچراں والے تشریف لائے تو انہوں نے مولانا احمد خانؒ سے فرمایا کہ پیروں، فقیروں کو جو امداد کے لئے غائبانہ لوگ پکارتے ہیں
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com میں ایسے لوگوں کے اس فعل کو شرک قرار دیتا تھا۔ لیکن میرے پاس میری چند مرید عورتیں آئیں۔ یہ تھل کے علاقہ میں اپنے جانوروں کا چارہ بنانے کے لئے جاتی ہیں۔ ایک بار اس دوران شدید کالی اندھیری آ گئی کہ وہ راستہ بھول گئیں۔ ان عورتوں نے مجھے کہا کہ: ”آندھی وچ اساں تیکوں سددیاں ہاسے پر تیکوں تے پتہ وی نہ ہوسی۔“ (ہم آندھی میں آپ کو پکارتی تھیں۔ مگر آپ کو تو علم بھی نہ ہوگا) چنانچہ اس سے سمجھ میں آیا کہ غائبانہ پیروں کو پکارنے والے کا یہ عقیدہ نہیں ہوتا کہ پیر ہماری پکار سن کر مدد کو آئیں گے۔ بلکہ پیروں کا نام اس لئے لیتے ہیں کہ ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائیں گے۔ اگر یہ اعتقاد ہو تو پھر اس فعل کو شرک نہیں کہا جاسکے گا۔
۱۰۴......سنت کی پیروی
برادر غلام یٰسین لاہور کے رہائشی ہیں۔ برطانیہ کے شہر ڈنڈی میں ہوتے ہیں۔ حضرت قبلہؒ سے گہری عقیدت رکھتے ہیں۔ برطانیہ، پاکستان، سعودی عرب کے سفروں میں حضرت قبلہؒ کی انہوں نے بہت خدمت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت مولانا محمد مکی صاحب کے ہاں مکہ مکرمہ میں حضرت قبلہؒ کا قیام تھا۔ وہاں کتاب دیکھی اس میں آنحضرتﷺ کے ان واقعات کا ذکر تھا۔ جن میں آپ نے اپنے صحابہ کرامؓ سے فرمایا کہ ہمارے لئے دعا کرنا۔ مثلاً مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ، عمرہ یا حج کے لئے حضرت عمرؓ تشریف لے جانے لگے تو آپؐ نے فرمایا۔ بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا۔ حضرت قبلہؒ نے کتاب سے ایسے واقعات والا حصہ پڑھا۔ اگلے روز میں نے عمرہ پر جانے کے لئے اجازت طلب کی تو حضرت قبلہؒ نے مجھے (یٰسین صاحب) اپنے (حضرت قبلہؒ) بارہ میں فرمایا کہ بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا۔ میں فوراً سمجھ گیا کہ حضرت قبلہؒ سنتِ رسول اللہﷺ پر عمل کرنے کے اتنے مشاق ہیں۔ ایک دن وہ واقعات پڑھے تو اگلے دن اس سنت رسول اللہﷺ پر عمل بھی فرمالیا۔
۱۰۵......سنت کا اتباع
جناب غلام یٰسین فرماتے ہیں کہ سفر حج میں رات کے وقت حضرت قبلہؒ اچانک بیدار ہوئے اپنے پلنگ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ واش روم جانا چاہتے تھے۔ آہٹ سن کر میں اٹھا اور جوتیاں حضرت قبلہؒ کے آگے رکھ کر پہنانے لگا۔ نیند کے غلبہ، رات کے اندھیرے اور جلدی کے www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
باعث مجھے یاد نہ رہا۔ بجائے دائیں پاؤں میں پہلے چپل پہنانے کے میں نے پہلے بائیں پاؤں میں چپل پہنانی شروع کردی۔ آپ نے فوراً بایاں پاؤں واپس کھینچ کر پہلے دایاں آگے کردیا۔ اس دن سمجھ میں آیا کہ کس طرح سنت رسول اللہ ﷺ پر عامل ہونا آپ کی طبیعت ثانیہ بن گئی تھی کہ اس حالت میں بھی خلاف سنت نہ ہونے دیا۔
١٠٦...... فوری اثر
جناب غلام یٰسین فرماتے ہیں کہ ایک بار پشاور میں ختم نبوت کی کانفرنس تھی۔ خانقاہ شریف سے آپؒ کے ہمراہ پشاور حاضری ہوئی۔ تھکاوٹ کے باعث مجھے شدید بخار ہوگیا۔ ساتھیوں نے حضرت قبلہؒ سے عرض کیا کہ غلام یٰسین کو بخار ہے۔ آپؒ میری چارپائی کے قریب تشریف لائے۔ عیادت فرمائی اور میرے بازو پر ہاتھ پھیرا۔ تھوڑی دیر کے بعد بخار جاتا رہا اور میں تندرست ٹھیک ٹھاک، چاک وچوبند ہوگیا۔
١٠٧...... مولانا حسین علیؒ کے صاحبزادہ کی گواہی
حضرت مولانا محمد مکین فرماتے ہیں کہ حضرت قبلہؒ سے میں نے خود سنا، حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ ایک بار صبح صبح حضرت مولانا حسین علیؒ واں بھچراں کے صاحبزادے حضرت مولانا عبدالرحمٰن خانقاہ سراجیہ تشریف لائے۔ مجھے (حضرت قبلہؒ) ان کے صبح صبح تشریف لانے پر تعجب ہوا۔ مولانا عبدالرحمٰن ملے اور فرمایا کہ آپ (حضرت قبلہؒ) کو مبارک باد دینے آیا ہوں کہ آپ نے سلسلہ نقشبندیہ کو زندہ رکھا ہوا ہے اور پھر اجازت چاہی اور واپس تشریف لے گئے۔
١٠٨...... مولانا فضل الرحمٰن کی پالیسی پر اطمینان
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ حضرت قبلہؒ عمرہ پر تشریف لے گئے۔ میں آپ کے ساتھ تھا۔ مواجہہ شریف پر حاضری کے بعد واپس ہوئے تو مسجد نبویٰ کی صف اوّل میں حضرت قاری محمد طاہرؒ ملتانی ثم مدنی نے آپ کو دیکھ لیا۔ سروقد کھڑے ہوگئے۔ حضرت قبلہؒ بھی ان کو دیکھ کر رک گئے۔ معانقہ، مصافحہ کے بعد حضرت قاری محمد طاہرؒ نے بہت اخلاص کے ساتھ فرمایا کہ حضرت! آپ مولانا فضل الرحمٰن کو سمجھائیں وہ کیا کر رہے ہیں۔ (یہ ایم۔آر۔ڈی کا دور تھا) حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ قاری صاحب آپ پریشان بالکل نہ ہوں۔ البتہ ان کے لئے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
دعا فرمائیں۔ قاری صاحب نے کہا کہ حضرت دعا؟ فرمایا ہاں۔ دعا کے لئے ہی تو کہا ہے۔ قاری صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آپ کو اطمینان ہے؟ فرمایا سو فیصد اطمینان ہے۔ قاری صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آپ کی بات سر آنکھوں پر مان لیتا ہوں۔ لیکن ذمہ داری آپ کی ہوگی۔ حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ سو فیصد میری ذمہ داری ہے۔ (اس دور میں جنرل محمد ضیاء الحق کے متعلق پاکستان اور بالخصوص بیرونی دنیا میں بہت اچھا تاثر تھا کہ وہ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔ اس زمانہ میں ایم۔ آر۔ ڈی میں دینی جماعت کی شمولیت باعث تشویش تھی۔ مولانا فضل الرحمن کی ایم۔ آر۔ ڈی میں شمولیت اور حضرت قبلہؒ کا اس پر اطمینان آنے والے حالات نے فیصلہ کر دیا کہ ان حضرات کا یہ فیصلہ سو فیصد درست تھا۔ اس لئے کہ ضیاء مرحوم نے صرف اپنے اقتدار کی طوالت کے لئے اسلام کو استعمال کیا۔ مستقل بنیادوں پر اس کے نفاذ اور مؤثر بنانے کے اقدامات ہوتے، تو آج حالات ہی اور ہوتے۔ مزید یہ کہ حضرت قاری محمد طاہرؒ مجدد قرأت حضرت قاری رحیم بخشؒ پانی پتی کے مایہ ناز شاگرد اور داماد بھی تھے۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان میں شعبہ قرأت کے صدر مدرس تھے۔ اس زمانہ میں مولانا فضل الرحمن کے ابھی تک داڑھی مونچھ بھی نہ آئے تھے۔ آپ سکول پڑھتے تھے۔ تب حضرت قاری محمد طاہرؒ سے قرآن مجید اور تجوید پڑھتے تھے۔ حضرت قاری محمد طاہرؒ بعدہ مدینہ طیبہ چلے گئے۔ مسجد نبویؐ کے اکثر ائمہ ان کے شاگرد ہیں۔ فن قرأت کے امام تھے۔ مدینہ طیبہ میں انتقال ہوا۔ بقیع میں مدفون ہوئے۔ ہمارے حضرت قبلہؒ کا بہت احترام فرمایا کرتے تھے)
۱۰۹....... بد نظری سے بچیں
برنلے برطانیہ کے معروف مذہبی رہنما جناب عزت خان فرماتے ہیں کہ مسجد فاروق اعظمؓ برنلے کے حجرہ شریف میں حضرت قبلہؒ تشریف فرما تھے۔ (اتفاق کی بات ہے کہ فقیر راقم ۲۷ جون ۲۰۱۰ء کو عین اسی مقام پر بیٹھ کر ان سطور کو لکھ رہا ہے۔ حضرت قبلہؒ نے جہاں بیٹھ کر یہ بات ارشاد فرمائی تھی) برنلے کے مختلف احباب حضرت قبلہؒ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کسی ساتھی نے حضرت قبلہؒ سے عرض کیا کہ حضرت! کوئی نصیحت فرمائیں۔ حضرت قبلہؒ خاموش رہے۔ پھر کسی اور ساتھی نے یا اسی نے عرض کیا کہ حضرت! کوئی نصیحت فرمائیں۔ دوبارہ عرض کرنے پر
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
حضرت قبلہؒ نے سر مبارک اٹھایا اور اتنا فرمایا کہ ”بدنظری نہ کیا کریں“ بدنظری سے بچنا تمام عبادت میں روح کا درجہ رکھتا ہے۔
فقیر راقم عرض کرتا ہے کہ راقم کی زندگی میں ایک مرحلہ آیا کہ تقریر میں بے پناہ شدت اختیار کرتا تھا۔ حتیٰ کہ طبیعت میں مغلوبیت کا یہ عالم تھا کہ مرزا قادیانی کو تقریر میں بے نقط سنا دیتا تھا۔ بعد میں احساس ہوتا یا دوست تشویش کا اظہار کرتے تو سخت ندامت ہوتی۔ غرض گالیاں دینے میں بیباک ہو گیا تھا۔ ایک دن ملتان دفتر مرکزیہ میں حضرت قبلہؒ اپنے کمرہ میں تشریف فرما تھے۔ فقیر نے عرض کیا کہ حضرت گالیاں دینے لگ گیا ہوں۔ دعا فرمادیں۔ حضرت نے اتنا فرمایا اللہ تعالیٰ بھلی فرمائیں گے۔ اتنا فرمانے سے تقریباً چھ ماہ تک گالی تو درکنار غیر مناسب لفظ بھی زبان سے ادا نہیں ہوا۔ اسی کے ساتھ فقیر یہ عرض کرتا ہے کہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ سے تعلق ہوا۔ تو اسی دن سے یومیہ تلاوت کی اللہ تعالیٰ نے توفیق دے دی۔ اسی طرح حضرت قبلہؒ سے جس دن بیعت کی اس دن سے اللہ تعالیٰ نے بدنظری سے بچا دیا۔ عرصہ تک یہ اثر رہا۔ اللہ تعالیٰ زندگی کے آخری سانس تک اس اثر سے محروم نہ فرمائیں۔ آمین!
۱۱۰...... سر پر پٹے
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ میں نے خود والد گرامی (حضرت قبلہؒ) سے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے جوانی میں سر کے بال یعنی پٹے رکھے۔ ایک بار حضرت ثانیؒ نے فرمایا کہ آپ سر کے بال کٹوا دیں۔ حضرت قبلہؒ فرماتے ہیں کہ میں نے سر کے بال بڑے شوق سے رکھے تھے۔ اب اپنے شیخ حضرت ثانیؒ کے حکم ٹالنے کا بھی یارا نہ تھا۔ جبکہ بال بھی میں نے بڑے شوق سے رکھے تھے۔ تو حضرت ثانیؒ کا حکم ملتے ہی کہ سر کے بال کٹوا دیں میرے (حضرت قبلہؒ) منہ سے نکلا کہ حضرت! آپ دعا فرما دیں اللہ تعالیٰ بیت اللہ شریف کا حج کرا دیں تو حج کے موقعہ پر بال کٹواؤں گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ایسے قبول فرمائی کہ: ”من حیث لا یحتسب“ اسی سال حج کا موقعہ مل گیا۔ حج پر بال کٹوائے اور پھر ہمیشہ کے لئے سر کے بال کٹوانے کی عادت بنالی۔
۱۱۱...... یہودی آفیسر کی گواہی
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائم کردہ دفتر
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
لندن (ختم نبوت سنٹر) کے ٹرسٹیوں کا ایک بار تنازعہ ہو گیا اور معاملہ چیریٹی کمیشن کے ہاں تصفیہ کے لئے چلا گیا۔ ایک صاحب جو پہلے از خود مستعفی ہو گئے تھے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ میں نے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ میں اب بھی ٹرسٹی ہوں۔ جب کہ واقعہ یہ تھا کہ انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا اور وہ ٹرسٹی نہ تھے۔ اس قضیہ کے لئے حضرت قبلہؒ کو سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے علاوہ اس سال دوبارہ اس کیس کے لئے لندن کا سفر کرنا پڑا۔ حضرت قبلہؒ اور مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ کا اس سلسلہ میں دو ماہ لندن میں قیام رہا۔ ایک دن ٹرسٹی حضرات بمعہ حضرت قبلہؒ کے چیریٹی کمیشن لندن کے ہاں میٹنگ کے لئے گئے۔ وہ صاحب جو مستعفی ہو جانے کے باوجود اپنے ٹرسٹی ہونے کے مدعی تھے۔ وہ بھی شریک اجلاس تھے۔ چیریٹی کمیشن کا وہ آفیسر جو اس کیس کو ڈیل کر رہا تھا۔ وہ یہودی تھا۔ اس نے حضرت قبلہؒ کی طرف غور سے دیکھ کر اس سے پوچھا جو مستعفی ہو جانے کے باوجود اپنے ممبر ہونے کا اصرار کر رہے تھے۔ (ان سے پوچھا) کہ آپ ان بزرگوں (حضرت قبلہؒ) کو کیا سمجھتے ہیں۔ ان صاحب نے کہا کہ یہ ہمارے قابل احترام بزرگ ہیں۔ چیریٹی کمیشن نے حضرت قبلہؒ سے سوال کیا کہ کیا ان صاحب نے ٹرسٹی شپ سے استعفیٰ دیا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں انہوں نے استعفیٰ دیا ہے۔ چیریٹی کمیشن نے پوچھا کہ کیا یہ صاحب اس وقت آپ کے ٹرسٹ کے ٹرسٹی ہیں؟ حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ بالکل ممبر نہیں ہیں۔ اس نے پوچھا کہ کیا آپ انہیں ممبر رکھنا چاہتے ہیں؟ حضرت قبلہؒ نے فرمایا کہ بالکل نہیں۔ اس چیریٹی کمیشن کے ممبر نے اس صاحب سے جو ممبر ہونے کا دعویٰ کر رہے تھے کہ آپ ان (حضرت قبلہؒ) کو اپنا بزرگ بھی مانتے ہیں اور بات بھی نہیں مانتے؟ اس پر میٹنگ ختم ہو گئی۔ اگلے ہفتہ پھر دوسری بار میٹنگ ہونا طے پائی۔ اس دوران میں کاغذات سے اس صاحب کا اصل استعفیٰ بھی مل گیا۔ جو اگلی میٹنگ میں پیش ہو کر فیصلہ ہوا کہ یہ صاحب ٹرسٹی نہیں ہیں۔
۱۱۲...... خالق کی تابعداری کے اثرات
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ ہمارے دادا جی ملک خواج عمر صاحب کے حجام کا نام احمد تھا۔ حضرت والا (حضرت قبلہؒ) انہیں اپنے والد گرامی (ملک خواج عمر) کے ساتھی ہونے کے ناطے اس حجام کو ہمیشہ چچا فرمایا کرتے تھے۔ چچا احمد کے نام سے وہ جانے پہچانے
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
جاتے تھے۔ حجامت کرنا ان کا خاندانی پیشہ تھا اور ہمارے حضرت قبلہؒ کا خاندان ان سے حجامت بنواتا تھا۔ احمد حجام کے بیٹے کا نام خان محمد تھا۔ اسے خانو، خانو کہتے تھے۔ یہ خانو حجام حضرت قبلہؒ کو لالہ جی کہا کرتے تھے۔ صاحبزادہ عزیز احمد کو بھتیجا کہا کرتے تھے۔ صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ میرے چچا ملک محمد افضل اور حضرت اعلیٰ کے پوتے صاحبزادہ محمد عارف نے خانو حجام کے بروقت نہ آنے پر دل برداشتہ ہو کر کہا کہ ان کو تبدیل کر کے دوسرا حجام مقرر کرنا ہے۔ صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ گھر کے جملہ امور کے فیصلے کرنے میرے ذمہ ہوتے تھے۔ اس لئے چچا مرحوم ملک محمد افضل اور صاحبزادہ محمد عارف نے مجھے حکم فرمایا کہ خانو حجام کو ہم فارغ کر کے نیا حجام مقرر کرنا چاہتے ہیں۔ آپ بھی ایسے کریں کہ اسے فارغ کر دیں۔ صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ والد صاحب (حضرت قبلہؒ) سے مشورہ کے بغیر ایسے کرنا میرے لئے ناممکن ہے۔ چنانچہ صاحبزادہ نے حضرت قبلہؒ سے خانو حجام کے متعلق تمہید باندھ کر گفتگو شروع کی۔ جو ان کی شکایت پر مبنی تھی۔ تھوڑی دیر تو حضرت قبلہؒ نے شکایت کا ابتدائی حصہ سنا اور پھر میری بات کاٹ کر فرمایا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ میں (صاحبزادہ عزیز احمد) نے عرض کیا کہ چچا ملک محمد افضل اور صاحبزادہ محمد عارف فرماتے ہیں کہ اس حجام کو تبدیل کرنا ہے۔ حضرت قبلہؒ نے یہ سن کر کچھ دیر تو خاموشی اختیار فرمائی۔ لیکن چہرہ پر ناگواری کے اثرات واضح تھے۔ پھر فرمایا کہ ملک محمد افضل اور صاحبزادہ محمد عارف جتنا اللہ تعالیٰ کے احکام مانتے ہیں اتنا مخلوق ان کے احکام مانے گی۔ صاحبزادہ عزیز احمد فرماتے ہیں کہ یوں اس حجام کو حضرت قبلہؒ نے تبدیل نہ ہونے دیا۔ آج کل اس کا بیٹا حضرت قبلہؒ کے خاندان کا حجام ہے۔
۱۱۳...... مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹیؒ کا جنازہ
حضرت قبلہؒ کے ایک مخلص مرید حضرت مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹیؒ تھے۔ یہ اصلاً وطناً ضلع ڈیرہ غازیخان کے رہائشی تھے۔ حضرت مولانا بشیر احمد پسروریؒ سے عزیز داری تھی۔ تو یہ سیالکوٹ میں رہے۔ اس لئے سیالکوٹی کہلائے۔ بعد میں برطانیہ تشریف لائے۔ مختلف شہروں میں امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دیئے۔ آخر العمر میں یہ برطانیہ کے شہر برمنگھم میں بمعہ اہل خانہ قیام پذیر تھے۔ ان کا حضرت قبلہؒ سے بہت گہرا تعلق تھا۔ حجاز مقدس، خانقاہ سراجیہ کئی کئی ہفتے، حضرت قبلہؒ کی خدمت میں رہے۔ خوب مرنجاں مرنج انسان تھے۔ بہت ہی ذہین تھے۔ نعمت حافظہ خوب
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۲۱۷ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
پائی تھی۔ بلامبالغہ سینکڑوں بزرگوں کے علمی و معلوماتی لطائف ان کو ازبر تھے۔ جس مجلس میں ہوتے ان لطائف سے مجلس کو کشت زعفران بنانا ان پر ختم تھا۔ یہ بیمار ہوئے تو اللہ تعالیٰ سے دعاء کرتے تھے کہ یا اللہ میرا جنازہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ پڑھائیں۔ بظاہر یہ مشکل سا لگتا تھا کہ مولانا محمد ابراہیم برمنگھم میں علیل تھے اور حضرت قبلہؒ پاکستان میں۔ لیکن قدرت کا کرنا ایسے ہوا کہ حضرت قبلہؒ لندن دفتر کے ٹرسٹ کے سلسلہ میں لندن تشریف لائے۔ دو ماہ سے زائد آپ کا قیام رہا۔ اس دوران میں مولانا محمد ابراہیمؒ کا وصال ہوا، اور حضرت قبلہؒ نے برمنگھم جا کر آپ کا جنازہ پڑھایا۔ یوں مرحوم کی خواہش کو اللہ تعالیٰ نے پورا کر دیا۔
۱۱۴...... بچوں کی ذہانت کے لئے نسخہ
میاں واجد محمود سرگانہ بیان کرتے ہیں کہ مارچ ۲۰۰۴ء میں حضرت خواجہ صاحبؒ اپنے مخصوص کمرہ خانقاہ سراجیہ میں حسب معمول تشریف لائے۔ مریدین و احباب بھی پاس بیٹھ گئے۔ بعض لوگ اپنی التجائیں اور آرزوئیں بذریعہ خط لکھ کر دیتے اور بعض اوقات زبانی عرض کرتے۔ جس سے قریب بیٹھے ہوئے لوگ بھی دعا اور تجویز کردہ نسخہ یا وظیفہ سے فائدہ اٹھاتے۔ ایک ساتھی نے بچوں کی ذہانت کو تیز کرنے کا طریقہ پوچھا تو حضرت جیؒ نے فرمایا۔ میرے استاد محترمؒ (جن کا نام اب راقم کو یاد نہیں) بچوں کی ذہانت کے سلسلہ میں ایک نسخہ تجویز کرتے تھے۔
رات کو ایک گری بادام لے کر پانی میں بھگو کر رکھو اور صبح نہار منہ چھلکا اتار کر بچے کو کھلا دو۔ اسی طرح روزانہ ایک ایک بادام کا اضافہ کرتے جاؤ۔ جب سات تک پہنچ جاؤ تو ایک ایک اسی طرح بادام کم کر کے کھلاتے رہو۔ جب ایک پر آؤ پھر اسی ترتیب سے جتنا عرصہ چاہو کھلاتے رہو۔ کسی دن ناغہ ہو جائے تو پھر ایک سے شروع کرو۔ انشاء اللہ فائدہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ مہربانی کرے گا۔
۱۱۵...... مشکل مسائل کے حل کے لئے وظیفہ
جناب میاں واجد محمود سرگانہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت خواجہ صاحبؒ کی مجلس میں بیٹھے تھے۔ حسب معمول حضرت جیؒ اپنے باہر والا کمرہ میں لوگوں کی درخواستیں سن رہے تھے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اور پڑھ کر دعا کر رہے تھے کہ: ”اللہ تعالیٰ مہربانی کرے گا ۔“
آخر میں ایک ساتھی حضرت کے قریب ہوا اور اپنے گھریلو ، بیماری ، کاروباری ، معاشی اور رشتہ داروں کے سلوک کی درد بھری کہانی سنائی ۔ جس سے قریب بیٹھے لوگوں کا بھی دل بھر آیا اور پھر عرض کیا ۔ حضرت جیؒ ان تمام پریشانیوں سے نکلنے کے لئے کوئی وظیفہ بتائیں ۔
حضرت والا نے عشاء کی نماز کے بعد ۱۰۱ مرتبہ سورۃ اخلاص بمع بسم اللہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعاء کرنے کے لئے کہا کہ اے اللہ تعالیٰ اس کلام پاک کی برکت سے میرے مسائل حل فرما۔ اللہ تعالیٰ مہربانی کرے گا اور پھر اجتماعی دعا بھی مانگی ۔
۱۱۶...... وظیفہ پورا پڑھو
میاں واجد محمود سرگانہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ ۲۰۰۰ء کے لگ بھگ میاں خان محمد صاحب کے گھر سرگانہ ہاؤس کچہری ملتان تشریف لائے ۔ میاں صاحب سے قریبی رشتہ داری کی وجہ سے خدمت کا موقع مل جاتا ۔ اسی سلسلہ میں سب گھر والے دیر تک عموماً کسی نہ کسی خدمت میں مشغول رہتے ۔ ایک رات نماز عشاء کے بعد حضرت جیؒ کا بتایا ہوا وظیفہ کہ رات کو عشاء کی نماز کے بعد ۱۰۰ مرتبہ ”استغفار“ پڑھ کر سونا ، بھول گیا ۔ میں تھکا ہوا تھا اور حضرتؒ ابھی جاگ رہے تھے ۔
میرے دل میں خیال آیا ۔ حضرت جیؒ سے اجازت لے کر صرف ۱۰۰ مرتبہ ”استغفراللہ“ پڑھ لیتا ہوں ۔ وقت کی کچھ بچت ہو جائے گی ۔ حضرتؒ نے فرمایا ۔ پورا مکمل ”واتوب الیہ“ تک مجھے پڑھ کر سنایا کہ یوں پڑھنا ہے ۔
کوئی اللہ کا بندہ ہمت کرے تو اس طرح کے واقعات بہت جمع ہو سکتے ہیں ۔ فقیر تو اسی پر اکتفا کرتا ہے ۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
باب پنجم
رشحات قلم
(مقالات، مکتوبات)
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
حضرت قبلہؒ نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور رد قادیانیت کے سلسلہ میں جو قلمی خدمات سرانجام دیں۔ ان کو اس باب میں شامل کیا گیا ہے۔
۱......تحریک ختم نبوت منزل بہ منزل
یہ دراصل وہ مقالہ ہے جو آپ نے حضرت مولانا محمد مالک کاندھلویؒ کی خواہش پر مقدمہ بہاولپور کی روئیداد کے لئے بطور مقدمہ کے تحریر فرمایا۔ اس کا تفصیلی تعارف اس کتاب میں دوسری جگہ پر موجود ہے۔ یہ مقالہ بعد میں مرکز سراجیہ لاہور سے محترم صاحبزادہ رشید احمد صاحب نے شائع کیا۔ محترم ملک محمد فیاض نے بھی اسے شائع کیا۔ محترم حافظ نذیر احمد نقشبندی نے تعارف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام پر اسے شائع کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی روئیداد میں بطور مقدمہ کے بھی ایک بار شائع ہوا۔ غرض یہ مقالہ قیمتی دستاویز ہے۔ جو اس کتاب کے اس باب میں نمبر اوّل پر شائع کیا جا رہا ہے۔
الحمد اللّٰہ رب العلمین، اکمل الحمد علی کل حال والصلوۃ والسلام الاتمان الاکملان علی سید المرسلین و خاتم النبیین رسولہ محمد خیر الوریٰ صاحب قاب قوسین او ادنی و علیٰ صحبہ البررۃ التقی والنقی کلما ذکرہ الذاکرون وکلما غفل عن ذکرہ الغفلون اللھم صل علیہ و آلہ وسائر النبیین آل کل و سائر الصالحین نھایۃ ما ینبغی ان یسئلہ السائلون ۰ اما بعد!
متحدہ ہندوستان میں انگریز اپنے جور وستم اور استبدادی حربوں سے جب مسلمانوں کے قلوب کو مغلوب نہ کر سکا تو اس نے ایک کمیشن قائم کیا جس نے پورے ہندوستان کا سروے کیا اور واپس جا کر برطانوی پارلیمنٹ میں رپورٹ پیش کی کہ مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد مٹانے کے لیے ضروری ہے کہ کسی ایسے شخص سے نبوت کا دعویٰ کرایا جائے جو جہاد کو حرام اور انگریز کی اطاعت کو مسلمانوں پر اولوالامر کی حیثیت سے فرض قرار دے۔
ان دنوں مرزا غلام احمد قادیانی سیالکوٹ ڈی سی آفس میں معمولی درجہ کا کلرک تھا۔ اردو، عربی اور فارسی اپنے گھر میں پڑھی تھی۔ مختاری کا امتحان دیا مگر ناکام ہو گیا۔ غرضیکہ اس کی تعلیم دینی و دنیاوی دونوں اعتبار سے ناقص تھی۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے انگریزی ڈپٹی کمشنر کے توسط سے مسیحی مشن کے ایک اہم اور ذمہ دار شخص نے اس سے ڈی سی آفس میں ملاقات کی۔ گویا یہ انٹرویو تھا مسیحی مشن کا اور ساتھ ہی یہ فرد انگلینڈ روانہ ہو گیا اور مرزا قادیانی ملازمت چھوڑ کر قادیان
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
پہنچ گیا۔ باپ نے کہا کہ نوکری کی فکر کرو، جواب دیا کہ میں نوکر ہو گیا ہوں اور پھر بغیر مرسل کے پتہ کے منی آرڈر ملنے شروع ہو گئے۔ مرزا قادیانی نے مذہبی اختلافات کو ہوا دی۔ بحث و مباحثہ، اشتہار بازی شروع کر دی۔ یہ تمام تر تفصیل مرزائی کتب میں موجود ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کام کے لئے برطانوی سامراج نے مرزا قادیانی کا کیوں انتخاب کیا؟ اس کا جواب خود مرزائی لٹریچر میں موجود ہے کہ مرزا قادیانی کا خاندان جدی پشتی انگریز کا نمک خوار خوشامدی اور مسلمانوں کا غدار تھا۔ مرزا قادیانی کے والد نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں برطانوی سامراج کو پچاس گھوڑے بمعہ ساز و سامان مہیا کیے اور یوں مسلمانوں کے قتل عام سے اپنے ہاتھ رنگین کر کے انگریز سے انعام میں جائیداد حاصل کی۔ مرزا غلام احمد لکھتا ہے کہ میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکار میں مصروف رہا۔ اپنے بارے میں لکھتا ہے کہ: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“
(تریاق القلوب ص ۲۵)
غرضیکہ مرزا قادیانی کے گوشت پوست میں انگریز کی وفاداری اور مسلمانوں سے غداری رچی بسی تھی۔ یہی وہ وجہ ہے کہ اس مقصد کے لئے انگریز کی نظر انتخاب مرزا قادیانی پر پڑی اور اس کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جن حضرات کی مرزائیت کے لٹریچر پر نظر ہے وہ جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی ہر بات میں تضاد ہے لیکن حرمت جہاد اور فرضیت اطاعت انگریز ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس میں مرزا قادیانی کی کبھی دو رائیں نہیں ہوئیں کیونکہ یہ اس کا بنیادی مقصد اور غرض و غایت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو گورنمنٹ برطانیہ کا خود کاشتہ پودا قرار دیا۔ سرسید احمد خان مرحوم کی روایت جو ان کے مشہور مجلہ تہذیب الاخلاق میں چھپ چکی ہے کہ خود سرسید احمد خان سے انگریز وائسرائے ہند نے مرزا قادیانی کی امداد و اعانت کرنے کا کہا۔ بقول ان کے انہوں نے نہ صرف رد کر دیا بلکہ اس منصوبہ کا راز افشا کر دیا جس کے نتیجہ میں انگریز وائسرائے سرسید احمد خاں سے ناراض ہو گئے۔
مرزا قادیانی کے دعویٰ جات پر نظر ڈالیے۔ اس نے بتدریج خادم اسلام، مبلغ اسلام، مجدد، مہدی، مثیل مسیح، ظلی نبی، مستقل نبی، انبیاء سے افضل حتیٰ کہ خدائی تک کا دعویٰ کیا۔ یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبہ، گہری چال اور خطرناک سازش کے تحت کیا۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
قطب عالم حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نور ایمانی اور بصیرت وجدانی سے مرزا قادیانی کے دعویٰ سے بہت پہلے پنجاب کے معروف روحانی بزرگ حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ سے حجاز مقدس میں ارشاد فرمایا کہ پنجاب میں ایک فتنہ اٹھنے والا ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کے خلاف آپ سے کام لیں گے۔ بیعت وخلافت سے سرفراز فرمایا اور اس فتنہ کے خلاف کام کرنے کی تلقین فرمائی۔
رد قادیانیت کے سلسلہ میں امت محمدیہ کے جن خوش نصیب وخوش بخت حضرات نے بڑی تندہی اور جانفشانی سے کام کیا۔ ان میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا محمد حسین بٹالوی رحمۃ اللہ علیہ، جناب مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ، پروفیسر محمد الیاس برنی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا محمد داؤد غزنوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا ظفر علی خان رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مظہر علی اظہر رحمۃ اللہ علیہ، حافظ کفایت حسین رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا پیر جماعت علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔
علمائے لدھیانہ نے مرزا قادیانی کی گستاخ و بے باک طبیعت کو اس کی ابتدائی تحریروں میں دیکھ کر اس کے خلاف کفر کا فتویٰ سب سے پہلے دیا تھا۔ ان حضرات کا خدشہ صحیح ثابت ہوا اور آگے چل کر پوری امت نے علمائے لدھیانہ کے فتویٰ کی تصدیق وتوثیق کی۔ غرضیکہ پوری امت کی اجتماعی جدوجہد سے مرزائیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کی کوشش کی گئی یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی نے بھی اپنی تصانیف میں مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا نذیر حسین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا سید علی الحائری رحمۃ اللہ علیہ سمیت امت کے تمام طبقات کو اپنے سب وشتم کا نشانہ بنایا کیونکہ یہی وہ حضرات تھے جنہوں نے تحریر وتقریر و مناظرہ و مباہلہ کے میدان میں مرزا قادیانی اور اس کے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
حواریوں کو چاروں شانے چت کیا اور یوں اپنے فرض کی تکمیل کر کے پوری امت کی طرف سے شکریہ کے مستحق قرار پائے۔
مقدمہ بہاولپور
تحصیل احمد پور شرقیہ ریاست بہاولپور میں ایک شخص مسمی عبدالرزاق مرزائی ہو کر مرتد ہو گیا اس کی منکوحہ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش نے سن بلوغ کو پہنچ کر ۲۴؍ جولائی ۱۹۲۶ء کو فسخ نکاح کا دعویٰ احمد پور شرقیہ کی مقامی عدالت میں دائر کر دیا جو ۱۹۳۱ء تک ابتدائی مراحل طے کر کے پھر ۱۹۳۲ء میں ڈسٹرکٹ جج بہاول پور کی عدالت میں بغرض شرعی تحقیق واپس ہوا۔ آخر کار ۷؍ فروری ۱۹۳۵ء کو فیصلہ بحق مدعیہ صادر ہوا۔ بہاولپور ایک اسلامی ریاست تھی، اس کے والی نواب جناب صادق محمد خاں خامس عباسی مرحوم ایک سچے مسلمان اور عاشق رسول ﷺ تھے۔ خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ بہاولپور کے معروف بزرگ کے عقیدت مند تھے۔ خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کے تمام خلفاء کو اس مقدمہ میں گہری دلچسپی تھی۔ اس وقت جامعہ عباسیہ بہاولپور کے شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹوی مرحوم تھے جو حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کے ارادت مند تھے۔ لیکن اس مقدمہ کی پیروی اور امت محمدیہ کی طرف سے نمائندگی کے لئے سب کی نگاہ انتخاب دیوبند کے فرزند، شیخ الاسلام حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ پر پڑی، مولانا غلام محمد صاحب کی دعوت پر اپنے تمام تر پروگرام منسوخ کر کے مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ بہاولپور تشریف لائے تو فرمایا کہ جب یہاں سے بلاوا آیا تو میں ڈابھیل کے لئے پا بہ رکاب تھا مگر میں یہ سوچ کر یہاں چلا آیا کہ ہمارا نامہ اعمال تو سیاہ ہے ہی شاید یہی بات مغفرت کا سبب بن جائے کہ آنحضرت ﷺ کا جانبدار بن کر بہاولپور آیا تھا، اگر ہم ختم نبوت کی حفاظت کا کام نہ کریں تو گلی کا کتا بھی ہم سے اچھا ہے۔ ان کے تشریف لانے سے پورے ہندوستان کی توجہ اس مقدمہ کی طرف مبذول ہو گئی، بہاولپور میں علم کی موسم بہار شروع ہو گئی۔ اس سے مرزائیت کو بڑی پریشانی لاحق ہوئی۔ انہوں نے بھی ان حضرات علماء کی آہنی گرفت اور احتسابی شکنجے سے بچنے کیلئے ہزاروں جتن کئے۔
مولانا غلام محمد گھوٹوی، مولانا محمد حسین کولو تارڑوی، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری، مولانا نجم الدین، مولانا ابوالوفا شاہ جہان پوری اور مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم و شکر اللہ سعیہم کے ایمان افروز اور کفر شکن بیانات ہوئے۔ مرزائیت بوکھلا اٹھی۔ ان
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com دنوں مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ پر اللہ رب العزت کے جلال اور حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وبارک وسلم کے جمال کا خاص پرتو تھا۔ وہ جلال و جمال کا حسین امتزاج تھے، جمال میں آکر قرآن وسنت کے دلائل دیتے تو عدالت کے درودیوار جھوم اٹھتے اور جلال میں آکر مرزائیت کو للکارتے تو کفر کے ایوانوں میں زلزلہ طاری ہوجاتا، مولانا ابوالوفا شاہ جہان پوری نے اس مقدمہ میں مختار مدعیہ کے طور پر کام کیا۔ ایک دن عدالت میں مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے جلال الدین شمس مرزائی کو للکار کر فرمایا کہ اگر چاہو تو میں عدالت میں یہیں کھڑے ہوکر دکھا سکتا ہوں کہ مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے مرزائی کانپ اٹھے۔ مسلمانوں کے چہروں پر بشاشت چھا گئی اور اہل دل نے گواہی دی کہ عدالت میں انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نہیں بلکہ حضور سرور کائناتﷺ کا وکیل اور نمائندہ بول رہا ہے۔
علمائے کرام کے بیانات مکمل ہوئے، نواب صاحب مرحوم پر گورنمنٹ برطانیہ کا دباؤ بڑھا۔ اس سلسلہ میں مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری مرحوم نے راقم الحروف سے بیان کیا کہ خضر حیات ٹوانہ کے والد نواب سر عمر حیات ٹوانہ لندن گئے ہوئے تھے۔ نواب آف بہاولپور مرحوم بھی گرمیاں اکثر لندن گزارا کرتے تھے۔ نواب مرحوم سر عمر حیات ٹوانہ لندن میں ملے اور مشورہ طلب کیا کہ انگریز گورنمنٹ کا مجھ پر دباؤ ہے کہ ریاست بہاولپور سے اس مقدمہ کو ختم کرا دیں تو اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ سر عمر حیات ٹوانہ نے کہا کہ ہم انگریز کے وفادار ضرور ہیں مگر اپنا دین، ایمان اور عشق رسالت مآب کا تو ان سے سودا نہیں کیا، آپ ڈٹ جائیں اور ان سے کہیں کہ عدالت جو چاہے فیصلہ کرے میں حق و انصاف کے سلسلہ میں اس پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا۔ چنانچہ مولانا محمد علی جالندھریؒ نے یہ واقعہ بیان کر کے ارشاد فرمایا کہ ان دونوں کی نجات کے لئے اتنی بات کافی ہے۔
جناب محمد اکبر جج مرحوم کو ترغیب و تحریص کے دام تزویر میں پھنسانے کی مرزائیوں نے کوشش کی لیکن ان کی تمام تدابیر غلط ثابت ہوئیں، مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اس فیصلہ کے لیے اتنے بے تاب تھے کہ بیانات کی تکمیل کے بعد جب بہاولپور سے جانے لگے تو مولانا محمد صادق مرحوم سے فرمایا کہ اگر زندہ رہا تو فیصلہ خود سن لوں گا اور اگر فوت ہو جاؤں تو میری قبر پر آکر یہ فیصلہ سنا دیا جائے۔ چنانچہ مولانا محمد صادقؒ نے آپ کی وصیت کو پورا کیا۔ آپ نے آخری ایام علالت میں دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ و طلبہ اور دیگر بہت سے علماء کے مجمع میں تقریر
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
فرمائی تھی، جس میں نہایت دردمندی و دل سوزی سے فرمایا تھا۔ وہ تمام حضرات جن کو مجھ سے بلا واسطہ یا بالواسطہ تلمذ کا تعلق ہے اور جن پر میرا حق ہے کہ میں ان کو خصوصی وصیت اور تاکید کرتا ہوں کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت و پاسبانی اور فتنہ قادیانیت کے قلع قمع کو اپنا خصوصی کام بنائیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ ان کی شفاعت فرمائیں، ان کو لازم ہے کہ ختم نبوت کی پاسبانی کا کام کریں۔
یہ مقدمہ حق و باطل کا عظیم معرکہ تھا۔ جب ۷؍فروری ۱۹۳۵ء کو فیصلہ صادر ہوا تو مرزائیت کے صحیح خدوخال آشکارا ہو گئے۔ بلاشبہ پوری امت جناب محمد اکبر خان جج صاحب مرحوم کی مرہون منت ہے کہ انہوں نے کمال عدل و انصاف محنت و عرق ریزی سے ایسا فیصلہ لکھا کہ اس کا ایک ایک حرف قادیانیت کے تابوت میں کیل ثابت ہوا۔ قادیانیوں نے اپنے نام نہاد خلیفہ مرزا بشیر کی سربراہی میں سر ظفر اللہ مرتد سمیت جمع ہو کر اس فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کی سوچ و بچار کی لیکن آخر کار اس نتیجہ پر پہنچے کہ فیصلہ اتنی مضبوط اور ٹھوس بنیادوں پر صادر ہوا ہے کہ اپیل بھی ہمارے خلاف جائے گی۔ اللہ رب العزت کی قدرت کے قربان جائیں، کفر ہار گیا، اسلام جیت گیا۔ ایک دفعہ پھر جاء الحق وزھق الباطل کی عملی تفسیر اس فیصلہ کی شکل میں امت کے سامنے آ گئی اور مرزائی فبہت الذی کفر کا مصداق ہو گئے، اس تاریخ ساز فیصلہ نے چار دانگ عالم میں تہلکہ مچا دیا۔ مرزائیوں کی ساکھ روز بروز گرنا شروع ہو گئی۔
تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء
ہندوستان تقسیم ہوا، خداداد مملکت پاکستان معرض وجود میں آئی، بد نصیبی سے اسلامی مملکت پاکستان کا وزیر خارجہ چودھری سر ظفر اللہ خان قادیانی کو بنایا گیا۔ اس نے مرزائیت کے جنازہ کو اپنی وزارت کے کندھوں پر لاد کر اندرون و بیرون ملک اسے متعارف کرانے کی کوشش تیز سے تیز تر کر دی، ان حالات میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ، میر کاروان احرار کی رگ حمیت اور حسینی خون نے جوش مارا، پوری امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ، مجاہد اسلام مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ آپ کا پیغام لے کر ملک عزیز کی نامور دینی شخصیت اور ممتاز عالم دین مولانا ابو الحسنات محمد احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ کے دروازے پر گئے اور اس تحریک کی قیادت کا فریضہ انہوں نے ادا کیا۔ مولانا احمد علی
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۲۲۶ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
لاہوری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ، مولانا خواجہ قمر الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا پیر غلام محی الدین گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالحامد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا پیر سرسینہ شریف رحمۃ اللہ علیہ، آغا شورش کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ، ماسٹر تاج دین انصاری رحمۃ اللہ علیہ، شیخ حسام الدین رحمۃ اللہ علیہ، مولانا صاحبزادہ سید فیض الحسن رحمۃ اللہ علیہ، مولانا اختر علی خاں رحمۃ اللہ علیہ، غرضیکہ کراچی سے لے کر ڈھاکہ تک کے تمام مسلمانوں نے اپنی مشترکہ آئینی جدوجہد کا آغاز کیا۔ بلاشبہ برصغیر کی یہ عظیم ترین تحریک تھی۔ جس میں دس ہزار مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ایک لاکھ مسلمانوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ دس لاکھ مسلمان اس تحریک سے متاثر ہوئے۔ ہر چند کہ اس تحریک کو مرزائی اور مرزائی نواز اوباشوں نے سنگینوں کی سختی سے دبانے کی کوشش کی مگر مسلمانوں نے اپنے ایمانی جذبہ سے ختم نبوت کے اس معرکہ کو اس طرح سر کیا کہ مرزائیت کا کفر کھل کر پوری دنیا کے سامنے آ گیا۔ تحریک کے ضمن میں انکوائری کمیشن نے رپورٹ مرتب کرنا شروع کی۔ عدالتی کاروائی میں حصہ لینے کی غرض سے علماء اور وکلاء کی تیاری، مرزائیت کی کتب کے اصل حوالہ جات کو مرتب کرنا بڑا کٹھن مرحلہ تھا اور ادھر حکومت نے اتنا خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا کہ تحریک کے رہنماؤں کو لاہور میں کوئی آدمی رہائش تک دینے کے لیے تیار نہ تھا۔ جناب عبدالمجید سیفی نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ مجاز خانقاہ سراجیہ نے اپنی عمارت ۷ بیڈن روڈ لاہور کو تحریک کے رہنماؤں کے لیے وقف کر دیا۔ تمام تر مصلحتوں سے بالائے طاق ہو کر ختم نبوت کے عظیم مقصد کے لیے ان کے ایثار کا نتیجہ تھا کہ مولانا محمد حیات رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالرحیم اشعر رحمۃ اللہ علیہ اور رہائی کے بعد مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے رہنماؤں نے آپ کے مکان پر انکوائری کے دوران قیام کیا اور مکمل تیاری کی۔ ان ایام میں شیخ المشائخ قبلہ حضرت مولانا محمد عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ بھی وہیں قیام پذیر رہے اور تمام کام کی نگرانی فرماتے رہے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے گرامی قدر رفقاء مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالرحمن میانوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمد شریف بہاولپوری رحمۃ اللہ علیہ، سائیں محمد حیات رحمۃ اللہ علیہ اور مرزا غلام نبی جانباز رحمۃ اللہ علیہ کا یہ عظیم کارنامہ تھا کہ انہوں نے الیکشنی سیاست سے کنارہ کش ہو کر خالصتاً دینی و
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مذہبی بنیاد پر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی بنیاد رکھی۔ اس سے قبل مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ، چوہدری افضل حق رحمۃ اللہ علیہ اور خود حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے گرامی قدر رفقاء نے مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے قادیانیت کو جو چرکے لگائے وہ تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔ قادیان میں کانفرنس کر کے چور کا اس کے گھر تک تعاقب کیا۔ نیز مولانا ظفر علی خاں رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر و تقریر کے ذریعہ رَدّ مرزائیت میں غیر فانی کردار ادا کیا۔ مجلس احرار اسلام کی کامیاب گرفت سے مرزائیت بوکھلا اٹھی، مجلس احرار اسلام پر مسجد شہید گنج کا ملبہ گرا کر اسے دفن کرنے کی کوشش کی گئی۔ حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ صدر مجلس احرار نے ایک موقعہ پر ارشاد فرمایا کہ تحریک مسجد شہید گنج کے سلسلہ میں پورے ملک سے دو اکابر اولیاء اللہ ایک حضرت اقدس مولانا ابوالسعد احمد خاں رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ نے ہماری رہنمائی کی اور تحریک سے کنارہ کش رہنے کا حکم فرمایا، حضرت اقدس ابوالسعد احمد خاں رحمۃ اللہ علیہ بانی خانقاہ سراجیہ نے یہ پیغام بھجوایا تھا کہ مجلس احرار تحریک مسجد شہید گنج سے علیحدہ رہے اور مرزائیت کی تردید کا کام رکنے نہ پائے اسے جاری رکھا جائے اس لیے اگر اسلام باقی رہے گا تو مسجدیں باقی رہیں گی، اگر اسلام باقی نہ رہا تو مسجدوں کو باقی کون رہنے دے گا؟
مسجد شہید گنج کے ملبہ کے نیچے مجلس احرار کو دفن کرنے والے انگریز اور قادیانی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس لیے کہ انگریز کو ملک چھوڑنا پڑا جبکہ مرزائیت کی تردید کے لئے مستقل ایک جماعت ”مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان“ کے نام سے تشکیل پا کر قادیانیت کو ناکوں چنے چبوا رہی ہے۔ ان حضرات نے سیاست سے علیحدگی کا محض اس لئے اعلان کیا کہ کسی کو یہ کہنے کا موقعہ نہ ملے کہ مرزائیت کی تردید اور ختم نبوت کی ترویج کے سلسلہ میں ان کے کوئی سیاسی اغراض ہیں۔ چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے مرزائیت کے خلاف ایسا احتسابی شکنجہ تیار کیا کہ مرزائیت مناظرہ، مباہلہ، تحریر و تقریر اور عوامی جلسوں میں شکست کھا گئی۔ جگہ جگہ ختم نبوت کے دفاتر قائم ہونے لگے، مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ نے برطانیہ سے آسٹریلیا تک قادیانیت کا تعاقب کیا۔ مرزائیت نے عوامی محاذ ترک کر کے حکومتی عہدوں اور سرکاری دفاتر میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش و کاوش کی اور وہ انقلاب کے ذریعہ اقتدار کے خواب دیکھنے لگے۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء
۱۹۷۰ء کے الیکشن میں چند سیٹوں پر مرزائی منتخب ہوگئے۔ اقتدار کے نشہ اور ایک سیاسی جماعت سے سیاسی وابستگی نے انہیں دیوانہ کر دیا۔ وہ حالات کو اپنے لیے سازگار پا کر انقلاب کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کی سکیمیں بنانے لگے۔ قادیانی جرنیلوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں۔ اس نشہ میں دھت ہو کر انہوں نے ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ ریلوے سٹیشن پر چناب ایکسپریس کے ذریعہ سفر کرنے والے ملتان نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر قاتلانہ حملہ کیا۔ جس کے نتیجہ میں تحریک چلی۔ مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر تھے۔ ان کی دعوت پر امت کے تمام طبقات جمع ہوئے۔ آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان تشکیل پائی۔ جس کے سربراہ حضرت شیخ بنوری رحمۃ اللہ علیہ قرار پائے۔ امت محمدیہﷺ کی خوش نصیبی کہ اس وقت قومی اسمبلی میں تمام اپوزیشن متحد تھی۔ چنانچہ اپوزیشن پوری کی پوری مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان میں شریک ہوگئی۔
رحمۃ اللعالمینﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز ملاحظہ ہو کہ مذہبی و سیاسی جماعتوں نے متحد ہو کر ایک ہی نعرہ لگایا کہ مرزائیت کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ، مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالحقؒ، پروفیسر غفور احمد، مولانا عبدالمصطفیٰ ازہریؒ، مولانا عبدالحکیم رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے رفقاء نے ختم نبوت کی وکالت کی۔ متفقہ طور پر اپوزیشن کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ نے مرزائیوں کے خلاف قرارداد پیش کی اور برسر اقتدار جماعت پیپلز پارٹی یعنی حکومت کی طرف سے دوسری قرارداد جناب پیر عبدالحفیظ پیرزادہ نے پیش کی جو ان دنوں وزیر قانون تھے، قومی اسمبلی میں مرزائیت پر بحث شروع ہوگئی۔ پورے ملک میں مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ، نوابزادہ نصراللہ خان رحمۃ اللہ علیہ، آغا شورش کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ، علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالقادر روپڑی رحمۃ اللہ علیہ، مفتی زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ، مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمد شریف جالندھری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالستار خان نیازی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا صاحبزادہ فضل رسول حیدر، مولانا صاحبزادہ افتخار الحسنؒ، سید مظفر علی شمسی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا علی غضنفر کراروی، مولانا عبدالحکیم رحمۃ اللہ علیہ، پیر شریف، حضرت مولانا محمد شاہ امروٹی رحمۃ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اللہ علیہ، غرضیکہ چاروں صوبوں کے تمام مکاتب فکر نے تحریک کے الاؤ کو ایندھن مہیا کیا۔ اخبارات و رسائل نے تحریک کی آواز کو ملک گیر بنانے میں بھر پور کردار ادا کیا۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا دباؤ بڑھتا گیا۔ ادھر قومی اسمبلی میں قادیانی ولاہوری گروپوں کے سر براہوں نے اپنا اپنا موقف پیش کیا۔ ان کا جواب اور امت مسلمہ کا موقف مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں مولانا محمد حیات رحمۃ اللہ علیہ، مولانا تقی عثمانی، مولانا سمیع الحق اور مولانا سید انور حسین نفیسؒ نے مرتب کیا۔ اسے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے چودھری ظہور الٰہی کی تجویز اور دیگر تمام حضرات کی تائید پر قرعہ فال مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کے نام نکلا۔ جس وقت انہوں نے یہ محضر نامہ پڑھا، قادیانیت کی حقیقت کھل کر اسمبلی کے ارکان کے سامنے آگئی۔ مرزائیت پر اوس پڑگئی۔ نوے دن کی شب و روز کی مسلسل محنت و کاوش کے بعد جناب ذوالفقار علی بھٹو کے عہد اقتدار میں متفقہ طور پر ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو نیشنل اسمبلی آف پاکستان نے عبدالحفیظ پیرزادہ کی پیش کردہ قرارداد کو منظور کیا اور مرزائی آئینی طور غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔ الحمد اللہ رب العالمین حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ کما یحب ربنا ویرضی
تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء
۷؍ فروری ۱۹۸۳ء کو مولانا محمد اسلم قریشی مبلغ تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کو مرزائی سربراہ مرزا طاہر کے حکم پر مرزائیوں نے اغوا کیا۔ جس کے ردعمل میں پھر تحریک منظم ہوئی۔ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد اس وقت تک مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت کا بوجھ میرے ناتواں کندھوں پر ہے۔ اس لیے آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کی امارت بھی فقیر کے حصہ میں آئی۔ اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ فضل ہے جس سے جناب محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ رسول اللہﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے سلسلہ میں امت محمدیہ کے تمام طبقات کو اتفاق و اتحاد نصیب کر کے ایک لڑی میں پرو دیا اور یوں ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس صدر مملکت جناب جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کے ہاتھوں جاری ہوا۔ قادیانیت کے خلاف آئینی طور پر جتنا ہونا چاہیے تھا اتنا نہیں ہوا لیکن جتنا کام ہوا اتنا آج تک کبھی نہیں ہوا تھا۔ آج اللہ رب العزت کا فضل و کرم ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بن چکی ہے اور چار دانگ عالم میں رحمۃ اللعالمینﷺ کی عزت و ناموس کے پھریرے کو
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
بلند کرنے کی سعادتوں سے بہرہ ور ہو رہی ہے۔ دنیا کے تمام براعظموں میں ختم نبوت کا کام وسیع سے وسیع تر ہو رہا ہے۔
بدیہی حقیقت
لیکن یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ ان تمام تر کامیابیوں و کامرانیوں میں ”مقدمہ بہاولپور“ کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ختم نبوت کے محاذ پر مضبوط بنیاد اور قانونی و اخلاقی بالادستی قادیانیت کے خلاف اسی مقدمہ نے مہیا کی ہے۔ فیصلہ مقدمہ کئی بار شائع ہوا۔ علمائے کرام کے عدالتی بیانات بھی متعدد بار شائع ہوئے لیکن ضرورت اس امر کی تھی کہ اس مقدمہ کی تمام تر کاروائی ، حضرات علمائے کرام کی شہادتیں بیانات و دلائل اور حقائق مرزائی وکیلوں کے جواب میں بطور جواب الجواب بیانات جو عدالت کے ریکارڈ پر تھے اور جرح و بحث کی تمام تر تفصیلات سامنے آئیں، تاکہ علوم وحقائق کے بے بہا سمندر سے دنیائے اسلام فیضیاب ہو۔ یہ سب کچھ عدالت کے ریکارڈ میں مخفی خزانہ کی طرح پوشیدہ تھا۔ حالانکہ فیصلہ مقدمہ بہاولپور کی ابتدائی اشاعت کے وقت ہی مولانا محمد صادق مرحوم نے اپنی اسی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ تمام تر کاروائی کو شائع کیا جائے گا۔ لیکن کل امر مرهون باوقاتها یہ کام آج تک پورے طور پر نہ ہو سکا تھا۔ اللہ رب العزت نے غیب سے اہتمام فرمایا۔ اسلامی درد اور جذبہ رکھنے والے حضرات کو اللہ رب العزت نے اس کام کی طرف متوجہ کیا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ کام خود شروع نہیں کیا۔ بلکہ قدرت الٰہی نے ان سے یہ کام شروع کرایا۔ انہوں نے اسلامک فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ ساٹھ برس کی طویل مدت گزرنے کے بعد روداد مقدمہ حاصل کرنا اور اہل علم حضرات کے لیے مرتب کر کے پیش کرنا کوئی معمولی کام نہ تھا۔ قدرت الٰہی نے دستگیری فرمائی۔ ان حضرات نے محنت کی۔ کاروان اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہا۔ منزل قریب ہوتی رہی۔ مقدمہ کی تمام کاروائی حاصل ہوگئی۔ اس کی ترتیب کا کام شروع ہوگیا۔ اسلامک فاؤنڈیشن کے نمائندوں نے اس بارے میں طویل ترین تکلیف دہ سفر برداشت کر کے ملتان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر مرکزیہ میں اصل مرزائی کتب سے حوالہ جات کو بار بار پڑھا، فوٹوسٹیٹ حاصل کیے، شب و روز محنت و عرق ریزی کے بعد اسے کتابت کے لیے دیا گیا تا آنکہ اس وقت دو ہزار صفحات سے زائد مشتمل یہ مجموعہ تیار ہو کر منصہ شہود پر آ گیا ہے۔ اسلامک فاؤنڈیشن کے حضرات کی روشن دماغی اور اپنے مشن سے
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اخلاص کی بدولت ملک عزیز کے نامور عالم دین شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان حضرات کی سرپرستی فرمائی۔ ان جیسے متبحر عالم دین کی سرپرستی ہی اس تاریخی دستاویز کی صحت وتوثیق کے لیے سند کا درجہ رکھتی ہے۔
اس تاریخی دفینے اور علم ومعرفت کے عظیم خزینہ کو مرتب کر کے پیش کرنا بلاشبہ اسلامک فاؤنڈیشن کا ایک تاریخی گرانقدر کارنامہ ہے۔ جس پر پوری امت کو ان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر دیا ہے۔ قادیانیت جس طرح آج پوری دنیا میں رسوائی کا شکار ہے۔ اس کی بنیاد بھی اس مقدمہ نے مہیا کی تھی اور اب قادیانیت کا اختتام بھی اسی مقدمہ کی اشاعت سے ہی ہوگا۔
آخری گزارش
ختم نبوت سے وحدت امت کا راز وابستہ ہے۔ فتنہ انکار ختم نبوت، ملی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک استعماری سازش تھی۔ آج کے تمام طبقات ومکاتب فکر مل کر ہی باہمی اتحاد و اعتماد سے اس فتنہ کو ختم کر سکتے ہیں۔ اللہ رب العزت کا فضل وکرم ہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے اکابر کی اس سنت کو زندہ رکھنے کی حکمت عملی کو اپنایا ہوا ہے کہ مسئلہ ختم نبوت کسی ایک فرقہ کا مسئلہ نہیں پوری امت کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اس میں کوشش وکاوش اور اجتماعی طور پر بڑھ چڑھ کر حصہ لینا تمام مسلمانوں کے لیے انتہائی ضروری ہے اور رحمۃ اللعالمین ﷺ کی شفاعت کا باعث ہے۔
حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت اقدس مولانا ابوالسعد احمد خاں رحمۃ اللہ علیہ بانی خانقاہ سراجیہ، حضرت مولانا محمد عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ، مولانا تاج محمود امروٹی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا غلام محمد دین پوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا رسول خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ، پیر صبغت اللہ شاہ شہید رحمۃ اللہ علیہ پیر آف پگاڑہ شریف، حضرت حافظ پیر جماعت شاہ رحمۃ اللہ علیہ، حضرت پیر جماعت علی شاہ لاثانی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین تکوینی طور پر اس محاذ کے انچارج تھے۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شاگردوں کی ایک جماعت مرزائیت کے تعاقب کیلئے تشکیل دی تھی۔ جس میں حضرت مولانا محمد بدر عالم رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ جیسے حضرات شامل تھے جو قادیانیت سے تحریری و تقریری مقابلہ کرتے تھے اور دلائل باقی حضرات کے ذمہ تھے اور مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ نشتر چھبویا کرتے تھے۔ اللہ رب العزت سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، آمین۔ اللہ رب العزت کا فضل و احسان ہے کہ ۱۹۷۴ء میں مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد رشید مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے قیادت و سیادت کا فریضہ سرانجام دیا۔ جبکہ مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم کے صاحبزادہ مولانا محمد تقی عثمانی آپ کے ساتھ تھے۔ آج مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ہی کے شاگرد مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے مولانا محمد مالک کاندھلوی کی سرپرستی میں یہ عظیم معرکہ سر کیا گیا ہے۔
کروڑوں رحمتیں ہوں، ان تمام مقدس حضرات پر جن کی شب و روز کی اخلاص بھری محنت رنگ لائی۔ آج قادیانی پوری دنیا میں رسوا ہو رہے ہیں۔ مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کا ایک کشف ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ پوری دنیا میں مرزائیت نام کی کوئی چیز تلاش کرنے کے باوجود نہیں ملے گی۔ اسی طرح قطب دوراں حضرت مولانا عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خاص ارادت مند حاجی محمد عبدالرشید صاحب (مدظلہ) کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ قادیانیت حرف غلط کی طرح پوری دنیا سے مٹا دی جائے گی۔ وہ وقت قریب آن پہنچا ہے کہ مرزائیت کا فتنہ دنیا سے نیست و نابود ہونے والا ہے۔ اسلامیان عالم ہمت کریں آگے بڑھیں، منزل قریب ہے، رحمت حق انتظار کر رہی ہے اور حضورﷺ کی شفاعت کا مژدہ جاں فزا ملنے والا ہے۔ اللہ رب العزت ہماری ان حقیر محنتوں کو اخلاص کی دولت سے مالا مال فرما کر اپنی رضا کا سبب بنائے ۔ آمین ثم آمین!
والصلوة والسلام على رسوله النبى الكريم
وعلى آله صحبه واتباعه اجمعين برحمتك يا
ارحم الراحمين آمين آمين!
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
۲...... ۷ ستمبر ایک تاریخ ساز دن
۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ اس حوالہ سے حضرت قبلہؒ کا ایک مضمون شائع ہوا۔ جو تحریک ختم نبوت کے جستہ جستہ حالات اور خدوخال پر مشتمل ہے۔ ذیل میں اسے ملاحظہ فرمائیے۔
’’اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت وراہنمائی کے لئے انبیائے کرام کا سلسلہ جاری فرمایا۔ جس کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور اس سلسلے کی انتہاء خاتم النبیین امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات اقدس پر ہوئی۔ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ آپ ﷺ کو جو کتاب مقدس (قرآن کریم) دی گئی وہ آخری آسمانی کتاب ہے۔ اس کے بعد کوئی کتاب نہیں۔ آپ ﷺ کی امت آخری امت ہے۔ اس کے بعد کوئی امت نہیں۔ یہ عقیدہ شریعت کی اصطلاح میں ’’عقیدہ ختم نبوت‘‘ کہلاتا ہے۔
یہ عقیدہ قرآن کریم کی تقریباً سو آیات اور دوسو دس متواتر احادیث سے ثابت ہے اور اس پر امت کا اوّل روز سے اجماع چلا آرہا ہے۔ اسی لئے یہ عقیدہ ان بنیادی اور ضروری عقائد میں سے ہے۔ جس کا انکار کفر ہے۔ کیونکہ اس عقیدہ کا انکار قرآن وحدیث کا انکار ہے اور اس کا انکار درحقیقت حضور اکرم ﷺ کی رسالت ونبوت کا انکار ہے۔ قرآن کریم، احادیث متواترہ، فقہائے امت کے فتاویٰ اور اجماع امت کی رو سے آنحضرت ﷺ بلا استثناء تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے علی الاطلاق خاتم ہیں۔ اس لئے آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص کسی معنی ومفہوم میں بھی نبی نہیں کہلا سکتا۔ نہ منصب نبوت پر فائز ہوسکتا ہے اور جو شخص اس کا مدعی ہو وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
یہ خاتمیت آنحضرت ﷺ کے لئے اعلیٰ ترین شرف ومنزلت اور عظیم الشان اعزاز واکرام ہے اور آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخص کا نبی بن کر آنا آنحضرت ﷺ کی سخت توہین کے مترادف ہے۔ عقیدہ ختم نبوت میں امت مسلمہ کی وحدت کا راز مضمر ہے۔ اسی لئے امت محمدیہ ﷺ نے اس عقیدے کی حفاظت کی۔ اس کے تحفظ کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور چودہ سو سال سے کبھی بھی امت اس مسئلے میں دورائے کا شکار نہیں ہوئی۔ بلکہ جب کبھی کسی نے کسی
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۲۳۴ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
بھی شکل میں اس عقیدے کے خلاف رائے دی۔ امت نے اسے ایک ناسور سمجھ کر جسد ملت اسلامیہ سے کاٹ کر علیحدہ کر دیا۔ حضور اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ کے آخری ایام میں یمن میں اسود عنسی نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تو سرکار دو عالم ﷺ نے اس کے مقابلے اور اس کے خاتمے کے لئے حضرت فیروز دیلمیؓ کو بھیجا۔ جنہوں نے اسود عنسی کا خاتمہ کیا اور اس پر حضور اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو مبارکباد دیتے ہوئے فرمایا: ”فیروز کامیاب ہو گیا“ اسی طرح طلیحہ اسدی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس کے استیصال اور خاتمے کے لئے حضور اکرم ﷺ نے حضرت ضرار بن ازورؓ کا انتخاب فرمایا۔ حضرت ضرارؓ کی قیادت میں ایک لشکر تیار ہوا۔ جھوٹے مدعی نبوت کی فوج سے لڑائی ہوئی اور بالآخر لشکر اسلام کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا کی۔
حضور اکرم ﷺ کی زندگی کے آخری سالوں میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا اور آپ ﷺ کے وصال کے بعد اس فتنے نے زور پکڑا تو حضرت صدیق اکبرؓ نے اس کے مقابلے کے لئے صحابہ کرامؓ پر مشتمل ایک فوج بھیجی۔ جس کی قیادت حضرت عکرمہؓ، حضرت شرحبیلؓ بن حسنہ اور حضرت خالد بن ولیدؓ نے کی۔ یمامہ کے میدان میں شدید مقابلہ ہوا اور بالآخر مسیلمہ کذاب کو اس کی جھوٹی نبوت اور پیروکاروں سمیت دفن کر دیا گیا۔ اس معرکۂ ختم نبوت میں ۱۲ سو صحابہ کرامؓ شہید ہوئے۔ جس میں سات سو قرآن مجید کے حافظ و قاری اور ستر بدری صحابہؓ تھے۔
حضور اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے طرز عمل سے بتا دیا کہ عقیدۂ ختم نبوت کے خلاف کوئی بات قابل برداشت نہیں اور جو اس کے مقابلے میں اٹھے۔ وہ کسی رعایت کا مستحق نہیں اور اس کا قلع قمع کیا جانا ضروری ہے۔ اسلام کی ۱۴ سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی کسی اسلامی حکومت میں کسی شخص نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تو امت نے اس سے دلائل و معجزات مانگنے کے بجائے سنت صدیقی کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کے ناپاک وجود ہی سے دھرتی کو پاک کر دیا۔
انیسویں صدی عیسوی میں اسلامی ممالک خصوصاً ہندوستان میں دماغی بے چینی اور ذہنی کش مکش اپنی انتہاء کو پہنچ چکی تھی۔ ہندوستان میں بیک وقت مغربی و مشرقی تہذیبوں، اسلام و مسیحیت اور قدیم و جدید نظام تعلیم میں معرکۂ کارزار گرم تھا۔ ہندوستان کے گوشے گوشے میں مسیحی پادری اپنی تبلیغی کوششوں میں سرگرم عمل تھے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی کوشش ناکام ہو چکی تھی۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
جس کی وجہ سے مسلمانوں کے دماغ مفلوج اور شکست کے صدمے سے ان کے دل زخمی تھے۔ انگریز نے مسیحی مشنریوں کے ساتھ جگہ جگہ فتنوں کے جال پھیلا دیئے تھے۔ فرقہ واریت کو خوب ہوا دی گئی۔ ان کی ہر ممکن کوشش تھی کہ کسی طرح مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل کر دیا جائے۔ ان کے عقائد پر ایسی ضرب لگائی جائے کہ مسلمانوں خصوصاً نئی نسل کے دل و دماغ کے سانچے بدل جائیں۔ اگر ان کے ذہن کفر و شرک کو قبول نہ کر سکیں تو کم از کم خالص اسلامی بھی نہ رہیں اور دین و مذہب سے بیزاری اور نفرت کا جذبہ ان میں پیدا ہو جائے۔
انیسویں صدی کے آخر میں بے شمار فتنوں کے ساتھ ایک بہت بڑا فتنہ جھوٹی اور خود ساختہ نبوت قادیانیت کی شکل میں ظاہر ہوا۔ جس کی تمام وفاداریاں انگریزی طاغوت کے لئے وقف ہو گئیں۔ انگریز کو بھی ایسے ہی خاردار اور خود کاشتہ پودے کی ضرورت تھی۔ جس میں الجھ کر مسلمانوں کا دامن اتحاد تار تار ہو جائے اس لئے انگریز نے اس خود کاشتہ پودے کی خوب آبیاری کی۔ اس فرقے کے مفادات کی حفاظت بھی انگریز حکومت سے وابستہ تھی۔ اس لئے اس نے تاج برطانیہ کی بھرپور انداز میں حمایت کی۔ ملکہ برطانیہ کو خوشامدی خطوط لکھے۔ حکومت برطانیہ کی عوام میں راہ ہموار کرنے کے لئے حرمت جہاد کا فتویٰ دیا۔ چاپلوسی کے وہ گھٹیا اور پست طریقے اختیار کئے۔ جن سے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے کفریہ عقائد و نظریات اور ملحدانہ خیالات سامنے آئے تو علماء نے اس کا تعاقب کیا اور اس کے مقابلے میں میدان عمل میں نکلے۔ بلکہ خدا کی قدرت دیکھئے کہ اس فتنے کے وجود سے قبل ہی مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ پر بطور کشف اللہ تعالیٰ نے منکشف فرما دیا تھا کہ ہندوستان میں ایک فتنہ برپا ہونے والا ہے۔ چنانچہ مکہ مکرمہ میں ایک دن حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ سے فرمایا: ”ہندوستان میں عنقریب ایک فتنہ نمودار ہوگا۔ تم ضرور وطن واپس چلے جاؤ۔ اگر بالفرض تم ہندوستان میں خاموش بھی بیٹھے رہے تو وہ فتنہ ترقی نہ کر سکے گا اور ملک میں سکون ہوگا۔ پیر مہر علی شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں، میرے نزدیک حاجی صاحبؒ کی فتنے سے مراد فتنہ قادیانیت تھا۔“
(آئینہ قادیانیت ص ۱۱۸)
یاد رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک دم نبوت کاذبہ کا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ پہلے ”خادم اسلام“ سے اس کا دعویٰ شروع ہوا۔ پھر الہامات کا تذکرہ شروع کیا۔ اپنے آپ کو مجدد ظاہر
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کیا۔ پھر بتدریج مہدی، مثیل مسیح، مسیح موعود، ظلی، بروزی نبی جیسے دعوؤں کی منازل طے کرتا ہوا نبوت اور انبیاء سے بڑھ کر خدائی کے دعوے تک پہنچ گیا۔ مگر علمائے حق ابتداء میں ہی اس کی عبارات دیکھ کر کھٹک گئے تھے۔ چنانچہ مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ نے فرمایا تھا: ”سن لو، یہ شخص چند دنوں میں ایسے دعوے کرے گا جو نہ رکھے جائیں گے نہ اٹھائے جائیں گے۔“
۱۸۸۴ء میں جب مرزا قادیانی جماعت سازی کے لئے لدھیانہ آیا تو وہاں کے علماء کے ایک وفد نے اس سے ملاقات کی۔ اس کے خیالات ونظریات پر جرح کی۔ وہ ان حضرات کو مطمئن نہ کر سکا تو ان حضرات نے اس کے ملحد اور زندیق ہونے کا فتویٰ دیا۔ اسی طرح بانی دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے تحذیر الناس میں ان منکرین ختم نبوت کے خلاف فتویٰ دیا۔ جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کو مرتد، زندیق، ملحد اور کافر قرار دیا گیا اور اس فتنے کے مقابلے میں تمام مکاتب فکر کے علماء صف آراء ہوئے۔ جن میں مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، مولانا داؤد غزنویؒ کی مساعی قابل ذکر ہیں۔ لیکن جس شخصیت کو اس دور کی قیادت وامامت تفویض ہوئی۔ وہ امام العصر علامہ انور شاہ کشمیریؒ ہیں۔ محدث العصر علامہ محمد یوسف بنوریؒ لکھتے ہیں: ”امت کے جن اکابر نے اس فتنے کے استیصال کے لئے محنتیں کی ہیں۔ ان میں سب سے امتیازی شان امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کو حاصل تھی۔“
مارچ ۱۹۳۰ء کو لاہور میں انجمن خدام الدین کے سالانہ اجتماع میں جو شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ کی دعوت پر منعقد ہوا تھا۔ ملک بھر سے پانچ سو علمائے کرام کے اجتماع میں مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو امیر شریعت کا خطاب دیا اور سب سے پہلے ان کی بیعت کی قادیانیت کے خلاف افراد اور اداروں کی محنت میں علمائے کرام کا کردار قابل رشک تھا۔
مجلس احرار اسلام ہند نے ۲۰، ۲۱، ۲۲؍اکتوبر ۱۹۳۴ء کو قادیان میں کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس میں ان اکابرین ملت نے قادیانیت کا مقابلہ کیا۔ فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ، مولانا عنایت علی چشتیؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، مولانا رحمت اللہ مہاجرؒ وغیرہ ان سب حضرات نے قادیان میں رہ کر قادیانیت کو ناکوں چنے چبوائے۔ اس کانفرنس میں علمائے کرام نے ملک کے چپے چپے میں قادیانی عقائد وعزائم کی قلعی کھولنے کی ایک لہر پیدا کردی۔ غرض یہ کہ ہر محاذ پر علماء نے
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۲۳۷ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اس فتنے کا تعاقب کیا اور اس کے گمراہ کن عقائد سے امت مسلمہ کو خبردار کیا۔ یہاں تک کہ تقسیم ہند کے وقت باؤنڈری کمیشن کے سامنے قادیانیوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ قرار دے کر ہندوستان سے الحاق پسند کیا۔ جس کی وجہ سے ضلع گورداسپور ہندوستان میں ضم ہوگیا۔ مگر مسلمانوں میں اپنی ریشہ دوانیاں جاری وساری رکھنے کے لئے انہوں نے پاکستان کا رخ کیا۔ دریائے چناب کے کنارے چنیوٹ کے قریب ”ربوہ“ کو مرکز بنایا اور یہاں سے انہوں نے اپنی ریشہ دوانیاں شروع کیں۔ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ ظفر اللہ قادیانی نے اس فتنے کو مضبوط کیا اور دنیا بھر میں متعارف کرایا۔ قادیانی اس کی شہ پا کر اتنے جری ہوئے کہ اقتدار کے خواب دیکھنے لگے۔ ان حالات میں سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے اس طرف توجہ کی اور مجلس تحفظ ختم نبوت قائم کی۔ قادیانیوں کو غلط فہمی تھی کہ چونکہ پاکستان کے ارباب اقتدار پر ان کا تسلط ہے۔ فوج میں ان کا گہرا اثر ورسوخ ہے۔ ملک کے کلیدی مناصب پر ان کا قبضہ ہے۔ پاکستان کا وزیر خارجہ ظفر اللہ خان قادیانی ہے۔ اس لئے پاکستان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کا جعلی سکہ رائج کرنے میں انہیں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئے گی۔
چنانچہ جدید حالات میں قادیانیت کے خلاف کام کرنے کے لئے امیر شریعتؒ نے ملکی سیاست سے دست کش ہونے کا اعلان کیا اور آئندہ لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے ۱۴؍ ربیع الثانی ۱۳۷۴ھ مطابق ۱۳؍ دسمبر ۱۹۵۴ء کو اپنے مخلص رفقاء کی مجلس مشاورت طلب کی۔ جس میں مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ، مولانا شیخ احمدؒ بورے والا، مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ، مولانا عبدالرحمن میانویؒ، مولانا تاج محمود لائل پوریؒ (فیصل آباد)، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، مولانا غلام محمد بہاولپوریؒ وغیرہ شریک ہوئے۔ غور وفکر کے بعد ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے ایک غیر سیاسی تنظیم کی بنیاد رکھی گئی۔
مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو اس قافلے کا پہلا امیر وقائد منتخب کیا گیا۔ ۹؍ ربیع الاول ۱۳۸۱ھ مطابق ۲۱؍ اگست ۱۹۶۱ء کو ان کا وصال ہوا۔ ان کے بعد مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ امیر دوم، مولانا محمد علی جالندھریؒ امیر سوم اور مولانا لال حسین اخترؒ امیر چہارم منتخب ہوئے۔ ۱۵؍ ربیع الاول ۱۳۹۴ھ مطابق ۱۹؍ اپریل ۱۹۷۴ء کو مولانا محمد یوسف بنوریؒ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے امیر مقرر ہوئے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
۱۹۷۰ء کے الیکشن میں چند سیٹوں پر مرزائی امیدوار منتخب ہوگئے۔ اقتدار کے نشے اور ایک سیاسی جماعت سے وابستگی نے انہیں دیوانہ کر دیا۔ وہ حالات کو اپنے لئے سازگار پا کر انقلاب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کی سکیمیں بنانے لگے۔ قادیانی جرنیلوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں۔ اس نشے میں دھت ہو کر انہوں نے ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ (چناب نگر) ریلوے اسٹیشن پر چناب ایکسپریس کے ذریعے سفر کرنے والے ملتان نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ پر قاتلانہ حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں تحریک چلی۔
مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ان دنوں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر تھے۔ ان کی دعوت پر امت کے تمام طبقات جمع ہوئے۔ آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان تشکیل پائی۔ جس کے سربراہ حضرت شیخ بنوریؒ قرار پائے۔ امت محمدیہﷺ کی خوش نصیبی کہ اس وقت قومی اسمبلی میں تمام اپوزیشن متحد تھی۔ چنانچہ اپوزیشن پوری کی پوری مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان میں شریک ہوگئی۔
رحمۃ اللعالمینﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز ملاحظہ ہو کہ مذہبی و سیاسی جماعتوں نے متحد ہو کر ایک ہی نعرہ لگایا کہ مرزائیت کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔
اس وقت قومی اسمبلی میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا عبدالحقؒ، پروفیسر غفور احمد، مولانا عبدالمصطفیٰ ازہریؒ، مولانا عبدالحکیمؒ اور ان کے رفقا نے ختم نبوت کی وکالت کی۔ متفقہ طور پر اپوزیشن کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے مرزائیوں کے خلاف قرارداد پیش کی اور برسر اقتدار جماعت پیپلز پارٹی یعنی حکومت کی طرف سے دوسری قرارداد جناب پیر عبدالحفیظ پیرزادہ نے پیش کی جو ان دنوں وزیر قانون تھے، قومی اسمبلی میں مرزائیت پر بحث شروع ہوگئی۔ پورے ملک میں مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، نوابزادہ نصر اللہ خانؒ، آغا شورش کاشمیریؒ، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ، مولانا عبدالقادر روپڑیؒ، مفتی زین العابدینؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ، مولانا صاحبزادہ فضل رسول حیدر، مولانا صاحبزادہ افتخار الحسنؒ، سید مظفر علی شمسیؒ، مولانا علی غضنفر کراروی، مولانا عبدالحکیمؒ، پیر صاحب، حضرت مولانا محمد شاہ امروٹیؒ، غرضیکہ چاروں صوبوں کے تمام مکاتب فکر نے تحریک کے الاؤ کو ایندھن مہیا کیا۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اخبارات و رسائل نے تحریک کی آواز کو ملک گیر بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا دباؤ بڑھتا گیا۔ ادھر قومی اسمبلی میں قادیانی و لاہوری گروپوں کے سربراہوں نے اپنا اپنا موقف پیش کیا۔ ان کا جواب اور امت مسلمہ کا موقف مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں مولانا محمد حیات رحمۃ اللہ علیہ، مولانا سمیع الحق، مولانا تقی عثمانی اور مولانا سید انور حسین نفیس رقمؒ نے مرتب کیا۔
اسے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے چودھری ظہور الٰہی کی تجویز اور دیگر تمام حضرات کی تائید پر قرعہ فال مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کے نام نکلا۔ جس وقت انہوں نے یہ محضر نامہ پڑھا، قادیانیت کی حقیقت کھل کر اسمبلی کے ارکان کے سامنے آگئی۔ مرزائیت پر اوس پڑگئی۔ نوے دن کی شب و روز کی مسلسل محنت و کاوش کے بعد جناب ذوالفقار علی بھٹو کے عہد اقتدار میں متفقہ طور پر ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو نیشنل اسمبلی آف پاکستان نے عبدالحفیظ پیرزادہ کی پیش کردہ قرارداد کو منظور کیا اور مرزائی آئینی طور غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔ الحمد اللہ رب العالمین حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ کما یحب ربنا ویرضی!
بعد میں اس مسودے کو آئینی شکل دینے کے لئے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا گیا اور اس اجلاس میں آئینی طور پر قادیانی ناسور کو ملت اسلامیہ کے جسد سے علیحدہ کر دیا گیا۔
۱۹۸۴ء میں ایک بار پھر تحریک ختم نبوت چلی اور ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء کو ضیاء الحق مرحوم نے ایک آرڈیننس جاری کیا جس کی رو سے قادیانیوں کو مسلمان کہلانے، اذان دینے، اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنے اور اسلامی شعائر و اصطلاحات کے استعمال کرنے سے روک دیا گیا اور ان کی تبلیغی و ارتدادی سرگرمیوں پر پابندی لگادی گئی۔
۱۷؍فروری ۱۹۸۳ء کو محمد اسلم قریشی مبلغ تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کو مرزائی سربراہ مرزا طاہر کے حکم پر مرزائیوں نے مبینہ طور پر اغوا کیا۔ جس کے ردعمل میں پھر تحریک منظم ہوئی۔ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد اس وقت تک مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت کا بوجھ میرے ناتواں کندھوں پر ہے۔ اس لیے آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کی امارت بھی فقیر کے حصہ میں آئی۔ اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ فضل ہے جس سے جناب محمد مصطفی احمد مجتبیٰ رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے سلسلہ میں امت محمدیہ کے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
تمام طبقات کو اتفاق و اتحاد نصیب کر کے ایک لڑی میں پرو دیا اور یوں ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس صدر مملکت جناب جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کے ہاتھوں جاری ہوا۔ قادیانیت کے خلاف آئینی طور پر جتنا ہونا چاہیے تھا اتنا نہیں ہوا لیکن جتنا ہوا اتنا آج تک کبھی نہیں ہوا تھا۔
آج اللہ رب العزت کا فضل و کرم ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بن چکی ہے اور چار دانگ عالم میں رحمۃ اللعالمین ﷺ کی عزت و ناموس کے پھریرے کو بلند کرنے کی سعادتوں سے بہرہ ور ہو رہی ہے۔ دنیا کے تمام براعظموں میں ختم نبوت کا کام وسیع سے وسیع تر ہو رہا ہے۔
۳...... جنرل محمد ضیاء الحق کی خدمت میں مسئلہ ختم نبوت سے متعلق مثبت تجاویز
جنرل محمد ضیاء الحق کے عروج اقتدار کے زمانہ میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں میں اضافہ ہوا تو ہمارے حضرت قبلہؒ نے ذیل کا کھلا خط جنرل محمد ضیاء الحق کے نام تحریر فرمایا۔ اس خط میں آپ کی حق گوئی، عقیدہ ختم نبوت کی حقانیت اور قادیانیت کی فتنہ انگیزی پر آپ کے اضطراب کی جو کیفیت تھی وہ ایک ایک لفظ سے واضح ہوتی ہے۔ اسے ملاحظہ فرمائیں:
بسم اللہ الرحمن الرحیم ! عزت مآب عالی مرتبت جنرل محمد ضیاء الحق صاحب القابہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر و صدر پاکستان السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
جناب عالی!
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان وطن عزیز کا وہ تبلیغی ادارہ ہے جس نے ملک و بیرون ملک (مشرق وسطیٰ، مشرق بعید اور یورپ وغیرہ) میں بے لوث اور مخلصانہ طریق سے تبلیغ اسلام کا دینی فرض سرانجام دیا اور دے رہا ہے۔
مجلس کی مساعی کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت سے نوازا اور ان گنت لوگوں کو اسلامی شعائر و فرائض پر عمل کی توفیق نصیب ہوئی اور ہزاروں کفر و ارتداد کے حلقہ سے نکل کر اسلام کے دامن رحمت سے وابستہ ہو گئے۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کسی بھی دور کی مروجہ سیاست سے کسی بھی قسم کا تعلق نہ رکھنے کے باوجود ملک کے اجتماعی حالات سے چشم پوشی کوئی باشعور نہیں کرسکتا۔ مجلس کے ارباب حل وعقد اور کارکن بھی بحمدہ کبھی اس جرم کے مرتکب نہیں ہوئے۔ انہوں نے ملک کی سلامتی اور قوم کی صلاح وفلاح کے لئے کسی بھی موقعہ پر کسی سے کم خدمت سرانجام نہیں دیں۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ دور حکومت کے بالخصوص آخری دنوں میں مجلس بھی اجتماعی تشویش میں شریک تھی اور جب ۵؍ جولائی ۱۹۷۷ء کی صبح یہ خبر لائی کہ آپ نے ملکی نظم ونسق سنبھال کر ملک کو خطرناک صورتحال سے بتوفیق الٰہی بچا لیا ہے تو مجلس نے بھی اس خبر کو مسرت وخوشی کے ساتھ سنا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ملک کے اجتماعی حالات سے ناگزیر اور ضروری دلچسپی کی حد تک مجلس نے ہمیشہ بغور حالات کا جائزہ لیا اور دیانت داری کے ساتھ محسوس کیا کہ اچھے رفقاء کی ٹیم میسر آجانے کے بعد ملک وملت آپ کے دور میں نہایت احسن طریقہ سے منزل مقصود حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ کے بعض اقدامات جو پچھلے تین سال میں ہوئے۔ بحیثیت مجموعی وہ مستحق تبریک ہیں اور انہیں نہ سراہنا حقائق کے انکار کے مترادف ہے۔
عالی مرتبت
موجودہ دور وعہدہ سے متعلق صاف سیدھے اور مخلصانہ جذبات کے اظہار کے ساتھ ہی حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کی پاسبانی کی ادنیٰ خدمت کے ناطہ سے مجلس چند گذارشات پیش کرنا چاہتی ہے۔ جنہیں خوگر حمد سے گلہ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ یہ گذارشات ’’الدین النصیحۃ‘‘ (دین خیرخواہی کا نام ہے) کے خالص دینی جذبہ سے پیش کی جارہی ہیں۔ اس کا فوری محرک آپ کی ۳؍ جون ۱۹۸۰ء کو وہ تقریر ہے جس میں آپ نے مثبت تجاویز ارسال کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے اور اس توقع پر کہ آپ جیسا مخلص مسلمان ان سنگین مسائل کے حل کی طرف فوری توجہ کر کے مسلمانان پاکستان ہی نہیں بلکہ مسلمانان عالم کی دعاؤں کے مستحق بنیں گے اور ساتھ ہی حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت اور رب محمد ﷺ کی خوشنودی آپ کا مقدر ہوگی۔ انشاء اللہ تعالیٰ!
- ۱...... محترمی! ملک میں سنسر شپ ہے۔ اس کے حسن وقبح پر گفتگو ہمارا وظیفہ
نہیں۔ بلکہ یہ بات ہمارے لئے انتہائی کرب واضطراب کا باعث ہے کہ قادیانی پریس وہ سب
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کچھ کہہ رہا ہے جس کی نہ مذہب اجازت دیتا ہے نہ قانون۔ مرزائیوں کے جرائد و رسائل میں وہ تحریریں اور اصطلاحات اسی طرح چھپ رہی ہیں۔ جن سے مسلمانوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوتے ہیں اور واضح طور پر توہین رسالت ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کو نبی، رسول اور مسیح موعود اور اس کے دیکھنے والوں کو صحابہ اس کی بیویوں کو امہات المؤمنین، اس کی جماعت کے سربراہ کو خلیفہ اور امیر المؤمنین لکھا پڑھا اور پکارا جا رہا ہے۔ سنسر شپ کے دور میں ہی چھپنے والے اس قسم کے مواد کی تفصیلات کے لئے دفتر درکار ہے۔ نمونہ کے طور پر آپ کو توجہ دلائی جاتی ہے کہ تحریک جدید، نامی رسالہ جو ربوہ سے شائع ہوتا ہے۔ اس کی اپریل ۱۹۸۰ء کی اشاعت میں ”ذکر حبیب“ کے عنوان سے چھپنے والے صرف ایک مضمون میں ۱۴ مرتبہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ”حضور علیہ السلام“ لکھا گیا ہے۔ فیا حسرتا!
- ۲...... صوبہ پنجاب کے سابق گورنر جناب جنرل سوار خان نے ربوہ کالج کی
غصب شدہ کروڑوں روپیہ کی زمین کالج کو واپس دلائی (یاد رہے کہ تعلیمی اداروں کے قومی ملکیت میں لئے جانے کے وقت یہ زمین بلطائف الحیل مرزائیوں نے حکومت سے ہتھیا لی اور سالہا سال اس پر غاصبانہ قبضہ جمائے رکھا ) زمین کی واپسی دسمبر ۱۹۷۹ء میں ہوئی۔ لیکن جنوری ۱۹۸۰ء میں ڈی۔سی جھنگ جناب فاروق ہارون نے درستی ریکارڈ کا آرڈر کر دیا اور اے۔سی جھنگ میاں ریاض احمد نے انتقال توڑ دیا۔ جس سے کیس کی حیثیت بری طرح مجروح ہوئی اور اس کھیل کے ذریعہ وہ زمین قادیانیوں کو دی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ ایک طے شدہ معاملہ کو درستگی ریکارڈ کے عنوان سے الجھانا اور متعلقہ اے۔سی چنیوٹ کی بجائے دوسری تحصیل کے اے۔سی کو کیس کی سماعت پر مامور کرنا معاملات کی خرابی کی چغلی کھاتا ہے۔ جس کا مداوا کرنا از بس ضروری ہے۔
- ۳...... پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ سر ہوچکا ہے اور بلدیاتی
اداروں کے سربراہوں کے انتخابات بھی ہوچکے ہیں۔ ربوہ ٹاؤن کمیٹی کے سربراہ کا انتخاب ہنوز نہیں ہوسکا۔ الیکشن اتھارٹی لاہور کے حکم پر جناب ڈی۔سی جھنگ نے ۳۱ مئی کے لئے نوٹیفکیشن جاری کیا۔ اس دن ممبران انتخاب کے لئے کمیٹی ہال ربوہ پہنچ گئے۔ دو گھنٹہ تک ان کو آر۔ایم ربوہ نے بٹھائے رکھا اور پھر یہ کہہ کر الیکشن نہ کرایا کہ جھنگ سے فون آیا ہے کہ ابھی ابھی سیشن جج جھنگ میاں غلام احمد نے سٹے آرڈر دے دیا ہے۔ تمام ممبران کی حاضری اور وقت ہو جانے کے باوجود
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
الیکشن نہ کرایا۔ فون کا آنا، سٹے آرڈر کا ہو جانا۔ بظاہر قانونی نوعیت کی بات ہے۔ لیکن بباطن کہانی کا سلسلہ دراز تر ہے۔ جو انتہائی تشویش کا موجب ہے اور اس کا فوری تدارک لازمی ہے۔
- ۴...... ربوہ اور اس کے گردونواح کے کئی ایک تعلیمی سنٹروں کے نگران ہیڈ
ماسٹر صاحبان قادیانی ہیں۔ مڈل سکول احمد نگر، مڈل سکول حست کھیوہ، پرائمری سکول ربوہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اس وجہ سے سکولوں میں قادیانیت کی کھلے بندوں تبلیغ روزمرہ کا معمول ہے اور کوئی تدارک کرے تو شنوائی نہیں۔ مثلاً ماسٹر محمد افضل جو احمد نگر سکول کے مدرس تھے۔ اسی جرم بیگناہی کی پاداش میں ان کی توہین وتذلیل، مار پٹائی ہوئی تحریری درخواست کے باوجود تھانہ میں کیس نہ درج ہونے دیا گیا اور آخری انجام اس غریب مسلمان ماسٹر کے تبادلہ کی شکل میں رونما ہوا۔ اس شکل میں بچوں کا ایمان واسلام خطرہ میں ہے اور یہ سلسلہ قانون پاکستان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
- ۵...... ڈاکٹر عبدالسلام نوبل پرائز ملنے کے بعد ایک پلاننگ کے تحت پاکستان
میں آیا۔ یہ وہ ذات شریف تھی جو انتہائی اہم سرکاری منصب پر فائز تھی۔ لیکن ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم کے بعد سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر لندن جا نکلی۔ وہاں کی شہریت لے کر پاکستان میں واپس نہ آنے اور کسی قسم کا تعلق نہ رکھنے کا اعلان کیا۔ پھر اسے اسمبلی ہال میں کھڑا کرنا اور ملک کے دوسرے حصوں میں اعزاز واکرام سے نوازنا ہماری سمجھ سے بالا ہے۔ اس نے اور اس کی جماعت نے پہلا پاکستانی مسلمان بار بار کہہ کر جس طرح اپنے کفر وارتداد کو اسلام کا عنوان دیا اور آئین پاکستان کی مٹی پلید کی وہ ایک المیہ ہے اور آپ جیسے صالح مسلمان کے دور میں ایسا ہونا ایک سوالیہ نشان ہے؟ محترمی! اس اعزاز واکرام کی وجہ سے مختلف مسلمان ممالک میں ڈاکٹر عبدالسلام کی پذیرائی اور بعض اداروں کی ممبر شپ وغیرہ کی تمام تر ذمہ داری حکومت پاکستان پر ہے۔ جس کا سدباب صبح قیامت کی مسؤلیت سے بچنے کے لئے ضروری اور لابدی ہے۔
- ۶...... مرزائیوں کے ایک اہم ترین فرد پیر صلاح الدین نے جو مختلف النوع
ذمہ دارانہ سرکاری مناصب پر فائز رہ چکا ہے۔ راولپنڈی میں بدکاری و اخلاق باختگی کا جو اڈا پیر ہوٹل کے نام سے بنایا۔ اس کے تعارف کرانے کی ضرورت نہیں۔ اسے ملٹری کورٹ سے سزا ملی اور سنگین لیکن سزا کا ایک حصہ بھگت جانے کے بعد باقی سزا معاف کر کے نہ صرف اخلاق
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
باختگی و بدکاری کے سنگین مجرموں کو ڈھیل دی گئی۔ بلکہ توہین رسالت کے مجرموں کو بغلیں بجانے کا موقعہ فراہم کیا گیا۔
- ۷...... ملک کے مختلف مقامات پر جو قادیانی جہاں موجود ہے وہ سرگرم عمل ہے۔
بالخصوص سرکاری دفاتر میں متعین قادیانی بری طرح کل پرزے نکال رہے ہیں۔ جس کا ایک حصہ مجلس عرفان کے نام پر درس وتبلیغ کا سلسلہ ہے۔ جس سے مسلمانوں میں اشتعال کی فضا کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ جس کا نتیجہ کسی ناخوشگوار حادثہ کی شکل میں رونما ہو سکتا ہے۔ جس کا نہ ملک متحمل ہے نہ ملت۔
جناب عالی!
یہ اور اس نوعیت کے سنگین واقعات ہیں جو معاملات کے الجھاؤ کا باعث بن رہے ہیں۔ منکرین ختم نبوت کے ہر دو فریق منہ زور گھوڑے کی طرح شرارت وفساد انگیزی میں مصروف ہیں۔
عالی مرتبت! حضور نبی مکرم صلوت اللہ تعالیٰ علیہ وسلامہ کے ادنیٰ اور گنہگار امتی ہونے کا شرف ہمارا کل سرمایہ ہے اور بس...... اور ہم اپنی جماعت کے بانی وامیر اوّل حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری الحسنی قدس اللہ سرہ العزیز کے الفاظ میں سیاست کو سُؤر کی بوٹی سے تعبیر کرتے ہوئے وہی بات دہراتے ہیں جو شاہ جیؒ نے خواجہ ناظم الدین کے دور حکومت میں کہی کہ سرکار مدینہ کے ناموس کا تم تحفظ کرو میں تمہارے ریوڑ چراؤں گا۔
جنرل صاحب! محمد کریم علیہ السلام کا وجود ہی وہ گرامی قدس وجود ہے جس کی وجہ سے کائنات کو عزتیں نصیب ہوئیں۔ ملک وقوم کی سلامتی اور اس کی بے لوث خدمت کے لئے آپ کی قیادت میں ہم سے جو بن پڑا کر گزریں گے۔ لیکن شرط یہی ہے کہ ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم بہ سلسلہ قادیانیت کے عملی تقاضوں کو پورا کر کے ان مسائل میں قوم کو اعتماد میں لیں۔ متذکرہ امور کے علاوہ مندرجہ ذیل امور بھی آپ کی فوری توجہ کے مستحق ہیں۔
- الف...... مرزائیوں کو کلیدی اسامیوں سے برطرف کیا جائے۔
- ب...... ان پر اسلام اور پاکستان دشمنی کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے۔
- ج...... ان کی نیم فوجی تنظیموں پر پابندی عائد کی جائے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- د...... مرزائیوں کا خلاف اسلام تمام لٹریچر ضبط کیا جائے۔
- ہ...... مرزائیوں کو مسجد، نماز، اذان، نبی، رسول، خلیفہ، امیر المؤمنین، امہات المؤمنین،
صحابہ جیسی اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے قانوناً باز رکھا جائے۔
- و...... شناختی کارڈ، راشن کارڈ، سکول سرٹیفکیٹ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کیا جائے۔
- ز...... پاکستان میں دعویٰ نبوت قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو، ہمیں اور تمام مسلمانان عالم کو شافع یوم محشر، ساقی کوثر، حضور نبی مکرم ختمی مرتبت صلوات اللہ تعالیٰ علیہ وسلامہ کی سچی محبت وعقیدت اور آپ کی اطاعت کے لازوال شرف سے نوازے۔
آمین بحرمتہ النبی الکریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم!
آپ کا مخلص : فقیر ابو الخلیل خان محمد، امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان وسجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی
۴...... خطبۂ صدارت
شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد صاحبؒ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کی طرف سے ۲۶ ویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ منعقدہ ۲۶، ۲۷، ۲۸/دسمبر ۱۹۷۸ء کے موقعہ پر پڑھا گیا۔
شہدائے ختم نبوت
ارفع بہشت سے بھی تمہارا مقام ہے
تحریک پاک ختم نبوت کے عاشقو
واللہ! تم پہ آتش دوزخ حرام ہے
تحریک کو وہ زندہ جاوید کر گیا
خون شہید سرخی نقش دوام ہے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
بسم الله الرحمن الرحیم!
الحمد لله وکفٰی وسلام علٰی عباده الذین اصطفٰی خصوصاً علٰی سید الرسل وخاتم الانبیاء وعلٰی آله المجتبٰی وعلٰی اصحابه الاصفیاء ، اما بعد!
محترم علمائے کرام و رہنمایان عظام اور میرے شیدایان اسلام بھائیو اور بہنو!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! یہ عظیم الشان کانفرنس اپنی درخشندہ و تابندہ روایات کے ساتھ ہر سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہوتی ہے۔ الحمد للہ کہ آج ہم اس چھبیسویں عظیم الشان سالانہ کانفرنس کا آغاز کر رہے ہیں۔ آپ حضرات اگرچہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان سے اچھی طرح متعارف ہیں اور اس عظیم الشان کانفرنس کی ضرورت اور اہمیت سے بھی بے خبر نہیں ہیں۔ تاہم یہ فقیر مناسب خیال کرتا ہے کہ مجلس اور اس کانفرنس کے سلسلہ میں چند باتوں کا اعادہ کر دے تاکہ اس جماعت کے ساتھ وابستہ عظیم اور مقدس مقاصد سے جہاں ہم سب اچھی طرح باخبر ہو جائیں۔ وہاں نہ تو ہمارے متعلق کسی کو کوئی غلط فہمی رہ جائے اور نہ ہی وہ بلند و بالا مقاصد اور مقدس مشن ہمارے جاں نثار اور ایثار پیشہ ساتھیوں کی نظروں سے اوجھل ہونے پائے اور ہم سب ان مقاصد کے حصول کو اس مقدس مشن کی تکمیل کے لئے پہلے سے بھی زیادہ محنت اور خلوص کے ساتھ سرگرم عمل ہو جائیں۔
حضرات گرامی قدر! یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور اس مسلمہ حقیقت پر تاریخ کا ایک ایک ورق گواہ ہے کہ مرزائیت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک سازش اور فتنے کا دوسرا نام ہے۔ برطانوی سامراج نے اپنی مخصوص مصلحتوں اور مفادات کے لئے اسے جنم دیا۔ اسے تحفظ مہیا کیا اور اپنے زیر نگین مقبوضات میں اسے پھلنے پھولنے کا موقعہ فراہم کیا۔ خود مرزا قادیانی نے تحریری طور پر اپنے آپ کو سرکار برطانیہ کا خود کاشتہ پودا تسلیم کر لیا ہے۔ انگریزوں کے مخالفوں کی جاسوسی کرنے اور برطانوی سامراج کے مفاد میں جہاد کی حرمت کا فتویٰ دینے اور اس سلسلہ میں بھری ہوئی پچاس الماریوں کی مقدار لٹریچر چھاپ کر برصغیر بلکہ پوری دنیائے اسلام میں تقسیم کرنے کا نہ صرف اقرار کر لیا ہے۔ بلکہ اسے اپنا اور اپنی جماعت کا قابل فخر کارنامہ بتایا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت کی طرف سے یہ سارے رسوا کن کارنامے مسلمانوں کی
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
وحدت ملی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور برطانوی سامراج کی جڑوں کو مضبوط اور مستحکم رکھنے کے لئے سرانجام دیئے گئے۔ اس تاریخی حقیقت کی روشنی میں یہ بات بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اس فتنہ کے استیصال کی سعادت بھی انہیں مجاہدوں کے حصہ میں آئی جو گزشتہ پوری صدی انگریزوں کے خلاف سینہ سپر ہو کر نبرد آزما رہے اور انگریزوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے ان کے اس خودکاشتہ پودے اور خود ساختہ فتنے کے سر پر بھی کاری ضربیں لگاتے رہے۔
سامعین کرام! انگریز اسلام اور مسلمانوں کا بدترین دشمن رہا۔ اس نے اپنی سامراجی مصلحتوں کے لئے مختلف رنگ و روپ رکھنے والے کئی ایجنٹ پیدا کئے تھے اور ان کی درجہ بدرجہ نگہداشت کرتا رہا تھا۔ جاگیرداروں کے علاوہ اس نے سرکاری علماء، سرکاری اولیاء اور سرکاری انبیاء تیار کر رکھے تھے۔ دنیوی معاملات میں وہ جہاں غدار جاگیرداروں اور سرمایہ داروں سے اپنے اقتدار کے استحکام کے لئے توانائی حاصل کرتا تھا۔ وہاں ان نام نہاد شمس العلماؤں، جعلی اولیاؤں اور جھوٹے مدعیان نبوت سے حرمت جہاد کی سندیں حاصل کرتا، علمائے حق اور مجاہدین اسلام کے ان فتوؤں اور فیصلوں جن میں برطانوی ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا گیا تھا کے جواب میں ان پیٹ کے پجاری علمائے سو سے ہندوستان کے دارالاسلام ہونے کے فتوے لیتا رہا۔ علمائے حق اور ان کی معیت میں جہاد کرنے والے مجاہدین اسلام کو نہ صرف انگریزوں سے جہاد کرنا پڑا اور ایک قاہر اور جابر فرنگی اقتدار کے مظالم برداشت کرنا پڑے۔ بلکہ انگریزوں کی اس پالتو مخلوق کی یاوہ گوئی کی اذیتیں بھی سہنا پڑیں۔
آج بے شمار لوگ اپنے سیاسی اور مذہبی نسب ناموں کی درستگی میں مصروف ہیں۔ لیکن انگریزوں کی اپنی لکھی ہوئی کتابوں اور اس کی خفیہ فائلوں کا ریکارڈ گواہ ہے کہ برطانوی سامراج اور اس کے ایجنٹوں سے ٹکرانے والے لوگ کون تھے۔ ان کی تاریخ غازیوں اور شہیدوں کی تاریخ ہے۔ پھانسیوں کی تاریخ ہے۔ چونے کی بھٹیوں میں زندہ جلائے جانے کی تاریخ ہے۔ جیلوں کی کال کوٹھریوں کی تاریخ ہے۔ اپنی اولادوں اور گھرانوں کو برباد اور ویران کرانے کی تاریخ ہے۔
حاضرین کرام! اسی مجاہد فی سبیل اللہ قافلے اور قبیلے کا ایک عظیم فرزند حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی ہیں اور وہی بلبل بستان رسول اس عظیم الشان کانفرنس کے بھی بانی ہیں۔ مولانا ظفر علی خاں کے الفاظ میں ؎
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
بلبل چہک رہا ہے ریاض رسول میں
حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی پوری زندگی ان دو آرزوؤں کے ارد گرد گھومتے ہوئے کٹ گئی۔ ان کی پہلی آرزو یہ تھی کہ ان کی دیکھتی آنکھوں کے سامنے انگریز برصغیر سے اپنا بوریا بستر باندھ کر چلا جائے یا انہیں اپنے اکابر کی راہ پر چلتے ہوئے تختۂ دار کی موت نصیب ہو جائے۔ اللہ نے ان کی یہ آرزو ان کی زندگی ہی میں پوری کردی۔ ان کی دیکھتی آنکھوں کے سامنے انگریز ملک چھوڑ گیا اور وہ بہر حال فرنگی کی جڑیں کاٹنے اور اپنے ملک کو اس دشمن اسلام سے آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئے۔
شاہ جیؒ نے یہ سرخروئی تالیف و تصنیف کے مشغلے یا کسی فتویٰ فروشی کے سلسلے سے حاصل نہ کی تھی۔ بلکہ وہ اور ان کے ساتھ مجاہدوں اور غازیوں کی ایک زبردست جماعت اپنے سروں پر کفن باندھ کر اور اپنے متعلقین کو خدا حافظ کہہ کر گھروں سے نکلے تھے اور اس فرنگی سے ٹکرا گئے تھے۔ جس کی سلطنت میں سورج غروب نہ ہوا کرتا تھا وہ اس جہاد آزادی میں نہ صرف فرنگی کے ظلم وتشدد کے تیروں سے زخمی ہوتے رہے۔ بلکہ انہیں فرنگی کے ایجنٹوں کے کانٹوں سے بھی اپنے دامن تار تار کرانا پڑے۔ تحریک آزادی کے جہاد میں شاہ جیؒ کے ہمراہ مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم پر چوہدری افضل حق، مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی، مولانا سید محمد داؤد غزنوی، مولانا مظہر علی اظہر، شیخ حسام الدین، چوہدری عبد الرحمٰن راہوں، چوہدری عبد العزیز بیگوال، خواجہ عبد الرحیم عاجز، غازی عبد الرحمٰن، حافظ علی بہادر، نوابزادہ محمود علی خاں کیلاش پوری، آغا شورش کاشمیری، مولانا ظفر علی خاں، حکیم آفتاب احمد جامعی، مولانا گل شیر شہید، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا قاضی احسان احمد، نوابزادہ نصر اللہ خاں، حکیم عبد السلام ہزاروی، مولانا عبد القیوم پوپلزئی، حاجی عبد الرحمٰن بٹالوی، مولانا لال حسین اختر، ماسٹر تاج الدین انصاری، صوفی عنایت محمد پسروری، حکیم نور دین، میر عبد القیوم، مولانا عبد الرحیم جوہر جہلمی، مولانا عبد الرحمٰن میانوی، حافظ عزیز الرحمٰن کراچی، محمد شفیع سالار، محمد ابراہیم خادم، فاتح قادیان مولانا محمد حیات، مولانا غلام غوث ہزاروی، صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ، مرزا غلام نبی جانباز، حافظ عبد المجید نابینا، حکیم غلام غوث ڈیرہ غازیخان، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ، عبد الرحیم خان نیازی، صوفی اللہ داد کامریڈ، عبد الکریم
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
وزیر آبادی، فضل الرحمٰن خان، مظہر خاں خٹک، ملتان، مولانا عبدالغفور انوری اور بے شمار مخلص بہادر ایثار پیشہ اور جانثار کارکن اور رضا کار شامل تھے۔ ان میں سے جو لوگ وفات پا گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبور کو اپنے انوار رحمت سے منور فرمائے اور اعلیٰ علیین میں جگہ عطاء فرمائے اور جو حضرات ابھی حیات ہیں ان کو تادیر سلامت رکھے۔
معزز سامعین! حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی دوسری آرزو تھی کہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا جماعت مرزائیہ اپنے انجام کو پہنچ جائے۔ اس آرزو کے لئے انہوں نے تحریک آزادی کے دوران بھی بے پناہ کام کیا اور ان کے مجاہد ساتھیوں نے ہمیشہ اس فتنہ سیاہ کا محاسبہ کیا۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جہاد آزادی کے دوران انہوں نے مجلس احرار کے ساتھ ایک خود مختار شعبہ تبلیغ قائم کیا جس کا مرکز قادیان کو قرار دیا گیا۔ جس کے ناظم دفتر یکے بعد دیگر مولانا عنایتؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ اور فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ رہے۔ پیر شاہ چراغ کے نام شعبہ قادیان کے تمام املاک خریدی گئی تھیں۔ اس شعبہ کے سربراہ میاں قمر دینؒ رئیس اچھرہ تھے۔ آزادی ملک کے بعد شاہ جیؒ نے اپنی تمام تر توجہات تحفظ ختم نبوت اور استیصال فتنہ مرزائیت کی طرف مبذول کر دیں۔ اس میں شک نہیں کہ آزادی ملک تک مجلس احرار اسلام نے مرزائیت کا ناطقہ بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور اس سلسلہ میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔
لیکن دوسری طرف بدقسمتی سے مجلس احرار اسلام بوجوہ تحریک پاکستان کی حمایت مسلم لیگ کے نہج پر نہ کر سکی تھی۔ تحریک پاکستان سے قبل اسے شہید گنج کی سازش کی وجہ سے عوامی غیظ و غضب کا شکار ہونا پڑا تھا۔ رہی سہی کسر تحریک پاکستان کے زمانہ میں نکل گئی۔ مرزائی پاکستان کے سیاسی طور پر ہی نہیں، مرزا غلام احمد قادیانی کی پیشین گوئیوں اور الہامات کے مطابق بھی مخالف تھے۔ جب پاکستان مرزائیوں کی پیشین گوئیوں اور مخالفت کے علی الرغم بننے لگا تو مرزا محمود نے اعلان کر دیا کہ اگر ملک تقسیم ہوا تو وہ تقسیم عارضی ہوگی اور ہم کوشش کریں گے کہ ہندو مسلم آپس میں شیر و شکر ہو جائیں اور ہم کسی نہ کسی طرح ملک کو پھر اکھنڈ بنا دیں گے۔
حضرات گرامی! مرزا محمود کے اس اعلان کے بعد ہمارے لئے ضروری ہو گیا کہ ہم مسلمانوں کو مرزائیوں کے مذہبی عقائد اور سازشی عزائم سے پوری طرح آگاہ کریں اور قوم کا اعتماد حاصل کر کے اجتماعی طاقت اور قوت کے ساتھ ان کے عزائم سے ملک اور ملت کو بچائیں۔ بے شمار
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
لوگ ایسے تھے جو اس مقصد میں ہمارے ساتھ ہمدردی اور اتفاق رکھنے کے باوجود مجلس احرار اسلام سے خدا واسطے کا بیر رکھتے تھے۔ ہم نے مناسب سمجھا کہ ضرورت نام کی نہیں اصل کام کی ہے۔ ادھر خود مجلس احرار اسلام نے بھی اپنی سیاسی حیثیت ختم کر دینے کا اعلان کر دیا تھا۔ حالات کے تقاضے اور اکثر ساتھیوں کی خواہش کے مطابق حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ نے ایک خالص تبلیغی، دینی اور غیر سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کا نام ”مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان“ تجویز ہوا۔ مجلس احرار اسلام کے قائدین ماسٹر تاج الدین انصاریؒ اور ضیغم اسلام شیخ حسام الدین کا اعتماد بھی حاصل کیا گیا۔ اس بلند مقصد کے حصول کے لئے جماعت کی بنیاد رکھی گئی اور اس کے بنیادی ممبران میں حسب ذیل حضرات حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا شیخ احمدؒ بورے والا، مولانا محمد شریف بہاول پوریؒ، مولانا محمد حیاتؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا عبدالرحمن میانویؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، مولانا محمد عبداللہؒ ساہیوال، مولانا نذیر حسینؒ پنوں عاقل اور مولانا علاؤ الدینؒ شامل تھے۔ مجلس نے انتہائی بے سروسامانی اور کسمپرسی کے حالات میں اس عظیم کام کا بیڑہ اٹھایا اور جماعت کا پہلا بجٹ ۳۶۰ روپے سالانہ یعنی ایک روپیہ یومیہ تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی دفتر جامع مسجد حسین آگاہی ملتان کا ملحقہ حجرہ تجویز ہوا۔ اس مسجد میں مولانا محمد علی جالندھریؒ ایک مدت سے خطبہ جمعہ دیا کرتے تھے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کے پہلے مبلغ بلکہ صدر المبلغین فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ مقرر ہوئے۔ اس کے بعد اس سلسلے میں حضرت شاہ جیؒ کی سرپرستی، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اور دوسرے ساتھیوں کے خلوص اور محنت سے ترقی اور برکات شامل ہوتی چلی گئیں۔ خدائے قدوس کی بے شمار رحمتوں اور برکتوں کا ظہور ہو رہا ہے۔ خصوصاً شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے دور میں حق تعالیٰ نے جماعت کو لاتعداد ظاہری اور باطنی برکات و نوازشات سے سرفراز فرمایا اور انہیں کی زیر قیادت تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کامیاب ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی اس خاص شان صمدیت کا اظہار ہوا کہ ختم نبوت کے محاذ پر سب سے بڑھ کر علمی اور عملی حصہ لینے والے حضرت امام العصر علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ کے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ایک معنوی فرزند حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے جس تحریک کا آغاز کیا تھا۔ انہیں کے دوسرے معنوی فرزند حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے اسے کامیابی سے ہمکنار کر دیا۔
محترم حضرات! اس میں شک نہیں کہ فتنہ مرزائیت کے بالمقابل بے شمار سعید ارواح نے جہاد میں حصہ لیا۔ جن میں مولانا محمد علی مونگیریؒ، مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، سید علی الحائری، علامہ اقبالؒ، مولانا ظفر علی خانؒ جیسی بلند و بالا ہستیاں بھی شامل تھیں۔ لیکن مرزائیوں کے محاسبے کا اصل کام مجلس تحفظ ختم نبوت کے قیام سے شروع ہوتا ہے۔
۱۹۵۳ء کی تحریک کے لئے مجلس عمل میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ کے ساتھ ساتھ ملت اسلامیہ کے گلہائے رنگارنگ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ، مولانا احتشام الحق تھانویؒ، مولانا اطہر علیؒ، پیر صاحبؒ سرینہ شریف، مولانا مفتی محمد شفیعؒ، شیخ حسام الدینؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، صاحبزادہ فیض الحسنؒ، حضرت مولانا ابو الحسنات محمد احمد قادریؒ، مولانا عبدالحامد بدایوانیؒ، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ، حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ، جناب سید مظفر علی شمسیؒ، علامہ حافظ کفایت حسینؒ جیسی عظیم المرتبت شخصیتیں شامل و شریک تھیں۔
اور ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے لئے بننے والی مجلس عمل میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، راقم الحروف فقیر خان محمدؒ خانقاہ سراجیہ شریف، مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، سردار میر عالم خان لغاری کے ساتھ ساتھ قائد جمعیت حضرت مولانا مفتی محمودؒ، مولانا عبدالحقؒ اکوڑہ خٹک، مولانا عبیداللہ انورؒ، حضرت مولانا عبداللہ درخواستیؒ، مولانا قاری محمد اجمل خانؒ، شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خانؒ، مولانا سید عنایت اللہ شاہؒ، بریلوی مکتب فکر سے مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا صاحبزادہ فضل رسول حیدر، مولانا سید محمود احمد رضویؒ، سید محمود شاہ صاحب گجراتیؒ، سید محمد علی رضویؒ، مولانا غلام علی اوکاڑویؒ، تنظیم اہل سنت سے مولانا عبدالستار تونسوی، سید نورالحسن شاہ بخاریؒ، اہل حدیث حضرات سے میاں فضل حق، مولانا عبدالقادر روپڑیؒ، مولانا عبدالرحیم اشرفؒ، علامہ احسان الہی ظہیرؒ، مولانا محمد صدیقؒ، شیعہ حضرات
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
سے سید مظفر علی شمسی، مولانا محمد اسماعیل، جناب ع غ کراروی، سیاسی جماعتوں کے نمائندگان میں سے جناب نوابزادہ نصر اللہ خانؒ، چوہدری ظہور الٰہیؒ، پروفیسر غفور احمد، رانا ظفر اللہ خان، میاں طفیل محمد، میجر اعجاز احمد، خان محمد اشرف خان، علی اصغر شاہ، محاسبہ کمیٹی سے آغا شورش کاشمیریؒ، تبلیغی جماعت سے مولانا مفتی زین العابدینؒ، آزاد ممبران سے مولانا ظفر احمد انصاری اور مولا بخش سومرو، مجلس احرار سے مولانا ابو ذر بخاریؒ اور چوہدری ثناء اللہ بھٹہ بھی شامل تھے۔
لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ان گلہائے رنگ رنگ کو جمع کرنے اور ایک پلیٹ فارم پر لانے اور اس گلدستے کو باندھنے کے لئے شیرازہ کا کام مجلس تحفظ ختم نبوت ہی نے انجام دیا۔ اس کے علاوہ یہ بھی امر واقعہ ہے کہ مرکزی تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے جملہ اخراجات مجلس ہی نے برداشت کئے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہماری اور تمام مسلمانوں کی مساعی کو قبول فرمائے۔
گرامی قدر حاضرین! حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی وفات کے سانحہ کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت اور خدمت کی ذمہ داری فقیر کے ناتواں کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔ جسے یہ فقیر مجلس کی شوریٰ کے ممبران اور عہدیداران اور ہزاروں نہیں لاکھوں شمع ختم نبوت کے پروانوں کی دعاؤں اور ہر نوع کے تعاون سے نبھا رہا ہے۔ مجلس نے مرزائیوں کے ہر چیلنج کو الحمد للہ! قبول کیا۔ اندرون ملک اور بیرون ملک ان کی مرتدانہ سرگرمیوں کا تعاقب جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں جماعت نے حسب استطاعت عربی، انگریزی، اردو، سندھی زبانوں میں بے شمار لٹریچر چھاپ کر اندرون ملک اور بیرون ملک پھیلایا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ہفتہ وار لولاک فیصل آباد سے مولانا تاج محمودؒ کی ادارت میں تمام مرزائی رسائل و جرائد کا منہ توڑ جواب دے رہا ہے۔ ان کی خفیہ سازشوں کو بے نقاب کرنا اور ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے میں لولاک نے الحمد للہ! اپنا ایک مقام پیدا کیا ہے۔
اس کے علاوہ مجلس نے مختلف بیرونی ممالک میں اپنی تبلیغی وفود بھیجے اور وہاں جاکر مرزائیوں کی دسیسہ کاریوں کے پردے چاک کئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ، انڈونیشیا، افریقہ، مغربی جرمنی اور انگلستان، جزائر فجی میں مستقل رابطے اور مراکز قائم کر لئے ہیں۔ جن رابطوں کو مالی وسائل کے مطابق زیادہ طاقتور بنانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ بیرون ملک جماعت کے جن قائدین اور رہنماؤں نے تبلیغ اسلام کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں ان میں شیخ الاسلام مولانا محمد
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
یوسف بنوریؒ ، مولانا لال حسین اخترؒ ، مولانا عبدالرزاق اسکندر، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ ، مولانا سید منظور احمد شاہ حجازیؒ ، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد عبداللہ کاکاخیل، مولانا اسد اللہ طارق اور مولانا عبدالمجید خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔
مکرم سامعین! مجلس تحفظ ختم نبوت کو حق تعالیٰ نے یہ عزت اور کامیابی آپ سب حضرات کی دعاؤں اور تعاون سے نصیب فرمائی ہے کہ اس کے ربوہ کی سرزمین بے آئین پر دو مرکز اس وقت قائم ہوچکے ہیں۔
مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن اب مستقل مجلس کے زیر انتظام دینی اور تبلیغی مرکز کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ جس میں ربوہ میں رہائش پذیر مسلمانوں اور خصوصاً ربوہ کے ریلوے اسٹیشن کے عملہ کا خصوصی تعاون بھی حاصل ہے۔ اس مسجد میں گزشتہ تین سال سے مجلس کے مبلغ حضرات نماز جمعہ وعیدین اور امامت وخدمت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ہماری جماعت کے ممتاز عالم دین مولانا اللہ وسایا آج کل وہاں جمعہ کا خطبہ دیتے ہیں۔
ربوہ کے مسلمانوں کے علاوہ اردگرد کے دیہات کا یہ مسجد مرکز بنتی چلی جارہی ہے۔
فالحمدلله على ذالك!
اس طرح ربوہ میں مجلس کا دوسرا بڑا عظیم الشان مرکز مرکزی جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی ربوہ میں زیرتعمیر ہے۔ یہاں ابتدائی طور پر ایک چھوٹی سی مسجد بنا کر اور اس کے ساتھ مدرسہ تعلیم القرآن کی عمارت تعمیر کی گئی ہے۔
اس مرکز کے نگران اعلیٰ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ ہیں اور مدرسہ تعلیم القرآن میں باقاعدہ قاری صاحبان مسافر اور مقامی بچوں کو حفظ قرآن کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
اس مرکز پر اللہ کے فضل و کرم سے گزشتہ سال ربیع الاوّل میں یک روزہ سیرت النبیؐ کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔ جو اس فقیر کی صدارت میں ہوئی اور جس میں بیرون اور اندرون ربوہ کے ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔
اس سال انشاء اللہ! آپ کے تعاون اور دعاؤں سے ماہ ربیع الاوّل میں دو روزہ سیرت النبیؐ کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مبارک موقعہ پر مرکزی جامع مسجد کی اصل عظیم الشان بلڈنگ کا سنگ بنیاد بھی رکھا جائے گا۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
حضرات گرامی قدر! پچھلے دنوں آپ کو اخبارات کے ذریعہ معلوم ہو گیا ہو گا کہ مرزائیوں نے ایک خاص سازش کے تحت الیکشن کمیشن کے دفتر میں مسلمان ووٹروں کے لئے مجوزہ فارم کے حلف نامے میں اپنے منشاء کے مطابق گڑ بڑ اور تبدیلی کی تھی۔ ہمیں اس کا علم ہوا تو فقیر خود، مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور مولانا محمد رمضان علوی کی معیت میں بطور وفد پاکستان قومی اتحاد کے صدر اور اپنے عظیم رہنما مولانا مفتی محمودؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے کمال شفقت اور خصوصی توجہ سے ہماری معروضات کو قابل اعتناء سمجھ کر اس اہم مسئلہ میں مداخلت کی۔ صدر مملکت ضیاء الحق سے دو ملاقاتوں کے مواقع پر انہوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت اور کل مسلمانوں کے اس مطالبے کو ڈٹ کر پیش کیا اور دلائل سے صدر مملکت کو قائل کر لیا اور اس طرح مرزائیوں کی یہ خاص سازش ناکام ہو گئی ہے۔ اس سلسلہ میں عدالت تک کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا گیا اور جو مساعی جماعت نے سرانجام دیں یہ مختصر فرصت اس کی متحمل نہیں ہے۔
فارموں کے اس دجل سے مرزائیوں کا منشاء یہ تھا کہ انہیں مرزائیوں کے لئے مخصوص فارم پر نہ کرنے پڑیں اور وہ مسلمانوں کے لئے مجوزہ فارم پر کرسکیں۔ مرزائیوں کے لئے مخصوص فارم پر کرنے کی صورت میں:
- ۱...... وہ اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے۔ جبکہ ابھی تک انہوں نے قومی
اسمبلی کے فیصلہ سے بغاوت اختیار کی ہوئی ہے۔
- ۲...... دوسرا مقصد ان کا یہ تھا کہ اگر وہ مرزائیوں کے لئے مخصوص فارم پر کر دیں
گے تو ان کی اصل گنتی کا بھرم کھل جائے گا۔ جو شاید چند ہزار مرزائیوں سے متجاوز نہ ہو سکتی ہو۔ جبکہ مرزائی اپنی مردم شماری لاکھوں کی تعداد میں بتاتے ہیں۔
حضرات گرامی! یہ عظیم الشان کانفرنس جیسا کہ فقیر نے پہلے عرض کر دیا ہے کہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی ایک مقدس امانت ہے۔ اس کانفرنس کو یہ شرف حاصل ہے کہ شاہ جیؒ نے اپنی ساری زندگی اتحاد بین المسلمین کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں تھیں۔ آج یہ کانفرنس شاہ جیؒ کی انہیں گرانقدر خدمات کا صلہ ہے اور اس کانفرنس میں آپ حضرات ملک کے مختلف مکاتب فکر کے بزرگوں کو ایک سٹیج پر جلوہ افروز دیکھ رہے ہیں۔ اس کانفرنس میں جو انتہائی ناخوشگوار اور ناموافق موسم میں ہوتی ہے اور آپ حضرات کو دور و نزدیک سے آنے کی زحمت دی جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ اتحاد بین المسلمین کی ضرورت واہمیت ہے۔ جو اسلامی نظام کے نفاذ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کے لئے از بس ضروری ہو چکا ہے۔
آپ کے قریب ربوہ میں نئے مسیحی پرانے مسیحیوں کے کرسمس کی مناسبت سے جمع ہوتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ چنیوٹ اور اردگرد کے دیہات کے ہمارے سادہ لوح مسلمان بھائیوں کا ایمان بچایا جائے۔ تا کہ وہ کہیں دجال کے اس فتنہ کا غلط فہمی اور کم علمی کی وجہ سے شکار نہ ہو جائیں۔
آخر میں فقیر تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنے فروعی اختلافات کو کم از کم کر کے ایک خدا، ایک رسول، ایک کعبہ، ایک کتاب اللہ کی بنیاد پر اتحاد کو قائم کریں۔ غلط فہمیوں بدگمانیوں اور الزام تراشیوں کو چھوڑ دیں۔ ملک میں ہزاروں فتنے اور سازشیں زیر زمین پھیلائی جارہی ہیں۔ دوست دشمن کی پہچان رکھیں اور مکار دشمن کی کسی چال اور سازش کا شکار نہ ہو جائیں۔ اس وقت اگر ہمارا اتحاد مضبوط ہوا تو اب دنیا کی کوئی طاقت یہاں نظام اسلام کے اجرا کو روک نہیں سکتی۔
ہمیں اس بات پر خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ جنرل محمد ضیاء الحق اور ان کی موجودہ کابینہ نظام اسلام کے نفاذ کی ابتداء کر چکی ہے۔ ۱۲ ربیع الاوّل سے بعض احکام اور اقدامات نافذ ہو جائیں گے۔ ابھی سے مساجد زیادہ آباد نظر آنے لگی ہیں۔ نہ صرف ہماری سماجی اور معاشرتی برائیاں اور خرابیاں دور ہوں گی۔ بلکہ اسلامی نظام کے نفاذ کی برکت سے حق تعالیٰ ہم پر اپنی رحمتوں کے بے شمار خزانوں کے دروازے کھول دے گا۔
آپ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ممبر بنیں۔ اس سے مالی تعاون کریں اور سارقین ختم نبوت کے استیصال اور ان کی سازشوں سے ملک وملت کو بچانے میں عملی حصہ لیں۔
حضرات محترم! اب میں ان تمام مہمانوں، مندوبین، مدعوین، علمائے کرام، مشائخ عظام، رہنمایان ملک وملت اور جملہ شرکائے کانفرنس کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کے لئے دعا کرتا ہوں کہ حق تعالیٰ انہیں اس تکلیف پر اپنی بے شمار رحمتوں سے نوازے اور احسن جزا عطا فرمائے۔
فقیر ابوالخلیل خان محمد عفی عنہ امیر مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان از خانقاہ سراجیہ کندیاں
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
۵......خطبۂ صدارت
امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد صاحبؒ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں کی طرف سے ۲۷ویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ منعقدہ ۲۷، ۲۸، ۲۹؍ دسمبر ۱۹۷۹ء کے موقعہ پر پڑھا گیا۔
”الحمد لله وحده والصلوٰة والسلام علیٰ من لا نبی بعده“
قابل احترام علمائے کرام! رہنمایان عظام، کانفرنس میں شریک ہونے کے لئے آئے ہوئے مدعوین و مندوبین اور میرے ذی احترام شیدایان اسلام و فدایان ختم نبوت، خواتین و حضرات، السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
آج ایک سال کے بعد ایک بار پھر ہم اس ستائیسویں کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس میں جمع ہوئے ہیں۔ میں آپ کے لئے رب کریم سے مخلصانہ دعا کرتا ہوں کہ حق تعالیٰ آپ کا اس انتہائی ناخوشگوار اور سخت ٹھنڈے موسم میں تکلیف برداشت کر کے آنا قبول فرمائے اور آپ کو دنیا و آخرت میں اس کی نیک جزا نصیب فرمائے۔
اصل میں آپ کا یہ تکلیف برداشت کرنا اور سخت سردی میں آ کر کانفرنس میں شرکت کرنا ایک نہایت ہی نیک اور بابرکت جذبہ کے باعث ہے۔ آپ کی اس کانفرنس میں تشریف آوری حضور اکرم فداہ ابی و امی ﷺ سے والہانہ عشق اور محبت کے باعث ہے۔ اس اجلاس میں شرکت فرما کر آپ نے جناب رسول اللہ ﷺ کے فدائیوں اور تحریک تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے رضا کاروں میں اپنا نام درج کرا دیا ہے۔
شفاعت کے مستحق
میرا یقین ہے کہ جو لوگ اتباع سنت کے ساتھ ساتھ حفاظت ناموس مصطفیٰ ﷺ کے لئے جان، مال، وقت یا کسی بھی نوع کی کوئی قربانی کرتے ہیں۔ وہ خواجہ یثرب و بطحاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ یہ کانفرنس اگرچہ ہر سال منعقد ہوتی ہے اور اس میں لاکھوں شیدایان اسلام اور فدایان ختم نبوت مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام سے پیغام حق سن کر نہ صرف اپنا ایمان تازہ کرتے ہیں۔ بلکہ اتحاد بین المسلمین کے عملی مظاہرہ میں بھی شریک ہوتے ہیں اور اس طرح اس کانفرنس کو ملک میں ایک خاص اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ تاہم اس
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
سال اس کانفرنس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ جس کی حسب ذیل تین وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ
محترم حضرات! ملک کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ سال رواں میں جب الیکشنی سیاست نے پر پرزے نکالنے شروع کئے اور ۱۷ نومبر ۱۹۷۹ء الیکشن کی تاریخ مقرر ہوگئی تو جوں جوں وہ تاریخ قریب آرہی تھی ایسا معلوم ہورہا تھا کہ ملک کسی خوفناک خانہ جنگی کے گڑھے میں گر رہا ہے۔ ایک طرف خدا دشمن، کمیونسٹ، رسول دشمن مرزائی، لادین طاقتوں کا ہر اول دستہ بنے ہوئے تھے۔ تمام لادین طاقتیں باہمی تضادات کے باوجود آپس میں گہری سازش اور یکجہتی اختیار کر چکی تھیں اور دوسری طرف ایک اللہ، ایک رسول، ایک قرآن، ایک کعبہ اور ایک کلمہ کے ماننے والے تشتت اور انتشار کا شکار تھے۔ ملتان چلو، رائے ونڈ چلو، بھکر چلو، لاہور چلو اور جہلم چلو کے نعرے بلند ہورہے تھے۔ کوئی فقہ حنفیہ کا مطالبہ کر رہا تھا۔ کوئی فقہ جعفریہ کا نفاذ نہ ہونے پر مرنے مارنے کے لئے تیار ہورہا تھا۔ کوئی فقہ کے نام ہی سے بیزاری کا اظہار کر رہا تھا۔ غرضیکہ دینی طاقتوں میں ایک اعصابی جنگ بپا تھی۔ ایک فرقہ دوسرے فرقہ کی مساجد کو فتح کرنے کے نامبارک شغل کو جہاد فی سبیل اللہ قرار دے کر فساد فی الارض کا مرتکب ہورہا تھا۔ تکفیر اور ایک دوسرے کو جہنمی قرار دینے کے فتوؤں کی تجدید ہونے لگی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مٹنے والی قوموں کی تمام نشانیاں ان میں پوری ہورہی ہیں اور اگر الیکشن ہو گیا ہوتا تو ان کو سوائے خدائے ذوالجلال کے اور بچانے والا کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات
ایسے خوفناک اور دردناک حالات میں مجلس تحفظ ختم نبوت ہی ایک واحد ایسی جماعت تھی۔ جس نے اپنی بساط بھر کوشش کی کہ ان فرقہ باز پیشہ وروں کو روکا جائے۔ تاکہ یہ اتحاد امت کے خرمن کو آگ لگانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔
- الف...... مجلس تحفظ ختم نبوت کے ترجمان ہفتہ وار لولاک نے اس فرقہ وارانہ آگ
کو بجھانے کے لئے بھر پور کوشش کی۔ اس مجلہ کے اکثر اداریئے اور مضامین کا موضوع اتحاد امت رہا اور فرقہ پرست جتھے داروں سے خدا کے نام پر اپیل کی گئی کہ وہ اس آگ کو نہ دھکائیں۔ جس میں بالآخر انہوں نے خود بھی بھسم ہو جانا ہے۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ب...... مجلس تحفظ ختم نبوت کے جملہ علمائے کرام و مبلغین ملک کے طول و عرض
میں پھیل گئے اور انہوں نے عوام کو سمجھایا کہ ہوش میں آؤ۔ اعتدال کی راہ اختیار کرو اور اس جنگ و جدال سے بچو۔ جس جنگ و جدال کے بانی مبانی اور اصل محرک مرزائی ہیں۔ جو چاہتے ہیں کہ امت محمدیہ کا اتحاد پارہ پارہ ہو جائے اور وہ باہم لڑ مر کر تباہ ہو جائے اور آئندہ انتخابات میں لادینوں کو فتح حاصل ہو جو اقتدار میں آ کر اسلام کے ان تمام اجارہ داروں کے بوجھ سے زمین کو پاک کر دیں اور یہاں کمیونسٹوں اور قادیانیوں کو از سر نو زندگی حاصل ہو۔
- ج...... مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس مقصد کے لئے اپنے بجٹ سے ایک خطیر رقم
مخصوص کر دی۔ جس سے ایسے اشتہارات، پمفلٹ اور کتابچے شائع کر کے ملک میں تقسیم کئے گئے اور عوام کو اصل خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے۔ اتحاد کی دعوت دی گئی اور انہیں احساس دلایا گیا کہ وہ فرقہ پرستی کو چھوڑ کر اتحاد کی راہ اختیار کریں۔ انتہاء پسندی کی بجائے اعتدال پسند بن جائیں۔
- د...... ایسے نازک حالات میں کچھ درد دل رکھنے والے علمائے کرام کا ایک وفد
جب جنرل محمد ضیاء الحق سے راولپنڈی میں ملا اور ان کو ملک کے صحیح حالات سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اصلاح احوال کی طرف متوجہ ہوں اور جن حالات کی وجہ سے ۱۹۷۱ء میں پاکستان دولخت ہو گیا تھا۔ ایک بار پھر ان واقعات کا اعادہ نہ ہونے دیں اور ملک کو خانہ جنگی کی نذر ہونے سے بچائیں۔ اس وفد میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے تین مقتدر نمائندے مولانا محمد عبداللہ خطیب مرکزی جامع مسجد اسلام آباد، مولانا تاج محمود ایڈیٹر لولاک فیصل آباد اور مولانا نور الحق نور پشاوری شامل تھے۔ اس ملاقات کے نتیجہ میں حکومت کو بعض ایسے اقدامات کرنا پڑے جن سے فرقہ وارانہ صورتحال کنٹرول میں ہوئی اور ملک کے امن و امان کو جو خطرہ لاحق تھا وہ ٹل گیا ہے۔
دوسری وجہ
حضرات گرامی قدر! پچھلے دنوں مکہ مکرمہ میں تمام اسلامی ممالک کے نمائندگان کی ایک میٹنگ ہوئی اور اس میں بالاتفاق یہ قرار پایا کہ پندرھویں صدی ہجری اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور احیائے اسلام کی صدی ہوگی۔
چودھویں صدی کے آخری سال اور پندرھویں صدی کے پہلے سال یعنی ان دو سالوں میں تمام اسلامی ممالک ایسی تقریبات منعقد کریں اور ایسے کردار کا مظاہرہ ہو کہ جس سے احیائے اسلام اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کو تقویت حاصل ہو۔ چنانچہ اس سال ہماری یہ کل پاکستان ختم نبوت
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کانفرنس بھی اس سلسلہ کی ایک عظیم الشان تقریب کے طور پر منعقد ہورہی ہے اور آپ کانفرنس کی کاروائی سے یہ یقین لے کر واپس جائیں گے کہ واقعی یہ کانفرنس احیائے اسلام کی تحریک کی ایک اہم ترین تقریب ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے اغراض ومقاصد میں ایک اہم ترین مقصد حفاظت واشاعت دین ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ اسلامی کانفرنس مکہ کے اجتماعی فیصلے کا مقصد بھی حفاظت واشاعت دین ہی ہے۔ اس لئے مجلس، مکہ مکرمہ کی اسلامی کانفرنس کے اس فیصلے کا نہ صرف یہ کہ خیر مقدم کرتی ہے۔ بلکہ دنیائے اسلام کو یقین دلاتی ہے کہ مجلس اپنی تمام تر توانائیاں اس عظیم مقصد کے لئے وقف کردے گی اور انشاء اللہ تعالیٰ، تحریک احیائے اسلام میں دنیائے اسلام کی دوسری تمام دینی جماعتوں کے دوش بدوش اپنا فرض سرانجام دے گی۔
تیسری وجہ
سامعین محترم! آپ کو معلوم ہے کہ ۵؍جولائی ۱۹۷۷ء سے جنرل محمد ضیاء الحق کی حکومت اس بات کی مدعی ہے کہ وہ یہاں اسلامی نظام نافذ کرے گی۔ اصل میں برصغیر کی تقسیم اسلامیان برصغیر نے صرف اور صرف اس مقصد کے لئے چاہی تھی اور منظور کی تھی کہ وہ اس نوزائیدہ مملکت میں اسلام کے مطابق زندگیاں بسر کرنا چاہتے تھے۔ جبکہ مشترکہ ہندوستان میں مسلمان آزادانہ طور پر اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے سے معذور تھے۔ ۱۹۴۷ء سے اب تک کئی حکومتیں بدلیں۔ اگرچہ بعض حکومتیں زبانی جمع خرچ کے طور پر اسلام کے متعلق بلند وبانگ دعوے بھی کرتی رہیں۔ لیکن کسی حکومت نے وہ وعدہ وفا نہ کیا اور وہ مقصد پورا نہ کیا جس مقصد کے لئے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔
ان حکومتوں نے اسلامی نظام کا نفاذ تو کیا کرنا تھا۔ الٹا لادینیت کی سرپرستی کرتی رہیں۔ ذرائع ابلاغ، پریس، تعلیمی اداروں اور فلم وٹی وی کے ذریعہ اسلام کی جڑیں کاٹی جاتی رہیں۔ نظریہ پاکستان کے دشمنوں کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی۔ اسلامی اقدار کا مذاق اڑایا جاتا رہا اور بھرپور کوشش کی گئی کہ ملک کی فضا سیکولرازم اور سوشلزم کے حق میں ہموار ہوجائے۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ اسلام کے حامیوں کو دبانے اور کچلنے کی کوششیں کی گئیں۔ اسلامی نظام چاہنے والوں کو جیلوں میں بند کیا گیا اور انہیں بے شمار مصائب برداشت کرنا پڑے۔
سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ قادیانیت جیسے دشمن اسلام اور دشمن پاکستان فتنہ کی بھی سرپرستی کی گئی۔ قادیانیوں کو اہم ترین کلیدی مناصب پر تعینات کیا گیا۔ اندرون ملک اور بیرون
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ملک ان کی تبلیغ کے لئے سہولتیں مہیا کی گئی۔ مملکت خداداد پاکستان کے خزانہ سے دنیا بھر میں ارتداد پھیلانے کے لئے انہیں زرمبادلہ دیا جاتا رہا۔
تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء
مجلس تحفظ ختم نبوت نے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنا ایمانی فریضہ ادا کرتے ہوئے فتنہ قادیانیت کے خلاف آواز اٹھائی تو اس آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ پابندیاں، زبان بندیاں، گرفتاریاں، ہتھکڑیاں، بیڑیاں، جیلیں اور کال کوٹھڑیاں فدایان ختم نبوت کا نصیبہ بن گئیں۔ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے بلبل بستان رسول حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کے جیالے ساتھیوں نے ملک کی تمام دینی جماعتوں کو دعوت دی۔ تمام دینی جماعتوں نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی دعوت پر لبیک کہا اور ۱۹۵۳ء میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں آیا۔ اس وقت کی مدعی اسلام حکومت نے یزید کی روایات کے مطابق پاکستان بھر میں کربلا کی یاد تازہ کردی۔ سینکڑوں ماؤں کے بیٹے شہید ہوئے۔ ختم نبوت زندہ باد کے نعروں پر فدایان ختم نبوت کے سینوں میں گولیاں ماری گئیں۔ ہزاروں زخمی اور لاکھوں جیلوں میں قید اور نظر بند ہوئے۔ یہی تاریخ ۱۹۷۴ء میں ایک بار پھر دہرائی گئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ پورے تیس سال تک اسلام مظلوم رہا۔ اسلام کے داعی معتوب رہے۔ خصوصاً کمیونسٹوں اور مرزائیوں کی ناز برداری ہوتی رہی اور ختم نبوت کے شیدائیوں کو دبایا اور کچلا جاتا رہا۔
۱۹۷۴ء کی تحریک اگرچہ نظر بہ ظاہر کامیاب ہوئی۔ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ لیکن بعد میں قومی اسمبلی کے اس عظیم فیصلے کے مطابق قانون سازی نہ کی گئی اور نہ ہی اس پر کما حقہ عمل کرایا گیا۔ مرزائیوں کی دیدہ دلیری پہلے سے بھی بڑھ گئی اور انہوں نے پاکستان کے سب سے زیادہ موثر اور طاقتور ادارے قومی اسمبلی کی قرارداد کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس طویل تبصرے سے میرا مقصد یہ ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر بھٹو شاہی کے خاتمے تک قوم کے ساتھ دھوکہ ہوتا رہا۔ اسلام کے نام پر اسلام کی بیخ کنی ہوتی رہی اور اسلام دشمن طاقتیں طاقتور سے طاقتور ہوتی رہیں۔
اب حالات بدل گئے ہیں
۵؍جولائی ۱۹۷۷ء کے بعد حالات بدل گئے ہیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق خود ایک پختہ اور
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
صحیح العقیدہ مسلمان ہیں۔ خوش قسمتی سے ان کے رفقاء جنرل بھی دل و جان سے یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ پاکستان جس مقصد کے لئے بنایا گیا تھا وہ مقصد پورا ہونا چاہئے۔
چنانچہ ذرائع ابلاغ وغیرہ میں نمایاں تبدیلی نظر آرہی ہے اور بعض اسلامی احکامات و اقدامات کا نفاذ بھی کر دیا گیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل ایک طویل عرصہ سے غیر اسلامی قوانین کی بجائے اسلامی قوانین کی ترتیب اور تدوین میں مصروف ہے اور اس کی سفارشات کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے اور صدر ضیاء الحق بار بار اعلان کر چکے ہیں کہ ملک کے تمام قوانین کتاب وسنت کے مطابق بنا کر نافذ کر دیئے جائیں گے۔
چاروں فرقوں کا اتحاد ضروری ہے
آج اس کانفرنس میں ہم نے بڑی ذمہ داری سے ان اعلانات کا جائزہ لینا ہے کہ آیا ملک میں ایسے حالات موجود ہیں اور ایسی فضاء بن رہی ہے جس میں اسلامی نظام کامیاب ہو جائے گا۔ یا خدانخواستہ اس کے برعکس صورت حال ہے۔
میں واضح الفاظ میں اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر پاکستان کے چاروں فرقوں دیوبندی، بریلوی، شیعہ اور اہل حدیث نے اعتدال کی راہ اختیار کی اور اتحاد کا ثبوت دیا تو پاکستان میں جنرل محمد ضیاء الحق کا نافذ کردہ اسلامی نظام کامیاب ہو گا اور اس اسلامی نظام کی برکات سے آہستہ آہستہ تمام غیر اسلامی نقوش مٹتے چلے جائیں گے اور یہاں جتنے فتنے موجود ہیں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنی موت مرجائیں گے۔
لیکن اگر ان چاروں فرقوں کے علماء اور عوام نے اعتدال اور اتحاد کی راہ اختیار نہ کی اور وہی بھانت بھانت کی بولیاں بولنا شروع کر دیں جو ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۷۹ء سے پہلے بلند ہو رہی تھیں تو یاد رکھیئے اور نوٹ کر لیجئے کہ یہاں نہ صرف یہ کہ اسلامی نظام کامیاب نہیں ہوگا۔ بلکہ یہاں دیر سویر ایسے حالات پیدا ہونے کا ڈر ہے۔ جن کی وجہ سے یہاں اسلام اور شرافت کے نام تک کے مٹ جانے کا امکان ہے۔
حالات اطمینان بخش نہیں ہیں
اس وقت حالات یہ ہیں کہ ایک طرف کسان کھیتوں میں فصلیں بونے میں مصروف ہیں اور دوسری طرف صحراؤں اور پہاڑوں میں ٹڈی دل لاتعداد انڈے اور بچے دینے میں مصروف ہیں۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۲۶۲ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مجھے ڈر ہے کہ ان ٹڈی دلوں کو اگر قبل از وقت تلف نہ کیا گیا تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ یہ ٹڈی دل ہمارے لہلہاتے کھیتوں کو چاٹ جائیں گے اور اس وقت ان کا کوئی انسداد ممکن نہ ہوگا۔
حضرات گرامی! مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء رفقاء موجودہ جرنیلوں کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ تعاونوا علی البر والتقویٰ کے تحت ان سے ہر ممکن تعاون جاری ہے۔ لیکن یہ بات اس عظیم کانفرنس میں کہہ دینا ضروری ہے کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ہر طرف سب اچھا ہے تو یہ بات بالکل غلط ہے۔ ہر طرف سب اچھا نہیں ہے۔ البتہ مارشل لاء کی وجہ سے ایک خاموشی اور سناٹا ضرور ہے۔ لیکن بدی کی طاقتیں برابر پنپ رہی ہیں۔ ان کے عزائم نہ اس ملک کے متعلق درست ہیں اور نہ مسلمانوں کے متعلق۔
اگر جرنیل چاہتے ہیں کہ یہاں اسلامی نظام نافذ ہو اور وہ کامیاب ہو۔ شرافت اور انسانیت کا بول بالا رہے۔ مارشل لاء کے ہٹائے جانے کے بعد بھی حالات پرسکون رہیں اور کوئی بدی کی طاقت ان کے کئے کرائے کو تہہ و بالا نہ کر دے تو انہیں مندرجہ ذیل باتوں کی طرف فوری توجہ دینا ہوگی اور جرأت مندانہ فیصلے کرنا ہوں گے۔
- ١...... چاروں فرقوں کے اعتدال پسند علماء اور رہنماؤں کو اعتماد میں لے کر ان کا
مکمل تعاون حاصل کرنا ہوگا اور ان کی مشاورت سے ایک زبردست مہم اور تحریک کی ضرورت ہے جو چاروں فرقوں کے عوام میں باہمی اتحاد اور اعتماد کی فضا بحال کرے اور انہیں یقین دلائے کہ نہ صرف اسلام کی بقاء بلکہ ان کی اپنی بقاء کا راز بھی ان کے باہمی اعتماد و اتحاد میں مضمر ہے۔ اس کے ساتھ ہی فرقہ پرست انتہا پسندوں اور جتھے داروں کو معاشرے میں بے اثر کرنا اور ان کی اس حد تک حوصلہ شکنی کرنا کہ وہ آئندہ کبھی بھی امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی جرأت اور جسارت نہ کر سکیں۔ جب تک فرقہ بندی میں انتہا پسندی کا قلع قمع نہیں ہو جاتا اس وقت تک یہاں اسلامی نظام کے نفاذ اور اس کی کامیابی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
- ۲...... ملک میں دو سنگین اور خطرناک فتنے موجود ہیں۔ لادینیت کا فتنہ اور
قادیانیت کا فتنہ۔ پہلی حکومتوں کے ادوار میں ان فتنوں کی حکومتی سطح پر سرپرستی اور حوصلہ افزائی ہوئی۔ اب اگرچہ انہیں اس طرح کی سرپرستی حاصل نہیں رہی۔ تاہم تمام سرکاری شعبوں میں یہ اسلام اور پاکستان کے دشمن گھسے ہوئے موجود ہیں۔ لادینیت کا فتنہ چھوٹے بڑے کئی منظم اور غیر
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۲۶۳ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
منظم گروہوں کا ملغوبہ ہے۔ قادیانیوں کا فتنہ وحدت فکر اور وحدت عمل رکھنے والے ایک منظم اور موثر گروہ کی صورت میں موجود ہے جس کے پاس بے پناہ جائز اور ناجائز دولت موجود ہے اور جسے باہر کی بعض بڑی بڑی اسلام دشمن طاقتوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ قادیانی اپنی مؤثر تنظیم، بے پناہ روپیہ اور بیرونی پشت پناہی کے باعث پاکستان میں اسلام دشمن گروہوں اور طاقتوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت ملک کی خدمت اور اسلامی نظام کے لئے اپنی محنت کا کوئی مثبت نتیجہ دیکھنا چاہتی ہے اور اسلام اور پاکستان دونوں کے تحفظ کی دل سے خواہاں ہے تو اسے ان فتنوں کا جرأت سے قلع قمع کرنا ہوگا۔
صدر مملکت کے نام تار
ہماری جماعت نے گزشتہ ہفتہ صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق کو ایک طویل اور مفصل تار بھیجا ہے۔ اس تار میں حرم شریف کے حادثہ فاجعہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ کس طرح مٹھی بھر احمقوں اور سازشیوں کے ایک گروہ نے حرم کی تقدیس کو پامال کر دیا۔ تمام دنیائے اسلام کو خون کے آنسو رلا کر تڑپا دیا اور دنیائے کفر کے سامنے ہمارا سر بھرم اور شرم کھول کے رکھ دیا۔
اس حادثہ میں صرف سعودی عرب کی حکومت ہی کے لئے عبرت اور نصیحت نہیں بلکہ دنیائے اسلام کے تمام حکمرانوں اور سربراہوں کے لئے سبق موجود ہے۔ سعودی حکومت اس سانحہ کا تصور بھی نہ کر سکتی تھی کہ دو اڑھائی سو غدار اٹھ کر ایسے جرم کا ارتکاب کر دیں گے جس سے پوری دنیائے اسلام کی زبردست کرکری ہو جائے گی۔
دنیائے اسلام کے سربراہوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے اپنے ہاں کے خطرناک فتنوں کی بروقت بیخ کنی کریں۔ پاکستان میں بھی قادیانیت کا فتنہ موجود ہے۔ مرزائی اسلام اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں اور غیر مسلم اقلیت دیئے جانے کے باوجود سابقہ حکومت کے قومی اسمبلی کی قرار داد پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے دن بدن ترقی کر رہے ہیں۔ آپ کا فرض ہے کہ آپ اس فتنہ کا گہرا مطالعہ کریں۔ اگر ضرورت سمجھیں تو ہم آپ کو اس کی دسیسہ کاریوں سے آگاہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ آپ پہلی فرصت میں اسی فتنہ کی بیخ کنی کر دیں۔ ورنہ کسی نہ کسی وقت یہ فتنہ پاکستان اور اسلام دونوں کے لئے خطرناک اور نقصان دینے والا ثابت ہوگا۔ یہ تار ۸/ دسمبر ۱۹۷۹ء کو مولانا تاج محمودؒ صدر مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد نے صدر مملکت کو بھیجا ہے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مجلس کی کارکردگی
سامعین کرام! اس وقت پورے پاکستان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی شاخیں اور دفاتر موجود ہیں۔ خصوصاً بڑے بڑے شہروں اور اضلاع کے صدر مقامات پر دفاتر، ٹیلی فون اور مبلغین حضرات کا انتظام موجود ہے۔ ربوہ میں بھی اب اللہ کے فضل و کرم سے ہماری دو مساجد آباد ہیں اور مسلم کالونی ربوہ میں مدرسہ ختم نبوت بھی جاری ہے۔ حضرت مولانا محمد حیاتؒ فاتح قادیان کا ہیڈ کوارٹر بھی ربوہ ہے۔ وہاں دفتر میں ٹیلی فون لگ گیا ہے۔ جس کا نمبر ۴۶۶ ہے۔ مسجد محمدیہ ربوہ کی تعمیر پر اس سال مجلس تحفظ ختم نبوت نے ۵۰ ہزار روپیہ خرچ کر کے اندرونی حصے کی تکمیل کرا دی ہے۔ اب صرف سامنے کی دیوار پر مینار اور تاج مکمل ہونا باقی رہ گیا ہے۔ اس کے علاوہ مسجد کے ساتھ مدرسہ عربیہ اسلامیہ بھی تعمیر کیا جانا ہے۔ جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسباب فراہم کر دیئے ہیں۔
مسلم کالونی ربوہ میں پہلے ایک چھوٹی سی مسجد، مدرسہ اور مدرسین کی رہائش گاہ پہلے ہی تعمیر ہو چکی ہے۔ لیکن مجلس کی شوریٰ کے فیصلہ کے مطابق اسی چھوٹی مسجد کی جگہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی یادگار میں ایک عظیم الشان جامع مسجد ختم نبوت تعمیر کی جائے گی۔ اس عظیم الشان جامع مسجد کی بنیادیں بھر دی گئی ہیں۔ ڈمپ پروف ڈال دیا گیا ہے۔ تقریباً دس ہزار روپیہ کی دریائی ریت مسجد اور پلاٹ میں بھرائی کے لئے ڈال دی گئی۔ انشاء اللہ بہت جلد اس کی تعمیر شروع کر دی جائے گی۔ اس مسجد کے ساتھ سو فٹ اونچا مینار بھی تعمیر کیا جائے گا۔ جو دور دور سے یادگار بخاریؒ کے طور پر لوگوں کو نظر آئے گا اور ان کے ایمان تازہ ہوں گے اور انہیں بے انتہاء خوشی اور مسرت نصیب ہو گی۔
ایک عظیم کامیابی
اس سال مجلس تحفظ ختم نبوت سے حق تعالیٰ نے عظیم خدمت لی۔ جس کی وجہ سے قادیانی جماعت کو انتہائی ذلت ہوئی۔ اس کے جھوٹ اور خیانت کا پول باہر آ گیا ہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کی اس خدمت جلیلہ کی بدولت حکومت کو ساڑھے تین کروڑ روپیہ سے زائد قیمت کی وہ اراضی مل گئی ہے جو مرزائیوں نے دبا رکھی تھی۔ اس سلسلہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کے صدر مولانا تاج محمودؒ نے بے پناہ محنت کی۔ ان کی تگ و دو رنگ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
لائی۔ مولانا تاج محمود کے علاوہ تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے موجودہ پرنسپل اور ان کے بعض مسلمان پروفیسر صاحبان مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے غاصب انجمن احمدیہ سے یہ اراضی حاصل کرنے میں بڑی محنت کی۔ اسی طرح محکمہ تعلیم سرگودھا ڈویژن کا ڈائرکٹریٹ ضلع جھنگ کے ڈپٹی کمشنر صاحب اور ان کی انتظامیہ کے حکام اعلیٰ اے سی چنیوٹ صاحب اور محکمہ مال کے پٹواری سب کے سب اس محنت اور مبارک باد میں شریک ہیں۔ جن کی توجہ اور انصاف پروری سے یہ حق حقدار کو مل گیا۔
سب سے بڑھ کر لیفٹیننٹ جنرل محمد سوار خاں کے لئے اظہار تشکر ضروری ہے۔ جنہوں نے مولانا تاج محمودؒ کی درخواست پر منصفانہ اور جرأت مندانہ احکامات جاری کئے اور اس طرح اس سکینڈل کا خاتمہ ہوا۔ اس معاملہ کی پوری تفصیل ۷؍دسمبر ۱۹۷۹ء کے ہفتہ وار لولاک کے اداریہ میں درج ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم حالات سے آگاہی کے لئے وہ اداریہ من وعن درج کردیں تا کہ نہ صرف آپ کو بلکہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ ربوہ کے جھوٹے مدعیان نبوت کی امانت اور دیانت کا کیا حال ہے اور یہ گندم نما جو فروش لوگ حقیقت میں کیا ہیں۔ ان کے دعوے اور ظاہر کیا ہے اور ان کے معاملات اور باطنی کیفیت کیا ہے۔ ہفتہ وار لولاک کا اداریہ درج ذیل ہے۔
۱۹۷۲ء میں مارشل لاء دفعہ ۱۱۸ کے تحت تمام پرائیویٹ تعلیمی ادارے ان سے ملحقہ متعلقہ اور منسلکہ اراضی ہر قسم کی اشیاء عمارات سرکاری تحویل میں لے لی گئی تھیں۔ ان کا انتظام وانصرام حکومت کے ماتحت ہو گیا۔ ان میں کام کرنے والے تمام معلمین و ملازمین سرکاری خزانہ سے تنخواہ پانے والے ملازمین قرار پاگئے اور ان کی ملازمتوں کو ہر قسم کا تحفظ مہیا کیا گیا اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی بدعنوانی کو مارشل لاء کے تحت جرم قرار دیا گیا۔
ربوہ کے تعلیمی ادارے تعلیم الاسلام کالج، ڈگری کالج، نصرت گرلز کالج، تعلیم الاسلام ہائی سکول وغیرہ بھی حکومت کے قبضہ میں آئے۔ یہ تمام ادارے انجمن احمدیہ کے زیر انتظام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ تاہم مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے بھی بھاری رقوم بطور گرانٹ حاصل کرتے رہے تھے۔ سرکاری گرانٹس کی خطیر رقوم ہی سے ان کی اراضی کے رقبہ جات میں توسیع ہوئی اور اس طرح عمارات کے علاوہ وسیع زرعی رقبہ جات بھی وجود میں آگئے۔ چونکہ ان تعلیمی اداروں کے تمام ملازمین اور اساتذہ انجمن موصوف کے ہم عقیدہ تھے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اس لئے ان اساتذہ اور انجمن کی ملی بھگت سے وہ متعلقہ اراضی کاغذات میں سرکاری تحویل میں لے لئے جانے کے باوجود سابق انجمن کے قبضہ ہی میں رہی اور اس طرح ساڑھے چار مربعہ زمین کا انتقال ان تعلیمی اداروں کے نام درج نہ ہوسکا۔ اس اراضی کا بیشتر حصہ زرعی تھا۔ اس میں پھلدار باغات بھی تھے۔
اور اس زرعی رقبہ کی پیداوار گذشتہ سات سال سے سابقہ انجمن یہ جانتے ہوئے حاصل کرتی رہی کہ یہ تمام جائیداد سرکاری گرانٹس اور تعلیمی اداروں کے اپنے وسائل سے خریدی ہوئی ہے اور ان تعلیمی اداروں سے متعلقہ ہونے کی وجہ سے مارشل لاء کے ضابطہ نمبر ۱۱۸ کے تحت ۱۹۷۲ء سے قومی ملکیت میں لی جا چکی ہے۔
گذشتہ سال ہمارے نوٹس میں یہ بات آئی تو ہم نے پبلک مفاد کی خاطر پٹواری مال ربوہ سے سرکاری ریکارڈ کی نقل حاصل کی اور ڈائریکٹر محکمہ تعلیم سرگودھا ڈویژن کو خود وفد کی صورت میں مل کر ایک درخواست معہ فرد پٹوار پیش کی اور مطالبہ کیا کہ محکمہ تعلیم اس ساڑھے چار مربعہ اراضی کا غاصبوں سے قبضہ لے اور اس کی گذشتہ سات سال کی پیداوار کا بھی ان سے حساب لے۔ محکمہ تعلیم سرگودھا ڈویژن نے کوشش کی۔ لیکن سابقہ انجمن کے اثر و رسوخ کے سامنے اس کی کوئی پیش نہ گئی۔
ہفت روزہ ”لولاک“ کی اشاعت ۱۴/ اکتوبر ۱۹۷۹ء میں ہم نے ایک ادارتی نوٹ لکھا اور کمشنر صاحب سرگودھا ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر جھنگ کو سابقہ انجمن کی اس اندھیر گردی کی طرف توجہ دلائی۔ ڈپٹی کمشنر جھنگ نے اے سی چنیوٹ کو اس معاملہ کی تحقیقات سپرد کی اور اے سی صاحب نے اس معاملہ کی چھان بین شروع کر دی۔
آخر راقم الحروف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پنجاب جنرل محمد سوار خان صاحب سے ملا اور انہیں سابقہ انجمن کی اس دھاندلی کے متعلق گزارشات پیش کیں اور ایک تحریری یاداشت معہ نقول اراضی و نقشہ جات ضروری کاغذات ان کے سپرد کئے۔ جس کا موصوف نے مؤثر نوٹس لیا اور مبنی برانصاف کاروائی کا حکم صادر فرمایا۔ دریں اثناء نئے پرنسپل صاحب تعلیم الاسلام کالج ربوہ جناب ملک محمد بخش نے تحقیقاتی افسر کے سامنے اس اراضی کے متعلق دستاویزی شواہد اور ثبوت پیش کر دئے۔
جس سے یہ معاملہ واضح ہو گیا کہ یہ تمام اراضی اور اس میں نصب ٹیوب ویل وغیرہ تمام املاک انہی تعلیمی اداروں سے متعلق ہیں۔ چنانچہ فیصلہ کر دیا گیا اور ۱۰۹/ ایکڑ ۶ کنال دس مرلہ اراضی کا انتقال معہ قبضہ مذکورہ تعلیمی اداروں کے نام ہو گیا ہے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اس سلسلہ میں ہم مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پنجاب جنرل محمد سوار خاں کا شکریہ ادا کرنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتے ہیں۔ جن کی خصوصی توجہ سے اس ناانصافی کا خاتمہ ہوا اور حق بحق دار رسید کے مصداق سابقہ غاصب انجمن سے یہ کروڑوں روپیہ کی جائیداد قومی ملکیت میں آئی ہے۔ اس سلسلہ میں مارشل لاء حکام اور اعلیٰ سرکاری حکام سے مندرجہ ذیل درخواست ہے۔
- ۱...... سابقہ انجمن کے ذمہ دار لوگوں نے یہ کروڑوں روپیہ کی سرکاری جائیداد
مارشل لاء کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سات سال تک اپنے قبضہ میں رکھی۔ اس سے لاکھوں روپیہ کمایا اور الٹا کاغذات مال میں ردو بدل کرنے کے لئے کوشش کی گئی اور مقدمہ لڑا گیا اور ضلع جھنگ کے حکام اعلیٰ کو دیدہ دانستہ دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی۔ اس لئے مجرموں کے خلاف مارشل لاء کی نگرانی میں ایک انکوائری کرائی جائے جو ثابت ہونے پر مارشل لاء کے تحت مقدمات درج کئے جائیں۔
- ۲...... گزشتہ سات سال میں سابقہ انجمن نے زرعی اور دوسرے رقبوں کی
پیداوار اور استعمال سے جو مفادات اٹھائے ہیں۔ ان تمام مفادات کی آمدنی محکمہ تعلیم کے فنڈ میں وصول کی جائے۔
- ۳...... کالج کے سابقہ ریکارڈ میں دستاویزی شہادتوں کی روشنی میں چھان بین کی
جائے کہ ان تعلیمی اداروں کی تحویل میں مزید اور کیا کیا چیز تھی۔ جس پر سابقہ انجمن نے غاصبانہ قبضہ کیا۔ مثلاً سائنس کا بیش قیمت سامان اور ٹریکٹر وغیرہ وہ تمام چیزیں پوری چھان بین کے بعد وصول کی جائیں اور سابقہ انجمن کے خلاف خیانت مجرمانہ کے تحت مقدمے چلائے جائیں۔
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
جنرل محمد ضیاء الحق کی حکومت جب سے آئی ہے اور اس نے بعض اسلامی اقدامات کئے ہیں۔ اس وقت سے ہم اسے اسلامی حکومت قرار دے کر اس سے تعاون کر رہے ہیں۔ اسی خطبہ کے آغاز میں ہم نے ان سے اور ان کی حکومت سے اخلاص کا اظہار کر دیا ہے۔ لیکن ہم انتہائی اخلاص اور محبت سے ان سے یہ بھی عرض کرتے ہیں کہ؎
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے سلسلہ میں حکومت جس حد تک چلی گئی ہے۔ اس حد تک اسے نہیں جانا چاہئے تھا۔ ایک ایسے شخص جس کی جماعت کو ہماری قومی اسمبلی غیر مسلم اقلیت قرار دے چکی ہے۔ لیکن وہ جماعت ہماری قومی اسمبلی کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے ردی کی ٹوکری میں پھینک کر آئین پاکستان سے کھلی کھلی غداری کر چکی ہے۔
ڈاکٹر عبدالسلام کی جماعت کو ہماری قومی اسمبلی کے علاوہ مکہ مکرمہ میں پوری دنیائے اسلام کے علماء نے خارج از اسلام قرار دے دیا۔ لیکن وہ اس سب کچھ کے بعد بھی، نہ اپنا غیر مسلم ہونا تسلیم کرتی ہے اور نہ اقلیت ہونا۔ ایسے حالات میں ڈاکٹر عبدالسلام کی ایک اسلامی سلطنت کے سربراہ کی طرف سے اور حکومت پاکستان کی طرف سے عزت افزائی صرف اس کی عزت افزائی ہی نہیں بلکہ اس کی جماعت کی بھی حوصلہ افزائی ہے۔
نوبل پرائز سویڈن کے ایک یہودی کا انعام ہے۔ دینے والے یہودی ہیں۔ علامہ اقبالؒ کے لئے یہ انعام تجویز ہوا تھا۔ لیکن علامہ اقبالؒ کو نہیں بلکہ ٹیگور کو دے دیا گیا تھا۔ حالانکہ اگر معیار شاعری اور حقیقت پسندی ہوتا تو ٹیگور علامہ اقبالؒ کی گرد راہ کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ ایسا محض یہودیانہ تعصب کی وجہ سے کیا گیا۔
لیکن اس کے باوجود اگر بالفرض کسی صلاحیت ہی کی وجہ سے یہ انعام ڈاکٹر موصوف کو ملا ہے تو پاکستان کا کوئی سائنس دان اسے مبارک باد کا تار دے دیتا، چلو قیامت ہی سہی خود صدر مملکت نے بحیثیت ہیڈ آف اسٹیٹ اسے تار دیا۔ اتنا ہی کافی تھا۔ اب وہ انجمن احمدیہ کے سالانہ جلسہ میں شرکت کے لئے پاکستان آیا ہے۔ ایک طرف انجمن احمدیہ کے اخبارات یہ ثابت کرنے میں مصروف ہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام کا نوبل پرائز مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئی کے مطابق ملا ہے۔ یعنی ڈاکٹر صاحب کا نوبل پرائز مرزا غلام احمد قادیانی کے سچے نبی اور مسیح ہونے کی دلیل ہے اور دوسری طرف حکومت پاکستان اسے مختلف یونیورسٹیوں میں اٹھائے پھرتی ہے۔ اسے اسمبلی ہال میں ڈاکٹر آف سائنس کی ڈگری دی گئی ہے۔ تمغہ امتیاز دیا گیا ہے۔ استقبالئے دیئے جا رہے ہیں۔ اسی پر بس نہیں کی گئی۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبہ احتجاج کرنا چاہتے تھے تو مرزائی اور کمیونسٹ طلبہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان سے متصادم ہوئے۔ جہاں فائرنگ کر کے طلبہ کو زخمی کر دیا گیا ہے۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
قبل ازیں ہمارے ملک کے مشہور شاعر فیض احمد فیض کو روسی حکومت نے ایک اعلیٰ انعام دیا تھا۔ آخر فیض احمد فیض کمیونسٹ سہی۔ لیکن پاکستانی تو تھا۔ اس وقت یہاں کی کسی حکومت نے اسے ڈاکٹر آف اردو ادب کی ڈگری نہ دی۔ فیض احمد فیض کی بات چھوڑیئے ابھی موجودہ حکومت کے دور میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو سعودی عرب کی حکومت نے ایک بہت بڑا اعزاز اور انعام دیا تھا۔ اس وقت کسی کو خیال نہ آیا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو جو موجودہ حکومت کے لئے بھی بڑے قابل احترام تھے ڈاکٹر آف اسلامیات کی ڈگری دے دیتے۔ کسی یونیورسٹی میں بلا کر استقبالیہ ہو جاتا۔ کوئی نشان ہی عطا کر دیتے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کی یہ ناز برداری اس کی یہ عزت افزائی اور اس کے توسط سے جماعت احمدیہ کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ ہمیں شبہ ہے کہ یہ سارا سلسلہ کوئی پس منظر اور تہہ منظر رکھتا ہے۔ موجودہ حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ قادیانیوں کے متعلق اسلامیان پاکستان کے کیا جذبات ہیں۔ ہمارے نقطہ نگاہ سے یہ ایک ایسا کھیل ہے جو جنرل ضیاء الحق کی مقبولیت کو سبوتاژ کرنے کے لئے کھیلا جارہا ہے۔ اس ملک کی سیکولر طاقتیں پہلے ہی موجودہ حکومت کی مخالف ہیں۔ لے دے کر اسلام پسند عناصر ہی موجودہ حکومت کے حامی اور دعا گو ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام کی عزت افزائی سے موجودہ حکومت کے مخالفوں کا مقصد غالباً صدر مملکت اور حکومت کی مقبولیت کو نقصان پہنچانا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت، صدر مملکت اور ان کے رفقاء کا پورا پورا احترام کرتے ہوئے ادب اور اخلاص کے ساتھ ان سے گزارش کرتی ہے کہ وہ ڈاکٹر عبدالسلام سمیت تمام قادیانیوں کے متعلق اپنی پالیسی اور رویہ پر نظر ثانی کرے۔
ربوہ ٹاؤن کمیٹی
مجلس تحفظ ختم نبوت کو اس سال حق تعالیٰ کی خاص نوازش سے ربوہ میں ایک اور کامیابی نصیب ہوئی ہے۔ ربوہ میں پندرہ ہزار کے قریب قادیانیوں کی آبادی ہے۔ موجودہ انتخابات کا انہوں نے بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ آئین کی رو سے اور انتخابی قواعد و ضوابط کے مطابق ووٹوں کے سلسلہ میں ان کا نام غیر مسلموں کی فہرستوں میں درج ہوا تھا۔ قادیانی اپنا غیر مسلم ہونا تسلیم نہیں کرتے۔ اس لئے انہوں نے انتخاب کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ ربوہ میں کچھ مسلمان بھی آباد ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفاتر میں سرکاری دفاتر میں بھی ایک اچھی خاصی تعداد مسلمانوں کی آباد ہے۔ ان کے ووٹ بنے ہوئے تھے۔ انہوں نے انتخاب میں حصہ لیا اور ان کے ۱۴ ممبر کامیاب ہو گئے۔ ان کے اسماء گرامی حسب ذیل ہیں:
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۱...... سردار زادہ حاجی ناصر عباس ۲...... سردار زادہ نواز شاہ
- ۳...... اقبال حسین قریشی ۴...... خواجہ محمد اقبال
- ۵...... سید متین شاہ ۶...... مسعود جاوید
- ۷...... وزیر خان ۸...... قاری شبیر احمد
- ۹...... چوہدری محمد رمضان ۱۰...... خان سید عمر خان
- ۱۱...... چوہدری محمد شفیع ۱۲...... چوہدری ارشاد احمد
- ۱۳...... چوہدری سلطان محمود لیبر ممبر ۱۴...... خاتون ممبر
یہ سارے ممبران مجلس تحفظ ختم نبوت کے دل و جان سے معاون ہیں۔ خدائے ذوالجلال کی عجیب قدرت ہے کہ اس نے خالص مرزائیوں کے شہر کی قیادت اور سیادت مجلس تحفظ ختم نبوت کے مخلصین کے ہاتھ دے دی ہے۔
آخری گزارش
حضرات گرامی قدر! آپ کو معلوم ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مد مقابل مرزائیوں کی ایک منظم اور مضبوط جماعت انجمن احمدیہ ہے۔ جس کا ہر ممبر اپنی جماعت کو اپنی آمدنی کا ۱/۱۰ حصہ جمع کراتا ہے۔ اس سال جماعت کا سالانہ بجٹ بیس کروڑ روپیہ کے قریب ہے۔ پھر اس تنظیم کے کئی حصے اور شعبے ہیں۔ انجمن احمدیہ کے علاوہ ان کی ایک تنظیم تحریک جدید ہے۔ یہ تحریک ان کے بیرونی ممالک میں ریشہ دوانیوں اور ارتداد پھیلانے والی تنظیم ہے۔ جس کے پاس بے شمار روپیہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ ان کے نوجوانوں کی تنظیم خدام الاحمدیہ کہلاتی ہے۔ یہ ان کی تربیت یافتہ فوج ہے۔ فرقان فورس اس کے علاوہ ہے جو باقاعدہ تربیت یافتہ فوجیوں پر مشتمل ہے۔ ۱۵ سال تک کے بچوں کی تنظیم اطفال الاحمدیہ ہے۔ ۴۰ سال سے اوپر والے انصار اللہ کہلاتے ہیں۔ عورتوں کی تنظیم لجنہ اماء اللہ اور ناصرات احمدیہ ہیں۔ ان سب تنظیموں کے علیحدہ علیحدہ بجٹ ہیں۔ فضل عمر فاؤنڈیشن فنڈ اور صد سالہ جوبلی فنڈ اس کے بھی علاوہ ہیں۔ سندھ میں ۳۶ ہزار ایکڑ زرعی زمین ہے۔ غرضیکہ کروڑوں روپیہ اس جماعت کی مختلف تنظیموں اور تحریکوں پر خرچ ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کو مرتد کرنے ، پاکستان اور دنیائے اسلام کی بربادی کے منصوبے ہیں۔ یہ اتنا روپیہ کہاں سے آتا ہے۔ آج تک کسی حکومت کو معلوم کرنے اور احتساب کرنے کی توفیق نہیں ہوئی ہے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
آپ کبھی ربوہ جائیں تو آپ محسوس کریں گے کہ وہاں مملکت کے اندر ایک مملکت قائم ہے ۔ حکومت کے اندر ایک متوازی حکومت بنی ہوئی ہے ۔ ربوہ میں ان کی انجمن کا ایک وسیع سیکرٹریٹ ہے جس میں داخلہ، خارجہ، زراعت، تعلیم وغیرہ کی باقاعدہ وزارتیں ہیں ۔ البتہ وہ وزارت کے لئے نظارت کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ ان کا ناظر امور عامہ چیف سیکرٹری کا درجہ رکھتا ہے ۔ وہ ہیڈ آف دی جماعت ربوہ کے لئے خلیفہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں جو ایک اسلام کا مقدس اصطلاحی لفظ ہے ۔ جس کا معنی یہ ہے کہ پاکستان میں اس سے بڑا کوئی صاحب اختیار اور اس سے کوئی برتر شخصیت نہیں ہے ۔ جماعت کا الگ پرچم ہے ۔ جو اکثر ہیڈ آف دی ربوہ کے ایوان پر لہراتا ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے دعویٰ نبوت مہدویت اور مسیحیت پر مشتمل لٹریچر ربوہ سے شائع ہوتا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ انبیاء، اولیاء کی توہین پر مشتمل لٹریچر بھی ربوہ سے چھپ کر اندرون ملک اور بیرون ملک تقسیم ہو رہا ہے ۔ لیکن انہیں کوئی ٹوکنے والا نہیں ہے ۔ اخبارات پر سنسر ہے ۔ کوئی مائی کا لال اخبار جماعت احمدیہ کے متعلق کچھ نہیں لکھ سکتا ہے ۔ لیکن مرزائیوں کا اخبار لاہور برابر علماء کے خلاف بکواس لکھ رہا ہے ۔ سنسر کی واضح ہدایت کے باوجود نظریہ اسلام کے خلاف ربوہ سے رسائل اور کتابیں چھپ رہی ہیں ۔ مسلمانوں کی زبردست تحریک اور عظیم الشان قربانیوں کی بدولت خصوصاً مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والی کانفرنس کی قرارداد کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں کی بناء پر اور سعودی عرب کے سابق حکمران شاہ فیصلؒ کے بھٹو صاحب پر خصوصی دباؤ کی وجہ سے ستمبر ۱۹۷۴ء میں اگرچہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا تھا ۔ لیکن آج تک انہوں نے قومی اسمبلی اور مکہ مکرمہ کی اسلامی کانفرنس کی قراردادوں کو تسلیم نہیں کیا ۔
قومی اسمبلی کے فیصلے کو ٹھکرانا ملک کے آئین سے غداری ہے ۔ لیکن ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں ۔ الٹا ان کی ناز برداری کی جا رہی ہے ۔ ڈاکٹر عبدالسلام کو اچھال کر کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کئے جا رہے ہیں ۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں مرزائیوں کا احتساب کرنے والی واحد تنظیم مجلس تحفظ ختم نبوت کو ہر لحاظ سے مضبوط سے مضبوط تر کیا جائے ۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اپنی بساط کے مطابق اندرون ملک اور بیرون ملک مرزائیوں کا زبردست تعاقب اور محاسبہ کر رہی ہے ۔ لیکن اس کے محدود وسائل اور دوسری گوناں گوں رکاوٹیں اور مشکلات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ اپنی بساط سے بڑھ کر پاؤں پھیلائے ۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
میں ایک دفعہ پھر آپ سب حضرات کا شکر گزار ہوں کہ آپ اس سخت ترین موسم میں اس مقدس کانفرنس میں شریک ہوئے۔ میں علمائے کرام اور شعرائے عظام اور تمام مدعوین اور مندوبین کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے کانفرنس میں شرکت کی زحمت گوارا کی۔
خصوصاً سعودی عرب کی حکومت کے نمائندہ مکرم ومحترم فضیلۃ الشیخ اسماعیل بن عتیق حفظہ اللہ تعالیٰ کا ممنون ہوں جنہوں نے سرزمین حجاز مقدس سے سفر کر کے ہماری عزت افزائی کی اور کانفرنس میں شرکت کر کے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی سرپرستی فرمائی۔ میں شیخ موصوف کے توسط سے سعودی حکومت اور خصوصاً رابطہ عالم اسلامی کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے موصوف کو اس کانفرنس میں سعودی حکومت کی نمائندگی کرنے کے لئے بھیجا ہے اور حفاظت واشاعت اسلام کی روایات کو زندہ تابندہ کیا ہے۔
۱۹۷۹ء میں مجلس شوریٰ کے اراکین حضرات
مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک باقاعدہ منظور شدہ دستور ہے۔ اس دستور کی رو سے امیر مرکزیہ کے تعاون کے لئے ایک مجلس شوریٰ ہے۔ جسے امیر مرکزیہ کے ابتدائی ممبران سے منتخب کرتے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی موجودہ شوریٰ کے حسب ذیل ارکان ہیں۔ مجلس کے عہدیداران بحیثیت عہدہ جماعت کی شوریٰ کے ممبران ہوتے ہیں۔
- ۱...... شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد صاحب خانقاہ سراجیہ
- ۲...... مولانا عبدالرحیم اشعر ملتان
- ۳...... شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ ساہیوال
- ۴...... مولانا محمد شریف جالندھری ملتان
- ۵...... مولانا عزیز الرحمن جالندھری خلف الرشید مولانا محمد علی جالندھری
- ۶...... ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر بنوری ٹاؤن کراچی
- ۷...... مولانا سید محمد بنوری خلف الرشید حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کراچی
- ۸...... حاجی لال حسین صاحب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی
- ۹...... حاجی فرزند علی صاحب ہمدرد کلاتھ ہاؤس سکھر
- ۱۰...... حاجی محمد یوسف صاحب اسلامیہ پریس کوئٹہ
- ۱۱...... حاجی سیف الرحمن صاحب بہاول پور
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۲۷۳ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۱۲...... حضرت مولانا علاؤ الدین مہتمم مدرسہ نعمانیہ ڈیرہ اسماعیل خان
- ۱۳...... مولانا تاج محمود امیر مجلس تحفظ ختم نبوت و مدیر لولاک فیصل آباد
- ۱۴...... حضرت مولانا محمد حیات فاتح قادیان جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی ربوہ
- ۱۵...... حاجی بلند اختر نظامی ویسٹ پاک ٹریڈرز شاہ عالمی لاہور
- ۱۶...... حکیم عبد الرحمن آزاد امیر مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ
- ۱۷...... مولانا محمد عبد اللہ خطیب مرکزی جامع مسجد اسلام آباد
- ۱۸...... مولانا محمد رمضان علوی خطیب جامع مسجد گلشن آباد راولپنڈی
- ۱۹...... مولانا نور الحق نور ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور
- ۲۰...... مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی ملتان
- ۲۱...... الحاج قاضی فیض احمد صاحب ٹوبہ ٹیک سنگھ ضلع فیصل آباد
- ۲۲...... مولانا فضل احمد صاحب مہتمم جامعہ عثمانیہ تلہ گنگ ضلع اٹک
(افسوس ہے کہ مولانا مرحوم کا اس سال وصال ہوگیا ہے)
فقیر ابو الخلیل خان محمد عفی عنہ امیر مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان از خانقاہ سراجیہ کندیاں
۶...... خطبۂ صدارت
امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں کی طرف سے دسمبر ۱۹۸۱ء انتیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کے موقعہ پر پڑھا گیا۔
بسم الله الرحمن الرحيم ۰ الحمدلله والصلوٰة والسلام علیٰ من لانبی بعده ۰ امابعد!
حضرات علمائے کرام، راہنمایان ملت اسلام، نزدیک اور دور دراز سے اس کانفرنس میں شرکت کرنے کے لئے آئے ہوئے بزرگو، عزیزو، بھائیو اور بہنو! مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان آپ کی نہ صرف جانی پہچانی جماعت ہے۔ بلکہ آپ سب کی اپنی ایک مشترکہ جماعت ہے۔ مجلس کی یہ انتیسویں سالانہ کانفرنس ہے۔ جس میں ہم ایک سال بعد پھر حضور سرور کائنات
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
شہنشاہ لولاک خاتم النبیین سید اولین و آخرین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے حضور نذرانہ عقیدت ومحبت پیش کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ ہمیں اس بات کا اچھی طرح احساس ہے کہ یہ سخت سردی کا موسم کسی ایسی ملک گیر اور عظیم کانفرنس کے لئے ہرگز موزوں نہیں ہے۔ لیکن سوء اتفاق سے حضرت مسیح علیہ السلام کی امت یعنی عیسائیوں کے بڑے دن دسمبر کے آخری ہفتے میں ہی آتے ہیں اور وہ انہیں بڑے تزک واحتشام سے مناتے ہیں۔ اسی مناسبت سے ہمارے ہاں ایک نقلی اور جھوٹے مسیح کے پیروکار بھی جنہیں نئے مسیحی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اپنے پرانے مسیحیوں کی اقتداء میں دسمبر کے آخری ہفتے میں پہلے قادیان میں سالانہ اجتماع کیا کرتے تھے اور اب ربوہ میں دسمبر ہی کے آخری ہفتے میں اجتماع کرتے ہیں جو ان کے عقیدے میں سالانہ اجتماع معاذ اللہ حج کا درجہ رکھتا ہے۔ جس میں وہ نہ صرف پاکستان کے خلاف بلکہ دنیائے اسلام کے خلاف سازشوں، تباہیوں، بربادیوں اور مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کی تعلیم حاصل کر کے واپس جاتے ہیں۔
اس مجبوری کی وجہ سے ہم پر یہ فرض عائد ہوا کہ ہم ان کے بالمقابل غیرت اسلامی کا پرچم بلند کریں۔ نہ صرف چنیوٹ اور اس کے گردونواح کے دیہات کے مسلمانوں کو ان کے زہریلے اثرات سے بچانے کی کوشش کریں۔ بلکہ پورے ملک کے مسلمانوں اور ان کے نمائندوں کو یہاں جمع کر کے مرزائیوں کی ملک دشمن سرگرمیوں اور ان کے اسلام دشمن منصوبوں سے آگاہ کریں۔
حضرات گرامی! آپ اگر دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو تاریخ یہ شہادت مہیا کرے گی کہ دنیا ہمیشہ اہل حق اور اہل باطل دو دھڑوں میں منقسم رہی ہے۔ ایک طرف اہل باطل کو وسائل اور سرو سامان کی فراوانی حاصل رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف اہل حق اور سچائی کے علمبرداروں کا سب سے بڑا سرمایہ اپنے پیدا کرنے والے رب کی ذات پر یقین اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں کی تعلیمات پر عمل واستقامت رہا ہے۔
میں اس کانفرنس میں اتنے ناخوشگوار موسم کے دوران فدا کاران ختم نبوت اور حضور پاک ﷺ سے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کرنے کے لئے دور دور سے آئے ہوئے مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہوں اور انہیں کروڑ کروڑ مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ وہ دریائے چناب کے اس طرف اہل باطل اور مرزا غلام احمد قادیانی کی جے کہنے والوں کے اجتماع میں نہیں بلکہ دریائے چناب کے اس طرف شفیع المذنبین رحمۃ للعالمین خاتم النبیین ﷺ کے اسم مبارک پر بلائے ہوئے اہل حق کے اس اجتماع میں شریک ہیں۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۲۷۵ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اس میں شک نہیں کہ آپ کو یہاں آنے، یہاں ٹھہرنے، حضور پاک ﷺ کے نام پر بلائے ہوئے اس اجتماع میں حاضری لگوانے اور ہماری بے سروسامانی کی وجہ سے پوری سہولتیں نہ ملنے کے باوجود بڑی ریاضت، مشقت اور تکلیف برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ لیکن:
سر مقتل بھی ان کا ذکر کرنا عین ایمان ہے
سامعین محترم! اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت آپ کے مخلصانہ تعاون سے دن بدن مضبوط سے مضبوط تر جماعت بن رہی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہماری دینی سیاسی جماعتوں کے بعد یہ ملک کی ایک ہمہ گیر اور مضبوط ترین جماعت ہے تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ کراچی سے لے کر پشاور تک ملک کے تمام اہم شہروں میں اس کے دفاتر موجود ہیں اور تربیت یافتہ علمائے کرام تقریباً ہر ضلع میں موجود ہیں۔ تو یہ امر واقعہ کے مطابق ہے۔
پورے ملک میں منظم طور پر مرزائیت کا تعاقب کرنا جہاں کہیں وہ شر فساد پھیلائیں وہاں پہنچ کر مسلمانوں کی امداد کرنا یہ بات کہنا تو آسان ہے۔ عملی طور پر اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونا بڑی مشکل بات ہے۔ لیکن آپ حضرات کے اخلاص اخلاقی اور مالی تعاون سے الحمد للہ ایسا عمل ہو رہا ہے۔
معزز حاضرین! مجلس تحفظ ختم نبوت کے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے تمام اہم شہروں میں دفاتر موجود ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ سے دیہات سے آنے والی رپورٹوں سے معلوم ہوا ہے کہ مرزائی اب شہروں کی بجائے دیہاتوں میں منظم طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ ضلع سیالکوٹ، ضلع سرگودھا، ضلع فیصل آباد، ضلع شیخوپورہ اور ضلع گجرات کے کسی نہ کسی گاؤں میں ان کی تھوڑی بہت تعداد موجود ہے۔ وہاں انہوں نے اپنی نئی عبادت گاہیں تعمیر کرنا، لاؤڈ سپیکروں پر اذانیں، خطبات، درس اور تقریریں کرنا شروع کر دی ہیں۔ مرزائیوں کے مبلغ دیہاتوں میں دورہ کر کے جلسے کرتے ہیں۔ بغیر اجازت حکومت جلسے میں لاؤڈ سپیکر کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے گشتی فلمیں جو مرزا ناصر کے امریکہ اور یورپین ممالک کے دوروں پر مشتمل تیار کروائی گئی ہیں۔ ان کی دیہات کے چوکوں میں نمائش کرتے ہیں۔ ان اجتماعات اور ان میں استعمال کے لئے لاؤڈ سپیکر بغیر اجازت حکومت لگایا جاتا ہے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com چونکہ دیہات میں رہنے والے مرزائی زمیندار برادریوں سے تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں ۔ اس لئے بعض دیہات میں ایک برادری کے کچھ لوگ مرزائی ہوتے ہیں اور باقی اہل سنت مسلمان ۔ ایسا بھی دیکھا گیا کہ بعض مسلمان برادری ہونے کی وجہ سے اور علم دین سے بے بہرہ ہونے کے باعث آپس میں رشتے ناتے بھی طے کئے ہوتے ہیں ۔ اس لئے پورے ملک کے مبلغین ختم نبوت کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ شہروں کی نسبت دیہات کی طرف زیادہ توجہ کریں ۔ اس میں شک نہیں کہ دیہات میں جانا آنا اور وہاں دیندار اور باغیرت مسلمانوں سے تعلق پیدا کر کے ان کے ہاں ٹھہرنا اور وہاں تبلیغ کرنا ایک کٹھن کام تھا ۔ بعض دیہات میں ہمیں یہاں تک مشکل پیش آئی کہ مسلمانوں نے مرزائیوں کے گمراہ کرنے پر ہم سے یہ کہا کہ یہاں ہم ایک برادری کے لوگ ہیں اور آپس میں اتفاق سے رہ رہے ہیں ۔ آپ مرزائیوں کے خلاف تقریر نہ کریں ۔ لیکن ہمارے علماء و مبلغین نے وہاں کے باغیرت مسلمانوں خصوصاً نوجوان تعلیم یافتہ طبقہ سے جب رابطہ قائم کیا تو ان دیہات کی مساجد میں ہمارے جلسے ہوئے ۔ ختم نبوت کے موضوع پر تقریریں ہوئیں اور ہمارے مبلغین نے بڑے ٹھنڈے دل و دماغ سے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت بیان کی اور مرزائیت کی حقیقت ، اسلام اور مرزائیت کا فرق مرزائی لٹریچر سے ایسے دلائل کے ساتھ بیان کیا کہ مسلمانوں کی آنکھیں کھل گئیں اور مرزائیوں کو بھی اپنی کتابوں کے حوالے سن کر سوچ اور پریشانی لاحق ہو گئی ۔ اب خدا کے فضل و کرم سے دیہات میں مجلس کو بے حد مقبولیت حاصل ہو رہی ہے ۔ اکثر دیہات میں ہمارے دفاتر کھل چکے ہیں اور وہاں پھیلتی ہوئی گمراہی کا سد باب ہو رہا ہے ۔ اگرچہ اب ہمیں شہروں میں کام کرنے کا نسبتاً کم وقت ملتا ہے ۔ لیکن ہم تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام خصوصاً علمائے اہل سنت دیوبندی مکتب فکر کے ممنون ہیں کہ وہ اپنے درسوں ، خطبوں اور مواعظ میں دوسری گمراہیوں کے علاوہ قادیانیت کا باقاعدہ احتساب کرتے ہیں ۔ اس لئے شہروں میں بھی مرزائیت کے احتساب کے کام میں کوئی کمی محسوس نہیں ہو رہی ۔
مہمانان گرامی ! پچھلے سال چک ٹوانہ جو قصبہ شاہکوٹ کے قریب ایک بہت بڑا گاؤں ہے ۔ وہاں ایک برادری کے چالیس گھرانے ربوہ جلسہ پر جا کر مرزا ناصر کے ہاتھ پر بیعت کر کے مرزائیت میں شامل ہو چکے تھے ۔ یہ سب کچھ دراصل ایک شخص کی خود غرضی کی وجہ سے ہوا ہے ۔ چوہدری محمد طفیل صاحب ریٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ پی ڈبلیو ڈی فیصل آباد اسی گاؤں کے رہنے والے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ہیں۔ انہوں نے اس حادثہ کا ذکر ہمارے محترم بزرگ مولانا تاج محمودؒ سے کیا۔ مولانا موصوف نے مولانا اللہ وسایا خطیب مسجد محمدیہ ربوہ کے زیر قیادت مبلغین کی ایک ٹیم اس گاؤں میں بھیج دی اور اس ٹیم کے بھیجنے سے پہلے مولانا عبداللطیف انور مہتمم جامعہ اشرفیہ شاہ کوٹ کو جو ہماری جماعت کے ایک جری ساتھی اور راہنما ہیں۔ اس ٹیم کی اعانت اور ساتھ جانے کے لئے کہلوا دیا۔ مولانا عبداللطیف فدایان ختم نبوت کی ایک بس بھر کر اس گاؤں میں جا پہنچے۔ پورے علاقہ میں جلسہ کی شہرت ہو چکی تھی۔
جب یہ حضرات وہاں پہنچے تو چک ٹوانہ اور گردونواح کے دیہات سے ہزاروں کا مجمع اکٹھا ہو چکا تھا۔ مولانا اللہ وسایا اور مولانا عبداللطیف نے مفصل تقریریں کیں۔ مولانا اللہ وسایا نے مرزائی کتابوں کے حوالوں سے جب یہ حوالہ مجمع میں سنایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ماعلیہ نے ہمارے آقا ومولا پاک پیغمبر حضرت محمد ﷺ پر یہ جھوٹ اور افتراء باندھا ہے کہ حضور پاک ﷺ یہودیوں کے ہاتھوں کا پنیر کھا لیا کرتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا کہ اس میں خنزیر کی چربی ملی ہوتی تھی۔ تو مجمع میں ایک کہرام مچ گیا۔ چھتوں پر مسلمانوں کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں توبہ توبہ کرنے لگ گئیں اور مرزائیت اور مرزائیوں پر لعنت لعنت کا ایک شور اٹھا۔ جلسہ کے بعد علماء واپس تشریف لے گئے۔ علماء کی تقریروں کا یہ اثر ہوا کہ وہ تمام کے تمام مسلمان جو مرزائی ہوئے تھے وہ توبہ کر کے دوبارہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ الحمدللہ!
سامعین محترم! کچھ عرصہ سے مرزائیوں نے ایک نیا شغل اختیار کیا ہے۔ وہ ہمارے مبلغین کو مناظرے کا چیلنج دیتے ہیں۔ تحریر لکھی جاتی ہے۔ مناظرے کا موضوع طے ہو جاتا ہے۔ ثالث مقرر ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب ہمارے مبلغین کتابیں لے کر پہنچتے ہیں تو مرزائی راہ فرار اختیار کر کے مناظرہ نہیں کرتے اور ثالث حضرات ذلت آمیز شکست کا فیصلہ ان کے خلاف لکھ کر ہمیں دے دیتے ہیں۔ ایسے مناظروں کے چیلنج چک عبداللہ ضلع بہاول نگر، باوا چک نزد فیصل آباد، چک ۱۰۸ چیچہ وطنی، کنری سندھ، موضع کلہ تحصیل شکر گڑھ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء اور کارکنوں کو دیئے گئے اور الحمدللہ ہر جگہ انہیں ہمارے مبلغین کے سامنے آنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ بلکہ چک باوا نزد فیصل آباد میں شرط یہ تھی کہ فریقین جمعہ کی نماز کے بعد اکٹھے ہوں گے جو فریق جمعہ کی نماز کے متصل حاضر نہ ہوگا۔ اسے دس ہزار روپے دوسرے فریق کو ادا کرنے ہوں گے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ہمارے مبلغین بروقت پہنچ گئے۔ جبکہ مرزائی مبلغ مغرب کی اذان کے قریب پہنچے اور کوئی معقول گفتگو بھی نہ کر سکے۔ جب ان سے دس ہزار روپے کا مطالبہ کیا گیا تو آئیں بائیں شائیں کر گئے۔ شاید دس ہزار روپے وصول کرنے کے لئے ہمیں عدالتی کاروائی کرنی پڑے۔
حضرات گرامی! گزشتہ سال کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ مارچ ۱۹۸۱ء میں جنرل محمد ضیاء الحق نے ۱۹۷۳ء کے دستور کو علی حالہ قائم رکھتے ہوئے بعض انتظامی امور کی راہ سے ایک عبوری آئین نافذ کیا۔ اس عبوری آئین میں جہاں مرزائیوں کو غیر مسلم اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے والی دفعہ نمبر ۲۶۰ قائم رکھی گئی۔ وہاں صوبائی انتخابات کے سلسلے میں غیر مسلم اقلیتوں کی فہرست میں ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں اور چوہڑوں چماروں کے ساتھ مرزائیوں کا نام بھی بطور غیر مسلم درج تھا۔ اس دفعہ کے حذف ہوتے ہی پورے ملک میں کہرام مچ گیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والی دفعہ عبوری آئین سے حذف کر دی گئی ہے۔
صدر سے علماء کے وفد کی ملاقات
بدقسمتی سے انہی دنوں وفاقی شرعی عدالت سے رجم کے خلاف ایک غلط فیصلہ بھی صادر ہو گیا۔ یہ غلط فیصلہ بھی مسلمانوں کی اشتعال انگیزی اور حکومت سے ناراضگی کا باعث بننے لگا۔ چنانچہ علماء کا ایک وفد راولپنڈی جا کر صدر مملکت سے ملا۔ اس وفد میں کراچی سے پشاور تک کے منتخب علماء موجود تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں میں سے مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد عبداللہ صاحبؒ اسلام آباد، مولانا قاری امین صاحب راولپنڈی، مولانا محمد اشرف ہمدانی صاحب فیصل آباد اور مولانا عبدالرحمن آزاد گوجرانوالہ بھی شریک تھے۔ اس وفد کے چند اراکین کے ذمہ بولنے کے لئے اور صدر مملکت کے سامنے پیش کرنے کے لئے ایک ایک بزرگ کو ایک ایک موضوع تقسیم کر دیا گیا۔ اس عظیم الشان میٹنگ میں مولانا مفتی زین العابدین، مفتی محمد حسین نعیمی، مولانا عبدالرحیم اشرف، مولانا محمد مالک کاندھلوی، مولانا تقی عثمانی، میاں فضل حق، مولانا سمیع الحق اور مولانا تاج محمود نے تقریریں کیں۔ مولانا تاج محمودؒ کے ذمہ ختم نبوت سے متعلق ترمیم کے موضوع پر بولنا مقرر تھا۔ مولانا نے اپنی آدھ گھنٹے کی تقریر میں عبوری آئین سے اقلیتوں کے شیڈول کے حذف کرنے سے جو پیچیدگیاں اور غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی تھیں وہ بیان کیں۔ صدر مملکت کے اس ارشاد پر کہ عبوری آئین میں دفعہ ۲۶۰ شامل ہے۔ جس میں وضاحت موجود ہے کہ حضرت
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی مفہوم میں دعوائے نبوت کرنے والا اور اس کا پیروکار دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مولانا تاج محمود صاحب نے وضاحت کی کہ اس ترمیم سے مرزائی ایک تاویل کر کے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد اگر کوئی نیا شخص دعوائے نبوت کرے تو یہ دفعہ اس کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی معاذ اللہ نقل کفر کفر نہ باشد حضور ﷺ کے بعد دعوائے نبوت کرنے والا کوئی شخص نہ تھا۔ بلکہ وہ تو خود محمد رسول اللہ تھا۔ حضور ﷺ کی مکہ و مدینہ کی بعثت کامل نہ تھی۔ لیکن حضور ﷺ کی دوسری بعثت جو قادیان میں غلام احمد کی صورت میں ہوئی وہ کامل تھی۔ حضور علیہ السلام کی پہلی بعثت پہلی رات کے چاند کی مانند تھی اور قادیان کی بعثت چودھویں رات کے چاند کی مانند تھی اور یہ تمام حوالہ جات مرزائیوں کے لٹریچر میں موجود ہیں۔ بلکہ یہاں تک موجود ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے سامنے اکمل نامی ایک شاعر یہ رباعی لکھ کر پیش کی تھی:
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک غلطی کا ازالہ نامی کتاب میں خود یہ لکھا ہے کہ محمد رسول اللہ والذین معہ (سورۃ فتح) یہ قرآن مجید کی آیت میری شان میں نازل ہوئی ہے۔
مولانا کی تقریر سے صدر مملکت بہت متاثر ہوئے اور یہ حوالے سن کر سخت حیران اور پریشان ہوئے اور انہوں نے اسی مجلس میں عبوری آئین میں ایک دوسری ترمیم شامل کرنے کا اعلان کر دیا۔ جس میں مرزائیوں کو ہندوؤں، سکھوں، پارسیوں، چماروں کے ساتھ غیر مسلموں میں شامل کیا گیا تھا۔
حضرات گرامی! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ربوہ میں دو اہم ادارے موجود ہیں۔ جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن ربوہ جو ربوہ شہر کے وسط میں ہے اور جہاں حضرت مولانا اللہ وسایا جمعہ پڑھاتے ہیں اور قاری صاحب مسلمان بچوں کی تعلیم اور پنجگانہ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
نمازوں کی امامت کرتے ہیں۔ یہ ادارہ تعمیر کی تکمیل کے مراحل میں پہنچ چکا ہے۔ اس سال جناب شہزادہ صاحب مالک پٹرول پمپ نزد اڈہ لاریاں فیصل آباد جو ایک مخیّر نوجوان ہیں اور خود بھی ہزاروں روپیہ مسجد محمدیہ کی تعمیر پر صرف کر چکے ہیں۔ ان کی وساطت سے کراچی کے ایک مخیّر دوست نے مسجد میں روشنی کا زیادہ بہتر انتظام کرنے اور قرآن مجید کے درس و تدریس کے لئے مدرسہ کی بلڈنگ بنوا دی ہے۔ ابھی مسجد اور مدرسہ کے کچھ اور کام باقی ہیں جو ایسے ہی مخیّر دوستوں کے تعاون سے انشاء اللہ العزیز پایۂ تکمیل کو پہنچ جائیں گے۔
مجلس کا دوسرا ادارہ مسلم کالونی ربوہ میں زیرتعمیر ہے۔ عام مسلمانوں کے عطیہ جات سے عظیم الشان مسجد بن رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس پر چھت پڑ چکی ہے۔ مولانا تاج محمودؒ کے ایک مخیّر دوست نے گزشتہ سال تریسٹھ ہزار روپے کا گرانقدر عطیہ مسجد کے ساتھ مدرسہ کی تعمیر کرنے کے لئے مولانا موصوف کو دیا تھا جس میں کچھ حصہ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے فنڈ سے جو دوسرے مخیّر حضرات کی اعانت سے ملا ادا کیا۔ الحمدللہ! اس صرف کثیر سے آٹھ عظیم الشان کمرے بمعہ برآمدہ تیار اور مکمل ہوچکے ہیں۔ جن میں ربوہ اور قریبی ماحول کے طلباء کے لئے قرأت اور حفظ قرآن پاک کا درجہ کھولا گیا ہے۔ مسجد کی تکمیل کے بعد اس مدرسہ کو مبلغین کی تیاری کے لئے ایک جامعہ کی شکل دے دی جائے گی۔ اس عظیم الشان مسجد میں مناسب موسموں میں دو یا تین عظیم الشان سالانہ کانفرنسیں بھی منعقد ہوا کریں گی۔ انشاء اللہ العزیز!
یہ بات تمام اہل اسلام اور مجلس کے مخلص کارکنوں کے اطمینان کا باعث ہو گی کہ ملتان کے مرکزی دفتر کی سہ منزلہ عظیم الشان بلڈنگ جو عالی مرتبت شیخ راشد بن مکتوم حفظہ اللہ تعالیٰ والیٔ دوبئی کے مالی تعاون سے تعمیر ہوئی ہے۔ اب مکمل ہوچکی ہے۔ اس میں واقع جامع مسجد، درس قرآن، پنجگانہ نمازیں اور باقاعدہ نماز جمعہ وعیدین ہونے لگی ہیں۔ الحمد للہ علیٰ ذالک!
مجلس اس فکر میں ہے کہ عالی مرتبت شیخ راشد بن مکتوم کو دعوت دی جائے اور ان کے گرانقدر عطیہ سے بننے والی اس عظیم الشان مسجد اور بلڈنگ کا باقاعدہ افتتاح کرایا جائے۔
مدینہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی ربوہ آمد
یہاں یہ امر بھی خوش کن ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے تقریباً ایک ماہ پیشتر وہاں کے وزیر خارجہ اور ولی عہد عالی مرتبت جناب شہزادہ فہد کی ہدایت پر پاکستان کے دینی اداروں کا
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
جائزہ لینے کے لئے مدینہ یونیورسٹی کے پرنسپل الشیخ عبداللہ بن زائد پاکستان تشریف لائے تو وہ مجلس کے زیر انتظام ربوہ کے دونوں اداروں کو دیکھنے کے لئے ربوہ تشریف لے گئے۔ انہوں نے جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن اور مسلم کالونی میں جامع مسجد ختم نبوت، دارالعلوم، دارالمبلغین اور لائبریری کا معائنہ فرمایا۔ اس موقع پر جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن ربوہ میں جناب شیخ موصوف کو استقبالیہ دیا گیا جس میں مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ نے جناب شیخ موصوف کا خیر مقدم کرتے ہوئے موصوف کے سامنے مجلس کے تبلیغی پروگرام مختلف شعبہ جات اور آئندہ کے منصوبوں پر بالتفصیل روشنی ڈالی۔ نیز مرزائیوں کی گمراہی اور دنیائے اسلام کے خلاف ان کی سازشوں کا ذکر فرمایا۔ جناب شیخ موصوف نے مجلس کے منصوبوں اور پروگرام پر انتہائی خوشی اور مسرت کا اظہار فرماتے ہوئے مفید مشورے دیئے۔ بعد ازاں موصوف جب مختلف شہروں کا دورہ کرتے ہوئے ملتان گئے تو وہ ازراہ نوازش مجلس کے عظیم الشان دفتر بھی تشریف لے گئے۔ وہاں بھی ان کے اعزاز میں عظیم الشان استقبالیہ اور دوپہر کا کھانا دیا گیا۔ جس میں تین سو علمائے کرام نے شرکت کی۔ انہوں نے دفتر اور مجلس کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرنے کے بعد انتہائی مسرت کا اظہار فرمایا اور مجلس کا عربی زبان میں لٹریچر جو قادیانیوں کے خلاف شائع ہوا اپنے ہمراہ لے گئے۔
حضرات گرامی! اس وقت مجلس کے پچاس تربیت یافتہ علماء ملک بھر میں مصروف کار ہیں۔ بعض دفاتر جماعت کے ملکیتی ہیں اور بعض کرایہ کی بلڈنگوں میں۔ اکثر دفاتر میں باہم رابطے کے لئے ٹیلی فون لگے ہوئے ہیں۔ ہمہ وقت خدمت گزار ملازمین متعین ہیں۔ اس وقت مجلس مبلغین اور ان ملازمین جن کی تعداد ایک صد کے لگ بھگ ہے کو مرکزی جماعت سے معقول تنخواہیں الاؤنسز اور سفر خرچ دیتی ہے۔ دفتر ختم نبوت مسلم کالونی ربوہ کو جماعت نے اپنا سب ہیڈ کوارٹر قرار دیا ہے۔ ایک درجن کے قریب علماء حضرت مولانا اللہ وسایا اور حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی کی سرکردگی میں ضلع جھنگ، میانوالی، سرگودھا، فیصل آباد، شیخوپورہ اور گجرات میں خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ ضلع لاہور، قصور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ میں بھی علماء و مبلغین کی ایک تعداد مولانا عبدالرحمن آزاد کی سرپرستی میں مصروف ہے۔ اسی طرح ملک بھر میں علماء و مبلغین کے زون بنائے جارہے ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ خدمات سرانجام دی جاسکیں۔ اس کے علاوہ ہفتہ وار لولاک مجلس کے ترجمان کی حیثیت سے پورے ملک میں جارہا ہے۔ جس میں سنسر کے باوجود
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مرزائیوں کی گمراہیوں دسیسہ کاریوں اور ملک دشمنیوں کے پردے چاک کئے جارہے ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں یہ دعویٰ نہیں ہے کہ ہم مرزائی جماعت جس کا سالانہ بجٹ ۲۲ کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے اور جس کا ریزرو سرمایہ تین ارب روپے کے قریب ہے۔ ہم اس کے تعاقب کا پورا پورا حق ادا کر رہے ہیں۔ بلکہ ہمیں اعتراف ہے کہ ابھی ہمیں اپنی تنظیمی صلاحیتوں اور وسائل کو مزید مستحکم کرنا ہوگا۔ آپ حضرات ہی کی مخلصانہ دعاؤں شفقتوں اور اخلاقی و مالی تعاون سے کرنا ہوگا۔
سعودی عرب میں عرب شیوخ سے ملاقاتیں
برادران اسلام! میں یہ بات بھی گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ الحمد للہ! اس مرتبہ حج بیت اللہ شریف کے لئے میرے علاوہ مجلس کے مرکزی نائب صدر حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن، ربوہ کے خطیب مولانا اللہ وسایا، مرکزی مبلغ مولانا خدا بخش شجاع آبادی، حاجی سیف الرحمٰن صاحب بہاول پور، مولانا نور الحق نور پشاور، مولانا علاؤ الدین ڈیرہ اسماعیل خان، حاجی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ اور دوسرے حضرات تشریف لے گئے۔ مقام مسرت ہے کہ ہم نے الشیخ المکرم حضرت مولانا محمد مکی صاحب کی کوششوں اور تعاون سے عرب شیوخ سے ملاقات کر کے انہیں جماعت کے پروگرام اور مرزائیوں کے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف خطرناک ارادوں سے آگاہ کیا۔ انشاء اللہ! ان ملاقاتوں کے اثرات بھی مفید ظاہر ہوں گے۔
حضرات گرامی! آخر میں ایک دفعہ پھر میں اس کانفرنس میں شرکت کرنے پر علمائے کرام اور تمام مہمانان گرامی قدر اور آپ سب حضرات کا ممنون ہوں کہ آپ حضرات نے اس عظیم الشان کانفرنس میں شرکت کر کے تاجدار ختم نبوت ﷺ سے اپنی عقیدت و محبت کا ثبوت دیا اور ہماری حوصلہ افزائی فرمائی۔ میں چنیوٹ کے غیور مسلمانوں، اپنی استقبالیہ کمیٹی کے ممبران، یہاں کے علمائے کرام، شہر کے معززین، مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں، نوجوانوں اور یہاں کی رضا کار تنظیموں خصوصاً خاکسار تنظیم کے مجاہدوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جو رحمۃ اللعالمین ﷺ کی خوشنودی کے لئے دامے درمے قدمے تعاون فرما رہے ہیں اور اپنا آرام و راحت چھوڑ کر خود کو عقیدہ ختم نبوت کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں۔ میں جناب ڈپٹی کمشنر صاحب جھنگ، جناب اے سی صاحب و ڈی ایس پی صاحب چنیوٹ، ضلعی اور مقامی انتظامیہ اور سرکاری ملازمین کا بھی ممنون ہوں۔ جنہوں نے ہمہ وقت کانفرنس کی کامیابی کے لئے جہاں اپنے فرائض منصبی کو ادا کیا
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
وہاں اپنے عشق رسالت مآب ﷺ کا بھی ثبوت پیش کیا۔
میں یہاں کے صحافیوں اور اخباری رپورٹروں کا بھی شکر گزار ہوں کہ ان کی وجہ سے اس کانفرنس کی آواز چنیوٹ کی فضاؤں سے نکل کر پورے ملک بلکہ پوری دنیا میں پہنچ جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و مددگار ہو اور ہم سب کو خلوص نیت کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
فقیر ابو الخلیل خان محمد عفی عنہ مرکزی امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۷....... رسالة دينية هامة الى الحكومات الاسلامية
جولائی ۱۹۷۸ء میں اسلامی ممالک کے وزرا خارجہ کی میٹنگ کراچی میں ہونا طے پائی۔ اس کانفرنس کی اہمیت کے پیش نظر مولانا عبدالرحیم اشعر کو حضرت قبلہؒ نے ذیل کا والا نامہ تحریر فرمایا۔
”بعد الحمد والصلوٰة وارسال التسليمات والتحيات . فقیر ابو الخلیل خان محمد عفی عنہ“ کی طرف سے مکرم و محترم جناب مولانا عبدالرحیم اشعر صاحب مطالعہ فرماویں کہ فقیر بفضل تعالیٰ بعافیت ہے۔ والحمد للہ علیٰ ذالك! فقیر آپ سب کی صحت و عافیت اور سلامتی کا طالب ہے۔ مولا پاک نصیب فرمائے۔ آمین!
انگلینڈ سے جو خط موصول ہوا ہے وہ ارسال خدمت ہے۔ ملاحظہ کرلیں۔
اس کے علاوہ گذارش ہے۔ جولائی کی ابتداء میں کراچی میں عالم اسلامیہ کی ایک کانفرنس ہورہی ہے۔ اس موقعہ پر وہاں کام کی ضرورت ہے۔ عربی، انگریزی میں مختصر سے پمفلٹ جس میں تحفظ کا تعارف اور کام کی نوعیت اور قادیانیت کی شرانگیزی اور قومی اسمبلی کی قرارداد پر مشتمل ہو۔ وہاں تقسیم ہونا چاہئے۔ اگر یہ تجویز کسی درجہ میں مفید ہو تو اس پر ضرور کام ہونا چاہئے۔ حضرات سے مشورہ کرلیں۔ فقیر کی طرف سے حضرات کی خدمت میں سلام۔
۱۶؍ جون کی کیا تاریخ حتمی ہے۔ اطلاع فرماویں۔
والسلام! از خانقاہ سراجیہ ۲۷؍ جمادی الثانی
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
آپ کے اس والا نامہ کی روشنی میں عربی، انگلش میں لٹریچر شائع کر کے وزراء خارجہ میں تقسیم کیا گیا۔ عربی رسالہ جو حضرت قبلہؒ کی طرف سے حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے اس کا عربی میں مرتب کیا جو یہ ہے۔ ”من فضيلة الشيخ خان محمد امير مجلس تحفظ ختم النبوة العالمى پاكستان“
بسم الله الرحمن الرحيم!
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا محمد خاتم الانبياء والمرسلين، وعلى آله وصحبه اجمعين، وبعد:
فقد عبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدين بالنصيحة فقال: ”الدين النصيحة“ وجعل النصيحة أيضاً، لأئمة المسلمين وحكام الأمة الاسلامية مما يقتضيه هذا الدين، وبناء على ذلك وبضوء هذه النصيحة يرى ”مجلس تحفظ ختم النبوة العالمى“ من الواجب أن يلفت أنظار الحكومات الاسلامية فى العالم الى مسألة دينية هامة، ألا وهى:
المسألة القاديانية
ان الجماعة القاديانية...... الذين يسمون أنفسهم ”الأحمديين“ أو ”الجماعة الأحمدية“ تنتسب الى المتنبئ اسمه ”مرزا غلام احمد القاديانى“ ولد فى قرية ”القاديان“ محافظة غورداس فور، اقليم بنجاب بالهند.
ان هذا الرجل...... مرزا غلام احمد القاديانى، كان فى بداية امره بدأ بالمناظرات مع اصحاب الأديان الأخرى دفاعاً عن الاسلام، وبذلك اكتسب حبا فى قلوب المسلمين، وميلهم الى شخصيته عند ذلك بدأ يدعى بدعاوى مختلفة متدرجاً من الأدنى الى الأعلى:
ففى سنة ١٨٨٤م ادعى انه مجدد القرن الرابع عشر.
وفى سنة ١٨٩١م ادعى انه الهم ان عيسى عليه السلام قد توفى، وانه اى المرزا هو المسيح الموعود الذى جاء ذكره فى الكتاب والسنة.
وفى سنة ١٨٩٢م ادعى ان المسيح والمهدى اسمان لشخص واحد، وبناء على ذلك انه المسيح وانه المهدى.
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
وفى سنة ١٩٠١م ادعى انه نبى، لان المسيح الموعود الذى ورد ذكره فى ”صحيح مسلم“ يكون نبياً۔
وادعى فى رسالته ”ايك غلطى کا ازالہ“ (ازالة الخطاء) انه نفسه ”محمد رسول الله“ والعياذ بالله وبالجملة انه جعل نفسه مصداقا للنبوة الجديدة وانه ”محمد رسول الله“ بعث مرة ثانية۔
وان هذا المتنبئ علم امته العقائد التالية التى يعتقدو نها:
- ......١ يعتقد القاديانيون ان ”محمدا رسول اللهﷺ“ بعث مرة
ثانية فى صورة ”مرزاغلام احمد القاديانى“ وانه مصداق للآية الكريمة: ”محمد رسول الله والذين معه...... الآیۃ“
(ايك غلطى کا ازالہ ص٣)
- ......٢ ان القاديانيين يعتقدون ان المرزا غلام احمد القاديانى
منزلته واسمه، وشانه ومنصبه هى نفس منزلة محمدﷺ وشانه واسمه، ومنصبه۔
(صحيفة الفضل ١٦/ ستمبر ١٩٢٥ء، قاديانى مذهب ص٢٧٥)
- ......٣ انهم يعتقدون ان ”مرزاغلام احمد القاديانى“ نبى
ورسول من القرن الرابع عشر الى جميع الناس، ويجب الايمان به كما يجب الايمان بمحمدﷺ۔
(تذكره ص٢٦٠)
- ......٤ يعتقد القاديانيون ان مرزاغلام احمد القاديانى خاتم
الانبياء۔
(مجلة الفضل ٢٦/ستمبر ١٩١٥ء)
- ......٥ انهم يرون ان عرش مرزاغلام احمد القاديانى فى السماء
اعلى من جميع العروش فى السماء۔
(حقيقة الوحى ص٨٩)
- ......٦ ان القاديانيين يعتقدون ان اسلام عصر محمدﷺ كان
مثل هلال اول الشهر (اى لا نور له) والعياذ بالله...... وان اسلام عصر مرزاغلام احمد القاديانى مثل القمر ليلة البدر، منور لماع۔
(الخطبة الالهامية ص١٨٣)
- ......٧ انهم يعتقدون ان روحانية مرزاغلام احمد القاديانى
اقوىٰ واكمل واشد من روحانية محمدﷺ۔
(الخطبة الالهامية ص١٨١)
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۸...... يعتقد القاديانيون ان مدار النجاة فى هذا العصر ليس
فى اتباع محمد صلى الله عليه وسلم فحسب، بل مداره فى اتباع مرزا غلام احمد القاديانى۔
(الاربعين ش٤ ص٧)
- ٩...... يرى القاديانيون ان من لم يتبع المرزا فهو عاص لله
ورسوله وجهنمى۔
(نشرة معيار الاخيار ٢٥، مايو ١٩٠٠م)
- ١٠...... القاديانيون يعتقدون ان من لم يؤمن بالمرزا غلام احمد
القاديانى...... ولو لم يسمع باسم المرزا...... فهو كافر وخارج عن دائرة الاسلام۔
(مرآة الصداقة ص٣٥)
هذه عدة نماذج من مئات عقائد القاديانية الكفرية والمضللة التى ذكرناها، وبناء على هذه العقائد الكفرية اصدر علماء الاسلام فى الشرق والغرب من عهد المرزا القاديانى الى يومنا هذا بالاتفاق ان المتنبئ المرزا غلام احمد القاديانى واتباعه كفار ومرتدون وزنادقة۔ (وملحق بهذا بعض الفتاوى لعلماء الامة)
واضافة الى ذلك طالبت ”رابطة العالم الاسلامى“ وهى اكبر منظمة فى العالم الاسلامى...... فى اجتماعها المنعقد فى مكة المكرمة فى ربيع الاول ١٣٩٤ھ الموافق ابريل ١٩٧٤م، طالبت جميع الحكومات الاسلامية ان تضع الحظر على الحركة القاديانية فى بلادها، وان تراقب تحركاتها دائماً۔ (وملحق بهذا قرارات الرابطة)
كما ان مجمع الفقه الاسلامى فى اجتماعه المنعقد ٢٨،٢٢/ديسمبر ١٩٨٥، بجدة، اصدر حكماً بكفر القاديانية وزندقتها وان المؤتمر الاسلامى الآسيوى الاول المنعقد فى كراتشى فى ٦، ٨ يوليو ١٩٧٨ اصدر قراراً ضد القاديانية۔ (وملحق بهذا صورة من هذا القرار)
والمتنبئ المرزا القاديانى ايضاً اعترف بنفسه ان علماء الاسلام جميعاً يرون القاديانيين مرتدين يجب قتلهم، فانه يقول مخاطباً امته فى
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
نشرتہ:”ہل تظنون ان تنجوا من ہجوم الاشرار اذا سکنتم فی ظل حکومۃ الروم او اذا بنیتم بیوتکم فی مکۃ والمدینۃ؟ کلا ثم کلا، بل تقطعون تقطیعا بالسیف، وقد سمعتم ان الامیر حبیب اللہ خان...... حاکم افغانستان...... کیف رجم الشیخ عبداللطیف الذی کان زعیماً مشہوراً معززاً فی کابل وکان مریدوہ یقرب من خمسین الفا، لانہ دخل فی جماعتی وما کانت جریمتہ الا انہ تاثر بتعلیمی وخالف الجہاد۔ فہل تتوقعون ان تتمتعوا برغد العیش فی ظل السلاطین المسلمین؟ بل انکم تستحقون القتل حسب فتاوی علماء المسلمین......“
ان ہؤلاء المسلمین الذین ہم ضد الفرقۃ الاحمدیۃ قد سمعتہم فتاوی علماءہم، ای انکم تستحقون القتل، والکلب احق بالرحمۃ منکم، وان جمیع فتاوی بنجاب والہند، بل فتاوی الدول الاسلامیۃ ہی انکم تستحقون القتل، وان قتلکم، ونہب اموالکم، ونکاح نساءکم جبراً، واہانۃ امواتکم ومنع دفنہم فی قبور المسلمین، کل ذلک لیس جائزا فحسب، بل ہو عمل یستوجب الاجر والثواب۔
(مجموعہ اشتہارات ج۳)
ان فتاوی علماء الاسلام، وما کتبہ المرزا المتنبئ نفسہ کل ذلک یدل علی ان القادیانیۃ فرقۃ مستقلۃ، لیست لہا ایۃ صلۃ بالاسلام۔
عند ما استقلت باکستان انتقل عدد کبیر للقادیانیین، وزعماءہم من قادیان فی الہند الی باکستان، واشتروا سرا قطعۃ ارض فی اقلیم بنجاب، قدرہا الف ہکتار وانشأوا فیہا مدینۃ قادیانیۃ خالصۃ سموہا ”ربوۃ“ وجعلوہا مرکزاً لہم، وجعلوہا دولۃ داخل دولۃ عملیاً، واستولی القادیانیون علی المناصب الاساسیۃ لباکستان، وکان وزیر الخارجیۃ لباکستان شودری ظفر اللہ خان القادیانی، فاستغل ہذا المنصب، وبداء بالدعوۃ الی القادیانیۃ، وملأ السفارات الباکستانیۃ بالقادیانیین، ہکذا استولوا علی المناصب داخل البلاد وخارجہا، ودبروا مؤامرۃ لتضلیل المسلمین وردہم عن الاسلام۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
فقام علماء المسلمين بواجبهم نحو هذا الدين الحنيف، فنبهوا المسلمين على حركات القاديانية المضللة، وفى سنة ١٩٥٣ قام المسلمون بالحركة العامة ضد القاديانية، وطالبوا الحكومة الباكستانية باعتبار القاديانية اقلية غير اسلامية، غير ان الحكام القاديانيين قضوا على هذه الحركة، وقتلوا عشرة آلاف مسلم واهرقوا دماءهم، ولكن المسلمين استمرت مطالبتهم الحكومة باعتبار القاديانية اقلية غير مسلمة، فاضطرت الحكومة الباكستانية الى اعتبارهم اقلية غير مسلمة، فاصدر البرلمان الباكستانى قراراً فى ٧/ستمبر ١٩٧٤ ان المتنبى المرزا غلام احمد القاديانى واتباعه اقلية غير مسلمة۔
ولما كانت الفرقة القاديانية تكفر الامة الاسلامية، وتظهر نفسها مسلمة، وتنشر افكارها وعقائدها الباطلة باسم الاسلام، فمع هذا القرار التاريخى بقيت الحاجة الى منع القاديانيين عن استعمال الشعائر الاسلامية، فاستمرت جهود المسلمين فى هذا الصدد حتى اصدر الرئيس السابق لباكستان جنرال محمد ضياء الحق حكماً رئيسياً منع فيه الفرقة القاديانية عن ان يظهروا انفسهم مسلمين وان ينشروا دينهم باسم الاسلام وان يستعملوا شعائر المسلمين الاسلامية۔
وكان ذلك لا بد منه بديهياً ومنطقياً، لانه كان فيه حفاظاً على شخصية المسلمين الاسلامية، وازالة للاشتباه الذى اوجده القاديانيون۔
ولكن زعيم القاديانيين الحالى مرزا طاهر القاديانى انشأ مركزا قاديانيا قريباً من ”لندن“ وسماه ”اسلام آباد“، وبدأ بالدعايات المضللة ضد باكستان، بان باكستان سلبت حرية القاديانيين الدينية، وقضت على حقوقهم الانسانية، وبناء على هذه الدعايات الكاذبة بدأ الاعلام الغربى واعداء الاسلام بالدعايات ضد باكستان والاساءة اليها، مع ان ذلك يخالف الحقيقة۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۲۸۹ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
فالفرقة القاديانية بايمانها بالمتنبئ الجديد وبالوحى الجديد صارت تحمل ديناً جديداً، وتعتبر المسلمين جميعاً فى العالم كفاراً، لعدم ايمانهم بالمرزا غلام احمد القاديانى، فليس لها حق ان تستعمل لنفسها اسم الاسلام والشعائر الاسلامية، لان ذلك يورث الاشتباه، ويجرح شخصية المسلمين الاسلامية.
واضافة الى ذلك نرى من المناسب ايضاً ان نذكر حركات الجماعة القاديانية ونحيط بها الحكومات الاسلامية علماً.
- ۱ ...... ان الفرقة القاديانية تقوم بالدعايات المعادية ضد
حكومة باكستان وضد الجماعات الدينية، ويساندها الاعلام الغربى واللوبى الغربى.
- ۲ ...... ان الفرقة القاديانية استأجرت قناة للقمر الصناعى،
وبدأت تنشر عقائدها وافكارها الباطلة باسم الاسلام وبصورة المسلمين فى العالم كله، مما يسبب خطراً لا نتشار الضلال بين الشباب المسلم الذين هم بعيدون عن تعاليم الاسلام.
- ۳ ...... ان عالم الطبيعة المشهور الدكتور عبدالسلام القاديانى
يسعى بتعاون من بعض الدول الاسلامية لعقد مؤتمر عالمى للطبيعة للدول المسلمة ودول عدم الانحياز، وليس الغرض منه الا لسيطرة على جهود العالم الاسلامى فى ميدان علم الطبيعة، والوصول الى المفاعل الذرية لباكستان.
- ٤ ...... انهم يأمرون الشباب المسلم المتواجدين فى الدول
الغربية العاطلين عن العمل بملء الاستمارات القاديانية، ثم يقدمونهم كقاديانيين مظلومين لاجئين سياسيين، وهذا العمل يجرى بنظام.
- ٥ ...... انهم ينشرون ترجمة القرآن الكريم المحرفة فى اللغات
المختلفة والنشرات القاديانية فى العالم على نطاق واسع، ولما كانت هذه التراجم والنشرات تقدم باسم الاسلام، كان ذلك سبباً لضلال اولئك
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
المسلمين الذى لا يعرفون عن حقيقة القاديانية، فلا بد من التحركات العملية لا نقاذ هؤلا من هذا الضلال۔
وبناء على ذالك لا بد من اتخاذ الخطوات التالية:
- ١...... على جميع الحكومات الاسلامية ان تصدر قراراً باعتبار
القاديانية اقلية غير مسلمة، وان تضع عليها الحظر فى بلادها۔
- ٢...... ان القاديانيين لهم صلات ودية باسرائيل والقوى
المعادية للاسلام، وان اعضاء هذه المنظمة القاديانية يتجسسون على المسلمين، وينقلون اسرارهم الى اعداء هم، لذلك يجب على الحكومات الاسلامية ان يكونوا على حذر من القاديانيين۔
- ٣...... ان الدكتور عبدالسلام القاديانى يحمل غيظا فى قلبه،
يريد ان يخدع الحكام المسلمين باشغالهم بالمؤتمر الاسلامى للطبيعة، ويقضى على قوتهم النووية، فيجب على الحكام المسلمين ان يبتعدوا عن تحركات الدكتور عبدالسلام القاديانى، والا يشار كوه فى مشورتهم۔
- ٤...... على الدول الاسلامية ان تبلغ المؤسسات الدولية ان
القاديانيين ليست لهم اية صلة بالمسلمين ولا يمكن قبولهم فى دولة اسلامية من حيث انهم مسلمون، اذن يجب على المؤسسات الدولية ايضاً الا تسمح للقاديانيين ان يعقلوا بطاقات الاسلام على انفسهم۔
- ٥...... على جميع علماء الاسلام واصحاب الفكر ان يكشفوا امام
المسلمين العقائد القاديانية الباطلة لانقاذهم من الارتداد القاديانى۔
ونرجو من الحكومات الاسلامية ان تحس بمسؤوليا تها الدينية، ولا تقصر فى اداء واجبها باتخاذ خطوة لازمة۔
وان كنتم تحتاجون الى اى تفصيل او معلومات، او تعاون فالرجاء الاتصال بالعناوين التالية، وان مراكز ”مجلس تحفظ ختم النبوة العالمى“ مستعدة للخدمة فى كل وقت۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
فتاوی علماء الاسلام
- ۱...... فتاوی مشایخ جامعۃ دیوبند الاسلامیۃ (ازہر الہند)
بالہند ان الذی یتبنی ھذہ الاقوال والعقائد، والذین یؤمنون بہ ویصدقونہ کفار ومرتدون، خارجون عن دائرۃ الاسلام، لا یجوز المناکحۃ بینہم وبین المسلمین، ولا ینعقد النکاح، ومن صدق المرزا القادیانی من المسلمین یکون مرتداً، وینفسخ نکاحہ ان کان متزوجاً ویجب التفریق بینہما.
کتبہ فضیلۃ الشیخ المفتی عزیز الرحمن
فی ۱۲/رجب ۱۳۳۶ھ
وصدقہ ووقع علیہ مشایخ الجامعۃ الآتیۃ اسماء ہم:
فضیلۃ الشیخ غلام رسول، فضیلۃ الشیخ اصغر حسین
فضیلۃ الشیخ محمد رسول خان، فضیلۃ الشیخ کل محمد خان
فضیلۃ الشیخ محمد اعزاز علی، فضیلۃ الشیخ احمد امین
فضیلۃ الشیخ محمد تفضل حسین، فضیلۃ الشیخ محمد ادریس
فضیلۃ الشیخ عبدالوحید
- ۲...... مشایخ جامعۃ مظاہر العلوم سہارنفور بالہند:
فضیلۃ الشیخ عنایت الہی رئیس الجامعۃ
فضیلۃ الشیخ خلیل احمد شیخ الاساتذۃ
فضیلۃ الشیخ ثابت علی، فضیلۃ الشیخ عبدالرحمن
فضیلۃ الشیخ عبداللطیف، فضیلۃ الشیخ عبدالوحید سنبلی
فضیلۃ الشیخ ممتاز میرتی، فضیلۃ الشیخ منظور احمد
فضیلۃ الشیخ محمد ادریس، فضیلۃ الشیخ عبدالقوی
فضیلۃ الشیخ محمد فاضل، فضیلۃ الشیخ بدر عالم میرتی
فضیلۃ الشیخ علم الدین حصاروی
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۲۹۲ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
فضيلة الشيخ غلام حبيب بشاورى فضيلة الشيخ عبدالکريم نوكانوى، فضيلة الشيخ فصيح الدين فضيلة الشيخ محمد روشن الدين، فضيلة الشيخ نور محمد فضيلة الشيخ دليل الرحمن، فضيلة الشيخ محمد بلوچستانی فضيلة الشيخ ظريف احمد، فضيلة الشيخ محمد حبيب الله
- ۳...... مشایخ تهانه بهون محافظة مظفر نگر:
فضيلة الشيخ الامام محمد اشرف على التهانوى
- ٤...... مشایخ رائى فور محافظة سهارنفور:
فضيلة الشيخ نور محمد لديانوى فضيلة الشيخ عبدالرحيم رائى فورى فضيلة الشيخ عبدالقادر شاه فورى فضيلة الشيخ مقبول سبحانى الكشميرى فضيلة الشيخ محمد سراج الحق فضيلة الشيخ خدا بخش فيروزفورى فضيلة الشيخ محمد صادق شاه فورى فضيلة الشيخ احمد شاه، فضيلة الشيخ الله بخش
- ٥...... مشایخ دهلی:
فضيلة الشيخ المفتى ابراهيم دهلوى فضيلة الشيخ المفتى محمد كفايت الله
- ٦...... مشایخ کلکته:
فضيلة الشيخ عبدالنور، فضيلة الشيخ المفتى محمد عبدالله فضيلة الشيخ افاض الرحمن، فضيلة الشيخ ابوالحسن محمد عباس فضيلة الشيخ عبدالواحد، فضيلة الشيخ محمد سليمان فضيلة الشيخ محمد يحيى، فضيلة الشيخ عبدالرحيم فضيلة الشيخ محمد مظهر على، فضيلة الشيخ عبدالصمد
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
فضیلۃ الشیخ ضیاء الرحمن، فضیلۃ الشیخ محمد اکرم
- ۷...... مشایخ بنارس (۱۰ / جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ):
فضیلۃ الشیخ محمد شیر خان، فضیلۃ الشیخ محمد حسن خان
فضیلۃ الشیخ محمد عبداللہ کانپوری
فضیلۃ الشیخ محمد حیات احمد، فضیلۃ الشیخ عبدالمجید
- ۸...... مشایخ لکھنؤ:
فضیلۃ الشیخ ابو العماد محمد شبلی، فضیلۃ الشیخ عبدالودود
فضیلۃ الشیخ امیر علی، فضیلۃ الشیخ حیدر شاہ
فضیلۃ الشیخ العلامۃ ملا مبین
فضیلۃ الشیخ ابو الہدی فتح اللہ الہ آبادی
- ۹...... مشایخ آگرہ:
فضیلۃ الشیخ محمد محمام، فضیلۃ الشیخ عبداللطیف
فضیلۃ الشیخ محمد دیدار علی
- ۱۰...... مشایخ مراد آباد:
فضیلۃ الشیخ غلام احمد قادری
- ۱۱...... مشایخ لاہور:
فضیلۃ الشیخ نور بخش
- ۱۲...... مشایخ امرتسر:
فضیلۃ الشیخ ابوالحسن غلام المصطفی القاسمی
فضیلۃ الشیخ محمد جمال، فضیلۃ الشیخ عبدالغفور غزنوی
فضیلۃ الشیخ محمد حسین، فضیلۃ الشیخ ابوالوفاء ثناء اللہ
- ۱۳...... مشایخ لدیانہ:
فضیلۃ الشیخ رحمت العلی، فضیلۃ الشیخ محمد عبداللہ
فضیلۃ الشیخ محمد الدین
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ١٤...... مشایخ بشاور:
فضيلة الشيخ محمد عبدالرحمن هزاروى فضيلة الشيخ عبدالواحد، فضيلة الشيخ عبدالرحمن فضيلة الشيخ المفتى عبدالرحيم بشاورى فضيلة الشيخ محمد خان غورى فضيلة الشيخ محمد رمضان بشاورى فضيلة الشيخ عبدالكريم بشاورى فضيلة الشيخ عبدالله نقشبندى
- ١٥...... مشایخ راولبندى:
فضيلة الشيخ عبدالاحد خان فورى، فضيلة الشيخ عبدالله فضيلة الشيخ سيد اكبر على شاه، فضيلة الشيخ عصام الدين فضيلة الشيخ عبدالرحمن
- ١٦...... مشایخ ملتان:
فضيلة الشيخ محمد، فضيلة الشيخ ابو عبيد خدا بخش
- ١٧...... مشایخ هوشيارفور:
فضيلة الشيخ غلام احمد هوشيار فورى، فضيلة الشيخ احمد على
- ١٨...... مشایخ گورداس فور:
فضيلة الشيخ عبدالحق دينانكرى (٢٠ / جمادى الثانية ١٣٣٦هـ)
- ١٩...... مشایخ جهلم:
فضيلة الشيخ محمد كرم الدين، فضيلة الشيخ نور حسين فضيلة الشيخ محمد فيض الحسن
- ٢٠...... مشایخ سيالكوت:
فضيلة الشيخ محمد امام الدين القادرى
- ٢١...... مشایخ گجرات:
فضيلة الشيخ عبدالله، فضيلة الشيخ عبيد الله
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۲۲...... مشایخ گوجرانوالہ:
فضيلة الشيخ محمد الدین، فضيلة الشيخ عبداللہ فضيلة الشيخ محی الدین نظام آبادی فضيلة الشيخ عمر الدین، فضيلة الشيخ عبدالغنی
- ۲۳...... مشایخ ولاية حیدر آباد دکن:
فضيلة الشيخ محمد انوار اللہ خان
- ۲۴...... مشایخ بھوپال:
فضيلة الشيخ محمد یحیی (۳/رجب ۱۳۳۶ھ)
- ۲۵...... مشایخ ولاية رامفور:
فضيلة الشيخ ظہور الحسن فتوی: مفتی مصر
من يدعى النبوة بعد محمدﷺ فهو كذاب ومفترى ومنكر لكتاب الله وسنة رسولهﷺ، ولذلك افتينا بكفر مرزا غلام احمد القاديانى واتباعه، لانه يدعى انه نبى وانه يوحى اليه، وكذلك نفتى بانه لا يجوز التناكح معهم ولا يدفنون فى قبور المسلمين۔
استاذ العلماء فضيلة الشيخ حسنين محمد مخلوف المفتى السابق
(من صفوة البيان لمعان القرآن ص١٨٦ الطبعة الاولى ١٣٧٠ھ)
من قرارات مؤتمر المنظمات الاسلامية
المنعقدة بمكة عام ١٣٩٤ھ
وان القاديانية نحلة هدامة تتخذ من اسم الاسلام شعارا لستر اغراضها الخبيثة، وابرز مخالفتها للاسلام۔
- ١ ...... ادعاء زعيمها النبوة
القاديانية ربيبة الاستعمار البريطانى ولا تظهر الا فى ظل حمايته تخون القاديانية قضايا الأمة الاسلامية، وتقف موالية للاستعمار والصهيونية، تتعاون مع القوى المناهضة للاسلام، وتتخذ هذه القوى
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
واجهة لتحطيم العقيدة الاسلامية وتحريفها وذلك بما يأتى:
- الف...... انشاء معابد تمولها القوى المعادية ويتم فيها التضليل
بالفكر القاديانى المنحرف۔
- ب...... فتح مدارس ومعاهد وملاجئ للأيتام وفيها جميعا
تمارس القاديانية نشاطها التخريبى لحساب القوى المعادية للاسلام وتقوم القاديانية بنشر ترجمات محرفة لمعانى القرآن الكريم بمختلف اللغات العالمية ولمقاومة خطرها تتخذ السبل الآتية:
- ١...... تقوم كل هيئة اسلامية بحصر النشاط القاديانى فى
معابدهم ومدارسهم وملاجئهم وكل الأمكنة التى يمارسون فيها نشاطهم الهدام فى منطقتها وكشف القاديانيين والتعريف بهم للعالم الاسلامى تفاديا للوقوع فى حبائلهم۔
- ٢...... اعلان كفر هذه الطائفة وخروجها على الاسلام۔
- ٣...... عدم التعامل مع القاديانيين او الاحمديين ومقاطعتهم
اقتصاديا واجتماعيا وثقافيا وعدم التزوج منهم وعدم دفنهم فى مقابر المسلمين...... ومعاملتهم باعتبارهم كفارا۔
- ٤...... مطالبة الحكومات الاسلامية بمنع كل نشاط لأتباع
ميرزا غلام احمد يدعى النبوة واعتبارهم اقلية غير مسلمة ويمنعون من تولى الوظائف الحساسة للدولة۔
- ٥...... نشر مصورات لكل التحريفات القاديانية فى القرآن
الكريم مع حصر الترجمات القاديانية لمعانى القرآن والتنبيه عليها ومنع تداول هذه الترجمات۔
- ٦...... تعامل كل الفئات المنحرفة عن الاسلام معاملة القاديانية۔
ارجو الاطلاع والاعتماد عليها فى هذا الموضوع، والله نسأل ان ينصر الاسلام والمسلمين، والله يحفظكم۔
الامين العام: محمد على الحركان
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
القرار الثالث ...... حكم القاديانية والانتماء اليها
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه ومن اهتدى بهداه، وبعد:
فقد استعرض مجلس المجمع الفقهى موضوع الفئة القاديانية التى ظهرت فى الهند فى القرن الماضى (التاسع عشر ...... الميلادى) والتى تسمى ايضاً (الاحمدية) ودرس المجلس نحلتهم التى قام بالدعوة اليها مؤسس هذه النحلة ميرزا غلام احمد القاديانى ١٨٧٦م مدعيا انه نبى يوحى اليه، وانه المسيح الموعود، وان النبوة لم تختم بسيدنا محمد بن عبدالله رسول الاسلام ﷺ (كما هى عليه عقيدة المسلمين بصريح القرآن العظيم والسنة) وزعم انه قد نزل عليه، واوحى اليه اكثر من عشرة آلاف آية، وان من يكذبه كافر، وان المسلمين يجب عليهم الحج الى قاديان، لانها البلدة المقدسة كمكة والمدينة وانها هى المسماة فى القرآن بالمسجد الاقصى كل ذلك مصرح به فى كتابه الذى نشره بعنوان (براهين احمدية) وفى رسالته التى نشرها بعنوان (التبليغ)۔
واستعرض مجلس المجمع ايضاً اقوال وتصريحات ميرزا بشير الدين بن غلام احمد القاديانى وخليفته، ومنها جاء فى كتابه المسمى (آئينه صداقت) من قوله: "ان كل مسلم لم يدخل فى بيعة المسيح الموعود (اى والده ميرزا غلام احمد) سواء سمع باسمه او لم يسمع هو كافر وخارج عن الاسلام"
(الكتاب المذكور صفحة ٣٥)
وقوله ايضاً فى صحيفتهم القاديانية (الفضل) فيما يحكيه فهو عن والده غلام احمد نفسه: انه قال: اننا نخالف المسلمين فى كل شئ: فى الله، فى الرسول، فى القرآن، فى الصلاة، فى الصوم، فى الحج، فى الزكاة، وبيننا وبينهم خلاف جوهرى فى كل ذلك۔ (صحيفة الفضل فى ٣٠ من تموز (يوليو)١٩٣١م)
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
وجاء ايضاً فى الصحيفة نفسها (المجلد الثالث) ما نصه: ”ان ميرزا هو النبى محمدﷺ زاعما انه هو مصداق قول القرآن حكاية عن سيدنا عيسىٰ عليه السلام ”ومبشرا برسول يأتى من بعده اسمه احمد“ (كتاب انوار الخلافة ص٢١) واستعرض المجلس ايضا ما كتبه ونشره العلماء والكتاب الاسلاميون الثقات عن هذه الفئة القاديانية الاحمدية لبيان خروجهم عن الاسلام خروجاً كلياً.“
وبناء على ذلك اتخذ المجلس النيابى الاقليمى لمقاطعة الحدود الشمالية فى دولة باكستان قرارا فى عام ١٩٧٤م باجماع اعضاءه يعتبره فيه الفئة القاديانية بين مواطنى باكستان اقلية غير مسلمة، ثم فى الجمعية الوطنية (مجلس الامة الباكستانى العام لجميع المقاطعات) وافق اعضاءها بالاجماع على اعتبار فئة القاديانية اقلية غير مسلمة۔
يضاف الى عقيدتهم هذه ما ثبت بالنصوص الصريحة من كتب ميرزا غلام احمد نفسه ومن رسائله الموجهة الى الحكومة الانكليزية فى الهند التى يستدرها ويستديم تأييدها وعطفها من اعلانه تحريم الجهاد، وانه ينفى فكرة الجهاد التى يدين بها بعض جهال المسلمين تمنعهم من الاخلاص للانكليز۔ ويقول فى هذا الصدد فى ملحق كتابه (شهادة القرآن) الطبعة السادسة ص١٧ ما نصه (انا مؤمن بأنه كلما ازداد اتباعى وكثر عددهم قل المؤمنون بالجهاد لانه يلزم من الايمان بانى المسيح او المهدى انكار الجهاد) تنظر رسالة الاستاذ الندوى نشر الرابطة ص٢٥۔
وبعد ان تداول مجلس المجمع الفقهى فى هذه المستندات وسواها من الوثائق الكثيرة المفصحة عن عقيدة القاديانيين ومنشأها وأسسها وأهدافها الخطيرة فى تهديم العقيدة الاسلامية الصحيحة وتحويل المسلمين عنها تحويلا وتضليلا، قرر المجلس بالاجماع اعتبار العقيدة القاديانية المسماة ايضاً بالاحمدية عقيدة خارجة عن الاسلام خروجاً كاملا، وان معتنقيها كفار مرتدون عن الاسلام، وان تظاهر اهلها بالاسلام
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ
ameer@khatm-e-nubuwwat.com
انما هو للتضليل والخداع، ويعلن مجلس المجمع الفقهى انه يجب على المسلمين حكومات وعلماء وكتابا ومفكرين ودعاة وغيرهم مكافحة هذه النحلة الضالة واهلها فى كل مكان من العالم...... وبالله التوفيق۔
توقيع: نائب الرئيس محمد على الحركان الامين العام لرابطة العالم الاسلامی
[توقيع] نائب الرئيس محمد على الحركان الأمين العام لرابطة العالم الاسلامی
[توقيع] الرئيس عبدالله بن حميد رئيس مجلس القضاء الأعلى في الملكة العربية السعودية الأعضاء
[توقيع] عبدالعزيز بن عبدالله بن باز الرئيس العام لادارات البحوث العلمية والافتاء والدعوة والارشاد فى الملكة العربية السعودية
[توقيع] محمد محمود الصواف
[توقيع] صالح بن عثيمين
[توقيع] محمد بن عبدالله السبيل
[توقيع] محمد رشيد قبانی
[توقيع] مصطفى الزرقاء
[توقيع] محمد رشيدی
[توقيع] عبدالقدوس الهاشمى الندوى
www.emaktaba.info
www.facebook.com/amtkn313
www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
فہرست مکتوبات ...... گرامی حضرت اقدس
- ۱...... علماء و خطباء سے دردمندانہ اپیل (۹؍دسمبر ۱۹۷۷ء)
- ۲...... قومی اتحاد کے وزراء کے نام مکتوب گرامی (۲۲؍دسمبر ۱۹۷۸ء)
- ۳...... میر خلیل الرحمٰن کے نام مکتوب گرامی (۳۰؍جولائی ۱۹۷۹ء)
- ۴...... مکتوب گرامی از بن بازؒ بنام حضرت اقدس (۲۳؍اگست ۱۹۸۰ء)
- ۴، الف...... جوابی مکتوب شیخ بن باز کے نام (تاریخ ندارد)
- ۵...... شاہ فہد کے نام تعزیتی مکتوب (۱۴؍جون ۱۹۸۲ء)
- ۶...... صدر مملکت کے نام خط و بیان (۲۳؍مئی ۱۹۸۲ء)
- ۷...... قومی، صوبائی و سینٹ کے اراکین کے نام (۲۲؍مارچ ۱۹۸۵ء)
- ۸...... اپیل از حضرت اقدس (یکم نومبر ۱۹۸۵ء)
- ۹...... حضرت امیر مرکزیہ کا پیغام (۹؍دسمبر ۱۹۸۷ء)
- ۱۰...... صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کے نام مکتوب گرامی (۲؍دسمبر ۱۹۸۸ء)
- ۱۱...... مجلس کی رد قادیانیت پر جدوجہد اور فنڈ کے لئے کھلا خط (تاریخ ندارد)
- ۱۲...... صدر اسحاق کے دور صدارت میں نگران حکومت کی قادیانیت نوازی پر مکتوب (ستمبر ۱۹۹۳ء)
- ۱۳...... حضرت قبلہ کی طرف سے شاہ فہد کے نام (فروری ۲۰۰۷ء)
- ۱۴...... فاروق ایچ نائیک چیئرمین سینٹ، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا
سپیکر قومی اسمبلی، بابر اعوان، وفاقی وزیر قانون کے نام
مکتوبات حضرت قبلہؒ
کون نہیں جانتا کہ ہمارے حضرت قبلہؒ اپنے عہد میں حضرت مجدد الف ثانیؒ کی روایات کے امین اور ان کے سچے وارث و جانشین تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے امراء، حکام وقت، علماء و خواص کے نام مکتوبات کے ذریعہ تبلیغ اسلام اور ترویج و اشاعت دین کی گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ ہمارے حضرت قبلہؒ نے بھی اپنے عہد میں اپنے پیش رو حضرت مجدد الف ثانیؒ کے نقش قدم پر چل کر مکتوبات کے ذریعہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور اشاعت اسلام کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ ذیل میں آپ کے بعض خطوط پیش کئے جارہے ہیں۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مکتوب گرامی نمبر:۱
تعارف: قارئین جانتے ہیں کہ قادیانی جماعت نے دجل سے اپنے مرکز کا نام ربوہ رکھا۔ اس کی تبدیلی کا مطالبہ ہوا تو حضرت قبلہؒ نے ذیل کا مکتوب بصورت دردمندانہ اپیل علماء وخطباء کے نام جاری فرمائی۔ آپ کی اس اپیل کے بعد پورے ملک کے علماء وخطباء نے مطالبہ کیا۔ تا آنکہ اللہ رب العزت نے کرم فرمایا کہ ربوہ کا نام ختم ہوا۔ اب اس کا نام چناب نگر ہے۔ قارئین یقین فرمائیے کہ جس طرح قادیانیوں کے شہر کا نام مٹا ہے۔ ایک وقت آئے گا۔ قادیانیت کا نشان بھی مٹے گا۔ اپیل کا متن یہ ہے:
علماء کرام وخطباء عظام سے دردمندانہ اپیل
آپ حضرات کو معلوم ہے کہ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ مریم صدیقہ (دونوں پر اللہ کا سلام ہو) کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ”اٰوَيْنٰهُمَآ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِيْنٍ“ اور ہم نے ان دونوں کو ایک اونچی جگہ پر جو سکون والی تھی اور پانی بہتا تھا۔ جگہ دی۔
مرزائی، مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی پیش گوئیوں کے باوجود قادیان سے نکالے گئے۔ پنجاب کے اس وقت کے انگریز گورنر موڈی کی مہربانی سے انہوں نے چنیوٹ اور لالیاں کے درمیان ایک رقبہ کوڑیوں کے بھاؤ حاصل کیا اور اس کا نام اس لئے ربوہ رکھا تا کہ آنے والی نسلوں کو یہ بتایا جائے کہ قرآن مجید میں جس ربوہ کا ذکر ہے وہ یہ ہے اور اس طرح اپنی جھوٹی مسیحیت اور نبوت کے لئے دلیل مہیا کی جائے۔
یہ ایک سازش ہے جس کو ناکام بنانا اور قرآن مجید کی اس اصطلاح کو جو مسیح علیہ السلام اور مریم علیہا السلام کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس کے تحفظ کا تقاضہ ہے کہ ملک بھر کے علماء کرام، خطباء عظام اور عامۃ المسلمین حکومت سے مطالبہ کریں کہ وہ ربوہ کا نام تبدیل کر کے اسی گاؤں کے اصل نام پر یا اس جگہ تقسیم ملک سے پہلے جو ریلوے اسٹیشن ہوا کرتا تھا۔ اس کے مطابق اس کا نام رکھا جائے۔
اس لئے فقیر، ملک بھر کے علماء کرام اور خطباء عظام سے دردمندانہ اپیل کرتا ہے کہ اپنے اپنے خطبوں میں قراردادوں کے ذریعہ حکومت پاکستان سے مطالبہ کریں کہ وہ ربوہ کا نام
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۳۰۲ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
تبدیل کر کے اسلامیان پاکستان کو مطمئن کرے۔ ان قراردادوں کی نقول افسران بالا کو بھیج کر اس کارخیر میں ہماری معاونت فرمائیں۔
(مولانا) خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
مکتوب گرامی نمبر : ۲
قومی اتحاد کے وزرا کی خدمت میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر کا مکتوب
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر حضرت مولانا خان محمد صاحب نقشبندی مجددی سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ نے قومی اتحاد کے وزراء اور دوسرے تمام ارباب اقتدار کی خدمت میں مندرجہ ذیل مکتوب بھیجا۔
”اللہ تعالیٰ کا بے پایاں احسان ہے کہ پاکستان قومی اتحاد کو حکومت میں شمولیت اختیار کر کے یہ موقع میسر ہوا ہے کہ ارض پاکستان میں خدا تعالیٰ کی حاکمیت اور شریعت مطہرہ کے نفاذ کی راہ ہموار ہو سکے۔ آپ پر بخوبی واضح ہے کہ پاکستان ایک نظریہ کے تحت معرض وجود میں آیا تھا۔ تاکہ یہاں کلمہ توحید ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ اور اس کے مقتضیات پر عمل درآمد ہو سکے۔ فقیر آپ کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرانا وقت کا اہم تقاضا گردانتا ہے کہ ہمارے وطن عزیز میں سامراجی اور صہیونی سازشوں کے تحت خلاف اسلام تحریکیں اٹھتی رہی ہیں اور اب بھی یہ تنظیمیں پوری قوت اور جوش وخروش کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔ جن میں عیسائی مشنریاں اور قادیانی سرفہرست ہیں۔
اگرچہ قادیانی آئینی طور پر اقلیت قرار دیئے جاچکے ہیں۔ مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قادیانی تحریک عملی طور پر جوں کی توں جاری ہے۔ بلکہ وہ اپنے افکار وتعلیمات کی اشاعت وتشہیر میں پہلے سے زیادہ شدومد کے ساتھ کوشاں ہیں۔
دوسرے نمبر پر عیسائی مشنریاں ہیں۔ جن کے ماتحت مختلف ادارے کام کر رہے ہیں اور جنہیں مغربی ممالک سے بھاری رقوم مہیا کی جاتی ہیں۔ ان مشنریوں کے خلاف اسلام اور خلاف وطن کاروائیاں نتائج کے اعتبار سے قادیانی تحریک سے کسی طور پر کم نہیں۔ بلکہ ان کے
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مفادات مشترک ہیں اور ان کے طریق کار میں ہم آہنگی اور مماثلت پائی جاتی ہے۔
مآل کار انہوں نے اسلامی تشخص کو ابھرنے سے روکنے کے لئے تعلیمی اداروں پر یلغار کی۔ نوجوانوں کے ذہنوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لئے مختلف طریقے اختیار کئے۔ جس کی وجہ سے نوجوان نسل عیسائیت سے متاثر ہوئی اور اس میں اسلام سے برگشتگی کی رو چل نکلی۔
ہماری بیوروکریسی میں بھی ایک ایسا طبقہ موجود ہے۔ جو ذہنی طور پر عیسائیت نواز ذہنیت کا حامل ہے یا پھر قادیانیت کے پرچار کے لئے سرگرم عمل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ حضرات ملکی انتظام وانصرام کے ساتھ پوری سنجیدگی اور فکرمندی سے خلاف اسلام اور خلاف وطن تحریکوں کے سدباب کا جائزہ لیں اور ان تحریکوں کے انہدام کے لئے اقدامات کریں۔ لہٰذا:
- الف ...... تمام قادیانی اور عیسائی ملازموں کو کلیدی عہدوں سے یکسر ہٹا دیا جائے۔
- ب ...... قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے اقلیت قرار دیئے جانے پر جو متفقہ فیصلے کئے
گئے تھے۔ ان کی اصل روح کو سامنے رکھ کر پوری طرح عمل درآمد کیا جائے۔
- ج ...... قادیانیوں اور عیسائیوں کے مذہبی اور ثقافتی لٹریچر پر قدغن عائد کی جائے
اور ان کے اجتماعات پر کڑی نظر رکھی جائے۔ نیز نظام تعلیم کو خالص اسلامی رنگ میں ڈھالنے اور اسلامی معاشرہ کی تشکیل و ترتیب کے لئے ایسا نصاب تعلیم مرتب کیا جائے جو نوجوان نسل کے ذہنوں میں صحیح اسلامی اور قومی تشخص اجاگر کرے۔
- د ...... تمام انتظامی شعبہ جات میں ارکان اسلام کی پابندی لازم قرار دی جائے۔
تاکہ ہم صحیح معنوں میں ایک اسلامی فلاحی مملکت قائم کرنے میں سرخرو ہو سکیں۔
فقیر آپ کے حکومت میں شامل ہونے اور اہم منصب پر فائز ہونے پر آپ کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ آپ اور آپ کے رفقائے کار کو اللہ تعالیٰ حسن کارکردگی کی توفیق عطا فرمائے اور دین اسلام اور وطن عزیز کی خدمت کے مواقع عطا فرمائے۔ آمین!‘‘
فقیر ابوالخلیل خان محمد عفی عنہ، امیر مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کوٹلہ تولے خاں ملتان
یہ خط قومی اتحاد میں شریک جماعتوں کے سربراہوں کو بھی بھیجا گیا ہے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مکتوب گرامی نمبر: ۳
مکرم ومحترم جناب میر خلیل الرحمن صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
مورخہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۷۹ء کا موقر روزنامہ ”جنگ“ نظر سے گزرا۔ اداریہ پڑھ کر بے حد مسرت اور طمانیت حاصل ہوئی کہ آپ نے ایک ایسے مسئلہ پر قلم اٹھایا ہے جو وقت کی آواز ملت مسلمہ کا درد سر اور اسلام کے خلاف بدترین سازش ہے۔ آپ نے مرزائیت کے ناسور پر نشتر زنی کے لئے جو انداز بیان اختیار کیا ہے وہ بہت مناسب، موزوں اور شگفتہ ہے۔ خدا تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔
آپ کا تعلق شعبہ ابلاغ عامہ سے ہے اور اخبارات ہی دراصل سرچشمہ اطلاعات اور نشر و اشاعت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ اس لئے کوئی بات حکومت کے اندرون خانہ ہو یا بیرون خانہ۔ آپ سے مخفی نہیں رہتی۔ مگر اس کے باوجود کچھ اہم امور اور حقائق تلخ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانے کی ضرورت محسوس کی ہے۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جو بھی شخص آیا قصر حکومت میں اسلام کا دامن تھام کر اور کلمہ پڑھتا ہوا داخل ہو گیا اور اس نے اسلام کی ترویج واشاعت اور نظام اسلام کے نفاذ کے پرجوش اور بلند بانگ دعوے کئے۔ قوم نے اس کی راہ میں دیدہ دل فرش راہ کر دیئے اور اپنی تمام تر توانائیوں اور ناتوانیوں کے ساتھ اس کے پشت پناہ بن گئے۔
مرزائیت کا تحفہ تو ابتدائے آفرینش پاکستان سے ہی ہمارے حصہ میں آیا تھا اور ابتداء ہی سے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں سے واسطہ پڑ گیا۔ جو قوم کے بے پناہ سیل احتجاج کے سامنے نہ ٹھہر سکا اور بیک بینی دو گوش ایوان حکومت سے نکال دیا گیا۔
اس کے بعد بھی ہر حکومت میں مرزائی اہم کلیدی عہدوں پر براجمان رہے اور اب بھی پورے کروفر اور جاہ اقتدار کے ساتھ فروکش ہیں۔ ایوبی دور میں ایم۔ایم۔احمد وغیرہ ہماری اقتصادیات اور معاشیات سے کھیلتے رہے اور اس کھیل میں بڑا نام پایا۔ یحییٰ خان کے دور میں بھی مرزائیوں کے متعلق خوش فہمی کا یہی انداز کارفرما رہا۔ بھٹو دور حکومت میں مرزائیوں کو بہت
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مراعات حاصل ہوئیں۔ بلکہ اس کی کامیابی میں مرزائیوں کا معتدبہ حصہ شامل تھا اور پی۔پی۔پی کے پلیٹ فارم سے کئی ممبر قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے۔
اگرچہ علمائے کرام کی تحریک پر اور قوم کے احتجاج کے سامنے بھٹو کو سرتسلیم خم کرنا پڑا تھا اور مرزائی فرقہ کو اقلیت بھی قرار دے دیا تھا۔ مگر جس انداز میں اس پر عمل درآمد ہوا اور جس طرح مرزائیوں نے اس حکم کو پس پشت ڈال کر اس کی تحقیر کا سامان پیدا کیا۔ یہ ایک الگ باب تاسف ہے۔ بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ مرزائیوں نے اس حکم کو اپنے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ شمار کیا ہے۔ کیونکہ اقلیتی حکم کے پردے میں انہوں نے پہلے سے زیادہ کھل کھیلے ہیں اور ناقابل یقین حد تک بے باکی کا مظاہرہ کیا ہے۔
موجودہ حکومت محض ”اسلام“ کے نام پر ہی برقرار ہے اور جس کے تخت کا نقش محض پانی پر ثبت ہے۔ جو کسی خفیف سے صدمہ سے بھی بگڑ سکتا ہے۔ یہ کس قدر حیرت خیز اور اندوہ ناک حقیقت ہے کہ اسی حکومت کے دور میں مرزائیوں پر سب سے زیادہ باب مراعات وا ہوا ہے اور یہ حکومت گویا ایک ایسا افق ہے جس پر مرزائیوں کے اقتدار کا انجم طلوع ہوا ہے۔
قیاس فرمائیے کہ اس وقت ملک پر مارشل لاء نافذ ہے اور فوجی حکومت قائم ہے اور اس حکومت کا تیسرا بڑا ستون یعنی ہوائی فوج کا سربراہ ائرمارشل محمد انور شمیم ایک مرزائی ہے۔ علاوہ ازیں فوج کے اہم عہدوں پر بھی اکثریت مرزائی افسروں کی تعینات ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم ایک طرح سے اب بھی مرزائی اقتدار کے زیر سایہ زندگی گزار رہے ہیں۔
اس سے زیادہ سر پیٹنے کا یہ مقام ہے کہ وزارت امور مذہب، حج واوقاف کا سیکرٹری ایک مرزائی ہے۔ جو بیرون ملک اور عرب ممالک میں ہمارے اسلامی وفود کی رہنمائی کرتا ہے اور گویا ہمارے اسلامی تشخص کو ابھارنے کا فرض سرانجام دے رہا ہے۔ آپ قیاس فرمائیے وزارت مذہب کے ایوان میں بیٹھ کر یہ شخص اپنے فرقہ کی ترویج وتشہیر اور مذہب اسلام کی بیخ کنی کے لئے کیا کچھ نہ کرتا ہوگا۔
یہ کس قدر ستم ظریفی ہے اور قوم اور ارباب اقتدار کے لئے کیسا ماتم کا مقام ہے کہ مسیلمہ کذاب ممبر رسول کا متولی قرار پائے۔
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
علاوہ بریں اسرائیل میں جو امریکہ اور روس دونوں کی ہی ملی بھگت سے معرض وجود میں آیا ہے اور دونوں ہی اس نخل بے ثمر کو سینچنے میں کوشاں ہیں۔ مرزائیوں کی تنظیمیں قائم ہیں اور جن کا تمام حساب کتاب ربوہ میں مرتب ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیلی فوج میں مرزائی فرقہ کے لوگ جوق در جوق بھرتی ہورہے ہیں۔
ان حقائق کی روشنی میں قوم وملک اور ارباب بست وکشاد کی بے اعتنائی کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ جیسے
اور دل خون کے آنسو روتا ہے۔
جناب میر صاحب! میں پورے اخلاص اور محبت سے آپ کی قدر کرتا ہوں اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر ہونے کی حیثیت سے آپ کو اپنے اور پوری قوم کے تعاون کا یقین دلاتا ہوں۔ آپ عزم بالجزم اور حوصلہ مندی کے ساتھ اس جہاد قلم کو جاری رکھئے۔ دوسرے اخبارات بھی انشاء اللہ آپ کے نقش قدم پر چل نکلیں گے۔ اگر اسی طرح ہر سطح اور ہر جہت پر مرزائیوں کے راستوں پر موانعات کھڑی ہوتی رہیں تو ایک دن ان کے راستے محدود ہو کر رہ جائیں گے اور ان کا قلع قمع ہو کر رہے گا۔
آپ کو اس خط کے من وعن شائع کرنے کی پوری آزادی ہے۔ بلکہ ہم اس کی اشاعت پر آپ کے بے حد ممنون ہوں گے۔
خدا تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے۔ شکریہ!
والسلام! ابوالخلیل خان محمد عفی عنہ از خانقاہ سراجیہ ۵/ رمضان ۱۳۹۹ھ، ۳۰/ جولائی ۱۹۷۹ء
نوٹ: حضرت قبلہؒ نے اس پر ذیل کا نوٹ تحریر فرمایا۔ ”یہ خط ایڈیٹر جنگ کو بھیج دیا ہے اور اس کی ایک نقل دفتر میں ارسال ہے۔ رمضان المبارک کے بعد مرکزی شوریٰ کی میٹنگ لازمی طور پر ہونی چاہئے۔ جس میں ربوہ کانفرنس اور دوسرے امور پر غور وخوض کے بعد کوئی لائحہ عمل تیار کیا جاوے اور اس کے مطابق کام کا آغاز کیا جاوے۔“ والسلام!
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
شیخ عبدالعزیز بن باز کا مکتوب گرامی
من عبدالعزیز بن عبدالله بن باز الى حضرة الاخ المكرم فضيلة الشيخ ابي الخليل خان محمد الرئيس العام لمجلس تحفظ ختم النبوة فى ملتان بالباكستان وفقه الله امين
سلام عليكم ورحمة الله وبركاته...... وبعد:
فقد وصلنى كتابكم الكريم المحرر فى ٢٥ / رجب سنة ١٤٠٠هـ وصلكم الله بهداه وما اشرتم اليه حول مشروع المجلس فى تعمير مسجد على الارض التى اشتراها بربوة ورغبتكم المساعدة فى تكميله كان معلوما، عليه اشكر لفضيلتكم جهودكم الطيبة وارجو بعد الاطلاع الافادة عن التكلفة التقريبية لتكميل بناء المسجد وبعد وصول افادتكم ننظر فى الموضوع ان شاء الله.
اثابكم الله وشكر سعيكم ووفق الجميع لما يحبه ويرضاه انه سميع قريب...... والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته
الرئيس العام لادارات البحوث العلمية والافتاء والدعوة والارشاد ٢٣ / اگست ١٩٨٠ء
مکتوب گرامی نمبر: ۴
فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز کے نام گرامی نامہ از حضرت قبلہؒ
بسم الله الرحمن الرحيم!
معالى الشيخ صاحب السماحة الشيخ عبدالعزيز ابن باز الموقر تقبل الله جهودهم للاسلام والمسلمين
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته احتراماً وتقديراً لعواطفكم النبيلة
وبعد فقد تشرفت بخطابكم الكريم المحرر فى ١٩ / ١٠ / ١٤٠٠هـ رقم ١/٧٢٧٠
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ولقد شجعتنى كلماتكم الطيبة ووعدكم المبارك وانى ارسل الى سماحتكم خريطة المسجد مع مايلائمه من الكوازم التى تناسب العصر الحاضر والتكفة التقريبية على بناء ذلك المسجد حسب تقويم المهندسين ذوى الخبرة فالرجاء من شخصكم الكريم ان تساعد ونامساعدة مناسبة وترشددنا بآرائكم الصائبة حول هذا البناء فانه مسجد للمسلمين فى قلب ربوة بلدة الكفرة المرتدين القاديانيين وسيكون له شأن عظيم ان شاء الله تعالىٰ بحوله وقوته فى نشر التراث الاسلامى وبث العقيدة الطاهرة السلفية۔ بارك الله فى جهودكم الجبارة ومتعنا وسائر المسلمين بطول حياتكم مع الصحة والعافية۔
اخوكم فى الاسلام خان محمد الرئيس العام لمجلس تحفظ ختم النبوة ملتان...... باكستان
مکتوب گرامی نمبر:۵
شاہ فہد کے نام حضرت قبلہؒ کا تعزیتی مکتوب
بسم الله الرحمن الرحيم!
جلالة الملك فهد بن عبدالعزيز ...... حفظكم الله ورعاكم السلام عليكم ورحمة الله وبركاته ...... وبعد:
فان نباء وفاة الملك خادم الحرمين الشريفين الراحل الى الله تعالىٰ خالد بن عبدالعزيز تركنا مفجوعين مشدوهين ذاهلين۔ فانا لله وانا اليه راجعون۔ وان كل نفس ذائقة الموت وكل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذوالجلال والاكرام۔
ان مسلمى باكستان عامة ومجلس تحفظ ختم النبوة خاصة تلقوا هذا النبا ببالغ الحزن والغم۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ومما لاشك فيه ولا مراء انه كان مفتاحا للخير ومغلاقا للشر وكذلك مما لا يختلف فيه الاثنان انه قام بجهود جبارة فى سبيل خدمة الاسلام فى جميع نواحيه ومن مآثره الخالدة انه مازال سداً منيعا امام جميع طواغيت العالم۔ بحزننا انه قد ترك فراغا هائلا لا يكاد يملا الا اننا كما ندعو الله تعالىٰ ان يرزقه دوام نعمه المنهمرة فى فراديس الجنان ندعو الله عزوجل ............. ان يساعدكم على تحمل ما وقع على عاتقكم من ............. نسئل الله الكريم ان يلهم ذويه الصبر والسلوان وفى الختام تقبلوا منا اطيب التحيات وازكى التمنيات
ابوالخليل خان محمد امير مجلس تحفظ ختم النبوۃ پاکستان حضوری باغ روڈ ملتان ١٤/ جون ١٩٨٢ء
مکتوب گرامی نمبر : ۶ ...... بنام جنرل محمد ضیاءالحق
حضرت امیر مرکزیہ کا صدر کے نام خط اور بیان
ملک کے ممتاز کثیر الاشاعت اخبار جنگ لاہور میں ایک خبر شائع ہوئی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ پاسپورٹوں کے لئے جو فارم پُر کیا جارہا ہے۔ اس سے وہ عبارت حذف کردی گئی ہے جس میں مدعی نبوت کا نام لے کر اس بات کا حلف دینا پڑتا تھا کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانتا اور نہ ہی میرا قادیانی یا لاہوری گروپ سے کوئی تعلق ہے۔ مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ یہ عبارت اس لئے حذف کی گئی ہے۔ تاکہ دل آزاری نہ ہو۔ چنانچہ اس خبر سے بے چینی کا پیدا ہونا لازمی تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس مسئلہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئے پاسپورٹ فارم حاصل کئے۔ فارم دو قسم کے تھے ایک کے حلف نامہ میں عبارت درج تھی اور دوسرا فارم جو سفید کاغذ پر چھپا ہوا تھا اس سے عبارت غائب تھی اور جگہ خالی تھی۔ چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اسلام آباد دفتر کے انچارج اور مبلغ مولانا عبدالرؤف جتوئی نے وزیر داخلہ کے نام ایک درخواست لکھی۔ جس میں حقیقت حال کی وضاحت کرنے کے لئے کہا گیا اور ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ یہ عبارت دوبارہ
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
شامل کی جائے اور جن لوگوں نے یہ کارروائی کی ہے کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
١٨؍مئی بروز منگل مجلس کا ایک وفد مرکزی جامع مسجد اسلام آباد کے خطیب حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب رکن مرکزی مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی قیادت میں وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام سے ملا اور وہ درخواست پیش کی۔ وفد میں راقم الحروف (مولانا محمد حنیف سہارنپوری) اور مولانا عبدالرؤف جتوئی بھی شامل تھے۔ حکام کی یقین دہانی سے امید ہے کہ اصل حقیقت جلد ہی منظر عام پر آجائے گی۔ اس سلسلہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی امیر مرشد العلماء پیر طریقت حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ نے ایک بیان جاری فرمایا اور ساتھ ہی صدر جنرل محمد ضیاء الحق کو ایک خط بھی روانہ کیا۔ جس کا متن حسب ذیل ہے۔
بخدمت جناب صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام آباد
جناب عالی!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ، مسلمانان پاکستان کو اس خبر سے انتہائی صدمہ پہنچا ہے کہ پاکستان پاسپورٹ فارم میں درج بیان حلفی حذف کر دیا گیا ہے۔ جس کے مطابق ہر مسلمان درخواست گزار کو حلفاً یہ اقرار کرنا پڑتا تھا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا نبی سمجھتا ہے اور یہ کہ وہ قادیانی و لاہوری ہر دو گروہوں کو غیر مسلم اقلیت تصور کرتا ہے۔ حکومت کے اس اقدام کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس سے قادیانی عقیدہ کے لوگوں کی دل آزاری ہوتی تھی۔
میں سمجھتا ہوں کہ حکومت میں مرزائیوں کے کچھ ایسے کل پرزے موجود ہیں کہ جو آئے دن مسلم اکثریت کے اس نظریاتی اسلامی ملک میں اس قسم کے اقدام کر کے مسلمانوں کی دل آزاری کرتے رہتے ہیں۔ ہم حیران ہیں کہ اس عظیم مسلم اکثریت کی دل آزاری کی قیمت پر آخر اس غیر مسلم اقلیت کی ایسی دلجوئی کی ضرورت ہی کیا آن پڑی ہے۔
یہ لادین اور مرزائیت نواز عناصر کبھی تو ووٹوں کے فارم پر ایسی عبارت کے اندراج کا سبب بنتے ہیں جو عقیدہ ختم نبوت کے منافی ہو۔ کبھی ١٩٧٣ء کے متفقہ آئین میں سے اس ترمیم کو خارج کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس سے عقیدہ ختم نبوت کا آئینی تحفظ کیا گیا ہے اور اب یہ دل آزار اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے کہ پاکستان پاسپورٹ فارم پر درج شدہ مذکورہ بالا بیان حلفی حذف کر دیا گیا ہے۔
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر کی حیثیت سے میری آپ سے پرزور اور پرسوز گذارش ہے کہ پاکستان پاسپورٹ کے مذکورہ بالا بیان حلفی کو حذف کرنے کے احکام فوری طور پر منسوخ فرمائیں اور عامۃ المسلمین کے جذبات کو مجروح کرنے والوں کے خلاف سختی سے نوٹس لیں۔
بیان
ممتاز عالم دین اور امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان و سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف حضرت مولانا خان محمد صاحب نے اس خبر پر گہرے افسوس اور تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان پاسپورٹ کے فارم میں موجود بیان حلفی کو حذف کر دیا گیا ہے۔ جس کے مطابق مسلمان درخواست گذار کو حلفاً یہ اقرار کرنا پڑتا تھا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت کا جھوٹا دعویٰ دار سمجھتا ہے اور اس کو ماننے والے قادیانی ولاہوری ہر دو قسم کے افراد کو غیر مسلم سمجھتا ہے۔ حکومت کے اس اقدام کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ مذکورہ عبارت قادیانی عقیدہ کے لوگوں کی دل آزاری اور اذیت کا باعث تھی۔
یہ مقصد جو مملکت خداداد میں مسلسل قربانیوں اور ۱۹۷۴ء کی بے مثال تحریک ختم نبوت کے نتیجے میں حاصل کیا گیا تھا۔ حکومت میں موجود مرزائیت نواز اور لادین عناصر اس مقصد کو زک پہنچانے کے در پے کیوں ہو گئے ہیں۔ ایسی کوششیں کئی بار پہلے بھی کی گئی ہیں۔ مثلاً کبھی تو ووٹوں کے اندراج کے فارم میں یہ عناصر ایسی عبارت درج کرانے کی کوشش کرتے ہیں جو عقیدہ ختم نبوت کے منافی ہو اور کبھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین ۱۹۷۴ء میں اس ترمیم کو حذف کرانے کی کوشش کرتے ہیں جس کی رو سے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے اور اب پاسپورٹ فارموں میں درج عبارتوں کو حذف کرانے کے احکام جاری کئے گئے ہیں۔ مولانا خان محمد صاحب نے فرمایا کہ ایسی کوششوں سے عظیم مسلم اکثریت کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور ہم بجا طور پر یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ حکومت اس قسم کا قدم اٹھانے سے پہلے خوب غور کر لے۔ لہٰذا ہم حکومت کی توجہ اس طرف دلاتے ہیں کہ وہ ان عناصر کے خلاف سختی سے نوٹس لے اور عامۃ المسلمین کے جذبات مجروح کرنے سے انہیں باز رکھے۔ نیز پاکستان پاسپورٹ کے مذکورہ بیان حلفی کو حذف کرنے کے احکام فوری طور پر واپس لے۔
(ہفت روزہ لولاک ج۱۹ ش ۸، مورخہ ۲۳؍مئی ۱۹۸۲ء)
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مکتوب گرامی نمبر:۷
جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے زمانہ میں قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیاں اور سینٹ آف پاکستان کے ارکان کے انتخابات ہوئے۔ اس موقعہ پر حضرت قبلہؒ نے ان تمام اراکین کو ذیل کا والا نامہ تحریر فرمایا:
حالیہ انتخابات میں قومی، صوبائی وسینٹ کے نومنتخب اراکین کے نام
حضرت الامیر مولانا خان محمد صاحب کا مکتوب گرامی
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
مکرم ومحترم جناب .......................................... دام مجدہ!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ،
مزاج گرامی! حالیہ انتخابات میں کامیابی پر میں آنجناب کو اپنی طرف سے اور اپنی پوری جماعت کی طرف سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ملک وملت کی جو گرانقدر ذمہ داریاں قوم کی جانب سے آپ کے سپرد کی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ان کے ادا کرنے کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائیں۔ تاکہ آپ اپنی خداداد صلاحیتوں سے ملک وملت کا نام روشن کرنے میں کامیاب ہوں اور وطن عزیز کی تاریخ کا ایک نیا مگر سنہرا باب رقم کر سکیں۔
محترما! آج دنیا بھر کی نگاہیں پاکستان کی نومنتخب اسمبلی اور قومی نمائندوں کی مساعی پر لگی ہوئی ہیں۔ بلاشبہ یہ آپ کا اور آپ کے رفقاء کے فہم وتدبر اور صلاحیتوں کا شدید ترین امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس امتحان میں سرخرو فرمائیں۔ آمین!
محترما! پاکستان کی بنیاد اسلام پر ہے۔ اسلام ہی سے اس کا وجود ہے اور اسلام ہی سے اس کی بقاء ہے۔ اسلام کی پوری عمارت، جیسا کہ علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا۔ عقیدہ ختم نبوت پر استوار ہے اور عقیدہ ختم نبوت کی پاسبانی ہر مسلمان کا اوّلین فریضہ ہے۔ ہم آنجناب سے امید کرتے ہیں کہ محض رضائے الٰہی اور آنحضرت ﷺ کی شفاعت کے حصول کے لئے آپ عقیدہ ختم نبوت کی پاسبانی میں اہم ترین کردار ادا کریں گے۔ آج ہمارے ملک میں مدعی نبوت کاذبہ کے پرستاروں سے محمد رسول اللہ ﷺ کا کلمہ بھی محفوظ نہیں۔ آنجناب سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس کی
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
حفاظت وصیانت کے لئے بھر پور کوشش فرمائیں گے۔ آخر میں آپ کی کامیابی پر ایک بار پھر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
والسلام! آپ کا مخلص: ابوالخلیل خان محمد عفی عنہ امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، ملتان ہفت روزہ لولاک مورخہ ۲۲؍ مارچ ۱۹۸۷ء
مکتوب گرامی نمبر: ۸ ...... حضرت الامیر مولانا خان محمدؒ کی اپیل
ختم نبوت دین کی بنیاد اور اساس ہے۔ وحدت امت کا راز اسی میں مضمر ہے۔ اس تشتت اور افتراق کی مسموم فضا میں یہی ایک پلیٹ فارم ہے جس پر تمام مکاتب فکر کے راہنما جمع ہیں۔ قادیانی جماعت کی بنیاد برطانوی سامراج نے امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے رکھی تھی۔
قادیانی اس وقت پاکستان میں افتراق وانتشار کو ہوا دے کر پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے در پے ہے۔ پاکستان کے مختلف مقامات پر جارحیت کا ارتکاب کر کے امن عامہ کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ حکومتی ارکان خاموش تماشائی کا مجرمانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ جب کہ قادیانیوں کی جارحیت مسلمانوں کے لئے اب ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔ ان حالات میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ حالات و واقعات کی روشنی میں اپنی ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے قادیانی جماعت کو لگام دے۔ ورنہ اس کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ جس کا یہ ملک متحمل نہیں۔
سانحہ سکھر کے ملزمان کا کیس تاحال مارشل لاء میں سماعت کے لئے منظور نہیں ہوا۔ حالانکہ اس پر جتنی تاخیر ہو گی۔ عوام میں اتنی ہی بے چینی پھیلے گی۔ کیس کی تشویشناک سست رفتاری نا قابل فہم ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے مرتد کی شرعی سزا کے نفاذ کی سفارش کر دی ہے۔ مگر تاحال اس کو نافذ نہیں کیا گیا۔ یہ صورتحال مسلمانوں کے لئے انتہائی تشویشناک ہے۔ حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ:
- ☆...... امتناع قادیانیت صدارتی آرڈیننس پر مؤثر عملدرآمد کیا جائے۔ یہ اس کی اخلاقی
اور قانونی ذمہ داری ہے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ☆ ...... ربوہ زمین کا غیر قانونی انتقال منسوخ کر کے اس کے باشندوں کو مالکانہ حقوق
دیئے جائیں۔
- ☆ ...... پاسپورٹ کی طرح شناختی کارڈ اور تعلیمی اسناد وغیرہ میں حلف نامہ کی بنیاد پر مذہب
کے کالم کا اضافہ کیا جائے۔
- ☆ ...... قادیانیوں کی عبادت گاہ کی ہیئت مسلمانوں کی مساجد سے مختلف متعین کی جائے۔
- ☆ ...... انجمن احمدیہ کو خلاف قانون قرار دے کر اس کی تمام جائیداد بحق سرکار ضبط کی جائے۔
- ☆ ...... مرتد کی شرعی سزا فوراً نافذ کی جائے۔
- ☆ ...... ساہیوال کیس کا فیصلہ جلد از جلد سنایا جائے۔
یہ وہ مسائل ہیں جن پر حکومت کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ یہ صرف مجلس عمل کی نہیں پوری قوم کی آواز ہے۔
(ہفت روزہ لولاک مورخہ یکم نومبر ۱۹۸۵ء)
مکتوب گرامی نمبر:۹ ...... حضرت امیر مرکزیہ کا پیغام اہل اسلام کے نام
تمام تعریفیں مالک ارض وسما کے لئے۔ جو تمام کائنات کا بلاشراکت غیرے خالق و مالک ہے۔ کروڑوں، اربوں درود و سلام ہر لمحہ و ہر آن، اس ذات گرامی ﷺ پر جو وجود باعث تخلیق کائنات ہے۔
اما بعد! ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے تمام رہنماؤں، کارکنوں، جماعتی احباب اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان میں شریک جماعتوں کے رفقاء مبارک باد کے مستحق ہیں کہ امت مسلمہ کی کامیاب محنت اور اخلاص بھری کاوشوں سے اندرون و بیرون ملک قادیانیت کے گرد کا دائرہ تنگ ہوتا جارہا ہے اور اب ہر جگہ قادیانیت کا دم گھٹ رہا ہے۔
اس سال جنوری کے اواخر میں تمام مسلمانوں کی خادم و رضا کار جماعت ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت“ نے فیصلہ کیا تھا کہ قادیانی جب غیر مسلم ہیں تو ان کا کوئی مردہ قانوناً شرعاً اخلاقاً مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہ ہونے پائے۔ وہ بھی باقی غیر مسلموں کی طرح اپنے مردے اپنے علیحدہ ”مرگھٹوں“ میں دفن کریں۔ ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا یہ ایک جائز شرعی وقانونی مطالبہ تھا۔ جس کی پشت پر شرعی وقانونی دلائل تھے۔ چنانچہ جماعت نے اشتہارات، پمفلٹ، رسائل، سرکلر، اور جماعتی ترجمان ہفتہ وار ختم نبوت انٹرنیشنل اور ہفتہ وار لولاک کے ذریعہ مہم چلائی۔ تمام مسلمانوں، جماعتی کارکنوں، مبلغین و علماء، عامتہ المسلمین نے رائے عامہ کو بیدار کیا
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اور پورے ملک میں کراچی سے خیبر تک ایک منظم تحریک کے ذریعہ اس کام کو آگے بڑھایا گیا۔ جس کے فوری چند نتائج سامنے آئے۔
- ۱...... قادیانی جماعت کو اپنے غیر مسلم ہونے کا احساس ہوا۔
- ۲...... حکومتی ارکان و انتظامیہ کو ایک جائز مطالبہ پر عمل کرنا پڑا۔
- ۳...... ختم نبوت کے محاذ پر رائے عامہ بیدار ہوئی۔
چنانچہ جس کام کو مکمل کرنے کے لئے ۱۹۸۷ء کو ہم نے ہدف قرار دیا تھا۔ وہ کام صرف چند ماہ میں پورے ملک کے اہم شہروں، قصبات و دیہات میں جہاں پہلے سے قادیانی دھوکہ دیتے اور مسلمانوں کی آنکھوں میں مٹی ڈال کر غیر شرعی و غیر قانونی حرکت کرتے چلے آرہے تھے۔ وہاں پر مسلمانوں کی کوشش سے یا خود قادیانیوں نے مسلمانوں کے احتساب سے تنگ آکر اپنے علیحدہ قادیانی مرگھٹ حکومتی اراضی پر یا اپنی ملکیتی اراضی پر قائم کر لئے۔
اللہ رب العزت جو دلوں کے بھیدوں کو جانتے ہیں۔ گواہ ہیں کہ ہماری کوشش و کاوش کے صرف اور صرف دو مقصد تھے۔ (۱) اسلام و کفر، مسلم و کافر میں تمیز و حد قائم ہو۔ (۲) قادیانیوں کو احساس ہو کہ قادیانیت کو قبول کرنے کے بعد ان کا اسلام یا اہل اسلام سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ جب یہ احساس ان کے دلوں میں اجاگر ہوگا تو وہ اسلام یا مسلمانوں میں شامل ہونے کے لئے مضطرب ہوں گے اور اس طرح ان کو اسلام قبول کرنے کا موقع ملے گا۔
چنانچہ یہی ہوا۔ شادن لنڈ ضلع ڈیرہ غازی خان میں ایک قادیانی کی لاش کو مرزائی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا چاہتے تھے۔ مسلمانوں کے بیدار ہونے پر وہ اپنا مردہ وہاں دفن کرنے کی بجائے اپنے مرگھٹ ڈیرہ غازیخان لے گئے۔
جناب غلام حیدر خان حیدرانی بلوچ کو اس واقعہ سے دھچکا لگا کہ ایسا عقیدہ (قادیانیت) قبول کرنے کا کیا فائدہ کہ زندہ رہ کر مسلمانوں کی شادی بیاہ، نکاح، طلاق، نماز، روزہ، حج میں ہم شریک نہیں اور مرنے کے بعد بھی مسلمانوں کی نماز جنازہ اور اہل اسلام کے قبرستانوں سے محروم ہیں۔ اس پر انہوں نے غور و فکر کیا اور قدرت نے ان کی دستگیری فرمائی۔ نہ صرف وہ بلکہ ان کے خاندان کے ۳۰ سے زائد افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور مرزائیت کے طوق لعنت سے قدرت نے ان کو چھٹکارا دیا۔
ان کے اس اقدام سے علاقہ کے مسلمانوں، علماء کرام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
خوشی ہوئی۔ ان کے اعزاز میں جلسہ کا اہتمام کیا گیا۔ فقیر بھی اس محفل میں شریک ہوا۔ ان حضرات کے اسلام میں داخل ہونے کے عمل سے مسلمانوں کو جو خوشی ہوئی وہ قابل مشاہدہ تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے خدام نے ان بھائیوں کو اپنی آنکھوں کا تارا بنا دیا۔ اس سے ایک دفعہ پھر حقیقت کھل کر سامنے آگئی کہ قادیانیوں سے ہمارا اختلاف ذاتی نہیں۔ اگر آج وہ مرزا قادیانی پر چار حرف بھیج کر اسلام میں نئے سرے سے داخل ہو جائیں تو تمام مسلمانوں کو ان کے اس اقدام سے دلی خوشی حاصل ہوگی۔
اسی طرح شیر گڑھ ضلع ڈیرہ غازیخان میں جہاں مسلمانوں کی مسجد میں قادیانی مردہ کو آج سے ایک سال پہلے دفن کیا گیا تھا۔ جس کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے خدام نے تمام مسلمانوں کے تعاون سے بھر پور تحریک چلائی۔ خانقاہ عالیہ تونسہ شریف کے ایک مجاہد حافظ خواجہ عبد مناف نے مسلمانوں کو اکٹھا رکھنے میں مثالی کردار ادا کیا۔ کئی ماہ تحریک چلتی رہی۔ احتجاج جلسہ، جلوسوں، ہڑتال گرفتاریاں، نظربندیاں، ظلم وستم، دھونس، دھاندلی، لاٹھی چارج تک معاملہ گیا۔ لیکن بالآخر مسلمانوں کے ایک جائز مطالبہ کے سامنے انتظامیہ اور قادیانیوں کو سرنگوں ہونا پڑا اور یوں ایک قادیانی مردہ مسلمانوں کی مسجد سے نکال دیا گیا۔
مگر خداوند کریم کی قدرت دیکھئے کہ پچھلے ہفتہ اس قادیانی مردہ کے بھتیجوں اور بیٹوں میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ نے دولت اسلام سے سرفراز فرمایا۔ سچ ہے کہ : ”یخرج الحی من المیت“
میرے عزیزو! ان واقعات سے یہ بات آپ کے گوش گزار کرنا مقصود ہے کہ ہماری اس تحریک سے مرزائی مسلم تمیز قائم ہوئی۔ مرزائیت پسپا ہوئی۔ مسلمانوں کو فتح ہوئی اور یہ کہ مرزائیوں کو قدرت نے اسلام قبول کرنے کا اس تحریک سے ایک موقعہ فراہم کیا۔ آج اللہ رب العزت کے حضور تمام ساتھیوں کی گردنیں جھک جانی چاہئیں اور سجدہ شکر بجا لانا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ کام کرنے کی توفیق مرحمت فرمائی۔ بارہا اخلاص کے ساتھ دعاؤں اور سجدہ شکر کا ہمیں التزام کرنا چاہئے۔
اور ساتھ ہی اس پر نظر رکھنی چاہئے کہ یہ تحریک جو کامیابی سے ہمکنار ہوئی کہ کراچی سے خیبر تک قادیانی مردے مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہیں ہورہے ۔ یہ تحریک ٹھنڈی نہ ہونے پائے اور اگر کہیں اس پر عمل نہیں ہو رہا تو اس پر فوری توجہ فرمائیے۔
آخر میں تمام جماعتی احباب، کارکنوں، مخلص کرم فرماؤں اور تمام دینی جماعتوں کے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
رہنماؤں اور عامۃ المسلمین کو جہاں دل کی گہرائیوں سے اس کامیابی پر مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ جس کام کے لئے ہم نے ایک سال کی مدت مقرر کی تھی۔ وہ چند ماہ میں قدرت نے مکمل کر دکھایا۔ وہاں تمام مسلمانوں سے ایک اور بھی درخواست کرنا ہے۔ وہ کیا ہے؟ اس کے لئے جماعتی ہدایات کا انتظار فرمائیں۔
ختم نبوت کا کام دارین کی فلاح کا ضامن ہے۔ اس سے اللہ رب العزت کی رضا اور نبی رحمت ﷺ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ ختم نبوت کا کام جنت و شفاعت حاصل کرنے کا شارٹ کٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نبی علیہ الصلوۃ والتسلیمات کی شفقتوں کا آپ حضرات پر دنیا و آخرت میں سایہ ہو۔ دعا گو:
فقیر: ابوالخلیل خان محمد امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خانقاہ سراجیہ، کندیاں شریف ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، مورخہ ۹؍ دسمبر ۱۹۸۷ء
مکتوب گرامی نمبر: ۱۰
از دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بخدمت عالی مرتبت عزت مآب جناب ممبر صوبائی اسمبلی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مزاج گرامی!
میں آپ کو صوبائی اسمبلی کا ممبر منتخب ہونے پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے عوام کے بھرپور اعتماد نے آپ کو اسلام اور ملکی سالمیت کے لئے کام کرنے کا سنہری موقع بخشا ہے۔ اس موقع پر یہ بات آپ کی شدید اور فوری توجہ کی متقاضی ہے کہ عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ چودہ سو سال سے امت اس مسئلہ پر متفق چلی آرہی ہے۔ قادیانیت کا وجود ختم نبوت کے خلاف ایک مغربی استعماری سازش ہے۔
۱۹۷۴ء میں پاکستان نیشنل اسمبلی نے متفقہ طور پر جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور وزارت میں قادیانیوں کے متعلق عوامی تحریک کے بعد آئین پاکستان ۱۹۷۳ء میں ایک متفقہ ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔
۱۹۸۴ء میں عوامی تحریک کے بعد سابق صدر مملکت پاکستان جناب جنرل محمد ضیاء الحق
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
نے تعزیرات پاکستان میں ترمیم کر کے قادیانیوں کو اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے سے روک دیا۔ قادیانی لابی ان آئینی ترمیمات کو اب ختم کرانے کے در پے ہے۔ آنجناب سے استدعا ہے کہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ فرما کر شفاعت نبوی ﷺ کے مستحق بنیں۔
ایک مرتبہ پھر میری اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مبارک باد قبول فرمائیں۔
۲/دسمبر ۱۹۸۸ء فقیر خان محمد عفی عنہ مرکزی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
مکتوب گرامی نمبر: ۱۱
باسمہ تعالیٰ!
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی (الحدیث)
جناب مکرم ........................................ زید مجدکم!
سلام مسنون، مزاج گرامی!
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے دین اسلام کی تبلیغ واشاعت اور فرقہ ہائے باطلہ کی تردید کا جو کام کیا ہے وہ ایک ریکارڈ ہے۔
پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا، سنگاپور، ملائشیا، سری لنکا، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات، امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور جزائر فجی وغیرہ میں مجلس کے اکابر ومبلغین کی تبلیغی مساعی سے اللہ تعالیٰ نے ہزاروں لوگوں کو دولت اسلام کی نعمت سے نوازا اور لاکھوں کی زندگیاں اسوۂ رسول ﷺ کے سانچے میں ڈھل گئیں۔
اس وقت وطن عزیز میں مجلس کے ۴۰ مبلغین، ۱۰ مدارس عربیہ و مساجد ہفتہ وار لولاک کے ذریعہ خدمت اسلام ہو رہی ہے۔ جب کہ دنیا کی متداول زبانوں میں لاکھوں کی تعداد میں لٹریچر چھپ کر مفت تقسیم ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے مرزائیوں کی خالص آبادی ربوہ میں مدارس و مساجد کی بنیاد رکھی جو ماشاء اللہ کامیابی سے ہمکنار ہے۔
اسی طرح ربوہ جو منکرین ختم نبوت کا قلعہ تھا۔ اس میں رحمت عالم ﷺ کی صدائے
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
برحق پہنچ رہی ہے۔ انوار و برکات کا نزول ہو رہا ہے اور منکرین ختم نبوت کی ظلمت چھٹ رہی ہے۔ مجلس کے آئندہ اہم منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے دامے درمے قدمے سخنے مجلس کی اعانت فرمائیں۔ زکوٰۃ و صدقات واجبہ شریعت کی روشنی میں صحیح مصرف پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ جملہ رقوم مقامی مبلغین یا ناظم دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان فون: 4783486-061 کو بھیج کر رسید حاصل کریں۔
فقیر تمام اہل اسلام اور اپنے متعلقین و جماعتی احباب سے درخواست کرتا ہے کہ مجلس کی مالی اعانت کے ساتھ ساتھ شب و روز عاجزی اور انکساری سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مسئلہ ختم نبوت اور عظمت اسلام کے کام میں مجلس کا حامی و ناصر ہو۔ فقط والسلام!
فقیر ابوالخلیل خان محمد خانقاہ سراجیہ امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان
مکتوب گرامی نمبر:۱۲
(اسحق خان کے دور حکومت میں حضرت قبلہؒ نے ذیل کا کھلا خط تحریر فرمایا)
موجودہ حکومت کی قادیانیت نوازی
بخدمت عالی جناب مکرم و محترم .......................................... زید مجدکم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مزاج گرامی!
موجودہ حکمران اس وقت جس طرح قادیانیت نوازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس کی چند ایک مثالیں ملاحظہ ہوں۔
وزیر اعظم معین قریشی صاحب ایم ایم احمد قادیانی کی دریافت ہیں۔ مبینہ طور پر اس کا نام اس نے پیش کیا۔ دونوں ورلڈ بینک میں ایک ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔ یہ کہ دونوں امریکہ کے آدمی ہیں۔ معین قریشی کی بیوی اور بیٹی کے قادیانی ہونے کی اطلاعات اخبارات میں چھپ چکی ہیں اور یہ کہ معین قریشی کا پریس سیکرٹری ریٹائرڈ کرنل اکرام اللہ قادیانی بتایا جاتا ہے۔
قادیانیوں نے تحفظ حقوق انسانی کمیشن کے نام پر ایک ادارہ قائم کیا۔ قادیانیوں نے امتناع قادیانیت آرڈیننس کی آڑ میں پاکستان اور اسلامیان پاکستان کو بیرونی دنیا میں اسی پلیٹ فارم سے بدنام کیا۔ عاصمہ جہانگیر (لاہور) ، مجیب الرحمٰن ایڈووکیٹ (راولپنڈی) اور ائیر مارشل ظفر چوہدری ایسے متعصب وجنونی قادیانی اس کمیشن کے رکن تھے۔ اب موجودہ حکومت نے اسی
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کمیشن (تحفظ حقوق انسانی کمیشن) کو قانونی تحفظ دے کر وزارت داخلہ کے ماتحت کر دیا ہے اور ظلم یہ کہ عاصمہ جہانگیر اور خالد احمد ایسے قادیانی بھی اس کے رکن ہیں۔ گویا قادیانی مفادات کے تحفظ اور بیرونی دنیا سے پاکستان پر دباؤ ڈلوانے کے لئے خود حکومت پاکستان نے قادیانیوں کو ایک ادارہ قائم کر دیا ہے۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ امتیازی قوانین کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے۔ جس کی رپورٹ پر اقلیتوں سے متعلق قوانین کو بدل دیا جائے گا۔ اقلیتوں کے ساتھ کیا امتیازی سلوک ہو رہا ہے؟ ۔ سوائے قادیانیوں کے کوئی اقلیت موجودہ قوانین پر غیر مطمئن نہیں۔ صرف قادیانیوں کو اپنے غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے پر عدم اطمینان ہے جس کے لئے اندرونی طور پر وہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے رہے۔ ان کے اس عدم اطمینان کو ختم کرنے کے لئے حکومت نے کمیشن مقرر کیا ہے کہ اس کمیشن کی رپورٹ پر قوانین میں حکومت ترمیم کرے گی۔
پاکستان میں بیسیوں ریٹائرڈ جج حضرات موجود تھے۔ لیکن وزیر قانون و مذہبی واقلیتی امور کے لئے ریٹائرڈ جسٹس اے ایس سلام کو لایا گیا۔ دنیا جانتی ہے کہ موصوف کا خاندان معروف قادیانی ظفر اللہ خان کے زیر اثر تھا اور خود سلام صاحب کی تعلیم و تربیت بھی چوہدری ظفر اللہ قادیانی کی رہین منت ہے۔ سلام صاحب نے اپنے فیصلوں میں جس طرح قادیانیوں کو تحفظ دیا۔ وہ سب باتیں ریکارڈ پر ہیں۔ یہ وہ خطرات ہیں جن سے آپ کو باخبر کرنا ضروری تھا۔ وزیر اعظم ، وزیر قانون کی یہ مرزائیت نوازی پاکستان کے لئے سنگین خطرہ کا باعث اور اسلامیان پاکستان کے لئے کڑی آزمائش ہے۔
۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ اب موجودہ حکومت امت مسلمہ کی سو سالہ محنت پر پانی پھیرنا چاہتی ہے۔ اس سلسلہ میں ۱۰؍ ستمبر ۱۹۹۳ء کو پورے ملک کے خطیب حضرات جمعہ کے خطبات میں اظہار خیال فرمائیں گے۔ آپ سے بھی استدعا ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا فرمائیں۔ حق تعالیٰ شانہ آپ کے حامی و ناصر ہوں۔ والسلام!
دعا گو: ابوالخلیل خان محمد عفی عنہ محمد یوسف لدھیانوی امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
ہفت روزہ لولاک ج ۳۰ ش ۲۱ ، ماہ ستمبر ۱۹۹۳ء
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مکتوب گرامی نمبر:۱۳
حضرت قبلہؒ نے سعودی عرب کے سربراہ شاہ فہد کو قادیانی فتنہ سے متعلق خط تحریر فرمایا۔ شاہ فہدؒ کے بعد شاہ عبداللہ برسراقتدار آئے تو جدہ میں سو قادیانی پکڑے گئے۔ حضرت قبلہؒ نے وہی خط پھر شاہ عبداللہ خادم الحرمین الشریفین کو بھجوایا۔ تفصیل یہ ہے:
سعودی عرب میں ۱۰۰ سے زائد قادیانیوں کی گرفتاری!
۱۸؍ ذی الحجہ ۱۴۲۷ھ مطابق ۹؍ جنوری ۲۰۰۷ء روزنامہ اسلام کراچی کی خبر ذیل میں ملاحظہ ہو: ’’سعودی حکومت نے ایک سو سے زائد قادیانیوں کو جدہ اور دیگر مقامات سے گرفتار کیا ہے۔ یہ قادیانی سعودی عرب کے مختلف شہروں میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے اور بعض برطانیہ سے خود کو مسلمان ظاہر کر کے حج کے لئے آئے تھے۔ گرفتار شدگان میں زیادہ کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ ایک پاکستانی اور ایک شامی ہے۔ ان میں انصاراللہ کا ملک فاضل نامی اہم قادیانی رہنما بھی ہے۔ ذرائع کے مطابق جدہ میں قادیانیوں نے اپنا خفیہ مرکز بھی بنایا ہوا تھا۔ جس کو سیل کر دیا گیا ہے اور سعودی حکومت نے تمام ریکارڈ ضبط کر لئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گرفتار شدگان میں بعض بچوں سمیت قیام پذیر تھے۔ سعودی حکومت نے گرفتار کر کے مردوں کو جیل بھیج دیا ہے اور ان کے خاندان کو ملک بدری کے احکام جاری کر دیئے ہیں۔‘‘
اسلامیان وطن کو یاد ہوگا کہ جب پرویز حکومت نے مشین ریڈایبل پاسپورٹ بناتے وقت پاکستانی پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ حذف کر دیا تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے پاسپورٹ میں خانہ مذہب کی بحالی کے لئے تحریک چلائی تمام دینی جماعتوں کو ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔ حق تعالیٰ نے کرم کا معاملہ فرمایا کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال ہو گیا۔
اس تحریک کے دوران میں ایسا موقعہ آیا کہ حکومت نے اس معاملہ پر حتمی رپورٹ کے لئے وفاقی وزیر دفاع جناب راؤ سکندر اقبال کی سربراہی میں چھ رکنی (شش جہتی) وزارتی کمیٹی بنائی۔ کمیٹی کے سربراہ اور اراکین کو مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنا تحریری مؤقف ڈاک کے ذریعہ اور پھر مقامی علماء کے ذریعہ فرداً فرداً ملاقاتیں کر کے پہنچایا۔ جناب راؤ سکندر اقبال سے جمعیت علماء اسلام
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کے رہنماء حضرت مولانا سید امیر حسین گیلانی کی قیادت میں مقامی تمام دینی قیادت نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس دوران میں قادیانی جماعت چناب نگر کے شمیم احمد قادیانی (ستارہ امتیاز ملٹری) نے اپنا تحریری نقطۂ نظر بھجوایا۔ اس کی ہمیں بھی اپنے ذرائع سے کاپی مل گئی۔ اس میں قادیانی جماعت نے مؤقف اختیار کیا کہ: ’’امریکہ، جرمنی، برطانیہ، مغربی افریقی ممالک اور بھارت وغیرہ سے ہر سال حج وعمرہ پر ہمارے (قادیانیوں کی) بہت بڑی تعداد حرمین شریفین جاتی ہے۔‘‘
اس قادیانی خط کو بنیاد بنا کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ المشائخ، خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے اس وقت کے سعودی فرمانروا جناب شاہ فہد بن عبدالعزیز کو تحریری طور پر درخواست بھیجی کہ آپ حج وعمرہ کے لئے اپنے دنیا بھر کے سفارت خانوں کو ایک حلف نامہ مرتب شدہ جاری کریں۔ وہ تحریری حلف نامہ حج وعمرہ کے لئے درخواست دہندہ سے پر کرائے بغیر حج وعمرہ کا ویزہ جاری نہ کریں۔ اس حلف نامہ میں ختم نبوت کا اقرار اور مرزا غلام احمد قادیانی کے کذاب ودجال وکافر ہونے پر حلف لیا جائے۔ تاکہ دنیا بھر سے کوئی قادیانی حرمین شریفین نہ جاسکے۔
حضرت مولانا مفتی محمد اسلم ناظم اعلیٰ جمعیت علماء برطانیہ، حضرت مولانا قاری محمد اسماعیل رشیدی نے برطانیہ میں رابطہ عالم اسلامی کے ذمہ داران سے اور خود سعودی وزارت داخلہ سے بھی بات چلائی۔ رابطہ عالم اسلامی کا مکہ مکرمہ میں اجلاس طے پایا۔ اس میں یہ مسئلہ بھی زیر بحث آنا تھا کہ جناب شاہ فہد کا انتقال ہوگیا۔ اس کے باعث رابطہ کا اجلاس نہ ہوسکا اور مسئلہ وہیں کا وہیں رہ گیا۔
جناب شاہ فہد مرحوم کے بعد سعودی عرب کے سربراہ جناب شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز مقرر ہوئے تو مجلس تحفظ ختم نبوت نے جن گیارہ حضرات کو خطوط بھجوائے ان کے پتہ جات و نام یہ ہیں:
- ......١ خادم الحرمين الشريفين الملك عبدالله بن عبدالعزيز
آل سعود ملك المملكة العربية السعودية الرياض المكتب الخاص .
- ......٢ صاحب السمو الملكي الامير سلطان بن عبدالعزيز آل
السعود ولى العهد ووزير الدفاع والطيران والمفتش العام الرياض المكتب الخاص المملكة العربيه السعودية .
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۳...... صاحب السمو الملكی الامير سعود الفيصل
وزير الخارجية الرياض المكتب الخاص المملكة العربية السعودية ٠
- ٤...... صاحب السمو الملكى الامير نايف بن عبدالعزيز آل
السعود وزير الداخلية الرياض المكتب الخاص المملكة العربيه السعودية ٠
- ٥...... معالى الشيخ صالح الحصين رئيس شؤون المسجد
الحرام والمسجد النبوى الشريف مكة المكرمة المملكة العربية السعودية ٠
- ٦...... معالى الشيخ صالح بن عبدالعزيز آل الشيخ مفتى عام
المملكه ووزير الشؤون الاسلامية الرياض المكتب الخاص المملكة العربية السعودية ٠
- ٧...... معالى الشيخ على بن عبدالرحمن الحذيفى امام وخطيب
المسجد النبوى الشريف المدينة المنوره المملكة العربية السعودية ٠
- ٨...... معالى الشيخ عبدالله السبيل امام وخطيب المسجد
الحرام المكة المكرمة المملكة العربية السعودية ٠
- ٩...... معالى الدكتور عبدالله بن عبدالمحسن التركى الامين
العام لرابطة العالم الاسلامى المكة المكرمة المملكة العربية السعودية ٠
- ١٠...... فضيلة الشيخ محمد بن ناصر العبودى المساعد للامين
العام لرابطة العالم الاسلامى مكتب رابطة العالم الاسلامى المكة المكرمة المملكة العربية السعودية ٠
- ١١...... معالى سفير المملكة العربية السعودية المبعوث الى
اسلام آباد باکستان ٠
ان تمام حضرات کو عربی میں جو خطوط بھجوائے ان کا متن یہ ہے:
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته ...... وبعد!
فجلالتكم على علم أن المتنبى "الميرزا غلام احمد قاديانى" ادعى النبوة بالهند فى أوائل ١٩٠٠ الميلادية وحرف فى الكتاب والسنة وسخر بالأنبياء عليهم السلام وكان عميلا للاستعمار وأعداء الاسلام ٠ ثم ان العالم
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۳۲۴ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
الاسلامى يستنكر ويحتج على أعمال اسرائيل الوحشية من القتل والتدمير بينما هؤلاء القاديانيون الذين يسمّون أنفسهم ”بالأحمديين“ لهم مركز موجود فى اسرائيل هكذا أصبحت هذه الشرذمة القليلة ربيبة الصهيونية والغرب .
ان علماء الهند وباكستان قاموا ضد هذه الفتنة منذ نشأتها وأفتوا بكفر هذا المتنبى وأتباعه، وكشفوا كفرهم أمام الأمة الاسلامية، وطالبوا الحكومة الباكستانية باعتبارهم أقلية غير اسلامية كاليهود والنصارى والهندوس، فأصدر البرلمان الباكستانى قراراً بالاجماع باعتبارهم أقلية غير اسلامية فى دستور باكستان سنة ١٩٧٤ء كما أن المحاكم القانونية فى باكستان أصدرت حكما بكفرهم أيضا .
ان رابطة العالم الاسلامى بمكة المكرمة لها جهود مشكورة فى اصدار القرار باعتبار القاديانية أقلية غير اسلامية فى دستور باكستان وانها قد أدّت فرض الكفاية عن الأمة الاسلامية، ومهما قدّمنا الشكر والتقدير الى المملكة العربية السعودية على خدمات جلالة الملك فيصل الشهيد رحمه الله تعالىٰ فى هذا الصدر لانوفى حقه .
ان القاديانيين غير مسلمين لذلك منعتهم المملكة عن الدخول فى حدود الحرمين الشريفين وببركة جهود علماء باكستان والأحزاب الدينية السياسية أضيف بند الديانة فى جواز السفر الباكستانى منذ أكثر من ٢٥ عاماً ولكن بمؤامرة قاديانية فى الحكومة الموجوده أزيل بند الديانة من جواز السفر الباكستانى، فقام العلماء والأحزاب السياسية الدينية بالاستنكار وصارت مظاهرات من الشعب المسلم طالبوا الحكومة باعادة هذا البند الى جواز السفر، فاضطرت الحكومة الى اعادة بند الديانة الى جواز السفر .
ومما يعجبنا أن بعض القاديانيين من خارج باكستان مع حظر المملكة العربية السعودية غير المسلمين الى دخول الحرمين الشريفين .
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
يدخلون الحرمين الشريفين معتمدين على الكذب والزور كما صرح به أحد الضباط القاديانى المتقاعد . فالقاديانى الباكستاني لأجل بند الديانة في الجواز لايحصل على تاشيرة الحج والعمرة اذاً لايمكنه الدخول الى الحرمين الشريفين . ولكن القاديانيين الذين يقيمون خارج باكستان ويحملون الجنسيات الأخرى الأوروبية والأمريكية والأفريقة فهم يحصلون على تأشيرة الحج والعمرة من السفارات السعودية في تلك البلاد ويدخلون الحرمين الشريفين لأن أسماءهم كأسماء المسلمين .
فالرجاء من حكومة خادم الحرمين الشريفين أن تتأكد من منع دخول القاديانيين الى حدود الحرمين الشريفين . وخير وسيلة لمنعهم أن تضيف بندا فى استمارة الحج والعمرة يحلف فيها المتقدم أنه يؤمن بمحمد صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين . ويكفر كل من يدعى النبوة بعد النبى صلى الله عليه وسلم . خصوصاً المتنبى القاديانى الميرزا غلام احمد ومن المعلوم أن اتباع القاديانى لايوقّعون على هذه الاستمارة فيمنعون عن منع التأشيرة . فلايدخلون الحرمين الشريفين .
ان اهتمام المملكة بهذه القضية فيه الحفاظ على عقيده ختم النبوة من ناحية . وكشف كفر المتنبى الميرزا غلام احمد القاديانى أمام المسلمين من ناحية أخرى . وينسد الباب قانونيا أمام القاديانيين عن دخول الحرمين الشريفين .
فالرجاء من حكومة خادم الحرمين الشريفين قبول هذا الطلب تستحقون به كل تقدير واكرام من المسلمين فى العالم الاسلامى ودعواتهم . ودمتم لخدمة الاسلام والمسلمين .
والسلام! خان محمد عفى عنه رئيس مجلس تحفظ ختم النبوة العالمى المكتب الرئيسى ملتان . باكستان
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۳۲۶ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اس کا ترجمہ یہ ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم!
بخدمت جناب.....................................................صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی!
آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ہندوستان کے ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی نے اوائل ۱۹۰۰ء میں جھوٹا نبوت کا دعویٰ کیا۔ قرآن وسنت میں تحریف کا مرتکب ہوا۔ انبیاء علیہم السلام کی اس نے تضحیک وتحقیر کی۔ غیر ملکی اسلام دشمن طاقتوں کا یہ آلہ کار تھا اور جبکہ پوری دنیائے اسلام اسرائیل کی چیرہ دستیوں پر نوحہ کناں ہے اس جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار قادیانی گروپ ولاہوری گروپ جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ان کا مرکز اسرائیل میں بھی قائم ہے اور یوں یہ گروہ صہیونیت ومغربیت کا پروردہ ہے۔ برصغیر کے علمائے کرام کی کوششوں سے قادیانیوں کا کفر پوری دنیا پر واضح ہوا۔ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے‘ پارلیمنٹ کا فیصلہ اس پر شاہد و ناطق ہے۔
قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لئے عالم اسلام کے ممتاز دینی ادارہ رابطہ عالم اسلامی مکۃ المکرمہ کی جدوجہد پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ ہے۔ جلالۃ الملک شاہ فیصل مرحوم کی گرانقدر سنہری خدمات پر سعودی عرب کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔
قادیانی چونکہ غیر مسلم ہیں۔ سعودی حکومت نے ان کے حدود حرمین میں داخلہ پر پابندی عائد کی۔ پاکستان کے علمائے کرام اور دینی جماعتوں کی جدوجہد سے پاکستانی پاسپورٹ میں خانہ مذہب کا اضافہ کیا گیا۔ اب حال ہی میں پھر قادیانیوں نے پاکستان میں سازش کر کے پاکستانی پاسپورٹ سے خانہ مذہب حذف کرایا جو اب علمائے اسلام کی کوششوں سے بحال ہو گیا ہے۔
جن دنوں پاکستانی پاسپورٹ میں خانہ مذہب کی بحالی کے لئے بات چیت چل رہی تھی تو حکومت پاکستان نے چھ رکنی وزارتی کمیٹی قائم کی جس نے علمائے اسلام کا موقف سن کر پاسپورٹ میں مذہب کے متعلق سفارش کرنی تھی۔ اس موقع پر قادیانی جماعت کی طرف سے ایک سابق فوجی قادیانی شمیم احمد خالد نے ایک خط اردو میں کمیٹی کے سربراہ کو ارسال کیا۔ وہ لف ہذا ہے:
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ہمیں یہ پڑھ کر حیرت ہوئی کہ سعودی حکومت کی غیر مسلموں کے لئے حدود حرمین میں پابندی کے باوجود پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک جیسے افریقہ امریکہ اور یورپ کے قادیانی حج پر جاتے ہیں۔ قادیانی گروہ غیر مسلم ہونے کے باوجود حرمین شریفین میں داخلہ کے لئے جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ میں خانہ مذہب اور پاسپورٹ کے فارم میں ختم نبوت کا حلف نامہ ہونے کے باعث ان کے لئے حرمین شریفین میں جانا ممکن نہیں رہا۔ البتہ دوسرے ممالک سے قادیانی حج و عمرہ کا سعودی ویزے لے کر حرم شریف جاتے ہیں۔ جیسا کہ قادیانی کے خط سے ظاہر ہے۔
تو آپ سے استدعا ہے کہ: سعودی حکومت ان کے حدود حرمین شریفین میں داخلہ کے روکنے کے عمل کو یقینی بنائے۔ مناسب ہو گا کہ حج و عمرہ کے ویزا کے حصول کے لئے سعودی حکومت جو فارم مہیا کرتی ہے اس میں ایک حلف نامہ لازمی طور پر شامل کیا جائے۔ جس میں ختم نبوت کا اقرار اور جھوٹے نبیوں بالخصوص مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر کا واضح ذکر ہو اور ہر وہ شخص جو حج و عمرہ کے ویزا کے حصول کا خواہش مند ہو وہ اسے پر کرے۔ اب ظاہر ہے کہ قادیانی اپنے جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر پر دستخط نہیں کریں گے۔ تو یوں ان کے حدود حرمین میں داخلہ کی روک ہو جائے گی۔ اس حلف نامہ کے بغیر کسی کو حج و عمرہ کا ویزا نہ دیا جائے۔
آپ کی اس معمولی کاوش سے جہاں رحمت عالمﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ ہو گا وہاں جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر تمام مسلمانوں پر واضح ہو گا اور حدود حرمین شریفین میں ان کا آئینی و قانونی طور پر داخلہ بند ہو جائے گا اور سعودی حکومت کے قانون پر عمل درآمد یقینی ہو جائے گا۔
امید ہے کہ اس کے لئے فوری اقدام کر کے عالم اسلام کے مسلمانوں کو قادیانیوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ فرمائیں گے۔
والسلام! خان محمد عفی عنہ امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دفتر مرکزیہ ملتان پاکستان
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۳۲۸ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
یہ خط دار العلوم دیوبند، ندوہ، لکھنؤ، بنگلہ دیش، جمعیت علماء برطانیہ، وفاق المدارس پاکستان، دنیا کی دیگر اسلامی تنظیمات کو بھی بھجوائے گئے کہ آپ اپنی اپنی طرف سے سعودی گورنمنٹ سے مطالبہ کریں کہ وہ دنیا بھر کے حج وعمرہ کے عازمین کو ویزا جاری کرنے سے قبل ختم نبوت پر ایمان اور منکر ختم نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر پر دستخط کرائے بغیر ویزا جاری نہ کریں۔ چنانچہ دنیا بھر سے یہ مطالبہ ہوا۔ حضرت مولانا محمد مکی، حضرت مولانا سعید عنایت اللہ مکی، حضرت مولانا ملک عبدالحفیظ مکی اور ان کے گرامی قدر رفقاء سے ملاقاتیں کر کے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے متذکرہ بالا محضر نامہ دیا اور تفصیل عرض کی۔ ان حضرات نے رابطہ کے حضرات سے ملاقاتیں کیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان محرم الحرام ۱۴۲۸ھ)
مکتوب گرامی نمبر: ۱۴
عزت مآب جناب فاروق ایچ نائیک صاحب چیئرمین سینٹ، محترمہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا صاحبہ سپیکر قومی اسمبلی، جناب بابر اعوان صاحب وفاقی وزیر قانون، ودیگر جملہ اراکین پارلیمنٹ اسلامی جمہوریہ پاکستان
مکرمی محترمی جناب ..................................................... السلام علیکم! مزاج گرامی
گزارش ہے کہ جناب سرور کائنات حضرت محمدﷺ اللہ رب العزت کے آخری نبی ہیں اور ان کی ختم نبوت کا یہ عقیدہ چودہ برس سے امت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ چلا آ رہا ہے۔ اسی طرح جناب نبی اکرمﷺ کی عزت وناموس کا تحفظ دنیا کا ہر مسلمان اپنا ایمانی فریضہ سمجھتا ہے اور اپنی جان سے بھی بڑھ کر اس کے تحفظ کے لئے کوشاں رہنے کو باعث سعادت و نجات سمجھتا ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلمانوں کے اسی اجماعی عقیدہ کے تحفظ اور ایمانی جذبات کی ترجمانی کے لئے گذشتہ ساٹھ برس سے وطن عزیز پاکستان اور دنیا کے دیگر بہت سے ممالک میں سرگرم عمل ہے۔ مسلمانوں کو ان کے عقیدہ وثقافت سے محروم کرنے اور فکری و ذہنی انتشار کا شکار بنانے کے لئے استعماری قوتوں نے سازش کے تحت امت مسلمہ میں جو فتنے کھڑے کئے۔ ان میں ایک بڑا فتنہ قادیانیت کا ہے۔ جس کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے بقول نئی نبوت اور نئی وحی کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کے مرکز عقیدت واطاعت کو تبدیل کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ نے قادیانیت کی حقیقت کو جس علمی وفکری انداز میں دنیا کے سامنے آشکارا کیا ہے۔ اس سے اس سازش کے پس منظر کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے اور پنڈت جواہر لال نہرو کے ساتھ اس مسئلہ پر علامہ اقبالؒ کی خط و کتابت نے اس عظیم فتنے کے فکری، تہذیبی اور سماجی پس منظر کو علمی حلقوں کے سامنے طشت از بام کرکے رکھ دیا۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے بعد ملک کے دینی وسیاسی حلقوں نے علامہ محمد اقبالؒ کے انہی ارشادات اور توضیحات کی روشنی میں قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر معاشرتی درجہ دینے کی تحریک چلائی تھی۔ جو مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ۱۹۷۴ء میں اپنے منطقی نتیجے تک پہنچی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی قیادت میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر نہ صرف ایک دیرینہ مسئلہ کو ہمیشہ کے لئے حل کر دیا بلکہ اس سے مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ کے خوابوں کو بھی تعبیر مل گئی۔
مگر قادیانیوں نے اس وقت اپنے بارے میں:
- ☆ ...... اسلامی جمہوریہ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ۔
- ☆ ...... پورے عالم اسلام کی نمائندہ تنظیم ’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ اور
- ☆ ...... سپریم کورٹ آف پاکستان
- ☆ ...... دنیائے اسلام کے تمام مکاتب فکر کے علمی مراکز اور حلقوں
کے متفقہ فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے خود کو مسلمان تسلیم کرانے اور پارلیمنٹ کے فیصلے کو ناکام بنانے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ جسے ان کے استعماری آقاؤں اور پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کی مخالف بین الاقوامی لابیوں کی حمایت اور پشت پناہی حاصل ہے اور اسی پس منظر میں عالمی حلقوں کی طرف سے پاکستان پر:
- ۱...... قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور انہیں اسلام کا نام اور اصطلاحات وشعائر کے
استعمال سے روکنے کے دستوری وقانونی اقدامات کو ختم کرنے۔
- ۲...... جناب نبی اکرمﷺ کے ناموس وعزت کے تحفظ کے قوانین کو غیر مؤثر بنانے۔
- ۳...... دستور پاکستان کی اسلامی دفعات بالخصوص قرارداد مقاصد میں ترامیم کرنے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
- ۴...... حتیٰ کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے اسلامی کا لفظ حذف کرنے کے لئے
مسلسل دباؤ ڈالا جارہا ہے۔
ان حالات میں جب کہ دستوری ترامیم کا نیا پیکج پیش کرنے کے لئے پارلیمنٹ کی قائم کردہ ”دستوری ترامیم کمیٹی“ اخباری رپورٹ کے مطابق ۲۳/مارچ تک ترامیم کا مسودہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے اور مختلف حلقوں کی طرف سے اسلامی دفعات کے بارے میں منفی مطالبات سامنے آرہے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سمیت ملک کے تمام دینی حلقوں کی تشویش ہے کہ نئی دستوری ترامیم کے ذریعہ خدانخواستہ دستور کی اسلامی دفعات بالخصوص (۱) قرارداد مقاصد۔ (۲) عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی دستوری دفعات اور (۳) تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو ختم یا غیر مؤثر کرنے کی کوئی منفی کوشش کامیاب نہ ہو جائے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص، جناب رسالت مآب ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ اور عقیدہ ختم نبوت کی پاسداری میں خود آنجناب کے جذبات بھی کسی دوسرے مسلمان سے کم نہیں ہیں اور آپ بھی ان امور پر ہماری طرح ہی عقیدہ و جذبات رکھتے ہیں۔ لیکن اپنے جماعتی اہداف اور مشن کے حوالہ سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس سلسلہ میں آنجناب کو یاد دہانی کرانا اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے اور اسی جذبہ کے تحت آپ کی خدمت میں یہ عریضہ پیش کیا جارہا ہے۔
ہمیں امید، بلکہ یقین ہے کہ آپ اپنا ملی و دینی فریضہ سمجھتے ہوئے اس مسئلہ کو خصوصی توجہ اور ترجیحات سے نوازیں گے اور جناب رسالت مآب ﷺ کی ختم نبوت اور ناموس کے تحفظ میں بھر پور کردار ادا کر کے خود کو آقائے نامدار ﷺ کی خصوصی شفقتوں اور شفاعت کا حقدار بنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق دیں اور دونوں جہانوں کی خوشیوں اور سعادتوں سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین!
والسلام! آپ کا مخلص: (مولانا) خواجہ خان محمد عفی عنہ امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
خاتمۃ الکتاب
علالت، انتقال، جنازہ
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۳۳۲ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
۲۷؍ اپریل ۲۰۱۰ء کو ظہر کے قریب پہلے مخدوم گرامی صاحبزادہ مولانا عزیز احمد صاحب کا، پھر تھوڑی دیر بعد مخدوم گرامی جناب صاحبزادہ نجیب احمد صاحب کا فون آیا۔ مصروفیت کے باعث فقیر دونوں فون نہ سن سکا۔ فراغت پر دونوں نمبروں کو بار بار ملایا۔ پہلے صاحبزادہ نجیب احمد صاحب پھر صاحبزادہ مولانا عزیز احمد صاحب سے بات ہوئی۔ معلوم ہوا کہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کی طبیعت ٹھیک نہیں، آپ کو چھوٹے طیارہ سے ملتان لے جارہے ہیں۔ فقیر نے عرض کیا۔ اس وقت چناب نگر ہوں۔ ایبٹ آباد جانا تھا۔ اب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کل دوپہر تک ملتان حاضر ہو جاؤں گا۔ ٹھیک ہے۔ یہ کہہ کر مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نے فون بند کر دیا۔ اب فقیر نے ملتان مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کو صورتحال سے مطلع کیا۔ آپ نے بھی چناب نگر تشریف لانا تھا۔ چنانچہ ۲۸؍ اپریل ظہر تک ملتان حاضر ہوئے۔ عصر کے وقت ملتان سیال کلینک جا کر تمام صاحبزادہ صاحبان سے ملاقات ہوئی۔ قبلہ حضرت صاحبؒ کی بھی عیادت کا شرف حاصل کیا۔ معلوم ہوا کہ بخار، یرقان، بلڈ پریشر کئی عوارض نے گھیر لیا۔ تو چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الٰہی صاحبان سے ان کا ذاتی طیارہ مانگا اور قبلہ حضرت صاحبؒ کو لے کر ملتان سیال کلینک آگئے۔ چیک اپ اور علاج شروع ہوا۔ جملہ ٹیسٹ ٹھیک اور طبیعت اب بہت بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ قبلہ حضرت صاحبؒ سے پھر ملے، اجازت طلب کی، دفتر آگئے۔ ملک بھر سے مہمانوں کا تانتا بندھ گیا۔ میاں خان محمد سرگانہ کی کوٹھی اور دفتر ختم نبوت مہمانوں کا پہلا اور آخری پڑاؤ تھے۔ دوست یہاں تشریف لاتے، معلومات حاصل کرتے پھر زیارت وعیادت کے عمل سے فراغت کے بعد تشریف لاتے۔ مختصر قیام کے بعد ان کی واپسی ہو جاتی۔ فقیر ۲۹؍ اپریل کو پھر حاضر ہوا۔ طبیعت میں بہت حد تک بہتری کے آثار تھے۔ معلوم ہوا کہ قبلہ حضرت صاحبؒ نے مغرب کی نماز خود پڑھائی۔ زیارت ہوئی واپس آگئے۔ ۳۰؍ اپریل جمعہ بوسن روڈ ملتان پڑھ کر ۳؍ بجے کے قریب سیال کلینک حاضر ہوا۔ قاری عبدالرحمن رحیمی ملتان، قاری عبدالرحمن ضیاء سرگودھا والوں سے ملاقات ہوئی۔ معلوم ہوا کہ بیماری کوئی نہیں صرف کمزوری ہے۔ اس کا علاج ہو رہا ہے۔ اب قبلہ حضرت صاحبؒ آرام فرما رہے ہیں۔ ہڑپہ کے جناب محمد رمضان بگھیلہ نے فقیر کو دیکھ لیا۔ تھوڑی دیر بعد تشریف لائے۔ اشارہ سے مجھے بلایا۔ قبلہ حضرت صاحبؒ کے کمرہ میں لے گئے۔ محترم ڈاکٹر عنایت اللہ صاحب، محترم صاحبزادہ نجیب احمد صاحب، محترم حکیم سلطان صاحب کمرہ میں موجود تھے۔ کمرہ میں داخل ہوتے ہی صاحبزادہ نجیب احمد صاحب نے قبلہ حضرت صاحبؒ سے عرض کیا کہ اللہ وسایا آیا ہے۔ قبلہ
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
حضرت صاحبؒ نے دائیں ہاتھ کو جنبش دی۔ فقیر نے فوراً مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔ باہر کے لوگوں کے لئے دیوار میں لگے ہوئے شیشے کے پردے ہٹا دیئے گئے۔ باہر سے دوستوں نے زیارت کے لئے لائن بنائی اور زیارت شروع ہوگئی۔ فقیر دس منٹ قریباً قبلہ حضرت صاحبؒ کے رخ مبارک کو تکتا رہا۔ اب قبلہ حضرت صاحبؒ نے اشارہ کیا آپ کو بٹھا دیا گیا۔ قبلہ حضرت صاحبؒ نماز عصر کے لئے تیاری کا فرمارہے تھے۔ صاحبزادہ نجیب احمد صاحب نے عرض کیا کہ ابھی کچھ وقت باقی ہے۔ پھر عصر کا وقت داخل ہوگا۔ اس دوران حضرت قبلہؒ اپنے بیڈ پر بیٹھے ہوئے اور پاؤں نیچے لٹکائے ہوئے۔ صاحبزادہ نجیب احمد صاحب نے فقیر کو حکم کیا کہ کوئی بات کرنی ہو تو موقعہ ہے۔ یہ سن کر قبلہ حضرت صاحبؒ نے بھی فقیر کی جانب نظر عنایت فرمائی۔ فقیر قریب ہوا تو قبلہ حضرت صاحبؒ کے پہلو میں بیڈ پر صاحبزادہ صاحب نے بٹھا دیا۔ فقیر نے سکھر و سیالکوٹ کی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسوں کی رپورٹ پیش کی۔ قبلہ حضرت صاحبؒ ہر بات پر ”اللہ تعالیٰ قبول فرمائے“ فرماتے رہے۔ فقیر نے عرض کیا کہ آج سفر کرنا ہے۔ چناب نگر جانا ہے۔ پھر ایبٹ آباد کا سفر ہے۔ ایبٹ آباد کانفرنس کی تیاری کی بھی رپورٹ پیش کی۔ تو آپ نے فرمایا۔ ”اللہ تعالیٰ آسانیاں پیدا فرمائے“ اجازت لی اور پندرہ بیس منٹ کے بعد فقیر کمرہ سے باہر آ گیا۔
اب کمرہ کے باہر لگی کرسیوں پر جناب ڈاکٹر پروفیسر عنایت اللہ صاحبؒ صاحبزادہ نجیب احمد صاحب اور فقیر بیٹھ گئے۔ ڈاکٹر صاحب سے قبلہ حضرت صاحبؒ کی طبیعت کی بحالی کی بابت معلومات حاصل کرتے رہے۔ کچھ دیر بعد باہر کھڑے ہو کر شیشہ سے قبلہ حضرت صاحبؒ کو دیکھا اور واپس دفتر چلا آیا۔ آتے ہی سفر پر روانہ ہو گیا۔ راستہ میں صاحبزادہ صاحبان مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد، صاحبزادہ حافظ رشید احمد، جناب صاحبزادہ سعید احمد، سے سفر کی اطلاع عرض کی۔ قبلہ حضرت صاحبؒ سے اجازت کی رپورٹ پیش کی۔ ۳ مئی کی صبح چناب نگر سے چل کر داتہ ضلع مانسہرہ میں مغرب کے بعد پہلا بیان مولانا عزیز الرحمن ثانی کا اور دوسرا فقیر کا ہوا۔ رات مانسہرہ آ گئے۔ ۴ مئی کو ظہر کے بعد شنکیاری، مغرب کے بعد ہری پور کی ختم نبوت کانفرنسوں میں شرکت کی۔ ۵ مئی کو تناول کی کانفرنس میں بیان ہوا۔ واپس آئے مغرب کے بعد مولانا عزیز الرحمن ثانی کا جامع مسجد ناڑی مانسہرہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس میں بیان شروع ہوا۔ فقیر کا قیام جناب عبدالرؤف صاحب روفی کے مکان پر تھا۔ آٹھ بجے انہوں نے کانفرنس میں شمولیت کے لئے تیاری کا فرمایا۔ فقیر اٹھا، فون پر گھنٹی بجی، آن کیا تو دفتر مرکزیہ کے جمال عبد الناصر نے کہا کہ قبلہ حضرت صاحبؒ کا وصال ہو گیا ہے اور یہ کہ میں اس وقت ہسپتال سے بول رہا ہوں۔ اس
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
افسوسناک خبر سننے کے لئے پہلے سے تیار نہ تھے۔ یکدم طبیعت بجھ گئی۔ بالکل سمجھ نہ آیا کہ کیا ہوا۔ وضو کے لئے جاتے ہوئے عبدالرؤف صاحب سے صورتحال عرض کی وہ بھی ششدر رہ گئے۔ وضو کر کے آیا تو صاحبزادہ مولانا عزیز احمد صاحب کو فون کیا۔ وہ اتنا ہی فرماسکے کہ انا للہ وانا الیہ راجعون! پھر فون منقطع ہو گیا۔ کانفرنس میں گیا۔ ثانی صاحب بیان کر رہے تھے۔ ان کے بیان کو روکا، ایبٹ آباد کانفرنس کی تیاری پر ۳، ۴ منٹ معروضات عرض کیں۔ پھر قبلہ حضرت صاحبؒ کی رحلت کی خبر سنائی۔ اجتماع انا للہ وانا الیہ راجعون! کی صداء سے گونج اٹھا۔ فقیر نے مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب کو دعاء کے لئے عرض کیا۔ عبدالرؤف صاحب کے گھر آئے۔ کھانا کھایا۔ عشاء پڑھی، ایبٹ آباد اور پھر وہاں سے خانقاہ شریف کے لئے سفر شروع ہوا۔
ادھر ملتان سے قبلہ حضرت صاحبؒ کے جسد خاکی کو لے کر جملہ صاحبزادہ صاحبان اور قاری عبدالرحمن ضیاء، بمع دیگر احباب کے ملتان سے سڑک کے راستے روانہ ہوئے۔ راستہ میں دو تین بار مظفر گڑھ، چوک اعظم کے قریب ان حضرات سے رابطہ ہوا۔ جنازہ بعد از ظہر خانقاہ شریف ہوگا۔ اس فیصلہ کی اطلاع بھی ملی۔ اب فون تو چپ ہونے کا نام نہ لیتا تھا۔ ساتھیوں کو جنازہ کے وقت کی اطلاع کرتا رہا۔ تعزیتیں وصول ہوتی رہیں۔ پریشانی کا سفر کتنا مشکل سے کٹتا ہے۔ بوجھل دل سے سفر کی کوفت بھی دو آتشہ ہو جاتی ہے۔ جیسے کیسے خانقاہ شریف کی حدود میں داخل ہوئے تو فجر کی اذانیں ہو رہی تھیں۔ معلوم ہوا کہ جسد خاکی بھی پہنچ گیا ہے۔ مسجد و مدرسہ کا پورا احاطہ مہمانوں کی آمد سے اٹا ہوا تھا۔ اندازہ ہوا کہ جس ساتھی کو بھی قبلہ حضرت صاحبؒ کے وصال کی اطلاع ملی جو جس حال میں تھا سنتے ہی سفر پر روانہ ہو گیا۔ نماز فجر باجماعت پڑھی۔ در و دیوار، مسجد کی ایک ایک اینٹ سے اداسی ٹپکتی محسوس ہوتی تھی۔ اب سمجھ میں آیا کہ پریشان خیال آدمی پورے ماحول کو پریشان خیال کر دیتا ہے اور آج تو پریشان خیالی ہر شخص کے چہرہ اور ماحول کے ہر ذرہ سے عیاں تھی۔ فجر کی نماز پڑھ کر دائیں جانب نظر پڑی تو میاں خان محمد سرگانہ کے عزیز نوجوان جناب طاہر صاحب نماز پڑھ رہے تھے۔ وہ سلام پھیر کر مصافحہ کے لئے تشریف لائے۔ فقیر نے ان سے عرض کیا کہ صاحبزادہ مولانا عزیز احمد صاحب سے عرض کرنا ہے کہ: ”اللہ وسایا عرض کرتا ہے کہ قبلہ حضرت صاحبؒ کے غسل و کفن کے عمل میں اگر سہولت سے ممکن ہو تو مجھے بھی شریک کیا جائے۔“ اب مسجد میں مولانا قاضی احسان احمد اور دوسرے حضرات سے ملاقات ہو گئی۔ حضرت ناظم اعلیٰ صاحب کا بھی معلوم ہوا کہ وہ تشریف لاچکے ہیں۔ مسجد سے قبلہ حضرت صاحبؒ کی مسند نشینی کے کمرہ کے دروازہ پر آیا۔ وہ مقفل ، چاروں جانب ساتھیوں کا ہجوم، وہیں قبلہ حضرت صاحبؒ کے کمرہ کے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
دروازہ پر برآمدہ میں بیٹھ گیا۔ آٹھ بجے کے لگ بھگ مولانا محمد کامران شریک دورہ حدیث باب العلوم کہروڑ پکا، جو قبلہ حضرت صاحبؒ کا خادم بھی رہا ہے۔ وہ آیا اور اکیلے مجھے ساتھ چلنے کے لئے کہا۔ وہاں سے مدرسہ، وہاں سے ڈیرہ، وہاں سے صاحبزادہ سعید احمد صاحب کے گھر کے سامنے کے راستہ سے قبلہ حضرت صاحبؒ کے کمرہ میں لے گیا۔ وہاں مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب کے علاوہ چاروں صاحبزادگان، یوسف صاحب، حکیم سلطان صاحب، قاری عبدالرحمن صاحب اور کوئی ایک آدھ ساتھی اور بھی ہوگا موجود تھے۔ اب قبلہ حضرت صاحبؒ کے جسد خاکی کو جہاں غسل دینا تھا وہاں لے گئے۔ صاحبزادہ خلیل احمد صاحب وصاحبزادہ سعید احمد صاحب تو مہمانوں کی آمد کے شدید دباؤ پر باہر تشریف لے گئے۔ صاحبزادہ رشید احمد، صاحبزادہ نجیب احمد صاحب اوّل سے آخر تک غسل کے عمل میں شریک کار رہے۔ پانی ڈالنے کی ڈیوٹی قاری عبدالرحمن نے لی۔ وضو کرانے کی سعادت فقیر کے حصہ میں آئی۔ صابن لگانے میں یوسف، حکیم صاحب، فقیر اور دوسرے احباب شریک رہے۔ اس دوران میں کافی عمل مکمل ہو گیا تو فقیر نے پاؤں دھونے کی ڈیوٹی سنبھال لی۔ قاری عبدالرحمن نے پانی ڈالا۔ فقیر نے پانی میں آنسوؤں کی آمیزش شامل کر کے صابن لگایا۔ لو صاحب اس عمل سے بھی فارغ ہو گئے۔ اب جسم مبارک کو خشک کرنے کے لئے سر مبارک سے کندھوں تک کا حصہ فقیر نے سفید کپڑا سے خشک کیا۔ باقی بھی ہر ساتھی اس سعادت میں شریک رہا۔ اب آپ کو کفنانے کے لئے پہلے سے تیار شدہ چارپائی پر لایا گیا۔ کیا خوبصورت لگ رہے تھے۔ کیا سفید کپڑے کفن کے آپ پر سج رہے تھے۔ اب دوبارہ آپ کو آپ کے کمرہ میں لایا گیا۔ آخری بار پھر شربت دیدار نصیب ہوا، اور پھر دل ترساں، چشم بریاں سے واپس خانقاہ شریف حضرت قبلہؒ کے کمرہ کے باہر برآمدہ میں آبیٹھا۔ کراچی سے حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، حضرت مولانا مفتی خالد محمود، حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی بمعہ جملہ برادران، مولانا محمد انس جلالپوری اور دیگر بہت سارے حضرات کے آنے کی لمحہ لمحہ کی خبر اور فون، معلوم ہوا کہ بلا مبالغہ درجنوں دوست تو عشاء سے فجر تک جتنے جہاز کراچی سے لاہور یا راولپنڈی آئے سب پر آتے گئے۔ اب مولانا محمد یحییٰ صاحب کی خبر سن کر نو تعمیر شدہ مدرسہ کے مہمان خانہ میں گئے۔ وہاں حضرت ناظم اعلیٰ صاحب، مولانا محمد عبداللہ بھکر اور دیگر بہت سارے حضرات کا جم غفیر جمع ہو گیا۔ اتنے میں جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا کے شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ بمع رفقاء تشریف لائے۔
قارئین! اب ناموں کے شمار کی بحث کو یہاں ختم کرتا ہوں کہ کون کون آئے۔ یہاں یہ بحث اصولاً غلط ہے۔ اس لئے کہ یہ سوال نہیں کہ کون آیا؟ اگر یہ سوال ہو تو بہت آسانی ہو جائے گی
www.amtkn.com www.facebook.com/amtkn313 www.emaktaba.info
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کہ کون نہیں آسکا؟ میرے خیال میں کوئی قابل ذکر بزرگ جسے بروقت اطلاع ہوئی اور وہ جنازہ میں شامل ہونے پر قادر تھا۔ وہ پیچھے نہیں رہا۔
مہمان خانہ میں رش ہوا تو فقیر پھر خانقاہ شریف آ گیا۔ قبرستان کی چار دیواری پر اینٹیں دیکھیں تو سمجھ میں آیا کہ قبر مبارک کی تیاری کا کام شروع ہے۔ وہاں چلا گیا تو ساتھیوں نے کرم کیا۔ اندر جانے کی اجازت مل گئی۔ اعلیٰ حضرتؒ کے پڑپوتے اور صاحبزادہ محمد حامد سراج کے بڑے صاحبزادے جناب محمد اسامہ کی سربراہی میں قبر مبارک کی کھدوائی و تیاری کا عمل جاری تھا۔ اب بہت دیر وہاں پر کھڑے ہونے کا موقعہ مل گیا۔ ایک بجے واپس آ کر حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ کے ہمراہ مولانا عبدالقدوس قارن کی امامت میں ظہر کی نماز مدرسہ کے مہمان خانہ میں پڑھی۔ اب جو نکلے تو رش اتنا بڑھ گیا تھا کہ بہت ہی مشکل سے قبرستان خاص کے شرق سے جنازہ گاہ کی طرف گئے۔ تیس ایکڑ سے زائد جگہ جنازہ پڑھنے کے لئے مختص تھی۔ وہاں تو رش الامان والحفیظ۔ لیجئے قارئین! اب میرے حضرت قبلہؒ کا سفر آخرت کا یہ مرحلہ بھی آپ کی آنکھوں کے سامنے آ جائے۔ توجہ فرمائیے:
- ۱...... تیس ایکڑ سے زائد جگہ جنازہ پڑھنے کے لئے مختص کیا گیا۔ لیکن جب
صفیں بنیں تو خانقاہ شریف کے شرق میں واقع نہر وسڑک تک جا پہنچیں۔
- ۲...... بہت سارے دوست ٹاہلی کے درختوں پر چڑھ کر صفوں کو دیکھنے لگے تو
انہوں نے گواہی دی کہ چہار جانب تاحد نگاہ انسان ہی انسان تھے۔
- ۳...... میانوالی ٹول پلازہ پر پنڈی سرگودھا سے آنے والوں کی صرف کاروں کا
چند گھنٹوں میں پینتیس ہزار سے زائد شمار ہوا۔ ملتان، مظفر گڑھ، ڈیرہ اسماعیل خان، بھکر، ڈیرہ غازیخان، کی طرف سے آنے والی کاریں جن کا ٹول پلازہ سے تعلق نہ تھا ان کی بھی اتنی تعداد تسلیم کر لی جائے تو ستر ہزار سے زائد صرف کاریں تھیں۔
- ۴...... یہی وجہ ہے کہ کندیاں موڑ سے خانقاہ شریف تک سڑک کے دونوں جانب
گاڑیوں کو پارک کیا گیا۔ خالی کھیتوں کے درمیان جو گاڑیاں تھیں وہ علاوہ ازیں۔
- ۵...... ایک مرحلہ آیا کہ میانوالی سے چشمہ تک ٹریفک میں گاڑیوں سے گاڑیاں
مل گئیں اور بجائے چلنے کے، رینگنے لگیں۔ کئی کئی گھنٹے وہاں پہنچنے میں لگے۔
- ۶...... پھر یہ بھی ہوا کہ کندیاں موڑ سے خانقاہ شریف لوگوں کو پیدل سفر کرنا پڑا
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
اور اس رش و ہجوم کو جس نے بھی دیکھا یہی کہا کہ کندیاں تا خانقاہ خلق خدا ایک دوسرے سے ملے ہوئے چل رہی تھی۔
- ۷...... پنجاب، بہاولپور سے پنڈی، اسلام آباد، اٹک، اکوڑہ خٹک، کشمیر، قصور،
فیصل آباد، لاہور تک ہمارے دینی جامعات سے کئی کئی بسوں پر اساتذہ و طلباء نے سفر کیا۔ ان کی تعداد بھی ستر ہزار کاروں کے ساتھ شامل کی جائے۔ تو سامعین کی تعداد لاکھوں پر مشتمل جا بنتی ہے۔ ستر ہزار کاریں ہوں، فی کار اوسطاً چار آدمی ہوں تو دولاکھ اسی ہزار افراد تو یہ بنتے ہیں۔ پیدل، بسوں، ٹرینوں، ویگنوں پر جو لوگ آئے ان کو بھی شامل کریں تو یہ بات درختوں پر چڑھنے کی صحیح لگتی ہے کہ چاروں جانب تاحد نگاہ انسان ہی انسان تھے۔ ایک سیلاب تھا جو امڈ آیا تھا۔
- ۸...... رب کریم کی شان بے نیازی کہ گذشتہ سال ۵ مئی ۲۰۰۹ء کو حضرت
مولانا سرفراز خان صفدرؒ کا وصال ہوا اور اس سال ۵ مئی ۲۰۱۰ء کو حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کا۔
- ۹...... یہ بھی عجیب تر ہے کہ جنازہ کی نماز سے کچھ دیر قبل، گویا جوں ہی جنازہ کی
گاڑی پنڈال میں آئی۔ اگلی صفوں کے سروں پر ابابیلوں جیسے چھوٹے چھوٹے پرندوں نے پرواز شروع کی۔ جونہی جنازہ ختم ہوا جنازہ گاڑی، جنازہ کو لے کر قبرستان کی جانب چلی تو پنڈال سے وہ پرندے بھی غائب ہوگئے۔
- ۱۰...... مئی اپنی گرمی کے اعتبار سے گرم، پھر میانوالی کی گرمی۔ لیکن اس دن صبح
سے شام تک موسم ایسا دلنواز و دلپسند، ٹھنڈا، روح افزاء کہ رب کریم کی سخاوت پر ہر شخص جھوم اٹھے۔ سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم!
چلئے صاحب! جنازہ کا ۲ بجے کا اعلان تھا ایک بجے سے لوگوں نے صفوں میں کھڑا ہونا شروع کر دیا دو بجے تو تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ اتنا وسیع پنڈال، سپیکر کا بھر پور، خوبصورت، جامع نظام، اتنے ہجوم کی صف بندی پر پون گھنٹہ صرف ہوا۔ پونے تین بجے مولانا صاحبزادہ خلیل احمد نے جنازہ کے لئے تکبیر تحریمہ کہی۔ اللہ اکبر! واقعی اللہ ہی بہت بڑا ہے۔
جنازہ ختم ہوا۔ اب واپسی قبرستان کی جانب کا تو تصور بھی نہ تھا۔ پرانے مدرسہ کی غربی جانب سے پھر مشرق کی جانب، مسجد و خانقاہ سے ہوتے ہوئے قبرستان پہنچا تو کسی اللہ کے بندہ کو ترس آگیا اور میرا مقدر جاگ اٹھا۔ دروازہ کھلا تو قبرستان میں جا پہنچا۔ اس وقت میرے حضرت قبلہؒ کو لحد میں لٹایا جا چکا تھا۔ سر مبارک سے پاؤں مبارک تک اس حالت میں پھر آخری دیدار، ہر چند کہ ضبط کے بندھن ٹوٹے۔ لیکن سوائے صبر کے چارہ نہ تھا۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
صاحبزادہ سعید احمد قبر میں کھڑے اینٹیں لگوا رہے تھے۔ نجیب میاں پاؤں، کی جانب بیٹھے محو دیدار۔ صاحبزادہ خلیل احمد مشرق کی جانب۔ صاحبزادہ رشید احمد مغرب کی سائیڈ پر رہے۔ صاحبزادہ عزیز احمد تو وہ مہمانوں میں گھرے، اب ہر لمحہ ہم اپنے حضرتؒ سے دور ہوتے چلے جا رہے تھے اور ہمارے حضرت قبلہؒ، اللہ تعالیٰ کے حضور قریب سے قریب تر ہوتے جا رہے تھے۔ اب اینٹوں کی لگوائی کا عمل مکمل ہوا۔ مٹی ڈالنے کا مرحلہ آیا تو صاحبزادہ عزیز احمد بھی پہنچ گئے۔ خانقاہ شریف کے احاطہ میں ہر شخص کو مٹی ڈالنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ کوئی مٹھی بھر کر، کوئی لپ بھر کر، کوئی بیلچے سے تو کوئی کَسّی سے مٹی ڈال رہا ہے۔ بڑے سکون محبت و احترام کے اس منظر پر دل پسیجا کہ کیا ہو رہا ہے۔ سیدہ فاطمۃ الزہراؓ، کا وہ قول یاد آیا کہ جب آپ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ تم کیسے آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک کو مٹی سے بھرنے پر آمادہ ہو گئے تھے۔ تم نے یہ کیسے گوارا کر لیا؟ لیکن جب سے دنیا بنی ہے۔ جب تک رہے گی۔ یہ عمل بھی برابر دھرایا جاتا رہے گا۔ ہر شخص اپنی سب سے قریبی شخصیت کو رحمت حق کے سپرد کرتا چلا جائے گا کہ آخر اس کے بغیر چارہ ہی کیا ہے۔ آدھی مٹی ڈل چکی تو فقیر وہاں سے پھر خانقاہ شریف آ گیا۔
اب جب قبر مبارک تیار ہو گئی تو شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمۃ اللہ علیہ کے سب سے بڑے صاحبزادہ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے الوداعی دعا کرائی۔ قبرستان و خانقاہ شریف کے احاطہ میں موجود ہر آدمی نے اس میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ اتنی دیر میں کیا سے کیا ہو گیا؟۔
خانقاہ سراجیہ کی مسند نشینی
حضرت قبلہؒ کی حیات مبارکہ میں شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ، قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن زیدہ مجدہ اور خود صاحبزادہ صاحبان نے حضرت قبلہؒ سے درخواست کی اور بار بار کی، شدومد اور اصرار کے ساتھ درخواستیں کیں کہ آپ اپنی جانشینی کے لئے فیصلہ فرما دیں۔ کوئی کمیٹی بنا دیں۔ نامزدگی یا کم از کم رائے مبارک کا اظہار فرما دیں۔ تاکہ بعد میں دقت نہ ہو۔ لیکن تکرار و اصرار کے باوجود حضرت قبلہؒ نے اس پر ایک لفظ بھی ارشاد نہیں فرمایا۔ البتہ اتنا فرما دیتے کہ: ’’اللہ تعالیٰ بھلی فرمائیں گے۔‘‘
اب حضرت قبلہؒ کے وصال کے بعد سب سے اہمیت کا حامل یہ مسئلہ تھا کہ جانشین کون ہوگا۔ ہر شخص کے پاس یہ سوال تھا۔ مگر جواب کسی کے پاس نہ تھا۔ ۶ مئی کو صبح جنازہ سے قبل مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ نے چاروں بھائیوں کو حضرت قبلہؒ کے کمرہ میں جمع کیا۔ حضرت قبلہؒ کے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
سب سے سینئر خلیفہ حاجی عبدالرشید صاحب مدظلہ کو بلا کر فرمایا کہ ہم پانچوں بھائی جمع ہیں۔ میں سب کی طرف سے آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ، ہمارے والد مرحوم کے سب سے قریبی ساتھی اور خادم ہیں۔ آپ ہم پانچوں بھائیوں میں سے جس کو مناسب سمجھیں یا ہمارے علاوہ حضرت قبلہؒ کے پانچوں خلفاء:۱...... حاجی عبدالرشید رحیم یار خان۔۲...... مولانا نذر الرحمن رائے ونڈ۔ ۳...... مولانا عبدالغفور ٹیکسلا۔۴...... مولانا محبّ اللہ لورالائی۔۵...... مولانا گل حبیب لورالائی۔ میں سے جسے چاہیں حضرت قبلہؒ کی مسند پر بٹھادیں۔ ہم پانچوں بھائی آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ان دونوں صورتوں میں سے ہم بھائیوں سے کوئی ناخوشگوار امر آپ کو درپیش نہ آئے گا۔
جناب حاجی عبدالرشید صاحب نے اس پر خوشی وانبساط کا اظہار کیا اور فرمایا کہ مجھے اپنے شیخ حضرت قبلہؒ کی اولاد سے اسی کی توقع تھی۔ آپ نے بہت مستحسن فیصلہ کیا۔ میری رائے ہے کہ اس وقت جانشین مولانا صاحبزادہ عزیز احمد ہوں۔ پھر مولانا صاحبزادہ خلیل احمد اور پھر صاحبزادہ نجیب احمد۔ یہ سن کر صاحبزادہ مولانا عزیز احمد نے فرمایا کہ یہ فیصلہ سر آنکھوں پر۔ لیکن اعلان سے قبل باقی چاروں خلفاء سے مشورہ کے بعد آپ یہی یا علاوہ ازیں جو فیصلہ فرمائیں وہ ٹھیک ہے اور ہوگا۔ لیکن سب خلفاء سے صادر کرانے کے بعد۔ تاکہ پھر اس پر کوئی اعتراض کی گنجائش نہ رہے۔ چنانچہ ۷؍ مئی ظہر کی نماز تک کے لئے اعلان کو موقوف کر دیا گیا۔ اب جنازہ کا مرحلہ تھا۔ حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے مولانا صاحبزادہ خلیل احمد کا خود اعلان کر کے ان سے حضرت قبلہؒ کا جنازہ پڑھوا دیا۔
اللھم ولک الشکر ولک الحمد! کہ یہ مرحلہ بھی بخیروخوبی طے ہو گیا۔
۷؍ مئی کو ظہر سے قبل جناب حاجی عبدالرشید صاحب نے پانچوں صاحبزادہ صاحبان کو جمع کیا اور فرمایا کہ تمام حضرات سے مشاورت کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد اور مولانا صاحبزادہ خلیل احمد کو خلافت دے دی جائے اور خلافت کے ساتھ جانشینی مولانا صاحبزادہ خلیل احمد کے سپرد کر دی جائے۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ ڈھاکہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جمعیت علماء اسلام کے امور کے سربراہ ہوں گے۔ صاحبزادہ رشید احمد لاہور مرکز سراجیہ کے مسؤل اور صاحبزادہ سعید احمد لنگر خانہ کے حسب سابق انچارج ہوں گے۔ رہے صاحبزادہ نجیب احمد تو وہ رابعاً حسب سابق خانقاہ کے بموجب تمام بھائیوں کے مفوضہ امور میں تعاون کریں گے۔ پانچوں بھائیوں نے اس پر صاد کیا۔ چنانچہ ظہر کی نماز کے بعد پانچوں بھائیوں کو مسجد میں جمع کیا گیا۔ اتنے میں مولانا فضل الرحمٰن بھی تشریف لائے۔ بہت مناسب ہوگا کہ اس موقع پر حضرت مولانا فضل الرحمٰن کا شکریہ ادا کر دیا جائے کہ خانقاہ سراجیہ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
جملہ وابستگان پر مولانا نے احسان کیا یا یہ کہ حضرت قبلہؒ کے احسانات کے باعث انہوں نے بہت ہی اپنائیت کا ثبوت دیا۔ تینوں دن ۶، ۷، ۸؍ مئی کو پورا پورا دن خانقاہ شریف گزارتے۔ شام کو گھر تشریف لے جاتے اور اگلے دن پھر خانقاہ شریف۔ اس سے تمام وابستگان کو بہت حوصلہ ملا۔
اب ۷؍ مئی کو جب تمام صاحبزادہ صاحبان کو جمع کر لیا گیا تو مولانا گل حبیب کی درخواست پر خلفائے کرام کے فیصلہ کا مولانا فضل الرحمن نے اعلان کیا۔ اتنی خوبصورت گفتگو فرمائی۔ (وہ بھی آخر میں شامل اشاعت ہے) مولانا کے اعلان کے بعد جناب حاجی عبدالرشید صاحب نے سب سے پہلے مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب کو خلافت دینے کا اعلان کیا اور دستار خلافت پہنائی۔ اس کے بعد مولانا صاحبزادہ خلیل احمد کو خلافت دینے کا اعلان کیا۔ دستار خلافت ان کے سر پر رکھی اور آپ کی جانشینی کا بھی اعلان کر دیا۔
اس موقعہ پر موجود بہت سارے وابستگان حضرت قبلہؒ نے مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب کے ہاتھ مبارک پر تجدید بیعت کی۔ اب حضرت قبلہؒ کی صحت کے زمانہ کے معمولات کے مطابق مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے خانقاہ شریف کے معمولات کو جاری رکھا ہوا ہے۔ اللہ رب العزت خانقاہ شریف کے بانی حضرات کی اس نشانی و کار خیر کو تا ابد جاری و ساری آباد و شاد رکھے۔ آمین!
اگلے روز ۸؍ مئی کو بھی حضرت قبلہؒ کے خاندان و برادری و علاقہ کے لوگوں کا مسجد میں اکٹھ ہوا۔ حضرت قبلہؒ کے بڑے صاحبزادہ ہونے کے ناتہ سے خاندان و برادری کے معاملات کو چلانے کے لئے خاندان و برادری کے لوگوں نے صاحبزادہ مولانا عزیز احمد صاحب کے سر مبارک پر حضرت قبلہؒ کی دستار رکھی اور برادری میں آپ کو حضرت قبلہؒ کا جانشین تسلیم کرنے کی رسم پوری کی۔
حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب کے ذمہ حضرت قبلہؒ کے زمانہ سے مجلس کے جو کام تھے وہ آپ سر انجام دیتے رہیں گے۔ بلکہ آئندہ کے لئے مزید اپنی صلاحیتوں سے مجلس کی بہتری کے لئے دن رات ایک کریں گے۔ اللہ تعالیٰ توفیق رفیق فرمائیں۔ آمین!
حضرت قبلہؒ کے وصال پر تمام صاحبزادہ صاحبان کا دل گرفتہ ہونا، مغموم ہونا فطری امر تھا۔ صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نے بڑے پن کا ثبوت دیا۔ تمام مہمانوں کو سنبھالا، چھوٹے تمام بھائیوں کو حوصلہ دیا۔ صاحبزادہ خلیل احمد، صاحبزادہ رشید احمد بہت مغموم تھے۔ لیکن صاحبزادہ سعید احمد صاحب جو حضرت قبلہؒ کے بہت ہی لاڈلے تھے۔ انہوں نے تو رو رو کر خود کو ہلکان کر لیا۔ صاحبزادہ نجیب احمد صاحب محو حیرت تھے کہ پل بھر میں کیا سے کیا ہو گیا۔ لیکن تمام بھائیوں نے آپ کی جانشینی پر متفق ہو کر ایسا کارنامہ سر انجام دیا ہے جو انشاء اللہ حضرت قبلہؒ کی روح مبارک کے
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
لئے بھی خوشنودی کا باعث بنے گا۔ اللہ رب العزت خانقاہ سراجیہ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، جمعیت علماء اسلام، تمام دینی اداروں، مساجد و مدارس کے حامی و ناصر ہوں۔ لیجئے! آخر میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا وہ بیان جو آپ نے ۷؍ مئی ۲۰۱۰ء مسجد خانقاہ سراجیہ میں مسند نشینی کے فیصلہ کے موقع پر کیا پیش خدمت ہے۔
حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم کا خطاب
الحمدللہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علی سید الرسل وخاتم الانبیاء، اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم ۰ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۰ وما محمد الا رسولٌ قد خلت من قبلہ الرسل افان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علیٰ عقبیہ فلن یضر اللہ شیئاً وسیجزی اللہ الشاکرین ۰ صدق اللہ العظیم!
حضرات علماء کرام، قبلہ حضرت صاحبؒ کے تمام خلفاء اور متوسلین و معتقدین! حضرت صاحبؒ کا وجود مسعود، ہمارے لئے ایک بہت بڑا گھنا سایہ تھا۔ آج وہ سایہ ہمارے سروں سے اٹھ چکا ہے۔ تاریخ میں انبیاء علیہم السلام ان کی سرپرستی اور قیادت سے امت محروم ہوئی ہے اور یہ محرومی امت کا بہت بڑا خسارہ تصور کیا جاتا تھا۔ آج حضرتؒ کی رحلت ایک بار پھر پوری امت کے لئے ایک بہت بڑا خسارہ ہے۔ پوری امت کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا ہے اور اس کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں کہ اپنے رب سے صبر کی دعا کریں۔ اللہ سے تسلی مانگیں، اللہ رب العزت کے علاوہ ان غمزدہ دلوں کو کوئی اور تسلی نہیں دے سکتا۔ حضرت کی جدائی سے ان کے متعلقین و متوسلین کو جو صدمہ پہنچا ہے۔ اس صدمے کا ازالہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و مہربانی سے ہی کر سکتا ہے۔ حضرت کا یہ سانحۂ ارتحال صرف اس خانقاہ کا نقصان نہیں ہے۔ صرف حضرت کی اولاد کا نقصان نہیں ہے بلکہ یہ پوری امت کا نقصان ہے اور کل کے جنازے کے اجتماع میں لوگوں کا یہ ہجوم اور تاحد نظر انسانوں کے سر ہی، یہ خالصتاً حضرتؒ سے عقیدت اور روحانی تعلق ہی تھا کہ اس دنیا میں اس تعلق سے بڑھ کر اور کوئی تعلق نہیں ہے۔ حضرتؒ نے دنیا کی یہ محبت کیسے حاصل کی۔ یہ جہاں جہاں کی محبتیں اور روحانیت اور یہ تمام عالم کا غمگین ہونا، آخر یہ کیا چیز تھی؟ یہ خاموش مبلغ جنہوں نے کبھی کسی جلسے میں خطاب نہیں کیا۔ کبھی پند و نصیحت کی محفلیں نہیں جمائیں۔ اس کے باوجود ان کا یہ خاموش پیغام کس طرح لوگوں کے دلوں کے اندر جاہ گزیں ہوا؟ حضرت نے اپنے احساسات کو کس طرح لوگوں
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ۳۴۲ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
کے دلوں کی گہرائی تک پہنچایا؟ یقیناً یہ اللہ کی دین تھی۔ اللہ نے آپ کے اندر جو صلاحیت پیدا کی۔ یہ اسی کا اثر تھا اور آج دنیا جو غم میں ڈوبی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ یہ حضرت کا اخلاص تھا جو آپ نے اپنے نصب العین، اپنے مشن اور اپنے کاز کے ساتھ ثابت کر کے دکھا دیا اور حضرت نے کس کس طرح لوگوں کو کھینچ کھینچ کر اپنے رب کے ساتھ ملایا۔ اپنے رب کے ساتھ مخلوق کا رشتہ جوڑنے میں حضرت کا کتنا عظیم کردار ہے۔ جو آج ہر شخص اپنی آنکھ سے دیکھ سکتا ہے۔
میرے محترم دوستو! ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے کہ دنیا میں جو بھی آیا، جانے کے لئے آیا۔ ہمیشہ ہمیشہ یہاں رہنے کے لئے کوئی بھی نہیں آیا۔ کتنے عظیم عظیم لوگ دنیا میں آتے رہے اور جاتے رہے اور اکابر کی ساری زندگی کی تعلیم و تربیت جو انہوں نے ہمیں دی ہے۔ آج اس پر ہماری توجہ نہیں رہی کہ انہوں نے ہمیں کیا سمجھایا۔ اللہ رب العزت نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کو جو تعلیم دی وہ ہم سب کے لئے تعلیم ہے اور ہمارے اکابر نے بھی ہمیں وہی تعلیم دی ہے۔ رسول اللہﷺ اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنی اپنی امتوں کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نہیں رہے۔ موت کا یہ پردہ بہر حال درمیان میں حائل ہو گیا اور ایک جدائی درمیان میں آئی۔ اگر ہم اپنے اکابر کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں اور ان کی عقیدت کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو پھر جس نصب العین کے ساتھ حضرتؒ وابستہ تھے تو ہم بھی اسی نصب العین کے ساتھ وابستہ رہیں۔ اب اگلی بات یہ ہے کہ ہم حضرتؒ کی روح کا تصور کریں کہ حضرتؒ ہمارے اوپر بہت بڑا بوجھ چھوڑ گئے ہیں کہ جس چیز پر انہوں نے ہمیں کھڑا کیا ہے۔ یہ ہمارا امتحان ہے کہ ہم اس چیز پر قائم رہتے ہیں یا نہیں۔ اب ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اس سلسلہ کو آگے چلائیں۔ اس کو قائم دائم رکھیں۔ جب بھی اس قسم کے اکابر دنیا سے جاتے ہیں تو پھر پوری جماعت میں یہ فکر دامن گیر ہو جاتی ہے کہ ان کا جانشین کون ہوگا؟ اس کام کو کون سنبھالے گا؟ اس نظم کو کون سنبھالے گا؟
”وَ اِذِ ابْتَلٰی اِبْرَاہِیْمَ رَبُّہٗ بِکَلِمَاتٍ فَاَتَمَّہُنَّ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَاماً قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ قَالَ لَا یَنَالُ عَہْدِی الظَّالِمِیْنَ“ قرآن کریم کی اس آیت میں ایک زریں اصول بیان کیا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا امتحان لیا اور وہ اس امتحان میں پورے اترے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عظیم الشان مرتبہ عنایت فرمایا اور فرمایا: ”اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَاماً“ تو ابراہیم علیہ السلام نے بتقاضۂ بشریت فرمایا: ”وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ“ تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”لَا یَنَالُ عَہْدِی الظَّالِمِیْنَ“ نااہل ہمارے عہد کے قریب بھی نہیں آسکتے۔
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
ہمارے اکابر نے اپنی زندگی میں اسی اصول پر عمل کیا۔ محض خاندانی خلافت پر نہیں کیا۔ اگر صلاحیت اور اہلیت ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ نہیں اور آج ہمیں خوشی ہے اور ہمیں فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرتؒ کو اولاد دی۔ الحمدللہ! باصلاحیت دی اور ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس خانقاہ کے فیض کو اسی خاندان میں جاری و ساری رکھے۔ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے اور ہمیں خوشی ہوگی۔
ہمارے صاحبزادہ عزیز احمد صاحب، صاحبزادہ خلیل احمد صاحب، صاحبزادہ رشید احمد صاحب، صاحبزادہ سعید احمد صاحب، صاحبزادہ نجیب احمد صاحب اور جہاں تک میرا ذاتی تعلق ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایک باپ کو اپنی اولاد کے لئے جو فکر دامن گیر ہوتی ہے میں نے وہی فکر اپنے لئے پائی ہے اور میں خود کو اس خاندان کا فرد تصور کرتا ہوں۔ میرے پاس کسی نے موبائل پر میسج بھیجا کہ آپ دوسری مرتبہ یتیم ہو گئے ہیں۔ اس نے یہ ٹھیک سمجھا، اور مجھے یہ تعلق میرے والد محترمؒ کی طرف سے منتقل ہوا۔ ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں۔ یہ طوفانوں کا میدان ہے۔ میں ہر جگہ یہ گواہی دوں گا کہ جب بھی کوئی طوفان ہماری طرف آنے لگا تو حضرتؒ اس طوفان کے سامنے پہاڑ تھے۔ تو پھر ہم کیوں نہ کہیں کہ ہم نے اتنی بڑی متاع کھو دی ہے۔ وہ میرے لئے اتنی بڑی متاع تھے۔ میں اتنی بڑی متاع سے محروم ہوا ہوں۔ لیکن بہر حال ہمارے صاحبزادگان کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے حضرت کو ایسی طاقت دی تھی کہ حضرت نے اس صحرا میں جو دنیا کی محبت اور فریفتگی جمع کر رکھی ہے اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ بہر حال اب یہ آپ کا امتحان ہے اور آپ کے رویوں پر دارومدار ہے کہ یہ حضرات خوب سے خوب حالت پر برقرار رہیں۔ پہلے اپنے گھر میں بھائیوں میں اور خاندان کے لوگ ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔ ایک دوسرے سے محبت کا تعلق قائم رکھیں۔ پورے ماحول کو سنبھالیں۔ کل میں ایک کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا۔ جس میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا اثر منقول تھا۔ حدیث تو لمبی ہے اس کا ایک ٹکڑا ہے اس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ فرمایا: ”ما تکرهون فی الجماعة خیر مما تحبون فی الفرقة“ جماعت کے اندر کوئی ناپسندیدہ چیز اکیلے ہونے کی حالت میں پسندیدہ چیز سے بہتر ہوتی ہے۔ یعنی ساری خیر جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کی صورت میں ہی ہے۔
میں آج جب ظہر کی نماز میں شامل ہوا تو مجھے بتایا گیا کہ حضرتؒ کے خلفاء کے مشورہ سے خصوصاً حضرتؒ کے بڑے خلیفہ حاجی عبدالرشید صاحب جو حضرتؒ کے ہم عصر بھی ہیں اور حضرت کے شانہ بشانہ بھی رہے ہیں اور حضرت کے دوست بھی ہیں اور انتہائی قریبی خلفاء میں سے ہیں اور میں
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
تذکرہ خواجہ خواجگان رحمۃ اللہ علیہ ameer@khatm-e-nubuwwat.com
جب ان کو دیکھتا ہوں تو خیال ہوتا تھا کہ وہ حضرت کے مزاج کو خوب سمجھتے ہیں۔ حضرت خود خاموش رہتے تھے اور اگر کسی کو نصیحت کرنی ہوتی تو حاجی صاحب نصیحت کرتے تھے اور اگر کسی کو ڈانٹنا ہوتا تو بھی یہی ڈانٹتے تھے اور یہ سب ہماری خوش قسمتی ہے۔ اس وقت اس ماحول میں ہمارے پاس ایک ایسے رہنما موجود ہیں جو حضرت کے مزاج کو بھی جانتے ہیں۔ خاندان کو بھی جانتے ہیں اور گھر کے ماحول کو بھی جانتے ہیں اور سب کاموں سے بڑھ کر مجھے اس بات پر خوشی ہوئی کہ خانقاہ کی ذمہ داری اور حضرت کی خلافت کے لئے اور حضرت کے اس سلسلہ کو آگے بڑھانے کے لئے حضرات کی مشاورت کے ساتھ صاحبزادہ مولانا خلیل احمد صاحب کو منتخب کیا ہے۔ نعرہ تکبیر ...... اللہ اکبر!
اور ختم نبوت کا کام اور خانقاہ سراجیہ ڈھاکہ، بنگلہ دیش اور انگلینڈ وغیرہ بیرون ممالک سے متعلقہ معاملات صاحبزادہ عزیز احمد صاحب کے سپرد کئے گئے ہیں کہ وہ ان تمام معاملات کو آگے بڑھائیں۔ میں نے یہ پہلے عرض کیا کہ تمام معاملات کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ پہلے حضرت صاحبؒ ان کاموں کو بخوبی انجام دیتے رہے اور آج اتفاق رائے اور دعا کے ساتھ اس معاملے کو طے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے بھائی خلیل احمد صاحب کو اس پر استقامت نصیب فرمائے اور خلافت کے بعد اس کام کو آسان فرمائے اور ہمیشہ کے لئے مرجع خلائق بنائے اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے کہ گھر کے اندر سے گرم ہوائیں باہر نہ جائیں۔ محبت کی ہوائیں چلیں۔ اتحاد کی ہوائیں چلیں اور اللہ تعالیٰ ان سب کو آباد رکھیں اور قائم ودائم رکھیں اور میرے خیال میں آپ سب کی رائے میرے ساتھ ہو گی۔ سب کی طرف سے تائیدی جواب بلند ہوا۔ انشاء اللہ!
اس کے بعد حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور حضرت خلیفہ حاجی عبدالرشید صاحب نے اپنے دست مبارک سے حضرات کی دستار بندی کرائی۔
اسی پر فقیر اپنی اس حقیر قلمی جدوجہد کو ختم کرتا ہے۔ حق تعالیٰ شانہ، حضرت قبلہؒ کی تربت پر اپنی رحمتوں کی بارش فرمائیں۔ آپ کی اولاد، خانقاہ سراجیہ، مدرسہ سراجیہ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، جمعیت علماء اسلام کے اللہ تعالیٰ حامی و ناصر ہوں۔
کل جس ذات گرامی سے ہر شخص دعا کراتا تھا۔ آج سبھی ان کے لئے دعا کر رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی ان کا ساتھ نصیب فرمادے۔ آمین بحرمۃ النبیؐ الکریم!
محتاج دعا: فقیر اللہ وسایا!
۲۲؍ رمضان المبارک ۱۴۳۱ھ، مطابق ۲؍ ستمبر ۲۰۱۰ء
www.emaktaba.info www.facebook.com/amtkn313 www.amtkn.com
www.amtkn.com
عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت
Aalmi Majlis Tahaffuz Khatm-e-Nubuwwat
www.khatm-e-nubuwwat.com
www.laulak.info
www.khatm-e-nubuwwat.info
www.facebook.com/amtkn313
www.emaktaba.info
sitemap
kn apps
contact us
facebook.com/amtkn313 www.laulak.info www.khatm-e-nubuwwat.info www.khatm-e-nubuwwat.com kn apps
فیس بک ماہنامہ لولاک ہفت روزہ ختم نبوت مرکزی ویب سائٹ ختم نبوت ایپ
Contact us Sitemap E-Maktaba Online Course kk Course
رابطہ سائٹ میپ ای مکتبہ خط و کتابت آن لائن کورس خط و کتابت کورس
عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت
/amtkn313
www.emaktaba.info
WWW.AMTKN.COM
ameer@khatm-e-nubuwwat.com