قادیانیوں سے تعلقات کی شرعی حیثیت · مولانا مشتاق احمد
Qadinainio say Taluqat ki Sharai Haseyat · Idarah Dawat-o-Irshad
PDF 1

قادیانیوں سے تعلقات

کی شرعی حیثیت

تحریر

مولانا مشتاق احمد

استاذ درجہ تخصص فی رد القادیانیۃ

حسب حکم

سفیر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی

ناشر

شعبہ نشر و اشاعت ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ پاکستان

فون: 0466-332820 فیکس: 0466-331330

صفحہ 1

تقریظ سفیر ختم نبوت، فاتح قادیانیت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی

جنرل سیکرٹری انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ، پاکستان

ہفت روزہ شمشیر آزاد کشمیر کے مدیر نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں سے تعلقات کی شرعی حیثیت کے عنوان پر عقلی و نقلی دلائل سے مزین ایک مضمون تحریر کروں۔ بندہ نے اپنی مصروفیات کے پیش نظر اپنے عزیز مولانا مشتاق احمد استاد درجہ تخصص فی ردّ القادیانیہ کے ذمہ لگایا۔ انہوں نے بڑی محنت کر کے نقلی اور عقلی دلائل پر مشتمل مفصل مضمون تیار کر لیا۔ جو ہفت روزہ شمشیر کے خصوصی ختم نبوت نمبر بابت رمضان المبارک ۱۴۲۴ھ میں اشاعت پذیر ہو گیا۔ خیال ہوا کہ اس مفید مضمون کو علیحدہ رسالہ کی شکل میں بھی شائع کرایا جائے۔ اکثر مسلمان یہ سوال کیا کرتے ہیں۔ مختصر جواب تو دے دیا جاتا ہے لیکن تسلی کیلئے تفصیلی جواب کی ضرورت ہے۔

ہفت روزہ شمشیر کی اسی اشاعت میں شہید ختم نبوت حضرت العلامہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ کا ایک مضمون سوال و جواب کی صورت میں شائع ہوا ہے۔ وہ بھی بہت مفید ہے۔ اسے بھی ساتھ شامل کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح اسی شمارہ میں پروانہ ختم نبوت، عاشق رسول ﷺ عزیزم طاہر عبدالرزاق جو بے شمار کتب کے مصنف ہیں اور ختم نبوت کے محاذ پر ایک کامیاب جرنیل کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کے دو مضامین ”شیزان سے بائیکاٹ“ اور ”قادیانی نواز مسلمان کون؟“ بھی شائع ہوئے۔ انہیں بھی اسی رسالہ میں شائع کیا جا رہا ہے۔ اور ان چاروں مفید مضامین پر مشتمل یہ رسالہ ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔

قادیانیوں کی اگر شرعی حیثیت واضح ہو جائے تو ان سے تعلقات کا مسئلہ خود بخود حل ہو جاتا ہے۔ دوسرے کفار اور قادیانیوں میں ایک بڑا واضح فرق ہے۔ قادیانی شرعی نقطہ نگاہ سے زندیق اور مرتد ہیں۔ زندیق اس کافر کو کہتے ہیں جو شرعی اصطلاحات و الفاظ تو نہ بدلے ان کے اجماعی اور متفق علیہ مفہوم کو بدل دے۔ مثلاً ختم نبوت، نزول مسیح، معراج اور جہاد کا انکار تو نہ کرے۔ ان کے اجماعی مفہوم کو بدل کر نئے مفہوم اور مطالب بیان کرے۔ جو حقیقت میں اجماعی معنی اور مفہوم کا انکار ہوتا ہے۔ اور وہ کفر ہے۔ دوسرے آسان لفظوں میں یہ سمجھ لیں کہ وہ کفر کا نام اسلام رکھ لے۔ اس لئے اس تعریف کی رو سے ہر قادیانی زندیق ہے اور

صفحہ 2

جو مسلمان سے قادیانی ہو، وہ مرتد بھی ہے اور زندیق بھی۔ مرتد اور زندیق شریعت میں بالاتفاق دونوں واجب القتل ہیں۔ اسلامی سرزمین پر ان کا ناپاک وجود برداشت نہیں ہے۔ وہ زندہ رہنے کا حق ہی نہیں رکھتے چہ جائیکہ ان سے تعلقات اور بائیکاٹ کا مسئلہ دریافت کیا جائے۔ اسلامی سلطنت میں وہ زندہ رہ ہی نہیں سکتے۔ اب اگر اسلامی ممالک میں اس شرعی حکم کے مطابق عمل نہیں ہے اور وہ زندہ رہ رہے ہیں اور کاروبار بھی دوسرے کافروں کی طرح کر رہے ہیں یا وہ غیر اسلامی ممالک میں موجود ہیں تو پھر یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سے تعلقات رکھنے شرعاً کیسے ہیں؟ اس رسالہ میں اس سوال کا جواب مدلل طور پر دیا گیا ہے۔

قادیانیوں اور دوسرے کافروں میں ایک اور بڑا واضح فرق موجود ہے۔ ہر کافر اپنے آپ کو غیر مسلم کہتا ہے اور ہمیں مسلمان کہتا اور مانتا ہے۔ لیکن قادیانی ایسے کافر ہیں جو ہم سب مسلمانوں کو جو ان کے مسیح دجال قادیانی پر ایمان نہیں لائے، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج یقین کرتے ہیں۔ ہمیں کافر اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ پھر وہ ہمیں صرف کافر اور جہنمی ہی نہیں کہتے بلکہ تمام وہ مسلمان جو ان کے مزعوم نبی مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لائے ان کے نزدیک کنجریوں اور بازاری عورتوں کی اولاد ہیں۔ کوئی اور کافر، مسلمانوں کو ایسا نہیں کہتا اور نہ ہی ایسا سمجھتا ہے۔ اب غیرت کا تقاضا بھی ہے کہ جو شخص آپ کو، آپ کے ماں باپ، دادا دادی، استاد پیر، حتیٰ کہ مرکز اسلام مکہ مدینہ کے آئمہ کرام کو بھی کافر جہنمی اور کنجریوں کی اولاد کہتا ہو، ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، کاروبار کرنا، کھانا پینا، اس سے بڑی بے غیرتی اور بے حیائی کیا ہے؟ وہ تو آپ کو، آپ کے ماں باپ، دادا دادی کو کنجر اور حرام زادہ کہتا ہو اور آپ اس سے تعلقات قائم کیے ہوئے ہوں، یہ بے غیرتی کی انتہا ہے۔ اس سے تو ڈوب مرنا بہتر ہے۔

دوسری بات جو قابل غور ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہر قادیانی اپنی آمدنی سے ایک معقول اور مقرر حصہ جماعت کے اشاعتی اور تبلیغی پروگرام کے لئے وقف کرتا ہے۔ اب جو مسلمان ان سے کاروبار کرے گا، ان سے کوئی چیز بنوائے یا خریدے گا تو اس کفر کی اشاعت میں اس مسلمان کا بھی حصہ ہو جائے گا۔ جس کا گناہ ہونا بڑا واضح ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ شرعی نقطہ نگاہ سے بھی ان سے تعلقات حرام ہیں۔ اور غیرت کے لحاظ سے بھی ایک باغیرت انسان ایسے انسان سے جو ان کو کنجریوں کی اولاد سمجھتا ہو، تعلق نہیں رکھ سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے!

منظور احمد چنیوٹی عفا اللہ عنہ

مورخہ: 9 جنوری 2004ء

صفحہ 3

قادیانیوں سے تعلقات کی شرعی حیثیت

اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں بے مقصد نہیں بھیجا کہ وہ کھائے، پیئے اور مزے اڑائے۔ بلکہ انسان سے مطلوب یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام پہلو، اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کر کے گزارے۔ اس مقصد کیلئے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں حق کو قبول کرنے کی فطری استعداد رکھی ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا۔

وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذاریات ۵۶)

ترجمہ: ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔“

اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ ارشاد فرمایا۔

قل ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی لله رب العلمین۔ (الاعراف ۱۶۲)

ترجمہ: ”(یہ بھی) کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خدائے رب العالمین ہی کے لئے ہے۔“

نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں چند یہودی مسلمان ہوئے۔ وہ احکام اسلام کے ساتھ تورات کے احکام کی رعایت بھی کرنا چاہتے تھے۔ مثلاً ہفتہ کے دن کو بڑا عظمت والا سمجھنا، اونٹ کے دودھ اور گوشت کو حرام خیال کرنا اور تورات کی تلاوت کرنا۔ ان کی اصلاح کے لئے یہ آیت نازل ہوئی۔

یأیها الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافة ولا تتبعوا خطوات الشیطن انه لکم عدو مبین (البقره ۲۰۸)

ترجمہ: ”مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے۔“

یہ آیت اپنے شان نزول کے اعتبار سے اگرچہ خاص ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے۔ اس آیت میں ان مسلمانوں کو بھی تنبیہہ ہے جو اسلام کو صرف عبادات کے لئے اختیار کرتے ہیں اور معاشی پروگرام اور معاشرتی نظم کے لئے کافروں کے نظام کو پسند کرتے ہیں۔

اسی طرح یہ آیت ان لوگوں کو بھی شامل ہے جو مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کی محبت واطاعت کا دم بھرتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف کافروں سے مل کر کھاتے پیتے ہیں،

صفحہ 4

کافروں سے رشتے ناطے کرتے ہیں ان سے مل کر کاروبار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ مومنوں والی زندگی نہیں گزار رہے بلکہ منافقانہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ سے محبت کا مطلب ہے کافروں سے نفرت۔ جیسے یہ ناممکن ہے کہ آدمی اپنے باپ سے بھی محبت کرے اور اس کے جانی دشمنوں کو بھی عزیز سمجھے۔ اسی طرح ایک مسلمان ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ نبی کریم ﷺ (جو کہ امت کے روحانی باپ ہیں) سے بھی محبت کرے اور ان کے منکروں اور دشمنوں سے بھی۔ اگر کوئی شخص ایسا طرز عمل اختیار کرتا ہے تو وہ نبی کریم ﷺ اور اسلام کا خیر خواہ نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کے گروہ کا رکن ہے۔

کافروں سے تعلقات قرآن مجید کی روشنی میں

ذلك فليس من الله فى شىء الا ان تتقوا منهم تقة (آل عمران ۲۸)

ترجمہ: ”مومنوں کو چاہیے کہ مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس سے خدا کا کچھ (عہد) نہیں۔ ہاں! اگر اس طریق سے تم ان (کے شر) سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو (تو مضائقہ نہیں)“۔

تشریح: علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اس آیت کی تفسیر لکھتے ہیں۔

”جب حکومت وسلطنت، جاہ وعزت اور ہر قسم کے تقلبات وتصرفات کی زمام اکیلے خداوند قدوس کے ہاتھ میں ہوئی تو مسلمانوں کو جو صحیح معنی میں اس پر یقین رکھتے ہیں، شایانِ شان نہیں کہ اپنے اسلامی بھائیوں کی اخوت ودوستی پر اکتفا نہ کر کے خواہ مخواہ دشمنانِ خدا کی موالات ومدارات کی طرف قدم بڑھائیں۔ خدا اور رسول کے دشمن ان کے دوست کبھی نہیں بن سکتے جو اس خبط میں پڑے گا سمجھ لو کہ خدا کی محبت وموالات سے اسے کچھ سروکار نہیں۔ ایک مسلمان کی سب امیدیں اور خوف صرف خداوند رب العزت سے وابستہ ہونے چاہئیں اور اس کے اعتماد و وثوق اور محبت ومناصرت کے مستحق وہ ہی لوگ ہیں جو حق تعالیٰ سے اسی قسم کا تعلق رکھتے ہوں۔ ہاں! تدبیر وانتظام کے درجہ میں کفار کے ضرر عظیم سے اپنے ضروری بچاؤ کے پہلو اور حفاظت کی صورتیں معقول ومشروع طریقہ پر اختیار کرنا، ترکِ موالات کے حکم سے اسی طرح مستثنیٰ ہے جیسے سورۂ انفال میں ”ومن يولهم يومئذ دبره“ سے ”متحرفا لقتال او متحيزا الى فئة کو مستثنیٰ کیا گیا ہے۔“

صفحہ 5

مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رقم طراز ہیں ۔ ”قلبی اور دلی دوستی و محبت تو کسی کافر کے ساتھ کسی حال میں جائز نہیں اور احسان و ہمدردی ونفع رسانی بجز اہل حرب کے اور سب کے ساتھ جائز ہے۔ اسی طرح ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتاؤ بھی سب کے ساتھ جائز ہے۔ جب کہ اس کا مقصد مہمان کی خاطر داری یا غیر مسلموں کو اسلامی معلومات اور دینی نفع پہنچانا یا اپنے آپ کو ان کے کسی نقصان وضرر سے بچانا ہو۔“ (معارف القرآن جلد دوم۔ ص ۵۱)

ما عنتم قد بدت البغضاء من افواههم وما تخفى صدورهم اكبر قد بينا لكم الايت ان كنتم تعقلون (آل عمران ۱۱۸)

ترجمہ : ”مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا راز داں نہ بنانا۔ یہ لوگ تمہاری خرابی (اور فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے، انکی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہو ہی چکی ہے۔ اور جو ( کینے ) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنادی ہیں ۔

تشریح : علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ اس آیت کے متعلق لکھتے ہیں ۔ ” حق تعالیٰ نے یہاں صاف صاف آگاہ کر دیا کہ مسلمان اپنے اسلامی بھائیوں کے سوا کسی کو بھیدی اور راز دار نہ بنائیں کیونکہ یہودیوں یا نصاریٰ منافقین ہوں یا مشرکین ، ان میں کوئی جماعت تمہاری حقیقی خیر خواہ نہیں بلکہ ہمیشہ یہ لوگ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ تمہیں پاگل بنا کر نقصان پہنچائیں ۔ اور دینی و دنیوی خرابیوں میں مبتلا کریں ، ان کی خواہش اسی میں ہے کہ تم تکلیف میں رہو اور کسی نہ کسی تدبیر سے تم کو دینی یا دنیوی ضرر پہنچ جائے ۔ جو دشمنی اور بغض ان کے دلوں میں ہے وہ تو بہت ہی زیادہ ہے۔ لیکن بسا اوقات عداوت وغیظ کے جذبات سے مغلوب ہو کر کھلم کھلا ایسی باتیں کر گزرتے ہیں جو ان کی گہری دشمنی کا صاف پتہ دیتی ہیں۔ مارے دشمنی اور حسد کے ان کی زبان قابو میں نہیں رہتی ۔ پس عقلمند آدمی کا کام نہیں کہ ایسے خبیث باطن دشمنوں کو اپنا راز دار بنائے ۔ خدا تعالیٰ نے دوست دشمن کے پتے اور موالات وغیرہ کے احکامات کھول کر بتلا دیئے ہیں جس میں عقل ہوگی ان سے کام لے گا“۔

صفحہ 6

مولانا مفتی محمد شفیع قدس سرہ رقم طراز ہیں۔ ”تو اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنی ملت والوں کے سوا کسی کو اس طرح کا معتمد اور مشیر نہ بناؤ کہ اس سے اپنے اور اپنی ملت وحکومت کے راز کھول دو، اسلام نے اپنی عالمگیر رحمت کے سایہ میں جہاں مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ ہمدردی ، خیر خواہی ، نفع رسانی اور مروت و رواداری کی غیر معمولی ہدایات فرمائیں اور نہ صرف زبانی ہدایات بلکہ رسول اللہ ﷺ نے تمام معاملات میں ان کو عملی طور پر رواج دیا ہے، وہیں عین حکمت کے مطابق مسلمانوں کو اپنی تنظیم اور ان کے مخصوص شعائر کی حفاظت کے لئے یہ احکام بھی صادر فرمائے کہ قانون اسلام کے منکروں اور باغیوں سے تعلقات ایک خاص حد سے آگے بڑھانے کی اجازت مسلمانوں کو نہیں دی جا سکتی کہ اس سے فرد اور ملت دونوں کے لئے ضرر اور خطرے کھلے ہوئے ہیں۔ اور یہ ایسا صریح ، معقول ، مناسب اور ضروری انتظام ہے جس سے فرد اور ملت دونوں کی حفاظت ہوتی ہے۔ (تفسیر معارف القرآن جلد دوم صفحہ ۱۵۸)

اولياء بعض و من يتولهم منكم فا نه منهم ان الله لا يهدى القوم الظلمين (المائده ۵۱)

ترجمہ :”اے ایمان والو! یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہی میں سے ہو گا بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا“۔

تشریح : علامہ عثمانی تحریر فرماتے ہیں۔”اولیاء ولی کی جمع ہے۔ ”ولی“ دوست کو بھی کہتے ہیں، قریب کو بھی، ناصر اور مددگار کو بھی۔ غرض یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ بلکہ تمام کفار سے جیسا کہ سورۃ نساء میں تصریح کی گئی ہے۔ مسلمان دوستانہ تعلقات قائم نہ کریں۔ اس موقع پر یہ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ موالات ، مروت و حسن سلوک ، مصالحت ، رواداری اور عدل و انصاف یہ سب چیزیں الگ الگ ہیں۔ اہل اسلام اگر مصلحت سمجھیں تو ہر کافر سے صلح اور عہد پیمان مشروع طریقہ پر کر سکتے ہیں۔ وان جنحوا للسلم فاجنح لها و توكل على الله ( انفال رکوع ۸) عدل وانصاف کا حکم جیسا کہ گذشتہ آیات سے معلوم ہو چکا، مسلم و کافر ہر فرد بشر کے حق میں ہے۔ مروت اور حسن سلوک یا رواداری کا برتاؤ ان کفار کے ساتھ ہو سکتا ہے جو

صفحہ 7

جماعت اسلام کے مقابلہ میں دشمنی اور عناد کا مظاہرہ نہ کریں جیسا کہ سورۂ ممتحنہ میں تصریح ہے۔ باقی موالاۃ یعنی دوستانہ اعتماد اور برادرانہ مناصرت و معاونت، تو کسی مسلمان کو حق نہیں کہ یہ تعلق کسی غیر مسلم سے قائم کرے البتہ صوری موالات جو ”الا ان تتقوا منھم“ کے تحت میں داخل ہو اور عام تعاون جس کا اسلام اور مسلمانوں کی پوزیشن پر کوئی برا اثر نہ پڑے اس کی اجازت ہے۔

(کافروں کا تو یہ حال ہے کہ) مذہبی فرقہ بندی اور اندرونی بغض وعداوت کے باوجود وہ باہم ایک دوسرے سے دوستانہ تعلق رکھتے ہیں، یہودی یہودی کا، نصرانی نصرانی کا دوست بن سکتا ہے اور جماعت اسلام کے مقابلہ میں سب کفار ایک دوسرے کے دوست اور معاون بن جاتے ہیں۔ الکفر ملة واحدة۔

جو شخص یہود و نصاریٰ اور دوسرے مشرکوں سے دوستانہ تعلقات رکھتا ہو وہ ان ہی کے زمرہ میں شامل ہے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص یہود نصاریٰ یا کسی جماعت کفار کے ساتھ اس نیت اور حیثیت سے موالات کرے کہ وہ دشمن اسلام ہے اس کے کفر میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔ منافقین میں کچھ لوگ اور بھی تھے جنہوں نے جنگ احد میں لڑائی کا پانسا بدلا ہوا دیکھ کر کہنا شروع کیا تھا کہ ہم تو اب فلاں یہودی یا فلاں نصرانی سے دوستانہ گانٹھیں گے اور ضرورت پیش آنے پر ان کا ہی مذہب اختیار کر لیں گے۔ اس قماش کے لوگوں کی نسبت بھی ”ومن یتولھم منکم فانہ منھم“ کا ظاہری مدلول علانیہ صادق ہے۔ رہے مسلمان جو اس قسم کی نیت اور منشاء سے خالی ہو کر یہود ونصاریٰ کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کریں، چونکہ ان کی نسبت بھی قوی خطرہ رہتا ہے کہ وہ کفار کی حد سے زیادہ ہم نشینی اور اختلاط سے متاثر ہو کر رفتہ رفتہ ان ہی کا مذہب اختیار کر لیں یا کم از کم شعائر کفر اور رسوم شرکیہ سے کارہ اور نفور (یعنی متنفر) نہ رہیں۔ اس اعتبار سے فانہ منھم کا اطلاق ان کے حق میں بھی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ حدیث المرء مع من احب نے اس مضمون کی طرف توجہ دلائی ہے۔

مفتی اعظم پاکستان قدس سرہٗ لکھتے ہیں۔ ”اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ یہود و نصاریٰ سے موالات (یعنی گہری دوستی) نہ کریں جیسا کہ عام غیر مسلموں کا اور یہود و نصاریٰ کا خود یہی دستور ہے کہ وہ گہری دوستی کو صرف اپنی قوم کے لئے مخصوص رکھتے ہیں مسلمانوں سے یہ معاملہ نہیں کرتے۔

پھر اگر کسی مسلمان نے اس کی خلاف ورزی کر کے کسی یہودی یا نصرانی سے گہری دوستی کر لی تو وہ اسلام کی نظر میں بجائے مسلمان کے اسی قوم کا فرد شمار ہونے کے قابل ہے۔

(معارف القرآن جلد سوم ص ۱۷۰)

صفحہ 8

الذین اوتو الکتب من قبلکم والکفار اولیاء واتقو اللہ ان کنتم مؤمنین (المائدہ ۵۷)

ترجمہ : ’’اے ایمان والو! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے دوست نہ بناؤ اور مومن ہو تو خدا سے ڈرتے رہو۔‘‘

تشریح : گزشتہ آیات میں مسلمانوں کو موالات کفار سے منع فرمایا تھا۔ اس آیت میں ایک خاص موثر عنوان سے اسی ممانعت کی تاکید کی گئی اور موالات کفار سے نفرت دلائی گئی ہے۔ ایک مسلمان کی نظر میں کوئی چیز اپنے مذہب سے زیادہ معظم ومحترم نہیں ہو سکتی۔ لہذا اسے بتایا گیا کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین تمہارے مذہب پر طعن و استہزاء کرتے ہیں۔ اور شعائر اللہ (اذان وغیرہ) کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور جو ان میں خاموش ہیں وہ بھی ان افعال شنیعہ کو دیکھ کر اظہار نفرت نہیں کرتے بلکہ خوش ہوتے ہیں۔ کفار کی ان احمقانہ اور کمینہ حرکات پر مطلع ہو کر کوئی فرد مسلم جس کے دل میں خشیت الہی اور غیرت ایمانی کا ذرا سا شائبہ ہو، کیا ایسی قوم سے موالات اور دوستانہ راہ و رسم پیدا کرنے یا قائم رکھنے کو ایک منٹ کے لئے گوارہ کرے گا؟ اگر ان کے کفر وعناد اور عداوت اسلام سے بھی قطع نظر کر لی جائے تو دین قیم کے ساتھ ان کا یہ تمسخر و استہزاء ہی علاوہ دوسرے اسباب کے ایک مستقل سبب ترک موالات کا ہے۔‘‘ (تفسیر عثمانی)۔

منھم و یحلفون علی الکذب وھم یعلمون۔ اعد اللہ لھم عذاباً شدیداً۔ انھم ساء ما کانوا یعملون۔ (المجادلہ ۱۴، ۱۵)

ترجمہ : ’’بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر خدا کا غضب ہوا۔ وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں۔‘‘

تشریح : ’’مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع قدس سرہ لکھتے ہیں۔ ’’ان آیات میں حق تعالیٰ نے ان لوگوں کی بدحالی اور انجام کار عذاب شدید کا ذکر فرمایا ہے ۔ جو اللہ کے دشمنوں ، کافروں سے دوستی رکھیں۔ کفار خواہ مشرکین ہوں یا یہود ونصاریٰ یا دوسری اقسام کے کفار ، کسی مسلمان کیلئے دلی دوستی کسی سے جائز

صفحہ 9

نہیں اور وہ عقلاً ہو بھی نہیں سکتی کیونکہ مومن کا اصل سرمایہ اللہ تعالیٰ کی محبت ہے۔ کفار اللہ تعالیٰ کے مخالف اور دشمن ہیں۔ اور جس شخص کے دل میں کسی شخص کی سچی محبت اور دوستی ہو اس سے یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ وہ اس کے دشمن سے بھی محبت اور دوستی رکھے۔

تنبیہ: قرآن وحدیث ۔ یہ احکام کسی خاص زمانہ کے ساتھ خاص نہیں ہیں کہ اگر قادیانیوں کے خلاف کوئی تحریک چل رہی ہو تو پھر ان سے دلی دوستی اور معاشرتی تعلقات کی ممانعت ہو اور اگر تحریک کے بعد کا زمانہ ہو تو پھر سب کچھ جائز تصور کر لیا جائے، لیکن عملاً یہی کچھ ہو رہا ہے۔ کہ مسلمانوں کو یہ اسلامی احکام صرف تحریکوں میں نظر آتے ہیں۔ عام حالات میں سب کچھ جائز سمجھ لیا جاتا ہے۔ العیاذ باللہ

ورسوله ولو كانو ا اباء هم او ابناء هم او اخوانهم او عشير لهم

(المجادله ۲۲)

ترجمه: ”جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے۔“

تشریح: حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یعنی جو دوستی نہیں رکھتے اللہ کے مخالف سے اگرچہ باپ بیٹے ہوں وہ ہی سچے ایمان والے ہیں۔ ان کو یہ درجے ملتے ہیں ”صحابہ رضی اللہ عنہم کی شان یہ ہی تھی کہ اللہ و رسول ﷺ کے معاملہ میں کسی چیز اور کسی شخص کی پرواہ نہیں کی۔ اسی سلسلہ میں ابو عبیدہؓ نے اپنے باپ کو قتل کر دیا۔ جنگ احد میں ابو بکر صدیقؓ اپنے بیٹے عبد الرحمن کے مقابلے میں نکلنے کو تیار ہو گئے ۔ مصعبؓ بن عمیر نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو، عمرؓ بن خطاب نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو، علیؓ بن ابی طالبؓ ، حمزہؓ ، عبیدہؓ بن الحارث نے اپنے اقارب عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا اور رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کے بیٹے عبد اللہ بن عبد اللہ نے جو مخلص مسلمان تھے، عرض کیا کہ یا رسول اللہ اگر آپ حکم دیں تو اپنے باپ کا سر کاٹ کر خدمت میں حاضر کر دوں؟ آپ ﷺ نے منع فرما دیا۔ فرضی اللہ عنہم ورضوا عنہ (تفسیر عثمانی)

بہت سے حضرات فقہاء نے یہی حکم فساق و فجار اور دین سے عملاً منحرف مسلمانوں کا قرار دیا ہے۔ کہ انکے ساتھ دلی دوستی کسی مسلمان کی نہیں ہو سکتی ، کام کاج کی ضرورتوں میں اشتراک یا مصاحبت بقدر

صفحہ 10

ضرورت الگ چیز ہے، دل میں دوستی کسی فاسق و فاجر کی اسی وقت ہوگی جبکہ فسق و فجور کے جراثیم خود اس کے اندر موجود ہوں گے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ اپنی دعاؤں میں فرمایا کرتے تھے۔ اللهم لا تجعل لفاجر علی يدا. یعنی یا اللہ ! مجھ پر کسی فاجر آدمی کا احسان نہ آنے دیجئے۔ کیونکہ شریف النفس انسان اپنے محسن کی محبت پر طبعاً مجبور ہوتا ہے اس لئے فساق و فجار کا احسان قبول کرنا جو ذریعہ ان کی محبت کا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اس سے بھی پناہ مانگی (تفسیر معارف القرآن جلد ۸ صفحہ ۳۵۲، ۳۵۳)

وقد كفروا بما جاء كم من الحق الخ. (الممتحنه)

ترجمہ : ” مومنو! اگر تم میری راہ میں لڑنے اور میری خوشنودی طلب کرنے کیلئے (مکے سے) نکلے ہو تو اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ۔

تشریح : علامہ عثمانیؒ لکھتے ہیں ” کفار مکہ اللہ کے دشمن ہیں اور تمہارے بھی۔ ان سے دوستانہ برتاؤ کرنا اور دوستانہ پیغام ان کی طرف بھیجنا، ایمان والوں کو زیبا نہیں۔ وہ اس لئے کہ وہ کفار اللہ کے دشمن ہیں، انہوں نے حضور ﷺ کو اور اے مسلمانو! تم کو کیسی کیسی ایذائیں دے کر ترک وطن پر مجبور کیا۔ محض اس قصور پر کہ تم ایک اللہ کو جو تمہارے سب کا رب ہے کیوں مانتے ہو، اس سے بڑی دشمنی اور ظلم کیا ہوگا۔ تعجب ہے کہ ایسوں کی طرف تم دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہو۔ تمہارا گھر سے نکلنا اگر میری خوشنودی اور میری راہ میں جہاد کرنے کے لئے ہے اور خالص میری رضا کے واسطے تم نے سب کو دشمن بنایا ہے تو پھر انہی دشمنوں سے دوستی گانٹھنے کا کیا مطلب ؟ کیا جنہیں ناراض کر کے اللہ کو راضی کیا تھا، اب انہیں راضی کر کیا اللہ کو ناراض کرنا چاہتے ہو؟ العیاذ باللہ۔ (تفسیر عثمانی)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع قدس سرہ رقم طراز ہیں۔ ”سابقہ آیات میں کفار سے دوستانہ تعلق رکھنے کی سخت ممانعت و حرمت کا بیان آیا ہے، اگرچہ وہ کفار رشتہ و قرابت میں کتنے ہی قریب ہوں، صحابہ کرام، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے معاملہ میں نہ ذاتی خواہش کی پرواہ کرتے تھے نہ کسی خویش و عزیز کی، اس پر عمل کیا گیا جس کے نتیجہ میں گھر گھر یہ صورت پیش آئی کہ باپ مسلمان، بیٹا کافر یا اس کے برعکس ہے تو دوستانہ تعلق قطع کر دیا گیا۔ ظاہر ہے انسانی فطرت اور طبیعت پر یہ عمل آسان نہ تھا۔ اس لئے آیات مذکورہ

صفحہ 11

میں حق تعالیٰ نے ان کی اس مشکل کو عنقریب آسان کر دینے کی خبر سنا دی۔ ان آیات میں حق تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ آج جو لوگ کفر پر ہیں اور اس کی وجہ سے وہ تمہارے دشمن ،تم ان کے دشمن ہو،قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عداوت کو دوستی سے مبدل فرمادے۔مطلب یہ کہ ان کو ایمان کی توفیق عطا فرما کر تمہارے تعلقات باہمی پھر ازسرنو ہموار کر دے۔اس پیشین گوئی کا ظہور فتح مکہ کے وقت اس طرح ہوا کہ بجز ان کفار کے جو قتل کئے گئے وہ سب مسلمان ہو گئے۔ قرآن کریم میں اس کا بیان يدخلون في دين الله افواجاً میں کیا گیا ہے کہ یہ لوگ فوج در فوج بڑی تعدادوں میں اللہ کے دین اسلام میں داخل ہو جائیں گے اور ایسا ہی ہوا۔

(تفسیر معارف القرآن جلد 8)

(الممتحنه 9 )

ترجمہ : ”اور جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں“ تشریح : ”وہ کافر جو مسلمانوں پر ظلم وستم کرتے ہیں، ان سے دوستانہ برتاؤ کرنا بیشک سخت ظلم اور گناہ کا کام ہے“

(تفسیر عثمانی)

مذکورہ آیات کے مضامین پر ایک نظر

بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے ہم مذکورہ آٹھ آیات کی تلخیص بیان کرتے ہیں۔

سلوک کرنا جائز ہے

میں شمار ہوگا۔

ہیں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ سخت عذاب کے حق دار ہیں

صفحہ 12

دوستانہ تعلقات نہیں رکھتے ۔ ان کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ کافروں سے محبت کی پینگیں بڑھانے والے مومن نہیں ہو سکتے ۔

رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔

اہم تنبیہ

قادیانی ، عام کافروں کے حکم میں نہیں ہیں

یہ واضح رہے کہ قادیانی ، عام کافروں کے حکم میں ہرگز نہیں۔

سابقہ آیات مبارکہ میں کافروں سے دلی محبت کی ممانعت کی گئی ہے البتہ ان کے ساتھ معاشی اور معاشرتی امور میں لین دین جائز ہے۔ بشرطیکہ وہ کفر کی پسندیدگی پر منتج نہ ہو۔ لیکن قادیانیوں کے متعلق دیو بندی، بریلوی اور اہل حدیث علماء کرام کا متفقہ فتاویٰ موجود ہیں کہ قادیانی عام کافر نہیں بلکہ مرتد اور زندیق ہیں اسلامی حکومت میں مرتد اور زندیق اگر اپنے کفر سے توبہ نہ کرے تو واجب القتل ہوتا ہے۔

یہ بات، راقم کی کوئی ذاتی تحقیق نہیں بلکہ اہل سنت کے تینوں فرقوں کے سرکردہ علماء کرام کا متفقہ فیصلہ ہے مثلاً

ان نمایاں ناموں کے علاوہ بھی سینکڑوں علماء کے فتاویٰ موجود ہیں کہ جو سلوک مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھیوں سے کیا گیا تھا ، قادیانی بھی اسی سلوک کے مستحق ہیں۔

صفحہ 13

آمدم بر سر مطلب۔ احقر کہنا یہ چاہتا ہے کہ یہود و نصاریٰ اور ان کی مثل کافروں کے ساتھ اسلام نے جس نرمی، حسن اخلاق، ہمدردی و غم خواری اور کاروباری معاملات کی اجازت دی ہے، قادیانی اس کے مستحق نہیں ہیں۔ یہود و نصاریٰ وغیرہ اپنے آپ کو کافر تسلیم کرتے ہیں، اپنے کفر پر اسلام کا لیبل نہیں لگاتے لیکن قادیانی پاکستان کے آئین میں کافر قرار دیے جانے کے باوجود اپنے آپ کو کافر تسلیم نہیں کرتے، بلکہ اپنے آپ کو اصلی مسلمان قرار دیتے ہیں یہ چوری اور سینہ زوری کی ایک بدترین مثال ہے۔

عام کافر سے صرف دلی دوستی کی ممانعت ہے اور دینوی معاملات میں اشتراک جائز ہے لیکن قادیانیوں سے تو دینوی معاملات میں بھی اشتراک جائز نہیں ہے۔ کسی بھی فرقہ کے قریبی مفتی صاحب سے پوچھ لیں یہی جواب ملے گا۔

قادیانیوں سے تعلقات، احادیث مبارکہ کی رو سے

قرآن مجید کی طرح احادیث مبارکہ بھی کافروں سے دلی محبت اور دوستانہ تعلقات کی ممانعت کرتی ہے۔ مثلاً:

اگر دنیا میں نیک لوگوں کے ساتھ محبت ہوگی تو آخرت میں بھی انہیں کے ساتھ ہوگا اور جنت میں جائیگا اور اگر دنیا میں کافروں اور فاسقوں سے محبت کرتا ہوگا تو آخرت میں بھی ان کے ساتھ ہوگا اور دوزخ میں جائے گا

(جامع ترمذی)

ترجمہ: ”جس شخص نے اپنی دوستی اور دشمنی کو صرف اللہ کے لئے وقف کر دیا اس نے ایمان مکمل کر لیا۔“

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان اسی وقت پورا مومن بنتا ہے جب اس کے محبت و مودت اور نفرت و بغض کے جذبات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع ہوں۔ اس لئے مومن اس شخص سے دلی محبت اور دوستانہ تعلق رکھ سکتا ہے جو کہ اسلامی اغراض و مقاصد میں اس کا ساتھی ہو۔

علاوہ ازیں نبی کریم ﷺ کا طرز عمل بھی واضح ہے۔ صحاح ستہ میں روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے

صفحہ 14

موقع پر تین صحابیؓ حضرت کعبؓ بن مالک، حضرت ہلالؓ بن امیہ اور حضرت مرارہؓ بن ربیع جنگ میں بغیر کسی عذر کے شریک نہ ہوئے اپنے اپنے گھروں میں ہی رہے جنگ سے واپسی پر نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو حکم دیا کہ ان سے معاشرتی بائیکاٹ کرو۔ کوئی مسلمان ان سے گفتگو نہ کرے۔ ان تینوں صحابیوں پر زمین تنگ ہوگئی۔ پچاس دن بائیکاٹ رہا۔ پچاس دن بعد ان کی توبہ قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے بتایا کہ میں نے ان کو معاف کر دیا ہے یہ تینوں حضرات بدری صحابہؓ میں سے تھے لیکن ایک گناہ (جہاد سے پیچھے رہ جانا) کی سزا، ان کو یہ ملی کہ پچاس دن اپنوں میں اجنبی بن کر رہے۔ تو کیا خیال ہے آپ کا اس فرقہ کے متعلق جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے مکمل طور پر باغی ہے، نہ اسلام کا وفادار ہے، نہ ہی ملک کا وفادار ہے، اسلام کا لیبل لگا کر اسلام کا حلیہ بگاڑ رہا ہے۔ مسلمانوں میں شامل ہو کر معاشی اور معاشرتی مفادات حاصل کرتا ہے لیکن جاسوسی بھی انہی کی کرتا ہے۔ کیا ایسے لوگ اس بات کے حق دار ہیں کہ ان کے ساتھ معاشی، معاشرتی روابط قائم کئے جائیں؟

تصویر کا دوسرا رخ

زیر بحث مسئلہ کا دوسرا رخ یہ ہے کہ قادیانی مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں۔ کافر یا مسلمان؟ کیا قادیانی مسلمانوں سے رشتہ ناتہ اور ان کے جنازوں میں شرکت کو جائز سمجھتے ہیں؟ مذکورہ احادیث خاص طور پر ان مسلمان بھائیوں کے لئے توجہ کی طالب ہیں جو کہ

اسے مولویوں کا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔

ہم تمام مسلمان بھائیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ قادیانیوں سے تعلقات قائم کرنے اور معاشی و معاشرتی روابط بڑھانے سے پہلے سوچیں، سوچیں پھر سوچیں کہ قادیانی بظاہر کیسے نظر آتے ہیں؟ اپنے عقائد کو وہ کس طرح چھپاتے ہیں اور ان کے اصل عقائد اور زمینی حقائق کیا ہیں؟ ہم ایک ایک حوالہ پوری ذمہ داری

صفحہ 15

سے نقل کریں گے اگر کسی کو شک ہو تو وہ اصل کتب دیکھ سکتا ہے۔

مسلمان ، مرزا قادیانی اور اس کے بیٹوں کی تحریرات کی رو سے

خزائن ص 382 جلد 18)

تیری مخالفت اختیار کی ، وہ جہنمی ہے (تذکرہ صفحہ 168 طبع دوم)

نہیں مانتا ، دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں (حقیقۃ الوحی ص 179 روحانی خزائن ص 185 جلد 22)

اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔ (مجموعہ اشتہارات جلد 3 ص 275)

اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے مگر بدکار عورتوں کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔

(آئینہ کمالات اسلام ص 547,548 روحانی خزائن جلد 5)

(نجم الہدیٰ ص 53 روحانی خزائن جلد 14 ص 53)

خواہ مخواہ غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

(کلمۃ الفصل صفحہ 129 مندرجہ ریویو آف ریلیجنز قادیان جلد 14 شمارہ 3)

صفحہ 16

بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

(آئینہ صداقت ص 35 از مرزا بشیر الدین محمود )

مسیح موعود کو سچا مان کر آپ کے منکروں کو کافر جانو، یہ نہیں ہو سکتا کہ تم دونوں کو مسلمان سمجھو۔

(کلمۃ الفصل ص 123 از مرزا بشیر احمد ایم اے)

کون ہیں کہ اس بات کا انکار کریں۔ (کلمۃ الفصل ص 132)

مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنے کا مسئلہ قادیانی لٹریچر کی رو سے

مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔

(اربعین 3 ص 28۔ روحانی خزائن ص 417 جلد 17)

جواب حج میں بھی آدمی التزام کر سکتا ہے کہ اپنی جائے قیام پر نماز پڑھ لیوے اور کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھے

مسئلہ: جو احمدی، غیر احمدی امام کے پیچھے نماز پڑھ آیا وہ احمدیوں کا امام ہو سکتا ہے؟ جواب: سیدنا مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) نے فرمایا کہ جو احمدی ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے جب تک توبہ نہ کرے، اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو (فقہ احمدیہ حصہ اول ص 130 از حافظ روشن علی قادیانی)

جنازہ میں شامل نہ ہونے دیا (روزنامہ الفضل قادیان مورخہ 7 جولائی 1943ء)

سخت سست کہتے ہیں السلام علیکم جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا کہ مومن بڑا غیرت مند ہوتا ہے کیا غیرت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ تو گالیاں دیں اور تم ان سے السلام علیکم کرو؟ ہاں البتہ خرید و فروخت

صفحہ 17

جائز ہے اس میں حرج نہیں کیونکہ قیمت دینی اور مال لینا۔ کسی کا اس میں احسان نہیں (ملفوظات

جلد پنجم ص 291 طبع لندن)

عبرت کا مقام یہ چوتھا حوالہ خاص طور پر ان مسلمانوں کے لئے مقام عبرت ہے جو قادیانیوں کو مسلمان کہتے ہیں یا ان سے ہمہ قسم کے تعلقات جائز سمجھتے ہیں مرزا قادیانی تو مسلمانوں سے اتنی نفرت رکھتا ہے کہ اپنے ماننے والوں کو حکم دیتا ہے کہ مسلمانوں کو سلام نہ کریں اور ہمارے مسلمان بھائی لاعلمی یا کسی لالچ کی وجہ سے ان سے تعلقات قائم کرنے اور روابط بڑھانے کی فکر میں رہتے ہیں۔

اگر قادیانی یہ کہیں کہ ہمارے یہ نظریات نہیں تو مسلمانوں کو ان پر اعتماد کرنے سے پہلے ان سے یہ لکھوانا چاہئے کہ اگر تمہارے یہ نظریات نہیں تو لکھ کر دو کہ مرزا قادیانی اور اس کے بیٹوں اور دوسرے قادیانیوں نے جو مذکورہ امور لکھے ہیں، غلط لکھے ہیں ان سے حلفیہ یا مؤکد بعذاب تحریر لکھوائیں کہ واقعۃً ان کے مذکورہ عقائد نہیں اور یہ کہ ان عقائد کو وہ غلط سمجھتے ہیں اگر قادیانی ایسا کریں تو فبہا ورنہ ان سے تعلقات قائم کرنا، اپنے ایمان کو تباہ کرنا ہے۔

اب ایک اور سوال یہ رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے، اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں؟ میں یہ سوال کرنیوالے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔

(انوار خلافت ص 93 از مرزا بشیر الدین محمود)

مسلمانوں سے رشتہ ناطہ کے متعلق قادیانی فتاویٰ

حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے غیر احمدیوں کو احمدی لڑکی کا رشتہ دینے سے منع فرما دیا۔ چنانچہ فرماتے ہیں ”غیر احمدیوں کی لڑکی لینے میں حرج نہیں کیونکہ اہل کتاب عورتوں سے بھی تو نکاح جائز ہے بلکہ اس میں تو فائدہ ہے کہ ایک اور انسان ہدایت پاتا ہے مگر اپنی لڑکی کسی غیر احمدی

صفحہ 18

کونہ دینی چاہئے۔ اگر ملے تو ملے بیشک لینے میں حرج نہیں اور دینے میں گناہ ہے‘‘

(کلمۃ الفصل ص119 طبع دوم از مرزا بشیر احمد ایم اے)

احمدی کا فرض ہے۔ (برکات خلافت ص75 از مرزا بشیر الدین محمود )

جنازے پڑھنے سے روکا گیا ، اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں، دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی دوسرے دنیوی، دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ وناطہ ہے سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کیا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم ﷺ یہود مکہ کو سلام کا جواب دیا، ہاں ! اشد مخالفین کو حضرت مسیح موعود نے کبھی سلام نہیں کہا اور نہ ان کو سلام کہنا جائز ہے، غرض ہر ایک طریقہ سے ہم کو حضرت مسیح موعود نے غیروں سے الگ کیا ہے اور ایسا کوئی تعلق نہیں جو اسلام نے مسلمانوں کے ساتھ خاص کیا ہو اور پھر ہم کو اس سے نہ روکا گیا ہو

(کلمۃ الفصل ص169 ، 170 از مرزا بشیر احمد ایم اے)

اسلام کے متعلق قادیانی نظریات

مسلمانوں کے متعلق قادیانی نظریات معلوم کر لینے کے بعد دین اسلام کے متعلق ہم قادیانی نظریات کا جائزہ لیتے ہیں۔

واضح رہے کہ دین اسلام کے متعلق ان قادیانی فتاویٰ کی بنیاد اس امر پر ہے کہ اسلام میں مسلمانوں کے نزدیک وحی اور مکالمہ الہیہ کی کوئی گنجائش نبی کریم ﷺ کے بعد نہیں ہے جبکہ قادیانی دین اسلام میں وحی کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی اس کوشش کی ناکامی کے بعد دین اسلام پر سارا غصہ اتارتے ہیں کہ اگر اسلام میں قیامت تک وحی جاری رہنے کا تصور نہیں ، تو پھر ہمیں اسلام کی کوئی ضرورت نہیں (معاذ اللہ ) قادیانی فتاویٰ کی اس بنیاد کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینے کے بعد درج ذیل فتاویٰ ملاحظہ فرمائیں

صفحہ 19

(نزول المسیح ص 91 روحانی خزائن ص 469 جلد 18)

حدیث پر ) انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے ...... سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو روحانی کہیں، شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص 138,139 ، روحانی خزائن ص 306 جلد 21)

(ملفوظات جلد دہم صفحہ 127)

دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں صرف قصوں کی پوجا کرو پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے جس میں براہ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا ہے جو کچھ ہیں قصے ہیں۔

میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا، میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا مذہب جہنم کی طرف لے جاتا ہے (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص 183 ، روحانی خزائن ص 354 جلد 21)

حاصل بحث

آپ نے قادیانی حوالہ جات پڑھ لئے، ان حوالہ جات میں مذکورہ امور کا خلاصہ یہ ہے کہ

جہنمی اور کافر ہیں

کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔

صفحہ 20

کافر ہیں اور اگر مرزا اور اس کے ماننے والے مسلمان ہیں تو مرزا کو نہ ماننے والے کافر ہیں۔

قادیانیوں کو علیحدہ نماز پڑھنی چاہئے۔

نباشد) مردہ مذہب، لعنتی مذہب، قابل نفرت اور شیطانی مذہب ہے جو کہ انسان کو دوزخ کی طرف لے جاتا ہے

مسلمانو! تمہارے باپ کو اس کے خاندان کو کوئی شخص فحش گالیاں دے تو کیا تم اس کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنا پسند کرو گے؟ کوئی شخص تمہارے مال و دولت پر ڈاکہ ڈالے، سب کچھ چھین کر لے جائے تو اس کے متعلق کیا کہو گے؟

اگر کوئی شخص بڑی میٹھی زبان رکھتا ہے، حسن اخلاق کا مالک ہے، لیکن کاروبار میں تمہارے ساتھ دھوکہ کرتا ہے، تمہیں دیوالیہ کر دیتا ہے۔ لاکھ سے راکھ تک پہنچا دیتا ہے تو کیا پھر بھی اس کی میٹھی زبان اور حسن اخلاق کے گرویدہ رہو گے؟

ان سب امور کا جواب اگر نفی میں ہے اور یقیناً نفی میں ہے تو قادیانیوں سے تعلقات قائم کر کے دین اسلام کو کیوں پس پشت ڈال رہے ہو؟

ایمان کے چور اور ڈاکو اس لائق نہیں ہو سکتے ان سے مراسم قائم کئے جائیں، نوکری اور چھوکری کے لالچ میں، چند ٹکوں کے معاشی و معاشرتی فائدہ کے لئے اپنی آخرت تباہ نہ کرو، جو مسلمان ، مذکورہ تمام امور کو جاننے کے باوجود قادیانیوں کو مسلمانوں سے بہتر کہتا ہے ان سے رشتے ناطے اور سماجی و معاشی تعلقات میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا وہ سرکار دو عالم ﷺ کو کیا منہ دکھائے گا؟ اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دے گا؟

صفحہ 21

ضمیمہ

قادیانیوں سے تعلقات کے موضوع پر تین اہم رسائل

صفحہ 22

قادیانیوں کے ساتھ معاملات سوال و جواب کی روشنی میں

افادات شہید ختم نبوت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مرحوم

تحریر: قاری عبدالوحید قاسمی

ہماری بد نصیبی ہے کہ قادیانی مرتد، زندیق، گستاخ رسول، باغی ختم نبوت، مجرمان تحریف قرآن و حدیث، غداران ملت و دین، آلہ کاران یہود، ہنود و نصاریٰ ہونے کے باوجود خدائی دھرتی پر بڑی عیش و عشرت اور کر و فر کے ساتھ زندہ ہیں اور اپنی دجالی صورتیں اور منحوس وجود لئے اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف تخریبی کاروائیوں اور تحریک آزادی کشمیر کو ناکام کرنے، اکھنڈ بھارت کی پالیسی میں پوری توانائیوں کے ساتھ جتے ہوئے ہیں۔ افسوس صد افسوس! وہ طائفہ خبیثہ مرتدین جسے تہ تیغ ہونا تھا، وہ گروہ زندیق جسے تختہ دار پر جھولنا چاہیے تھا، سارقان ختم نبوت کی وہ جماعت جسے خاک و خون میں تڑپنا تھا اور جس کا بند بند کاٹا جانا تھا آج ہمارے معاشرے خصوصاً آزاد کشمیر کوٹلی، میر پور، مظفر آباد، پاکستان، عالم اسلام کا رواں دواں حصہ ہے اور اپنے آقاؤں کی بخشی ہوئی دولت اور عطا کردہ کلیدی عہدوں کی طاقت سے سوسائٹی میں ایک طاقت ور حیثیت حاصل کر چکے ہیں اور مسلمان معاشرے میں اس طرح گھل مل گئے ہیں جیسے دونوں کے مابین کوئی فرق نہیں۔ جب میں اپنے معاشرے پر عمیق نظر ڈالتا ہوں تو چشم حیرت دیکھتی ہے کہ کسی کا بھائی قادیانی ہے کسی کا چچا قادیانی، کسی کا شوہر قادیانی، کسی کی بیوی قادیانی، کسی کا استاد قادیانی، کسی کا شاگرد قادیانی، کوئی قادیانی افسر، کوئی قادیانی کے ماتحت کوئی قادیانی کا جگری دوست، کوئی قادیانی کا شریک کاروبار، کوئی قادیانی ہمسایہ، کوئی قادیانی فیکٹریوں میں ملازم، کئی مسلمان فیکٹری میں قادیانی ملازم، پھر تعلقات مزید بڑھتے ہیں، پروان چڑھتے ہیں، اور ایک خطرناک موڑ مڑ کر وادی ایمان شکن کے نشیب میں اتر جاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک دوسرے کے جنازے پڑھتے ہیں، ایک دوسرے کے جنازے پڑھاتے ہیں، دعوتیں کھاتے ہیں، دعوتیں دیتے ہیں، عید پر تحفے لیتے ہیں، تحفے دیتے ہیں، چند ٹکوں کے لئے مسلمان اساتذہ قادیانیوں کے گھروں میں ٹیوشن پڑھاتے ہیں، ان کی موت پر طلباء حفاظ قرآن خوانی کر رہے ہیں۔

شعائر اسلام کی توہین گستاخ رسول اور توہین انبیاء، تحریف قرآن و حدیث کرنے کے جرم میں اگر

صفحہ 23

کوئی قادیانی پکڑا گیا ہے تو عدالت کے ایوان میں اپنے آپ کو مسلمان کہلانے والا وکیل، دنیا فانی کی فانی دولت پر پُر جوش انداز میں دلائل کے انبار لگا رہا ہے۔ جیسے اسلام کے گستاخ رسول ڈاکٹر یونس شیخ ملعون کے وکیل محمد حسین چوٹیا لاہور والے اور اسلام آباد کے وکیل محمد اسلم خاکی جو ہر گستاخ رسولؐ کا کیس خود لڑتا ہے۔ مجرم کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کون میرا کیس لڑ رہا ہے؟

یہ نام نہاد مسلمان وکیل ایسے کردار ادا کر رہے ہیں، غرضیکہ کفر و ایمان کی حد فاصل کو منہدم کیا جا رہا ہے لیکن ان میں بہتوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ایمان کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ وہ اس حقیقت سے آشنا نہیں کہ وہ جہالت کی شمشیر سے اپنی دینی غیرت کے کئی ٹکڑے کر رہے ہیں اور رسول ﷺ کو تڑپا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور دوسری دینی تنظیموں کے قائدین اور رہنما ایک طویل مدت سے ملت اسلامیہ کو فتنۂ قادیانیت اور اس کے خطرناک چالوں سے آگاہ کرتے ہیں اور افراد امت کی تربیت کر کے انہیں اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے صف آراء کرتے رہے ہیں۔ اور ہمیشہ یہ مستانہ نعرہ لگاتے رہے ہیں اور آج بھی لگا رہے ہیں۔

اللہ کی وحدت کے نگہدار ہیں ہم لوگ
ناموس محمد کے پاسدار ہیں ہم لوگ

اس میدان میں خطابت نے بھی بہت کام کیا اور اس دور میں تحریر نے جو کام کیا ہے وہ اور کوئی نہ کر سکا جن میں شہید ختم نبوت حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی کتب ہیں، مولانا طاہر عبدالرزاق صاحب کی محنت نے اس کو چار چاند لگا دیئے اور قادیانی ذریت کا ایسا آپریشن کیا کہ وہ بھی یاد رکھیں گے۔

اس تمہید کے بعد ہم آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔ قادیانیوں کے متعلق چند سوالات کے جوابات کی طرف جن کے جوابات شہید ختم نبوت نے اپنے دور میں مکمل دیئے تھے تاکہ کوئی مسلمان کسی مغالطے میں نہ رہے۔

سوال نمبر 1: مسلمانوں کی مختصر تعریف کیا ہے؟

جواب ۔ ایمان نام ہے حضرت محمد ﷺ کے لائے ہوئے پورے دین کو بغیر کسی تحریف اور تبدیلی کے قبول کرنا اور اس کے مقابلہ میں کفر نام ہے۔-----------------------

صفحہ 24

سوال نمبر 2: لاہوری گروپ کیا چیز ہے اور اس کے پیرو کار کون لوگ ہیں؟

جواب ۔ حکیم نور دین کے واصل جہنم ہونے کے بعد مرزائی جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔ جماعت کے بڑے حصہ نے مرزا محمود کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اور یہ قادیانی مرزائی ہو گئے۔ اور دوسرے چھوٹے گروپ نے مرزا محمود کی بیعت نہیں کی۔ کنارہ کشی اختیار کی۔ ان کا مرکز لاہور تھا۔ اور اس گروپ کا قائد مسٹر محمد علی لاہوری تھا اسلئے یہ لاہوری گروپ ہے۔ مگر ان دونوں جماعتوں کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود ہے۔

سوال نمبر 3: جو لوگ کسی جھوٹے مدعی نبوت کو مانتے ہوں وہ کافر کہلائیں گے یا مرتد ؟ اسلام میں کافر کی کیا سزا ہے؟ اور مرتد کی کیا سزا ہے؟ اور کافر اور مرتد میں فرق کیا ہے؟

جواب ۔ جو لوگ اسلام کو مانتے ہی نہیں وہ کافر ہیں۔ وہ لوگ دین اسلام کو قبول کرنے کے بعد برگشتہ ہو جائیں وہ مرتد ہیں جو لوگ دعویٰ اسلام کریں مگر عقائد کفر پر رکھتے ہوں وہ لوگ زندیق ہیں اور زندیق اور مرتد واجب القتل ہیں

سوال نمبر 4: قادیانیوں کے ساتھ اشتراک تجارت اور میل ملاپ کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب ۔ اس وقت چونکہ قادیانی کافر، محارب اور زندیق ہیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت نہیں مانتے۔ عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اور اپنی آمدنی کا دسواں حصہ قادیانی جماعت کے فنڈز میں جمع کراتے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ارتدادی سرگرمیوں پر خرچ کرتے ہیں اس لئے ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی تجارت کرنا ، خرید و فروخت کرنا، ناجائز اور حرام ہے۔ ان کے ساتھ ہر طرح کے معاملات جائز نہیں ہیں۔ قادیانیوں کو اپنی کسی بھی تقریب میں شریک کرنا دینی غیرت اور حمیت کے خلاف بھی ہے اور قیامت کے دن محمد رسول ﷺ کے مجرم ہوں گے۔

سوال نمبر 5: اگر کسی مسلمان کا رشتہ دار قادیانی ہو اور انکے ساتھ تعلقات بھی ہوں تو اس مسلمان کے ساتھ کھانے پینے ، لین دین کی صورت میں کیا احکامات ہیں؟ قادیانی عورت یا مرد سے نکاح جائز ہے؟ اگر زوجین میں سے ایک قادیانی ہو جائے تو مسلمان کو کیا کرنا چاہئے؟ ان کی نابالغ اولاد کے بارے میں کیا حکم ہے؟

صفحہ 25

جواب ۔ قادیانی زندیق اور مرتد ہیں۔ ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق رکھنا ناجائز اور حرام ہے۔ قادیانیوں اور مسلمانوں کا باہمی نکاح نہیں ہو سکتا۔ اگر دونوں میں سے ایک قادیانی ہو جائے تو نکاح ختم ہو جائے گا۔ اور اولاد مسلمان کے پاس رہے گی۔ افسوس! صد افسوس! وہ طائفہ خبیثہ مرتدین جسے تہ تیغ ہونا تھا، وہ گروہ زندیق، جسے تختہ دار پر جھولنا چاہیے تھا، سارقان ختم نبوت کی وہ جماعت جسے خاک و خون میں تڑپنا تھا اور جس کا بند بند کاٹا جانا تھا، آج ہمارے معاشرے خصوصاً آزاد کشمیر، کوٹلی، میر پور، مظفر آباد، پاکستان، عالم اسلام کا رواں دواں حصہ ہے۔

سوال نمبر 6: اگر قادیانی لڑکی سے نکاح کر لیا اور اولاد بھی ہو جائے تو اولاد کا کیا حکم ہوگا؟ جواب ۔ قادیانیوں کا حکم مرتد کا ہے مرتد مرد ہو یا عورت اس سے نکاح نہیں ہو سکتا اور قادیانی لڑکی سے جو اولاد ہوگی وہ ولد الحرام ہوگی۔

سوال نمبر 7: قادیانی توہین رسالت، توہین قرآن، توہین کلمہ کرنے والے مجرموں کی وکالت مسلمان وکلاء کر سکتے ہیں؟ جو ان کی وکالت کرتے ہیں ان کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ جواب ۔ قیامت کے دن ایک طرف محمد رسول اللہ ﷺ کا کیمپ ہوگا اور دوسری طرف مرزا قادیانی کا کیمپ ہوگا۔ یہ وکلاء جنہوں نے دین محمدیؐ کے خلاف قادیانیوں کی حمایت اور وکالت کی ہوگی قیامت کے دن وہ مرزا غلام قادیانی کے کیمپ میں ہوں گے اور قادیانی ان کو اپنے ساتھ دوزخ میں لے کر جائیں گے۔ قادیانیوں کی حمایت کرنے والا خواہ وکیل ہو یا سیاسی لیڈر ہو، وہ قیامت کے دن آپؐ کی امت میں نہیں ہوگا۔ بلکہ قادیانی گروہ میں شامل ہوگا۔

سوال نمبر 8: قادیانیوں کے ہاتھ کا ذبیحہ اور ان کے ہاتھ کا سودا سلف لایا ہوا کیا شرعی حکم رکھتا ہے؟ جواب ۔ قادیانیوں کا ذبح کیا ہوا جانور مردار اور حرام ہے۔ ان سے قطع تعلق نہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔

سوال نمبر 9: کسی مرزائی کو مسلمان کہنے یا مسلمان سے اچھا کہنے والے شخص کے متعلق کیا شرعی حکم ہے؟ جواب ۔ جس شخص نے یہ کہا کہ قادیانی مسلمانوں سے اچھے ہیں۔ وہ خود قادیانیوں سے بدتر کافر ہو گیا ہے۔ اپنے قول سے توبہ کرے اور تجدید نکاح و ایمان کرے۔

صفحہ 26

سوال نمبر 10: قادیانیوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانا جائز ہے؟ جواب۔ قادیانیوں یا کسی بھی غیر مسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانا جائز نہیں ہے۔

سوال نمبر 11: کیا قادیانی کو سلام کرنا یا اس کے سلام کا جواب دینا جائز ہے؟ جواب۔ قادیانیوں کو سلام کرنا یا ان کے سلام کا جواب دینا دونوں ناجائز ہیں۔

سوال نمبر 12: کسی مسلمان کا کسی قادیانی کے جنازے میں شریک ہو کر کندھا دینا جائز ہے؟ جواب۔ مرتد کا جنازہ جائز نہیں۔ اس میں شرکت بھی جائز نہیں۔

سوال نمبر 13: کوئی قادیانی کسی مسلمان کے جنازے میں شریک ہو کر جنازے کو کندھا دیتا ہے تو کیا حکم ہے؟ جواب۔ اس کو روک دیا جائے۔ نہ جنازے میں شریک ہو اور نہ کندھا دے۔

سوال نمبر 14: اگر قادیانی کسی مسلمان قبرستان میں دفن ہو جائے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ جواب۔ قادیانی مرتد کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں اگر دفن ہو گیا ہے تو اکھاڑنا ضروری ہے۔

سوال نمبر 15: قادیانی یا کسی غیر مسلم سے مدرسہ و مسجد کے لئے چندہ لینا کیسا ہے؟ جواب۔ بے غیرتی کی انتہا ہے، ناجائز ہے۔

سوال نمبر 16: منکرین ختم نبوت کا اصلی شرعی حکم کیا ہے؟ جواب۔ اس کا اصل قانون تو وہی ہے جو صدیقی فیصلہ ہے اعلان جنگ کیا اور تمام کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ اگر وہ ارتدادی سرگرمیوں سے باز نہ آئیں تو پھر آخری فیصلہ یہ ہی ہوگا۔ قادیانیوں کے نبوت کے انکار سے، ان کے کردار سے، ان کی گفتار سے، دین کی آبرو کل بھی خطرے میں تھی، دین کی آبرو آج بھی خطرے میں ہے۔

سوال نمبر 17: بعض انگریز دان طبقہ جو دین کا علم زیادہ نہیں رکھتا لیکن مسلمانوں کے افتراق اختلاف سے بیزار ہیں وہ قادیانیوں کے بارے میں بڑے گو مگو میں مبتلا ہیں اور کہتے ہیں کہ قادیانی بھی ہمارا کلمہ پڑھتے ہیں وہ کیونکر کافر ہیں تفصیلاً لکھیں؟ جواب۔ قادیانیوں سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ اگر مرزا غلام قادیانی نبی ہے تو پھر تم انکا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے تو اسکا جواب مرزا کے بیٹے مرزا بشیر الدین ایم اے اپنے رسالہ کلمۃ الفصل میں اس سوال کے دو

صفحہ 27

جواب دیتے ہیں ان دونوں جوابوں سے آپ کو مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ میں فرق معلوم ہو جائے گا۔

قادیانی جب یہ کلمہ پڑھتے ہیں تو محمد رسول اللہ، سے مفہوم لیتے ہیں

مرزا بشیر احمد کا پہلا جواب۔ ”محمد رسول اللہ کا نام کلمہ میں اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ تمام نبیوں کے سرتاج ہیں۔ آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آ جاتے ہیں ہر ایک کا الگ نام لینا ضروری نہیں ہے۔ ہاں مسیح موعود (مرزا غلام قادیانی) کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہو گیا ہے اور وہ یہ کہ (مسیح موعود۔ مرزا) کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کر دی گئی ہے“

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ قادیانیوں کے کلمہ پڑھنے میں مرزا غلام احمد شریک ہے اور مسلمانوں کے کلمہ پڑھنے میں اس زیادتی سے کلمہ پاک ہے۔

مرزا بشیر احمد کا دوسرا جواب۔ ”ہم کو نئے کلمہ کی اس لئے ضرورت نہیں ہے کیونکہ مسیح موعود (مرزا) نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ مرزا خود فرماتا ہے (صار وجودی وجودہ) یعنی میرا وجود محمد رسول ہی کا وجود بن گیا ہے اور مزید کہا کہ من فرق بین المصطفی فما عرفنی و ما رانی جس نے مجھ کو اور مصطفیٰ کو الگ الگ سمجھا اس نے مجھے نہ پہچانا، نہ دیکھا اور یہ اس لئے کہ اللہ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ جیسا کہ آخرین منھم سے ظاہر ہے پس مسیح موعود (مرزا) خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے اس لئے ہم کو اس نئے کلمہ کی ضرورت نہیں“

(کلمۃ الفصل ص ۱۵۸)

اس سے مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ پڑھنے کا فرق واضح ہو گیا۔ مسلمانوں کا کلمہ پڑھنا۔ اس سے مراد محمد رسول اللہ ہیں اور قادیانیوں کے اسی کلمہ پڑھنے سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ اسی نظریہ سے قادیانی مرزا کو عین محمد کہتے ہیں، احمد مجتبیٰ کہتے ہیں، محمد مصطفیٰ کہتے ہیں، خاتم النبیین کہتے ہیں، امام الرسل، رحمت للعالمین، صاحب کوثر، صاحب معراج، صاحب مقام محمود، صاحب

صفحہ 28

فتح مبین، زمین و زمان، کون ومکان ،صرف مرزا کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ صرف اسی پر بس نہیں مرزا رسول اللہ سے افضل ہے انکا زمانہ روحانیت کی ابتدا تھی ،مرزا کا زمانہ روحانیت کی انتہا تھی ۔ اس وقت اسلام پہلی رات کے چاند کی مانند تھا ۔ مرزا کا زمانہ چودہویں رات کے بدر کامل کے مشابہ ہے۔ آپ ﷺ کے تین ہزار معجزے تھے۔ مرزا کو 10 ہزار معجزے بلکہ بے شمار معجزے دیئے گئے جو رموز آپ ﷺ پر نہیں کھلے، وہ رموز مرزے پر کھلے ہیں۔ (العیاذ باللہ )

صفحہ 29

قادیانی نواز مسلمان کون؟

تحریر: طاہر عبدالرزاق

قادیانی منافقت، عیاری اور غداری کے حوالے سے اہم مضمون

فتنہ قادیانیت عہد رواں میں اسلام کے خلاف سب سے بڑا فتنہ ہے۔ اس فتنہ نے جسد اسلام پر اپنے نوکیلے پنجوں سے اتنے زخم لگائے ہیں کہ جسم اسلامی زخمی زخمی اور لہولہو ہے۔ آج بھی اس فتنہ نے اسلام کے سینہ کو اپنا تختہ مشق بنا رکھا ہے اور استبدادی تیروں کی بارش جاری ہے۔

گذشتہ ایک صدی سے امت مسلمہ نے اپنے آقا ومولا جناب رسول عربی ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف اٹھنے والے اس فتنہ سے بڑی جاندار لڑائی لڑی ہے۔ اس سلسلہ میں کسی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ امت کے بہترین علماء نے اپنا علم اس فتنہ کے خلاف وقف کر دیا اور دلائل و براہین سے اس سازش کے پرخچے اڑا دیئے۔ خطیبوں نے اپنی خطابتوں سے اس فتنے کو طشت از بام کیا اور اپنی شعلہ نوائیوں سے مرزائیت کے خرمن میں آگ لگا دی۔ ادیبوں نے نوک قلم سے قادیانیت کے چہرے پر چڑھے ہوئے منافقت و عیاری کے دبیز پردے تار تار کر دیئے۔ شاعروں نے اپنے رزمیہ کلام سے ملت کے خون میں بجلیاں دوڑا دیں اور ملت کو قادیانیت کے خلاف صف آراء کیا۔ لاکھوں عاشقان ختم نبوت نے جیلوں کی اذیتیں برداشت کیں۔ گبھرو جوانوں نے اپنے سینے گولیاں اگلتی مشین گنوں کے سامنے رکھ دیئے اور سڑکوں پر اپنی جوانی کے گرم خون کا چھڑکاؤ کر دیا۔ بوڑھوں نے اپنی خمیدہ کمروں پر ظالم پولیس کی لاٹھیوں کی برسات سہی، ماؤں نے اپنے لاڈلے بیٹوں کو اپنے ہاتھ سے پھول پہنا کر انہیں سوئے مقتل روانہ کیا۔ بچوں نے گلیوں، بازاروں میں ”ختم نبوت زندہ باد“ کے فلک شگاف نعرے لگائے...... لیکن افسوس ! صد افسوس ! کہ اتنی جدوجہد اور قربانیوں کے باوجود قادیانیت اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچی۔ قادیانی سانپ زخمی تو ضرور ہوا ہے، لیکن موت کے گھاٹ نہیں اترا..... 1974ء کے قومی اسمبلی کے فیصلہ اور 1984ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس نے قادیانیت کے نجس وجود کے دست و پا تو کاٹے ہیں لیکن ہنوز شہ رگ محفوظ ہے۔

دوستو آؤ..... فکر کے اعتکاف میں بیٹھتے ہیں اور بھر پور غور کرتے ہیں کہ ایک صدی کی گھمسان کی لڑائی لڑنے کے باوجود بھی قادیانیت موت کے غار میں کیوں نہیں اتری؟

صفحہ 30

اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے....... اس کا صرف ایک سبب ہے اور وہ ہے قادیانی نواز ٹولہ ....... جس نے اسلام کو قادیانیوں سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے ...... ملت کے وجود پر ان کے لگائے ہوئے چرکوں کی تعداد قادیانیت کے چرکوں سے زیادہ ہے۔

کفر کے بادشاہوں نے جب عربوں کے سینے پر اسرائیل کا انگارہ رکھا ....... تو پھر اس اسرائیل کی حفاظت بھی خوب کی ...... اسے زندگی کے تمام وسائل مہیا کئے ...... اسے جدید اسلحہ سے لیس کیا ...... آج وہ اسرائیل عربوں کے سینے پہ مونگ دل رہا ہے ،مسلمانوں کا گوشت کھا رہا ہے ،خون پی رہا ہے ، اور فضا میں خونی قہقہے لگا لگا کر بدمست ہو رہا ہے ...... یہ ساری انسانیت سوز کاروائیاں کفر کے بادشاہ اپنی زیر سر پرستی کروا رہے ہیں۔

اسی طرح جب کفر کے بادشاہوں نے ملت اسلامیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے ، جذبہ جہاد سے تہی دامن کرنے کے لئے اور ان کے بدن سے روح محمدﷺ نکالنے کے لئے قادیانیت کا خنجر گھونپا تو پھر قادیانیت کی خوب پرورش کی ۔نوازشات کی موسلا دھار بارش برسائی ...... دولت کے انبار لگا دیئے...... اپنی سنگینوں کے سائے تلے اسے پروان چڑھایا ..... اپنی سرپرستی کی چھتری اس کے سر پر رکھی ۔ اس کی حفاظت کے لئے تمام وسائل میدان میں جھونک دیئے ۔ آج بھی جب کبھی پاکستان میں قادیانیت کا مسئلہ اٹھتا ہے اور مسلمان قادیانیت کی گرفت کرتے ہیں تو قادیانیوں کی حمایت میں بہت سی زبانیں حرکت میں آجاتی ہیں۔ بہت سے قلم متحرک ہو جاتے ہیں ۔کوئی انسانی حقوق کا رونا روتا ہے ، کوئی اقلیتوں کا راگ الاپتا ہے ،کوئی پاکستانیت کے نام پہ دہائی دیتا ہے ، کوئی برادری کی وجہ سے قادیانیت کی حمایت کرتا ہے ......کوئی دوستی کے ناطے قادیانیوں سے ہمدردی کرتا ہے ......کوئی مالی مراعات کی وجہ سے قادیانیوں کی فیور میں کام کرتا ہے اور کوئی وکیل چند ٹکوں کے عوض عدالت میں قادیانیوں کی وکالت کرتا ہے۔

صفحہ 31

رمق باقی ہے۔

میں مصروف ہوتے ہیں اور جونہی کوئی خطرہ محسوس کرتے ہیں، وہ ماں کے وجود سے لگے ہوئے تھیلے میں چھپ جاتے ہیں اور پھر خطرہ دور ہوجانے پر باہر نکل کر اپنی شرارتوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔

کبھار پولیس کسی مجرم کو پکڑ لے تو وہ ڈیرہ دار فوراً جا کر مجرم کو اپنے اثر و رسوخ سے پولیس سے چھڑوا لاتا ہے۔

بنا بنا کر دلائل دیتا ہے۔ کسی بزرگ نے کیا خوب کہا ہے کہ قیامت کے دن قادیانی کی حمایت کرنے والا وکیل مرزا قادیانی کے کیمپ میں ہوگا اور مسلمانوں کی حمایت کرنے والا وکیل حضور اکرم ﷺ کے کیمپ میں ہوگا۔

سوال اٹھتا ہے کہ قادیانی نواز کون ہیں؟

صفحہ 32

آیئے اس آئینہ میں دیکھیں !!! کہیں میں قادیانی نواز تو نہیں، کہیں آپ قادیانی نواز تو نہیں؟ کہیں ہمارے بھائی اور بہن قادیانی نواز تو نہیں؟ کہیں ہمارا کوئی عزیز یا دوست قادیانی نواز تو نہیں؟

خدارا! خود بھی اس ملعون کام سے رکیے اور دوسروں کو بھی اس دینی بے غیرتی سے روکیے۔ قادیانی سے دوستی اللہ کے عذاب کو للکارنا ہے ...... رسول اللہ ﷺ سے بے وفائی کرنا ہے اور آپ ﷺ کی نظر رحمت سے محروم ہونا ہے۔

اے قادیانی نواز! بہت ظلم ہو چکا ...... اب بس کر دے ...... اللہ کا خوف کر ...... رسول ﷺ سے حیا کر ...... کتاب اللہ سے شرم کر ...... اہل بیت اور صحابہ کرام کا پاس کر ...... ملت اسلامیہ پہ رحم کر ...... آخرت کی آہنی پکڑ کی فکر کر ...... اور نہ اپنے ایمان کا ستیاناس کر ......!!

صاحبو! آج اگر برادری کا جرگہ بلایا جائے اور برادری کے بڑے یہ فیصلہ کریں کہ آج سے برادری کا کوئی فرد قادیانی سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھے گا۔ اور ساری برادری قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کرے گی۔

صفحہ 33

زندگی کی ہر سطح پر ان کا بائیکاٹ کریں گے۔

بائیکاٹ کریں گے۔

احساس ہوگا اور یہ احساس انہیں حقیقت سوچنے پر مجبور کرے گا اور انشاء اللہ ہزاروں قادیانی قادیانیت پر لعنت بھیج کر اسلام کے دامن میں آ بیٹھیں گے اور جو بد بخت رہ جائیں گے، وہ پاکستان چھوڑ کر کسی اور ملک میں بسنے کے لئے بوریا بستر باندھیں گے۔

دوستو! مندرجہ بالا صورت حال سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ قادیانیت ہماری بے غیرتی اور بے حسی کی وجہ سے زندہ ہے اور ہم خود ہی قادیانیت کو زندگی کا سامان مہیا کر رہے ہیں۔

اے فرزندان اسلام! ایک شخص دیوار میں کیل ٹھونک رہا تھا۔ ہتھوڑے سے کیل پر زور دار ضربیں لگا رہا تھا۔ دیوار نے کیل سے کہا: اے کیل! تو کیوں میرے سینے کو پھاڑ رہا ہے؟‘‘ تو کیل نے جواب دیا: اے دیوار! مجھ سے کیوں شکوہ کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔ شکوہ ہتھوڑے سے کر جو مجھ پر پے در پے ضربیں لگا کر تیرا سینہ پھاڑ رہا ہے‘‘۔

آج ہمارے معاشرے میں قادیانی نواز کا کردار ”ہتھوڑے‘‘ کا ہے جو قصر اسلام میں چھید کرنے کے لئے قادیانی کیل سے پورا تعاون کر رہا ہے۔ اگر یہ ”ہتھوڑا‘‘ کیل کا ساتھ چھوڑ دے تو یہ کیل کچھ بھی نہیں کرسکتا۔

اے قادیانی نواز! بہت ظلم ہو چکا۔۔۔۔۔۔ اب بس کردے۔۔۔۔۔۔ اللہ کا خوف کر۔۔۔۔۔۔ رسول ﷺ سے حیا کر۔۔۔۔۔۔ کتاب اللہ سے شرم کر۔۔۔۔۔۔ اہل بیت اور صحابہ کرام کا پاس کر۔۔۔۔۔۔ ملت اسلامیہ پر رحم کر۔۔۔۔۔۔ آخرت کی آہنی پکڑ کی فکر کر۔۔۔۔۔۔ اور نہ اپنے ایمان کا ستیاناس کر۔۔۔۔۔۔!!

اے قادیانی نواز! دیکھ یہ ہیں قادیانی عقائد، جن کی تو حمایت کرتا ہے۔

صفحہ 34

قرار دیا ہے“ (نعوذ باللہ) (ایک غلطی کا ازالہ ص 10، مصنفہ مرزا قادیانی)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(نعوذ باللہ) (مندرجہ اخبار بدر قادیان ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۷ء)

کے کوئی مغائرت نہیں“ (نعوذ باللہ)

مرزا قادیانی کہتا ہے:

آتے ہیں سب پھر جائیں“ (نعوذ باللہ)

(سیرت المہدی، جلد اول ص 88، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی، ابن مرزا قادیانی)

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ، ص 125 ،مصنفہ مرزا قادیانی)

(تذکرہ، ص 102-103)

(اعجاز احمدی، ص 30، مصنفہ مرزا قادیانی)

(خطبہ الہامیہ، ص 171 مصنفہ مرزا قادیانی)

کہ محمد رسول اللہ ﷺ

صفحہ 35

سے بھی بڑھ سکتا ہے“ (نعوذ باللہ)

(بیان مرزا بشیر الدین محمود قادیانی ابن مرزا قادیانی، اخبار الفضل، قادیان، 17 جولائی 1922ء)

(نعوذ باللہ) (رسالہ درود شریف، بحوالہ اربعین، نمبر 2 ص 15 تا 18 نمبر 3 ص 24، مصنفہ مرزا قادیانی)

المہدی، بابت جنوری، فروری، 1915ء، 3/2 ص 57)

(نزول المسیح، ص 96، مصنفہ مرزا قادیانی)

اے قادیانی نواز! تیری قادیانیت نوازی کا مطلب قادیانیوں کے ان غلیظ اور روح فرسا عقائد کی حفاظت کرنا ہے۔ تیری قادیانیت نوازی سے مراد قادیانیوں کے ان ایمان سوز عقائد کی حمایت کرنا ہے....... بتا کچھ آنکھیں کھلیں کہ نہیں....... بتا ذہن کی گرہیں کھلیں یا نہیں....... بتا! ضمیر نے کوئی انگڑائی لی یا نہیں....... جلدی بتا!....... ورنہ وہ وقت آنے میں کوئی دیر نہیں....... جب تو زمین کے جبڑوں میں جکڑا جائے گا ....... جب منکر نکیر گرز مار مار کر تیرے وجود کو دھنی ہوئی روئی کا ڈھیر بنادیں گے....... جب سانپوں اور بچھوؤں کے اژدھا تجھ پر ٹوٹ پڑیں گے....... جب جہنم کی چنگھاڑتی ہوئی آگ تجھے جلا کر خاک سیاہ بنادے گی....... اور جہنم میں جلتا ہوا مرزا قادیانی تیرا تماشا دیکھے گا................................ ☆☆

صفحہ 36

تحریر: محمد طاہر عبدالرزاق

شیزان کا بائیکاٹ

قادیانی اور شیزان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں

شیزان قادیانیوں کی بدنام زمانہ مشروب ساز فیکٹری ہے۔ اقتصادی لحاظ سے یہ فتنہء قادیانیت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اسی کمپنی کے ’پٹرول‘ سے جھوٹی نبوت کی گاڑی چلتی ہے۔ المختصر شیزان کمپنی قادیانی نبوت کا اقتصادی یونٹ ہے۔ جس طرح تاجدار ختم نبوت جناب محمد عربی ﷺ کی سچی نبوت کے لئے حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عثمان غنیؓ اپنی دولت بے دریغ خرچ کرتے تھے۔ آج اسی طرح مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کی تشہیر کے لئے شیزان کمپنی اپنا سرمایہ بے دریغ خرچ کر رہی ہے۔ گذشتہ برسوں میں شیزان کمپنی نے قادیانیت کی تبلیغ وتشہیر کا ایک ریکارڈ کام کیا ہے۔ پاکستان میں قادیانیوں کے سالانہ جلسہ پر پابندی لگنے پر یہ جلسہ ملعونہ لندن میں منعقد ہوا جس پر ایک زرِ کثیر خرچ ہوا۔ جس کا نصف شیزان نے ادا کیا۔ 1988ء میں اپنی سالانہ آمدنی کا دسواں حصہ (ایک کروڑ ساڑھے اکاون ہزار روپیہ) ربوہ فنڈ میں جمع کرایا۔ شیزان ہی وہ دشمن اسلام کمپنی ہے جو نبوت کاذبہ کے شائع ہونے والے درجنوں رسائل وجرائد کو اپنے اشتہارات دے کر انہیں مالی طور پر مضبوط رکھتی ہے۔ شیزان ہی وہ دشمن رسولؐ کمپنی ہے جس نے عقیدہ ختم نبوت کے خلاف کام کرنے والے قادیانی طلباء کے وظائف مقرر کر رکھے ہیں، دنیا میں مرزائی نبوت کا لٹریچر اور تحریف شدہ قرآن پھیلانے کے شیطانی منصوبے پر پوری قوتوں سے عمل پیرا ہے۔ پچھلے دنوں جب شیزان کمپنی کا مالک چوہدری شاہ نواز جہنم رسید ہوا تو اس کی مرگِ بے ایمان پر قادیانی نبوت کے ترجمان ”الفضل“ نے اپنے مرتد سپوت کی شخصیت پر جو تعریفی کلمات کہے وہ ان بھولے بھالے مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے اور دماغوں کے دریچے وا کرنے کے لئے کافی ہیں جو کہتے ہیں کہ شیزان فیکٹری قادیانیوں کی نہیں یا شیزان فیکٹری پہلے قادیانیوں کی تھی اور اب مسلمانوں نے خرید لی ہے۔ قادیانی روزنامہ ”الفضل“ لکھتا ہے۔

”احباب جماعت کو نہایت افسوس سے اطلاع دی جاتی ہے کہ مکرم چوہدری شاہ نواز صاحب 23 مارچ 1990 کی شب لاہور میں حرکت قلب بند ہو جانے کیوجہ سے انتقال فرما گئے۔ آپ کی عمر 85 برس تھی محترم چوہدری شاہ نواز صاحب جماعت احمدیہ کے مخیر اور مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے احباب

صفحہ 37

میں سے تھے۔ آپ کو روسی زبان میں ترجمہ و طباعت قرآن کریم کا سارا خرچ ادا کرنے کی بھی توفیق ملی۔

چنانچہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ 1983ء کے دوسرے روز 27 دسمبر کو خطاب فرماتے ہوئے محترم چوہدری شاہ نواز صاحب کا ذکر یوں فرمایا:

”روسی زبان میں ہم ابھی تک ترجمہ قرآن شائع نہیں کر سکے تھے اس کے اخراجات بھی بہت اٹھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے محترم چوہدری شاہ نواز صاحب کے دل میں یہ تحریک ڈالی انہوں نے کہا کہ وہ روسی زبان میں ترجمہ و نظر ثانی کے سارے اخراجات ادا کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں مزید نیکی کی توفیق دی ...... ایک نیکی دوسری نیکی کو جنم دیتی ہے چنانچہ انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں روسی زبان میں قرآن کریم کی طباعت کے بھی سارے اخراجات ادا کروں گا“ ( الفضل 14 جنوری 1984ء)

اسی طرح خطاب جلسہ سالانہ لندن 1987ء کے موقع پر بھی فرمایا ”چوہدری شاہ نواز صاحب کو رشین قرآن کریم کا خرچ پیش کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔“ حضور نے مزید فرمایا۔

”جاپانی زبان کے متعلق چوہدری شاہ نواز صاحب کے بچوں نے اپنے باپ کے علاوہ یہ پیش کش کی ہے اور اس سلسلے میں بہت سی رقم جمع بھی کروا چکے ہیں“

(ضمیمہ قادیانی ماہنامہ ’خالد‘ اکتوبر 1987ء۔ ص 6 کالم 2)

شیزان کمپنی کو مسلمانوں کی کمپنی کہنے والو! قادیانی جریدہ کے اس اعلان کو چشمانِ ہوش سے بار بار پڑھو ”آپ نے پاکستان کے نمایاں کامیاب تجارتی ادارے قائم کئے۔ ان میں شاہ نواز لمیٹڈ ، شیزان انٹرنیشنل ، شاہ تاج شوگر ملز اور شاہ نواز ٹیکسٹائل ملز شامل ہیں“ ( الفضل ربوہ 26 مارچ 1990ء)

اے مسلمان ! قادیانیوں کا یہ ترجمہ قرآن کیا ہے؟ یہ جھوٹی نبوت کے سفاک لٹیروں کے تیروں، نیزوں ، خنجروں ، برچھیوں ، بھالوں اور کلہاڑیوں سے مسلح ہو کر قرآن پر یلغار ہے۔ قرآنی مطالب و معانی کا قتل ہے۔ مفاہیم قرآن کا گلا گھونٹنا ہے۔ الفاظ قرآن کو ارتدادی لباس پہنانا ہے اور دجل و فریب کے سہارے قرآن سے قادیانی نبوت کا جواز اور ثبوت پیش کرنا ہے۔

اے سادہ لوح مسلمانو! قادیانی ترجمہ قرآن کے اپنے باطل مشن پر کروڑوں روپیہ کیوں صرف کر رہے ہیں؟ پوری دنیا میں اس زہریلے ترجمے کو کیوں پھیلا رہے ہیں؟ اور شیزان کمپنی اس فوجِ ابلیس کا ہراول

صفحہ 38

دستہ کیوں ہے؟ اس لئے کہ وہ اسی ارتدادی ترجمہ قرآن کی مدد سے ”عقیدہ ختم نبوت“ کو جھٹلاتے ہیں اور سلسلہ نبوت کو جاری ثابت کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی نبوت کا جواز نکالا جاتا ہے اور اسے مسند نبوت و رسالت پر بٹھایا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب قرار دیا جاتا ہے۔ اور مرزا قادیانی کو آنے والا مسیح موعود کہا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی کو محمد رسول ﷺ مانا جاتا ہے اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ دین اسلام کی تبلیغ کے لئے دوبارہ اس دنیا میں مرزا قادیانی کی صورت میں تشریف لائے ہیں (نعوذ باللہ)۔ دین کی تکمیل مرزا قادیانی کی ذات پر کی جاتی ہے۔ قرآن کا اس کی ذات پر دوبارہ نازل ہونا ثابت کیا جاتا ہے۔ قرآن کی وہ آیات جن میں رب العزت نے اپنے محبوب محمد عربی ﷺ کو مخاطب کیا ہے ان آیات مقدسہ کو مرزا قادیانی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کے مرتد ساتھیوں کی جماعت کو ”صحابہ رسول“ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس کی بے ایمان بیویوں کو ”امہات المومنین“ کا عظیم نام دیا جاتا ہے، اس کے گھر والوں کے لئے ”اہل بیت“ کی مقدس اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اسی ترجمہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر رکیک حملے کئے جاتے ہیں، عقیدہ توحید کی بنیادوں کو منہدم کیا جاتا ہے۔ منصب نبوت ورسالت پر پھبتیاں کسی جاتی ہیں، انبیائے کرام کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ مریم مقدسہ پر بہتان لگائے جاتے ہیں۔ اور شعائر اسلامی کو اس بری طرح روندا جاتا ہے کہ الامان، الحفیظ!

اے مسلمانو! قادیانی اس قدر تندہی سے اس ارتدادی منصوبہ پر اس لئے عمل پیرا ہیں کیونکہ وہ قرآن اور صاحب قرآن سے مسلمانوں کا ناطہ توڑ کر مرتد عصر مرزا قادیانی سے جوڑنا چاہتے ہیں۔ ملت بیضا کی عقیدتوں کے دھاروں کا رخ مکہ اور مدینہ کے روحانی مراکز سے موڑ کر سوئے مرکز نبوت افرنگ ”قادیان“ لے جانا چاہتے ہیں۔ اور نبوت محمدی کا پرچم سرنگوں کر کے عالم کی فضاؤں میں قادیانی نبوت کا پرچم لہرانا چاہتے ہیں اور انسانیت کو اس پرچم تلے جمع کر کے مرزا قادیانی کے سر پر رہبر انسانیت کا تاج رکھنا چاہتے ہیں۔ (نعوذ باللہ)

اے مسلمان! جب تو مصنوعات شیزان خریدتا ہے تو تیری جیب سے ایک خطیر رقم نکل کر مالکان شیزان کی تجوریوں میں جا پہنچتی ہے۔ اور پھر نبوت کاذبہ کا یہ کاروباری ادارہ تیری رقم کا دسواں حصہ قادیانیوں کے مرکزی فنڈ میں پہنچا دیتا ہے۔ اب اگر!

صفحہ 39

تیری رقم کسی قادیانی عبادت گاہ کی تعمیر پر خرچ ہوئی تو اس بیت الشیطان کی تعمیر میں تو کتنا معاون و مددگار؟ تیری رقم سے کسی قادیانی مبلغ کو تنخواہ ملی اور اس نے کسی مسلمان کو قادیانیت کے دام میں پھنسا کر قادیانی بنالیا تو اس کا ایمان لوٹنے میں تو کتنا ملوث؟ تیری رقم سے تحریف شدہ قرآن اور مسخ کردہ احادیث شائع ہوئیں تو اسلام کے خلاف اس گھناؤنی سازش میں تیرا کتنا حصہ؟ تیری رقم سے قادیانی اسلحہ خریدیں اور اس اسلحہ سے کسی مجاہد ختم نبوت کو شہید کر دیں تو اس قتل ناحق میں تو کہاں تک شامل؟ تیری رقم سے قادیانی سربراہ مرغ و قورمہ، زردہ پلاؤ اور دیگر مقوی اشیاء کھا کر اپنے قلب و جگر اور دماغ و زبان کو تقویت دے اور پھر ان قوتوں سے تیرے رسول اور تیرے دین کے بارے میں بکواس کرے تو اس کی آواز میں تیری کتنی آواز؟

رسول رحمتؐ کے امتیو! مصنوعات شیزان خریدنا جھوٹی نبوت کے فنڈ میں پیسہ جمع کروانا ہے، ختم نبوت کے لٹیروں کی کمر مضبوط کرنا ہے۔ ناموس رسالت کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں میں خنجر دینا ہے۔ فرض کریں آپ پانچ بھائی ہیں۔ باپ نے آپ کو بڑی محبتوں اور چاہتوں سے پالا ہے۔ ایک شخص جو آپ کے ابا جان سے بغض و عناد رکھتا ہے۔ لیکن اس کا اظہار نہیں کرتا۔ آپ کے محلہ میں ایک دوکان کھول لیتا ہے۔ آپ اس دوکاندار سے گھر کے لئے سودا سلف خریدتے ہیں۔ آپ کے ایک سال سودا سلف خریدنے سے دوکاندار کو جتنی آمدنی ہوتی ہے۔ وہ اس سے ایک ریوالور خریدتا ہے۔ اور آپ کے پیارے والد صاحب پر حملہ آور ہوتا ہے، حملے کا صدمہ تو ہوگا ہی۔ لیکن جب آپ کو یہ پتہ چلے گا کہ ہمارے ہی پیسوں سے اس شقی القلب نے ریوالور خریدا اور ہمارے ہی پیسوں سے خریدی گئی گولیاں والد صاحب پر چلائی گئیں۔ اس صورت میں غم، غصہ، افسوس اور ندامت کی جو کیفیات آپ پر طاری ہوں گی الفاظ انہیں بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ آپ اس دوکاندار سے جس طرح کا برتاؤ کریں گے اور قانون اور طاقت کے ذریعے جس شدت سے اس کا محاسبہ کریں گے۔ یہ آپ کی غیرت اور باپ سے محبت کا اظہار ہوگا، اور یقیناً محبت و غیرت کا یہ اظہار ایک روشن مثال ہو گی۔ لیکن اگر ہم لاکھوں مسلمان بھائی مصنوعات ”شیزان“ خریدیں اور لاکھوں روپیہ قادیانی فنڈ میں جمع کروائیں اور اس بھاری رقم کے توسط سے قادیانی خطرناک ہتھیاروں سے مسلح ہو کر سرور کائنات ﷺ کی عزت و ناموس پر حملہ آور ہوں اور ہمیں پرواہ تک نہ ہو۔ بلکہ بار بار شیزان خرید کر ناموس رسالت کے ان قزاقوں کی جھولیاں سیم و زر سے بھرتے رہیں اور اس گناہ عظیم کا ارتکاب بار بار کرتے رہیں تو ہماری دینی

صفحہ 40

غیرت و اسلامی حمیت کا کیا ہوگا؟ ہائے جسمانی باپ پر اتنا غم، غصہ، افسوس اور ندامت اور روحانی باپ کی ذات اقدس پر خاموشی و بے اعتنائی! جس کے جوتوں کی خاک پر جسمانی باپ قربان! مسلمانوں کی بے حسی و بے حمیتی پر زمانہ یہی کہہ رہا ہے۔

خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا
آنکھوں سے شرم سرور کون و مکاں گئی

اگر یہودیوں کی کوئی تنظیم پاکستان آئے اور پاکستان میں فروخت کرنے کے لئے بہت سی اشیاء ساتھ لائے اور ان کا منصوبہ یہ ہو کہ اشیاء کی فروخت سے جو رقم حاصل ہوگی اس سے حج کے موقع پر خانہ کعبہ میں بموں کے دھماکے کرائے جائیں گے اور خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی جائے گی (نعوذ باللہ) اگر مسلمانوں کو اس خطرناک منصوبہ کا علم ہو جائے تو اشیاء تو گئیں جہنم میں، اس شیطانی تنظیم کی ایسی درگت بنائیں گے کہ انہیں چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا، شیزان بھی ایک ایسی تنظیم اور کمپنی ہے جو ایک ہی زبردست دھماکہ سے اسلام کے پرخچے اڑا دینا چاہتی ہے، لیکن مسلمانوں کی سادہ لوحی دیکھئے کہ دھڑا دھڑ شیزان کی اشیاء خرید رہے ہیں۔ اور اس دشمن اسلام کمپنی کی جیبوں کو نوٹوں سے بھر رہے ہیں۔

؎ کوئی تو ناصح ٹھہرے میری قوم کو سمجھانے کے لئے

جب کسی دکاندار سے شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کو کہا جاتا ہے۔ تو کہتا ہے کہ جناب! بائیکاٹ ایک ظلم ہے کیونکہ شیزان فیکٹری میں سینکڑوں مسلمان بھی کام کرتے ہیں۔ اگر شیزان کا بائیکاٹ کر دیا جائے تو بے چارے ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے۔ ان دوکاندار بھائیوں کی خدمت میں التماس ہے کہ یہ مسلمان ملازمین شیزان کمپنی کا بہت مؤثر ہتھیار ہیں۔ اور قادیانی اس ہتھیار کو کمال مہارت سے استعمال کرتے ہیں۔ شیزان کمپنی کی تمام کلیدی آسامیوں پر قادیانی قابض ہیں۔ مسلمان ملازمین تو معمولی تنخواہوں پر محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ٹرکوں کے ڈرائیور، کنڈیکٹر اور بوجھ اتارنے چڑھانے والے مزدوری کرنے والے مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ جب کسی علاقہ میں شیزان کے بائیکاٹ کی تحریک اٹھتی ہے تو مسلمان دوکاندار دینی غیرت سے سرشار ہو کر شیزان کا بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔ تو ان حالات میں مالکان شیزان مسلمان ملازمین والا ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ اور ان ملازمین کو علاقہ کے دوکانداروں کے پاس بھیج دیتے ہیں۔ جہاں جاکر

صفحہ 41

یہ ملازمین منتیں سماجتیں کرتے ہیں اور ہاتھ جوڑ کر انہیں کہتے ہیں خدارا!!! ہمارے حال پر رحم کھاؤ۔ اگر تم نے مال لینا بند کر دیا تو ہماری ملازمتیں ختم کر دی جائیں گی۔ اور ہمارے بیوی بچے نان شبینہ کو ترسیں گے، بات شیزان کی نہیں، بات ہمارے مالی تحفظ کی ہے، بات بچوں کی دو وقت کی روٹی کی ہے۔ ہم تمہارے کلمہ گو مسلمان بھائی ہیں۔ ہمارے لئے مصنوعات شیزان رکھ لو۔ ان کی درد بھری باتیں سن کر اکثر دوکاندار ان پر ترس کھا جاتے ہیں۔ اور دکانوں پر شیزان کا کاروبار پھر زور وشور سے شروع ہو جاتا ہے۔ عیار قادیانی مسلمان دوکانداروں کا شکار کرنے کے لئے ان مسلمان ملازمین کو اسی طرح استعمال کرتے ہیں جس طرح ایک مچھیرا مچھلی کے گوشت کا ٹکڑا کانٹے پر لگا کر دوسری مچھلیوں کا شکار کرتا ہے۔

شیزان فیکٹری میں کام کرنے والے مسلمان ! اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے...... اس کے رزق کے خزانے بڑے وسیع ...... مرتدوں کے ہاں تیری ملازمت باعث ندامت دنیا و آخرت ہے...... اور تیری غیرت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ...... رحمان و رحیم خدا پر بھروسہ کر ...... شیزان کی ایمان سوز نوکری کو جوتے کی ٹھوکر مار ...... یقیناً اللہ بہتر رزق دینے والا ہے۔

اے شیزان پینے والے ! شیزان پی پی کر اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دے ...... مرتدین کا یہ موذی مشروب تجھے کسی موذی مرض میں مبتلا نہ کر دے...... اور زندگی کی ساری رعنائیاں تجھے داغ مفارقت نہ دے جائیں۔

اے شیزان بیچنے والے ! شیزان بیچ کر اپنی غیرت اور عشق رسول نہ بیچ، دشمنان رسول کا کاروباری ایجنٹ بن کر قادیانیت نہ پال، یہ شنیع کاروبار کرنے سے جو چند ٹکے تیرے گھر آئیں گے۔ وہ اپنے ساتھ لاکھ نحوستوں کے انبار بھی لائیں گے۔ اللہ اور اس کے رسول کے لئے اس ذلیل کاروبار پر تھوک دے ورنہ تیری زندگی دوسروں کے لئے تماشہ عبرت بن جائے گی۔

ناموس دین حق کے نگہبان کو کیا ہوا!
اے رب ذوالجلال مسلمان کو کیا ہوا

اے افراد ملت اسلامیہ! آج ہمارے معاشرے میں ڈاکٹر شوگر کے مریض کو میٹھی اشیاء استعمال کرنے سے روکے تو وہ فوراً رک جاتا ہے۔ اگر بلڈ پریشر کے مریض کو نمک استعمال کرنے سے منع کرو، تو وہ فوراً منع ہو جاتا ہے۔ اگر کھانسی کے مریض کو کھٹی اشیاء سے باز رہنے کی تلقین کرے، تو کھٹی اشیاء کا بائیکاٹ کیا جاتا

PDF 43

ہے ۔ اگر دل کے مریض کو سخت کام کاج سے روکے تو فوراً اس نصیحت پر کان دھرے جاتے ہیں۔ لیکن اگر منبر و محراب سے شیزان کے بائیکاٹ کی آوازیں گونجیں اور دینی رسائل اور دینی رسائل و جرائد مسلمانوں کی غیرت کو جھنجھوڑتے ہوئے شیزان کے خلاف بائیکاٹ کی مہم چلائیں۔ تو کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ جان کی حفاظت کیلئے تو ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق سب کچھ چھوڑا جا سکتا ہے لیکن کیا ایمان کی حفاظت کے لئے شیزان نہیں چھوڑا جا سکتا؟

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

اے مسلمان! اگر روٹی جلی ہوئی ہو تو تیری طبیعت پر گراں گزرتی ہے، اگر سالن بد ذائقہ ہو تو تیرے گلے سے نیچے نہیں اترتا۔ اگر اشیاء خوردنی پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہوں تو تجھے گھن آتی ہے۔ لیکن شیزان جیسا ارتدادی مشروب اپنے معدہ میں انڈیلتے ہوئے تجھے کوئی گھن نہیں آتی ۔ اپنے دشمن کے گھر کی چیز تو تو نہیں کھاتا۔ لیکن رسولؐ کے دشمن کے گھر کا مشروب غٹا غٹ پیتا ہے۔ جو تیری توہین کرے اس کے لئے تو تیرے گھر کا دروازہ بند ہو جاتا ہے لیکن شیزان کے لئے تیرے گھر کے دروازے کھلے اور پینے کے لئے تیرا منہ بھی کھلا۔ تو کتنے شوق سے اپنے فریج اور باورچی خانہ میں شیزان کی شیطانی بوتلوں کو سجاتا ہے۔ جو تجھے ضرر پہنچائے۔ وہ تیری دعوت میں نہیں آ سکتا لیکن دشمن اسلام ”شیزان“ کی تیری دعوتوں میں اجارہ داری! تیرے اسلاف نے اللہ اور اسکے رسولؐ کی محبت میں وطن چھوڑ دئے ، ماں باپ چھوڑ دیئے ، بیٹے چھوڑ دیئے ، یارانے دوستانے چھوڑ دیئے اور ایک تو ہے کہ شیزان نہیں چھوڑ سکتا اور شاید حکیم الامت حضرت علامہ اقبال نے تیرے جیسوں کے لئے ہی کہا تھا!

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

اے آغوش دنیا میں مست مسلمان! موت ہر دم ہمارے تعاقب میں ہے۔ عنقریب یہ ہمیں اپنے پنجوں میں دبوچ لے گی اور ہماری رگ جان کاٹ ڈالے گی اور ہم اعمال کی جوابدہی کے لئے اس جہان فانی سے اس جہان باقی میں پہنچ جائیں گے ۔ موت کا کسی وقت بھی حملہ آور ہونا اور ہمیں اچک لے جانا ذہن میں رکھو۔ اور سوچو اگر ہم نے صبح شیزان کی بوتل پی اور دوپہر کو مر گئے یا دوپہر کو شیزان کا اچار کھایا اور رات کو

صفحہ 43

لقمہ اجل بن گئے یا رات کو شیزان کی جلیبی کھائی اور آدھی رات کو انتقال کر گئے ان صورتوں میں شیزان ہمارے پیٹ میں جانے کے لئے تیار ! جب ہمیں قبر کے پیٹ میں اتارا جائے گا اور منکر نکیر ہم سے سوال جواب کے لئے آئیں گے تو ہمارے منہ سے ”شیزان“ کی بدبو آ رہی ہو گی قبر سے اٹھا کر جب میدان حشر میں لایا جائے گا۔ ساقی کوثرﷺ کے حضور جب جام کوثر مانگنے جائیں گے تو وہاں بھی اس بدبو کے بار خجالت سے ہمارا سر نہیں اٹھے گا۔ جب ہمارے منہ سے دشمن رسول ”شیزان“ کی ارتدادی بدبو کے بھبھوکے اٹھ رہے ہوں گے تو پھر ہم کس منہ سے شافع محشرﷺ سے شفاعت کا سوال کریں گے؟ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اور موت کسی کو مہلت نہیں دیتی۔ زندگی کی چند مستعار گھڑیوں کو مہلت جانیں ...... خوب غور کریں ...... سوچ کے مراقبہ میں بیٹھیں...... فکر کے اعتکاف میں بیٹھیں ...... کیونکہ آمد عزرائیل کے بعد نہ سوچ سے کچھ حاصل ہوگا اور نہ فکر کا کچھ فائدہ!

چوکھٹے قبروں کے خالی ہیں انہیں مت بھولو
جانے کب کونسی تصویر سجا دی جائے
PDF 45

حکومت وقت سے مسلمانوں کے اہم مطالبات

منجانب خادم ختم نبوت (مولانا) منظور احمد چنیوٹی سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ

Irshad Printing Press Chiniot, Ph:0466-334420

PDF 46

ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کی چند اہم مطبوعات

نمبر شمار کتاب زبان تصنیف وتالیف قیمت

PDF 47

ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد

چنیوٹ پاکستان

کے لٹریچر کا مطالعہ کرنا

ہر مسلمان کا فرض اولین ہے!

ارشاد پرنٹنگ پریس اینڈ جے ایس کمپیوٹر کمپوزنگ سنٹر اندرون گلی جامعہ عربیہ چنیوٹ فون نمبر: 334420-0466 موبائل: 4890351-0320

PDF 48

ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کی چند اہم مطبوعات

نمبر شمار کتاب زبان تصنیف وتالیف قیمت

۲۰ چودہ میزائل اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۱۷۰ ۲۱ مباہلہ کا چیلنج منظور ہے اردو " " ۲۰ ۲۲ معرکہ حق و باطل اردو " " ۷۰ ۲۳ فتوی حیات مسیح اردو " " ۱۳۰ ۲۴ پنجابی نبی اردو " " ۳۰ ۲۵ مناظرہ ناروے اردو " " ۴۰ ۲۶ لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا اردو " " ۴۰ ۲۷ معرکہ حق و باطل قادیانیت کے خلاف اردو " " ۴۰ ۲۸ ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے اردو " " ۷۰ ۲۹ حرف ناقدانہ جواب اک حرف ناصحانہ اردو " " ۲۰ ۳۰ ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانی سازشیں اردو " " ۲۵ ۳۱ نبوت کے نام پر شرمناک تحریف اردو عبدالرحیم منہاس سابق ڈیوڈ منہاس ۳۰ ۳۲ میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی؟ اردو قاضی خلیل احمد ۳۰ مولانا محمد ابراہیم ۳۳ قرآن مجید اور عقیدہ ختم نبوت اردو مولانا محمد ابراہیم ۳۵ ۳۴ الحق الصریح مما تواتر فی حیاۃ المسیح اردو مولانا محمد ابراہیم ۳۵ ۳۵ ابن مریم زندہ ہیں حق کی قسم اردو مولانا محمد ابراہیم ۲۵ ۳۶ خاتم الانبیاء اور بزرگان دین اردو استاد گل محمد توحیدی ۳۰ ۳۷ تاریخ ساز تقریب اردو استاد اشفاق ناصر و ماسٹر محمد روز ۵۰ ۳۸ تقریب سنگ بنیاد اردو و عربی استاد اشفاق ناصر و ملک مختار احمد ۵۰ ۳۹ خسوف و کسوف اردو حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ۳۰