انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
تذکرہ مجاہدین
ختم نبوت
مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوة
حضوری باغ روڈ ملتان ☎ 40978
جملہ حقوق بحقہ ناشر محفوظ ہیں
نام کتاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تذکرہ مجاہدین تحریک ختم نبوت سرورق ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عنایت اللہ رشیدی تعداد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک ہزار تاریخ اشاعت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یکم اگست ۱۹۹۰ء قیمت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ روپے
طابع ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رشید احمد چودھری مکتبہ جدید پریس ۔ ۹ ریلوے روڈ لاہور
ملنے کے پتے
- ▲ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۔ حضوری باغ روڈ ملتان فون ۷۰۹۷۸
- ▲ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۔ ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ فون ۷۲۹
- ▲ مکتبہ سید احمد شہید ۔ ۱۰ الکریم مارکیٹ اردو بازار لاہور۔ فون ۲۲۸۱۹۶
انتساب
مخدوم العلماء والصلحاء حضرت مولانا محمد یوسف متالا دامت برکاتہم خلیفہ مجاز برکۃ العصر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی و مہتمم دارالعلوم ہولکمب بری انگلینڈ کے نام یہ کتاب منسوب کرتے ہوئے قلبی سکون محسوس کرتا ہوں۔
اگر آپ نے اسے قبول فرما کر میرے لیے دست دُعا اُٹھا دیے تو یہ میرے لیے توشہ آخرت ہوگا۔
طالبِ دُعا
فقیر اللہ وسایا ۔ ملتان
فہرست
نام صفحہ نمبر نام صفحہ نمبر حضرت ابو مسلم خولانیؒ ۹ ماسٹر تاج الدین انصاریؒ ۱۱۷ حضرت اُمّ عمارہؓ ۱۰ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ۱۱۹ حضرت زید بن حارثہؓ ۱۱ مولانا محمد حسن امروہیؒ ۱۲۷ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ ۱۱ شیخ حسام الدینؒ ۱۳۰ مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ ۱۲ مولانا محمد حسن فیضیؒ ۱۳۱ حضرت خواجہ مولانا احمد خاں مجددیؒ ۲۱ فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ ۱۳۳ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ ۲۲ مولانا عبد الحامد بدایونی ۱۴۲ حضرت خواجہ اللہ بخش تونسویؒ ۲۶ خواجہ حسن نظامیؒ ۱۴۲ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ۲۹ حضرت خواجہ خاں محمد صاحب مدظلہ ۱۴۳ علامہ محمد اقبالؒ ۳۲ مولانا خلیل احمد قادری ۱۴۴ جسٹس محمد اکبر خاںؒ ۳۵ مجیب الرحمٰن شامی ۱۴۶ حضرت خواجہ ابراہیم مجددیؒ ۳۶ شاہ صوفی سلمان ۱۴۸ امیر محمد خاں گورنر ۳۷ حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ ۱۵۲ مولانا احسان الٰہی ظہیرؒ ۳۸ سید شمس الدین ۱۵۳ خان احمد یار خاں ۳۹ مولانا محمد شریف جالندھریؒ ۱۵۷ سید امین گیلانی ۴۰ آغا شورش کاشمیریؒ ۱۶۶ مولانا تاج محمودؒ ۴۹ مولانا محمد صدیق ۱۶۸
نام صفحہ نمبر نام صفحہ نمبر نواب محمد صادق پنجم ۱۶۹ خواجہ غلام دستگیر قصوری ۲۲۴ خواجہ محمد ضیاء الدین سیالویؒ ۱۷۱ غلام قادر بھیروی ۲۲۴ پیر امیر ظہور شاہ صاحب ۱۷۲ مولانا غلام غوث ہزارویؒ ۲۲۵ چوہدری ظہور الٰہی صاحب ۱۷۲ شاہ فہد ۲۳۰ عبدالمجید سیٹھی ۱۸۷ قاضی فضل احمد لدھیانویؒ ۲۳۱ حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ ۱۷۵ میاں فضل احمد میانوالی ۲۳۲ حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ ۱۷۴ فقیر محمد جہلمی ۲۳۴ شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ ۱۷۷ مفتی کفایت اللہ ۲۳۴ حضرت عماد الدین غوری ۱۸۸ محمد کرم الدین بھیں ۲۳۶ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ۱۸۸ لیاقت علی خاں ۲۳۹ مولانا عبدالشکور لکھنویؒ ۲۰۳ پیر محمد شاہ سہارنپوری ۲۴۱ مولانا محمد علی جالندھریؒ ۲۰۲ صاحبزادہ محی الدینؒ گولڑہ شریف ۲۴۲ مولانا عبدالستار خاں نیازی ۲۱۷ مولانا محمد لدھیانوی ۲۴۲ غازی عبدالقیوم ۲۲۱ مولانا نواب الدین ۲۴۶ خان عبدالرحمن خاں والی افغانستان ۲۲۲ خواجہ ناظم الدین ۲۵۳ حکیم محمد عالم آسی ۲۲۲ مولانا محمد یوسف بنوریؒ ۲۵۴ مولانا عبدالکریم بھیر شریف ۲۲۳ مفتی محمد یونسؒ ۲۶۷ مولانا عتیق الرحمن چنیوٹی ۲۲۳ متفرقات ۲۶۷
پیش لفظ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
اما بعد : سالہا سال قبل فقیر نے اپنے مربی و محسن مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ کے حکم سے ایک رسالہ مبشرات صالحہ ترتیب دیا تھا ، جس کا نقش ثانی ” ایمان پرور یادیں “ نامی کتابچہ ہے ۔
ہر دو رسائل کو قدرت نے محض اپنے فضل و کرم سے شرف قبولیت سے نوازا ۔ ان کے کئی ایڈیشن شائع ہو کر اندرون و بیرون ملک تقسیم ہوئے ۔ جن احباب نے انہیں پڑھ کر اپنی محبتوں اور شفقتوں سے سرفراز فرمایا اُنہوں نے اس ضرورت کا بھی احساس دلایا کہ ایمان پرور یادیں نامی کتابچہ میں جو واقعات اور تحریک ختم نبوت کی منتشر داستانیں قلم بند ہونے سے رہ گئی ہیں اُن کو بھی جمع کر دیا جائے تاکہ آنے والی نسل مجاہدین ختم نبوت کے ایمان پرور ، جہاد آفرین ، حقائق افروز تذکروں سے واقف ہو سکے ۔
اس ضرورت کا سب سے زیادہ احساس جناب محترم محمد متین خالد و برادر گرامی جناب طاہر رزاق مجاہد ختم نبوت نے دلایا۔ اور پھر کرم یہ کہ فقیر کی طرف سے آمادگی پا کر جناب محمد متین خالد ، اُن کے اور میرے چھوٹے بھائی جناب قدیر شہزاد نے کتابوں و رسائل سے مواد اکٹھا کرنا شروع کیا۔ ہزار ہا صفحات کی ورق گردانی کے بعد جمع شدہ مواد کا فوٹو سٹیٹ علیحدہ علیحدہ کاغذوں پر پیسٹ کر کے فقیر کو ملتان دفتر مرکزیہ کے پتہ پر بھجوا دیا۔ اور اس کی ترتیب و تکمیل کے لیے اپنے مطالبہ میں جنون کی حد تک
شدت پیدا کر دی۔ فقیر نے انتہائی عجلت میں اس مواد کو دیکھا، کانٹ چھانٹ ترمیم و اضافہ کے وقت جن حضرات کا تذکرہ مطبوعہ مواد میں نہ مل سکا فقیر نے اپنی یادداشتوں سے اُسے مرتب کیا اور یوں یہ کتاب کاتب کے حوالے کر دی گئی۔
مجھے اس امر کا بڑی شدت سے احساس ہے کہ اس کتاب میں پھر بھی تمام مواد جمع نہیں ہو سکا۔ جو میسر آیا حاضر ہے جو میسر نہیں آیا اُس کے لیے تلاش جاری رہنی چاہیے۔ کتاب پڑھنے سے قبل اس امر کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ یہ کتاب فقیر کی تصنیف نہیں ہے۔ سوائے چند صفحات کے باقی جمع شدہ مواد ہے جس کی ترتیب قائم کر دی گئی ہے۔ اس لیے کتاب میں اگر کہیں خوبی نظر آئے یا جھول تو مذکورہ گزارش پیش نظر رہے۔
میری طبیعت کا لاابالی پن کہیں یا ناتجربہ کاری کہ تمام تر مطبوعہ مواد کو من وعن نقل کر دیا گیا ہے، لیکن اصل مراجع کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ اگر اصل حوالہ جات شامل کر دیے جاتے تو کتاب کی ضخامت میں قابل قدر اضافہ ہو جاتا۔ پہلے احساس نہ ہوا جب احساس ہوا تو وقت گزر چکا تھا (کتاب کی کتابت مکمل ہوکر پریس جانے کے لیے تیار ہے)۔ کتابت کے بعد پروف ریڈنگ کا مرحلہ اہم ہوتا ہے۔ اس میں مرتب و مصنف کو بہت کچھ اصلاح کا موقع مل جاتا ہے، لیکن فقیر کی محرومی کہ اپنی ایک ذاتی دُنیاوی پریشانی کے باعث کتابت کے بعد اس کا ایک صفحہ بھی نہیں دیکھ سکا۔ جن حضرات نے اس مرحلہ میں میری ذمہ داری کے لیے اپنے کندھے پیش کیے وہ بلاشبہ مبارکباد اور شکریہ کے مستحق بھی ہیں اور اجر و ثواب کے بھی۔ فقیر دُعا گو ہے کہ جناب محمد صابر شاکر، قدیر شہزاد، سید منظور الحسن شاہ صاحب، جناب ریاض مجاہد صاحب، چوہدری محمد اختر صاحب، جناب محمد رفیق صاحب، جناب عثمان شاہد صاحب، جناب اختر حمید صاحب، جناب عبداللطیف اظہر، جناب محمد عامر خاں ملتان، کو اللہ رب العزت دُنیا و آخرت میں اس کی بہتر جزا نصیب فرمائے۔ دُنیا میں رحمت پروردگار اور آخرت میں شفاعت نبویؐ
ان کی دستگیری فرمائے۔ (آمین)
"ایمان پرور یادیں" نامی کتابچہ کو اس کتاب کے آخر میں اس کا جزو بنایا جارہا ہے تاکہ قارئین اس موضوع پر کسی بھی قسم کی تشنگی محسوس نہ کریں، تاہم یاد رہے کہ یہ تاثرات ہیں نہ کہ مربوط تاریخ و تحریک۔
سب سے اول میں تبرک کے لیے خیر القرون کے زمانہ کے چند واقعات دیے ہیں تاکہ تحریک ختم نبوت کے مجاہدین کی ان سے نسبت قائم ہو جائے۔ علاوہ ازیں مجاہدین ختم نبوت کے واقعات اُن کے ناموں کے لحاظ سے حروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب دیے گئے ہیں۔
اللہ ربّ العزت اس کتاب کو بھی رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس کا تحفظ کرنے والے حضرات کے لیے نفع کا باعث بنائیں تاکہ اسے پڑھ کر وہ بھی اپنے پیشرو حضرات کے نقش قدم پر چلیں اور اُن کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی سعادت حاصل کریں۔ اس لیے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزّت و ناموس کا تحفظ کرنا اتنا بڑا اعزاز ہے کہ اس پر جتنا بھی توفیق ایزدی کا شکر کریں کم ہے۔ اس امر کا اعتراف کرنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں کہ اس کتاب کی ترتیب و تکمیل برادر عزیز جناب محمد متین خالد کی شبانہ روز محنت اور اخلاص بھری کاوش کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ ”مہربانی“ نہ فرماتے تو یہ کتاب آپ کے ہاتھوں میں نہ ہوتی۔ اللہ ربّ العزت اُن کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے نوازیں اور مزید خدمتِ دین کی توفیق ارزانی فرمائیں۔ آمین بحُرمۃ النَّبِیِّ الاُمِّیِ الکریم۔
طالبِ دُعا فقیر اللہ وسایا ۔ ملتان خادم دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان
حضرت ابو مسلم خولانی ؒ
مسیلمہ کذاب نے حضور علیہ السلام کے عہد مبارک میں دعویٰ نبوت کر رکھا تھا۔ ایک دن مشہور تابعی حضرت ابو مسلم خولانیؒ کو گرفتار کراکر مسیلمہ نے اپنے سامنے پیش کرایا اور اُن سے پوچھا۔ تم اس کی شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ حضرت ابو مسلمؒ نے فرمایا کہ میں سُنتا نہیں ہوں ۔ اس نے پھر کہا کہ تم اس کی شہادت دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ؟ ابو مسلمؒ نے فوراً کہا کہ بیشک ۔ اس سے پوچھا کہ کیا تم اسکی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ابو مسلم نے فوراً کہا کہ میں سنتا نہیں۔ پھر پوچھا کہ کیا تم اس کی شہادت دیتے ہو کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں تو فرمایا کہ ہاں ، اس طرح پھر تیسری مرتبہ دونوں جملے دریافت کئے اور یہی دونوں جواب سُنے ۔ غصے میں آکر حکم دیا کہ ایک عظیم الشان انبار سوختہ کا جمع کر کے آگ روشن کرو اور ابو مسلم کو اس میں ڈال دو ۔ اسکی حزب شیطان نے حکم پاتے ہی جہنم کا یہ نمونہ تیار کر دیا اور ابو مسلم کو بیدردی کے ساتھ اس میں ڈال دیا مگر جس قادرِ مطلق نے حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے دہکتی آگ کو ایک پُرفضا باغ اور بَرْداً وَّ سَلَام بنا دیا تھا وہ حئی وقیوم آج بھی اپنے رسول کی محبت میں جان نثاری کرنے والے ابو مسلم کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے اس وقت پھر معجزہ ابراہیمی کی ایک جھلک دنیا کو دکھلا دی اور پیروانِ نمرود کی ساری کوششیں خاک میں ملا دیں ۔
حضرت ابو مسلم رح صحیح سالم اس آگ سے برآمد ہوئے تو مسیلمہ کذاب کے ساتھی بخود تذبذب ہونے لگے اور مسیلمہ نے اس کو غنیمت سمجھا کہ کس طرح یہ یمن سے چلے جائیں ۔ حضرت ابو مسلم رح نے اس کو قبول کیا اور یمن کو چھوڑ کر مدینۃ الرسول کی راہ لی ۔ مدینہ طیبہ پہنچے تو مسجد نبویؐ میں داخل ہو کر ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کر دی ۔ اچانک حضرت عمر فاروق رض کی نظر ان پر پڑی تو بعد فراغت نماز دریافت کیا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا کہ یمن سے !
مسیلمہ کذاب کا یہ واقعہ کہ کسی مسلمان کو اس نے آگ میں جلا دیا ہے ، بہت مشہور ہو چکا تھا اور حضرت عمر فاروق رض بھی اس سے متاثر اور حقیقت دریافت کرنے کے مشتاق تھے ۔ چنانچہ انہوں نے اپنا پورا واقعہ سنایا ۔
(ابن عساکر ، تاریخ ابن کثیر)
حبیب بن ام عمارہ رض
حضرت ام عمارہ رض کے صاحبزادے حبیب کا واقعہ ہے کہ ان کو مسیلمہ کذاب مدعی نبوت نے قید کر لیا اور طرح طرح کے عذاب میں مبتلا کر کے نہایت بیدردی سے قتل کر دیا ۔ یہ ظالم ان سے دریافت کرتا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں تو یہ فرماتے : ” بیشک “ پھر پوچھتا کہ اس کی بھی گواہی دیتے ہو کہ میں بھی اللہ کا رسول ہوں ۔ تو یہ فرماتے : ” ہرگز نہیں “ ۔ اس پر انکا ایک عضو کاٹ دیتا ۔ پھر اسی طرح دریافت کرتا اور حبیب رض اس جھوٹے نبی کی نبوت سے انکار کرتے تو یہ بدبخت ایک عضو اور کاٹ دیتا ۔ اس طرح ایک ایک کر کے اُس نے سارا بدن ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ۔ الغرض شہید ہو گئے مگر
یہ گوارا نہ کیا کہ عقیدہ کے خلاف ایک لفظ بھی نکالیں ۔
حضرت زیدؓ بن خارجہؓ
نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ زیدؓ بن خارجہ انصار کے سرداروں میں سے تھے ایک روز وہ مدینہ طیبہ کے کسی راستہ میں چل رہے تھے کہ یکا یک زمین پر گرے اور فوراً وفات ہو گئی ۔ انصار کو اس کی خبر ہوئی تو ان کو وہاں جا کر اُٹھایا اور گھر لائے اور چاروں طرف سے ڈھانپ دیا ۔ گھر میں کچھ انصاری عورتیں تھیں جو ان کی وفات پر گریہ زاری میں مبتلا تھیں اور کچھ مرد جمع تھے ۔ اسی طرح جب مغرب وعشاء کا درمیانی وقت آیا تو اچانک ایک آواز سنی کہ ” چپ رہو ۔ چپ رہو “ لوگ متحیر ہو کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگے ۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ آواز اسی چادر کے نیچے سے آرہی ہے جس میں میت ہے ۔ یہ دیکھ کر لوگوں نے ان کا منہ کھول دیا اس وقت یہ دیکھا گیا کہ زیدؓ بن خارجہ کی زبان سے یہ آواز نکل رہی ہے کہ ” محمّد رسول اللہ النبی الاُمّی خاتم النبیین لا نبی بعدہ الخ “ یعنی محمّد اللہ کے رسول ہیں اور نبی امی ہیں جو انبیاء کے ختم کرنیوالے ہیں ۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا ۔ “ یہی مضمون کتاب اوّل یعنی تورات وانجیل وغیرہ میں موجود ہے ۔ سچ کہا سچ کہا “
(از کتاب ختم نبوت کامل مفتی محمد شفیع صاحب ص ۲۷۷ )
حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ
حضرت حاجی صاحب فرماتے تھے کہ ” ہر عارف کو اس کے علوم و معارف کی ترجمانی کے لئے ایک لسان عطا کی جاتی ہے جیسا کہ حضرت شمس تبریزؒ
کی لسان مولانا رومیؒ تھے اور پھر فرماتے تھے کہ ”میری لسان مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ہیں۔ جو علوم میرے قلب پر وارد ہوتے ہیں، مولانا محمد قاسم ان کو کھول کھول کر بیان فرما دیتے ہیں“ اس لئے کہنا چاہئیے کہ حضرت نانوتویؒ کا یہ فتویٰ حضرت حاجی صاحبؒ کے قلبِ صافی کا پرتو تھا، اس طرح ”فتنہ قادیانیت“ کی تردید کی تحریک کا آغاز حضرت حاجی صاحبؒ اور ان کی ”لسانِ علوم و معارف“ حضرت نانوتویؒ کے مبارک ہاتھوں سے ہوا اور ان کے بعد ان کے جانشینوں نے اس تحریک کو مسلسل جاری رکھا، اس فتنہ کے استیصال کے لئے یوں تو بہت سے اکابر نے زرّیں خدمات انجام دیں، لیکن جس شخصیت کو اس دور کی قیادت و امامت تفویض ہوئی اور جسے حضرت بنوریؒ کے الفاظ میں ”واسطۃ العقد“ کہنا چاہئیے۔ وہ امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی ذاتِ گرامی تھی۔
حضرت حاجی صاحبؒ نے پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو بیعت و خلافت سے مکہ مکرمہ میں نوازا تھا۔ اور مرزائیت کے فتنہ کے خروج سے پہلے ہی اس فتنہ کے استیصال کے لئے حکم فرمایا تھا۔ آپ کا یہ فرمان اتقوا فراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنور اللہ کا عملی نمونہ تھا۔
مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ
مولانا محمد صاحب نے مزید فرمایا کہ مقدمۂ بہاولپور میں شمس مرزائی نے علماء پر یہ اعتراض کیا تھا کہ دیوبندی بریلویوں کو اور بریلوی دیوبندیوں کو کافر کہتے ہیں حضرت مولانا محمد انور شاہؒ نے جواب دیا کہ جج صاحب لکھو! میں
تمام علماء دیوبند کی طرف سے اور جو حضرات یہاں موجود ہیں ان سب کی طرف سے وکیل ہو کر کہتا ہوں کہ ہم بریلویوں کی تکفیر نہیں کرتے۔ اور فرمایا کہ بریلوی حضرات جو علم غیب کے بارے میں تاویلات کرتے ہیں کچھ نصوص ایسی ہیں جو ان معانی کی موہم ہیں نیز ان معنیٰ کی طرف سلف صالحین میں سے بھی بعض حضرات گئے ہیں۔ لیکن مرزائی جو تاویل کرتے ہیں اس معنیٰ کی مؤید کوئی نص نہیں ملتی اور نہ سلف میں سے اس معنیٰ کی طرف کوئی گیا ہے۔
شمس مرزائی نے اعتراض کیا کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کسی کے کلام میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں اور ایک احتمال ایمان کا ہو تو اس کے کفر پر فتویٰ نہ دیا جائے گا۔ حضرت شاہ صاحب نے فرمایا جج صاحب نوٹ کریں۔ یہ دھوکہ دے رہے ہیں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کا تقویٰ طہارت اور اس کی صالحیت معلوم ہو، اور مسلّم ہو تو وہ مرجائے اور اُس کے کلام میں کوئی ایسا کلام ہو جس میں ننانوے احتمال کفر کے اور ایک احتمال ایمان کا ہو تو اس پر کفر کا فتویٰ دینے میں احتیاط کی جائے۔ لیکن اگر کسی شخص کا فاجر و فاسق ہونا معلوم ہو، اس کے عقائد کفریہ سینکڑوں جگہ تصریح کے ساتھ موجود ہوں تو وہاں اُس کا وہی معنیٰ لیا جائے گا جو اس کی دوسری کلام تشریح کر رہی ہے۔
فتنۂ قادیانیت کے ہی سلسلہ میں ایک واقعہ حضرت شاہ صاحب کے جلال کا بھی سُن لیجئے۔ دورۂ حدیث کے ہمارے ہم سبق طلبہ میں ضلع اعظم گڑھ کے بھی چند حضرات تھے۔ اسی زمانے میں ضلع اعظم گڑھ کے ایک صاحب جو قادیانی تھے سہارنپور میں حکومت کے کسی بڑے عہدہ پر آگئے وہ ایک دن اپنے ہم ضلع اعظم گڑھی
طلبہ سے ملنے کے لئے (لیکن فی الحقیقت ان کو جال میں پھانسنے کے لئے) دارالعلوم آئے، ان طلباء نے اُن کی اچھی خاطر مدارت کی، وہ شکار کے بہانے ان میں سے بعض کو اپنے ساتھ بھی لے گئے، جو رات کو دارالعلوم واپس آئے حضرت شاہ صاحب کو کسی طرح اس واقعہ کی اطلاع ہو گئی۔ حضرت کو ان طلبہ کی اس دینی بے حمیتی سے سخت قلبی اذیت ہوئی، ان طلبہ کو اس کا علم ہوا تو ان میں سے ایک سعادت مند طالب علم غالباً معافی مانگنے کے لئے حضرت کی خدمت میں پہنچ گیا حضرت پر جلال کی کیفیت طاری تھی۔ قریب میں چھڑی رکھی تھی اس سے ان کی خوب پٹائی کی (یہ فاروقی شدت فی امر اللہ کا ظہور تھا) ہمارے وہ ہم سبق طالب علم بڑے خوش اور مسرور تھے اور اس پر فخر کرتے تھے کہ ایک غلطی پر حضرت شاہ صاحب کے ہاتھ سے پٹنے کی سعادت ان کو نصیب ہوئی۔ جو حضرت کے ہزاروں شاگردوں میں سے غالباً کسی کو نصیب نہ ہوئی ہوگی کیونکہ حضرت فطری طور پر بہت ہی نرم مزاج تھے۔ ہم نے کبھی ان کو غصہ کی حالت میں نہیں دیکھا۔
آخر میں اپنا ایک ذاتی واقعہ ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتا ہوں میرے اصل آبائی وطن سنبھل سے قریباً پندرہ میل کے فاصلہ پر ایک موضع ہے اس موضع میں چند دولت مند گھرانے تھے، والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ سے ان لوگوں کے تجارتی اور کاروباری تعلقات تھے جس کی وجہ سے ان کی آمد و رفت رہتی تھی، میں جب شعبان ۱۳۴۵ھ کے اواخر میں دارالعلوم کی تعلیم سے فارغ ہو کر مکان پہنچا تو میرے بڑے بھائی صاحب نے بتلایا کہ اس موضع والوں کے کوئی رشتہ دار امروہہ میں ہیں جو قادیانی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ برابر وہاں آتے ہیں اور
قادیانیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔ اور دعوت دیتے ہیں اور لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ اور سنا ہے کہ اس کا خطرہ ہے کہ بعض لوگ قادیانی ہو جائیں۔ میں نے عرض کیا کہ وہاں چلنا چاہیئے۔ آپ پروگرام بنائیے ! (میرے یہ بھائی صاحب مرحوم عالم تو نہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے دین کی بڑی فکر عطا فرمائی تھی) چند روز کے بعد انہوں نے بتلایا کہ معلوم ہوا ہے کہ امروہہ کا وہ قادیانی (جس کا نام عبدالسمیع تھا) فلاں دن آنے والا ہے۔ بھائی صاحب نے اس سے ایک دن پہلے پہنچنے کا پروگرام بنایا۔ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ ہم اپنے پروگرام کے مطابق پہنچ گئے۔ لوگوں سے ہم نے باتیں کیں تو اندازہ ہوا کہ بعض لوگ بہت متاثر ہو چکے ہیں، بس اتنی ہی کسر ہے کہ ابھی باقاعدہ قادیانی نہیں ہوئے ہیں جب ہم نے قادیانیت کے بارے میں ان لوگوں سے گفت گو کی تو انہوں نے بتلایا کہ امروہہ سے عبدالسمیع صاحب آنے والے ہیں آپ ان کے سامنے یہ باتیں کریں ہم نے کہا یہ تو بہت ہی اچھا ہے ہم ان سے بھی بات کریں گے۔ اور ان کو بھی بتلائیں گے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کیسا آدمی تھا۔ اور اس کو نبی ماننا گمراہی کے علاوہ کتنی بڑی حماقت ہے۔ اس گفت گو ہی کے درمیان وہاں کے ایک صاحب نے (جو کچھ پڑھے لکھے تھے) اور عبدالسمیع کی باتوں سے زیادہ متاثر تھے بتلایا کہ وہ تو مولانا عبدالشکور صاحب لکھنوی سے مناظرہ کر چکا ہے۔ اور امروہہ کے سب بڑے بڑے عالموں سے بحث کر چکا ہے اور سب کو لاجواب کر چکا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ بات سن کر میں بڑی فکر میں پڑ گیا اور دل میں خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی تجربہ کاری اور چرب زبانی سے لوگوں کو متاثر کر لے میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میری مدد اور انجام بخیر فرمائے۔ میں اسی حال میں سو گیا۔ خواب میں حضرت استاد قدس سرہ کو دیکھا۔ آپ نے کچھ فرمایا۔ میں
دل میں اعتماد اور یقین پیدا ہو گیا کہ بڑے سے بڑا کوئی قادیانی مناظر آجائے تب بھی میرے ذریعے اللہ تعالیٰ حق کو غالب اور اس کو مغلوب فرمائے گا۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی تو الحمد اللہ میرے دل میں وہی یقین و اعتماد تھا۔ لیکن امروہہ سے وہ قادیانی عبدالسمیع نہیں آیا۔ ہم نے کہا کہ اب جب کبھی وہ آئے تو ہم کو اطلاع دیجو، ہم انشاء اللہ آئیں گے ۔ اس کے بعد ہم نے لوگوں کو بتلایا اور سمجھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا یا کسی دعویٰ کرنیوالے کو نبی ماننا صریح کفر و ارتداد ہے اور مرزا قادیانی کے بارے میں بتلایا کہ وہ کیسا آدمی تھا۔ ہم بفضلہ تعالیٰ وہاں سے اس اطمینان کے ساتھ واپس ہوئے کہ انشاء اللہ اب یہاں کے لوگ اس قادیانی کے جال میں نہیں آئیں گے۔ خواب میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھے دکھایا اس کو میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت اور حضرت شاہ صاحبؒ کی کرامت سمجھا ۔
────── 〇 ──────
مقدمہ بہاولپور میں شمس مرزائی نے یہ بات اٹھائی کہ خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑوی نے مرزا صاحب کی تعریف کی ہے اور انکی وہ عبارت پیش کی جہاں خواجہ صاحب نے لکھا ہے کہ وہ صالح اور متقی اور دین کی خدمت گزار ہے میں چونکہ مختار تھا۔ میں نے کہا جج صاحب عدالت کا وقت ختم ہو گیا ہے ۔ چنانچہ عدالت برخاست ہوئی ۔ دوسرے دن ہم کتابوں سے خود مرزا صاحب کی عبارت تلاش کر کے لائے، اس نے لکھا تھا کہ مجھے فلاں فلاں آدمی کافر اور مرتد کہتے تھے اور ان میں چوتھے نمبر پر خواجہ غلام فریدؒ کا نام تھا ہم نے جب یہ عبارت پیش کی ، جج صاحب خوشی سے اچھل پڑے۔ پہلے تو یہ شمس کے حوالے سے سارے شہر میں کہرام مچ گیا کیونکہ وہ لوگ خواجہ صاحب
کے بہت معتقد تھے اور نواب صاحب بہاولپور بھی ان کے مرید تھے۔ اس پر حضرت اقدسؒ نے فرمایا کہ خواجہ صاحب نے تعریفی کلمات پہلے کبھی فرمائے ہوں گے (یعنی مرزا کے دعویٰ نبوت سے پہلے) مولانا محمد علی صاحب جالندھری نے عرض کیا کہ اوچ شریف میں مرزا صاحب کا ایک مرید غلام احمد نام کا تھا وہ خواجہ صاحب کے سامنے مرزا کی ہمیشہ تعریفیں کیا کرتا تھا اور کہتا تھا کہ وہ شخص آریہ ہندو سکھوں، عیسائیوں سے مناظرے کرتا ہے اور اسلام کا بڑا خدمت گزار ہے۔ اس پر خواجہ صاحب چونکہ خالی الذہن تھے بعض تعریفی کلمات کہہ دیتے تھے۔
شمس مرزائی نے سرور شاہ کشمیری کو خط لکھا تھا کہ شاہ صاحب (مولانا محمد انور شاہؒ) سے مقابلہ ہے تم یہاں آجاؤ۔ حضرت شاہ صاحب کو جب معلوم ہوا تو فرمایا وہ لعین نہیں آئے گا۔ شاہ صاحب اُس پر بہت ناراض تھے اور فرماتے تھے کہ اُس نے اپنے والد کو بھی مرتد کیا۔ اُس کے والد نے مرتے وقت اُس کو کہا کہ سرور تو نے مجھے بھی مرتد کیا دین تو وہی حق ہے جو دین محمدیؐ ہے۔ بعد میں معلوم نہیں توبہ کی یا نہیں کی۔ چنانچہ جیسا شاہ صاحب نے فرمایا تھا ایسا ہی ہوا کہ سرور شاہ نے آنے سے انکار کر دیا۔
جب حضرت شاہ صاحب جج کے سامنے پیش ہوئے تو فرمایا کہ جج صاحب لکھو کہ تواتر کے کئی اقسام ہیں اور ہر ایک قسم کے تواتر کا منکر کافر ہے۔ مرزا غلام احمد نے ہر ایک قسم کے تواتر کا انکار کیا ہے۔ لہٰذا وہ کافر ہے۔ دوسرے روز مرزائیوں کے وکیل شمس مرزائی نے ”مسلم الثبوت“ کی شرح بحرالعلوم کا حوالہ دیکر بیان کیا کہ شاہ صاحب نے کہا ہے کہ تواتر کے اقسام میں سے
ایک تواتر معنوی بھی ہے اور فرمایا ہے کہ ہر قسم کے تواتر کا منکر کافر ہے۔ حالانکہ امام فخر الدین رازی نے تواتر معنوی کا انکار کیا ہے اور کتاب کا حوالہ پیش کیا مولانا محمد انوری صاحب نے فرمایا کہ ہم لوگ بڑے گھبرائے کیونکہ ہمارے پاس اتفاق سے وہ کتاب بھی نہ تھی۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا "جج صاحب لکھیئے! میں نے بتیس سال ہوئے یہ کتاب دیکھی تھی اب ہمارے پاس یہ کتاب موجود نہیں، امام رازیؒ نے یہ لکھا ہے کہ یہ جو حدیث ہے :۔ " لَا تَجْتَمِعُ اُمَّتِيْ عَلَى الضَّلَالَةِ " یہ تواتر معنوی کے رتبہ کو نہیں پہنچتی۔ انہوں نے صرف اس حدیث کے تواتر معنوی کا انکار کیا ہے نہ یہ کہ وہ سرے سے تواتر معنوی کے حجت ہونے کے منکر ہیں مولانا عبداللطیف صاحبؒ ناظم مظاہر العلوم سہارنپور اور مولانا مرتضیٰ حسن صاحب جو اس مجلس میں موجود تھے اور حیران تھے کہ کیا جواب دیں گے، سُن کر حیران رہ گئے۔ پھر شاہ صاحب نے فرمایا کہ ان صاحب نے حوالہ پیش کرنے میں دھوکہ سے کام لیا ہے اسے کہیئے کہ عبارت پڑھے ورنہ میں اس سے کتاب لے کر عبارت پڑھتا ہوں۔ چنانچہ قادیانی شاہد نے کتاب پڑھی بعینہ وہی عبارت نکلی جو حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پہلے حفظ پڑھی تھی۔ جج خوشی سے اُچھل پڑا۔ اعلیٰ حضرت مولانا غلام محمد دین پوری جو وہاں موجود تھے ان کا چہرہ مبارک خوشی سے کِھل گیا۔
فیروز پور میں مرزائیوں کے ساتھ ایک مناظرہ طے پایا اور عام مسلمانوں نے جو فن مناظرہ سے ناواقف تھے مرزائیوں کے ساتھ بعض ایسی شرائط پر مناظرہ طے کر لیا جو مسلمان فریق کے لئے خاصی پریشان کن ہو سکتی تھیں۔ دارالعلوم
دیوبند کے اس وقت کے صدر مہتمم حضرت مولانا حبیب الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت شاہ صاحب کے مشورہ سے مناظرہ کے لئے حضرت مولانا سیّد مرتضٰی حسن چاند پوری، حضرت مولانا سیّد محمد بدر عالم میرٹھی، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی تجویز ہوئے۔ یہ حضرات جب فیروز پور پہنچے تو مرزائیوں کی شرائط کا علم ہوا۔ کہ انہوں نے کس طرح دجل سے ، من مانی شرائط سے مسلمانوں کو جکڑ لیا ہے ۔ اب دو ہی صورتیں تھیں کہ یا تو ان شرائط پر مناظرہ کیا جائے یا پھر انکار کر دیا جائے ۔ پہلی صورت مضر تھی ۔ اور دوسری صورت مسلمانان فیروز پور کے لئے سبکی کا باعث ہو سکتی تھی کہ دیکھو تمہارے مناظر بھاگ گئے انجام کار انہی شرائط پر مناظرہ کرنا منظور کر لیا گیا۔ اور حضرت شاہ صاحب کو تار دیدیا گیا ۔ اگلے روز وقت مقررہ پر مناظرہ شروع ہو گیا ۔ اور عین اُسی وقت دیکھا گیا کہ حضرت شاہ صاحب بنفس نفیس حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں۔ انہوں نے آتے ہی اعلان فرمایا کہ جائیے ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ تم نے جتنی شرائط مسلمانوں سے منوائی ہیں ۔ اتنی شرائط اور من مانی لگوا لو ۔ ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں، مناظرہ کرو اور خدا کی قدرت کا تماشہ دیکھو ، چنانچہ اسی بات کا اعلان کر دیا گیا اور مفتی صاحب، مولانا محمد ادریس کاندھلوی، اور مولانا سیّد بدر عالم صاحب نے مناظرہ کیا ۔ ان میں مرزائیوں کی جو درگت بنی اسکی گواہی آج بھی فیروز پور کے در و دیوار دے سکتے ہیں۔ مناظرہ کے بعد شہر میں جلسہ عام ہوا ۔ جس میں حضرت شاہ صاحب اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی نے تقریریں کیں۔ یہ تقریریں فیروز پور کی تاریخ میں یاد گار خاص کی نوعیت رکھتی ہیں بہت سے لوگ جو قادیانی دجل کا شکار ہو چکے
تھے ۔ اس مناظرہ اور جلسہ کے بعد اسلام پور واپس لوٹ آئے ۔
حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب رحمتہ اللہ کی زندگی کا اہم ترین مقصد تحفظ ختم نبوت تھا ۔ آپ کے شاگرد رشید حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کراچی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ قادیان تشریف لے گئے ۔ مسجد میں مغموم بیٹھے تھے درد دل کے ساتھ آہ بھری اور فرمایا شفیع ہماری تو زندگی ضائع ہوگئی ۔ قیامت کے دن خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھلائیں گے مفتی صاحب فرماتے ہیں ، میں نے عرض کیا حضرت دنیا کا کوئی کونہ نہیں جہاں آپ کے شاگرد نہ ہوں ۔ دنیا آپ کے علم سے سیر ہورہی ہے ۔ صبح و شام بخاری مسلم کا سبق پڑھاتے ہیں بیشمار آپ نے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں ۔ اب بھی آپ فرمائیں کہ ہماری زندگی ضائع ہو گئی تو پھر ہمارے جیسوں کا کیا حال ہوگا ۔ حضرت نے فرمایا کہ ساری زندگی ہم وجوہ ترجیح مذہب احناف بیان کرتے رہے حالانکہ امام شافعی رحمتہ اللہ بھی حق پر ہیں ۔ مسئلہ فاتحہ خلف الامام کو چھیڑے رکھا حالانکہ ان سے کہیں زیادہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی ضرورت ہے ۔
مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی عادت تھی کہ جب کبھی گفتگو یا درس کے دوران مرزا قادیانی کا نام آتا ۔ تو طبیعت میں جلال آجاتا ۔ کذّاب لعین ۔ مردود ۔ شقی ۔ بدبخت ازلی ۔ محروم القسمت ۔ دجال ۔ کذاب شیطان کہہ کر مرزا کا نام لیتے اور اس کے بعد بد دعائیہ جملے ارشاد فرما کر اس کے قول کو نقل کرتے ۔ کسی خادم نے پوچھا شیخ آپ جیسا نفیس الطبع آدمی اور جب مرزا قادیانی کا نام آتا ہے تو اسطرح سیخ پا ہوجاتے ہیں ۔ اس پر آپ نے فرمایا ! میاں میرا ایمان ہے کہ جس طرح حضور علیہ السلام سے محبت رکھنا ایمان ہے اس طرح
آپؐ کے دشمنوں سے بغض رکھنا بھی ایمان ہے۔ آپؐ کا سب سے بڑا دشمن مرزا بدبخت تھا۔ اس لئے اس مردود کو گالی دیکر اس سے جتنا بغض ہوگا۔ اتنا زیادہ حضور علیہ السلام کا قرب نصیب ہوگا۔ میں یہ اس لئے کرتا ہوں۔ بھلا تم اپنے باپ کے دشمن کو اور حکومت اپنے باغیوں کو برداشت نہیں کرتی تو میں حضور علیہ السلام کے دشمن کو کسطرح برداشت کرلوں ۔
حضرت مولانا خواجہ ابوالسعد احمد خانؒ
حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ ، صدر مجلس احرار نے ایک دفعہ ارشاد فرمایا کہ تحریک مسجد شہید گنج کے سلسلہ میں پورے ملک سے ۲ اکابر اولیاء اللہ ، ایک حضرت اقدس مولانا ابوالسعد احمد خانؒ اور دوسرے حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے ہماری رہنمائی کی اور تحریک سے کنارہ کش رہنے کا حکم فرمایا۔ حضرت اقدس ابوالسعد احمد خانؒ بانی خانقاہ سراجیہ نے یہ پیغام بھجوایا تھا کہ مجلس احرار تحریک مسجد شہید گنج سے علیحدہ رہے اور مرزائیت کی تردید کا کام رکنے نہ پائے اسے جاری رکھا جائے اس لئے کہ اگر اسلام باقی رہے گا تو مسجدیں باقی رہیں گی اگر اسلام باقی نہ رہا تو مسجدوں کو کون باقی رہنے دیگا ۔
مسجد شہید گنج کے ملبہ کے نیچے مجلس احرار کو دفن کرنے والے انگریز اور قادیانی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے اس لئے کہ انگریز کو ملک چھوڑنا پڑا ۔ جبکہ مرزائیت کی تردید کے لئے مستقل ایک جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نام سے تشکیل پا کر قادیانیت کو ناکوں چنے چبوا رہی ہے ۔
شیخ التفسیر حضرت لاہوریؒ
حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحبؒ شجاع آبادی فرماتے ہیں ۲۲ سال ہوئے میرا بایاں بازو ٹوٹ گیا تھا۔ جڑنے کے بعد وہ تقریباً سیدھا رہتا تھا اس میں لچک نہ تھی۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ میں بھی ملتان جیل میں تھا۔ ایک روز حضرت نے فرمایا :
قاضی صاحب نماز آپ پڑھایا کریں۔ میں نے معذرت کی کہ حضرت میرا یہ بازو خم نہیں کھاتا۔ وضو میں بھی مشکل پڑتی ہے اور ہاتھ باندھنے میں بھی حضرت نے میرا بازو تھام کر ٹوٹی ہوئی جگہ پر دست مبارک پھیر کر دو، تین مرتبہ یہ جملہ فرمایا "اچھا یہ ٹھیک نہیں ہوتا"؟ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ بہتر کریں گے، ٹھیک ہو جائے گا۔ اس کے بعد نماز کا وقت آیا۔ میں وضو کرنے بیٹھا تو بالکل بے دھیانی میں ناک صاف کرنے کے لئے میرا بایاں ہاتھ بے تکلف ناک تک پہنچ گیا۔ یکدم میرے ذہن میں آیا کہ آج میرا بازو صحیح کام کرنے لگ گیا ہے میں نے ہلا جلا کر کر دیکھا تو وہ صحیح کام کر رہا تھا۔ یقین ہو گیا کہ یہ حضرت کی توجہ کی برکت اور کرامت کا نتیجہ ہے ۔
مولانا تاج محمودؒ اور مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر رحمۃ اللہ علیہ خطیب دوراں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر تھے۔ کچھ ختم نبوت کے ساتھیوں کا تذکرہ آ گیا۔ حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ :
"میں ختم نبوت کے ساتھیوں سے محبت کرتا ہوں"
اور پھر فرمایا کہ : " میں کیا ان سے تو خود سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم محبت فرماتے ہیں " ۔
نوجوانوں کے ساتھ بہت محبت سے ملتے اور قدم قدم پر ان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ مولانا عبدالستار نیازی کو تحریک ختم نبوت کے دوران پھانسی کی سزا ملی جو بعد میں عمر قید میں تبدیل ہوئی اور پھر آخر رہا ہوگئے۔ مولانا نیازی کہتے ہیں ، میری رہائی کے بعد حضرت مولانا لاہوری میرے غریب خانے پر تشریف لائے۔ آپ کی نشست کا نیچے انتظام کیا ہوا تھا۔ واپس جانے لگے تو فرمایا ، مولانا اوپر کے کمرے میں مجھ کو اپنی چارپائی تک بھی لے چلو تاکہ مجھے قدم قدم کا ثواب ملے۔ میں ایک مجاہد سے ملنے آیا ہوں۔ مولانا نیازی سے یہ کہہ کر حاضرین کو مخاطب ہوکر فرمانے لگے : حضرات ! آپ بھی اپنے آپ کو تلوار کی دھار پر لائیے اور دل سے کہیے : " ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین "
مولانا مجاہد الحسینی بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۵۳ء میں مجھے چند دنوں کے بعد لاہور کے حراست خانہ سے نکال کر "بم کیس وارڈ" میں منتقل کر دیا گیا تھا ۔ ایک روز اخبار میں خبر پڑھی کہ ملتان سنٹرل جیل میں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اور ان کے دیگر ساتھیوں کی حالت یکا یک سخت خراب ہوگئی ہے :
تحریک تحفظ ختم نبوت میں حصہ لینے والے ان ممتاز رہنماؤں کو مسلسل قے اور اسہال کی تکلیف تھی ۔ ڈاکٹر ان حضرات کی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ چند روز بعد اطلاع ملی کہ حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کو لاہور جیل
میں منتقل کیا جا رہا ہے چنانچہ ایک روز اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل نے (جو حضرت لاہوری کے مرید تھے) مجھے یہ خوش خبری دی کہ حضرت شیخ التفسیر رح کو بغرض علاج لاہور سنٹرل جیل منتقل کیا جا رہا ہے۔ میں نے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور سپرنٹنڈنٹ جیل مہر محمد حیات سے درخواست کی کہ حضرت لاہوریؒ کو ہمارے وارڈ ”بم کیس احاطہ“ میں رونق افروز کیا جائے،
چنانچہ حسب پروگرام جب حضرت لاہوری رح سنٹرل جیل میں منتقل ہوئے تو بم کیس وارڈ کو آپ کی ذات سے شرف بخشا گیا۔ یہ وارڈ تاریخی نوعیت کا حامل تھا، بھگت سنگھ اور دت وغیرہ تحریک آزادی کے جن نوجوانوں نے اسمبلی میں بم پھینک کر انگریزوں کو نقصان پہنچایا تھا، یہ وارڈ ان کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ اور ”بم کیس“ کے عنوان سے انہی کے نام موسوم ہوا۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوری رح جب سنٹرل جیل میں تشریف لائے تو کڑکڑاتی گرمی کا سخت موسم تھا۔ گرمی کی شدت کے باعث پورا ماحول آتش فشاں تھا!
بم کیس وارڈ حضرت کے معتقدین اور مریدوں کی نگاہ شوق و عقیدت کا مرکز بن گیا!
نماز عصر کے بعد میں نے جیل کے ذمہ دار افسروں سے رابطہ قائم کر کے حضرت لاہوری رح کے لئے چارپائی کا انتظام کرنے کو کہا۔ کیونکہ تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار ہونے والے تمام نظر بندوں کے بسترے تپتی زمین کے فرش پر ہی دراز کئے جاتے تھے۔ ان بستروں کے درمیان جب میں نے حضرت شیخ رح کی چارپائی بچھائی، تو آپؒ نے اسے دیکھتے ہی دریافت کیا، یہاں صرف ایک چارپائی کیوں بچھائی گئی ہے! میں نے عرض کیا، یہ حضرت کے لئے ہے! آپ نے فرمایا۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ جان نثاران محمدؐ
عربی صلی اللہ علیہ وسلم تپتے فرش پر ہوں اور احمد علی ان کے درمیان چارپائی پر آرام کرے .... ؟
آپ نے یہ چند جملے .... کچھ اس انداز میں فرمائے کہ حاضرین کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبا گئیں ۔ تعمیل ارشاد میں آپ کا بستر خصوصی اہتمام کے ساتھ زمین پر ہی بچھا دیا گیا اور پائینتی کی جانب اپنا بستر رکھا تو حضرت نے اسے اپنے ہاتھ سے اٹھا کر سرہانے کی جانب کر دیا ۔
نماز مغرب کے بعد راقم الحروف نے علیحدگی میں ملتان جیل میں یکایک صحت خراب ہونے کے اسباب معلوم کئے تو حضرت لاہوریؒ نے فرمایا ۔
ایک روز شام کے کھانے کے بعد سب کی حالت غیر ہو گئی ۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اور ان کے دیگر ساتھیوں نے جیل کے حکام سے جب پر زور مطالبہ کیا کہ ہمارا طبی معائنہ ہونا چاہیئے اور جیل کی خوراک بند کر دینے کا فیصلہ کیا تو ان سب کو مختلف بارکوں میں تبدیل کر دیا گیا اور مجھے یہاں سنٹرل جیل بہاولپور پہنچا دیا گیا ہے ۔
جیل کے ارباب اختیار کے بقول اگر ہماری صحت کا بگاڑ غذائی سمیت (فوڈ پوائزن) کے باعث تھا تو طبی معائنہ کرانے میں کیا قباحت تھی ۔۔۔ ؟ اور پھر چند روز کے بعد مختلف جیلوں کے دوسرے نظر بندوں نے بھی قے اور اسہال کی تکلیف کا شکوہ کیا ۔
وسیع پیمانہ پر ایک ہی شکایت کا اظہار در حقیقت تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت کے نظر بندوں خصوصاً ممتاز رہنماؤں کے خلاف کسی سازش کا غماز تھا ۔ !
حضرت شیخ التفسیر لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ملتان کی تکلیف کے بعد میرے اعصاب میں کھچاؤ پیدا ہو گیا ہے ۔ اور گھٹنے میں مسلسل درد
نے اگرچہ سخت پریشان کر رکھا ہے ! لیکن حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے خطرناک صعوبتیں وجہ سکون قلب اور باعثِ راحت جاں ہیں ۔ مولانا ظفر علیخان نے ہمارے انہی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے فرمایا تھا :-
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا !
شیخ التفسیر حضرت لاہوریؒ قریباً ایک ماہ بم کیس وارڈ میں رونق افروز رہے بعد ازاں وزیرِ اعلٰے پنجاب ملک فیروز خاں نے خرابیِ صحت کی بناء پر حضرت کی رہائی کے احکام جاری کر دیئے ! اور پھر زندگی بھر آپ کو صحت و تندرستی کی وہ پہلی حالت نصیب نہ ہوسکی ! اسی طرح قاضی احسان احمد شجاع آبادی بھی مسلسل بیمار رہ کر اللہ کو پیارے ہوگئے ۔
حضرت خواجہ اللہ بخش تونسویؒ
پون صدی کی احیاء اسلام کی کامیاب جدوجہد کے بعد ۱۲۷۰ھ میں جب آپ نے وصال فرمایا تو آپ کے نامور پوتے حجۃ الاسلام حضرت خواجہ اللہ بخش کریم تونسویؒ نے مسندِ ارشاد سنبھالی اور اپنے جدِّ امجد کی چلائی ہوئی اسلامی تحریک کو آگے بڑھانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔
تونسہ شریف میں قائم شدہ قدیم دارالعلوم نے اسلام سے والہانہ محبت رکھنے والے نوجوان پیدا کئے پھر خود ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنا کر بیٹھ نہیں گئے ، بلکہ سلطنتِ مغلیہ کے زوال کے باعث مسلمانانِ برصغیر پر جو یاس وقنوطیت
کا غلبہ ہو گیا تھا اس کے خاتمہ کے لئے ہندوستان بھر کے دورے کئے ۔ فرنگی سے آپ کو بڑی نفرت تھی ۔ آپ عموماً فرمایا کرتے تھے کہ سیاہ قلب (انگریز) کے کرتوت سے اگر ہم بچ گئے تو پھر کسی بلا کو ہم منہ نہیں لگائیں گے فرنگی کا خود کاشتہ پودا آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ما علیہ آپ کا ہم عصر تھا آپ نے اس کے عقائد باطلہ کی منظم طریقے سے تردید کی پورے ملک میں معتقدین کی طرف خصوصی مراسلے جاری کر کے اس کے کفر و ارتداد سے لوگوں کو آگاہ کیا خصوصاً متحدہ پنجاب میں تبلیغ و ارشاد کے ذریعے اس کا ایسا گھیراؤ کیا کہ قادیانی چیلوں کو سکون سے کام کرنا نصیب نہ ہوا۔ ورنہ نہیں کہا جاسکتا اس طوفان بدتمیزی کے امت مسلمہ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ۔
حضرت خواجہ حسن نظامی نے اپنی معرکہ آرا کتاب ”نظامی بنسری“ میں آپ کی تبلیغی جدوجہد کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے تاریخ مشائخ چشت میں مرقوم ہے :
مرزا غلام احمد قادیانی نے اس وقت اپنے عقائد کی ترویج شروع کی ۔ اور اکثر علماء کو مباحثہ کی دعوت دی ۔ خواجہ اللہ بخش صاحب نے اپنی جگہ بیٹھ کر نہایت سختی کے ساتھ ان فتنوں کی تردید کی اور کوشش کی کہ مسلمانوں کا مذہبی احساس اور وجدان ان گمراہ تحریکوں سے متاثر نہ ہو۔“
(تاریخ مشائخ چشت صفحہ ۷۲۲)
نصف صدی اپنی بہترین صلاحیتیں اسلام کے نام پر قربان کر کے حضرت خواجہ اللہ بخش تونسویؒ نے ۱۳۱۹ھ میں انتقال فرمایا :
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرزا نے جب دعویٰ نبوت کیا تو آپ بستر علالت پر تھے، لیکن مرزا کا دعویٰ سنتے ہی بستر مرگ سے یوں اٹھ کھڑے ہوئے جیسے
کوئی شیر نیند سے بیدار ہو جاتا ہے۔ زندگی کی آخری سانس تک آپ مرزا قادیانی کے خلاف نبرد آزما رہے ۔
آپ کے وصال کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمود رحیم سلیمانی چشتی نے دردمند دل کے ساتھ بندگانِ خدا کی خدمت شروع کر دی انتہائی رحمدل ہوتے ہوئے بھی انگریز دشمنی آپ کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی آپ نے پوری قوت سے قادیانی فتنے کا مقابلہ کیا آخری وقت اپنے شہرہ آفاق فرزند خواجہ نظام الدین تونسویؒ کو مخاطب کر کے فرمایا نظام : میں نہیں ہوں گا جس روز یہ منحوس فرنگی ہندوستان سے اپنی نحوست لیکر روانہ ہو تو میری قبر پر آ کر مبارکباد دینا۔
آپ نے اپنے بزرگوں کی طرح قادیانیت کا قلع قمع کرنے میں مقدور بھر کوشش کی ۔ اگر مشرقی جانب حضرت غوث الثقلینؒ کا فرزند دلبند حضرت علامہ پیر مہر علیشاہ گولڑویؒ مرزائیت سے نبرد آزما تھا تو مغربی طرف پیر پٹھانؒ کا نڈر پوتا قصر قادیانیت پر دلائل و برہان سے بمباری کر رہا تھا ۔ آپ کے حالات میں ہے کہ آپ مثنوی شریف کے ابتدائی دروس میں بھی آنجہانی قادیانی کی نہایت سختی سے تردید فرمایا کرتے تھے۔
۱۳۴۸ھ میں آپ کے انتقال کے بعد آپ کے شیر دل بیٹے حضرت مولانا خواجہ غلام نظام الدین تونسویؒ مسندِ سلیمانی پر رونق افروز ہوئے آپ نے جس سج دھج اور بے خوفی و جگرداری سے اسلامی نظام کے قیام کی جنگ لڑی اس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے ۔ آپ کو خدا نے بیشمار خوبیوں سے مالا مال فرمایا تھا ۔ علامہ اقبالؒ نے راجہ حسن اختر اور دیگر مقتدر احباب کو متعدد مرتبہ فرمایا تھا کہ " یہ تونسہ شریف " کے صاحبزادے بہت بلند مقام
کے مالک ہیں آپ کو بھی اپنے بزرگوں کی طرح فرنگی اور اس کے چیلے چانٹوں سے حد درجہ نفرت تھی۔ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی زبانی روایت ہے کہ جب فرنگی یہاں سے بوریا بستر باندھ کر چلنے لگا تو اپنی پالتو اولاد کو آزادی کے متوالوں کی فہرست دے گیا ۔ جنہوں نے اس کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی ۔ ان میں حضرت مولانا غلام نظام الدین تونسویؒ کا نام صفِ اول کے رہنماؤں میں تھا۔ جب ۱۹۵۳ء میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا تو آپ کو ایک لمحہ کے لئے بھی چین نہ تھا۔ مجھے اور دیگر مخلص ساتھیوں کو ساتھ لے کر ملتان میں مقامی مشائخ سے متفقہ لائحہ عمل طے کرنے کے لئے رابطہ قائم کیا ۔ پیر صاحب گولڑہ شریف سے طویل مذاکرات کئے ۔ پھر ملک بھر کا طوفانی دورہ کیا اور لوگوں کو تحریک میں شامل کیا۔
حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ
حضرت قاضی جی کا ایک اور واقعہ جسے شیخ عبدالمجید صاحب سابق میونسپل کمشنر شجاع آباد، جو قاضی صاحب کے ساتھ کافی عرصہ ایک بھائی اور دوست کی حیثیت سے رہے ہیں ، بیان کرتے ہیں کہ بیماری کے ایام میں قاضی صاحب نشتر ہسپتال ملتان میں ڈاکٹر عبدالرؤف کے زیر علاج تھے ۔ دوپہر کا وقت تھا۔ میں جاگ رہا تھا۔ قاضی صاحب کو نیند آ گئی تھوڑی دیر بعد کیا سُنتا ہوں کہ قاضی صاحب بڑی لجاجت سے کہہ رہے ہیں کہ ”حضور ! میں آپؐ کی ختم نبوت کی خاطر اتنی بار جیلوں میں گیا ہوں میں نے ملک کے ذمہ دار حکمرانوں کو قادیانی فتنہ سے آگاہ کیا ہے ، حضورؐ ! یہ سب کچھ میں نے آپؐ کی خاطر کیا ہے ۔“ اس کے تھوڑی دیر کے بعد
درود شریف پڑھنے لگے ۔ میں یہ سمجھا، شاید قاضی صاحب کا آخری وقت ہے مگر تھوڑی دیر بعد وہ خود بخود بیدار ہوگئے ۔ ہشاش بشاش تھے ، اور درود شریف پڑھ رہے تھے ۔ مجھ سے انہوں نے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی خواب کا واقعہ بتایا ۔ اللہ تعالیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس کی نعمتوں سے مالا مال فرمائے ۔ آمین
قاضی صاحبؒ کو گرفتار کرنے رات کے ۲ بجے پولیس ان کے گھر پہنچی تو قاضی صاحبؒ نے پولیس افسر کو مخاطب کر کے کہا کہ " میں تو کئی روز سے تمہارا انتظار کر رہا تھا ۔ " ۱۹۶۱ء میں جب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے رحلت فرمائی تو ان کی جانشینی کے طور پر قاضی صاحبؒ کو مجلس تحفظ ختم نبوت کا باضابطہ صدر منتخب کر لیا گیا ۔ تحریک ختم نبوت کی اسیری کے دنوں میں جیل میں آپ کو اپنے والد قاضی محمد امینؒ کی طبیعت کی ناسازی کی اطلاع ملی ۔ روز بروز حالت بگڑتی رہی ۔ بیہوشی کے دوروں میں بھی شدت پیدا ہوتی گئی ، جب ہوش میں آتے تو دروازے کی طرف دیکھ کر پوچھتے کہ " میرا چاند احسان ابھی تک نہیں آیا ؟ پھر بالآخر اسی حالت میں اپنے لختِ جگر کو آخری بار ایک نظر دیکھ لینے کی حسرت پوری کئے بغیر خالق کائنات سے جا ملے ۔
عشق رسولؐ اور جیل
ان کے غیر متزلزل عزم و ہمت کا ایک اور واقعہ ۱۹۵۴ء میں پیش آیا ۔ مولانا تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ملتان جیل میں نظر بند تھے ۔ اسی دوران ان کے والد ماجد انتقال کر گئے ۔ جیل کے حکام نے مولانا سے کہا کہ اگر آپ اعلیٰ حکام سے معافی مانگ
لیں تو آپ کو رہا کیا جاسکتا ہے اور آپ اپنے والد ماجد بزرگوار کی نماز جنازہ میں شرکت کر سکتے ہیں۔ مولانا نے خشمگین انداز میں کہا، کہ میں نے یہ جیل رسول اکرمؐ کے نام کے تحفظ کی خاطر قبول کی ہے، آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں رسول اکرمؐ کو بھول جاؤں اور والد کی محبت سے متاثر ہو کر آقائے نامدارؐ کو دھوکہ دے جاؤں۔ میں عاشق رسولؐ ہوں، مجھ پر اس جیسی ہزار مُصیبتیں بھی اگر نازل ہو جائیں تو بھی میں اُف نہ کروں گا۔ جیل کے حکام مولانا کے اس دلیرانہ جواب کو سُن کر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے ۔
رسولؐ کا جمال بن
مولانا جب کبھی کسی جلسہ یا تقریب میں جاتے تو طلبا کا ایک ہجوم انہیں گھیر لیتا اور ان سے آٹو گراف کا تقاضا کرتا۔ مولانا نوجوانوں سے بڑی شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے وہ اکثر اپنے آٹوگراف میں یہ شعر لکھتے ۔
غریب گر نظر پڑے رسولؐ کا جمال بن
باپ اور بیٹے کی قربانی
قاضی صاحب کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ انہوں نے تحریک آزادی وطن اور تحریک ختم نبوت کے لئے باپ اور بیٹے دونوں کی قربانی دی۔ جب ان کا اکلوتا بیٹا فوت ہوا تو وہ کلکتہ میں تھے، بیٹے کا منہ بھی نہ دیکھ سکے۔ جب ان کے والد قاضی محمد امین کا انتقال ہوا تو وہ ختم نبوت کی تحریک میں نظر بند تھے اور ان کے جنازے کو کندھا تک نہ دے سکے۔ ایک انسان اس سے زیادہ اور کیا کر سکتا ہے۔ اسکی عزیز ترین متاع اس کی اولاد ہوتی ہے اور اہم ترین پونجی بزرگوں اور والدین کی شفقت، قاضی صاحب نے یہ دونوں اسلام اور قوم کے نام
پر قربان کر دیں ۔
زندگی کی اہم رات
عشق رسول کی تاثیر تھی کہ کئی منکرین ختم نبوت ان کی تبلیغ سے قادیانیت سے نکل کر دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ ایک سی ایس پی افسر جو کوئٹہ ڈویژن کے کمشنر تھے۔ قاضی صاحب کے دوست تھے، مگر قادیانیت سے متاثر تھے۔ نہ صرف ان کے دماغ کی تطہیر کی بلکہ ان کو اس کام پر لگا دیا کہ ان کا شمار بھی مرزائیت کے بدترین مخالفوں میں ہونے لگا۔ اسی کمشنر نے بہت سے قادیانی دوستوں کو ، اور ان کو جو قادیانیت سے متاثر تھے، جمع کیا۔ اور پھر قاضی صاحب کو شجاع آباد سے بلایا ۔ قاضی صاحب مرزا غلام احمد کی تصنیفات لے کر کوئٹہ پہنچے۔ اس مسئلہ پر ان سے گفتگو ہوتی رہی یہاں تک کہ ساری رات کتابوں کے ورق اُلٹتے رہے ۔ حوالوں پر حوالہ دیا جاتا رہا ادھر صبح ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی نورِ ہدایت سے منور کر دیا۔ اور قاضی صاحب مرحوم اپنی زندگی کی اس قیمتی رات کا اکثر تذکرہ کرتے اور خدا وند کریم کا شکر بجالاتے ۔
حضرت علامہ اقبالؒ
مظاہر العلوم سہارنپور کے استاد مولانا محمد اللہ شاہ فرماتے ہیں کہ سہارنپور محلہ میر کوٹ میں مشہور شیعہ خاندان اور سادات بارہہ کے ایک ممتاز و نمایاں فرد جناب سید جعفر عباس مرحوم تھے انہوں نے یہ واقعہ میرے والد ماجد حضرت مولانا الشاہ محمد اسعد اللہ رحمتہ اللہ علیہ ناظم اعلیٰ مظاہر العلوم کو حضرت موصوف کے حجرے میں سنایا۔ کہ ہمارے چچا سید آغا حیدر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے لاہور کے عمائد اور مشاہیر کو کھانے پر مدعو کیا ۔ حضرت علامہ محمد اقبالؒ بھی مدعو تھے ۔
اتفاق سے بلا دعوت حکیم نور الدین قادیانی آ گئے۔ کچھ دیر کے بعد حضرت علامہ پہنچے تو حکیم نور الدین قادیانی کو دیکھ کر حضرت علامہ مرحوم اتنے سخت برہم ہوئے کہ یہ بھول گئے یہ دوسرے کا مکان ہے اور داعی کو حق ہے کہ جس کو چاہے مدعو کرے چنانچہ حضرت علامہ نے فرمایا : آغا صاحب یہ کیا غضب ہے کہ آپ نے ختم نبوت کا انکار کرنے والے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرے کو نبی ماننے والے کافر کو بھی مدعو کیا ہے اور فرمایا کہ میں جاتا ہوں میں ایسی مجلس میں ایک لمحہ بھی نہیں بیٹھ سکتا ہوں، اس وقت حکیم نور الدین فوراً ہی سخت نادم ہو کر چلے گئے۔ اور آغا صاحب نے معذرت کے ساتھ فرمایا کہ میں نے مدعو نہیں کیا تھا حکیم صاحب اتفاقاً آگئے تھے اس کے بعد ہی حضرت علامہ مرحوم وہاں بیٹھے ۔
علامہ اقبال نور اللہ مرقدہ نے مرزائیوں کی دونوں شاخوں کو خارج از اسلام قرار دے کر انجمن حمایت اسلام کے دروازے ان پر بند کر دئے تھے۔ مرزائی لاہوری ہو یا قادیانی ، انجمن کا ممبر نہیں ہو سکتا تھا۔ اس واقعہ کی پوری تفصیلات انجمن کے تحریری ریکارڈ میں موجود ہیں اس کے ایک عینی گواہ لاہور کے سب سے بڑے شہری میاں امیر الدین بفضل تعالیٰ بقید حیات ہیں۔ یونیورسٹی کی سینٹ انتظامیہ کے بھی رکن ہیں ان سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ علامہ اقبال انجمن کی جنرل کونسل کے اجلاس عام کی صدارت فرمانے لگے تو آپ نے سب سے پہلے کھڑے ہو کر اعلان فرمایا کہ مسلمانوں کی اس انجمن کا کوئی مرزائی (لاہوری یا قادیانی) ممبر نہیں ہو سکتا ہے مرزا غلام احمد کے متبعین کی یہ دونوں جماعتیں خارج از اسلام ہیں ۔ اس وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کرسی صدارت کے عین
سامنے بیٹھے تھے۔ ان کے ساتھ ہی میاں امیر الدین فروکش تھے۔ حضرت علامہ نے ڈاکٹر صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے صدر رکھنا ہے تو اس شخص کو نکال دو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مرزا صاحب لاہوری جماعت کے پیرو تھے حضرت علامہ کے اس اعلان سے تھرا گئے۔ کانپ اٹھے، جز بز ہوئے۔ کچھ کہنا چاہا۔ حتیٰ کہ ان کا رنگ فق ہو گیا۔ حضرت علامہؒ مصر رہے کہ اس شخص کو یہاں سے جانا ہو گا چنانچہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ ۔ بیک بینی دو گوش نکال دیئے گئے۔ ان کی طبیعت پر اس اخراج کا یہ اثر ہوا کہ بیحواس ہو گئے۔ دو چار دن ہی میں مرض الموت نے آ لیا اور اس صدمے کی تاب نہ لا کر انتقال کر گئے۔
جناب خورشید احمد منیجنگ ایڈیٹر میڈیکل نیوز، کراچی اور اسلام آباد نے ایک مرتبہ اپنے والد صاحب کا واقعہ مولانا کو سنایا کہ میرے والد گرامی جناب ڈاکٹر جلال الدین صاحب ڈینٹل سرجن لاہور حضرت تھانویؒ سے متعلق تھے اور ان کے مرید تھے۔ اکابر علماء مولانا تھانویؒ، حضرت مدنیؒ، حضرت انور شاہ کشمیریؒ اور دیگر دیوبند کے اکابر علماء ان کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے انہوں نے واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیریؒ دیوبند سے لاہور تشریف لائے میں (ڈاکٹر جلال الدین) ان کو اسٹیشن پر لینے کے لئے گیا۔ میں نے کہا حضرت گھر تشریف لائیں۔ مولانا نے کہا کہ آج میں نے صرف ڈاکٹر محمد اقبال سے ملنا ہے اور ابھی سیدھا وہیں جانا ہے لہٰذا مجھے وہاں چھوڑ دیجئے۔ والد صاحب نے مولانا کو ڈاکٹر محمد اقبال کے گھر پہنچا دیا اور والد صاحب باہر موجود رہے ۔ حضرت انور شاہ کشمیریؒ اور علامہ محمد اقبالؒ بند کمرے
میں کافی دیر تک گفت گو کرتے رہے، جب دروازہ کھلا تو میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر محمد اقبال بچوں کی طرح آنسو بہا رہے تھے، اور زار و قطار رو رہے تھے۔ حضرت نے اُسی وقت مجھے فرمایا کہ مجھے اسٹیشن چھوڑ دیجیے۔ میں آپ کو اسٹیشن پر لے چلا۔ راستے میں اپنے گھر لیجانے پر اصرار کیا، تو فرمایا ” آج میں مسئلہ قادیانیت علامہ اقبال کو سمجھانے آیا تھا۔ اس لئے اس کام میں اور کسی کو شریک نہیں کرتا ، اب سیدھے واپس جانا ہے“ اسٹیشن سے اسی وقت دیو بند روانہ ہوگئے ۔
جناب محمد اکبر جسٹس ریاست بہاولپور
عرصہ ہوا کہ میں نے ایک شب عالم رویا میں خود کو مسجد شریف تعمیر کردہ جج صاحب ؒ (جسٹس محمد اکبر بہاولپور) میں پایا۔ مسجد کا کمرہ انوار و تجلیات کی ضوفشانیوں سے بقعۂ نور بنا ہوا تھا۔ اور میری روح انتہائی پرسکون تھی۔ ان سرور آگیں لمحات کا تصور اور رُوح پرور کیف کا بیاں حیطۂ تحریر سے باہر ہے بس دل ہی محسوس کرتا ہے۔ زبان اظہار سر دلبراں سے قاصر ہے ۔ میری خوش بختی ہے کہ اسی حالت میں خود چچا حضور نے بھی تشریف لا کر زیارت سے مشرف فرمایا ۔ چچا حضور کے چہرے مُبارک سے میں نے ان کے کچھ قلبی تاثرات محسوس کئے۔ میں نہایت ادب سے قدمبوس ہُوا۔ آپ نے بڑی متانت سے فرمایا۔ کہ ” میاں میں نے تو مکان میں دروازہ اس واسطے رکھوایا تھا کہ تم میرے پاس آتے جاتے رہو گے، اور میری دیکھ بھال کرتے رہو گے مگر تم نے تو آنا جانا ہی چھوڑ دیا ہے “ ان کے پُر وقار لہجے اور مشفقانہ انداز نے مجھے میری کوتاہی کا احساس دلایا۔ اور بارِ ندامت سے میری گردن جھک گئی۔ اظہار معذرت کرتے ہوئے قدموں میں گر پڑا۔ آنکھوں سے
آنسو جاری ہوئے ۔ کہ میری آنکھ کھل گئی ۔
عالم رویا کا روح پرور اور دل گداز منظر حقیقت بن کر سامنے آگیا ۔ صبح ہو چکی تھی، نماز کے بعد میں نے قرآن پاک پڑھ کر برائے ایصال ثواب نذرانہ عقیدت پیش کیا اور معبود حقیقی سے دعا کی ۔ کہ رب العالمین کالی کملی والے کا صدقہ اس مجاہد اعظم کی روح کو سکون و قرار عطا فرما ، اور مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرما دے ۔
اسی روز میں نے بہاولپور جا کر ان کے مزار مبارک پر فاتحہ پڑھی اور دل میں آئندہ حاضر ہوتے رہنے کا عہد کیا ۔ (جج مرحوم کے ایک عزیز کی روایت)
ـــ ◯ ـــ
سید غلام محی الدین شاہ صاحب ہمدانی مرحوم ومغفور ثامیوالی کے مشائخ میں سے ایک خدا رسیدہ بزرگ تھے ۔ اور جج مرحوم کے ساتھ بڑی عقیدت رکھتے تھے ۔ وفات کی شب کو ہی انہیں خواب میں بشارت ہوئی کہ محمد اکبر فوت ہو گیا ہے بہاولپور جاکر اس کی نمازِ جنازہ پڑھاؤ ۔ چنانچہ از خود آپ بہاولپور تشریف لے آئے اور مرحوم کی نمازِ جنازہ پڑھائی ۔ وصیّت کے مطابق آپ کو احاطہ درس تعلیم القرآن واقعہ محلہ مبارکپورہ اپنی خرید کردہ اراضی میں سپرد خاک کیا گیا ۔
مولانا خواجہ محمد ابراہیم مجددیؒ
آپ موضع سیتھل ضلع گجرات کے رہنے والے تھے اور خواجہ غلام نبی للّہ شریف ضلع جہلم سے اجازت وخلافت حاصل تھی آپ نے قادیانیت کے ردّ
میں ایک کتاب "ردّ مرزا قادیانی" لکھی تھی۔ مگر افسوس کہ وہ زیور طبع سے آراستہ و پیراستہ ہو کر منصّہ شہود پر جلوہ افروز نہ ہوسکی ۔
ملک امیر محمد خاں گورنر مغربی پاکستان
ملک امیر محمد خاں بحیثیت انسان ایک مردم شناس ، بہادر اور خود دار شخص تھے ۔ بحیثیت منتظم سخت گیر انسان تھے ۔ ایوب خانی دَور میں انہیں مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا گیا ۔ انہوں نے اپنے عہد میں ملک کا نظم و نسق پورے نظم و ضبط سے چلایا ۔ کسی کو جرأت نہیں ہوتی تھی کہ کسی کام کو اپنی مرضی سے چلائے ۔ امیر محمد خاں کا دبدبہ ، اعلیٰ افسر سے لے کر عام شہری کی زندگی تک نظر آتا تھا ۔ وہ پکّے مسلمان تھے ، صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے ۔ ان کے زمانے میں گورنر ہاؤس شراب و کباب کی بزم آرائیوں سے الگ تھلگ رہا ۔ وہ اکیلے رہتے تھے ۔ اُن کے اپنے بیٹوں تک کو کھلّم کھلا گورنر ہاؤس میں آنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی ۔ موسیقی و طرب کی محفلیں دُور دُور تک نظر نہیں آتی تھیں ۔ اُن کے سامنے ہر وقت مصلّے بچھا رہتا تھا ۔ اُن کے زمانے میں مغربی پاکستان میں عصمت فروشی کا کاروبار بند ہو گیا ، اور جسم فروشی ممنوع قرار دیدی گئی ۔
ان کی مردم شناسی اور تحریک آزادی میں کام کرنے والوں کے متعلق عزت افزائی کو عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔
مرزائیوں کے وہ سخت مخالف تھے انکی ملک دشمنی اور اسلام دشمنی سے پوری طرح آشنا تھے ۔ قاضی احسان احمد صاحب نے ایک ملاقات میں مرزا قادیانی کی کتاب " ایک غلطی کا ازالہ " دکھائی اور اس کے مندرجات
پڑھ کر سنائے ۔ تو امیر محمد خاں آبدیدہ ہو گئے ۔ انہوں نے فوراً اس کتاب کو خلافِ قانون قرار دیدیا ۔ قاضی صاحب نے انہیں مبارکباد کا تار بھیجا ۔ مرزائیوں نے اس پابندی کے خلاف زور شور سے آواز بلند کی، اور ایوب خاں تک رسائی کی۔ جس نے بالآخر کتاب پر سے پابندی ہٹادی۔ امیر محمد خاں کو سخت صدمہ ہوا ، مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا مفتی محمود صاحب ان سے ملے اور پابندی اٹھانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ امیر محمد خاں نے کہا کہ مفتی صاحب مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ مرزائیت کتنی بڑی طاقت اختیار کر گئی ہے ۔ اس کتاب پر پابندی کے بعد جب اندرون و بیرون ممالک سے مجھ پر اور صدر مملکت پر دباؤ پڑنا شروع ہوا ۔ تو مجھے احساس ہوا کہ مرزائیت کتنی بڑی طاقت ہے ۔ آج مرحوم زندہ نہیں کوئی ان کی قبر پر جا کر مرزائیت کی رسوائی و پسپائی کا حال ان سے بیان کر دے۔ تاکہ ان کی قبر کو ٹھنڈک پہنچے اور ثابت ہو کہ العظمۃ للّٰہ و للرسولہ ،
علامہ احسان الہٰی ظہیر
مولانا مرحوم لکھتے ہیں کہ جب ۱۹۷۷ء کے رمضان المبارک کی ستائیسویں شب مسجد نبوی کے پڑوس میں اپنی کتاب " القادیانیۃ " کو مکمل کر کے سویا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سحر گاہ دعائے نیم شبی لبوں پر لئے باب جبرائیل کے راستے (کہ جب دیارِ حبیب علیہ السلام میں میرا مکان اسی جانب تھا ) مسجد نبویؐ کے اندر داخل ہوتا ہوں۔ لیکن روضۂ اطہر کے سامنے پہنچ کر ٹھٹھک جاتا ہوں۔ کہ آج خلاف معمول روضۂ مُعَلیٰ کے دروازے وا ہیں اور پہرے دار خندہ رو استقبالیہ انداز میں منتظر ہیں۔ میں اندر بڑھا جاتا ہوں کہ
سامنے سرور کونین رحمت عالم محمد اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رعنائیوں اور زیبائیوں کے جھرمٹ میں صدیق اکبرؓ ، فاروق اعظمؓ کی معیت میں نماز ادا کر رہے ہیں ۔ دل خوشیوں سے معمور اور دماغ مسرتوں سے لبریز ہو جاتا ہے اور جب میں دیر گئے باہر نکلتا ہوں تو دربان سے سوال کرتا ہوں ۔ ”یہ دروازے تم روزانہ کیوں نہیں کھولتے ؟“ جواب ملا یہ دروازے روزانہ نہیں کھلا کرتے اور آنکھ کھلی تو مسجد نبوی کے میناروں سے یہ دلکش ترانے گونج رہے تھے ۔ اشہد ان محمد رسول اللہ ! اشہد ان محمد رسول اللہ !
اور صبح جب میں نے مدینہ یونیورسٹی کے چانسلر کو ماجرہ سنایا تو انہوں نے فرمایا تمہیں مبارک ہو ختم نبوت کی چوکیداری میں خاتم النبیین کے رب نے تمہاری کاوش کو پسند فرمایا ہے (مرزائیت اور اسلام ص ۲۴ ، ۲۵ ،
مصنف علامہ احسان الٰہی ظہیر مرحوم)
خان احمد یار خان رئیس اعظم قلات
ان سے ایک دفعہ ظفر اللہ قادیانی ملنے گیا مرزائیت کی تبلیغ شروع کر دی ، جب اس کی بات ختم ہوئی تو خان صاحب نے فرمایا ۔ ”ظفر اللہ خاں ، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں اور مجھے حکم فرمائیں کہ مرزا قادیانی سچا ہے اسے مان لو تو بھی سمجھوں گا کہ میرے ایمان کا امتحان لیا جا رہا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی درخواست کروں گا کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم آپؐ کی ختم نبوت پر میرا ایمان اتنا پختہ ہے کہ اس امتحان میں بھی میں کامیاب ہوں کہ مرزا قادیانی جھوٹا اور کذاب ہے ۔
اس پر ظفر اللہ خان نے مارے ندامت کے سر جھکا دیا ۔
اس مجلس میں ظفر اللہ خاں نے والی قلات سے کہا کہ آپ کی ریاست میں ہمارا ایک قادیانی رہتا ہے اس سے ملا دیں ۔ خان قلات نے کہا کہ میری ریاست میں کوئی قادیانی نہیں ۔ ظفر اللہ خان کے بتانے پر کسی دور دراز کے شہر میں ایک موچی قادیانی منشی گیری کرتا تھا ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مرزائی افسران اپنے مرزائیوں کی کس طرح امداد کرتے ہیں ۔
۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں خان صاحب بلوچستان کے گورنر تھے ان کا صاحبزادہ موسیٰ جان اور نواسہ اعظم جان تحریک میں گرفتار ہو گئے باقی ۲۵ افراد بھی ساتھ تھے ۔ والد گورنر ہے ، بیٹا اور نواسہ تحریک میں گرفتار ہیں ان کو رہا نہیں کرایا تا آنکہ ۱۹ دنوں کے بعد باقی قیدیوں کے ساتھ عام روٹین میں رہا ہوئے ۔
شاعر ختم نبوت سید محمد امین گیلانی
گرمیوں کی دوپہر کو میں اپنی بیٹھک میں سو رہا تھا کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا ، دروازہ کھولا تو ایک پورے قد کاٹھ کا آدمی کھڑا تھا سر پر لٹھے کے اوپر پگڑی ، لٹھے کا تہبند ، پاؤں میں بوٹ اور اچکن پہنے ہوئے تھا ۔ السلام علیکم ، وعلیکم السلام ۔ اندر تشریف لے آئیں ۔ کرسی پیش کی خود چارپائی پر بیٹھ گیا ، پوچھا ۔ کہاں سے تشریف لائے ، کیسے تشریف لائے اُس نے جیب سے ایک کاغذ نکال کر میرے ہاتھ میں تھما دیا ۔ میں نے خیال کیا کسی جلسے کی دعوت ہوگی مگر جب رقعہ پڑھا تو اسمیں لکھا تھا ، میں امام مہدی
ہوں مجھ پر ایمان لاؤ، میرا حکم مانو، ورنہ تباہ و برباد ہو جاؤ گے۔ رقعہ پڑھ کر میں نے بمشکل ہنسی ضبط کی پھر بغیر کسی وقفے کے ایک دم چہرے پر مصنوعی رُعب و جلال کی کیفیت پیدا کر لی اور کڑک کر کہا " او احمق او خبیث تجھے یہ کیسے جرأت ہوئی کہ نقلی امام مہدی بن کر اصلی امام مہدی کے سامنے آئے۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔ چل میرے ساتھ باہر تو بھی کہہ میں امام مہدی ہوں اور میں بھی کہتا ہوں کہ میں امام مہدی ہوں۔ پھر دیکھ کیسے جوتے پڑتے ہیں۔ کس کی عزت ہوتی ہے۔ اب بیچارے امام مہدی کے پسینے چھوٹ گئے اور کانپنے لگا۔ میں نے پھر گرج کر کہا۔ اٹھ جھوٹے نکل میدان میں۔ ابھی تیرا کباڑا نہ کر دوں تو کہنا۔ اب اس کے سارے دَم خَم نکل گئے۔ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا ۔ " جناب پہلے مجھے معاف کر دیجئے۔ " میں نے کہا بکو تمہیں چار پیسے چاہئیں یا بھوک لگی ہے۔ کہنے لگا۔ بس مجھے معاف کر دیں اور جانے کی اجازت دیدیں۔ میں نے کہا معاف کر دیا مگر یہ ہماری عادت کے خلاف ہے کہ کچھ کھائے پیئے بغیر چلے جاؤ، میں نے کھانا منگا کر کھلایا اور ساتھ نصیحت کی ، یہ حرکت چھوڑ دو، اس سے بہتر ہے سیدھے سادھے بھیک مانگ لیا کرو۔ اس نے اقرار کر کے مجھ سے جان چھڑائی اور تیز تیز قدموں سے نکل گیا۔
مولانا امین الحق حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ سے مصروفِ گفتگو تھے ، اور میں حضرت کے سامنے دوزانوں بیٹھا ہوا تھا۔ بار بار میرے جی میں خیال آئے کہ میں سید ہوتے ہوئے بھی اپنے اعمالِ بد کے ہاتھوں جہنمی ہوں اور حضرت رَحِمَہُ نو مسلم کی اَولاد ہونے پر بھی اپنے اعمالِ خیر کے باعث
جہنمی ہیں، گویا ایک جہنمی ، ایک جنتی کی زیارت کر رہا ہے ۔ معاً حضرت مجھ سے مخاطب ہوئے " نہ بیٹا نہ، نہ بیٹا نہ ، اللہ کسی کو جہنم میں نہیں پھینکنا چاہتے۔ لوگ تو زبردستی جہنم میں کودتے ہیں " میں فوراً سنبھلا اور سوچا کسی نے سچ کہا ہے ۔ " پادشاہوں کے سامنے آنکھ کی حفاظت کرو اور اولیاء اللہ کے سامنے دل کی"
جنرل اعظم کے حکم سے لاہور میں کشتوں کے پشتے لگ رہے تھے ، تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء اپنے جوبن پر تھی ۔ پولیس مجھے اور میرے بہت سے ساتھیوں کو ہتھکڑیاں پہنا کر قیدیوں کی بس میں بٹھا کر شیخوپورہ سے لاہور کی طرف روانہ ہوگئی ۔ اسیرانِ ختم نبوت بس میں نعرے لگاتے ہوئے جب لاہور کی حدود میں داخل ہوئے تو ملٹری نے بس روک لی اور سب انسپکٹر کو نیچے اترنے کا حکم دیا ، ایک ملٹری آفیسر نے اُس سے چابی لے کر بس کا دروازہ کھول دیا اور بڑے رعب، وجلال سے گرجا، تمہیں پتہ نہیں نعرے لگانے والے کو گولی مارنے کا حکم ہے ، کون نعرے لگاتا تھا ؟ اس اچانک صورت حال سے سب پر ایک سکوت سا طاری ہو گیا ۔ معاً میرا ہاشمی خون کھول اُٹھا ۔ میں نے تن کر کہا میں لگاتا تھا ۔ اُس نے بندوق میرے سینے پر تان کر کہا " اچھا اب لگاؤ نعرہ " میں نے پُرجوش انداز سے نعرہ لگایا ، " میرا کالی کملی والا " سب نے با آوازِ بلند جواب دیا ، زندہ باد اس کی بندوق کی نالی نیچے ڈھلک گئی ۔ منہ پھیر کر کہا " ہاں وہ تو زندہ باد ہی ہے " اور بس سے نیچے اُتر گیا ، ایسا معلوم ہوا جنت جھلک دکھا کر اوجھل ہو گئی ۔ پھر اس نے سب انسپکٹر سے کچھ کہا اس نے بس کا دروازہ مقفّل کر دیا ۔ چند منٹوں کے بعد ہم بورسٹل جیل لاہور میں تھے ۔
میانوالی جیل سے صبح میں رہا ہونے والا تھا۔ مگر مجھے خطرہ تھا کہ میری سرگرمیوں کے پیش نظر میری سزا جیل کے اندر ہی بڑھانے کا حکم نہ آجائے۔ داروغہ جیل بھلا آدمی تھا اور حافظ قرآن بھی تھا وہ شام کو ہماری بارک میں آیا ، میں نے کہا حافظ صاحب صبح میری رہائی ہے یا کوئی اور نیا حکم آ گیا ہے۔ کہنے لگا دو دفعہ لاہور سے ٹیلیفون آیا ہے۔ مگر گڑ بڑ بہت ہے کچھ سُنا، سمجھا نہ گیا۔ کٹ ہوتا رہا۔ خیر صبح ہوئی مجھے دفتر بلایا گیا اور دفتری کارروائی کر کے رہا کر دیا گیا۔ میں جب دوسرے دن شیخوپورہ پہنچا تو سب حیران ہو گئے۔ پتہ چلا کہ یہاں کے سی آئی ڈی انسپکٹر نے مجھے خطرناک ثابت کر کے سنٹر سے سزا بڑھانے کا حکم نامہ میانوالی بھجوا دیا ہے اور فون پر داروغہ جیل میانوالی کو اطلاع دی تھی کہ امین گیلانی کو رہا نہ کیا جائے۔ تحریری حکم نامہ بذریعہ ڈاک آ رہا ہے۔ لیکن میں رہا ہو چکا تھا اور اب نئے وارنٹ تیار کر کے ہی دوبارہ گرفتار کیا جا سکتا تھا۔ لیکن نیا خطرہ مول لینے کے ڈر سے ایسا نہ کیا گیا یوں مرزائی آفیسر فخر الدین کے کئے دھرے پر پانی پھر گیا۔
ایک مسجد میں حوض کے کنارے وضو کر رہا ہوں ، دیکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازے سے داخل ہو کر حوض کی طرف تشریف لائے اور میرے دائیں طرف تشریف فرما ہو کر وضو فرمانے لگے پھر اچانک دائیں ہاتھ سے سامنے مسجد کے صحن کی طرف اشارہ کیا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد سمجھ گیا وہاں کچھ لوگ قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے نماز کے لئے کھڑے ہیں میں وہیں حضورؐ کے پہلو میں کھڑا ہو کر انہیں جوش و غضب سے سمجھانے لگا۔ مجھ پر رقت کی کیفیت طاری تھی اپنی تقریر کے یہ الفاظ
مجھے یاد ہیں ۔ اے لوگو! حضور پاکؐ کی موجودگی میں تمہارا یہ حال ہو گیا کہ مسجد میں قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے نماز پڑھتے ہو۔ مزید نہ جانے کیا کچھ کہہ رہا تھا، میری تقریر سُن کر اُن میں سے بعض نے اپنا رُخ قبلہ کی طرف کر لیا اور بعض اُسی طرح کھڑے رہے کہ میں جاگ گیا ۔
اس خواب کے بعد حضرت امیر شریعتؒ کی صحبت میں رہنے سے مرزائیت کے خلاف جدوجہد کا عہد کر لیا اور اس مشن پر زندگی بھر عمل کرنے کا ارادہ مستقل ہو گیا۔ گویا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اشارہ تھا اور ربِّ کریم نے توفیق عطا فرمائی :
کئی روز پہلے تمام شہر میں اشتہار چسپاں کر دیئے تھے۔ پھر آخری روز منادی کی گئی ۔ کہ آج رات بعد نماز عشاء مین بازار شیخوپورہ میں جلسہ عام ہوگا۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی تقریر فرمائیں گے۔ پنڈال میں ہزاروں سامعین جمع ہوگئے۔ جلسہ کی کارروائی کا آغاز ہو گیا۔ مولانا اسٹیج پر پہنچ گئے۔ قاری محمد امین صاحب نے تلاوتِ قرآن کی ۔ اب میری نظم کے بعد مولانا کی تقریر تھی۔ میں ابھی نظم پڑھنے کے لئے کھڑا ہی ہُوا تھا کہ علاقہ کا مجسٹریٹ بمعہ تھانیدار اور پوری گارد کے آدھمکے اور مجھے بلوا بھیجا۔ میں گیا تو تھانیدار نے دفعہ ۱۴۴ کا نوٹس تھما دیا ۔ کہا پڑھ لیجئے ۔ ڈی ۔ سی صاحب نے دفعہ ۱۴۴ لگا دی ہے ۔ آپ جلسہ نہیں کر سکتے اور یہ ہیں مولانا کے وارنٹ گرفتاری انہیں ہم نے گرفتار کرنا ہے ۔ میں نے تھانیدار سے کہا کہ آپ نے ۱۴۴ لگانی تھی تو پہلے لگا دیتے کیونکہ کئی دن سے جلسہ کے اشتہار شہر کے در و دیوار پر چسپاں تھے ۔ پھر آج سارا دن شہر میں منادی ہوتی رہی آپ کا یہ ۱۴۴ کا نوٹس
برموقع دینا صریحاً غلط ہے۔ کیونکہ ۱۴۴ دفعہ کے لئے پہلے سرکاری منادی ضروری ہوتی ہے، اور رہی مولانا کی گرفتاری تو مجسٹریٹ صاحب آپکے ساتھ ہیں پولیس آپ کے پاس ہے ہمت کریں آگے بڑھ کر گرفتار کر لیں۔ اسمیں میں تو آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتا ، وہ لال پیلا ہو گیا اور مجھے دھمکانے لگا کہ ہم تمہیں بھی گرفتار کرلیں گے ، ورنہ فوراً جلسہ منتشر کردو ۔ میں نے بھی اسی انداز سے کہا میں سرکاری کارندہ نہیں آپ ہیں آپ خود اسٹیج پر جائیں اور لوگوں کو سرکاری حکم سنا دیں ، یہ کہہ کر میں پھرتی سے اسٹیج پر جا پہنچا ، اور اعلان کردیا اب آپ کے سامنے مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی تقریر کریں گے ، جب مولانا نے تقریر شروع کردی تو میں چند ساتھیوں کو لے کر جلسہ گاہ سے دور ایک دکان میں چلا گیا ۔ وہاں میں نے ساتھیوں کو سارا منصوبہ سمجھا دیا پولیس نے بھی چاروں طرف سے جلسہ گاہ کو گھیر لیا ۔ تھانیدار چوٹ کھائے ہوئے سانپ کی طرح بَل کھا رہا تھا ۔ مجسٹریٹ بھی سٹ پٹا رہا تھا ۔ مولانا جوش و خروش سے تقریر کر رہے تھے ۔ اور سامعین پے بہ پے نعرہ تکبیر اللہ اکبر ، ختمِ نبوّت زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے ، میں نے جاتے ہوئے مولانا کے کان میں صورتِ حال کہہ دی تھی اور یہ بھی کہا کہ جب مضمونِ تقریر ختم ہو جائے تو دعا سے قبل آپ جیب سے رومال نکال کر پیشانی پونچھیں ، اُدھر مولانا نے پیشانی پونچھی ادھر میں نے مین سوئچ آف کر دیا ۔ یکدم اندھیرا چھا گیا ، میرے متعینہ موٹر سائیکل سوار نے فوراً مولانا کو پیچھے بٹھایا اور یہ جا وہ جا ۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی کے ہم شکل اور اسی قد کاٹھ کے ہمارے دوست مولوی محمد احمد صاحب (میاں علی ڈوگراں والے) انہیں پہلے سے
تیار کر رکھا تھا ۔ وہ اندھیرے میں فوراً اٹھے اور مائیک پر عربی میں دعا مانگنے لگے سامعین آمین آمین کہتے رہے۔ دعا کے بعد فوراً بیس پچیس نوجوانوں نے مولانا احمد کو نرغے میں لے لیا اور مولانا منظور احمد چنیوٹی زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے مسجد عیدگاہ کی طرف چل دیئے۔ تھانیدار نے بڑی چستی سے ساری پولیس کے ساتھ اس جلوس کو گھیرے میں لے لیا۔ جب مسجد کی برقی روشنی میں پہنچے۔ تو تھانیدار آگے بڑھا۔ اور نوجوانوں کو ہٹا کر مولانا کو گرفتار کرنا چاہا تو اچنبھے میں آگیا وہ مولانا منظور احمد نہیں بلکہ مولوی احمد تھے جھلا کر مجھ سے پوچھا ”مولوی منظور کہاں ہے ؟“ میں نے کہا حضور آپ پوری گارد کے ساتھ نگرانی کر رہے تھے ۔ مجھے کیا پتہ ۔ پاؤں پٹخ کر بولا ”میں صبح ہوتے ہی تم سب کا علاج کرلوں گا“ ۔ میں خاموش رہا وہ بکتا جھکتا معہ گارد چلا گیا ۔ میں وہاں ہی تھا مجھے صبح ہوتے ہی اطلاع ملی کہ پولیس جامعہ فاروقیہ رجوعہ چنیوٹ کے مہتمم مولانا محمد عالم صاحب کو گرفتار کر کے لے گئی ہے اور آپ کی تلاش ہے ۔ میں نے آرام سے ناشتہ کیا ۔ جب کچہری کھلنے کا وقت ہوا تو قاری محمد امین صاحب کو بلا کر ساتھ لیا اور بچ بچا کر کچہری پہنچ گئے ۔ چوہدری نذیر احمد ورک ایڈووکیٹ سے کہا کہ سیشن جج سے قبل از گرفتاری ضمانت کرانی ہے ۔ کاغذات تیار کریں ۔ وہ کاغذات تیار کرنے لگ گئے ۔ قاری صاحب نے مجھ سے کہا ”آؤ شاہ جی اتنے میں ہم سامنے پان والے سے پان کھا لیں“ ۔ ہم پان منہ میں ڈال کر سڑک پار کر کے احاطہ کچہری میں داخل ہونے ہی والے تھے کہ رات والا تھانیدار موٹر سائیکل پر سامنے آگیا ۔ میں نے آہستہ سے کہا ”قاری صاحب آپ کے پان نے مروا دیا“ انہوں نے کہا خدا کارساز ہے اتنے میں تھانیدار نے ہمارے برابر آکر بریک
لگا دیا۔ اور موٹر سائیکل پر بیٹھے بیٹھے مجھ سے مخاطب ہوا۔ امین گیلانی کہاں ہے میں نے کہا آپ کو اس سے کیا کام ہے کہنے لگا، کام یہی ہے کہ اس کے وارنٹ ہیں۔ ہم اُسے تلاش کر رہے ہیں۔ میں نے کہا فکر نہ کریں ہم اسے اطلاع دیدیں گے اور وہ خود حاضر ہوجائیں گے۔
اُس نے موٹر سائیکل سٹارٹ کیا اور پھٹ پھٹ پھٹ کرتا ہوا چلا گیا۔ میں نے قاری صاحب سے کہا کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے اس کی مت مار دی ۔
جب ہم سیشن جج کی عدالت میں پہنچے اور کارروائی شروع ہوگئی تو وہی تھانیدار عدالت میں آگیا اور مجھے حیرت سے دیکھنے لگا۔ جب میری ضمانت ہو گئی تو ہم اکٹھے باہر نکلے اب اس کا لب ولہجہ بدل گیا۔ کھسیانی ہنسی ہنس کر کہنے لگا گیلانی صاحب پولیس والے بڑے چالاک ہوتے ہیں۔ مگر آپ ان کے بھی باپ نکلے ، رات سے ابتک دو دفعہ آپ نے مجھے شکست دی میں نے بھی ہنس کر کہا ”میں نے نہیں ،اُس کارساز نے !“
یہ اُس زمانے کی بات ہے جب خواجہ ناظم الدین کا دورِ حکومت تھا اور قادیانی فتنہ کے خلاف مشرقی اور مغربی پاکستان کے تمام صلحاء، علماء اور زعماء کراچی میں جمع ہو کر اس فتنے کے استیصال کا طریقہ کار سوچ رہے تھے۔ ایک روز ہم دفتر مجلس ختم نبوت بندر روڈ کراچی میں بیٹھے ہوئے تھے مرزا غلام احمد دجال کی ذات موضوعِ سخن تھی ایک مولانا جن کی عمر اس وقت ۵۶ سال کی تھی وہ بھی تشریف رکھتے تھے مجھے معلوم ہوا کہ یہ صاحب دارالعلوم دیوبند کے فارغ ہیں اور ان کے بڑے بھائی دارالعلوم میں مدرس بھی رہ چکے ہیں ان مولانا کا نام مجھے یاد نہیں آرہا انہوں نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے فرمایا کہ طالبِ علمی
کے زمانہ میں ہم غالباً ۸ طالب علم ایک دفعہ ایک مرزائی مبلغ و مناظر کے پھندے میں پھنس گئے۔ ہم اپنی کم علمی اور کم عمری کے باعث اُس کے دلائل کو وقیع سمجھ کر مرزا غلام احمد کے نبی ہونے کا نعوذ باللہ گمان کرنے لگے اور باہم یہ مشورہ کیا کہ فی الحال اس بات کو پوشیدہ رکھیں گے تاکہ دارالعلوم سے ہمیں خارج نہ کر دیا جائے اور ہم اپنے والدین کو بھی کیا منہ دکھائیں گے۔ یہ طے کر کے ہم سب طالب علم واپس دارالعلوم میں آگئے رات جب سو گئے تو سب نے ایک ہی خواب دیکھا، کیونکہ صبح جب آپس میں ملے تو سب نے اپنا اپنا خواب بیان کیا ، وہ ایک ہی خواب تھا جو بیک وقت ہم سب نے دیکھا خواب کوئی شہر ہے ۔ بازار میں منادی ہورہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فلاں مسجد میں تشریف لائے ہوئے ہیں جس نے زیارت کرنی ہو وہاں پہنچ جائے ، چنانچہ ہر طالب علم نے کہا کہ میں بھی وہاں پہنچا تو دیکھا واقعی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے صحن میں تشریف فرما ہیں۔ میں حاضر خدمت ہو کر سلام عرض کرتا ہوں۔ پھر یہ عرض کرتا ہوں کہ یا رسول اللہ غلام احمد قادیانی واقعی نبی ہے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ۔ پھر ایک طرف انگلی سے اشارہ فرما کر کہا کہ اُدھر دیکھو! دیکھا تو ایک گول دائرہ ہے جس میں آگ بھڑک رہی ہے اور ایک شخص اُس آگ میں جل رہا ہے اور تڑپ تڑپ کر چیخ رہا ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " یہ غلام احمد ہے" اس خواب کے بعد ہم سب نے توبہ کی اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر یقین محکم ہو گیا۔
تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی کہانی
مولانا تاج محمود کی زبانی‘
پاکستان میں خواجہ ناظم الدین کا دور اقتدار تھا ۔ دستور پاکستان کی تدوین زیر بحث تھی ۔ حکمران اپنی شخصی حکومتوں کی عمریں لمبی کرنے کے لئے ملک کو دستور دینے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے ۔ بالآخر خواجہ ناظم الدین کے زمانے میں دستور کے بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی رپورٹ ( بی ۔ پی ۔ سی رپورٹ ) شائع ہوئی ۔ اس رپورٹ میں ملک کے لئے جداگانہ طریقہ انتخاب تجویز کیا گیا تھا۔ اقلیتوں کی نشستیں الگ مخصوص کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اقلیتوں کی تعداد اور ان کے ناموں کا نقشہ بھی اس رپورٹ میں شائع کیا گیا۔ دکھ کی بات یہ تھی کہ قادیانیوں کو مسلمانوں میں شمار کیا گیا تھا۔ حالانکہ پہلے سے ہی مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ مرزائیوں کو مسلمانوں میں شامل نہ کیا جائے بلکہ ان کو علیحدہ غیر مسلم اقلیتوں میں شمار کیا جائے ۔
اس رپورٹ کے آنے کے کچھ دنوں بعد دسمبر ۱۹۵۲ء میں چنیوٹ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس تھی ۔ انہی دنوں مرزائی جماعت کا بھی ربوہ میں سالانہ جلسہ جسے وہ ظلی حج سمجھتے ہیں انعقاد پذیر تھا ان دنوں مرزائی جماعت کا سربراہ مرزا بشیر الدین محمود تھا جس نے پہلے سے اعلان کر رکھا تھا کہ ۱۹۵۲ء کے ختم ہونے سے پہلے پہلے ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں کہ احمدیت کے تمام دشمن ہمارے قدموں میں آگریں “
۲۶ ، ۲۷ ، ۲۸ دسمبر کو چنیوٹ کی ختم نبوت کانفرنس سے ۵۲ء کے گزرنے
میں تین دن باقی ہیں مرزا بشیر الدین کا "اعلان" ناکام ہوگیا ہے۔ مرزائیت کے احتساب کا شکنجہ مزید کس دیا گیا ہے۔ مرزا بشیر الدین کے اعلان کا جواب دیتے ہوئے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے پرجوش الہامی تقریر کرتے ہوئے فرمایا "کہ اے مرزا محمود ۱۹۵۲ء تیرا تھا اور اب ۱۹۵۳ء میرا ہوگا" اس سے قبل مرزائیوں کی جارحانہ ارتدادی سرگرمیوں کے باعث پورے ملک کے مسلمانوں میں شدید اشتعال تھا۔ پوری پاکستانی مسلمان قوم مرزائیت کی جارحیت پر فکرمند تھی اسی ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کے موقعہ پر ایک بند کمرے میں جماعت کے رہنماؤں کا ایک خصوصی غیر رسمی اجلاس منعقد ہوا جس میں مجھے بھی شامل ہونے کی سعادت حاصل ہے۔ اجلاس میں طے پایا کہ مرزائیوں کی جارحیت دماغ کی خرابی کی حد تک پہنچ گئی ہے۔ جسکا سدباب کرنا ضروری ہے۔ بی۔ پی۔ سی رپورٹ کی رو سے خدا اور رسول کے نام پر حاصل کردہ ملک کے دستور میں مرزائیوں کو مسلمان شمار کیا جا رہا ہے۔ اس لئے حکومت کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں۔ اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کی جائے۔ لیکن حکومت کے رویے سے اندازہ یہی ہوتا ہے کہ وہ راہ راست پر نہیں آئے گی لہٰذا تمام مکاتب فکر کے علماء کو اس مہم میں شریک کیا جائے۔ موسم سرما ختم ہوتے ہی ان کا اجلاس بلایا جائے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر سوچ و بچار کر کے فیصلے کئے جائیں۔
میں ان دنوں میں ایم سی ہائی سکول لائلپور میں صدر مدرس تھا۔ چنیوٹ کی اس میٹنگ میں مجھے شیخ حسام الدین اور مولانا محمد علی جالندھری نے حکم دیا کہ تم یا تو سکول کی ملازمت سے استعفیٰ دیدو یا پھر یہ کہ لمبے عرصہ کی چھٹی لے لو تاکہ قادیانیت کے اس فتنہ سے امت کو بچانے کے لئے نئے مرحلہ میں
آزادی کے ساتھ کام کر سکوں۔ چنانچہ میں نے چھٹی لے لی ۔
پورے ملک میں تمام رفقاء نے تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ سے رابطہ قائم کر کے ان کو قادیانیت کے مسئلہ کی سنگینی کی طرف توجہ اور ذمہ داری کا احساس دلایا ۔ جنوری ۱۹۵۳ء کے آخر میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا ایک اجلاس کراچی میں منعقد ہوا ۔ جس میں فیصلہ ہوا کہ خواجہ ناظم الدین پر اتمام حجت کے لئے ایک ماہ کا نوٹس دیا جائے ۔ اگلے روز ایک وفد سر سینہ شریف (مشرقی پاکستان) کی قیادت میں خواجہ ناظم الدین سے ملا۔
- ۱۔ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔
- ۲۔ سر ظفر اللہ خان مرتد اعظم کو وزارتِ خارجہ سے ہٹایا جائے ۔
- ۳۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے ۔
- ۴۔ مرزائیوں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے ۔
یہ مطالبات پیش کئے ۔ خواجہ صاحب نے وفد سے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ظفر اللہ خان کو ہٹانے اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے امریکہ پاکستان سے ناراض ہو جائے گا ۔ اور ہر قسم کی امداد بند کر دی جائے گی ۔
وفد نے ایک تحریری نوٹس ان کو پیش کیا ۔ جس میں درج تھا کہ اگر حکومت نے ایک ماہ کے اندر ہمارے یہ خالصتہً دینی مطالبات تسلیم نہ کئے تو اسلامیانِ پاکستان مرزائی جارحیت کے خلاف راست اقدام کرنے پر مجبور ہوں گے اور مجلس عمل کی قیادت میں تحریک چلائی جائے گی ۔
آخر فروری ۱۹۵۳ء میں دوبارہ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا کراچی میں اجلاس منعقد ہوا ۔ چونکہ حکومت نے مطالبات تسلیم نہیں کئے تھے ۔ اس لئے تحریک راست اقدام چلانے کے فیصلہ پر عملدرآمد کا اعلان
کیا گیا ۔
تفصیل یہ طے کی گئی کہ پانچ پانچ رضا کاروں کے دستے یومیہ مظاہرہ کرنے کے لئے سڑکوں پر نکلیں۔ پانچ رضا کاروں کا ایک دستہ خواجہ ناظم الدین کی کوٹھی پر جاکر مظاہرہ کرے۔ اور دوسرے پانچ رضا کاروں کا دستہ ملک غلام محمد گورنر جنرل کی کوٹھی پر جاکر مظاہرہ کرے۔ دو دستوں کے جانے کا فیصلہ اس لئے کیا گیا کہ صرف خواجہ ناظم الدین کی کوٹھی پر جاکر مظاہرہ کرنے سے تحریک کے دشمن یہ تاثر نہ دے سکیں کہ یہ تحریک مغربی پاکستان کے لوگ بنگالی وزیر اعظم کے خلاف چلا رہے ہیں۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ جلوس پُررونق اور پر ہجوم راستوں اور سڑکوں سے نہ جائیں تاکہ ٹریفک میں رکاوٹ کا مسئلہ پیدا نہ ہو اور حکومت کو شرانگیزی کرنے کا موقعہ میسر نہ آئے۔
۲۷ فروری کی رات کو مجلس عمل کے تمام رہنما جنمیں مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادریؒ ، عبدالحامد بدایونیؒ ، مولانا لال حسین اخترؒ ، سید مظفر علی شمسؒ اور دوسرے بیسیوں رہنما شامل تھے کراچی میں گرفتار کر لئے گئے۔
۲۸ فروری کو پنجاب اور ملک کے دوسرے حصوں میں سینکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری عمل میں آئی ۔
۲۸ فروری کو لائل پور میں دوسرے شہروں کی طرح مجلس عمل کی اپیل پر ان رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف تاریخ ساز ہڑتال کی گئی ۔ دھوبی گھاٹ میں لاکھوں انسانوں کا اجتماع منعقد ہوا ۔ حضرت مولانا مفتی محمد یونس مراد آبادیؒ ، مولانا حکیم حافظ عبدالمجید، صاحبزادہ ظہور الحق، سید صاحبزادہ افتخار الحسن، مولانا عبید اللہ اور بندہ تاج محمود و دیگر حضرات کے بیانات ہوئے لوگوں نے ہر قسم
کی قربانیاں دینے کا عہد کیا ۔ اگلے روز تحریک شروع ہو گئی ۔ لائلپور مجلس عمل کا صدر بندہ تاج محمود کو بنایا گیا ۔ قادیانیت کے خلاف مسلمانوں کا جوش و جذبہ قابل دید تھا ۔ چہار طرف سے تحریک کے الاؤ کو روشن کرنے کے لئے مسلمان اپنی جانوں کا نذرانہ تک دینے کو تیار تھے حکومت نے دھوبی گھاٹ پر قبضہ کر لیا ہم نے تحریک کا مرکز لائلپور کی مرکزی جامع مسجد کچہری بازار کو بنا لیا ۔ شہر اور ضلع بھر کے دیہات سے ہزاروں رضا کار جمع ہونا شروع ہو گئے مسجد اور اس کی بالائی منزل رضا کاروں سے بھرنے لگی ۔ صبح نو بجے اور تین بجے مسجد میں جلسے ہوتے سو رضا کاروں کا دستہ صبح اور سو رضا کاروں کا دستہ سہ پہر اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کرتا ، جلوس اس شان سے نکلتا کہ اس پر فرشتے بھی رشک کرتے ہوں گے ۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے حوالہ سے چلنے والی تحریک میں رضا کاروں ، کارکنوں ، رہنماؤں غرضیکہ ہر عام و خاص کا جذبۂ عشق ختم نبوت قابل دید تھا ہر آدمی بازی لیجانے اور شفاعت محمدیؐ کا پروانہ حاصل کرنے کے لئے بیتاب تھا ۔
کچھ دنوں تک تو حکومت رضا کاروں کو گرفتار کرتی رہی لیکن بعد میں چند رضا کاروں کو گرفتار کر لیا جاتا اور اکثر رضا کاروں کو بسوں میں بٹھا کر تیس چالیس میل دور لیجا کر جنگلوں میں چھوڑ دیا جاتا ۔
اہم واقعہ
میرا دفتر جامع مسجد کی اوپر کی منزل پر قائم تھا ۔ ہر روز رات کو دس گیارہ بجے کے قریب کرفیو کے اوقات میں نکلتا ، ساتھ میرے عزیز دوست فیروز اقبال کا گھر ہے ۔ وہاں جاتا بچیاں کھانا لا کر دیتیں ، دو چار لقمے زہر مار کرتا یہاں تک تو میرے معتمد خاص کو علم ہوتا تھا کہ مولانا اس وقت کہاں ہیں ۔ یہاں سے رات کے اندھیرے اور کرفیو کی حالت
میں اکیلے چھپتے چھپاتے اپنی بہن کے گھر واقع کچی آبادی مال گودام کے دوسری طرف پہنچا۔ یہ سفر میرے لئے انتہائی کٹھن ہوتا ذرا سی آہٹ کا جواب گولی ہو سکتا تھا۔ ایک اور دوست کے ہاں جانا ہوتا یا پھر اپنی مسجد ریلوے کالونی میں آکر تھوڑی دیر آرام کرتا۔ صبح فجر کی آذان سے پہلے کچہری بازار کی مسجد میں واپس آجاتا۔ رضا کاروں کے ساتھ نماز پڑھتا۔ ہر روز میرا یہی معمول تھا۔ میرے دو شاگرد ایک ڈپٹی کمشنر کا سٹینو گرافر تھا اور دوسرا پولیس کے دفتر میں ملازم تھا۔ ان دونوں کا ذہن قلب و جگر تحریک مقدس ختم نبوت کے ساتھ تھا۔ وہ ہر روز عشاء کی نماز کے بعد آتے اور خفیہ حکومتی ارادوں پروگراموں کی رپورٹ سے مجھے مطلع کرتے ان میں سے ایک آجکل فیصل آباد کے معروف ایڈوکیٹ ہیں۔ دوسرے اللہ رب العزت کو پیارے ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کریں کہ وہ تحریک کے لئے بہت مخلص تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ آج آپ کے جلوس کے ساتھ ایک کی بجائے دو مجسٹریٹوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ میں حیران ہوا کہ ہمارا تو روز کا معمول ہے اور حکومت کا بھی کہ ایک مجسٹریٹ ہوتا ہے۔ آخر یہ دو مجسٹریٹوں کی کیوں ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ دوسرا یہ کہ ہمارا جلوس تو دن کو ہوتا ہے اس وقت تمام رضا کار سوئے ہوتے ہیں رات کو جلوس اور مجسٹریٹوں کی ڈیوٹی یہ کیا ماجرا ہے۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ جلوس کون نکالے گا، کہاں سے آئے گا۔ میں نے اپنے معتمد خاص سے کہا کہ آج رات مسجد کے تمام دروازے اچھی طرح بند کرکے تالے لگا دیں ۔ اور نصیحت کر دی کہ رات کو کوئی رضا کار ہرگز باہر نہ جائے۔ میں یہ ہدایت دے کر باہر آگیا حسب معمول اقبال فیروز کے گھر گیا کھانا سامنے رکھا گیا ۔ کہ جلوس کے نعروں کی آواز سنائی دی۔
نہیں متوجہ ہوا ۔ ہجوم مرزائیت مردہ باد اور ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتا ہوا مسجد کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ مسجد کے قریب آکر جلوس نے مسجد کے دروازوں کو بند پایا ۔ ارد گرد کا چکر لگایا جب چکر لگا کر چترال ہاؤس کے قریب آیا تو یکدم فائر کی آواز سنائی دی ۔ میں حیران تھا کہ یہ لوگ کون ہیں ۔ کہاں سے آئے ہیں ۔ گولی کس نے چلائی ؟ گولی کس کو لگی ہے ؟ کون زخمی ہوا ؟ کون مرا ؟ کہیں اس میں میرے رضا کار تو شریک نہیں ۔ میں واپس مسجد آیا رضا کاروں کے بارے میں دریافت کیا معلوم ہوا کہ ہمارا کوئی رضا کار اسمیں شریک نہ تھا ۔ مگر باہر گولی لگنے سے چار ، پانچ آدمی جاں بحق اور بہت سارے زخمی ہوئے ہم لوگ پوچھتے کچھ پتہ نہ چلتا ۔ کافی عرصہ گزر گیا ہمیں گرفتار ہوا قید ہوئی ۔ قید کاٹ کر رہا ہو کر بھی آگیا ۔ مگر یہ راز نہ کھلا ۔
یہ انکشاف اس وقت ہوا ، کہ وہ کون تھے ؟ جنہوں نے اس رات جلوس نکالا تھا ۔ اور پولیس نے ان کو گولیوں سے بھون کر رکھ دیا تھا ۔ ہوا یوں کہ شہر کے ایک شخص کو قتل کے مقدمہ میں سیشن کورٹ سے سزائے موت ہوئی ۔ ہائیکورٹ و سپریم کورٹ سے بھی مقدمہ خارج ہوا ۔ صدر نے رحم کی اپیل مسترد کر دی ۔ سزائے موت پر عملدرآمد کا وقت قریب آیا تو سپرنٹنڈنٹ جیل نے آخری خواہش پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ میں ایک راز سے پردہ اٹھانا چاہتا ہوں ، کہ میں اس مقدمہ قتل میں بے قصور ہوں مگر یہ سزائے موت جو مجھے دی جا رہی ہے یہ فلاں رات تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں جلوس نکال کر چار ، پانچ نوجوانوں کو موت کی آغوش میں دھکیلنے کی پاداش میں پا رہا ہوں اس نے انکشاف کیا کہ پولیس کی سازش سے یہ جلوس نکالا گیا ۔ پولیس کی پلانگ یہ تھی کہ میں (سزائے موت
پانے والا) محلہ کے چند بچوں اور نوجوانوں کو اکٹھا کر کے جلوس نکالوں۔ نعرے لگاتے ہوئے مسجد میں آئیں۔ وہاں طے شدہ پروگرام کے مطابق جلوس کے گرد چکر لگائے نعرے بازی کرے اسی اثنا میں مجلس کے رضا کار جلوس میں شامل ہو جائیں گے پولیس ان میں سے چند کو گولیوں کی بوچھاڑ سے ٹھنڈا کر دے گی۔ باقی رضا کار خوف زدہ ہو کر دب جائیں گے اور یوں تحریک کو ٹھنڈا کر دیا جائے گا۔ میں ان بچوں کو ڈگلس پورہ اور اس کے ارد گرد سے مٹھائی کا لالچ دے کر لایا تھا۔ اور جلوس کی شکل میں وہاں لا کر پولیس کے لئے تر نوالہ مہیا کیا، ان کا یہ قتل میرے ذمہ ہے میں اس قتل کی سزا پارہا ہوں ۔
یہ تھی دوسری بار گولی چلنے کی داستان۔ اس سے قبل بھی لائل پور میں گولی چلی تھی۔ میرے ایک سو کے قریب رضا کار لائلپور سے کراچی جا رہے تھے جیسے ہی ٹرین روانہ ہوئی فوراً ہی اسٹیشن کی حدود سے نکلنے سے پہلے ہی روک لی گئی ۔ اور رضا کاروں کو منتشر ہونے کا حکم دیا گیا۔ رضا کار ڈٹ گئے ۔ ان کے پاس ڈنڈے تھے اور پولیس کے پاس گولی تھی ۔ پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کی بیسیوں رضا کار شہید ہو گئے۔ کئی لاشیں پولیس نے موقعہ سے اٹھا کر غائب کر دیں ۔ ہمارے ہاتھ پانچ لاشیں آئیں ۔جب اس اندوہناک واقعہ کی اطلاع ملی، میری کمر ٹوٹ گئی۔ میرے سامنے کربلا کی فلم چلنے لگی ۔ غم سے نڈھال ہو گیا۔ وحشت عود آئی ۔ دل آنسو بہا رہا تھا۔ دماغ پھٹنے کو ہو گیا۔ ضمیر بے رحم حکمرانوں کو کوس رہا تھا۔ آنکھیں پتھرا گئیں۔ اقبال کا یہ مصرعہ ڈھارس بندھا رہا تھا ۔
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
لاشیں اسٹیشن سے مسجد میں لائی گئیں۔ چار کی شناخت ہو گئی ان کے لواحقین
کو اطلاع کردی گئی ، وہ آ گئے۔ ایک نوجوان لڑکے کی لاش ہم سے شناخت نہ ہوسکی اور نہ ہی اس کے لواحقین کا پتہ چلا ۔ شام ۶ بجے کے قریب میرے پاس ایک آدمی آیا اس نے بتایا کہ یہ لاش سمندری روڈ کی ہے آپ ہمیں لاش لیجانے کی اجازت دیدیں میں نے اس سے پوچھا کہ بھائی تمہارا کیا رشتہ ہے ۔ اس کے والدین کیوں نہیں آئے اُس نے کہا کہ جی انہوں نے مجھے بھیجا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ہمارے پاس قوم کی امانتیں ہیں، میں ان کو کسی اور کے حوالے نہیں کر سکتا ۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور چلا گیا۔
اس سے پہلے مجھے کسی شخص نے بتایا کہ یہ لاش پر اسرار ہے اب میرے خدشات بڑھنے لگے کہ آخر ان کے والدین خود کیوں نہیں آئے ضرور کوئی بات ہے ہم نے سب لاشوں کو غسل دیا ۔ کفن کا انتظام کر کے شہر میں اعلان کرا دیا کہ صبح ۹۱/۲ بجے دھوبی گھاٹ اقبال پارک میں نماز جنازہ پڑھائی جائے گی ۔ جنازہ کی چارپائیوں کے ساتھ بڑے بڑے بانس باندھ کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آخری کندھا دینے کی سعادت حاصل کرنے کا انتظام کیا گیا ۔ جنازے اٹھا کر جلوس کی شکل میں دھوبی گھاٹ لائے گئے ۔ جنازے بالکل تیار تھے صفیں درست کی جارہی تھیں کہ وہی آدمی پھر آیا اور کہنے لگا کہ اس کے والدین آئے ہیں ذرا منہ دکھا دو ۔ دو عورتیں اور ایک مرد تھا۔ آخری زیارت کے لئے میں نے اس کے منہ سے کفن ہٹا دیا ۔ مرد اس کا باپ تھا وہ لاش کے قدموں کی طرف کھڑا تھا ۔ ایک عورت جو ماں تھی اس نے لڑکے کا منہ چوما اور روتی روتی بیہوش ہوگئی دوسری عورت اس کی بیوی تھی ۔ چند ماہ پہلے شادی ہوئی تھی وہ اس کے قدموں کی طرف گئی جھک کر اس کے پاؤں چومے اور پھر بیہوش ہو گئی ۔ ہوش آنے پر دو تین منٹ کے بعد ان کو ہٹا دیا گیا ۔ وہ چلے گئے جنازہ پڑھا گیا ۔ جنازہ پڑھنے کے لئے سارا شہر امڈ
آیا تھا۔ اردگرد کے دیہاتوں کے لوگ بھی بہت بڑی تعداد میں جنازہ میں شریک ہوئے۔ اتنا بڑا ہجوم لائل پور کی تاریخ میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا یہاں بڑے بڑے لیڈر آئے ان کے جلوس میں نے بچشم خود دیکھے مگر اتنا رش اس سے پہلے اور اس کے بعد آج تک نہیں دیکھا۔ گراؤنڈ پوری بھر چکی تھی، باہر کی تمام سڑکیں بھر چکی تھیں۔ گورنمنٹ کالج کی طرف جھنگ روڈ تک صفیں تھیں ۔ ادھر بھوانہ بازار سامنے نالہ کی چھت پر اور اس کے پیچھے گلیوں تک اجتماع تھا ۔ بھلا اندازہ کیجئے کہ جن شہیدوں کو رخصت کرنے والے اتنے لوگ ہوں گے ان کی آگے خدا تعالیٰ کے دربار میں کیسی پذیرائی ہوئی ہوگی جب میں جیل کاٹ کر سوا سال بعد رہا ہو کر آیا تو اکثر شام کو بٹ گڈز والے قاضی جلال الدین کے ہاں بیٹھتا تھا ۔ ان کے ہاں ایک دن شام کو ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی تحریک میں جاں بحق ہونے والا ایک لڑکا قادیانی تھا میں نے کہا کہ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ اس نے بتایا کہ ایک دفعہ میں ملتان کسی فیکٹری میں مالکوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کی تحریک کی باتیں شروع ہو گئیں ۔ شہیدوں کا ذکر آیا تو ایک بوڑھا جو پاس کھڑا تھا وہ دھڑام سے گرا اور بیہوش ہوگیا تھوڑی دیر کے بعد ہوش آیا تو مالکوں کے اصرار پر اس نے بتایا کہ اس تحریک میں اس کا بیٹا بھی مارا گیا تھا، بس وہ لڑکوں کے ساتھ چلا گیا تھا۔ بعد میں اس کے والدین کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ قادیانی ہیں ۔ اندر کے حالات اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ وہ لڑکا قادیانی تھا یا نہیں بہرحال میں نے آج تک اسکو قادیانی نہ لکھا نہ کہا (ممکن ہے کہ قادیانی ہو اور تحریک کو تشدد کے راستہ پر ڈال کر سبوتاژ کرنا اس کا مشن ہو ۔ اور یہ کہ قادیانی خاندان کے باوجود وہ خود مسلمان ہو اور جذبہ
عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر جلوس میں شریک ہوا ہو تاہم اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں) عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ یہ لڑکا گاڑی کے انجن پر کھڑا تھا اس نے گریبان کھول کر اور سینہ تان کر پولیس والے سے گرجدار آواز میں مخاطب ہو کر کہا تھا کہ یہاں گولی مارو ، پولیس والے ظالم نے وہیں داغ دی بس وہ ایک ہی جست میں نیچے گرا اور روح پرواز کر گئی ۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتا ممکن ہے کہ قادیانی نہ ہو اس نے جذبہ ایمانی سے سرشار ہو کر اسلام کی سربلندی کے لئے گولی کھائی ہو یہ سربستہ راز جاننے والی قوت اللہ تعالیٰ رکھتے ہیں اس کا عقدہ روز محشر کھلے گا ۔
میری گرفتاری
میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لائل پور کا صدر تھا حضرت مولانا مفتی محمد یونس ، مولانا حکیم حافظ عبدالمجید نابینا ، صاحبزادہ ظہور الحق ، مولانا محمد صدیق ، صاحبزادہ سید افتخار الحسن ، مولانا محمد یعقوب نورانی ، مولانا عبدالرحیم اشرف اور دیگر حضرات مجلس عمل کی عاملہ کے رکن تھے ۔ مجلس عاملہ کے پہلے ہی اجلاس میں فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ باقی سب حضرات رضا کاروں کے دستوں کی قیادت کرتے ہوئے خود کو گرفتاری کے لئے پیش کریں گے ۔ لیکن میں (مولانا تاج محمود) تحریک کو جاری اور منظم رکھنے کے لئے گرفتاری نہ دوں ۔ مجلس عمل کا دفتر جامعہ مسجد کی بالائی منزل پر تھا ۔ کم و بیش پانچ ہزار رضا کار گرفتاری دینے کے لئے اپنی باری کی انتظار میں مسجد میں جمع رہتے تھے ، صبح و شام دو سو رضا کار یومیہ گرفتاری دے رہے تھے جامع مسجد میں جلسہ ہوتا تھا ۔ ہر طرف ختم نبوت کی بہاریں ہی بہاریں تھیں ۔ یہ سلسلہ پندرہ بیس دن جاری رہا ، پندرہویں یا سولہویں
دن یہاں کے ڈپٹی کمشنر سبط حسن کے حکم سے مسجد کی بجلی و پانی منقطع کر دیا گیا ۔ دوسرے روز جامع مسجد میں جلسہ ہوا ۔ میں نے پانی و بجلی کے منقطع کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ " سبط حسن تم سید ہو ، اور اس فرقے سے تعلق رکھتے ہو جو ۱۳۵۰ سال سے کربلا میں پانی کی بندش اور حضرت حسینؓ کی شہادت کا ہائے حسینؓ ہائے حسینؓ کہتے ہوئے ماتم کرتا ہے کم از کم تیرے لئے یہ مناسب نہ تھا اگر تیری ماں کو مسجد کے پانی و بجلی کے منقطع کرنے کے تیرے اس کارنامے کا علم ہوتا تو وہ تیرا نام سبط حسن کی بجائے ابن یزید رکھتی "
اس تقریر کی رپورٹ پہنچنے پر میجر سبط حسن ڈی سی لائلپور میرا ذاتی و جانی دشمن ہو گیا اور اس نے حکم دے دیا کہ مجھے بہر طور گرفتار کر لیا جائے ۔ پہلے نرمی اور حکمت عملی سے پھانسنا چاہا ۔ رانا صاحب ایس پی جو تحریک سے پہلے میرے جاننے والے تھے ۔ انہوں نے مجھے اپنے دفتر بلوایا کہ آپ سے ایک ضروری امر پر مشورہ کرنا ہے ۔ میں صورت حال کو بھانپ گیا اور میں نے تعلقات کے باوجود ان کے دفتر میں جانے کو پسند نہ کیا ۔ پھر میاں مظفر اے ۔ ڈی ۔ ایم جو میرے اور مولانا عبید اللہ احرار کے مشترکہ دوست تھے وہ تشریف لائے اور مجھے کچہری بازار کے ایک ہوٹل میں بلوایا کہ مجھے آپ سے ضروری باتیں کرنی ہیں میں ان کے دھوکہ میں بھی نہ آیا اور ملنے سے انکار کر دیا اسی وقت اطلاع ملی کہ اے ۔ ایس ۔ پی نے ہمارے گرفتار شدہ رضا کاروں کو جیل کے دروازے پر ڈنڈوں اور بیدوں سے پٹوایا ہے ۔ ہم نے اگلے روز پھر جلسہ کیا اور ڈی سی ، ایس پی سے مطالبہ کیا کہ اے ۔ ایس ۔ پی کو یہاں سے چلتا کیا جائے ، ڈیوٹی سے ہٹایا جائے ۔ اور اگر ایسا نہ کیا گیا اور یہ قتل ہو گیا تو ہماری ذمہ داری نہ ہو گی ۔ اسی رات کو ہی پولیس نے چنیوٹ بازار میں گولی چلا کر کئی مسلمانوں کو خاک و خون میں تڑپا دیا تھا ۔
جب میں ان کے چکر میں نہ آیا تو انہوں نے مجھے گرفتار کرنے کے لئے مسجد میں بوٹوں سمیت پولیس کو داخل ہونے کا حکم دینے کا فیصلہ کیا ۔ ۱۷ ، ۱۸ ، ۱۹ مارچ پورے تین روز بغیر کسی وقفہ کے شہر میں کرفیو نافذ رہا ۔ پورے شہر کی ناکہ بندی کر دی گئی ۔ کرفیو کے دوران مجھے ہر قیمت پر گرفتار کرنے کا فیصلہ ہوا ۔ چنانچہ میں ۲۰ مارچ کو رات ایک بجے چک نمبر ۶۷ نزد گلبرگ سے گرفتار ہوا ۔ راجہ نادر خان میری گرفتاری کے وقت پولیس کے ہمراہ شامل تھے ۔
مقدمہ کی روئیداد
۲۰ مارچ ۵۳ء کو گرفتاری عمل میں آئی ۔ جون ۱۹۵۴ء میں تقریباً سوا سال بعد رہا ہوا ۔ گرفتار کرنے کے بعد پہلی رات مجھے لائلپور کی حوالات میں رکھا گیا ۔ دوسری رات ۳ بجے صبح لائلپور سے لاہور شاہی قلعہ میں منتقل کیا گیا ۔ یہاں پر تفتیش شروع کی گئی ۔ تفتیش کا مقصد یہ تھا کہ حکومت جاننا چاہتی تھی کہ اس تحریک کے مقاصد کیا ہیں ۔ اس تحریک میں کسی بیرونی ملک یا طاقت کا ہاتھ ہے ۔ یہ تحریک ملک کے خلاف قومی سازش ہے ۔ یا وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ قادیانیوں کی وہ کونسی چیزیں ہیں جنکا اتنا شدید رد عمل ہوا ۔ ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کیا ۔ تمام جیل خانے بھر گئے ۔ بڑی بڑی جیلوں میں کیمپ لگانے پڑے مختلف لوگوں کو مختلف المیعاد سزائیں دی گئیں ۔ سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند رکھا گیا ۔ ہزاروں مسلمان شہید ہوئے ۔ آخر ایسا کیوں ہوا ؟
مجھے پہلی دفعہ قلعہ جانے کا اتفاق ہوا ۔ میں ان کی تفتیش کی تکنیک سے ناواقف تھا ۔ میرا خیال تھا کہ وہ ہمیں تاریک تہہ خانوں میں رکھیں گے ۔ ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑیں گے ۔ جب بھی قلعہ کا ذکر آتا ہے اس وقت ظلم و تشدد کی داستانیں ذہن میں ابھرتی ہیں ۔ اس کے برعکس صاف ستھری بارکوں میں رکھا گیا ۔ سلاخدار دروازے
تھے ۔ پانی بجلی موسم کے مطابق، کمبل وغیرہ ہر چیز مہیا تھی ۔ ایک ماہ میں میری معلومات کے مطابق تحریک کے کارکنوں پر تشدد تو درکنار انگلی تک نہ اٹھائی گئی ۔ بلکہ ذہنی کرب اور فکری کوفت و پریشانی میں ان کو اس طرح مبتلا کیا گیا کہ اس ذہنی تکلیف کے سامنے بیسیوں قسم کے تشدد کوئی حقیقت نہیں رکھتے ۔
مثلاً مجھے پہلے دن بارک نمبر ۱۰ میں فردوس شاہ ڈی ایس پی کے قاتل اشرف کاکا کے ساتھ رکھا گیا ۔ اشرف کاکا کے متعلق مشہور تھا کہ اس نے فردوس شاہ ڈی ایس پی کو قتل کیا ہے ۔ پولیس نے اسے گرفتار کیا اس سے فردوس شاہ کے ریوالور کی برآمدگی ڈالی گئی ۔ چونکہ یہ نوجوان کئی دنوں سے قلعہ کی اس کوٹھڑی میں تنہا بند تھا ۔ دماغی لحاظ سے ماؤف سا دکھائی دیتا تھا ۔ مجھے یہ بتایا گیا کہ یہ قتل کا مجرم ہے اور لائلپور میں جو لوگ پولیس کی گولی سے جاں بحق ہوئے ان کے قتل کے جرم کی پاداش میں آپ پر بھی ۳۰۲ کا مقدمہ چلایا جائیگا ۔ ظاہر ہے کہ جو شخص نوگرفتار قفس ہو اسے ذہنی طور پر اذیت پہنچانے کے لئے یہ بات کافی تھی ۔
- ۱۔ اب میری تفتیش شروع ہوئی ۔ مجھ پر الزام لگایا کہ کسی بیرونی ملک
کا روپیہ تحریک کے لئے آ رہا ہے اور وہ آپ کو بھی ملتا رہا ہے ۔
- ۲۔ آپ کی تحریک کے لیڈر دولتانہ صاحب سے ملے ہوئے ہیں، دولتانہ صاحب کا کوئی
آدمی آپ کو لائلپور ہدایت دیتا رہا۔
- ۳۔ افغانستان کے کوئی مشکوک لوگ آکر آپ سے ملے تھے ان سے آپ
کی کیا گفتگو ہوئی ۔ انہوں نے آپ کو کیا دیا تھا ؟
- ۴۔ آپ مسجد کی بالائی منزل پر جن کمروں میں رہتے تھے وہاں کافی اسلحہ بھی پہنچا
ہوا تھا ۔ یہ اسلحہ آپ کو کس نے پہنچایا تھا ؟
- ۵ ۔ گوجرانوالہ کے پہلوان رضا کاروں کا ایک جتھہ آپ سے اس مسجد میں
ملا تھا۔ یہ جتھہ ربوہ میں مرزائیوں کے سربراہ کو قتل کرنا چاہتا تھا آپ نے ان کو کیا ہدایات دیں ؟
- ۶ ۔ جو لوگ پولیس کی گولیوں سے مارے گئے وہ آپ کی ہدایت پر
پولیس کے مقابلے میں نکلے تھے ۔
- ۷ ۔ آپ نے ٹرینیں رکوائی تھیں ، لائن اکھڑوائی تھی ۔ اور بعض جانداروں
کو نذر آتش کرایا تھا ۔
- ۸ ۔ اسکی کیا وجہ تھی کہ مرکزی مجلس عمل نے رضا کاروں کے دستے لاہور
بھیجنے کی آپ کو ہدایت کی تھی ۔ لیکن آپ نے لائلپور کے سربراہ کی حیثیت سے ان کا رخ کراچی کی طرف کیوں موڑ دیا تھا ۔
غرضیکہ اس طرح کے بے سروپا جھوٹ وافترا پر مبنی الزامات کی ایک طویل فہرست مجھے پڑھ کر سنادی گئی ۔ جن کو سن کر میرا ابتدائی تاثر یہ تھا کہ ہم جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے جانوں پر کھیل رہے ہیں اور یہ ہم پر کس طرح کے جھوٹے الزامات عائد کر رہے ہیں ۔ صبح کے وقت یہ کارروائی ہوئی ۔ انسپکٹر پولیس جو میری تفتیش پر مامور تھا جس کا نام دماغ سے نکل گیا ہے اس نے یہ الزامات عائد کر کے مجھے کہا کہ آپ ان سوالات کے جواب تیار رکھیں شام پانچ بجے ملاقات ہوگی ۔
یہ کہہ کر وہ چلا گیا پورے آٹھ روز تک نہ آیا میں مسلسل ان الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد ثابت کرنے اور اصل صورتحال بتلانے کی تیاری کرتا ۔ لیکن رات کو نیند تک نہ آتی ۔ غنودگی کبھی طاری ہو جاتی ۔ یاد الٰہی کی جو کیفیت
اور تجلیات و برکات قلعہ کے ایام اسیری میں محسوس کی پھر وہ عمر بھر نصیب نہ ہوسکی ۔ جب آٹھویں دن صبح کو اٹھا تو میرا دل و دماغ نئی سلیٹ کی طرح صاف تھا میں نے فیصلہ کیا کہ میں کچھ نہ سوچوں گا ۔ موقعہ پر جو سوالات کریں گے صحیح صحیح جوابات دے دوں گا ۔
ابھی یہ فیصلہ ہی کیا تھا کہ انسپکٹر صاحب آ دھمکے اور معذرت کرنے لگے کہ میں کسی ضروری کام سے باہر چلا گیا تھا ۔ میں نے دل میں سوچا کہ میں تمہارے ہتھکنڈوں سے ناواقف تھا ۔ اس لیے ذہنی کوفت میں رہا ۔ تشریف لائیے ، پوچھیے میں بتائے دیتا ہوں ۔ مجھے حوالات سے نکال کر بارک میں لے گئے ۔ ہتھکڑی بھی نہیں لگائی پھل کے خالی کریٹ کو اوندھا کر کے مجھے اس پر بٹھا دیا گیا ۔ ان سوالوں کا جواب صحیح صحیح دینا ہے ۔ کوئی غلط جواب نہ دیں اور یہ یاد رکھیں کہ یہ شاہی قلعہ ہے ۔ یہاں سے آپ کی چیخ و پکار بھی باہر نہیں جاسکتی اور نہ ہی آپ کی مدد کو کوئی بلند و بالا دیواریں پھلانگ کر اندر آ سکتا ہے ۔ یہ اس کے تہدیدی کلمات تھے ۔
اب سوالات شروع ہوئے ، میں مختصر جواب دیتا رہا ۔ جب مالیات کے متعلق سوال کیا کہ کس کس شخص نے کیا کیا مدد کی ۔ کل کتنا روپیہ تھا ۔ کتنا کہاں صرف ہوا ، باقی کہاں ہے ۔ مجھے لائلپور میں معلوم ہو گیا تھا کہ جن مخیر حضرات کی تحریک میں مالی معاونت کا حکومت کو علم ہو جاتا ہے اس کی شامت آجاتی ہے اس لئے میں نے جان خطرے میں ڈال کر کہا کہ یہ شعبہ میرے پاس نہیں ہے ۔ میری رہائش شہر سے میل ڈیڑھ میل باہر ہے میں شہر کے لوگوں کو زیادہ جانتا بھی نہیں اس نقطے پر مجھے بڑی کوفت ہوئی بڑی اذیت کا سامنا کرنا پڑا مگر میں نے ثابت قدمی کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا ۔ غرضیکہ پوری ہسٹری شیٹ تیار کی صبح کے چھ بجے سے رات کے گیارہ بجے تک مختلف وقفوں سے یہ عمل جاری رہا ۔
گیارہ بجے رات تھک چور ہو کر حوالات میں آ کر نماز پڑھی، نیند نے آدبوچا۔ صبح فجر کی نماز سے فارغ ہوا ہی تھا کہ انسپکٹر صاحب آدھمکے اور بڑی معصومیت اور مصنوعی طور پر مایوسی کا اظہار کرتے اور چہرہ بناتے ہوئے کہا کہ میری اور آپ کی کل کی ساری محنت ضائع ہوگئی۔ وہ دستاویزات میرے سائیکل کے کیرئر پر سے گھر جاتے ہوئے راستہ میں گرگئیں آئیے اور کل والا بیان پھر لکھوائیے تاکہ میں اوپر افسران کو بھیج سکوں۔ میں پھر کل والی بارک میں پہنچایا گیا۔ وہیں دوبارہ پھر سارا بیان لکھوایا۔ بعض مقامات ایسے تھے جہاں میں نے معلومات بہم پہنچاتے ہوئے احتیاط سے کام لیا تھا۔ آج بعض اور مقامات پر احتیاط کی گئی۔ کل والی احتیاط کا خیال دماغ میں نہ رہا۔ رات گیارہ بجے پھر فراغت ہوئی اور مجھے میری حوالات میں پہنچا دیا گیا۔ ضروریات و فرائض سے فارغ ہوا گہری نیند کل کی طرح سو گیا۔ تیسرے روز ابھی نماز صبح سے فارغ ہوا ہی تھا کہ پھر انسپکٹر صاحب آدھمکے اور کہا کہ ستم ہوگیا وہ آپ کا پرسوں کا بیان میرے میز کی دراز میں رہ گیا تھا ۔ وہ بھی مل گیا لیکن اب جو میں نے آپ کے دونوں بیانات کو پڑھا ہے تو ان میں تضاد و اختلافات ہے چنانچہ ان تضادات کو رفع کریں ۔ مثلاً میں نے پہلے بیان میں کہا کہ میں نے شاہ جی سے متاثر ہو کر ۳۲ء میں احرار میں شمولیت اختیار کی ۔ دوسرے بیان میں، میں نے ۴۷ ، ۴۸ء بتایا اب اس نے کہا کہ ان میں سے کونسی بات صحیح ہے۔ میں نے کہا کہ رسمی طور پر تو ۳۲ء سے شامل تھا با ضابطہ طور پر ۴۷ ، ۴۸ میں شامل ہوا۔ غرضیکہ مسلسل اس قسم کی پورا دن کھینچا تانی جاری رہی۔
چوتھے روز اصغر خان ڈی ۔ آئی جی قلعہ نے وہ زبان استعمال کی ، دلخراش خرافات کا ریکارڈ توڑ دیا ۔ مسلسل ہتھکڑی لگا کر صبح ۶ بجے سے رات ۱۱ بجے تک کھڑا کیا گیا کمر کا درد ہمیشہ کا ساتھی بن گیا۔
قلعے کے دن بڑے سخت تھے۔ اشرف کاکا کو وعدہ معاف گواہ بنا کر مولانا عبدالستار خان نیازی کو فردوس شاہ کے قتل میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر وہ انکاری رہا۔ اشرف کاکا بڑا بہادر انسان تھا۔ تین سال جیل کاٹ کر ملتان سے رہا ہو کر میرے پاس آیا بعد میں پھر ملاقات نہ ہو سکی نہ معلوم کہ اب وہ زندہ ہے یا انتقال کر گیا۔ جس حالت میں ہے اللہ تعالیٰ اسے سلامت رکھے !
شاہی قلعہ کے بعد دس دن بستی کی حوالات میں گزارے یہ دن میرے لئے پہلے سے زیادہ اذیت ناک اور تکلیف دہ تھے۔ کیونکہ حوالات سماج دشمن عناصر سے بھری پڑی تھی۔ پھر چند دن کے لئے لاہور سنٹرل جیل میں بھیج دیا گیا یہاں سے بالآخر کیمبل پور (اٹک) جیل بھیج دیا گیا۔ بقیہ ایام اسیری یہاں گزارے قلعہ اور اٹک جیل میں مزید سیاسی رہنماؤں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی مولانا عبدالستار خاں نیازی، مولانا عبدالواحد گوجرانوالہ چوہدری ثناء اللہ بھٹہ حکیم حافظ عبدالمجید نابینا آغا شورش کاشمیری کا ساتھ رہا۔
میرے پیچھے میرے گھرانے پر جو صعوبتیں آئیں وہ بڑی دلخراش کہانی ہے بقول غالب ؎
جس کی بہار یہ ہو اسکی خزاں نہ پوچھ
گھر کا سارا سامان حکومت ضبط کر کے لے گئی۔ چند چیزیں مال خانہ میں جمع کرا کر باقی سامان پولیس نے مال غنیمت سمجھ کر آپس میں تقسیم کر لیا ریلوے والوں نے تنخواہ بند کر دی۔ شہر والے سمجھتے رہے کہ مولانا ریلوے کے بادشاہ ہیں۔ اور ریلوے والے سمجھتے رہے کہ مولانا شہر کے بادشاہ ہیں۔ بچوں کو خاصی پریشانی رہی۔ بہر حال جیسے کیسے وقت گزر گیا۔
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
رہائی کے بعد ریلوے والے گزشتہ ایام کی پوری تنخواہ لائے میں نے یہ کہہ کر واپس کر دی کہ میری عدم موجودگی میں میرے بچوں کو رقم کی زیادہ ضرورت تھی اس وقت تو آپ نے دی نہ اب تو میں آگیا ہوں۔ میری عدم موجودگی میں جس ذات باری تعالیٰ نے انتظام کیا وہ اب میری موجودگی میں بھی اس کا اہتمام کرے گی ۔ وہ دن جائے آج کا دن آئے پھر کبھی ریلوے والوں سے مسجد کی خطابت کی تنخواہ نہ لی ۔
— 〇 —
تحریک ختم نبوت کے بارے میں حکومت کا رویہ
حکومت انفرادی ملاقاتوں میں تسلیم کرتی تھی کہ ہمارا موقف درست ہے ۔ لیکن پبلک کے سامنے انکار کرتی تھی ۔ اصل میں بدقسمتی یہ تھی کہ مرکز میں خواجہ ناظم الدین برسر اقتدار تھے ۔ قادیانیت کا مرکز پنجاب میں تھا ۔ جہاں دولتانہ برسر اقتدار تھے ۔ ملک کا دستور زیر ترتیب تھا ۔ دستور میں یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ صوبہ سرحد ۔ پنجاب ۔ سندھ بلوچستان اور مشرقی بنگال اس لحاظ سے بنگال کا حصہ پانچویں بھائی کا بنتا تھا ۔ اور مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان کی آبادی کچھ زیادہ تھی اس لئے دوسرا موقف یہ تھا کہ ملک کے سیاسی و معاشی آدھے حقوق مغربی پاکستان کے ہیں اور آدھے مشرقی پاکستان کے یہ تمام بحثیں بنگالی و پنجابی رہنماؤں کے درمیان تلخیاں پیدا کر رہی تھیں خواجہ ناظم الدین
کو بنگال کا نمائندہ سمجھا جارہا تھا۔ اور دولتانہ کو پنجابیوں کا لیڈر گردانا جارہا تھا۔ یہ بحثیں ابھی جاری تھیں کہ تحریک ختم نبوت ملک میں زور پکڑ گئی۔ مرزا بشیر الدین ان دنوں سخت اشتعال انگیز بیان دے رہا تھا۔ اس کا یہ اعلان بھی شامل تھا کہ ۵۲ء گزرنے سے پہلے ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں کہ دشمن ہمارے پاؤں پر گرنے پر مجبور ہو جائے۔ اور پھر یہ بیان کہ وہ وقت آنے والا ہے جب اقتدار ہمارے پاس ہو گا اور ہم دشمنوں کے ساتھ چوڑھے چماروں کا سا سلوک کریں گے مرزا محمود کے ان بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اور ملک میں تحریک بھڑک اٹھی جب گرفتاریاں شروع ہوئیں تو مرکزی حکومت کے رہنماؤں خصوصاً بنگالی قائدین نے اس تحریک کو دولتانہ کی تحریک کا نام دیا۔ کہ وہ خواجہ ناظم الدین اور مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے علماء کو اکسا کر کراچی بھیج رہے ہیں۔ اور پورے ملک کے امن کو تہہ و بالا کیا ہوا ہے، حالانکہ خود دولتانہ تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں کا مقابلہ میں تحریک کی مخالفت کے لئے جگہ جگہ دورے کر رہے تھے۔ کئی جگہ ان کے جلسے بدامنی کا شکار ہو گئے۔ کئی جلسوں میں ان پر سوالات کی ایسی بوچھاڑ ہوئی کہ ان کے لئے جان چھڑانا مشکل ہو گیا وہ خود مشکل میں پھنسے ہوئے تھے۔ پنجاب مسلم لیگ تحریک کی دشمن تھی۔ اس لئے کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ تحریک کے معمولی رہنماؤں کے جلسے میں لاکھوں افراد پہنچ جاتے تھے اور اس کے برعکس لیگ یا دولتانہ کا جلسہ ہوتا تو چند گنے چنے مسلم لیگی ڈیوٹی والے پولیس کے ٹاؤٹ اور سادہ کپڑوں میں پولیس کے لوگ ہوتے۔ اس کیفیت سے مسلم لیگ خائف تھی۔ کہ اگر تحریک کو کچلا نہ گیا تو آنیوالے الیکشن میں مسلم لیگ مجلس احرار کے ہاتھوں بری طرح شکست کھا جائے گی ۔ لیکن دوسری طرف ناظم الدین اور اس کے ساتھی پنجاب کی ساری صورت حال کی ذمہ داری
مسلم لیگ پر ڈالتے رہے اور جو کچھ وہ تحریک کے خلاف کر رہے تھے اُس کو دولتانہ کی مکاری اور عیاری سمجھتے رہے۔ یہ بات کہ ختم نبوت کی تحریک کے لیڈروں نے دولتانہ صاحب کے اشارے پر ناظم الدین کو گرانے کے لئے یہ تحریک شروع کی تھی۔ تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ اور اس پر مزید یہ کہ ناظم الدین اور اسکی مرکزی حکومت کے علاوہ منیر انکوائری کورٹ نے بھی مرکزی حکومت کے موقف کو تسلیم کیا۔ تحریک اور تحریک کے رہنماؤں کو بدنام کرنے اور ان کی کردار کشی کرنے اور انہیں ذلیل کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔ جس کا فائدہ مرزائیوں یعنی فریقین کے دشمنوں کو پہنچا۔ منیر نے اپنی رپورٹ میں علماء کی کردار کشی کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا۔ کہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست پاکستان کے علماء اسلام کی متفقہ تعریف نہیں کر سکے یہ لکھ کر دنیائے عیسائیت کے ہاتھ میں اسلام کے خلاف ایک بڑا دستاویزی ثبوت مہیا کر دیا۔ حالانکہ یہ تحریک علماء اور مسلمانوں کے اپنے نیک جذبات اور اخلاص پر مبنی تھی۔ اور اس کا باعث مرزا بشیر الدین کے اشتعال انگیز بیانات اور مرزائیوں کی جارحانہ ارتدادی سرگرمیاں تھیں۔
مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کی سیاست کا اسمیں دخل نہ تھا۔ نہ بنگالی پنجابی کی حمایت یا مخالفت میں کچھ کیا جا رہا تھا دولتانہ کو جو وفود ملتے رہے اس میں ان کے ان الفاظ کو اس جھوٹ کے پلندے کی بنیاد بنایا گیا۔ دولتانہ کا یہ کہنا تھا کہ آپ کے چار مطالبات ہیں ۔
- ۱۔ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔
- ۲۔ ظفر اللہ خاں مرتد قادیانی کو وزارت خارجہ سے ہٹایا جائے ۔
- ۳۔ مرزائیوں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے ۔
- ۴۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے ۔
جہاں تک پہلے تینوں مطالبات کا تعلق ہے۔ وہ مرکزی اسمبلی سے متعلق ہیں
جس کے ہم بھی ممبر ہیں۔ ان مطالبات کو آپ وہاں پیش کرائیں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم آپ کے مطالبات کی تائید میں ووٹ دیں گے۔
البتہ آپ کا یہ مطالبہ کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ یہ پنجاب حکومت سے متعلق ہے۔ اس پر میری حکومت غور کرنے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے۔ مجلس عمل کے وفود اور دولتانہ کی گفتگو کو سازش کا نام دیا گیا۔ اور اس جھوٹ کی بنیاد پر تمام جھوٹ کی عمارت کھڑی کی گئی۔
چنانچہ اس کے بعد مجلس عمل کا اجلاس کراچی میں ہوا۔ خواجہ ناظم الدین سے وفود کی ملاقات ہوئی اور ان سے صاف کہا گیا کہ ہمارے تین مطالبات کا تعلق آپ کی وزارت، کابینہ اور قومی اسمبلی سے ہے، آپ ہمارے مطالبات تسلیم کریں۔ اور قومی اسمبلی میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کریں۔
لطف کی بات یہ ہے کہ مجلس عمل کے وفود کئی بار خواجہ ناظم الدین سے ملتے رہے۔ اور ملاقاتوں میں خواجہ ناظم الدین نے مطالبات تسلیم نہ کرنے کے دوسرے دلائل دیتے۔ حالانکہ اس کے دل میں شبہ یہ تھا کہ یہ وفود دولتانہ منظم کر کے بھیج رہا ہے۔ آخری مرتبہ جب مجلس عمل کا وفد مشرقی پاکستان کے پیر سرسینہ شریف کی قیادت میں خواجہ ناظم الدین سے ملا۔ بحث مباحثہ کے بعد وفد نے ایک ماہ کا تحریری الٹی میٹم دیا۔ اس پر ناظم الدین نے پیر سرسینہ شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "پیر صاحب یہ مطالبات ماننا میرے بس میں نہیں ہے۔ اگر میں ظفر اللہ خاں مرتد قادیانی کو وزارت سے نکال دوں تو امریکہ پاکستان کو ایک دانہ گندم کا بھی نہیں دے گا۔" پھر اسی گفتگو کو ناظم الدین نے منیر انکوائری کمیشن میں بھی دہرایا۔ یہ جملہ منیر انکوائری کمش
رپورٹ میں موجود ہے ۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ خواجہ ناظم الدین ۔ دولتا نا اور مسلم لیگی لیڈروں کے انجام کو دیکھنے کے بعد بھی کچھ پڑھے لکھے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یہ تحریک خواجہ ناظم الدین کو پریشان کرنے کے لئے دولتانہ کے ایماء پر چلائی گئی تھی۔ ہم اس کی تردید میں اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں ۔ کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین ۔
نیک سیرت
تحریک کے زمانہ میں کوہ مری میں حکومت کا اجلاس تھا ۔ بعض بدبخت مسلم لیگی رہنما وزرار تحریک کے رہنماؤں کو قتل کرنے کے فیصلے کر رہے تھے اور رب العزت کی شان بے نیازی کہ وہاں ایک نیک سیرت کمشنر صاحب ایوب خان بھی تھے جنہوں نے اس تجویز کی نہ صرف مخالفت کی ۔ بلکہ اس کے نقصانات گنوا کر مسلم لیگی وزیروں کو قائل کیا کہ اس اقدام کے بعد آپ بھی نہ بچ سکیں گے ۔ اس روایت کے راوی مولانا قاضی احسان شجاع آبادیؒ تھے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو جنہوں نے تحریک کی کسی بھی درجہ میں حمایت کی جزائے خیر دیں۔ جو مخالف تھے ان کا کیا انجام ہوا یہ بڑی عجیب و غریب داستان ہے ۔
تحریک کے مخالفوں کا انجام
اگرچہ تحریک قہراً کچل دی گئی اور حکمران بظاہر ظفر یاب ہوئے لیکن لاکھوں مسلمانوں کا جیلوں میں جانا۔ ہزاروں مسلمانوں کا خاک و خون میں تڑپ کر شہید ہونا چھوٹے چھوٹے بچوں کا سینوں پر گولیاں کھانا اللہ تعالیٰ کے ہاں ہرگز ضائع نہیں ہو سکتا تھا۔ اور نہ ہی قدرت نے ان لوگوں کو معاف کیا جنہوں نے معصوم و مظلوم مسلمانوں پر ستم ڈھائے تھے سردار عبدالرب نشتر مرحوم نے ایک تقریب میں آغا شورش کاشمیری مرحوم سے فرمایا ۔ شورش جو لوگ خوش ہیں
کہ تحریک ختم نبوت کچل دی گئی، وہ احمق ہیں۔ ہم میں سے جس شخص نے اس مقدس تحریک کی جتنی مخالفت کی تھی اتنی سزا اسے قدرت نے اس دنیا میں دیدی ہے اور ابھی عاقبت باقی ہے۔ تحریک کے سب مخالفین روح کے سرطان میں مبتلا ہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ تحریک ختم نبوت کی مخالفت کرنے والے اس کو کچلنے والے۔ ظلم کرنے اور بیگناہوں کا خون بہانے والوں کو قدرت نے دنیا ہی میں اسکی عبرتناک سزا دی۔
ملک غلام محمد ملک کے اس وقت گورنر جنرل تھے اس وقت اربابِ اقتدار کے اس گروہ کے سرغنہ تھے جو تحریک کا دشمن اور مخالف تھا۔ پھر انہوں نے تحریک کے بعد اپنے رشتہ دار جسٹس منیر کو انکوائری کمیشن کا چیئر مین بنا کر وہاں علماء اور اہل حق کی تذلیل کا سامان کیا۔ اس غلام محمد کو فالج ہوا۔ مفلوج حالت میں نہایت ذلت کی زندگی کا آخری حصہ گزارا۔ اس کی آخری زندگی ایک ذلیل جانور سے بھی بدتر ہو گئی مرنے کے بعد لوگوں نے اسے چوڑھوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ آج کوئی مسلمان اس کی قبر پر نہ سلام کہتا ہے اور نہ دعائے مغفرت۔
سکندر مرزا دوسرے نمبر پر تحریک کا دشمن سکندر مرزا تھا۔ یہ تحریک کے دنوں ڈیفنس سیکرٹری تھا۔ مرزائی سیکرٹریوں سے مل کر تحریک کو تباہ کرنے کے درپے ہوا۔ حتیٰ کہ جب پنجاب حکومت لوگوں کے احتجاج اور قربانیوں سے زچ ہو گئی تو حکومت پنجاب نے ریڈیو پر اعلان کر دیا کہ لوگوں کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ حکومت پنجاب کے دو نمائندے مرکزی حکومت کے پاس مطالبات منوانے کے لئے جارہے ہیں۔ سکندر مرزا نے اس وقت خواجہ ناظم الدین کو مجبور کر کے اور اونی پونی اجازت لیکر لاہور
فوج کے حوالے کر دیا اور کرفیو لگا دیا۔ جنرل اعظم نے ظلم کی انتہا کر دی اور اس سے بھی بڑھ کر میجر ضیاء الدین قادیانی نے تو یہاں تک کیا کہ مرزائی نوجوانوں کو فوجی جیپوں میں سوار اور مسلح کر کے فوجی وردی کے ساتھ شہر میں گشت کے لئے بھیج دیا اور حکم دیا کہ جہاں کہیں مسلمانوں کا اجتماع دیکھیں اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دیں۔ جیسا کہ منیر انکوائری رپورٹ میں پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی شہادت سے معلوم ہوتا ہے سکندر مرزا پر بھی خدا کی گرفت آئی۔ اس کا جوان بیٹا جو ائیر فورس کا آفیسر تھا ۔ جہاز تباہ ہونے سے بھسم ہو گیا کچھ عرصہ بعد ایوب خان کمانڈر انچیف نے سکندر مرزا سے اقتدار چھین لیا اور اسے مال بردار جہاز میں سوار کر کے انتہائی ذلت کیساتھ کوئٹہ اور وہاں سے لندن بھیج کر جلاوطن کر دیا سکندر مرزا کی یا تو یہ ٹھاٹ کہ ڈیفنس سیکرٹری کے بعد گورنر جنرل بنے یا پھر یہ ذلت و بے بسی کہ لندن میں ایک معمولی ہوٹل کے معمولی ملازم کے طور پر بقیہ زندگی برتن دھو کر گزار دی اسی بیکسی میں لندن میں مر گیا۔ اس کی بیوی نے امانتاً لندن میں دفن کیا پھر شہنشاہ ایران سے رابطہ کر کے اسے ایران لا کر دفن کیا۔ کیونکہ سکندر مرزا کی بیوی ناہید ایرانی تھی۔ اس لئے ایران میں دفن کی اجازت مل گئی لیکن شہدائے ختم نبوت کے خون کا رنگ دیکھئے اور قدرت کا انتقام ملاحظہ کیجئے تھوڑے دنوں بعد شہنشاہ ایران کو اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔ وہاں پر جناب خمینی صاحب کی حکومت آگئی اس کے رضا کاروں نے سکندر مرزا کی قبر اکھاڑ کر میت کا تابوت باہر پھینک دیا۔ جسے کتے اور جنگلی جانور کھا گئے ۔ ہڈیاں وغیرہ سمندر میں ڈال دی گئیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار
مسٹر دولتانہ
پنجاب کا وزیر اعلیٰ تھا اس نے بھی تحریک کو کچلنے اور بدنام کرنے میں بہت زیادہ حصہ لیا ۔
قدرت کا انتقام دیکھئے پہلے وزارت گئی۔ پھر مسلم لیگ سے چھٹی۔ گوشہ گمنامی میں چلا گیا۔ حالانکہ پاکستان کی بانی ٹیم کا رکن تھا۔ اسکی ذلت کی انتہا یہ ہے کہ وہ ایک دفعہ ٹرین سے کراچی جا رہا تھا۔ اس ٹرین میں ذوالفقار علی بھٹو بھی سفر کر رہا تھا۔ جب بھٹو صاحب کو علم ہوا کہ اس ٹرین کے کسی ڈبے میں ممتاز احمد خان دولتانہ بھی سوار ہیں تو کسی اسٹیشن پر بھٹو صاحب نے اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹرین کے کسی اگلے ڈبے میں ایک ”چوہا“ بھی سفر کر رہا ہے اور پھر اس سے بڑھ کر دولتانہ کی ذلت دیکھئے کہ دولتانہ نے اپنے اسی حریف ذوالفقار علی بھٹو کا ملازم بن کر انگلستان کی سفارت قبول کر لی اور بھٹو صاحب کی کورنش بجا لانے لگا۔ پھر وزارت کی طرح سفارت بھی گئی۔ اس وقت وہ زمانہ کے ہاتھوں اپنے کئے کی سزا بھگت رہا ہے ۔
خان عبدالقیوم خان
یہ سرحد کا مرد آہن تھا۔ اس نے بھی تحریک ختم نبوت کے مجاہدین پر ظلم و ستم کیا اسکی وزارت بھی قدرت نے چھین لی۔ مسلم لیگی ہو کر مسٹر بھٹو کے ساتھ شریک اقتدار ہوا۔ ایک میٹنگ میں بھٹو صاحب نے ایسا ذلیل کیا کہ دم بخود ہو گیا۔ در بدر کے چکر صبح و شام موقف میں تبدیلی نے اس کی عزت بھی خاک میں ملا دی۔
خواجہ ناظم الدین
طبعاً نیک اور شریف انسان تھے ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن مرزائیت سے اتنے خائف تھے کہ ظفر اللہ خاں مرتد قادیانی کو پورے ملک کے احتجاج کے باوجود وزارت سے نکالنے پر آمادہ نہ ہوئے حالانکہ جہانگیر پارک کراچی کے مرزائیوں
کے جلسہ میں جب ظفر اللہ خان مرتد قادیانی شرکت کے لئے جانے لگا تو خواجہ صاحب نے ان کو منع کیا۔ ظفر اللہ خان مرتد قادیانی نے کہا کہ میں وزارت چھوڑ سکتا ہوں اپنی جماعت (قادیانیوں) کا جلسہ نہیں چھوڑ سکتا۔ اس جلسہ میں بہت بڑا فساد ہوا۔ مرزائیوں کے کئی ہوٹل اور دوسرے تجارتی ادارے مشتعل جلوس نے پھونک دیئے ظفر اللہ خان کی اس شرکت اور حکم نہ ماننا ، وزارت سے علیحدگی کا باعث قرار دیا جاسکتا تھا۔ مگر خواجہ صاحب کی شرافت یا بزدلی مانع ہوئی ۔ چنانچہ خواجہ صاحب بھی ہمیشہ کے لئے اقتدار سے محروم ہوگئے اور ابھی تک قیامت کی جواب دہی اور ذمہ داری ان کے سر ہے ۔
میاں انور علی
ڈی آئی جی ۔ سی آئی ڈی پنجاب تھے ۔ تحریک کے دنوں میں مرکزی حکومت نے ان کو کراچی طلب کیا اور تھپکی دی کہ تمہیں آئی جی بنا دیا جاتا ہے ۔ تم اس تحریک کو کچلنے میں کیا کردار ادا کرسکتے ہو ۔ میاں انور علی نے سکندر مرزا ایسے سازشیوں کے ذریعے خواجہ ناظم الدین کو جواب دیا کہ میں صرف ایک ہفتہ میں تحریک کو کچل سکتا ہوں ، یہ آئی جی بنا دیئے گئے ۔ اس نے اسلامیان لاہور اور پنجاب کے دوسرے اضلاع کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی ایک نئی داستان رقم کی ۔ وقت گزر گیا ۔ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے اس کے ساتھ اپنی گھریلو زندگی میں ایک ایسا بدترین سانحہ پیش آیا جس سے اس کی ساری زندگی کی عزت خاک میں مل گئی ۔ (اسکی ایک ........ جناب ........ کے صاحبزادے کے ساتھ ....... ) اس سانحہ سے اسکی غیرت رسوائی کے گہرے گڑھے میں دفن ہو گئی ۔ وہ سانحہ چونکہ ایوب خان مرحوم کے صاحبزادوں سے متعلق تھا اس لئے اس نے اس سانحہ کی اطلاع ایوب خان کو دی اور کسی خاص غرض سے
دی (کہ اب ان دونوں کو شرعی طریقہ پر منسلک کر دیا جائے) ایوب خان مجرم برہم ہو گئے اور اپنے سامنے سے ”گٹ آؤٹ“ کہہ کر نکال دیا اور ایسے ہتک آمیز الفاظ استعمال کئے جو زیب قلم نہیں۔ (ان گدھیوں کو باندھ کر رکھو کہ گدھوں کے پاس نہ جایا کریں) اور ساتھ ہی اسکی موقوفی کے آرڈر بھی بھیج دیئے ایک ہفتہ میں تحریک کچلنے والا ایک لحظہ میں دنیا و آخرت کی رسوائیاں لیکر واپس آگیا۔ اس طرح خونخوار بھیڑیئے کا حشر ہوا۔
جنرل اعظم
لاہور میں مارشل لاء کا انچارج بنایا گیا اس نے میجر ضیاء الدین قادیانی کو مارشل لاء کا نظم و نسق سپرد کر دیا۔ پیچھے سے سکندر مرزا تار ہلا رہے تھے اور یہ پوچھتے تھے کہ آج کتنی لاشیں اٹھائی گئی ہیں۔ قادیانی میجر نے قادیانی فرقان فورس کے قادیانیوں کو مسلح کر کے لاہور میں مجاہدین ختم نبوت کا قتل عام کرایا۔ آج یہ جنرل اعظم پھرتے ہیں پر خوار کوئی پوچھتا نہیں، کی تصویر بنا بیٹھا ہے جس مرزائیت کے تحفظ کے لیے اس نے مسلمانوں کا قتل عام کرایا وہ مرزائیت اس کے سامنے اور یہ اس کے سامنے اپنی موت کے دن گن رہے ہیں۔ ایک دو مرتبہ سیاست کو منہ مارنے کی کوشش کی ہے لیکن لاہور کے مارشل لاء کی ابدی لعنت سے اس کا سیاہ چہرہ لوگوں کو کبھی پسند نہیں آیا۔
ڈپٹی کمشنر غلام سرور
یہ سیالکوٹ میں تعینات تھا اس نے تحریک کے رضا کاروں پر بے تحاشہ ظلم وستم کیا۔ قدرت کا انتقام دیکھئے کہ یہ پاگل ہو گیا ڈپٹی کمشنر ہاؤس سے لا کر پاگل خانے میں بند کر دیا گیا۔
راجہ نادر خان
میری گرفتاری کے وقت پولیس کے ساتھ یہ صاحب بھی تھے فقیر نے ان کے لئے کبھی بددعا نہیں کی لیکن قدرت کا انتقام دیکھئے کہ کار کے ایک حادثہ میں ٹانگ ٹوٹ گئی۔ پاکستان سے لندن تک ڈاکٹروں نے جواب دیدیا۔ قابل رحم حالت میں انتقال ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی یہ تکلیف کسی اور آزمائش اور سلسلے کی کڑی ہو مگر اس مظلوم (مولانا تاج محمود) کا دل گرفتاری کے وقت ان کی طرف سے آزردہ ضرور ہوا تھا۔
قدرت کی قہاریت کا عجیب واقعہ
مجھے جب لائلپور سے لاہور لیجا کر قلعہ میں بند کیا گیا تو میرے پاس چوہدری بہاول بخش ڈی۔ایس پی تشریف لائے اور مجھے بتایا کہ میرا لڑکا ایم۔سی ہائی سکول میں آپ کا شاگرد رہا ہے۔ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا خدمت ہو سکتی ہے کہ وحشت نگری میں آپ نے میری خیریت دریافت کی ہے۔ اگلے روز پھر وہ تشریف لائے اور کہا مولانا انہوں نے کچھ فارم چھپوائے ہیں آپ ان پر دستخط کر دیں اور گھر جائیں۔ میں سمجھ گیا کہ چوہدری صاحب کا اشارہ معافی نامہ کے فارموں کی طرف ہے۔ میں نے کہا چودھری صاحب کہ جو لوگ میرے ہمراہ سینوں میں گولیاں کھا کر حضور علیہ السلام کے نام و ناموس پر شہید ہو گئے۔ لائلپور کی سڑکوں پر ابھی تک ان کا خون خشک نہیں ہوا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ماؤں کے بچے مروا کر خود معافی نامہ پر دستخط کر کے گھر چلا جاؤں۔ چوہدری صاحب شرمندہ ہوئے، معذرت کی اور کہا کہ اگر آپ یہ حوصلہ رکھتے ہیں تو پھر آپ کا ڈٹ جانا ہی اصولی طور پر درست ہے۔ شیخ محمد شفیع انارکلی لائلپور والے چوہدری صاحب کے بہت گہرے دوست تھے۔ وہ ان سے ملنے
کے لئے شاہی قلعہ میں آئے۔ ان دونوں کے درمیان میرا بھی ذکر آیا اور خدا جانے آپس میں کیا باتیں ہوئیں۔ شیخ محمد شفیع نے لائلپور واپس جاکر یہ مشہور کر دیا کہ مولانا تاج محمود کو شاہی قلعہ میں پولیس نے اتنا مارا ہے کہ ان کی دونوں ٹانگیں اور دونوں بازو توڑ دیئے ہیں۔ یہ بات اڑتے اڑتے اڑتے چک نمبر ۱۳۸ جھنگ برانچ نزد چنیوٹ جہاں میرے والد صاحب مرحوم مقیم تھے ان تک پہنچ گئی۔ ان کو یہ سن کر انتہائی صدمہ ہوا۔ میری والدہ بتاتی تھیں کہ تمہارے ابا جی نے یہ درد ناک خبر سن کر ۳ ماہ تک رات کو تکیہ پر سجدے کی حالت میں راتیں گزاریں۔ انہیں یہ صدمہ سیدھے سونے نہیں دیتا تھا۔ برداشت نہ تھا۔ تین ماہ بعد میرے بڑے بھائی منور ضلع ہری پور ہزارہ سے مجھے ملنے کے لئے حکومت کی اجازت ملنے پر آئے کیمبل پور جیل میں ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں سی آئی ڈی کا انسپکٹر رپورٹنگ کے لئے حکومت کی طرف سے موجود تھا۔ میرے بڑے بھائی گفتگو کرتے ہوئے میرے دونوں بازوؤں ٹانگوں کو بڑے غور سے دیکھتے تھے بار بار ان کے ایسا کرنے پر مجھے کچھ شبہ ہوا، تو میں نے پوچھا کہ بھائی جان آپ بار بار غور سے میرے بازوؤں اور اور ٹانگوں کو کیوں دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ شاہی قلعہ میں آپ کی ٹانگ کہاں سے توڑی گئی اور بازو کہاں سے ؟ میں نے کہا اللہ کا شکر ہے۔ میری دونوں ٹانگیں و بازو صحیح سالم ہیں۔ انہوں نے ایک لمبی آہ بھری اور کہا یہ کہ جھوٹی خبر تھی کہ آپ کو قلعہ میں ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ بالکل جھوٹ ہے مگر آپ تک یہ خبر کیسے پہنچی، انہوں نے ساری حقیقت حال کہہ سنائی جس کا مجھے بہت دکھ ہوا کہ میرے ضعیف باپ کو کس قدر شدید اذیت اور ذہنی کوفت پہنچائی گئی۔ خدا کی قدرت دیکھیے کہ میں نظر بندی کے دن پورے کر کے گھر رہا ہو کر آگیا۔ اور اس واقعہ کا شیخ صاحب مرحوم سے تذکرہ تک نہ کیا۔ کچھ عرصہ بعد
وہ شیخ صاحب جیپ کے ایک حادثہ میں سرگودھا روڈ پر شکار ہوئے اور ان کے دونوں بازو اور دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں جس کی میرے دل میں ہرگز خواہش و تمنا نہ تھی، لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عجیب و غریب نظارے سامنے آتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء ۱۹۵۳ء کی کہانی
مولانا تاج محمود کی زبانی
۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر آہنی سلاخوں ، لوہے کی تاروں کے بنائے ہوئے کوڑوں ، آہنی پنچوں سے حملہ کیا گیا ۔ ان کو خوب مارا پیٹا ۔ زخمی کیا گیا ایک ہفتہ پہلے یہ لڑکے تفریحی سفر پر پشاور کے لئے جاتے ہوئے چناب ایکسپریس سے ربوہ اسٹیشن پر اتر کر اپنے کلاس فیلو قادیانی طلباء سے ہنسی مذاق کر رہے تھے ۔ قادیانیوں کا اس زمانہ میں معمول تھا کہ وہ ربوہ سے تمام گزرنے والی ٹرینوں پر مسافروں میں اپنا تبلیغی لٹریچر تقسیم کیا کرتے تھے ۔ اس روز ان طلباء میں بھی انہوں نے لٹریچر تقسیم کیا اس سے قبل طلباء کا نشتر میڈیکل کالج ملتان میں انتخاب ہوا تھا ۔ ایک قادیانی اسمیں امیدوار تھا ۔ مسلمان طلباء نے قادیانیت کی بنیاد پر اسکی مخالفت کی تھی ۔ قادیانیت کے خلاف مسلمان طلباء کی ذہن سازی تھی ۔ اس لئے اس قادیانی لٹریچر کے تقسیم ہوتے ہی مسلمان طلباء بپھر گئے ۔ قادیانیوں نے بھی ان کی جرات رندانہ کا شدید نوٹس لیا ۔ قریب کی گراؤنڈ
میں قادیانی نوجوان کھیل رہے تھے ان کو اطلاع ملی وہ ہاکیوں سمیت اسٹیشن پر آگئے مسلمان طلباء بھی برہم ، توتکار تک معاملہ پہنچا، خدا کا شکر ہے ٹرین روانہ ہوگئی اور کوئی حادثہ نہ ہوا۔ تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا قادیانیوں نے لڑکوں پر سی آئی ڈی لگادی ، ان کے پروگرام کا معلوم کیا ۔ اور ان کی واپسی کا انتظار کرنے لگے ۔ ہفتہ کے بعد جب وہ اسی ٹرین سے واپس ہوئے تو سرگودہا سے ہی انکے ڈبے میں قادیانی نوجوان خدام الاحمدیہ نیم فوجی تنظیم کے رضا کار سوار ہو گئے۔ جب یہ گاڑی نشتر آباد پہنچی وہاں کے قادیانی اسٹیشن ماسٹر نے بذریعہ ریلوے فون ربوہ کے قادیانی اسٹیشن ماسٹر کو مطلع کیا کہ طلباء کا ڈبہ آخری سے تیسرا ہے ۔ اس سے قبل ربوہ کا اسٹیشن ماسٹر سرگودھا تک کے اسٹیشن سے ٹرین کی آمد کے بارے میں پوچھتا رہا ۔ گویا قادیانی قیادت بڑی تیاری سے دیوانگی کے ساتھ ٹرین کا انتظار کر رہی تھی۔ نشتر آباد لالیاں سے بھی قادیانی نوجوان اس ڈبہ میں سوار ہوئے ۔ حالانکہ یہ ڈبہ ریزرو تھا ۔ جب گاڑی ربوہ اسٹیشن پر پہنچی تو پہلے سے موجود قادیانی غنڈوں نے طلبہ کے ڈبہ کا دونوں اطراف سے گھیراؤ کر لیا ۔ قادیانی غنڈوں نے موجودہ قادیانی سربراہ مرزا طاہر کی قیادت میں بڑی بیدردی سے مسلمان طلباء کو مارا پیٹا ۔ زخمی کیا ۔ طلباء لہو لہان ہو گئے ۔ ان کے کپڑے پھٹ گئے ۔ جسم زخموں سے چور چور ہو گئے ۔ غنڈوں نے ان کا سامان لوٹ لیا ۔ جب تک قادیانی غنڈوں کا ایکشن مکمل نہیں ہوا اس وقت تک قادیانی اسٹیشن ماسٹر نے ٹرین کو ربوہ سٹیشن پر روکے رکھا ۔ فیصل آباد ریلوے کنٹرول نے پوچھا کہ ٹرین اتنی دیر ہوگئی چلی کیوں نہیں ، تو ریلوے کے عملے نے بتایا کہ فساد ہو گیا ہے۔ ریلوے کنٹرول کے ذریعہ یہ خبر مقامی انتظامیہ وصوبائی انتظامیہ تک پہنچی ۔ ہم لوگ بے خبر تھے ٹرین چنیوٹ برج سے ہوتی ہوئی چک جھمرہ پہنچ گئی وہاں سے فیصل آباد کا سفر پندرہ بیس منٹ سے بھی کم کا ہے اتنے میں دوپہر کے وقت ہانپتا کانپتا ایک آدمی
میرے مکان کے عقبی دروازہ پر آیا دستک دی بچوں نے مجھے اطلاع کی میں نے کہا کہ اسے کہو کہ مسجد کے اوپر سے ہو کر مین گیٹ کی طرف سے آئے مگر اس نے کہا کہ ضروری کام ہے مولانا ایک منٹ کے لئے جلدی سے تشریف لائیں ۔ میں گیا تو وہ ریلوے کنٹرول کا ایک ذمہ دار آفیسر تھا ۔ اس کی زبان دہونٹ خشک، چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں میں نے پوچھا کہ خیریت تو ہے اس نے ڈبڈباتی آنکھوں سے نفی میں سر ہلایا میری حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ خدایا خیر ہو اتنا ذمہ دار آدمی اور یہ کیفیت ۔ اس نے اپنی طبیعت کو سنبھالا تو مجھے ربوہ حادثہ کی اطلاع دی اب ٹرین کو پہنچنے میں صرف دس پندرہ منٹ باقی تھے میں نے شہر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رفقاء علماء ، شہریان ، فیصل آباد کے ڈی سی ۔ ایس پی کو فوراً اسٹیشن پر پہنچنے کا کہا۔ پریس رپورٹران ، پنجاب میڈیکل کالج ۔ گورنمنٹ کالج کے سٹوڈنٹس اور چیدہ چیدہ حضرات کو جہاں جہاں اطلاع ممکن تھی کر دی ۔ ریلوے لوکو شیڈ میں کام کرنیوالے تمام لوگ میرے جمعہ کے مقتدی ہیں ۔ ان کو پیغام بھجوایا کہ کام چھوڑ کر فوراً اسٹیشن پر پہنچ جائیں میں ان امور سے فارغ ہو کر جب اسٹیشن پر پہنچا تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے ۔ نعرہ بازی، احتجاج ہو رہا ہے ۔ پولیس کی گارد ۔ مجسٹریٹ ۔ ڈاکٹر صاحبان موجود ہیں جو مسلمان اس ٹرین پر سفر کر رہے تھے ۔ جنہوں نے قادیانی غنڈہ گردی کا ربوہ میں نظارہ دیکھا تھا وہ بھی ہمارے اس احتجاج میں شریک ہو گئے اسٹیشن پر اشتعال انگیز نعروں کا یہ عالم کہ کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی تھی مجھے دیکھتے ہی احتجاجی نعروں کا فلک شگاف شور اٹھا ۔ اس عالم میں مسلمان زخمی طلباء کو ٹرین سے اتارا ۔ ڈاکٹر صاحبان کے مشورہ پر ان طلبہ کو گرم دودھ سے
گولیاں دی گئیں زخموں پر مرہم پٹی کی گئی ڈاکٹروں کی اس ٹیم میں ایک قادیانی ڈاکٹر تھا میں نے دیکھا تو سخت پریشان ہوا کہ اگر کسی کو اس کے قادیانی ہونے کا علم ہو گیا تو اس کا یہیں پر کام تمام ہو جائے گا میں نے اپنے معتمد کے ذریعہ اس کو وہاں سے چلتا کر دیا کہ اگر بد بخت تو رکا رہا تو اپنی جان کا خود ذمہ دار ہوگا ابھی اس قضیہ سے میں فارغ ہوا تھا کہ اطلاع ملی کہ فلاں اگلے ڈبہ میں ایک قادیانی کو چھرا مار دیا گیا ہے ۔ میں وہاں گیا تو مشتعل ہجوم نے ادھیڑ عمر کے فربہ بدن قادیانی کو زخمی کیا ہوا ہے اس کی پٹائی ہو رہی ہے ۔ لوگوں نے اسے نکال کر اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں لاکر بند کر دیا ۔ اس قادیانی نے مجھے کہا کہ مولانا مجھے بتایا جائے کہ مجھے کس جرم میں مارا گیا ہے میں نے کہا جس جرم میں ربوہ کے قادیانیوں نے ہمارے معصوم مسلمان بچوں کو مارا ہے ۔ ان دنوں فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنر فرید الدین احمد تھے ان کو فون کر کے بلا لیا گیا ان کے ہمراہ ایس پی بھی تھے ان کو کہا کہ وہ آ کر دیکھیں کہ ہمارے بیگناہ بچوں کو قادیانیوں نے کس بیدردی سے زد و کوب کیا ہے ان افسران نے طلباء سے ملاقات کی اس ڈبہ کو دیکھا جس کے اوپر کے لوہے کے کنڈے مڑے ہوئے تھے ۔ جب مرہم پٹی کے عمل سے فارغ ہوئے تو افسران نے کہا کہ اب گاڑی کو آگے جانے دیں ۔ ان زخمی طلباء کو یہاں اتار لیا جائے اور ان کا علاج معالجہ کیا جائے ان زخمی طلباء سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہم اسی حالت میں ملتان جائیں گے ۔ ہم وہاں نشتر ہسپتال میں علاج کرائیں گے ڈپٹی کمشنر نے دوبارہ کہا کہ اب آپ گاڑی آگے جانے دیں میں نے ان سے کہا کہ جبتک صوبائی حکومت ہمارے یہ مطالبات نہیں مان لیتی اس وقت تک گاڑی آگے نہیں جاسکتی ۔
- ۱۔ اس سانحہ کی ہائیکورٹ کے جج سے تحقیقات کرائی جائے۔
- ۲۔ اس سانحہ میں شریک تمام ملزمان بشمول اسٹیشن ماسٹر قادیانی ربوہ و نشتر آباد
کو گرفتار کیا جائے۔
- ۳۔ اس سانحہ کے ملزمان کو کڑی سزا دی جائے۔
ڈپٹی کمشنر نے اسٹیشن ماسٹر کے کمرہ سے چیف سیکرٹری کو فون کیا اور تمام مطالبات ان کو پیش کئے چیف سیکرٹری منٹ منٹ کی کارروائی سے باخبر تھے انہوں نے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ڈپٹی کمشنر نے مجھے یقین دلایا کہ آپ کے تینوں مطالبات تسلیم کر لئے گئے ہیں میں نے ریلوے اسٹیشن کی دیوار پر کھڑے ہو کر تقریر کی، طلباء کو مخاطب ہو کر کہا " بچو! تم ہماری اولاد ہو۔ جگر کے ٹکڑے ہو، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جب تک قادیانیوں سے آپ کے خون کے ایک ایک قطرہ کا حساب نہیں لے لیا جاتا اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے " پریس رپورٹران نے فوٹو لیے۔ زخمی طلباء کو ائیر کنڈیشن کوچ میں شفٹ کیا گیا اور ٹرین روانہ ہوگئی، پلیٹ فارم پر ہی شام کے پانچ بجے ، الخیام ہوٹل میں پریس کانفرنس اور آئندہ کے پروگرام کا اعلان کرنے کے لئے میں نے پریس والوں کو ٹائم دیدیا ۔ گھر آکر گوجرہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ، شور کوٹ ، عبد الحکیم ، مخدوم پور ، خانیوال اور ملتان جہاں جہاں ٹرین رکتی تھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کو مظاہرہ کرنے کا سگنل دے دیا۔ چنانچہ جہاں جہاں سے ٹرین گزرتی گئی احتجاجی مظاہرہ ہوتا گیا۔
ملتان دفتر میں فون کر کے مولانا محمد شریف جالندھری ، لاہور آغا شورش کاشمیری اور راولپنڈی مولانا غلام اللہ خان مرحوم کو سانحہ کی اطلاع دی ۔ مولانا
محمد شریف جالندھری نے کراچی حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کو جو اس وقت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ تھے اور خانقاہ سراجیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب کو جو اس وقت نائب امیر تھے اطلاع دی ۔ سارا دن فون کے ذریعے مولانا محمد شریف جالندھری ملک بھر میں اطلاع کرتے رہے اور تحریک کے لئے احباب کو اپنے مشوروں سے نوازتے رہے ، حالات قادیانیت کے متعلق پہلے سے ہی تحریک کے متقاضی تھے ۔ یہ خبر بجلی کا کام دے گئی ۔
شام کو الخیام میں پریس کانفرنس ہوئی جس میں مولانا مفتی زین العابدین ، مولانا فقیر محمد ، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف ، صاحبزادہ سید افتخار الحسن ، مولانا فضل رسول حیدر ، مولانا محمد صدیق ، مولانا اللہ وسایا اور دوسرے رہنما موجود تھے ۔ اخباری نمائندوں کے سامنے پوری تفصیلات بیان کیں اور دوسرے روز فیصل آباد شہر میں ہڑتال کا اعلان کر دیا ۔ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ لاہور کراچی ، بہاولپور ، کوئٹہ ، حیدر آباد ، سکھر پشاور ، راولپنڈی کے علماء سے مشوروں کا سلسلہ جاری رہا ہے ۔ ان سے رابطہ کر کے تحریک کا آغاز کیا جائے گا ۔ شہر کی تمام مساجد کے سپیکروں اور رکشہ پر سپیکر باندھ کر شہر میں اگلے روز کی ہڑتال اور جلسہ عام کا اعلان کرایا گیا رات عشاء کے قریب ان امور سے فارغ ہو کر گھر آیا تو آغا شورش کاشمیری مرحوم نے ٹیلیفون کیا ، کہ آپ لوگ کل کیا کر رہے ہیں ۔ میں نے ساری تفصیلات بتائیں ۔
آغا مرحوم نے فرمایا کہ کل کے جلسہ عام میں قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کا اعلان کریں ۔ تاکہ عوام کا غصہ حکومت کی بجائے قادیانیت کی طرف
ہو اس لئے کہ پچھلی تحریک میں قادیانیوں نے ہمارا تصادم حکومت سے کرا دیا تھا اب تصادم بجائے حکومت کے قادیانیوں سے رہے تاکہ پُر امن تحریک جاری رکھ سکیں ۔
دوسرے روز شہر میں مثالی ہڑتال اور تاریخ ساز جلسہ عام ہوا ۔ کچہری بازار کی جامع مسجد میں علماء کرام کی تقریریں ہوئیں ۔ ان کے علاوہ اس جلسہ عام میں ملک احمد سعید اعوان نے بھی شرکت کی جو پیپلز پارٹی فیصل آباد کے صدر تھے (ان سطور کی تحریر کے وقت وہ وفاقی منسٹر ہیں ۲۵/۹/۸۹) انہوں نے بھی دھواں دھار تقریر کی ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت ۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم وزیر اعظم اور ان کی جماعت کے صدر کی یہ تقریر ہمیں اس سے خوشی ہوئی یہ ملک صاحب کا ذاتی مبارک اقدام تھا پیپلز پارٹی کی پالیسی نہ تھی ۔ ان کے ضمیر کی آواز تھی ۔
لوگوں نے مطالبہ کیا کہ جلوس نکالا جائے ۔ جلسہ ختم کیا جائے ۔ احمد سعید اعوان نے عوام کا مطالبہ سنا تو ڈپٹی کمشنر کے پاس گئے اور پُر امن جلوس کی اجازت لے کر آگئے انہوں نے آکر جلوس کا اعلان کر دیا مگر ستم یہ ہوا کہ ڈپٹی کمشنر نے جلوس کی اجازت تو دیدی مگر بازار میں متعین ڈیوٹی افسران کو اجازت کی اطلاع نہ دی وہ پہلی اطلاع کے مطابق جلوس کو روکنے کے پابند تھے ۔ جلوس کا اعلان ہوا ۔ انہوں نے پوزیشن سنبھال لی ۔ جلوس نعرے لگاتا ہوا کچہری بازار میں جونہی داخل ہوا ۔ انہوں نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا ۔ ایک شیل میرے بازو پر لگا، میں زخمی ہو گیا دوسرے رہنماؤں کا بھی یہی حال ہوا افراتفری کا عالم چار سو دھواں ہی دھواں ۔ اس دھکم پیل میں جلوس نے دھرنا مار لیا اس افسوسناک سانحہ کی ڈپٹی کمشنر کو اطلاع ملی تو انہوں نے تازہ احکامات بھجوائے اور جلوس کو آگے بڑھنے کی اجازت دیدی ۔
جلوس مختلف بازاروں کا چکر لگاتا ہوا جامع مسجد میں میرے خطاب پر اختتام پذیر ہوا ۔ مولانا مفتی زین العابدین نے دعا کرائی اور جلوس کو پرامن منتشر ہونے کی ہدایت کی ۔
پہلے دن ہی قادیانیوں کے چوراسی ۸۴ مکانات و دکانیں شہر میں جلا دی گئیں اس حساب سے کہ اگر پراپرٹی بھی مرزائی کی ہوتی تو اس کے سامان کو پراپرٹی سمیت جلا دیا گیا ۔ اور اگر پراپرٹی مسلمان کی ہوتی تو صرف سامان کو بازار میں نکال کر آگ لگائی جاتی ۔ آجتک میں اور میرے رفقاء اس سے بے خبر ہیں کہ یہ کون لوگ تھے ایسی ترتیب و حکمت اور منظم کوشش کیونکر اپنائی گئی بعد میں خبر ہوئی کہ قادیانیوں نے ۲۹ مئی سے دو چار دن قبل اپنے کارخانوں اور بڑی بڑی دکانوں کی انشورنس (فسادات کی نذر ہونے کی صورت میں) کرا لیں ۔
جس روز ہم فیصل آباد میں جلسہ جلوس میں مصروف تھے اسی دن آغا شورش کاشمیری ، مولانا عبید اللہ انور ، نوابزادہ نصر اللہ خان نے لاہور میں تمام مکاتب فکر کی میٹنگ کی ۔ اور اسی طرح کے فیصلے کئے جو ہم فیصل آباد میں کر چکے تھے ۔ ملتان اور راولپنڈی میں تیسرے روز مولانا محمد شریف جالندھری اور مولانا غلام اللہ خاں کو فون کے ذریعہ اطلاع دی گئی کہ فوری طور پر آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس بلایا جائے ۔ چنانچہ مولانا سید محمد یوسف بنوری کی طرف سے مولانا محمد شریف جالندھری نے لاہور ، ملتان ۔ ساہیوال ۔ فیصل آباد ۔ کوئٹہ ۔ پشاور ۔ کراچی ۔ سرگودھا ۔ گوجرانوالہ اور دیگر شہروں کے علماء کرام کو ۳ جون ۱۹۷۴ء کو میٹنگ کے لئے راولپنڈی
پہنچنے کی دعوت دی۔
فیصل آباد سے میں ، مولانا مفتی زین العابدین ، حکیم عبدالرحیم اشرف، مولانا محمد اسحاق چیمہ ، مولانا محمد صدیق صاحب راولپنڈی کے لئے تیار ہوئے۔ مولانا محمد صدیق صاحب کار کے ذریعہ اور ہم لوگ ۲ جون کی شام کو چناب ایکسپریس کے ذریعے روانہ ہوئے۔ ٹیلیفون کے ذریعہ تمام تر پروگرام کی اطلاع تھی ۔ ہمارے فون ٹیپ ہو رہے تھے ۔ گورنمنٹ منٹ منٹ کی کارروائی سے باخبر تھی ۔ رات بارہ بجے کے قریب ٹرین لالہ موسیٰ پہنچی تو پولیس کا ایک دستہ اور مجسٹریٹ آدھمکے ۔ ہمارے ڈبہ کے دروازے اور کھڑکیوں کو کھٹکھٹایا ، ہم لوگ بیدار ہوئے۔ دروازہ کھولا ، تعارف ہوا۔ ہمیں اپنا سامان باندھ کر نیچے اترنے کا حکم ملا۔ اسٹیشن سے پیادہ پا تھانہ لالہ موسیٰ لائے سامان پولیس والوں نے اٹھایا ۔ مولانا محمد اسحاق صاحب زمیندار ٹائپ انسان ہیں ہر چند کوشش کی کہ یہ بچ جائیں ۔ مگر ان کا مولوی ہونا رکاوٹ بن گیا وہ بھی ہمارے ساتھ دھر لئے گئے۔ تھانہ سے ہمیں ایک بس میں بٹھا کر رات کوئی ایک بجے کے قریب جہلم کی طرف روانہ ہوگئے۔ آگے بڑی سڑک چھوڑ کر ایک چھوٹی سڑک پر رواں دواں صبح سحری کے وقت ہم ایک دیہاتی تھانہ میں پہنچا دیئے گئے ۔ بھٹو مرحوم کا دور تھا ۔ گرفتار ہونے والوں کے ساتھ عجیب وغریب سانحات پیش آرہے تھے ۔ ہزاروں وسوسوں کا شکار تحیری کے عالم میں وہاں پہنچے ۔ حیران تھے کہ شہر کے تھانہ سے دیہات کے بے آباد علاقہ کے تھانہ میں ہمیں کیوں لایا گیا ؟ چارپائیاں دی گئیں۔ تھوڑی دیر لیٹے ۔ نماز کا وقت ہو گیا۔ ہم نماز کے عمل میں مشغول ہوئے پولیس والوں کی ایک بارک میں انہوں نے ہماری چارپائیاں ڈال دیں۔ ایس ایچ او نے اپنی جیب سے دس دس روپے دیئے ہمیں چائے پلائی گئی ہم نے اپنے طور پر پیسے دینے کی کوشش کی ۔ مگر ایس ایچ۔او صاحب راضی نہ ہوئے ۔ ادھر اُدھر کی گفت گو ہوئی ، ہمارا تعارف ہوا
تو وہ کچھ مانوس ہوا ۔ ہم نے پوچھا کہ ہم اس وقت کہاں ہیں تو انہوں نے بتایا کہ تھانہ ڈنگہ ہے ۔ گجرات کا ضلع ہے ہم نے پوچھا کہ ہمیں یہاں کیوں لایا گیا ۔ انہوں نے خود لا علمی ظاہر کی ہم لوگ لیٹ گئے ۔ دوپہر کا وقت ہوا تو ایس ایچ او نے بڑے اہتمام سے کھانا کھلایا کھانا کھا کر پھر لیٹ گئے ۔ نماز کے لئے اُٹھے ابھی نماز پڑھ کر فارغ نہ ہوئے تھے تو اطلاع ملی کہ جناب ذوالقرنین ڈپٹی کمشنر، محمد شریف چیمہ ایس پی صاحب آپ کی ملاقات کے لئے تشریف لائے ہیں ۔ نماز پڑھ کر ہم نے عمداً تھوڑی تاخیر کی کہ آخر یہ کیا ہو رہا ہے تھانہ میں لوٹے آپس میں گپ شپ ہوئی ۔ اتنے میں دیکھا کہ صحن میں میز کرسیاں لگائی جا رہی ہیں ۔ تازہ پھل، مٹھائیاں چائے کا اہتمام ہو رہا ہے ہم سمجھے کہ پولیس والے ایس پی و ڈی سی صاحب کی خاطر تواضع کے لئے اپنے عمل میں مصروف ہیں ۔ ان کی آؤ بھگت کا اہتمام ہو رہا ہے ۔ تھوڑی دیر کے بعد ہمیں بلایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب اور ایس پی صاحب آپ حضرات کو بلاتے ہیں، اب معلوم ہوا کہ یہ تو ہمارے استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ دونوں بڑے تپاک سے ملے ۔ ذوالقرنین مجھے ذاتی طور سے جانتے تھے وہ فیصل آباد میں اے ۔ ڈی سی جی رہ چکے تھے ۔ گفتگو شروع ہوئی دونوں کا روئے سخن میری طرف تھا۔ قبلہ مفتی صاحب و حکیم صاحب بڑی محتاط گفتگو کے دلدادہ ہیں میں ایک دبنگ انسان ہوں اب لگے وہ معافی مانگنے کہ بخدا کے لئے آپ ہمیں معاف کر دیں غلطی ہوگئی ۔ ہم نے کہا کہ آپ ہم سے کیوں مذاق کرتے ہیں آپ لوگوں نے ہمیں گرفتار کیا ہے انہوں نے کہا کہ نہیں جناب بس تھوڑی سی غلطی ہوگئی ۔ چیف سیکرٹری صاحب نے ہمیں حکم دیا ہے کہ آپ جا کر ان سے معافی مانگیں اور سرکاری گاڑی پر راولپنڈی پہنچائیں ۔ ہم نے ان سے کہا کہ نہیں جہلم میں ہمارے دوست ہیں آپ ہمیں وہاں پہنچا دیں ہم کوئی مزید آپ سے مراعات نہیں چاہتے ۔ ہم نے جہلم پہنچ کر فیصلہ کیا کہ اب راولپنڈی جانا فضول ہے ۔ میٹنگ کا وقت گزر گیا ہے ۔ جو
فیصلے ہوں گے اطلاع ہو جائے گی ۔ اب ہمیں فیصل آباد جانا چاہیے ۔ حضرت مفتی صاحب کے ایک تعلق والے کے ہاں ہم جہلم میں ٹھہرے تھے کہ جہلم کی ضلعی انتظامیہ کا اعلیٰ آفیسر آیا اور کہا کہ چیف سیکرٹری صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں انہوں نے فون کیا تو چیف سیکرٹری صاحب لگے معذرت کرنے اور کہا کہ ہم نے آپ چاروں حضرات کے گھروں میں پیغام دیدیا ہے کہ آپ خیریت سے ہیں ۔
اس سارے ڈرامے کا بعد میں پس منظر معلوم ہوا کہ ریلوے کے وفاقی منسٹر خورشید حسن پر تنقید کرتے ہوئے میں نے اسے مرزائی نوازی تک کا طعنہ دے دیا ۔ یا مرزائی لکھ دیا اس پر وہ بہت جزبز ہوئے ۔ اس نے مجھے ایک خط لکھا کہ میرے حلقوں میں بعض لوگ مجھے مرزائی کہہ رہے ہیں ۔ اب آپ بھی ان کے ساتھ ہوگئے ۔ یہ میرے خلاف ایک سازش ہے جس کا آپ شکار ہوگئے آپ اس کی تردید شائع کریں ۔ میں نے جواب میں تحریر کیا کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو حضور علیہ السلام کے بعد دعویٰ نبوت کرنے کے باعث کافر دجال و کذاب لکھ دیں میں آپ کی یہ تردید شائع کردوں گا ۔ اور جو کچھ پہلے ”لولاک“ میں لکھا ہے اس کی بھی معذرت چھاپ دوں گا ۔ لیکن ان کا جواب آج تک نہ آیا، نہ میں نے تردید کی ۔ انہوں نے دل میں ناراضگی رکھ لی ۔ کچھ عرصہ بعد ریلوے نے راولپنڈی اور فیصل آباد کے درمیان نئی ٹرین فیصل آباد ایکسپریس چلائی ریلوے کے مقامی حکام نے مشہور سماجی رہنما مولانا فقیر محمد کی معرفت اس کے افتتاح کرنے کی استدعا کی ۔ میں نے افتتاح کیا ۔ فیتہ کاٹا ۔ اخبارات میں خبر اور فوٹو شائع ہوئے خورشید حسن میر خبریں اور فوٹو پڑھ کر آگ بگولا ہوگیا ۔ تو مقامی حکام کی شامت آگئی ۔ کہ میں ریلوے منسٹر ہوں میری پیشگی اجازت کے بغیر مولانا
تاج محمود صاحب سے افتتاح آپ نے کیوں کرایا۔
جب ہم راولپنڈی جانے کے لیے تیار ہوئے تو ایک دن پہلے میری سرکٹ ہاؤس فیصل آباد میں کمشنر سرگودھا ڈویژن کاظمی صاحب اور ڈی آئی جی میاں عبدالقیوم سے مرزائیت کے عنوان پر ملاقات ہوئی مرزائیت کے کفر و ارتداد ملک دشمنی کے حوالے ان کو سنائے تو وہ بہت حیران اور متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اے کاش آپ وزیر اعظم بھٹو صاحب سے ایک ملاقات کریں اور یہ تمام چیزیں ان کے علم میں لائیں۔ اس لئے کہ اعلیٰ طبقہ مرزائیوں کے ان عقائد و عزائم سے بے خبر ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ کل میں راولپنڈی جا رہا ہوں میری پوری کوشش ہوگی کہ میں وزیر اعظم سے ملوں ۔ ایک تو اس طرح، دوسرا یہ کہ ہمارے فون ٹیپ ہو رہے تھے تیسرے یہ کہ ہماری روانگی کی اطلاع مقامی سی آئی ڈی نے اعلیٰ حکام تک پہنچا دی۔ کسی طرح خورشید حسن میر کو بھی ہماری راولپنڈی آمد کی اطلاع ہوگئی۔ ان دنوں پنڈی کے کمشنر مسعود مفتی تھے جو پہلے فیصل آباد میں ڈپٹی کمشنر رہ چکے تھے میرے ان سے دوستانہ مراسم تھے لیکن خورشید حسن میر کے دباؤ میں آکر انہوں نے ہدایت کی کہ جونہی ہم راولپنڈی ڈویژن کی حدود میں داخل ہوں ۔ لالہ موسیٰ سے ہمیں گرفتار کر لیا جائے چنانچہ ہمیں گرفتار کر لیا گیا۔ ٹرین راولپنڈی پہنچی تو مولانا غلام اللہ خان کے آدمی ہمیں لینے کے لئے آئے ہوئے تھے وہ خالی واپس لوٹے تو مولانا نے میرے گھر فون کیا اطلاع ملی کہ وہ تو راولپنڈی کے لئے چناب ایکسپریس سے روانہ ہو گئے انہوں نے کہا کہ وہ پہنچے نہیں اب فیصل آباد اور راولپنڈی دونوں جگہ
تشویش ہوئی کہ ہوا کیا ۔ مولانا غلام اللہ خان معاملہ سمجھ گئے انہوں نے کہا کہ وہ گرفتار ہوگئے ۔ یہ خبر فیصل آباد کے شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی فیصل آباد کی مقامی مجلس عمل کے رفقاء نے شہر میں ہڑتال اور جلسہ عام اگلے دن کرنے کا پروگرام بنا لیا ڈی۔سی صاحب سے میرے رفقاء نے پوچھا انہوں نے لاعلمی ظاہر کی ۔ ڈی سی صاحب نے کمشنر و ڈی آئی۔جی سے پوچھا جو ابھی فیصل آباد سرکٹ ہاؤس میں مقیم تھے سرگودھا نہ گئے تھے انہوں نے لاعلمی ظاہر کی انہوں نے چیف سیکرٹری سے پوچھا ، انہوں نے لاعلمی ظاہر کی ۔ کمشنر صاحب اور ڈی آئی جی نے کہا کہ مولانا تاج محمود صاحب تو وزیر اعظم سے ملنے جارہے تھے چیف سیکرٹری پریشان ہوا کہ اتنے بڑے آدمیوں کو پنجاب گورنمنٹ کی اطلاع و منظوری کے بغیر کیسے گرفتار کیا گیا راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر صاحب سے چیف سیکرٹری نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ ڈی۔سی اور ایس پی گجرات نے انہیں گرفتار کیا ہے ۔ چیف سیکرٹری نے ہماری رہائی کے آرڈر کئے۔
ہم لوگوں نے فون کر کے گھر اطلاع دی کہ ہم چناب ایکسپریس کے ذریعے کل واپس آرہے ہیں ہماری آمد کی اطلاع سن کر دوسرے روز پورا شہر اسٹیشن پر امڈ آیا پورے ملک میں تحریک کا زور تھا ہر جگہ ہڑتالیں جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع تھا ۔ راولپنڈی ہم نہ جاسکے چونکہ وقت تھوڑا تھا باقی حضرات بھی بہت کم تعداد میں پہنچے اس لئے اس راولپنڈی کی میٹنگ میں مولانا سید محمد یوسف بنوری نے فیصلہ کیا کہ ۹ جون ۷۴ء کو لاہور میں اجلاس رکھا جائے اب اس کی تیاری کے لئے صرف ۶ دن باقی تھے اطلاعات کا سلسلہ شروع ہوا ۔ ۹ جون ۷۴ء کو لاہور میں میٹنگ ہوئی ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر اٹھارہ سیاسی و دینی جماعتوں کا اجلاس منعقد ہوا ۔ جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں عوام و خواص میٹنگ کے فیصلوں کو سننے کے
لئے جمع تھے۔ ملک بھر کے اکابر علماء نے اس میں شرکت کی۔ مولانا مفتی محمود، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا خواجہ خان محمد، مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا غلام اللہ خان، نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا غلام علی اوکاڑوی، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا محمد شریف جالندھری، چودھری غلام جیلانی، مولانا عبید اللہ انور، سید مظفر علی شمسی اور دیگر حضرات اس میں شریک تھے اللہ رب العزت نے فضل فرمایا۔ پورے ملک کی اپوزیشن متحد تھی تحریک چلی تو تمام اسمبلی کے ممبران اور اپوزیشن بھی مجلس عمل میں شریک ہوگئے۔ یوں سوائے پیپلز پارٹی کے باقی ، تمام دینی و سیاسی جماعتوں نے مل کر رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت خاص عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ ساری صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ آخر طویل بحث کے بعد شورش کاشمیری کی تحریک و تجویز پر مولانا محمد یوسف بنوری کو آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کا کنوینر بنایا گیا۔ (۲) قادیانیوں کے اقتصادی و عمرانی بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔ (۳) ۱۴ جون کو ملک بھر میں ہڑتال کی اسلامیان پاکستان سے اپیل کی گئی۔ (۴) اور ۱۶ جون کو فیصل آباد میں مجلس عمل کے مستقل انتخاب کا طے ہوا۔
۱۱ جون کو آغا شورش کاشمیریؒ، مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور دیگر حضرات نے وزیر اعظم بھٹو سے قادیانیت کے مسئلہ پر ملاقات کر کے تبادلہ خیال کیا، مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے بھٹو صاحب سے کہا کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان قادیانیت کا مسئلہ حل کرنا چاہتے تھے مگر وہ شہید ہوگئے، اس پر بھٹو نے کہا کہ آپ مجھے بھی شہید کرانا چاہتے ہیں۔ شیخ بنوری نے زور سے وزیر اعظم کی میز پر مکہ مار کر فرمایا کہ آپ کے مقدر اتنے کہاں۔ اس پر بھٹو صاحب ششدر رہ گئے۔
۱۴ جون کو تمام ملک میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی حمایت میں ہڑتال
ہوئی۔ اتنی بڑی ہڑتال اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ اس ہڑتال کو ریفرنڈم سے تشبیہ دی گئی۔ مسجد وزیر خان لاہور میں جلسہ ہوا۔ مولانا عبدالستار خان نیازی نوابزادہ نصر اللہ خان، آغا شورش کاشمیری، مولانا عبید اللہ انور، سید مظفر علی شمسی، احسان الٰہی ظہیر اور سید محمود احمد رضوی نے تقریریں کیں۔ سانحہ ربوہ کی تحقیقات کے لئے مسٹر جسٹس صمدانی کو مقرر کیا گیا۔ انہوں نے ۴؍ مئی سے تحقیقات کا آغاز کیا۔ وزیر اعظم بھٹو نے ۱۴؍ جون کو تقریر کر کے قوم کو عوامی امنگوں کے متعلق مسئلہ حل کرنے کا مژدہ سنایا۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں مسئلہ لے جانے کا وعدہ کیا۔ پورے ملک میں قادیانیوں کے بائیکاٹ کی موثر تحریک شروع ہو گئی۔
—— O ——
۱۶؍ جون کو فیصل آباد کی تاریخ میں ایک عظیم تاریخی دن تھا۔ پورے ملک کی دینی و سیاسی طاقت یہاں پر جمع ہوئی۔ ماڈل ٹاؤن سی میں مجلس عمل کی میٹنگ مولانا سید محمد یوسف بنوری کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا خواجہ خان محمد ۔ سردار میر عالم خان لغاری ۔ بندہ تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا مفتی محمود، مولانا عبدالحق مولانا عبید اللہ انور، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا صاحبزادہ فضل رسول، مولانا سید محمود احمد رضوی، میاں فضل حق، مولانا عبد القادر روپڑی، مولانا محمد اسحاق رحیم، شیخ محمد اشرف، مولانا محمد شریف اشرف، مولانا محمد صدیق، علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا مفتی زین العابدین مولانا علی غضنفر کراروی، مولانا محمد اسماعیل، سید مظفر علی شمسی، میجر اعجاز رانا ظفر اللہ خان، نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا عبید اللہ احرار اور مولانا
سید عطاء المنعم بخاری ، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ ، چوہدری صفدر علی رضوی ، ملک عبدالغفور انوری ، مولانا غلام اللہ خاں سید عنایت اللہ شاہ بخاری، مولانا غلام علی اوکاڑوی ، سید محمود شاہ گجراتی ، مفتی سیاح الدین ، مولانا محمد چراغ سید نور الحسن بخاری ، مولانا عبدالستار تونسوی ، مولانا خلیل احمد قادری ، آغا شورش کاشمیری ، ارباب سکندر خان ، امیر زادہ ، پروفیسر غفور احمد، چوہدری غلام جیلانی ، مولانا ظفر احمد انصاری ، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف اور دوسرے حضرات شریک ہوئے ۔ مولانا سید محمد یوسف بنوری صدر قرار پائے ۔ ناظم اعلیٰ سید محمود احمد رضوی ، ناظم مولانا محمد شریف جالندھری ، نائب صدر مولانا عبدالستار خان نیازی ، سید مظفر علی شمسی ، مولانا عبدالحق ، مولانا عبدالاحد نوابزادہ نصر اللہ خان ، خازن میاں طفیل محمد کو بنایا گیا ۔
۱۶؍ جون کی شام کو فیصل آباد کی تاریخ کا عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا ۔ ملک بھر سے آئے ہوئے مختلف رہنماؤں نے دھواں دھار تقریریں کیں بھٹو صاحب کی ریڈیو ، ٹی وی کی تقریر کو ناقابل قبول قرار دیدیا گیا ۔ مجلس عمل کے اجلاس کی تمام قراردادوں کو مولانا محمد شریف جالندھری اور پروفیسر غفور احمد نے مرتب کیا پورے ملک میں قادیانیوں کے بائیکاٹ کی تحریک زوروں پر تھی ۔ کراچی سے خیبر تک مسلمان عوام قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لئے اپنی تمام صلاحیتوں کو وقف کئے ہوئے تھے۔
۲۰؍ جون کو سرحد اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی متفقہ سفارشی قرارداد پاس کی ۔ ۲۲؍ جون کو قادیانی مسئلے کے متعلق حکومت نے مری میں اجلاس منعقد کیا اس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے جس میں ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا فیصلہ بھی شامل تھا ۔ ۲۳؍ جون کو شاہ احمد نورانی نے
صمدانی کمیشن کے سامنے بیان دے کر مرزائیوں پر بوکھلاہٹ طاری کر دی۔ یکم جولائی سے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔ حزب اقتدار و حزب اختلاف نے متفقہ طور پر قومی اسمبلی کو ایک کمیٹی قرار دے کر اجلاس شروع کر دیا۔ ربوہ کے مرزائیوں کے پوپ مرزا ناصر اور لاہوریوں کے مولوی صدر الدین کو قومی اسمبلی میں بلایا گیا۔ انہوں نے اپنا موقف بیان کیا۔ تمام ممبران سوالات لکھ کر یحییٰ بختیار اٹارنی جنرل کی معرفت ان پر سوالات کرتے تھے مولانا مفتی محمودؒ نے یحییٰ بختیار کی دینی و شرعی امور میں معاونت کی۔ ١٩ جولائی کو مرزا ناصر صمدانی کمیشن کے سامنے پیش ہوا ۔ ہائیکورٹ میں مرزا ناصر کی پیشی سے قبل اجلاس کو کھلا عام کی بجائے بند قرار دے دیا گیا۔ تمام جماعتوں نے اپنے وکلاء کے ذریعہ اس تحقیقاتی کمیشن میں اپنا فرض ادا کیا۔ ٢٠ جولائی کو مرزائی نواز عناصر اور بعض حکومتی ارکان و علماء سوء نے اپنی ایک لے پالک ایجنسی کو ہزاروں روپے دیکر مولانا سید محمد یوسف بنوری کے خلاف اخبارات میں اشتہارات لگوائے ۔ شیخ بنوری کو مشکوک قرار دینے کی بجائے عوام نے حکومت اور مرزائیوں کو مجرم قرار دیا۔ غرضیکہ مرزائی و مرزائی نواز تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لئے جتنے حیلے اختیار کئے گئے اتنا ہی ان کے خلاف عوام میں اشتعال پھیلتا گیا ۔
مرزائیوں نے اپنے عقائد کو توڑ مروڑ کر ایک اخبار میں اشتہار دیا ۔ اتنا شدید ردّ عمل ہوا کہ دوسرے روز اس اخبار نے اپنی طرف سے مرزائیوں کے کفریہ عقائد و ملک دشمن سرگرمیوں پر مشتمل اشتہار شائع کیا۔ مجلس عمل فیصل آباد کی طرف سے بھی مرزائیوں کے عقائد پر مشتمل ایک اشتہار مرزائیوں کے اشتہار کے جواب میں اخبارات میں شائع کر دیا گیا ۔ غرضیکہ ہر طرح دشمن کے تمام ہتھکنڈوں کو غیر موثر کر کے رکھ دیا گیا ۔ اب اس پر جرح ہونا تھی ۔
٢٤ جولائی کو مرزا ناصر کا اسمبلی میں بیان مکمل ہوا۔ اس پر باقی ارکان تو درکنار پیپلز پارٹی کے غیر جانبدار ارکان اس درجہ برافروختہ تھے کہ انہوں نے مرزا ناصر پر درشت لہجہ میں جرح کی۔ اس کے بعض گستاخانہ کلمات پر حاضر ارکان نے سخت الفاظ میں اسکو ٹوکا ۔ تمام ارکان اسمبلی قادیانیت کے خارج از اسلام ہونے پر متفق ہو گئے ۔ مرزائیوں کے قومی اسمبلی میں بیانات کے جواب کے لئے مولانا سید محمد یوسف بنوری کی سربراہی میں مولانا تقی عثمانی (حال جج سپریم کورٹ اپیل شریعت بنچ ) مولانا سمیع الحق (حال ممبر سینیٹ) نے ”ملت اسلامیہ کا موقف“ نامی کتاب مرتب کی ۔ مذہبی حصہ کے لئے مولانا تقی عثمانی کی معاونت مولانا محمد حیات فاتح قادیان ۔ مولانا عبدالرحیم اشعر نے کی سیاسی حصہ کے لیے مولانا سمیع الحق کی معاونت مولانا محمد شریف جالندھری اور بندہ تاج محمود نے کی ۔ کتاب کا جتنا حصہ مکمل ہوتا رات کو مولانا مفتی محمود ، مولانا شاہ احمد نورانی پروفیسر غفور احمد ، چودھری ظہور الٰہی سن لیتے اس میں ترمیم و اضافہ کر کے مسودہ کتابت کے لئے ملک عزیز کے نامور کاتب جناب سید انور حسین نفیس رقم کے سپرد کر دیا جاتا ۔ کاتبوں کی ایک ٹیم کے ہمراہ وہ اس کی کتابت کرتے جاتے مختصر وقت میں جامع کتاب تیار کر کے چھپنے کے لئے دیدی گئی اس کے اور تحریک کے تمام تر مصارف مجلس نے برداشت کئے ۔
اس سلسلہ میں ایک روز عجیب مسئلہ در پیش آیا ۔ مجلس عمل کا ایک خصوصی اجلاس جاری تھا تحریک کے اخراجات کے لئے فنڈ کا مسئلہ زیر بحث آیا چوہدری ظہور الٰہی نے تجویز پیش کی کہ تمام ارکان اور مجلس عمل میں شامل جماعتیں پانچ پانچ ہزار روپیہ میاں فضل حق خازن کے پاس اخراجات کے لئے جمع کرا دیں ۔
مزید اخراجات کے لئے بعد میں غور کر لیا جائے گا۔ مولانا محمد یوسف بنوری نے مجھے اور مولانا محمد شریف جالندھری کو علیحدہ لے جاکر فرمایا کہ تمام جماعتوں نے اپنی ضروریات و اخراجات کے لئے فنڈ کیا ہے ان میں سے کسی نے ختم نبوت کے لئے فنڈ نہیں کیا تو ان کی رقوم کو ختم نبوت پر کیسے خرچ کریں۔ البتہ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اسی مد کیلئے فنڈ کیا ہے اس لئے مجلس ہی تمام اخراجات اپنے محفوظ فنڈ سے ادا کرے۔ میں نے اور مولانا محمد شریف نے درخواست کی کہ حضرت ہمارے پاس تو مبلغین و ملازمین لٹریچر پر مجلس کے اتنے اخراجات ہیں کہ اگر یہ فنڈ اس پر لگا دیا گیا تو ہمارا پورا کام ٹھپ ہو جائے گا۔ اس وقت شیخ بنوری پر عجیب کیفیت طاری تھی۔ مخاطب ہو کر ہمیں فرمایا کہ "مولانا صاحبان جو مجلس کے پاس ہے وہ بلا دریغ خرچ کریں آئندہ کے اخراجات کے لئے فکر نہ کریں۔ یوسف بنوری کا ہاتھ خدا تعالیٰ کے خزانوں میں ہے جتنی ضرورت ہوگی خدا تعالیٰ کے خزانہ سے نکال لوں گا" اس پر ہم آمادہ ہو گئے۔ چنانچہ تحریک کے تمام اخراجات مجلس نے برداشت کئے
مجلس عمل کی قادیانیوں کے خلاف بائیکاٹ کی تحریک نے مرزائیت کی کمر توڑ دی۔ ان پر بوکھلاہٹ طاری ہوگئی۔ کئی مرزائی مسلمان ہوئے۔ اخبارات میں مرزائیت سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ بعض جگہ کچھ مسلمان مرزائیوں کی فائرنگ سے شہید ہوئے۔ مرزائیوں کی اشتعال انگیز حرکتوں کا ردعمل مرزائیوں کے احتساب کے لئے مزید سخت ہوتا گیا۔ تحریک جاری رہی ملک بھر کے تمام مکاتب فکر نے اپنی ہمت و توفیق کے مطابق تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں سعودی عرب کی
بعض اہم شخصیات نے حکومت کو مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مشورہ دیا ۔ مصر کے جامعہ ازہر کے شیوخ نے مرزائیوں کے بائیکاٹ کو واجب قرار دیدیا اس سے رائے عامہ مزید پختہ ہو گئی ۔ تحریک کو بہت فائدہ پہنچا ۔ بھٹو حکومت کا بھی تحریک کے بارے میں مناسب رویہ تھا اکا دکا واقعات کے علاوہ کہیں تحریک نے خطرناک شکل اختیار نہ کی ۔ پُر امن جدوجہد کو مرزائی تشدد کی راہ پر ڈالنے میں ناکام رہے ۔ البتہ حکومت نے فوری مطالبہ ماننے کی بجائے طویل المیعاد سکیم تیار کی ۔ اس سے وہ عوام کے حوصلہ کا امتحان یا اپنی گلو خلاصی کی شکل نکالنا چاہتے تھے ۔ بعض جگہ گرفتاریاں ، بعض جگہ لاٹھی چارج و اشک آور گیس استعمال ہوئی ، لیکن مجموعی طور پر حالات کنٹرول میں رہے ۔ حکومت نے اندازہ لگا لیا کہ مسلمان حضور علیہ السلام کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں اب مسئلہ کو حل کئے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے ۔ قومی اسمبلی میں مسئلہ لیجا کر بھٹو صاحب ایک آئینی راہ اختیار کر کے ثابت کرنا چاہتے تھے کہ وہ آئین کی بالا دستی کے قائل ہیں ۔ وہ تنہا ہی اس کی پوری ذمہ داری بھی اپنے سر لینے کے لئے آمادہ نہ تھے مولانا مفتی محمود مرحوم نے قومی اسمبلی میں "ملت اسلامیہ کا موقف" نامی کتاب پڑھی ۔ تمام ارکان اسمبلی میں اسے تقسیم کیا گیا مولانا غلام غوث ہزاروی نے اپنی طرف سے قادیانیوں اور لاہوریوں کے جواب میں مواد جمع کر کے شائع کر دیا اور اسمبلی میں اسے پڑھا ۔ اللہ رب العزت کا فضل ہے کہ ان ساری کوششوں کے بڑے خوشگوار اثرات مرتب ہوئے ۔
ممبران اسمبلی پر پہلے رواداری کا بھوت سوار تھا ۔ مرزا ناصر نے جب
جرح کے دوران تسلیم کیا کہ وہ لوگ جو مرزا کو نہیں مانتے ہم ان کو کافر سمجھتے ہیں تو اس سے ممبران اسمبلی کی آنکھیں کھلیں کہ یہ تو ہم کو بھی کافر سمجھتے ہیں۔ امت کا موقف جب پیش کیا گیا تو ان ممبران کے سامنے مرزائیت کا کفر الم نشرح ہو گیا۔
حکومت اور مجلس عمل نے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لئے ایک سب کمیٹی تشکیل کی۔ مجلس عمل کی طرف سے مولانا مفتی محمود مولانا شاہ احمد نورانی پروفیسر غفور احمد اور چوہدری ظہور الٰہی حکومت کی طرف سے عبدالحفیظ پیرزادہ مولانا کوثر نیازی اور لاء سیکرٹری افضل چیمہ اس کے ممبران مقرر ہوئے۔ اس کمیٹی کے کئی اجلاس ہوئے۔ مگر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔
کمیٹی کے سرکاری ارکان لمبا کرو اور لٹکاؤ کی پالیسی پر گامزن تھے۔ ان کی ٹال مٹول کی کیفیت نے بحرانی شکل اختیار کر لی۔ قومی اسمبلی کے فیصلے کے لئے ۷ ستمبر کی تاریخ کا بھی اعلان کر دیا گیا تھا۔
۲۵ اگست کو مرزا ناصر پر گیارہ روزہ جرح مکمل ہوئی۔ سات گھنٹے لاہوری مرزائیوں کے سربراہ صدر الدین پر جرح ہوئی۔ قومی اسمبلی کی کارروائی سے ہمارے ارکان مطمئن تھے۔ مگر حکومت گومگو کی کیفیت سے دوچار تھی۔
۷ ستمبر کو شاہی مسجد لاہور میں عظیم الشان تاریخی جلسہ عام منعقد ہوا۔ ملک بھر کے دینی و سماجی اور سیاسی رہنماؤں نے اس جلسہ سے خطاب کیا۔ پورے ملک بالخصوص پنجاب سے عوام کے پُرجوش قافلے شریک ہوئے شاہی جامع مسجد لاہور اپنی تمام وسعتوں کے باوجود ناکافی ثابت ہوئی۔ چاروں طرف سر ہی سر نظر آتے تھے۔ حد نگاہ تک انسانوں کا سمندر
ٹھاٹیں مار رہا تھا ۔ اس سے قبل بھٹو صاحب بلوچستان گئے ۔ تو فورٹ سنڈیمن اور کوئٹہ کے اجتماعات میں عوام نے مرزائیت کے خلاف اتنا اظہار نفرت کیا کہ بھٹو صاحب جیسے مضبوط اعصاب کے انسان کا بھی دم گھٹنے لگا ۔ گجرات کے ایس پی شریف احمد چیمہ کی بعض حماقتوں کے باعث کھاریاں کے نواحی گاؤں ڈنگہ میں دو مسلمان نوجوان غلام نبی اور محمد یوسف پولیس فائرنگ سے شہید ہو گئے ۔ مولانا محمد یوسف بنوری کی قیادت میں ملک بھر میں کہیں بھی تحریک کو مدہم نہ ہونے دیا گیا ۔ جوں جوں وقت بڑھتا گیا ۔ حکومت اور مرزائیوں کے لئے مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا ۔ ظفر اللہ قادیانی نے بیرونی دباؤ ڈالنے اور بین الاقوامی پریس کے ذریعہ بیان بازی سے حکومت کو جھکانا چاہا لیکن عوام کے بے پناہ جذبے نے حکومت کو ایسا نہ کرنے دیا ۔ غرضیکہ کفر و اسلام دونوں نے اپنے تمام تر وسائل کو میدان کارزار میں جھونک دیا تھا ۔
مجلس عمل نے ۴ ستمبر کو راولپنڈی تعلیم القرآن راجہ بازار میں اپنا اجلاس طلب کیا ہوا تھا ، ۶ / ۷ ستمبر کی درمیانی رات کو اسی دارالعلوم کی وسیع و عریض جامع مسجد میں آخری جلسہ عام منعقد ہونے والا تھا ۔ اس کے بعد تحریک نے ۷ ستمبر کے بعد نیا رخ اختیار کرنا تھا ۔ ۵ ستمبر رات کے آخری حصہ میں راولپنڈی کے لئے میں روانہ ہوا ۔ پلیٹ فارم کے قریب سے گزرا کوئی ۳ بجے کا عمل ہو گا ۔ اس وقت فوجی مال گاڑیوں کے ڈبوں سے ٹینک توپ بردار گاڑیاں اور اسلحہ اتار رہے تھے فوج کی مسلح آمد اور اس تیاری کے تیور دیکھ کر میں بھانپ گیا کہ یہ سب کچھ ۷ ستمبر کے بعد تحریک کو کچلنے کے لئے ہے ۔
دوسری بات جو میرے نوٹس میں آئی وہ یہ تھی کہ ۴/۵ ستمبر کو مرزائیوں نے ملک بھر کی فون کی ڈائریکٹریوں سے پتہ جات لے کر مرزا قادیانی کی صداقت کے دلائل اور اسے قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل خطوط ارسال کئے ۔ ۶؍ ستمبر کو چھٹی تھی ۔ مرزائیوں کا خیال تھا کہ ۷؍ ستمبر کو جب یہ ڈاک مسلمانوں کو ملے گی اس وقت تحریک کے رہنماؤں کی لاشیں سڑکوں پر ہوں گی ۔ تحریک کچلی جا چکی ہوگی ۔ قوم کے حوصلے پست ہوں گے مرزا کی صداقت کا یہ خط ایک عظیم پیشگوئی کا کام دے جائیگا ۔
تیسرا یہ کہ ۳/۴ ستمبر کو ڈی ۔ سی فیصل آباد آفس میں ایک خاص واقعہ پیش آیا ۔ جس کی اطلاع اسی دن شام کو مجھے مل گئی تھی ۔ وہ یہ کہ مرکزی حکومت کی طرف سے ایک سربمہر لفافہ جس پر ٹاپ سیکریٹ لکھا تھا ، موصول ہوا ۔ اتفاق سے جس کلرک نے اس دن ڈاک کھولی وہ مرزائی تھا ۔ اس نے یہ لفافہ دیکھتے ہی بھانپ لیا کہ یہ چٹھی ڈی سی صاحب کے نام مرکزی حکومت کی طرف سے تحریک ختم نبوت کے متعلق تازہ ہدایات پر مشتمل ہو گی ۔ چوری چوری اس لفافہ کو اس نے کھول لیا اور اس کی باہر سے فوٹوسٹیٹ کاپی کرائی اور امیر جماعت مرزائیہ فیصل آباد کو مہیا کر دی ۔ واقعی وہ چٹھی تحریک ختم نبوت کے متعلق تھی جس میں صوبائی ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایات بھیجی گئی تھیں کہ ۷؍ ستمبر کے بعد جو تحریک ختم نبوت میں مزید شدت آنے والی ہے اسے سختی سے کچل دیا جائے ۔ ایک اے ۔ ایس ۔ آئی کو بھی گولی چلانے اور بغیر نوٹس دئیے ، کسی مکان میں داخل ہونے ۔ تلاشی لینے ۔ جس کو مناسب سمجھے گرفتار کرنے کے اختیار ہوں گے اس چٹھی کا فوٹو سٹیٹ مرزائی جماعت کے امیر کو اور اصل چٹھی کو ڈی سی آفس کے سٹاف روم میں میز کے نیچے ڈال دیا ۔ اسی روز اس مرزائی کے علاوہ ایک مسلمان کلرک نے بھی کچھ ڈاک کھولی تھی ، کچھ
دیر بعد تیسرے کلرک کی میز کے نیچے سے اس چٹھی پر کسی کی نظر پڑگئی۔ اسے اٹھایا گیا تو اسکی سیل ٹوٹی ہوئی تھی۔ اس صورت حال سے تمام کلرک پریشان ہوگئے کہ یہ چٹھی کیوں کھولی گئی، کس نے کھولی اس لئے کہ اسے تو ضابطہ کے مطابق ڈی سی صاحب کے سامنے کھولنا تھا۔ معاملہ سنگین تھا۔ ڈی سی صاحب کے نوٹس میں لایا گیا انہوں نے مسلمان کلرک اللہ رکھا کو معطل کر دیا۔ سپرنٹنڈنٹ ڈی سی آفس مسلمان اور سمجھدار شخص تھا۔ اس نے کہا کہ یہ دیکھا جائے کہ کھولنے سے قبل لفافے کے کونہ پر کس کے دستخط ہیں۔ اس لئے کہ ڈی سی آفس کی ڈاک کھولنے سے پہلے ہر لفافہ پر کھولنے والا اپنے دستخط کرتا ہے جب وہ دستخط دیکھے گئے تو وہ مرزائی کلرک کے تھے اللہ رکھا مسلمان کلرک بحال ہو گیا۔ اور مرزائی کلرک کو معافی مانگنے پر معاف کر دیا گیا۔ اس چٹھی اور پورے ملک میں حکومت پولیس و فوج کے عمل سے مرزائیوں نے اندازہ لگا لیا کہ تحریک کچلی جائے گی اس لئے انہوں نے خطوط لکھے
۶ ستمبر کی صبح گورنمنٹ ایم این اے ہاسٹل میں مولانا مفتی محمود کے کمرہ میں مجلس عمل کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں مولانا سید محمد یوسف بنوری مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد، چودھری ظہور الٰہی، امیرزادہ خان عبدالولی خان، نوابزادہ نصر اللہ خان، مفتی زین العابدین، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالرحیم اشرف، میاں فضل حق اور بندہ تاج محمود شریک ہوئے۔ میں نے یہ تینوں واقعات گوش گزار کئے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان نے میری معلومات کی تصدیق کرتے ہوئے لاہور میں فوج کی پوزیشن سنبھالنے کے چشم دید واقعات بیان کئے۔ مجلس پر سناٹا طاری رہا۔ چودھری ظہور الٰہی نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ حکومت ہمارے مطالبات مان لے گی
اور آج ان کا فیصلہ ہو جائے گا ۔ ہماری معلومات کے خلاف ان کی یہ بات ہمارے لئے اچنبھہ معلوم ہوئی، دوستوں نے پوچھا کہ آپ کے پاس کیا شواہد ہیں ۔ اس پر چوہدری صاحب نے کہا کہ کل مسز بندرانائیکے وزیر اعظم سری لنکا پاکستان کے دورہ پر آئی تھیں ۔ ان کے اعزاز میں بھٹو صاحب نے ضیافت دی ۔ تمام اپوزیشن رہنماؤں کو بلایا گیا ۔ کھانے کی میز پر تمام کے ناموں کی چٹیں لگی ہوئی تھیں ۔ کوئی اپوزیشن رہنما اس میں شریک نہ ہوا ۔ اتفاق سے میں چلا گیا ۔ کھانا کھانے سے فارغ ہوئے تو مسز بندرانائیکے اور وزیر اعظم بھٹو صاحب دونوں بیرونی گیٹ کے پاس آکر کھڑے ہو گئے ۔ ہر جانے والے کو الوداع کہہ رہے تھے میں اس روش پر چلتا ہوا بھٹو صاحب کے قریب پہنچا تو میرا دل ان سے ملاقات کے لئے آمادہ نہ ہوا ۔ راستہ چھوڑ کر پلاٹ سے گزر کر گیٹ کے ایک سائیڈ سے گزرنا چاہا ۔ بھٹو صاحب نے مجھے فوراً آواز دی ظہور الٰہی مل کر جاؤ چھپ کر کیوں جا رہے ہو ۔ میں واپس لوٹ کر بھٹو صاحب سے ملا تو انہوں نے مجھے کہا کہ چوہدری ظہور الٰہی تمہیں کیا ہو گیا ہے تو میرا جانی دوست تھا ۔ میں نے تیرا کیا بگاڑا ہے کہ تو میرا سخت مخالف ہو گیا ہے ۔ اتنے میں لاء سیکرٹری افضل چیمہ آگئے ۔ بھٹو صاحب نے ان کو کہا کہ چیمہ صاحب آپ ظہور الٰہی کو سمجھائیں اس کو کیا ہو گیا ہے یہ آپ کا میرا دونوں کا دوست تھا خدا جانے میں نے اس کا کیا قصور کیا ہے کہ اب یہ مجھے جلسوں اور جلوسوں میں گالیاں دیتا ہے ۔ میری سی آئی ڈی کی رپورٹ یہ ہے کہ یہ اگر گھر پر ہو اور کوئی مخاطب نہ ہو تو بھی مجھے گالیاں دیتا رہتا ہے چوہدری ظہور الٰہی صاحب نے کہا کہ جناب ایسے نہیں ہے آپ کے ہمارے اصولی اختلافات ہیں ہم اخلاص اور نیک نیتی سے آپ پر تنقید کرتے ہیں اب ختم نبوت کا مسئلہ
آپ کے سامنے ہے اسے حل کیجئے اور قوم کے ہیرو بن جائیے ۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ اگر میں ۱۴؍ جون کو ( ملک گیر ہڑتال کے دن ، لاہور کی تقریر کے دن اس مسئلہ کو مان لیتا تو ہیرو بن سکتا تھا لیکن بعد از خرابی بسیار مسئلہ ماننے سے ہیرو کیسے بن سکتا ہوں ۔ افضل چیمہ نے کہا کہ بھٹو صاحب باقی علماء کو تو مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر اتنا اصرار نہیں ہے البتہ چوہدری ظہور الٰہی صاحب بڑا اصرار کر رہے ہیں اڑا ہوا ہے اور ضد کر رہا ہے میں نے کہا کہ بھٹو صاحب یہ چیمہ صاحب آپ کے سامنے اپنے نمبر بنا رہے ہیں ۔ میں ضد نہیں کر رہا۔ علماء کرام کا اپنا موقف ہے وہ میرے تابع نہیں ہیں ایک دینی موقف اور شرعی امر پر علماء کرام کو یوں مطعون کرنا چیمہ صاحب کے لئے مناسب نہیں ہے اور صرف علماء کرام نہیں بلکہ اس وقت تمام اسلامیان پاکستان اس مسئلہ کو حل کرانے کے لئے سراپا تحریک بنے ہوئے ہیں۔ دنیائے اسلام کی نگاہیں اس مسئلہ کے لئے آپ کی طرف لگی ہوئی ہیں دنیائے عالم کے مسلمان اس مسئلہ کا مثبت حل چاہتے ہیں۔ اسے صرف مولویوں کا مسئلہ کہہ کر چیمہ صاحب آپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔ علماء کرام قطعاً اس مسئلہ میں کسی بھی قسم کی معمولی سی لچک پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں آپ اس بارے میں علماء کرام سے خود دریافت کر لیں بلکہ میں ایسے عالم دین کا نام بتاتا ہوں جو آپ کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں آپ ان سے پوچھ لیں کہ مسئلہ ختم نبوت فروعی امر ہے یا دین کا بنیادی مسئلہ ہے اس کا تحفظ کرنا مسلمان حکومت کے لئے ضروری ہے یا نہیں۔ بھٹو صاحب نے کہا کون سے عالم دین ۔ میں نے کہا کہ مولانا ظفر احمد انصاری ۔ آپ ان سے پوچھ لیں اگر وہ ختم نبوت کے مسئلہ کو فروعی مسئلہ سمجھتے ہوں تو میں وعدہ
کہتا ہوں کہ ہم تحریک سے لاتعلق ہو جائیں گے۔ بھٹو صاحب نے چیمہ صاحب کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ مجھے (ظہور الٰہی) ساتھ لے کر مولانا ظفر احمد انصاری سے ملیں اور ان کا موقف معلوم کریں۔ چنانچہ اب وقت ہو گیا ہے چیمہ صاحب میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ ہم دونوں نے مولانا ظفر احمد انصاری سے ملنا ہے مولانا مفتی زین العابدین اور مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف کے چیمہ صاحب اور مولانا ظفر احمد انصاری سے اچھے تعلقات تھے۔ چیمہ صاحب تو ویسے بھی فیصل آباد کے علاقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ چنانچہ طے ہوا کہ یہ دونوں حضرات بھی آپ کے ساتھ جائیں۔ چوہدری ظہور الٰہی، افضل چیمہ، حکیم عبدالرحیم اشرف، مولانا مفتی زین العابدین اور مولانا ظفر احمد انصاری کی طویل گفتگو ہوئی۔ مولانا ظفر احمد انصاری نے صراحۃً فرمایا کہ ختم نبوت کا مسئلہ دین کا بنیادی مسئلہ ہے اس کو فروعی مسئلہ قرار دینا غلط ہے۔ حقیقت میں خود افضل چیمہ اس مسئلہ میں ضد کر رہے تھے۔ تمام حضرات کی گرفت سے چیمہ صاحب زچ ہو گئے تو ہاتھ جھٹک کر کہا کہ اگر آپ لوگ ملک کی جڑیں اس طرح کھوکھلی کرنا چاہتے ہیں تو بڑے شوق سے جو چاہے کر جائیے بہرحال مولانا ظفر احمد انصاری کی ملاقات کی رپورٹ بھٹو صاحب کو دی گئی۔
اس کے بعد قومی اسمبلی کے دفاتر میں سب کمیٹی کا اجلاس تھا۔ ظہور الٰہی، مولانا مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد، مولانا شاہ احمد نورانی، حفیظ پیرزادہ، مولانا کوثر نیازی، افضل چیمہ شریک ہوئے۔ اجلاس میں جاتے وقت مولانا مفتی محمود نے ہمیں حکم فرمایا کہ آپ لوگ چل کر راجہ بازار میں
مجلس عمل کی میٹنگ کریں ۔ میں نے مفتی محمود صاحب سے استدعا کی کہ سب کمیٹی کی مثبت یا منفی جو بھی کارروائی ہو ہمیں حکومت کے روّیے سے ضرور باخبر رکھیں تاکہ اسکی روشنی میں ہم مجلس عمل میں اپنی پالیسی طے کر سکیں ۔ دارالعلوم میں میٹنگ شروع ہوئی آغا شورش کاشمیری کی صحت ناساز تھی وہ میٹنگ میں لیٹ شریک ہوئے ۔ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری نے اجلاس کی صدارت فرمائی ۔ سید مظفر علی شمسی ، سید محمود احمد رضوی ، مولانا خواجہ خان محمد صاحب مولانا محمد شریف جالندھری، سردار میر عالم خان لغاری ، بندہ تاج محمود ، مفتی زین العابدین ، حکیم عبدالرحیم اشرف ، علی غضنفر کراروی ، مولانا غلام اللہ خان مولانا غلام علی اوکاڑوی ، مولانا احسان الٰہی ظہیر ، مولانا عبید اللہ انور ، نوابزادہ نصر اللہ خان ، خان محمد زمان خان اچکزئی ، مولانا محمد علی رضوی ، مولانا عبدالرحمن جامعہ اشرفیہ ، مولانا صاحبزادہ فضل رسول حیدر اور دوسرے کئی حضرات شریک اجلاس ہوئے ۔ پوری مجلس عمل اس پر غور کر رہی تھی کہ اگر حکومت مطالبات تسلیم نہ کرے تو پھر ہمیں تحریک کو کن خطوط پر چلانا ہوگا ۔ اور اب مرزائیوں سے زیادہ حکومت سے مقابلہ ہوگا ۔ سبھی حضرات تحفظ ناموس ختم نبوت کے لئے جان کی بازی لگانے پر تیار تھے اتنے میں مولانا مفتی محمود صاحب کا فون آیا کہ حالات پُر امید ہیں توقع ہے کہ سب کمیٹی کسی متفقہ مسودہ پر کامیاب ہو جائے گی ۔ حفیظ پیرزادہ نے بھٹو صاحب کو فون کر کے سب کمیٹی کی کاروائی سے باخبر کیا بھٹو صاحب نے تمام اراکین کمیٹی کو اپنے ہاں طلب کیا ۔ تھوڑی دیر گفتگو ہوئی بھٹو صاحب نے تمام کا موقف سنا اور کہا کہ اب مزید وقت ضائع نہ کریں رات بارہ بجے دوبارہ اجلاس ہوگا آپ تمام حضرات تشریف لائیں ۔ اس وقت دو ٹوک فیصلہ کریں گے
ہم لوگ اپنی میٹنگ سے فارغ ہوئے امید و یاس کی کیفیت طاری تھی۔ میں سخت پریشان تھا بھٹو صاحب جیسے چالاک آدمی سے پالا پڑا تھا۔ کسی وقت بھی وہ جھٹکا دے کر تحریک کو کچلنے کا فیصلہ کر سکتے تھے تمام حالات ہمارے سامنے تھے۔ میں انتہائی پریشانی کے عالم میں مولانا محمد رمضان علوی کے گھر گیا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ اگر فیصلہ صحیح نہ ہوا تو میری جان نکل جائے گی ان کے ہاں کروٹیں بدلتے وقت گزارا۔ رات کو راجہ بازار کی جامع مسجد میں جلسہ عام منعقد ہوا۔ مقررین نے بڑی گرم تقریریں کیں۔ ہجوم آتش فشاں پہاڑ کی شکل اختیار کئے ہوئے تھا۔ اعلان کیا گیا کہ کل اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو راجہ بازار میں شہیدان ختم نبوت کی لاشوں کا انبار ہوگا۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا جلسہ کی تقریروں میں شدت پیدا ہوتی جا رہی تھی بھٹو صاحب جلسہ کی ایک ایک منٹ کی کارروائی سے باخبر تھے۔ تمام حالات انکے سامنے تھے رات بارہ بجے حسب پروگرام بھٹو صاحب کی صدارت میں کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ پنڈی میں جلسہ ہو رہا تھا۔ اسلام آباد میں میٹنگ ہو رہی تھی۔ ۱ ۱/۲ بجے کے قریب مولانا مفتی محمود مولانا شاہ احمد نورانی پروفیسر غفور احمد اور چوہدری ظہور الٰہی ڈیڑھ گھنٹے کے مذاکرات کے بعد جلسہ میں تشریف لائے۔ مولانا مفتی محمود صاحب نے سٹیج پر چڑھنے سے قبل مجھے اشارہ سے بلوایا اور فرمایا مبارک ہو کل آپ کی انشاء اللہ العزیز جیت ہوجائے گی۔ لیکن اس کا ابھی افشاء نہ کریں کہ حکومت کا اعتبار نہیں ہے۔ میں سٹیج پر آیا شیخ بنوری کے کان میں کہا کہ افشاء نہ کریں لیکن آپ کو مبارک ہو۔ شیخ بنوری کے منہ سے بے ساختہ زور سے نکلا ۔ الحمد اللہ جس سے اکثر لوگ میری سرگوشی اور مولانا کے الحمد اللہ کا مطلب سمجھ گئے۔ بھٹو صاحب بڑے ذہین آدمی تھے۔ وہ پہلے سے فیصلہ دل
میں کئے ہوئے تھے کہ مسئلہ کو عوام کی خواہشات کے مطابق حل کر کے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیں گے ۔ لیکن وہ اس مسئلہ کی مشکلات اور رکاوٹوں سے باخبر تھے ۔ وہ یہ جانتے تھے کہ اس طرح جلدی سے فیصلہ کرنے سے امریکہ برطانیہ، فرانس ،مغربی جرمنی کی حکومتیں مجھ پر زبردست دباؤ ڈالیں گی اس نے پیرزادہ کو کہا کہ آپ لوگ گھر جا کر آرام کریں کل ایک دن میں قومی اسمبلی ایوان بالا دونوں سے متفقہ قرارداد منظور کرالوں گا کہ مرزائی غیر مسلم ہیں اور اور ان کا نام غیر مسلم اقلیتوں میں شامل کر دیا جائیگا ۔ صوبائی ڈویژنل ضلعی انتظامیہ کو تحریک کو کچلنے کی ہدایات، فوج کا اسلحہ سمیت شہروں میں متعین ہونا یہ محض مرزائی و مرزائی نواز طاقتوں کی توجہ کو دوسری طرف پھیرنے کے لئے تھا ۔
اللہ رب العزت نے فضل فرمایا اور ۷ ستمبر شام کو قومی اسمبلی وسینیٹ نے متفقہ طور پر مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیدیا یوں یہ جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوئی ۔ کفر ہار گیا ۔ اسلام جیت گیا ختم نبوت کا بول بالا ہوا ۔ اس کے منکرین کا منہ کالا ہوا ۔ الحق یعلو ولا یعلیٰ ۔ حق سربلند ہوتا ہے نہ کہ پست ۔ شام کو ریڈیو ٹی وی دوسرے دن اخبارات کے ذریعہ قوم کو جب اس خبر کی اطلاع ہوئی تو وہ خوشی سے پاگل ہو گئے کسی کا اگر فوت شدہ باپ زندہ ہو جائے تو اسے اتنی خوشی نہ ہوگی جتنی اس مسئلہ ختم نبوت کے حل پر ہوئی ۔
سچ ہے اس لئے کہ حضور علیہ السلام کا فرمان ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے ماں باپ، اپنی اولاد اور اپنی جان سے زیادہ مجھے عزیز نہ سمجھے اس حدیث پر عمل کر کے
تحریک ختم نبوت میں مسلمان قوم نے ثابت کر دیا کہ فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے محبت ہی کامل ایمان کی نشانی ہے ۔ تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد ، مرزائیت مردہ باد ۔
۱۸ جنوری ۸۳ء کی شام کو یہاں تک مولانا نے حالات بیان کئے کہ ۱۹ جنوری کی صبح آپ کا انتقال ہوگیا ۔ میرے اللہ مولانا تاج محمودؒ کی تربت پر کروڑوں رحمتیں فرما کہ وہ ختم نبوت کی داستان بیان کرتے کرتے دنیا سے آپ کے پاس حاضر ہوئے ۔ شفاعت محمدیؐ ان کو نصیب ہو اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی سعادت میسر آئے ۔ فقیر اللہ وسایا ۲۶/۷/۸۴
مولانا تاج محمودؒ
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت جو مارشل لاء کی بھینٹ چڑھ کر شہید ہو گئی فیصل آباد میں مولانا تاج محمودؒ کے دم قدم سے چلی ۔ حکومت نے بڑی تگ و دو کے بعد آپ کو گرفتار کیا ۔ لاہور کے شاہی قلعہ میں لایا گیا ۔ اس بوچڑ خانہ میں پولیس کے بعض افسروں نے آپ پر ستم توڑنے کی انتہا کر دی ۔ لیکن اس مردِ خدا نے ہر صعوبت ، ہر تشدد اور ہر اذیت کو خندہ پیشانی سے جھیلا ، اُف تک نہ کی ۔ اپنی استقامت سے قرونِ اولیٰ کی یاد تازہ کر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق کفارِ مکہ کے ظلم سہتے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عشق میں قربان ہوتے تھے ۔ سید
اعجاز حسین شاہ اس زمانہ میں سی آئی ڈی کے ڈی ایس پی اور قلعہ کے انچارج تھے انہوں نے خود راقم الحروف سے ذکر کیا کہ ” تاج محمود قرون اولیٰ کے فدایانِ رسول عربی ص کی بینظیر تصویر تھے ۔ وہ پولیس کے ہر وار پر درود پڑھتا اور عشقِ رسالت ص میں ڈوب جاتا ہے ۔“
(ہفت روزہ چٹان ۔ شورش کشمیری)
کہا جاتا ہے کہ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ۔ مولانا کی زندگی ایسے واقعات سے بھی پُر نظر آتی ہے ۔ اسی طرح کا ایک واقعہ ۱۹۵۳ء کی تحریک کا بھی ہے جب مولانا جامع مسجد کچہری بازار (فیصل آباد) لائلپور میں شمعِ رسالت کے پروانوں کے ایک بے انتہا مجمع سے خطاب کر رہے تھے ۔ وہ قادیانی امت اور اس کے تحفظ کے لیے حکومتِ وقت کے کئے گئے اقدامات کے خلاف بپھرے ہوئے اس مجمع سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں کو سول نافرمانی کی ترغیب دے رہے تھے ۔ مولانا تاج محمودؒ کے دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی یہ آواز مسجد کی گیلری میں کھڑی ایک خاتون بھی ہمہ تن گوش ہو کر سن رہی تھی ۔ کہ مولانا کے شدتِ جذبات سے مغلوب ہو کر اپنی گود کے بچہ کو منبر کی طرف اوپر سے (جہاں مولانا کھڑے ہو کر تقریر کر رہے تھے) مولانا کی طرف اچھال دیا اور پنجابی میں کہا کہ مولوی صاحب میرے پاس ایک یہی سرمایہ ہے اسے سب سے پہلے حضور کی آبرو پر قربان کر دو یہ کہہ کر وہ عورت الٹے پاؤں باہر کی طرف چل پڑی ۔
اس وقت سارا مجمع دہاڑیں مار کر رو رہا تھا ۔ خود مولانا کی آواز گلو گیر اور رندھی ہوئی آواز تھی انہوں نے لوگوں سے کہا کہ لوگو ! اس بی بی کو
جلنے نہ دینا اسے بلاؤ ، بلاؤ ۔ چنانچہ اس خاتون کو بلایا گیا اور مولانا نے اپنے قدموں میں بیٹھے اپنے معصوم اکلوتے بیٹے طارق محمود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بی بی سب سے پہلی گولی طارق محمود کے سینے سے گزرے گی پھر میرے اس بچے کے سینے سے پھر اس مجمع کے تمام افراد گولیاں کھائیں گے اور جب یہ سب قربان ہوجائیں تو اپنے بچے کو لے کر آنا اور اللہ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر قربان کر دینا ۔ یہ کہا اور وہ بچہ اس عورت کے حوالے کر دیا ۔
مولانا تاج محمودؒ مسئلہ ختم نبوت کے اس قدر شیدائی اور فدائی تھے کہ آپ کے لب و لہجہ ، خلوت و جلوت ، تقریر و تحریر سے اسی مسئلہ ختم نبوت کی خوشبو مہکتی تھی ۔ اگر کسی وقت موج میں ہوتے تو فرمایا کرتے تھے کہ میں تو اللہ تعالیٰ سے عرض کروں گا کہ میرا دامن تو خالی ہے بس میرے دامن میں تو تیرے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی خدمت کا قیمتی سرمایہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ۔ اس سرمایہ کی برکت سے رحمتوں کے دروازے کھول دیں گے ۔
ایک دفعہ آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ دل کے مریض ہیں آپ تقریر میں اس قدر جذباتی نہ ہوا کریں اس طرح آپ کے دل کی بیماری کو خطرہ لاحق ہوجائے گا ۔ آپ مسکرا کر فرما دیتے ...... چھوڑو جی ...... ایک دل ہی تو ہے ۔ ہم فقیروں کے پاس یہ بھی اگر اپنے آقا مولا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر نثار نہ کیا تو کیا کمایا ، ہونے دو جو ہوتا ہے ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے ساتھ مرتے دم تک جہاد جاری رکھیں گے ۔ اور یہ صرف زبان تک محدود نہیں بلکہ کر کے دکھا دیا ۔
۲۲ مئی ۱۹۷۴ء کو چناب ایکسپریس کے ذریعہ نشتر میڈیکل کالج ملتان کے ڈیڑھ صد طلباء کا ایک گروپ سیاحت کی غرض سے پشاور کے لئے ربوہ سے گزرا۔ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر قادیانیوں نے حسب معمول لٹریچر تقسیم کیا۔ طلبہ بپھر گئے۔ ختم نبوۃ زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کے نعرے لگائے۔ ٹرین چلی اور روانہ ہو گئے۔ قادیانی جماعت نے ربوہ میں فوراً ہنگامی میٹنگ طلب کی۔ اور مرزا طاہر احمد کی سربراہی میں ان طلبہ کی پشاور سے واپسی پر پٹائی کا فیصلہ کیا۔ ۲۹ مئی ۷۴ء کو طلبہ کا یہ گروپ سپیشل بوگی کے ذریعے چناب ایکسپریس سے واپس ہوا۔ قادیانی تاڑ میں تھے۔ سرگودھا۔ شاہین آباد لالیان سے قادیانی غنڈے اس ٹرین میں سوار ہوئے۔ جبکہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر بیشمار قادیانی اوباش لاٹھیوں اور ہاکیوں ، کلہاڑیوں، خنجروں، تلواروں سے مسلح ہو کر پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے۔ گاڑی جب اسٹیشن پر پہنچی تو بوگی پر قادیانیوں نے حملہ کر دیا۔ طلباء نے سراسیمگی کے عالم میں کھڑکیاں دروازے بند کر دیئے مگر غنڈوں نے ان سب کو توڑ کر طلبہ کو مار پیٹ کر زخمی کیا اور ان پر قیامت قائم کر دی۔ قادیانیت کی بربریت کی یہ بدترین مثال تھی۔ جس کا مرکزی کردار موجودہ قادیانی سربراہ مرزا طاہر تھا۔ سگنل ہو جانے کے باوجود قادیانی اسٹیشن ماسٹر نے گاڑی کو دیر تک اسٹیشن پر روکے رکھا۔ تاکہ قادیانی اپنے بغض و حسد کی آگ بجھا سکیں۔
۲۹ مئی ۷۴ء کو پونے بارہ بجے دن مسجد محمود ریلوے کالونی فیصل آباد کے عقب میں واقع مولانا تاج محمود صاحب کے مکان کا کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ مولانا گئے تو ریلوے کنٹرول کا ایک مسلمان ملازم سخت غم و غصہ پریشانی اور سراسیمگی کے عالم میں سراپا حیرت و استعجاب بنا کھڑا تھا۔ مولانا نے پریشانی
کی وجہ پوچھی اسکی آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور کہا کہ آج چناب ایکسپریس پر سوار طلباء کو مرزائیوں نے ربوہ اسٹیشن پر مارا پیٹا ہے۔ وہ سخت زخمی اور نڈھال ہو کر چناب ایکسپریس کے ذریعہ تھوڑی دیر میں فیصل آباد اسٹیشن پر پہنچنے والے ہیں اس سانحہ فاجعہ کی تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں میں سے سب سے پہلی اطلاع حضرت مولانا تاج محمود مرحوم کو ملی۔
مولانا نے فوراً دفتر ختم نبوت ملتان ۔ فیصل آباد شہر میں خاص خاص احباب کو اطلاع کی۔ اور خود اسٹیشن پر پہنچ گئے۔ مولانا کے پہنچنے سے پہلے ٹرین پہنچ چکی تھی۔ اور ڈاکٹر حضرات ان زخمی طلباء کی مرہم پٹی میں مصروف تھے شدید زخمی طلباء کو گلوکوز وغیرہ دیا گیا اور سخت گرمی کے باعث زخمیوں کو بوگی سے پلیٹ فارم پر ایک برآمدے میں لیٹا دیا گیا مولانا کے فون کرنے سے یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی دیکھتے ہی دیکھتے پورا شہر اسٹیشن پر امڈ آیا ہجوم کے بڑھ جانے سے طلبہ نے فوراً ریلوے انکوائری کے سپیکر سے اپنی درد بھری داستان سنانی شروع کر دی۔ پریس نمائندگان، فوٹو گرافر، ڈپٹی کمشنر صاحب، ایس پی صاحب بھی موقع پر پہنچ گئے۔ طلباء اپنے درد کی کہانی بیان کرتے تو اسٹیشن پر موجود ہجوم سراپا انتقام بن کر نعرہ بازی شروع کر دیتا۔ قیامت کا منظر تھا گاڑی دو گھنٹے لیٹ ہو گئی۔ ڈپٹی کمشنر صاحب، ایس پی صاحب طلباء کو ہسپتال میں داخل کرانا چاہتے تھے، مگر طلبہ اپنے اوپر ہونیوالے ظلم کا بدلہ لینے اور داد رسی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ کہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
ہزاروں کا اجتماع اور طلبہ زخمی حالت میں مرزائیوں کے ظلم و ستم کی منہ بولتی تصویر بنے تھے ایسے وقت میں مولانا مرحوم ہی کا کمال تھا کہ آپ نے اجتماع کے جذبات پر قابو پایا۔ ورنہ کوئی بہت بڑا سانحہ رونما ہو سکتا تھا۔ مولانا
ریلوے اسٹیشن کی دیوار پر چڑھ گئے۔ اجتماع آپ کے قدموں میں جمع ہو گیا۔ آپ نے تقریر کی۔ فرمایا میرے زخمی بیٹو، نوجوان طلبہ عزیزو، تمہارے جسم سے بہنے والے مقدس خون کی قسم میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارے خون کے ایک ایک قطرہ کا قادیانیوں سے انتقام لیا جائے گا۔ قادیانی ملزمان اپنے انجام کو پہنچیں گے آپ حضرات کو ائیر کنڈیشن بوگی میں منتقل کر کے ملتان بھجوایا جا رہا ہے۔ آپ حضرات یقین رکھیں کہ ہم اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں گے جب تک کہ تمہاری داد رسی نہ ہو جائے۔ آپ کے خون کے ایک ایک قطرہ سے قادیانیوں کی موت کے پروانے پر دستخط ہوں گے اگر آپ کے خون کو رائیگاں کر دیا گیا تو میں آپ لوگوں کے سامنے جوابدہ ہوں گا۔ مولانا نے طلباء کو یقین دلایا کہ جو ضربیں ان کے جسم پر لگی ہیں وہ مرزائیت کے تابوت میں آخری میخ ثابت ہونگی اب اس واقعہ کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ ربوہ کے شعبدہ بازوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔ مولانا نے پھر تحریک ۷۴ء کو پروان چڑھا کر مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا اور یوں اپنے وعدہ کا ایفا کیا۔ مولانا کی تقریر نے زخمی طلبا کے دل جیت لئے۔ طلباء کو ٹرین لیکر روانہ ہوگئی مولانا نے فوراً گوجرہ، ٹوبہ شورکوٹ، خانیوال، ملتان جہاں جہاں ٹرین کے سٹاپ تھے۔ احباب کو فون کر کے اسٹیشن پر مظاہرہ کرا دیا۔
مولانا محمد رمضان علوی راولپنڈی بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں سب اکابر کے ساتھ مولانا تاج محمودؒ بھی راولپنڈی تشریف لائے ہوئے تھے۔ میرے درد گردہ کی شدید تکلیف شروع ہوگئی۔ ظہر کے وقت تشریف لائے تھوڑی دیر ٹھہرے فرمایا عصر کے وقت پھر آؤں گا۔ حسب وعدہ تشریف
لائے۔ میرے لڑکے سے کہا بالاخانہ کا کمرہ کھولو اور ابا جی سے کہو جیسے ممکن ہو اوپر آجاؤ۔ بندہ لڑکھڑاتا ہوا حاضر ہوا۔ چائے پیش کی۔ فرمایا کسی چیز کو طبیعت نہیں چاہ رہی۔ چہرے پر نظر ڈالی، زبردست پریشانی کے آثار ہیں، میں نے وجہ پوچھی ۔ بغیر کسی دوسری بات کے فرمایا میرے پہلے بڑے شاطر لوگوں سے واسطہ پڑ چکا ہے مجھے معلوم ہے کہ تجھے شدید تکلیف ہے ۔ سُن میں ایک وصیت کرنے آیا ہوں ۔ یہ لفظ سن کر میں نے کہا مولانا خیریت تو ہے آپ کیوں اِس قدر پریشان ہو رہے ہیں اللہ تعالیٰ کرم فرمائے گا۔ آپ کی قربانیاں رنگ لائیں گی ۔ فرمایا ، چھوڑو اِن باتوں کو میری وصیت سن لو ۔ آج اگر فیصلہ ہمارے خلاف ہوا تو میری روح یقیناً قفس عنصری سے پرواز کر جائے گی اکابر تعلیم القرآن میں جمع ہیں ۔ وہ بھی سوچیں گے ۔ ان کو اطلاع بالکل نہ ہونے پائے میرے جنازہ کو فیصل آباد (لائلپور) پہنچانے کی راتوں رات کوشش کرنا۔ عزیزم طارق محمود کو پہلے فون کر دینا کہ تمہارے والد کو لا رہا ہوں اور اس کو ہر قسم کی تسلی دینا ۔ بولے جا رہے ہیں۔ گھر بچیوں کے متعلق کہے جا رہے ہیں بصد مشکل چپ کرایا ۔ حوصلہ کریں اللہ تعالیٰ مدد فرمائیں گے ابھی آپ کی بہت ضرورت ہے پھر فرمایا ، جہاں میرے آقا کی ناموس کا تحفظ نہ ہو وہاں زندہ رہ کر کیا کرنا ہے کبھی جوش میں آکر بعض الفاظ استعمال کر جاتے ہیں کہ ایسا ہی ہے ۔ نماز مغرب بمشکل نیچے اتر کر مرحوم نے ادا کی ۔ میں نے فکر کی وجہ سے کچھ مقوی اشیاء منگوائیں نماز کے بعد پیش خدمت کیں ۔ فرمایا اب یہ سب چیزیں بیکار ہیں ۔ ۶ ستمبر رات کو راولپنڈی کے جلسہ میں شریک ہوئے ۔۔۔۔۔ اچھی خبریں سن کر آئے ۔۔۔۔۔۔۔ پورا دن مصروف رہے ۔ ۷ ستمبر شام کو میرے گھر آئے ریڈیو منگوایا خبروں کا وقت قریب تھا ۔ سوئچ آن کیا ۔ سکوت طاری تھا ۔ جیسے ہی
مرتدوں مرزائیوں کے غیر مسلم اقلیت کے الفاظ کان میں پڑے۔ شیر کی طرح اُٹھ کر بیٹھ گئے۔ ورنہ ۱/۲ گھنٹہ لیٹے ہی پریشانی میں گزر گئے۔ اب فرمایا گھر میں کچھ تیار ہو منگواؤ کہ مجھے جلد اکابر کے پاس جانا ہے۔ چند نوالے جلدی جلدی سے تناول فرمائے پھر تعلیم القرآن جاکر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہوئے شیروں کی طرح گرجے۔ رات واپس آئے۔ ساری روئیداد سنائی۔ فرمایا اب انشاء اللہ نبوت کاذبہ کے پرخچے اڑ کے رہیں گے۔ یہ کیفیات سوائے سچے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حاصل نہیں ہوتی۔
تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں جامع مسجد فیصل آباد میں جلسہ عام تھا۔ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام جمع تھے۔ بریلوی مکتب فکر کے ممتاز رہنما مولانا صاحبزادہ فضل رسول حیدر کو صدارت کے لئے مسجد کے منبر پر بٹھایا گیا۔ اسٹیج پر رش تھا۔ مولانا تاج محمود مرحوم سمٹ سمٹا کر ان کے قدموں میں بیٹھ گئے۔ علم و عمل بزرگی کے اعتبار سے مولانا تاج محمود صاحب کا عظیم مقام اور مسئلہ ختم نبوت کی خاطر کسی کے قدموں میں بیٹھنا آپ کے اخلاص کی دلیل تھی اس منظر کو دیکھ کر ایک صاحب نے کہا کہ اللہ رب العزت مولانا تاج محمود کے اس ایثار و قربانی کو یونہی ضائع نہ کریں گے۔ تحریک کامیاب ہوگی۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔
حضرت ماسٹر تاج الدین انصاری مرحوم
ماسٹر تاج الدین انصاریؒ جن دنوں میرے ہمراہ قادیان میں مقیم تھے اُنہوں نے ایک بڑا اقدام کر ڈالا اور وہ اقدام اتنا سخت تھا کہ اگر مرزائیوں کے حالات پہلے کی طرح با رعب ہوتے تو اس اقدام کے بدلے اگر ہم سب کو قتل کر دیا جاتا تو بھی ان کی تسکین نہ ہوتی لیکن ہماری طرف کسی نے آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا اور قادیانیوں کے غصّہ کا نشانہ وہی ایک شخص بنا رہا جس نے ارتکاب جرم کیا تھا۔ یہ اس لئے تھا کہ اگر وہ ادھر اُدھر تجاوز کرتے تو ہزاروں قادیانیوں کو اس کا نشانہ بننا پڑتا اور یہ سودا ان کے لئے مہنگا تھا۔ اب اس اقدام کی تفصیل سُنیئے!
ماسٹر تاج الدین صاحب نے یہ کیا کہ اندر ہی اندر ایک نوجوان کو خفیہ طور پر تیار کر لیا کہ ”جب مرزا شریف احمد ہمارے محلہ سے گزر رہا ہو تو اُسے دو ڈنڈے مار کر سائیکل سے گرا دے“۔۔۔ مرزا شریف احمد جو مرزا غلام احمد کا چھوٹا بیٹا اور مرزا محمود کا چھوٹا بھائی تھا، اُس کے دفتر جانے کا راستہ ہمارے محلہ شیخا نوالے میں سے تھا اور وہ ہر روز بلا ناغہ سائیکل پر سوار ہو کر دفتر کو جاتا تھا۔ چنانچہ اس نوجوان نے مرزا شریف احمد پر ڈنڈے رسید کئے اور اُسے سائیکل سے گرا دیا۔ قادیان میں مرزائیوں کے لئے یہ حادثہ عظیم تھا اور ایسا حادثہ مرزائیت کی تاریخ نے اپنے جنم دن سے آج تک کبھی نہ دیکھا تھا۔ اس حادثہ نے مرزائیت میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک تزلزل برپا کر دیا۔ چوہدری ظفر اللہ خاں اس وقت وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر تھے۔ قادیانی جماعت ہر طرف سے واویلا کر رہی تھی اور چشم عبرت مسکراتے ہوئے دل ہی دل میں کہہ رہی تھی کہ ”تم نے انسانی جانوں کو
بیدردی سے ذبح کیا ہے، مخالفوں کے مکانات نذرِ آتش کئے، وہ تمہارے لوح قلب سے ذہول ہو کر رہ گئے۔ اگر عدالتوں نے مجرموں کو سزائیں دیں تو اُن کی مُردار لاشوں کو تمہارے پیشوا نے کندھا دیا اور پھول چڑھائے اور انہیں اپنے ”بہشتی مقبرہ“ میں دفن کیا۔ ان ڈنڈوں سے آج اگر تمہارے صاحبزادے کو چند خراشیں آگئی ہیں تو آسمان سر پر اُٹھا رہے ہو؟ چوہدری ظفراللہ خان نے خود تو جو واویلا کیا سو کیا، مزید برآں اپنی بُوڑھی والدہ کو لیڈی وائسرائے کے پاس بھیج دیا تھا اور اُس نے گلے میں کپڑا ڈال کر لیڈی وائسرائے کے قدموں پر سر رکھ کر زار و قطار رو کر فریاد کی تھی کہ ”ہمارے نبی زادہ کی سر بازار بے عزتی ہوگئی اور ہم کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔“ انگریز مرزائیت کا بڑا حامی تھا اور اپنے خودکاشتہ پودے کی ہر طرح آبیاری کر رہا تھا لیکن وہ حکومت کے اصول جانتا تھا کہ ادھر یہ خراشیں اور اُدھر ذبحِ عظیم؟ ایک نہیں، دو نہیں، کوئی نصف درجن۔ انگریز یہ بھی اچھی طرح جانتا تھا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور اُن کے رُفقاء بے نیام ہو کر نکل آئیں گے اور جرائم کا موازنہ کرنے کے لئے جہاں وہ حکومت کو مجبور کریں گے وہاں عوام میں آتشِ انتقام بھڑکا کر مرزائیوں کا چلنا پھرنا دُوبھر بنا دیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ مرزائیوں نے اصل مجرم کے بغیر کسی دوسرے احراری یا غیر مرزائی کی جانب آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا اور علمی یا لسانی احتجاج سے آگے ایک قدم بھی نہ بڑھایا۔ حالانکہ اس سے پہلے ایسے بیسیوں واقعات رونما ہوئے جنہیں سر زمین قادیان نے ہضم کر دیا تھا اور عوام کے کانوں تک ان کی بھنک بھی نہ پہنچی تھی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے طعمۂِ سر زمین قادیان ہو گئے تھے۔
مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
مولانا مرحوم دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حضرت شیخ الہندؒ کے تلامذہ میں سے تھے۔ اکابر دارالعلوم دیوبند سے محبت اور خلوص رکھتے تھے۔ آپ نے مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی سے مناظرے، مباحثے اور مقابلے کئے، اس لئے آپ کو شیرِ پنجاب کہا جاتا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی نے آخری عمر میں اعلان کیا تھا کہ میں اگر سچا ہوں تو میری زندگی میں مولوی ثناء اللہ کسی وبائی مرض میں مبتلا ہو کر مر جائیں گے اور اگر وہ سچے ہیں تو میں ان کی زندگی میں مر جاؤں گا۔ الحمد للہ حضرت مولانا ثناء اللہؒ کی زندگی میں مرزا قادیانی ہیضہ جو ایک وبائی مرض ہے، اس کا شکار ہو کر آنجہانی ہو گیا۔ اس لئے آپ کو فاتح قادیان کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کا رجحان طبع اہل حدیث مسلک کی طرف تھا۔
مولانا امرتسریؒ لکھتے ہیں : جس طرح مرزا کی زندگی کے دو حصے ہیں (براہین احمدیہ تک اور اس کے بعد) اسی طرح مرزا سے میرے تعلق کے بھی دو حصے ہیں۔ براہین احمدیہ تک اور براہین سے بعد۔ براہین تک میرا مرزا سے حسنِ ظن تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ جب میری عمر کوئی ۱۷، ۱۸ سال کی تھی، میں بشوق زیارت بٹالہ سے پا پیادہ تنہا قادیان گیا۔ ان دنوں مرزا ایک معمولی مصنف کی حیثیت میں تھے مگر باوجود شوق اور محبت کے میں نے جو وہاں دیکھا مجھے خوب یاد ہے کہ میرے دل میں جو ان کی بابت خیالات
تھے وہ پہلی ملاقات میں مبدل ہو گئے۔ جس کی صورت یہ ہوئی کہ میں اُن کے مکان پر دھوپ میں بیٹھا تھا۔ وہ آتے ہی بغیر اس کے کہ السّلام علیکم کہیں، یہ کہا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ کیا کام کرتے ہو؟ میں ایک طالب علم علماء کا صحبت یافتہ تھا۔ فوراً میرے دل میں آیا کہ انہوں نے مسنون طریقہ کی پرواہ نہیں کی۔ کیا وجہ ہے؟ مگر چونکہ حسن ظن غالب تھا، اس لئے یہ وسوسہ دب کر رہ گیا۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے جب سے دعویٰ مسیحیت کیا ہے، فقیر (مولانا امرتسریؒ) ان کے دعاویٰ کی نسبت بڑے غور و فکر سے تامل کرتا رہا اور ان کے ہوا خواہوں کی تحریریں جہاں تک دستیاب ہوئیں، عموماً دیکھیں، استخارات سے کام لیا۔ مباحثات و مناظرات کئے۔
ایک دفعہ کا واقعہ خاص قابل ذکر ہے کہ حکیم نور الدین صاحب سے بمقام امرتسر رات کے وقت تخلیہ میں کئی گھنٹہ گفتگو ہوئی۔ آخر حکیم صاحب نے فرمایا کہ ہمارا تجربہ ہے کہ بحث و مباحثہ سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا، آپ حسب تحریر مرزا صاحب مندرجہ رسالہ نشان آسمانی استخارہ کیجئے۔ خدا کو جو منظور ہوگا، آپ پر کھل جائے گا۔
ہرچند میں ایسے استخاروں اور خوابوں پر بمقابلہ نصوص شرعیہ کے اعتماد اور اعتبار کرنا ضمناً دعویٰ عصمت یا مساوات معصوم بلکہ برتری کے برابر جانتا تھا، تاہم ایک محقق کے لئے کسی جائز طریق فیصلہ پر عمل نہ کرنا جیسا کچھ شاق ہوتا ہے، مجھے بھی ناگوار تھا کہ میں حسب تحریر مرزا جی ان کی نسبت استخارہ نہ کروں۔ چنانچہ میں نے پندرہ روز حسب تحریر نشان آسمانی مصنفہ مرزا جی استخارہ کیا اور میرا خدا جانتا ہے کہ میں نے اپنی طرف سے صفائی میں کوئی کسر نہ رکھی۔ بالکل رنج اور
کدورت کو الگ کر کے نہایت تضرع کے ساتھ جناب باری میں دعائیں کیں۔ بلکہ جتنے دنوں تک استخارہ کرتا رہا اتنے دنوں تک مرزا جی کے بارے میں مجھے یاد نہیں کہ میں نے کسی سے مباحثہ یا مناظرہ بھی کیا ہو۔ آخر چودہویں رات میں نے مرزا جی کو خواب میں دیکھا کہ آپ ایک مکان میں سفید فرش پر بیٹھے ہیں۔ میں اُن کے قریب بیٹھ گیا اور سوال کیا کہ آپ کی مسیحیت کے دلائل کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ تم دو زینے چھوڑ جاتے ہو۔ پہلے حضرت مسیح کی وفات کا مسئلہ، دوم عدم مرفوع کا مسئلہ طے ہونا چاہیئے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ ان دونوں کو طے شدہ ہی سمجھئے۔ میری غرض یہ ہے کہ اس پیش گوئی کے الفاظ میں جتنے لفظوں کی حقیقت محال ہے ان کو چھوڑ کر حسب قاعدہ علمیہ باقی الفاظ میں مہما امکن مجاز ہی مراد ہے۔ یعنی اگر بجائے مسیح کے مثیل مسیح بھی آئے تو ان مقامات پر جہاں کا ذکر احادیث صحیحہ میں آیا ہے، کیوں نہ آئے۔ کیونکہ ان مقامات پر مسیح یا مثیل مسیح کا آنا محال نہیں۔ اس کا جواب مرزا صاحب نے ابھی دیا ہی نہ تھا کہ دو آدمی اور آگئے ، ان کی آؤ بھگت میں ہم دونوں ایک دوسرے کی مواجہت سے ذرا الگ ہوئے تو مرزا جی کو دیکھتا ہوں کہ لکھنؤ کے شہدوں کی طرح مسخرا سا چہرہ اور داڑھی بالکل رگڑ کر کتری ہوئی ہے ، سخت حیرانی ہوئی۔ اِسی حیرانی میں بیدار ہو گیا۔ جس کی تعبیر میرے ذہن میں آئی کہ مرزا کا انجام اچھا نہیں ۔
◯
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری نے جب حیدرآباد میں خاکسار (یعنی مولانا امرتسریؒ) کی ناچیز خدمات سنیں تو اپنے سر کی خاص پگڑی (شملہ) اور کُرتہ کا کپڑا بذریعہ ڈاک پارسل اس خادم کو بھیجا جو بلحاظ مذہبی تقدس کے حیدرآبادی منصب زیادہ آبادی منصب سے زیادہ Wait, wait - the last line has "منصب سے زیادہ" - let me fix my response mentally, it should be outputted perfectly. My final string contains "حیدرآبادی منصب سے زیادہ". I am outputting the whole block accurately.
قابل فخر ہے۔ دونوں (مادی اور روحانی) طرح سے معلوم ہوتا ہے کہ حیدر آباد میں میری خدمات خدا کے ہاں قبول ہوئی ہیں۔ للہ الحمد ۔
مولانا امرتسریؒ فرماتے ہیں:
”میرے قادیان جانے سے کچھ پہلے ایک واقعہ عجیب رقت انگیز ہوا۔ ایک احمدی لڑکا عبدالرحمٰن لوہار، عمر شاید چودہ پندرہ سال ہوگی، ایک ڈنڈا ہاتھ میں لئے ہوئے گھر سے کہتا ہوا بازار میں نکلا کہ ”یہ ڈنڈا میں ثناء اللہ کے سر پر ماروں گا“ قادیان کی آبادی سے باہر آٹا پیسنے کی ایک مشین ہے۔ عبدالرحمٰن مذکور اسی مشین میں (شاید کسی کام کو) گیا، جاتے ہی مشین میں پھنس کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ مرحوم ایک بیوہ عورت کا لڑکا تھا۔ ہمیشہ اس بیوہ کے حال پر رحم آتا ہے۔ خدا اس کو تسلی دے اور اس کا کفیل ہو۔ قادیانی دوستو ! ان فی ذالک لعبرۃ لمن یخشیٰ ۔
مولانا امرتسریؒ بلا کے ظریف الطبع تھے۔ اُن کی ظرافت کا اندازہ ذیل کے واقعات سے ہو سکتا ہے۔
ایک دفعہ کسی تقریب میں آپ لاہور تشریف فرما تھے۔ انہی دنوں قادیانیوں کی لاہوری پارٹی کا جلسہ تھا۔ مولانا چونکہ نہایت وسیع الظرف تھے اور تمام فرقوں کے اکابر سے — مناظرانہ نوک جھونک کے باوجود — نہایت اچھے، دوستانہ اور فیاضانہ مراسم رکھتے تھے۔ اس لئے منتظمین جلسہ نے آپ کو بھی تقریر کے لئے مدعو کیا۔ آپ اپنے احباب کی ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کہ آپ کو اچانک
دعوت نامہ ملا۔ آپ فوراً احمدیہ بلڈنگس روانہ ہو گئے۔ لاہوریوں نے آپ کو دیکھ کر مسیح موعود زندہ باد اور احمدیت پائندہ باد کے پرجوش نعرے لگائے۔ درحقیقت وہ یہ محسوس کر رہے تھے کہ آج مولانا کو دام فریب کے اندر پھانسنے میں وہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ چنانچہ صدر جلسہ نے کہا کہ ہم آپ کو اس لئے زحمت دی ہے کہ آپ حضرت مرزا صاحب کے اخلاق و عادات پر کچھ ارشاد فرمائیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ آپ موقع کی مناسبت سے مرزا صاحب کی کچھ نہ کچھ مدح و توصیف کر ہی دیں گے لیکن مولاناؒ بھی غضب کے موقع شناس، معاملہ فہم اور برجستہ گو تھے۔ اُٹھے اور حمد وصلوٰۃ کے بعد فرمایا:
"احمدی دوستو! میں اپنے پڑوسی کے خصائل وفضائل کیا بیان کروں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، ان کے محاسن ومحامد کی نسبت یہی کہہ سکتا ہوں کہ ؎
مولاناؒ نے اس مصرع کو چند بار دو انگلیاں اُٹھا کر دہرایا۔ جب مرزائی سامعین دوسرے مصرع کے لئے سراپا انتظار بن گئے تو پورا شعر یوں ادا فرمایا ؎
زبان پر گالیاں، مجنوں سی باتیں“
یہ سنتے ہی مرزائیوں کی آنکھیں پھٹ گئیں اور مولانا اپنی قیام گاہ پر واپس آ گئے۔
ایک بار آپؒ بٹالہ میں ایک جلسہ کی صدارت فرما رہے تھے۔ ایک قادیانی
مولوی کو پیشاب کی حاجت ہوئی۔ وہ باہر گئے اور فارغ ہو کر ازار بند پکڑتے ہوئے جلسہ گاہ میں آگئے۔ حاضرین جلسہ کو ان کی اس حرکت سے گدگدی سی ہونے لگی مولاناؒ نے حاضرین کی کیفیت تاڑ لی۔ اُٹھے اور فرمایا کہ : ” آپ لوگ مولوی صاحب کی اس حرکت پر حیران کیوں ہیں، موصوف تو اپنے پیغمبر کی پیش گوئی پر مہر تصدیق ثبت کر رہے ہیں۔ یہ شاعر قادیان ہی کا ارشاد ہے کہ ؎
اِس پر سامعین لوٹ پوٹ ہو گئے اور مولوی صاحب محترم اس طرح رُوپوش ہوئے کہ پھر ان کا سُراغ نہ لگ سکا۔
ایک مناظرے میں مبحث کی تعین پر گفتگو چل رہی تھی۔ مرزائی ” حیات و وفاتِ مسیح “ کو موضوع بحث بنانے پر مصر تھے اور مولاناؒ آسمانی نکاح بابت محمدی بیگم کو زیرِ بحث لانا چاہتے تھے۔ قادیانی مناظر نے طنزاً کہا : ” میں نہیں سمجھتا مولوی ثناء اللہ کا محمدی بیگم سے کیا رشتہ ہے کہ انہیں اس کی اتنی حمایت مقصود ہے “ مولاناؒ نے فوراً فرمایا کہ محمدی بیگم زیادہ سے زیادہ ہماری اسلامی بہن ہو سکتی ہے مگر وہ تو تمہاری ( قادیانی اُمت کی ) ماں ہے۔ اگر غیور ہو تو اپنی ماں کو اپنے گھر بٹھاؤ ۔ دوسرے گھروں میں کیوں پھر رہی ہے ۔ “
اس ظریفانہ نکتہ سنجی اور حاضر جوابی پر پوری مجلس قہقہہ زار بن گئی اور فریقِ مقابل بہت خفیف ہُوا ۔
ایک دفعہ ایک آریہ سماجی اور ایک قادیانی آپس میں جھگڑ پڑے۔ مولاناؒ نے سماجی سے فرمایا ”بھئی! توبہ کرو اور مرزائیوں سے نہ جھگڑو، کیونکہ یہ تمہارے فرمانروا ہیں“ آپ کی اس بات پر دونوں کو حیرت ہوئی۔ آپ نے فرمایا ”بھئی! تعجب کیوں کرتے ہو؟ مرزا صاحب نے البشریٰ (ج ۱ ص ۶۵) میں اپنے آپ کو ”آریوں کا بادشاہ“ لکھا ہے“ یہ سن کر سماجی تو ہنس پڑا اور مرزائی کو بڑی خفت ہوئی۔
○
پنجاب میں سکھ مسلم فساد کے ایام میں سکھوں کی گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے گورداسپور میں ملکی اتحاد و اتفاق کی تلقین کے لیے ایک جلسہ منعقد کیا اور تقریر کے لئے مولاناؒ کو بھی مدعو کیا۔ آپ نے اُس وقت کے حالات کی نوعیت کا لحاظ کرتے ہوئے نہایت پُر اثر تقریر فرمائی۔ دوران تقریر آپ کی رگِ ظرافت پھڑکی اور آپ نے سکھوں سے کہا کہ ”وہ ہز ہائینس مہاراجہ صاحب قادیان کا احترام کریں اور اُن کی اُمت کے ساتھ ادب سے پیش آئیں، کیونکہ پیغمبر قادیان بھی سکھوں سے کچھ نہ کچھ تعلق رکھتے ہیں“
اس پر قادیانی سامعین بھڑک اُٹھے اور شور مچایا کہ ”آپ اپنے الفاظ واپس لیجئے اور تحریری معافی مانگئے، ورنہ آپ کے خلاف دعویٰ دائر کیا جائے گا“
مولاناؒ مسکرائے اور فرمایا: ”میں نے مرزا صاحب کو ”مہاراجہ“ اور ”سکھوں سے قریبی تعلق رکھنے والا“ کہا ہے تو کچھ بے جا نہیں کہا ہے بلکہ ان کے ایک الہامی نام کی مناسبت سے کہا ہے۔ آپ نے ”البشریٰ جلد دوم ص ۱۱۸ میں لکھا ہے کہ خدا نے آپ کا نام ”امین الملک جے سنگھ بہادر“ رکھا ہے۔ اگر میرا حوالہ غلط ہو تو الفاظ واپس لینے اور تحریری معافی مانگنے کو تیار ہوں“۔
◯
قادیانی آپ کا نام سُن کر لرزہ براندام ہو جایا کرتے تھے۔ بارہا ایسا ہوا کہ کسی مناظرہ کی تحریک ہوئی لیکن صرف یہ سُن کر کہ اس مناظرہ میں مولانا امرتسری پیش ہوں گے، قادیانیوں نے دست کشی اختیار کر لی۔ گوجرانوالہ کے ایک قادیانی کا نام بھی ثناء اللہ تھا۔ قادیانی اساطین ان کے اس نام سے اس قدر بدکتے تھے کہ اُنہوں نے اسے بدلنے کی بارہا کوشش کی۔ دسمبر ۱۹۳۴ء کے قادیانی اجلاس میں جب وہ حاضر ہوئے تو مولوی غلام رسول راجیکی نے اس موضوع پر گفتگو کے دوران از راہِ تمسخر کہا : ”کیا ہوا؟ لوہا ہی لوہے کو کاٹتا ہے“۔ مگر حسنِ اتفاق دیکھیے کہ اس کے بعد ہی مستری ثناء اللہ موصوف امرتسر آئے۔ وہاں مولانا امرتسریؒ سے اُن کی ملاقات ہوئی۔ اُنہوں نے قادیانیت کے موضوع پر مولاناؒ سے طویل گفتگو کی اور بالآخر تائب ہو گئے۔
◯
حضرت مولانا احمد حسن امروہی کا خط
بندہ نحیف احقر الزمن احمد حسن غفرلہ بخدمت برادر مکرم جامع کمالات عزیزم حافظ مولوی محمد عبدالغنی سلمہ اللہ تعالیٰ۔ بعد سلام مدعا نگار ہے کہ امروہہ میں اور خاص محلہ (دربار کلاں) میں ایک مرض وبائی مہلک یہ پھیل رہا ہے کہ محمد احسن، جو مرزا قادیانی کا خاص حواری ہے، اس نے حکیم ابی محمد کو، جو مولانا نانوتوی علیہ الرحمہ سے بیعت تھے، مرزا کا مرید بنا چھوڑا اور سید بدرالحسن کو جس نے مدرسہ میں مجھ ناکارہ سے بھی کچھ پڑھا ہے مرزا کی طرف مائل کر دیا۔ ان دونوں کے بگڑنے سے محمد احسن کی بن پڑی۔ لن ترانیاں کرنی شروع کیں، طلبہ کے مقابلہ سے یوں عقب گزاری کی، احمد حسن میرے مقابلہ پر آوے میں جب مناظرہ پر آمادہ ہوا اور یہ پیغام دیا کہ حضرت! مرزا کو بلائیے صرف راہ میرے ذمہ (یا) مجھ کو لے چلئے، میں خود اپنے صرف کا متکفل ہوں گا، بسم اللہ آپ اور مرزا دونوں مل کر مجھ سے مناظرہ کر لیجئے یا میرے طلبہ سے مناظرہ کیجئے، ان کی مغلوبی میری مغلوبی۔ تب مناظرہ کا دعویٰ چھوڑ، مباہلہ کا ارادہ کیا۔ بنام خدا میں اس پر آمادہ ہوا اور بے تکلف کہلا بھیجا، بسم اللہ مرزا آوے، مباہلہ، مناظرہ جو شق وہ اختیار کرے میں موجود ہوں (میں نے) اس کے بعد جامع مسجد (امروہہ میں) ایک وعظ کہا اور اس پیغام کا بھی اعلان کر دیا اور مرزا کے خیالات فاسدہ کا پورا رَدّ کیا۔ کل بروز جمعہ دوسرا وعظ ہوا جو بفضل تعالیٰ بہت پُر زور تھا اور بہت زور کے ساتھ یہ پکار دیا کہ دیکھو مولوی فضل حق کا یہ اشتہار مطبوعہ (اور) میرا
یہ اعلان مرزا صاحب کو کوئی صاحب لوجہ اللہ غیرت دلائیں، کب تک خلوت خانہ میں چوڑیاں پہنے بیٹھے رہو گے ؟ میدان میں آؤ اور اللہ برتر کی قدرت کاملہ کا تماشا دیکھو کہ ابھی تک خُدا کے کیسے کیسے بندے تم سے دجال اُمّت کی سرکوبی کے واسطے موجود ہیں۔ اگر تم کو اور تمہارے حواریین کو غیرت ہے تو آؤ ورنہ اپنے ہفوات سے باز آؤ۔ بفضلہ تعالیٰ ان دونوں وعظوں کا اثر شہر میں اُمید سے زیادہ پڑا اور دشمن مرعوب ہوا ۔
پیش گوئی تو یہ ہے کہ نہ مباہلہ ہو، نہ مناظرہ مگر دعا سے ہر وقت یاد رکھنا، مولانا گنگوہی مدظلہ (اور) مولوی محمود حسن صاحب دیوبندی نے بہت کلماتِ اطمینان تحریر فرمائے ہیں ۔ ارادہ ہے دو چار وعظ اور کہوں ۔
( ۲۰؍ ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ مطابق یکم مارچ ۱۹۰۲ء از امروہہ )
مولانا سید بدر الحسن امروہی حضرت امروہیؒ کے تلامذہ میں سے تھے۔ ان کی آمد و رفت محمد احسن کے پاس رہنے لگی اور ان کی باتیں سُن کر حیات مسیح علیہ السلام میں ان کو شک و تردد ہو گیا۔ بہت سے عُلماء نے ہر چند ان کو سمجھایا لیکن ان باطل کا اثر ہو گیا تھا اِس لئے کسی کی نہ سُنتے تھے اور اُلٹا مناظرہ کرتے تھے۔ حضرت محدث امروہیؒ کو اس کی اطلاع ہو چکی تھی۔ ایک دن ان کو حضرت کے پاس لایا گیا یا وہ خود بخود آئے ۔ حضرت نے ان کو دیکھ کر فرمایا : مولوی بدرالحسن حقیقت میں تم ہمارے طبیب روحانی ہو، ہمیں غرور ہو چلا تھا کہ ہمارا شاگرد اور ہمارے پاس بیٹھنے والا باطل میں گرفتار نہیں ہو سکتا۔ اب معلوم ہوا کہ یہ بات غلط ہے، تم نے ہمارا غرور توڑ دیا ۔ نہ معلوم کہ کس جذبہ سے یہ الفاظ
فرمائے تھے کہ مولوی بدر الحسن زار و قطار رونے لگے اور قدموں پر لوٹے لوٹے پھرے اور اپنے فاسد عقیدہ سے توبہ کی ۔ یہی بدر الحسن، حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ مجلس مناظرہ رامپور میں موجود تھے ۔
شیخ حسام الدینؒ
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے باعث حکومت نے مجلس احرار اسلام کو خلاف قانون قرار دے دیا تو شیخ صاحبؒ مع ماسٹر تاج الدینؒ صاحب انصاری، سہروردیؒ کی دعوت پر کام کرنے کے لئے تیار ہو گئے مگر تھے اول آخر احرار۔ بروایت محترم آغا شورش کاشمیریؒ مدیر و بانی ہفت روزہ چٹان لاہور حسین شہید سہروردیؒ جبکہ وہ پاکستان کے وزیراعظم تھے، محترم شیخ صاحبؒ کی دعوت کر کے سکندر مرزا سابق صدر پاکستان کو تبادلۂ خیالات کرنے کی غرض سے اپنے ہمراہ لے گئے تاکہ سکندر مرزا کو مجلس احرار اسلام سے جو غلط فہمیاں ہیں وہ دُور ہوسکیں۔ المختصر شیخ صاحبؒ اور ماسٹر صاحب سکندر مرزا سے ملنے کے لئے گورنمنٹ ہاؤس لاہور پہنچے۔ سکندر مرزا اپنے صدارتی جاہ و جلال کے ساتھ برآمد ہوا اور شاہانہ بے نیازی کے ساتھ فروکش ہو گیا۔ ڈاکٹر خان صاحب صوبہ کے وزیر اعلیٰ (غفار خان کے بھائی) ساتھ تھے۔ سہروردی صاحبؒ نے مرزا صاحب سے کہا کہ یہ دونوں احرار رہنما شیخ صاحبؒ اور ماسٹر تاج الدین انصاریؒ صاحب ملنے کی غرض سے آئے ہیں مگر مرزا نے حقارت سے کہا احرار پاکستان کے غدار ہیں۔ ماسٹر جی جو بہت ٹھنڈی طبیعت کے مالک تھے، نے فرمایا کہ اگر غدار ہیں تو پھانسی پر کھنچوا دیجئے لیکن اس جرم کا ثبوت ہونا چاہئے۔ سکندر مرزا نے پھر اسی رعونت سے جواب دیا۔ بس میں نے کہہ دیا ہے کہ احرار غدار ہیں۔ ماسٹر جی نے تحمل کا رشتہ نہ چھوڑا لیکن سکندر مرزا نے گھوڑے کی طرح پٹھے پر ہاتھ نہ دھرنے دیا، وہی پھڑپھڑاتی خامی ۔
اتنے میں شیخ صاحبؒ نے غصے میں کروٹ لی اور مرزا سے پوچھا، کیا کہا تم نے ؟ " میں نے ؟ "
"جی ہاں تو میں نے ؟ " یہی کہا ہے کہ احرار پاکستان کے غدار ہیں۔ یہ الفاظ مرزا صاحب نے مٹھی بھینچتے ہوئے کہا۔
شیخ صاحب مرحوم نے فوراً گرج کر جواب دیا۔ احرار غدار ہیں کہ نہیں اس کا فیصلہ ابھی تاریخ کرے گی مگر تیرا فیصلہ تاریخ کر چکی ہے، تو غدار ابن غدار ہے۔ تیرے جدِّ امجد میر جعفر ملعون نے سراج الدولہ سے غداری کی تھی۔ واللہ العظیم تو اسلام اور پاکستان کا غدار ہے، اللہ اکبر! تب ڈاکٹر خان صاحب نے شیخ صاحبؒ کو بڑی قوت سے اپنی آغوش میں لے لیا اور سکندر مرزا سے پشتو زبان میں کہا، میں نے تم سے پہلے نہیں کہا تھا کہ ان لوگوں کے ساتھ شریفانہ لہجے میں گفتگو کرنا، یہ بڑے بے ڈھب لوگ ہیں۔ تب یکا یک اس کا لہجہ بدل گیا اور شیخ صاحبؒ سے عاجزانہ معذرت کرنے لگا ؎
گو بظاہر نظر آتے ہیں قلندر کی طرح
علامہ محمد حسن صاحب فیضیؒ
مولانا علامہ ابوالفیض محمد حسن صاحب فیضیؒ (م ۱۹۱۰ء) مولانا ابوالفضل محمد کرم الدین صاحب دبیر کے چچا زاد بھائی تھے۔ ادب عربی کے ماہر نظم میں ممتاز بے نقط عربی قصائد لکھنے میں انہوں نے شہرتِ دوام حاصل کی۔ مدرسہ انجمن نعمانیہ لاہور میں کئی سال تک مسندِ درس و تدریس پر جلوہ گر رہے۔ حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحبؒ
سے بیعت کا شرف حاصل تھا۔ مولانا غلام احمد صاحب پرنسپل مدرسہ نعمانیہ کے ارشد تلامذہ میں شمار ہوئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے فتنہ کے استیصال میں آپ نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے جوہر دکھائے ۔
١٣؍ فروری ١٨٩٩ء کا واقعہ ہے کہ علامہ ضیغمی صاحب ایک غیر منقوط عربی قصیدہ لکھ کر مرزا قادیانی کے پاس سیالکوٹ پہنچے۔ مسجد حکیم حسام الدین صاحب میں مرزا اپنے ممتاز حواریوں کے جلو میں بیٹھا ڈینگیں مار رہا تھا کہ یہ شیر دھاڑتا ہوا جا پہنچا اور للکار کر فرمایا۔ تمہیں الہام کا دعویٰ ہے تو مجھے تصدیق الہام کے لئے یہی کافی ہے کہ اس قصیدہ کا مطلب حاضرین مجلس کو واضح سنا دیں۔ مرزا صاحب اس قصیدہ کو چپکے چپکے دیکھتے رہے لیکن اس کی عبارت بھی نہ سمجھ سکے، حالانکہ نہایت خوشخط عربی رسم الخط میں لکھا تھا۔ پھر اپنے ایک حواری کو دیا۔ اُس نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ ہم کو تو اس کا پتہ ہی نہیں چلتا ۔ آپ ترجمہ کر کے دیں۔ علامہ صاحب نے اپنا قصیدہ واپس لے لیا اور زبانی گفتگو شروع فرمادی ۔ مرزا پر ایسا رُعب طاری ہوا کہ ؎
آخر پکار اُٹھا: میں نبی نہیں نہ رسول ہوں ، نہ میں نے دعویٰ کیا، فرشتوں کو، لیلۃ القدر کو ، معراج کو ، احادیث اور قرآن کریم کو مانتا ہوں ۔ مزید ازاں عقائد اسلامیہ کا اقرار کرتا ہوں“۔
دوسرے روز یعنی ١٤؍ فروری ١٨٩٩ء کو علامہ ضیغمی صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کی نسبت دلیل مانگی تو متنبیٔ قادیان کی ساری عربی دانی کی ہوا نکل گئی ۔ اس گفتگو کے بعد آپ نے مولانا فقیر محمد صاحب جہلمی کے ہفتہ وار پرچہ ”سراج الاخبار“ میں ٩؍ مئی ١٨٩٩ء کو بے نقط قصیدہ کے بارے میں جو مرزا غلام احمد
قادیانی سے بات چیت ہوئی تھی، مشتہر کرائی اور ساتھ ہی مرزا صاحب کو مناظرہ کا چیلنج دیتے ہوئے اعلان فرمایا :
" میں مرزا صاحب کو اشتہار دیتا ہوں کہ اگر وہ اپنے عقیدہ میں سچے ہوں تو آئیں شہر بھیرہ میں کسی مقام پر مجھ سے مباحثہ کریں ، میں حاضر ہوں تحریری کریں یا تقریری ، اگر تحریر میں ہو تو نثر میں کریں یا نظم میں ،عربی ہو یا فارسی یا اُردو،آیئے سنئے اور سنائیے۔
سراج الاخبار میں مذکورہ اشتہار سے پہلے آپ نے وہ بے نقط قصیدہ عربی فروری ۱۸۹۹ء میں ہی انجمن نعمانیہ لاہور میں بھی مشتہر کرایا اور آخر میں نوٹ لکھا :
" اب بھی ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ مرزا صاحب اس قصیدہ کا جواب اس صنعت کے عربی قصیدہ کے ذریعے ایک ماہ تک لکھنے کی طاقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ ہر دو قصائد کا موازنہ پبلک خود کرلے گی لیکن تہذیب و متانت سے جواب دیا جائے ۔
فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ صاحب
مولانا نے تعلیم سے فراغت پاتے ہی ردّ قادیانیت کا کام شروع کر دیا تھا۔ جو زندگی کے آخری لمحہ تک جاری رہا ۔ قادیان میں دفتر ختم نبوت کے انچارج رہے تا آنکہ ملک تقسیم ہوا ۔ مرزا بشیر کے قادیان سے فرار کے بعد قادیان کو چھوڑ کر پاکستان تشریف لائے ۔ پاکستان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رکن اور سب سے پہلے مبلغ تھے ۔ قادیان میں قیام کے دوران مرزائیوں کو ناکوں چنے چبوائے ۔ اس طرح اُمت کی طرف سے " فاتح قادیان " کا لقب حاصل کیا ۔
ربوہ میں عالمی مجلس ختم نبوت کے لئے مسلم کالونی میں پلاٹ حاصل ہوا تو آپ خبر سنتے ہی ملتان سے ربوہ منتقل ہونے کے لئے آمادہ ہو گئے۔ کھانا چھوڑ دیا۔ چنے چبانے شروع کر دیئے۔ مولانا محمد شریف جالندھری کے پوچھنے پر جواب دیا کہ میں ریہرسل کر رہا تھا کہ اگر ربوہ میں روٹی نہ ملے تو آیا چنے چبانے کے لائق دانت ہیں یا نہیں۔ اس جذبہ و ایثار سے آپ مسلم کالونی ربوہ تشریف لائے۔ گرم سرد، دکھ سکھ عسر و یسر میں ربوہ کے اس محاذ کو آخری وقت تک سنبھالے رکھا۔ امت محمدیہ کی طرف سے واحد شخص ہیں جنہوں نے قادیان سے لے کر ربوہ تک مرزائیت کا تعاقب ان کے گھر پہنچ کر کیا۔
آپ انتہائی سادہ، منکسر المزاج تھے۔ ربوہ میں قیام کے دوران آپ سے گفتگو کے لئے جو بھی قادیانی آتا منہ کی کھاتا۔ کچھ عرصہ بعد خلافت ربوہ کو اعلان کرنا پڑا کہ اس "بابا" کے پاس نہ جایا کرو۔
گفتگو میں دشمن کو گھیرے میں لے کر بند کرنا آپ کا وہ امتیاز تھا، جس کی اس زمانہ میں مثال ملنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
ایک دفعہ ایک مرزائی مناظر نے کہا کہ مولانا آپ نے قادیان چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا کہ مرزا بشیر الدین کے فرار کے بعد ۔ مرزائی نے کہا کہ نہیں اس وقت بھی قادیان میں ہمارے ۳۱۳ افراد موجود ہیں۔
مولانا نے فرمایا کہ میں نے تو سنا ہے کہ ان کی تعداد ۳۲۰ ہے۔ یہ سنتے ہی مرزائی نے غصہ سے لال پیلا ہو کر کہا ”ہم آپ کے ”دیوبند“ پر پیشاب بھی نہیں کرتے۔“ مولانا نے بڑے دھیمے انداز میں جواب دیا کہ میں تو جتنا عرصہ قادیان میں رہا کبھی بھی پیشاب کو نہیں روکا۔“ اس پر مرزائی اول فول بکتا ہوا یہ جا وہ جا۔
ایک دفعہ مرزائیوں نے مناظرہ میں یہ شرط رکھ دی کہ مناظر مولوی فاضل ہوگا۔ مولانا مناظرہ کے لئے تشریف لے گئے تو مرزائی مناظر نے مولوی فاضل کی سند مانگی۔
مولانا نے فرمایا۔ افسوس کہ آج ہم سے وہ لوگ سند مانگتے ہیں جن کا نبی پٹواری کے امتحان میں فیل ہو گیا تھا۔ مولانا نے کچھ اس انداز سے اسے بیان کیا کہ مرزائی مناظر مناظرہ کئے بغیر ہی بھاگ گیا۔
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے جو کارہائے نمایاں و گرانقدر خدمات سرانجام دیں اس کا اندازہ منیر انکوائری رپورٹ سے ملتا ہے کہ جہاں کہیں مسٹر جسٹس منیر آپ کی کسی تقریر کا حوالہ دیتا ہے، جل بھن کر دیتا ہے۔ گویا مولانا کے طرز عمل نے مرزائیت و مرزائی نواز طبقہ کے خواب و خور حرام کر دیئے تھے۔
اس وقت پاکستان میں جتنے مناظر و مبلغ رد قادیانیت پر کام کر رہے ہیں سوائے ایک آدھ کے باقی تمامتر ٹیم مولانا محمد حیات کی شاگرد ہے۔
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں ملتان دفتر سے مولانا محمد شریف جالندھری،
مولانا عبدالرحیم اشعر اور سائیں محمد حیات صاحب کے ساتھ گرفتار ہو کر سنٹرل جیل گئے وہاں پر اکابر و اصاغر کے ساتھ بڑی بہادری سے جیل کاٹی۔ جیل میں بی کلاس کی سہولت حاصل ہو گئی تو مزا تھا مولانا محمد علی جالندھریؒ سے فرماتے تھے کہ حضرت دیکھ لیں جو یہاں مل رہا ہے، دفتر جاکر وہی دینا ہوگا۔ مولانا محمد علیؒ صاحب فرماتے کہ مولانا محمد حیات جو کھانا ہے یہیں کھا لو، دفتر میں تو وہی دال روٹی ملے گی۔
○
جیل کی سزا کاٹنے کے اتنے بہادر تھے کہ وہاں جاکر گویا باہر کی دنیا کو بالکل بھول جایا کرتے تھے۔ اتنا بہادر انسان کہ اس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔
○
ملتان جیل میں ایک دفعہ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا خدا بخش نے چنے منگوائے اور عصر کے بعد نمازیوں کے سامنے چادر پر بچھا کر پڑھنا شروع کر دیئے۔ مولانا محمد حیات نے پوچھا تو جواب ملا، اس لئے تاکہ مصیبت کم ہو۔ آپ نے فرمایا، آپ پڑھیں میں تو نہیں پڑھتا جو لکھا ہے وہی ہوگا۔ جتنے دن جیل میں رہنا ہے بہرحال رہیں گے۔ رہے اور بڑی بہادری سے رہے ملتان سے لاہور بوسٹرل سنٹرل جیل میں منتقل ہوئے۔ دس ماہ بعد رہا ہوئے۔ رہا ہوتے ہی پھر مرزائیت کی تردید میں جٹ گئے۔ غرضیکہ اپنی دھن کے پکے تھے۔
○
مطالعہ کتب کا اتنا شوق تھا کہ فرائض وسنن کے علاوہ باقی تمام تر وقت مطالعہ میں گزرتا ۔ وظائف ونوافل کے زیادہ عامل نہ تھے، وہ تسبیح و دانے کے آدمی نہ تھے۔ کتابوں کے رسیا تھے۔ آخری عمر میں کمزوری و ناتوانی وضعف بصر کے باعث بھی یومیہ کئی سو صفحات تک مطالعہ کر جاتے تھے۔ ان کے سرہانے کتاب ضرور
ہوتی تھی۔ خواب سے بیدار ہوئے مطالعہ میں لگ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو حوالہ جات ازبر تھے۔ آپ کو قدرت نے بلا کا حافظہ دیا تھا۔ حافظہ، مطالعہ، تقویٰ و اخلاص، جذبہ ایثار و قربانی، جادو بیانی جیسی صفات و خوبیاں مولانا میں ایسی تھیں جن کا دشمن بھی اعتراف کرتے تھے۔
○
مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ دیگر اکابر کی طرح آپ کے بڑے قدردان تھے۔ مولانا محمد حیات کی طبیعت میں سخت گیری تھی۔ اپنے مزاج و دھن اور رائے کے پکے تھے۔ بنیادی طور پر مناظر تھے اور مناظر اپنی رائے جلدی سے تبدیل نہیں کرتا۔ اس لئے مولانا محمد حیات صاحب کبھی کبھار گفتگو و اختلاف رائے میں مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ سے شدت بھی اختیار کر جاتے تھے۔ ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں "مجلس کو کیا کرنا چاہئے" مولانا محمد علی صاحب کی رائے تھی کہ ہم لوگ غیر سیاسی ہیں اپنی پالیسی پر کاربند رہیں۔ مولانا محمد حیات کی رائے تھی کہ اگر ہماری معاونت سے کچھ علماء اسمبلی میں چلے گئے تو ہمارے مسئلہ کو حل کرانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ پالیسی کے لحاظ سے حضرت مولانا محمد علی جالندھری کی رائے وزنی تھی جبکہ مسئلہ کو حل کرانے کے نقطہ نظر سے مولانا محمد حیات کو اپنی رائے پر اصرار تھا۔ دونوں حضرات نے ایک میٹنگ میں اس پر گھنٹوں دلائل دیئے۔ ظہر کے وقت اجلاس کا وقفہ ہوا تو وہی محبت و اخلاص، مولانا محمد علی صاحب نے چائے پیالی میں ڈال کر پیش کی مولانا محمد حیات مسکرا اٹھے۔ اللہ رب العزت ان تمام حضرات پر اپنا کرم فرمائیں کہ اخلاص کے پیکر تھے۔
○
مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ نے اسی میٹنگ میں فرمایا کہ مارشل لاء
حکومت نے ایک دفعہ کے تحت الیکشن میں مذہبی بنیادوں پر کسی کی مخالفت کو جرم قرار دیا ہے۔ اگر مرزائی کھڑے ہوئے ہم تو ان کا نام لے کر ان کے مرزائی ہونے کے باعث ان کی مخالفت کریں گے تو اس دفعہ کی خلاف ورزی لازم آئے گی۔ گرفتاریاں ہوں گی تو جو حضرات گرفتاریوں کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہیں اپنے نام لکھوا دیں۔ اب تمام مبلغین احترام میں خاموش کہ پہلے بزرگ نام لکھوائیں تو پھر ہم سب حاضر ہیں۔ چھوٹے پہلے بولیں تو کہیں سوئے ادبی نہ ہو، ورنہ ظاہر ہے کہ مشن کے لئے سب ہی گرفتار ہونے کو تیار تھے۔ اتنے میں مولانا محمد حیات بولے۔ مولانا محمد علی صاحب، بھائی جان! دیکھیں جب شاہ جی ہمیں گرفتاری کے لئے فرماتے تھے تو پہلے اپنا نام لکھواتے تھے، آپ پہلے اپنا نام لکھوائیں پھر ہم سب کا لکھ لیں۔ ہم سب تیار ہیں۔ مولانا محمد علی صاحب بہت اچھا فرما کر مسکرائے اور مولانا محمد شریف صاحب کو حکم دیا کہ میرے نام سمیت سب حاضرین کے درجہ بدرجہ نام لکھ لو۔ چنانچہ ایسے ہوا ۔
مولانا عبدالرحیم اشعر راوی ہیں کہ تقسیم کے وقت مرزا بشیر الدین نے ایک دن قادیان میں اعلان کرایا کہ آج میں بلدیو سنگھ وزیر دفاع انڈیا سے مل آیا ہوں وہ ہیلی کاپٹر پر قادیان کا معائنہ کریں گے۔ قادیان کے لوگ دروازے بند کر کے گھروں میں بیٹھے رہیں تاکہ وہ اوپر سے دیکھ سکیں کہ واقعی لوگ تنگ ہیں، دشمن کے حملوں کا سخت خطرہ ہے اس لئے گھروں میں نظر بند ہیں۔ تمام قادیانی گھروں میں نظر بند ہو گئے۔ مرزا بشیر برقع پہن کر خفیہ طور پر قادیان سے لاہور آگیا۔ جب مرزائیوں کو پتہ چلا تو سخت سٹپٹائے اپنی قیادت پر کہ وہ بڑی بزدل و کمینی نکلی، مگر کیا کرتے مجبور تھے۔ دوسرے قادیانی افسروں نے کچھ
دنوں بعد قادیان میں فوجی ٹرک بھیجوائے کہ لوگوں کو وہاں سے نکالا جائے ۔ ٹرک لوڈ ہو رہے تھے ، مولانا محمد حیات وہاں قادیان میں موجود تھے ۔ مرزائیوں نے کہا کہ ٹرک میں جگہ ہے آپ آ جائیں ۔ آپ نے فرمایا ۔ آپ چلیں میرا انتظام ہے ۔ جب تمام قادیان کے مرزائی قادیان چھوڑ کر لاہور آگئے تو تب کہیں جاکر قریب کے کسی گاؤں کے کارکن غلام فرید کو آپ نے پیغام بھجوایا ۔ وہ ایک بیل گاڑی لایا ، اس پر کتابیں لادیں اور سفر کر کے کئی دنوں بعد لاہور دفتر میں آگئے ۔ آپ کے عزیز و اقارب خیرپور میرس سندھ میں تھے ، ان کی اطلاع پاکر آپ وہاں چلے گئے اور وہاں جاکر زراعت کا کام شروع کر دیا ۔
ایک دن حضرت امیر شریعت وحضرت مولانا محمد علی جالندھری کو کسی کا خط ملا کہ آپ لوگ تقسیم سے قبل ردیہ قادیانیت کا کام کرتے تھے ۔ قادیانیت آپ کے احتساب سے سہمی ہوئی تھی ۔ آپ لوگوں نے توجہ کم کردی ، مرزائی دن رات اپنی تبلیغ میں لگے ہوئے ہیں ، سرکاری عہدوں سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ یہی حال رہا تو پاکستان پر یہ لوگ چھا جائیں گے ۔ شاہ جیؒ نے یہ خط پڑھا تو تڑپ گئے ۔ مولانا محمد علی صاحب کو بلاکر فرمایا کہ سندھ سے مولانا محمد حیات کو ملتان بلوائیں ۔ مولانا محمد حیات کے بھائی آمادہ نہ ہوتے تھے ۔ مولانا محمد علی نے ان کو ایک ملازم رکھ دیا جو ان کے ساتھ کھیتی باڑی کے کام میں مولانا محمد حیات کی نیابت کرتا تھا اور یوں مولانا محمد حیات صاحب ملتان آگئے ۔ حضرت امیر شریعت سے ملے ۔ دوسرے دن ہی کچہری روڈ ملتان ایک دکان پر چوبارہ کرایہ پر لیا اور کام شروع کر دیا ۔ پہلی علماء کی تربیتی کلاس لگی ۔ مولانا محمد حیات استاذ مقرر ہوئے ۔ تقسیم کے بعد پہلی کلاس میں یہ علماء شامل تھے ۔
مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا قائم الدین علی پوری، مولانا محمد لقمان علی پوری مولانا غلام محمد خانپوری، قاضی عبداللطیف اختر شجاع آبادی، مولانا محمد عبداللہ سندھی، مولانا محمد یار چیچہ وطنی ان حضرات نے ردّ مرزائیت کا کورس مکمل کیا ۔ کورس کے مکمل کرتے ہی ان حضرات کو اس ترتیب سے جماعت کا مبلغ مقرر کیا گیا ۔
مولانا عبدالرحیم اشعر، فیصل آباد ۔ مولانا محمد لقمان صاحب، ننکانہ صاحب ۔ مولانا یار محمد، چنیوٹ ۔ قاضی عبداللطیف، چیچہ وطنی ۔ مولانا غلام محمد، ملتان مولانا محمد عبداللہ، سندھ ۔ ان حضرات نے کام شروع کیا اور تقسیم کے بعد جماعت کے یہ حضرات پہلے مبلغین قرار پائے ۔ یوں عشق رسالتمآب میں غرقاب یہ کاروان ختم نبوت اپنی منزل کی طرف پھر رواں دواں ہو گیا۔
پہلے کہیں ذکر ہو چکا ہے کہ مولانا محمد حیات صاحب ارادے کے پکے اور اور اعصاب کے مضبوط انسان تھے۔ بڑے سے بڑے سانحہ کو وہ بڑی بہادری و جرات سے برداشت کر جاتے تھے لیکن جب مولانا محمد علی جالندھریؒ کا انتقال ہوا تو اس وقت ملتان میں نہ تھے تبلیغ کے لئے حضرت سرگودہا کے سفر پر تھے۔ فون پر اطلاع دی گئی ۔ پوری رات سفر کر کے علی الصبح دفتر پہنچے۔ دفتر کے صحن میں مولانا محمد علی جالندھریؒ کا جنازہ پڑا تھا۔ دیکھتے ہی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے، اتنے روئے کہ انتہا کر دی، صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھے۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ مولانا محمد علی جالندھری کے ہاتھوں مجبور تھے۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ وہ مولانا محمد علی جالندھری کی وفات پر اپنی جان گنوا بیٹھیں گے ۔ زار و قطار رو رہے تھے اور بار بار کہتے
تھے کہ میں بہت نکما ہوں (یہ ان کی کسر نفسی تھی ورنہ وہ تو بہت ہی کام کے آدمی تھے) ہم لوگ دفتر میں بیٹھے رہتے ، یہ شخص (مولانا جالندھری) جفاکش و بہادر انسان تھا ، دن رات ایک کر کے جان جوکھوں میں ڈال کر دفتر بنایا ، فنڈ قائم کیا ، اپنے کلیجہ کو دھیمی آگ پر اپنے ہاتھوں بھون بھون کر ہمیں کھلایا۔ اب ان جیسا بہادر و محنتی دوست و رہنما ہمیں کہاں سے میسر آئے گا۔ ہماری تیز و ترش باتیں سُن کر خوشدلی سے نہ صرف ہماری بلکہ پوری جماعت کی خدمت کی۔ ہائے ! مجھے محمد علی کہاں سے ملے گا، جو میری سن کر برداشت کرے گا۔ زار و زار رو رو کر دُکھے ہوئے دل سے ایسا خراج تحسین پیش کیا کہ اس وقت دفتر میں موجود تمام ساتھیوں کے دل ہاتھ سے چھوٹ گئے ۔ دفتر میں کہرام مچ گیا ۔ اس وقت دونوں بزرگ دنیا میں موجود نہیں مگر ان کی باہمی وفاؤں کی یادوں سے ہمارے دل معمور ہیں ۔ اللہ رب العزت ان سب کی قبروں پر اپنی رحمت فرمائے۔
مولانا شعبان کے آخری دنوں میں معمولی بیمار ہوئے ۔ ربوہ چنیوٹ سے لاہور گئے ۔ وہاں سے اپنے گاؤں کوٹلہ مغلاں تحصیل شکر گڑھ تشریف لے گئے۔ کچھ عرصہ معمولی بیمار رہ کر رمضان شریف میں اللہ رب العزت کو پیارے ہو گئے۔ "عاش غریبا و مات غریبا" کا صحیح مصداق تھے۔ اس دنیا میں فقر ابوذر غفاریؓ کے وارث و علمبردار تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے گاؤں تعزیت کے لئے جانا ہوا۔ قبرستان میں گئے۔ ان کی قبر کو خودرو بوٹیوں و جھاڑیوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ ایسے محسوس ہوا جیسے منوں مٹی کے نیچے ان کی میت کو رحمت پروردگار نے ڈھانپ رکھا ہو۔ اللہ رب العزت ان کی قبر پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائے ۔
مولانا عبدالحامد بدایونیؒ
حضرت مولانا بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا سب سے بڑا مشن عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت تھا۔ چنانچہ اس تحریک میں آپ نے بڑا نمایاں حصہ لیا۔ تحریک تحفظ ختم نبوت کی حمایت اور مرزائیت کی تردید کی پاداش میں حکومت نے انہیں گرفتار کر لیا۔ ایک سال تک سکھر اور کراچی کی جیلوں میں مولانا ابوالحسنات قادری کے ساتھ نظر بند رہے۔ قید و بند کی سخت صعوبتوں کو بڑی جوانمردی سے برداشت کیا۔ ان کی مدبرانہ فراست نے پورے ملک میں اس تحریک کو مقبول بنایا۔
حضرت خواجہ حسن نظامیؒ اور مرزائی
تحریک ختم نبوت (۱۹۵۳ء) میں مرزائیوں نے اشتہارات اور ہینڈ بل وغیرہ شائع کر کے یہ پروپیگنڈا کیا کہ حضرت خواجہ حسن نظامیؒ قادیانیوں کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے۔ ۷؍ جون ۱۹۳۵ء کے روزنامچہ (منادی) کی مندرجہ ذیل تحریر غالباً آئینہ دکھانے کے لئے کافی ہے۔ خواجہ صاحبؒ لکھتے ہیں :
"میرے پیر و مرشد حضرت مولانا مہر علی شاہ چشتی نظامی سجادہ نشین گولڑہ شریف کا ایک بیان میری نظر سے گزرا جس میں حضرت اقدس نے ایک فیصلہ کن حکم صادر فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ قادیانی اپنے عقائد مخصوصہ کے سبب مسلمان نہیں کہلا سکتے۔ اس واسطے کسی مسلمان
کو ان سے کسی قسم کا تعاون جائز نہیں ۔ " (بحوالہ مہر منیر ص ۲۹۳)
حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ
مولانا اسلام الدین صاحب ایڈیٹر ”ظہور اسلام“ سری نگر کشمیر نے خواب میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیارت کی حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ برصغیر کے مسلمانوں کے حالات قابل رحم ہیں ۔ آپ مولانا خواجہ خان محمد صاحب پاکستانی کو کہیں کہ وہ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے اللہ رب العزت سے دعا کریں ۔ مولانا اسلام الدین نے سری نگر سے خط کے ذریعہ کراچی دفتر لکھا کہ شیخ المشائخ اعلیٰ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب تک حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیغام پہنچا دیں (حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ معروف جلیل القدر صحابی رسولؐ ہیں ۔ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں ۔)
○
میرپور خاص سندھ کے ڈاکٹر احمد اللہ ہمدانی مدینہ طیبہ گئے ۔ روضہ طیبہ پر درود و سلام پڑھا اور دعا کی کہ اے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا جو بہت پیارا اُمتی ہے ۔ اس بزرگ کی مجھے آج زیارت ہو جائے ۔ یہ دعا کر کے مواجہہ شریف سے پیچھے ہٹے تو ایک دوست نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب پاکستان سے مولانا خواجہ خان محمد صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں آپ زیارت کے لئے چلیں گے ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میرے دل میں آیا کہ آج تو میری دُعا نقد قبول ہوگئی ۔ میں گیا اور جاکر مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی ملاقات و زیارت کی ۔
حضرت مولانا خلیل احمد قادری مدظلہ
- حضرت مولانا خلیل احمد قادری صاحب فرماتے ہیں کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء
میں مجھے گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا گیا اور مجھ پر مصائب کے پہاڑ توڑے گئے۔ میرے کمرے میں زہریلے سانپ چھوڑے گئے۔ کئی کئی دن کھانا نہ دیا جاتا، نماز پڑھنے کی اجازت نہ ہوتی۔ پیٹ اور سینے میں شدید درد ہونے کی وجہ سے کراہتا ۔ مگر جیل والوں پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ ایک دفعہ میں نے درود شریف پڑھنا شروع کیا جس کی وجہ سے کافی افاقہ ہوا۔ اس عالم میں آنکھ لگ گئی۔ خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بہت بڑا کمرہ ہے جس میں سبز رنگ کی روشنی ہے۔ اس کمرے کی سیڑھیوں پر والد محترم حضرت علامہ ابوالحسنات، جو اس وقت سکھر جیل میں تھے، کھڑے ہیں مجھے دیکھ کر انہوں نے سینے سے لگا لیا اور میں نے ان سے پوچھا آپ کا کیا حال ہے ۔ انہوں نے جواباً فرمایا کہ مجھے بھی انہوں نے رات بھر کھڑا رکھا ہے۔ اس گفتگو کے بعد میں ان سیڑھیوں سے نیچے کمرے میں اترا تو میں نے دیکھا کہ شمالی جانب ایک دروازہ ہے جو کہ کھلا ہوا ہے میں اس کمرے میں دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔ اتنے میں ایک بزرگ سپید نورانی چہرہ ، کشادہ پیشانی ، درمیانہ قد، سفید داڑھی ، کھلی آستینوں کا سبز کرتہ زیب تن کئے میری طرف تشریف لائے اور پیچھے سے آواز آئی ۔ سرکار شیخ عبدالقادر جیلانیؒ تشریف لا رہے ہیں۔ میں نے دست بستہ حضرت سے عرض کی ”حضور ان کتوں نے بہت تنگ کر رکھا ہے“۔ آپ نے میری داہنی طرف پشت پر تھپکی دی اور فرمایا ، شاباش بیٹا ۔ گھبراؤ نہیں ، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں نے دوبارہ عرض کی حضور انہوں نے بہت پریشان کر رکھا ہے ۔ رُخِ انور پر مسلسل شگفتگی تھی۔ فرمایا کچھ نہیں ۔ سب ٹھیک ہے اور یہ کہہ کر آپ واپس تشریف لے گئے اور اس واقعہ کے بعد میرا حوصلہ بہت زیادہ بلند ہو گیا۔
- مولانا خلیل احمد قادری صاحب فرماتے ہیں کہ ۱۹۵۳ء میں تحریک ختم نبوت
میں جیل میں مجھ پر بے شمار سختیاں کی گئیں۔ ایک دفعہ مغرب کے بعد میں اپنی بیرک میں بیٹھا ہوا تھا کہ معاً دل میں یہ خیال آیا کہ یہاں خشک روٹی اور چنے کی دال کے سوا کچھ نہیں مل رہا۔ اگر اپنے گھر میں ہوتے تو حسب منشا کھانا کھاتے لیکن دوسرے ہی لمحے ضمیر نے ملامت کی اور صحابہ کرامؓ کی قربانیوں کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ میں نے سر بسجود ہو کر توبہ کی اور اس وسوسے کا ازالہ چاہا لیکن خدا کی قدرت دیکھئے کہ چند لمحے بعد اندھیرے میں ایک ہاتھ آگے بڑھا اور آواز آئی ، شاہ جی ! یہ لے لو ۔ اور پھر ایک لفافہ مجھے دے دیا گیا ۔ جس میں کچھ پھل اور مٹھائی تھی ۔ میں حیران رہ گیا کہ اتنے سخت پہروں کے باوجود یہ سب کچھ مجھ تک کیسے پہنچ گیا ۔ لیکن میرے دل کو یہ یقین ہو گیا کہ یہ غیبی دعوت ہے ۔ وہ پھل اور مٹھائی تین روز تک میں استعمال کرتا رہا ۔
○
جناب مولانا خلیل احمد قادری صاحب مدظلہ بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں جب میں جیل میں تھا تو مجھے پھانسی کی سزا سنائی گئی اور بعد میں مجھے غیر مشروط طور پر رہا کر دیا گیا لیکن میرے بارے میں مشہور ہو گیا کہ مجھے پھانسی دے دی گئی ہے اور کراچی جیل میں میرے والد محترم حضرت ابوالحسنات شاہ قادری صاحبؒ ، جو اس وقت تحریک کی کمان فرما رہے تھے ، کو یہ خبر دی اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور سید مظفر علی شمسی کا بیان ہے کہ چند روز تک ہم نے یہ خبر علامہ ابوالحسنات سے چھپائے رکھی اور پھر آخر کار ایک روز ہم نے انہیں بتا ہی دیا کہ آپ کے صاحبزادے کو موت کی نیند سُلا دیا گیا ہے۔ علامہ ابوالحسنات یہ سنتے ہی سجدے میں گر گئے اور انہوں نے فرمایا : میرے آقا ! گنبد خضریٰ کے مکین صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے اکلوتے بیٹے خلیل
کی قربانی قبول ہے تو میں بارگاہ ربی میں سجدہ شکر ادا کرتا ہوں۔ ناموس رسالت پر ایک خلیل تو کیا میرے ہزاروں فرزند بھی ہوں تو اسوۂ شبیری پر عمل کرتے ہوئے سب کو قربان کر دوں۔
مولانا خلیل احمد قادری صاحب مدظلہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میں نے سکھر جیل کے پتہ پر والد محترم حضرت ابو الحسنات شاہ قادریؒ کو اپنی خیریت کا خط لکھا جس کا جواب مجھے پندرہ روز کے بعد موصول ہو گیا۔ والد صاحب نے اپنے خط میں لکھا تھا :"مجھے یہ جان کر بے حد افسوس ہوا کہ تم رتبۂ شہادت حاصل نہیں کر سکے لیکن بہر حال یہ جان کر دل کو اطمینان ہوا کہ تم ناموسِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر لڑ رہے ہو۔" خط کے آخر میں لکھا تھا :"کاش اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کی قربانی قبول کر لیتا"۔
مولانا خلیل احمد قادری صاحب فرماتے ہیں کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں میرے ہاتھوں کو ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔ جب مجھے حوالات میں بند کرنے کے لیے پولیس کی بارک کے سامنے سے گزارا گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ سب مجھے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھ اُوپر اُٹھائے اور پھر ہتھکڑی کو چوم کر آنکھوں سے لگا لیا۔ میرے ساتھ چلنے والے سپاہیوں نے اس کی وجہ پوچھی تو میں نے انہیں کہا :"خدا کا شکر ہے کہ میں نے یہ ہتھکڑیاں کسی اخلاقی جرم کی پاداش میں نہیں پہنیں اور مجھے فخر ہے کہ میں نے اللہ کے پیارے حبیب، شفیع محشر صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس اور عظمت کے تحفظ کی خاطر یہ زیور پہنا ہے۔ یہ سن کر وہ سپاہی خاصے متاثر ہوئے اور اُنہوں نے کہا :"دل تو ہمارے آپ کے ساتھ ہیں لیکن ہم کر کچھ نہیں سکتے، ملازمت کا معاملہ ہے۔" میں نے اُن سے کہا :"نیز میری فوج بھی یہی
کہتی تھی اگر تم مجھے حق پر سمجھتے ہو تو اسوۂ حُرّ پر عمل کرو۔" یہ سُن کر وہ شرمندہ ہو گئے۔
O
مولانا خلیل احمد قادری صاحب روایت کرتے ہیں کہ میں تحریکِ ختمِ نبوت ۱۹۵۳ء کے سلسلہ میں حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ (نیلا گنبد) کے پاس گیا اور اُن سے تحریک میں باقاعدہ شمولیت کے لئے درخواست کی تو اُنہوں نے میرے ہاتھوں کو پکڑ کر چوما اور پھر کہنے لگے کہ میں ٹانگوں سے معذور ہوں مگر آپ مجھے جب چاہیں گرفتار کروا دیں۔ اگر آپ ابھی چاہیں تو میں اسی وقت آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہوں"
حضرت مولانا شاہ صوفی سلیمانؒ
گجرات ہندوستان کے معروف صوفی مولانا شاہ صوفی سلیمانؒ نے ایک مرتبہ مرزا قادیانی سے ملاقات کی ہے۔ آپ فرماتے تھے کہ جب میں قادیان گیا تو بارش کا زمانہ تھا اور مرزا قادیانی مکان کی تیسری منزل پر رہا کرتے تھے اور لوگ نماز کے لئے اُوپَر جایا کرتے تھے۔ وہاں ان کے حواری حکیم نور الدین بھی موجود تھے، ان کا دستور تھا کہ نماز کے بعد اپنے الہامات بیان کرتے تھے۔ حکیم نور الدین نے مرزا سے میری نسبت کہا کہ یہ ایک نقشبندی درویش ہیں، چونکہ میرے پاس صرف ایک کملی تھی اور ظاہری شان و شوکت کچھ نہیں تھی۔ اس لئے اوّلاً تو میری طرف مرزا متوجہ نہ ہوا اور لوگوں کی طرف مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ انبالہ والے میری نسبت کیا اعتقاد رکھتے ہیں تو سب نے دست بستہ کہا کہ حضور آپ کو برحق سمجھتے ہیں۔ میں نے دل میں کہا کہ بھاری کام ہے۔
ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ حضور میں نے آپ کی اور توکل شاہ صاحب کی نسبت استخارہ دیکھا تو آپ کو مقبول پایا اور ان کو مردود۔ پس کہنے سے میرے بدن میں آگ لگ گئی۔ اس لئے کہ توکل شاہ صاحبؒ پنجاب میں ایک نہایت قابلِ قدر بزرگ ہیں۔ میں ان سے ملا ہوں اور وہ مجھ سے بہت محبت رکھتے تھے۔
پس فوراً میں نے کہا کہ تم نے کس طرح استخارہ کیا ؟ اُس نے کہا کہ ایک کتاب کو کھول کر دیکھا۔ میں نے کہا کیا اسے استخارہ کہتے ہیں ؟ تو مرزا صاحب فرمانے لگے کہ سائیں یہ جاہل لوگ ہیں فال کو استخارہ کہتے ہیں ۔ اسی وقت ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا کہ مجلس برخاست ۔ سب اُٹھ کر نیچے چلے گئے ۔
میں نے حکیم نورالدین سے کہا کہ مجھ کو مرزا صاحب سے تنہائی میں ملنا ہے تو وہ کہنے لگے کہ آپ تنہائی میں کسی سے نہیں مل سکتے ۔ خیر دوسرے وقت بعد نماز کے آئے کہنے لگے کہ بخاری لاؤ ۔ معالم التنزیل لاؤ۔ لوگوں نے خدائے تعالیٰ کو بخیل بنا ڈالا ۔ خدائے تعالیٰ سخی ہے ، جوّاد ہے ، انسانی استعداد میں کوئی رتبہ ایسا نہیں جو انسان پیدا نہیں کرسکتا ۔ میرے دل میں آیا ہے کہ یہ شاید ختم نبوت کے قائل نہیں ہیں ۔
میں نے کہا کہ اگر اجازت ہو تو عرض کروں ۔ اُنہوں نے کہا، کہو۔ میں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ زمانے کے فقیر جاہل ہوتے ہیں۔ میں بھی نہ عالم ہوں اور نہ مباحث صرف اپنی تسلی و تشفی کے لئے عرض کرتا ہوں کہ میں نے سُنا ہے کہ مراتبِ انسانی میں پہلا رتبہ مثلاً مومن ہے، پھر ذاکر، پھر عابد، پھر زاہد، پھر ابدال، پھر اقطاب، پھر غوث، پھر فرد الافراد، پھر نبی، پھر رسول، پھر اولوالعزم، تو کیا انسان اپنی استعداد و کوشش سے نبوت بھی حاصل کرسکتا ہے، تو انہوں نے سر بزانو ہوکر بہت دیر تک مراقبہ کیا۔ پھر سَر اُٹھا کر کہنے لگے کہ میرا کلام ولایت کے مقام میں ہے، نبوت تو ختم ہوچکی ہے۔ میں نے کہا۔ الحمدللہ، میرا سوء ظن جاتا رہا اور معلوم ہوگیا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ وآلہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے ہیں بس ایک شخص نے کہا کہ مجلس برخاست ۔ وہ اُٹھ کر اندر حجرہ میں چلے گئے اور سب لوگ نیچے اُتر آئے ۔ پھر دوسرے وقت بھی اسی طرح ایک شخص نے کہا کہ مجلس برخاست کہ حضور کی طبیعت مکدر ہوتی ہے سب اُٹھ کر چلتے ہوئے مگر میں بیٹھا رہا۔ مجھ کو لوگوں نے کہا کہ اُٹھو۔ میں نے کہا کہ نہیں اُٹھتا ۔ تب اُنہوں نے یعنی مرزا صاحب نے کہا کہ بیٹھنے دو ۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ میری جانب متوجہ ہوئے ۔ تب میں نے کہا :
سوال : میں لوگوں کو آپ کی کیا خبر دوں ؟
جواب : کہ عیسیٰؑ بیٹے مریمؑ کے مرگئے ۔
سوال : تو کیا آپ ان کے اوتار ہیں ؟ کیا تناسخ باطل نہیں ہے ؟
جواب : یہ مطلب نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ ان کا کام میرے ہاتھ سے لے گا ۔
سوال : وہ دجال کو قتل کریں گے ، آپ نے کونسے دجال کو مارا ؟
جواب : یہ نصاریٰ جن کی ایک آنکھ حق کی پھوٹی ہوئی ہے، یہ گویا دجال ہیں۔ ان کو رد کرنا گویا قتل کرنا ہے ۔
سوال : آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات فرما گئے ؟
جواب : قرآن مجید میں ہے : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى ۔
سوال : پھر وَمَا قَتَلُوهُ وما صلبوہُ کے کیا معنی ہوں گے ؟
پس ساکت ہو کر بہت دیر تک سر بجیب مراقبہ کر کے فرمایا :
جواب : يا احمد انى مبشرك ۔
سوال : وحی اور الہام میں کیا فرق ہے ؟
جواب : کچھ فرق نہیں ۔
سوال : میں نے سُنا ہے کہ وحی میں فرشتہ روبرو ہوتا ہے اور الہام میں صرف پس پردہ ایک آواز ہوتی ہے۔ اس لئے وحی میں خطا نہیں ہوتی اور الہام میں خطا ممکن ہے ۔
جواب : سنی ہوئی بات کا اعتبار کیا ہے ؟
سوال : کیا الہام رحمانی اور شیطانی بھی ہوتا ہے ؟
جواب : ہاں ہوتا ہے ۔
سوال : پھر تو الہام میں غلطی ہو سکتی ہے ؟
جواب : مگر اہل اللہ کے پاس ایک مقیاس ہوتا ہے جس سے وہ خطا اور صواب
پہچان لیتے ہیں ۔ سوال : مقیاس کے کیا معنی ؟ جواب : ترازو اور کانٹا۔ سوال : ترازو اور کانٹا خراب ہو گیا ہو تو پھر خطا اور ثواب کو کیسے تمیز کریں گے بس ساکت ہو کر سر بجیب مراقب ہو گئے۔ پھر سر اُٹھا کر کہا ۔ جواب : اہل اللہ اسے پہچان لیتے ہیں ۔ سوال : شیخ محی الدینؒ ابن عربی کا کشف کیسا ہے ؟ جواب : صحیح ہے ۔ سوال : وہ اپنے الہام میں فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں ۔ پھر بجیب مراقبہ ہو کر بہت دیر کے بعد سَر اُٹھا کر کہا : جواب : قرآن کے سامنے سب کا الہام باطل ہے ۔ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ ۔ سوال : اس کے معنی موت کے کیسے ثابت ہوئے جبکہ معارض آیت میں موجود ہے۔ جواب : بخاریؒ نے تو حضرت ابن عباسؓ تفسیر کرتے ہیں کہ اے تُمِيْتُنِيْ ۔ سوال : بخاریؒ نے تو حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے آسمان سے شام میں نزول ہونے کا ایک باب باندھا ہے ۔ وہاں پر آپ کے قادیان کا تو ذکر نہیں ہے پس ساقط ہو گئے اور غصّہ سے پسینہ پسینہ ہو گئے۔ نہایت غصّے سے کہنے لگے کہ عیسیٰ بیٹے مریم کے مرچکے پس مجھ کو بھی جوش آ گیا اور میں نے کہا ۔ اچھا اس پر فیصلہ ہے کہ تم اور ہم دونوں یہاں بیٹھ جائیں اور یا تو تم ہم کو حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے پاس لے چلو یا میں آپ کو انکے پاس لے چلتا ہوں آپ بذاتِ خود حضرت عیسیٰ علیہ السّلام سے دریافت کر لیں کہ آپ حیات ہیں یا وفات پا چکے ہیں بس وہ ٹھنڈے ہو گئے۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کو خاتمہ کا ڈر ہے
یا نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ خاتمہ کا تو سب کو ڈر ہے۔ میں نے کہا کہ بس دعا کیجئے کہ خدائے تعالیٰ ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے۔ آمین ثم آمین۔
(باغ عارف)
قبلۂ عالم حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ
پیر کرم شاہ صاحب سکنہ بھوپن کلاں نزد حافظ آباد اعلیٰ حضرت میاں صاحبؒ شرقپوری کے مریدین باصفا میں سے تھے۔ اُنہوں نے مؤلف سے بیان کیا کہ ایک زمیندار مردان علی نامی صاحبِ ثروت تھا مگر تھا بڑا آزاد خیال۔ نیچری قسم کے اعتقادات رکھتا تھا، مرزائیت کی طرف مائل تھا اور وقتاً فوقتاً قادیان بھی جایا کرتا تھا۔ ایک بار کسی شخص کے ساتھ اعلیٰ حضرت میاں شیر محمدؒ کی خدمت میں ایک مسئلہ لے کر حاضر ہوا۔ اس کی نیت یہ تھی کہ اگر اعلیٰ حضرت شرقپوریؒ سے بھی یہ عقدہ حل نہ ہوا تو قادیان جا کر مرزا غلام احمد کی بیعت کر لوں گا۔ پیر کرم شاہ کا بیان ہے کہ وہ میاں صاحبؒ کی صرف ایک ہی نگاہ سے اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا اور اپنی زبان سے کہنے لگا: ”مرزا جھوٹا، مرزا جھوٹا، مرزا جھوٹا“۔ اِس اقرار کے بعد جب وہ ہوش میں آیا تو فوراً اپنے خیالاتِ فاسدہ سے تائب ہوا، اللہ اکبر۔
(خزینۂ کرم، ص ۵۲۱، تالیف نور احمد مقبول بی اے)
O
حضرت مولانا میاں شیر محمد صاحبؒ شرقپوری نے ایک دفعہ مراقبہ کیا اور دیکھا کہ مرزا قادیانی کی شکل قبر میں باؤلے کتے کی ہے اور باؤلے پن کا اس پر دورہ پڑا ہوا ہے۔ اس کا منہ دُم کی طرف ہے، بھونک رہا ہے اور گول چکر کاٹ رہا ہے، منہ سے پانی نکل رہا ہے اور بار بار اپنی دُم اور ٹانگوں کو کاٹتا ہے۔ اس
کشف کا فقیر نے ایک بزرگ کے سامنے ذکر کیا، فوراً تڑپ اُٹھے۔ فرمایا خدا گواہ ہے واقعتاً یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔ واقعتاً مرزا کی حقیقت ایسی ہی ہونی چاہیے۔
مولانا سیّد شمس الدّین شہیدؒ
مرزائیوں نے فورٹ سنڈیمن میں محرف قرآن مجید تقسیم کیا جس کے خلاف احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مولاناؒ نے فرمایا :
" آج آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کے قرآن کے ساتھ کھیلا جارہا ہے اور ختم نبوت کو پارہ پارہ کرچکے ہیں اور اس کا مذاق اُڑایا جارہا ہے۔ تو میرے ساتھیو ! اگر ہمارا یہی حشر رہا تو لامحالہ ہم یہی کہیں گے کہ اگر ہم قیامت کے روز محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں گے تو لامحالہ وہ یہی کہیں گے کہ میری ناموس لُٹ رہی تھی اور قرآن پر ظلم ہورہا تھا۔ ذرا یہ تو بتاؤ آپ حضرات کہاں تھے ؟
بہر حال حضرات ! میں نے تو یہ مصمم ارادہ کیا ہے کہ جب تک میرے جسم میں جان ہے اور میری رگوں میں ایک بھی خون کا قطرہ ہے اور جبکہ میں نے اپنے ہاتھ سے اور مہر ثبت کر کے اپنے نام کے ساتھ سیّد لکھا ہوا ہے تو میں اپنے نانا (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ناموس پر اس بھٹو حکومت میں ایسا مر مٹوں گا کہ وہ بھی حیران ہوگا اور ان کے کان میں یہ آواز پہنچنی چاہیے کہ بھٹو صاحب ! یہاں مرزائیت کا راج نہیں چل سکتا اور یہ میں پھر واضح الفاظ میں کہہ دینا چاہتا ہوں کہ وہاں بلوچستان میں ہم نے ختم نبوت کی جو تحریک چلائی تھی اور ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کی حفاظت کی جو تحریک چلائی ، آج میں پھر حکومت سے کہتا ہوں کہ اس ماہ کی ۲۵ تاریخ کو میں نے پھر ایکشن کمیٹی کی میٹنگ بلائی ہے اور آج پھر جب میں یہاں سے جاؤں گا تو وہ تحریک
اسی طرح چلے گی جس طرح ہم نے چلائی تھی اور جب تک بلوچستان میں مرزائیت کا نام و نشان ہم نہیں مٹائیں گے تو وہاں ہمارا آرام سے بیٹھنا حرام ہے “
مولانا سید شمس الدینؒ کے عم زاد بھائی مولانا سید احمد شاہ خطیب خروٹی مسجد فورٹ سنڈیمن فرماتے ہیں، ۲۷؍ اپریل ۱۹۷۴ء کو دوپہر ایک بجے خواب میں مجھے مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کی زیارت نصیب ہوئی۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ کی شہادت کے بعد لوگوں نے بہت اشعار آپ کی یاد میں کہے ہیں۔ مولانا شہیدؒ نے کہا: میں نے بھی اشعار کہے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے سنا دیں تاکہ میں لکھ لوں۔ مولانا شہیدؒ نے اپنا قلم مجھے دیا اور اشعار سنانے شروع کئے اور ابھی تین شعر پڑھے تھے کہ میں رونے لگا اور میری آنکھ کھل گئی۔
ان اشعار کا اُردو میں مفہوم یہ ہے کہ :
” دنیا میں مَیں نے ایمان کو تبدیل نہیں کیا اور ارمانوں کے ساتھ چل بسا میرے والدین اور اعزہ و اقرباء افسوس نہ کریں۔ میں ختم نبوت پر قربان ہوا ہوں اور حضرت درخواستی مدظلہٗ اور حضرت مولانا مفتی محمود صاحبؒ اور دیگر قائدین جمعیت افسوس نہ کریں کیونکہ ظالم مجھے جمعیت علماء اسلام کے منشور سے ہٹا نہیں سکا۔ “
بھٹو حکومت نے مولانا کو گرفتار کیا۔ رہائی کے بعد مولانا شمس الدینؒ نے اپنی گرفتاری کی کیفیت ان الفاظ میں بیان کی ۔
” وہ مجھے ۴۵ میل دُور افغانستان سرحد کی طرف والے روڈ میں لے گئے کیونکہ باقی تمام راستے ہمارے جوانوں نے بند کر رکھے تھے۔
وہاں ایک فوجی کیمپ میں مجھے ان کے حوالے کیا اور وہاں سے وہ لوگ آگے ۸۵ میل لے کر پہنچے۔ اس سڑک پر ہمارے جوان نہیں تھے۔ کیونکہ یہ راستہ افغانستان کو جاتا ہے لیکن ۲۵ میل دُور ایک گاؤں میں پہنچے اور لوگوں کو معلوم ہوا تو اُنہوں نے گھیرا ڈال لیا۔ ان کے ۵۰ کمانڈوز آئے اور کہا کہ تم مولوی شمس الدین کو یہاں سے نہیں لے جا سکتے۔ اس لئے کہ اگر تم یہاں سے لے گئے تو یہ ہماری بے غیرتی ہوگی یا تو تم مولوی صاحب کو واپس لے جاؤ یا پھر ہم مریں گے یا تم مرو گے۔ بہرحال مجھے وہاں سے پھر فوجی چوکی میں واپس لائے اور وہاں سے مجھے بذریعہ ہیلی کاپٹر میوند لے جایا گیا۔ میوند میں ایک فوجی کیمپ تھا، وہاں مجھے ان سے دُور ایک خیمہ لگا کر رکھا گیا اور چھ سے دس تک فوجی مجھ پر پہرہ دار مقرر کئے گئے۔ میوند ایک پہاڑی اور خراب علاقہ ہے اور ایسا پانی ہے جس کے پیتے ہی پیچش شروع ہو جاتے ہیں۔ بہر حال مجھے یہ کہا جاتا رہا کہ تمہیں اس وقت تک رہا نہیں کیا جائے گا جب تک تم حکومت وقت کی امداد نہ کرو اور اتنے روپے مجھے دینے پر تیار ہوئے کہ میرے پورے قبیلے کی زندگی کے لئے کافی تھے اور مجھے گورنر نے فوجوں کے ذریعے یہاں تک کہا کہ آپ کو ہم وزارتِ اعلیٰ دینے کے لئے تیار ہیں۔ میں نے کہا میں پاکستان کی تاریخ میں اس داغ کا اضافہ نہیں کرنا چاہتا کہ ایک مجرم کو رہا کر کے وزیراعلیٰ بنا دیا جائے۔ پھر ہائی کورٹ کے نوٹس کی بناء پر مجھے ۱۸ اگست کو رہا کر کے کوئٹہ لا کر چھوڑ دیا ۔
(بحوالہ ترجمان اسلام ، ۳۱ اگست ۷۳ء)
مولانا سید شمس الدینؒ کی گرفتاری کے دوران گورنر بگٹی نے اپنے ایلچی مولوی صالح محمد کے ذریعہ مولانا شہیدؒ کے والد محترم مولانا محمد زاہد صاحب مدظلہ کو پیغام بھیجا کہ آپ مجھے کوئٹہ آ کر ملیں تا کہ آپ کے بیٹے کی رہائی کے بارے میں کچھ شرائط طے کی جا سکیں ۔ مگر مولانا محمد زاہد صاحب مدظلہ نے جواب دیا کہ میں کسی قیمت پر گورنر سے ملاقات نہیں کروں گا ۔
دراصل گورنر بگٹی کی خواہش یہ تھی کہ مولانا شمس الدینؒ کو اس بات کا پابند کر دیا جائے کہ وہ رہائی کے بعد تحریک ختم نبوت کی قیادت نہ کریں لیکن مولانا محمد زاہد مدظلہ نے اس دام میں آنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ یہ عقیدے کا مسئلہ ہے اور ایسے دس شمس الدین عقیدۂ ختم نبوت پر قربان کئے جا سکتے ہیں ۔
آپ کو ایک سازش سے شہید کیا گیا ۔ مولانا سید امام شاہ اور خان محمد زمان خان نے بتایا کہ مولانا شہیدؒ کے خون مقدس سے ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ اس جیسی خوشبو کسی چیز میں نہیں دیکھی کہ بعض افراد نے جن کے ہاتھوں کو خون لگ گیا تھا، سارا دن خون نہیں دھویا ۔ یہ خوشبو لوگوں نے عام طور پر محسوس کی ۔
متعدد حضرات نے راقم الحروف کو بتایا کہ جب قائدین جمعیت مولانا شہیدؒ کی قبر پر دعا میں مصروف تھے ۔ اس وقت جلوس پر اُوپر سے سفید رنگ کے پھول برس رہے تھے جو کئی لوگوں نے اُٹھائے ۔ بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ شاید ہوا کے ساتھ قریبی باغ سے بادام کے درختوں کے پھول اُڑ کر آ رہے ہیں لیکن جب ان پھولوں سے موازنہ کیا تو یہ پھول باداموں کے پھولوں سے قطعی مختلف تھے ۔ لوگوں نے بجا طور پر اسے شہیدؒ کی کرامت سمجھا ۔ قبر پر دعا سے فارغ ہو کر قائدین جمعیت فورٹ سنڈیمن
کوئٹہ واپس آگئے۔
مولانا محمد شریف صاحب جالندھریؒ
ایک متبحر عالم، زیرک اور فہیم انسان تھے۔ قدرت نے ان کے وجود کو خوبیوں کا مجموعہ بنایا تھا۔ آپ نے دارالعلوم دیوبند سے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ سے سند حدیث حاصل کی تھی۔
تعلیم سے فراغت کے بعد مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے تحریک آزادی کے لئے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ تقسیم کے وقت کے نازک حالات میں اپنے علاقہ کے مسلمانوں کی ایسی شاندار خدمات کا ریکارڈ قائم کیا جس سے عام و خاص متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے مشکل حالات میں مجبور و مظلوم مسلمانوں کے لئے آپ فرشتہ غیب ثابت ہوئے۔ تقسیم کے بعد کبیروالا کے علاقہ پکھی میں آباد ہو گئے۔
اس لحاظ سے آپ بڑے خوش نصیب تھے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جس وقت بنیاد رکھی گئی اس کی کارروائی بھی آپ نے لکھی اور سالہا سال کی جانفشانی کے بعد جب مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا اس وقت خیر مقدمی قرارداد بھی مرکزی مجلس عمل کی طرف سے آپ نے تحریر فرمائی، غرضیکہ جس کام کو اپنے ہاتھوں سے شروع کیا تھا قدرت کے فضل و احسان سے اپنے ہاتھوں اسے مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی۔
عمر بھر آپ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تنظیم کو منظم کرنے کے لئے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ،
مولانا قاضی احسان احمد، چوہدری فضل حق، نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، آغا شورش کاشمیریؒ، مولانا ابو الحسناتؒ، سید مظفر علی شمسی، مولانا تاج محمودؒ، مولانا مظہر علی اظہرؒ، خان عبد الغفار خان سرحدیؒ سے آپ کے مثالی تعلقات تھے ۔ مذہبی و سیاسی رہنما آپ کا دل کی گہرائیوں سے احترام کرتے تھے ۔ آپ کی شبانہ روز محنت و اخلاص کے قدردان تھے۔ مولانا محمد علی جالندھری کا وجود عالمی مجلس کے لئے قدرتِ خداوندی کا عطیہ تھا۔ مولانا محمد شریف جالندھری آپ کے دست و بازو تھے ۔ بڑا مشکل سے مشکل کام جو مولانا محمد شریف جالندھری کے ذمہ لگایا جاتا بڑی خوش اسلوبی سے اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اپنی جان کو کھپا دینے کی حد تک محنت کرتے اور کامیاب لوٹتے ۔
ایک دفعہ کسی کیس کے سلسلہ میں ایڈیشنل آئی ، جی پنجاب نے مولانا سے کہا کہ آپ نے ساہیوال کے جس مکان کے تہہ خانے کا ذکر کیا ہے اُس کا تو سرے سے تہہ خانہ ہی نہیں ہے۔ کوئی اور ہوتا تو معذرت کر لیتا۔ مولانا خاموش ہو گئے۔ اجازت چاہی، سیدھے ساہیوال گئے، متعلقہ مکان کے تہہ خانہ کا کسی ذریعہ سے فوٹو لیا۔ کمیٹی کے دفتر گئے، متعلقہ مکان کا منظور شدہ نقشہ نکلوایا، دوسرے دن صبح جاکر ایڈیشنل آئی جی کی میز پر نقشہ اور فوٹو رکھ دیا۔ ایڈیشنل آئی جی سٹپٹایا ۔ اس کے بعد زندگی بھر وہ نہ صرف مولانا کا احترام کرتا تھا بلکہ ہر خاص و عام مجلس میں کہا کرتا تھا کہ اللہ کا فضل ہے کہ جدید تقاضوں کے مطابق کام کرنے کا علماء میں ہم سے بہتر سلیقہ موجود ہے۔
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں تمام رہنماؤں کے گرفتار ہونے کے بعد
آپ نے تحریک کے الاؤ کو جان مال وخون جگر سے روشن رکھا۔ پولیس نے آپ کو دفتر سے گرفتار کیا۔ سنٹرل جیل ملتان میں بڑی بہادری وجرأت کے ساتھ وقت گزارا۔ مولانا عبدالرحیم اشعر کی روایت کے مطابق کہ مولانا محمد شریف جالندھری کے پہلو میں قدرت نے بڑے بہادر انسان کا دل رکھا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ آپ بہت بڑے عظیم انسان تھے۔
O
چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک کی بات کو سنتے، دل کی گہرائیوں میں جگہ دیتے۔ اس پر جو مولانا ارشاد فرما دیتے تھے وہ حرف آخر ہوتا تھا۔ قدرت نے آپ کے وجود کو ایک ایسی مٹی سے ترتیب دیا تھا جس کے ثمرات سے ساری زندگی اپنوں اور پرایوں نے فائدہ حاصل کیا۔
O
مولانا کی محنت و مشقت مثالی تھی۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ آغا شورش کاشمیریؒ کی تجویز پر آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری مقرر ہوئے۔ آپ اُس وقت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل تھے۔ اس تحریک کے تمام تر اخراجات عالمی مجلس نے اپنے بیت المال سے ادا کئے۔ تحریک کے تمام تر پروگرام کو ترتیب دینے میں آپ کے ذہن رسا کو بنیادی پتھر کی حیثیت حاصل تھی۔ آپ نے لاہور میں تمام تحریک کے رہنماؤں کو مغرب کے وقت ان کے گھروں پر مل کر ہوائی جہاز کے ٹکٹ دیئے اور علیٰ الصبح راولپنڈی کی میٹنگ میں شریک ہونے کی تاکید کی۔ مظفر علی شمسی، مولانا محمود احمد رضوی، مولانا احسان الٰہی ظہیر اور دوسرے رہنما جب صبح پنڈی ائیر پورٹ پر اُترے تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ مولانا محمد شریفؒ ان حضرات کے لئے ٹیکسی لئے ائیر پورٹ پر کھڑے ہیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ خود
رات کو بس سے سفر کر کے پنڈی آ گئے تھے۔ خدا گواہ ہے کہ ایسی اُجلی سیرت لوگوں کی محنتوں کے باعث تحریک ختم نبوت کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
O
آپ بیک وقت سٹیج، گفتگو، تحریر و تقریر کے بادشاہ تھے۔ گفتگو میں بڑے سے بڑے آدمی کو آپ کے مؤقف کا اقرار کرنا پڑتا۔ بھٹو دور میں جب خان عبدالقیوم خان وزیر داخلہ تھے، آپ ان سے ملے۔ وہ بڑا گھاگھ قسم کا پینترا بدلنے والا انسان تھا۔ آپ نے مرزائیت کے عنوان پر بات کی، اُس نے کوئی سخت مؤقف اختیار کیا۔ آپ نے فرمایا، بہت اچھا مجھے اجازت ہے کہ آپ کے اس مؤقف کو اخبارات میں چھپنے کے لئے بھجوا دوں۔ اس کا پتہ پانی ہو گیا۔ فوراً گرمی نرمی میں بدل گئی اور آپ کے موقف کی حمایت کا وعدہ کیا۔ ایسے سینکڑوں واقعات ہوں گے کہ آپ جس بات پر اڑ جاتے تھے اُسے منوا کر دم لیتے تھے۔
O
۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں وفاقی وزیر اطلاعات جناب راجہ ظفر الحق صاحب تھے۔ وہ بھی تحریک کے بہادر رہنما ہیں۔ مولانا محمد شریفؒ سے آپ کے مثالی تعلقات تھے۔ ۲۴ اپریل کو آپ کو راجہ صاحب نے جنرل ضیاء الحق صدر مملکت و چیف مارشل لاء سے ملنے کی دعوت دی۔ آپ کے لئے بڑا مشکل مسئلہ تھا۔ انکار کرتے تو راجہ صاحب ایسا شخص جنرل صاحبؒ سے وعدہ کر چکا تھا کہ آپ کو تحریک کے بنیادی رہنما سے ملواؤں گا اور اگر ملتے تو تحریک کے دوسرے رہنما بد دل ہوتے کہ ہمارے مشورہ کے بغیر ایسے کیوں ہوا۔ اسی مشکل وقت میں آپ نے اپنے اور ہمارے مخدوم آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب سے فون کے ذریعہ اجازت لی۔ جنرل صاحب سے ملاقات ہوئی۔
جنرل صاحب نے فرمایا ، مولانا آپ مجھے مروا دیں گے ۔ مرزائی منظم گروہ ہے، میرے مخالف ہو گیا تو کیا ہوگا ۔ مولانا نے فرمایا : جنرل صاحب، ایک آپ ہیں جن سے ہم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے بارہ میں صرف اور صرف قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ ایک آپ کے ہمسایہ ملک کے ایک مولوی خمینی صاحب ہیں ، آپ جرنیل ہیں وہ مولوی ہے اُس نے دین کی خاطر اپنے دشمنوں کو ہزاروں کی تعداد میں مروا دیا ہے، اس کا اگر کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا تو آپ کو محض قانون پر دستخط کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ جنرل صاحب نے مولانا کی طرف دیکھا، سر جھکایا، لمبی سانس لی، آنکھیں ڈبڈبا گئیں، مولانا کی طرف متوجہ ہوا اور فرمایا ، مولانا ، شاید دوسرے لوگوں کے گھنٹوں کے وعظ و دلائل مجھے اتنی تسلی نہ دیتے جتنی آپ کے ایک جملہ نے تسلی دی ہے ۔ تشریف لے جائیں اللہ خیر کرے گا۔ گھنٹوں کی بات منٹوں میں آپ طے کر کے تشریف لائے ۔ راتوں رات سفر کر کے خانقاہ سراجیہ گئے ۔ حضرت الامیر سے پوری صورتِ حال عرض کی کہ جنرل صاحب مطالبات ماننے پر تیار ہو گئے ہیں ۔ دوسرے روز اسلام آباد میں ٢٦؍ اپریل کو میٹنگ تھی ۔ ٢٦؍ اپریل کی شام کو آپ تمام علماء کو لے کر جنرل محمد ضیاء الحق صاحبؒ سے ملے اور ”امتناع قادیانیت آرڈینینس“ منظور کروا کر تشریف لائے ۔
اس کے خلاف قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت میں کیس دائر کر دیا ۔ آپ نے مرکزی دفتر کے تمام علماء و مناظرین کی کھیپ اور کتابوں کے سٹاک کو لاہور میں جمع کرنے کا انتظام کیا ــــــ شب و روز کاروائی کی نگرانی کی اور یوں اس مرحلہ میں بھی قدرت نے آپ کو کامیاب کیا ۔
مولانا محمد شریف مرحوم بلاشبہ ایسے خاموش طبع مگر عقابی نظر رکھنے والے انسان
تھے ، ناواقف شخص سمجھ بھی نہیں سکتا تھا، ایسا درویش منش شخص اتنا بڑا عبقری عصر ہے ہمیشہ چھوٹوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ۔
آپ بہت ہی محتاط انسان تھے۔ کسی کی غیبت کرنا یا سننا ان کے مزاج کے منافی تھا۔ جس کے متعلق کوئی بات سنی فوراً اصلاح کے لئے کوشش کرتے۔
〇
اتنے ہنس مکھ تھے کہ بڑے سے بڑے مشکل وقت میں اپنی ظرافت طبع سے مجلس کو کشت زعفران بنا دیتے تھے ۔ ان کی بذلہ سنجی کی سینکڑوں مثالیں ہیں۔ مرزائیوں کے سالانہ جلسہ پر پابندی لگی اور ساتھ ہی وزن پورا کرنے کے لئے حکومت نے ختم نبوت کانفرنس پر پابندی لگادی ۔ تمام کارکن مشتعل اور رہنما پریشان تھے کہ کیا کیا جائے ، میٹنگ ہوئی، گرم سرد دلائل دیئے گئے، مولانا نے سب کے آخر پر فرمایا کہ ایک دفعہ ڈیرہ غازیخاں کے دو زمیندار اتفاق سے ایک کشتی میں سوار ہو گئے۔ دونوں ایک دوسرے کے مخالف تھے۔ ایک زمیندار نے کشتی کے چلتے ہی اس میں سوراخ کرنا شروع کر دیا ۔ اس کے نوکر نے کہا ؟ سائیں ڈوب جائیں گے، تو اس نے بڑی سی گالی لڑھکا کر کہا کہ میرے سامنے میرا دشمن ڈوب جائے اور ساتھ میری بھی موت آجائے تو میرے لئے بہت سستا سودا ہے ۔ اس خوبصورت مثال میں لطافت، ظرافت کے تمام پہلو تھے ۔ یکایک رُخ بدلا اور فرمایا کہ اگر ہمارے سامنے مرزائیوں کے جلسہ پر پابندی لگتی ہے اور ساتھ ہمارے جلسہ پر بھی تو کوئی حرج نہیں ہم ہزار بار ذبح ہو جائیں اور دشمن بھی ہمارے سامنے ذلت کی موت سے دوچار ہو تو اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہو گی ۔ تمام حضرات مطمئن ہو گئے ۔ مگر فرمایا کہ اس کے باوجود میں کوشش کروں گا کہ ایسا نہ ہو۔ اس لئے کہ مرزائیوں اور ختم نبوت کے رضاکاروں کو ایک ترازو سے تولنا حکومت کے لئے مناسب نہیں ہے۔ یہ کہہ کر
لاہور تشریف لے گئے۔ حکومت کے بہت بڑے افسر کو ملے اور فرمایا کہ ہم تو آپ کو اپنے سے بہتر مسلمان سمجھتے تھے مگر آپ کی پالیسی تو ”چولھے کی چھڑی“ ہے جو حرام پر بھی چلتی ہے اور حلال پر بھی“۔ کھڑے کھڑے دو چار باتیں ایسی درد دل سے کہیں کہ دوسرے دن منظوری لے کر آ گئے۔ مرزائیوں کا جلسہ نہ ہوا، ہماری کانفرنس دو روزہ بڑی آب و تاب سے ہوئی۔ اس کے بعد مجلس نے فیصلہ کر لیا کہ بجائے دسمبر اور چنیوٹ کے اب اکتوبر اور ربوہ میں کانفرنس کریں گے۔ مولانا محمد شریف جالندھری کے ذہن رسا نے ایسا فیصلہ کیا کہ آج تک مرزائیوں کے جلسہ پر پابندی ہے اور ختم نبوت کی کانفرنس ربوہ میں بڑی آب و تاب سے منعقد ہوتی ہے۔
۱۹۷۴ء میں جب مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو اس سے بہت سے دوستوں کو خوشی ہوئی مگر مولانا کی طبیعت پر اس وقت عجیب و غریب کیفیت طاری تھی۔ ہر وقت فرماتے تھے کہ صاحب اب ہی کام کا وقت آیا ہے۔ ربوہ کے قرب و جوار کا سفر کیا۔ وہاں پر زمین حاصل کر کے دفتر قائم کرنے کی کوشش کی۔ بالآخر ربوہ کے پہلے آر۔ ایم منیر لغاری صاحب سے ملے۔ بلدیہ کے تھڑے پر خاموشی سے اپنا مبلغ بھیج کر نماز جمعہ شروع کرا دی۔ کچھ عرصہ بعد ریلوے اسٹیشن پر جامع مسجد بنوا دی مگر پھر بھی چین سے نہ بیٹھے، مسلم کالونی ربوہ میں نو کنال زمین پر مشتمل عظیم الشان پلاٹ حاصل کر لیا۔ مولانا تاج محمودؒ ، مولانا محمد شریفؒ دونوں ہمعصر، ہم مسلک اور ہم مزاج تھے۔ دونوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پالیسی ساز تھے۔ ان دونوں کا وجود مجلس کے لئے دل و دماغ کا درجہ رکھتا تھا۔ مولانا محمد شریفؒ محنت و ایثار کے بادشاہ تھے۔ دن رات ایک کر کے گلی گلی کا چکر لگایا، بالآخر کامیاب و کامران ہوئے۔ پلاٹ حاصل کر لیا۔ انتقال ہو
گیا۔ رسید مل گئی قبضہ حاصل کر لیا۔ دوسرے دن اس کے افتتاح کا اعلان کر دیا۔ مولانا خواجہ خان محمد صاحب نماز پڑھانے کے لئے تشریف لائے جہاں اب مسجد ہے۔ اس کا قرب و جوار جھاڑیوں اور گندی بوٹیوں کا جنگل تھا۔ پلاٹ کے ایک کونہ کو صاف کرایا۔ اس پر شامیانے لگوائے اور اس پر سینکڑوں رفقاء جمع کر کے مولانا خواجہ خان محمد صاحب سے نماز پڑھوا کر افتتاح کرا دیا۔ اس وقت سنگ بنیاد رکھا۔ دو چار روز بعد وہاں پر عارضی مسجد و حجرہ مکمل تھا۔ مدرس کا انتظام کر کے سپیکر پر اذانیں شروع ہو گئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے آپ نے یہ سارا کام اتنی عجلت میں کیا کہ مرزائی دیکھتے رہ گئے اور ربوہ میں عظیم الشان منصوبہ کی مولانا نے بنیاد قائم کر دی جو رہتی دنیا تک مولانا محمد شریف کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ قدرت حق ان کی مغفرت کرے، بڑے عظیم انسان تھے۔
چنیوٹ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لائے بہت تکلیف میں تھے۔ سانس لینا مشکل ہو گیا مگر صبر و جبر کے پہاڑ تھے، مجال ہے کہ کسی کو محسوس ہونے دیا ہو کہ وہ اتنی بڑی بیماری سے دوچار ہیں۔ کانفرنس ختم ہو گئی مولانا دوسرے دن چناب ایکسپریس کے ذریعہ ملتان جانے کے لئے کمربستہ ہو گئے۔ ہم لوگ مولانا سے اجازت لے کر کار کے ذریعہ فیصل آباد روانہ ہو گئے۔ ڈاکٹر صولت نواز صاحبزادہ طارق محمود، جناب محمد اقبال صاحب نے مولانا کی بیماری کی تفصیلات مجھ سے پوچھنا شروع کیں کہ مولانا کو ٹی بی تو نہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ ڈاکٹر محمد صولت نواز صاحب نے پوچھا کہ پھیپھڑوں کی کبھی تکلیف تو نہیں۔ میں نے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کبھی مولانا کو دل کی تکلیف ہوئی ہے۔ میں نے کہا، ہاں۔ فوراً صولت صاحب نے گاڑی کی بریک لگادی اور سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ مولانا کا دل بڑھ گیا ہے
اس لئے پھیپھڑوں میں پانی جمع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سانس آسانی سے نہیں لے سکتے۔ یہ نزلہ و زکام نہیں، بڑا حساس نوعیت اور فوری توجہ کا کیس ہے۔ دسمبر کی راتیں ایک دو کے درمیان کا عمل ہے طے ہوا کہ صبح چھ بجے مولانا کو ملتان کی بجائے فیصل آباد لاکر ہسپتال داخل کرائیں۔ صبح ڈاکٹر صولت نواز صاحب تشریف لے گئے۔ مولانا کو ہسپتال لایا گیا۔ میڈیکل کالج کے تمام ڈاکٹروں کی کھیپ اور ہسپتال کے عملہ نے مولانا کا دل و جان سے علاج کیا۔
مولانا تاج محمود صاحب کی اولاد نے مولانا کی خدمت کر کے اپنے باپ کی دوستی کا حق ادا کیا۔ مولانا فقیر محمد صاحب آپ کی صحت کی تازہ ترین صورت حال اخبارات کے ذریعہ ملک بھر کے احباب کو پہنچاتے رہے۔ کمشنر، ڈی، آئی، جی۔ علماء و خطباء عیادت کے لئے آئے۔ جماعت کے مبلغین اور مولانا کے صاحبزادوں نے ایک دوسرے سے بڑھ کر خدمت کی۔ دو ہفتوں میں طبیعت سنبھل گئی۔ صاحبزادہ طارق محمود صاحب نے چناب ایکسپریس میں ایرکنڈیشن سیٹوں کا اہتمام کیا۔ مولانا کو سوار کرنے کے لئے اے سی بوگی کی طرف رفقاء لے کر گئے تو بھانپ گئے کہ زیادہ خرچہ کیا ہے۔ آہ بھری اور فرمایا کہ زندگی میں پہلا سفر ہے جو آپ مجھے اے سی میں بھجوا رہے ہیں، ورنہ تو زندگی بھر تھرڈ کلاس میں سفر کر کے مجلس کے فنڈ کی بچت کی ہے۔
ملتان دفتر میں مہینہ بھر رہے، طبیعت سنبھلتی بگڑتی رہی۔ آخری دنوں ٹھیک ہو گئے۔ دفتر میں بیٹھ کر سارا دن کام کیا، رفقاء کو ہدایات دیں۔ ۱۴ فروری ۱۹۸۶ء کی رات آٹھ بجے دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ کے بعد آپ جماعت کے ایسے چوتھے رہنما ہیں جن کا جنازہ دفتر ختم نبوت سے اُٹھا۔
١٥ فروری ١٩٨٦ء بروز جمعہ ملتان میں مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اسلام آباد سے کراچی تک کے علماء جنازہ میں شریک ہوئے۔ آپ کو سکونتی گاؤں بکتی لے جایا گیا جہاں آپ کی دوسری نماز جنازہ آپ کے ورثاء اور گاؤں کے لوگوں نے پڑھی۔ اس کی امامت حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا سیّد محمد انور حسین نفیس شاہ صاحب دامت برکاتہم نے پڑھائی اور جمعہ کو ظہر کے قریب آپ کے جسد خاکی کو رحمت خداوندی کے سپرد کر دیا گیا۔
مولانا محمد شریف صاحبؒ نے پوری زندگی ایسے طور پر گزاری جیسے بنیاد کی اینٹ ہوتی ہے جو ساری عمارت کا بوجھ اُٹھاتی ہے مگر خود نظر نہیں آتی۔ مولانا نے پوری جماعت کے کام کو سنبھالا مگر نام و نمود، شہرت وغیرہ سے کوسوں دُور رہے آج بھی اسی طرح ملتان کے ضلع کے دور دراز کے ایک دیہات کے قبرستان میں محو خواب ہیں۔ قدرت حق آپ پر رحمتوں کی بارش نازل کرے۔
آغا شورش کشمیریؒ
”آغا شورش کشمیریؒ“ کو اللہ کریم نے بے پناہ جرأت اور قوّت گویائی عنایت فرمائی ہوئی تھی جس سے قادیانیوں کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیئے گئے۔ چٹان کی فائل آج بھی کھول کر دیکھ لیں تو آغا شورش کے خدشات درست نظر آئیں گے۔ قادیانی نبوت اور اس کے گماشتوں کی آغا صاحبؒ سے کئی دفعہ ٹھنی۔ انہیں اپنی طاقت پر ناز تھا اور آغا صاحبؒ کو اپنی تربیت اور جرأت پر انہیں ظفر اللہ خان نظر آتا تھا تو آغا صاحبؒ ظفر علی خان کا قہر بن جاتے۔ انہیں امریکہ کی پشت پناہی تھی تو آغا صاحب اپنی جان
پھیلنے کا تہیہ کر لیتے، ان کی کتاب تحریک ختم نبوت کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے اکتساب فیض نے ان میں ختم نبوت کا کتنا احترام پیدا کر دیا تھا اور قادیانیوں سے کس قدر نفرت تھی۔ قادیانیت کو وہ ایک مذہبی تحریک نہیں بلکہ سیاسی گماشتہ سمجھتے تھے بلکہ انہوں نے اپنی کتاب ”عجمی اسرائیل“ میں اسے سامراجی مہرہ ثابت کیا اور ان کے عزائم سے قوم اور حکمرانوں کو خبردار کیا تھا۔ ان کی خطابت اتنی پُرکشش ہوتی تھی کہ یقین مانئیے جس شہر میں ان کی تقریر ہوتی اُس رات نوجوان سینماؤں میں فلم چھوڑ کر پنڈال میں ہوتے۔ حضور سرور کائناتؐ سے انہیں بے پناہ محبت تھی، حضورؐ سے عشق اس قدر تھا کہ وہ اپنی تقریر میں اس قدر جذباتی ہو جاتے کہ مجمع گریہ کناں ہو جاتا۔ ایک دفعہ چٹان پریس کی ضبطی پر موچی دروازے میں آغا صاحبؒ نے ایوب خاں سے کہا کہ محمد عربیؐ کے نام پر ایک پریس تم نے ضبط کیا ہے، جاؤ دوسرا پریس بھی ضبط کرو، تم نے کمینگی کا مظاہرہ کیا ہے میں تو اپنی جان کی بازی لگانے کا تہیہ کئے ہوئے ہوں ۔
جناب زیڈ ۔ اے سلہری بیان کرتے ہیں کہ بیماری کے دنوں ہم آغا صاحبؒ سے ہسپتال ملنے گئے ۔ کافی دیر ہو گئی تو ڈاکٹر صاحب نے کہا، آپ اُٹھ جائیں، لیکن آغا صاحب کو ہماری موجودگی میں اتنا انہماک تھا کہ اجازت لینے کی جسارت نہ تھی۔ پھر ڈاکٹر افتخار نے ہمیں مخاطب کر کے کہا کہ وہ آغا صاحب کو انجکشن دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ سو کر کچھ آرام کر لیں۔ اس پر ہم فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے لیکن میں ابھی سلام کر کے دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ آغا صاحب نے مجھے اپنے قریب بلایا اور کہا کہ میں اپنے ہاتھ کو ان کے سر پر رکھ دوں۔ جب میں نے ان کے حکم کی تعمیل میں اپنا ہاتھ ان کے سر پر رکھ دیا تو انہوں نے انتہائی رقت بھری آواز میں کہا ،
”سہری صاحب! آپ گواہی دینا کہ میں مسلمان ہوں، لا اله الا الله محمد رسول اللہ، اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق ہوں“! یہ سن کر میں کانپ گیا۔ گو میں نے انہیں تسلی دینے کو کہا کہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ ابھی تو آپ نے علامہ اقبالؒ کے متعلق عشق رسولؐ پر کتاب لکھنی ہے (اقبال کی صد سالہ سالگرہ کی جشن کمیٹی نے آغا صاحب کو اس کام پر مامور کیا تھا) لیکن مجھے یکلخت محسوس ہوا کہ آغا صاحب کی آنکھیں آئندہ کا وہ نقشہ دیکھ رہی ہیں جو ہماری نظروں سے ماورا ہے۔ میرا دل بھاری ہو گیا۔ میں گھر چلا آیا، نماز پڑھی اور آغا صاحب کی صحت کے لئے دعا کی۔ مجھ گنہگار کی دعا کیا لیکن ایک دوست کی تعمیل فرمائش ضروری تھی، اور پھر میں قریباً ساری رات ان کے خیال میں مستغرق رہا اور زیر لب ان کی صحت یابی کے لئے دعا کرتا رہا لیکن سخت متفکر رہا۔ صبح پانچ بجے ایک دوست کا ٹیلیفون آیا کہ آغا صاحب اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ہم انہیں سوا سات بجے چھوڑ کر آئے تھے اور وہ سوا گیارہ بجے فوت ہو گئے۔
حضرت مولانا محمد صدیقؒ
حضرت مولانا محمد صدیقؒ صاحب خلیفہ خاص حضرت امام گنگوہی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے شروع شروع میں مجددیت کا دعویٰ کیا تھا اور مرزا قادیانی اکثر لدھیانہ اس زمانہ میں آیا کرتا تھا۔ میرا بھی کبھی کبھار بھائی مشتاق احمد صاحب کے ہاں قیام ہو جاتا تھا۔ ایک مرتبہ بھائی مشتاق صاحب کہنے لگے کہ دریافت تو کریں کہ آیا واقعی یہ قادیانی مجدد ہے بھی سہی، یا ویسے ہی ڈھونگ رچا رکھا ہے۔ حضرت مولانا مرحوم فرمانے لگے کہ اب کے جب مرزا قادیانی لدھیانہ آئے اور میں بھی موجود ہوں، تب یاد دلانا، اس سے گفتگو کریں گے۔ اتفاق سے جلد ہی حضرت مولاناؒ اور مرزا قادیانی کا اجتماع ہو گیا۔ حضرت
مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے مندرجہ ذیل سوال فرمائے۔ حضرت مولاناؒ : مرزا صاحب کیا واقعی آپ مجدد ہیں ؟ مرزا قادیانی : ہاں واقعی مجدد ہوں۔ حضرت مولاناؒ : مقامات سلوک تو آپ کو ضرور طے کرائے ہوں گے ؟ مرزا قادیانی : جی ہاں مقامات سلوک طے کرائے ہیں۔ حضرت مولاناؒ : مرزا صاحب یہ بتائیں سیر اجمالی ہوئی یا تفصیلی ؟ مرزا قادیانی : جی مجھے سیر اجمالی ہوئی۔ حضرت مولاناؒ : اجمالی والا مجدد نہیں ہوتا ؟ مرزا قادیانی : مجھے اجمالی اور تفصیلی دونوں ہوئی ہیں۔ حضرت مولاناؒ : سیر تفصیلی بیان کرو ؟ مرزا قادیانی : ایسی تفصیلی تھی جیسے ریل گاڑی تیز چل رہی ہو، بظاہر تفصیلی تھی لیکن معلوم کچھ نہیں ہوتا تھا۔ حضرت مولاناؒ : ایسی تفصیلی میں اسٹیشن تو تمام ہی ٹھہرتے ہوں گے ؟ انہیں کے نام شمار کرا دیجئے۔ مرزا قادیانی کو کچھ جواب نہ بن پڑا اور سانپ سونگھ گیا ۔
نواب آف بہاولپورؒ
مشہور مقدمہ تنسیخ نکاح عائشہ بنام عبدالرزاق میں فاضل جج فریقین کے دلائل اور علماء کے بیانات سن کر ایک نتیجے پر پہنچ گئے تھے اور قادیانیوں کے بارے میں ان کا شرح صدر ہو چکا تھا لیکن عام تاثر یہ تھا کہ کہیں اس فیصلہ سے انگریز حکومت اسلامی
ریاست بہاولپور کو نقصان نہ پہنچائے۔ یہ خبر نواب صاحبؒ تک پہنچی تو انہوں نے جج صاحب سے ببانگِ دہل فرمایا: ”آپ قادیانیوں کو علی الاعلان غیر مسلم قرار دیں، اگر نواب بہاولپور محمد صادقؒ پنجم کی ایک کیا ہزاروں ریاستیں بھی سرکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے تحفظ میں قربان ہو جائیں تو پروا نہیں ۔“ پھر کیا تھا وہ شہرۂ آفاق فیصلہ سامنے آیا جس کے نتیجے میں قادیان کی جھوٹی نبوت کو ہر جگہ خائب و خاسر ہونا پڑا اور آخر کار ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے تاریخ ساز فیصلے کی رُو سے قادیانی غیر مسلم قرار پائے۔
مرزائیت کا علمی تعاقب جس انداز سے ریاست بہاولپور کے علماء نے کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ مرزا غلام احمد نے اپنی ایک کتاب میں قصیدۂ رائعہ یعنی حیرت انگیز قصیدہ لکھتے ہوئے قارئین کو چیلنج کیا کہ جو اس کا جواب لکھے، ایک ہزار روپے نقد انعام پائے گا۔ قصیدے کا پہلا شعر یہ تھا؎
وَا مُلُوْ كَمِثْلِيْ اَوْ ذَرُوْنِيْ وَخَيِّرُوْا
(تم سب اپنے قلم تیار کرتے ہوئے میرے مانند لکھو یا مجھے چھوڑ دو اور مجھے امتیازی حیثیت دو)
اس کا جواب جامعہ اسلامیہ عباسیہ کے فارغ التحصیل مولانا امیر محمد نے ایک کتاب کی صورت میں دیا جس میں قصیدہ لامیہ بھی شامل تھا؎
فَمِثْلِيْ مِثْلُكُمْ اَوْ بِالْفِضَالِ
(ہم اپنے قلم تیار کر کے تمہارے مقابلے میں اُتر آئے ہیں پس اب ہم تمہاری طرح بلکہ تم سے بھی اعلیٰ درجے کی تحریریں ڈھالیں گے)
قادیانیوں سے مولانا امیر محمد صاحب کی خط و کتابت اس چیلنج کے سلسلے میں ہوتی رہی حتیٰ کہ معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔
رحیم یار خاں کی ضلعی عدالت میں جج نے وکیل مرزائیت کے جواب میں مولانا صاحب کی بلند پایہ علمی تقریر سن کر بے ساختہ کہا : ” یہ تو بڑے فاضل شخص ہیں “ اور معاملہ یہیں ختم ہو گیا۔
حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب تحریر فرماتے ہیں، اس سلسلہ میں مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری مرحوم نے راقم الحروف سے بیان کیا کہ خضر حیات ٹوانہ کے والد نواب سر عمر حیات ٹوانہ مرحوم لندن گئے ہوئے تھے۔ نواب آف بہاولپور مرحوم بھی گرمیاں اکثر لندن گزارا کرتے تھے۔ نواب مرحوم سر عمر حیات ٹوانہ سے لندن میں ملے اور مشورہ طلب کیا کہ انگریز حکومت کا مجھ پر دباؤ ہے کہ ریاست بہاولپور سے اس مقدمہ کو ختم کرا دیں، تو اب مجھے کیا کرنا چاہیئے ؟ سر عمر حیات ٹوانہ نے کہا کہ ہم انگریز کے وفادار ضرور ہیں مگر اپنا دین، ایمان اور عشق رسالتمآب کا تو ان سے سودا نہیں کیا۔ آپ ڈٹ جائیں اور ان سے کہیں کہ عدالت جو چاہے فیصلہ کرے میں حق و انصاف کے سلسلہ میں اس پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا۔ چنانچہ مولانا محمد علی جالندھری نے یہ واقعہ بیان کر کے ارشاد فرمایا کہ ان دونوں کی نجات کے لئے اتنی بات کافی ہے۔
حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالویؒ
حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ شمس العارفین ، سراج السالکین حضرت
خواجہ محمد شمس الدین سیالوی قدس سرہ کے پوتے اور حضرت شیخ الاسلام والمسلمین خواجہ محمد قمرالدین سیالوی مدظلہ کے والد گرامی تھے۔ آپ بیک وقت ایک شیخ طریقت، عالم دین، مصنف اور سیاسی لیڈر تھے۔ آپ نے تحریک خلافت میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا تھا۔ ردّ مرزائیت میں آپ نے شاندار خدمات سرانجام دیں۔ ایک معرکۃ الآرا کتاب ”معیار المسیح“ مطبوعہ ۱۳۲۹ھ کے نام سے لکھی جو اپنی مثال آپ ہے۔
پیر ظہور شاہؒ سجادہ نشیں جلالپور جٹاں
پیر ظہور شاہ رحمۃ اللہ علیہ جلالپور جٹاں ضلع گجرات کے سجادہ نشین تھے۔ آپ شیخ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین مصنف بھی تھے۔ فتنہ مرزائیت کی تردید میں آپ نے ایک کتاب ”قہر یزدانی بر سر دجال قادیانی“ لکھی تھی۔
چوہدری ظہور الٰہیؒ
مولانا تاج محمودؒ نے فرمایا کہ ۶ ستمبر ۱۹۷۴ء کی شام چوہدری ظہور الٰہیؒ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ آج انشاء اللہ مذاکرات کامیاب ہوں گے اور گزشتہ رات کا ایک واقعہ بڑے دلچسپ انداز میں حاضرین کو سنایا۔ فرمایا کہ رات مسز بندرانائیکے وزیر اعظم سری لنکا کا عشائیہ تھا۔ جب وہ ختم ہوا تو مسز بندرانائیکے اور جناب بھٹو صاحب گیٹ کے پاس آکر کھڑے ہوگئے۔ تمام مدعوین جارہے تھے۔ میں جب گیٹ کے قریب پہنچا تو جناب بھٹو صاحب سے آنکھ بچا کر ایک طرف سے ہو کر نکلنے کی کوشش کی لیکن بھٹو صاحب نے دیکھ لیا۔ مجھے بلایا کہ چوہدری ظہور الٰہی صاحب، آپ کسی زمانہ میں
میرے دوست تھے اور آجکل دشمن ہورہے ہیں، آپ کو کیا ہوگیا؟ چوہدری صاحبؒ نے کہا کہ بھٹو صاحب یہ مسئلہ ختم نبوت، جو حضورؐ کے ناموس کا مسئلہ ہے، تیرے سامنے ہے اسے حل کر دے تو ہیرو ہو جائے گا۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ نہیں اب میں کیا ہیرو ہوں گا، ہیرو تو میں جب ہوتا اگر ۷۴ء جون کو اس مسئلے کو حل کر دیتا۔ چوہدری صاحبؒ نے کہا کہ نہیں اب بھی اگر آپ یہ مسئلہ حل کر دیں تو نہ صرف دنیا میں تجھے بہت بڑی عزت نصیب ہو جائے گی بلکہ آپ کی آخرت بھی سنور جائے گی۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ اگر میں مسئلہ حل کر دوں تو تم میری مخالفت چھوڑ کر میرے دوست بن جاؤ گے۔ چوہدری صاحبؒ نے کہا کہ دوستی اور مخالفت اصولوں کی بنیاد پر ہے۔ اگر آپ مسئلہ حل کر دیتے ہیں اور ہماری طرف محبت اور دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے تو ہم بھی جواب میں آپ سے دوستی اور محبت کا ہاتھ ضرور بڑھائیں گے۔
چوہدری صاحبؒ کا خیال صحیح نکلا۔ دوسرے دن مذاکرات میں بھٹو صاحب مان گئے۔
(ہفت روزہ لولاک، فیصل آباد)
حضرت شاہ عبدالرحیم رائپوریؒ
حکیم نورالدین بھیروی ثم قادیانی ایک دفعہ حضرت میاں صاحب کے پاس مہاراجہ جموں کے لئے دُعا کرانے کے لیے گیا۔ آپ نے دیکھتے ہی فرمایا، نام نورالدین ہے۔ حکیم نے کہا ۔ ہاں۔ فرمایا ، قادیان میں ایک شخص غلام احمد نام کا پیدا ہوا ہے جو کچھ عرصہ بعد ایسے دعوے کرے گا جو نہ اٹھائے جائیں نہ رکھے جائیں اور تم لوح محفوظ میں اس کے مصاحب لکھے ہوئے ہو، اس سے تعلق نہ رکھنا، دُور دُور رہنا ورنہ اس کے ساتھ ہی تم بھی دوزخ میں پڑو گے۔ حکیم صاحب سوچ میں پڑ گئے۔ فرمایا، تم یہیں الجھنے
کی عادت ہے یہی عادت تم کو وہاں لے جائے گی۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد مرزا غلام احمد قادیاں میں ظاہر ہوا اور دعویٰ نبوت کیا اور کبھی مسیح موعود بنا اور حکیم نورالدین اس کا خلیفۂ اوّل بنا اور اس کے دین کو پھیلایا۔ یہ شخص بڑا عالم تھا۔ مرزا صاحب کو بہت کچھ سکھاتا تھا۔ اس کے ساتھ گمراہ ہوا۔
بعد ازاں شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوریؒ سے علماء لدھیانہ کی ملاقات ہوئی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے قادیانی کے متعلق استخارہ کیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ شخص بھینسے پر اس طرح سوار ہے کہ منہ دُم کی طرف ہے۔ جب غور سے دیکھا تو اس کے گلے میں زنار ہے جس سے اس کا بے دین ہونا ظاہر نظر آتا ہے اور یہ بھی یقیناً کہتا ہوں کہ جو اہلِ علم اس کی تکفیر میں اب تک متردّد ہیں کچھ عرصہ تک سب کافر کہیں گے۔
(فتاویٰ قادریہ از مولانا محمد لدھیانویؒ ص ۱۷)
مولانا سیّد محمد علیؒ مونگیری
مولاناؒ کے ایک مسترشد اور مجاز مولانا عبدالرحیم صاحب کے ذریعہ مونگیر اور بھگلپور کے دیہاتوں میں سینکڑوں ہزاروں اشخاص کی اصلاح ہوئی اور وہ ان کے ہاتھ پر تائب ہوئے۔ دیہاتوں میں مولود کے جلسے اس اصلاح کا بڑا ذریعہ بنے اور ان سے بہت فائدہ ہوا۔ مولانا ایک طویل اور مفصل مکتوب میں اُن کو لکھتے ہیں :
"مولود شریف کے جلسے کراؤ اور اس میں اُن کے (مرزا صاحب اور اُن کے ساتھی) حالات بیان کرو۔ جس مقام کے لوگ نہایت غریب ہیں اُن سے کہو کہ تم سنّو، شیرینی وغیرہ کی کچھ ضرورت نہیں۔ میں تمام محبّین سے کہتا
ہوں کہ وہ تمہاری مدد کریں، تم کو ہر جگہ بھیجیں، یہاں سے رسائل قادیانی کے متعلق منگوا کر اُن لوگوں کو دو اور اس خط کی متعدد نقلیں کر کے، جو ہمارے احباب ہیں ان کو بھجواؤ۔“
مولانا کو اس سنگین خطرہ کا جو مسلمانوں کے سروں پر منڈلا رہا تھا، پورا احساس تھا اور اس کے مقابلہ کا اُن کو اس قدر زائد اہتمام تھا کہ یہ کہا کرتے تھے کہ: ”اتنا لکھو اور اس قدر طبع کراؤ اور اس طرح تقسیم کرو کہ ہر مسلم جب صبح سو کر اُٹھے تو اپنے سرہانے ردّ قادیانی کی کتاب پائے۔“ اس بات سے مولانا کے اس اہتمام و توجہ اور خلش و بے چینی کے ساتھ اس کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت اس تحریک نے کتنی خطرناک اور تشویش انگیز صورت اختیار کر لی تھی اور اس بات کی ضرورت صاف محسوس ہو رہی تھی کہ اس کے سدباب کے لئے اسی دلسوزی اور قربانی سے کام لیا جائے جس سے مولاناؒ نے کام لیا اور اپنے آرام اور صحت کی پرواہ کئے بغیر اس کے لئے ہر قسم کی جد و جہد اور قربانی میں سب سے پیش پیش رہے۔
ایک صاحب (مولوی نظیر حسن صاحب بہاری) جن کا خط پاکیزہ تھا، صرف اس کام پر مامور تھے کہ وہ مسودات صاف کریں۔ وہ دونوں پیروں سے مفلوج تھے۔ اگر کبھی مسودات صاف کرنے میں تاخیر ہو جاتی تو مولانا اُن سے فرماتے کہ: ”محنت سے کام کرو، تمہیں جہاد کا ثواب ملے گا۔“
ایک مرتبہ مولوی صاحب نے پوچھا کہ : ”کیا مجھ کو جہاد بالسیف کا ثواب ہو گا ؟“ فرمایا : ”بے شک ! اس فتنۂ قادیانیت کا استیصال جہاد بالسیف سے کم نہیں۔“
مولانا کا معمول تھا کہ تین بجے تہجد کے لئے اُٹھ جاتے تھے ، اب یہ تہجد کا وقت بھی ردِّ قادیانیت کے لئے وقف کر دیا۔ اکثر یہ وقت تصنیف میں گزرتا۔ بعض دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ مولانا تہجد چھوڑ کر ردِّ قادیانیت پر کتابیں لکھا کرتے تھے ۔
◯
اس جدوجہد کا آغاز ایک اہم تاریخی مناظرہ سے ہوا جس میں قادیانیوں کو ایسی شکست فاش ہوئی کہ انہوں نے دوبارہ اس میدان میں آنے کی جرات نہ کی۔ یہ قادیانیت پر پہلی ضرب کاری تھی جس سے نہ صرف بہار کے قادیانیوں کو بلکہ پورے ہندوستان کی قادیانی تحریک کو سخت نقصان پہنچا اور اس کے بہت خوشگوار نتائج برآمد ہوئے۔ اس مناظرہ میں (جو ۱۹۱۱ء میں ہوا) تقریباً چالیس علماء شریک تھے ۔ دوسری طرف سے حکیم نورالدین وغیرہ آئے تھے ۔ مناظرہ کی اہمیت کا اندازہ کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ادھر مناظرہ شروع ہوا اُدھر مولانا سجدہ میں گر پڑے اور جب تک فتح کی خبر نہ آئی سر نہ اُٹھایا ۔
اس مناظرہ کی مختصر روئداد مولانا کے صاحبزادہ مولانا منّت اللہ رحمانی نے قلمبند کی ہے، وہ لکھتے ہیں:
”مرزا صاحب کے نمائندے حکیم نور الدین صاحب ، سرور شاہ صاحب اور روشن علی صاحب مرزا صاحب کی تحریر لے کر آئے کہ اُن کی شکست میری شکست ہے اور ان کی فتح میری فتح ۔ اس طرف سے مولانا مفتی حسن صاحبؒ، علامہ انور شاہ کشمیری صاحبؒ، مولانا شبیر احمد عثمانی صاحبؒ، مولانا عبدالوہاب بہاری صاحب، مولانا ابراہیم صاحبؒ سیالکوٹی (تقریباً چالیس علماء کرام) بلائے گئے تھے۔ لوگوں کا بیان ہے کہ عجیب منظر تھا، صوبہ بہار کے اضلاع کے لوگ تماشائی بن کر آئے تھے۔ معلوم ہوتا تھا کہ خانقاہ میں علماء کی ایک
بڑی بارات ٹھہری ہوئی ہے، کتابیں اُلٹی جا رہی ہیں، حوالے تلاش کئے جا رہے اور بحثیں چل رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ مولانا محمد علی کی طرف سے مناظرہ کا وکیل اور نمائندہ کون ہو؟ قرعۂ فال مولانا مرتضیٰ حسن صاحب کے نام پڑا۔ آپ نے مولانا مرتضیٰ حسن صاحب کو تحریراً اپنا نمائندہ بنایا۔ علماء کی یہ جماعت میدانِ مناظرہ میں گئی، وقت مقرر تھا۔ اس طرف مولانا مرتضیٰ حسن صاحب اسٹیج پر تقریر کے لئے آئے اور اس طرف آپ سجدہ میں گئے اور اُس وقت تک سر نہ اُٹھایا جب تک فتح کی خبر نہ آگئی۔ بوڑھوں کا کہنا ہے کہ میدانِ مناظرہ کا منظر عجیب تھا۔ مولانا مرتضیٰ حسن صاحب کی ایک ہی تقریر کے بعد جب قادیانیوں سے جواب کا مطالبہ کیا گیا تو مرزا صاحب کے نمائندے جواب دینے کے بجائے انتہائی بدحواسی اور گھبراہٹ میں کرسیاں اپنے سروں پر لئے ہوئے یہ کہتے بھاگے کہ ”ہم جواب نہیں دے سکتے۔“
(سیرت مولانا محمد علی مونگیریؒ)
حضرت شاہ عبدالقادر رائپوریؒ
مولانا عبدالرحمٰن صاحب میانوی مشہور مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت نے فرمایا کہ ایک بار موسم گرما میں ماہِ رمضان المبارک گزارنے کے لئے حضرت مری تشریف رکھتے تھے۔ میں بھی ایک شدید مرض سے افاقہ کے بعد مری چلا گیا اور حضرت کی صحبت میں رہنے لگا۔ ایک روز تبلیغی جماعت کے ایک صاحب سے میری کچھ بحث چل پڑی، اس میں کچھ تلخی کی باتیں بھی ہوگئیں۔ دوسرے روز حضرت وضو فرمانے لگے تھے کہ ان صاحب نے
میری شکایت کی، حضرت وضو سے رک گئے اور رنجیدہ لہجہ میں فرمایا : مجھ سے ان حضرات کی شکایت نہ کیا کرو۔ آج کے زمانہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر ان کی طرح جان نثار کرنے والا کون ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ان کو میں صحابہؓ کے نقش قدم پر دیکھ رہا ہوں، آئندہ کوئی اس جماعت کی مجھ سے شکایت نہ کرے۔
○
وطن میں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد دوبارہ رائے پور شریف کا عزم کیا۔ روانہ ہونے لگے تو آپ کے چچازاد بھائی، مولوی سعد اللہ کے بیٹے مولوی امام الدین نے، جو کہ بیمار تھے، فرمائش کی کہ مجھے راستہ میں حکیم نورالدین کو دکھاتے چلو۔ حکیم نورالدین بھیرہ کا رہنے والا تھا اور حضرت کے خاندان کے بزرگوں کا شاگرد بھی تھا۔ اس تعلق کی وجہ سے آپ اپنے چچازاد بھائی کو لے کر قادیان پہنچے۔ آپ کے والد کے شاگرد حافظ روشن دین بھی آپ کے ساتھ تھے۔ سات آٹھ روز حکیم مذکور کے مہمان رہے۔ حضرت فرماتے تھے کہ عصر کے بعد سے ان کی مجلس عام ہوا کرتی تھی۔ قسم قسم کے لوگ آتے اور مسئلے مسائل پوچھتے رہتے تھے۔
ایک روز تنہائی میں میں نے ان سے پوچھا کہ ”آپ جو کہتے ہیں کہ حق صرف ہمارے پاس ہی ہے اور باقی سب باطل پر ہیں اور قرآن ان کے دلوں میں نہیں اُترتا ہے تو اس کی دلیل کیا ہے کہ آپ ہی حق پر ہیں اور دوسرے باطل پر؟“ انہوں نے کہا ”ہمیں انوار نظر آتے ہیں اور کہا کہ مجھے تو مرزا صاحب نے فرمایا تھا کہ آریوں اور عیسائیوں کے کے رَدّ میں ایک کتاب لکھو۔ میں نے لکھ دی۔ میرا سلوک تو اسی میں طے ہو گیا۔ میں نے کہا کہ انوار تو دوسروں کو بھی نظر آتے ہیں؟ حتیٰ کہ ہندوؤں کو بھی؟“ وہ خاموش ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگے : ”ہم سے مکالمہ باری ہوتا ہے“۔ اس پر میں خاموش ہو گیا، کیونکہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ دوسروں کو مکالمہ باری ہوتا ہے یا نہیں۔ چونکہ میں رائے پور شریف سے
ہو کر گیا تھا۔ میں نے اتنا کہا: تم حقّ پر ہو یا نہ ہو، جس شخص کو میں دیکھ کر آیا ہوں، وہ ضرور باطل پر نہیں ہے یقیناً حقّ پر ہے ۔ میں نے حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوری کو قرآن مجید پڑھتے بھی دیکھا تھا، تہجّد میں طویل تلاوت فرماتے تھے۔ کبھی رو رہے ہیں جب عذاب کا ذکر آتا تو رو رو کر استغفار پڑھ رہے ہیں ، ہاتھ جوڑ رہے ہیں ۔ اسی طرح جب آیاتِ رحمت کی تلاوت کرتے تو خوش ہو رہے ہیں اور مسکراہٹ ہے۔ میں نے سمجھا کہ یہ بھی غلط ہے کہ دوسروں کے دلوں میں قرآن نہیں اترا۔ اگر میں نے حضرت کو نہ دیکھا ہوتا تو میں تو قادیانی بن گیا ہوتا۔
قادیان سے آپ کے ساتھی تو وطن کو واپس ہو گئے اور ہم سہارنپور سے ہوتے ہوئے رائے پور شریف پہنچ گئے ۔ اعلیٰ حضرتؒ نے ذکر کی کیفیت پوچھی ۔ آپ نے کسرِ نفسی سے فرمایا کہ حضرت ! میں تو غبی ہوں، اپنے اندر کچھ نہیں پاتا۔ پھر جو کیفیت تھی وہ عرض کی ۔ حضرتؒ نے فرمایا: ”الحمد للّٰہ!“۔ اسی حاضری میں بیعت سے مشرّف ہوئے اور رائے پور شریف میں مستقل قیام کا ارادہ فرما لیا۔ ایک روز اعلیٰ حضرت نے دریافت فرمایا : مولوی صاحب ! آپ کے پیچھے کتنے لوگ ہیں؟ فرمایا: والدہ، بیوی اور دو بھائی ۔ فرمایا : یہ تو بڑا کنبہ ہے۔ ہمارا تو جی چاہتا تھا کہ ہم آپ اکٹّھے رہتے ۔ عرض کیا: حضرت ! سب کے ہوتے ہوئے بھی میرا کوئی نہیں ہے۔ میں تو یہ نیّت لے کر آیا تھا کہ ساتھ ہی رہوں گا۔ چنانچہ کچھ ہی عرصہ بعد جب وہاں رائے پور ہی میں آپ کو اہلیہ کے انتقال کی خبر ملی اور آپ نے حضرت کی خدمت میں اطّلاعی خط پیش کیا تو حضرتؒ نے کچھ ایسے کلمات فرمائے جن سے مترشّح ہوتا تھا کہ حکمت الٰہی کسی دوسرے کام کے لئے یکسو بنانا چاہتی ہے۔
حضرتؒ فرماتے تھے کہ میں نے ایک مرتبہ موقع دیکھ کر اپنے حضرتؒ کی خدمت میں عرض کیا کہ قادیانی انوار کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کو نماز وغیرہ میں بہت حالات اور کیفیات پیش آتی ہیں اور گریہ و رِقّت کا غلبہ ہوتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرتؒ سنبھل کر بیٹھ
گئے اور جوش سے فرمایا: ”مولوی صاحب سنو! و من يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدىٰ ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولىٰ“
مولانا محمد حیات صاحب اپنے ساتھ ایک رسالہ بہائیوں کے متعلق جو مرزائیوں نے شائع کیا ہے، لائے اور حضرت رائے پوری کی خدمت میں عرض کیا کہ مرزا صاحب قادیانی اور بہاء اللہ ایرانی میں یہ فرق ہے کہ مرزا صاحب بزدل تھے، اُنہوں نے آہستہ آہستہ زمین ہموار کرنے کے بعد دعویٰ نبوت کیا لیکن بہاء اللہ نے کھلے طور پر اور حکومت کی مخالفت کے باوجود دعویٰ نبوت کیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ قرآن اور شریعتِ اسلام اب منسوخ ہوگئی۔ اس کے بعد مولانا موصوف نے قادیانیت کے ردّ میں ایک مختصر تقریر فرمائی، آخر میں فرمایا کہ اگر بالفرض مرزا صاحب بڑے نماز گزار، تہجد خوان اور پرہیز گار بھی ہوتے اور ان کی ساری پیشین گوئیاں مثلاً ثنا اللہ والی، عبداللہ آتھم والی، محمدی بیگم والی اور ڈاکٹر عبدالحکیم والی بھی صحیح ثابت ہوجاتیں تو بھی ان کا دعویٰ نبوت غلط ہوتا اور وہ شریعتِ اسلامیہ کی رُو سے کافر اور مرتد ہوتے کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ ”لا نبی بعدی“ اور قرآن مجید نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ”خاتم النبیین“ کہہ دیا ہے۔ مرزا کا علاج تو بس ایک ہی تھا جو کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مسیلمہ کذاب کا کیا تھا کہ نہ اُس کی کوئی بات سُنی نہ اس کو کسی دلیل سے جواب دیا بلکہ اُس کے ساتھ وہی کیا جو مرتد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اب ہم مسلمانوں کی کمزوری ہے کہ ہم سے صحابہؓ والا کام نہ ہوسکا، تاہم کمزور ایمان کے ساتھ جتنا کچھ ہوسکے خالی از اجر و ثواب نہیں ہے اور لسانی جہاد میں شامل ہے۔
اس کے بعد قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی تشریف لائے حضرت اقدسؒ
نے اُن سے مخاطب ہوکر فرمایا ؛ ”یوں معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب ایک خبطی آدمی تھے“ اِس پر قاضی صاحب نے کہا کہ نہیں حضور! خبطی نہیں تھا بلکہ دجال تھا ۔ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرے بعد کئی چھوٹے چھوٹے جھوٹے دجال پیدا ہوں گے۔ اگر محض خبطی ہوتے تو یہ اعلان نہ کرتے کہ ”ہمارے مریدین میں سے جو شخص مرتے وقت ہمارے واسطے اپنی جائیداد کے دسویں حصہ کے متعلق وصیت کر جائے گا اُسے قادیان کے بہشتی مقبرہ میں جگہ ملے گی اور اگر وہ کسی دوسری جگہ مر گیا تو بھی وہ بہشتی ہوگا ۔“ حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اپنے پاس سے دیا ہے ، لیا کچھ نہیں ۔ ایک جنگ میں بہت سی باندیاں گرفتار ہو کر آئیں اور مدینہ کے لوگوں میں تقسیم کی گئیں لیکن سیدۃ النساء حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ایک باندی بھی نہیں دی گئی۔ یہ ہے نبیؐ کا کریکٹر ۔ مرزا صاحب نے تو ہائیکورٹ میں لکھ کر دے دیا تھا کہ میں شریعت اسلامیہ کا پابند نہیں ہوں بلکہ رواج کا پابند ہوں ۔
قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے حضرت رائے پوری کی خدمت میں اپنا ایک واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ مجھے ایک مرزائی فوجی افسر نے مرزائیوں کے دو بڑے مولویوں سے بات کرنے کے لئے بلایا۔ ان میں سے ایک تو ربوہ کالج کا پرنسپل تھا اور دوسرا مولوی عبدالمالک ایم اے تھا۔ جب ہم اکٹھے ہوئے تو افسر مذکور نے مجھے مخاطب ہوکر کہا کہ تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا کہ یہ لوگ تناسخ کے قائل ہیں۔ اس پر ایک مرزائی مولوی نے کہا ”لعنت اللہ علی الکاذبین ۔“ میں نے جواباً کہا: دیکھئے صاحب! یوں تو بات نہیں بنے گی ۔ اس پر افسر مذکور نے ان کو ڈانٹا اور پوچھا کہ تناسخ کے یہ لوگ کیسے قائل ہیں؟ میں نے مرزا صاحب کی کتاب ”تریاق القلوب“ نکال کر بتلایا کہ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دوبارہ حضرت عبداللہ کے گھر
میں جنم لیا اور مقصد اس کہنے سے یہ ہے کہ یہ کہہ سکیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوبارہ قادیان میں غلام احمد کی صورت میں جنم لیا۔ جیسا کہ خود مرزا صاحب نے لکھا ہے۔ پھر میں نے مرزا صاحب کے وہ اشعار افسر مذکور کو سنائے جن میں اُس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی فضیلت بتائی ہے۔ اشعار سن کر وہ کہنے لگا کہ ان میں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت توہین ہے اور میری طرف بڑھ کر کہنے لگا کہ مولوی صاحب مجھے کلمہ پڑھا دو میں مسلمان ہوتا ہوں اور مرزائیت سے توبہ کرتا ہوں اور توبہ نامہ مجھے لکھ کر دیا کہ اسے شائع کرا دو۔ یہ سن کر حضرت اقدسؒ نے خوشی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد مولانا محمد صاحب نے حضرتؒ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ اس زمانہ میں دینِ اسلام کی سب سے بڑی خدمت مرزائیت کی تردید کرنا ہے اُسی وقت سے میں اس کام میں لگا ہوا ہوں۔
اس کے بعد حضرت اقدس نے قاضی صاحبؒ سے پوچھا کہ تحقیقاتی عدالت میں حضرت شاہ صاحب (سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ) نے مرزائیوں کے بارے میں کیا بیان دیا تھا۔ قاضی صاحب نے جواب عرض کیا کہ جب چیف جسٹس مسٹر محمد منیر نے شاہ صاحبؒ سے پوچھا کہ کیا آپ مرزا غلام احمد کو کافر کہتے ہیں؟ تو شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ جب مجھ پر لدھیانہ والا مقدمہ چلایا گیا تھا اور لدھیانہ کے بیان پر مجھے بَری کر دیا گیا تھا تو آخری پیشی پر سرکاری وکیل نے یہ سوال بھی اُٹھایا تھا کہ یہ مرزائی کو کافر کہہ کر منافرت پھیلاتے ہیں۔ اس پر انگریز چیف جسٹس مسٹر ینگ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا آپ مرزا غلام احمد کو کافر کہتے ہیں۔ تو میں نے کہا تھا ہاں۔ میں نے ایک دفعہ نہیں کروڑوں دفعہ اسے کافر کہا ہے، اب بھی کہتا ہوں اور مرتے دم تک کہتا رہوں گا۔ یہ تو میرا دین و ایمان ہے۔ اس پر مسٹر ینگ نے سرکاری وکیل سے کہا تھا کہ لو ان سے اور سوال کرو۔ یہ کہہ کر اُس
نے مجھے کہا تھا کہ آپ تشریف لے جائیں، یہ آپ کا مرزا کو کافر کہنا کوئی جرم نہیں ہے۔ یہ قصہ مسٹر محمد منیر کو سُنا کر شاہ صاحبؒ نے کہا کہ عیسائی جج نے تو اس طرح کہا تھا اب معلوم نہیں مسلمان عدالت کیا کہتی ہے ۔ یہ سُن کر مسٹر محمد منیر نے بھی آپ کو یہی کہا کہ آپ تشریف لے جائیں ۔
اس کے بعد قاضی صاحب نے بتایا کہ میرے متعلق تحقیقاتی رپورٹ میں ججوں نے یہ لکھ دیا ہے کہ اس شخص کی زندگی کا واحد مقصد مرزائیت کی تردید اور ان کی بیخ کنی کرنا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے متعلقین کو کہہ دیا ہے کہ جب میں مروں تو یہ الفاظ کاٹ کر میرے کفن میں رکھ دینا کیا عجب کہ یہی بات میری بخشش کا سبب بن جائے اور میرے متعلق خواجہ ناظم الدین نے بھی یہ بیان دیا تھا کہ اُنہوں نے مجھے مرزائیوں کے اندرونی حالات سُنا کر چونکا دیا تھا۔ نیز قاضی صاحب نے حضرت کو بتایا کہ تحقیقاتی عدالت میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ مسلمان لوگ مرزائیوں کی تقریروں اور تحریروں سے اس لئے بھی مشتعل ہوتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کی مخصوص اصطلاحات کو استعمال کرتے ہیں مثلاً یہ لوگ مرزا صاحب کی بیوی کو سیدۃ النساء کہتے ہیں۔ اس پر مسٹر منیر نے مرزائی وکیل سے سوال کیا تو اُس نے جواب دیا کہ سیدۃ النساء کا معنیٰ ہے عورتوں کی سردار، اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے مرزا صاحب کی بیوی صاحبہ اپنے فرقہ کی عورتوں کی سردار تھیں۔ اس پر مسٹر منیر نے میری طرف دیکھا تو میں نے کھڑے ہو کر کہا : جناب اگر چماروں کی کوئی پنچایت ہو اور ان کا سرپنچ کسی معاملہ کا فیصلہ کرے اور پھر ان چماروں میں سے کوئی آدمی سرپنچ کی جگہ چیف جسٹس کا لفظ بولے اور یوں کہے کہ ہمارے چیف جسٹس نے یوں فیصلہ دیا ہے تو کیا اس طرح کہنا جائز ہو گا۔ مسٹر منیر نے کہا : NEVER یعنی ہرگز نہیں، قانوناً اس طرح کہنا جائز نہ ہو گا کیونکہ یہ لفظ عدالت عالیہ کے ججوں کے لئے مخصوص ہے اس پر میں نے کہا کہ یہ لوگ ہم مسلمانوں کی اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں اور مرزا صاحب کی
بیوی کو سیدۃ النساء کہتے ہیں۔ حالانکہ یہ لفظ کسی نبی کی بیوی کے لئے نہیں بولا گیا۔ خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے لئے نہیں بولا گیا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تین بیٹیوں کے لئے بھی نہیں بولا گیا۔ یہ لفظ صرف حضورؐ کی چوتھی بیٹی حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے لئے مخصوص ہے جس کو اب یہ لوگ بلا تکلف استعمال کرتے ہیں اور مسلمانوں کا دل دُکھاتے ہیں چنانچہ میں نے اخبار ”الفضل“ نکال کر دکھایا جس میں مرزا صاحب کی بیوی کے انتقال کے موقع پر پہلے صفحہ پر جلی حروف میں یہ سرخی دی گئی تھی ”سیدۃ النساء کا انتقال“ اس پر ججوں نے کہا تھا کہ اس پر مسلمانوں کا مشتعل ہونا حق بجانب ہے۔
قاضی صاحب نے مزید بتایا کہ ججوں نے مجھ سے یہ سوال بھی کیا تھا کہ تم نے کس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے۔ میں نے کہا تھا۔ میں جیل یونیورسٹی کا پڑھا ہوا ہوں! اس کے بعد جیل کے زمانہ کا واقعہ سنایا کہ مجھے اور مولانا محمد علیؒ اور مولانا سید نور الحسن شاہ صاحب کو الگ الگ کوٹھڑیوں میں قید کیا گیا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد میرے پاس سپرنٹنڈنٹ جیل کا لڑکا آیا کہ مجھے ادیب فاضل کے امتحان کی تیاری کرادو۔ چونکہ میں قیدِ تنہائی سے تنگ آ چکا تھا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے چنانچہ پندرہ روز اُسے پڑھایا۔ دو ہفتے کے بعد سپرنٹنڈنٹ جیل کہنے لگا کہ لڑکا کہتا ہے کہ قاضی صاحب نے دو ہفتے میں اتنا کچھ پڑھا دیا ہے جتنا پچھلے تین چار ماہ میں نہیں پڑھ سکا تھا۔ اس پر میں نے سپرنٹنڈنٹ جیل کی توجہ اپنے کارڈ کی طرف منعطف کرائی جس میں میری تعلیم کے خانہ میں NIL لکھا ہوا تھا۔ پھر میں نے سپرنٹنڈنٹ مذکور سے جو کہ بی اے، ایل ایل بی تھا، پوچھا کہ ذرا مجھے یہ تو بتائیے کہ ”دیباچہ“ کا کیا معنی ہوتا ہے۔ اُس نے کہا یہی جو کتابوں کے پہلے لکھا ہوتا ہے۔ میں نے کہا۔ جی نہیں! تعریف نہیں پوچھتا، معنی پوچھتا ہوں۔
سر کھجلا کر کہنے لگا معنی تو میں نہیں جانتا۔ میں نے کہا۔ دیباچہ کا معنی ہے چہرہ، کیوں کہ انسان کا چہرہ انسان کے سب ظاہری و باطنی حالات کو ظاہر کرنے والا ہوتا ہے۔ اسی طرح کتاب کا دیباچہ یہ بتاتا ہے کہ اس کتاب میں کتنے ابواب ہیں، کتنی فصول ہیں، کتاب کا موضوع اور لکھنے کی غرض و غایت کیا ہے۔
الحاج محمد ارشد صاحب نے عرض کیا کہ چاند کے بارے میں تحقیقات کرنے والوں کا ایک اجلاس ہوا، جس میں میں بھی شریک تھا، ایک صاحب نے اپنی تحقیق بیان کی کہ فلاں مقام پر جب ہم سیر کرتے ہوئے فضا میں پہنچیں گے تو وہاں ایک گھنٹہ ہوگا جبکہ زمین پر مہینہ۔ حضرت اقدسؒ نے فرمایا، پھر تو حیات مسیحؑ کا مسئلہ بھی حل ہو گیا، کیونکہ ممکن ہے کہ ان سے اوپر کے مقامات میں وہاں ایک گھنٹہ ہو اور یہاں سال بھر اور اوپر اور زیادہ، حتیٰ کہ وہاں ایک دن اور یہاں ہزار سال، جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے : وان يوما عند ربك كالف سنة مما تعدون "اور" فى يوم كان مقداره خمسين الف سنة " تو حضرت مسیح علیہ السلام کو یہاں دو ہزار سال ہوں تو وہاں دو دن ۔
مولانا عبد العزیز صاحب دہلویؒ نے کہا کہ میں نے مرزائیوں سے ایک مناظرہ میں کہا تھا کہ ہمارا رزق بھی تو آسمان سے آتا ہے ” وفي السماء رزقكم وما توعدون “ تو اللہ تعالیٰ اگر عیسیٰ علیہ السلام کو وہیں بُلا لیں تو کیا ان کو وہاں رزق نہیں دیا جا سکتا۔
پروفیسر عبد الغنی صاحب نے عرض کیا کہ کراچی کے ایک اخبار میں آیا تھا کہ امریکہ میں ایک عورت ہے جس نے بہت عرصہ کچھ کھایا نہیں اور بدستور کام کرتی رہتی ہے۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ نے کہا کہ ایسا ہی ایک اخبار میں آیا تھا کہ امریکہ میں ایک عورت
بہت عرصہ سے سوئی ہوئی ہے (غالباً پچیس سال بتائے تھے) فرمایا، اللہ تعالیٰ کی قسم قسم کی مخلوق ہے۔
مولانا محمد ابراہیم صاحب نے کہا۔ میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب ’براہین احمدیہ“ کے چند صفحات دیکھے تھے۔ سیاہی ہی سیاہی قلب پر آگئی۔ پھر میں نے کتاب بند کر دی ۔ حضرت نے فرمایا ۔ اس کی کتابیں دیکھنی ہی نہ چاہئیں۔ پھر حضرت رائے پوریؒ نے فرمایا مولوی احمد رضا خان صاحب نے ایک دفعہ مرزائیوں کی کتابیں اس غرض سے منگوائی تھیں کہ ان کی تردید کریں گے۔ میں نے بھی دیکھیں، قلب پر اتنا اثر ہوا کہ ان طرف میلان ہو گیا اور ایسا معلوم ہونے لگا کہ سچے ہیں۔ چنانچہ میں قادیان گیا حکیم نورالدین بھیروی سے ملاقات ہوئی۔ پھر اس کا سارا قصہ بیان فرمایا جو پہلے گزرا۔ حکیم مذکور نے حضرت سے فرمایا ” ہمیں انوار نظر آتے ہیں، تکلم باری ہوتا ہے“ فرمایا، میں نے استخارہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دُعا کی کہ اے اللہ ہمیں حق دکھا دے ۔ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ اس طرف سے طبیعت بالکل ہٹ گئی۔
حضرت رائے پوریؒ نے فرمایا، ڈاکٹر محمد امیر خان صاحب بھی پہلے قادیانی رہ چکے ہیں۔ پھر ڈیرہ دون کے ایک بزرگ سے ملے، اُن کی دُعا سے توبہ کی توفیق ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں جب اُن کے پاس گیا اور پڑھنے کے لئے کچھ ورد وظیفہ پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا، اپنے پیر سے پوچھ لو اور فرمایا، کیا تمہارا کوئی پیر ہے؟ میں نے کہا، میرا پیر غلام احمد قادیانی ہے۔ انہوں نے فرمایا ”بچّے! وہ تو کافر ہے“ میں حیران ہوا کہ مجھے بچّے کہتے ہیں اور میرے پیر کو کافر کہتے ہیں لیکن ان کا ایسا تصرف ہوا کہ میرا دل اُدھر سے پھر گیا اور میں نے مرزائیت سے توبہ کی اور انہی بزرگ سے بیعت ہو گیا۔ اس
کے بعد حضرت اقدس ؒ نے حکیم نور الدین بھیروی سے ملنے کا اپنا واقعہ بیان فرمایا جو پہلے مذکور ہو چکا ہے ۔
نیز حضرت رائے پوری ؒ نے اپنا ایک خواب بیان فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ قادیان میں ناپاک گندے پانی میں کھڑا ہوں اور مجھے کسی آدمی نے پکڑ کر وہاں سے باہر نکال دیا ۔
حکیم عبدالمجید سیفی
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں مولانا خواجہ خان محمد تحریر کرتے ہیں کہ تحریک کے ضمن میں انکوائری کمیشن نے رپورٹ مرتب کرنا شروع کی۔ عدالتی کاروائی میں حصہ لینے کی غرض سے علماء، وکلاء کی تیاری مرزائیت کی کتب کے اصل حوالہ جات کو مرتب کرنا اتنا بڑا کٹھن مرحلہ تھا اور اُدھر حکومت نے اتنا خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا کہ تحریک کے رہنماؤں کو لاہور میں کوئی آدمی رہائش تک دینے کے لئے تیار نہ تھا۔ جناب حکیم عبدالمجید احمد سیفی نقشبندی مجددی ؒ، خلیفہ مجاز خانقاہ سراجیہ نے اپنی عمارت ۷ ۔ بیڈن روڈ لاہور کو تحریک کے رہنماؤں کے لئے وقف کر دیا۔ تمامتر مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ختم نبوت کے عظیم مقصد کے لئے ان کے ایثار کا نتیجہ تھا کہ مولانا محمد حیات ، مولانا عبدالرحیم اشعر اور رہائی کے بعد مولانا محمد علی جالندھری ؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور دوسرے رہنماؤں نے آپ کے مکان پر انکوائری کے دوران قیام کیا اور مکمل تیاری کی ۔
مولانا عمادالدین غوریؒ
مولانا عمادالدین غوریؒ ابتدائے عمر میں بڑے طاقتور اور نامی پہلوان تھے لیکن بڑے فاضل تھے۔ درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور ایک جیّد عالم بن گئے۔ دین کی خدمت شروع کردی۔
ایک دن یہ سلطان محمد تغلق کے دربار میں بیٹھے تھے۔ محمد تغلق نے کہا : فیضِ خدا منقطع نیست چرا باید کہ فیضِ نبوت منقطع شود اگر حالا کسے دعویٰ پیغمبری بکند و معجزہ نماید تصدیق می کند یا نے ؟
(جب فیضِ خدا منقطع نہیں تو فیضِ نبوت کیوں منقطع ہو۔ اگر اب کوئی پیغمبری کا دعویٰ کرے اور معجزہ دکھائے تو تصدیق کرو گے یا نہیں) یہ سننا تھا کہ غیرتِ ایمانی جوش میں آئی اور ناموسِ ختمِ نبوت پر حرف آنے سے آنکھوں میں خون اُتر آیا اور زبان سے نکلا:
بادشاہ گوہ مخور! (بادشاہ گندگی مت کھاؤ)
بادشاہ نے حکم دیا عماد کو ذبح کر دو اور زبان باہر نکال ڈالو۔ آپ نے نہایت بے پروائی سے اس حکم کو سُنا اور کلمہ حق کہنے پر شہید ہوگئے۔
حضرت امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ
۱۹۳۶ء میں چیف جسٹس کے سامنے مسٹر سلیم ایڈووکیٹ جنرل کے ایک سوال پر شاہ صاحبؒ نے فرمایا : ”ہاں میں نے مرزا غلام احمد کو ہزاروں مرتبہ کافر کہا ہے، کہتا ہوں اور کہتا رہوں گا۔ یہ میرا مذہب ہے۔“
( سوانح حیات بخاری از خان کابلی )
اسی عدالت میں فرمایا کہ میرے مرنے کے بعد میری قبر پر بھی آکر کسی نے سوال کیا کہ مرزا قادیانی کون تھا تو میری قبر کے ذرہ ذرہ سے آواز آئے گی کہ مرزا کافر تھا، اس کے ماننے والے سب کافر ہیں ۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے فرمایا کہ : مسٹر جسٹس منیر نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں ایک دن حضرت امیر شریعتؒ سے عدالت کے کٹہرے میں پوچھا کہ سُنا ہے آپ کہتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی میرے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کرتا تو میں اسے قتل کر دیتا ۔ شاہ جی نے برجستہ فرمایا کہ "اب کوئی کر کے دیکھ لے"۔ اس پر عدالت میں سامعین نے نعرہ تکبیر لگایا۔ اللہ اکبر کی صدا سے ہائی کورٹ کے درودیوار گونج اُٹھے۔ جسٹس منیر سر پیٹتے ہوئے بولا کہ "توہین عدالت !" شاہ جیؒ نے زناٹے دار آواز میں فرمایا کہ "توہین رسالت" ؟ اس پر پھر عدالت میں تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد کی صدا بلند ہوئی۔ جج نے سر جھکا لیا۔ باطل ہار گیا حق جیت گیا۔
۱۹۸۵ء میں ختم نبوت کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا : ختم نبوت کی حفاظت میرا ایمان ہے جو شخص بھی اس ردا کو چوری کرے گا، جی نہیں چوری کا حوصلہ کرے گا میں اُس کے گریبان کی دھجیاں اُڑا دوں گا۔ میں میاں کے سوا کسی کا نہیں، نہ اپنا نہ پرایا۔ میں اُنہی کا ہوں وہی میرے ہیں۔ جس کے حسن و جمال کو خود ربّ کعبہ نے قسمیں کھا کھا کر آراستہ کیا ہو، میں اُن کے حسن و جمال پر نہ مر مٹوں تو لعنت ہے مجھ پر اور لعنت ہے اُن پر جو اُن کا نام تو لیتے ہیں لیکن سارقوں کی خیرہ چشمی کا تماشا دیکھتے ہیں (چٹان)
حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ امرتسر میں حضرت مولانا نور احمد صاحب کے پاس درس نظامی کے طالب علم تھے۔ انہی دنوں اعلان ہوا کہ مرزا بشیر الدین محمود قادیانی ہال بازار کے باہر ایک سینما ہال میں تقریر کریں گے۔ حضرت مولانا نور احمد صاحبؒ نے امرتسر کے تمام علماء کو جمع کیا اور کہا کہ اس سے پہلے مرزائیوں کو امرتسر میں جلسہ کرنے کی جرأت نہیں ہوئی اور اب اگر ایک دفعہ یہ جلسہ کر گئے تو ہمیں تنگ کریں گے۔ علماء حضرات نے مختلف تجاویز پیش کیں۔ حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے فرمایا کہ آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں، وہ جلسہ نہیں ہوگا۔
شاہ جیؒ کے ساتھ بخارا، سمرقند اور تاشقند سے بھی درس نظامیہ کے طالب علم امرتسر پڑھا کرتے تھے۔ آپ نے ان طلباء کو ساتھ لیا اور جلسہ گاہ میں پہنچ گئے۔ سینما ہال بھرا ہوا تھا، آپ سینما ہال کے درمیان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ دوسرے طلباء آپ کی حفاظت کے لئے تھے۔ مرزا بشیر الدین قادیانی نے پہلے خطبہ پڑھا، پھر قرآن مجید کی چند آیات تلاوت کیں شاہ جیؒ کھڑے ہوگئے اور فرمایا: بشیر الدین، قرآن مجید صحیح پڑھو۔ مرزا بشیر الدین پہلے خاموش ہوگیا، پھر پڑھنا شروع کیا۔
آپ نے پھر فرمایا کہ بشیر الدین میں کہتا ہوں قرآن مجید صحیح پڑھو، ورنہ چپ ہو جاؤ۔ مرزا نے اشارہ کیا، بیٹھ جاؤ۔ قبلہ شاہ جیؒ اپنی بات دہرا رہے تھے، چاروں طرف سے شور اُٹھا، بیٹھ جاؤ، مگر آپ کھڑے للکارتے رہے۔
قبلہ شاہ جیؒ کی اس مختصر پارٹی کے سوا باقی سارا ہال مرزائیوں سے بھرا ہوا تھا۔ وہ لوگ شاہ جیؒ کی طرف بڑھے مگر آپ کی حفاظت کے لئے آئے ہوئے ساتھی، ان کے لئے کافی تھے جو بھی آگے بڑھتا یہ لوگ انہیں اُٹھا کر دوسروں پر پھینک دیتے۔ اس طرح پورے ہال میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔
شاہ جیؒ نے اسی حصار کے اندر آہستہ آہستہ اسٹیج کی طرف بڑھنا شروع کیا، جب شاہ جیؒ
اسٹیج کے قریب پہنچ گئے تو مرزا بشیر الدین محمود نے ملحقہ کمرے میں جا کر پناہ لی۔ شاہ جیؒ اور اُن کے ساتھیوں نے کرسیاں اُٹھا اُٹھا کر ان لوگوں پر مارنا شروع کر دیں ، بھگدڑ مچ گئی ، جلسہ ختم ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد آپ قریبی دروازے سے باہر نکل آئے ۔ باہر ایک عظیم مجمع جمع تھا۔ آپ ایک تانگے پر کھڑے ہو گئے اور تقریر شروع کر دی ۔ پولیس آئی اور مرزائیوں اور مرزا بشیر الدین کو اپنی حفاظت میں ریلوے اسٹیشن پر پہنچا دیا ۔
○
تحریک ختم نبوت کے بعد جب قید سے رہا ہو چکے تھے ۔ غالباً ۱۹۵۵ء میں فیصل آباد دھوبی گھاٹ کے میدان میں ضعیفی اور علالت کے سبب بیٹھ کر تقریر فرما رہے تھے۔ دوران تقریر میں کسی نے ایک چٹ بھیج دی۔ لکھا ہوا تھا کہ جو لوگ ختم نبوت کی تحریک میں شہید ہو گئے اُن کا ذمہ دار کون ہے ؟ شاہ جیؒ نے پڑھا تو جوش میں آ کر کھڑے ہو گئے اور گرج کر فرمایا۔ سُنو اُن شہداء کا میں ذمہ دار ہوں ۔ یہیں نہیں آئندہ بھی جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی خاطر شہید ہوں گے اُن کا بھی میں ذمہ دار ہوں ۔ تم بھی گواہ رہو (اور آسمان کی طرف منہ کر کے فرمایا ) اے اللہ تُو بھی گواہ رہ ، ان شہداء کا میں خود ذمہ دار ہوں اور جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا ، اگر میں زندہ رہا اور موقع ملا تو پھر بھی ایسا ہی ہوگا۔ اگر کُل مسلمان حضورؐ کی جوتی کے تسمے پر قربان ہو جائیں تو پھر بھی حق ادا نہ ہوگا۔ ان جملوں سے سامعین تڑپ اُٹھے ، لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے فضا گونج اُٹھی ۔
○
۱۷؍ فروری ۱۹۵۸ء کو موچی دروازہ لاہور میں حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے فتنۂ مرزائیت کی تاریخ بیان کرتے ہوئے فرمایا : اس فتنہ کی پرورش برطانیہ نے کی ، اگر ہوتا افغانستان تو اس فتنہ کا کبھی کا فیصلہ ہو گیا
ہوتا ۔ امیر حبیب اللہ خان پر ہزار ہزار رحمت ہو جس نے افغانستان کی حدود میں فتنہ مرزائیت کو داخل نہ ہونے دیا ۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے امیر حبیب اللہ کو خط لکھا کہ میں نبی بن گیا ہوں، تم مجھ پر ایمان لاؤ ۔
امیر حبیب اللہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کو جواب دیا ۔ ” ایں جابیا “ (یہاں آؤ ) غلام احمد وہاں کیسے جاتا ؟ اور اگر چلا جاتا تو کچھ نہ کچھ ہو جاتا اور مرزا صاحب کا مزاج درست ہو جاتا !۔
حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ نے تحریک ختم نبوت کو باقاعدہ منظم کرنے کے لئے خطیب الامت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو امیر شریعت مقرر کیا اور انجمن خدام الدین کے ایک عظیم الشان اجلاس منعقدہ مارچ ۱۹۳۰ء میں ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر ہندوستان کے ممتاز ترین پانچ سو علماء کی بیعت ان کے ہاتھ میں کرائی۔ ظاہر بین نظریں یہ دیکھ رہی تھیں کہ دارالعلوم دیوبند کا صدر المدرسین حجۃ الاسلام علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ ”امیر شریعت“ کے ہاتھ پر بیعت کر رہا تھا لیکن خود ”امیر شریعت“ کا تاثر یہ تھا کہ :
” آپ یہ نہ سمجھیں کہ حضرت (مولانا سید محمد انور شاہؒ) نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے بلکہ حضرتؒ نے مجھے اپنی غلامی میں قبول فرمایا ہے“۔ یہ کہہ کر شاہ جیؒ زار و قطار رونے لگے اور ان کا سارا جسم کانپنے لگا۔
(حیات امیر شریعت مؤلفہ محترم مرزا جانباز ص۱۵۵)
بہر حال یہ بحث تو اپنی جگہ ہے کہ حضرت امام العصرؒ کشمیری، حضرت امیر شریعتؒ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے ؟ ان سے فتنہ قادیانیت کے استیصال کا عہد لے رہے تھے ؟ مگر اس میں کیا شک ہے کہ حضرت امیر شریعتؒ اور اُن کی جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے قادیانیت کے محاذ پر جو کام کیا وہ حضرت امام العصرؒ کی باطنی توجہ اور دُعا ہائے
سحری کا ثمر تھا۔
ایک دفعہ ختم نبوت پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا : میں مرزا محمود اور قادیانیت کی جو مخالفت کر رہا ہوں ، ربّ العزت کی قسم اس میں کوئی ذاتی غرض نہیں ہے نہ کوئی ذاتی کد یا رنجش ہے ۔ مرزائیوں سے میری دشمنی صرف حضور ختم المرسلینؐ کی محبت کی وجہ سے ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبی ماننا یہ گوارا نہیں ہو سکتا ۔ نہ ہی میرے اللہ کو یہ گوارا ہے۔ دُنیا میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو خدا کا شریک بتاتے اور بناتے ہیں مگر اللہ اُن کی اُسی طرح پرورش کرتا ہے جس طرح وہ اپنے واحدہٗ لاشریک ماننے والوں کی پرورش کرتا ہے ۔ اُس کا غضب پوری طرح کبھی اُن پر نازل نہیں ہوا لیکن رسول اللہؐ کی نبوت میں شریک بنانے والے کو خدا نے کبھی معاف نہیں کیا ۔ جس نے رسول اللہؐ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا وہ کبھی نہیں پھولا پھلا ، یہی انجام مرزائیوں کا ہوگا۔
(ہمارے دَور کے چند علماءِ حق)
مولانا عبید اللہ انور صاحبؒ نے یہ بھی تحریر فرمایا : حضرت لاہوریؒ نے ایک دفعہ جمعہ کے خطبہ میں فرمایا ۔ حکومت کہتی ہے عطاء اللہ شاہؒ فساد پھیلاتا ہے ۔ ان اللہ کے بندوں کو معلوم نہیں کہ اگر عطاء اللہ شاہؒ محاذ پر آجائے تو مرزائیت کا قلعہ قائم نہیں رہ سکتا ۔ میں کہتا ہوں اگر بخاریؒ شام کو حکم دے دیں تو صبح ہونے سے پہلے ربوہ کی اینٹ سے اینٹ بج جائے ۔ پھر فرمایا ، حکومت کی گولیوں اور بندوقوں میں وہ طاقت نہیں جو علماء کی زبان میں ہے ۔ ہمارے ایک عطاء اللہ شاہ بخاریؒ بحمد للہ سب پر بھاری ہیں اور جب تک وہ زندہ ہیں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ۔ ایک
مرتبہ تو حضرت نے شاہ جیؒ کے متعلق یہاں تک ارشاد فرمایا۔ محشر کا دن ہوگا، رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ افروز ہوں گے، صحابہؓ بھی ساتھ ہوں گے، بخاریؒ آئے گا، حضور نبی کریمؐ معانقہ فرمائیں گے اور کہیں گے بخاریؒ تیری ساری زندگی عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت میں گزری اور کتاب وسنت کی اشاعت میں صرف ہوئی، آج میدانِ حشر میں تیرا شفیع میں ہوں، تیرے لئے کوئی باز پرس نہیں۔ جا اور اپنے ساتھیوں سمیت جنت میں داخل ہو جا۔ تیرے اور تیری جماعت کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھلے ہیں، جس طرف سے چاہو کھلے بندوں جنت میں میں داخل ہو سکتے ہو۔
(ہمارے دور کے چند علماءِ حق)
〇
تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے بعد ایک افسر نے طنزاً کہا۔ شاہ جیؒ! آپ کی تحریک کا کیا بنا؟ شاہ جیؒ نے برجستہ فرمایا کہ میں نے اس تحریک کے ذریعہ مسلمانوں کے دلوں میں ایک ٹائم بم فٹ کر دیا ہے جو وقت آنے پر چل جائے گا۔ اس وقت مرزائیت کو اقتدار کی کوئی طاقت نہ بچا سکے گی۔ چنانچہ یہ ٹائم بم خود قادیانیوں کے ہاتھوں ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پھٹا اور نتیجتہً قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔
〇
مسٹر جسٹس منیر کی عادت تھی کہ وہ عدالت میں علماء کرام سے مختلف سوالات کر کے پھر ان میں اختلاف ثابت کرنے کی کوشش کرتے۔ اُس نے امیر شریعت سے پوچھا کہ نبی کے لئے کیا شرائط ہیں، شاہ جیؒ نے فی البدیہہ فرمایا ”یہ کہ کم از کم شریف انسان ہو“ اس پر مرزائیوں کے مُنہ لٹک گئے اور مسلمان سرخرو ہو گئے۔
〇
لاہور میں جلسہ تھا، شاہ جیؒ پورے جوبن میں تھے، بے انداز مجمع، گوش برآواز، عشق رسولؐ کی بھٹی گرم، اکابر اور سلاطین ملت جلوہ افروز، شہر میں مکمل ہڑتال اور سناٹا، تحریک ختم نبوت
کے لئے مسلمان جانیں دینے کے لئے آمادہ، کسی نے کہا کہ خواجہ ناظم الدین لاہور پہنچ گئے شاہ جیؒ نے فرمایا، ساری باتوں کو چھوڑیئے، لاہور والو! کوئی ہے اور یہ کہتے ہوئے اپنے سر سے ٹوپی اُتار لی اور ٹوپی کو ہوا میں لہراتے ہوئے نہایت ہی جذبات انگیز الفاظ میں فرمایا۔ جاؤ میری اس ٹوپی کو خواجہ ناظم الدین کے پاس لے جاؤ۔ میری یہ ٹوپی کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکی، اسے خواجہ صاحب کے قدموں میں ڈال دو۔ اس لئے کیونکہ ہم تیرے سیاسی حریف اور رقیب نہیں ہیں۔ ہم الیکشن نہیں لڑیں گے، تجھ سے اقتدار نہیں چھینیں گے۔ ہاں ہاں، جاؤ اور میری ٹوپی اس کے قدموں میں ڈال کر یہ بھی کہو کہ پاکستان کے بیت المال میں سُور ہیں تو عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تیرے سُوروں کا وہ ریوڑ چرانے کے لئے بھی تیار ہے مگر شرط صرف یہ ہے کہ تُو حضورؐ فداہ ابی و امّی کی ختمِ رسالت کی حفاظت کا قانون بنا دے، کوئی آقا کی توہین نہ کرے، آپؐ کی دستارِ ختمِ نبوت پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے۔
( ۱۶؍ فروری ۱۹۵۳ء خطاب بیرون دہلی دروازہ، لاہور )
◯
شاہ جیؒ نے ایک دفعہ تقریر میں فرمایا۔ قادیان کانفرنس کے خطبہ پر دفعہ ۱۵۳ کے تحت مجھ پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اس کی سزا زیادہ سے زیادہ صرف دو سال قید ہے۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں محمد رسول اللہؐ کا خادم ہوں۔ اس جُرم میں یہ سزا بہت کم ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر ہزار جان سے قربان ہونے کو تیار ہوں مجھے شیروں اور چیتوں سے ٹکڑے ٹکڑے کرا دیا جائے اور پھر کہا جائے کہ تجھے بجرم عشقِ مصطفیٰؐ یہ تکلیفیں دی جا رہی ہیں تو میں خندہ پیشانی سے اس سزا کو قبول کروں گا۔ میرا آٹھ سالہ بچہ عطاء المنعم اور اس جیسے خدا کی قسم ہزار بچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفشِ پا سے نچھاور کر دوں ۔
( مختصر سوانح از خان کابلی )
◯
لاہور سنٹرل جیل میں شاہ جیؒ کی آمد کی اطلاع جب مارشل لاء کے قیدیوں کو ملی تو اُنہوں نے حکام جیل کی اجازت سے شاہ جیؒ سے ملاقات کا پروگرام بنایا۔ ایک دن صبح سویرے ہم اسیران قفس ناشتہ کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ دیوانی احاطہ کے انچارج نے آ کر شاہ جیؒ سے درخواست کی کہ مارشل لاء کے چند قیدی باہر کھڑے ہیں اور وہ آپ کی زیارت کے مشتاق ہیں۔ اگر اجازت ہو تو انہیں اندر بُلا لوں! ابھی اس کی بات مکمل نہ ہو پائی تھی کہ شاہ جیؒ ننگے پاؤں ان قیدیوں کے استقبال کے لئے دیوانہ وار کمرے باہر نکل گئے۔ دیوانی احاطہ کے دروازے پر قیدی خراماں خراماں آ رہے تھے ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی جھنکار اور شاہ جیؒ کا استقبال، ایک عجیب پُرکیف منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔ شاہ جی نے سب کو گلے لگایا۔ ایک ایک کی بیڑی اور ہتھکڑی کو بوسہ دیا۔ پھر آپ نے اشکبار آنکھوں اور غمناک لہجے میں فرمایا ،
”تم لوگ میرا سرمایہ حیات ہو۔ میں نے دُنیا میں لوگوں کو روٹی اور پیٹ یا کسی مادی مفاد کے لئے نہیں پکارا۔ یہ لوگ اس کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں۔ میں تو اپنے نانا حضرت خاتم النبینؐ کی عزت و ناموس کے تحفظ کی دعوت دی ہے اور تم لوگ صرف اور صرف اسی مقدس فریضہ کے لئے قید و بند اور طوق و سلاسل کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہو۔ تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ سیاسی شہرت یا ذاتی وجاہت جس کا مقصود ہو۔ تم یہاں جیل میں بھی غیر معروف ہو اور جب تم اس دیوار زنداں سے پرے جاؤ گے تو باہر تمہارا استقبال کرنے والا اور گلے میں پھولوں کے ہار ڈال کر نعرہ لگانے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔ نیت اور ارادے کے اعتبار سے جس کی آمد اس مقصد کے لئے ہوئی ہے وہ یہی مقصد لے کر واپس چلا جائے گا۔ میرے لئے اس سے بڑا سرمایہ افتخار اور کیا ہو سکتا ہے ؟“
شاہ جیؒ یہ چند جملے فرما چکے تو کسی نے ایک قیدی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ تحریک میں اس کا بھائی گولی کا نشانہ بن چکا ہے، اس کے لئے دُعا فرمائیں۔ شاہ جیؒ نے تحریک کے دوران متشددانہ کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : ’بھائی، ہم ہرگز یہ نہیں چاہتے تھے کہ حکومت یا عوام تشدد پر اُتر آئیں اور کوئی ناخوشگوار صورت نمودار ہو جائے ۔ میں نے کراچی جیل میں جب لاہور اور دوسرے مقامات پر گولی چلنے کے واقعات سنے اور معلوم ہوا کہ کئی بُوڑھے باپوں کی لاٹھیاں ٹوٹ گئی ہیں، ماؤں کے چراغ گُل ہوگئے ہیں اور کئی سہاگ اُجڑ گئے ہیں تو مجھے اِس کا بڑا صدمہ پہنچا۔ میں نے وہاں کہا تھا کہ کاش مجھے کوئی باہر لے جائے یا اربابِ اقتدار تک میری یہ آرزو پہنچا دی جائے کہ تحفظِ ناموسِ رسولؐ کے سلسلہ میں اگر کسی کو گولی مارنا ضروری ہو تو گولی میرے سینے میں مار کر ٹھنڈی کر دی جائے اور کاش اس سلسلہ میں اب تک جتنی گولیاں چلائی گئی ہیں وہ مجھے ٹکٹکی پر باندھ کر میرے سینے میں پیوست کر دی جائیں ۔
( مجاہد الحسینی )
○
غازی سلطان محمود صاحب (شیخوپورہ) اپنے علاقہ کے مشہور کارکن تھے۔ اُنہوں نے قریباً ہر مُلکی اور مذہبی تحریک میں حصّہ لیا، اور عمر کا بیشتر حصّہ جیلوں میں گزار دیا۔ اُس وقت اُن کی عمر اسّی سے تجاوز کر چکی تھی کہ اُنہوں نے خواب سُنایا۔
فرماتے ہیں، ایک زمانہ ہُوا میں نے ایک رات طویل خواب دیکھا، جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ اجمالاً وہ خواب یوں تھا جیسے ایک وسیع جگہ پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم دائیں کروٹ پر لیٹے ہوئے ہیں۔ چہرۂ اقدس قبلہ کی طرف ہے۔ آپؐ کے سامنے اُس زمانہ کے کئی سو علماء کھڑے ہیں، پہلی صف کے درمیان سے حضرت مدنی علیہ الرحمۃ نکل کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر
دوزانو بیٹھ جاتے ہیں ۔ باقی سب علماء اپنی اپنی جگہ باادب کھڑے ہیں اور حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ باتیں کر رہے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پائے مبارک کی طرف ایک صاحب فوجی وردی پہنے لیٹ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تلوے زبان سے چاٹ رہے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا پاؤں اس شخص کے سَر پر رکھا ہوا ہے ۔ وہ ایک کیف و مستی کے عالم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک چاٹ رہا ہے اور حضورؐ مسکرا دیتے ہیں ۔ میں غور سے دیکھتا ہوں تاکہ پہچانوں کہ یہ خوش قسمت کون ہے تو چہرہ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ وہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہیں ۔
مختصر یہ کہ غازی صاحب کہتے ہیں صبح میں نے یہ خواب من و عن لکھ کر شاہ جیؒ کو امرتسر بھیج دیا اور میں خواب کے اس کیف و سرور میں کچھ ایسا کھویا ہوا تھا کہ شاہ جیؒ کا خواب میں جو منظر دیکھا تھا اُس کو یوں لکھا گیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پاؤں آپ کے سَر پر تھا اور دوسرا پاؤں آپ کُتّے کی طرح چاٹ رہے تھے ۔ کافی دن گزر گئے تو ایک جلسہ میں تقریر کے بعد شاہ جیؒ سے ملاقات ہوئی ، کچھ اور لوگ بھی شاہ جیؒ کے پاس بیٹھے تھے ، جب مجھے دیکھا تو حسبِ دستور بڑی محبت سے ملے ۔ پھر فرمایا ، وہی خواب اب زبانی سناؤ ! میں نے سنایا تو جب آپ کے ذکر تک آیا تو میں نے کہا کہ آپ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں مبارک چاٹ رہے تھے ۔ میری طرف دیکھ کر پوچھا کس طرح ؟ میں نے کہا ۔ زبان سے ۔ فرمایا نہیں ، جیسا خط میں لکھا تھا ویسے بتاؤ ! تو معاً مجھے یاد آگیا کہ خط میں تو میں نے تشبیہاً کسی اور طرح لکھا لیکن اب منہ پر مجھے شرم آتی تھی لیکن شاہ جیؒ نے باصرار مجھ سے کہلوایا کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک کُتّے کی طرح چاٹ رہے تھے ۔ یہ سُن کر آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور خود ہی یہ فقرہ بار بار دُہراتے رہے ۔
(خواب از امین گیلانی)
شنکیاری ضلع ہزارہ میں تین روزہ جلسہ تھا۔ جلسہ کے دوسرے دن کچھ علماء کچھ طلباء میرے پاس جمع ہو کر آگئے اور کہا کہ آپ ایک عمر حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ رہے ہیں، ہمیں اُن کی خاص باتیں سنائیں۔ ایک صاحب بولے، پہلے ان کی عظمت کا ایک واقعہ آپ ہم سے سُن لیں تاکہ آپ کو یہ پتہ چلے کہ ہم اُن کے متعلق آپ سے باتیں کیوں سننا چاہتے ہیں۔
تھوڑے دنوں سے یہاں گاؤں میں ایک اجنبی بزرگ خاموش چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مسجد یا کوئی میدان ان کا ٹھکانہ ہوتا ہے۔ کچھ پوچھیں تو جواب دو لفظی دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں کے ایک بزرگ عالم نے انہیں دیکھا تو بتایا کہ صاحب کشف و کرامت ہیں اور آزاد کشمیر سے پیدل یہاں پہنچے ہیں۔
ایک دن اسی بزرگ کو ہم نے ایک جگہ تنہا بیٹھے ہوئے دیکھا تو ہم نے آزمانے کے لئے ایک طریقہ اختیار کیا۔ وہ یہ کہ چند پتھروں کے ٹکڑے لئے اور ہر پتھر پر کسی ایک بزرگ کا بغیر سیاہی کے انگلی کے ساتھ نام لکھ دیا اور ایک پتھر پر مرزا غلام احمد بھی لکھ دیا۔ پھر ہم وہ سب پتھر اس بزرگ کے پاس لے کر گئے اور خاموشی سے اُن کے سامنے رکھ دیئے۔ وہ ہمیں دیکھ کر مسکرائے، پھر ایک پتھر اٹھا کر نام پڑھا اور اس بزرگ کا مقام بیان کیا۔ حالانکہ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ ہم نے اس پتھر پر اسی بُزرگ کا نام لکھا ہے پھر دوسرا، پھر تیسرا نام پڑھتے گئے، مقام بتاتے گئے۔ پھر ایک پتھر اُٹھا کر دُور پھینک کر کہا۔ اس مردُود کو ان میں کیوں رکھا ہے۔ پھر ایک پتھر اُٹھایا اور کہا۔ سبحان اللہ، عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ان کی بو علی قلندرؒ سے دوڑ ہوئی آگے نکل گئے۔
میں نے مولانا اجمل خان لاہور والوں سے ذکر کیا، وہ بھی جلسہ میں دوسرے روز
تشریف لے آئے تھے۔ ہم نے مختلف ساتھیوں کی ڈیوٹی لگادی کہ جہاں بھی وہ اُس بزرگ کو دیکھیں ہمیں فوراً اطلاع دیں۔ عین جب ویگن تیار تھی ہم واپسی کے لئے تیار ہونے والے تھے تو ایک طالب علم ہانپتا کانپتا آیا اور کہا۔ گیلانی صاحب وہ بزرگ اِس وقت سکول کی گراؤنڈ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ مولانا محمد اجمل اور میں دونوں فوراً وہاں پہنچے۔ ہمیں دیکھ کر وہ اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ میں نے عرض کیا، حضرت صرف دُعا کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔ ”بس“۔ اُنہوں نے ہاتھ دُعا کے لئے بلند کر دیئے۔ دعا کے بعد میں نے عرض کیا، حضرت! اجازت دیں کہیں ویگن والا ہمیں چھوڑ کر نہ چلا جائے۔ فرمایا، نہیں جائے گا۔ پھر وہ بھی ہمارے ساتھ چل دیئے۔ پہچے تو ویگن والا ہمارا منتظر تھا۔ ہمیں خود سوار کرایا۔ پھر دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دیئے۔ ویگن چل پڑی اور میں انہیں تاحدِ امکان دیکھتا رہا۔ کیونکہ وہ کھڑے ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔
(سید محمد امین گیلانی)
حضرت امیر شریعت ایک دفعہ کہیں جا رہے تھے۔ امرتسر ریلوے اسٹیشن پر پہنچے، دیکھا کہ ڈبے کے باہر ایک ہجوم کھڑا ہے۔ شاہ جیؒ نے حقیقت حال معلوم کی تو مسافروں نے بتایا کہ ڈبہ اندر سے بند ہے۔ اس میں چار انگریز فوجی بیٹھے ہوئے ہیں اور پورے ڈبے پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں، کسی مسافر کو ڈبہ میں داخل نہیں ہونے دیتے۔ حضرت امیر شریعت کے ہاتھ میں ان دنوں موٹا ڈنڈا ہوتا تھا ڈنڈے کے زور سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئے، ڈنڈا زور زور سے گھمایا، یوں ظاہر کیا جیسے وہ ان گوروں پر چلانا چاہتے ہیں۔ وہ چاروں ایک طرف سہم کر بیٹھ گئے۔ امیر شریعت نے مسافروں کو اندر بُلا کر بٹھا دیا، خود دوسرے ڈبے میں جا کر بیٹھ گئے۔ راستہ میں جس اسٹیشن پر گاڑی رُکتی، امیر شریعت ڈبہ کے سامنے آتے اور فضا میں ڈنڈا لہراتے اور وہ انگریز سہم جاتے۔ امیر شریعت نے انبالہ
تک جانا تھا۔ فرماتے تھے کہ انگلش میں نہ جانتا اور پنجابی اور اُردو وہ نہ جانتے تھے لیکن قربان جاؤں ڈنڈے پر کہ اس نے بگڑا کام سنوار دیا۔
○
مئی ۱۹۳۵ء کو امیر شریعتؒ شجاع آباد میں جلسہ میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے۔ نمازِ ظہر کے بعد جلسہ سے خطاب کے لئے اُٹھے تو مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ سے فرمایا۔ قاضی جی! پان نہیں کھلاؤ گے؟ حضرت قاضی صاحبؒ نے حاجی نور محمد سے کہا، آپ جاکر پان لے آئیں۔ حاجی صاحب پان لینے کے لئے چلے ہی تھے کہ ایک آدمی نے کہا۔ میں شاہ صاحبؒ کے لئے پان لے کر آیا ہوں اور پان حاجی صاحب کو دے دیا، جب امیر شریعتؒ نے پان منہ میں رکھا تو ایک منٹ کے بعد ہی تھوک دیا اور کہا، قاضی جی! آپ نے تو مجھے مروا دیا۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ نے شاہ صاحبؒ کے منہ کے سامنے ہاتھ رکھا جو پان امیر شریعتؒ نے قاضی صاحبؒ کے ہاتھ پر اُگلا تھا، اُس نے قاضی صاحبؒ کے ہاتھ کو سیاہ کر دیا اور اتنا تیز زہر تھا کہ قاضی صاحبؒ کا ہاتھ پھول گیا۔ جلسہ ختم کر دیا گیا۔
ڈاکٹر سے شاہ صاحبؒ کا علاج شروع کروایا۔ زہر پیشاب و پاخانے میں خارج ہونا شروع ہوا اور تین بجے رات حضرت شاہ صاحبؒ نے آنکھیں کھولیں۔ ڈاکٹر صاحب نے قاضی صاحب کو مبارکباد اور بتایا کہ اب شاہ جیؒ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
○
مارچ ۱۹۳۴ء کے آخری دنوں میں خدام الدین کا سالانہ اجلاس لاہور میں ہو رہا تھا جس کی صدارت محدث عصر حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب صدارت فرما رہے تھے۔ اس وقت مسلمانوں اور اسلام کے خلاف مختلف تحریکیں ہندو اور انگریزوں کے توسط سے
چل رہی تھیں مثلاً شدھی و سنگٹھن کی تحریک، شاردا ایکٹ، تحریک شاتم رسول کے بڑھتے ہوئے سیلاب نے کمزور کر دیا۔ اس جلسہ میں حضرت انور شاہ صاحبؒ کی صدارتی تقریر ہو رہی تھی کہ اسی دوران حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جلسہ گاہ میں داخل ہوئے حضرت انور شاہ صاحبؒ نے تقریر میں فرمایا : دین کی قدریں بگڑ رہی ہیں ، کفر چاروں طرف سے یلغار کر چکا ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو اپنے لئے ایک امیر کا انتخاب کرنا چاہیئے ۔ اس کے لئے میں سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو منتخب کرتا ہوں ۔ وہ نیک بھی ہیں اور بہادر بھی ، اس وقت تک انہوں نے فتنہ شاتم رسول اور شاردا ایکٹ کے سلسلے میں جس جرأت اور دلیری سے دین کی خدمات انجام دی ہیں، آئندہ بھی ان سے ایسی ہی توقع ہے ۔ یہ کہتے ہی حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیریؒ نے دونوں ہاتھ حضرت بخاریؒ کی طرف بڑھائے حضرت بخاریؒ نے اپنے دونوں ہاتھ حضرت انور شاہ صاحبؒ کے ہاتھوں میں دے کر فرمایا : مُعزز حضرات آپ یہ نہ سمجھیں کہ حضرت انور شاہ صاحبؒ نے میرے ہاتھ پر بیعت کی بلکہ حضرت نے مجھے غلامی میں قبول فرما لیا ہے“۔ یہ جملے ادا کر کے حضرت بخاریؒ زار و قطار رونے لگے۔ پانچ سو علما کرام جو وہاں موجود تھے، انہوں نے بھی حضرت بخاریؒ کے ہاتھ پر بیعت فرمائی۔ ان میں بڑے بڑے علماء کرام شامل تھے ۔ یوں حضرت بخاریؒ کو حضرت انور شاہ صاحب کشمیریؒ نے امیر شریعت کا اعزاز عطا فرمایا ۔
◯
مولانا قاری محمد حنیف صاحب ملتانی اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں کہ میں حج کے لئے مکہ مکرمہ گیا۔ میری ملاقات ایک ولی اللہ مولانا خیر محمد صاحب سے ہوئی جو بہاولپور میں رہتے تھے۔ سارا دن اپنے ہاتھوں سے کام کرنے اور شام کو طالبعلموں کو حدیث پڑھایا کرتے تھے۔ مولانا خیر محمد صاحب نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ
بیت اللہ کا طواف ہو رہا ہے، خلیل اللہ طواف کر رہے ہیں، کلیم اللہ طواف کر رہے ہیں، آدم ذبیح اللہ، یعقوب، یوسف اور حضرت ایوب موجود ہیں، انبیاء کرام کی جماعت طواف کر رہی ہے اور پیچھے پیچھے سید عطاء اللہ شاہ بخاری چل رہے ہیں۔ مولانا خیر محمد صاحب فرماتے ہیں۔ میں نے پوچھا۔ شاہ جی! یہ مرتبہ کیسے ملا کہ انبیاء کرام کے ساتھ بیت اللہ کا طواف، تو شاہ جی فرمانے لگے، بس اللہ تعالیٰ نے یوں کریمی فرما دی کہ عطاء اللہ شاہ! تم نے میرے محبوب کی ختم نبوت کے لئے زندگی جیل میں کاٹ دی مصیبتوں اور دُکھوں میں گزار دی، جا نبیوں کے ساتھ طواف کرتا رہ۔
مولانا عبدالشکور لکھنوی
موقع کی مناسبت سے ایک علمی لطیفہ ذہن میں آیا۔ رنگون میں خواجہ کمال الدین قادیانی پہنچا۔ بڑا چالاک اور چالباز تھا۔ اس نے اہل رنگون کے سامنے اپنے اسلام کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ہم غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے اور یہ بات قسمیہ کہتا، جیسا کہ بہت سے قادیانی خصوصاً لاہوری کہتے ہیں، خواہ مخواہ ہم کو بدنام کیا جاتا ہے حالانکہ ہم پکے مسلمان ہیں، قرآن کو مانتے ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا سچا رسول سمجھتے ہیں۔ عوام اس کی باتوں میں آ گئے۔ اس کی تقریریں ہونے لگیں۔ بہت سے مقامات پر نماز بھی پڑھائی، جمعہ تک پڑھایا۔ رنگون کے ذمہ داران بہت فکر مند تھے کہ عوام کو کس طرح اس فتنہ سے محفوظ رکھیں۔ عوام میں دن بدن اس کو مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ مقامی علماء سے اس کی گفتگو بھی ہوئی مگر اپنی چالبازی کی وجہ سے اپنی اصلیت ظاہر نہ ہونے دیتا۔ مشورہ کر کے یہ طے پایا کہ امام اہل سنت حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحب کو مدعو کیا جائے۔ چنانچہ تار دے دیا گیا اور وہاں سے تار بھی آگیا کہ بہت جلد مولانا عبدالشکور صاحب
تشریف لا رہے ہیں ، وہ اس سے گفتگو کریں گے ۔ خواجہ کمال الدین قادیانی نے جب مولانا کا نام سُنا تو راہ فرار اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت دیکھی ۔ چنانچہ وہ مولانا کے وہاں پہنچنے سے پہلے پہلے چلا گیا ۔ مولانا تشریف لے گئے ۔ مولانا کی تقریریں ہوئیں ، عوام الناس کو حقیقت سے خبردار کیا اور ذمہ داروں کی ایک مجلس میں فرمایا کہ آپ حضرات نے غور فرمایا کہ وہ کیوں یہاں سے چلا گیا ! دراصل وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھ گیا ہو گا کہ میں اس سے یہ سوال کروں گا کہ تو مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا قائل نہیں مگر تو اُسے مسلمان سمجھتا ہے یا کافر ؟ اس کا جواب اس کے پاس نہیں تھا ، جو بھی جواب دیتا پکڑا جاتا ۔ وہ مرزا صاحب کو کسی حال میں کافر تو کہہ نہیں سکتا تھا ، اگر مسلمان کہتا تو اس پر بھی اس کی گرفت ہوتی کہ جو شخص مدعی نبوت ہو وہ کسی حال میں مسلمان نہیں رہ سکتا ۔ ایسے آدمی کو مسلمان سمجھنا خود کفر ہے ۔ میں اس سے یہی سوال کرتا اور انشاء اللہ اسی ایک سوال پر وہ لاجواب ہو جاتا اور اس کا راز فاش ہو جاتا ۔ یہ سوال آپ لوگوں کے ذہن میں نہیں آیا ، اس لئے آپ لوگ پریشان رہے ۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ
مولانا جمال اللہ حسینی مبلغ سندھ راوی ہیں کہ دفتر ختم نبوت ملتان جن دنوں بیرون لوہاری دروازہ میں واقع تھا ۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ دفتر میں تشریف رکھتے تھے ۔ پولیس انسپکٹر آیا ، اُس نے ایک کاغذ نکالا اور مولانا کے آگے رکھ کر کہا کہ آپ کا فلاں ضلع میں داخلہ بند ہے ، اِس پر آپ دستخط کر دیں ۔ مولانا نے فرمایا کہ صرف دستخط یا کچھ لکھ بھی سکتا ہوں ۔ اُس نے کہا کہ نہیں صرف دستخط ۔ فرمایا ۔ میں نہیں کرتا ۔ اس نے کہا کہ جناب ڈپٹی کمشنر کا حکم ہے ۔ فرمایا ، کسی کا ہو، میں دستخط نہیں کرتا ۔ اُس
نے کہا۔ کیوں۔ فرمایا: میری مرضی۔ اُس نے سخت لہجہ میں کہا کہ کرنے ہوں گے۔ یہ کہنے کی دیر تھی کہ آپ نے فوراً جھپٹ کر ہاتھ اس کے گلا کی طرف بڑھا کر اس کا پستول نکال کر اپنے قدموں کے نیچے رکھ کر اس پر بیٹھ گئے۔ مولانا کے جلدی میں یہ اقدام کرنے سے وہ اتنا مبہوت ہو گیا کہ اس کی پیشانی پسینہ سے شرابور ہو گئی۔ اس کی حالت دیکھ کر حضرت مولانا نے فرمایا کہ یہ تھانہ نہیں، ختم نبوت کا دفتر ہے۔ آپ کو پستول کا نشہ تھا، میں نے کافور کر دیا۔ اب سُنیئے کہ میں صرف دستخط نہیں کروں گا بلکہ ضلع بدری کے آرڈر پر لکھوں گا کہ اگر اس ضلع میں مرزائی تبلیغ نہیں کرتے تو میں نہیں جاؤں گا، ضلع بدری کے احکام کی پابندی کروں گا، اگر مرزائی اس ضلع میں تبلیغ کرتے ہیں یا کریں گے تو پھر میں احکام ضلع بدری توڑ کر جاؤں گا اور اپنا فریضہ تبلیغ ادا کروں گا۔ اُس نے کہا، جناب آپ یہی لکھ دیں۔ چنانچہ آپ نے یہ لکھ کر دستخط کر کے پستول اور کاغذ اس کو پکڑا دیا۔ اُس نے جھک کر سلام کیا ۔ آپ نے اُس کی پشت پر ہاتھ پھیر کر جواب دیا اور معاملہ ختم ہو گیا۔
مولانا جمال اللہ راوی ہیں کہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کنری ضلع تھر پارکر میں تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے۔ یہ اُس زمانہ کی بات ہے جب سندھ میں مرزائیت کا طوطی بولتا تھا۔ ہندو مرزائی گٹھ جوڑ، بے پناہ زمین و سرمایہ، سات اسٹیشن تک گاڑی کا مرزائیوں کی زمین سے گزرنا، اقتدار کے باعث ان کے خلاف کسی کو کچھ کہنے کی جرأت نہ تھی، ادھر بیچارے غریب مسلمان، وہ بھی ان سے مرعوب۔ رات کو جلسہ شروع ہوا۔ قادیانیوں نے بندوقیں لے کر جلسہ کا محاصرہ کر لیا۔ انسپکٹر آیا اس نے کہا کہ مولانا آپ تقریر نہ کریں۔ فرمایا: کیوں پابندی ہے ۔ اُس نے کہا کہ پابندی تو نہیں، فرمایا: پابندی نہیں تو جلسہ ہوگا۔ اُس نے کہا کہ اچھا آپ تقریر کریں مگر مرزا
قادیانی کا نام نہ لیں۔ فرمایا کیوں ۔ پولیس آفیسر نے کہا کہ خطرہ ہے ۔ فرمایا کہ تم پولیس والے کس مرض کی دوا ہو، انتظام کرو۔ اُس نے کہا کہ میرے پاس نفری نہیں ۔ فرمایا۔ بہت اچھا۔ اسٹیج سے اُترے (جو مسجد کے صحن میں تھا) مسجد کے ہال میں آئے ، کاغذ نکالا، وصیّت لکھی کہ آج شاید میری زندگی کی آخری تقریر ہے۔ جماعت کا نظام اس طرح چلایا جائے میری زمین اس طرح تقسیم ہو، حساب کتاب کے متعلق پندرہ بیس منٹ میں لکھ کر فارغ ہو گئے ۔ تن تنہا اسٹیج پر بیٹھ گئے، اسٹیج لگایا، تقریر شروع کر دی۔ فرمایا : مرزائیو ! اگر تم مجھے مارنے کے لئے تیار ہو تو میں مرنے کے لئے تیار ہوں، ہے ہمت تو آؤ ۔ لوگ حیران کہ اب کیا ہوگا ؟ مولانا نے فرمایا کہ مجھے کہا جاتا ہے تبلیغ نہ کرو۔ کیوں نہ کروں۔ قادیانی جھوٹے نبی کی جھوٹی تبلیغ کریں اور میں سچے نبیؐ کی سچی نبوت پر وعظ نہ کروں ۔ قیامت کو آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھاؤں گا ۔ لوگوں کی چیخیں نکل گئیں۔ فرمایا : کہتے ہیں مرزا کا نام نہ لو، کیوں جناب اگر اتنا برا ہے کہ اُس کا نام لینا ٹھیک نہیں تو پھر نبی کیوں بنایا ۔ فرمایا : لوگو ! شاید میری زندگی کی یہ آخری تقریر ہو سُن کر جاؤ۔ اس جذبہ سے چند منٹوں میں یہ بنیادی باتیں کہیں کہ جو مسلمان اِدھر اُدھر تھے ، مقابلہ کے لئے جمع ہو گئے اور قادیانی بھاگ گئے اور حضرت نے تین گھنٹہ ایسی دھواں دھار تقریر کی کہ سبحان اللہ ۔
○
دوسری دفعہ آپ پھر کڑی تشریف لے گئے۔ بلدیہ کڑی کی حدود میں دفعہ ۱۴۴ کے تحت جلسوں پر پابندی عائد کر دی گئی ۔ آپ نے فرمایا کہ کڑی بلدیہ حدود سے باہر جلسہ رکھ دیا جائے ۔ چنانچہ شہر سے ایک میل باہر جلسہ رکھا گیا۔ لوگ بسوں ویگنوں ، ٹرالیوں ، سائیکلوں پر وہاں پہنچ گئے اور آپ نے وہاں معرکۃ الآرا خطاب فرمایا ۔
○
راقم الحروف کو یاد ہے کہ ایک دفعہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے زمانہ میں جلسہ ختم نبوت کانفرنس کے جملہ انتظامات مکمل کر لئے گئے مگر ضلع سرگودھا میں دفعہ ۱۴۴ کے تحت جلسوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ چنانچہ حضرت مرحوم کے حکم پر جلسہ گاہ سے ایک میل دُور جہاں سے ضلع جھنگ کی حدود شروع ہوتی ہے، وہاں پر پابندی نہ تھی، وہاں پر جلسہ رکھ کر احباب کی پریشانی دُور کر دی ۔ پابندی کے موقع پر قانون سے بچ کر اپنا کام کرنے میں حضرت مرحوم ایسی موشگافیاں نکالا کرتے تھے کہ بڑے بڑے ماہر قانون دنگ رہ جاتے تھے ۔
○
کندھکوٹ ضلع جیکب آباد سندھ میں حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ مدرسہ کے سالانہ جلسہ پر تشریف لے گئے ۔ پولیس آپ کے تعاقب میں تھی، مقامی احباب کو پریشانی لاحق ہوئی ۔ اُنہوں نے تیسری منزل پر آپ کو ٹھہرایا ۔ پولیس کو اطلاع ہوئی، پولیس آفیسر بھاری بھرکم ہانپتا کانپتا تیسری منزل پر مخبری پا کر آدھمکا ۔ حضرت مرحوم کو ضلع جیکب آباد کی حدود میں داخلہ بندی کا آرڈر دے کر کہا کہ آپ اس پر دستخط کر دیں ۔ آپ نے آرڈر دیکھتے ہی فرمایا کہ یہ انگلش میں ہے اور مَیں انگلش نہیں جانتا، نہ معلوم اس میں کیا لکھا ہے ۔ ڈی ۔ ایم سے اُردو ترجمہ کرا کر لاؤ پھر دستخط کروں گا ۔ وہ چلا گیا ۔ آپ نے منتظمین جلسہ کو بلا کر کہا کہ مشورہ کر لو، اگر تقریر کرانی ہے تو میں حاضر ہوں ۔ وہ مشورہ میں لگ گئے، اتنے میں آفیسر ترجمہ کرا کر آ گیا ۔ آپ نے دیکھ کر فرمایا کہ اس پر مہر نہیں ہے مجھے کیا معلوم کہ کس نے ترجمہ کیا ہے ۔ مہر لگوا کر لاؤ ۔ وہ بے چارہ پھر مہر لگوانے چلا گیا۔ آپ نے پھر منتظمین کو کہا کہ اب بھی وقت ہے میری تقریر کرانی ہے تو جلدی کرو۔ میر صبح صادق کھوسو، جو بعد میں قومی اتحاد کی عبوری مارشل لاء حکومت میں وفاقی وزیر
بھی رہتے ، وہ اور دوسرے احباب جمعیۃ علماء اسلام نے مشورہ کر کے کہا کہ آپ کی تقریر کے بعد مقامی احباب کو پولیس تنگ کرے گی۔ فرمایا : اس کا تو میرے پاس حل ہے میں اسٹیج پر چلا جاتا ہوں، آپ اعلان کر دیں کہ ہمارا جلسہ ختم ہے۔ میں اعلان کر دوں گا کہ مدرسہ کا جلسہ ختم ہے اور میرا جلسہ شروع ہے جو میری تقریر سُننا چاہے بیٹھ جائے۔ ظاہر ہے کہ لوگ بیٹھے رہیں گے میں تقریر کر لوں گا اور آپ یہ کہہ سکیں گے کہ جناب ہم نے تو جلسہ بند کر دیا تھا۔ مولوی صاحب ہمارے بزرگ تھے وہ تقریر کرنے بیٹھ گئے، اب اس میں ہمارا کیا قصور ہے مگر مقامی احباب منتظمین جلسہ اس تجویز پر بھی آمادہ نہ ہوئے۔ اتنے میں پولیس آفیسر پھر مہر لگوا کر آگیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس میں لکھا ہے کہ تمہارا داخلہ بند ہے ، میں تو داخل ہو چکا ہوں لہٰذا میں لکھوں گا کہ دستخطوں کے بعد جو پہلی گاڑی ملے گی اُس پر چلا جاؤں گا۔ انسپکٹر نے کہا، ٹھیک ہے۔ آپ نے دستخط کر دیئے۔ جلسہ والوں کو بُلا کر فرمایا کہ جب تک ٹرین نہ آئے میں قانوناً یہاں رہ سکتا ہوں ، زبان بندی ہے نہیں، اس لئے اب بھی تقریر کے لئے گنجائش موجود ہے۔ اس پر بھی وہ آمادہ نہ ہو سکے۔
ایک دفعہ ایک جلسہ میں دورانِ تقریر فرمایا : ”دیکھو ! میں اپنی عمر کے آخری پیٹے میں ہوں ، بوڑھا ہو گیا ہوں ،شاید جُدائی کا وقت قریب ہو، میں تین طبقوں سے ایک ہی درخواست کرنا چاہتا ہوں شاید آپ اس پر عمل کر کے میری قبر ٹھنڈی کریں۔
- ۱۔ سرکاری حکام اور ارباب حل و عقد کو میری وصیت ہے کہ وہ عقیدۂ ختم نبوت کے
وفادار بن کر رہیں اور کسی عہدہ کے لالچ یا دنیا کی عارضی عزت کے بدلے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے وفائی کرتے ہوئے منکرینِ ختم نبوت
کی مدد یا حوصلہ افزائی نہ کریں، ورنہ ان کا حشر وہی ہوگا جو ان سے پہلے ان حکام کا ہو چکا ہے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کا عہد وفا توڑ دیا اور دشمنان عقیدہ ختمِ نبوت کے ہاتھ مضبوط کئے۔ پھر چند ایسے بدنام زمانہ حکام اور افسران کے واقعات بھی سنائے۔
- ۲۔ علماء کرام کو خبردار کرتا ہوں کہ ان کی یہ درسگاہیں جو ان کے لئے آرام گاہیں
بن چکی ہیں، انہیں میسر نہیں رہیں گی، جب ایسی حالت آجائے تو ثابت قدمی سے دین پر خود بھی قائم رہیں اور اشاعت دین بھی کرتے رہیں۔ ایسے حالات میں رستوں پر بیٹھ کر اور درختوں کے سائے میں ڈیرہ ڈال کر اللہ کریم کا دین پڑھاتے اور سکھاتے رہیں۔ آپ کے اسلافؒ نے ایسا کر کے دکھایا ہے۔ اس کے برعکس ایسے حالات بھی آئیں گے کہ ملازمت یا عہدہ کا لالچ دے کر علماء کو خدمت دین سے باز رکھا جائے گا۔ خدارا بھوکوں مرجانا مگر اللہ کریم کے دین سے بے وفائی کر کے اس دنیا کی فنا ہونے والی عزت پر نقد دین نہ لٹانا، دین سکھاتے رہنا بیشک کچھ ہوجائے۔
- ۳۔ عام لوگوں سے میری درخواست ہے کہ ایک وقت ایسا آسکتا ہے جب
عقیدۂ ختمِ نبوت کا نام لینا جرم بن جائے گا، اللہ کرے ایسا نہ ہو لیکن اگر حالات تمہیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کر دیں تو جان دے دینا مگر باوفا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دنیا کی عارضی تکلیف پر بیوفائی نہ کرنا اور اپنے عقیدہ پر جمے رہنا۔ یہاں تک کہ موت تمہیں دنیا کی ان عارضی چیزوں سے بچا کر اللہ کریم کی دائمی نعمتوں والی جنت میں داخل کر دے۔
مولانا عبدالرؤف ازہری راوی ہیں کہ ۱۹۵۳ء کے انتخابات میں مجاہد ملتؒ کو
اپنے رفیقِ راہ وفا مولانا مفتی محمودؒ کے انتخابی حلقہ ڈیرہ اسمعیل خان جانے کا اتفاق ہوا، میں ساتھ تھا۔ زادِ راہ ان کی جذبہ فروشی اور ان کی گرمیٔ نفس کے سوا صرف ایک بستر، ایک لوٹا، ایک بکس جس میں چند کتب اور ادویات اور پیرانہ سالی کا سہارا عصا تھا مجھے بستر اور لوٹا دیتے اور خود بکس اور عصا اٹھاتے۔ رات کو خود اپنی عبا (اوورکوٹ) میں سو جاتے اور مجھے سونے کے لئے بستر عنایت کر دیتے۔ واپسی پر ڈیرہ اسمعیل خان سے ہمیں چکوال آنا تھا۔ راستہ میں میانوالی رُکنا پڑا۔ جب بس سے اُترے تو تانگے والے نے روپیہ مانگا۔ آپؒ نے آٹھ آنے دینا چاہے وہ راضی نہ ہوا تو آپ پیدل چل پڑے اور مجھے کہتے جاتے تھے: ”دیکھو ہمارے پاس مجلس تحفظ ختمِ نبوت کا پیسہ امانت ہے، اگر آج اپنے آرام و راحت پر اُڑا دوں تو کل اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا،“ اب میں نے کوشش کی کہ بستر اور بکس دونوں بھاری ہیں دونوں خود اُٹھا لوں۔ اس پر ناراض ہو کر فرمانے لگے: ”یہ انصاف نہیں کہ تم سارا بوجھ اُٹھا کر چلو اور میں خالی ہاتھ چلوں۔“
O
مولانا محمد عبداللہ ساہیوال نے فرمایا کہ ایک دفعہ میں اور مولانا خیر محمدؒ (جو مولانا محمد علی جالندھریؒ کے اُستاد اور مربی تھے) ایک تبلیغی سفر پر تھے۔ ہمیں لاہور میں ایک جلسہ سے خطاب کرنا تھا۔ دورانِ سفر ہمیں دیوِ اشتہا نے ستایا۔ مولانا خیر محمدؒ نے مجھے فرمایا: ”کوئی سستی چیز پکوڑے وغیرہ لے کر آنا، زیادہ خرچ نہ کرنا، محمد علیؒ کو چل کر حساب دینا ہے“۔ یہ وہ زمانہ تھا جن دنوں وہ برصغیر (متحدہ پاک و ہند) کے مدرسہ خیر المدارس میں خازن اور مدرس تھے۔
O
مولانا حامد علی رحمانی کہتے ہیں: ”ایک بار میں نے مجاہدِ ملت کے ساتھ اپنے شہر
حسن ابدال سے بالاکوٹ تک سفر کیا۔ راستے میں بھوک لگی تو آپؒ نے مکئی کے دو بھٹے لئے ۔ ایک مجھے عنایت کر دیا دوسرا خود کھانے لگ گئے۔ مجھے کچھ عجیب سا لگا۔ وہ میرے انداز سے بھانپ گئے، فرمایا : ”تیری ناگواری کا مجھے احساس ہے مگر میری بھی مجبوری ہے۔ میرے پاس پیسہ قوم کا ہے جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کی حفاظت کے لئے مجھے دیا ہے۔ آج کھا پی کر اڑا لوں تو کل قیامت کو جواب دینا پڑے گا۔“
مولانا محمد صدیق صاحب ناظم مدرسہ خیر المدارس (ملتان) کہتے ہیں کہ مولانا ایک بار ہمارے گھر تشریف لائے تو لنگڑاتے ہوئے چلے آ رہے تھے۔ اپنی بیٹی سے کہا: ”مجھے ہلدی، گھی اور روئی کا مرہم بنا دو۔“ پھر ہمیں پورا واقعہ سنایا کہ تقریر کے لیے کہیں وعدہ کر رکھا تھا۔ ریل گاڑی اس طرف ۲۴ گھنٹوں میں صرف ایک بار جاتی تھی۔ آپؒ تاخیر سے اسٹیشن پر پہنچے ، گاڑی چل چکی تھی، بھاگے اور گر گئے، گھٹنے پر سخت چوٹ لگی مگر اس چوٹ کا زخم اس چوٹ کے زخم پر حاوی نہ ہو سکا جو مرزا قادیانی کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تاج وتختِ ختمِ نبوت پر شب خون مارنے سے ان کے دل پر لگ چکی تھی۔ سنبھلے اور بھاگنا شروع کیا۔ بستر وغیرہ وہیں پھینک دیا مگر گاڑی پکڑنے میں کامیاب ہو گئے ۔کہتے تھے اللہ کا شکر ہے وعدہ پورا ہوگیا ۔
مولانا حامد علی رحمانی صاحب کہتے ہیں کہ آپؒ نے ہمارے ٹیکسلا کے مدرسہ کے جلسہ سے خطاب کرنے کے لئے وقت دے رکھا تھا۔ آپؒ نے مری میں تقریر کر کے یہاں پہنچنا تھا۔ ہم نے بار بار اعلان کرایا کہ آپؒ تشریف لائیں گے ۔ آپؒ جس موٹر میں سوار تھے وہ راستہ میں خراب ہو گئی۔ آپؒ کی تاخیر ہمارے لئے باعثِ تشویش بن گئی، مگر مجھے یقین تھا کہ وہ وعدہ ضرور پورا کریں گے ۔ رات ٹھیک گیارہ بجے آپؒ
بذریعہ ٹیکسی اور کچھ پیدل سفر کر کے ٹیکسلا پہنچ گئے۔ ہمارے چہرے خوشی سے کھل گئے۔ معذرت خواہی کے انداز میں فرمایا : ”تمہیں میرے انتظار سے تکلیف ہوئی ہوگی مگر گاڑی خراب ہو گئی، بس اللہ پاک نے اپنے کرم سے پہنچا دیا ۔“ میں نے عرض کیا کھانا کھا لیں“ فرمایا ”بس پانی کا گلاس پلا دو“ پھر تقریر شروع کی اور متواتر دو گھنٹے تک بولتے رہے۔ ایسے لگتا تھا گویا الہامی تقریر ہے، سامعین پر گریہ طاری کر دیا۔ جو
◯
دین پور شریف عرف جٹڑ والا (ضلع بہاولنگر) کے مدرسہ والوں نے اپنے سالانہ جلسہ میں آپ کو مدعو کیا۔ جلسہ کے اشتہار میں آپ کے ساتھ دیگر علماء کرام کے اسماء گرامی بھی تھے۔ تاریخ جلسہ سے تقریباً دو تین دن قبل کسی بداندیش نے منتظمین جلسہ کی جانب سے جعلی خطوط تمام مدعوین کو ارسال کئے جن کا مضمون تھا: ”یہ جلسہ کا پروگرام بعض ناگزیر وجوہ کی بناء پر ملتوی کر دیا گیا ہے“۔ آپ اپنی مومنانہ فراست سے بھانپ گئے کہ معاملہ کچھ اور ہی ہے۔ لہٰذا جلسہ کے پہلے روز ہی دین پور تشریف لے گئے۔ پتہ چلا کہ کسی دشمن دین نے تمام مدعوین کو ایسے خطوط لکھ دیئے تھے، لہٰذا کوئی صاحب بھی تشریف نہ لائے۔ آپ اکیلے تین دن مختلف اوقات میں تقاریر کرتے رہے۔ منتظمین جلسہ خوش تھے کہ ان کا جلسہ کامیاب ہو گیا، سامعین کا اجتماع اپنے آپ کو سعادت مند سمجھ رہا تھا کہ اُس نے ایسے خطیب کی باتیں سن لیں جس کا بدل ان کی آنکھیں اب نہیں دیکھ سکیں گی۔ مولانا محمد علیؒ اس لئے خوش تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت کے لئے ایک پروگرام طے پایا تھا اللہ نے اُسے کامیاب کر دیا منتظمین جلسہ کو ندامت ہوئی نہ سامعین کو حسرت رہی۔
◯
مسٹر جسٹس منیر نے اپنی انکوائری رپورٹ میں مولانا محمد علیؒ کے متعلق لکھا : "اور محمد علی جالندھریؒ نے، جو مجلس احرار کے ممتاز ممبر تھے، اپنے آپ کو اس تحریک (ختم نبوت) کا داعی مبلغ بنا دیا۔ گویا احمدیوں (مرزائیوں) کی مخالفت ہی اُن کی زندگی کا واحد مقصد تھا۔"
مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدی کہتے ہیں کہ ایک بار رات کو آپؒ جماعت کا حساب چیک کر رہے تھے۔ آمدن اور خرچ میں ایک پیسہ کا فرق تھا۔ حساب کو برابر کرنے کے لئے رات بھر جاگتے رہے۔ جب صبح رفقاء کار نے اس شب بیداری کا سبب پوچھا تو راز کھلا کہ جماعت کا ایک پیسہ کہیں ضائع ہو رہا تھا، انہیں اس کی تلاش تھی، لہٰذا جب تک وہ مل نہ گیا اُن کی آنکھ سو نہ سکی۔
مولانا عبد الرحیم اشعر کہتے ہیں کہ ایک بار سفر پر جاتے وقت مجھے بلا کر فرمایا : "یہ خزانہ کی چابی ہے۔ تم فرض کر لو، محمد علی مر گیا، اب تم جماعت کا حساب کتاب چیک کرو اور دیکھو کہیں میری کوئی ایسی کوتاہی تو نہیں رہ گئی جو کل آپ حضرات کے لئے پریشانی کا باعث بنے۔" میں نے سیف کھولا تو اندر ایک کاغذ تھا جس پر نو (۹) مدات آمد اور خرچ کی درج تھیں۔ میں نے دیکھا تو تمام حساب برابر تھا۔ اور اتنا واضح کہ مجھے سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئی۔
جماعت کے فنڈات کی حفاظت انہیں نہایت عزیز تھی۔ فرمایا کرتے تھے : "مجھے لوگ جماعت کے فنڈات کے استعمال میں بخیل ہونے کا طعنہ تو دے سکتے ہیں
مگر فضول خرچی کا الحمدللہ طعنہ نہیں دے سکیں گے۔
آپؒ نے ایک دفعہ کسی کارکن کو فرمایا : آپ کو بتاؤں جماعت کے فنڈات کیوں کچھ بچے اور بڑھائے جاتے ہیں ؟ کارکنان جماعت اپنی ذات پر کم از کم بلکہ بالکل ہی خرچ نہ کریں تو دینی جماعتیں امیر بن جائیں“ پھر وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : ”دیکھو جب آپ دینی پروگرام سے واپسی پر ریلوے اسٹیشن یا بس سٹاپ پر اُتریں تو وہاں سے اپنی جائے منزل تک سستی سے سستی سواری لیا کریں۔ اگر ٹیکسی اور رکشہ ہوں تو رکشہ کریں، رکشہ اور تانگہ ہوں تو تانگے پر سوار ہوں اور اگر وہاں تانگے کے لئے عام سواریاں ہوں تو اکیلے تانگہ کرایہ پر نہ لیں، عام سواریوں کے ساتھ سوار ہو سفر کریں۔ اس سے نفس بھی پائمال ہوگا اور عام لوگوں کے ساتھ سفر کرنے میں ان سے تعلق بھی پیدا ہوگا جو بذات خود نیکی کا کام ہے اور اگر مسافت زیادہ نہ ہو تو پیدل چل کر آئیں۔ میرے اس فارمولا پر عمل کریں، آپ کی جماعت کے فنڈات بڑھتے جائیں گے۔ الحمدللہ میں تو ایسا ہی کرتا ہوں“۔
ایک دفعہ آغا شورش کاشمیریؒ نے اپنی اُفتاد طبع کے باعث مولانا محمد علی جالندھریؒ کے خلاف اپنے ”چٹان“ میں ایک نوٹ لکھ مارا۔ کچھ عرصہ بعد مرزائیوں کے خلاف ”چٹان“ میں لکھنے کے باعث آغا شورشؒ کے خلاف مقدمہ دائر ہو گیا۔ گرفتار ہو گئے۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ نے ان کے مقدمہ کی پیروی شروع کر دی۔ مولانا احتشام الحق تھانویؒ کے پاس کراچی گئے اور ایوب خاں کو شورش کاشمیریؒ کی رہائی کے لئے کلمہ خیر کہنے کو فرمایا۔ مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے مولانا محمد علی صاحبؒ کو آغا شورشؒ کا تیز و تند نوٹ یاد دلایا جو وہ آپ کے خلاف لکھ چکے تھے۔ اس پر مولانا محمد علیؒ نے مولانا احتشام الحق تھانویؒ
سے فرمایا کہ شورشؔ نے جو کچھ لکھا ہے وہ میں نے پڑھا ہے، آئندہ بھی وہ لکھے گا اس سے انکار نہیں مگر اس وقت شورش کاشمیریؒ چونکہ مسئلہ ختم نبوت بیان کرنے کی پاداش میں گرفتار ہوئے اور ختم نبوت کے مجاہد سپاہی ہیں اس لئے ان کے مقدمہ کی پیروی کرنا میرا اخلاقی و جماعتی فریضہ ہے۔ اس وقت میں شورش کی مدد کرنا عبادت سمجھتا ہوں۔ مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے یہ سُنا تو جھک گئے۔ ہر آنے والے سے فرماتے کہ مولانا محمد علی جالندھریؒ کو اپنے مشن ختم نبوت سے جو لگاؤ ہے اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔
مولانا مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ اگر قادیانی چاند پر گئے، تو وہاں پر بھی ان کا تُعاقب کیا جائے گا۔ آج مولانا کے اخلاص کی برکت ہے کہ اس وقت دُنیا کے تمام براعظموں میں ختم نبوت کا کام ایک مربوط نظام کے تحت ہو رہا ہے۔
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ صاحب خود یہ واقعہ سنایا کرتے تھے کہ کسی سفر میں وہ اسٹیشن پر ایسے وقت پر پہنچے کہ ریل کے آنے میں کچھ وقت تھا۔ غور کیا کہ اس مختصر سے فارغ وقت کو کیسے کام میں لایا جائے۔ چائے کے اسٹال پر گئے، چائے نوش کی، پیسے ادا کئے اور چائے والے سے کہا۔ میرا نام محمد علی جالندھریؒ ہے۔ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا نمائندہ ہوں، میرا پتہ یہ ہے۔ اگر خدا نہ کرے کہ کسی وقت کوئی مرزائی تمہارے علاقے میں شرارت کرے تو مجھے خط لکھ دینا۔ مولانا مرحوم فرماتے تھے کہ سات برس بعد اُس شخص کا خط آیا کہ ہمارے قصبے میں مرزائی مبلغین قادیانیت کی تبلیغ کر رہے ہیں اور اُنہوں نے ایک خاندان کو مرتد کر لیا ہے۔ یہ خط ملتے ہی مولانا محمد حیاتؒ فاتح قادیان وہاں پہنچے۔ قادیانیوں کو چیلنج کیا تو قادیانی
بھاگ گئے اور نو مرتد گھرانے کو قادیانیت کی حقیقت سمجھائی تو وہ دوبارہ مشرف با اسلام ہوا۔ اس کے بعد قادیانیوں کو اس قصبے کا رُخ کرنے کی جرات نہ ہوئی۔
مولانا تاج محمود نے ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں کامیابی کے بعد فیصل آباد کے بڑے قبرستان شہدائے ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی قبروں کو تلاش کر کے ان پر پھول ڈالتے ہوئے لوگوں کو دیکھا تو آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ قبرستان کی دیوار پر چڑھ گئے۔ لوگ جمع تھے۔ فرمایا : لوگو ! آج کے تمہارے اس عمل کو دیکھ کر مجھے مولانا محمد علی جالندھری کی بات یاد آ گئی۔ جب ۱۹۵۳ء کی تحریک میں ہمارے ساتھیوں و کارکنوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا تو اس کے بعد مولانا محمد علی جالندھریؒ تقریروں میں فرمایا کرتے تھے کہ آج جن پر حکومت نے مظالم ڈھائے ہیں، ایک وقت آئے گا کہ لوگ ان کی قبروں کو تلاش کر کے ان پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں گے۔
سنہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت سے رہائی کے بعد حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اپنے گاؤں باڑہ واقع صادق آباد تشریف لائے۔ باڑہ صادق آباد سے ۴ میل کے فاصلہ پر ہے۔ ایک دن لاہور سے مولانا عبد الرحیم اشعر کا گاؤں میں شام کے قریب تار آیا کہ نہر کے بنگلہ پر آدمی بھیجا مگر اسے پڑھنے والا کوئی نہ ملا۔ پورے گاؤں میں انگریزی جاننے والا کوئی نہ تھا۔ بالآخر ہندوستان کے بارڈر پر واقع پاکستان کی ہیڈ چوکی کے انچارج سے جا کر ساتھی پڑھوا لائے، تو اس میں تھا کہ ۹؍ تاریخ (مہینہ یاد نہیں رہا) کو سر ظفر اللہ خان منیر انکوائری میں پیش ہوگا۔ اس کی گواہی کے وقت مولانا کا ہونا ضروری تھا۔ کیونکہ تنقیحات و جرح وکلاء کے لئے آپ کی نگرانی میں تیار ہونی تھی۔ چنانچہ اس وقت گھوڑی پر صادق آباد کے لئے اکیلے روانہ ہوئے لیکن وقت اتنا ہو چکا تھا کہ
ہزار تیز رفتاری کے باوجود گھوڑی پر پہنچنا مشکل تھا۔ گاڑی بھی وقت پر آئی، مولاناؒ بھی سوار ہو گئے۔ یہ کیسے ہوا، آج تک سمجھ میں نہیں آیا۔ صادق آباد اسٹیشن کے قریب ایک دوست کے ڈیرہ پر گھوڑی باندھ دی خود ٹرین پر سوار ہو گئے۔ ہم لوگ صبح جا کر لے آئے۔
O
باڑہ سے ماچھی گوٹھ اسٹیشن ۹ میل ہے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے سفر کرنا تھا۔ مولانا عزیز الرحمٰن راوی ہیں کہ میں آپ کو سائیکل پر لیکر روانہ ہوا۔ دو میل بعد میرے لئے سائیکل سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ مولانا نے وجہ پوچھی تو میں نے عرض کیا کہ میرے ایک پھنسی نکل آئی تھی اب وہ پھٹ گئی ہے، اس لئے سائیکل پر بیٹھنا اور چلانا میرے لئے مشکل ہے۔ یہ سن کر مولانا سائیکل سے اُترے، میرے سر پر ہاتھ پھیرا، فرمایا کہ جاؤ اللہ خیر کرے گا۔ حضرت پیدل روانہ ہو گئے۔ میں نہر کے پُل پر کھڑا دیکھتا رہا کہ دوسرے چک کی سڑک سے ہمارے چک کی سڑک جہاں ملتی تھی وہاں پر ایک ٹریکٹر والا آکر رکا اور مولانا چپ کر کے بیٹھ گئے۔ کچھ عرصہ بعد مولانا سے ملاقات ہوئی تو عرض کیا حضرت اس دن کیسے پہنچے؟ فرمایا کہ ٹریکٹر والے نے ٹریلر کھڑا کیا میں بیٹھ گیا۔ ماچھی گوٹھ اسٹیشن پر جا کر اُس نے کھڑا کیا میں اتر گیا۔ نہ اُس نے مجھ سے کچھ پوچھا نہ میں نے کچھ بتایا۔
مرد غازی مولانا عبدالستار خان نیازی
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں مولانا عبدالستار خان نیازی نے سزائے موت کا فیصلہ سن کر کہا پســـــ ! اس سے بھی بڑی سزا ہے تو دے لیجئے میں ناموسِ
مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہوں۔
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں اپنی اسیری کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : مجھے اپنی زندگی پر فخر ہے کہ جب تحریک ختم نبوت کے مقدمہ کے بعد میری رہائی ہوئی تو پولیس والوں نے میری عمر پوچھی۔ اس پر میں نے کہا تھا۔ میری عمر وہ سات دن اور آٹھ راتیں ہیں جو میں نے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کی خاطر پھانسی کی کوٹھڑی میں گزاری ہیں کیونکہ یہی میری زندگی ہے اور باقی شرمندگی۔ مجھے اپنی زندگی پر ناز ہے ۔“
گرفتاری اور پھانسی کی سزا
آپ کا پروگرام تھا کہ قصور سے بس کے ذریعے اسمبلی گیٹ تک پہنچ جائیں اور اسمبلی میں تقریر کر کے ممبران اسمبلی کو تحریک کے بارے میں مکمل تفصیلات سے آگاہ کر دیں لیکن قصور میں آپ جن لوگوں کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے، انہوں نے غداری کرتے ہوئے ملٹری کو بتا دیا۔ آپ صبح کی نماز کی تیاری کر ہی رہے تھے کہ اپنے ایک کارکن مولوی محمد بشیر مجاہد کے ہمراہ گرفتار کر لئے گئے۔
قصور سے گرفتار کر کے آپ کو لاہور شاہی قلعہ لایا گیا، جہاں سے بیانات لینے کے بعد ۱۶ اپریل کو آپ جیل منتقل کر دیئے گئے اور آپ کو چارج شیٹ دے دی گئی۔ ملٹری کورٹ میں کیس چلا جو ۱۷ اپریل کو شروع ہوا اور مئی تک چلتا رہا ۔
۷ مئی کی صبح کو سپیشل ملٹری کورٹ کا ایک آفیسر اور ایک کیپٹن آپ کو بلا کر ایک کمرے میں لے گئے جہاں قتل کے ۹ (نو) اور ملزم بھی تھے مگر ڈی۔ ایس پی فردوس شاہ
کے قتل کا کیس ثابت نہ ہوسکا اور آپ کو بری کر دیا گیا۔ دوسرا کیس بغاوت کا تھا جس میں آپ کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا جو اس طرح تھا ۔
YOU WILL BE HANGED BY NECK TILL YOU ARE DEAD.
”تمہاری گردن پھانسی کے پھندے میں اس وقت تک لٹکائی جائے گی جب تک تمہاری موت نہ واقع ہو جائے ۔“ آرڈر سناتے ہوئے افسر نے کہا ۔
افسر : "PLEASE SIGN IT." ”اس پر دستخط کیجئے “
علامہ نیازی : "I WILL SIGN IT WHEN I KISS THE ROB." ”میں جب پھانسی کے پھندے کو بوسہ دوں گا، اُس وقت اس پر دستخط کروں گا۔
افسر : YOU WILL HAVE SIGN IT. ”تمہیں اس پر دستخط کرنے ہوں گے “
علامہ نیازی : "I AM ALREADY TOLD YOU THAT I WILL SIGN IT WHEN I KISS THE ROB." ”میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ جس وقت پھانسی کے پھندے کو بوسہ دوں گا، اُس وقت دستخط کروں گا۔ میں جیل میں ہوں اور آپ کے پنجوں میں ہوں مجھے لے جاؤ اور پھانسی دے دو ۔“
افسر : "MR NIAZI! OUR OFFICERS WILL ENQVIRE FROM US WHETHER YOU WERE SERVE WTIH THE
NOTICE IN DEATH WARRANT."
”مسٹر نیازی ! ہمارے آفیسر ہم سے پوچھیں گے کہ تم نے نوٹس دے دیا ہے یا نہیں تو میں کیا جواب دوں گا۔“
مولانا نیازی : " IF YOU SO FEAR FROM YOUR OFFICERS : WELL I SIGN IT FOR YOU."
”اگر آپ کو اپنے افسران ہی کا خوف ہے تو آپ کی خاطر اس پر دستخط کئے دیتا ہوں ۔“
چنانچہ آپ نے بڑے اطمینان سے اس پر دستخط کر دیئے ۔ افسر نے آپ کی ہمت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا ۔ تم میری ہمت (MORAL) کے بارے میں پوچھتے ہو، تو وہ تو آسمانوں سے بھی بلند ہے ، تم اس کا اندازہ نہیں کر سکتے ۔ افسر کے جانے کے بعد جب آپ کمرے میں اکیلے رہ گئے تو تائید ایزدی سے آپ کو سورۂ ملک کی یہ آیت یاد آگئی : خلق الموت والحیٰوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملاً ۔ ”میں نے اس آیت سے یہ تاثر لیا کہ موت و حیات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔ یہ لوگ میری زندگی کا سلسلہ منقطع نہیں کر سکتے ۔ اگر اس مقصد کے لئے جان بھی جائے تو اس سے بڑی زندگی کیا ہو سکتی ہے ۔ ایک لمحہ کے لئے آپ پر خوف کا حملہ ہوا لیکن فوراً زبان پر یہ شعر آگیا ؎
ہر زماں از غیب جان دیگر است
آپ وجد کی حالت میں یہ شعر بار بار پڑھتے اور جھومتے ۔ اسی عالم میں آپ کمرے سے باہر آگئے تو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل مہر محمد حیات نے یہ خیال کیا کہ ملٹری کورٹ نے آپ کو بَری کر دیا ہے ۔ چنانچہ اُس نے کہا ، نیازی صاحب ! مبارک ہو ، آپ بَری
ہوگئے !“ آپ نے فرمایا : ”میں اس سے بھی آگے نکل گیا ہوں ۔“ اس نے کہا ”کیا مطلب ؟ “ آپ نے فرمایا ! ”اب انشاء اللہ ! حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں اور عاشقوں کی فہرست میں میرا نام بھی شامل ہو گا“ وہ پھر بھی نہ سمجھا تو آپ نے فرمایا ”میں کامیاب ہو گیا ۔“
آپ کی سزائے موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی ۔ ادھر جیل میں قیدی تک آپ کو دیکھ کر روتے تھے ۔ جب آپ کو پھانسی کی کوٹھڑی میں لے جایا گیا تو آپ نے لوگوں کو اطمینان دلایا اور فرمایا کہ کتنے عاشقان رسولؐ جام شہادت نوش کر رہے ہیں ، اگر میں بھی اس نیک مقصد کے لئے جان دے دوں تو میری یہ خوش قسمتی ہوگی ۔
حضرت مولانا نیازی سات دن اور آٹھ راتیں پھانسی کی کوٹھڑی میں رہے اور ۱۴ مئی کو آپ کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی گئی اور پھر مئی ۱۹۵۵ء کو آپ کو باعزت طور پر بری کر دیا گیا ۔
۱۹۷۴ء میں جب دوبارہ مسلمانان پاکستان نے تحفظ ختم نبوت کے لئے تحریک چلائی تو آپ ایک بار پھر سر بکف ہو کر میدان عمل میں اُترے ۔ اپوزیشن کی تمام دینی و سیاسی جماعتوں پر مشتمل آل پاکستان مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی تشکیل ہوئی اور آپ کو مرکزی نائب صدر منتخب کیا گیا ۔ آپ نے ملک گیر دورے فرما کر قادیانی مکر و فریب کے جال کو تار تار کیا اور مسلمانوں کے دلوں میں عشق رسولؐ کی شمع روشن کی ۔ اس سلسلہ میں آپ کو جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ، اخبارات کی فائلیں ان کی شاہد ہیں ۔ آپ نے اپنی بیماری بڑھاپے اور حکومت کی ستم رانیوں کی پرواہ نہ کی ۔ یکم ستمبر ۱۹۷۴ء کو بادشاہی مسجد لاہور میں مجلس عمل کے زیر اہتمام تاریخی جلسے سے خطاب کیا اور بالآخر ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی
نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ (روزنامہ مجاہد ۔ صدیقی ہزاروی)
خان عبدالرحمن خان والیٔ افغانستان
والیٔ افغانستان کو مرزا قادیانی نے اپنی نبوت ومسیحیت کا خط لکھا۔ جس کے جواب میں آپ نے صرف اتنا تحریر کیا ۔
اینجا بیا۔ جس کا پنجابی میں ترجمہ یہ ہے کہ ”ایتھے آ“ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ فرمایا کرتے تھے کہ مرزا چلا جاتا تو اس کی گردن اُتار کر فرماتے ۔ آں جا برو ۔ جہنم میں دفع ہو جاؤ ۔
اُستاد العلماء مولانا حکیم محمد عالم آسی امرتسری
حضرت مولانا محمد عالم آسی امرتسری حضرت مولانا مفتی غلام قادر بھیروی سے شرف تلمذ رکھتے تھے۔ تبلیغ سنت اور رَدِّ مرزائیت میں کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ تردید مرزائیت میں آپ نے دو ضخیم جلدوں میں (۱۳۵۲ھ، ربیع الاول مطابق ۱۹۳۳ء جولائی) وہ عظیم الشان تاریخی تصنیف ”الکاویہ علی الغاویہ“ (چودہویں صدی کے مدعیانِ نبوت) عربی اور اُردو علیحدہ علیحدہ شائع فرمائی۔ یہ نادر روزگار کتاب ایک ہزار چھیاسٹھ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے پہلی جلد ۱۸+۱۲ سائز کے ۴۶۸ صفحات پر مشتمل ہے، دوسری جلد بھی تقریباً چھ سو پچاس صفحات کو اپنے دامن میں سَموئے ہوئے ہے۔ اِس تصنیف میں یہ خوبی ہے کہ بڑی آزادی کے ساتھ مرزائی مذہب کا جتنا لٹریچر ہے (مع پوسٹر اشتہار وغیرہ) سب کا خلاصہ مع تنقیداتِ اہلِ اسلام درج کیا گیا ہے۔ علمائے اُمت اور اہلِ قلم حضرات نے اسے کمالِ نظرِ تحسین سے دیکھا 〇
حضرت مولانا عبدالکریم بیر شریف
بیر شریف سندھ کے روحانی رہنما، مخدوم العلما حضرت مولانا عبدالکریم صاحب قریشی نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک دبانے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ میری پشت کی جانب میری بیوی باپردہ بیٹھی ہے۔ اس نے مجھے کہا کہ میرے لئے اجازت طلب کریں کہ میں بھی آپ کے قدموں کو دبانے کی سعادت حاصل کروں۔ میں نے عرض کی کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی خادمہ بھی اجازت چاہتی ہے۔ آپ نے انکار فرما دیا۔ میری بیوی نے تجویز پیش کی کہ پاؤں مبارک پر کپڑا رکھ دیتی ہوں۔ کپڑے کے اوپر سے دبانے کی سعادت حاصل ہو جائے آپ نے اس کی بھی اجازت نہ دی۔
میں نے پاؤں دباتے دباتے درخواست کی کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم مرزائیت بہت پریشان کر رہی ہے ، وہ بڑھ رہی ہے ، آپ کی اُمت پریشان ہے۔ میری یہ درخواست سُن کر آپ اُٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ دُعا کرتے ہیں ۔ یہ ارشاد فرما کر دُعا کے لئے دونوں ہاتھ مبارک اُٹھا دیئے۔ میاں بیوی ہم بھی دعا میں شامل ہو گئے ، میں اس وقت دل میں سوچ رہا تھا کہ مرزائیت کی ناکامی و استیصال کے لئے دُعا ہو رہی ہے۔ اسی حالت میں بیداری ہو گئی ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم)
مولانا عتیق الرحمٰن چنیوٹی
مولانا عتیق الرحمٰن چنیوٹی مرحوم سے بھی یہی بات دریافت کی کہ آپ کیسے مرزائیت کے
دام سے نکلے تو انہوں نے خواب سنایا : "میں نے دیکھا کہ میں قادیان میں مرزائی مرکز سے نکل کر بازار میں چوک کی طرف جا رہا ہوں ۔ چوک میں لوگ کھڑے ہیں جیسے مداری کا تماشا دیکھ رہے ہوں۔ میں جب اس حلقہ میں پہنچا تو دیکھا ، لوگوں کے درمیان چند شخص کھڑے ہیں جن کے جسم انسانوں کے اور منہ کتوں جیسے ہیں اور وہ آسمان کی طرف منہ اٹھا کر رونے کے انداز میں چیخ رہے ہیں۔ میں نے پوچھا ۔ یہ کون ہیں ؟ کسی نے کہا ۔ یہ مرزا غلام احمد کے مرید ہیں۔ فوراً ڈر کر جاگ گیا۔ پھر توبہ کی اور اعلاناً مسلمان ہو گیا ۔
(سید امین گیلانی)
خواجہ غلام دستگیر قصوریؒ
مشہور صوفی ، بیمثال عالم دین ، کتب کثیرہ کے مصنف سُنیوں کے مناظر بے بدل ، خواجہ غلام دستگیر قصوری رحمۃ اللہ علیہ سے کون واقف نہیں ۔ آپ کی کتاب ”تقدیس الوکیل“ رہتی دنیا تک یادگار رہے گی ۔ آپ نے فتنۂ مرزائیت کی تردید میں بھی عربی زبان میں ایک مایہ ناز کتاب لکھی تھی جس کا جواب مرزائی حلقے آج تک نہیں دے سکے ۔
حضرت مولانا غلام قادر بھیرویؒ
ردِ مرزائیت میں پنجاب میں سب سے پہلے آپ نے ہی یہ فتویٰ جاری فرمایا کہ قادیانیوں کے ساتھ مسلمان مرد یا عورت کا نکاح حرام و ناجائز ہے ۔ بعد میں علماء دین و مفتیانِ شرع متین نے اسی فتویٰ مبارکہ سے استفادہ کرتے ہوئے مرزائیوں سے
مناکحت، تزویج کو ناجائز اور ان سے میل جول اور ذبیحہ تک کو حرام قرار دیا۔ مرزا نے جب نبوت کا دعویٰ کیا اور حکیم نور الدین نے اس کی تائید کی تو آپ نے حکیم نور الدین کا ایسا ناطقہ بند کیا کہ آپ کی موجودگی میں اسے کبھی بھیرہ میں داخل ہونے کی جرأت نہ ہوئی۔
مولانا غلام غوث ہزارویؒ
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں مولانا نے نہایت ہمت، تندہی، جانفشانی سے اس کی قیادت کی جبکہ دیگر رہنما پہلے ہی گرفتار ہو چکے تھے۔ اس وقت کی حکومت نے مولانا کی گرفتاری کے لئے دس ہزار روپیہ انعام مقرر کیا۔ ۱۹۵۳ء میں تحریک ختم نبوت کے دوران ہی مولانا کے بارے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مولانا جہاں ملیں گولی مار دی جائے۔ اس مجلس میں مشہور مسلم لیگی رہنما جناب سردار بہادر خان صاحبؒ (صدر پاکستان محمد ایوب خان کے بھائی) بھی شریک تھے سردار بہادر خان صاحبؒ نے مولانا قاضی شمس الدین کو بلا کر کہا ۔ مولانا کی حفاظت کریں ، انہیں کہیں روپوش کر دیں یا ملک سے باہر بھیج دیں ان کی جان کو خطرہ ہے۔ چنانچہ مولانا خفیہ طور پر تحریک کی قیادت کرتے رہے اور خدا وند قدوس نے مولانا کی حفاظت کی لیکن گولی مروانے والوں کو خدا نے قاہرہ کے قریب ہوائی حادثے میں جلا کر بھسم کر دیا اور وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے۔
مولانا غلام غوث ہزارویؒ اپنے ایک خادم کے ساتھ بھیس بدل کر خانقاہ سراجیہ آئے۔ اُس وقت خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین مولانا محمد عبداللہ ثانی رحمۃ اللہ علیہ
۲۔ معجزہ خسوف و کسوف :
قادیانی صاحبان جس طرح احادیث شریفہ میں من مانی تحریفات کر کے اپنے خود ساختہ اور جھوٹے نبی کے لئے گنجائش نکالتے رہتے ہیں اور جس طرح بانیٔ قادیانیت مرزا غلام احمد قادیانی خود قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ میں تحریف اور سینہ زوری سے کام لیتا رہا ، اسی طرح قادیانیوں نے اپنے جھوٹے نبی کی نبوت کو سچ ثابت کرنے کے لئے بعض قدرتی افعال کو بھی مرزا قادیانی کا معجزہ قرار دے رکھا ہے ۔ اور یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ چونکہ مرزا کے وقت میں چاند اور سورج کو گرہن لگا لہٰذا مرزا قادیانی سچا نبی ہے کیونکہ چاند اور سورج کا گرہن لگنا امام مہدی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ چونکہ مرزا قادیانی بھی امام مہدی تھا اس لئے چاند اور سورج گرہن بھی اس کے لئے ایک معجزہ اور اس کی صداقت کی دلیل ہے ۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ کیا چکر ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے ۔
قادیانیوں کی پیش کردہ روایت :
قادیانی صاحبان اپنے دعوے کی دلیل میں درج ذیل روایت پیش کرتے ہیں :
ان لمھدینا آیتین لم تکونا منذ خلق السموات والارض تنکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان وتنکسف الشمس فی النصف منہ ولم تکونا منذ خلق السموات والارض ۔
(دارقطنی ص ۱۸۸)
ترجمہ : ہمارے مہدی کے لئے دو نشانیاں ہیں جو زمین و آسمان کی پیدائش سے لے کر آج تک ظاہر نہیں ہوئیں ۔ ایک یہ کہ رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن ہو گا ۔ اور دوسرے یہ کہ اسی مہینے کے درمیانی دنوں میں سورج گرہن ہو گا ۔ اور یہ دو نشانیاں جب سے زمین و آسمان بنے ہیں ظاہر نہیں ہوئیں ۔
قادیانیوں کا استدلال :
قادیانی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جب مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تو ۱۸۹۴ء میں ماہِ رمضان میں ۱۳ تاریخ کو چاند گرہن لگا اور ۲۸ تاریخ کو سورج گرہن لگا چونکہ یہ گرہن مرزا قادیانی کے دعویٰ کے بعد لگا تھا لہٰذا یہ مرزا قادیانی کے سچا ہونے کی نشانی ہے کیونکہ احادیث میں امام مہدی کے لئے ایسی ہی ایک نشانی بتائی گئی ہے ۔
جواب نمبر ۱ :
قادیانیوں کی پیش کردہ یہ روایت احادیث کی مستند کتابوں (صحاح ستہ) وغیرہ میں موجود نہیں ہے بلکہ یہ روایت سنن دارقطنی کی ہے جو کہ ضعیف ہے ۔ جس کا راوی ”عمرو بن شمر“ کذاب (بہت بڑا جھوٹا) ، غالی شیعہ اور محدثین کے نزدیک متروک الحدیث ہے ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے کتب اسماء الرجال ۔ مثلاً : میزان الاعتدال ، تقریب التہذیب وغیرہ ۔
جواب نمبر ۲ :
خود قادیانیوں کا اصول ہے کہ جو حدیث قرآن کے خلاف ہو وہ قابلِ قبول نہیں ہے ۔ اور قادیانیوں کی پیش کردہ یہ روایت قرآن مجید کی درج ذیل آیات کے صریحاً خلاف ہے :
- ۱۔ لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر ولا اللیل سابق النھار ۔
(یٰس : ۴۰)
ترجمہ : نہ تو سورج کی مجال ہے کہ وہ چاند کو پکڑے اور نہ ہی رات دن سے پہلے آ سکتی ہے ۔
- ۲۔ والشمس والقمر بحسبان ۔
(الرحمٰن : ۵)
ترجمہ : اور سورج اور چاند ایک مقررہ حساب سے چل رہے ہیں ۔
ان آیات سے ثابت ہوا کہ چاند اور سورج کا ایک مقررہ اور طبعی نظام ہے جس کے تحت یہ رواں دواں ہیں اور سورج اور چاند گرہن بھی اسی طبعی نظام کا حصہ ہیں ۔ جبکہ دارقطنی کی اس روایت کے مطابق سورج اور چاند کو گرہن لگنا طبعی نظام کا حصہ نہیں بلکہ مہدی کی علامت کی خاطر چاند اور سورج کو گرہن لگے گا ۔ چونکہ یہ بات قرآن کے خلاف ہے لہٰذا خود قادیانی اصولوں کے مطابق بھی یہ روایت باطل اور ناقابلِ قبول ہے ۔
نہ ہوگی۔ ادھر پولیس والوں نے مشہور کر رکھا تھا کہ مولانا کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس پر ایبٹ آباد و ہزارہ کے لوگ آپ کے لئے غائبانہ دعائیں، ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی وغیرہ آئیں کر چکے تھے۔ چنانچہ آپ کو رفقاء کی معیت میں ایبٹ آباد بھیجا گیا۔ جمعہ کے وقت الیاس مسجد ایبٹ آباد میں مولانا محمد اسحٰق ایبٹ آبادی خطبہ دے رہے تھے تو یکدم ان کی مولاناؒ پر نظر پڑی۔ برجستہ کہا۔ لوگو! تم نے یہ تو سن رکھا ہوگا کہ جنات ایک مخلوق ہے مگر آج تک کسی جن کو دیکھا نہیں ہوگا۔ لو آج تمہیں سامنے ایک جن دکھاتا ہوں جو مولانا غلام غوث ہزارویؒ کا روپ دھارے ہوئے ہے۔ اس لئے کہ ہماری اطلاع کے مطابق تو مولانا کا انتقال ہوگیا ہے اس پر لوگوں نے پیچھے پلٹ کر مولانا کو دیکھا۔ ہزاروں کے اجتماع نے پرجوش استقبال کیا۔ آپ نے خطاب فرمایا، جمعہ کا خطبہ دیا۔ پولیس و حکومت کی سازش ناکام ہو گئی، مولانا کی جان لینے کے در پے دشمن نامراد ہوگئے اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے قادیانیت، قادیانیت نواز لوگوں کا احتساب پھر سے نئے ولولے کے ساتھ شروع کر دیا۔
O
زیدہ ضلع مردان میں ایک مشہور متعصب محب خان قادیانی، جو ایک جاگیردار تھا، زیدہ کے لوگوں پر یہ قانون لاگو کیا ہوا تھا کہ مرزا قادیانی کے نام کے ساتھ حضرت جی ضرور کہا کریں، نام گستاخی سے کوئی نہ لے۔ مولانا ہزارویؒ کو پتہ چلا، جہانگیرہ کے علماء کا ایک وفد لے کر زیدہ پہنچے۔ وہاں ایک مسجد میں جلسہ کا اعلان کیا۔ لوگ جب ڈرتے ڈرتے مسجد میں پہنچے تو محب خان، جو آنریری مجسٹریٹ بھی تھا، پستول بھر کر مسجد میں آیا اور عین منبر کے سامنے بیٹھ گیا۔ مولانا کا بیان جب شروع ہوا اور مرزا قادیانی کے عقائد بیان کرنے شروع کئے، مرزا قادیانی کی تحریرات مولانا نے پیش
کیں اور جوش میں آکر مولانا ہزارویؒ نے تین دفعہ فرمایا کہ مرزا قادیانی مرتد، کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج تھا، جو اس کو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر ہے ۔ مولاناؒ نے اپنا سینہ ننگا کر کے فرمایا : جو اس بات پر گولی مارنا چاہتا ہے مجھے گولی مار دے عجب خان نے کچھ بولنا چاہا لیکن عوام کے تیور دیکھ کر کھسکنے میں ہی عافیت سمجھی اس کے بعد اہل زیدہ نے فیصلہ کیا کہ آئندہ کسی قادیانی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کرنے دیا جائے گا۔
O
مولانا ہزارویؒ ایک دفعہ جنرل محمد ایوب خان سے ملنے گئے مشہور احرار رہنما شیخ حسام الدین مرحوم بھی مولاناؒ کے ساتھ تھے۔ بات چیت کے دوران ایوب خان نے کہا ۔ مولانا! جہاں تک اسلام کو سمجھا ہوں وہ تو اس طرح ہے ۔ مولانا ہزارویؒ نے فرمایا ۔ ہاں خان صاحب کرسٹائن کیلر کے ساتھ ننگا غسل کرنے والے جو اسلام کو سمجھے، بھلا ہم کب اس طرح سمجھ سکتے ہیں ۔ ایوب خان نہایت شرمندہ ہوئے ۔
O
مولانا غلام غوث ہزارویؒ کا اکلوتا بیٹا زین العابدین تھا جو بیمار ہوا ۔ مولانا گھر پر تھے، اس کی بیماری شدت اختیار کرتی گئی حتیٰ کہ اس کی زندگی سے مایوسی کے آثار ظاہر ہو گئے ۔ اس دن مولانا نے مشہور قادیانی مبلغ اللہ دتہ جالندھری سے ہزارہ کے علاقہ میں مناظرہ کے لئے جانا تھا ۔ مولانا اپنے اکلوتے جواں سال صاحبزادے کو اس حالت میں چھوڑ کر روانہ ہو گئے ۔ ابھی اڈہ پر پہنچے تھے کہ پیچھے سے آدمی دوڑتا ہوا آیا اور پیغام دیا کہ بچے کا انتقال ہو گیا ۔ آپ نے ٹھنڈا سانس لیا ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا اور اس آدمی کو کہا کہ گھر جاکر غسل دیں، کفن پہنائیں، جنازہ پڑھیں اور دفن کر دیں، میرا اس مناظرہ کے لئے جانا ضروری
ہے۔ جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے اور مقرر شدہ مناظرہ کرنا میرے لئے فرض عین ہے، ورنہ کئی آدمیوں کے گمراہ ہونے کا خطرہ ہے، میں جا رہا ہوں۔ یہ کہہ کر استقامت و ایثار کا بے تاج بادشاہ غلام غوث ہزاروی بس پر سوار ہو کر مناظرہ کے لئے مقررہ مقام کی طرف روانہ ہو گئے۔ راقم الحروف اپنے تمام مبلغین بھائیوں سے درخواست گزار ہے کہ وہ ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ آیا ہم میں سے کوئی آدمی ایسی مثال قائم کر سکتا ہے۔ اللہ رب العزت کی ان پر کروڑ رحمتیں فرمائے۔
آپ کے انتقال سے چند دن قبل ربوہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے درخواست کی، تشریف لائے، جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن پر ہزاروں کے اجتماع سے خطاب کیا۔ رات کو چنیوٹ ختم نبوت کانفرنس میں تقریر کرنا تھی، سردی کا موسم تھا۔ دسمبر کے آخری دنوں یہ کانفرنس ہونی تھی۔ کمزوری کے باعث اپنی قیام گاہ پر رہے، تشریف نہ لاسکے۔ مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا تاج محمود مرحوم دونوں حضرات کانفرنس کے منتظمین تھے، ملنے کے لئے قیام گاہ پر گئے۔ ان حضرات کو دیکھ کر اٹھ بیٹھے۔ فرمایا، آپ کے حکم پر ربوہ جمعہ پر تقریر کے لئے اس لئے حاضر ہوا کہ
- ١۔ آخری عوامی تقریر ختم نبوت پر ہو۔
- ٢۔ آپ کے کام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں، آگے چل کر (عالم برزخ کی طرف
اشارہ) بزرگوں کو آنکھوں دیکھی رپورٹ دوں گا۔
- ٣۔ دوستوں سے ملاقات ہو جائے گی، کہا سنا معاف کرالوں گا
میرے اللہ کی شان بے نیازی کہ مولانا کا گھر سے یہ آخری سفر تھا۔ واپس پہنچے تو آپ کا انتقال ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
انتقال کے وقت چالیس روپے کے مقروض تھے۔ جس مکان میں انتقال ہوا بارش کے وقت اس کی چھت ٹپک رہی تھی۔ بجلی بارش کے باعث چلی گئی۔ گھپ اندھیرا میں آپ کا چہرہ مرکری بلب کی طرح روشن تھا۔ یہ ان کی مقبولیت عنداللہ کی دلیل ہے۔ جن لوگوں نے آپ کی زندگی میں اس فقیر بے نوا پر زبان طعن بلند کی ان کو خداوند کریم سے اپنے خاتمہ بالخیر کی دعا کرنی چاہئے۔
۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں قومی اسمبلی میں وکیل ختم نبوت کے فرائض سرانجام دیئے۔ لاہوری و قادیانی مرزائیوں کے محضر نامہ کا جواب لکھ کر قومی اسمبلی میں پڑھا۔
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں جو رہنما و کارکن گرفتار ہوئے مولانا محمد علی جالندھریؒ نے تحفظ ختم نبوت کے فنڈ سے اُن کی اپنے وسائل کے مطابق امداد کی۔ مولانا غلام غوث اتنا عرصہ تحریک میں گھر سے غیر حاضر رہے، آپ کو گھر کا پتہ نہ تھا۔ تحریک کے خاتمہ پر مولانا محمد علی جالندھریؒ نے آپ کو کچھ رقم دینا چاہی کہ مولانا آپ کے گھر کے باقی حالات ٹھیک نہیں یہ قبول فرمائیں۔ مگر مسکرا کر فرمایا، مولانا! اللہ کا فضل ہے جیسے کیسے گزر گئی، اب تو آزاد ہیں۔ یہ کہہ کر رقم واپس کر دی۔
مرزائیوں کو شاہ فہد کا جواب
بون، ۲۸ اگست (نمائندہ خصوصی) سوئٹزرلینڈ کی قادیانی ایسوسی ایشن نے سعودی عرب
کے شاہ فہد سے تحریری طور پر یہ مضحکہ خیز درخواست کی کہ وہ ان کے مذہب کے سربراہ کو حج کے لیے سعودی عرب آنے کی دعوت دیں۔ ایک خط میں جو شاہ فہد سمیت سعودی عرب کے چند اعلیٰ حکام کو بھیجا گیا ہے۔ سوئٹزر لینڈ میں تمام قادیانیوں کی تحریک نے درخواست کی ہے کہ ان کے مذہب کے رہنما کو جو اس وقت ربوہ میں رہتے ہیں سعودی فرمانروا کے سرکاری مہمان کی حیثیت سے دعوت دی جائے۔ سوئٹزرلینڈ کے مسلم سفارتکاروں نے اس کے متن پر غصہ و ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ (روزنامہ جنگ کراچی ۲۹؍ اگست ۱۹۸۲ء) جب یہ درخواست شاہ فہد کے پاس گئی تو آپ نے جواب دیا کہ مرزا قادیانی ملعون کا طوقِ غلامی اتار کر مسلمان بن کر آئیں تو دل و جان سے مہمانداری کریں گے۔ اگر مرزا قادیانی کا طوقِ غلامی پہن کر آنا چاہتے ہو، تو یاد رکھو کہ یہ سرزمین حجاز ہے جو کچھ ہمارے پیش رو حضرت صدیق اکبرؓ نے مسیلمہ کذاب اور اُس کی پارٹی کا حشر کیا تھا وہی حشر ہم تمہارا کریں گے۔ اس جواب پر مرزائیوں کے اوسان خطا ہو گئے۔
قاضی فضل احمد صاحب لدھیانوی
حضرت مولانا قاضی فضل احمد صاحب لدھیانوی (کورٹ انسپکٹر پولیس پنشنر لدھیانہ) اہلِ سنت کی وہ عظیم المرتبت اور مقتدر ہستی ہیں جنہوں نے زبان و قلم سے فرقہ باطلہ کے خلاف ڈٹ کر جہاد کیا اور وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جو ہمیشہ یادگار رہیں گے۔ جب قاضی صاحب کی شہرہ آفاق تصنیف ”انوارِ آفتاب صداقت“ کا ظہور ہوا تو ملتِ اسلامیہ کے اکابر علماء و مشائخ نے زبردست خراج تحسین سے نوازا۔
ناموسِ رسالت پر جب حملہ ہوا تو قاضی صاحب کا رہوار قلم ردِّ مرزائیت میں خوب چلا۔ ۱۸۹۸ء مطابق ۱۳۱۶ھ میں آپ نے مرزا قادیانی کی کتاب ”ازالۃ الاوہام“ کے
ردّ میں ”کلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام مرزا غلام احمد قادیانی“ تصنیف فرمائی جو علماء کرام کی تصدیق و تقاریظ کے ساتھ ۱۸۹۸ء میں لاہور سے شائع ہوئی۔ اب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ملتان سے دوبارہ شائع کی ہے۔ اس کے بعد بھی قادیانی کذّاب کے ردّ میں آپ برابر لکھتے رہے۔
مصنف کلمہ فضل رحمانی جناب مکرم قاضی فضل احمد تحریر فرماتے ہیں کہ جمادی الثانی ۱۳۱۵ھ میں جب اپنی اس کتاب کی تکمیل سے فارغ ہوا تو رات کو خواب دیکھا کہ ایک مجلس میں علماء تشریف فرما ہیں اور عوام بھی، ان کے ایک طرف مرزا قادیانی پاؤں دراز کئے پڑا ہوا ہے۔ مرزا کا سَر ننگا ہے اور درمیان سے لے کر پیشانی تک سَر اُسترے سے مُنڈا ہوا ہے، دونوں طرف سَر کے بال باقی ہیں، داڑھی قینچی سے کٹی ہوئی ہے۔ اس کی اس ہئیت کو دیکھ کر حیران ہوا کہ سَر کے بال ہندؤوں کی طرح اور داڑھی شیعی طرز کی، دونوں کام خلافِ شرع تو دل کو اطمینان ہوا کہ میری کتاب کی تکمیل سے اس خواب کے ذریعہ مجھے بشارت دی گئی ہے کہ مرزا قادیانی کی شریعت سے روگردانی کو واضح کرنے میں یہ کتاب مرکزی کردار ادا کرے گی۔ صبح کے ساڑھے چار بجے یہ خواب دیکھا۔
”کلمہ فضل رحمانی“ مصنف نے تحریر کی تو اس زمانہ کے اخبار ”وفادار“ کے ایڈیٹر نے ایک رات دو بجے نمازِ تہجد کے وقت اللہ ربّ العزت کے حضور دعا کی کہ ”کلمہ فضل رحمانی“ کے مصنف کا مؤقف صحیح ہے یا مرزا قادیانی کا۔ اس پر بہت گڑگڑاتے ہوئے بڑی لمبی چوڑی دعا کی، رو رو کر طبیعت نڈھال ہو گئی۔ اتنے میں سو گئے، خواب میں دیوان حافظ کا ایک شعر ان کو دکھایا گیا۔ خواب میں اُنہوں نے وضاحت چاہی تو
ان کو کتاب تھما دی گئی۔ دیکھا تو وہ ”کلمۂ فضل رحمانی“ تھی۔ فرماتے ہیں کہ دل کو تسلی ہو گئی کہ مرزا قادیانی کذاب و دجال کے بارے میں ”کلمۂ فضل رحمانی“ کے مؤلف کا مؤقف صحیح ہے اور مرزا واقعتاً مردود و ملعون ہے۔
جناب میاں فضل احمد میانوالی
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں میانوالی سے قافلے گرفتاری کے لئے لاہور جاتے تھے۔ ایک قافلہ میں میاں فضل احمد موچی بھی جاکر گرفتار ہوگیا۔ ان کی گرفتاری مارشل لاء کے تحت عمل میں آئی۔ مارشل لاء عدالت نے ان کے بڑھاپے کو دیکھ کر دیگر ساتھیوں کی نسبت کم سزا دی۔ اس پر وہ بگڑ گئے۔ عدالت سے احتجاج کیا کہ میرے ساتھ انصاف کیا جائے۔ اس سے عدالت نے سمجھا کہ شاید یہ سزا کم کرانا چاہتا ہے۔ عدالت نے جب پوچھا تو کہا کہ مجھ سے کم عمر کے لوگوں کو دس سال کی سزا دی ہے تو اس نسبت سے مجھے بیس سال سزا ملنی چاہیئے، آپ نے مجھے کم سزا دی، میرے ساتھ انصاف کیا جائے اور میری سزا میں اضافہ کیا جائے۔ یہ سن کر مارشل لاء عدالت کانپ اٹھی۔ اس بوڑھے جرنیل کی ایمانی غیرت پر جج انگشت بدنداں اٹھ کر عدالت سے ملحق کمرہ میں چلا گیا۔ انہوں نے عدالت میں کپڑا بچھا کر اپنی گرفتاری و سزا اور آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے اپنی قربانی کی بارگاہ خداوندی میں قبولیت کے لئے نوافل پڑھنے شروع کر دیئے۔
یہ عاشق یارب کس بستی کے رہنے والے ہیں
مجاہد اسلام مولانا فقیر محمد جہلمی
حضرت مولانا فقیر محمد جہلمی نے ۳ ذی الحجہ ۱۳۰۳ھ میں جہلم سے ایک ہفتہ وار پرچہ ”سراج الاخبار“ کے نام سے جاری کیا۔ اِس اخبار نے اپنے دَور کے اعتقادی فتنوں، خاص طور پر فتنۂ مرزائیت کی تردید میں بڑا کام کیا۔ مرزا قادیانی اور اُس کے حواری ”سراج الاخبار“ کے کارناموں سے سٹ پٹا اُٹھے۔ چنانچہ اُنہوں نے ہر امکانی کوشش سے ”سراج الاخبار“ کو بند کرانے کے حربے استعمال کئے۔ آپ اور آپ کے رفیق کار حضرت مولانا محمد کرم دین صاحب دَبّیر پر مقدمات کا دَور شروع ہُوا، مگر یہ عالی قدر ہستیاں ان مصائب و آلام سے کب گھبرانے والی تھیں۔ ابتلا و آزمائش کی آندھیاں اُن کے پائے استقلال میں کوئی لغزش پیدا نہ کرسکیں، گورداسپور کی عدالت میں مقدمہ چلا جو قادیانی اور اس کے حواریوں کی شکست پر منتج ہُوا۔ مرزا قادیانی کی خوب گت بنی اور اللہ تعالیٰ نے مجاہد اسلام مولانا فقیر محمد جہلمی اور مولانا کرم دین صاحب کو باعزت بَری فرمایا۔ آپ نے بڑی اہم کتابیں یادگار چھوڑی ہیں۔ جن میں ”حدائقِ حنفیہ“ کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔
مفتی کفایت اللہ دہلوی مفتیِ اعظم الہند
جناب واصف صاحب روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں ریل کے سفر میں حضرت والد ماجد کے ہمرکاب تھا۔ جس ڈبے میں ہم دونوں تھے اُسی میں دہلی کے سوداگروں میں سے دو معزز دولت مند حضرات بھی ہمسفر تھے اور اُن کے
قریب بھاری بھرکم قادیانی مبلغین بھی بیٹھے تھے اور مرزا غلام احمد کی صداقت اور نبوت پر گفتگو ہورہی تھی ۔ ان میں سے ایک بڑا مبلغ بڑے زور شور سے بول رہا تھا۔ بڑا لسان اور طرار معلوم ہوتا تھا۔ حضرت والد ماجد کچھ فاصلے پر تھے اور ان لوگوں کی گفتگو سُن رہے تھے ۔ قادیانیوں کے مخاطب کبھی کبھی جواب دیتے تھے مگر پھر لاجواب ہوجاتے تھے ۔ آخر حضرت نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کی گفتگو میں شامل نہیں ہونا چاہتا تھا مگر یہاں معاملہ دین کا ہے اس لئے خاموش نہیں رہ سکتا ۔
میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ابھی یہ جو فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور مرزا صاحب کی نبوت سے ختم نبوت میں کوئی نقصان واقع نہیں ہوتا ۔ کیونکہ مرزا صاحب کی نبوت حضور ہی کی نبوت کا ایک جزو اور ضمیمہ ہے ، تو یہ فرمائیے کہ نبی علیہ السلام کے اس قول لَا نَبِیَّ بَعْدِی میں تو کسی قسم کی نبوت کی تخصیص نہیں ہے مطلق نبوت کی نفی ہے ، ضمنی ، غیر ضمنی ، ظلی ، بروزی کی تخصیص کا ثبوت کہیں نہیں ملتا ۔ لائے نفی جنس نے نبوت کے تمام اقسام واصناف کی نفی کر دی ہے ، پھر بیچ میں نبوت ضمنی کیسی ؟ قادیانی مولوی نے جواب دیا کہ جس طرح سچا خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہے اسی طرح ضمنی نبوت بھی ہوتی ہے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا دائرہ عمل قیامت تک ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں اس لئے آپ ہی کے دین کی تجدید کے لئے نبی آسکتا ہے اور اس سے آپ کے ختم نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔
حضرت مفتی اعظم نے فرمایا کہ نبوت کا چالیسواں حصہ اگر کسی کو عطا فرمایا جائے تو وہ شخص نبی نہیں بن جائے گا ۔ انسان کی ایک انگلی کو انسان کا لقب نہیں دیا جاسکتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ کے دعویٰ کے مطابق قیامت کے لئے نبی ہیں اور پھر حضور کا یہ فرمانا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔ بولے جواب دیجئے ۔
حضرت نے کئی مرتبہ فرمایا۔ بولئے جواب دیجئے۔ مگر ادھر ایسا سناٹا تھا کہ صدائے برنخاست۔ قادیانی ایک دم مبہوت ہو گئے ، بالکل جواب نہ دے سکے۔
پھر فرمایا کہ آپ لوگوں کا یہ کہنا کہ حضورؐ قیامت تک کے لئے نبی ہیں، خود اس امر کا اقرار ہے کہ حضور علیہ السّلام کی بعثت کے بعد نبوت کا عہدہ کبھی کسی کو عطا نہیں کیا جائے گا۔ دورانِ نبوت میں کسی اور نبی کی بعثت کے کیا معنی اور اس کی ضرورت کیوں؟ بولئے ، جواب دیجئے مگر صدائے برنخاست ۔ قادیانیوں پر اوس پڑ گئی اور شکست خوردگی کی وجہ سے چہرے زرد اور ہونٹ خشک ہو گئے اور بالکل ساکت وصامت ہو گئے، تو حضرت والد ماجد نے تقریباً ایک گھنٹے تک قادیانیت کے ردّ میں مسلسل تقریر فرمائی، اس کے بعد دہلی کے ہم سفر حضرات نے دریافت کیا کہ حضرت آپ تعارف تو فرمائیے۔ فرمایا کہ مجھے کفایت اللہؒ کہتے ہیں۔ مدرسہ امینیہ کا مدرس ہوں۔
اس وقت کا منظر بڑا عجیب تھا۔ ڈبے کے تمام ہمسفر مسلمانوں نے یہ تقریر سنی تھی بہت شکریہ ادا کیا اور ان دولتمند حضرات نے کہا کہ حضرت ہم تو تذبذب میں تھے آپ نے بوقت ہماری دستگیری کی اور اپنی اس کوتاہی پر بڑے نادم ہوئے کہ دہلی میں رہتے ہوئے ہم شرفِ ملاقات سے محروم تھے۔ ادھر قادیانیوں کا حال یہ تھا کہ ادھر ادھر کی باتوں کا خیال بھی بھول گئے۔
( بیس بڑے مسلمان )
مولانا ابوالفضل محمد کرم الدین دبیر
مولانا ابوالفضل محمد کرم الدین صاحب دبیر (ف ۱۳۷۵ھ ) پنجاب کے ان نامور علماء میں سے ہیں جنہوں نے ردّ مرزائیت میں نمایاں کردار انجام دیا۔ ضلع جہلم کی ایک غیر معروف بستی موضع بھیں آپ کے مولد و مسکن کے باعث دُور دور تک مشہور ہوئی ۔ جنگِ آزادی
۱۸۵۸ء کے وقت آپ کی عمر چار پانچ سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، پھر لاہور اور امرتسر کے مختلف مدارس سے علوم و فنون کی تکمیل کر کے اپنے گاؤں میں درس و تدریس کا سلسلہ قائم کیا۔ سیال شریف میں حضرت خواجہ شمس الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کا شرف حاصل تھا۔ نہایت ذکی، سلیم الطبع، وجیہہ، بلند قامت، مضبوط جسامت، وسیع القلب اور حاضر جواب تھے۔
مرزا قادیانی نے جب اپنے باطل دعاوی کا سلسلہ شروع کیا تو مولانا اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے میدان عمل میں کود پڑے۔ آپ کے دست راست مولانا فقیر محمد جہلمی رحمۃ اللہ علیہ نے ان دنوں جہلم سے ہفتہ وار پرچہ ”سراج الاخبار“ جاری کر رکھا تھا۔ اُنہوں نے ”سراج الاخبار“ کو ردّ قادیانیت کے لئے وقف فرماتے ہوئے مولانا محمد کرم الدین صاحب کو اس کا ایڈیٹر مقرر کر دیا اور قادیانی کذّاب کا نہایت مدلل اور ٹھوس مضامین سے تعاقب شروع فرمایا جس کی تاب نہ لاتے ہوئے مرزا اور اس کے حواری اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آئے اور خفّت مٹانے کے لئے اپنی پُشت پناہ گورنمنٹ برطانیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آپ کی ناقابل جواب تحریرات کو بہانہ بنا کر مقدمات کی ابتدا کر دی۔ پہلا مقدمہ مرزا کے حواری حکیم فضل دین بھیروی کی طرف سے ۴؍ نومبر ۱۹۰۲ء کو زیر دفعہ ۴۱۷ تعزیرات ہند گورداسپور میں دائر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مولانا ابوالفضل کو اس مقدمہ میں باعزّت طور پر بری فرمایا۔ حالانکہ اس مقدمہ کی نسبت مرزا قادیانی نے اپنی فتح کے الہامات متواتر شائع کئے تھے۔
دوسرا مقدمہ بھی حکیم فضل دین بھیروی ہی نے ۲۹؍ جون ۱۹۰۴ء کو مولانا کے خلاف گورداسپور میں دائر کیا۔ اس میں بھی آپ کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور مرزائیوں کی خوب گت بنی اور مقدمہ خارج ہو گیا۔ پھر تیسرا مقدمہ شیخ یعقوب علی تراب ایڈیٹر اخبار الحکم قادیان کی طرف سے مولانا ابوالفضل اور مولانا فقیر محمد جہلمی صاحب کے خلاف دائر ہوا جس میں ہر دو مستغاثہ علیہما پر ۵، ۵ روپے جرمانہ ہوا جو ادا کر دیا گیا۔ اس لئے کہ حقیر سی رقم
کی خاطر اپیل کرنا غیر مناسب تھا ، ۱۷؍ جنوری ۱۹۰۳ء کو جہلم میں مرزا کی مطبوعہ کتاب "مواہب الرحمٰن" تقسیم کی گئی جس میں مولانا ابوالفضل کے خلاف سخت توہین آمیز کلمات استعمال کئے گئے چونکہ مقدمات کی ابتداء مرزائیوں کی طرف سے ہوچکی تھی اس لئے مولانا ابوالفضل نے بھی مرزا غلام احمد قادیانی اور حکیم فضل دین بھیروی کے خلاف استغاثہ دائر کر دیا اور یہ مقدمہ حق و باطل کے درمیان عظیم الشان معرکہ کی صورت اختیار کر گیا۔ اہل حق کی طرف سے شہادت میں بڑے بڑے فضلائے کرام پیش ہو رہے تھے اور فریق مخالف کی طرف سے حکیم نورالدین بھیروی ، خواجہ کمال الدین لاہوری اور اس کے حواری ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے، روپیہ پانی کی طرح بہایا، الہامات کے ذریعے اپنے حواریوں کی حوصلہ افزائی کی گئی مگر یہ سب حربے مٹی کے گھروندے ثابت ہوئے اور مقدمہ مرزا کے لئے سوہانِ رُوح بن گیا، مولانا ابوالفضل نہایت استقلال اور ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے رہے۔ عدالت میں جرح کے دوران کئی کئی گھنٹے اتنی زبردست تقریریں کیں کہ مخالفین تلملا اُٹھے، خواجہ کمال الدین وکیل مرزائی بے ساختہ پکار اُٹھا کہ مولانا محمد کرم الدین کے دلائل کا جواب نہیں ۔ مقابلہ میں مرزا صاحب کو عدالت میں دو لفظ بولنے کی بھی جرأت نہ ہو سکی، بلکہ چھ چھ گھنٹے مرزا غلام احمد کو مجرموں کے کٹہرے میں دست بستہ کھڑا ہونا پڑا۔ اس مقدمہ کا پُر لطف پہلو یہ بھی ہے کہ مرزا اپنی ناکامی کو دیکھتے ہوئے اتنا مرعوب ہوا کہ عدالت میں جب پیشی کی تاریخ ہوتی تو بیماری کا سرٹیفیکیٹ بھیج دیا کرتا۔ تقریباً دو سال تک یہ تاریخی مقدمہ چلتا رہا۔ آخر ۱۸؍ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو گورداسپور کی عدالت سے مرزا کو پانچ صد روپے جرمانہ اور عدم ادائیگی کی صورت میں چھ ماہ قیدِ محض کی سزا ہوئی جبکہ اس کے حواری حکیم فضل دین کو دو صد روپے جرمانہ یا پانچ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ۔ اس مقدمہ میں مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو عبرتناک شکست اور سخت ذلّت کا سامنا کرنا پڑا۔ نیز اس مقدمہ کے بارے میں بھی الہامِ مرزا کی خوب مٹی پلید ہوئی ، اور مولانا ابوالفضل کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے خوب نوازا ۔
ان مقدمات کے علاوہ آپ نے مرزائیت کے خلاف مناظرے فرمائے فنِ مناظرہ میں آپ نے خاصی شہرت پائی۔ مرزا قادیانی کے بعد مولوی اللہ دتہ وغیرہ مرزائی مناظرین سے مناظرے ہوئے اور ہر مرتبہ شکست فاش دی اور ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ خود مرزا غلام احمد، اس مشن کا بانی تھا اسے آپ نے پے در پے شکستوں سے دوچار کر دیا تھا۔ اس کے متبعین کی کیا مجال تھی کہ آپ سے بازی لے جاتے۔ الغرض مرزائیوں کو ہر میدان میں آپ سے ذلت کا سامنا نصیب ہوا۔ ردّ مرزائیت کے سلسلہ میں آپ کی تصانیف میں سے ”مرزائیت کا جال“ اور ”تازیانۂ عبرت“ قابل دید ہے۔
لیاقت علی خانؒ سابق وزیر اعظم پاکستان
سیالکوٹ شہر میں مسلم لیگ کا ایک تاریخی اجتماع تھا۔ جونہی اہلِ شہر کو معلوم ہوا کہ احرار کی طرف سے قاضی احسان احمد بھی تقریر کرنے والے ہیں تو لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ گئے۔ سیالکوٹ حلقہ کا انتخاب اس لئے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گیا کہ اس حلقہ سے خواجہ محمد صفدر کے مقابلہ میں نواب افتخار حسین ممدوٹ بنفسِ نفیس الیکشن لڑ رہے تھے۔ قاضی صاحب اور لیاقت علی خانؒ کی زبردست تقاریر ہوئیں۔ نعرہائے تکبیر، ختم نبوت، مجلس احرارِ اسلام، مسلم لیگ، لیاقت علی خان، قاضی احسان احمد زندہ باد کے نعروں سے سرزمینِ سیالکوٹ گونج اُٹھی۔ جلسہ کے اختتام پر قاضی صاحب نے بڑھ کر لیاقت علی خانؒ سے مصافحہ کیا اور عرض کی کہ میں آپ سے بعض اہم امور پر تبادلہ خیال کرنا چاہتا ہوں۔ جس پر لیاقت علی خانؒ نے کہا کہ آپ ابھی میرے سیلون میں تشریف لائیں۔ قاضی صاحب نے کہا۔ آدھ گھنٹہ میں حاضر ہوتا ہوں۔ قاضی صاحب فوراً حفیظ رضا کے گھر پہنچے۔ مرزائیوں کی کتابوں کا ایک صندوق جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تصانیف شامل تھیں، اُٹھانے
کو کہا۔ حفیظ صاحب صندوق اٹھائے قاضی صاحب کے ساتھ چل دیئے۔ اسٹیشن پہنچے، پلیٹ فارم پر وزیر اعظم کو رخصت کرنے کے لئے صوبہ بھر کے ممتاز لیگی لیڈر موجود تھے اور انتظار میں تھے کہ لیاقت علی خان کب ملاقات کے لئے انہیں اپنے سیلون میں بلاتے ہیں۔ جب قاضی صاحب اسٹیشن پر ہجوم کو چیرتے ہوئے لیاقت علی خان کے سیلون کی طرف بڑھے تو نواب صدیق علی خان نے کہا کہ وزیر اعظم آپ کا انتظار کر رہے ہیں، آپ نے دیر کر دی۔ قاضی صاحب اندر جانے لگے تو صدیق علی خان نے کہا کہ ملاقات کے لئے دس منٹ مقرر ہیں۔ حفاظتی گارڈ نے آپ کی تلاشی لی، پھر اندر جانے دیا لیاقت علی خان نے اپنی کرسی کے ساتھ قاضی صاحب کو بٹھا لیا۔ حفیظ صاحب فرش پر بیٹھ گئے۔ مرزائیت کا پس منظر بیان کیا۔ سب سے پہلے مرزائیوں کی مشہور کتاب ”تذکرہ“ دکھائی اور صفحہ ۱۴ پڑھا جس پر لکھا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رات کا چاند تھے اور میں (مرزا غلام احمد) چودہویں رات کا چاند ہوں“ لیاقت نے اس جملہ پر خود اپنی پنسل سے نشان لگایا اور کتاب میز پر رکھ دی۔ اس کے بعد قاضی صاحب نے مرزا غلام احمد کی وہ تمام تصانیف دکھائیں جن میں حضور نبی کریم علیہ السلام، حضرت فاطمہؓ، حضرت حسینؓ اور دیگر اہل اللہ کے خلاف توہین آمیز کلمات موجود تھے۔ لیاقت علی خان ان تمام عبارات کو خود انڈر لائن کرتے گئے اور وہ کتابیں اپنی میز پر رکھ دیں۔
حفیظ رضا پسروری حلفاً بیان کرتے ہیں کہ جب قاضی صاحب نے لیاقت علی خان کو اکمل قادیانی کا یہ شعر ؎
محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکملؔ غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
پڑھ کر سنایا تو خود تو زار و قطار رو ہی رہے تھے، لیاقت علی خان کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں اور پُرنم آنکھوں سے فرمایا کہ قاضی صاحب! آپ اسی سیلون میں میرے ساتھ کراچی چلیں میں
چند مزید باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ قاضی صاحب نے اپنے جماعتی پروگراموں کو منسوخ نہ کرنے کی بناء پر ساتھ چلنے سے معذوری ظاہر کی۔ البتہ وعدہ کیا کہ چند روز تک کراچی حاضر ہو کر مزید ملاقات کروں گا۔ لیاقت و قاضی کی یہ ملاقات بجائے دس منٹ کے پورے پنتالیس منٹ جاری رہی۔ رخصت ہوتے وقت لیاقت علی خان نے قاضی صاحب کو یہ الفاظ کہے کہ ”مولانا ! آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ اب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنا فرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین“
◯
ایک ملاقات میں چوہدری محمد علی سابق وزیر اعظم نے قاضی صاحب سے کہا کہ جب سے لیاقت علی خان نے آپ سے ملاقات کی ہے، اب کیبنٹ میٹنگ میں ظفر اللہ خان کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں بلکہ سُنا ہے کہ ایک میٹنگ میں ظفر اللہ خان کو ان الفاظ میں لیاقت علی خان نے مخاطب کیا ۔ ”میں جانتا ہوں کہ آپ ایک خاص جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں۔“
حفیظ رضا کا کہنا ہے کہ قاضی صاحب نے لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ایک ملاقات میں بتایا کہ لیاقت علی خان کا پروگرام یہ تھا کہ مرزائیوں کو ایک سیاسی جماعت کی حیثیت دے کر خلاف قانون قرار دے دیا جائے لیکن زندگی نے مہلت نہ دی اور اس ملاقات کے تھوڑے عرصہ بعد لیاقت علی خان کو ایک گہری سازش کے تحت شہید کر دیا گیا۔
پیر محمد شاہ ساہنپالویؒ
پیر محمد شاہ (متوفی ۱۳۶۳ھ) سجادہ نشین درگاہ حضرت نوشہ گنج قادری نوشاہی رحمۃ اللہ علیہ
نے بھی ردّ مرزائیت میں کافی کام کیا تھا۔ ایک مرتبہ عیدالفطر کے دن نمازِ عید کے بعد مشہور مرزائی مبلغ احمد بخش مولوی فاضل سکنہ رن مل ضلع گجرات سے حلقہ دربار حضرت نوشہ گنج میں برگد کے درخت کے نیچے مناظرہ ہوا۔ بہت سے مواضعات مثلاً ساہن پال شریف، رن مل، کوٹھے کلے شاہ، سارنگ، اگردیہ اور بھاگٹ کے لوگ اس مناظرہ کو دیکھنے کے لئے موجود تھے۔ آپ نے مرزائی مبلغ کو بالکل لاجواب کر دیا اور وہ راہِ فرار اختیار کر گیا۔
(نقل از کتاب فیض محمد شاہی خطی از مولانا سید غلام مصطفیٰ نوشاہی ساہنپالوی مملوکہ سید شریف
احمد شرافت نوشاہی مدظلہ)
حضرت صاحبزادہ گولڑہ شریفؒ
حضرت صاحبزادہ محی الدینؒ گولڑہ شریف اور راولپنڈی کے مشہور عالم دین مولانا غلام اللہ خان کا اختلاف کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں، لیکن حضرت پیر گولڑہ شریف نے اعلان کیا: ”حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کے تحفظ کے لئے میں مولانا غلام اللہ خان کے جوتے اُٹھانے کے لئے تیار ہوں!“
مولانا محمد لدھیانویؒ
جنہوں نے سب سے پہلے مرزا کے کفر کو آشکارا کیا
مولانا محمد لدھیانویؒ ۱۲۵۴ھ بمطابق ۱۸۳۸ء میں پیدا ہوئے۔ دینی تعلیم یعنی درسِ نظامی اپنے بزرگوں سے حاصل کی۔ ۱۸۷۶ء میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنے خسر کے ہاں لدھیانہ
گئے اور اپنی مجددیت کا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ چنانچہ مولانا محمد لدھیانوی ”فتاویٰ قادریہ“ میں لکھتے ہیں کہ :
”مرزا قادیانی نے لدھیانہ شہر میں آکر ۱۳۰۱ھ میں اپنے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ عباس علی صوفی ، منشی احمد جان مریدین اور مولوی محمد حسن بمعہ اپنے گروہ کے مولوی شاہ دین اور عبدالقادر نے ایک مجمع میں کہا کہ علی الصبح مرزا غلام احمد قادیانی اس لدھیانہ شہر میں تشریف لائیں گے اور اس کی تعریف میں نہایت مبالغہ کر کے کہا ، جو اس پر ایمان لائے گا گویا کہ وہ اوّل مسلمان ہو گا۔ مولانا عبداللہ مرحوم نے کمال بُردباری اور تحمل سے فرمایا کہ اگرچہ اہلِ مجلس کو میرا بیان ناگوار گزرے گا، لیکن جو بات اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہے بیان کئے بغیر میری طبیعت کا اضطراب دُور نہیں ہو گا۔ وہ بات یہ ہے کہ جس کی تم تعریف کر رہے ہو وہ بے دین ہے۔“
(فتاویٰ قادریہ ۲۷)
مجلس برخاست ہونے کے بعد مولوی عبداللہ اور مولوی محمد کے درمیان مباحثہ ہوا۔ مولوی عبداللہ نے فرمایا کہ میں نے طبیعت کو بہت روکا لیکن یہ کلام جو میرے دل میں القا کیا گیا ہے الہام سے کم نہیں۔ مولوی عبداللہ اس روز سخت پریشان رہے بلکہ شام کو کھانا بھی تناول نہ کیا۔ استخارہ کیا گیا جس سے مرزا کا بے دین ہونا واضح ہو گیا ۔ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ جس روز قادیانی لدھیانہ شہر میں وارد ہوا ، راقم الحروف (مولوی محمد) اور مولوی عبداللہ ، مولوی اسمٰعیل نے براہینِ احمدیہ کو دیکھا تو اس میں کلمات کفریہ کے انبار پائے اور لوگوں کو قبل از دوپہر اطلاع کر دی کہ یہ شخص مجدد نہیں بلکہ زندیق ہے اور ملحد ہے اور گردونواح کے شہروں میں فتوے لکھ کر روانہ کئے کہ یہ شخص مرتد ہے۔ اس موقع پر اکثر نے تکفیر کی رائے کو تسلیم نہ کیا ۔
(فتاویٰ قادریہ صفحہ ۴)
سید مظفر علی شمسیؒ
سید مظفر علی شمسی بیان کرتے ہیں کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے سلسلہ میں مجھے دیگر رہنماؤں کے ساتھ گرفتار کر کے سکھر جیل بھیجا گیا اور ہم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ جیل کے اندر پانچ دروازے پار کروا کر ایک تنگ و تاریک کوٹھڑی میں بھیجا گیا۔ اس کوٹھڑی میں دم لینا دشوار تھا اور جب کبھی دم گھٹنے لگتا تو ہم سب باری باری دروازے کے ساتھ منہ لگا لیتے تا کہ کچھ سانس بحال ہو سکے ۔ ہم سب اس حالت میں صبر و شکر کے ساتھ موت کا انتظار کرنے لگے سکھر میں ان دنوں گرمی انتہا درجہ کی تھی ۔ مرغی کے انڈے کو اگر پانی میں ڈال کر رکھ دیا جائے تو پانچ منٹ میں اُبل جاتا تھا۔ رات کو سرخ آندھی چلتی جو کئی کئی دن مسلسل چلا کرتی ، آنکھیں سرخ ہی سرخ ہو جاتی تھیں۔ سحری اور افطاری میں خوراک ایسی کہ دیکھ کر طبیعت خراب ہو جاتی ۔ رمضان المبارک کے روزے رکھنا بہت دشوار ہو گیا تھا۔ عید الفطر کے دن تمام قیدیوں نے مل کر نماز عید ادا کی ۔ نماز سے فارغ ہوئے تو اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل خطوط لے کر آئے۔ اُنہوں نے میری ڈاک میرے سپرد کی۔ اس میں میری ہمشیرہ کا خط تھا جسے میں نے ہاتھوں ہاتھ لیا، پڑھا اور رو دیا ۔ اس میں لکھا تھا :
میرے بھیا ! اس امتحان میں آپ کو پریشان کرنا نہیں چاہتی ، اب قریب المرگ ہوں ، بخار دامن نہیں چھوڑتا، درجہ حرارت ۱۰۴ سے گرتا نہیں، کھانسی زوروں پر ہے۔ محبوب بھائی ڈاکٹر صاحب کو لائے تھے، ایکسرے میں ٹی بی کی ابتدائی منزل ہے، ماں باپ نے مجھے آپ کے سپرد کیا تھا اور اب موت مجھے لئے جا رہی ہے۔ کاش کہ میرے آخری
وقت آپ میرے پاس ہوتے ۔
آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر جو مصائب برداشت کر رہے ہیں، اللہ آپ کو استقلال بخشے اور قیامت کے دن آپ کی قربانی ہمیں دربار رسالتؐ میں سرخرو کرے۔
آپ بہادری سے قید کاٹیں ، اگر زندگی رہی تو مل لوں گی، ورنہ میری قبر پر تو آپ ضرور آئیں گے ۔ سب بچے سلام کہتے ہیں ۔ اب ہاتھ میں طاقت نہیں، لہٰذا خط ختم کرتی ہوں ۔ بھیا سلام ۔
آپ کی بہن
اس خط سے میرے دل میں ایک ہوک اُٹھی ، شاہ صاحب آبدیدہ ہو گئے ۔ سب نے عزیزہ کی صحت کے لئے دُعا کی ۔ اس خط کا مطلب وہی سمجھ سکتا ہے جو وطن سے دُور ہو اور پھر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہا ہو ۔
ایک رات کو مولانا غلام اللہ خان کی جامع مسجد میں جلسہ عام تھا ۔ اللہ اللہ چشم فلک نے ایسے رُوح پرور اور ایمان افروز نظارے کم دیکھے ہوں گے ۔ مولانا بنوریؒ کا نورانی چہرہ چاند کی طرح دمک رہا تھا ۔ علمائے کرام، مشائخ عظام اور دوسرے تمام اکابر اسٹیج پر جلوہ افروز تھے ۔ جناب سید مظفر علی شمسی کے ان الفاظ پر کہ پہلے ۱۹۵۳ء میں بھی میں ایک سید کی قیادت میں تحریک ختم نبوت میں شامل ہوا تھا اور آج بھی ایک سید ہی کی قیادت میں گھر سے نکل کر آیا ہوں اور آتے ہوئے اپنی بیٹیوں کو وصیّت کر آیا ہوں کہ جب تمہیں خبر ملے کہ تمہارا ابّا، نانا مصطفےٰ ؐ پر قربان ہو گیا ہے اور اس کے ساتھی بھی شہید کر دیئے گئے ہیں اور ان کی لاشیں راولپنڈی کی سڑکوں پر گھسیٹی جا رہی ہیں تو تم بھی زینبؓ کی طرح سروں سے چادریں اُتار کر ننگے سر ہو کر سڑکوں پر نکل آنا اور ختم نبوت کی تحریک میں شامل
ہو جانا۔“ مجمع میں ایک قیامت بپا ہوگئی، لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے، کوئی شخص ایک لاکھ کے مجمع میں ایسا نہیں ہوگا جس نے اپنے دل میں یہ عہد نہ کرلیا ہو کہ کل صبح اگر فیصلہ مسلمانوں کے خلاف ہوا تو وہ اپنے آپ کو شہادت کے لئے پیش نہیں کرے گا۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد)
مجیب الرحمن شامی صاحب
پاکستان کے ممتاز اہل قلم، نامور صحافی جناب مجیب الرحمن شامی نے ”قومی ڈائجسٹ“ کا قادیانیت نمبر شائع کیا۔ اس کی مانگ و مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ان کو چند ہفتوں میں کئی ایڈیشن شائع کرنے پڑے کسی بھی قومی پرچے کی اتنی اشاعتیں جتنی اس نمبر کی ہوئی، یہ ایک ریکارڈ ہے۔ اس کے لائبریری ایڈیشن کے دیباچہ میں وہ تحریر کرتے ہیں کہ اس ایڈیشن کے شائع ہوتے ہی مجھے حج کا بلاوا آگیا، جسے وہ اس نمبر کی مقبولیت کی دلیل قرار دیتے ہیں۔
مولانا نواب الدین شکوہی
(از مظہر الدین)
میرے والد ماجد مولانا نواب الدین صاحب قصبہ رمداس ضلع امرتسر کے تھے۔ والد صاحب چونکہ حضرت خواجہ سراج الحق کے خلیفہ اعظم تھے اور غیر معمولی اوصاف و کمالات کے حامل ۔ اس لئے انہیں قادیان کے خطرناک محاذ شکوہا پر متعین کیا گیا جو قادیان سے تین کوس کے فاصلے پر تھا اور بٹالہ سے اگلے اسٹیشن ”چھینا“ سے اُتر کر قادیان جانے والوں کی رہگذر میں ایک اہم مقام کی حیثیت رکھتا تھا۔
تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد جب والد صاحب قادیان پر حملہ آور ہوتے تو تیزی سے دیہات میں یہ خبر پھیل جاتی کہ مولوی صاحب مرزا سے مناظرہ کرنے جا رہے ہیں اور دیہاتی عوام اپنے ہل چھوڑ کر ساتھ ہو جاتے۔ یہ واقعہ میری پیدائش سے چند سال پہلے کا ہے۔ مرزا غلام احمد اور حکیم نور الدین سے گفتگو کا سلسلہ صرف علمی مباحث تک ہی محدود نہ رہتا بلکہ والد صاحب اسے شدید مطعون بھی کرتے۔ یہ خبریں تو مجھ تک عینی شاہدوں کے ذریعے بکثرت پہنچی ہیں کہ مرزا غلام احمد دق ہو کر عجز و انکسار کی راہ اختیار کر لیتا اور اپنے دعوؤں کی تاویلیں کرنے لگتا۔ مرزا کی موت کے بعد مناظروں کا دَور شروع ہوا تو والد صاحب پنجاب کے عظیم مناظر ہونے کی حیثیت سے ان کا مقابلہ کرنے لگے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے مناظروں کی تعداد کتنی ہے ؟ سینکڑوں یا ہزاروں ، بہرحال مناظروں میں زبانی کلامی ہی باتیں نہ ہوتی تھیں، بلکہ جہاد فی سبیل اللہ کا آغاز بھی ہو جاتا تھا۔
غالباً ۱۹۲۶ء کا واقعہ ہے کہ پاکپتن شریف کی درگاہ میں والد صاحب کے پیر و مرشد کی درگاہ تھی۔ اس وقت پاکپتن شریف کی جامع مسجد کے خطیب ایک متبحر عالم دین مولانا عبدالحق صاحب تھے جو یہیں کے ایک زمیندار بھی تھے۔ مرزائیوں سے شرائط مناظرہ طے کرنے کے لئے مولانا تشریف لے جانے لگے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو گیا۔ مرزائی بڑے کر و فر کے ساتھ آئے تھے۔ میں ان کی کتابوں کے انبار اور اُن کا کر و فر دیکھ کر مرعوب ہو گیا۔ دل میں یہ خیال گزرنے لگا کہ میرے والد صاحب کے پاس تو کوئی کتاب نہیں، وہ کیسے مناظرہ کریں گے ! چنانچہ جب میں نے اپنے اس تاثر کا والد صاحب سے اظہار کیا تو وہ ہنس پڑے اور مولانا عبدالحق صاحب سے فرمانے لگے کہ دیکھو ! مظہر کیا کہہ رہا ہے ۔ پھر مولانا نے فرمایا۔ اس لڑکے کو سمجھاؤ کہ مناظرہ کتابوں سے نہیں تائید ربانی سے ہوتا ہے اور الحمد للہ یہ ہمیشہ میرے شامل حال رہی ہے ۔ میں نے زندگی میں اربابِ باطل سے تمام مناظرے کتاب کے بغیر کئے ہیں۔
یہاں یہ ذکر بھی خالی از دلچسپی نہ ہو گا کہ مرزائیوں نے عام دستور کے خلاف پاکپتن شریف کے مناظرے میں والد ماجد کے مقابلے کے لئے کہن سال اور گرگان باران دیدہ کی بجائے نوجوان مناظروں کو بھیجا جو والد ماجد کے تبحر علمی، زورِ خطابت، شخصیت ذہانت و فطانت اور شجاعت و بہادری سے قطعی طور پر ناآشنا تھے ان نوجوانوں کے سرخیل تین مناظروں کا نام تو مجھے اب تک یاد ہے ۔ جلال الدین شمس، عبدالرحمن اور سلیم اور الحمد للہ اسی مناظرے میں ۱۳۰ آدمیوں نے مرزائیت سے توبہ کی اور والد صاحب کے حلقۂ ارادت میں شامل ہو گئے۔
O
مہدی بیگم کے قصبہ ”پٹی“ میں جب والد صاحب کا مناظرہ ہوا تو فریق مخالف آنکھ ملا کر بات کرنے سے گریز کر رہا تھا۔ والد ماجد نے متعدد بار ٹوک کر کہا کہ ادھر دیکھو ! لیکن وہ آنکھ چرا رہا تھا۔ سٹیج پر بیٹھے ہوئے بعض لوگوں نے کہا کہ حضرت ! ان لوگوں کا خیال ہے کہ آپ جادو گر ہیں اور آپ کی آنکھوں میں سحر ہے۔ یہ سن کر والد صاحب ہنس پڑے اور اپنے مخصوص انداز میں فرمایا :
دہلوی ہے داغؔ بنگالی نہیں
O
ضمناً یہ بات بھی سن لیجئے جو میں نے والد ماجد کی زبان سے سنی ہے ۔ فرمایا کہ ایک روز قادیان سے گذر ہوا تو میں نے احباب سے کہا کہ مرزا غلام احمد سے ملے بغیر یہ سفر ناتمام رہے گا، آؤ مرزا سے ملتے چلیں۔ جب میں گیا تو مرزا اور حکیم نور الدین چند لوگوں کے سامنے مثنوی مولانا روم کے اشعار پڑھ رہے تھے۔ مرزا کی زبان سے مولانا روم کی تعریف و توصیف سن کر میں نے کہا کہ مولانا روم تو حیاتِ مسیح کے قائل ہیں۔ فرماتے
ہیں سہ
بر فرازِ گنبدِ چارم شتافت
عیسیٰ و ادریس ہر گر دو شدند
زاں کہ از جنسِ ملائک آمدند
مرزا نے جواب دیا کہ یہ ان کی انفرادی رائے ہے۔ میں نے کہا کہ ان کی رائے انفرادی نہیں ؟ یہ اجماعی ہے ؟ مرزا نے جھٹ حکیم نورالدین سے کہا کہ بھئی ! مولانا کے لئے چائے لاؤ۔ ایک صاحب نے جھٹ پوچھا کہ حضرت ! آپ نے چائے پی ؟ فرمایا : ”استغفراللہ ! یہ کیسے ممکن تھا۔“
O یہاں مجھے بے اختیار ایک واقعہ یاد آگیا اور وہ یہ کہ والد صاحب نے اپنی موت سے ہفتہ عشرہ پہلے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ مظہر ! اللہ کریم مجھے بخش دے گا۔ تھوڑے سے وقفے کے بعد فرمانے لگے کہ اعمال کے باعث نہیں، اعمال کا محاسبہ ہُوا تو مجھے جہنم کا کوئی مناسب گوشہ بھی نہیں ملے گا۔ میں نے زندگی میں مرزائیوں کو بہت مارا ہے ، اس لئے اُمید ہے کہ اللہ کریم مجھے بخش دے گا ۔
O جب مرزا ایک مقدمے میں ماخوذ ہو کر گورداسپور کی کچہری میں آیا تو والد صاحب بھاگم بھاگ کچہری پہنچ گئے اور مرزا کے گرد لوگوں کا حلقہ توڑ کر مرزا کا بازو پکڑ لیا۔ بازو کو ایک شدید جھٹکا دے کر فرمانے لگے کہ مردود ! نبوت اگر جاری ہوتی اور اللہ تعالیٰ اس علاقے میں کوئی نبی بھیجتا تو بتا ! کہ مجھ جیسے وجیہہ انسان کو بھیجتا یا تجھ جیسے بُنجو کو ؟ یہ سُن کر حاضرین کے انبوہ سے ایک قہقہہ بلند ہُوا اور مرزا پر سکتہ کا عالم طاری ہو گیا۔
والد صاحب کی روانگی کے وقت ہی خواجہ سراج الحق صاحب کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ مولوی صاحب مرزا سے باتیں کرنے کے لئے گئے ہیں۔ چنانچہ بہت جلد حضرت بھی پہنچ گئے اور والد صاحب کو اپنے ساتھ لے آئے۔
میری عمر بہت چھوٹی تھی کہ ہمارے خاندان میں سے ایک خاتون کا رشتہ ایک مرزائی سے ہوگیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ شخص مرزائی ہے تو والد صاحب کو بہت صدمہ ہوا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ کافر سے مسلمان خاتون کا رشتہ جائز نہیں، لیکن میرے ماموں چوہدری ابراہیم تحصیلدار جو مشہور ناول نگار نسیم حجازی کے والد تھے، اگرچہ مرزا کے بہت خلاف تھے اور مرزا کے رد میں بالعموم یہی دلیل دیا کرتے تھے کہ میں نے اور مرزا غلام احمد نے سیالکوٹ میں پٹوار کا امتحان دیا، وہ فیل ہوگیا اور میں پاس ہوگیا، جو شخص پٹواری نہ بن سکے وہ فرستادہ خدا کیسے ہوسکتا ہے؟ مگر وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی ایسی صورت ہونی چاہیئے کہ ہمارے خاندان کی لڑکی عدالت میں نہ جائے۔ چنانچہ والد صاحب نے یہ کہہ کر موصوفہ سے نکاح کرلیا کہ عدالت کا معاملہ میں خود نپٹ لوں گا۔ مرزائیوں کو جب اس نکاح کی اطلاع ملی تو انہوں نے گورداسپور کی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا۔ یہ مقدمہ سات سال تک جاری رہا۔ انجام کار والد صاحب کو فتح ہوئی اور میری دوسری والدہ مرزا بشیرالدین اور چوہدری ظفراللہ خان کی انتہائی سعی و کوشش کے باوجود ایک بار بھی عدالت میں پیش نہ ہوسکیں۔
جب مرزا بشیرالدین بطور گواہ عدالت میں آیا تو ظفراللہ خان نے یہ مسئلہ کھڑا کردیا کہ بشیرالدین کو عدالت میں کرسی ملنی چاہیئے۔ ادھر سے یہ تقاضا تھا کہ کرسی ملے تو دونوں کو۔ ورنہ دونوں کھڑے رہیں۔ والد صاحب بیٹھنے پر کھڑا رہنے کو ترجیح دے رہے تھے کافی بحث کے بعد یہی فیصلہ ہوا کہ دونوں کھڑے رہیں۔ بشیرالدین اور ظفراللہ خان پر والد صاحب
کی جرح دیدنی تھی جس کا تھوڑا سا تصور اب بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ والد صاحب کہہ رہے تھے کہ برخوردار ! تیرے والد کو حیض آتا تھا ؟ اور ظفر اللہ خان سٹپٹا رہا تھا۔ مختصر یہ کہ تنسیخ نکاح کا یہ پہلا مقدمہ تھا جو والد صاحب نے جیتا۔ مقدمہ بہاولپور بہت بعد کی بات ہے۔
تحریک ختم نبوت کے دوران تنسیخ نکاح کے سلسلے میں جتنی تحریریں میرے سامنے آئی ہیں ان میں کہیں بھی یہ مذکور نہیں کہ تنسیخ کا پہلا مقدمہ مولانا نواب الدین شکوہی نے جیتا تھا۔ حالانکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔
یہاں میں ایک ضروری بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ جب مرزا غلام احمد قادیانی نے محمدی بیگم سے اپنے آسمان پر نکاح ہونے کا دعویٰ کیا تو والد صاحب محمدی بیگم کے قصبہ پٹی پہنچ گئے۔ یہاں پہنچ کر انہوں نے اپنی سحر بیانی اور روحانی قوت سے پٹی کے مغلوں کو اپنے حلقہ ارادت میں شامل کر لیا۔ محمدی بیگم کا خاندان والد صاحب کا مرید ہو گیا۔ یوں مرزا غلام احمد کا آسمانی نکاح زمین پر نہ ہو سکا۔ یہ والد صاحب کا مرزا پر سیاسی حملہ تھا۔ پٹی میں والد صاحب کے ورود مسعود کی داستان ان کے ایک مرید مشہور صحافی اور شاعر حاجی لق لق مرحوم کے قلم سے چند سال پیشتر ہفت روزہ چٹان میں چھپ چکی ہے۔
آج سے تقریباً نصف صدی پیشتر کے اسلامی اجتماعات کے اشتہارات کو اگر دیکھا جائے تو ان میں والدِ ماجد کے نام کے ساتھ فاتحِ قادیان کے الفاظ ملیں گے۔ یہ خطاب علمائے اسلام نے والد صاحب کو اسی لئے دیا تھا کہ انہوں نے تنسیخ نکاح کا پہلا مقدمہ جیتا تھا، ورنہ مناظر تو اس عہد میں اور بھی تھے۔
غالباً ۱۹۲۵ء کا واقعہ ہے کہ مرزائیوں نے ریاست جموں و کشمیر کو اپنی تخریبی
سرگرمیوں کی آماجگاہ بنا لیا۔ چنانچہ حضرت پیر جماعت علی شاہ صاحبؒ نے اس فتنے کے سدباب کے لئے جموں میں ایک تبلیغی کانفرنس منعقد کی اور مشاہیر علمائے اسلام کو دعوت نامے بھیجے۔ ان میں والد صاحب کا نام بھی تھا۔ یہ وہ عہد تھا کہ والد صاحب اپنے آبائی وطن رمداس ضلع امرتسر میں تشریف لا چکے تھے۔ اس وقت ہمارا عظیم الشان مکان زیر تعمیر تھا اور والد صاحب کی ساری توجہ مکان کی تعمیر پر مرکوز تھی۔ انہی دنوں میں حضرت امیر ملت کا دعوت نامہ آ گیا اور والد صاحب تمام کام چھوڑ کر جموں روانہ ہو گئے۔ روانگی کے وقت مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تم بھی چلو گے! لیکن اس عہد طفولیت میں میری تمام تر توجہ اپنے کبوتروں پر مرکوز تھی۔ میں نے جواب دینے میں ذرا تامل کیا، تو مسکرا کر فرمانے لگے کہ تیرے کبوتروں کی حفاظت کے لئے میں خاص آدمی مقرر کر دیتا ہوں۔ جموں میں میں مرزائیوں کو جو پٹخنیاں دوں گا وہ تیرے کبوتروں کی قلا بازیوں سے بہتر ہوں گی۔ مزا نہ آیا تو کسی کے ساتھ واپس بھیج دوں گا۔ یہ سُن کر میں ہنس پڑا اور ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گیا۔
اس منظر کو دیکھنے والے لوگ ابھی تک بقید حیات ہیں۔ کانفرنس میں زیادہ تر والد ماجد ہی کی تقریریں ہوتی تھیں۔ اس معرکے سے خوش ہو کر حضرت پیر جماعت علی شاہ صاحب والد صاحب کو اپنے ساتھ علی پور لے گئے۔ علی پور میں والد صاحب کا قیام طویل سے طویل تر ہوتا گیا۔ ہر روز رات کو والد صاحب کی تقریر ہوتی تھی اور دن علمی و عرفانی باتوں میں گزرتا تھا۔ ایک بچے کے لئے ایسے ماحول میں زیادہ دیر ٹھہرنا مشکل ہوتا ہے چنانچہ میں گاؤں میں گھومنے پھرنے لگا بلکہ حضرت امیر ملت خود فرما دیتے کہ مظہر! جاؤ مسجد، مدرسہ اور تہہ خانے دیکھ آؤ! ایک روز میں واپس آیا تو حضرت نے فرمایا کہ مسجد اور مدرسہ پسند آیا۔ میں نے اثبات میں جواب دیا، تو فرمانے لگے کہ بس تعلیم کے لئے یہیں آ جاؤ۔ مختصر یہ کہ یہیں سے صاحبزادگان سے تعلقات کی ابتدا ہوئی۔
کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ مرزائیوں نے حضرت پیر جماعت علی شاہ صاحب، مولانا دیدار علی شاہ صاحب اور والد ماجد کا جموں وکشمیر میں داخلہ قانوناً رکوا دیا۔ اس سے عوام نے اور بھی خوشگوار اثر لیا۔ وہ سمجھنے لگے کہ مرزائی مسلمان علماء کی تاب نہیں لا سکتے۔
○
میرے عنفوان شباب میں والد صاحب کے مرزائیوں سے جو مناظرے ہوئے انہی کا یہ نتیجہ تھا کہ مجھے تمام سوالات وجوابات یاد ہو گئے جنہیں میں نے قلم بند کر کے خاتم المرسلین کے نام سے شائع کر دیا۔ یہ میری پہلی تصنیف تھی جس پر استاد محترم ابوالبرکات سید احمد صاحب والد ماجد اور مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش نے تقریظیں لکھیں۔
خواجہ ناظم الدینؒ
تحریک ختم نبوت کے دوران قاضی صاحبؒ، مولانا لال حسین اخترؒ اور مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے متعدد بار خواجہ ناظم الدین صاحب سے ملاقاتیں کیں۔ ان کے سامنے مرزائیوں کی تمام سرگرمیوں کا پس منظر و پیش منظر واضح کیا۔ پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کرنے، بلکہ اکھنڈ بھارت قائم کرنے کے رؤیا دکھائے گئے۔ نیز انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ وہ بشمول آپ، لیاقت علی خان، قائد اعظم محمد علی جناح، عام مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتے اور مسلمانوں کے بزرگوں کو بُرے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ مرزائیوں کی تمام چیدہ چیدہ کتابوں کے خوفناک حوالے دکھائے گئے۔ خواجہ صاحب کو جب ان تمام باتوں سے واقفیت ہوگئی تو وہ حیران رہ گئے اور ابتداً انہوں نے ہمدردانہ غور کا وعدہ فرمایا بلکہ ایک سرکلر جاری بھی کر دیا جس کی رُو سے آئندہ مرزائی فرقہ کو اپنے مذہب کی تبلیغ وغیرہ کی اجازت نہیں تھی لیکن وہ ظفر اللہ خان قادیانی کو اپنے مذہب کی
تبلیغ اور جلسوں سے خطاب کرنے سے منع نہ کر سکے۔ بعد میں خواجہ صاحب نے تحریک کو بزور قوت ختم کرنے اور مسلمانوں پر گولیاں چلانے کا مظاہرہ کر کے عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ اپنی روایتی ”محبت و عقیدت کا ثبوت“ فراہم کر دیا۔
حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ
تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے دوران مردان کے ایک عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : ”میں نے آخری فیصلہ کیا ہوا ہے اپنے سامان میں اپنے ساتھ کفن رکھا ہوا ہے یا تو قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت تسلیم کیا جائے گا یا ہم اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیں گے۔ اس کے علاوہ اور کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے ۔“
اسی تحریک میں جب اپنے قائم کردہ مدرسہ اسلامیہ کراچی سے روانہ ہونے لگے تو مولانا مفتی ولی حسن کو بلا کر فرمایا کہ میں اپنے ساتھ کفن لئے جا رہا ہوں ۔ پھر سامان سے کفن نکال کر دکھایا اور فرمایا، زندہ رہا تو واپس آ جاؤں گا، اگر شہید ہو گیا تو یہ مدرسہ تمہارے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، اس کی حفاظت کرنا ۔
حضرت امیر شریعتؒ کی علالت کے دنوں میں جب حضرت بنوریؒ بغرض عیادت ان کے در دولت پر گئے اور دروازے پر دستک دی اور امیر شریعتؒ بنفس نفیس باہر تشریف لائے اور آپ کو سامنے کھڑا دیکھ لینے کے باوجود دریافت کیا : کون ؟ مولانا بنوریؒ نے یہ سمجھا کہ شاید علالت کی وجہ سے پہچان نہ پائے ہوں ۔ جواباً کہا : ”محمد یوسف بنوریؒ “ امیر شریعتؒ نے فرمایا : کون ؟ اس بار حضرت بنوریؒ کو یہ اندیشہ ہوا کہ شاید مرض
کی شدت کے سبب قوت سماعت میں بھی فرق آگیا ہے تو بآواز بلند دہرایا۔ محمد یوسف بنوری ؒ ، مگر امیر شریعت نے جواباً کہا: ”نہیں نہیں، انور شاہ ؒ !“ یہ کہہ کر شاہ جی نے حضرت بنوری ؒ کے چہرہ کو اپنے دونوں ہاتھوں سے لیا۔ دونوں پر گریہ کی کیفیت طاری ہو گئی۔ بغلگیر ہوئے اور دیر تک ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔
۱۹۷۴ء میں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی امارت کے لئے آپ کو منتخب کیا گیا۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ کتنی منتوں سماجتوں، کتنے استخاروں، دعاؤں اور مشوروں کے بعد آپ نے یہ منصب قبول فرمایا۔ ابھی ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی امارت قبول کئے آپ کو چند مہینے نہیں گزرے تھے کہ ربوہ اسٹیشن کا سانحہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ملک گیر تحریک چلی اور اس نے غیر معمولی شکل اختیار کر لی۔ اس کی قیادت کے لئے تمام جماعتوں پر مشتمل ”مجلس عمل ختم نبوت“ تشکیل پائی تو باصرار اس کی صدارت کیلئے آپ کو منتخب کیا گیا۔ حضرت اقدسؒ نے اس تحریک کے دوران جس تدبر و فراست جس اخلاص و للہیت جس صبر و استقامت اور جس ایثار و قربانی سے ملی قیادت کے فرائض انجام دیئے وہ ہماری تاریخ کا ایک مستقل باب ہے۔ ان دنوں حضرت پر سوز و گداز کی جو کیفیت طاری رہتی تھی وہ الفاظ کے جامۂ تنگ میں نہیں سما سکتی، حق تعالیٰ نے آپ کے اسی سوز دروں کی لاج رکھی اور قادیانی ناسور کو جسد ملت سے کاٹ کر جدا کر دیا۔
مولانا نے فرمایا کہ تحریک کے بعد جب تبلیغی سلسلہ میں لندن گیا تو وہاں میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بڑا سٹیج ہے جس کی خوب سج دھج ہے۔ ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے۔ حضرت شیخ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اس پر تشریف فرما ہیں۔ احباب ان سے مل رہے ہیں جب لوگ فارغ ہو گئے تو میں (حضرت بنوری) حاضر ہوا۔
آپ دیکھتے ہی اُٹھ کھڑے ہوئے، بغلگیر ہوئے، مجھے سینے سے لگایا۔ وہ بے پناہ خوشی و شادمانی کے عالم میں میری داڑھی کے بوسے لینے لگے اور میں نے خوشی و شادمانی کے عالم میں ان کی داڑھی مبارک کے بوسے لئے۔
دوسرا خواب میں نے دیکھا کہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کسی جگہ سے تشریف لائے ہوئے ہیں۔ مجھے دیکھتے ہی بے پناہ مسرت میں ”واہ میرے پھول، واہ میرے پھول“ کہتے ہوئے سینہ سے لگالیا۔ حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ آبدیدہ تھے چہرے پر مسرت نمایاں تھی۔
۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں جب طلباء ، جلسہ و جلوس میں حصہ لینے لگے تو حضرت بنوریؒ نے خطاب کرتے ہوئے کہا: ”ضرورت پڑی تو سب سے پہلے بنوریؒ اپنی گردن کٹوائے گا، پھر آپ کی باری آئے گی۔
انہی مبشرات کے ضمن میں جی چاہتا ہے کہ اس خط کا اقتباس بھی درج کر دیا جائے جو حضرت کے ایک گہرے دوست الشیخ محمود الحافظ مکی نے آپ کو ملک شام سے لکھا تھا۔ اصل خط عربی میں ہے یہاں اس کا متعلقہ حصہ اردو میں نقل کرتا ہوں ۔
”میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ میں نے ۳ شعبان ۱۳۹۴ھ رات کو آپ کے بارے میں بہت عمدہ اور مبارک خواب دیکھا ہے جس کی آپ کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں اور اس کو یہاں اختصار کے ساتھ نقل کرتا ہوں ۔
میں نے آپ کو ایسے شیوخ کی جماعت کے ساتھ دیکھا ہے جو سن رسیدہ تھے، اور جن پر صلاح و تقویٰ کی علامات نمایاں تھیں۔ یہ سب حضرات اس قرآن کریم کے صفحات
جمع کرنے میں مصروف تھے جو آنجناب نے اپنے قلم سے زعفرانی رنگ کی روشنائی سے بدست خود تحریر فرمایا ہے اور آنجناب کا قصد ہے کہ اسے لوگوں کے فائدہ عام کے لئے شائع کیا جائے۔ آپ نے اپنے اس ارادے کا اظہار نہایت مسرت و شادمانی کے ساتھ میری جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔
صبح جب نماز فجر کے لئے اٹھا تو قلب فرحت سے لبریز تھا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی و کامرانی کا تاج پہنایا ہے۔ والحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات“
یہ مبارک خواب تحریک ختم نبوت کے زمانے کا ہے۔ سنہرے حروف سے قرآن کریم لکھنے کے متعلق راقم کی رائے یہ ہے کہ اس فیصلہ کے ذریعہ آیت خاتم النبیینؐ کو صفحات عالم پر سنہرے حروف سے رقم کرنے کی طرف اشارہ ہے۔
O
مسٹر بھٹو کے زمانہ میں جب قادیانیوں کا طوطی بولتا تھا حضرت شیخ بنوریؒ نے متعدد سربراہان ممالک اسلامیہ کو خطوط لکھے۔ افسوس کہ وہ سب محفوظ نہیں۔ ماہنامہ بینات سے دو خطوط درج ذیل ہیں۔ شاہ فیصل مرحوم کو تحریر کیا :
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سیدی و مولائی! ہر شخص اپنی طاقت و قدرت کے بقدر اللہ تعالیٰ کے ہاں جوابدہ ہے۔ آنجناب کو اللہ تعالیٰ نے وہ تمام وسائل عطا کر رکھے ہیں جن کے ذریعہ آپ ساری روئے زمین اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کر سکتے ہیں۔
سیدی و مولائی! ہمیں علم ہے کہ جب ہمارے وطن عزیز پاکستان اور ظالم ہندوستان کے درمیان جنگ برپا ہوئی تو آنجناب نے پاکستان کی ہر ممکن مادی و اخلاقی مدد فرمائی جو سربراہان اسلام اور مسلمانوں کے لئے ایک قابل نمونہ ہے مسلمانوں کا فرض ہے کہ
وہ آپ کے اس کارنامہ پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ بجا لائیں گے۔
سیدی ومولائی! آج پاکستان قادیانیت کی جانب سے عظیم خطرہ میں ہے۔ بحریہ کا سربراہ حفیظ قادیانی ہے، فضائیہ کا سربراہ چوہدری ظفر قادیانی ہے اور بری افواج میں ٹکا خان کے بعد سترہ جرنیل لگاتار قادیانی ہیں۔ حکومت یا تو اس مہیب خطرہ سے غافل اور جاہل ہے یا پھر استعماری قوتوں، برطانیہ وامریکہ کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے۔ وہ مسلمانوں کو فوجی مناصب سے برطرف کر رہی ہے اور قادیانیوں کو بھرتی کر رہی ہے۔ لاریب کہ قادیانی اور ان کا امام متنبیٰ کذاب لعنة اللہ، برطانیہ کا خودکاشتہ پودا اور برطانوی استعمار کا ساختہ و پرداختہ تھا۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ حکومت برطانیہ ”ظل اللہ فی الارض“ ہے، جہاد منسوخ ہے اور یہ کہ تمام مسلمانوں پر برطانیہ کی نصرت وحمایت فرض ہے، نیز فیوڈل اور سرمایہ دار قادیانیوں کی ان لوگوں کی کوشش ہے کہ کسی طرح برطانیہ کا عہد رفتہ واپس لوٹ آئے اور پاکستان ان قادیانیوں کے اقتدار کا آلہ کار بنے اور برطانیہ کو ازسرنو بحر احمر پر تسلط حاصل ہو جائے۔ اس بدترین سازش کے ہولناک نتائج آنجناب سے مخفی نہیں ہیں۔ آنجناب سے توقع رکھتا ہوں کہ پاکستان کو قادیانیوں کے چنگل سے چھڑانے میں اس کی مدد کریں۔ وزیر اعظم بھٹو کو ان ہولناک نتائج سے متنبہ فرمائیں اور اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کریں کہ وہ ان لوگوں کو کلیدی مناصب سے الگ کر دیں، تاکہ یہ لوگ اسلام کے لئے اور اسلام سے پہلے خود بھٹو کے لئے خطرہ نہ بن جائیں۔ الغرض آپ اس نہایت خطرناک مصیبت کبریٰ سے پاکستان کو بچانے اور بھٹو کی کجروی کی اصلاح کی ہر ممکن جہد بلیغ فرمائیں اور محض اللہ کی رضا کے لئے اللہ تعالیٰ کی عطا فرمودہ طاقت وقوت اور وسائل کے ذریعہ آپ وہ کردار ادا کریں جو واقعی ایک خلیفہ اور امام المسلمین کو فہم وبصیرت اور قوت کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
ہم جناب والا کے حق میں ہر خیر وسعادت کے متمنی ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ
آپ کے مبارک ہاتھوں کے ذریعہ اسلامی ممالک کو ان ریشہ دوانیوں اور ملعون سازشوں سے نجات ملے اللہ تعالیٰ آنجناب کی ذات کو اسلام کے لیے ذخیرہ اور مسلمانوں کی پناہ گاہ کی حیثیت سے باقی رکھے اور ربانی سائے تلے جس کے جھنڈے آپ کے ملک پر لہراتے ہیں۔ آپ کی سلطنت کو بقائے دوام بخشے۔ آخر میں میری طرف سے آنجناب کی ذات اور مملکت کے حق میں بہترین دعائیں اور گہری تمنائیں قبول فرمائیں۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
اور لیبیا کے صدر کرنل قذافی کے نام تحریر فرمایا : ”بعد از سلام مسنون گزارش ہے کہ مجھے آنجناب کی زیارت کا شرف اس وقت حاصل ہوا جبکہ طرابلس کی پہلی ”دعوتِ اسلامی کانفرنس“ میں مندوب کی حیثیت سے شریک ہوا تھا، آنجناب کی شخصیت میں اخلاص، قوتِ ایمان اور سلامتی فطرت کے آثار دیکھ کر اوّل وہلہ آپ کی محبت میرے دل میں جاگزین ہوئی۔ بعد ازاں آپ کی خیر و سعادت کی خبریں ہم تک پہنچیں جن کی وجہ سے آپ بلاشبہ داد و تحسین کے مستحق اور اسلام اور مسلمانوں کے لیے مایہ فخر ہیں۔ حق تعالیٰ آپ کو اسلام کے لیے ذخیرہ اور مسلمانوں کی پناہ گاہ کی حیثیت سے سلامت رکھے اور آپ کے وجودِ گرامی سے اسلام اور عرب کی عزت و مجد کے عَلم بلند ہوں۔ آمین ۔
برادر گرامی قدر ! آپ نے پاکستان کے موقف کی تائید کر کے اور ہر ممکن مادی مدد مہیا فرما کر جو احسان فرمایا ، اس کا ہمیں اجمالی علم ہوا۔ حق تعالیٰ آپ کو اس حسنِ سلوک کا بدلہ عطا فرمائیں اور دنیا و آخرت میں آپ پر انعامات فرمائیں۔ آمین ۔
اور اب میں آنجناب کے علم میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ پاکستان ایک عظیم خطرہ میں گھرا ہوا ہے اور وہ فتنہ قادیان یا قادیانی تحریک ہے، جس کا قائد ایک بڑا قادیانی
ہے۔ فضائیہ کا سربراہ قادیانی ہے اور بری فوج میں ٹکا خان کے بعد سترہ جرنیل ہیں جو سب قادیانی ہیں۔ کچھ عرصہ بعد ٹکا خان بھی ریٹائر ہو جائیں گے۔ حکومت مسلمان افسروں کو فوجی مناصب سے معزول کر رہی ہے۔ صدر کا اقتصادی مشیر ایم ایم احمد قادیانی ہے اور سر ظفر اللہ کے، جو بڑا خبیث سازشی قادیانی ہے، صدر سے خصوصی رابطے ہیں اور صدر اس کے مشوروں کی تعمیل کرتا ہے۔
غالباً آنجناب کو علم ہو گا کہ اس گروہ کا ضال و مضل مقتدا مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت تھا۔ اس نے پہلے مجدد، مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ بعدازاں نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ اس کا عقیدہ تھا کہ برطانوی حکومت روئے زمین پر خدا کا سایہ ہے، جہاد منسوخ ہے اور یہ کہ برطانوی نصرت و حمایت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ وغیرہ ذالک من کفر وھذیان ۔
قادیان کے بعد (جو ہندوستان میں رہ گیا) انہوں نے مغربی پاکستان میں ربوہ آباد کیا، جس کی حیثیت ان کے دارالخلافہ کی ہے۔ وہاں اسلام اور مسلمان کے خلاف بڑی سرگرمی سے سازشیں تیار ہوتی ہیں اور یہ عجلت میں تحریر کردہ عرضیہ ان تفصیلات کا متحمل نہیں۔ میں آنجناب سے اس وقت دو گزارشیں کرنا چاہتا ہوں ۔
ایک یہ کہ وزیر اعظم بھٹو کو اس خطرہ عظیمہ سے آگاہ کیجئے ، یعنی قادیانی بغاوت، ملک کا قادیانی حکومت کے تحت آ جانا، بحیرہ احمر میں برطانیہ کی عزت رفتہ کا دوبارہ لوٹ آنا اور بیک وقت تمام عربی اسلامی ممالک کا ناک میں دم آ جانا، پس آنجناب سے درخواست ہے کہ آج حکومت پاکستان کو قادیانیوں کے یا بلفظ صحیح برطانیہ کے چنگل سے چھڑا کر اس پر احسان کیجئے، جیسا کہ قبل ازیں آپ اس کی اخلاقی و مادی مدد کر کے اس پر احسان کر چکے ہیں اور محض اللہ تعالیٰ کی، اس کے رسول کی، اسلام اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے ہر قسم کی تدبیر و حکمت اور عزم و حزم کے
ساتھ ”وزیر اعظم بھٹو“ کی کجروی کی اصلاح کیجئے۔ بلاشبہ اسلام کی یہ عظیم الشان خدمت اور اللہ و رسول کی رضا مندی کا موجب ہوگی۔ اسی کے ذریعہ اس رخنہ کو سد کیا جا سکتا ہے اور اس شگاف کو پُر کیا جاسکتا ہے ۔ کیونکہ فتنہ کا سیلاب خطرہ کے نشان سے اُوپر گزر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی نصرت و مدد فرمائے ۔ ” اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا“
دوسری گزارش یہ ہے کہ جمہوریہ لیبیا میں جو قادیانی ڈاکٹر یا انجینئر کی حیثیت سے آئے ہیں، انہیں نکالیے۔ سنا ہے کہ آپ کے ملک میں قادیانیوں کی ایک بڑی تعداد آئی ہے۔ ان میں ڈاکٹر خلیل الرحمٰن طرابلس میں ہے جو شعاعوں کے ذریعہ سرطان کے علاج کا خصوصی ماہر ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں کا سراغ لگایا جائے اور محض اللہ کی، اس کے رسول کی ، اس کی کتاب کی اور مسلمانوں کے قائدین کی خیر خواہی کی غرض سے آپ کو ان کی اطلاع دی جائے ۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو خدمتِ اسلام اور مسلمانوں کی مدد میں ثابت قدم رکھے، آپ کو اپنی رضا اور اپنے دین کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرمائے اور آپ کے ہاتھ سے خیر و سعادت کے وہ کام لے جن کے ذریعے مشرق و مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کی عزت و مجد میں اضافہ ہو۔ والسلام علیکم ورحمۃ و برکاتہ۔
آپ کا مخلص محمد یوسف البنوری خادم الحدیث النبوی الشریف فی کراچی مندوب مؤتمر الدعوۃ الاسلامیہ الاول من پاکستان
○
مولانا کے ساتھ ہی مولانا لطف اللہ نے تجویز کیا کہ جمعیت علمائے سرحد سے تعلق کے
زمانے میں ہمیں محسوس ہوا کہ پشاور میں قادیانی اپنے پاؤں پھیلا رہے ہیں اور دین سے ناواقف طبقہ کو گمراہ کر رہے ہیں ۔ پشاور کا ایک قادیانی مسمی غلام حسین ، جو قرآن کریم کی قادیانی تفسیر (یا بلفظ صحیح تحریف) بھی لکھ چکا تھا وہ پشاور میں صبح کو درس قرآن دیتا تھا ۔ نوجوان وکلاء اور کالجوں کے ناپختہ ذہن طالب علم اس میں شریک ہوا کرتے تھے ۔ پشاور کا مشہور لیڈر ، جو بعد میں مسلم لیگ اور پاکستان کا بڑا رہنما (سردار عبدالرب نشتر) وہ بھی ان کے درس میں شریک ہوتا تھا ۔ پشاور کے اسلامیہ کالج کا وائس پرنسپل تیمور مرزا بشیر الدین قادیانی کا رشتہ دار تھا ۔ صاحبزادہ عبدالقیوم بانی اسلامیہ کالج کا چچا زاد بھائی عبداللطیف قادیانی صوبہ سرحد کی جماعت کا امیر تھا ۔ قادیانی سال میں ایک دفعہ ”یوم النبی“ کے نام سے ایک بڑا جلسہ کرتے تھے ۔ جس میں شرکت کے لیے تمام سرکاری افسروں کو دعوت نامے بھیجے جاتے ۔ اس طرح کھلے بندوں قادیانیت کی تبلیغ کے لئے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی جاتی تھی ۔
جب ہم جمعیت العلماء کے کام میں منہمک تھے تو میں نے دیکھا کہ قصہ خوانی بازار میں قادیانیوں کے اس جلسے کے اشتہارات لگ رہے ہیں جس میں اسلامیہ کلب میں ”یوم النبی“ کا اعلان تھا ۔ میں نے مولانا بنوریؒ سے مشورہ کیا کہ قادیانیوں کی اس کھلی جارحیت کا سدباب ہونا چاہیے ۔ میں ان دنوں اسلامیہ سکول میں عربی کا معلم اور اُستاد تھا ۔ میں نے سکول کی نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کو قادیانیت کی حقیقت بتائی اور قادیانیوں کے ”یوم النبی“ کے نام پر لوگوں کو بہکانے کی مکاری عیاں کی اور انہیں بھی اس معرکہ میں حصہ لینے کے لئے تیار کیا ، جس کا نقشہ میں اور مولانا بنوریؒ بنا چکے تھے ۔
مقررہ تاریخ پر قادیانیوں نے اسلامیہ کلب میں قالین بچھائے ، سٹیج لگایا اور جلسہ کا انتظام کرنے لگے ۔ ہم دونوں بھی وہاں پہنچ گئے اور جا کر اعلان
کیا کہ یہاں اہل اسلام کا جلسہ ہو گا۔ ہماری اور قادیانیوں کی کش مکش ہوئی جس میں قاضی یوسف نامی قادیانی نے مجھ پر لاٹھی سے حملہ کر دیا۔
ہمارے رفقاء نے اس کو پکڑ کر نیچے گرا دیا جو قادیانی کرسیوں پر اچھل تھے انہیں بھی فرش پر گرا دیا۔ قادیانی ذلت و نامرادی کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے اب اسٹیج پر مسلمانوں کا قبضہ تھا۔ مولانا بنوریؒ نے بڑی فصیح و بلیغ اور طویل تقریر فرمائی مسلمانوں اور قادیانیوں کی کش مکش سن کر پورا شہر اُمڈ آیا اور خوب جلسہ ہوا۔ قادیانیوں کو ایسی ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا کہ جب سے اب تک اُنہیں پشاور میں ایسا ڈھونگ رچانے کی دوبارہ جرأت نہیں ہوئی۔
عالمی مجلس کی امارت شیخ بنوریؒ نے کس طرح قبول فرمائی۔ مولانا محمد یوسف
لدھیانوی کی زبانی سنیں۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ تھے جن کو ہمارے حضرتؒ وکیل العلماء کا خطاب دیتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد جماعت کی قیادت میں خلاء سا محسوس ہونے لگا اور کچھ ایسے مسائل سر اُٹھانے لگے تھے جن سے مضبوط قیادت ہی نمٹ سکتی تھی۔ جماعت کے امیر کے انتخاب کے لیے شوریٰ کا اجلاس طلب کیا گیا۔ ہمارے حضرت بنوریؒ بھی جماعت کی شوریٰ کے رکن رکین تھے۔ حضرت اجلاس میں شرکت کے لئے ملتان تشریف لے جا رہے تھے، یہ ناکارہ حاضر خدمت ہوا۔ عرض کیا حضرت! اجلاس میں شرکت کے لئے تشریف لے جا رہے ہیں، میری درخواست ہے کہ یا تو جماعت کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لے لیجئے یا فاتحہ فراغ پڑھ کر جماعت کو ختم کرنے کا اعلان کرا دیجئے۔ حضرتؒ اس ناکارہ کی اس درخواست سے بہت متاثر ہوئے اور برجستہ فرمایا۔ اگر میں جماعت کی امارت
قبول کرلوں تو ساہیوال سے ملتان مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں منتقل ہو جاؤ گے۔
عرض کیا ، حضرت ! مجھے کراچی آنے سے عذر ہے ، کراچی کے علاوہ آپ جہاں حکم فرمائیں وہاں جا بیٹھنے کے لئے تیار ہوں۔ بہت خوش ہوئے۔ ملتان تشریف لے گئے تو حسنِ اتفاق سے وہاں کے احباب (بالخصوص مولانا محمد شریف بہاولپوری) نے بھی حضرت سے وہی درخواست کی ، دفتر کی کنجیاں حضرت کے سامنے رکھ دیں اور عرض کیا کہ آپ کے اُستادِ محترم امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ نے یہ کام امیر شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ذمہ لگایا تھا شاہ جی اور ان کے رفیق مولانا محمد علیؒ اس کام کو کر رہے تھے۔ ہم لوگ ان کے کارکن تھے۔ اب یہ آپ کے استادِ محترم کی میراث ہے اور اس کی کنجیاں آپ کے سپرد ہیں ۔ اگر اس کام کو جاری رکھنا ہو تو بسم اللہ ہماری قیادت کیجئے ورنہ یہ کنجیاں پڑی ہیں ، دفتر کو تالا لگا دیجئے۔ ہم سب بھی اپنے اپنے گھروں کو جاتے ہیں۔ اس طرح حضرتؒ کو جماعت کی امارت قبول کرنا پڑی اور پھر چند مہینے بعد ہی حضرت کی قیادت میں ختمِ نبوت کی وہ تحریک چلی جس کے نتیجہ میں ۱۹۷۴ء کا تاریخی فیصلہ ہوا اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ، گویا جماعت کی عمارت کے لئے حضرت بنوریؒ کا انتخاب حق تعالیٰ شانہ کی جانب سے اس تحریک کی کامیابی کا تکوینی انتظام تھا ، الغرض حضرت بنوریؒ جماعتِ ختمِ نبوت کے امیر منتخب ہو کر کراچی تشریف لائے تو یہ ناکارہ مبارکباد کے لئے حاضر ہوا۔ مبارکباد پیش کی تو فرمایا : ”کہیں اپنا وعدہ بھی یاد ہے ؟ اب ہمیں ختمِ نبوت کے دفتر میں ٹھہرنا ہو گا ۔ “ عرض کیا : ”حضرت ! بالکل حاضر ہوں مگر میری تین درخواستیں ہیں۔ ایک یہ کہ مجھے رہائش کے لئے مکان کی ضرورت ہو گی۔ دوسری یہ کہ ختمِ نبوت کے مرکزی دفتر ملتان میں مسجد کے بغیر جماعت ہوتی ہے۔ دفتر کے ساتھ مسجد ہونی چاہیے اور تیسری یہ ہے کہ بچوں کی پڑھائی کے لئے قرآن کریم کے مکتب کا انتظام کر دیا جائے “ فرمایا : ”تینوں شرطیں منظور ہیں ۔ “ حضرت نے جامعہ رشیدیہ کے حضرات
سے فرمایا کہ اس کو مدرسہ سے فارغ کر دیا جائے۔ اس طرح یہ ناکارہ شوال ۱۳۹۴ھ سے ساہیوال سے دفتر ختم نبوت ملتان میں منتقل ہوگیا اور دس دن کے لئے کراچی حاضری کا سلسلہ بدستور رہا۔
شاہ فیصل سے مولانا کی جو آخری ملاقات ہوئی، اس میں شاہ فیصل نے مولانا سے فرمایا تھا کہ میں نے بھٹو کو ملاقات کے وقت صاف صاف بتا دیا تھا کہ پاکستان کے تین دشمن ہیں، قادیانی، کمیونسٹ اور مغربی ممالک۔ مولانا نے تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں ملاقات کی۔ اس میں آپ نے بھٹو سے فرمایا کہ کیا تم کو شاہ فیصل نے نہیں بتایا کہ قادیانی، کمیونسٹ اور مغربی بلاک پاکستان کے تین دشمن ہیں اور انہی لوگوں نے سازش کر کے لیاقت علی خان کو مروایا تھا۔ مسٹر بھٹو نے مولانا سے کہا کہ کیا تم مجھ کو بھی مروانا چاہتے ہو۔ مولانا نے برجستہ فرمایا کہ ایسی موت کسی کو نصیب ہو تو اس پر ہزاروں زندگیاں قربان، جو شخص شہادت کی موت مرتا ہے وہ مرتا نہیں بلکہ زندہ جاوید ہو جاتا ہے۔
(نقوش زندگی از مولانا لطف اللہ)
شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ شاہ فیصل مرحوم سے ملنے کے لئے حجاز مقدس گئے اور ان سے حجاز مقدس مرزائیوں کے داخلہ پر پابندی کا ذکر کیا کہ پابندی کے باوجود بعض مرزائی پھر بھی سعودیہ آ جاتے ہیں۔ حرمین شریفین میں غیر مسلموں کا داخلہ شرعاً ممنوع ہے تو اس پر صحیح عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ اس پر شاہ فیصل مرحوم نے کہا کہ مولانا کسی کے ماتھے پر تو نہیں لکھا ہوتا کہ یہ شخص قادیانی ہے، آپ اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کرے، پھر کوئی مرزائی حدود حرم میں داخل ہو تو ہم مجرم ہوں گے۔ اس پر شیخ بنوری اُٹھ کھڑے ہوئے، گلو گیر لہجہ میں
فرمایا کہ شاہ فیصل میں آپ کو حضور علیہ السلام کی عزت و ناموس کا نگہبان سمجھ کر آیا تھا کہ مرزائی حضور علیہ السلام کے دشمن ہیں، آپ مجھے پاکستان کی حکومت کے دروازے پر جانے کا راستہ دکھاتے ہیں۔ اگر وہ میری بات مانتے تو میں آپ کے پاس کیوں آتا ۔ آپ کا یہ کہنا تھا کہ شاہ فیصل مرحوم کی آنکھوں سے آنسو کی جھڑی لگ گئی۔ فرمایا۔ ”شیخ بنوری“ میں آپ کی مشکلات سے آگاہ نہیں تھا، اگر یہ بات ہے تو آئندہ آپ اپنے لیٹر پیڈ فارم پر جس شخص کے متعلق لکھ دیں کہ وہ قادیانی ہے تو وہ شخص ہمارے ہاں نہیں آسکے گا ۔ اگر وزیراعظم پاکستان لکھے کہ فلاں شخص مسلم ہے اور آپ لکھیں کہ یہ قادیانی ہے تو میں آپ کی بات کو ترجیح دوں گا ۔
اس پر عمل کیسے ہوا صرف ایک واقعہ عرض ہے کہ شبقدر ڈھیری پشاور کے کے ایک قادیانی نے حج کے لئے بحری جہاز سے درخواست دی ، مسلمانوں کو پتہ چل گیا ۔ اس کا فارم مسترد ہو گیا ۔ اس نے اپنا نام ، ولدیت ، پتہ سب کچھ تبدیل کر کے انٹرنیشنل پاسپورٹ بنوایا ۔ این اوسی لگوائی اور روانہ ہو گیا ۔ چنیوٹ میں ختم نبوت کی کانفرنس تھی ۔ شیخ بنوری کو اطلاع ملی ۔ آپ نے سعودیہ کے کراچی کونسل خانہ کو فون کیا ، صورت حال بتائی ۔ کونسلیٹ نے فون کیا تو پتہ چلا کہ جہاز روانہ ہو گیا ہے ۔ اس نے جدہ فون کیا ۔ جب جہاز نے جدہ لینڈ کیا تو جہاز کو پولیس نے گھیرے میں لے لیا ۔ اس مرزائی کو گرفتار کر کے دوسرے جہاز پر پاکستان بھیج دیا ۔
اس طرح آپ کی جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کاوشوں سے اب تو پاکستانی پاسپورٹ پر مذہب کے خانہ کا اضافہ ہو گیا ہے ۔
حضرت مولانا مفتی محمد یونس مرحوم
مفتی صاحبؒ ، مولانا انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد تھے ۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں حضرت مفتی صاحب نے نمایاں خدمات سرانجام دیں ۔ فیصل آباد میں تحریک کی ایکشن کمیٹی کے صدر تھے ۔ حضرت امیر شریعت سے انہیں قلبی لگاؤ تھا اور ان کی خدمات کو بہت سراہتے تھے حضرت امیر شریعتؒ بھی ان سے بہت محبت رکھتے تھے ۔ فیصل آباد میں آمد کے دوران حضرت مفتی صاحب کے یہاں اکثر تشریف لے جاتے ۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں ڈائریکٹ ایکشن کے لئے پہلا قافلہ حضرت مفتی صاحب کی قیادت میں ہی روانہ ہوا تھا ۔ ایک دفعہ کسی مرزائی نے حضرت مفتی صاحب کو ایک خط لکھا کہ آپ مرزائیت کے بارے میں اپنی تقاریر بند کر دیں ورنہ آپ کو گولی سے اڑا دیا جائے گا ۔ آنے والے جمعہ کے خطبہ میں آپ ریوالور پہن کر جامع مسجد کچہری بازار میں جمعہ پڑھانے کے لئے تشریف لے گئے اور مرزائیت پر ایک ضرب کاری لگائی اور زبردست تقریر کی اور خط کی دھمکی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والے ہمیں کبھی دھمکیوں سے مرعوب نہیں کر سکتے اور فرمایا کہ خدا کی قسم ، اگر مجھے سو گولیاں ماری جائیں اور میرے گوشت کا قیمہ کر دیا جائے تو بھی ہر ٹکڑے سے ختم نبوت کی صدائیں بلند ہوں گی ۔
غازی مرید حسین شہیدؒ
آپ کا اسم گرامی مرید حسین تھا ۔ اسیرؔ تخلص کرتے تھے ۔ ۱۹۱۵ء میں بھلہ شریف تحصیل
چکوال کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام نامی عبداللہ خان اور والدہ ماجدہ کا اسم گرامی غلام عائشہ تھا۔ چوہدری عبداللہ بھلے کے نمبردار اور باوقار بزرگ تھے۔ بڑھاپا میں اللہ تعالیٰ نے اکلوتے بیٹے سے نوازا، اس لئے اپنی آنکھوں کے نور اور دل کے سرور کی بڑی شفقت اور محبت سے پرورش کی۔
مرید حسین ابھی پانچ برس کے تھے کہ والد بزرگ کے سایۂ عاطفت سے محروم ہو گئے۔ والدہ بڑی سمجھدار اور نیک سیرت خاتون تھیں۔ اس لئے مرحوم سرتاج کی یادگار اکلوتے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر پوری توجہ دی۔ قرآن حکیم اور بعض دینی کتب کی تدریس کے لئے سید محمد شاہ صاحب خطیب و امام جامع مسجد بھلہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ عام تعلیم کے لئے آپ کو قریبی قصبے کرڈیالہ کے مڈل سکول میں داخل کر دیا۔ آپ شروع سے ہی ذہین اور محنتی تھے۔ درجہ مڈل اچھے نمبروں میں پاس کیا اور بعد ازاں گورنمنٹ ہائی سکول چکوال میں زیر تعلیم رہے اور میٹرک کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا لیکن زمینداری اور نمبرداری کی مشغولیت کی وجہ سے تعلیم کو خیر باد کہنا پڑا۔ چکوال آتے جاتے آپ خاکسار تحریک کی عسکریت سے متاثر ہوئے اور خاکسار بن گئے۔ ازاں بعد آپ نے حضرت خواجہ عبدالعزیز صاحب چشتی چاچڑوی سے بیعت کی۔ مقامی ہندوؤں کی چیرہ دستیوں اور شاتمان رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) راجپال اور نتھورام کی دریدہ دہنی کے واقعات پڑھ کر آپ کی غیرتمند طبیعت بہت کڑھتی تھی۔
بیس سال کی عمر میں آپ کی شادی ہوئی۔ شادی کے چند روز بعد آپ کو خواجۂ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ اس دیدار اقدس نے مرید حسین کی زندگی میں ایک انقلاب عظیم پیدا کر دیا اور یہ وارفتہ عشق رسولؐ بے قرار و بیتاب رہنے لگا۔
(شمع رسالت کے پروانے، اشفاق حسین)
۱۹۳۵ء میں ایک روز چکوال میں آپ نے روز نامہ ”زمیندار“ میں ”پلول کا گدھا“ کے عنوان سے ایک المناک خبر پڑھی۔ اس خبر سے سچے عاشق رسولؐ کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
واقعہ یہ ہوا کہ پلول ضلع گڑگاؤں کے ڈاکٹر انچارج شفاخانہ حیوانات نے اپنے خبث باطن کی وجہ سے انتہا درجے کی ذلیل حرکت کی اور حضور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں گستاخی کی۔ وہ یہ کہ شفا خانے کے ایک گدھے کا نام حضور پاک کے نام پر رکھنے کی نفرت انگیز جسارت کی۔ ہندوستان میں ہر مسلمان کا خون اس نامعقول اور پاجیانہ حرکت سے کھول اٹھا اور مسلمانوں کے پرانے زخم جو ملعون شاتمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شردھانند راجپال اور نتھو رام نے لگائے از سر نو ہرے کر دیئے مسلم اخبارات میں احتجاجی بیانات سے سہم کر برٹش گورنمنٹ نے اس بدبخت گستاخ ڈاکٹر کو ضلع گڑگاؤں سے ضلع حصار کے موضع نارنوند تبدیل کر دیا۔ مسلمانوں کے صدمۂ غم و اندوہ کی برائے نام تلافی کے لئے یہ حرکت ستم ظریفی تھی۔ اس خبر سے مرید حسین کو بے حد غم و غصے کے جذبات نے گھیر لیا اور یہ عاشق رسولؐ لمبے سفر کی تکلیفیں اور صعوبتیں برداشت کرتا ہوا نارنوند پہنچ گیا۔ ڈاکٹر رام گوپال ایک تنومند اور قد آور شخص تھا مگر نحیف و نزار لیکن عشق رسولؐ سے سرشار مرید حسین نے انتہائی جرات سے کام لے کر ایک ہی وار میں اسے واصل جہنم کر دیا اور خود کو گرفتاری کے لئے پیش کر دیا لیکن یہ شرط لگا دی کہ کوئی کافر اُن کے قریب نہ آئے۔ چنانچہ نارنوند کے ایس ایس او چوہدری شاہ محمد نے ان کو گرفتار کیا اور ڈسٹرکٹ جیل حصار بھیج دیا۔ آپ پر ضلع حصار میں مقدمہ چلایا گیا۔ جلال الدین قریشی بیرسٹر اور دیگر مسلمان وکلاء نے غازی مرید حسین کی طرف سے بلافیس وکالت کی۔
قانونی موشگافیوں سے فائدہ اٹھا کر آپ آسانی سے بچ سکتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کا یہ شیدائی جھوٹ بول کر اپنی جان بچانا عشق رسول پاک کے منافی سمجھتا تھا۔ اس لئے واشگاف الفاظ میں اعتراف کیا۔ سزائے موت کا حکم ہوا۔ ان کے جذبات صادق سے ایک غیر مسلم قیدی اس قدر متاثر ہوا کہ وہ جیل میں ہی مسلمان ہوگیا۔ غازی مرید حسین نے اس کا نام غلام رسول رکھا۔
غازی مرید حسین کو سزائے موت کا حکم ہو چکا تھا۔ ۲۴ ستمبر ۱۹۳۷ء جمعتہ المبارک دن صبح کے نو ۹ بجے غازی مرید حسین مسکراتا ہوا تختہ دار پر سوار ہوا اور ناموس رسالت پر قربان ہو گیا۔
○
تختہ دار پر چڑھانے والوں نے آپ کے لواحقین کو بتایا ۔ غازی مرید حسینؒ شہادت کے وقت بڑے مطمئن اور مسرور نظر آرہے تھے۔ کلمہ شریف اور درود پاک کا ورد کر رہے تھے۔ آپ کو خاموش ہونے کے لئے کہا گیا تو آپ نے فرمایا ۔ میں اپنا کام کر رہا ہوں آپ اپنا کام کریں ۔ چنانچہ غازی درود و سلام پڑھتے ہوئے جام شہادت نوش کر کے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ جہلم شہر میں مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ شہر کے دُور دراز دیہات و قصبات سے مسلمان جوق در جوق آپ کے جنازے میں شرکت کرنے کے لئے آئے۔ جہلم سے تھلہ کرمانہ تقریباً پچھتر میل ہے۔ اس طویل راستے میں سڑک کے کنارے متعدد مقامات پر فرزندان توحید اور جاں نثاران رسالت نے عاشق خیر الوریٰ پر عقیدت کے پھول نچھاور کئے۔ متعدد مقامات و مواضع میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ تھلہ میں نماز جنازہ ادا کرنے والوں کی تعداد شمار سے باہر تھی۔ آخر کار بعد نماز جمعہ آپ کو تھلے کے قریب غازی محل میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شیدائی نے اپنے پیارے رسول پر قربان ہو کر عشق کا حق ادا کر دیا اور زندہ جاوید ہو گیا۔
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
غازی عبدالقیوم
نام —— عبدالقیوم خان والد کا نام —— عبداللہ خان قوم —— پٹھان ساکن —— غازی ، ضلع ہزارہ تاریخ پیدائش —— ۱۲-۱۹۱۱ء
ابتدائی زندگی و تعلیم
غازی عبدالقیوم خان کو بچپن ہی سے مذہبی تعلیم کا شوق تھا۔ چھٹی جماعت پاس کر کے گاؤں کے علمائے کرام سے پڑھنا شروع کر دیا۔ اکثر قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہتے۔ سکول چھوڑ کر قرآن مجید کی تعلیم کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو گئے۔ صوم و صلوٰۃ کی آخری وقت تک پوری پابندی کرتے رہے۔
۱۹۳۲ء میں ان کے والد عبداللہ خان صاحب انتقال کر گئے۔ ان کی چھ بہنیں تھیں جو کہ اچھے گھرانوں میں بیاہی گئیں۔ ایک بھائی جو ان سے بڑے ہیں ان کا نام ہمایوں خان ہے جو محکمہ امداد باہمی میں بحیثیت ہیڈ کلرک ، سپرنٹنڈنٹ ملازمت کر کے ریٹائر ہو چکے ہیں۔ اور بقید حیات ہیں۔
جب ان کی عمر ۲۱ ، ۲۲ سال کی ہوئی تو ۱۹۳۳ء میں ان کی شادی کرادی گئی۔ شادی کے چند ماہ بعد ان کو کراچی جانے کا شوق پیدا ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے حقیقی چچا رحمت اللہ خان وہاں پہلے سے مقیم تھے اور وکٹوریہ گاڑیوں کا کاروبار کرتے تھے۔ چنانچہ یہ کراچی چلے گئے اور اپنے چچا کے ہاں ٹھہرے۔ وہاں بھی ان کا زیادہ تر وقت صدر کی مسجد میں تلاوت قرآن ، ذکر اللہ اور نوافل وغیرہ عبادات میں گزرتا تھا۔ اسی دوران انہوں نے مسجد
میں چسپاں ایک اشتہار پڑھا۔ واقعات پڑھ سن کر ان کو جوش آگیا ۔ دوسرے ہی دن بازار سے ایک چاقو خریدا اور نتھو رام ہندو کی آئندہ پیشی کا انتظار کرنے لگے۔
”روزگارِ فقیر“ کے مؤلف فقیر سید وحید الدین صاحب اس واقعہ کی پوری تفصیل ان الفاظ میں لکھتے ہیں :
یہ ۱۹۳۴ء کے اوائل کا ذکر ہے جب سندھ بمبئی میں شامل تھا۔ ان دنوں آریہ سماج حیدرآباد (سندھ) کے سیکریٹری نتھو رام نے ”ہسٹری آف اسلام“ کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں آقائے دوجہاں، سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں سخت دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا گیا۔ مسلمانوں میں اس کتاب کی اشاعت کے سبب بڑا اضطراب پیدا ہوا۔ جس سے متاثر ہو کر انگریزی حکومت نے کتاب کو ضبط کیا اور نتھورام پر عدالت میں مقدمہ چلایا گیا، جہاں اس پر معمولی سا جرمانہ ہوا اور ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عدل وانصاف کی اس نرمی نے نتھورام کا حوصلہ بڑھا دیا اور اس نے دی ۔ ایم فیرس جوڈیشل کمشنر کے یہاں ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی۔ کمشنر کی عدالت نے اس گندہ ذہن، شاتمِ رسولؐ کی ضمانت منظور کر لی۔ اس سے مسلمانوں کو بہت صدمہ ہوا۔ وہ بہت مضطرب اور فکرمند تھے کہ توہین رسولؐ کے اس فتنے کا سدباب آخر کس طرح کیا جائے۔ ہزارے کا رہنے والا عبدالقیوم نام کا ایک نوجوان تھا جو کراچی میں وکٹوریہ گاڑی چلاتا تھا جونا مارکیٹ کی کسی مسجد میں اس نے اس واقع کی تفصیل سنی اور یہ معلوم کر کے کہ ایک ہندو نے حضور سرورِ کائناتؐ کی توہین کی ہے۔ اس کے غم واضطراب اور اندوہ ملال کی کوئی حد نہ رہی۔ ستمبر ۱۹۳۴ء کا واقعہ ہے کہ مقدمہ اہانتِ رسولؐ کے ملزم نتھورام کی اپیل کراچی کی عدالت میں سنی جا رہی تھی۔ عدالت دو انگریز ججوں کے بینچ پر مشتمل تھی۔ عدالت کا کمرہ وکیلوں اور شہریوں سے بھرا ہوا تھا۔ غازی عبدالقیوم نہایت اطمینان کے ساتھ دوسرے تماشائیوں کے ساتھ وکلاء کی قطار کے پیچھے نتھورام کی برابر والی
کرسی پر بیٹھا ہوا تھا کہ عین مقدمے کی سماعت کے دوران وہ اپنا تیز دھار چاقو لے کر نتھو رام پر ٹوٹ پڑا اور اس کی گردن پر دو بھر پور وار کئے۔ نتھو رام چاقو کے زخم کھا کر زور سے چیخا اور زمین پر لڑکھڑا کر گر پڑا۔ غازی عبدالقیوم نے پولیس کی گرفت سے بچنے اور فرار ہونے کی ذرہ برابر کوشش نہیں کی۔ اس نے نہایت ہنسی خوشی کے ساتھ اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ انگریز جج نے ڈائس سے اُتر کر اُس سے پوچھا:
"تم نے اس شخص کو کیوں قتل کیا ؟"
غازی عبدالقیوم نے عدالت میں جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصویر تمہارے بادشاہ کی ہے۔ کیا تم اپنے بادشاہ کی توہین کرنے والے کو موت کے گھاٹ نہیں اُتار دو گے؟ اِس ہندو نے میرے آقا اور شہنشاہؐ کی شان میں گستاخی کی ہے، جسے میری غیرت برداشت نہ کرسکی ۔
غازی عبدالقیوم پر مقدمہ چلا۔ اُس نے اقبالِ جرم کیا۔ آخر کار سیشن جج نے سزائے موت کا حکم سنایا ۔ غازی عبدالقیوم نے فیصلہ سُن کر فرمایا :
"جج صاحب! میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے موت کی سزا دی۔ یہ ایک جان کس گنتی میں ہے، اگر میرے پاس لاکھ جانیں بھی ہوتیں تو ناموسِ رسولؐ پر نچھاور کر دیتا ۔"
اس فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی ۔ دیندار مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ غازی عبدالقیوم کا قانونی دفاع کرنے کے لئے سامنے آگیا ۔ سید محمد اسلم بار ایٹ لاء کو عبدالقیوم کی پیروی کی سعادت حاصل ہوئی، لیکن اس مردِ مجاہد (عبدالقیوم) نے پہلی ہی ملاقات میں اپنے قانونی مشیر پر واضح کر دیا کہ میں نے ماتحت عدالت میں جو اقبالی بیان دیا ہے، اس کے خلاف کچھ کہہ کر اپنی عاقبت خراب نہیں کروں گا۔ سید محمد اسلم نے مقدمے کی تیاری جاری رکھی اور شہادتوں کے سلسلے میں علامہ اقبالؒ ، مولانا ابوالکلامؒ آزاد،
مولانا ظفر علی خاںؒ اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جیسے ملک کے ممتاز علماء کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست کی تاکہ وہ اسلامی نقطہ نظر واضح کر سکیں لیکن عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی ۔ مقدمہ صفائی کی ساری بنیاد اس نکتے پر رکھی گئی تھی کہ : " یہ ایک مسلمان کا ایمان و عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص ناموس رسول پر حملہ کرے تو وہ اسے موت کے گھاٹ اُتار دے ۔ "
اپیل کی سماعت جسٹس ( D A D I B A M E N T A ) اور نو ارکان جیوری کے سامنے شروع ہوئی ۔ جیوری ۶ انگریزوں ، دو پارسیوں اور ایک گوانی عیسائی ممبر پر مشتمل تھی ۔ عدالت کے باہر کم و بیش ۲۵ ہزار مسلمانوں کا ایک بڑا ہجوم فیصلے کا منتظر تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کے بعد غازی عبدالقیوم کے پیروکار سید محمد اسلم نے صفائی کا موقف پیش کیا ۔ انہوں نے مقدمے کے بنیادی نکات اور اقدامِ قتل کے محرکات پر تین گھنٹے تک مدلل بحث کی ۔ ان کی تقریر کے بعض حصے اس قدر اہم تھے کہ انہیں قانون و انصاف کی تاریخ میں ہمیشہ زریں حروف میں لکھا جائے گا ۔
انہوں نے "اشتعال" کے قانونی مفہوم کو بیان کرتے ہوئے یہ نکتہ پیش کیا ۔ "سوال یہ نہیں ہے کہ عبدالقیوم کا اقدام ملک کے قانون کے خلاف ہے ۔ سوال یہ ہے کہ عبدالقیوم نے یہ اقدام انتہائی اشتعال کے عالم میں کیا ہے تو کیوں نہ اسے وہ کم سے کم سزا دی جائے جس کی اجازت دفعہ ۳۰۲ کے تحت قانون نے دے رکھی ہے ۔ اگر موجودہ قانون زمین کے چھوٹے ٹکڑے ، یا کسی عورت کے معاملہ میں قاتل کو "اشتعال" کی رعایت دیتا ہے تو رعایت کا یہ اصول عبدالقیوم کے مقدمے میں کیوں قابل قبول نہیں ہے جبکہ ایک مسلمان کے لئے ناموس رسول پر حملے سے زیادہ اور کوئی اشتعال انگیزی نہیں ہو سکتی ۔ "
وکیل صفائی کی تقریر کے دوران میں جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کے اس اظہار خیال سے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ نہیں ہو گا ؟ سید محمد اسلم نے اس موقع
پر جواب دیا :
"جناب والا! مسلمان حکومت اور ہندو اکثریت کو یہ سمجھاتے سمجھاتے تھک گئے ہیں کہ ان کے لئے رسول اللہ کی محبت کیا حیثیت رکھتی ہے اور اس بارے میں مسلمانوں کے جذبات کیا ہیں ، مگر ان دونوں نے ذرا توجہ نہیں دی۔ اب مجھے عدالت میں یہ واضح کرنے کا موقع مل رہا ہے کہ جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے وہ ناموس رسالت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز اور قوت کو ختم کر کے رہے گا۔ اس معاملے میں مسلمان کو تعزیرات ہند کی پروا ہے نہ پھانسی کے پھندے کی۔" غازی عبدالقیوم کے بیرسٹر سید محمد اسلم نے اقدام قتل کے لئے اشتعال کے مفہوم کی اہمیت پر جو قانونی نکتہ پیش کیا تھا، اگر وہ تسلیم کر لیا جاتا تو ناموس رسالت پر حملہ کرنے کی مذموم تحریک ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتی اور آئندہ کوئی اس جسارت کا تصور بھی نہ کر سکتا ، لیکن عدالت عالیہ نے یہ اپیل خارج کر دی۔ غازی عبدالقیوم کے لئے سزائے موت بحال رہی۔ پرجوش اور مضطرب مسلمانوں کے لیے یہ وقت بڑی آزمائش کا تھا۔ بالآخر فروری ۱۹۳۶ء میں کراچی کے مسلمانوں کا ایک وفد حکیم الامت علامہ اقبالؒ کی خدمت میں لاہور بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ وفد جس میں مولوی ثناء اللہ ، حاجی عبد الخالق اور حاجی عبدالعزیز شامل تھے، لاہور پہنچا اور میکلوڈ روڈ والی کوٹھی میں علامہ اقبالؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس مقدمے کی روئیداد تفصیل کے ساتھ سنائی۔ اس کے بعد عرض کیا کہ آپ وائسرائے سے ملاقات کریں، اپنے اثر و رسوخ کو کام میں لائیں اور انہیں اس پر آمادہ کریں کہ غازی عبدالقیوم خان کی سزائے موت عمر قید سے بدل دی جائے۔ وفد نے اصرار کے ساتھ کہا کہ آپ نے سعی و توجہ فرمائی تو پوری توقع ہے کہ غازی عبدالقیوم کی جانب سے رحم کی اپیل حکومت ہند ضرور منظور کر لے گی۔"
علامہ صاحبؒ وفد کی یہ گفتگو سن کر دس بارہ منٹ تک بالکل خاموش رہے اور گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ وفد کے ارکان منتظر اور مضطرب تھے کہ دیکھئے علامہ کیا فرماتے ہیں۔
توقع یہی تھی کہ جواب اثبات میں ملے گا کہ عاشق رسولؐ کا معاملہ دوسرے عاشق رسولؐ کے سامنے پیش ہے، اس سکوت کو پھر علامہ اقبالؒ ہی کی آواز نے توڑا۔ انہوں نے فرمایا:
"کیا عبدالقیوم کمزور پڑ گیا ہے؟"
ارکان وفد نے کہا: "نہیں، اس نے تو ہر عدالت میں اپنے اقدام کا اقبال اور اعتراف کیا ہے۔ اُس نے نہ تو بیان تبدیل کیا اور نہ لاگ لپیٹ اور ایچ پیچ کی کوئی بات کہی۔ وہ تو کھلے خزانے کہتا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے، مجھے پھانسی کے پھندے سے بچانے کی کوشش مت کرو"۔!
وفد کی اس گفتگو کو سُن کر علامہ کا چہرہ تمتما گیا۔ انہوں نے برہمی کے لہجے میں فرمایا: "جب وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے تو میں اس کے اجر و ثواب کی راہ میں کیسے حائل ہو سکتا ہوں؟ کیا تم چاہتے ہو کہ میں ایسے مسلمان کے لئے وائسرائے کی خوشامد کروں جو زندہ رہا تو غازی ہے اور مرگیا تو شہید ہے"۔
علامہؒ کے لہجے میں اس قدر تیزی اور سختی تھی کہ وفد کے ارکان اس سلسلے میں پھر کچھ اور کہنے کی جرأت نہ کرسکے۔ وفد کراچی واپس ہوگیا۔
غازی عبدالقیوم کو جس دن پھانسی دی گئی، کراچی کی تاریخ میں وہ دن مسلمانوں کے جوش و اضطراب کا یادگار دن تھا۔ دلوں میں یہ جذبہ موجزن تھا کہ کاش یہ شہادت ہمیں میسر آتی۔
لاہور میں غازی علم الدین اور کراچی میں غازی عبدالقیوم کے ان واقعات کا علامہ اقبالؒ نے بہت زیادہ اثر قبول کیا تھا اور اپنے اس قلبی تاثر کو تین شعروں میں بیان فرما دیا۔ یہ اشعار "لاہور اور کراچی" کے عنوان سے "ضرب کلیم" میں شائع ہو چکے ہیں، مگر غازی عبدالقیوم کے لئے رحم کی درخواست کے اس واقعہ کی روشنی میں ان اشعار کا مفہوم کچھ اور زیادہ اُبھرتا ہے۔
لاہور اور کراچی
موت کیا شے ہے ، فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خون جن کا حرم سے بڑھ کر
آہ ! اے مرد مسلمان ، تجھے کیا یاد نہیں
حرف ”لا تدع مع اللہ الٰہا اخر“
〇
کوئٹہ ایڈیشنل سیشن جج جناب جمیل شیروانی کی عدالت میں مرزائیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین کے سلسلے میں کیس زیر سماعت تھا۔ اہل اسلام کے وکیل نے جب دلائل دیئے کہ قادیانیوں کی کتب کی رُو سے قادیانیوں کے نزدیک ”محمد“ سے مراد ”مرزا قادیانی“ ہوتا ہے، تو اس پر مرزائیوں کے وکیل کے چہرے پر اداسی چھا گئی، سخت بدحواس ہوا۔ یاد رہے کہ یہی مرزائی وکیل احسان مرزائیوں کی طرف سے کیس کی ہمیشہ پیروی میں پیش پیش تھا۔ مسلمان وکیل کے دلائل اور حوالہ جات کا اپنے پاس جواب نہ پا کر سخت بدحواسی کے عالم میں اس نے پینترا بدلا اور ایسا ڈرامہ اختیار کیا کہ مسلمان وکیل کا اثر ختم ہو سکے۔ ڈرامائی انداز میں اپنے اٹھارہ بیس سال کے لڑکے کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ خدا مجھے اس لڑکے سے محروم کرے اگر میں جھوٹ بولوں کہ ہماری مراد کلمہ طیبہ میں ”محمد“ سے مراد مرزا قادیانی نہیں ہوتا۔ اس کا عدالت نے جواب یہ دیا کہ تمہاری بات کی تمہاری اپنی کتابیں تردید کرتی ہیں۔ مرزائیوں کی اپیل خارج ہو گئی۔ فیصلہ اہل اسلام کے حق میں ہو گیا لیکن خدا کا کرنا ہوا یہ کہ چند ہفتوں بعد اُس کا یہی لڑکا ایک اور قادیانی لڑکے
کے ساتھ جھیل میں ڈوب کر مر گیا اور یوں قدرت نے مرزائی وکیل کی غلط قسم کا نقد صلہ ان کو دے دیا۔
کوئٹہ جماعت کے ناظم اعلیٰ حاجی تاج محمد فیروز نے مرزائی وکیل کو خط لکھا کہ تم نے غلط قسم اٹھائی تھی، ختم نبوت کا معجزہ دیکھئے، یہ واقعہ دیدہ عبرت ہے، اب تو مسلمان ہو جاؤ۔ اس کا اُس نے تاحال جواب نہیں دیا۔
( مولانا نذیر احمد تونسوی )
ایک قادیانی پر غلاظت کی بارش
راقم الحروف سے ایک بار ایک قادیانی ”اسلام اور نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت اور غداری پر مبنی“ قادیانی مذہب کی حمایت میں بحث و مباحثہ کرنے لگا۔ ہماری گفتگو سُن کر اور دیگر حضرات بھی آ گئے۔ شام کا وقت تھا، ہم لوگ اس وقت ایک درخت کے نیچے کھڑے مصروف گفتگو تھے۔ درخت پر پرندے بیٹھے چہچہا رہے تھے۔ جب مذکورہ قادیانی، قادیانی مذہب کا وکیل صفائی بنا اس کے حق میں دلائل دے رہا تھا تو اچانک ہی درخت پر بیٹھے ہوئے کسی پرندے کا پاخانہ اُس کے منہ پر آ گرا جس سے وہ قادیانی حواس باختہ ہو گیا، پھر وہ سنبھلا اور اُس نے اپنے ہاتھ سے اپنا منہ اس غلاظت سے صاف کیا اور پھر دوبارہ اپنے اس فعلِ خبیثہ یعنی قادیانیت کی حمایت میں بکواس کرنے لگا۔ ابھی اس کی گفتگو شروع ہی ہوئی تھی کہ دوبارہ اس کے سر پر درخت پر بیٹھے کسی پرندے نے اپنی غلاظت بکھیر دی۔ مذکورہ قادیانی نے اس بار بھی اپنے ہاتھ سے اپنا غلاظت میں لتھڑا سَر صاف کیا اور پھر سہ بارہ قادیانیت کی حمایت میں دلائل دینے لگا۔ ابھی اسے
شروع ہوئے دیر بھی نہ ہوئی تھی کہ تیسری بار پھر کسی پرندے نے اس پر پاخانہ کر دیا۔ گویا قدرت خداوندی قادیانیت سے اپنی بیزاری و نفرت ظاہر کر رہی تھی ، جملہ حاضرین مجلس نے اُس بات کو خصوصی طور پر نوٹ کیا ، ہنسے اور پھر دہشت زدہ ہو گئے۔ سب پر اس بات کا بہت اثر ہوا۔ میں نے اس قادیانی کو بھی اس طرف توجہ دلائی اور اسے کہا کہ ”دیکھو جھوٹ بولنے کے جرم میں اللہ تعالیٰ آسمان سے تم پر غلاظت کی بارش برسا رہا ہے، اب بھی سنبھلو اور اس واقعہ سے عبرت پکڑو۔“ یہ سُن کر وہ قادیانی سخت لاجواب اور شرمندہ ہوا اور وہاں سے دُم دبا کر بھاگا۔
(عبد الناصر خان ، شاہراہ فیصل ، کراچی)
آزمائش شرط ہے
یہ ضلع مظفر گڑھ کا واقعہ ہے۔ آج سے ۲۱ ، ۲۲ سال پہلے میں کچھ علماء حضرات کو لے کر ایک بستی میں جا رہا تھا۔ پرانی گاڑی ، گرمی کا موسم ، کڑکتی دھوپ کہ ہماری گاڑی دلدل میں پھنس گئی۔ ان علماء حضرات نے بتایا کہ ردّ قادیانیت پر ایک جلسہ ہے اس سے خطاب کرنا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ قادیانی کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ قادیانی، مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ پھر تفصیل سے اُنہوں نے قادیانیوں کے عقائد بتائے۔ مجھے مرزا قادیانی کے نظریات سُن کر بڑا غصّہ آیا اور میں نے کہا کہ یہ تو بڑا ملعون شخص تھا، جس نے نبوت پر ڈاکہ ڈالا۔ قصّہ مختصر یہ کہ ہم چار پانچ افراد نے اپنی پوری کوشش کر ڈالی کہ کسی طرح گاڑی نکلے لیکن گاڑی نکلنے کا نام نہ لیتی تھی اور نہ اسٹارٹ ہوتی تھی۔ معاً مجھے خیال آیا کہ ہم ایک نیک کام کے لئے جا رہے ہیں ، کیوں نہ اس ملعون شخص پر لعنت بھیجیں جس نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا۔ میں نے فوراً یہ ترکیب آزمائی اور اس مدعی
نبوت پر سو مرتبہ لعنت بھیجی۔ خدا کی قدرت کہ گاڑی اسٹارٹ بھی ہو گئی اور دلدل سے بھی نکل آئی اور ہم اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ گئے۔
(خادم ختم نبوت عبدالرشید ڈرائیور، مظفر گڑھی ۔ کراچی)
سویڈن میں ایک قادیانی کو گولی مار کر مرزا قادیانی بنا دیا
سویڈن کے شہر مالمو میں ایک قادیانی کو جو مقامی پوسٹ آفس میں ملازمت کرتا ہے، وہاں کے لوگوں نے (مسلمانوں نے نہیں) گولی مار کر مرزا قادیانی بنا دیا۔ تفصیلات کے مطابق گولی اس کی آنکھ میں لگی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اس کی ایک آنکھ بالکل ضائع ہو چکی ہے۔ اگرچہ وہ شدید زخمی حالت میں زیرِ علاج ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے پاس سوئے جہنم روانہ ہوتا ہے یا بچ جانے کی صورت میں مرزا قادیانی کی طرح نبی، مسیح یا مہدی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، کیونکہ وہ قادیانی کانا آنکھ شریک بھائی ہو چکا ہے اور یہی قادیانی کی جھوٹی نبوت کی بڑی پہچان ہے ۔
(اللہ وسایا از سویڈن ، ۷۹ء)
O
میرے علاقہ میں ایک ان ٹرینڈ ڈسپنسر قادیانی نے اپنا لٹریچر تقسیم کیا، جس کی اطلاع عالمی مجلس کے دفتر دھنوٹ پہنچی تو ناظمِ اعلیٰ قاضی محمد عبدالملک فاروقی ایک وفد کے ساتھ قادیانی کی اس شرارت کے انسداد کے لئے ڈی، ایس، پی صاحب لودھراں سے ملے اور انہیں اس مسئلہ سے آگاہ کیا۔ تحریری طور پر ایک درخواست پیش کی، کافی رات بیت گئی اور قاضی صاحب تھانہ نہ جاسکے ۔ دوسرے دن کورٹ میں قاضی صاحب کی تاریخ تھی جس میں ان کا جانا از حد ضروری تھا، دوستوں نے مشورہ بھی دیا آپ کورٹ چلے جائیں، واپسی پر تھانے چلیں گے، قاضی صاحب نے کہا۔ جائیداد جاتی ہے تو جانے دو، میں تو اس قادیانی غنڈے کی شرارت کے انسداد
کی ہی کوشش کروں گا۔ مختصر یہ کہ کورٹ نہ گئے ، سارا دن ختم نبوت کے سلسلہ میں ہی کام کرتے رہے، جب شام کو واپس گھر آئے تو انہیں اطلاع ملی کہ کیس کا فیصلہ آپ کے حق میں ہو گیا ہے۔ قاضی صاحب نے کہا کہ میں نے سارا دن ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کیا اور اللہ تعالیٰ نے ختم نبوت کی برکت سے مجھے سرخرو فرمایا، جبکہ مخالف فریق ایک بہت بااثر شخص تھا، اس نے اپنے لئے مکمل طور پر فضا سازگار کر رکھی تھی۔ یہ ہے ختم نبوت کے لئے کام کرنے کی برکت ۔
(حکیم حبیب الرحمٰن، دھنوٹ نزد لودھراں)
قادیانی کی قبر کو آگ لگ گئی
ڈیرہ غازیخاں کے قصبہ الہ آباد میں ایک قادیانی ماسٹر تھا جو انتہائی متعصب اور گستاخ تھا جب فرشتہ اجل نے اسے آدبوچا تو مسئلہ پیدا ہوا کہ اسے کہاں دبایا جائے، مسلم قبرستان میں اگر دباتے تو مسلمانوں میں اشتعال کا پھیل جانا فوری امر تھا آخر اس کے عزیز و اقارب نے اسے اس کی اپنی زمین میں دبا دیا۔ دبانے کے ٹھیک تین دن بعد اس کے گڑھے کو آگ لگ گئی اور یہ کیفیت تین دن تک جاری رہی اور بالآخر وہ جگہ پھٹ گئی۔ اس کے بعد قادیانیوں نے اس گڑھے کو پختہ کر دیا۔ اس واقعہ کی تصدیق وہاں کے علماء کرام حتیٰ کہ اس قادیانی ماسٹر کے بھتیجے نے بھی کی ہے۔
مولانا قاری محمد طیب نے فرمایا کہ مولانا سمیع اللہ مرحوم کی دکان پر ہر قسم کے لوگ آتے تھے، ہندو بھی اور مسلم بھی، اور لوگوں سے بے تکلفی تھی کہ کوئی اگر مٹھائی طلب کرتا تو کوئی جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے نکال لیتا، وہ سب کی خاطر داری کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کی
دکان پر ایک ہندو آیا، اس کی بول چال مسلمانوں جیسی تھی۔ ایک قادیانی ان کی تاک میں لگ گیا، ان کو مسلمان سمجھ کر دکان پر مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت پر آدھ گھنٹہ تقریر جھاڑی اور یہ ثابت کرنا چاہا کہ وہ نبی ہے، اس کی نبوت کو مانو، اس نے اپنی یادداشت میں خوب دلائل سے تقریر کی۔ وہ ہندو خاموشی سے سنتا رہا۔ قادیانی نے سمجھا کہ میری تقریر کا اثر ان پر ہو گیا ہے اور یہ مرزا صاحب کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔ تقریر ختم کرنے کے بعد قادیانی کہتا ہے کہ آپ نے میری تقریر کا اثر لیا ہے، تو وہ ہندو ہنسا اور کہا کہ ابھی تک تو ہم نے اصلی نبی ہی کو نہیں مانا، نقلی نبی کو کیا مانیں گے۔ اس پر مجلس کے سارے حضرات ہنس پڑے۔ قاری صاحبؒ فرماتے ہیں کہ جب قادیانی کو یہ معلوم ہوا کہ یہ غیر مسلم ہے تو بہت شرمندہ ہو کر وہاں سے بھاگا اور پھر وہاں نہیں آیا ۔
(ماخوذ مجالس حکیم الاسلام ص ۲۳۶)
بیت اللہ سے مُنہ پھر گیا
آدھی کوٹ ضلع خوشاب کے نزدیک امام الدین نامی ایک قادیانی رہتا تھا۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں وہ دباؤ کے تحت مسلمان ہوگیا بعد میں مرتد ہو گیا لیکن مسلمانوں سے ملتا تو اپنے کو مسلمان ظاہر کرتا تھا۔ اس کے قادیانیوں سے روابط بھی بدستور تھے۔ گزشتہ دنوں وہ مرگیا، اس کے خاندان والوں نے، جو مسلمان تھے، اور اُس کے لڑکوں نے، جو مسلمان ہیں، اپنے تعلقات کی بناء پر تدفین کے لئے ایک صوفی صاحب کو بلایا۔ صوفی صاحب کا کہنا ہے کہ جب اسے قبر میں اتارا گیا تو میں اس کے سر کی جانب تھا۔ میں نے اس کا چہرہ بیت اللہ شریف کی طرف کر دیا۔ اچانک ایک جھٹکا لگا اور اس کا چہرہ مشرق کی طرف مڑ گیا۔ دوبارہ پھر میں نے اس کا چہرہ بیت اللہ شریف کی طرف کیا۔ گردن کو اسی طرح جھٹکا
لگا اور چہرہ پھر مشرق کی طرف مڑ گیا۔ تیسری مرتبہ پھر میں نے وہی عمل کیا اور جھٹکے کے ساتھ تیسری مرتبہ پھر اس کا چہرہ مشرق کی طرف ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے اس کو اسی حالت میں چھوڑ دیا۔ صوفی صاحب نے بتایا کہ اس چشم دید واقعہ کے بعد میں سمجھا کہ یہ شخص ظاہری طور پر اسلام کا نام لیتا تھا اور اس نے قادیانیت ترک نہیں کی تھی۔ قادیانیوں کو اس واقعے سے عبرت پکڑنی چاہئیے۔
(مولانا خلیل احمد)
۱۹۸۰ء کی بات ہے، میرے پاس ایک مرزائی غلام حسین نامی آیا کرتا تھا۔ وہ ہمیشہ مرزائیت کی تبلیغ کرتا۔ میں اپنی ہمت کے مطابق اسے جواب دیتا۔ ایک دن اس نے مجھے مرزائی کتب پڑھنے کے لئے دیں۔ میں نے انکار کیا کہ اگر ان کتابوں کا پتہ میری بیوی یا دیگر رشتہ داروں کو ہو گیا تو وہ مجھ سے تعلقات ختم کر دیں گے۔ اس مرزائی نے فوراً کہا کہ میری جواں سال بھتیجی ہے اس سے میں تیرا نکاح کردوں گا اور اتنی زمین بھی تیرے نام لگوا دوں گا۔ آپ کتابیں پڑھیں۔ میں نے اس دن اس واقعہ کا ذکر مولانا محمد نواز صاحب سے کیا۔ انہوں نے مرزائیت کے کفریہ عقائد مجھے سمجھائے اور ان سے بچنے کی تلقین کی۔ اس رات میں نے خواب دیکھا کہ ایک کالا ناگ میرے پیچھے لگا ہوا ہے، میں جہاں جاتا ہوں وہ میرے پیچھے ہے۔ میں دوڑ کر جاتا ہوں اور مولانا محمد نواز صاحب سے لپٹ کر کالے سانپ سے بچانے کی درخواست کرتا ہوں۔ اسی افراتفری میں میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے اس مرزائی کو خط لکھا کہ آئندہ میرے گھر نہ آیا کرے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس دن کے بعد سے آج تک اس مرزائی کی میں نے شکل نہیں دیکھی اور یہ کہ اس خواب سے نہ صرف کالے ناگ سے بچ گیا، بلکہ ہمارے گاؤں سے بھی مرزائیت کا خاتمہ ہو گیا۔
(عمر الدین ساقی۔ دلیوالہ، ضلع بھکر)
کوٹ قیصرانی تحصیل تونسہ ضلع ڈیرہ غازیخان میں امیر مند نامی ایک قادیانی کو اس کی اولاد
نے مسلمانوں کی مسجد کے صحن میں دفن کر دیا۔ یہ لوگ علاقہ کے چوہدری تھے مسلمان قوم غریب تھی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو پتہ چلا، اشتہارات شائع کئے، لٹریچر تقسیم کیا، کانفرنسیں منعقد کیں، ملک بھر کے علماء گئے، پورے تونسہ کی تحصیل کو سراپا احتجاج بنا دیا۔ مولانا صوفی اللہ وسایا مبلغ عالمی مجلس اور خانقاہ تونسہ کے چشم و چراغ خواجہ مناف صاحب اس تحریک کے روحِ رواں تھے۔ عالمی مجلس کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد کی شفقت و محبت، سرپرستی و تعاون ان کو حاصل تھا، تحریک پھیلتی گئی۔ مرزائی قیادت اور اس کی اولاد کی ہٹ دھرمی نے اسے برادری کی عزت کا مسئلہ بنادیا، مرنے مارنے پر تل گئے۔ حکومتی ارکان نے کہا کہ جناب اگر اس کی قبر کشائی کی گئی تو بلوچستان کے پہاڑوں سے آزاد قبائل کی قیصرانی برادری لڑنے کے لئے نیچے آجائے گی، علاقہ میدانِ جنگ بن جائے گا۔ گویا ایک مردود کے مردہ کو نکالنا گویا کشمیر کو فتح کرنے کا میدان قرار دے دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے محمد خان جونیجو وزیر اعظم کو کہا۔ انہوں نے پنجاب کے مذہبی امور کے وزیر جناب خدا بخش ٹوانہ کی ڈیوٹی لگائی وعدہ کے باوجود وہ موقعہ پر نہ آئے ، حکومتی ارکان محض حیلہ بہانہ سے اس تحریک کو لمبا کر کے ٹھنڈا کرنا چاہتے تھے۔ ایک ماہ کا عرصہ گزر گیا۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا توں توں مرزائی نواز کہتے جا رہے تھے کہ جی اب اتنا وقت ہو گیا ہے دفعہ کرو اب کیا فائدہ؟
تحریک کے رہنما تحریک کا الاؤ روشن رکھنے میں مصروف تھے۔ امید و یاس کی کیفیت طاری تھی، علاقہ بھر میں اشتعال تھا۔ کوٹ قیصرانی میں مرزائیوں نے مسلح آدمی بٹھائے، ان کو ایک مکان پر رکھا۔ صبح و شام بکرے ذبح ہو رہے ہیں، دیگیں پک رہی ہیں، گپ شپ جاری ہے، شام کو مسلح جلوس نکال کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ یہ بات عالمی مجلس کے رہنماؤں کے لئے پریشان کن تھی۔ رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ اب تونسہ میں نہیں بلکہ ضلعی ہیڈ کوارٹر پر احتجاج کیا جائے۔ پورے ضلع کے مسلمان جمع ہوئے، قافلے آئے، پولیس نے ناکہ بندی کی جو توڑ دی گئی، سارا ضلع جمع ہوا۔ احتجاجی جلسہ کے بعد جلوس نکالا۔ پولیس
نے لاٹھی چارج کیا داڑھی والے کو پولیس میں آواز اٹھائی گئی کا بول بالا ہوا، قیصرانی کا پولیس ۔ مردود مرزائی کی جو عالمی مجلس تحفظ کو بیک گیر لگا اس
مرزائیوں ۔ اپنے گھر میں دفن کـ پر دفن ہوتا تو مرز گھر آنے جاتے ا ہے۔ یہ مسجد کی آگـ
اس تحریک ۔ مرزائیوں کی چودھراہـ
مرزائیت پرا لو اللہ رب العزت
نے لاٹھی چارج کیا۔ بیسیوں زخمی ہوئے، سینکڑوں گرفتار کر لئے گئے۔ تین دن تک ہر داڑھی والے کو پولیس پکڑ کر تھانہ میں لے جاتی تھی۔ اس ظلم و ستم کے خلاف قومی اسمبلی میں آواز اٹھائی گئی۔ دشمن رسوا، مرزائی ہار گئے۔ مرزائی نوازوں کے منہ کالے ہوگئے۔ حق کا بول بالا ہوا، تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی، حکومت مجبور ہوگئی۔ بالآخر خاکر کوٹ قیصرانی کا پولیس نے گھیراؤ کیا، مرزائیوں کو گرفتار کیا، چوہڑوں کو بلوا کر قبر کشائی کرائی۔ مردود مرزائی کی لاش نکال کر مرزائیوں کے گھر کے صحن میں دبا دی گئی۔ اس تحریک میں جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اپنے مشن میں کامیابیاں ہوئیں اور جس طرح مرزائیت کو بیک گیر لگا اس کی صورت حال یہ ہے ۔
مرزائیوں نے اپنے مردہ کو عام علیحدہ اپنے مرگھٹ میں دفن کرنے کی بجائے اپنے گھر میں دفن کیا۔ مرزائیوں کے ہاتھوں قدرت نے یہ ایسا کام کرایا کہ اگر علیحدہ مقام پر دفن ہوتا تو مرزائی چند دن کے بعد اس سانحہ کو بھول جاتے۔ اب صبح و شام اپنے گھر آتے جاتے اس کی قبر کو دیکھ کر اوپر والے بھی جلتے ہیں اور نیچے والا بھی جل رہا ہے۔ یہ حسد کی آگ میں اور وہ جہنم کی آگ میں ۔
اس تحریک سے علاقہ بھر میں مرزائیت کے خلاف نفرت کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ مرزائیوں کی چودھراہٹ و سرداری کا بھوت ہوا ہوا۔
مرزائیت پر اتنی اوس پڑی کہ اس مردہ کے خاندان پوتے وغیرہ میں بعض حضرات کو اللہ رب العزت نے مرزائیت سے توبہ کی توفیق بخشی۔ فلحمد للہ۔
شادن لنڈ، ڈیرہ غازیخان میں تقریباً چالیس قادیانی افراد مسلمان ہوئے۔ ان میں ایک ماسٹر غلام حیدر بھی تھا جو اسّی سال سے زیادہ عمر کا تھا، اُس نے ختم نبوت کانفرنس شادن لنڈ میں مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی صدارت میں اپنے ایمان لانے کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی قادیانیت کے زمانہ میں مولانا لال حسین اخترؒ سے مناظرے کئے۔ میں مرزائیت کا سرگرم مبلغ تھا مگر میرمند مرزائی کے مردہ کا حشر دیکھ کر میرے دل نے گواہی دی کہ مرزائیت کو قبول کر کے ہم لوگ دنیا میں رسوا ہوئے۔ اگر مر کر بھی مرزائیت کی وجہ سے ہماری لاش خراب ہو تو اس مذہب کا کیا فائدہ جو دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی کا سامان کرے۔
اس تحریک کے بعد تقریباً بیس مرزائی مُردے صرف ڈیرہ غازیخان کے علاقہ میں مسلمانوں کے قبرستانوں سے علیحدہ کئے گئے۔ یوں کفر و اسلام کے درمیان حد قائم ہوئی کہ مرزائی مُردے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہو سکے ۔
اس واقعہ کے بعد پورے ملک میں تحریک شروع ہوئی۔ کئی مرزائی مُردے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مسلمانوں کے قبرستانوں سے نکلوائے۔ بالآخر حکومت نے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعہ اعلان کیا کہ کوئی مرزائی مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں آئندہ قانوناً دفن نہ ہوگا۔
۱۹۷۰ء کے الیکشن میں مرزائی مردہ میرمند کا داماد الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کھڑا ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مدافعت کی۔ چنانچہ یہ الیکشن
ہار گیا۔
اس تحریک میں جب ڈیرہ غازیخان میں جلوس پر لاٹھی چارج ہوا تو زخمی ہونے والوں میں مولانا عبدالستار تونسوی بھی تھے۔ دن کو زخمی ہوئے، رات کو خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے۔
حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری راوی ہیں کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں گرفتاری کے لئے پیش ہونے والے مجاہدین ختم نبوت کو پولیس پکڑ کر کراچی سے بلوچستان کی طرف تقریباً سو میل دُور ایک مقام پر چھوڑ کر آئی، لیکن پولیس والوں کی حیرت کی انتہا نہ رہتی جب ٹھیک تین چار گھنٹوں بعد انہی کارکنوں کو وہ کراچی میں پھر جلوس نکالتے ہوئے پاتے ۔ پولیس انکوائری کر کے تھک گئی کہ کونسی طاقت ان کو اس دُور کے جنگل سے اتنی جلدی کراچی میں پہنچا دیتی ہے۔ زمین سمیٹ دی جاتی ہے ، غائبانہ سواری کا انتظام ہوتا ہے یا اس گروہ کو لانے والی مستقل تنظیم ہے۔ بہرحال پولیس کے لئے یہ معمہ رہا اور واقعہ یہ ہے کہ تمام کارکنوں کو جونہی دُور دراز کے جنگل میں چھوڑا جاتا اللہ رب العزت ان کے لئے فی الفور کراچی پہنچانے کا انتظام فرما دیتے ، وہ کارکن کراچی آتے ہی پھر تحریک کے الاؤ کو روشن کرنے میں لگ جاتے۔ بالآخر پولیس نے تھک کر یہ پروگرام ترک کر دیا۔
مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری راوی ہیں کہ ایک دفعہ پولیس والے مجاہدین ختم نبوت کے ایک جتھے کو رات کے وقت گرفتار کر کے دُور کے ایک جنگل میں چھوڑ کر آئے۔ پولیس کے جانے کے بعد یہ مجاہد چند قدم چلے تو روشنی نظر آئی ۔ وہاں گئے تو جنگل میں چند گھرانے آباد دیکھے۔ ان گھرانوں سے ایک آدمی باہر آیا۔ ان مجاہدین کو بلایا، دُعا
دی۔ راستہ اور وظیفہ بتلایا۔ یہ حضرات چند گھنٹوں میں کراچی پہنچ گئے۔ پولیس والے سو کر نہ اُٹھے ہوں گے کہ یہ حضرات کراچی میں پھر ختم نبوت کے جلوس نکالنے میں مصروف ہو گئے۔ جنگل میں کونسی قوم آباد تھی، وہ آدمی از خود بغیر آواز دینے کے کیسے رات کے وقت باہر آیا۔ کراچی کا راستہ و وظیفہ کیوں بتلایا، دعائیں دی، وہ کون تھا۔ ان مجاہدین کے ساتھ ان کا یہ برتاؤ کیوں؟ آج تک اہل دنیا کے لئے یہ معمہ ہے مگر اہل نظر خوب جانتے ہیں کہ ان حضرات پر ختم نبوت کے صدقے اللہ ربّ العزت کے انعامات کی بارش ہو رہی تھی۔
مرزا کو چوہڑوں کی شکل میں دیکھا
میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ مجوکہ ضلع خوشاب کے قریب ڈیرہ اللہ یار پر واقع ہمارا مکان ہے۔ وہاں ایک قادیانی مبلغ غلام رسول رہتا تھا۔ اس سے ملنا ہوا۔ اس نے مرزائیت کی کتابیں پڑھیں تو دل میں وسوسہ پیدا ہوا کہ کہیں قادیانی جماعت سچی نہ ہو۔ دل و دماغ و عمر کے اعتبار سے نہ بالغ تھا۔ سخت پریشان ہوا، ایک رات نماز پڑھ کر سو گیا تو خواب میں مرزا قادیانی کو انتہائی مکروہ شکل میں دیکھا جو چوہڑوں سے بدتر تھا۔ میں سمجھ گیا کہ مرزائیت کی حقیقت کیا ہے۔ توبہ استغفار کی، مرزائیوں کی کتابیں واپس کیں۔ اب اللہ ربّ العزت کا فضل ہے کہ اس کائنات میں سب سے زیادہ نفرت کی چیز میرے نزدیک مرزائیت ہے۔
(ظفر اقبال۔ مجوکہ)
ظفر اللہ خان قادیانی کی عبرتناک موت
مشہور سامراجی دلال اور ملت اسلامیہ کا غدار چوہدری ظفر اللہ خان مسلسل بے ہوش ہے۔ غذائی ضرورت پوری کرنے کے لئے گلوکوز چڑھائی جارہی ہے جو جھاگ کی صورت میں منہ کے ذریعے نکل رہی ہے اور پیشاب بھی بستر پر نکل رہا ہے۔ قادیانی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم وہاں پہنچی ہوئی ہے جس نے اپنی تمام تر توانائیاں اس بات پر صرف کر دی ہیں کہ کسی طرح منہ سے غلاظت نکلنا بند ہو جائے، لیکن انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لاہور کے قادیانیوں نے اس ذلت و رسوائی سے نکالنے کے لئے خیرات کے نام دیگیں بھی چڑھائی ہیں۔ ڈاکٹروں کی ٹیم نے چوہدری صاحب کے قریبی عزیزوں اور رشتہ داروں کی ملاقات پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی کہ خطرناک مرض کی وجہ سے چھوت چھات کا اندیشہ ہے۔ چنانچہ ظفر اللہ خان قادیانی یوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گیا۔
قادیانیت کی تبلیغ پر پابندی کے باعث قادیانی جماعت کا سربراہ ملک سے باہر تھا۔ اس لئے وہ اس کے لاشہ کو دبانے کے لئے نہ آسکا۔ قدرت کی شان بے نیازی کہ جس فتنہ قادیانیت کے جنازہ کو ظفر اللہ خان لے کر ملکوں پھرا، اس کے اپنے جنازہ میں قادیانیت کا سربراہ شریک نہ ہو سکا۔ اس سے بڑھ کر ظفر اللہ خان کی اور کیا عبرتناک موت ہو سکتی ہے؟ ۔
جس زمانہ میں ظفر اللہ خان پاکستان کا وزیر خارجہ تھا، اُس زمانہ میں کراچی سے آتے ہوئے جس ٹرین میں سوار تھا، اسے حادثہ پیش آگیا مگر ظفر اللہ خان بچ گیا۔ کسی نے شاہ جی رحمۃ اللہ علیہ سے ذکر کیا کہ ظفر اللہ خان بچ گیا۔ حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ نے بے ساختہ ارشاد فرمایا کہ ”یہ مرزائیت کا انجام دیکھ کر مرے گا“ مردِ
قلندر کی بات پوری ہوئی۔ ظفراللہ خان کی زندگی میں مرزائیت رسوا ہوئی، اس برائی کے داغ سے یہ بھی رسوا ہو کر اپنے انجام کو پہنچا۔ قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید۔
پہلے شیزان کی تشہیر بڑے زور شور سے ہوا کرتی تھی۔ میرا پہلے ارادہ تھا کہ شیزان کو اپنے دوا خانے کی زینت بناؤں، لیکن ختم نبوت کے مطالعہ کے بعد شیزان کو بالکل ترک کر دیا۔ میری اہلیہ کو شیزان تحفہ میں دی گئی تھی۔ میں نے اسے بہت بُرا بھلا کہا اور شیزان کو چکھا تک نہیں۔ اس کے عوض اللہ تعالیٰ نے خواب میں دوبار روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرا دی۔
(ڈاکٹر محمد شاہد صدیقی، کراچی)
مرزائی نے مرزا قادیانی کو کتا کی شکل میں دیکھا اور مسلمان ہو گیا
سرحد کے نامور عالم دین دارالعلوم امدادالعلوم پشاور صدر کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد حسن جان صاحب فرماتے ہیں :
ایک مرتبہ تبلیغی جماعت کا ایک وفد غلطی سے قادیانیوں کے مرزاڑے میں چلا گیا۔ قادیانیوں نے جب تبلیغی جماعت کو دیکھا تو انہیں وہاں سے نکال دیا جس پر جماعت کے امیر نے قادیانیوں سے کہا کہ ہم آپ کو بالکل دعوت نہیں دیتے۔ مگر آپ لوگ ہمیں صرف تین دن یہاں قیام کرنے کی اجازت دے دیں۔ ہم اپنی نمازیں پڑھیں گے اور تمہارے کسی کام میں مخل نہ ہوں گے، جس پر قادیانیوں نے اجازت دے دی۔ جب تین دن ہو گئے تو جماعت کے امیر نے اللہ کے حضور گڑگڑانا شروع کر دیا کہ اے اللہ ! ہم سے وہ کونسا گناہ ہو گیا کہ ہمیں یہاں تین دن ہو چکے ہیں۔ ایک
آدمی بھی ہمارے ساتھ تبلیغ میں جانے کے لئے تیار نہ ہوا۔ ابھی وہ مصروف دعا تھے کہ ایک شخص آیا، جو قادیانی جماعت کا امیر تھا، اُس نے جب امیر صاحب کو روتے دیکھا تو پوچھا کہ آپ رو کیوں رہے ہیں؟
جناب امیر صاحب نے فرمایا کہ ہم اللہ کے راستے میں اس کے سچے دین کی تبلیغ کے لئے آئے اور تین دن سے یہاں قیام پذیر ہیں لیکن کوئی ایک شخص بھی ہمارے ساتھ جانے کے لئے تیار نہ ہوا، جس پر اس قادیانی نے کہا۔ یہ تو معمولی بات ہے، میں تین دن کے لئے آپ کے ساتھ جاتا ہوں لیکن میری ایک شرط ہے کہ آپ مجھے کسی قسم کی دعوت نہ دیں گے۔ چنانچہ معاہدہ ہو گیا اور وہ قادیانی ان کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ تیسری رات اُس نے ایک خواب دیکھا۔ جب صبح ہوئی تو اس قادیانی نے جماعت کے امیر صاحب سے کہا کہ آپ مجھے کلمہ پڑھائیں اور مسلمان بنائیں۔ جس پر امیر جماعت نے کہا کہ ہم معاہدہ کے پابند ہیں، ہم آپ کو کلمہ پڑھنے پر مجبور نہیں کر سکتے مگر آپ یہ بتائیں کہ یہ تبدیلی کیوں آئی ؟ اس نے کہا : میں نے خواب میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپؐ نے ایک کُتّے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تم میرے عاشقوں کے ساتھ پھرتے ہو اور اس کُتّے کو بھی مانتے ہو۔ وہ کُتّا مرزا قادیانی تھا۔ جس پر امیر جماعت نے اسے کلمہ پڑھایا اور سینے سے لگایا۔ جب اس شخص نے واپس اپنے گاؤں جا کر یہ واقعہ کچھ اور قادیانیوں کو سنایا تو وہ بھی مسلمان ہو گئے۔ یہ واقعہ مولانا حسن جان نے حضرت مولانا قاری محمد طیب سے سنا۔
○
بھارت کے شہر مونگیر میں ایک خدا رسیدہ ذاکر و شاغل شخص ماسٹر خدا بخش تھے۔ مونگیر کے حکیم فضل احمد سے ان کے تعلقات تھے، جو مرزائی ہو گئے۔ ان کے پاس مرزائیوں کا آنا جانا شروع ہو گیا۔ ماسٹر خدا بخش نے خواب میں دیکھا کہ حکیم فضل احمد مرزائی سؤر کے ریوڑ چرا رہے ہیں۔
ماسٹر خدا بخش منگیر سے ایک نکاح کے سلسلہ میں الہ آباد گئے۔ واپسی پر بانکی پور میں قیام کیا۔ رات کو خواب دیکھا۔ ایک عورت گوشت کا لوتھڑا لئے کھڑی ہے۔ پوچھنے پر عورت نے کہا کہ یہ سُؤر کے گوشت کا لوتھڑا ہے جو عبدالماجد مرزائی کے منہ پر مارنے کے لئے میں نے پکڑ رکھا ہے۔ ان دنوں اس علاقہ میں عبدالماجد مرزائی، مرزائیت کی ترویج میں سرگرم تھا۔
بھارت کے حاجی سید عبدالرحمن شاہ، جنہوں نے چار حج کئے تھے۔ عرصہ تک مدینہ طیبہ میں مجاور رہے، ان کا بیان ہے کہ مولوی نظیر احمد نے مرزا قادیانی کے ردّ میں رسالہ ”تکذیب“ تحریر کیا۔ شاہ صاحب ان کے مسودہ کو صاف کرتے تھے۔ ایک رات انہوں نے اپنے والد ماجد کو خواب میں دیکھا، وہ بہت غصّے سے اپنے بیٹے سید عبدالرحمن سے کہتے ہیں کہ تم نے تصویر بنانا کس سے سیکھ لیا۔ سید عبدالرحمن نے عرض کی کہ ہم نے تو کبھی کسی جاندار کی تصویر نہیں بنائی، کیونکہ یہ گناہ ہے۔ اُنہوں نے کتاب کھول کر دکھائی۔ سید عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جب میں نے دیکھا کہ کتاب میں جہاں کہیں مرزا قادیانی لکھا تھا وہاں پر سُؤر کی شکل بنی تھی۔ اُنہوں نے ورق اُلٹنے شروع کئے، جہاں جہاں مرزا کا نام تھا وہاں پر سُؤر کی تصویر اُبھر آئی تھی۔ گھبرا کر اُٹھ بیٹھے اور استغفار میں مصروف ہو گئے۔ مرزا قادیانی پر لعنت بھیجی تب کہیں جا کر طبیعت سنبھلی۔
بھارت کے صوبہ بہار کے حکیم محمد حسین نے مرزا محمود کو چیلنج دیا کہ احادیث ونصوص کے اعتبار سے انبیاء علیہم السلام کے اجسام مبارکہ اپنی قبور میں محفوظ ہیں تم مرزا قادیانی کی قبر کھولو، اگر اس کا جسم محفوظ ہو تو مان لوں گا، اس پر مرزائیوں پر اوس پڑ گئی۔ ندامت کے مارے تووں کی طرح ان کے چہرے بھی سیاہ ہو گئے۔
حکیم صاحب نے خواب دیکھا کہ مرزا قادیانی قبر میں ہے۔ فرشتے سوال کرتے ہیں انتہائی مکروہ قسم کی آئیں بائیں شائیں کرتا ہے۔ دوسری طرف اس کی قبر میں شیطان کھڑا کہہ رہا ہے کہ مرزا صاحب آپ نے میرے مشن کا خوب کام کیا، خلق خدا کو گمراہ کرنے میں خوب ہاتھ بٹایا مگر میں آپ کی قبر میں کوئی مدد نہیں کرسکتا، مگر قیامت کے دن تمام ذریت (شیطان) میں تمہیں بلند مقام حاصل ہوگا۔ اس لئے کہ میں صرف شیطان تھا تو سیدالشیطان ہے۔
چنیوٹ کے سید عبدالغفار کا بیان ہے کہ مرزائیوں کے پاس کام کرتا تھا، میں بھی مرزائی ہوگیا۔ ایک بزرگ خواب میں دکھائی دیئے۔ انہوں نے کہا کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا۔ قادیانی بن کر کیوں اپنی عاقبت خراب کر رہے ہو۔ بیدار ہوا تو مرزائیوں کو یہ خواب سنایا۔ انہوں نے یہ تاویل کی کہ جب تک تم مرزا قادیانی کو نہیں مانتے تھے تمہیں خواب میں بزرگ نظر نہ آتے تھے۔ مرزا قادیانی کی برکت سے اب خواب میں تمہیں بزرگ نظر آتے ہیں قسمت کی مار کہ یہ تاویل پر مطمئن ہوگئے، حالانکہ بزرگ نے خواب میں مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کا فیصلہ دیا تھا مگر یہ اسے بھی پی گئے۔
کچھ عرصہ بعد وہی بزرگ پھر خواب میں نظر آئے۔ انہوں نے سید عبدالغفار سے کہا کہ وہ دیکھو۔ دیکھا کہ ایک شخص ریچھ کی شکل میں، مکروہ صورت جسے دیکھ کر طبیعت الجھنے لگی۔ پابہ زنجیر جکڑا ہوا ہے۔ دو شخص اس پر کوڑوں کی بارش برسا رہے ہیں۔ گلے میں آگ کا سُرخ طوق ہے۔ یہ دیکھ کر سید عبدالغفار دوڑ کر اس بزرگ کے پاس گیا۔ ماجرا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ شخص ریچھ کی شکل والا مرزا قادیانی ہے، اس پر عذاب کے فرشتے مسلط ہیں، جہنم کا طوق گلے میں ہے، پابہ زنجیر ہے، تم نے اس کو نہ چھوڑا تو تمہارا بھی یہی حال ہوگا۔ سید عبدالغفار کی گھبراہٹ میں آنکھ کھل گئی۔ مرزا پر لعنت بھیجی، مرزائیت
سے توبہ کی اور جاکر مولانا سید محمد علی مونگیری کے ہاں گیا۔ اُن کو پہلی نظر دیکھا تو حیران رہ گیا کہ یہی بزرگ مجھے خواب میں نظر آئے تھے۔ چنانچہ آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، بیعت کی اور مسلمان ہو گیا۔
سراج الدین نے ہی خواب میں دیکھا کہ میں قادیان میں مرزا کی قبر پر فاتحہ کے لئے بہشتی مقبرہ گیا تو اس قبر پر تختی نظر آئی۔ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِيْنَ اَبَدًا، اور ساتھ ہی مرزا کی قبر پر چھچھوندر اور گدھ کی شکل میں جانور نظر آئے ۔ لرزاں ترساں خواب سے بیدار ہوئے ، قدرتِ حق نے مدد کی اور مسلمان ہوگئے۔
اخبار اہلحدیث امرتسر نے اپنے ایک عزیز جیون خان تلونڈی موسیٰ خان ضلع سیالکوٹ کا ایک واقعہ بیان کیا کہ وہ قادیانی ہو گئے ۔ ایک رات خواب دیکھا کہ لوگ مکہ مکرمہ جارہے ہیں ، یہ بھی ان کے ساتھ ہے۔ حرم کعبہ میں نماز شروع ہوئی ۔ جیون خان مرزائی نے بھی بیت اللہ کی طرف رُخ کیا تو ایک قوی ہیکل انسان نے ان کی گردن دبوچی، خوب بے تحاشا مارا ، دائیں بائیں کی پسلیاں توڑ دیں ۔ جیون خان نے پوچھا کہ یہ کیوں، اس آدمی نے کہا کہ تو مرزائی ہے تمہارا کعبہ سے کیا تعلق، تم مرزا کو مانتے ہو اُس کے گھر کا رُخ کرو، خدا کے گھر سے تمہارا کیا تعلق ہے۔ جیون خان نے خواب میں ہی زور زور سے واویلا شروع کر دیا۔ گھر کے محلے کے لوگ جمع ہو گئے کہ اس کو کیا ہو گیا ہے۔ اس نے آنکھ کھولی تو وہی گھبراہٹ کا عالم طاری ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ کیا ہوا۔ اُس نے کہا کہ پہلے میرے جسم کو دباؤ، میرا جوڑ جوڑ دُکھ رہا ہے ، تسلی ہوگی تو بتاؤں گا ۔ لوگوں نے دبانا شروع کیا، طبیعت بحال ہوئی تو خواب بیان کیا ۔ مرزا قادیانی پر لعنت بھیجی اور مسلمان ہوگیا۔
میں محکمہ پی ۔ ڈبلیو ۔ پی ملازم ہوں، میرے ساتھ ایک مرزائی بھی کام کرتا تھا۔ اس مرزائی سے ایک دن کوئی وہابی ملنے آیا۔ مرزائی نے اسے تبلیغ شروع کر دی۔ میں نے مرزائی کو ڈانٹ ڈپٹ کی کہ سرکاری ملازمت کے دوران تمہیں اپنی تبلیغ کا کیا حق ہے ؟ وہ یہ سن کر خاموش ہو گیا۔ دن گزر گیا ۔ میں رات کو عشاء کی نماز پڑھ کر سو گیا۔ خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی لمبی یعنی حد سے زیادہ لمبی اور پتلی داڑھی والا مجھے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش نبی پیغمبر بھیجے اور میں نے ایک ہی بھیجا ہے اور تم اس کے آدمی کو بھی تنگ کرتے ہو۔ میں نے پوچھا، کون ؟ کیا مرزا قادیانی ؟۔ اُس نے کہا۔ ہاں۔ میں نے کہا کہ مرزا قادیانی کو تو دکھاؤ۔ اُس نے کہا، دیکھنا چاہتے ہو تو آؤ میرے ساتھ۔ آگے آگے لمبی داڑھی والا آدمی پیچھے پیچھے میں۔ مجھے ایک چھوٹے سے کمرے میں لے جاتا ہے۔ کمرے کی دیوار میں ایک بڑا سا سوراخ ، جیسے درمیانے سائز کا روشندان ہوتا ہے، وہاں پر ایک چھوٹے سائز کا کتا بالوں والا کھڑا ہے اور آنکھوں سے پانی نکل رہا ہے یعنی جیسے روتے ہوئے آنسو گرتے ہیں۔ میں نے اس شخص سے پوچھا، کہاں ہے مرزا قادیانی ؟ اس نے کہا سوراخ میں دیکھو۔ میں نے کہا، یہ تو کتا ہے۔ اس نے جواب دیا، یہی تو مرزا قادیانی ہے! اسی وقت توبہ استغفار کرتے ہوئے اُٹھ بیٹھا۔
( محمد صدیق )
جناب عبدالسلام دہلوی کلکتہ کے بیان کرتے ہیں کہ مجھے مرزائی بنانے کے لئے قادیانیوں نے بڑا زور لگایا۔ ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ مجھے قادیان جانا چاہیئے ۔ کہ ہمت باندھی اور قادیان کے لئے روانہ ہو گیا۔ قادیان پہنچتے ہی مجھے مہمان خانہ میں ٹھہرایا گیا، خوب خاطر مدارت کی گئی اور مرزا محمود سے میری ملاقات بھی کرائی گئی لیکن دل مطمئن نہیں تھا۔ آخر دوسرے یا تیسرے روز میں بعد نماز عصر سیر کرنے نکلا۔ خیال آیا کیوں نہ ان کے ”بہشتی مقبرے“ کی، جہاں ان کا نام نہاد نبی مرزا غلام احمد دفن ہے، سیر کروں ۔
میں مقبرے کی طرف چل دیا اور جب بہشتی مقبرے میں داخل ہوا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہاں تین چار کتے آپس میں کھیل کود کر رہے تھے اور ایک کتا ایک قبر پر ٹانگ اُٹھائے پیشاب کر رہا تھا۔ میں نے جب اس قبر کا کتبہ پڑھا تو وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی قبر تھی۔ اس واقعہ کو دیکھ کر میری آنکھیں کھل گئیں اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ کسی نبی یا مسیح یا مہدی کی قبر نہیں ہو سکتی بلکہ یہ کسی کذاب ہی کی قبر ہو سکتی ہے۔ میں نے فوراً استغفار پڑھا اور دبے پاؤں واپس آگیا۔ وہ رات میں نے قادیان میں آنکھوں میں بسر کی اور صبح اپنی جان اور ایمان بچا کر واپس آگیا۔
◯
ضلع خوشاب میں قصبہ روڑہ ایک مشہور قصبہ ہے۔ وہاں قلیل سی تعداد مرزائیوں کی بھی ہے۔ یہاں ایک شخص ”امیر“ کے بنک میں لاکھوں روپے جمع تھے۔ بنکوں میں زکوٰۃ کی کٹوتی شروع ہوئی تو اسے احساس ہوا کہ میرے لاکھوں روپے کی زکوٰۃ بھی ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ وہ زکوٰۃ ادا کرنا نہیں چاہتا تھا۔ کسی قادیانی نے اسے مشورہ دیا کہ تم یہ لکھ کر دے دو کہ میں ”احمدی“ یعنی قادیانی ہوں اور قادیانیوں پر زکوٰۃ کی کٹوتی کا قانون لاگو نہیں ہوتا، اس طرح کرنے سے تمہاری رقم بچ جائے گی۔ چنانچہ اس شخص نے تحریر لکھ کر بنک کے حوالے کر دی اور اس میں لکھ دیا کہ میں ”احمدی“ یعنی قادیانی ہوں۔ ایسا لکھ کر دینے سے بنک والوں نے زکوٰۃ کی رقم نہ کاٹی۔ ابھی اس واقعہ کو چند ہی دن گزرے تھے کہ فرشتۂ اجل نے آ دبوچا اور وہ اس جہان سے رخصت ہو گیا۔ مسلمانوں نے نہ اس کے جنازے میں شرکت کی اور نہ ہی اپنے قبرستان میں دفن ہونے دیا۔ اس طرح اس شخص نے اپنی دولت بچانے کے لئے ایمان کا سودا کیا۔ ایمان بھی گیا اور جان بھی گئی۔
◯
جنوری، فروری ۱۹۵۳ء کی بات ہے کہ مال روڈ کمرشل بلڈنگ کے باغات میں خندقیں بننا
شروع ہوئیں تو لاہور میں مرزائیوں نے یہ بات عام کر دی کہ انڈیا حملہ کرنے والا ہے، اس لیے یہ خندقیں بنائی جا رہی ہیں۔ میری عمر اس وقت تقریباً ۱۳ سال تھی۔ ہم سب بچوں نے ان خندقوں میں کھیلنا شروع کر دیا۔ ہمیں انجام کی بالکل خبر نہ تھی کہ یہ مورچے شہیدانِ ختم نبوت کا لہو بہانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ دراصل اس وقت کی حکومت اور ظفراللہ قادیانی کا بنایا ہوا تھا۔ اس کے پسِ پردہ جو ہاتھ کام کر رہے تھے وہ سب کے سب مرزا قادیانی ملعون کی ذریت کے تھے۔ کبھی کبھار ہمارے کسی بزرگ کی زبانی حضرت امیر شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا نام سننے میں آتا تھا۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے (آمین) غالباً مارچ، اپریل کا مہینہ ہوگا کہ خندقوں کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔ پاکستان کے جیالے جوانوں نے ختم نبوت کے پروانوں کو اب جو گولیوں کے برسٹ مارے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس گنہ گار نے شہیدانِ ختم نبوت لاہور کے خون کے فوارے اپنی آنکھوں سے بہتے دیکھے۔ یہاں تین صفوں کے نوجوان، جو کسی طرح بھی ہٹنے کو تیار نہ تھے، انہیں اپنے سینے پر گولیاں کھاتے اور خون میں لت پت تڑپتے ہوئے اس ناچیز نے دیکھا اب جو ایک قطار گرتی تھی تو کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے، دوسری قطار شہید ہونے کے لئے آگے بڑھتی تھی۔ جب یکے بعد دیگرے تین قطاریں گریں تو میرے حواس گم ہوگئے۔ میں بچہ ہونے کی وجہ سے گھبرا گیا اور بھاگتا ہوا کمرشل بلڈنگ کے پیچھے والی گلی میں بھاگا اور اس کے بعد ایک مکان پر چڑھ کر وہ منظر میں نے دوبارہ دیکھا جوکہ دیکھا نہیں جاتا تھا، کیونکہ میں جس مکان پر چڑھا تھا، اس مکان کی عورتیں زار و قطار رو رہی تھیں اور مرزا قادیانی مردود کو کوسنے اور گالیاں دے رہی تھیں۔ لوگ تھے کہ اللہ کی راہ میں جان بڑھ چڑھ کر دے رہے تھے۔ شہیدانِ ختم نبوت کے لہو سے مال روڈ کا وہ حصہ جو میرے سامنے تھا، لال ہوگیا اور شہیدوں کی قطاروں کی قطاریں گرم جلتی ہوئی سڑکوں پر جنت میں جانے کے لیے بے قرار تھیں اور ان کے جلتے جسم سڑک پر تڑپ رہے تھے۔ پھر کچھ
دینے کے بعد ان کے جسم بالکل پُرسکون ہو کر سو گئے۔ اللہ جل شانہ، ایسی کھلی شہادت ہر مومن کو نصیب فرمائے۔
○
چک نمبر ۵۶ کا اسلم نامی مرزائی ایک دن جناب منیر احمد صاحب ننکانہ صاحب کی دکان واقع غلہ منڈی پر آیا۔ منیر احمد صاحب اسے پہچانتے تھے کہ قادیانی ہے کیونکہ اس سے پیشتر یہ ہی قادیانی کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر اسی دکان پر آیا تھا تو منیر احمد صاحب اور ان کے ساتھیوں نے اسلم نامی قادیانی کی جوتوں سے مرمت کی تھی اور وہ معافی مانگ کر رہا ہوا تھا۔ اس مرتبہ منیر صاحب نے اسے دعوتِ اسلام دی تو کہنے لگا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا نام قرآن مجید کی سورۃ الجمعہ میں آیا ہے۔ منیر احمد صاحب نے کہا کہ آؤ مسجد میں چلتے ہیں اور قرآن مجید میں مرزا غلام احمد قادیانی لعنتی کا نام دکھاؤ۔ قادیانی چل پڑا۔ راستے میں اُس نے جان چھڑانے کی کوشش کی تو منیر احمد صاحب قرآن مجید خود لے آئے۔ اسی اثناء میں جناب شیخ محمد علی بھی آگئے۔ انہوں نے کہا کہ دکھاؤ کہاں مرزا قادیانی کا نام ہے۔ منیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ جونہی اس قادیانی نے قرآن مجید کی طرف دیکھا، وہ اندھا ہو گیا، اُسے کوئی لفظ دکھائی نہ دیتا تھا حتیٰ کہ اُسے نظر کی عینک دی گئی، اس کے باوجود اسے نظر نہ آیا۔ اسی اثناء میں وہ بھاگ کھڑا ہوا۔
○
سورینام سے مولانا رفیق احمد صاحب لکھتے ہیں : میں اس وقت قادیانی ٹولہ سے زبردست مقابلہ کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نو سال کے عرصہ میں لوگ کافی تعداد میں راہ راست پر آ گئے ہیں۔ حال ہی میں ایک ڈاکٹر ایک سو ایک آدمی کے ساتھ میرے ہاتھ پر توبہ کر کے اسلام میں داخل ہو گیا ہے اور قادیانی ٹولہ سے مکمل برأت
ظاہر کر چکا ہے۔ آپ کی دعاؤں کی خاص ضرورت ہے۔ میں ہندوستان کا گجراتی ہوں ۔ انشاء اللہ حق یہاں پر بھی غالب ہو رہا ہے۔ دونوں قادیانی گروپ اس وقت بہت مذبذب ہیں۔ آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ خاص کر مولانا خان محمد شیخ المشائخ سے خاص دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں ۔
ہمارے گاؤں بھوتہ ضلع گجرات کے حافظ صاحب، جو اب حافظ قرآن ہو چکے ہیں اور ان کے سب عزیز و اقارب اور ان کا والد اب بھی قادیانی ہے، اُس نے خواب دیکھا کہ اس کا مرزائی دادا آگ میں جل رہا ہے اور خوب چلا رہا ہے اور اپنے پوتے (حافظ صاحب) کو نصیحت کرتا ہے کہ خدا کے واسطے اپنے باپ یعنی میرے بیٹے کو کہو کہ وہ قادیانیت سے توبہ کر لے اور دائرہ اسلام میں داخل ہو جائے، ورنہ اس کا بھی میری طرح حال ہوگا ۔
یہ خواب اُسے تین دن تک آتا رہا ۔ پھر اُس نے ایک دوسرے دوست کو بتایا کہ مجھے مسلسل یہ خواب آ رہا ہے ، وہ میری مدد کرے، لیکن یہ خواب اُس نے جب اپنے والد کو بتایا تو اُس نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ میں اس کی تعبیر پوچھوں گا ۔ بالآخر وہ نابینا شخص مسلمان ہو گیا اور اس کے بعد ہی اُس نے قرآن پاک بھی حفظ کر لیا ۔ اللہ تعالیٰ استقامت عطا فرمائے ، آمین ۔
(جاوید اختر رضوی)
رمضان گجرات کا رہنے والا ہے ۔ اس نے اب سیالکوٹ میں قیام کیا ہوا ہے۔ اُس نے اپنی زبانی ہمیں بتایا ہے کہ سیالکوٹ میں ایک بہت بڑا گستاخ قادیانی رہتا تھا اور اس کا کاروبار بھی بہت زیادہ تھا۔ میں اکثر قبروں کی کھدائی کیا کرتا تھا۔ ایک دن کچھ قادیانی میرے پاس آئے اور مجھے ایک قبر کھودنے کو کہا ۔ مجھے پہلے پتہ نہیں تھا کہ قادیانی کیا
ہوتے ہیں۔ میں نے اس گستاخ کی قبر کھودی لیکن وہ جب اس قادیانی کو دفنانے لگے تو میں نے اور سب جنازے والوں نے دیکھا کہ قبر میں سانپ ہی سانپ ہوتے جارہے ہیں، اور یکا یک آندھی بھی آگئی اور قبر میں آگ کے شعلے بلند ہونے لگے۔ میں یہ سب کچھ دیکھ کر حیران ہونے لگا اور وہ مرزائی استغفار پڑھنے لگے۔ پھر جب دوسری جگہ قبر کھودی تو وہ بھی قبر گونجنے لگی اور اس قبر میں بھی ڈراؤنی آوازیں آنے لگیں۔ میں یہ سب ماجرا دیکھ کر قبرستان سے بھاگ آیا اور وہ قادیانی بھی آہستہ آہستہ کھسکنے لگے اور اس قادیانی کے بیٹوں کا حال دیکھو وہ بھی بھاگ آئے۔ اس گستاخ کی میت کے پاس اب کوئی نہیں تھا اور نہ ہی کسی کی جرات پڑتی تھی کہ وہ میت کے قریب جائے تین دن تک اُس کی میت قبرستان میں ہی پڑی رہی اور چوتھے دن اس کی میت کو مٹی ڈال کر دبا دیا گیا۔
(محمد فاروق شہزاد ۔ ننکانہ صاحب)
جناب نسیم جان صاحب ایبٹ آباد میں ختم نبوت کے مجاہد کارکن ہیں، وہ بیان کرتے ہیں، ابتداً ختم نبوت کا کام شروع کیا تو ایک رات خواب میں دیکھا کہ میں اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ راستے کے بائیں جانب جارہا ہوں۔ ایک انتہائی خوبصورت روحانی بزرگ تشریف لائے اور نہایت شفقت سے فرمانے لگے کہ بائیں راستہ سے فوراً ہٹ کر دائیں طرف چلو۔ بزرگ خود بھی دائیں طرف چل رہے تھے۔ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دائیں طرف اُن کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ میں نے کسی سے دریافت کیا کہ یہ حضرت کون ہیں؟ میرے پوچھنے پر انہوں نے فرمایا کہ یہ ہمارے آقا و مولا سید المرسلین رحمۃ العالمین، خاتم النبیین محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ صبح میں اُٹھا تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ اُس دن سے میں نے مجلس تحفظ ختم نبوت میں شمولیت کر لی ہے اور دن رات اس کام کے لئے مصروف ہوں اور اللہ تعالیٰ کی نوازشات ہمہ وقت مجھ پر نچھاور
ہوتی رہتی ہیں اور یہ صرف ختم نبوت کے کام کی برکت کا ہی نتیجہ ہے۔
مردان کے قادیانیوں نے امتناع قادیانیت آرڈینینس کے نفاذ کے بعد محض مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے اعلان کر دیا کہ ہم عیدالاضحیٰ اجتماعی طور پر ادا کر کے میدان میں اجتماعی طور پر اپنے جانور ذبح کریں گے ۔ ان کا ایسا کرنا محض مسلمانوں کو یہ باور کرانا تھا کہ قانون ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ہم مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے طور طریق پر اپنا اجتماعی عمل کریں گے ۔ مسلمانوں نے حکومتی اداروں کو اطلاع دی۔ شہر میں اشتعال پھیلا کہ مرزائی مسلح ہو کر اپنی عبادت گاہ میں جمع ہو گئے۔ پولیس پہرہ دار بن گئی۔ ادھر مسلمانوں کا اجتماع نعرے لگا رہا تھا۔ قادیانیوں میں ایک فوجی افسر تھا ، اس نے نہایت ہی فرعونیت سے سپیکر پر مسلمانوں کو کوسنا شروع کیا۔ نتیجۃً پولیس تمام مرزائیوں کو گاڑیوں میں بٹھا کر محفوظ مقام پر لے گئی مسلمانوں میں قادیانیوں کی خباثت کا شدید ردِ عمل تھا۔ مرزائیوں کی اشتعال انگیزی سے مسلمانوں کے ایمانی جذبے اور پٹھانوں کی روایتی غیرت کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ پولیس کی موجودگی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بھی ایک دم مسلمان، جو بالکل نہتے تھے، کسی کے پاس اسلحہ تو درکنار لاٹھی تک بھی نہ تھی ، خالی ہاتھوں قادیانی معبد پر اچانک ہلہ بول بیٹھے، پولیس کی زبردست مزاحمت اور لاٹھی چارج بھی مسلمانوں کے راستے میں بے کار ثابت ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے خالی ہاتھوں سے مسلمانوں نے قادیانی عبادت گاہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اس پختہ عمارت کو زمین بوس کر دیا۔ اب مجمع کی تعداد ہزاروں سے تجاوز کر گئی تھی۔ اس میں بچے، بوڑھے ، جوان سب ہی شامل تھے ، سب کا جذبہ ایک ہی تھا کہ پاکستان کی پاک سرزمین سے کفر و ارتداد کے ان اڈوں کو ختم کیا جائے۔ یہ ختم نبوت کا معجزہ تھا کہ اتنی بڑی عمارت کے گرنے کے باوجود کسی مسلمان پر نہ تو کوئی ملبہ گرا اور نہ کوئی
لوہے کی سلاخ وغیرہ مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچا سکی۔ بعض افراد اور بچوں کی زبانی معلوم ہوا کہ پولیس کی لاٹھی ہمیں یوں معلوم ہوتی تھی جیسے گلاب کے پھول کی مار۔ یہ بھی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا پندرہ سو سال بعد معجزہ تھا کہ اس واقعہ کے دوران بھڑوں، زنبوروں کا ایک بہت بڑا غول مرزائی معبد کے انہدام کے موقع پر مسلمانوں کے سروں پر ہزاروں کی تعداد میں منڈلاتا رہا لیکن کسی ایک مسلمان کو بھی اُنہوں نے کاٹا تک نہیں۔ ابرہہ کے ہاتھیوں کی تباہی کا قصہ قرآن حکیم اور ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق تو معلوم تھا کہ ابابیلوں نے ہاتھیوں اور اُن کے سواروں کی فوج کو تباہ کیا تھا لیکن آج بھڑوں کی اس فوج سے اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے ختم نبوت کے پروانوں کی حفاظت کا کام لیا۔ بھڑوں کے اس عظیم لشکر کو دیکھ کر پولیس والے بھی مسلمانوں پر لاٹھی چارج کرنے سے گھبرانے لگے۔ ایک پولیس والے سے جب ہمارے نمائندے نے اس واقعہ کے متعلق دریافت کیا تو اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اُس نے قسمیہ کہا کہ جب میں نے لاٹھی ہوا میں لہرائی اور قریب تھا کہ وہ کسی مسلمان کی پیٹھ یا سر پر پڑتی میرے کانوں میں ان ہزاروں بھڑوں کی بھنبھناہٹ نے میرے اوسان خطا کر دیئے اور خود بخود لاٹھی میرے ہاتھ سے گر گئی۔
مُلاّ محمد بخش کی مزیدار ترکیب
جس سے مرزا قادیانی کا عشق خواب ہو گیا
محمدی بیگم مشہور عالم مسلمان خاتون تھیں۔ مرزا قادیانی نے اس سے نکاح کے لئے اس کے باپ احمد بیگ کو راضی کرنا چاہا۔ خواب الہام، دھونس، دھاندلی، دنیاوی لالچ، عذاب
کے ڈراؤنے دعاوی کئے مگر احمد بیگ نے اپنی دختر نیک اختر کا اپنے عزیز مرزا سلطان بیگ سے نکاح کر دیا۔ مرزا قادیانی زمانے کا ایسا ڈھیٹ انسان تھا کہ اس نے پیشین گوئی کردی کہ محمدی بیگم سے آسمانوں پر میرا نکاح ہوا ہے ، لہٰذا وہ عنقریب مجھ سے بیاہی جائے گی۔ اُس زمانہ میں لاہور سے ہفتہ وار اخبار ” ٹلی “ ملا محمد بخش کی ادارت میں شائع ہوتا تھا۔ ملا محمد بخش نے بھی اخبار میں اپنا ایک لمبا چوڑا خواب بیان کرکے اعلان کر دیا کہ آسمانوں پر میرا نکاح مرزا قادیانی کی بیوی نصرت جہاں سے ہو گیا ہے ، اس لئے وہ بھی عنقریب مجھ سے بیاہی جائے گی۔ اس پر مرزا قادیانی کو بڑا غصہ آیا۔ تحفہ گولڑویہ ص ۱۰۷ ، ۱۰ پر مولانا محمد حسین بٹالوی اور ملا محمد بخش کے خلاف خوب اپنے دل کا غبار نکالا ، مگر ملا محمد بخش کی اس مزیدار ترکیب سے مرزا قادیانی کے عشق کا بھوت ہوا ہو گیا اور مرزا قادیانی کو لینے کے دینے پڑ گئے۔
مرزائیوں میں بددیانتی کی انتہا
راقم الحروف ایک زمانہ میں شامتِ اعمال سے قادیانیت کے جال میں پھنس گیا تھا اور اپنی اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر ربوہ میں احمدیہ بک ڈپو کا انچارج لگ گیا۔ میرے دماغ میں ربوہ کا بڑا مقدس تصور تھا۔ میں نے وہاں کے دفتروں میں ایسی ہیرا پھیری اور بدکرداری دیکھی کہ خدا کی پناہ۔ بکڈپو کا ڈائریکٹر نور الحق منیر نہایت بددیانت تھا۔ کتابوں کی اشاعت و فروخت میں بہت مال غبن کر جاتا تھا۔ حساب کتاب میں بڑی گڑ بڑ تھی میں نے جب آنجہانی خلیفہ ثالث کو رپورٹ کی تو اُلٹے لینے کے دینے پڑ گئے۔ نور الحق منیر خلیفہ کے منہ چڑھا ہوا تھا، اُس نے مجھے ہی ربوہ سے نکلوا دیا۔ خیر اس میں اللہ کی مصلحت تھی کہ اس منحوس جال سے پیچھا چھوٹا۔
(محمد اسمعیل بھاگلپوری ۔ کراچی)
ایک خواب جو حقیقت بن گیا
میں پانچوں وقت باجماعت نماز ادا کرتا تھا۔ دینی مزاج تھا۔ ایک رات خواب دیکھا کہ آسمانی بجلی مجھ پر گری ہے اور اُس نے مجھے ہلاک کر دیا ہے۔ اس خواب سے بہت گھبرایا۔ طبیعت اچاٹ رہتی تھی۔ ملتان قلعہ قاسم باغ پر حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر گیا۔ ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی، خواب سنایا۔ اُنہوں نے اس خواب کی تعبیر یہ کی کہ عنقریب تمہارا کسی بے دین گروہ سے تعلق قائم ہوگا۔ نماز و نیکی اور یہ خواب سب بھول جاؤ گے۔ اللہ کی شانِ قدرت پر قربان جائیں کہ ایسے ہوا کہ کچھ عرصہ بعد میرے مرزائیوں سے تعلقات قائم ہو گئے۔ نماز چھوٹ گئی نیکی کا خیال نہ رہا اور اس دلدل میں پھنستا چلا گیا۔ ان بے دینوں کی مجلس کی مجھ پر یہ نحوست پڑی کہ اپنا خواب بھی بھول گیا۔ مرزائیوں سے میرے تقریباً دو سال یہ تعلقات رہے۔ میری بے دینی انتہا کو پہنچ گئی۔ خداوند کریم کا لاکھوں لاکھ فضل ہے کہ ایک موڑ ایسا آیا کہ مجھے واپس لوٹنے کی توفیق ہوئی۔ خواب اور اس کی تعبیر یاد آئی تو چکرا گیا۔ توبہ استغفار کی۔ اب اللہ کا فضل ہے کہ صبح و شام ختم نبوت کے مقدس مشن کے لئے کام کر رہا ہوں۔ مرزائیوں سے علاقہ میں بائیکاٹ کر دیا ہوا ہے، نماز، روزہ کی پابندی کی توفیق ملی ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے استقامت نصیب فرمائے۔ ختم نبوت کا کام کر کے اتنا سکون ملا ہے جتنا بچے کو ماں کی گود میں ملتا ہے ۔
( شاہد تبسم سیالکوٹی )
روزنامہ جنگ کے جناب جاوید جمال ڈسکوی صاحب نے اپنے ایک دوست، جو میڈیکل کالج میں پڑھتے ہیں، کا ایک واقعہ بیان کیا کہ ان کے دوست ایک رات خواب میں دیکھتے ہیں کہ ایک بزرگ شخص آتے ہیں اور ان کو بہت غصّہ کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے
کہتے ہیں ”تم گستاخ رسولؐ ہو“ وہ پریشان ہو کر اُٹھ بیٹھے اور بہت توبہ کی اور نماز وغیرہ ادا کی (اب تک وہ نماز کی پابندی نہیں کرتے تھے، اب پابندی سے نماز شروع کی)
دوسری رات پھر وہی خواب دیکھا کہ وہی بزرگ تشریف لائے اور بہت ہی غصّہ سے کہا، تم گستاخ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہو۔
وہ پھر بہت پریشان ہوئے اور اپنے اعمال کی طرف نگاہ شروع کی، لیکن کوئی بات محسوس نہ ہوئی۔ بہر حال اب نماز مسجد میں جماعت سے شروع کی اور تمام فضول حرکتیں ختم کیں۔
تیسری رات پھر خواب دیکھا اور وہی بزرگ تشریف لائے اور کہا کہ تم گستاخ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہو۔
اب تو بہت پریشان ہوئے بہت سوچ و بچار شروع کی کہ میرا کونسا عمل ایسا ہے جس پر تنبیہ ہو رہی ہے۔ اچانک خیال آیا کہ میرے ہوسٹل کے کمرہ میں کچھ دنوں سے ایک دوست میرے ساتھ رہ رہا ہے اور وہ قادیانی ہے، غالباً اس کو ساتھ رکھنے کی وجہ سے یہ تنبیہ ہو رہی ہے۔ فوراً اس کو اپنے کمرے سے چلتا کیا، کیونکہ وہ بغیر اجازت میری مروت کی وجہ سے رہ رہا تھا۔
رات کو پھر خواب دیکھا کہ یہ بزرگ تشریف لائے اور بہت ہی خوش دکھائی دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ تم نے بہت اچھا کیا ۔
مرزا طاہر صاحب، اس خواب کے بعد الحمد للہ ہمیں تو کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت فرمائے۔ اگر آپ کی اور آپ کی ذرّیت کو ہدایت مقصود ہو تو اللہ تعالیٰ آپ کے حق میں ایسا فیصلہ فرمائیں جو اُمّتِ مسلمہ کے لئے فلاح و کامیابی کا باعث ہو اور انشاء اللہ آپ کے طریق کار کے مطابق بھی حق واضح ہوگا اور آپ کو بھی اپنے دادا
کی طرح ذلّت کی موت نصیب ہوگی۔
فجی آئرلینڈ میں میں نے ایک قادیانی جوڑے کو مسلمان کر کے ان کا نکاح دوبارہ پڑھایا پانچ سال قبل قادیانیوں نے ان کا نکاح پڑھایا تھا۔ پانچ سال سے ان کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی، جب وہ مرزائے قادیان پر لعنت بھیج کر اور توبہ کر کے اسلام میں داخل ہوئے تو اللہ نے ایک سال ہی میں اس جوڑے کو چاند سا بیٹا عطا فرما دیا۔
(محمد عبدالرحمن خطیب و ٹیچر فجی آئرلینڈ)
آگ کی برسات
روڑہ ضلع خوشاب کا قادیانی
ایک قادیانی مسمی حاجی ولد موندا یہ شخص بڑا بدزبان تھا، گالیاں بکتا تھا۔ گلی کوچوں میں بیٹھ کر اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اُڑایا کرتا تھا۔ شعائر اللہ کی توہین اس کا عام شیوہ تھا۔ کچھ سال پہلے جبکہ مرزائیوں کے حج کے ایام میں سعودی عرب جانے کی پابندی نہ تھی۔ وہ وہاں گیا۔ اس کے ساتھ جو لوگ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ شخص وہاں بھی اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ میں تو صرف سیر کے لئے آیا ہوں، اصلی حج تو ربوہ میں ہوتا ہے۔
یہی شخص کچھ عرصہ پہلے مرا تو اس کی موت پر جو منظر دیکھنے میں آیا وہ بڑا خوفناک تھا۔ مجھے وہاں کے دوستوں نے جو اس منظر کے چشم دید گواہ ہیں، بتایا کہ مرزائی اسے اپنے رسم و رواج کے مطابق اپنے الگ قبرستان میں دبا کر آگئے۔ مغرب کے بعد رات
کا اندھیرا قدرے گہرا ہونا شروع ہوا تو کیا دیکھتے ہیں کہ آگ کا سرخ گولہ اس جگہ آکر گرا جہاں اس کو دبایا گیا تھا اور پھر تو پے در پے آگ کے گولے برسنے شروع ہو گئے ، راہگیروں نے اس جگہ کے ساتھ گزرنے والا راستہ چھوڑ دیا اور شہر کے ساتھ واقع بس سٹاپ جہاں رات گئے تک چہل پہل اور گہما گہمی رہتی ہے ، وہاں سب کام ٹھپ ہو گیا اور لوگوں نے ریت کے ٹیلے پر کھڑے ہو کر یہ منظر دیکھا ۔ یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہا اور پھر خود بخود بند ہو گیا ۔
نیروبی میں قادیانیوں کی ایک مسجد ہے ، وہی ان کا مرکز ہے ۔ کینیا کے بعض دوسرے شہروں میں بھی ان کے مراکز ہیں جہاں سے یہ لوگ افریقی عوام میں کام کرتے ہیں اور مقامی زبانوں میں اپنا لٹریچر تقسیم کرتے ہیں ۔ بعض دوستوں نے سنایا کہ قادیانیوں کی طرف سے ایک کتابچہ شائع ہوا ۔ اس کے سرورق پر اُنہوں نے مرزا صاحب کی تصویر بھی چھاپ دی ۔ ایک قادیانی نے جب مرزا صاحب کی تصویر دیکھی تو متنفر ہو کر کہنے لگا کہ یہ پیغمبر کی شکل نہیں ہو سکتی اور قادیانیت سے توبہ کر کے مسلمان ہو گیا ۔
پھگلہ میں مباہلہ اور مرزائیوں کا انجام
آپ مانسہرہ سے اگر بالا کوٹ کی طرف جائیں تو ”عطر شیشہ“ کے قریب ایک گاؤں پھگلہ نامی ہے جس میں اکثر آبادی سادات کی ہے ، اس قصبہ میں سب سے پہلے عبدالرحیم شاہ نامی ایک شخص نے مرزائیت قبول کی اور مرزائیت کا مبلغ بن کر مرزائیت کی تشہیر شروع کر دی لیکن علماء کرام نے ہر دور میں باطل کے خلاف زبان و سنان سے جہاد کیا ۔ خدا کی شان ہے اس علاقہ میں علماء حق علماء دیوبند کثیر تعداد میں تھے ۔ خاص کر پھگلہ میں بھی مولانا قاضی عبداللطیف
فاضل دیوبند سے اکثر و بیشتر مرزائیوں کا مباحثہ چلتا رہتا تھا۔ شدہ شدہ معاملہ مباہلے تک پہنچا۔ طے یہ پایا کہ تین تین آدمی دونوں طرف سے لے لئے جائیں۔ مسلمانوں کی جانب سے تین علماء کرام تھے جو مندرجہ ذیل ہیں۔
- ١۔ حضرت مولانا کریم عبداللہ صاحب فاضل دیوبند، امام مسجد منڈھیار ۔
- ۲۔ حضرت مولانا عبدالجلیل صاحب فاضل دیوبند، امام مسجد عطائیشہ ۔
- ٣۔ حضرت مولانا قاضی عبداللطیف صاحب فاضل دیوبند، امام مسجد پھگلہ ۔
مرزائیوں کی جانب سے (۱) عبدالرحیم شاہ (۲) غلام حیدر (۳) عبدالرحیم عرف کھیم چنے گئے ۔
یہ تاریخی مباہلہ ۲۶؍ فروری ۱۹۳۸ء کو جمعہ کے دن طے پایا گیا اور اردگرد کے مضافات میں بھی اطلاعات بھیج دی گئیں۔ عوام کا عظیم اجتماع حق و باطل کے اس معرکے کو دیکھنے کے لئے امڈ آیا اور جگہ بھی ایسی منتخب کی گئی جو کہ علاقہ کا مشہور ترین مزار تھا جو ”غازی بابا“ کے نام سے مشہور ہے۔ مباہلہ شروع ہونے سے قبل حضرت مولانا کریم عبداللہ صاحب نے مباہلہ کی حقیقت بیان کی اور غرض و غایت سے عوام کو روشناس کرایا۔ نیز قادیانیت کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے ہیں جبکہ مرزائی مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر زندہ ہیں جبکہ مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ انتقال کرچکے ہیں اور مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ ؑ کی جگہ ”مسیح“ بن کر آیا ہے۔ ہم اس لئے یہاں جمع ہوئے ہیں کہ سب مل کر عاجزی، زاری اور خلوص سے دعا کریں کہ جس کا عقیدہ غلط ہے اور جو باطل پر ہے ۔ خداوند قدوس اس پر ہلاکت کی صورت میں (ایک سال کے اندر اندر) عذاب نازل کرے اور سخت سزا دے۔
چنانچہ تمام حاضرین نے اپنے سروں کو ننگا کر کے دعا شروع کر دی اور بیس منٹ
لگاتار دعا ہوتی رہی اور مجمع سے آمین آمین کی آواز آتی رہی۔ دعا کے درمیان غلام حیدر نامی قادیانی پر غشی کا دورہ پڑا اور بیہوش ہو کر گر پڑا۔ عبدالرحیم شاہ قادیانی نے اس کو ہوش میں لانے کے بعد کھڑا کیا اور حوصلہ دیا ایک دوسرا قادیانی عبدالرحیم جو دکاندار تھا اور مباہلہ میں شریک تھا۔ اسی دعا کے دوران کہنے لگا کہ میں تو دعا کرتا ہوں کہ خداوند قدوس جو ہم میں جھوٹا ہے اس کو پاگل کردے تاکہ دیکھے سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے اور دوسروں کو بھی عبرت ہو۔
راقم الحروف سے حضرت مولانا کریم عبداللہ صاحب مدظلہ نے بیان فرمایا کہ مباہلہ سے قبل میں نے عبدالرحیم شاہ قادیانی سے، جو وہاں مرزائیوں کا سرغنہ تھا، کہا کہ آؤ تم اور میں ایک آسان طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ جو چیڑ کے بلند و بالا درخت ہیں، ان درختوں پر چڑھ کر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اوپر بلندی سے چھلانگ لگاتے ہیں، جو سچا ہوگا وہ بچ جائے گا اور جو جھوٹا ہوگا وہ نیچے گرتے ہی مرجائے گا، لیکن عبدالرحیم شاہ قادیانی نے اس بات سے بالکل انکار کردیا اور کہا کہ نہیں ہم مباہلہ ہی کریں گے۔
اب سُنیے! مباہلہ کرنے والے قادیانی لوگوں کے ساتھ کیا بیتی اور ان کا انجام کیا ہوا۔ عبدالرحیم قادیانی نے دوران مباہلہ خود کہا تھا کہ خدا جھوٹے کو پاگل کردے۔ ایک ماہ کے بعد وہ پاگل ہوگیا اور اول فول بکنے لگا۔ قریب "جابہ" نامی بستی میں فوج کا کیمپ تھا، وہ وہاں بغیر اجازت داخل ہوا اور شور شرابا شروع کردیا۔ انگریز کمانڈر تھا۔ اُس نے عبدالرحیم قادیانی کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا اور کافی دنوں تک جیل میں قید رہا۔ جب جیل سے رہا ہوا تو خود کہنے لگا کہ میں نے مرزا قادیانی کو سُور کی شکل میں دیکھا ہے اور قادیانی عقیدے کو ترک کر کے اسلام قبول کیا۔ غلام حیدر نامی قادیانی کو اس کے بھتیجوں نے ٹھیک ایک مہینہ کے بعد جمعہ کے دن ۲۶ مارچ ۱۹۳۷ء کو
بالکل معمولی بات پر جہنم واصل کر دیا۔ غلام حیدر کی کوئی اولاد نہ تھی اور ان ہی بھتیجوں نے پرورش کی تھی۔ بھتیجوں کو سیشن کورٹ کے سپرد کر دیا گیا۔ چنانچہ چند مہینے ہی گزرے تھے کہ پولیس نے بغیر کسی سزا اور جرمانے کے بری کر دیا اور اس کے وہ بھتیجے تاحال زندہ ہیں۔ راقم الحروف نے بالمشافہ ان سے بات بھی کی ہے۔ انہوں نے یہی کچھ بتایا ہے۔ راقم سے حضرت مولانا کریم عبداللہ صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اس سال سے ہم تینوں علماء کے سر میں بھی کبھی درد نہیں ہوا بلکہ پہلے اگر کوئی تکلیف تھی تو وہ بھی اللہ تعالیٰ نے دُور فرمادی۔
تیسرا قادیانی عبدالرحیم شاہ کو ۱۹۳۷ء میں اللہ تعالیٰ نے ایسی مہلک بیماری میں مبتلا کیا کہ اس کے جسم میں کیڑے پڑ گئے اور عام لوگ اس کے کمرہ میں نہ جاسکتے تھے۔ کمرے میں داخل ہونے سے ہی بدبو آتی تھی۔ بالآخر کافی مدت ایسی کیفیت میں رہنے کے بعد عبدالرحیم شاہ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔
مباہلین علماء میں سے صرف مولانا کریم عبداللہ صاحب مدظلہ بقید حیات ہیں۔ بقیہ دو حضرات کچھ عرصہ قبل اس دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں۔ میں نے یہ روئیداد مولانا کریم عبداللہ صاحب سے سن کر قلم بند کی ہے۔
( مولانا منظور احمد شاہ آسی )
ایک خاتون کا خواب
میری ایک رشتہ دار عمر رسیدہ نیک سیرت خاتون ہیں، نماز و روزہ کی پابند ہیں اور حج کی سعادت حاصل کر چکی ہیں۔ وہ اس لحاظ سے بڑی خوش قسمت ہیں کہ انہیں خواب میں سید المرسلین خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت با برکت کا شرف حاصل ہوا۔ جس رات انہوں نے یہ بابرکت خواب دیکھا ، اس سے اگلی صبح مجھے
کہنے لگیں ”گزشتہ شب میں اپنے آپ کو مسجد نبویؐ میں پاتی ہوں۔ وہاں ابھی تھوڑی دیر ہی قیام کیا تھا کہ دیکھتی ہوں کہ بعض نمازی آپس میں اُلجھ رہے ہیں۔ وجہ معلوم کی تو پتہ چلا کہ مسجد کے صحن میں جو قالین بچھے ہیں، ان کے پاس کوئی شخص میلی کچیلی دری بچھا گیا ہے۔ بعض حضرات چاہتے ہیں کہ اس دری کو ہٹا دیا جائے ، جبکہ بعض اس بات پر مُصر ہیں کہ یہ ایک طرف پڑی رہے۔ ابھی آپس میں تکرار جاری تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہیں۔ حضورؐ کے چہرۂ اقدس سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ پاسِ ادب سے میری نظریں حضورؐ کے مبارک قدموں پر جمی رہیں۔ حضورؐ نے دریافت فرمایا کہ آپ کس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟ ایک صاحب نے واقعہ بیان کیا اور وہ غلیظ دری بھی دکھائی، جو پچھلی جانب پڑی تھی۔ حضورؐ نے فرمایا کہ دری کو اُٹھا کر مسجد سے باہر پھینک دیا جائے۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔
محترمہ موصوفہ جب خواب بیان کر چکیں، تو مجھ سے اس کی تعبیر پوچھی۔ میں علم تعبیر کی ابجد سے بھی واقف نہ تھا، لیکن ان دنوں کے واقعات کے تناظر میں جب میں نے اس خواب پر غور کیا تو اس کی تعبیر بہت سہل نظر آئی ۔
تعبیر بتائی کہ مرزائی حضرات انشاء اللہ بہت جلد غیر مسلم قرار دیئے جائیں گے۔ میں نے ان ایام میں اپنے کئی عزیزوں اور دوستوں کو یہ خواب سنایا اور اس کی تعبیر بھی بتائی، لیکن اس خواب کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کرنے کا فریضہ میں اب سر انجام دے رہا ہوں۔ بعد میں حکومت نے جو تاریخ ساز فیصلہ صادر کیا، اس کی رو سے مرزائی غیر مسلم قرار پائے۔ اس فیصلے نے خواب کی سچائی اور تعبیر کی درستگی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ۔
(محمد شفیع ۔ سیٹلائٹ ٹاؤن ۔ راولپنڈی)
نو سال کے بچے کی استقامت
آغا شورش کشمیریؒ اور قاضی مظہر حسین راوی ہیں کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں ایک
نو سال کا بچہ بھی گرفتار ہو کر لاہور کوٹ لکھپت جیل آگیا۔ دوسروں کی طرح اس کو بھی کوڑے مارے گئے لیکن اس چھوٹے سے بچہ کے جذبہ دین اور استقامت پر سب حیران تھے کہ جونہی اسے کوڑا لگتا وہ سوائے ختم نبوت زندہ باد کے اور کچھ نہیں کہتا تھا بالآخر وہ اسی طرح کوڑے سہتا ہوا اس دنیا فانی سے منہ موڑ گیا۔
نقد انعام
کچھ عرصہ پہلے حسب معمول میں ننکانہ صاحب سے موڑ کھنڈا آ رہا تھا کہ رسالہ ختم نبوت میرے پاس تھا جو میرے ایک دوست نے دیکھنے کے لئے مجھ سے پکڑ لیا اور وہ مرکزی دفتر کا پتہ پوچھنے لگا۔ اسی دوران بس کا وقت ہو گیا۔ میں نے بس چھوڑ دی اور اس دوست کو رسالہ ہفت روزہ ختم نبوت کے بارے میں معلومات دینے لگا۔ چنانچہ جب فارغ ہوئے تو اتنی دیر میں ایک دوست موٹر سائیکل لے کر آگئے ۔ جنہوں نے بضد مجھے بھی اپنے ساتھ بٹھا لیا ۔ جب ہم اڈہ سے تقریباً چھ میل کے فاصلہ پر پہنچے تو دیکھا کہ وہی بس حادثے کا شکار ہو گئی ہے لیکن سواریوں کو بالکل معمولی چوٹیں آئیں لیکن بس کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔ ہم یہ منظر دیکھ کر بے حد حیران ہوئے ۔ اللہ رب العزت نے اس چھوٹی سی نیکی کا کتنا بڑا صلہ دیا ہے۔
(محمد متین خالد)
ہاتھ کس نے چوما ؟ قلم کسے ملا ؟
صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے قادیانیت کی تبلیغ پر پابندی کے سلسلہ میں جب تاریخی آرڈیننس پر دستخط کئے تو علماء کا ایک وفد بھی ایوان صدر میں
موجود تھا۔ یہ علماء صدر مملکت سے قادیانیت کی تبلیغ پر پابندی کا مطالبہ لے کر ہی صدر مملکت سے ملنے گئے تھے۔ مرکزی جامع مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا محمد عبداللہ نے فرط عقیدت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے مغلوب ہو کر صدر مملکت سے استدعا کی کہ اُنہوں نے جس قلم سے آرڈیننس پر دستخط کئے ہیں۔ اس کی حیثیت بھی تاریخی ہو گئی ہے۔ یہ قلم انہیں عنایت کر دیا جائے۔ صدر ضیاء الحق نے مسکراتے ہوئے قلم انہیں دے دیا۔ وفد میں شامل ممتاز عالم دین اور جمعیت اہل حدیث کے قائد مولانا عبد القادر روپڑی نے اس موقع پر صدر مملکت کے ہاتھ کو بوسہ دینا چاہا۔ صدر مملکت نے کہا کہ وہ ایک گنہ گار مسلمان ہیں اور خود کو اس اظہار عقیدت کے اہل تصور نہیں کرتے ہیں، مگر حافظ صاحب نے اصرار کر کے صدر مملکت کے ہاتھ چوم لئے۔
عزت بچ گئی ، آگ سے محفوظ رہی
لاہور میں ایک قادیانی وکیل کے لڑکے سے ایک مسلمان لڑکی کی شادی ہوئی۔ رات کو جب وکیل کا لڑکا آیا، تو اُس سے لڑکی نے دریافت کیا کہ یہ سامنے کس کا فوٹو ہے۔ لڑکے نے بات کو ٹالنا چاہا، لیکن لڑکی نے بہت اصرار کیا۔ بالآخر اس نے بتایا کہ یہ فوٹو ہمارے ایک نبی مرزا غلام احمد قادیانی کا ہے جس کے اُوپر ہم ایمان لائے ہیں۔ لڑکی فوراً چارپائی سے اُٹھی اور گالی دینا شروع کر دیا اور زار و قطار رونے لگی اور کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے میری عزت اس کافر سے بچا لی اور سیدھی دروازے پر چلی گئی۔ گھر میں شور کی وجہ سے سب اہل گھر جمع ہو گئے۔ لڑکی نے کہا کہ اگر میرے قریب کوئی آئے گا تو میں جوتی سے اُس کی
پٹائی کروں گی، اور کہا کہ میں ابھی جیپ کرایہ پر لاتی ہوں اور اپنا سامان لے جاتی ہوں تم میرے خاوند نہیں ہو کیونکہ تم کافر ہو اور میں مسلمان ہوں۔ بالآخر جیپ لا کر اپنا جہیز اس میں رکھ دیا اور اپنے گھر چلی گئی۔ صبح قریب تھی۔ دروازہ کھٹکھٹایا۔ والد صاحب آئے، حیران ہو کر کہا کہ بیٹی کیا ہوا ابھی تو ایک دن بھی نہیں گزرا۔ لڑکی نے روتے ہوئے جواب دیا کہ آپ نے تو میری عزت تباہ و برباد کر دی تھی، لیکن خدا نے مجھے بچا لیا۔ آپ نے جس لڑکے کے ساتھ میری شادی کی تھی وہ تو مرزائی مُرتد تھا۔ والد نے جواب دیا کہ تُو نے نہ صرف میری عزت کی لاج رکھ لی بلکہ مجھے آگ سے بچا لیا۔ مجھے تو معلوم نہیں تھا کہ وہ قادیانی ہے۔ اس واقعہ کا جب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو پتہ چلا تو کہا کہ مجھے جلدی اس لڑکی کے گھر لے چلو، اس نے تو اپنی مغفرت کروا لی ہے جب شاہ جیؒ اس کے گھر آئے تو کہا۔ بیٹی! تُو نے اپنے لئے بخشش کا سبب بنا لیا۔ اب میرے لئے دُعا کر کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی بخش دے۔
سچے نبیؐ کی اُمتی عورت کے ہاتھوں
جھوٹے نبی کے پیروکار کا انجام بد
یہ واقعہ مجھے میرے دوست نے سنایا، لیجئے ان کی زبانی سُنیے۔ میرے چچا کہتے ہیں کہ میں ملازمت کے سلسلہ میں پنجاب کے ایک دیہی علاقہ میں تعینات تھا۔ اس وقت ۱۹۵۳ء کی تحریک ختمِ نبوت پورے عروج پر تھی، میں جس گاؤں میں رہتا تھا وہاں قادیانیوں کی اکثریت تھی۔ ایک دن عصر کی نماز پڑھ کر تمام نمازی مسجد سے باہر نکلے تو وہاں ایک قادیانی بدمعاش تھوڑی دُور چوک میں نعرے لگا رہا تھا کہ
”او پُرانے نبی کو ماننے والو! میرے مقابلہ میں آؤ“۔ کسی کی ہمت نہیں ہورہی تھی کہ اس کے مقابلہ میں آجائے، کیونکہ وہ گاؤں کا چوہدری بھی تھا۔ اچانک ایک چالیس سالہ عورت ہاتھ میں ٹوکا سنبھالے ایک گلی سے نمودار ہوئی اور اس قادیانی مردود کے پاس پہنچ کر اُس سے مخاطب ہوئی کہ او غنڈے! آج میں دیکھوں گی کہ تو جھوٹے مرزا کی محبت میں کتنا پکا ہے اور آج تو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ مجھے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کتنا پیار ہے۔ یہ کہتے ہوئے اُس نے قادیانی مردود کے سر پر وار کیا اور اسی جگہ پر جہنم رسید کر دیا اور خوشی سے اس کی لاش پر قہقہے لگانے لگی اور بار بار کہہ رہی تھی کہ لوگو! میں کامیاب ہوگئی، میں کامیاب ہوگئی۔ پولیس آئی اور اس عورت کو پکڑ کر لے گئی اور کئی دن بعد میرا وہاں سے تبادلہ ہوگیا۔
حضرت مولانا بہاؤ الحق قاسمیؒ
نامور شاعر اور کالم نویس عطاء الحق قاسمی اپنے والد بزرگوار حضرت مولانا بہاؤ الحق قاسمیؒ کی تصنیف ”تذکرہ اسلاف“ میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”۱۹۵۳ء میں جب تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا تو والد ماجدؒ کو مسجد وزیر خان میں تقریر کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا عبدالستار خان نیازی اور دوسرے زعماء بھی مسجد وزیر خان میں ان کے ہمراہ تھے۔
والد ماجدؒ کو گرفتار کرنے کے بعد شاہی قلعے لے جایا گیا۔ ان پر بغاوت، آتشزنی، اور اس نوع کے خدا جانے کیا کیا الزامات تھے، ہمیں تین ماہ تک والد ماجدؒ کے بارے میں کچھ پتہ نہ چلا کہ وہ کہاں ہیں؟ زندہ ہیں یا انہیں مار دیا گیا ہے؟ تین ماہ بعد جب انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور انہیں سزا سنائی گئی تو ہمیں ان کی زندگی
کی اطلاع ہوئی۔
شاہی قلعے میں والد ماجدؒ کو ایک کرسی پر بٹھا کر ان کے سر پر ایک تیز بلب روشن کر دیا گیا تاکہ وہ ساری رات سو نہ سکیں، جب والد ماجدؒ کو اُونگھ آتی تو اُن کے پیچھے کھڑا سنگین بردار سپاہی سنگین کی نوک انہیں چبھوتا اور کہتا ”مولانا جاگتے رہیں“ یہ لوگ والد ماجدؒ سے امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے خلاف بیان لینا چاہتے تھے چنانچہ والد ماجدؒ سے یہ بیان دینے کے لئے کہا گیا کہ اُنہوں نے تحریک میں حصہ عطاء اللہ شاہؒ کے اکسانے پر لیا تھا۔
والد ماجدؒ نے اس کے جواب میں کہا: ”مجھے شاہ صاحب نے کیا اکسانا تھا، انہوں نے تو ختم نبوت کا درس میرے خاندان سے لیا ہے!“ والد ماجدؒ نے یہ بات یوں کہی کہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا مفتی محمد حسنؒ کی طرح میرے دادا مفتی اعظم امرتسر مفتی غلام مصطفےٰ قاسمیؒ کے شاگرد خاص تھے! اس پر ڈیوٹی پر متعین فوجی افسر نے جھنجھلا کر والد ماجد کو اپنے کمرے میں طلب کیا اور کہا: ”مولانا! آپ اپنے گھر کا ایڈریس لکھوا دیجئے تاکہ آپ کی میّت آپ کے ورثاء کے سُپرد کی جا سکے!“ اس پر والد ماجد کے چہرے پر ایک مسکراہٹ اُبھری جو طلوعِ صبح سے کم خوبصورت نہ تھی اور انہوں نے کہا: ”آپ مجھے موت سے ڈراتے ہیں، حالانکہ آپ میری زندگی کا ایک لمحہ بھی کم یا زیادہ نہیں کر سکتے!“
مولوی عبداللہؒ کا خواب
مولوی عبداللہ مرحوم نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک بلند مقام پر اپنے بھائی مولوی محمد اور خواجہ احسن شاہ کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ دُور سے تین آدمی دھوتیاں باندھے آتے دکھائی دیئے۔ جب نزدیک پہنچے تو تینوں میں سے جو آگے تھا اُس نے دھوتی کھول کر اس کو تہبند کی طرح باندھ لیا۔ خواب ہی میں غیب سے آواز آئی کہ مرزا
غلام احمد قادیانی یہی ہے۔ اسی وقت خواب سے بیدار ہوئے۔ دل کی پراگندگی یکلخت دُور ہوئی اور یقین ہو گیا کہ یہ شخص اسلامی پیرایہ میں مسلمانوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ دوسرے دن خواب کے مطابق قادیانی صاحب دو ہندوؤں کی رفاقت میں لدھیانہ وارد ہوئے۔ دوسرے دو پرہیز گار آدمیوں نے جو استخارہ کیا تھا ان میں سے ایک نے دیکھا کہ مرزا غلام احمد ایک بے علم آدمی ہے۔ دوسرے نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک برہنہ عورت کو گود میں لے کر اس کے بدن پر ہاتھ پھیر رہا ہے جس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ دنیا جمع کرنے کے درپے ہے، اسے دین کی طرف اصلاً التفات نہیں (فتاوے قادریہ مرتبہ مولوی محمد صاحب لدھیانوی مطبوعہ مطبع قیصر ہند لدھیانہ صفحہ ۳۰۱ )
مولوی محمد صاحب مرحوم لکھتے ہیں کہ اس بات کا ثبوت کہ مرزا غلام احمد مال حرام اپنے کھانے پینے میں صرف کرتا ہے اور اس کی زندگی کا ماحصل نڈوری ہے کتاب ”براہین احمدیہ“ کی تجارت ہے۔ اس کتاب کے تین چار حصے چند اجزاء میں طبع کر کے دس دس اور پچیس پچیس روپیہ میں فروخت کئے، حالانکہ ان تین چار حصوں کی قیمت دو تین روپیہ سے کسی طرح زائد نہیں ہو سکتی اور وعدہ یہ کیا کہ یہ بہت بڑی ضخیم کتاب ہوگی۔ باقی جلدیں وقتاً فوقتاً طبع ہو کر خریداروں کو پہنچتی رہیں گی۔ جب جُل دے کر روپیہ وصول کر لیا تو باقی ماندہ کتاب کا طبع کرانا یکلخت موقوف کر دیا، کیونکہ جن لوگوں سے پیشگی رقمیں وصول کر لی تھیں ان کو اب نئی قیمت وصول کئے بغیر کتابیں بھیجنا گویا ایک تاوان تھا۔ اس لئے باقی ماندہ کتاب کی جگہ نئی نئی تالیفات شائع کر کے روپیہ بٹورنا شروع کر دیا۔
( فتاویٰ قادریہ صفحہ ۳ )
رئیس قادیان مصنفہ ابوالقاسم دلاوری جلد دوم، صفحہ ۲
قادیانی مسیحیت کے متعلق شاہ سیف الرحمٰن مجذوب کا کشف
میر محمد شاہ سیکرٹری میونسپل کمیٹی لدھیانہ کا ایک بیان رسالہ اشاعۃ السنۃ میں شائع ہوا تھا۔ اس کو ذیل میں ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔ صاحب موصوف نے لکھا کہ مجھے جون ۱۸۹۸ء میں حصار جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ایک دوست سے دریافت کیا کہ یہاں کوئی باخدا بزرگ بھی ہیں ؟ اس نے کہا۔ ہاں شاہ سیف الرحمٰن نامی ایک مجذوب رہتے ہیں جو جذبہ کی حالت میں بہت سی باتیں کہا کرتے ہیں۔ ان کے سامنے اظہار مدعا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ جو بات دریافت کرنی ہو اس کا تصور کر لینا چاہیئے۔ وہ خود بخود اپنی گفتگو میں جو محفوظ ہوتی ہے اس کا جواب دے جاتے ہیں اور صرف سائل ہی اس امر کو سمجھ سکتا ہے۔ میں اور وہ دونوں شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے بیٹھتے ہی اپنے دل میں خیال کیا کہ قادیان کے مرزا صاحب کے متعلق ملک میں ہنگامہ بپا ہے۔ بعض لوگ ان کو مہدی اور مسیح سمجھتے ہیں اور اکثر کو ان کے دعاوی کی صحت و صداقت سے انکار ہے۔ کیا وہ حق پر ہیں یا باطل پر ؟ اس وقت شاہ صاحب کچھ اور باتیں کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں فرمانے لگے کہ ”ایک تو انگریزوں کا عیسیٰ بن گیا اور دوسرا بھنگیوں کا پیر بن گیا “ اس کے بعد بہت سخت کلامی کی اور حالت غضب میں اُٹھ کھڑے ہوئے اور ایک حجرے کی طرف چل دیئے اور آیت لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ط لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ بار بار پڑھ کر سخت کلامی کرتے جاتے تھے۔ میں اپنے دوست کے ساتھ واپس آیا۔ راستہ میں اس نے پوچھا۔ تم نے کس بات کا تصور کیا تھا کہ شاہ صاحب اتنے غضبناک ہو
گئے؟ میں نے اُس سے پوچھا کہ مرزائے قادیانی کی نسبت تیرا خیال کیا تھا۔ کہنے لگا۔ ہاں شاہ صاحب نے مرزا سے ان الفاظ میں اظہار نفرت کیا ہے میں نے حصار والوں سے اس قسم کے بے شمار واقعات سنے ہیں، اگر کسی شخص کو میرے بیان میں شک ہو تو وہ خود حصار جاکر مشرف بزیارت ہوں اور شاہ صاحب کا تجربہ کرلیں۔
(اشاعۃ السنہ جلد ۱۸ صفحہ ۲۱۱، ۲۱۲)
(رئیس قادیان جلد دوئم ص ۱۳۴ - ۱۳۷)
مولوی اشرف علی ساکن سلطانپور ریاست کپور تھلہ
احقر الناس کو قادیانی کی نسبت اس کے ابتدائے امر میں بہت کچھ حسن ظن تھا لیکن جب اس کی کتابوں فتح اسلام توضیح المرام اور ازالۃ اوہام کے اکثر مضامین کتاب اللہ سنت رسول اللہ اور طریق سلف صالح کے خلاف نظر آئے تو معلوم ہوا کہ اس شخص کو فرقہ حقہ اہل سنت والجماعت سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ میں نے قادیانی کے کشف حال کے لئے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ سے درخواست کی کہ باطنی طور پر ملاحظہ فرما کر ارشاد فرمائیں۔ انہوں نے اپنا مکاشفہ تحریر فرمایا کہ اس کا حال مختار ثقفی کا سا بتلایا گیا ہے جو مرزا کی طرح ایک خانہ ساز نبی گزرا ہے۔ عاجز نے خود مرزا قادیانی کے متعلق استخارہ کیا۔ پہلی دفعہ اس کی مسجد کو ایسی صورت میں دیکھا کہ اس کا دروازہ شمال کی طرف اور پشت جنوب کی طرف ہے جس میں نماز پڑھنے سے جنوب کی طرف سجدہ ہوتا ہے۔ دوسری مرتبہ قادیانی صاحب بذات خود ایسی صورت میں دکھائی دیئے کہ مونچھیں قدر مسنون سے بہت بڑھی ہوئی ہیں گویا کسی سکھ کی مونچھیں ہیں۔ میرے ایک دوست میاں گلاب خان
افغان ساکن کپور تھلہ حال وارد سلطان پور نے بھی اس کی نسبت استخارہ کیا تو جواب میں ایک ناپاک اور موذی جانور دکھائی دیا۔ علمائے ظاہر کے علاوہ اہلِ کشف و شہود بھی اس کے مفتریانہ خیالات سے سخت متنفر ہیں اور فرماتے ہیں کہ بمصداق مَنْ لَّا شَيْخَ لَهُ فَشَيْخُهُ شَيْطَانٌ بغیر کسی شیخ کامل کے وادیٔ طریقت میں قدم رکھنے سے شیطان کے پنجے میں گرفتار ہو گیا ہے اور اس کے وساوس کو الہامات ربانی سمجھ رہا ہے، العیاذ باللہ! اس کی کتابوں سے اس کا مدعی نبوت و رسالت ہونا صاف ظاہر ہے۔ اس لئے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بموجب کہ قیامت اُس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک قریباً تیس دجال کذاب ظاہر ہو کر دعوائے نبوت نہ کر لیں ۔(بخاری ومسلم) شیخِجی بھی ان تیس میں سے ایک ہے۔ اس نے توضیح المرام کے صفحہ ۱۸، ۱۹ پر محدث ہونے کے پیرایہ میں اپنا نبی ہونا صاف بتایا ہے، ایک جگہ یہ بھی لکھ دیا ہے : اِنَّ النَّبِيَّ مُحَدَّثٌ والمُحَدَّثُ نَبِيٌّ۔ مجھے اس شخص کی حالت پر بہت افسوس ہے حق تعالیٰ اس کو راہِ راست پر لائے ورنہ اہلِ اسلام کو اس کے فتنہ سے بچائے۔
(رئیس قادیان، جلد دوم، ص ۶۳، ۶۴)
توکل شاہ سے درخواست دعا
مولوی محبوب عالم صحیفۂ محبوب میں لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے خواجہ توکل شاہ انبالوی سے عرض کیا کہ میں تو مرزا قادیانی کو بُرا جانتا ہوں، آپ کے نزدیک وہ شخص کیسا ہے ؟ ان دنوں مرزا صاحب کا دعویٰ مجددیت ومہدویت سے متجاوز نہ ہوا تھا۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ گویا
کوتوال کی حیثیت سے شہر لاہور کا گشت کر رہا ہوں۔ ایک مقام پر مرزا غلام احمد کو دیکھا کہ کانٹوں اور گندگی میں پڑا ہے۔ میں نے اس کے ہاتھ کو جنبش دی اور ڈانٹ کر کہا۔ تیرے پاس مجددیت اور مہدویت کا کیا ثبوت ہے ؟ وہ سخت اُداس اور غمزدہ دکھائی دیتا تھا۔ میرے سوال کا کچھ جواب نہ دے سکا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے کوئی عمل کیا تھا ، مگر پھر کسی بد پرہیزی کے باعث اس عمل سے گر گیا ۔“ مولوی محبوب عالم لکھتے ہیں کہ یہ تو میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ اس کے اکثر خط خواجہ توکل شاہ کی خدمت میں آیا کرتے تھے جن کا یہ مضمون ہوتا تھا کہ ” حضور میرے حق میں دعا فرمائیں “ خط کے سنتے ہی خواجہ صاحب کے چہرہ پر غصّہ کے مارے شکن پڑ جاتے تھے مگر ضبط کر کے خاموش ہو جاتے تھے ۔
( رئیس قادیان، جلد دوئم ص ۱۹ )
شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوریؒ
شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوری سے علماء لدھیانہ کی ملاقات ہوئی ۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ میں نے قادیانی کے متعلق استخارہ کیا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ یہ شخص بھینسے پر اس طرح سوار ہے کہ منہ دُم کی طرف ہے۔ جب غور سے دیکھا تو اُس کے گلے میں زنار نظر آیا ، جس سے اس شخص کا بے دین ہونا ظاہر ہے اس کے بعد شاہ صاحب نے فرمایا کہ جو علماء اس کی تردید میں اب متردد ہیں کچھ عرصہ کے بعد وہ بھی اُسے خارج از اسلام قرار دیں گے۔ (فتاویٰ قادریہ)
چنانچہ مولانا شاہ عبدالرحیم کی پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوئی ۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور دوسرے تمام اکابرِ اُمت جو قادیانی کی تکفیر سے پہلو تہی کرتے اور لوگوں کو اس سے منع کرتے تھے ۔ آگے چل کر اس کو مرتد اور خارج از اسلام قرار دیئے ۔
(رئیس قادیان جلد دوئم ص ۱۰ )
○
عبدالرشید طارق ایم اے بیان کرتے ہیں کہ ایک روز شام کے وقت میں اور صوفی تبسم ڈاکٹر صاحب کے مکان مزنگ پر پہنچے تو ڈاکٹر صاحب پلنگ پر لیٹے ہوئے تھے اور ایک صاحب اُن کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب بہت برہم نظر آتے تھے۔ میں نے اس سے قبل برہمی کی حالت میں صرف ایک مرتبہ دیکھا اور وہ جب ایک نوجوان مرزائی کو دھکے دے کر اپنی کوٹھی واقع میکلوڈ روڈ سے نکال رہے تھے۔
○
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت واہ کینٹ کے حضرت مولانا عبدالقیوم مدظلہ نے اپنے علاقہ کا ایک ایمان پرور واقعہ سنایا کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں واہ کینٹ میں ایک جلوس نکلا۔ پولیس نے جلوس کے کئی شرکاء کو گرفتار کر لیا۔ ان میں ایک سات سالہ بچہ بھی تھا۔ مقامی ڈی۔ایس۔پی نے اس بچے کو مرغا بنا کر پوچھا کہ بتاؤ تمہاری پیٹھ پر کتنے جوتے ماروں“۔ بچے نے بڑی ایمانی جرأت اور معصومیت سے جواب دیا کہ ”اتنے جوتے مارنا جتنے جوتے تم قیامت کے دن کھا سکتے ہو!“ اتنا سننا تھا کہ ڈی، ایس، پی مارے خوف کے پسینہ پسینہ ہو گیا اور اس بچے کو سینہ سے لگایا، پیار کیا، گھر لے گیا، کھانا کھلایا، رقم دی، پاؤں پکڑ کر معافی مانگی اور فوراً گھر چھوڑنے گیا۔
○
چوہدری نذیر احمد صاحب ننکانہ صاحب میں کراکری کا کاروبار کرتے ہیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کا واقعہ انہی کی زبانی سنئے اور اپنے ایمان کو ترو تازہ کیجئے۔
” میری شادی کے چند ماہ بعد تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء شروع ہوئی میں تحریک میں بھر پور حصہ لینے کے لئے ننکانہ صاحب سے لاہور مسجد وزیر خاں چلا گیا۔ یہاں روزانہ جلسہ ہوتا اور جلوس نکلتے۔ ایک دن جنرل سرفراز، جو غالباً اس وقت لاہور کا کور کمانڈر تھا، کے کہنے پر مسجد کی بجلی اور پانی کا کنکشن کاٹ دیا گیا۔ اس پر مسجد میں ایک احتجاجی جلسہ ہوا، پھر جلوس نکلا میں اس جلوس میں شامل تھا۔ فوج نے ہمیں گرفتار کر لیا۔ چند احباب کے ہمراہ سرسری سماعت کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ میرا نمبر آخر میں تھا۔ میری باری پر میجر صاحب نے کہا کہ معافی مانگ لو کہ آئندہ تحریک میں حصہ نہیں لو گے تو ابھی بری کر دوں گا۔ میں نے مسکراتے ہوئے میجر صاحب کو کہا کہ آپ کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کا مسئلہ ہو اور ایک امتی کی شفاعت کا ذریعہ ہو اور پھر وہ معافی مانگ لے۔ میجر صاحب نے کہا کہ سامنے لان میں چلے جاؤ۔ آدھا گھنٹہ اچھی طرح سوچ لو۔ میں لان میں بیٹھ گیا۔ پھر پیش کیا گیا تو میجر صاحب نے کہا کہ معافی مانگ لو۔ میں نے مسکراتے ہوئے میجر صاحب کو جواب دیا کہ شاید آپ کو اس مسئلہ کی اہمیت کا علم نہیں، آپ کی بات میری سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اس مسئلہ میں معافی کیا ہوتی ہے؟ اس پر میجر صاحب نے غصہ کی حالت میں میرے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا اور آٹھ ماہ قید بامشقت ۵۰۰ روپے جرمانہ کا حکم دیا۔ جسے میں نے بخوشی قبول کر لیا۔ میرے نامۂ اعمال میں میری بخشش کے لئے یہی ایک نیکی کافی ہے۔
〇
ملک محمد صدیق صاحب ننکانہ صاحب کی معروف سیاسی، سماجی اور
کاروباری شخصیت ہیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار ہو کر جیل گئے۔ جیل میں نماز پڑھنے اور اذان دینے پر مکمل پابندی تھی۔ اتفاق سے ملک صاحب جس بیرک میں بند تھے، وہاں ایک آدمی نے بلند آواز سے اذان دے دی۔ سپرنٹنڈنٹ پوری گارد کے ہمراہ آگیا۔ بیرک سے تمام مجاہدین ختم نبوت کو نکال کر لائن میں کھڑا کیا اور نہایت غصہ کی حالت میں پوچھا کہ اذان کس نے دی تھی۔ خوف اور دہشت کی فضا میں کسی سے نہ بول پڑا۔ اذان دینے والا شاید کمزور ایمان کا مالک تھا کہ بول نہ سکا۔ ملک صاحب نے سوچا کہ اگر آج چپ رہا تو نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی اذان کی حُرمت پر حرف آئے گا، یہ بات تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔ قادیانی اس واقعہ سے مجاہدین ختم نبوت کا مذاق اڑائیں گے۔ ملک صاحب لائن سے باہر آئے اور بڑی جرات سے کہا کہ اذان میں نے دی تھی اور آئندہ بھی کہوں گا۔ اس جرات مندانہ جواب کے عوض ملک صاحب کو پندرہ کوڑوں کی سزا سنائی گئی جس کے نتیجہ میں حصول اولاد والی نعمت سے محروم ہو گئے بشفاعت محمدیؐ والی نعمت سے سرفراز ہو گئے۔
O
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیدوالہ تحصیل ننکانہ صاحب کے سرپرست رانا غلام محمد صاحب گزشتہ دنوں دل کا دورہ پڑنے سے مختصر علالت کے بعد اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ رانا غلام محمد صاحب حقیقی معنوں میں مجاہد ختم نبوت تھے۔ وہ اپنی جماعت کے روح رواں اور قادیانیوں کے لئے چلتی پھرتی تلوار تھے۔ انہوں نے قادیانیوں کے خلاف بیسیوں مقدمات درج کروائے، اپنے
ہاں بے شمار ختم نبوت کانفرنسیں کروائیں ، انہوں نے اس مسئلہ کے لئے کسی بھی قربانی دریغ نہیں کیا۔ جب رانا صاحب کو دل کا دورہ پڑا، انہیں فوری طور پر میو ہسپتال لاہور میں داخل کروایا گیا، خطرناک حالت کے پیش نظر انہیں شیخ زید ہسپتال لاہور میں منتقل کر دیا ۔ رانا صاحب کو آکسیجن اور خون وغیرہ لگا ہوا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق اُن کی حالت شدید خطرے میں تھی۔ اُن کا آخری وقت دیکھ کر احباب پریشان ہو گئے ۔ لاہور کے مجاہد ختم نبوت جناب طاہر رزاق صاحب نے رانا صاحب کے کان میں کہا کہ رانا صاحب کچھ پڑھیں ۔ رانا صاحب بھی سمجھ گئے کہ میرا آخری وقت آ گیا ہے اس لئے مجھے پڑھنے کو کہہ رہے ہیں۔ اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور پھر بھرائی ہوئی آواز میں بلند آواز سے کہنے لگے ، ختم نبوت زندہ باد ، مرزا قادیانی پر لعنت بے شمار، مرزائیوں پر لعنت صد ہزار ، بار بار ۔
پھر طاہر رزاق صاحب سے مخاطب ہو کر کہنے لگے ۔ طاہر صاحب ! میڈیکل کے قادیانیوں سے کہہ دینا کہ میں آ رہا ہوں اور شعائرِ اسلام کی بے حرمتی کا وہ سبق سکھاؤں گا کہ قیامت تک یاد رکھو گے۔ ہم سب لوگ رانا صاحب کی اس ایمانی کیفیت پر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔
پروفیسر غازی احمد (سابق کرشن لعل) جنہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عالمِ خواب میں خود اپنے دستِ مبارک پر مسلمان کیا اور نہایت شفقت فرماتے ہوئے اپنے سینہ مبارک سے لگایا ، اُن کی زبانی ایمان پرور واقعہ سُنیے :۔
” آج سے دس بارہ سال قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور نے بی اے کے
امتحانات کے سلسلے میں مجھے تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں ناظم امتحان مقرر کیا گیا۔ بیس پچیس دن ربوہ کالج میں میرا قیام رہا۔ ایک اتوار کو چھٹی کے دن میں نے مرزا ناصر احمد سے ملاقات کا پروگرام بنایا۔ دفتر میں گیا اور ملاقاتیوں کی فہرست میں اپنا نام درج کرایا۔ میرا تیسواں نمبر تھا۔ میں نے ناظم ملاقات سے کہا، اگر ممکن ہو تو جلد ملاقات کرا دیں مجھے تو امتحان کے سلسلے میں کام کرنا ہے۔ انہوں نے میرے متعلق مرزا صاحب کو فون پر بتایا۔ ناصر صاحب نے کہا کہ ان کا نام دوسرے نمبر پر درج کر دیں۔ پہلے نمبر پر ڈاکٹر عبدالسلام تھے۔ ملاقات شروع ہوئی تو ڈاکٹر عبدالسلام صاحب تقریباً نصف گھنٹہ تک محو گفتگو رہے۔ ڈاکٹر صاحب کے بعد میری باری آئی۔ ناصر صاحب دوسری منزل پر تھے۔ میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچا۔ ناصر صاحب نے دروازے میں آ کر استقبال کیا۔ علیک سلیک کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا۔ ناصر صاحب نے فرمایا۔ پتہ چلا ہے کہ آپ نے ہندو دھرم چھوڑ کر اسلام قبول کیا ہے ؟
میں نے کہا۔ جی ہاں ! آپ درست فرماتے ہیں۔ میں واقعی ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوا تھا اور رب العزت نے مجھے اسلام کی نعمت سے نوازا۔
ناصر صاحب نے کہا مجھے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم رؤیا میں آپ کو اسلام سے مشرف فرمایا ۔
جی ہاں ! آپ کی معلومات بالکل درست ہیں۔ میں نے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا ہے۔
ناصر صاحب نے مسرت کا اظہار فرمایا اور کہا، واقعی آپ بڑے
خوش قسمت انسان ہیں بلکہ میں کہوں گا کہ آپ تو اسلام کی صداقت کی دلیل ہیں۔ ناصر صاحب میرے قبولِ اسلام کی تفصیلات دریافت کرتے رہے تو میں جواب دیتا رہا ۔
تقریباً نصف گھنٹہ اسی گفتگو میں گزر گیا تو میں نے کہا ۔ جناب کافی وقت گزر چکا ہے ، نیچے بہت سے ملاقاتی آپ کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ میں رخصت چاہتا ہوں ، البتہ اگر آپ مناسب خیال کریں اور گستاخی نہ سمجھیں تو ایک طالب علم کی حیثیت سے ایک سوال دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ ناصر صاحب نے خوشدلی سے اجازت دے دی ۔
جیسا کہ جناب کو بھی معلوم ہے کہ نبی مکرم نے مجھے مشرف باسلام فرمایا اور بمصداق حدیث مَنْ رَآنِی فِی الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِی ( یعنی جس نے مجھ کو خواب میں دیکھا اس نے میری ذات ہی کو دیکھا ) میرا ایمان ہے کہ میں نے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہی سے دین اخذ کیا ہے اور میرا یہ بھی ایمان ہے کہ جو عقیدہ اور مسلک میں نے اپنایا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رضائے عالیہ کے مطابق ہے۔
آپ حضرات کا سلسلہ نبوت کا سلسلہ ہے ۔ اگر آپ کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کے ہاں درست ہوتا تو نبیؐ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اسلام سے مشرف فرمانے کے بعد ہدایت فرما دیتے کہ اب تم مسلمان تو ہو چکے ہو تکمیل دین کے لئے قادیان چلے جاؤ ۔ بحیثیت نبی آپ کے لئے ضروری تھا کہ مرزا صاحب کی نبوت کو نظر انداز نہ فرماتے ، مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مرزا صاحب کی نبوت کو قطعاً نظر انداز فرما دیا ۔ جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کا سلسلہ نبوت عنداللہ وعند الرسول درست نہیں بلکہ یہ نبوت ، نبوت کاذبہ
کے زمرے میں آتی ہے۔
جناب ناصر صاحب نے سوال سن کر فرمایا۔ یہ سوال میری زندگی میں پہلی بار پیش کیا گیا ہے۔ آپ کے سوال کی معقولیت میں شک نہیں مگر ملاقاتی کافی بیٹھے ہیں، پھر کسی ملاقات میں اس کا جواب دوں گا۔
میں نے عرض کیا۔ مجھے ایک بات اور دریافت کرنا ہے۔ میں نے مرزا صاحب کی تحریر پڑھی ہے کہ میں اور میری جماعت کے افراد فقہی مسلک میں امام ابو حنیفہؒ کے پیروکار ہیں۔ ناصر صاحب میں بھی حنفی مسلک سے تعلق رکھتا ہوں ۔
ناصر صاحب نے اظہار مسرت فرمایا ۔ میں نے عرض کیا کہ مرزا صاحب تو آپ کے خیال کے مطابق منصب نبوت پر سرفراز تھے۔ کیا یہ امر منصب نبوت کے شایان شان ہے کہ ایک نبی ایک اُمتی کے فقہی مسلک کا پیروکار اور مقلد ہو۔ کیا یہ مقام نبوت کی توہین نہیں ؟
ناصر صاحب نے فرمایا ۔ اس سوال کا جواب بھی کسی دوسری مجلس میں تفصیل کے ساتھ دوں گا ۔
میں نے ناصر صاحب سے اجازت طلب کی ۔ انہوں نے خندہ پیشانی سے رخصت کیا ۔ جب میں سیڑھیاں اُتر رہا تھا تو ختم نبوت پر میرے ایمان و ایقان میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا کہ واقعی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں ۔ آپ کا لایا ہُوا دین کامل ، مکمل اور اکمل ہے۔ کسی نئے تکمیل کنندہ کی قطعاً نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ گنجائش ۔ آپ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا اس کی نبوت کاذبہ ہو گی ۔
(من الظلمات الی النور مصنفہ پروفیسر غازی احمد)
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
(الحدیث)
ایمان پر فریادیں
ترتیب
اللہ وسایا
عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّة
حضوری باغ روڈ
ملتان
پاکستان
نام کتاب ایمان پرور یادیں نام مصنف اللہ وسایا ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کتابت امان اللہ قادری تعداد ایک ہزار تاریخ اشاعت جون ۱۹۸۶ء مقام اشاعت دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان پاکستان
(یہ کتابچہ دو روپے کے ڈاک ٹکٹ بھجوا کر مندرجہ ذیل ایڈرس سے فون ۴۰۹۷۸ مفت منگوایا جاسکتا ہے)
مجلس تحفظ ختم نبوت نسیم منزل ریلوے روڈ ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ
صدائے دل
آج سے تین سال قبل ۲۷ جون ۸۳ء مطابق ۱۵ رمضان ۱۴۰۳ھ کو اپنے مربی ومحسن حضرت مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ کے حکم پر ”مبشرات صالحہ“ نامی ایک رسالہ ترتیب دیا تھا۔ جسمیں حضور علیہ السلام کی عزت و ناموس کے تحفظ کا مقدس فریضہ سرانجام دینے والے خوش بخت انسانوں کو قدرت کی طرف سے جن ”مبشرات“ سے نوازا گیا ہے ان کا اس میں تذکرہ تھا۔
اللہ رب العزت نے اس رسالہ کو ایسی قبولیت سے نوازا کہ کئی احباب نے میری اطلاع کے بغیر اپنے طور پر متعدد ایڈیشن شائع کر کے فری تقسیم کیے اور نہ معلوم کہ اس سے کتنا مخلوق خدا نے فائدہ حاصل کیا۔ فالحمدللہ
عرصہ ہوا لاہور کے جناب طاہر رزاق صاحب (ختم نبوت کے محاذ پر قدرت کا عطیہ) اور ننکانہ صاحب کے برادر عزیز جناب خالد متین صاحب (قادیانیت کے خلاف اسلام کی چلتی پھرتی تلوار) نے حکم فرمایا کہ اس رسالہ کو نئے سرے سے مرتب کروں، تاکہ جو چیزیں رہ گئی ہیں وہ اس میں شامل ہو جائیں۔ لاہور دفتر میں ایک رات قیام کے دوران مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ جنرل سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت۔ فقیر راقم الحروف اور جناب متین خالد صاحب نے باہمی مشورہ کر کے واقعات کا انتخاب بھی کر لیا۔ اس گفتگو کے اہم نکات نوٹ کر کے مکرم متین صاحب نے ملتان دفتر بھجوا دیے۔ رمضان المبارک میں نسبتاً مصروفیت کم ہوتی ہے۔ فقیر نے اسے نئے سرے سے مرتب کرنا شروع
کیا۔ الحمد للہ واقعات پہلے سے دوچند ہو گئے۔ متین صاحب کے ارسال کردہ نکات کو جب شامل کرنے کا وقت آیا تو وہ فقیر کے کاغذات سے گم پائے گئے کاش وہ شامل ہو جاتے تو قابل قدر اضافہ ہو جاتا۔ مگر اس وقت جو کچھ ہو سکا، حاضر خدمت ہے۔ اس دفعہ صرف مبشرات پر اکتفا نہیں کیا گیا۔ بلکہ تحریک سے متعلق مجاہدانہ واقعات، اور تحریک کے ساتھ غداری کرنے والوں کے انجام سے متعلق بھی واقعات کا ذکر کیا گیا ہے اس لیے اس کا نام "ایمان پرور یادیں" تجویز کیا ہے اہل حدیث و شیعہ حضرات وعلمائے لدھیانہ کے "مبشرات" اور واقعات کا علم نہ ہونے کے باعث اس کا تذکرہ رہ گیا ہے ورنہ ان کی اس محاذ پر خدمات سے کون انکار کر سکتا ہے۔ قدرت کو منظور ہوا تو آئندہ کے ایڈیشن میں اس کی تلافی کی جائے گی۔
اے کاش ! کہ شائع ہونے کے بعد سب سے پہلے ڈاکٹر قاری محمد ملت نواز، ڈاکٹر خان عبدالقیوم، ڈاکٹر حافظ محمد اسلم فیصل آبادی مکرم عبدالرحمٰن یعقوب باوا کراچی ایڈیٹر "ختم نبوۃ"، چوہدری غلام نبی گوجرانوالہ، چوہدری عبداللطیف ساہیوال، جناب سید انور شاہ، جناب فیاض حسن سجاد کوئٹہ، جناب عبدالخالق علوی واہ کینٹ، جناب قاضی ندیم ایبٹ آباد، مکرم طہ قریشی ملتان، جناب صابری عرب امارت، جناب زاہد منیر، مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا۔ مکرم مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، قاری شبیر احمد، مولانا خدا بخش، قاری محمد اسحاق، چوہدری محمد شفیع ربوہ، سید عمار حسین شاہ و قاری نذیر احمد صاحب لاہور، مخدوم زادہ طارق محمود صاحب اور اقبال میاں اس کو پڑھیں اور اسکے تقاضوں کو پورا کریں یہ کام انکے کرنے کا ہے
طالب دعا اللہ وسایا ۳۱ - ۵ - ۱۹۸۶ء ۲۱ - ۹ - ۱۴۰۶ھ
پیر مہر علی شاہ گولڑوی
حجاز کے مبارک سفر مکہ معظمہ میں حاجی امداد اللہ صاحبؒ سے ملاقات ہوئی جو ایک صحیح صاحب کشف انسان تھے۔ جب انکو میری آزاد اور بے باک طبیعت کا علم ہوا تو شدید اصرار اور تاکید سے حکم دیا کہ چونکہ عنقریب ہندوستان میں ایک فتنہ ظاہر ہونے ہے لہٰذا تم وطن واپس چلے جاؤ اگر بالفرض تم خاموش بھی رہو گے تو بھی یہ فتنہ ترقی نہ کر سکے گا اور اس طرح ملک میں آرام رہے گا۔ چنانچہ میں پورے وثوق کے ساتھ حاجی صاحب کے اس کشف کو مرزا قادیانی کے فتنہ سے تعبیر کرتا ہوں۔
اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خواب میں مجھے حکم دیا کہ یہ مرزا قادیانی غلط تاویل کی قینچی سے میری احادیث کے ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے اور تو خاموش ہے اس کے بعد جو کچھ لکھا گیا ہے وہ عام لوگوں کی خیر خواہی کے لیے لکھا گیا ہے۔ اس لیے کہ اس کے فاسد عقائد لوگوں کے لیے زہر قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کتاب وسنت ائمہ کرام اور اُمت مرحومہ کے علماء کے صحیح عقائد کی بنیاد پر اس کی حقیقت کو آشکارا کر دیا ہے ۔
(ملفوظات طیبہ ص ۱۴۶ ، ۱۴۷)
سیدنا مہر علی شاہؒ نے اپنے حجرے میں آنکھیں بند کیے بحالت بیداری، دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قعدہ کی حالت میں جلوس فرما ہیں، حضور علیہ السلام سے چار بالشت کے فاصلے پر پیر صاحب با ادب بیٹھے ہیں لیکن مرزا غلام احمد اس جگہ ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیٹھ کیے بیٹھا ہے ۔
(تحریک ختم نبوت ص ۵۰)
حضرت پیر صاحب قبلہ نے سیف چشتیائی میں دجال کی صورت سے متعلق اپنے بچپن کا ایک خواب لکھا ہے کہ وہ مرزا صاحب سے ہو بہو مشابہت رکھتا تھا۔
(تحریک ختم نبوت ص۵۰)
پیر صاحب نے مرزا قادیانی کو مناظرہ کا چیلنج دیا۔ ۲۵ اگست ۱۹۰۰ء لاہور بادشاہی مسجد مقام مناظرہ طے پایا۔ مگر مرزا قادیانی کو پیر صاحب کے سامنے آنے کی جرأت نہ ہوئی۔ پیر صاحب کو قدرت نے ایسا رعب اور جلال نصیب کیا تھا کہ مرزا قادیانی ان کا نام سن کر تھر تھر کانپنے لگ جاتا تھا!
قادیانی جماعت کے ایک وفد نے حضرت قبلہ عالم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ مرزا صاحب سے مباہلہ کرلیں۔ ایک اندھے اور ایک لنگڑے کے حق میں مرزا صاحب دعا کرتے ہیں۔ دوسرے اندھے اور اپاہج کے حق میں آپ دعا کریں جس کی دعا سے اندھا اور لنگڑا ٹھیک ہو جائیں۔ وہ سچا ہے اس طرح حق و باطل کا فیصلہ ہو جائیگا۔ حضرت قبلہ عالم نے جواب دیا کہ ”اگر مردے بھی زندہ کرنے ہوں تو آجاؤ۔“ یہ جواب پاکر وفد چلا گیا۔ پھر کچھ پتہ نہ چلا کہ مرزا صاحب اور ان کے حواری کہاں ہیں
(تحریک ختم نبوت ص۵۲)
جب مرزا صاحب کی تعلیاں بہت بڑھ گئیں، تو حضرت قبلہ عالم نے ان کی ”ملحدانہ“ شوخیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے دو روحانی چیلنج کیے۔ ایک یہ کہ کاغذ پر قلم
چھوڑ دو، سچا قلم خود بخود چلے گا، اور تفسیر قرآن لکھے گا۔ دوسرا یہ کہ حسب وعدہ شاہی مسجد میں آؤ، ہم دونوں اُس کے مینار پر چڑھ کر چھلانگ لگاتے ہیں، جو سچا ہو گا، وہ بچ جائے گا، جو کاذب ہو گا، مرجائیگا، مرزا صاحب نے جواب میں اس طرح چپ سادھی، گویا دُنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔
(تحریک ختم نبوت ص۵۲)
صاحبزادہ محی الدین گولڑویؒ اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ
بابو جی سیاسی انسان بالکل ہی نہ تھے ۔ ان کا وجود ایک دینی تحریک تھا۔ وہ نگاہ کرتے اور انسان اپنے اندر ایک انقلاب محسوس کرتا۔ وہ بات چیت کے انسان نہ تھے ۔ ان کا ختم نبوت کے مسئلہ سے مورثی تعلق تھا۔ اس غرض سے شخصاً کسی تحریک، تنظیم یا موتمر میں شامل نہ ہوتے، لیکن سفر و حضر میں دُعا گو رہتے، ۱۹۵۳ء کی تحریک میں علماء و صلحاء کی یکجہتی کے لیے لاہور میں مجلس مشاورت کا اجلاس ہوا تو آپ پہلی دفعہ مدعوین کی زبردست خواہش پر تشریف لائے ۔ آپ کا فقید المثال استقبال کیا گیا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ آپکے کچھ دیر بعد تشریف لائے اور اگلی صف کی ایک کرسی پر بیٹھ گئے، کسی نے کہا شاہ جی! وہ اُدھر پیچھے حضرت صاحبزادہ محی الدین شاہ گولڑہ شریف فروکش ہیں۔ شاہ صاحب نے پلٹ کر دیکھا۔ فوراً آگے بڑھے۔ آپ کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا، جھک گئے، کہنے لگے، حضرت آپ آگئے، بحمد اللہ! ہماری نصرت قریب ہوگئی ہے۔ میرے سامنے اعلیٰ حضرتؒ ہیں۔ ہم تو انہی کا مشن لے کر چل رہے ہیں۔ شاہ جی نے دُعا کرائی، بابو جی نے دُعا کی بابو جی ہی کا فیضان تھا کہ مسلمانوں کے مختلف
مکاتیب فکر جو بعض فروعی جھگڑوں کے باعث کبھی اکٹھا نہ ہوتے تھے۔ اس تحریک میں اکٹھے ہو کر قادیانیت سے ٹکرا گئے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ اس تحریک میں دیوبندی، بریلوی، حنفی، اہلحدیث اور شیعہ ایک ہو کر قادیانیت کے خلاف متحد العمل ہوئے۔
(تحریک ختم نبوت ص۵۸)
حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ
قطب عالم زبدۃ العارفین حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر وتقریر اور فتاویٰ کے ذریعہ اس فتنہ عظیم کی مقدور بھر تردید فرمائی اور اپنے شاگردان رشید وتوسلین حضرات کو اس کے استیصال کی وصیت فرمائی۔
(روئیداد مجلس احرار ص۸۲ حصہ ۷)
حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ
حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ صاحب کشف و کرامت بزرگ صوبہ بہار سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا زیادہ وقت وظائف عبادت و مجاہدات میں گزرتا تھا۔ انہوں نے متعدد بار ذکر کیا کہ میں عالم رویا میں حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم فخر موجودات خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار عالی میں پیش ہوا۔ نہایت ادب و احترام سے صلوٰۃ و سلام عرض کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
- ٭ محمد علی تم وظیفے پڑھنے میں مشغول ہو، اور قادیانی میری ختم نبوت کی تخریب کر
رہے ہیں۔ تم ختم نبوت کی حفاظت اور قادیانیت کی تردید کرو۔
حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اس مبارک خواب کے بعد
نماز فرض تہجد اور درود شریف کے علاوہ تمام وظائف ترک کر دیے دن رات ختم نبوت کے کام میں منہمک ہو گیا ۔
(روئیداد مجلس ص۱۳ ۱۹۸۲ء)
اسی درمیان یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ مراقبہ میں مولانا کو یہ القاء ہوا کہ یہ گمراہی (قادیانیت) تیرے سامنے پھیل رہی ہے اور تو ساکت ہے اگر قیامت کے دن باز پرس ہوئی تو کیا جواب ہوگا ۔
(سیرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ ص۲۹۷)
حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ
مولانا محمد انوری لائلپوری اپنی تالیف کمالات انوری میں رقم طراز ہیں کہ ایک بار صبح کا اجالا پھیلنے سے پہلے وزیر آباد کے اسٹیشن پر گاڑی کے انتظار میں آپ تشریف رکھتے تھے ۔ تلامذہ اور معتقدین کا ہجوم ارد گرد جمع تھا ۔ وزیر آباد اسٹیشن کا ہندو اسٹیشن ماسٹر ہاتھ میں بڑا لیمپ لیے ہوئے ادھر سے گزرا حضرت پر نظر پڑی تو رک گیا اور غور سے دیکھتا رہا ۔ پھر بولا کہ جس مذہب کے یہ عالم ہیں ۔ وہ مذہب جھوٹا نہیں ہو سکتا اور اس وقت آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا ۔
اسی طرح کا ایک واقعہ پنجاب میں بھی پیش آیا ۔ جب آپ کی نورانی صورت دیکھ کر ایک غیر مسلم کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی ۔
غیر مسلم آپ کا چہرہ دیکھتے ہی پکار اٹھتے کہ اگر چودھویں صدی کے ایک عالم دین کا چہرہ اتنا منوّر ہے تو پھر ان کا نبی کتنا خوبصورت اور منوّر چہرہ والا ہوگا ۔
مظفر نگر بھارت کے ایک مناظرہ میں آریہ مبلغ نے مولانا السید انور شاہ کے
چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے چہرے ہی پر اسلام برستا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ (نقش دوام ص۱۱)
آپ کی وفات کے حالات بیان کرتے ہوئے مصنف نقش دوام نے ص۵۰ پر لکھا ۔ ”میری خالہ کا بیان ہے ۔ جن کی زندگی کے ساتھ اسی سال کی طویل صداقت بیانی ایک شاہد عدل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کہ میں نے گھر میں جلتے ہوئے چراغ کو پست کیا ۔ تو گھر کا پورا صحن سفید پوش انسانوں سے جن کے سروں پر عربی عمامے تھے لبریز ہو گیا ، مجھے کبھی اپنی آنکھوں پر شبہ ہوتا، اور کبھی اس منظر پر حیرت ہوتی ۔ .......... خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں تمام انسانوں کی جان ہے ۔ نہ میری آنکھیں دیکھنے میں غلطی کر رہی تھیں اور نہ صورت واقعہ کے بیان میں کسی مبالغہ سے کام لیا ۔ (حضرت شاہ صاحب نے) ابتداء میں حسبنا اللہ اور نعرۂ توحید کے پاکیزہ ورد کرتے ہوئے چارپائی پر قبلہ رُخ ہو گئے ۔ وہ مقدس ہجوم جس نے گھر کے ماحول کو لبریز کر رکھا تھا۔ کوئی چیز ہاتھوں میں تھام کر بلند آواز سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتا ہوا گھر سے باہر جا رہا ہے۔ میں نے جھک کر دیکھا تو پیشانی پسینہ آلود تھی اور شاہ صاحب مرحوم ساکت وصامت لیٹے ہوئے تھے۔ ۲ صفر ۱۳۵۲ھ تقریباً نصف شب کے قریب کائنات علم کا یہ سانحہ عظیم پیش آیا ۔
آپ نے تو ختم نبوت کے محاذ پر اس تندہی سے کام کیا کہ بجا طور پر صلحائے امت کہتے ہیں کہ حضرت شاہ صاحب ختم نبوت کے محاذ کی نگرانی کے لیے تکوینی طور پر متعین تھے، عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام، التصریح بما تواتر
فی نزول المسیح علیہ السلام ، عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام ، اکفار الملحدین خاتم النبیین ردّ قادیانیت پر آپ کی شاہکار یادگار ہیں ۔
انجمن خدام الدین لاہور کے جلسہ پر حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو امیر شریعت کا خطاب دیکر اس فتنہ کے استیصال کے لیے مقرر کیا ۔
مفکر پاکستان علامہ اقبال کو توجہ دلائی ۔ تیار کیا جنہوں نے پھر کشمیر کمیٹی سے مرزا بشیر الدین محمود کو نکلوایا ۔ آپ نے اپنے آخری قیام لاہور کے ایام میں موچی دروازہ لاہور کے قریباً تیس ہزار کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جو مسلمان قیامت کے دن حضور علیہ السلام کی شفاعت چاہتا ہے وہ قادیانیت کی تردید کا کام کرے کیونکہ اس تحریک کا مقصد حضور علیہ السلام کی نبوت کو مٹا کر قادیانی نبوت کو فروغ دینا ہے ۔
مولانا محمد انورؒ نے لکھا ۔ ۱۹۳۲ء بہاولپور جامع مسجد میں حضرت مولانا انور شاہ نے تقریر فرمائی ۔ حضرات میں نے ڈابھیل جانے کے لیے سامان سفر باندھ لیا تھا کہ یکا یک مولانا غلام محمد شیخ الجامعہ کا خط دیوبند موصول ہوا ۔ کہ شہادت دینے کے لیے بہاولپور آئیے ۔ چنانچہ اس عاجز نے ڈابھیل کا سفر ملتوی کر دیا ۔ اور بہاولپور کا سفر کیا ۔ یہ خیال کیا کہ ہمارا نامہ اعمال تو سیاہ ہے ہی شائد یہی بات میری نجات کا باعث بن جائے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانثار ہو کر بہاولپور میں آیا تھا ۔ بس اس فرمانے پر تمام مسجد میں چیخ و پکار پڑ گئی لوگ دھاڑیں مار مار کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے ۔ خود حضرت
پر بھی ایک عجیب کیفیت وجد طاری تھی۔ ایک مولوی (عبدالحنان ہزاروی) نے اختتام وعظ پر فرمایا کہ حضرت شاہ صاحبؒ کی شان ایسی ہے اور آپ ایسے بزرگ ہیں وغیرہ ۔ حضرت فوراً کھڑے ہو گئے اور فرمایا حضرات ! ان صاحب نے غلط کہا ہے ہم ایسے نہیں بلکہ ہم سے تو گلی کا کتا بھی اچھا ہے ہم اس سے گئے گزرے ہیں وہ اپنی گلی ومحلے کا حق نمک خوب ادا کرتا ہے۔ ہمارے ہوتے ہوئے لوگ ناموس رسالت پر حملہ کرتے ہیں اور ہم حق غلامی وامتی کا ادا نہیں کرتے اگر ہم ناموسِ پیغمبر کا تحفظ کریں گے تو قیامت کے دن شفاعت کے مستحق ٹھہریں گے تحفظ نہ کیا یا نہ کر سکے تو ہم مجرم ہوں گے۔ اور کتے سے بھی بدتر ۔
(کمالات انوری ص )
جلال الدین شمس مرزائی مبلغ کو ۱۹۳۳ء در بہاولپور عدالت میں فرمایا کہ اگر اس طرح نہیں مانتے تو عدالت میں کھڑے کھڑے دکھا سکتا ہوں کہ مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے۔
(نقش دوام ص ۱۲۹)
مقدمہ بہاولپور میں آپ کے تاریخی بیان کے بعد فیصلہ کا مرحلہ تھا۔ جو ظاہر ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہونا تھا۔ شاہ صاحبؒ نے واپس ڈابھیل کا سفر کرنا تھا۔ تو اپنے تلامذہ کو وصیت کی کہ اگر فیصلہ میری زندگی میں ہوا تو خود سن لوں گا اور اگر میری وفات کے بعد ہو تو اس فیصلہ کی اطلاع میری قبر پر آکر دیجائے تاکہ میری روح کو تسکین ہو کہ مرزا اور اس کے متبعین کو کافر تسلیم کر لیا گیا ہے (چنانچہ مولانا محمد صادق بہاولپوری نے اس وصیت پر عمل کیا)
(ملخصاً نقش دوام ص ۱۹۰)
جب یہ تاریک فتنہ پھیلا تو مصیبت عظمیٰ اور اضطراب کی ایک ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ کسی کروٹ چین نہ آتا تھا۔ رات کی نیند حرام ہو گئی۔ مجھے قلق تھا کہ قادیانی نبوت سے دین میں ایسا رخنہ واقع ہو جائے گا جس کو بند کرنا دشوار ہو گا اس قلق و اضطراب ، بے چینی میں چھ مہینے گزر گئے تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ عنقریب اس فتنہ کا شور و شغب انشاء اللہ جاتا رہے گا۔ اور اس کی قوت و شوکت ختم ہو جائے گی۔ چنانچہ ایک طویل مُدت کے بعد میرا اضطراب رفع ہُوا سکون قلب نصیب ہوا۔
حضرت بنوریؒ نے نفحۃ العنبر ص ۳۴ پر لکھا ہے کہ حضرت شیخنا الانور فرمایا کرتے تھے کہ جب میں نے عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام کتاب لکھی تو مجھے توقع پیدا ہو گئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن اس تعلق کے باعث شفاعت فرمائیں گے۔
حضرت مولانا شمس الحق افغانی فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اپنی وفات سے تین دن پہلے اپنی چار پائی دیوبند کی جامع مسجد کے صحن میں لائے تمام طالب علموں و اساتذہ عملہ کو مخاطب کر کے فرمایا آپ سب حضرات اور جنہوں نے مجھ سے حدیث شریف پڑھی ان کی تعداد دو ہزار کے قریب ہوگی۔ سب سے کہتا ہوں کہ اگر نجات اخروی و شفاعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہو تو ختم نبوت کا کام کرو۔ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا ذریعہ ہے۔ مرزا قادیانی سے تمہیں
جتنی نفرت ہوگی اتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمہیں قرب نصیب ہوگا۔ اس لیے کہ دوست کا دشمن، دشمن ہوتا ہے۔ جس طرح دوست کا دوست، دوست ہوتا ہے۔ آپ کے پیغام وصیت نامہ جو بعد میں دعوت حفظ الایمان کے نام سے شائع ہوا۔ مولانا احمد رضا بجنوری نے پڑھ کر سنایا، سامعین عوام و علماء پر خاص کیفیت طاری تھی۔ آپ کمزوری کے باعث دیوار سے پشت لگا کر لیٹے رہے۔
علامہ انور شاہؒ نے دارالعلوم دیوبند کے ایک جلسۂ عام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا "غلام احمد قادیانی بلاشبہ مردود ازلی ہے۔ اس کو شیطان سے زیادہ لعین سمجھنا جزو ایمان ہے۔ شیطان نے ایک ہی نبی کا مقابلہ کیا تھا، اس خبیث اور بد باطن نے جمیع انبیاء علیہم السلام پر افتراء پردازی کی ہے۔ .........
(تحریک ختم نبوت ص۷)
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
حکیم الامت شاہ محمد اشرفعلی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں مولانا لال حسین اختر مرزائیت ترک کرنے کے بعد حاضر ہوئے۔ مرزائی مبلغین کی مولانا لال حسین کے ہاتھوں شکست و ہزیمت کا سن کر خوشی کا اظہار فرمایا۔ دُعا کے بعد فرمایا، مولانا آپ تحفظ ختم نبوت و مرزائیت کی تردید کے لئے عظیم دینی فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ یہ دونوں امر عبادت ہیں ان میں شرک کا شائبہ نہ ہونا چاہیے کیونکہ جس عبادت میں شرک ہو اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں فرماتے ۔
(روئیداد مجلس احرار ص۷)
مولانا لال حسین اختر نے حضرت تھانویؒ رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ حضرت میں ختم نبوۃ پر وعظ کرتا ہوں مگر ہزار احتیاط کے باوجود جب کبھی تقریر میں نعرہ لگتا ہے تو دل میں یہ خیال آجاتا ہے کہ تقریر سے لوگ خوش ہیں اور نفس ریاء کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کا علاج تجویز فرمائیں۔ اس پر آپ نے فرمایا، مولانا اختر آپ تقریر سے قبل نیت کر لیا کریں یا اللہ مجھ سے ایسا وعظ ہو جائے جس سے کہ یہ تیرے نیک بندے خوش ہو جائیں۔ پھر ان کی خوشی سے آپ بھی مولائے کریم خوش ہو جائیں۔ کیونکہ مسلمان نیک لوگوں کو خوش کرنا عبادت ہے۔ اس عبادت سے رب کریم کو راضی کرنا بھی عبادت ہوگا۔ اس طرح آپ کی تقریر ریاء سے بچ جائے گی۔
مجلس کے اختتام پر علیحدہ لیجا کر حضرت تھانویؒ نے مولانا اختر سے فرمایا کہ مولوی صاحب ایک بات کہتا ہوں مگر آپ وعدہ کریں کہ انکار نہ کریں گے۔ مولانا اختر نے عرض کی کہ حضرت ارشاد فرمائیں تعمیل ہوگی۔ حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ میں ماہانہ کچھ نہ کچھ آپ کو ڈاک کے ذریعہ رقم ہدیۃً بھجواؤنگا۔ آپ انکار نہ کریں گے۔ مولانا اختر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ہر ماہ حضرت کی طرف سے منی آرڈر ملنا شروع ہوگئے۔ کسی ماہ ناغہ ہوا تو اگلے ماہ دونوں ماہ کا اکٹھا مل جاتا۔ غرضیکہ اس طرح آپ کی زندگی میں یہ معاملہ چلتا رہا۔ جس ماہ آپ کا انتقال ہوا اُس سے اگلے ماہ سردار احمد خاں پتافی رئیس جام پور نے ماہ بماہ مجھے ہدیہ بھجوانا شروع کر دیا حالانکہ اس سے قبل انہوں نے کبھی ایسا نہ کیا تھا جس ماہ سردار صاحب کا انتقال ہوا اُس سے اگلے ماہ میاں خان محمد صاحب جوئیہ ضلع سرگودھا نے ماہ بماہ میری اعانت شروع کر دی حالانکہ اس سے قبل انہوں نے ایسا نہ کیا تھا، جب میاں صاحب کا انتقال ہوا
تو مولانا محمد علی جالندھریؒ نے اتنا میری تنخواہ میں اضافہ کر دیا آپ فرماتے تھے کہ جو حضرت تھانویؒ نے میرا وظیفہ مقرر کیا تھا ان کی کرامت ہے کہ ان کے وفات کے بعد بھی بند نہیں ہوا بلکہ مختلف ذرائع سے ملتا رہا !۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے ہمراہ السید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ حاضر ہوئے۔ حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ حضرت! شعبہ تبلیغ احرار اسلام قادیان میں تبلیغی و تدریسی خدمات سرانجام دے رہا ہے مبلغین ختم نبوت کی ایک جماعت قادیان اور اس کے مضافات میں تحفظ ختم نبوت اور تردید قادیانیت کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے۔ اس کا ملکی سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ ختم نبوت کے شعبہ میں شمولیت کے لیے فیس رکنیت کیا ہے حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ سالانہ ایک روپیہ ۔ اس پر حضرت تھانویؒ نے پچیس روپے عنایت فرمائے کہ میری طرف سے شعبہ ختم نبوت میں شمولیت کے لیے پچیس سال کی فیس رکنیت ہے۔ اگر اس عرصہ میں فوت ہو گیا تو ختم نبوت کے رضا کاروں میں میرا بھی شمار ہوگا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی شان کہ آپ اسی عرصہ میں فوت ہوئے۔
(روایت ۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ)
غازی علم الدین شہید
۱۹۲۷ء میں مہاشے راجپال نے رسول اکرم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی جس سے پورے ہندوستان کے مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی پورا ہندوستان
ایک شعلہ جوالہ کی طرح بھڑک اُٹھا عدالت عالیہ کے جسٹس دلیپ سنگھ نے ملزم راجپال کو قانون کے اصطلاحی سقم پر رہا کر دیا ۔ حالات نے خطرناک صورت اختیار کر لی لاہور میں حضرت امیر شریعتؒ کے احتجاجی جلسہ کا اعلان کر دیا گیا ۔ حکومت نے شہر میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ کر کے جلسہ کو بند کرنا چاہا مگر حضرت امیر شریعتؒ نے پورے وقتِ مقررہ پر جلسہ کیا اسی جلسہ میں حضرت مفتی کفایت اللہؒ صاحب مولانا احمد سعید دہلویؒ بھی شریک تھے جلسہ ایک احاطہ میں کیا گیا احاطہ کے دروازہ پر مسلح پولیس کا پہرہ تھا ، حضرت امیر شریعتؒ نے تقریر شروع کی آپ نے فرمایا آج آپ لوگ جناب فخرِ رسل خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کو برقرار رکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں آج جنس انسان کو عزت بخشنے والے کی عزت خطرے میں ہے جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے آج مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید کے دروازے پر ام المومنین بی بی عائشہ صدیقہ اور ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ آئیں اور فرمایا کہ ہم تمہاری مائیں ہیں کیا تمہیں معلوم نہیں کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں پھر اس زبردست کڑک کے ساتھ لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا۔ ارے دیکھو تو اماں عائشہ دروازہ پر تو نہیں کھڑی، جلسہ ہل گیا کہرام مچ گیا اور لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور لوگوں کی نگاہیں بے ساختہ دروازہ کی جانب اُٹھ گئیں، فرمایا ادھر دیکھو سبز گنبد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تڑپ اُٹھے ہیں ، خدیجہ و عائشہ پریشان ہیں امہات المومنین آج تم سے اپنے حق کا مطالبہ کرتی ہیں۔ عائشہ پکارتی ہیں وہی عائشہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیار سے حمیرا کہہ کر پکارتے تھے جنہوں نے حبیب پاک کو وصال کے وقت مسواک چبا کر دی تھی۔ اُن کے ناموس پر قربان ہو جاؤ سچے بیٹے ماں کے ناموس کے لیے کٹ مرا کرتے ہیں۔ وہ دیکھو سیدہ فاطمہؓ فرماتی ہیں کہ ہے کوئی باغیرت مسلمان جو
جو میرے ابا کا انتقام لے : فرمایا مسلمانو! یا تو یہ سننے والے کان نہ رہیں۔ یا لکھنے والا ہاتھ نہ رہے اور بکنے والی زبان نہ رہے "
صبح ترکھان کا بیٹا غازی علم الدین اٹھا۔ جاکر راجپال کا کام تمام کر دیا۔ غازی عبدالرحمن منتظم ، مولانا حبیب الرحمن صدر ، سید عطاء اللہ شاہ بخاری مقرر پر کیس چلا ، ایک ایک سال کے لیے ہر سہ حضرات حوالہ زندان کر دیئے گئے۔
غازی علم الدین پر قتل کا مقدمہ چلا، پھانسی کا حکم ہوا اور وہ تختہ دار پر حضور علیہ السلام کی عزت و ناموس کے تحفظ میں لٹکا دیئے گئے۔ بعد میں حضرت قاضی احسان احمد صاحب اسی جیل میں گرفتار ہو کر گئے۔ اتفاق سے آپ کو اسی کوٹھڑی میں بند کیا گیا، جس میں پہلے غازی علم الدین شہید رہ چکا تھا۔ جیل وارڈن نے کہا قاضی صاحب تم بہت خوش نصیب ہو یہ بہت ہی برکت والی کوٹھڑی ہے۔ قاضی صاحب کے استفسار پر اس نے بتایا کہ جناب! غازی علم الدین اس کوٹھڑی میں تھا تو ایک رات کوٹھڑی روشن ہو گئی۔ بقعہ نور بن گئی میں پہرہ پر تھا۔ میں حیران و پریشان دوڑا ہوا آیا کہ کہیں ملزم اپنے آپ کو آگ تو نہیں لگا رہا۔ مگر وہ تو بڑے آرام و اطمینان سے اس دنیا سے بے خبر تشریف رکھتے تھے۔ میں حیران کھڑا رہا۔ کافی دیر بعد جگایا پوچھا تو میرے اصرار منت و سماجت پر غازی مرحوم نے کہا کہ خواب میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تھے۔ فرمایا علم دین ڈٹ جاؤ میں حوض کوثر پر آپ کا انتظار کر رہا ہوں ۔
ہفت روزہ لولاک فیصل آباد (۲ جنوری ۱۹۸۳ء)
غازی علم الدین کی خوش بختی آپ نے ملاحظہ کی ، اب مرزا بشیر الدین کی وہ بد زبانی جو اس واقع پر سیخ پا ہو کر اُس نے بکی ملاحظہ ہو : ” وہ نبی بھی کیا نبی ہے جس کی عزت بچانے کے لیے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں وہ لوگ جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں ۔ وہ مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں ۔
(الفضل ۱۹؍ اپریل ۱۹۲۹ء)
اور طرفہ تماشہ یہ کہ جب انگریز کی حمایت کا مرحلہ آئے تو وہی حرام حلال اور ناجائز جائز بن جاتا ہے : ”ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں جو اپنے خون اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے“
(تبلیغ رسالت ص ۸۸)
ظلم کی انتہا دیکھئے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے غازی علم الدین کا اقدام ناجائز اور مرزا قادیانی کی عزت کے لیے جائز مرزا محمود نے کہا ۔ ملاحظہ ہو :۔
اپنے دینی اور روحانی پیشوا کی معمولی ہتک بھی کوئی برداشت نہیں کر سکتا اس قسم کی شرارتوں کا نتیجہ لڑائی جھگڑا ، قتل وخونریزی بھی معمولی بات ہے ۔ اگر اس سلسلہ میں کسی کو پھانسی دی جائے اور وہ بزدلی دکھائے تو ہم اسے ہرگز منہ نہیں لگائیں گے بلکہ میں تو اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھوں گا
(الفضل ۱۱؍ مئی ۱۹۲۰ء)
حضرت شاہ عبد القادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ
حضرت شاہ عبد القادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق صلحائے اُمت کہتے ہیں کہ آپ مولانا انور شاہ کشمیری کے بعد ختم نبوت کے محاذ کے تکوینی طور پر انچارج تھے ہر وقت اس فتنہٴ عظیم قادیانیت کے خلاف برسرپیکار رہتے تھے ، حضرت بخاری صاحب
مولانا قاضی صاحب، حضرت جالندھری، مولانا لال حسین، مولانا محمد حیات سب آپکے مرید تھے۔ اور آپ ہی نے ان حضرات کو اس کام پر لگایا۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی سے کتاب لکھوائی ساری عرب دنیا میں تقسیم کرنے کا مجلس تحفظ ختم نبوت کو حکم فرمایا شہادۃ القرآن کی طبع ثانی بھی آپ کی توجہ خاص کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ سنئے آپ کے وصال سے پندرہ دن پہلے مولانا لال حسین اختر سے فرمایا کہ مجھے آپ سے، مولانا محمد علی، مولانا محمد حیات سے بہت زیادہ پیار ہے۔ اس لیے کہ آپ ختم نبوت کا کام کرتے ہیں۔ مولانا لال حسین اختر نے عرض کیا پڑھنے کے لیے کوئی وظیفہ ارشاد فرمائیں۔ حضرت والا نے فرمایا مولوی جی آپ روزانہ کچھ درود شریف پڑھ لیا کریں باقی آپکا وظیفہ یہ ہے کہ ختم نبوت پر وعظ کیا کریں۔ یہ چھوٹا وظیفہ نہیں بہت بڑا وظیفہ ہے پورے دین کا دارو مدار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ہے۔
(روئیداد مجلس ص۸۴ شہ)
فقیر راقم الحروف کو تردد تھا کہ سنہ ۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں خانوادہ رائے پوری کا بظاہر حصہ نظر نہیں آتا۔ چنانچہ ۱۳۷۳ھ دس محرم کو جھاوریاں ایک تبلیغی جلسہ میں حاضر ہوا حضرت رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مولانا قاضی عبدالقادرؒ سے ملاقات ہوئی جو تبلیغی جماعت کے بزرگ رہنما تھے۔ انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ جب مولانا لال حسین اخترؒ کی وفات کے بعد عارضی امارت مجلس تحفظ ختم نبوت کی مولانا محمد حیات کے سپرد کی گئی تو میں دین پور شریف حضرت میاں عبدالہادی خواجہ خواجگان کے پاس حاضر ہوا۔ آپ نے مجھے فرمایا کہ میں معذور ہوں سفر کے لائق نہیں آپ کراچی شیخ الاسلام حضرت بنوریؒ کے پاس تشریف لے جائیں اور میری طرف سے عرض کریں کہ وہ ختم نبوت
جماعت کی صدارت قبول کرلیں۔ یہ ۱۹۷۲ء کی بات ہے میں نے کراچی جاکر حضرت بنوریؒ سے عرض کیا۔ آپ نے فرمایا کہ انشراح نہیں۔ دوسرے دن عرض کیا آپ نے وہی جواب دیا۔ تیسرے دن حاضر ہوا تو میں نے کہا کہ میاں عبدالباری صاحبؒ نے یہ فرمایا نہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ اُن کا وجدان کہتا ہے کہ ختم نبوت کے محاذ پر کوئی اہم کام ہونے والا ہے۔ اس کے لیے آپ ایسی جامع شخصیت کے کنٹرولر کی حیثیت سے ضرورت ہے حضرت بنوریؒ مسکرائے فرمایا کہ آج حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلویؒ مہاجر مدنی کا بھی مدینہ الرسول سے خط آیا ہے انہوں نے بھی فرمایا ہے کہ ختم نبوت کی صدارت بغیر وجہ پوچھے قبول کر لو۔ ہر بات بتانے والی نہیں ہوتی۔ اس میں نہ صرف خیر ہے بلکہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل بھی ہے ”چنانچہ حضرت بنوریؒ کو ختم نبوت جماعت کی صدارت کے لیے میں نے آمادہ کر لیا ۱۹۷۳ء میں شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر بنے ۱۹۷۴ء میں تحریک چل نکلی آپ کو ۱۶؍جون ۱۹۷۴ء کے اجلاس فیصل آباد میں آغا شورش کی تحریک پر مجلس عمل کا بھی صدر بنا دیا گیا۔ آپ نے جس بیدار مغزی سے تحریک کو کنٹرول کیا وہ آپ کا حصہ ہے آپ کی صدارت وسرپرستی میں چلنے والی تحریک بالآخر کامیاب ہوئی اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا
آپ کی مجلس میں ایک دفعہ کسی نے مولانا عبدالرحمن میانوی مبلغ ختم نبوت کے متعلق نازیبا بات کہہ دی۔ آپ نے کھانا ترک کر دیا۔ بڑی منت معذرت کی ، تو فرمایا کہ تمہاری زندگی کی نیکیاں ملکر انکی ایک رات کی جیل جو انہوں نے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت
و ناموس کے لیے کافی ہے، اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں ۔ ختم نبوت کے مجاہدوں کی تکلیف سے مجھے تکلیف ہوتی ہے !
حضرت مولانا علامہ ابوالحسنات محمد احمد قادریؒ
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ ہر دو حضرات حضرت امیر شریعت کا پیغام لیکر مولانا ابوالحسناتؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ آپ تحریک ختم نبوت میں हमारा ساتھ دیں۔ آپؒ نے معذرت کر دی۔ اس پر مولانا محمد علی جالندھریؒ اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا ”مولانا ہم آپ کو سواد اعظم کا نمائندہ سمجھ کر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کا مسئلہ آپ کے پاس لائے تھے آپ ہمیں اس طرح خالی واپس کر رہے ہیں۔ تحریک شروع ہے ہم جاتے ہیں نامعلوم کن کن مصائب کا شکار ہوں گے۔ مگر آپ اپنے طور پر سوچ رکھیں کہ کل قیامت کے دن آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھلائیں گے “
یہ سن کر عشق رسالتماب صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دیوانہ مولانا ابوالحسنات رو پڑا اور مولانا محمد علی کو فرمایا کہ مولانا میں آپکے ساتھ ہوں ۔ آپ قیامت کے دن آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری شکایت نہ کریں ۔
آپ کو حضرت امیر شریعت نے ۱۹۵۳ء کی تحریک میں مجلس عمل کا سربراہ بنایا ۔ آپؒ نے بڑی بہادری و جرات سے تحریک کی قیادت کی ۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ جیل میں آپ جب طہارت کے لیے جاتے تو امیر شریعت ان کے لیے لوٹا پانی کا بھر کر لاتے مولانا ابوالحسنات آبدیدہ ہو جاتے ۔ ایسی محبت و اخلاص بھری تصویر
تھے۔ کہ اس پر آسمانی فرشتے بھی رشک کرتے ہوں گے ۔ جیل میں اطلاع ملی کہ آپ کے صاحبزادے مولانا خلیل احمد قادری دامت برکاتہم کو پھانسی کا حکم ہوا ہے۔ آپ اپنے اکلوتے فرزند کے متعلق یہ خبر سن کر سجدہ میں گر گئے اور عرض کیا الٰہی میرے بچے کی قربانی کو منظور فرما“ آپ کے صبر و استقلال کا نتیجہ تھا کہ نہ صرف آپ کا صاحبزادہ بلکہ مولانا مودودی مولانا عبدالستار خان نیازی تینوں حضرات کی پھانسی کی سزا ختم کر دی گئی ۔ آپکے بھائی مولانا عبدالحامد بدایونی بھی تحریک ختم نبوت میں گرفتار ہوئے ۔ سکھر و کراچی میں قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کیا۔
پیران تونسہ شریف
حضرت خواجہ شاہ سلیمان تونسویؒ کے جانشین خواجہ اللہ بخش تونسویؒ کے زمانہ میں مرزا قادیانی نے سر اٹھایا۔ آپ نے پورے ملک کے مریدوں کو مراسلے جاری کیے خصوصاً متحدہ پنجاب میں مرزا کی ایسی تردید کی کہ مرزا قادیانی کا گھیرا تنگ کر دیا۔ مرزا قادیانی کی طوفان بدتمیزی کے سامنے آپ نے اپنی جرأت سے ایسا بند تعمیر کیا کہ جس سے پوری ملت اسلامیہ محفوظ ہو گئی ۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جب مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا آپ بیماری کے باعث صاحب فراش تھے مگر یہ منحوس خبر سن کر بستر مرگ سے یوں اٹھے جیسے سویا ہوا شیر انگڑائی لیتا ہے۔ پھر عمر بھر اس فتنہ کی تردید میں نبرد آزما رہے۔
خواجہ نظام الدین تونسویؒ نے ۱۹۵۳ء تحریک مقدس میں بھر پور حصہ لیا۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے آپکے قابلِ رشک مراسم تھے۔
ایک بار کوٹ قیصرانی تحصیل تونسہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے شیریں بیاں مقرر مولانا محمد شریف بہاولپوری نے ردّ قادیانیت پر تقریر کی۔ تو مرزائیوں نے آپ کی سخت مخالفت و توہین کی۔ خواجہ نظام الدینؒ کو پتہ چلا۔ آپ بہت رنجیدہ ہوئے۔ جیسے آپ کی اپنی بے حرمتی ہوئی ہو۔ ساتھیوں سے فرمایا یہ معمولی بات نہیں۔ ہم قادیانیوں کو ایسی سزا دیں گے کہ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔ چنانچہ چند روز بعد وہی قادیانی خان جب تونسہ آیا تو آپ نے مریدوں کو حکم دیا جہاں ملے بچھا دو۔ ایسی عبرتناک سزا دی کہ قادیانی آج بھی اسے نہ بھولے ہوں گے۔
حالیہ تحریک شیر گڑھ میں آپ کے وارث خواجہ عبد مناف نے جس جرأت رندانہ کا مظاہرہ کیا۔ یہ سب اسی خونی وراثت کا صدقہ ہے !
اس تحریک میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام مجاہدین علماء مشائخ کی خدمات قابل فخر ہیں۔ اسی تحریک میں جب لاٹھی چارج ہوا تو مولانا عبدالستار تونسوی سخت زخمی ہوئے۔ اگلی رات خواب میں آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے بہرہ ور ہوئے ۔
پیر خواجہ سیالویؒ
حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالویؒ نے اپنے عہد میں مرزا قادیانی کی تردید میں کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھا۔ ردّ مرزائیت پر آپ کی کتاب معیار المسیح ایک شاہکار ہے۔ آپکے صاحبزادہ خواجہ قمر الدین سیالویؒ مرحوم نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چنیوٹ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت سے اتحاد بین المسلمین کے لیے زحمت فرمائی ۔
۱۹۷۴ء میں آپ سرگودھا مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے نہ صرف سرپرست رہے
بلکہ متعدد اجلاسوں میں شرکت فرمائی۔ آپ نے تحریک کے موقعہ پر راولپنڈی میں ایک سو علماء و مشائخ کا کنونشن بلا کر مشائخ کی پوری طاقت مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے پلڑے میں جھونک دی شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری (جو مجلس عمل کے سربراہ تھے) کو اپنا پیغام بھجوایا کہ اس مسئلہ کے لیے میری جان حاضر ہے۔ حضرت بنوریؒ نے فرمایا کہ آپ اپنی دعاؤں سے ہماری امداد جاری رکھیں جب ضرورت ہوئی بنوریؒ خود آپکے ہاں حاضر ہونگا۔ یکم ستمبر ۱۹۷۴ء کے جلسہ بادشاہی مسجد لاہور میں خواجہ قمر الدینؒ اور شیخ بنوریؒ جب ایک ساتھ سٹیج پر تشریف رکھتے تھے۔ تو اس طرح معلوم ہوتا تھا کہ اگر ایک قمر ہے تو دوسرا سراج۔ چاند و سورج کے اس حسین امتزاج کو دیکھ کر دنیا نے کامیابی کی نیک فال لی۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاری
استاذی المکرم حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستی دامت برکاتہم حج کے لیے حجاز مقدس تشریف لے گئے آپ کا ارادہ تھا کہ اب واپس پاکستان نہیں جاؤں گا مدینہ طیبہ قیام کے دوران آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہاں دین کا کام خوب ہو رہا ہے۔ پاکستان میں آپ کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں جاکر ”میرے بیٹے عطاء اللہ شاہ بخاری کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ختم نبوت کے محاذ پر تمہارے کام سے میں گنبد خضراء میں خوش ہوں۔ ڈٹے رہو۔ اس کام کو خوب کرو میں تمہارے لیے دُعا کرتا ہوں۔
حضرت درخواستی حج سے واپسی پر سیدھے ملتان آئے شاہ جی چارپائی پر تھے۔ خواب سنایا شاہ جی تڑپ کر نیچے گر گئے کافی دیر بعد ہوش آیا بار بار پوچھتے درخواستی صاحب
میرے آقا و مولیٰ نے میرا نام بھی لیا تھا۔ حضرت درخواستی صاحب کے اثبات میں جواب دینے پر پھر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ وفات کے بعد خواب میں مجھے حضرت بخاریؒ صاحب کی زیارت ہوئی۔ میں نے پوچھا شاہ صاحب فرمائیے قبر کا معاملہ کیسا رہا۔ شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ بھائی یہ منزل بہت ہی مشکل ہے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی برکت سے معافی مل گئی ۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھری نے فرمایا کہ حضرت مولانا رسول خاں جو پاکستان کے بہت بڑے محدث اور استاذ الکل ہیں، نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جماعت صحابہ کرامؓ میں تشریف فرما ہیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (ایک طشت میں آسمانوں سے) ایک دستار مبارک لائی گئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”اٹھو اور میرے بیٹے عطاء اللہ شاہ کے سر پر باندھ دو۔ میں اس سے خوش ہوں کہ اس نے میری ختم نبوت کے لیے بہت سارا کام کیا ہے۔
(تقاریر مجاہد ملتؒ ص۷)
مولانا فرمایا کرتے تھے کہ آپؐ نے خود یا اور کسی صحابیؓ کو کیوں حکم نہ دیا کہ بخاری صاحب کے سر پر دستار باندھ دو، بلکہ ابوبکر صدیقؓ کو حکم دیا۔ اس طرف اشارہ کرنا مقصود تھا۔ کہ سب سے پہلے ختم نبوت کا تحفظ مسیلمہ کذاب کے زمانہ میں صدیق اکبرؓ نے کیا تھا۔ اب پاکستان میں مسیلمہ پنجاب کا مقابلہ و ختم نبوت کا تحفظ بخاری صاحبؒ نے کیا۔ گویا ختم نبوت کا ایک محافظ دوسرے ختم نبوت کے محافظ کو دستار بندی کر رہا ہے۔
ایک بار آپ نے وجد میں فرمایا کہ اگر میری قبر پر کان لگا کر سننے کی قدرت تمہیں طاقت بخشے تو سن لینا کہ میری قبر کا ذرہ ذرہ پکار رہا ہو گا کہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کافر ہیں"
اُدھر تحریک کی اندوہناک پسپائی سے لوگوں میں مایوسی کا پیدا ہونا ایک قدرتی امر تھا ۔ کئی لوگ ان شہداء کے متعلق جو اس تحریک ناموس ختم نبوت پر قربان ہو چکے تھے یہ سوال کرتے کہ اُن کے خون کا ذمہ دار کون ہے ؟ شاہ جی نے لاہور کے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جواب دیا کہ :-
" جو لوگ تحریک ختم نبوت میں جہاں تہاں شہید ہوئے اُن کے خون کا جوابدہ میں ہوں وہ عشق رسالت میں مارے گئے ۔ اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اُن میں جذبہ شہادت میں نے پھونکا تھا ۔ جو لوگ اُن کے خون سے دامن بچانا چاہتے اور ہمارے ساتھ رہ کر اب کنی کترا رہے ہیں ۔ ان سے کہتا ہوں کہ میں حشر کے دن بھی ان کے خون کا ذمہ دار ہوں گا ۔ وہ عشق نبوت میں اسلامی سلطنت کے ہلاکو خانوں کی بھینٹ چڑھ گئے ، لیکن ختم نبوت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھی سات ہزار حافظ قرآن اسی مسئلہ کی خاطر شہید کرا دیئے تھے ۔
شاہ جی تحریک کی پسپائی سے غایت درجہ ملول تھے ۔ ان کا دل بجھ چکا تھا ۔ فرماتے غلام احمد کی نبوت کے لیے تحفظ ہے ، لیکن محمدؐ کی ختم نبوت کے لیے تحفظ نہیں ۔ عموماً اشکبار ہو جاتے اسی زمانہ میں ایک دن تقریر کرنے کے لیے اٹھے تو عمر بھر کی روایت کے برعکس نہ خطبہ مسنونہ پڑھا ۔ نہ زیر لب ورد کیا ۔ فرمایا :-
مسٹر پریذیڈنٹ ، لیڈیز اینڈ جنٹلمین ! لوگوں نے قہقہہ لگایا اور ششدر رہ گئے۔ ”شاہ جی یہ کیا ؟“ فرمایا۔ ایک سیکولر سٹیٹ کے شہریوں سے مخاطب ہوں۔
(تحریک ختم نبوت ص۱۴۴)
ترکی میں ایک عالم دین نے خواب دیکھا کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم مع صحابہ کرامؓ کے گھوڑوں پر سوار سفر پر تشریف لیجا رہے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ آقا (صلی اللہ علیہ وسلم) کہاں کا ارادہ ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ میرا بیٹا عطاء اللہ بخاری پاکستان سے آ رہا ہے اسے لینے جا رہے ہیں“ ترکی کے یہ عالم دین سیّد عطاء اللہ بخاری کو نہ جانتے تھے پاکستان میں وہ صرف مولانا محمد اکرم سلطان فونڈری لاہور کو جانتے تھے۔ ان کو خط لکھا کہ فلاں رات خواب میں اس طرح دیکھا آپ فرمائیں تو یہ عطاء اللہ بخاری کون ہیں۔ اور اس رات کیا واقعہ پیش آیا۔ خط پڑھا تو معلوم ہوا کہ خواب کی وہی رات تھی جس رات سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا وصال ہوا۔
مولانا محمد شریف بہاولپوری
آپ حضرت بخاری کے ساتھی اور مجلس ختم نبوت کے مبلغ تھے۔ سرائیکی زبان کے بہترین خطیب تھے۔ ساری زندگی ختم نبوت کے محاذ پر کام کرتے رہے ۔ جنازہ ختم نبوۃ دفتر ملتان سے اٹھا۔ تدفین کے بعد آپ کی قبر مبارک سے تین دن خوشبو آتی رہی ۔
حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ
حضرت شاہ صاحب کے شاگرد خاص اور قادیانی مسئلہ میں شمشیر برہنہ تھے۔ آپ نے
زندگی بھر قادیانیت کا مقابلہ کیا اور اس طرح شکستیں دیں کہ مرزا غلام احمد کے جانشین ان کے نام سے کانپتے تھے۔ قاضی صاحب قادیانیت کے سلسلہ میں انسائیکلو پیڈیا تھے۔ اپنے ساتھ قادیانی لٹریچر کا بستہ رکھتے، وزیر اعظم، وزیروں، گورنر جنرل اور گورنروں کے ہاں پہنچ جاتے۔ انہیں مرزا غلام احمد کی تصنیفات میں سے پوچ تحریریں اور بے نقط گالیاں دکھاتے اور کانوں پر ہاتھ رکھتے اور کہتے کہ اس فاتر العقل نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ قاضی صاحب سحر طراز خطیب تھے۔ آپ کا ۱۹۷۱ء میں انتقال ہو گیا۔
مرضِ وفات میں اچانک آنکھ کھولی۔ دونوں ہاتھ پھیلا دیئے۔ قریب بیٹھے احباب سے فرمایا ہٹ جاؤ وہ دیکھو مجھے لینے کے لیے آگئے ہیں وہ مجھے خوشبو آرہی ہے یہ کہہ کر کلمہ پڑھا کروٹ بدلی۔ آنکھ بند کی اور ہمیشہ کے لیے سوگئے اللہ رب العزت ان کی قبر کو بقعہ نور بنائے ۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ
مولانا محمد علی ایک متدین عالم دین اور ایک معتدل خطیب تھے۔ ہر بات تُل ناپ کر کرتے۔ آپ نے دارالمبلغین قائم کرکے قادیانیت کے لیے ایک ایسا شکنجہ تیار کیا کہ کہ تمام اضلاع میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر قائم ہو گئے۔ کوئی پچاس سے زائد کُل وقتی مبلغ مقرر کیے جو مرکزی دفتر سے معمولی مشاہرہ لے کر اپنے فرائض انجام دیتے۔ اس نظام نے قادیانیت کی سرکوبی نہایت احسن طرق پر کی۔ دارالمبلغین نے سینکڑوں مبلغ و مناظر تیار کیے، انہوں نے پاکستان ہی میں قادیانیت کا گھیراؤ نہ کیا بلکہ ملک سے باہر افریقی ممالک اور عرب ریاستوں میں جاتے رہے۔ دارالمبلغین میں ہندوستان، برما، ماریشس، فجی
آئی کینیا اور افریقی ممالک کے علماء نے آکر ردّ مرزائیت کی تعلیم حاصل کی پھر اپنے ممالک میں واپس جا کر قادیانیت کا تعاقب کیا۔ یہ سب مولانا محمد علی جالندھری کی شبانہ روز مساعی کا اعجاز تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ تائید ایزدی کے بل پر آپ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کو ایک طاقتور تنظیم بنا دیا۔ اس کا مرکزی دفتر ملتان میں خرید کیا۔ جوابی لٹریچر تیار کرتے رہے اور ان تمام مقدمات کے اخراجات مجلس کے ذمہ ہوتے جو مبلغین کے خلاف قائم کیے جاتے یا جن علاقوں میں میرزائی مسلمانوں سے انفرادی و اجتماعی سطح پر قانون کے مختلف معرکے رچاتے مثلاً جائداد کا تنازعہ، شادی بیاہ کے معاملے اور طلاق وغیرہ کا مسئلہ۔ مولانا کا وجود مرزائیوں کے لیے دُرّہ عُمر تھا۔ آپ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے لیے لاکھوں روپے جمع کیے، خود بھی مشاہرہ لیتے تھے، لیکن جب ۱۹۷۱ء میں آپ کا انتقال ہوا، تو آپ کی یادداشتوں میں سے ایک تحریر برآمد ہوئی کہ میں نے آج تک مجلس تحفظ ختم نبوت سے بطور مشاہرہ جو رقم حاصل کی ہے۔ وہ فلاں جگہ فلاں صندوق میں بندھی پڑی ہے، وہاں سے لے لی جائے اِس اُجلی سیرت کے انسانوں ہی نے مجلس تحفظ ختم نبوت کا چراغ روشن رکھا۔
(تحریک ختم نبوت ص ۱۶۶، ۱۶۷)
ضلع سرگودھا کے پہاڑی علاقہ میں غیر مسلموں کا ایک آشرم تھا۔ جو قادیانیوں نے الاٹ کرا لیا تھا اور وہاں اپنی تبلیغی سرگرمیاں جاری کر دیں۔ حضرت امیر شریعتؒ کو جب علم ہوا تو اس علاقہ میں موضع جابہ کے قریب سالانہ کانفرنس منعقد کرنے کا حکم دیا یہ کانفرنس دو یوم کے لیے تقریباً ۱۵/۱۶ سال سے مرکزی جماعت تحفظ ختم نبوت کے خرچ پر ہر سال ماہ ستمبر میں ہوتی ہے ۱۹۸۴ء میں بعض مجبوریوں کی بناء پر ایک میل دور ضلع جھنگ
کی مسجد میں نئی جگہ کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس کے چند روز قبل تلہ گنگ کے حاجی محمد ابراہیم (ملک وال) نے خواب دیکھا کہ خود حاجی صاحب اور مولانا فضل احمد صاحب مع دیگر احباب کانفرنس کی شرکت کے لیے اس نئی جگہ میں آئے۔ جب پہنچے تو دیکھا اس میدان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے ہیں۔ اور فرما رہے ہیں۔ دیر ہو رہی ہے جلسہ جلدی شروع کرو۔ محمد علی جالندھری کو کہو کہ جلسہ میں دیر نہ کیا کرے۔
(روئیداد مجلس شوریٰ ۱۹۵۴ء ص ۸۲)
مولانا مرحوم خود سنایا کرتے تھے کہ تقسیم سے قبل میں ایک گاؤں میں وعظ کے ارادے سے گیا۔ وہاں مرزائیوں کا رسوخ تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو منع کر دیا کہ مولوی صاحب وعظ نہ کریں۔ مسلمانوں نے مجھے روک دیا۔ میں عشاء کی نماز پڑھ کر سو گیا۔ میرے دل و دماغ پر صدمہ کے اثرات تھے کہ مسلمانوں کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ یہ قادیانیوں سے اتنے مرعوب ہیں۔ رات کو خواب میں مجھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زیارت ہوئی میں نے انہیں خواب میں دیکھتے ہی حدیثوں کے مطابق ان کی علامتوں و نشانیوں کو پوری کرنے لگ گیا۔ چہرہ مہرہ، شکل و شباہت وضع قطع ، سر کے بالوں سے پانی کا ٹپکنا کہ جس طرح حمام سے نہا کر تشریف لائے ہوں ۔ جب میں نے احادیث میں پڑھی ہوئی علامتوں کو پورا کر کے یقین کر لیا کہ واقعتاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں تو میں نے عرض کیا کہ حضرت آپ کیسے اس دُنیا میں آگئے ابھی تو حضرت مہدی علیہ السلام کا ظہور نہیں ہوا۔ دجال کا خروج نہیں ہوا۔ آپکے تو احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رُو سے ان اہم دو امور ( ظہور مہدی و خروج دجال ) کے بعد تشریف لانا تھا۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا محمد علی جالندھری جب تم میری حیات (لوگوں کے ٹوکنے کے باعث) بیان نہیں کرتے تو میں خود اپنی
حیات کی دلیل بن کر نہ آؤں تو کیا کروں اس پر مولانا فرماتے ہیں کہ میری جاگ ہو گئی۔ رات بھر ذکر و فکر میں گزار دی۔ دل میں فیصلہ کر لیا کہ جان جاتی ہے جائے مگر میں صبح حیات عیسیٰ علیہ السلام پر تقریر ضرور کروں گا۔ چنانچہ صبح نماز کے بعد مسجد میں اعلان کیا کہ مسلمانو تم نے میری تقریر مسجد میں نہیں ہونے دی اب میں اپنی ذمہ داری پر خود اس گاؤں کے چوک میں تقریر کرنے لگا ہوں جو سننا چاہیں آجائیں۔ میں نے جاکر تقریر شروع کر دی آہستہ آہستہ گاؤں کے لوگ آنے شروع ہو گئے۔ ابتداء تقریر میں ایک شخص نے اجتماع میں آکر عصاء زمین پر گاڑھ کر کہا کہ مولانا آپ تقریر کریں آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ کون آتا ہے تقریر کے بعد وہ آدمی چلا گیا، نہ معلوم کون تھا۔ کہاں سے آیا تھا آج تک یہ راز ہے۔ میں نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر گھنٹوں جی بھر کر تقریر کی کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ میری تقریر کو روک سکے۔ تقریر کے بعد سائیکل لے اس گاؤں سے بخیر و خوبی روانہ ہو گیا۔
تقریباً سنہ ہجری میں مولانا سید تجمل حسین شاہ صاحب کشمیری فاضل دیوبند جو درکھانہ اسٹیشن عبدالحکیم، ضلع ملتان سے حج کے لیے گئے (ان کے بھائی سید عارف حسین شاہ صاحب چک ۲۳۳ دھنی دیو ضلع فیصل آباد میں مقیم ہیں) مولانا سید تجمل حسین کو منیٰ میں فراغت حج کے بعد ایک بزرگ صورت ہستی کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی آپ نے انہیں فرمایا محمد علی جالندھری کو میرا پیغام پہنچا دینا کہ وہ تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے۔ اس کو نہ چھوڑے۔
(روئیداد مجلس ۱۹۸۲ء ص ۱)
حضرت مولانا لال حسین اخترؒ
مولانا لال حسین اختر قادیانیت کے سلسلہ میں گھر کے بھیدی تھے۔ ایک اعلیٰ پایہ کے مقرر، ایک خوش گفتار مبلغ اور ایک معجز بیان مناظر! آپ کا نام قادیانیوں کے لیے سوہان روح تھا۔ آپ نے ردّ مرزائیت کے سلسلہ میں انگلینڈ، جرمنی، امریکہ، فجی آئی لینڈ اور سعودی عرب کا دورہ کیا۔ آپ کی ثمر آور کوششوں سے ہڈرسفیلڈ (انگلستان) اور فجی آئی لینڈ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی دفتر قائم کیے گئے، ہڈرسفیلڈ کا دفتر مجلس کی ملکیت ہے۔ ان ملکوں میں آپ مرکزی دفتر سے مختلف زبانوں میں لٹریچر بھجواتے رہے۔ بالآخر ایک حادثہ کا شکار ہوکر ۱۹۷۳ء میں راہی عالم بقا ہو گئے۔
مولانا لال حسین اختر کالج میں پڑھتے تھے کہ تحریک خلافت چلی کالج کو خیر باد کہہ کر تحریک خلافت میں شامل ہو گئے۔ خلافت کمیٹی بٹالہ کے زیر ہدایت گورداسپور ضلع بھر میں خوب تحریک کا کام کیا۔ بالآخر گورداسپور کی عدالت میں تقریریں کرنے پر مقدمہ چلا ایک سال کی سزا ملی جو گورداسپور کی جیل میں کاٹی رہا ہوئے تو آریہ سماج اور شدھی کی تحریک کے مقابلہ پر کام کرنے کا عزم کیا۔ مرزائیوں کے ہتھے چڑھ گئے۔ مرزائیوں کی نام نہاد تبلیغ اسلام کے دام تزویر میں پھنس گئے ان کی بیعت کی۔ انجمن کے کالج میں داخل ہوگئے، سنسکرت، وید وغیرہ بھی اسی دوران پڑھے۔ سیکرٹری احمدیہ ایسوسی ایشن ایڈیٹر پیغام صلح لاہور وغیرہ کے اہم عہدوں پر فائز ہوئے اور آٹھ سال تک لاہور میں مرزائیوں کے مبلغ کی حیثیت سے مرزائی عقائد کی تبلیغ کرتے رہے۔ بالآخر ترک مرزائیت کرنے پر خود لکھتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا۔ ۱۹۳۱ء کے وسط میں چند
خواب دیکھے جن میں مرزا صاحب قادیانی کی نہایت گھناؤنی شکل دکھائی دی۔ اور انہیں بُری حالت میں دیکھا۔ آخر کار ان خوابوں سے متاثر ہو کر فیصلہ کیا کہ خداوند کریم کو حاضر و ناظر سمجھ کر محبت و عداوت کو چھوڑ کر مرزا قادیانی کی مشہور تصنیفات کا مطالعہ کیا۔ خالی الذہن ہو کر جوں جوں مطالعہ کرتا مرزا کی صداقت مشتبہ ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ مجھے یقین کامل ہو گیا کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا۔
ان خوابوں کی تفصیل مولانا عبدالرحیم اشعر کی زبانی سنیے جو حضرت موصوف کے مشہور شاگرد اور رفیق سفر اور مجلس کے مناظر اسلام ہیں حضرت مولانا لال حسین اختر استاذی مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ خواب میں میں نے دیکھا کہ ایک رسی ہے جس کا ایک سرا میرے ہاتھ میں اور دوسرا مرزا قادیانی کے ہاتھ میں ہے وہ مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ آئے اور انہوں نے کوئی چیز مار کر درمیان سے رسی کاٹ ڈالی۔ یک دم دھڑام ہوا۔ میں گھبرایا تو بزرگ نے کہا کہ وہ دیکھو مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے۔ میں نے دیکھا تو آگ کے الاؤ میں مرزا قادیانی جل رہا تھا۔ اور اس کی شکل خنزیر کی سی تھی۔
دوسری دفعہ خواب میں دیکھا کہ جہنم میں مرزا قادیانی خنزیر کی شکل میں رسیوں سے جکڑا ہوا جل رہا ہے۔ میں ڈر گیا غیب سے آواز آئی کہ یہ شخص مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے سب اسی طرح جلیں گے۔ تم بچ جاؤ۔ چنانچہ یکم جنوری ۱۹۳۱ء کو مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔
حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ
مولانا ابوالحسن علی ندوی نے حضرت بنوری کے نام اپنے ایک مکتوب میں مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے پر مبارکبادی کے سلسلہ میں لکھا۔
اس کی بھی اُمید ہے کہ روحِ مبارک نبوی علیہا الف الف سلام کو بھی مسرت حاصل ہوئی ہوگی۔
حضرت بنوریؒ نے لکھا ہے کہ
اس (قادیانی فتنہ) سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک بھی بے تاب تھی۔
(قادیانی مسئلہ کے حل پر) منامات و مبشرات کے ذریعہ عالم ارواح میں اکابر امت اور خود آنحضرت کی مسرت بھی محسوس ہوئی۔ آپؐ کے مبشرات کا ذکر کر نیکی ہمت نہیں۔
حضرت فرماتے تھے کہ تحریک کے بعد رمضان مبارک میں میں نے خواب دیکھا کہ چاندی کی ایک تختی مجھے عطا کی گئی اور اس پر سنہری حروف سے یہ آیت لکھی ہے، اِنَّہٗ مِن سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ میں نے محسوس کیا کہ یہ تحریک ختم نبوت کی کامیابی پر مجھے انعام دیا جارہا ہے۔
نفحۃ العنبر ص ۲۰۴ پر حضرت بنوری مرحوم خود لکھتے ہیں
میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مصلیٰ پر ایک طرف عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام اور دوسری طرف حضرت سیّد انور شاہ کشمیریؒ تشریف فرما ہیں، میں کبھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رُخِ پر نور
چہرہ اقدس کی طرف دیکھتا اور کبھی پیرو انور کی طرف دیکھتا ۔ یہ کیفیت مجھ پر طاری تھی کہ ہر دو حضرات کے مبارک چہروں سے استفادہ وشرف زیارت سے مستفید ہو رہا تھا کہ بیدار ہو گیا۔ بیداری کے وقت خوشی وغم کی ملی جلی کیفیت تھی ۔ خوشی ان حضرات کی زیارت کی۔ اور غم کہ جلدی کیوں بیداری ہو گئی ۔ اے کاش زیادہ وقت نظارہ کی سعادت نصیب ہو جاتی ۔ اے مولیٰ کریم قیامت کے دن ان حضرات کی معیت نصیب فرما۔ آمین ۔
پیر سید جماعت علی شاہ صاحب محدث علی پوری
آپ کی ردّ قادیانیت پر گرانقدر خدمات ہیں۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت پر آپ نے پانچ نکاتی بیان جاری کیا۔
- ۱۔ سچا نبی کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوتا اس کا علم لدّنی ہوتا ہے ۔ وہ روح قدس سے تعلیم
پاتا ہے۔ بلا واسطہ اس کی تعلیم وتعلم خدا وند قدوس سے ہوتا ہے (جھوٹا نبی اسکے برخلاف ہوتا ہے)
- ۲۔ ہر سچا نبی اپنی عمر کے چالیس سال گزرنے کے بعد بحکم رب العالمین مخلوق کے
روبرو دعویٰ نبوت کر دیتا ہے۔ بتدریج آہستہ آہستہ اس کو درجہ نبوت نہیں ملتا ، کہ پہلے وہ محدث پھر مجدد اور بعد میں نبوت کا دعوےٰ کرے۔
- ۳۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام
کے تمام انبیاء کرام کے نام مفرد تھے۔ کسی سچے نبی کا نام مرکب نہیں تھا (اس کے برعکس جھوٹے نبی کا نام مرکب ہوا)
- ۴۔ سچا نبی کوئی ترکہ نہیں چھوڑتا ۔ (جب کہ جھوٹا ترکہ چھوڑتا کہ مال اور کچھ اولاد کو محرم الارث کیا
- ۵۔ علاوہ ازیں مرزائی حضور علیہ السلام کے معجزہ کو مرزا قادیانی کے لیے مان کر شرک فی النبوۃ
کے مرتکب ہوئے۔ جس طرح خداوند کریم کا شریک کوئی نہیں اس طرح محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال بھی کوئی نہیں۔
آپ کا یہ پانچ نکاتی اعلان و چیلنج آج تک مرزائی امت کے لیے سوہان روح ہے اس کا کوئی مرزائی جواب نہ دے پایا۔
شاہی مسجد لاہور میں جہاں دیوبندی، اہلحدیث علماء پیر مہر علی شاہ صاحب کی تائید کے لیے ۲۵ اگست ۱۹۰۰ء کے معرکہ میں تشریف لائے تھے اور تقریریں کی تھیں۔ وہاں پیر جماعت علی شاہ بھی تشریف لائے۔ آپ نے ایمان افروز باطل سوز تقریر کی۔ اس طرح جب مرزا قادیانی کا خلیفہ نورالدین نے نارووال ضلع سیالکوٹ میں اپنا ارتدادی کیمپ لگایا، آپ اس وقت صاحب فراش تھے۔ چارپائی سے اٹھا نہیں جاتا تھا لیکن آپ نے حکم دیا کہ میری چارپائی اٹھا کر ہی نارووال لے چلو چنانچہ متواتر چار جمعے آپ کی چارپائی اٹھا کر لے جاتے رہے اور آپ خطبہ جمعہ میں مرزائی عقائد کا پردہ چاک کرتے رہے۔ بالآخر نورالدین کو وہاں سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔
۲۷ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو مرزا قادیانی اپنے حواریوں کے ساتھ سیالکوٹی ارتدادی مہم پر آیا۔ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کا سپرنٹنڈنٹ قادیانی تھا اس لیے مرزا قادیانی کو خیال تھا۔ کہ سرکاری اثر و رسوخ کے باعث میرے مقابلے میں کوئی نہ آئے گا۔ پیر جماعت علی شاہ نے سیالکوٹ میں تشریف لا کر تین ہفتے قیام کیا۔ ہر روز شہر کے مختلف مقامات پر آپ کے رد قادیانیت پر بیان ہوئے۔ بالآخر مرزا قادیانی کو راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔
۶ مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا قادیانی لاہور آیا۔ ارتدادی مہم کے مقابلے کے لیے لاہور کے
مسلمانوں نے پیر جماعت علی شاہ کو بلوایا۔ آپنے موچی دروازہ اور دیگر مقامات پر مرزا کو للکارا۔ مرزا قادیانی کو پانچ ہزار انعام دینے کا اعلان کیا کہ وہ اگر مناظرہ کرے اور انعام پائے جواب میں مرزا قادیانی نے کہا کہ پیر صاحب مجھے بھگانے کے لیے آئے ہیں یہ ایڑی چوٹی کا زور لگائیں مگر میں ایسا نہیں جو بھاگ جاؤں ۔ اگر وہ بارہ برس بھی رہے تو میرا قدم نہ ہلے گا۔ اس کے جواب میں پیر جماعت علی شاہ نے ۲۲ مئی ۱۹۰۸ء کے جلسہ عام میں اعلان کیا کہ بارہ برس تو اپنی جگہ ہے، مرزا قادیانی جلد ہی لاہور نہیں بلکہ دُنیا سے ذلیل وخوار ہو کر جائے گا۔ ۲۵، ۲۶ مئی کی درمیانی رات کے جلسہ میں کہا کہ مرزا قادیانی کو چوبیس گھنٹے کی مہلت ہے آئے اور مناظرہ کرے لیکن مسلمانو یاد رکھو وہ میرے مقابلہ میں نہ آئے گا۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ ۲۶ مئی مرزا قادیانی کو ہیضہ نے آ گھیرا ڈاکٹر نے ایسی دوائی دے دی کہ نجاست کا رُخ جو نیچے کی طرف تھا اوپر کو ہو گیا اور بیت الخلاء میں جان نکل گئی ۔
(ضیائے حرم دسمبر ۱۹۷۴ء)
مولانا ظفر علیخاں
مولانا نے ۱۹۳۳ء میں قادیانیت کے عوامی احتساب کے لیے ایک جماعت بنائی ۔ اُس جماعت نے تقریباً ہر روز پبلک جلسے منعقد کرنا شروع کر دیئے ۔ حکومت نے قادیانی اُمت کی پشت پناہی کے لیے اندیشہ نقصِ امن کی آڑ لیکر ۴ مارچ ۱۹۳۳ء کو مولانا ظفر علیخاں اور اُن کے رفقاء مولانا احمد علیؒ، مولانا حبیب الرحمٰن، مولانا عبدالحنان مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد بخش مسلم اور خان احمد یار رزمی کو گرفتار کر لیا۔ یہ پہلا مقدمہ تھا جو سیاسی پس منظر کے تحت مرزائیت کی حمایت میں حکومت نے پہلی دفعہ
مسلمان زعماء کے خلاف تیار کیا۔ ٹھاکر کیسر سنگھ مجسٹریٹ درجہ اوّل نے حفظ امن کے لیے ضمانت طلب کی۔ مولانا احمد علی ، مولانا حبیب الرحمٰن اور مولانا محمد بخش مسلم کے عقیدتمندوں نے ضمانتیں داخل کر دیں۔ لیکن مولانا ظفر علیخاں، مولانا عبدالمنان، مولانا لال حسین اختر اور احمد یار خاں نے انکار کر دیا۔ عدالت نے وہ نوٹس پڑھ کر سُنایا ، جو اس مقدمہ کی بنیاد تھا کہ :
"تمہارے اور احمدی جماعت کے درمیان اختلاف ہے تم نے اس کے عقائد اور اس کے مذہبی پیشوا پر حملے کیے ہیں ، جس سے نقص امن کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے ، وجہ بیان کرو کہ تم سے کیوں نہ نیک چلنی کی ضمانت طلب کی جائے ۔"
مولانا نے عدالت کو جواب دیتے ہوئے کہا ۔
" میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مسلمانوں کے ہاتھوں مرزائیوں کو کسی قسم کا گزند نہ پہنچے گا، لیکن جہاں تک مرزا غلام احمد کا تعلق ہے ، ہم اُس کو ایک بار نہیں ، ہزار بار دجال کہیں گے ، اُس نے حضور کی ختم المرسلینی میں اپنی نبوت کا ناپاک پیوند جوڑ کر ناموس رسالت پر کھلم کھلا حملہ کیا ہے ۔ اپنے اس عقیدے سے میں ایک منٹ کے کروڑویں حصے کے لیے بھی دست کش ہونے کو تیار نہیں اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مرزا غلام احمد دجال تھا ، دجال تھا ، دجال تھا ۔ میں کسی سلسلہ میں قانون انگریزی کا پابند نہیں ۔ میں قانون محمّدی کا پابند ہوں ۔"
(تحریک ختم نبوت ص۸)
مفکر اسلام علامہ اقبالؒ
علامہ اقبال نے مرزائیوں کے متعلق اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میں نے حضور
سرور کائنات کے متعلق بے ادب پایا اور آنحضرتؐ کے بارے میں ان کی زبان سے گستاخانہ کلمات سنے ہیں۔
(تحریک ختم نبوت ص۱۷۴)
سرسید احمد خان
سید راس مسعود نے اپنے والد کے جو خطوط جمع کیے ان میں ۲۵۶ صفحہ پر ایک خط ہے جس میں سرسید لکھتے ہیں کہ مرزا صاحب کی تصانیف اس قسم کی ہیں جیسا ان کا الہام یعنی نہ دین کے کام کی نہ دنیا کے کام کی۔
(تحریک ختم نبوت ص۱۵۳)
حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ
مولانا تاج محمودؒ نے فرمایا کہ :-
میں اور مولانا لال حسین اخترؒ رحمۃ اللہ علیہ قطب دوراں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی خدمت میں حاضر تھے کچھ ختم نبوت کے ساتھیوں کا تذکرہ آگیا۔ حضرت لاہوریؒ نے فرمایا کہ میں ختم نبوت کے ساتھیوں سے محبت کرتا ہوں؟ اور پھر فرمایا، ان سے تو خود سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم بھی محبت فرماتے ہیں۔
(ہفت روزہ لولاک ص۲، ۲ جنوری ۱۹۷۶ء)
بعض احباب سے سنا حضرت لاہوریؒ فرمایا کرتے تھے کہ
حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ اور آپکے ساتھی ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے قیامت کے دن بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔
ایک دفعہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سرگودھا میں ختم نبوت کانفرنس میں
تقریر تھی۔ آپ علیل تھے۔ وعدہ پر تشریف لائے۔ چارپائی پر آپ کو سٹیج پر لایا گیا۔ تقریر کی فرمایا کہ اسی عمل کے صدقے شاید نجات ہو جائے“
آپ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنماؤں کو ہمیشہ اپنی محبت اور شفقت سے سرفراز فرمایا۔ آپ کے جانشین حضرت مولانا عبیداللہ انور انہی کی روایات کے امین ہو گئے۔ وفات سے چند ماہ پہلے ربوہ کی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت ومجلس ذکرہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے!
حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی
اپنے رسالہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ص ۵ پر تحدیث بالنعمۃ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں۔
واما بنعمۃ ربک فحدث ناچیز کا یہ رسالہ پہلی مرتبہ حضرت مولانا حبیب الرحمٰنؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند نے مطبع قاسمی میں طبع کرایا۔ جس شب میں اس رسالہ کی لوح کا ورق طبع ہو رہا تھا۔ اس شب میں اس ناچیز نے یہ خواب دیکھا کہ یہ ناچیز دارالعلوم دیوبند کی مسجد میں داخل ہوا۔ دیکھتا کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ وعلیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام منبر کے قریب اور محراب امام کے سامنے تشریف فرما ہیں۔ چہرہ مبارک پر عجیب وغریب انوار ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک فرشتہ بیٹھا ہوا ہے۔ اور حضرت کے ساتھ کوئی خادم بھی ہے یہ ناچیز نہایت ادب کے ساتھ دوزانو بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر میں ایک قادیانی پکڑ کر لایا گیا اور سامنے کھڑا کر دیا گیا۔ بعد ازاں دو عبا لائے گئے۔ ایک نہایت سفید اور خوبصورت ہے اور دوسرا
نہایت سیاہ اور بدبودار ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ سفید عبا اس ناچیز کو پہنائیں۔ اور سیاہ عبا اُس قادیانی کو پہنایا جائے۔ چنانچہ سفید عبا اس ناچیز کو پہنایا گیا۔ فللّٰہ الحمد والمنتہ اور سیاہ عبا اُس قادیانی کو اور یہ ناچیز خاموش کھڑا رہا۔
پیر سیّد نذر دینؒ والد ماجد پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ
حضرت قبلہ عالم (پیر مہر علی شاہؒ) فرماتے ہیں کہ اوائلِ عُمر میں حضرت ابّی صاحبؒ (پیر سیّد نذر دین والد ماجد پیر مہر علی شاہ پوٹھوہاری زبان میں والد کو ابّی کہتے ہیں) شب و روز عبادتِ الٰہی اور مطالعہ کُتب کے سلسلے میں اپنی آبائی مسجد میں مصروف رہا کرتے تھے اس مسجد کے قریب ہی سکھوں کا محلہ تھا۔ جہاں سکھ قلعہ دار کی ایک رشتہ دار لڑکی بد چلنی کے الزام میں حاملہ پائی گئی۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک مقامی مخالف نے والد صاحب کو متہم کیا۔ جس پر قلعہ دار نے کسی اور ثبوت کے بغیر آپ کو گرفتار کرا کر زندہ جلادینے کا حکم دیدیا۔ اس الزام و سزا کے حکم کے خلاف قرب و جوار کے مسلمانوں کے وفد سکھ سردار کے پیش ہوئے تو اُس نے کہا سجادہ نشین صاحب فوراً آکر یقین دلائیں کہ لڑکا بے گناہ ہے۔ سجادگی پر اُس وقت والد صاحب کے ماموں سیّد فضل دینؒ رونق افروز تھے۔ آپ نے جانے سے انکار کر دیا۔ اور فرمایا کہ اسے کہہ دو کہ اسے جلا ڈالے اگر یہ گنہگار ہے تو ہمارے لیے اس کا جل جانا ہی بہتر ہے۔
تاریخِ سزا سے ایک دن پہلے مواضعاتِ میرا بادیہ و میرا اکڑو وغیرہ کے مسلمانوں نے اجتماع کرکے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مگر بڑے پیر صاحبؒ نے اطرافِ جوانب میں پیغامبر بھجوا کر اطلاع کرا دی کہ جو کوئی ایسا قدم اُٹھائے گا اُس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق
نہ ہوگا، چنانچہ لوگ رُک گئے۔
سزا ملنے دن علی الصبح ہی ہزاروں کی تعداد میں مرد و زن قلعے کے باہر جمع ہو گئے۔ اس قلعے کے کھنڈرات شہر سے مغرب کی جانب کچھ دور ندی کے کنارے اب تک موجود ہیں عورتوں نے آہ بکا کرتے ہوئے اپنے زیورات کے ڈھیر لگا دیئے۔ کہ ہمارے پیر زادے کو ان کے ساتھ تول کر جرمانہ وصول کر لو۔ اور انہیں رہا کر دو۔ مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ اُس زمانے کے دستور کے مطابق عبرتِ عامہ کے لیے سزائے موت شارع عام پر دی جاتی تھی۔ اس لیے ایک کھلی جگہ لکڑیاں چن کر چتا تیار کی گئی اور فوج نے اُسے گھیرے میں لے لیا۔
یہ بُدھ کا دن تھا۔ اُس رات والد صاحب کو حضرت غوث الاعظم کی زیارت نصیب ہوئی جنہوں نے فرمایا کہ چتا پر جانے سے پہلے غسل کر کے، گھر میں جو نیا لباس موجود ہے پہن کر دو نفل نماز ادا کریں۔ چنانچہ سکھ سپاہیوں نے آخری خواہش کی تکمیل میں غسل کے لیے پانی بھی دیا۔ اور گھر سے لباس بھی منگوا دیا۔ جو آپنے پہن کر نماز دوگانہ ادا فرمائی اور چتا پر جاکر بیٹھ گئے۔ لکڑیوں پر تیل لگا کر آگ لگانے کی کوشش کی گئی مگر لاکھ جتن کے باوجود آگ نہ لگی۔ یہ دیکھ کر الزام لگانے والے شخص نے کہ سپاہی پیروں سے مل گئے ہیں اس لیے دانستہ ہیرا پھیری کر رہے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں آگ کیسے نہیں لگتی۔ یہ کہہ کر اس نے حضرت کے کپڑوں اور لمبے لمبے گھونگھریالے بالوں پر کافی تیل ڈالا اور ایک برتن میں خشک بنولے ڈال کر جلائے۔ اور جب شعلے بلند ہونے لگے تو اُس برتن کو آپکے تیل میں تر بتر بالوں کے نیچے رکھ دیا۔ مگر شعلے لپکتے رہے اور ان کی حرکت سے حضرت کے بال لہراتے رہے لیکن انہوں نے آگ کا کوئی اثر قبول نہ کیا۔ آخر اُس جلتے ہوئے بنولوں کو آپ کے تیل
میں شرارہ کپڑوں پر الٹ دیا۔ لیکن وہ بغیر کسی قسم کا اثر قبول کیے ہوئے لکڑیوں پر جا گرے اور بجھ گئے۔
یہ دیکھ کر لوگوں میں آپ کی بے گناہی کا غوغا اٹھا اور قلعہ دار نے حکم دیا کہ مخبر کو گرفتار کر کے اسی چتا پر جلا دیا جائے اور خود گلے میں کپڑا ڈال کر دست بستہ حضرت سے معافی کا خواستگار ہوا کہ آپ واقعی بے گناہ ہیں۔ میں نے اس بڑے آدمی کے کہنے پر آپ پر ناحق ظلم کیا ۔
(ماخوذ از مہر منیر مصنفہ مولانا فیض احمد فیضی ص ۵۵-۵۶)
مولانا پیر حسن شاہ قادری بٹالویؒ
کی خدمت میں ایک دفعہ مرزا قادیانی آیا ۔ آپ نے اسے ہدایت فرمائی کہ عقیدہ اہل سنت پر ثابت قدم رہنا اور خواہشات نفسانیہ و ہوائے شیطانیہ کا غلام نہ بن جانا ۔
آپ کے شاگرد حافظ عبدالوہاب نے مرزا کے بعد پوچھا کہ حضرت نے یہ عجیب ہدایت فرمائی۔ اس کی کیا وجہ ہے ۔ فرمایا کچھ عرصہ بعد میں اس آدمی کا دماغ خراب ہو گا اور یہ دعوائے نبوت کرے گا۔ شیطان اس وقت بھی اس کی مہار تھامے ہوئے ہے چنانچہ اس پیش گوئی کے ۳۶ سال بعد مرزا نے نبوت کا دعوےٰ کر دیا۔
(ارشاد المسترشدین ص ۱۱۱)
اسی طرح شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ نے حکیم نور الدین کے متعلق قبل از وقت فرمایا تھا کہ یہ مرتد ہو جائے گا۔ چنانچہ بعد میں ایسا ہوا۔ سچ ہے "اتقوا فراسة المومن فانہ ینظر بنور الله"
حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ
موصوف کا وجود ملت اسلامیہ کے لیے قدرت کا عطیہ تھا۔ آپ کو قدرت نے بے شمار خوبیوں سے سرفراز فرمایا تھا۔ اور آپ کی تمام تر خوبیاں و صلاحیتیں خدمت اسلام کے لیے وقف تھیں۔ ۵۳ء کی تحریک ختم نبوۃ میں آپ ملتان سے گرفتار ہوئے۔ ۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ اسمبلی سے باہر ملت اسلامیہ کی رہنمائی شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں جلیل القدر علماء و راہنماؤں نے کی۔ اور قومی اسمبلی میں ختم نبوت کی وکالت آپ نے کی۔ اسمبلی کے معزز ممبران ، وعلماء کرام کی حمایت و تعاون آپ کو حاصل تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مرزا ناصر قادیانی اور صدر الدین لاہوری مرزائیوں کے جواب میں جو محضر نامہ تیار کیا گیا جس کا نام ملت اسلامیہ کا موقف ہے۔ جس کے عربی ، اُردو ، انگلش میں مجلس نے کئی ایڈیشن شائع کیے ہیں۔ اس محضر نامے کو اسمبلی میں پڑھنے کا شرف اللہ رب العزت نے حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کو بخشا۔ آپ اسمبلی میں ملت اسلامیہ کی متفقہ آواز تھے۔ آپ کی وفات کے بعد آپکے ایک عقیدت مند نے آپ کو خواب میں دیکھا۔
”اور پوچھا کہ فرمائیے حضرت کیسے گذری اس پر آپنے فرمایا کہ ساری زندگی قرآن وحدیث کی تعلیم میں گذری اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کوشش و کاوش کی وہ سب اللہ رب العزت کے ہاں بحمدہ تعالیٰ قبول ہوئیں ۔ بلکہ نجات اس محنت کی وجہ سے ہوئی جو قومی اسمبلی میں مسئلہ ختم نبوۃ کے لیے کی تھی۔ ختم نبوت کی خدمت کے صدقہ اللہ تعالیٰ نے بخشش فرمادی :
مجاہد ختم نبوت آغا شورش کاشمیریؒ
خود فرمایا ، یحییٰ حکومت کی دھاندلی سے تنگ آکر کراچی کے ایام نظربندی میں ۴۵ روز بھوک ہڑتال کی۔ اس دوران میں حالت خستہ سے خستہ ہوتی گئی۔ نوبت بہ اینجا رسید کہ صبح وشام کا معاملہ ہوگیا۔ کسی وقت بھی سناؤنی آجانے کا احتمال تھا۔ ایوب خاں اور موسیٰ خاں راقم کو موت کی نیند سلا دینا چاہتے تھے۔ پینتالیسویں روز حالت تشویشناک ہوگئی۔ مولانا تاج محمودؒ مدیر لولاک نے اکابر کو اطلاع دی۔ ملک کے طول وعرض سے راقم کے نام تاروں کا تانتا بندھ گیا، ”بھوک ہڑتال چھوڑ دو“۔ اس روز دس بجے شب کے لگ بھگ حافظ عزیز الرحمٰن تشریف لائے اور فرمایا کہ انہیں لاہور سے مختلف راہ نماؤں کا پیغام آیا اور دین پور شریف سے حضرت مولانا عبد الہادی نے تار دیا ہے۔ ایک تار حضرت عبداللہ درخواستی کا ہے کہ بھوک ہڑتال چھوڑ دو۔ تمہاری زندگی ضروری ہے۔ راقم نے حافظ جی کو ٹال دیا کہ صبح سوچیں گے۔ وہ چلے گئے۔ راقم تین بجے سوگیا۔ اذان کے وقت خواب دیکھا کہ جنت الفردوس کی ایک روش پر سیدنا مہر علی شاہ قدس سرہ العزیز، علامہ انور شاہ نور اللہ مرقدہ ، اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کھڑے ہیں۔ راقم کے شانہ کو ان کے مقدس ہاتھ نے تھپکی دیتے ہوئے کہا ۔
”شورش گھبرانا نہیں، آخری فتح تمہاری ہے“
جب دن چڑھے راقم کو جگایا گیا تو پائینتی کی طرف پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد، کمشنر کراچی، اور سپرنٹنڈنٹ جیل کھڑے تھے۔ تینوں آپس میں کانا پھوسی کرکے چلے گئے۔ راقم ایک جاں بلب مریض کی طرح تھا۔ ایکا ایکی دوبارہ آنکھ لگ گئی۔ پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد گورنر موسیٰ سے ملکر لوٹے۔ جھنجھوڑ کے جگایا۔ کہنے لگے ... ”مبارک ہو، آپ کو حکومت نے رہا کر دیا ۔
پولیس چلی گئی۔ اب آپ آزاد ہیں۔
(تحریک ختم نبوت ص ۵۹ ، ۶۰)
مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ
آغا شورش کاشمیری نے اپنی تصنیف ’تحریک ختم نبوت کے ص ۱۶۹ ، ۱۷۰ پر آپ کے متعلق لکھا۔ جس شخص نے علم و عمل کے میدانوں میں والہانہ جرأتوں کے ساتھ قادیانی عزائم کو بے نقاب کیا، وہ مولانا تاج محمود، مدیر، لولاک، لائل پور ہیں۔ مولانا تاج محمود تحریک ختم نبوت کے سرگرم رہنما ہیں۔ تمام زندگی ان کا یہی نصب العین رہا اور کبھی اس سے غافل نہ ہوئے انہیں شاہ جی سے غایت درجہ ارادت رہی۔ وہ ذہنی طور پر انہی کے شاگرد ہیں۔ شاہ جی ان سے بے حد محبت کرتے اور تحریک کے سلسلہ میں ان پر ہمیشہ اعتماد فرماتے تھے حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے علامہ انور شاہؒ ، مولانا ظفر علی خانؒ ، سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور دوسرے اکابر اُمت کی مساعی مشکور کے اس پرچم کو جھکنے نہ دیا، جو قادیانیت کے خلاف ملک کے ہر گوشے میں گڑ چکا تھا۔ مولانا نے لولاک کو مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان بنا دیا۔ وہ جماعت علماء میں پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے قادیانیت کا سیاسی تجزیہ شروع کیا اور ’لولاک‘ کے ہر شمارے کو حقائق سربستہ کی چہرہ کشائی کے لیے وقف کر دیا۔
مولانا ایک صاحب فکر صحافی ہی نہیں، ایک خوش بیان خطیب بھی ہیں۔ ہر جمعہ کو ریلوے سٹیشن لائلپور کی جامع مسجد میں خطبہ دیتے اور آپکے ہر خطبے کا مقطع قادیانیت کا احتساب ہوتا ہے۔ آپ نے ۱۹۵۳ء کی تحریک راست اقدام میں نہایت جگر داری کا ثبوت دیا اور جانثاری و جاں سپاری کے اعتبار سے لائلپور کو تحریک کا دوسرا مرکز بنا دیا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور مولانا محمد علی جالندھری کے بعد ان کی روایتوں اور حکایتوں کے وارث ہو گئے۔ وہ
قادیانیت کے سلسلے میں کسی عنوان سے کوئی سا مفاہمانہ تصور نہیں رکھتے۔ اس کا اعتراف نہ کرنا ظلم ہوگا کہ آپ نے ختم نبوت کی تحریک کو پروان چڑھانے میں اپنی تمام زندگی صرف کی ہے۔ اس سلسلہ میں آپ کا وجود نقطہ اعتماد ہے۔
حضرت مرحوم کی زندگی میں آپ کے ایک مخلص مولانا عبدالمختار صدیقی ہریا ضلع گجرات نے ایک خواب میں دیکھا کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جملہ بزرگوں کی موجودگی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولانا اسلم قریشی کیس کی تفصیلات اور حکومت کی بے حسی و بے حمیتی کی رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔
مولانا مرحوم کی وفات کے بعد میرے استاذ محترم مولانا قاری محمد یسین رحیمی جامع مسجد باغ والی ماڈل ٹاؤن فیصل آباد نے خواب میں آپ کو دیکھا اور پوچھا کہ حضرت انتقال کے بعد اُس دُنیا میں کیسے گزری مولانا تاج محمود صاحبؒ نے خواب میں جواب دیا کہ قاری صاحب! ایک قادیانی نے میرے وعظ سے قادیانیت کو ترک کیا۔ مرزا قادیانی کے کفریہ عقاید سے توبہ کر کے اسلام قبول کیا میرے اس عمل کے صدقے اللہ تعالیٰ نے بخشش فرمادی۔
مولانا شاہ احمد نورانی
بڑے بلند پایہ عالم دین ہیں، نیروبی، دارالسلام، ماریشس، لاطینی امریکہ میں سرینام، برٹش گیانا، اور دیگر ممالک میں قادیانیوں کا کامیاب تعاقب کیا۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے مجاہدانہ کردار ادا کیا جس پر پوری ملت اسلامیہ کو فخر ہے آپ کے
والد گرامی حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی کی قادیانیت کے خلاف گرانقدر خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے مولانا شاہ احمد نورانی نے ایک واقعہ بیان کیا۔ کہ جب ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں مرزا ناصر سربراہ جماعت احمدیہ کی طرف سے محضر نامہ پڑھنے کے لیے قومی اسمبلی میں آیا۔ تو خدا کی قدرت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا اعجاز دیکھنے میں آیا۔ کہ جس وقت مرزا ناصر نے محضر نامہ پڑھنا شروع کیا اسمبلی کے اس بند ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں اوپر کے چھوٹے پنکھے سے ایک پرندے کا پر جو غلاظت سے بھرا ہوا تھا۔ سیدھا اس محضر نامے پر آکر گرا۔ جس سے وہ ایک دم چونکا اور گھبرا کر کہا (I AM DISTURBED) مرزا ناصر کی گھبراہٹ اور ذلت آمیز پریشانی اور اس عجیب وغریب واقعہ پر اراکین اسمبلی ششدرہ رہ گئے۔ کیونکہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی چیز اوپر چھت سے اس طریقہ سے گری ہو مسلسل گیارہ روز تک اس پر جرح ہوتی رہی۔ مرزا ناصر جرح سے تنگ آکر کہ دیتا کہ میں تھک گیا ہوں وہ ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں پچاس سے زائد گلاس پانی کے روزانہ پی جاتا تھا۔
(ضیاءِ حرم لاہور دسمبر ۱۹۷۴ء)
حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی
آپ نے تحریک ختم نبوت ۵۳ء میں مجاہدانہ کردار ادا کیا جس پر پوری ملت اسلامیہ کو فخر ہے۔ پھانسی کی سزا کے مستحق گردانے گئے مگر آپکے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی عدالت کے ایک رکن نے پوچھا کہ آپ کو موت کا کوئی خوف نہیں تو آپ نے جواب دیا۔
سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر ہزاروں زندگیاں قربان کی جاسکتی ہیں۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں آپ کو اور قائد تحریک ختم نبوت نوابزادہ نصراللہ خاں کو مجلس عمل کا نائب صدر بنایا گیا۔ ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں بھی آپ نے مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کے شانہ بشانہ گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ بڑی عظمتوں کے مالک ہیں۔ خدا تعالیٰ آپ کا سایہ سلامت رکھیں۔
حاجی غلام مصطفےٰ مانک صاحب
ضلع سکھر سندھ میں حاجی غلام مصطفےٰ مانک صاحب ہیں۔ جو بحمدہ اللہ اب بھی بقید حیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو تادیر سلامت رکھے۔ وہ چنیوٹ کانفرنس کے ایک اجلاس کی صدارت بھی کرچکے ہیں ۔ (انتقال کر گئے ہیں)
حاجی صاحب کے ہاں ایک قادیانی عبدالحق نامی آیا اُس نے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کا ارتکاب کیا۔ آپ کو طیش آگیا۔ چھری لی وار کیا اس کا کام تمام کر دیا۔ اس کی زبان نکالی ٹکڑے بھی کرتا جاتا تھا اور کہتا بھی جاتا تھا کہ بدبخت اس زبان سے تو نے میرے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا ارتکاب کیا تھا جس دن اُن کو گرفتار کر کے گھر سے تھانہ کنڈیارو لے جارہے تھے۔ اُس سے پہلی رات آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سیّد زادی کو خواب میں زیارت ہوئی آپ نے فرمایا بیٹی کل تمہارے شہر جیل میں میرا مہمان آرہا ہے۔ جس کا خیال رکھنا۔" چنانچہ معلوم کر کے اُس بی بی نے کھانا ، اور دیگر ضروریات کا اہتمام کیا۔
جب کیس چلا کیس کی پیروی چونکہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کر رہی تھی صفائی کے لیے حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے حضرت سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت افغانی، حضرت درخواستی کو بلا رکھا تھا۔ سید غوث علی شاہ جو آج کل صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ ہیں یہ اس کیس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے وکیل تھے۔ انہوں نے حضرت مولانا کو علیحدہ لیجا کر کہا کہ جان بچانا فرض ہے۔ اگر حاجی مانک انکار کر دے موقعہ کا گواہ کوئی نہیں تو اس کی جان بچ جائے گی۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھری نے فرمایا: آپ کا موقف ہے جان بچائی جائے مگر میرا موقف ہے کہ حاجی صاحب عدالت میں اقرار کریں کہ واقعہ میں نے اس قادیانی کو قتل کیا ہے تاکہ عدالتی ریکارڈ میں یہ بات آئے کہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے مگر اپنے نبی علیہ السلام کی توہین برداشت نہیں کر سکتا تاہم آپ کا پیغام میں اسے دیتا ہوں مولانا نے حاجی صاحب کو بلا کر وکیل کی بات کہی تو حاجی صاحب کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ اس نے کہا مولانا، میں چھوٹا سا تھا مجھے خواب میں حضور علیہ السلام کی زیارت کرنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ کسی نے کہا کہ فلاں آیت کریمہ کا وظیفہ کرو میں نے اس پر عمل شروع کر دیا پھر بھی زیارت نصیب نہ ہوئی۔ میری درود شریف پڑھتے وظیفے کرتے عمر بیت گئی، خیرات، سات حج، نوافل، ذکر و فکر کی سعادتوں سے بہرہ ور ہونے کے باوجود آپؐ کی زیارت کا شرف حاصل نہ کر سکا۔ جس دن سے اس گستاخ رسول کو قتل کیا ہے۔ شاید و باید کوئی رات خالی جاتی ہو، ورنہ ہر رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مستفید ہوتا ہوں۔
ختم نبوت کانفرنس ربوہ
خانیوال کے طارق محمود صاحب جو آجکل کراچی میں ہیں۔ عابد زاہد متقی نوجوان ہیں۔ اپنے اخلاص و نیکی کے باعث بہت ہی زیادہ قابل احترام ہیں۔ انہوں نے ایک دفعہ ختم نبوت کانفرنس مسلم کالونی ربوہ کے موقع پر فقیر سے بیان کیا کہ۔
”میں نے خواب میں دیکھا کہ مسجد ختم نبوت مسلم کالونی میں محبت و اضطراب کی کیفیت ہے عظیم اجتماع استقبال کے لیے امڈ آیا ہے۔ لوگ ادھر ادھر دیوانوں کی طرح سرگرداں پھر رہے ہیں۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے تو مجھے بتایا گیا کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم دریائے چناب کی جانب سے کانفرنس کے پنڈال کی طرف تشریف لارہے ہیں۔ میں بھاگم بھاگ دریائے چناب کی جانب گیا جس طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم .... تشریف لارہے تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر سلام کی سعادت حاصل کی اور عرض کیا کہ کہاں تشریف لیجانے کا ارادہ ہے۔ اس پر آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ ــــ جامع مسجد ختم نبوت میں ہماری کانفرنس ہورہی ہے۔ ادھر جانے کا پروگرام ہے۔ سبحان اللہ۔
ذوق جنوں کے دس واقعات
تحریک مقدس ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں جناب سید مظفر علی شمسی کی روایت کے مطابق سکھر جیل میں جب حضرت امیر شریعت، مولانا ابوالحسنات، مولانا لال حسین اختر اور دوسرے رہنماؤں کو لایا گیا تو ایسی گرمی پڑتی تھی کہ برتن میں پانی اتنا گرم ہو جاتا تھا کہ اس میں انڈا ڈال دیتے تھے تو وہ نیم برشت ہوجاتا تھا اور اگر اسی پانی کو دھوپ میں رکھ کر انڈا اس میں رکھ دیتے تھے تو انڈا جاتا تھا Wait (correction on last line: the transcription above matches exactly, but I will provide the final accurate string below without markdown)
ختم نبوت کانفرنس ربوہ
خانیوال کے طارق محمود صاحب جو آجکل کراچی میں ہیں۔ عابد زاہد متقی نوجوان ہیں۔ اپنے اخلاص و نیکی کے باعث بہت ہی زیادہ قابل احترام ہیں۔ انہوں نے ایک دفعہ ختم نبوت کانفرنس مسلم کالونی ربوہ کے موقع پر فقیر سے بیان کیا کہ۔
”میں نے خواب میں دیکھا کہ مسجد ختم نبوت مسلم کالونی میں محبت و اضطراب کی کیفیت ہے عظیم اجتماع استقبال کے لیے امڈ آیا ہے۔ لوگ ادھر ادھر دیوانوں کی طرح سرگرداں پھر رہے ہیں۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے تو مجھے بتایا گیا کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم دریائے چناب کی جانب سے کانفرنس کے پنڈال کی طرف تشریف لارہے ہیں۔ میں بھاگم بھاگ دریائے چناب کی جانب گیا جس طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم .... تشریف لارہے تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر سلام کی سعادت حاصل کی اور عرض کیا کہ کہاں تشریف لیجانے کا ارادہ ہے۔ اس پر آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ ــــ جامع مسجد ختم نبوت میں ہماری کانفرنس ہورہی ہے۔ ادھر جانے کا پروگرام ہے۔ سبحان اللہ۔
ذوق جنوں کے دس واقعات
تحریک مقدس ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں جناب سید مظفر علی شمسی کی روایت کے مطابق سکھر جیل میں جب حضرت امیر شریعت، مولانا ابوالحسنات، مولانا لال حسین اختر اور دوسرے رہنماؤں کو لایا گیا تو ایسی گرمی پڑتی تھی کہ برتن میں پانی اتنا گرم ہو جاتا تھا کہ اس میں انڈا ڈال دیتے تھے تو وہ نیم برشت ہوجاتا تھا اور اگر اسی پانی کو دھوپ میں رکھ کر انڈا اس میں رکھ دیتے تھے تو انڈا پک جاتا تھا
شمسی صاحب کی روایت ہے ۔ کہ اس تحریک میں ایک عورت اپنے بیٹے کی بارات لے کر دہلی دروازہ کی جانب آرہی تھی سامنے سے تڑ تڑ کی آواز آئی معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے لیے لوگ سینہ تانے بٹن کھول کر گولیاں کھا رہے ہیں تو بارات کو معذرت کر کے رخصت کر دیا۔ بیٹے کو بلا کر کہا کہ بیٹا آج کے ـــــ دن کے لیے میں نے تمہیں جنا تھا۔ جاؤ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر قربان ہو کر دودھ بخشوا جاؤ۔ میں تمہاری شادی اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں کروں گی اور تمہاری بارات میں آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعو کروں گی جاؤ پروانہ وار شہید ہو جاؤ تاکہ میں فخر کر سکوں کہ میں بھی شہید کی ماں ہوں۔ بیٹا ایسا سعادت مند تھا کہ تحریک میں ماں کے حکم پر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے لیے شہید ہو گیا۔ جب لاش لائی گئی تو گولی کا کوئی نشان پشت پر نہ تھا۔ سب سینہ پر گولیاں کھائیں۔ رحمۃ اللہ رحمۃ واسعۃ
تحریک ختم نبوت میں ایک طالب کتابیں ہاتھ میں لیے کالج جا رہا تھا۔ سامنے تحریک کے لوگوں پر گولیاں چل رہی تھیں۔ کتابیں رکھ کر جلوس کی طرف بڑھا کسی نے پوچھا یہ کیا۔ جواب میں کہا کہ آج تک پڑھتا رہا ہوں آج عمل کرنے جا رہا ہوں۔ جاتے ہی ران پر گولی لگی گر گیا۔ پولیس والے نے آکر اٹھایا تو شیر کی طرح گرجدار آواز میں کہا کہ ظالم گولی ران پر کیوں ماری ہے۔ عشق مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم تو دل میں ہے یہاں دل پر گولی مارو تاکہ قلب و جگر کو سکون ملے۔
مولانا عبدالستار نیازی راوی ہیں کہ اس تحریک میں جو آدمی بھی شریک ہوتا تھا یہ طے کر کے آتا تھا کہ وہ ناموس مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جان دے دیگا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا ۔ لوگ لاٹھیاں کھاتے رہے۔ ایک نوجوان کے پاس حمائل شریف تھی۔ فردوس شاہ ڈی ایس پی نے ٹھوکر ماری ، نوجوان گر گیا حمائل شریف دُور جا گری اور پھٹ گئی۔ فردوس شاہ کو لوگوں نے موقع پر قتل کر دیا۔ قرآن مجید کی بے حرمتی کرنے والا اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔
نیازی صاحب فرماتے ہیں کہ دہلی دروازہ کے باہر چار نوجوانوں کی ڈیوٹی تھی پولیس نے چاروں کو باری باری گولی کا نشانہ بنا دیا۔
نیازی صاحب کے بقول، ہمارا ایک جلوس مال روڈ سے آ رہا تھا۔ لا الہ الا اللہ کا ورد نعرہ تکبیر ، ختم نبوت زندہ باد کے نعرے وردِ زبان تھے۔ وہاں پر زبردست فائرنگ ہوئی ۔ لیکن نوجوان سینہ کھول کھول کر سامنے آتے رہے اور جام شہادت نوش کرتے رہے
معلوم ہوا کہ اسی تحریک میں کرفیو لگ گیا۔ اذان کے وقت ایک مسلمان کرفیو کی خلاف ورزی کر کے آگے بڑھا مسجد میں پہنچ کر اذان دی۔ ابھی اللہ اکبر کہہ پایا تھا۔ کہ گولی لگی ڈھیر ہو گیا۔ دوسرا مسلمان آگے بڑھا۔ اس نے اشہد ان لا الہ الا اللہ کہا تھا کہ گولی لگی ڈھیر ہو گیا۔ تیسرا مسلمان آگے بڑھا ان کی لاشوں پر کھڑا ہو کر اشہد ان محمد رسول اللہ کہا کہ گولی لگی ڈھیر ہو گیا۔ چوتھا آدمی بڑھا تین کی لاشوں پر کھڑے ہو کر کہا حی علی الصلوٰۃ کہ گولی لگی ڈھیر ہو گیا۔ پانچواں مسلمان بڑھا۔ غرضیکہ باری باری نو مسلمان شہید ہو گئے۔ مگر اذان پوری
کر کے چھوڑتی۔ خدا رحمت کنند ایں عاشقان پاک طینت را
- مولانا تاج محمود رحمتہ اللہ علیہ تحریک میں گرفتار ہو کر شاہی قلعہ لاہور لائے گئے وہاں
سے مہینوں بعد آپ کو اٹک جیل منتقل کر دیا گیا۔ ایک بدبخت نے آپکے والد صاحب کو جا کر جھوٹی اطلاع دی کہ مولانا تاج محمود کے پولیس نے ہاتھ پاؤں توڑ دیئے ہیں۔ اس سے آپ کے والد صاحب کو بہت فکر ہوئی۔ پوری پوری رات وہ چارپائی پر سجدہ کی حالت میں دعا گو رہے اللہ کی شان یہی آدمی جھوٹی خبر دینے والا خود سرگودھا روڈ پر ایک حادثہ کا شکار ہو کر دونوں ہاتھوں اور ٹانگوں سے محروم ہو گیا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار
تحریک ختم نبوت میں ایک مسلمان دیوانہ وار ختم نبوت زندہ باد کے لاہور کی سڑکوں پر نعرے لگا رہا تھا۔ پولیس نے پکڑ کر تھپڑ مارا۔ اس پر اُس نے پھر ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ پولیس والے نے بندوق کا بٹ مارا اس نے پھر نعرہ لگایا۔ وہ مارتے رہے یہ نعرہ لگاتا رہا۔ اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا یہ زخموں سے چور چور پھر بھی ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتا رہا۔ اسے گاڑی سے اتارا گیا تو بھی وہ نعرہ لگاتا رہا۔ اسے فوجی عدالت میں لایا گیا اُس نے عدالت میں آتے ہی ختم نبوت کا نعرہ لگایا۔ فوجی نے کہا ایک سال سزا۔ اُس نے سال کی سزا سُن کر پھر ختم نبوت کا نعرہ لگایا۔ اس نے سزا دو سال کر دی اس نے پھر نعرہ لگا دیا بغرضیکہ فوجی سزا بڑھاتا رہا اور یہ مسلمان نعرہ ختم نبوت بلند کرتا رہا۔ فوجی عدالت جب بیس سال پر پہنچی دیکھا کہ بیس سال کی سزا سُن کر یہ پھر بھی نعرہ سے باز نہیں آرہا۔ تو فوجی عدالت نے کہا کہ باہر لیجا کر گولی مار دو۔ اس نے گولی کا سُن کر دیوانہ وار رقص شروع کر دیا۔ اور ساتھ ختم نبوت زندہ باد۔ ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف
ترانہ نے ایمان پرور وجد آفریں کیفیت طاری کردی۔ یہ حالت دیکھ کر عدالت نے کہا کہ رہا کردو کہ یہ دیوانہ ہے اس نے رہائی کا سن کر پھر نعرہ لگایا۔ ختم نبوت زندہ باد (قارئین کرام ! میں لکھتے ہوئے نعرہ لگاتا ہوں اور آپ پڑھتے ہوئے نعرہ لگائیں۔ ختم نبوت زندہ باد
تحریک ختم نبوت ۵۳ء میں دہلی دروازہ لاہور کے باہر صبح سے عصر تک جلوس نکلتے رہے اور دیوانہ وار سینوں پر گولیاں کھا کر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر جان قربان کرتے رہے عصر کے بعد جب جلوس نکلنے بند ہوگئے تو ایک اسی سالہ بوڑھا اپنے معصوم پانچ سالہ بچے کو اپنے کندھے پر اٹھا کر لایا۔ باپ نے ختم نبوت کا نعرہ لگایا معصوم بچے نے جو باپ سے سبق پڑھا تھا اس کے مطابق زندہ باد کہا۔ دو گولیاں آئیں اسی سالہ بوڑھے باپ اور پانچ سالہ معصوم بچے کے سینہ سے شائیں کرکے گزر گئیں دونوں شہید ہوگئے۔ مگر تاریخ میں اس نئے باب کا اضافہ کر گئے کہ اگر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر مشکل وقت آئے تو مسلمان قوم کے اسی سالہ بوڑھے خمیدہ کمر سے لیکر پانچ سالہ معصوم بچے تک سب جان دے کر اپنے پیارے آقا کی عزت و ناموس کا تحفظ کرتے ہیں۔
آغا شورش کاشمیریؒ نے فرمایا ” ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس نے خود راقم سے بیان کیا تھا کہ ہر روز کے مظاہروں کو سمیٹنے کے لیے تشدد کی لہر اٹھا کر تحریک ختم نہ کی جاسکی ۔ چنانچہ حکام نے اپنے سفید پوش اہل کاروں کی معرفت پولیس پر پتھراؤ کرایا۔ اس طرح پر
فائرنگ کی بنیاد رکھی۔ بعض منچلے قادیانی اپنی جیپوں میں سوار ہو کر مسلمانوں پر گولیاں داغتے اور انہیں شہید کرتے رہے۔ راقم نے لاہور میں چیف کورٹ مال روڈ پر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ۱۵ سے ۲۲ سال کی عمر کے نوجوانوں کا ایک مختصر سا جلوس کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے جارہا تھا۔ وہ ایک بے ضمیر سپرنٹنڈنٹ پولیس۔ ڈی۔ایس۔پی ملک عبداللہ کے حکم پر کسی وارننگ کے بغیر فائرنگ کا ہدف بنا۔ آٹھ دس نوجوان شہید ہوگئے۔ انکی کی لاشوں کو ملک صاحب نے اپنے ماتحتوں سے ٹرکوں میں اس طرح پھنکوایا جس طرح جانور شکار کیے جاتے ہیں۔ یہ نظارہ انتہائی دردناک تھا۔ لاہور چھاؤنی میں ایک قادیانی افسر نے گولیوں کی بوچھاڑ کی، لیکن گولی کھانے والوں نے انتہائی استقامت اور کردار کی پختگی کا ثبوت دیا۔ ایک نوجوان ملٹری ہسپتال میں زخموں سے چور چور بے ہوش پڑا تھا۔ جب اُسے قدرے ہوش آیا تو اس نے پہلا سوال سرجن سے یہ کیا کہ میرے چہرے پر کسی خوف یا اضمحلال کے نشان تو نہیں ہیں جب اسے کہا گیا کہ نہیں تو اس کا چہرہ وفورِ مسرت سے تمتما اٹھا جن لوگوں کو علماء سمیت گرفتار کر کے لاہور کے شاہی قلعہ میں تفتیش کے لیے رکھا گیا ان کے ساتھ پولیس نے اخلاق باختگی کا سلوک کیا۔ ایک انتہائی ذلیل ڈی۔ایس۔پی کو ان پر مامور کیا وہ علماء کو اس قدر فحش و فاش گالیاں دیتا اور عریاں فقرے کستا کہ سچ
(تحریک ختم نبوت ص۱۳۷)
غداران ختم نبوت کا انجام
تحریک ختم نبوت میں سکندر مرزا نے ظلم کیا، ملک بدر ہوا انگلستان کے ہوٹل کی بیرہ گری کرتا رہا۔ وہیں بے کسی کی موت مرا۔ اس کی ایرانی بیوی اس کی لاش کو ایران لائی
ایران کے انقلاب میں اس کی قبر سے ہڈیاں نکال کر سمندر میں ڈال دی گئیں۔ سچ ہے کہ ختم نبوت کے دشمن کو میرے رب کی دھرتی نے بھی جگہ نہیں دی۔
گورنر غلام محمد نے تحریک کی مخالفت کی۔ آج گوروں کے قبرستان عائشہ باوانی روڈ پر کراچی میں دفن ہے۔ اسے مسلمانوں کا قبرستان دفن کے لیے نصیب نہ ہوا۔ اس کی قبر پر سایہ کے لیے پتر کھڑے کر کے چھت ڈال دی گئی ہے۔ جس کے باعث کراچی کے آوارہ کتے دن کو گرمی سے بچاؤ کے لیے گورنر غلام محمد کی قبر پر آ کر پیشاب کرتے ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
انور علی ڈی۔ آئی جی نے تحریک ختم نبوت میں جو ظلم و ستم کے منصوبے بنائے۔ الاماں اس کا نتیجہ نکلا کہ ایوب خان کے زمانہ میں اس کے ساتھ ایسی واردات ہوئی کہ ایک بہو بیٹیوں والے شریف انسان کے لیے اس کا تذکرہ ممکن نہیں۔
اسلم قریشی کیس میں پسرور کے جس ڈی ایس پی نے مرزائیت نوازی کی اب بقول چوہدری محمد امین ڈی آئی جی گوجرانوالہ کے وہ اندھا ہو گیا ہے (اس پر مولانا نعیم آسی نے بڑی خوبصورت بات کہی کہ اس کیس میں نہ معلوم ابھی کون کون اندھے ہونگے)
جس چیمہ پولیس آفیسر نے مولانا عبید اللہ انور پر لاٹھی چارج کیا۔ اور پھر ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں ڈنگہ ضلع گجرات میں مسلمانوں پر ظلم کا باعث بنا۔ اس کا انجام
دنیا کے سامنے ہے۔ کل کی بات ہے ایسے حادثے کا شکار ہوا کہ اللہ تعالیٰ اُس کے قصور اسے معاف فرمائیں۔
آغا شورش کاشمیریؒ فرماتے ہیں۔ اتفاق سے پاکستان کی سیاسی زندگی میں بیوروکریسی کا اقتدار قائم ہو چکا تھا اور بعض نمایاں عہدوں پر اس قماش کے اشخاص فائز تھے جن کا ضمیر برطانوی استعمار کی مٹی میں گندھا ہوا تھا۔ مثلاً ملک کے ڈیفنس سیکریٹری میجر جنرل سکندر مرزا بنگال کے روایتی غدار میر جعفر کی اولاد تھے۔ جب تک انگریز رہے ان کی سیاسی خدمات بجا لانے میں اپنا جوڑ نہیں رکھتے تھے۔ خواجہ صاحب کے زمانۂ وزارت تک مرکزی افسروں میں تھے، لیکن ملک کے عوام بالکل نہ جانتے تھے کہ حکومت کے دوائر میں کوئی سیاسی طاقت رکھتے ہیں۔ ملک غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کی وزارت کو برخاست کیا تو اس کے ساتھ ہی اسکندر مرزا مطلع سیاست پر نمودار ہو گئے۔ انہیں پہلے مشرقی پاکستان میں گورنر بنایا گیا۔ پھر مرکزی حکومت میں وزیر داخلہ ہو گئے۔ اس کے بعد ملک غلام محمد کی مجنونانہ علالت سے فائدہ اٹھا کر گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالا۔ جب چوہدری محمد علی نے پاکستان کا آئین تیار کیا تو ملک کے صدر بن گئے۔ پھر کئی ایک وزارتوں سے کھیلتے رہے۔ آخر مارشل لا نافذ کیا، لیکن اسی کے ہاتھوں مارے گئے اور ملک سے جلا وطن ہو کر انگلستان چلے گئے وہاں لندن کے ایک ہوٹل میں کچھ عرصہ ملازمت کی۔ آخر کار موت کا بلاوا آگیا اور مر کے ایران میں دفن ہوئے۔ اسکندر مرزا مسلّمہ طور پر لادین تھے! انہیں علمائے دین سے سخت نفرت تھی اور ایسے ادارے کو فنا کر دینے کے حق میں تھے جس کی اساس یا مزاج میں مذہب ہو۔ انہیں اس امر کا سخت افسوس تھا کہ تحریک ختم نبوت میں مارشل لاء کو وسیع
نہیں کیا گیا اور نہ ملاؤں کو تختہ دار پر کھینچا گیا۔ یہ بات راقم نے ان کے ہونٹوں سے خود سنی وہ میاں مشتاق احمد گورمانی وزیر داخلہ کے بنگلہ پر تشریف لائے۔ تعارف ہوا تو جہاں انہوں نے کئی اور غلیظ باتیں کیں وہاں یہ گلہ بھی کیا کہ وزارت نے اُن کی بات نہیں مانی۔ اگر پاکستان کے ملاؤں کو اس تحریک کی فضا میں پھانسی پر لٹکا دیا جاتا تو ملک ہمیشہ کے لیے ان سے پاک ہو جاتا۔ اسکندر مرزا کے علاوہ ملک غلام محمد بھی علماء سے مخالفت میں پیش پیش تھے۔ کچھ اور چہرے بھی تھے جن کا معاملہ اب اللہ کے سپرد ہے۔ ان تمام چہروں کا ذکر کرتے ہوئے سردار عبدالرب نشتر نے راقم سے کہا تھا کہ جن لوگوں نے تحریک ختم نبوت میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی اور ختم نبوت کے مسئلہ کو اپنے اقتدار کی مسند پر قربان کیا میں جانتا ہوں کہ ان کے شب و روز کی ویرانی کا حال کیا ہے اور ان کے دماغ و دل پر کیا بیت رہی ہے۔ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں
(تحریک ختم نبوت ص۱۴۲)
میاں مشتاق احمد گورمانی وزیر داخلہ تھے، مولانا ظفر علی خاں کی شدید علالت کے پیش نظر راقم انہیں مولانا اختر علی خاں کی رہائی پر آمادہ کر رہا تھا کہ ان کے دولت کدہ پر سکندر مرزا آ گئے مرزا ان دنوں ڈیفنس سیکرٹری تھے انہیں معلوم ہوا کہ مولانا اختر علی خاں کی رہائی کا مسئلہ ہے تو بھڑک اٹھے۔ فرمایا کہ وہ رہا نہیں ہو سکتے۔ راقم نے عرض کیا کہ ان کے والد بیمار ہیں کہنے لگے کہ وہ خود تو بیمار نہیں؟ راقم نے کہا ان کے والد کی عظیم خدمات ہیں اسی کے پیش نظر اختر علی خاں کو رہا کر دیا جائے۔ سکندر مرزا نے باپ اور بیٹے دونوں کو گالی لڑھکا دی اور کہا دونوں کو مرنے دو۔ راقم نے مرزا صاحب کو ٹوکا کہ ہفتہ پہلے آپ کا بیٹا ہوائی حادثہ میں موت کی
نادم ہوگیا ہے۔ اس قسم کے الفاظ آپ کو نہ بولنا چاہئیں۔ گورمانی صاحب نے راقم کے تیور دیکھ کر صحبت ختم کر دی، لیکن مرزا صاحب نے فرمایا کہ یہ کابینہ کی غلطی ہے کہ اس نے ان ملاؤں کو پھانسی نہیں دی۔ ہمارے مشورہ کے مطابق پندرہ بیس علماء کو دار پر کھنچوا دیا جاتا یا گولی اڑا دیا جاتا تو اس قسم کے جھمیلوں سے ہمیشہ کے لیے نجات ہو جاتی جس صبح دولتانہ وزارت برخاست کی گئی اس رات گورنمنٹ ہاؤس لاہور میں سکندر مرزا کا ایک ہی بول تھا مجھے یہ نہ بتاؤ کہ فلاں جگہ ہنگامہ فرو ہو گیا یا فلاں جگہ مظاہرہ ختم کر دیا گیا ۔ مجھے یہ بتاؤ وہاں کتنی لاشیں بچھائی ہیں۔ کوئی گولی بیکار تو نہیں گئی؟ عبدالرب نشتر راقم کے بہترین دوست تھے ان سے اس مسئلہ پر گفتگو ہوئی تو فرمایا "جن لوگوں نے شیدائیان ختم نبوت کو شہید کیا اور ان کے خون سے ہولی کھیلی ہے میں اندر خانہ کے رازدار کی حیثیت سے جانتا ہوں کہ اُن پر کیا بیت رہی ہے؟ اور وہ کن حادثات و سانحات کا شکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کے قلوب کا اطمینان سلب کر لیا اور ان کی روحوں کو سرطان میں مبتلا کر دیا ہے
(تحریک ختم نبوت ص۱۴۲)
انعام پانے والے
گزشتہ صفحات میں جن مقدس لوگوں نے ختم نبوت کی خدمت کی بحمد اللہ رب العزت نے انہیں دنیا و آخرت کی نعمتوں سے سرفراز فرمایا اور جس طرح آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رضا کا سرٹیفکیٹ دیا اس کا تذکرہ پڑھا۔ ذیل کے واقعات دنیوی عزت و رفعت سے متعلق پیش خدمت ہیں ۔
مولانا اسلم قریشی نے ایم ایم احمد قادیانی پر قاتلانہ حملہ کیا۔ ان دنوں مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے وکالت جناب راجہ ظفر الحق نے کی۔ اللہ تعالےٰ نے ختم نبوت کے صدقے پہلے وفاقی وزیر اطلاعات اور پھر مصر کا سفیر بنایا۔
جب حاجی محمد نانکے نے قادیانی کو قتل کیا تو ہمارے وکیل سید غوث علی شاہ تھے جو آجکل صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ ہیں۔
آزاد کشمیر اسمبلی میں قادیانیت کی اقلیت کی قرارداد جناب میجر ایوب صاحب نے پیش کی۔ آج آزاد کشمیر اسمبلی کے سپیکر ہیں اور اس تحریک کے وقت وہ آزاد کشمیر کے قائمقام صدر ہیں۔
سو سنار کی ایک لوہار کی
کنری ضلع تھرپارکر سندھ میں مجلس کے بزرگ رہنما مستری برکت علی جو لوہار کا کام کرتے ہیں کے پاس ایک دفعہ ایک مرزائی آیا اور بینچ پر بیٹھ کر اپنی ارتدادی تبلیغ شروع کر دی۔ مستری صاحب ٹوکے والی کلہاڑی کی دھار تیز کر رہے تھے۔ مرزائی گفتگو کرتا رہا یہ دھار تیز کرتے رہے جب خوب دھار تیز ہوگئی تو کلہاڑی مرزائی کی گردن پر رکھ کر کہا کہ کہو کہ مرزا بے ایمان تھا ایسا تھا ویسا تھا خوب بے نقط سنائیں مستری صاحب کے ساتھ ہی ساتھ مرزا کو گالیاں سناتا گیا جب تھک گئے، تو مستری صاحب نے وہی کلہاڑی مرزائی کے ہاتھوں میں دے دی۔ اور خود نیچے بیٹھ گئے اور کہا کہ اب تم کلہاڑی میری گردن پر رکھ کر کہو کہ میں آقائے
نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کروں ۔ میں ٹکڑے ہو جاؤں گا ۔ مگر توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ یہ آپکے اور ہمارے جھوٹے اور سچے ہونیکی دلیل ہے ۔
اسی سے ملتا جلتا واقعہ مکرم قاری ڈاکٹر محمد صولت نواز نے سنایا کہ میں نے نواز میڈیکوز نہ فیصل آباد کی تعمیر کے لیے ایک انجینئر کی خدمات حاصل کیں ہمارے علم میں نہ تھا کہ یہ مرزائی ہے اس انجینئر کو معلوم تھا کہ یہ لوگ مرزائیت کے خلاف ہیں ۔ اور ہر روز ہماری مجلس میں کسی نہ کسی بہانے مرزا قادیانی کو ”ٹھوک“ بھی دی جاتی تھیں ۔ وہ دنیا کے چند ٹکوں کی خاطر مرزا قادیانی کے خلاف سنتا رہا ، مگر ایک دن بھی اس کے چہرے پر شکن نہیں اُبھری ۔ کام کا پہلا مرحلہ جب مکمل ہوا ۔ تو بعد میں ایک دوست کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ قادیانی ہے ۔ یہ سنتے ہی میرے پاؤں سے زمین نکل گئی میں نے فون پر اس کو اور مرزا قادیانی کو خوب سنائیں مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوا ۔
وفاقی شرعی عدالت لاہور میں ایک ماہ تک یومیہ سینکڑوں مرزائیوں کی موجودگی میں مرزا قادیانی پر جرح قدح ہوتی رہی مگر کسی مرزائی کے چہرہ پر شکن نہیں پڑی ۔ اگر خدا نہ کرے کوئی ایسا سانحہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہوتا تو چاہے ایک مسلمان ہی کیوں نہ ہوتا کٹ جاتا مگر جرح قدح کرنے کی کسی کو اجازت نہ دیتا ۔
جن ممالک میں مرزائیوں کا داخلہ بند ہے وہاں ملازمت کے لیے مرزائی حلف نامہ میں مرزا قادیانی کے کفر پر دستخط کر کے چلے جاتے ہیں ۔
ان تمام واقعات کے عرض کرنے کا مقصد یہ بات سمجھانا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مرزائی کتنے اخلاق والے ہیں ان کے نبی کو جو کہو گالیاں سُن کر بھی وہ ناراض نہیں ہوتے تو اس ضمن میں عرض ہے کہ یہ اخلاق نہیں بے غیرتی ہے۔ سچا نبی اپنی امت میں مِلی غیرت کو اجاگر کرتا ہے اور سچے نبی کی محبت اس کے ماننے والوں کے دلوں میں قدرت اِس طرح راسخ کرتی ہے کہ وہ جان پر کھیل جائیں گے مگر اپنے نبی کی توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ بخلاف جھوٹے نبی کے کہ نہ اس میں خود غیرت ہوگی ۔ نہ اس کی امت میں غیرت کا نشان ہو گا اُسکے امتی کے سامنے جو مرضی آئے بکتے رہو وہ دانت نکال کر ہنستا رہے گا۔ معلوم ہوا یہ اخلاق نہیں بے غیرتی کہتے ہیں۔
قاری محمد عارف صاحب مظفر گڑھ کے ایک دینی مدرسہ میں معلم ہیں اور وہ حضرت قبلہ کے مخلص ارادتمند ہیں ایک مرتبہ خانقاہ شریف میں حاضر ہوئے اور حضرت قبلہ سے عرض کیا کہ میں آپ جیسی عظیم الشان ہستی کا مرید ہوں مگر مجھے واردات و کیفیات وغیرہ کا کبھی ادراک نہیں ہوا ۔ آپ یہ کرم فرمائیں کہ مجھے حضور رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہو جائے آپ یہ سُنکر مسکرا دیے اور خاموش رہے۔
اسی رات قاری صاحب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے حضرت قبلہ مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم بھی آپکے ساتھ تشریف فرما تھے ۔ حضرت قبلہ مدظلہ نے فرمایا کہ قاری صاحب! اَب خوب جی بھر کر حضور علیہ السلام کی زیارت کر لو اسکے بعد خواب ختم ہو گیا۔ صبح کو جب حضرت قبلہ مولانا خان محمد صاحب مدظلہ مجلس مبارک میں تشریف لائے تو قاری صاحب موصوف نے حاضر ہو کر پھر التماس کیا کہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا ہنوز مشتاق ہوں اس سعادت کے حصول کے لیے آپ ضرور توجہ فرمائیں حضرت قبلہ نے جواب دیا کہ قاری صاحب روز روز پروگرام نہیں بنا کرتے ۔
(تحفہ سعدیہ ص۳۲۵)