محاضرۂ علمیہ بر موضوع ردِ قادیانیت · مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری
Muhazrat Ilmiya Rad-e-Qadianiyat · Qari Usman Mansoorpuri
PDF 1

پہلا مُحاضرَۂ عِلمیَّہ

بر مَوضُوع

رَدّ

قادیانیت

پیش کردہ

حضرت مولانا قاری محمّد عثمان صاحب منصور پُوری

اُستاذِ حَدیث و ادب دارالعلوم دیوبند

طباعت : شیروانی آرٹ پرنٹرز دہلی ۱۱۰۰۰۶ فون : 2943292

صفحہ ۲

رد قادیانیت جزء

بسم اللہ الرحمن الرحیم

موضوع کا تعارف

انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے خداوند قدوس نے انسانوں میں سے ہی کچھ نفوس قدسیہ کو منتخب فرمایا اور حضرت آدم علی نبینا علیہ الصلوۃ والسلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک بے شمار انسانوں کو خلعت نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا ۔ یہ محض اصطفاء خداوندی کا نتیجہ تھا ، لیکن حریص انسانوں نے بزعم خود زبردستی اپنے کو اس منصب پر فائز کرنے کی کوشش ہر زمانہ میں کی ہے حتیٰ کہ جب باری تعالیٰ نے اس سلسلہ کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر مکمل فرما دیا ، تب بھی ان حریص انسانوں نے حسد و جلن کی وجہ سے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے میں دریغ نہیں کیا ۔ بلکہ خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی :

انہ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلہم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لانبی بعدی ۔

(ابوداؤد و ترمذی و مشکوٰۃ ص ۴۶۵)

عنقریب میری امت میں [بڑے بڑے] تیس جھوٹے ہوں گے ، ان میں سے ہر ایک اپنے بارے میں دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں ، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں ، میرے بعد کوئی بھی نبی نہیں ۔

صادق و مصدوق نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیشین گوئی کے مطابق آپ ہی کی حیات مبارکہ میں جھوٹے مدعیان نبوت ظاہر ہونے شروع ہو گئے تھے ۔ چنانچہ اسود عنسی ، طلیحہ اور مسیلمہ کذاب کے نام اس حیثیت سے اسلامی تاریخ میں ، معروف و مشہور ہیں ۔ پھر مختلف زمانوں میں

صفحہ ۳

رد قادیانیت ۳ حصہ

مختلف مقامات پر جھوٹے مدعیان نبوت ظاہر ہوتے رہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ان جھوٹے مدعیان نبوت میں سے بعض کو ہزاروں کی تعداد میں ان کی نبوت پر ایمان لانے والے اور پیروکار بھی مل گئے اور مسلمانوں کے ساتھ ان کی معرکہ آرائیاں بھی ہوئیں مگر ان میں سے اکثر کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچتے رہے۔ حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں تحریر فرماتے ہیں:

"اکثر ایسے مدعیوں کو کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہوئی، اور حباب کی طرح اٹھے اور بیٹھ گئے لیکن برصغیر ہند میں انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں دعویٰ نبوت کرنے والے مرزا غلام احمد قادیانی (۱۸۳۹ء تا ۱۹۰۸ء) کا معاملہ بعض سیاسی وجوہ سے مختلف ہے" ۱؎

مرزا غلام احمد قادیانی نے دیگر مدعیان کی طرح اولاً صاف صاف نبوت کا دعویٰ نہیں کیا کیوں کہ ایسے مدعیوں کا عبرتناک انجام اس کو معلوم تھا، لہٰذا اس نے بڑی چالاکی سے تدریجی انداز اپنایا۔ اولاً خادم و مبلغ اسلام کے روپ میں ظاہر ہوا۔ پھر اپنے کو ملہم اور مامور من اللہ بتلایا۔ پھر مجدد ہونے کا اظہار کیا، آگے بڑھ کر مہدی و مثیل مسیح و مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔ مزید ترقی کر کے ظلی و بروزی نبوت کا پروپیگنڈہ کرنے لگا، آخر کار اصل منزل مقصود پر پہنچ کر مستقل اور صاحب شریعت نبی ہونے کا اعلان کر کے اپنے نہ ماننے والوں کو جہنمی کہنے لگا۔

اسی پر بس نہیں کیا بلکہ باقاعدہ ایک جماعت (مسلمان فرقہ احمدیہ) کے نام سے قائم کر کے مذکورہ دعاوی باطلہ و کفریہ عقائد کی ترویج و اشاعت کا کام شروع کر دیا اور ہر جگہ سادہ لوح عوام مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لیے یہ باور کرایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس پر ایمان لانا ضروری ہے اور یہی حقیقی اسلام ہے نیز اس کے بغیر اخروی نجات ممکن نہیں۔ گویا اپنے اوپر ایمان کو مدار نجات قرار دیا۔ جب کہ امت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ مدار نجات حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

۱؎ منصب نبوت اور اس کے اعلیٰ مقام حصہ اول ص ۲۷۳ :-

صفحہ ۴

رد قادیانیت جڑ سے

مرزا غلام احمد کا مختصر سوانحی خاکہ

قادیانیت کے خدوخال واضح کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کے حالات زندگی پر نظر ڈال لی جائے تاکہ مذکورہ بلند بانگ دعویٰ کرنے والے کا حسب ونسب معلوم ہو جائے ، اور یہ کہ وہ علوم ظاہری و اخلاقیات وغیرہ میں کس سطح کا آدمی تھا۔

نام ونسب

اس سلسلہ میں مرزا کا اپنا بیان یہ ہے۔ میرا نام غلام احمد، میرے والد کا نام غلام مرتضیٰ، اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور پر پر دادا کا نام گل محمد تھا۔ اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے پرانے بزرگوں کے کاغذات سے جو اب تک محفوظ ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے ۱؎

پیدائش

مرزا نے لکھا ہے : میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا ۲؎

تاریخ پیدائش کا مسئلہ

مرزا قادیانی نے اپنی عمر کے متعلق اربعین میں الہام درج کیا ہے :

لَاُحْيِيَنَّكَ حَيٰوةً ہم تجھے ایک پاک اور آرام کی زندگی عنایت طَيِّبَةً ثَمَانِيْنَ حَوْلًا اَوْ قَرِيْبًا مِّنْ ذٰلِكَ کریں گے اسی برس یا اس کے قریب۔

(اربعین ۳ ص ۲۹)

مرزا کی بیان کردہ اپنی تاریخ پیدائش کے اعتبار سے اس کی عمر انہتر یا ستر سال ہوتی ہے کیوں کہ ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا کا انتقال ہوا ہے ۔ لہٰذا اس کی یہ پیشین گوئی صراحۃً غلط ثابت ہوئی ۔ اس کو زبردستی سچی پیشین گوئی ثابت کرنے کے لیے مرزا بشیر الدین محمود نے مرزا قادیانی کا سن ولادت بجائے ۱۸۳۹ء کے ۱۸۳۶ء بتلایا ہے جیسا کہ ۱۹۳۶ء میں ولیعہد سلطنت برطانیہ کو مرزا بشیر الدین نے سپاسنامہ پیش کرتے وقت اُسی تاریخ کا تذکرہ کیا، اس کے اعتبار سے ۱۸۵۷ء میں مرزا کی

۱؎ کتاب البریہ در خزائن جلد ۱۳ ص ۱۶۲ ۲؎ کتاب البریہ در خزائن جلد ۱۳ ص ۱۷۷

صفحہ ۵

رد قادیانیت جزء عمر ۷۱ سال ہوتی ہے ۔ حالانکہ مرزا لکھ چکا ہے کہ اس وقت میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا ۔ بہر حال مذکورہ غیر واقعی ترمیم کے بعد مرزا کی عمر تہتر ۷۴ یا چھہتر سال بن جاتی ہے جسکو بتکلف اسی کے قریب کہا جا سکتا ہے لیکن اس معاملہ میں مرزا کے بیان کو ہی ترجیح دی جائے گی ۔ اور اس کے نتیجہ میں مرزا اس پیشین گوئی میں جھوٹا ثابت ہوگا۔

قادیان

مرزا غلام احمد نے قادیان کے متعلق لکھا ہے : ” (مرزا کے آباء و اجداد ۔ ناقل) اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے اور وہ ایک معزز :- رئیس کی حیثیت سے اس ملک میں داخل ہوئے اور اس قصبہ کی جگہ میں جو اسوقت ایک جنگل پڑا ہوا تھا ، لاہور سے تخمیناً بفاصلہ پچاس کوس بگوشہ شمال مشرق واقع ہے ۔ فروکش ہو گئے جس کو انھوں نے آباد کر کے اس کا نام اسلام پور ماجھی رکھا جو پیچھے سے اسلام پور قاضی مانجھی کے نام سے مشہور ہوا اور رفتہ رفتہ اسلام پور لفظ لوگوں کو بھول گیا اور قاضی مانجھی کی جگہ پر قاضی رہا اور پھر آخر قادی بنا اور پھر اس سے بگڑ کر قادیان بن گیا ۱؎

اور جناب مولانا ابو القاسم رفیق دلاوری نے لکھا ہے : ” قادیان صرف ایک گاؤں کا نام نہیں جو مرزا غلام احمد کا مولد و منشا تھا بلکہ پنجاب میں قادیان نام کے اور بھی متعدد گاؤں آباد ہیں خود ضلع گرداسپور میں مرزا صاحب کے قادیان کے علاوہ ایک اور قادیان موجود ہے“ ۲؎

خاندان کا زوال

مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ : ” پھر جب سکھوں کا قبضہ ہوا تو صرف اسی گاؤں ان کے ہاتھ میں رہ گئے اور پھر بہت جلد اسی کے عدد کا صفر بھی اڑ گیا اور پھر شاید آٹھ یا سات گاؤں باقی رہے ۔ رفتہ رفتہ سرکار انگریزی کے وقت میں تو بالکل خالی ہاتھ ہو گئے ۔ چنانچہ اوائل عملداری اس سلطنت میں صرف پانچ گاؤں کے مالک کہلاتے تھے اور میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب دربار گورنری میں

۱؎ حاشیہ کتاب البریہ خزائن ص ۱۶۳ جلد ۱۳ ۔ ۲؎ رئیس قادیان ص ۳ :۔

صفحہ 6

رد قادیانیت جز

کرسی نشیں بھی تھے ۱؎

انگریزی سرکار کا خیر خواہ خاندان

اور سرکار انگریزی کے ایسے خیر خواہ اور دل کے بہادر تھے کہ ۱۸۵۷ء میں پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس جوان جنگجو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ اس گورنمنٹ عالیہ کو مدد دی تھی۔ غرض ہماری ریاست کے ایام دن بدن زوال پذیر ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ آخری نوبت ہماری یہ تھی کہ ایک کم درجہ کے زمین دار کی طرح ہمارے خاندان کی حیثیت ہو گئی ۲؎

ناقص تعلیم

مرزا نے اپنی تعلیم کا حال یوں بیان کیا ہے : بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لیے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کی کتابیں پڑھائیں۔ اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا، اور جب میری عمر تقریباً دس برس کی ہوئی، تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لیے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے وہ بہت محنت اور توجہ سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے۔ اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا، تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا، ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لیے مقرر کیا تھا۔ اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو، منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا ۳؎

مرزا بشیر احمد ایم اے کے بیان کے مطابق :

”آپ کے استاذ فضل الٰہی قادیان کے باشندے حنفی تھے۔ دوسرے استاذ فضل احمد فیروز والا ضلع گوجرانوالہ کے باشندے اہل حدیث تھے۔ تیسرے استاذ

۱؎ تحفہ قیصریہ خزائن ص۲۷ جلد ۱۳

۲؎ " " ص۲۷ جلد ۱۳

۳؎ حاشیہ کتاب البریہ در خزائن ص۱۷۹ تا ص۱۸۱ جلد ۱۳

صفحہ ۷

رد قادیانیت ۷ جلد

سید گل علی شاہ بٹالہ کے باشندے اور شیعہ تھے“ ۱؎

مرزا کی غلط بیانی

مرزا کا یہ بیان کہ مولوی گل علی شاہ کو اس کے والد نے بحیثیت معلم نوکر رکھا تھا تحقیقی کسوٹی پر پرکھا گیا تو غلط ثابت ہوا۔ چنانچہ مولانا ابوالقاسم رفیق نے تحریر فرمایا ہے کہ :

” اصل یہ ہے کہ جب قادیان میں مرزا غلام مرتضیٰ کا مطب نہ چلا، یا وہاں کی قلیل آمدنی پر قانع نہ ہوئے تو انھوں نے بٹالہ آکر جو ایک بڑا قصبہ ہے مطب کھول لیا اور یہیں ایک مکان بھی بنوایا تھا اسی مکان میں باپ اور بیٹا (مرزا غلام احمد) رہتے تھے۔ باپ مطب کرتا تھا اور بیٹا قریب ہی مسجد ہمدانیاں میں سید گل علی شاہ شیعی سے تعلیم پاتا تھا۔“_______ مرزا احمد علی امرتسری شیعی رقم طراز ہیں کہ :

”مولوی گل علی شاہ شیعہ مذہب کے فاضل اجل تھے، بڑے بڑے رئیس ان کے آستانہ پر حاضر ہوا کرتے تھے بلکہ مرزا غلام احمد کے والد مرزا غلام مرتضیٰ بھی بٹالہ میں ان کے دستر خوان کے ریزہ چیں تھے۔ گل علی شاہ کسی رئیس کے در دولت پر کبھی نہیں گئے، چہ جائیکہ حکیم غلام مرتضیٰ جیسے قلاش کی نوکری کرتے۔ مرزا غلام احمد نے اپنی تعلی کے لیے غلط بیانی سے کام لیا ہے“ ۲؎

مرزا کے علوم اکتسابی تھے

بہر حال مرزا کے اپنے بیان سے ثابت ہو گیا کہ اس نے مختلف مکاتب فکر کے اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا ہے

اگر چہ کسی مدرسہ سے فراغت کی توفیق نہیں ملی۔ مگر جب مہدی و مسیح بننے کا شوق ہوا تو مرزا قادیانی نے دوسری کتاب ایام الصلح (جو کتاب البریہ کے بعد کی تصنیف ہے) میں لکھ دیا کہ :

”سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا تو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا ہی سے حاصل کرے گا، اور قرآن وحدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں

۱؎ سیرت المہدی جلد ۱ ص ۲۲۳ : ۲؎ مراۃ القادیانیت مولفہ مرزا احمد علی امرتسری ص ۲۹۔۳۰ بحوالہ رئیس قادیان ص ۷

صفحہ ۸

رد قادیانیت ۸ حصہ

ہوگا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی ہے ، کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے“ ۱؎

جب مرزا خود اقرار کر چکا ہے کہ مولوی فضل الٰہی سے اس نے قرآن شریف پڑھا ہے تو موجودہ بیان میں اس کا کاذب ہونا اظہر من الشمس ہے۔

سیالکوٹ کی ملازمت

مرزا بشیر احمد تحریر کرتا ہے : ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں ۔ اس لیئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنری کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے تھے —————— خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیالکوٹ کی ملازمت ۱۸۶۴ء کا واقعہ ہے“ ۲؎

انگریزی تعلیم

مرزا بشیر احمد لکھتا ہے : اسی زمانہ میں مولوی الٰہی بخش کی سعی سے جو چیف محرر مدارس تھے کچہری کے ملازم منشیوں کے لیئے ایک مدرسہ قائم ہوا کہ رات کو کچہری کے ملازم منشی انگریزی پڑھا کریں۔ ڈاکٹر امیر شاہ صاحب جو اس وقت اسسٹنٹ سرجن پینشنر ہیں ، استاذ مقرر ہوئے ۔ مرزا صاحب نے بھی انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں ۳؎

مختاری کے امتحان میں ناکامی

مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے : چونکہ مرزا صاحب ملازمت کو پسند نہیں فرماتے تھے اس واسطے آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کر دی اور قانون کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا ، پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے ۴؎

ملازمت سے استعفا اور قادیان میں قیام

مرزا قادیانی لکھتا ہے : ایسے ہی ان کے زیر سایہ ہونے کے ایام

۱؎ ایام الصلح در خزائن ص۳۰۳ جلد ۱۴

۲؎ سیرت المہدی ص۳۴-۳۳ جلد ۱

۳؎ سیرت المہدی ص۵۵ جلد ۱

۴؎ " " ص۱۵۶ "

صفحہ ۹

ردّ قادیانیت ۹ حصہ

میں چند سال تک میری عمر کراہیت طبع کے ساتھ انگریزی ملازمت میں بسر ہوئی ، آخر چونکہ میرا جدا رہنا میرے والد پر بہت گراں تھا ، اس لیے ان کے حکم سے جو عین میری منشا کے موافق تھا میں نے استعفا دے کر اپنے تئیں اس نوکری سے جو میری طبیعت کے مخالف تھی ، سبکدوش کرلیا ۔ اور پھر والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۱؎

بیہودہ جھگڑے

قادیان واپس آکر مرزا کی مشغولیات کیا رہیں ؟ خود مرزا کا بیان ہے : میرے والد صاحب اپنے بعض آباء و اجداد کے دیہات کو دوبارہ لینے کے لیے انگریزی عدالتوں میں مقدمہ کر رہے تھے ۔ انہوں نے ان مقدمات میں مجھے بھی لگا لیا اور ایک زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا ۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا بیہودہ جھگڑوں میں ضائع ہو گیا ۲؎

مِرزَا کی بِیمَارِیَاں

مرزا کو ہسٹریا اور مراق کی بیماری تھی

ڈاکٹر محمد اسماعیل قادیانی کا بیان ہے : میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے ۳؎

مراق کیا ہے

علامہ حکیم برہان الدین نفیسی فرماتے ہیں : مالیخولیا کی ایک قسم ہے جس کو مراق کہتے ہیں ، اور مالیخولیا کی تعریف انھوں نے یہ کی ہے :

ہو تغير الظنون والفكر عن المجرى مالیخولیا ۔ خیالات وافکار کے طریق طبعی سے متغیر الطبيعي الى الفساد والخوف وقد يبلغ بخوف و فساد ہو جانے کو کہتے ہیں ۔ بعض مریضوں الفساد في بعضهم الى حد يظن انه میں گاہے گاہے یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا :۔

۱؎ حاشیہ کتاب البریہ ص ۱۸۳- ۱۸۶ جلد ۱۳ ۲؎ سیرت المہدی ص ۵۵ جلد ۲

۳؎ " " ص ۱۶۳ جلد ۳

صفحہ ١٠

رد قادیانیت حصہ يعلم الغيب، وكثيرا يخبر سيكون ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب دان سمجھتا ہے اور قبل كونه، وقد يبلغ الفساد فى بعضهم اکثر ہونے والے امور کی پہلے ہی خبر دے دیتا ہے الى حد يظن انه صار ملكا، وقد اور بعض میں فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ يبلغ الفساد فى بعضهم الى اعلى من اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ فرشتہ ہوں ذلك فيظن انه الحق وهو تعالى اور کبھی اس سے بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ وہ عن ذلك ، اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگتا ہے ۔

(شرح الاسباب والعلامات ص ٦٩-٦٧) (ترجمہ شرح اسباب اردو ص ١٥)

قادیانی ڈاکٹر کی شہادت

ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی لکھتا ہے : اگر کسی مدعی الہام کے متعلق یہ ثابت ہو جائے کہ اسے ہسٹریا، یا مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعوے کی تردید کے لیے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ یہ بات ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکتی ہے ١؎ اوپر کے حوالوں سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مرزا کو مالیخولیا، مراق، ہسٹریا جیسے امراض تھے ۔ لہٰذا قادیانی ڈاکٹر کی رائے کے مطابق مرزا کی تکذیب کیلئے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں رہتی ۔

زیابیطس کی شکایت

مرزا قادیانی لکھتا ہے : دوسری بیماری بدن کے نیچے کے حصہ میں ہے جو مجھے بکثرت پیشاب کا مرض ہے جس کو زیابیطس بھی کہتے ہیں اور معمولی طور پر مجھ کو ہر روز پیشاب بکثرت آتا ہے اور پندرہ بیس دفعہ تک کی نوبت پہنچ جاتی ہے اور بعض اوقات قریب سو دفعہ کے دن رات میں آتا ہے ٢؎

مرزا کے امراض کی مجمل فہرست

تشنج اعصاب، جسمانی قویٰ کا اضمحلال، دوران سر، شقیقہ درد سر، حالت مردی کالمعدوم، دق، سل، دماغی بیہوشی غشی، کثرت اسہال، مسلوب القویٰ ہونا، حافظہ کی خرابی، دل و دماغ کی سخت کمزوری ۔ ان بیماریوں

١؎ ریویو آف ریلیجنز اگست ١٩٢٦ء ۔ ٢؎ ضمیمہ براہین احمدیہ خزائن ص ٣٦٣ جلد ٢١ ،

صفحہ 11

رد قادیانیت 11 جزء

کی تفصیلات مرزا کی کتب تریاق القلوب، نزول مسیح، حقیقۃ الوحی وغیرہ میں مذکور ہیں۔

مرزا کی بیویاں

مرزا غلام احمد قادیانی کو ساری عمر میں صرف دو عورتوں سے شادی کرنے کا اتفاق ہوا ۔ پہلی شادی بارہ چودہ سال کی عمر میں ماموں کی بیٹی حرمت بی بی سے ہوئی۔ مرزا کو شروع ہی سے اس بیوی سے بے تعلقی سی تھی اور اس کو عام طور پر ”پھجے دی ماں“ کہا جاتا تھا ۔ دوسری شادی کے بعد مرزا نے اس کو کہلا دیا تھا کہ یا تو مجھ سے طلاق لے لو یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو ۔ اس نے کہلوایا کہ اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی۔ بس مجھے خرچ ملتا رہے، میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔ پھر جب محمدی بیگم کا سوال اٹھا اور مرزا کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرا دیا اور حرمت بی بی نے ان سے تعلقات منقطع نہیں کیئے تو مرزا غلام احمد نے اس کو طلاق دے دی ۱؎

دوسری شادی ۱۸۸۴ء میں نصرت جہاں بیگم سے ہوئی جو دہلی کے مشہور سادات خاندان (میر درد کا خاندان) سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کو مرزائی ”اماں جان“ کہتے ہیں ۲؎

تیسری شادی کی آرزو

اس کے بعد بھی مرزا کو مزید شادیاں کرنے کی بے حد تمنا رہی۔ چنانچہ حسبِ عادت ایک اشتہار میں اپنا یہ الہام شائع کیا :

” اس عاجز نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں یہ پیشین گوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی کہ اس نے مجھے بشارت دی ہے کہ بعض بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد میرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا ہوگی“ ۳؎

اپنے الہام کو سچا ثابت کرنے کے لیئے مرزا نے بہت کوشش کی کہ محمدی بیگم سے نکاح ہو جائے بلکہ یہ اعلان بھی کر دیا کہ آسمان پر اس سے مرزا کا نکاح ہو گیا ہے اور زمین میں بھی ضرور ہوگا۔ لیکن

۱؎ سیرۃ المہدی ص۳۳-۳۴ ملخصاً، ۲؎ بنیادی نصاب ص۱۶۶، ۳؎ اشتہار محک اخیار و اشرار مورخہ یکم ستمبر ۱۸۹۶ء مندرجہ تبلیغ و رسالت : ص۲۹ ج۶ مولفہ میر قاسم علی قادیانی ۔

صفحہ ۱۲

ردّ قادیانیت حصّہ

مرتے وقت تک نہ محمدی بیگم سے نکاح کی آرزو پوری ہوئی اور نہ ہی کسی اور عورت سے مرزا کا نکاح ہوا۔ محترمہ نصرت جہاں بیگم ہی اسکی بیوی رہی اور اسی سے اولاد ہوتی رہی جو مذکورہ اعلان کے وقت پہلے سے موجود تھی

پہلی بیوی سے مرزا کی اولاد

مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے : بڑی بیوی سے حضرت مسیح موعود کے دو لڑکے پیدا ہوئے تھے

یعنی مرزا سلطان احمد صاحب اور مرزا فضل احمد، حضرت صاحب گویا بچے ہی تھے کہ مرزا سلطان پیدا ہوگئے تھے ؎۱ مرزا کے یہ دونوں بیٹے اس پر ایمان نہیں لائے۔ آخر کار سلطان احمد کو تو مرزا نے عاق کر دیا تھا ، اور مرزا فضل احمد کا انتقال ہوا تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ؎۲

اس کی وجہ اخبار میں یہ بیان کی گئی ہے :

"حضرت مرزا صاحب نے اپنے بیٹے (فضل احمد مرحوم) کا جنازہ محض اس لئے نہیں پڑھا کہ وہ غیر احمدی تھا" (اخبار الفضل قادیان ۱۵؍ دسمبر ۱۹۲۱ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۶۶۶)

دوسری بیوی سے مرزا کی اولاد

؎۱ سیرۃ المہدی ص ۵۳ ج ۱ ؎۳ وفات ۱۹۶۵ء ؎۲ " ص ۲۹ ج ۱ ؎۴ وفات ۱۹۶۳ء بنیادی نصاب ص ۱۶۶ ؎۵ وفات ۱۹۸۱ء ۔ ؎۶ " ۱۹۷۷ء

صفحہ ۱۳

رد قادیانیت حِصّہ

مرزا قادیانی کا کیریکٹر

ایک جانب تو مرزا قادیانی (جس کو کمال متابعت نبوی کا دعویٰ ہے) لکھتا ہے : "ہمارے سید و مولیٰ، افضل الانبیاء، خیر الاصفیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تقویٰ دیکھئے کہ وہ ان عورتوں کے ہاتھ سے ہاتھ نہیں ملاتے تھے جو پاکدامن اور نیک بخت ہوتی تھیں اور بیعت کرنے کے لئے آتی تھیں بلکہ دور بٹھا کر صرف زبانی تلقین توبہ کرتے تھے" ؎ ۱

مزید لکھتا ہے : "یہ اسلام کی اعلیٰ تعلیم کا ایک نمونہ ہے کہ ہرگز قصداً کسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھو کہ یہ بد نظری کا پیش خیمہ ہے" ؎ ۲

دوسری طرف اس سنت مطہرہ اور اعلیٰ تعلیم کے برخلاف مرزا قادیانی کے کیریکٹر کے دو شرمناک نمونے دیکھئے ۔

ا۔ نامحرم دوشیزہ سے پیر دبوانا

عائشہ کے شوہر غلام محمد کا بیان ہے : میری بیوی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پندرہ برس کی عمر میں دارالامان میں حضرت مسیح موعود کے پاس آئیں ۔۔۔۔۔۔ حضور کو مرحومہ کی خدمت حضور کے پاؤں دبانے کی بہت پسند تھی ؎ ۳

محمد حسین قادیانی کا سوال

حضرت اقدس غیر عورتوں سے ہاتھ پاؤں دبواتے ہیں۔

جواب از فضلِ دین قادیانی

وہ نبی معصوم ہیں، ان سے مس کرنا اور اختلاط منع نہیں بلکہ موجبِ رحمت و برکات ہے ؎ ۴

؎ ۱ نور القرآن خزائن ص ۳۴۹ / ۹ ، ؎ ۲ ص ۳۴۴ / ۹ ، ؎ ۳ اخبار الفضل قادیان ۲۰؍ مارچ ۱۹۲۸ء ص ۷ بحوالہ مرزا قادیانی بقلم خود ص ۳ ، ؎ ۴ اخبار الحکم جلد ۱۷، ص ۱۴، ۱۵ ۔ ۱۴؍ اپریل ۱۹۱۳ء بحوالہ مرزا قادیانی بقلم خود ص ۳۴ ۔

صفحہ ۱۴

رد قادیانیت جز

۷۲۔ نامحرم عورت سے پنکھا وغیرہ کی خدمت لینا

مرزا بشیر احمد ایم اے کا بیان ہے، ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیا کہ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس کی خدمت میں رہی ہوں ۔ گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی ، مجھ کو اس اثناء میں کسی قسم کی تھکان و تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا ۔ دو دفعہ ایسا موقع پیش آیا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقع ملا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ حضرت نے فرمایا زینب اس قدر خدمت کرتی ہے کہ ہمیں اس سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے ۱؎

مخالفین کو مغلظات

مرزا قادیانی نے دشنام دہی سے اظہارِ برأت کرتے ہوئے لکھا ہے : میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جسکو دشنام دہی کہا جائے ۲؎ بلکہ دوسری جگہ یہ ڈینگ ماری ہے کہ میں نے جواباً بھی کسی مخالف کو گالی نہیں دی ۔

وقد سبونی بکل سب فما رددت علیہم جوابہم ،

(مواہب الرحمٰن خزائن ص ۲۳۶ ج ۱۹)

مخالفین نے مجھے ہر طرح کی گالیاں دیں مگر میں نے ان کی گالیوں کا جواب نہیں دیا ۔

بہر حال ایک طرف تو اپنی شرافت کے یہ بلند بانگ دعوے ہیں دوسری جانب اس کی دشنام طرازی کے بدترین نمونے دیکھئے ۔

زوّر کلام کو جھوٹ سے آراستہ کرنا اُتُران ۔ ڈسنا

اتانی کتاب من کذوب یزوّر کتاب خبیث کالعقارب یابَرُ
قلت لك الویلات یا ارض جولر لعنت بملعون فانت تدمر

(ترجمہ از مرزا) مجھے ایک کتاب کذاب کی طرف سے پہنچی ہے وہ خبیث کتاب بچھوؤں کی طرح نیش زن ہے ۔ پس میں نے کہا ، اے گولڑ کی زمین تجھ پر لعنت ہو تو ملعون

۱؎ سیرۃ المہدی ص ۲۶۳-۲۶۴ ج ۳

۲؎ ازالہ اوہام خزائن ص ۱۰۹ ج ۳

صفحہ ۱۵

رد قادیانیت جزء کے سبب ملعون ہو گئی ، ؎۱

واخرهم الشيطان الاعمى والغول (ترجمہ از مرزا) ان میں سے آخری اندھا شیطان الاهوى يقال له رشيد احمد الجنجوهى وهو گمراہ دیو ہے جس کو رشید احمد گنگوہی کہتے ہیں ۔ شقى كالا مروهى (انجام آتھم خزائن ص ۲۵۲ ج ۱۱) وہ بھی محمد حسن امروہی کی طرح بدبخت ہے۔

ومن اللئام ارى رجيلا فاسقا " غولا لعينا نطفة السفهاء

اور لئیموں میں سے ایک فاسق آدمی کو دیکھتا ہوں کہ ایک شیطان ملعون ہے سفیہوں کا نطفہ ۔

شكس خبيث مفسد و مزور تعس يُسَمَّى السعد فى الجهلاء

بدگو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھلانے والا ہے ، منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے ۔

اذيتنى خبثا فلست بصادق ان لم تمت بالخزى يا ابن بغاء

تو نے اپنی خباثت سے مجھے بہت دکھ دیا ہے ۔ پس میں سچا نہیں ہوں گا اگر ذلت کے ساتھ تیری موت نہ ہو ۔ (اے نسل بدکاراں) ؎۲

نوٹ : یہاں مرزا نے ابن بغاء کا ترجمہ چھوڑ دیا ہے ۔ لیکن انجام آتھم خزائن ص ۲۸۲ ج ۱۱ میں مرزا نے اسکا ترجمہ "اے نسل بدکاراں" کیا ہے ۔

عبرتناک موت

ہیضہ کی موت کو قادیانی لوگ نہایت عبرتناک موت کہتے ہیں اور خود مرزا غلام احمد قادیانی اپنے مخالفین کو اسی قسم کی موت کی دھمکی دیا کرتا تھا ۔

چنانچہ مرزا نے ۵ ؍ اپریل ۱۹۰۷؁ء کے اشتہار میں حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری ؒ کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر کیا :

؎۱ اعجاز احمدی در خزائن ص ۱۸۰ ج ۱۹ ؎۲ تتمہ حقیقۃ الوحی خزائن ص ۴۳۵ و ۴۳۶ ج ۲۲

صفحہ 14

جڑ

کہ وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون ، ہیضہ ، وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری ہی زندگی میں وارد نہ ہوئی ، تو خدا کی طرف سے نہیں “ ۱؎

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم نے مرزا کی زندگی میں بخیر و عافیت رہ کر مرزا کی وفات کے پورے چالیس سال بعد ۱۵؍ مارچ ۱۹۴۸ ۱۹۴۹ء بعمر ۸۰ سال وفات پائی ۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی اپنے اشتہار کے ایک سال بعد ۲۵؍ مئی ۱۹۰۸ء کو بمقام لاہور بوقت عشاء قے و دست میں مبتلا ہو گیا ، اور خود مرزا نے اپنے خسر مرزا ناصر سے مخاطب ہو کر کہا : ” میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے “ دوسرے دن (۲۶؍ مئی) دس بجے مرزا کا انتقال ہو گیا ۲؎ جنازہ قادیان لایا گیا ، حکیم نور الدین نے نماز جنازہ پڑھائی ، اور اسی روز وہ مرزا کا پہلا جانشین منتخب ہوا ۔ ۳؎

مرزا قادیانی کی علمی و مذہبی زندگی کے تین دَور

ردّ قادیانیت پر کام کرنے والوں کو خصوصاً قادیانی لٹریچر کے مطالعہ کے وقت مرزا کی علمی، مذہبی زندگی کے مختلف ادوار پیش نظر رکھنے چاہئیں ، کیوں کہ مرزا نے از راہ دجل و تلبیس ختم نبوت و حیات و وفات مسیح سے متعلق متضاد باتیں تحریر کر رکھی ہیں تاکہ بوقت ضرورت سادہ لوح مسلمانوں کے سامنے اس تضاد سے فائدہ اٹھایا جا سکے ۔ مرزا کی ذریت بھی اس راہ پر چل رہی ہے ۔ چنانچہ حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ تحریر فرماتے ہیں : ” ایسے اقوال (جن میں ختم نبوت کا اعتراف اس تفسیر کے ساتھ ہے جو تمام امت مرحومہ کا عقیدہ ہے) پیش کر کے ناواقف مسلمانوں کو اپنے اندر جذب کرنا

مجموعہ اشتہارات مرزا ص ۵۱ ، ج ۳ ۲؎ بنیادی نصاب ص ۔ ۔ حیات ناصر ص ۱۴ از یعقوب علی قادیانی

صفحہ ۱۷

رد قادیانیت ۱۷ جڑ

یا بوقت ضرورت اپنی جماعت کا ملت اسلامیہ کے ساتھ اشتراک مقصود ہوتا ہے“ ۱؎

اور قادیانی لٹریچر کے عظیم محقق پروفیسر محمد الیاس برنی مرحوم کا تجزیہ یہ ہے : ”اگر کوئی بطور خود کتابوں کا مطالعہ کرے تو قادیانی لٹریچر میں ایک بڑا کمال ہے ۔ اس درجہ تکرار، تضاد، ابہام و التباس ہے کہ اکثر مباحث بھول بھلیاں نظر آتے ہیں ، عقل حیران اور طبیعت پریشان ہو جاتی ہے جب تک صبر و استقلال کے ساتھ غور و خوض نہ کیا جائے اصل بات ہاتھ نہیں آتی“ ۲؎

بہر حال مرزا اور اس کی ذریت کے دجل و تلبیس کا پردہ چاک کرنے کے لیئے مرزا کی تحریرات کے زمانوں کو جاننا ضروری ہے ۔ اس کے بارے میں پروفیسر الیاس برنی لکھتے ہیں : ”مرزا غلام احمد قادیانی کی علمی و مذہبی زندگی کے تین نمایاں دور نظر آتے ہیں پہلا دور، وہ امت محمدی کے مبلغ کی حیثیت سے ۱۸۸۰ء میں شروع کرتے ہیں ۔ جب کہ براہین احمدیہ کے سلسلہ میں وہ اپنی دینی خدمت گزاری کا اعلان کرتے ہیں، لیکن خیالات میں ترقی کرتے کرتے دس سال کے بعد ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیتے ہیں اور یہاں سے دوسرا دور شروع ہوتا ہے، اسی طرح مزید ترقی کرتے کرتے دس سال بعد ۱۹۰۱ء میں وہ باقاعدہ نبی کے مرتبہ کو پہنچ جاتے ہیں ۔ اور یہاں سے تیسرا دور شروع ہوتا ہے جو آٹھ سال میں ترقی کرتے کرتے نبوت کے انتہائی مقام تک پہنچ جاتا ہے.......

اس کی تصریح مرزا کے صاحبزادے میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان یوں فرماتے ہیں : ”پس یہ ثابت ہے کہ ۱۹۰۱ء کے پہلے کے دو حوالے جن میں اپنے نبی ہونے سے انکار کیا ہے اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے“ ۳؎

... تاہم مرزا کی تحریرات میں دور کی پوری پابندی نہیں رہتی بلکہ ایک دور میں دوسرے دور کی باتیں بھی

۱؎ ختم نبوت کا مسئلہ : ۳؎ حقیقۃ النبوۃ ص ۱۲۱ : ۲؎ قادیانی مذہب، طبع پنجم ص ۴۵ :

صفحہ ۱۸

رد قادیانیت حصہ

قلم سے نکل جاتی ہیں، حتی کہ کہیں کہیں دورِ سوم میں دورِ اول کی باتیں نظر آتی ہیں ؎۱

مرزا غلام احمد قادیانی کی بعض اہم تصانیف کا تعارف

اوپر یہ معلوم ہو چکا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی علمی ومذہبی زندگی کے

اسلام، دیندار شخص کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ جب آریہ سماج، برہمو سماج سناتن دھرم عیسائیت اور نیچریت وغیرہ کی جانب سے اسلام اور اس کی تعلیمات پر مختلف النوع حملے ہورہے تھے اور اہل حق اپنی اپنی جگہ پر اسلام کا دفاع کررہے تھے۔ اسی دوران مرزا غلام احمد قادیانی نے اعلان کیا کہ :

”وہ براہین احمدیہ نامی کتاب پچاس حصوں میں شائع کرے گا اور وہ اپنی اس کتاب میں صداقت اسلام کی تین سو دلیلیں پیش کرے گا۔ اور اس کی طباعت کے سلسلہ میں لوگوں سے مالی تعاون کی اپیلیں کیں“ ؎۲

چنانچہ اس کی پہلی و دوسری جلد ۱۸۸۰ء میں اور تیسری ۱۸۸۲ء میں اور چوتھی ۱۸۸۴ء میں شائع ہوئی پھر پانچویں جلد تیئس سال بعد مرزا کی وفات کے چار ماہ بعد اکتوبر ۱۹۰۸ء میں شائع ہوئی۔ کتاب کا پورا نام ”البراہین الاحمدیہ علی اثبات حقیقت کتاب اللہ القرآن والنبوۃ المحمدیہ“ ہے۔ ؎۳

یہ کتاب بظاہر تو ایک طرح کے مذہبی مباحثہ کے لئے تصنیف کی گئی، لیکن مرزا نے اس کے اندر جگہ جگہ اپنے مزعومہ الہامات، مکالمات خداوندی، پیشین گوئیاں اور طرح طرح کے دعاوی بھی درج کر دیئے ہیں۔ اس وجہ سے اس وقت کے بعض صاحب فراست علماء نے سمجھ لیا تھا کہ یہ شخص مدعی نبوت ہے یا آگے چل کر نبوت کا دعویٰ کرے گا۔

چنانچہ مولانا محمد صاحب لدھیانوی ؒ، جناب مولانا عبدالعزیز صاحب لدھیانوی ؒ اور

؎۱ قادیانی مذہب ص ۹۸-۹۷ طبع پنجم

؎۲ براہین احمدیہ خزائن ص ۱۲۹ ج ۱

؎۳ اشتہار مرزا، اپریل ۱۸۸۸ء مندرجہ تبلیغ رسالت ص ۱۱ ج ۱

صفحہ 19

رد قادیانیت ۱۹ حصہ

امرتسر کے اہلِ حدیث علماء اور بعض غزنوی حضرات نے اس کے الہامات کی سخت مخالفت کی لیکن اس وقت ہندوستان کے بہت سے علمی و دینی حلقوں میں اس کتاب کو سراہا گیا ۔

شروع شروع میں علمی و دینی حلقوں کی طرف سے براہین احمدیہ کی

پسندیدگی کی وجہ

اس کی وجہ یہ تھی کہ اس میں اسلام پر کئے جانے والے اعتراضات کے جوابات کے ساتھ مذاہب باطلہ پر حملے بھی کئے گئے تھے۔ اس دھوکہ میں آکر لوگوں نے اس کی تائید کردی۔ چنانچہ مولانا محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعت السنہ کے چھ نمبروں میں اس کتاب پر شاندار تقریظ لکھی جس کے اقتباسات کا قادیانی لٹریچر میں خوب حوالہ دیا جاتا ہے۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد ان کو بھی مرزا کے الہامات اور دعاوی سے نفرت ہو گئی اور وہ مرزا کے سخت مخالف ہو گئے۔ اسی طرح اور بھی بہت سے مؤیدین مرزا نے اپنے خیال سے توبہ کر لی ۔

براہین احمدیہ کی تصنیف کی اصل غرض ۔

گول مول الہام اور دعاوی سے مرزا کا مقصد لوگوں کو اپنے پھندے میں پھنسانا تھا۔ چنانچہ مرزا لکھتا ہے :

" اور یہ الہامات اگر میری طرف سے اس موقع پر ظاہر ہوتے جب کہ علماء مخالف ہو گئے تھے تو وہ لوگ ہزارہا اعتراض کرتے ۔ لیکن وہ ایسے موقع پر شائع کئے گئے جب کہ یہ علماء میرے موافق تھے۔ یہی سبب ہے کہ باوجود اس قدر جوشوں کے ان الہامات پر انھوں نے اعتراض نہیں کیا ۔ کیوں کہ وہ انکو ایک دفعہ قبول کر چکے تھے اور سوچنے کی بات ہے کہ میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کی بنیاد انہی الہامات سے پڑی ہے اور انہی میں میرا نام خدا نے عیسیٰ رکھا اور جو مسیح موعود کے حق میں آیتیں تھیں وہ میرے حق میں بیان کر دیں ۔ اگر علماء کو خبر ہوتی کہ ان الہامات سے تو اس شخص کا مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے تو وہ کبھی ان کو قبول نہ کرتے ۔ یہ خدا کی قدرت ہے کہ انہوں نے

صفحہ ۲۰

رد قادیانیت جڑ

قبول کرلیا اور اس بیچ میں پھنس گئے “ لہ ۱

الغرض براہین احمدیہ کی تصنیف سے مرزا کا اصل مقصد یہ نہیں تھا کہ اسلام کی صداقت ثابت کی جائے ۔ بلکہ مسلمانوں کو اپنا معتقد بنا کر اپنے حلقہ ارادت میں داخل کرنا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ پہلے چار حصوں میں مبہم قسم کے الہامات و پیش گوئیاں شائع کر دینے کے بعد پانچویں حصے کی طباعت ملتوی کر دی ۔ پھر جب ۱۹۰۵ء سے اس کی تصنیف شروع کی تو اس کے دیباچہ میں التوا کی وجہ یوں تحریر کرتا ہے :

”براہین احمدیہ کے ہر چہار حصے جو شائع ہو چکے تھے وہ ایسے امور پر مشتمل تھے کہ جب تک وہ امور ظہور میں نہ آجاتے‘ جب تک براہین احمدیہ کے ہر چہار حصے کے دلائل مخفی و مستور رہتے اور ضروری تھا کہ براہین احمدیہ کا لکھنا اس وقت تک ملتوی رہے جب تک کہ امتداد زمانہ سے وہ سربستہ امور کھل جائیں اور جو دلائل ان حصوں میں درج ہیں وہ ظاہر ہو جائیں۔ کیوں کہ براہین احمدیہ کے ہر چہار حصوں میں جو خدا کا کلام یعنی اس کا الہام جا بجا مذکور ہے جو اس عاجز پر ہوا ۔ وہ اس بات کا محتاج تھا کہ اس کی تشریح کی جائے اور نیز اس بات کا محتاج تھا کہ جو پیش گوئیاں اس میں درج ہیں ان کی سچائی‘ لوگوں پر ظاہر ہو جائے ۔ پس اس لئے خدائے علیم و حکیم نے اس وقت تک براہین احمدیہ کا چھپنا ملتوی رکھا کہ جب تک وہ تمام پیشگوئیاں ظہور میں آگئیں “ لہ ۲

براہین احمدیہ کی پچاس جلدوں کا وعدہ اور اس کا انجام

جن لوگوں نے براہین احمدیہ کی پچاسو جلدوں کی قیمت پیشگی ادا کر دی تھی انھیں جلد چہارم شائع ہو جانے کے بعد بقیہ جلدوں کا شدید انتظار رہا ۔ لیکن مرزا قادیانی نے ان کے انتظار بلکہ

لہ ۱ اربعین جلد ۱ ص ۴ ۔

لہ ۲ دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۳ (روحانی خزائن جلد ۲۱) ۔

صفحہ ۲۱

رد قادیانیت حصہ

اعتراضات کی بھی کوئی پرواہ نہ کر کے دوسری تصنیفات کی اشاعت جاری رکھی جو اسّی کے قریب پہنچ گئیں پھر جب براہین احمدیہ کا حصہ پنجم لکھا تو ساتھ ہی یہ بھی اعلان کر دیا کہ پچاس کا وعدہ انہی پانچ سے پورا ہو گیا ــــــــــــــــــــــــ مرزا لکھتا ہے :

”پہلے پچاس حصّے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا ، اور پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے اس لئے پانچ حصّوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا “ ۱؎

براہین احمدیہ میں صداقتِ اسلام کے تین سو دلائل پیش کرنے کا

وعدہ اور اس کا انجام

جس طرح پچاس حصّوں کا وعدہ پانچ حصّوں سے پورا کر کے مرزا قادیانی نے اپنی بلند اخلاقی کا ثبوت دیا ہے اور مضحکہ خیز بلکہ بچکانہ تاویل کے ذریعہ (پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے) اسی طرح صداقت اسلام کے تین سو دلائل پیش کرنے کا وعدہ بھی بھلا دیا گیا لکھتا ہے :

” میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثبات حقیقت اسلام کیلئے تین سو دلیل براہین احمدیہ میں لکھوں لیکن جب میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل ہزار ہا نشانیوں کے قائم مقام ہیں۔ پس خدا نے میرے دل کو اس ارادے سے پھیر دیا۔ اور مذکورہ بالا دلائل لکھنے سے پہلے مجھے شرح صدر عنایت کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سو میں انشاء اللہ تعالیٰ یہی دونوں قسم کے دلائل اس کتاب میں لکھ کر اس کتاب کو پورا کر دوں گا “ ۲؎

۱؎ دیباچہ براہین احمدیہ پنجم ص۷ روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲؎ ” ” ” ” ص ۷ ” ” ” ”

صفحہ ۲۲

رد قادیانیت حصہ

مناظر لالہ مرلی دھر سے ہوا، جس نے اسلام کی تعلیمات پر اعتراضات کئے تھے ۔ مرزا نے وہ مناظرہ بمعہ اپنے جواب اور جواب الجواب کے اسی سال "سرمہ چشم آریہ" کے نام سے شائع کیا ۔

براہین احمدیہ کے بعد علمی رنگ میں مرزا کی یہ کتاب قادیانی لٹریچر میں اہم مقام رکھتی ہے، جو اس کی بقیہ کتب پر فائق ہے ۔

ہوا ہے "مسیح بن مریم فوت ہو گیا وَجَعَلْنَاكَ مسیح بن مریم یعنی اصلی مسیح بن مریم تو اپنی بعثت کے زمانہ میں فوت ہو گیا اور آنے والا مسیح بن مریم ہم نے تجھ کو بنایا۔" 4:157 وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ... وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ط بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ اِلَيْهِ . 158 اپنے اس الہام کے مطابق دعویٰ کو اپنے خیال میں دلائل سے ثابت کرنے کے لئے مرزا نے "فتح اسلام" اسی سال لکھی ۔

سے زبردست مخالفت ہو گی اس لئے اپنے دعویٰ مسیحیت کی توضیح کے لئے اسی سال توضیح مرام لکھی، ان دونوں کتابوں کی اشاعت ۱۸۹۱ء میں ہوئی ۔

وفات مسیح کو بزعم خود قرآن کریم کی تیس آیات سے ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی، اور اپنے دعویٰ مسیحیت پر تفصیلی کلام کیا ہے ۔ یہ کتاب اسی سال دو جلدوں میں شائع ہوئی ۔

دوسرا نام " دافع الوساوس " ہے ۔ اور دو حصوں پر مشتمل ہے اردو، عربی ۔ اردو حصہ ۱۸۹۲ء میں اور عربی حصہ ۱۸۹۳ء میں تصنیف کیا، اس کی اشاعت ۱۸۹۳ء میں ہوئی ۔

اس کتاب میں مرزا نے اگرچہ اپنے خیال کے موافق اسلامی تعلیمات کی برتری ثابت کر کے

صفحہ ۲۳

رد قادیانیت جلد

آریہ سماج و برہمو سماج وغیرہ کے اعتراضات کے جوابات دیئے ہیں مگر اپنے مخالف علماء اسلام کے خلاف بھی بہت کچھ زہر اگلا ہے۔

یہ کتاب ۱۸۹۳ء میں تردید عیسائیت کے موضوع پر شائع ہوئی، جس میں مرزا قادیانی نے ڈاکٹر ایچ مارٹن کلارک وبعض دیگر عیسائیوں کو اسلام کی دعوت ہے ۔

مرزا قادیانی اور ڈپٹی عبداللہ آتھم کے درمیان ابطال عیسائیت کے موضوع پر ایک مباحثہ ۲۲ مئی ۱۸۹۳ء تا ۵ جون ۱۸۹۳ء جاری رہا۔ مرزا نے اس مباحثہ کی تفصیلات "جنگ مقدس" میں درج کی ہیں۔

۱۸۹۳ء کی تصنیف ہے جو ایک شخص عطا محمد نامی نیچری یا چکڑالوی خیالات کے حامل شخص کے خط کے جواب میں لکھی گئی یہ شخص وفات مسیح کا قائل تھا مگر احادیث میں نزول مسیح کے بیان کو وہ پایۂ اعتبار سے ساقط سمجھتا تھا، اس لئے اس نے مرزا سے سوال کیا تھا کہ اس بات پر کیا دلیل ہے کہ آپ مسیح موعود ہیں یا کسی مسیح کا انتظار ہم پر فرض ہے ۔

یہ کتاب ۱۸۹۸ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں اولاً حضور اقدس صلے اللہ علیہ وسلم کی خوب تعریف کی ہے۔ اس کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ آج کل اسلام پر ہو رہے دشمنوں کے حملوں سے بچانے کے لئے خدا تعالےٰ نے بحیثیت مجدد و امام وقت مجھے مبعوث کیا ہے ۔

۱۹۰۰ء مطابق ۱۳۱۸ھ کی عید الاضحیٰ میں نماز عید کے بعد حسب معمول مرزا نے اردو خطبہ پڑھا، خطبہ ختم ہونے کو تھا کہ مولوی عبد الکریم سیالکوٹی نے مرزا قادیانی سے کچھ اردو وعظ و نصائح کی فرمائش کی۔ چنانچہ مرزا نے وہ سلسلہ اردو میں جاری رکھا۔ اسی اثناء میں عربی خطبہ شروع کر دیا، جس میں صرف قربانی کے فلسفہ کا بیان تھا۔ مگر جب ۱۹۰۲ء میں اسکو شائع کیا تو اس کے ساتھ اور بھی بہت کچھ عربی عبارتوں کا اضافہ کر دیا، جن میں اپنے دعویٰ پر روشنی ڈالی ہے ۔ اور جسے باب ثانی و ثالث کا عنوان دیا ہے ۔

صفحہ ۲۴

رد قادیانیت جلد

اصل خطبہ ۳۸ صفحات کا ہے اور کل کتاب ۴۲۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا کی تائید میں بطور شان الٰہی کے یہ عربی خطبہ مرزا کی زبان سے فی البدیہہ جاری ہوا ، جو فصاحت و بلاغت کی وجہ سے معجزانہ رنگ لئے ہوئے ہے ، اس لئے اس کو خطبہ الہامیہ کہا جاتا ہے ، ورنہ واقعہً وہ کوئی وحی یا الہام نہ تھا۔

تصنیف کی تھی جس میں حیات مسیح پر دلائل پیش کئے تھے ۔ مرزا نے اس کے جواب میں ۱۹۰۲ء میں ”تحفہ گولڑویہ“ شائع کی ۔

کی ہے کہ میرے الہامات میں میرے حق میں بار بار رسول ، مرسل اور نبی کے الفاظ یقیناً آئے ہیں مگر وہ اصطلاحی معنی کے اعتبار سے نہیں ہیں بلکہ استعارہ و مجاز کے رنگ میں ہیں ۔

ایک رسالہ ”دافع البلاء“ و ”معیار اہل الاصطفاء“ نام کا شائع کیا جس میں اس نے طاعون کے ازالہ کی یہ تدبیر بھی بتائی کہ اس نازک وقت میں مامور من اللہ (یعنی مرزا) کی طرف رجوع کریں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اس کے انکار و استہزاء سے باز آجائیں ۔

اس کتاب میں مرزا نے حضرت مولانا احمد حسن صاحب محدث امروہیؒ تلمیذ خاص حضرت نانوتوی قدس سرہٗ کو اپنے مد مقابل کی حیثیت سے مخاطب کیا ہے ، جنھوں نے امروہہ میں قادیانیت کا ناطقہ بند کر دیا تھا ۔

پندرہ پندرہ دن کے وقفہ سے شائع کرنے کا پروگرام بنایا ، اور ان کا نام ”اربعین“ رکھا ، مگر دسمبر ۱۹۰۰ء تک کل چار اشتہار شائع کئے جو ایک ضخیم کتاب بن گئے ۔ اور انہیں پر یہ سلسلہ موقوف ہو گیا ۔

صفحہ ۲۵

ردقادیانیت جلد

١٦ کشتی نوح

اس کتاب کے دو نام اور ہیں "دعوۃ الایمان اور تقویت الایمان" طاعون کے زمانہ میں مرزا نے یہ کتاب ۵؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء میں شائع کی اور اس میں دعویٰ کیا، جو شخص میری مکمل پیروی کرے گا وہ طاعون سے بچ جائے گا۔ اس کتاب میں اس نے اپنے بارے میں کہا : "خدا کی سب راہوں میں سے میں آخری راہ ہوں" ۱؎

١٧ مواہب الرحمٰن

۱۹۰۲ء میں مرزا کی کتاب کشتی نوح کا انگریزی ترجمہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں شائع ہوا تو مصر کے اخبار اللواء کے ایڈیٹر نے اس پر تبصرہ بصورت تردید لکھا ۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے عربی میں "مواہب الرحمٰن" تصنیف کی، اور بزعم خود اپنے دعویٰ مسیحیت پر روشنی ڈالی ۔

١٨ تحفۃ الندوہ

مرزا قادیانی نے اربعین ص ۴ میں آیت کریمہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولو تقول اور اگر یہ بنا لاتا ہم پر کوئی بات تو ہم پکڑ لیتے علینا بعض الاقاویل لاخذنا منہ اس کا داہنا ہاتھ، پھر کاٹ ڈالتے اس کی بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین ۔ گردن ۔ (شیخ الہند) (الحاقۃ)

... کی تشریح میں اس بات پر زور دیا ہے کہ کوئی مدعیٰ کاذب بعد دعویٰ ۲۳؍ سال سے زیادہ زندہ نہیں رہتا ۔ اور چونکہ میرے دعویٰ الہام پر یہ مدت گزر چکی ہے لہٰذا میں سچا ہوں ۔

اس بارے میں حافظ محمد یوسف صاحب امرتسریؒ نے ایک اشتہار ندوۃ العلماء کے اجلاس امرتسر منعقدہ ۹ تا ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء سے پہلے شائع کیا کہ میرے ایک دوست ابو اسحٰق محمد دین نامی نے ایک رسالہ لکھا ہے جس کا نام قطع الوتین ہے جس میں انھوں نے ان مدعیان کاذب کے نام جو بعد دعویٰ الہام ۲۳؍ سال تک زندہ رہے مع مدت دعویٰ، تاریخی کتابوں کے حوالوں سے درج کئے ہیں ۔ لہٰذا مرزا قادیانی کو چاہئے کہ اجلاس کے موقعہ پر امرتسر آ کر علماء ندوہ سے ملے

۱؎ کشتی نوح در خزائن ج ۱۹ ص ۶۱ ۔

صفحہ ۲۶

رد قادیانیت حصہ

کہ قطع الوتین کے مضامین صحیح ہیں یا نہیں ؟ اگر وہ ان کی صحت کا فیصلہ دے دیں تو مرزا کو وہیں توبہ کرنی پڑے گی، مگر مرزا قادیانی علماء ندوہ سے فیصلہ کرانے پر آمادہ نہیں ہوا۔ اور ۱۶ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو رسالہ ”تحفۃ الندوہ“ شائع کر دیا، جس میں اربعین ۳، ۴ کے مضامین کو دہرایا ہے

موضع مڈّہ ضلع امرتسر میں مرزا کے فرستادہ مولوی سید سرور شاہ مولوی عبدالکریم کشمیری، سے حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کا مباحثہ ۲۹ ۔ ۳۰ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو ہوا۔ جس میں وہ دونوں لاجواب ہو گئے۔ پھر ۸ نومبر ۱۹۰۲ء کو مرزا نے حضرت مولانا مرحوم کے جواب میں ”اعجاز احمدی“ شائع کی، اس میں اپنی پیشین گوئیوں کی صداقت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔

اس کتاب کی وجہ تصنیف یہ ہوئی کہ ڈاکٹر عبدالحکیم جو مرزا کا بڑا معتقد تھا بعض وجوہ سے مرزا کا شدید مخالف ہو گیا اور اس نے حکیم نور الدین کے نام ایک خط میں یہ لکھ دیا تھا کہ مجھے ۱۲ جولائی ۱۹۰۶ء کو الہام ہوا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی آج کی تاریخ سے تین برس تک مر جائے گا ، اس بناء پر مرزا نے ڈاکٹر عبدالحکیم کے الہام کو ناقابل اعتبار ثابت کرنے کے لئے ”حقیقۃ الوحی“ تصنیف کی۔

یہ کتاب ۳۷۹ صفحہ ضخیم ہے جو ۱۹۰۷ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں مرزا نے انسانوں کے خواب و الہام کی تین قسمیں الگ الگ ابواب میں بیان کرنے کے بعد چوتھے باب میں یہ جتلایا ہے کہ اس کے مزعومہ خواب و الہام اعلیٰ و ارفع قسم ۳ میں شامل ہیں جو فلق الصبح کی طرح بالکل سچے ہوتے ہیں۔

چند سال پیشتر قادیانیوں نے مرزا کی متفرق تصنیفات وغیرہ کو ”روحانی خزائن“ کے نام سے یکجا شائع کیا ہے۔ اس کی ۲۳ جلدوں میں مرزا کی ۸۰ تصنیفات ہیں اور دس جلدوں میں مرزا کے ملفوظات ہیں۔ اور ۳ جلدوں میں اشتہارات ۔

صفحہ ۲۷

رد قادیانیت جلد ۷

دیگر قادیانی زعماء کی بعض اہم تصانیف

تصانیف مرزا حکیم نور الدین بھیروی :

حکیم نور الدین بھیروی مرزائی جماعت کا سب سے بڑا عالم اور مرزا علیہ اللعنہ کا سب سے بڑا معتمد اور دست راست تھا۔ مرزا کی اکثر کتابوں کے حوالہ جات اور مباحث و دلائل کو حکیم نور الدین ہی جمع کرتا تھا۔ کئی کتابوں کا مصنف ہے۔ جن میں "فصل الخطاب" "نور الدین" اور تصدیق براہین احمدیہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اول الذکر کتاب پادری تھامس ہاول کے اعتراضات کے جواب میں ہے اور دوسری کتاب، آریوں کے رد میں ہے۔ جب کہ تصدیق براہین احمدیہ پنڈت لیکھرام کی کتاب "تکذیب براہین" کے جواب میں لکھی۔ اور مرزا کے مزعومہ عقائد اور دعاوی کو اپنے مزعومہ دلائل سے مزین کیا۔

تصانیف مرزا بشیر الدین محمود احمد :

مرزا بشیر الدین محمود احمد مرزائی جماعت کے کثیر التصانیف لوگوں میں سے ہے اس کی کتابوں میں تفسیر صغیر، تفسیر کبیر، حقیقۃ النبوۃ ، آئینہ صداقت، وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں

تفسیر کبیر دس جلدوں میں ہے جو زیادہ تر اس کے درسی افادات کا مجموعہ ہے جبکہ چند پاروں کی تفسیر خود تحریر کی ہے۔ یہ تفسیر دس جلدوں میں ہونے کے باوجود مکمل قرآن کی تفسیر نہیں ہے کیوں کہ اس میں سورہ آل عمران سے سورۂ توبہ تک، اور سورۂ روم سے سورۃ والنازعات تک کی تفسیر نہیں ہے۔ اس تفسیر میں مرزا کے ملفوظات و اقوال کو تفسیر کیلئے ماخذ بنایا ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس پایہ کی تفسیر ہوگی۔ جیسا کہ خود لکھتا ہے :

” اس زمانہ کے لئے علوم قرآنیہ کا ماخذ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود اور مہدی مسعود کی ذات علیہ الصلوۃ والسلام ہے جس نے قرآن کے بلند و بالا درخت کے

صفحہ ۲۸

رد قادیانیت ۲۸ جلد ۲

گرد سے جھوٹی روایات کی اکاس بیل کو کاٹ کر پھینکا اور خدا سے مدد پا کر اس جنتی درخت کو سینچا اور پھر سرسبز و شاداب ہونے کا موقعہ دیا۔ الحمد للہ ہم نے اس کی رونق کو دوبارہ دیکھا “ ۱؎

تفسیر صغیر

یہ قرآن کا بامحاورہ ترجمہ ہے۔ مختصر تشریحی نوٹ بھی ہیں۔ دو جلدوں میں ہے اپنے گمراہ کن مرتدانہ عقائد کی بھر پور وکالت کی ہے۔

حقیقۃ النبوۃ

اس کتاب میں مرزا کے دعویٰ نبوت و رسالت کی وضاحت کی ہے، اور لاہوری جماعت کے عقیدہ انکار نبوت کی تردید کی ہے۔

سرورق پر لکھا ہے :

” جس میں اصولی طور پر حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت و رسالت براہین قاطعہ کے ساتھ پیش کی گئی ہے “ ۲؎

آئینہ صداقت

اس کتاب میں لاہوری جماعت کے سربراہ محمد علی لاہوری کی جماعت سے علیحدگی کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ اس کی کتاب ”سپلیٹ“ کا جواب ہے۔ اس کتاب میں قادیانی جماعت کے عقائد ثلاثہ کی تشریح ہے۔

ان کے علاوہ مرزا بشیر الدین محمود کی تصنیفات میں ”حقیقۃ الامر، القول الفصل، دعوۃ الامیر اور منصب خلافت“ وغیرہ کتابیں بھی قابل ذکر ہیں۔

تصانیف مرزا بشیر احمد ایم اے :

مرزا بشیر احمد ایم اے کی دو کتابیں قادیانی لٹریچر میں مقبول ہیں ۔

۱؎ جلد سوم تفسیر کبیر دیباچہ ص ۷ ۲؎ سرورق کتاب مذکور :-

صفحہ ۲۹

رد قادیانیت حصہ

سیرت المہدی یہ کتاب تین ضخیم جلدوں میں ہے اس میں مرزا کے حالات زندگی کو بسط و تفصیل سے لکھا گیا ہے ۔ مرزا سے متعلق خود اس کی تحریریں اور اسکی جماعت کے لوگوں کی زبانی روایات کو جمع کیا گیا ہے ۔ اس کتاب سے مرزا کا کچا چٹھا بآسانی سمجھا جا سکتا ہے ۔

کلمۃ الفصل یہ کتاب رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان کا ایک جز ہے اس میں پوری وضاحت سے لکھا ہے کہ مرزا پر ایمان لائے بغیر نجات ممکن نہیں ۔

تصانیف حکیم سید محمد احسن امروہوی :

حکیم محمد احسن امروہوی کا قادیانی جماعت میں بہت اونچا علمی مقام ہے ۔ انہوں نے مرزا کے دعاوی کی تائید میں کئی کتابیں تحریر کی ہیں ، جن میں اعلام الناس ، شمس بازغہ ، اور القول المجید خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔

اعلام الناس چار حصے یہ مرزائی جماعت کی اولین کتابوں میں سے ہے مرزا کی کتاب ازالۃ اوہام سے پہلے شائع کی ہے ۔ مرزا کے دعوی مجددیت ومسیحیت کو اپنے مزعومہ دلائل سے آراستہ کیا ہے ۔

شمس بازغہ یہ کتاب بھی مرزا کے دعوی مسیحیت کے اثبات میں لکھی گئی ہے ۔

القول المجید فی تفسیر اسمہ احمد قرآنی پیشین گوئی ”مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“ کی من مانی تفسیر کر کے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کا مصداق مرزا غلام احمد کی ذات ہے ۔

قادیانیوں کا قرآن

تذکرہ یعنی وحی مقدس قادیانی لٹریچر کی اہم کتاب جو ان کے یہاں قرآن کے مثل ایک کتاب ہے ۔ مرزا بشیر احمد ایم ، اے کی نگرانی میں محمد اسماعیل پروفیسر

صفحہ ۳۰

رد قادیانیت جلد

جامعہ احمدیہ شیخ عبدالقادر مبلغ سلسلہ احمدیہ اور عبدالرشید زہروی نے ۔ مرزا کے تمام الہامات کشوف، رویا کو تاریخ وار ترتیب سے جمع کر دیا ۔ گویا پورے قادیانی لٹریچر کا خلاصہ ہے ۔ تنہا ایک کتاب ان کے تمام عقائد، دعاوی، تحریفات وغیرہ کو سمجھنے کے لئے کافی ہے ۔

قادیانیوں کی بیحد پسندیدہ کتاب

عسل مصفیٰ (دو جلد)

مرزا خدا بخش ملتانی کی کتاب ہے، قادیانی لٹریچر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے ، قادیانیوں کے مزعومہ عقیدۂ وفات عیسیٰ علیہ السلام اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ مسیحیت ومہدویت کو مصنف نے بزعم خود دلائل عقلیہ ونقلیہ سے آراستہ کیا ہے ۔ تقریباً پندرہ سو صفحات کی کتاب ہے ۔ کتاب پر تمام قادیانی لیڈروں کی تقریظات ہیں ۔ مرزا بشیر الدین محمود اس کتاب کے بارے میں لکھتا ہے کہ :

”ہر احمدی کو اسے پاس رکھنا چاہئے“ ۱؎

مفتی صادق لکھتا ہے کہ :

”یہ کتاب حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں لکھی گئی تھی حضور نے اس کا بہت سا حصہ سنا اور پسند کیا“ ۲؎

(ص ۲۲)

خود صاحب کتاب نے مرزا قادیانی کا یہ جملہ نقل کیا ہے :

”مرزا خدا بخش صاحب نے ایسی کتاب لکھی ہے کہ میرے مریدوں میں سے کسی نے آج تک ایسی عمدہ کتاب نہیں لکھی“ ۳؎

۱؎ کتاب مذکور ایڈیشن دوم ص ۲۲ ۲؎ کتاب ھذا ص ۱۷ ۔ ۳؎ ” ” ” ص ۲۲

صفحہ ۳۱

رد قادیانیت جلد

مولوی محمد علی ایم اے کی تصانیف

النبوة فی الاسلام محمد علی ایم اے مرزا غلام احمد قادیانی کے مریدین میں خاص مقام رکھتا ہے اور قادیانیت کی دوسری شاخ لاہوری پارٹی کا بانی ہے، یہ پارٹی مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتی بلکہ مجدد اور مسیح مانتی ہے اور اس کی مخالفت کو قابل مواخذہ قرار دیتی ہے "النبوة فی الاسلام" میں محمد علی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مرزا نے اصطلاحی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ یہ کتاب ۳۷۰ صفحات کی ضخیم ہے۔

بیان القرآن یہ دو جلدوں میں ۲۹۹۶ صفحات پر مشتمل قرآن پاک کی تفسیر ہے۔ اس میں نیچریت کی جھلک صاف طور پر پائی جاتی ہے۔ چنانچہ جگہ جگہ خوارق کا انکار کیا گیا ہے اور آیات کریمہ میں تاویلات بلکہ تحریفات کی گئی ہیں ... حضرت مولانا علی میاں صاحب لکھتے ہیں :

"ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری کے ذہن نے سرسید کے لٹریچر اور ان کی تفسیر قرآن کے اسلوب اور ان کے فکر کو پورے طور پر جذب کر لیا تھا" ۱؎ نیز مرزا کو مسیح موعود ثابت کرنے کے لئے آیات میں جگہ جگہ تحریف کی گئی ہے۔

تحریک احمدیت اس کتاب میں اولاً مرزا قادیانی کا سوانحی خاکہ ہے، پھر اس کے دعوٰی مجددیت، مسیحیت، مہدویت کے اسباب و دلائل پر الگ الگ ابواب میں تفصیلی بحث کی ہے، اور مرزا کا دفاع کیا ہے۔ نیز احمدیت (قادیانیت) کی کارگزاری پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب ۲۲۰ صفحات کی ضخیم ہے۔

اس کے علاوہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری نے انگریزی میں بھی قرآن کریم کا ترجمہ کیا ہے، اور "سیرت خیر البشر" "تاریخ خلافت راشدہ" "مقام حدیث" وغیرہ بھی اس کی تصنیفات میں شامل ہیں۔

۱؎ قادیانیت ص ۲۰۳

صفحہ ۳۲

رد قادیانیت حصہ

مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد اس کی جماعت کے سربراہ

نام و نسب پیدائش

اس کی ولادت ۱۸۴۱ء میں پنجاب کے ایک قدیم شہر بھیرہ میں ہوئی۔ تیسویں پشت میں اس کا شجرہ نسب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ اس کے خاندان میں بہت سے اولیاء و مشائخ گزرے ہیں۔

تعلیم و حج

ابتدائی تعلیم ماں باپ سے حاصل کی، پھر لاہور اور راولپنڈی میں تعلیم پائی نیز حصول علم کی خاطر رامپور، لکھنؤ، میرٹھ اور بھوپال کے سفر کئے۔ اس دوران عربی فارسی، منطق، فلسفہ، طب غرض ہر قسم کے علوم مروجہ سیکھے، چوبیس پچیس سال کی عمر میں حرمین کی زیارت نصیب ہوئی، وہاں بعض اکابر علماء سے حدیث پڑھی واپس آکر بھیرہ میں درس وتدریس اور مطب کا آغاز کیا۔ ۱۸۷۶ء تا ۱۸۹۲ء ریاست جموں کشمیر میں شاہی طبیب کی حیثیت سے قیام رہا۔

قابل عبرت پیشین گوئی

شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا سہارنپوریؒ تحریر فرماتے ہیں، "حکیم نور الدین ایک مرتبہ حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوری (مرشد حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے حکیم نور الدین سے فرمایا کہ قادیان میں ایک شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا اور تمہارا نام لوح محفوظ میں اس کے مصاحب کے طور پر لکھا ہوا ہے" ۱؎

بدقسمتی اور مرزا قادیانی سے بیعت

چنانچہ مارچ ۱۸۸۵ء میں قادیان پہنچکر حکیم نور الدین نے مرزا غلام احمد سے پہلی مرتبہ ملاقات کی، اور مرزا سے اس کو عقیدت ہو گئی۔ بالآخر ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو جب مرزا نے لدھیانہ میں اپنی بیعت کا آغاز کیا تو سب سے پہلے مولوی نور الدین نے ہی اس کے ہاتھ پر بیعت کی۔

۱؎ آپ بیتی جلد ۲

صفحہ ۳۳

رد قادیانیت حصّہ

قادیان میں قیام اور مرزا کا علمی تعاون :

مرزا قادیانی کی منشاء کے مطابق ۱۸۹۳ء میں قادیان میں مکان بنوا کر حکیم نورالدین نے مطب شروع کر دیا۔ ساتھ ہی روزانہ مرزا کے دربار میں حاضری دیتا، نیز سیر و سفر وغیرہ میں مرزا کے ہم رکاب رہتا تھا۔ تصنیف و تالیف کے دوران حوالہ جات نکالنے میں مرزا کی مدد کرتا تھا، اور اس کی تصانیف کی پروف ریڈنگ کرتا تھا، قادیانی اخبار ”الحکم“ اور بدر کی قلمی معاونت بھی کرتا تھا۔

جانشینی

۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کو بعمر ۷۴ سال مولوی نور الدین کو مرزا کا گدی نشین منتخب کیا گیا۔

موت

۱۹۱۰ء میں مولوی نور الدین گھوڑے سے گر گیا، بہت چوٹیں آئیں اور علالت کا سلسلہ طویل ہو گیا، بالآخر ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ء کو اس کا انتقال ہو گیا۔

۲ مرزا بشیر الدین محمود احمد قادیانی ولد مرزا غلام احمد قادیانی

۱۸۸۹ء تا ۱۹۶۵ء

ابتدائی تعلیم

مرزا محمود کی ابتدائی تعلیم مدرسہ تعلیم الاسلام میں ہوئی۔ صحت کی کمزوری اور نظر کی خرابی کی وجہ سے اس کی تعلیمی حالت اچھی نہیں رہی، ہر جماعت میں رعایتی ترقی ملتی رہی، مڈل اور انٹرنس (میٹرک) کے سرکاری امتحانوں میں فیل ہو گیا۔ پھر مرزا غلام احمد نے خود اس کو قرآن شریف ترجمہ بخاری شریف، کچھ طب کی کتابیں اور عربی رسالے پڑھائے۔

جانشینی

۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو مسجد نور میں جانشین دوم کے طور پر اس کا انتخاب عمل میں آیا پچاس قادیانی افراد نے مرزا محمود کی گدی نشینی سے اختلاف کرتے ہوئے اس سے بیعت نہیں کی جن میں محمد علی ایم اے اور خواجہ کمال الدین پیش پیش تھے۔

گھناؤنا کیریکٹر

قادیانیت کی تاریخ میں مرزا محمود کا گھناؤنا کیریکٹر معروف و مشہور ہے خود قادیانیوں نے اس کے جرائم کا پردہ فاش کرنے کے لئے اس موضوع پر باقاعدہ کتابیں لکھی ہیں۔ مثلاً تاریخ محمودیت، ربوہ کا مذہبی آمر، شہر سدوم وغیرہ

صفحہ ۳۴

رد قادیانیت حصہ

موت| ۱۹۵۴ء میں مرزا محمود پر قاتلانہ حملہ ہوا مگر بچ گیا اُس کے بعد سے تکلیف مسلسل جاری رہی۔ آخر کار ۸ و ۹؍نومبر ۱۹۶۵ء کی درمیان شب میں راہی ملک عدم ہوا ۔

مرزا ناصر احمد ولد مرزا محمود قادیانی ولادت ۱۹۰۹ء وفات ۱۹۸۲ء

ابتداء سید سرور شاہ قادیانی سے اردو و عربی پڑھ کر مدرسہ احمدیہ میں داخلہ لیا ۱۹۲۹ء تعلیم| میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کر کے میٹرک کا امتحان دِیا پھر ۱۹۳۴ء میں گورنمنٹ کالج سے بی، اے کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد انگلستان گیا اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے ایم، اے کی ڈگری حاصل کر کے ۱۹۳۸ء میں واپس ہوا۔

وہاں سے واپس ہونے کے بعد مختلف عہدوں پر کام کرتا رہا اور ۸؍نومبر ۱۹۶۵ء جانشینی| کو مجلس انتخاب نے مرزا ناصر کو مرزا قادیانی کا تیسرا جانشین نامزد کیا۔

۲۶ مئی ۱۹۸۲ء کو مرزا ناصر پر دل کا دورہ پڑا، علاج ہوتا رہا، آخر کار ۸، ۹ موت| جون کی درمیانی شب میں پھر شدید حملہ ہوا۔ اور ایک بجے کے قریب دنیا سے رخصت ہوا۔

موجودہ سربراہ

مرزا طاہر احمد ولد مرزا محمود احمد قادیانی ولادت ۱۹۲۸ء

۱۹۴۴ء میں مرزا طاہر قادیانی نے تعلیم الاسلام ہائی اسکول قادیان سے میٹرک پاس تعلیم| کر کے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا ۔ اور ایف، ایس، سی تک کی تعلیم حاصل کی پھر جامعہ احمدیہ میں داخلہ لے کر ۱۹۵۳ء میں شاہد کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۵۵ء سے ۱۹۵۷ء تک یورپ میں تعلیم پا کر ربوہ (پاکستان) واپسی ہوئی۔

صفحہ ۳۵

رد قادیانیت ۳۵ جسٹس

جانشینی

اپنی جماعت کے مختلف عہدوں پر کام کرنے کے بعد ۱۰؍ جون ۱۹۸۲ء کو مجلس انتخاب کے ذریعہ اس کو مرزا قادیانی کا چوتھا جانشین قرار دیا گیا۔

۱۹۸۴ء میں لندن فرار

۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو جنرل ضیاء الحق مرحوم (صدر پاکستان) کے دور حکومت میں جب امتناع قادیانیت آرڈیننس نافذ ہوا تو مرزا طاہر نے پاکستان سے فرار ہوکر لندن (اپنے اصل مستقر میں) پناہ لی۔ اور تادمِ تحریر وہیں مقیم رہے اور دنیا بھر میں زیغ و ضلال و ارتداد پھیلانے میں مصروف ہے۔

مرزائی گروہ کی دو بڑی پارٹیاں

قادیانی اور لاہوری

مرزائی گروہ کی یہ دو پارٹیاں کیسے وجود میں آئیں، اس کی روداد محمد علی ایم، اے مرزائی لاہوری نے یوں بیان کی ہے :

"بانی سلسلہ (مرزا غلام احمد) کی وفات کے بعد سلسلہ کا کل کاروبار حسب وصیت صدر انجمن احمدیہ کے سپرد رہا، اور سلسلہ کی قیادت حضرت مولانا نور الدین صاحب مرحوم کے ہاتھ میں رہی۔ اور یہ صورت حال ان کی وفات تک رہی جو مارچ ۱۹۱۴ء میں ہوئی۔ اس عرصہ میں جماعت خوب ترقی کرتی چلی گئی مگر اس تعداد کی ترقی سے بڑھ کر یہ بات تھی کہ عام مسلمانوں میں اس کی قبولیت بہت پھیلتی گئی اور گو ظاہر طور پر کوئی اختلاف جماعت میں نہیں ہوا لیکن دو قسم کے اختلافی امور ان ایام میں پیدا ہوگئے تھے جن کے زیادہ قوت پکڑنے میں صرف مولوی نور الدین صاحب کی زبردست شخصیت مانع رہی۔ ان میں سے ایک امر خلیفہ اور انجمن کے تعلقات تھے ، اور دوسرا امر مسلمانوں کی تکفیر کا مسئلہ تھا۔ امرِ اوّل چونکہ اندرونی نظام سلسلہ سے تعلق رکھتا تھا اس لئے اس سوال نے نہ اس وقت اور نہ بعد میں کوئی اہمیت اختیار کی۔ گو جماعت کے دو ٹکڑے ہونے میں یہ امر متنازع فیہ تھا، مگر امرِ دوم

صفحہ ۳۶

رد قادیانیت حصہ

سلسلہ ہی نہیں۔ اسلام کے اصولِ تعلیم سے تعلق رکھتا تھا۔ اس لئے اس پر بالآخر مولوی صاحبؒ کے انتقال کے بعد جماعت احمدیہ کے دو فریق ہو گئے۔ ایک فریق کا عقیدہ یہ رہا کہ جن لوگوں نے مرزا صاحب کی بیعت نہیں کی خواہ وہ انہیں مسلمان بھی نہ مانتے۔ مجدد اور مسیح موعود بھی مانتے ہوں، اور خواہ وہ ان کے نام سے بھی بے خبر ہوں۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اور دوسرے فریق کا عقیدہ یہ رہا کہ ہر کلمہ گو خواہ وہ اسلام کے کسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہو مسلمان ہے ١؎ اور کوئی شخص اسلام سے خارج نہیں ہوتا جب تک کہ وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار نہ کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فریقِ اول یعنی اس فریق کا جو مسلمانوں کی تکفیر کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دروازہ نبوت کھلا ہوا مانتا ہے، ہیڈ کوارٹر قادیان رہا۔ اور دوسرے فریق نے اپنا ہیڈ کوارٹر لاہور میں قائم کیا۔ فریق قادیان کی قیادت اس وقت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہاتھ میں ہے۔ اور فریق لاہور کی مصنف کتاب ہذا کے ہاتھ میں

(تحریک احمدیت ص۳۲ از محمد علی ایم ' اے)

بناوٹی اختلاف

مرزائی گروہ کی ان دونوں پارٹیوں میں اختلاف واقعی ہے یا نہیں۔ اس کا فیصلہ حضرت مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی مدظلہ کے اس تجزیہ سے ہو جاتا ہے۔ موصوف فرماتے ہیں :۔ " ہمارا یہ سوال ہے کہ اگر انہیں اختلاف حقیقی ہے تو لاہوری جماعت والوں کو چاہئے کہ وہ قادیانیوں کو برملا کافر کہیں کیوں کہ ایک غیر نبی کو نبی مان رہے ہیں اسی طرح قادیانیوں پر لازم ہے کہ وہ لاہوریوں کو کافر کہیں کہ ایک ”نبی برحق“ کی نبوت کے منکر ہیں۔ لیکن ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو کافر نہیں

١؎ ہاں مجدد اور مسیح امت کو رد کرنا قابل مواخذہ ضرور ہے (مسیح موعود اور ختم نبوت ۔ مؤلفہ محمد علی ایم ' اے ۔

صفحہ ۳۷

ردقادیانیت حصہ

کہتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان میں اختلاف حقیقی نہیں بلکہ بناوٹی ہے“ ۱؎

مرزائی گروہ کے دیگر فرقے

حضرت مولانا مفتی محمد یوسف صاحب لدھیانوی نے اس فرقہ کے متعلق تحریر فرمایا ہے کہ :

”اس فرقہ کا عقیدہ تھا کہ مرزا قادیانی نہ صرف رسول ہیں بلکہ ان کی پیروی سے نبوت ملتی ہے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ مرزا قادیانی نے کثرت مکالمہ و مخاطبہ کا نام نبوت رکھا ہے اور یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جس میں یہ سلسلہ جاری و ساری نہ ہو۔ اب اگر مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد نبوت کا سلسلہ ٹوٹ جائے تو ان کا دین بھی لعنتی بن جائے گا“ ۲؎

اس فرقہ کا ایک شخص چراغ الدین جمونی تھا اس نے مرزا کی زندگی ہی میں نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا، جس پر مرزا غلام احمد قادیانی نے چراغ پا ہو کر دافع البلاء میں لکھا (جو ۲۳؍ اپریل ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئی) :

”یہ کیسی ناپاک رسالت ہے جس کا چراغ الدین نے دعویٰ کیا، جائے غیرت ہے کہ ایک شخص میرا مرید کہلا کر یہ ناپاک کلمات منہ پر لاوے لعنۃ اللہ علی الکاذبین ...... پس آج کی تاریخ سے وہ ہماری جماعت سے منقطع ہے۔“ ۳؎

مذکورہ بالا دلیل سے بہت سے ”قادیانی نبی“ مبعوث ہوئے یہاں تک کہ قادیانی انبیاء کی بہتات سے مرزا محمود بوکھلا اٹھے اور خطبہ میں فرمایا :

”دیکھو! ہماری جماعت میں ہی کتنے مدعی نبوت کھڑے ہو گئے ہیں، میں ان میں سے سوائے ایک کے سب کے متعلق یہ خیال رکھتا ہوں کہ وہ اپنے نزدیک جھوٹ

۱؎ کاپی ردقادیانیت ص ۲۳ ۔ ۲؎ مرزاقادیانی مراق سے نبوت تک در تحفہ قادیانیت ص ۹۴ ۔ ۳؎ مختصراً از ائمہ تلبیس ص ۵۱۲ ۔ ۵۱۳ ۔

صفحہ ۳۸

رد قادیانیت جلد ۲

نہیں ہوتے ” واقعہ میں انھیں الہام ہوئے اور کوئی تعجب کی بات نہیں اب بھی ہوتے ہوں ۔ مگر نقص یہ ہوا کہ انہوں نے اپنے الہاموں کو سمجھنے میں غلطی کھائی ہے“ ۔(یہی غلطی مرزا غلام احمد نے تو نہیں کھائی ۔ ناقل) ۱؎

۴ مرزا قادیانی کو تشریعی نبی ماننے والا اروپی فرقہ :

منشی ظہیر الدین اروپی موضع اروپ ضلع گوجرانوالہ کا رہنے والا تھا ‘ اس کے نزدیک مرزا ایک صاحب شریعت نبی تھا ۔ اس کا خیال ہے کہ قادیان ہی بیت اللہ شریف ہے اور وہی خدا کے نبی کی جائے ولادت ہے ‘ اس لئے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنی چاہئے ۔ ۲؎

اس فرقہ کے دلائل حسب ذیل ہیں ۔

صاحب شریعت رسولوں کی وحی کے ہیں ۔ لہٰذا اگر موسیٰ ، عیسیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صاحب شریعت رسول ہیں تو مرزا غلام احمد بھی یہی شان رکھتے ہیں ۔

اعلان کیا ہے ۔

رد کر دیں ، اور یہ صاحب شریعت ہی کا منصب ہے ۔

ان عقائد کا اظہار ظہیر الدین اروپی نے اپنے رسائل میں کیا ہے ۔ ۳؎

۱؎ اخبار الفضل ۲۰ مارچ ۱۹۴۳ء بحوالہ مرزا قادیانی مراق سے نبوت تک در تحفہ قادیانیت ص ۴۹۴ از مولانا مفتی محمد یوسف لدھیانوی ، ۲؎ محضر ائمہ تلبیس ص ۵۱ ، ۳؎ مرزا قادیانی مراق سے نبوت تک مندرجہ تحفہ قادیانیت ص ۴۹۶ - ۴۹۷ ۔

صفحہ ۳۹

رد قادیانیت ۳۹ حصہ

۵ مرزا قادیانی کو معبود و مسجود ماننے والا کھیروی فرقہ :

کھیروی فرقہ کا عقیدہ تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی معبود و مسجود ہیں اور قادیان بیت اللہ شریف ہے۔ مرزا بشیر احمد ایم اے سیرۃ المہدی میں لکھتے ہیں :

" ڈاکٹر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود نے پسر موعود کی پیشن گوئی شائع فرمائی (جو بدقسمتی سے پوری نہ ہو سکی ۔ ناقل ) تو آپ کی زندگی ہی میں ایک شخص نور محمد نامی جو پٹیالہ کی ریاست میں (کھیرو) گاؤں کا رہنے والا تھا پسر موعود ہونے کا مدعی بن بیٹھا، اور بعض جاہل طبقہ کے لوگ اس نے مرید کر لئے یہ لوگ قادیان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے اور ایک دفعہ ان کا ایک وفد قادیان بھی آیا تھا انہوں نے حضرت صاحب کو سجدہ کیا مگر حضرت صاحب نے سختی سے منع فرما دیا ، وہ لوگ چند روزہ رہ کر چلے گئے ، اور پھر نہیں دیکھے گئے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایسے مجانین اور غالی لوگوں کا وجود ہر قوم میں ملتا ہے" ۱؎

لاجواب تبصرہ

حضرت مولانا مفتی محمد یوسف صاحب لدھیانوی فرماتے ہیں کہ سیرۃ المہدی کے مؤلف نے مرزا غلام احمد قادیانی کے ان پرستاروں پر مجنون اور غالی ہونے کا فتوی لگایا ہے ، حالانکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات کی روشنی میں ان کا عقیدہ بالکل صحیح تھا ۔ ————— دیکھئے ! مرزا غلام احمد قادیانی نے بُروز عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا اور قادیانی دانشوروں نے ان کو سچ مچ عیسیٰ مان لیا ۔ پھر مرزا غلام احمد قادیانی نے بُروز محمد ہونے کا دعویٰ کیا اور قادیانی دانشوروں نے ان کو سچ مچ "عین محمد" مان لیا ۔ ٹھیک اسی اصول پر مرزا قادیانی نے بُروز خدا ہونے کا دعویٰ کیا ۔ اب اگر کچھ لوگ ان کو سچ مچ خدا مان لیں تو ان کو مجنون اور غالی کیوں کہا جائے ؟ جب یہ اصول تمام قادیانی امت کو مسلم ہے کہ بروز اپنے اصل ہی کا حکم رکھتا ہے ، اسی قادیانی اجماع کی بناء پر مرزا غلام احمد قادیانی کو "مسیح موعود" اور "محمد ثانی"

۱؎ سیرۃ المہدی جلد ۳ ص ۲۳۲

صفحہ ۴۰

رد قادیانیت حصہ

تسلیم کیا گیا کیوں کہ وہ بروز محمد ہونے کے مدعی تھے، تو مرزا غلام احمد قادیانی کو بروز خدا کے مدعی ہونے کی وجہ سے خدا کیوں نہ مانا جائے ؟

شاید کسی کو وسوسہ ہو کہ حضرت قادیانی نے ان کو سختی سے منع فرما دیا تھا، اس لئے ان کا توقف غلط ہے ۔ قادیانی اصول کے مطابق اس کا جواب بہت آسان ہے ۔ وہ یہ کہ ’اس وقت تک حضرت قادیانی کو یہ سمجھ نہیں آئی تھی کہ الہامات میں ان کو ”خدائی منصب“ عطا کیا گیا ہے ٹھیک جس طرح کہ مرزا محمود قادیانی کے دعویٰ کے مطابق حضرت قادیانی ۱۹۰۱ء تک یہ نہیں سمجھ سکے تھے کہ ان کو منصب نبوت عطا کیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ تاویل بھی ممکن ہے کہ حضرت صاحب نے فتنہ کے خوف سے انہیں منع فرما دیا ہو، ٹھیک جس طرح حضرت صاحب نے ”ایک نبی آیا“ کا الہام فتنہ کے خوف سے مدت تک چھپائے رکھا “ ۱؎

۱؎ مرزا قادیانی مراق سے نبوت تک در تحفہ قادیانیت ص۳۹۸-۳۹۹ ۔

PDF 41

دُوسرَا مُحَاضَرَہ عِلمِیَّہ

بر مَوضُوع

ردّ

قَادِیَانِیَّت

پیش کردہ

حَضرَت مَولَانَا قَارِی مُحَمَّد عُثمَان صَاحِب مَنصُورپُوری

اُستَاذِ حَدِیث وَادب دَارالعُلوم دِیوَبند

طباعت :۔ شیروانی آرٹ پرنٹرز دہلی ۱۱۰۰۰۶ فون : 2943292

صفحہ ۲

رد قادیانیت حصہ بسم اللہ الرحمن الرحیم

قادیانیت کی ابتداء

مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی (بانی قادیانیت) نے ۱۸۸۰ء میں اپنی علمی و مذہبی زندگی کا آغاز کیا ، اور اپنی مشہور کتاب براہین احمدیہ کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا جس کے دوران اس نے اپنے بارے میں مامور اور ملہم من اللہ ، اور مجدد ہونے کے دعوے کیے اور اپنے کو ہمدرد و خادم اسلام کی حیثیت سے پیش کیا تو اچھی خاصی شہرت اسکو حاصل ہو گئی ، حتیٰ کہ کچھ لوگ اس سے بیعت لینے کو کہنے لگے (حالانکہ مرزا نہ کسی شیخ طریقت کا مرید تھا اور نہ کسی شیخ سے اس کو اجازت بیعت ملی تھی) ۔

بیعت لینے سے انکار

جب بھی اس کے سامنے بیعت کا تذکرہ آتا تو وہ انکار کر دیا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ : انسان کو خود سعی و محنت کرنی چاہیے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمُ اور جنہوں نے محنت کی ہمارے واسطے ہم سمجھا 29:69 سُبُلَنَا ۔ (سیرت المہدی حصہ اول ص ۲۴۱) دیں گے ان کو اپنی راہیں ۔

بیعت لینے کا اعلان

لیکن پھر یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کو اس نے اعلان کر دیا کہ : ,,اللہ تعالیٰ نے مجھے بیعت لینے اور ایک جماعت تیار کرنیکا حکم دیا ہے،،

بیعت لینے کا آغاز لدھیانہ میں

اس اعلان کے بعد ۲۳؍ مارچ ۱۸۸۹ء مطابق ۲۰؍ رجب ۱۳۰۶ھ کو مرزا قادیانی نے لدھیانہ میں عام بیعت کا سلسلہ شروع کر دیا

تاخیر کی وجہ

اس اعلان کے فوراً بعد بیعت لینے کا سلسلہ اس لیے شروع نہیں کیا کہ مولوی نور الدین سے مرزا قادیانی نے وعدہ کر رکھا تھا کہ سب سے پہلے اس سے بیعت لے گا ۔ اور وہ اس وقت بحیثیت سرکاری طبیب کشمیر میں مقیم تھا (مجدد اعظم جلد اول ص۲۱۱)

بہر حال ۲۳؍ مارچ ۱۸۸۹ء کو کل چالیس اشخاص نے اس کے ہاتھ پر بیعت کی اور بقول مرزائیوں کے ,,سلسلہ عالیہ احمدیہ،، کی بنیاد پڑی ، جس کے ذریعہ مرزا کے مریدوں کی ایک جماعت بنتی چلی گئی ۔

صفحہ ۳

ردّ قادیانیت جزء

لہٰذا اسی تاریخ کو قادیانیت کا باقاعدہ نقطۂ آغاز سمجھا جانا چاہیے۔

قادیان میں سالانہ جلسہ کا آغاز

پھر ۱۸۹۱ء میں جب مرزا قادیانی نے اپنے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو اہلِ حق نے اس کے زیغ و ضلال کی قلعی کھول دی اور مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے حلقوں سے اس پر کفر و ارتداد کے فتوے لگائے گئے مگر مرزا قادیانی اپنی روش سے باز نہیں آیا ۔ کیوں کہ وہ تو ایک خفیہ مرتب اسکیم کے تحت مذہبیات کے لبادہ میں اپنے پروگرام پر عمل کر رہا تھا (جس کی قدرے تفصیل آ رہی ہے) اس لیے بجائے اس کے کہ وہ علماء حقانی کی نصیحتوں پر کان دھرتا ، پوری ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اپنے باطل خیالات کو اپنے پیروکاروں کے دل و دماغ میں مضبوطی سے پیوست کرنے اور دوسرے ناواقف مسلمانوں کو اپنے دام فریب میں گرفتار کرنے کے لیے ۱۸۹۱ء میں اس نے سالانہ جلسہ کی بنیاد ڈال دی ۔

قادیان کے جلسہ کی غیر مَعمُولی اہمیت

اور اس کی اہمیت یوں سمجھائی کہ ! ”اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلاء کلمہ اسلام پر بنیاد ہے“

(مجموعہ اشتہارات مرزا ط ۳ حصہ اول)

مرزا قادیانی کے جانشینوں (آج کل اس کا پوتا مرزا طاہر احمد اس کا جانشین ہے اور لندن میں مقیم ہے) کے ذریعہ بیعت کا یہ سلسلہ (دام تزویر) قائم ہے اور سالانہ جلسے بھی ہندوستانی مرکز قادیان اور پاکستانی مرکز ربوہ میں اہتمام سے منعقد کئے جاتے ہیں ۔

ہر پہلو سے قادیانیت کو بے نقاب کیا جانا ضروری ہے

اس سلسلۂ بیعت اور جلسہ ہائے سالانہ و دیگر ذرائع سے جو مخالف اسلام نظریات پھیلائے جاتے رہے ہیں اور اسلام و مسلم دشمن اقدامات کیے جاتے رہے ہیں ان کا جائزہ لینے کے لیے قادیانیت کے مذہبی اور سیاسی چہروں کو الگ الگ بے نقاب کرنا ضروری ہے تاکہ قادیانیت کی سنگینیت کا اندازہ ہو سکے ، اور سادہ لوح مسلمان قادیانیوں کے پر فریب دعووں اور پروگراموں سے اپنے کو دور رکھ سکیں ۔

صفحہ ۴

ردّ قادیانیت جزء

تحریک قادیانیت کا مذہبی چہرہ

قادیانیت کیا ہے ؟ اس کا اجمالی جواب تو یہ دیا جاسکتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جو باطل دعوے اپنے بارے میں کئے اور بطور زندقہ جو مخصوص کفریہ عقائد و نظریات بزعم خود صحیح اسلامی عقائد کے نام سے پھیلائے ہیں انہی کا نام قادیانیت ہے ۔

ان میں بھی مرزا قادیانی کے دعاویٰ باطلہ کو خصوصی مقام حاصل ہے چنانچہ مرزا بشیر احمد ایم اے قادیانی لکھتا ہے :

" احمدیت کے مخصوص عقائد کے بیان میں سب سے مقدم جگہ حضرت مسیح موعود کے دعاوی کو حاصل ہے ، کیوں کہ احمدیت کی عمارت کی بنیاد انہی دعاوی پر قائم ہے ۔

(حقیقی اسلام ص۳۵ مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم اے)

مجمل فہرست عقائد مرزا قادیانی

یوں تو یہ دعاوی باطلہ و عقائد کفریہ مرزا قادیانی کی تصانیف میں طول طویل مباحث کے ذیل میں بکھرے ہوئے ہیں لیکن ایک مرتبہ گورداس پور (پنجاب) کی عدالت میں خود مرزا قادیانی نے نومبر ۱۹۰۳ء میں اپنے دستخط کے ساتھ اپنے عقائد پر مشتمل ایک تحریر پیش کی تھی جو مندرجہ ذیل ہے ۔

وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم 4:157 158 وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ

جنگ کرے گا اور غیر اسلامی اقوام کو قتل کر کے اسلام کو غلبہ دے گا ۔

رسول و نبی اللہ ہوں اور مجھ پر خدا کی وحی نازل ہوتی ہے ۔

صفحہ ۵

رد قادیانیت جز

رودادِ مقدمہ (دستخط مرزا غلام احمد)

(مشمولہ مسل فوجداری بعدالت رائے چندو لال صاحب مجسٹریٹ درجہ اوّل گورداسپور ص ۵۰ ، ص ۵۱ ، تعزیرات ہند، بحوالہ تازیانہ عبرت ص ۱۵۱ و ص ۱۵۲ از رئیس المناظرین مولانا ابو الفضل کرم الدین صاحب دبیر رحمۃ اللہ علیہ) ........

یہ فہرست ایک مقدمہ کے دوران ایک خاص ضرورت کے تحت مرزا قادیانی اور اس کے معاونین نے مل کر مرتب کر کے عدالت میں پیش کی تھی لیکن یہ اس کے تمام عقائد و دعاوی کا مجموعہ نہیں ہے، ان کے علاوہ مرزا قادیانی کے اور بھی بہت سے غیر اسلامی عقائد ہیں جو قادیانی لٹریچر میں جا بجا مذکور ہیں۔ بطور نمونہ کے چند عقائد مع عبارتوں کے یہاں ذکر کیے جاتے ہیں۔

مرزا قادیانی کے کچھ اور عقائدِ باطلہ

عقیدہ : حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین نہیں ہیں بلکہ آپکے بعد مرزا قادیانی حقیقی نبی اور خاتم النبیین ہے

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے :-

ہلاک ہو گئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہ کیا ، مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں ، اور میں

صفحہ ۶

رد قادیانیت جز

اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں ۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیوں کہ میرے بغیر سب تاریکی ہے، (کشتی نوح ۔ خزائن ص۷۱/۱۹)

مرزا بشیر الدین محمود قادیانی لکھتا ہے :-

"پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں ،،

(حقیقۃ النبوۃ ص۱۷۴ از مرزا محمود قادیانی)

عقیدہ : حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتیں ہیں اور دوسری بعثت اقویٰ واکمل ہے

مرزا قادیانی لکھتا ہے :-

واعلم ان نبينا صلى الله عليه وسلم (ترجمہ از مرزا ) اور جان کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ كما بعث فى الالف الخامس كذالك علیہ وسلم جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے، ایسا بعث فى آخر الالف السادس باتخاذہ ہی مسیح موعود (مرزا قادیانی از ناقل ) کی بروزی بروز المسيح الموعود ........ بل صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار کے آخر میں مبعوث الحق ان روحانيته عليه السلام كان ہوئے ۔ بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فى آخر الالف السادس اعنى فى ھذہ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں الايام اشد واقوى واكمل من تلک الاعوام بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے بل كالبدر التمام (خطبہ الہامیہ (خزائن ص ۲۷۱ ، ۲۷۲ / ۱۶) بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے ۔

عقیدہ : مرزا قادیانی بعینہ محمد رسول اللہ ہے اور اسکی جماعت میں شامل ہونے والے صحابہ ہیں

مرزا قادیانی لکھتا ہے :-

صار وجودى وجودہ فمن دخل فى جماعتى (ترجمہ از مرزا) میرا وجود اس (حضور صلی اللہ دخل فى صحابة سيدى خير علیہ وسلم ، ناقل ) کا وجود ہو گیا پس وہ جو میری جماعت المرسلين ومن فرق بينى وبين میں داخل ہوا در حقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے

صفحہ ۷

ردّ قادیانیت جز

المصطفیٰ فما عرفنی وما رآنی ، صحابہ میں داخل ہوا۔ اور جو شخص مجھ میں اور مصطفےٰ میں (خطبۀ الہامیہ در خزائن ص۲۵۸ ج۱۶ ، ص۲۵۹) تفریق کرتا ہے اس نے مجھے نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا“

عقیدۂ : مرزا قادیانی کی مزعومہ وحی اور تعلیم مدار نجات ہے

مرزا لکھتا ہے :

”خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے اوپر ہوتی ہے فُلکُ یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے :۔

واصنع الفلک باعیننا ان الذین (ترجمہ از مرزا) یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں یبایعونک انما یبایعون کے سامنے بنا جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت اللّٰہ ۔ کرتے ہیں یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے ۔

اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے ،، (حاشیہ اربعین ص۴ خزائن ص۴۳۵ ج۱۷)

عقیدۂ : مرزا کے مزعومہ الہامات قرآن کریم کی طرح قطعی اور یقینی ہیں

مرزا لکھتا ہے :

” میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے ، خدا کا کلام یقین کرتا ہوں ۔ (حقیقۃ الوحی خزائن ص۲۲۰ ج۲۲)

عقیدۂ : مرزا قادیانی کو مانے بغیر دین اسلام لعنتی و شیطانی مذہب ہے ۔

مرزا لکھتا ہے :

صفحہ ۸

رد قادیانیت حصہ

,, وہ دین ,, دین نہیں اور نہ وہ نبی، نبی ہے، جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الٰہیہ (یعنی نبوت ناقصہ) سے مشرف ہو سکے، وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو سکھلاتا ہے کہ چند منقولی باتوں پر (یعنی شریعت محمدیہ پر جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ۔ ناقل) انسانی ترقیات کا انحصار ہے سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں، شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہے ،،

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم خزائن ص ۳۰۶ ج ۲۱)

مرزا ایک اور جگہ لکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ,, یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے ،،

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم خزائن ص ۳۵۴ ج ۲۱)

عقیدہ :. مرزا پر ایمان نہ لانے والا کافر اور جہنمی ہے

بیعت میں داخل نہیں ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے ۔

(تذکرہ ص ۳۴۲)

حضرت مسیح موعود کا (مرزا ۔ ناقل) نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔

(آئینہ صداقت از مرزا محمود ۔ ص ۳۵)

عقیدہ : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا عقیدہ رکھنا شرک عظیم ہے

مرزا لکھتا ہے ۔۔۔۔۔ فمن سوء الادب ان یقال ان عیسی ما مات وان ھو الا شرک عظیم یاکل الحسنات ویخالف الحصاۃ

(ترجمہ از ناقل) یہ کہنا کہ عیسیٰ نہیں مرا سوء ادبی اور شرک عظیم ہے جو نیکیوں کو کھا جانے والی چیز اور عقل ورائے کے خلاف ہے ۔

(ضمیمہ حقیقۃ الوحی خزائن ص ۶۲۴ / ج ۲۲)

See page 4

صفحہ 9

ردّ قادیانیت جزو

عقیدہ: مرزا ہی مسیح ہے

مرزا لکھتا ہے : انی انا المسیح وبالحق امشی واسيح ان عیسی مات ولا یحیی باحیاءکم

(تحفۃ الندوہ ۔ خزائن ص ۹۹ / ۱۹)

(ترجمہ از ناقل) بے شک میں ہی مسیح ہوں اور حق کے ساتھ چلتا اور گھومتا ہوں بے شک عیسیٰ مرگیا اور تمہارے زندہ کرنے سے وہ زندہ نہیں ہوگا۔

عقیدہ: جہاد کا حکم موقوف ہوگیا

مرزا لکھتا ہے : "جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدّت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے ، حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا ، اور شیر خوار بچے بھی قتل کیے جاتے تھے ، پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لیے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دیکر مؤاخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت (مرزا کے وقت) قطعا جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا ۔

(حاشیہ اربعین ، خزائن ص ۴۴۴ / ۱۷)

عقیدہ : قادیان کا ذکر قرآن کریم میں ہے

مرزا کا کشف ہے : "تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے ، مکہ ، مدینہ ، اور قادیان ،

(حاشیہ ازالہ اوہام ۔ خزائن ص ۱۴۰ / ۳)

عقیدہ: مسجد اقصیٰ قادیان میں ہے

مرزا لکھتا ہے : والمسجد الاقصیٰ المسجد الذی بناہ المسیح الموعود فی القادیان سُمّیَ اقصٰی لبعدہ من زمان النبّوة ولِمّا يقع فی اقصٰی طرف من زمن ابتداء الاسلام

(حاشیہ خطبہ الہامیہ خزائن ص ۲۶،۲۵ / ۱۶)

(ترجمہ از مرتب) مسجد اقصیٰ وہی مسجد ہے جو مسیح موعود (مرزا) نے قادیان میں بنائی ہے اس کو اقصیٰ کہنے کی وجہ تو یہ ہے کہ وہ نبوت کے زمانہ سے بعید ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ ابتدائے

صفحہ 10

ردّ قادیانیت جُز

اسلام کے زمانہ سے انتہائی بعید ہے ۔

عقیدہ : قادیان کا سالانہ جلسہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ظلی حج ہے

مرزا بشیر الدین محمود نے ایک خطبہ میں کہا :

”چونکہ حج پر وہی لوگ جاسکتے ہیں جو مقدرت رکھتے اور امیر ہوں حالانکہ الٰہی تحریکات پہلے غربا میں پھیلتی اور پنپتی ہیں اور غرباء کو شریعت نے حج سے معذور رکھا ہے ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک اور ظلی حج مقرر کیا تاکہ وہ قوم جس سے وہ اسلام کی ترقی کا کام لینا چاہتا ہے اور تاکہ وہ غریب یعنی ہندوستان کے مسلمان اس میں شامل ہو سکیں ۔ (خطبہ میاں محمود احمد قادیانی مندرجہ اخبار الفضل قادیان یکم دسمبر ۱۹۳۲ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۴۵۵ )

۱۹۱۶ء کے سالانہ جلسہ میں مرزا محمود نے کہا :

”آج جلسہ کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے“ (قادیانی مذہب ص ۴۵۵)

مرزا قادیانی لکھتا ہے :

”لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اس جگہ (یعنی قادیان) آنا ، نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے ، اور غافل رہنے میں نقصان اور خطرہ کیوں کہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی“ (آئینہ کمالات اسلام خزائن ۵ ص ۳۵۲)

الغرض اس قسم کے باطل افکار و عقائد قادیانی تحریروں میں بکثرت موجود ہیں لیکن قادیانی ٹولہ ناواقف مسلمانوں کو باور کراتا ہے کہ فرقہ احمدیہ مسلمانوں کے دیگر فرقوں کی طرح ایک فرقہ ہے جس کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی ایک سچا پکا عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کا ادنیٰ ترین غلام تھا اور اس کی قائم کردہ جماعت حقیقی اسلام کی علمبردار ہے ۔ جو اسلام کی سربلندی اور اس کے عالم گیر غلبہ کے لیے شب و روز مصروف عمل ہے اور اس جماعت کا کلمہ بھی وہی ہے جو تمام مسلمانوں کا ہے ، اسی قرآن کو مانتی ہے جس کو تمام مسلمان مانتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی بھی قائل ہے ، اور نماز و دیگر عبادات مسلمانوں کی طرح انجام دیتی ہے ۔

صفحہ ١١

رد قادیانیت جزء

اور جب بدقسمتی سے کوئی ناواقف مسلمان ان کے دام تزویر میں پھنس جاتا ہے تو رفتہ رفتہ نصوص میں غلط تاویلات کے ذریعہ مذکورہ بالا خرافات حقیقی اسلام کے نام سے اس کے قلب و دماغ میں اتارے جاتے ہیں اور زندقہ پھیلایا جاتا ہے ۔

قادیانیت نبوت محمدی کے خلاف ایک

سازش، ارباب فکر ونظر کا فیصلہ

لیکن ارباب فکر ونظر کا فیصلہ یہ ہے کہ قادیانیت محض ایک فرقہ نہیں ہے بلکہ یہ فتنہ اسلامی تاریخ کا سب سے خطرناک فتنہ ہے ۔ کیوں کہ قادیانیت ایک مستقل دین اور متوازی امت کی دعوت ہے ، یہاں پورا دینی نظام ترتیب دیا گیا ہے شعائر کے مقابلہ میں شعائر، مقدسات کے مقابلہ میں مقدسات ، مرکز کے مقابلہ میں مرکز ، قبلہ کے مقابلہ میں قبلہ ، محبت کی جگہ محبت ، عظمت کی جگہ عظمت ، ایک طریق فکر و استدلال کی جگہ پر دوسرا طریق فکر و استدلال ، کتابوں کی جگہ پر کتابیں ہر چیز کا انہوں نے بدل مہیا کیا ہے۔ یہاں تک کہ اسلامی تقویم کے قمری و ہجری مہینوں کے مقابلہ میں مہینوں کے نئے نام رکھے ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ قادیانیت نبوت محمدی کے خلاف ایک سازش ہے ۔

(ماخوذ از تقریر حضرت مولانا علی میاں صاحب)

ڈاکٹر اقبال مرحوم کا تجزیہ

اس موقع پر ڈاکٹر سر محمد اقبال مرحوم کا تحقیقی تجزیہ قابل مطالعہ ہے

وہ فرماتے ہیں :

اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے جس کے حدود مقرر ہیں ۔ یعنی وحدت الوہیت پر ایمان ، انبیاء پر ایمان ، اور رسول کریم کی ختم رسالت پر ایمان ۔ دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس امر کے لیے فیصلہ کن ہے کہ فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں مثلاً برہمو سماج خدا پر یقین رکھتے ہیں ، اور رسول کریم کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں لیکن انہیں ملتِ اسلام میں شمار نہیں کیا جا سکتا ، کیوں کہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعہ وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں ، اور رسول کریم کی ختم نبوت کو نہیں مانتے ، جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کر سکا ۔ ایران

صفحہ ۱۲

رد قادیانیت حصہ

میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا، لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بحیثیت دین کے خدا کی طرف سے ظاہر ہوا لیکن اسلام بحیثیت سوسائٹی یا ملت کے رسول کریم کی شخصیت کا مرہون منت ہے، میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو پورے مفہوم کے ساتھ قبول کریں ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو تا کہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں ؎ (حرف اقبال ص ۱۳۶ و ص ۱۳۷ بحوالہ قادیانیت ص ۱۵۴، ۱۵۵)

امت مسلمہ کے بارے میں قادیانی گروہ کا قابل نفریں موقف

قادیانی گروہ سادہ لوح مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ ہمارا اور مسلمانوں کا اختلاف اصولی نہیں ہے بلکہ کچھ فروعی مسائل میں اختلافات ہیں، لہٰذا ہمارا گروہ بھی دیگر اسلامی فرقوں کی طرح ایک مسلم فرقہ ہے، کیوں کہ ہمارے عقائد وہی ہیں جو دیگر مسلمانوں کے ھیں جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے،

”میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے، ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن و حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے

؎ ڈاکٹر اقبال کے بارے میں ایک مقالہ میں حضرت مولانا علی میاں صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ ۔ یہ ظاہر ہے کہ اقبال کوئی دقیانوسی آدمی نہ تھے۔ ان کا شمار دنیائے اسلام کے منتخب تعلیم یافتہ اور روشن خیال افراد میں تھا، اور اتحاد اسلامی کے ان اول درجہ کے داعیوں میں سے تھے جن کی دعوت کا اولین اصول بے تعصبی اور رواداری ہے لیکن چونکہ وہ مرزا غلام احمد کو قریب سے جانتے تھے، اور اس کے مذہب اور اس کے مقاصد و اسرار سے گہری واقفیت رکھتے تھے اس لیے وہ بھی اس فتنہ کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ اور وہ پہلے شخص تھے جس نے قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ کرکے ایک غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا خیال پیش کیا۔

(رسالہ دارالعلوم ص ۴۴ ستمبر ۱۹۷۴ء)

صفحہ ۱۳

ردّ قادیانیت ۱۳ حصہ

مدعی نبوت و رسالت کو کاذب و کافر سمجھتا ہوں ، میرا ایقان ہے کہ وحی رسالت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی ، اس میری تحریر پر ہر شخص گواہ ہے ۔

(اعلان مورخہ ۲ اکتوبر ۱۸۹۱ء مندرجہ تبلیغ رسالت ص۲ ج۲ مجموعہ اشتہارات مرزا قادیانی)

جب کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ بیان دعویٰ نبوت سے پہلے کا ہے کیوں کہ اس نے سنہ ۱۹۰۱ء میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے ۔

اس قسم کے فریب آمیز پروپیگنڈہ کی وجہ سے بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ قادیانیت مذہب اسلام کے متوازی کوئی نیا دین و مذہب نہیں ہے جس کے اختیار کرنے کی وجہ سے کوئی مسلمان مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ۔

لیکن ایسے لوگوں کی یہ غلط فہمی اس وقت بہت جلد دور ہو جائے گی جب کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے گروہ کے اختیار کردہ مذہبی موقف کو خود انہی کی عبارتوں سے معلوم کر لیں گے جن سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ قادیانیت کو اسلام کے مدمقابل ایک دین و مذہب کی حیثیت سے یہ گروہ پیش کرتا ہے مگر مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے بطور زندیق کے اسی کو سچا اسلام کا نام دیتا ہے ۔

مگر علماء اسلام نے بتوفیق اللہ تعالیٰ قادیانی گروہ کے اس دجلی تلبیس کا پردہ چاک کر کے رکھ دیا ہے اور اس کے پراگندہ لٹریچر سے ثابت کر دیا ہے کہ اس گروہ کو مسلمانوں سے ہر ہر بات میں اختلاف ہے چنانچہ ملاحظہ کیجیے :

ہر ہر بات میں اختلاف مرزا بشیر الدین محمود احمد قادیانی کا دو ٹوک بیان

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں ، آپ نے فرمایا ، یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا چند مسائل میں ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات ، رسول کریم ، قرآن ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ غرض کہ اتنی تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے ،،

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۹ نمبر ۱۳ ، ۲۴ جولائی ۱۹۳۱ء) بحوالہ قادیانی مذہب ص۲۷۴

صفحہ ۱۴

ردّ قادیانیت جزء

غیر احمدیوں سے اصولی اختلاف (قادیانی فتویٰ)

یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ ہمارے اور غیر احمدیوں کے درمیان کوئی فروعی اختلاف ہے۔ (نہج المصلی مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ص۲۷۴ مؤلفہ محمد افضل خاں قادیانی)

حضرت محمدؐ پر ایمان کے باوجود مرزا کو نہ ماننے والا پکا کافر ہے (قادیانی فتویٰ)

مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے :

ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے (کلمۃ الفصل مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص۱۱۰ نمبر ۳ جلد ۱۴)

قادیانیوں کا مشن کہ مسلمانوں کو نئے سرے سے مسلمان کیا جائے۔

مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے کہ

چوں دور خسروی آغاز کردند ؎ مسلماں را مسلماں باز کردند

اس الہامی شعر میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ کفر و اسلام کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے، اس میں خدا نے غیر احمدیوں کو مسلمان بھی کہا ہے، اور پھر انکے اسلام کا انکار بھی کیا ہے مسلمان تو اس لیے کہا ہے کہ وہ مسلمان کے نام سے پکارے جاتے ہیں، اور جب تک یہ لفظ استعمال نہ کیا جائے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ کون مراد ہے، مگر ان کے اسلام کا اس لیے انکار کیا گیا ہے کہ وہ اب خدا کے نزدیک مسلمان نہیں بلکہ ضرورت ہے کہ ان کو پھر نئے سرے سے مسلمان کیا جائے

(کلمۃ الفصل مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص۱۳۰ نمبر۳ جلد۱۴)

قادیانیوں کی نظر میں مسلمان اہل کتاب ہیں

قادیانی اخبار الحکم ۱۴ اپریل ۱۹۱۰ء لکھتا ہے کہ :

غیر احمدیوں کی ہمارے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو قرآن کریم ایک مومن کے مقابلہ میں اہل کتاب کی قرار دے کر یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک مومن اہل کتاب عورت کو بیاہ لا سکتا ہے

صفحہ ۱۵

رد قادیانیت جز

مگر مومنہ عورت کو اہل کتاب سے نہیں بیاہ سکتا _____________ حضور مرزا صاحب فرماتے ہیں "غیر احمدی کی لڑکی لے لینے میں حرج نہیں ہے ، کیوں کہ اہل کتاب عورتوں سے بھی نکاح جائز ہے ،، (اخبار الحکم ۱۴ اپریل ۱۹۲۰ء بحوالہ قادیانی مذہب ص۲۹۱)

مسلمان امام کے پیچھے قادیانیوں کی نماز جائز نہیں

مرزا بشیر الدین محمود قادیانی لکھتا ہے ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیوں کہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں (انوار خلافت ص۹۰ مولفہ مرزا محمود قادیانی)

قادیانیوں کو مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنے کی ممانعت

حضرت مرزا صاحب نے اپنے بیٹے (فضل احمد مرحوم) کا جنازہ محض اسلیے نہیں پڑھا کہ وہ غیر احمدی تھا (اخبار الفضل قادیان ۱۵ دسمبر ۱۹۲۱ء ص۲ شمارہ ۴۶)

مسلمان معصوم بچہ کا جنازہ پڑھنا بھی جائز نہیں

مرزا محمود قادیانی لکھتا ہے جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جا سکتا، اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے اسی طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جا سکتا (اخبار الفضل قادیان جلد ۱۰ شمارہ ۳۲ ۲۳ اکتوبر ۱۹۲۲ء) بحوالہ قادیانی مذہب ص۲۸۴

مسلمانوں سے سماجی و مذہبی بائیکاٹ کی تاکید

اس کے بعد حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے صاف حکم دیا کہ غیر احمدیوں کے ساتھ ہمارے کوئی تعلقات، ان کی غمی اور شادی کے معاملات میں نہ ہوں، جبکہ ان کے غم میں ہم نے شامل ہی نہیں ہونا تو پھر جنازہ کیسا ، (اخبار الفضل قادیان جلد ۴ شمارہ ۱۸ جون ۱۹۱۶ء ص)

بحالت اسلام مسلمانوں کا حج فرض ادا نہیں ہوتا

"جس مسلمان نے اس زمانہ میں حج ادا کیا ہو کہ آپ (مرزا قادیانی) کا دعویٰ پوری طرح شائع ہو چکا اور ملک کے لوگوں پر عموماً اتمام حجت کر دیا گیا اور حضور نے غیر احمدی امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرما دیا تو پھر اس کا حج فرض ادا نہیں ہوا لہٰذا احمدی ہونے کے بعد بھی اس کی حالت ایسی ہو کہ جس کی وجہ سے حج فرض ہوتا ہے تو اس کو حج ادا کرنا چاہیے کیوں کہ

۷۲؎ بحوالہ قادیانی مذہب ص ۲۸۴ ۷۳؎ بحوالہ قادیانی مذہب ص ۲۹۷

صفحہ ۱۶

ردّ قادیانیت جزء

اس نے جو پہلے حج کیا ہے وہ ادا نہیں ہوا۔

(اخبار الحکم قادیان جلد ۷ شمارہ ۱۷ ۱۷ مئی ۱۹۰۳ء) بحوالہ قادیانی مذہب ص ۳۸۴

ان تمام تصریحات سے پوری طرح ثابت ہوگیا کہ یہ گروہ قادیانیت کو متوارث و متعارف مذہب اسلام کے مد مقابل ایک مستقل دین و مذہب کی حیثیت دیتا ہے جس میں مرزا قادیانی کو سب کچھ ماننا جزو ایمان ہی نہیں بلکہ ایمان و اسلام کا دارو مدار ہے مگر زندیقوں کی طرح اس کو اسلام کا نام دیتا ہے اور فریب کاری کے لیے اسلامی اصطلاحات استعمال کرتا ہے، چنانچہ اس گروہ کے یہاں مرزا غلام احمد کو نبی وغیرہ ماننے والوں کو اس کی امت کہا جاتا ہے اور اس کو دیکھنے والے مریدوں کو صحابہ اور ان کے دیکھنے والوں کو تابعین اور ان کے دیکھنے والوں کو تبع تابعین کہا جاتا ہے نیز مرزا کے اہل و عیال کو اہل بیت اور اسکی بیویوں کو امہات المومنین کہا جاتا ہے، حکیم نور الدین بھیروی کو ابو بکر اور مرزا بشیر الدین محمود کو عمر فاروق کہا جاتا ہے۔

مرزا قادیانی اور اسکے مریدین و کنبہ والوں پر مستقلاً درود و سلام بھیجنا فرض مانا جاتا ہے قادیان کو مکہ مدینہ کہا جاتا ہے اور وہاں کے سالانہ جلسہ کی حاضری کو حج کہا جاتا ہے، کیا ان وضاحتوں کے بعد بھی قادیانیت کو اسلام کا ایک مکتب فکر بتا کر مسلمانوں کو دھوکہ دیا جاسکتا ہے۔

قادیانیت کا سیاسی چہرہ

دینی و مذہبی اعتبار سے قادیانیت کا اصلی چہرہ سامنے آجانے کے بعد اس کے سیاسی پہلو پر گفتگو کے لیے تاریخی پس منظر سامنے رکھا جانا ضروری ہے تاکہ وہ عوامل و اسباب معلوم ہو جائیں جن کی وجہ سے تحریک قادیانیت کو دیگر مدعیان نبوت کی تحریک کے مقابلہ میں زیادہ فروغ حاصل ہوا ــــــــــــ یہ ایک حقیقت ہے کہ انیسویں صدی کے ربع اول میں حضرت سید احمد شہیدؒ کی تحریک جہاد کی وجہ سے مسلمانوں میں انگریزوں کے خلاف جہاد اور قربانی کی آگ بھڑک رہی تھی، نیز سید جمال الدین افغانی کی تحریک ”اتحاد اسلامی“ کو انگریز نے پروان چڑھتے دیکھا۔ اس قسم کے تمام خطرات کو محسوس کر کے انگریز نے مسلمانوں کے دینی مزاج کو سامنے رکھ کر

صفحہ ۱۷

رد قادیانیت ۱۷ جز

طے کیا کہ مسلمانوں ہی میں سے کسی شخص کو ایک بہت اونچے دینی منصب کے نام سے ابھارا جائے کہ مسلمان عقیدت کے ساتھ اس کے گرد جمع ہو جائیں اور وہ انہیں حکومت کی وفاداری اور خیر خواہی کا ایسا سبق پڑھائے کہ پھر انگریزوں کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہ رہے۔

چنانچہ برطانوی کمیشن کی رپورٹ میں مذکور ہے ۔ ”ملک (ہندوستان) کی آبادی کی اکثریت اندھا دھند اپنے پیروں یعنی روحانی رہنماؤں کی پیروی کرتی ہے۔ اگر اس مرحلہ پر ہم ایسا آدمی تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو اس بات کے لیے تیار ہو کہ اپنے نئے ظلی نبی (یعنی نبی کے حواری) ہونے کا اعلان کر دے تو لوگوں کی بڑی تعداد اس کے گرد جمع ہو جائے گی ۔ اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے تو ایسے شخص کی نبوت کو سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھایا جا سکتا ہے ، (مطبوعہ رپورٹ انڈیا آفس لائبریری لندن بحوالہ قادیانی اسرائیل ص ۲۵)

قابل قدر جوہر

اس رپورٹ کی سفارش کی روشنی میں مسلمانوں کے اندر اس قسم کے شخص کی تلاش شروع کر دی گئی ۔ آخر کار مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں انگریزوں کو ایک وفادار ایجنٹ مل گیا ۔ جس کو مذہبی مقتدا بننے بلکہ ایک نئے دین کا بانی بننے کا بڑا شوق تھا ، چنانچہ مرزا قادیانی نے انگریزوں کی اسکیم کو عملی جامہ پہنانے کے واسطے سیالکوٹ کی ملازمت (۱۸۶۴ء تا ۱۸۶۸ء) کے دوران یورپی مشنریوں اور بعض انگریز افسران سے تعلقات پیدا کئے اور مذہبی مباحث کی آڑ میں باہمی میل جول کو بڑھایا ، اس سلسلہ کا ایک اہم واقعہ پادری بٹلر ایم اے سے طویل ملاقاتیں کرنا اور ولایت واپسی سے پہلے خفیہ بات چیت میں معاملات کو حتمی صورت دینا ہے۔ اس واقعہ کو مرزا بشیر الدین محمود احمد قادیانی نے اپنے ایک خطبہ میں یوں بیان کیا تھا ۔

” اُس وقت پادریوں کا بہت رعب تھا لیکن جب سیالکوٹ کا انچارج مشنری ولایت جانے لگا تو حضرت صاحب (مرزا قادیانی) سے ملنے کے لیے خود کچہری آیا ، ڈپٹی کمشنر اسے دیکھ کر اس کے استقبال کے لیے آیا ، اور دریافت کیا کہ آپ کس

۱؎ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو انگریز کا خود کاشتہ پودا کہا ہے (تبلیغ رسالت ص ۱۹ ج ۷)

صفحہ ١٨

ردّ قادیانیت جـز

طرح تشریف لائے کوئی کام ہو تو ارشاد فرمائیں مگر اس نے کہا میں صرف آپکے اس منشی (مرزا) سے ملنے آیا ہوں ،،

یہ ثبوت ہے اس امر کا کہ آپ کے مخالف بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہ ایک ایسا جوہر ہے جو قابل قدر ہے ،،

(الفضل قادیان ۲۴/ اپریل ۱۹۳۴ء ، قادیانیت اسرائیل تک ص۲۷)

بہر حال مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریزوں کی خواہش اور ان کے وضع کردہ پروگرام کے مطابق اپنے کام کا آغاز کیا یہ وہ زمانہ تھا کہ سلطنت برطانیہ کے اقبال کا ستارہ عروج پر تھا، ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی مسلمان ہار چکے تھے مذہب اسلام پر ہندوؤں اور عیسائیوں کی جانب سے علمی و ثقافتی حملے ہو رہے تھے مسلمانوں میں باہمی فرقہ بندیاں جنگ وجدال کی حدود میں داخل ہو چکی تھیں ۔ جاہل صوفیوں نے شریعت کو بازیچہ اطفال بنا رکھا تھا ۔ طرح طرح کی پیشین گوئیوں اور الہامات کو سنکر مسلمان اپنے دلوں کو تسلی دیا کرتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ کوئی مرد خدا غیر معمولی روحانی قوت کے ساتھ نمودار ہو تو اس کے ذریعہ ہی سے مسلمانوں کا یہ انتشار دور ہو سکتا ہے اس لیے مرزا قادیانی نے ان پراگندہ احوال کا فائدہ اٹھا کر سب سے پہلے اپنے آپ کو ایک خادم و مبلغ اسلام کی حیثیت سے قوم کے سامنے پیش کیا ۔ اور عیسائیوں و ہندو آریوں سے بحث و مباحثہ کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ اور اخبارات میں مضامین لکھ کر اپنا تعارف کرایا ۔ اور دیگر ادیان پر اسلام کی برتری دلائل سے ثابت کر کے شائع کرنے کے لیے براہین احمدیہ کی تصنیف کا اعلان کیا شہرت حاصل ہوتے ہی مرحلہ وار مجدد، مہدی، مسیح موعود، آخر کار نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اس دوران مسلمانوں کے اندر مرزا قادیانی کے خلاف طوفان اٹھا تو اس کے آقا انگریز نے ہر موقع پر اس کی سر پرستی کی ، اس کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ہر طرح کی سہولت کے سامان اس کے لیے مہیا کیے ، مرزا قادیانی نے بھی گورنمنٹ برطانیہ کی حق شناسی خیر خواہی وہمدردی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ چنانچہ ایک جگہ تحریر کیا ہے ۔

’’ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے ،کیوں کہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے

(مجموعہ اشتہارات ص ۱۹ جلد ۳ )

صفحہ 19

رد قادیانیت جزء

مرزا قادیانی کی فریب کاری

ایک طرف مرزا قادیانی بظاہر اسلام اور مسلمانوں کا سچا ہمدرد بن کر گورنمنٹ کے مذہب مسیحیت کی تردید میں لٹریچر شائع کر رہا تھا اور مسیحی پادریوں سے مناظرہ کر رہا تھا جس سے عام مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ مرزا تو گورنمنٹ کا سخت مخالف ہے ، دوسری جانب خود کاشتہ پودا ہونے کی وجہ سے اپنی محسن گورنمنٹ کو اطمینان دلاتا رہتا تھا چنانچہ ایک جگہ لکھتا ہے :

اور میں اس بات کا اقراری ہوں کہ جبکہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہو گئی ...... اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کیے ...... تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی ، کیوں کہ میرے کانشنس نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں ان کے غیظ و غضب کی آگ بجھانے کے لیے یہ طریق کافی ہو گا کیوں کہ عوض و معاوضہ کے بعد کوئی گلہ باقی نہیں رہتا سو یہ میری پیش بینی کی تدبیر صحیح نکلی

(تریاق القلوب در خزائن ص ۱۵۷ ج ۱۵)

انگریزوں کے مفاد کے لیے کام کرنے والے قادیانی جاسوس

مرزا غلام احمد کی اس تحریک اور اس کی جماعت نے انگریزوں کے لیے بہترین جاسوس پیدا کئے ، اس گروہ کے بعض چیدہ اشخاص نے ہند و بیرون ہند میں انگریزی حکومت کی بڑی خدمات کیں اور اس سلسلہ میں جانی قربانی تک سے دریغ نہیں کیا جیسے عبداللطیف قادیانی ، عبدالحلیم قادیانی اور ملا نور علی قادیانی کو ۱۹۲۵ء میں حکومت افغانستان نے اسی لیے قتل کیا کہ یہ لوگ افغانستان میں قادیانیت کی تبلیغ کرتے تھے اور انگریز کا ایجنٹ بن کر افغانیوں کے جذبہ جہاد کو ختم کرنا چاہتے تھے اور حکومت افغانستان کے خلاف سازشیں کرتے تھے ۔

(ماخوذ مختصراً از مقالہ حضرت مولانا علی میاں صاحب مندرجہ رسالہ دارالعلوم ستمبر ۱۹۵۴ء ص ۴۳ )

معمہ حل ہو گیا

اس تاریخی پس منظر سے یہ معمہ حل ہو جاتا ہے کہ قادیانیت کو نہ صرف ہندوستان بلکہ افریقہ وغیرہ کے دوسرے ممالک میں اس قدر تیزی سے فروغ

صفحہ ۲۰

حصہ ۲۰ رد قادیانیت

کیوں حاصل ہوا کہ جگہ جگہ ان کے مشن کھل گئے اور وہ عیسائی مشنریوں کے طرز پر کام کرنے لگے کیونکہ معلوم ہو گیا کہ تحریک قادیانیت کا سیاسی محرک حکومت برطانیہ تھی جس کے زیر اقتدار اس وقت غیر منقسم ہندوستان اور بہت سے افریقی ممالک بھی تھے اور جس کی نو آبادیات دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلی تھیں اور انگریز فخریہ طور پر کہا کرتے تھے کہ سلطنت برطانیہ پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا اس لیے سلطنت برطانیہ کی نو آبادیات میں آمد و رفت اور قیام کے لیے قادیانیوں کو ہر قسم کی سہولتیں دیجاتی تھیں جن سے فائدہ اٹھا کر ان لوگوں نے ان نو آبادیات میں اپنے اسکول و ہسپتال وغیرہ قائم کر کے اپنے مشنری اڈے پوری طرح مضبوط کر لیے ۔ چنانچہ ۱۲ اگست ۱۹۳۵ء کے خطبہ جمعہ میں مرزا بشیر الدین محمود نے کہا تھا کہ !

” دو غیر ممالک تو ایسے ہیں جن میں خصوصیت سے ہماری جماعت پھیلی ہوئی ہے ۔ ایک یونائیٹڈ اسٹیٹس امریکہ جس میں ۲۵، ۳۰ کے قریب جماعتیں ہیں ، دوسرا ڈچ انڈیز یعنی سماٹرا اور جاوا

(قادیان سے اسرائیل تک ص ۳۴۰، ۳۴۱)

جماعت احمدیہ انگریزوں کی ایجنٹ

آگے چل کر مرزا محمود نے اسی خطبہ میں کہا کہ : ” یہ خیال کہ جماعت احمدیہ انگریزوں کی ایجنٹ ہے لوگوں کے دلوں میں اس قدر راسخ تھا کہ بعض بڑے بڑے سیاسی لیڈروں نے مجھ سے سوال کیا کہ ہم علیحدگی میں آپ سے پوچھتے ہیں کہ یہ صحیح ہے کہ آپکا انگریزی حکومت سے اس قسم کا تعلق ہے ڈاکٹر سید محمود جو اس وقت کانگریس کے سکریٹری ہیں ایک دفعہ قادیان آئے اور انہوں نے بتایا کہ پنڈت جواہر لال صاحب یورپ کے سفر سے واپس آئے تو انہوں نے اسٹیشن سے اتر کر جو باتیں سب سے پہلے کیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ میں نے اس سفر یورپ سے یہ سبق حاصل کیا ہے کہ انگریزی حکومت کو ہم کمزور کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس سے پہلے احمدیہ جماعت کو کمزور کیا جائے جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ ہر شخص کا یہ خیال تھا کہ احمدی جماعت انگریزوں کی نمائندہ اور ان کی ایجنٹ ہے ۔

(الفضل قادیان ۶ اگست ۱۹۳۵ء بحوالہ قادیان سے اسرائیل تک ص ۴۵، ۴۶)

لوگوں کے ذہن میں یہ خیال کیوں راسخ تھا کہ قادیانی جماعت انگریزوں کی ایجنٹ ہے ؟ اس کی

صفحہ ۲۱

رد قادیانیت جزء

وجہ سمجھنے کے لیے مرزا قادیانی کے جانشین بشیر الدین محمود کا وہ بیان ملاحظہ کریں جو جنگ عظیم ۱۹۳۹ء کے زمانہ کا ہے ، اگر ہم اسلام اور احمدیت کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو غور کریں کہ کس کے جیتنے میں احمدیت کو فائدہ ہے تو اس صورت میں یقیناً یہی نظر آئے گا کہ انگریزوں کی فتح اسلام اور احمدیت کے لیے مفید ہے ” حکومت انگریزی کو ایک بہت بڑی مہم درپیش ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس معاملہ میں حکومت کی امداد کریں ، کیوں کہ اس حکومت کے ساتھ اسلام اور احمدیت کی تبلیغ وابستہ ہے ، اگر یہ حکومت جاتی رہی تو یہ تمام فوائد بھی ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں گے (اخبار فاروق قادیان ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۳۹ء قادیان سے اسرائیل تک ص۱۴۶)

قادیانی جماعت کی جانب

سے صہیونیت کی مدد

یہ بات بھی پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ قادیانی جماعت نے نہ صرف برطانوی سامراج کی کھل کر حمایت کی بلکہ ان کے حلیف یہودی تحریک قومیت ، صہیونیت کی بھی بھر پور مدد کی اور دونوں کے راہنماؤں سے گہرے روابط قائم رکھے ہیں اس سلسلہ میں ابو مدثر اپنی کتاب قادیان سے اسرائیل تک میں رقم طراز ہیں :

” یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ انیسویں صدی کے وسط میں رسل اوتھ بل پاس ہو جانے کے بعد یہودی برطانیہ کی سیاست پر چھائے جا رہے تھے اور سول سروس میں اعلیٰ عہدے حاصل کر کے برطانوی نوآبادیات میں قدم جما رہے تھے ، جدید سیاسی افکار نے یہودی اور عیسائی کے مذہبی امتیازات کو ختم کر دیا تھا ۱۸۸۵ء سے ۱۹۰۲ء تک برطانیہ کے تین وزرائے اعظم سالسبری گلیڈ اسٹون اور روزبری میں سے اول الذکر کٹر یہودی تھا۔ اور دوسرے دو یہود نواز ، اور ترک دشمنی میں اپنی مثال آپ تھے ، تحریک صہیونیت (۱۸۹۷ء) کی بنیاد رکھ کر تھیوڈور ہرزل نے جب عثمانی حکومت کے قبضہ سے فلسطین کو آزاد کرانے کا اعلان کیا تو برطانیہ نے صہیونی لیڈروں سے مضبوط روابط قائم کر لیے اور ایک مشترکہ سیاسی لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا ۔

(قادیان سے اسرائیل تک ص۱۸،۱۹)

صفحہ ۲۲

رد قادیانیت جزء

یہودی ریاست کے قیام میں قادیانیوں کی دلچسپیاں

۱۹۴۷ء کے اواخر میں مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر جو حالات رونما ہوئے ان کے پس منظر میں قادیانی کردار کا مطالعہ کرنے سے بعض حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی یہود کی ریاست کے قیام میں کس درجہ دلچسپی رکھتے تھے پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں مرزا محمود احمد نے لندن مشن میں نئے مبلغ کا تقرر کر کے صیہونیت کے پرانے گماشتے جلال الدین شمس کو مشرق وسطیٰ کے مشن پر روانہ کیا اور سرظفر اللہ خان کو امریکہ بھجوایا۔

(الفضل قادیان ۸؍جولائی ۱۹۴۷ء بحوالہ قادیان سے اسرائیل تک ص ۱۸۱)

۱۵؍جولائی ۱۹۴۷ء کو رائٹر کی اطلاع کے مطابق شمس کی جگہ لندن میں چودھری مشتاق احمد باجوہ کو مبلغ مقرر کیا گیا ، ۲۰ جولائی کو شمس کو الوداعی پارٹی دی گئی جس کی صدارت کے فرائض سر ظفر اللہ خاں نے ادا کئے پارٹی میں برطانیہ کی سول سروس کے سابق افسر اور بعض صیہونیت نواز مدبروں نے شرکت کی جن میں روٹری کلب کے چار یہودی بھی شامل تھے (قادیان سے اسرائیل تک ص ۱۸۱)

مرزا محمود کا تاریخی خواب

پھر ۱۹۴۸ء میں یہودی ریاست اسرائیل کے قیام سے تقریباً ایک سال پہلے مرزا محمود نے ایک خواب دیکھا جس میں یہود کو روسی امداد کا یقین دلایا گیا ، اس میں آپ نے یہ اشارہ دیا کہ روس اور برطانیہ میں اتفاق رائے ہو جائے گا جس سے عرب ممالک میں تشویش بڑھ جائے گی۔ (الفضل قادیان)

یاد رہے کہ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے ظالمانہ قیام کے موقع پر الفضل لاہور نے اس رؤیا کو مرزا محمود کے خدائی مامور اور سچے ملہم ہونے کے ثبوت میں پیش کیا (قادیان سے اسرائیل تک ص ۱۸۲)

خلاصہ یہ ہے کہ قادیانیوں نے روز اول سے آج تک مسلمانوں میں اٹھنے والی ہر اس تحریک کے خلاف سازش کی ہے جس سے انگریزوں اور یہودیوں کے مفادات کو زک پہنچتی ہو

ہندوستان میں انگریزی اقتدار کے زمانہ میں قادیانی جماعت کا سیاسی اثر و رسوخ

اس کا اجمالی نقشہ مجلس احرار کے رہنما چودھری افضل حق مرحوم نے اپنی مرتب کردہ روداد میں یوں کھینچا ہے ۔

صفحہ ۲۳

رد قادیانیت جزء

”انگریزی حکومت کی سب سے زیادہ حمایت قادیان کی جماعت کو حاصل تھی یہ تائید اتنی زیادہ تھی کہ اکثر سرکاری محکموں میں وہ بہت اثر و رسوخ کے مالک ہو گئے بعض جگہ تو سارا کا سارا ضلع ان کے اثر و رسوخ میں آ گیا لوگ حکومت کی تائید حاصل کرنے کے لیے قادیان کی تائید حاصل کرنا ضروری سمجھتے تھے ، محکمہ سی آئی ڈی تو الگ رہا ۔ قادیانی مرزائی حکومت کو تفصیلی خبریں پہنچاتے تھے ، حکومت وقت کے خلاف آزادی کی ہر آواز کو دبانے کے لیے اس جماعت کے افراد سب سے پیش پیش تھے اس لیے لوگ قادیانی آواز کو حکومت کی صدائے بازگشت سمجھتے تھے اور بے حد مخالف تھے ۔ یہ لوگ معمولی ایجی ٹیشنوں کو بڑھا چڑھا کر سرکار کے دربار میں بیان کیا کرتے تھے ۔ انتخابات میں حال یہ تھا کہ ہر امیدوار قادیان کی حمایت حاصل کرنا ضروری سمجھتا تھا ، جسے یہ تائید حاصل ہو گئی ۔ اسے گویا سرکاری تائید حاصل ہو گئی ۔ (تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء ص۱۸ و ص۱۹)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے تیسرے امیر اور سربراہ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ فرماتے ہیں کہ

”پاکستان بننے سے پہلے تو چونکہ مرزائی انگریزی اقتدار کے تا قیامت رہنے کا تصور کیے ہوئے تھے اور انگریز کی امداد سے مسلمانوں کو بزدل کرنے اور جذبہ جہاد ان کے دلوں سے نکالنے کا یقین رکھتے تھے اور انگریز کے اقتدار کو اپنا اقتدار اور مرزا کو سرکار برطانیہ کے لیے تعویذ سمجھے ہوئے تھے ، اس لیے حکومت پر قبضہ کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا بس انگریزی مقبوضات میں اپنے مذہب کی اشاعت اور انگریزی ہی کی مدد سے انگریزی اقتدار کے اندر عہدوں اور اعزازات کی کوشش کافی سمجھی جا رہی تھی ،،

انگریزی حکومت کے زوال کے بعد قادیانیوں کی سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے

لیے دوڑ دھوپ

لیکن خلاف توقع جب انگریزی اقتدار کا زوال نظروں کے سامنے آیا ، تو مرزائی حلقوں سے ایسی ایسی باتیں کہنی اور کرنی شروع ہوئیں ، جیسے کہ دماغی توازن قائم نہ رہنے کی شکل میں

صفحہ ۲۴

رد قادیانیت جز

ہوتا ہے ، مثلاً کبھی احرار اور لیگ کی رقابت دیکھ کر لیگ کے اندر گھس کر اس کی ہاں میں ہاں ملائی کبھی جواہر لال کا استقبال کرنے لگے ، اکھنڈ بھارت کی رویا (وحی) نازل ہونے لگی، کبھی جاتے ہوئے انگریز سے غلط امید کی بنیاد پر اپنی انفرادیت اور مستقل یونٹ جتانے کے لیے باؤنڈری کمیشن کے سامنے بے ضرورت اور بلا دعوت حاضر ہونا (کہ شاید کوئی علیحدہ گھر بچاؤ کے لیے انگریز دے جائے)

بہرحال پاکستان بننے کے بعد مرزائیوں کو اپنی کرتوتوں ، فتووں اور انٹی اسلام حرکتوں کا تصور اور دوسری طرف علماء اسلام کی قوت بیداری عمل اور پاکستان میں اسلامی آئین اور اس کے نتائج کا خیال پریشان کر رہا تھا اس لیے ان کے سامنے تین ہی راستے تھے ،

اور اسلامی آئین کے خطرات کے پیش نظر مرزائیوں کے اطمینان کے واسطے ایک یہ امر ضروری تھا کہ علماء دین کا وقار ختم کیا جائے جس سے اسلامی آئین کا مطالبہ بھی کمزور ہو گا اور انٹی قادیانی تحریک بھی بے اثر ہو جائے گی ، چنانچہ تمام مرزائی اور مرزائی اخبارات علماء دین کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے وقف ہو گئے اور مرزائی نواز افسروں نے بھی حصہ لیا دوسرا امر یہ ضروری تھا کہ پاکستان میں اتنا سیاسی اقتدار حاصل کر لیا جائے جس کے بعد ہم اطمینان سے اپنی من مانی کارروائی کر سکیں ، مرزائیت کا بول بالا ہو اور مسلمانوں کا گلا دبا دیا جائے پھر تمام دنیا میں اصل اسلام یعنی مرزائیت کا راج ہو ۔ پاکستان کے ذریعہ تمام اسلامی ممالک میں روحانی پیشوائی اور اسلام کی واحد اجارہ داری کا ڈنکا بجایا جائے ۔

سیاسی اقتدار کے حصول کی دو شکلیں

مختلف محکمہ جات اور خاص کر ریل ، فوج ، اور ہوائی جہازوں میں پورا تسلط ہو ، مسلمان ملازمت کے لیے مرزائی افسروں کے محتاج ہوں ،

صفحہ ۲۵

ردّ قادیانیت جزء

جس مخالف قادیانی فرد یا جماعت کو چاہیں دبا سکیں ۔

سیاسی اقتدار کی دونوں شکلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مرزائیوں نے خوب کام کیا حتیٰ کہ خلیفہ کو اعلان کرنا پڑا کہ اب بعض اہم محکمہ جات میں بھرتی کی ضرورت نہیں ، وہاں کافی تعداد ہو چکی ہے ، اب دوسرے محکمہ جات پر زیادہ توجہ کی جائے اسی طرح حکومت پر اتنے اثرات قائم کئے گئے کہ مرزائی افسر یا وزیر جو چاہیں کریں کوئی باز پرس نہ کرے ، نہ کوئی جواب طلب ہو نہ محکمانہ کارروائی ہو ، اور نہ عام مرزائیوں کی خلاف قانون حرکات پر نوٹس لینے یا کارروائی کرنے کا سوال پیدا ہو جیسا کہ بہت سی شہادتوں سے ثابت ہے ۔

وزیر خارجہ پاکستان سر ظفر اللہ خاں قادیانی نے ہزاروں ایکڑ زمین قادیانی دارالخلافہ

کے لیے دلوا دی

پہلا راستہ (یعنی علیحدہ قادیانی ریاست کی خواہش) اگرچہ پوری طرح ہموار نہیں ہوا لیکن سر ظفر اللہ خاں قادیانی (جو انگریز کی سفارشات کے خصوصی دخل کی وجہ سے پاکستان کا وزیر خارجہ بن گیا تھا) اس سے فائدہ اٹھا کر خلیفہ محمود نے انگریز گورنر موڈی سے کہا کہ جاتے تو ہو ہمیں مستقل اڈہ بنا کر دے جاؤ ازلی بہی خواہوں کو سہارا دو ۔

چنانچہ قادیانیوں کے آقا و سرپرست انگریز نے اپنے خود کاشتہ پودے کی نگہداشت کا فریضہ انجام دیا اور پنجاب کے گورنر موڈی نے جاتے جاتے قادیانیوں کو ضلع جھنگ میں ہزاروں ایکڑ زمین برائے نام قیمت پر یعنی تقریباً مفت دیکر مرزائی دارالخلافہ کی بنیاد ڈالی ، جس پر تمام مسلمانوں نے احتجاج بھی کیا ۔ مقامی افسروں کو ہدایت کی گئی کہ اس دارالخلافہ میں مرزائیوں کے سوا کوئی مسلمان نہیں رہ سکتا ۔

اس طرح تقسیم کے بعد قادیانی فتنہ کا نیا اور وسیع و عریض مرکز قائم ہو گیا جو اپنے جغرافیائی حدود کی وجہ سے خاص اہمیت کا حامل ہے جس کی بنا پر حساس و دور بین حضرات کو خدشات ہیں کیوں کہ یہ دارالخلافہ ”ایک طرف دریائے چناب سے محفوظ ہے دوسری طرف چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں اس کی حفاظت میں مدد دے سکتی ہے ، اس طرح نازک وقت میں

صفحہ ۲۶

رد قادیانیت حصہ

ان کو اس کی حفاظت آسان ہو جاتی ہے اور اگر ضلع سرگودھا اور جھنگ میں وہ اپنی عوامی طاقت میں معمولی اضافہ کر لیں جو مسلح بھی ہو تو وہ وہاں ایک آزاد اسٹیٹ کا کسی وقت اعلان کر سکتے ہیں

(تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء از صفحہ ۳۷۵ تا ۳۷۹، اختصاراً)

قادیانیوں کے یہی وہ خطرناک سیاسی عزائم تھے جن کو پاکستان بننے کے بعد ہی سے علماء دین اور حساس مسلمانوں نے بھانپ لیا تھا جس کے نتیجہ میں وہاں اولاً ۱۹۵۳ء میں قادیانیوں کے خلاف زبردست تحریک چلی جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق دس ہزار مسلمانوں نے پاکستانی فوج (جس میں مرزائی بکثرت گھس گئے تھے) کے ہاتھوں جام شہادت نوش کیا۔ پھر ۱۹۷۴ء میں دوبارہ یہ تحریک چلی اور آخر کار پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت ہونے کا قانون پاس کر دیا۔ اور ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء میں جنرل ضیاء الحق مرحوم کے زمانہ میں امتناع قادیانیت آرڈیننس نافذ ہو گیا، جس کے بعد قادیانیوں کو اس امر کی اجازت نہیں ہے کہ اپنے مذہب کو اسلام کے نام سے یاد کریں۔ یا کلمہ طیبہ و دیگر اسلامی شعائر کے الفاظ اپنے مذہبی امور کے لیے استعمال کریں، اس آرڈیننس کے بعد قادیانیوں کا موجودہ سربراہ مرزا طاہر احمد پاکستان سے لندن فرار ہو گیا اور آج کل اپنے قدیم محسن انگریز کے سایہ عاطفت میں پناہ لیے ہوئے ہے اور وہیں سے اپنا شیطانی مشن چلا رہا ہے ۔ جو لوگ عالم اسلام بالخصوص پاکستانی سیاست کا گہری نظر سے مطالعہ کرتے رہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ”انسانی حقوق کی پامالی“ کا رونا رو کر قادیانی آج بھی پاکستان پر انگریز۔ امریکہ کے اثرات سے فائدہ اٹھا کر نہ صرف یہ کہ اپنی خفت مٹانا چاہتے ہیں بلکہ اپنا سیاسی اقتدار مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان تو صرف ایک اسلامی مملکت ہے کوئی مقدس مقام نہیں ہے۔ قادیانیوں کے ناپاک سیاسی عزائم اور خواہشات تو مرکز اسلام مکہ مکرمہ سے بھی وابستہ ہیں ۔

چنانچہ مرزا بشیر الدین محمود نے خطبہ جمعہ میں بیان کیا تھا :

” بچپن سے میرا خیال ہے جس کا میں نے دوستوں سے بار ہا ذکر بھی کیا ہے کہ میرے نزدیک احمدیت کے پھیلنے کے لیے اگر کوئی مضبوط قلعہ ہے تو مکہ مکرمہ ہے دوسرے درجہ پر پورٹ سعید، اگر کوئی شخص وہاں چلا جائے تو ساری دنیا میں

صفحہ ۲۷

ردّ قادیانیت جز

احمدیت کو پہنچا سکتا ہے وہاں سے ہر ایک ملک کو جہاز گزرتا ہے، ٹریکٹ تقسیم کیے جائیں اس طرح ایسے ایسے علاقوں میں حضرت صاحب (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام پہنچ جائے جہاں ہم مدتوں نہیں پہنچ سکتے، مکہ مکرمہ سب سے بڑا مقام ہے وہاں کے لوگ ہمارے بہت کام آسکتے ہیں۔

(خطبہ جمعہ مرزا محمود قادیانی، اخبار الفضل قادیان ۴؍ جولائی ۱۹۴۱ء، بحوالہ احتساب قادیانیت ص ۱۴)

مکہ مکرمہ میں مشن کی تجویز

مرزا محمود قادیانی نے سالانہ جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ”مکہ میں (قادیانی) مشن کی تجویز ہے، ایک دوست نے وعدہ کیا ہے کہ اگر مکہ میں مکان لیا جائے تو وہ پچیس ہزار روپے مکان کے لیے دیں گے پس شیطان کے مقابلہ میں پوری طاقت سے کام لیں اور میری اس نصیحت کو خوب یاد رکھیں،

(تقریر جلسہ سالانہ اخبار الفضل قادیان ۸؍ جنوری ۱۹۴۶ء، بحوالہ احتساب قادیانیت ص ۱۷)

مرزا بشیر الدین محمود کی اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے چند مرزائی سر ظفر اللہ خاں کی قیادت میں حج بیت اللہ کے موقع پر ۱۹۶۷ء میں حجاز مقدس پہنچ گئے۔ حج تو محض بہانہ تھا، اصل مقصد مرکز اسلام میں قادیانی لٹریچر کی تقسیم و اشاعت اور مسلمانان عالم میں ارتداد پھیلانا تھا، چنانچہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اس گروہ نے اپنا لٹریچر تقسیم کیا، اس نازیبا حرکت پر مسلمانان مرکز اسلام اس قدر مشتعل ہوئے کہ مکہ مکرمہ کے مشہور روزنامہ ”الندوہ“ نے اپنی اشاعت ۱۸؍ اپریل ۱۹۶۷ء میں ”ماهي القاديانيه“ کے زیر عنوان چھ کالمی سرخی جمائی اور کفر مرزا غلام احمد قادیانی اور تردید عقائد مرزائیہ پر طویل مقالہ شائع کیا ۔

اس افسوسناک واقعہ پر پاکستان میں بھی شدید اشتعال ہوا، اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے ۱۵؍ صفر ۱۳۸۷ھ بروز جمعہ کو یوم احتجاج منایا گیا، جس پر لاکھوں خطوط اور ہزاروں تار سفارتخانہ سعودی عرب کے ذریعہ شاہ فیصل تک پہنچائی گئیں تجویز کا مضمون یہ تھا،

”آپ کی حکومت نے ظفر اللہ قادیانی کو حج کے دنوں میں دیار مقدس میں داخلہ کی اجازت دے کر امت کے اجتماعی فیصلہ سے انحراف کیا ہے جس پر ہم شدید احتجاج کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ آئندہ کسی قادیانی کو داخلہ حرمین شریفین

صفحہ ۲۸

رد قادیانیت جز

کی اجازت نہ دی جائے قادیانی باجماع امت دائرہ اسلام سے خارج ہیں ،

(احتساب قادیانیت ص ۱۵)

رابطہ عالم اسلامی کی تاریخی قرار داد

رابطہ کے ماتحت مکہ مکرمہ میں ۱۴۰ ممالک اسلامیہ کی تقریباً ۱۴۰ تنظیموں کی عظیم الشان کانفرنس منعقدہ ۶ تا ۱۰ اپریل ۱۹۷۴ء میں فتنۂ قادیانیت کے مذہبی و سیاسی پہلو پر مکمل غور و خوض کے بعد اس کے اسلام دشمن اثرات کو زائل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل تاریخی قرار داد منظور کی گئی ۔

قادیانیت نے ہمیشہ استعمار اور صیہونیت سے مل کر اسلام دشمن طاقتوں سے تعاون کیا ہے قادیانیت کی اسلام دشمنی ان چیزوں سے واضح ہے (۱) مرزا غلام احمد کا دعویٰ نبوت (۲) قرآنی نصوص میں تحریف کرنا (۳) جہاد کے باطل ہونے کا فتویٰ دینا ۔ لہٰذا

مقامات میں جہاں وہ سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہیں ، ان کا محاسبہ کریں اور اس کے پھیلائے ہوئے جال سے بچنے کے لیے عالم اسلام کے سامنے ان کو پوری طرح بے نقاب کیا جائے

بائیکاٹ کیا جائے اور ان کے کفر کے پیش نظر ان سے شادی بیاہ کرنے سے اجتناب کیا جائے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہ کیا جائے ۔

قرآن کا شمار کر کے لوگوں کو اس سے متنبہ کیا جائے اور ان تراجم کی ترویج کا سدّ باب کیا جائے ۔

روزنامہ الندوہ (سعودی عرب ۱۴ اپریل ۱۹۷۴ء )

صفحہ ۲۹

ردّ قادیانیت حصہ

ایک بڑی غلط فہمی کا ازالہ

آپ یہ نہ سمجھیں کہ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کی کانفرنس نے (اپریل ۱۹۷۴ء) میں یا پاکستان کی قومی اسمبلی نے ستمبر ۱۹۷۴ء میں قادیانی گروہ کے کفر و ارتداد و زندقہ کا جو فیصلہ کیا تھا وہ کوئی پہلا اور نیا فیصلہ تھا جیسا کہ قادیانی گروہ کی طرف سے یہ غلط فہمی بہت پھیلائی جاتی ہے جس سے متاثر ہو کر بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی جو قادیانیت پر مکمل مطالعہ نہیں رکھتے کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو پاکستانی مسئلہ ہے ، ہرگز نہیں بلکہ یہ پورے عالم اسلام بلکہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے ، ہمارے اسلاف و مشائخ نے شروع ہی سے قادیانی فتنہ کو پورے دین اور پوری امت کا مسئلہ سمجھا ہے اور وہ دونوں کی حفاظت کے لیے مردانہ وار میدان میں نکل آئے ہیں ، اس تاریخی حقیقت کو اختصار کے ساتھ ذہن نشیں کرانے کے لیے ہم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ العالی کی تحریر کا ایک اقتباس نقل کرتے ہیں موصوف فرماتے ہیں :

”اس فتنہ کا ادراک سب سے پہلے سید الطائفہ قطب العالم حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کو ہوا ، اور منکرین ختم نبوت کے خلاف کفر کا فتویٰ سب سے پہلے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ بانی دارالعلوم دیوبند نے تحذیر الناس میں دیا ، حضرت حاجی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہر عارف کو اس کے علوم و معارف کی ترجمانی کے لیے ایک لسان عطا کی جاتی ہے جیسا کہ حضرت شمس تبریز کی لسان مولانا رومی تھے اور پھر فرماتے تھے کہ ”میری لسان مولانا محمد قاسم ہیں جو علوم میرے قلب پر وارد ہوتے ہیں مولانا قاسم انکو کھول کھول کر بیان فرما دیتے ہیں ،، اس لیے کہنا چاہیے کہ حضرت نانوتویؒ کا یہ فتویٰ حضرت حاجی صاحبؒ کے قلب صافی کا پرتو تھا۔ اس طرح فتنۂ قادیانیت کی تردید کی تحریک کا آغاز حضرت حاجی صاحبؒ اور ان کی لسان علوم و معارف حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے مبارک ہاتھوں سے ہوا اور ان کے بعد ان کے جانشینوں نے اس تحریک کو جاری رکھا ۔

صفحہ ۳۰

ردّ قادیانیت جزء

حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی ذات گرامی ”واسطۃ العقد“ تھی

اس فتنہ کے استیصال کے لیے یوں تو بہت سے اکابر نے زریں خدمات انجام دیں جس کی تفصیل کے لیے فرصت درکار ہے، لیکن جس شخصیت کو اس دور کی قیادت و امامت تفویض ہوئی اور جسے حضرت بنوریؒ کے الفاظ میں ”واسطۃ العقد“ کہنا چاہیے، وہ امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی ذات گرامی تھی ۔

حضرت شاہ صاحبؒ کی بے قراری

حضرت شاہ صاحبؒ کو قادیانی فتنہ نے کس قدر بے قرار کر رکھا تھا بہتر ہو گا کہ ہم یہ روئداد بزبانِ حضرت (مولانا یوسف) بنوریؒ سے سنیں،

”امت کے جن اکابر نے اس فتنہ کے استیصال کے لیے محنتیں کی ہیں ان میں سب سے امتیازی شان حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری دیوبندیؒ کو حاصل تھی ، اور دارالعلوم دیوبند کا پورا اسلامی اور دینی مرکز انہی کے انفاس مبارکہ سے اس شجرہ خبیثہ کی جڑوں کو کاٹنے میں مصروف رہا، قادیانیوں کے شیطانی وساوس اور زندیقانہ دسائس کا امام العصر نے جس طرح تجزیہ کر کے ان پر تنقید کی اس کی نظیر عالم اسلام میں نہیں ملتی، حضرت مرحوم نے خود بھی گراں قدر علوم و حقائق سے لبریز تصانیف رقم فرمائیں اور اپنے تلامذہ ، مدرسین دیوبند سے بھی کتابیں لکھوائیں اور ان کی پوری نگرانی واعانت فرماتے رہے ۔ میں نے حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے کہ ”جب یہ فتنہ کھڑا ہوا تو چھ ماہ تک مجھے نیند نہیں آئی اور یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ کہیں دین محمدی (علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام) کے زوال کا باعث یہ فتنہ نہ بن جائے ،، فرمایا ”چھ ماہ کے بعد دل مطمئن ہو گیا کہ انشاء اللہ دین باقی رہے گا اور یہ فتنہ مضمحل ہو جائے گا“ ــــــــــ میں نے اپنی زندگی میں کسی بزرگ اور عالم کو اتنا درد مند نہیں دیکھا جتنا کہ حضرت امام العصر کو ، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دل میں ایک زخم ہو گیا ہے جس سے ہر وقت خون ٹپکتا رہتا ہے جب مرزا کا نام لیتے تو فرمایا کرتے تھے ”لعین بن اللعین لعین قادیانی“ اور آواز میں ایک عجیب درد کی کیفیت محسوس ہوتی تھی فرماتے تھے کہ ”لوگ کہیں گے کہ یہ گالیاں دیتا ہے فرمایا کہ ہم اپنی نسل کے سامنے اپنے اندرونی درد دل کا اظہار کیسے کریں ہم اس طرح قلبی نفرت اور غیظ

صفحہ ۳۱

رد قادیانیت جز وغضب کے اظہار پر مجبور ہیں ، (پیش لفظ مولانا محمد یوسف بنوری خاتم النبیین (فارسی) اردو ایڈیشن ص۲۲) قادیانیت کے خلاف یہی درد سوز یہی بے چینی یہی بے قراری اور یہی غیظ و غضب حضرت بنوریؒ کو اپنے شیخ انورؒ سے وراثت میں ملا تھا (اشاعتِ خاص ماہنامہ بینات کراچی ص۲۹۳ تا ص۲۹۵ بیاد محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ محرم تا ربیع الاول ۱۳۹۸ھ) _______ آپ سن چکے ہیں کہ برطانوی اقتدار کے زوال کے بعد اس فتنہ کی سرگرمیاں کافی حد تک کم ہو گئی تھیں اس لیے ہندوستانی علماء و دانشوروں نے اس موضوع سے صرف نظر کر لیا تھا اور مسلمانوں کی دوسری تعلیمی و تعمیری خدمات میں مشغول ہو گئے تھے لیکن ۱۹۸۴ء میں پاکستان میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا اور ان کا موجودہ سربراہ مرزا طاہر لندن فرار ہو گیا تو قادیانی گروہ نے پھر ہندوستان کا رخ کیا اور قادیانیت کے تنِ مردہ میں جان ڈالنے کی کوشش شروع کر دی اور پورے ملک میں مختلف خوبصورت عنوانات سے جلسے اور کانفرنسیں کر کے بزعمِ خود بے روک ٹوک اپنے زندقہ کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہو گیا ۔

موجودہ اکابر دارالعلوم کا قادیانی تعاقب کے سلسلہ میں تاریخی کارنامہ

اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس فتنہ کے دوبارہ سر اٹھانے کا بروقت ادراک موجودہ اکابر دارالعلوم دیوبند کو ہوا جو اپنے اکابر مرحومین سے قادیانی فتنہ کے بارے میں اسی درد و سوز اور بے چینی و بے قراری کے وارث ہیں _______ چنانچہ پورے ملک کے علماء و عوام میں قادیانی فتنہ کے خلاف بیداری کی مہم چلانے کے لیے مؤقر ارکانِ مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند نے تحفظ ختمِ نبوت کے عنوان پر ایک عالمی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پاس کی آخر کار اکتوبر ۱۹۸۶ء میں سہ روزہ عالمی اجلاس تحفظ ختمِ نبوت دارالعلوم دیوبند میں منعقد ہوا جس کی مفصل روئداد اسی وقت آئینہ دارالعلوم ، رسالہ دارالعلوم اور الداعی میں شائع ہو چکی ہے ، اس موقع پر کل ہند مجلس تحفظ ختمِ نبوت کا قیام بھی عمل میں آیا جس کے صدر حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند اور ناظم اعلیٰ حضرت مولانا سعید احمد صاحب پالنپوری استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند منتخب ہوئے اور راقم الحروف کو ناظم مقرر کیا گیا ۔ اپنے روزِ قیام سے بفضلہ تعالیٰ کل ہند مجلس اپنے مقررہ خطوط پر مسلسل جو کام کر رہی ہے اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں بس اجمالاً یوں سمجھ لیجیے (۱) رجالِ کار کی تیاری کے لیے دو تربیتی کیمپ

صفحہ ۳۲

ردّ قادیانیت حصہ ؁۱۹۹۵ء و ؁۱۹۹۶ء میں دارالعلوم دیوبند میں لگائے جاچکے ہیں (۲) ان کے علاوہ گوہاٹی مدراس میل پالیم (تاملناڈ) الوای (کیرالا) اور بھاگلپور بنگلور وغیرہ میں بڑے بڑے تربیتی کیمپ لگائے جاچکے ہیں، (۳) خامنی متھرا ، اور روہتا (آگرہ) میں چیلنج کے باوجود قادیانی پنڈت اسلام کے مبلغین وعلماء کے سامنے آنے کی ہمت نہیں کرسکے۔ اس طرح میدان مناظرہ علمائے حق نے جیت لیا (۴) ہمارے مبلغین ورفقاء بہت سے ان مقامات پر پہنچ چکے ہیں جہاں قادیانی گروہ خفیہ طور پر اپنی ریشہ دوانیوں میں مصروف رہتا ہے اور بعض جگہ بالمشافہ قادیانی پنڈتوں سے گفتگو کی نوبت آچکی ہے جس میں قادیانی پنڈتوں کو راہ فرار اختیار کرنی پڑی ہے اور ان کے فریب سے مسلمان محفوظ ہوگئے (۵) دفتر کی طرف سے رد قادیانیت کے موضوع پر تقریباً ۵۰ کتب شائع ہوچکی ہیں (۶) ہزاروں کی تعداد میں لٹریچر تقریباً پورے ملک میں پھیلایا جاچکا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آپ حضرات بھی جاں نثار ناموس رسالت و پاسبان ختم نبوت کے اس مبارک کارواں میں شامل رہ کر امت مسلمہ کو عقیدہ ختم نبوت کی حقیقت سمجھاتے رہیں گے اور ہمیشہ و ہر جگہ قادیانی فتنہ کے تعاقب کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔

ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ واللہ ولی التوفیق ۔

PDF 73

تیسرا مُحاضرۂ علمیّہ

برمَوضوع

ردّ

قادِیَانِیَّت

پیش کردہ

حضرت مولانا قاری محمّد عثمان صَاحب منصُورپوری

استاذِ حَدِیث و ادب دارالعلوم دیوبند

طباعت :- شیروانی آرٹ پرنٹرز دہلی ۱۱۰۰۰۶۔ فون : 2943292

صفحہ ۲

فہرست مضامین

عنوان صفحہ عنوان صفحہ نبوت اور رسالت کیا ہے اور اسکی } ۴ مرزائی گروہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی گر مانتا ہے ۲۷ ضرورت کیوں ہے ؟ مذکورہ بالا آیت واحادیث میں قادیانیوں } ۲۸ نبوت ورسالت میں فرق ۶ کے ملحدانہ شبہات و مغالطے اور ان کے جواب عقیدہ ختم نبوت کی تشریح ۷ آیت خاتم النبیین میں قادیانی مغالطے ۲۹ آیات قرآنیہ سے ختم نبوت کا اثبات ۷ آیت بَلْ سے متعلق قادیانی مغالطہ ۳۳ شان نزول ۸ ختم نبوت کی احادیث میں قادیانی مغالطے ۳۵ ایک شبہ اور اس کا جواب ۹ قصر نبوت کی تکمیل والی حدیث سے متعلق } ۳۶ مفردات آیت کریمہ ۹ قادیانی مغالطہ لٰکن کی تحقیق ۱۰ وسیکون خلفاء فیکثرون سے متعلق قادیانی مغالطہ ۳۶ لام تعریف کی تحقیق ۱۰ کذابون ثلثون والی روایت سے متعلق } ۳۷ استغراق کی قسمیں ۱۱ قادیانی مغالطہ خاتم کی تحقیق ۱۱ مرزا قادیانی کیجانب سے نبوت کی ملحدانہ } ۳۸ آیت خاتم النبیین کے دونوں جملوں } ۱۳ تقسیم اور تحریف میں ربط کی تقریر حقیقی یا تشریعی نبی کی تعریف ۳۸ خلاصہ تفسیر آیت خاتم النبیین ۱۴ مستقل نبوت کا مفہوم ۳۸ بجائے خاتمہم کے خاتم النبیین فرمانے کا نکتہ ۱۵ ظلی اور بروزی نبوت کا مفہوم ۳۹ القرآن یفسر بعضہ بعضاً ۱۵ خلاصہ تحریرات سابقہ ۳۹ آیت خاتم النبیین کے علاوہ دیگر آیات سے } ۱۵ بروزی وظلی نبوت کے ثبوت کیلئے مرزائی } ۴۰ ختم نبوت کے اثبات کے طریقوں پر اجمالی نظر دلائل (تحریفات) کا اصولی وکلی جواب اکمال دین کا اعلان ۲۰ آیات قرآنیہ میں مرزائی تحریف ۴۱ احادیث مبارکہ سے ختم نبوت کا ثبوت ۲۲ احادیث نبویہ میں تحریفات مرزائیہ ۴۴ اجماع امت سے ختم نبوت کا ثبوت ۲۶ قادیانی گروہ کی طرف سے مسئلہ ختم نبوت } ۴۶ قادیانی گروہ کے خیال فاسد میں ختم نبوت کا مطلب ۲۶ پر اجماع امت کے سلسلہ میں مغالطہ انگیزی

صفحہ ۳

محاکمہ رد قادیانیت جزو ۳

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ ۔ (اَمَّا بَعْدُ)

آج کے محاضرے میں اسلامی عقائد میں سے ایک اہم اور بنیادی عقیدہ یعنی عقیدہ ختم نبوت سے متعلق گفتگو کرنی ہے۔ اگرچہ ضروریات دین میں سے ہونے کی وجہ سے یہ عقیدہ انتہائی بدیہی و قطعی مسئلہ ہے اور اس پر بحث کرنا ایک بدیہی چیز کو نظری بنانے کے مترادف ہے، جیسے نماز، روزہ و دیگر ارکان اسلام کی فرضیت کا عقیدہ ایک بدیہی ویقینی مسئلہ ہے جس پر کسی بحث و گفتگو کی ضرورت نہیں ہے، لیکن چونکہ تقریباً ایک صدی قبل، قادیان کے دہقان، مرزا غلام احمد قادیانی نام کے ایک ملحد شخص نے اس عقیدہ کے قطعی دلائل، آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں ملحدانہ شبہات ومغالطے پیدا کر کے اُمت محمدیہ میں تشتت وافتراق کی بنیاد ڈالی، اور دین اسلام کے متوازی ایک نئے دین ومذہب کو رواج دینے کی مذموم کوشش کی اور اپنی لمبی لمبی تصنیفات واشتہارات وغیرہ کے ذریعہ اپنے گمراہ کن ارتدادی نظریات کا مختلف پیرایوں سے بار بار اظہار کیا، پھر لقمہ اجل ہو جانے کے بعد اسکے پیروکاروں نے اس کے کفریہ عقائد ودعاوی کی تائید واشاعت کے لئے طویل وعریض لٹریچر کے علاوہ دیگر ذرائع ابلاغ کو اختیار کر کے تلبیسات کا سلسلہ آج تک قائم کر رکھا ہے، اس لئے علمائے اسلام کو عموماً اور علماء ہند کو خصوصاً اس مسئلہ پر مفصل بحث کرنی پڑی ہے تاکہ قادیانی زیغ وضلال اور کفر وارتداد مکمل طور پر طشت از بام ہو جائے اور عام مسلمان قادیانی دھوکہ میں آکر اپنے دین وایمان کی بے بہا دولت سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔

اس بحث میں دو بنیادی مسئلے آتے ہیں۔

صفحہ ۴

محاصرہ قادیانیت ۴ جزء ۳

جہاں تک دوسرے مسئلے کا معاملہ ہے تو اسکی تکذیب و تردید کے لئے کسی طویل بحث و استدلال کی ضرورت نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی مدعی نبوت کو ہمیشہ اُمتِ محمدیہ نے کذاب ہی سمجھا ہے۔ علاوہ ازیں کوئی صحیح الدماغ انسان ، مرزا قادیانی کے انتہائی گرے ہوئے کریکٹر کو جان لینے کے بعد (جسکی ہلکی سی جھلک پہلے محاضرہ میں آچکی ہے) اس کو شریف اور مہذب انسان بھی قرار نہیں دیگا۔ چہ جائیکہ اس کو کسی قسم کا نبی قرار دے ، (نعوذ باللہ من ذالک)

البتہ پہلے مسئلہ کا فیصلہ کرنے کیلئے تفصیلی بحث و استدلال مناسب ہے ، اس سلسلہ میں پہلے یہ معلوم ہونا چاہئیے ۔ کہ

نبوت و رسالت کیا ہے

اور اسکی ضرورت کیوں ہے؟

اس کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ خالقِ کائنات جل مجدہٗ نے اپنی مخلوقات میں سے خصوصاً انسان اور جن کو صاحبِ عقل و شعور بنایا ہے اور ان کی تمام ضروریاتِ زندگی مہیا فرمائی ہیں، منجملہ ان کے یہ بھی ہیکہ دنیا میں رہتے ہوئے جب انہیں جسمانی و روحانی امراض لاحق ہوں تو ان کے ازالہ کی تدابیر سمجھائی جائیں۔

روحانی امراض میں سب سے بڑا اور بنیادی مرض یہ ہے کہ مکلفین اپنے مقصدِ تخلیق سے غافل ہو جائیں ، چنانچہ قرآن کریم میں توبیخاً خطاب فرمایا گیا ہے ۔

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثاً وَّ | سو کیا تم خیال رکھتے ہو کہ ہم نے تم کو بنایا اَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ ۔ | کھیلنے کو اور تم ہمارے پاس پھر کر نہ آؤگے۔ سورة المؤمنون ع ١١ (شیخ الہندؒ)

پھر دوسرے مقام پر حق تعالےٰ نے انسان وجنات کا مقصدِ تخلیق بطریقِ حصر بیان

صفحہ ۵

محاضرہ رد قادیانیت ۵ حصّہ

فرمایا ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا اور میں نے جو بنائے جن اور آدمی سو اپنے لِيَعْبُدُوْنِ بندگی کو ۔ سورہ الذاریات ۵۶

(شیخ الہندؒ)

اب سوال یہ ہے کہ عبادت خداوندی کا طریقہ کیا ہے؟ اگر اس معاملہ کو مکلفین کی ناقص عقل کے حوالہ کر دیا جائے تو وہ باری تعالیٰ کی مرضیات کے موافق فریضۂ عبادت کی انجام دہی نہیں کر سکتے، لہٰذا رحیم و کریم پروردگار عالم نے اس مشکل کو بھی حل فرما دیا، چنانچہ حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو مع ان کی ذریّت مقدّرہ کے حکم ہوا ۔

اِهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيْعًا فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ نیچے جاؤ یہاں سے تم سب، پھر اگر تم کو پہنچے مِنِّيْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو چلا میری ہدایت خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ۔ پر نہ خوف ہوگا اُن پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ سورۃ بقرہ ۳۸

(شیخ الہندؒ)

حاصل یہ ہے کہ یہ امر تکوینی ہے، تم سب زمین پر جاؤ، وہاں میری طرف سے ہدایت و رہنمائی کا سامان ملے گا، تمہارا کام صرف راستہ پر چلنا ہو گا، راستہ بتانے کا کام تم سے متعلق نہیں ہو گا ارشاد فرمایا گیا ۔

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا اور حکم کیا کہ یہ راہ ہے میری سیدھی ۔ سو فَاتَّبِعُوْهُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ اس پر چلو اور مت چلو اور راستوں پر کہ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ وہ تم کو جدا کر دیں گے، اللہ کے راستہ سے ۔ (انعام ۱۵۳) ÷

پھر چونکہ ہر شخص میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ براہ راست باری تعالیٰ سے اُسکی مرضیات و نامرضیات کا علم حاصل کر سکے اسلئے باری تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس صراط مستقیم کی نشاندہی کرانے کے واسطے انسانوں میں ہی سے کچھ نفوس قدسیہ کا انتخاب فرمایا جن کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ بشریّت سے منسلخ ہو کر ملاءِ اعلیٰ میں پہنچیں، اور اس

صفحہ 6

محاضرہ رد قادیانیت حصہ

حالت میں جو علوم ملا اعلیٰ سے ان پر القاء ہوتے ہیں ان کو عام بندگان خدا تک پہنچا دیں ۔ جس سے ان کی دنیوی و اُخروی فلاح وابستہ ہے ، باری تعالیٰ کی جانب سے اس انتخاب کا نام شریعت کی اصطلاح میں نبوّت ہے اور اس منصب کے حاملین کو نبی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔

نبوّت ورسالت میں فرق

ان حضرات میں سے جن کو نئی شریعت یا نئی کتاب ملی ہو ان کو رسول کہا جاتا ہے اور ان کے منصب کو رسالت کہا جاتا ہے۔ چنانچہ کشاف اصطلاحات الفنون میں ہے۔

اَلرِّسَالَةُ فِی الشَّرِيْعَةِ بَعْثُ اللّٰهِ شریعت میں رسالت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تَعَالٰى اِنْسَانًا اِلَى الْخَلْقِ بِشَرِيْعَةٍ تعالیٰ کسی انسان کو شریعت دے کر مخلوق کیجانب سَوَاءٌ أُمِرَ بِتَبْلِیْغِهَا أَوْ لَا ، وَيُسَاوِيْهَا بھیجے خواہ اسکی تبلیغ کا حکم فرمایا گیا ہو یا نہ فرمایا النُّبُوَّةُ وَقَدْ تَخْتَصُّ الرِّسَالَةُ گیا ہو ، اور نبوت کے بھی یہی معنی ہیں ، اور کبھی بِالتَّبْلِيْغِ أَوْ بِنُزُوْلِ جِبْرَئِيْلَ عَلَيْهِ رسالت کے مفہوم میں یہ قید لگائی جاتی ہے کہ السَّلَامُ أَوْ بِكِتَابٍ أَوْ بِشَرِيْعَةٍ رسول کو تبلیغ کا حکم ہوتا ہے یا جبرئیل کا اس پر جَدِيْدَةٍ أَوْ بِعَدَمِ كَوْنِهِ مَأْمُوْرًا نزول ہوتا ہے یا نئی کتاب یا نئی شریعت اس کو بِمُتَابَعَةِ شَرِيْعَةِ مَنْ قَبْلَهُ مِنَ دی جاتی ہے یا وہ اپنے سے پہلے نبی کی شریعت الْاَنْبِيَاءِ وَ بِالْجُمْلَةِ فَالرَّسُوْلُ اِمَّا کے اتباع کا مامور نہیں ہوتا ، خلاصہ یہ کہ ایک مُرَادِفٌ لِلنَّبِیِّ ، وَاِلَيْهِ ذَهَبَ جماعت کی رائے یہ ہے کہ رسول اور نبی مترادف جَمَاعَةٌ وَاِمَّا اَخَصُّ مِنْهُ كَمَا الفاظ ہیں ، اور ایک جماعت کی رائے ہے کہ ذَهَبَ اِلَيْهِ جَمَاعَةٌ أُخْرٰى - رسول خاص اور نبی عام ہے۔

(کشاف اصطلاحات الفنون ۵۸۴/۱)

آغاز سلسلۂ نبوت و رسالت میں حضرات انبیاء علیہم الصّلوٰۃ والسّلام ، انسانوں کو دنیا

صفحہ 7

محاضرہ رد قادیانیت حصہ

میں رہنے سہنے اور گرمی سردی سے بچنے، کھیتی وغیرہ کرنے کے طریقے بھی سکھلایا کرتے تھے۔ نیز جسم میں کوئی بیماری پیدا ہو تو کون سی جڑی بوٹی سے اس کا ازالہ ہوگا۔ یہ بھی بتایا کرتے تھے۔ حجۃ الاسلام امام غزالیؒ اپنی کتاب ”المنقذ من الضلال“ میں فرماتے ہیں۔ فلاسفہ نے علم طب اور علم نجوم کو انبیاء سابقین علیہم السلام کی کتابوں سے چرایا ہے اور دواؤں کے خواص جنکے ادراک سے عقل قاصر ہے انبیاء کرام علیہم السلام کے صحیفوں اور کتب منزلہ من السماء سے اقتباس کیا ہے،

(علم الکلام ص ۱۲۹ از مولانا ادریس صاحب کاندھلویؒ)

عقیدۂ ختم نبوت کی تشریح

اس عقیدہ کا حاصل یہ ہے کہ مکلفین (جن و انس) کی رشد و ہدایت کے واسطے باری تعالیٰ نے بعثت انبیاء کا جو سلسلہ ابوالبشر حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے شروع فرمایا تھا، اس کو آقائے نامدار سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر مکمل فرما دیا ہے۔ اب قیامت تک کسی کو یہ منصب دے کر دنیا میں نہیں بھیجا جائے گا۔

عقیدۂ ختم نبوت تقریباً ایک سو آیات قرآنیہ اور دو سو سے زائد احادیث نبویہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام، اور اجماع امت سے ثابت ہے، چوتھے درجہ میں اگرچہ قیاس بھی شرعی حجت ہے، لیکن اس موقع پر اسکا تذکرہ اسلئے نہیں کیا جاتا کہ قیاس سے عقیدہ کا اثبات نہیں ہو سکتا، دوسرے یہ کہ قیاس فقہی کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جبکہ اس معاملہ کا حکم قرآن و حدیث میں صراحتاً مذکور نہ ہو اور نہ صحابہ کا اس پر اجماع ہوا ہو۔

بہر حال حالیہ محاضرہ میں عقیدۂ ختم نبوت کے مثبت تینوں قسم کے دلائل میں سے بعض دلائل پیش کئے جاتے ہیں اور اس سلسلہ کا آغاز آیات قرآنیہ سے کیا جاتا ہے۔

آیات قرآنیہ سے ختم نبوت کا اثبات

رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ۔ (الاحزاب ع ۴)

محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا، اور مہر سب نبیوں پر۔

(شیخ الہندؒ)

صفحہ ۸

محاضرہ رد قادیانیت ۸ حصہ

یہ آیت کریمہ بطور عبارۃ النص کے مسئلہ ختم نبوت پر دلالت کرتی ہے، جس کی تفصیل کے لئے اسکے شانِ نزول، اور دونوں جملوں کے باہمی ربط وغیرہ کو سمجھنا ضروری ہے۔

شان نزول

اس آیت کریمہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ایک قبیح رسم یہ جاری تھی کہ متبنیٰ (لے پالک) کو بالکل حقیقی و صلبی بیٹے کے برابر سمجھتے تھے، اس کو بیٹا کہہ کر پکارتے تھے مرنے کے بعد اس کو وراثت میں شریک کرتے تھے نسبی بیٹے کی طرح اس کے مرجانے یا طلاق دینے کے بعد باپ کیلئے متبنیٰ کی بیوی سے نکاح حرام قرار دیتے تھے۔ اس قبیح رسم کی چند خرابیاں یہ تھیں۔ (۱) نسب میں اختلاط (۲) غیر وارث شرعی کو وارث بنانا (۳) ایک شرعی حلال کو اپنی طرف سے حرام قرار دینا۔ قرآن کریم نے اس رواج کی اصلاح کیلئے اولاً قولی طریقہ اپنایا اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔

وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَاءَ كُمْ اَبْنَاءَ كُمْ ط ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ ط وَاللّٰهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِى السَّبِيْلَ ط اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَائِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ (الاحزاب ۴، ۵)

اور نہیں کیا تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے یہ تمہاری بات ہے اپنے منہ کی اور اللہ کہتا ہے ٹھیک بات، اور وہی سُجھاتا ہے راہ، پکارو لے پالکوں کو ان کے باپ کی طرف نسبت کر کے یہی پورا انصاف ہے اللہ کے یہاں۔ (شیخ الہندؒ)

اس سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا لے پالک بنا رکھا تھا اور اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے ان کا نکاح فرما دیا تھا۔ لیکن جب باہم نباہ نہیں ہوسکا اور آخر کار حضرت زید بن حارثہؓ نے حضرت زینبؓ کو طلاق دیدی تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے بحکم خداوندی حضرت زینبؓ سے اپنا نکاح فرمالیا تا کہ عملی طور پر بھی یہ قبیح رسم اور اس کے اثرات مٹ جائیں۔ چنانچہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔

فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَيْلاَ يَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٌ

(ترجمہ) پھر زید تمام کر چکا اس عورت سے اپنی غرض ہم نے اس کو تیرے نکاح میں دے دیا تا کہ

صفحہ 9

محاصرہ رد قادیانیت ٩ حصہ

فِيْ اَزْوَاجِ اَدْعِيَاءِ هِمْ اِذَا قَضَوْا نہ رہے مسلمانوں پر گناہ ، نکاح کرلینا جو وہ لیں مِنْهُنَّ وَطَرًا ، وَكَانَ اَمْرُ اللهِ اپنے لے پالکوں کی جب وہ تمام کرلیں ان سے مَفْعُوْلاً (الاحزاب ع ٤) اپنی غرض اور ہے اللہ کا حکم بجالانا (شیخ الہندؒ)

اس واقعہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کفار و مشرکین عرب اور منافقین کی طرف سے اعتراضات کی بوچھاڑ ہوگئی کہ " لو اس نبی کو دیکھو کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کر بیٹھے ۔

ان طعنوں اور تشنیعوں کے جواب میں زیر بحث آیت کریمہ نازل ہوئی ، جسمیں فرمایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی مرد کے بھی باپ نہیں لہٰذا زید بن حارثہ رض کے بھی باپ نہیں ، تو ان کی مطلقہ بیوی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح پر یہ اعتراض محض حماقت ہے کہ آپ نے اپنے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کرلیا ہے ۔

ایک شبہ اور اس کا جواب

یہاں ایک مشہور شبہ ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں چار اولاد نرینہ ہوئی ہے ، حضرات قاسم ، طیّب ، طاہر رضی اللہ عنہم ، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے ، اور حضرت ابراہیم رض ، حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے ، پھر اس ارشاد کا کیا مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مرد کے باپ نہیں ہیں ؟

اس شبہ کا پہلا جواب یہ ہے کہ یہ سب صاحبزادے بزمانہ طفولیت وفات پا گئے تھے ۔ ان کے بڑے ہونے کی نوبت نہیں آئی کہ وہ رجل (بالغ مرد) کے مرحلہ میں داخل ہوتے اسلئے من ذکورکم یا من ابنائکم یا من اولادکم نہیں فرمایا گیا ۔

اور دوسرا جواب یہ ہے کہ آیت کریمہ کے نزول کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرزند موجود نہیں تھا ۔ حضرات قاسم رض ، طیّب رض و طاہر رض کی وفات ہوچکی تھی اور حضرت ابراہیم رض ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے ، لہٰذا اس وقت کے لحاظ سے مطلقاً نفی کرنا بھی صحیح تھا ۔

مفردات آیت کریمہ

اس آیت میں قابل تحقیق مفردات یہ ہیں ، لکن ، رسول ، النبیین ، لام استغراق

1

صفحہ 10

محاضرہ رد قادیانیت حصہ

اور خاتم، رسول و نبی کا شرعی مفہوم آغاز بحث میں آچکا ہے، جس کو جمہور علماء و ائمہ نے اختیار فرمایا ہے اس کے مطابق رسول خاص ہے اور نبی عام ہے۔

لکن کی تحقیق

لکن استدراک کیلئے موضوع ہے، جسکے مشہور لیکن مرجوح معنی ہیں۔ دفع التوهم الناشئ من الكلام السابق، یعنی پچھلے کلام سے جو غلط فہمی مخاطب کو ہو سکتی ہے اس کو دور کر دینا۔ اور راجح معنی استدراک کے یہ ہیں۔

اَنْ تَنْسُبَ لِمَا بَعْدَهَا حُكْمًا کہ تم لکن کے مابعد کی جانب اس کے ماقبل مُخَالِفًا لِمَا قَبْلَهَا وَلِذَا لِكَ لَا بُدَّ کے مخالف کوئی حکم منسوب کرو ، یہی وجہ ہے کہ اَنْ يَّتَقَدَّ مَهَا كَلَامٌ مُّنَاقِضٌ لِمَا (لکن کے استعمال کی) یہ شرط ہے کہ اس کے بَعْدَهَا اَوْ ضِدٌّ لَّهُ - ماقبل کا کلام مابعد کی نقیض یا ضد ہو۔

(مغنی اللبیب ص ۲۲۵ )

اسی شرط کی بنیاد پر علماء بلاغت کے یہاں لکن قصر قلب کیلئے استعمال کیا جاتا ہو کیونکہ اسکے جانبین میں تدافع اور ضدیت ضروری ہے۔ خواہ فی الجملہ ہی ہو، یعنی ایسا تدافع ہونا چاہئے، جو بلحاظ مقام ، متکلم اور مخاطب کی گفتگو میں منعقد ہوتا ہے۔

لام تعریف کی تحقیق

لام تعریف کا استعمال چار معنی کے لئے ہوا کرتا ہے ا۔ اپنے مدخول کی ماہیت کی طرف اشارہ کرنے کیلئے، ۲۔ ماہیت کے افرادِ معہودہ کیلئے، ۳۔ ماہیت کے فردِ غیر معہود کیلئے اور ماہیت کے تمام افراد کیلئے ، اوّل کو لام جنس ، دوسرے کو لام عہد خارجی ، اور تیسرے کو لام عہد ذہنی اور چوتھے کو لام استغراق کہا جاتا ہے۔

علماء اصول و عربیت نے تصریح فرمائی ہے کہ لام تعریف کا مدلول صریحی استغراق ہے خواہ مفرد پر داخل ہو یا جمع پر، البتہ اگر کوئی دلیل تخصیص پائی جائے تو پھر عہد خارجی یا عہد ذہنی کیلئے ہوگا۔ رہے جنس و ماہیت کے معنی تو شیخ رضیؒ شارح کافیہ کے فرمانے کیمطابق فی نفسہ اگرچہ اس کا احتمال نکل سکتا ہے لیکن عرف و محاورات میں اسکا اعتبار نہیں ہوتا ، کیونکہ عرف میں اعیان خارجیہ سے کلام ہوتا ہے نہ کہ ماہیات ذہنیہ سے ۔

صفحہ 11

محاضرہ رد قادیانیت مبشر

علامہ ابوالبقاء اپنی کلیات میں فرماتے ہیں۔

وَقَالَ عَامَّةُ اَهْلِ الْاُصُوْلِ وَالْعَرَبِيَّةِ لَامُ التَّعْرِيْفِ سَوَاءٌ دَخَلَتْ عَلَى الْمُفْرَدِ اَوْ عَلَى الْجَمْعِ تُفِيْدُ الْاِسْتِغْرَاقَ فِيْهِمَا جَمِيْعًا إِلَّا إِذَا كَانَ مَعْهُوْدًا

(کلیات ابی البقاء ص ۲/۵۹۲)

تمام علماء اصول و عربیت کی رائے ہے کہ لام تعریف خواہ مفرد پر داخل ہو خواہ جمع پر استغراق کے معنی دیتا ہے ، ہاں کوئی امر معہود ہو تو پھر استغراق کے معنی نہیں ہوں گے۔

استغراق کی قسمیں

استغراق جو لام تعریف کا مدلول صریحی ہے اس کی دو قسمیں ہیں ، استغراق حقیقی جس میں اس کے مدخول کے تمام افراد حقیقۃً مراد ہوں جیسے عالم الغیب والشہادۃ ، اور استغراق عرفی جس میں تمام افراد حقیقۃً مراد نہ ہوں بلکہ عرفاً سمجھے جانے والے افراد مراد ہوں جیسے جمع الامیر الصاغۃ اس میں صرف اپنے شہر یا اپنی قلمرو کے سنار مراد ہیں ، دنیا بھر کے نہیں ، استغراق حقیقی لام تعریف کے حقیقی معنے ہیں اور استغراق عرفی مجازی معنی ہیں

(حواشی مغنی اللبیب)

لہٰذا معرف باللام میں اگر استغراق حقیقی کے معنی بن سکتے ہوں تو معنی مجازی یعنی استغراق عرفی مراد نہیں لیا جائے گا۔

خاتم کی تحقیق

ختم الشیٔ کے معنی ہیں کسی چیز کو انجام تک پہنچا دینا ، لہٰذا خاتِم بکسر کے معنی ہیں ، انجام واختتام تک پہنچانیوالا ، کیوں کہ یہ اسم فاعل صیغہ صفت ہے ، اور خاتَم بالفتح کے معنی ہیں وہ شخص یا چیز جسکے ذریعہ کسی شئے کو انجام تک پہنچایا جائے ، کیوں کہ یہ اسم ہے نہ کہ صفت ۔

آیت کریمہ میں خاتِم اور خاتَم کی دونوں قراءتیں متواتر ہیں اور حاصل دونوں قراءتوں کا ایک ہی ہے یعنی آخری نبی ، کیوں کہ علماء لغت نے تصریح کی ہے کہ جب یہ لفظ کسی قوم کیجانب مضاف ہو تو خواہ فتحہ کے ساتھ ہو یا کسرہ کے ساتھ (جیسے خاتم القوم کی ترکیب) اسوقت اس کے ایک ہی معنی ہوتے ہیں یعنی ”اس قوم کا آخری فرد“ خاتَم بالفتح کے معنی اگرچہ مہر ، انگوٹھی ، نگینہٴ انگوٹھی ، وغیرہ بھی لغت میں ملتے

صفحہ ۱۲

محاضرہ رد قادیانیت حصّہ

ہیں، مگر وہ سب فرعی و مجازی معنیٰ ہیں، جنکی طرف رجوع کرنے کی کوئی مجبوری نہیں ہے (تفصیل کیلیے دیکھئے خاتم النبیین از حضرت علامہ انور شاہ صاحبؒ کشمیری ختم نبوت کامل ، از حضرت مفتی شفیع صاحبؒ)۔

آیت خاتم النبیین کے دونوں جملوں میں ربط کی تقریر

استدراک جو لکن کا موضوع لہ ہے اسکے مشہور اور مرجوح معنیٰ کو سامنے رکھ کر آیتِ کریمہ کے دونوں جملوں میں ربط بیان کرتے وقت عموماً یہ تقریر کی جاتی ہے کہ جب پہلے جملہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوت کی نفی کی گئی تو اس سے روحانی اُبوت کی نفی کا وہم ہو سکتا تھا۔ اس کو رفع کرنے کے لئے فرمایا گیا کہ آپ کی روحانی اُبوت اعلیٰ درجہ کی ہے اور قیامت تک باقی رہنے والی بھی ہے، کیوں کہ آپ اللہ تعالےٰ کے رسول بھی ہیں اور خاتم النبیین بھی۔

آیتِ کریمہ کا مطلب سمجھنے کیلیئے یہ تقریر بھی فی نفسہ کافی وافی ہے ، لیکن امام عصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے استدراک کے بعد دوسرے راجح معنیٰ کے پیش نظر آیت کریمہ کے دونوں جملوں میں ربط کی جو تقریر فرمائی ہے وہ مذکورہ تقریر سے ارفع و اعلیٰ ہے کیونکہ اسمیں لکن کے استعمال کی شرط یعنی تدافع بین الجانبین کا لحاظ کر کے کلام فرمایا گیا ہے ، اسلئے کہ آیت کریمہ پر نظر ڈالنے کے فوراً بعد یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ اُبوت اور خاتمیت میں آخر کون سی ضدیت، اور تدافع ہے جسکے اظہار کے لئے کلمۂ لکن استعمال فرمایا گیا ہے ، اور مخاطبین کی وہ کون سی غلط فہمی تھی جسکی اصلاح کیلیئے بطور قصر قلب ابوت کی نفی فرما کر لکن کے بعد خاتمیت کا اثبات فرمایا گیا ہے؟ اِن سوالات کو حضرت شاہ صاحب قدس سرہٗ نے یوں حل فرمایا ہے ۔

باید دانست که در اجراءِ سلسلۂ ابوت ترجمہ : جاننا چاہئے کہ سلسلۂ ابوت اور نبوت بلا فصل کے و نبوت بلافصل تلازم عقلی و یا شرعی نیست جاری کرنے میں کوئی عقلی و شرعی تلازم نہیں لیکن مشیت ازلیہ نبوت اولاً در ذریت نوح لیکن مشیت ازلیہ نے نبوت اولاً نوح علیہ السلام علیہ السلام نهاد سپس در ذریت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں رکھی اور پھر ابراہیم علیہ السلام

صفحہ ۱۳

ضمیمہ ۱۳ محاضرہ رد قادیانیت

کی اولاد ہیں اور انہوں نے دعا بھی فرمائی تھی۔ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ

(البقره ۱۲۹)

اے پروردگار ہمارے اور بھیج انہیں ایک رسول ان ہی میں کا (شیخ الہند) اس سنّت الٰہیہ کے پیش نظر خیال ہو سکتا تھا کہ اب یہ سلسلۂ نبوّت شاید محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں جاری کیا جائے گا اس وہم کو رفع کرنے کیلئے فرمایا گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سلسلۂ نبوّت جاری نہیں ہوگا۔ بلکہ خود آپ کی نبوت کا سلسلہ ہی تاقیامت قائم و دائم رہیگا۔ اور آپ کے بعد کوئی نبوت نہیں ہوگی اور ایسی نبوت جو کسی سلسلہ کے اجراء کو متضمن ہوتی ہے

و ایشاں دعا ہم کردہ اند کہ و ابعث فیھم رسولا منھم۔ دریں تقدیر خیال رفتے کہ شاید ایں سلسلہ من بعد در ذریت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہند، لاجرم گفتہ شد کہ سلسلہ نبوت نیست، ولیکن سلسلۂ نبوّت دائم بلا فصل است و تجدید وے نخواہد شد، و نبوت کہ متضمن اجرای کدام سلسلہ می باشد دریں جا اگر بودے مناسب اجرا سلسلہ نبوّت بودے موجود نیست، بلکہ بجائے آں ختم نبوت است، پس ایں است وجہ اتساق کلام کہ در لکن شرط نہاوند

(خاتم النبیین فارسی واردو ص ۳)

وہ یہاں اگر موجود ہوتی تو اجرائے سلسلۂ نبوّت کے مناسب ہوتی، یہاں موجود نہیں ہے۔ بلکہ اسکے بجائے ختم نبوت ہے، پس یہ ہے کلام کی وجہ ربط جو لکن میں شرط قرار دی گئی ہے۔ ــــــــــــــــــــ

جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک طرف تو مخاطبین متبنّیٰ کو حقیقی بیٹے کا درجہ دینے کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت زید بن حارثہ رض کا نسبی باپ مانتے تھے ادھر وہ دیکھ رہے تھے کہ انبیاء علیہم السّلام کی اولاد میں نبوّت کا سلسلہ جاری رہا ہے، اس کے پیش نظر ان کو خیال ہو سکتا تھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں بھی نبوت جاری رہے گی۔ باری تعالیٰ نے ان کے خیالات کی اصلاح کیلئے بطور قصر قلب یوں فرمایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، تو کسی بالغ مرد کے باپ ہی نہیں جس سے آپ کی اولاد میں سلسلۂ نبوت

صفحہ ۱۴

محاضرہ قادیانیت بحث

جاری ہونے کا احتمال ہو۔ بلکہ آپ تو پوری امت کے روحانی باپ (رسول) ہیں اور ابوت روحانیہ آپ کے اوپر ختم ہے۔ اب قیامت تک کوئی اور روحانی باپ آنے والا نہیں ہے۔ تو مخاطبین حضور صلے اللہ علیہ وسلم کی ابوت نسبیہ مستلزم توریث نبوت (بسنۃ الٰہیہ) کا خیال کر سکتے تھے، لہٰذا باری تعالٰی نے اس خیال کو رد فرما کر آپ کیلئے ابوت روحانیہ (رسالۃ) الی یوم القیامۃ کا اثبات فرما دیا۔ اور یہ ظاہر ہے کہ مذکورہ دونوں امور میں ضدیت اور تدافع ہے کیوں کہ ایسی ابوت نسبیہ جس سے قیامت تک نبوت جاری ہونے کا احتمال ہو اور ابوت روحانیہ جو قیامت تک باقی رہنے والی ہو یہ دونوں وصف ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے، اس طرح استدراک کے راجح معنی کے اعتبار سے لکن کے استعمال کی شرط متحقق ہو گئی۔ اسکے برخلاف اگر قادیانیوں کے مطابق ختم نبوت کے مفہوم سے اجرائے نبوت کا مضمون نکالا جائے تو لکن کے ماقبل و مابعد میں تدافع نہیں رہے گا۔ کیونکہ ابوت نسبیہ سے بھی نبوت کے جاری رہنے کا مضمون نکلتا ہے، جیسا کہ اوپر معلوم ہو چکا، ایسی صورت میں ابوت کی نفی کر کے ختم نبوت کا اثبات صحیح نہیں رہے گا۔

خلاصہ تفسیر آیت خاتم النبیین

بہر حال آیت کریمہ کے مفردات کی مذکورہ بالا تحقیق کی روشنی میں اسکی تفسیر یہ ہوگی کہ حضور اقدس صلے اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، جب کہ نکاح کی حلت و حرمت کا تعلق جسمانی ابوت ہی سے ہوتا ہے، البتہ آپ تمام عالم کے روحانی باپ ہیں اور روحانی ابوت پر عظمت و شفقت کے احکام مرتب ہوتے ہیں، نہ کہ نکاح کی حلت و حرمت کے۔ اور دیگر انبیاء علیہم السّلام کی طرح آپ کو کسی بالغ مرد کا باپ بھی نہیں بنایا گیا، جس سے یہ شبہ ہوتا کہ آپ کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ جاری ہوگا، کیوں کہ آپ صلے اللہ علیہ وسلم نبوت کے اجراء کیلئے نہیں بلکہ سلسلہ نبوت کو ختم کرنے کیلئے ہیں، اب قیامت تک نہ کسی قسم کا کوئی رسول آئیگا اور نہ نبی۔

عہ جیسے "زید القائم" اس مخاطب سے کہا جاتا ہے جو زید کے قعود یا اضطجاع کا خیال رکھتا ہو۔

صفحہ ۱۵

محاضرہ رد قادیانیت ۱۵ ج ۳

بجائے خاتمہم کے خاتم النبیین فرمانے کا نکتہ

اس عموم کو سمجھانے کیلئے خاتمہم کے بجائے خاتم النبیین ارشاد فرمایا گیا ہے ، حالانکہ وَلٰكِنْ رَسُولَ اللّٰهِ کے بعد وخاتمہم (الرسل) مناسب تھا، لیکن اس طرح فرمانے کی صورت میں مطلب یہ ہوتا کہ آپ کے بعد وہ انبیاء نہیں آئیں گے جو شریعت جدیدہ رکھتے ہوں ان انبیاء علیہم السلام کی آمد کے بند ہونے کا مفہوم نہ نکلتا جو شریعت یا کتاب جدید نہ رکھتے ہوں ۔ بلکہ پچھلے نبی کی شریعت کے متبع ہوں کیوں کہ رسول بمقابلہ نبی کے خاص ہے اور خاص کے انتفاء سے عام کا انتفاء لازم نہیں آتا لیکن جب خاتم النبیین فرما دیا گیا تو اس کا منطوق یہی ہے کہ ہر قسم کے انبیاء علیہم السلام کے آخر میں آپؐ تشریف لائے ہیں خواہ وہ شریعت و کتاب جدید رکھتے ہوں ، خواہ شریعت سابقہ پر عمل پیرا ہوں ، کیوں النبیین پر لام استغراق حقیقی کا ہے اور عام کے انتفاء سے خاص کا انتفاء لازم ہے ۔

القرآن یفسّر بعضہ بعضاً

اس آیت کریمہ کی ایک قراءت اور ہے جو عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کہلاتی ہے اور یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی آیت کی دو قراءتیں دو آیتوں کے درجہ میں ہوتی ہیں وہ قراءت ولکن خاتم النبیین ہے یعنی آپ ایسے نبی ہیں جنہوں نے تمام نبیوں کو ختم کر دیا ، اس دوسری قراءت سے پہلی قراءت کے اندر آئے ہوئے لفظ خاتَم کے معنی کی تفسیر ہو گئی اور اس کے ایک ہی معنی متعین ہو گئے کہ آپؐ ہر قسم کے تمام نبیوں کے آخر میں اور ان کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں ۔

آیت خاتم النبیین کے علاوہ دیگر آیات سے

ختمِ نبوّت کے اثبات کے طریقوں پر اجمالی نظر

ختم نبوت کا مسئلہ آیت خاتم النبیین میں تو بطور عبارۃ النص مذکور ہے ، لیکن دوسری آیات کریمہ سے بھی بطور اقتضاء النص واشارۃ النص ودلالت النص یہ مسئلہ ثابت ہے استدلال

صفحہ ١٦

محاضرہ رد قادیانیت جُز

کے یہ تینوں طریقے بھی قطعی ویقینی ہوتے ہیں، بہرحال علماء اُمت نے ان کو بھی ختمِ نبوت کے دلائل میں شمار فرمایا ہے، یوں تو ایسی آیات ایک سو کے قریب ہیں، لیکن ان آیات میں سے ختمِ نبوت کے اثبات کیلئے جو تقریریں کی جاتی ہیں، ان کے اعتبار سے ان آیات کو پندرہ بیس عنوانات کے تحت لایا جاسکتا ہے۔

اور ان عنوانات کے تحت آنیوالی بعض آیات بطور نمونہ کے ذکر کی جاتی ہیں، اس کے بعد بعض آیات کے مطالب کی تقریر مختصراً کی جائے گی، جس سے یہ معلوم ہوگا کہ متعلقہ آیت سے ختمِ نبوت کا ثبوت کسطرح ہوتا ہے۔

اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا (المائدہ آیت ٣) آج میں پورا کر چکا تمہارے لئے دین تمہارا، اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا، اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین (ترجمہ شیخ الہندؒ)

قُلْ يٰاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (الاعراف آیت ١٥٨) تو کہہ ، اے لوگوں میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف جسکی حکومت ہے آسمان اور زمین میں۔ (ترجمہ شیخ الہندؒ)

عہد لیا جانا۔ وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَا اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ (آل عمران آیت ٨١) اور جب لیا اللہ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور علم پھر آوے تمہارے پاس کوئی رسول کہ سچا بتاوے تمہارے پاس والی کتاب کو تو اس رسول پر ایمان لاؤ گے اور اسکی مدد کرو گے۔ (ترجمہ شیخ الہندؒ)

صفحہ ۱۷

مناظرہ رد قادیانیت حصہ

قرار دیا جانا۔ وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو مہربانی کر کر جہان (الانبیاء آیت ۱۰۷) کے لوگوں پر (ترجمہ شیخ الہندؒ)

وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ اور جو کوئی خلاف کرے رسول کے ساتھ بعد مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ يَتَّبِعْ غَیْرَ اس کے کہ ظاہر ہوئی اسکے لئے ہدایت، اور پیروی سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلّٰى کرے سوائے راہ مسلمانوں کے، متوجہ کریں گے ہم وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِیْرًا اس کو جدھر متوجہ ہو، اور ہم داخل کرینگے (سورہ النساء آیت ۱۱۵) اس کو دوزخ میں اور بُرا ٹھکانہ ہے (دوزخ)

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ ثُلَّةٌ مِّنَ انبوہ ہے پہلوں میں سے۔ اور انبوہ ہے الْاٰخِرِیْنَ (الواقعہ ۳۹ و ۴۰) پچھلوں میں سے ۔ (ترجمہ شیخ الہندؒ)

وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ اور اگر پوچھو گے یہ باتیں ایسے وقت میں کہ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ قرآن نازل ہو رہا ہے تو تم پر ظاہر کر دی (سورہ المائدہ آیت ۱۰۱) جاوینگی۔ (ترجمہ شیخ الہندؒ)

پر غالب کر دے گا۔ هُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰى اسی نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهُ عَلَى الدِّیْنِ دے کر تاکہ اسکو غلبہ دے ہر دین پر۔ كُلِّهِ (سورہ توبہ آیت ۳۳) ترجمہ شیخ الہندؒ

صفحہ ۱۸

محاصرہ رد قادیانیت حصہ

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَطِيْعُوا اللّٰهَ اے ایمان والو، حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ رسول کا اور حاکموں کا جو تم میں سے ہوں ۔ مِنْكُمْ (سورۃ النّساء ۵۹) (ترجمہ شیخ الہندؒ)

مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ جس نے حکم مانا رسول کا اس نے حکم مانا اللہ وَمَنْ تَوَلّٰى فَمَا اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ کا اور جو الٹا پھرا تو ہم نے تجھ کو نہیں بھیجا حَفِيْظاً (سورۃ النّساء ۸۰) ان پر نگہبان (ترجمہ شیخ الہندؒ)

وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ اور جو کوئی حکم مانے اللہ کا اور اسکے رسول مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ کا سو وہ انکے ساتھ ہیں جن پر اللہ نے انعام النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاءِ کیا کہ وہ نبی صدیق اور شہید اور نیک بخت وَالصّٰلِحِيْنَ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ ہیں اور اچھی ہے انکی رفاقت ۔ رَفِيْقًا . (سورۃ النّساء ۶۹) (ترجمہ شیخ الہندؒ)

فرمانا اور جگہ جگہ من قبل اور من قبلک فرمانا نہ کہ من بعدک كَذٰلِكَ يُوْحِيْ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ اسی طرح وحی بھیجتا ہے تیری طرف اور تجھ مِنْ قَبْلِكَ اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ سے پہلوں کی طرف اللہ زبردست حکمتوں والا

(سورہ شوریٰ ۳) (ترجمہ شیخ الہندؒ)

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ پاس آگئی قیامت اور پھٹ گیا چاند ۔

(سورہ قمر ۱) (ترجمہ شیخ الہندؒ)

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا پھر ہم نے وارث کئے کتاب کے وہ لوگ جو

صفحہ ١٥

محاضرہ رد قادیانیت حصہ

مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ، وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللّٰهِ ، ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ ۔

(سورۃ فاطر ۳۲)

کو چن لیا ہم نے اپنے بندوں سے ، پھر کوئی ان میں برا کرتا ہے اپنی جان کا ، اور کوئی ان میں ہے بیچ کی چال پر اور کوئی ان میں آگے بڑھ گیا ہے لیکر خوبیاں اللہ کے حکم سے یہی ہے بڑی بزرگی

(ترجمہ شیخ الہندؒ)

اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی بتائے گا۔

يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ ۔

(سورہ ابراہیم ۲۷)

مضبوط کرتا ہے اللہ ایمان والوں کو مضبوط بات سے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔

(ترجمہ شیخ الہندؒ)

وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ وَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا ط كَذٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ

(سورہ یونس ۱۴)

اور البتہ ہم ہلاک کرچکے ہیں جماعتوں کو تم سے پہلے جب ظالم ہوگئے ، حالانکہ لائے تھے انکے پاس رسول انکے کھلی نشانیاں ، اور ہرگز نہ تھے ایمان لانیوالے ۔ یوں ہی سزا دیتے ہیں ہم قوم گنہگاروں کو پھر تم کو ہم نے نائب کیا زمین میں ان کے بعد تاکہ دیکھیں تم کیا کرتے ہو

(ترجمہ شیخ الہندؒ)

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ

(سورہ بقرہ آیت ۱۲۹)

اے پروردگار ہمارے اور بھیج ان میں ایک رسول ان ہی میں کا

(ترجمہ شیخ الہندؒ)

أَوَلَمْ يَكُنْ لَّهُمْ آيَةً أَنْ يَّعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ

(سورہ شعراء ۱۹۷)

کیا انکے واسطے نشانی نہیں یہ بات کہ اسکی خبر رکھتے ہیں پڑھے لوگ بنی اسرائیل کے

(ترجمہ شیخ الہندؒ)

صفحہ ۱۲۰

محاضرہ رد قادیانیت ۱۲۰ حصہ

يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ جسدن اوندھے ڈالے جائینگے اُنکے منہ آگ میں
يَقُولُونَ يٰلَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَ أَطَعْنَا کہیں گے کیا اچھا ہوتا جو ہم نے کہا مانا ہوتا اللہ کا،
الرَّسُولَا ۔ (سورہ احزاب ع۸) اور کہا مانا ہوتا رسول کا (ترجمہ شیخ الہند)
وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ اور جو کوئی حکم مانے اللہ کا اور اسکے رسول کا اسکو داخل
جَنّٰتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَنْ کرے گا باغوں میں جنکے نیچے بہتی ہیں نہریں ، اور جو کوئی
يَتَوَلَّ يُعَذِّبْهُ عَذَابًا أَلِيمًا ۔ (سورہ فتح ع۲) پلٹ جائے اسکو عذاب دیگا دردناک (ترجمہ شیخ الہند)

اکمال دین کا اعلان

دلیل ۲

اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے دین تمہارا
عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا اور پسند
دِيْنًا (مائدہ ع۱) کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین ۔
(ترجمہ شیخ الہندؒ)

اس آیت شریفہ میں اکمال دین سے کیا مراد ہے ؟ عموماً حضرات مفسرین اس کے یہ معنی بیان فرماتے ہیں کہ فرائض سنن اور حدود و حلال و حرام کے سلسلہ کے جملہ احکام و قوانین بیان فرما دیئے گئے ، خواہ وہ زندگی کے کسی بھی شعبہ سے متعلق ہوں ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :۔

لَقَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلٰى مِثْلِ الْبَيْضَاءِ میں نے تمہیں ایسی صاف روشن راہِ مستقیم پر
لَيْلُهَا وَ نَهَارُهَا سَوَاءٌ (ابن ماجہ ص ۵) چھوڑا ہے کہ جس کا رات دن برابر ہے ۔

بعض حضرات مفسرین نے اس کے یہ معنی بیان فرمائے ہیں کہ یہ دین کبھی منسوخ اور مٹنے والا نہیں ہے ، بلکہ قیامت تک باقی رہے گا ۔ (لباب التاویل ص۲۳۶ ج۴)

اور بعض حضرات نے اکمال دین کا مطلب یہ لیا ہے کہ یہ امت پچھلے تمام انبیاء علیہم السلام

صفحہ ۲۱

محاضرہ رد قادیانیت جز ۳

پر ایمان لائی ہے، کیونکہ وہ سب اس سے پہلے دنیا میں آچکے ہیں، دیگر امتوں کو یہ موقع نہیں ملا۔ (خازن ص ۴۳۵ / ۱۶) بہر حال تینوں تفسیروں کا حاصل یہی نکلتا ہے کہ جو دین حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایا، وہی آخری اور کامل ومکمل دین ہے، اور آپؐ آخری نبی ہیں، اور اُمت محمدیہ آخری اُمت ہے، اب اگر کسی اور نبی کا بحیثیت نبی کے دنیا میں آنا تجویز کیا جائے تو اس کی یہ آمد بلا ضرورت اور عبث ہوگی، کیونکہ سب کچھ بتایا جا چکا ہے۔ تعالیٰ اللہ عن ذلک علوّاً کبیراً ۔

دلیل ۳ : حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ عامہ کے اعلان کے ذریعہ ختم نبوت کا اثبات

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللّٰهِ | تو کہہ اے لوگو ۔ میں رسول ہوں اللہ کا تم سب إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ | کی طرف جس کی حکومت ہے آسمانوں اور وَالْاَرْضِ ۔ (اعراف ۱۵۸) | زمین میں (ترجمہ شیخ الہندؒ)

آپ کی بعثتِ عامہ کا یہ مضمون قرآن کریم کی متعدد آیات میں آیا ہے، اس سے ثابت ہوا کہ آپ عرب و عجم مشرق ومغرب کے تمام انسانوں کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں خواہ وہ آپ کی حیات مبارکہ میں موجود ہوں یا آپ کے بعد قیامت تک دنیا میں آئیں، وہ سب لوگ آپ کی اُمت میں شامل ہیں، لہٰذا آپ کے بعد کسی نبی یا رسول کے آنے کو تجویز کرنے سے آپ کی یہ خصوصیت وفضیلت باقی نہیں رہ سکتی کیونکہ آپ کی اُمت اب اس نئے نبی کی اُمت کہلائے گی ۔

۴۔ اُمت محمدیہ کو پچھلی تمام امتوں کی خلیفہ اور قائم مقام بنائے جانے کے اعلان سے

ختم نبوت کا اثبات

هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلٰئِفَ فِي | وہی ہے جس نے کیا تم کو قائم مقام زمین میں الْاَرْضِ ۔ (سورہ فاطر آیت ۳۹) | (ترجمہ شیخ الہندؒ)

یہ مضمون بھی متعدد آیات میں آیا ہے جس کا صاف مطلب یہی ہے کہ یہ اُمت آخری اُمت ہے، اس کے بعد نہ کسی نبی و رسول کی آمد ہوگی اور نہ اس کی اُمت ہوگی ۔

۵۔ ایمانیات میں آپ سے پہلے انبیاء کا اور ان کی وحی کا بار بار تذکرہ ہونے اور بعد

کے انبیاء سے مکمل سکوت سے ختم نبوت کا اثبات ۔

صفحہ ۲۲

محاضرہ رد قادیانیت ۲۲ حصہ پنجم كَذٰلِكَ يُوْحِيْ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ اسی طرح وحی بھیجتا ہے تیری طرف اور تجھ سے مِنْ قَبْلِكَ (شوریٰ ع ۱) پہلوں کی طرف ۔ (ترجمہ شیخ الہندؒ)

قرآن کریم جگہ جگہ من قبلک کی قید لگا کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء علیہم السلام کا تذکرہ کرتا ہے لیکن کسی ایک آیت کریمہ میں بھی من بعدک فرما کر آپ کے بعد آنے والے کسی نبی و رسول کا تذکرہ نہیں فرمایا ، اس سے معلوم ہوا کہ اب قیامت تک کوئی نبی آنے والا نہیں ہے ورنہ جس طرح انبیاء سابقین اور ان کی وحی نبوت کا تذکرہ بار بار فرمایا گیا بعد والے نبی کا تذکرہ بھی ضرور فرمایا جاتا بلکہ یہ زیادہ ضروری تھا ، کیونکہ اس پر تفصیلی ایمان لانا ضروری ہے ، جبکہ انبیاء سابقین پر اجمالی ایمان کافی ہے۔

يَاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ اور حاکموں کا جو تم میں سے ہوں ۔ (نساء پ ۵ آیت ۵۹) (ترجمہ شیخ الہندؒ)

اولو الامر سے مراد سلاطین اسلام اور ارباب حکومتِ اسلامیہ ہیں ، اور بہت سے مفسرین کے مطابق علماء اُمت اور ائمہ مجتہدین بھی اولو الامر میں داخل ہیں ۔

بہر حال آیت کریمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس کی اطاعت کا حکم کر رہی ہے وہ امتِ مسلمہ کے اولو الامر ہیں اگر امت میں آپ کے بعد دنیا میں کوئی نبی پیدا ہونے والا ہوتا تو اس کا تذکرہ کر کے اس کی اطاعت کا حکم دیا جاتا کیونکہ نبی کی اطاعت نہ کرنے سے کفر آتا ہے جبکہ اولوالامر کی نافرمانی سے کفر نہیں آتا ، اس لئے بعد کے نبی کا تذکرہ زیادہ ضروری تھا ۔

اختصار کے پیش نظر مذکورہ عنوانات میں سے چند عنوانات کے ذیل میں آنے والی آیات کریمہ سے ختم نبوت کے اثبات کی مختصر تقریر بطور نمونہ کر دی گئی ہے ، تفصیلات مبسوط کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں ۔

احادیث مبارکہ سے ختم نبوّت کا اثبات

باری تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔

صفحہ ۲۳

محاصرہ قادیانیت حصہ

وَ اَنْزَلْنَا اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ - 16:44

ترجمہ ۔ اور اتاری ہم نے تجھ پر یہ یاد داشت کہ تو کھول دے لوگوں کے سامنے وہ چیز جو اتری ان کے واسطے

(النحل پ ۱۴ آیت ۴۴)

اس کے مطابق احادیث مبارکہ قرآن کریم کی تفسیر ہیں۔ لہٰذا جن طریقوں سے ختم نبوت کا مضمون آیات مبارکہ سے ثابت ہے انہی طریقوں سے احادیث شریفہ میں بھی اس مضمون کی تشریح فرمائی گئی ہے اور دو سو زائد احادیث میں ختم نبوت کا مضمون آیا ہے جن میں تقریباً ایک سو احادیث اس مضمون میں صریح ہیں۔ بہر حال ختم نبوت کی احادیث متواتر المعنیٰ ہیں البتہ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کے الفاظ بھی متواتر کہے جاسکتے ہیں۔ ذخیرہ احادیث شریفہ سے ختم نبوت کی چند احادیث ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔

(۱) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَةَ رض اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ مَثَلِیْ وَمَثَلَ الْاَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِیْ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بَیْتًا فَاَحْسَنَهُ وَاَجْمَلَهُ اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِّنْ زَاوِيَةٍ مِّنْ زَوَايَاهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَاَنَا اللَّبِنَةُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ

(بخاری ص ۵۰۱ ج ۱ ۔ مسلم ص ۲۲۶ ج ۲)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین و جمیل محل بنایا مگر اسکے کسی کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اسکے ارد گرد گھومنے اور اسپر عش عش کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگادی گئی ؟ آپؐ نے فرمایا میں وہی (کونے کی) اینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔

وَ فِیْ رِوَایَةِ جَابِرٍ فَاَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْاَنْبِيَاءَ

اور حضرت جابرؓ کی روایت میں ہے کہ پس میں اس اینٹ کی جگہ ہوں، میں آیا پس میں نے نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا۔

اس حدیث شریف میں ختم نبوت کے مضمون کو ایک محسوس مثال دے کر سمجھایا گیا ہے کہ

صفحہ ۲۴

محاصرہ قادیانیت ۲۴ چشمہ

جب قصر نبوت کی آخری اینٹ حضور اقدس صلے اللہ علیہ وسلم ہیں تو اب کسی قسم کی نبوت کی اینٹ کی گنجائش کا سوال نہیں پیدا ہوتا خواہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی وغیرہ۔

صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنَّهُ سَيَكُونُ فِيْ اُمَّتِيْ كَذَّابُوْنَ ثَلٰثُوْنَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ اَنَّهُ نَبِيٌّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ

(ابوداؤد ص ۲۲۸)

حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میری اُمت میں تیس جھوٹے ہوں گے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں۔

اس حدیث میں حضور صلے اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے ہر مدعی نبوت کو کذاب فرمایا ہے معلوم ہوا کہ سچے انبیاء کی آمد کا سلسلہ آپ کے بعد بالکل بند ہے اس مضمون کی احادیث حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کے علاوہ گیارہ حضرات صحابہؓ سے مروی ہیں۔

عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ

(بخاری ص ۹۶۴)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلے اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اور قیامت کو ان دونوں انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے (یعنی قیامت مجھ سے اس طرح متصل ہے جیسے انگشت شہادت درمیانی انگلی سے)

ظاہر ہیکہ حضور صلے اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیامت کے متصل ہونے سے یہ مراد لینا تو خلاف واقعہ ہوگا کہ آپ کے بعد فوراً قیامت آجائے گی اسلئے شارحین حدیث کا اتفاق ہے کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ آپکی تشریف آوری قرب قیامت کی علامت ہے اور آپ کے بعد جدید نبی نہیں آئے گا تاآنکہ قیامت آجائے گی۔ چنانچہ ایک حدیث میں اس امر کی تصریح آئی ہے چنانچہ حدیث میں ہے کہ حضرت ابو رزینؓ نے ایک طویل خواب دیکھا اور اس کی تعبیر حضور صلے اللہ علیہ وسلم سے معلوم کی۔ اس خواب کا ایک جز یہ تھا کہ ایک ناقہ ہے اور اس کو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم چلا رہے ہیں تو حضور صلے اللہ علیہ وسلم نے اسکی تعبیر یہ بتلائی۔

وَاَمَّا النَّاقَةُ الَّتِيْ رَاَيْتَهَا وَرَاَيْتَنِيْ

وہ ناقہ جس کو تم نے دیکھا اور دیکھا کہ میں اسکو دیکھا کہ میں اسکو کہ اسکو دیکھا کہ میں اسکو کہ اسکو میں

صفحہ ۲۵

محاصرہ ربوہ قادیانیت حصہ ششم

اَبْعَثُهَا فِيْهِ السَّاعَةُ عَلَيْنَا تَقُوْمُ چلا رہا ہوں وہ قیامت ہے جو ہم پر قائم لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ وَلَا أُمَّةَ بَعْدَ أُمَّتِيْ ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ میری امت (خصائص کبریٰ للسیوطی ص۱۴ ج۲) کے بعد کوئی امت ۔

(۴) عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ حضرت ابو ہریرہؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ كَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِيْلَ تَسُوْسُهُمُ بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیاء کرتے الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ تھے ، جب بھی کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو اس نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ وَسَيَكُوْنُ کی جگہ دوسرا نبی آجاتا تھا، لیکن میرے بعد کوئی خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُوْنَ ۔ نبی نہیں البتہ خلفاء ہونگے اور بہت ہونگے ܀ (بخاری شریف ص۴۹۱ ج۱)

یہ امر معلوم ہے کہ بنی اسرائیل میں غیر تشریعی انبیاء کی آمد ہوتی تھی جو حضرت موسیٰؑ کی شریعت کی تجدید فرماتے تھے ، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس قسم کے انبیاء کی آمد کا سلسلہ بھی نہیں رہا ، البتہ امت محمدیہ میں مجدّدین کی آمد کی اطلاع حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ۔

إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کیلئے ہر صدی رَأْسِ كُلِّ مِأَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ پر ایسے لوگوں کو کھڑا کرے گا ، جو اس کیلئے لَهَا دِيْنَهَا ۔ (ابوداؤد ص۲۳۲ ج۲) دین کی تجدید کرے ۔

(۵) عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ فِيْ حَدِيْثِ حضرت ابو ہریرہؓ سے شفاعت والی الشَّفَاعَةِ فَيَأْتُوْنَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ حدیث میں مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُوْلُوْنَ يَا مُحَمَّدُ وسلم نے فرمایا کہ لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اَنْتَ رَسُوْلُ اللهِ وَخَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ کے پاس جائیں گے اور عرض کریں گے آپ اللہ (بخاری ص۶۵۵ ج۲) کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں ۔

ان احادیث مبارکہ سے واضح طور پر آیت خاتم النبیین کی مکمل تشریح ہورہی ہے کہ

صفحہ ۲۶

محاضرہ رد قادیانیت حصہ ۳

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تمام اشخاصِ انبیاء کے آخر میں اور ان کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں ۔

اجماعِ اُمت سے ختمِ نبوّت کا ثبوت

امت مسلمہ نے تواتر کے ساتھ ہر زمانے میں مذکورہ بالا آیات و احادیث کا یہی مطلب سمجھا ہے ، اس میں کسی قسم کی تاویل و تخصیص کرنا تحریف و زندقہ کہلائے گا ۔ چنانچہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ،

اِنَّ الْاُمَّةَ فَهِمَتْ بِالْاِجْمَاعِ بے شک امت نے اس لفظ مِنْ هٰذَا اللَّفْظِ وَمِنْ قَرَائِنِ (خاتم النبیین) سے اور قرائن احوال اَحْوَالِهٖ اَنَّهُ اُفْهِمَ عَدَمُ نَبِيٍّ بَعْدَهٗ سے بالاجماع یہی سمجھا ہے کہ اس کا اَبَدًا وَّعَدَمُ رَسُوْلِ اللّٰهِ اَبَدًا وَّاَنَّهُ مفاد یہی ہے کہ آپ کے بعد نہ کوئی نبی لَيْسَ فِيْهِ تَاْوِيْلٌ وَّلَا تَخْصِيْصٌ ہوگا اور نہ رسول ، اور یہ کہ نہ اس میں - فَمُنْكِرُ هٰذَا لَا يَكُوْنُ اِلَّا مُنْكِرُ کوئی تاویل چل سکتی ہے اور نہ تخصیص پس الْاِجْمَاعِ ۔ اس کا منکر یقیناً اجماع کا منکر ہے ۔

(الاقتصاد فی الاعتقاد ص ۱۱۴)

قادیانی گروہ کے خیالِ فاسد میں ختمِ نبوّت کا مطلب

امت مسلمہ کے برعکس قادیانی مرتدین کے گروہ نے ختمِ نبوّت کا مطلب بیان کیا ہے اسکو مرزا بشیر احمد ایم اے کی تحریر سے سمجھئے ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب نبیوں سے افضل اور نبیوں کی مہر ہیں یعنی چونکہ آپ کے اندر تمام کمالاتِ نبوّت کامل طور پر اور بصورتِ اتم جمع ہیں ۔ لہٰذا آئندہ کوئی شخص

صفحہ ۲۷

محاضرہ رد قادیانیت جشکر نبوت کے انعام سے حصہ نہیں لے سکتا، جب تک کہ وہ آپکے لگائے ہوئے باغ کا پھل نہ کھائے، اور آپ کے چشمہ فیض سے سیراب نہ ہو۔ اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کا پابند نہ ہو گویا اب روحانی کمالات کے حصول کیلئے آپ کی تصدیقی مہر ضروری ہو گئی ہے اور آپ کے بعد ایسا کوئی نبی نہیں آسکتا جو آپکی شریعت کو منسوخ کرے یا براہ راست مستقل حیثیت میں نبوت کا انعام پائے، ہاں ظلی نبوت کا دروازہ بند نہیں ہے اور ظلی نبوت کے ہمارے نزدیک یہ معنی ہے کہ جب کوئی کامل فرد آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور محبت میں اپنے نفس کو ایسا صاف کرلے کہ ایک نہایت اعلیٰ درجہ کے صیقل شدہ آئینہ کی طرح مصفّٰی ہو جائے اور کوئی کدورت اس میں باقی نہ رہے اور پھر وہ فطری استعداد بھی کامل رکھتا ہو، حتیٰ کہ اپنے آپ کو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور آپ کی محبت میں محو کرکے اپنے نفس کے آئینہ کو پورے طور پر آپکے وجود باجود کے سامنے لے آئے، تو اس صورت میں آپ کے اوصاف اور آپ کے کمالات اس کے آئینہ نفس پر اسی طرح اتر آئیں گے جس طرح ایک مصفّٰی آئینہ میں دیکھنے والے شخص کے خدوخال اتر آتے ہیں، گویا اس صورت میں وہ آپ کا ظل یعنی عکس ہو جائے گا اور اگر ایسا شخص کمالات نبوت کی بھی استعداد رکھتا ہو اور اسکے فطری قویٰ اس پیمانہ پر واقع ہوئے ہوں کہ کمالات نبوت کا عکس قبول کر سکیں، تو آپ کی نبوت بھی ظلی طور پر اسمیں ظاہر ہو جائے گی اور وہ آپ کی اتباع سے بروزی صورت میں نبوت کا درجہ پالے گا، ایسی نبوت ہمارے نزدیک ختم نبوت کے منافی نہیں ہے اور نہ ایسے نبی کے ظاہر ہونے سے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے میں کسی قسم کا رخنہ واقع ہوتا ہے بلکہ ایسی نبوت کا جاری ہونا آپ کے روحانی کمال کی ایک شاندار دلیل ہے

( تبلیغ ہدایت از مرزا بشیر احمد ایم، اے۔ ص ۳۰، ۳۱)

مرزائی گروہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی گر مانتا ہے

پھر ایک صفحہ کے بعد مرزا بشیر احمد قادیانی ایم. اے لکھتا ہے :

صفحہ ۲۸

محاصرہ رد قادیانیت مسئلہ

ہم دلی یقین سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین اور خدا کا آخری نبی ماننے کے باوجود حضرت مرزا صاحب کو علی وجہ البصیرت اور بکمال شرح صدر خدا کا نبی اور رسول تسلیم کرتے ہیں ، کیوں کہ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ظل اور اس کی تابع اور اس کی شاخ ہے، نہ کہ کوئی آزاد اور مستقل نبوت ، اور ایسی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے موجب ہتک نہیں بلکہ آپ کے افاضۂ روحانی کا کمال ثابت کرتی ہے اور دنیا پر یہ ظاہر کرتی ہے کہ آپ صرف نبی ہی نہیں بلکہ نبی گر بھی ہیں ، اور آپ ایسا عالی مرتبہ رکھتے ہیں کہ آپ کے خادم بھی آپ کے فیض سے نبوت کا درجہ پا سکتے ہیں۔ یہ ہے ہمارا عقیدہ جو میں نے صاف صاف بیان کر دیا ہے، تا اس معاملہ میں کسی قسم کی غلط فہمی کا امکان نہ رہے۔

(تبلیغ ہدایت ص۳۴ وص۳۰)

مرزا بشیر احمد قادیانی کا یہ بیان درحقیقت مرزا قادیانی کے ان ہفوات کا نچوڑ ہے جو اس نے اپنی مزعومہ و مخترعہ ظلی و بروزی نبوت باور کرانے کیلئے لمبی لمبی تصنیفات میں پھیلا رکھے ہیں، اسی لئے ”تبلیغ ہدایت“ کا طویل اقتباس نقل کیا گیا ہے، تاکہ ختم نبوت سے متعلق اس گروہ کے عقیدہ فاسدہ کی تشریح مختصراً سامنے آجائے۔

اب آپ غور کریں کہ ختم نبوت کی آیات و احادیث مذکورہ بالا میں سے کسی ایک آیت و حدیث میں بھی ختم نبوت کا یہ مفہوم بیان نہیں کیا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے نبی بنا کریں گے، لہٰذا ختم نبوت کا یہ مفہوم اختراعی اور باطل ہے۔

مذکورہ بالا آیات و احادیث میں قادیانیوں کے

ملحدانہ شبہات و مغالطے اور انکے جواب

لیکن قادیانی گروہ کو چونکہ زندقہ پھیلانا ہے، اسلئے جان بوجھ کر اس نے پہلے ختم نبوت کا ایک غلط مطلب اپنے ذہن میں بٹھایا ، اور پھر ختم نبوت کی آیات و احادیث میں مغالطہ انگیز و ملحدانہ شبہات پیدا کر کے سادہ لوح عام مسلمانوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسانے کی کوشش کی ۔ اور دوسری جانب ”ڈوبتے کو تنکے کا سہارا“ کے طور پر کچھ آیات و احادیث میں تحریفات کر کے

صفحہ ۲۹

محاسبہ رد قادیانیت حصّہ

انہیں اپنے مفید مطلب بنانے کی سعی لاحاصل کی اور ان کو اپنے دلائل کے عنوان سے پیش کیا۔ آیات و احادیث ختم نبوت میں قادیانی گروہ نے جو مغالطے دیئے ہیں آئندہ ان میں سے بعض بحوالہ آیت و حدیث درج کر کے ان کا جواب دیا جائے گا۔

آیت خاتم النبیین میں قادیانی مغالطے

پہلا مغالطہ قادیانی گروہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کے بیان کردہ ختم نبوت کے معنی حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے نزول کی روایات کے خلاف ہیں، کیوں کہ جب وہ تشریف لائیں گے تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی نہیں رہیں گے، بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو آخری نبی کہنا پڑے گا۔ لہٰذا ہمارے بیان کردہ معنی صحیح ہیں۔

جواب آخری نبی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی کو منصب نبوت عطا نہیں کیا جائے اور حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سالہا سال پہلے نبوت مل چکی ہے قربِ قیامت میں آپ کی تشریف آوری بحیثیت امّت کے مجدد کے ہوگی لہٰذا انکی تشریف آوری سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

چنانچہ تفسیر کشاف میں ہے معنی كونہ اخر الانبياء انه لا ينبأ احد بعده وعیسٰی ممن نبئ قبله

(تفسیر کشاف ص ۵۲۵،۵۲۴ ج ۳ طبع بیروت)

دوسرا مغالطہ خاتم النبیین میں خاتم بمعنیٰ مہر ہے یعنی آپ کی مہر تصدیق سے آپ کے بعد نبی بنتے رہیں گے، اسی میں آپ کی رفعت شان ہے۔

جواب (۱) خاتم کے معنی اگر مجازی طور پر مہر کے لئے جائیں تو بھی اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ سلسلہ انبیاء علیہم السّلام کے ختم پر بحیثیت مہر کے آپکی تشریف آوری ہوئی ہے، جیسا کہ کسی خط وغیرہ کی تحریر کے بالکل آخر میں مہر لگائی جاتی ہے، قادیانی مطلب لینے سے آیات و احادیث میں تناقض لازم آئے گا، جس سے قرآن کریم منزہ و مبرا ہے۔

جواب (۲) آیت کریمہ میں یہ نہیں آیا کہ آپ مہر نبوت ہیں، اور نہ یہ کہ آپ صاحب مہر ہیں جو کہ مہر لگانے والا ہوتا ہے، بلکہ آیت میں تو یہ ہے کہ آپ کی ذات گرامی خود مہر

صفحہ ۳۰

محاضرہ رد قادیانیت حصہ ۳

ہے جو دوسروں پر (یعنی انبیاء سابقین پر) لگادی گئی ، اس سے معلوم ہوا کہ صاحب مہر اللہ تعالےٰ ہے ، جس نے آپ کے ذریعہ سلسلۂ انبیاء پر مہر لگا کر اسے ختم کر دیا۔

تیسرا مغالطہ

خاتم کے معنی اگر آخر کے لئے جائیں تو النبیین پر لام استغراق کا نہیں بلکہ عہد کا ہے جس سے تشریعی انبیاء کی جانب اشارہ ہے لہٰذا خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ صرف تشریعی انبیاء کے خاتم ہیں، جن کو جدید کتاب یا شریعت ملی ہو مطلق انبیاء کے خاتم نہیں ہیں، پس ثابت ہوا کہ آپ کے بعد غیر تشریعی انبیاء آ سکتے ہیں۔

جواب ۱ ۔ لام تعریف کے حقیقی معنی استغراق ہی کے ہیں، بلا کسی مجبوری کے حقیقی معنی چھوڑنا جائز نہیں اور یہاں کوئی مجبوری ہے نہیں۔

جواب ۲ ۔ لام عہد کیلئے ما سبق میں معہود کا تذکرہ ہونا ضروری ہے ، اور اس آیت کے سیاق و سباق میں کہیں خصوصاً تشریعی انبیاء کا تذکرہ نہیں ہے البتہ مطلق انبیاء کا تذکرہ ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے ۔

سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا اَلَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ يَخْشَوْنَهٗ وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ وَكَفٰى بِاللّٰهِ حَسِيْبًا (الاحزاب آیت ۳۸ و ۳۹)

جیسے دستور رہا ہے اللہ کا ان لوگوں میں جو گزرے پہلے، اور ہے حکم اللہ کا مقرر ٹھہر چکا، وہ لوگ جو پہنچاتے ہیں پیغام اللہ کے اور ڈرتے ہیں اس سے اور نہیں ڈرتے کسی سے سوائے اللہ کے اور بس ہے اللہ کفایت کرنے والا ۔ (ترجمہ شیخ الہندؒ)

اس میں انبیاء کے جو اوصاف ذکر فرمائے گئے ہیں، ان سے ہر قسم کے انبیاء متصف ہیں نہ کہ صرف تشریعی انبیاء معلوم ہوا کہ اب مطلق انبیاء کی آمد بند ہو گئی ہے۔

جواب ۳

لا نبی بعدی وغیرہ احادیث میں مطلقاً ہر قسم کے انبیاء کی بندش کا تذکرہ ہے لہٰذا خاتم النبیین کے یہی معنی متعین ہیں کہ ہر قسم کے انبیاء کے آخر میں آپ تشریف لائے ہیں ۔

جواب ۴

اگر خاتم النبیین میں بلا ضرورت لام عہد کا مانا جا سکتا ہے تو خاتم النبیین

صفحہ ۳۱

محاضرہ رد قادیانیت ۳۱ جشز

کا لفظ اور بھی متعدد آیات میں آیا ہے وہاں بھی اس کا صدق فرمائیے ، مثلاً

(۱) وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ

(البقرۃ پ ۲ آیت ۱۷۷)

لیکن بڑی نیکی تو یہ ہے کہ جو کوئی ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور پیغمبروں پر ÷ ÷

(ترجمہ شیخ الہندؒ)

کیا یہاں بھی یہی معنی ہوں گے کہ صرف تشریعی انبیاء پر ایمان لانا کمالِ برّ ہے ؟

(۲) فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ

(البقرۃ پ ۲ آیت ۲۱۳)

پھر بھیجے اللہ نے پیغمبر خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے

(ترجمہ شیخ الہندؒ)

کیا یہاں بھی عہد کے معنی لے کر بشیر و نذیر ہونا صرف تشریعی انبیاء کا وصف قرار پائے گا ؟

چوتھا مغالطہ

خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ ہمیشہ کیلئے افضل النبیین ہیں۔ کیونکہ آپ نبوت میں انتہائی کمال پر پہنچے ہوئے ہیں ، جیسے خاتم المفسرین خاتم المحدثین میں مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے زمانے میں اس فن کے فردِ اکمل ہیں یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اب کوئی مفسر و محدث پیدا نہیں ہوگا ۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو خاتم المہاجرین اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خاتم الاولیاء فرمایا ہے حالانکہ ہجرت و ولایت کا سلسلہ اب تک جاری ہے اسی طرح آپ کے بعد نبوت کا سلسلہ جاری ہے اگرچہ آپ خاتم النبیین ہیں۔

جواب

خاتم کے اصل معنی تو آخر ہی کے ہیں ، لہٰذا خداوند علیم و قدیر کے کلام میں اسی معنی میں لیا جائے گا کیونکہ وہ اپنے علم قطعی کے مطابق جسکو خاتم کہہ رہا ہے وہی خاتم ہے برخلاف بندہ کے کہ وہ اپنے ناقص علم کے مطابق جس کو افضل المفسرین سمجھتے ہیں اسکو مبالغۃً خاتم المفسرین کہہ دیتے ہیں اگرچہ اسکے بعد بھی مفسرین پیدا ہوتے رہیں گے رہی حضرت علیؓ کے بارے میں خاتم الاولیاء کی روایت تو وہ تفسیر صافی کی ہے جو سرے سے بلا سند ہے ، رہا حضرت عباسؓ والی حدیث کا جواب تو اسکو کنز العمال میں مرسلاً ذکر کیا گیا ہے

صفحہ ۳۲

محاضرہ رد قادیانیت حصہ ششم

اِطْمَئِنَّ يَا عَمُّ فَاِنَّكَ خَاتِمُ الْمُهَاجِرِيْنَ | اے چچا مطمئن رہو (گھبراؤ نہیں) پس بیشک
فِي الْهِجْرَةِ كَمَا أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ | آپ ہجرت میں خاتم المہاجرین ہیں جیسا کہ میں
فِي النُّبُوَّةِ (کنز العمال ص ۱۶۸ ج ۶) | نبوت کے سلسلہ میں خاتم النبیین ہوں۔

یہ حدیث صحیح تسلیم کرنے کی صورت میں بھی ہمارے خلاف نہیں ہے، کیوں کہ یہاں بھی خاتم بمعنی آخر ہے نہ کہ بمعنی افضل اور حضرت عباسؓ نے فتح مکہ سے پہلے جو ہجرت فرض تھی اسکو اختیار فرمانے والے آخری مہاجر تھے۔ چنانچہ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں۔

هَاجَرَ قَبْلَ الْفَتْحِ بِقَلِيْلٍ وَ | یعنی حضرت عباسؓ نے فتح مکہ سے قدرے پیشتر
شَهِدَ الْفَتْحَ (اصابہ ص ۲۶ ج ۳) | ہجرت کی اور آپ فتح مکہ میں حاضر تھے۔

آپ کی ہجرت کے بعد کسی اور کی وہ ہجرت ثابت نہیں جو فرض تھی اسی لحاظ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو خاتم المہاجرین فرمایا اور آپ کو تسلی دی کہ ہجرت میں سابقیت کے فوت ہو جانے پر غم نہ کریں جس طرح سابقیت وجہ فضیلت ہو سکتی ہے ، اسی طرح خاتمیت بھی وجہ فضیلت ہو سکتی ہے ، چنانچہ میں خاتم الانبیاء ہوں اور آپ خاتم المہاجرین ہیں۔

بہر حال فتح مکہ سے پہلے کی ہجرت مفروضہ کے اعتبار سے آپ آخری مہاجر ہیں، یوں مطلقاً ہجرت کے اعتبار سے مہاجرین ہوتے رہیں گے۔

مغالطہ ۵

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔

قُوْلُوْا خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ وَلَا | یوں کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین
تَقُوْلُوْا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ (در منثور ص ۲۵۰ ج ۵) | ہیں۔ اور یہ نہ کہو کہ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ (آپکے بعد کوئی
܀ ܀ | نبی نہیں آئے گا۔

معلوم ہوا کہ خاتم النبیین کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ورنہ حضرت عائشہؓ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ کہنے سے نہ روکتیں۔ معلوم ہوا کہ وہ اجرائے نبوت کی قائل تھیں۔

صفحہ ۳۳

محاضرہ رد قادیانیت حصہ

جواب | اگر اس روایت کو صحیح مانا جائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اخیر زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے نزول کے عقیدہ کے پیش نظر یہ جملہ ارشاد فرمایا ہے، یعنی کہیں ایسا نہ ہو کہ لَا نَبِیَّ بَعْدَهُ کے ظاہری مفہوم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کی نفی سمجھی جانے لگے لہٰذا نبوت کے بند ہونے کا مفہوم تو خاتم النبیین سے ادا ہو ہی چکا اب لا نبی بعدہٗ کہنے کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ اسی طرح کی بات حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

(دیکھئے درمنثور ص ۲۰۶ / ۵)

حضرت عائشہ ؓ کے مذکورہ کلام کی یہ توجیہ اسلئے ضروری ہے کہ خود وہ یہ روایت فرماتی ہیں۔

اِنَّهُ قَالَ لَا يَبْقَى بَعْدَهُ مِنَ النُّبُوَّةِ آپؐ نے فرمایا کہ اب اس کے بعد نبوت کا اِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ کوئی حصہ باقی نہیں مگر مبشرات و خوشخبری (کنزالعمال بروایت احمد و خطیب) دینے والی چیزیں۔

تو مذکورہ ممانعت کی وجہ یہ کیسے قرار دیجا سکتی ہے کہ حضرت عائشہ ؓ حضورؐ کے بعد نبوت کو جاری مانتی ہیں، بلکہ اصل وجہ وہی ہے جو اوپر مذکور ہوئی کہ عقیدۂ نزولِ عیسیٰ ؑ کے تحفظ کیلئے حضرت عائشہ ؓ نے یہ ممانعت فرمائی ہے اگرچہ ان کا اپنا عقیدہ مطلقاً ختم نبوت ہی کا تھا۔

آیت ۲ سے متعلق قادیانی مغالطہ

اللہ تعالیٰ کے دین کو کامل کر دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اسکے بعد کوئی اور وحی نہ آئے آخر توریت بھی کامل تھی مگر اس کے بعد دوسری کتاب آگئی۔

جواب | توریت اور تمام کتب سماویہ اپنے اپنے زمانے کے اعتبار سے واقعی کامل مکمل تھیں، مگر چونکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دیگر انبیاء علیہم السّلام اپنی مخصوص قوموں کی طرف مبعوث فرمائے جاتے تھے، حدیث میں ہے۔

صفحہ ۳۴

محاضرہ رد قادیانیت ۳۴ مبشر وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً اور (مجھ سے پہلے) نبی صرف اپنی قوم کی طرف وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً بھیجے جاتے تھے ، اور میں تمام لوگوں کی طرف (مشكوة ص ٥١٢) مبعوث ہوا ہوں ۔

اسلئے ہر قوم کے نبی کے ساتھ جو شریعت اور کتاب بھیجی جاتی تھی وہ اس زمانے کے حالات کے بالکل مطابق ہوتی تھی ، پھر جب دوسرا نبی آتا تو اسکے زمانے کے مطابق شریعت و کتاب آجاتی تھی ، لیکن جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک کیلئے بلا تخصیص تمام اقوام کا رسول بنا کر بھیجا گیا تو آپ کو ایسی شریعت اور ایسا دین عطا فرمایا گیا جو ہر زمانہ میں ہدایت و رہنمائی کا کام کرے لہٰذا اب کسی اور وحی اور شریعت کی ضرورت نہیں رہی ، یہی مطلب ہے، دین اسلام کو کامل کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دیگر ادیان سماویہ ناقص تھے ۔

(آیت (۴) وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ سے متعلق قادیانی مغالطہ)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمۃ للعالمین ہونے کے باوجود آپ کے بعد نبی آسکتا ہے ، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے بعد بنی اسرائیل میں حضرت داؤد ، حضرت سلیمان ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام نبی ہو کر آئے۔

جواب یہ قیاس مع الفارق ہے ، کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے کہیں یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے یہ فرمایا ہو کہ تمام بنی اسرائیل کا تنہا میں ہی رسول ہوں ، اس لئے ان کے بعد بنی اسرائیل میں انبیاء کی آمد کا سلسلہ جاری رہا ، برخلاف اسکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا ۔

اُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً وَخُتِمَ میں پوری مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں اور میرے بِيَ النَّبِيُّوْنَ (مشكوة ص ٥١٢ ) ذریعہ نبیوں پر مہر لگادی گئی ۔ اَنَا رَسُوْلُ مَنْ اَدْرَكْتُ حَيًّا وَمَنْ میں ان کا (بھی) رسول ہوں جن کو میں نے زندہ يُوْلَدُ بَعْدِي (کنز العمال ص ۲۲۹ ج ۱۱) پایا ، اور ان کا بھی جو میرے بعد پیدا ہو گا

لہٰذا آپؐ کی بعثت عامّہ کے بعد کسی نبی کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی ، بلکہ آپؐ کے بعد کسی کو نبی بنائے جانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازی خصوصیت ختم ہو جاتی ہے

صفحہ ۳۵

محاضرہ رد قادیانیت حصہ

جو باطل ہے۔

ختم نبوت کی احادیث میں قادیانی مغالطے

حدیث لا نبی بعدی سے متعلق۔

جیسا کامل نبی نہیں ہوگا، معلوم ہوا کہ کمتر درجہ کے (یعنی ظلی و بروزی نبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آسکتے ہیں۔

نفی عام ہے، پس یہ کسقدر جرات دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے ، اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے ۔“

(ایام الصلح در خزائن ص ۳۹۳ ج ۱۴)

جاثیہ کی آیت فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ ۔ میں بَعْدَ اللّٰهِ کے معنی اللہ کو چھوڑ کر، اللہ کے خلاف۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کا مخالف نبی نہیں آسکتا ۔ مگر موافق و متبع نبی آسکتا ہے،

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی تشریح مختلف احادیث میں فرمادی ہے ۔ مثلاً اِنِّیْ اٰخِرُ الْاَنْبِیَاءِ (مسلم شریف ص ۲۷۱ ج ۲) میں آخر نبی ہوں اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ میں تمام نبیوں میں آخری نبی ہوں، میرے بعد (مشکوٰۃ شریف ص ۴۶۴) کوئی نبی نہیں ہوگا۔

صفحہ ۳۶

محاضرہ رد قادیانیت حصہ ششم

رہی سورہ جاثیہ کی آیت مذکورہ تو اس کی تشریح حضرات مفسرین بعد ’’حدیث‘‘ کے مضاف الیہ کو محذوف مانکر کرتے ہیں۔ اَیْ بَعْدَ حَدِيْثِ اللّٰهِ وَهُوَ القُرآن ۔ جیسا کہ دوسری آیت میں وارد ہے فَبِاَیِّ حَدِيْثٍ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ ، یہاں بَعْدَهٗ کی ضمیر حدیث کی جانب راجع ہے۔

جواب ۳ : صحیح مسلم میں حضرت سعد ابن ابی وقاصؓ کی روایت سے لاَ نَبِيَّ بَعْدِيْ کے بجائے لا نُبُوَّةَ بَعْدِيْ کے الفاظ ہیں۔ معلوم ہوا کہ دونوں جملوں کا ایک ہی مطلب ہے۔

جواب ۴ :- بعدی کا صحیح مطلب ہے میری بعثت کے بعد خواہ زندگی میں یا وفات کے بعد ، لہٰذا آپ کی حیات مبارکہ میں بھی مدعی نبوت کذاب و دجال رہے جیسے مسیلمہ و اسود عنسی ، اور آپ کی وفات کے بعد بھی مدعی نبوت کذاب و دجال ہی ہوگا (جیسے مرزا قادیانی)

قصرِ نبوّت کی تکمیل والی حدیث سے متعلق قادیانی مغالطہ

قادیانی لوگ سادہ لوح عوام کو یوں بھی مغالطہ دیتے ہیں کہ اس مثال کو ظاہر پر رکھکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو محل کی اینٹ قرار دینا ، آپ کی توہین ہے ، اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ نے پہلی تمام شریعتوں کو مکمل فرمادیا ہے۔

جواب :- حدیث میں شریعت کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ، آپ نے قیامت تک آنیوالے جھوٹے مدعیانِ نبوت کی تکذیب و تردید کیلئے یہ مثال بیان فرمائی ہے ، اور مثال کے طور پر آپ کو محل کی اینٹ قرار دینے سے کوئی توہین لازم نہیں آتی ، جیسے کہ بہادر کو شیر کہہ دیا جاتا ہے تو اسکی کوئی توہین نہیں سمجھی جاتی کہ اس کو جنگلی حیوان کہہ دیا ۔

وسیکون خلفاء فیکثرون سے متعلق قادیانی مغالطہ

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ امت میں خلافت و نبوّت جمع نہیں ہوگی یعنی جو بادشاہ خلیفہ ہوگا ۔ وہ نبی نہ ہوگا ۔ اور جو نبی ہوگا وہ بادشاہ نہ ہوگا۔

جواب :- یہ مطلب حدیث شریف کے سیاق کے بالکل خلاف ہے ، حدیث شریف میں تو بنو اسرائیل

صفحہ ۴۷

محاضرہ رد قادیانیت ۴۷ حصّہ ۲

کے انبیاء کا حال بیان فرمایا گیا ہے کہ بنو اسرائیل کی قیادت کے لئے یکے بعد دیگرے انبیاء آتے رہتے تھے۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ جو ان کی قیادت کرے ، البتہ صرف میرے خلفاء بکثرت آئیں گے اور اُمّت کی قیادت کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔

کذابون ثلٰثون والی روایت سے متعلق قادیانی مغالطہ

اس حدیث میں تیس کذّاب کی تعیین سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے بعد کچھ سچے نبی آئیں گے اور یہ دجّال آج سے پہلے پورے ہوچکے ہیں۔ جیسا کہ اکمال الاکمال میں ہے۔

جواب اس حدیث میں قیامت تک بڑے بڑے صاحب شوکت و دبدبہ مدعیان نبوت کاذبہ کے ہونے کا تذکرہ ہے۔ مطلق مدعیان نبوت کا تذکرہ نہیں ہے کیوں کہ آپکے بعد مدعیان نبوت تو بے شمار ہوئے ہیں ، چنانچہ حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں ۔

لَيْسَ الْمُرَادُ بِالْحَدِيْثِ مَنِ ادَّعَى النُّبُوَّةَ مُطْلَقًا فَإِنَّهُمْ لَا يُحْصَوْنَ كَثْرَةً لِكَوْنِ غَالِبِهِمْ يَنْشَاءُ لَهُمْ ذٰلِكَ عَنْ جُنُوْنٍ وَسَوْدَاءَ وَإِنَّمَا الْمُرَادُ مَنْ قَامَتْ لَهُ الشَّوْكَةُ۔ (فتح الباری ص ۲۵۵ ج ۶)

اس حدیث سے ہر مدعی نبوت مطلقاً مراد نہیں ہے اسلئے کہ آپکے بعد مدعی نبوت تو بیشمار ہوئے ہیں کیونکہ یہ بے بنیاد دعویٰ عموماً جنون سوداء سے پیدا ہوتے ہیں، بلکہ اس حدیث میں جن تیس دجالوں کا ذکر ہے وہ وہی ہیں، جن کی شوکت قائم ہو جائے اور جنکا مذہب مانا جائے۔

اور قیامت تک کی بات خود مرزا نے بھی تسلیم کی ہے ، لکھتا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دنیا کے اخیر تک قریب تیس کے دجال پیدا ہوں گے (ازالۃ اوہام ص ۱۹۷ در خزائن ج ۳)

بہرحال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جتنے بھی مدعیان نبوت قیامت تک آئیں گے سب کے سب کذاب و دجال ہی ہوں گے۔ ان میں کسی کے سچے ہونے کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔ کیونکہ فرما دیا گیا ۔ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ ۔

صفحہ ۳۸

محاصرہ رد قادیانیت ۳۸ حصہ ششم

مرزا قادیانی کیجانب سے نبوّت کی ملحدانہ تقسیم اور تعریف

اس ملعون شخص نے اپنی مطلب برآری کیلئے اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کیلئے نبی اور نبوّت کے اندر تقسیم جاری کی ، کہتا ہے ۔

انبیاء دو قسم کے ہوتے ہیں (۱) تشریعی (۲) غیر تشریعی ، پھر غیر تشریعی بھی دو قسم کے ہوتے ہیں ۱؎ براہ راست نبوت پانے والے ۲؎ نبی تشریعی کی اتباع سے نبوت حاصل کرنیوالے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش تر صرف دو قسم کے نبی آتے تھے ۔

(مباحثہ راولپنڈی ص۱۵۴)

مرزا بشیر احمد ایم ۔ اے قادیانی لکھتا ہے ۔ اس جگہ یاد رہے کہ نبوت مختلف نوع پر ہے اور آج تک نبوّت تین قسم پر ظاہر ہو چکی ہے ۔ (۱) تشریعی نبوت ، اسی نبوت کو مسیح موعود نے حقیقی نبوت سے پکارا ہے (۲) وہ نبوت جس کیلئے تشریعی یا حقیقی ہونا ضروری نہیں ہے ، ایسی نبوت حضرت مسیح موعود کی اصطلاح میں مستقل نبوت ہے (۳) ظلی و امتی نبی ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے مستقل اور حقیقی نبوّتوں کا دروازہ بند کیا گیا اور ظلی نبوّت کا دروازہ کھولا گیا (مسئلہ کفر و اسلام کی حقیقت ص۳۶)

حقیقی یا تشریعی نبی کی تعریف (از مرزا قادیانی)

نبی و رسول ایسے شخص کو کہتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کامل شریعت یا احکام جدیدہ لاتے ہیں ، یا بعض احکام شریعت سابقہ کے منسوخ کرتے ہیں ، یا نبیؐ سابق کی امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفادہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں ۔

(مکتوب مسیح موعود مندرجہ اخبار الحکم اگست ۱۸۹۹ء ، بحوالہ شان خاتم النبیین ص۴۱)

مستقل نبوت کا مفہوم

(از مرزا غلام احمد قادیانی) بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے ، مگر ان کی نبوت موسیٰؑ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں ، حضرت موسیٰ کی پیروی کا اسمیں

صفحہ ۳۹

مناظرہ رد قادیانیت حصّہ

بلکہ ذرہ کچھ دخل تھا ، اسی وجہ سے میری طرح ان کا یہ نام نہ ہوا کہ ایک پہلو سے امتی بلکہ وہ انبیاء مستقل نبی کہلاتے ، اور براہ راست ان کو منصب نبوت ملا۔

(حاشیہ حقیقۃ الوحی در خزائن ص ۲۴ جلد ۲۲)

ظلی اور بروزی نبوت کا مفہوم | (از مرزا قادیانی)

پانا۔ (حقیقۃ الوحی در خزائن ص ۴۶ جلد ۲۲)

ہے۔ یعنی ایسے مکالمات جن میں اکثر غیب کی خبریں دی گئی ہوں ۔

(چشمہ معرفت در خزائن ص ۳۲۶ جلد ۲۳)

خلاصۂ تحریراتِ سابقہ

چوں کہ لعین قادیان ، نبوت کا دعویٰ کرتا تھا، اسلئے اس نے محض اپنی خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے مذکورہ بالا تقسیم جاری کی ، جس کا حاصل یہ نکلا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبوت بلاواسطہ ملا کرتی تھی اور اب بواسطہ اتباع حضور اقدس صلی اللہ وسلم ملتی ہے ، اسی قسم کو وہ ظلی ، بروزی ، مجازی نبوت کا نام دیتا ہے ، لیکن کسی دلیل شرعی و عقلی سے اس تقسیم کو ثابت نہیں کیا جاسکتا، احادیث شریفہ سے نبوت کو کُل مان کر اس کے اجزا تو ثابت ہیں ، اگرچہ ان اجزاء کی تفصیل نہیں بتائی گئی ، البتہ بعض اجزاء کے انقطاع کی اطلاع دی گئی ہے فرمایا گیا۔

لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ اِلَّا المبشرات | (اب) نبوت میں سے سوائے مبشرات کے کچھ ÷ ÷ | باقی نہیں رہا۔

لیکن کسی حدیث شریف میں نبوت کو مقسم کلی مان کر اس کی جزئیات و اقسام نہیں بتائی گئیں ، بلکہ نبوت ہمیشہ صرف ایک ہی طرح کی رہی ہے ، جو محض موہبت خداوندی سے حاصل ہوتی ہے ، کبھی بھی کسی نبی کو نبوت بواسطہ اتباع نبی سابق نہیں ملی ، ارشاد ہے۔

اللّٰهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ | اللہ خوب جانتا ہے جہاں رکھتا ہے اپنے پیغامات

(سورۃ الانعام پ ۱۲ ع ۱۵)

صفحہ ۴۰

مقامِ ردّ قادیانیت ۴۰ حصّہ

نیز ارشاد ہے ۔

وَلكِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِيْ مِنْ رُّسُلِهِ مَنْ لیکن اللہ چن لیتا ہے اپنے بندوں میں سے جس يَّشَآءُ (آل عمران ۱۷۹) کو چاہتا ہے ،

معلوم ہوا کہ نبوت و رسالت امورِ وہبیہ میں سے ہے نہ امورِ کسبیہ میں سے ، اسلئے اس میں بلاواسطہ اور بالواسطہ کی تقسیم جاری کرنا صراحۃً قرآن کریم سے معارضہ ہے، جس پر کفر و ارتداد کا حکم آئے گا، چنانچہ علامہ سفارینی حنبلی ”شرح عقیدۃ سفارینی“ میں تحریر فرماتے ہیں

وَمَنْ زَعَمَ اَنَّهَا مُكْتَسَبَةٌ فَهُوَ جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ نبوّت مکتسب ہے تو زِنْدِيْقٌ يَّجِبُ قَتْلُهُ ، لِاَنَّهُ يَقْتَضِيْ وہ شخص زندیق ہے وہ واجب القتل ہے ، اس كَلَامُهُ وَاعْتِقَادُهُ اَنْ لَّا تَنْقَطِعَ لئے کہ اس کا کلام اور اعتقاد اس کا مقتضی ہے کہ وَهُوَ مُخَالِفٌ لِلنَّصِّ الْقُرْاٰنِيِّ نبوّت (کبھی) منقطع نہیں ہوئی ، حالانکہ یہ نص وَالْاَحَادِيْثِ الْمُتَوَاتِرَةِ بِاَنَّ نَبِيَّنَا قرآنی اور احادیث متواترہ کے صراحتاً مخالف ہے صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ (وہ نص قرآنی اور احادیث متواترہ کہ جن میں یہ النَّبِيِّيْنَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ (ص ۲۶۰) ہے) کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ (علیہم الصلوٰۃ والسلام)

بروزی وظلی نبوت کے ثبوت کیلئے مرزائی دلائل

(تحریفات) کا اصولی و کلی جواب

جب قادیانیوں کو شرعی دلائل میں کوئی دلیل نہیں ملی، تو اہل باطل کا شیوہ اختیار کر کے آیات و احادیث میں تحریفات کر کے ان کو اپنے دلائل کے نام سے پیش کرنے لگے ، جبکہ ان میں انکی مزعومہ قسم ظلی و بروزی نبوت کا تذکرہ نہیں، ان کی تحریف معنوی کے بعد زیادہ سے زیادہ ان سے جو ثابت ہوتا ہے وہ یہ کہ مطلق نبوت جاری ہے، لہذا ان کو ہر قسم کی نبوت جاری ماننی چاہیے، جب کہ نبوت کی دو قسموں کو وہ بھی بند مانتے ہیں، تو وہ آیات و احادیث اگر ان کے خیال میں بنائے دعویٰ

صفحہ ۴۱

محاسبہ رد قادیانیت ۴۱ حصّہ

انقطاع مطلق نبوت کے خلاف ہیں۔ تو ان کے اس دعویٰ کے بھی خلاف ہیں کہ نبوت کی دو قسمیں منقطع ہیں، لہٰذا ان کی پیش کردہ آیات و احادیث سے نبوت کی خاص قسم کے جاری ہونے کا ثبوت نہیں ہو سکتا، کیوں کہ جب دعویٰ خاص ہے تو دلیل بھی خاص ہونی چاہیے، اب ان کی مستدل بعض آیات و احادیث کو الگ الگ پیش کر کے انکے جوابات دیئے جاتے ہیں۔

آیات قرآنیہ میں مرزائی تحریف

تحریف اللّٰهُ يَصْطَفِى مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ (مرزائی ترجمہ) اللہ تعالےٰ چنتا ہے یا چنے گا رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ (سورة الحج ع ٩) فرشتوں میں سے رسول اور انسانوں میں سے ۔

اس آیت میں دو لفظ قابل غور ہیں یصطفی اور رسلاً مضارع اگرچہ حال اور استقبال دونوں کے معنی دیتا ہے۔ مگر یہاں حال کے معنی اس لئے نہیں کئے جاسکتے کہ لفظ رسلاً جمع کا صیغہ ہے اگر حال کے معنی لیں گے تو رسلاً جمع کے صیغہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم (واحد) کو مراد لینا پڑے گا، جو غلط ہوگا، لہٰذا یصطفی میں استقبال کے معنی لیکر رسلاً کا مصداق آئندہ آنے والے نبی ہوں گے لہٰذا ثابت ہوگیا کہ آپ کے بعد سلسلہ رسالت ونبوت جاری ہے

تردید آیت کریمہ کا یہ مطلب اس کے سیاق و سباق کے خلاف ہے، آیت کا اصل مقصد یہ ہے کہ ارسال رسل کی سنت الہیہ سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ثابت کی جائے کہ یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ جو اس کا انکار کیا جائے۔ باری تعالےٰ تو فرشتوں اور انسانوں میں سے رسولوں کا انتخاب فرماتا رہا ہے، لہٰذا مضارع حکایت حال ماضیہ کے طور پر ہے، اگر اس کو استقبال کے معنی میں لیا جائے اور آپ کے بعد آنے والے انبیاء سے متعلق کلام کو کر دیا جائے تو آیت کریمہ کا مقصود ہی فوت ہو جائے گا، اسی کا نام تحریف ہے، کیونکہ یہ مطلب نصوص قرآنیہ واحادیث نبویہ کے معارض ہے۔

تحریف (٢) وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ (مرزائی ترجمہ) جو لوگ اطاعت کرینگے اللہ کی اور فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ اسکے رسول کی، پس وہ ان لوگوں میں شامل مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاءِ ہو جائیں گے، جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی نبی،

صفحہ ۴۲

محاضرہ رد قادیانیت حصہ

وَالصّٰلِحِیۡنَ (سورہ نساء آیت ۶۹) | صدیق شہداء اور صالح۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت و فرمانبرداری سے ایک انسان امتی کے مقام سے نبوت کے مقام تک پہنچ سکتا ہے۔

تردید

اس آیت میں دنیا کے اندر مراتب و درجات ملنے کا ذکر نہیں ہے، صرف اخروی رفاقت و معیت کا تذکرہ ہے، یعنی اللہ و رسول کی اطاعت کی وجہ سے آخرت میں انبیاء و صدیقین و شہداء و صالحین کی رفاقت نصیب ہوگی، یعنی مطیعین جب ان حضرات سے ملنا چاہیں گے، مل سکیں گے، مَعَ کا مفہوم یہی ہے۔ البتہ دوسری آیات میں درجات کا ذکر ہے، مگر وہاں نبوت کا کوئی ذکر نہیں۔

وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ | جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کئے وہ لَنُدۡخِلَنَّہُمۡ فِی الصّٰلِحِیۡنَ | صالحین میں داخل کئے جائیں گے۔ (عنکبوت ۹)

وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖۤ اُولٰٓئِکَ | جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان ہُمُ الصِّدِّیۡقُوۡنَ ۫ وَ الشُّہَدَآءُ عِنۡدَ | لائے وہ خدا کے نزدیک صدیق اور شہداء رَبِّہِمۡ (سورۃ الحدید ۱۹) | ہیں۔

وسوسہ

مرزائی کہتے ہیں کہ مَعَ بمعنی مِن ہے، جیسے اَبٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ مَعَ السّٰجِدِیۡنَ ترجمہ : نہ مانا کہ ساتھ ہو سجدہ کرنے والوں کے (ترجمہ شیخ الہندؒ : حجر ۳۱)

کیونکہ سورۂ اعراف میں لَمۡ یَکُنۡ مِّنَ السّٰجِدِیۡنَ وارد ہوا ہے، ترجمہ : نہ تھا سجدہ کرنے والوں میں۔

جواب

مَعَ بمعنی مِنۡ کلامِ عرب میں مستعمل نہیں ہوتا، اور اہل زبان مَعَ پر مِنۡ داخل کرکے بولتے ہیں۔ جِئۡتُ مِنۡ مَّعَکَ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ خود مَعَ ، مِنۡ کے معنی میں نہیں آتا۔ رہے استدلال میں پیش کردہ آیت تو اس میں مَعَ رفاقت ہی کے معنی میں ہے، کیوں کہ اس میں شیطان کے اس جرم کا بیان ہے کہ اس نے جماعتِ ساجدین سے مفارقت اختیار کی تھی، اور سورۂ اعراف والی آیت میں اس کے دوسرے جرم یعنی اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرنیکا بیان ہے۔ اسلئے پہلی آیت میں مَعَ ہی مناسب ہے، اور دوسری آیت میں مِنۡ ہی مناسب ہے۔

صفحہ ۴۴

محاضرہ رد قادیانیت ۴۴ حصہ

تیسری تحریف :- اِهْدِنَا الصِّرَاطَ بتلا ہم کو راہ سیدھی، راہ ان لوگوں کی جن الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ پر تو نے فضل فرمایا۔ عَلَيْهِمْ (الفاتحة) (ترجمہ شیخ الہندؒ)

ایک طرف تو اللہ تعالےٰ نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی ہے کہ مجھ سے وہ انعامات مانگو جو گذشتہ لوگوں پر میری طرف سے ہوتے رہے ہیں اور دوسری طرف خود انعامات کی تشریح فرما دی ہے کہ ان انعامات سے مراد نبوت، صدیقیت، اور شہادت و صالحیت ہے گویا باری تعالےٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ہم سے نبوت، صدیقیت، شہادت اور صالحیت کے حصول کی دعا کیا کریں، اب اس سے صاف ظاہر ہے کہ نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔

تردید

۱۔ اس آیت میں منعم علیہم کی راہ پر چلنے کی دعا سکھلائی گئی ہے، نہ کہ نبی بننے کی۔ ۲۔ نبوت کا حصول بذریعہ دعاؤں کے نہیں ہوتا، یہ محض موہبت ربانی سے حاصل ہوتی ہے۔ ۳۔ یہ دعا عورتیں بھی پڑھتی ہیں، مگر آج تک ایک عورت بھی نبیہ نہیں ہوئی۔ ۴۔ آیت سے اجرائے نبوت کا مضمون نکالنا، نصوص ختم نبوت کے خلاف ہے۔

چوتھی تحریف :- يٰبَنِىْ اٰدَمَ اِمَّا اے اولاد آدم کی! اگر آئیں تمہارے پاس کہ يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ سنائیں تم کو آیتیں میری تو جو کوئی ڈرے عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ اور نیکی پکڑے تو نہ خوف ہو گا ان پر اور نہ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ وہ غمگین ہوں گے۔ (الاعراف ۳۵) (ترجمہ شیخ الہندؒ)

اس آیت کریمہ کے سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ اسمیں "بنی آدم" سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کے بعد کے لوگ مراد ہیں، نہ کہ گذشتہ زمانے کے لوگ جس سے واضح ہے کہ نبوت جاری ہے۔

تردید

آیت کریمہ کا سیاق و سباق صاف بتا رہا ہے کہ اسمیں "بنی آدم" کا مخاطب حضرت آدم علیہ السلام کی اولین اولاد ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے حضرت آدم کے پیدا کئے جانے اور شیطان کے بہکاوے میں آکر جنت سے ان کے مع ذریت کے نکالے جانے کا

صفحہ ۴۴

حصّہ ۴۴ محاکمہ روئداد باینت

تذکرہ ہے۔ پھر آگے چلکر اسی ذیل میں یہ فرمایا گیا کہ اگر تمہارے پاس میرے رسول آئیں ان کا کہنا ماننا، جو صلاح اختیار کرے گا ان پر کوئی خوف نہیں اور جو تکذیب کرے گا وہ اصحاب النار میں سے ہے۔

اسی طرح کا مضمون سورہ بقرہ میں بھی قصّہ آدمؑ کی تفصیل کے بعد ارشاد فرمایا گیا ہے۔

فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ | پھر اگر تم کو پہنچے میری طرف سے کوئی ہدایت تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا | تو جو چلا میری ہدایت پر نہ خوف ہو گا ان ھُمْ یَحْزَنُوْنَ (بقرہ ۳۸) | پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے (ترجمہ شیخ الہندؒ)

اگر اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ سے اجرائے نبوت پر استدلال کیا جا سکتا ہے تو اس آیت سے اجرائے ہدایت (قرآن) پر بھی استدلال ہو سکتا ہے، یعنی قرآن کریم کے بعد کوئی اور کتاب بھی آسکتی ہے جب کہ مرزائی اس کو تسلیم نہیں کرتے۔

احادیث نبویہ میں تحریفات مرزائیہ

تحریف (۱) حدیث میں ہے کہ حضور صلے اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادہ ابراہیمؑ کی وفات پر فرمایا۔

لَوْ عَاشَ اِبْرَاھِیْمُ لَکَانَ صِدِّیْقًا | یعنی اگر میرا یہ بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نَّبِیًّا (ابن ماجہ ص ۱۱۵) | صدیق نبی بن جاتا۔

معلوم ہوا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا امکان ہے۔

تردید | اوّل تو یہ حدیث سنداً مجروح ہونے کی وجہ سے محدثین کے نزدیک غیر معتبر ہے | لیکن اگر اس کو صحیح بھی مان لیا جائے تو اس میں صرف حضرت ابراہیم کی فضیلت بیان کرنی مقصود ہے نہ کہ امکانِ نبوت، جیسے کہ لَوْ کَانَ مُوْسٰی حَیًّا لَّمَا وَسِعَہٗ اِلَّا اِتِّبَاعِیْ۔ میں یہ مطلب نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام حضور صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریف لا سکتے ہیں، بلکہ اسمیں حضور صلے اللہ علیہ وسلم کے مرتبۂ نبوت کو بیان فرمایا گیا ہے۔

تحریف (۲) اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ | اے اللہ حضرت محمد صلے اللہ علیہ وسلم پر اور آپ

صفحہ ۲۵

محاضرہ رد قادیانیت ۲۵ حصہ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی کی آل پر رحمت کاملہ نازل فرما، جیسا کہ تو نے اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ رحمت نازل فرمائی حضرت ابراہیمؑ اور انکی اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ ۔ آل پر بے شک تو ہی تعریف کے لائق ہے اور بزرگی والا ہے۔

تمام مسلمان درود شریف میں یہ دعا کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی رحمت ہو جیسی ابراہیمؑ اور انکی آل پر ہوئی ، یعنی دیگر رحمتوں کے ساتھ نبوت بھی، لہٰذا آپؐ کی امت میں نبوت جاری ہونی چاہیئے۔

تردید

نصوص قطعیہ سے نبوت کے سلسلہ کا بند ہونا ثابت ہو چکا ہے۔

تھے کیا تم امت محمدیہ میں ایسے نبی کی آمد کی دعا کرتے ہو ؟

تحریف

مَسْجِدِیْ اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ (مسلم ص ۴۴۲) ہے۔

مسجد نبوی کے بعد بہت سی مسجدیں وجود میں آچکی ہیں ، اسلئے یہاں آخر کے معنی یہ نہیں ہے کہ اسکے بعد کوئی اور مسجد نہیں ہو سکتی ، اسی طرح آخر الانبیاء کے معنی یہ نہیں کہ، آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا بلکہ آپؐ کی موافقت و اتباع سے نبی ہو سکتا ہے۔

تردید

ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد کی تشریح فرمادی ہے ، اَنَا خَاتَمُ الْاَنْبِيَاءِ وَمَسْجِدِیْ میں خاتم الانبیاء ہوں ، اور میری مسجد انبیاء کی خَاتَمُ مَسَاجِدِ الْاَنْبِيَاءِ (کنز العمال ج ۶ ص ۲۷۶) مسجدوں کی خاتم ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ ہے کہ ہر نبی نے اپنے زمانے کیمطابق عبادت کے طریقوں اور جائے عبادت کی تعیین کی ہے۔ میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد انبیاء کی آخری مسجد ہے اب میرے بعد نہ کوئی نیا نبی آئے گا اور نہ کوئی نیا عبادت کا طریقہ پیش کریگا ۔

آپ نے دیکھ لیا کہ مرزائی گروہ اپنی ایجاد کردہ نبوت کی قسم (ظلی و بروزی) کے جاری رہنے

صفحہ ۴۶

مباحثہ رد قادیانیت حصہ

کو ثابت کرنے کیلئے کس طرح آیات و احادیث میں کھینچا تانی کرتا ہے اور مطلقاً ختم نبوت کی نصوص صریحہ میں ملحدانہ شبہات پیدا کر کے ان کو اپنے مقصد کے مطابق بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب کہ قادیانی گروہ پر لازم ہے کہ ایسی آیات و نصوص پیش کرے جن میں صراحۃً یا کنایۃً اس بات کا ذکر ہو کہ آپؐ کے بعد نبوت جاری ہے، مطلقاً نبوت کے متعلق آیات پیش کرنا خلط مبحث ہے۔

وسوسہ اس پر کوئی قادیانی کہہ سکتا ہے کہ جب مطلق اجراء نبوت ثابت ہو گیا، خواہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی اور خواہ موہبت سے ہو یا اکتساب سے، تو اسکے ذیل میں ہماری پیش کردہ قسم بھی ثابت ہو گئی۔

جواب اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بتاؤ کہ نبوت کو وہبی مانتے ہو یا اکتسابی، اگر اکتسابی مانتے ہو تو ہر شخص کسب کر کے نبی بن سکتا ہے، مرزا کی کیا تخصیص، اور اگر وہبی مانتے ہو تو پھر صرف غیر تشریعی نبوت کو جاری کیوں مانتے ہو، تشریعی نبوت کو بھی جاری ماننا چاہیے مگر تم اسکی بندش کرتے ہو۔

ان تحریفات اور مغالطوں کے جوابات سے واضح ہو گیا کہ نبوت کوئی مقسم کلی نہیں ہے۔ جس کی کوئی قسم ہو، نبوت صرف ایک ہی شکل میں وجود پذیر ہوتی ہے، اور وہ ہے موہبت ربانی، کسب و اکتساب اور اتباع کا اسمیں کوئی دخل نہیں۔

قادیانی گروہ کی طرف سے مسئلہ ختم نبوت پر

اجماع امت کے سلسلہ میں مغالطہ انگیزی

جس طرح قادیانی گروہ نے ختم نبوت کی آیات و احادیث میں تاویلات زائفہ کر کے عام مسلمانوں کو مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے کہ ان سے ظلی و بروزی نبوت کے منقطع ہونے کا ثبوت نہیں بلکہ صرف حقیقی اور مستقل نبوت کا بند ہونا ثابت ہوتا ہے اسی طرح مطلق ختم نبوت پر امت مسلمہ کے اجماع کے سلسلہ میں بھی ان لوگوں نے مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے اور یہ کہا ہے کہ امت مسلمہ کا اس مسئلہ پر اجماع ہونیکی بات غلط ہے، کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہؓ اور دوسرے

صفحہ ۴۷

محاکمہ قادیانیت ۴۷ حصہ

بزرگان امت مثلاً شیخ محی الدین بن عربیؒ علامہ عبدالوہاب شعرانی وغیرہ غیر تشریعی نبوت کے اجراء کے قائل ہیں۔ اور اس کے ثبوت میں شیخ اکبر محی الدین بن عربیؒ کی یہ عبارت پیش کی جاتی ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے کہ اِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ الخ کے معنی یہ ہیں کہ کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو میری شریعت کے خلاف شریعت رکھتا ہو، بلکہ جب بھی کوئی نبی ہو گا تو میری شریعت کے ماتحت ہو گا۔

مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ، لَا نَبِيَّ يَكُونُ عَلَى شَرْعٍ يُخَالِفُ شَرْعِي بَلْ اِذَا كَانَ يَكُونُ تَحْتَ حُكْمِ شَرِيْعَتِي

(فتوحات مکیہ ص۱۴۳ ج۲)

اور عبدالوہاب شعرانیؒ کی یہ عبارت پیش کی جاتی ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا رَسُولَ بَعْدِی سے مراد یہ ہے کہ آپ کے بعد شریعت لانے والا نبی نہیں ہو گا۔

وَقَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا رَسُولَ بَعْدِي اَي مَا ثَمَّ مَنْ يَشْرَعُ بَعْدِي شَرِيعَةً خَاصَّةً. (الیواقیت والجواہر ص۲۲ ج۲)

جواب حضرت عائشہؓ کے کلام سے قادیانی مغالطہ ۵ کے ذیل میں دیا جا چکا ہے۔

رہا شیخ اکبرؒ اور علامہ شعرانیؒ اور دیگر صوفیاء کرام کی عبارت میں قادیانیوں کی مغالطہ انگیزی تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان حضرات کے پیش نظر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ہے۔ جو بظاہر آیت خاتم النبیین اور لَا نَبِيَّ بَعْدِي کے خلاف معلوم ہوتی ہے، اسلئے ان حضرات نے تخالف صوری کو ختم کرنے کیلئے یہ قید لگا دی کہ ایسا نبی نہیں آئیگا جو شریعت محمدیہ کے علاوہ کوئی اور شریعت پیش کرے، رہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو وہ تو بغیر شریعتِ جدیدہ کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خادم کی حیثیت میں آپ کی شریعت کیمطابق کام کرینگے، اسلئے ان کا نزول ختم نبوت کیخلاف نہیں۔ اور اگر صاحب کشاف کے بیان کردہ معنیٰ اختیار کر لئے جائیں تو پھر اس قید کے لگانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ وہ فرماتے ہیں:

صفحہ ۴۸

محاصرہ رد قادیانیت حصہ پنجم

مَعْنٰی كَوْنِهِ اٰخِرَ الْاَنْبِيَاءِ اَنَّهُ لَا يُنَبَّأُ اَحَدٌ بَعْدَهُ وَعِيْسٰی مِمَّنْ نُبِّئَ قَبْلَهُ

(تفسیر کشاف ص۵۶،۵۴ ج۳)

یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخر الانبیاء ہونیکا مطلب یہ ہے کہ آپکے بعد کسی کو نبی نہیں بنایا جائیگا اور حضرت عیسیٰؑ تو ان لوگوں میں شامل ہیں جن کو آپ سے قبل نبی بنایا جا چکا ہے۔

٭ ٭

خاتم النبیین کے یہی معنی دیگر معتبر کتب تفسیر میں مذکور ہیں۔

بہر حال صوفیاء کرام کے کلام سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ انکے نزدیک نبوت بالمعنی الشرعی کی ایک قسم غیر تشریعی بھی ہے اور وہ جاری ہے ، ان حضرات پر بہتان ہے اسلئے کہ ان حضرات نے نہایت وضاحت سے اس بات کی صراحت فرمادی ہے کہ جس قسم کی وحی حضرات انبیاء پر اترتی ہے وہ بالکل مسدود ہو گئی ہے اب نہ یہ منصب باقی ہے اور نہ کسی کیلئے جائز ہے کہ اپنے اوپر نبی و رسول کا لفظ اطلاق کرے، چنانچہ شیخ اکبر فرماتے ہیں ۔

كَذٰلِكَ اِسْمُ النَّبِيِّ زَالَ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاِنَّهُ زَالَ التَّشْرِيْعُ الْمُنَزَّلُ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ بِالْوَحْيِ بَعْدَهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔

(فتوحات مکیہ ص۳ ج۲)

اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی کا لفظ کسی پر نہیں بولا جا سکتا ، کیونکہ آپ کے بعد وحی جو تشریعی صورت میں صرف نبی پر آتی ہے ہمیشہ کیلئے ختم ہو چکی ہے۔

جواب

نبوت اور کمالات نبوت الگ الگ چیزیں ہیں ، مبشرات و رویا صالحہ، ولایت کو شیخ محی الدین بن عربی نے غیر تشریعی نبوت سے تعبیر ضرور کیا ہے ، لیکن وہاں نبوت کے شرعی معنی مراد نہیں ہیں ، کیونکہ شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ کے باب ۷۳ کے سوال ۱۹ کے فصل میں تصریح کی ہیکہ نبوت سے انکی مراد شرعی اصطلاح نہیں ہے بلکہ معنی لغوی ہے ۔ بہر حال صوفیاء کرام نے نبوت بمعنی اخبار دادن کو مقسم بنا کر شعبہ خبر دہی ولایت کو بھی اسکے تحت درج کر دیا ہے اور اس کو غیر تشریعی اسلئے کہہ دیا کہ اولیاء کے الہام سے کوئی حکم شرعی ثابت نہیں ہوتا ۔ اصل حکم شرعی قرآن و سنت ہی سے معلوم ہوگا ، الہام اگر انکے مطابق ہے تو وہ الہام رحمانی ہے ، اور اسپر عمل جائز ہے ورنہ الہام شیطانی ہے صوفیاء کرام نے نبوت بالمعنی الشرعی کو مقسم بنا کر اسکی ایک قسم غیر تشریعی نبوت کو جاری ہر گز نہیں مانا۔

(تفصیل دیکھئے خاتم النبیین ص۷۰)

PDF 121

چوتھا مُحاضَرہ عِلمِيَّہ

برمَوضُوع

رَدِّ

قَادِيَانِيَّت

پیش کردہ

حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصورپوری

استاذ حَدیث وادب دارالعلوم دیوبند

طباعت :۔ شیروانی آرٹ پرنٹرز دہلی ۱۱۰۰۰۶۔ فون : 2943292

صفحہ ۲

محاسبہ قادیانیت جز

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اما بعد!

عقیدۂ ختم نبوت کی طرح حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے رفع ونزول کا عقیدہ بھی اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ اور ضروریات دین میں شامل ہے جو قرآن کریم کی نصوص قطعیہ، اخبار متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے اور جس کو علماء امت نے کتب تفسیر شروح احادیث اور کتب علم کلام میں مکمل توضیحات و تشریحات کے ساتھ منقح فرما دیا ہے، اس لئے اس مسئلہ پر کسی مفصل گفتگو کی ضرورت نہیں تھی، لیکن ہندوستان میں جب مرزا غلام احمد نے ۱۸۹۱ء میں اپنے بارے میں مثیل مسیح اور مسیح ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کی بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور ان کے رفع جسمانی الیٰ السماء اور قرب قیامت میں ان کے نزول کے انکار پر رکھی تو ہندوستان کے علماء حق نے اس مسئلہ پر خصوصی توجہات مبذول فرمائیں، اور اس مسئلہ کو نئے انداز سے منقح فرمایا تاکہ عام مسلمان قادیانی فریب سے محفوظ رہیں اور مرزا قادیانی کی طرف سے جو شکوک و شبہات مذکورہ دلائل میں پیدا کر دئیے گئے ہیں ان کا ازالہ ہو جائے۔

صفحہ ۳

محاضرہ رد قادیانیت ۳ جلد ۲

نزول قرآن کے وقت حضرت عیسیٰ بن مریمؑ کے متعلق

یہود ونصاریٰ کے عقائد باطلہ

یہاں یہ معلوم رہنا ضروری ہے کہ کتب سابقہ میں جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی بشارت مذکور تھی‘ اسی طرح ایک مسیح ہدایت (عیسیٰ ابن مریم) کی آمد کی بشارت تھی اور ایک مسیح ضلالت (دجال اعور) سے ڈرایا گیا تھا‘ چنانچہ متعدد صحابہ کرام رض سے یہ حدیث صحیح مروی ہے :

ما من نبی الا وقد انذر امته کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس نے اپنی قوم کو المسیح الدجال حتی نوح انذر امته ؎۱ دجال سے نہ ڈرایا ہو‘ حتیٰ کہ نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا ؎۲

اسلامی لٹریچر میں بھی ان ہی دو مسیحوں کا تذکرہ ہے۔ بہرحال ان پیش گوئیوں کی بنا پر یہود و نصاریٰ اور مسلمانوں کا متفقہ نظریہ یہ ہے کہ مسیح ضلالت ابھی تک نہیں آیا ہے البتہ مسیح ہدایت کے بارے میں اختلاف ہے۔

یہودیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح ہدایت بھی ابھی نہیں آیا‘ اور عیسیٰ بن مریمؑ نامی جس شخص نے اپنے آپ کو مسیح اور رسول اللہ کہا ہے (نعوذ باللہ) وہ جادوگر اور جھوٹا دعویٰ نبوت کرنے والا تھا‘ اسی لئے یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بغض و عداوت کا معاملہ کیا اور ان کو قتل کرنے اور سولی پر چڑھانے کا منصوبہ بنایا‘ بلکہ ان کے بقول یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا دیا‘ جیسا کہ ارشاد ہے :

؎۱ مشکوٰۃ ص ۴۷۲ / ۲ ۔ ؎۲ حضرت عیسیٰ بن مریمؑ اور دجال کو مسیح کہنے کی وجہ الگ الگ ہے چنانچہ مجمع البحار میں ہے ”سمی الدجال مسیحا لان احدی عینیه ممسوحة وعیسیٰ سمی به لانه كان يمسح ذا العاهة فیبرأ“ (مجمع البحار ص ۱۵ / ۲) (دجال کا نام) مسیح اس لئے رکھا گیا کہ اس کی ایک آنکھ بالکل ہموار ہوگی‘ اور عیسیٰؑ کا نام مسیح اس لئے رکھا گیا کہ وہ بیمار پر ہاتھ پھیرتے تھے تو وہ اچھا ہو جاتا تھا۔

صفحہ ۴۴

محاسبہ قادیانیت حصہ

وَقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح بْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۔ عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا ۔ (سورۃ نساء آیت ۱۵۷) (ترجمہ شیخ الہند)

دعویٰ قتلِ عیسیٰ میں تو تمام یہود متفق ہیں، البتہ ان میں ایک فرقہ یہ کہتا ہے کہ قتل کئے جانے کے بعد اہانت اور تشہیر کے لیے عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر لٹکایا گیا' اور دوسرا فریق کہتا ہے کہ سولی پر چار میخ کئے جانے کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا گیا۔

اور نصاریٰ کا متفقہ عقیدہ یہ ہے کہ مسیح ہدایت آچکے ہیں اور وہ حضرت عیسیٰ ابن مریم ہیں۔ اس کے بعد ان میں دو فرقے بن گئے۔

زندہ کر کے ان کو آسمان پر اٹھا لیا' اور یہ سولی پر چڑھایا جانا عیسائیوں کے گناہوں کا کفارہ ہو گیا۔ اسی لئے عیسائی صلیب کی پوجا کرتے ہیں۔

کو آسمان پر اٹھا لیا۔

پھر یہ دونوں فرقے بالاتفاق اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح ہدایت عین قیامت کے دن جسم ناسوتی یا جسم لاہوتی ہیں، خدا بن کر آئیں گے ۔ اور مخلوق کا حساب لیں گے ۔

حاصل یہ کہ تمام یہود اور نصاریٰ کی بڑی اکثریت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت الصلیب کی قائل ہے' اور یہود و تمام نصاریٰ کو ایک مسیح ہدایت کا انتظار ہے۔ یہود کو تو اس وجہ سے کہ ابھی یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی' اور نصاریٰ کو اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن برائے فیصلہٴ خلائق خدا کی شکل میں آنے والے ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اسلامی عقیدہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ وہ حضرت مریم کے بطن مبارک سے محض نفخہٴ جبریل سے پیدا ہوئے پھر بنی اسرائیل کے آخری نبی بن کر مبعوث ہوئے' یہود

صفحہ ۵

محاصرہ مرزائیت حصہ

نے ان سے بغض و عداوت کا معاملہ کیا، آخر کار جب ایک موقعہ پر ان کے قتل کی مذموم کوشش کی تو بحکم خداوندی فرشتے ان کو اٹھا کر زندہ سلامت آسمان پر لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو طویل عمر عطا فرمادی اور قرب قیامت میں جب دجال کا ظہور ہو گا اور دنیا میں فتنہ و فساد پھیلائے گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ قیامت کی ایک بڑی علامت کے طور پر نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔

دنیا میں آپ کا نزول ایک امام عادل کی حیثیت میں ہو گا اور اس امت میں آپ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہوں گے اور قرآن وحدیث (اسلامی شریعت) پر خود بھی عمل کریں گے اور لوگوں کو بھی اس پر چلائیں گے۔ ان کے زمانہ میں جو اس امت کا آخری دور ہو گا، اسلام کے سوا دنیا کے تمام مذاہب مٹ جائیں گے اور دنیا میں کوئی کافر نہیں رہے گا، اس لئے جہاد کا حکم موقوف ہو جائے گا، نہ خراج وصول کیا جائے گا اور نہ جزیہ، مال و زر اتنا عام ہو گا کہ کوئی دوسرے سے قبول نہیں کرے گا۔

نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نکاح بھی فرمائیں گے ان کی اولاد بھی ہو گی پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہو جائے گی اور مسلمان آپ کی نماز جنازہ پڑھ کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس میں دفن کر دیں گے :

یہ تمام امور احادیث صحیحہ متواترہ میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں جن کی تعداد ایک سو سے متجاوز ہے ؎

اسلامی عقیدہ کے اہم اجزاء یہ ہیں

ہے وہ سچے نبی کی حیثیت سے ایک مرتبہ دنیا میں مبعوث ہو چکے ہیں۔

؎ تفصیل کے لئے دیکھئے (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح)

صفحہ ٦

مباحثہ رد قادیانیت جہلم

عیسیٰ بن مریمؑ) نزول فرما کر مسیح ضلالت (دجال) کو قتل کریں گے، ان سے الگ کوئی اور شخص ان کی جگہ مسیح کے نام سے دنیا میں نہیں آئے گا، اور نہ قیامت کے دن اپنے ناسوتی یا لاہوتی جسم میں برائے فیصلہ خلائق اتریں گے ۔

حضرت عیسیٰؑ کے متعلق قادیانی عقائد

مرزا قادیانی نے اپنی کتب ”ازالۂ اوہام“ ”تحفہ گولڑویہ“ ”نزول مسیح“ اور ”حقیقت الوحی“ وغیرہ میں جو کچھ لکھا ہے، اس کا خلاصہ مرزا بشیر احمد ایم اے قادیانی نے اپنی کتاب ”حقیقت الاسلام“ میں تحریر کیا ہے ۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ :

”اس بحث کے دوران میں (مرزا قادیانی نے) مندرجہ ذیل اہم مسائل پر نہایت زبردست روشنی ڈالی

سے صلیب پر ضرور چڑھائے گئے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لعنتی موت سے بچا لیا اس کے بعد وہ خفیہ خفیہ اپنے ملک سے ہجرت کر گئے ۔

انکی وفات ہوئی ۔ (۸۷ برس کے بعد) اور وہیں ان کی قبر (سری نگر کے محلہ خانیار میں، ناقل) موجود ہے ۔

لئے مسیح کے زندہ آسمان پر چلے جانے کا خیال بھی باطل ہے ۔

خود مسیح کا ۔

صفحہ ۷

محاصرہ قادیانیت ۷ حصہ

آپ ہی وہ مسیح موعود ہیں جس کے ہاتھ پر دنیا میں حق و صداقت کی آخری فتح مقدر ہے ۲

خود مرزا غلام احمد قادیانی نے قسم کھا کر لکھا ہے : " میں وہی مسیح موعود ہوں جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان احادیث صحیحہ میں خبر دی ہے جو صحیح بخاری اور مسلم اور دوسری صحاح میں درج ہیں۔ وَکَفٰی بِاللّٰهِ شَهِیْدًا ۱ "

یہود و نصاریٰ کے اختلافات کا فیصلہ بذریعہ قرآنِ کریم :

اب دیکھنا یہ ہے کہ اہل کتاب کے خیالات میں سے کون سا کتنا صحیح ہے ؟ اس کے جاننے کا قطعی و یقینی ذریعہ قرآن کریم ہے۔ کیوں کہ قرآن کریم کے متعلق ارشاد ہے :

وَمَا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ اور ہم نے اتاری تجھ پر کتاب اسی واسطے لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ - کہ کھول کر سنا دے تو ان کو وہ چیز کہ جس میں (سورۂ نحل آیت ۶۴) جھگڑ رہے ہیں (ترجمہ شیخ الہند)

چنانچہ اہل کتاب کے اس اختلافی معاملہ میں قرآنی فیصلہ یہ ہے :

وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلَكِنْ اور انھوں نے اسکو مارا ، اور نہ سولی پر چڑھایا شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے ، اور فِيْهِ لَفِی شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْهُ وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ کچھ نہیں ان کو اس کی خبر، صرف اٹکل پر اللَّهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا - (سورۂ نساء آیت ۱۵۷-۱۵۸) چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا بیشک بلکہ اس کو اٹھا لیا اپنی طرف ، اور اللہ ہے

۱؂ حقیقت اسلام ص ۲۹-۳۰ ۲؂ عقائد احمدیت ص ۱۳۴

صفحہ ۸

محاضرہ رد قادیانیت ۸ حصہ

زبردست حکمت والا“ (ترجمہ شیخ الہند)

قرآن کریم نے بتا دیا کہ صحیح صورت حال نہ یہود کو معلوم ہے اور نہ نصاریٰ کو محض اندازے اور اٹکل سے باتیں بنا رہے ہیں۔ پھر یہود کے دعویٰ قتل عیسیٰ کی دوبارہ تردید فرماتے ہوئے اصل صورت حال واقعہ کی بتلادی کہ یہ بات یقینی ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ کو قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے بغیر اس کے کہ یہود اپنے ناپاک ہاتھوں سے انھیں کسی قسم کا کوئی گزند پہنچائیں، زندہ سلامت اپنے پاس اوپر اٹھا لیا، جیسا کہ باری تعالیٰ کا ان سے وعدہ تھا : ”وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا“۔ اور پاک کر دوں گا تجھ کو کافروں سے۔ (ترجمہ شیخ الہند)

اس سے نصاریٰ کے بڑے فرقے کی بھی تردید ہو گئی جو رفع عیسیٰ سے پہلے ان کے قتل وصلیب کو تسلیم کرتا ہے۔ نیز اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ یہود نے جس عیسیٰ بن مریم ؑ نامی شخص کو قتل کرنے کی کوشش کی اور جسے اللہ تعالیٰ نے بحفاظت تمام اوپر اٹھا لیا وہ واقعہ وہی مسیح ہدایت تھے جن کی بشارت کتب سابقہ میں دی گئی تھی، کیوں کہ عیسیٰ ابن مریم کے قتل کی تدبیر کرنے اور دعویٰ قتل کی وجہ سے بھی یہود لعنت خداوندی کے مستحق بنے ہیں جیسا کہ دیگر افعال و اقوال شنیعہ کی وجہ سے، اگر وہ نعوذ باللہ جھوٹے مدعی نبوت ہوتے تو ان کے ساتھ اس طرح کے برتاؤ کو یہود کے اسباب لعنت میں نہ شمار کرایا جاتا ۔

قادیانی عقائد پر تبصرہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر چڑھائے جانے کو تسلیم کرنا یہود و نصاریٰ کی موافقت ہے، اور رفع کا انکار کر کے نیز بجائے مسیح ہدایت (حضرت عیسیٰؑ)

کے کسی اور شخصیت کی آمد کو تسلیم کر کے یہود بے بہبود کی موافقت کی گئی ہے، بہر حال اکثر امور میں یہود کی موافقت ہے۔ بس اتنی بات زائد ہے کہ متذکرہ مسیح ہدایت کا مصداق مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو بتلایا ہے جب کہ یہود اپنے خیال کے مطابق اصلی مسیح ہدایت کے منتظر ہیں ۔

صفحہ 9

محاسبہ قادیانیت حصہ

بحث کا اصل نقطہ رفع و نزول عیسیٰ ہے

قادیانی خیالات کی تردید کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صرف حیات کی بحث کافی نہیں ہے، اس کی مکمل تردید جب ہی ہو گی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع و نزول ثابت کر دیا جائے رہا حیات کا مسئلہ، وہ اسی بحث کے ضمن میں لزوماً خود بخود ثابت ہو جائے گا، قرآن کریم نے بھی یہود کی تردید کے موقع پر قتل عیسیٰ ؑ کی نفی کر کے اس کے مقابلہ میں حیات عیسیٰ ؑ کا تذکرہ صراحتاً نہیں کیا، بلکہ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ فرمایا ہے، جس کے ضمن میں حیات عیسیٰ ؑ خود بخود معلوم ہو گئی ۔

اسلامی عقیدہ کے اجزاء کے الگ الگ دلائل | حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے

متعلق اسلامی عقیدہ کا تجزیہ

کیا جا چکا ہے : اب ہم ہر جزء کی دلیل ذکر کرتے ہیں ۔

دلیل | إِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِيْ جب کہ عیسیٰ بن مریم نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل إِسْرَائِيْلَ إِنِّيْ رَسُوْلُ اللهِ میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں ، اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ کہ مجھ سے جو پہلے توراۃ ہے میں اس کی تصدیق وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِيْ مِنْ بَعْدِی اسْمُهُ کرنے والا ہوں اور میرے بعد جو ایک رسول اَحْمَدُ ۔ (سورۃ الصف آیت ۶) آنے والے ہیں جن کا نام احمد ہوگا ، ان کی بشارت دینے والا ہوں (حضرت تھانویؒ)

دلیل | وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللهُ ۖ وَاللهُ اور ان لوگوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ ۔ خفیہ تدبیر فرمائی ، اور اللہ سب تدبیریں کرنے (آل عمران آیت ۵۴) والوں سے اچھے ہیں ۔ (حضرت تھانویؒ)

صفحہ ۱۰

محاضرہ رد قادیانیت جز

مکر کے اصلی معنی تدبیر محکم (مضبوط و کامل تدبیر) ہیں، لیکن عرف میں اب یہ لفظ خصوصاً ایسی تدبیر کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے کی جائے۔ (تفسیر کبیر ص۲۴ ج۲) یہود بے بہبود نے حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت کو تسلیم نہیں کیا تھا، ان کے معجزات کو جادو قرار دیا تھا، اس لئے ان کے قتل و سولی دینے کی تدبیر کی، لیکن باری تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام کرنے کی کامل و مکمل تدبیر فرمائی، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں تو خیر ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے شر سے پوری طرح محفوظ رکھ کر ان کو آسمان پر اٹھا لیا، مگر یہ تدبیر یہودیوں کے حق میں شر ثابت ہوئی، کہ ان میں سے ایک شخص پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی اور انھوں نے اسی کو پکڑ کر سولی پر چڑھا دیا اور قتل کر دیا۔

دلیل ۲

وَقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ اور انکے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے عیسیٰ بن عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ مریم کو جو کہ رسول ہیں، اللہ تعالیٰ کے، وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰکِنْ شُبِّهَ لَهُمْ قتل کر دیا، حالانکہ انھوں نے نہ ان کو قتل (سورۃ نساء آیت ۱۵۷) کیا اور نہ سولی پر چڑھایا، لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا" (بیان القرآن)

اس آیت میں دو طریقوں سے عدم مصلوبیت پر استدلال ہو سکتا ہے۔

ہونے کے اسباب میں کچھ ان کے افعال شنیعہ اور کچھ اقوال باطلہ ذکر فرمائے ہیں۔ افعال شنیعہ کی نسبت صاف صاف ان کی طرف کی گئی ہے کہ واقعہ یہ حرکتیں ان سے صادر ہوئی ہیں، یعنی نقض میثاق، کفر، اور قتل انبیاء علیہم السلام، لیکن حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق یہود کی گستاخی کا تذکرہ فرماتے وقت قتل مسیح کی نسبت ان کی طرف نہیں کی، بلکہ ان کا صرف یہ قول نقل فرمایا اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ یعنی یہ ان کا نرا دعویٰ ہے، واقعہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں، جیسے ان کا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ کہنا خلاف واقعہ ہے اور جیسے حضرت مریم کے بارے میں ان کی بکواس

صفحہ ۱۱

محاضرہ رد قادیانیت جزء

بہتان عظیم ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر یہود نے واقعۃً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھایا ہوتا، اور ان کو قتل کیا ہوتا تو دیگر حرکات قبیحہ کی طرح قتل وصلب کی نسبت ان کی جانب کر کے ان کی ملعونیت کو بتایا جاتا، اور عبارت یوں ہوتی ۔ وبقتلھم وصلبھم المسیح کیوں کہ یہ بمقابلہ محض قول کے زیادہ بڑا جرم ہے ۔

۲ اللہ تعالیٰ نے زندہ جسدِ عنصری کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

کو آسمان پر اٹھا لیا

إِذْ قَالَ اللَّهُ يٰعِيسَى إِنِّي جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اے عیسیٰ میں دلیل ۱ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ لے لوں گا تجھ کو ، اور اٹھالوں گا اپنی طرف وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ اور تم کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا جو منکر ہیں اور جو لوگ تمہارا کہنا ماننے والے إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ ہیں ان کو غالب رکھنے والا ہوں ان لوگوں فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ پر جو کہ منکر ہیں، روزِ قیامت تک پھر میری تَخْتَلِفُونَ (سورۂ ال عمران ع۵۵) طرف ہوگی سب کی واپسی، سو میں تمہارے درمیان فیصلہ کردوں گا ، ان امور میں جن میں تم باہم اختلاف کرتے تھے ۔ (ترجمہ شیخ الہندؒ)

اس آیت کریمہ کے متصل ماقبل کی آیت کریمہ ومکروا ومکر اللہ میں باری تعالیٰ کی جس خفیہ و کامل تدبیر کی جانب اشارہ فرمایا گیا تھا۔ اس کی تفصیل حسب بیان مفسرین آیت حاضرہ میں فرمائی گئی ہے ۔ اس محکم تدبیر کے وقوع سے پہلے ہی جب کہ یہودِ بے بہبود حضرت عیسیٰ ؑ کی جائے قیام کا محاصرہ کر کے قتل وسولی پر چڑھانے کا ناپاک منصوبہ بنا رہے تھے ، حضرت حق جل مجدہ نے ایسے نازک وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو

صفحہ ۱۲

محاصرہ رد قادیانیت جزء

تسلی دینے کے لئے بشارت دے دی کہ آپ کے دشمن خائب وخاسر رہیں گے، اس سلسلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چار وعدے فرمائے گئے۔

یہ چار وعدے اس لئے فرمائے گئے کہ یہود کے مکر وتدبیر میں یہ تفصیل تھی کہ:

لہٰذا ان کے پکڑنے کے مقابلہ میں متوفِّیک فرمایا، یعنی تم کو بھر پور لینے والا ہوں تم میری حفاظت میں ہو۔ اور ارادۂ ایذاء وقتل کے مقابلہ میں رافعک الی فرمایا، یعنی میں تم کو آسمان پر اٹھالوں گا۔ اور رسوا وذلیل کرنے کے مقابلہ میں مطہِّرک من الذین کفروا فرمایا، یعنی میں تم کو ان یہودِ نامسعود سے پاک کروں گا، رسوائی وبے حرمتی کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور اعدام امت اور اعدام دین کے مقابلہ میں جاعل الذین اتبعوک الخ فرمایا، یعنی تیرے رفع کے بعد تیرے متبعین کو ان کفار پر غلبہ دوں گا۔ ۳؎

توفی کے معنی

بہر حال پہلا وعدہ لفظ توفی سے فرمایا گیا ہے، اس کے حروف اصلیہ وفاء ہیں ۔ جس کے معنی ہیں، پورا کرنا، چنانچہ استعمال عرب ہے وفٰی بعهده اپنا وعدہ پورا کیا۔ ۱؎ باب تفعل میں جانے کے بعد اس کے معنی ہیں، اخذ الشئ وافیاً ۲؎ یعنی کسی چیز

۱؎ تفصیل کیلئے دیکھئے تقابلی مطالعہ ص ۱۷، ۲؎ لسان العرب، ۳؎ بیضاوی

صفحہ 13

محاضرہ رد قادیانیت ۱۳ جزء

کو پورا پورا لینا، توفی کا یہ مفہوم جنس کے درجہ میں ہے جس کے تحت یہ تمام انواع آتی ہیں، موت نیند اور رفع جسمانی۔ چنانچہ امام رازی رح فرماتے ہیں :

قوله انى متوفيك يدل على حصول باری تعالیٰ کا ارشاد انی متوفیک صرف التوفى وهو جنس تحته انواع بعضها حصول توفی پر دلالت کرتا ہے اور وہ ایک بالموت وبعضها بالاصعاد الى السما جنس ہے جس کے تحت کئی انواع ہیں کوئی فلما قال بعده ورافعك الى كان بالموت اور کوئی بالرفع الی السماء۔ پس جب هذا تعيينا للنوع ولم يكن تكراراً ۱؎ باری تعالیٰ نے اس کے بعد ورافعک الیٰ فرمایا، تو یہ نوع کو متعین کرنا ہوا، نہ کہ تکرار۔

یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ کسی لفظ جنس کو بول کر اس کی خاص نوع مراد لینے کے لئے قرینہ حالیہ ومقالیہ کا پایا جانا ضروری ہے۔ تو یہاں توفی بمعنی رفع جسمانی الی السماء لینے کے لئے ایک قرینہ یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد ورافعك الى فرمایا گیا۔ رفع کے معنی ہیں، اوپر اٹھا لینا، کیوں کہ رفع، وضع وخفض کی ضد ہے جس کے معنی نیچے رکھنا، اور پست کرنا۔ اور دوسرا قرینہ ومطهرك من الذين کفروا ہے۔ کیوں کہ تطہیر کا مطلب یہی ہے کفار (یہود) کے ناپاک ہاتھوں سے آپ کو صاف بچالوں گا۔

چنانچہ ابن جریج رح سے محدث ابن جریر رح نے نقل فرمایا ہے :

عن ابى جريج قوله انى متوفيك و کہ باری تعالیٰ کا ارشاد گرامی متوفیک الخ کی رافعك الى ومطهرك من الذين كفروا تفسیر یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام قال فرفعه ایاہ الیه توفیه ایاہ کو اپنی طرف اٹھالینا ہی آپ کی توفی ہے اور وتطهیره من الذين كفروا۔ ۲؎ یہی کفار سے ان کی تطہیر ہے۔

اور تیسرا قرینہ حضرت ابوہریرہ کی روایت مرفوعہ ہے جس کو امام بیہقی رح نے نقل فرمایا ہے، اور جس میں نزول من السماء کی تصریح ہے۔

۱۔ تفسیر کبیر ص ۳۸۱ جلد ۲ : ۲۔ تفسیر ابن جریر ص ۱۸۲-۱۸۳ :-

صفحہ ۱۴

محاصرہ رِدّ قادیانیت ۱۴ حصّہ

كيف انتم اذا نزل ابن مريم من السماء فيكم ١؎ اس لئے کہ نزول سے پہلے رفع کا ثبوت ضروری ہے۔

اسی طرح جب یہ لفظ موت کے معنی دے گا تو قرینہ کی احتیاج ہوگی۔ مثلاً ، قُلْ يَتَوَفّٰكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِيْ اے پیغمبر ان سے کہہ دو کہ تم کو قبض کرے گا وُكِّلَ بِكُمْ (المٓ سجدہ ۱۱) ملک الموت جو تم پر مقرر کیا گیا ہے (یعنی تم کو مارے گا۔

اس میں ملک الموت قرینہ ہے، دیگر متعدد آیات میں بھی بربنائے قرائن توفی بمعنی موت آیا ہے، کیوں کہ موت میں بھی توفی یعنی پوری پوری گرفت ہوتی ہے۔

ایسے ہی جہاں نیند کے معنی دے گا، تو بھی قرینہ کی ضرورت ہوگی۔ مثلاً : وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰكُم بِاللَّيْلِ۔ خدا ایسی ذات ہے کہ تم کو رات کے وقت ( انعام آیت ۶۰) پورا لے لیتا ہے، یعنی سلا دیتا ہے۔

یہاں لیل اس بات کا قرینہ ہے کہ توفی سے مراد نوم ہے کیوں کہ وہ بھی توفی (پوری پوری گرفت) کی ایک نوع ہے۔

یہ تمام تفصیلات بُلَغَاء کے استعمال کے مطابق ہیں۔ البتہ عام لوگ توفی کو اماتت اور قبض روح کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔

چنانچہ کلیات ابوالبقاء میں ہے : " اَلتَّوَفِّى الامَاتَة وقبض الروح وعليه استعمال العامة او الاستيفاء واخذ الحق وعليه استعمال البلغاء" ۲؎

بہر حال زیر بحث آیت کریمہ میں بربنائے قرائن توفی کے معنی رفع جسمانی کے ہیں۔ اماتت کے نہیں ہیں۔ البتہ قبض روح بصورت نیند کے معنی ہو سکتے ہیں کیونکہ قبض روح

١؎ کتاب الاسماء والصفات للامام البیہقی ص۲۰۳ : ۲؎ كليات ابوالبقاء ص۱۲۹ :-

صفحہ 15

محاصرہ رد قادیانیت ۱۵ جُز

کی دو صورتیں ہیں :

ایک مع الامساک اور دوسری مع الارسال۔ تو اس آیت میں توفی بقرینہ رافعک الیٰ بمعنی نیند ہو سکتی ہے، اور یہ ہمارے مدعا کے خلاف نہیں ہو گا، کیوں کہ منام اور رفع جسمی میں جمع ممکن ہے۔ چنانچہ مفسرین کی ایک جماعت نے اس کو اختیار کیا ہے :

"(الثانی) المراد بالتوفی النوم ومنه قوله تعالى الله يتوفى الانفس حين موتها والتي لم تمت فى منامها فجعل النوم وفاة وكان عيسى قد نام فرفعه الله وهو نائم لئلا يلحقه خوف" ۱؎

دلیل ۲

وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا اور اس کو قتل نہیں کیا بے شک بلکہ اسکو بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ۔ اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف ۔

(سورہ نساء آیت ۱۵۷-۱۵۸) (ترجمہ شیخ الہند)

یہودیوں کی جانب سے محاصرہ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان کے زندہ رفع جسمانی کا جو وعدۂ خداوندی ہوا تھا، اس کے پورا ہونے کی اطلاع مذکورہ بالا آیات کریمہ میں دی گئی ہے ۔

لفظ رفع کی تحقیق

رفع کے لغوی معنی اوپر بتائے جاچکے ہیں ۔ المصباح المنیر میں مذکور ہے :

فالرفع فى الاجسام حقيقة فى لفظ رفع جسموں کے متعلق حقیقی معنی کی رو سے الحركة والانتقال وفى المعانى محمول حرکت اور انتقال کے لئے ہوتا ہے ، اور معانی على ما يقتضيه المقام ۲؎ کے متعلق جیسا موقع و مقام ہو ویسی مراد ہوتی ہے

اس سے معلوم ہوا کہ رفع کے حقیقی وضعی معنی جب کہ اس کا متعلق جسم ہو، یہی ہے کہ اس کو نیچے سے اوپر حرکت دے کر منتقل کر دینا، ان حقیقی معنی کو بلا تعذرِ حقیقۃً ترک نہیں

۱؎ تفسیر خازن ص ۲۴۳ ج ۱ ۲؎ المصباح المنیر ص ۱۳۵

صفحہ 16

محاضرہ رَدّ قادیانیت 16 جزء

کیا جائے گا، اور بل رفعہ اللہ کو حقیقی معنی پر محمول کرنے میں ذرّہ برابر کوئی تعذّر ہے نہیں جب کہ محاورات میں اس کی بہت سی نظائر موجود ہیں۔ مثلاً حضرت زینبؓ کے صاحبزادے کے انتقال کی حدیث میں آتا ہے : فرفع الی رسول اللہ صلی اللہ یعنی وہ لڑکا (آپؐ کا نواسہ) آپ کے پاس علیہ وسلم الصبی ۔ ۱؎ اٹھا کر لایا گیا ۔ اور اہل زبان بولا کرتے ہیں : رفعت الزرع الی البیدر ۲؎ میں کھیت کاٹ کر اور غلہ اٹھا کر خرمن گاہ میں لے آیا ۔

بہر حال بل رفعہ اللہ میں رفع جسمانی مع الروح تو یقیناً مراد ہے جو اس کا معنی حقیقی ہے، کیوں کہ ضمیر عیسیٰ ؑ کی طرف راجع ہے جو جسد مع الروح کا نام ہے نہ کہ صرف روح کا، البتہ اس کے ساتھ معنی کنائی کے طور پر رفع منزلت کے معنی بھی لئے جا سکتے ہیں، کیوں کہ رفع جسمانی کے ساتھ رفع منزلت بھی پایا جا سکتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے۔ ورفع ابویہ علی العرش یعنی یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو (سورۂ یوسف آیت ۱۰۰) تخت پر چڑھا کر بٹھایا ۔

اور جہاں قرینہ پایا جائے گا وہاں لفظ رفع مجازاً صرف رفع منزلت کے معنی دیگا اس کے ساتھ رفع جسم کے معنی نہیں لئے جا سکتے کیوں کہ حقیقتہً و مجاز کا جمع ہونا جائز نہیں ہے ۔ جیسے ارشاد ہے : ورفعنا بعضہم فوق بعض درجات اور ہم نے ایک کو دوسرے پر رفعت دے (سورۂ زخرف ع ۳۲) رکھی ہے ۔

بہر حال بل رفعہ اللہ میں نہ تو حقیقی معنی متعذر ہیں اور نہ کوئی قرینہ صارفہ موجود ہے اس لئے یہاں صرف رفع منزلت کے معنی نہیں ہو سکتے ۔

۱؎ مشکوۃ شریف ص ۱۳۱ باب الجنائز ۔ ۲؎ القاموس ، اساس البلاغۃ ۔

صفحہ ۱۷

مباحثہ رد قادیانیت حصہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کو سمجھنے کے لئے ایک آیت بھی کافی تھی مگر قرآن کریم میں دو جگہ صراحۃً لفظ رفع کے ساتھ اس کو بیان فرمایا گیا ، لیکن بے بصیرت و بے بصارت قادیانی گروہ یہی رٹ لگاتا رہتا ہے کہ ”سارے قرآن شریف میں ایک آیت بھی ایسی نہیں کہ جس سے حضرت مسیح ؑ کا زندہ بجسد عنصری آسمان پر جانا ثابت ہو“ فَسُحْقًا لَّهُمْ ۔

حالانکہ مذکورہ دو آیتوں کے علاوہ متعدد آیاتِ کریمہ سے رفعِ عیسیٰ بجسدہ کا مضمون ثابت ہے ، مثلاً :

(نساء ۱۷۲)

عَلَيْهِمْ وَاَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيْدٌ ۔ (مائدہ ۱۱۷)

ان آیاتِ کریمہ سے رفعِ عیسیٰ کے مسئلہ پر استدلال کی تقریروں کی تفصیلات کتاب شہادت القرآن، مؤلفہ جناب مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹیؒ کے حصہ اول میں ملیں گی۔

۴ حضرت عیسیٰ علیہ السلام رفعِ سماوی کے بعد بقیدِ حیات ہیں

دلیل ۱ روی ابن جریر وابن ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ربیع ابی الحاتم عن الربیع سے روایت کیا ہے کہ نصاریٰ وفد نجران قال ان النصاری اتوا النبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صلی اللہ علیہ وسلم فخاصموا آئے اور حضور سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام

صفحہ ۱۸۰

جائزہ رد قادیانیت حصہ ۲

النبی صلی اللہ علیہ وسلم الی ان کے بارے میں بحث کی، تاآں کہ آپ نے قال الستم تعلمون ان ربنا حی فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب حی لایموت وان عیسٰی یأتی علیہ الفناء ۱؎ لایموت ہے اور عیسیٰ پر موت آئے گی۔ معلوم ہوا کہ ابھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، نزول کے بعد ان کی وفات ہوگی۔

دلیل ۲

عن الحسن قال قال حسن بصری رح سے روایت ہے کہ آنحضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا، کہ وسلم لليهود : ان عيسى لم يمت عیسیٰ کو موت نہیں آئی ہے اور وہ قیامت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة ، ۲؎ سے قبل تمہاری جانب لوٹیں گے ۔

دلیل ۳

وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اور کوئی شخص اہل کتاب سے نہ رہے گا، مگر اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی ان کے مرنے سے پہلے (سورۃ نساء آیت ۱۵۹) ضرور تصدیق کرے گا۔ (ترجمہ شیخ الہند)

اس سے متصل پچھلے کلام میں باری تعالےٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل وصلب کی نفی فرما دی ہے۔ اس پر سوال ہو سکتا ہے کہ زمین پر تو ان کی موت طبعی نہیں ہوئی، تو کیا آسمان پر اٹھالئے جانیکے بعد وہیں وفات پائیں گے۔ اس سوال کا جواب آیت حاضرہ میں دیا گیا ہے کہ وہ ابھی زندہ ہیں اور ان کے نزول کے بعد اس وقت کے تمام یہود ونصاریٰ ان کی وفات سے پہلے پہلے ان پر ایمان لائیں گے۔

۱؎ درمنثور جلد ۲ ص ۲۰۳

۲؎ ابن کثیر بسند صحیح جلد ۲ ص ۲۳۱

صفحہ ١٩

محاضرہ رد قادیانیت جلد ۱ ۵

قیامت سے پہلے اسکی ایک بڑی علامت کے طور پر بعینہ وہی مسیح ہدیٰ عیسیٰ بن مریم جو

ایک انسان اور نبی ہیں آسمان سے اتریں گے اور

مسیح ضلالت (دجال اعور) کو قتل کریں گے پھر ان کی وفات ھو گی

قرب قیامت میں قتل دجال کے لئے نزول عیسیٰ علیہ السلام کا مضمون احادیث صحیحہ متواترہ میں صراحۃً آیا ہے جس سے رفع عیسیٰ ؑ بھی لزوماً ثابت ہو جاتا ہے جیسا کہ رفع عیسیٰ کا مضمون رفع کی صراحت کے ساتھ قرآن کریم میں آیا ہے ۔

آیات قرآنیہ سے نزول عیسیٰ ؑ کا ثبوت نزول عیسیٰ ؑ کا مضمون دو آیتوں میں

اشارۃً قریب بصراحت کے موجود ہے :

ترجمہ : اور اہلِ کتاب میں سے کوئی نہ رہے گا مگر وہ حضرت عیسیٰ ؑ پر ان کی موت سے پہلے ضرور ایمان لائے گا ۔

ترجمہ : اور بے شک وہ قیامت کی ایک نشانی ہیں ۔

چنانچہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

ونزول عيسى من السماء كما قال آسمان سے نزولِ عیسیٰ ؑ قولِ باری تعالیٰ الله تعالى وانه لعلم للساعة اى کہ عیسیٰ قیامت کی علامت ہیں ، سے علامة القيامة ، وقال الله تعالى ثابت ہے ۔ نیز اس ارشاد سے ثابت ہے وإن من اهل الكتاب الا ليؤمنن کہ اہلِ کتاب ان کی آسمان سے تشریف به قبل موته اى قبل موت آوری کے بعد اور موت سے پہلے قیامت عيسى بعد نزوله عند قيام کے قریب ان پر ایمان لائیں گے الساعة فيصير الملل ملة واحدة پس ساری ملتیں ایک ہو جائیں گی

(شرح فقہ اکبر ص۱۳۰)

صفحہ ۲۰

محاضرہ رد قادیانیت حصہ

ان دو آیتوں کے علاوہ بعض دیگر آیات سے بھی علماء اسلام نے نزول عیسیٰ کو ثابت کیا ہے ۔ ؎۱

احادیث نبویہ سے نزول عیسیٰ کا ثبوت

پہلی حدیث عن النواس بن حضرت نواس بن سمعان رض فرماتے ہیں السمعان قال قال کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اچانک اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اذا بعث اللہ المسیح بن مریم فینزل کو مبعوث فرمائیں گے وہ دمشق کی جامع عند المنارة البیضاء شرقی دمشق مسجد کے سفید مشرقی منار پر اتریں گے بین مهروذتین واضعا كفیه علی وہ دو زرد چادریں پہنے ہوں گے اور اپنے اجنحة ملكین الخ فیطلبه حتى دونوں ہاتھوں کو دو فرشتوں کے بازوؤں یدركه بباب لدّ فیقتله ؎۲ پر رکھے ہوئے ہوں گے الخ پھر وہ دجال کی تلاش میں نکلیں گے تا آں کہ اسے باب لد کے مقام پر پائیں گے پھر اسے قتل کر دیں گے ۔

اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ بطور معجزہ ان کے منہ کی ہوا حد نگاہ تک پہنچے گی اور اس سے کافر مریں گے ۔

دوسری حدیث عن ابی ھریرة حضرت ابو ہریرہ رض سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ قال قال رسول علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری خوشی کا اسوقت اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیف انتم کیا حال ہو گا جب کہ عیسیٰ بن مریم تم میں آسمان اذا نزل فیکم ابن مریم من السماء سے نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا (یعنی امام مہدی تمہارے امام ہونگے اور حضرت

؎۱ تفصیل کے لئے دیکھئے 'رد قادیانیت کے زریں اصول' افادات حضرت مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی دامت برکاتہم ۔ ؎۲ مسلم ص ٤٠١ / ٢ ۔

صفحہ 21

محاضرہ رد قادیانیت ۲۱ جزء

وامامکم منکم ۱؎ عیسیٰؑ باوجود نبی و رسول ہونیکے امام مہدی کا اقتداء کریں گے۔

تنبیہ ۱ : اس حدیث میں لفظ من السماء کی صراحت ہے۔

تنبیہ ۲ : اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ اور حضرت مہدیؓ الگ الگ شخصیتیں ہیں۔

تیسری حدیث

عن ابی ھریرة ؓ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قال قال رسول کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات الله صلى الله عليه وسلم والذی کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے عنقریب نفسی بيده لیوشکن ان ینزل تم میں عیسیٰ بن مریم حاکم عادل کے طور پر نازل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر ہوں گے ۔ پس وہ صلیب توڑ ڈالیں گے اور الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع خنزیر قتل کر دیں گے اور جہاد کو ختم الحرب ویفیض المال حتی لا یقبله کر دیں گے اور مال کی افراط اس قدر احد حتی تکون السجدة الواحدة ہو گی کہ کوئی بھی اس کو قبول نہیں کرے گا خیراً من الدنیا وما فیھا ..... ثم یہاں تک کہ ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر یقول ابو ھریرة واقرؤا ان شئتم ہوگا ! . . . . . . . پھر حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے وان من اھل الکتب الا لیؤمنن تھے کہ اگر تمہارا جی چاہے تو اس آیت کو به قبل موته ویوم القیامة پڑھ لو وان من اھل الکتاب الخ (اور یکون علیھم شھیداً ۔ ۲؎ اہل کتاب میں سے کوئی نہ رہے گا مگر وہ

عیسیٰ علیہ السلام کی ان کے مرنے سے پہلے ضرور تصدیق کرے گا اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دیں گے۔ (ترجمہ شیخ الہند)

بخاری اور مسلم کی روایت میں لفظ واقرأوا الخ موقوفاً علی ابی ہریرہؓ نقل کیا گیا ہے۔ لیکن یہ مرفوع کے حکم میں ہے کیوں کہ امام طحاویؒ شرح معانی الآثار میں تحریر فرماتے ہیں کہ :

۱؎ کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص ۴۲۴ ۔ ۲؎ بخاری و مسلم ص ۶۰ ج ۱ ۔

صفحہ ۲۲

محاضرہ رد قادیانیت ۲۲ جُز

عن محمد بن سيرين كان اذا حدث عن ابى هريرة رض فقيل له عن النبى صلى الله عليه وسلم فقال كل حديث ابى هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم

امام محمد بن سیرینؒ سے مروی ہے کہ جب وہ حضرت ابو ہریرہؓ سے حدیث بیان کرتے تھے تو ان سے سوال کیا جاتا کہ کیا یہ حدیث حضورؐ تک متصل ہے۔ تو وہ فرماتے کہ حضرت ابو ہریرہؓ کی ہر حدیث سنداً متصل ہی ہوتی ہے۔

لیکن بعض دیگر روایات میں یہ حصہ مرفوعاً بھی نقل کیا گیا ہے ۱؂ بہر حال اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قبل موتہ میں ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جیسا کہ لیؤمنن بہ میں ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ چنانچہ ارشاد الساری شرح بخاری میں ہے :

وان من اهل الكتاب احد الا ليومنن بعيسى قبل موت عيسى وهم اهل الكتاب الذين يكونون فى زمانه فتكون الملة واحدة وهى ملة الاسلام وبهذا جزم ابن عباس فيما رواه ابن جرير من طريق سعيد بن جبير عنه باسناد صحيح ٢؂

یعنی اہل کتاب میں سے کوئی بھی نہ ہوگا مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر عیسیٰ کی موت سے پہلے ایمان لے آئے گا، اور وہ اہل کتاب ہوں گے جو اُن (حضرت عیسیٰؑ) کے زمانہ (نزول) میں ہوں گے، پس صرف ایک ہی ملت اسلام ہو جائے گی۔ اور حضرت ابن عباسؓ نے اس پر جزم کیا ہے اس روایت کے مطابق جو ابن جریر نے ان سے سعید بن جبیر کے طریق سے صحیح اسناد کے ساتھ روایت کی۔

١؂ شرح معانی الآثار ص ۱۶ / ۱ ٢؂ دیکھئے تفسیر ابن کثیر ص ۲۳۴ / ۳ ۳؂ ارشاد الساری ص ۵۱۸ - ۵۱۹ / ۵

صفحہ ۲۳

محاضرہ رد قادیانیت حصہ

حیات و نزول عیسیٰ ؑ پر امت کا اجماع ہے

آیات کریمہ و احادیث مرفوعہ متواترہ کی بناء پر حضرات صحابہ سے لے کر آج تک امت کا حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے قطعی عقیدہ پر اجماع چلا آ رہا ہے۔ ائمہ دین میں سے کسی سے بھی اس کے خلاف مروی نہیں ہے۔ معتزلہ جو بہت سے مسائل کلامیہ میں اہل سنت والجماعت سے اختلاف رکھتے ہیں، ان کا عقیدہ بھی یہی ہے جیسا کہ کشاف میں زمخشریؒ نے اس کی تصریح کی ہے۔

چنانچہ ابن عطیہؒ فرماتے ہیں :

حياة المسيح بجسمه الى اليوم و تمام امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ نزوله من السماء بجسمه العنصری علیہ السلام اس وقت آسمان پر زندہ ہیں۔ مما اجمع عليه الامة وتواتر بہ اور قرب قیامت میں بجسم عنصری پھر تشریف الاحادیث ۱؎ لانے والے ہیں جیسا کہ احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔

یہ ایک سو سے زیادہ احادیث تیس صحابہ کرامؓ سے مختلف انداز سے مروی ہیں جن کے اسماء گرامی یہ ہیں ۔

ابوہریرہؓ ۱ ، جابر بن عبداللہؓ ۲ ، نواس بن سمعانؓ ۳ ، ابن عمرؓ ۴ ، حذیفہ بن اسیدؓ ۵ ، ثوبانؓ ۶ ، مجمعؓ ۷ ابوامامہؓ ۸ ، ابن مسعودؓ ۹ ، ابونضرہؓ ۱۰ ، سمرہؓ ۱۱ ، عبدالرحمن بن جبیرؓ ۱۲ ، ابوالطفیلؓ ۱۳ ، انسؓ ۱۴ واثلہؓ ۱۵ ، عبداللہ بن سلامؓ ۱۶ ، ابن عباسؓ ۱۷ ، اوسؓ ۱۸ ، عمران بن حصینؓ ۱۹ ، عائشہؓ ۲۰ ، سفینہؓ ۲۱ حذیفہؓ ۲۲ ، عبداللہ بن مغفلؓ ۲۳ ، عبدالرحمن بن سمرہؓ ۲۴ ، ابوسعید الخدریؓ ۲۵ ، عمارؓ ۲۶ ، ربیعؓ ۲۷ ، عروہ بن رویمؓ ۲۸ الحسنؓ ۲۹ ، کعبؓ ۳۰ ۔

یہ کتاب درحقیقت زہری وقت حضرت علامہ انور شاہ کشمیری قدس سرہ سابق

۱؎ البحر المحیط ص ۲/۶۳

صفحہ ۲۴

محاضرہ رد قادیانیت ۲۴ جزء

صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند کی املا کردہ ہے جس کو ان کے شاگرد رشید حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مفتی اعظم پاکستان نے بہترین انداز میں مرتب فرماکر اہل اسلام کی ایک گراں قدر خدمت انجام دی ہے ۔ فجزاہ اللہ وافیا ۔ اور اس کتاب پر اس زمانہ کے محقق نامور عالم حضرت شیخ عبدالفتاح ابو غدّہ مدظلہٗ نے تحقیقی کام کیا ہے اور مزید تلاش و جستجو کے بعد بیس احادیث کا اضافہ ” استدراک کے نام سے فرمایا ہے ۔

قَادِيَانِى تَلْبِيْسَاتٌ اَوْر اُنْكَا اِزَالَهُ

مُتَوَفِّيْكَ سے متعلق قادیانی مُغالطہ

قرآن شریف میں اول سے آخر تک توفّی کے معنی روح کو قبض کرنے اور جسم کو بیکار چھوڑ دینے کے لئے گئے ہیں ١؎ چنانچہ یہاں بھی متوفیک کے معنی رئیس المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں تعلیقاً ممیتک نقل کئے گئے ہیں۔ اگر یہ معنی صحیح نہ ہوتے تو اپنی صحیح میں اس کو نہ لاتے۔

ازالہ | مُتَوَفِّيْكَ کے یہ معنی عبداللہ بن عباس رض سے نقل کرنے والا راوی علی بن ابی طلحہ ہے ٢؎

علماء اسماء الرجال نے اس کے متعلق ضعیف الحدیث ، منکر، لیس بمحمود المذہب کے جملے فرمائے ہیں۔ اور یہ کہ اس نے حضرت عبداللہ ابن عباس کی زیارت بھی نہیں کی درمیان میں مجاہد ؒ کا واسطہ ہے ٣؎ بہر حال یہ روایت غیر صحیح ہے ۔

١؎ ازالہ اوہام در خزائن ص ۲۴ / ۳۶۰ ٢؎ تفسیر ابن جریر ص ۱۳ جلد ۳ ۔ ٣؎ دیکھئے میزان الاعتدال ص ۲۶۲ ج ۳ تہذیب التہذیب ص ۳۳۹ - ۳۴۰ ج ۷ ۔

صفحہ ۲۵

محاصرہ رد قادیانیت جز

رہا یہ کہ پھر صحیح بخاری شریف میں یہ روایت کیسے آگئی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام بخاری کا یہ التزام صرف احادیث مسندہ کے بارے میں ہے نہ کہ تعلیقات و آثار صحابہ کے ساتھ ۔ چنانچہ فتح المغیث میں ہے :

" قول البخارى ما ادخلت فى كتابي الا ما صح عندي ، مقصود به هو الاحاديث الصحيحة المسندة دون التعاليق والآثار الموقوفة على الصحابة فمن بعدهم والاحاديث المترجمة بها ونحو ذلك ۱؎ "

ازالہ ۲ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے دوسری صحیح روایت میں اگرچہ توفی کے معنی ممیتک ہیں مگر اسی روایت میں کلمات آیت کے اندر تقدیم و تاخیر بھی صراحۃً مذکور ہے جس سے قادیانی گروہ کی خود بخود تردید ہو جاتی ہے ۔

اخرج ابن عساکر واسحاق بن بشر یعنی ابن عساکر اور اسحاق بن بشر نے عن ابن عباس رض قال قوله تعالےٰ (بروایت صحیح) ابن عباسؓ سے روایت یٰعیسیٰ انی متوفیک و رافعک کی ہے کہ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ میں الیَّ قال انی رافعک ثم متوفیک آپ کو اٹھانے والا ہوں اپنی طرف ۔ پھر فی آخر الزمان ۲؎ آخر زمانہ میں (بعد نزول) آپ کو موت دینے والا ہوں ۔

ازالہ ۳ تفسیر ابن کثیر میں عبداللہ ابن عباس سے صحیح روایت منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر قتل کے زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے۔

ورفع عيسىٰ من روزنة فى البيت عیسیٰ علیہ السلام گھر کے روزن سے (زندہ) الى السماء ھذا اسناد صحيح الى آسمان کی طرف اٹھالئے گئے۔ یہ اسناد ابن عباس ۳؎ ابن عباس تک بالکل صحیح ہے ۔

۱؎ فتح المغیث ص ۲ ۳؎ تفسیر ابن کثیر ص ۲۲۸ ۲؎ تفسیر در منثور ص ۲۶ ج ۲ ج ۶

صفحہ ۲۶

محاصرہ رد قادیانیت ۲۶ حصہ

ازالہ ۴ یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے کہ قرآن میں توفی کے معنی صرف قبض روح یعنی موت کے ہیں۔ کیوں کہ نوم اور رفع جسمانی میں توفی کا استعمال موجود ہے جس کی مثالیں گزر چکیں۔

رافعك الیٰ اور بل رفعہ اللہ الیہ میں قادیانی مغالطے

مغالطہ ۱ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”مسیح مصلوب ومقتول ہو کر نہیں مرا، بلکہ خدا تعالیٰ نے عزت کے ساتھ اسکو اپنی طرف اٹھا لیا“ ۱؎

تردید ۱ یہ امر واضح ہے کہ بلا توقف اور فوراً رفع کا وعدہ ہوا تھا۔ مرزا قادیانی کو بھی یہ بات تسلیم ہے :

” خود یہ الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ وہ وعدہ جلد پورا ہونے والا ہے اور اس میں کچھ توقف نہیں“ ۲؎

لہٰذا اگر رفع کے معنی عزت کی موت کے کئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ مسیح اسی وقت وفات پاگئے۔ جس سے یہودی عقیدہ کی تائید ہوگی جو قرآن کی نظر میں لعنتی عقیدہ ہے۔

تردید ۲ رفع کے معنی عزت کی موت، اولاً تو لغت کے خلاف ہے، دوسرے تمام مفسرین و مجددین نے رافعك الیٰ اور رفعہ اللہ میں رفع سے مراد رفع جسمانی ہی لیا ہے، کسی ایک نے بھی عزت کی موت اس کا ترجمہ نہیں کیا۔

تردید ۳ اگر رفع کے معنی عزت کی موت کے لئے جائیں تو باری تعالیٰ کے کلام میں تضاد لازم آئے گا۔ اس لئے کہ متوفیك کو بمعنی اخذ الشئی وافیاً لے کر ایک طرف یہ وعدہ فرمانا کہ تمہارا جسد مع الروح (زندہ) بلا توقف پورا پورا اٹھالوں گا۔ دوسری جانب اگلے فقرہ میں ابھی عزت کی موت دینے کی خبر دینے میں کھلا ہوا تضاد ہے، جو کلام الہٰی کی شان کے خلاف ہے۔

۱؎ ازالہ اوہام در خزائن ص ۴۲۳ ج ۳ ۔ ۲؎ آئینہ کمالات اسلام در خزائن ص ۲۱۷ ج ۵ ۔

صفحہ ۲۷

محاصرہ رد قادیانیت ۲۷ جلد ۲

اور اگر متوفیک کے معنی موت دینے کے کئے جائیں تو بلا ضرورت تکرار ہو جائے گا جو فصاحت کے خلاف ہے ۔

دوسرا مغالطہ

قادیانی گروہ کا کہنا ہے کہ یہاں رفع روحانی یا رفع درجات مراد ہے نہ کہ رفع بجسدِ عنصری اور سارے قرآن شریف میں ایک آیت بھی ایسی نہیں کہ جس سے حضرت مسیح کا زندہ بجسدِ عنصری آسمان پر جانا ثابت ہو ۱؎

تردید

لفظ رفع کی لغوی تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ آیت کریمہ میں رفع عیسیٰ بجسدہ اور روحہ تو یقیناً مراد ہے جو اس کے حقیقی معنی ہیں، کیوں کہ ہ ضمیر عیسیٰ کی طرف راجع ہے جو جسد مع الروح کا نام ہے، نہ صرف جسد کا ۔ لہٰذا صرف رفع روحانی مراد نہیں ہو سکتا ۔

رہے رفع منزلت کے معنیٰ، تو وہ بطور کنایہ کے حقیقی معنی 'رفع جسمانی' کے ساتھ لئے جا سکتے ہیں ۔ کیوں کہ کنایہ میں حقیقی و مجازی کنائی معنی جمع ہو سکتے ہیں ۔ چنانچہ رفع جسمانی کے ساتھ رفع منزلت پایا گیا ہے ۔ جیسے :

وَرَفَعَ اَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ ۔ اور اپنے والدین کو تخت پر اونچا بٹھایا (یوسف ع۱۲) (بیان القرآن)

ہاں اگر قرینہ پایا جائے تو صرف رفع منزلت کے معنی مجازاً لئے جاسکتے ہیں ۔ اُس موقع پر رفع جسمانی کے معنی نہیں ہو سکتے ۔ کیوں کہ حقیقت و مجاز کا جمع کرنا جائز نہیں ہے ۔ جیسے :

وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ اور ہم نے ایک کو دوسرے پر رفعت دے رکھی (زخرف آیت ۳۲) ہے ۔ (بیان القرآن)

یہاں لفظ درجات کے قرینہ کی وجہ سے رفع منزلت کے معنی ہیں ۔ بہر حال بل رفعہ اللہ میں نہ تو حقیقی معنی متعذر ہیں اور نہ کوئی قرینہ صارفہ موجود ہے لہٰذا صرف رفع منزلت کے معنی لینا غلط ہے ۔

۱؎ تبلیغ ہدایت ص ۱۳ ۔

صفحہ ۲۸

محاضرہ رد قادیانیت ۲۸ جزء

تیسرا مغالطہ رافعك الی اور بل رفعہ اللہ الیہ میں رفع عیسیٰ الی السماء مراد نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ اول تو آیت میں سماء کا ذکر نہیں ، دوسرے اس سے باری تعالیٰ کا ایک جہت میں محدود ہونا لازم آتا ہے جو باطل ہے

تردید باری تعالیٰ کے لئے فوق و علو ثابت ہے اسی لئے فرمایا گیا :

ءَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ کیا تم لوگ اس سے بے خوف ہو گئے ہو اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ (سورۂ ملک ع١) جو کہ آسمان میں ہے کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے ۔ (بیان القرآن)

تفسیر کشاف و مدارک میں ہے ورافعك الى اى الى سمائى ومقر اور میں اپنی طرف اٹھانے والا ہوں یعنی ملائكتى :- اپنے آسمان کی طرف اور اپنے فرشتوں کی قیام گاہ کی طرف ۔

جار اللہ زمحشری نے باوجود معتزلی ہو نے کے الیٰ کی کوئی تاویل نہیں کی اور مرزا قادیانی نے بھی سماء کے ساتھ ترجمہ کیا ہے ۔ لکھتا ہے :

" قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے فوت ہو جانے کے بعد ان کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی ۔ (ازالۃ اوہام در خزائن ص ۲۳۳ / ۳)

اور حدیث شریف میں نزول من السماء کی تصریح موجود ہے جب نزول آسمان سے ہوگا تو رفع بھی آسمان کی جانب ہوا ہے

رفع سماوی کے بعد حیات عیسیٰ کے دلائل میں قادیانی مغالطے

مغالطہ ١ : متعلق دلیل ١ : ان عیسیٰ یاتی علیہ الفنا

اس روایت میں علامہ واحدی سے بجائے یاتی فعل مضارع کے اتیٰ علیہ الفنا ماضی کا صیغہ آیا ہے ۔ معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر وفات طاری ہو چکی ۔

صفحہ ۲۹

محاضرہ رد قادیانیت جز

دفع تفسیر کی معتبر کتابوں میں یہ لفظ بصیغہ مضارع ہی آیا ہے اور علامہ واحدی نے بھی تفسیر غرائب القرآن (للعلامہ نظام الدین القمی) میں یاتی مضارع کے صیغہ کے ساتھ منقول ہے ۱؎

مغالطہ ۲، دلیل ۲؎ حسن بصریؒ کی روایت کے متعلق

یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ حسن بصریؒ اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ضرور کوئی واسطہ ہے جس کو حذف کر دیا گیا۔ لہٰذا اس سے استدلال درست نہیں۔

دفع حضرت حسن بصریؒ کے مراسیل محدثینؒ کے یہاں معتبر ہیں کیوں کہ ایک سوال کے جواب میں حضرت حسن بصریؒ نے فرمایا تھا :

انی فی زمان کما تریٰ وکان فی عمل جیسا کہ تم کو معلوم ہے میں ایک خاص زمانہ الحجاج سمعتنی کل شئ اقول میں ہوں (وہ حجاج کے زمانہ میں تھے) تم نے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے جو کچھ یہ کہتے ہوئے سنا "قال رسول اللہ" فھو عن علی بن ابی طالب غیر انی تو وہ سب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے فی زمان لا استطیع ان اذکر علیاً ؓ ہے، مگر میں ایسے زمانہ میں ہوں کہ علی ؓ کا نام نہیں لے سکتا۔

لیومنن بہ قبل موتہ میں قادیانی مغالطے

قادیانی مغالطہ ۱ قبل موتہ کی ضمیر کا مرجع کتابی ہے نہ کہ حضرت عیسیٰؑ ، یعنی ہر شخص جو اہل کتاب میں سے ہے وہ اپنی موت سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر، یا حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئے گا ۳؎۔

دفع قبل موت الکتابی کا اگر یہ مطلب ہے کہ اپنی زندگی میں مرنے سے پہلے کسی وقت ایمان لے آئیں گے ۔ تو یہ واقعہ کے خلاف ہے ۔

۱؎ ص ۳۹۵ ، ۲؎ خلاصۃ التہذیب ص۷ ، ۳؎ ضمیمہ براہین احمدیہ در خزائن حصہ پنجم ص ۳۷۹ ۔

صفحہ ۳۰

مباحثہ رد قادیانیت جز

ہے تو بلاوجہ و بلاقرینہ ایمان غیر شرعی مراد لینا پڑے گا۔

تھے کیوں کہ اس موقعہ پر قبل موتہ خلاف بلاغت ہے۔

مرجع کیا ہوگا، کتابی کو تو بنایا نہیں جاسکتا۔ کیوں کہ اس میں ضمیر کا مرجع متعین طور پر حضرت عیسیٰؑ ہیں۔ اور اس سے پہلے سب ضمیریں حضرت عیسیٰؑ کی طرف راجع ہیں لامحالہ انتشار ضمائر لازم آئے گا جس سے بچنا ضروری ہے۔

دیا، مگر اپنی مطلب برآری کے لئے تحریف معنوی کردی، یعنی قبل ایمانہ بموتہ جس کا حاصل یہ ہے، یعنی کوئی اہل کتاب نہیں، مگر البتہ ضرور ایمان رکھتے ہیں کہ مسیح یقینی طور پر صلیب کی موت سے نہیں مرا، صرف شکوک و شبہات ہیں ان کی طبعی موت پر ایمان لانے سے پہلے پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرزا کے الفاظ یہ ہیں :

"کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ بالا پر ایمان نہ رکھتا ہو (جو ہم نے اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کیا ہے) قبل اس کے کہ اس حقیقت پر ایمان لاوے کہ مسیح اپنی طبعی موت سے مرگیا" ۱؎

میزان پڑھنے والا طالب بھی جانتا ہے لَیُؤْمِنَنَّ مضارع لام تاکید با نون تاکید ثقیلہ ہے جس کے بعد وہ استقبال کے لئے مخصوص ہو جاتا ہے مگر مرزا نے جان بوجھ کر اس کا ترجمہ حال سے کیا ہے۔ پھر قبل موتہ میں ایمان مقدر مان کر جو مطلب نکالا وہ بھی خلاف واقعہ ہے۔ کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر آج تک تمام یہود حضرت عیسیٰؑ کے قتل و صلب کو یقینی جانتے ہیں۔ اس لئے یہ استغراق اور کلیہ باطل ہوگیا ۔

۱؎ ازالۃ اوہام ص ۲۹۱ ۔

صفحہ 141

محاصرہ قادیانیت ۱۴۱ حصّہ

دفع ۶

مرزا کے پہلے جانشین حکیم نور الدین نے بھی قبل موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع کی ہے : "نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر البتہ ایمان لاوے گا ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر اس کے گواہ" ۱؎

قادیانی مغالطہ ۲

قبل موتہ کے بجائے قبل موتہم بھی ایک قرأت ہے جس میں مرجع اہل کتاب ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ قبل موتہ کا مرجع بھی کتابی ہے ۔ چنانچہ بعض مفسرین نے بھی کتابی کو مرجع بنا کر ترجمہ کیا ہے ۔

دفع ۱

یہ قرأت ابن عباس سے بروایت ضعیفہ منقول ہے ۔ اور شاذ ہے اور قرأۃ شاذہ باتفاق علماء قرآن نہیں کہلاتی ۔ ۲؎

دفع ۲

خود حضرت عباس سے ابن جریر کی روایت نقل کی جاچکی ہے جس میں انھوں نے قبل موتہ کا ترجمہ قبل موت عیسیٰ سے کیا ہے ۔

دفع ۳

قرأۃ شاذہ کو قرأۃ متواترہ کے معنی پر حمل کیا جاتا ہے نہ یہ کہ قرأۃ شاذہ کے معنی پر قرأۃ متواترہ کو محمول کیا جائے ۔ لہٰذا اس قرأۃ شاذہ کو متواترہ پر محمول کرتے ہوئے معنی یہ ہوں گے کہ قوم یہود اپنے فنا ہونے سے قبل حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لائیں گے اگرچہ اس وقت بہت قلیل ایمان لائے ہیں ۔

دفع ۴

رہا بعض مفسرین کا کتابی کو مرجع بنانا ، تو اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ وہ احتمال ضعیف ہے ، اور دوسرا جواب یہ ہے کہ انھوں نے نہ تو اس ضمیر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرنے سے انکار کیا ہے اور نہ وہ مفسرین حیات و نزول عیسیٰ کے منکر ہیں بلکہ پھر بھی وہ اس آیت سے حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں ۳؎ بہر حال اس احتمال ضعیف سے مرزا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ۔

۱؎ فصل الخطاب ص ۳۶ جلد ۲ از حکیم نور الدین ۔ ۲؎ تفصیل کے لئے دیکھئے ، تقابلی مطالعہ ص ۱۶۹ ۔ ۳؎ " " فتح الباری وعمدۃ القاری وغیرہ ۔

صفحہ ۳۲

محاصرہ قادیانیت ۳۲ جز

آیات قرآنیہ میں قادیانی تحریفات برائے اثبات

وفات عیسیٰ علیہ السّلام

پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا چونکہ یہ دعویٰ ہے کہ میں ہی وہ مسیح موعود ہوں جس کی رسول اللہ علیہ وسلم نے احادیث صحیحہ میں خبر دی ہے۔ لہ اس لئے قادیانی گروہ پورا زور اس بات پر لگاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کی جائے، کیوں کہ اس دعویٰ کی صحت کی پہلی سیڑھی یہی ہے، اسی کی بنیاد پر وہ اپنے خیال میں رفع ونزول عیسیٰ کا انکار کرتا ہے ۔ اس دجالی گروہ نے اس بے بنیاد دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کی تیس آیات میں تحریف سے کام لیا ہے، وہ آیات تین قسم کی ہیں ۔

نے اس خیال سے کہ مسیح علیہ السلام بھی ایک پیغمبر تھے، آپ کی وفات ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کی ہے ۔

میں بلکہ مرزائے لعین نے اپنے ذہنی اختراع سے ان کو وفات کی دلیل سمجھا ہے ۔

اب ہر قسم کی بعض آیات میں قادیانی تحریفات کے نمونے مع ان کے جواب کے مذکور ہیں ۔

پہلی قسم (آیت)

إِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰى جس وقت کہا اللہ نے اے عیسیٰ میں لے لونگا اِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ تجھ کو اور اٹھالوں گا اپنی طرف ۔ اِلَیَّ ۔ (آل عمران ۵۵) (ترجمہ شیخ الہند)

مرزا قادیانی نے اس آیت میں توفّیٰ بمعنی موت لے کر وفات عیسیٰ قبل النزول ثابت

لہ عقائد احمدیہ ص ۱۳۳ ۔

صفحہ ۳۳

محاضرہ رد قادیانیت جُز کرنے کی کوشش کی ہے اور رفع کے معنی عزت کی موت کے کئے ہیں ۔

جواب | یہی آیت اہل اسلام کی دلیل ہے ۔ چنانچہ اس کا تفصیلی بیان گذر چکا ہے کہ اولاً یہاں توفّیٰ بمعنی موت نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو کلمات آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اس طرح قادیانی استدلال کی قلعی کھل جاتی ہے ۔

آیت (۲) وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا میں ان پر مطلع رہا جب تک کہ ان میں رہا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنْتَ اَنْتَ پھر جب آپ نے مجھ کو اٹھا لیا تو آپ ان پر الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ (مائده ع۱۶) مطلع رہے ۔ (بیان القرآن)

وفات عیسیٰ پر اس آیت سے قادیانی استدلال کی بنیاد ان کے خیال میں بخاری شریف کی ایک تفصیلی روایت پر ہے جو مندرجہ ذیل ہے ۔

انه يجاء برجال من امتى فيوخذ بهم میری امت کے بعض لوگ لائے جائیں گے ذات الشمال فاقول يارب اصحابي اور بائیں طرف یعنی جہنم کی طرف ان کو چلایا اصحابي فيقال انك لاتدرى ما جائے گا، اے میرے رب یہ تو میرے صحابی احدثوا بعدك فاقول كما قال ہیں ۔ پس کہا جائے گا کہ آپ کو اس کا علم العبد الصالح : وكنت عليهم نہیں کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا کچھ کیا شهيدا مادمت فيهم الخ پس میں ایسے ہی کہوں گا جیسا کہ عبد صالح (بخاری شریف ص ۴۷۴ / ج ۱) یعنی عیسیٰ ؑ نے کہا کہ جب تک میں ان میں موجود تھا، ان پر گواہ تھا اور جب تو نے مجھے بتمامہ بھر پور لے لیا تھا، اس وقت آپ نگہبان تھے ۔

تو توفی کا لفظ حضور صلے اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں کے کلام میں آیا ہے اور ظاہر ہے کہ حضور صلے اللہ علیہ وسلم کی توفی بصورت وفات ہے ۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی بھی بصورت وفات ہوگی ۔ نیز حضور صلے اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا ارشاد زمانہ ماضی میں ہوچکا ہے ۔ معلوم ہوا کہ وہ وفات پاچکے ہیں ۔

صفحہ ۳۴

حصہ ۳۴ محاضرہ رد قادیانیت

جواب | اس تحریف کا جواب بھی معلوم ہوچکا ہے کہ توفی کے حقیقی معنی پورا پورا لینے کے ہیں۔ لہٰذا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں یہ معنی موت ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ آپ کی وفات ہوئی۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کلام میں توفی بطور اصعاد الی السماء پائی گئی ہے کیوں کہ اس کا قرینہ ورافعک الی موجود ہے۔

جواب | اگر دونوں حضرات کی توفی ایک طرح کی ہوتی تو آپ یوں فرماتے " فَأَقُوْلُ مَا قَالَ ، العبد الصالح"۔

تو فاقول کما قال العبد الصالح فرمانا بتا رہا ہے کہ مشبہ اور مشبہ بہ میں چونکہ تغایر ہوا کرتا ہے۔ اس لئے آپ کی توفی اور حضرت عیسیٰ ؑ کی توفی میں بھی تغایر ہے کیونکہ اصل مقصد ہر دو حضرات کا امت کے درمیان اپنی غیر حاضری کو بطور عذر پیش کرنا ہے ۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی غیر موجودگی توفی بمعنی اصعاد الی السماء سے بیان فرمائی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی غیر موجودگی توفی بصورت موت سے بیان فرمائی ہے۔

جواب | رہا یہ کہ آپ نے اپنے متعلق فرمایا اقول اور حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق فقال ماضی کا صیغہ فرمایا ۔ تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جس وقت آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ۔ سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت نازل ہوچکی تھی اور اس میں حضرت عیسیٰ کا قول جو قیامت کے دن باری تعالیٰ کے سوال اَنت قلت للناس اتخذونى وامى الھین من دون اللہ کے جواب میں فرمائیں گے ۔ حکایت کیا گیا ہے ۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ کلام پہلے ہوچکے گا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ بعد میں پیش آئے گا۔

دوسری قسم | وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَا۟يٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ ؕ

(آل عمران: ۱۴۴)

ترجمہ : "اور محمد صرف ایک رسول ہیں۔ اس سے پہلے کے سب رسول فوت ہوچکے ہیں ۔ پس اگر وہ وفات پاجائے یا قتل کیا جائے، تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے ۔"

صفحہ ۳۵

محاضرہ رد قادیانیت جلسہ

اس آیت میں قادیانی گروہ خلو کو بمعنی موت لیتا ہے، اور من قبلہ کو الرسل کی صفت مانتا ہے، اور الرسل پر لام استغراق مانتا ہے۔ اس لئے استدلال کا حاصل یہ ہوا کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں، تو بس مسیح علیہ السلام بھی ان میں آ گئے۔

جواب

خلت خلو سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی مکان سے متعلق ہونے کی صورت میں جگہ خالی کرنے کے، اور زمان سے متعلق ہونے کی صورت میں گزرنے کے آتے ہیں اور جن چیزوں پر زمانہ گزرتا ہے ان کو بھی تبعاً خلو سے موصوف کر دیتے ہیں۔

مثالیں

وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ

(بقرہ۔۱۴)

(اور جب خلوت میں پہنچتے ہیں اپنے شریر سرداروں کے پاس)۔

بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ

(سورۃ حاقہ۔۲۴)

ترجمہ: ان اعمال کے صلہ میں جو تم نے بامید صلہ گذشتہ ایام میں کئے ہیں۔

تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ

(بقرہ۔۱۳۴)

ترجمہ: یہ ایک جماعت جو گزر چکی۔

(بیان القرآن)

بہر حال خلو کے معنی جگہ خالی کرنا خواہ زندہ گزر کر یا موت سے، اور ایک جگہ سے دوسری جگہ ہٹ جانا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے دلائل قطعیہ ہوتے ہوئے اس کو موت کے معنی میں لینا تحریف ہی ہے۔

جواب ۲

من قبلہ، الرسل کی صفت نہیں ہے جس کے بعد معنی یہ ہوں کہ محمد سے پہلے کے تمام پیغمبر مر گئے کیونکہ یہ الرسل سے مقدم ہے بلکہ یہ خلت کا ظرف ہے۔ اب صحیح معنی یہ ہیں کہ محمد سے پیشتر کئی رسول گزر چکے۔

جواب ۳

الرسل پر لام تعریف جنس کا ہے کیوں کہ استغراق کے معنی لینے کی صورت میں آیت کے جملوں میں تعارض لازم آئے گا بایں طور کہ وما محمد الا رسول سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت رسالت ثابت کی، اور جب خلت من قبلہ الرسل میں الرسل استغراق کے لئے

صفحہ ۳۶

محاضرہ رد قادیانیت ۳۶ حصہ

ہوا، اور من قبلہ کا ظرف ہونا ثابت ہو ہی چکا۔ تو اب ترجمہ یہ ہوگا، کہ جتنے اشخاص صفت رسالت سے موصوف تھے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے فوت ہو چکے ہیں۔ اس سے نعوذ باللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول برحق ثابت نہیں ہوں گے۔ اس لئے لام جنس ماننا ضروری ہے۔

اور اگر علی سبیل التنزل قادیانی گروہ کی تینوں باتیں مان لی جائیں تو بھی اس جواب سے زیادہ سے زیادہ رسل کے عموم میں حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات ثابت ہوگی نہ کہ بطریق خصوص، اور اس صورت میں یہ آیت ان کی دلیل بننے کے قابل نہیں رہے گی۔ کیوں کہ علم اصول کی کتابوں میں اس قاعدہ مسلمہ کی تصریح ہے کہ کوئی امر خاص دلیل سے ثابت ہو تو اس کے خلاف عام دلیل سے تمسک کرنا جائز نہیں ہے۔ اور یہاں دلائل قطعیہ مخصوصہ سے حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات ثابت کی جا چکی ہے۔

تیسری قسم وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ (از مرزا) تم اپنے جسم خاکی کے ساتھ زمین وَمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ ۔ پر ہی رہو گے یہاں تک کہ اپنے تمتع کے (بقرہ ۳۶) دن پورے کر کے مر جاؤ گے۔

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ یہ آیت جسم خاکی کو آسمان پر لے جانے سے روکتی ہے۔ کیوں کہ لکم جو اس جگہ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے، اس بات پر بصراحت دلالت کر رہا ہے کہ جسم خاکی آسمان پر نہیں جا سکتا بلکہ زمین سے ہی نکلا، زمین میں ہی رہے گا۔ اور زمین میں ہی داخل ہوگا۔

کسی مقام کا کسی کے لئے اصل جائے رہائش ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ عارضی جواب طور پر کہیں اور نہ جا سکے تو آیت کریمہ کا ضابطہ اپنی جگہ پر درست ہے مگر اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔ اور وہ عارضی طور پر آسمان پر نہیں اٹھائے گئے۔ بہر حال وہ بھی مقررہ وقت پر پھر زمین پر آئیں گے اور دیگر انسانوں کی طرح وفات پا کر زمین میں دفن ہوں گے۔

جواب ۲ علماء اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو پیدائشی طور پر ملائکہ سے مشابہت تھی۔ لہٰذا ان کو آسمان پر اٹھایا جانا، اور زیر بحث آیت کے حکم سے ان کا خارج ہونا اپنے فطری مادہ کے اعتبار سے ہے۔

صفحہ ۳۷

محاضرہ رد قادیانیت ج ٢

یہ ہیں قادیانی تحریفات کے چند نمونے ۔ اختصار کے پیش نظر ان ہی پر اکتفا کیا جاتا ہے اس سلسلہ میں شہادۃ القرآن کے حصہ دوم کا مطالعہ کیا جائے، جو ان تمام تیس آیات کے مفصل جوابات پر مشتمل ہے، جو قادیانی گروہ بڑے زور وشور سے وفات مسیح و عدم رفع و نزول کے اثبات میں پیش کیا کرتا ہے ۔ ان جوابات سے قادیانی دلائل هباءً منثوراً ہوگئے ہیں ۔ (جزاہ اللہ خیراً )

مسیح اور مہدی الگ الگ شخصیت ہیں

قادیانیت کے موضوع پر گفتگو کے وقت ایک بحث یہ بھی سامنے آتی ہے کہ مسیح و مہدی الگ الگ شخصیتیں ہیں، یا ایک شخصیت کے دو لقب ہیں ؟

قادیانیوں کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ دو علیحدہ علیحدہ شخص نہیں ہیں۔۔۔ نیز مرزا قادیانی نے اپنے بارے میں دعویٰ کررکھا ہے :

ايها الناس انى انا المسيح المحمدی وانی انا احمد المهدی ۱؎

ترجمہ : اے لوگو ! میں وہ مسیح ہوں کہ جو محمدی سلسلہ میں ہے اور میں احمد مہدی ہوں۔

قاضی محمد نذیر قادیانی لکھتا ہے :

" امام مہدی اور مسیح موعود ایک ہی شخص ہے " ۲؎

قادیانی مغالطہ

قادیانی گروہ دلیل میں ابن ماجہ کی روایت پیش کرتا ہے :

"لا المهدی الا عیسٰی بن مریم" ۳؎

یہی قاضی محمد نذیر اس حدیث کے متعلق لکھتا ہے :

" اس حدیث نے ناطق فیصلہ دے دیا ہے کہ عیسیٰ بن مریم ہی المہدی ہے اور اس کے علاوہ کوئی ’’المہدی‘‘ نہیں ہے "

۱؎ خطبۂ الہامیہ در خزائن ص ١٦ / ١٦٧ ٢؎ امام مہدی کا ظہور ص ١٦ ۔

۳؎ ابن ماجہ ص ٣٠٢ باب شدۃ الزماں ۔

صفحہ ۳۸

محاصرہ رد قادیانیت جز

دفع

یہ حدیث اولاً تو ضعیف ہے۔ ثانیا اس کا مطلب وہ نہیں ہے جو قادیانی سمجھاتے ہیں۔

ملا علی قاری فرماتے ہیں :

حديث لا مهدى الا عيسى بن مريم حدیث لا مہدی عیسیٰ بن مریم باتفاق ضعيف باتفاق المحدثين كما صرح به محدثین ضعیف ہے جیسا کہ ابن جوزیؒ نے الجزري على انه من باب لا فتى الا اس کی صراحت کی ہے ۔ علاوہ ازیں یہ لا على ۔ (مرقات ص۱۵ جلد ۵) فتی الا علی کے قبیل سے ہے۔

مطلب یہ ہے کہ اگر کسی درجہ میں حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو اس کا وہی مطلب ہے جو لا فتی الا علی کا ہے۔ یعنی مہدی صفت کا صیغہ ہے اور اس کے لغوی معنی مراد ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ اعلیٰ درجہ کے ہدایت یافتہ عیسیٰ بن مریم ہی ہیں، بطور حصر اضافی جیسے لا فتی الا علی کے معنی اعلیٰ درجہ کے جوان اور بہادر حضرت علیؓ ہی ہیں۔

یہ مطلب لینا غلط ہے کہ جس شخصیت کا نام مہدی ہے وہ عیسیٰ بن مریم ہی کی شخصیت ہے۔ اس لئے نزول عیسیٰ کی مذکورہ بالا روایات صحیحہ متواترہ سے صاف طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان سے اتریں گے نہ یہ کہ وہ دنیا میں کسی خاندان سے پیدا ہوں گے جب کہ حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حدیث ہے :

ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہدی میری عترت سے ہوگا یعنی حضرت فاطمہ کی اولاد سے۔

ترجمہ : جو میرا نام ہے وہی اس کا نام ہوگا جو میرے باپ کا نام ہے وہی اس کے باپ کا نام ہوگا۔ اور حدیث مندرجہ ذیل نے معاملہ بالکل منقح کر دیا ہے۔

لہ ابو داؤد ص ۴۲۲ / ۲ ۲؎ ابو داؤد ص ۴۲۲ / ۲ ۳؎ مشکوٰۃ ص ۵۸۳

صفحہ ۳۹

محاصرہ قادیانیت جائز

بے بصیرت و بے بصارت قادیانی گروہ کو یہ صاف صاف روایتیں بھی نظر نہیں آتیں اور پوری بے شرمی کے ساتھ مسیح و مہدی کے ایک ہونے کی رٹ لگاتا رہتا ہے ۔ حالانکہ دونوں کے بارے میں روایات الگ الگ اور متواتر آئی ہیں ۔

چنانچہ علامہ شوکانی لکھتے ہیں

فتقرر ان الاحاديث الواردة فى المهدى المنتظر متواترة والاحاديث الواردة فى نزول عيسى بن مريم متواترة ۱؎

چنانچہ یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ مہدی منتظر کے بارے میں وارد شدہ احادیث بھی متواتر ہیں اور حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارے میں وارد شدہ احادیث بھی متواتر ہیں ۔

اور حافظ عسقلانی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں

قال ابوالحسن الخسعى الابدى فى مناقب الشافعى ا تواترت الاخبار بان المهدى من هذه الامة وان عيسى يصل خلفه ذكر ذلك ردّاً للحديث الذي اخرجه ابن ماجه عن انس و فيه ولا مهدى الا عيسى ـ ۲

ابوالحسن خسعی ابدیؒ نے مناقب شافعی میں لکھا ہے کہ احادیث اس بارے میں متواتر ہیں کہ مہدی اسی امت میں سے ہوں گے اور یہ کہ عیسیٰؑ مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے ابوالحسن خسعی نے یہ بات اس لئے ذکر فرمائی تاکہ اس حدیث کا رد ہوجائے جو ابن ماجہ نے حضرت انس سے روایت کی ہے اور جس میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ہی مہدی ہیں ۔

حافظ عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے جن احادیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ ان میں سے ایک یہ ہے :

عن جابر بن عبد اللہ قال قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے

۱؎ الاذاعہ ص ۵۵

۲؎ فتح الباری ص ۳۵۶ ج ۶

صفحہ ۴۰

محاضرہ رد قادیانیت جلد ۲

يقول لا تزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة قال فينزل عيسى بن مريم صلى الله عليه وسلم فيقول اميرهم تعال صل يقول لا، ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله على هذه الامة . ؎

سنا ہے کہ میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق کے مقابلہ میں جنگ کرتی رہے گی، دشمنوں پر غالب رہے گی۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا آخر میں عیسیٰ ابن مریم اتریں گے (نماز کا وقت ہوگا) مسلمانوں کا امیر ان سے عرض کرے گا تشریف لائیے اور نماز پڑھا دیجئے، وہ فرمائیں گے، یہ نہیں ہو سکتا، اس امت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اکرام و اعزاز ہے کہ تم خود ہی ایک دوسرے کے امام و امیر ہو۔

اس حدیث سے جہاں ایک جانب یہ ثابت ہوا کہ حضرت امام مہدی اور حضرت عیسیٰ الگ الگ مقدس ہستیاں ہیں، دوسری جانب اس سے امت محمدیہ کی کرامت و شرافت عظمیٰ بھی ثابت ہوتی ہے کہ قرب قیامت تک اس امت میں ایسے برگزیدہ افراد موجود رہیں گے کہ اسرائیلی سلسلہ کا ایک مقدس رسول آکر بھی اس کی امامت کی حیثیت کو برقرار رکھ کر انکے پیچھے نماز ادا فرمائیں جو اس بات کا صاف اعلان ہے کہ جس شرافت اور کرامت کے مقام پر تم پہلے فائز تھے آج بھی ہو۔ یہ واقعہ بالکل اس قسم کا ہے جیسا کہ مرض وفات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وقت کی نماز حضرت ابوبکرؓ کی اقتداء میں ادا فرما کر امت کو گویا صریح ہدایت دے دی کہ میرے بعد امامت و اقتدار کی پوری صلاحیت ابوبکر صدیقؓ میں موجود ہے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

١ ؎ مسلم واحمد فی مسندہ ص ۲۲۵ جلد ۳ :۔

صفحہ ۴۱

محاضرہ رد قادیانیت جزء ۴

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مرزا قادیانی کا سفید جھوٹ

کہ حضرت مسیح کی قبر کشمیر میں ہے

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے دعویٰ مسیحیت کی بنیاد وفات مسیح کی اثبات پر رکھی ہے، کیوں کہ فوت شدہ لوگ دنیا میں نہیں آیا کرتے ، ادھر احادیث میں حضرت مسیح کی آمد ثانی کی خبر تواتر کے ساتھ مذکور ہے، تو اگر وہ حیات ہیں تو مرزا کے دعویٰ مسیحیت پر کوئی دھیان نہیں دے گا، ہاں اگر ان کی وفات فرض کر لی جائے تو چونکہ مردے دوبارہ دنیا میں نہیں آیا کرتے لہٰذا مرزا کو یہ فریب دینے کی گنجائش نکل آتی ہے کہ ان احادیث میں مسیح کی آمد ثانی سے مراد کسی مثیل مسیح کی آمد ہے اور وہ شخص میں ہوں، چناں چہ مرزا قادیانی اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام درحقیقت زندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور سب دلائل ہیچ ہیں اور اگر وہ درحقیقت قرآن کی رو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالف باطل پر ہیں اب قرآن درمیان میں ہے سوچو۔

(تحفہ گولڑویہ : ص ۱۶۶ حاشیہ خزائن : ج ۱۷، ص ۲۶۳)

بہر حال مرزا کے دعاوی میں وفات مسیح ایک اہم مسئلہ ہے جس کو اس نے اپنے زعم فاسد کے موافق قرآن کریم کی تیس آیات سے ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے، اہل حق نے ایک ایک آیت کی صحیح تشریح و تفسیر کر کے مرزا کی تحریفات کو طشت از بام کر دیا ہے جیسا کہ پچھلے صفحات میں مختصراً یہ بحث آچکی ہے۔

مرزائی عقیدہ کے مطابق سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت مسیح کی وفات ہو گئی تو ان کی قبر کہاں ہے، اس سوال کا جواب مرزا نے یہ دیا ہے ”جو سری نگر میں محلہ خانیار میں یوز آسف کے نام سے قبر موجود ہے در حقیقت بلا شک و شبہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے“ (راز حقیقت: ص ۲ خزائن: ج ۱۴ ، ص ۱۶۲) نیز دوسری کتاب میں لکھتا ہے:

وثبت بثبوت قطعی ان عیسیٰ ھاجر الی ملک کشمیر بعد ما نجاہ اللہ من الصلیب

صفحہ ۴۴

محاصرہ رد قادیانیت جز ۲۴

بفضلٍ کبیرٍ ولبث فیہ الی مدۃ طویلۃ حتی مات ولحق الاموات وقبرہ موجود الی الآن فی بلدۃ سری نگر التی ہی من اعظم امصار ہذہ الخطۃ .

( الہدی والتبصرہ لمن یری : ص ۱۰۹)

ترجمہ : اور قطعی طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے ملک کشمیر کی طرف ہجرت کی بعد اس کے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے (اپنے) بڑے فضل سے صلیب سے نجات دی اور اس ملک میں بہت مدت تک بستے رہے، حتی کہ مر گئے اور مردوں کو جاملے، اور آپ کی قبر شہر سری نگر میں جو اس خطہ کے سب شہروں سے بڑا شہر ہے اب تک موجود ہے۔

مرزا قادیانی نے اس معاملہ میں دو دعوے کیے ہیں:

وہیں انتقال ہوا۔

کیوں کہ یوز یسوع کا بگڑا ہوا تلفظ ہے اور آسف بھی حضرت عیسیٰ کا نام انجیل سے معلوم ہوتا ہے۔

چوں کہ یہ دونوں دعوے مرزا کے اپنے من گھڑت دعوے ہیں اس لیے قرآن کریم، احادیث شریفہ، اقوال صحابہ کہیں بھی ان کی دلیل نہیں مل سکتی، لیکن مرزا قادیانی نے اپنی دجالی روش کے مطابق ان دعووں میں سے پہلے دعوے کے لیے قرآن کریم کی بعض آیات کو مستدل بنانے کے لیے ان میں تحریف سے کام لیا ہے۔ اور دوسرے دعوے کے لیے اسے قرآن کریم کی کوئی آیت نہیں ملی جس میں تحریف کرتا اس لیے غیر معتبر تاریخی روایتوں کا سہارا لے کر محض ظن وتخمین کی وادیوں میں بھٹکتا رہا اور ان میں بھی جھوٹ کا اضافہ کر کے۔

بہر حال پہلے دعوے پر مرزا قادیانی نے آیت کریمہ وجعلنا ابن مریم وامہ آیۃ وآوینا ہما الی ربوۃ ذات قرار ومعین میں تحریف کرتے ہوئے یوں استدلال کیا ہے:

خدا کا کلام قرآن شریف گواہی دیتا ہے کہ وہ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) مر گیا اور اس کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

وآویناہما الی ربوۃ ذات قرار ومعین (آیت نمبر: ۵۰، سورہ مؤمنون) یعنی ہم نے عیسیٰ اور اس کی ماں کو یہودیوں کے ہاتھوں سے بچا کر ایک ایسے پہاڑ پر پہنچا دیا جو آرام اور خوشحالی کی جگہ تھی اور مصفیٰ پانی کے چشمے اس میں جاری تھے سو وہی کشمیر ہے اسی وجہ سے حضرت مریمؑ کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں اور کہتے ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ کی طرح مفقود ہے۔

(حقیقۃ الوحی حاشیہ: ص ۱۰، خزائن: ج ۲۲، ص ۱۰۲)

صفحہ ۴۳

محاضرہ رد قادیانیت جزء ۳

قادیانی استدلال کا جواب

یہ دو وصف دنیا کے بہت سے مقامات میں پائے جاتے ہیں اس لیے بغیر کسی قرینہ کے کسی مقام کا تعین نہیں کیا جا سکتا ، مذکورہ آیت کریمہ میں اس لفظ سے کسی مفسر مجدد نے کشمیر تو مراد نہیں لیا پھر کونسی جگہ مراد ہے اور اس کا کیا قرینہ ہے اس بارے میں مفسر ابن کثیر تحریر فرماتے ہیں:

واقرب الاقوال فى ذلك ما رواه العوفى عن ابن عباس فى قوله وآويناهما الى ربوة ذات قرارومعين قال المعين الماء الجارى وهوالنهرالذى قال الله تعالى قد جعل ربك تحتك سريا، وكذاقال الضحاك وقتادة الى ربوة ذات قرارومعين هو بيت المقدس فهذا والله اعلم هو الاظهر لانه المذكورفى الآية الاخرى والقرآن يفسر بعضه بعضاً.

(ابن کثیر: جلد سابع)

ترجمہ : اور سب قولوں سے اقرب وہ ہے جو عوفی نے ابن عباس سے اس آیت وآوینا ھما الخ کی بابت روایت کیا ہے کہ معین جاری پانی کو کہتے ہیں اور اس سے وہ نہر مراد ہے جس کی بابت دوسری جگہ فرمایا: قد جعل ربك تحتك سريا . (سورہ مریم) یعنی میرے پروردگار نے تیرے نیچے ایک چشمہ بہا دیا ۔

یعنی حضرت عیسیٰ کی ولادت پر جو نہر حضرت مریم کے لیے خدا نے ظاہر کی اور اسی طرح ضحاک اور قتادہ نے کہا کہ ربوۃ ذات قرار و معین سے مراد بیت المقدس ہے، اور یہی قول اظہر ہے کیوں کہ یہ دوسری آیت میں مذکور ہے اور قرآن کی بعض آیتیں بعض آیتوں کی تفسیر کرتی ہیں ۔ واللہ اعلم

چناں چہ دوسرے موقع پر سورہ مریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے ذکر کے بعد اسی چشمہ کا تذکرہ یوں آیا ہے:

فحملته فانتبذت به مكانا قصيا فاجاءها المخاض الى جذع النخلة قالت یلیتنى مت قبل هذا وكنت نسياً منسياً فناداها من تحتها ان لا تحزنى قد جعل ربك تحتك سرياً وهزى اليك بجذع النخلة تساقط عليك رطبا جنيا .

ترجمہ : پس (جبریل کے بشارت سناتے ہی خدا کی قدرت سے) اس (بچے) کو اُٹھا لیا (جس کی بشارت سنائی گئی تھی) پس اس کو درد زہ کھجور کے تنے کی طرف لے پہنچا، کہنے لگی اے کاش ! اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی ، اس پر اس کو اس کے نیچے سے آواز دی تو کوئی اندیشہ نہ کر

صفحہ ۴۴

محاضرہ رد قادیانیت جزو ۴

(دیکھ تو) تیرے پروردگار نے تیرے نیچے ایک چشمہ بہا دیا ہے اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا وہ تجھ پر پکی پکی تازہ کھجوریں جھاڑے گا۔

اس سے ثابت ہوا کہ موجودہ آیت میں بھی بعد ذکر ولادت عیسیٰ علیہ السلام اسی واقعہ کی جانب اشارہ ہے جس میں چشمہ کا تذکرہ ہے یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ باری تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے مریم کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) کی پیدائش اور ان کی ماں کو نشانی بنایا یعنی ماں باپ دونوں مشترکہ طور پر ایک امر میں، قدرت خداوند کی نشانی میں، دو الگ الگ نشانیاں نہیں ہیں اس لیے آیتین نہیں فرمایا گیا بلکہ یوں ارشاد ہے:

وجعلنا ابن مریم و امہ آیۃ--- ایسے ہی بشارت کے وقت ولنجعلہ آیۃ للناس فرمایا۔

ترجمہ : ہم نے اس کو بلا پدر کے پیدا کر کے لوگوں کے لیے اپنی قدرت کا نشان بنانا چاہتے ہیں۔

برخلاف اس کے دوسری جگہ رات اور دن کو مستقل دو نشانیاں قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے

وجعلنا اللیل والنھار آیتین --- ہم نے رات اور دن کو (اپنی قدرت کی) دو نشانیاں بنایا۔

بہر حال تفسیر ابن کثیر کے حوالے سے معلوم ہو چکا ہے کہ ربوۃ ذات قرار ومعین سے ولایت کشمیر مراد ہونا نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ کسی صحابی و تابعی و مفسر و مجدد کے قول سے ، اس لیے مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کرنا کہ قطعی الثبوت کے ساتھ ثابت ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ نے کشمیر کی طرف ہجرت کی ، بالکل ناقابل التفات اور سفید جھوٹ ہے۔

رہا یہ سوال کہ اس سے بیت المقدس (شام) مراد ہے اس کی کیا دلیل ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں موجود ہے جن میں اس خطہ کی صفات مذکور ہیں کہیں التی بارکنا فیھا (اعراف) ہے، کہیں الذی بارکنا حولہ (بنی اسرائیل) ہے، کہیں الارض المقدسۃ (مائدہ) ہے۔ یہ برکات روحانی بھی ہیں اور جسمانی بھی: روحانی یہ ہے کہ بہت سے پیغمبر وہاں ہوئے اور جسمانی یہ کہ باغات بہت ہیں اور میٹھی نہریں بہتی ہیں۔

بہر حال ثابت یہ ہوا کہ ٹھکانہ دیا جانا ولادت عیسیٰ علیہ السلام کے معا بعد کا قصہ ہے نہ کہ صلیب پر چڑھائے جانے کے بعد جیسا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد عیسیٰ علیہ السلام سیر کرتے ہوئے کشمیر پہنچے ہیں، حالاں کہ قرآن صاف صاف اعلان کر رہا ہے کہ:

وما قتلوہ وما صلبوہ (آیت: ۱۵۷/پارہ ۶، سورہ نساء) یہود نے حضرت عیسیٰ کو نہ تو قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا۔

صفحہ ۴۵

محاضرہ رد قادیانیت ۴۵ جزو۴

جب واقعہ صلیب پیش ہی نہیں آیا تو اس کے بعد سیاحت کشمیر کا کیا مطلب؟

اس لیے آیت میں ربوۃ ذات قرار و معین سے کشمیر مراد لینا سراسر غلط ہے نہ قرآن سے اس کی تائید ہوتی ہے نہ آثار صحابہ و تابعین سے اور اگر بالفرض علی سبیل التنزل اس بات کو مان لیا جائے کہ آوینا الخ والی آیت سے کشمیر مراد ہے تو زیادہ سے زیادہ یہی ثابت ہوگا کہ حضرت عیسیٰ اور مریم علیہما السلام کو کشمیر میں ٹھکانا دیا مگر وہاں جاکر حضرت عیسیٰ کی وفات ہونا تو اس سے کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتا جس کے اوپر مرزا کے دعویٰ مسیحیت کی بنیاد قائم ہے۔

جیسا کہ شروع میں ذکر کیا گیا ہے کہ مرزا کا دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ سری نگر (کشمیر) کے محلہ خانیار میں یوز آسف کے نام کی جو قبر مشہور ہے وہ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام ہی کی قبر ہے، یسوع (مسیح) کا بگڑا ہوا لفظ یوز ہے اور آسف بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے، جیسا کہ انجیل سے ظاہر ہوتا ہے جس کے معنی ہیں یہودیوں کے متفرق فرقوں کو تلاش کرنے والا یا اکٹھا کرنے والا۔ (براہین احمدیہ: ص / ۲۲۸۔ تحفہ گولڑویہ: ص / ۱۲) لہٰذا حضرت عیسیٰ اور یوز آسف سے ایک ہی شخصیت مراد ہے جو یہود کی جانب سے صلیب پر چڑھائے جانے کے بعد بھی زندہ بچ گئے اور ہجرت کر کے کشمیر آگئے تھے۔

اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کو کوئی ایسی آیت یا حدیث نہیں ملی جس میں تحریف کر کے اس کو اپنے دعویٰ باطلہ کے ثبوت میں پیش کرتا، اس لیے اس نے یوز آسف کے بارے میں تاریخی روایات کا سہارا لے کر اپنا مدعا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے، لیکن ماہرین فن تاریخ نے مکمل تحقیق کر کے مرزا قادیانی کے دعویٰ کی دھجیاں اڑادی ہیں اور ثابت کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور یوز آسف دو الگ الگ انسان ہیں جن میں پہلی ذات سچا پیغمبر ہے اور دوسرا شخص بعض مؤرخین کی تحقیق میں ہندوستان کے کسی بادشاہ کا شہزادہ گذرا ہے جس نے ترک دنیا کر کے عابدوں و زاہدوں کی زندگی اختیار کر لی تھی اور لوگوں کو نیکی کی تبلیغ کیا کرتا تھا، اس سلسلہ میں وہ کشمیر پہنچا اور وہیں انتقال ہوا۔ اور بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ یوز آسف نے نبوت کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ بہرحال دونوں شخصوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے جس کو تقابلی انداز میں سمجھایا جاتا ہے۔

احوال حضرت مسیح علیہ السلام احوال شہزادہ یوز آسف

صفحہ ۴۶

محاضرہ رد قادیانیت جزء ۴

۵۔مصر سے واپس آکر ناصرہ گاؤں گئے۔ ۵۔یوز آصف ناصرہ نہیں گئے۔ ۶۔حضرت مسیح ملک شام کے باشندہ ۶۔یوز آصف ملک ہند ارض سولا بط کے تھے۔ رہنے والے تھے۔

شہزادہ یوز آسف کے حالات

شیخ سعید ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین بن موسیٰ بن بابویہ القمی متوفی ۳۸۱ھ کی کتاب اکمال الدین واتمام النعمہ فی اثبات الغیبہ و کشف الحیرہ میں یوز آسف کا مفصل قصہ لکھا ہے۔ یہ کتاب مطبوعہ ہے اور ایران میں ناصر الدین شاہ ایران کے زمانہ میں ۱۳۰۱ھ میں طبع ہوئی ہے، تقریباً چار سو صفحات کی کتاب ہے۔ یہ لندن کے سرکاری کتب خانہ میں بزبان فارسی موجود ہے اور اس کا اردو ترجمہ تنبیہ الغافلین کے نام سے مطبع صادق لاہور سے شائع ہوا ہے۔

الغرض شیخ ابن بابویہ اس کتاب میں بسند خود محمد بن زکریا سے نقل کرتے ہیں: ممالک ہندوستان میں ایک بادشاہ تھا جس امر کو امور دنیا میں سے چاہتا، بآسانی میسر ہو جاتا تھا، اس کی مملکت میں دین اسلام شائع ہو چکا تھا جب یہ تخت پر بیٹھا تو اہل دین سے بغض رکھنے لگا اور ان کو ستانے لگا، بعض کو قتل کرا دیا اور بعض کو جلا وطن کر دیا اور بعض اس کے خوف سے روپوش ہو گئے۔ اس بادشاہ نے بت پرستوں کی حمایت کی اور بڑے بڑے بت بنوائے ۔ اس بادشاہ کے یہاں نرینہ اولاد نہیں تھی، لیکن کچھ عرصہ کے بعد باوجود ناامیدی کے اس کے یہاں ایک خوبصورت لڑکا پیدا ہوا جس کی بڑی خوشی منائی اور اس لڑکے کا نام یوز آسف رکھا، شہزادہ کی ولادت پر منجموں نے اس کے طالع کی نسبت بالاتفاق کہا کہ یہ شہزادہ فرخندہ طلعت، نیک اختر، نہایت اقبال مند ہوگا۔ لیکن ایک بوڑھے منجم نے کہا کہ اس کا طالع واقبال جاہ وحشم کے متعلق نہیں بلکہ یہ سعادت مندی عاقبت کی ہے، اور گمان قوی ہے کہ یہ شاہزادہ پیشوایان زہاد و عباد سے رہے گا۔

بادشاہ یہ سن کر نہایت حیران و غمگین ہوا اور اس کی تربیت کے لیے حکم دیا کہ ایک شہر و قلعہ خالی کرایا جائے جس میں شہزادہ اور اس کے خادم سکونت کریں، اور ان سب کو تاکید کی کہ کوئی تذکرہ دین حق اور مرگ و آخرت کا ہرگز نہ کریں تاکہ یہ خیالات اس کے کان میں نہ پڑیں، لیکن ان سارے انتظامات کے باوجود شہزادہ کو دین حق کی طرف رغبت ہو گئی اور علم دین کی بھی تعلیم حاصل کی اور سلطنت ترک کر کے فقر اختیار کر لیا۔

اس کی شہرت سن کر لنکا سے ایک عابد دانا شخص حکیم بلوہر دریا کا سفر کر کے سولا بط کے علاقہ میں آیا اور شہزادہ سے روابط قائم کیے، جب اسے معلوم ہوا کہ شہزادہ پر ہدایت کے دروازے کھل گئے تو اس سے

صفحہ ۴۷

محاضرہ رد قادیانیت جزء ۴

رخصت ہو کر اپنے وطن لنکا واپس چلا گیا، جس کے بعد یوز آسف غمگین اور تنہا رہ گیا، یہاں تک کہ وہ وقت آ گیا کہ وہ دینداروں اور عابدوں میں مل جائے اور تا تمام خلق کو ہدایت کرے یوز آسف کے پاس خدا کی طرف سے ایک فرشتہ آیا یوز آسف نے شاہانہ پوشاک گلے سے اتار کر وزیر کو دے دی وزیر شہر چلا گیا اور یوز آسف نے اپنی راہ لی۔

اور ایک مدت تک اس ملک میں یوز آسف رہا اور لوگوں کو دین حق کی ہدایت کی ،اس کے بعد پھر سرزمین سولابط میں آیا جو کہ پہلے باپ کا ملک تھا، جب اس کے باپ نے اس کے آنے کی خبر سنی تو تمام رؤساء وامراء کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور تمام اہل شہر وغیرہ اس کے پاس آئے ، یوز آسف نے بہت سی باتیں کیں اور سب کے ساتھ بڑی مہربانی سے پیش آیا۔

پھر یوز آسف سولابط علاقہ سے نکل کر بہت سے شہروں میں گیا اور لوگوں کو دین حق کی ہدایت کرتا رہا، آخر ایک ایسی زمین پر آیا جس کا نام کشمیر ہے اور اس ملک کے لوگوں کو ہدایت کی اور وہیں رہا، یہاں تک کہ اس کی وفات کا وقت آ گیا، اس نے ایک خادم مرید کو جس کا نام یابد تھا بلایا اور اس کو وصیت کی اور کہا کہ میری روح کا عالم قدس کی طرف پرواز کرنا قریب ہے، چاہیے کہ آپس میں فرائض الٰہی کا خیال رکھو اور حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف توجہ نہ کرو، اور عبادت و بندگی الٰہی ہاتھ سے نہ چھوڑو۔ اسی شہزادہ یوز آسف کی قبر سری نگر محلہ خانیار میں سید نصیر الدین رحمۃ اللہ علیہ کی قبر کے پاس ہے۔

(تاریخ کشمیر اعظمی : ص۸۲)

مذکورہ حالات سے صاف واضح ہو گیا کہ شاہزادہ یوز آسف ایک باہدایت اور با ایمان شاہزادہ ہوا ہے جسے خدا تعالیٰ نے اپنے دین کی راہ دکھائی اور اس کے بارے میں کہیں یہ نہیں آیا کہ وہ ملک شام کی طرف سے آیا تھا جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شام کے باشندے تھے، لہٰذا یوز آسف کی قبر کو حضرت مسیح ناصری کی قبر قرار دینا سراسر جھوٹ بولنا ہے ، جو مرزا قادیانی کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ یوز آسف کا یہ قصہ محض تاریخی چیز ہے جو خود صاحب کتاب ابن بابویہ کی نظر میں قابل اعتماد نہیں۔ چناں چہ وہ لکھتے ہیں :

ليس هذا الحديث وما شاكله من اخبار المعمرين وغيرها مما اعتمد في امر الغيبة ووقوعها .

(اکمال الدین: ص ۳۵۹)

ترجمہ : معمرین (زیادہ عمر والے لوگ ) کے متعلق یہ افسانہ اور اسی قسم کے دوسرے قصے وغیرہ اس قابل نہیں ہیں کہ میں مسئلہ غیبت اور اس کے وقوع کے اثبات میں ان پر اعتماد کر سکوں۔

صفحہ ۴۸

محاضرہ رد قادیانیت ۴۸ جز ۴

معلوم ہوا کہ اس کتاب کا موضوع مسئلہ غیبت امام منتظر ہے، مسئلہ غیبت ورجعت امام شیعوں کا مشہور عقیدہ ہے جس کا خلاصہ فرقہ اثناعشریہ کے یہاں یہ ہے کہ امام ابوالقاسم محمد بن الحسن العسکری صحیح قول کے مطابق (بتصریح ابن خلکان) ۲۵۶ھ میں پیدا ہوئے اور نو سال کی عمر میں ۲۶۵ھ کو شہر ”سر من رای“ کی ایک غار میں والدہ کے دیکھتے دیکھتے گھس گئے، پھر اب تک واپس نہیں آئے، اخیر زمانہ میں غار سے نکلیں گے اور اسلام پھیلائیں گے۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ مسئلہ غیبت ورجعت امام اگرچہ شیعوں کے عقاید کا بڑا رکن ہے مگر بہت دور از عقل وقیاس ہے، حیرت افزا ہے اسی حیرت کے ازالہ کے لیے ابن بابویہ نے اکمال الدین کتاب فرقہ اثناعشریہ کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھی ہے، پھر لطف یہ کہ سفر موسیٰ اور ہجرت ابراہیم جلاوطنی وقید یوسف علیہم السلام کو غیبت قرار دیا ہے اور ان پر غیبت امام منتظر کو قیاس کیا ہے۔

اسی بحث کے دوران مصنف نے بعض طویل العمر اشخاص مثلا ابوالدنیا وغیرہ کے قصے لکھے ہیں اور ان خیالات کا اظہار کیا ہے کہ زمانہ گذشتہ میں بھی اہل دین، اصحاب ورع وزہد میں مخصوص اشخاص کی غیبتیں ثابت ہوتی ہیں، جنھوں نے بے بسی اور خوف کے وقت دین کو چھپانا ہی مناسب سمجھا جب امن اور استطاعت دیکھی تو اپنے خیالات کے اظہار میں بھی تامل نہیں کیا۔

اس کے بعد یوز آسف کا قصہ لکھ کر اس پر مذکورہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ قابل اعتماد قصہ نہیں ہے۔

مگر مرزا قادیانی ان خرافات واباطیل کی پوٹ پر ایمان لاکر یوز آسف کی موت کا پرچار کرتا ہے اور اسی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بتانے کی سعی لاحاصل کرتا ہے، اور خوف خدا و شرم خلق سے لاپرواہ ہوکر لکھتا ہے:

”کتاب اکمال الدین میں صاف لکھا ہے کہ ایک نبی یوز آسف کے نام سے مشہور تھا اور اس کی کتاب کا نام انجیل تھا“۔ (تحفہ گولڑویہ: ص ۱۴-۱۳)

یہ سراسر اختراع اور غلط بیانی ہے، اس کتاب میں کہیں نہیں لکھا ہے کہ یوز آسف نبی پر انجیل اتری تھی۔

PDF 169

پانچواں مُحاضرۂ عِلمیّہ

بَر مَوضُوع

ردِّ

قَادِیَانِیَّت

پیش کردہ

حضرت مولانا قاری محمّد عثمان صَاحب منصورپوری

اُستاذِ حَدِیث و ادب دارالعلوم دیوبند

طباعت :۔ شیروانی آرٹ پرنٹرز دہلی ۱۱۰۰۰۶ فون : 2943292

صفحہ ۲

محاضرہ رد قادیانیت ۲ جز ث

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْد .

مرزا غلام احمد قادیانی نے مبلغ اسلام کی حیثیت سے شہرت حاصل کرنے کے بعد شیطانی تسویل کی وجہ سے اپنے بارے میں طرح طرح کے دعوے کرنے شروع کر دیئے تھے ، جس کو علماء نے اس کی تالیفات وغیرہ سے چھانٹ کر مستقل رسائل میں جمع کر دیا ہے ۔ ان دعاوی باطلہ میں مامور و مُلْہَم و مُحَدَّث من اللہ ہونا، امام زمان، مجدد، اور مسیح بن مریم و مہدی ہونا مزید ترقی کر کے آخر کار ظلی نبی و صاحب شریعت مستقل نبی و رسول ہونا یہ اس کے مشہور دعوے ہیں ، جیسا کہ معلوم ہے ، اس نے عام مسلمانوں کو دھوکہ دینے کیلئے ایک دم نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ تدریجی چال چلی ہے ۔ بہر حال جب اس نے اصلی و آخری دعویٰ کرنے کے لئے حالات ساز گار سمجھے تو کھل کر صاحب شریعت مستقل نبی و رسول ہونے کا دعویٰ کر کے بڑی ڈھٹائی سے اعلان کر دیا کہ جو اس کو مانے وہ مسلمان ہے اور جو اس کو نہیں مانتا بلکہ اس کی تکذیب کرتا ہے وہ کافر ہے اور جہنمی ہے ۔ چنانچہ مرزا لکھتا ہے :

" جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے ۱؎ “

مرزا نے اپنے دعاوی کی صداقت ثابت کرنے کے لئے جہاں اور حربے اختیار کئے وہیں ایک بڑا حربہ طرح طرح کی پیشین گوئیاں کرنے کا اختیار کیا اور اس کو بڑی اہمیت دی ۔ لکھتا ہے :

پیشین گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا ۔ (آئینہ کمالات اسلام خزائن ص ۲۸۸ ج ۵)

۱؎ اشتہار معیار الاخیار (مجموعہ اشتہارات ص ۲۷۷ ج ۳)

صفحہ ۳

محاضرہ روئداد مباحثہ ۳ جزء ۵

ہے ۔ (رسالہ استفتاء ص۳)

اوّل تو یہی ضروری نہیں کہ جس کی پیشین گوئی کبھی سچی نکل جائے وہ مامور من اللہ یا نبی ہو ، کیونکہ بہت سے کاہنوں اور نجومیوں کی پیشین گوئیاں بھی کبھی درست ہو جاتی ہیں ۔

مگر مرزا قادیانی پر خدا تعالیٰ کی ایسی پھٹکار ہے کہ اس کی اکثر پیشین گوئیاں غلط نکلی ہیں جبکہ اس کے جھوٹا ہونے کے لئے صرف ایک پیشین گوئی کا غلط ہونا کافی تھا۔

ارشاد باری ہے : اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ | اللہ راہ نہیں دیتا اس کو جو ہو بے لحاظ کَذَّابٌ ۔ (سورۃ المومنون آیت ۲۸) | جھوٹا ۔ (ترجمہ شیخ الہندؒ)

ہاں مرزا کی ایسی بعض پیشین گوئیاں ضرور پوری ہوئی ہیں جو اس کے خلاف پڑیں اور جن سے اس کا کذاب ہونا آفتاب نصف النہار کی طرح واضح ہو گیا ۔ مثلاً حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کو مخاطب کر کے مرزا قادیانی نے اشتہار شائع کیا کہ :

" آپ اپنے پرچہ میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے ــــــ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہو جاؤں گا ــــــ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے ، جیسے طاعون ، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں وارد نہ ہوئی تو میں خدا کی طرف سے نہیں " (مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۵۷۰)

عبرتناک نتیجہ

یہ پیشین گوئی پوری طرح صحیح ثابت ہوئی یعنی حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ نے مرزا کی زندگی میں اور اس کے بعد بھی بفضلِ خداوندی تمام آفات سے محفوظ رہ کر ۱۹۴۹ء میں انتقال فرمایا اور مرزا ، مولانا مرحوم سے بہت پہلے ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء میں بمرض ہیضہ مبتلا ہو کر راہی ملک عدم ہوا اور اپنے کذب پر

صفحہ ۴

محاضرہ رد قادیانیت ۴ جزو ث

مہر تصدیق ثبت کر گیا ۔ اس کے برخلاف انبیاء صادقین علیہم السلام کی شان یہ ہوتی ہے کہ انکی ہر پیشینگوئی پوری ہوتی ہے اور وہ ان کی صداقت کی دلیل بن جاتی ہے، ارشاد باری ہے فَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ سو خیال مت کر کہ اللہ خلاف کرے گا اپنے رُسُلَهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ وعدہ اپنے رسول سے بے شک اللہ زبردست (سورہ ابراہیم آیت ۴۷) ہے بدلہ لینے والا ۔

یہ بات مرزا قادیانی بھی تسلیم کرتے ہوئے لکھتا ہے : "اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشین گوئیاں ٹل جائیں" (کشتی نوح خزائن ص۵ ج۱۹)

بہر حال مرزا قادیانی نے جس چیز کو اپنے صدق وکذب کی جانچ کی سب سے بڑی کسوٹی قرار دیا تھا ۔ اس پر مسلمانوں نے مرزا قادیانی کو خوب پرکھا اور بار بار اس کی پیشین گوئیوں کے غلط ثابت ہونے پر اس کے کذاب ودجال ہونے کا یقین بڑھاتے چلے گئے ، اور مسیلمہ کذاب کی لائن میں اس کو کھڑا کر دیا ۔ بطور نمونہ کے مرزا قادیانی کی چند پیشین گوئیاں اختصار کے ساتھ ذکر کی جاتی ہیں ۔

مرزا کی غلط پیشین گوئیاں

کتاب مواہب الرحمٰن میں پیشین گوئی کی ۔ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى وَهَبَ لِى سب تعریف خدا کو ہے جس نے مجھے بڑھاپے عَلَى الْكِبَرِ اَرْبَعَةً مِّنَ الْبَنِينَ وَبَشَّرَنِى بِخَامِسٍ میں چار لڑکے اپنے وعدے کے موافق دیئے (مواہب الرحمٰن در خزائن ص۱۳ ج۱۹) اور پانچویں کی بشارت دی ۔

نتیجہ :۔ اس حمل سے مورخہ ۲۸ جنوری ۱۹۰۳ء کو مرزا کے یہاں بجائے لڑکے کے لڑکی پیدا ہوئی جو چند مہینہ زندہ رہ کر وفات پاگئی ۔ (اخبار الحکم قادیان)

صفحہ ۵

محاضرہ رد قادیانیت جز ۵

اِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ ہم تجھے بعض وہ امور دکھلادیں گے جو مخالفوں نَزِيْدُ عُمْرَكَ ۔ (البشریٰ ص۱۷) کی نسبت ہمارا وعدہ ہے اور تیری عمر زیادہ (تذکرہ ص۶۷۹) (بدر اخبار جلد ۲ شمارہ ۴۴) کریں گے ۔

نتیجہ : مرزا قادیانی کی عمر میں اضافہ کیا ہوا ۔ اس کے ایک اور الہام کے مطابق مقررہ عمر کے پورے اسی سال بھی زندہ رہنا نصیب نہ ہوا ۔ اور ۷۲ سال قمری (۶۹ سال شمسی کی عمر میں واصل جہنم ہو گیا ۔

۱۹۰۵ء میں مرزا نے اس خوفناک زلزلہ کی پیش گوئی کے لئے بہت سے اشتہارات شائع کئے تھے جس کی وجہ سے لوگ بہت سہم گئے تھے ، اس نے لکھا :

” آئندہ زلزلہ کی نسبت جو پیش گوئی کی گئی ہے وہ کوئی معمولی پیش گوئی نہیں اگر وہ آخر کو معمولی بات نکلی یا میری زندگی میں اس کا ظہور نہیں ہوا تو میں خدا کی طرف سے نہیں ۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم در خزائن ج۲۱ ص۲۵۲)

نتیجہ : مرزا کی یہ کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۵؍اکتوبر ۱۹۰۸ء کو یعنی مرزا کی وفات (۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء) کے پونے پانچ ماہ بعد شائع ہوئی ۔

بہرحال اس کی زندگی میں ایسا کوئی زلزلہ نہیں آیا ، اور جو زلزلے اس کی زندگی میں آئے وہ خفیف تھے ، اور اس قابل نہیں تھے کہ انہیں پیش گوئی کا مصداق قرار دیا جائے چنانچہ مرزا لکھتا ہے ”اب یاد رکھو کہ اس وحی الٰہی کے بعد اسوقت تک جو ۲۲؍جولائی ۱۹۰۶ء ہے اس ملک میں تین زلزلے آچکے ہیں ۲۸؍فروری ۱۹۰۶ء اور ۲۰؍مئی ۱۹۰۶ء اور ۲۱؍جولائی ۱۹۰۶ء مگر ہمارا خدا کے نزدیک یہ زلزلوں میں داخل نہیں کیونکہ بہت ہی خفیف ہیں ۔

(حاشیہ حقیقۃ الوحی در خزائن ج۲۲ ص۲۲۰)

قادیانی زلزلہ کے مقابلہ میں بلکہ مرزا کی زندگی ہی میں ایک سچے مسلمان (ملا محمد بخش حنفی ایک سچے مسلمان کی پیش گوئی سیکریٹری انجمن حامی اسلام لاہور) نے مرزا

صفحہ ۶

محاضرہ رد قادیانیت جزء ث

کی تردید میں ایک لمبا چوڑا اشتہار شائع کیا۔ اور اس میں لکھا :

” بڑے زور سے اطمینان اور تسلی دیتا ہوں خوشخبری سناتا ہوں کہ خدا کے فضل و کرم سے شہر لاہور وغیرہ میں یہ قادیانی زلزلہ ہرگز نہیں آئے گا ! نہیں آئے گا ! نہیں آئے گا ! ـــــ مجھے یہ خوشخبری حقیقی نورِ الٰہی اور کشف کے ذریعہ دی گئی ہے جو انشاء اللہ بالکل ٹھیک ہوگی ـــــ ڈنکے کی چوٹ کہتا ہوں کہ قادیانی ہمیشہ کی طرح اس زلزلہ کی پیش گوئی میں بھی ذلیل و رسوا ہوگا۔ “ (مجموعہ اشتہارات ص ۵۲۴ ، ۵۲۵) ج ۳

نتیجہ : چودھویں صدی کے مسیلمہ کذاب مرزا قادیانی کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل میں ایک سچے مسلمان کی پیش گوئی سچی کر دکھائی آخر کار مرزا خود اپنے اقرار سے جھوٹا ثابت ہوا۔

مولانا محمد حسین بٹالوی مرزا قادیانی کے دوست تھے جب تک اس نے اُلٹے سیدھے دعاوی شروع نہیں کئے موصوف پر بنائے حسن ظن اس کے ساتھ لگے رہے اور اسکی دینی خدمات کا اپنے پرچہ ”اشاعۃ السنۃ“ میں اعتراف فرماتے رہے۔ اور اسی حسن ظن کی بنیاد پر مرزا کی شان میں ان کے قلم سے کچھ قابل ذکر تعریفی کلمات بھی تحریر میں آ گئے۔ جنہیں آج کل قادیانی لٹریچر میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ اور یہ باور کرایا جاتا ہے کہ مرزا کے شدید ترین مخالفین بھی ایک زمانہ میں اس کے بارے میں یہ وقیع رائے رکھتے تھے۔ بہر حال جب مرزا کے زیغ و ضلال کی حقیقت مولانا مرحوم پر پوری طرح منکشف ہوگئی تو بلاخوف لومۃ لائم برملا اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے ، مرزا کو اپنے سے انکی عقیدت کے پھر جانے کا بہت رنج تھا، اور چاہتا تھا کہ مولانا مرحوم کسی طرح پھر اس کے ثنا خوانوں کی صف میں آجائیں ، آخر کار ان کے بارے میں پیش گوئی کر دی۔

” ہم اس کے ایمان سے نا اُمید نہیں ہوئے بلکہ اُمید بہت ہے ، اسی طرح خدا کی وحی خبر دے رہی ہے (اے مرزا ) تجھ پر خدا تعالیٰ تیرے دوست محمد حسین کا مقدوم ظاہر کر دے گا ـــــ اور میرا کلام سچا ہے اور میرے خدا کا قول ہے جو شخص تم میں سے

صفحہ ۷

محاسبہ و رد قادیانیت ۷ جز ۵

کچھ زمانہ زندہ رہے گا وہ دیکھ لے گا (اعجاز احمدی در خزائن ص ۱۹۳ ج ۱۹)

نتیجہ :۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ مولانا محمد حسین بٹالویؒ مرزائے لعین پر نعوذ باللہ ایمان تو کیا لاتے ۔ مرحوم نے دوبارہ اس سے دوستانہ روابط بھی قائم نہیں کئے۔

مرزا کی مزعومہ صداقت کا خاص آسمانی

نشان و معیار، محمدی بیگم سے نکاح

ایک مرتبہ مرزا قادیانی کے ماموں زاد بھائی مرزا احمد بیگ کو ایک زمین کے ہبہ نامہ کے سلسلہ میں مرزا قادیانی کے دستخط کی ضرورت پیش آئی اس وقت تو مرزا نے ان کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ بلا استخارہ اور بلا استمزاج الہٰی کوئی کام کرنے کی ہماری عادت نہیں ، لیکن کچھ دنوں کے بعد انتہائی بے شرمی و بے غیرتی کے ساتھ مرزا احمد بیگ کو جواب لکھا کہ ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اُس شخص یعنی احمد بیگ کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے پیغام دے اور اس سے کہدے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کرے اور تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہدے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے جس کے تم خواہشمند ہو، بلکہ اس کے ساتھ اور بھی زمین دی جائیگی اور دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے بشرطیکہ تم اپنی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دو۔ میرے اور تمہارے درمیان یہی عہد ہے تم مان لو گے تو میں بھی تسلیم کر لوں گا ، اگر تم قبول نہ کرو گے تو خبردار رہو، مجھے خدا نے یہ بتلایا ہے کہ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا تو نہ اس لڑکی کے لئے یہ نکاح مبارک ہوگا اور نہ تمہارے لئے ۔

(۱۰ مئی ۱۸۸۸ء آئینہ کمالات اسلام خزائن ص ۲۸۶ ج ۵)

کوئی شریف اور غیور انسان اپنی لخت جگر کی توہین برداشت نہیں کر سکتا خواہ اس کی جان ہی جاتی رہے ۔ چنانچہ اس ناشائستہ اور دھمکی آمیز خط کا نتیجہ یہ ہوا کہ خاندان میں مرزا کی رہی سہی عزت بھی مٹی میں مل گئی اور مرزا احمد بیگ اور خاندان والوں نے نہ صرف یہ کہ سختی سے اس رشتہ کا انکار کر دیا بلکہ وہ خط مرزا کے مخالفین کے اخباروں میں شائع کرا دیا۔ مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ کو رام کرنے کی بے حد کوشش کی خط و کتابت اور دھمکیوں کا سلسلہ ایک عرصہ تک چلتا رہا آخر کار محمدی بیگم مرحومہ کی شادی کی بات چیت پٹی ضلع لاہور

صفحہ ۸

محاصرہ رد قادیانیت جزء ۵

کے رہنے والے ایک شخص سلطان محمد سے ہونے لگی۔ یہ معلوم ہو جانے کے بعد اولاً تو مرزا نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ یہ نکاح نہ ہو اور رشتہ ٹوٹ جائے اس سلسلہ میں خود سلطان محمد کو خطوط لکھے کہ تم یہ نکاح منظور نہ کرو جب ساری تدبیریں ناکام رہیں تو الہام خداوندی کے حوالہ سے یہ پیشین گوئی شائع کر دی کہ محمدی بیگم میرے نکاح میں آوے گی ۔

لے آوے ۔

(مجموعہ اشتہارات ص ۲۱۹ / ۱)

کے طور پر پیش گوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام کا ہے اگر وہ اپنی بڑی لڑکی اس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہو جائے گا اور جو نکاح کرے گا وہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہوگا اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی ۔

(مجموعہ اشتہارات ص ۱۶۲ / ۱)

محمدی بیگم کے نکاح سے متعلق پیش گوئی

کے اجزاء

نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں : ۱ نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا ۔ ۲ نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقیناً زندہ رہنا ۳ پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا ۔ ۴ اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مر جانا ۔ ۵ اس وقت تک میں کہ اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا ۔ ۶ آخر یہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا ۔

(آئینہ کمالات اسلام در خزائن ص ۳۲۵ / ۵)

لیکن مرزا احمد بیگ اور اس کے خاندان والوں نے کسی چیز کا اثر نہیں لیا ، اور

صفحہ 9

محاصرہ رد قادیانیت ۹ جزء ۵

۷ اپریل ۱۸۹۲ء میں محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمد سے کر دیا، ان کے گھر میں ایک درجن کے قریب اولاد بھی ہوئی جبکہ مرزا نے لکھا تھا کہ ”اس سے دوسرے شخص کا نکاح کرنا اس لڑکی کے لئے باعث برکت نہ ہوگا“ اس لئے سلطان محمد کے گھر میں محمدی بیگم کے بطن سے اولاد میں برکت بھی مرزا کے کذب کی دلیل بن گئی ۔

مرزا کو نکاح محمدی بیگم کی آس

مرزا نے پہلا الہام گول مول اسی مقصد سے گھڑا تھا کہ اگر باکرہ ہونے کی حالت میں محمدی بیگم سے اس کا نکاح نہ ہو سکا تو پیش گوئی کو صحیح کرنے کی گنجائش باقی رہے گی کہ بیوہ ہو کر پھر میرے یہاں بیوی بن کر آئے گی اس سلسلہ میں اس کا اختراعی عربی الہام یہ ہے : (ترجمہ از مرزا)

فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ وَيَرُدُّهَا سو خدا انکے لئے تجھے کفایت کریگا اور اس عورت إِلَيْكَ أَمْرٌ مِّنْ لَدُنَّا إِنَّا كُنَّا کو تیری طرف واپس لائے گا یہ امر ہماری طرف فَاعِلِيْنَ زَوَّجْنٰكَهَا الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ سے اور ہم ہی کرنے والے ہیں بعد واپسی فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ کے ہم نے نکاح کر دیا تیرے رب کی طرف سے لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ ۔ سچ ہے پس تو شک کرنے والوں سے مت (انجام آتھم ص ۵۳ وخزائن ص ۲۱۲ ج ۱۱) ہو خدا کے کلمے بدلا نہیں کرتے ۔

جب مرزا کے مخالفین نے اس بات پر فاتحانہ خوشیاں منائیں کہ محمدی بیگم کا نکاح مرزا قادیانی سے نہ ہو کر سلطان محمد سے ہو گیا اور پیشین گوئی کی مدت تاریخ نکاح سے اڑھائی سال میں سلطان محمد کا انتقال نہیں ہوا تو بھی مرزا نے ہمت نہیں ہاری اور لکھا:

مرنا اور محمدی بیگم کا بیوہ ہو کر مرزا کے نکاح میں آنا) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو ! یہ انسان کا افتراء نہیں یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے ۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں

(ضمیمہ انجام آتھم و خزائن ص ۳۴۱ ج ۱۱)

صفحہ ۱۰

محاسبہ رد قادیانیت جز ث

(۲) میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو، اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائیگی۔

(انجام آتھم در خزائن ص ۳۱ ج ۱۱)

خلاصہ یہ کہ محمدی بیگم کے نکاح سے متعلق پیشین گوئی میں مرزا نے بار بار پینترے بدلے ، پہلے تو کہا باکرہ یا بیوہ ہونے کی حالت میں میرا اس سے نکاح ہو گا اور اگر باکرہ ہونے کی حالت میں نکاح کی صورت نہ بنے (واقعہ بھی یہی ہوا) تو کہا کہ سلطان محمد ڈھائی سال کی مدت میں مر جائے گا اور بیوہ ہو کر محمدی بیگم میرے نکاح میں آئے گی لیکن جب سلطان محمد مدت مقررہ میں نہیں مرا تو تیسرا پینترا بدلا کہ گو سلطان محمد مقررہ وقت میں نہیں مرا مگر میری زندگی میں ضرور مرے گا۔ اور اگر وہ میری زندگی میں نہ مرا تو میں بد سے بدتر اور جھوٹا ٹھہروں گا ۔ اور جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو میرے ان بیوقوف مخالفین کی ناک نہایت صفائی سے کٹ جائے گی ۔ اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے ۔

(اختصاراً از ضمیمہ انجام آتھم در خزائن ص ۳۴ ج ۱۱)

کھلا نتیجہ

ساری دنیا جانتی ہے کہ مرزا کا یہ آخری پینترا بھی بیکار گیا اور دجال و کذاب مرزا قادیانی ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو راہی ملک عدم ہو گیا

جب کہ سلطان محمد زندہ تھا اور محمدی بیگم اسی کی بیوی تھی، سلطان محمد کا انتقال مرزا کے مرنے کے چالیس سال بعد یعنی ۱۹۴۸ء میں ہوا اور محمدی بیگم کا انتقال ۱۹۶۶ء میں ہوا بہر حال نہ سلطان محمد مرزا کی زندگی میں مرا اور نہ محمدی بیگم بیوہ ہو کر مرزا قادیانی کے نکاح میں آئی اس لئے مرزا قادیانی خود اپنے فتویٰ کی رو سے بد سے بدتر اور جھوٹا ثابت ہوا اور ذلت کے سیاہ داغ ہمیشہ کے لئے اس کے منحوس چہرہ پر پڑ گئے ۔

مرزا قادیانی کے متضاد ناقابل تطبیق

اقوال و دعاوی

قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور اس کے کلام الٰہی ہونے کی ایک بڑی دلیل یہ ارشاد فرمائی گئی ہے:

صفحہ 11

محاضرہ ردّ قادیانیت جزء ۵

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ط وَ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اِخْتِلَافًا کَثِیْرًا

(سورہ النساء ع ۱۱)

ترجمہ : کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے اور اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو (اس کے مضامین) میں (بوجہ ان کے کثیر ہونے کے واقعات سے اور حد اعجاز سے) بکثرت تفاوت پاتے

(بیان القرآن)

انسان کے طویل کلام میں عموماً یکسانیت نہیں رہ پاتی، جملوں میں فصاحت و بلاغت کا فرق ہو جاتا ہے کبھی ایک بات دوسری بات کے مخالف و متناقض ہو جاتی ہے۔ لیکن قرآن کریم اتنی بڑی کتاب ہونے کے باوجود ہر قسم کے تناقض سے بالکل پاک صاف ہے ایسا کلام پیش کرنا غیر اللہ کے بس میں نہیں ہے۔

مرزا قادیانی کو دعویٰ ہے کہ وہ مکالمات الٰہیہ سے بکثرت مشرف رہا ہے اور اس کے مزعومہ خداوندی الہامات وغیرہ قطعی ہیں، اس کے لئے ضروری تھا کہ اس کی تصنیفات میں اور اس کی باتوں میں اختلاف و تناقض نہ ہوتا، لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس کی تصنیفات تناقض و تعارض سے بھری پڑی ہیں اور جس مدعی الہام کے کلام میں تعارض و تخالف ہو اس کے مفتری علی اللہ ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔

بطور نمونہ کے اس کے چند تناقضات پیش کئے جاتے ہیں :

ایک جگہ اپنے متعلق صرف محدث غیر نبی

ہونے کا دعویٰ کرتا ہے

اس عاجز کے رسالہ فتح الاسلام ، توضیح المرام ، ازالۃ اوہام میں جسقدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک

معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں میں محمول نہیں صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں سے بیان کئے گئے ہیں۔ مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں۔ بلکہ صرف محدث مراد ہے جس کے معنیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکلم مراد لئے ہیں آپ نے محدثوں کی نسبت

صفحہ ١٢

محاصرہ رد قادیانیت ١٢ جزو ٥

فرمایا :-

قَدْ كَانَ فِيْمَنْ قَبْلَكُمْ مِّنْ بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ رِجَالٌ يُكَلَّمُوْنَ مِنْ غَيْرِ اَنْ يَكُوْنُوْا أَنْبِيَاءَ ۔

(حقیقۃ النبوۃ ص ٩١ و ٩٢)

اس عبارت میں مرزا نے صاف صاف اپنے صرف محدث ہونے کا اظہار کیا ہے ۔ اور حدیث شریف کے حوالے سے یہ ثابت کیا ہے کہ محدث نبی نہیں ہوا کرتا ، لہٰذا میرا دعویٰ بھی نبوت کا نہیں ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے :

نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے

(ازالہ اوہام در خزائن ص ۳۲۰ ج ۳)

دوسری جگہ مرزا نے اپنے صرف محدث ہونے کا انکار کر کے ظلی و بروزی نبوت کا دعویٰ کیا۔

ان (بروزی و ظلی) معنوں کے رو سے مجھے نبوت و رسالت سے انکار نہیں ہے .....

اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے ، اگر کہو کہ اس کا نام (صرف) محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہارِ غیب نہیں مگر نبوت کے معنی اظہار امر غیب ہے !!

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۲۰۹ در خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۰)

دوسرا نمونہ !

ایک جگہ مرزا کہتا ہے کہ میرے انکار سے کوئی کافر نہیں ہو جاتا ۔ " ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا "

(تریاق القلوب در روحانی خزائن ص ۱۵۶ ج ۱۵)

پھر حاشیہ پر لکھتا ہے : " یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی

صفحہ ۱۴

محاضرہ رد قادیانیت ج ۵

میں اعلیٰ شان رکھتا ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا ۔

(حاشیہ تریاق القلوب در روحانی خزائن ص ۴۳۲ ج ۱۵)

پھر دوسری جگہ اپنی دعوت قبول نہ کرنے والے کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیا ۔ "ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے"

(حقیقۃ الوحی در خزائن ص ۱۶۳ ج ۲۲)

تیسرا نمونہ : ایک جگہ مرزا اپنے بارے میں بغیر شریعت کے نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ۔

"اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں شریعت والا نبی کوئی نہیں آ سکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے ، مگر وہی جو پہلے امتی ہو ، پس اسی بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی "

(تجلیات الٰہیہ در خزائن ص ۴۱۲ ج ۲۰)

دوسری جگہ اپنے کو صاحب شریعت

نبی بتلاتا ہے

اگر کہو کہ صاحب الشریعۃ افترا کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے ۔

خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ، ماسوا اس کے یہ بھی سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے ؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعۃ ہو گیا ۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی"

(اربعین نمبر ۴ در خزائن ص ۴۳۵ ج ۱۷)

چوتھا نمونہ : ایک جگہ مسیح علیہ السلام کے نزول کا قائل ہوتا ہے :

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۔

(سورۃ الصف آیت ۹)

اسی نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر ۔ تاکہ اس کو غلبہ دے ہر دین پر ۔

(ترجمہ شیخ الہندؒ)

صفحہ ۱۴

محاصرہ رد قادیانیت جز ۵

”یہ آیت جسمانی و سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشین گوئی ہے ۔ اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ ظہور میں آئے گا اور جب مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق میں پھیل جائے گا۔

(در حاشیہ براہین احمدیہ ص ۵۹۳ ج ۱)

دوسری جگہ مسیح کے دوبارہ نزول کا انکار کرتے لکھتا ہے ۔ ”قرآن شریف میں مسیح بن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں ۔

(ایام الصلح در خزائن ص ۳۹۴ ج ۱۴)

مرزا نے براہین احمدیہ کی تصنیف کے زمانہ سے ہی (جو اس کی مذہبی تصنیفی زندگی کے آغاز کا زمانہ ہے) اپنے کو نبی و رسول کہنا شروع کر دیا تھا ساتھ میں یہ بھی کہ انبیاء کو ان کے دعوٰی میں غلطی نہیں ہو سکتی ۔

(اعجاز احمدی ص ۳۱ در خزائن ص ۱۳۵ ج ۱۹)

نیز مرزا کا قول ملہم شخص کے بارے میں یہ ہے : ”اس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ روح القدس کی قدسیت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلافصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے ۔

(حاشیہ آئینہ کمالات اسلام در خزائن ص ۹۴ ج ۵)

ان اصولوں کی روشنی میں مرزا کے دعویٰ نبوت یا محدثیت کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں کیونکہ اگر وہ بفرض محال نبی یا ملہم ہوتا تو اس کے دعاوی و اقوال میں تعارض و تخالف نہ پایا جاتا جس کے رفع کرنے کی کوئی صحیح توجیہ پیش نہیں کی جا سکتی ، یوں بے سروپا طریقہ پر ان میں تطبیق دینے کی کوشش مرزائیوں کی طرف سے اور خود مرزا کی طرف سے بہت کچھ کی گئی ہے ، مگر اہل حق نے ان تمام کوششوں کو ناکام بنا کر ثابت کر دیا ہے کہ ان متعارض اقوال کی بنا پر مرزا قادیانی مراقی بلکہ مفتری علی اللہ اور حسب موقع و ضرورت گرگٹ کی طرح رنگ بدلا کرتا تھا ۔

صفحہ ۱۵

محاضرہ رد قادیانیت جزو ۱۰

مرزا قادیانی کی طرف سے توہین انبیاء

وصحابہؓ و صلحاء کا ارتکاب

ہر عقلمند انسان جانتا ہے کہ انبیاء کرام خداوند قدوس کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں جنکی ظاہری و باطنی تربیت باری تعالیٰ کی جانب سے ہوتی ہے۔ اس لئے وہ اخلاقیات کے بلند ترین مقام پر فائز ہوتے ہیں وہ عام انسانوں کے ساتھ بھی فحش گوئی و بد زبانی کا شیوہ نہیں اپناتے چہ جائیکہ انبیاء علیہم السلام کی مقدس جماعت کے کسی فرد کے بارے میں وہ کوئی توہین آمیز جملہ زبان سے نکالیں، کسی نبی کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ صلحاء و انبیاء کے بارے میں بد زبانی کرے، لہٰذا مسیلمہ پنجاب مدعی نبوت کاذبہ مرزا غلام احمد قادیانی نے انبیاء و صلحاء کی شان میں جو گستاخیاں کی ہیں وہ کذاب و دجال ہونے کی روشن دلیلیں ہیں مرزا نے خود لکھا ہے :

و مقدس لوگوں کو گالیاں دے

(مرزا کا آخری لکچر لاہور البلاغ المبین ص ۱۹)

اسی میں دیکھتے ہیں کہ بزرگوں کی خواہ مخواہ تحقیر کریں۔

(ست بچن مصنفہ

مرزا قادیانی در خزائن ص ۱۲ / ۱۰)

لعین قادیان نے سب سے زیادہ توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کی ہے اور غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے ایک دعویٰ اپنے بارے میں یہ کر رکھا ہے کہ احادیث شریفہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد کی جو اطلاعات دی گئی ہیں ان کا مصداق میں ہی ہوں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو انتقال فرما چکے ہیں۔ وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بعض خاص مشابہتوں اور مناسبتوں کی وجہ سے مجھے ہی مجازاً عیسیٰ اور مسیح کہا گیا ہے، اس طرح وہ اپنے معتقدوں کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ جس مسیح کا انتظار تھا وہ میں ہوں۔ اور شیوہ کردار کے

صفحہ ۱۹۰

محاضرہ رو قادیانیت ۱۹۰ جز ۵

لحاظ سے مسیح ناصری کے مقابلہ میں بلند ہوں، لہٰذا افضل کو چھوڑ کر ادنیٰ کا انتظار کرنا عقل کے خلاف ہے چنانچہ اس کا مشہور شعر ہے ؎

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص۲۰ در خزائن ج ۱۸)

مرزا کا ایک فتویٰ

اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے (ضمیمہ چشمہ معرفت ص۳۹۰ در خزائن ج ۲۳)

اب ہم ثابت کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین و تحقیر کی ہے ۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین

صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے ۔“ (اعجاز احمدی در خزائن ص۱۲۱ ج ۱۹)

کی وجہ سے“ (کشتی نوح حاشیہ خزائن ص۷۱ ج ۱۹)

نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا ۔“

(مکتوبات احمدیہ ص۲۴/ج۳) (نور القرآن در خزائن ص۳۷۹/ج۹)

(چشمہ مسیحی در روحانی خزائن ص۳۷۶/ج۲۰)

مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا“ (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم در روحانی خزائن ص۲۹۰/ج۱۱)

یہ صاف طور پر قرآن کریم سے معارضہ ہے قرآن کہتا ہے :۔

صفحہ ۱۷

محاضرہ رد قادیانیت جز ۵

وَآتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ یعنی ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بہت سے الْبَيِّنَاتِ (البقرة آيت ۸۷) بین معجزے دیئے۔

ہیں، میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا۔ (ازالۃ الاوہام در خزائن ص ۳۱۱ ج ۳)

ہیں وہ نہایت سخت اعتراض ہیں، بلکہ وہ ایسے سخت ہیں کہ ان کا انہیں بھی جواب نہیں آتا اور اگر مولوی ثناء اللہ یا مولوی محمد حسین یا کوئی پادری صاحبوں سے ان اعتراضات کا جواب دے سکے تو ہم ایک سو روپیہ نقد بطور انعام اس کے حوالے کریں گے۔ (اعجاز احمدی در خزائن ص ۱۲۱ ج ۱۹) عہ

دنیا میں ہو گئے (نادان لوگوں نے انھیں خدا بنا لیا۔ ناقل) دوبارہ آکر وہ دنیا میں کیا بتائیں گے کہ لوگ ان کے آنے کے خواہشمند ہیں (اخبار بدر ۶ مئی ۱۹۰۹ء ص ۵)

ہوتا ہے۔ دوسری طرف حضرت عیسیٰ کی شان میں اس کی دریدہ دہنی دیکھئے ۔

عہ اس حوالے میں اگرچہ مرزا قادیانی نے یہودی فاضل کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیوں پر اعتراضات نقل کئے ہیں مگر اس کا اصل مقصد خود حضرت عیسیٰؑ پر تنقیص و اہانت تھی کیونکہ مرزا محمود نے لکھا ہے ۔

کسی کو گالی دینے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوا کرتا ہیکہ دوسرے کی طرف گالی منسوب کر کے اس کا ذکر کیا جائے جیسے کوئی اپنے منہ سے حرامزادہ نہ کہے مگر یہ کہدے کہ فلاں شخص آپ کو حرامزادہ کہتا تھا یہ بھی گالی ہوگی جو اس نے دوسرے کو دی گو دوسرے کی زبان سے دلوائی ۔ (احرار کے مباہلہ کا چیلنج ص ۱)

صفحہ 18

محاصرہ قادیانیت جز ث

”آپ (یسوع) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا ۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر ناپاک ہاتھ لگاوے ۔ اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے ، اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے ، سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم در خزائن ص ۲۹۱ / ۱۱)

(۱۰) اور اس ظالم نے اپنے خیال فاسد کی تائید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کا مضمون آیت کریمہ سے نکالنے کی جسارت بھی کی ہے ۔ سنئے ۔

”مسیح کی راستبازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوئی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے جسم کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسیوجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حَصُوْر رکھا، مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے ۔ (حاشیہ دافع البلاء خزائن ص ۲۲۰ ج ۱۸)

مطلب صاف ہے کہ نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ شراب و شباب سے لطف اندوز ہوتے تھے ۔

(۱۱) ”مجھے وہ قوتیں عطا کی گئیں جو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ضروری تھیں ، تو پھر اس میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطری طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں ۔

؎ اپنے نفس کو عورتوں سے باز رکھنے والا ۔

صفحہ 19

محاضرہ رد قادیانیت ١٩ جزء

کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے ۔ اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی ۔ (حقیقۃ الوحی خزائن ص ۱۵ ج ۲۲)

اس گستاخ اور کمینہ شخص نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو گندی اور اہانت آمیز باتیں اپنی تالیفات میں درج کی ہیں ان کے چند نمونے بہت اختصار کے ساتھ پیش کئے گئے ہیں ۔

ان گندی گالیوں کی بنا پر جب مرزا قادیانی پر اعتراضات ہوئے تو تاویلات بکنے شروع کردیں ۔

پہلی تاویل رکیک

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں نہیں دی گئیں بلکہ اناجیل کے بیانات کی بنیاد پر یسوع کو دی گئیں ہیں جو کوئی دوسرا شخص مدعی الوہیت تھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے ۔

" اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام ڈاکو اور بٹمار رکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکار کیا اور کہا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئینگے پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں ۔ (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم در روحانی خزائن ص ۲۹ ج ۱۱)

ابطال

یہ تاویل غلط ہے کیونکہ اوّل تو مرزا نے خود یسوع اور مسیح کو ایک شخصیت قرار دیا ہے ۔ وہ لکھتا ہے ۔

میں یسوع کہتے ہیں، تیس برس تک موسیٰ رسول اللہ کی شریعت کی پیروی کر کے خدا کا مقرب بنا (حاشیہ چشمہ مسیحی در روحانی خزائن ص ۳۸ ج ۲۰)

صفحہ ۲۰

محاضرہ رد قادیانیت ۲۰ ج ث

(۲) یہود مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں (توضیح مرام در روحانی خزائن ص ۵۲ ج ۳)

دوسری تاویل اس لئے بھی غلط ہے کہ مرزا نے صاف طور پر عیسیٰ اور مسیح کا نام لے کر بکواس کی ہے ۔

دوسری تاویل رکیک

مرزا قادیانی نے ان گالیوں کی یہ بھی تاویل کی ہے کہ جب پادریوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تو ہم نے بھی مجبور ہو کر عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مذکورہ واقعات یہودیوں سے لے کر عیسائیوں کے سامنے پیش کر دیئے ۔

ابطال ۱

یہ تاویل بناوٹی ہے کیوں کہ مرزا کہتا ہے ۔

”مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے (ضمیمہ تریاق القلوب در روحانی خزائن ص ۱۵۹ ج ۱۵)

”مختلف فرقوں کے بزرگ ، ہادیوں کو بدی اور بے ادبی سے یاد کرنا پڑلے درجہ کی خباثت اور شرارت سمجھتے ہیں (براہین احمدیہ در روحانی خزائن ص ۹۲ ج ۱)

معلوم ہوا کہ یہ صرف بہانہ ہے کہ عیسائیوں کے جواب میں حضرت عیسیٰ ؑ کو برا بھلا کہا گیا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ مرزا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بزرگ ہادی اور نبی تو کیا مانتا بلکہ ایک شریف انسان بھی نہیں مانتا۔ کیوں کہ اس کا قرآن پر ایمان ہی نہیں ، اگر وہ قرآن کو کلام الٰہی مانتا جس سے حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت قطعی و یقینی طور پر ثابت ہے تو وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی شان میں گستاخانہ کلمات استعمال نہ کرتا ۔

نیز یہ تہمتیں اور گالیاں جوابی و الزامی اسلئے بھی قرار نہیں دی جاسکتی کہ " دافع البلاء " کے مخالف زیادہ تر علماء اسلام ہیں ، اور اس میں مرزا ان کو سمجھا رہا ہے کہ یہ گندی اور فحش باتیں میرے نزدیک (نعوذ باللہ) ایسے سچے قصے ہیں کہ انہی کی وجہ سے حضرت عیسیٰ کو حصول فضائل سے محرومی رہی ۔ اس بارے میں اس کی عبارت اوپر نقل کی جا چکی ہے ۔ پھر پڑھ لیجئے

صفحہ ۲۱

محاضرہ رد قادیانیت جز ۵

نیز اس نے تحریر ہٰذا میں معجزات حضرت عیسیٰؑ کا انکار ”حق بات یہ ہے“ کہہ کر کیا ہے ۔ اسی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ جہاں بھی مرزا نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں فحش گوئی کی ہے۔ وہ الزامی جواب کے طور پر نہیں ہے بلکہ اس کا اپنا خیال بھی یہی ہے۔ لہٰذا یقینی طور پر مرزا توہین عیسیٰ کا مرتکب ہوا ہے۔ اور نبی کی توہین کفر ہے۔

قادیانیوں کی فریب کاری ۱؎

جب مسیح موعود (مرزا غلام احمد) اپنے آپ کو مثیل کہتے ہیں تو حضرت مسیح کی توہین کیسے کرسکتے تھے۔

پردہ چاک

جذبہ رقابت کے تحت توہین عیسیٰ کی گئی ہے۔

قادیانیوں کی فریب کاری ۲؎

حضرت مسیح موعود (مرزا) نے اپنی متعدد کتب و تحریرات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعریف کی ہے اور انہیں نبی تسلیم کیا ہے، اسلئے مرزا پر توہین عیسیٰ کا الزام نہیں لگایا جاسکتا۔

پردہ چاک

اوّل تو مرزا قادیانی متضاد بیانات و تحریرات میں مشہور و معروف ہے۔ دوسرا اس نے حضرت عیسیٰؑ کی تعریف تین وجوہ سے کی ہے۔

قیصریہ ، تحفۂ قیصریہ میں یہ مضمون موجود ہے ۔

”شریر انسانوں کا طریق یہ ہے کہ ہجو (کسی کی برائی ۔ ناقل) کرنے کے وقت پہلے ایک تعریف کا لفظ لے آتے ہیں گویا وہ منصف مزاج ہیں ۔

(حاشیہ ست بچن در خزائن ص ۱۳۵ / ۱۰)

صفحہ ۲۲

محاضرہ ردّ قادیانیت جز ث

لعین قادیان اور اُس کے گروہ نے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے

صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ممکن ہے ، اور قادیانی عقیدہ کے مطابق اب صرف مرزا قادیانی کی تعلیم کی پیروی ہی موجب نجات ہے ۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے :

"اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدارِ نجات ٹھہرایا ، جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جنکے کان ہوں سُنے ۔

(حاشیہ اربعین ص۴۳ روحانی خزائن ص۴۳۵ ج ۱۷)

" میں بار ہا بتلا چکا ہوں عہ بموجب آیت واخرین منھم لما یلحقوا بھم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں ۔

(ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن ص۲۱۲ ج ۱۸)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی ناقل) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا ، اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے (بحوالہ قادیانی مذہب ص۲۶۶)

پا سکتا ہے، حتیٰ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے (ڈائری خلیفہ قادیان ۔ اخبار الفضل ، ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء )

عقیدہ یہ ہے کہ آیت انا اعطینک الکوثر مرزا غلام احمد کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔

(حقیقۃ الوحی خزائن ص۴۶۱ ج ۲۲)

نہ مان کر محض کسوف وخسوف ہی قرار دیا ہے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی عظمت جتانے کے لئے لکھتا ہے :

عہ سورہ جمعہ آیت ۳

صفحہ ۲۳

محاضرہ ردّ قادیانیت۔ جزو ث

لَهُ خَسَفَ الْقَمَرُ الْمُنِیْرُ وَاِنَّ لِیْ
غَسَا الْقَمَرَانِ الْمُشْرِقَانِ اَتُنْکِرُ

یعنی (حضور صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ناقل) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا۔ اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب تو کیا انکار کریگا

(اعجاز احمدی در خزائن ص ۱۸۳ ج ۱۹)

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ خزائن ص ۲۶۳ ج ۱۷)

قادیانی لٹریچر میں اس طرح کی بہت سی تحریریں موجود ہیں بغرض اختصار ان ہی پر اکتفا کیا جاتا ہے ۔

اور مرزا قادیانی کی یہ فحش گوئی وگستاخی انبیاء سے گزر کر اکابر صحابہؓ و صلحاء امت بلکہ عام مسلمانوں تک کو اپنا نشانہ بناتی رہی ہے ۔ چنانچہ مرزا نے اکابر صحابہؓ کو بلا تکلف غبی، نادان اور معمولی انسان کے الفاظ سے یاد کیا ہے ۔ اور اُمّت مسلمہ کے لئے اُن کی پٹاری میں کافر، مشرک، جہنمی، کنجریوں کی اولاد سے کم درجہ کا شاید کوئی لفظ ہی نہیں تھا

تفصیل کے لئے دیکھئے

(رئیس قادیان ص ۲۰۲ ج ۲)

کفر، نفاق، ارتداد، زندقہ کی تعریفات

و احکام اور مرزا قادیانی اور اس کی

ذریت پر ان کا انطباق ۔

ایمان کے لغوی معنی کسی چیز کے ماننے کے ہیں اور کفر ایمان کی ضد ہے، لہٰذا کفر کے لغوی معنی انکار کرنے کے ہیں

اور اصطلاح شرع میں ایمان کی حقیقت وماہیت یہ ہے ۔

اَلتَّصْدِیْقُ بِکُلِّ مَا جَاءَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاِنْ لَّمْ یَکُنْ مُتَوَاتِرًا وَالْتِزَامُ اَحْکَامِہٖ وَالتَّبَرُّءُ مِنْ کُلِّ دِیْنٍ سِوَاہُ ۔

ترجمہ:۔ تمام ان چیزوں کی تصدیق کرنا جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے اگرچہ وہ متواتر نہ ہوں۔ اور آپ کے احکام کو لازم پکڑنا۔ اور دین اسلام کے علاوہ ہر دین سے برأت ظاہر کرنا ۔

(اکفار الملحدین ص ۷ مع حاشیہ)

صفحہ ۲۴

محاضرہ رد قادیانیت ۲۴ جزو ۵

ایمان کی یہ تعریف مسلم شریف کی حدیث شریف سے ماخوذ ہے جو درج ذیل ہے:

أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰى ترجمہ، مجھ کو حکم دیا گیا کہ لوگوں سے قتال يَشْهَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَيُؤْمِنُوْا کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ بِيْ وَبِمَا جِئْتُ بِهٖ فَاِذَا فَعَلُوْا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اور مجھ پر ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَ هُمْ وَ اور اس چیز پر جس کو میں لے کر آیا ایمان اَمْوَالَهُمْ اِلَّا بِحَقِّهَا ۔ لے آئیں ۔ پس جب وہ اس کو اختیار کرلے (مسلم شریف ص ۳۴ ج ۱) تو وہ اپنی جان اور مال میری جانب سے محفوظ کر لیں گے مگر ان کے حق کی وجہ سے ۔

نیز آیت کریمہ احادیث کے اس مضمون کی تائید و تصدیق کرتی ہے ۔

وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ ترجمہ : اور جو کوئی منکر ہو اس سے سب فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ۔ (سورہ ہود آیت ۱۷) فرقوں میں سے سو دوزخ ہے ٹھکانہ اسکا (ترجمہ شیخ الہندؒ)

بہر حال ایمان شرعی یہ ہے کہ تمام ما جاء بہ الرسول صلے اللہ علیہ وسلم کو مانا جائے ، بعض کو ماننا بعض کو نہ ماننا ایمان شرعی نہیں ہے اور چونکہ کفر ایمان کی ضد ہے لہٰذا کفر شرعی کا مطلب یہ ہے کہ ما جاء بہ الرسول صلے اللہ علیہ وسلم کا سرے سے انکار کرے یا بعض کو مانے لیکن ضروریات دین میں سے کسی ایک چیز کا بھی انکار کرے خواہ صراحتاً انکار کرے خواہ تاویل کر کے کیونکہ ضروریات دین میں تاویل بھی کفر ہے ۔

چنانچہ محقق وزیر یمانیؒ فرماتے ہیں :

اِنَّ اَصْلَ الْكُفْرِ هُوَ التَّكْذِيْبُ الْمُتَعَمَّدُ ترجمہ : کفر کی اصل اللہ تعالیٰ کی کتب معلومہ لِشَيْءٍ مِنْ كُتُبِ اللّٰهِ تَعَالَى الْمَعْلُوْمَةِ میں سے کسی کی تکذیب کرنا ہے جان بوجھ کر اَوْ لِاَحَدٍ مِنْ رُّسُلِهٖ عَلَيْهِ السَّلَامُ یا اللہ کے رسولوں میں سے کسی ایک کی تکذیب اَوْ لِشَيْءٍ مِّمَّا جَاءُوْا بِهٖ اِذَا كَانَ ذٰلِكَ کرنا یا جن چیزوں کو وہ لے کر آئے انہیں الْاَمْرُ الْمُكَذَّبُ بِهٖ مَعْلُوْمًا بِالضَّرُوْرَةِ سے کسی چیز کی تکذیب کرنا ۔

صفحہ 25

محاضرہ رد قادیانیت ۲۵ جزو ث

مِنَ الدِّيْنِ وَلَا خِلَافَ اَنَّ هٰذَا الْقَدْرَ كُفْرٌ، مَنْ صَدَرَ عَنْهُ فَهُوَ كَافِرٌ إِذَا كَانَ مُكَلَّفًا مُخْتَارًا غَيْرَ مُخْتَلِ الْعَقْلِ وَلَا مُكْرَهٍ وَ كَذٰلِكَ لَا خِلَافَ فِي كُفْرِ مَنْ جَحَدَ ذٰلِكَ الْمَعْلُومَ بِالضَّرُورَةِ لِلْجَمِيْعِ وَتَسَتَّرَ بِالتَّاْوِيْلِ فِيْمَا لَا يُمْكِنُ تَاوِيْلُهُ كَالْمَلَاحِدَةِ -

(ایثار الحق علی الخلق ص ۱۱۶ للمحقق الشہیر الحافظ محمد بن ابراهیم الوزیر الیمانی۔ بحوالہ اکفار الملحدین ص۸۳

جب کہ اس امر مذکور کا دین سے ہونا یقیناً معلوم ہو۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اتنی بات کفر ہے جس سے یہ چیز صادر ہو وہ کافر ہے جب کہ وہ مکلف ہو با اختیار ہو اسکی عقل میں خلل نہ ہو اور نہ اس پر زبر دستی کی گئی ہو۔ اور ایسے ہی اس شخص کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں جو اس قسم کے یقینی امر کا انکار کرے اور ملحدوں کے طریقہ پر ناممکن التاویل امور میں تاویل کی آڑ لے۔

الْكُفْرُ بِعَدَمِ الْإِيْمَانِ بِمُتَوَاتِرَاتِ الشَّرْعِ وَخُلُوُّهُ عَنْهُ جَهْلًا كَانَ أَوْ جُحُودُ أَوْ عِنَادًا -

(حاشیہ اکفار الملحدین ص ۸۹)

(ترجمہ) کفر کا تحقق شریعت کی بالتواتر منقول شدہ چیزوں پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے ہوتا ہے خواہ آدمی کی نادانی کی وجہ سے ہو یا انکار کرنے کی وجہ سے یا عناد و مخالفت کی وجہ سے۔

ضروریات دین کیا ہے

وَالْمُرَادُ بِالضَّرُورِيَّاتِ عَلَى مَا اشْتَهَرَ فِي الْكُتُبِ مَا عُلِمَ كَوْنُهُ مِنْ دِيْنِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالضَّرُورَةِ بِاَنْ تَوَاتَرَ عَنْهُ وَاسْتَفَاضَ وَعَلِمَتْهُ الْعَامَّةُ (اکفار الملحدین ص ۱۱)

(ترجمہ) ضروریات دین سے مراد جیسا کہ کتب عقائد وغیرہ میں مشہور ہے، وہ چیزیں ہیں جن کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے ہونا یقیناً معلوم ہو۔ بایں طور کہ آپؐ سے وہ تواتر کے ساتھ منقول ہوں اور مشہور ہوں اور عام لوگ انکو جانتے ہوں۔

صفحہ ۲۶

عقائد و رد قادیانیت جزو ۵

یعنی اس کا دینی امر ہونا اس قدر مشہور ہو کہ بہت سے عوام بھی جانتے ہوں کہ یہ دینی امر ہے یہ مطلب نہیں کہ عوام کا ایک ایک فرد جانتا ہو۔ خواہ وہ دینی تعلیم کی طرف بالکل متوجہ نہ ہوا ہو، بلکہ جس چیز کا امر دینی ہونا عوام کا ایک بڑا طبقہ جانتا ہو اور ایک بڑا طبقہ نہ جانتا ہو، وہ بھی ضروریات دین میں شمار ہوگا۔

مثلاً وحدانیت، نبوت و رسالت، ختم نبوت، بعثت و جزاء، نماز و زکوٰۃ کی فرضیت شراب کی حرمت وغیرہ۔

ضروری کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا عمل میں لانا ضروری ہے، کیوں کہ بہت سے مباحات و مستحبات بھی ضروریات دین میں شامل ہیں جنکو ماننا تو ضروری ہے، لیکن عمل میں لانا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ ضروری کا مطلب یہ ہیکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ثبوت قطعی و یقینی ہے۔

ضروریاتِ دین کی دو قسمیں ہیں

اور عوام) شریک ہیں اور ان کے دلائل میں کوئی ظاہری تعارض بھی نہیں، ان کی مراد بالکل واضح ہے مثلاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کے سلسلہ کا ختم ہو جانا، اور قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اس قسم کے ضروریات دین پر ایمان لانا بلا کسی تصرف و تغیر کے لازم ہے۔

مسئلہ تقدیر ، عذاب قبر، استواء علی العرش، نزول الی السماء الدنیا ۔ یہ امور بھی تواتر اور شہرت سے ثابت ہیں۔ ان کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص سرے سے مسئلہ تقدیر وغیرہ کا انکار کرتا ہے تو وہ کافر قرار دیا جائے گا۔ لیکن اگر کوئی شخص ان امور کو اصالۃً مانتا ہے مگر انکی کیفیات کی تعیین میں غلطی کرتا ہے تو اس کو کافر نہیں کہا جائے گا، زیادہ سے زیادہ اس پر ضلال کا حکم لگایا جائے گا۔ الغرض کفر شرعی کے تحقق کے لئے ضروریات دین میں سے کسی ایک چیز کا انکار صراحتاً

صفحہ ۲۷

محاضرہ قادیانیت جزو ۵

یا تاویلاً بھی کافی ہے جب کہ ایمان شرعی کے ثبوت کیلئے ماجاء بہ الرسول کے ایک ایک فرد پر ایمان لانا ضروری ہے، خواہ متواتر ہو یا غیر متواتر، کیوں کہ مومن بہ صرف قطعیات نہیں ہیں البتہ کفر کا حکم کسی امر قطعی کے انکار ہی کی وجہ سے آئے گا۔

حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ ایمان کی مذکورہ بالا تعریف لکھنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں :-

وَمَنْ قَصَرَهُ مِنَ المتکلمین علی الضروریات فَلِاَنَّ موضوع فنهم هو القطعی لا اَنَّ المومن به هو القطعی فقط، نعم التکفیر انما یکون بجحوده فقط (اکفار الملحدین ص۳)

(ترجمہ) جن متکلمین نے ایمان کی تعریف میں صرف ”ضروریات“ کو ذکر فرمایا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انکے فن کا موضوع قطعیات ہیں یہ وجہ نہیں کہ مومن بہ صرف امر قطعی ہوتا ہے البتہ تکفیر امر قطعی کے انکار ہی کی وجہ سے ہوگی۔

اہل قبلہ کس کو کہتے ہیں

ایمان کے مفہوم شرعی سے متصف افراد کو جس طرح مومنین کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح ان میں ایمان کی علامت پائے جانے کی وجہ سے اہل قبلہ بھی کہا جاتا ہے جو مندرجہ ذیل حدیث سے ماخوذ ہے ۔

مَنْ صَلّٰی صَلٰوتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَاَکَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذٰلِکَ الْمُسْلِمُ الَّذِيْ لَهُ ذِمَّةُ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ۔ (بخاری شریف ج ۱ ص ۵۶)

(ترجمہ) جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کا استقبال کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے ، پس وہ ایسا مسلمان ہے، جسکے لئے اللہ اور اسکے رسول کا ذمہ ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بس نماز میں استقبال خانہ کعبہ کا قائل ہونے سے کوئی شخص مسلمان ہو جائے گا ، خواہ دیگر ضروریات دین کا انکار کرتا ہو ، بلکہ اہل قبلہ مومن شرعی کو کہا جاتا ہے جسکے لئے تمام ضروریات دین ماجاء بہ الرسول پر ایمان لانا ضروری ہے۔

چنانچہ شرح فقہ اکبر میں ہے۔

اِعْلَمُ الْمُرَادُ بِاَهْلِ الْقِبْلَةِ الَّذِيْنَ اتَّفَقُوْا عَلٰی مَا هُوَ مِنْ ضَرُوْرَاتِ

(ترجمہ) جاننا چاہیے کہ اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان چیزوں پر متفق ہوں جو ضروریات دین

صفحہ ۲۸

محاضرہ رد قادیانیت جزء ۵

الدِّيْنِ كَحُدُوثِ الْعَالَمِ وَحَشْرِ الْاَجْسَادِ، وَعِلْمِ اللهِ تَعَالٰى بِالْكُلِّيَّاتِ وَالْجُزْئِيَّاتِ وَمَا اَشْبَهَ ذٰلِكَ مِنَ الْمَسَائِلِ الْمُهِمَّاتِ فَمَنْ وَاظَبَ طُوْلَ عُمْرِهٖ عَلَى الطَّاعَاتِ وَالْعِبَادَاتِ مَعَ اعْتِقَادِ قِدَمِ الْعَالَمِ وَنَفْيِ الْحَشْرِ اَوْ نَفْيِ عِلْمِهٖ سُبْحَانَهٗ بِالْجُزْئِيَّاتِ لَا يَكُوْنُ مِنْ اَهْلِ الْقِبْلَةِ ، وَاِنَّ الْمُرَادَ بِعَدَمِ تَكْفِيْرِ اَحَدٍ مِّنْ اَهْلِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ اَهْلِ السُّنَّةِ : اَنَّهٗ لَا يُكَفَّرُ مَا لَمْ يُوجَدْ شَيْءٌ مِّنْ اَمَارَاتِ الْكُفْرِ وَعَلَامَاتِهٖ وَلَمْ يَصْدُرْ عَنْهُ شَيْءٌ مِّنْ مُوْجِبَاتِهٖ۔

(شرح فقہ اکبر ص۱۴)

سے ہوں مثلاً عالم کا حدوث، اور حشر اجساد اور اللہ تعالیٰ کا کلیات و جزئیات کو جاننا اور تمام وہ مسائل مہمہ جو ان کے مشابہ ہوں، پس جو شخص عمر بھر طاعات و عبادات پر مواظبت کرے ساتھ ساتھ اس بات کے اعتقاد کے کہ عالم قدیم ہے، اور حشر اجساد نہیں ہوگا، اور اللہ تعالیٰ جزئیات کو نہیں جانتا، تو وہ شخص اہل قبلہ میں سے نہیں ہوگا، اور اہل سنت و الجماعت کے نزدیک اہل قبلہ میں سے کسی کی عدم تکفیر سے مراد یہ ہے کہ اس وقت تک تکفیر نہیں کی جائے گی، جب تک کہ کفر کی علامات میں سے کوئی علامت نہ پائی جائے، نیز موجباتِ کفر میں سے کوئی بات اس سے صادر نہ ہو۔

܀ ܀

اور نیز اس میں ص ۱۴ پر ہے:

وَمَعْنٰى عَدَمِ تَكْفِيْرِ اَهْلِ الْقِبْلَةِ اَنْ لَّا يُكَفَّرَ بِارْتِكَابِ الْمَعَاصِيْ وَلَا بِاِنْكَارِ الْاُمُوْرِ الْخَفِيَّةِ غَيْرِ الْمَشْهُوْرَةِ هٰذَا مَا حَقَّقَهُ الْمُحَقِّقُوْنَ ۔ فَاحْفَظْهُ

(ترجمہ) اور اہل قبلہ کی عدم تکفیر کے معنی یہ ہیں کہ معاصی کے ارتکاب سے نیز امور خفیہ غیر مشہورہ کے انکار سے تکفیر نہیں کی جائے گی، محققین کی یہی تحقیق ہے۔ اس کو یاد رکھنا چاہیے۔

کفر کی اقسام

کفر کا مذکورہ مفہوم شرعی جس شخص میں پایا جائیگا اس کو کافر کہا جائے گا، یعنی جس کے اندر ایمان نہ ہو۔

اب اس کی پہلی قسم ۱۔ نہ دل میں ایمان ہے اور نہ ظاہر میں اس کو اختیار کرتا ہے اس کو اعلانیہ کافر کہیں گے۔

صفحہ ۲۹

عقائد قادیانیت جزء ۵

نے اسلام سے رجوع کر لیا۔

کہلائے گا جیسے یہودی و نصرانی۔

کہلائے گا۔

اسلام نماز وغیرہ بھی اپنائے ہوئے ہو، لیکن ساتھ ہی ایسے عقائد اسلامی لبادہ میں چھپائے ہوئے ہو جو بالاتفاق کفریہ ہیں ایسے کافر شخص کو زندیق کہا جائے گا۔

زندیق :- زند کی طرف منسوب ہے جسکو قباد کے زمانہ میں مزدک نے پیش کر کے لوگوں کے سامنے یہ دعویٰ کیا کہ یہ مجوسیوں کی کتاب آسمانی کی تفسیر و تاویل ہے جو ان کے خیال کے مطابق زردشت نبی لے کر آئے تھے۔

بہر حال زندیق کی تعریف یہ ہے۔

مَنْ يُبْطِنُ عَقَائِدَ ھِيَ كُفْرٌ بِالْاِتِّفَاقِ (ترجمہ) زندیق وہ شخص ہے جو متفقہ عقائد مَعَ اعْتِرَافِہٖ بِنُبُوَّةِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ کفر کو چھپائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاِظْھَارِہٖ شَعَائِرَ کا اقرار کرنے کے ساتھ ساتھ نیز شعائر اسلام کو الْاِسْلَامِ (شرح مقاصد ص ۲۶۸) بھی ظاہر کرتا ہو۔

یہاں ابطان کفر کا یہ مطلب نہیں کہ لوگوں سے وہ اپنے عقیدہ کفریہ کو چھپاتا ہے جیسا کہ بظاہر مفہوم ہوتا ہے، کیوں کہ زندیق کا کام ہی ہے کہ ملمع سازی کر کے اپنے عقیدہ فاسدہ کو لوگوں میں رواج دینے کی کوشش کرتا ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ اسلام کا دعویٰ کرنے

صفحہ ۳۰

رد قادیانیت ۳۰ جزو ۵

کے باوجود دجل و تلبیس سے مخالف اسلام عقائد اپناتا ہے چنانچہ فتح الباری میں ص ۲۷۶ ج ۱۲ پر مبطن الکفر کے معنی بغلط بیان فرمائے ہیں۔ زندیقانہ تاویل کی مثالیں بیان فرماتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ تحریر فرماتے ہیں ۔

اَوْ قَالَ اِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَكِنَّ مَعْنٰی هٰذَا الْكَلَامِ اَنَّهُ لَا يَجُوزُ اَنْ يُسَمَّى بَعْدَهُ أَحَدٌ بِالنَّبِيِّ وَأَمَّا مَعْنَى النُّبُوَّةِ وَهُوَ كَوْنُ الْإِنْسَانِ مَبْعُوثًا مِنَ اللّٰهِ تَعَالَى إِلَى الْخَلْقِ مُفْتَرَضَ الطَّاعَةِ مَعْصُومًا مِنَ الذُّنُوبِ وَمِنَ الْبَقَاءِ عَلَى الْخَطَاءِ فِيمَا يَرٰى فَهُوَ مَوْجُودٌ فِي الْأَئِمَّةِ بَعْدَهُ فَهُوَ الَّذِي يُزَنْدَقُ ۔ (مسوی شرح موطا)

(ترجمہ) یا وہ شخص کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ لیکن اس کلام کا مطلب یہ ہے کہ آپؐ کے بعد کسی نبی نام رکھا جانا درست نہیں، رہا نبوت کا مفہوم یعنی کسی انسان کا اللہ کی طرف سے مخلوق کی جانب مبعوث ہونا جسکی اطاعت فرض ہوتی ہے اور جو گناہوں سے اور اجتہادی معاملہ میں غلطی پر باقی رہنے سے محفوظ ہوتا ہے) تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ائمہ میں پایا جاتا ہے تو ایسا آدمی زندیق ہے ۔

܀

بہر حال زندیق کی ایک قسم تو یہ ہے جو عموماً معروف ہے، اور زندیق کی ایک قسم اور ہے جیسا کہ حافظ ابن قدامہ حنبلیؒ تحریر فرماتے ہیں ۔

وَالزِّنْدِيقُ الَّذِي يُظْهِرُ الْإِسْلَامَ وَيُسْتَتِرُ الْكُفْرَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ يُسَمّٰى مُنَافِقًا فِي عَصْرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُسَمَّى الْيَوْمَ زِنْدِيقًا (المغنی ص ۱۴ ج ۱۰)

܀

یعنی جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے منافقین کا حال تھا کہ زبان سے اسلام کا اظہار کرنے کے ساتھ دل میں عقائد کفریہ رکھتے تھے (جن کا اظہار کبھی بے ساختہ ہو جاتا تھا) اسی طرح آج بھی اگر کوئی بظاہر مسلمان در پردہ کفریہ عقائد رکھتا ہو اور کسی ذریعہ سے اسکے نفاق کا علم ہو جائے اسکو بھی زندیق کہا جائے گا۔

صفحہ ۳۱

محاصرہ قادیانیت جزو ۵

زندیق کے بارے میں حکم شرعی

مرتد سے زیادہ سخت ہے

اگر کوئی مسلمان (نعوذ باللہ) مرتد ہو جائے تو امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ اس کو توبہ کی تلقین کیجاتی ہے اور تین دن کی مہلت دی جاتی ہے جس میں وہ اپنے شبہات دور کرے اگر وہ دوبارہ اسلام قبول کر لے تو بہت اچھا ورنہ اسکو قتل کر دیا جائے گا لیکن زندیق اگر خود آکر توبہ کر لے تب بھی اسکے قبول کئے جانے میں فقہاء امت کا اختلاف ہے۔ حضرت امام شافعیؒ کا مسلک اور امام احمدؒ کی مشہور روایت تو یہ ہے کہ زندیق کی توبہ اگر سچے دل سے ہو تو قبول کر لیجائے گی، اور اس سے قتل ساقط ہو جائے گا۔ یعنی زندیق کا حکم مرتد جیسا ہے۔

اور احناف کے یہاں تفصیل ہے کہ اگر کوئی زندیق اپنے عقائد فاسدہ کی دعوت دیتا ہو تو اگر وہ پکڑا جائے تو اسکی توبہ ناقابل اعتبار ہے (درمختار ص ۲۴۶ ج ۴) لیکن اگر پکڑے جانے سے پہلے زندیق خود آکر توبہ کر لے تو اسکی توبہ مقبول ہوگی اور وہ قتل کی سزا سے بچ جائے گا۔

اور حضرت امام مالکؒ کا مسلک اور حضرت امام احمدؒ کی ایک روایت یہ ہے کہ کسی حال میں زندیق کی توبہ قبول نہیں ہوگی اسکی سزا بہر صورت قتل ہے۔

کفر زندقہ میں مبتلا قادیانی گروہ اور اسکا حکم

آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام میں قادیانی تحریفات و تاویلات زائغہ اور اس گروہ کے مخالف اسلام عقائد فاسدہ سامنے آجانے کے بعد امت مسلمہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ یہ زندیقوں کا گروہ ہے جو اپنے عقائد کفریہ پر اسلام کا لیبل لگا کر دنیا بھر میں نام نہاد "حقیقی اسلام" کے نام سے انکی ترویج و اشاعت

صفحہ ۳۲

محاصرہ رد قادیانیت جزو ۵

میں سرگرداں ہے اور جو واقعی حقیقی اسلام ہے اور جسکو امتِ مسلمہ چودہ سو سال سے اپنائے ہوئے ہے اسکو کفر کا نام دینے کی بے جا جسارت کرتا ہے، لہٰذا اگر اسلامی حکومت ہو اور یہ گروہ اور اسکے افراد حکومت کی گرفت میں آجائیں تو احناف، مالکیہ کے نزدیک اور امام احمدؒ کی ایک روایت کے مطابق انکی توبہ قبول نہیں کیجائیگی اور وہ قتل کی سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔

مرتدین اور قادیانی زندیقوں کی اولاد کا حکم

قادیانیت کے علاوہ کسی اور دھرم کی طرف مرتد ہونے والے اگر کسی وجہ سے قتل سے بچ جائیں اور انکی نسل چلے تو اُنکی صلبی اولاد کا حکم یہ ہے کہ آبا و اجداد کے تابع قرار دے کر انکو بھی مرتد سمجھا جائے گا۔ مگر اصالۃً نہیں، لہٰذا بلوغ کے بعد ان کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے کیلئے حبس و ضرب کی شکل تو اختیار کیجائے گی لیکن ان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اور مرتد کی اولاد کی اولاد کسی طرح مرتد کے حکم میں نہیں، نہ اصالۃً نہ تبعاً بلکہ وہ کافر اصلی شمار ہوگی۔

(شامی ص۲۵۴ ج۴)

اسی طرح اسلام ترک کر کے قادیانیت کی طرف مرتد ہونے والے کی صلبی اولاد اپنے والدین کے تابع ہو کر مرتد و زندیق کہلائے گی، اور اولاد کی اولاد مرتد نہیں بلکہ خالص زندیق کہلائے گی، اور زندیق کا حکم اس پر لاگو ہوگا۔ نہ کہ کافر اصلی کا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص شروع ہی سے قادیانی زندیق بنا ہو، یا قادیانیوں کے گھر پیدا ہوا ہو اس کی سینکڑوں نسلیں بھی بدل جائیں تب بھی انپر سادہ کافر کا حکم نہیں لگے گا بلکہ ان کا حکم ہمیشہ زندیق کا رہے گا۔ کیونکہ جس جرم کی وجہ سے ان کو زندیق کہا گیا ہے (یعنی کفر کو اسلام اور اسلام کو کفر کہنا) انکی نسلوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

صفحہ ۳۳

محاضرہ رد قادیانیت جزو ۵

قادیانیوں سے کسی قسم کے تعلقات رکھنا

حرام اور قطعی حرام ہے

جب یہ معلوم ہوگیا کہ قادیانی مرتد و زندیق ہیں، اور زندقہ پھیلانے میں مصروف ہیں تو ان کے ساتھ، تجارت وغیرہ میں شریک ہونا، انکی تقریبات میں شرکت کرنا یا ان کو اپنی تقریبات میں شرکت کی دعوت دینا۔ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، کھانا، پینا، انکے گھر آنا جانا، دوستانہ تعلقات رکھنا اور مسلمانوں جیسا سلوک ان کے ساتھ روا رکھنا قطعی حرام ہے اور ایمانی غیرت کے خلاف ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے

(ترجمہ) جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں ان کو آپ نہ دیکھیں گے کہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھتے ہیں جو اللہ اور رسول کے برخلاف ہیں، گو وہ انکے باپ، بیٹے یا بھائی ہی کیوں نہ ہوں، ان لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور (ان) کے قلوب کو اپنے فیض سے قوت دی ہے (فیض سے مراد نور ہے) اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جنکے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوگئے۔ یہ اللہ کا گروہ ہے، خوب سنلو کہ اللہ ہی کا گروہ فلاح پانے والا ہے۔ (حضرت تھانویؒ)

لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَادُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاءَهُمْ اَوْ اَبْنَاءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ، اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ، وَيُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهَارُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا - رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ، اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔

(سورہ المجادلہ ۲۲)

قادیانی خدا اور رسول کے دشمن ہیں۔ ان زندیقوں کا اصل شرعی حکم تو اوپر معلوم ہوچکا

صفحہ ۴۴

محاسبہ قادیانیت ج ۵

ہندوستان کے مسلمان بحالت موجودہ اس پر عمل نہیں کر سکتے لیکن اتنا تو کر سکتے ہیں کہ ان کا مکمل بائیکاٹ کریں اور کسی قسم کا میل جول نہ رکھیں

مسلمان عورت سے قادیانی مرد کا نکاح حرام ہے

قادیانیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ، اسلئے قادیانی مرد کے ساتھ کسی مسلمان عورت کا نکاح ایسے ہی حرام ہے جیسے کسی اور غیر مسلم سے حرام ہے ، اسکی اولاد ولدالحرام کہلائے گی۔ اور اگر پہلے سے میاں بیوی مسلمان تھے اور (العیاذ باللہ) شوہر قادیانی ہو گیا تو نکاح فسخ ہو جائے گا، اسکی مسلمان بیوی کو جائز نہیں ہوگا کہ اسکے گھر رہے اور میاں بیوی کا تعلق اس سے رکھے۔

قادیانی عورت سے مسلمان مرد کا نکاح حرام ہے

علاوہ کتابیہ کے کسی غیر مسلم عورت سے مسلمان کا رشتہ ازدواج قائم کرنا حرام ہے لہٰذا کوئی مسلمان قادیانی عورت سے نکاح کرتا ہے تو یہ نکاح باطل ہے۔

دیدہ و دانستہ قادیانی عورت سے نکاح کرنیوالے مسلمان

پر اپنے ایمان کی تجدید لازم ہے

اگر کوئی شخص یہ جانتے ہوئے کہ مرزا غلام احمد کے عقائد کفریہ ہیں۔ اور قادیانی مرتدوں و زندیقوں کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا۔ کسی قادیانی عورت کو مسلمان سمجھکر اس سے شادی کرتا ہے تو وہ ایمان سے خارج اور کافر قرار پائے گا۔ اور اس پر لازم ہوگا کہ اپنے ایمان کی تجدید کرے۔ کیوں کہ عقائد کفریہ کو اسلام سمجھنے سے کفر کا حکم لاگو ہوتا ہے اور اگر ناواقفیت میں مسلمان نے کسی قادیانی عورت سے شادی کر لی ہے تو مسئلہ معلوم ہو جانے کے بعد شوہر پر لازم ہے کہ اس قادیانی عورت کو مسلمان کرے ، بصورت دیگر اس سے فوراً علیحدگی

صفحہ ۳۵

محاضرہ رد قادیانیت ۳۵ جزو ۵

اختیار کرلے اور اپنے اس فعل پر توبہ کرے۔

قادیانیوں کو مسلمان سمجھ کر انکی شادی میں شرکت کا حکم

جو مسلمان یہ جانتے ہوئے کہ قادیانیوں کے عقائد کفریہ ہیں ان کو مسلمان سمجھ کر ان کی شادی میں شرکت کریں گے وہ ایمان سے خارج ہو جائیں گے ان پر تجدید ایمان کے بعد تجدید نکاح بھی لازم ہوگا۔ ہاں اگر یہ مسئلہ معلوم نہ رہا ہو کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کا آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا۔ تو تجدید ایمان لازم نہیں البتہ گنہگار ہونگے انکو توبہ کرنی چاہیئے۔

قادیانی ذبیحہ حرام ہے

قادیانیوں کے ارتداد و زندقہ کی وجہ سے ان کا ذبیحہ مسلمان کیلئے حرام ہے ان کی تیسری پشت کی اولاد بھی خالص زندیق ہی رہتی ہے اس لئے ان کا ذبیحہ بھی ناجائز ہے اور اہل کتاب کا حکم قادیانیوں پر ہرگز جاری نہ ہوگا۔

کسی قادیانی میت کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں

قادیانیوں کے ملحدانہ عقائد معلوم ہو جانے کے بعد انکے کافر و غیر مسلم ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا، اور امت کے تمام فقہاء اسپر متفق ہیں کہ جنازہ کے جائز ہونے کیلئے میت کا مسلمان ہونا شرط ہے۔ کسی غیر مسلم کا جنازہ بالاجماع ناجائز ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے

وَلَا تُصَلِّ عَلٰى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اور ان میں کوئی مرجائے تو اس (کے جنازہ) اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ ، اِنَّهُمْ پر کبھی نماز نہ پڑھ اور نہ (دفن کیلئے) اسکی كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَمَاتُوْا وَ قبر پر کھڑے ہوئیے، کیونکہ انہوں نے هُمْ فٰسِقُوْنَ (التوبہ ۸۴) اللہ اور اسکے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ حالت کفر ہی میں مرے ہیں۔

صفحہ ۳۶

محاضرہ رد قادیانیت ۳۶ جزء ۵

قادیانی میت کے عقائد معلوم ہونے کے باوجود

اس کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم

اگر مسلمانوں کو یہ معلوم رہا ہو کہ یہ میت مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتا تھا، اور اس کی وحی پر ایمان رکھتا تھا، اور عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا منکر تھا۔ پھر بھی وہ مسلمان سمجھکر اسکی نماز جنازہ پڑھیں تو ان سب پر لازم ہے کہ اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کریں کیونکہ ایک مرتد کے عقائد کو اسلام سمجھنے کی وجہ سے ان کا ایمان بھی ختم ہو گیا اور نکاح بھی نہیں رہا ۔ اور ان میں سے پہلے کسی مسلمان نے حج کر رکھا ہو تو وہ بھی باطل ہو جائے گا۔ دوبارہ حج کرنا لازم ہوگا۔

البتہ اگر مسلمانوں کو اسکے عقائد معلوم نہ رہے ہوں اور اس کے جنازہ میں انہوں نے شرکت کر لی ہو، تو معلوم ہو جانے کے بعد ان کو استغفار کرنا چاہئے کیوں کہ ایک قادیانی مرتد کا جنازہ پڑھنے کی وجہ سے انسے ایک ناجائز فعل کا ارتکاب ہوا ہے۔

قادیانی مردہ کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں

مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جانا کسی مسلمان کے اسلامی حقوق میں سے ایک حق ہے کسی غیر مسلم کا یہ حق نہیں جیسا کہ آیت مذکورہ بالا ولا تقم علی قبرہ سے مفہوم ہوتا ہے اسلئے اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے قبرستان ہمیشہ الگ الگ رہے ہیں ۔ اور یہ مسئلہ امت کے متفق علیہا اور مسلمہ مسائل میں ہے ، حتیٰ کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اپنی تحریروں میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ مثلاً مرزا نے لکھا ہے ۔

” حافظ صاحب یاد رکھیں کہ جو کچھ رسالہ قطع الوتین میں جھوٹے مدعیان نبوت کی نسبت بے سرو پا حکایتیں لکھی گئی ہیں ۔ وہ حکایتیں اس وقت تک ایک ذرہ قابلِ اعتبار نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ مفتری لوگوں نے اپنے اس دعوٰی پر اصرار کیا اور توبہ نہ کی ۔ اور یہ اصرار کیوں کر ثابت ہو سکتا ہے ۔ جب تک اسی زمانہ کی کسی تحریر کے ذریعہ یہ امر ثابت

صفحہ ۳۷

محاصرہ رد قادیانیت جزو ث

نہ ہو کہ وہ لوگ اس افتراء اور جھوٹے دعویٰ نبوّت پر مرے۔ اور ان کا کسی اسوقت کے مولوی نے جنازہ نہ پڑھا۔ اور نہ وہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کئے گئے۔

(تحفۃ الندوہ ص۵۲ خزائن ص۹۵/۱۹)

لہٰذا جس طرح پچھلے زمانہ کے مدعیان نبوّت کسی اسلامی سلوک کے مستحق نہیں تھے نہ انکی نماز جنازہ پڑھی گئی نہ مسلمانوں کے قبرستان میں انکو دفن کیا گیا۔ اسی طرح اس دور کا مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی اور اسکے ماننے والے بھی کسی اسلامی سلوک کے مستحق نہیں ہیں۔

بلکہ انکے مُردوں کے ساتھ مرتدوں و زندیقوں کا سا معاملہ کیا جائے گا۔ جیسا کہ "الاشباہ" میں ہے:

وَاِذَا مَاتَ اَوْ قُتِلَ عَلَی رِدَّتِہٖ لَمْ یُدْفَنْ فِیْ مَقَابِرِ الْمُسْلِمِیْنَ وَلَا اَھْلِ مِلَّۃٍ وَاِنَّمَا یُلْقٰی فِیْ حُفْرَۃٍ کَالْکَلْبِ

(الاشباہ، فن ثانی، کتاب السیر (۱۔ ۲۹۱)

اور جب مرتد مر جائے یا ارتداد کی حالت میں قتل کر دیا جائے تو اس کو نہ مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کیا جائے نہ کسی اور ملت کے قبرستان میں بلکہ اسے کتے کی طرح گڑھے میں ڈال دیا جائے۔

علامہ شامی لکھتے ہیں:

وَلَا یُغْسَلُ وَلَا یُکَفَّنُ وَلَا یُدْفَعُ اِلٰی مَنْ اِنْتَقَلَ اِلٰی دِیْنِھِمْ (بحر عن الفتح)

(ردالمحتار (۴ ۔ ۲۳۰) مطبوعہ کراچی)

نہ اسے غسل دیا جائے نہ کفن دیا جائے نہ اسے اُن لوگوں کے سپرد کیا جائے جن کا مذہب اس مرتد نے اختیار کیا ہے۔ ٭

مسلمانوں کے قبرستان سے قادیانیوں کی لاش اکھاڑنا واجب ہے

اگر کسی جگہ مسلمانوں کی لاعلمی میں قادیانیوں نے اپنا مردہ مسلمان قبرستان میں گاڑ دیا تو حتی الامکان اسکو اکھاڑنے کی حکمت عملی اختیار کرنا مسلمانوں پر واجب ہے

صفحہ ۳۸

محاسبہ رد قادیانیت ۳۸ جزء ث

اس جگہ کا غصب ہے جو ایک ناجائز تصرف ہے ، وقف شدہ زمین میں ناجائز تصرف کی اجازت دینے کا اختیار تو کسی کو بھی حاصل نہیں ۔ ہاں اس ناجائز تصرف کو ختم کرنے کی کوشش کرنا تمام مسلمانوں پر لازم ہے ۔ اگر اس ناجائز تصرف پر سب لوگ خاموشی اختیار کریں گے اور اس کے ازالہ کی جدوجہد نہیں کریں گے تو سب گنہگار ہوں گے جیسے کسی مسجد کیلئے کوئی غیر مسلم موقوفہ زمین پر مندر گرجا وغیرہ بنانے لگے تو اسکو حتی الامکان روکنا لازم ہے ۔

ہے اسکے عذاب سے مسلمان مردوں کو ایضاء ہوگی اسلئے اولاً تو قادیانی کافر مرتد کو وہاں دفن نہ ہونے دیا جائے اور اگر دفن کر دیا گیا ہو تو مسلمان مردوں کو ایضاء سے بچانے کیلئے قادیانی مردہ کو اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے اسکی لاش شریعت کی نظر میں کوئی حرمت نہیں رکھتی ہاں مسلمان مردوں کی حرمت ہے اور اسکا لحاظ رکھنا ضروری ہے ۔

و استغفار کریں جب کہ کسی کافر کیلئے دعاء و استغفار و ایصال ثواب جائز نہیں لہٰذا وہاں کسی غیر مسلم خصوصاً قادیانی مرتد کی قبر نہ رہنے دی جائے تاکہ زائرین دھوکہ سے غیر مسلم کی قبر پر دعاء وغیرہ نہ پڑھنے لگیں ۔

کوئی کافر تعمیر مسجد کا اہل نہیں ہے

بچہ بچہ جانتا ہے کہ مسجد اسلام کا شعار ہے ، جو مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے اور اسکی تعمیر عبادت کا درجہ رکھتی ہے ۔ لہٰذا کوئی کافر مسجد کی تعمیر کا اہل نہیں ہے اور اسکی تعمیر کردہ عمارت مسجد نہیں ہو سکتی ۔

باری تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔

صفحہ 39

محاضرہ رد قادیانیت ۳۹ جزو ۵

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مشرکین کو حق نہیں کہ وہ ... اللہ کے مَسَاجِدَ اللّٰهِ شَاهِدِيْنَ عَلٰى اَنْفُسِهِمْ مسجدوں کو تعمیر کریں درانحالیکہ وہ اپنی بِالْكُفْرِ ، اُولٰئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ذات پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں ان وَ فِي النَّارِ هُمْ خَالِدُوْنَ لوگوں کے عمل اکارت ہوچکے اور وہ (سورہ التوبہ ۱۷) دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔

اس کے بعد والی آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ تعمیر مسجد کا حق صرف مسلمانوں کو حاصل ہے۔ ارشاد ہے :

اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا تو اس شخص کا وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى کام ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر الزَّكٰوةَ وَ لَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ ، فَعَسٰى ایمان رکھتا ہو ، نماز ادا کرتا ہو ، زکوٰۃ دیتا اُولٰئِكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ ہو اور اسکے سوا کسی سے نہ ڈرے پس ایسے (التوبہ ۱۸) لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ ہوں گے۔

قادیانی منافقوں کی تعمیر کردہ

نام نہاد مسجدیں ”مسجد ضرار“ ہیں

اسلامی تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض غیر مسلموں نے اسلام کا لبادہ اوڑھکر اپنے کو مسلمان ظاہر کیا۔ اور مسلمانوں کو نقصان پہونچانے کیلئے مسجد کے نام سے ایک عمارت بنائی ، جسکے متعلق آیات ذیل نازل ہوئیں ، اور منافقوں کے ناپاک ارادوں کی قلعی کھولی گئی ۔

وَ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا اور جن لوگوں نے مسجد بنائی کہ اسلام اور وَ كُفْرًا وَّ تَفْرِيْقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ مسلمانوں کو نقصان پہونچائیں اور کفر کریں اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ اور اہل ایمان کے درمیان تفرقہ ڈالیں مِنْ قَبْلُ وَ لَيَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَا اِلَّا اور اللہ و رسول کے دشمن کیلئے ایک کمیں گاہ

صفحہ ۴۰

محاضرہ رد قادیانیت جزء ۵

الْحُسْنٰى، وَاللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا۔ اِلٰى قَوْلِهِ تَعَالٰى لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِيْ بَنَوْا رِيْبَةً فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّا اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ (سورہ التوبۃ آیت ۱۰۷ و ۱۱۰)

بنائیں اور یہ لوگ زور کی قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے بھلائی کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہیں کیا اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ قطعاً جھوٹے ہیں۔ آپ اسمیں کبھی قیام نہ کیجئے۔ ان کی یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ انکے دل کا کانٹا بنی رہے گی مگر یہ کہ ان کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ اور اللہ علیم و حکیم ہے۔

قادیانی منافقین بھی آج وہی کردار ادا کر رہے ہیں ان کی طرف سے آل انڈیا تعمیر مسجد کے نام سے فنڈ کھولا گیا ہے اور ہر قادیانی جماعت کو تاکید کیجارہی ہے کہ وہ اپنی نام نہاد (مسجد) بنائے چاہے چھپر کی ہو۔ مسلمان آگاہ رہیں کہ یہ مسجدیں نہیں ہیں بلکہ انکے ذریعہ قادیانی زندیقوں و منافقوں کے خفیہ ناپاک منصوبے وہی ہیں جو منافقوں کے تھے۔ اور مذکورہ بالا آیت کریمہ سے واضح ہیں ، یعنی

تمام مفسرین و اہل سیر نے لکھا ہے کہ منافقوں کی تعمیر کردہ مسجد نما عمارت "مسجد ضرار" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے منہدم کر دی گئی اور اس کو جلا دیا گیا۔