قادیانی افسانے · محمد طاہر رزاق
Qadyani Afsanay · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

قادیانی افسانے

مُحمّد طاہر رزاق

PDF 2

قادیانی افسانے

مُحَمَّد طَاہِر رَزَّاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوة

حضوری باغ روڈ ملتان ☎ 40978

PDF 3

آئینہ مضامین

PDF 4

قادیانی افسانے

محمد طاہر رزاق

صفحہ 5

انتساب

چمنستان دل کے دو مہکتے پھولوں علی طاہر اور محمد عثمان کے نام

رنگ خوشبو صبا چاند تارے کرن پھول شبنم آبجو چاندنی
اُن کے حُسن کی تکمیل میں حُسن فطرت کی ہر چیز کام آگئی
صفحہ 6

قصہ درد

تاریخ عالم اٹھا کر دیکھئے۔ کفر نے اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے ہمیشہ ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔ وہ کون سا جال ہے، جو اسلام کو مقید کرنے کے لیے استعمال نہ کیا گیا۔ وہ کون سی خطرناک سازش ہے، جو اسلام کی گردن کاٹنے کے لیے تیار نہ کی گئی۔ وہ کون سا ننگ انسانیت حربہ ہے، جو اسلام کے تار و پود بکھیرنے کے لیے استعمال نہ کیا گیا۔۔۔ وہ کون سی درندگی ہے جس کی مشق سینہ اسلام پر نہ کی گئی۔۔۔۔ وہ کون سے ہولناک مظالم ہیں، جو اسلام کے نام لیواؤں پر روا نہ رکھے گئے۔۔۔۔ لیکن جب ہندوستان پر فرنگی استعمار قابض ہو چکا تھا۔۔۔ مسلمان غلامی کی آہنی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔۔۔ کفر نے اسلام پر ایک نیا، نرالا اور اچھوتا حملہ کیا۔۔۔ ایک خوفناک سازش تیار ہوئی۔۔۔۔ ایک بھیانک منصوبہ بنا۔۔۔۔ جس کے تحت اسلام کو اسلام کے نام پر لوٹنے کا پروگرام بنا۔۔۔۔ نبی اکرم جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کے نام پر لوٹا جائے۔۔۔ قرآن کو قرآن کے نام پر لوٹا جائے۔۔۔ احادیث کو احادیث کے نام پر لوٹا جائے۔۔۔۔ اہل بیتؓ کو اہل بیت کے نام پر لوٹا جائے۔۔۔ صحابہؓ کو صحابہ کے نام پر لوٹا جائے۔۔۔ حج کو حج کے نام پر لوٹا جائے۔۔۔ مکہ اور مدینہ کو مکہ اور مدینہ کے نام پر لوٹا جائے۔۔۔۔ اسی طرح دیگر اسلامی شعائر و اصطلاحات کو انہیں کے نام پر غارت کیا جائے۔۔۔۔ کفر نے اپنے اس خاص ایکشن کو ”قادیانی ایکشن“ کا نام دیا اور اس کی قیادت ایک ننگ دین، ننگ وطن، ننگ انسانیت اور تاریخ انسانیت کے بدترین شخص مرزا قادیانی کو سونپ دی گئی۔۔۔۔ کفر نے اپنا کفریہ لباس اتارا۔۔۔۔ کفریہ ہتھیار توڑے۔۔۔۔ چہرے سے کفریہ نشان مٹائے۔۔۔۔ کفریہ عادات و اطوار ترک کیے۔۔۔ کفریہ چال اور کفریہ رنگ ڈھنگ ختم کیا۔۔۔۔ کفر نے اجلا اسلامی لباس پہنا۔۔۔ چہرے پر داڑھی سجائی۔۔۔۔ ماتھے پر محراب ابھارا۔۔۔۔ سر پہ عمامہ رکھا۔۔۔۔ ہاتھ میں تسبیح پکڑی۔۔۔۔ لبوں پہ

صفحہ 7

قرآن کی آیات سجائیں ---- زبان پر اسلامی وعظ جاری کیا --- اور بغل میں دو دھاری چھری رکھی --- اور مسلمانوں میں گھس گیا اور ایسا گھل مل گیا کہ پہچان مشکل ہو گئی ---- پھر کفر نے اسلام کی تبلیغ شروع کر دی --- کفر مختلف جگہوں پر اسلامی جلسے اور دینی اجتماع کرنے لگا --- عیسائیوں اور ہندوؤں سے مناظرے ہونے لگے ---- اسلامی کتابیں چھپنے لگیں ---- اسلامی لٹریچر پورے ہندوستان میں تقسیم ہونے لگا --- اور اس کے ساتھ ہی سادہ لوح مسلمان مرزا قادیانی کو ایک اسلامی راہنما سمجھ کر اس کے گرد اکٹھے ہونے لگے ---- یعنی مرزا قادیانی کی دکان نبوت پر پیشاب کی بوتل آب زم زم کا لیبل لگ کے بکنے لگی ---- کتے کا گوشت بکرے کے گوشت کے نام پر فروخت ہونے لگا --- زہر تریاق کے نام پر بکنے لگا۔۔ شیطنت رحمانیت کے نام پر فروخت ہونے لگی اور جہنم، جنت کے نام پر بکنے لگی۔

لٹیروں نے جنگل میں شمع جلا دی
مسافر یہ سمجھا کہ منزل یہی ہے

O

اللہ رے دیکھئے اسیری بلبل کا اہتمام
صیاد عطر مل کے چلا ہے گلاب کا

O

حسین سانپ کے نقش و نگار خوب سہی
نگاہ زہر پہ رکھ خوش نما بدن پہ نہ جا

O

غدار نے بھی دھار لیا روپ مسلماں
تسبیح کے دانوں میں چھپی تیغ ستم ہے

O

صفحہ 8
وہ اک دھبہ ہیں علم و آگہی کے نام پر
تیرگی پھیلا رہے ہیں روشنی کے نام پر

ہائے کتنے مسلمانوں نے مرزا قادیانی کو نبی اور مسیح موعود مان لیا۔۔۔۔

ہائے کتنے مسلمانوں نے اس کے بے ہودہ جملوں کو وحی تسلیم کر لیا۔۔۔۔

ہائے کتنے مسلمانوں نے اس کے گندے خاندان کو اہل بیت قبول کر لیا۔۔۔۔

ہائے کتنے مسلمانوں نے اس کے بے ضمیر و بے ایمان ساتھیوں کو صحابہ مان لیا۔۔۔۔

ہائے کتنے مسلمانوں نے قادیان کو مکہ و مدینہ تسلیم کر لیا۔۔۔۔

انگریزی نبی مرزا قادیانی ایک ماہر شکاری کی طرح مسلمانوں کو پکڑتا رہا اور اپنی دو دھاری چھری سے ان کے ایمان کی رگ کاٹتا رہا اور انہیں اپنے قفس شیطانی میں گرفتار کرتا رہا۔۔۔۔ ان کے مال و اسباب لوٹتا رہا۔۔۔۔ ان کی عزتوں سے کھیلتا رہا۔۔۔۔ فرنگی اپنے شیطانی روبوٹ مرزا قادیانی کے ”کارناموں“ کو دیکھ کر خوشی سے شیطانی قہقہے لگاتا۔۔۔۔ اور جھوم جھوم کر جام پہ جام لنڈھاتا رہا۔۔۔۔۔

مسلمانو! مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو تقریباً ایک صدی بیت چلی لیکن قادیانیوں کے دجل و فریب کا دھندا آج بھی پوری شدت سے جاری ہے۔۔۔۔ قادیانی ہمارے معاشرے میں جگہ جگہ گھات لگائے اور جال بچھائے بیٹھے ہیں۔۔۔۔ اور سادہ لوح مسلمانوں کے ایمانوں کا شکار کر رہے ہیں۔ رسول رحمتؐ کے امتی کہلانے والو! قادیانیوں کی یہ سازشیں اللہ کے خلاف ہیں۔۔۔۔ اللہ کے نبی جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہیں۔۔۔۔ اللہ کی کتاب قرآن پاک کے خلاف ہیں۔۔۔۔ اللہ کے دین اسلام کے خلاف ہیں۔۔۔۔۔

اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارا اللہ سے ناطہ ہے۔۔۔۔ رسول اللہؐ سے تعلق ہے۔۔۔ کتاب اللہ سے واسطہ ہے تو بتائیے ہم نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسولؐ معظم اور اس کی کتاب مقدس کے دشمنوں، قادیانیوں کے خلاف کیا کام کیا؟ کیا جدوجہد کی؟ کیا آواز اٹھائی؟

صفحہ 9

اگر ہم نے اس سلسلہ میں کچھ نہیں کیا۔۔۔۔ تو ہم اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں۔۔۔۔ اور آئیے ہم اپنے گریبانوں میں منہ گھسیڑ کر سوچیں کہ ہم کون ہیں؟ مسلمان یا۔۔۔۔۔۔؟

مسلمانو! اگر ہماری انگلی پر کوئی کٹ لگ جائے اور تھوڑا سا خون بہہ نکلے تو پورے جسم میں ایک ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے۔ دماغ کے افق پر پریشانی کے بادل منڈلانے لگتے ہیں، چہرے پر تشویش کی سلوٹیں چڑھ جاتی ہیں۔ آنکھوں کے سامنے غم کے بگولے رقص کرنے لگتے ہیں، دل مسوس کے رہ جاتا ہے، پاؤں فوراً کسی اچھے ڈاکٹر کی طرف بھاگتے ہیں۔ زبان بے تکان بولتے ہوئے ڈاکٹر کو سارا قصہ غم سناتی ہے۔ اکھڑا ہوا سانس اور چہرے کے اتار چڑھاؤ ڈاکٹر کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی بھرپور کوششیں کرتے ہیں۔ ڈاکٹر فوراً مرہم پٹی کرتا ہے، ٹیکہ لگاتا ہے، دوائی دیتا ہے اور پھر کندھوں پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے ہوئے تسلی و تشفی دیتا ہے۔ تب کہیں جا کر جان میں جان آتی ہے۔

لیکن دوستو! آؤ ایک اور تصویر بھی دیکھتے ہیں۔

مرزا قادیانی نے ایک گھناؤنی سازش کے تحت اسلام کے سر میں ارتداد کا کلہاڑا دے مارا ہے، جس سے چہرہ اسلام اور جسم اسلام لہو لہو ہے۔

چہرہ اسلام کو خون میں تر بہ تر دیکھ کر کبھی ہمارے دل پر چوٹ لگی؟ کبھی ہمارے جگر میں چھبن ہوئی؟ کبھی ہماری آنکھیں نمناک ہوئیں؟ کبھی ہمارا سر چکرایا؟ کبھی ہمارا دماغ مجروح ہوا؟ کبھی ہمارے اعصاب مضطرب ہوئے؟ کبھی ہمارے ہاتھ کلہاڑے کی طرف بڑھے؟ اتنے بڑے سانحے پر کبھی ہماری زبان نے احتجاج کیا؟

آؤ سوچیں۔۔۔ آؤ فکر کریں۔۔۔ آؤ خود کو پرکھیں۔۔۔ آؤ خود کو کھنگالیں۔۔۔ ہم کتنے ظالم ہیں؟ ہم کتنے خود پرست ہیں؟۔۔۔۔ اپنی انگلی کے چھوٹے سے کٹ پر اتنا بڑا طوفان۔۔۔۔ اور اسلام کے لہولہان چہرے کو دیکھ کر سکوت مرگ۔۔۔۔ ہائے اسلام سے یہ بے رخی۔۔۔۔ یہ بے وفائی۔۔۔ یہ بے اعتنائی۔۔۔۔ ہمیں کہاں لے جائے گی؟۔۔۔۔ کہاں لے جا رہی ہے؟۔۔۔۔۔

پوچھ رہی ہے یہ جرس، اہل جنوں کو کیا ہوا
دیکھ رہی ہے رہگزر، اہل وفا کدھر گئے
صفحہ 10

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت ناشر محمد طاہر رزاق بی۔ ایس۔ سی‘ ایم۔ اے (تاریخ) ۷ ستمبر ۱۹۹۵ء

نوٹ : اس کتاب کی تکمیل تک میرے شفیق دوست جناب محمد فیاض اختر ملک‘ جناب محمد متین خالد‘ جناب ڈاکٹر محمد صدیق شاہ بخاری اور سید علمدار حسین شاہ میرے دست و بازو بنے رہے۔ اس کتاب کی طباعت و اشاعت میں ان کا حصہ کسی طور بھی مجھ سے کم نہیں۔ میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنے ان دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اللہ پاک کے حضور دست بدعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں ان کے کار خیر کا اجر عظیم عطا فرمائے اور ان کے ایمان و زندگی میں برکت مرحمت فرمائے۔ (آمین)

محمد طاہر رزاق

صفحہ 11

افسانہ ہائے قادیانیت کی حقیقت

قادیانیت پر لکھنے کے لیے ذہن کو اتنا پست کرنا پڑتا ہے کہ جیسے آدمی کو کسی مزبلہ کی کھود کرنی پڑے مگر محمد طاہر رزاق صاحب نے اس موضوع پر اتنی بلند تر تحریر دکھائی ہے کہ میرے اندر بھی ہمت پیدا ہو گئی۔

انگریزی دور غلامی میں برصغیر کی سرزمین مخالف اسلام فتنوں کی روئیدگی کے لیے نہایت درجہ زرخیز ہو گئی۔ اس کا سب سے شاندار کرشمہ یہ تھا کہ ایک بیج یہاں پھوٹا، وہ مبلغ بنا، وہ مناظر بنا اور ہندوؤں اور مشنری پادریوں کے مناظروں کے اکھاڑے جمانے لگا۔ پھر وہ ایک منزل اور آگے بڑھا اور مجدد بن گیا۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال درجہ پیروی کی بنیاد پر اعزازی یا مجازی نبی بنا۔ پھر ظلی اور بروزی نبی کہلایا۔ پھر الہام اور وحی کا مورد ہونے کا دعویٰ کر کے مستقل اور مکمل نبی بنا، جس پر ایمان نہ لانے والے کافر قرار پائے۔ پھر تمام اصطلاحات نبوت کو اپنے لواحقین پر برت کر دین کو مذاق بنا دیا۔ مثلاً ازواج کے لیے ام المومنین کے لقب مقدس کا استعمال، ساتھیوں کو صحابی (اور ان کے لیے رضی اللہ عنہ) کا استعمال، احادیث نبوت کے طریق پر اپنے ”فرمودات عالیہ“ کو سلسلہ روایت کے ساتھ بیان کرنا جس کا مذاق اڑاتے ہوئے ہمارے بزرگ مثال دیا کرتے تھے کہ ”بیان کیا نورے نے، اور اس نے روایت کی نجو مراثن سے کہ مرزا صاحب نے فرمایا کہ نسیان اتنا بڑھ گیا ہے کہ میں کوٹ کی ایک جیب میں استنجے کے ڈھیلے رکھتا ہوں اور دوسری جیب میں گڑ کے ٹکڑے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ میں گڑ کھانے کا ارادہ کرتا ہوں اور استنجے کے ڈھیلے منہ میں ڈال لیتا ہوں اور دوسری طرف یوں بھی ہوتا ہے کہ استنجے کا ڈھیلا نکالنے کے بجائے گڑ کا ڈھیلا نکال لیتا ہوں“۔

اس آفت دوراں کو پہلے تو لوگوں نے جذباتی عقیدت سے لیا کہ مخالفین اسلام کا مقابلہ اشتہاروں کتابوں اور مباہلوں اور مناظروں سے کرتا ہے۔ خوب چندے جمع ہوتے اور قادیانی

صفحہ 12

مذہب ضخیم و عظیم ہوتا جاتا۔ مگر بات جب مجدد کو چلی تو بہت سے لوگ کنارہ کر گئے۔ پھر جب نبوت کا جھنڈا بلند ہوا تو زیادہ تعداد بے وقوفوں کی رہ گئی۔ میری مراد بے وقوفوں سے کوئی بہت برے معنوں میں نہیں ہے بلکہ میں اس کا قائل ہوں کہ بہت سے امیر کبیر اور پڑھے لکھے بھلے مانس بھی کسی نہ کسی صاحب فتنہ کے پرستاروں میں شامل ہو جاتے ہیں اور ایسے بے وقوفوں کو بہت عام سے معنوں میں احمق یا چغد نہیں کہا جاسکتا بلکہ بعض بڑے بڑے دانش ور اور عہدے دار اور دولت مند لوگ ان میں شامل ہوتے ہیں۔

تو ہوتے ہوئے آخر کار معزز اور معقول قسم کے ایسے لوگ عوام کالانعام کے ساتھ مل کر ”حضرت صاحب“ کے گرد جمع رہ گئے جن کی پر اسرار رگ حماقت کو کم ہی لوگ جان سکتے ہیں کہ وہ دماغ کے کس حصے میں واقع ہے۔

میرے پاس اگر وقت ہوتا تو دو ایسے قصے ضرور سناتا جن میں ایک تو حکایت لذیذ بھی ہے۔۔۔ یعنی مولانا ثناء اللہ امر تسری مرحوم کے ساتھ خاص دعووں اور پیش گوئیوں کو معیار فیصلہ قرار دے کر مناظرہ میں شکست کھانے کا قصہ اور دوسرا محمدی بیگم محترمہ کا مردا فگن فیصلہ ہی نہیں، جعلی نبوت کے ساغر گلگوں کو کرچی کرچی کرنے کا مسئلہ ۔۔۔ مرزا صاحب نے وحی سنائی کہ ہمارا نکاح آسمانوں پر محمدی بیگم سے ہو چکا ہے۔ اب وہ اپنے خاوند پر حرام ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ فوراً ہماری بارگاہ نبوت میں بہ حیثیت ایک غیر ناشزہ بیوی کے حاضر ہو۔ ورنہ چند روز میں اس کا نام نہاد خاوند مر جائے گا اور تمہیں میرے پاس آنا پڑے گا۔ اس بارے میں وحی و الہام کی تاکیدوں کا بڑا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ اس کے خاوند کو انتباہ دیے گئے۔ اس کی برادری میں طوفان مچا دیا گیا۔ اسی سلسلے میں ہمارے سامنے ایک راوی نے (الا بلابر گردن راوی) یہ بھی بطور حدیث مرزائے قادیان بیان کیا کہ حضرت گل شیر جولاہے نے مولا بخش ٹھیٹہار سے روایت کی اور ٹھیٹہار نے امام دین پٹواری سے روایت کی کہ ”مرزا صاحب دھوبی کے گھر سے محمدی بیگم کے میلے کپڑے (جو دھلائی کے لیے آتے تھے) منگوا کر ان کو سونگھا کرتے تھے“۔

تحدی یہ تھی کہ ۔۔۔ محمدی بیگم کو حتمی طور پر میرے گھر آنا ہو گا اور اس کے لیے مجھے خدائی الہامات اس کثرت سے آ رہے ہیں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوا تو میری ساری بات جھوٹی، میرا الہام جھوٹا، میری نبوت جھوٹی۔ یہ میرا معیار صداقت ہے۔

صفحہ 13

محمدی بیگم بھی ایسی چٹان تھی کہ ان تمام دعوائے مرزا اور الہامات اور پیش گوئیوں اور خاوند کے مرجانے کی وعیدوں اور قادیانی نبوت کے کرشموں سے ذرا بھی متاثر نہ ہوئی اور پوری زندگی اپنے گھر میں امن و سکون سے گزار دی۔

جب دعویٰ نبوت قادیاں کا فضیحت حد سے بڑھا تو پھر مرزا صاحب اور ان کے حواریوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ اس الہامی پیشین گوئی میں سریت ہے۔ یعنی اگر مرزا صاحب کا نکاح محمدی بیگم سے نہ ہوا تو مرزا صاحب کے کسی لڑکے یا اس کے لڑکے یا اس کے لڑکے سے محمدی بیگم کی لڑکی یا اس کی لڑکی یا اس کی لڑکی سے ضرور ہوگا۔ اور ایک دن آئے گا کہ مرزا صاحب کی پیش گوئی پوری ہو جائے گی۔

اور جنت الحمقا کے عظیم دانش ور بالکل مطمئن ہو گئے کہ مرزا صاحب نے حق فرمایا اور من جانب اللہ فرمایا۔۔۔ کسی کی پیہم آنکھ نہ کھلی۔

صرف یہی ایک واقعہ مرزا صاحب کے سارے طلسم کو بکھیر کر رکھ دیتا ہے۔ آج بھی ان سے اس مسئلے پر جواب طلب کیجئے مگر ان کے لٹریچر کو بنائے دلیل بنا کر۔

باتیں لمبی ہوتی جارہی ہیں۔ انگریزوں نے یہ دیکھا کہ یہ تو بڑا صاحب کمال آدمی ہے جبکہ اس کے پیرو بھی لکڑی کے کندوں کی طرح نہایت محکم طور پر ایک ہی جگہ پڑے رہتے ہیں چاہے بادسموم چلے یا طوفان باراں آئے۔ اس سے کام لینا چاہیے۔

مناظروں وغیرہ کے سلسلے میں مقدمے وغیرہ بھی بنتے تھے اور بعض امور کی اجازتیں لینے کے لیے ڈپٹی کمشنر یا کسی اور عدالت افسر کے سامنے آئے دن پیش ہونا پڑتا۔ ایسے ہی موقعوں پر ”اندرون خانہ“ باتیں طے ہوگئیں۔ انگریزوں نے ایک ڈیوٹی تو مرزا صاحب کے سپرد یہ کی کہ لوگوں کو جہاد کے تصور سے ہٹائیں کہ یہ قلم کا زمانہ ہے۔ اب تلوار کے بجائے دلائل اور بحثوں سے معاملات چکائے جاسکتے ہیں وہی سبق اب فنڈا منٹل ازم اور سیاسی اور حملہ آور اسلام کے خلاف مسلمانوں کے لیڈروں کو پڑھایا جاتا ہے۔ دوسرا کام یہ سونپا کہ اطیعوا الله و اطیعوا الرسول واولی الامر منکم کی آیت کے آخری حصے کا مطلب یہ سمجھایا جائے کہ جو لوگ بھی تمہارے حاکم بن جائیں ان کی اطاعت لازمی ہے۔ تیسری خدمت یہ کہ لوگوں کو سیاسی جھگڑوں سے دور ہٹاؤ اور وعظوں‘ مناظروں‘ بحثوں وغیرہ میں مصروف رکھو۔

صفحہ 14

چوتھا فریضہ یہ کہ مختلف مسلمان گروہوں اور اسلامی لیڈروں وغیرہ کی حرکات اور سرگرمیوں کی رپورٹیں ہمیں پہنچاتے رہو۔

یوں مرزا صاحب کو طاغوتی قوت کے عرش تک معراج حاصل ہو گئی۔

ان خدمات کے ساتھ اس شخص اور اس کے مریدوں کو آج دنیا کی مسلم دشمن طاقتیں ملت اسلامیہ (خصوصاً پاکستان کے خلاف) جاسوسی اور سالوسی طریقوں سے تباہ کن جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔

اس فتنہ کے خلاف بہت کچھ لکھا اور بولا گیا۔ اضطرابات پنجاب کے سلسلے میں تحقیقاتی عدالت کی کارروائی کا ہزاروں صفحوں کا ریکارڈ بھی وجود میں آیا۔ مسلمانان پاکستان اور بیشتر اسلامی ممالک نے ان کو غیر مسلم بھی قرار دے دیا۔ مگر ان کی فتنہ پردازیاں طرح طرح سے جاری ہیں۔

مگر یہاں کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلسل مسیلمہ کے جانشینوں کے تعاقب میں ہے اور بہت سے اور ادارے اور اشخاص بھی کام کر رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں محمد طاہر رزاق جو کام کر رہے ہیں، حیرت ناک ہے۔ اس وقت ان کی ایک کتاب ”قادیانیت“ دوسری ”قادیانیت شکن“ جو ان کے پمفلٹوں کے مجموعے ہیں اور تیسری کتاب ”نغمات ختم نبوت“ جس میں اسلامی و ملی شعراء کا کلام قادیانیت کے متعلق پیش کیا گیا ہے۔ ان کتابوں کے عنوانات اور فقرے بہت تنوع رکھتے ہیں اور شوخی و خوش مذاقی بھی! اوراق تحریر میں اتنی گنجائش نہیں کہ میں ان کے لطیف و دلکش جملے نقل کر سکوں۔ کتابوں کی کتابت، طباعت، کاغذ، جلد گرد پوش اچھے معیار کے ہیں۔ تبلیغی مقصد کے لیے قیمتیں بھی کم۔۔۔۔ رکھی گئی ہیں۔

محمد طاہر رزاق کی دماغی اپج کے کیا کہنے ہیں کہ انہوں نے قادیانیت کو (جو خود ایک دلکش افسانہ اور افسانوں کا مجموعہ ہے) افسانوں کی سکرین پر بھی پیش کر کے حیرت زدہ کر دیا ہے۔ سبق آموز کہانیاں (بلکہ واقعات) اس طلسم کا پردہ فاش کرتے ہیں۔

میرے سامنے اس وقت حسب ذیل افسانوں کے پمفلٹ ہیں (۱) ”اور چور پکڑا گیا“ (۲) ”جھوٹا“ (۳) ”جہنم سے فرار“ (۴) ”تفسیر عثمانی“ (۵) ”وفا“ (۶) ”مردود کہیں کا“ (۷) ”جال“

صفحہ 15

(۸)”۵ ہزار“ (۹)”نوحہ“ (۱۰)”ایسا بھی ہوتا ہے“ (۱۱)”اور سنچری مکمل ہو گئی“ (۱۲)”تیری تصویر دیکھ کر“۔

پمفلٹوں کے سرورقوں کے یک رنگ ڈیزائن فن کا اچھا نمونہ ہیں۔ افسانوں کی تکنیک مناسب ہے۔ قصہ، آغاز، عروج اور نتیجہ بہت عام فہم طریق سے سامنے لائے گئے ہیں۔ زبان اور مکالمے دلچسپ، کہیں عیاری، کہیں تعجب، کہیں انکشاف حقیقت کی کیفیات بڑی خوبی سے بیان کی گئی ہیں۔ ان افسانوں کو پڑھنے کے بعد قادیانیت کی حقیقت ایسی منکشف ہوتی ہے کہ پھر کوئی سادہ لوح اس کے جال میں قدم نہیں رکھ سکتا۔

اب میں مختصراً چند افسانوں کی روح نچوڑ کر سامنے رکھتا ہوں۔

تیری تصویر دیکھ کر

ایک نوجوان پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ایم۔اے کے درجے میں داخل ہوا۔ ساتھ والے کمرے میں ایک قادیانی طالب علم تھا۔ تعلقات بڑھائے، تبلیغ شروع کر دی۔ دعوتیں اور سیر سپاٹے ہوتے رہے۔ قادیانی نے اسے بہشتی مقبرے کا بھی نظارہ کرا دیا۔ حتیٰ کہ شکار پھندے میں پھنس گیا۔ گھر والوں کو اس کے ذہنی اور ایمانی سفر کا حال معلوم نہ تھا۔ وہ فارغ ہو کر گھر آیا تو اس کے کتابوں کے گٹھڑ میں سے قادیانی لٹریچر نکلا۔ اس کا والد کانپ گیا۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ قادیانی ہو گیا ہے۔ اس کا والد آگ بھبوکا ہو کر اسے گھر سے نکالنے کا حکم دینے والا تھا۔ اس کے بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں نے والد سے کہا کہ ذرا صبر کیجئے۔ ہم علماء سے بات کریں گے اور معاملہ حل ہو جائے گا۔

قادیانی، گھر سے شادی کا انتظام کرنے کے لیے لاہور میں آیا۔ پھرتے پھراتے فیروز سنز کی دکان پر پہنچا۔ کتابیں دیکھتے دیکھتے اس کی نظر ”محسن انسانیت“ (سیرت پاک حضورؐ) پر پڑی۔ وہ کتاب اس نے خریدی اور بغور مطالعہ شروع کیا۔ کتاب میں جب شخصیت کا وہ باب آیا جس میں حضورؐ پر نور کی صورت مبارک کا نقشہ پیش کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ سے اسے شوق ہوا کہ مرزا صاحب کی تصویر کو دیکھے۔ سامنے ہی قادیانی سنٹر تھا۔ وہاں سے جا کے وہ تصویر لایا مگر گھر آ کر غور سے دیکھنے کے بعد اسے پھینک دیا کہ یہ کسی نبی کی صورت نہیں ہو سکتی۔

صفحہ 16

سارے گھر میں خوشی کا رنگ پھیل گیا۔

اور چور پکڑا گیا

اسلم کمال نے اپنی بیٹی کا رشتہ ڈاکٹر مبشر قادیانی کے ساتھ کر دیا۔ شادی کے دن نکاح کے وقت جب مولوی صاحب نے کلمہ طیبہ کا ترجمہ دولہا کو پڑھایا تو اسے یہ ترجمہ بتایا کہ ”محمد اللہ کے آخری رسول ہیں“ لڑکا جھجکا۔ اس نے باپ کی طرف دیکھا۔ باپ نے کہا کہ اس موقع پر جو مولوی صاحب کہیں، وہی کہہ دو۔ اب مولوی صاحب کو شک ہوا۔ انہوں نے دولہا سے کہا ”یہ بھی کہو کہ حضرت محمدؐ اللہ کے آخری نبی و رسول ہیں اور ان کے بعد جو دعویٰ نبوت کرے، وہ کافر ہے“۔ دولہا پھر چونکا۔ گویا کسی نے سینے میں تیر مار دیا ہو۔ دولہا کے باپ نے کہا کہ ”ہم کسی کو کافر نہیں کہتے“۔

مولانا کی نظر لڑکے کے باپ کی انگوٹھی پر پڑی جس پر لکھا تھا الیس اللہ بکاف عبدہ اس آیت کے ساتھ انگوٹھی پہننا قادیانی شعار ہے۔

مولانا نے دائیں طرف بیٹھے اسلم کمال کو رازداری سے کان میں کہا کہ لڑکا اور اس کا خاندان قادیانی ہیں۔ تمام متعلقہ عزیزوں نے بھی بات سنی اور غور کر لیا۔ مولانا نے اسلم کمال اور ان کے عزیزوں کے پاس جا کر سب کو مبارک باد دی کہ اللہ پاک نے آپ پر خصوصی کرم کیا ہے اور آپ کی بچی کی عزت کو کافروں سے بچا لیا۔ بقیہ تفصیلات ہم نے چھوڑ دی ہیں۔

اور سنچری مکمل ہو گئی

اس کا ضروری ٹکڑا مختصراً یہ ہے:

اب مجاہدین نے جھیل ڈل کے ایک ہاؤس بوٹ کو گھیر لیا۔ اس میں کمانڈوز چھپے ہوئے تھے۔ کمانڈر خالد نے کمانڈوز کو ہتھیار پھینکنے کا حکم دیا۔ جواب نہ ملنے پر اندر داخل ہونے لگا تو ایک اسرائیلی کمانڈر نے اس پر کلاشنکوف کا فائر کھول دیا۔ وہ سخت زخمی ہو گیا مگر بچت ہو گئی۔ زخمی حالت ہی میں خالد نے کمانڈو پر جوابی فائر کر کے اسے ڈھیر کر دیا۔ اسرائیلی کمانڈوز ہاؤس بوٹ میں دبک کر ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ کمانڈر خالد نے دستی بموں سے تباہ کرنے کی

صفحہ 17

وارننگ دی۔ اس پر اسرائیلی کمانڈوز نے خود کو مجاہدین کے حوالے کر دیا۔ ان کو باندھ کر‘ آنکھوں پر پٹی باندھ کر انہیں خفیہ مقام تک لے جایا گیا۔ پوچھ گچھ شروع ہو گئی۔ ان کے جسموں کے رنگ کو سانولا دیکھ کر کمانڈر خالد نے پوچھا کہ تم لوگ صرف انگریزی‘ اردو اور پنجابی بول سکتے ہو۔ اس وجہ سے مجھے کچھ شک ہے۔ ہلکے تشدد کے بعد انہوں نے صحیح بات کہہ دی کہ وہ قادیانی ہیں اور ان کا تعلق پاکستان سے ہے۔ وہ اسرائیلی فوج میں باقاعدہ بھرتی ہیں‘ جہاں جملہ ایک ہزار قادیانی موجود ہیں جو جاسوسی اور فوجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں اعلیٰ عہدوں پر جو قادیانی بیٹھے ہیں‘ ہمارے ان کے ساتھ مسلسل رابطے ہیں۔

افسانے کا آغاز و اختتام ہم نے چھوڑ دیا ہے۔

ان دو تین مثالوں سے اندازہ کر لیں کہ ۱۲ افسانے کس طرح حقائق قادیانیت کو فاش کرتے ہیں۔ نیز اس سلسلے میں مزید معلومات مجلس تحفظ ختم نبوت‘ ننکانہ صاحب‘ ضلع شیخوپورہ سے حاصل کریں۔

نعیم صدیقی ۳۰-۷-۹۵

صفحہ 18

”اپنی ذات میں انجمن“

اب یہ بات صیغہ راز میں نہیں رہی بلکہ کھلا اشتہار بن گئی ہے کہ قادیانیت انگریز کا خود کاشتہ پودا اور شش جہات پھیلے ہوئے استعمار کا شیطانی منصوبہ ہے۔

قادیانی ذریت کی دیگر سازشوں اور ضرر رسانیوں سے قطع نظر اس کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے امت کی محبت‘ اطاعت اور وفاداری کا مرکز بدلنے کی نفرت انگیز کوشش کی ہے۔ چودہ صدیوں پر محیط امت مسلمہ کی تاریخ میں جس امر پر مطلق اور غیر مشروط اجماع رہا ہے‘ وہ ہے ذات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ناقابل تقسیم محبت‘ دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اطاعت اور غیر متزلزل عہد وفا۔

بہ مصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر باو نہ رسیدی تمام بو لہبی است

امت چودہ صدیوں میں عروج و زوال کے کئی مرحلوں سے گزری ہے۔ کبھی بالائے بام اور کبھی مبتلائے آلام رہی ہے۔ کامران و کامگار بھی رہی اور رہین ستم ہائے روزگار بھی! اس کی بلندیوں نے ثریا کو چھوا ہے اور اس کی پستیوں نے ثریٰ میں بسیرا کیا ہے۔ کبھی اس نے مہر و ماہ کو صید زبوں بنائے رکھا اور کبھی فلک نے اس کا جھنڈا سرنگوں کیے رکھا۔ یہ اتار چڑھاؤ اس امت کی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ زمانے کے مد و جزر نے اس کا تخت و کلاہ تو چھینا ہے لیکن مرکز نگاہ نہیں بدل سکا۔ اس کی سطوت و عظمت تو پامال ہوئی ہے لیکن جذبہ حب رسولؐ آمادۂ زوال نہیں ہوا۔ صلیبی جنگیں ہوں یا فتنہ تاتار‘ یہ امت ڈوب ڈوب کر ابھری ہے تو صرف ایک نام کے سہارے اور وہ ہے نام محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم!

قادیانیت نے امت کی چودہ صدیوں کی تاریخ مسخ کرنے کی سازش کی ہے۔ بناء بریں قادیانی بیک وقت ارتداد‘ بغاوت اور مجرمانہ سازش کے مرتکب ہوئے ہیں۔

علامہ اقبالؒ نے بڑی حکیمانہ بات کہی کہ نئی قادیانی امت کے اجراء اور اس فکر کی ترویج کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو گا کہ مستقبل میں اسلام کی صحیح تصویر کی شناخت مشکل ہو جائے

صفحہ 19

گی۔ کیونکہ جو غیر مسلم (بزعم خویش) ان کے توسط سے اسلام قبول کرے گا‘ وہ اس اسلام کو صحیح اور برحق سمجھنے پر مجبور ہوگا۔ اس لیے کہ اسے یہی کچھ بتلایا جائے گا۔ اس طرح اسلام کی دو تعبیریں بن جائیں گی اور امت کے اندر ایک مستقل فتنہ برپا رہے گا۔

ایک خط میں پنڈت نہرو نے حضرت علامہؒ کو لکھا تھا کہ ”آپ جیسا روشن خیال اور ماڈرن مفکر بھی قادیانیوں (احمدیوں) کو غیر مسلم سمجھتا ہے۔ مجھے اس پر بڑی حیرت ہے“۔ اس کے جواب میں حکیم الامتؒ نے بہت خوبصورت اور ایمان افروز بات فرمائی تھی۔ ”پنڈت جی! آپ کے نزدیک جو مذہب کا اور کسی مذہبی اوتار اور رشی کا تصور ہے‘ آپ اس کی روشنی میں سمجھ ہی نہیں سکتے کہ مسلمانوں کا اپنے دین اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تعلق اور کس درجے کی وابستگی ہے“۔

یہ امر واقعہ ہے کہ اگر مسئلہ قادیانیت کو اس رخ سے دیکھا جائے تو اس کی ہولناکی‘ سنگینی اور کراہت بہت بڑھ جاتی ہے اور اس کا ادراک جتنا جلد ہو جائے‘ امت کے حق میں اتنا ہی مفید ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جونہی اس فتنے نے سر اٹھایا‘ اس کی سرکوبی بھی اسی دن سے شروع ہو گئی تھی۔ لیکن اس مسئلے کی سنگینی جوں جوں بڑھتی گئی اور اس سازش کے ریشے جوں جوں بین الاقوامی سطح تک پھیلتے گئے‘ اسی حساب سے اس کے تدارک اور تعاقب کا دائرہ بھی وسیع تر ہوتا گیا۔ علماء اور مشائخ تو شروع دن سے اس کے درپے رہے لیکن اب سیاسی اور علمی وادبی حلقوں میں بھی اس ناپاک وجود سے گھن اور نفرت کا اظہار برملا کیا جارہا ہے۔

اسی سلسلے میں میرے محب مکرم جناب محمد طاہر رزاق کا نام بہت مبارک اور نمایاں ہے‘ جو تن تنہا اتنا کام کر رہے ہیں‘ جس قدر ایک ادارہ اور اکیڈمی کام کرتے ہیں۔ اسی لیے میں انہیں ”اپنی ذات میں انجمن“ کا درجہ دیتا ہوں۔

آج ہر شخص غم روزگار میں بال بال الجھا ہوا ہے۔ غم جاناں کی کسے فرصت ہے؟ لیکن میرے ممدوح طاہر رزاق صاحب غم دوراں کے ساتھ ساتھ غم جاناں سے بیک وقت رشتہ جوڑے ہوئے ہیں۔ ان کے جذبات‘ ان کے احساسات اور ان کے خیالات سن کر‘ دیکھ کر اور پڑھ کر لگتا ہے کہ وہ سر بکف مجاہد ہیں‘ جو ہر وقت ہتھیار بند رہتے ہیں اور ان کے چہرے سے

صفحہ 20

یہ عزم جھلکتا ہے کہ چاہے سارا شہر اس میدان سے بھاگ جائے، مگر وہ اس قادیانی لشکر سے تنہا لڑیں گے۔ نہ سیز فائر کریں گے، نہ ہتھیار ڈالیں گے اور نہ پیٹھ دے کر بھاگیں گے۔

انہوں نے ”نغمات ختم نبوت“ مرتب کیے اور کمال محنت اور محبت سے انہیں رنگ روپ دیا۔ ”قادیانیت شکن“ کتاب ترتیب دی، جس سے قادیانیت کے ماتھے پر موٹی موٹی شکنیں ابھر آئی ہیں۔

”تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے کتاب لکھی ہے۔ یہ کتاب پڑھ کر وہ گرز ہاتھوں میں لے کر قصر ختم نبوت کے دروازے پر چاق و چوبند کھڑے ہیں کہ کسی نے اس میں داخل ہونے کے لیے دہلیز کے پہلے زینے پر بھی قدم رکھا تو یہ اس کا سر پھوڑ دیں گے۔ بلکہ اس کی ہڈیاں توڑ دیں گے۔ اب ہمارے دوست ”قادیانی افسانے“ کے عنوان سے کتاب طبع کرا رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مختصر لفظوں اور تھوڑے سے وقت میں لوگوں کو قادیانی فتنے کے بارے میں معلومات مہیا کی جائیں تاکہ کوئی یہ عذر پیش نہ کر سکے کہ ہم قادیانی ذریت سے اس لیے آگاہ نہ ہو سکے کہ ہمارے پاس ضخیم کتابیں پڑھنے کا وقت نہ تھا۔

”جہنم سے فرار“، ”تیری تصویر دیکھ کر“ اور ”چور پکڑا گیا“ جیسے برجستہ اور چست عنوانات آپ کو اس کتاب میں ملیں گے اور ہلکے پھلکے انداز میں قادیانیوں کے بھاری اور گہرے جرائم کا سراغ ملے گا۔

جناب طاہر رزاق کی زبان میں شدت اور قلم میں حدت آپ کو ملے گی اور ہو سکتا ہے کہ دلی اور لکھنؤ کی زبان پڑھنے کے عادی وحشت محسوس کریں مگر میں کوئی وحشت محسوس نہیں کرتا۔ اس لیے کہ بات اگر ہو مرزا قادیانی کی تو لکھنؤ کی زبان کہاں سے آئے؟ گنگا و جمنا کا ذکر ہو تو بخاری و موطا کے صفحے کون پلٹے گا؟ شیطان رجیم کی حرکات نوٹ کرنے کے لیے کوثر و تسنیم کا لہجہ کہاں ملے گا؟ قلب امت میں خنجر گھونپنے والے سے معاملہ ظاہر ہے تیر و نشتر سے ہو گا، سو یہی کچھ ہمارے دوست نے کیا ہے۔ بلبل کا دل جلے گا تو چمن سے بوئے کباب ضرور آئے گی۔

صاحبزادہ خورشید احمد گیلانی ایڈیٹر ماہنامہ ”تسخیر“

صفحہ 21

محمد طاہر رزاق ----- نئے عہد کا افسانہ نگار

قادیانیت کا دام ہمرنگ زمیں تخویف و تحریص کے ہفت رنگ دھاگوں سے بنا ہوا ایک ایسا جال ہے جو نوکری‘ چھوکری اور فروٹ کی ٹوکری کے ذریعے نوجوانوں کو پھانستا اور انہیں مرزا غلام احمد علیہ ماعلیہ کی اس نام نہاد ظلی و بروزی نبوت کو ماننے پر مجبور کرتا ہے جس کا عملی اور فعلی طور پر مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے نکال کر مرزا غلام احمد کی چاکری میں دے دیا جائے اور یوں بالواسطہ طور پر انہیں امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کے مقابلے میں ایک ایسی نئی امت کا فرد بنایا جائے جو اس بسیطہ ارضی پر بسنے والے تمام مسلمانوں کو ایک نبی کے نہ ماننے کی وجہ سے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتی ہے اور ان کے ساتھ مصاہرت و مناکحت کے رشتوں کو جوڑنا اور ان کا جنازہ تک پڑھنا حرام سمجھتی ہے اور اس پر اس حد تک متشددانہ انداز میں عمل کرتی ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ چودھری ظفر اللہ خاں آنجہانی نے بابائے قوم حضرت قائد اعظم علیہ الرحمہ کا جنازہ تک پڑھنے سے صریح اعراض کرتے ہوئے جوگندر ناتھ منڈل کے ساتھ کھڑا رہنے کو ترجیح دی اور جب ان سے پوچھا گیا کہ جناب آپ نے یہ حرکت کیوں کی تو انہوں نے نہایت ڈھٹائی اور دیدہ دلیری سے کہا کہ مجھے ایک کافر حکومت کا مسلمان وزیر یا ایک مسلمان حکومت کا کافر وزیر سمجھ لیا جائے۔ یہ جواب ان جوابات کے مقابلے میں انتہائی ”نرم“ اور ”شائستہ“ ہے جو خود مرزا غلام احمد اور ان کی ”ذریت طیبہ“ نے ایسے سوالات پر دیے ہیں۔ دنیا میں کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنے مخالفین پر گن گن کر اور کئی کئی صفحات پر لکھ لکھ کر‘ سو سو اور ہزار ہزار لعنتیں بھیجی ہوں۔

مرزا محمود احمد اور ان کے ابلیسی لاؤ لشکر نے تو پھر اس سے بھی دو قدم آگے بڑھا کر مسلمانوں کو دہلی کی ٹکسالی زبان میں ایسی ایسی گالیاں دی ہیں کہ محکمہ نہر کے پٹواری میر ناصر

صفحہ 22

نواب (برعکس نہند نام زنگی کافور) اور ان کی صاحبزادی اللہ رکھی المعروف نصرت جہاں بیگم بھی انہیں سن کر چوکڑی بھول گئی ہوں گی۔ ”ہندوؤں کا خدا ناف سے دس انگل نیچے ہے“ کے بعد اگر امیر شریعت، خطیب جلیل اور لسان اسلام سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم کے متعلق مرزا محمود احمد کی یہ مکروہ ترین بدزبانی پڑھیں کہ اگر ان کے والد محترم کو علم ہوتا کہ ”ان کے گھر ایک ایسا بچہ پیدا ہوگا جو حضرت مسیح موعود کی مخالفت کرے گا تو وہ اپنا آلہ تناسل کاٹ دیتا تو کوئی حیرانی نہیں ہوتی“ اور اگر ان ساری ہفوات یا ملفوظات واہیات کو پڑھ کر اس کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے کسی کی زبان میں کسی قدر تلخی آجاتی ہے تو اس کا جواز موجود ہے۔ قادیانی فری میسنوں کے انداز میں کس طرح کام کرتے ہیں اور جس چابکدستی، عیاری اور مکاری کے ساتھ مسلمانوں ہی کو دامان مصطفیٰ کی ٹھنڈی چھاؤں سے نکال کر ربوہ کی چلچلاتی دھوپ اور بے آب و گیاہ خشک پہاڑیوں کے دامن میں واقع ”دوزخی مقبرہ“ میں لے جانے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے طاہر رزاق کے افسانے ”جال‘ مردود کہیں کا‘ نوحہ‘ تیری تصویر دیکھ کر‘ ۵ ہزار‘ جھوٹا‘ اور چور پکڑا گیا“ میں پڑھیں تو آپ کو خوب پتہ چل جائے گا کہ قادیانیوں کا طریقہ واردات کیا ہے۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کے دل میں محض اپنی رحمت خاص سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ”وفا“ کی چنگاری روشن فرمائی ہے تو پھر کوئی بھی زنجیر اسے باندھ کر نہیں رکھ سکتی اور وہ لامحالہ اس ”جہنم سے فرار“ اختیار کر کے رہے گا۔ افسانہ حقیقت کی اس انداز میں عکاسی کرنے کا نام ہے کہ ہر قاری یہ محسوس کرے کہ ”زباں میری ہے‘ بات ان کی“ یا دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ مانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے اور جس طرح پورے وثوق سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ غلام عباس کے آنندی اور اوور کوٹ کے پڑھے بغیر ہم اپنے معاشرے کی منافقتوں کو اپنے سامنے عریاں نہیں دیکھ سکتے‘ سعادت حسن منٹو کی ”غلطی“‘ ”ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ بلکہ پورا منٹو نامہ‘ منٹو راما کا مطالعہ کیے بغیر تقسیم برصغیر کے وقت جنم لینے والی بے یقینی‘ مذہبی و فرقہ وارانہ تعصب‘ وحشت و درندگی کا پورے طور پر احاطہ کیا جاسکتا اور احمد ندیم قاسمی کے ”کپاس کے پھول“ کو دیکھے بغیر ہم وطن عزیز کے دیہاتی پس منظر کو سمجھنے کے قابل نہیں ہوسکتے۔ ممتاز مفتی کے ”رام دین“ پر نظر ڈالے بغیر عورت کی نفسیات کو نہیں سمجھا جاسکتا۔ اسی طرح یہ بات بھی بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ

صفحہ 23

دین سے شغف رکھنے والے مسلم نوجوان اگر قادیانیت کو اس کے اصل روپ میں دیکھنا اور جاننا چاہتے ہیں تو پھر انہیں محمد طاہر رزاق کے افسانوں کو پڑھے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں۔ یہاں میں برسبیل تذکرہ یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ محمد طاہر رزاق میں ایک بہت بڑا افسانہ نگار بالقوۃ چھپا بیٹھا ہے۔ اس لیے میرا انہیں مشورہ ہے کہ وہ اپنا کینوس وسیع کریں۔

قادیانیت کا علمی و فکری دجل تو اس بات سے ہی کھل جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد پہلے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ کو آسمانوں پر زندہ تسلیم کرتا رہا مگر جب انہیں یہ پتہ چل گیا کہ اس طرح ان کی اپنی ”نبوت“ معرض خطر میں رہے گی تو اس نے حضرت مسیح علیہ السلام کو بائبل کے حوالوں کی آڑ میں بے نقط سنائیں اور پھر ان کی موت کا اعلان کرنے پر ہی اکتفا نہیں بلکہ سری نگر کشمیر کے محلہ خانیار میں یوز آسف کی قبر کو ان کی قبر قرار دے کر خود مسیح و مہدی ہونے کا دعویٰ کر دیا اور قادیانی امت نے کروڑوں روپے سالانہ حضرت مسیح علیہ السلام کے ٹیورن کے ایک گرجا گھر میں موجود ایک جعلی کفن کو اصلی ثابت کرنے پر ضائع کر دیے اور اب جب کہ نیشنل جیوگرافی اور ریڈرز ڈائجسٹ نے یہ راز طشت از بام کر دیا ہے کہ یہ نام نہاد کفن بھی قادیانی نبوت کی طرح جعلی ہے تو ہر قادیانی دریائے حیرت میں غوطے کھا رہا ہے اور جب یہ بات آڑے آئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو کبھی اپنے آپ کو ایک پہلو سے امتی اور ایک پہلو سے نبی کہا۔ کبھی بروزی و ظلی نبوت کی اصطلاحات اپنے لیے استعمال کیں۔ کبھی لم یبق من النبوۃ الا المبشرات کے تحت اپنے آپ کو صرف لغوی معنوں میں نبی قرار دیا۔ حالانکہ یہ ساری اصطلاحات صوفیا نے صرف مجددین کے لیے استعمال کی ہیں اور زیادہ سخت اور کٹر علماء نے تو انہیں بھی شطحیات صوفیاء کے زمرہ میں شمار کر کے ان کے استعمال سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کبھی کبھی مجھے یہ خیال بھی آتا ہے کہ گو مرزا غلام احمد کی تحریرات میں یہ کنفیوژن اور بے ربطی اس وجہ سے ہے کہ وہ باقاعدہ درسی و مکتبی علم سے آراستہ نہیں تھے لیکن کبھی یہ گمان بھی ہوتا ہے کہ وہ اندر سے ہر وقت خوفزدہ رہتا تھا اور یہ جانتے ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعویٰ نبوت سراسر غلط اور بے بنیاد ہے اسے ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں اور یہی وہ خوف ہے جو اسے کسی پل چین نہیں لینے دیتا تھا اور وہ اپنی

صفحہ 24

نبوت کی ایسی توجیہیں کرتا تھا کہ عقل حیران و ششدرہ رہ جاتی ہے کہ آخر یہ شخص کہنا کیا چاہتا ہے۔ نبی تو اپنے وقت کا سب سے فصیح اللسان انسان ہوتا ہے اور امام شافعی علیہ الرحمتہ تو زبان کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کی وسعتوں گہرائیوں اور پہنائیوں کو سوائے نبی کے کوئی جان ہی نہیں سکتا تو پھر یہ کیسا نبی ہے جس کو نہ خود سمجھ آ رہی ہے کہ اس نے کیا کہنا ہے اور نہ وہ دوسروں کو سمجھانے کی اہلیت و صلاحیت سے سرفراز ہے اور واقعہ بھی یہی ہے کہ مرزا غلام احمد میں نبوت کی صلاحیت و اہلیت ہی موجود نہیں تھی۔

مولانا عبید اللہ سندھی سے ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ نور الدین تو پڑھا لکھا آدمی تھا اور اس کے مقابلے میں مرزا غلام احمد کچھ بھی نہ تھا۔ پھر اس نے یہ کیا جھک ماری کہ مرزا غلام احمد کو مسیح موعود، مہدی موعود اور نہ جانے کیا کچھ مان لیا تو مولانا سندھی نے سائل کو کہا کہ تمہارے اسی سوال میں اس کا جواب پوشیدہ ہے کہ ادعا اور دعوے کے لیے جہالت شرط ہے اور یہ حضرت مرزا غلام احمد میں بتمام و کمال موجود تھی۔ اب رہا نور الدین کا مرزا غلام احمد کو مان لینا تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ابوالفضل اور فیضی کو کسی نہ کسی اکبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ آخر یہ صلاحیت و اہلیت کے فقدان ہی کا شاخسانہ تھا کہ مرزا غلام احمد کو نبی بنانے کے لیے تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کی اصطلاحات گھڑی گئیں ورنہ ہر نبی صاحب شریعت ہوتا ہے۔ خواہ اس کی شریعت چند احکام پر مبنی ہو یا نبی سابق کی شریعت کے بعض احکامات کی ترمیم و تنسیخ پر مشتمل ہو۔ اس لیے جب ہر نبی کے صاحب کتاب ہونے کا مسئلہ سامنے آیا تو پھر مرزا غلام احمد کے الہامات کے مجموعہ کو ”تذکرہ“ کے نام سے چھاپ کر اسے الہامی کتاب کا درجہ دینے کی کوشش کی گئی۔ کبھی ”کشتی نوح“ کو یہ منصب دینے کی سعی کی گئی۔ پھر مرزا غلام احمد کی روایات کو سیرۃ المہدی کے نام سے تین جلدوں میں شائع کر کے اور باقی کو خوف فساد خلق کی وجہ سے رجسٹر روایات کے نام سے جمع کر کے بیت الخلافت لائبریری میں جمع کر کے انہیں نعوذ باللہ احادیث کا مقام دینے کی کوشش کی گئی اور انہیں شروع بھی اس انداز سے کیا گیا کہ ”بیان کیا مجھ سے فلاں بن فلاں نے“۔ آپ ملاحظہ فرمائیں کہ کیا یہ حدثنا فلاں بن فلاں کا ناپاک چربہ نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ قادیانیت دجل و تلبیس کا ایک وسیع شیطانی چکر ہے۔ لیکن جن قادیانیوں کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے انہیں یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ مرزا محمود احمد کے

صفحہ 25

بعد مرزا ناصر احمد اور اس کے بعد مرزا طاہر احمد کا آنا اور نام نہاد خلافت کی ریوڑیوں کا ایک ہی خاندان میں تقسیم ہونا، طاقتور کا اپنا حصہ چھین کر لے جانا اور مرزا رفیع احمد کا مرزا طاہر احمد کو کتا کہنے کے باوجود وہاں سے نکلنے کا حوصلہ نہ کرنا ہی پیر پرستی اور گدی نشینی کا وہ جال ہے جو پوپ کی جانشینی کے لیے بنائے گئے قواعد و ضوابط کے تحت محض ایک خاندان کی عیاشی کے لیے بنایا گیا ہے اور باقی قادیانی محض مذہبی ہاری ہیں اور ان کا کام اپنے خون پسینے کی کمائی سے جیتے جی اور مرنے کے بعد بھی اس خاندان کو چندہ اکٹھا کر کے دینا ہے تاکہ وہ لندن کے ”اسلام آباد“ میں بیٹھ کر چھکڑے اڑاتا رہے۔ میں اب نئے عہد کے افسانہ نگار محمد طاہر رزاق اور آپ کے درمیان حائل نہیں رہنا چاہتا۔ لیجئے ان کے افسانوں کو خود پڑھ کر جائزہ لیں اور دیکھیں کہ قادیانیت کیا ہے؟

شفیق مرزا روزنامہ ”جنگ“ لاہور ۲۰-۹-۹۵

صفحہ 26

نقاب کشا

بارہ عدد ننھی منی کتابیں میرے سامنے پڑی ہیں.... ابھی ابھی ان کتابوں کو پڑھ کر فارغ ہوا ہوں۔ کتابوں کے مصنف محمد طاہر رزاق صاحب ہیں۔ کہانیوں کے انداز میں یہ کتب دراصل ختم نبوت کے موضوع پر ہیں.... یہ موضوع جس قدر اہم بلکہ اہم ترین ہے.... ہمارے علمائے کرام نے اس موضوع کو اسی قدر پس پشت ڈال دیا ہے۔ نوجوان نسل کو اول تو معلوم ہی نہیں کہ مسئلہ ختم نبوت ہے کیا.... مرزائیت کیا ہے‘ وہ کس کس طرح نوجوان نسل کو یا سادہ لوح لوگوں کو اپنے جال میں پھانستے ہیں...؟ جنہیں کچھ معلوم ہے‘ وہ اس حد تک ناکافی ہے کہ قادیانی ہتھکنڈوں کے جواب نہیں دے سکتے.... ان حالات میں یہ کوشش لاجواب ہے.... اس لیے بھی کہ دینی کتب آج کے دور میں نوجوان نسل کے لیے پڑھنا بہت مشکل سا کام ہے.... جب کوئی ناول‘ کہانی یا رسالہ ہاتھ لگ جاتا ہے تو اس کا مطالعہ فوراً شروع کر دیا جاتا ہے.... ایسے لوگوں کو دین کے اس پہلو سے روشناس کرانے کے لیے یہ ننھی منی کتب عجیب ہیں.... اور پھر چونکا دینے والی ہیں.... خاص طور پر ”تفسیر عثمانی“ پڑھ کر تو میں چونک ہی اٹھا ہوں.... ”۵ ہزار“ پڑھ کر بھی حیرت زدہ رہ گیا.... اگرچہ ختم نبوت کے ادارے سے منسلک ہوئے قریباً بارہ سال گزر گئے لیکن آج بھی بہت سے گوشے ایسے ہیں کہ جب اچانک وہ سامنے آتے ہیں تو چونک جاتا ہوں......

یہ بارہ کتب نوجوان نسل کو ہوشیار کرنے اور چونکانے کا کام احسن طریقے سے کر سکتی ہیں.... اللہ تعالیٰ محمد طاہر رزاق صاحب کو جزائے خیر دے۔ (آمین)

اشتیاق احمد

صفحہ 27

اپنی بات

ادب اور ابلاغیات کی دنیا میں افسانہ اور کہانی ہمیشہ کلیدی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ کیونکہ کہانی سننے کا وہ عمل جو ماں کی گود سے شروع ہوتا ہے‘ وہ موت کی آہٹ تک ساتھ رہتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کبھی انسان کہانی سناتا ہے‘ کبھی خود سنتا ہے‘ کبھی کہانی پڑھاتا ہے اور کبھی پڑھتا ہے۔ سننے سنانے‘ پڑھنے پڑھانے کے عمل سے گزر کر آخر انسان اک دن خود کہانی بن جاتا ہے۔ کہانی کے کردار سدا زندہ رہتے ہیں‘ بس وقت‘ نام و مقام بدلتے رہتے ہیں۔ ہماری اس دنیا میں ہمارے اردگرد بکھری بے شمار کہانیوں میں اک انوکھی‘ الجھی اور الٹی کہانی کا نام ”قادیانیت“ ہے۔ جس نے اپنا ”جال“ پچھلے سو برس سے ہمارے ماحول میں اس طرح پھیلا رکھا ہے کہ انجانے میں بے شمار پنچھی اس کا شکار ہو کے رہ گئے۔

صیاد نے جال تو ڈالا‘ مگر بعد میں پیار کیا‘ آزاد کیا‘ دانہ ڈالا‘ پانی پلایا‘ سایہ دیا۔ انہوں نے سوچا چلو آرام ہوا اور وہیں لمبی تان کر سو رہے اور ان کے ہی ہو رہے مگر کچھ ایسے بھی تھے کہ جن کے جب پر کٹنے لگے تو ان کا ماتھا ٹھنکا تو پھر یہ پنچھی جب وہاں سے بھاگے تو کوئی کہہ رہا تھا ”مردود کہیں کا“ کسی نے کہا ”چور پکڑا گیا“ کسی نے ”جھوٹا“ کہا کسی نے اسے ”جہنم سے فرار“ سے تشبیہ دی۔ کوئی ”نوحہ“ کرتا واپس آیا تو کسی نے آنکھ کھلنے پہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے ”وفا“ کا عہد پختہ کرلیا۔ کسی نے واپسی پہ ”۵ ہزار“ کی کہانی سنائی تو کسی نے ”تفسیر عثمانی“ کی اور کسی کا بس نہ چلا تو وہ صیاد کے گرو کی تصویر پہ لعنت بھیجتا ہوا ہی چلا آیا اور آنے والوں یا ان کے چاہنے والے مجاہدوں میں جو بڑے دل کے مالک تھے‘ انہوں نے تو نہ صرف خود شکاری کا شکار کیا بلکہ اس شکار کی ”سینچری“ بھی مکمل کرلی اور جب شکاری نے پوچھا یہ کیا؟ تو انہوں نے کہا ”ایسا بھی ہوتا ہے“۔

”جال“ سے لے کر ”ایسا بھی ہوتا ہے“ تک کی تمام کہانیاں ”قادیانی افسانے“ کے نام

صفحہ 28

سے آپ کے ہاتھوں میں ہیں۔ دیگر کہانیوں کی طرح ان کے کرداروں کے نام و مقام بھی فرضی ہیں۔ مگر کہانیاں اصلی اور سچی ہیں۔

ہو سکتا ہے آپ بھی کسی ایسی کہانی کا کردار رہے ہوں یا ہونے والے ہوں یا نہ بھی ہوں۔ تب بھی آپ کی آگہی، شعور اور رہنمائی کے لیے یہ خوبصورت کتاب حاضر ہے۔ ارتقا کی منزلیں وہی تیزی سے طے کرتا ہے جو دوسروں کے تجربہ سے سیکھ سکے۔ ان معصوم اور مظلوم لوگوں کی کہانیوں سے خود بھی سبق سیکھئے اور دوسروں کو بھی سبق سکھائیے۔

قادیانیت کے گندے جوہڑ میں اتر کر ان کرداروں کو قریب سے دیکھنا اور ان کی سازشوں کو طشت از بام کرنا یقیناً اسی مجاہد کے بس میں تھا جس کے سفر کا آغاز ”تحفظ ختم نبوت“ تھا اور جو اب ”نغمات ختم نبوت“ اور ”قادیانیت شکن“ کی منزلیں طے کرتا ”رد قادیانیت“ کی تاریخ میں یہ پہلا اور منفرد کام لے کر ایک دفعہ پھر آپ کے دلوں پہ دستک دے رہا ہے۔

دروا کیجئے اور محمد طاہر رزاق کی لگن، جذبے، فکر، خلوص اور محبت پیغمبر ﷺ کو سلام کیجئے۔ ہو سکتا ہے مجاہد کے حضور ہمارا یہ سلام ہماری بخشش کا باعث بن جائے۔

غبار راہ طیبہ فیاض اختر ملک، لاہور ۲۹ ستمبر ۱۹۹۵ء

صفحہ 28
PDF 30

جال

توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوة

ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ فون 2329

صفحہ 31

وہ چوبیس برس کا جوان رعنا تھا۔ نام محمد جمیل، جو اس کے حسن صورت کا عکاس تھا۔ وہ باغوں اور کالجوں کے شہر لاہور میں پلا بڑھا تھا۔ اس نے بی اے تک تعلیم پائی تھی۔ تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ اس کے والد ایک پرائیویٹ فرم میں ملازم تھے۔ لیکن طویل بیماری کی وجہ سے انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ گھر کا سارا بوجھ اس کے کندھوں پر آن پڑا۔ وہ شام کو لوگوں کے گھروں پہ جا کر ٹیوشن پڑھا کر بڑی مشکل سے گھر کی دال روٹی چلاتا۔ والد کی دوائیوں کے لیے اکثر اسے دوستوں سے ادھار اٹھانا پڑتا۔ جس کی واپسی اس کے مسائل میں زبردست اضافہ کرتی۔ اسے جوان ہوتی بہنوں کے ہاتھ پیلے کرنے کا بھی فکر تھا۔ وہ نوکری کی تلاش میں مارا مارا پھرتا۔ پنجاب پبلک لائبریری جا کر اخباروں کے پلندوں میں سے ملازمت کے اشتہارات ڈھونڈتا۔ جس دن کوئی اشتہار مل جاتا، وہ فوراً درخواست دینے کے لیے متعلقہ دفتر میں پہنچ جاتا۔ وہ درخواستیں اور انٹرویوز دے دے کر تھک گیا لیکن اسے نوکری نہ ملی۔ کیونکہ اس کے پاس کسی ایم پی اے یا ایم این اے کی سفارش نہ تھی۔ وہ کسی وزیر یا مشیر کا رشتہ دار نہ تھا۔ اس کی جیب میں کسی راشی افسر کو رشوت دینے کے لیے خطیر رقم نہ تھی۔ ایک دن اس کے والد کے ایک انتہائی قریبی دوست نے اس سے کہا کہ بیٹا جمیل! آج تم میرے دفتر آنا، میں نے ایک دوست سے تمہاری نوکری کی بابت بات کر رکھی ہے۔ انشاء اللہ تمہاری نوکری کا بندوبست ہو جائے گا۔ وہ صبح خوشی خوشی اپنے والد کے دوست کے آفس پہنچا اور دوپہر دو بجے تک اپنے والد کے دوست کے پاس بیٹھا انتظار کرتا رہا۔ لیکن مذکورہ شخص نہ آیا۔ وہ کئی دن تک ان کے آفس میں چکر لگاتا رہا لیکن سوائے ناکامی کے کچھ نہ ملا۔ ایک دن وہ انتہائی افسردگی کے عالم میں پژمردہ چہرے کے ساتھ، تھکا ہارا دفتر کی سیڑھیاں اتر کے گھر جا رہا تھا کہ سیڑھیوں میں اسے ایک بوڑھا شخص ملا جس کا انداز تکلم بڑا دھیما، میٹھا، چہرے پہ فرنچ کٹ داڑھی اور ہاتھ میں ایک مخصوص انگوٹھی تھی جو اس سے قبل اس نے کبھی نہ دیکھی تھی۔ اس شخص نے بڑی محبت و چاہت سے اس سے ہاتھ ملایا اور خندہ پیشانی سے خیریت

صفحہ 32

دریافت کی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ میں اسی دفتر میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدہ پر فائز ہوں۔ آپ کو کئی دفعہ پریشانی کے عالم میں دفتر میں آتے دیکھ کر میں نے آپ کے میزبان سے پوچھا تھا کہ برخوردار کو کیا مسئلہ درپیش ہے؟ تو آپ کے میزبان نے بتایا تھا کہ آپ ملازمت کے سلسلہ میں پریشان ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس نے بڑی پھرتی سے پوچھا کہ کیا بنا آپ کی ملازمت کا؟ جمیل نے مایوس لہجہ میں نفی میں جواب دیا تو اس شخص نے اسے تھپکی دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا! فکر مت کرو۔ تم مجھے بالکل اپنے بیٹوں کی طرح عزیز ہو۔ میں تمہاری پریشانی کا سن کر خود پریشان ہو جاتا تھا۔ آج صبر کا یارا نہ رہا تو تمہیں راستہ میں روک کر حالات کی بابت پوچھ لیا۔ بوڑھا شخص نہایت شفقت سے اس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اسے آفس کی کینٹین میں لے گیا، بڑی پرتکلف چائے پلائی اور ساتھ ساتھ پیار بھرے لہجہ میں میٹھی میٹھی باتیں کرتا رہا۔ بوڑھے کے ساتھ تھوڑا سا وقت گزارنے کے بعد جمیل اس سے یوں مانوس ہو گیا جیسے کئی برسوں سے گہری دوستی ہو۔

چائے سے فراغت کے بعد بوڑھے نے جمیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا! تمہاری ملازمت کا کام تو پکا ہو گیا اور نوکری بھی معمولی نہیں بلکہ بہت اعلیٰ ہوگی اور چند ہی مہینوں میں تمہارے حالات یکسر بدل جائیں گے۔ بوڑھے کے یہ محبت بھرے الفاظ سن کر جمیل کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے سر سے منوں وزن اتار دیا اور اس کا بدن گلاب کے پھول کی طرح ہلکا پھلکا ہو گیا۔ وہ بڑے جذباتی انداز میں بوڑھے کا شکریہ ادا کرنے لگا۔ بوڑھے نے کہا، بیٹا! شکریہ کی کیا ضرورت! دکھی لوگوں کے کام آنا میری زندگی کا نصب العین ہے۔ اس کے بعد بوڑھے نے اپنی جیب سے اپنا وزیٹنگ کارڈ نکالا اور اس کی پشت پر ایک شخص کے نام رقعہ لکھ دیا۔ بوڑھے نے جمیل سے کہا کہ تم یہ کارڈ لے کر ربوہ چلے جاؤ۔ میرا یہ کارڈ فلاں شخص کو دینا وہ فوراً تمہاری ملازمت کا بندوبست کر دے گا۔ جمیل نے جب بوڑھے سے پوچھا کہ ربوہ کہاں ہے تو بوڑھے نے جواب دیا کہ ربوہ چنیوٹ شہر سے بذریعہ بس صرف پندرہ

صفحہ 33

منٹ کا سفر ہے۔ جمیل نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کمال احتیاط سے کارڈ اپنی جیب میں ڈالا اور خوشی میں پھولا نہ سماتا ہوا گھر روانہ ہو گیا۔ اس نے گھر جاتے ہی یہ خوشخبری اپنے والدین اور بہنوں کو سنائی۔ سارے گھر میں خوشی کی ایک زبردست لہر دوڑ گئی اور جمیل کو ایڈوانس مبارک بادیں ملنے لگیں اور مٹھائی کا مطالبہ ہونے لگا۔ ہنستا مسکراتا جمیل اگلے دن ربوہ جانے کی تیاری میں مصروف ہو گیا۔ اگلی صبح وہ نہا دھو کر تیار ہوا اور والدین سے اجازت لے کر گھر سے چل پڑا۔ ویگن سٹینڈ پر پہنچا، ٹکٹ خریدا اور ویگن میں بیٹھ گیا اور تھوڑی ہی دیر بعد سو گیا۔ جب آنکھ کھلی تو ویگن ایک صاف ستھری شاہراہ پر فراٹے بھرتی ہوئی ربوہ کی جانب رواں تھی۔ جوں جوں ربوہ قریب آ رہا تھا اسے اپنی منزل قریب آتی دکھائی دے رہی تھی۔ ساڑھے تین گھنٹے میں ویگن نے اسے ربوہ پہنچا دیا۔ جمیل ویگن سے اترا، رومال سے منہ ہاتھ صاف کیے، لباس کو درست کیا، جیب سے کنگھا نکال کر سنہری بالوں میں پھیرا اور قریب ہی کھڑی ویگن کے آئینے میں اپنی صورت دیکھی اور مسکرا کر رہ گیا۔ ضروری سامان والا بیگ کندھے پر لٹکایا اور ایک قریبی دکاندار سے کارڈ میں درج پتے کی بابت پوچھا۔ بااخلاق دکاندار نے بڑی تسلی سے اسے پتہ سمجھا دیا۔ جمیل بڑے بڑے قدم اٹھاتا ہوا، جھٹ پتے پر پہنچ گیا۔ یہ ایک بہت بڑا دفتر تھا جس کے باہر قصر خلافت لکھا تھا جس میں لوگ ادھر ادھر آ جا رہے تھے۔ سب کی شکلیں عجیب و غریب اور آپس میں بڑی ملتی جلتی تھیں۔ جمیل انہیں دیکھ کر کچھ حیران سا ہوا۔ وہ آگے بڑھا اور اس نے ایک شخص کو روک کر اس سے کارڈ میں درج نام والے شخص کے بارے میں پوچھا۔ وہ شخص اسے بڑی الفت سے ملا اور پھر اسے ساتھ لے جا کر ایک کمرہ کے باہر لکڑی کے بنچ پر بٹھا دیا اور دروازے کے باہر کھڑے چوکیدار سے کہا کہ یہ شخص آپ کا مہمان ہے۔ جمیل نے بوڑھے کا کارڈ چوکیدار کو دیا۔ چوکیدار کارڈ لے کر اندر گیا اور جلد لپک کر باہر آ گیا اور جمیل کو اندر جانے کا اشارہ کیا۔ جمیل خود کو سیٹ کرتا ہوا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ اندر گھومنے والی کرسی پر بیٹھے شخص نے بڑے تپاک سے اس کا استقبال

صفحہ 34

کیا اور بڑے احترام سے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ جمیل شکریہ کہہ کر کرسی پہ بیٹھ گیا۔ جمیل نے بیٹھتے ہی ایک نظر گھما کر کمرے کا جائزہ لیا تو کمرہ بیش قیمت فرنیچر‘ قالین اور پردوں سے آراستہ تھا۔ اب جمیل نے غور سے جو اس شخص کو دیکھا تو چونک اٹھا کہ اس شخص کی بھی بوڑھے کی طرح فرنچ کٹ داڑھی اور انگلی میں وہی مخصوص انگوٹھی تھی۔ لیکن اس نے خود پر زبردست قابو رکھتے ہوئے کسی احساس کو ظاہر نہ ہونے دیا۔ جمیل نے نظر اٹھا کر سامنے جو دیکھا تو اسے اس شخص کی پشت کی طرف دیوار پر ایک بڑے سے شیشے کے فریم میں بہت بڑی تصویر نظر آئی۔ جمیل نے تصویر کی طرف جو بغور دیکھا تو اسے صاحب تصویر بڑا عجیب و غریب نظر آیا۔ اس کی آنکھیں چھوٹی بڑی تھیں۔ ایک آنکھ تو تقریباً بند ہی تھی۔ داڑھی کے بال الجھے ہوئے‘ سر پہ سلوٹوں والی پگڑی‘ موٹے موٹے ہونٹ‘ مونچھوں کے بال منہ میں پڑے ہوئے‘ لیکن جمیل نے اس کو بھنگ کا مارا ہوا ملنگ سمجھ کر نظر انداز کر دیا اور وہ پوری طرح کرسی پہ بیٹھے ہوئے شخص کی طرف متوجہ ہوا۔ کرسی پہ بیٹھا ہوا شخص ہلکا ہلکا مسکراتا ہوا جمیل سے کہنے لگا۔

"آپ کی آمد کی اطلاع مجھے کل ہی مل گئی تھی اور میں آج آپ کا منتظر تھا۔ آپ کی ملازمت کا بندوبست ہو چکا ہے۔ ہم آپ کو اپنے خرچے پر جاپان بھیجیں گے۔ جہاں آپ کی تنخواہ پچیس ہزار پاکستانی روپے ہوگی"۔

"مجھے کب جانا ہوگا؟" جمیل نے پوچھا۔

"جب آپ کی مرضی"۔ کرسی پہ بیٹھے شخص نے جواب دیا۔

جمیل خوشی سے دیوانہ ہو رہا تھا۔ اسے اپنی زندگی کے راستے سے مسائل کے بھاری بھرکم پتھر ہٹتے دکھائی دے رہے تھے۔ وہ مستقبل میں ایک خوشگوار زندگی کی خوشبو سونگھ رہا تھا۔ وہ تصور کی دنیا میں اپنی بہنوں کی شادیاں کر رہا تھا۔ بیمار باپ کا علاج کسی بہترین ہسپتال میں کروا رہا تھا۔ بوڑھی والدہ کو حج بیت اللہ کروا رہا تھا۔ قرضوں کے طوق گلے سے اترتے ملاحظہ کر رہا تھا اور خود اپنی آئندہ زندگی کے حسین

صفحہ 35

سپنے دیکھ رہا تھا۔

اس نے آنکھیں جھپکیں اور تصوراتی ماحول سے حال میں واپس آیا اور اس نے کرسی پر بیٹھے شخص کا بڑے زور دار انداز میں شکریہ ادا کرتے ہوئے، دوبارہ ملنے اور جاپان روانگی کے پروگرام کے بارے میں پوچھا تو وہ شخص گویا ہوا۔

"مسٹر جمیل! ہم آپ کا اتنا بڑا کام کر رہے ہیں کہ اس کام کی بدولت آپ کی زندگی کے سارے کام ہو جائیں گے لیکن اس کام کے لیے ہماری بھی کچھ شرائط ہیں، جنہیں آپ کو پورا کرنا ہوگا۔"

"کون سی شرائط ہیں جناب؟" جمیل نے حیرانی سے پوچھا۔

"آپ کو مجھے لکھ کر دینا ہو گا کہ آپ قادیانی ہیں۔" کرسی پر بیٹھے شخص نے میز پر پنسل مارتے ہوئے کہا۔

"وہ کیوں؟"

"اسی بنیاد پر تو آپ باہر جائیں گے۔"

"وہ کیسے؟"

"آپ کو درخواست میں لکھنا ہو گا کہ میں ایک قادیانی ہوں۔ پاکستان میں ہماری جان، مال اور عزتیں محفوظ نہیں۔ یہاں کی حکومت اور مسلمانوں نے ہماری زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ ہمارے مردوں کو قید کیا جا رہا ہے۔ ہمارے مکانوں اور عبادت گاہوں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ ہمارے اموال کو لوٹا جا رہا ہے۔ ملازمتوں کے دروازے ہم پر قطعاً بند ہیں۔ لہٰذا مجھے انسانی حقوق کی بنیاد پر جاپان میں سیاسی پناہ دی جائے۔ دنیا کی انسانی حقوق کی کمیٹیوں سے ہمارے گہرے رابطے ہیں۔ ان کمیٹیوں کے تعاون سے ہم نے حکومت جاپان کو پاکستان میں قادیانیوں کے ساتھ ہونے والے اس ظالمانہ سلوک کے بارے میں قائل کر لیا ہے اور جس شخص کی تصدیق ہم کر دیں، اسے جاپان میں پناہ مل جاتی ہے۔ صرف جاپان ہی نہیں، بہت سے دیگر ممالک مثلاً مغربی جرمنی، ناروے، کینیڈا وغیرہ کو بھی ہم نے پاکستان کے ان حالات کی وجہ سے

صفحہ 36

اپنے آدمیوں کو سیاسی پناہ دینے پر قائل کر لیا ہے۔ اس وقت ان ممالک میں ہمارے بھیجے ہوئے ہزاروں آدمی اربوں ڈالر کما رہے ہیں اور عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ بھی ایک قدم آگے بڑھائیے۔ خوشیوں سے بھری زندگی آپ کے لیے چشم براہ ہے۔ آپ صرف قادیانی ہونے کا اقرار کر لیں اور کمرے میں لگی ہوئی یہ تصویر ہمارے نبی جناب مرزا قادیانی صاحب کی ہے انہیں نبی تسلیم کر لیں، ہم آپ کی درخواست کی تصدیق کر دیں گے۔ جب آپ جاپان پہنچیں گے وہاں ایئر پورٹ پر ہمارا آدمی آپ کے استقبال کے لیے موجود ہو گا۔ وہ جاپانی انتظامیہ کو تصدیق کر دے گا کہ آپ واقعہ ”قادیانی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ شخص آپ کی رہائش اور ملازمت کا بندوبست بھی کر دے گا۔ اس سے بڑھ کر ہم آپ کی کیا خدمت کر سکتے ہیں؟“

”پاکستان میں آپ نے قادیانیوں پر ہونے والی جن زیادتیوں کی نشاندہی کی ہے، یہ سب جھوٹ ہیں“۔

”آپ زیادہ گہرائی میں نہ جائیں۔ آپ اپنے روشن مستقبل کی جانب دیکھیں۔ جب آپ کے پاس نئی نویلی کار ہوگی، بہترین کوٹھی ہوگی، رنگین ٹی وی، وی سی آر، فریج اور دیگر جدید مشینوں سے آپ کا گھر آراستہ ہو گا، نوکر چاکر آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہوں گے۔ آپ کے بچے اعلیٰ سکولوں میں تعلیم حاصل کریں گے اور آپ کا ایک بہت بڑا بنک بیلنس ہو گا۔ جلدی فیصلہ کیجئے، جاپان کی ہوائیں اور فضائیں آپ کا انتظار کر رہی ہیں“۔

جمیل اس تہہ در تہہ گھناؤنی سازش کو سمجھ چکا تھا۔ اس کے دل میں جذبات کا ایک سمندر موجزن ہو رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں سرخی امڈ آئی تھی اور اس کے ماتھے پہ غصے سے جھریاں چڑھ آئی تھیں۔ وہ کرسی پر بیٹھے شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گرجدار آواز میں کہنے لگا۔

”میں اسلام فروش نہیں ہوں، میں عقیدہ فروش نہیں ہوں، میں ملت فروش نہیں ہوں، میں وطن فروش نہیں ہوں، میں اسلام سے دغا نہیں کر سکتا، میں محمد عربی

صفحہ 37

صلی اللہ علیہ وسلم سے جفا نہیں کر سکتا۔ میں عقیدہ ختم نبوت سے بغاوت نہیں کر سکتا‘ میں وطن کی مٹی کو فروخت نہیں کر سکتا‘ میں حرص کے ہاتھوں سے پاکستان کا منہ کالا نہیں کر سکتا۔ میں تحریک پاکستان کے شہداء کی روحوں کو تڑپتا نہیں دیکھ سکتا۔ میں غریب ضرور ہوں لیکن باکردار ہوں‘ باوقار ہوں‘ میری حب النبیؐ زندہ ہے‘ میری حب الوطنی تابندہ ہے‘ میری حب الاسلام پائندہ ہے‘ میری غیرت نے ابھی کفن نہیں پہنا۔ میری حمیت ابھی لاش نہیں بنی۔ میری انا ابھی درگور نہیں ہوئی۔ میں تمہارے انگریزی نبی پہ لعنت بھیجتا ہوں۔ میں تمہارے جاپانی ویزے کو پائے حقارت سے ٹھکراتا ہوں۔۔۔ میں اس لمبی چوڑی تنخواہ پہ تھوکتا ہوں۔ تم اس ملک کے غدار ہو‘ تمہارا محاسبہ کیا جائے گا۔ تمہارا مقابلہ کیا جائے گا۔ تمہاری اس سازش کو طشت ازبام کیا جائے گا۔ ریشمی دھاگوں سے بنے ہوئے تمہارے اس جال کو تار تار کیا جائے گا۔ تمہارا یہ جال کتنے لوگوں کے ایمانوں کا مقتل بنا؟ تمہارے اس جال کی رسیوں کے پھندے سے کتنے لوگوں کے ایمانوں کو پھانسی دی گئی؟ انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب تمہیں نیست و نابود کر دیا جائے گا”۔ جمیل بڑی گرجدار آواز میں بول رہا تھا اور اس کے سامنے قادیانی سردی میں ٹھٹھرے ہوئے سانپ کی طرح کرسی پہ بیٹھا ہوا تھا۔ جمیل شدید غصہ میں کمرے سے اٹھا اور زور زور سے پاؤں مارتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ سڑک پہ آ کر وہ ویگن میں سوار ہو کر عازم لاہور ہوا۔ جب وہ گھر پہنچا‘ تو سورج ڈوبنے میں چند منٹ باقی تھے۔ وہ دروازہ کھٹکھٹانے لگا تو اسے گھر سے زور دار قہقہوں کی آواز آئی۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ دروازہ کھلا تو جمیل نے دیکھا کہ اس کی ہمشیرہ کے ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ ہے اور وہ انتہائی خوشی میں مبارک باد کے ساتھ اپنے بھائی کو مٹھائی پیش کر رہی ہے۔ جمیل سخت پریشان ہو جاتا ہے۔

”کیسی مبارک باد؟ کیسی مٹھائی؟“ جمیل نے پوچھا۔

”آج صبح تمہارے جانے کے دو تین گھنٹے بعد ابا جی کے وہی دوست آئے اور ان کے ہاتھوں میں تمہارا ”اپوائنٹ منٹ لیٹر“ تھا اور تمہیں سترہویں سکیل میں نوکری مل

صفحہ 38

چکی ہے"۔ اس کی ہمشیرہ نے بتایا۔ یہ حیران کن خبر سن کر جمیل کی آنکھوں میں خوشی و تشکر سے آنسو آگئے جو اس کی پلکوں پر موتی بن کر جھلملانے لگے اور اس کی زبان پر قرآن مجید کی یہ آیت جاری ہوگئی۔

واللہ خیر الرازقین اور اللہ بہتر رزق دینے والا ہے

صفحہ 28
PDF 40

اور چور پکڑا گیا

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ

صفحہ 41

مسٹر اسلم کمال کی کوٹھی رنگ برنگی روشنیوں سے جگمگا رہی تھی۔ گھر کی پوری فضا ڈھولک اور شادی کے گیتوں سے گونج رہی تھی۔ مہمانوں کی آمد آمد تھی۔ کوٹھی کے ایک کونے میں دیگیں پک رہی تھیں، جن کی خوشبو سے ارد گرد کی فضا میں ایک عجیب مہک رچی بسی تھی۔ کوٹھی کے سامنے کاروں کی ایک لمبی قطار تقریب کے حسن میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔

آج اسلم کمال کی اکلوتی بیٹی ثمینہ کی رسم مہندی تھی۔ اسلم کمال ایک ٹیکسٹائل ملز میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے۔ اللہ نے انہیں دنیا کی ہر نعمت سے مالا مال کر رکھا تھا۔ ثمینہ کے علاوہ ان کے دو بیٹے تھے۔ دونوں بیٹے امریکہ میں بطور ڈاکٹر کام کر رہے تھے۔ اسلم کمال کو اپنی بیٹی سے بے پناہ محبت تھی۔ انہوں نے اسے بڑے ناز و نعم سے پالا تھا اور یونیورسٹی میں ایم۔اے تک تعلیم دلائی تھی۔ اسلم کمال نے بیٹی کے یونیورسٹی آنے جانے کے لیے سپیشل کار اور ڈرائیور کا بندوبست کر رکھا تھا تاکہ ان کی لاڈلی بیٹی کو بسوں اور ویگنوں کے دھکے نہ کھانے پڑیں۔

ثمینہ نے بھی اپنی سلیقہ شعاری اور قابلیت سے باپ کے دل کو خوشیوں کا گہوارہ بنا رکھا تھا۔ گھر میں نوکر چاکر ہونے کے باوجود وہ باپ کا ہر کام اپنے ہاتھ سے کر کے ایک روحانی خوشی محسوس کرتی۔

اسلم کمال کے ساتھ والی کوٹھی ایک ڈاکٹر کی ملکیت تھی، جسے وہ کرائے پر دیے رکھتا۔ ایک سال قبل وہاں ایک فیملی رہائش پذیر ہوئی۔ فیملی کا سربراہ، جس کا نام منور احمد تھا، ایک انشورنس کمپنی میں افسر تھا۔ نئے آنے والے ہمسائے کو خوش آمدید کہتے ہوئے اسلم کمال نے ان کی پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا تاکہ دونوں خاندانوں کا تفصیلی تعارف ہو سکے۔ پھر یہ تعارف ایک گہری دوستی میں بدل گیا۔ تحائف کے تبادلے ہونے لگے۔ چند مہینوں بعد یوں محسوس ہونے لگا کہ دونوں خاندانوں کے برسوں پرانے تعلقات ہیں۔

ایک سال وہاں رہنے کے بعد منور احمد کی ساہیوال ٹرانسفر ہو گئی۔ دونوں خاندانوں کو ٹرانسفر کا بڑا غم ہوا۔ انہیں ایک دوسرے سے بچھڑتے ہوئے ایک شدید دھچکا لگ رہا تھا۔ اسلم کمال نے منور احمد اور اس کے خاندان کو الوداعی کھانے کی دعوت دی۔ دونوں خاندانوں نے ایک ہی کمرے میں بیٹھ کر کھانا کھایا۔ بیتے دنوں کی محبت بھری باتوں اور یادوں کا تذکرہ

صفحہ 42

ہوا۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد مسز منور احمد نے مسز اسلم کمال سے کہا کہ ”ہم اتنا عرصہ آپس میں بہن بھائیوں کی طرح رہے اور اب میرا دل چاہتا ہے کہ اس تعلق کو ہمیشہ کے لیے قائم کر لیں اور اس کے ساتھ ہی مسز منور نے اپنے بیٹے مبشر احمد کے لیے ان کی اکلوتی بیٹی شمینہ کا رشتہ مانگا“۔ مسز اسلم کمال نے کہا کہ ”وہ اپنے خاوند سے مشورہ کر کے جواب دے گی“۔ مہمانوں کے رخصت ہونے کے بعد مسز اسلم کمال نے ساری بات اپنے خاوند کو بتائی۔ میاں بیوی نے ہر پہلو سے رشتہ پر خوب غور و خوض کیا اور دو دن بعد مسز منور احمد کے شدید اصرار پر ہاں کر دی۔ مبشر احمد منور احمد کا بڑا بیٹا تھا اور فیصل آباد میں بطور ڈاکٹر کام کر رہا تھا۔ بات پکی ہونے کے بعد منور احمد کا خاندان ساہیوال شفٹ ہو گیا اور اس طرح دو خاندان ایک قریبی بندھن میں بندھ گئے۔

کل دوپہر مبشر احمد کی بارات آ رہی تھی۔ اگلے دن جب سپیدہ سحر نمودار ہوا تو اسلم کمال نے نماز فجر ادا کرنے کے بعد اپنا سر اپنے مالک کے حضور رکھ دیا اور گڑ گڑا کر اللہ سے اپنی بیٹی کے مستقبل کی خیریت کی لمبی دعا مانگی۔ دعا مانگنے کے بعد اس کے قلب کو ایک طمانیت حاصل ہو گئی اور وہ ہنسی خوشی شادی کے کاموں میں مشغول ہو گئے۔ مہمانوں کے لیے سارے انتظامات مکمل ہو چکے تھے۔ ٹھیک بارہ بجے دوپہر بارات پہنچ چکی تھی۔ مہمانوں کو بٹھانے کے لیے کوٹھی کے وسیع لان میں قطاروں میں چنی کرسیاں مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔ دولہا کے لیے ایک بڑا سٹیج تیار کیا گیا تھا، جسے خوبصورت قالینوں اور صوفوں سے آراستہ کیا گیا تھا۔ سفید شلوار قمیص اور سفید اَچکن پہنے، پاؤں میں سنہری کھسہ اور سر پر سفید اور سنہری کلاہ رکھے، فوجی بینڈ کی دھنوں میں مبشر احمد سٹیج کی جانب چلا آ رہا تھا۔ اس کے دائیں ہاتھ اس کے والد اور بائیں طرف اس کے دوستوں کا جمگھٹا چلا آ رہا تھا۔ اسلم کمال اور خاندان کے بزرگوں نے بارات کا انتہائی گرم جوشی سے استقبال کیا۔ مہمانوں کے بیٹھتے ہی ٹھنڈے مشروبات سے ان کی تواضع کی گئی۔

اسلم کمال چار پانچ دن قبل محلے کی مسجد کے خطیب صاحب سے نکاح پڑھانے کا کہہ چکے تھے۔ جمعہ کی نماز کے فوراً بعد نکاح اور اس کے بعد کھانا پیش کرنے کا پروگرام تھا۔ مسجد میں نماز جمعہ ڈیڑھ بجے ہونا تھی۔ مہمانوں کی تواضع کے بعد اسلم کمال نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں چلے گئے۔ جب اسلم کمال مسجد میں پہنچے تو انہیں یہ دیکھ کر سخت حیرت ہوئی کہ مسجد میں نمازیوں کی تعداد پہلے سے دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔ پوری مسجد اوپر نیچے سے فل ہو چکی

صفحہ 43

تھی کہ باہر سڑک پر بھی صفوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ اسلم کمال نے دیکھا کہ آج جمعہ کی تقریر کوئی اور مولوی صاحب کر رہے ہیں اور محلے کے خطیب سامع کی حیثیت سے پاس بیٹھے ہیں۔ خطیب صاحب کی خطابت میں بلا کی جولانی اور روانی تھی اور وہ حاضرین کے دل و دماغ کو اپنی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ان کی نکتہ آفرینیوں سے سامعین عش عش کر اٹھتے۔

جب وہ کسی بات کے نقطہ عروج پر پہنچتے تو مسجد پر زور نعروں سے گونج اٹھتی۔ جب انہوں نے تقریر ختم کی تو وہ تمام حاضرین کے دلوں پر اپنا نقش بٹھا چکے تھے۔ اسلم کمال بھی مولانا صاحب کی خطابت اور ان کے دینی جذبے سے بہت متاثر ہوا۔ نماز کے بعد اس نے محلے کے خطیب صاحب سے پوچھا کہ یہ مولانا صاحب کون ہیں؟ خطیب صاحب نے بتایا کہ یہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب ہیں۔ یہ سرگودھا سے تشریف لائے ہیں اور ہم نے جمعہ پڑھانے کے لیے انہیں دعوت دی تھی۔ اسلم کمال خطیب صاحب سے درخواست کرنے لگا کہ مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب سے درخواست کریں کہ وہ میری بچی کا نکاح پڑھا دیں۔ یہ میرے لیے بہت بڑی سعادت ہوگی۔ خطیب صاحب نے مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب سے نکاح پڑھانے کی التماس کی، جو انہوں نے قبول کر لی۔

اسلم کمال بڑے احترام سے مولانا محمد اکرم طوفانی کو ساتھ لے کر سٹیج پر پہنچا اور دولہا کے ساتھ صوفہ پر بٹھا دیا۔ نکاح شروع ہوا تو مولانا محمد اکرم طوفانی نے دولہا سے کہا کہ پڑھو:

”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“

دولہا نے مولانا کے پیچھے کلمہ طیبہ پڑھا۔

پھر مولانا نے اس سے کہا کہ اب کلمہ طیبہ کا ترجمہ پڑھو۔

”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں“۔

مولانا نے پھر دولہا سے کہا کہ اب پڑھو

”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ محمدؐ اللہ کے (آخری) رسول ہیں“۔

آخری رسولؐ کا جملہ سنتے ہی دولہا کچھ ٹھٹھک سا گیا اور اس کے تیور بدلے، جیسے اسے یہ جملہ ناگوار سا گزرا ہو۔۔۔ کچھ دیر تامل کے بعد دولہا نے مخصوص نظروں سے اپنے والد کی طرف دیکھا۔ دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں تو باپ نے آنکھ کے اشارے سے بیٹے کو کہا کہ پڑھ جا۔۔۔ بیٹا باپ کے کہنے پر سارا جملہ پڑھ گیا۔

مولانا عمیق نگاہوں سے یہ سب دیکھ رہے تھے اور شک کا ایک بھاری پتھر ان کے

صفحہ 44

دل پہ لگا تھا۔ اس شک کی صورت حال کو واضح کرنے کے لیے انہوں نے دولہا سے کہا کہ

پڑھ:

"محمدؐ اللہ کے آخری نبیؐ اور رسولؐ ہیں اور ان کے بعد جو دعویٰ نبوت کرے، وہ کافر ہے"۔

دولہا پھر چونکا جیسے اس کے کلیجے میں تیر لگا ہو۔ اس نے پھر سوالیہ نگاہوں سے باپ کی طرف دیکھا۔ لیکن اس مرتبہ باپ نے اس کو اجازت نہ دی، بلکہ خود بولا اور کہنے لگا:

"مولوی صاحب! ہم کسی کو کافر نہیں کہتے"۔

مولانا کا شک مزید پکا ہو گیا اور انہوں نے دولہا سے کہا کہ پڑھ:

"میں جناب محمدؐ رسول اللہ کے بعد ہر مدعی نبوت کو کافر مانتا ہوں اور مرزا قادیانی، جس نے دعویٰ نبوت کیا، اس کو بھی کافر اور مرتد مانتا ہوں"۔

دولہا چپ رہا۔ دولہا کا باپ پھر کہنے لگا:

"مولانا! ہم کسی کو کافر نہیں کہتے۔ آپ ان فضول بحثوں کو چھوڑیں۔ لڑکے نے سب کے سامنے عربی میں کلمہ پڑھ لیا ہے۔ ترجموں کے جنجال میں کیا جانا۔ آپ جلدی جلدی نکاح پڑھائیں۔ نیکی کے کاموں میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔ ہم پہلے ہی بہت لیٹ ہوچکے ہیں"۔

مولانا کا شک تصدیق میں بدل چکا تھا۔ اچانک مولانا کی نظر لڑکے کے باپ کے ہاتھ کی انگلی میں پہنی انگوٹھی پر پڑی، جس پر "الیس اللہ بکاف عبدہ" لکھا ہوا تھا اور یہ قادیانیوں کی مخصوص انگوٹھی ہوتی ہے۔ اسلم کمال اور لڑکی کے عزیز و اقارب مولانا کے دائیں طرف بیٹھے تھے اور وہ ساری باتیں بڑی توجہ سے سن رہے تھے۔ مولانا نے اسلم کمال کو اپنے پاس بلایا اور کان میں رازدارانہ انداز میں کہا کہ لڑکا اور اس کا خاندان قادیانی ہے۔ اسلم کمال نے اپنی قریبی عزیزوں کو الگ کر کے ساری بات بتائی تو وہ سب ہکے بکے رہ گئے اور پھٹی پھٹی نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

مولانا اپنی جگہ سے اٹھے اور اسلم کمال اور اس کے قریبی عزیزوں کے پاس جا کر کہنے

لگے:

"اللہ پاک نے آپ پر خصوصی کرم کیا اور آپ کی بچی کی عزت کو ان کافروں کے ہاتھوں سے بچالیا۔ آپ تاریک غار میں گرنے سے بچ گئے۔ ختم

صفحہ 45

نبوت کے ڈاکو اب مسلمان بچیوں کی عزتوں پر بھی ڈاکہ ڈالنے لگے ہیں۔ ناموس رسالت کے لٹیرے اب سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امت کی بیٹیوں کی ناموس کو بھی لوٹنے کی جسارتیں کر رہے ہیں۔ آپ کو میری طرف سے کروڑہا مبارک ہو کہ خدا نے آپ کی بچی کو ان بھیڑیوں سے بچا لیا"۔

اسلم کمال کا غم و حیرانی اب شدید غصہ میں بدل چکا تھا۔ اس نے اپنے بڑے بیٹے کے کان میں کچھ کہا کہ جاؤ اور پولیس کو ٹیلی فون کرو۔ یہ خوفناک خبر اسلم کمال کے عزیز و اقارب، دوستوں اور محلہ داروں میں بھی پھیل گئی۔ وہ سب غصہ سے دیوانے ہو رہے تھے۔ قریب تھا کہ وہ ان لٹیروں کی تکا بوٹی کر دیتے لیکن محلے کی چند بزرگ شخصیات درمیان میں حائل ہو گئیں اور انہوں نے بڑی مشکل سے انہیں سنبھالا اور انہیں کہا کہ ابھی پولیس آ رہی ہے۔ آپ قانون ہاتھ میں نہ لیں۔ ابھی یہ کھینچا تانی ہو رہی تھی کہ پولیس پہنچ گئی۔ اسلم کمال نے پولیس کو دیکھتے ہی دولہا اور اس کے والد کی جانب اشارہ کیا۔ پولیس کے جوانوں نے باپ بیٹے کو پکڑ کر گاڑی میں پھینکا اور تھانے لے گئے۔ چند منٹوں بعد تھانہ سینکڑوں لوگوں سے بھرا پڑا تھا اور وہ قادیانیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ پولیس نے 298-C کے تحت پرچہ درج کیا اور باپ بیٹے کو حوالات میں بند کر دیا۔ مسلمانوں کا مشتعل ہجوم حوالات توڑ کر مجرموں کی "چھترول" کرنا چاہتا تھا لیکن جب تھانیدار نے بار بار تسلی دیتے ہوئے کہا کہ "بھائی ہم بھی مسلمان ہیں، ہم بھی بہن بیٹیوں والے ہیں۔ انشاء اللہ ان خبیثوں سے کسی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی تو پھر ہجوم کے مشتعل جذبات ٹھنڈے ہوئے۔

اسلم کمال نے حکم دیا کہ کھانے کی ساری دیگیں یتیم خانہ پہنچا دی جائیں۔ وہ شدت جذبات سے مغلوب ہو کر بار بار مولانا محمد اکرم طوفانی کے ہاتھ چوم رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے شکر کے آنسو رواں تھے۔ یہ آنسو اس کی آنکھوں کے چشموں سے نکل کر رخساروں سے بہتے ہوئے زمین پر گر کر اس مالک کے حضور سجدے کر رہے تھے، جس نے قادیانی قزاقوں سے اس کی بیٹی کی عزت کی حفاظت کی تھی۔

صفحہ 28
PDF 47

ایک ہزار روپیہ

حامل ہذا کو مطالبہ پر ادا کریگا

حکومت پاکستان کی ضمانت سے جاری ہوا

۵ ہزار

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ

صفحہ 28
صفحہ 49

بدنام زمانہ قادیانی مبلغ اللہ دتہ جالندھری کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اس قصبہ میں بھیجا گیا تھا۔ قصبہ میں پہنچتے ہی اس نے حجاموں کی دکانوں، ہوٹلوں، آڑھت گاہوں و دیگر پبلک مقامات پر بیٹھنا شروع کر دیا۔ وہ جہاں چار آدمی اکٹھے دیکھتا، قادیانیت کی بحث شروع کر دیتا۔ کسی قادیانی لڑکے کو بھیج کر سکول و کالج کے طلبا میں قادیانی لٹریچر تقسیم کرا دیتا۔ لوگ اس کی تخریبی کارروائیوں سے بہت تنگ تھے۔ اکا دکا مسلمان اس کی بحث میں دلچسپی بھی لینے لگے۔ وہ جگہ جگہ مسلمانوں سے مناظرے بھی کرتا پھرتا، جس سے یہ تشویش پیدا ہوئی کہ کہیں اس علاقے میں ارتداد نہ پھیل جائے۔ قصبہ کے چند حساس لوگوں نے ایک میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ اس قادیانی مبلغ سے ایک فیصلہ کن مناظرہ کے لیے مناظر اسلام مولانا محمد علی جالندھری کو بلایا جائے، جس میں قادیانیت اور قادیانی مبلغ کو ایک عبرت ناک اور رسوا کن شکست دی جائے تاکہ اس علاقہ کے مسلمان قادیانیت اور قادیانی مبلغ جیسی لعنتوں سے چھٹکارا حاصل کر سکیں۔

چنانچہ دو آدمیوں کا وفد فوری طور پر مولانا محمد علی جالندھری کو لینے کے لیے ملتان بھیج دیا گیا۔ دو دن بعد مناظر اسلام مولانا محمد علی جالندھری قصبہ میں تشریف لا چکے تھے۔ اگلے دن نماز عصر کے بعد مناظرے کا اعلان ہو گیا۔ قصبہ کے کھیل کے میدان میں ایک سٹیج لگا دیا گیا۔ مناظرے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے قصبے اور اردگرد کے دیہات میں پھیل چکی تھی اور لوگ جوق در جوق مناظرہ سننے کے لیے آرہے تھے۔ عصر کی نماز کے وقت میدان میں دور دور تک سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ عصر کی نماز مولانا محمد علی جالندھری کی امامت میں میدان ہی میں ادا کی گئی۔ نماز کے فوراً بعد اللہ دتہ جالندھری بھی قادیانیوں کی معیت میں مناظرہ کے لیے آ پہنچا۔

مولانا محمد علی جالندھری نے قادیانی کتابوں کا صندوق، جسے وہ ملتان سے اپنے ساتھ لائے تھے، منگوا کر سٹیج پر رکھ لیا۔ مناظرہ شروع ہوا۔ پاسبان ختم نبوت مولانا محمد علی جالندھری نے سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لچھے دار اور پیچ دار گفتگو نہ خود کروں گا اور نہ اپنے حریف کو کرنے دوں گا۔ سیدھی سادی اور دو ٹوک گفتگو ہوگی۔ انہوں نے اللہ دتہ جالندھری کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر تم میرے چند سوالوں کا جواب دے دو گے تو میں تمہارے موقف کا قائل ہو جاؤں گا۔ انہوں نے پہلا سوال کرتے ہوئے کہا کہ نبی کا نام ہمیشہ مفرد ہوتا ہے،

صفحہ 50

جیسے آدم‘ نوح‘ یعقوب‘ شعیب‘ یوسف‘ دانیال‘ ابراہیم‘ اسماعیل‘ اسحاق‘ موسیٰ‘ ہارون‘ عیسیٰ‘ محمد۔۔۔ لیکن مرزا قادیانی کا نام ”غلام احمد قادیانی“ یعنی مرکب کیوں ہے؟ اللہ دتہ جالندھری آئیں بائیں شائیں کرنے لگا لیکن حاضرین نے اس کی کسی دلیل کو صحیح نہ مانا اور وہ زچ ہو کر نیچے بیٹھ گیا۔

مولانا محمد علی جالندھری نے اپنا دوسرا سوال کرتے ہوئے کہا کہ کسی نبی کا دنیا میں کوئی استاد نہیں ہوتا۔ نبی کا استاد خود اللہ تعالیٰ ہوتا ہے‘ جو اس کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتا ہے‘ جبکہ مرزا قادیانی کے بہت سے استاد تھے‘ جن سے وہ سبق لیتا رہا اور کبھی کبھی سبق یاد نہ ہونے پر مرغا بھی بنتا رہا اور استاد کے ہاتھوں سے اس کی پٹائی بھی ہوتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ نبی دنیا والوں کو علم سکھانے کے لیے آتا ہے‘ دنیا والوں سے علم سیکھنے کے لیے نہیں آتا۔ ہر نبی اپنے وقت میں علم کے سب سے اونچے منصب پر فائز ہوتا ہے۔ انہوں نے اللہ دتہ جالندھری کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر تاریخ انبیاء میں کسی نبی کا کوئی استاد ہو تو بتاؤ‘ ورنہ ہمیں یہ بتاؤ کہ تمہارے مرزا کے استاد کیوں تھے؟

اس سوال پر اللہ دتہ جالندھری صرف بغلیں جھانک کر رہ گیا اور لوگوں نے اس پر کذاب کذاب کے آوازے کسے۔

مولانا محمد علی جالندھری نے تیسرا سوال کرتے ہوئے کہا کہ ہر نبی اپنے وقت میں سب سے حسین ہوتا تھا۔ دنیا کا کوئی انسان حسن و جمال میں نبی کا ہمسر نہیں ہو سکتا۔ اللہ دتہ جالندھری نے فوراً اس بات کی تائید کی‘ جس پر مولانا محمد علی جالندھری نے اپنے صندوق سے مرزا قادیانی کی درجنوں تصویریں نکال کر حاضرین میں تقسیم کر دیں اور حاضرین کو مخاطب کر کے کہا کہ یہ رہی مرزا قادیانی کی تصویر اور پھر اپنی گرجدار آواز میں کہا کہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس مجمع کا ہر انسان مرزا قادیانی سے خوبصورت ہے‘ جس پر لوگوں نے بھرپور تائید سے جواب دیا ”بے شک‘ بے شک“۔

پھر مولانا نے اپنا روئے سخن اللہ دتہ جالندھری کی طرف پھیرتے ہوئے کہا ”اللہ دتہ! اللہ کو حاضر ناظر جان کر بتا کہ کیا تو اس سے خوبصورت نہیں اور یقیناً تو خوبصورت ہے‘ تو پھر یہ تیرا نبی کیسے؟“

اللہ دتہ جالندھری پر اوس پڑ گئی اور وہ سردی میں ٹھٹھرے سانپ کی طرح پتھر بن گیا۔ مولانا نے چوتھا سوال کرتے ہوئے اللہ دتہ جالندھری سے کہا ”بتاؤ مرزا قادیانی کی ذات

صفحہ 51

کیا تھی؟"

اللہ دتہ جالندھری نے جھٹ جواب دیا ”مغل“ ۔

مولانا اپنے شکار کو اپنے پھندے میں پھانس چکے تھے۔ انہوں نے فوراً قادیانی کتابوں سے عوام کو حوالہ جات دکھانے شروع کیے۔ انہوں نے کہا کہ دیکھئے مرزا قادیانی اپنی کتاب ”کتاب البریہ“ کے صفحہ ۱۳۴ پر اپنی قومیت برلاس (مغل) لکھی ہے۔

اسی کتاب کے صفحہ ۱۳۵ کے حاشیہ پر لکھتا ہے:

”میرے الہامات کی رو سے ہمارے آباء اولین فارسی تھے“۔

اپنی کتاب ”ایک غلطی کا ازالہ“ کے صفحہ ۱۶ پر لکھتا ہے:

”میں اسرائیلی بھی ہوں اور فاطمی بھی“۔

اپنی تصنیف ”تحفہ گولڑویہ“ کے صفحہ ۴۰ پر لکھتا ہے:

”میرے بزرگ چینی حدود سے پنجاب آئے تھے“۔

اپنی کتاب ”نزول مسیح“ کے صفحہ ۵۰ پر لکھتا ہے:

”بنی فاطمہ سے ہوں۔ میری بعض دادیاں مشہور اور صحیح النسب سادات میں سے تھیں“۔

پھر ہندو ہونے کا اعلان کرتا ہے:

”کرشن میں ہی ہوں“۔

(”تذکرہ“ ص ۳۸۱)

پھر سکھ ہونے کا اعلان کرتا ہے:

”امین الملک جے سنگھ بہادر“۔

(”تذکرہ“ ص ۴۷۲)

پھر انہوں نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے اپنی زندگی میں کوئی ایسا شخص دیکھا ہے جس کی اتنی ذاتیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص اپنی ذات کے بارے میں اتنے جھوٹ بول سکتا ہے، وہ اپنی شخصیت کے بارے میں کتنے جھوٹ بولتا ہوگا اور اتنے جھوٹے شخص کو نبوت کا دعویٰ کرتے ہوئے بھی کوئی شرم نہ آتی ہوگی۔ مولانا کے تابڑتوڑ حملوں سے اللہ دتہ سٹیج پر ساکت و جامد بیٹھا تھا، جیسے اس کے منہ میں زبان نہ ہو، جیسے اس میں بولنے کی سکت نہ ہو۔ مولانا محمد علی جالندھری نے اپنا پانچواں سوال کرتے ہوئے کہا:

”نبی شریف انسان ہوتا ہے۔ وہ شرم و حیا اور شرافت کا پیکر ہوتا ہے۔ اس کی گفتگو اخلاق کا اعلیٰ نمونہ ہوتی ہے۔ اس کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ چراغ بن کر معاشرے میں

صفحہ 52

ایمان کی روشنی پھیلاتے ہیں۔ اس کے منہ سے نکلے ہوئے جملے باد خوشبو بن کر دنیا کو معطر کرتے ہیں۔ کسی نبی کے منہ سے بے ہودہ اور لچر گفتگو کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کائنات کا نظام زیر و زبر ہو سکتا ہے، لیکن کسی نبی کے منہ سے گالی نہیں نکل سکتی۔ مولانا نے اللہ دتہ سے پوچھا ”کیوں بھئی یہ ٹھیک ہے؟“

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

پھر مولانا نے حاضرین مناظرہ کو مخاطب کر کے کہا کہ مرزا قادیانی کے منہ سے ساری زندگی گالیوں کی برسات لگی رہی۔ اس نے وہ گالیاں بکی ہیں کہ ابھی تک انسانیت دم بخود ہے، حیا سر پیٹ رہی ہے، شرافت منہ چھپائے بیٹھی ہے اور اخلاق کا دامن تار تار ہے۔ پھر مولانا نے عقاب کی پھرتی سے صندوق میں ہاتھ ڈالا اور مرزا قادیانی کی بہت سی کتابیں نکال کر سٹیج پر رکھ لیں اور عوام کو مرزا قادیانی کی گالیوں کے حوالے سنانے شروع کیے۔ مجمع سے بار بار ”لعنت لعنت“ کی صدا بلند ہوئی۔ مولانا نے قادیانی کتب سے جو حوالے پیش کیے، وہ مندرجہ ذیل ہیں:

”جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف و گزاف مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے، وہیں داخل ہو جاتے ہیں“۔ (”حیات احمد“ جلد اول، نمبر ۳، ص ۲۵)

”آریوں کا پرمیشر (خدا) ناف سے دس انگل نیچے ہے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں“۔ (”چشمہ معرفت“ ص ۱۱۶)

”خدا تعالیٰ نے اس کی بیوی کے رحم پر مہر لگا دی“۔ (”تتمہ حقیقت الوحی“ ص ۱۴)

”سعد اللہ لدھیانوی بے وقوفوں کا نطفہ اور کنجری کا بیٹا ہے“۔ (”تتمہ حقیقت الوحی“ ص ۱۴)

”ہر مسلمان مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعوے پر ایمان لاتا ہے مگر زنا کار کنجریوں کی اولاد، جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا دی ہے، وہ مجھے قبول نہیں کرتے“۔ (”آئینہ کمالات اسلام“ ص ۵۴۷)

”عبد الحق کو پوچھنا چاہیے کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا۔ کیا اندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا۔ اب

صفحہ 53

تک اس کی عورت کے پیٹ سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا"۔ (ضمیمہ انجام آتھم" ص۲۷)

پھر مولانا نے اللہ دتہ کی طرف پلٹتے ہوئے اس سے جواب مانگا تو وہ لبوں پر مہر سکوت لگائے بیٹھا تھا۔ مولانا کے پیہم حملوں نے اس سے قوت گویائی چھین لی تھی، اس کے سر سے دماغ نوچ لیا تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہاں پر اللہ دتہ نہیں، اللہ دتہ کا بت پڑا ہو--- اس کی مکمل خاموشی اس کی شکست کا اعلان کر رہی تھی۔ چند سیکنڈ کے توقف کے بعد فضا نعرۂ تکبیر--- اللہ اکبر سے گونج اٹھی۔

عوام فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔

نعرۂ تکبیر ------ اللہ اکبر
تاجدار ختم نبوت ------ زندہ باد
تاج و تخت ختم نبوت ------ زندہ باد
شہیدان ختم نبوت ------ زندہ باد
مجاہدین ختم نبوت ------ زندہ باد
مولانا محمد علی جالندھری ------ زندہ باد

حق جیت گیا، باطل ہار گیا۔ مجاہدین ختم نبوت سرفراز ہوئے، کفر سرنگوں ہوا۔ اسلام کا بول بالا ہوا، قادیانیت کا منہ کالا ہوا۔ مسلمانوں کے چہرے خوشی سے دمک اٹھے اور وجد و کیف میں مسلمانوں نے وہ نعرہ بازی کی کہ سارا قصبہ گونج اٹھا۔ ادھر قادیانی اللہ دتہ کو لیے یوں چلے جا رہے تھے جیسے اللہ دتہ کا جنازہ لیے جا رہے ہوں۔

فاتح قادیانیت مولانا محمد علی جالندھری جب اگلے دن قصبہ سے ملتان روانہ ہونے لگے تو وہ انتہائی عقیدت و محبت سے مولانا کو سٹیشن تک چھوڑنے کے لیے آئے اور مولانا کو رخصت کرتے وقت ان کی آنکھوں سے آنسو امڈ آئے۔ گارڈ نے سیٹی بجائی اور مولانا گاڑی میں سوار ہو گئے۔ جب مولانا گاڑی میں سوار ہو رہے تھے تو اچانک ان کی نظر اللہ دتہ پر پڑی، جو اس گاڑی میں ان سے اگلے ڈبے میں سوار ہو رہا تھا۔ گاڑی اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئی۔ سٹیشن پر کھڑے لوگوں نے پرنم آنکھوں کے ساتھ اپنے محسن کو الوداع کہا۔

تقریباً بیس منٹ کی مسافت کے بعد جب گاڑی اگلے سٹیشن پر رکی تو مولانا اپنے ڈبے سے اترے اور اگلے ڈبے میں اللہ دتہ کے پاس چلے گئے اور اس کے ساتھ خالی نشست پر بیٹھ

صفحہ 54

گئے۔ اللہ دتہ چونک اٹھا۔ مولانا نے اس سے کہا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، میں تم سے ایک انتہائی ضروری بات کرنے کے لیے آیا ہوں۔ اس وقت ہماری گفتگو تیرے میرے سوا کوئی نہیں سن رہا۔

"اللہ دتہ! تم ایک پڑھے لکھے اور سمجھدار آدمی ہو۔ خدا کو حاضر ناظر جان کر اور جہنم کی آگ کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھ کر بتانا 'کیا مرزا قادیانی اللہ کا نبی تھا؟" مولانا نے پوچھا۔

اللہ دتہ: "نہیں۔"

مولانا: "کیا وہ مسیح موعود تھا؟"

اللہ دتہ: "نہیں۔"

مولانا: "کیا وہ امام مہدی تھا؟"

اللہ دتہ: "نہیں۔"

مولانا: "کیا اس پر وحی اترتی تھی؟"

اللہ دتہ: "نہیں"۔ (ہنس کر)

مولانا: "کیا اس کی بیوی ام المومنین اور کیا اس کے ساتھی صحابہ تھے؟"

اللہ دتہ: "نہیں۔"

مولانا: "کیا بہشتی مقبرے کا بہشت سے کوئی تعلق ہے؟"

اللہ دتہ: "نہیں۔"

مولانا: "کیا موجودہ قادیانی خلافت کا اسلام سے کوئی تعلق ہے؟"

اللہ دتہ: "نہیں۔"

مولانا: "تو پھر تم کیوں قادیانیت کے پیروکار ہو اور کیوں اللہ کی مخلوق کو گمراہ کر رہے ہو؟"

اللہ دتہ : "مولانا' مجھے اس کام کے پانچ ہزار روپے ماہوار ملتے ہیں۔۔۔ آپ مجھے دس ہزار دے دیں، میں آپ کی طرف آ جاتا ہوں" اللہ دتہ نے ایک زور دار شیطانی قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔ اور مولانا محمد علی جالندھری انگشت بدنداں رہ گئے۔

PDF 55

تفسیر عثمانی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ

صفحہ 57

نمود و نمائش نے ہمارے معاشرے کو ایک سرطان میں مبتلا کر رکھا ہے۔ فیشن نے ایک کہرام مچا رکھا ہے۔ پیسہ ہمارے معاشرے کا سنگھار بن چکا ہے اور ہر طرف پیسے کا طواف ہو رہا ہے۔ مقابلہ بازی نے لوگوں کا سکون غارت کر رکھا ہے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ میرے گھر کی دیوار دوسرے کے گھر سے اونچی ہو۔ ہر کوئی خواہش رکھتا ہے کہ سوسائٹی میں ہر مقام پر اس کی ناک دوسرے کی ناک سے اونچی ہو۔ جھوٹی عزتیں بنانے کے لیے کیا کیا جتن کیے جاتے ہیں۔ حلال و حرام کی تمیز اٹھ گئی ہے اور اس تمیز کے اٹھنے سے ایک طوفان بدتمیزی اٹھ کھڑا ہوا ہے، جس نے پورے معاشرے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔ رسم و رواج کے پھندوں سے ہمارے دم گھٹ رہے ہیں۔ متوسط طبقہ چکی کے پاٹوں کے درمیان پس رہا ہے اور بڑی تکالیف سے حیات مستعار کے دن کاٹ رہا ہے۔

معین باری بھی ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ ایف۔ اے تک تعلیم پائی تھی، لیکن چار سال نوکریوں کے پیچھے بھاگنے کے باوجود اسے نوکری نہ ملی۔ جب چار سال نوکریوں کے لیے درخواستیں لکھ لکھ کر اس کے ہاتھ تھک گئے تو اس نے محلہ میں منیاری کی دکان کھول لی اور زندگی کی گاڑی کو دھکا لگانے لگا۔ عرصہ آٹھ سال وہ دکان کرتا رہا، لیکن بڑی مشکل سے گھر کا گزارہ چلتا۔ اس دوران وہ چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کا باپ بن چکا تھا۔

ایک دن اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ معین! ابھی تو جوانی ہے اور بچے چھوٹے ہیں۔ تم پانچ سات سال باہر لگا آؤ اور محنت مشقت سے ایک معقول رقم اکٹھی کر لو اور پھر پاکستان لوٹ کر کوئی اچھا سا کاروبار سیٹ کر لینا۔ اس سے ہم بچیوں کی شادیوں سے بھی سبکدوش ہو جائیں گے۔ معین باری بیوی کی ناصحانہ گفتگو سن کر فکر کے سمندر میں غوطہ زن ہو گیا اور ایک سرد آہ بھرتے ہوئے بیوی سے کہنے لگا کہ بات تو تمہاری ٹھیک ہے اور اس کے ساتھ ہی اس نے خود کو ذہنی طور پر باہر جانے کے لیے تیار کر لیا۔ پھر اس دن کا سورج طلوع ہو گیا، جب معین باری اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر جہاز میں بیٹھا دبئی جا رہا تھا۔ دبئی اسے اس کے ایک دوست نے بلایا تھا اور اس نے ایک پرائیویٹ فرم میں اس کی ملازمت کا انتظام بھی کر دیا تھا۔

صفحہ 58

پاکستان میں تو وہ دن میں ایک دو نمازیں پڑھ لیا کرتا تھا، لیکن پردیس میں پہنچ کر خدا زیادہ یاد آنے لگا اور اس نے باقاعدگی سے پانچ وقت کی نماز پڑھنا شروع کر دی، جس سے اس کے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوا۔ باجماعت نمازوں نے اس کے ایمان کو جلا بخشی اور اس کے دل میں ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ قرآن پاک پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اس نے سوچا کہ مطالعہ کے لیے کس تفسیر کا انتخاب کیا جائے۔ وہ وہاں پر مقیم ایک پاکستانی عالم دین کے پاس گیا اور ان کے سامنے اپنا سوال پیش کیا۔ انہوں نے اسے مولانا شبیر احمد عثمانی کی تفسیر ”تفسیر عثمانی“ کے مطالعہ کا مشورہ دیا۔ وہ مولانا شبیر احمد عثمانی کے نام نامی سے واقف تھا۔ اسے معلوم تھا کہ مولانا شبیر احمد عثمانی کو شیخ الاسلام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ عالم اسلام کے نامور عالم دین فخر المحدثین مولانا سید انور شاہ کشمیری کے شاگرد ارجمند تھے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے ان کے مبارک ہاتھوں سے پاکستان کا جھنڈا لہرایا تھا اور مولانا موصوف نے ہی قائد اعظم کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔ اس لیے وہ اسی شام بازار پہنچا اور ”تفسیر عثمانی“ خرید لایا۔ وہ روزانہ ڈیڑھ گھنٹہ تلاوت، ترجمہ اور تفسیر کے مطالعہ میں منہمک رہتا۔ دوران مطالعہ معین باری بعض جگہوں پر رک جاتا، بعض جگہوں پر ٹھٹک جاتا اور بعض جگہوں پر چونک جاتا۔ ان عبارتوں کو ماننے پر اس کا دل کسی صورت تیار نہ ہوتا۔ وہ قابل اعتراض ساری عبارتوں پر نشان لگاتا جاتا اور دل میں عہد کرتا جاتا کہ مولانا صاحب، جنہوں نے اس تفسیر کا انتخاب کیا تھا، ان سے ان اعتراضات کے بارے میں پوچھوں گا۔ تقریباً دو مہینہ کے مطالعہ سے اس کے پاس بہت زیادہ قابل اعتراض باتیں اکٹھی ہو گئیں۔ وہ عبارتیں کچھ اس قسم کی تھیں:

بھی نبوت کا جاری رہنا۔

صفحہ 59

ایک دن معین باری‘ ساری نشان زدہ عبارتیں لے کر اس عالم دین کے پاس حاضر ہوا اور انہیں ایک ایک عبارت دکھائی۔ عالم دین ”تفسیر عثمانی“ میں یہ عبارتیں دیکھ کر حیران و ششدر رہ گئے۔ وہ اپنا ماتھا پکڑ کر یوں سوچنے بیٹھ گئے جیسے کسی مراقبہ میں غرق ہوں۔ پھر انہوں نے ایک لمبا سانس چھوڑتے ہوئے کہا کہ یہ ”تفسیر عثمانی“ نہیں ہے، لیکن معین باری انہیں بار بار تفسیر دکھاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ جناب یہ دیکھیں‘ اس کی جلد پر جلی حروف سے ”تفسیر عثمانی“ اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی کا نام لکھا ہوا ہے۔

مولانا صاحب وہیں سے معین باری کو ساتھ لے کر ایک دوسرے عالم دین کے گھر گئے‘ جن کا تعلق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے تھا اور ان کے پاس قادیانیت اور رد قادیانیت کی ایک وسیع لائبریری تھی۔ دونوں نے ساری صورت حالات ان عالم دین کے سامنے رکھی۔ وہ فوراً ایک ماہر نباض کی طرح سارے معاملے کو سمجھ گئے۔ وہ اٹھے اور سامنے والی الماری سے مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین کی تفسیر ”تفسیر صغیر“ اٹھا لائے‘ جس کفریہ اور ارتدادی تفسیر میں بری طرح اسلامی عقاید کی قطع و برید کی گئی ہے۔ مولانا صاحب نے قادیانی تفسیر‘ تفسیر صغیر اور تفسیر عثمانی کے صفحات ملائے تو دونوں جگہ ایک ہی طرح کی عبارتیں تھیں۔ مختلف جگہوں سے صفحات ملائے گئے لیکن کسی جگہ بھی انیس بیس کا بھی فرق نہ نکلا۔ اس کے ساتھ ہی مولانا صاحب سارا معاملہ سمجھ چکے تھے۔ وہ کہنے لگے:

”قادیانی‘ تفسیر صغیر پر تفسیر عثمانی کی جلد چڑھا کر اسے تفسیر عثمانی کے نام پر فروخت کر رہے ہیں۔“

وہ تینوں وہاں سے اٹھے اور ایک اعلیٰ پولیس آفیسر کے پاس پہنچے اور اسے یہ خوفناک ارتدادی مہم سے آگاہ کیا۔ پولیس آفیسر نے کہا کہ میرے پاس پہلے بھی ایک دو مرتبہ اس قسم کی شکایتیں آئی تھیں‘ لیکن میں نے اس وقت مصروفیت کی وجہ سے اس پر کوئی خاص توجہ نہ کی۔ لیکن اب آپ کے تشریف لانے سے میں اس سنگین جرم کی سنگینی سے پوری طرح آگاہ ہوا ہوں اور میں مجرموں تک پہنچنے کے لیے اپنی ساری توانائیاں اور صلاحیتیں وقف کر دوں گا۔ پولیس آفیسر نے شہر کی ساری پولیس کو مجرموں کے بارے میں الرٹ کر دیا۔ دو دن کے

صفحہ 60

بعد معین باری دو علمائے کرام کے ساتھ پھر پولیس آفیسر کے پاس پہنچا اور اس سے اس مسئلہ کے بارے میں پیش رفت پوچھی تو پولیس آفیسر نے انہیں بتایا کہ ہم مجرموں کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں، عنقریب آپ ان کی گرفتاری کی خوشخبری سنیں گے۔ ہمیں یہ معلوم ہو گیا ہے کہ یہ قادیانی تفسیر لندن سے ہزاروں کی تعداد میں چھپ کر دبئی آ رہی ہے اور یہاں تفسیر عثمانی کے نام سے بک رہی ہے اور قادیانی ایک خوفناک مہم کے تحت اس تفسیر کو مسلمانوں میں پھیلا رہے ہیں۔

اگلی صبح جب معین باری نے گھر کی دہلیز پر پڑا تازہ اخبار اٹھایا تو اس میں بہت بڑی سرخی کے ساتھ یہ خبر درج تھی:

"قادیانی تفسیر صغیر' جسے ایک منصوبے کے تحت تفسیر عثمانی کے نام سے پھیلایا جا رہا تھا، ایک قادیانی کے گھر سے اس کی ہزاروں جلدیں برآمد کر لی گئی ہیں اور پولیس نے دو قادیانی مجرموں کو گرفتار کر لیا ہے اور دیگر مجرموں کو گرفتار کرنے کے لیے مختلف جگہوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں"۔

معین باری یہ خبر پڑھ کر خوشی سے پھولا نہ سماتا تھا کہ اس کی نشاندہی اور توجہ دلانے سے کتنی بڑی سازش پکڑی گئی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ میں یہاں بیوی بچوں کے مالی تحفظ کے لیے آیا تھا، لیکن اللہ پاک نے مجھ سے تحفظ ختم نبوت کا کتنا بڑا کام لے لیا۔ میں اپنے اہل و عیال کی معاشی حفاظت کے لیے یہاں آیا تھا، لیکن خدائے رحمان نے مجھ سے حفاظت قرآن کی خدمت لے لی۔ میں یہاں اپنا مستقبل سنوارنے آیا تھا، لیکن مالک رحیم نے میری آخرت سنوارنے کا کام بھی کر دیا۔

صفحہ 28
PDF 61

جہنم سے فرار

ایک سابق قادیانی نوجوان کی کہانی جو قادیانیت

کے جہنم سے فرار ہوکر گلشن اسلام کا مکیں ہو گیا

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ

صفحہ 28
صفحہ 63

"میں صبح سے شام تک تانگہ چلاتا ہوں لیکن گھر کی دال روٹی پھر بھی نہیں چلتی۔ گھوڑے کے چارے اور دانے کا خرچہ بھی خاصا ہے۔ مختلف ضروریات کے وقت تھوڑی تھوڑی رقم جو لوگوں سے ادھار لی تھی، اب وہ دس ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ میں بڑی مشکل سے فہیم الدین کو آٹھویں جماعت تک پڑھا سکا ہوں۔ اب غربت نے میرے ہاتھ باندھ دیے ہیں اور میری ہمت جواب دے گئی ہے، لہٰذا اب میں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ فہیم الدین کو سکول سے اٹھا لیا جائے"۔

کرم الٰہی کوچوان نے انتہائی رنجیدہ خاطر ہو کر اپنی بیوی حنیفاں سے کہا۔ خاوند کی یہ پریشان کن باتیں سن کر حنیفاں نے ٹھنڈی آہ بھری جیسے غربت کو نگلنے کی کوشش کر رہی ہو۔ حنیفاں نیک تابعدار بیوی کی طرح اٹھی اور دن بھر کے تھکے ہارے خاوند کو بڑی محبت سے روٹی گرم کر کے دی اور کہا کہ کھانا کھائیے۔ جان ہے تو ان دکھوں کا مقابلہ کر ہی لیں گے۔ کھانے کے دوران میاں بیوی میں گفتگو کا دور بھی چلتا رہا۔ حنیفاں ایک بہادر اور مدبر عورت تھی۔ اس نے خاوند کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔

"سرتاج! آپ فہیم الدین کی تعلیم کی کوئی فکر نہ کریں۔ اللہ نے مجھے صحت دے رکھی ہے۔ میں لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھ لیا کروں گی اور اس آمدنی سے فہیم الدین کی تعلیم کا سلسلہ چلتا رہے گا"۔

کرم الٰہی کوچوان مارے غصے کے کانپنے لگا اور غیرت سے اس کے نتھنے پھول گئے جن سے سانس شوں شوں کر کے نکلنے لگی۔ اس نے غصے میں کانپتے ہوئے اپنی بیوی سے کہا

"یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ تم میری زندگی میں لوگوں کے گھروں میں نوکری کرو۔ یہ میری غیرت کا خون ہو گا"۔

حنیفاں نے ایک ماہر وکیل کی طرح دلائل دیتے ہوئے کہا

"محنت میں کیا عار ہے۔ میں کاسہ گدائی لے کر کسی کے گھر مانگنے تو نہیں جاؤں گی، کام کاج ہی تو کرنے جاؤں گی۔ بیٹے کو تعلیم کی راہ سے ہٹا لینے سے یہ محنت مشقت کی راہ بہتر ہے"۔

آخر حنیفاں نے خاوند کو اپنے موقف کے حق میں قائل کر لیا۔

فہیم الدین واقعتاً اپنے نام کی تعبیر تھا۔ وہ ہمیشہ کلاس میں اول آتا۔ اساتذہ اس سے بڑی

صفحہ 64

محبت کرتے۔ آخر وہ وقت آگیا‘ جب فہیم الدین نے میٹرک کے امتحان میں پورے سرگودھا بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ماں باپ خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ محلے کے سینکڑوں لوگ آج مبارک باد دینے کے لیے ان کے گھر میں جمع تھے۔ کرم الٰہی کوچوان نے پورے محلے میں بتاشے تقسیم کیے۔ فہیم الدین کو محکمہ تعلیم سے وظیفہ ملنا شروع ہوگیا اور وہ اپنی تعلیم کا خرچہ خود اٹھانے کے قابل ہوگیا۔

فہیم الدین نے ٹی آئی کالج ربوہ میں ایف۔ایس سی میں داخلہ لے لیا۔ ایف۔ایس سی کے امتحان میں وہ پورے ضلع میں اول آیا۔ اسے ایف۔ایس سی میں بھی محکمہ تعلیم کی طرف سے وظیفہ ملا۔ اب فہیم الدین اپنی ماں کے سامنے سخت چٹان کی طرح ڈٹ گیا اور اس نے ماں کے مشقت والے ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر کہا۔

”اماں! اب میں تجھے لوگوں کے گھروں میں کام کاج کے لیے نہیں جانے دوں گا۔ اب میں جوان ہو چکا ہوں۔ مجھے اپنی مزید پڑھائی کے لیے حکومت کی طرف سے وظیفہ بھی ملے گا اور میں ٹیوشن پڑھا کر اباجان کا ہاتھ بھی بٹاؤں گا۔ پیاری ماں! تجھے میری محبت کی قسم‘ اب تو لوگوں کے گھروں میں نہیں جائے گی“۔

ماں نے لاڈلے بیٹے کے سامنے ہتھیار پھینک دیے۔ فہیم الدین کو انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں داخلہ مل گیا۔ وہاں سے اس نے انجینئرنگ کی ڈگری امتیازی حیثیت سے حاصل کی۔ تعلیم سے فارغ ہوتے ہی اسے ایک پرائیویٹ فرم میں پانچ ہزار ماہانہ کی نوکری مل گئی۔ اس کی اعلیٰ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے فرم نے چھ ماہ بعد اسے انگلستان بھیج دیا۔ وہاں سے اس نے لاکھوں روپے کما کر والدین کو بھیجے۔ کرم الٰہی کوچوان کے گھر سے غربت رخصت ہو گئی اور پیسے کی ریل پیل نے گھر میں ایک چمک پیدا کر دی۔ کرم الٰہی کوچوان نے تانگہ بیچ دیا اور وہ گھر میں فرصت کے لمحات گزارنے لگا۔ پھر فہیم الدین کی ایک امیر قادیانی گھر میں شادی کر دی گئی کیونکہ فہیم الدین کے والدین بھی قادیانی تھے۔ اپنے قواعد کے مطابق ایک قادیانی مبلغ نے ربوہ میں اس کا نکاح پڑھایا۔ دو سال میں فہیم الدین کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوئے۔ وہ انگلستان میں انتہائی خوشحالی کی زندگی گزار رہا تھا لیکن دفتر میں اسے اس تکلیف کا شدت سے احساس تھا کہ مسلمان ملازمین اس کے قادیانی ہونے کی وجہ سے اس سے کھنچے کھنچے رہتے تھے۔ وہ اس کے ساتھ کھانا کھانے سے پرہیز کرتے تھے۔ کئی تو اس سے سلام بھی نہ لیتے تھے۔ اسے اپنی

صفحہ 65

شادی غمی کے پروگراموں میں بھی نہیں بلاتے تھے۔ یوں فہیم الدین مسلمانوں سے کٹا کٹا سا رہتا تھا۔

ایک دن اس کا ایک انجینئر دوست ہدایت خان اس کے پاس آیا اور کہنے لگا ”فہیم الدین! آج لندن کے ویمبلے ہال میں ختم نبوت کانفرنس ہے، جس میں دنیا بھر سے علمائے کرام تشریف لا رہے ہیں۔ میں آپ کو کانفرنس میں شمولیت کی دعوت دیتا ہوں۔ جانے اور سننے میں کیا حرج ہے“۔

پہلے تو فہیم الدین کچھ ہچکچایا لیکن پھر اس نے جانے کی حامی بھر لی۔ کیونکہ ہدایت خاں نے اسے دعوت ہی اس موثر اور دل نشین انداز میں دی تھی کہ اس کے پاس دعوت کو رد کرنے کے الفاظ ہی نہ تھے۔ دونوں دوست مقررہ تاریخ پر بروقت ویمبلے ہال میں پہنچ گئے اور اگلی نشستوں پر انھیں جگہ مل گئی۔ تلاوت کلام پاک سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ خوش الحان قاری نے سورۃ الاحزاب، جس میں خاتم النبیین محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ختم نبوت کا ذکر بڑی صراحت سے ہے، کی آیات مبارکہ کی تلاوت اس سوز سے کی کہ حاضرین پر وجد کی کیفیت طاری ہو گئی۔ تلاوت قرآن کے بعد نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیش کی گئی، جس میں نعت خواں صاحب نے عقیدۂ ختم نبوت پر منظوم انداز میں خوب روشنی ڈالی۔ پھر تقریروں کا نورانی سلسلہ شروع ہوا۔ مقررین آتے رہے اور عقیدۂ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار فرماتے رہے۔ آخر میں ایک وجیہہ اور منور چہرہ والے بزرگ مقرر تشریف لائے۔ انہوں نے حاضرین سے خطاب فرماتے ہوئے کہا

”میں آج صرف قادیانیوں کو دعوت اسلام کے موضوع پر تقریر کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ہم قادیانیوں کے خلاف جہاد کرتے ہیں، وہاں ہمیں راتوں کو بیدار ہو کر اللہ کے سامنے اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر ان کی ہدایت کے لیے پرسوز دعائیں بھی مانگنی چاہئیں۔ ہم عالمگیر نبی کے عالمگیر امتی ہیں۔ ہمیں ہر انسان کو جہنم میں جانے سے بچانا چاہیے۔ یہ ہمارا فرض منصبی ہے کیونکہ ختم نبوت کے بعد اس کائنات میں کسی نئے نبی نے تو دنیا میں آنا نہیں، لہٰذا دعوت و تبلیغ کی ساری ذمہ داری امت محمدیہؐ پر ڈال دی گئی ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ جہاں وہ عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کرے، وہاں وہ قادیانیوں کی قادیانیت کے شیطانی پنجہ سے رہائی کی بھی بھرپور کوشش کرے“۔

صفحہ 66

انہوں نے قادیانیوں سے کہا ”اے قادیانیو! تم دنیا کے ہر معاملہ میں خوب غور و فکر کرتے ہو۔ سوچ اور فکر کے گھوڑے دوڑاتے ہو۔ ایک روپے کا مٹی کا پیالہ خریدنا ہو تو خوب ٹھونک بجا کر دیکھتے ہو۔ جوتا خریدنا ہو تو سارے بازار کا چکر لگاتے ہو۔ سبزی خریدنی ہو تو سونگھ سونگھ کر دیکھتے اور دیکھ دیکھ کر سونگھتے ہو۔ بچے کے لیے سکول و کالج کا انتخاب کرنا ہو تو ہر ہر پہلو سے جائزہ لیتے ہو۔ بیٹے یا بیٹی کا رشتہ دیکھنا ہو تو شجرۂ نسب کھنگال ڈالتے ہو۔ لیکن مرزا قادیانی کو نبی ماننا ہو تو بالکل نہیں سوچتے۔ کوئی دلیل طلب نہیں کرتے۔ کبھی غور و فکر کے مراقبے میں نہیں بیٹھتے“۔

انہوں نے کہا ”عقیدہ وہ چیز ہے جس پر تمہاری اگلی لامتناہی زندگی کا دارومدار ہے۔ عقیدہ ٹھیک ہوگا اور اگر اعمال کم بھی ہوں گے تو نجات ہو جائے گی۔ لیکن اگر عقیدہ غلط ہوگا اور اعمال ہمالیہ پہاڑ جتنے بھی ہوں گے تو نجات نہیں ہوگی۔ تمہارے پاس موت کی آخری ہچکی تک کے لیے مہلت باقی ہے۔ اس مہلت کو اللہ تعالیٰ کی مہلت جلیلہ سمجھو۔ اس سے فائدہ اٹھاؤ کیونکہ اس مہلت کے بعد پھر کوئی مہلت نہیں ہوگی“۔

پھر جب انہوں نے جہنم اور اس کی سزاؤں کا نقشہ کھینچا تو پورا ہال کپکپا اٹھا۔ اس بزرگ عالم کی تقریر نے فہیم الدین کے دل و دماغ میں ایک طوفان بپا کر دیا۔ وہ گھر آیا تو اس کے دماغ میں اس عالم کے الفاظ گونجنے لگے۔ اسے راتوں کو بڑی بڑی دیر تک نیند نہ آتی۔ وہ بستر پر دراز خلا میں گھورتا رہتا۔ اتفاق سے پندرہ دن بعد اسے ایک ماہ کی رخصت پر پاکستان جانا تھا۔ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ پاکستان چلا گیا۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد باپ‘ ماں اور بیٹا‘ تینوں بیٹھے تھے کہ فہیم الدین اپنے والدین سے کہنے لگا ”آج مجھے آپ سے ایک انتہائی اہم میٹنگ کرنی ہے“۔ پھر وہ انتہائی تجسس کے ساتھ اپنے باپ سے پوچھتا ہے۔

”ابا جان! آپ قادیانی کیسے ہوئے؟“

باپ جواب میں کہتا ہے ”ہم بھارت کے شہر جالندھر کے رہنے والے تھے۔ تقسیم وطن کے بعد جڑانوالہ کے ایک گاؤں میں آگئے۔ سکھوں نے ہمارا سب کچھ لوٹ لیا۔ خالی ہاتھ یہاں پہنچے۔ میں نے اور تمہاری والدہ نے سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنائی اور اس میں رہنے لگے۔ میں دن کے وقت محنت مزدوری کی تلاش میں نکل جاتا۔ اگر کہیں کوئی کام مل جاتا تو رات کو کھانے کو کچھ مل جاتا ورنہ بھوکے ہی سو جاتے۔ ایک دن میں اسی

صفحہ 67

پریشانی میں جھونپڑی سے باہر بیٹھا تھا کہ ایک سیاہ رنگ کی کار جھونپڑی کے قریب آکر رکی۔ اس سے ایک ادھیڑ عمر شخص باہر نکلا۔ مجھے بڑی محبت سے ملا۔ میرا حال پوچھا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یہ آدمی نہیں بلکہ اللہ نے رحمت کا کوئی فرشتہ بھیج دیا ہو۔ میں نے اسے اپنی ساری بپتا سنائی۔ دو دن کے بعد وہ آدمی پھر آیا اور ہمیں ربوہ لے گیا۔ وہاں ہمیں ایک چھوٹا سا مکان رہنے کے لیے دے دیا گیا۔ پھر اس آدمی نے مجھے ادھار میں ایک تانگہ خرید کر دیا۔ میں ربوے میں تانگہ چلانے لگا اور ہر ماہ تانگہ کی ادھار لی ہوئی رقم کا کچھ حصہ ادا کرنے لگا۔ میں نے پانچ سال میں ساری رقم ادا کر دی۔ اسی دوران میں اس کار والے شخص کے کہنے پر قادیانی ہو گیا“۔

”قادیانی ہوتے وقت آپ نے کچھ سوچا نہیں؟“ فہیم الدین نے پوچھا۔

”میں نے سوچا جس شخص کا اخلاق اتنا اچھا ہے‘ اس کا دھرم بھی اچھا ہی ہو گا“ اس کے والد نے جواب دیا۔

”ابا جی! آپ نے تبدیلی مذہب کرتے ہوئے کوئی سوچ بچار نہ کی؟“

”بیٹا! میں ان پڑھ آدمی تھا۔ اس شخص کے مالی تعاون سے ممنون ہو کر قادیانی ہو گیا“۔

”امی جان! کیسے قادیانی ہوئیں؟“

”بیٹا! جب میں قادیانی ہو گیا تو یہ بھی ہو گئی۔ اس بیچاری کو کیا پتہ؟“

”ابا جی! اب قادیانیت کے بارے میں آپ کی معلومات“۔

”بیٹا! میں بالکل نہیں جانتا۔ صبح تانگہ لے کر جاتا اور شام کو تھکا ہارا واپس آتا۔ آتے ہی کھانا کھاتا اور سو جاتا۔ یہی میری زندگی تھی۔ مجھے مذہب کا کیا پتہ؟ یہی حال تمہاری امی کا ہے“۔

فہیم الدین نے ایک لمبی سرد آہ بھری اور سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور بولا۔

”ابا جی! ایمان وہ نعمت ہے جس پر دنیا کی ساری نعمتیں قربان کی جاسکتی ہیں۔ آپ نے صرف مکان اور تانگے کے عوض مذہب تبدیل کر لیا۔ آپ نے صرف ایک شخص کا مشفقانہ سلوک دیکھ کر مرزا قادیانی کو نبی مان لیا۔ اگر وہ شخص قادیانی کی بجائے عیسائی ہوتا تو آج ہم سب عیسائی ہوتے۔ اگر وہ شخص پارسی ہوتا تو آج ہم پارسی ہوتے۔ اگر وہ شخص ہندو ہوتا تو آج ہم بھی ہندو ہوتے۔ یہ تو تبدیلی مذہب کا کوئی جواز نہیں“۔

صفحہ 68

اب فہیم الدین منزل حقیقت تک پہنچنے کے لیے یوں بے چین تھا جیسے ریگستان میں کوئی بھولا بھٹکا پیاسا مسافر پانی کی تلاش میں ہو۔ وہ لاہور پہنچا اور اپنے ایک مسلمان دوست کے توسط سے ایک نامور عالم دین کے پاس حاضر ہوا اور اپنے شکوک و شبہات ان کے سامنے رکھے اور ان سے رہنمائی کی درخواست کی۔ وہ عالم دین اسے بڑی محبت سے ملے۔ بڑے تپاک سے اپنے پاس بٹھایا اور اس کے شکوک و شبہات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔

"بیٹا نبوت کا روشن سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ختم ہو گیا۔ اس کائنات ارض و سما میں سب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری نبی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں۔ قرآن پاک کی ایک سو سے زائد آیات اور دو سو دس سے زائد احادیث عقیدۂ ختم نبوت پر دلالت کرتے ہوئے موجود ہیں"۔ پھر انہوں نے قرآن و حدیث کی چند آیات اسے سنائیں۔

انہوں نے کہا "مرزا قادیانی نے انگریزوں کی ایک بھیانک سازش کو کامیاب کرنے کے لیے نبوت کا ڈرامہ رچایا۔ پھر انہوں نے مرزا قادیانی کی کتابوں سے وہ حوالہ جات پیش کیے جس میں مرزا قادیانی نے خود لکھا ہے کہ میں انگریز کا خود کاشتہ پودا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مرزا قادیانی نے ظلی و بروزی نبی ہونے کا دعویٰ کیا حالانکہ کائنات میں کوئی بھی ظلی و بروزی نبی نہیں آیا۔ پھر انہوں نے مرزا قادیانی کی کتابوں سے وہ حوالے دکھائے جس میں مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کا انکار کیا ہے اور مدعی نبوت کو کافر قرار دیا ہے۔ مرزا قادیانی کی پیشگوئیوں کے بارے میں بتایا جو گن گن کر جھوٹ ثابت ہوئیں۔ وہ گالیاں سنائیں جو مرزا قادیانی نے ملت اسلامیہ کو دی ہیں۔ مرزا قادیانی کے شراب پینے اور افیون کھانے کے حوالہ جات دکھائے۔ اللہ، رسول اللہ، کتاب اللہ کے بارے میں مرزا قادیانی کی ہرزہ سرائی اور آخر میں اسے مرزا قادیانی کی تصویر دکھائی اور بتایا کہ نبی اپنے وقت میں دنیا کا خوبصورت ترین انسان ہوتا ہے۔ لیکن اس کی تصویر دیکھئے کہ یہ کتنا کریہہ صورت ہے۔ کیا نبی اس شکل کے ہوتے ہیں؟"

فہیم الدین کے اندر سے قادیانیت کا بت ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔ اس کے دل و دماغ قادیانیت کے خلاف بغاوت بپا کر چکے تھے۔ اچانک اس نے ایک جھرجھری سی لی اور اس نے بزرگ عالم دین کے پاؤں پکڑ لیے اور ان سے استدعا کی کہ میں قادیانیت سے تائب ہونے کا

صفحہ 69

اعلان کرتا ہوں۔ مجھے ابھی مسلمان کیجئے اور اس نے بزرگ عالم دین کے ہاتھوں پر اسلام قبول کر لیا۔ وہ اسی رات ربوہ پہنچا‘ والدین اور بیوی بچوں کو اکٹھا کیا اور انہیں اپنے مسلمان ہونے کی ساری روداد سنائی۔ اس کے بعد اس نے انہیں بھی اسلام قبول کرنے کی دعوت دی‘ جسے ان سب نے قبول کر لیا۔ فہیم الدین اگلے دن ان سب کو لے کر لاہور آیا اور انہیں بھی اس بزرگ عالم دین کے ہاتھوں پر اسلام قبول کرایا۔ ربوہ میں ان کے اسلام قبول کرنے کی ہلکی ہلکی خبر پھیل چکی تھی اور فہیم الدین قادیانیوں کے انتقامی حربوں سے بھی آگاہ تھا۔ لہٰذا اس نے اپنے والدین اور بیوی بچوں کو لاہور چھوڑا اور خود رات کے وقت ٹرک لے کر ربوہ پہنچا۔ گھر کا سارا سامان ٹرک میں رکھا اور رات ہی کو چپکے چپکے ربوہ سے نکل آیا۔

جب وہ ربوہ سے بھاگ رہا تھا تو اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ جھلستی ہوئی دھوپ سے ٹھنڈی چھاؤں کی طرف جا رہا ہو۔ جیسے لٹیروں کی بستی سے وادی امن کی طرف جا رہا ہو۔ جیسے جہنم سے فرار ہو کر سوئے جنت جا رہا ہو۔

صفحہ 28
PDF 71

مردود کہیں کا

صفحہ 28
صفحہ 73

چوہدری اللہ بخش اپنے گاؤں کا نمبردار تھا۔ پانچ مربع زمین کا مالک تھا۔ خدا تعالیٰ نے پانچ ہی بیٹوں سے نوازا تھا۔ ذات کا راجپوت تھا۔ اس کی زندگی بڑے ٹھاٹھ سے گزر رہی تھی۔ پورے گاؤں میں اس کا بڑا احترام کیا جاتا تھا۔ پنچایت میں اس کے فیصلے کو آخری فیصلہ مانا جاتا تھا۔ ایک دن چوہدری اللہ بخش اپنی بڑی بیٹی سے ملنے ضلع جھنگ کے قصبہ اٹھارہ ہزاری گیا۔ جب ہفتہ بھر واپس نہ آیا تو گھر والوں کو سخت تشویش ہوئی۔ بڑا بیٹا باپ کا پتہ کرنے بہن کے گھر پہنچا اور حیرت کے مارے اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، جب اس کی بہن نے اسے بتایا کہ ابا جان تو ہمارے گھر آئے ہی نہیں۔ چوہدری کی بیٹی کا غم کے مارے برا حال ہو گیا۔ وہ روتی دھوتی فوراً بھائی کے ساتھ ماں کے گھر آ گئی۔ چوہدری کا گھر غم کدہ بنا ہوا تھا۔ بچے رو رہے تھے۔ بیوی پہ سکتہ طاری تھا۔ چوہدری کے گم ہونے کی خبر سارے گاؤں میں پھیل گئی اور سارا گاؤں چوہدری کے گھر دوڑ آیا۔ گاؤں کے بزرگ چوہدری کی گمشدگی پر مختلف خدشات کا اظہار کر رہے تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ اسے کسی نے قتل نہ کر دیا ہو لیکن دوسرا اس کی اس سوچ کو یہ کہہ کر ختم کر دیتا کہ چوہدری کی تو کسی سے کوئی دشمنی نہ تھی۔ کوئی کہتا کہ کہیں اسے اغوا برائے تاوان نہ کر لیا گیا ہو، لیکن دوسرا اس کی اس بات کو یہ کہہ کر رد کر دیتا کہ اگر کسی نے اغوا برائے تاوان کیا ہوتا تو وہ فوراً اہل خانہ سے رقم کا مطالبہ کرتا۔ گاؤں کے لوگوں کو اس بات کا سب سے شدید خدشہ تھا کہ وہ کہیں حادثہ کا شکار نہ ہو گیا ہو۔ اس لیے گاؤں کے ایک بزرگ نے آٹھ نوجوانوں کی ڈیوٹیاں لگائیں کہ وہ مختلف شہروں کے ہسپتالوں اور تھانوں سے رابطہ کریں۔ گاؤں کے نوجوان حاصل کردہ ہدایات لے کر مختلف شہروں کے ہسپتالوں اور تھانوں میں پھرتے رہے لیکن چوہدری اللہ بخش کا کوئی سراغ نہ ملا۔

چوہدری کو گم ہوئے ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ ایک روشن صبح گاؤں کے لوگ اپنے کھیتوں میں کام میں مگن تھے۔ عورتیں مردوں کا ہاتھ بٹا رہی تھیں۔ بھینسیں گاؤں کے تالاب میں نہا رہی تھیں۔ سکول جانے والے بچے اپنے بستے گلے میں لٹکائے

صفحہ 74

سکول کی جانب رواں دواں تھے کہ گاؤں کے کچھ بچے بھاگے بھاگے شور مچاتے چوہدری کے گھر داخل ہوئے۔ وہ اونچی اونچی آواز میں کہہ رہے تھے۔ ”چوہدری آگیا ہے چوہدری آگیا ہے“۔

یہ خوش کن آواز کانوں میں پڑتے ہی چوہدری کے بیوی بچے باہر کی جانب بھاگ اٹھے اور اچانک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ واقعتاً چوہدری چلا آ رہا ہے۔ مارے خوشی کے انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ چوہدری کے ساتھ ایک سفید داڑھی والا بزرگ شخص بھی چلا آ رہا ہے۔ سب بچے دوڑے اور باپ سے لپٹ گئے۔ سب کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے جو بے تحاشا بہے جا رہے تھے۔ چوہدری کی آمد کی خبر پورے گاؤں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگ اپنے کام کاج وہیں پر چھوڑ کر چوہدری کو دیکھنے کے لیے بھاگے۔ سب حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے چوہدری کو دیکھتے اور بغل گیر ہو جاتے۔ لوگ چوہدری کے ساتھ آئے بزرگ کو دیکھ کر حیراں ہوتے، جس کی عمر سو سال کے لگ بھگ تھی لیکن صحت بہت اچھی اور اعصاب مضبوط تھے اور پہلی نظر دیکھتے ہی وہ بزرگ کوئی ہوشیار آدمی محسوس ہوتا تھا۔ گھر والوں نے چوہدری سے پوچھا، ہمارا تو رو رو کر برا حال ہو گیا تم اتنے دن کہاں رہے ہو؟------ یہ بزرگ کون ہے؟ چوہدری نے کہا کہ یہ بزرگ میرے محسن ہیں اور میں کہاں رہا، اس کی تفصیل کل مجمع عام میں سناؤں گا۔

اگلے دن چوہدری نے پورے گاؤں کی دعوت کی، دیگیں پکائیں۔ چوہدری کی حویلی کا تقریباً تین کنال کا صحن لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک کرسی پر چوہدری بیٹھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ والی ایک بڑی سی کرسی پر وہ بزرگ بیٹھا تھا۔ چوہدری نے سب لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں کہاں گیا تھا اور میرے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا۔ اس نے کہا:

”میں اپنی بیٹی سے ملنے بس میں سوار اٹھارہ ہزاری جا رہا تھا۔ میری خوش قسمتی کہ بس میں میری ساتھ والی نشست پر یہ بزرگ تشریف فرما تھے۔ ان کا میرے ساتھ بیٹھنا میری فیروز بختی کا باعث بن گیا۔ انہوں نے میرے مقدر کو بدل دیا۔ انہوں نے مجھے جہنم سے بچا لیا۔ دوران سفر انہوں

صفحہ 75

نے مجھے بتایا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور ان کی قبر کشمیر میں ہے۔ احادیث نبوی میں جس مسیح موعود کے نزول کا بتایا گیا ہے، وہ مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی ہے، جس کا ظہور قادیان میں ہوا—— اور وہی امام مہدی ہیں۔ انہوں نے مجھے نصیحت فرماتے ہوئے کہا کہ اگر تم اپنے ایمان کی سلامتی چاہتے ہو تو اس مسیح موعود اور امام مہدی کے دامن سے وابستہ ہو جاؤ۔ یہ مجھے ساتھ لے کر ربوہ چلے گئے اور میں نے مسیح موعود کے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور پھر مجھے تعلیم و تربیت کے لیے ایک مہینہ ربوہ میں روک لیا گیا تاکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیمات میرے ذہن میں راسخ ہو جائیں۔ ایک مہینے میں میری تعلیم و تربیت کا بھرپور اہتمام کیا گیا۔ دوستو! یہ بزرگ میرے محسن ہیں۔ میں ساری زندگی ان کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکتا۔ اگر یہ مجھے نہ ملتے تو میری آخرت برباد ہو جاتی اور میں جہنم کا ایندھن بن جاتا۔

میں نے آج یہ محفل اس لیے سجائی ہے اور ان بزرگوں کو اس ضعیف العمری میں تکلیف دے کر اس لیے ساتھ لایا ہوں کہ مجھے تمہاری آخرت کی بھی فکر ہے۔ آخر تم سب میرے دوست اور عزیز و اقارب ہو، لہٰذا میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے تم سے التماس کرتا ہوں کہ تم مرزا قادیانی کی مسیحیت، مہدویت اور نبوت پر ایمان لے آؤ۔ اگر کوئی علمی شبہات ہوں تو جوابات کے لیے یہ بزرگ حاضر ہیں، جنہوں نے انہی آنکھوں سے مرزا صاحب کی زیارت کی ہے اور ان کے ساتھ اپنی زندگی کا ایک حصہ گزارا ہے اور یہ ان کی نبوت کے عینی شاہد ہیں"۔

گاؤں کے لوگ اگرچہ غریب تھے اور چوہدری کے کئی احسانوں کے زیر بار بھی، لیکن چوہدری کی اس کفر و ارتداد پر مبنی تقریر نے ان کے تن بدن میں آگ لگا دی۔ انہوں نے چوہدری پر بے شمار لعنتیں بھیجیں اور اس کے بزرگ پر بھی لعن طعن کی اور وہیں پر چوہدری کے سوشل بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ گاؤں کے علماء نے چوہدری کو مرتد قرار دے دیا۔ چوہدری کے بیوی بچوں نے اس سے اپنا تعلق ختم کر لیا اور اس نے

صفحہ 76

گھر سے نکال دیا۔ اس کے دوستوں نے اس سے یارانے توڑ لیے۔ وہ لوگ جو چوہدری کو کبھی اپنی پلکوں پہ بٹھاتے تھے‘ اب اس سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں تھے۔ چوہدری گھر بار چھوڑ کر اپنے مربوں پر چلا گیا اور وہاں ایک مکان بنا کر قادیانی بزرگ کے ساتھ رہنے لگا۔ وہ صبح شام قادیانی بزرگ کی خدمت میں مست رہتا۔ اس کی ٹانگیں دباتا‘ اس کی مالش کرتا‘ اس کے کپڑے انتہائی عقیدت سے اپنے ہاتھوں سے دھوتا‘ اس کے جوتے پالش کرتا‘ اس کے لیے بازار سے بہترین سے بہترین فروٹ لاتا‘ اس کے لیے اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے پکاتا جو شاید کسی رئیس کے دسترخوان پر بھی موجود نہ ہوتے ہوں۔ قادیانی بزرگ بھی کھانوں کو یوں صاف کرتا جیسے بکری چوکر کو صاف کرتی ہے۔

ایک دن چوہدری نے قادیانی بزرگ کے لیے چار مختلف کھانے پکائے اور کھانا پکانے کا حق ادا کر دیا اور قادیانی بزرگ نے کھانے کا حق ادا کر دیا۔ قادیانی بزرگ پیٹ کا مٹکا منہ تک بھرنے کے بعد چارپائی پر لمبا ہو گیا۔ آدھی رات کو اس پر ہیضے نے حملہ کر دیا اور اچانک اتنے پاخانے اور الٹیاں آئیں کہ وہ صبح سے پہلے عزرائیل کا شکار ہو گیا۔ چوہدری اس کی موت پر آٹھ آٹھ آنسو رویا۔ اس نے اس کی لاش پر یوں بین کیے جیسے اس کے پانچ بیٹے اکٹھے فوت ہو گئے ہوں۔ اس نے اس کی غلاظتیں اپنے ہاتھوں سے صاف کیں‘ اسے نہلایا اور دو گھوڑا مارکہ بوسکی کا کفن پہنایا اور اپنے ہاتھوں سے قبر کھود کر اسے گاؤں کے قبرستان میں رات کو دفن کر دیا۔ صبح اٹھتے ہی چوہدری شہر چلا گیا اور دو من تازہ گلاب کے پھول لے آیا اور سارے پھول قادیانی بزرگ کی قبر پر سجا دیے۔ قبر دیکھنے میں یوں محسوس ہوتی جیسے پھولوں کا پہاڑ ہو۔ اس کے بعد چوہدری نے ان پھولوں پر بہترین خوشبویات چھڑکیں جن سے سارا قبرستان مہک اٹھا۔ گاؤں کے چند چرواہے جب اپنی بھیڑ بکریاں چراتے ہوئے قبرستان سے گزرے تو چوہدری نے انہیں دیکھ کر ان سے کہا ”دیکھو یہ قبر مرزا صاحب کے ”صحابی“ کی قبر ہے۔ دیکھو یہ کتنی حسین اور دلنشین ہے۔ دیکھو اس سے کتنی خوشبوؤں کے قافلے اٹھ رہے ہیں۔ یہ قبر اوپر سے جتنی خوبصورت ہے‘ اندر سے بھی اتنی ہی خوبصورت ہے۔ جس طرح اس قبر کے اوپر سے خوشبو کی ہوائیں اٹھ

صفحہ 77

رہی ہیں، اسی طرح یہ قبر اندر سے بھی مہک رہی ہے۔ مجھے تو یہ قبر دیکھ کر جنت کی یاد آ رہی ہے۔ بھئی جنت کی یاد کیوں نہ آئے اس میں ایک جنتی جو سو رہا ہے۔ آؤ جس نے دنیا میں جنت دیکھنی ہے اس کی قبر کو دیکھ لو۔۔۔۔ اور جو جنت میں جانا چاہتا ہے اس صاحب قبر سے تعلق پیدا کر لے"۔

چوہڑوں نے یہ باتیں آ کر گاؤں کے چوپال پر سنا دیں اور پھر یہ خبر پورے گاؤں میں گھوم گئی۔ رات کو گاؤں کے بڑوں کا اجلاس ہوا اور انہوں نے اس صورت حال پر خوب غور کیا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی کہ مذہبی نقطۂ نظر سے کوئی غیر مسلم مسلمانوں کے قبرستان میں اپنا مردہ دفن نہیں کر سکتا۔ ہمارے گاؤں کے قبرستان میں ایک قادیانی مرتد کو دفن کر دیا گیا ہے۔ برائے مہربانی اس کو فوری طور پر قبرستان سے نکالا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے درخواست منظور کرتے ہوئے فوری طور پر قادیانی مردے کو مسلمانوں کے قبرستان سے نکالنے کا حکم جاری کر دیا۔ بڑی تعداد میں گاڑیوں میں سوار پولیس گاؤں کے قبرستان میں پہنچ گئی۔ انتظامیہ کے اعلیٰ افسر بھی ساتھ تھے۔ پورا گاؤں اور اردگرد کے دیہاتوں سے ہزاروں مسلمان قبرستان میں پہنچے ہوئے تھے۔ چوہدری بھی لاش وصول کرنے کے لیے وہیں کھڑا تھا۔ وہ سخت غصہ میں تھا لیکن کچھ کر نہ سکتا تھا۔ اس نے غصہ میں گاؤں کے لوگوں سے کہا:

"دیکھنا ابھی میرے پیر و مرشد اور مرزا غلام احمد قادیانی کے "صحابی" کی قبر کھلے گی اور قبر سے ایسی خوشبوئیں نکلیں گی کہ فضائیں معطر ہو جائیں گی۔ خوشبو سے لدی ہوائیں ماحول پر ایک مستی طاری کر دیں گی۔ بدبختو! جنت تو تمہارے مقدر میں نہیں، آج دنیا میں جنت کی ٹھنڈی ہواؤں کو محسوس کر لو۔ جہنمیو! تمہاری آنکھوں کو تو بہشت بریں دیکھنا نہیں آج دنیا میں ہی جنت کا ٹکڑا دیکھ لو"۔

موقعہ پر موجود تھانیدار نے چوہدری کو خاموش کرایا اور اس نے چار چوہڑوں کو حکم دیا کہ قبر کو کھول دو۔ قبر کھلنے کا منظر دیکھنے کے لیے لوگ قبر پر دیوانہ وار گر رہے تھے۔ سینکڑوں لوگ اردگرد کے درختوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ چوہڑوں نے قبر سے مٹی ہٹائی۔ سامنے اب قبر پر پتھر کی سلیں پڑی تھیں۔ جب قبر سے پہلی سل ہٹائی

صفحہ 78

گئی تو بھک کر کے بدبو کا ایک ایسا بھبھوکا نکلا کہ لوگوں کے دماغ پھٹنے لگے۔ شدت بدبو سے لوگوں کی آنکھوں سے پانی نکل آیا۔ درجنوں لوگ قے کرنے لگے۔ لوگ قبر سے دور دوڑنے لگے۔ ہر طرف سے توبہ توبہ کی صدا اٹھنے لگی۔ کئی لوگ خوف خدا سے رونے لگے۔ کمزور دل لوگ قبرستان سے بھاگنے لگے۔ چوہدری کا بھی بدبو سے برا حال تھا۔ وہ بار بار قے کر رہا تھا۔ بدبو کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے پانی نکل کر اس کے رخساروں پر بہہ رہا تھا اور شدت بدبو سے بچنے کے لیے اس نے اپنی ناک کو رومال سے زور سے پکڑ رکھا تھا۔ بدبو اور تعفن اتنا شدید تھا کہ چوہڑوں نے لاش نکالنے سے انکار کر دیا، لیکن جب ڈی سی صاحب نے ہر چوہڑے کو پانچ پانچ سو روپیہ انعام دینے کا وعدہ کیا تو چوہڑے راضی ہو گئے۔ انہوں نے جب باقی سلیں ہٹائیں تو قبر سے بدبو کے ایسے ہولناک طوفان اٹھ رہے تھے کہ گاؤں کی عورتیں اپنے گھروں میں اس بدبو سے بے حال ہو رہی تھیں۔ چوہدری ابھی تک ڈھیٹ بنا قبر کے کنارے کھڑا تھا۔ چوہدری نے جب قبر میں جھانک کر دیکھا تو پوری قبر انتہائی خوفناک کیڑوں سے بھری پڑی تھی، جو بجلی کی سرعت سے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ جب چوہڑوں نے لاش کو قبر سے باہر نکالا تو چوہدری سمیت سینکڑوں لوگوں نے دیکھا کہ کیڑے نصف لاش ہضم کر چکے تھے۔ کیڑے لاش کی ناک سے داخل ہو کر منہ سے باہر نکل رہے تھے۔ کیڑوں نے ساری لاش میں اس طرح سوراخ کر رکھے تھے جیسے کسی ماہر کاریگر نے ڈرل مشین سے سوراخ کیے ہوں۔ آدھی سے زیادہ زبان کھائی جا چکی تھی۔ پورے ہونٹ کیڑوں کی غذا بن چکے تھے اور نسواری دانت باہر نکلے ہوئے تھے۔ جسم اس طرح کالا ہو چکا تھا جیسے گرم سلاخوں سے داغا گیا ہو۔ پوری لاش سے انتہائی بدبودار پانی نچڑ رہا تھا۔ چوہڑوں نے لاش کو قبر سے نکالنے کے بعد ایک بڑی سی بوری میں بند کر دیا اور پھر تھانیدار نے چوہدری کو مخاطب کر کے کہا:

”چوہدری! یہ پڑی تمہاری ملکیت! اسے وصول کر لو اور جلد از جلد اسے اپنی زمین میں دفن کر لو کیونکہ بیماریاں پھیلنے کا سخت خطرہ ہے“۔

چوہدری ساکت و جامد کھڑا تھا۔۔۔۔ گویا چوہدری نہیں کوئی بت کھڑا ہے۔۔۔۔ تھانیدار نے اسے دو مرتبہ ہلا کر بلایا لیکن وہ خاموش رہا۔۔۔۔ اور پھر جب

صفحہ 79

تھانیدار نے اسے زور سے ہلایا تو وہ دھڑام سے زمین پر گر گیا---- وہ سجدے کی حالت میں تھا---- وہ خدا سے چیخ چیخ کر معافی مانگ رہا تھا---- اس کے پورے جسم پر لرزا طاری تھا---- تھانیدار نے جب اسے اٹھایا تو وہ کہہ رہا تھا:

"میرے کریم مالک! تو باپ سے زیادہ کریم ہے---- تو ماں سے زیادہ رحیم ہے---- میں تیری رحمت پہ صدقے واری---- میں تیرے کرم پہ قربان---- تو نے میری ہدایت کے لیے کتنا بڑا سامان کیا---- اگر میں اپنی بقیہ زندگی کی ساری ساعتیں تیرے حضور سجدے میں گزار دوں تب بھی تیرا حق ادا نہ ہوگا---- میں نے تجھ سے بغاوت کی لیکن تو نے مجھ پر رحمت کی---- میں نے تجھ سے جفا کی لیکن تو نے مجھ سے وفا کی---- میں نے تجھے چھوڑا لیکن تو نے اپنا دست کرم مجھ سے نہ کھینچا---- میں فاتر العقل قادیانیت کے جہنم میں کود گیا---- لیکن تیری رحمت کے ہاتھوں نے مجھے اٹھا کر دوبارہ گلشن اسلام میں پہنچا دیا"۔

پھر چوہدری نے غضبناک آنکھوں سے لاش والی بوری کو دیکھا اور بوری کو پوری قوت سے ٹھڈا مارتے ہوئے کہا:

"مردود کہیں کا"۔

اور پھر آتشیں لہجے میں تھانیدار سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا:

"میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اسے ربوہ لے جاؤ یا کتوں کے آگے ڈال دو"۔

صفحہ 28
PDF 81

وفا

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ

صفحہ 28
صفحہ 83

وہ دن بھر کا تھکا ماندہ رات کو گھر پہنچا تو سامنے کمرے میں لگے گھڑیال نے بارہ دفعہ ٹن ٹن بجا کر اس کا استقبال کیا۔ وہ اپنے بیڈ روم میں داخل ہوا۔ بستر پر پہنچتے ہی اس نے اپنا جسم بیڈ پر یوں گرا دیا جیسے کوئی تھکا ہارا مزدور منزل پہ پہنچ کر سر سے بھاری گٹھڑی زمین پر پھینک دیتا ہے۔

اس میں اتنی بھی ہمت نہ تھی کہ وہ کپڑے بدل سکے۔ اس کا انگ انگ درد کر رہا تھا۔ اس نے کمرے کی لائٹ بجھائی اور بستر پر دراز ہو گیا۔ اس نے اپنی آنکھوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ دیے اور اعصاب کو سکون دینے کی کوشش کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ نیند کی آغوش میں پہنچ چکا تھا۔ رات کے پچھلے پہر وہ خواب دیکھتا ہے کہ وہ مردہ ہے۔ اس کے والدین، بہن بھائی اور بچے اس کی چارپائی کے گرد گھیرا ڈالے چیخ و پکار کر رہے ہیں۔ وہ ان کی دلدوز آوازیں سن رہا ہے، لیکن جواب نہیں دے سکتا۔ اس کا منہ کپڑے سے زور سے باندھ دیا جاتا ہے کہ کہیں منہ ٹیڑھا نہ ہو جائے اور اس کی دونوں ٹانگیں ٹخنوں کے قریب سے رسی سے باندھ دی جاتی ہیں تاکہ ٹانگیں کھل نہ جائیں۔ وہ سنتا ہے کہ اس کے گھر کے ٹیلی فون سے اس کے عزیز و اقارب کو اس کی موت کی اطلاع دی جا رہی ہے۔ وہ یہ بھی سنتا ہے کہ اس کے بھائی شہر میں رہنے والے عزیز و اقارب کو اس کی موت کی خبر سنانے جا رہے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ محلے کی عورتیں گھر میں اکٹھا ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اچانک وہ مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے آواز سنتا ہے کہ کوئی منادی اعلان کر رہا ہے:

"حضرات! ایک ضروری اعلان سنئے، چوہدری افضل حسین قضائے الٰہی سے انتقال کر گیا ہے۔ اس کا جنازہ ٹھیک چار بجے اس کے گھر سے اٹھایا جائے گا۔ تمام حضرات سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ جنازہ میں شرکت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں"۔

وہ یہ خوفناک اعلان سن کر چیخنا چاہتا ہے لیکن قوت گویائی سلب ہو چکی ہے۔ وہ اٹھ کر بھاگنا چاہتا ہے لیکن اعضا حکم ماننے سے بغاوت کر چکے ہیں۔ پھر اس نے سنا کہ اس کا چچا اپنے بیٹے سے کہہ رہا ہے کہ غسال اور کفن سینے والے درزی کا انتظام کرو۔ پھر اس کا ماموں اس کے چچا سے کہہ رہا تھا کہ پہلے محلے کے مولوی صاحب سے یہ تو پوچھ لو کہ کفن کو کپڑا کتنا لگے گا۔ پھر اس کے ماموں نے اس کے چچا سے پوچھا کہ کیا قبر کا بندوبست ہو گیا ہے؟ اس کے

صفحہ 84

چچا نے کہا کہ قبر کا بندوبست تو میں صبح ہی کر آیا تھا اور اپنے سامنے ہی کھدائی شروع کرا دی تھی۔

اسے پتہ چلتا ہے کہ باہر دریاں بچھ گئی ہیں۔ محلے دار دریوں پر بیٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ اندرون شہر سے آنے والے عزیز و اقارب بھی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس نے سنا کہ ملتان سے اس کی بہن کا فون آیا ہے اور اس نے تاکیداً کہا ہے کہ میں فوراً آ رہی ہوں۔ میرے آنے سے پہلے میرے بھائی کا جنازہ نہ اٹھایا جائے۔

اچانک اس کے کانوں میں ایک خوفناک آواز پڑتی ہے:

”میت کو غسل کے لیے تیار کرو اور غسل کا سارا سامان لے آؤ“۔ یہ غسال کی آواز تھی۔ غسال کے حکم پر چند نوجوان اس کی چارپائی اٹھا کر گھر کے صحن کے ایک کونے میں رکھ دیتے ہیں اور پردے کے لیے ارد گرد چادریں تان دیتے ہیں۔ سب سے پہلے اس کا بھائی اس کی کلائی سے اس کی محبوب ”راڈو“ گھڑی اتارتا ہے، جو اس نے اپنے ایک دوست سے دبئی سے منگوائی تھی۔ پھر اس کے ہاتھوں سے سونے کی انگوٹھی اتاری جاتی ہے جو اس کی ساس نے اسے اس کی منگنی کے دن پہنائی تھی۔ اس کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے اور اس کی جیب سے ہزاروں روپے اور کاغذات نکالے جاتے ہیں۔ وہ حسرت سے اس ڈرامہ کا ٹکٹ دیکھتا ہے، جس کی اس نے آج ہی ایڈوانس بکنگ کرائی تھی اور کل دوستوں کے ساتھ الحمرا آرٹ سینٹر میں وہ ڈرامہ دیکھنا تھا۔ اس کی قمیض اتار دی جاتی ہے۔ اس کی خوبصورت نسواری رنگ کی پینٹ جو اس نے آج ہی پہنی تھی اس کے جسم سے جدا کر دی جاتی ہے۔ اب اس کے جسم پر فقط ایک جانگھیا رہ جاتا ہے۔ وہ غسال سے چیخ چیخ کر کہنا چاہتا ہے کہ خدارا! میرا جانگھیا نہ اتارنا، میں بالکل ننگا ہو جاؤں گا، لیکن اس کی زبان تو ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔ غسال کے بے رحم ہاتھ بڑھتے ہیں اور اس کا واحد تن پوش جانگھیا بھی اتر جاتا ہے۔ اس ننگ دھڑنگ کو اٹھا کر نہانے والے پھٹے پر لٹا دیا جاتا ہے۔ پھر پانی اور بالٹی کی آواز آتی ہے۔ اچانک ٹھنڈے پانی کا ایک ڈونگا اس کے جسم پر گرتا ہے۔ وہ کانپنا چاہتا ہے لیکن کانپ نہیں سکتا۔ پھر دھڑا دھڑ اس پر پانی کے ڈونگے گرنے لگتے ہیں۔ پھر غسال اپنے سخت ہاتھوں سے اس کے جسم پر صابن ملنے لگتا ہے۔ اسے الٹا سیدھا کرتا ہے۔ کبھی کسی پہلو لٹاتا ہے اور کبھی کسی پہلو۔ نہلانے کے بعد اسے کفن پہنایا جاتا ہے۔ اس کے نتھنوں میں روئی ٹھونس دی جاتی ہے، عطر کا چھڑکاؤ ہوتا ہے۔ کفن پر کافور بکھیر دیا جاتا ہے اور اسے اٹھا کر جنازے

صفحہ 85

والی چارپائی پر لٹا دیا جاتا ہے اور چارپائی کو اٹھا کر گھر کے صحن میں رکھ دیا جاتا ہے۔ سینکڑوں مرد و زن اس کا چہرہ دیکھنے کے لیے اس کی طرف لپکتے ہیں۔ چیخوں کا ایک طوفان اٹھتا ہے‘ آنسوؤں کا ایک سیلاب بہہ جاتا ہے۔ اس کی بیوی اور بہنیں اس کے اوپر گر جاتی ہیں۔ اس کے والدین اور بچے رو رو کر نڈھال ہو جاتے ہیں۔ اچانک مسجد سے پھر ایک اعلان ہوتا ہے:

حضرات! افضل حسین کا جنازہ تیار ہے‘ جو احباب جنازے میں شامل ہونا چاہتے ہوں وہ مرحوم کے گھر فوراً پہنچ جائیں"۔

چار پانچ نوجوان جنازے کی چارپائی کو اٹھانے کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ گھر کی عورتیں مزاحم ہوتی ہیں لیکن وہ کلمہ شہادت کی ایک زور دار صدا لگا کر جنازے کی چارپائی اٹھا لیتے ہیں۔ ادھر جنازہ اٹھتا ہے‘ ادھر چیخوں کی خوفناک آندھی سے ماحول تھرا اٹھتا ہے۔ وہ یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا تھا۔ جب جنازہ گھر سے نکلا تو اس نے دیکھا کہ اس کی نئی سوزوکی گاڑی جو اس نے پچھلے مہینے ہی خریدی تھی باہر گلی میں کھڑی ہے۔ بازار سے جب اس کا جنازہ گزر رہا تھا تو اسے محلے کی وہ دکانیں نظر آ رہی تھیں جہاں وہ بچپن میں گھر سے اچھل کود کرتا سودا سلف لینے کے لیے آیا کرتا تھا۔ راستے میں اسے وہ کھیل کا میدان بھی نظر آیا جہاں وہ بچپن میں دوستوں کے ساتھ گلی ڈنڈا اور فٹ بال کھیلا کرتا تھا۔ راہ میں اسے اپنا سکول نظر آیا جہاں ہر سال پاس ہونے پر اس کے والد صاحب اس کو پھولوں کے ہار پہنایا کرتے تھے۔ سفر کرتے کرتے جنازہ‘ جناز گاہ میں پہنچ گیا۔ یہ جناز گاہ اس نے پہلے بھی کئی دفعہ دیکھی تھی‘ لیکن ہر دفعہ جنازہ کسی اور کا ہوتا تھا اور وہ نماز جنازہ پڑھنے کے لیے آتا تھا۔ لیکن آج جنازہ اس کا اپنا تھا اور دوسرے جنازہ پڑھنے کے لیے آئے تھے۔ جنازہ زمین پر رکھ کر لوگ وضو کے لیے چلے گئے۔ جونہی لوگ واپس آئے‘ فضا میں ایک گرجدار آواز گونجی:

"تمام بھائی نماز جنازہ کی نیت سن لیں"۔ یہ نماز جنازہ پڑھانے والے مولوی صاحب کی آواز تھی۔

انہوں نے کہا:

"چار تکبیر نماز جنازہ‘ فرض کفایہ‘ ثناء واسطے اللہ تعالیٰ کے‘ درود واسطے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے‘ دعا واسطے اس حاضر میت کے‘ منہ طرف قبلہ شریف کے‘ پیچھے اس امام کے"۔ اس کے بعد امام صاحب نے نماز جنازہ کا طریقہ بتایا۔ اس نے سوچا کیا ان لوگوں کو نماز جنازہ اور اس کی نیت نہیں آتی۔ لیکن جلد ہی اس کے ضمیر نے جواب دیا کہ تجھے بھی تو یہ

صفحہ 86

سب کچھ نہ آتا تھا۔ تو بھی تو لوگوں کے جنازے ایسے ہی پڑھا کرتا تھا۔ اس جواب سے اس کی خوب تسلی ہو گئی۔

نماز جنازہ شروع ہونے سے قبل جب صفیں تیار ہو چکی تھیں، اچانک اس کے خمیدہ کمر والد صاحب مجمع کے سامنے آئے اور انہوں نے کہا کہ اگر میرے مرحوم بیٹے نے کسی کا قرض دینا ہو تو وہ اپنا قرض مجھ سے لے سکتا ہے۔ اس نے دیکھا کہ ادھر اس کے والد صاحب نے یہ اعلان کیا ادھر اس کا دوست منشی خاں جس سے اس نے پچاس ہزار روپے لینے تھے اور کئی دفعہ رقم طلب کرنے پر وہ اسے آج کل پر ٹرخا دیتا تھا۔ صفوں سے باہر نکلا اور پوری آواز سے چلا کر سارے مجمع کو مخاطب کر کے کہنے لگا: ”میں نے افضل حسین سے پچاس ہزار روپے لینے تھے، لیکن میں اس کا دوست ہونے کے ناتے اسے معاف کرتا ہوں“۔

منشی خاں کا یہ اعلان اس پر دوسری موت طاری کر گیا اور وہ سوچتا رہ گیا کہ شقی القلب دنیا موت کے ساتھ بھی ہنسی مذاق سے نہیں چوکتی۔ نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے اور جنازہ سوئے قبرستان روانہ ہو جاتا ہے۔ قبر کے کنارے چارپائی رکھ دی جاتی ہے۔ لوگ قبر کے گڑھے کو دیکھ کر اللہ اللہ کی صدائیں بلند کر رہے ہیں۔ جنازہ کی چارپائی کی ایک سائیڈ کو کھولا گیا۔ ایک باہمت نوجوان آگے بڑھا اور اس نے اس کی کمر میں ایک مضبوط کپڑا ڈال کر اسے درمیان سے اٹھایا۔ دو نوجوانوں نے اس کے سر اور پاؤں پکڑے۔ کلمہ شہادت کا ایک زور دار ورد ہوا اور وہ لوگوں کے بازوؤں کے سہارے زمین سے زیر زمین جا چکا تھا۔ قبر نے اسے اپنے پیٹ میں لٹا لیا تھا۔ اس کا منہ قبلہ رخ کیا گیا۔ پھر اس نے اپنے محلے کے ایک بزرگ، جسے وہ چاچا کرم دین کے نام سے پکارا کرتا تھا، کی آواز سنی:

”بچو! وقت کم ہے، شام کے سائے بڑھ رہے ہیں۔ جلدی سے سلیں رکھو اور مٹی ڈالو“۔

یہ آواز سن کر اس کے جسم میں ایک زلزلہ آگیا۔ اس کا اہل دنیا کے ساتھ یہ آخری مصافحہ تھا۔ قبر پر سلیں رکھ دی گئیں۔ پھر یکدم لوگوں نے قبر پر مٹی گرانی شروع کردی۔ قبر میں ہولناک اندھیرا چھا گیا۔ وہ زمین کے باہر والے انسانوں کو دیکھ تو نہ سکتا تھا لیکن ابھی کسی سوراخ سے اسے ان کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ اس وقت اس کے دل میں سخت حسرت پیدا ہوئی کاش ان آوازوں میں اس کے بیوی بچوں کی آواز بھی ہوتی۔ قبر کو مٹی سے مکمل ڈھانپ دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی باہر سے آنے والی آوازیں خاموش ہو گئیں۔

صفحہ 87

قبر میں اس قدر اندھیرا چھا گیا کہ اسے قبر کی دیواریں بھی دکھائی نہ دیتی تھیں۔ اسے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اپنے ارد گرد اور اوپر نیچے سانپ اور بچھو نظر آرہے تھے اور اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے ان میں سے کوئی ابھی اس پر اپنا زہریلا ڈنک آزمائے گا اور اسے جلا کر خاک سیاہ بنا دے گا۔ اچانک ایک خوفناک آواز آتی ہے اور قبر اسے اٹھا کر باہر پھینک دیتی ہے۔ وہ سخت حیران ہوتا ہے کہ اس قبرستان کی ساری قبروں نے اپنے مردوں کو قبروں سے باہر پھینک دیا ہے۔ سارے قبروں والے خوف کے عالم میں تھر تھر کانپ رہے ہیں کہ انہیں حکم ہوتا ہے کہ حشر کے میدان کی طرف بھاگو۔ جہاں تم سے تمہارے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ سب سرپٹ حشر کے میدان کی طرف اس سرعت و تیزی سے بھاگتے ہیں کہ تھوڑی دیر میں وہ حشر کے میدان میں موجود ہوتے ہیں۔

میدان حشر میں ان گنت انسان جمع ہیں۔ لوگ سخت گھبراہٹ میں ہیں اور ریوڑوں کی صورت میں ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔ سورج کی تمازت سے انسانی جسموں سے چربی پگھل رہی ہے۔ زبانیں سوکھ کر کانٹا ہو گئی ہیں۔ شدت پیاس سے ہونٹ اور زبانیں پھٹ چکی ہیں۔ بھوک کا یہ عالم ہے کہ انسان کہنیوں تک اپنا گوشت کھا چکے ہیں۔ انسانی رشتے کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ چکے ہیں۔ کوئی کسی کا غمگسار اور پرسان حال نہیں۔ ماں باپ اولاد کو دیکھ کر بھاگتے ہیں اور اولاد ماں باپ کو دیکھ کر دوڑ جاتی ہے کہ کہیں کوئی ہم سے نیکی نہ مانگ لے۔ ہر انسان نفسی نفسی پکار رہا ہے۔ زمین اس قدر گرم ہے کہ اس پر پاؤں نہیں ٹکتے۔ ہر انسان اپنے گناہوں کے مطابق پسینے میں ڈوبا ہوا ہے۔

اچانک وہ دیکھتا ہے کہ ایک بہت بڑا گروہ میدان حشر کی ایک سمت کو بھاگا جا رہا ہے۔ وہ اس تیزی سے بھاگ رہا ہے جیسے بکریوں کا ریوڑ حملہ آور شیر کو دیکھ کر بھاگتا ہے‘ لیکن اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ گروہ کسی سکون گاہ کی طرف جا رہا ہے۔ وہ اس گروہ کے ایک فرد کو روک کر پوچھتا ہے کہ تم لوگ کدھر جا رہے ہو؟ اسے بتایا جاتا ہے کہ یہاں سے کچھ فاصلے پر شافع محشر جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دربار لگا ہے اور یہ پریشان حال لوگ شفاعت رسولؐ حاصل کرنے جا رہے ہیں۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم حوض کوثر پر تشریف فرما ہیں اور اپنے پیاسے امتیوں کو جام کوثر بھر بھر کر پلا رہے ہیں اور جو ایک جام پی لے اسے پھر دوبارہ پیاس نہیں لگے گی۔ اس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ پروانہ شفاعت حاصل کر کے اور جام کوثر پی کر سوئے جنت جا رہے ہیں۔ اب ان پر کوئی غم نہیں‘ وہ

صفحہ 88

شاداں و فرحاں ہیں، ان کے چہرے ستاروں سے زیادہ تابناک ہیں اور ان کے قلوب اطمینان کی دولت سے مالا مال ہیں۔ جنت کی بہاریں ان کے لیے چشم براہ ہیں۔ رضوان جنت ان کے استقبال کا منتظر ہے۔ یہ فرحت بخش منظر دیکھ کر غم سے ڈوبا ہوا اس کا دل خوشی سے اچھل پڑا اور وہ شفاعت رسول کا پروانہ اور جام کوثر حاصل کرنے کے لیے دوڑنے لگا، لیکن اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی غیر مرئی طاقت نے اسے روک لیا ہے۔ اس کے قدموں میں کسی نے میخیں ٹھونک دی ہیں۔ اسے یوں محسوس ہوا کہ اس کا ضمیر اس کی راہ میں ہمالیہ پہاڑ بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔ اس کا ضمیر ایک شعلہ بیاں مقرر کی طرح بے تکان بولنے لگا۔ اس کا ضمیر کہنے لگا:

”اے بے وفا و بے مروت انسان! کس منہ سے شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہا ہے۔ تیرا ان سے کیا تعلق؟ تیرا ان سے کیا واسطہ؟ تیرا ان سے کیا رشتہ؟ تجھے ان سے کیا محبت؟ تجھے ان سے کیا چاہت؟ تیری زندگی میں جب تو جوان تھا، مرزا قادیانی نے شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پہ ڈاکہ ڈالا---- تو نے کیا کیا؟

مرزا قادیانی اور اس کے بدمعاش ساتھیوں نے ساقی کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہرزا سرائی کی تو نے کیا کیا؟

سرور کائنات کے قلب اطہر پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید میں مرزا قادیانی نے تحریف و تبدل کیا---- تو نے کیا کیا؟

مرزا قادیانی نے اپنی بکواسیات کو احادیث رسولؐ کہا---- تو نے کیا کیا؟ مرزا قادیانی نے اپنے مرتد ساتھیوں کو صحابہ رسولؐ کہا---- تو نے کیا کیا؟ مرزا قادیانی نے اپنے چیلوں چانٹوں کو اصحاب بدر کہا---- تو نے کیا کیا؟ پیارے نبیؐ کے پیارے ابوبکرؓ و عمرؓ کو گالیاں دی گئیں---- تو نے کیا کیا؟ محبوبؐ خدا کی لاڈلی بیٹی فاطمۃ الزہراؓ کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی بیٹی کو سیدۃ النساء کہا گیا---- تو نے کیا کیا؟

سید الکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی بیوی کو ”ام المومنین“ کہا گیا---- تو نے کیا کیا؟

محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے شہر مکہ و مدینہ کے مقابلے میں

صفحہ 89

مرزا قادیانی کے منحوس شہر ”قادیان“ کو مکہ و مدینہ کہا گیا۔۔۔۔ تو نے کیا کیا؟ تیرے سامنے اسلام لٹتا رہا۔۔۔۔ قرآن لٹتا رہا۔۔۔۔ رسول رحمت کے امتی مرتد ہو کر قادیانی بنتے رہے اور تو دولت سمیٹنے میں مست رہا۔۔۔۔ تیرے کانوں پہ کبھی جوں تک نہ رینگی۔۔۔۔ اتنے بڑے حادثوں نے تیرے دل پر کبھی چوٹ نہ لگائی۔۔۔۔ اتنے بڑے سانحوں نے کبھی تجھے متفکر نہ کیا۔۔۔۔ اب بتا تیرا رسول سے کیا تعلق؟۔۔۔۔ تیرا رسول سے کیا ناتا؟۔۔۔۔

وہ حشر کے میدان میں اپنے ضمیر کے سامنے لاجواب کھڑا ہے۔۔۔۔ ضمیر کے سوالوں نے اسے گھائل کر کے رکھ دیا ہے۔۔۔۔ ضمیر اس کو ایک زور دار دھکا مارتا ہے اور کہتا ہے چل اب جہنم کو۔۔۔۔ جہاں کے لپکتے شعلے تیرے منتظر ہیں۔۔۔۔ جہاں کے بچھو اور سانپ تیرے انتظار میں اپنے ڈنک لیے بیقراری سے لوٹ رہے ہیں۔۔۔۔ یہ ہولناک منظر دیکھ کر اس کے منہ سے ذبح ہوتے بکرے کی طرح ایک درد ناک چیخ نکلتی ہے۔۔۔۔ جس کی ہولناکی سے وہ خواب سے بیدار ہو جاتا ہے۔۔۔۔ وہ بری طرح کانپ رہا تھا۔ اس کا جسم پسینے سے شرابور تھا۔۔۔۔ تھوڑے اوسان بحال ہوئے تو اس نے سنا کہ محلے کی مسجد سے صبح کی اذان کی آواز آ رہی تھی۔

حضرت بلالؓ کا جانشین کہہ رہا تھا:

اشہد ان محمد رسول اللہ اشہد ان محمد رسول اللہ

وہ آنکھیں کھول کر دیوانہ وار ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے۔ اچانک اس کی نظر سامنے لگے کیلنڈر پر پڑتی ہے، جس پر جلی حروف سے لکھا تھا۔

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
صفحہ 28
PDF 91

جھوٹا

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ

ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ فون 2329

صفحہ 28
صفحہ 93

شکر داس آج بہت خوش تھا، اس کی خوشیوں کا سمندر بیکراں تھا۔ آج اسے محکمہ نہر کی جانب سے ملازمت کا لیٹر ملا تھا۔ بحیثیت سینئر کلرک لاہور میں اس کی تعیناتی ہو چکی تھی۔ اب اسے فوری طور پر اپنا آبائی شہر لدھیانہ چھوڑ کر لاہور جانا تھا۔ وہ مسرت بھری سیٹیاں بجاتا ہوا اپنے ساتھ لے جانے والا ضروری سامان اکٹھا کر رہا تھا۔ اگلے دن بذریعہ ٹرین اس کی لاہور روانگی تھی۔ وہ ماں باپ کا سب سے بڑا بچہ تھا اور ان کی آنکھوں کا تارا تھا۔ ماں نے بھیگی آنکھوں کے ساتھ اپنی دعاؤں کی چھاؤں میں اسے روانہ کیا۔ وہ لاہور پہنچا تو سیدھا اپنے دفتر گیا اور اپنی آمد کی رپورٹ کی۔ آفس سپرنٹنڈنٹ نے اسے اسی دن سے کام شروع کرنے کا حکم دیا اور اس نے کرسی پر بیٹھ کر اپنے دفتری کام کا افتتاح کر دیا۔ لاہور میں شکر داس کا کوئی بھی جاننے والا نہ تھا۔ اس لیے اسے پہلے چند دن ہوٹل میں گزارنے پڑے۔ پھر اسے محکمہ کی طرف سے کوارٹر دے دیا گیا۔ اس کے کوارٹر کی اگلی لائن میں اس کا سپرنٹنڈنٹ بھی رہتا تھا، جو دفتر میں سپرنٹنڈنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک زبردست قادیانی مبلغ بھی تھا۔

ایک دن قادیانی سپرنٹنڈنٹ نے اپنی بیوی کو کہا کہ ہمارے دفتر میں ایک ہندو لڑکا بھرتی ہوا ہے، جو مبالغے کی حد تک خوبصورت اور انتہائی وجیہہ ہے۔ لاہور شہر میں نیا نیا آیا ہے، یہاں اس کی کسی سے جان پہچان نہیں۔ کسی اچھے گھر کا فرد معلوم ہوتا ہے کیوں نہ اس پر محنت کر کے اسے قادیانی بنا لیا جائے۔ پہلے اسے اپنے اخلاق کے آئینے میں اتار کر اپنا گرویدہ کیا جائے پھر اس کے ذہن کو قادیانیت کی غذا دی جائے اور آہستہ آہستہ اس کے دماغ پر قادیانیت کی حکمرانی قائم کر دی جائے۔ سپرنٹنڈنٹ کی بیوی کو اپنے خاوند کی تجویز تو بہت پسند آئی لیکن اس نے اس میں تھوڑی سی ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں پتہ ہے، اپنی رضیہ جوان ہو چکی ہے اور مجھے اس کے رشتے کی سخت فکر ہے، کیوں نہ اسے دام محبت میں پھنسا کر سول میرج کر لی جائے۔ کچھ دیر بعد اولاد کے جنجال میں پھنس کر خود ہی قادیانی ہو جائے گا۔ سپرنٹنڈنٹ جو اپنی بیوی سے زیادہ کٹر قادیانی تھا اس نے غصہ میں اپنی بیوی کی بات کو

صفحہ 94

رد کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی بیٹی کی شادی کسی ہندو سے نہیں کر سکتے، تم بے فکر رہو‘ میں اسے بہت جلد قادیانی بنالوں گا اور ایک تیر سے دو شکار ہو جائیں گے۔

اگلی صبح سپرنٹنڈنٹ نے ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت شنکر داس کو اپنے پاس بلایا اور کہا: ”بیٹا! تم اپنا وطن چھوڑ کر پردیس میں آئے ہو۔ تمہیں ماں باپ اور بہن بھائیوں کی یاد ستاتی ہوگی لیکن تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، ہم تمہارے ماں باپ ہیں، ہمارے بچے تمہارے بہن بھائی ہیں، جب بھی تمہارا دل اداس ہو، بے دھڑک ہمارے ہاں چلے آؤ، ہمارا گھر تمہارا گھر ہے اور تم ہمارے فیملی ممبر ہو اور ہاں ۔۔۔ آج شام کا کھانا تمہیں ہمارے ساتھ کھانا ہو گا۔ ضرور آنا میں انتظار کروں گا“۔

شنکر داس مسکرایا اور اس نے دعوت قبول کر لی۔ شام کو وہ سپرنٹنڈنٹ کے گھر پہنچ چکا تھا۔ سپرنٹنڈنٹ نے ایک پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا تھا۔ کھانے کے بعد سپرنٹنڈنٹ نے شنکر داس سے اپنی بیوی اور بچوں کا تعارف کرایا اور پہلی ہی ملاقات میں آپس میں بہت بے تکلفی ہو گئی۔ دعوت سے فارغ ہونے کے بعد شنکر داس جب گھر پہنچا تو وہ سپرنٹنڈنٹ اور اس کے اہل خانہ سے بہت متاثر تھا۔ اسے پردیس میں اپنے گھر کی محبت ملی تھی۔ اسے غریب الوطنی میں ماں باپ کا پیار ملا تھا اور اسے اپنے گھر سی مہک محسوس ہوئی تھی۔

سپرنٹنڈنٹ دعوت کی سیڑھی کے ذریعے شنکر داس کے دل میں اتر چکا تھا اور اس کے دل میں اپنے اعتماد کا ٹھپہ لگا چکا تھا۔ پھر سپرنٹنڈنٹ گاہے گاہے اسے چائے اور کھانے پر بلاتا رہا۔ ایک دن سپرنٹنڈنٹ نے اپنی بیوی سے کہا، ”اب شنکر داس کافی حد تک ہمارے اخلاق کے آئینے میں اتر چکا ہے اور وہ ہمیں اپنا محسن اور غم خوار سمجھتا ہے، لہٰذا اب کیوں نہ اس پر قادیانی تبلیغ کا عمل شروع کیا جائے؟“

”ہاں ہاں، کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر ہمیں اسے قادیانی بنانے کا کام شروع کر دینا چاہیے“۔ سپرنٹنڈنٹ کی بیوی نے مفکرانہ انداز میں کہا۔ دو دن بعد سپرنٹنڈنٹ نے شنکر داس کو اپنے ہاں چائے پر مدعو کیا۔ چائے کے دور کے بعد گفتگو کا دور شروع

صفحہ 95

ہوا۔ شکار پر گھات لگائے حملہ کرنے والے مگرمچھ کی طرح بیٹھتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ نے اس سے کہا:

”بیٹا! یہ بھولی بھالی دنیا بڑی دیر سے مسیح موعود اور امام مہدی کا انتظار کر رہی ہے۔ دنیا والوں کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ امام مہدی اور مسیح موعود دو شخصیات نہیں بلکہ ایک ہی شخصیت ہے اور اس محترم شخصیت کا نام مرزا غلام احمد قادیانی ہے‘ جو قادیان میں تشریف لائے اور اپنا فریضہ ادا کر کے قادیان ہی میں انتقال کر گئے اور ان کی قبر بھی قادیان میں ہے“۔

پھر سپرنٹنڈنٹ نے مرزا قادیانی کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے کہا: ”مرزا غلام احمد قادیانی صاحب اللہ کے نہایت برگزیدہ نبی تھے۔ اس دنیا میں ان کے ہاتھوں لاکھوں معجزات رونما ہوئے۔ لاکھوں بھٹکے ہوئے انسانوں کو ان کے ذریعے ہدایت کی روشنی نصیب ہوئی۔ وہ اللہ کے اتنے محبوب نبی تھے کہ اللہ پاک نے ان کی ذات میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کی صفات جمع کر رکھی تھیں۔ انہوں نے وہ وہ معرکے سر کیے جو کسی نبی سے نہ ہوسکے۔ بیٹا شنکر داس! ہمیں بھی سچائی اور حقانیت سے محبت کرنی چاہیے اور کائنات کے اس عظیم سچے اور حق پرست انسان سے محبت کرنی چاہیے اور اس سے ایک طاقتور تعلق پیدا کرلینا چاہیے“۔

شنکر داس مسکرا مسکرا کر سپرنٹنڈنٹ کی باتیں سنتا رہا۔ جس سے سپرنٹنڈنٹ یہ تاثر لیتا رہا کہ اس کی باتیں شنکر داس کے دل میں اتر رہی ہیں اور اس کے چہرے کی مسکراہٹ اس بات کی تصدیق کر رہی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ خوشی سے پھول کر کپا ہو رہا تھا۔ وہ بہت خوش تھا کہ اس کی گفتگو کے ابتدائی تیر عین اپنے ہدف پر لگے ہیں۔ شنکر داس کے جانے کے بعد اس نے اپنی بیوی کو خوشخبری دی کہ شنکر داس نے بہت خوشی خوشی میری باتیں سنی ہیں اور میری باتیں اس کے چہرے پر مسکراہٹ کے پھول کھلاتی رہی ہیں‘ بس عنقریب شکار اپنے قفس میں مقید ہوگا۔

شنکر داس جب گھر پہنچا تو سارے دن کی تھکاوٹ کی وجہ سے وہ جاتے ہی چارپائی پر لیٹ گیا اور سوچ کی لمبی وادیوں میں سیاحت کے لیے نکل گیا۔ اس کے

صفحہ 96

کانوں کے پردوں پر سپرنٹنڈنٹ کے جملے زور زور سے ٹکرا رہے تھے۔ لدھیانہ کا باسی ہونے کی وجہ سے وہ مرزا قادیانی کو جانتا تھا کہ وہ نبوت کا جھوٹا مدعی تھا۔ کیونکہ لدھیانہ کے مسلمان علماء نے سب سے پہلے مرزا قادیانی پر کفر کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ اس نے اپنے باپ دادا کی زبانوں سے وہ عظیم داستانیں بھی سنی تھیں جو علمائے لدھیانہ نے جھوٹی نبوت کی سرکوبی میں رقم کی تھیں۔ اس لیے اس کے دل میں بھی اس جھوٹے نبی کے خلاف ایک نفرت تھی۔

چار پانچ روز بعد سپرنٹنڈنٹ نے پھر شنکر داس کو چائے پر بلایا‘ بسکٹ اور کیک پیسٹری سے تواضع کی۔ چائے کے بعد اس شکاری نے اپنی گفتگو کے پھندے اپنے شکار کے گلے میں ڈالنے شروع کر دیے۔ مرزا قادیانی کے معجزات کی کہانیاں سنائیں۔ اس کے اخلاق و کردار کے قصے سنائے۔ اس کی شرافت و صداقت کا تذکرہ کیا۔ اس کے زہد و تقویٰ کی مثالیں دیں۔ اس کی پیشین گوئیاں بیان کیں۔ سپرنٹنڈنٹ بے تکان بول رہا تھا اور شنکر داس اس کے ہر جملے کے جواب میں ہلکی ہلکی مسکراہٹ دے رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ سپرنٹنڈنٹ کو حوصلہ اور اطمینان عطا کر رہی تھی اور وہ خوشی سے نہال ہو رہا تھا کہ شکار جال میں آ چکا ہے۔ گھر پہنچ کر سپرنٹنڈنٹ نے اپنی بیوی کو ساری روداد سنائی اور بتایا کہ شنکر داس میری ہر بات کے آخر میں مسکراتا ہے اور اس کی مسکراہٹ اس کی اندرونی کیفیت کی نمائندہ ہوتی ہے اور میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ لڑکا‘ پچھتر فیصد قادیانی ہو چکا ہے‘ بس تھوڑے دنوں کی بات ہے کہ وہ قادیانی بھی ہو جائے گا اور رضیہ کا رشتہ بھی ہو جائے گا۔

ایک ماہر شاطر کی طرح تقریباً ایک ہفتہ کے بعد سپرنٹنڈنٹ نے شنکر داس کو پھر چائے پر بلایا۔ گرم گرم چائے کی چسکیوں کے دوران قادیانیت کی چسکیاں بھی چلتی رہیں۔ وہ بسکٹوں کے ساتھ ساتھ اسے قادیانی تعلیمات کے بسکٹ بھی کھلاتا رہا۔ شنکر داس جی جی کر کے سنتا رہا اور مسکراہٹیں بکھیرتا رہا‘ جس سے سپرنٹنڈنٹ کے دل میں خوشی سے شہنائیں بجتی رہیں۔ رات زیادہ ہونے پر اس نے شنکر داس کو بڑے تپاک سے رخصت کیا اور جاتے ہوئے اسے ایک لفافہ میں قادیانی تعلیمات پر مبنی پمفلٹ اور چند کتابیں دیں اور کہا کہ بیٹا انہیں خوب غور سے پڑھنا۔ اب ہفتہ بھر کے بعد تم

صفحہ 97

سے دوبارہ ملاقات ہوگی اور آئندہ کی نشست میں جی بھر کر باتیں ہوں گی۔ اس لٹریچر کو پڑھ کر اگر تمہارے دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوں تو انہیں کسی کاغذ پر نوٹ کر لینا تاکہ ان نکات پر تفصیلی گفتگو ہو سکے۔

شنکر داس کے چلے جانے کے بعد سپرنٹنڈنٹ نے اپنی بیوی کو ساری صورت حال سے آگاہ کیا اور کہا:

”ہاتھی گزر گیا ہے‘ اب صرف دم باقی ہے اور تم دیکھنا کہ میں کس ماہرانہ انداز سے یہ دم بھی گزار دوں گا۔ میں نے ہر طرف سے اس کا محاصرہ کر لیا ہے اور دلائل کے تیروں کی یلغار سے اس کی سوچوں کو محبوس کر لیا ہے۔ اس کا دل میری ایک مٹھی میں اور دماغ میری دوسری مٹھی میں ہے۔ اس کے سر پر میرے احسانات کی بھاری گٹھڑی اور پاؤں میں میری افسری کی بھاری زنجیریں ہیں‘ اس لیے اب میں چاہتا ہوں کہ اسے مرزا قادیانی کا کلمہ پڑھا کر قادیانی بنا لیا جائے اور جو کیس آج سے دو ماہ قبل ہم نے شروع کیا تھا اپنی مراد کو پہنچے اور تیری مراد بھی پوری ہو“۔

بیوی نے خاوند کی باتوں سے اتفاق کیا اور کہا کہ آئندہ ملاقات آخری ہو اور اس ملاقات میں شنکر داس ہندو صف سے نکل کر قادیانی صف میں کھڑا ہو۔

آخر وہ دن آگیا اور شنکر داس چائے پینے کے لیے سپرنٹنڈنٹ کے گھر میں موجود تھا۔ چائے کی محفل کے بعد گفتگو کی محفل جمی۔ سپرنٹنڈنٹ نے شنکر داس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

”بیٹا! دنیا کی زندگی چند روزہ ہے اور آخرت کی زندگی دائمی۔ ہمیں اپنی حیات مستعار کے چند دن گزار کر اللہ کے دربار میں حاضر ہونا ہے اور اپنے عمل کا جواب دینا ہے۔ ایمان کے بغیر اعمال کا کوئی وجود نہیں۔ عقیدہ صحیح نہیں تو بڑے سے بڑا عمل بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ بیٹا! اگر ایمان ہوگا تو بہشت کی بہاریں چشم براہ ہوں گی اور اگر ایمان نہیں ہوگا تو جہنم کی شعلہ زن آگ اسے ہڑپ کرنے کے لیے بیتاب ہوگی۔ بیٹا! تمہاری آخرت سنوارنے کے لیے میں آج تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ تم اللہ کے نبی اور رسول مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان لے آؤ اور ان کی نبوت کا اقرار کر لو‘

صفحہ 98

کیونکہ مرزا صاحب پر ایمان لانا سب نبیوں پر ایمان لانے کے مترادف ہے۔ مرزا صاحب کی تعلیمات پر ایمان لانا قرآن و حدیث کی تعلیمات پر ایمان لانا ہے اور مرزا صاحب کی تعلیمات کا اقرار کرنا اسلام کا اقرار کرنا ہے۔ میرے پیارے بیٹے! زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں‘ معلوم نہیں یہ سانسوں کی ڈور کب ٹوٹ جائے‘ اس لیے فوری طور پر مرزا صاحب کی نبوت پر ایمان لے آؤ اور ان کے نبی ہونے کا اقرار کر لو“۔

سپرنٹنڈنٹ کے اس فیصلہ کن سوال پر شنگر داس حسب معمول پھر مسکرایا اور بالکل خاموش رہا۔

”میرے بیٹے! بولتے کیوں نہیں؟“ سپرنٹنڈنٹ نے پوچھا۔ شنگر داس پھر خاموش رہا۔

”بیٹے! کیا میری باتوں کی تمہیں سمجھ نہیں آئی؟“ سپرنٹنڈنٹ نے پوچھا۔

”بالکل اور ہر طرح سے سمجھ آئی“۔ شنگر داس نے جواب دیا۔

”تو پھر مرزا صاحب پر ایمان لے آؤ“۔

”مرزا صاحب پر ایمان تو نہیں لا سکتا اور کبھی بھی نہیں لا سکتا“۔

”میں دو مہینے تم سے گفتگو کرتا رہا۔ کیا میری باتوں کو تمہارے ذہن نے قبول نہیں کیا“۔

”بالکل نہیں“۔

تو پھر میری گفتگو کے دوران تم مسلسل کیوں ہنستے رہتے تھے؟“ سپرنٹنڈنٹ نے غصہ سے پوچھا۔

”ہنسی تو مجھے اس بات پر آتی تھی کہ ہم نے آج تک سچے نبی کو نہیں مانا اور تم جھوٹے کو منوا رہے ہو“۔ شنگر داس نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔

صفحہ 28
PDF 100

اور سنچری مکمل ہو گئی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ

صفحہ 101

وہ دو دن اور دو راتوں کے بعد واپس لوٹا ہے۔ اس کا جسم تھکن سے چور ہے۔ اس کے اعضاء اس سے سکون طلب کر رہے ہیں۔ اس کی آنکھیں اس سے نیند کا سوال کر رہی ہیں۔ اس کی ابھرتی ہوئی جوانی‘ وجیہ چہرہ اور کندھے پر لٹکی ہوئی کلاشنکوف دیکھ کر مرشد اقبالؒ کا وہ رزمیہ کلام پڑھنے کو جی چاہتا ہے

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی!
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو‘ وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان

وہ ایک پہاڑ کی چھوٹی سی کھوہ میں آکر بیٹھ گیا ہے۔ جہاں وہ بیٹھا ہے‘ اس سے دو فٹ کے فاصلے پر پتھر کی نوک سے ۸۸ کا ہندسہ لکھا ہوا ہے۔ وہ آتے ہی اپنے ہاتھ سے ۸۸ کا ہندسہ مٹا کر ۹۳ کا ہندسہ لکھ دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کشمیری گوریلا فائٹر نے پہلے ۸۸ ہندو جہنم واصل کیے تھے‘ اب تازہ شکار کرنے کے بعد ان کی تعداد ۹۳ ہو گئی ہے۔ وہ

صفحہ 102

پندرہ بیس منٹ ستانے کے بعد پہاڑ کی کھوہ سے باہر نکلا تاکہ اردگرد کا جائزہ لے سکے۔ باہر کشمیر اپنے فطرتی حسن کا جادو جگا رہا تھا۔ اس کے قریب ہی ایک شفاف پانی کی ندی گنگناتی ہوئی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔ سارا دن روشنیوں کی بزم سجا کر سورج ایک سرخ گولے کا روپ دھار کر مغرب کی گود میں سونے کے لیے جا رہا تھا۔ چرواہے اپنی مسحور کن مخصوص آواز میں بھیڑ بکریوں کو پہاڑی چراگاہوں سے اپنی جانب بلا رہے تھے۔ صبح سویرے رزق کی تلاش میں نکلے ہوئے پرندے ٹولیوں کی صورت میں واپس اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ آسمان کی وسعتوں میں کہیں کہیں سفید آوارہ بادل تیر رہے تھے۔

مغرب کی نماز کا وقت ہوا تو شیر خان نے قریبی پہاڑی ندی سے وضو کیا اور زمین پر ایک چھوٹی سی چادر بچھا کر اپنے رب کے دربار میں حاضر ہو گیا۔ نماز سے فراغت کے بعد شیر خان نے اپنے ہاتھ دعا کے لیے پھیلا دیے اور اپنے مالک سے راز و نیاز کی گفتگو کرنے لگا۔ دعا کے بعد اس نے اپنے ہاتھ چہرے پر پھیرے ہی تھے کہ اسے دور سے کوئی شخص اپنی جانب دوڑتا ہوا نظر آیا۔ اسے آتا دیکھ کر شیر خان چیتے کی طرح چوکنا ہو گیا اور اپنی کلاشنکوف کی نالی اس کی طرف سیدھی کر لی۔ لیکن قریب آنے پر اسے دیکھ کر شیر خان کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور اس نے آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا اور اسے زور سے سینے سے لگا لیا۔ آنے والا اس کا مجاہد ساتھی تھا، جو اس کے لیے ایک اہم پیغام لے کر آیا تھا۔ آنے والے مجاہد نے اسے بتایا کہ ہمیں ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ بھارتی فوجیوں کی مدد کے لیے اسرائیلی کمانڈوز کشمیر پہنچ گئے ہیں اور وہ ڈل جھیل کے کنارے ایک ہاؤس بوٹ میں مقیم ہیں۔ آج ہمارا ان پر شب خون مارنے کا پروگرام بن چکا ہے۔ تم رات بارہ بجے فلاں مقام پر پہنچ جانا۔ کمانڈر کی ہدایات کے بعد ٹھیک رات اڑھائی بجے حملے کا پروگرام ہے۔ پیغامبر پیغام دے کر چلا گیا۔

عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد شیر خان تھوڑی دیر کے لیے سو گیا۔ وہ ٹھیک بارہ بجے بتائے ہوئے ٹھکانے پر پہنچ چکا تھا۔ وہاں پر پہلے سے پہنچے ہوئے مجاہد اس کا انتظار کر رہے تھے۔ سب مجاہد ایک دوسرے سے بغلگیر ہوئے، ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی، پھر باقاعدہ میٹنگ کا آغاز ہوا۔ سارے پروگرام کو حتمی شکل دی گئی۔ کمانڈر نے سب مجاہدین کو حکم دیا کہ وہ دو نفل صلوۃ حاجت ادا کریں۔ سب نے صلوۃ حاجت ادا کی۔ اس کے بعد کمانڈر نے ایک ولولہ انگیز اور جہاد پرور تقریر کی، جس نے مجاہدین میں ایک نیا جوش اور جذبہ پیدا کر دیا۔ اس کے

صفحہ 103

بعد کمانڈر نے اپنی مہم کی کامیابی کے لیے ایک رقت انگیز دعا مانگی، جس سے مجاہدین کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ سوا دو بجے سات مجاہدین پر مشتمل یہ قافلہ ڈل جھیل کی طرف روانہ ہو گیا۔ ڈل جھیل تک پہنچنے کے لیے مجاہدین نے ایک انتہائی محتاط راستہ اختیار کیا۔ وہ پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے تھے۔ ان کے راستے کی سب سے بڑی مشکل ایک چھوٹی اور عارضی فوجی چوکی تھی، جہاں پر چھ ہندو فوجی تعینات تھے۔ مجاہدین نے دور سے چوکی کو دیکھا تو انہیں کوئی فوجی نظر نہ آیا۔ آخر شیر خان کی بہادری اور جنگی مہارت کو دیکھتے ہوئے کمانڈر نے اس کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ چپکے چپکے جائے اور چوکی کا جائزہ لے کر آئے۔

شیر صفت شیر خان نے بصد خوشی اس چیلنج کو قبول کیا اور کلاشنکوف کندھے پر لٹکائے چیتے کی پھرتی سے اپنے ہدف کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہ پھونک پھونک کر قدم اٹھاتا بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ جب چوکی تقریباً دو سو فٹ کے فاصلے پر رہ گئی، تو وہ کہنیوں کے بل رینگتا ہوا چوکی کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔ چوکی کے قریب جا کر وہ دیکھتا ہے کہ وہاں ایک بلب روشن ہے، جس کی روشنی میں اسے تین ہندو فوجی صاف نظر آ رہے تھے۔ تینوں کے ہاتھوں میں شراب کی بوتلیں تھیں اور وہ جام سے جام ٹکراتے ہوئے غٹا غٹ شراب پی رہے تھے۔ شیر خان چند قدم مزید آگے بڑھا اور اس نے دیکھا کہ تینوں ہندو فوجی بری طرح شراب میں بدمست ہو چکے ہیں اور انہیں اپنے آپ کا ہوش نہیں۔ ہندو فوجیوں کے پاس بہت سی شراب کی خالی بوتلیں بکھری پڑی تھیں، جو بلب کی روشنی میں چمک چمک کر اپنے وجود کا اظہار کر رہی تھیں۔ اتنی زیادہ تعداد میں خالی بوتلوں سے شیر خان نے اندازہ لگایا کہ باقی تین ہندو فوجی شراب کے نشہ سے چور ہو کر اندر کمرے میں پڑے ہوں گے۔ جوش میں آ کر اس کا جی چاہا کہ وہ ایک ہی یلغار میں ان سارے ہندو فوجیوں کو واصل جہنم کر دے لیکن امیر کی اطاعت نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔

وہ انتہائی احتیاط سے واپس پلٹا اور کمانڈر کو ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔ کمانڈر نے سب کو بلایا اور فوجی چوکی پر چپکے سے بجلی کی سرعت سے حملہ کرنے کا پروگرام بنایا۔ مجاہدین احتیاط کا دامن تھامے چپکے چپکے چوکی کی طرف بڑھے اور چوکی کے قریب پہنچ کر انہوں نے رینگنا شروع کر دیا۔ کمانڈر، جس کا نام خالد تھا، مجاہدین کی قیادت کر رہا تھا۔ چوکی کے بالکل قریب پہنچ کر کمانڈر خالد نے ہندو فوجیوں اور گرد و نواح کا جائزہ لیا، پھر اس نے ہاتھ کے اشارہ

صفحہ 104

سے حملہ کا سگنل دیا۔ مجاہدین طوفانی لہروں کی طرح بپھرے ہوئے ان پر لپکے اور ”آناً فاناً“ انہیں دبوچ لیا۔ تین مجاہدین نے کمرے میں پڑے شراب کے نشے میں دھت فوجیوں کو قابو کر لیا اور پھر ان سب کے منہ اور آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی گئیں اور ان کے ہاتھ الٹی طرف باندھ دیئے گئے اور پھر شیر خان نے بے آواز پستول سے ان مردودوں کو جہنم واصل کر دیا۔ اب شیر خان کا سکور 99 ہو چکا تھا۔ مجاہدین نے فوجیوں سے حاصل کردہ اسلحہ قریب ہی ایک محفوظ مقام پر چھپا دیا تاکہ آپریشن سے واپسی پر اسے وہاں سے حاصل کر سکیں۔

اب مجاہدین کا رخ اپنے اصل ہدف ڈل جھیل کی طرف تھا۔ وہ ڈل جھیل کے قریب پہنچ گئے اور عقاب کی آنکھوں سے ہاؤس بوٹ کا جائزہ لینے لگے اور پھر بجلی کی پھرتی سے ہاؤس بوٹ کو گھیرے میں لے لیا۔ کمانڈر خالد نے اپنی گرجدار آواز میں ہاؤس بوٹ میں چھپے ہوئے کمانڈوز کو ہتھیار پھینکنے کا حکم دیا، لیکن اندر سے کوئی جوابی آواز نہ آئی۔ اسرائیلی کمانڈوز کو گرفتار کرنے کے لیے جونہی شیر خان ہاؤس بوٹ میں داخل ہونے لگا تو ایک اسرائیلی کمانڈو نے اس پر کلاشنکوف کا فائر کھول دیا۔ گولیاں اس کے جسم کو چھلنی کرتی ہوئی نکل گئیں اور وہ خون میں نہا گیا، لیکن شیر خان کی فوری جوابی فائرنگ سے اسرائیلی کمانڈو بھی وہیں ڈھیر ہو گیا۔۔۔ اور پھر سب مجاہدین کی جوابی فائرنگ سے خاموش فضا خوفناک تڑتڑ سے گونج اٹھی۔ اسرائیلی کمانڈوز کی جانب سے فائرنگ بند ہو گئی اور وہ ہاؤس بوٹ کے ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گئے۔ فضا میں پھر کمانڈر خالد کی گرجدار آواز گونجی اور اس نے اسرائیلی کمانڈوز کو خبردار کیا کہ اگر تم نے خود کو ہمارے حوالے نہ کیا تو ہم ابھی دستی بموں سے ہاؤس بوٹ کے پرخچے اڑا دیں گے۔ یہ اعلان سن کر اسرائیلی کمانڈوز نے خود کو مجاہدین کے حوالے کر دیا۔

اسرائیلیوں کی کل تعداد آٹھ تھی، جن میں سے ایک شیر خان کے ہاتھوں ہلاک ہو چکا تھا۔ مجاہدین نے انتہائی عجلت سے ان کمانڈوز کے ہاتھ الٹے باندھے اور ان کے منہ اور آنکھوں پر پٹیاں باندھ دیں اور انہیں ہانکتے ہوئے اپنے ایک خفیہ مقام پر لے آئے۔ دو ساتھیوں نے اپنے ہاتھوں میں زخمی شیر خان کو اٹھایا ہوا تھا، جو شدید زخمی تھا۔ خفیہ مقام پر پہنچتے ہی مجاہدین نے اسرائیلی کمانڈوز سے پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مجاہدین اس بات پر سخت حیرت میں تھے کہ ان کے قیدی اسرائیلیوں کی طرح گورے چٹے نہیں بلکہ گندمی اور سانولے رنگ کے ہیں۔ ان کے نقوش اور چہرے مہرے بھی اسرائیلیوں جیسے نہیں۔ اس

صفحہ 105

کے علاوہ وہ عربی بھی نہیں بول سکتے تھے‘ صرف انگریزی میں بات چیت کرتے تھے۔ مجاہدین کی ڈانٹ ڈپٹ پر انہوں نے بتایا کہ وہ پنجابی اور اردو بڑی روانی سے بولتے ہیں۔ مجاہدین نے ان سے کہا کہ تم اسرائیلی معلوم نہیں ہوتے۔۔۔ پھر ہمارے مخبر نے تمہیں اسرائیلی کیوں کہا؟ ہلکے تشدد کے بعد انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ قادیانی ہیں اور ان کا تعلق پاکستان سے ہے۔ وہ اسرائیلی فوج میں باقاعدہ بھرتی ہیں اور انہوں نے گوریلا ٹریننگ اسرائیل سے ہی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت اسرائیلی فوج میں ایک ہزار قادیانی بھرتی ہیں۔ انہوں نے مجاہدین کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ بھٹو دور میں قومی اسمبلی میں یہ ہنگامہ خیز آواز اٹھی تھی اور مولانا ظفر احمد انصاری نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ اسرائیل میں چھ سو قادیانی فوجی بھرتی ہیں۔ مولانا نے اس سلسلہ میں قومی اسمبلی کے ممبران کو دستاویزی ثبوت بھی دکھائے تھے۔ انہوں نے مجاہدین کو بتایا کہ بھارت کی مدد کے لیے کئی اور محاذوں پر بھی قادیانی جاسوسی اور فوجی خدمات پر مامور ہیں۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں اعلیٰ عہدوں پر جو قادیانی بیٹھے ہیں‘ ہمارے ان کے ساتھ مسلسل رابطے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عملاً اسرائیلی کمانڈوز کی بجائے انہیں صرف اسی لیے بھیجا گیا ہے کہ وہ شکل سے ہندوستانی معلوم ہوتے ہیں اور کوئی شخص ہمیں چہرے کی شناخت سے اسرائیلی نہیں کہہ سکتا۔ مجاہدین نے اسرائیلی کمانڈوز سے مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے انہیں اپنے ہیڈ کوارٹر بھجوا دیا۔

خون میں نہایا ہوا شیر خان اپنی زندگی کے آخری سانس لے رہا تھا۔ اس کے خون کی خوشبو اردگرد کی فضا کو معطر کر رہی تھی۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب بانکپن اور مسکراہٹ تھی۔ اتنا خون بہنے کے باوجود اس کی آنکھوں میں جگنو چمک رہے تھے۔ وہ انتہائی خوش تھا کہ وہ اپنی مہم مکمل کر چکا ہے۔ رات اپنی مسافت ختم کر چکی تھی۔ موذن نے صبح کی اذان دی۔۔۔ جب موذن نے اللہ اکبر۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔ کی پکار دی۔۔۔ تو اپنے اللہ کا نام سن کر شیر خان کے چہرے پر اک مسکراہٹ پھیل گئی اور اس لطیف مسکراہٹ کے ساتھ ہی اس کی لطیف روح قفس عنصری سے پرواز کر کے سوئے جنت روانہ ہو گئی۔۔۔ وہ جنت۔۔۔ جہاں حوریں اس کے انتظار میں بے قرار ہوئی جا رہی تھیں۔۔۔ جہاں جنت کی بہاریں اس کے لیے چشم براہ تھیں۔۔۔ جہاں کوثر و تسنیم بہتی ہیں۔۔۔

صفحہ 106

جہاں مشک و عنبر سے لبریز ہوائیں چلتی ہیں--- جہاں جنتیوں کے لیے تختوں پر گاؤ تکیے بچھائے جاتے ہیں--- جہاں ہر خواہش لب پر آنے سے پہلے پوری ہو جاتی ہے--- جہاں شہیدوں کا استقبال کیا جاتا ہے---

جب تک جلیں نہ دیپ شہیدوں کے لہو سے
سنتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا

پہاڑ کی کھوہ میں شیر خان کے مقدس ہاتھوں سے ۹۳ کا ہندسہ لکھا ہوا موجود تھا--- لیکن شیر خان تو سات مزید کافر جہنم رسید کر کے اپنی سینچری مکمل کر چکا تھا۔ کاش کوئی وہاں جا کر ۹۳ کے عدد کو مٹا کر ۱۰۰ لکھ دے تاکہ پہاڑ کو بھی پتہ چل جائے کہ اس کی دھرتی کا بیٹا اپنی سینچری مکمل کر چکا ہے۔

صفحہ 28
PDF 108

تیری تصویر دیکھ کر!

صفحہ 109

گاؤں سے فرسٹ کلاس میں بی۔اے کرنے کے بعد اکبر خان ایم۔اے کرنے کے لیے لاہور منتقل ہو گیا۔ اسے پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا اور اس نے یونیورسٹی ہوسٹل میں ہی رہائش اختیار کرلی۔ وسیع و عریض یونیورسٹی کے سہانے ماحول میں جلد ہی اس کی طبیعت رچ بس گئی اور وہ انہماک کے ساتھ اپنی پڑھائی میں مصروف ہو گیا۔ اتفاق کی بات کہ ہوسٹل میں اس کے ساتھ والے کمرے میں ایک قادیانی نوجوان رہتا تھا۔ اس چالاک اور شاطر قادیانی نوجوان نے اکبر خان کو اپنے جال میں پھنسانے کا منصوبہ بنایا اور ایک طے شدہ پروگرام کے تحت اس نے اکبر خاں سے گہری دوستی پیدا کرلی اور اس کے دل میں اپنے اعتماد کی جگہ بنالی۔ اب اس قادیانی نوجوان نے اکبر خاں کو دھیرے دھیرے قادیانیت کی تبلیغ کرنا شروع کردی۔ پھر اسے قادیانی لٹریچر پڑھانا شروع کیا۔ وہ اسے کئی دفعہ لاہور کے قادیانی مرکز میں لے کر گیا، جہاں اس کی پر تکلف دعوتیں کی جاتیں اور اسے تحائف سے نوازا جاتا۔ قادیانی نوجوان اسے کئی دفعہ ربوہ بھی لے کر گیا جہاں اسے بڑے بڑے قادیانیوں سے ملایا گیا، مختلف شعبہ جات کا دورہ کرایا گیا اور بہشتی مقبرہ کی سیر کرائی گئی۔

وقت اپنے متحرک پہیوں کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہا۔ لیل و نہار کی گردش جاری رہی اور اکبر خان کے دل و دماغ پر قادیانی تعلیم کی یلغاریں ہوتی رہیں۔ ایک سائنسی انداز سے اس کی برین واشنگ ہوتی رہی۔ جب اس ارتدادی تبلیغ کو ایک سال بیت گیا تو اکبر خان قادیانی مذہب قبول کر چکا تھا، لیکن اس کے والدین کو خبر نہ ہوئی کہ ان کے ساتھ کتنا بڑا سانحہ ہوچکا ہے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ ان کا بیٹا جو لاہور تعلیم کے زیور سے مالا مال ہونے گیا تھا، زیور ایمان سے بھی محروم ہوچکا ہے۔ انہوں نے اپنے جس لخت جگر کو روشنیوں کے شہر بھیجا تھا، وہ ارتداد کے اندھے کنوئیں میں گرچکا ہے۔ اس دوران اکبر خان گھر آتا جاتا رہا، لیکن اس نے اس خبر کی بھنک کسی کے کانوں میں نہ پڑنے دی۔

دو سال بعد جب وہ ایم۔اے کا امتحان دینے کے بعد یونیورسٹی سے فارغ ہو کر گھر واپس لوٹا تو اپنے دیگر سامان کے ساتھ قادیانی لٹریچر اور کتابوں کے بنڈل بھی لے آیا۔ ایک دن اس کے والد کی جب قادیانی لٹریچر پر نظر پڑی تو وہ چونک اٹھے۔ انہوں نے ساری قادیانی کتابوں پر

صفحہ 110

سرسری نظر ڈالی تو وہ حیران و پریشان تھے کہ ان کے بیٹے کے پاس یہ مہلک کتابیں کہاں سے آ گئیں۔ ابھی وہ اسی پریشانی میں غرق تھے کہ باہر سے اکبر خان بھی آگیا۔

”یہ کتابیں کس کی ہیں؟“ باپ نے بیٹے سے پوچھا۔

”میری ہیں“۔

”تم یہ کتابیں کہاں سے لائے ہو؟“

”لاہور سے“۔

”تمہارا ان کتابوں سے کیا تعلق؟“

”میں ان کا مطالعہ کرتا ہوں“۔

”تمہاری ان سے کیا دلچسپی؟“

”میری ان سے مذہبی دلچسپی ہے“۔

”کیا تم قادیانی ہو چکے ہو؟“ باپ نے حیرت سے پوچھا۔

”جی ہاں! میں قادیانی مذہب قبول کرچکا ہوں“ اکبر خان نے دو ٹوک جواب دیا۔

بوڑھا باپ سر پکڑ کے بیٹھ گیا، جیسے اس کے سر پر کسی نے بھاری ہتھوڑا دے مارا ہو۔ باپ بیٹے کی تلخ گفتگو کا شور سن کر سارا گھر اکٹھا ہوگیا۔ اکبر خاں کا باپ زور زور سے چلا رہا تھا۔

”میرے گھر سے ابھی دفع ہو جاؤ۔ میں کسی مرتد کا وجود اپنے گھر میں برداشت نہیں کر سکتا“۔

اکبر خان کے بھائیوں نے باپ کے جذبات کو ٹھنڈا کیا اور باپ کو سمجھایا کہ اسے گھر سے نکالنے سے معاملہ مزید بگڑ جائے گا۔ وہ مزید پکا ہو جائے گا اور قادیانی بھی خوش ہوں گے کہ اچھا ہوا گھر والے چھوٹے! ہم علمائے کرام کو بلا کر بھائی کی ذہنی صفائی کرائیں گے۔ اس کے شکوک و شبہات دور کریں گے اور انشاء اللہ اسے ارتداد کے خارستان سے نکال کر دوبارہ اسلام کے گلستان میں لائیں گے۔ باپ نے اس حد تک بیٹوں کی بات سے اتفاق کیا۔ مختلف جید علمائے کرام کو بلایا گیا اور اکبر خاں سے ان کی ملاقاتیں کرائی گئیں۔ سوال و جواب کی طویل نشستیں ہوتی رہیں۔ رد قادیانیت پر علمائے کرام کے کاٹ دار دلائل سے اکبر خاں کٹ کٹ اور بکھر بکھر جاتا۔ جب لاجواب ہو جاتا تو ہر بار یہ کہہ کر اپنا دامن چھڑا لیتا کہ اس کا

صفحہ 111

جواب میں اپنے مربی سے پوچھ کر دوں گا۔ بحث و مباحثہ کی نشست میں علمائے کرام نے اثبات ختم نبوت اور رد قادیانیت پر سینکڑوں دلائل دیے۔ مرزا قادیانی کی شخصیت کے پرخچے اڑائے۔ اصلی قادیانی کتب سے حوالہ جات پیش کیے، لیکن ہر دلیل اور حوالہ کے جواب میں وہ صرف یہ کہتا ”میں اپنے مربی سے پوچھ کر اس کا جواب دوں گا“۔

یوں محسوس ہوتا کہ اس کا ذہن بند کر دیا گیا ہے اور وہ قادیانیت کے علاوہ کچھ بھی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اس کی ضد، ہٹ دھرمی اور ”میں نہ مانوں“ کو دیکھ کر اس کے والد نے بحث و مناظرہ بند کرا دیے اور اسے جوتے مار کر گھر سے نکال دیا، جائیداد سے عاق کر دیا اور سارے رشتہ داروں نے اس مرتد کا بائیکاٹ کر دیا۔

اکبر خاں گھر سے نکلا اور سیدھا اپنے یونیورسٹی کے دوست کے پاس ربوہ پہنچا۔ اس نے اسے سینے سے لگایا۔ اکبر خاں نے اسے ساری آپ بیتی سنائی۔ اس کے دوست نے ٹھنڈی آہیں بھر بھر کر اس کی ساری کہانی سنی۔ اس کی ساری کہانی سننے کے بعد اس کے دوست نے کہا کہ یہ تمہارا امتحان تھا اور تم اس امتحان میں کامیاب و کامران رہے۔ میری طرف سے تمہیں بہت بہت مبارک ہو۔ تم نے جتنی بھی مصیبتیں برداشت کیں، وہ صرف راہ حق کے لیے تھیں۔ تم نے بہن بھائی، والدین، عزیز واقارب، گھر بار اور دولت قربان کرکے یہ ثابت کر دیا کہ ایمان کے سامنے یہ ساری چیزیں ہیچ ہیں۔

مکار قادیانی کی مکارانہ گفتگو نے شکستہ اکبر خاں کے جسم میں مضبوطی پیدا کر دی۔ اس کے خوشامدی اور حوصلہ افزا جملوں نے اسے ایک نئی طاقت عطا کر دی۔ قادیانی نوجوان نے اس کے لیے فوری طور پر ربوہ میں دو کمروں والے ایک مکان کا بندوبست کر دیا اور سلسلہ روزگار کے لیے ایک پرائیویٹ سکول میں ملازمت دلوا دی۔ اس مہم کو پورا کرنے کے بعد اس کے پاؤں میں قادیانیت کی بھاری زنجیر ڈالنے کے لیے ربوہ میں ایک قادیانی فیملی میں اس کی منگنی کر دی گئی اور دو مہینے بعد شادی کا پروگرام طے ہو گیا۔ والدین کے گھر سے نکلنے کے بعد اکبر خان اب اپنا گھر بسانے پر بڑا خوش تھا۔ شادی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے قادیانی نوجوان نے اسے سکول سے ایک سال کی ایڈوانس تنخواہ دلوا دی۔

اپنی شادی سے ایک مہینہ پہلے اکبر خان شادی کی خریداری کے لیے لاہور آیا۔ لاہور مال روڈ پر اس نے جوتے اور کپڑے خریدنے تھے۔ خریداری کے بعد وہ مال روڈ پر جا رہا تھا۔

صفحہ 112

جب وہ کتابوں کی مشہور دکان فیروز سنز کے قریب سے گزرا تو اپنے مطالعاتی ذوق کی وجہ سے وہاں ٹھہر گیا۔ اس نے گھڑی پر وقت دیکھا تو ابھی ربوہ جانے والی ٹرین میں دو گھنٹے باقی تھے۔ وہ فیروز سنز میں داخل ہو گیا اور ذوق و شوق سے مختلف کتابوں کو دیکھنے لگا۔ اچانک اس کی نظر سیرت النبیؐ کی ایک معروف کتاب ”محسن انسانیت“ پر پڑی‘ جس کے مصنف مشہور ادیب اور مذہبی سکالر جناب نعیم صدیقی ہیں۔ اس نے کتاب کو جستہ جستہ دیکھا۔ کتاب کے مضامین اسے بڑے پسند آئے۔ اس نے کتاب خرید لی اور ربوہ روانہ ہو گیا۔ ربوہ پہنچتے ہی اس نے رات کو کتاب کا مطالعہ شروع کر دیا۔ پہلا باب کھولتے ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال کا تذکرہ اس کی نظروں کے سامنے آیا۔ وہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے جمال جہاں افروز کے متعلق مندرجہ ذیل سطور پڑھ رہا تھا۔

”میں نے جونہی حضورؐ کو دیکھا تو فوراً سمجھ لیا کہ آپؐ کا چہرہ ایک جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں ہو سکتا“۔ -(عبداللہ بن سلام)

”میں اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر حاضر ہوا تو لوگوں نے دکھایا کہ یہ ہیں خدا کے رسولؐ! دیکھتے ہی میں نے کہا‘ واقعی یہ اللہ کے نبی ہیں“۔ -(ابو رمثہ تمیمی)

”مطمئن رہو‘ میں نے اس شخص کا چہرہ دیکھا تھا جو چودہویں رات کے چاند کی طرح روشن تھا۔ وہ کبھی تمہارے ساتھ بد معاملگی کرنے والا شخص نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسا آدمی (اونٹ کی رقم) ادا نہ کرے تو میں اپنے پاس سے ادا کر دوں گی“۔ -(ایک معزز خاتون)

”ہم نے ایسا خوبرو شخص اور نہیں دیکھا...... ہم نے اس کے منہ سے روشنی سی نکلتی دیکھی ہے“۔ -(ابو قرصافہ کی والدہ اور خالہ)

”حضورؐ سے زیادہ خوبرو کسی کو نہیں دیکھا۔ ایسا لگتا‘ گویا آفتاب چمک رہا ہے“۔ -(ابو ہریرہؓ)

”اگر تم حضورؐ کو دیکھتے تو سمجھتے کہ سورج طلوع ہو گیا ہے“۔ -(ربیع بنت معوذ)

”دیکھنے والا پہلی نظر میں مرعوب ہو جاتا“۔ -(حضرت علیؓ)

”وہ گورے مکھڑے والا جس کے روئے زیبا کے واسطے سے ابر رحمت کی

صفحہ 113

دعائیں مانگی جاتی ہیں"۔ (ابوطالب)

"میں ایک مرتبہ چاندنی رات میں حضور کو دیکھ رہا تھا۔ آپ اس وقت سرخ جوڑا زیب تن کیے ہوئے تھے۔ میں کبھی چاند کو دیکھتا تھا اور کبھی آپ کو۔ بالاخر میں اس فیصلے پر پہنچا کہ حضور اکرم چاند سے کہیں زیادہ حسین ہیں"۔ (حضرت جابر بن سمرہ)

"خوشی میں حضور کا چہرہ ایسا چمکتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے۔ اسی چمک کو دیکھ کر ہم آپ کی خوشی کو پہچان جاتے تھے"۔ (کعب بن مالک)

"چہرے پر چاند کی سی چمک تھی"۔ (ہند بن ابی ہالہ)

وہ محبوب خدا کے رخ انور کی ضیا پاشیوں اور نور افروزیوں کو پڑھ کر جھوم اٹھا۔ اچانک اس کا دھیان مرزا قادیانی کی طرف چلا گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ میرا مرزا قادیانی بھی کتنا حسین و جمیل ہوگا۔ قادیانی ہونے کے باوجود اس نے آج تک مرزا قادیانی کی تصویر نہ دیکھی تھی۔ اس کے دل میں شوق کا ایک طوفان اٹھا کہ مجھے اپنے مرزا صاحب کی تصویر کی ابھی زیارت کرنی چاہیے تاکہ میں ان کے نور افروز چہرے سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر سکوں۔ اس نے کتابوں میں یہ پڑھ رکھا تھا کہ نبی اپنے وقت میں کائنات کے سارے انسانوں سے خوبصورت ہوتا ہے۔ اس کے شوق نے ایک زبردست انگڑائی لی اور وہ بھاگم بھاگ اپنے قادیانی دوست کے گھر پہنچ گیا اور اس سے بڑی محبت سے مرزا قادیانی کی تصویر کی درخواست کی۔ اس کا دوست اندر گیا اور ایک بڑے کاغذ میں مرزا قادیانی کی تصویر لے کر آگیا۔ باہر آتے ہی اس نے اکبر خان سے پوچھا کہ کیا تمہارا وضو ہے؟ کیونکہ بے وضو مرزا صاحب کی تصویر کو ہاتھ نہیں لگانا چاہیے۔

اکبر خان جھٹ سامنے والی قادیانی عبادت گاہ میں چلا گیا اور وہاں سے وضو کر کے آگیا۔ اس نے اپنے دوست سے مرزا قادیانی کی تصویر لی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا دھڑکتے دل کے ساتھ اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ گھر پہنچنے تک سورج غروب ہوچکا تھا۔ وہ گھر میں داخل ہوا اور داخل ہوتے ہی اس نے باہر کا دروازہ بند کر لیا تاکہ کوئی اسے ڈسٹرب نہ کر سکے اور وہ پورے انہماک کے ساتھ تصویر کی زیارت کر سکے۔ وہ اپنے کمرے میں آیا اور کمرے کی ساری لائٹیں جلا دیں۔ کانپتے ہاتھوں اور کانپتے دل کے ساتھ اس نے کاغذ سے مرزا قادیانی

صفحہ 114

کی تصویر نکالی۔ آنکھوں کے سامنے تصویر آتے ہی اس پر ایک سکتہ سا طاری ہو گیا۔ اس نے پلکیں جھپکے بغیر آنکھوں کو تصویر میں گاڑ دیا۔ وہ تصویر میں یوں کھو گیا جیسے وہ تصویر میں سے کچھ ڈھونڈ رہا ہے۔ وہ صاحب تصویر کے اک اک انگ اور اک اک عضو کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے کوئی سائنس دان خوردبین لگائے اپنے تجرباتی عمل کو دیکھ رہا ہو۔ وہ پندرہ منٹ ساکت کھڑا تصویر کی وادی میں گھومتا رہا۔

اس نے دیکھا کہ مرزا قادیانی کی آنکھیں چھوٹی بڑی ہیں، جن میں کوئی روشنی نہیں، کوئی جاذبیت نہیں۔ لمبوترا سا سر ہے جس کا عیب چھپانے کے لیے سر پر پگڑی یوں باندھ رکھی ہے جیسے پگڑی نہیں ”اِنو“ ہے۔ ہاتھی کی طرح لٹکتے ہوئے لمبے لمبے کان ہیں۔ آنکھیں اتنی چھوٹی ہیں کہ سفیدی اور سیاہی کا امتیاز مشکل ہے۔ بے ڈھب ماتھا کسی پٹھوہاری علاقے کا منظر پیش کرتا ہے۔ ابرو کے بال یوں غائب ہیں جیسے ”بال جھڑ“ کا مریض ہو۔ گردن کچھوے کی طرح اندر دبی ہوئی۔ خمیری روٹی کی طرح پھولے ہوئے بڑے بڑے ہونٹ۔ پھولے ہوئے نتھنے جیسے کم آکسیجن والی ہوا میں سانس لے رہا ہو۔ پچکے ہوئے گال اور داڑھی مکڑی کے جالے کا ویرانہ منظر پیش کر رہی تھی۔ چہرے پر نہ رعب و دبدبہ، نہ روشنی نہ ضیاء، نہ وجاہت نہ ملاحت، نہ شرافت نہ صداقت، نہ رعنائی نہ زیبائی، نہ جاذبیت نہ آدمیت، نہ وقار نہ افتخار، نہ شوکت نہ تمکنت!۔۔۔ وہ مرزا قادیانی کے چہرے کو دیکھتا رہا۔۔۔ ملاحظہ کرتا رہا۔۔۔ معائنہ کرتا رہا۔۔۔ پڑھتا رہا۔۔۔ اور پھر ایک لمبے سکوت کے بعد وہ زور سے پکار اٹھا:

”خدا کی قسم! یہ شکل کسی نبی کی نہیں ہو سکتی“۔

”خدا کی قسم! میں اس سے زیادہ خوبصورت ہوں“۔

”خدا کی قسم! میں نے اس دنیا میں ہزاروں انسان اس سے بہت خوبصورت دیکھے“۔

”اے اللہ! تو گواہ رہنا، میں اس کی شخصیت اور اس کے مذہب پر لعنت بھیجتا ہوں اور صدق دل سے توبہ کر کے دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہوتا ہوں“۔

اکبر خان نے اسی رات جلدی جلدی اپنا ضروری سامان بیگ میں ڈالا اور چپکے چپکے ربوہ سے بھاگ نکلا اور چنیوٹ پہنچ کر اپنے گاؤں جانے والی لاری میں سوار ہو گیا۔ جب لاری نے اسے اس کے گاؤں کی باہر والی سڑک پہ اتارا تو رات کے دو بج چکے تھے۔ اکبر خان وہاں سے پیدل اپنے گاؤں کو روانہ ہو گیا۔ وہ گاؤں کی طرف جانے والی نہر کے کنارے کنارے چل رہا

صفحہ 115

تھا۔ خوشی سے اس کے پاؤں اچھل اچھل جاتے تھے۔ گاؤں کی طرف سے آنے والی ٹھنڈی ہوا اس کے جسم سے لپٹ لپٹ جاتی تھی۔ جب ہوا زور سے چلتی تو فضا میں سیٹیاں بجنے لگتیں گویا ہوا سیٹیاں بجا کر اس کا خیر مقدم کر رہی تھی۔ یہی ہوا جب درختوں سے گزرتی تو رقص کرتے پتوں سے ایک عجیب موسیقی پیدا ہوتی اور اسے یوں محسوس ہوتا جیسے پتے اس کے لیے استقبالی تالیاں بجا رہے ہیں۔ اس نے نہر کے پانی کی طرف دیکھا جو چاندنی رات میں چمک رہا تھا اور کبھی کبھی اس سے کوئی لہر اٹھ کر اسے دوبارہ مسلمان ہونے پر سلامی پیش کرتی۔ اس نے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر دیکھا تو چرخ نیلوفری نے اس کے سر پر ستاروں کے چراغاں کا اہتمام کر رکھا تھا۔ مہتاب اپنی چاندنی اس کے قدموں میں لوٹا رہا تھا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ جنت کی کسی روش پر نہر کے کنارے سیر کر رہا ہے۔ وہ اسی کیف و مستی کے عالم میں چلا جا رہا تھا کہ وہ اپنے گھر پہنچ گیا۔ دروازے پر پہنچتے ہی اس نے دستک دی۔

جواب میں اس کے والد صاحب کی آواز آئی:

”کون؟“

”میں‘ اکبر خان“۔

”تمہارے لیے اس گھر کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو چکے ہیں اور تم میرے لیے مر چکے ہو“ اس کے والد صاحب نے غصہ میں جواب دیا۔

”ابا جی! میں آپ کے لیے دوبارہ زندہ ہو گیا ہوں۔ میں قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو چکا ہوں“۔

کھڑاک سے دروازہ کھلا اور باپ نے اپنے لخت جگر کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔ دونوں جانب سے ہچکیوں کی صدا اٹھی اور دونوں کی آنکھوں سے آنسوؤں کے چشمے بہہ نکلے۔ ہچکیوں اور سسکیوں کی صدا سے سارا گھر جاگ اٹھا اور سارے اہل خانہ یہ عظیم خوشخبری سنتے ہی وارفتگی کے عالم میں اکبر خان سے لپٹ گئے۔ خوشی کے آنسوؤں سے ہر چہرہ چمک اٹھا۔ اہل خانہ نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے اپنے سر سجدے میں رکھ دیے۔

پھر سب گھر والوں نے اکبر خاں کو کرسی پہ بٹھایا اور خود اس کے ارد گرد بیٹھ گئے اور اس سے اس ایمانی انقلاب کی روداد پوچھنے لگے۔ اکبر خاں نے انہیں بالتفصیل ساری کہانی سنائی اور پھر جیب سے مرزا قادیانی کی تصویر نکال کر دکھائی۔ سب جوش و غضب سے تصویر پر

صفحہ 116

تھوکنے لگے، جوتے مارنے لگے۔ اکبر خان نے فوراً تصویر ان سے لے لی کیونکہ صبح گاؤں والوں کو بھی تصویر دکھانا تھی۔ اکبر خاں نے سارے اہل خانہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

"مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کی سب سے بڑی دلیل اس کی شکل ہے۔ کاش قادیانی عقل سے اس کی شکل دیکھیں تو دو منٹ میں فیصلہ ہو جاتا ہے"۔

صبح گاؤں میں زبردست جشن منایا گیا۔ اکبر خاں کو ہاروں سے لاد کر پورے گاؤں کا راؤنڈ لگایا گیا۔ سینکڑوں دیگیں پکائی گئیں۔ پورے گاؤں میں خوشی سے زبردست ہوائی فائرنگ ہو رہی تھی اور ہر گولی قادیانیت کے لاشے کے پرخچے اڑا رہی تھی۔

صفحہ 28
PDF 118

ایسا

بھی

ھوتا

ھے

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوة

ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ فون 2329

صفحہ 119

وہ نوکری کی تلاش میں اس طرح پھرتا رہا‘ جیسے ابن بطوطہ سیاحت کے شوق میں۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی محکمہ ایسا ہو‘ جہاں اس نے نوکری کے لیے درخواست نہ دی ہو۔ اس نے نوکری کے لیے جو درخواستیں دی تھیں‘ اگر ان درخواستوں کو اکٹھا کیا جاتا اور ان کا وزن کیا جاتا تو درخواستوں کا مجموعی وزن اس کے اپنے وزن سے زیادہ ہوتا۔ نوکری کی تلاش میں اس کے جوتے اور دماغ دونوں گھس چکے تھے اور اس کی سوچ پٹ چکی تھی۔ جہاں نوکری کا اشتہار آتا‘ وہ نوکری کے پیچھے یوں بھاگتا‘ جیسے بلی چوہے کے پیچھے بھاگتی ہے لیکن ہمیشہ نوکری کا چوہا اسے جل دے کر بھاگ جاتا۔ نوکری کی نیلم پری تک پہنچنے کے لیے اس کے پاس رشوت اور سفارش کے طلسماتی چراغ نہیں تھے۔ وہ نوکری کی درخواست دینے کے بعد نوکری کا انتظار یوں کرتا‘ جیسے کوئی مشرقی شاعر اپنے محبوب کا انتظار کرتا ہے۔ نوکری کے انگور اونچے ہونے کے باوجود وہ لومڑی کی طرح انگوروں پر جھپٹتا رہا لیکن بار بار کی ناکامی کے باوجود اس نے کبھی بھی انگوروں کو کھٹا نہ کہا۔

ایک دن اس نے اخبار میں اشتہار پڑھا کہ واپڈا میں اسسٹنٹ کی آسامیاں خالی ہیں۔ اس نے جھٹ درخواست لکھی اور درخواست دینے کے لیے چل پڑا۔ راستے میں اسے اس کا بے تکلف دوست مقبول ملا‘ جو اس کا کلاس فیلو بھی تھا اور ایک بینک میں ملازم تھا۔ اس نے اس سے پوچھا کہ ”منیر حسین کہاں جا رہے ہو؟“ اس نے جواب دیا کہ ”نوکری کے لیے واپڈا میں درخواست دینے جا رہا ہوں“۔ اس کے دوست مقبول نے بھی اخبار میں وہ اشتہار پڑھا تھا۔ اس نے اس سے کہا کہ ”درخواست دینے کے بعد شام کو میرے پاس گھر آنا۔ میں نے تم سے ایک انتہائی ضروری بات کرنی ہے“۔ وہ شام کو مقبول کے گھر پہنچ گیا۔ مقبول نے اسے کہا کہ ”تمہیں میری طرف سے پیشگی مبارک ہو کہ تمہیں نوکری مل چکی ہے“۔

”کیسے؟“ منیر حسین نے حیرت سے پوچھا۔

”یہ میں تمہیں نہیں بتاؤں گا“۔ مقبول نے رازدارانہ انداز میں کہا۔

مقبول نے پھر چیلنج کے انداز میں زور سے کہا کہ ”اگر تمہیں نوکری نہ ملی تو میرا گریبان اور تمہارا ہاتھ ہوگا“۔ اس کے ساتھ ہی مقبول اپنے ڈرائنگ روم سے اٹھا اور گھر کے اندر چلا گیا۔ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں مٹھائی کی پلیٹ تھی۔ اس نے منیر حسین سے کہا کہ ”میری طرف سے ابھی منہ میٹھا کر لو“۔ منیر حسین اس سے حیرت سے پوچھتا رہ گیا لیکن

صفحہ 120

مقبول نے نہ بتایا۔ وہ صرف یہ کہتا رہا کہ ”ایک بہت بڑا راز ہے اور میں تمہیں ابھی نہیں بتا سکتا۔ ہاں جس دن تمہارا انٹرویو ہو گا، اس سے ایک دن قبل شام کو تم میرے پاس ضرور آنا۔ میں تمہیں ساری بات بالتفصیل بتا دوں گا“۔ اس کے بعد مقبول نے اسے زبردستی مٹھائی کھلا دی۔ مٹھائی کی لذت اور خوشبو اس کے دل میں اتر اتر کر اسے بتا رہی تھی کہ ”تمہاری نوکری پکی ہو چکی۔ اب تم گھوڑے بیچ کر سو جاؤ“۔

اس بات کو تھوڑے ہی دن بیتے تھے کہ اسے انٹرویو کے لیے کال آگئی اور وہ انٹرویو کی تاریخ کا یوں انتظار کرنے لگا، جیسے ماں سکول سے لیٹ ہوئے بچے کا انتظار کرتی ہے۔ خدا خدا کر کے وہ دن آیا، جس کی صبح اس کا انٹرویو تھا۔ وہ شام کو اپنے دوست مقبول کے گھر اس تیزی سے پہنچا، جیسے وہ F-16 ہو۔ اس نے مقبول کے گھر کی گھنٹی بجائی۔ مقبول مسکراتا ہوا باہر آیا اور اسے سینے سے لگا لیا۔ اسے ڈرائنگ روم میں بٹھایا۔ مقبول نے اس سے کہا:

”میرے پیارے دوست! میری گفتگو اس خاموشی سے سنو، جس طرح رات کا سناٹا ستاروں کی کتھا کو سنتا ہے اور میری گفتگو کا ایک ایک جملہ اپنے ذہن میں محفوظ کرتے جاؤ۔ کل جہاں تمہیں انٹرویو کے لیے جانا ہے، وہاں کا ڈائریکٹر، جس نے آدمی بھرتی کرنے ہیں، وہ قادیانی ہے۔ اس کا رنگ سیاہی مائل اور چہرے کے نقوش اس اس طرح کے ہیں۔ جب تم انٹرویو کے کمرے میں داخل ہونا تو سب سے پہلے میری بتائی ہوئی نشانیوں کے مطابق اس ڈائریکٹر کو پہچان لینا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی ایک خوبصورت مسکراہٹ اس ڈائریکٹر کی طرف پھینکنا تاکہ وہ تمہاری جانب متوجہ ہو سکے۔ قادیانیوں کی ایک مخصوص نشانی ان کی ایک مخصوص انگوٹھی ہوتی ہے جس پر ”الیس اللہ بکاف عبدہ“ لکھا ہوتا ہے۔ تم وہ انگوٹھی ہاتھ میں پہن کر جانا۔ جب سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہو تو جتنے سوالوں کے جواب آتے ہوں، دیتے جانا لیکن اپنی انگوٹھی ڈائریکٹر کے سامنے کر کے انگوٹھی کو گھماتے رہنا۔ انٹرویو کے بعد جب وہاں سے اٹھو گے تو پھر ایک لطیف سی مسکراہٹ ڈائریکٹر کی طرف پھینکنا۔۔۔ بس تمہاری نوکری پکی“۔

”لیکن یار مقبول ! میں یہ انگوٹھی کہاں سے لاؤں؟“ منیر حسین نے پوچھا۔

”تو پیارے یہ کام بھی میں کر آیا ہوں“۔ مقبول نے انگوٹھی جیب سے نکال کر منیر حسین

صفحہ 121

کو دکھاتے ہوئے کہا۔ منیر حسین بہت خوش ہوا اور وہ مقبول کا زبردست شکریہ ادا کرتے ہوئے گھر کی طرف چل پڑا۔

گھر جاتے ہی وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا تو اندر سے دروازہ بند کر کے آئینہ کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اپنے عمل کی ریہرسل کرنے لگا۔ اس نے سب سے پہلے آئینہ میں دیکھتے ہوئے ایک مسکراہٹ پھینکی۔ گویا ڈائریکٹر آئینہ میں بیٹھا ہے۔ پھر وہ تصور میں ڈائریکٹر کے سامنے بیٹھا سوال و جواب کے ساتھ انگوٹھی گھمانے کی مشق کرتا رہا۔ کبھی وہ انٹرویو والے کمرے میں داخل ہونے کی ریہرسل کرتا‘ کبھی کمرے سے باہر نکلنے کی۔ کبھی مسکرانے کی اور کبھی انگوٹھی گھمانے کی اور پھر سارے کام کرنے کے بعد وہ کھلکھلا کر ہنس پڑتا۔

آخر خدا خدا کر کے صبح ہوئی۔ اس نے خوبصورت کپڑے پہنے اور انٹرویو کے لیے روانہ ہو گیا۔ دفتر میں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ وہاں سینکڑوں امیدواروں کا اژدھام تھا۔ امیدواروں کا اتنا بڑا مجمع دیکھ کر وہ مایوس ہو گیا لیکن انگوٹھی کو دیکھ کر مسکرا پڑا۔ انٹرویو شروع ہوا تو وہ اپنی باری کا یوں انتظار کرنے لگا‘ جیسے ڈاکٹر کے کمرے سے باہر لائن میں لگے مریض اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔۔۔

جب اس کی باری آئی تو اس کا نام پکارا گیا۔۔۔ وہ پھرتی سے کمرے میں داخل ہو گیا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی سیدھی اس کی نظر ڈائریکٹر پر پڑی‘ جسے اس نے مقبول کی بتائی ہوئی نشانیوں کی مدد سے پہلی ہی نظر میں پہچان لیا۔ ڈائریکٹر کے ساتھ انٹرویو پینل میں دوسرے بھی افسران بیٹھے تھے۔ اس نے جاتے ہی ڈائریکٹر کی طرف ایک خوبصورت سی مسکراہٹ پھینکی۔ سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ جواب دینے سے قبل اس نے اپنا ہاتھ ڈائریکٹر کے عین سامنے رکھا اور ہاتھ کی انگلی ڈائریکٹر کے عین سامنے رکھتے ہوئے انگوٹھی کو گھمانا شروع کر دیا۔ ڈائریکٹر بار بار ترچھی نگاہوں سے انگوٹھی کو دیکھ رہا تھا۔ انٹرویو پینل میں شامل افسران میں سے ڈائریکٹر نے اس سے سب سے آسان سوال پوچھے۔ جب وہ سوال و جواب کی نشست سے فارغ ہو چکا تو باہر جاتے ہوئے اس نے ڈائریکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ دی۔ جواباً ڈائریکٹر کی طرف سے بھی مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا تو اندر سینے میں بیٹھا دل پکار رہا تھا کہ ”چل میاں منیر حسین! تیرا کام پکا ہوا“۔ وہ از حد خوش تھا کہ وہ اپنی مہم میں کامیاب رہا ہے اور اس نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

صفحہ 122

وہ روزانہ گھر کے دروازے پر کھڑا ہو کر ڈاکئے کا یوں انتظار کرتا‘ جیسے مجنوں لیلیٰ کا انتظار کیا کرتا تھا۔ ایک سہ پہر ڈاکیا آیا اور خط پھینک کے چلا گیا لیکن وہ تو اس وقت خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔ جب وہ نیند سے بیدار ہوا تو اس نے دیکھا کہ ڈاکئے کے آنے کا وقت گزر چکا ہے لیکن پھر بھی اس نے سوچا کہ چلو باہر دیکھ ہی لیتے ہیں۔ جونہی وہ باہر نکلنے لگا تو باہر والے دروازے کے پیچھے اس کو ایک لفافہ پڑا نظر آیا۔ وہ چیتے کی پھرتی سے لفافے پر جھپٹا۔ جب لفافہ کھولا تو خوشی سے اس کا دل دھک دھک کا میوزک بجانے لگا اور اس کی آنکھوں کی پتلیاں بریک ڈانس کرنے لگیں ۔۔۔ وہ اسسٹنٹ بھرتی ہوچکا تھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا‘ اس لیے وہ بار بار لیٹر کو پڑھ رہا تھا۔

منیر حسین خوشی سے دوستوں اور محلے داروں میں مٹھائی تقسیم کر رہا تھا۔ محلے دار بھی حیران تھے کہ یہ فرہاد کیسے جوئے شیر لے آیا؟ مٹھائی بانٹنے کے بعد وہ بھاگم بھاگ اپنے دوست مقبول کے گھر گیا اور جاتے ہی اس کے گلے کا ہار بن گیا۔ دونوں نے کامیابی پر جی بھر کے قہقہے لگائے۔ اگلے دن منیر حسین اپنی ڈیوٹی پر حاضر تھا۔ اس کی کرسی میز اس کا انتظار کر رہی تھی اور پھر تھوڑی دیر بعد وہ انتظار کی گھڑیوں کا خاتمہ کر کے کرسی پر جلوہ افروز تھا۔ جس دن وہ نوکری پر حاضر ہوا‘ یہ سال کا پہلا مہینہ تھا اور مہینے کی پہلی تاریخ تھی اور اس کا دفتر میں پہلا دن تھا۔ وہ ان اتفاقات پر بڑا حیران اور خوش تھا۔ جلد ہی وہ دفتر کے ماحول میں رچ بس گیا۔ ہنس مکھ اور مزاحیہ طبیعت ہونے کی وجہ سے چند دنوں میں دفتر میں اس کے سینکڑوں دوست بن چکے تھے۔

مہینے کے بعد جو پہلی تاریخ آئی تو وہ بہت پرمسرت تھا کہ آج اسے تنخواہ ملنی ہے۔ تقریباً بارہ بجے اس نے تنخواہ وصول کی اور نوٹوں کو اچھی طرح گن کے اس حفاظت سے شلوار کی اندرونی جیب میں رکھ لیا جیسے کوئی مصور اپنے شاہکاروں کی حفاظت کرتا ہے۔ گھڑی نے ٹن کر کے ایک بجایا ہی تھا کہ مذکورہ بالا ڈائریکٹر کا چپڑاسی اس کے پاس آیا اور اسے کہا کہ آپ کو صاحب یاد کر رہے ہیں۔ اس نے اپنا لباس درست کیا‘ بالوں میں کنگھا کیا اور ڈائریکٹر کے کمرے کی طرف چل پڑا۔ اندر داخل ہوتے ہی اس نے ڈائریکٹر کی طرف مسکرا کر دیکھا۔ جواب میں ڈائریکٹر بھی خوب مسکرایا۔ ڈائریکٹر اپنی سیٹ سے اٹھا اور اس سے مصافحہ کرتے ہوئے سینے سے لگا لیا اور پھر اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ جھٹ کرسی پر براجمان ہو گیا۔ ”نوکری کی مبارک ہو“۔ ڈائریکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا۔

صفحہ 123

"سب کچھ آپ کی بدولت ہوا ہے"۔ منیر حسین نے جواب دیا۔

"پہلی تنخواہ مبارک ہو"۔

"آپ ہی تمام مبارک بادوں کے مستحق ہیں"۔

"دفتر میں دل لگ گیا؟"

"جی ہاں! سب بہت اچھے لوگ ہیں"۔

پھر ڈائریکٹر نے کہا:

"میں نے آپ کا تعارف اس دفتر میں تعینات اپنی جماعت کے لوگوں سے کرانا تھا لیکن مصروفیات کی وجہ سے نہ کروا سکا۔ ہم جماعت کے تمام لوگ مہینے میں ایک دن کسی دوست کے گھر اکٹھے ہوتے ہیں اور ایک زبردست میٹنگ کرتے ہیں، جس میں دفتر کی صورت حال پر تفصیلی غور کیا جاتا ہے۔ آپ کو بھی آئندہ میٹنگ میں ضرور بلائیں گے۔ شاید آپ کو معلوم ہو کہ اس دفتر میں ملازم اپنی جماعت کا ہر فرد اپنی تنخواہ کا ایک حصہ مختص کر کے بطور چندہ برائے جماعت مجھے دیتا ہے اور میں وہ ساری رقم اکٹھی کر کے ربوہ بھیج دیتا ہوں۔ خلیفہ صاحب میری کارکردگی سے بہت خوش ہیں اور میرے پاس ان کے تعریفی خطوط موجود ہیں"۔

پھر ڈائریکٹر نے مسکراتے ہوئے منیر حسین سے کہا:

"لائیے آپ بھی حضرت مسیح موعود کی جماعت کے لیے اپنا چندہ دیجئے"۔

"کون سے حضرت مسیح موعود؟" منیر حسین نے پوچھا۔

"بھئی حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی صاحب"۔ ڈائریکٹر نے کہا۔

"ہم اس جھوٹے نبی پر لعنت بھیجتے ہیں"۔

"کیا کہا آپ نے!؟"۔

"درست کہا میں نے"۔

"کیا آپ ہوش میں ہیں؟"

"جی ہاں! میں ہوش میں ہوں اور ایمان کی بہترین حالت میں ہوں"۔

"کیا آپ قادیانی نہیں ہیں؟"

"میں قادیانیوں پر لعنت بھیجتا ہوں"۔

"تم نے میرے ساتھ دھوکا کیا ہے"۔

صفحہ 124

”تم نے اللہ‘ رسول‘ قرآن اور ملت اسلامیہ کے ساتھ دھوکا کیا ہے“۔

”میں ابھی تمہارا بندوبست کرتا ہوں“۔

”تم میرا بندوبست کیا کرو گے۔ اب تمہارا بندوبست میں کروں گا“۔

جوش میں آیا ہوا منیر حسین اپنی گرج دار آواز میں کہنے لگا:

”میں اس ادارے میں تمہاری سازشوں کو طشت از بام کروں گا۔۔۔ تمہارے چہروں کو بے نقاب کروں گا۔۔۔ تمہارے پوشیدہ جرائم کو ننگا کروں گا۔۔۔ اس ادارے میں پھیلائے ہوئے تمہارے جال کے ایک ایک دھاگے کو توڑ دوں گا۔۔۔ یہ ملک ہمارا ہے۔۔۔ اسے ہمارے اسلاف نے آگ و خون کا سمندر عبور کر کے حاصل کیا تھا۔۔۔ اس کی فضاؤں میں ہمارے شہیدوں کے خون کی خوشبو رچی بسی ہے۔۔۔ یہ ملک ہمارے آقا جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نام پر بنا تھا۔۔۔ اس ملک کے ہم وارث ہیں۔۔۔ اس کے سارے وسائل ہمارے لیے ہیں۔۔۔ تم ملت اسلامیہ کے غدار ہو۔۔۔ تم انگریزوں کے ٹاؤٹ ہو۔۔۔ تم امریکہ کے جاسوس ہو۔۔۔ تم بھارت کے کارندے ہو۔۔۔ تم اسرائیل کے ایجنٹ ہو۔۔۔ تم برطانیہ کی پیداوار ہو۔۔۔ تم نے ایک گھناؤنی سازش کے تحت اس ملک کی کلیدی آسامیوں پر قبضہ کیا۔۔۔ اس کے بعد اپنی قوم کے رذیل افراد کو مختلف اداروں میں بھرتے رہے اور پھر پاکستان پر حکومت کرنے کے خواب دیکھتے رہے۔۔۔ میں اس دفتر میں تمہاری آنکھوں میں کانٹا اور دل میں انگارہ بن کے رہوں گا“۔

پھر منیر حسین غصہ میں بولتا ہوا جوتے تڑاخ تڑاخ زمین پر مارتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ اور ڈائریکٹر یوں محسوس کر رہا تھا کہ یہ جوتے تڑاخ تڑاخ اس کے سر پر پڑ رہے ہیں۔۔۔!!!

صفحہ 28
PDF 126

نوحہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوة

ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ فون 2329

صفحہ 127

میری پیاری ماں! میری سوچیں مجھے میرے ماضی کی طرف کھینچے لیے جا رہی ہیں اور میرے ذہن میں موجود ماضی کی ویڈیو کیسٹ نے چلنا شروع کر دیا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ میں ایک چھوٹا سا بچہ ہوں‘ جو گھر کے صحن اور کمروں میں شرارتیں کرتا بھاگتا پھر رہا ہے۔ بھاگتے بھاگتے جب کبھی مجھے ٹھوکر لگتی ہے تو میں گر جاتا ہوں اور میرے رونے کی آواز سے آپ کے سینے میں اک تیر سا لگتا ہے اور آپ باز کی سی پھرتی سے مجھ پر جھپٹتی ہیں اور مجھے اٹھا کر سینے سے لگا لیتی ہیں اور مجھے اتنا جی بھر کر پیار کرتی ہیں کہ میرے رخساروں پر آپ کے ہونٹوں کے نشانات ثبت ہو جاتے ہیں اور میں آپ کی گود میں اٹھکھیلیاں کر رہا ہوں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ سیب کی قاشیں کر کے مجھے کھلا رہی ہیں۔ سیب میں کھا رہا ہوں‘ لیکن سرخی آپ کے چہرے پر آ رہی ہے۔ میں ملاحظہ کر رہا ہوں کہ آپ مجھے نہلا رہی ہیں‘ خوبصورت کپڑے پہنا رہی ہیں‘ بالوں میں کنگھی کر رہی ہیں‘ چہرے پر پوڈر لگا رہی ہیں اور پھر مجھے محبت سے دیکھ کر فرط جذبات سے سینے سے چمٹا رہی ہیں۔ جب میں بولنے کے قابل ہوا تو آپ نے سب سے پہلے مجھے کلمہ طیبہ سکھایا اور پھر بسم اللہ یاد کرائی۔ جب میں اپنی توتلی زبان سے آپ کو کلمہ طیبہ پڑھ کر سناتا تو آپ خوشی سے پھولے نہ سماتیں۔ جب میں سکول جانے کے قابل ہوا تو آپ نے مجھے اپنے علاقے کے بہترین سکول میں داخل کرایا۔ جب میں گلے میں بستہ ڈالے سکول کو روانہ ہوتا تو آپ مجھ پر درود شریف کا دم کرتیں۔ میں سکول چلا جاتا تو میرے بغیر گھر میں آپ کا جی نہ لگتا۔ اگر میں کبھی سکول سے لیٹ ہو جاتا تو آپ کی آنکھیں میرے رستے میں گڑی ہوتیں اور جونہی میں آپ کے سامنے آتا تو آپ کی آنکھوں میں خوشی سے تارے جھلملانے لگتے۔ آپ مجھے کبھی اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیتیں۔ گلی محلے میں کھیلنے کے لیے کبھی نہ جانے دیتیں۔ میں جب کبھی بیمار ہو جاتا تو آپ شدید پریشان ہو جاتیں‘ گھر کا سارا نظام تلپٹ ہو جاتا۔ آپ میرے سرہانے ساری ساری رات جاگتیں اور آیات قرآنی پڑھ پڑھ کر مجھ پر دم کرتیں۔

والدہ محترمہ! جب میری عمر دس سال ہوئی تو ابا جان داغ مفارقت دے گئے۔ ہماری خوشگوار زندگی پر بلائیں ٹوٹ پڑیں۔ رشتے داروں نے آنکھیں پھیر لیں‘ اپنے

صفحہ 128

بیگانے ہو گئے لیکن آپ نے مجھے کبھی بھی یتیمی کا احساس نہ ہونے دیا۔ آپ سحاب کرم بن کر میرے سر پر چھائی رہیں۔ آپ نے مجھے ماں کی ممتا کے ساتھ ساتھ باپ کی شفقت بھی عنایت کی۔ مجھے خوب یاد ہے کہ ابا جی کی وفات کے وقت ہمارا کل اثاثہ رہائشی مکان اور والد صاحب کی چھوڑی ہوئی تھوڑی سی رقم تھی۔ جب رشتے داروں نے آپ سے کہا کہ آپ مجھے سکول سے اٹھا لیں اور کسی کام پر ڈال دیں، کیونکہ آپ کے پاس مجھے تعلیم دلانے کے لیے رقم نہ تھی لیکن آپ کا جرنیلی حوصلہ رشتہ داروں کے سامنے سنگلاخ چٹان بن گیا اور آپ نے رشتہ داروں کو دو ٹوک جواب میں کہا تھا ”میں لوگوں کے گھروں میں محنت مشقت کر لوں گی لیکن اپنے بچے کو زیور تعلیم سے ضرور آراستہ کروں گی“۔ یہ آپ کے عزم محکم کے باعث تھا کہ میں میٹرک، ایف۔ اے اور بی۔ اے میں فرسٹ ڈویژن حاصل کرتا رہا۔ جب بھی میرا رزلٹ آتا تو آپ کے چہرے پر ایک فاتح کی مسکراہٹ ہوتی اور اس عظیم مسکراہٹ سے میرے اندر ایک نیا حوصلہ اور ولولہ پیدا ہوتا۔

ام محترمہ! امتیازی حیثیت سے بی اے کرنے کے بعد جب مجھے ایم بی اے کرنے کے لیے امریکہ جانا پڑا تو یہ وقت آپ کے لیے بڑے امتحان کا وقت تھا۔ میں آپ کا اکلوتا بیٹا، جو آپ کی آنکھوں کی بینائی تھا، جس کو دیکھے بغیر آپ ایک دن نہ گزار سکتی تھیں، وہ ایک لمبی مدت کے لیے آپ سے ہزاروں میل دور جا رہا تھا۔ آپ کے آہنی عزم کو سلام کہ آپ نے اپنی محبت پر میری تعلیم کو فوقیت دی۔ آپ نے اپنے زیورات اور گھر کی قیمتی اشیاء بیچ کر میرے داخلہ اور سفر وغیرہ کے اخراجات کا بندوبست کیا۔

مادر شفیق! بیرون ملک میری تعلیم کا بندوبست ہونے کے بعد یہ مسئلہ درپیش تھا کہ میرے چلے جانے کے بعد آپ پاکستان میں کس کے پاس رہیں گی۔ کسی رشتہ دار کے پاس رہنا آپ کی غیور طبیعت کو گوارہ نہ تھا اور میرے ساتھ امریکہ چلے جانا ہمارے بس میں نہ تھا۔ ہم دونوں اسی مسئلہ کے حل میں سرگرداں تھے کہ آپ نے ہی تجویز پیش کی تھی کہ میرا دوست مسعود احمد جو پہلی جماعت سے بی اے تک میرا

صفحہ 129

کلاس فیلو اور جگری یار تھا، اس کا اور اس کے گھر والوں کا بڑی دیر سے ہمارے گھر آنا جانا تھا۔ وہ ہمارے ساتھ والی گلی میں کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔ آپ نے کہا تھا کہ ہمارے پاس تین کمرے ہیں اور ایک بڑا صحن ہے۔ میں اکیلی اتنے بڑے گھر کو کیا کروں گی۔ تم سامنے والے دو کمرے اور مشترکہ صحن اپنے دوست کو کرائے پر دے دو۔ کونے والے ایک کمرے میں، میں رہائش رکھ لوں گی۔ مسعود احمد کی ماں میری بہن بنی ہوئی ہے اور اس کے بچے مجھے تیری طرح ہیں۔ ان کے یہاں رہنے سے گھر میں رونق بھی رہے گی اور تمہاری جدائی کا غم بھی ہلکا رہے گا۔ ان سے جو کرایہ مکان ملے گا، اس سے میری گزر بسر ہوتی رہے گی اور تم میرے اخراجات سے بے فکر ہو کر تعلیم حاصل کر سکو گے۔ ۔ میں نے آپ کی تجویز کو فوراً مان لیا تھا اور اسی وقت بھاگم بھاگ مسعود کے گھر گیا تھا اور اس کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی۔ اس نے مجھے فوراً اندر بلا لیا تھا اور میری موجودگی میں اپنی والدہ اور والد کے سامنے آپ کی تجویز رکھی تھی۔ وہ سب آپ کی بات سے متفق تھے اور بہت زیادہ خوش تھے۔ مسعود احمد اور اس کے گھر والے میری امریکہ روانگی سے قبل ہمارے ہاں منتقل ہوگئے تھے اور آپ کی طبیعت ان میں گھل مل گئی تھی اور میں اس صورت حال سے بہت خوش تھا۔

پھر وہ وقت آگیا جب آپ مجھے امریکہ جانے کے لیے ایئرپورٹ پر چھوڑنے آئی تھیں اور انتہائی حوصلہ اور ضبط کے باوجود آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی شبنم گر رہی تھی اور آپ نے مجھے اپنی دعاؤں کی چھاؤں میں امریکہ روانہ کیا تھا۔

امی جان! میں امریکہ پہنچ کر اپنی پڑھائی میں مصروف ہوگیا لیکن ایک لحظہ بھی آپ کو نہ بھلا سکا۔ ہر وقت آپ کا رخشندہ درخشندہ چہرہ میری آنکھوں کے سامنے گھومتا رہتا۔ میں ہر پندرہ دن بعد آپ کو خط لکھتا رہتا اور جواباً آپ کے خط بھی آتے رہتے اور ہم ایک دوسرے کے حالات سے باخبر ہوتے رہتے۔ آپ کی طرف سے مجھے ہمیشہ آپ کی خوشی اور خیریت کی اطلاع ملتی۔ تقریباً اڑھائی سال آپ کی اور میری خط و کتابت جاری رہی۔ امریکہ سے ایم بی اے کرنے کے بعد جب میں نے آپ کو اپنی کامیابی کی نوید سناتے ہوئے خط لکھا تو آپ کا ڈھیروں مبارک بادوں اور دعاؤں سے

صفحہ 130

بھرا جوابی خط ملا جسے پڑھ کر میں خوشی سے آبدیدہ ہو گیا۔ پھر میں نے آپ کو اپنی پاکستان واپسی کا خط لکھا اور بتایا کہ میں فلاں تاریخ کو پاکستان پہنچ رہا ہوں تو آپ نے مجھے جواباً انتہائی مسرت انگیز خط لکھا تھا کہ بیٹا! میں تمہارے استقبال کے لیے ایئرپورٹ پر موجود ہوں گی لیکن کل جب میں پاکستان آیا تو میری آنکھیں آپ کی تلاش میں تھیں لیکن مجھے وہاں کہیں بھی آپ کا وجود نظر نہ آیا۔ میں نے دیکھا کہ میرا دوست مسعود احمد ایئرپورٹ پر ایک کونے میں کھڑا ہے اور وہ مجھے لینے کے لیے آیا ہوا ہے۔ میں مسعود سے بڑے تپاک سے ملا اور اس سے فوراً آپ کی بابت پوچھا کہ آپ تشریف کیوں نہیں لائیں؟ لیکن وہ ادھر ادھر کی باتیں چھیڑ کر مجھے اپنی باتوں میں لگاتا رہا۔ پھر جب میں نے زور دے کر آپ کے متعلق پوچھا تو اس نے مجھے بتایا کہ وہ اس سوال کا جواب گھر جا کر دے گا۔ اس کا یہ جواب سن کر میرا پورا وجود تھرا اٹھا اور میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتا رہ گیا۔ میں سمجھ گیا کہ خیریت نہیں۔

گھر پہنچا تو اس کے سارے گھر والے مجھے ملنے کے لیے گھر کے دروازے کے باہر کھڑے تھے۔ لیکن امی جان! وہاں آپ کا چہرہ نہیں تھا۔ گھر میں بیٹھنے کے بعد میں نے فوراً ان سے پوچھا کہ میری امی جان کہاں ہیں؟ تو انہوں نے مجھے یہ بتا کر میرے پاؤں تلے سے زمین نکال دی کہ آپ کو فوت ہوئے چھ ماہ گزر گئے ہیں۔ آپ کی موت کی خبر سن کر میرے جسم پر رعشہ طاری ہو گیا۔ میں بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔ میرا جی چاہتا تھا کہ میں ایم بی اے کی اس ڈگری کو آگ لگا دوں جس نے مجھے میری ماں کا چہرہ نہ دیکھنے دیا۔ مسعود احمد اور اس کے گھر والے مجھے تسلیاں دیتے رہے لیکن میرے مجروح دل کو تسکین کہاں ملنی تھی۔ میں نے مسعود کے گھر والوں سے پوچھا کہ تم نے مجھے میری والدہ کے فوت ہونے کی اطلاع کیوں نہ دی‘ جس کا جواب صرف خاموشی تھا۔ میں نے روتے ہوئے مسعود احمد سے کہا کہ مجھے میری امی جان کی قبر پر لے چلو۔ اس پر وہ سارے گھر والے پھر خاموش ہو گئے۔ میں نے ان سے غصہ سے پوچھا ”بتاؤ کہاں دفن ہے میری ماں؟“ تو مسعود نے جواب دیا کہ وہ ”ربوہ“ میں دفن ہے۔

”میری ماں کا ربوہ سے کیا تعلق؟“ میں نے پوچھا۔

صفحہ 131

"وہ اپنی خواہش کے مطابق وہاں دفن ہوئی ہیں" مسعود نے جواب دیا۔

"یہ کیسی خواہش؟"

"بس ان کی مرضی"۔

"ربوہ میں تو قادیانی دفن ہوتے ہیں" میں نے کہا۔

"انہوں نے بھی قادیانی مذہب قبول کر لیا تھا" مسعود نے جواباً کہا۔

"ایسا کبھی نہیں ہو سکتا" میں نے للکار کر کہا۔

"یہ دیکھئے پکا ثبوت" مسعود نے مجھے ماں کے قادیانی ہونے پر ان کا بیعت فارم دکھاتے ہوئے کہا اور پھر اس نے ربوہ میں دفن ہونے کی ان کی وصیت بھی دکھائی۔

"کس مردود کی تبلیغ سے میری ماں قادیانی ہوئی" میں نے غصہ میں کانپتے ہوئے کہا۔

"ہماری تبلیغ سے" مسعود نے فاتحانہ انداز میں آنکھوں میں مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

"کیا تم قادیانی ہو؟" میں نے غضبناک ہو کر پوچھا۔

"ہاں ہم قادیانی ہیں" مسعود نے سینہ تان کر جواب دیا۔

"تم نے میرے ساتھ زندگی کے پندرہ سال گزارے لیکن تم نے آج تک مجھے یا کسی دوست کو نہیں بتایا کہ تم قادیانی ہو"۔

"اگر بتا دیں تو تم میں مل جل کر کیسے رہیں؟ تمہیں اپنے جال میں کیسے پھنسائیں؟ اور ایسی مہموں میں کامیاب کیسے ہوں؟" مسعود نے میرے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے کہا۔ قریب تھا کہ مسعود اور مجھ میں ہاتھا پائی ہو جاتی کہ اس کا چھوٹا بھائی محمود مجھے پکڑ کر باہر لے گیا۔ محمود ان میں سے کچھ کھرا اور صاف طبیعت کا مالک ہے اور ان دنوں اس کے اپنے گھر والوں سے کسی مسئلہ پر شدید اختلافات ہیں۔

ہاں جی! محمود نے مجھے بتایا۔

"تمہارے امریکہ چلے جانے کے بعد اس کے گھر والوں نے تمہاری والدہ کی خوب خدمت کی۔ انہیں کبھی علیحدہ کھانا نہ پکانے دیا، عین وقت پر انہیں چارپائی پر کھانا پہنچایا جاتا۔ میری بہنیں تمہاری والدہ کے کپڑے دھوتیں، سر میں تیل ڈال کر

صفحہ 132

مالش کرتیں، رات کو روزانہ سونے سے قبل پاؤں دباتیں۔ اس طرح کی خدمت کر کے ہمارے گھر والوں نے تمہاری والدہ کو اپنے اخلاق کے شیشے میں اتار لیا اور پھر آہستہ آہستہ انہیں قادیانیت کی تبلیغ شروع کر دی۔ ان پڑھ ہونے کے ناطے وہ سمجھتی تھیں کہ قادیانی بھی مسلمانوں کا ایک طبقہ ہیں۔ جس طرح مختلف مسالک کے آپس میں اختلافات ہیں، ایسے ہی اختلافات دوسرے مسالک اور قادیانیوں کے مابین ہیں۔ پھر انہیں یہ بتایا گیا کہ تمہارا بیٹا سلیم بھی قادیانی ہو چکا ہے اور ہمارے گھر والوں نے تمہاری والدہ کو تمہارا خط دکھایا، جس میں تم نے لکھا تھا کہ تم قادیانی ہو چکے ہو اور تم نے اپنی والدہ کو کہا تھا کہ قادیانی ہی سب سے بہتر مسلمان ہیں۔ اس خط میں تم نے اپنی والدہ کو تاکید کی تھی کہ وہ بھی فوراً قادیانی ہو جائیں"۔

میری پیاری ماں! محمود نے مجھے بتایا۔

"جب امریکہ سے تمہارا خط آتا تو ہمارے گھر والے تمہاری والدہ کو اپنی مرضی کا فرضی خط سنا دیتے اور تمہیں تمہاری والدہ کی خیریت کا خط لکھ دیتے۔ تمہیں تمہاری والدہ کے جتنے بھی خطوط ملے، وہ جعلی تھے۔ ایک سال کی تبلیغ کے بعد تمہاری والدہ قادیانی ہو گئیں۔ ان کے قادیانی ہونے پر ہمارے گھر والوں نے انہیں پھر تمہارا جعلی خط سنایا، جس میں تم نے اپنی ماں کو قادیانی ہونے پر ہزاروں مبارک بادیں دی تھیں اور اسے اللہ کا بہت بڑا انعام لکھا تھا، جسے پڑھ کر تمہاری والدہ از حد خوش ہوئی تھیں۔ پھر تمہاری والدہ اکثر قادیانی تقریبات میں آنے جانے لگیں۔ وہ کئی مرتبہ ربوہ بھی گئیں اور پھر انہوں نے باقاعدہ بیعت بھی کر لی اور بیعت فارم پر انگوٹھا لگا دیا۔ پھر ہمارے گھر والوں نے دھوکا دہی سے آپ کی والدہ سے اسٹام پیپرز پر انگوٹھے لگوا کر آپ کا مکان اپنے نام منتقل کروا لیا۔ چھ ماہ قبل جب تمہاری والدہ کا انتقال ہوا تو ہمارے گھر والوں نے انتہائی راز داری سے رات کے وقت لاش ربوہ لے جا کر عام قبرستان میں دفن کر دی"۔

اماں جان! محمود نے مجھے ربوہ میں قبرستان کا ایڈریس بتایا اور آپ کی قبر کی نشانی بتائی۔ میں اسی وقت وہاں سے بس میں سوار ہوا اور ربوہ پہنچ گیا اور اب میں آپ کی قبر پر آپ کے قدموں میں کھڑا ہوں۔ میں آپ کی قبر کو غمناک اور نمناک آنکھوں

صفحہ 133

سے دیکھ رہا ہوں۔

ماں جی! میں آپ کا بیٹا سلیم آیا ہوں، جس کے رونے کی آواز پر آپ دوڑ کر آیا کرتی تھیں—— آج وہ سلیم آپ کی قبر پر کھڑا رو رہا ہے—— ماں جی! آج سلیم کو چپ کرانے کے لیے قبر سے باہر آجائیے—— ورنہ سلیم آپ سے روٹھ جائے گا۔

ماں جی! اٹھئے—— میرے آنسو پونچھئے—— مجھے سہارا دیجئے—— میں رو رو کر نڈھال ہو گیا ہوں۔

ماں جی! مجھے بتائیے—— آپ کے ساتھ کیا بیتی؟ آپ کے ساتھ کیا ظلم ہوا۔

ماں جی! ہم لٹ گئے—— ہم برباد ہو گئے۔

ماں جی! ختمِ نبوت کے ڈاکوؤں نے آپ سے آپ کا ایمان چھین لیا۔ قادیانی سانپوں نے آپ کو ڈس کر آپ کا چراغِ ایمان گل کر دیا——

ہائے ماں جی! آپ کافرہ اور مرتدہ ہوگئیں——

آپ نے مرزے کو نبی مان لیا——

ہائے ماں جی! آپ سدا جہنمی ہوگئیں——

ہائے اب آپ کو کبھی بھی جہنم سے رہائی نہیں ملے گی——

ہائے آپ کی قبر دوزخ کا گڑھا بن گئی——

ہائے آپ کی قبر بچھوؤں اور سانپوں کا مسکن بن گئی——

ماں جی! اگر میں اپنے سارے آنسو آپ کی قبر پر بہا دوں—— تو بھی آپ کی قبر ٹھنڈی نہیں ہو سکتی——

اگر میں شبنم سے کہوں کہ وہ اپنے سارے موتی آپ کی قبر پر چھڑکا دے—— تو بھی آپ کی قبر کی آگ نہ بجھ سکے گی——

اگر میں بادلوں سے درخواست کروں کہ وہ اپنے دامن میں سمیٹی ہوئی ساری موسلا دھار بارشیں آپ کی قبر پر برسا دیں—— تو بھی آپ کے مرقد کی تپش میں فرق نہیں پڑے گا——

اگر میں دریاؤں سے التماس کروں کہ دنیا کے سارے دریا سمندر میں گرنے کی بجائے آپ کی قبر میں آ گریں—— تو بھی آپ کی آتشِ قبر پر کوئی اثر نہیں

صفحہ 134

ہوگاــــــــ اگر میں جنات سے التجا کروں کہ وہ بحر منجمد شمالی کی ساری برف لا کر آپ کی قبر پر پہاڑ لگا دیںــــــــ تو بھی برف کا یہ پہاڑ آپ کی قبر میں ذرہ بھر ٹھنڈک نہ پیدا کر سکے گاــــــــ

کیونکہ یہ آگ اللہ تعالیٰ کی لگائی ہوئی ہے اور اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں بجھا سکتاــــــــ اور کافروں کو اللہ کبھی بھی آگ سے رہائی نہیں دیں گے۔

ماں جی! میں آپ کا مجرم ہوںــــــــ اس جہان میں بھیــــــــ اگلے جہاں میں بھیــــــــ آپ کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، میری وجہ سے ہواــــــــ میری دوستی کی وجہ سے ہواــــــــ

ماں جی! یہ معاشرہ آپ کا مجرم ہےــــــــ جو قادیانیوں سے نفرت نہیں کرتاــــــــ جو قادیانیوں کی خفیہ سرگرمیوں پر کڑی نظر نہیں رکھتاــــــــ جو قادیانی معلوم ہو جانے پر بھی قادیانی کو مسلم معاشرے سے باہر نہیں نکالتاــــــــ

ماں جی! یہ حکومت آپ کی مجرم ہےــــــــ جو اس ملک میں مرتدوں اور زندیقیوں کو تہہ تیغ نہیں کرتیــــــــ

ماں جی! وہ علماء آپ کے مجرم ہیںــــــــ جو منبر پر بیٹھ کر مسلمانوں کو قادیانیوں کے عقائد و عزائم سے آگاہ نہیں کرتےــــــــ جو قادیانیت کے کفر کو ننگا نہیں کرتےــــــــ جو آستین کے ان سانپوں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو طشت از بام نہیں کرتےــــــــ جو مسلمانوں کے ایمانوں پر پہرہ نہیں دیتےــــــــ

ماں جی! کاش کوئی میری ایم۔ بی۔ اے کی ڈگری لے لے اور آپ کو جہنم کے شعلوں سے بچالےــــــــ

کاش! کوئی مجھ سے میری تعلیم لے لے اور آپ کو دوزخ سے رہائی دلا دے۔

کاش! کوئی مفت میں مجھے اپنا غلام بنا لے اور آپ کو بچھوؤں اور سانپوں سے بچا لےــــــــ

کاش! کوئی مجھ سے میری بھرپور جوانی کی زندگی لے لے اور آپ کو عذاب قبر سے بچالےــــــــ لیکن ایسا نہیں ہو سکتاــــــــ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔