حرمت رسول ﷺ نمبر — ماہنامہ رشد · ماہنامہ رشد
Hurmat-e-Rasool Number — Mahana Rushad
PDF 1

ماہنامہ

رشد

طالبان علم کا علمی وفکری مجلہ لاہور

مدیر

حافظ انس نضر مدنی 0321-8420106 0321-4150689

نائب مدیر

کامران طاہر 0302-4424736

جلد 19 | شمارہ ۳ | جمادی الاول جمادی الاخر ۱۴۲۹ھ | مئی ، جون ۲۰۰۸ء

معاون مدیر

آصف جاوید 0346-4608024

انتظامیہ

سمیع اللہ ، عبدالباسط رسولنگری عبدالخالق توقیر ، احسان الہی ظہیر عبداللہ عزام ، ابو عبداللہ محمد زبیر

زر تعاون

فی شمارہ _______ 10 سالانہ _______ 100

دفتر رابطہ

99 جے ماڈل ٹاؤن لاہور پاکستان 5866476 / 5866396 Email: anasnazar99@hotmail.com Publisher Hafiz Abdul Rehman Madani Printer Shirkat Printing Press, Lhr

کتاب وسنت میں فہم سلف کے مطابق، آزادانہ بحث و تحقیق کا حامی ہے، ادارہ کا مضمون نگار حضرات سے کلی اتفاق ضروری نہیں Lahore Islamic University

صفحہ 2

اداریہ

تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور اُمت کی ذمہ داریاں

ہزاروں سال دشت بے آب میں بھٹکنے والی انسانیت نے اسلام کی صورت میں بالآخر گوہر منزل کو پالیا۔ اسلام کی آمد اس وقت ہوئی جب کائنات میں قدیم آسمانی تعلیمات سے انحراف کی وجہ سے تمام تہذیبوں کے حلیے بگڑ چکے تھے۔ انسانیت بغیر ملاح اور چپوؤں کے ہچکولے کھاتی کشتی کی صورت اختیار کر چکی تھی جس کا کنارے لگنا ناممکن ہو چکا تھا اور یہ اسلام ہی تھا کہ جس نے اس ڈوبتی کشتی کو سہارا دیا اور اسے ساحل مراد سے ہم کنار کیا، بدتہذیبوں کو تہذیب بخشی۔ اندھیروں کو روشنی میں بدل دیا اور انسانیت کو اس کی معراج تک پہنچایا۔

جی ہاں! اسی آخری آسمانی مذہب کی حامل و پیغامبر، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے، جنہوں نے کائنات میں بسنے والوں کو مالک دو جہاں کی طرف سے دی گئی تعلیمات پہنچائیں۔ اللہ کے اس فرستادہ پیغمبر نے سسکتی انسانیت کو عزت و آبرو کا راستہ دکھایا اور بدتہذیبی کے بھنور میں ڈگمگاتی ناؤ کو بادبان میسر کر کے ساحل کی سمت رواں دواں کیا اور یہی وجہ ہے کہ آج انسانیت کو تہذیب یافتہ بنانے میں فرامین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار سب سے نمایاں ہے۔

غبارِ راہ کو فروغِ سینا بخشنے والی اس ہستی سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو خالق کائنات نے اس کے پیروکاروں کے دلوں میں کچھ اس طرح سے جاگزیں کر دیا کہ اس کی محبت و تکریم کو ان کے ایمان کا اساسی جز بنا دیا: ﴿اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ﴾ [الأحزاب:۶] ”بلاشبہ نبی ایمان والوں کے لئے ان کی ذات سے بھی عزیز ہیں ۔“

اور خود زبان رسالت سے یہ ارشاد ہوا: «لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين» [صحيح البخاري:۱۵] ”تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک مجھے وہ اپنے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے محبوب نہ بنالے۔“

اسی فرمان کا تقاضا ہے کہ ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والا ہر فرد اس وقت تک اپنے ایمان کو مکمل نہیں سمجھتا، جب تک وہ تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا بھر سے زیادہ محبوب نہ جان لے۔

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے لیے مرکز ملت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اوائلِ اسلام سے ہی ہر دور کی باطل قوتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑھتی ہوئی دعوت کو روکنے کے لیے ہزار جتن کیے، لیکن ہر محاذ پر شکست کا سامنا کرنے کے بعد وہی گھسا پٹا حربہ استعمال کرنے کی کوشش کی کہ اس تحریک کی رہبری کرنے والے کی شخصیت کو مجروح کر دیا جائے اور اس کے لیے اُنہوں نے ہر اخلاقی حد کو پھلانگتے ہوئے رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو تضحیک و تحقیر کا نشانہ بنانے کی کوشش کی اور یہ قبیح حرکت ہر دور میں کی جاتی رہی:

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی

——جمادی الاُولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ——

زمانہ قریب میں سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔ ابھی ان دریدہ دہنوں کی بکو اخبار جیلانڈ پوسٹن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے مسلمان ممالک میں اس اقدام کے خلاف جلسے جلوس سے قبل ۱۰؍ جنوری ۲۰۰۶ء میں دوبارہ ان خاکوں کو بالمقابل فرانس، جرمنی، اٹلی، ہنگری، سوئٹزرلینڈ اور اسپی کرتے ہوئے ڈنمارک کے اس ظالمانہ اقدام کی حوصلہ وقفے سے جاری رہا۔ حال ہی میں ۱۳؍ فروری کو تین بندی کا بہانہ بناتے ہوئے سکینڈے نیوین ممالک کے ستر اور ایسی ہی دیگر ویب سائٹوں پر بھی نشر کر دیا گیا اور یہ سلس مسلمانوں کے احتجاج اور غم وغصہ کے باوجود ان اہا ڈھٹائی اس امر کا عندیہ دے رہی ہے کہ اس کے پس پردہ رشدی، تسلیمہ نسرین کی ہفوات، پوپ بینی ڈکٹ کی اسلام وحجاب جیسے اسلامی شعارات کی تضحیک اور ان جیسے دوسرے مغرب اسلام کے خلاف نہ صرف بدترین تعصب کا شکار مسلمانوں کو ہر مرحلے پر زک پہنچانے اور دین کی اساس اور نیچ ہتھکنڈہ اپنانے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔

ڈنمارک کے روسیاہوں کے حالیہ اقدام کے پیچھے یہودی خلاف عیسائی قوتوں کو آلہ کار بناتے رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ پائپس امریکی یہودی ہے کہ جس نے ڈنمارک کے ۲۰ کارٹونسٹو جن میں کچھ نے تو مسلمانوں کے ردعمل کے ڈر سے حصہ نہ لیا آمیز کارٹونز کا انتخاب کیا گیا۔ اسی پر بس نہیں بلکہ کارٹونوں کی وی وائلڈرس Geert wilders نے قرآن اور اسلام کی توہین پر مبنی کر دی۔

پوری دنیا کے مسلمانوں کا احتجاج ڈنمارک اور اس کے ہم رائے کی سند جواز بخش کر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف یہ طوفان مذہب پر کیچڑ اچھالنا یا اس کی تحقیر کرنا ایک ایسا جرم ہے جو توہین موجود ہے اور اس کے مرتکب شخص کی برطانیہ میں رائج emy Law کی گئی ہے۔ خود ڈنمارک کے دستور کے آرٹیکل ۷۷ کے تحت کسی

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 3

کامران طاہر

زمانہ قریب میں سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین جیسے بدباطنوں کی نبی رحمت ﷺ کی شان میں ہرزہ سرائی اسی مکروہ سلسلہ کی کڑیاں ہے۔ ابھی ان دریدہ دہنوں کی بکواسات کی بازگشت ختم نہ ہوئی تھی کہ ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ء ڈنمارک کے اخبار جیلانڈ پوسٹن میں نبی ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کر دیئے گئے جس پر عالم اسلام سراپا احتجاج بن گیا اور مسلمان ممالک میں اس اقدام کے خلاف جلسے جلوس کا ایک طویل سلسلہ چل نکلا۔ اس احتجاج کا خاطر خواہ اثر ہونے سے قبل ۱۰ جنوری ۲۰۰۶ء میں دوبارہ ان خاکوں کو شائع کردیا گیا اور مسلمانوں کے دنیا بھر میں پھیلے احتجاج کے بالمقابل فرانس، جرمنی، اٹلی، ہنگری، سوئٹزرلینڈ اور اسپین کے اخبارات نے الکفر ملة واحدة کی عملی شکل اختیار کرتے ہوئے ڈنمارک کے اس ظالمانہ اقدام کی حوصلہ افزائی کی۔ محبوب الٰہی کی شان میں گستاخیوں کا یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔ حال ہی میں ۱۳ فروری کو تین مسلمانوں پر خاکے شائع کرنے والے افراد کے قتل کی منصوبہ بندی کا بہانہ بناتے ہوئے سکینڈے نیوین ممالک کے سترہ اخبارات نے یہ خاکے پھر شائع کردیئے بلکہ انہیں 'یوٹیوب' اور ایسی ہی دیگر ویب سائٹوں پر بھی نشر کردیا گیا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

مسلمانوں کے احتجاج اور غم وغصہ کے باوجود ان اہانت آمیز خاکوں کی لگاتار اشاعت اور اس پر اہل مغرب کی ڈھٹائی اس امر کا عندیہ دے رہی ہے کہ اس کے پس پردہ اسلام مخالف ایک منظم سازش کارفرما ہے۔ ایسے ہی سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین کی ہفوات، پوپ بینی ڈکٹ کی اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی، مسجد اقصیٰ کو جلانا، یورپ میں ڈاڑھی وحجاب جیسے اسلامی شعارات کی تضحیک اور ان جیسے دوسرے شرم انگیز اقدامات کی سرپرستی سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مغرب اسلام کے خلاف نہ صرف بدترین تعصب کا شکار ہے بلکہ اپنے متعصبانہ غیض وغضب کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کو ہر مرحلے پر زک پہنچانے اور دین کی اساس اور مرکز ومحور سے ان کے تعلق کو کمزور کرنے کے لئے نیچ سے نیچ ہتھکنڈہ اپنانے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔

ڈنمارک کے روسیاہوں کے حالیہ اقدام کے پیچھے یہودی ذہن کی منصوبہ بندی ہے جو حسب سابق مسلمانوں کے خلاف عیسائی قوتوں کو آلہ کار بناتے رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ حالیہ توہین آمیز خاکوں کی منصوبہ بندی کرنے والا ڈینیل پائپس امریکی یہودی ہے کہ جس نے ڈنمارک کے ۴۰ کارٹونسٹوں کو ان خاکوں کی تیاری میں حصہ لینے کی پیش کش کی جن میں کچھ نے تو مسلمانوں کے ردعمل کے ڈر سے حصہ نہ لیا، جبکہ شرکت کرنے والوں میں سے ۱۲ لوگوں کے توہین آمیز کارٹونز کا انتخاب کیا گیا۔ اسی پر بس نہیں بلکہ کارٹونوں کی دوبارہ اشاعت کے بعد ہالینڈ پارلیمنٹ کے رکن گیرٹ وائلڈرس Geert wilders نے قرآن اور اسلام کی توہین پر مبنی ۱۵ منٹ کی فلم 'فتنہ' کے نام سے بھی انٹرنیٹ پر جاری کردی۔

پوری دنیا کے مسلمانوں کا احتجاج ڈنمارک اور اس کے ہم نوا ممالک کو ڈرا ہلا نہ سکا اور وہ اس اقدام کو آزادیِ رائے کی سند جواز بخش کر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف یہ طوفان بدتمیزی اور بڑھاتے رہے۔ حالانکہ کسی شخصیت یا مذہب پر کیچڑ اچھالنا یا اس کی تحقیر کرنا ایک ایسا جرم ہے جو توہین آمیز خاکوں کو شائع کرنے والے ممالک میں بھی موجود ہے اور اس کے مرتکب شخص کی برطانیہ میں رائج Blasphemy Law کی طرز پر کسی نہ کسی شکل میں سنگین سزا تجویز کی گئی ہے۔ خود ڈنمارک کے دستور کے آرٹیکل ۱۴۰ کے تحت کسی بھی شخص کو نامناسب مواد شائع کرنے پر عدالت کا

مئی، جون ۰۸ء

صفحہ 4

تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور اُمت کی ذمہ داریاں

سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی ملک کے پینل کوڈ کے سیکشن ۱۴۰ میں توہین آمیز مواد کی اشاعت پر پابندی موجود ہے۔ اسی طرح تعزیرات کے سیکشن ۲۶۶ اے میں رنگ، نسل یا مذہبی جذبات کے خلاف اقدامات سے باز رہنے کی ہدایت بھی موجود ہے، لیکن کیا کیا جائے کہ مغرب کا صحافتی گھوڑا یہودی کوچوان کی سرکردگی میں تعصب و عناد کی شاہراہ پر سرپٹ دوڑا جا رہا ہے اور اس منہ زور گھوڑے کو گرم لگام دینا از بس ضروری ہو گیا ہے۔

مغرب کے تمام تر اقدامات اسلام کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دعوت اور ان کی اپنی مٹتی ہوئی تہذیب کی وجہ سے ہیں۔ مغرب کے مادر پدر آزاد کلچر نے اسے اخلاقی طور پر کھوکھلا کر دیا ہے اور یہ بے سمت معاشرہ تباہی و بربادی کے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ننگی تہذیب کے ستائے ہوئے لوگ اب اسلام کی جستجو میں کشاں کشاں چلے آ رہے ہیں جس کا مغرب کو گہرا رنج ہے اور وہ اپنی ڈوبتی ہوئی تہذیب کو بچانے کے لیے اسلام کے خلاف اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے اور اپنے علاقوں سے اسلام کو دھکیل دینا چاہتا ہے۔ اخلاقی گراوٹ کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے اس نے مسلمانوں کی عالی مرتبت شخصیت ﷺ کو مجروح کرنے کے لئے توہین آمیز خاکے شائع کئے ہیں تاکہ اپنا خبث باطن ظاہر کیا جاسکے اور مسلمانوں میں مذہبی حمیت و غیرت کی جانچ بھی ہوسکے۔

ہماری حالتِ زار

نبی رحمت سے محبت ایک مسلمان کے ایمان کا جز ہے اور ان کی تحقیر و تضحیک پر ایک ادنیٰ سا مسلمان بھی خاموش نہیں رہ سکتا۔ اس وقت ۵۶ سے زائد اسلامی ممالک کی تقریباً ڈیڑھ ارب مسلم آبادی دنیا کے سینے پر موجود ہے، لیکن صد افسوس حالیہ کارٹونوں کی اشاعت پر مسلمان ممالک کی طرف سے کوئی ایک قابلِ ذکر اقدام رو بہ عمل نہیں لایا گیا، محض رسمی احتجاجی بیانات پر ہی اکتفا کیا گیا۔

استعماری طاقتوں کی شہ پر سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کی بکی گئی ہفوات کے خلاف اگر مسلمان ممالک کی طرف سے ٹھوس اقدامات ہوتے تو یقیناً آج ختمی مرتبت ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کرنے کی کسی کو ہمت نہ ہوتی، لیکن افسوس اسلامی ممالک میں مغربی کلچر اور درآمد شدہ تہذیبیں اس قدر گھر کر چکی ہے کہ ان سے پیچھا چھڑانا بہت مشکل ہے۔ اس بے حمیتی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ حالیہ توہین آمیز خاکوں کے ردعمل میں اسلامی ممالک میں سے سوڈان اور محض چند دوسرے اسلامی ممالک نے ڈنمارک کا ہر سطح سے بائیکاٹ کرتے ہوئے اس کے سفیروں کو اپنے ملکوں میں چلے جانے کا حکم دیا جب کہ باقی اسلامی ممالک کے سربراہان مصلحت آمیز بیان سے آگے نہ بڑھ سکے۔ افسوس مسلمان نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے!

او آئی سی کا قیام ۱۹۶۹ء میں سانحہ مسجد اقصیٰ کے موقع پر عمل میں آیا جس میں اسلامی ممالک نے اسلامی شعارات کے دفاع کے لیے ایک پلیٹ فارم بنایا اور اس وقت او آئی سی کے اقدامات سے اسرائیل کو باور کر دیا گیا کہ مسلمانوں کا خرمن راکھ کا ڈھیر نہیں بن سکا اور عشق کی آگ ابھی فروزاں ہے، لیکن آج گنبد خضرا کے مکین ﷺ کی توہین کے ردّ عمل میں اسی او آئی سی کا کردار مایوس کن رہا۔ مسلمان ممالک کی ترجمان اور نمائندگی کرنے والی یہ تحریک اغیار کے بوئے گئے کانٹوں اور مصلحتوں کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کی حیثیت اب بے جان گھوڑے کے سوا کچھ نہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ او آئی سی عالمی برادری کو پوری قوت سے مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کرتی اور توہینِ رسالت کے مرتکب عناصر سے مؤاخذہ کی بات کرتی مگر او آئی سی کی قیادت کے رویے بزدلانہ اور مرعوبانہ تھے۔

ایک سوال

۵۶ سے زائد اسلامی ممالک آج تک توہین رسالت کے اس سوال کا سادہ سا جواب ہے کہ اس کی سب سے بڑ تعلیمات کو دیس نکالا دے دیا جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کہ مسلمانوں کو ان کی سیاسی شان وشوکت کے ضامن نظام ایک، جن میں بادشاہت نما حکومتیں چل رہی ہیں، کے علاو لگائے ہوئے اور اسی کی زلف گرہ گیر کے اسیر بن کے رہ نہیں، وہاں اس کے قیام کی کوششوں میں دلچسپی لیتا ہے۔ کو آگے لایا جائے اور اگر اسلامی مزاج رکھنے والے لوگ آ جو اس کی مخالفت کریں۔ اس طرح عملاً حکومتی فیصلوں کی تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اسلامی ممالک میں اسی طرح دوسرا محاذ عوامی رجحانات کا ہے کہ ان کے ا چڑھایا جائے جس سے یہ لوگ ذہنی طور پر اسلامی تہذیب رسالت پر عملی اقدام نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اقوام متحدہ اس لیے وجود میں آئی تھی کہ تمام ممالک کے مسا سخت نقصان پہنچا اور یہ امریکہ کی لونڈی اور دم چھلا بن کے رہ

اب اسلامی خطوں کا منظر یہ بن چکا ہے کہ ان ممالک میں جلسے جلوس ان کے مغرب پرست حکمرانوں پر کوئی اثر نہی ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے اور یورپی و مغربی قوتوں سے مرعوب مجبور ہیں، اسی بنا پر اسلامی ممالک میں اسلام پسند تحریکوں کو افغانستان، پاکستان، انڈونیشیا وغیرہ اسلامی ممالک میں جام دبایا جا رہا ہے۔

مذکورہ بالا حالات میں جب کہ اسلامی حکمران یورپ کی کے مجاہد، جو دنیا میں کفر کے خلاف کسی نہ کسی محاذ پر ڈٹے ہو والے اپنوں کے الجھاؤ کا شکار ہیں۔ یہی وہ نا گفتہ بہ حالات اور اس نے مسلمانوں کے قلب یعنی دینِ اسلام کے حامل مجا لیکن چونکہ احساسِ کمتری کا شکار حکمران دانستہ اور غیر دانستہ طو کوئی گیا گزرا مسلمان بھی یہ برداشت نہیں کرتا کہ اس

-------جمادی الاولیٰ، الاٰخرۃ ۱۴۲۹ھ-------

مئی، جون

صفحہ 5

کامران طاہر

عناصر سے مؤاخذہ کی بات کرتی مگر او آئی سی کی قیادت کی طرف سے آج تک جتنے بھی بیانات آئے، وہ مصلحت کیش اور مرعوبانہ تھے۔

ایک سوال

۵۶ سے زائد اسلامی ممالک آج تک توہین رسالت کے مرتکبین سے حکومتی سطح پر بدلہ نہ لے سکے، آخر کیوں؟ اس سوال کا سادہ سا جواب ہے کہ اس کی سب سے بڑی وجہ یورپی تہذیب کا اسلامی ممالک میں در آنا اور اسلامی تعلیمات کو دیس نکالا دے دیا جانا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کو خلافت کا خاتمہ کر کے جمہوریت کی افیون کا دل دادہ بنا کر مسلمانوں کو ان کی سیاسی شان وشوکت کے ضامن نظام سے تہی دامن کر دیا گیا۔ اب اسلامی ممالک میں سے چند ایک، جن میں بادشاہت نما حکومتیں چل رہی ہیں، کے علاوہ تمام اسلامی ممالک لیلائے مغرب (جمہوریت) کو گلے لگائے ہوئے اور اسی کی زلف گرہ گیر کے اسیر بن کے رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ جن ممالک میں جمہوریت نہیں، وہاں اس کے قیام کی کوششوں میں دلچسپی لیتا ہے۔ تاکہ جن ممالک کے سربراہان اسلامی مزاج نہیں رکھتے، ان کو آگے لایا جائے اور اگر اسلامی مزاج رکھنے والے لوگ آگے آ جائیں تو اپوزیشن میں ایسے لوگ کھڑے کیے جائیں جو اس کی مخالفت کریں۔ اس طرح عملاً حکومتی فیصلوں کی کمان یورپ کے ہاتھوں میں رہے اور سال ہا سال کے تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اسلامی ممالک میں نظام جمہوریت سے سراسر یورپ فائدہ اٹھا رہا ہے۔

اسی طرح دوسرا محاذ عوامی رجحانات کا ہے کہ ان کے اندر فحاشی وعریانی اور تعلیم کے نام پر مغربی تہذیب کو پروان چڑھایا جائے جس سے یہ لوگ ذہنی طور پر اسلامی تہذیب سے برگشتہ ہو جائیں۔ علاوہ ازیں مسلمان ممالک کے توہین رسالت پر عملی اقدام نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جکڑ بندیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ اقوام متحدہ اس لیے وجود میں آئی تھی کہ تمام ممالک کے مسائل کو مل بیٹھ کر حل کیا جائے لیکن اس سے مسلمان ممالک کو سخت نقصان پہنچا اور یہ امریکہ کی لونڈی اور دم چھلا بن کے رہ گئی۔

اب اسلامی خطوں کا منظر یہ بن چکا ہے کہ ان ممالک کے مسلمانوں کے توہین آمیز خاکوں جیسے سانحوں پر احتجاجی جلسے جلوس ان کے مغرب پرست حکمرانوں پر کوئی اثر نہیں رکھتے، کیونکہ یہ حکمران بھی خواہی نخواہی اقوام متحدہ کی ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے اور یورپی و مغربی قوتوں سے مرعوب اپنی آواز کو دبانے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہیں، اسی بنا پر اسلامی ممالک میں اسلام پسند تحریکوں کو بھی انہی حکمرانوں کے ذریعے کچلا جا رہا ہے جس کی مثالیں افغانستان، پاکستان، انڈونیشیا وغیرہ اسلامی ممالک میں جابجا بکھری پڑی ہیں، جہاں اسلامی تحریک یا آواز کو بزور قوت دبایا جا رہا ہے۔

مذکورہ بالا حالات میں جب کہ اسلامی حکمران یورپ کی غلامی کا شکار، عوام مذہبی و تہذیبی بدحالی میں مبتلا اور اسلام کے مجاہد، جو دنیا میں کفر کے خلاف کسی نہ کسی محاذ پر ڈٹے ہوئے تھے، گوانتاناموبے کی جیلوں میں بند ہیں اور بچ رہنے والے اپنوں کے الجھاؤ کا شکار ہیں۔ یہی وہ ناگفتہ بہ حالات ہیں جن میں کفر کو اسلام کی تذلیل کرنے کی ہمت ہوئی اور اس نے مسلمانوں کے قلب یعنی دین اسلام کے حامل ختمی مرتبت ﷺ کی ناموس پر ہاتھ ڈال دیا ہے۔ ان حالات میں جبکہ احساس کمتری کا شکار حکمران دانستہ اور غیر دانستہ طور پر اپنا سب کچھ مغرب کی جھولی میں ڈال چکے ہیں، لیکن کوئی گیا گزرا مسلمان بھی یہ برداشت نہیں کرتا کہ اس کے نبی ﷺ کی تحقیر وتوہین کی جائے اور وہ چپ سادھے

مئی، جون ۲۰۱۰ء

صفحہ 6

تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور اُمت کی ذمہ داریاں

رہے۔ یقیناً وہ آپ ﷺ کی ناموس کے تحفظ کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔ آپ ﷺ کی ناموس پر کوئی حرف آنا کسی مسلمان کو لمحہ بھر کو ہرگز گوارا نہیں ہو سکتا لیکن یاس کے عالم میں دنیائے اسلام کی نظریں بدستور اپنے مسلمان حکمرانوں کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ وہ ایمان کی آخری دیوار ناموسِ رسالت ﷺ کا پاس کرتے ہوئے سگانِ مغرب کو منہ توڑ جواب دیں گے اور شاید سب کچھ لٹ جانے کے بعد بھی اس راکھ کے ڈھیر میں چھپی چنگاری پھر سے سلگ اُٹھے۔

نہ مے باقی، نہ مے خانہ، نہ مے خانے کا ساقی ہے
تماشا ختم ہے پھر بھی اک اُمید باقی ہے

مسئلہ توہینِ رسالت اور پاکستان

عالمِ اسلام میں پاکستان کو اسلام کا قلعہ تصور کیا جاتا ہے اور فی الحقیقت ہے بھی یہی کہ اسلامی تحریکات کا مرکز یہ خطہ، روزِ اوّل سے مغربی استعمار کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے۔ عالمی سطح پر اسلام کے خلاف اُٹھائے جانے والے ہر اقدام پر کفر کی نظریں، نظریاتی مملکت پاکستان کی دینی تحریکوں اور تنظیموں پر جم جاتی ہیں۔ توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت پر پاکستان کی مذہبی اور سیاسی تحریک نے بھر پور احتجاج کیا اور اپنی حکومت سے ڈنمارک سے اقتصادی و سفارتی مقاطعہ اور اس توہین کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دلوانے کا مطالبہ کیا لیکن جیسا کہ ہم مذکورہ سطور میں ذکر کر آئے ہیں کہ اسلامی ممالک یورپی طاقتوں کے آگے بری طرح بے بس ہوئے ہیں۔

پاکستان میں مذہبی تنظیموں نے سالہا سال کی تگ و دو سے عوام الناس میں اسلامی جذبہ کی شمع جلائے رکھی لیکن بدقسمتی سے انہیں ان حکمرانوں سے واسطہ پڑا جو ہمیشہ سے امریکہ کے کاسہ لیس اور اپنے اندرونی معاملات میں ان کے دست نگر رہے۔ پاکستان کے حکومتی ادوار میں سب سے بدتر دور مشرف حکومت کا ہے کہ جس میں مسلمانانِ پاکستان کو کڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ پاکستان میں سامراجی اشاروں پر جس طرح اسلام کی دُرگت اس دور میں بنی، شاید پاکستان کی پوری تاریخ میں اس کی مثال ملے۔ امریکی امریکہ و مغرب نوازی کا سلسلہ اسی وقت سے شروع ہو چکا تھا جب افغانستان کے مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے کے لیے پاکستان کے ہوائی اڈے امریکی فوجیوں کے سپرد کیے گئے اور اس کے بعد Do More کی رٹ نے اس حکومت کے ہاتھوں ’وانا‘ کے اسلام پسند عوام پر لشکر کشی، افغانستان کے جہاد میں حصہ لینے والے پاکستانی و عرب مجاہدین کی گوانتانامو حوالگی، مذہبی تحریکوں پر پابندی، روشن خیالی کے نام پر ملک میں فحاشی و عریانی کے سیلاب بلاخیز اور آخر میں جامعہ حفصہ اور لال مسجد پر چڑھائی کر کے سینکڑوں بے گناہ افراد کی ہلاکت جیسے سیاہ کارنامے سر انجام دیئے۔

اس لیے اس حکومت سے ناموس رسالت پر سخت ایکشن کی توقع عبث تھی۔ یہی وجہ ہے کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے وقت مشرف ناروے میں موجود تھے جو اسکینڈے نیویا کا ہی ایک ملک ہے، لیکن ان کی زبان سے اس سانحہ کے خلاف ایک حرف نکالنے کی توفیق نہ ہو سکی۔ اب جب کہ جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آچکا، لیکن موجودہ حکومت نے بھی ’گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے‘ کے مصداق ایک آدھی قرارداد منظور کی اور بس!!

مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

ـــــــــــــــ جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ـــــــــــــــ

مسلم اُمہ کی ذمہ داریاں

توہین ناموس رسالت کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں۔ بـ قتل سے کم نہیں رکھی اور اپنی محبت کو تمام جہان والوں سـ مسلمان اور خاص طور پر تمام مسلمان ممالک پر یہ فریضہ عائـ کے مرتکبین کے خلاف سخت اقدامات کی کوشش کریں اور اس ہماری رائے میں مسلمانوں کو سانحہ توہین رسالت پر احتـ طرف بھر پور توجہ دینی چاہیے۔

رسالت کے مسئلہ میں جھنجھوڑ سکتی ہے۔ لہٰذا او آئی سی میں پور اعتماد کا یقین دلا کر توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت مندانہ موقف اختیار کریں۔

پھول کی پتی سے کٹ
مرد ناداں پر کلام

مصنوعات کا بائیکاٹ کیا تو ان کی کمپنیوں کو روزانہ بلین ڈالـ سوڈان نے ڈنمارک اور ہالینڈ کا اقتصادی و سفارتی بائـ توہین رسالت کے مرتکب اخبارات کی سرپرستی کرنے والـ

کرتے رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تمام اسلامی مما ممالک خاص طور پر خطہ عرب کو تیل جیسی بیش بہا دولت قائم کریں تاکہ کفر کی برسوں کی باج گزاری سے چھٹکـ

سبب بنے گی۔

اور عراق کی تباہی ہے، لہٰذا اب یہ ادارہ امریکہ کا بغل بـ چھڑا لینی چاہئے اور مسلم ممالک پر مشتمل او آئی سی کی معاملات اور دیگر امور خود طے کر سکیں، کیونکہ اپنے معامـ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو ان کا خبیث باطن روز اول سے ہی وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ

[البقرة: ۱۲۰]

مئی، جون

صفحہ 7

کامران طاہر

مسلم اُمّہ کی ذمہ داریاں

توہین ناموس رسالت کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں۔ جان لینا چاہیے کہ توہین رسالت کی سزا خود احمد مجتبیٰ ﷺ نے قتل سے کم نہیں رکھی اور اپنی محبت کو تمام جہان والوں سے برتر قرار دیا ہے۔ لہٰذا ناموس رسالت کی حفاظت پر ہر مسلمان اور خاص طور پر تمام مسلمان ممالک پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ توہین آمیز کارٹونوں اور اسلام مخالف فلم فتنہ کے مرتکبین کے خلاف سخت اقدامات کی کوشش کریں اور اس راہ میں رکاوٹ بننے والی تمام دیواروں کو گرا دیں۔ ہماری رائے میں مسلمانوں کو سانحہ توہین رسالت پر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے درج ذیل اقدامات کی طرف بھر پور توجہ دینی چاہیے۔

رسالت کے مسئلہ میں جھنجوڑ سکتی ہے۔ لہٰذا او آئی سی میں شامل تمام اسلامی ممالک او آئی سی کی قیادت کو اپنے بھر پور اعتماد کا یقین دلا کر توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت کے ذمہ دار افراد کو سزا دلانے کے متعلق سخت اور جرأت مندانہ موقف اختیار کریں۔

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر

مصنوعات کا بائیکاٹ کیا تو ان کی کمپنیوں کو روزانہ ملین ڈالر کا خسارہ اٹھانا پڑا اور وہ اس نقصان پر چیخ اٹھے۔ اسی طرح سوڈان نے ڈنمارک اور ہالینڈ کا اقتصادی وسفارتی بائیکاٹ کیا، لہٰذا دیگر مسلم ممالک کو ان کی پیروی کرتے ہوئے توہین رسالت کے مرتکب اخبارات کی سرپرستی کرنے والے ممالک کا اقتصادی وسفارتی مقاطعہ کر دینا چاہیے۔

کرتے رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تمام اسلامی ممالک ان کے دست نگر بن چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسلامی ممالک خاص طور پر خطہ عرب کو تیل جیسی بیش بہا دولت سے نوازا ہے، لہٰذا کل اسلامی ممالک اپنی تجارتی منڈیاں قائم کریں تاکہ کفر کی برسوں کی باج گزاری سے چھٹکارا حاصل ہو۔

سبب بنے گی۔

اور عراق کی تباہی ہے، لہٰذا اب یہ ادارہ امریکہ کا بغل بچہ بن چکا ہے۔ چنانچہ اسلامی ممالک کو اس کمبل سے جان چھڑا لینی چاہئے اور مسلم ممالک پر مشتمل او آئی سی کی طرز پر بلاک بنانا چاہیے تاکہ مسلمان اپنے دفاع کے معاملات اور دیگر اُمور خود طے کر سکیں، کیونکہ اپنے معاملات یہود و نصاریٰ کی عدالتوں میں لے جانا سراسر خسارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو ان کا خبیث باطن روزِ اول سے ہی یوں ننگا کر دیا ہے ﴿وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ﴾ [البقرة :۱۲۰]

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 8

تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور اُمت کی ذمہ داریاں

”یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔“

میں موجود ہے، لہٰذا تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمانوں میں خلافت قائم رہی، اسلام مخالف قوتیں مسلمانوں سے لرزہ براندام رہیں اور توہینِ رسالت جیسے حساس اقدام پر ہزار بار غور کرتی تھیں، لیکن جب مسلمانوں سے خلافت چھن گئی تو مسلمان تتر بتر ہو گئے اور ان کی وحدت کا شیرازہ بکھر گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کفار کے غلیظ ہاتھ دامن رسالت تک پہنچ گئے لہٰذا قیام خلافت کی طرف سفر جاری رہنا چاہیے اور ہر اسلامی ملک کو اس کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔

دیگر باطل عناصر کی بیخ کنی کریں اور اسلام پسند تحریکوں کو پروان چڑھائیں تاکہ اسلام پر آنے والے کڑے وقت میں ان تحریکوں سے تعاون حاصل کیا جاسکے۔

مڈبھیڑ نہ کی جائے بلکہ وہ مسلمانوں کو عسکری محاذوں کی بجائے تہذیبی و تعلیمی راستوں سے شکست دینے کی کوشش میں رہتا ہے تاکہ اسلامی تعلیمات کو مشکوک اور مسلمانوں کے ہر فرد کو اس قدر بزدل بنا دیا جائے کہ وہ لڑنے کے قابل نہ رہے لہٰذا اسلامی ممالک کو ﴿وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ﴾ کے قرآنی حکم کے مطابق ہر وقت اپنے گھوڑے تیار رکھنے چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان عسکری محاذوں پر تیاری نہ ہونے کی وجہ سے بری طرح پٹ رہے ہیں اور اللہ کا دشمن اپنی تمام تر خباثتوں کے ساتھ شعائرِ اسلام پر حملہ آور ہے۔

ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام

رسالت ﷺ کے مسئلہ پر آگاہ کریں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اُمتِ مسلمہ کی فکری قیادت انہی لوگوں کے پاس ہے لہٰذا انہیں عزیمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے مسلمان حکمرانوں کو اپنے فتویٰ سے مجبور کر دینا چاہیے کہ وہ ناموس رسالت ﷺ کیلئے جرات مندانہ موقف اختیار کریں۔ اسی طرح اسلامی ممالک میں رائج نظامِ جمہوریت جو سراسر اسلام کے مخالف ہے اور جس کی تباہ کاریوں کا سامنا آج تک مسلمان ممالک کرتے آرہے ہیں، اس نظام کے ذریعے تبدیلی لانا ناممکن ہے اور یہ سمجھنا کہ اس سے کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔

ایں خیال است و محال است و جنوں است

لہٰذا اسلام مخالف اس پودے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے علماء اپنا مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اور آخر میں

اُمتِ محمدیہ میں پیدا ہونے والے بگاڑ کی اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ اُمت آج اسی ڈگر کو اپنائے جو محمد عربی ﷺ انہیں دے کر گئے تھے۔ امام مالکؒ کا زریں فرمان ہے:

——جمادی الاوّلیٰ، الاٰخرۃ ۱۴۲۹ھ——

”لا یصلح آخر ھذہ الأمۃ إلا بما صلح ”اس امت کے بعد والوں کی اصلاح اسی طریقہ پر ہ چنانچہ اُمتِ مسلمہ کو اپنی اصلاح کے لئے اسلاف مسلمہ ذلت ومسکنت سے چھٹکارا حاصل کر سکتی ہے۔ پوزیشن میں آسکتے ہیں کہ اسلامی شعائر کی حفاظت کما حقہ

رسائل

'خاکوں

چگادڑوں کی پھونک سے سورج کو کیا ضر
اندھا ہزار کہتا رہے دن کو ”رات
خوشبوئے مشک خود ہے سند اپنے مشک
حوضوں کے مینڈکوں کا ہے دریا سے ربط
تنقیدِ بادشاہ پہ بھنگی کرے تو
ناپاک سوچ کو کہاں پاکیزگی سے
نیچا دکھا سکیں گے نہ رب کے حبیب ﷺ
ان ﷺ کا وقار بڑھتا رہے گا یونہی
صفحہ 9

کامران طاہر

رسائل

"لا يصلح آخر هذه الأمة إلا بما صلح به أولها"

(الأجوبة النافعة للألباني:٣٤١)

”اس امت کے بعد والوں کی اصلاح اسی طریقہ پر ہو سکتی ہے جس کے ذریعے اس سے پہلوں کی اصلاح ہوئی۔“

چنانچہ اُمت مسلمہ کو اپنی اصلاح کے لئے اسلاف کو نمونہ بنانا ہوگا اور یہی ایک راہ ہے جس کے ذریعے اُمت مسلمہ ذلت ومسکنت سے چھٹکارا حاصل کر سکتی ہے۔ مذکورہ بالا درج شدہ اقدامات پر عمل کرنے سے ہی ہم اس پوزیشن میں آسکتے ہیں کہ اسلامی شعائر کی حفاظت کا حق ادا کرسکیں۔

[کامران طاہر] فاضل المعهد العالي للدعوة والإعلام تابع جامعہ لاہور الاسلامیہ

’خاکوں‘ کی خاک

چمگادڑوں کی ٹوک سے سورج کو کیا ضرر کتوں کے بھونکنے سے بجھا ہے کبھی قمر؟
اندھا ہزار کہتا رہے دن کو ”رات ہے“ کیا مان لے گا اس کی جو ہے صاحبِ نظر
خوشبوئے مشک خود ہے سند اپنے مشک کی خورشید خود دلیل ہے اپنی اے بے خبر!
حوضوں کے مینڈکوں کا ہے دریا سے ربط کیا کرگس کے علم میں کہاں شاہیں کے راہگذر
تنقیدِ بادشاہ پہ بھنگی کرے تو کیا خود اپنے منہ پہ آتا ہے تھوکے جو چاند پر
ناپاک سوچ کو کہاں پاکیزگی سے شغل گل قند کے مزے کی گدھے کو ہے کیا خبر
نیچا دکھا سکیں گے نہ رب کے حبیب ﷺ کو دنیا کے سب خبیث بھی یک جان ہوں اگر
ان ﷺ کا وقار بڑھتا رہے گا یونہی فہیم ”خاکوں“ کی خاک اڑتی رہے گی نگر نگر

[فہیم ترمذی] بشکریہ ماہنامہ ’شمس الاسلام‘ بھیرہ

ــــ مئی، جون ۲۰ء ــــ

صفحہ 10

فہم قرآن

حافظ انس نضر ٭

سورة الأحزاب

إِنَّ اللَّهَ وَمَلٰٓئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَٰٓأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوا حرف مشبہ بالفعل اسم اِنَّ، معطوف علیہ عاطفہ، معطوف خبر اِنَّ، فعل مضارع و فاعل جار مجرور، متعلق يُصَلُّونَ حرف ندا منادیٰ، اسم موصول صلہ، فعل ماضی و فاعل (افعال) یقیناً اللہ تعالیٰ اور اسکے فرشتے درود بھیجتے ہیں نبی کریم ﷺ پر اے وہ لوگو جو ایمان لائے!

صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ فعل امر و فاعل (باب تفعیل) جار مجرور، متعلق صَلُّوا عاطفہ، فعل امر و فاعل (تفعیل) مفعول مطلق حرف مشبہ بالفعل اسم اِنَّ، اسم موصول صلہ، فعل مضارع و فاعل (افعال) مفعول بہ درود پڑھو اُن (ﷺ) پر اور سلامتی بھیجو خوب سلامتی یقیناً وہ لوگ جو ایذا دیتے ہیں اللہ

وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا عاطفہ، مضاف و مضاف الیہ خبر اِنَّ، فعل ماضی، مفعول فاعل لَعَنَ جار مجرور، معطوف علیہ عاطفہ، معطوف عاطفہ، معطوف علی لَعَنَ، فعل و فاعل جار مجرور متعلق أَعَدَّ مفعول بہ، موصوف اور اس کے رسول کو لعنت کر دی اُن پر اللہ تعالیٰ نے دُنیا میں اور آخرت میں اور تیار کر رکھا ہے (اللہ نے) اُن کے لئے عذاب

مُّهِينًا وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا صفت عاطفہ، اسم موصول صلہ، فعل مضارع و فاعل مفعول، معطوف علیہ عاطفہ، معطوف جار مجرور متعلق يُؤْذُونَ، مضاف مضاف الیہ، ما مصدریہ فعل ماضی و فاعل بتاویل مصدر رسوا کرنے والا اور وہ لوگ جو تکلیف دیتے ہیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر اُس کے جو اُنہوں نے کمایا

فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتٰنًا وَإِثْمًا مُّبِينًا يَٰٓأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ جزائیہ، حرف تحقیق فعل ماضی و فاعل مفعول، معطوف علیہ عاطفہ، معطوف، موصوف صفت حرف ندا منادیٰ فعل امر و فاعل پس تحقیق انہوں نے اُٹھایا بہتان اور گناہ واضح اے نبی (ﷺ) کہہ دیجئے

لِّأَزْوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ جار، مجرور متعلق قُلْ عاطفہ، مضاف، مضاف الیہ عاطفہ، مضاف اپنی بیویوں اور بیٹیوں سے اور عورتوں سے

ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن اسم اشارہ بعید (مبتدا) اسم تفضیل (خبر) مصدریہ (ناصبہ المضارع) یہ زیادہ قریب ہے یہ کہ

غَفُورًا رَّحِيمًا لَّئِن خبر كَانَ خبر ثانی لام تاکید، اِن شرطیہ بہت بخشنے والے بہت رحمت کرنے والے البتہ اگر

وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ عاطفہ، معطوف علی الْمُنَافِقُونَ جار مجرور متعلق الْمُرْجِفُونَ جواب شرط، فعل و فاعل، مفعول بہ اور غلط افواہیں اُڑانے والے مدینہ میں ضرور ہم آپ کو مسلط کریں گے

مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا اسم مفعول، حال شرطیہ شرط، ماضی مجہول و نائب فاعل پھٹکارے ہوئے ہیں جہاں بھی وہ پائے جائیں

فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ جار، مجرور (اسم موصول) صلہ، فعل ماضی و فاعل جار مجرور متعلق خَلَوْا ان لوگوں میں جو گزر گئے اس سے پہلے

٭ فاضل مدینہ یونیورسٹی، کلیۃ الشریعۃ، وفاضل کلیۃ القرآن الکریم، جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور

—— جمادی الاولیٰ والآخرۃ ٢٩ ھ ——

صفحہ 11

حافظ أمّت تفسیر قرآنی ٭ حافظ انس نضر مدنی

الاحزاب

عَلَى النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ ءَامَنُوْا جار مجرور، متعلق يُصَلُّوْنَ حرف ندا منادیٰ ، اسم موصول صلہ، فعل ماضی و فاعل (افعال) نبی کریم ﷺ پر اے وہ لوگ جو ایمان لائے !

إِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ حرف مشبہ بالفعل اسم إِنَّ ، اسم موصول صلہ، فعل مضارع و فاعل (افعال) مفعول بہ یقیناً وہ لوگ جو ایذا دیتے ہیں اللہ

وَالْاٰخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا عاطفہ معطوف عاطفہ معطوف علیٰ لعن، فعل و فاعل جار مجرور متعلق أَعَدَّ مفعول بہ اور آخرت میں اور تیار کر رکھا ہے (اللہ نے) ان کے لئے عذاب

بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوْا جار مجرور متعلق فعل محذوف مضاف الیہ ، اسم موصول صلہ، فعل ماضی و فاعل بتاویل مصدر بغیر جو انہوں نے کمایا

لِاَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ جار مجرور متعلق قُلْ عاطفہ، مضاف، مضاف الیہ عاطفہ، مضاف مضاف الیہ فعل مضارع و فاعل (مقولہ) جار مجرور متعلق يُدْنِيْنَ جار متعلق يُدْنِيْنَ مجرور (مضاف، مضاف الیہ) اپنی بیویوں اور بیٹیوں سے اور عورتوں سے مومنوں کی کہ وہ لٹکا لیں اپنے اوپر سے اپنی چادروں

ذٰلِكَ أَدْنٰى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللّٰهُ اسم اشارہ بعید (مبتدا) اسم تفضیل (خبر) مصدریہ (ناصب المضارع) فعل مضارع مجہول و نائب فاعل تعلیلیہ، نافیہ فعل مضارع مجہول و نائب فاعل مستانفہ، فعل ناقص اسم کَانَ یہ زیادہ قریب ہے یہ کہ وہ پہچان لی جائیں تو نہ وہ تکلیف دی جائیں اور ہیں اللہ تعالیٰ

غَفُوْرًا رَّحِيْمًا لَّئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ خبر کَانَ خبر ثانی لام تاکید، اِنْ شرطیہ فعل مضارع (نفی جحد بلم) فاعل عاطفہ، اسم موصول جار، مجرور (متعلق خبر) مبتدا موخر (صلہ) بہت بخشنے والے بہت رحمت کرنے والے البتہ اگر نہ باز آئے منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے

وَالْمُرْجِفُوْنَ فِي الْمَدِيْنَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوْنَكَ فِيْهَا إِلَّا قَلِيْلًا عاطفہ، معطوف علیٰ الْمُنٰفِقُوْنَ جار مجرور متعلق الْمُرْجِفُوْنَ جواب شرط، فعل و فاعل و مفعول جار مجرور متعلق لَنُغْرِيَنَّكَ عاطفہ، نافیہ فعل مضارع و فاعل و مفعول جار مجرور متعلق يُجَاوِرُوْنَكَ حرف استثناء، مستثنیٰ اور غلط افواہیں اڑانے والے مدینہ میں ضرور ہم آپ کو مسلط کریں گے ان پر پھر نہ وہ آپ کے پاس رہ سکیں گے اس (مدینہ) میں مگر تھوڑی مدت

مَّلْعُوْنِيْنَ أَيْنَمَا ثُقِفُوْا أُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِيْلًا سُنَّةَ اللّٰهِ اسم مفعول، حال شرطیہ شرط، ماضی مجہول و نائب فاعل جواب شرط، ماضی مجہول و نائب فاعل عاطفہ، ماضی مجہول و نائب فاعل مفعول مطلق مضاف مضاف الیہ پھٹکارے ہوئے ہیں جہاں بھی وہ پائے جائیں وہ پکڑ لیے جائیں اور قتل کر دیے جائیں بری طرح سے طریقے کے مطابق اللہ تعالیٰ کے

فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا جار، مجرور (اسم موصول) صلہ (فعل ماضی و فاعل) جار مجرور متعلق خَلَوْا مستانفہ، فعل مضارع (نفی تاکید بلن) جار، مجرور مضاف مضاف الیہ مفعول بہ ان لوگوں میں جو گزر گئے اس سے پہلے اور ہرگز نہیں آپ پائیں گے طریقے میں اللہ کے کوئی تبدیلی

مئی، جون ۲۰۱۸ء رِشْد

صفحہ 12

السنۃ والحدیث کامران طاہر

ایک گستاخ کا قتل

حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا سفيان عن عمرو بن دينار عن جابر بن عبد الله أن النبي ﷺ قال: «مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ» قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ : أَنَا [أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَأْذَنْ لِي أَنْ أَقُولَ شَيْئًا قَالَ: « قُلْ » ] فَأَتَاهُ فَقَالَ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ فَقَالَ ارْهَنُونِي نِسَاءَ كُمْ قَالُوا كَيْفَ نَرْهَنُكَ نِسَاءَ نَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ قَالَ: فَارْهَنُوْنِي أَبْنَاءَ كُمْ قَالُوْا كَيْفَ نَرْهَنُ أَبْنَاءَ نَا يُسَبُّ أَحَدُهُمْ فَيُقَالُ رُهِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ هَذَا عَارٌ عَلَيْنَا وَلَكِنَّا نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ قَالَ سُفْيَانُ : يَعْنِي السَّلَاحَ فَوَعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ فَقَتَلُوهُ ثُمَّ أَتَوُا النَّبِيَّ ﷺ فَأَخْبَرُوهُ . [صحيح البخاري:۲۵۱۰، ۴۰۳۷]

”جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جو کعب بن اشرف سے نمٹے؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دی ہے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں یہ کام کروں گا اور کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں اس کو قتل کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ پھر آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں خلافِ واقعہ (بہانے کے طور پر) کچھ کہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کہہ دینا۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب بن اشرف کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں ایک وسق یا دو وسق غلہ قرض دے دو۔ کعب نے کہا اپنی عورتیں میرے پاس گروی رکھ دو۔ کہنے لگے تم عرب کے حسین ترین آدمی ہو ہم اپنی عورتیں تمہارے پاس گروی نہیں رکھ سکتے کہ وہ ایک دو وسق کے لیے گروی بنیں یہ ہمارے لیے رسوائی کی بات ہے، لیکن ہم اپنا اسلحہ گروی رکھ سکتے ہیں۔ یہ وعدہ لے کر اس کے پاس سے چلے گئے، دوبارہ اس کے پاس آئے اور اسے قتل کر دیا، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہیں بھی اس کے قتل کی خبر دی۔“

تخریج الحدیث

مذکورہ بالا حدیث اختصار وطوالت کے ساتھ مندرجہ ذیل کتب میں بھی موجود ہے: صحيح البخاري:۳۰۳۱، ۳۰۳۲، صحيح مسلم:۱۸۰۱، ۲۷۶۸، سنن أبي داؤد:۲۷۶۸، مسند أبي عوانه:۲۹۱۹،سنن الكبرى للبيهقي:۸۱/۹،۴۷/۷،السنن الكبرى للنسائي:۸۲۳۱،مسند حميدي: ۱۲۵۰، المعجم الكبير:۱۵۵۰۳

توضيح الحديث

صحیح بخاری حدیث نمبر ۴۰۳۷ میں اس کی وضاحت اس طرح ہے: محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی تھے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کعب بن اشرف کے پاس پہنچے اور اسے کہنے لگے کہ محمد ﷺ ہم سے زکوۃ کا تقاضا کرتے ہیں اور ہمیں تکلیف میں ڈالا ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ ابھی دیکھتے جاؤ کیا ہوتا ہے اور پھر ان لوگوں نے

———— جمادی الاولیٰ ، الآخرة ۱۴۲۹ھ ————

اسے دھوکے سے باہر لے جا کر قتل کر دیا۔

مذکورہ بالا روایات میں کعب بن اشرف بن اشرف کے متعلق آتا ہے کہ وہ نبی کریم حجر ؒ اسی روایت نمبر ۲۵۱۰ کے تحت کعب رسول اللہ ﷺ کو گالی دے اس کا قتل جائز ہے اسی طرح حضرت مسلمہ رضی اللہ عنہ کا خلافِ کرنے سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ نبی ضرورت کے لیے نبی ﷺ ان کی اجازت دے

فقہ الحدیث

ابتدائی سطور میں ذکر کردہ حدیث اور اس

میں نہیں آتا۔

اے اہل تعصب آسمان تھوکنے

صفحہ 13

کامران طاہر

اسے دھوکے سے باہر لے جا کر قتل کر دیا۔

مذکورہ بالا روایات میں کعب بن اشرف کے قتل کی وجہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دینا بتلائی گئی ہے اور کعب بن اشرف کے متعلق آتا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی شعروں میں بدگوئی کرتا تھا۔ [فتح الباری: ۳۳۷/۷] اور ابن حجر رحمہ اللہ اسی روایت نمبر ۲۵۱۰ کے تحت کعب کے قتل کی وجہ بیان کرتے ہوئے السھیلی رحمہ اللہ کا قول لائے ہیں کہ جو رسول اللہ ﷺ کو گالی دے اس کا قتل جائز ہے۔ [فتح الباری: ۱۴۴/۵]

اسی طرح حضرت مسلمہ رضی اللہ عنہ کا خلاف واقعہ کہنے کی اجازت طلب کرنا اور نبی ﷺ کے متعلق خلاف واقعہ باتیں کرنے سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ بھی سبّ رسول کے حکم میں ہے بلکہ ایسے الفاظ جو خلاف واقعہ ہوں ایسی ضرورت کے لیے نبی ﷺ نے ان کی اجازت دی ہے۔

فقہ الحدیث

ابتدائی سطور میں ذکر کردہ حدیث اور اس کے ضمن میں بیان کردہ وضاحت سے مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں:

٭.......٭.......٭

اے اہل خرد! مغرب کی حرکت تو دیکھئے
تعصب میں مرا جا رہا ہے سوچتا نہیں
آسمان پہ تھوکا ہوا واپس ہی آئے گا
تھوکنے والا دیکھو ذرا سوچتا نہیں

[ کامران طاہر ]

ــــ مئی، جون ۲۰۱۰ء ــــ

صفحہ 14

سیرت طیبہ عبد الرشید صادق *

حسن و جمال کا چاند صلی اللہ علیہ وسلم

اہانت رسول ﷺ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ڈنمارک کی طرف سے نبی ﷺ کے توہین آمیز خاکے پھر سے شائع کردیئے گئے ہیں جن میں تاجدار مدینہ کی صورت کو انتہائی مضحکہ خیز شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ توہین انبیاء ایک ناقابل معافی جرم ہے جس کی سزا موت سے کم نہیں۔ مغرب اسلامی تعلیمات کی روز بروز بڑھتی ہوئی اشاعت سے زچ ہوچکا ہے اور اس کے سامنے بند باندھنے میں ناکام بھی۔ لہٰذا اب اس نے اخلاقیات کی تمام حدود پھلانگتے ہوئے مسلمانوں کے مرکز یعنی محمد ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کر دیئے ہیں۔ آپ ﷺ کی سیرت وصورت کے احوال جن ذرائع سے مسلمانوں تک پہنچے ہیں وہ انتہائی محتاط اور ثقہ ہیں۔ اب تک سیرت وصورت رسول کے مطالعہ سے یہی معلوم ہوتا ہے ختمی مرتبت ﷺ کی صورت اللہ تعالیٰ نے سب مخلوق میں اکمل ترین بنائی ہے۔ مالک کائنات نے آپ ﷺ کو تمام مخلوق سے افضل بنایا اور قیامت تک کے لیے آپ ﷺ کو کائنات کے تمام لوگوں کا مقتدا و امام بنایا اور یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ تمام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت و رشد کا مرکز ومحور مقرر کیے جانے والے کی صورت ناقص رہ جاتی؟

حضور نبی کریم ﷺ خاتم النبیین ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ہر لحاظ سے کامل واکمل بنایا۔ جس طرح آپ کی سیرت سب سے اعلیٰ ہے۔ (نبوت سے قبل ہی لوگ آپ ﷺ کو صادق اور امین کہتے تھے) اسی طرح آپ ﷺ کی شکل وصورت بھی سب سے زیادہ افضل ہے۔ آپ ﷺ کی تخلیق ہر لحاظ سے مکمل تھی۔

آپ ﷺ صورت وسیرت کے لحاظ سے عالمگیر جہاں میں ایک مقتدر وممتاز حیثیت کے حامل قدرت الہی کی عدیم النظیر شاہکار شخصیت تھے۔ سید الملائکۃ حضرت جبریل امین ؑ کی اس گواہی سے بڑھ کر اور کون سی گواہی ہوسکتی ہے جو انہوں نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے: قال رسول اللہ ﷺ «قال لی جبریل علیہ السلام قلبت الأرض مشارقها ومغاربها فلم أجد رجلا أفضل من محمد»

”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے جبریل نے خبر دی کہ ”میں نے مشرق ومغرب کے کونے کونے چھان مارے ہیں مگر میں نے کسی انسان کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر فضیلت و بزرگی والا نہیں پایا۔“ [السيرة النبوية لابن کثیر ١/ ١٩٣]

الغرض آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کے سب سے عظیم منتخب اور برگزیدہ پیغمبروں کی تمام خوبیوں کا اعلیٰ ترین مرقع بنایا۔ اور آپ ﷺ ہی پر یہ بات صادق آتی ہے۔

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

نین ونقوش میں دیکھیں تو سراپا حسن وجمال، خدوخال میں بے مثال کسی نے دیکھا تو مبہوت ہوکر دیکھتا ہی رہ گیا اور بعض نے آپ ﷺ کا دیدار کیا تو یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ اس چہرے سے تو صدق ٹپکتا ہے۔ یہ صاحب صدق و وفا

٭ فاضل کلیۃ الشریعۃ، جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور ــــــ جمادی الاوّلیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ــــــ

کا چہرہ ہے جس پر کذب وافترا ایک کرام رضی اللہ عنہم کی زبان سے نکلے ہو آپ کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ

متیٰ
یلح

”اندھیری شب میں ان کی پیشانی اور شاعر نے آپ ﷺ کی تعری

یا صاحب الجمال ویا
لايمكن الثناء كما

آپ ﷺ کی ان عظیم الشان صف کریم ﷺ کے خاکے شائع کر رہا ہ ذات کے بعد سب سے عظیم الشان ہ بنے ہوئے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ﴿خَتَمَ اللّٰهُ عَلَىٰ قُلُوْبِهِمْ وَعَ ”اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کہ کون سا راستہ درست ہے۔“ اب ہم تفصیلاً نبی کریم ﷺ کا حلیہ

چہرہ مبارک

إليه وإلى القمر قال: فلهو کا ”جابر بن سمرہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور ایک بار چا

الله ﷺ فقالت يا بنى لو رأيته ”ابو عبیدہ بن عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا اے میرے بیٹے! اگر تم

”براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آپ ﷺ اخلاق والے تھے۔“

صفحہ 15

عبدالرشید صادق٭

چاند صلی اللہ علیہ وسلم

طرف سے نبی ﷺ کے توہین آمیز خاکے پھر سے شائع خیز شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ توہین انبیاء ایک ناقابل عات کی روز بروز بڑھتی ہوئی اشاعت سے زچ ہو چکا نے اخلاقیات کی تمام حدود پھلانگتے ہوئے مسلمانوں ﷺ کی سیرت وصورت کے اُحوال جن ذرائع سے خوبصورت رسول کے مطالعہ سے یہی معلوم ہوتا ہے رین بنائی ہے۔ مالک کائنات نے آپ ﷺ کو تمام کے تمام لوگوں کا مقتدا و امام بنایا اور یہ کیسے ہو سکتا ہ جانے والے کی صورت ناقص رہ جاتی؟

کو ہر لحاظ سے کامل و اکمل بنایا۔ جس طرح آپ کو صادق اور امین کہتے تھے ) اسی طرح آپ ﷺ علیٰ ہر لحاظ سے مکمل تھی۔

ممتاز حیثیت کے حامل قدرت الہی کی عدیم ﷺ کی اس گواہی سے بڑھ کر اور کون سی گواہی صلی اللہ ﷺ «قال لى جبريل عليه السلام في من محمد » مغرب کے کونے کونے چھان مارے ہیں مگر میں نہیں پایا۔“

[السيرة النبوية لابن كثير ١٩٣/١]

برگزیدہ پیغمبروں کی تمام خوبیوں کا اعلیٰ ترین مظہر

کہا تو مبہوت ہو کر دیکھتا ہی رہ گیا ہوتا ہے۔ یہ صاحب صدق و وفا

عبدالرشید صادق

کا چہرہ ہے جس پر کذب و افترا ایک بہتان ہے۔ شب و روز آپ ﷺ کے حسن و جمال کا نظارہ کرنے والے صحابہ کرام ؓ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کا ذخیرہ آپ ﷺ کے جمال و جلال کی روشن شہادت ہیں۔

آپ ﷺ کے متعلق حضرت عائشہ ؓ نے یہ شعر پڑھا:

متى يبد في الدجى البهيم جبينه
يلح مثل مصباح الدجى المتوقد

”اندھیری شب میں ان کی پیشانی یوں نظر آتی ہے اور اس طرح چمکتی ہے جیسے روشن چراغ ۔“

[اسد الغابة ۲۵۵/۱]

اور شاعر نے آپ ﷺ کی تعریف کو ناممکن سمجھتے ہوئے اس بات پر اختتام کیا کہ

يا صاحب الجمال ويا سيد البشر
من وجهك المنير لقد نور القمر
لايمكن الثناء كما كان حقه
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

آپ ﷺ کی ان عظیم الشان صفات کے باوجود آج مغرب جو اپنے آپ کو ترقی یافتہ قوم سمجھتا ہے وہ رسول کریم ﷺ کے خاکے شائع کر رہا ہے، لیکن ان بدباطنوں کو اس بات کا علم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ہستی اللہ تعالیٰ کی ذات کے بعد سب سے عظیم الشان مقام رکھتی ہے یہ کفار ﴿صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ﴾ کے مصداق بنے ہوئے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰی سَمْعِهِمْ وَعَلٰیٓ اَبْصَارِهِمْ﴾

[البقرة: ۷]

”اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے ان کے کان اور آنکھیں صحیح ہونے کے باوجود ان کو دین سمجھ ہی نہیں آتا کہ کون سا راستہ درست ہے۔“

اب ہم تفصیلاً نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک بیان کرتے ہیں۔

چہرہ مبارک

إليه وإلى القمر قال: فلهو كان أحسن فى عينى من القمر .

[سنن الدارمي: ۳۳/۱]

”جابر بن سمرة ؓ کا بیان ہے کہ میں نے ایک بار چاندنی رات میں آپ کو دیکھا، آپ ﷺ پر سرخ جوڑا تھا میں ایک بار رسول اللہ ﷺ کو دیکھتا اور ایک بار چاند کو دیکھتا آخر (اس نتیجہ پر پہنچا کہ) آپ ﷺ چاند سے زیادہ خوبصورت ہیں۔“

الله ﷺ فقالت يا بنى لو رأيته رأيت الشمس طالعة .

[سنن الدارمي ۳۳/۱]

”ابوعبیدہ بن عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ سے کہا کہ ہمارے لئے نبی ﷺ کی صفت بیان کریں انہوں نے کہا اے میرے بیٹے! اگر تم نبی کو دیکھتے تو ایسے محسوس کرتے جیسے سورج کو دیکھ رہے ہو۔“

[صحيح البخاري: ۳۵۴۹]

”براء بن عازب ؓ کہتے ہیں آپ ﷺ کا چہرہ سب سے زیادہ خوبصورت اور آپ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے۔“

مئی ، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 16

حسن و جمال کا چاند ﷺ

مستديرا .

[صحيح البخاري: ۳۵۵۲، صحيح مسلم: ۲۳۳۰]

"انہی (یعنی براء ہی سے ) سوال کیا گیا کیا نبی ﷺ کا چہرہ تلوار جیسا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ چاند جیسا تھا اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کا چہرہ گول تھا۔

رايت أحدا أسرع فى مشيه من رسول الله ﷺ كأنما الأرض تطوى له وإنا لنجهد أنفسنا وإنه لغير مكترث .

[مسند أحمد: ۳۵۰/۲]

"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہیں دیکھی ، لگتا تھا کہ سورج آپ ﷺ کے چہرے پر رواں دواں ہے اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کسی کو تیز رفتار نہیں دیکھا، لگتا تھا کہ زمین آپ ﷺ کے لئے لپیٹی جارہی ہے۔ ہم تو اپنے آپ کو تھکا مارتے تھے اور آپ ﷺ بالکل بے فکر ہوتے۔"

[صحيح البخاري: ۳۵۵۶]

"حضرت کعب بن مالک کا بیان ہے کہ جب آپ خوش ہوتے تو چہرہ دمک اٹھتا گویا چاند کا ایک ٹکڑا ہے۔"

ایک بار آپ ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف فرما تھے پسینہ آیا تو چہرے کی دھاریاں چمک اٹھیں یہ کیفیت دیکھ کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابو کبیر ھذلی کا یہ شعر پڑھا۔

وإذا نظرت إلى أسرة وجهه
برقت كبرق العارض المتهلل

"جب ان کے چہرے کی دھاریاں دیکھو تو یوں چمکتی ہیں جیسے روشن بادل چمک رہا ہو۔

[السلسلة الضعيفة تحت رقم: ۴۱۴۴]

ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کو دیکھ کر یہ شعر پڑھتے:

أمين مصطفى للخير يدعو
كضوء البدر زايله الظلام

آپ ﷺ امین ہیں چنیدہ اور برگزیدہ ہیں خیر کی دعوت دیتے ہیں گویا چودھویں کے چاند کی روشنی ہیں جس سے تاریکی آنکھ مچولی کھیل رہی ہے۔"

[دلائل النبوة: ۳۰۶/۱]

حضرت عمر رضی اللہ عنہ زہیر کا یہ شعر پڑھتے جو ھرم بن سنان کے بارے میں کہا گیا تھا کہ :

لو كنت من شئ سوى البشر
كنت المضئ ليلة البدر

"اگر آپ ﷺ بشر کے سوا کسی اور چیز سے ہوتے تو آپ ﷺ ہی چودھویں کی رات کو روشن کرتے۔"

[دلائل النبوة: ۳۰۶/۱]

الوجه.

[صحيح مسلم: ۲۳۴۰]

"جریری کہتے ہیں کہ میں نے ابوطفیل سے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے، فرمایا: جی ہاں وہ خوبصورت سفید چہرے والے تھے۔"

سیرت رسول ﷺ

—— جمادی الاولی، الآخرة ۲۹ ھ ——

صفحہ 17

عبدالرشید صادق

فقلت له فكيف رأيته قال كان أبيض مليحا مقصدا [صحيح مسلم: ۲۳۳۰] ”ابوطفیل نے کہا میرے علاوہ روئے زمین پر کوئی شخص باقی نہیں رہا جس نے نبی ﷺ کو دیکھا ہو انہوں نے پوچھا آپ نے ان کو کیسا پایا؟ کہنے لگے سفید خوبصورت اور میانہ قد تھے۔“

ایک جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔ [أسد الغابة: ۲۶۸/۳]

اور شاعر نے آپ ﷺ کی تعریف کو ناممکن سمجھتے ہوئے اس بات پر اختتام کیا کہ

أحسن منك لم تر قط عيني أجمل منك لم تلد النساء
أنت مبرأ من كل عيب كأنك قد خُلقت كما تشاء

”آپ ﷺ سے زیادہ حسین و جمیل شخص میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا آپ ﷺ سے زیادہ خوبصورت بچہ کسی عورت نے پیدا نہیں کیا آپ ﷺ ہر عیب سے پاک ہیں گویا آپ ﷺ اپنی مرضی کے مطابق پیدا کئے گئے ہیں۔“

[المستطرف للابشيهي ۲۳۱/۱]

رنگت مبارک

اندر پوشیدہ رہتا تھا وہ سفید اور چمکدار تھا۔ [دلائل النبوة: ۲۲۴/۱]

آنکھیں مبارک

وكنت إذا نظرت إليه قلت أكحل العينين وليس باكحل . [سنن الترمذي: ۳۶۴۵] ”حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی پنڈلیاں قدرے پتلی تھیں۔ آپ ہنستے تو صرف تبسم فرماتے ، آنکھیں سرمگیں تھیں تم دیکھتے تو کہتے کہ آپ ﷺ نے آنکھوں میں سرمہ لگایا ہوا ہے حالانکہ سرمہ نہ لگایا ہوتا۔“

مئی ، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 18

حسن و جمال کا چاند ﷺ

[دلائل النبوۃ: ۲۰۱/۱]

[صحیح مسلم: ۲۳۳۹]

ناک مبارک

معلوم ہوتی تھی۔

[دلائل النبوۃ: ۱۶۳/۱]

رخسار مبارک

[دلائل النبوۃ: ۲۱۶/۱]

دہن مبارک

[سنن الترمذي: ۳۶۴۶]

[دلائل النبوۃ: ۲۱۶/۱]

دندان مبارک

[سنن الدارمي: ۵۹]

”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے آگے کے دونوں دانت الگ الگ تھے آپ ﷺ جب گفتگو فرماتے تو ان دانتوں کے درمیان سے نور سا نکلتا دکھائی دیتا۔“

[الرحيق المختوم: ص ۷۷۷، بحوالہ مشکوۃ: ۵۱۸/۲]

ریش مبارک

[دلائل النبوۃ: ۱۶۸،۱۶۴/۱]

[صحيح البخاري: ۳۵۳۵]

”حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے ہونٹ کے نیچے عنفقہ (ڈاڑھی بچہ) میں سفیدی دیکھی۔“

[صحيح البخاري: ۳۵۴۷]

”حضرت انس کہتے ہیں وفات کے وقت تک سر اور چہرے کے بیس بال سفید ہوئے تھے۔“

گردن مبارک

ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کی گردن پتلی لمبی جیسے مورتی کی طرح خوب صورتی سے تراشی گئی ہو۔

گردن کی رنگت چاندی جیسی اجلی اور خو

سر مبارک

حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سر بڑا مگر اعتد

بال مبارک

يضرب منكبيه بينه ما بين المنكـ ”براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خوبصورت نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ کے بال لمبے تھے اور نہ ہی پست قد۔“

بالجعد ولا السبط بين أذنيه وعـ ”قتادہ سے روایت ہے میں نے انس ر گھونگھریالے، نہ بالکل سیدھے کانوں ا

”انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول ا

”حضرت انس سے روایت ہے رسول ا

کندھے اور سینہ مبارک

جمادی الاولی، الآخرۃ ۲۹ھ

صفحہ 19

عبدالرشید صادق

گردن کی رنگت چاندی جیسی اجلی اور خوشنما تھی۔ [دلائل النبوة: ۱۶۳/۱]

سر مبارک

حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سر بڑا مگر اعتدال اور مناسبت کے ساتھ۔

[سنن الترمذي مع شرح تحفة الأحوذي: ۳۰۳/۳]

بال مبارک

[صحیح مسلم: ۲۳۳۷]

”براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کوئی بالوں والا شخص سرخ جوڑا پہنے ہوئے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ کے بال مونڈھوں تک پہنچتے تھے اور دونوں مونڈھوں میں فاصلہ تھا آپ ﷺ نہ زیادہ لمبے تھے اور نہ ہی پست قد ۔“

[صحیح مسلم: ۲۳۳۸]

”قتادہ سے روایت ہے میں نے انسؓ سے کہا رسول اللہ ﷺ کے بال کیسے تھے انہوں نے کہا درمیانے تھے نہ بہت گھونگھریالے، نہ بالکل سیدھے کانوں اور مونڈھوں کے درمیان تک تھے۔“

[صحیح مسلم: ۲۳۳۸]

”انسؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ کے بال مونڈھوں کے قریب تک تھے۔“

[أيضاً]

”حضرت انس سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ کے بال آدھے کانوں تک تھے۔“

[دلائل النبوة: ۲۰۰/۱]

[ابن هشام: ۴۰۱/۱]

[دلائل النبوة: ۲۱۶/۱]

[سنن الترمذي مع شرح تحفة الأحوذي: ۳۰۳/۳]

[أيضاً]

[خلاصة السير: ۲۰۱۹]

کندھے اور سینہ مبارک

[دلائل النبوة: ۲۱۲/۱]

[صحیح البخاري: ۳۵۵۱]

مئی، جون ۲۰۱۸ء

صفحہ 20

حسن و جمال کا چاند ﷺ

زیادہ تھا۔

[دلائل النبوة: ۲۱۲/۱]

[دلائل النبوة: ۲۰۱/۱]

بازو اور ہاتھ مبارک

[دلائل النبوة: ۲۱۳/۱]

[صحيح البخاري: ۳۵۶۱]

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ریشم کا دبیز یا باریک کوئی کپڑا یا کوئی اور چیز ایسی نہیں جیسے میں نے چھوا ہو اور وہ نبی ﷺ کی ہتھیلیوں سے زیادہ نرم وگداز ہو۔

قدم مبارک

ٹھہرے۔

[دلائل النبوة: ۲۱۴/۱]

[صحیح مسلم: ۲۳۳۹]

پیکر جمال

پسینہ مبارک

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

[سنن الترمذي: ۲۰۱۵]

"میں نے کبھی کستوری یا عطر کی خوشبو نہیں سونگھی جو رسول اللہ کے پسینے سے زیادہ خوشبودار ہو ۔"

رائحة من المسك

[صحيح البخاري: ۳۵۵۳]

" ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کا ہاتھ اپنے چہرے پر رکھا تو وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار تھا ۔"

من جؤنة عطار .

[صحیح مسلم: ۲۳۲۹]

" حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ جو بچے تھے۔ کہتے ہیں آپ ﷺ نے میرے رخسار پر ہاتھ پھیرا تو میں نے آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایسی ٹھنڈک اور ایسی خوشبو محسوس کی گویا آپ ﷺ نے اسے عطار کے عطردان سے نکالا ہے ۔"

[صحیح مسلم : ۲۳۳۱،۲۳۳۰]

" حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آپ کا پسینہ گویا موتی ہوتا تھا اور حضرت ام سلیم کہتی ہیں کہ یہ پسینہ ہی سب سے عمدہ خوشبو ہوا کرتی تھی ۔"

----- جمادی الاولی، الآخرۃ ۲۹ھ -----

صفحہ 21

عبدالرشید صادق

ريح عرقه

[المسند الجامع: ۲۹۰۰]

”حضرت جابر کہتے ہیں۔ آپ ﷺ کسی راستے سے تشریف لے جاتے اور آپ ﷺ کے بعد کوئی اور گزرتا تو آپ ﷺ کے جسم یا پسینہ کی خوشبو کی وجہ سے جان جاتا کہ آپ ﷺ یہاں سے تشریف لے گئے ہیں۔“

[سنن الدارمي: ۷۴/۱]

”آپ کی بغلوں کا پسینہ مشک کی خوشبو کی مثل تھا۔“

[سنن الدارمي: ۳۴/۱]

”رسول اللہ ﷺ رات کو اچھی خوشبو کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔“

مجموعی جسامت

[سنن الترمذي مع شرح تحفة الأحوذي: ۳۰۴/۴]

[دلائل النبوة: ۲۱۲/۱]

(صحيح البخاري: ۳۵۴۹]

[دلائل النبوة: ۱۹۸/۱]

[رحمة للعلمين: ۸۸/۱]

تھا۔

[المواهب: ۳۱۰/۱]

[سنن الدارمي: ۴۳/۱]

ایک جامع لفظی تصویر

پاکیزہ اور کشادہ چہرہ، پسندیدہ خو، نہ پیٹ باہر نکلا ہوا، نہ سر کے بال گرے ہوئے، زیبا، صاحب جمال آنکھیں سیاہ وفراخ بال لمبے اور آواز میں بھاری پن، بلند گردن، روشن مردمک، سرمگیں چشم، باریک و پیوستہ ابرو، سیاہ گھنگھریالے بال، خاموش وقار کے ساتھ، گویا دلبستگی لئے ہوئے دور سے دیکھنے میں زیبندہ و دلفریب قریب سے نہایت شیریں و کمال حسین، شیریں کلام، واضح الفاظ کلام کمی و بیشی سے معرا، تمام گفتگو موتیوں کی طرح لڑی پروئی ہوئی، میانہ قد کہ کوتاہی نظر سے حقیر نظر نہیں آتے نہ طویل کہ آنکھ اس سے نفرت کرے۔ زیبندہ نہال کی تازہ شاخ زیبندہ منظر والا قد، رفیق ایسے کہ ہر وقت اس کے گرد و پیش رہتے ہیں جب وہ کچھ کہتا ہے تو چپ چاپ سنتے ہیں جیسا حکم دیتا ہے تو تعمیل کے لئے جھپٹتے ہیں۔ مخدوم، مطاع، نہ کوتاہ سخن نہ فضول گو۔

[زاد المعاد: ج ۱ ص ۳۰۷]

مہر نبوت

حضرت سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے دونوں کاندھوں کے درمیان مہر نبوت کو دیکھا تو

—— مئی، جون ۲۰۰۸ء ——

صفحہ 22

حسن و جمال کا چاند ﷺ

وہ چھپر کھٹ کے درمیان کلغی کی طرح تھی۔

[صحیح البخاری: ۱۹۰]

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کبوتری کے انڈے کی طرح سرخ ابھرا ہوا گوشت تھا۔

[سنن الترمذي: ۳۶۴۳]

یہ ہے حسن و جمال کا چاند جو عرب کی زمین پر وارد ہوا اور جس کے طلوع ہوتے ہی تمام روشنیاں ماند پڑ گئیں۔

کہاں یہ حسن و جمال کا پیکر اور کہاں ڈنمارک کے بدباطنوں کی ہفوات۔ العیاذ باللہ من ذلک .

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .

* ........ * ........ *

گستاخی رسول ﷺ گوارا نہیں ہمیں

کس پر یہ در کھلا نہیں قرآں کے باب کا دین ہدیٰ ہے دین، رسالت مآب کا
جو مانتا نہیں ہے، اسے کب شعور ہے روشن ہے کائنات میں چہرہ کتاب کا
"آنکھیں اگر بند ہیں تو پھر دن بھی رات ہے اس میں بھلا قصور ہے کیا آفتاب کا"
آیاتِ حق کی روز اڑاتا ہے وہ ہنسی داڑھی پہ خندہ زن ہے تو منکر حجاب کا
گستاخی رسول گوارا نہیں ہمیں پیغام ہے یہ اسوۂ عالی جناب کا
رکھ دیں گے اس لعین کی گردن اتار کر کچھ چڑھ گیا ہے اس کو نشہ شراب کا
اس گندگی کے ڈھیر کو نذرِ زمیں کریں جھیلے نہ چار سو میں تعفن عذاب کا
اس کی حرام کاریاں، اللہ کی پناہ! کیا انتظار ہم کریں یومِ حساب کا؟
ہر اِک کو چاہیے کہ بنے غازی علم دین
یہ وقت اب نہیں ہے سوال وجواب کا

[کامران طاہر]

—— جمادی الاولیٰ، الآخره ۱۴۲۹ھ ——

رسائل

أحوالِ حال

حضور ﷺ وَإِذَا بَرَقَتْ "جب ان کے چہروں کی زیار رسالت مآب ﷺ سیرت و پہلوؤں سے لوگوں پر متاثر کن لگاؤ، اس طرح غیر مسلموں کا صفات عالیہ کا مخزن ہے۔ آپ مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری "ہجرت کے وقت رسول سے آپ ﷺ کے حلیہ مبارک "رنگ، تابناک چہرہ خ ہوا پیکر، سرمگیں آنکھیں ہوئے ابرو چمکدار کالے و پر جمال، قریب سے سب کہ گویا لڑی سے موتی جھڑ ایسی شاخ کی طرح ہیں ج سے سنتے ہیں، کوئی حکم دی حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کا "آپ نہ لمبے تڑنگے تھے بالکل کھڑے کھڑے بلک چہرہ کسی قدر گولائی لیے ہو بڑی، سینہ پر ناف تک با جھٹکے سے پاؤں اٹھاتے ☆ فاضل كلية الشريعة، جام

صفحہ 23

بخاری:۱۹۰]

کی طرح سرخ ابھرا ہوا گوشت تھا۔

[سنن الترمذی: ۳۶۴۴]

شمس کے طلوع ہوتے ہی تمام روشنیاں ماند پڑ گئیں۔

وات۔ العياذ بالله من ذلك .

صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ

را نہیں ہمیں

ہوئی ہے دین، رسالت مآبؐ کا
ہے کائنات میں چہرہ کتاب کا
میں بھلا قصور ہے کیا آفتاب کا
پہ خندہ زن ہے تو منکر حجاب کا
ہے یہ اسوۂ عالی جنابؐ کا
بڑھ گیا ہے اس کو نشہ شراب کا
چار سو میں تعفن عذاب کا
آج ہم کریں یومِ حساب کا؟
غازی علم دین
و جواب کا

[کامران طاہر]

احوال حال نعیم الرحمن ناصف٭

حضور ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی نوعیت

وَإِذَا نَظَرْتَ إِلَى أَسِرَّةِ وَجْهِهِ
بَرَقَتْ كَبَرْقِ الْعَارِضِ الْمُتَهَلِّلِ

”جب ان کے چہروں کی دھاریاں دیکھو، تو وہ یوں چمک رہی ہوتی ہیں جیسے بادل کی بجلی۔“

رسالت مآب ﷺ سیرت وصورت ہر دو پہلو سے ایک نمایاں اور ممتاز حیثیت کے حامل ہیں۔ آپ ﷺ نے جملہ پہلوؤں سے لوگوں پر متاثر کن حد تک اثرات چھوڑے ہیں۔ مسلمانوں کی آپ کے ساتھ محبت وعقیدت وارفتگی اور لگاؤ، اس طرح غیر مسلموں کا روز افزوں اسلام کی طرف بڑھتا ہوا میلان انہی اثرات کا لازمہ ہے۔ گویا آپؐ کا وجود تمام صفات عالیہ کا مخزن ہے۔ آپ جمال خلق اور کمال خلق کی کن بلندیوں کو چھو رہے ہیں ملاحظہ فرمائیے:

مولانا صفی الرحمن مبارکپوری ؒ فرماتے ہیں:

”ہجرت کے وقت رسول اللہ ﷺ ام معبد خزاعیہ کے خیمہ سے گزرے تو اس نے آپ کی روانگی کے بعد اپنے شوہر سے آپ ﷺ کے حلیہ مبارک کا جو نقشہ کھینچا وہ یہ تھا:

”رنگ، تابناک چہرہ خوبصورت ساخت نہ توندے پن کا عیب نہ گنجے پن کی خامی، جمال جہان تاب کے ساتھ ڈھلا ہوا پیکر، سرمگیں آنکھیں، لمبی پلکیں، بھاری آواز، لمبی گردن، سفید و سیاہ آنکھیں، سیاہ سرمگیں پلکیں، باریک اور باہم ملے ہوئے ابرو چمکدار کالے بال، خاموش ہوں تو باوقار گفتگو کریں تو پرکشش۔ دور سے دیکھنے میں سب سے زیادہ تابناک و پر جمال، قریب سے سب سے خوبصورت اور شیریں، گفتگو میں چاشنی، بات واضح اور دو ٹوک، نہ مختصر نہ فضول، انداز ایسا کہ گویا لڑی سے موتی جھڑ رہے ہیں، درمیانہ قد نہ ناٹا کہ نگاہ میں نہ جچے نہ لمبا کہ ناگوار لگے۔ دو شاخوں کے درمیان ایسی شاخ کی طرح ہیں جو سب سے زیادہ تازہ و خوش منظر ہے، رفقا آپ کے گرد حلقہ بنائے ہوئے کچھ فرمائیں تو توجہ سے سنتے ہیں، کوئی حکم دیں تو لپک کر بجا لاتے ہیں، مطاع و مکرم، نہ ترش رو نہ لغو گو۔“

[زاد المعاد: ۵۴/۲]

حضرت علی ؓ آپ کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”آپ نہ لمبے تڑنگے تھے نہ ناٹے ٹھگنے، لوگوں کے حساب سے درمیانہ قد کے تھے۔ بال نہ زیادہ گھنگریالے تھے نہ بالکل کھڑے کھڑے بلکہ دونوں کے بیچ بیچ کی کیفیت تھی۔ رخسار نہ زیادہ پر گوشت تھا نہ چہرہ کسی قدر گولائی لیے ہوئے تھا۔ رنگ گورا گلابی، آنکھیں سرخی مائل، پلکیں لمبی، جوڑوں اور مونڈوں کی ہڈیاں بڑی بڑی، سینہ پر ناف تک بالوں کی ہلکی سی لکیر، بقیہ جسم بال سے خالی، ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں پرگوشت، چلتے تو قدرے جھٹکے سے پاؤں اٹھاتے اور یوں چلتے گویا کسی ڈھلوان پر چل رہے ہیں۔ جب کسی طرف ملتفت ہوتے تو پورے وجود

٭فاضل کلیۃ الشریعۃ، جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور

مئی، جون ۲۰۱۰ء

صفحہ 24

حضور ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی نوعیت

کے ساتھ ملتفت ہوتے۔ دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی۔ آپ ﷺ سارے انبیاء کے خاتم تھے سب سے زیادہ سخی دست اور سب سے بڑھ کر جرأت مند، سب سے زیادہ صادق اللہجہ اور سب سے بڑھ کر عہد و پیمان کے پابند وفا، سب سے زیادہ نرم طبیعت اور سب سے شریف ساتھی۔ جو آپ کو اچانک دیکھتا ہیبت زدہ ہو جاتا جو جان پہچان کے ساتھ ملتا محبوب رکھتا۔ آپ کا وصف بیان کرنے والا یہی کہہ سکتا ہے کہ میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد ایسا نہیں دیکھا۔"

[ابن هشام:۴۰۱/۱، الرحیق المختوم:ص۷۷۰]

حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں:

لَوْ کُنْتَ مِنْ شَیْءٍ سِوَی الْبَشَرِ
کُنْتَ الْمُضِیْءَ لَیْلَةَ الْبَدْرِ

'اگر آپ ﷺ بشر کے علاوہ کوئی اور چیز ہوتے تو آپ ﷺ چودھویں کی رات کو روشن کرتے۔'

بہر صورت ابتدائے مضمون میں رسالت مآب ﷺ کی مدح سرائی اور حسن و جمال کے بیان سے مقصود توہین آمیز خاکوں سے پیدا ہونے والے مذموم اثرات کو لوحِ ذہنی سے ختم کرنا اور اس کی جگہ خلاصۂ کائنات علیہ السلام والتحیات کے چہرہ آفتاب کے حقیقی انوار کو ثبت کرنا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ فکری پسماندگی اور اندھے تعصب کی وجہ سے مغربی کارٹونسٹ نے آسمان پر تھوکنے کی کس طرح سعی کی۔ ہم جملہ خاکوں میں سے صرف ان کے احوال ذکر کریں گے جو انتہائی توہین آمیز ہیں۔

رسالہ

خاکہ ۱

خاکہ اس طرح ہے کہ آپ ﷺ کی چھوٹی چھوٹی داڑھی ہے دائیں گال پہ گھنی ہے اور بائیں پہ کم، اسی طرح مونچھ بھی دائیں طرف کی موٹی اور بائیں کی باریک ہے، من جملہ چہرہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لقوہ کی بیماری سے اس میں ٹیڑھ آگیا ہو۔ سر پہ بم نما پگڑی بنائی گئی ہے جس کے بالائی کونے میں دھاگے کو شعلہ نما دکھایا گیا ہے جو بم بلاسٹ ہونے کا سبب بنتا ہے اسی طرح پگڑی کے بالکل سامنے کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے، جس سے نبی کریم ﷺ یا اسلام کا دہشت گردی سے اتصال مقصود ہے۔

خاکہ ۲

گھیرے ہوئے ہے اور اسی تناسب سے مونچھیں بنائی گئی ہیں، داڑھی اور مونچھیں بکھری ہوئی ہیں جس کی وجہ سے چہرہ اپنی خوبصورتی کھو رہا ہے۔ بھنویں اتنی لمبی ہیں کہ پیشانی کو چھوتے ہوئے عمامے تک پہنچ رہی ہیں۔ آنکھوں پر کالی پٹی چسپاں ہے اور ہاتھ میں تیز دھار خنجر ہے جو نعوذ باللہ آپ ﷺ کے دہشت گرد ہونے کی علامت ہے۔ اسی طرح نقاب کو نشانہ تضحیک بناتے ہوئے آپ کے اطراف میں دو لڑکیوں کو کھڑا کیا ہوا جو نقاب کیے ہوئے ہیں ان کے دیکھنے کا انداز ایسا ہے کہ جیسے وہ کسی ناگہانی آفت سے ڈری ہوئی ہیں۔

———— جمادی الاولیٰ، الآخره ۱۴۲۷ھ ————

خاکہ ۳

ٹھوڑی تک کے چہرے کے ارد گرد سبز رنگ ہے یعنی صرف ٹھوڑی پر، پورے چہرے پر

خاکہ ۴

اعتبار سے وسیع الجثہ دکھائے گئے ہیں e ran out of virgins!

خاکہ ۵

چھو رہے ہیں، سر پہ احرام باندھا ہوا ایک بچہ، ایک عورت اور باقی تین مرد me upon him" " محمد ﷺ نہیں جانتے کہ ان پر کـ

خاکہ ۶

اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھے ہوئے ، منـ درج ہیں: ing Ding , Ding Ding Dong گویا اس حدیث کی طرف اشارہ تھی اور نزول وحی کے وقت آپ شدـ بھی خنجر آپ کی کمر کے ساتھ دکھایا گیا ہیں جیسے وہ بھی اس تکلیف کو محسوس کر ر with ringing in his Ears" " آپ پر وحی گھنٹی کی صورت میں نازل

خاکہ نمبر ۷

صفحہ 25

نعیم الرحمن ناصف

خاکہ (۳)

ٹھوڑی تک کے چہرے کے اردگرد سبز رنگ میں چاند بنایا ہوا ہے اور دائیں آنکھ کی جگہ ستارہ ہے، داڑھی عربیوں کی سی ہے یعنی صرف ٹھوڑی پر، پورے چہرے پر نظر ڈالنے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک آنکھ سے معذور شخص کا چہرہ ہے۔

خاکہ (۴)

اعتبار سے وسیع الجثہ دکھائے گئے ہیں۔ آپ دونوں بازوں کھولے اپنے ساتھیوں کی جانب کھڑے ان سے کہہ رہے ہیں: !Stop Stop we ran out of virgins "ٹھہرئیے ٹھہرئیے! ہمارے پاس حوریں کم پڑگئی ہیں۔"

خاکہ (۵)

چھو رہے ہیں، سر پہ احرام باندھا ہوا ہے، کمر کے ساتھ خنجر لٹکایا ہوا ہے، آپ کے پیچھے پانچ افراد ہیں جن میں سے ایک بچہ، ایک عورت اور باقی تین مرد ہیں ذیل میں یہ عبارت درج ہے:

"Muhammad never knew when Inspiration would Come upon him"

"محمد ﷺ نہیں جانتے کہ ان پر کب وحی نازل ہو جائے۔"

خاکہ (۶)

اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھے ہوئے، منہ کھلا ہوا ہے اور سامنے کے چار دانت نمایاں ہیں، دونوں کانوں کے ساتھ یہ الفاظ درج ہیں:

"ڈنگ ڈونگ ڈنگ ، ڈنگ ڈنگ ڈونگ" Ding Dong Ding , Ding Ding Dong

گویا اس حدیث کی طرف اشارہ ہے جس میں ذکر ہے کہ آپ پر وحی (جرس) گھنٹی کی صورت میں بھی نازل ہوتی تھی اور نزول وحی کے وقت آپ شدید تکلیف سے دوچار ہوتے تھے اور تعصب کا ثبوت دیتے ہوئے اس حالت میں بھی خنجر آپ کی کمر کے ساتھ دکھایا گیا، آپ ﷺ کے پیچھے لوگ کھڑے آپ کی طرف دیکھتے ہوئے یوں دکھائی دیتے ہیں جیسے وہ بھی اس تکلیف کو محسوس کر رہے ہیں۔ نیچے یہ عبارت درج ہے:

"Inspiration being with ringing in his Ears"

"آپ پر وحی گھنٹی کی صورت میں نازل ہوتی ہے۔"

خاکہ نمبر (۷)

مئی ، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 26

حضور ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی نوعیت

آپ ﷺ پر نزول وحی کی کیفیت ہے، جس کی شدت سے آپ ﷺ زمین پر گر رہے ہیں، گرتے ہوئے ایک بازو زمین کے قریب ہے جبکہ دوسرا بالائی طرف اٹھا ہوا ہے، منہ کھلا ہوا ہے اور چہرہ پر تکلیف کے آثار ہیں، آپ کے جوتے پاؤں کا ساتھ چھوڑ کر زمین پر گر رہے ہیں، اس طرح آپ کا عمامہ بھی سر سے کافی اوپر کی جانب اٹھا ہوا ہے، یہاں بھی خنجر آپ کی کمر کے ساتھ دکھایا گیا ہے اور ساتھ یہ عبارت درج ہے:

"His heart would race, his face turn red, and he would fall on the ground"

”آپ کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی، آپ کا چہرہ سرخ ہو جاتا اور آپ زمین پر گر جاتے۔“

”نقل کفر کفر نباشد“ کے تحت ہم نے نبی کریم علیہ التحیة والتسلیم کے توہین آمیز خاکوں کی نوعیت قارئین کے سامنے رکھ دی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ مغرب کی اسلام دشمنی دلائل و براہین اور عقل و منطق کے بجائے تعصب اور انتہا پسندی پر مبنی ہے اور تہذیب و شائستگی کا سبق دینے والا مغرب کس قدر بدتہذیبی، ناشائستگی اور غیر اخلاقی حرکات پر اتر آیا ہے۔

ہمارا یقین محکم ہے کہ اسلام اپنے فطری نظام ہائے حیات کی بدولت پوری دنیا کو بہت جلد اپنے دامن عافیت میں لے لے گا جسے کسی دشمن کی عداوت، کسی متعصب کا تعصب اور کسی شرانگیز کا خبث باطن روک نہیں سکے گا۔ [ان شاء اللہ]

رسائل

٭.........٭.........٭

ــــ جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ــــ

دار الافتاء

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء رسول اللہ ﷺ کی شان خیال ہے کہ مسلمانوں جرم کی کیا سزا ہے؟ اور

الجواب: خاتم النبیین حضور رب العزت نے یہ خبر ﴿هُوَ الَّذِيْ أَرْسَلَ رَ ”وہی ہے جس نے ا جس دین کو اللہ تعالیٰ کہ اس رسول ﷺ کی عز غالب آئے گا۔ چنانچہ رسو « نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ”کہ مجھے ایک مہینہ کی ہماری بدقسمتی ہے کہ نے غیر مسلم ممالک کو یہ م ہے کہ اللہ جمیع اہل اسلام اختلافات کو اہمیت نہ دیں رسول اللہ ﷺ کی شریعت بہر حال قرآن مجید کی کا سختی سے نوٹس لیا گیا ہے ﴿وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ ”رسول اللہ ﷺ کو جو اسی طرح اللہ تعالیٰ ا

٭ فاضل کلیۃ الشریعۃ

صفحہ 27

ﷺ زمین پر گر رہے ہیں، گرتے ہوئے ایک بازو زمین پر ٹکا ہوا ہے اور چہرہ پر تکلیف کے آثار ہیں، آپ کے جوتے عمامہ بھی سر سے کافی اوپر کی جانب اٹھا ہوا ہے، یہاں بھی یہ جملہ درج ہے: "His heart would race, his face turn red" ہو جاتا اور آپ زمین پر گر جاتے۔“

التحیۃ والتسلیم کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت سے قارئین کرام نے دیکھ لیا ہے کہ علمی دلائل وبراہین اور عقل ومنطق کے بجائے تعصب اور عناد پر مبنی مغرب کس قدر بدتہذیبی، ناشائستگی اور غیر اخلاقی حرکات پر اتر آیا ہے۔

اسلام پوری دنیا کو بہت جلد اپنے دامن عافیت میں لے لے گا۔ کسی شرانگیز کا خبث باطن روک نہیں سکے گا۔ [ان شاء اللہ]

دار الافتاء مرتب: عبدالرشید صادق*

توہین رسالت بارے استفسارات

اور ان کے جوابات

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ آج کل ڈنمارک، ناروے اور بعض دیگر یورپین ممالک کے کفار رسول اللہ ﷺ کی شان میں مختلف انداز سے گستاخیاں کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں بعض نام نہاد مفکرین کا یہ خیال ہے کہ مسلمانوں کو اس سلسلہ میں سخت موقف نہیں اختیار کرنا چاہئے بلکہ نرمی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ شرعاً اس جرم کی کیا سزا ہے؟ اور مسلمانوں کو کیسا رویہ اختیار کرنا چاہئے؟

الجواب: خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو جو دین الٰہی دے کر اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔ اس کے متعلق اللہ رب العزت نے یہ خبر بھی دی ہے:

﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾

[الصف: ٩]

”وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تا کہ اسے تمام مذاہب پر غالب کر دے۔“

جس دین کو اللہ تعالیٰ نے تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کو بھیجا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اس رسول ﷺ کی عزت، توقیر اور عظمت کا سکہ بھی پوری دنیا میں بٹھانا مقصود ہے۔ تبھی وہ دین تمام ادیان پر غالب آئے گا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

«نصرت بالرعب مسيرة شهراً»

[صحيح البخاري: ٣٣٥]

”کہ مجھے ایک مہینہ کی مسافت سے دشمن پر رعب دیا گیا ہے۔“

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم مسلمان انتشار کا شکار ہیں۔ ایک پلیٹ فارم پر جمع نہیں ہیں کہ ہمارے تشتت اور انتشار نے غیر مسلم ممالک کو یہ موقع فراہم کیا کہ آج وہ مختلف انداز میں اہل اسلام کو ایذاء رسانی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ جمیع اہل اسلام اور تمام مسلمان ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع فرما دے۔ اور اگر مسلم دنیا چھوٹے چھوٹے اختلافات کو اہمیت نہ دیں تو بہت جلد اسلام کی عزت، عظمت، توقیر کا پوری دنیا میں سکہ بیٹھ جائے گا اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت کا بول بالا ہو جائے گا۔

بہر حال قرآن مجید کی متعدد آیات میں رسول اللہ ﷺ کی توہین کے مرتکبین اور آپ ﷺ کی گستاخی کرنے والوں کا سختی سے نوٹس لیا گیا ہے اور دنیا و آخرت میں انہیں عذاب کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے:

﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴾

[التوبة: ٦١]

”رسول اللہ ﷺ کو جو لوگ ایذا دیتے ہیں ان کیلئے درد ناک عذاب ہے۔“

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

* فاضل کلیۃ الشریعۃ، جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 28

علماء کرام کے فتاویٰ

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا﴾

”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے نہایت رسوا کن عذاب ہے۔“

[الأحزاب: ۵۷]

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ ... الخ﴾

(الممتحنة: ١)

”اے ایمان والو! میرے اور (خود) اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔“

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ اُولٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ اُولٰئِكَ حِزْبُ اللَّهِ ۚ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾

[المجادلة: ٢٢]

”اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے۔ گو وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ ۔ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے۔“

الغرض متعدد آیات قرآنیہ میں مرتکبین توہین رسول اللہ ﷺ اور حرمت رسول ﷺ کو پامال کرنے والوں کے بارے میں کہیں بھی نرم رویہ اختیار نہیں کیا گیا بلکہ دنیا و آخرت میں ان کے لئے سخت سزا کا حکم سنایا گیا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«من سب نبيا قتل ومن سب أصحابي جلد»

[الصارم المسلول: ٩٢]

اور ایک دوسری حدیث میں

«من سب نبيا فاقتلوه ومن سب أصحابي فاجلدوه»

[المعجم الصغير للطبراني: ٢٣٦/١]

”جس شخص نے کسی نبی کو گالی دی وہ قتل کیا جائے اور جو شخص اس نبی کے صحابہ کو گالی دے اسے کوڑے لگائے جائیں۔“

ایک دوسری روایت میں:

”جو شخص کسی نبی کو گالی دے اس کو قتل کر دو اور جو شخص میرے صحابہ کو گالی دے اس کو کوڑے لگاؤ۔“

یہ جرم اس لحاظ سے بھی گھناؤنا بن جاتا ہے کہ ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے خاکے نجی طور پر نہیں بنائے بلکہ پوری دنیا میں اس کی نشر و اشاعت کی گئی ہے اور ان کی حکومتوں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ اب صورت حال کچھ اس قسم کی ہے کہ ایسا شخص اگر مسلمان ملک کا رہائشی ہے اور اس کا یہ انفرادی جرم ہے تو انفرادی جرم کی وجہ سے وہ واجب القتل ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کو یہ سزا دے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی نافرمانی کی ہے، جس میں ہے۔

﴿لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ ... الخ﴾

[الفتح: ٩]

”تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کا ادب کرو“ کے حکم کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے۔

ـــــــ جمادی الاولیٰ، الآخرة ۲۹ھ ـــــــ

رسالہ

رسول اللہ ﷺ نے اپنے متعدد فرامین و تقریرا

«كان رجل من المسلمين يأوي إلى ام في النبي وتسبه و تؤذيه فخنقها فأبطل د

ایک نابینا صحابی تھے۔ ایک یہودیہ عورت ان لیکن اس کی بدعادت تھی کہ وہ نبی ﷺ کی شا اس صحابی نے ایک رات اس کا گلا گھونٹ کر ا کی۔ آپ ﷺ نے اس معاملہ کی تحقیق کی ۔ خون رائیگاں قرار دے دیا۔ اس پر اپنی رضا م

[سنن

یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے گستاخ کو قتل کر تھی اور یہ تو معلوم و معروف بات ہے کہ جب ا یہود کے ساتھ معاہدہ فرما لیا تھا اور اہل علم کے ہاں اس کی تفصیل میں جانا باعث طوالت ہوگا۔

اس حدیث سے واضح ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا۔ پھر لوگوں کا شکایت کرنا اس بات کی دلیل کرتے، کیونکہ اس کا قتل قابل مواخذہ جرم نہیں

اس طرح کعب بن اشرف یہودی کا معاملہ

جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرما

«من لكعب بن الاشرف، فانه قد آذى

”کون ہے جو اس کعب کا کام تمام کر دے اس نے تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ...... پھر اسے ق

یہ کعب مدینہ کا باشندہ تھا اور یہ ہم پہلے ہی بیا معاہدہ کر رکھا تھا۔ لیکن آپ ﷺ کی ہجو جیسے ناقابل

ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کر دوں؟ تو سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا اور فرم

”رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ مقام کسی کا بھی گستاخی پر کسی کو قتل کر دیا جائے۔ یہ حدیث بھی اس کی اس کی سزا قتل ہے۔

صفحہ 29

عبدالرشید صادق

رسول اللہ ﷺ نے اپنے متعدد فرامین و تقریرات میں ایسے شخص کے قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ مثلاً

«كان رجل من المسلمين يأوى إلى امرأة يهودية فكانت تطعمه و تحسن إليه فكانت لا تزال تشتم النبي وتسبه و توذيه فخنقها فأبطل النبى ﷺ»

ایک نابینا صحابی تھے۔ ایک یہودی عورت ان کی لونڈی تھی۔ انہیں کھانا کھلایا کرتی اور اچھا سلوک کیا کرتی تھی، لیکن اس کی بدعادت تھی کہ وہ نبی ﷺ کی شان میں نازیبا کلمات کہا کرتی اور آپ ﷺ کی گستاخی کیا کرتی تھی اس صحابی نے ایک رات اس کا گلا گھونٹ کر اسے قتل کر ڈالا۔ صبح کے وقت لوگوں نے نبی ﷺ سے اس کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے اس معاملہ کی تحقیق کی۔ جب اس صحابی نے قتل کی وجہ بیان فرمائی تو آپ ﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا۔ اس پر اپنی رضا مندی و تصدیق کی مہر ثبت فرما دی۔

[سنن أبي داؤد:۴۳۶۱، مصنف ابن أبي شيبة:۲۹۹/۸، البيهقى:۶۰/۷]

یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے گستاخ کو قتل کر ڈالنے کی واضح نص ہے۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ چونکہ یہ عورت یہودیہ تھی اور یہ تو معلوم و معروف بات ہے کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے تمام کے تمام یہود کے ساتھ معاہدہ فرما لیا تھا اور اہل علم کے ہاں یہ بات بمنزلہ متواتر کے ہے۔ اس کی تفصیل میں جانا باعث طوالت ہوگا۔

اس حدیث سے واضح ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کیس کی تفتیش کی، لیکن جب اس کا جرم بیان کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا۔

پھر لوگوں کا شکایت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ حربیہ نہ تھی، اگر ایسا ہوتا تو لوگ اس کیس کی شکایت ہی نہ کرتے، کیونکہ اس کا قتل قابل مواخذہ جرم نہیں ہے۔

اس طرح کعب بن اشرف یہودی کا معاملہ ہے۔ یہ شخص اپنے شعروں میں نبی کریم ﷺ کی ہجو کیا کرتا تھا۔ سیدنا جابر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «من لكعب بن الاشرف، فانه قد آذى الله و رسوله؟» ”کون ہے جو اس کعب کا کام تمام کر دے اس نے یقیناً اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچائی ہے۔“ تو محمد بن مسلمہ ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اُسے قتل کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ...... پھر اسے قتل کر دیا گیا۔ (صحیح البخاري: ۴۰۳۱، صحیح مسلم: ۱۸۰۱)

یہ کعب مدینہ کا باشندہ تھا اور یہ ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ آپ ﷺ نے مدینہ کے تمام یہود کے ساتھ صلح اور معاہدہ کر رکھا تھا۔ لیکن آپ ﷺ کی ہجو جیسے ناقابل معافی جرم کی بنا پر اس کا ذمہ ٹوٹ گیا اور اسے قتل کر دیا گیا۔

ابو برزہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا ابو بکر ؓ کی گستاخی کی، تو میں نے عرض کیا کیا اُسے قتل کر دوں؟ تو سیدنا صدیق ؓ نے مجھے ڈانٹا اور فرمایا: ”ليس هذا لأحد بعد رسول الله ﷺ“ ”رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ مقام کسی کا بھی نہیں۔“ [رواه النسائي: ۴۰۷۱، سنن أبي داؤد: ۴۳۶۳] کہ اس کی گستاخی پر کسی کو قتل کر دیا جائے۔ یہ حدیث بھی اس بات کی دلیل ہے کہ جس کسی نے آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کی اس کی سزا قتل ہے۔

ــــــ مئی، جون ۲۰۱۸ء ــــــ

صفحہ 30

علماء کرام کے فتاویٰ

ابن خطل کی دو گانا گانے والی لونڈیاں تھیں جو اپنے گانوں میں نبی کریم ﷺ کی ہجو کیا کرتی تھیں۔ آپ ﷺ نے ان کے قتل کا حکم دیا..... اہل سیر کے ہاں یہ روایت مشہور و معروف ہے۔ یہ معلوم بات ہے کہ مجرد کفر قتل کا سبب نہیں اور جہاں تک معاملہ عورتوں کا ہے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں تو جنگ میں قتل کرنے سے منع فرمایا، لیکن رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کی وجہ سے انہیں بھی قتل کر دینے کا حکم دیا گیا۔ گویا یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے۔

اسی طرح سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن خطل لعنۃ اللہ کے قتل کا حکم دیا۔ اگرچہ وہ کعبہ میں پناہ لئے غلاف کعبہ ہی سے کیوں نہ لپٹا ہوا ہو۔ چنانچہ اسے ایسی ہی حالت میں قتل کر دیا گیا۔

[صحيح البخارى: ١٨٤٦، صحيح مسلم: ١٣٥٧]

اس کا بھی یہ ناقابل معافی جرم تھا یہ خود بھی نبی ﷺ کی ہجو کرتا اور بدبختی کا یہ عالم تھا کہ لونڈیوں سے بھی ہجو کروایا کرتا تھا۔ اس طرح عصماء بنت مروان جو خطمہ قبیلے کی ملعونہ تھی۔ یہ عورت نبی کریم ﷺ کی ہجو کیا کرتی تھی۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس کا کام تمام کرنے والا کون ہوگا؟ چنانچہ اس کی قوم میں سے ایک شخص نے اسے قتل کر دیا اور آپ ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس قتل میں دو بکریاں نہیں ٹکرائیں گی (مطلب اس کے قتل کا کوئی قصاص نہیں۔ مختلف اہل سیر نے اسے بیان کیا ہے)

[مجمع الزوائد: ٢٦٠/٦]

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو رافع ملعون کے قتل کے لیے چند انصاریوں کو بھیجا۔ پھر ان میں سے ایک شخص (عبداللہ بن عتیک) نے ایک تدبیر سے ابو رافع کا پیٹ پھاڑ کر اسے قتل کر ڈالا۔ [صحیح البخاري: ٤٠٣٩] اس شخص کا بھی یہی جرم تھا کہ یہ نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا کرتا۔ لعنه الله وعامله بما يستحق اب مسئلہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی توہین کے مرتکب غیر مسلم ممالک میں رہائش پذیر ہیں۔ کوئی بھی اسلامی حکومت براہ راست انہیں توہین اور گستاخی کی سزا دینے پر قادر نہیں۔ البتہ مسلم ملکوں کے حکمرانوں پر یہ از حد لازم ہے کہ وہ ان شاتمین کے ملکوں کے حکمرانوں کو کہ جن کی حکومت میں یہ دل ہلا دینے والی انتہائی ناپاک و غلیظ حرکات کی گئیں ان کے ساتھ دو ٹوک انداز اپناتے ہوئے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کریں اور ان مجرمین کو مسلمانوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کریں تاکہ وہ انہیں ان کے اس ناپاک جرم کی قرار واقعی سزا دیں اور آئندہ کسی کو اس جرم کے ارتکاب کی جرأت نہ ہو۔ اور ان سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ ایسے اقدامات کریں اس سلسلے میں بین الاقوامی قانون سازی کی جائے کہ نبی مکرم ﷺ سمیت کسی نبی کے خلاف کوئی بدباطن اپنی بدباطنی و بیہودگی کا مظاہرہ نہ کر سکے۔

اگر غیر مسلم حکمران مسلمانوں کے ان مطالبات کو تسلیم نہیں کرتے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فرمان: ﴿فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ﴾ [الأنعام: ٦٨] ’’یاد آنے کے بعد ایسے ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھیں۔‘‘

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِى الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ

—— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ——

حَتّٰى يَخُوْضُوْا فِىْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖ اِنَّكُمْ ’’اور اللہ تعالیٰ تمہارے پاس اپنی کتاب میں کفر کرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو ان کرنے لگیں (ورنہ) تم بھی اس وقت انہی جیس ان آیات کریمہ اور اسلامی غیرت کا تقاض والے غیر مسلم حکمرانوں اور ان ممالک کا مکمل ختم کر ڈالیں۔ جب تک کہ وہ مرتکبین توہین رسال میں اس طرح کے واقعات پیش نہ آنے کی ضما ہیں تو وہ اللہ کے ہاں اپنا انجام سوچ لیں۔ ال اس طرح ان کافر ممالک کے خلاف عالمی سطح پ کئے جاتے ہیں۔ مثلاً جلسہ، جلوس، پُر امن محت مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں یہ اسلامی غیر و وقار کے تحفظ کے اعتبار سے اہم فریضہ ہے۔ نرمی کا مشورہ دینے والے نام نہاد مفکرین کی کے تحفظ کے لئے کس قدر سخت قانون سازی کاش کہ کفار سے مرعوب ایسے لوگ رسول ﷺ اور دین اسلام کی خیر خواہی کی خا اپنی روشن خیالی پر نظر ثانی کے لئے تیار ہوں۔ المختصر کہ اس سلسلہ میں ہر مسلم کو مقدور ہے۔ هذا ما عندي والله أعلم بالصوا

سوال: مغرب کی طرف سے توہین آمیز خاکو الجواب: مغرب نے ایک مدت سے رسول اور ہمارے دین پر حملہ آور ہوا ہے۔ اس حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وقد نقل ابن المنذر الاتفاق على ’’ابن المنذر نے اس بات پر اتفاق نقل کیا اور سنن ابو داؤد میں حدیث ہے ایک

صفحہ 31

عبد الرشید صادق

حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ ﴾ [النساء: ۱۴۰]

"اور اللہ تعالیٰ تمہارے پاس اپنی کتاب میں یہ حکم اتار چکا ہے کہ تم جب کسی مجلس والوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو اس مجمع میں ان کے ساتھ نہ بیٹھو۔ جب تک کہ وہ اس کے علاوہ اور باتیں نہ کرنے لگیں (ورنہ) تم بھی اس وقت انہی جیسے ہو۔"

ان آیاتِ کریمہ اور اسلامی غیرت کا لازمی تقاضہ ہے کہ مسلم ممالک کے حکمران ان مطالبات کو تسلیم نہ کرنے والے غیر مسلم حکمرانوں اور ان ممالک کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ ان کے ساتھ ہر قسم کے سفارتی، تجارتی و سیاسی تعلقات ختم کر ڈالیں۔ جب تک کہ وہ مرتکبینِ توہین رسالت کو قرار واقعی سزا دینے پر تیار نہیں ہو جاتے نیز آئندہ اپنے ملکوں میں اس طرح کے واقعات پیش نہ آنے کی یقین دہانی نہیں کرا دیتے۔ اگر مسلم ممالک کے حکمران خوابِ غفلت کا شکار ہیں تو وہ اللہ کے ہاں اپنا انجام سوچ لیں۔ اس صورت میں عام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں اور اس طرح ان کافر ممالک کے خلاف عالمی سطح پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں، اس کے لئے جدید دور میں جو ذرائع اختیار کئے جاتے ہیں۔ مثلاً جلسہ، جلوس، پر امن ریلیاں اور مظاہرے وغیرہ کا طریقہ اختیار کریں اور عملاً ایسے ممالک کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں یہ اسلامی غیرت کا عین تقاضہ ہی نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی محبت اور آپ کی عظمت و وقار کے تحفظ کے اعتبار سے اہم فریضہ بھی ہے۔ اس سلسلے میں کسی قسم کی مداہنت و نرمی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ نرمی کا مشورہ دینے والے نام نہاد مفکرین کو چاہئے کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ خود ان کفار نے اپنے عقائد و نظریات کے تحفظ کے لئے کس قدر سخت قانون سازیاں کر رکھی ہیں۔ انہیں کیوں نرمی کا مشورہ نہیں دیتے۔

کاش کہ کفار سے مرعوب ایسے لوگ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد علیحدہ کھڑی کرنے کی بجائے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور دین اسلام کی خیر خواہی کی خاطر تمام مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہو کر غیرت اسلامی کا ثبوت دیں۔ اور اپنی روشن خیالی پر نظر ثانی کے لئے تیار ہو جائیں۔

المختصر کہ اس سلسلہ میں ہر مسلم کو مقدور بھر کوشش کرنی چاہئے۔ یہ ہمارا اہم ترین فریضہ اور ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ ہذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

محمد عبداللہ امجد چھتوی مرکز الدعوۃ السلفیہ، ستیانہ بنگلہ، فیصل آباد

سوال: مغرب کی طرف سے توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت کرنے والے اداروں کے متعلق شرعی حکم واضح کریں؟

الجواب: مغرب نے ایک مدت سے رسول اعظم ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کر کے مسلمانوں کی غیرت کو للکارا ہے اور ہمارے دین پر حملہ آور ہوا ہے۔ اس کا جواب عملاً ہونا چاہئے تھا جو اُمت مسلمہ کے ذمہ فرض ہے۔

حافظ کبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وقد نقل ابن المنذر الاتفاق على من سب النبيﷺ صريحا وجب قتله [فتح الباري: ۳۵۱/۱۲]

”ابن المنذر نے اس بات پر اتفاق نقل کیا ہے کہ جو بالصراحت نبی ﷺ کو گالی دیتا ہے اس کو قتل کرنا واجب ہے۔“

اور سنن ابوداؤد میں حدیث ہے ایک نابینے نے اپنی لونڈی کو نبی ﷺ کو گالی دینے کی بناء پر قتل کر دیا تو آپ ﷺ

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 32

علمائے کرام کے فتاویٰ نے فرمایا: ﴿ألا اشهدوا إن دمها هدر﴾ خبردار گواہ رہو کہ اس کا خون بیکار ہے۔

[رقم الحدیث:۴۴۶۱]

علامہ صنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "الحديث دليل على أنه يقتل من سب النبى ﷺ ويهدر دمه"

[سبل السلام: ۴۸/۷]

یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ جس نے نبی ﷺ کو گالی دی وہ مباح الدم ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ایسے بدکردار لوگوں کا کم از کم سوشل بائیکاٹ کریں تاکہ غیرت مندی کا اظہار ہو شاید رب العزت ہم سے عفو و درگزر فرمائے۔ واللہ ولی التوفیق

حافظ ثناء اللہ بن عیسیٰ خاں شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور

ـــــــ ٭ ـــــــ

سوال: شاتم رسول کے بارے میں قرآن وسنت کی روشنی میں بتلائیے کہ اس کی کیا سزا ہے؟ الجواب: سابقہ ادوار کی طرح عصرِ حاضر میں بھی بعض اشقیاء اور ملعونین نے ہمارے آخری نبی و رسول سیدنا محمد ﷺ کی شانِ عالی المرتبت میں نازیبا کلمات کہے اور گستاخانہ خاکے طبع کر کے مسلمانانِ عالم کے قلوب و جگر کو مجروح کیا ہے۔

اس حادثہ فاجعہ اور سانحہ فادحہ کے بعد اہل علم پر خصوصاً اور مسلمانانِ عالم پر عموماً واجب ولازم ہے کہ وہ نبی مکرم ﷺ کا جو حق ہے اس کا تقاضا پورا کریں۔ اس لئے کہ رسول مکرم ﷺ کی توقیر و تعزیر اور حمایت ونصرت اور دفاع اُمت کے ہر فرد پر واجب و فرض ہے۔ آپ ﷺ کو اپنی اولاد، والدین، عزیز و اقارب، خاندان، کنبہ قبیلہ، برادری، مال ومتاع مساکن ومحلات اور دنیا کی ہر چیز پر ترجیح دینا اور ہر گستاخ، شاتم اور موذی سے آپ کی رعایت ونگہداشت اور تحفظ کرنا اللہ نے ہم پر لازم ٹھہرایا ہے۔ رسول کریم ﷺ کی ذات عالیہ کو دشنام دینے والے شخص کو صفحہ ہستی سے مٹانا از حد ضروری ہے۔

امام ابن المنذر (ت ۳۱۸ھ) راقم ہیں: "وأجمعوا على أن من سب النبى ﷺ أن له القتل"

[الإجماع:ص۷۶ رقم ۲۰۷]

"اس بات پر امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کو گالیاں دے یقیناً اس کی سزا قتل ہے۔"

گستاخ رسول کے واجب القتل ہونے پر کتاب وسنت میں بے شمار دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ موجود ہیں اور کبار آئمہ حدیث و فقہ نے اس پر مستقل کتب مرتب کی ہیں جیسا کہ شيخ الإسلام والمسلمين علم العلماء، قامع المبتدعة، فارس الأحكام علامه ابن تيمية تغمده الله برحمته وأسكنه بحبوح جنته نے "الصارم المسلول على شاتم الرسول" مرتب کر کے اس موضوع کا حق ادا کر دیا ہے اور کتاب وسنت کے دلائل کا انبار لگا دیا ہے۔ راقم الحروف محبان رسول ﷺ کی صف میں اندارج کے لیے چند کلمات تحریر کر رہا ہے۔

اللہ مالک الملک نے اپنے مقدس کلام میں ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَإِنْ نَّكَثُوْا أَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا

ـــــــ جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۲۹ھ ـــــــ

أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ﴾ "اگر یہ لوگ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں لئے کہ ان کی قسمیں (قابل اعتبار) نہیں امام ابن کثیر رحمہ اللہ ﴿وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِ "أى عابوه وانتقصوه ومن هاهنا طعن في دين الاسلام او ذكره "یعنی تمہارے دین میں عیب لگائیں او کو گالی دے یا دین اسلام میں طعن کرے امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "أكثر العلماء على أن من سَبّ بغير الوجه الذى كفر به فإنه يقت "اکثر علماء اس بات کی طرف گئے ہیں ہو یا آپ کی قدر ومنزلت کا استخفاف اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ ر توہین کرنے والا خواہ وہ نام نہاد مسلما کرنے والے آئمہ کفر کے ساتھ قتال مسلمان جہاد وقتال کے لئے تیار ہو جا اس آیت کریمہ میں ﴿لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ﴾ کھڑے ہوں تو اس گستاخانہ رویے کا ہمیں صحیح معنوں میں دین حنیف کا سچا

سوال: توہین آمیز خاکوں کے ذریعے نبی مسلمانوں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے الجواب: دین وعقیدہ کا تقاضا یہ ہے کہ معتقد اور دین دار کے لئے مقد ایک بدیہی تقاضا ہوتا ہے۔ تعلیما ﴿فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾ کی صفات عالیہ، اس کی کلام وحی کے مذہبی اور دین دار ہونے کا

صفحہ 33

عبد الرشید صادق

أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ ﴾ [التوبة:١٢]

”اگر یہ لوگ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو کفر کے لیڈروں سے قتال کرو اس لئے کہ ان کی قسمیں (قابل اعتبار) نہیں ہیں تاکہ یہ (اپنی شرارتوں اور توہین آمیز خاکے بنانے سے) باز آ جائیں ۔“

امام ابن کثیر رحمہ اللہ ﴿وَطَعَنُوْا فِي دِيْنِكُمْ﴾ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

”أى عابوه وانتقصوه ومن هاهنا أخذ قتل من سب الرسول صلوات الله وسلامه عليه أو من طعن في دين الاسلام او ذكره بتنقص“ (ابن کثیر:۳۵۹/۴، بتحقیق عبدالرزاق مهدی)

”یعنی تمہارے دین میں عیب لگائیں اور تنقیص کریں۔ یہاں سے ہی یہ بات اخذ کی گئی ہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کو گالی دے یا دین اسلام میں طعن کرے یا اس کا ذکر تنقیص کے ساتھ کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔“

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”أكثر العلماء على أن من سب النبيﷺ من أهل الذمة أو عرض أو استخف بقدره أو وصفه بغير الوجه الذى كفر به فإنه يقتل“ [تفسیر قرطبی: ۵۴/۸]

”اکثر علماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ اہل ذمہ میں سے جو شخص بھی نبی ﷺ کو گالی دے۔ آپ کی عزت کے درپے ہو یا آپ کی قدر ومنزلت کا استخفاف کرے یا نازیبا وصف ذکر کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔“

اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ دین اسلام پر طعن و تشنیع کرنے والا پیغمبر اسلام سیدنا محمد ﷺ کی ادنیٰ سی بھی توہین کرنے والا خواہ وہ نام نہاد مسلمان ہو یا صریح کافر واجب القتل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام پر طعنہ زنی کرنے والے آئمہ کفر کے ساتھ قتال کا حکم دیا ہے اور کفار و مشرکین ملحدین و معاندین کا علاج بھی یہی ہے۔ اگر مسلمان جہاد و قتال کے لئے تیار ہو جائیں تو پھر ان معاندین کفار و مشرکین کو ایسی حرکات کرنے کی جرات نہیں ہوگی اس آیت کریمہ میں ﴿لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ﴾ کے الفاظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ اگر قتال فی سبیل اللہ کے لئے مسلمان اٹھ کھڑے ہوں تو اس گستاخانہ رویے کا سدباب ہو سکتا ہے ورنہ ذلت ورسوائی سے نکلنا مشکل امر ہے۔ اللہ مالک الملک ہمیں صحیح معنوں میں دین حنیف کا سچا خادم اور مخلص محب رسول بنائے ۔ آمین

ابو الحسن مبشر احمد ربانی، لاہور مفتی ورئیس مرکز أم القرى اہل حدیث، لاہور

ـــــــــــــــــــــ ❁ ـــــــــــــــــــــ

سوال: توہین آمیز خاکوں کے ذریعے نبی ﷺ کی توہین کے مرتکب کے شرعی حکم پر رہنمائی فرمائیں اور ان حالات میں مسلمانوں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

الجواب: دین و عقیدہ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان جن باتوں کو دین سمجھتا ہے اور ان پر عقیدہ رکھتا ہے وہ تمام کی تمام اس معتقد اور دین دار کے لئے مقدس ترین ہوتی ہیں اور ان میں بالخصوص شعائر کا تقدس و احترام اس کے ایمان کا ایک بدیہی تقاضا ہوتا ہے۔ تعلیمات اسلامیہ بھی اسی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے: ﴿وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ﴾ [الحج:۳۲] کا سبق دیتی ہے۔ ان مذہبی مقدسات میں ذات باری تعالیٰ اور اس کی صفات عالیہ، اس کی کلام وحی اور وہ ذات مقدس جس کا وحی کے لئے انتخاب ہوتا ہے سرفہرست ہیں۔ کسی شخص کے مذہبی اور دین دار ہونے کا اس تقدس و احترام کے بغیر تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے مسلمانوں کے

مئی، جون ۲۰۱۰ء

صفحہ 34

علمائے کرام کے فتاویٰ

نزدیک ان مقدسات کا تحفظ اور ان کا دفاع اپنی جان اور مال سے بھی مقدم ہے۔

لیکن کفر و اسلام کی جنگ اور حق و باطل کے معرکہ میں جہاں کفر و باطل اسلام اور دین کے خلاف جو بھی ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے ان میں اہل حق اور ان کے مقدسات کا استہزاء بھی ہے۔ جس سے اہل حق کو اذیت دینا اور دوسروں کو دین سے دور کرنے کی سعی نامشکور ہوتی ہے اور یہ کشمکش روزِ اوّل سے ہی جاری و ساری ہے۔ چنانچہ قرآن مجید نے انبیاء کرام کی تاریخ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ﴾ [یسن: ٣٠]

لیکن ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کی سنت اور قانون بھی اتنا اٹل ہی ہے کہ جب قومیں اس جرم میں انتہا کو پہنچ جاتی ہیں تو عذاب الٰہی کا کوڑا بھی ان پر ضرور برستا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَيْتُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ﴾ [الرعد: ٣٢]

اسی اصول و قانون کے پیش نظر جب مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کے خلاف یہ محاذ کھولا تو اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر پیغمبر علیہ السلام کا دفاع فرماتے ہوئے اعلان فرمایا: ﴿فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِئِيْنَ﴾ [الحجر: ٩٤، ٩٥]

انبیاء کرام علیہم السلام سے یہ رویہ اختیار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار کیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہ بچ سکے۔ تاریخ عالم میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

[تفصیل کے لئے دیکھیں: الصارم المسلول علی شاتم الرسول لابن تیمیۃ]

جہاں ایسے بدطینت و بدبخت عذاب الٰہی سے دوچار ہوتے ہیں وہاں ایسے افراد کی زبان کو لگام دینے کے لئے شرائع سماویہ میں ان کے خلاف سخت سے سخت سزا بھی مقرر کی گئی ہے کہ کسی بھی نبی برحق کی گستاخی کرنے والے کی سزا موت ہی ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی مشہور حدیث جس میں آپ نے فرمایا: «لا والله ما كانت لبشر بعد محمد ﷺ» [سنن أبى داؤد: ٤٣٦٣، سنن النسائی: ٤٠٧٢] کہ پیغمبر خدا کا ہی یہ رتبہ ہے کہ ان کی توہین کرنے والے کو قتل کیا جائے۔ ان کے علاوہ یہ تقدس کسی دوسرے شخص کو حاصل نہیں ہے۔ جناب عمر رضی اللہ عنہ اور جناب علی رضی اللہ عنہ و دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زبان سے دوٹوک الفاظ میں یہ اعلان ہوتا ہے۔ «من سبّ نبيا قتل» ”کہ پیغمبر برحق کی گستاخی کرنے والا واجب القتل ہے۔“ [الصارم المسلول: ص ٩٢]

اس بارہ میں جہاں مسلمانوں کے ہاں قانوناً وہ شخص واجب القتل ہے۔ وہاں مسلمانوں کی حساسیت اور فدائیت بھی مثالی ہے۔ جنگ بدر میں اگرچہ تمام کفار، کفار ہی تھے اللہ اور اس کے رسول کے دشمن تھے۔ ان سب کے خلاف جنگ تھی۔ مگر معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ اور معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ کا ہدف خاص ابو جہل ہی تھا۔ جب انہوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”يا عم هل تعرف أباجهل؟“ تو انہوں نے کہا: ”ما حاجتك إليه يا ابن أخي؟“ بھتیجے تم اس کا کیوں پوچھتے ہو، کیا کام ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا:

”أخبرت أنه يسبّ رسول الله ﷺ والذي نفسي بيده لئن رأيته لا يفارق سوادى سواده حتى يموت الأعجل منا“ [صحيح البخارى: ٣١٤١]

تو انہوں نے جواب دیا کہ سنا ہے کہ وہ رسول پاک ﷺ کی توہین کرتا ہے۔ رب کی قسم اگر میں رسول اللہ ﷺ

جمادی الاولیٰ، الآخِرة ١٤٢٩ھ

صفحہ 35

جان اور مال سے بھی مقدم ہے۔ میں جہاں کفر و باطل اسلام اور دین کے خلاف جو بھی ہتھکنڈے کا استہزاء بھی ہے۔ جس سے اہل حق کو اذیت دینا اور دوسروں کو ش روز اوّل سے ہی جاری و ساری ہے۔ چنانچہ قرآن مجید نے سْرَةٌ عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا كَانُوْا بِهِ ن بھی اتنا اٹل ہی ہے کہ جب قومیں اس جرم میں انتہا کو پہنچ جاتی رشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ كَانَ عِقَابِ﴾ [الرعد: ۳۲] نے آپ ﷺ کے خلاف یہ محاذ کھولا تو اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ا: ﴿فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ إِنَّا و اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں ذلیل وخوار کیا اور وہ اللہ تعالیٰ ثالیں موجود ہیں۔ امین: الصارم المسلول على شاتم الرسول لابن تيمية] بیمار ہوتے ہیں وہاں ایسے افراد کی زبان کو لگام دینے کے لئے مقرر کی گئی ہے کہ کسی بھی نبی برحق کی گستاخی کرنے والے کی سزا جس میں آپ نے فرمایا «لا والله ما كانت لبشر بعد ٤] کہ پیغمبر خدا کا ہی یہ رتبہ ہے کہ ان کی توہین کرنے والے ق کو حاصل نہیں ہے۔ جناب عمر رضی اللہ عنہ اور جناب علی رضی اللہ عنہ و دیگر ا ہوتا ہے۔ «من سبّ نبيا قتل» ہے۔ [الصارم المسلول: ص ۹۲] واجب القتل ہے۔ وہاں مسلمانوں کی حساسیت اور فدائیت ں اللہ اور اس کے رسول کے دشمن تھے۔ ان سب کے خلاف واہ لفظ کا ہدف خاص ابو جہل ہی تھا۔ جب انہوں نے أباجهل؟“ تو انہوں نے کہا: ”ما حاجتك إليه يا نہوں نے جواب دیا: و الله لئن رأيته لا يفارق سوادى سواده حتى ان کی توہین کرتا ہے۔ رب کی قسم اگر میں رسول اللہ ﷺ عبدالرشید صادق کی گستاخی و توہین کرنے والے کو دیکھ لوں تو زندہ نہ چھوڑوں گا۔ چنانچہ جب انہوں نے دیکھا تو ایسے دیوانہ وار جھپٹے کہ لمحوں میں اس گستاخ کا کام تمام کر دیا۔ حکم ربانی: ﴿فَالَّذِيْنَ آمَنُوْا بِهِ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْ أُنْزِلَ مَعَهُ أُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾ [الأعراف:۱۵۷] ﴿إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ وَتُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّأَصِيْلًا﴾ [الفتح:۹] کی عملی تصویر پیش کر دی۔ ایسی مثالیں ایک نہیں بلکہ بیسیوں ہیں اور ہر دور و زمانہ میں مسلمانوں نے اپنے مقدسات کا دفاع کیا ہے۔ پیغمبر کی توہین پر خاموش رہنا مسلمان کے لئے ہرگز ہرگز جائز نہیں ہے۔ آج کل اگر کفار نے اسلام کے خلاف یہ روش اختیار کی ہے تو ایسے کفار سے مسلمانوں کو ہر صورت نمٹنا لازم و واجب ہوگا۔ گستاخانِ رسول کی جانب سے یہ عمل بار بار دہرا کر مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔

تو ایسے حالات میں تمام افرادِ اُمت پر بالعموم اور حکمرانوں پر بالخصوص لازم آتا ہے کہ ایسے مجرموں کے خلاف ہر طرح کی ممکن کارروائی کریں اور اقتصادی و سفارتی تعلقات بالکل منقطع کریں۔ ان سے اپنی عداوت و جنگ کا کھلے عام اعلان کریں، تمام اُمت مسلمہ کو متحد ہوکر اس محاذ پر لڑنا لازم ہے اور غیرت ایمانی کا ثبوت فراہم کرنا ضروری ہے۔

نماز اچھی، روزہ اچھا، حج اچھا، زکوٰۃ اچھی مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ کٹ مروں جب تک خواجہ یثرب کی عزت پر خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

(مولانا) حافظ عبدالعزیز علوی [رئیس دارالافتاء] (مولانا) حافظ مسعود عالم [رکن دارالافتاء] (مولانا) مفتی عبدالحنان زاہد [مدیر دارالافتاء] (مولانا) محمد یونس [رکن دارالافتاء] [جامعہ سلفیہ، فیصل آباد]

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص توہین رسالت کا ارتکاب کرتا ہے اس کی کیا سزا ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔ الجواب: شریعت اسلامیہ کی رو سے جو شخص کافر ہو یا مسلمان، نبی محتشم، سید الاولین والآخرین، شفیع المذنبین، رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو سب وشتم کرتا ہے یا آپ ﷺ کی سیرت وکردار یا زندگی کے کسی پہلو کے بارے میں استہزائیہ انداز اختیار کرتا ہے، مثلاً خاکے شائع کرتا ہے یا کارٹون بناتا ہے یا کتابیں، رسالے اور ناول چھاپتا ہے یا آپ کی زندگی پر فلمیں بناتا ہے یا آپ کی طرف بُری باتیں منسوب کرتا ہے تو وہ آدمی سراسر کافر، مرتد، زندیق اور ملحد ہے۔ اگر ایسا آدمی کسی مسلمان ملک میں یہ حرکت کرتا ہے تو مسلمان حکومت پر اس کا قتل کرنا واجب وضروری ہے۔ اگر کوئی غیر مسلم ہے اور غیر مسلم حکومتوں کی سرپرستی میں ایسی حرکت کر رہا ہے تو تمام مسلم ممالک کو ان کے خلاف اعلان جہاد کرنا چاہئے اور جب تک توہین کے مرتکب افراد اپنے کیفر کردار کو نہیں پہنچ جاتے ان کا پیچھا نہیں چھوڑنا چاہئے۔ تمام صحابہؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ، محدثین عظامؒ، فقہاء کرامؒ اور محققین علماء کا یہی مذہب ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿إِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا﴾ [الاحزاب: ٥٧]

مئی، جون ۲۰۱۰ء ماہنامہ ”رُشْد“ لاہور

صفحہ 36

علمائے کرام کے فتاویٰ

”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار کیا ہے۔“

یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دینے والا واجب القتل ہے اور معاہدہ بھی اس کو نہ بچا سکے گا۔ اس لئے کہ ہم نے معاہدہ اس بات پر نہیں کیا تھا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذاء دے گا۔

نیز اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ﴿فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ ۚ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۚ وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ﴾ [الأنفال: ۱۲، ۱۳]

”پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ یہ اس لئے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لئے نہایت سخت گیر ہے۔“

یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب اسلامی ریاست معرض وجود میں آ رہی تھی اور دشمنان اسلام اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت اور ایذاء رسانی پر کمر بستہ ہو گئے تھے اس پاداش جرم میں ان کے لئے یہ سزا تجویز ہوئی۔

سورۃ احزاب میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿مَلْعُوْنِيْنَ اَيْنَمَا ثُقِفُوْا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِيْلًا سُنَّةَ اللّٰهِ فِى الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ۚ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا﴾ [آیت: ۶۱، ۶۲]

”یہ ملعون جہاں کہیں پائے جائیں پکڑے جائیں اور خوب قتل کئے جائیں جیسا کہ گذشتہ مفسدین کے بارے میں اللہ کی سنت ہے اور اللہ کے آئین اور عادت میں کوئی تغیر و تبدل نہ پاؤ گے۔“

فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے عفو عام کا اعلان کرا دیا جنہوں نے آپ کے راستہ میں کانٹے بچھائے تھے اور جنہوں نے آپ پر پتھر برسائے تھے اور جو ہمیشہ آپ سے برسر پیکار رہے اور جنہوں نے آپ کی ایڑیوں کو لہولہان کیا تھا سب کو معافی دے دی گئی مگر چند اشخاص جو بارگاہِ نبوی میں غایت درجہ گستاخ اور دریدہ دہن تھے ان کے متعلق یہ حکم ہوا کہ جہاں کہیں ملیں قتل کر دیئے جائیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق اللہ ذوالجلال کا یہی حکم ہے۔

احادیث نبوی ﷺ

قرآنی آیات کے بعد چند ایک احادیث ملاحظہ فرمائیں جن میں توہین رسالت کے مرتکب اور شاتم رسول ﷺ کی سزا کا بیان ہے۔

”ایک یہودی عورت رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کر دیا تو آپ ﷺ نے اس عورت کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔“ [سنن ابی داؤد: ۴۳۶۲]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں:

هذا الحديث نص فى جواز قتلها لاجل شتم النبىﷺ ودليل على قتل الرجل الذمى وقتل المسلم والمسلمة إذا سبا بطريق الاولى. [الصارم المسلول، ص ۶۲]

”یہ حدیث اس مسئلہ میں نص کا حکم رکھتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گالیاں دینے والے کو قتل کرنا جائز ہے نیز یہ کہ ایسے ذمی

ـــــــ جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ـــــــ

کو قتل کیا جاسکتا ہے جو شاتم ہے مسلمان مرد

”ایک اندھے شخص کی اُم ولد لونڈی تھی جو مگر وہ رکتی نہ تھی ایک رات اس نے رسول پیوست کر دیا اور اسے زور سے دبایا جس سـ کر کے آپ ﷺ نے فرمایا: میں اس آ ہو جائے۔ یہ سن کر ایک نابینا آدمی کھڑا ہو یا رسول اللہ ﷺ! اسے میں نے قتل کیا ہے میں اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا مگر وہ پرواہ نہ تھی۔ گذشتہ شب جب وہ آپ ﷺ کو سے دبایا حتیٰ کہ وہ مرگئی تو رسول اللہ ﷺ

اجماع اُمت

توہین رسالت کے مرتکب افراد کے قتـ ”میرے علم کی حد تک کسی مسلمان نے اِسـ

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ

”عام اہل علم کا مذہب ہے کہ جو آدمی منذر نے فرمایا کہ عام اہل علم کا اجماـ مالک، امام لیث، امام احمد، امام اسحاقـ فارسی نے اصحاب ام شافعی سے مسلمانوـ

الغرض مندرجہ بالا قرآنی آیات، احاـ ہو گئی کہ نبی اکرم ﷺ کو گالی دینے والا آخرت میں اس کے لئے دردناک عذاب بھی کافر ہو جائے گا، کیونکہ اس نے ایک والیہ المرجع والمآب.

رسالہ

صفحہ 37

ماہنامہ السنہ

عبد الرشید صادق

کو قتل کیا جاسکتا ہے جو شاتم ہے مسلمان مرد یا عورت اگر آپ کو گالیاں دیں تو ان کو بطریق اولیٰ قتل کرنا جائز ہے۔‘‘

”ایک اندھے شخص کی اُمِ ولد لونڈی تھی جو رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی وہ اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی وہ ڈانٹتا مگر وہ رکتی نہ تھی ایک رات اس نے رسول کریم ﷺ کو گالیاں دینے کا آغاز کیا۔ اس نے بھالا لے کر اس کے شکم میں پیوست کر دیا اور اسے زور سے دبایا جس سے وہ ہلاک ہوگئی صبح کو اس کا تذکرہ رسول کریم ﷺ سے کیا گیا تو لوگوں کو جمع کر کے آپ ﷺ نے فرمایا: میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے کیا جو کچھ کیا اور میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے۔ یہ سن کر ایک نابینا آدمی کھڑا ہوا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آپ ﷺ کے پاس آیا اور بیٹھ گیا اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ! اسے میں نے قتل کیا ہے۔ وہ آپ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی، میں اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی تھی میں اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا مگر وہ پرواہ نہ کرتی۔ اس کے بطن سے میرے دو ہیروں جیسے بیٹے ہیں وہ میری رفیقہ حیات تھی۔ گزشتہ شب جب وہ آپ ﷺ کو گالیاں بکنے لگی تو میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں گاڑ دیا اور اسے زور سے دبایا حتیٰ کہ وہ مرگئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گواہ رہو کہ اس کا خون ہدر ہے۔‘‘

[سنن أبي داؤد: ۴۳۶۱، سنن نسائی: ۴۰۷۰]

اجماع اُمت

توہین رسالت کے مرتکب افراد کے قتل پر تمام اُمت کا اجماع ہے چنانچہ امام خطابی ؒ فرماتے ہیں کہ ”میرے علم کی حد تک کسی مسلمان نے بھی اس کے واجب القتل ہونے میں اختلاف نہیں کیا ۔‘‘

[الصارم المسلول، ص۵]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ ”عام اہل علم کا مذہب ہے کہ جو آدمی چاہے مسلمان ہو یا کافر، نبی ﷺ کو گالی دیتا ہے اس کو قتل کرنا واجب ہے ابن منذر نے فرمایا کہ عام اہل علم کا اجماع ہے کہ جو آدمی نبی ﷺ کو گالی دیتا ہے اس کی حد قتل ہے اور اسی بات کو امام مالکؒ، امام لیثؒ، امام احمدؒ، امام اسحاق ؒ نے بھی اختیار کیا ہے اور امام شافعی ؒ کا بھی یہی مذہب ہے اور ابوبکر فارسی نے اصحابِ امام شافعی سے مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے کہ شاتم رسول ﷺ کی حد قتل ہے۔‘‘

[الصارم المسلول: ص۳]

الغرض مندرجہ بالا قرآنی آیات، احادیث رسول ﷺ اور اجماع اُمت سے یہ بات آفتابِ نیم روز کی مانند واضح ہوگئی کہ نبی اکرم ﷺ کو گالی دینے والا یا ان کی توہین وتنقیص کرنے والا کھلا کافر ہے اس کو قتل کرنا واجب ہے اور آخرت میں اس کے لئے دردناک عذاب ہے اور جو آدمی اس کے کافر ہونے اور عذاب دینے میں شک کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا، کیونکہ اس نے ایک کافر کے کفر میں شبہ کیا ہے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔

محمد علی جانباز جامعہ رحمانیہ ناصر روڈ ، سیالکوٹ

مئی ، جون ۲۰۱۰ء

صفحہ 38

علماء کرام کے فتاویٰ الجواب: موجودہ حالات میں غیر مسلم لوگوں کی طرف سے جو توہین آمیز خاکے رسول اللہ ﷺ کے بارہ میں چھپ رہے ہیں، تو ان حالات میں ایسا کرنے والے لوگوں کو اگر ممکن ہو تو قتل کرنا ضروری ہے، کیونکہ نبی ﷺ کی توہین سے شریعت الٰہی کی توہین اور استخفاف لازم آتا ہے جو کہ اسلام کی تبلیغ میں بہت بڑی رکاوٹ کا باعث ہے اور یہ بھی موجودہ دور میں اسلام اور مسلمان کے خلاف جنگ کی ایک شکل ہے لہٰذا نبی ﷺ کے تقدس اور نبوت کی وجاہت واہمیت کے دفاع میں ایسے لوگوں کو ممکن ہو تو قتل کرنا بہت ضروری ہے۔ الا یہ کہ وہ توبہ کریں اور اسلام میں داخل ہوجائیں۔

(حافظ) ثناء اللہ الزاہدی الجامعة الإسلامية الحديث، صادق آباد

سوال: ڈنمارک وغیرہ میں رسول اللہ ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع ہوئے ہیں۔ ردعمل کے طور پر دنیا بھر میں مسلمان ان توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور عملاً یہ احتجاج روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، کتاب وسنت کی روشنی میں ہمارے لئے کیا ہدایات ہیں، ہمیں اس سلسلہ میں کیا کرنا چاہئے ۔

الجواب: ہمارے نزدیک رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنا جزوایمان ہے، علمائے اسلام دور صحابہ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے جس شخص کو پیار اور تعلق خاطر نہیں وہ سرے سے مومن ہی نہیں ہے اور آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی قابل گردن زدنی ہے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب میری ذات اسے اس کے والدین، اولاد حتیٰ کہ تمام لوگوں سے محبوب نہ ہوجائے۔“ [صحیح البخاری: ۱۵] امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے: ”حب الرسول من الإيمان“ ”رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے۔“ اس کے برعکس ہر وہ قول و عمل اور عقیدہ نواقض ایمان سے ہے جو رسالت اور صاحب رسالت سے بغض اور ان کے متعلق طعن وتشنیع پر مشتمل ہو، کیونکہ اس سے کلمہ شہادت کے دوسرے جزو کا انکار لازم آتا ہے اور ایسا کرنے سے وہ گواہی کالعدم ہو جاتی ہے جس کے ذریعے انسان اسلام میں داخل ہوا تھا، ہمارے نزدیک اس انکار و تنقیص کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی ذات کو ہدف تنقید بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی صداقت وامانت اور عفت وعصمت کے متعلق حرف گیری کرنا یا آپ کی ذات عالی صفات کے ساتھ کسی بھی پہلو سے استہزاء وتمسخر کرنا یا آپ کو گالی دینا اور آپ کو برا بھلا کہنا، الغرض آپ کی شخصیت پر کسی بھی پہلو سے اعتراض کرنا اس میں شامل ہے، لیکن اہل مغرب نے یہودی لابی اور امریکی استعمار کے اشارہ پر اسلام اور اہل اسلام کے خلاف مذموم تہذیبی جنگ شروع کر رکھی ہے، اس

——جمادی الاولیٰ، الآخره ۱۴۲۹ھ——

صفحہ 39

عبد الرشید صادق

سلسلہ میں انہوں نے تہذیب و شائستگی کی تمام حدود کو پامال کر دیا ہے، پہلے قرآن کریم کی بے حرمتی کر کے پوری اُمت مسلمہ کے جذبات کو مجروح کیا، اب رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے مذموم خاکے اور کارٹون شائع کر کے شرمناک حرکت کر ڈالی ہے، ان توہین آمیز خاکوں میں کئی چیزیں ایسی ہیں جن سے مسلمانوں کا اشتعال میں آنا لابدی امر ہے، دنیا بھر کے مسلمانوں میں اس بارے میں جو اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔ اس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ پھر ان خاکوں کی مذمت کرنے والے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے بھی ان کے ہم آواز ہیں، حتیٰ کہ دین و مذہب سے بالا آزاد خیال لیکن سنجیدہ فکر لوگ بھی ان خاکوں کی مذمت کر رہے ہیں۔

کتاب وسنت کی رو سے حضرات انبیاء علیہم السلام کی تصویر کشی کرنا یا ان کے مجسمے بنانا بذات خود خلاف شرع ہے۔ خواہ اس تصویر یا مجسمے میں اہانت یا رسوائی کا کوئی پہلو بھی نہ پایا جاتا ہو، انبیاء کرام کی مبارک صورتوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص وقار عطا فرمایا ہے اور شیطان کو بھی اس امر پر قدرت نہیں دی کہ وہ ان شخصیات کی صورت اختیار کر سکے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

”جو شخص خواب میں میری زیارت سے مشرف ہوا، اس نے مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار کرنے پر قادر نہیں۔“

[صحیح مسلم: ۲۲۶۶]

قرآن وسنت کی روشنی میں توہین رسالت کا جرم معمولی نوعیت کا نہیں ہے کہ اس سے چشم پوشی کی جائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

”بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں، ان پر دنیا و آخرت میں اللہ کی طرف سے لعنت ہے اور قیامت کے دن ان کے لئے رسوا کن عذاب مہیا کیا جائے گا۔“

[الأحزاب: ۵۹]

غزوہ تبوک کے سفر میں منافقین نے آپس میں اسلام اور اہل اسلام کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا، کبھی رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے، رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع مل جاتی، جب آپ ﷺ ان سے جواب طلبی فرماتے تو کہتے کہ ہم تو صرف سفر کی تھکاوٹ دور کرنے کے لئے ہنسی مذاق کر رہے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دل بہلانے کے لئے صرف ایسی باتیں ہی رہ گئی ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ کی ذات ستودہ صفات کو ملوث کیا جائے، کسی دوسری چیز سے تمہاری دل لگی نہیں ہوتی، قرآن کے الفاظ یہ ہیں:

”اور اگر آپ ان سے دریافت کریں (کہ کیا تم ایسی باتیں کرتے ہو) تو کہیں گے ہم تو صرف مذاق اور دل لگی کر رہے تھے، آپ کہہ دیں، کیا تمہاری ہنسی اور دل لگی اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ہی ہوتی ہے؟ بہانے نہ بناؤ تم واقعی ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔“

[التوبة: ۶۵، ۶۶]

اس نص صریح سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات اور دیگر شعائر اسلام کو اپنے مذاق کا موضوع بنانا بہت خطرناک عمل ہے، اس راستہ پر چل کر انسان براہ راست کفر تک پہنچ سکتا ہے، چنانچہ کتب حدیث میں متعدد ایسے واقعات مروی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق گستاخی کے مرتکب کو فوراً جہنم واصل کر دیا گیا اور اسے کیفر کردار تک پہنچانے والے سے کسی قسم کی باز پرس نہیں کی گئی، اس سلسلہ میں چند واقعات حسب ذیل ہیں:

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی توہین کیا کرتی تھی، اسے ایک شخص نے موقع پا کر قتل کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسکے خون کا بدلہ، قصاص یا دیت کسی بھی صورت میں نہیں دلوایا۔

[سنن أبي داؤد: ۴۳۶۲]

مئی ، جون ۲۰۱۰ء

صفحہ 40

علمائے کرام کے فتاویٰ

حضرت ابن عباس ؓ اس واقعہ کی تفصیل بایں الفاظ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ایک نابینا شخص تھا، اس کی لونڈی رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتی تھی اور آپ کی ذات کے متعلق حرف گیری کرتی تھی، اس کا مالک نابینا شخص اسے منع کرتا اور سختی سے روکتا تھا، لیکن وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہتی، ایک رات ایسا ہوا کہ وہ حسب عادت رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینے لگی اور آپ کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا تو اس غیرت مند نابینا شخص نے گھر میں پڑی ہوئی کدال اٹھائی اور اسے اس گستاخ لونڈی کے پیٹ پر رکھ کر اوپر سے دباؤ ڈالا، جس سے اس کا پیٹ پھٹ گیا اور مرگئی، صبح کے وقت جب رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ رات جو واقعہ ہوا ہے، اس کا مرتکب سامنے آجائے، وہ نابینا شخص کھڑا ہوا اور ہانپتا کانپتا، گرتا پڑتا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا۔ یا رسول اللہ ﷺ میں نے اسے قتل کیا ہے۔ اس قتل کی وجہ یہ تھی کہ یہ لونڈی آپ کو گالیاں دیتی تھی اور آپ کو بُرا بھلا کہتی تھی، میرے بار بار کہنے اور سمجھانے پر باز نہیں آتی تھی، اس کے بطن سے میری موتیوں جیسے دو خوبصورت بیٹے بھی پیدا ہوئے ہیں، آج رات اس نے پھر وہی نازیبا حرکت کر ڈالی، مجھے غیرت آئی اور میں نے اسے قتل کر ڈالا۔ واقعہ سننے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سب گواہ رہو، اس گستاخ لونڈی کا قتل ضائع اور خون رائیگاں ہے، اس کا کوئی بدل نہیں دیا جائے گا۔

[سنن ابي داؤد: ۴۳۶۱]

حضرات صحابہ کرام ؓ کا یہی موقف تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کرنے والی کی سزا قتل ہے اور اس کا خون ضائع ہے، چنانچہ حضرت ابو برزہ اسلمی ؓ کا بیان ہے کہ ہم ایک دفعہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی مجلس میں تھے، کسی بات پر آپ کو ایک شخص کے متعلق غصہ آیا، پھر آپ کا غصہ زیادہ ہونے لگا، میں نے عرض کیا اگر آپ مجھے اجازت دیں تو اسے قتل کردوں؟ جب میں نے اسے قتل کرنے کا عندیہ دیا تو حضرت ابوبکر ؓ نے مجلس کو برخاست کر دیا۔ جب لوگ منتشر ہو گئے تو آپ نے مجھے بلایا کہ اس وقت تو نے کیا کہا تھا۔ جبکہ میرے ذہن سے یہ واقعہ محو ہو چکا تھا۔ ان کے یاد دلانے پر مجھے یاد آیا آپ نے فرمایا کہ واقعی تو نے اسے قتل کر دینا تھا؟ میں نے عرض کیا اگر آپ مجھے اجازت دیتے تو میں اسے ضرور قتل کر دیتا تھا آپ اگر اب بھی مجھے حکم دیں تو اسے کیفر کردار تک پہنچا سکتا ہوں، حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا یہ منصب صرف رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہے کہ آپ کے حق میں گستاخی کرنے والے کو قتل کر دیا جائے، آپ کے بعد کسی اور کے لئے نہیں ہے۔

[سنن النسائي :۴۰۸۲]

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے ہاں یہ متفقہ فیصلہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کرنا ایک ایسا جرم ہے کہ اس کے مرتکب کو قرار واقعی سزا دی جائے اور اسے فوراً کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ چنانچہ کعب بن اشرف رسول اللہ ﷺ کے خلاف توہین آمیز اشعار کہتا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کعب یہودی کو کون قتل کرے گا، حضرت محمد بن مسلمہ ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ اس کام کو میں خود سرانجام دوں گا، چنانچہ اسے قتل کر دیا گیا جس کی تفصیل صحیح بخاری میں ہے۔

(دیکھئے: رقم الحدیث:۴۰۳۷)

حضرت ابن عباس ؓ کے متعلق بھی روایات میں ہے کہ انہوں نے اپنے ایک غلام کو قتل کرا دیا تھا، کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف گستاخی کا ارتکاب کرتا تھا۔

[مصنف عبدالرزاق: ۳۰۷/۵]

اسلام نے یہ اعزاز صرف رسول اللہ ﷺ کی ذات کے ساتھ مخصوص نہیں کیا بلکہ ناموس رسالت کے اس تحفظ

——جمادی الاولیٰ، الآخریٰ ۱۴۲۹ھ——

میں تمام انبیاء کرام علیہم کو بھی شامل ک درس دیا اور دوسری طرف تمام انبیاء کو محروم کر دیا جائے، اس سلسلہ میں امام انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ناموس رس میں گستاخی کا ارتکاب کرے گا، اس کو حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے "جس نے کسی نبی کو گالی دی اسے قت

پاکستان میں نافذ العمل توہین رس الفاظ یہ ہیں: "جو کوئی عملاً زبانی یا تحریری طور پر توہین یا تنقیص یا بے حرمتی کرے اعمال اور چیزیں دوسرے پیغمبروں لیکن اس سلسلہ میں کسی عام انسا واقعی کسی نے بددیانتی کی بنا پر کسی پ نہیں دیا جاسکتا کہ وہ گستاخ رسول والله أعلم بالصواب.

خاکوں کے کارٹونسٹوں کے قتل ک

مظاہرے، دھرنے، جلوس شرعاً

الجواب: ڈنمارک، ناروے اور جرمنی چیز موجود نہیں۔ قرآن بلاشبہ قانون بھی پیش کرتا ہے۔ ج میں قصاص پیش کرنا ﴿والجر الاطلاق نہیں بلکہ مشروط ہے۔

صفحہ 41

عبد الرشید صادق

میں تمام انبیاء کرام علیہم کو بھی شامل کیا ہے۔ ایک طرف مسلمانوں کو ہر قوم کی مقدس شخصیات اور شعائر کے احترام کا درس دیا اور دوسری طرف تمام انبیاء کرام کا یہ حق بنا دیا کہ ان کی شان میں توہین کرنے والوں کو زندگی کے حق سے محروم کر دیا جائے، اس سلسلہ میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الصارم المسلول میں تفصیلی بحث کی ہے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ناموس رسالت کی حفاظت کا یہ حق دیگر انبیاء علیہم کو بھی ہے جو شخص بھی ان کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرے گا، اس کو بھی شدید سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

"جس نے کسی نبی کو گالی دی اسے قتل کیا جائے اور جس نے صحابہ کو گالی دی تو اسے کوڑے مارے جائیں۔"

[الصارم المسلول:ص۹۲]

پاکستان میں نافذ العمل توہین رسالت کی سزا تمام انبیاء علیہم کی توہین کرنے والوں کے لئے عام ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:

"جو کوئی عملاً زبانی یا تحریری طور پر یا بطور طعنہ زنی یا بہتان تراشی بالواسطہ یا بلا واسطہ، اشارۃً یا کنایۃً رسول اللہ ﷺ کی توہین یا تنقیص یا بے حرمتی کرے وہ سزائے موت کا مستوجب ہوگا اور اسے سزائے جرمانہ بھی دی جائے گی اگر وہی اعمال اور چیزیں دوسرے پیغمبروں کے متعلق کہے جائیں تو وہ بھی اس سزا کا مستوجب جرم ہوگا۔"

لیکن اس سلسلہ میں کسی عام انسان کو قتل کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اسے حکومت کے نوٹس میں لانا ہوگا اگر واقعی کسی نے بددیانتی کی بنا پر کسی نبی کی توہین کی ہے تو اسے کیفر کردار تک پہنچانا حکومت کا کام ہے، ہر آدمی کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ گستاخ رسول کو قتل کر دے کیونکہ اس سے انارکی اور فساد پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ هٰذا ماعندی والله أعلم بالصواب .

ابو محمد عبدالستار الحماد، میاں چنوں

خاکوں کے کارٹونسٹوں کے قتل کا مطالبہ قرآن کے احکام سے مطابقت نہیں رکھتا کیا ان حکمرانوں کا یہ موقف صحیح ہے؟

مظاہرے، دھرنے، جلوس شرعاً جائز ہیں؟

الجواب: ڈنمارک، ناروے اور جرمنی وغیرہ کے ان حکمرانوں کا یہ موقف از سر تا پا غلط ہے اس میں صداقت نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ قرآن بلاشبہ ناحق قتل انسانی سے نہ صرف منع کرتا ہے بلکہ اس کی روک تھام کے لئے قصاص کا قانون بھی پیش کرتا ہے۔ ﴿وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوةٌ يّٰأُولِى الْأَلْبَابِ﴾ [البقرة:۱۷۹] حتیٰ کہ زخموں میں قصاص پیش کرنا ﴿وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ﴾ [المائدة:۴۵] مگر یہ قتل انسانی کی ممانعت کا حکم اور قانون علی الاطلاق نہیں بلکہ مشروط ہے یعنی جب کوئی شخص قرآن کی توہین کرتا ہے یا حامل قرآن کی گستاخی کا مرتکب ہوتا

مئی، جون ۲۰۱۰ء

صفحہ 42

علمائے کرام کے فتاویٰ

ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا پہنچاتا ہے، یا دین اسلام پر طعنہ زنی کرتا ہے تو وہ قرآن کے احکام اور نصوص کے مطابق واجب القتل ہے۔

جیسا کہ ائمہ کفر، سرکش، معاندین اسلام، اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے گستاخ انسانوں کو قرآن واجب القتل اور مباح الدم قرار دیتا ہے۔ تفصیل کا موقعہ ہے اور نہ فرصت، سرے دست صرف دو آیات بطور نمونہ مشتے از خروارے پیش خدمت ہیں ۔

”اور اگر عہد کر کے یہ لوگ اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور تمہارے دین (اسلام) پر طعنہ زنی کریں (اسلام کی توہین یا قرآن یا رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کریں) تو کفر کے ان پیشواؤں سے جنگ کرو۔“

امام المفسرین ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں ارقام فرماتے ہیں: ”أى عابوه انتقصوه ومن ههنا أخذ قتل من سب الرسول أو من طعن فى دين الاسلام أو ذكره بنقص“ [تفسير ابن كثير: ٤٣٦/٢] کہ جب کفر کے لیڈر اسلام میں عیب چینی کریں اور تنقیص کے مرتکب ہوں تو ان سے جنگ کرو۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ جو بھی شاتم رسول اللہ ﷺ کو گالی دے یا اسلام پر طعن کرے یا اس میں نقص نکالے تو وہ نام نہاد مسلمان ہو یا کافر، مرد ہو یا عورت، مغربی ہو یا مشرقی، جنوبی ہو یا شمالی، لیڈر ہو یا حکمران، بش ہو یا اس کے چیلے چانٹے واجب القتل مباح الدم اور اس کا قتل ہدر اور رائیگاں ہے۔

”پھر جب امان کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور پکڑو ان کو ان کا گھیراؤ کرو اور ان کی تاک میں ہر گھات کی جگہ بیٹھو۔ بالفاظ دیگر ان کا جینا دوبھر کر دو۔“

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”أى من الأرض وهذا عام المشهور تخصيصه، بتحريم القتال في الحرم“ ”کہ امان کے مہینوں کے بعد مشرکوں کو جہاں بھی پاؤ قتل کرنے میں دریغ نہ کرو۔ مگر مسجد حرام کے پاس جب تک وہ مسجد حرام کے پاس تم سے جنگ نہ کریں، ورنہ بصورت دیگر وہاں بھی ان کو تہہ تیغ کر دو۔“ [تفسير ابن كثير: ٣٣٣/٢]

امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت شریفہ کا مطلب یہ ہے کہ ان مشرکوں سے صرف میدان جنگ میں لڑنا ہی کافی نہیں بلکہ جس طریقہ سے تم ان پر قابو پا کر انہیں قتل کر سکتے ہو، قتل کرو۔ [تفسیر کبیر] قرآن مجید کی پہلی آیت سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اگر کوئی ذمی شخص دین اسلام میں طعنہ زنی کا مرتکب ہوگا تو اس کا عہد ذمہ کالعدم ہو جاتا ہے اور اس سے جنگ لڑنے کا ہمیں حکم ہے اور یہ امر ہر قسم کے شک وشبہ سے کہیں بالا تر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے سے بڑھ کر دین اسلام میں کوئی طعن نہیں ۔ کیونکہ اس سے شریعت کی توہین اور اسلام کی ہتک ہوتی ہے۔

صاحب سیف وقلم امام ابن تیمیہ حرانی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں: إن الذمي إذا سبّ الرسول أو سب الله أو عاب الإسلام علانية فقد نكث يمينه وطعن في ديننا لا خلاف بين المسلمين أنه يعاقب على ذلك ويؤدب عليه [الصارم المسلول: ص ١٦] ”اگر کوئی ذمی شخص اللہ تعالیٰ یا رسول اللہ ﷺ کو گالی دے یا علانیہ اسلام میں عیب نکالے تو اس نے اپنی قسم کو توڑ دیا اور ہمارے دین میں طعنہ زنی کا مرتکب ٹھہرا تو اس کو بلا کسی اختلاف اور نزاع کے سزا دی جائے گی اور اس کی تادیب کی

————— جمادی الاولیٰ، الاٰخرة ١٤٢٩ھ —————

صفحہ 43

عبدالرشید صادق

جائے گی۔‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید رقم طراز ہیں: "وأما الشافعي فالمنصوص عنه نفسه ان عهده ينتقض بسب النبي وأنه يقتل"

(الصارم المسلول)

’’امام شافعی کے نزدیک نبی کو گالی دینے سے معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے لہٰذا اگر ذمی رسول اللہ ﷺ کو گالی دے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔‘‘

امام ابن قیم رحمہ اللہ ایک مقام پر بحث کرتے ہوئے تصریح فرماتے ہیں: "فيها تعيين قتل الساب لرسول الله وإن قتله حد لا بد من استيفائه فإن النبي لم يؤمن مقيس بن ضبابة وابن خطل وهاتين الجاريتين وأهدر دم أم ولد الاعمى لما قتلها سيدها لاجل سبها النبي ."[أخرجه أبوداؤد في الحدود والنسائي في تحريم الدم من حديث ابن عباس سنده قوى، زاد المعاد: ج٣، ٣٣٩، ٣٤٠، وقال ابن حجر في بلوغ المرام رجاله ثقات] ’’یہ طے اور معین ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والے کی سزا قتل ہی ہے اور یہ تعزیر نہیں بلکہ حد ہے جس پر عمل کرنا فرض اور ضروری ہے، کیونکہ نبیؐ نے مقیس بن ضبابہ، ابن خطل اور ان دو لونڈیوں کو جو رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرتی تھیں کو قتل کرا دیا حالانکہ شریک جنگ کافروں کی عورتیں قتل کرنے کی شرعاً اجازت نہیں۔ جیسے کہ بچوں کو قتل نہیں کیا جاتا۔‘‘

آخر میں دو احادیث بھی پڑھتے چلئے: عن ابن عمر أن رسول الله قال «أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا اله إلا الله وأن محمدا رسول الله ويقيموا الصلوة ويؤتوا الزكوة»[صحيح البخاري:٢٥] کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک برسر پیکار اور معرکہ آراء رہوں جب تک وہ لا إله إلا الله اور محمد رسول الله کی صدق دل سے گواہی نہ دیں اور نہ نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے لگ جائیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قال رسول الله ﷺ: «من سب نبيا قتل ومن سب أصحابه جُلد» ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی ایک نبی کو گالی دے اسے قتل کر دیا جائے اور جس نے رسول کے صحابہ کو گالی دی اسے دُرے لگائے جائیں۔‘‘

[معجم الصغير للطبراني:٣٢٦/١]

خلفائے راشدین اور صحابہ کا اجماع

اس بات پر خلفائے راشدین اور تمام صحابہ کا اجماع ہے کہ گستاخ رسول واجب القتل اور مباح الدم اور اس کا قتل ہدر اور رائیگاں ہے یعنی اس کے قصاص میں قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ امام ابن قیم رقمطراز ہیں: "هذا اجماع من الخلفاء الراشدين ولا يعلم لهم فى الصحابة مخالف"[زاد المعاد:٣٤٠/٣]

ائمہ اربعہ کا فتویٰ

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی کتاب الصارم المسلول میں ارقام فرماتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی ذات وصفات کا گستاخ اور آپ کے لئے طعنے والا اور گالی بکنے والا اگرچہ مسلمان ہو یا کافر بالاتفاق علماء اسلام کے نزدیک قتل کیا جائے گا اس میں کوئی بھی مخالف نہیں۔ ائمہ اربعہ مالک، ابو حنیفہ، شافعی، احمد بن حنبل اور دوسرے ائمہ کا یہی مذہب اور فتویٰ ہے۔

مئی ، جون ٢٠٠٨ء

صفحہ 44

علماء کرام کے فتاویٰ

قرآن مجید کی مذکورہ بالا دونوں آیات، حدیث رسول، خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم، تمام صحابہ رضی اللہ عنہم ، ائمہ اربعہ سلف و خلف کی تفسیر اور توضیح سے واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والا دین اسلام میں عیب نکالنے والا اور قرآن کی توہین کرنے والا رسول اللہ ﷺ کے توہین آمیز خاکے چھاپنے والا کسے باشد مسلمان ہو یا کافر۔ مرتد ہو یا عورت، واجب القتل اور مباح الدم ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہ محققین اور اسلامی قوانین کے خواص ایسے بدنصیب کو توبہ کی مہلت دینے کے بھی قائل نہیں۔ لہذا ڈنمارک، ناروے، ہالینڈ وغیرہ ملکوں کے حکمرانوں کے اس ادعاء میں قطعاً کوئی صداقت نہیں کہ قرآن مطلق انسانی قتل کے خلاف ہے۔ اگر انہوں نے اسلامی قوانین اور حدود کا مطالعہ کیا ہوتا تو اس مغالطے کا شکار نہ ہوتے۔ ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب۔

جواب سوال نمبر ۲

جی ہاں عبداللہ بن خطل اور اس کی دولونڈیوں کو قتل کرا دیا تھا کہ وہ اپنے گیتوں میں رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرتی تھیں۔ اسی طرح حویرث بن نقیذ کو بھی آپ ﷺ نے قتل کروا دیا تھا کہ وہ آپ ﷺ کی ہجو کا مرتکب ہوا تھا۔ [صحیح البخاری حدیث نمبر ۴۱۱۴] اسی طرح کعب بن اشرف یہودی کو قتل کرا دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کو ایذا دیتا تھا اور ہجو کرتا تھا۔ [صحیح البخاری : ۴۰۳۷] اور ابورافع عبداللہ بن ابی الحقیق کو قتل کروا دیا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں بکتا اور آپ کے دشمنوں کا تعاون کرتا تھا۔ اسی طرح مقیس بن ضبابہ کو بھی آپ ﷺ کے حکم سے قتل کیا گیا اور نابینا صحابی نے اپنی لونڈی کو قتل کر دیا تھا۔ غرضیکہ ایسے اور بھی بہت سے بدنصیب ہیں کہ جنہیں رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے کی پاداش میں قتل کر دیا گیا اور یہ عمل آج تک پیہم چلا آرہا ہے اسی طرح عصماء بنت مروان اور انس بن زنیم دیلمی۔

جواب سوال نمبر ۳

تحفظ ناموس رسالت کے لئے موجودہ جلوس۔ دھرنے، ہڑتالیں اور مظاہرے موجودہ جمہوری و معروضی حالت میں شرعاً جائز لگتے ہیں۔ مشہور عام صحیح حدیث سے جواز کسی حد تک ممکن لگتا ہے۔ آپ نے فرمایا: «من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فان لم يستطع فبلسانه فان لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الايمان» [صحیح مسلم: ۴۹]

”کہ تم میں سے جو شخص برائی کو دیکھے تو اس کو زور بازو کے ساتھ ختم کرے، اگر اس کے بازو میں اتنی طاقت نہ ہو تو زبان کے ساتھ اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے اور اگر صدائے احتجاج کی طاقت اور اجازت نہ ہو تو دل سے اس بُرائی کے ساتھ سمجھوتہ نہ کرے اور یہ کمزور ترین ایمان کی علامت ہے۔“

اور یہ بات 'عیاں را چہ بیان' کی مکمل مصداق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات کے انکار کے بعد رسول اللہ ﷺ کی ذات والا صفات کی گستاخی، اسلام اور قرآن کی توہین، اکبر المنکرات اور تمام برائیوں سے بڑی بُرائی ہے۔

لہذا اس بُرائی کے خلاف مسلمانوں کا یہ احتجاج اور اشتعال و ہیجان ان کی حب رسول ﷺ اور قومی غیرت کا اظہار نہ صرف فطری اور طبعی امر ہے بلکہ روشن ضمیر مسلمانوں کے ایمان کی شناخت اور پہچان بھی ہے اور ہمارا یہ طرز احتجاج اسلام کے تعارف کا ایک اچھا ذریعہ بھی ہے اگر یہ پوری طرح اسلامی احکام کے تابع ہو تو غیر جانبدار لوگوں کے دل جیتنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

—— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ——

صفحہ 45

عبدالرشید صادق

یہ توہین آمیز خاکوں اور قرآن کی بے ادبی کے واقعات کوئی اتفاقی حادثہ نہیں، بلکہ یہ اس طے شدہ پلان کا حصہ ہیں جن کے ذریعے اہل توحید کی اسلامی غیرت، ملی جذبات اور حب رسول، سیاسی صلاحیت اور حربی قوت کا جائزہ لینے کے لئے اسلام اور رسول اللہ ﷺ (فداہ أبی وأمی وروحی وأولادی) کے توہین آمیز خاکے بار بار شائع کئے جارہے ہیں اور فلمیں نشر کی جارہی ہیں تا کہ یہ پتہ چلے کہ مسلمانانِ عالم کتنے پانی میں ہیں اور مناسب وقت پر اسلام اور عالم اسلام پر ہمہ جہتی شب خون مار کر ان کی افرادی قوت کمزور کر دی جائے، ان کے ملکوں کو اپنی کالونیاں بنالیں اور حرمین شریفین پر قبضہ جمالیں یعنی یہ فری میسن اور صہیونی تحریک کی ابتدائی کارروائی بطور ٹیسٹ کے لگتی ہے، لہٰذا ان توہین آمیز خاکوں کے خلاف اہل توحید، غیور مسلمانوں اور رسالت کے پروانوں کے یہ جلوس ، دھرنے، ہڑتالیں اور مظاہرے چونکہ جمہوری دور میں صدائے احتجاج کے مختلف انداز اور مظاہر ہیں اس لئے الضرورات تبیح المحظورات کے تحت یہ نہ صرف شرعاً جائز ہیں بلکہ مسلمانوں کا ملی، شرعی، آئینی، قانونی اور اخلاقی فریضہ ہے اور بقائے باہمی کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ مگر توڑ پھوڑ کے ہم حامی نہیں۔ یہ ملکی املاک کا اتلاف ہے جس کی تائید نہیں کی جاسکتی۔

جواب ۴ سوال ۳ کے جواب میں ہم لکھ چکے ہیں امریکہ میں قرآن کی بے ادبی کے دلدوز واقعات اور ڈنمارک، اٹلی، جرمنی، ہالینڈ، فلپائن، فرانس اور دوسرے مغربی ممالک کی طرف سے بے لگام صحافت اور آزادی اظہار رائے کے بہانہ رسول اللہ ﷺ کی توہین پر مبنی روح فرسا خاکے کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کی اسلامی حمیت، دینی عصبیت، قومی غیرت اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ محبت، عقیدت، شیفتگی، وابستگی اور قرآن مجید کی صداقت، اس کی تلاوت اور اس کے جہادی احکام کے ساتھ گرویدگی اور وارفتگی کی بنیادوں کی مضبوطی اور گہرائی کا ٹیسٹ کیس ہے۔ اگر یہ بنیادیں کھوکھلی اور ناپائیدار ثابت ہوں تو مناسب وقت پر اپنی حربی قوتوں کو یکجا کر کے عالم اسلام پر ہمہ جہتی کاری ضرب لگا کر مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے اوجھل کردیں یا علی الاقل ان کو سیاسی لحاظ سے مفلوج اقلیت بنادیں۔ اسلام کے دونوں مرکزوں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ حرسہما الله عن شر المعاندین پر قبضہ عالم اسلام اور دوسرے مسلمان ملکوں کو اپنی نو آبادیات بنا لیا جائے۔ فری میسن اور مجوسی تحریکیں مسلمانوں کی بیخ کنی جیسے غیر انسانی اور ناپاک مقاصد کے حصول کے لئے انڈر گراؤنڈ سازشوں کا تانا بانا تیار کرنے میں شبانہ روز مصروف چلی آرہی ہیں اور ہماری شکست و ریخت کی قرارداد پاس ہوچکی ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ میں ستر سے زائد ویٹو کر چکا ہے اور ان میں پچیس ویٹو اسرائیل کے حق میں فلسطین کے خلاف کی گئی ہیں جب کہ چیچنیا کے مظلوم مسلمانوں کی نہ اقوام متحدہ نے کوئی مدد کی اور نہ پوپ نے ان کی درخواست کی طرف کوئی توجہ دی۔ لہٰذا مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں مجلس اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل دونوں اسلام اور مسلمانوں کے مقتل ہیں اور سامراجی سفاکوں، استعماری قزاقوں، صہیونی غارتگروں، ماسونی شاطروں اور امریکی غنڈوں کے دستی رومال ہیں۔ اس تناظر میں یہ ہڑتالیں، دھرنے اور مظاہرے اپنی تمام تر افادیت باوجود اس دینی، شرعی اور حساس ترین ملی اور قومی مسئلہ کا مستقل اور پائیدار حل نہیں ہے ان کو مسئلہ کا حل سمجھ لینا شتر مرغ کی سوچ تو ہوسکتی ہے مگر عاقبت اندیش اور علیم و بصیر مسلمان کی یہ سوچ ہر گز نہیں، کیونکہ

چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھیں گردوں نے
عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں

مئی، جون ۲۰۱۰ء

صفحہ 46

علماء کرام کے فتاویٰ

ہمارے نزدیک اس مسئلہ کے مستقل اور پائیدار حل کے لئے یکے بعد دیگرے حسب ذیل اقدامات باسرع ما یمکن اٹھانے لازمی اور ناگزیر ہیں۔

نہیں تاہم اقوام متحدہ کے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس اور انٹرنیشنل لاء کے حوالہ سے اقوام متحدہ کو اچھی طرح جھنجوڑا جائے یعنی سب سے پہلے اقوام متحدہ کے تمام مسلمان ارکان اس قدر منظم اور بھرپور مطالبہ کریں کہ وہ اپنے چارٹروں کے مطابق اسلام سمیت تمام رائج مذاہب۔ ان کی کتابوں اور ان کے انبیاء کے ناموس کے تحفظ کے لئے تعزیری قانون سازی پر مجبور ہو جائے۔

بھی کامیابی نہ ہو تو پھر نہ صرف ان نام نہاد امن اداروں کا مکمل بائیکاٹ کر کے امریکہ، اٹلی، ڈنمارک، جرمنی، فلپائن، ناروے اور حامی ملکوں کے سفارت خانے بند کر دیئے جائیں اور اپنے سفیروں کو واپس بلا کر ان سے کئے گئے تمام سیاسی، اقتصادی معاہدات کالعدم قرار دے کر اپنا الگ اسلامی بلاک اور تجارتی منڈی قائم کی جائے۔

سرمایہ دار امریکہ، سوئٹزرلینڈ اور دوسرے مغربی ملکوں کے بینکوں سے اپنا سرمایہ نکال کر اپنا بین الاقوامی اسلامی بینک قائم کر کے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں۔ اللہ کا دیا ہمارے پاس سب کچھ وافر موجود ہے۔ یہ کوئی انہونا کام نہیں۔ ضرورت صرف اسلامی عصبیت، دینی حمیت، ملی غیرت، اسلام اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غیر مشروط مگر مخلصانہ محبت اور توکل علی اللہ کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل عمیم سے دولت ہمارے پاس موجود ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر جیسے کہنہ مشق ایٹمی سائنسدان موجود۔ بین الاقوامی شہرت کے مالک وکلاء، جج، سفراء، دانشور، صحافی اور حربی پالیسی ساز تجربہ کار اور گھاگ جنرل اور لاکھوں کی تعداد میں مسلم مسلح افواج، ایٹم بم اور میزائل موجود اور مزید تیار کرنے کی صلاحیت موجود۔ لہٰذا اقوام متحدہ کے مقابلہ میں مسلم اُمہ کے روشن مستقبل کے لئے مالی، اخلاقی اور جانی قربانی سے دریغ نہیں ہونا چاہئے۔ اگر اُمت مسلمہ ایسا نہیں کرتی تو پھر مسلمان حکمران، فرمانروا، لیڈر، جنرل اور سرمایہ دار یاد رکھیں کہ اگر وہ اپنے اقتدار اور سرمایہ کی خاطر ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے مندرجہ بالا اقدامات کرنے کے لئے تیار نہیں تو ان کے اقتدار کو بھی دوام نہیں۔ کہاں ہے مسلمان سلطان کی شان وشوکت؟ کہاں ہیں قیصر و کسریٰ کی حکومتیں؟ کہاں ہیں سارے ہندوستان پر حکومت کرنے والے مغل حکمران؟ جب وہ خود مختار حکمران نہیں رہے تو آپ جو امریکہ وغیرہ مغربی ملکوں کی مہیا کردہ بیساکھیوں کے سہارے اقتدار میں رہنے کے اہل نہیں اور ان کی یہ ہوس اقتدار ان کی عیش وعشرت ان کو دنیا میں ذلت وخواری سے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے ہرگز بچا نہ سکے گی۔

حاصل کلام

یہ کہ اسلام کا فروغ واستحکام اور ناموس رسول ﷺ کے تحفظ کا پائیدار اور کامیاب حل صرف جہاد فی سبیل اللہ میں مضمر ہے اور جہاد کے لئے مسلمانوں کا باہمی اتحاد، اسلامی بلاک، اسلامی بینک کا قیام بعجلت تام از بس ضروری اور ناگزیر

—— جمادی الاولیٰ، الآخرة ۲۹ھ ——

صفحہ 47

عبد الرشید صادق

ہے۔ لہٰذا اسلامی بلاک بنا کر اپنے تمام مالی سیاسی اور ایٹمی وسائل یکجا کر کے جہاد فی سبیل اللہ کا اعلان کر دینا چاہئے۔ پھر دیکھئے اللہ تعالیٰ کی نصرتیں اور غیبی امداد کس طرح غازیان اسلام کا استقبال اور قدم بوسی کرتی ہے۔ ﴿إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ ، وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا﴾ ڈاکٹر اقبال بھی مسلمانان عالم سے یہی مطالبہ کرتے وفات پاگئے۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
ہر دردمند دل کو رونا یہ میرا رولا دے بیہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے

اللهم أعز الإسلام والمسلمين حيثما كانوا مشارق الأرض ومغاربها ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین

داریم نشان ز گنج مقصود ترا
ماگر نہ رسیدیم تو شائد برسی

محمد عبید اللہ خان عفیف دار الإفتاء مسجد امۃ العزیز اہل حدیث، فیصل آباد

مت کرو مجبور ہم کو......

تف ہے اہل دہر اس آزادی اظہار پر جو عمل کیچڑ اچھالے سید ابرار پر
اب خدائی فیصلے کے منتظر ہیں اہل حق حملہ آور پیروئے ابلیس ہے سرکار پر
فرض ہے فی الفور امراض اہانت کا علاج قرض ہے یہ اک، غلامان شہ ابرار پر
دشمنان شاہ دیں کا ہو مسلسل بائی کاٹ ہے گراں وار معیشت مجمع کفار پر
ہستی پرنور کی توہین پر خوں روئے گا پیش ہوگا شاتم ختم الرسل جب نار پر
کر رہے ہیں ہم زباں پر اور قلم پر اکتفا مت کرو مجبور ہم کو زور پر تلوار پر
پھر مقابل اہل حق کے، ملت واحد ہے کفر ہے جبھی چشم عنایت موت کے حق دار پر
احتجاج عالم اسلام ہے فطری عمل شیر نر بپھرے نہ کیوں، روباہ کی اہلکار پر
حال ہمدردان ملت ماورائے فہم ہے تند خو اپنوں کے حق میں، رحم دل اغیار پر
میرے بازو، میرا سر، جب تک سلامت ہے اثر کوئی کیوں انگلی اٹھائے گا مرے سرکار پر

[اثر جون پوری] بشکریہ ماہنامہ ’عرفات‘

مئی، جون ۲۰۰۸ء ماہنامہ الشریعہ

صفحہ 48

نقطۂ نظر طارق جاوید عارفی

مغرب توہین آمیز خاکے کیوں بناتا ہے؟

آج کل مسلمان دنیا بھر میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف پر زور احتجاج کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں میڈیا پر ہر طرح کی خبریں، مظاہرے ومباحثے، مضامین اور مقالات شائع ہو رہے ہیں اور عملاً یہ احتجاج روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ توہین آمیز خاکوں کی وجہ سے مسلمانوں کا اشتعال میں آنا لابدی امر ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں میں اس بارے میں جو اتفاق رائے سامنے آیا ہے اس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ ان خاکوں کی مذمت کرنے والوں میں جہاں مسلمان پیش پیش ہیں وہاں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے بھی ان کے ہم نوا ہیں، یہاں تک کہ دین ومذہب سے بالاتر ہو کر آزاد خیال لیکن سنجیدہ فکر لوگ بھی ان خاکوں کی مذمت کر رہے ہیں۔ اہل مغرب توہین آمیز خاکے کیوں شائع کرتے ہیں؟ اس تفصیل میں جانے سے قبل ان خاکوں کی مختصر تاریخ اور پس منظر بیان کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

توہین آمیز خاکوں کی اولین اشاعت ستمبر ۲۰۰۵ء میں ہوئی۔ یہ خاکے ڈینیل ہائنس نامی متعصب امریکی یہودی کے شرپسند، غلیظ ذہن کی اختراع کے نتیجے میں منصۂ شہود پر آئے۔ اس کے بعد اب تک دو سالوں میں گاہے بگاہے یہ خاکے شائع ہوتے رہے۔ دوسری بار فروری ۲۰۰۶ء میں اور تیسری بار اگست ۲۰۰۷ء میں ہوئے۔ رواں سال میں ۱۳ فروری کو ایک بار نئی منصوبہ بندی اور اشتراک کے ساتھ بیک وقت سکینڈے نیویا کے ۱۷ اخبارات نے انہی خاکوں کو ایک بار پھر شائع کردیا۔

منظم سازش یا اتفاقی حادثہ

توہین آمیز خاکوں کے جائزہ سے اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ یہ سارا عمل ایک منظم منصوبہ بندی اور گہری سازش کا نتیجہ ہے۔ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ باقاعدہ مذموم مقاصد و اہداف کے پیش نظر کارٹونوں کے مقابلے منعقد کروا کر ڈنمارک کے اخبارات کو اس بنا پر ان کی اشاعت کے لئے منتخب کیا گیا، کیونکہ وہاں جدید تہذیب کے چند کھوکھلے نعرے زیادہ شدت اور شور وغوغے کے ساتھ زیر عمل ہیں اور اس کے بعد سے اب تک ان خاکوں کی اشاعت کا سلسلہ بڑے پیمانے پر جاری ہے اور مختلف ویب سائٹس پر بھی یہ ہر وقت ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ اس گھناؤنی سازش میں صرف ڈنمارک کے چند اخبارات شریک نہیں بلکہ فرانس، جرمنی، ناروے، ہالینڈ اور اٹلی سمیت تمام امریکی ریاستوں کے ذرائع ابلاغ بھی برابر کے شریک ہیں۔ ان خاکوں کی بڑے پیمانے پر اشاعت اور مذکورہ ممالک کے عوام الناس کا ان کو گوارا کرنا اور اپنے میڈیا کے خلاف احتجاج نہ کرنا اس امر کا بین ثبوت ہے کہ یہ سب کچھ منظم طریقے سے طے پا چکا ہے۔ یہی نہیں بلکہ دنیا کی دو بڑی ویب سائٹس 'فری فار آل' اور 'یوٹیوب' شروع دن سے ہی ان خاکوں کی بڑے پیمانے پر اشاعت کررہی ہیں۔ ان دونوں ویب سائٹس کے مرکزی کمپیوٹر سسٹم (Servers)

☆ سابق متعلم المعهد العالي للدعوة والإعلام، جامعہ لاہور الاسلامیہ ——— جمادی الاولیٰ، الآخرہ ۱۴۲۹ھ ———

صفحہ 49

طارق جاوید عارفی

امریکی ریاست فلوریڈا میں ہیں۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف اس بھیانک سازش میں گستاخانہ خاکوں کے علاوہ خانہ کعبہ اور دیگر اسلامی احکام وشعائر کی توہین کے بہت سے کردار بھی اس وقت مغرب میں سرگرم عمل ہیں۔ لمحہ بہ لمحہ اس سازش کو جس طرح پروان چڑھایا گیا اور جن جن مراحل سے اسے گزارا گیا اس کا تفصیلی تذکرہ ہفت روزہ ’ندائے ملت‘ کے یکم مارچ ۲۰۰۶ء کے شمارے میں ایک مستقل مضمون میں کیا گیا ہے۔ یوں بھی ڈنمارک سکینڈے نیوین ممالک میں سب سے زیادہ یہودیت نواز ملک ہے۔ اس لئے اسی ملک میں اس سازش کا بیج ڈالا گیا ہے۔ اس سازش کا مختصر تذکرہ حسب ذیل ہے:

ان خاکوں کی اشاعت کے دو بنیادی کردار ہیں: پہلا ڈینیل پائپس نامی امریکی عیسائی جو صدر بش کے ساتھ گہرے سیاسی وتجارتی مراسم رکھنے کے علاوہ بعض کمیٹیوں کا رکن بھی ہے۔ امریکی اخبارات اسے ’اسلام فوبیا‘ کا مریض اور مغربی دانشور ’اسلام دشمن‘ قرار دیتے ہیں۔ اسلام کے نام پر دنیا بھر میں جہاں کہیں کوئی بھی سرگرمی ہو، وہ اس کے لئے ہر قسم کی مدد دینے کیلئے تیار رہتا ہے۔ دوسرا اہم کردار جائلانڈ پوسٹن نامی اخبار (یہودی کلچر) کا ایڈیٹر فلیمنگ روز ہے۔ مسلمانوں کے خلاف یہ منظم سازش عیسائیوں اور یہودیوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ یہ ایڈیٹر کافی عرصے سے توہین رسالت کے موقع کی تلاش میں تھا کہ کھرے بلوٹکن نامی ایک ڈینش مصنف نے نبی ﷺ پر ایک مختصر کتاب میں شائع کرنے کے لئے اس سے آپ کا کوئی خاکہ طلب کیا۔ اس تقاضے پر فلیمنگ نے ڈینیل کی حمایت اور تعاون کے بل بوتے پر آپ ﷺ کے خاکے بنانے کے لئے اپنے اخبار میں اشتہار شائع کرا دیا۔ ۴۰ میں سے ۱۲ بدبخت کارٹونسٹ اس مذموم حرکت کے لئے آمادہ ہوئے اور ان میں سے ویسٹر گارڈ نامی ملعون کارٹونسٹ نے توہین آمیز خاکے تیار کئے۔ اپنے قتل کا فتویٰ ملنے کے بعد سے یہ شخص روپوش یا ڈینش پولیس کی حفاظت میں ہے جبکہ فلیمنگ میامی (امریکہ) میں اپنے دوست ڈینیل کی میزبانی اور تحفظ سے محفوظ ہے۔

روزنامہ ڈان ۱۹ فروری ۲۰۰۶ء میں ان خاکوں کا کچا چٹھا واضح کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ واقعہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی ذہنیت ہے، جیسا کہ واشنگٹن پوسٹ نے بھی یہی قرار دیا ہے۔ خود فلیمنگ روز سے جب اپنے طرز عمل پر افسوس کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ بہر کیف ان خاکوں کی اشاعت کے پس پردہ ایک جذبہ کار فرما رہا ہے اور وہ دہشت گردی ہے جسے اسلام سے روحانی اسلحہ فراہم ہوتا ہے۔

[تفصیل کے لئے دیکھئے: محدث، مارچ ۲۰۰۶ء]

محترم جاوید چودھری نے بھی اسی خیال کا اظہار کیا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے، چنانچہ لکھتے ہیں: ”جہاں تک توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار کا تعلق ہے..... جس کی پیشانی پر یہودیوں کا عالمی نشان ’سٹار آف ڈیوڈ‘ اس کے متعصب یہودی ہونے کا برملا اظہار ہے..... اسی اخبار نے دو برس قبل حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں بعض متنازعہ خاکے شائع کرنے سے انکار کیا تھا، کیونکہ انکی نظر میں اس سے ان کے بعض قارئین کے جذبات متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ وہ خاکے کرسٹوفر زیلر نامی کارٹونسٹ نے بنائے تھے۔ مذکورہ خاکوں کی اشاعت کے عمل کا بھی اگر جائزہ لیا جائے تو حادثہ کی بجائے ایک منظم سازش کا پتہ چلتا ہے۔“ [روزنامہ جنگ ۱۶ فروری ۰۸ء، کالم ’زیرو پوائنٹ‘]

کچھ عرصہ قبل ہالینڈ میں اسلام مخالف ایک فلم تیار کی گئی جس میں اسلامی تعلیمات واحکام کا تمسخر اڑایا گیا اور بہت سے اسلامی شعائر کو ہدف تنقید بنایا گیا۔ یہ فلم بھی باقاعدہ سازش کے تحت تیار کی گئی۔ اس بارے میں ہفت روزہ ”ندائے

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 50

مغرب توہین آمیز خاکے کیوں بناتا ہے؟

ملت کے تجزیہ نگار محمد انیس الرحمن لکھتے ہیں:

’’اگر ہالینڈ میں اسلام کے خلاف فلم بنائی گئی ہے تو کیا ڈچ قوم کو اسلام کا کوئی ادراک نہیں؟ شاید ایسا نہیں، میں اس بات کو اس لئے بھی کہہ سکتا ہوں کہ راقم (انیس الرحمن) خود ہالینڈ کی مشہور زمانہ قدیم لائڈن یونیورسٹی میں استشراقیت (Orientalism) کے موضوع پر کام کرتا رہا ہے۔ استشراقیت یا اورینٹلزم کا مطلب ہے کہ مغرب کے مشرق خصوصاً اسلام کے حوالے سے کام کی نوعیت کو جاننا اور مستشرقین کے فکری، مذہبی اور سیاسی پس منظر کا جائزہ لینا، لائڈن یونیورسٹی کا شمار یورپ کی چند بڑی اور قدیم یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا ’اسلامک ڈیپارٹمنٹ‘ ہے جس کی عمر آٹھ سو سال بتائی جاتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس اسلامی شعبے میں کوئی مسلمان استاد تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتا جبکہ چیئرمین بھی عیسائی یا یہودی ہوتا ہے۔ اس شعبے سے متصل ’ہیبرو ڈیپارٹمنٹ‘ یعنی عبرانی شعبہ جو یہودیت کے حوالے سے ’خدمات‘ انجام دیتا ہے۔ اس شعبے کا بھی اسلامی شعبے میں خاص عمل دخل ہے...... اس شعبے کے چیئرمین کے دفتر جانے سے پہلے جو ہال آتا ہے اس کی دیواروں پر قد آدم سائز میں لکڑی کی مینا کاری کے ساتھ سورۂ رحمٰن لکھی ہوئی دیکھی جاسکتی ہے۔ پہلی مرتبہ داخل ہونے والا شاید اسے اسلام کی فکری خدمت کا کوئی بڑا مرکز سمجھے، لیکن درحقیقت یہاں اسلام سے متعلق قیمتی لٹریچر تو موجود ہے مگر یہاں کام کسی اور نوعیت کا کیا جاتا ہے اب جبکہ ہالینڈ نے (اسلام مخالف) متنازعہ فلم بنائی ہے تو کیا اس کے پروڈیوسر نے لائڈن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی علوم سے رجوع نہ کیا ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ جو کام بڑے مغربی ممالک کسی وجہ سے علانیہ نہیں کرتے، اس کے لئے چھوٹے یورپی ملک کو تیار کیا جاتا ہے اور اسے آزادیٔ رائے کا نام دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کہنے کو تو یہ ملک عیسائی ملک کہلاتے ہیں مگر حقیقت میں ان کا شمار لادینی ریاستوں میں ہوتا ہے۔‘‘ [ندائے ملت، ۱۳ تا ۱۹ مارچ ۲۰۰۸ء]

اس گھناؤنی سازش کی قیادت مغرب کا وہ طبقہ کر رہا ہے جو مذہب سے خدا واسطے کا بیر رکھتا ہے اور انسانیت کو مذہب سے بیزار کرنا اس نے اپنا مشن بنا رکھا ہے۔ یہ وہی طبقہ ہے جس نے چند سال قبل حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں بھی ایسی ہی ایک متنازعہ فلم ’ڈا ونچی کوڈ‘ کی بڑے پیمانے پر نمائش کی، جس میں حضرت عیسیٰ ؑ کو [نعوذ باللہ] ولد الزنا ثابت کرتے ہوئے ان کی والدہ حضرت مریم ؑ کے کردار پر بھی کیچڑ اچھالا۔ اس فلم کی اشاعت سے عیسائیوں میں بھی شدید ردِّعمل پیدا ہوا، لیکن آزادیٔ اظہار کے نام پر آج تک اس بدنام زمانہ فلم کی نمائش جاری ہے۔

مندرجہ بالا دلائل سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ نبی رحمت ﷺ کے بارے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور اسلام مخالف فلموں کی نمائش سوچی سمجھی سازش اور منظم منصوبہ کا حصہ ہیں۔

خاکے کیوں بنائے جاتے ہیں؟

اب ہم ان وجوہ کا جائزہ لیتے ہیں جو توہین آمیز خاکوں کی تیاری اور اشاعت کا محرک بنتی ہیں:

پہلی وجہ اہل مغرب کی نبی کریم ﷺ سے عداوت و دشمنی ہے، جس کا اظہار وہ مختلف قسم کی نازیبا حرکات کر کے کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ روزِ اوّل سے مسلمانوں کا نبی ﷺ سے تعلق کو کمزور کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی ناپاک کوشش ہے کہ مسلمانوں کی محبوب ترین شخصیت کو متنازعہ بنا دیا جائے تاکہ اس عظمت اور توقیر و تعظیم کو زک پہنچائی جاسکے جو آپ ﷺ کے پیروکاروں کے دلوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے لئے وقتاً فوقتاً وہ تاجدارِ انبیاء ﷺ کی شان میں ہذیان بکتے رہتے ہیں، جس کی چند مثالیں ملاحظہ کیجئے:

گولڈ زیہر یہودی مستشرق ہے۔ دیگر مستشرقین کی طرح اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف اس کا تعصب اور

ـــــــــــــــــــــ جمادی الاولیٰ، الآخریٰ ۱۴۲۹ھ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

صفحہ 51

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ طارق جاوید عارفی

عناد کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ مسلم دنیا میں وہ اسلام دشمن اور علمی خیانت کی وجہ سے بدنام ہے۔ وہ نبی رحمت ﷺ کی مدنی زندگی کے متعلق یوں رقم طراز ہے:

"محمد (ﷺ) نے ایک دم اپنا رخ ان اطراف کی طرف کیا جن کا تعلق دنیا سے تھا، چنانچہ وہ دنیا میں تلوار لے کر وارد ہوئے انہوں نے جنگ کا بگل بجایا اور اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے ان کی تلوار سے خون ٹپکنے لگا۔ اپنے مشن کی نمایاں کامیابی جس نے سرزمین عرب کی سیاسی فضا کو یکدم بدل ڈالا اور جس سلسلے میں انہوں نے لیڈر اور رہنما کا کردار ادا کیا، انہوں نے جنگ کا جو بگل بجایا، وہ حقیقی تھا۔ ان کی تلوار سے خون ٹپکتا تھا اور اس طرح انہوں نے اسلامی جنگوں کا ایک نیا نقشہ اپنی مملکت میں پیش کیا اور یہی ان کے کردار کا ماحصل ہے۔"

("Interoduction to Islamic Theology and Law" by Goldziher Ig' P:23)

اسی طرح مستشرق ولیم منٹگمری واٹ واقعات و حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا عادی ہے جس سے حقیقت مستور ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہ بدبخت نبی کریم ﷺ کی زندگی کو غارت گری اور جہاد کو ڈاکہ زنی اور لوٹ مار کا نام دے کر بڑے مکر و فریب کے ساتھ نبی کریم ﷺ اور قرآن مجید کے بارے میں یوں یاوہ گوئی کرتا ہے۔

"محمد (ﷺ) جب ۶۲۲ء میں مدینہ گئے تو مہاجرین میں سے چند ایک قبائلی ان ڈاکوں میں مصروف ہو گئے۔ غالباً اس کا مقصد اوروں کو ترغیب دینا تھا تا کہ وہ بھی ان ڈاکوں میں شرکت کریں جسے قرآن نے اللہ کے راستے میں جہاد قرار دیا ہے۔"

("Islamic Surveys" by W. Montgomery Watt, P.56)

تقسیم ہند سے پہلے یو پی کے گورنر ولیم میور نے سیرت النبی ﷺ پر ایک کتاب لکھی جس میں اس نے رسول اکرم ﷺ کے بارے میں اپنے خبیث باطن کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے:

"دو چیزیں انسانیت کی سب سے بڑی دشمن ہیں ایک محمد (ﷺ) کا قرآن اور دوسری محمد (ﷺ) کی تلوار۔"

[موج کوثر از شیخ محمد اکرم: ص۱۶۳]

ان حوالہ جات سے جہاں مغرب کی مسیحی دنیا کی علمی و تاریخی خیانت کا ثبوت ملتا ہے وہاں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف ان کے معاندانہ رویے اور خدا واسطے کا بیر بھی واضح ہو جاتا ہے۔ جب اس طرح لغویات و ہفوات بکنے کے باوجود ان کے تعصب اور حسد کی آتش انتقام ٹھنڈی نہیں ہوئی تو پھر یہ بدبخت توہین آمیز خاکے بنا کر اپنے ’درد‘ کا مداوا کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

جہاد کو دہشت گردی ثابت کرنا

دین اسلام میں جہاد کو جو مقام و مرتبہ حاصل ہے، وہ کسی اہل علم پر مخفی نہیں، یہی وجہ ہے کہ جہاد کو اسلام کے کوہان کی چوٹی قرار دیا گیا ہے۔ مسلمانوں میں جذبہ جہاد بیدار ہو تو دنیا کی کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس لئے قرآن وحدیث میں اہل ایمان کو جہاد سے پیوستہ رہنے کی تاکید و ترغیب دی گئی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمان علم جہاد تھامے رہے، فتح و کامرانی اور عروج و اقبال ان کے ماتھے کا جھومر بنا اور جب سے انہوں نے جہاد سے روگردانی کی ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن گئی۔ اسلام دشمن اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ وہ میدان کارزار میں فدائیان اسلام کی کاری ضربوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے، اس لئے وہ مسلمان کو جہاد سے برگشتہ کرنے کے لئے مختلف قسم کے حیلے بہانے تراشتے رہتے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کو جہاد سے دور کر دیا جائے، کیونکہ جب مسلمان

ـــــــ مئی، جون ۲۰۱۰ء ـــــــ

صفحہ 52

مغرب توہین آمیز خاکے کیوں بناتا ہے؟

آلات ضرب و حرب سے بیگانے ہو جائیں تو انہیں ترنوالہ سمجھتے ہوئے آسانی سے نگل لیا جائے گا۔ اس لئے تمام عالم کفر بالخصوص جہاد کو دہشت گردی اور پیغمبر اسلام کو دہشت گرد قرار دینے کے لئے دن رات پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ، جہادِ اسلامی کو بنیاد بنا کر حقائق کو مسخ کر کے دنیا کے سامنے اسلام پر تشدد مذہب ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا ہے، نیز جہاد کو دہشت گردی قرار دینے کے ساتھ واشگاف الفاظ نبی رحمت پر دشنام طرازی کرتے ہیں۔ اقوام مغرب جہاد سے کس قدر خائف ہیں، اس کا اندازہ ان کے چند مشہور سکالرز مؤرخین کے درج ذیل اقوال سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

جیسا کہ پچھلے صفحات میں گزرا ہے کہ ولیم میور ایک متعصب عیسائی مستشرق ہے۔ ایک جگہ وہ اسلام کی اخلاقیات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”ہجرت سے قبل محمد ﷺ بانگ دہل کہتے تھے کہ مذہب میں کوئی جبر نہیں، لیکن جونہی انہوں نے قوت حاصل کی تو تلوار نکال لی جسے پھر واپس نیام میں نہیں رکھا گیا اور ان کے پیرو کار بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔“

("Mohamed and Islam" by Sir William Mur. P:228)

برطانوی مستشرق سٹینلے لین پول جس کی اسلام دشمنی سے ہر کہ ومہ بخوبی واقف ہے، اس خانہ ساز مفروضے کو اس طرح بیان کرتا ہے: ”اسلام نے اس وقت مستقل اور عالمگیر دین کی حیثیت اختیار کی جب اس نے زرہ پہنی اور جنگجو دین بنا۔“

("The Moors in Spain Stanley Lan Poole,P:51)

اسی طرح ڈی ایس مارگولیتھ اپنی کتاب میں رقم طراز ہے: ”اسلام ہجرت کے آٹھویں سال میں تلوار کے زور سے پھیلایا گیا۔“

("Mohammadanism and the Islamic World" by D.S Margoliauth, P:9)

لبنانی مستشرق فلپ کے ہٹی دینِ اسلام کو جنگجویانہ دین قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے: ”اسلام نے ثابت کر دکھایا کہ جسے دنیا تسلیم کرتی آئی ہے کہ یہ ایک جنگجویانہ سیاست پر مبنی دین ہے۔“

("History of the Arabs" by Philip khuri Hitti, P:117)

تعجب تو اس بات پر ہے کہ رواداری اور امنِ عالم کی پرچارک نام نہاد مہذب دنیا کی پیشوا ریاست U.S.A کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ میں تاریخ عالم کی عظیم ترین قانون دہندہ ہستیوں کو ایک حجری تصویر میں دکھایا گیا ہے جس میں ختمی مرتبت ﷺ کو ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں تلوار تھامے دکھایا گیا ہے۔ مذکورہ سپریم کورٹ کی داخلی دیوار پر سیدنا موسیٰ وسلیمان علیہما السلام، کنفیوشس اور شارلیمان جیسی دیگر قانون دہندہ شخصیات کے ساتھ نبی رحمت ﷺ کی یہ خود اختراعی قیاسی تصویر ۱۹۳۳ء سے تا حال آویزاں ہے۔

[رسول اکرم ﷺ اور رواداری از حافظ محمد ثانی: ص۲۱۰]

جہاد اور پیغمبر جہاد سے بغض وعناد ہی ہے کہ حال میں جو توہین آمیز خاکے شائع کئے گئے، ان میں سب سے زیادہ شدید ردِ عمل جس خاکے پر سامنے آیا، وہ خاکہ ہے جس میں نبی کریم ﷺ کے چہرہ انور کو نعوذ باللہ کراہت آمیز مشابہت دے کر عمامہ مبارک میں ایک بم کو چھپا ہوا دکھایا گیا ہے جس کا ایک سرا ایک طرف سے ابھرا نظر آتا ہے، یہ خاکہ گویا اس امر کا یک رمزی اظہار ہے کہ اسلام دینِ امن نہیں بلکہ عصبیت و جارحیت کا علمبردار مذہب ہے۔ اسی طرح دیگر خاکوں میں بھی اسلام کے تصور جہاد کو ہدف ملامت قرار دیتے ہوئے گہرے طنز کے تیر چلائے گئے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ہالینڈ میں اسلام کے خلاف جو بدنام زمانہ فلم فتنہ تیار ہوئی ہے، جس کی تفصیل رِشڈے کے سابقہ شمارے

——جمادی الاولیٰ، الاٰخرۃ ۱۴۲۹ھ——

صفحہ 53

طارق جاوید عارفی

میں گزر چکی ہے، اس فلم میں بھی جہاد کو بالخصوص ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ چنانچہ فلم کی ابتداء میں نبی ﷺ کے انتہائی توہین آمیز خاکے دکھانے کے بعد سورۃ الانفال، سورۃ النساء اور سورہ محمد کی آیات جہاد تلاوت کی گئی ہے۔ اس کے بعد جلی کٹی لاشیں، برطانیہ میں رونما ہونے والا ۷ جولائی کا حادثہ اور دیگر خلاف حقیقت واقعات ذکر کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام معاشرے میں تشدد کو فروغ دیتا ہے، دنیا کے امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ تلوار کے زور پر دنیا کو حلقہ بگوش اسلام کرنا چاہتا ہے اور اسلام کا نظریہ جہاد صرف اور صرف دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے ہے۔

یورپ و امریکہ میں تیزی سے پھیلتے ہوئے اسلام کو روکنا

اسلام اپنی انسانیت نواز خوبیوں کے باعث روز اول سے مسلسل پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ آج دنیا بھر میں ایک ارب پچاس کروڑ کے لگ بھگ انسان حلقہ بگوش اسلام ہیں اور اس زمانے میں دیار مغرب میں اسلام کے فروغ کی رفتار تیز تر ہو گئی ہے، بالخصوص سانحہ نائن الیون کے بعد امریکہ اور یورپ میں قبول اسلام کی شرح فزوں تر ہے، بلکہ اسلام یورپی ممالک کا دوسرا سب سے زیادہ وسعت پذیر دین بن چکا ہے۔ نصف صدی کے عرصے میں عیسائیت کے تمام فرقوں اور مسلکوں میں ۱۳۸ فیصد اضافہ ہوا جب کہ اہل اسلام میں اضافہ ناقابل یقین حد تک ۲۳۵ فیصد ہوا جس سے یہ بات واضح ہو جاتی کہ امریکہ اور برطانیہ میں اسلام سب سے تیزی سے پھیلنے والا دین ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ برطانیہ میں مسلمانوں کی تعداد (Methodists) عیسائیوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ لندن سے (IINA) کی رپورٹ کے مطابق ندوۃ الشباب العالمي الإسلامي یا ”ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ (WAMY) کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مانع سعید جہنی نے بتایا کہ تقریباً ۴۰ ملین مسلمان (۴۰ کروڑ، یعنی دنیا کی کل مسلمان آبادی کا ایک تہائی) دنیا کے مختلف غیر مسلم ممالک میں اقلیتوں کی حیثیت سے رہتے ہیں۔ امریکہ میں اسلام قبول کرنے والوں کی شرح کے بارے میں مسٹر سمیع باغل کا کہنا ہے:

”ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً ۵۰۰۰۰ امریکی اسلام قبول کرتے ہیں۔“

۱۹۹۲ء میں سعودی گزٹ کو ارسال کردہ ایک خصوصی رپورٹ میں مسٹر سمیع باغ لکھتے ہیں:

”اگلی صدی کی ابتداء ہی میں مسلمانوں کی تعداد امریکہ کے ۶۰ لاکھ یہودیوں سے بڑھ جائے گی اور اس طرح اسلام امریکی قوم کا دوسرا سب سے بڑا مذہب ہو جائے گا۔“

مسٹر باغل کی یہ پیش گوئی پوری ہو چکی ہے اور الحمد للہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد یہودیوں سے بڑھ کر ۷۰ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے تو اخبار ریاض ڈیلی میں دیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ اور آئرلینڈ میں تقریباً ۲۰ لاکھ مسلمان ہیں جن میں ایک تہائی بچے اور نوجوان ہیں۔ برطانیہ میں ۱۰۰۰ سے زائد مساجد اور سینکڑوں اسلامی ادارے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں تقریباً ۱۵ لاکھ مسلمان ہیں جن میں سے ایک اندازے کے مطابق ۲۰۰۰۰ نو مسلم ہیں اور برطانیہ میں اسلام کو سب سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہوا دین سمجھا جاتا ہے۔

فرانس میں مسلمانوں کی آبادی اور قبول اسلام کی شرح کو ایک رپورٹ میں یوں بیان کیا گیا ہے:

”فرانس میں مسلمان کل آبادی کا تقریباً ۷ فیصد ہیں جب کہ غیر سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے ۴۸

مئی، جون ۲۰۱۰ء

صفحہ 54

مغرب توہین آمیز خاکے کیوں بناتا ہے

فیصد مسلمان پیرس اور اس کی نواحی بستیوں میں رہتے ہیں۔‘‘ اٹلی میں مسلمانوں کی تعداد اور حیثیت حیرت انگیز ہے مسٹر فلپ پلیلہ (Mr. Philip Pullella) روم سے لکھتے ہیں: ”اگرچہ یہ بات اٹلی کے کیتھولک مذہب سے وابستہ لوگوں کے لئے اب بھی حیرت انگیز ہے، مگر اسلام بہرحال یہاں دوسرا سب سے بڑا مذہب بن چکا ہے۔ تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار مسلمان اٹلی میں آباد ہیں جن میں سے کم از کم 85000 روم میں رہتے ہیں۔ مسلمانوں کے اپنے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس تعداد میں دوسرے ممالک سے آئے ہوئے غیر رجسٹرڈ شدہ مسلمانوں کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد دس لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں اٹلی میں یہودیوں کی تعداد صرف 35000 ہے جس میں سے 15000 روم میں رہتے ہیں۔ جرمنی میں مسلمانوں کے بارے میں کچھ عرصہ قبل کے اعداد وشمار کے مطابق مسلمانوں کی آبادی 16لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس تعداد میں تقریباً 50 ہزار جرمن بھی شامل ہیں جو دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ مشرقی جرمنی میں بھی 7000مسلمان رہتے ہیں۔

[تفصیل کے لئے دیکھئے: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟ ،ص ۳۴ تا ۳۸]

قارئین کرام! مندرجہ بالا اعداد وشمار سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امریکہ و یورپ میں کس قدر تیزی سے اسلام پھیل رہا ہے۔ تیزی سے بڑھتے ہوئے اسلام کے اس سیل رواں کے آگے بند باندھنے کے لئے غیر مسلم متحرک ہوچکے ہیں اور مختلف حیلے بہانے تراش کر اور سازشیں کرکے نورِ اسلام کو بجھانے کی ناکام کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر اعظم اسحاک رابن (Yitzhak Rabin) نے اسرائیلی پارلیمنٹ کنیست (Knesset) کی کمیٹی برائے اُمورِ خارجہ اور دفاع کو بتایا کہ اسلامی دنیا میں انتہا پسند انقلابیت ہماری قوم (یہودیوں) کی سالمیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اگر اصل خطرے کی تعریف کی جائے تو وہ خطرہ اسلامی انتہا پسندی کی لہر ہے۔

[واشنگٹن رپورٹ آن مڈل ایسٹ افیئرز، جون 1995ء، ص: 22]

حالیہ توہین آمیز خاکے اسی یہودی بغض و عناد اور تعصب کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد نبی ﷺ اور اسلام کی حقانیت کو مجروح کرکے دنیا کو تیزی سے پھیلتے ہوئے اسلام سے متنفر کرنا ہے۔

توہینِ رسالت ﷺ کے بارے میں مسلمانوں میں بے حسی پیدا کرنا

مغرب میں اہانتِ انبیاء کے حوالے سے جس قدر بے حسی پائی جاتی ہے، وہ کسی ذی شعور پر مخفی نہیں چنانچہ برطانیہ میں مسیحیت کے خلاف کفریہ کلمات (Blasphemy) کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے، مگر اس تعزیری قانون کے ہوتے ہوئے برطانیہ میں ایک فلم بنائی گئی جو سراسر قانون کے خلاف ہے اس فلم کا نام (The Last Temptation of Christ) ہے۔ اس فلم میں نعوذ باللہ مسیح ؑ کی جنسی زندگی کے مناظر دکھلائے گئے ہیں۔ یہ فلم برطانیہ میں سرِ عام دکھائی جارہی تھی مگر مذکورہ قانون کے ہونے کے باوجود اس فلم پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی نہ اسکے بنانے والوں کو کوئی سزا دی گئی۔

[ناموسِ رسالت ﷺ اور قانون توہین رسالت از اسماعیل قریشی: ص ۱۹۵]

ایسے ہی بیسویں صدی کے آغاز ہی میں لندن میں ایک ڈرامے میں نبی کریم ﷺ سمیت بعض دیگر انبیاء کے کردار کو بھی پیش کئے جانے کی خبر ملی۔ اس موقع پر خلیفہ سلطان عبدالحمید نے پہلے سفارتکاری اور بعدازاں یہ دھمکی دے کر اس مذموم فعل کو روبہ عمل آنے سے روک دیا کہ وہ بحیثیت خلیفہ پوری اُمتِ مسلمہ کو برطانیہ کے خلاف جنگ کا حکم جاری کریں گے۔

[ماہنامہ ’محدث‘ لاہور، مارچ ۲۰۰۶ء : ص ۷]

———جمادی الاولیٰ، الاٰخرۃ ۱۴۲۹ھ———

صفحہ 55

طارق جاوید عارفی

اہل یورپ توہین آمیز خاکے اور اسلام مخالف فلمیں تیار کر کے توہین نبوت کے بارے میں یہی بے حسی مسلمانوں، مسلمان رہنماؤں اور مسلمان ریاستوں کے اندر پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ توہین نبوت جس پر ان کے ایمان اور اعتقاد کا دارومدار ہے، اسے قطعی اہمیت نہ دیں۔

دنیا کو پیغام رسالت ﷺ سے برگشتہ کرنا

اسلام امن و امان، رواداری، حسن اخلاق اور مہر و وفا کا دین ہے۔ اس کے عقائد سچے، اس کی عبادات سادہ اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں اور اس کے پیغمبر خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ ہیں جن کی سیرت مطہرہ بنی نوع انسان کے لئے اسوۂ حسنہ ہے۔ اپنی انہی بے مثال روایات وتعلیمات کی وجہ سے اسلام روز بروز پھیلتا جا رہا ہے اور معتدل مغربی مفکرین بھی نبی رحمت ﷺ کے پیغام امن وسلامتی کے مداح ہیں اور بانگ دہل نبی ﷺ کے رفیع الشان ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مائیکل ہارٹ انگریز مصنف تاریخ انسانی کے سو بڑے آدمیوں کی فہرست مرتب کرنے بیٹھا تو اس کو سرفہرست رکھنے کے لئے پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات باکمال صفات کے سوا کوئی اور ہستی نظر نہ آئی۔ یہودیت وعیسائیت کی انسانیت سوز تعلیمات واحکام کے بالمقابل جب لوگ اسلام کی انسانیت نواز تعلیمات وروایات اور پیغمبر اسلام کے لاثانی حسن اخلاق وحسن کردار کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے بغیر نہیں رہتے جس سے اہل مغرب بری طرح تاؤ پیچ کھاتے ہیں اور وہ تہیہ کرچکے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اسلامی احکام وتعلیم کو مسخ کرکے پیش کیا جائے تاکہ لوگ اسلام کی طرف التفات نہ کریں۔ اس مقصد کے لئے وہ کبھی توہین آمیز خاکے شائع کرتے ہیں اور کبھی قرآن اور پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز فلمیں ریلیز کرتے ہیں، لیکن اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے نہ اسلام کی اشاعت پہلے رُکی ہے نہ اب رکے گی۔ ان شاء اللہ

الفضل

ان نازک حالات میں اُمت مسلمہ کی ذمہ داری

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ مغرب اس قسم کی حرکتوں سے جلد باز آنے والا نہیں۔ اس کے اسلام سے متعلق منفی کاموں کے شجرے کی جڑیں کئی صدیوں کی کاوشوں میں پنہاں ہیں، جبکہ دوسری جانب مسلم ممالک کا حال عجیب ہے انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ مغرب کے اس شیطانی طرزعمل کا کس طرح جواب دیا جائے۔ اگر مغرب علم کے راستے حملہ آور ہوا ہے تو اس کا جواب بھی علم کے راستے ہی سے دینا ہوگا نہ کہ سڑکوں پر توڑ پھوڑ سے۔ مغرب کی تو منشا ہی یہ ہے کہ مسلمانوں کی توجہ کو بنیادی مسائل سے ہٹا کر انہیں اس قسم کے ردعمل میں مبتلا کر دیا جائے۔ دورِ استعماریت میں مغرب نے سب سے زیادہ وسائل یونیورسٹیوں اور لائبریریوں پر صرف کئے۔ چرچل نے خوب کہا تھا:

’’ہم نے اپنی جدید فوج کے ذریعے سے نہیں بلکہ اپنی لائبریریوں کے ذریعے سے دنیا پر حکومت کی ہے۔‘‘

افسوس کہ ہم آج تک قیام پاکستان کے اصل مقاصد اپنی نسلوں تک نہ پہنچا سکے۔ پاکستان بنانے والوں نے اسے ایک فکری اور نظریاتی ریاست کے طور پر بڑی تجربہ گاہ سمجھ کر حاصل کیا تھا، ایک نظریاتی ملک کی اساس کیا ہوتی ہے؟ یہاں پر لائبریریاں ہوتیں، انگریز سے آزادی حاصل کی تھی اس کے سیاسی اور فکری حربوں کو جاننے کے لئے یہاں یونیورسٹیوں میں شعبے قائم کئے جاتے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کی ذات گرامی پر حملہ کرنے والے مستشرقین کا جواب دینے کے لئے یہاں استشراقی شعبے تشکیل دیئے جاتے۔ افسوس کہ ان میں سے کچھ بھی یہاں نہیں۔ اگر ہم ناموسِ رسالت کے تحفظ میں مخلص ہیں تو ہمیں اپنے عمل سے فرامین نبویہ کے تقدس پر اس طرح مہر تصدیق ثبت کرنا ہوگی کہ

ـــ مئی ، جون ۲۰۱۰ء ـــ

صفحہ 56

مغرب توہین آمیز خاکے کیوں بناتا ہے؟

آپ کے مقدس فرامین ہمارے لئے عمل کی سب سے قوی بنیاد قرار پا جائیں اور بذاتِ خود ہماری کسی بدعملی اور کوتاہی سے اہانتِ رسول ﷺ کا کوئی عملی شائبہ بھی پیدا نہ ہو سکے۔ اہانت رسول کا مقصد دنیا کو پیغامِ رسالت سے برگشتہ کرنا اور اسلام کو کمزور کرنا ہے، جبکہ اسلام پر والہانہ عمل گستاخی کا ارتکاب کرنے والوں کے مقاصد کو خاک میں ملا دے گا۔

مسلم حکمرانوں کی بے حسی

توہین رسالت کا مسئلہ جس قدر سنگین اور لائق مذمت تھا، اسی قدر مسلم حکمرانوں نے بے بسی اور بے توجہی کا مظاہرہ کیا جیسے یہ ان کا ایشو ہی نہیں۔ ۵۸/ اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے ماسوائے سوڈان اور سعودی عرب کے پرلے درجے کی بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ سوڈان کے صدر عمر البشیر نے ڈنمارک کے خلاف مظاہرے کی قیادت کی، ڈنمارک کے وفود کو ملک میں داخل نہ ہونے دینے کا اعلان کیا اور پورے عالم اسلام سے ڈینش مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔ سعودی عرب نے ۲۰۰۶ء میں ڈنمارک سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا جبکہ سعودی عرب اس کوشش میں ہے کہ اقوام متحدہ سے ایسا قانون بنوایا جائے کہ دنیا کے کسی ملک میں رسول کریم ﷺ کی گستاخی نہ ہو سکے۔

پاکستان کو دنیا میں اسلام کا قلعہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانی حب رسول ﷺ میں دیگر مسلمانوں سے کافی ممتاز ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے ملک سے شدید احتجاج کا نہ ہونا اور سرد مہری کا مظاہرہ کرنا ہمارے ماضی کے کردار کے عین برعکس اور قومی بے غیرتی کا غماز ہے۔ پاکستان میں عام انتخابات کے بعد بننے والے وزیراعظم جو اپنے نام کے ساتھ بڑے فخر سے ’سید‘ کا سابقہ بھی لگاتے ہیں، ان سے سارے عوام یہ امید رکھتے تھے کہ وہ حرمت رسول ﷺ کو اپنی حکومت کا سب سے بنیادی مرکز اور محور بنائیں گے اور اس پر خصوصی توجہ دیں گے، کیونکہ سید کا مطلب خود کو آل رسول ﷺ سے منسوب کرنا سمجھا جاتا ہے۔ اگر آل اپنے بڑے کا دفاع نہیں کرے گی تو کون کرے گا؟ لیکن انتہائی افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ وزیراعظم نے حلف اٹھانے سے پہلے اور بعد میں کہیں بھی اس مسئلے پر کوئی بات نہیں کی اور نہ اپنے ۱۰۰ روزہ پروگرام ہی میں اس کا تذکرہ کرنا گوارا کیا۔

حکمران کسی قوم کے مرکزی رجحانات کے عکاس ہوتے ہیں جس کے نتائج ہم بری طرح بھگت رہے ہیں۔ مسلم حکمرانوں کی یہی ایسی پالیسیاں ہیں جو ان میں اور مسلم اقوام میں خلیج پیدا کرتی ہیں اور معاشروں کا امن تہہ و بالا ہو جاتا ہے۔ عوام اسلام کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں تو حکمران مغرب کے ساتھ، یہ منظرنامہ اس سوچ کو تقویت دیتا ہے کہ امریکا اور مغرب نے مسلم ممالک میں اپنے من پسند حکمران مسلط کر رکھے ہیں جو ان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ اسی سے مبینہ شدت پسندی جڑ پکڑتی ہے اور کچھ لوگ ان حکمرانوں کی اصلاح کی بجائے ان سے نجات کے لئے پر تشدد راستہ اختیار کر لیتے ہیں جس سے حکمران سکون میں رہتے ہیں نہ عوام امن چین سے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم حکمران اپنے عوام کے جذبات کی ترجمانی کریں۔ اگر ۵۸ مسلم ممالک ڈنمارک کے سفیروں کو ملک بدر کر دیں تو شاید کسی دوسرے مغربی ملک کو جرأت نہ ہو کہ وہ اسلام یا پیغمبر اسلام کی توہین یا تضحیک پر مبنی کوئی قدم اٹھائیں۔

توہین آمیز خاکوں پر احتجاج کرنے والے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ڈنمارک کے سفیروں کو جلا وطن کریں اور خود بھی اپنے عمل میں تبدیلی پیدا کریں اپنے آپ پر اسلام کا نفاذ کریں، کیونکہ جب تک قوم کے افراد خود اپنے آپ کو نہیں بدلیں گے، اپنی زندگی میں اسلام کو نافذ نہیں کریں گے محض غلبہ اسلام کی خواہش ہمارے حکمرانوں کو تبدیل نہیں کرے گی۔ اللہ ہمارے جذبے کے مصداق ہمیں قوتِ عمل عطا فرمائے۔ آمین!

—— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ——

عصمت انبیاء

حضور اکرم ﷺ کی ذات گرا کیونکہ ہماری روحانی زندگی اور ہمار ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ ’’نبی مومنوں پر ان کی جان سے رسالت پناہ ﷺ کی ذات گر نہیں ہو سکتا بلکہ انسان کی انسانیت انسان ایک معاشرتی حیوان (mal ہے۔ قرآن مجید نے ایمانی شعور ﴿لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَ ’’ان کے دل ہیں، لیکن ان ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل پڑے ہوئے ہیں‘‘ ایمان روحانی زندگی کی اسا کئی مظاہر ہیں مثلاً آپ ﷺ سے

محبت

حضور اکرم ﷺ کی محبت ایک ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمام انسانوں سے زیادہ محبوب ن قرآن مجید نے جہاں اللہ ﴿قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُم تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ ☆ ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز،

صفحہ 57

ڈاکٹر خالد علوی عصمت انبیاء ڈاکٹر خالد علوی

تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اہل ایمان کے لئے ان کے جان و مال اور عزت و آبرو سے زیادہ عزیز ہے، کیونکہ ہماری روحانی زندگی اور ہمارے ایمان کا دارومدار آپ کی ذات سے تعلق پر ہے۔ قرآن مجید نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

﴿اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗ اُمَّهٰتُهُمْ ﴾ [الأحزاب:٦]

”نبی مومنوں پر ان کی جان سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔“

رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ایک مسلمان کے روحانی تشخص کا وسیلہ ہے۔ ان کی نسبت کے بغیر انسان مومن نہیں ہو سکتا بلکہ انسان کی انسانیت کا صحیح مرتبہ ایمان کے بغیر نہیں حاصل ہوتا۔ معاشرتی علوم کے ماہرین کہتے ہیں کہ انسان ایک معاشرتی حیوان (Social Animal) ہے اور انسان روحانیت سے محروم ہو تو واقعتاً وہ ایک حیوان ہی ہے۔ قرآن مجید نے ایمانی شعور سے محروم لوگوں کے لئے کہا ہے:

﴿لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ﴾ [الأعراف:١٧٩]

”ان کے دل ہیں، لیکن ان سے سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔“

ایمان روحانی زندگی کی اساس ہے اور ایمان کی اساس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے وابستہ ہے۔ اس وابستگی کے کئی مظاہر ہیں مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت۔

محبت

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایک مسلمان کے ایمان کی دلیل ہے۔ اس محبت کے ذریعے سے وہ اپنے ایمان میں پختہ ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اولاد، والد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“ [صحیح البخاری:١٥]

قرآن مجید نے جہاں اللہ کے ساتھ محبت کا ذکر کیا وہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کو بھی شامل کیا ہے۔ مثلاً قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَا اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ

☆ ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز، WISH یونیورسٹی، اسلام آباد

ــــ مئی ، جون ۲۰۰۸ء ــــ

صفحہ 58

تحفظ ناموس رسالت ﷺ

فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَأْتِيَ اللّٰهُ بِأَمْرِهٖ ۗ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ ﴾ [التوبۃ:۲۴]

”آپ ﷺ کہہ دیں کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو، اللہ اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو پھر ٹھہرے رہو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم بھیجے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔“

اسی طرح حضور اکرم ﷺ نے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو اکٹھے بیان فرمایا:

تین چیزیں ہیں جس شخص میں پائی جائیں وہ ایمان کا ذائقہ پائے گا، وہ شخص جو کسی دوسرے شخص سے محض اللہ کی خاطر محبت کرے اور وہ شخص جسے اللہ اور اس کا رسول ان کے سوا ہر شے سے پیارا ہو۔ [صحیح البخاری:۲۱] یہ غالب محبت اگر موجود نہ ہو تو انسان حقیقی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ یہ ایک منافقانہ طرز عمل ہوتا ہے جس میں زبانی محبت کا اظہار ہوتا ہے لیکن دوسری چیزوں کو ترجیح بھی حاصل ہوتی ہے۔

اطاعت و اتباع

ایمان کا دوسرا تقاضا اطاعت و اتباع کا ہے۔ حضور ﷺ کی ذات کو ایک اسوہ کامل بنا کر بھیجا گیا اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ آپ کی اطاعت و اتباع کریں بلکہ واضح طور پر کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کا تقاضا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی اتباع کی جائے۔

﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ؕ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ﴾

”اے پیغمبر ﷺ لوگوں سے کہہ دیں کہ اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ [آل عمران:۳۱]

پھر فرمایا: آپ کہہ دیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں۔ اگر نہ مانیں تو اللہ بھی کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔ اس اطاعت میں ان تمام احکام کو ماننا شامل ہے۔ جسے حضور اکرم ﷺ نے اُمت تک پہنچایا ہے۔

ارشاد خداوندی ہے:

﴿فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا ﴾ [النساء:۶۵]

”آپ کے رب کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں آپ کو منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ آپ کریں اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں، تب تک مومن نہیں ہوں گے۔“

آنحضرت ﷺ سے منقول ہے:

”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہش نفس اس کے تابع نہ ہو جائے جو میں لایا ہوں۔“

[السنة لابن ابی عاصم: الرّقم: ۱۵]

تعظیم

تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے مقام و مرتبے کا لحاظ رکھا جائے۔ کوئی ایسی بات اور کوئی ایسا کام نہ کیا

———— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ————

صفحہ 59

ڈاکٹر خالد علوی

جائے جس سے آپ ﷺ کے وقار میں فرق آئے۔ مثلاً حضور اکرم ﷺ کی حیاتِ دنیوی میں مسلمانوں کو یہ ادب سکھایا گیا کہ آپ ﷺ کی آواز سے اونچی آواز نہ کریں مبادا ان کے اعمال ضائع ہو جائیں۔ ارشاد خداوندی ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ﴾ [الحجرات:۲]

”اے اہل ایمان اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو اس طرح ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔“

حضور اکرم ﷺ کے صحابہ کی تعریف کرتے ہوئے قرآن نے کہا:

﴿فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾

”تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی توقیر و تکریم کی اور حمایت و نصرت کی اور اس نور کی پیروی کی جو ان کے ساتھ نازل کیا گیا، وہی فلاح پانے والے ہیں۔“ [الأعراف: ۱۵۷]

صحابہ کرامؓ نے تعظیم و توقیر کا جو معیار قائم کیا وہ اُمت مسلمہ کے لئے نمونہ تقلید ہے۔ عروہ بن مسعود ثقفیؓ جو حدیبیہ کے موقع پر قریش کے ایلچی کی حیثیت سے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ بات کرنے آیا تھا، اس نے ابوبکرؓ، مغیرہ بن شعبہؓ اور دیگر صحابہؓ کا حضور اکرم ﷺ سے تعلقِ خاطر اور تعظیم و توقیر کا رویہ دیکھا تو واپس جاکر قریش کو جو بیان دیا وہ بہترین مثال ہے۔ اس نے کہا:

”خدا کی قسم میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد ﷺ کے ساتھی ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ خدا کی قسم وہ کھنکار بھی تھوکتے تو کسی نہ کسی آدمی کے ہاتھ پر پڑتا تھا اور وہ کوئی حکم دیتے تھے تو اس کی بجا آوری کے لئے سب دوڑ پڑتے تھے اور جب وضو کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ اس کے وضو کے پانی کے لیے لوگ لڑ پڑیں گے۔ اور جب کوئی بات بولتے تھے تو سب اپنی آوازیں پست کر لیتے ہیں اور فرطِ تعظیم کے سبب انہیں بھرپور نظر سے نہ دیکھتے تھے۔ انہوں نے ایک اچھی تجویز پیش کی ہے، اسے قبول کرلو۔“ [صحیح البخاری: ۲۷۳۱]

بیعتِ عقبہ میں جب اسعد بن زرارہؓ اور عباس بن عبادہ بن نضلہؓ نے انصار کے وفد سے کہا، عباسؓ کے الفاظ ہیں:

”اگر تمہارا ارادہ یہ ہے کہ جو بلاوا تم اس شخص کو دے رہے ہو اس کو اپنے اموال کی تباہی اور اپنے اشراف کی ہلاکت کے باوجود نباہو گے تو بے شک ان کا ہاتھ تھام لو، خدا کی قسم یہ دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔“

اس پر تمام وفد نے بالاتفاق کہا:

”ہم انہیں لیکر اپنے اموال کو تباہی اور اپنے اشراف کو ہلاکت کے خطرے میں ڈالنے کیلئے تیار ہیں۔ [ابن ہشام:۱۰۲] نصرتِ ایمان کا تقاضا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی مدد کی جائے۔ یہ مدد آپ ﷺ کے پیغام کو غالب کرنے کے لئے بھی ہے اور آپ ﷺ کی ذات اور عزت کی حفاظت کے لئے بھی ہے۔ ابھی سورۃ الاعراف کی آیت مذکور ہوئی ہے اس میں نصرت کا ذکر بھی ہے۔ بنیادی طور پر تو یہ حفاظت و نصرت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی۔ جب آپ نے دعوت کا آغاز کیا تو آپ ﷺ تنہا تھے اور پھر چند ساتھی میسر آئے، لیکن مخالفین طاقتور بھی اور شریر بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تکوینی طور پر آپ ﷺ کی حفاظت کا انتظام فرمایا۔ قرآن نے مشرکین مکہ کی منصوبہ بندی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

مئی، جون ۲۰۱۰ء

صفحہ 60

تحفظ ناموس رسالت ﷺ

وَ اِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ وَ يَمْكُرُوْنَ وَ يَمْكُرُ اللّٰهُ وَ اللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ [الانفال:۳۰]

”اور جب کافر لوگ آپ کے بارے میں چال چل رہے تھے کہ آپ کو قید کر دیں یا جان سے مار دیں یا وطن سے نکال دیں تو ادھر وہ چال چل رہے تھے اور ادھر اللہ تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔“

مشرکین مکہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود آپ ﷺ کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ قرآن مجید نے تبلیغ رسالت کے سلسلے میں اس حفاظت کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يٰٓاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ [المائدۃ:۶۷]

”اے پیغمبر ﷺ جو ارشادات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچا دو اور اگر ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے بچائے رکھے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ منکروں کو ہدایت نہیں دیتا۔“

ایسا نہیں ہے کہ مشرکین کے بڑے مجرموں نے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کی ہو۔ اصل میں ان کی ہر کوشش ناکام ہو جاتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حفاظت کا انتظام کیا ہوا تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابو جہل نے قریش کے لوگوں سے پوچھا: کیا محمد ﷺ تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹکاتے ہیں؟ لوگوں نے کہا، ہاں! اس نے کہا: ”لات وعزّیٰ کی قسم اگر میں نے ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا۔“ پھر ایسا ہوا کہ حضور اکرم ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر آگے بڑھا تاکہ آپ کی گردن پر پاؤں رکھے مگر یکا یک لوگوں نے دیکھا کہ وہ پیچھے ہٹ رہا ہے اور اپنا منہ کسی چیز سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ تجھے کیا ہو گیا؟ اس نے کہا میرے اور ان کے درمیان آگ کی ایک خندق اور ایک ہولناک چیز تھی اور کچھ پر تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب پہنچتا تو ملائکہ اس کے چیتھڑے اڑا دیتے۔

[تفسیر طبری: ۲۵۶/۳۰، صحیح البخاری: ۴۹۸۳]

زبان و عمل سے حضور ﷺ کو اذیت دینا، پیغمبرانہ دعوت کے آغاز سے لے کر اب تک کفار و مشرکین حضور اکرم ﷺ کی عزت اور آپ ﷺ کے وقار و ناموس کے درپے ہیں۔ تحفظ کی ایک ذمہ داری تو آپ ﷺ کے رب نے لے رکھی ہے۔ وہ ان اذیتوں کو بے اثر کرنے اور ایذا رسانی کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا دینے کا انتظام کئے ہوئے ہے۔ قرآن مجید نے وضاحت کے ساتھ اسے بیان کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ان کے لئے دردناک سزا ہے۔ [التوبۃ:۶۱]

یہ آیت منافقین کے رویہ پر تنبیہ ہے۔ منافقین حضور اکرم ﷺ کی عیب جوئی کرتے تھے اس پر یہ تنبیہ نازل ہوئی۔ اس مضمون کو دوسری جگہ پر یوں بیان فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا

”جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر اللہ دنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔“ [الاحزاب:۵۷]

مکہ مکرمہ میں مسلمان کمزور تھے اس لئے حضور اکرم ﷺ کی حفاظت مکمل طور پر تکوینی تھی اور مسلمانوں کو اذیتوں

—— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ——

صفحہ 61

ڈاکٹر خالد علوی

کے مقابلے میں صبر واستقامت کی ہدایت تھی۔ مدینہ طیبہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو قوت واقتدار عطا کیا اور وہ دفاعی طور پر مستحکم ہوئے۔ اب بھی حضور اکرم ﷺ کی حفاظت کے لئے تکوینی دائرہ قائم تھا اور قیامت تک کے لئے قائم رہے گا، لیکن تشریعی طور پر اب اُمت تحفظ ناموس رسالت میں ذمہ دار ٹھہرائی گئی۔ مدینہ طیبہ میں منافقین اور یہود کی ریشہ دوانیاں جاری تھیں۔ ان کی ایذا رسانی، توہین، استہزاء و استخفاف کا رویہ مسلمانوں کے لئے ایک مسئلہ بن گیا تھا۔ قرآن مجید نے سورہ احزاب ہی میں ان کے بارے میں پالیسی طے کردی۔ ارشاد خداوندی ہے:

﴿لَئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِي الْمَدِيْنَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوْنَكَ فِيْهَآ إِلَّا قَلِيْلاً مَّلْعُوْنِيْنَ أَيْنَمَا ثُقِفُوْا أُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِيْلاً، سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلاً ﴾ [الأحزاب: ۶۰ تا ۶۲]

”اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور مدینہ میں پروپیگنڈہ کرنے والے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف آپ کو شہہ دیں گے پھر وہ اس میں تھوڑے وقت کے سوا نہیں رہ سکیں گے۔ وہ ملعون ہیں۔ وہ جہاں بھی پائے گئے پکڑے جائیں گے اور خوب خوب قتل ہوں گے۔ پہلے لوگوں میں بھی یہی اللہ تعالیٰ کا طرز عمل تھا اور آپ سنت الٰہی میں ہرگز تبدیلی نہیں پائیں گے۔“

مدینہ طیبہ میں حضور اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کے خلاف یہودیوں اور منافقوں کی سرگرمیوں پر صحابہ کرامؓ کے اقدامات تحفظ ناموس رسالت کے سلسلے میں نمونہ تقلید فراہم کرتے ہیں۔ ان اقدامات کی حیثیت ریاست کی پالیسی کی ہے، کیونکہ اسلامی ریاست تشریعی طور پر ناموس رسالت کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ اسلامی ریاست کا اقدام تکوینی امر کا تشریعی مظہر ہے اس لئے صحابہ کرامؓ کے اقدامات کو رسالت پناہ کی تائید و حمایت حاصل رہی۔ امام بخاریؒ نے یہودی کعب بن اشرف کی بدزبانی پر آپ ﷺ کے رویہ اور صحابہ کرامؓ کے طرز عمل کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ واقعہ آنے والے ادوار میں ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ اُمت مسلمہ نے ہمیشہ اس سے استدلال بھی کیا اور رہنمائی بھی حاصل کی ہے۔ امام بخاریؒ نے اسے تفصیل سے نقل کیا ہے۔ جابر بن عبداللہؓ کی مختصر روایت بھی ہے، اس کو ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔

جابر بن عبداللہؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کعب بن اشرف کا ذمہ کون لیتا ہے؟ محمد بن مسلمہؓ نے عرض کیا، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کردوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! انہوں نے عرض کیا پھر آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں کچھ باتیں کہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ایسا کرنے کی اجازت ہے۔

[صحیح البخاری: ۴۰۳۷]

اسی طرح ایک اور یہودی جو رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینے کا مشن اپنائے ہوئے تھا، آپ ﷺ نے عبداللہ بن عتیکؓ کے ذمہ لگایا کہ اس سے نجات حاصل کی جائے۔ بخاری ہی کی مختصر روایت درج کی جاتی ہے۔

براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے چند آدمیوں کو ابو رافع کی طرف بھیجا۔ عبداللہ بن عتیکؓ جو ان میں شامل تھے رات کے وقت اس کے گھر میں داخل ہوئے اور اسے قتل کر دیا۔

[صحیح البخاری: ۴۰۳۹]

مسلمان اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی توہین کرنے والے شخص کی سزا قتل ہے۔ امام مالکؒ،

ـــــــ مئی، جون ۲۰۰۸ء ـــــــ

صفحہ 62

تحفظ ناموس رسالت ﷺ

لیث، امام احمد، اسحاق بن راہویہؒ کا بھی یہی مسلک ہے۔ امام شافعیؒ کا بھی یہی مذہب ہے۔ قاضی عیاضؒ کہتے ہیں کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ارشاد کا بھی یہی مقتضیٰ ہے۔ ان سب کے نزدیک اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔

[البيهقي: ۶۰/۷]

شعبیؒ، امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی کو گالیاں بکتی اور اعتراض کرتی تھی۔ کسی شخص نے اس کا گلا دبا دیا اور اسے مار دیا۔ حضور اکرم ﷺ نے اس کا خون رائیگاں فرما دیا۔

علامہ شوکانیؒ کہتے ہیں کہ ابن منذرؒ نے اس بات پر اُمت کا اجماع نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو صریحاً گالی دینے والا واجب القتل ہے۔

مسیلمہ کذاب

حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد اسلامی ریاست کی تنظیم و تنفیذ کی ذمہ داریاں خلفاء راشدین نے سنبھالیں تو ناموس رسالت کا تحفظ اولین فرائض میں سے تھا۔ خلافت راشدہ کے دوران میں سب سے اہم واقعہ مدعیانِ نبوت کا تھا۔ حضور اکرم ﷺ کی نبوت قیامت اور مابعد تک ہے اس لئے آپ ﷺ کی نبوت کے ہوتے ہوئے کسی نئی نبوت کا اعلان ناموس رسالت ﷺ کی سب سے بڑی توہین ہے۔ ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت کا تقاضا تھا کہ جھوٹی نبوتوں سے نمٹا جائے۔ حضور اکرم ﷺ کی زندگی کے آخری ایام میں بعض طالع آزماؤں نے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور عرب قبائل کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے مسیلمہ کذاب نے تو باقاعدہ آپ سے سودا بازی کی جسارت کی۔ ۹ اور ۱۰ ہجری میں جو وفود نبی ﷺ کے پاس مدینہ آئے ان میں بنی حنیفہ کا وفد بھی شامل تھا۔ مسیلمہ اس وفد میں شریک تھا۔ سترہ افراد پر مشتمل اس وفد کے ۱۶ افراد تو حضور اکرم ﷺ کے پاس آئے اور مشرف بہ اسلام ہوئے، لیکن مسیلمہ تکبر کی وجہ سے نہ آیا۔ آپ ﷺ خود اس کے پاس دارِ بنت الحارث میں تشریف لے گئے اور اسے اسلام کی دعوت دی۔ آپ ﷺ کے ساتھ آپ کے خطیب ثابت رضی اللہ عنہ بن قیس بن شماس بھی تھے۔ مسیلمہ نے ابھی نبوت کا اعلان نہیں کیا تھا، لیکن اس کے خیالات کا اندازہ اس مکالمہ سے ہوتا ہے جو اس نے آنحضور ﷺ سے کیا۔ وہ کہنے لگا: ’’اگر آپ چاہیں تو ہمارے اور اس نبوت کے درمیان حائل نہ ہوں۔ پھر اپنے بعد یہ نبوت ہمارے سپرد کر دیں ۔‘‘ گویا اس نے سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی اس پر حضور اکرم ﷺ نے جو کچھ فرمایا اسے امام بخاریؒ نے نقل کیا ہے۔

حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اور آپ ﷺ اس کے پاس کھڑے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تو مجھ سے یہ ٹکڑا مانگے تو میں تجھے وہ بھی نہ دوں گا اور تیرے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا ہے تو اس سے ہرگز تجاوز نہ کر سکے گا۔ اگر تو نے میری اطاعت سے روگردانی اختیار کی تو اللہ تجھے ہلاک کر دے گا۔ تو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا۔ یہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ہیں، میری طرف سے تمہیں جواب دیں گے۔ اس کے بعد آپ ﷺ اس سے لوٹ گئے۔ بالآخر اس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور حضور اکرم ﷺ کو خط لکھا۔

حضور اکرم ﷺ نے خط کا درج ذیل جواب لکھوایا: ’’محمد رسول اللہ ﷺ کی جانب سے مسیلمہ کذاب کی طرف۔ اما بعد! اسلام اس پر جو ہدایت کا اتباع کرے۔ بلاشبہ زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے عطا کر دے اور اچھا انجام پرہیز کرنے والوں کے لئے ہے۔‘‘

[صحيح البخاري: ۴۳۷۴]

اس مکالمے یا سودا بازی میں میں مقیم بنو حنیفہ کے ایک شخص نے گیا۔ مسیلمہ اپنی طاقت بڑھاتا رہا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلافت عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابی جہل اور پھر شر سے مسلمانوں کو پسپائی ہوئی۔ ابو تیاری کا یہ حال تھا کہ صرف قبیلہ بنو کئی لوگ جو اسے جھوٹا سمجھتے تھے گر ہزار افراد پر مشتمل تھا۔ مسیلمہ مسیلمہ کی فوجوں کے پاؤں اکھڑ مشہور ہے۔ ذی الحجہ ۱۱ ہجری میں اس میں مسیلمہ کذاب کی فوج میں خطیب رسول ﷺ ثابت بن جنگ یمامہ میں قراء صحابہ نقصان برداشت کیا، لیکن توہین کیفر کردار تک پہنچایا۔ اسی طرح قتال کا حکم دیا۔ خلافت راشدہ نہ ہوئی۔ جہاں کہیں اکا دکا اند بنو امیہ کا عہد اسلامی سلطنت تعداد قرآن وسنت کی تعلیمات مسلموں کی بڑی تعداد حلقہ بگو جہاں کہیں توہین رسالت کا ارتا سیاست کے لحاظ سے عثمانی سلط ہوتیں، لیکن زندقہ کی پوری کائنا خلافت راشدہ کے بعد فو تہذیبی قدر کے طور پر مسلمان ہوئی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی رسالت ﷺ کے تحفظ کو قانونی القتل ہے اور اسے یہ سزا بطور

ــــ جمادی الاولیٰ، الاٰخرۃ ۱۴۳۹ھ ــــ

صفحہ 63

ڈاکٹر خالد علوی

اس مکالمے یا سودا بازی میں ناکامی کے بعد مسیلمہ نے جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ حضور اکرم ﷺ نے مدینہ میں مقیم بنو حنیفہ کے ایک شخص رجال بن عنفوہ کو مسیلمہ کے پاس نصیحت کے لئے بھیجا، لیکن وہ وہاں جا کر اس سے مل گیا۔ مسیلمہ اپنی طاقت بڑھاتا رہا اور اس دوران میں حضور اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا۔

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالتے ہی سب سے پہلے مسیلمہ کی سرکوبی کا انتظام کیا۔ پہلے عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابی جہل اور پھر شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو ان کی کمک کے لئے روانہ کیا۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ کے جلدی کی وجہ سے مسلمانوں کو پسپائی ہوئی۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید کو مسیلمہ سے نپٹنے کے لئے بھیجا۔ مسیلمہ کی جنگی تیاری کا یہ حال تھا کہ صرف قبیلہ ربیعہ کے ۴۰ ہزار جنگجو اس کے ساتھ تھے۔ دیگر کئی قبائل کے لوگ ان کے علاوہ تھے۔ کئی لوگ جو اسے جھوٹا سمجھتے تھے مگر محض قبائلی عصبیت کی وجہ سے ساتھ ہو گئے تھے۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا لشکر صرف ۱۳ ہزار افراد پر مشتمل تھا۔ مسیلمہ نے اسلامی فوجوں پر زبردست حملہ کیا، لیکن مسلمان اس پامردی سے لڑے کہ بالآخر مسیلمہ کی فوجوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ مسیلمہ کے خلاف مسلمانوں کی یہ جنگ جو تاریخ میں جنگ یمامہ کے نام سے مشہور ہے۔ ذی الحجہ ۱۱ ہجری میں ہوئی۔ اس کی شدت خونریزی اور جانی نقصان کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں مسیلمہ کذاب کی فوج کے ستر ہزار آدمی مارے گئے جب کہ ایک ہزار سے زائد صحابہ و تابعین شہید ہوئے جن میں خطیب رسول ﷺ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔

جنگ یمامہ میں قراء صحابہ و تابعین کی بڑی تعداد شہید ہوئی تھی جس کی تلافی ممکن نہ تھی۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ نقصان برداشت کیا، لیکن توہین رسالت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ مسیلمہ کے علاوہ دیگر جھوٹے مدعیان نبوت کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا۔ اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی نافرمانی کرنے والے منکرین زکوٰۃ اور مرتدین کے خلاف بھی قتال کا حکم دیا۔ خلافت راشدہ کے بقیہ عہد میں مسلمان اس قدر غالب تھے کہ کسی شخص کو توہین رسالت ﷺ کی جرأت نہ ہوئی۔ جہاں کہیں اکا دکا ارتداد کی کوششیں ہوئیں، انہیں پوری قوت کے ساتھ ختم کر دیا گیا۔

بنو امیہ کا عہد اسلامی سلطنت کی وسعت اور استحکام کا عہد ہے۔ اس عہد میں تابعین، محدثین و فقہاء کی ایک بڑی تعداد قرآن وسنت کی تعلیمات کو منضبط کرنے اور اجتہاد کے اصولوں کی بنیاد رکھنے میں مصروف تھی۔ اس عہد میں غیر مسلموں کی بڑی تعداد حلقہ بگوش اسلام ہورہی تھی اور اس کے ساتھ حسد و عناد کی چنگاریاں بھی اڑتی تھیں۔ لہٰذا جہاں کہیں توہین رسالت کا ارتکاب ہوتا تو اس کی سزا ملتی۔ اسی طرح عہد بنی عباس کے ابتدائی برس استحکام معاشرت و سیاست کے لحاظ سے مثالی تھے۔ مجوسیوں اور بعض لادینوں کی طرف سے کبھی کبھی اسلامی اقدار کے خلاف باتیں ہوتیں، لیکن زندقہ کی پوری کاوش کو ختم کر دیا گیا تھا۔

خلافت راشدہ کے بعد اگرچہ اسلامی نظام حکومت میں کمی آگئی تھی، لیکن ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت ایک تہذیبی قدر کے طور پر مسلمان معاشروں میں مستحکم رہی۔ کسی حکمران کو اس مسئلہ پر کمزوری دکھانے کی جرأت نہیں ہوئی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ علماء و فقہاء اُمت اور محدثین و متکلمین ملت کا مضبوط موقف تھا۔ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کو قانونی حیثیت حاصل تھی۔ تمام ائمہ، فقہاء ومحدثین اس بات پر متفق ہیں کہ شاتم رسول واجب القتل ہے اور اسے یہ سزا بطور حد دی جائے گی۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ کا وہ قول نقل کیا ہے جو انہوں

ــــ مئی، جون ۸۰ء ــــ

صفحہ 64

تحفظ ناموس رسالت ﷺ

نے ہارون الرشید کے سوال کے جواب میں کہا تھا:

الشفاء ج ۲ ص ۲۱۵

خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس نے نبی اکرم ﷺ کو سب و شتم کیا اور رشید نے یہ بھی ذکر کیا کہ عراق کے فقہاء نے اسے فتویٰ دیا ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کو غصہ آیا اور فرمایا اے امیر المومنین! نبی کو گالی دینے کے بعد اُمت کی بقا کس کام کی؟ جو نبیوں کو گالی دے اسے قتل کر دیا جائے اور جو اصحابِ رسول کو گالی دے اسے کوڑے لگائے جائیں۔ ہر دور کے فقہاء اس پر متفق رہے ہیں۔ دورِ حاضر کے بڑے فقیہ شیخ وھبۃ الزحیلی لکھتے ہیں:

اور اکثر حنفی فقہاء نے اسی بناء پر اس ذمی کو جو نبی اکرم ﷺ کو بُرا بھلا کہے، قتل کرنے کا فتویٰ دیا ہے، اگرچہ وہ گرفتاری کے بعد مسلمان بھی ہو جائے۔ گرفتاری کے بعد مسلمان ہونے کی صورت میں اس کو سیاسۃً قتل کیا جائے۔

قاضی عیاض نے الشفاء میں علماء کا اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ جب مسلمان نبی اکرم ﷺ کو گالی دے تو اس کا قتل واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا﴾

’’یقیناً وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دیتے ہیں، دنیا و آخرت میں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ [الأحزاب: ۵۷]

الصارم المسلول ص ۴

مسلمان فقہاء کے ہاں اس سلسلے میں تفصیلی بحثیں موجود ہیں۔ عام طور پر اسے ارتداد کے زمرے میں شامل کر کے قتل کا فیصلہ دیا گیا ہے۔ قاضی عیاضؒ اور امام ابن تیمیہؒ نے رسول اللہ ﷺ کی توہین تنقیص کرنے والے کے قتل کا فیصلہ دیا ہے۔

الشفاء ج ۲ ص ۲۱۴

اللہ ہمیں اور تجھے توفیق دے تو جان لے کہ وہ سب لوگ جو نبی مکرم ﷺ کی گستاخی کریں، سب و شتم کریں، عیب لگائیں یا آپ کی ذات، آپ کے نسب، آپ کے دین یا آپ کی کسی عادت میں نقص نکالیں، تعریض کریں یا بطورِ گالی آپ کو کسی شے سے تشبیہہ دیں، آپ کی شان میں کمی کریں یا آپ کی ذات میں کمزوریاں نکالیں یا عیب کی نسبت کریں تو یہ سب باتیں سب و شتم میں شامل ہیں اور ان کا حکم سب و شتم کا ہوگا اور اسے قتل کیا جائے گا۔

ہماری ذمہ داریاں

چونکہ حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی ہمارے ایمان کی اساس، محبت و اطاعت کا مرکز اور ہمارے تہذیبی تشخص کی علامت ہے، اس لئے اُمت مسلمہ نے اپنی پوری بااختیار تاریخ میں اس بات کا اہتمام کیا ہے کہ توہینِ رسالت کرنے والا بچ کر نہ جائے۔ مسلم سپین میں عیسائی پادریوں نے ایک منصوبے کے تحت توہینِ رسالت کا ارتکاب شروع کیا تھا۔ مسلمان قاضیوں نے اسلامی قانون کے مطابق سزائیں دیں اور مسلمان حکمرانوں نے انہیں نافذ کیا۔

سپین میں شاتمِ رسول ﷺ کی تحریک ۲۳۴ھ/ ۸۵۰ء میں شروع ہوئی اور ۲۴۶ھ/ ۸۶۰ء میں ختم ہوئی۔ لین پول نے اس پر مفصل مضمون لکھا ہے۔ ہم یہاں اس کے کچھ حصوں کا ملخص نقل کرتے ہیں:

’’اندلس میں عیسائیوں کو اپنے مذہبی مراسم آزادی سے انجام دینے کی جو رعایتیں حاصل تھیں ان کی طبائع کی کج روی سے اس کا نتیجہ برعکس نکلا۔ اندلس کے پادری کلیساؤں کے پچھلے اقتدار کو بحال کرنے کے خواہاں تھے، لیکن اسلامی

حکومت کی اس روادارانہ روش سے اُنہو نے چند غالی مسیحیوں میں یہ خیالات پ حکمرانوں کو مشتعل کر کے انسانی جسم و ج تحریک کا بانی قرطبہ کا ایک راہب یو دیکھا جاتا تھا۔ اس نے چند نوجوانوں ک اسلام اور اس کے داعی علیہ السلام پر ب کو قربان کرنے کے لئے صلیب پر چ

امیر عبدالرحمن الاوسط کے عہد میں ا ہوئی۔ مسلم سپین پر لکھنے والے تمام م برٹانیکا وغیرہ نے خصوصیت سے ان ح توہینِ رسالت پر سزا دینے کے ب صورت نہ تھی۔ اس معاشرتی، اخلاقی ف

ہند میں اکبر ایک لادین حکمران تھا ا باغی تھا۔ اس کے عہد میں ایک برہمن ن اس شاتمِ رسول کو سزا سے نہ بچا سکا۔

عبدالرحیم قاضی متھرا نے شیخ ع مسلمان ایک مسجد کی تعمیر کا ارادہ کئے ہ اس سے صنم کدے کی تعمیر شروع کر د کی موجودگی میں حضور اکرم ﷺ کی گ کیا، لیکن اس نے پیش ہونے سے ا آئے۔ شیخ ابوالفضل نے جو کچھ گواہوں ن تھیں۔ اس کی سزا کے بارے میں ب موت کا مطالبہ کیا اور دوسرا اس کے خ نے بادشاہ سے اس کے قتل پر اصرار ک تم سے ہے، ہم سے کیا پوچھتے ہو؟ وہ ی کے لئے سفارشیں کرتی رہیں، لیکن ب جب اس کے قتل کے لئے زیادہ اصرار ہ کرو جس کے بعد شیخ نے فوراً ہی اس ب ہندو رانیوں اور خوشامدی درباریو سے اس بارے میں باز پرس کرسکے، کی

جمادی الاولیٰ، الآخرة ۱۴۲۹ھ

صفحہ 65

ڈاکٹر خالد علوی

حکومت کی اس روادارانہ روش سے ان کو عیسائیوں کے جذبات کو برانگیختہ کرنے کا موقع نہیں مل سکتا تھا، اس لئے انہوں نے چند غالی مسیحیوں میں یہ خیالات پیدا کئے کہ مذہب کی اصل روح تکلیفیں اٹھانے سے پیدا ہوتی ہے۔ چاہئے کہ حکمرانوں کو مشتعل کر کے انسانی جسم اور گوشت پوست کو تکلیفیں پہنچائی جائیں تا کہ روح کا تزکیہ و تقدیس ہو سکے۔ اس تحریک کا بانی قرطبہ کا ایک راہب یولوجیس تھا۔ وہ مجاہدے کی راہبانہ زندگی کی وجہ سے عیسائیوں میں عقیدت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ اس نے چند نوجوانوں میں فدائیت کا جذبہ پیدا کیا کہ اپنی روح کو پاک کرنے کے لئے اس نئے دین اسلام اور اس کے داعی علیہ السلام پر سب و شتم کریں اور قتل ہوں، گویا یہ نوجوان مسیح علیہ السلام کی پیروی میں اپنی جانوں کو قربان کرنے کے لئے صلیب پر چڑھ جائیں۔‘‘

امیر عبدالرحمن الاوسط کے عہد میں شروع ہونے والی یہ تحریک اس کے بیٹے امیر محمد عبدالرحمن کے عہد میں ختم ہوئی۔ مسلم سپین پر لکھنے والے تمام مصنفین نے اس تحریک کا ذکر کیا ہے۔ سٹینلے لین پول، ہیرلڈ لیور مور، انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا وغیرہ نے خصوصیت سے ان مقتولین کا تذکرہ کیا ہے۔

توہین رسالت پر سزا دینے کے سلسلے میں علماء و فقہاء میں اتفاق تھا اس لئے کسی مجرم کے لئے بچ نکلنے کی کوئی صورت نہ تھی۔ اس معاشرتی، اخلاقی اور قانونی دباؤ کی وجہ سے کوئی حکمران سزا کو نہیں ٹال سکتا تھا۔ اس کی مثال اکبر کا عہد ہے۔ اکبر ایک لادین حکمران تھا۔ وہ نہ صرف ہندوؤں کے لئے نرم گوشہ رکھتا تھا بلکہ اسلام کی بہت سی چیزوں سے باغی تھا۔ اس کے عہد میں ایک برہمن نے رسول اکرم ﷺ کی توہین کی اور اکبر اپنے تمام تر جلال بادشاہی کے باوجود اس شاتم رسول کو سزا سے نہ بچا سکا۔ اس عہد کا تاریخ نگار عبدالقادر بدایونی رقم طراز ہے:

عبدالرحیم قاضی متھرا نے شیخ عبدالنبی قاضی القضاۃ کے پاس ایک استغاثہ بھیجا، جس میں بیان کیا گیا تھا کہ وہاں مسلمان ایک مسجد کی تعمیر کا ارادہ کئے ہوئے تھے لیکن ایک سرکش مالدار برہمن نے سارا عمارتی ساز و سامان اٹھوا لیا اور اس سے صنم کدے کی تعمیر شروع کرا دی۔ میں نے جب اس کے خلاف تادیبی کارروائی کا ارادہ کیا تو اس نے گواہوں کی موجودگی میں حضور اکرم ﷺ کو بُرا بھلا کہنا شروع کیا اور مسلمانوں کی سخت توہین کی۔ شیخ موصوف نے اس کو طلب کیا، لیکن اس نے پیش ہونے سے انکار کر دیا جس پر بادشاہ نے بیربل اور شیخ ابوالفضل کو بھجوا دیا اور وہ اسے لے آئے۔ شیخ ابوالفضل نے جو کچھ گواہوں سے سنا تھا بیان کیا اور کہا کہ اس بات کی تحقیق ہوگئی ہے کہ اس نے گالیاں دی تھیں۔ اس کی سزا کے بارے میں علماء کے دو گروہ ہو گئے تھے ۔ ایک نے اسے واجب القتل قرار دے کر سزائے موت کا مطالبہ کیا اور دوسرا اس کے خلاف تعزیر اور جرمانے پر زور دے رہا تھا۔ اس بحث میں معاملہ طول پکڑ گیا اور شیخ نے بادشاہ سے اس کے قتل پر اصرار کیا۔ بادشاہ نے صراحتاً اس کی اجازت نہ دی اور گول مول کہہ دیا کہ شرعی سزا کا تعلق تم سے ہے، ہم سے کیا پوچھتے ہو؟ وہ برہمن اس جھگڑے میں مدتوں قید میں پڑا رہا۔ شاہی محل کی بیگمات اس کی رہائی کے لئے سفارشیں کرتی رہیں، لیکن بادشاہ شیخ کا بہت لحاظ کرتا تھا اس لئے اس نے رہائی کا حکم بھی نہیں دیا۔ شیخ نے جب اس کے قتل کے لئے زیادہ اصرار کیا تو بادشاہ نے وہی جواب دیا کہ ہم تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تم جو مناسب جانو کرو جس کے بعد شیخ نے فوراً ہی اس برہمن کے قتل کا حکم دے دیا اور اس کی تعمیل میں اس کی گردن مار دی گئی۔

ہندو رانیوں اور خوشامدی درباریوں کے اکسانے کے باوجود اکبر جیسے مستبد بادشاہ کو بھی یہ جرأت نہ ہوئی کہ وہ شیخ سے اس بارے میں باز پرس کر سکے، کیونکہ علماء کی اکثریت قاضی القضاۃ کی تائید میں تھی۔

ــــــ مئی ، جون ۸۰ء ــــــ

صفحہ 66

تحفظ ناموس رسالت ﷺ

مسلمان سلاطین کے عہد میں توہین رسالت جیسے عمل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یہ دور استعمار اور مسلمانوں کی غلامی کے کرشمے ہیں کہ ان کے مقدسات معرض نقد میں ہیں۔ استعماریوں نے جہاں جہاں بھی قدم جمائے وہیں وہیں مسلمانوں کے تہذیبی مظاہر کا مذاق اڑایا۔ سلطنت انگریز کی، عدالتیں انگریز کی، جج ہندو، سکھ اور انگریز، کس سے داد فریاد کریں۔ مسلمانوں کی اجتماعیت نے اس صورت حال میں بھی اپنے مؤقف میں تبدیلی نہ کی اور برصغیر کی ملت اسلامیہ کے افراد اپنی انفرادی جرأت و ہمت سے توہین رسالت ﷺ کے مرتکب کو واصل جہنم کر کے شہادت کا مرتبہ پاتے رہے۔ ان حالات میں معاشرے کے مؤثر دینی و معاشرتی طبقات کو اپنی حکمت عملی طے کرنی چاہئے۔ علماء، دانشور، صحافی، معاشرتی و سیاسی رہنما اور دین دار صاحبان مال و ثروت متحد ہو کر توقیر مصطفیٰ کے لئے کام کریں، ناموس رسالت ﷺ کا دفاع کریں اور اسلام دشمن سازشوں کا سدّباب کریں۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔

انحراف نہ کریں اور خواہ نخواہ مسلمانوں کے اجتماعی فیصلے کا ساتھ دیں۔ انفرادی ملاقاتیں اور جلسے و جلوس دونوں طریقے اختیار کئے جائیں۔ مذہبی جماعتیں اگر پریشر گروپ (Pressure Group) کی حکمت عملی سے کام کریں تو حکام کے لئے ملک فروشی کے طرزِ عمل کو جاری رکھنا مشکل ہوگا۔

ہمارے ہاں جو فرقہ وارانہ تقسیم ہے اس نے دلوں میں نفرت اور کدورت کے الاؤ بھڑکا رکھے ہیں۔ اس وقت انہیں ٹھنڈا کرنے کی اور متحدہ مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ بریلویوں اور دیوبندیوں میں گستاخی رسول کے عنوان سے جو مصنوعی جنگ ہے، اسے ختم ہونا چاہئے اور بریلوی اور دیوبندی واعظین کو اپنی خطابت کے جوہر اہل کفر کے خلاف دکھانے چاہئیں۔ ہمارے اہل دین خود ساختہ اختلافات کو ختم کر کے وحدت کو مستحکم کریں۔

علامت ہے اس لئے توہین رسالت کے مسئلہ پر کسی طرح کی مفاہمت قابل قبول نہیں۔ اہل علم، اساتذہ، میڈیا کے ذمہ داران اور دینی رہنما ملت کے مختلف طبقات کو توقیر مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں آگہی مہیا کریں اور مستحکم کریں۔ توقیر مصطفیٰ ﷺ اُمت مسلمہ کے اجتماعی ضمیر میں نقش ہے، اسے انفرادی سطح پر بھی شعوری طور پر مستحکم کیا جائے تاکہ اُمت مسلمہ کا ہر فرد توہین رسالت کے مسئلہ پر کسی تردد کا شکار نہ ہو اور اسے مکمل طور پر ردّ کر دے۔

کہ بعض نام نہاد دانشوروں کو آمادہ کیا کہ اس مسئلہ کے علمی پہلوؤں میں الجھاؤ پیدا کریں۔ مسلم اہل علم کی ذمہ داری ہے کہ ان کے اٹھائے ہوئے اعتراضات کا جواب دیں، اس کی غلط تعبیرات کی توضیح کریں اور ان کے پیدا کردہ فکری الجھاؤ کو دور کریں۔

پیدا کرنے کا انتظام کیا جائے اور توہین رسالت کے قانونی اور تہذیبی اثرات سے بھی باخبر کیا جائے۔

جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۳۹ھ

صفحہ 67

ڈاکٹر خالد علوی

ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ اہل کفر کے عزائم پہچانیں اور اپنے معاشروں کو سیاسی و معاشی طور پر مستحکم کریں۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو اہل کفر کے عزائم کے بارے میں واضح طور پر خبردار کیا ہے۔ مندرجہ ذیل آیت کا مصداق تو حضور اکرم ﷺ کے عہد کے کفار ہیں، لیکن اس سے عمومی رہنمائی بھی حاصل ہوتی ہے، کیونکہ قرآن ابدی صداقتوں کا امین ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿اشْتَرَوْا بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَصَدُّوا عَن سَبِيلِهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (التوبۃ: ۹)

”اگر یہ تم پر غلبہ پالیں تو قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کر دیتے ہیں، لیکن ان کے دل ان باتوں کو قبول نہیں کرتے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔“

قرآن کفار کی نفسیات اور مسلمانوں کے بارے میں ان کے رویوں کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

کفار کے بارے میں جانتے ہوئے بھی ان کی خوشامد کرنا اور ان کو راضی رکھنے کے لئے تگ و دو کرنا مسلمان کے لئے نازیبا ہے۔ مسلمان کے لئے تو ضروری ہے کہ وہ اپنے ایمان کی پختگی اور حضور اکرم ﷺ کے ساتھ وفادارانہ وابستگی کے ساتھ اپنی قوت کو مجتمع کرے۔ بے سبب تصادم کی ضرورت نہیں، لیکن اگر جارحانہ اقدام ہوں تو پھر مناسب حکمت عملی کے ساتھ جواب ضروری ہے۔ قرآن مجید نے اس جانب توجہ دلائی ہے، جب یہ فرمایا:

”اور جہاں تک ہو سکے بذریعہ قوت اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے خلاف مستعد رہو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور اللہ جانتا ہے، ہیبت بیٹھی رہے، اقبالؔ نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے:

رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد

حضور اکرم ﷺ کی عزت و حرمت پر کسی طرح کی مفاہمت اور کمزوری اُمت مسلمہ کو بے وقار کردے گی اور پرتشدد کفر کو حوصلہ ہوگا کہ وہ مزید اقدام کرے۔

٭.......٭.......٭

روشن جبیں پہ حرف شہادت کریں گے ہم
یوں مصحفِ نبی کی تلاوت کریں گے
اپنے لہو کے آخری قطرے تک ریاضؔ
ناموسِ مصطفیٰ کی حفاظت کریں گے ہم

[ریاض حسین چودھری]

ـــــــ مئی، جون ۲۰۱۰ء ـــــــ

ماہنامہ لولاک

صفحہ 68

مترجم: حافظ محمد مصطفیٰ راسخ٭

شاتم رسول ﷺ

[قرآن وسنت اور اجماع اُمت کے آئینے میں]

انسانیت اپنی قدریں کھو چکی تھی، ہر طرف ظلم و ستم کا دور دورہ تھا، طاقتور کمزور کو کھائے چلا جا رہا تھا، بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، اپنی انانیت کی تسکین کے لئے ہر جرم جائز تھا، بات بات پر جنگیں چھڑ جاتی تھیں جن میں عزتیں لوٹ لی جاتیں اور عصمتیں پامال کر دی جاتی تھیں، اس دور جاہلیت میں رحمت خداوندی جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی عظمت کو بحال کرنے اور لوگوں کو سیدھی راہ پر چلانے کے لئے آخر الزماں پیغمبر جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ جنہوں نے بھٹکی ہوئی انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر رشد وہدایت کی روشنی عطا کی، تمام نسلی، خاندانی، لسانی اور وطنی امتیازات کے بتوں کو پاش پاش کر دیا اور ایک دوسرے کی جانوں کے دشمنوں کو اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان پیغام کے ذریعہ بھائی بھائی بنا دیا اور اخوت و بھائی چارے پرمبنی ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے دیا کہ رہتی دنیا تک انسانیت اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ نبی کریم ﷺ کو مبعوث فرما کر اللہ تعالیٰ نے انسانیت پر احسان عظیم کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ ﷺ کا مقام بلند اور عظیم الشان ہے جس کو ہماری عقلیں سمجھنے سے قاصر ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے نزدیک نبی کریم کا مقام و مرتبہ

اللہ تعالیٰ کے نزدیک نبی کریم ﷺ کا مقام انتہائی بلند اور عظیم الشان ہے آپ ﷺ کی عظمت شان پر دلالت کرنے والے متعدد اُمور میں سے چند پیش خدمت ہیں تاکہ ہمیں یہ معلوم ہو سکے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ ﷺ کی کیا قدر ومنزلت اور کیا مقام و مرتبہ ہے۔

مرتب ہو گی اور نجات و عذاب اس پر منحصر ہوگا۔

ساتھ نبی کریم ﷺ کی رسالت محمد رسول اللہ کی بھی گواہی نہ دے دے۔ اس پر تمام اہل علم کا اجماع ہے اور یہ امر آپ ﷺ کی عظمت و شان اور مقام و مرتبہ پر دلالت کرتا ہے۔

ہو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاءَ رَبِّهٖ فَ "پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کی ا شریک نہ کرے۔" اور عمل صالح وہ ہے فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِی "اے نبی ﷺ! لوگوں سے کہہ دو کہ کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے در

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: إِذَا صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَلَمْ يُ "جس آدمی نے آپ ﷺ پر در اس کے بعد یہ شعر پڑھا:

أَهْلَ بَيْتِ رَسُولِ اللّٰهِ
يَكْفِيكُمْ مِنْ عَظِيمِ الْفَ

"رسول اللہ ﷺ کے گھر والے تو کیا ہے، تمہارے لئے یہی فخر کا

آپ ﷺ قیامت کے دن سب ہوں گے۔ یہ شفاعت آپ ﷺ اپنی اپنی دعائے مستجاب دنیا می شفاعت کے لئے منتخب کر لیا ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ فَتَ "ہر نبی کے لئے ایک دعائے مس دن اپنی اُمت کی شفاعت کے ہم کیسے آپ ﷺ کے حق کو

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

٭ فاضل کلیۃ القرآن الکریم، جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور ـــــــ جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۲۹ھ ـــــــ

صفحہ 69

مترجم: حافظ محمد مصطفی راسخ *

کے آئینے میں]

کمزوروں کو کھائے چلا جا رہا تھا، بیٹیوں کو زندہ بات پر جنگیں چھڑ جاتی تھیں جن میں عزتیں رحمتِ خداوندی جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے م آخر الزماں پیغمبر جناب محمد رسول اللہ ﷺ ر رشد و ہدایت کی روشنی عطا کی، تمام نسلی، سے کی جانوں کے دشمنوں کو اللہ تعالیٰ کے کا ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے دیا کہ رہتی کو مبعوث فرما کر اللہ تعالیٰ نے انسانیت احسان ہے جس کو ہماری عقلیں سمجھنے سے

کہ آپ ﷺ کی عظمت شان پر دلالت سکے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ ﷺ

سوال کے جواب پر آدمی کی سزا و جزا

کا وحدانیت لا الہ الا اللہ کے ساتھ ہم تمام اہل علم کا اجماع ہے اور یہ

نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق نہ

حافظ محمد مصطفی راسخ

﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ [الكهف:۱۱۰] ”پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔“ اور عملِ صالح وہ ہے جو شریعت کے مطابق ہو۔ فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت و مغفرت آپ ﷺ کی اتباع کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔

[تفسیر البغوی:۱۷۵/۱، وتفسیر السعدی:ص۴۳۸]

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ ”اے نبی ﷺ! لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔“ [آل عمران:۳۱]

امام شافعی ؒ فرماتے ہیں: إِذا صَلَّى عَلى مُحَمَّد وَلَم يُصَلِّ عَلى آلِ البَيتِ لَن تُقبَل مِنهُ ”جس آدمی نے آپ ﷺ پر درود پڑھا اور آلِ بیت پر نہ پڑھا تو اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔“ اس کے بعد یہ شعر پڑھا:

أهل بيت رسول الله حبكم فرض من الله في القرآن أنزله
يكفيكم من عظيم الفخر أنكم من لم يصل عليكم لا صلاة له

”رسول اللہ ﷺ کے گھر والے تمہارے محبوب ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے جو اس نے قرآن مجید میں نازل کیا ہے، تمہارے لئے یہی فخرِ عظیم ہے کہ، جو شخص تمہارے اوپر درود نہ پڑھے اس کی کوئی نماز نہیں۔“

[الصواعق المحرقة لابن حجر الهيثمي:۲۳۵/۲]

آپ ﷺ قیامت کے دن ساری مخلوقات کے لئے کریں گے، جبکہ دیگر انبیاء کرام ؑ اس سے معذرت کر چکے ہوں گے۔ یہ شفاعت آپ ﷺ کی اپنی اُمت کے ساتھ شفقت اور محبت پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ ہر نبی نے اپنی اپنی دعائے مستجاب دنیا میں ہی مانگ لی، جبکہ آپ ﷺ نے اپنی دعائے مستجاب کو روزِ قیامت اپنی اُمت کی شفاعت کے لئے منتخب کر لیا۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ يَدْعُو بِهَا وَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِّأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ”ہر نبی کے لئے ایک دعائے مستجاب ہے، جس کے ساتھ وہ دعا کرتا ہے اور میں نے اپنی دعائے مستجاب کو قیامت کے دن اپنی اُمت کی شفاعت کے لئے چن لیا ہے۔“

[صحيح البخاري:۵۹۲۹، صحيح مسلم:۱۹۸، ۱۹۹]

ہم کیسے آپ ﷺ کے حقوق ادا کر سکتے ہیں؟ اور کیسے آپ ﷺ کا شکریہ ادا کر سکتے ہیں؟

ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مئی، جون ۲۰۱۸ء

صفحہ 70

شاتم رسول : قرآن وسنت اور اجماع اُمت کے آئینے میں

«أنا سيد ولد آدم يوم القيامة، وأول من ينشق عنه القبر وأول شافع وأول مشفع»

”میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میری قبر پھٹے گی ، میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی۔“

[رقم الحدیث: ۲۲۷۸]

بعثت اور زمانے میں ان (یعنی محمد ﷺ) کو پالیں تو ضرور ان پر ایمان لائیں اور ان کی نصرت و تائید کریں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَىٰ ذَٰلِكُمْ إِصْرِي ۖ قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ

[آل عمران: ۸۱]

”یاد کرو، اللہ نے پیغمبروں سے وعدہ لیا تھا کہ آج میں نے تمہیں کتاب اور حکمت و دانش سے نوازا ہے کل اگر کوئی دوسرا رسول تمہارے پاس اسی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوا آئے جو پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے تو تم کو اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنا ہوگی۔ یہ ارشاد فرما کر اللہ نے پوچھا! کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں ہم اقرار کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا: اچھا تو تم گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔“

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَ أَصِيلًا

”اے نبی ﷺ، ہم نے تم کو شہادت دینے والا، بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے تاکہ اے لوگو! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کا (یعنی رسول کا) ساتھ دو اس کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح وشام اللہ کی تسبیح کرتے رہو۔“

[الفتح: ۸، ۹]

نبی کریم ﷺ کی تعظیم وتوقیر اور نصرت ومدد کرنا ہمارے واجباتِ دینیہ میں سے ہے یہ ایک عبادت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہم پر فرض کیا ہے۔

[السيف المسلول للسبكي: ص ۱۱۲]

شاتم رسول کا حکم

شاتم رسول کا حکم ذکر کرنے سے پہلے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ایک اہم سوال کا جواب دے دوں جو بعض اذہان میں پیدا ہوتا ہے۔

سوال: جب نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اس قدر عظمت وشان اور بلند مقام عطا کیا ہے۔ جس کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ لوگوں میں سے بعض ملعون اور بدبخت آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوتے ہیں اور آپ ﷺ کی ذات مبارک پر جسارت کرتے ہیں؟ کیا ان راجپال کے جانشینوں کے حصے میں یہی گستاخی اور توہین ہی آئی ہے۔؟

جواب: ہاں! گستاخانِ رسالت کی جانب سے یہ سلسلہ زمانہ قدیم سے چلا آ رہا ہے اور مستقبل میں بھی ناپاک

------- جمادی الاولیٰ، الآخرة ۲۹ -------

صفحہ 71

حافظ محمد مصطفی راسخ

جسارتیں کرنے کا عمل جاری رہے گا، کیونکہ دشمنانِ اسلام توہینِ رسالت کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں تاکہ حق و باطل کو خلط ملط کر دیا جائے، عامۃ الناس مسلمانوں کے اذہان میں اسلام کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کر دیئے جائیں، اسلام کی طرف راغب اور اسلام میں دلچسپی لینے والے غیر مسلموں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جاسکے اور اسلام کی عالمگیر و عظیم الشان شہرت کو مجروح کیا جاسکے۔

اس عمل کے سبب اللہ تعالیٰ لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ساتھ آزمانا چاہتا ہے تاکہ خبیث طیب سے ممتاز ہو جائے اور اللہ تعالیٰ جان لے کہ کون ہے جو غیب میں اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾

[الحديد: ۲۵]

”ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں۔ یہ اس لئے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہو جائے کہ کون اس کو دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، یقیناً اللہ بڑی قدرت والا اور زبردست ہے۔“

اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کے لئے مجرمین میں سے کچھ دشمن پیدا کر دیئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ وَكَفَى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا﴾

[الفرقان: ۳۱]

”اے نبی ﷺ ! ہم نے تو اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے اور تمہارے لئے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کو کافی ہے۔“

چونکہ انبیاء کرام علیہم السلام مخلوق میں سے بہترین اور منتخب ہوتے ہیں لہٰذا ان کی آزمائش بھی زیادہ ہوتی ہے تاکہ ان کے درجات بلند ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ﴾

[الأنعام: ۱۰]

”اے نبی ﷺ ! تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، مگر ان مذاق اڑانے والوں پر آخر کار وہی حقیقت مسلط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔“

دوسری جگہ فرمایا:

﴿يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ﴾

[یٰس: ۳۰]

”افسوس بندوں کے حال پر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔“

شانِ رسالت ﷺ میں یہ گستاخیاں درحقیقت انبیاء کرام کی آزمائش ہے، لیکن یہ ان کے مقام و مرتبہ اور عظمت و شان میں کچھ کمی نہیں کر سکتیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ استہزاء کرنے والوں کو خود ہی کافی ہو جائے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ﴾

[الحجر: ۹۵]

”تمہاری طرف سے ہم ان مذاق اڑانے والوں کی خبر لینے کے لئے کافی ہیں۔“

دوسری جگہ فرمایا: ﴿إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾ [الكوثر: ۳] ”تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے۔“

طبرانی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ مکہ میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے انہوں نے

مئی، جون ۲۰ء

صفحہ 72

19. Details 20. Places Place SIRHAND SHA (i) (ii) (iii) (iv) (v) (vi) (vii) (viii) 21. Address Areas) Name/Father's N 1. NIL NIL 2. NIL NIL 3. 4. 5. 6. 7. 8. 22. Address Plac 1. SIRHAND SH

شاتم رسول: قرآن وسنت اور اجماع امت کے آئینے میں

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گدی میں کچوکے لگانا شروع کر دیے اور کہنے لگے: ”هذا الذي يزعم أنه نبي ومعه جبريل“ ”یہ وہی ہے جو اپنے آپ کو نبی گمان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کے ساتھ جبریل علیہ السلام ہیں۔“ ان لوگوں کی اس گستاخی پر جبریل علیہ السلام نے اپنی انگلی کے ساتھ کچوکہ مارا اور ان کے جسموں پر ناخن گاڑ دیا جس سے بدبودار اور متعفن زخم بن گئے، ان زخموں کی بدبو اور تعفن کی وجہ سے کوئی شخص بھی ان کے قریب نہ جاتا تھا۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: ﴿إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ﴾ [الحجر:95] [رقم الحدیث:۴۳۴۱]

علامہ سعدی فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم آپ اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کے ساتھ ان لوگوں کو کافی ہو جائیں گے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ تیرا مذاق اڑانے والوں اور استہزاء کرنے والوں کو سزا دینے کے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ﴾ [الحجر:96] ”جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی خدا قرار دیتے ہیں، عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔“

اللہ تعالیٰ نے ہر طریقے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی، اذیت کو دور کیا اور دشمنوں کی طرف سے ہونے والی گستاخیوں کا دفاع کیا حتیٰ کہ لفظی گستاخیوں کا بھی دفاع کیا۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں اس امر پر تعجب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے طریقے سے، قریش کے لعن وطعن اور سب وشتم کو مجھ سے دور کر دیا ہے؟ وہ مذمم کو گالیاں دیتے ہیں، مذمم کو لعن وطعن کرتے ہیں اور میں محمد ہوں۔“ [صحيح البخاري:٣٥٣٣]

اللہ تعالیٰ نے قریش کی لفظی گستاخیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک سے مذمم کی طرف پھیر دیا۔

ایک شنیع جرم

شناعت اہانت رسول

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں سب وشتم اور گستاخی کرنا، ناقض اسلام اور ارتداد کا سبب ہے بلکہ یہ مجرد کفر سے بھی بڑا جرم کفر مزید ہے، اس جرم کے کفر مزید ہونے کے متعدد اسباب ہیں، کیونکہ کفار کی دو قسمیں ہیں:

معارضون ضلالت و گمراہی اور اپنے کفر میں معرضون کی نسبت زیادہ سخت ہیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا شخص معارضین میں شامل ہے۔

علامہ عبدالرحمن السعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ، قرآن مجید یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانا ایمان کے منافی اور دین سے خارج کر دینے والا عمل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ، کتب سماویہ اور انبیاء کرام پر ایمان لانا اور ان کی تعظیم کرنا دین کی اساس ہے اور یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ان کا مذاق اڑانا کفر مجرد سے بڑا کفر ہے، کیونکہ اس میں کفر کے ساتھ ساتھ تحقیر و تنقیص بھی ہے، کیونکہ کفار کی دو قسمیں ہیں۔ ① معرضون ② معارضون ۔ معارض کافر، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کرنے والا ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ، دین اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تنقید کرتا ہے اور کفر مزید کا مرتکب ہوتا ہے۔

ــــ جمادی الاولیٰ، الآخره ۲۹ھ ــــ

تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ لیکن شاتم رسول کی توبہ کی قبولیت جرم مجرد کفر سے بڑا ہے، کیونکہ روحانی اذیت پہنچتی ہے جو مجرد کفر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ انبیاء کرام علیہم السلام کی شان اقدس کفر کی ہر قسم اس سے چھوٹی ہے مزید فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دے کر ان کو قتل کر دینے کا حکم در حقیقت گستاخان رسالت نے انبیاء کرام علیہم السلام کی شان اقدس شاتم رسول کے کفر اور قتل پر قرآن مجید: شان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں گستا ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ ”جو لوگ اللہ اور اس کے رس لئے رسوا کن عذاب ہے۔“ دوسری جگہ فرمایا: ﴿وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ ”ان میں سے کچھ وہ لوگ وہ تمہاری بھلائی کے لئے ایسا کے لئے جو تم میں سے ایمان مزید فرمایا: ﴿مَلْعُونِينَ کی بوچھاڑ ہوگی جہاں ہیں پائے امام تقی الدین سبکی رحمہ اللہ فرما کرتی ہیں۔ [صحیح مسلم

صفحہ 73

حافظ محمد مصطفیٰ راسخ

[المجموعة الكاملة لمؤلفات الشيخ السعدي : ٢٦/٣]

تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ جو شخص اسلام مخالف کفریہ کام کر لینے کے بعد توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے، لیکن شاتم رسول کی توبہ کی قبولیت کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ شاتم رسول کا جرم مجرد کفر سے بڑا ہے، کیونکہ شان رسالت ﷺ میں سب وشتم کرنے سے اللہ تعالیٰ، نبی کریم ﷺ اور مومنوں کو روحانی اذیت پہنچتی ہے جو مجرد کفر اور لڑائی میں نہیں ہوتا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انبیاء کرام علیہم السلام کی شان اقدس میں سب وشتم درحقیقت کفر کی جمیع انواع کی جڑ اور تمام برائیوں کا سرچشمہ ہے، کفر کی ہر قسم اس سے پھوٹتی ہے۔ [الصارم المسلول: ص ۴۵۷]

مزید فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے موقعہ پر معافی عام کا اعلان کر دیا، لیکن چند لوگوں کو اس معافی عام سے مستثنیٰ قرار دے کر ان کو قتل کر دینے کا حکم دے دیا۔ اور یہ بات واضح ہے کہ جن لوگوں کو معافی عام سے مستثنیٰ کیا گیا تھا وہ در حقیقت گستاخان رسالت تھے جنہوں نے آپ ﷺ کی ذات اقدس میں جسارت کی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی شان اقدس میں گستاخی کرنا مجرد کفر سے بڑا جرم ہے۔ [الصارم المسلول : ص ۴۹۸]

شاتم رسول کے کفر اور قتل پر قرآن وسنت اور اجماع اُمت سے دلائل

قرآن مجید: شان رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے والوں کے عبرتناک انجام کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا﴾ ’’جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ [الاحزاب:۵۷]

دوسری جگہ فرمایا: ﴿وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [التوبة:٦١] ’’ان میں سے کچھ وہ لوگ ہیں جو اپنی باتوں سے نبی کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے، کہو! وہ تمہاری بھلائی کے لئے ایسا ہے اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور سراسر رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو تم میں سے ایماندار ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔‘‘

مزید فرمایا: ﴿مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا﴾ [الاحزاب:٦١] ’’ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوگی جہاں ہیں پائے جائیں گے، پکڑے جائیں گے اور بری طرح مارے جائیں گے۔‘‘

امام تقی الدین سبکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مذکورہ آیات کریمہ شاتم رسول کے کفر اور بطور سزا اس کو قتل کرنے پر دلالت کرتی ہیں۔ [صحیح مسلم : ۲۵۷۷] نیز ان آیات کریمہ میں نبی کریم ﷺ کی عظمت و شان کا بھی تذکرہ ہے، کیونکہ

مئی ، جون ۲۰۱۸ء

صفحہ 74

شاتم رسول: قرآن وسنت اور اجماع امت کے آئینے میں

آپ کی شان اقدس میں معمولی سی گستاخی بھی کفر ہے۔ کیونکہ عذاب أليم اور عذاب مهين کفار کے ساتھ خاص ہے۔

[السيف المسلول للسبكي: ص١٣٣]

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَحْذَرُ الْمُنٰفِقُونَ أَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُورَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا إِنَّ اللَّهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُونَ . وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ . لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ إِنْ نَّعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةٌ بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ

”یہ منافق ڈر رہے ہیں کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو ان کے دلوں کے بھید کھول کر رکھ دے۔ اے نبی! ان سے کہو: اور مذاق اڑاؤ۔ اللہ اس چیز کو کھول دینے والا ہے جس کے کھل جانے سے تم ڈرتے ہو۔ اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کررہے تھے تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کررہے تھے۔ ان سے کہو، کیا تمہاری ہنسی اور دل لگی اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہی تھی؟ اب عذر نہ تراشو۔ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے۔ اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر بھی دیا تو دوسرے گروہ کو تو ہم ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہے۔“

[التوبۃ: ۶۴، ۶۶]

امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ آیت مبارکہ اس امر پر نص صریح ہے کہ اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑانا کفر ہے، جب مذاق اڑانا کفر ہے تو سب وشتم بالاولیٰ کفر ہے اور سنجیدہ یا مزاح میں نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر ہے۔

[الصارم المسلول: ص ۳۸، ۳۹]

اسی طرح امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر ائمہ تفسیر اس آیت کا سبب نزول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: غزوہ تبوک میں منافقین میں سے ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ اور قراء کرام صحابہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: میں نے ان سے زیادہ بڑے پیٹ والے، جھوٹی زبان والے اور جنگ میں بزدلی دکھانے والے لوگ نہیں دیکھے۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کو کہا: تو جھوٹا اور منافق آدمی ہے۔ میں ضرور نبی کریم ﷺ کو اس گستاخی کی خبر کروں گا۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کو خبر دینے کے لئے گئے تو معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کو قرآن مجید کے ذریعے پہلے ہی اس گستاخی کا علم ہوچکا ہے۔ وہ آدمی اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور معذرت کرتے ہوئے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! ہم تو محض کھیل کود میں ہنسی مذاق اور دل لگی کررہے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا کہ میں اس کو آپ ﷺ کی اونٹنی کی مہار کے ساتھ لٹکا ہوا دیکھ رہا ہوں اور پتھر اس کے پاؤں کو زخمی کررہے تھے وہ بار بار یہی کہتا تھا۔ یا رسول اللہ ﷺ! ہم تو محض کھیل کود میں ہنسی مذاق اور دل لگی کررہے تھے۔ نبی کریم ﷺ ہر بار اس کو یہی کہتے: ”أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ“ نہ اس کی طرف متوجہ ہوتے تھے اور نہ ہی اس سے زائد کچھ کہتے تھے۔

معمر قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم اور منافقین کا ایک قافلہ غزوہ تبوک میں نبی کریم ﷺ کے آگے آگے چل رہے تھے۔ منافقین نے کہا: ”أیظن ھذا أن یفتح قصور الروم و حصونها؟“ ”کیا یہ (محمد ﷺ) گمان رکھتا ہے کہ وہ روم کے محلات اور قلعے فتح کرلے گا؟ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نبی کریم ﷺ کو اس بات کی خبر

———— جمادی الاولیٰ، الآخریٰ ۱۴۲۹ھ ————

دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس ٹولے کو ب نے ایسے کہا ہے؟ انہوں نے قسمیں کھا کر کہا

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ان لوگوں نے جب ہنسی مذاق اور کھیل کود میں ن نے ان پر واضح کردیا کہ تم نے اس کلام قبیح کا ار رسالت میں گستاخی کرنا کفر سے بھی بڑا جرم ہے۔“ [

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَيَقُولُونَ اَمَنَّا بِاللهِ وَبِالرَّسُولِ وَاَطَعْنَا الْمُؤْمِنِينَ وَإِذَا دُعُوْا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ حَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ أَفِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ رَسُولُهُ بَلْ اُولَئِكَ هُمُ الظّٰلِمُونَ إِنَّمَا كَانَ نَهُمْ اَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَأُولَئِكَ هُمُ ال ”یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور اس ک میں سے ایک گروہ (اطاعت سے) منہ موڑ جاتا ہے ا رسول کی طرف، تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمات ک حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول کے پاس بڑے اطاع روگ لگا ہوا ہے؟ یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں؟ یا ان یہ ہے کہ ظالم تو یہ لوگ خود ہیں۔ مومنوں کا کام تو یہ ہے مقدمات کا فیصلہ کریں تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاع

امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ ان آیات مبارکہ کے سیاق میں اللہ تعالیٰ نے ان آیات مبارک میں واضح کردیا ب سے روگردانی کی اور منہ موڑا، وہ منافقین میں سے ہے کی ہر بات پر سمعنا و أطعنا کے سوا کچھ نہیں کہتا۔ سے مجرد اعراض کرنے اور غیر سے فیصلے کروانے سے اگ طارت کرنا کتنا بڑا جرم ہوگا۔

[الصارم المسلول: ص

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا ت الْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ ”اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ ک آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو کہیں ایسا نہ کہ تمہارے سی ا

صفحہ 75

حافظ محمد مصطفی راسخ

دے دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس ٹولے کو میرے پاس لاؤ! ان کو لایا گیا۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا! کیا تم نے ایسے ایسے کہا ہے؟ انہوں نے قسمیں کھا کر کہا: یا رسول اللہ ﷺ ہم تو محض کھیل کود میں ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں: ”ان لوگوں نے جب ہنسی مذاق اور کھیل کود میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کی تنقیص کی اور ان پر عیب لگایا تو اللہ نے ان پر واضح کر دیا کہ تم نے اس کلام قبیح کا ارتکاب کر کے کفر کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جان بوجھ کر شان رسالت میں گستاخی کرنا کفر سے بھی بڑا جرم ہے۔“

[الصارم المسلول: ص ۳۸، ۳۹]

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِّنْهُم مِّن بَعْدِ ذَلِكَ وَمَا أُولَئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم مُّعْرِضُونَ وَإِن يَكُن لَّهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ أَفِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ أَمِ ارْتَابُوا أَمْ يَخَافُونَ أَن يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُولُهُ بَلْ أُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾

[النور: ۴۷، ۵۱]

”یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول پر اور ہم نے اطاعت قبول کی، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے) منہ موڑ جاتا ہے ایسے لوگ، ہرگز مومن نہیں ہیں۔ جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول کی طرف، تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمات کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے۔ البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول کے پاس بڑے اطاعت گزار بن کر آ جاتے ہیں۔ کیا ان کے دلوں کو (منافقت کا) روگ لگا ہوا ہے؟ یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور رسول ان پر ظلم کرے گا؟ اصل بات یہ ہے کہ ظالم تو یہ لوگ خود ہیں۔ مومنوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ ان کے مقدمات کا فیصلہ کریں تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“

امام ابن تیمیہ ؒ ان آیات مبارکہ کے سیاق میں فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ان آیات مبارک میں واضح کر دیا ہے کہ جس شخص نے بھی رسول اللہ ﷺ کی اتباع اور اطاعت سے روگردانی کی اور منہ موڑا، وہ منافقین میں سے ہے۔ مومن نہیں ہے، کیونکہ مومن کا یہ شیوہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی ہر بات پر سمعنا وأطعنا کے سوا کچھ نہیں کہتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خواہش نفس سے مغلوب ہو کر حکم رسول سے مجرد اعراض کرنے اور غیر سے فیصلے کروانے سے اگر آدمی منافق ہو جاتا ہے تو شان رسالت ﷺ میں گستاخی اور جسارت کرنا کتنا بڑا جرم ہوگا۔

[الصارم المسلول: ص ۴۳]

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ﴾

[الحجرات: ۲]

”اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ ہی نبی کے ساتھ اونچی آواز میں بات کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔“

— مئی، جون ۲۰۱۰ء —

صفحہ 76

شاتم رسول: قرآن وسنت اور اجماع اُمت کے آئینے میں

امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ کو نبی کریمﷺ کی آواز سے اپنی آواز بلند کرنے اور آپس میں گفتگو کرنے کے انداز کو نبی کریمﷺ کے ساتھ اختیار کرنے سے منع کیا ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے بسا اوقات اعمال ضائع بھی ہو سکتے ہیں اور صاحب اعمال کو شعور بھی نہ ہو۔

اور اعمال کا ضیاع ارتکاب کفر کے بغیر نہیں ہوتا کیونکہ جو شخص حالت ایمان میں مر جائے وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔ اگر اپنے گناہوں کے سبب جہنم میں چلا بھی گیا تو بالآخر جہنم سے نکل کر جنت میں داخل ہوگا۔ اگر کسی شخص کے سارے اعمال ضائع ہو جائیں تو وہ کبھی جنت میں داخل نہ ہوگا اور اعمال اپنے منافی امور سے ضائع ہوتے ہیں اور سوائے کفر کے مطلقاً اعمال کے منافی شئی کوئی نہیں ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ ہمیں نبی کریمﷺ کی انتہائی عزت وتوقیر اور تعظیم وتکریم کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ اگر نہ چاہتے ہوئے بھی آواز بلند ہو جانے سے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں تو عمداً شان رسالتﷺ میں گستاخی کرنا بالاولیٰ کفر بواح ہے۔ [الصارم المسلول: ص ۵۹، ۶۰] نیز یہ آیات مبارکہ شاتم رسول کے کفر اور اس کے قتل پر دلالت کرتی ہیں۔

سنت نبویﷺ

صحیحین میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے کہ نبی کریمﷺ نے واقعہ افک کے بارے میں خطبہ دیا اور عبداللہ بن ابی منافق کے بارے میں فرمایا: «مَن يعذرنی من رجل بلغنی أذاه فی أهلی»

''کون ہے جو مجھے اس آدمی کے بارے میں معذور سمجھے جس نے مجھے میرے اہل میں اذیت دی ہے۔''

قبیلہ اوس کے سردار سیدنا سعد بن معاذؓ بولے: میں آپ کو معذور سمجھتا ہوں اے اللہ کے رسولﷺ! اگر وہ آدمی قبیلہ اوس سے تعلق رکھتا تو میں خود اس کی گردن اڑا دوں گا اور اگر ہمارے بھائیوں قبیلہ خزرج میں سے ہے تو ہم وہی کریں گے جس کا آپ ہمیں حکم دیں گے۔ [صحیح البخاري: ۴۱۴۱، ۴۷۵۰، صحیح مسلم: ۲۷۷۰]

امام تقی الدین سبکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا قول اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ان کے ہاں گستاخ رسول کی سزا قتل معروف تھی، نیز نبی کریمﷺ نے ان کے اس قول کو باقی رکھا اور اس پر انکار نہیں کیا اور نہ ہی یہ کہا کہ اس کو قتل کرنا جائز نہیں ہے۔ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن ابی کو منافق ہونے کی وجہ سے قتل کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا بلکہ وہ اس کو شانِ رسالتﷺ میں گستاخی کرنے کی وجہ سے قتل کرنا چاہتے تھے، کیونکہ اس نے نبی کریمﷺ کو اذیت دی تھی۔

[السیف المسلول: ص ۱۴۲]

فتح مکہ کے موقع پر نبی کریمﷺ نے چار مردوں اور دو عورتوں کے علاوہ سب قریش مکہ کو امان دینے کا اعلان کر دیا۔ ان چار مردوں میں سے ابن ابی سرح بھی تھے۔ ابن ابی سرح نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ہاں پناہ لے لی۔ جب نبی کریمﷺ نے لوگوں کے لئے بیعت کا اعلان کیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس کو بھی لے آئے اور نبی کریمﷺ کے سامنے لا کھڑا کیا اور آپﷺ سے کہا: یا رسول اللہﷺ! ابن ابی سرح سے بھی بیعت لے لیجئے۔ آپﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور تین مرتبہ اس کی طرف دیکھا۔ ہر دفعہ اس سے بیعت لینے سے انکار کر دیا۔ تیسری مرتبہ کے بعد بالآخر آپﷺ نے اس سے بھی بیعت لے لی۔ سمجھدار نہیں ہے کہ وہ بیعت سے میرے اللہﷺ! ہم آپ کے دل کی بات نہیں جانتے فرمایا: کسی نبی کی شان کے یہ لائق نہیں کہ اس کی

صحیحین میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے جب آپﷺ نے خود اتارا تو ایک آدمی نے آ نے فرمایا: اس کو قتل کر دو۔ [صحیح البخار امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور امام سبکی رحمہ اللہ فرماتے ہ ابن خطل مسلمان تھا۔ نبی کریمﷺ نے ا انصاری آدمی کو بھی ساتھ روانہ کر دیا۔ ایک مقا قتل کر دیا۔ پھر قصاصاً قتل ہو جانے کے ڈر سے اگر اس کا قتل قصاصاً ہوتا تو اس کو مقتول کے پہلے اس سے توبہ کرا دی جاتی۔ اس سے معلوم ہو اس کے بعد امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہی اور نبی کریمﷺ کی شان اقدس میں ہجو کرنے وا اس کو توبہ کروانے سے پہلے ہی قتل کر دیا جائے ابن خطل کے واقعہ سے فقہاء کی ایک جماع حد جاری کرتے ہوئے قتل کر دیا جائے گا۔ [

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسے بار بار منع کرتا، لیکن وہ باز نہ آتی، ایک را اس صحابی نے کدال لیا اور اس کے پیٹ پر رکھ ک آپﷺ کو اس قتل کی خبر دی گئی۔ آپ نے بھی یہ کام کیا ہے وہ کھڑا ہو جائے۔ وہ اع یا رسول اللہﷺ! میں اس لونڈی کا مالک ہوں کرتی تھی۔ میں نے کئی بار اس کو منع کیا، لیکن حیات تھی۔ مگر گذشتہ رات جب اس نے آپ ایمانی جوش میں آئی اور میں اس گستاخی کو بردا سن کر فرمایا: «ألا اشهدوا إن دمها هدر»

ـــــــ جمادی الاولیٰ، الآخرة ۲۹ھ ـــــــ

صفحہ 77

حافظ محمد مصطفی راسخ

آپ ﷺ نے اس سے بھی بیعت لے لی۔ پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تم میں کوئی آدمی بھی سمجھدار نہیں ہے کہ وہ بیعت سے میرے رکے ہوئے ہاتھوں کو دیکھ کر اس کو قتل کر دیتا؟ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ہم آپ کے دل کی بات نہیں جانتے، آپ نے اپنی آنکھ سے ہماری طرف اشارہ کیوں نہیں کیا؟ آپ نے فرمایا: کسی نبی کی شان کے یہ لائق نہیں کہ اس کی آنکھیں خائنہ ہوں۔“

[سنن ابو داود: ۴۳۵۹ و صححه الالبانی فی تعلیقه : ۲۶۸۳]

صحیحین میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے خود پہن رکھا تھا۔ جب آپ ﷺ نے خود اتارا تو ایک آدمی نے آ کر بتایا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو قتل کر دو۔ [صحیح البخاری: ۴۰۳۴، صحیح مسلم: ۱۳۵۷]

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور امام سبکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ابن خطل مسلمان تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کو صدقہ لینے کے لئے عامل بنا کر بھیجا اور خدمت کے لئے ایک انصاری آدمی کو بھی ساتھ روانہ کر دیا۔ ایک دن اس خادم نے کھانا تیار نہ کیا تو ابن خطل نے غصہ میں آکر اس خادم کو قتل کر دیا۔ پھر قصاصاً قتل ہو جانے کے ڈر سے مرتد ہو گیا اور نبی کریم ﷺ کی ہجو میں شعر پڑھنا شروع کر دیئے۔

اگر اس کا قتل قصاصاً ہوتا تو اس کو مقتول کے ورثاء کے حوالے کر دیا جاتا، اور اگر اس کا قتل ارتداد کی وجہ سے ہوتا تو پہلے اس سے توبہ کرائی جاتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کو فقط شاتم رسول ہونے کے جرم میں قتل کیا گیا تھا۔

اس کے بعد امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے قتل میں سختی کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کو سب وشتم اور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں ہجو کرنے کے جرم میں قتل کیا گیا تھا۔ نیز شاتم رسول، مرتد محض سے بڑا مجرم ہے۔ اس کو توبہ کروانے سے پہلے ہی قتل کر دیا جائے گا اور اس کے قتل کو مؤخر نہیں کیا جائے گا۔

ابن خطل کے واقعہ سے فقہاء کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ شاتم رسول خواہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو اس کو حد جاری کرتے ہوئے قتل کر دیا جائے گا۔ [الصارم المسلول: ص ۱۴۱، السیف المسلول: ص ۱۴۵]

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک نابینا صحابی کی لونڈی نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ وہ اسے بار بار منع کرتا، لیکن وہ باز نہ آتی، ایک رات حسب معمول اس نے نبی کریم ﷺ کو گالیاں دینا شروع کر دیں تو اس صحابی نے مغول لیا اور اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا دیا اور اس کو قتل کر دیا۔

آپ ﷺ کو اس قتل کی خبر دی گئی۔ آپ ﷺ نے صبح لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: میں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس آدمی نے بھی یہ کام کیا ہے وہ کھڑا ہو جائے۔ وہ اندھا صحابی کھڑا ہو گیا اور نبی کریم ﷺ کے سامنے آکر بیٹھ گیا اور کہا: یا رسول اللہ ﷺ! میں اس لونڈی کا مالک ہوں۔ یہ بدبخت آپ کو گالیاں دیتی تھی اور آپ ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتی تھی۔ میں نے کئی بار اس کو منع کیا، لیکن وہ باز نہ آئی۔ میرے اس سے دو پھولوں جیسے بچے ہیں وہ میری رفیقہ حیات تھی۔ مگر گذشتہ رات جب اس نے آپ کی شان میں جسارت کی اور آپ ﷺ کو گالیاں دیں تو میری غیرت ایمانی جوش میں آئی اور میں اس گستاخی کو برداشت نہ کر سکا۔ چنانچہ میں نے اس کو قتل کر دیا۔ نبی کریم ﷺ نے یہ روداد سن کر فرمایا: «ألا اشهدوا إن دمها هدر» ”خبردار گواہ بن جاؤ، اس کا خون رائیگاں ہے“

مئی، جون ۲۰ء

صفحہ 78

شاتم رسول: قرآن وسنت اور اجماع اُمت کے آئینے میں

[سنن أبوداود: ۴۳۶۱ وصحح إسناده الألباني في تعليقه على سنن أبي داود]

امام ابوداؤد نے اس حدیث پر باب قائم کیا ہے: «باب الحكم فيمن سب النبي» شاتم رسول کے حکم کا بیان۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس عورت کے مسلمہ یا کافرہ ہونے کا اختلاف نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔ یہ عورت اس آدمی کی بیوی تھی یا لونڈی تھی۔ دونوں حالتوں میں اگر اس کو قتل کرنا ناجائز تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اس کی وضاحت فرماتے کہ اس کو قتل کرنا حرام ہے، اور اس کا خون معصوم ہے اور اس معصوم کے قتل کے بدلے میں کفارہ واجب کرتے۔ چنانچہ آپ کے اس قول « اشهدوا إن دمها هدر » سے معلوم ہو گیا کہ اس کا خون مباح تھا اور اس کے خون کو مباح کرنے والا جرم شان رسالت میں سب وشتم تھا۔ لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جرم سن کر اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا۔

[الصارم المسلول: ص ۳۷۲]

سنن ابوداؤد میں صحیح سند کے ساتھ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں امیر المؤمنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ایک شخص نے ان کی گستاخی کی اور سختی سے پیش آیا۔ میں نے کہا: یا خلیفۃ رسول اللہ! اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں اس گستاخ کی گردن اڑا دوں؟ راوی فرماتے ہیں۔ اس کلمہ سے ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا وہ اٹھے اور میرے پاس آ کر کہا: ابھی آپ نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: آپ اجازت دیں تو میں اس گستاخ کی گردن اڑا دوں۔ انہوں نے فرمایا: نہیں اللہ کی قسم نہیں! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بشر کی یہ شان نہیں ہے (کہ اس کی گستاخی پر کسی کو قتل کر دیا جائے)

[رقم الحدیث: ۴۳۶۳ وصححه الالبانی]

مسئلہ

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فقہاء کی ایک جماعت نے اس حدیث سے شاتم رسول کے قتل پر استدلال کیا ہے۔ جن میں سے امام ابوداؤد، اسماعیل بن اسحاق القاضی، ابوبکر عبدالعزیز اور قاضی ابویعلیٰ وغیرہ بھی ہیں، کیونکہ ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ وہ شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالیاں دے رہا ہے اور ان کی گستاخی کر رہا ہے تو ان سے اس شخص کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی جس پر امیر المؤمنین ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی گستاخی کرنے والے کو قتل کر دیا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان ہے کہ ان کی گستاخی کرنے والے کو قتل کر دیا جائے۔

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو امتیازات کا بیان ہے:

کے بعد بھی باقی ہے بلکہ زیادہ اولیٰ ہے۔

اس حدیث کے عموم سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ شاتم رسول خواہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کر دیا جائے گا۔

[الصارم المسلول: ص ۱۰۰]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ گستاخانِ رسالت کو قتل کر دینے کا حکم دیتے بلکہ اس کی ترغیب بھی دیتے تھے باوجود یکہ دیگر کفار کو بلا عذر قتل کرنے سے منع کرتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی یہی عمل تھا۔

——جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۲۹ھ——

توہین رسالت

نے اللہ اور اس مسلمہ رضی اللہ عنہ نے نبی معاملات پر گفتگو کی۔

کرتا تھا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امیر بنا دیا۔ بالآخر اللہ کے د

بچے تھے انہوں نے مجھ سے پ ہے۔ تو بچوں نے کہا: سنا ہے کہ ماریں گے۔ چنانچہ اللہ کے ان ننھے

شاتم رسول کے قتل پر اجماع

والے کو قتل کرنے پر اُمت کا اجماع

احمد، اسحاق اور امام شافعی رحمہم اللہ والا

شاتم رسول کو قتل کر دیا جائے

کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والا والا پکا کافر ہے۔ [الصارم

نے قتل کرنے سے اختلاف

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص کر

صفحہ 79

حافظ محمد مصطفی راسخ

توہین رسالت کے جرم میں نبی کریم ﷺ کے حکم پر قتل کئے جانے والے افراد

نے اللہ اور اس کے رسول کو بہت اذیت دی ہے۔ سیدنا محمد بن مسلمہ ؓ نے کہا: میں! یا رسول اللہ ﷺ! چنانچہ محمد بن مسلمہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے چند کلمات کہنے کی اجازت لے لی اور اس کے پاس جا کر صدقہ وغیرہ اور دیگر معاملات پر گفتگو کی۔ بالآخر حیلے سے اس ملعون کو توہین رسالت کے جرم میں قتل کر دیا گیا۔

[صحیح البخاری: ۴۰۳۷، صحیح مسلم: ۱۸۰۱]

کرتا تھا۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے چند انصاری لوگوں پر مشتمل جماعت تیار کی اور سیدنا عبداللہ بن عتیک ؓ کو ان کا امیر بنا دیا۔ بالآخر اللہ کے دشمن کا کام تمام ہوا اور اس کو قتل کر دیا گیا۔ [صحیح البخاری: ۴۰۳۹]

بچے تھے انہوں نے مجھ سے پوچھا۔ اے چچا جان! ابوجہل کون ہے؟ میں نے پوچھا: آپ دونوں کو اس سے کیا کام ہے۔ تو بچوں نے کہا: سنا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیتا ہے۔ اللہ کی قسم! اگر ہم نے اس کو دیکھ لیا تو سیدھی تلوار ماریں گے۔ چنانچہ اللہ کے ان ننھے منے شیروں نے اپنا وعدہ وفا کر دیا اور اس گستاخ رسول کو جہنم واصل کر دیا۔

[صحیح البخاری: ۳۱۴۱، صحیح مسلم: ۱۷۵۲]

شاتم رسول کے قتل پر اجماع

والے کو قتل کرنے پر اُمت کا اجماع ہے۔ [السیف المسلول: ص ۱۱۹]

احمد، اسحاق اور امام شافعی رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے۔

[الاجماع لابن المنذر: ص ۷۶، الصارم المسلول: ص ۹، أیضاً المسلول: ۱۱۹]

شاتم رسول کو قتل کر دیا جائے۔ [الشفاء للقاضی عیاض: ص ۲۹۱،۲۹۲]

کریم ﷺ کو گالی دینے والا، اللہ کی نازل کردہ شریعت کو ٹھکرانے والا اور انبیاء کرام میں سے کسی نبی کو قتل کرنے والا پکا کافر ہے۔ [الصارم المسلول: ص ۹، السیف المسلول: ص ۱۲۱]

نے قتل کرنے سے اختلاف کیا ہو۔ [معالم السنن للخطابی: ۱۹۹/۶]

آپ ﷺ کی تنقیص کرنے والا کافر ہے۔ اس کیلئے عذاب الہی کی وعید ہے اور اُمت کے نزدیک اس کی سزا قتل

— مئی، جون ۲۰۱۸ء —

صفحہ 80

شاتم رسول: قرآن وسنت اور اجماع اُمت کے آئینے میں ہے۔ [السیف المسلول: ص ۱۴۰]

اجماع ہے۔ جیسا کہ عام مسلمانوں کو گالیاں دینے کی سزا کوڑے مارنا ہے۔ [الصارم المسلول: ص ۹]

اس کے بعد انہوں نے اجماع صحابہ سے استدلال کرتے ہوئے شاتم رسول کے خون کو رائیگاں قرار دیا ہے کیونکہ صحابہ کرام شاتم رسول کو قتل کرنا واجب سمجھتے تھے۔ [الصارم المسلول: ص ۱۲۰]

رد شاتم

والی عورتوں کو لایا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ ان میں سے ایک نے نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی ہے جب کہ دوسری نے مسلمانوں کی ہجو کی ہے۔ چنانچہ مہاجر بن ابو امیہ گورنر یمامہ نے ان کا ایک ایک ہاتھ کاٹ دیا اور سامنے کے دو دو دانت نکلوا دیئے۔ امیر المومنین سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو علم ہوا تو انہوں نے مہاجر رضی اللہ عنہ کو مکتوب لکھا کہ اگر آپ یہ سزا نہ دے چکے ہوتے تو میں ان کو قتل کرنے کا حکم صادر کرتا۔ کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام کو گالیاں دینے کی حد عام حدود کے مشابہ نہیں ہے۔ جس مسلمان آدمی نے بھی اس جرم کا ارتکاب کیا وہ مرتد ہے اور جس ذمی نے اس جرم کا ارتکاب کیا وہ محارب ہے۔ [الصارم المسلول: ص ۲۰۸]

اس کو قتل کر دیا اور فرمایا جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ یا انبیاء کرام میں سے کسی نبی کو گالی دے اس کو قتل کر دو۔

[الصارم المسلول: ص ۲۰۹]

گالی دی تو گویا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی اور وہ مرتد ہے۔ اس سے توبہ کروائی جائے گی۔ اگر وہ توبہ کرے تو ٹھیک ہے ورنہ اس کو قتل کر دیا جائے گا اور اگر کوئی ذمی اللہ تعالیٰ یا کسی نبی کو گالی دیتا ہے تو اس کا ذمہ ٹوٹ گیا اس کو قتل کر دو۔ [الصارم المسلول: ص ۲۰۹]

اس معنی کے متعدد اقوال و آثار موجود ہیں، لیکن اجماع امت کی موجودگی میں مزید دلائل کی ضرورت نہیں ہے۔

کیا مسلمان شاتم رسول کی توبہ سے اس کی سزا قتل ساقط ہو جائے گی؟ علماء کرام کے اقوال:

ارتداد کی دو قسمیں ہیں:

میں مرتد سے توبہ کروانے کی مشروعیت کے بارے میں جمہور علماء کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ توبہ کروانے کے حکم میں اختلاف ہے کہ کیا اس سے توبہ کروانا واجب ہے یا مستحب۔ مرتد کو تین دن کی مہلت دی جائے گی اگر وہ اس مدت کے دوران توبہ کر لیتا ہے تو اسکی توبہ قبول کر لی جائے گی اور اگر توبہ نہیں کرتا تو اسکو قتل کر دیا جائے گا۔ [المغنی: ۱۰/۱۱۰]

عبید بن عمیر اور طاؤس فرماتے ہیں کہ مرتد کو قتل کر دیا جائے گا اور اس سے توبہ نہیں کروائی جائے گی۔ حسن بصری سے بھی اسی طرح کا قول منقول ہے۔

--------- جمادی الاولیٰ، الآخرہ ۱۴۳۹ھ ---------

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، مذہب جمہور کی احمد رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ کا بھی یہی جائے گی۔ توبہ کروانے کے وجوب یا ہے۔ [الصارم المسلول]

مسلمان کو قتل کر کے اس کا مال چھین لیا ہو یا ایسے مرتد شخص کی توبہ کے بارے میں مذہب کے مطابق مطلقاً اس کی توبہ قبول نہیں

جبکہ شوافع کے نزدیک اس کی تو المسلول: ص ۲۸۴] کیونکہ انہوں نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اسلام سابقہ تمام ﴿قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوا إِن يَنتَهُوا "اے نبی ﷺ! ان کافروں سے کہ لیکن اگر یہ اسی پچھلی روش کا اعادہ کر

اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «الاسلا "اسلام گزشتہ تمام گناہوں کو منہدم کر

راجح

راجح مذہب جمہور علماء کا ہے ج تفریق کی جائے۔ توبہ کر لینے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں

اور توبہ کر لینے سے قتل کی سزا پہلی قسم (ارتداد مجرد) کے ساتھ اس کے قتل کے وجوب پر دلیل قا امت موجود ہے۔ لہٰذا واضح فرق موجود نہیں ہے کہ مرتد اگر توبہ کر امت نے ارتداد کی دونوں قسموں

صفحہ 81

حافظ محمد مصطفی راسخ

امام ابن تیمیہ ؒ مذہب جمہور کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مرتد مجرد سے توبہ کروائی جائے گی۔ امام احمد ؒ اور امام مالک ؒ کا بھی یہی مذہب ہے کہ مرتد مجرد سے توبہ کروائی جائے گی اور اس کو تین دن مہلت دی جائے گی۔ توبہ کروانے کے وجوب یا استحباب کی دو روایتوں میں سے مشہور روایت یہی ہے کہ توبہ کروانا واجب ہے۔ [الصارم المسلول]

مسلمان کو قتل کر کے اس کا مال چھین لیا ہو یا دین میں سب وشتم کیا ہو وغیرہ وغیرہ۔ ایسے مرتد شخص کی توبہ کے بارے میں علماء کرام کا اختلاف ہے۔ امام مالک ؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے مشہور مذہب کے مطابق مطلقاً اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور اسلام لانے کے بعد بھی اس سے قتل کی سزا ساقط نہ ہوگی۔

[السیف المسلول، ص۳۸۳]

جبکہ شوافع کے نزدیک اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی خواہ ارتداد مجرد ہو یا ارتداد مغلظ ہو۔ [الصارم المسلول، ص۴۸۴] کیونکہ انہوں نے ارتداد کو ایک ہی جرم شمار کیا ہے اور انہوں نے کافر کی توبہ میں وارد نصوص شرعیہ سے استدلال کیا ہے کہ اسلام سابقہ تمام جرائم کو ختم کر دیتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرْ لَهُمْ مَا قَدْ سَلَفَ وَإِنْ يَعُودُوا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْأَوَّلِينَ "اے نبی ﷺ! ان کافروں سے کہو کہ اگر اب بھی باز آ جائیں تو جو کچھ پہلے ہو چکا ہے اس سے درگزر کر لیا جائے گا۔ لیکن اگر یہ اسی پچھلی روش کا اعادہ کریں گے تو گذشتہ قوموں کے ساتھ جو کچھ ہو چکا ہے وہ سب کو معلوم ہے۔"

(الأنفال: ۳۸)

اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «الإسلام يهدم ماقبله» [صحیح مسلم: ۱۴۱] "اسلام گذشتہ تمام گناہوں کو منہدم کر دیتا ہے۔"

راجح

راجح مذہب جمہور علماء کا ہے جس کی تائید امام ابن تیمیہ ؒ نے بھی کی ہے کہ ارتداد مجرد اور ارتداد مغلظ میں تفریق کی جائے۔ توبہ کر لینے سے قتل کی سزا کے ساقط ہونے کے تمام دلائل فقط ارتداد مجرد کے بارے میں ہیں۔ امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں، ارتداد کی دو قسمیں ہیں:

اور توبہ کر لینے سے قتل کی سزا کا ساقط ہو جانا ارتداد کی دونوں قسموں کے لئے عام نہیں ہے۔ بلکہ یہ حکم ارتداد کی پہلی قسم (ارتداد مجرد) کے ساتھ خاص ہے۔ جیسا کہ دلائل سے ظاہر ہوتا ہے۔ باقی رہی دوسری قسم (ارتداد مغلظ) تو اس کے قتل کے وجوب پر دلیل قائم ہو چکی ہے اور اس کو ساقط کرنے کے لئے نہ تو کوئی نص موجود ہے اور نہ اجماع امت موجود ہے۔ لہٰذا واضح فرق کی موجودگی میں قیاس کرنا متعذر ہے۔ قرآن وسنت اور اجماع میں کوئی ایسی دلیل موجود نہیں ہے کہ مرتد اگر توبہ کرے تو مطلقاً اس کو قتل کرنے کی سزا ساقط ہو جائے گی بلکہ کتاب وسنت اور اجماع امت نے ارتداد کی دونوں قسموں کے درمیان فرق کیا ہے۔

ـــــــ مئی ، جون ۰۸ء ـــــــ

صفحہ 82

شاتم رسول: قرآن وسنت اور اجماع امت کے آئینے میں

کتاب اللہ

﴿كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَ جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ أُولٰٓئِكَ جَزَاؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ أَجْمَعِينَ خَالِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُولٰٓئِكَ هُمُ الضَّالُّونَ﴾

[آل عمران: ۸۶۔۹۰]

”کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ ان کو ہدایت بخشے جنہوں نے نعمت ایمان پالینے کے بعد کفر کیا حالانکہ وہ خود اس پر گواہی دے چکے ہیں۔ کہ یہ رسول برحق ہے اور ان کے پاس روشن نشانیاں بھی آ چکی ہیں۔ اللہ ظالموں کو تو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ ان کے ظلم کا صحیح بدلہ یہی ہے کہ ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی پھٹکار ہے۔ وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے نہ ان کی سزا میں تخفیف ہوگی اور نہ ہی وہ مہلت دیئے جائیں گے۔ البتہ وہ لوگ بچ جائیں گے جو اس کے بعد توبہ کر کے اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں۔ اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ مگر جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی۔ ایسے لوگ تو پکے گمراہ ہیں۔“

ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا ہے کہ جو شخص کفر مزید کرتا ہے اس کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں کفر مجرد اور کفر مغلظ کی تفریق بھی کر دی ہے اور ان دونوں کے حکم میں فرق ہے۔ کفر مجرد کے مرتکب کی توبہ قبول ہوگی جبکہ کفر مغلظ کے مرتکب کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوگی۔ اب اگر کوئی شخص دونوں قسم کے کفر میں مطلقاً توبہ کی قبولیت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ نص قرآنی کی مخالفت کرتا ہے۔

سنت نبوی ﷺ

سنت نبوی ﷺ کا عمیق مطالعہ کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ کفر کی مذکورہ دو قسموں میں تفریق کی گئی ہے، کیونکہ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ مرتدین کی ایک جماعت کی توبہ قبول کر لی گئی جبکہ ارتداد مغلظ کے مرتکب افراد کی توبہ قبول نہیں کی گئی اور ان کو قتل کر دیا گیا۔ مثلاً فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان ہونے کے باوجود مقیس بن صبابہ کو قتل کر دیا گیا، کیونکہ اس نے ارتداد کے ساتھ ساتھ ایک مسلمان کو قتل کر کے اس کا مال چھین لیا تھا اس طرح ابن خطل کو توہین رسالت کے جرم میں معافی کی مہلت دیئے بغیر قتل کر دیا گیا۔ عرنیین کو قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح آپ نے ابن ابی السرح کو قتل کرنے کا حکم دیا، کیونکہ ان افراد نے ارتداد کے ساتھ ساتھ مزید جرائم کا بھی ارتکاب کیا تھا۔

اجماع اُمت

اُمت کا اس امر پر اجماع ہے کہ شاتم رسول اور ارتداد مغلظ کے مرتکب کو قتل کر دیا جائے گا جیسا کہ گذشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔

[الصارم المسلول: ص ۲۷۳]

شان رسالت ﷺ میں ناپاک جسارت کرنے والوں کا عبرتناک انجام

اور سورۃ آل عمران پڑھ لی وہ نبی کریم ﷺ کے لئے کتابت بھی کیا کرتا تھا۔ پس وہ مرتد ہو کر دوبارہ نصرانیت کی

------------ جمادی الاولیٰ، الآخرة ۱۴۲۹ھ ------------

صفحہ 83

حافظ محمد مصطفیٰ راسخ

طرف چلا گیا۔ وہ لوگوں میں مشہور کرتا رہتا تھا کہ: "لا یدری محمد الا ما کتب له" محمد ﷺ کچھ نہیں جانتا مگر جو میں نے اس کے لئے لکھا تھا۔ چنانچہ اس کو موت نے آن لیا۔ لوگوں نے اس کو دفن کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ اس کی لاش قبر سے باہر پڑی ہوئی ہے اور زمین نے اس کی لاش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ نصرانیوں نے کہا: یہ محمد ﷺ کے ساتھیوں کا کام ہے کہ ہمارے بھائی کی قبر کھود کر لاش کو باہر پھینک دیا ہے۔ انہوں نے انتہائی گہری قبر کھود کر اس کو دوبارہ دفن کیا لیکن زمین نے پھر اسکو باہر نکال پھینکا۔ آخر کار انہوں نے محسوس کر لیا کہ یہ کام کسی آدمی کا نہیں ہے۔ لہٰذا اس کی لاش کو بلا دفن کئے ویسے ہی پھینک دیا گیا۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس ملعون نے نبی کریم ﷺ پر جو بہتان لگایا تھا کہ محمد ﷺ کچھ نہیں جانتا مگر جو میں نے اس کے لئے لکھا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس ملعون کو ذلیل ورسوا کر دیا اور کئی دفعہ دفن کئے جانے کے باوجود زمین نے اس کی لاش کو باہر پھینک دیا۔ یہ ایک خرق عادت معاملہ ہے جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ توہین رسالت کا جرم ارتداد مجرد سے بھی بڑا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو تکلیف دینے والوں سے انتقام لینے والا ہے۔ اگر لوگ اس پر حد جاری کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔

الشفاء

میں لکھتے ہیں کہ جمال الدین ابراہیم بن محمد الطیبی نے زین الدین الربعی کو بتایا کہ مغلیہ خاندان کا ایک گورنر نصرانی ہو گیا۔ چنانچہ اس کے پاس ممتاز عیسائی پادری اور مغلیہ خاندان کے کچھ افراد حاضر ہوئے۔ حاضرین مجلس میں سے ایک بدبخت نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے لگا۔ وہاں شکاری کتا بندھا ہوا تھا۔ جب وہ انتہائی خباثت پر اتر آیا اور شان رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے لگا تو کتے نے اس ملعون پر حملہ کر دیا اور اس کو بری طرح سے زخمی کر دیا۔ حاضرین مجلس میں سے کسی نے توجہ دلاتے ہوئے کہا: کہ اس کتے نے شان رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے کی وجہ سے تیرے اوپر حملہ کیا ہے۔

اس ملعون نے کہا: ہرگز نہیں! بلکہ یہ انتہائی خود دار کتا ہے۔ اس نے مجھے اپنی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور اس نے سمجھا کہ شاید میں اس کو مارنا چاہتا ہوں۔ وہ شخص مجلس میں دوبارہ بکواسات کرنے لگا اور شان رسالت ﷺ میں ناپاک جسارت کرنے لگا۔ چنانچہ کتے نے دوبارہ اس ملعون پر وحشت ناک حملہ کیا اور اس کی ہنسلی پر دانت گاڑ دیئے اور اس کو جڑ سے اکھاڑ دیا وہ بدبخت وہیں ڈھیر ہو گیا اور جہنم واصل ہو گیا۔ اس واقعہ سے سبق لیتے ہوئے مغلیہ خاندان کے تقریباً ۴۰ ہزار افراد نے اسلام قبول کیا۔

[۳۸۶/۱]

لکھتے ہیں کہ جب سلطان شدید بیمار ہو گئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے نذر مانی۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا دی تو وہ اپنی ہمت و طاقت کو کفار کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں صرف کریں گے اور گستاخ رسول البرنس ارناط کو اپنے ہاتھ سے قتل کریں گے، کیونکہ اس ظالم نے سلطان کے ساتھ کئے گئے معاہدہ امن کو توڑ دیا تھا اور مصری کے ایک قافلے پر حملہ کر کے اس کو لوٹ لیا اور تمام اہل قافلہ کو قتل کر دیا اور بکواس کی کہ "أین محمد کم ينصركم؟" کہاں ہے تمہارا محمد ﷺ جو تمہاری مدد کو آئے؟

— مئی ، جون ۰۸ء —

صفحہ 84

شاتم رسول: قرآن وسنت اور اجماع اُمت کے آئینے میں

یہاں تک کہ ۵۸۳ھ کا سال نمودار ہوا جس میں مشہور و معروف جنگ حطین واقع ہوئی جو فتح بیت المقدس کی بشارت تھی۔ بالآخر گستاخ رسول البرنس ارناط گرفتار ہوگیا۔ جب اس کو سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے کھڑا کیا گیا تو سلطان تلوار سونت کر اس کی طرف آگے بڑھے اور کہا: ”نعم أنا أنوب عن رسول الله ﷺ في الانتصار لأمته“ ”ہاں! اُمت محمدیہ کی مدد کے لئے میں محمد رسول اللہ ﷺ کی نیابت کرتا ہوں۔“ پھر اس کو اسلام کی دعوت دی جو اس نے مسترد کر دی۔ چنانچہ سلطان نے اس ملعون کو اپنے ہاتھ سے قتل کر دیا اور اس کا سر بادشاہوں کو روانہ کر دیا اور کہا: اس ملعون نے شانِ رسالت میں ناپاک جسارت کی تھی لہٰذا میں نے اس کو قتل کر دیا ہے۔

[۳۹۴،۳۹۳/۱۲]

٭............٭............٭

انبیاء کی توہین کرنا شیطان کا کام ہے، کیونکہ شیطان نے آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کر کے حضرت آدم علیہ السلام کی توہین کی تھی۔ توہین رسالت والا شیطانی کام تاریخ انسانی میں پہلے بھی وقوع پذیر ہوتا رہا ہے۔ قرآن مجید میں رسولوں کی توہین اور ان کے ساتھ مذاق کرنے والوں کے لئے دردناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

﴿وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَأَمْلَيْتُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ﴾

[الرعد:۳۲]

”رسولوں کا اس سے پہلے بھی مذاق اڑایا جاتا رہا۔ تو میں کافروں کو ڈھیل دیتا رہا پھر میری پکڑ نے ان کو آلیا، پھر کیسا رہا میرا عذاب!“

آج مغربی ممالک نے توہین آمیز خاکے شائع کر کے انتہائی مذموم کام کیا ہے۔ ایک خاکہ جس میں نبی کریم ﷺ کے چہرہ مبارک کو (نعوذ باللہ) کراہت آمیز مشابہت دے کر آپ کی پگڑی مبارک میں ایک بم چھپایا ہوا دکھایا گیا ہے۔ یہ سراسر اللہ، اس کے رسول اور اسلام کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم ان ممالک کی مصنوعات کا مکمل طور پر بائیکاٹ کریں اور اپنی حکومت کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ ان ممالک سے سفارتی تعلقات فوری ختم کرے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے عمل و کردار اور قلم و قرطاس کے ذریعے سرور کونین کی سیرت اور اپنے احتجاج کو دور دور تک پہنچائیں۔ بینروں، سٹیکروں، مضامین، ای میل اور میڈیا کے ذریعے نبی کریم ﷺ کی سیرت کو عام کیا جائے اور توہین آمیز خاکوں کی مذمت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور توہین آمیز خاکے شائع کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ (آمین ثم آمین)

محمد رفیق زاہد دار الحدیث الجامعۃ الکمالیۃ راجووال، اوکاڑہ

مقام انبیاء

احترامِ رسل

ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا مقام رب العزت کے مقام و شان کے بعد ساری کائنات سے بڑھ تمام لوگوں سے بڑھ کر علم والے اور تمام انسانوں سے بڑھ کر خواہ ہیں۔ آپ کی رسالت و نبوت کی برکت سے ہمیں دنیا کی ہدایت و رہنمائی سے ہم کفر و شرک کے اندھیروں سے اور سنن ترمذی کی حدیث کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرما

”إِنَّ الله اصطفى من ولد إبراهيم إسماعيل من بني كنانة قريشا واصطفى من قريش بني

”اللہ تعالیٰ نے اولاد ابراہیم علیہ السلام سے اسماعیل علیہ السلام سے قریش کو اور قریش سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم سے مجھے

صحیح بخاری وصحیح مسلم ہی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ

”میری اور دیگر تمام انبیاء کرام کی مثال اس محل کی طر کی جگہ ادھوری چھوڑ دی گئی ہو، لوگ اس محل کا نظار اینٹ کی چھوڑی ہوئی جگہ دیکھ کر وہ تعجب کا اظہار کر پر کر دیا ہے اور میرے ساتھ قصر نبوت مکمل کر دیا آنے کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔“

[الرقم:

آپ ﷺ کے مقام و شان پر سنن دارمی کی اس

”آپ ﷺ نے فرمایا میں بطحاء مکہ میں تھا میر کے درمیان رہا۔ ایک نے دوسرے سے کہا کیا ایک آدمی کے ساتھ وزن کیا میں بھاری ثابت ہوا انہوں نے سو آدمیوں کے ساتھ میرا وزن کیا میں ہزار آدمیوں سے بھی بھاری رہا۔ تب ایک فرش ساتھ بھی کریں گے تو یہ ان سب سے بھی وزنی بعض لوگوں کے سامنے جب رسول ﷺ کی

٭ نائب شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور

------ جمادی الاولیٰ، الآخریٰ ۱۴۲۹ھ ------

صفحہ 85

مقام انبیاء محمد رمضان سلفی٭

احترام رسول ﷺ

ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا مقام و مرتبہ ساری خدائی اور تمام مخلوقات سے بلند ہے، اللہ رب العزت کے مقام و شان کے بعد ساری کائنات سے رسول اللہ ﷺ افضل واعلیٰ ہیں۔ آپ أعلم الناس یعنی تمام لوگوں سے بڑھ کر علم والے اور تمام انسانوں سے بڑھ کر فصیح وبلیغ اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے سب سے بڑھ کر خیر خواہ ہیں۔ آپ کی رسالت و نبوت کی برکت سے ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائی اور صراطِ مستقیم نصیب ہوا ہے اور آپ کی ہدایت ورہنمائی سے ہم کفر و شرک کے اندھیروں سے نکل کر توحید وسنت کی برکات سے محظوظ ہوئے ہیں۔ صحیح مسلم اور سنن ترمذی کی حدیث کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إن الله اصطفى من ولد إبراهيم إسماعيل واصطفى من ولد إسماعيل كنانة واصطفى من بنى كنانة قريشا واصطفى من قريش بنى هاشم واصطفانى من بنى هاشم»

”اللہ تعالیٰ نے اولادِ ابراہیم ؑ سے اسماعیل ؑ کو منتخب فرمایا اور اولادِ اسماعیل ؑ سے بنو کنانہ کو اور کنانہ سے قریش کو اور قریش سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم سے میرا انتخاب فرمایا۔“

[الرقم:۲۲۷۶، الرقم:۳۶۰۶]

صحیح بخاری وصحیح مسلم ہی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”میری اور دیگر تمام انبیاء کرام کی مثال اس محل کی طرح ہے جو بہت خوبصورت تعمیر کیا گیا ہو، لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ ادھوری چھوڑ دی گئی ہو، لوگ اس محل کا نظارہ کرنے کے لئے آئیں اور اس کی خوبصورتی پر خوش ہوں، لیکن ایک اینٹ کی چھوڑی ہوئی جگہ دیکھ کر وہ تعجب کا اظہار کریں کہ اسے پُر کیوں نہ کیا گیا۔ خبردار! اس ایک اینٹ کا خلا میں نے پُر کر دیا ہے اور میرے ساتھ قصرِ نبوت مکمل کر دیا گیا ہے۔ میں خاتم النبیین ہوں، میرے آنے سے انبیاء ورسل کے آنے کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔“

[الرقم:۳۵۳۵، الرقم:۶۵۱۳]

آپ ﷺ کے مقام و شان پر سنن دارمی کی اس حدیث سے روشنی پڑتی ہے:

”آپ ﷺ نے فرمایا میں بطحاءِ مکہ میں تھا میرے پاس دو فرشتے آئے۔ ایک زمین پر اتر آیا اور دوسرا آسمان و زمین کے درمیان رہا۔ ایک نے دوسرے سے کہا کیا یہ وہی ہے جس کی تلاش تھی، کہا ہاں، اس کا وزن کرو، انہوں نے میرا ایک آدمی کے ساتھ وزن کیا میں بھاری ثابت ہوا، پھر انہوں نے دس آدمیوں سے وزن کیا میرا پلڑا پھر بھی بھاری رہا۔ انہوں نے سو آدمیوں کے ساتھ میرا وزن کیا میں ان سے بھی وزن میں بڑھ گیا، انہوں نے ہزار کے ساتھ وزن کیا میں ہزار آدمیوں سے بھی بھاری رہا۔ تب ایک فرشتہ سے دوسرے نے کہا اگر آپ اس نبی ﷺ کا وزن پوری اُمت کے ساتھ بھی کریں گے تو یہ ان سب سے بھی وزنی ہوں گے۔“

[۴۱/۱]

بعض لوگوں کے سامنے حب رسول ﷺ کی حدیث کسی مسئلہ کے متعلق پیش کی جاتی ہے اور ائمہ اربعہ کی رائے اور

٭ نائب شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور

ــــ مئی، جون ۲۰۱۸ء ــــ

صفحہ 86

احترام رسول ﷺ

ان کا فتویٰ اس کے خلاف ہو تو ان کے لئے حدیث نبوی ﷺ کا ماننا عجیب دکھائی دیتا ہے۔ حدیث مذکور کی روشنی میں وہ یہ نہیں سمجھتے کہ آپ کے فرمان کے مقابلہ میں تو ساری اُمت کی رائے کو چھوڑ دیا جائے گا۔ آپ ﷺ کی حدیث کے مطابق ہی فتویٰ دیا جائے گا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا قول و فعل اور آپ کی حدیث تو ساری اُمت کے عوام و خواص سے بڑھ کر وزنی ہے اور آپ ﷺ کے مقام و احترام کا ہم سے یہ تقاضا ہے کہ آپ کی بات کو سب سے بلند و بالا رکھا جائے اور جان و مال سے ہر موقع پر آپ کی حمایت کی جائے اور ہر موذی سے آپ کی ذاتِ اقدس اور آپ کی بات کی حفاظت کی جائے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کے دین کو لوگوں کی نصرت و مدد سے مستغنی کیا ہے، لیکن وہ اللہ رب العزت ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو دل و جان سے میرے نبی ﷺ کے ساتھ ہے اور کون ہے جو اس کے دین کو سر بلند دیکھنے کے لئے اپنا تعاون پیش کرتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی توقیر و تعظیم

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے رسول کریم کی تعظیم کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ارشاد فرماتے ہیں:

﴿لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ﴾ [الفتح: ٩]

”تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان کی مدد اور تعظیم کرو۔“

تعزیر توقیر یہاں تعزیر اور توقیر دو لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ان دونوں میں فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”والتعزير اسم جامع لنصره وتأييده ومنعه من كل ما يؤذيه والتوقير اسم جامع لكل ما فيه سكينة وطمأنينة من الإجلال والإكرام وأن يعامل من التشريف والتكريم والتعظيم بما يصونه، عن كل ما يخرجه عن حد الوقار“

(الصارم المسلول:ص۴۲۲)

”یعنی تعزیر سے مراد آپ ﷺ کی مدد اور تائید کرنا اور ہر اذیٰ اور تکلیف دینے والے سے آپ کی حفاظت کرنا ہے اور توقیر سے مراد وہ تعظیم و تکریم ہے جو آپ کے سکون واطمینان کا باعث ہو اور تشریف و تعظیم کا آپ کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جس کے ساتھ آپ ہر خلافِ وقار حرکت سے محفوظ ہو جائیں۔“

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان فرمان باری تعالیٰ پر عمل کرنے کی انتہا کردی، وہ رسول اللہ ﷺ کے سچے شیدائی تھے اور دینِ اسلام کی ترویج و تبلیغ کی خاطر جان و مال اور اپنی اولادیں قربان کرنے والے تھے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان و عمل کو قیامت تک آنے والوں کے لئے مثال بنا دیا اور فرمایا:

﴿فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا﴾ [البقرة: ١٣٧]

”یعنی اگر یہ لوگ ویسے ایمان لائیں جیسے تم (میرے نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم) ایمان لائے ہو تو تب یہ ہدایت یافتہ ہوں گے۔“

ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے احترام رسول ﷺ اور آپ کی تعظیم و تکریم کا مشاہدہ کرنا ہو تو صلح حدیبیہ کے واقعہ کا مطالعہ کریں، جب کہ رسول اللہ ﷺ چودہ سو اور ایک روایت کے مطابق پندرہ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ۶ ہجری میں بیت اللہ کے طواف کے لئے روانہ ہوئے، مقام حدیبیہ پر آپ کو اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کفار قریش نے روک دیا، آپ ﷺ نے فرمایا ہم لڑنے نہیں آئے بلکہ عمرہ کرنے آئے ہیں۔ اس موقع پر عروہ بن مسعود ثقفی کفار قریش کی طرف

—جمادی الاولیٰ، الآخرة ۱۴۲۹ھ—

صفحہ 87

مولانا محمد رمضان سلفی

سے نمائندہ بن کر آیا اور نبی اکرم ﷺ سے گفتگو کرنے لگا، وہ جب بات کرتا تو آپ ﷺ کی داڑھی مبارک کو ہاتھ لگاتا، آپ ﷺ کے جانثار حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ آپ ﷺ کے پاس تلوار تھامے کھڑے تھے، عروہ جب بھی نبی اکرم ﷺ کی داڑھی کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو حضرت مغیرہ ؓ تلوار کا دستہ اس کے ہاتھ پر مارتے اور کہتے کہ اپنا ہاتھ نبی کریم ﷺ کی داڑھی سے پیچھے رکھ۔

اس کے بعد عروہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تعلق خاطر کا منظر دیکھنے لگا، پھر اپنے رفقاء کے پاس آیا اور بولا، اے میری قوم کے لوگو! میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے پاس گیا ہوں، بخدا میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد ﷺ کے ساتھی اس کی تعظیم کرتے ہیں۔ خدا کی قسم وہ تو محمد ﷺ کا لعاب دہن بھی زمین پر گرنے نہیں دیتے۔ آپ کا تھوک بھی ان میں سے کسی نہ کسی آدمی کے ہاتھ پر پڑتا ہے، اور وہ اسے اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتا ہے اور جب وہ کوئی حکم دیتے ہیں تو اس کی بجا آوری کے لئے سارے مستعد ہوتے ہیں اور جب محمد ﷺ وضو کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے وضو کا پانی حاصل کرنے کے لئے لوگ لڑ پڑیں گے اور جب آپ ﷺ کوئی بات کرتے ہیں تو سب اپنی آوازیں پست کر لیتے ہیں اور فرطِ تعظیم کے سبب وہ آپ کو بھر پور نظر سے نہیں دیکھتے۔ اے قریش مکہ: انہوں نے تم پر اچھی تجویز پیش کی ہے لہٰذا قبول کر لو۔

[الرحیق المختوم: ص۵۵۲]

کسی اُمتی کو رسول اللہ ﷺ کی آواز سے اپنی آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ﴾ [الحجرات:۲] ”اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کریم ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ ان سے اونچی آواز سے بات کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو کہیں (ایسا نہ ہو کہ) تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں اس کی خبر بھی نہ ہو۔“

اس آیت کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کے لئے اس ادب و احترام اور تعظیم و تکریم کا بیان ہے جو ہر مسلمان سے مطلوب ہے۔ پہلا ادب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی موجودگی میں جب تم آپس میں گفتگو کرو تو تمہاری آواز نبی ﷺ کی آواز سے بلند نہ ہو اور دوسرا ادب یہ کہ جب خود نبی ﷺ سے کلام کرو تو نہایت وقار اور سکون سے بات کرو اس طرح اونچی آواز سے کلام نہ کرو جس طرح تم آپس میں بے تکلفی سے ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہو۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو آپ کی آواز سے اپنی آواز کو اونچا کرنے اور آپ ﷺ کے ساتھ ویسے اظہار خیال کرنے سے منع کر دیا ہے جیسے وہ ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں، کیونکہ اس رفع اور جہر سے اس کے مرتکب کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں حالانکہ اسے اس کا شعور تک نہیں ہوتا اور جس چیز سے انسان کے اعمال ضائع ہوتے ہوں وہ کفر ہے جس سے احتراز انتہائی ضروری ہے۔ اس کے بعد امام صاحب نے چند قرآنی آیات پیش کر کے اعمال کے ضائع ہونے کے موقف کو ثابت کیا ہے۔

[الصارم المسلول: ص۵۴]

— مئی، جون ۲۰۱۰ء —

صفحہ 88

احترام رسول ﷺ

اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بڑا محتاط رویہ اختیار کر لیا تھا، یہاں تک کہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم جن کی آواز فطری طور پر بلند تھی انہوں نے مسجد میں آنا ترک کر دیا تا کہ گفتگو کریں تو ان کی آواز رسول اللہ ﷺ کی آواز سے بلند نہ ہونے پائے، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے نہ آنے کے بارے میں پوچھا تو ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اس کا پتہ کر کے آؤں گا، وہ صحابی ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے گھر گئے تو دیکھا کہ وہ اپنا سر جھکائے پریشان بیٹھے ہیں، وجہ پوچھی تو کہا کہ بات یہ ہے کہ میری آواز نبی ﷺ کی آواز سے بلند ہو جایا کرتی تھی، لہٰذا مجھے ڈر ہے کہیں میرے نیک اعمال ضائع نہ ہو گئے ہوں اور میں اہل نار میں سے نہ ہو جاؤں۔ وہ آدمی رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور ثابت رضی اللہ عنہ نے جو جواب دیا وہ آپ ﷺ کو بتایا تو اس وقت نبی اکرم ﷺ نے اسی آدمی کو ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی طرف بہت بڑی بشارت دے کر بھیجا۔ فرمایا جائیں ثابت رضی اللہ عنہ سے کہیں تو ہرگز اہل نار میں سے نہیں ہے بلکہ تو جنتی ہے۔

[صحیح بخاری مع الفتح: ۵۹۰/۸]

اور یہ بشارت اس لئے تھی کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بے ادبی کے ارادے سے آواز بلند نہ کرتے تھے، بلکہ ان کی آواز قدرتی طور پر ہی اونچی تھی۔

رسول اکرم ﷺ کو کسی قسم کی اذی اور تکلیف دینا باعث کفر ہے

حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے امتی کو آپ کی شان میں گفتگو کرتے ہوئے انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے اور آداب رسالت کا خیال رکھنا چاہئے۔ اس بارہ میں کسی قسم کی بے احتیاطی کفر تک پہنچا دیتی ہے۔ شانِ نبوت سے متعلق لب کشائی سے قبل الفاظ کو تول کر زبان پر لانا چاہئے۔ قول وفعل سے رسول اکرم ﷺ کو تکلیف اور اذی دینے والی چیز انسان سے صادر نہ ہونے پائے، کیونکہ یہ چیز انسان کے کفر کا سبب بن جاتی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ مِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ وَ يَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ قُلْ اُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ يُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ﴾

”یعنی ان میں سے وہ بھی ہیں جو پیغمبر کو ایذا اور تکلیف دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ وہ کان کا کچا ہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ وہ کان تمہارے بھلے کے لئے ہے وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور مسلمانوں کی بات کا یقین کرتا ہے اور تم میں سے جو اہل ایمان ہیں یہ ان کے لئے رحمت ہے جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو تکلیف اور ایذا دیتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔“

[التوبۃ: ۶۱]

منافقین نے نبی کریم ﷺ کے خلاف ایک ہرزہ سرائی یہ کی کہ یہ کان کا کچا ہے، مطلب یہ کہ ہر ایک کی بات سن لیتا ہے، یہ گویا آپ ﷺ کے حلم وکرم اور عفو و درگزر کی صفت سے ان کو دھوکہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمارا پیغمبر شر و فساد کی کوئی بات نہیں سنتا جو سنتا ہے تمہارے لئے اس میں خیر و بھلائی ہی ہے۔

نیز ارشاد الٰہی ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا﴾

”یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے نہایت رسوا کن عذاب ہے۔“

[الاحزاب: ۵۷]

—جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ—

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ”دل ذلك على أن الإیذاء المؤذی لرسول الله ﷺ كافر ”یعنی یہ بات اس چیز پر دلالت کر تی ہے کہ ایسے شخص کے لئے جہنم کی آ جو اللہ ورسول ﷺ کا دشمن اور ان کو

شاتم رسول کا قتل

شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے شاتم رسو راہویہ کا قول نقل کرتے ہوئے فرما ”أجمع المسلمون علی عز وجل أو قتل نبیا من أنبیا ”اس بات پر مسلمانوں کا اجما کسی حکم کو ردّ کرے یا انبیاء کرا احکام کا اقرار کرتا ہو۔“

[الصار

نیز فرماتے ہیں: ”إن الساب إن كان مسلم ”نبی اکرم ﷺ کو گالی دینے و نزدیک وہ قتل کیا جائے گا لہٰذا اگر احادیث و آثار کی طر مباح الدم ہے، جیسا کہ سنن اب ”ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ کی صحابی اسے اس کی بے ادب سب وشتم کیا ، اس پر صحابی والی کا خاتمہ کر دیا، جب یہ فرمایا میں اللہ تعالیٰ کی قسم وہ نابینا صحابی رضی اللہ عنہ کھڑے اللہ کے رسول ﷺ! میں اس کرتی تھی۔ میں اسے منع جیسے خوبصورت ہیں، جس اس کے پیٹ پر رکھ کر ہدر“ خبردار گواہ ر

صفحہ 89

رسالہ توحید مولانا محمد رمضان سلفی

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "دل ذلك على أن الإيذاء والمحادة كفر لأنه أخبر أن له نار جهنم خالدا فيها ... فيكون المؤذى لرسول الله ﷺ كافرا عدو الله ورسوله محاربا لله ورسوله" "یعنی یہ بات اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ ورسول ﷺ کو ایذا اور ان کی مخالفت کفر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ ایسے شخص کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ لہٰذا رسول اکرم ﷺ کو تکلیف دینے والا کافر ہوگا جو اللہ ورسول ﷺ کا دشمن اور ان کی مخالفت کرنے والا ہے۔" [الصارم المسلول علی شاتم الرسول، ص۲۷]

شاتم رسول کا قتل

شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے شاتم رسول اور آپ ﷺ کے بے ادب کو قتل کرنے پر اجماع نقل کیا ہے۔ وہ اسحاق بن راہویہ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "أجمع المسلمون على أن من سبّ الله أو سب رسوله ﷺ أو دفع شيئا مما أنزل الله عز وجل أو قتل نبيا من أنبياء الله عز وجل أنه كافر بذلك وإن كان مقرا بكل ما أنزل الله" "اس بات پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول ﷺ کو گالی دے یا اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کسی حکم کو رَدّ کرے یا انبیاء کرام میں سے کسی نبی کو قتل کرے وہ کافر ہے اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ باقی تمام احکام کا اقرار کرتا ہو۔" [الصارم المسلول، ص۴]

نیز فرماتے ہیں: "إن الساب إن كان مسلما فإنه يكفر ويقتل بغير خلاف وهو مذهب الأئمة الأربعة وغيرهم" "نبی اکرم ﷺ کو گالی دینے والا خواہ مسلمان ہو وہ اس سب وشتم سے کافر ہو جائے گا اور ائمہ اربعہ اور دیگر ائمہ کے نزدیک وہ قتل کیا جائے گا اور اس میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔" [الصارم المسلول، ص۴]

اگر احادیث و آثار کی طرف مراجعت کی جائے تو ان سے بھی یہ بات عیاں ہے، کہ شاتم رسول واجب القتل اور مباح الدم ہے، جیسا کہ سنن ابی داؤد میں عکرمہ رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ "ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ کی اُمّ ولد (لونڈی) رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی اور عیب جوئی کیا کرتی تھی وہ نابینا صحابی اسے اس کی بے ادبی سے روکتے وہ باز نہ آتی، حسب عادت اس نے ایک رات شان رسالت ﷺ میں ہجو اور سب وشتم کیا، اس پر صحابی نے کٹار لیا اور اس کے پیٹ پر رکھ دیا اور اسے ایسا دبایا کہ ...... گستاخی کا ارتکاب کرنے والی کا خاتمہ کر دیا، جب صبح ہوئی تو رسول اکرم ﷺ سے اس عورت کے قتل کا ذکر ہوا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا میں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر کہتا ہوں اور میرا اس پر حق ہے کہ جس نے یہ کام کیا ہے وہ کھڑا ہو جائے۔ اس پر وہ نابینا صحابی رضی اللہ عنہ کھڑا ہوا اور لرزتا ہوا لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا رسول کریم ﷺ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا اور کہا اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اسے قتل کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آپ کو سب وشتم کیا کرتی تھی اور آپ کی عیب جوئی کرتی تھی۔ میں اسے روکا کرتا تھا، لیکن یہ باز نہ آتی وہ میری اُمّ ولد تھی اور اس سے میرے دو بیٹے بھی ہیں جو موتیوں جیسے خوبصورت ہیں، حسب عادت گذشتہ رات وہ آپ کی شان میں بے ادبی اور سب وشتم کرنے لگی میں نے کٹار لیا اس کے پیٹ پر رکھ کر اوپر سے ایسا دبایا کہ وہ ہلاک ہوگئی۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: « ألا اشهدوا إن دمها هدر » "خبردار گواہ ہو جاؤ، اس عورت کا خون رائیگاں ہے۔" (یعنی اس کے قتل کرنے والے صحابی پر نہ قصاص ہے اور

ـــــ مئی، جون ۲۰۱۰ء ـــــ

صفحہ 90

احترام رسول ﷺ

نہ دیت)“ [رقم الحدیث: ۴۳۶۱] اسی طرح حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک یہودیہ عورت شانِ رسالت مآب میں بے ادبی اور ہجو کیا کرتی تھی ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے مار دیا تو رسول اللہ ﷺ نے مرنے والی کا خون رائیگاں کر دیا۔

[رقم الحدیث: ۴۳۶۲]

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں: "هذا الحديث نص في جواز قتلها لأجل شتم النبي ﷺ ودليل على قتل الرجل الذمي وقتل المسلم والمسلمة إذا سبا بطريق الأولى ." [الصارم المسلول، ص ۶۲] ”یہ حدیث نبی اکرم ﷺ کو سب و شتم کرنے والے مرد اور عورت کو قتل کرنے کے بارہ میں صریح ہے، جبکہ شان رسالت ﷺ میں بے ادبی کرنے والے کافر ذمیوں کو قتل کیا جاتا ہے تو جو مسلمان ہو کر شانِ نبوت میں بے ادبی اور گستاخی کرے گا وہ بطریق اولیٰ قتل کیا جائے گا۔“

یادرہے کہ یہ حکم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص ہے کہ آپ کی توہین اور گستاخی کرنے والے کو قتل کیا جائے گا، لیکن آپ کے علاوہ کسی اُمتی کی خواہ وہ صحابی کیوں نہ ہو، بے ادبی کرنے والا مباح الدم نہیں، اسے تعزیر تو دی جاسکتی ہے، لیکن قتل نہیں کیا جاسکتا، اس پر ابو برزہ ؓ کی یہ حدیث دلیل ہے، وہ کہتے ہیں: "كنت عند أبى بكر الصديق فتغيظ على رجل فاشتد عليه فقلت تأذن لي يا خليفة رسول الله أضرب عنقه؟ قال: فأذهبت كلمتى غضبه فقام فدخل فأرسل إلىَّ فقال: ما الذى قلت آنفا؟ قلت: ائذن لى أضرب عنقه قال: أكنت فاعلا لو أمرتك؟ قلت: نعم، قال: لا والله ما كانت لبشر بعد محمد ﷺ" [سنن أبى داؤد: ۴۳۶۳] ”ابو برزہ ؓ کہتے ہیں میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے پاس تھا وہ کسی شخص سے ناراض ہوئے اور سخت غصے ہوئے، میں نے کہا اے اللہ کے رسول کے خلیفہ! مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں۔ ابو برزہ ؓ کہتے ہیں میری اس بات سے ان کا غصہ جاتا رہا، وہ اندر گئے اور مجھے بلا کر کہا ابھی تو نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا آپ اجازت دیں تو میں اس آدمی کی گردن اڑا دوں۔ آپ ؓ نے فرمایا اگر میں حکم دیتا تو کیا تو اسے قتل کر دیتا، میں نے کہا، ہاں ضرور۔ آپ ؓ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اس کی بے ادبی پر کسی کو قتل کیا جائے۔“

الحاصل، رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کے بارہ میں گفتگو کرتے وقت بڑے احتیاط کی ضرورت ہے، اس بارہ میں ہر ایسا کلمہ استعمال کرنے سے گریز کیا جائے جو ادنیٰ سی بے ادبی پر بھی مشتمل ہو، کیونکہ نبی کریم ﷺ کی بے ادبی اور گستاخی کرنا کفر ہے اور اس کی سزا قتل ہے، لیکن اس قتل کا حق نہ تو عوام کو دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی مذہبی سرپرستوں کو، کیونکہ ہمارے اس خطے میں علماء و مذاہب کا باہمی بغض اور تعصب اس حد تک بڑھ گیا ہے جو انہیں حق کا فیصلہ کرنے سے مانع ہے، تعصب مذہبی کی بنا پر ایک مذہب کا عالم یا مولوی دوسرے مذہب والے کو زندہ سلامت دیکھنا گوارا نہیں کرتا ، لہٰذا ہو سکتا ہے کہ وہ ادنیٰ سی بات پر دوسرے عالم کے قتل کا فتویٰ صادر کر دے جو درحقیقت بے ادبی کے زمرے میں نہ آتی ہو اور عوام یا جاہل نوجوان جو قدم قدم پر رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کے کام کرتے ہیں اور ہر روز سنت رسول ﷺ (ڈاڑھی) مونڈ کر یا اسے کتر کر گندگی کے نالوں میں بہا کر رسول اللہ ﷺ کو ایذا اور تکلیف دیتے ہیں،

——— جمادی الاولیٰ، الآخره ۱۴۲۹ھ ———

صفحہ 91

مولانا محمد رمضان سلفی

انہیں رسول اللہ ﷺ کی بے ادبی اور گستاخی کے فیصلے کرنے یا اس پر کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، بعض دفعہ ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ مذہبی پیشوا ایسے جاہل نوجوانوں کو بے گناہوں کے پیچھے لگا دیتے ہیں جو ان کے خون بہانے کے درپے ہو جاتے ہیں، اور انہیں ان سے جان بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا گستاخئ رسول کے فیصلے اور اس پر سزا کو مذہبی سرپرستوں یا جاہل نوجوانوں کے ہاتھ میں نہیں دیا جاسکتا...... اس کے لئے ضروری ہے کہ شریعت کورٹ قائم کیا جائے جو ماہرین اور شریعت اسلامیہ کے متخصصین پر مشتمل ہو، ایسے کیس شریعت کورٹ میں دائر کئے جائیں اور علمائے شریعت ایسے کیس کی سماعت کریں اور فیصلہ دیں کہ واقعی ملزم پر گستاخی رسول اور آپ کی بے ادبی کا الزام ثابت ہے اور اس کی بات واقعی توہین رسول ﷺ کے زمرے میں آتی ہے، اگر کسی موذی پر نبی اکرم ﷺ کی توہین اور آپ کی بے ادبی کرنا ثابت ہو جائے تو شرعی عدالت کے فیصلے کے بعد اسے وہی سزا دی جانی چاہئے جو قرآن و سنت سے ثابت ہے، اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو سرور کونین ﷺ کا سچا امتی بننے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین

٭......٭......٭

توہین رسالت کرتے ہو؟

اے ظالم، جابر انسانو! اے جام نجس کے دیوانو!
اے شمع ہوس کے پروانو! اے عقل و خرد سے بیگانو!
اخلاق سے عاری نادانو! اے بے خبر، اے شیطانو!
اے کافر، مشرک فرزانو! توہین رسالت کرتے ہو؟
اس فعل شنیع کا مغرب میں ڈنمارک سے آغاز ہوا
اک ارذل، فاسق اہل قلم، بدبخت ہے، بندہ آز ہوا
تضحیک ہے جس کی خصلت میں بدخو وہ شعبدہ باز ہوا
ان سب سے کہہ دو حیوانو! توہین رسالت کرتے ہو؟
انجام کو اک دن پہنچے گی، اے مغرب والو یہ دنیا
اعمال ترازو میں ہوں گے، سب دیکھیں گے سچا جھوٹا
پھر بول اٹھے گا محشر میں، فن کار کا اک اک فن پارہ
لو اپنی خباثت پہچانو! توہین رسالت کرتے ہو؟

[گوہر ملسیانی] بشکریہ ہفت روزہ ’ایشیا‘ لاہور

مئی، جون ۲۰۰۸ء

رُشد

صفحہ 92

بصیرت

تحقیق و تنقید

عطاء اللہ صدیقی

وکیل شاتم رسول ﷺ

مولانا وحید الدین خان کے موقف کا ناقدانہ جائزہ

کفار کی طرف سے نبی رحمت ﷺ پر سب وشتم کا سلسلہ ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے اور اسی طرح علمائے اسلام نے بھی ناموس رسالت ﷺ کا بھر پور دفاع کیا اور ہر دور میں گستاخ رسول کے متعلق قتل کا فتوی صادر کرتے رہے۔ تاریخ اسلام میں شاتم رسول کے قتل کی سزا کے متعلق کسی مسلمان کا اختلاف نہیں رہا بلکہ یہ ایک اجماعی مسئلہ ہے کہ شاتم رسول کی سزا صرف اور صرف قتل ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ دور حاضر میں کچھ متجددین عقل پرستی کی دعوت کو لے کر اٹھے ہیں جن کے افکار نے اُمت مسلمہ کے اجماعی ومتفقہ مسائل جو کہ مسلمات کی حیثیت رکھتے ہیں کو اپنی دور از کار تاویلوں اور کٹ حجتیوں سے مشکوک کرنے کی مسلسل کوشش میں ہیں۔ ان مسائل میں شادی شدہ کے لیے رجم کی سزا، قتل مرتد اور قتل شاتم رسول شامل ہیں۔ انہی نام نہاد مسلمان سکالرز میں سے ایک نامور شخصیت وحید الدین خان ہیں جن کے قلم سے گاہے بگاہے مسلمانوں کے قلب چیر دینے والی تحریریں ظہور پذیر ہوتی رہتی ہیں۔ ان کی روشنائی قلم سے اہل برصغیر کے حصہ میں آنے والا ایک دھبہ ان کی کتاب ”شتم رسول کا مسئلہ“ ہے۔ جو بدنام زمانہ شخصیت سلمان رشدی کے دفاع میں لکھی گئی ہے۔ جس میں مولانا موصوف نے تاریخ اسلام سے روایات کی من مانی توجیہات سے ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل نہیں۔ یقینا ان جیسے لوگوں کی شہ پا کر کفار مسلمانوں کے شعائر پر بد زبانی کے مرتکب ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سلمان رشدی کی بکواسات کے بعد آج نبی رحمت کے ڈنمارک کی طرف سے توہین آمیز خاکے بنا دیئے گئے ہیں۔ بلکہ اس جرم پر وہ بڑی ڈھٹائی سے مصر ہیں۔ دراصل وحید الدین خان جیسے علماء اپنی تحریروں سے ان لوگوں کو سند جواز بخشتے ہیں اسلام اور شعائر اسلام انہی کو زبان حال سے گویا ہوتے ہیں:

میں اگر سوختہ ساماں ہوں تو یہ روز سیاہ
خود دکھایا ہے میرے گھر کے چراغاں نے مجھے
کوئی کافر میری تذلیل نہ کر سکتا تھا
مرحمت کی ہے یہ سوغات مسلماں نے مجھے

زیر نظر تحریر میں نامور قلم کار جناب عطاء اللہ صدیقی صاحب نے مولانا وحید الدین خان کے فریب اعتراضات وتاویلات کو براہین قاطعہ سے ھباءً منثوراً بنا دیا ہے۔ یہ تحریر محترم صدیقی صاحب نے اگرچہ مولانا وحید الدین خان کی کتاب ’مسئلہ شتم رسول‘ کے منصہ شہود پر آنے پر ماہنامہ ’محدث‘ کے لیے لکھی تھی، لیکن بوجوہ ’محدث‘ میں اس کی اشاعت نہ ہوسکی اب چونکہ حالیہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی وجہ سے عالم اسلام میں ’قتل شاتم رسول‘ کی بحث چھڑ چکی ہے اور دوسرے یہ کہ مولانا وحید الدین خان بھی اپنے موقف پر بدستور ڈٹے ہوئے ہیں کہ شاتم رسول کی سزا قتل نہیں اور اس کے ان کی اپنی کتاب ’مسئلہ شتم رسول‘ سے دیئے گئے دلائل ۲۰۰۶ء میں چھپنے والی ان کی کتاب ’مسائل اجتہاد‘ صفحہ ۲۴ پر دیکھے جاسکتے ہیں لہٰذا اس تحریر کو افادۂ عام کے لیے شائع کیا جارہا ہے تاکہ عوام الناس قتل شاتم رسول کے خلاف دیئے گئے دلائل کا جواب حاصل کرسکیں اور برصغیر کے اس نام نہاد سکالر کی کج فکری سے آگاہ ہوسکیں۔ [کامران طاہر]

—— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ——

گزشتہ چودہ صدیوں کے دوران چار ہونے والی بدبخت انسانی تھوتھنیوں کے سینے پر مشاہدے میں نہیں آئی۔ دشمنی حد تک سہی مگر، اسلام کا ظاہری غلبہ پ آخری حدوں تک کینہ وبغض کا شکار بھی رہا شام وفلسطین میں فیصلہ کن شکست کھانے ک اہانت آمیز کتابیں لکھنا شروع ہوگئے تھے جب یورپ کی مسیحی اقوام کا مشرق وسطی کی جنونی پادریوں نے اپنے قلب کی سیاہی چہروں پر لعنت کا نشان بن کر چمکتی میں کمی کی بجائے بتدریج اضافہ ہوتا گی رہے گی۔

انہی دنوں ایک دفعہ راقم الحروف حاضر ہوا۔ پال صاحب ان دنوں حکوم گرفتہ اور رنجور تھے۔ انہوں نے راقم ا مضمون میں نیازی صاحب نے شیا بدن میں آگ لگ گئی۔ میں نے تقی ا مہیا کریں۔ چونکہ میں جب تک اس کے اس وقت کے DIG جناب تنویر م کیا تھا، کیونکہ اس وقت یہ کتاب پا میں تقی الدین پال صاحب کے پاس حصوں کی نشاندہی کروں تاکہ اس پ رہے کہ ابھی تک حکومت پاکستان ن راقم الحروف نے طبیعت پر جب کرنے کے لئے کافی تھی۔ میں ج معاف کریں کہ میری زبان اس س رشدی کے بدبخت قلم سے نکلے ہ کلی کا شکار ہو کر کمرے سے باہر ن گزرتا رہا اور میری کیفیت یہ تھی

صفحہ 93

عطاء اللہ صدیقی

گذشتہ چودہ صدیوں کے دوران آفتاب رسالت ﷺ جہاں تاب پر تھوکنے کی کوشش میں ذلت و نکبت سے دو چار ہونے والی بدبخت انسانی تھوتھنیوں میں ملعون سلمان رشدی کی تھوتھنی سے زیادہ مکروہ اور ذلیل تھوتھنی کرۂ ارض کے سینے پر مشاہدے میں نہیں آئی۔ رشدی ملعون کی ہفواتی تھوتھنی اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ اس پر، اگرچہ نام کی حد تک سہی مگر، اسلام کا ظاہری 'لیبل' چپکا ہوا ہے۔ اس سے پہلے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف رذالت کی آخری حدوں تک کینہ و بغض کا شکار مسیحی جنونی پادری زبان درازیاں کرتے رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ کے دور میں شام و فلسطین میں فیصلہ کن شکست کھانے کے بعد بازنطینی مسیحی ریاست کے جنونی پادری پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف اہانت آمیز کتابیں لکھنا شروع ہو گئے تھے۔ مگر صلیبی جنگوں جو تقریباً پونے دو سو سال کے عرصہ پر محیط ہیں، کے دوران جب یورپ کی مسیحی اقوام کا مشرق وسطیٰ کی اسلامی ریاست سے طویل براہِ راست تصادم ہوا۔ اس دوران میں مسیحی جنونی پادریوں نے اپنے قلب کی سیاہیوں کو صفحۂ قرطاس پر یوں انڈیلنا شروع کیا کہ یہ سیاہی قیامت تک ان کے چہروں پر لعنت کا نشان بن کر چمکتی رہے گی۔ ان کی ظلمت مآب تحریروں سے آفتاب رسالت ﷺ کی نورانی کرنوں میں کمی کی بجائے بتدریج اضافہ ہوتا گیا۔ کائنات ابد سے ازل تک اس نورِ رسالت ﷺ کی ضیا پاشیوں کی ممنونِ کرم رہے گی۔

انہی دنوں ایک دفعہ راقم الحروف جناب جسٹس تقی الدین پال صاحب سے ان کے دفتر میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ پال صاحب ان دنوں حکومت پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ میں ایڈیشنل سیکرٹری تھے۔ وہ خلافِ معمول دل گرفتہ اور رنجور تھے۔ انہوں نے راقم کو مولانا کوثر نیازی کا مضمون پڑھنے کو دیا جو غالباً 'جنگ' میں شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں نیازی صاحب نے 'شیطانی ہفوات' کی شر انگیزی کو بے نقاب کیا تھا۔ مضمون کو پڑھنا تھا کہ راقم کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ میں نے تقی الدین پال صاحب سے گذارش کی وہ مجھے 'شیطانی ہفوات' جہاں سے بھی ہو سکے مہیا کریں۔ چونکہ میں جب تک اس کے خلاف نہیں لکھوں گا، چین نہیں پاؤں گا۔ انہوں نے مجھے سپیشل برانچ پنجاب کے اس وقت کے DIG جناب تنویر احمد صاحب کے پاس بھیجا۔ سپیشل برانچ نے اپنے ذرائع سے اس کتاب کو حاصل کیا تھا، کیونکہ اس وقت یہ کتاب پاکستان میں تقریباً ناپید تھی۔ تنویر صاحب سے 'شیطانی ہفوات' لینے کے بعد جب میں تقی الدین پال صاحب کے پاس واپس آیا تو انہوں نے مجھے ہدایت کی کہ اس کو پڑھوں اور اس کے قابلِ اعتراض حصوں کی نشاندہی کروں تاکہ اس مواد کی بنیاد پر حکومت پنجاب اس کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دے۔ یہ یاد رہے کہ ابھی تک حکومت پاکستان نے ملعون رشدی کی اس کتاب پر پابندی عائد نہیں کی تھی۔

راقم الحروف نے طبیعت پر انتہائی جبر کے ساتھ اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا۔ ہر اگلی سطر جسم و جان کو ریزہ ریزہ کرنے کے لئے کافی تھی۔ میں جب اس کتاب کو پڑھ رہا تھا، خدائے پاک سے پناہ بھی طلب کر رہا تھا کہ وہ مجھے معاف کریں کہ میری زبان اس کے محبوب پیغمبر ﷺ کے خلاف لکھے گئے ان توہین آمیز الفاظ کو دہرا رہی تھی جو ملعون رشدی کے بدبخت قلم سے نکلے تھے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ میں اس کتاب کا ایک پیراگراف پڑھتا اور پھر شدید بے کلی کا شکار ہو کر کمرے سے باہر نکل کر ٹہلنا شروع کر دیتا۔ اس طرح تمام رات میں اضطراب کے شدید ہچکولوں سے گزرتا رہا اور میری کیفیت یہ تھی کہ اگر ملعون رشدی سامنے آ جاتا تو میں اس کے ناپاک جسم کو گولیوں سے اس قدر

ـــــــ مئی، جون ۰۸ء ـــــــ

صفحہ 94

وکیل شاتم رسول ﷺ مولانا وحید الدین خان

چھلنی کر دیتا کہ اس کا وجود ہزاروں لوتھڑوں میں تقسیم ہو کر زمین پر بکھر جاتا۔ میرا ذہن تیز انگاروں پر رکھی ہانڈی کی طرح اُبل رہا تھا۔ اسی طرح توبہ واستغفار کرتے کرتے میں نے صبح ہونے تک اس ہفواتی بکواس کے متعدد پیرا گراف کو نشان زد کر لیا تھا اور ان کو ترتیب دے کر ایک نوٹ کی صورت میں اپنی رائے کے ساتھ تحریر کر لیا تھا۔ دوسرے دن میں نے اپنی تحریری رائے جناب تقی الدین پال صاحب کے حوالے کر دی۔ ایک دو روز بعد اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ حکومت پنجاب نے شاتم رسول سلمان رشدی کی کتاب 'شیطانی آیات' پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے چند دن بعد حکومت پاکستان نے بھی پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ یہ تحریری نوٹ لکھنے کے بعد بھی میرا دل اطمینان کا شکار نہ ہوا۔ میں نے ایک بے حد جذبات میں رندھا ہوا مضمون قلمبند کیا جو بعد میں ان دنوں 'نوائے وقت' میں شائع ہوا۔

آج پورے دس برس کے بعد میں ملعون رشدی کا ذکر لئے بیٹھا ہوں تو اس کی وجہ اس کی 'شیطانی ہفوات' کا مطالعہ نہیں ہے، کیونکہ اس کو پڑھنے کے بعد جب تک میں نے اسے جلا نہیں دیا تھا میرے قلب نے چین نہیں پکڑا تھا۔ ایک ہی کمرے میں 'شیطانی ہفوات' اور اس خاکپائے دربار رسالت کا قیام ناممکن تھا۔ ان سطور کا محرک بھارت کے نامور عالم دین مولانا وحید الدین خان کی کتاب 'شتم رسول کا مسئلہ' ہے۔ جس میں انہوں نے سلمان رشدی کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی مذمت کی ہے۔ رشدی ملعون تو ایک لادین، خدا کا منکر اور یہودیوں کا ایجنٹ ہے جس نے ناول کے پیرائے میں مذکورہ کتاب لکھ کر کروڑوں روپے بنائے ہیں۔ مگر مولانا وحید الدین خان وہ تو اپنے آپ کو اسلام کا مبلغ اور داعی کہتے ہیں، ان کی طرف سے سلمان رشدی کی بجائے اس کے ناقدین کو تنقید کا نشانہ بنانا ایک ایسا پریشان کن تجربہ ہے کہ جس نے ایک دفعہ دس برس پہلے والی میری اضطرابی کیفیت کے زخموں کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ میں سوچتا ہوں۔

چوں کفر از کعبہ بر خیزد کجا ماند مسلمانی

مولانا وحید الدین خان سے میں پہلی دفعہ ۱۹۸۰ء کے لگ بھگ متعارف ہوا۔ میرے ایک استاد محترم پروفیسر عبدالرؤف صاحب نے مجھے مولانا وحید الدین خان کی کتاب 'تعبیر کی غلطی' پڑھنے کو دی۔ پروفیسر صاحب کا مقصد مجھے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی فکر پر ان کے ہی ایک سابقہ رفیق کی طرف سے کی جانے والی علمی تنقید سے مجھے آگاہ کرنا تھا۔ میں نے بے حد غور سے اس کتاب کو پڑھا۔ مولانا وحید الدین خان کے استدلال نے مجھے متاثر نہ کیا۔ میرے خیال میں اس کتاب کا نام 'تنقید کی غلطی' ہونا چاہئے تھا۔ مولانا وحید الدین خان نے اپنے خلاف لکھے جانے والے مولانا مودودیؒ کے جو خطوط اس کتاب میں شامل کئے تھے، الٹا ان کا وزن میں نے محسوس کیا۔ میں نے پروفیسر عبدالرؤف صاحب کو کتاب واپس کر دی، لیکن ان کے احترام کی وجہ سے اپنی رائے کو محفوظ رکھا۔

گذشتہ اٹھارہ برسوں میں کبھی کبھار مولانا وحید الدین خان کی کوئی کتاب یا رسالہ ہاتھ لگتا تو میں اس کو پڑھ لیتا۔ مولانا وحید الدین خان کے 'مقالات' پر مشتمل ایک کتاب چند سال پہلے میری نگاہ سے گزری، جو کافی حد تک متاثر کن تھی۔ مگر ان کی فکر کے 'جوہر' نے کبھی بھی متاثر نہ کیا۔ گذشتہ کئی برسوں سے 'تذکیر' کا بڑا چرچا رہا ہے۔ پاکستان میں گذشتہ کئی برسوں سے وحید الدین خان صاحب کی فکر سے متاثر کوئی صاحب ان کے الرسالہ کو محض تذکیر کا نام

ــــــ جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ــــــ

صفحہ 95

عطاء اللہ صدیقی

دے کر شائع کر رہے ہیں۔ اس کے متعدد شمارے بھی راقم کی نگاہ سے گزرے ہیں۔ جہاد کشمیر کے متعلق مولانا وحید الدین خان کی رائے پڑھ کر بے حد دکھ ہوا۔ اور پھر حال ہی میں میرے کرم فرما زاہد سلیمان صاحب نے کتاب شتم رسول کا مسئلہ مجھے مطالعہ کے لئے دی۔ اس کتاب نے ایک دفعہ پھر میرے ذہن میں ہلچل برپا کر دی ہے۔ میں بڑے دنوں سے مولانا وحید الدین خان جیسے ایک نامور مبلغ اسلام کی طرف سے سلمان رشدی کی بالواسطہ حمایت میں لکھی گئی اس دل آزار کتاب کی کوئی تاویل اور کوئی قابل قبول محرک تلاش کرنے میں سرگرداں رہا ہوں اور وحید الدین خان صاحب کے لئے بھی کوئی مناسب ترکیب سوچتا رہا ہوں بالآخر ان کے لئے ’وکیل شاتم رسول‘ کی اصطلاح ذہن میں آئی ہے۔ مولانا صاحب کی مذکورہ کتاب کے مطالعہ کے بعد میرے خیال میں مولانا وحید الدین خان کا نام ’ندام الدین خان‘ ہونا چاہئے۔

ملعون رشدی کے ’ناول‘ کا عنوان ’شیطانی آیات‘ درحقیقت قرآن مجید کے لئے استعارہ ہے (نعوذ باللہ) قرآن مجید تو مقدس ترین الہامی کتاب ہے۔ البتہ ملعون رشدی کا ناول اسم بامسمیٰ ہے یہ درحقیقت ’شیطانی ہفوات‘ ہے۔ ایسی بکواس ایسے ملعون کی طرف سے ہی لکھی جاسکتی تھی جو اب شیطان مجسم بن کر جیتے جی لعنت مآب اور نمونہ عبرت بن چکا ہے اور موت کے بعد جہنم واصل ہو کر کائنات کی ہر جاندار مخلوق کی طرف سے قیامت تک لعنت کا مستحق ٹھہرے گا۔ ملعون رشدی نے ’شیطانی ہفوات‘ میں وجۂ کائنات، فخر موجودات، سرور کونین، اربوں مسلمانوں کے دلوں کے سرور اور آنکھوں کے نور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور ان کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے متعلق جو الفاظ تحریر کئے ہیں، بہت سے لکھنے والوں نے ان کی نشاندہی کی ہے اور ’نقل کفر کفر نہ باشد‘ کے مصداق انہوں نے امت مسلمہ کو آگاہ کرنے کا فریضہ انجام دیا ہے۔ ان ہفواتی کلمات کو دہرانا شدید ذہنی کرب اور اذیت سے کم نہیں ہے۔ میرے مضمون کا اصل موضوع بھی ’وکیل شاتم رسول‘ ہے نہ کہ ملعون شاتم رسول رشدی۔ وکیل شاتم رسول

درج ذیل سطور میں مولانا وحید الدین خان کی مذکورہ کتاب سے چند اقتباسات نقل کرنے کے بعد ان کی فکر کی ظلمتوں کی نشاندہی کی کوشش کی گئی ہے۔ مولانا موصوف کی درفطنی ملاحظہ فرمائیے:

شتم رسول کا مسئلہ کے آغاز کلام میں لکھتے ہیں:

”موجودہ زمانہ کے مسلمان نہ صرف یہ کہ دعوت کا کام نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ مسلسل دعوت کو قتل کرنے میں مشغول ہیں۔ دوسری قوموں کو سیاسی حریف سمجھنا، ان کے مقابلہ میں احتجاجی اور مطالباتی مہم چلانا، ایسے جھگڑے کرنا جس کے نتیجہ میں داعی اور مدعو کے درمیان تعلقات خراب ہو جائیں۔ وہ دعوت ونصیحت کے قائل نہیں۔ مگر ساری دنیا کے مسلمان ہر روز انہی دعوت کش سرگرمیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ اصاغر تو درکنار ان کے اکابر بھی سوچ نہیں پاتے کہ وہ ایسا کر کے اپنے خلاف خدا کے غضب کو بھڑکا رہے ہیں۔

انہیں دعوت کش سرگرمیوں میں سے ایک سرگرمی وہ ہے جو شتم رسول کے خلاف مسلمان ہر جگہ جاری کئے ہوئے ہیں۔ اور جس کا ایک نمایاں مظاہرہ سلمان رشدی کی کتاب (شیطانی آیات) کی اشاعت کے بعد ۱۹۸۹ء میں سامنے آیا ہے۔ اینٹی رشدی ایجی ٹیشن بلاشبہ لغویت کی حد تک غیر اسلامی تھا۔ اس لئے یہ مسلمانوں کے اصاغر و اکابر کے درمیان اس لئے جاری رہا کہ دعوتی شعور سے محرومی کی بنا پر انہوں نے وہ کسوٹی کھو دی تھی جس پر جانچ کر وہ معلوم کر سکیں کہ کونسی روش اسلام کے مطابق ہے اور کونسی روش اسلام کے مطابق نہیں۔

مسلمانوں کے اس داعیانہ منصب کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ہرگز کسی ایسی سرگرمی میں مبتلا نہ ہوں جو دعوت کے مزاج کے

— مئی، جون ۹۰ء —

صفحہ 96

وکیل شاتم رسول ﷺ مولانا وحید الدین خان

خلاف ہو، یا دعوت کے امکانات کو برباد کرنے والی ہو۔ اگر مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا تو یقینی طور پر وہ خدا کے یہاں مجرم قرار پائیں گے خواہ انہوں نے اپنے دعوت کش جلوس کا نام شوکت اسلام جلوس رکھ لیا ہو اور خواہ اس کی اعانت کے لئے تمام اعاظم واکابر اکٹھے ہوگئے ہوں۔

موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ اگر ذرا بھی ان کے خلاف مزاج بات کرے تو وہ فوراً مشتعل ہوکر اس سے لڑنے لگتے ہیں۔ ...... ناگوار باتوں پر مشتعل ہو جانے کی اس فہرست میں سب سے نمایاں چیز وہ ہے جس کو ’ناموسِ رسول پر حملہ‘ یا ’رسول کی شان میں گستاخی‘ جیسے جذباتی الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس نوعیت کی اگر کوئی افواہ بھی پھیل جائے تو اس کے بعد مسلمان اس طرح بھڑک کر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلام تو درکنار عقل و ہوش سے بھی ان کا دور کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

مسلمانوں کا یہ لغو مزاج صرف اس لئے ہے کہ انہوں نے دعوت کا شعور کھو دیا ہے، دوسری اقوام کو وہ اپنا قومی رقیب اور دنیوی حریف سمجھتے ہیں۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ ان کے اندر دعوتی شعور پیدا کیا جائے کہ وہ داعی ہیں اور دوسری قومیں ان کے لئے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسی سے ان کی جھوٹی جذباتیت ختم ہوگی۔ اسی سے ان کے اندر یہ حکمت آئے گی کہ وہ ناگوار باتوں سے اعراض کریں اور اشتعال انگیز باتوں پر مشتعل نہ ہوں“ [صفحہ ۷۶]

قارئین کرام! مولانا وحید الدین خان کی کتاب کے مذکورہ طویل اقتباس کا پڑھنا آپ کے لئے شاید تکلیف دہ ہو، میرے لئے اس کو نقل کرنا بھی ایک روح فرسا تجربہ سے کم نہیں ہے۔ میں نے یہ طویل اقتباس ایک ہی جگہ پر نقل کردیا ہے تاکہ اب اس پر کھل کر اظہار کیا جاسکے اور بار بار ذہن کی یکسوئی نہ ٹوٹے۔ یہ مولانا وحید الدین خان جیسے نام نہاد داعیِ اسلام کی حد درجہ گمراہ کن، ظلمت مآب اور اسلام کے متعلق بے حمیتی کے اظہار کا عظیم شاہکار ہے۔ درج ذیل نکات ہماری توجہ کے متقاضی ہیں:

براجمان ہوکر اپنے ناقدین کی آراء کو بے محابہ لغو قرار دیتے ہیں اور یہ ان کا تقریباً تکیہ کلام بن چکا ہے۔ خود ان کا اپنا حال یہ ہے کہ ان کی اپنی باتیں مبالغہ آمیز اور ان کی ’عقل پسندی‘ حد درجہ غیر حقیقت پسندانہ اور ساقط الاعتبار ہوتی ہے۔ عقلِ عام "Common Sense" یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان ’ہر روز‘ دعوت کش سرگرمیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ اس کرۂ ارض پر ایک ارب سے زیادہ مسلمان بستے ہیں۔ مولانا موصوف کا ان کے بارے میں حسنِ تخیل ملاحظہ فرمائیے جو کسی کو بھی مستثنیٰ قرار دینے کے روادار نہیں کہ وہ ’ہر روز‘ دعوت کش سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں گویا انہیں کرنے کو اور کچھ کام نہیں ہے، ایک معمولی فہم رکھنے والا فرد بھی اس ’نابغۂ عصر‘ کی رائے کی اس نامعقولیت کو بڑی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔

خوب برستے ہیں کہ انہوں نے ’دوسری قوموں کو سیاسی حریف‘ سمجھ رکھا ہے اور وہ خواہ مخواہ ’ایسے جھگڑے کھڑے‘ کرتے ہیں جن سے دوسری اقوام سے تعلقات خراب ہو جائیں، موصوف اسلامی تاریخ کے علوم کے ’قارون‘ ہیں اور اپنی دعوت کو قرآن وسنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ مگر ان کے طاقتور حافظے میں وہ قرآنی آیات قائم نہیں رہتیں یا وہ علمی بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں جس میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ

———— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ————

صفحہ 97

عطاء اللہ صدیقی

کفار مومنوں کے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے۔ یہاں تک کہ مسلمان دین اسلام چھوڑ کر ان کا دین نہ اپنا لیں اور پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تو (معاذ اللہ) خواہ مخواہ ہی ایران، فلسطین اور شام پر حملے کئے تھے؟ ایرانیوں اور رومی سلطنتوں سے ٹکر لے کر انہوں نے ’دعوت کے امکانات خراب‘ ہی کئے تھے؟ اور پھر خود رسالت مآب ﷺ جو داعی اعظم تھے، انہوں نے بھی مولانا وحید الدین خان کے ’معیار دعوت‘ کے مطابق ۲۸ غزوات میں شریک ہوکر عرب قبائل کے اسلام قبول کرنے کے امکانات کو معاذ اللہ خراب ہی کیا تھا۔ اس سے زیادہ اسلامی تاریخ سے لغو، غیر منطقی اور بھونڈا استنباط اور اسلامی دعوت کے اسلوب کا اس سے زیادہ مسخ شدہ تصور شاید ہی کسی اسلامی مبلغ نے پیش کیا ہو۔ مولانا وحید الدین خان دوسروں پر ’خدا کے غضب کو بھڑکانے‘ کا الزام لگا کر خود اسلامی تاریخ کے مستند حقائق کو اپنے خود ساختہ عقلی معیارات کے انگاروں پر رکھ کر سلگانے کے غضب انگیز فعل کے مرتکب ہوئے ہیں۔

کریم ﷺ کی تعظیم و تکریم ہی مذہب کی بنیاد ہے اور یوں اس سے محرومی مذہب سے انحراف ہے“ مگر دور جدید کا ایک بد بخت، بر خود غلط مبلغ اسلام کس دھڑلے سے کہہ رہا ہے کہ ”شتم رسولؐ کے خلاف مسلمانوں کی سرگرمی ایک ’دعوت کش‘ سرگرمی ہے اور اس کی فکری لغویت کی معراج کا بھی اندازہ کیجئے کہ وہ جذباتی تشنیع سے یہاں تک کہ جاتا ہے ”اینٹی رشدی ایجی ٹیشن بلاشبہ لغویت کی حد تک غیر اسلامی تھا“ یہ فتویٰ مولانا وحید الدین خان کے ظلمت مآب فتویٰ خانہ کی جعلی ٹکسال کا کوئی سکہ تو ہو سکتا ہے، مگر اس کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ مولانا موصوف ”شتم رسول کے خلاف سرگرمی‘ کو ’غیر اسلامی‘ قرار دینے سے پہلے اگر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ کی کتاب ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ کے علاوہ علامہ تقی الدین سبکی ؒ کی کتاب ”السیف المسلول علی من سب الرسول“ اور علامہ زین العابدین شامی ؒ کی ”تنبیہ الولاة والحکام علی أحكام شاتم خير الأنام“ اور علامہ ابن الطلاع اندلسی ؒ کی مایہ ناز تالیف ”أقضية الرسول“ کا بالاستیعاب مطالعہ فرمانے کا تردد کر لیتے تو ان پر اپنی جہالت کا انکشاف کوئی ناممکن امر نہیں تھا، لیکن انہوں نے تو اپنے مخصوص تصورات کی تبلیغ کے لئے قرآن و سنت سے محض اپنے مطلب کے ان حوالہ جات کے انتخاب کا شغل اختیار کر رکھا ہے جس سے ان کے خانہ زاد اسلام کی تائید کا پہلو نکلتا ہو۔ دور جدید میں مولانا وحید الدین خان سوئے تاویل کا میٹھا زہر گھول کر نوجوان اذہان کو متاثر کرنے کا جو فن جانتے ہیں، اس میں بہت کم لوگ ان کی ہمسری کا دعویٰ کر سکیں گے۔ اسلام میں توہین رسالت کا ارتکاب ہمیشہ ایک سنگین جرم سمجھا جاتا رہا ہے اور اس کے مرتکب کے لئے سزائے موت کا مسئلہ رسول کریم ﷺ کے دور اقدس سے لے کر آج تک ملت اسلامیہ میں کبھی بھی مختلف فیہ نہیں رہا۔ مگر ’وحید خانی فتنہ‘ کی جسارتیں ملاحظہ کیجئے کہ وہ اسے ایک ’دعوت کش‘ اور ’لغویت کی حد تک غیر اسلامی‘ قرار دینے میں کسی شرمساری کا شکار نہیں ہوتے۔

کسوٹی سے ان کا ہاتھ دھو بیٹھنا ہے جس سے وہ جانچ سکیں کہ اسلام کی روش کیا ہے۔ اگر وحید الدین خان کے نزدیک اسلام کا ’دعوتی شعور‘ یہی ہے تو پھر یقین کرنا پڑے گا کہ اس سے بڑا ’لغو‘ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ وحید خان

مئی، جون ۰۸ء

صفحہ 98

وکیل شاتم رسول ﷺ مولانا وحید الدین خان

صاحب مسلمانوں میں جس درجے کا دعوتی شعور پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے عواقب و نتائج کے اعتبار سے ایک بہت بڑا فتنہ اور ایک دین کش فتور ہے۔ ایسے دعوتی شعور کو مسلمان پائے حقارت سے ٹھکراتے ہیں کہ جو انہیں ناموسِ رسالت کے مسئلہ کے بارے میں بے غیرت و بے حمیت بنا دے اور جو رشدی جیسے ملعون شاتم رسول کے خلاف انہیں احتجاج برپا کرنے سے باز رکھے۔ اگر یہی ’دعوتی شعور‘ خدانخواستہ حضرت زبیر ؓ میں بھی پیدا ہوجاتا تو وہ کبھی ایک شاتم رسول کی گردن نہ اڑاتے۔ مصنف عبدالرزاق میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم ﷺ کو گالی دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو مجھے میرے دشمن سے بچائے“ حضرت زبیر ؓ نے کہا: ’میں‘ چنانچہ زبیر ؓ نے اسے للکارا اور قتل کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مقتول کا سامان حضرت زبیر ؓ کو دلوا دیا‘ [۵/ ۳۰۶، ۳۰۷] مولانا وحید الدین خان اگر اخلاقی جرأت رکھتے ہیں تو برملا اعلان کریں کہ حضرت زبیر ؓ کی یہ سرگرمی بھی غیر اسلامی تھی۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے بھی اس عورت کو قتل کر دیا تھا جو رسول اکرم ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ [مصنف عبد الرزاق: ۱۹۷۰۵] مسلمان فقہاء کا اجماع ہے کہ شاتمِ رسول مباح الدم (جس کا خون جائز ہو) ہے۔ مذکورہ بالا معروف کتب میں ایسے درجنوں واقعات درج کئے گئے ہیں جن میں شاتم رسول کو قتل کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ مگر ہندوستان کا ماتھا ٹیک اور اخلاقی بزدلی کا شکار، بزعمِ خویش داعیِ اسلام آج شتم رسول کی سرگرمی کو ’دعوت کش‘ اور ’غیر اسلامی‘ کہہ کر اپنی گمراہ کن فکر کا پرچار کر رہا ہے۔ مولانا وحید الدین خان کی فکر کے گمراہ ہونے کے لئے محض یہی بات ہی کافی ہے کہ وہ ناموس رسالت کے تحفظ کے بارے میں بے حمیتی کا شکار ہے۔

کرے تو وہ فوراً مشتعل ہوکر اس سے لڑنے لگتے ہیں“ بھارت کے اس عقل پرست مسلمان متجدد کی بے حسی کا کس قدر نوحہ رقم کریں۔ وہ ملعون رشدی کے معاملہ پر کتاب لکھ رہا ہے۔ مگر رشدی کی گستاخی کو ’ذرا بھی خلافِ مزاج‘ بات سمجھتا ہے۔ اگر اس نے رشدی کی کتاب پڑھی ہے اور پھر بھی اس کی رائے میں ’ذرا سی‘ بات ہے تو سمجھ لینا چاہئے

عزت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے

رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات سن کر یا گستاخی کا کوئی مظاہرہ دیکھ کر اگر کوئی مسلمان اشتعال میں نہیں آتا تو وہ بلاشبہ بے حمیت ہے۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ ”کوئی مسلمان اس وقت تک سچا مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ مجھے اپنے ماں باپ سے بھی زیادہ محبوب نہ جانے۔“ [صحیح البخاری: ۱۴] آج کے دور میں اگر ایک مسلمان حتیٰ کہ غیر مسلم اپنی ماں کے خلاف غلیظ گالیاں سنتا ہے اور پھر اس پر خاموش رہتا ہے تو اس کو بے غیرت کہا جائے گا۔ جب حضور اکرم ﷺ سے محبت ماں باپ سے محبت سے بھی زیادہ ہو تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی مسلمان آپ ﷺ کے خلاف گستاخی پر اشتعال میں نہ آئے۔ اکابر صحابہ کرام ؓ بالخصوص حضرت عمر ؓ کی سیرت مبارکہ کا مطالعہ تو ظاہر کرتا ہے کہ وہ حضور اکرم ﷺ کے خلاف معمولی سی گستاخی بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت عمر ؓ نے ایک یہودی کو محض اس بنا پر قتل کر دیا کہ اسے حضور اکرم ﷺ نے جو فیصلہ کیا تھا اس پر

----- جمادی الاولیٰ ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ -----

صفحہ 99

عطاء اللہ صدیقی

اعتماد نہیں تھا اور وہ حضرت عمرؓ سے فیصلہ کرانے آ گیا تھا۔ حضرت عمرؓ تو معمولی معمولی باتوں پر تلوار نکال لیتے تھے۔ یہ ان کی غیر متوازن جذباتیت نہیں بلکہ دینی حمیت کا اظہار تھا۔

یہاں مولانا وحید الدین خان کے فکری تضادات اور دوہرے معیارات کا پول کھولنا بھی مفید معلوم ہوتا ہے۔ موصوف ”شتم رسول کا مسئلہ“ میں لکھتے ہیں: ”ناگوار باتوں پر مشتعل ہو جانے کی اس فہرست میں سب سے نمایاں چیز وہ ہے جس کو ناموس رسول پر حملہ یا رسول کی شان میں گستاخی جیسے جذباتی الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے“۔ اور کہتے ہیں اس کا ”اسلام تو درکنار عقل و ہوش سے بھی دور کا تعلق نہیں ہے“ مگر اپنے ماہنامہ الرسالہ کے جون ۱۹۹۹ء کے شمارے میں جماعت اسلامی ہندوستان کے سینئر رکن مولانا جمیل احمد صاحب کے خط کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

”آپ نے میرے بارے میں غضب (غصہ) کی شکایت کی ہے اور یہ اشارہ فرمایا ہے کہ آپ اپنی تحریروں میں سکینت اور روحانیت کا اظہار کرتے ہیں مگر آپ کے اندر میں نے غضب کا جذبہ پایا ہے اور غضب اور روحانیت کا ایک ساتھ جمع ہونا ممکن نہیں ہے۔ میں عرض کروں گا کہ آپ کی یہ بات درست نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روحانی آدمی کے اندر غضب نہ ہونے کا تصور ایک غیر اسلامی تصور ہے وہ کوئی اسلامی تصور نہیں۔ اس معاملہ میں صحیح اسلامی تصور یہ ہے کہ آدمی کا غضب صرف حق کے لئے ہو وہ اپنی ذات کے لئے نہ ہو، اس کی تائید میں یہاں میں چند حوالے نقل کرتا ہوں: ”حضرت موسیٰ خدا کے پیغمبر تھے مگر قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر غضب کی حالت طاری ہوئی [الأعراف: ۱۵۰] اسی طرح اگر آپ حدیث کی کتابوں کو دیکھیں تو اس میں کثرت سے رسول ﷺ اور اصحاب رسول کے غضب کا ذکر ملے گا۔ اس سلسلہ میں بطور نمونہ صرف چند مثالیں یہاں نقل کی جاتی ہیں:

[صحیح مسلم، کتاب الفضائل]

[صحیح البخاری، کتاب الاذان]

[صحیح البخاری، کتاب الادب]

[صحیح البخاری، کتاب الادب]

[النسائی، کتاب الضحایا]

[مسند أحمد، ص: ۳۷، ۳۸]

کوئی صاحب عقل و دانش یقین نہیں کرے گا کہ یہ دو اقتباسات کسی ایک مصنف کے ہیں۔ مگر جو وحید الدین خان کے فکری انتشار، ذہنی خلفشار اور دوہرے معیارات سے بخوبی واقف ہیں، انہیں اس پر کوئی حیرت نہیں ہوگی۔ وحید الدین خان صاحب سوئے تاویل کے فن میں یکتا ہیں وہ ایک اونچے درجے کے گھاڑو ہیں۔ اپنی ذات میں غضب کی صفت کے دفاع کے لئے کس طرح قرآن و کتب احادیث سے دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں۔ یہاں بتا رہے ہیں کہ ایک روحانی آدمی کے اندر غضب نہ ہونے کا تصور ایک غیر اسلامی تصور ہے۔ مگر اس کائنات کی عظیم ترین ہستی کی توہین پر اگر ایک مسلمان غضب کا مظاہرہ کرتا ہے تو یہی سوئے تاویل کا بادشاہ مصنف اسے ناگوار باتوں کی فہرست میں سب سے نمایاں چیز بنا کر دکھاتا ہے۔ مولانا وحید الدین خان جو اپنے آپ کو ’عقل مجسم‘ اور اپنی ہر تاویل کو ایک ’علمی دلیل‘ کہنے پر اصرار کرتے ہیں، وہ اس فکری تضاد کے متعلق کیا ارشاد فرمائیں گے؟ ان کی دونوں باتوں میں سے ایک بات تو یقیناً غلط ہے۔ اب وہ خود ہی بتائیں کہ اول الذکر بات درست ہے یا مؤخر الذکر۔ ان کے اپنے

مئی، جون ۰۸ء

صفحہ 100

وکیل شاتم رسول ﷺ مولانا وحید الدین خان

فکری تضادات نے انہیں برصغیر پاک و ہند کا سب سے بڑا متنازعہ فیہ اور تناقض فکر میں مبتلا اسلامی سکالر بنا دیا ہے۔

زمرے میں آتی ہے۔ اگر وہ ہندوستان میں مسلمانوں کی کمزور پوزیشن کے نتیجہ میں اس اخلاقی بزدلی کا شکار ہو گئے ہیں تو انہیں اس بزدلی میں مسلمانوں کو شریک ہونے کی دعوت نہیں دینی چاہئے۔ یہ ان کے ارادہ کی پستی ہے جو انہیں دوسری اقوام سے متحارب ہونے نہیں دیتی۔ اور وہ بے حد بے شرمی سے اسے ’رسول اور اصحابِ رسول کا طریقہ‘ بھی بتلاتے ہیں۔ یہ محض ان پر الزام تراشی ہے۔ رسول اکرم کے صحابہ کا یہ طرز عمل ہرگز نہیں تھا۔ یہ جو انہوں نے مسلمانوں اور غیر اقوام میں ’داعی اور مدعو‘ کا تصور پیش کیا ہے یہ ان کا خانہ زاد تصور ہے۔ اسلام کے تصور دعوت میں ’جہاد‘ بھی ایک مستقل عمل ہے اور جہاد تصادم اور تحارب کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مسلمانوں کا جہاد بذات خود ایک دعوت ہے۔ مولانا وحید الدین خان کی سوچ پر اگر ہندوستان کے مسلمان عمل کرنا شروع کر دیں تو دو چار نسلوں کے بعد ان کی حالت وہی ہوگی جو سپین کے مسلمانوں کی ہوئی تھی۔ وہ مسلمانوں میں بزدلی، بے غیرتی اور بے حمیتی کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں جو مسلمانوں کے تشخص اور وجود کے لئے سمِ قاتل ہوگی۔ وحید الدین خان نے فرض کر رکھا ہے کہ اگر مسلمان دوسری اقوام کے خلاف عسکری جدوجہد نہیں کریں گے تو وہ خود بخود دائرہ اسلام میں شامل ہو جائیں گی۔ انہیں اس بات کی ہرگز پرواہ نہیں ہے کہ اگر مسلمان جدوجہد نہ بھی کریں تو دشمنانِ اسلام کی ریشہ دوانیاں خود بخود ختم نہیں ہو جائیں گی۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے آخر اکثریتی فرقہ کے خلاف کتنی جارحانہ کارروائیاں کی ہیں۔ انہوں نے عام طور پر صبر کا مظاہرہ کیا ہے۔ مگر اس کا نتیجہ کیا سامنے آیا ہے۔ مسلمانوں کی تاریخی بابری مسجد کو ہندو جنونیوں نے مسمار کر دیا۔ ہندو راہنما بال ٹھاکرے مسلمانوں کو بھارت چھوڑ کر نکل جانے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ وہ انہیں ہندو بنانا چاہتا ہے۔ ایسے حالات میں وحید الدین خان صاحب کا نسخہ تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ اب تو عزیمت، جرات اور جارحانہ پیش قدمی کی ضرورت ہے۔ یہی وہ ہتھیار ہیں جن سے مسلح ہو کر وہ اقلیت کے باوجود اکثریت کی مخالفانہ کارروائیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

مفروضات کو بے جا اور ان کی سوچ کو غلط اور گمراہ کن ثابت کیا ہے۔ سلمان رشدی ملعون کے خلاف احتجاج نے امریکہ، یورپ میں دعوتِ اسلام کے امکانات کو ختم نہیں کیا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان دس سالوں کے درمیان امریکہ و یورپ میں جس قدر خواتین و حضرات نے اسلام قبول کیا ہے، وہ تعداد بیسویں صدی کے دیگر نو عشروں کی اجتماعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ اسلام تیزی سے یورپ و امریکہ میں پھیل رہا ہے۔ فرانس میں اسلام دوسرا بڑا مذہب بن چکا ہے۔ بالخصوص یورپ و امریکہ کی خواتین اسلام کے آفاقی پیغام سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر رہی ہیں۔ مگر وحید الدین خان کا اسلوبِ دعوت کوئی نتائج دینے میں ناکام رہا ہے۔ وہ گزشتہ سالوں میں راشٹریہ سیوک سنگھ کے جلسوں میں شریک ہوتے رہے ہیں اور ایک بھی ہندو کو اب تک مسلمان نہیں کر سکے۔ تو پھر اس دعوت کا فائدہ اور مقصد کیا ہے۔ وحید خانی روحانیت محض ایک فراڈ، ڈھونگ اور ایک افیون ہے، اس کا اسلام کی تعلیمات سے محض نام کی حد تک م بھی بچانے کی طاقت نہیں ہے۔

وحید الدین خان نے قلمی بداخلاقی ک ہے کہ جن کا زبان پر لانا تو کجا، ایک مسلما ایسے الفاظ کو ’نقل کفر کفر نہ باشد‘ کی تاویل ک پر غور کیا ہے کہ ان الفاظ کو اپنے مضمون م لکنت طاری ہو جاتی تھی۔ مگر جب وحید ا سے دوچار ہونا پڑتا۔ وحید الدین خان ن گستاخی بھی ویسے ہی ہے جیسا کہ رسول اکر کے خیال میں جس طرح قریش مکہ کی گستا کے مسلمانوں کو رشدی کے ساتھ اعراض و قابلِ اعتراض اور مردود پہلو یہی ہے ک کرنے کے لئے تیار کرنا چاہتے ہیں بھونڈے اُصول کی بھی خود خلاف ورزی ک ہفوات کے خلاف احتجاج نہ کرتے تو ک لکھتے ہیں ”سلمان رشدی نے اپنے م یہ ہوا کہ اس کی باتیں تمام دنیا کے انسا اپنی تائید میں انہوں نے پاکستان کی ب ”توہین عقیدہ کو دہرانا بھی دینا ق خیال سے بنیاد پرست مذہبی لوگو ارتکاب کر رہے ہیں جس کا ارتکا مگر خاموشی، اعراض اور نظر اند معیار کے مطابق ”گناہ“ کا مرتکب ہ اب وحید الدین خان کی کتاب کو پ راقم الحروف نے تہیہ کیا تھا ک قلمی بدعنوانی اور رشدی کی گستاخ کرنے پر مجبور ہوا ہے۔ اے دلو کہ ان کو نقل کرنا میرے لئے کس ق

ـــــــ جمادی الاولیٰ، الآخرة ۱۴۲۰ھ ـــــــ

صفحہ 101

عطاء اللہ صدیقی

تعلیمات سے محض نام کی حد تک تعلق ہے۔ وحید خانی فکر ایک ایسا تار عنکبوت ہے جس میں کمزور سے کمزور مکھی کو بھی پھانسنے کی طاقت نہیں ہے۔

وحید الدین خان نے قلمی بداحتیاطی یہ کی ہے کہ خنزیر رشدی کے ہفواتی ناول کے ان حصوں کو بھی ہو بہو نقل کر دیا ہے کہ جن کا زبان پر لانا تو کجا، ایک مسلمان کے لئے تصور میں لانا بھی ایک اذیت ناک تجربے سے کم نہیں ہوتا اور ایسے الفاظ کو ”نقل کفر کفر نہ باشد“ کی تاویل کا سہارا لے کر بھی نقل کرنا دشوار ہوتا ہے۔ راقم الحروف نے بارہا اس بات پر غور کیا ہے کہ ان الفاظ کو اپنے مضمون میں نقل کرے یا نہیں۔ ہر بار دل کانپ اٹھتا تھا اور قلم کی زبان پر لرزش اور لکنت طاری ہو جاتی تھی۔ مگر جب وحید الدین خان کے بعد کے آنے والے ابواب پر غور کرتا تو پھر ایک ذہنی کشمکش سے دوچار ہونا پڑتا۔ وحید الدین خان نے صفحات کے صفحات یہ دکھانے کے لئے رقم کئے ہیں کہ ملعون رشدی کی گستاخی بھی ویسے ہی ہے جیسا کہ رسول اکرم ﷺ کے زمانہ میں یا بعد میں بعض گستاخان رسول کی گستاخیاں تھیں۔ اس کے خیال میں جس طرح قریش مکہ کی گستاخیوں کو رسول اکرم ﷺ نے معاف فرما دیا تھا، بالکل اسی طرح دور جدید کے مسلمانوں کو رشدی کے ساتھ اعراض کا برتاؤ کرنا چاہئے۔ راقم کے نزدیک وحید الدین خان کی کتاب کا سب سے قابل اعتراض اور مردود پہلو یہی ہے۔ وہ عام قاری کے ذہن کو منتشر کر کے اسے رشدی کے خلاف سکوت اختیار کرنے کے لئے تیار کرنا چاہتے ہیں۔ وحید الدین خان نے رشدی کی کتاب سے یہ الفاظ نقل کرتے ہوئے اپنے بھونڈے اُصول کی بھی خود خلاف ورزی کی ہے۔ وہ اپنی کتاب میں متعدد مرتبہ یہ لکھ چکے ہیں کہ اگر مسلمان رشدی کی ہفوات کے خلاف احتجاج نہ کرتے تو کوئی بھی اس کو نہ پڑھتا اور نہ ہی کسی کو علم ہوتا کہ اس نے کیا گستاخی کی ہے۔ وہ التباس لکھتے ہیں ”سلمان رشدی نے اپنے بے ہودہ خیالات صرف اپنی کتاب میں لکھے تھے مگر مسلمانوں کے شور و غل کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی باتیں تمام دنیا کے اخبارات و رسائل میں چھپیں“ [ص: ۱۴۷] مگر وہ اپنے اصول پر خود قائم نہ رہ سکے۔ اپنی تائید میں انہوں نے پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کا یہ بیان بھی درج کیا ہے:

”توہین عقیدہ کو دہرانا بھی ویسا ہی گناہ ہے جیسا بجائے خود توہین کرنا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کے مدنظر میرے خیال سے بنیاد پرست مذہبی لوگ بھی رشدی کے ناول اور اس کے قابل اعتراض موضوعات کی تشہیر کر کے اسی گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں جس کا ارتکاب رشدی نے کیا ہے۔“ [ص: ۹۹]

مگر خاموشی، اعراض اور نظر انداز کرنے کی تبلیغ کرنے والا مصنف خود ہی ان حصوں کو نقل کر کے اپنے وضع کردہ معیار کے مطابق ”گناہ“ کا مرتکب ہوا ہے۔ اُردو دان طبقہ جس نے ملعون رشدی کی کتاب کو براہ راست نہیں پڑھا تھا، اب وحید الدین خان کی کتاب کو پڑھنے کے بعد ان گستاخانہ الفاظ سے واقف ہو گیا ہے۔

راقم الحروف نے تہیہ کیا تھا کہ وحید الدین خان کی کتاب سے وہ اقتباسات نقل نہ کرے مگر وحید الدین خان کی قلمی بدعنوانی اور رشدی کی گستاخی کی سنگینی اور شدت کو واضح کرنے کے لئے مجبوراً دل پر ہاتھ رکھ کر ان الفاظ کو نقل کرنے پر مجبور ہوا ہے۔ اے دلوں کے حال جاننے والے رب! مجھے اس ”نقلِ کفر“ کے گناہ سے معاف فرما۔ تو جانتا ہے کہ ان کو نقل کرنا میرے لئے کس قدر کربناک ہے!

— مئی، جون ۹۸ء —

صفحہ 102

وکیل شاتم رسول ﷺ مولانا وحید الدین خان

اسم محمد ﷺ کی جگر پاش اہانت

سگ مغرب، ملعون رشدی نے وجہ تخلیق کائنات، امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے مقدس، منزہ و مبارک نام کے متعلق کیا انگارے برسائے ہیں؟ وحید الدین خان کے الفاظ میں:

”مصنف نے کتاب کا نام (شیطانی کلام) بطور خود اس کے اساسی کردار 'محاؤنڈ' (Mahound) کی نسبت سے استعمال کیا ہے جو کہ نعوذ باللہ حضرت محمد ﷺ کے نام کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔“ [ص: ۴۸]

”سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک توہین آمیز نام محاؤنڈ (Mahound) کا استعمال کیا ہے۔ یہ نام بلاشبہ اشتعال انگیز حد تک لغو ہے۔ انگریزی میں ہاؤنڈ کا لفظ کتے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ "Ma" انگریزی لفظ مائی "My" کا مخفف ہے۔ اس طرح محاؤنڈ کا دوسرا مطلب (نعوذ باللہ نقل کفر کفر نہ باشد) ہے: 'میرا کتا' [ص: ۴۶]

خدائے بزرگ و برتر اس خنزیر رشدی کو دین و دنیا میں رسوا کرے اور اس پر آسمان کے ستاروں اور ریت کے ذروں برابر لعنتیں برسیں جس نے اپنی مکروہ خنزیری تھوتھنی سے یہ الفاظ کائنات کی پاکیزہ ترین ہستی کے لئے استعمال کئے مگر وحید الدین خان نے اس کی سخت ترین مذمت کرنے کی بجائے اس کے وکیل صفائی کا فریضہ انجام دے کر مسلمانوں کے دلوں پر یوں خنجر چلائے ہیں:

شیطان رشدی

”پیغمبر اسلام کے لئے یہ بے ہودہ نام سلمان رشدی کی ذاتی ایجاد نہیں ہے۔ یہ صلیبی جنگوں (۱۰۹۶ تا ۱۲۷۱) کے بعد یورپ میں گھڑا گیا۔ یورپ کی مسیحی قومیں جب دو سو سالہ صلیبی جنگ میں مسلمانوں کے مقابلہ میں ناکام ہو گئیں تو انہوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کو بدنام کرنے کے لئے بہت سی پست حرکتیں کیں۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ انہوں نے آپ ﷺ کے نام کو طرح طرح سے بگاڑا۔ ایک بگڑا ہوا نام یہ لفظ (Mahound) ہے۔ مگر پچھلے سات سو سال کے اندر اس گستاخی کی بنیاد پر کسی کو بھی قتل کی سزا نہیں دی گئی اور نہ اس قسم کا فتویٰ جاری کیا گیا۔“

”سلمان رشدی نے پیغمبر اسلام کے لئے جو گستاخانہ نام 'محاؤنڈ' استعمال کیا ہے وہ صلیبی جنگوں کے بعد کے دور میں یورپ میں وضع کیا گیا۔ مگر اس وقت کے علماءِ اسلام نے یہ فتویٰ نہیں دیا کہ جن لوگوں نے یہ گستاخانہ نام وضع کیا ہے۔ انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کر دیا جائے۔“ [ص: ۴۶]

قارئین کرام! ذرا اندازہ فرمائیے وحید الدین خان کس طرح رشدی کی بھونڈی وکالت پر اتر آئے ہیں۔ وہ بالواسطہ بتانا چاہتے ہیں کہ چونکہ 'محاؤنڈ' کا لفظ ملعون رشدی کی ذاتی ایجاد نہیں ہے لہٰذا وہ سزا کا مستحق نہیں ہے، یعنی اصل سزا تو اسے دی جائے جس نے پہلی مرتبہ یہ لفظ ایجاد کیا۔ ان کے اس پست استدلال سے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کوئی کسی کو گالی نکالے تو اسے کچھ نہ کہو، فوراً تلاش کرو کہ یہ گالی ایجاد کرنے والا پہلا شخص کون تھا؟ اگر اس کی نشاندہی ہو جائے تو پھر یہ تشخیص کرو کہ آیا اسے اس 'ایجاد' پر سزا بھی ملی تھی یا نہیں؟ اگر نہیں تو پھر دوسری مرتبہ اس کی ایجاد کردہ گالی کو دہرانے والے کو خواہ مخواہ قصور وار کیوں ٹھہراتے ہو؟ 'محاؤنڈ' تو وہ غلیظ گالی ہے جسے جدید یورپ کے سنجیدہ مسیحی راہنما بھی سخت قابلِ اعتراض سمجھتے ہیں مگر وحید الدین خان کے نزدیک رشدی جو کہ ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا، اس قدر قصور وار نہیں ہے کہ اس کو سزا دی جائے۔ وہ تو بس اسے نظر انداز کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔

وحید الدین خان کا یہ مطالبہ جتنا لغو ہے اتنا عجیب بھی ہے کہ اس وقت کے علمائے صلیبی مصنفین کے بارے میں

ـــــــ جمادی الاولیٰ، الآخره ۱۴۲۹ھ ـــــــ

اگر فتویٰ دیا تھا تو پیش کرو۔ وہ چیخ چیخ کر ...... اس سلسلہ میں ہم وحید الدین خان جب کسی مسلمان عالم دین کے سامنے استعمال کیا ہے اور اس عالم دین نے ا اپنی مادری زبان میں کی تھی جس کے سگ یورپ نے رسالت مآب ﷺ آج بھی برصغیر پاک و ہند کے علماء کتاب کے علاوہ بھی کہیں پڑھا ہے یقیناً اپنی عقل کو وقتی طور پر رخصت دوسری بات یہ بھی غور طلب کے جاری کرنے کی ضرورت تو جائے۔ صلیبی جنگوں کے دوران وہ ان کی گردن اڑا دیتا۔ اگر وہ استعمال میں لاتا۔

ایک دوسرے مقام پر وحید کارروائی' اور ایک محض عام سی ”سلمان رشدی نے اپنی جس طرح بعض لوگ وہا کے لئے اس بگڑے ہو تھا..... اس مجرمانہ حرکت اللہ ﷺ کا نام اگرچہ آ رکھ دیا۔ محمد ﷺ کے معنی جناب! آپ کی عقل وہابڑا کہنے میں اور محمد ﷺ جس کا کوئی دوسرا مطلب ہے۔ یہ کوئی نام بھی نہیں سمجھی سازش کے تحت ’دیوبندئے‘ سے کوئی تو مدینہ یا مکہ کے نام کو چاہتے ہیں، کیونکہ ان

صفحہ 103

عطاء اللہ صدیقی

اگر فتویٰ دیا تھا تو پیش کرو۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ علماء نے کہاں لکھا ہے کہ انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کر دیا جائے‘ ......اس سلسلہ میں ہم وحید الدین خاں سے جواباً یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمیں تاریخ سے ڈھونڈ کر ایک مثال دکھا دیں جب کسی مسلمان عالم دین کے سامنے کسی کا نام لے کر یہ کہا گیا ہو کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کے لئے لفظ ’محاؤنڈ‘ استعمال کیا ہے اور اس عالم دین نے اس کے خلاف قتل کا فتویٰ نہ دیا ہو۔ متعصب تنگ نظر مسیحی پادریوں نے یہ بکواس اپنی مادری زبان میں کی تھی جس کے متعلق مسلمان علماء کا علم صفر تھا۔ آخر انہیں کیسے پتہ چلتا کہ سمندر پار یورپ میں کسی سگِ یورپ نے رسالت مآب ﷺ پر یہ بھونک لگائی ہے۔ جب انہیں اس کا علم نہیں تھا تو اس پر فتویٰ کیسے دیتے۔ آج بھی برصغیر پاک و ہند کے علماء کی اکثریت سے اگر سوال کیا جائے کہ انہوں نے یہ لفظ ’محاؤنڈ‘ وحید الدین خاں کی کتاب کے علاوہ بھی کہیں پڑھا ہے تو ان کا جواب نفی میں ہوگا۔ تو وحید الدین خاں کیا دیوانے ہو گئے ہیں، انہوں نے یقیناً اپنی عقل کو وقتی طور پر رخصت پر بھیج دیا ہو گا جب وہ یہ مطالبہ مسلمانوں سے تحریری طور پر کر رہے تھے۔

دوسری بات یہ بھی غور طلب ہے کہ اس طرح کی سنگین گستاخی کے لئے فتویٰ تو ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ نئے فتویٰ کے جاری کرنے کی ضرورت تو اس وقت پیش آتی ہے جب وہ مسئلہ نئے سرے سے باقاعدہ نام کے ساتھ پیش کیا جائے۔ صلیبی جنگوں کے دوران مجاہدِ اسلام صلاح الدین ایوبیؒ کو اگر علم ہو جاتا کہ کسی صلیبی نے یہ بکواس کی ہے تو وہ ان کی گردن اڑا دیتا۔ اگر وہ اس کی پہنچ سے باہر ہوتا تب بھی وہ اس کو گرفتار کرا کے قتل کرنے کے لئے تمام ذرائع استعمال میں لاتا۔

ایک دوسرے مقام پر وحید الدین خاں ملعون رشدی کی بدترین دریدہ دہنی اور شیطانی ہفوات کو ایک ’معمول کی کارروائی‘ اور ایک محض عام سی استہزا دکھا کر اس کو معاف کرنے کے لئے لغو دلیل لے آئے ہیں:

”سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں پیغمبر اسلام ﷺ کا نام ’محاؤنڈ‘ (Mahound) لکھا ہے۔ یہ ایک استہزائی نام ہے۔ جس طرح بعض لوگ وہابی کو وہابڑا اور دیوبندی کو دیوبنڈے وغیرہ کہتے ہیں، اسی طرح سلمان رشدی نے آپ ﷺ کے لئے اس بگڑے ہوئے نام کو استعمال کیا ہے جو صلیبی جنگوں کے بعد یورپ کے عیسائیوں نے آپ کے لئے گھڑا تھا...... اس مجرمانہ حرکت کی مثال بھی زمانہِ نبوت میں موجود ہے۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا نام اگرچہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے محمد ﷺ رکھا تھا، مگر مکہ کے قریش نے استہزائی طور پر آپ کا نام مُذَمَّم رکھ دیا۔ محمد ﷺ کے معنی ہیں تعریف کیا ہوا جبکہ مُذَمَّم کے معنی ہیں: مذمت کیا ہوا“

[ص: ۵۱]

جناب! آپ کی عقل ٹھکانے نہیں ہے۔ ’محاؤنڈ‘ محض ایک ’استہزائی نام‘ نہیں ہے یہ رذیل ترین گالی ہے۔ وہابی کو وہابڑا کہنے میں اور محمد ﷺ کو (نعوذ باللہ) ’محاؤنڈ‘ کہنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہابڑا ایک بگڑا ہوا مہمل لفظ ہے جس کا کوئی دوسرا مطلب نہیں ہے۔ مگر ’محاؤنڈ‘ کا مطلب آپ خود ہی لکھ چکے ہیں۔ یہ کوئی مہمل اور بے ضرر لفظ نہیں ہے۔ یہ کوئی نام بھی نہیں ہے یہ ایک گالی ہے جو یورپ کے غلیظ پادریوں نے حضور ﷺ کی سخت تحقیر کے لئے سوچی سمجھی سازش کے تحت گھڑی تھی جس کا اعتراف آپ خود کر چکے ہیں۔ نہ ہی اس کا کوئی قریبی تعلق ’دیو بند‘ کے ’دیو بندے‘ سے کوئی اشتراکِ معانی یا مفہوم بنتا ہے۔ دیو بند ایک شہر کا نام ہے۔ اگر اس طرح آپ کا مذاق اڑایا جاتا تو مدینہ یا مکہ کے نام کو بگاڑ کر آپ کو اس سے نسبت دی جاتی۔ بے حد تعجب ہے وہ اس فرق کی اہمیت کو یکسر ختم کر دینا چاہتے ہیں، کیونکہ ان کے سر پر ملعون رشدی کی صفائی کا بھوت سوار ہے جس نے ان کو قطعی طور پر مخبوط الحواس اور فاتر

—— مکتوبات جواب (۱) ص ۲۰۸ ——

صفحہ 104

وکیل شاتم رسول ﷺ مولانا وحید الدین خان

العقل بنا کے رکھ دیا ہے۔ اب وہ مختلف الفاظ اور اشیاء کے درمیان فرق مراتب قائم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں۔

وحید الدین خان نے مسلمان رہنماؤں کے خلاف لکھا ہے: ”کچھ لوگ رنگ کے اندھے (Colour blind) ہوتے ہیں، انہیں ایک رنگ دکھائی دیتا ہے اور دوسرا رنگ بالکل نظر نہیں آتا“ [ص: ۶۵]

ہمارے خیال میں اس جملے کا اصل مصداق خود وحید الدین خان سے زیادہ اور کوئی نہیں ہے۔ وہ ’محاونڈ‘ اور ’وہابڑے‘ کے درمیان کوئی امتیاز اور فرق دیکھنے کی صلاحیت سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے عقل کی اندھی آنکھ ایک رذیل ترین گالی اور ایک مہمل سے استہزائی لفظ کو ایک سطح پر دیکھتی ہے۔ ایسی صورتحال میں غالب کا یہ شعر بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے

دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

یہاں علمی اعتبار سے یہ نشاندہی ضروری ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے نام کو بگاڑ کر جو لفظ صلیبیوں نے گھڑا وہ تھا Mahomet یا Maumet آکسفورڈ ڈکشنری میں اس کی اٹھارہ شکلیں بتائی گئی ہیں۔ جیسا کہ پی کے ہٹی نے اپنی کتاب ”Islam and The West“ میں لکھا ہے: ”لفظ Mahomet خود محمد کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔“

"Mahound" تو صریحاً غلیظ اور خبیث گالی ہے۔ یہ نام محمد کی بگڑی صورت نہیں ہے۔ اسی طرح ’مذمم‘ بھی لفظ محمد ﷺ کی بگڑی ہوئی صورت نہیں ہے۔ یہ لفظ محمد ﷺ کا ہم وزن ضرور ہے مگر اس کا الگ اپنا مطلب ہے۔ اس کو بھی ’وہابی اور وہابڑے‘ جیسے لفظی بگاڑ میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ وحید الدین خان مدعی سست گواہ چست کی قابل رحم تصویر بنے ہوئے ہیں۔ خود ملعون رشدی نے ایسی کوئی بھی وضاحت اپنے بیان میں نہیں کی۔ اس نے اپنے ایک بیان میں محض اتنا کہا ”یہ کتاب مذہب اور الہام کے بارے میں ایک سیکولر آدمی کا نقطہ نظر بیان کرنے کی کوشش ہے“

[ٹائمز آف انڈیا، ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۸ء]

رشدی اور دیگر گستاخان رسول کے الفاظ کا موازنہ

رشدی بدمعاش کی طوائف القلمی اور دیگر گستاخان رسول کے جسارت آمیز الفاظ میں وہی فرق ہے جو ایک شعلۂ جوالہ اور ایک معمولی سی چنگاری میں ہوتا ہے۔ ایک چنگاری لباس کے جس حصے پر پڑے گی، تو یقیناً وہاں سوراخ کردے گی مگر ایک شعلہ جوالہ یا آگ کا بھبکا لباس کو ہی نہیں اس جسم کو بھی خاکستر کرکے رکھ دے گا، لیکن ہمارے ’ممدوح‘ وحید الدین خان نے اسلامی تاریخ سے بزعم خویش بہت سے گستاخان رسول کی فہرستیں نکال کر پیش کی ہیں، جو ان کے خیال میں رشدی کی ہی سطح کے گستاخ تھے۔ اور ان تمام افراد کو بوجوہ سزا نہ ملنے کو وہ اپنے موقف کے حق میں ’برہان قاطع‘ سمجھتے ہیں اور پھر سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ان کو معاف کردیا گیا تھا تو پھر رشدی کا جرم کون سا نرالا ہے کہ اس کے خلاف اس قدر اشتعال کا مظاہرہ کیا جارہا ہے؟ ہم اوپر وحید الدین خان کی کتاب سے ہی رشدی ملعون کی ہفوات نقل کرچکے ہیں۔ ذیل کی سطور میں انہی کے پیش کردہ دیگر گستاخان کے الفاظ اور کلمات کو درج کرتے ہیں

ــــــ جمادی الاولٰی، الاٰخرہ ۲۹ھ ــــــ

اور پھر فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیں گے کیا ایک سطح کے ہیں؟ اور پھر وحید الدی مسلمان گھرانے میں پیدا شدہ مسلم جس کی تحریر میں اس قدر کفریہ نہیں تو پھر وحید الدین خان کو اپن توبہ کرنی چاہئے۔

رسول اکرم ﷺ کی نبوت پ خان رقم طراز ہیں: ”واقعات بتاتے ہیں کہ آپ ک نہایت برا سلوک کیا۔ انہوں ن کئے۔ ان میں سے چند القاب ی مقتول، بات بنانے والا، ک پھر اس پر تبصرہ کرتے ہوے کی گستاخی کرنے والے مجر کر رہے ہیں۔“ [ص: ۴۶]

عبداللہ ابن ابی حضرت م گئی۔ عبداللہ ابن ابی کو سزا ن ﷺ کے مدینہ آنے سے پ سامنا کرنا پڑا۔ اسلامی تاری آپ اس کی تالیف قلب ف میں عبداللہ ابن ابی کا چہ پروپیگنڈہ کا بازار گرم ک ہے کہ واقعہ افک میں چ تین مسلمان تھے۔ رسو مسطح اور حمنہ بنت جحش ک کرنے کا حکم وارد نہیں ہو سے ملی۔ راقم کی نظر میں سلمان رشدی او ابن ابی کی واقعہ افک می

صفحہ 105

عطاء اللہ صدیقی

اور پھر فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیں گے کہ وہ خود ہی انصاف سے کام لیں کہ رشدی کے ہفوات اور دیگر افراد کے کلمات کیا ایک سطح کے ہیں؟ اور پھر وحید الدین خان کو بھی چیلنج کریں گے کہ وہ گذشتہ چودہ صدیوں کے دوران کسی نام نہاد مسلمان گھرانے میں پیدا شدہ 'مسلمان' تو ایک طرف، کسی مسیحی گستاخ کو تاریخ کے کونے کھدرے سے ڈھونڈ کر لائیں جس کی تحریر میں اس قدر کثرت سے رذیل الفاظ کا استعمال، اس دیدہ دلیری اور دریدہ دہنی کے ساتھ کیا گیا ہو۔ اگر نہیں تو پھر وحید الدین خان کو اپنے تجزیہ کی اس فاش غلطی پر امت مسلمہ سے معافی مانگنی چاہئے اور خداوند کے حضور توبہ کرنی چاہئے۔

رسول اکرم ﷺ کی نبوت کے ابتدائی سالوں کے دوران قریش مکہ کے سلوک کا ذکر کرتے ہوئے وحید الدین خان رقم طراز ہیں:

" واقعات بتاتے ہیں کہ آپؐ نے جب عربوں کے سامنے اپنی پیغمبرانہ دعوت پیش کی تو انہوں نے آپؐ کے ساتھ نہایت برا سلوک کیا۔ انہوں نے آپؐ کو عملی طور پر ستانے کے علاوہ آپؐ پر طرح طرح کے برے القاب چسپاں کئے۔ ان میں سے چند القاب نعوذ باللہ یہ تھے: متقول، بات بنانے والا .... ساحر، جادو گر ... مجنون، دیوانہ ... کذاب، بہت جھوٹ بولنے والا پھر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ 'جب ہم اس اعتبار سے دور اول کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قسم کی گستاخی کرنے والے غیر مسلموں کے خلاف کبھی بھی اس طرح کی کارروائی نہیں کی گئی جو موجودہ مسلمانوں نے کی یا کر رہے ہیں۔"

[ص: ۲۱، ۲۲]

① عبداللہ ابن اُبی

عبداللہ ابن اُبی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے والوں میں شامل تھا۔ تین مجرموں کو قذف کی سزا دی گئی۔ عبداللہ ابن اُبی کو سزا نہ دی گئی۔ اس کی ایک وجہ تو حضور اکرم ﷺ کی اس سے خصوصی رعایت تھی۔ حضور اکرم ﷺ کے مدینہ آنے سے پہلے وہ مدینہ کے حاکم بننے کی تیاری مکمل کر چکا تھا، جب آپؐ آ گئے تو اسے سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسلامی تاریخ کے بعض مؤرخین نے حضور اکرم ﷺ کی اسے نظر انداز کرنے کی وجہ یہی بیان کی ہے کہ آپ اس کی تالیف قلب کرنا چاہتے تھے۔ لیکن واقعہ افک میں بھی جو روایات کتب احادیث میں مذکور ہوئی ہیں۔ اس میں عبداللہ ابن اُبی کا جو گستاخانہ جملہ بیان ہوا ہے وہ اس واقعہ کے شروع میں ہے۔ ایک ماہ تک افواہوں اور پروپیگنڈہ کا بازار گرم رہا، لیکن اس دوران میں عبداللہ ابن اُبی سے منسوب کوئی بات روایت نہیں ہوئی۔ دوسری بات یہ ہے کہ واقعہ افک میں ملوث عبداللہ ابن اُبی کے علاوہ کل چھ افراد کے نام بیان کئے گئے ہیں۔ ان میں تین منافق اور تین مسلمان تھے۔ رسول اکرم ﷺ نے تین منافقوں پر قذف کی حد لاگو نہ کی جبکہ تین مسلمانوں مثلاً حسان بن ثابت، مسطح اور حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہم پر نافذ کی گئی۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس وقت تک قذف کی حد منافقین پر لاگو کرنے کا حکم وارد نہیں ہوا تھا۔ اس اعتبار سے واقعہ افک میں عبداللہ ابن اُبی کو جو رعایت ملی وہ اس کے منافق ہونے کی وجہ سے ملی۔ راقم کی نظر میں یہ رائے راجح ہے۔

سلمان رشدی کی غلیظ ہفوات کو محض 'بے ہودہ، لغو وغیرہ' کہنے پر اکتفا کرنے والے وحید الدین خان نے عبداللہ ابن اُبی کی واقعہ افک میں گستاخی کو تفصیل کے ساتھ متعدد مقامات پر بیان کیا اور اسے 'شدید ترین گستاخی' کہا ہے۔

مئی ، جون ۲۰۱۰ء

صفحہ 106

وکیل شاتم رسول ﷺ مولانا وحید الدین خان

وحید الدین خان نے اس کے علاوہ عبداللہ ابن ابی کی دو اور گستاخیوں کو بھی نقل کیا ہے۔ ایک موقع وہ تھا جب غزوہ بنی مصطلق (سن ۵ ہجری) سے واپسی پر ایک چشمہ پر پانی لینے کے لئے ایک مہاجر اور ایک انصاری آپس میں لڑ گئے۔ رسول اکرم ﷺ نے مداخلت فرما کر اس مسئلہ کو ختم کر دیا۔ البتہ اس موقع پر عبداللہ ابن ابی نے اپنے قبیلہ کے لوگوں کے سامنے اشتعال انگیز تقریر کی۔ اس نے کہا ’’خدا کی قسم، اگر ہم مدینہ واپس پہنچ گئے تو عزت والا ذلت والے کو وہاں سے نکال دے گا‘‘ [ص: ۱۴۶] اگرچہ عبداللہ ابن ابی کی اس بات کا اشارہ حضور اکرم ﷺ اور تمام مہاجرین کی طرف تھا، مگر غور کیا جائے تو عبداللہ ابن ابی نے اپنے اس جملہ میں کسی کا نام نہ لیا تھا اور اس کا بالخصوص نام نہ لینا بھی حکمت خداوندی تھا۔ اللہ پاک نے اس منافق کی زبان سے واقعی ایک سچی بات نکلوائی تھی، کیونکہ مدینہ پہنچنے کے بعد عزت والوں نے ذلت والوں کو نکال دیا۔ مسلمانوں کو خدا نے عزت عطا کی۔ یہود اور منافقین مدینہ کے نصیب میں بدترین ذلت آئی۔

ایک اور واقعہ یوں نقل کیا گیا ہے کہ ایک دن رسول خدا ﷺ حضرت سعد ؓ بن عبادہ کی عیادت کرنے جا رہے تھے، راستہ میں عبداللہ ابن ابی کا قلعہ نما مکان تھا، وہاں اس کے پاس اس کے قبیلہ کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ وہاں سواری سے اتر پڑے اور عبداللہ ابن ابی کے پاس پہنچ کر اس کو سلام کیا۔ آپ ﷺ تھوڑی دیر وہاں بیٹھے اور قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا۔ عبداللہ ابن ابی بے پروائی کے ساتھ چپ چاپ سنتا رہا۔ جب آپ فارغ ہو چکے تو عبداللہ ابن ابی نے کہا:

’’اے شخص! آپ کی یہ بات تو اچھی ہے، لیکن اگر وہ حق ہے تو آپ ﷺ اپنے گھر میں بیٹھیں اور جو شخص اس کو سننے کے لئے آپ ﷺ کے پاس آئے اس کو سنائیں اور جو شخص آپ ﷺ کے پاس نہ آئے تو اس کو آپ ﷺ تکلیف نہ دیں اور ایسے شخص کی مجلس میں اس کا ذکر نہ کریں جو اس کو ناپسند کرتا ہو۔ رسول اللہ ﷺ کو عبداللہ ابن ابی کا یہ قول سخت ناگوار ہوا مگر آپ خاموشی سے بڑھ کر آگے بڑھ گئے۔‘‘

[ص: ۱۴۵]

بلاشبہ یہ گستاخانہ کلمات تھے اور واقعہ بنی مصطلق کے بعد عبداللہ ابن ابی کی تقریر سے مشتعل ہو کر حضرت عمر ؓ نے رسول اکرم ﷺ سے اسے قتل کرنے کی اجازت بھی طلب کی تھی مگر آپ ﷺ نے اس کی اجازت یہ کہہ کر نہ دی کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ عبداللہ ابن ابی منافقین کا سردار تھا، اس کے قبیلے کے خاصے لوگ سچے مسلمان تھے، جو قبائلی قیادت میں اس کو سردار مانتے تھے۔ علاوہ ازیں اسکی سرگرمیاں زیادہ تر خفیہ تھیں، سامنے آ کر مسلمانوں کی مخالفت کی اسے جرأت نہ تھی۔ جنگ اُحد میں عبداللہ ابن ابی اپنے تین سو آدمیوں کے ساتھ مسلمانوں کے لشکر سے الگ ہو گیا تھا مگر واقعات بتاتے ہیں کئی مواقع پر اس نے خلوص سے مسلمانوں کا ساتھ بھی دیا تھا۔

جنگ اُحد کے بعد بھی وہ لشکر اسلام میں شامل ہوتا رہا۔ غالباً رسول خدا ﷺ اس کی اسی نیم دلانہ حمایت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس سے درگزر کی پالیسی اپناتے رہے۔ اس کے جملے گستاخانہ تھے مگر ملعون رشدی کی ننگی گالیوں کے مقابلے میں وہ ’بے حد نرم‘ کہے جاسکتے ہیں۔ اگر عبداللہ ابن ابی وہی کلمات کہتا جو ملعون رشدی نے کہے تو پھر اس بات کا قطعاً کوئی امکان نہ تھا کہ اسے معاف کر دیا جاتا، اس کی گردن اس طرح کی پہلی گستاخی پر ہی اُڑا دی جاتی۔ عبداللہ ابن ابی نے قرآنی آیات کو سن کر ناگواری کا اظہار کیا تھا مگر ملعون رشدی نے پورے قرآن مجید کو ’شیطانی آیات‘ کا نام دے کر شدید اہانت کا ارتکاب کیا۔ اور خود وحید الدین خان لکھ چکے ہیں:

------------- جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ -------------

’’اس سے بھی زیادہ لغویات یہ ہے کہ قرار دینے کی کوشش کی جائے۔‘‘

③ ھند کی گستاخی

ہند ابوسفیان کی بیوی تھی، فتح مکہ کی ہجو کیا کرتی تھی۔ وحید الدین خان مذمماً یعنی: ’’محمد ﷺ مذمت کئے ہوئے کے دین سے بغض ہے۔‘‘ نوٹ: وحید الدین خان نے اس نے نام نہیں لیا تھا اگرچہ اس

④ ذوالخویصرہ کی گستاخی

وہ بنو تمیم قبیلے کا ایک شخص ذوالخویصرہ نے کہا: ’’میں نے جو کے جو محرکات و مضمرات بتائے جو الفاظ ادا کئے، ظاہری طور پر ذوالخویصرہ ایک سادہ لوح کے دوران حضور اکرم ﷺ نے تالیف قلب اکثر فرمایا کرتے عظیم مصلحتوں کے پیش نظر کے ضمن میں لکھا ہے: ’’غزوۂ ہوازن کے بعد پڑے اور اسلام قبول کر مگر ذوالخویصرہ جیسے مال غنیمت سے مساوی ت پاس کھڑا ہو گیا اور دیکھ بات کی۔ اگر اس کے ف کہ وہ یہ بات زبان سے ’’مذکورہ مسلمان ( معنوں میں صرف آپ ﷺ کی عدا

ماہنامہ السنۃ

صفحہ 107

عطاء اللہ صدیقی

”اس سے بھی زیادہ لغو بات یہ ہے کہ اس کی بنیاد پر پورے قرآن مجید کو کلام خداوندی کی بجائے نعوذ باللہ کلام شیطانی قرار دینے کی کوشش کی جائے۔“

[ص: ۴۳]

② ہند کی گستاخی

ہند ابوسفیان کی بیوی تھی، فتح مکہ پر یہ ایمان لے آئی تھیں۔ مگر اس سے پہلے شاعری کے ذریعے رسول اکرم ﷺ کی ہجو کیا کرتی تھی۔ وحید الدین خان نے سیرت ابن ہشام کے حوالہ سے ہند کے یہ ہجویہ اشعار نقل کئے ہیں:

مذمما عصینا ....... وآمرہ أبینا ....... ودینہ قلینا

یعنی: ”محمد ﷺ مذمت کئے ہوئے ہیں ....... ہم ان کا انکار کرتے ہیں ....... ہم ان کے حکم کو نہیں مانتے ....... اور ہم کو ان کے دین سے بغض ہے۔“

[ص: ۱۳۵]

نوٹ: وحید الدین خان نے ”محمد ﷺ“ کے لفظ کا اپنی طرف سے ترجمہ میں اضافہ کر دیا ہے۔ ہند کے اشعار میں اس نے نام نہیں لیا تھا اگرچہ اس کا اشارہ آپ ﷺ کی طرف ہی تھا۔

③ ذوالخویصرہ کی گستاخی

وہ بنو تمیم قبیلے کا ایک شخص تھا، جنگ حنین کے بعد جب رسول خدا ﷺ غنیمت کا مال تقسیم فرما رہے تھے تو ذوالخویصرہ نے کہا: ”میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے عدل کیا ہو“ وحید الدین خان نے ذوالخویصرہ کے ان الفاظ کے جو محرکات و مضمرات بتائے ہیں وہ قطعی طور پر ان کے اپنے ذہن کے ساختہ پرداختہ ہیں۔ اگرچہ ذوالخویصرہ نے جو الفاظ ادا کئے، ظاہری طور پر اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے عدل سے مطمئن نہ تھا۔

ذوالخویصرہ ایک سادہ لوح نو مسلم تھا۔ وہ رسالت مآب ﷺ کی صحبت میں زیادہ نہ رہا تھا۔ مال غنیمت کی تقسیم کے دوران حضور اکرم ﷺ نے بعض افراد کو ان کی تالیف قلب کے لئے کچھ زیادہ مال عطا کیا۔ آپ ﷺ اس طرح کی تالیف قلب اکثر فرمایا کرتے تھے، مثلاً فتح مکہ اور غزوۂ ہوازن میں بھی آپ ﷺ نے ایسا معاملہ فرمایا اور یہ دین کی عظیم مصلحتوں کے پیش نظر تھا اور واقعی اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔ جیسا کہ وحید الدین خان نے سہیل بن عمرو کے ضمن میں لکھا ہے:

”غزوۂ ہوازن کے بعد آپ نے ان کو ایک سو اونٹ تالیف قلب کے طور پر دیئے۔ اس عطیہ کے بعد وہ بالکل ڈھلے پڑے اور اسلام قبول کر کے رسول اللہ کے ساتھی بن گئے۔“

[ص: ۱۵۵]

مگر ذوالخویصرہ جیسا سادہ لوح بدو دین کی ان مصلحتوں کو نہیں سمجھتا تھا۔ وہ عدل کا مفہوم دو جمع دو یا پھر ہر فرد کو مال غنیمت سے مساوی حصہ کا عطا کیا جانا سمجھتا تھا۔ جب آپ ﷺ مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے وہ آپ ﷺ کے پاس کھڑا ہو گیا اور دیکھتا رہا۔ [ص: ۱۶۰] اس نے جب دیکھا کہ سب لوگوں کو برابر حصہ نہیں مل رہا تو اس نے مذکورہ بات کی۔ اگر اس کے ذہن میں وہ بات ہوتی جس کا ذکر وحید الدین خان نے کیا ہے تو اغلب امکان اس بات کا ہے کہ وہ یہ بات زبان سے نہ نکالتا۔ مگر وحید الدین خان اس واقع کو Play up کر کے اس پر یوں تبصرہ کرتے ہیں:

”مذکورہ مسلمان (ذوالخویصرہ) کے معاملہ پر غور کیجئے۔ اس نے خدا کے رسول ﷺ کی شان میں جو گستاخی کی وہ سادہ معنوں میں صرف ایک لفظی گستاخی نہ تھی، وہ خود آپ کی حیثیت رسالت پر ضرب لگانے کے ہم معنی تھی۔ اس شخص نے آپ ﷺ کی عدالت پر شبہ کیا تھا اور آپ ﷺ کو اپنے خیال کے مطابق غیر عادل بتایا تھا۔ یہ بات انتہائی حد تک سنگین

ـــ مئی، جون ۲۰۰۸ء ـــ

صفحہ 108

وکیل شاتم رسول ﷺ مولانا وحید الدین خان

ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی حیثیت قرآن کے راوی کی ہے۔ ایسی حالت میں مذکورہ تمیمی مسلمان کا آپ ﷺ کو غیر عادل بتانا گویا آپ کے راوی قرآن ہونے کی حیثیت کو مشتبہ قرار دینا ہے۔ یہ بلاشبہ سب سے زیادہ سخت بات ہے جو آپ ﷺ کے خلاف کہی جاسکتی ہے۔ مذکورہ شخص نے اتنی سنگین بات کہی، اس کے باوجود اس کو نہ کوئی سزا دی گئی اور نہ ہی اس کو قتل کیا گیا۔ کیا اس کے بعد بھی اس میں شبہ کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی بجائے خود کوئی واجب القتل جرم نہیں ہے۔‘‘

[ص: ۱۶۱، ۱۶۲]

وحید الدین خان نے جو نتیجہ اس واقعہ پر تبصرہ کرنے کے بعد نکالا ہے وہ محض پہلے سے بنا بنایا اور گھڑا گھڑایا (Pre-postrous) ہے۔ جس غلط فہمی کا شکار ذوالخویصرہ جیسا غیر معروف، نو مسلم، سادہ لوح بدو ہوا تھا، اس طرح کی غلط فہمی اس طرح کے آدمی سے غیر متوقع نہیں ہے، کیونکہ اپنی آنکھوں سے وہ مال غنیمت کی غیر مساوی تقسیم دیکھ رہا تھا اور تربیت کے مراحل سے نہیں گزرا تھا۔ اس طرح کی غلط فہمی تو فتح مکہ کے بعد بہت سے جید انصاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی ہوئی تھی۔ فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ نے ابوسفیان اور دیگر مکہ کے سرداروں کی تالیف قلب کے لئے انہیں مالِ غنیمت سے بیش بہا مال دیا جن کا بعض انصار نے اثر قبول کیا۔ ان میں سے بعض نے تو برملا اس کا اظہار بھی کیا۔ ایسے ہی موقع پر حضور اکرم ﷺ کا وہ مشہور ارشاد مبارک ہے جس نے انصار صحابہ کو رُلا کر رکھ دیا اور رقت قلبی سے ان کی چیخیں نکل گئیں اور انہوں نے اس بدگمانی پر توبہ کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

’’اے گروہ انصار! کیا آپ کو یہ گوارا نہیں کہ اہل مکہ تو اموال لے جائیں اور آپ کے ساتھ اللہ کا رسول چلا جائے ۔‘‘

تعجب کا معاملہ ہے کہ وحید الدین خان نے بے چارے ذوالخویصرہ کی اس سادہ لوحی پر مبنی گستاخی کو تو سنگین ترین بتلا کر باقاعدہ وہ من چاہا نتیجہ بھی نکال لیا ہے جس کو درست ثابت کرنے کے لئے انہوں نے ۱۹۲ صفحہ کی کتاب ”شتم رسول کا مسئلہ“ لکھ ماری۔ مگر اس کتاب میں کہیں بھی اس نے ملعون رشدی کی گستاخی کو ”سنگین ترین“ نہیں لکھا۔ بلکہ زیادہ سے زیادہ اسے اشتعال انگیز حد تک لغو لکھا ہے۔

ذوالخویصرہ کی مذکورہ گستاخی اور ملعون رشدی کی ہفوات میں کوئی مقابلہ نہیں ہے مگر وحید الدین خان مصر ہیں کہ یہ دونوں گستاخیاں ایک ہی مرتبے کی ہیں۔ علمی بد دیانتی کو اگر اپنا ”مذہب“ بنا لیا جائے تو پھر منطق کے نام پر ایسی یاوہ گوئیاں غیر متوقع نہیں رہتیں۔

۴ عکرمہ بن ابوجہل کو معافی ملنے کی وجہ

وحید الدین خان نے رسول اللہ ﷺ کے ابتدائی مخالفین میں عکرمہ بن ابوجہل کا ذکر بے حد تفصیل سے کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ فتح مکہ سے پہلے وہ رسول اکرم ﷺ کا سخت مخالف تھا اور اپنے باپ ابوجہل کے ساتھ تھا۔ گستاخی اور جارحیت کی کوئی قسم نہ تھی جو اس نے آپ ﷺ کے خلاف اختیار نہ کی ہو۔ غزوہ اُحد میں وہ مشرک فوج کے میسرہ کا سردار تھا۔ فتح مکہ کے بعد وہ مکہ کو چھوڑ کر یمن کی طرف بھاگ گئے۔ ان کی بیوی جو مسلمان ہوگئی تھی۔ وہ یمن جا کر باصرار انہیں واپس لے آئیں۔ وہ انتہائی شرمساری کے ساتھ اپنا سر جھکائے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور پوچھا: کیا مجھے امان ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں، تم کو امان ہے۔ آخر کار انہوں نے کلمہ شہادت ادا کر کے اسلام قبول کر لیا..... عکرمہ نے ہر جرم رسول اللہ ﷺ کے خلاف کیا تھا بظاہر وہ اس قابل تھے کہ انہیں قتل کر دیا جائے مگر رسول اللہ ﷺ قاتل نہیں تھے، داعی تھے، آپ ﷺ نے انہیں یکطرفہ طور پر معاف کر دیا۔

[ص: ۱۵۸، ۱۶۰]

———— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۲۹ھ ————

صفحہ 109

عطاء اللہ صدیقی

وحید الدین خان کتاب کا پیٹ بھرنے کے لئے ایسے واقعات بھی لکھتے چلے گئے ہیں جن کا موضوع بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عکرمہ کا معاملہ درحقیقت عسکری مخالفت کا تھا۔ وہ کفار مکہ کے سب سے بڑے سردار یعنی ابو جہل کا بیٹا تھا۔ جنگ لڑنا ایک بہادرانہ فعل ہے چاہے وہ کسی بھی طرف سے لڑی جائے۔ جنگی بہادروں کو مخالف بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ آج بھی کسی فوج کا سپہ سالار گرفتار ہو جائے، اسے فوراً قتل نہیں کیا جاتا۔ بلکہ بالعموم بعض شرائط کے ساتھ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جنگ بدر کے بعد ۷۰ کفار کو رسول اللہ ﷺ نے گرفتار کرنے کے بعد معاف کر دیا تھا۔ فتح مکہ کے بعد ابوسفیان جس نے مسلمانوں کے خلاف غزوہ احد میں کفار کی قیادت کی تھی، آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ جو کوئی ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے گا، اسے امان دے دی جائے گی۔ اس طرح کی وسعت ظرفی کا اظہار ہمیشہ مخالفین کو متاثر کرنے کا باعث بنتا ہے۔ جیسا کہ وحید الدین خان نے لکھا ہے کہ عکرمہ کے جرم میں ’گستاخی اور جارحیت‘ دونوں چیزیں شامل تھی۔ مگر جارحیت کا پلہ بھاری تھا اور یہ عسکری جارحیت تھی۔ عکرمہ ایک انتہائی بہادر سپہ سالار تھے۔ اسلام لانے کے بعد انہوں نے اسلامی لشکر کی قیادت کرتے ہوئے بہادری کے عظیم کارنامے سرانجام دیئے تھے۔ آپ ﷺ کے سامنے عکرمہ کا یہ پہلو بھی چھپا ہوا نہیں تھا۔ اسی لئے جب یمن سے ان کی بیوی انہیں واپس لائیں تو بقول وحید الدین خان: ”عکرمہ جب آپ ﷺ کے پاس پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نہایت خوش ہو کر ان کی طرف تیزی سے بڑھے حتی کہ آپ کی چادر آپ ﷺ کے اوپر سے گر پڑی۔“

[ص: ۱۵۹]

اس کے علاوہ چند اور وجوہات بھی تھیں جن کی بنا پر عکرمہ کو معافی کا مستحق ٹھہرایا گیا اور ان کا ذکر خود وحید الدین خان کی کتاب میں موجود ہے۔ وہ یہ تھیں:

اصول کے تحت انہیں دے دی گئی۔

رہے ہیں۔ وحید الدین خان کی کتاب کا درج ذیل اقتباس ملاحظہ ہو:

”اسلام قبول کرنے کے بعد عکرمہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: ”میں آپ سے ایک چیز طلب کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم طلب کرو میں تمہیں ضرور وہ چیز دوں گا۔ عکرمہ نے کہا: میری آپ سے درخواست ہے کہ ہر دشمنی جو میں نے آپ کے ساتھ کی ہے یا پھر وہ رکاوٹ جو میں نے آپ کے راستہ میں ڈالی ہے، ہر وہ لڑائی جو میں نے آپ کے خلاف لڑی ہے، ہر وہ بدکلامی جو میں نے آپ کے منہ پر کی ہے، آپ کے پس پشت کی ہے، ان سب کو آپ معاف کر دیں اور ان کے بارے میں اللہ سے میرے لئے استغفار فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فوراً ہی ان کے حق میں یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ ! ہر وہ عداوت جو عکرمہ نے میرے ساتھ کی، ہر وہ سرگرمی جو انہوں نے اس ارادہ سے کی کہ تیرے نور کو بجھا دیں، ان سب کو تو ان کے لئے معاف کر دے اور وہ سب کچھ جو انہوں نے میری بے آبروئی کے لئے کیا، خواہ میرے سامنے کیا ہو یا میرے پس پشت، ان سب کو تو ان سے معاف کر دے۔“

[ص: ۱۵۹]

اب بتائیے اس طرح کی شرمساری اور ندامت کے ساتھ پیش ہونے والے ایک نوجوان بہادر سردار عکرمہ اور ملعون رشدی میں کیا مماثلت ہے۔ جو اپنی حرامزدگی اور دریدہ دہنی پر شرمسار تو کجا، الٹا نخوت، ڈھٹائی اور سرکشی میں مبتلا ہے۔ دس سال گزرنے کے بعد آج تک اس نے ایک بھی حرفِ ندامت ادا نہیں کیا۔ عکرمہ تو خوش قسمت تھے کہ

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 110

وکیل شاتم رسول ﷺ مولانا وحید الدین خان

رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ان کو معافی مل گئی تھی۔ اگر وہ ایک دو سال اور معافی نہ طلب کرتے تو رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ یا کسی اور مسلمان نے انہیں ہرگز معافی نہیں دینی تھی۔ ملعون رشدی جناب رسول اللہ ﷺ کا شاتم اور مجرم ہے اسے مسلمان معافی کیسے دے سکتے ہیں۔ وہ ایک بزدل، کمینہ، گھٹیا اور پوچ انسان ہے، اس کا موازنہ عکرمہ جیسے عسکری سپہ سالار سے کرنا وحید الدین خان کا حوصلہ ہی ہوسکتا ہے۔ جو ہر معاملے میں عقل پر مبنی و استدلال طلب کرنے کے عادی ہیں۔ عکرمہ کے واقعات سے جو انہوں نے نتیجہ اخذ کیا ہے اس پر خود علوم منطق کو نوحہ خواں ہونا چاہئے۔

⑤ طائف کے سفر کے دوران آپ ﷺ کو ملنے والی اذیت

وحید الدین خان نے رسول اکرم ﷺ کے طائف کے سفر کا ذکر تین صفحات میں پھیلایا ہے اور طائف کے سرداروں نے جو آپ ﷺ کے ساتھ برا سلوک اور گستاخی کی اس کا مفصل تذکرہ کیا ہے اور پھر بتایا ہے کہ طائف کے قبیلہ بنو ثقیف سے ہی بعد میں لوگ اسلام لائے۔ بالخصوص محمد بن قاسم ؒ جس نے سندھ فتح کیا، وہ بھی اسی قبیلہ سے تھا۔ اگر طائف کے روز آپ ﷺ فرشتے کی پیش کش کو قبول کر لیتے تو اہل طائف کا نام و نشان مٹ جاتا۔ یہاں وحید الدین خان اگلی نسلوں تک انتظار کی سرخی جماتے ہیں۔ [ص: ۱۵۶ تا ۱۵۸]

طائف کا اذیت ناک واقعہ آپ ﷺ کو اس وقت پیش آیا جب اسلام میں ابھی چند لوگ ہی داخل ہوئے تھے۔ یہ طائف کے لوگوں کی طرف سے اجتماعی گستاخی تھی۔ اگر آپ پسند کرتے تو فرشتہ کو اس قوم کو تباہ کرنے کی اجازت دے کر ان کی گستاخی پر سبق سکھا سکتے تھے مگر اس میں یہ خدشہ تھا کہ مجرموں کے ساتھ بے قصور لوگ بھی پس جاتے۔ اجتماعی گستاخی اور انفرادی سب وشتم میں بہت فرق ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں کسی بھی قوم یا قبیلے کو اجتماعی مخالفت، جارحیت یا گستاخی پر سزا نہیں دی گئی۔ جن جن واقعات میں گستاخان رسول کو قتل کیا گیا وہ انفرادی سب وشتم کے واقعات تھے۔ اور ایسے افراد مسلسل اس سب وشتم کا ارتکاب کرتے رہے۔ طائف کے واقعہ اور رشدی کے ہفوات میں قطعاً کوئی مماثلت نہیں ہے۔ رشدی انفرادی گستاخی کا مرتکب ہوا ہے اور اس کی کتاب کے مسلسل ایڈیشن کا چھپنا اسکی گستاخانہ حرکت کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے وہ ہر اعتبار سے شتم رسول کی سزا میں موت کا مستحق ہے۔

⑥ رسول اکرم ﷺ کو ابتر کہنا

العاص بن وائل قدیم مکہ کا ایک مشرک سردار تھا، وہ آپ ﷺ کو ابتر یعنی لاوارث ہونے کا طعنہ دیتا تھا، کیونکہ آپ ﷺ کی نرینہ اولاد کوئی نہیں تھی۔ وہ لوگوں سے کہتا کہ انہیں چھوڑ دو، تو ایک ابتر شخص ہیں ان کے بعد ان کا کوئی وارث نہیں۔ جب وہ ختم ہوں گے تو ان کا ذکر بھی ختم ہوجائے گا۔ وحید الدین خان اس پر تبصرہ کرتے ہیں:

”یہ واضح طور پر شتم رسول کا واقعہ تھا۔ اب اس کا جواب یہ نہیں تھا کہ عاص بن وائل اور اسی طرح کے دوسرے لوگوں کو قتل کر دیا جائے۔“

عاص بن وائل ایک کافر شخص تھا اور اس نے جس وقت یہ بات کی تھی وہ رسول اکرم ﷺ کی زندگی کا مکی دور تھا۔ ابھی اسلامی نظام قائم نہیں ہوا تھا۔ لوگوں پر اسلام کی تعلیمات کی عظمت بھی واضح نہیں ہوئی تھی۔ بھلا چودہ سو سال کے بعد کے رشدی ہفوات اور حضور اکرم ﷺ کی نبوت کے پہلے چند سال کے واقعات کو برابر قرار دے کر شتم رسول کی

--- جمادی الاولیٰ ، الآخرة ۱۴۲۹ھ ---

سزا کی مخالفت کرنا پرلے درجہ کی مضحکہ خیزی جاسکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وحید الدین خاں وہ سوئے تاویل سے کام لے کر اس معاملے رکھا ہے کہ وہ لوگ جو سلمان رشدی کے قت درگزر پر یقین نہیں رکھتے۔ اسی لئے وہ ایس تعلق نہیں ہے۔ اب وہ معمولی معمولی ب دیکھیں کہ فلاں نے یہ کہا، فلاں نے یہ ک اپنی حکمت بالغہ کے پیش نظر بعض افراد کو بھی گستاخی اس درجہ میں نہیں تھی جیسا ک تمام اس قبیل کے گستاخ تھے۔

حضور اکرم ﷺ کی معاف کردہ

رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سے بعض کو معافی عطا کی گئی اور وہ مرتکب ہوئے تھے۔ ان بدبخت لو درمیان قتل کیا گیا۔ کعب بن زہ ہوگئے۔ یہ تمام گستاخ شعراء تھے مدینہ آئے اور آپ سے معافی م ذات کے متعلق گستاخی کا ارتکاب یہ تجزیہ راہنمائی فراہم کرتا ہے:

”جب آپ ﷺ کا حق ہو میں آپ ﷺ عموماً معافی آپ ﷺ کا کوئی حق نہ ہو جب دیکھتے کہ کوئی شخص ا قتل کا مستحق ہے مگر آپ ہے۔ ساتھ ہی اسے یہ اسے قتل کرڈالتا تو آپ لئے لیا ہے۔ لہٰذا اس فیصلے پر راضی نہ تھا۔“

رسول ﷺ اور موسس

صفحہ 111

عطاء اللہ صدیقی

سزا کی مخالفت کرنا پرلے درجہ کی مضحکہ خیز منطق نہیں تو اور کیا ہے۔ پھر ابولہب اور رشدی کی ہفوات کا موازنہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وحید الدین خان کو یا تو مسئلہ زیر غور کی سنگینی اور شدت کا احساس نہیں یا پھر جان بوجھ کر وہ سوئے تاویل سے کام لے کر اس معاملے میں گمراہ کرنے کے مشن پر نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے فرض کر رکھا ہے کہ وہ لوگ جو سلمان رشدی کے قتل کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ رسول اکرم ﷺ کی شخصیت کی رحم دلی اور عفو و درگزر پر یقین نہیں رکھتے۔ اسی لئے وہ ایسے واقعات کا انبوہ کثیر جمع کر چکے ہیں جن کا رشدی کے معاملہ سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب وہ معمولی معمولی باتیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر بے حد واہیات طریقہ سے استدلال کرتے ہیں کہ دیکھیں کہ فلاں نے یہ کہا، فلاں نے یہ کہا مگر اس کو قتل نہیں کیا گیا۔ ہم ایک بار پھر دہراتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی حکمت بالغہ کے پیش نظر بعض افراد کو معاف کر دیا تھا اور بعض کو معاف نہ کیا۔ جن کو معاف کیا، ان میں سے ایک کی بھی گستاخی اس درجہ میں نہیں تھی جیسا کہ سلمان رشدی کی ہذیانی گستاخیاں، لیکن جنہیں قتل کی سزا دی گئی وہ تمام کے تمام اس قبیل کے گستاخ تھے۔

حضور اکرم ﷺ کی معاف کر دینے کی مصلحت

رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کے باوجود پندرہ اشخاص کو اس معافی سے مستثنیٰ فرمایا۔ ان میں سے بعض کو معافی عطا کی گئی اور وہ اسلام لے آئے۔ ان کی اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو سنگین توہین رسالت کے مرتکب ہوئے تھے۔ ان بدبخت لوگوں میں ایک عبداللہ ابن خطل تھا جسے حرم مکہ میں حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان قتل کیا گیا۔ کعب بن زہیر، عبداللہ بن الزبعریٰ اور ہبیرہ بن ابی وہب مکہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ تمام گستاخ شعراء تھے جو حضور اکرم ﷺ کی ہجو میں شعر کہا کرتے تھے۔ ان میں کعب بن زہیر کچھ عرصہ بعد مدینہ آئے اور آپ سے معافی کی درخواست کی جو قبول کر لی گئی اور وہ اسلام لے آیا۔ حضور اکرم ﷺ کے پیش نظر اپنی ذات کے متعلق گستاخی کا ارتکاب کرنے والوں کو معاف کر دینے کی مصلحت یا اصول کیا تھا۔ اس پر امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا

الصارم المسلول

یہ تجزیہ راہنمائی فراہم کرتا ہے:

”جب آپ ﷺ کا حق درمیان میں حائل ہوتا تو آپ ﷺ کو اختیار ہوتا کہ معاف فرما دیں یا بدلہ لیں۔ ایسے حالات میں آپ ﷺ عموماً معاف فرما دیتے۔ اگر مصلحت قتل میں دیکھتے تو مجرم کو قتل کرنے کا حکم دیتے۔ جن اُمور میں آپ ﷺ کا کوئی حق نہ ہوتا، زنا، چوری یا کسی اور ظلم کا معاملہ، تو اس کی سزا دینا آپ پر واجب ہوتا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب دیکھتے کہ کوئی شخص آپ ﷺ کو ایذا دے رہا ہے تو اس کو قتل کرنے کا ارادہ کرتے، اس لئے کہ وہ جانتے تھے کہ یہ قتل کا مستحق ہے مگر آپ ﷺ اسے معاف فرما دیتے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بتاتے کہ اسے معاف کر دینا ہی قرین مصلحت ہے۔ ساتھ ہی اسے یہ بھی واضح کرتے کہ اسے قتل کرنا بھی جائز ہے۔ اور آپ ﷺ کے معاف کرنے سے قبل کوئی شخص اسے قتل کر ڈالتا تو آپ ﷺ اسے تعرض نہ فرماتے، یہ جانتے ہوئے کہ اس نے یہ انتقام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے لیا ہے۔ لہٰذا اس کی مدح و ستائش فرماتے جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو قتل کر دیا تھا جو آپ ﷺ کے فیصلے پر راضی نہ تھا۔ جب رسول کریم ﷺ کی وفات کی وجہ سے مجرم کو معاف کرنے کا امکان باقی نہ رہا تو پھر یہ اللہ کے رسول ﷺ اور مومنین کا حق ہوگا اور کوئی اسے معاف نہ کر سکے گا لہٰذا اس کو نافذ کرنا واجب ہوگا۔“

مئی، جون ۸۰ء

صفحہ 112

وکیل شاتم رسول ﷺ مولانا وحید الدین خان

پوائنٹس

—— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۲۹ھ ——

صفحہ 113

عطاء اللہ صدیقی

(ii) قتل عمد کی اسلام میں سزا موت ہے، لیکن اگر مقتول کے ورثا بعض مصلحتوں کی بنا پر قاتل سے صلح کر کے اسے معاف کر دیں تو اسلامی ریاست اس قاتل پر سزائے موت کو نافذ نہیں کر سکتی۔ کیا ایک قاتل کو مقتول کے ورثا سے اس طرح کی معافی کا ملنا اس کے لئے ہر بار قتل کی واردات میں معافی کا لائسنس سمجھا جاسکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ فرض کیجئے وہی قاتل دوسری بار اسی خاندان کے کسی اور فرد مثلاً پہلے مقتول کے بھائی کو قتل کر دیتا ہے تو کیا مقتول کے ورثا کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ دوسری مرتبہ بھی اسی قاتل کو معافی دے دیں یا پہلے قتل میں قاتل کو ملنے والی معافی بذات خود دوسرے قتل کے مقدمے کے لئے بھی کافی سمجھی جائے گی؟ معمولی سی عقل و فہم رکھنے والا کوئی بھی فرد اس کا جواب یقیناً نفی میں دے گا۔ تو پھر وحید الدین خان حضور اکرم ﷺ کی طرف سے بعض افراد کو دی جانے والی معافی کو ’معافیِ عام‘ کس عقلی دلیل کی بنیاد پر ٹھہرا رہے ہیں۔ وہ شاتمِ رسول کی سزائے موت سے جن دلائل کی بنیاد پر انکار کر رہے ہیں وہ دلائل قیاس مع الفارق کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایسے بے جوڑ دلائل کی بنیاد پر ایک ایسی بات سے انکار کرنا جس پر امت کا اجماع ہو، یقیناً خواہش نفس کی پیروی کا نتیجہ تو ہو سکتا ہے، اسلامی تعلیمات کی پیروی کا اس معاملے میں دعویٰ محض ایک خود فریبی اور حق فریبی ہے۔ وحید الدین خان محض اپنے آپ کو روشن خیال، رواداری پر عمل پیرا اور موجودہ یورپی دانشوروں کی نگاہ میں قابلِ قبول بنانے کی مریضانہ خواہش کے اتباع میں اپنی عقل و دانش کو سر بازار نیلام کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

(iii) وحید الدین خان نے ابن تیمیہؒ کی کتاب پر مفصل تبصرہ کیا ہے اور ہر بات کو محض ’لغو‘ کہہ کر جھٹلانے پر ہی اکتفا کیا ہے۔

احادیث کی کتابوں میں اہانت رسول پر قتل کے متعلق وارد شدہ واقعات کے مطالعہ سے وحید الدین خان کے درج ذیل بیانات کو بغور پڑھنے سے یہ فیصلہ کرنا کوئی مشکل بات نہیں کہ ان کا استنباط کس قدر لغو، کھوکھلا اور باطل ہے۔

کیا جاتا ہے وہ یا تو اس معنی میں نہیں ہے جس معنی میں ابن تیمیہؒ اور ان کے ہم خیال لوگ اس کو لے رہے ہیں اور بالفرض اگر وہ اس معنی میں ہو تب بھی وہ یقینی طور پر قابل لحاظ نہیں ۔ [ص: ۱۳۰]

اللہ ﷺ کے عمل سے اس کی تصدیق ملتی ہے“ [ص: ۱۳۰]

چاہئے جس کا نمونہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لئے چھوڑا ہے ...... نہ کہ ایک ایسے عمل کی وکالت کریں جس کا براہ راست ثبوت نہ قرآن میں ہے نہ رسول کے قول وعمل میں۔ ان کے اس نظریہ کی بنیاد صرف قیاس پر ہے اور قیاس اس طرح کے معاملہ میں حجت نہیں ۔“ [ص: ۱۳۱]

شخص گستاخی یا شتم کا عمل کرے اس کو فوراً قتل کر دو ۔“ [ص: ۱۳۳]

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 114

وکیل شاتم رسول ﷺ مولانا وحید الدین خان

تبصرہ

مولانا وحید الدین خان خود لکھتے ہیں:

”یہ صحیح ہے کہ فقہا اسلام کی اکثریت اس رائے پر ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے“ [ص: ۱۲۲-۱۲۳] ایک اور جگہ پر اپنی ہی رائے کا اظہار کرتے ہیں: ”تاہم قتل شاتم کے بارہ میں یہ کہنا صحیح نہیں کہ اس پر علماء امت کا اجماع ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ جمہور علماء نے اسی رائے کا اظہار کیا ہے۔“ [ص: ۱۲۲]

اجماع کے متعلق وحید الدین خان کا تصور مغالطہ آمیز ہے، ہم اس پر الگ اظہار خیال کریں گے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ وہ خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جمہور علما کے نزدیک شاتم رسول کی سزا قتل ہے، گویا اس رائے کے ساتھ وہ خود اعتراف کر رہے ہیں کہ ان کی رائے جمہور علما کی رائے سے مختلف اور منفرد ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی تاریخ کے مستند فقہا و علما اور علوم وفنون کے عظیم ستونوں کی آرا کو وحید الدین خان کی رائے پر ترجیح کیوں نہ دی جائے۔ وحید الدین خان نہ تو روایتی عالم ہیں اور نہ ہی ان کا علم فقہ وحدیث کے متعلق مطالعہ زیادہ وسیع ہے۔ وہ ایک اوسط درجہ کے اسلامی سکالر ہیں، جنہیں ایک صاحب علم نے بجا طور پر ’فکری بالشتیہ‘ قرار دیا ہے۔ اگر وحید الدین خان کی رائے کو درست مان لیا جائے تو جمہور علماء کے تفقہ فی الدین کو ناقص تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں رہے گا اور پھر ظاہر ہے کہ محض اس شتم رسول پر ہی موقوف نہیں، دیگر تمام امور میں بھی ان کی آرا ساقط الاعتبار قرار پائیں گی۔ یہ ایک عظیم فتنہ سے کم نہیں ہوگا۔ اس عظیم فتنہ کا دروازہ بند کرنے کا مؤثر طریقہ یہی ہے کہ وحید الدین خان جیسے اوسط درجہ کے اسلامی سکالر کی مجہول اور مردود رائے کو باطل سمجھ کر ٹھکرا دیا جائے۔

قرآن میں عدم تذکرہ دلیل انکار نہیں

وحید الدین خان نے قتل شاتم سے انکار کی ایک ایسی دلیل پیش کی ہے جو بالعموم منکرین حدیث کی طرف سے پیش کی جاتی ہے۔ یعنی اگر کسی بات کا قرآن مجید میں صریحاً ذکر موجود نہیں ہے تو اس کا انکار کر دیا جائے۔ یہ بہت بڑا فتنہ ہے جس کی نشاندہی اور مضمرات علماء کرام نے تفصیل سے بیان کئے ہیں یہاں ان کے اعادہ کی گنجائش نہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

”قرآن میں استہزا کے جرم کا ذکر تو بار بار آیا ہے مگر اس کے مجرم کے لئے سزائے قتل کا اعلان سارے قرآن میں کہیں بھی موجود نہیں ۔“ [ص: ۱۵۲]

معلوم ہوتا ہے کہ وحید الدین خان چودہ سو سال کے بعد بزعم خویش یہ انکشاف فرما رہے ہیں کہ ’سارے قرآن میں‘ اس کا ذکر کہیں بھی موجود نہیں حالانکہ یہ ایسی بات ہے جس کا علم شروع سے لے کر اب تک کے علماء کو ہے۔ اہل سنت کے ائمہ اربعہ میں سے عظیم امام، امام مالک ؒ کو بھی یقیناً یہ علم تھا مگر انہوں نے شاتم رسول کے متعلق فرمایا: ”جو شخص حضور ﷺ کو یا کسی اور نبی کو گالی دے، اسے قتل کیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر۔“ حضرت امام مالک ؒ کا ایک اور معروف قول ہے، فرماتے ہیں کہ ”امت کو زندہ رہنے کا کیا حق ہے جب اس کے رسول کو گالیاں دی جائیں۔“

قرآن مجید میں دیگر دو اہم معاملات میں بھی ’سزائے موت‘ کا واضح ذکر موجود نہیں ہے۔ مگر ان کے متعلق جمہور علماء کا اتفاق رائے ہے کہ ان جرائم کی سزا موت ہے۔ ایک تو معاملہ محصن زانی کے رجم کا ہے۔ چونکہ اس کا ذکر

— جمادی الاولیٰ، الآخرہ ۱۴۳۹ھ —

پاسبان

قرآن مجید میں نہیں مگر احادیث میں متواتر بـ بالخصوص پرویزی اور اس قبیل کے لوگ اس سز سزا کا قرآن میں تو ذکر نہیں ہے مگر حدیث مـ بدّل دینہ فاقتلوہ» قتل مرتد کا اقرار تو وحیـ سمجھتے۔

قتل مرتد کے لئے تو وہ بلا چون و چرا مـ نہیں مگر قتل شاتم کے لئے وہ قرآن میں ایسـ کے ان دوہرے معیارات کی کوئی عقلی توجیـ کر چکے ہیں اور اس کو ثابت کرنے کی جد کے مرحلے سے گزرنا پڑے۔ انہیں اس لـ ’بینڈ ویگن‘ پر بغیر سوچے سمجھے چھلانگ لگا لـ

سوئے تاو

وحید الدین خان نے مضحکہ خیز اسـ غلط بیانی اور حقائق کو مسخ کر کے پیش کیـ نہیں رکھ سکے۔ اس حصہ میں ان کی ذـ دکھایا گیا ہے۔

وحید الدین خان نے علامہ ابن کو قبول نہیں کیا۔ وہ ابن تیمیہ ؒ پـ ”ابن تیمیہ ؒ نے زمانہ رسالـ لوگ سب وشتم کی بنا پر قتل کئے ہے کہ اس کو سب وشتم کی بنا پر قـ پر قتل کیا گیا۔ اس کے قتل کا سبـ نجانے وحید الدین خان ’حقیـ ذخیرہ حدیث یا اسلامی تاریخ سے کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، وہ بڑی احادیث کے مستند اور ناقابل تر میں کتاب المغازي کے تحت

صفحہ 115

عطاء اللہ صدیقی

قرآن مجید میں نہیں مگر احادیث میں متواتر یہ احکامات ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دورِ جدید کے بعض منکرینِ حدیث بالخصوص پرویزی اور اس قبیل کے لوگ اس سزا کے قائل نہیں ہیں۔ اس طرح دوسرا معاملہ مرتد کی سزا کا ہے۔ مرتد کی سزا کا قرآن میں تو ذکر نہیں ہے مگر حدیث میں یہ حکم آیا ہے کہ جو شخص اپنے دین کو بدل ڈالے اس کو قتل کر دو «من بدل دینه فاقتلوه» قتل مرتد کا اقرار تو وحید الدین خان نے بھی کیا ہے [ص ۱۱۷] مگر وہ ارتداد اور شتم کو ہم پلہ نہیں سمجھتے۔

قتل مرتد کے لئے تو وہ بلا چون و چرا موت کی سزا کو تسلیم کر لیتے ہیں چاہے ’سارے قرآن‘ میں اس کا ذکر موجود نہیں مگر قتل شاتم کے لئے وہ قرآن میں ایسا ’اعلان‘ ڈھونڈتے پھر رہے ہیں کہ جس میں اس کا ذکر موجود ہو۔ موصوف کے ان دوہرے معیارات کی کوئی عقلی توجیہ نہیں کی جاسکتی سوائے اس کے کہ وہ اس نقطہ پر ایک خاص رائے پہلے قائم کر چکے ہیں اور اس کو ثابت کرنے کی جدوجہد میں انہیں خواہ کتنے ہی غیر عقلی دلائل کا سہارا لینا پڑے اور تضادِ نفسی کے مرحلے سے گزرنا پڑے۔ انہیں اس کی پروا نہیں ہے۔ شتم رسول کے مسئلہ پر وحید الدین خان منکرینِ حدیث کی ’بینڈ ویگن‘ پر بغیر سوچے سمجھے چھلانگ لگا کر سوار ہو گئے ہیں۔

سوئے تاویل ، غلط بیانی اور حقائق کا ’قتل‘

وحید الدین خان نے مضحکہ خیز استدلال اور سوئے تاویل کے علاوہ اپنی کتاب کے بعض مقامات پر واضح طور پر غلط بیانی اور حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا ہے۔ بعض صورتوں میں وہ مختلف اُمور اور احکامات کے متعلق فرقِ مراتب قائم نہیں رکھ سکے۔ اس حصہ میں ان کی ژولیدگی فکر کی جراحی کرتے ہوئے ان کی فکر کے سرطانی حصوں کو کاٹ کر نمایاں دکھایا گیا ہے۔

وحید الدین خان نے علامہ ابن تیمیہ ؒ کی اس رائے کہ کعب بن اشرف یہودی کو شتم رسول کی بنا پر قتل کیا گیا، کو قبول نہیں کیا۔ وہ ابن تیمیہ ؒ پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ابن تیمیہ ؒ نے زمانہ رسالت کے کچھ واقعات جمع کئے ہیں جب کہ کسی کو قتل کیا گیا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ سب لوگ سب وشتم کی بنا پر قتل کئے گئے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ مثلاً انہوں نے کعب بن اشرف کے قتل کا ذکر کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس کو سب وشتم کی بنا پر قتل کیا گیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کعب بن اشرف کو بار بار نقضِ عہد (غداری) کرنے کی بنا پر قتل کیا گیا۔ اس کے قتل کا سبب اس کا نقضِ عہد تھا نہ کہ سادہ طور پر صرف سب وشتم ۔“ [ص ۱۲۰، ۱۲۱]

نجانے وحید الدین خان ’حقیقت یہ ہے‘ کا دعویٰ کس بنیاد پر کرتے ہیں۔ انہوں نے اس ’حقیقت‘ کی تائید میں ذخیرۂ حدیث یا اسلامی تاریخ سے کوئی مستند حوالہ نہیں دیا اور شاید دے بھی کیسے سکتے تھے کہ ’یہ حقیقت‘ بھی درحقیقت ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، وہ بڑی ڈھٹائی سے کعب بن اشرف کے قتل کا سبب اس کی عہد شکنی قرار دے رہے ہیں۔ مگر احادیث کے مستند اور ناقابلِ تردید ذخائر میں اس کے قتل کا اصل سبب سب وشتم اور ہجو قرار دیا گیا ہے۔ صحیح بخاری میں کتاب المغازی کے تحت کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ موجود ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ہجو کر کے اور قریش کو

—— مئی، جون ۸۰ء ——

صفحہ 116

وکیل شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم مولانا وحید الدین خان

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑکا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیتا تھا۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں اسے قتل کرا دیا۔ سنن ابو داود میں کعب بن اشرف کے قتل کی وجہ یہ بتائی گئی ہے ”کہ وہ نبی ﷺ کی ہجو کرتا اور کفار قریش کو آپ کے خلاف جوش دلاتا تھا“ امام قسطلانی رحمہ اللہ نے ’صحیح بخاری‘ کی مذکورہ حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیتا تھا، اس طرح کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ہجو کرتا اور قریش کو ان کے خلاف اشتعال دلاتا۔ ابن سعد نے بھی اس کے قتل کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ ”وہ ایک شاعر آدمی تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ہجو کرتا تھا اور ان کے خلاف لوگوں کے جذبات بھڑکاتا تھا“

اب بتائیے کوئی شخص ان مستند حوالہ جات کی موجودگی میں وحید الدین خان کی رائے سے جو اس کی ساختہ پرداختہ ہے، اتفاق کر سکتا ہے؟ موصوف مذکورہ بالا حضرات سے اپنے آپ کو شاید زیادہ باخبر، اور ثقہ سمجھتے ہیں اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ان کی ہر غلط بیانی کو ’حقیقت‘ سمجھ کر قبول کر لیا جائے گا۔ چونکہ انہوں نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ ’سب وشتم‘ کے مسئلہ کو کم اہم کر کے دکھانا ہے۔ اسی لئے انہوں نے ایسے واقعات کو بھی (Play Down) کیا ہے جو اس مسئلہ میں واضح اور صریح راہنمائی کرتے ہیں۔ جن کی ایک روشن مثال ان کی وہ رائے ہے جو انہوں نے کعب بن اشرف کے قتل کے بارے میں دی ہے۔ وحید الدین خان کی کتاب پر ایسی ’حقیقتیں‘ جا بجا بکھری پڑی ہیں۔

② واقعہ افک سے غلط استنباط

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے دوران کے جن واقعات کو وحید الدین خان نے اپنے غلط موقف کے ’ثبوت‘ کے لئے ”exploit“ (استحصال) کیا ہے، ان میں واقعہ افک خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں متعدد مقامات پر گھما پھرا کر موصوف نے ایک ہی نتیجہ نکالنے کی سعی ناکام فرمائی ہے کہ سب و شتم پر قتل کی سزا غیر اسلامی ہے۔ انہوں نے واقعہ افک کو صحیح تناظر میں بیان کرنے کی بجائے اپنی نفسانی خواہشات اور باطل تحقیقی معیارات کی میزان پر رکھ کر جانچا ہے۔

وحید الدین خان نے واقعہ افک کے متعلق متعدد صفحات (۹۴،۹۳، ۱۴۶، ۱۶۲، ۱۶۳، ۱۶۴) میں ذکر کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عبداللہ ابن ابی کو اس کے جرم کی سزا نہیں دی گئی۔ مولانا موصوف کی رائے میں جھول کی نشاندہی سے پہلے مناسب ہوتا ہے کہ ان کی رائے کے اصل اقتباسات دے دیئے جائیں۔ وہ لکھتے ہیں:

”اسلام کے دورِ اول میں مدینہ کے منافقین نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر نعوذ باللہ بدکاری کا الزام لگایا اور اس کو عوام کے درمیان خوب پھیلایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نہ صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ تھیں، بلکہ ان کی حیثیت اُمّ المومنین کی تھی۔ وہ تمام مسلمانوں کے لئے مقدس ماں کا درجہ رکھتی تھیں، مگر مدینہ میں اقتدار و اختیار کے باوجود ایسا نہیں کیا گیا کہ اس جرم کا ارتکاب کرتے ہی تمام مجرموں کو پکڑا جائے اور ان کا سر کاٹ کر شہر کے دیواروں پر لٹکا دیا جائے۔ پھر جب رسول اور اصحابِ رسول نے ایسا نہیں کیا تو بعد کے مسلمان کس دلیل سے اس قسم کا فعل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔“ [ص۹۴]

”اس معاملہ میں عبداللہ ابن ابی سب سے بڑا مجرم تھا۔ قرآن میں اس کے ابلیسی جرم کا اعلان کیا گیا، مگر اس کے لئے کوئی قانونی سزا تجویز نہیں کی گئی۔ اس کی سزا کے معاملہ کو تمام تر آخرت پر چھوڑ دیا گیا۔“

اس بارے میں درج ذیل اُمورِ خصوصی توجہ کے قابل ہیں:

① یہ درست ہے کہ واقعہ افک میں ملوث

سے لکھا جا چکا ہے کہ اس کی معافی حضور

استعمال کا نتیجہ تھی۔ عبداللہ ابن ابی کے

خان، ”اس معاملہ کو آخرت پر چھوڑ دی

سزا ہرگز نہ دی جاتی۔ احادیث کی تمام

واقعہ افک کے تین ملزموں پر قذف

حسان بن ثابت اور حضرت ابو بکر

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ زینب بنت

بہت کرتے ہیں مگر ان تین افراد کو

② دوسرا یہاں ایک اہم نکتہ قابل غو

محض قذف کی حد ہی نافذ کی گئ

مذکورہ الزام براہ راست در پردہ

تھی) پر براہ راست الزام عائ

ایک عظیم صحابیہ اور اُم المومنین

میں تعزیر کا حکم ہے۔ سنن ابو دا

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو زبان د

نے عرض کیا کہ کیا میں اس شخ

کے بعد کسی شخص کا یہ مقام

(ب) حضرت ابو بکر صدی

مہاجر رضی اللہ عنہ بن ابی امیہ کو کچھ

کو اسلامی ریاست کے زیر نگ

گالیاں دیتی تھی اور دوسری طر

دیئے۔ حضرت ابو بکر صدیق ر

مغنیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی

نہیں ہو سکتی اور دوسری مغنیہ

[حوالہ، ابو بکر صدیق رضی اللہ

③ واقعہ افک کے طرفد

مولانا مودودی نے قا

دلیل نہیں یہ بات قاب

ہے کوئی شخص یہاں

ــــــ جمادی الاولیٰ، الاٰخرة ۱۴۲۹ھ ــــــ

صفحہ 117

عطاء اللہ صدیقی

سے لکھا جا چکا ہے کہ اس کی معافی حضور اکرم ﷺ کی جانب سے خصوصی رعایت اور ان کے ذاتی استحقاق کے استعمال کا نتیجہ تھی۔ عبداللہ ابن ابی کے سزا سے بچ جانے کو عام اصول قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور بقول وحید الدین خان، ”اس معاملہ کو آخرت پر چھوڑ دیا گیا“...... اگر یہ بات مطلق اصول ہوتی تو واقعہ افک کے دیگر مجرموں کو سزا ہرگز نہ دی جاتی۔ احادیث کی تمام قابل ذکر کتابوں اور قرآن کی معروف تفاسیر میں واضح طور پر موجود ہے کہ واقعہ افک کے تین ملزموں پر قذف کی حد جاری کی گئی۔ یہ دو مرد تھے اور ایک عورت۔ مردوں میں معروف شاعر حسان بن ثابت اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ایک رشتہ دار مسطح تھے۔ عورت حمنہ بنت جحش ؓ تھی جو رسول اکرم ﷺ کی زوجہ زینب ؓ بنت جحش کی بہن تھی۔ وحید الدین خان عبداللہ ابن ابی کی معافی کی تکرار تو بہت کرتے ہیں مگر ان تین افراد کو دی جانے والی سزا کا ذکر جان بوجھ کر گول کر گئے۔

محض قذف کی حد ہی نافذ کیوں کی گئی۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ تکنیکی اعتبار سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر مذکورہ الزام براہ راست دین پر طعن و تشنیع یا خود رسالتمآب ﷺ کی ذات مبارکہ (جو منصب رسالت کی امین تھی) پر براہ راست الزام نہ تھا۔ ہاں البتہ یہ بالواسطہ ضرور تھا۔ اصل میں یہ معاملہ توہین عائشہ ؓ کا تھا۔ وہ ایک عظیم صحابیہ اور اُم المومنین تھیں۔ مگر قتل کی سزا صرف توہین رسول پر ہے توہین صحابہ یا صحابیات کے معاملے میں تعزیر کا حکم ہے۔ سنن نسائی میں ابو برزہ الاسلمی ؓ کی روایت مذکور ہے کہ ایک شخص نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کو زبان سے اذیت پہنچائی۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس شخص پر ناراض ہو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس کی گردن ماروں؟ یہ سنتے ہی آپ ؓ کا غصہ دور ہو گیا، آپ ؓ نے فرمایا: نبی ﷺ کے بعد کسی شخص کا یہ مقام نہیں کہ اس کو گالیاں دینے والے کو قتل کیا جائے۔“

مہاجر ؓ بن ابی امیہ کو کندہ کے باغیوں کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔ مہاجر ؓ یمن سے کندہ پہنچے اور تمام باغی قبائل کو اسلامی ریاست کے زیر نگیں کر دیا۔ کندہ میں دو گانے والیاں تھیں۔ ایک مغنیہ اپنے اشعار میں رسول اکرم ﷺ کو گالیاں دیتی تھی اور دوسری مسلمانوں کی ہجو کرتی تھی۔ مہاجر ؓ نے دونوں کے ہاتھ کاٹ دیئے اور اگلے دانت نکلوا دیئے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو اس واقعے کا علم ہوا تو انہوں نے مہاجر ؓ کو لکھا کہ تمہارا یہ فیصلہ غلط ہے۔ جو مغنیہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی، اسے قتل کرنا چاہئے تھا، کیونکہ شتم انبیاء کی سزا دوسری سزاؤں سے مشابہ نہیں ہو سکتی اور دوسری مغنیہ اگر وہ ذمی ہے، تو اس سے درگزر کرنا مناسب تھا۔“

[حوالہ، ابوبکر صدیق ؓ، از محمد حسین ہیکل اقتباس از مضمون، ”گستاخی اور اہانت، ایک مستقل عالمی مہم“ پروفیسر کریم بخش نظامانی]

مولانا مودودی ؒ نے یوں فرمائی ہے۔ ”یعنی یہ بات قابل غور تک نہ تھی۔ اسے تو سنتے ہی ہر مسلمان کو سراسر جھوٹ اور کذب و افترا کہہ دینا چاہئے تھا۔ ممکن ہے کوئی شخص یہاں یہ سوال کرے کہ جب یہ بات تھی تو خود رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اسے کیوں

مئی، جون ۰۸ء

صفحہ 118

وکیل شاتم رسول ﷺ مولانا وحید الدین خان

نہ اوّل روز ہی جھٹلا دیا اور کیوں انہوں نے اسے اہمیت دی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شوہر اور باپ کی پوزیشن عام آدمیوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اگرچہ ایک شوہر سے بڑھ کر کوئی اپنی بیوی کو نہیں جان سکتا اور ایک شریف و صالح بیوی کے متعلق کوئی صحیح الدماغ شوہر لوگوں کے بہتانوں پر فی الواقع بدگمان نہیں ہوسکتا، لیکن اگر اس کی بیوی پر الزام لگا دیا جائے تو وہ اس مشکل میں پڑ جاتا ہے کہ اسے بہتان کہہ کر ردّ کر بھی دے تو کہنے والوں کی زبان نہ رکے گی بلکہ وہ اس پر ایک اور ردا یہ چڑھائیں گے کہ بیوی نے میاں صاحب کی عقل پر کیسا پردہ ڈال رکھا ہے، سب کچھ کر رہی ہے اور میاں یہ سمجھتے ہیں کہ میری بیوی بڑی پاکدامن ہے۔ ایسی ہی مشکل ماں باپ کو پیش آتی ہے۔ وہ غریب اپنی بیٹی کی عصمت پر صریح جھوٹے الزام کی تردید میں اگر زبان کھولیں بھی تو بیٹی کی پوزیشن صاف نہیں ہوتی۔ کہنے والے یہی کہیں گے کہ ماں باپ ہیں، اپنی بیٹی کی حمایت نہ کریں گے تو اور کیا کریں گے۔ یہی چیز تھی جو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور اُمّ رومان ؓ کو اندر ہی اندر غم سے گھلائے دے رہی تھی۔ ورنہ حقیقت میں کوئی شک ان کو لاحق نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے تو خطبے ہی میں صاف فرما دیا تھا کہ میں نے نہ اپنی بیوی میں کوئی برائی دیکھی ہے اور نہ اس شخص میں جس کے متعلق یہ الزام لگایا جارہا ہے۔“ [تفہیم القرآن، ۳/ ۳۶۸]

ہوئے لکھتے ہیں: ”تاہم کسی عمل کے متعلق یہ تعین کرنے کے لئے کہ یہ عمل توہین کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں، متعلقہ شخص کے عزائم کو بھی زیر غور لایا جائے گا۔ خصوصاً ایسی صورت میں، جب اس موقع پر استعمال کیے جانے والے الفاظ واضح نہ ہوں۔ یوں پیغمبر ﷺ کے نام کی توہین کا تعین کرتے وقت ارادہ یا نیت ایک اہم عنصر بن جاتے ہیں۔ اس جرم کے بنیادی عناصر سے بحث کرتے ہوئے، امام ابن تیمیہ ؒ نے اس حقیقت پر انحصار کیا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے تین ساتھیوں حسان بن ثابت ؓ، مسطح ؓ اور حمنہ ؓ کو حضور ﷺ کی زوجہ مطہرہ پر غلط الزام تراشی (قذف) کے جرم میں سزا دی گئی تھی۔ ان میں سے کسی کے بارے میں یہ نہیں کہا گیا تھا کہ اس نے توہین رسالت کے جرم کا ارتکاب کیا ہے لہٰذا انہیں موت کی سزا نہیں دی گئی تھی۔ امام ابن تیمیہ ؒ نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ واقعہ قرآن کریم کی سورۃ الاحزاب کی آیت ۶ کے نزول سے قبل پیش آیا تھا جس میں پیغمبر ﷺ کی ازواج مطہرات کو اہل ایمان کی مائیں قرار دیا گیا ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں اُمہات المومنین میں سے کسی کے خلاف بھی غلط الزام توہین رسالت ہی تصور کیا جائے گا۔“

[’کیا امریکہ جیت گیا؟‘، مرتب: متین خالد، ص ۷۴، ۷۵]

ان وضاحتوں کے بعد وحید الدین خان کے مذکورہ اقتباسات محض جذباتی سطحیت کا نامعقول نمونہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی جذباتیت سے شاتم رسول کی سزا کے مخالفین کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے حالانکہ وہ اس سزا کے حامیوں کے خلاف بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ جذباتی ہیں۔

عقلیات کے گلیشیر

مولانا وحید الدین خان حرارت ایمانی کے عقلیات کے گلیشیر میں شعلہ جوالہ کو دفن کرنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کے لئے حرارت ایمان کا اصل سرچشمہ عشق رسول ہے۔ وہ اس سرچشمہ کے دہانے پر اپنی عقل کے بھاری پتھر رکھ کر اس چشمہ کا رخ موڑنا چاہتے ہیں تاکہ یہ اُمت مسلمہ کی فصل ایمانی کو سیراب نہ کر سکے اور اس طرح ایمان کے پودے

-------- جمادی الاولیٰ، الآخره ۱۴۲۹ھ --------

کردے کی تمام تر لہلہاتی فصلیں اب ایمان بجھ جانے کے بعد جو نتیجہ اخذ کیا تھا وہ آفاقی سمجھی مسلمان وحید الدین خان صاحب مسلمانوں رشدی جیسے بدبخت افراد ان کے محبوب بھی شرم سے جھک جائے مگر مسلمان جذبات کا اظہار کریں۔ وحید الدین دوران کہ جس کی برفابی عقل رشدی مسلمہ کو وہ ترکھان کا بیٹا غازی علم الد کر کے اس کی آتش کو اس قدر بھڑکا جناب! آپ جیسے جج بستہ نہیں سکتے۔ میں آج سے چند دوران حضور اکرم ﷺ کے ان دیو اس گستاخ رسول کو بری قرار دینے وہ دیوانگی دنیا کے تمام فرزندوں کی حقوق کی نام نہاد علمبردار ایک خا اور وہ عورت جسے سلمان رش اعتراض محض اس لئے نہیں تھا ک عدالت عالیہ کے جج سے چیخ دیدنی تھا۔ ہائے افسوس ! اس مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اربوں کرتے رہیں۔ وحید الدین خان! آپ کے ساتھ ساتھ آپ کی زبا امان طلب کرنے کی بجا

صفحہ 119

عطاء اللہ صدیقی

کدے کی تمام تر لہلہاتی فصلیں اب ایمان کی کمی کی وجہ سے سوکھ کر بھسم ہو جائیں۔ اقبالؒ نے عشق کی آگ کے بجھ جانے کے بعد جو نتیجہ اخذ کیا تھا وہ آفاقی صداقت پر مبنی ہے

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلمان نہیں، خاک کا ڈھیر ہے!

وحید الدین خان صاحب مسلمانوں کو خاک کے ڈھیر میں بدلا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ابلیس مجسم رشدی جیسے بدبخت افراد ان کے محبوب پیغمبر کے خلاف ایسی گندی، رذیل اور گھٹیا زبان استعمال کریں کہ انسانیت کا سر بھی شرم سے جھک جائے مگر مسلمان چپ کا روزہ رکھ لیں۔ وہ نہ تو احتجاج کریں اور نہ ہی اس رذیل حرکت پر اپنے جذبات کا اظہار کریں۔ وحید الدین خان صاحب سن لیجئے! آپ جیسے نابغہ عصر اور بذعم خویش افلاطون اور غزالی دوراں کہ جس کی برفانی عقل رشدی کے خلاف معمولی جنبش کے علاوہ کوئی بھی حرکت نہ کر سکی، کے مقابلے میں امت مسلمہ کو وہ ترکھان کا بیٹا غازی علم الدین شہید زیادہ عزیز ہے کہ جو حب رسول ﷺ کے چشمہ میں اپنے جسم کا لہو شامل کر کے اس کی آتش کو اس قدر بھڑکا گیا کہ جو مسلمانوں کے لہو میں شعلہ جوالہ بن کر آج بھی رقص کناں ہے۔

جناب! آپ جیسے یخ بستہ عقل پسندوں کی نسبت وہ لوگ زیادہ عظیم ہیں جو توہین رسالت کا معمولی سا منظر دیکھ نہیں سکتے۔ میں آج سے چند سال پہلے لاہور ہائیکورٹ میں گستاخ رسول سلامت مسیح کے مقدمہ کی سماعت کے دوران حضور اکرم ﷺ کے ان دیوانوں کی چیخوں اور سسکیوں کو کبھی بھلا نہ سکوں گا جو انہوں نے عدالت کی طرف سے اس گستاخ رسول کو بری قرار دینے پر برپا کی تھیں اور اسی عدالت عالیہ کے ایوان میں جناب رشید مرتضیٰ ایڈووکیٹ کی وہ دیوانگی دنیا کے تمام فرزانوں کی عقل پر بھاری ہے جب انہوں نے گستاخ رسول کی پر زور وکالت کرنے والی انسانی حقوق کی نام نہاد علمبردار ایک خاتون وکیل کو طیش میں آ کر کہا تھا ”چپ رہ۔ اے کتیا! ہاں ہاں تو کتیا ہے۔“

اور وہ عورت جسے سلمان رشدی کی طرف سے معلم انسانیت اور اشرف ترین پیغمبر کو (Mahound) کہنے پر کوئی اعتراض محض اس لئے نہیں تھا کہ وہ اسے آزادیٔ اظہار کا حق سمجھتی تھی، اپنے لئے ’کتیا‘ کا لفظ برداشت نہ کر سکی، اور عدالت عالیہ کے جج سے چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی ”سر! دیکھیں یہ مجھے کتیا کہہ رہے ہیں“ اس عورت کا پاگل پن اور غصہ دیدنی تھا۔ ہائے افسوس! اس طرح کے لوگ جو اپنی ذات کے لئے جس گالی کو برداشت نہیں کر سکتے، وہ مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اربوں مسلمانوں کے محسن و سرور کے خلاف اس طرح کی گالی کو بے حمیت بن کر برداشت کرتے رہیں۔

وحید الدین خان! آپ کی عقل پر برف کی موٹی جھلی جم چکی ہے اس میں سے حرارت ایمان نہیں گزر سکتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کی زبان و عقل ایسی حرارت کے لئے غیر موصل ہو گئی ہے تو آپ کو اپنی اس قساوت قلبی پر خدا سے امان طلب کرنے کی بجائے مسلمانوں کو اس قساوت قلبی کے گلیشیر میں دھکیلنے کی مذموم جدوجہد نہیں کرنی چاہئے۔

٭.........٭

مئی، جون ۸۰ء

صفحہ 120

عاصم احمد، ملتان

توہین نبوی ﷺ کیوں ہے گوارا؟

ڈنمارک سے جو اٹھا وہ فتنہ کیسا ہوا تھا گستاخوں نے جو ڈھایا وہ غضب کیسا ہوا تھا
سب بھول چکے آج کہ کب کیسے ہوا تھا اے نامی مسلمانو! وہ سب کیسے ہوا تھا
سرکار ﷺ کی آقا ﷺ کی جو توہین ہوئی تھی
معلوم ہے کس درجہ وہ سنگین ہوئی تھی
مومن کو تو سرکار ﷺ ہیں اجداد سے پیارے ماں باپ سبھی رشتوں اولاد سے پیارے
اغراض سے اموال سے امداد سے پیارے اور ایسے کروڑوں کے بھی اعداد سے پیارے
ان سب سے نہ ہوں پیارے تو ایمان کہاں ہے
خود پوچھئے اپنے سے مسلمان کہاں ہے
گر تم کو گوارا ہے تو زیست ہے بے کار اور مر کے بھی اعمال ہیں سب باعث آزار
گستاخ نبی ﷺ پر تو ہمیشہ سے ہے پھٹکار پھر کیوں نہ دیا جائے اسے جان سے ہی مار
لازم ہے وجود اس کا یہ دھرتی نہ اٹھائے
مسلم پہ بھی لازم ہے اسے بڑھ کے مٹائے
ڈنمارک ہو اٹلی ہو کہ ہو ناروے، یوکے ہر صاحب ایمان جو ان ملکوں پہ تھوکے
اور قطع تعلق سے کوئی ان کے نہ چوکے پھر کیسے نہ یہ جھک جائیں گے سود کے بھوکے
طے کیجیے ان ملکوں سے کچھ بھی نہ منگائیں
کھانے کی برتنے کی کوئی شے نہ دوائیں

—— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ——

صفحہ 121

عاصم احمد، ملتان

اے مومنو! توہین نبی ﷺ کیوں ہے گوارہ مضبوط نہیں گویا کہ ایمان ہمارا
اللہ کی قسم اللہ تمہارا ہے تمہارا سنتا ہے اگر جائے اسے دل سے پکارا
ایماں کی ہے تکمیل محبت سے انہی کی
تقدیس ہی مقصود ہے ناموس نبی ﷺ کی
یہ ڈیڑھ ارب دنیا میں زندہ ہیں کہ لاشیں اس راکھ میں اب کسی غازی کو تلاشیں
ثانی کوئی عامر کا کہ قیوم کا ڈھونڈیں کل ہم میں کئی غازی تھے وہ آج کہاں ہیں
ناموس رسالت ﷺ نے ہے جو پھر سے پکارا
بتلانا ہے دنیا کو ہمیں کیا ہے گوارا
کل گزرے کو آقا ﷺ کی جو توہین ہوئی تھی کچھ روز یہ امت بڑی غمگین ہوئی تھی
ہنگامے اٹھا کر ہمیں تسکین ہوئی تھی پھر بھول گئی بات جو سنگین ہوئی تھی
کیوں بجھ گئے شعلے جو بھڑکنے کو تھے بے تاب
گویا کہ ہوا بند ہے توہین کا ہر باب
یوں چپ ہیں کہ توہین کی کر لی ہے تلافی گستاخ سبھی ملکوں نے مانگی ہے معافی
اب بات کوئی ہوگی نہ امت کے منافی پھر ایسا نہیں ہوگا کہے بات اضافی
ہر آن برہنہ یہ شمشیر رہے گی
اب دنیا میں اسلام کی توقیر رہے گی
گستاخوں کو گر زور بازو سے نہ روکا یعنی کہ ہر اک گام پہ ان کو نہ ٹوکا
ہر گام لگائیں گے یہ اک تازہ کچوکا کھا جاؤ گے ان لوگوں سے دارین کا دھوکا
دیں پاؤ گے اس طور نہ دنیا ہی ملے گی
توہین نبی ﷺ گر دہر میں جاری رہے گی

بشکریہ

مئی، جون ۲۰۱۸ء

صفحہ 122

بزم ارجمند کامران طاہر

انٹرویو از مولانا امیر حمزہ٭

مولانا امیر حمزہ کا بنیادی طور پر معروف سلفی تنظیم 'جماعۃ الدعوۃ' سے تعلق ہے۔ آپ کی شخصیت عوامی حلقوں میں ایک منجھے ہوئے خطیب کی حیثیت سے جانی جاتی ہے جب کہ علمی اور صحافتی حلقوں میں مولانا ایک مصنف، قلمکار اور صحافی کے طور پر متعارف ہیں۔ مولانا کا شمار جماعۃ الدعوۃ کے بانی ارکان میں ہوتا ہے اور عرصہ ۲۰ سال سے تحریک دعوت و جہاد سے منسلک ہیں۔ اسی طرح آپ معروف میگزین ماہنامہ الدعوۃ کے تقریباً دس سال تک مدیر رہے اور ابھی تک ماہوار انگلش میگزین Voice of Islam اور ہفت روزہ اخبار 'غزوہ' کے چیف ایڈیٹر کے طور پر ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔ مولانا کتب کثیرہ کے مصنف ہیں ان کی بیس سے زائد مختلف موضوعات پر کتب منصہ شہود پر آچکی ہیں جن میں: توحید سیٹ (۵مجلدات)، ہندو کا ہمدرد، قافلہ دعوت و جہاد، ہندو دھرم، جہاد سیٹ (۵ مجلدات)، روس کے تعاقب میں، جیسی کتب قابل ذکر ہیں اور اب حال ہی میں سیرت نبی ﷺ پر 'سیرت کے سچے موتی' کے نام سے بھی ایک کتاب منظر عام پر آچکی ہے۔ مولانا جماعۃ الدعوۃ کی دعوتی سرگرمیوں میں اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوانتا ناموبے میں امریکی فوجیوں کی طرف سے قرآن کی توہین پر مولانا کو پاکستان کے تمام مسالک کے مشترکہ 'تحفظ قرآن' کی تحریک کا سیکرٹری نامزد کیا گیا اور اب حالیہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے ردعمل میں دفاع ناموس رسالت پر جماعۃ الدعوۃ کی طرف سے پاکستان کے تمام مسالک پر مشتمل برپا کی جانے والی تحریک 'تحریک تحفظ حرمت رسول' کے کنوینر کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ [طاہر]

رشد: مولانا! اپنا تعارف بیان فرمائیں؟ مولانا: الحمد لله والصلوة والسلام على رسول الله، فأما بعد! ۱۰مئی ۱۹۵۹ء کو میری پیدائش ہوئی میرے والد صاحب مولانا نذیر احمد صاحب بہت بڑے عالم تھے مدرسہ تقویۃ الاسلام سے ان کی فراغت تھی۔ مولانا داؤد غزنوی، مولانا حنیف بھوجیانی، مولانا نیک محمد صاحبؒ ان کے استاد تھے اسی طرح میرے نانا مولانا تاج دین بہت بڑے عالم تھے۔ انہوں نے اپنا ایک مدرسہ بنایا ہوا تھا اور اس کے مہتمم بھی تھے اور شیخ الحدیث بھی۔ مولانا داؤد غزنویؒ ان کے پاس جایا کرتے تھے اور ایک ایک ہفتہ ان کے پاس ٹھہرا کرتے تھے۔ گندم اور مونجی کے موسم میں ان کے پاس پورے پاکستان سے جو غلہ آتا تھا ان میں سے بہت زیادہ میرے نانا جی ہی دیا کرتے تھے۔ نبی پور پیراں تحصیل ننکانہ سے ان کا تعلق تھا یہ سارا گاؤں اہل حدیث

٭ کنوینر تحریک تحفظ حرمت رسولؐ، لاہور، پاکستان

—— جمادی الاولیٰ، الاٰخرۃ ۱۴۲۹ھ ——

رشد

ہے ایسے گھرانے کے اندر میں نے آنکھ آباد سے وفاق المدارس کیا اور جامعہ خطابت کی یہ میری باقاعدہ خطابت کا بطور عربی ٹیچر تعیناتی ہوئی جہاں چھ سا مرلے پر مشتمل مدرسہ ہم نے قائم کیا تحریک پر شروع ہوا، کیونکہ وہاں کے کوٹ اور اس کے گردونواح میں دخ نے مل کر جماعت بنائی اس طرح رہے ہیں یہ سب سلسلے چل رہے حیثیت حاصل کر چکی ہے اور جن موجود سب جماعتوں نے اس نگرانی میں جماعۃ الدعوۃ اس میں اس کے بعد جب انہوں نے پ میں بھر پور طریقے سے کام ہوا او رشد: توہین آمیز خاکوں کی اشاع مولانا: آپ کے سوال کے دو لوگ اصل میں اسلام کی ق اور عراق پر قبضہ کیا ۔ اس مار پڑی کہ جس کا اعترا رپورٹ کے مطابق ان ہزار امریکی فوجی ان خ کہ مقامی میڈیا جن خ کرنے والوں کی تص افغانستان میں ہم ال کہ اس کی وجہ صرف غرق کیا ہے اور پ ادراک کرتے بلکہ اور ان خاکوں کے

صفحہ 123

تعلق ہے۔ آپ کی شخصیت عوامی کہ علمی اور صحافتی حلقوں میں مولانا الدعوۃ کے بانی ارکان میں ہوتا ہے یہ معروف میگزین ماہنامہ الدعوۃ اور ہفت روزہ اخبار Voice of تب کثیرہ کے مصنف ہیں ان کی بیس سمیت (۵ مجلدات)، ہندو کا ہمدرد، میں، جیسی کتب قابل ذکر ہیں اور بھی ایک کتاب منظر عام پر آچکی کا رتبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوانتا نستان کے تمام مسالک کے مشترکہ خاکوں کی اشاعت کے ردعمل میں ممالک پر مشتمل برپا کی جانے والی [طاہر]

صاحب بہت بڑے عالم تھے مدرسہ رحمانی، مولانا نیک محمد صاحب ؒ ان نے اپنا ایک مدرسہ بنایا ہوا تھا اور کرتے تھے اور ایک ایک ہفتہ ان ان سے جو غلہ آتا تھا ان میں سے تعلق تھا یہ سارا گاؤں اہل حدیث

کامران طاہر

ہے ایسے گھرانے کے اندر میں نے آنکھ کھولی اسی طرح میں نے میٹرک کے بعد دینی تعلیم حاصل کی۔ جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے وفاق المدارس کیا اور جامعہ محمدیہ لوکو ورکشاپ میں کچھ عرصہ پڑھاتا رہا پھر غازی آباد کی مسجد میں کچھ عرصہ خطابت کی یہ میری باقاعدہ خطابت کا آغاز تھا۔ اس کے بعد شاہ کوٹ ضلع شیخوپورہ کے ہائی سکول میں ضیاء دور میں بطور عربی ٹیچر تعیناتی ہوئی جہاں چھ سال تک ہائی کلاسز میں تدریسی فرائض سرانجام دیتا رہا اور وہیں پر ایک ایکڑ سترہ مرلے پر مشتمل مدرسہ ہم نے قائم کیا اور یہ بہت بڑا اہلحدیث مرکز تھا جو ہم نے وہاں پر قائم کیا اور یہ سب کچھ میری تحریک پر شروع ہوا، کیونکہ وہاں کے چیئرمین صاحب اہل حدیث تھے اور وہ میرے دوست بھی تھے اس طرح سے شاہ کوٹ اور اس کے گردونواح میں دعوت کا کام پھیلا۔ جب افغانستان میں جہاد کا آغاز ہوا تو حافظ سعید صاحب اور ہم نے مل کر جماعت بنائی اس طرح سے پاکستان کے اندر اس جماعت نے دعوت کا کام شروع کیا اور جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں یہ سب سلسلے چل رہے ہیں۔ اسی طرح چند آدمیوں سے شروع ہونے والی یہ جماعت آج بین الاقوامی حیثیت حاصل کر چکی ہے اور جب قرآن کی ہتک امریکی فورسٹار / سطح کے جرنیل کی طرف سے ہوئی تو پاکستان میں موجود سب جماعتوں نے اس کے خلاف Step لینے کی کوشش کی۔ ان کوششوں میں حافظ سعید صاحب کی نگرانی میں جماعۃ الدعوۃ اس میں پیش پیش تھی اور اس تنظیم کا مجھے سیکرٹری بنایا گیا۔ لہٰذا ہم نے بھر پور طریقے سے کام کیا اس کے بعد جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ہتک آمیز خاکے بنائے تو تحریک حرمت رسول ﷺ بنی اور پھر ملک بھر میں بھر پور طریقے سے کام ہوا اور ہو رہا ہے اور اس کا مجھے کنوینر بنایا گیا۔

ندا: توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے کیا مقاصد ہیں؟

مولانا: آپ کے سوال کے دو حصے ہیں میں اس کے دو حصے کروں گا پہلی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے یہ کام کیا کیوں؟ یہ لوگ اصل میں اسلام کی تحریک اور اسلام سے خائف تھے۔ لہٰذا انہوں نے اسلامی ممالک پر حملے کئے افغانستان اور عراق پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد مجاہدین کھڑے ہوئے اور ان پانچ چھ سالوں میں مجاہدین کے ہاتھوں انہیں اتنی مار پڑی کہ جس کا اعتراف آج وہ خود کر رہے ہیں۔ افغانستان اور عراق سے بھاگنے کی باتیں ہو رہی ہیں ایک رپورٹ کے مطابق ان کے ۷۲ ہزار امریکی فوجی مارے جاچکے ہیں۔ امریکہ کے Latest Media کے مطابق ۱۳ ہزار امریکی فوجی ان خطوں میں جانے کے ڈر سے خود کشیاں کرچکے ہیں اور یہ پینٹا گان کی رپورٹ ہے۔ جب کہ مقامی میڈیا جن میں نیو یارک ٹائم اور اس طرح کے دوسرے اخبارات و چینلز کی رپورٹ کے مطابق خود کشی کرنے والوں کی تعداد ۳۶ ہزار ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ نیٹو کا سیکرٹری جنرل بھی بے بسی کا اظہار کر چکا ہے کہ افغانستان میں ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ یہ صورتحال ہے جس سے وہ آج دو چار ہیں جب ان کو اس کا پتہ چلا کہ اس کی وجہ صرف اسلام ہے قرآن ہے اور نبی کی سیرت ہے جسے پڑھ پڑھ کر مسلمانوں نے ان لوگوں کا بیڑا غرق کیا ہے اور مجاہدین نے یہیں سے جذبہ حاصل کیا ہے جب ان کو یہ پتہ چلا، بجائے اس کے کہ وہ اس کا ادراک کرتے بلکہ اندھے تعصب میں انہوں نے یہ چھچھوری حرکت کی کہ نبی ﷺ کے خاکے بنانے شروع کر دیئے اور ان خاکوں کے اندر بھی یہی ظاہر کیا گیا کہ دہشت گردی محمد ﷺ سے پھوٹی۔ نعوذ باللہ من ذلک

مئی، جون ۲۰۰۸ء

انٹرویو کامران طاہر

صفحہ 124

انٹرویو از مولانا امیر حمزہ

اب ان کا شائع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انہوں نے اپنی جھوٹی انانیت کہ ہم سپر پاور ہیں کو تسکین دینے کے لئے یہ بھونڈا طریقہ استعمال کیا۔ دوسرا یہ کہ مسلمانوں کے دلوں سے اللہ کے نبی ﷺ کی محبت کو ختم کر دیا جائے۔ تیسرا یہ کہ ان کے اپنے لوگ جو تیزی سے اسلام کی طرف راغب ہو رہے ہیں ان کو روکنے کے لئے ۔ چوتھا یہ کہ ان کا بار بار خاکے بنانا مسلمانوں کو to use کرنے کے لئے اور انہیں عادی بنانے کے لئے ہے تا کہ اگر انہوں مظاہرے کئے تو ایسی حرکت پھر کردیں گے اگر بائیکاٹ کیا تو پھر کردیں گے اس لئے وہ بار بار خاکے شائع کرتے ہیں لیکن مسلمانوں نے ثابت کیا ہے کہ جس طرح یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں عادی بنایا جائے ہم ان کا یہ ہتھکنڈا چلنے نہیں دیں گے اور اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔

رشد: او آئی سی کا اس سانحہ سے متعلق کیا کردار رہا اور کیا اس پر اس معاملہ میں مسلمانوں کی نمائندگی کے لئے اعتماد کیا جاسکتا ہے؟

مولانا: اس وقت تمام مسلمان ممالک کے حکمران مصلحتوں کا شکار ہیں اور ان مصلحتوں کے باوجود جن لوگوں نے اچھا کردار ادا کیا ہے وہ دو حکمران ہیں ایک سعودی عرب کے شاہ عبداللہ ہیں اور دوسرے سوڈان کے عمر البشیر ہیں اس کے بعد پاکستان کی اسمبلی صوبہ سرحد کی اسمبلی کو بھی ہم Appreciate کرتے ہیں کہ انہوں نے بھی خاکے شائع کرنے والوں کی بھر پور مذمت کی ہے اور یوں دنیا کے مسلمانوں کا کردار بھی اس معاملہ میں لائق تحسین ہے، کیونکہ سعودی عرب کے حکمران نے ڈنمارک کے سفیر کو نکالنے کی دھمکی دی پھر ان کا بھر پور اقتصادی بائیکاٹ کیا۔ جس سے انہوں نے گھٹنے ٹیکے معذرتیں لکھیں اور سوڈان نے بھی اس طرح کا بھر پور کردار ادا کیا ہے۔

او آئی سی کا کردار بحیثیت مجموعی لائق تحسین نہیں تھا انہوں نے مسلمانوں کے مسائل کے بارے آج تک نشستن گفتن برخاستن کی طرح کردار ادا کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس کے لئے انہوں جو کچھ بھی کیا ہے اس قابل نہیں ہے کہ اسے قابل رشک یا آئیڈیل کہا جائے۔ باقی رہی اعتماد کی بات تو کسی پر اعتماد اس کے ماضی اور حال کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ لہذا جب او آئی سی کا ماضی اور حال قابل تحسین ہی نہیں رہا تو اس پر اعتماد کیسے کیا جا سکتا ہے؟۔ ہاں! ایک صورت ہے کہ جس طرح کہ مجاہدین نے کفر کو عسکری محاذ پر شکست سے دو چار کیا ہوا ہے تو کفار ممالک اس طریقہ سے کمزور ہوتے چلے جائیں تو مسلمان قوتوں میں حوصلہ اور خود اعتمادی پیدا ہو سکتی ہے اس طرح ان سے کچھ کردار ادا کر سکنے کی کی امید کی جاسکتی ہے۔

رشد: کارٹونوں کی اشاعت کے ردعمل میں مسلمان ممالک کا اقتصادی و سفارتی بائیکاٹ کرنا کس حد تک مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے؟

مولانا: میں کہتا ہوں کہ اقتصادی بائیکاٹ اس وقت اتنا مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے اور مؤثر ترین ہتھیار ہو سکتا ہے کہ جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ دیکھیں جب عبرت کا نشان بنایا جاتا ہے تو کسی بڑے مجرم کو ہی بنایا جاتا ہے سب کو تو سزا نہیں دی جاتی تو ڈنمارک جرمنی اور ہالینڈ نے یہ کام کیا ہے۔ ان تینوں کو بطور مثال سامنے رکھ لیں اور میں کہتا ہوں ان تینوں میں سے بھی جو بانی ہے یعنی ڈنمارک کو سامنے رکھ لیں جب سے یہ کام شروع ہوا ہے میں کم

—— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ——

صفحہ 125

کامران طاہر

از کم ایک ملک کی بات کر رہا ہوں کہ اگر اس ایک ملک کے ساتھ ۵۶ اسلامی ممالک تجارت اور لین دین ختم کر دیں تو اس کو دن میں تارے نظر آ جائیں گے اور ساتھ یہ دھمکی بھی دے دیں کہ اگر کسی اور ملک نے ایسا کیا تو ہم اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں گے ۔ تو باقی سب کا بھی دماغ درست ہو جائے گا اور پھر اگلا Step کہ اگر ۵۶ اسلامی ممالک اس سے سفارتی تعلقات بھی ختم کر دیں تو پھر تو سبحان اللہ کیا ہی کہنے!

نداء: کیا مسلمان اس وقت اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ ڈنمارک اور دوسرے ممالک جن کے اخبارات میں خاکے شائع ہو چکے ہیں کا اقتصادی بائیکاٹ کر سکیں ؟

مولانا: اگر شمالی کوریا جیسا ملک امریکہ کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے اور امریکہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکا اسی طرح ان کے پڑوس میں کولمبیا کا ہوگو شاویز امریکہ کے سامنے کھڑا ہو گیا تو امریکہ نے اس کا کیا کر لیا تو ۵۶ ممالک بھی یہ کام کر سکتے ہیں اس میں نہ کرنے کوئی وجہ ہی نہیں ہے ۔

نداء: کچھ آوازیں سنی گئی ہیں کہ خاکے شائع کرنے والے ممالک کے خلاف اعلان جہاد کر دیا جائے کیا ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ یہ قدم اٹھا سکیں ؟

مولانا: جہاد اس طرح نہیں ہوتا ، کیونکہ اس میں بہت ساری چیزیں دیکھنی پڑتی ہیں اور اس معاملہ میں عالم اسلام کے علماء اس مسئلہ کیلئے بیٹھیں اور فتویٰ دیں یا چند مسلم ممالک ملیں اور عالم اسلام کو اس پر قائل کیا جائے امت کو اس نکتہ پر اکٹھا کیا جائے اور پھر جہاد کا اعلان کریں ۔

نداء: ہم دیکھ رہے ہیں کہ ڈنمارک کے خلاف اٹھنے والی تحریک مسلم ممالک میں روز بروز بڑھتی جا رہی ہے کیا یہ تہذیبوں کے ٹکراؤ کی طرف سفر تو نہیں ؟

مولانا: ٹکراؤ کی طرف سفر نہیں بلکہ ٹکراؤ شروع ہو چکا ہے ۔ اور تہذیبوں کے ٹکراؤ کا آغاز ہم مسلمانوں نے تو نہیں کیا اس کا آغاز تو ان کی طرف سے ہوا ہے ۔ حال ہی میں ہنٹنگٹن نے Clash of Civilizations (تہذیبوں کا ٹکراؤ) کے نام سے ایک کتاب لکھی اس کے اندر اس نے یہ ثابت کیا کہ مسلمان ابھر رہے ہیں اس کے بعد تہذیبوں کے ٹکراؤ کی بات ہوگی اور ہماری تہذیب کامیاب ہو گی ، کیونکہ ہماری تہذیب سائنس اور ٹیکنالوجی سے مالا مال ہے اور مسلمان تباہ ہو جائیں گے ۔ ہم نے اور بھی بہت سی تہذیبوں کو تباہ کر دیا ہے مثلاً چائینز تہذیب دیکھیں وہاں یورپین تہذیب چھا گئی ہے انڈیا نے اس تہذیب کو بڑی آسانی سے Improve کیا ہے اور بھی کئی قوموں نے قبول کر لیا ہے انہوں نے کہا کہ مسلمان بھی تباہ ہو جائیں گے چونکہ ہندومت اور چینیوں کے پلے کچھ بھی نہیں تھا ۔ جبکہ مسلمانوں کے پاس ایک اپنی تہذیب ہے ۔ انہوں نے کہا یہ تہذیب بھی ہمارے سامنے خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گی ۔ لہذا اس کو ختم کرنا چاہیے پھر اس کے لئے انہوں نے خطرہ محسوس کیا کہ افغانستان میں طالبان نے اسلامی حکومت قائم کر لی ہے لہذا مسلمانوں کو ڈرانے کے لئے انہیں ملیا میٹ کرنے کی کوشش کی، لیکن تہذیب کو ملیا میٹ نہ کر سکے ۔ اور ان پر جب حملہ کیا تو بش نے صلیب کا نام لے کر حملہ کیا اس کے بعد انہوں نے عراق پر حملہ کیا، لیکن وہ الٹا ہو گیا ابھی ہنری کسنجر کی جو Latest کتاب آئی ہے اس میں اس

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 126

رسائل

انٹرویو از مولانا امیر حمزہ

نے واضح طور پر کہا کہ ۔ ہماری تہذیب مسکین ہے اور محمد کی تہذیب بڑی طاقتور اور قد آور ہے اور وہ کامیاب ہو رہی ہے مطلب یہ ہے کہ ہماری تہذیب شکست خوردہ ہے۔ تو ٹکراؤ آغاز تو خود انہوں نے کیا اور پھر ٹکراؤ ہوتا چلا گیا اس وقت افغانستان اور عراق میں ہو رہا ہے، کشمیر میں ہو رہا ہے فلسطین میں ہو رہا ہے ہر طرف ہو رہا ہے اور جب یہ اللہ کے رسول ﷺ کے خاکے بناتے ہیں تو یہ بھی ایک ٹکراؤ ہے اور جب وہ قرآن پر ڈانس کرتے ہیں تو یہ بھی تہذیب کا ٹکراؤ ہے تو علمی دنیا میں آپ کتابیں دیکھیں ٹی وی چینلز دیکھیں تو ایک ہی بات سامنے آرہی ہے وہ یہی ہے کہ اسلامی تہذیب کیا ہے؟ یہ مجاہدین کیا ہیں؟ یہ داڑھیوں والے کیا ہیں؟ قرآن سامنے آ رہا ہے کہ قرآن کیا کہہ رہا ہے محمد ﷺ کی سیرت کیا کہہ رہی ہے لہذا تہذیبوں کا ٹکراؤ تو شروع ہے۔

ندا: اس مسئلہ کے حل میں کیا اقوام متحدہ سے کوئی امید کی جاسکتی ہے؟ مولانا: وہ تو امریکہ کی لونڈی ہے اس پر کس طرح اعتماد کیا جاسکتا ہے وہ فلسطین کی کسی ایک قرارداد پر عمل نہیں کرواسکا۔ UNO کشمیر کا مسئلہ پر کوئی Step نہیں لے سکی قراردادیں پاس کرنے کے باوجود انڈیا سے کچھ نہ کرواسکی UNO یونائیٹڈ نیشنل آرگنائزیشن جو امن کے لئے بنائی گئی تھی جس کا ماٹو ہی This organization for Peace of World تو کیا یہ امریکہ کو عراق کے حملے سے روک سکی ؟۔ افغانستان سے حملہ رکوا دیا ؟ وہ تو خود امریکہ ہے امریکہ کی لونڈی ہے امریکہ کا ایک غلام ہے یہ ادارہ اپنے مقاصد کا آپ بیڑا غرق کر رہا ہے اور اپنی افادیت کھو بیٹھا ہے اس سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔؟

ندا: اسلامی ممالک کے سربراہان کی طرف سے کارٹونوں کے ردعمل میں سردمہری اور خاموشی کی کیا وجہ ہے۔؟ مولانا: کمزوری!!! اسلامی ملکوں کی کمزوری یعنی امریکہ کے مقابلہ میں یا کفار ممالک کے مقابلہ میں اسلامی ممالک نے تیاری نہیں کی ان کی مصلحتیں ان کی کمزوریاں ہیں اور جب یہ کمزوریاں دور ہو جائیں گئی تو یہ شیر ہو جائیں گے۔

ندا: موجودہ حکومت اور مشرف کے درمیان ٹھن جانے والی صورتحال بن چکی ہے تو موجودہ اضطرابی حالات میں مسئلہ توہین رسالت دب تو نہیں جائے گا؟ مولانا: دیکھیں جی! یہ تحریک تو اب چل نکلی ہے تو اب نہیں دبے گی یہ جاری رہے گی ہاں اس میں یہ ہوسکتا ہے کہ حالات کے مطابق کبھی ٹھہراؤ آجائے یا یہ ہے کہ یہ اپنا رخ تھوڑا سا تبدیل کر لے اب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ دنیا میں اب اس کے متعلق ہر وقت مظاہرے ہی ہوتے رہیں۔ حال ہی میں سیرت رسول پر میری لکھی ہوئی کتاب آئی ہے آپ اس کو پڑھیں اسی تناظر میں اس کو لایا ہوں۔ الحمدللہ اسی طرح ہمارے ہفت روزہ ’غزوہ‘ کا کردار ہے۔ دوسرے اخبارات بھی کردار ادا کر رہے ہیں اس لیے اس کے بھی چینلز ہیں اس کی بھی جہتیں ہیں لہذا یہ تحریک چودہ سو سال سے نہیں رکی اب کیسے رکے گی۔

ندا: موجودہ تحریک سے کسی تبدیلی یا انقلاب کی توقع کی جاسکتی ہے۔؟ مولانا: دیکھیں جی! اس تحریک کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے اندر ایسی تبدیلی یا انقلاب لانا کہ لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت پر عمل پیرا ہوں یہ تو اللہ کے فضل و کرم سے تبدیلی آرہی ہے۔ آپ نے دیکھا نہیں کہ لوگوں کے دلوں میں

--- جمادی الاولیٰ، الاٰخرۃ ۱۴۲۹ھ ---

اللہ کے نبی ﷺ کی محبت پیدا ہورہی ۵۰ ہزار لوگ اسلام قبول کر رہے ہی پر عمل پیرا ہونے کا انقلاب۔ پاکس رہی ہے اور سب سے اچھا انقلابی انہی دنوں میں میرا آزاد کشمیر کے کے مرکزی راہنما جن میں جماع اُمڈے آ رہے تھے مردوں کے علا باغ شہر میں بھی کانفرنس ہوئی ۔ ہے باقی آپ تصور کریں پورے یہ جذبہ اللہ کے فضل سے لوگوں میں اللہ کے نبی ﷺ کی محبت انقلاب ہے۔

ندا: تحریک کے حوالے سے حکومتی مولانا: نہیں حکومتی سطح پر ہمیں اس کے نبی ﷺ کی محبت ہے او ضرور ہوتی ہیں لہٰذا رکاوٹیں رسول کے معاملے میں اتنے

ندا: پاکستان میں ایک عرصہ تک پر جمع رہنا ممکن ہے؟ مولانا: یہ ممکن ہے اور ان شاء ا زبردست یہ کام ہوا ہے کہ ضروری ہے کہ مسالک کے کیونکہ دل دلیل سے مانت الدِّيْنِ﴾ ’دین میں کوئی سبحان اللہ! اسلام کیا ہی ﴿قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَ يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِ ہم مسلمان ہیں ہمیں اللہ

صفحہ 127

کامران طاہر

اللہ کے نبی ﷺ کی محبت پیدا ہو رہی ہے۔ برطانیہ کو دیکھیں وہاں کی وزیر داخلہ کہہ رہی ہے کہ برطانیہ میں ہر سال ۵۰ ہزار لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ یہ تبدیلی ہے یہ انقلاب ہے جو آ رہا ہے۔ سیرت آشنائی کا انقلاب، سیرت پر عمل پیرا ہونے کا انقلاب۔ پاکستان کی سطح پر بھی ہم پورے ملک میں جلسے کر رہے ہیں اور انہیں بڑی پذیرائی مل رہی ہے اور سب سے اچھا انقلابی پہلو اس میں یہ ہے کہ اس میں سارے مسالک کے لوگ شامل ہو رہے ہیں۔ انہی دنوں میں میرا آزاد کشمیر کے علاقہ باغ میں جانا ہوا جہاں ہمارا پروگرام تھا اس میں بریلوی و دیوبندی مسالک کے مرکزی رہنما جن میں جماعت اسلامی کے مرکزی لیڈر عبدالرشید ترابی جیسے لوگ موجود تھے اور ہر طرف لوگ اُمڈے آ رہے تھے مردوں کے علاوہ عورتوں کی کثیر تعداد نے بھی اس میں شمولیت کی اور ساتھیوں نے مجھے بتایا کہ باغ شہر میں بھی کانفرنس ہوئی ہے یہ تو اس سے بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ تو ایک دور دراز کے پہاڑی علاقے کی حالت ہے باقی آپ تصور کریں پورے ملک میں پروگرام کیسے ہوئے ہوں گے۔ یہ ہے لوگوں کے اندر جذبہ اور ہم نے یہ جذبہ اللہ کے فضل سے لوگوں تک پہنچایا ہے وہ لوگ ان کو بے دین بنانا چاہتے تھے ہم نے اللہ کے فضل سے ان میں اللہ کے نبی ﷺ کی محبت پیدا کی ہے دین کی محبت پیدا کی ہے اگر سب لوگ اس پر جمع ہو گئے تو یہ ایک بڑا انقلاب ہے۔

نداء: تحریک کے حوالے سے حکومتی سطح پر کس قسم کی رکاوٹوں کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا؟

مولانا: نہیں حکومتی سطح پر ہمیں اس تحریک میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا، کیونکہ ان کے سینوں میں بھی اللہ کے نبی ﷺ کی محبت ہے اور اس معاملہ میں اتنا ہی درد ہے جتنا کہ ہمارے سینوں میں ۔ ہاں ان کی مجبوریاں ضرور ہوتی ہیں لہذا رکاوٹیں نہیں آئیں ایک تو یہ سبب اور دوسرا یہ سبب ہے کہ پورے پاکستان کی عوام حرمت رسول کے معاملے میں اتنے مشتعل ہیں کہ اس پر حکومت کوئی رسک لے بھی نہیں سکتی ۔

نداء: پاکستان میں ایک عرصہ تک فرقہ واریت کی فضا قائم رہی ہے اس تناظر میں مختلف فرقوں کا تحریک کے پلیٹ فارم پر جمع رہنا ممکن ہے؟

مولانا: یہ ممکن ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی ایک پلیٹ فارم پر جمع رہنے کی حالت یہی رہے گی اور اس سے ایک بڑا زبردست یہ کام ہوا ہے کہ تمام مسالک کے لوگوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع ملا اور اتفاق و اتحاد قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ مسالک کے اندر جو اختلافات ہیں ان کو ڈائیلاگ اور گفتگو تک رکھیں ۔ ایک دوسرے کو قائل کریں، کیونکہ دل دلیل سے مانتا ہے کلاشنکوف اور ڈنڈے سے نہیں مانتا۔ اسی لیے قرآن بھی کہتا ہے: ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ ”دین میں کوئی جبر نہیں ۔“

سبحان اللہ! اسلام کیا ہی دین فطرت ہے۔ یعنی آپ نے اگر کسی عیسائی کو بھی قائل کرنا ہے تو وہ بھی دلیل سے ﴿قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴾ [آل عمران:۶۴] ہم مسلمان ہیں ہمیں اختلاف کو دلیل کے ساتھ رفع کرنا چاہیے، اگر کوئی نہیں مانتا تو اس کی مرضی ۔ اللہ اپنے نبی کو

مئی، جون ۲۰۱۸ء

صفحہ 128

انٹرویو از مولانا امیر حمزہ

فرما رہے ہیں ﴿لَّسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ﴾ ”آپ ان لوگوں پر داروغہ نہیں ہیں“ تو آج کا مولوی کس طرح داروغہ بن سکتا ہے کہ ڈنڈا لے کر کھڑا ہو جائے۔ ناں بھئی! اب ایسا نہیں ہوسکتا۔ باقی جو مشترکات ہیں توحید ہے اللہ کا قرآن ہے اور اب اللہ کے نبی کی حرمت کو پامال کیا گیا ہے تحفظ ناموس رسول سب کے ہاں ایک چیز ہے۔ اس لیے سارے یہاں پر اکٹھے ہوگئے ہیں اور یہ ایک ایسی اساس ہے کہ اس پر اکٹھے ہی رہیں گے الگ ہو ہی نہیں سکتے۔

رشد: عالم اسلام میں پاکستان کو اسلام کا قلعہ تصور کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان کی طرف سے اس اقدام کے ردعمل میں کوئی خاص بات سامنے نہیں آئی کیا وجہ ہے؟

مولانا: اس کی ایک وجہ ہے کہ حکمران بیچارے امریکہ سے ڈرے ہوئے ہیں اور امریکہ یہاں مسلمانوں کی مرضی نہیں چاہتا اور دوسرا یہ کہ ہم بھکاری ہیں، اب دیکھیں سعودی عرب کو مانگنے کی ضرورت نہیں وہ تو دیتا ہے انہوں نے اپنے ملکوں میں اسلامی نظام قائم کیا ہے ہم اگر امریکہ سے مانگیں بھی اور پھر کہیں کہ اسلامی قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ہمارے کئی المیے ہیں۔

رشد: موجودہ حکومت کا اس معاملہ میں پیچھے رہنا حکومتی استحکام کی تیاری کی وجہ سے ہے یا مشرف پالیسی کا شاخسانہ ہے؟

مولانا: کچھ یہ وجہ بھی ہے ملی جلی وجوہات ہیں آپ کو جو پہلے وجہ بتائی ہے وہ ۱۰۰ فیصد نہیں وہ وجہ آپ ۵۰ فیصد سمجھ لیں باقی ان کی بے دینی اور ایمان کی کمزوری بھی ہے ان میں جو موٹی موٹی دو تین ہیں میں نے آپ کو ذکر کر دی ہیں۔

رشد: سعودی عرب کو عالم اسلام میں مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ تو حالیہ کارٹونوں کے مسئلہ میں سعودی حکومت اور علماء کا عالمی سطح پر کیا کردار ہونا چاہیے؟

مولانا: میں کہتا ہوں کہ ان کا بڑا اچھا کردار ہے عالم اسلام کی راہنمائی ہی ان کا کردار ہے اور ان کی راہنمائی ان کے خطبات کے ذریعے ہم تک آتی رہتی ہے۔ جیسا کہ امام کعبہ کا پچھلے دنوں خطبہ حج ہمارے سامنے آیا ہے بہت اچھا خطبہ تھا اور اسی طرح کے خطبات میں وہ وقتاً فوقتاً ہماری راہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کا جو کردار ہے اس کے مطابق ادا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

رشد: خاکوں کے تناظر میں علماء پاکستان کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟

مولانا: پاکستان میں علماء کا کردار یہی ہے کہ رسول اللہ کی سیرت کو عام کریں اور حرمت رسول پر چلنے والی اس تحریک میں اپنا حصہ ڈالیں۔

رشد: آخر میں آپ ماہنامہ ’رشد‘ کے حوالے سے طلباء کو کوئی پیغام دینا چاہیں؟

مولانا: رشد بڑا اچھا نام ہے اور طلباء اس کو نکال رہے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت دین کے صحافیوں کی بڑی اشد ضرورت ہے اور خاص طور پر جو تہذیبوں کی جنگ ہے اس جنگ کے دوران میں یہ بھی ایک محاذ ہے اور یہ بہت بڑا محاذ ہے اور آپ لوگوں نے اس محاذ میں حصہ ڈالنے کی کوشش کی ہے یہ بڑی اچھی کوشش ہے میں اسے appreciate کرتا ہوں اور آپ کے لیے دعا بھی کرتا ہوں اور اس کے لیے تجویز بھی دیتا ہوں کہ اس کو بہتر بنائیں، اچھا سے اچھا بنائیں اور ملکی اور بین الاقوامی حالات کو ضرور سامنے رکھیں۔ ان کو سامنے رکھ کر قرآن

انٹرویو

وسنت کی راہنمائی ساتھ ساتھ ہو اس طر ہوگا۔ اگر طلباء آپ کی اس راہنمائی کے کے میدان میں اپنا بہترین کردار ادا کری اس لیے کہ صحافت کے میدان پر انحصار میں بڑا آگے ہے تو ہمیں اس میدان

محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، آپ کی شان میں ادنیٰ سی بے فرمان: ﴿إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾ اس بات کی دلیل ہے کہ ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے "فيجب أن نبتر من اظهر التوبة بعد القدرة" "یعنی جو شخص رسول اکرم دین، جب یہ ضروری ہے تو ای مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے کو برا بھلا کہا اور آپ کی ش یا انبیاء کرام علیہم السلام میں سے قتل کر دو۔" الصارم الم اس لئے کہ انبیاء کر نام سے جو کچھ لوگوں تک طرف سے پہنچایا ہے، تکذیب کرنا یا آپ کو کرنے اور بھیجنے والے کی زمین پر زندہ رہنے

---جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ---

صفحہ 129

کامران طاہر

وسنت کی راہنمائی ساتھ ساتھ ہو اس طرح سے اس کو پھیلائیں۔ ان شاء اللہ یہ اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوگا۔ اگر طلباء آپ کی اس راہنمائی کے تحت اس میں مضمون لکھیں گے تو آج کے طلباء اس میں لکھتے لکھتے صحافت کے میدان میں اپنا بہترین کردار ادا کریں گے، کیونکہ ایسے لوگوں کی عالم اسلام کو اس وقت شدید ضرورت ہے اس لیے کہ صحافت کے میدان پر اغیار کا قبضہ ہے یہودیوں کا قبضہ ہے صلیبیوں کا قبضہ ہے۔ ہندو بھی اس میدان میں بڑا آگے ہے تو ہمیں اس میدان میں آگے بڑھنا چاہیے۔

٭ ٭ ٭

محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ کا ادب و احترام اور آپ کی توقیر و تعظیم ہر انسان پر فرض ہے، بلکہ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، اس کے برعکس نبی محترم ﷺ کی توہین و تنقیص آپ کا استہزاء و استخفاف اور آپ کی شان میں ادنیٰ سی بے ادبی اور گستاخی ایمان کو ضائع اور کفر کو واجب کر دیتی ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ﴾ [الكوثر:۳] ”بے شک آپ کا دشمن بے نام و نشان ہے۔“

اس بات کی دلیل ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا دشمن اور آپ کی توہین کرنے والا مباح الدم اور واجب القتل ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

”فيجب أن نبتر من أظهر شنآنه وأبدى عداوته وإذا كان ذلك واجباً وجب قتله وإن أظهر التوبة بعد القدرة“

(الصارم المسلول: ص ۴۵۷)

”یعنی جو شخص رسول اکرم ﷺ سے عداوت اور دشمنی کا اظہار کرے تو ہم پر ضروری ہے کہ اس کا نام و نشان مٹا دیں، جب یہ ضروری ہے تو اسے قتل کرنا واجب ہے۔ اگرچہ پکڑے جانے کے بعد وہ توبہ کا اظہار ہی کرے۔“

مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے رسول اکرم ﷺ کو برا بھلا کہا اور آپ کی شان میں گستاخی کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا اور فرمایا جو شخص بھی اللہ تعالیٰ یا انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی کو برا بھلا کہے یا ان کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کا ارتکاب کرے تو اسے قتل کر دو۔“

(الصارم المسلول: ص ۲۰۱)

اس لئے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اور ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے دین و شریعت کے نام سے جو کچھ لوگوں تک پہنچایا ہے وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ کائنات کے خالق و مالک اللہ رب العزت کی طرف سے پہنچایا ہے، لہٰذا کسی بھی نبی کی خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنا یا آپ پر سب و شتم کرنا یا آپ کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کرنا دراصل آپ کو مبعوث کرنے اور بھیجنے والے اللہ رب العزت کو جھٹلانے کے مترادف ہے، اس طرح اللہ تعالیٰ کو جھٹلانے والا اس کی زمین پر زندہ رہنے کے قابل نہیں رہتا اس لئے اسے قتل کر دینے کا حکم ہے۔

(مولانا) محمد رمضان سلفی نائب شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ

مئی، جون ۲۰۱۰ء

ماہنامہ رُشد

صفحہ 130

کامران طاہر

رسولِ پاک کی حرمت پہ جاں بھی قرباں ہے

یہ ہے شریعت حقہ انہی کی لائی ہوئی ہے راہ دینِ ہدیٰ آپ کی دکھائی ہوئی
وہ ظلمتوں میں ہیں روشن چراغ کی مانند خبر اندھیروں کی، دشمن کی ہے اڑائی ہوئی
انہی کی ذات حقیقت میں اصل ایماں ہے
رسولِ پاک کی حرمت پہ جاں بھی قرباں ہے
وہ جب نہ تھے تو زمیں پر تھا قتلِ عام بہت کہ تھا جہان میں جور و جفا کا نام بہت
نوشتہ، صدق و صفا کا دیا گیا ان کو تھا ان کے واسطے اللہ کا کلام بہت
نہ یہ کلام رہے، دشمنوں کا ارماں ہے
رسولِ پاک کی حرمت پہ جاں بھی قرباں ہے
ہے سب کا راہنما بس انہی کا اسوۂ پاک علم ہے ان کی صداقت کا تا سرِ افلاک
کیا نہ جس نے کبھی ان کی بات کو تسلیم وہیں جہان میں آخر ہوا خس و خاشاک
یہ جان لو کہ مسلماں کا یہ ایماں ہے
رسولِ پاک کی حرمت پہ جاں بھی قرباں ہے
یہ سچ ہے، دینِ ہدایت سے بڑھ کے کچھ بھی نہیں جہاں میں شانِ رسالت سے بڑھ کے کچھ بھی نہیں
ہر ایک رتبۂ دنیا، تمام دولت دہر مرے نبی کی محبت سے بڑھ کے کچھ بھی نہیں
کتاب عمرِ مسلماں کا یہ عنواں ہے
رسولِ پاک کی حرمت پہ جاں بھی قرباں ہے
وہ رو سیاہ جو کرتا ہے روشنی پر وار یقیں کرو، اسے ہم کھینچ لائیں گے سرِ دار
ہم آنچ آنے نہ دیں گے نبی کی حرمت پر کہ جب تلک ہے جہانِ ثوابت و سیّار
نبی کے دین سے ہمارا یہ عہد و پیماں ہے
رسولِ پاک کی حرمت پہ جاں بھی قرباں ہے

جمادی الاولیٰ، الاٰخرۃ ۱۴۲۹ھ

رسالہ

ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے

ڈنمارک کے ایک دریدہ دہن، بدباطن گستاخی کا ارتکاب کیا ہے، وہ تو ہے ہی بہـ اور اس کو ہلا شیری دینے والے کون ہیں اور پھر صرف اسی ایک شخص یا صرف ایک والے اور اس گستاخی کی عام اشاعت کر یقیناً یہ سب کے سب اسی طرح مجر مغرب اور یورپ کے دیگر ممالک بھی ا

یہ صورتِ حال ہم سب مسلمانوں میں ہماری اپنی کوتاہیوں کا کتنا دخل ہے اس کو اپنے پروپیگنڈے کی قوت سے کی زبان و قلم سے ہوتا رہتا ہے۔ م متعصبانہ پروپیگنڈے کا توڑ مہیا ک سامنے پیش کیا ہے؟ ظاہر بات ہـ کام کے کرنے کی ضرورت تھی، ا دوسرے اس اعتبار سے بھی ا اور ان کی شخصی عظمتوں کا استہزاء کو کوئی باک نہیں، کسی کو کوئی لا پالیسیوں کا نتیجہ ہے، یہ سب م ان کے داتا بنے ہوئے ہیں،

جب تک یہ صورتِ حال ان کو ان کی اس جسارت سے

صفحہ 131

حافظ صلاح الدین یوسف٭

ہمارے پیغمبر ﷺ کے خلاف یہ شوخ چشمانہ جسارت!......

لمحہ فکریہ

ڈنمارک کے ایک دریدہ دہن، بد باطن اور متعصب شخص نے جس طرح رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کیا ہے، وہ تو ہے ہی بہت بڑا مجرم اور واجب القتل، لیکن اس گستاخ رسول کی ہمنوائی کرنے والے اور اس کو ہلاشیری دینے والے کون ہیں اور کیا ہیں؟ یہ بات بھی ہمارے لئے قابل غور ہے۔

پھر صرف اسی ایک شخص یا صرف ایک ہی ملک کے خلاف غم وغصہ کا اظہار کیوں؟ کیا اس کی تائید و ہمنوائی کرنے والے اور اس گستاخی کی عام اشاعت کرنے والے مجرم نہیں؟

یقیناً یہ سب کے سب اسی طرح مجرم ہیں جس طرح ڈنمارک کا کارٹونسٹ اور اخبار کا ایڈیٹر مجرم ہے۔ اس لئے کہ مغرب اور یورپ کے دیگر ممالک بھی اس کو پسند کرنے والے اور اس کو پھیلانے والے ہیں۔

یہ صورت حال ہم سب مسلمانوں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ ایک اس اعتبار سے کہ ان کی اس شوخ چشمانہ جسارت میں ہماری اپنی کوتاہیوں کا کتنا دخل ہے؟ مغرب کے مستشرقین نے ہمارے پیغمبر کا جو خلاف واقعہ ہیولیٰ تیار کیا ہے اور اس کو اپنے پروپیگنڈے کی قوت سے اپنے عوام وخواص کے دلوں اور دماغوں میں بٹھا دیا ہے جس کا اظہار وقتاً فوقتاً ان کی زبان وقلم سے ہوتا رہتا ہے۔ ہم نے مستشرقین کی ان مبغوض و مذموم کارروائیوں کے خلاف کچھ کیا ہے؟ ان کے متعصبانہ پروپیگنڈے کا توڑ مہیا کیا ہے؟ اور اپنے پیغمبر کی عظمت اور آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کا صحیح تصور ان کے سامنے پیش کیا ہے؟ ظاہر بات ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے۔ ہم نے یہ کام نہیں کیا ہے یا جس وسیع پیمانے پر اس کام کے کرنے کی ضرورت تھی، اس طرح ہم نے نہیں کیا ہے۔

دوسرے اس اعتبار سے بھی یہ قابل غور ہے کہ دنیا میں ہر مذہب کے پیشواؤں اور رہنماؤں کا احترام کیا جاتا ہے اور ان کی شخصی عظمتوں کو استہزاء و مذاق کا موضوع بنانے سے گریز کیا جاتا ہے، لیکن ہمارے پیغمبر کا خاکہ اڑانے میں کسی کو کوئی باک نہیں، کسی کو کوئی اندیشہ اور ڈر نہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ سب مسلمان ممالک میں مسلط حکمران طبقے کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، یہ سب مغرب کے ذہنی غلام بھی ہیں اور ان کے دریوزہ گر بھی۔ مغرب کے لوگ ہمارے آقا اور ان کے داتا بنے ہوئے ہیں، وہ ہمیں غلاموں اور بھیک منگوں سے زیادہ حیثیت دینے کے لئے تیار نہیں۔

جب تک یہ صورت حال تبدیل نہیں ہوتی اور ہم کاسہ گدائی توڑ کر صرف اپنے ہی وسائل پر انحصار نہیں کرتے۔ ہم ان کو ان کی اس جسارت بے جا سے روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔

٭ مدیر شعبۂ تحقیق وتالیف، مکتبہ دارالسلام، لاہور

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 132

محمد رفیق اثری

حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تقاضے

یہ کائنات اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی تخلیق ہے اور اسی نے انسان کو اس زمین میں آباد کیا، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا حق ہے کہ سب بندے اس کے آگے جھکیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إن حق الله على العباد أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئا الحديث»

[صحیح البخاری:۲۸۵۶، صحیح مسلم:۳۰]

اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ [الذاریات: ۵۶] ”میں نے جن اور انسانوں کی تخلیق اس لئے کی ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔“ اور اسی مقصد کے لئے ان میں انبیاء اور رسل مبعوث فرمائے۔ ارشاد ہے: ﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ [البقرة: ۳۸] ”کائنات کے خالق و مالک کے قاصدوں کی بغاوت اس کی بغاوت ہے اور پیغام پہنچانے والے رسول کی توہین مرسل مالک کی توہین ہے۔“

جب بھی ایسا ہوا مالک کائنات اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے گرفت کی اور بہت سی اقوام کو اسی وجہ سے صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ ارشاد ہے: ﴿وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ﴾ [الأنعام: ۱۰] ”آپ سے پہلے بھی کئی رسولوں سے استہزا کیا گیا پھر جن لوگوں نے ان پیغمبروں سے استہزا کیا ان کو عذاب نے آ گھیرا۔“

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے آخری رسول ہیں۔ سب انسانوں پر بلا امتیاز لازم ہے کہ آپ کے پیغام حق کو سنیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو وہ مقام دیں جس کے وہ رب العالمین کے قاصد و رسول ہونے کی حیثیت سے مستحق ہیں۔ اگر کوئی قوم یا فرد محض عناد و ضد کی وجہ سے ان کے پیغام کی تحقیر کرے اور ان کی ذات پر کیچڑ اچھالے تو دنیا کے سب مہذب اور غور وفکر کرنے والے انسانوں کی ذمہ داری ہے کہ ان کی زبان کاٹ دیں اور ان کے ہاتھ روکیں ورنہ ان کو بھیجنے والے کی ناراضگی کسی بھی انداز میں نازل ہوسکتی ہے۔ اقوام نوح، صالح، شعیب اور لوط علیہم السلام کا حشر سب کو معلوم ہے۔ جہاں تک اُمت مسلمہ کا تعلق ہے ان کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ رب کائنات نے انہیں ’اُمتِ وسط‘ قرار دیا ہے اور یہ شہادتِ حق کے داعی اور مناد مقرر ہوئے ہیں، ان کے دلوں کی گہرائیوں میں جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں بستی خود کو مومن اور مسلم کہلانے کا استحقاق نہیں رکھتے۔

☆ شیخ الحدیث دار الحدیث المحمدیۃ، جلال پور پیر والا، ملتان

────── جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ──────

صفحہ 133

محمد رفیق اثری

رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: «لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين» ”تم میں کوئی بھی اس وقت تک مومن نہیں ہے جب تک میری محبت اس کے دل میں اپنے والد، اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ نہ ہو۔“

[صحیح البخاری: ۱۵، صحیح مسلم ۴۴]

مگر بالعموم انہیں اپنی اس حیثیت کا علم نہیں ہے جبکہ انہی پر لازم ہے کہ انسانیت کے تحفظ اور اصلاح و درستی کے لئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے مقررہ کردہ نظام کے داعی محمد رسول اللہ ﷺ کی حرمت و عزت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں۔ یہ ان کے ایمان کا تقاضا ہے اور شرف انسانیت کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔

صحابہ کرام ؓ کا شاتم رسول (ﷺ) کعب بن اشرف اور گستاخ ابورافع یہودی کو کیفر کردار تک پہنچانا تاریخ میں محفوظ ہے۔ ایک نابینا صحابی ؓ کا اپنی مشفق اور مہربان جیون ساتھی کو اس کی بدگوئی بحضور رسالت مآب ﷺ کی وجہ سے جہنم رسید کرنا بھی سب جانتے ہیں، دو جان نثار بچوں کا ابوجہل شاتم رسول کو قتل کرنا ہماری تاریخ اسلام میں معروف ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہوا اور اس کا تعلق مدنی زندگی سے ہے۔ ابولہب اور اس کی بیوی اور ایک بدمست نوجوان مشرک نے رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کا ارتکاب کیا تو رب کائنات نے قرآن مقدس میں شدید الفاظ میں ان کی مذمت کی اور رہتی دنیا تک یہ اعلان فرما دیا کہ ایسے بدبخت انسانوں کا انجام کیا ہے۔

یہ مکی دور زندگی کی بات ہے جبکہ فتح مکہ کے موقع پر عام مشرکوں اور بدترین مخالفوں کو « لا تثريب عليكم اليوم» فرما کر معاف کر دیا جبکہ آپ کی شان میں گستاخی کرنے والے چند افراد کے قتل کا حکم فرمایا چاہے وہ کعبۃ اللہ کے غلاف میں ہی کیوں نہ چھپے ہوں۔

مسلم اُمہ کسی بھی انداز میں اس سے صرف نظر نہیں کر سکتی، اس سلسلے میں ہمارے کچھ کرنے، سوچنے اور غور و فکر کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان وجوہ کا جائزہ لیں جس کے نتیجے میں بدبختوں کو یہ استہزائی خاکے شائع کرنے کی جرات ہوئی ہے۔

پھر یہ استہزائی توہین آمیز خاکے ہمیں دعوت فکر دیتے ہیں کہ ان امور کے بارے ہم علمی انداز میں دنیا کو بتائیں کہ جنہیں تم استہزا کے طور پر لے رہے ہو اس کی گہرائی میں جاؤ اور اصل حقیقت پر نظر ڈالو تو اس میں انسانیت کے لئے خیر و برکات کی ہزارہا توجیہات موجود ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں یہود نے لفظ ’راعنا‘ سے توہین کا انداز اختیار کرنا چاہا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ تم یہ لفظ نہ کہو جس کے غلط استعمال سے رسول اللہ ﷺ کے بارے استخفاف و تحقیر کا پہلو نکالا جا سکتا ہے بلکہ اس کے بجائے ’انظرنا‘ کہو۔ یہود نے ’السلام علیکم‘ کے بین الاقوامی پیغام امن و صلح کے لفظ کو ’السام علیکم‘ کی بددعا میں بدلنا چاہا تو رسول اللہ ﷺ نے صرف ’وعلیکم‘ فرما کر ان کی تدبیر ناکام فرمادی۔ نیز اغیار اور دشمنوں کا یہ انداز ہمیں مجموعی طور پر اپنی اصلاح کی طرف متوجہ بھی کرتا ہے کہ یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کہ اہل اسلام میں بے حسی حد سے بڑھ گئی ہے ورنہ خبیث مزاج انسانوں کو اس کی جرات نہ ہوتی، ہمیں چاہئے کہ اپنے دلوں میں داعی اسلام ﷺ کی سنت و سیرت کے ساتھ وہ محبت و جذبہ پیدا کریں کہ ان کے بارے کسی کو بکواس کی جرات نہ ہو۔ ہمارے لئے خیر کا یہی پہلو موجود ہے کہ اس طرح اُمہ کے بیدار ہونے کے وسیع مواقع حاصل ہوں گے۔

الشریعہ

مئی ، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 134

رسالہ

حرمت رسول ﷺ کے تقاضے

یاد رہے، محمد رسول اللہ ﷺ سے محبت اور ایمان کا تقاضا ہے کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک مسلم و مومن کہلانے کا استحقاق نہیں رکھتا جب تک آپ ﷺ کے ساتھ تمام انسانوں حتیٰ کہ اپنے آپ سے بھی زیادہ محبت نہ کرے۔ اس محبت کی خوشبو ہی انسان کو اس عظیم ہستی کے عالی مقام کی پہچان کراتی ہے اور رب کائنات سبحانہ و تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی نوید دیتی ہے۔ پوری اُمت میں اس فہم و شعور کو زندہ کرنے اور قائم و دائم رکھنے کی ضرورت ہے۔ جس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ایسے بد بخت بد کردار ممالک کے ساتھ سوشل بائیکاٹ کرے جو ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔ جیسا کہ سیدنا ثمامہ بن اثال ؓ نے قبول اسلام کے بعد یمامہ کے گورنر کی حیثیت سے مشرکین مکہ کا تجارتی بائیکاٹ کیا۔ اور رسول اللہ ﷺ کا حکم آنے تک اسے جاری رکھا تا آنکہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اسے ختم کرنے کی درخواست کی اور آپ ﷺ نے ثمامہ ؓ کو اس کا حکم ارشاد فرمایا۔ ہمیں چاہئے کہ یکجہتی، دین سے تعلق اور علم و عمل میں درستی اور استحکام پیدا کریں تا کہ طاغوتی یلغار کا مقابلہ کیا جا سکے۔

٭.......٭.......٭

فریاد

یورپی اقوام ہیں، ساری کی ساری بے حیا! اے خدا! ان کو چکھا ان کے عمل کا مزا
ہم مسلمانوں کے دل کو ٹھیس پہنچاتے ہیں جو ان ستم گاروں کو اپنے قہر سے کر آشنا!
تیرے محبوبؐ مکرم کی کریں توہین جو ان زبانوں کو خدایا کیوں نہیں تو کاٹتا؟
جن کے ہاتھوں نے تخلیق کیے یہ خاکے برے دے سزا ان کو اسی دنیا میں اے ربّ ِعلیٰ
یہ مسلماں جو ترے محبوبؐ کی اُمت میں ہیں انکے دل ٹوٹے ہوئے ہیں دیکھ کر یہ سلسلہ
ہر طرف سے ان مسلمانوں پہ کیوں یلغار ہے؟ کیوں لعینوں کافروں کو تو نہیں ہے ڈانٹتا
ان مسلمانوں کی یارب! آج تو فریاد سن کوئی پہلو تو نکلنا چاہیے تسکین کا!

[سجاد مرزا]

--------- جمادی الاولیٰ، الاٰخرۃ ۲۶ھ ---------

احوال عالم

خاکے...

[ستمبر...

دنیا میں کسی قوم کی کامیابی کا دار... اور قابل عمل ہوں تو ان کو قبولیت... اخروی فلاح کا سبب سمجھتے ہیں دنیا... جب ان نظریات کو پیش کیا گیا تو... نظریات کو دبانے کے لیے اپنی ت... میں آئی اور آج ان ہی کی باقیات... نظریاتی بنیادوں کو کمزور کرنے تک... گیا۔ اس کی مثالیں ماضی میں س... فلم کی صورت میں ظاہر کیا گیا۔

”میرے قلم ہٹانے کا سبب بالیقین... ستمبر ۲۰۰۵ء میں ڈینش اخبار... جناب رسالت مآب ﷺ کے ب... ۱۲ بد بختوں نے اس دعوت کو قبول... ذیل میں ہم ستمبر ۲۰۰۵ء سے لے... ستمبر ۲۰۰۵ء میں ڈینش اخ... اس لیے کروایا کہ ایک ڈینش ... جس میں تصویری خاکوں کے... شدید ردّعمل کے خوف سے اس...

پر امن احتجاج کیا۔

صفحہ 135

احوال عالم قاری فہد اللہ٭

خاکوں کی اشاعت سے متعلق

[ستمبر ۲۰۰۵ء تا مارچ ۲۰۰۸ء..... لمحہ بہ لمحہ عالمی رپورٹ]

دنیا میں کسی قوم کی کامیابی کا مدار اس کی نظریاتی اور فکری قوت پر ہوتا ہے۔ جب نظریات دلائل سے بھرپور، فطری اور قابل عمل ہوں تو ان کو قبولیت عامہ حاصل ہوتی ہے اور لوگ ایسی قوم میں شامل ہونے کو اعزاز اور اپنی دنیوی اور اخروی فلاح کا سبب سمجھتے ہیں دنیا میں اگر کسی مذہب یا قوم کے پاس ایسے نظریات ہیں تو وہ اسلام اور مسلمان ہیں کہ جب ان نظریات کو پیش کیا گیا تو جہاں لوگوں نے اسے قبول کیا وہاں اس کے دشمن بھی پیدا ہوئے جنہوں نے ان نظریات کو دبانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کر دیں۔ ماضی میں یہ عداوت مشرکین عرب اور یہود کے حصہ میں آئی اور آج ان ہی کی باقیات اس جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ عداوت کی یہ جنگ بعض دفعہ تو اسلام کی نظریاتی بنیادوں کو کمزور کرنے تک محدود رہی، لیکن جب اس طرح بات نہ بن پائی تو پھر غیر اخلاقی حرکات کا سہارا لیا گیا۔ اس کی مثالیں ماضی میں بے شمار ہیں اور عصر حاضر میں نبی اکرم کے توہین آمیز خاکوں اور قرآن مخالف بے ہودہ فلم کی صورت میں ظاہر کیا گیا۔ اس توہین کے حقیقی سبب کی نشاندہی فلم فتنہ کے ڈائریکٹر نے یہ کہتے ہوئے کی کہ ”میرے فلم بنانے کا سبب ہالینڈ میں اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔“

ستمبر ۲۰۰۵ء میں ڈینش اخبار جے لینڈز پوسٹن نے اخلاقی پستی اور اسلام دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے محسن کائنات جناب رسالت مآب ﷺ کے کارٹونز بنانے کے مقابلے کا اعلان کیا جس میں ۴۰ کارٹونسٹوں کو دعوت دی گئی اور ۱۲ بدبختوں نے اس دعوت کو قبول کیا اور ان خاکوں کو ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ء کے جے لینڈز پوسٹن کے پرچہ میں شائع کیا گیا۔ ذیل میں ہم ستمبر ۲۰۰۵ء سے لے کر آج تک عالمی میڈیا اور اقوام عالم کا اس بارے میں کیا رویہ رہا ہے پیش کر رہے ہیں۔

ماہ ستمبر ۲۰۰۵ء میں ڈینش اخبار جے لینڈز پوسٹن کے کلچرل ایڈیٹر فلیمنگ روز نے کارٹونوں کے مقابلہ کا انعقاد اس لیے کروایا کہ ایک ڈینش رائٹر کیر سے بلیو تھجن نے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں بچوں کے لیے کتاب لکھی جس میں تصویری خاکوں کے ذریعے سے آپ ﷺ کی زندگی کی وضاحت کرنا چاہتا تھا، لیکن کارٹونسٹ مسلمانوں کے شدید ردّعمل کے خوف سے اس کام پر آمادہ نہ ہوئے۔

٭ فاضل کلیۃ القرآن الکریم، جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 136

خاکوں کی اشاعت ، لمحہ بہ لمحہ رپورٹ

کارٹونسٹ کی بھر پور ملامت کی گئی تھی۔

رسمیوزم سے ملاقات کی درخواست کی لیکن وزیر اعظم نے یہ بات کہہ کر ملنے سے انکار کر دیا کہ وہ آزادی صحافت پر کوئی قدغن نہیں لگا سکتے۔

140 اور 266-B کے تحت جرم کا ارتکاب کیا ہے لہٰذا ان پر مقدمہ چلایا جائے۔

بھی کارٹونز شائع کیے۔

کی گئی ہے۔

اس کیس کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ یہ اجانب بیزاری یا نسلی تعصب کی بنیاد پر تو منظر عام پر نہیں آیا۔

مزید یہ کہ اس پر چھ ماہ لکھنے کی پابندی لگادی گئی اور چھ ماہ کے لیے رسالہ کو بین کر دیا گیا۔ تاہم ایڈیٹر ضمانت پر رہا ہو گیا۔

یہاں تک کہ وہ پانچ لاکھ یمنی ریال جرمانہ ادا نہ کرے۔

سیکرٹری عمرو موسیٰ، مصر کے مفتی اعظم شیخ علی جمعہ اور شیخ الازہر شیخ محمد سعید طنطاوی اور شیخ محمد شعبان سے ملاقات کی اس میٹنگ کا اہتمام ڈنمارک میں تعینات مصری سفیر مونا عمر نے کیا۔

ہیومن رائٹس کی کمشنر لوئس اربور نے کہا کہ اقوام متحدہ کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں اقوام متحدہ ڈینش گورنمنٹ کے اس متعصب رویہ کی تحقیقات کرے گی۔

اعظم لبنان شیخ محمد رشید قبانی محمد حسین فضل اللہ اور میری ونٹ چرچ لیڈر نصر اللہ سفیر سے ملاقات کی اور ۳۱ دسمبر کو واپس ڈنمارک پہنچے۔ اسی دوران امام احمد اکرمی شام گئے اور مفتی اعظم شیخ احمد بدرالدین حسان کے سامنے اپنے معاملے کی نوعیت واضح کی اور ایک وفد ترکی ،سوڈان، مراکو، الجیریا اور قطر گیا جہاں ابولبان نے شیخ یوسف

-------- جمادی الاولیٰ ،الآخرة ۱۴۲۹ھ --------

القرضاوی کو واقعہ کی نوعیت

کونسل آف یورپ نے بھی پریس کے نظریہ پر سخت تنقید

اقدامات اور کوششوں کو

جواب ارسال کیا۔

ساتھ کویت اور دوسرے

پر سخت تنقید کی اور کہا مطالبہ کیا ہے کہ ڈنمارک مشرق وسطی کے ایک

ڈینش سفیر نے AP نظریہ ہے۔ افغانی مستقبل میں سفیر کارٹونز کی اشاعت جائے جس سے کارٹونز کی اشاعت اندر غزہ خالی کر ادارے نے

صفحہ 137

قاری فہد اللہ

القرضاوی کو واقعہ کی نوعیت کے بارے میں بریف کیا۔

مئی، جون ۲۰۱۰ء

صفحہ 138

خاکوں کی اشاعت، لمحہ بہ لمحہ رپورٹ

کریں ۔ ۵۲ فیصد لوگوں نے کہا کہ آزادی صحافت ہے اور یہ ڈینش پریس کا حق ہے۔ ۴۴ فیصد لوگوں نے یہ رائے دی کہ ڈینش وزیراعظم کو چاہیے کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے بھر پور کوشش کریں ۳۸ فیصد لوگوں نے کہا کہ جے لینڈز پوسٹن کو مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہیے۔ ۵۸ فیصد لوگوں نے یہ رائے دی کہ جے لینڈز پوسٹن کا حق ہے اور اس سے وہ مسلمانوں کے تنقیدی مزاج کا اندازہ بھی کر سکیں گے۔ قطر نے ڈینش اشیاء کا مکمل بائیکاٹ کر دیا۔

کے بجائے مسلمانوں کو پہنچنے والی تکلیف پر معافی مانگی گئی تھی۔ فلسطینی تنظیم الفتح نے یورپی یونین کے ایک آفس پر کارٹونز کی اشاعت کے خلاف پرزور احتجاج کرتے ہوئے قبضہ کر لیا۔ ڈینش وزیراعظم نے کہا کہ میں ذاتی طور پر خاکوں کی اشاعت کے معاملہ سے لاتعلق ہوں، لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ اس بارے میں حکومت کا کیا رویہ ہونا چاہیے۔ یورپی یونین نے یہ کہہ کر ڈنمارک کی پشت پناہی کی کہ ڈنمارک کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ڈینش ریڈ کراس نے کہا ہے کہ ڈینش ورکر دھمکیاں موصول ہونے کے بعد غزہ اور یمن کو خالی کر رہے ہیں۔ جے لینڈز پوسٹن نے ایک دوسرا کھلا خط شائع کیا جس میں مسلمانوں سے معافی مانگی گئی ہے کہ ہمارے اقدام سے مسلمانوں کو جو تکلیف ہوئی ہے ہم اس پر معذرت چاہتے ہیں۔ عراقی مجاہدین نے ناروے اور ڈنمارک کے خلاف شدید ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ۔ الاقصیٰ بریگیڈ نے یورپی یونین کے آفس میں ہلچل مچا دی اور اس کے ساتھ یہ دھمکی بھی دی کہ اگر یورپی یونین نے سرکاری طور پر معافی نہ مانگی تو ورکرز کو اغواء کر لیا جائے گا یہاں تک کہ وہ معافی مانگیں۔

گئی معافی سے مطمئن ہیں اور اب ملک کی خراب صورتحال کو درست کرنے کی کوشش کریں گے۔ الاقصیٰ بریگیڈ فلسطین نے کہا ہے کہ سیکنڈے نیوین ممالک کے بارے میں جو دھمکیاں دی گئی ہیں وہ حقیقت پر مبنی ہیں۔ ۵۷ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے دوبارہ مطالبہ کیا کہ کارٹونز کے Author کو قرار واقعی سزا دی جائے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے کہ آئندہ ایسے واقعات نہیں ہوں گے۔ ڈنمارک کے وزیر اعظم اینڈرس فوگ رسمیوزن نے ایک پریس کانفرنس میں زور دے کر کہا کہ ڈینش یا انگلش عوام کسی ایسے اقدام سے قطعی گریز کریں جس سے حالات خراب ہونے کا خدشہ ہو اور ڈنمارک کی مسلم کمیونٹی سے بھی یہ گزارش کی ہے کہ وہ بھی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ پریس کی آزادی ڈینش سوسائٹی کا حصہ ہے اور ہم ابھی کسی ایسی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ میڈیا پہ کوئی پابندی لگا سکیں کہ وہ کیا پرنٹ کرے اور کیا نہ کرے۔ مزید کہا کہ ہم مسلمانوں سے دوبارہ پہلے کی طرح ڈائیلاگ چاہتے ہیں جس کی بنیاد دوستی پہ ہو اور ہمیشہ باقی رہے اس نے الجزیرہ ٹیلی ویژن کو درخواست کی کہ وہ کوئی ایسا پروگرام تشکیل دے جس میں ہم ایسے تمام امور کی وضاحت کر سکیں۔ بحرین کی نیشنل اسمبلی نے ڈیمانڈ کی کہ ملکہ ڈنمارک اور ڈنمارک گورنمنٹ مسلمانوں سے

جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۲۹ھ

معافی مانگے۔ ورنہ ہم ڈنمارک کو کی برآمد بھی بند کر دیں گے یا حماس نے مطالبہ کیا کہ ۱۲ آرٹسٹ کہ ڈینش حکومت مسلمانوں کی خاکوں کی اشاعت کی ۔ الجزائر کیا جس میں انہوں نے ڈینش بریفنگ دی اور خبردار کیا ۔

داخل کیا۔ جرمن اخبار ڈائی ڈچ اخبارات والکس کرینٹ بم کی افواہ پر خالی کر دیا گیا انتہائی سست رویہ پر شد کرنے پر سخت تنقید کی کوپن ہیگن میں جے لینڈز مسلم آرگنائزیشن نے احتجاج کرے۔ انڈونیشی پریس کی آزادی کا مفہوم

ویژن پر خطاب کیا۔ ج امریکن اخبار نیویارک آپ ﷺ کے (نعوذ با سخاروف میوزیم کے ڈ کارٹونز کی نمائش منعق نیوایڈیشن میں ڈینش اور ناروے میں رو تیار ہیں۔ ڈنمارک ک رہے ہیں وہ خطرنا کو وہ اچھا سمجھتے ہ

صفحہ 139

قاری فہد اللہ

معافی مانگے۔ ورنہ ہم ڈنمارک کی تمام اشیاء کا سرکاری بائیکاٹ کریں گے اور GCC ممالک کے ساتھ مل کر تیل کی برآمد بھی بند کردیں گے یادرہے کہ مذکورہ ممالک یومیہ 159000 بیرل تیل برآمد کررہے ہیں۔ فلسطینی تنظیم حماس نے مطالبہ کیا کہ ۱۲ آرٹسٹ اور جے لینڈز پوسٹن کو سخت سزادی جائے۔ روسی صدر ویلادی میر پوٹن نے کہا کہ ڈینش حکومت مسلمانوں کی توہین کو آزادی صحافت کا نام دے رہی ہے۔ آئس لینڈ کے اخبار DV نے دو خاکوں کی اشاعت کی۔ الجزیرہ ٹیلی ویژن نے ڈنمارک کی مسلم برادری کے بنیادی لیڈر فواد البرازی کا خطاب نشر کیا جس میں انہوں نے ڈنمارک کے قرآن جلانے جیسے عالمگیر اور شرمناک پلان کے بارے میں مسلم امہ کو بریفنگ دی اور خبردار کیا۔

داخل کیا۔ جرمن اخبار ڈی ویلٹ، اٹالین اخبار لاسٹیمپیا اور ہسپانوی اخبار EP نے خاکوں کی اشاعت کی۔ ڈچ اخبارات واکس کرینٹ NRC، ہیڈلنڈ بلڈ اور ایلوپینے خاکوں کی اشاعت کی۔ شام میں ڈینش سفارتخانے کو بم کی افواہ پر خالی کردیا گیا۔ شام نے اپنا سفیر ڈنمارک سے واپس بلالیا فن لینڈ کے وزیر خارجہ نے ڈنمارک کے انتہائی سست رویہ پر شدید تنقید کی۔ روس کے آرتھوڈ یک چرچ اور مفتیان نے یورپینز کی کارٹونز دوبارہ شائع کرنے پر سخت تنقید کی۔ چیچن پولیٹیکل لیڈر شامل بسایوف نے بھی کارٹونز کی اشاعت پر سخت مذمت کی۔ کوپن ہیگن میں جے لینڈز پوسٹن کے ہیڈ آفس کو بم سے اڑانے کی دھمکی پر خالی کردیا گیا۔ ملائیشیا کی ایک طاقتور مسلم آرگنائزیشن نے مطالبہ کیا کہ ملائیشین گورنمنٹ کارٹونز کی اشاعت پر ڈنمارک حکومت کے خلاف پرزور احتجاج کرے۔ انڈونیشیا کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے کارٹونز کی اشاعت یہ کہتے ہوئے مذمت کی ہے کہ پریس کی آزادی کا مفہوم مذاہب کی توہین نہیں ہے۔ عمانی تاجروں نے ڈنمارک کی اشیاء کا بائیکاٹ کردیا۔

ویژن پر خطاب کیا۔ جارڈن کے اخبار الشیہان نے کارٹونز شائع کیے جس پر اس کے مینجر کو گولی ماردی گئی۔ امریکن اخبار نیویارک سن اور بیلجین اخبار سئونز نے کارٹونز کی اشاعت کی۔ فرانسیسی اخبار 'لی مونڈ' نے آپ ﷺ کے (نعوذباللہ) چہرے کا خاکہ شائع کیا اور نیچے لکھا: "I MAY NOT DRAW PROPHET" محاروف میوزیم کے ڈائریکٹر 'یوری سموڈروف' نے 25 hours ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان کارٹونز کی نمائش منعقد کرائیں گے اور مزید یہ کہ سلمان رشدی کے بدنام زمانہ ناول Shtanic Verses کے نیوایڈیشن میں ڈینش کارٹون بھی شامل کر کے شائع کریں گے۔ ملا کریکر جو کہ انصار الاسلام کے لیڈر ہیں اور ناروے میں رہ رہے ہیں، نے کہا کہ یہ اسلام کے خلاف جنگ کا اعلان ہیں اور ہم اس جنگ کے لیے تیار ہیں۔ ۵؍ نارڈک ملکوں کے پریس نے کارٹونوں کی اشاعت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ جو لوگ بار بار یہ حرکات کر رہے ہیں وہ خطرناک عزائم رکھتے ہیں ان کو کس نے یہ اجازت دی ہے کہ وہ بالکل آزاد ہو کر ہر وہ کام کریں جس کو وہ اچھا سمجھتے ہیں اور جس میں کسی مذہب اور عقیدہ کی توہین کی جائے۔ الاقصیٰ بریگیڈ نے یورپی یونین کے

———— مئی، جون ۲۰۰۸ء ————

صفحہ 140

خاکوں کی اشاعت، لمحہ بہ لمحہ رپورٹ

آفس کا محاصرہ کر لیا اور احتجاجاً ایک جرمن باشندے کو اغواء کر لیا۔ برٹش اسلامک گروپ الغرباء نے ایک مضمون شائع کروایا جس میں یہ کہا کہ جن لوگوں نے محمد عربی ﷺ کی توہین کی ہے ان کو قتل کرو اور اس پر قرآن وحدیث سے دلائل دیئے ہیں۔ ڈینش کمپنی ارلا فوڈز نے رپورٹ دی کہ بائیکاٹ کی وجہ سے کروڑوں ڈالر کے گھاٹے پڑ رہے ہیں۔ برٹش نیشنل پارٹی نے اپنے ویب پیج پر کارٹونز شائع کیے ۔

ڈنمارک حکومت مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لیے سخت کوشش کرے۔ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں مشتعل مظاہرین نے ڈینش سفارتخانہ بند کرنے کا مطالبہ کیا اور تمام فرنیچر باہر نکال دیا۔ بعد ازاں سفیر نے مظاہرین کے لیڈر سے مذاکرات کیے جس پر صورتحال کنٹرول میں آئی۔ انڈین نیوز پیپر دی ٹائم آف انڈیا نے ۱۲ خاکے شائع کیے جس پر مسلمانوں نے اس کی کاپیاں جلادیں۔ برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ نے یورپی میڈیا پر پابندی لگائی کہ وہ کسی قسم کے خاکے شائع نہ کریں۔ آسٹریلین ٹیلی ویژن SBS اور ABC نے اپنی رات کی خبروں میں کارٹونز نشر کیے۔ بیلجیئن مسلمانوں نے کہا ہے کہ کارٹونز کی اشاعت اسلام پر ایسا حملہ ہے جسے کسی طرح بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ لندن میں مسلم کمیونٹی نے مرکزی جامع مسجد لندن سے لے کر ڈینش سفارتخانے تک ایک لانگ مارچ کیا مظاہرین نے مختلف قسم کے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ ڈینش مسلم امام احمد ابولبان اور جے لینڈز پوسٹن کے کلچرل ڈائریکٹر ڈینش TV کے پروگرام Hard Talk میں اکٹھے ہوئے۔ US ڈیپارٹمنٹ آف سٹیٹ کے ترجمان نے کہا کہ ہم پریس کی آزادی کے حامی ہیں، لیکن اس آزادی کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ مذاہب کی توہین کی جائے اور ایسی حرکات کسی طرح بھی قبول نہیں کی جائیں گی۔ پاکستانی سینٹ نے یہ متفقہ قرارداد پاس کی کہ ہم ڈینش نیوز پیپرز کی اس گستاخانہ اور معیوب حرکت پر سخت مذمت کرتے ہیں۔ ساؤتھ افریقہ کے جج محمد جمجائے نے ایک درخواست کی فوری سماعت کرتے ہوئے پورے ساؤتھ افریقہ میں کارٹونز کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی بعد ازاں بعض پولیٹیکل اور سول تنظیموں نے اس فیصلے کے خلاف تردیدی بیانات دیئے۔ بیلجیئن نیوز پیپر ژلارلبر نے ایک گیم شائع کی جس میں نقطوں کی مدد سے خاکہ بنانے کی توہین آمیز حرکت کی گئی۔

ایک وضاحتی آرٹیکل بھی شائع کیا۔ پولینڈز کے اخبار 'ریز یز پوسپولینا' نے خاکے شائع کیے۔ زیک اور ایم۔ایف۔ ڈی۔این۔ای۔ایس نے اس پر پسندیدگی کا اظہار کیا۔ لندن میں ڈینش سفارتخانے کے باہر مسلم مظاہرین نے منظم انداز سے مظاہرے کیے۔ سیریا کی وہ بلڈنگ جس میں 'ڈنمارک' اور 'چلی' کے سفارتخانے تھے، اس میں مظاہرین کی طرف سے بم پھینکے جانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ جس سے ڈنمارک کے سفارتخانے کو بند ہونے کی وجہ سے جزوی نقصان پہنچا اس حادثہ کی بناء پر ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے اعلان جاری کیا کہ سیریا میں جو بھی ڈینش لوگ رہتے ہیں فوراً سیریا سے نکل جائیں۔ ڈنمارک کا سفارتکار حملے سے پہلے سیریا کی گورنمنٹ سے کہہ چکا تھا کہ عمارت کا اچھے طریقے سے دفاعی انتظام کیا جائے۔ ڈینش حکومت نے سیریا سے سیاسی تعلقات منقطع

ـــــ جمادی الاولیٰ، الآخره ۲۹ھ ـــــ

نہیں کیے۔ ناروے کے سفارتخانے تمام نارویجن لوگوں کو ہدایت کی کہ وہ مطلب یہ نہیں کہ دیگر مذاہب کے مقـ اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے سب سے پہلے خاکے شائع کرنے والے ہوئے کہا کہ وہ ڈیمسکو میں سفارتخانے ہے کہ ہم اپنے یورپی اتحادی اور ڈنمار کرتے ہیں۔ ایرانی صدر احمدی نژاد ڈنمارک حکومت نے جے لینڈز پوسـ میں موجود جرمنی کا ثقافتی مرکز مظـ انٹرویو دیتے ہوئے کہ ۳ فروری تھا، 'کارٹونسٹ کو قتل کیا جائے'۔ والے تمام ممالک سے اپنے سفـ ۔ ڈنمارک کے بیروت میں واقع جن میں سے نصف سیریا کے ہـ ہوئے نقصان پہنچایا۔

مظاہرین نے فرانس کے شہـ وزیر اعظم، ڈومینک ڈی ویلیپـ لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس مظاہرین جو خاکوں کے خلاف سے کہا ہے کہ وہ مندرجہ ذیل متحدہ عرب امارات، قطر، بـ ۳۰،۰۰۰ ہزار لوگوں نے ٹکٹ کینـ ڈنمارک کے وزیر اعظم انـ ڈنمارک کے وزیر اعظم لـ (سٹرلنک اے/ایس) نے انہیں تنبیہ کی۔ انڈونیشیا میں

صفحہ 141

قاری عبد اللہ

نہیں کیے۔ ناروے کے سفارتخانے کی بلڈنگ میں حملہ کے باعث آگ بھڑک اٹھی ناروے کے وزیرخارجہ نے تمام نارویجن لوگوں کو ہدایت کی کہ وہ فوراً سیریا سے نکل جائیں۔ ہولی سی نے کہا ہے کہ آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ نہیں کہ دیگر مذاہب کے عقائد کو نشانہ بنایا جائے، لیکن گورنمنٹ کو کسی اخبار کے خلاف ایکشن لینے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ڈنمارک کے سب سے پہلے خاکے شائع کرنے والے اخبار کی معذرت قبول کر لیں۔ امریکہ نے سیریا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیمسکس میں سفارتخانے کی مناسب حفاظت سے قاصر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بیان جاری کیا ہے کہ ہم اپنے یورپی اتحادی اور ڈنمارک کی خود مختاری پر ان کے ساتھ ہیں اور سیریا کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔ ایرانی صدر احمدی نژاد نے کہا کہ خاکے شائع کرنے والے تمام ممالک سے بائیکاٹ کیا جائے۔ ڈنمارک حکومت نے جے لینڈز پوسٹن کو دباؤ کے باوجود اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرنے پر وکٹوریہ ایوارڈ دیا۔ غزہ میں موجود جرمنی کا ثقافتی مرکز مظاہرین نے تباہ کر دیا۔ یو کے کے وزیر اطلاعات نے، سنڈے ٹیلیگراف کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ۳؍ فروری کو مسلمان مظاہرین نے ایسے پلے کارڈ (کتبے) اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا ”کارٹونسٹ کو قتل کیا جائے“ اور مظاہرین کی پولیس سے بھی ہاتھا پائی ہوئی۔ ایران نے خاکے شائع کرنے والے تمام ممالک سے اپنے سفراء کو واپس بلا لیا ہے اور ان ممالک کے صحافیوں کی ایران آمد پر پابندی عائد کر دی ۔ ڈنمارک کے بیروت میں واقع سفارتخانے کے باہر مظاہرہ کرنے پر پولیس نے بہت سے مظاہرین کو گرفتار کر لیا جن میں سے نصف سیریا کے باشندے تھے۔ لبنان میں مظاہرین نے ڈنمارک کے سفارتخانے کو نشانہ بناتے ہوئے نقصان پہنچایا۔

مظاہرین نے فرانس کے شہر پیرس میں تین گھنٹے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر پیدل مارچ کیا۔ فرانسیسی وزیر اعظم، ڈومینک ڈی ویلپین نے خاکوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے تشدد کی نفی کی جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس نے بردباری اور دوسرے مذاہب کا احترام کرنے کی اپیل کی۔ افغانستان میں تین مظاہرین جو خاکوں کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے کو قتل کر دیا گیا۔ ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے اپنے باسیوں سے کہا ہے کہ وہ مندرجہ ذیل ملک میں چھٹیاں گزارنے مت جائیں، مصر، مراکش، تیونس، الجزائر، لیبیا، اومان، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، جورڈن، ایران، پاکستان اور افغانستان۔ یادرہے ان ممالک میں سفر کے لیے ۳۰۰۰ ہزار لوگوں نے ٹکٹ خرید لیے تھے۔ احمد اکری جو ڈنمارک میں موجود ۲۹ مسلم تنظیموں کے ترجمان ہیں، نے ڈنمارک کے وزیر اعظم اینڈ رفوگ راسموسن کو درخواست کی ہے کہ وہ ٹیلی ویژن پر آ کر وضاحت کریں کہ ڈنمارک کے وزیر اعظم یا ملکہ نے ان لوگوں کو کیوں پناہ دے رکھی ہے۔ آئرلینڈ کی اکانومی کلاس مسافر ائرلائن (سٹرلنگ اے/ایس) نے اپنی مصر کی تمام پروازیں اس وقت روک دیں جب ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے انہیں تنبیہ کی۔ انڈونیشیا میں مظاہرین نے ڈنمارک کے کونسل خانے کو شدید نقصان پہنچایا علاوہ ازیں انہوں نے

— مئی، جون ۲۰۰۸ء —

صفحہ 142

خاکوں کی اشاعت ، لمحہ بہ لمحہ رپورٹ

امریکی سفارتخانے میں بھی توڑ پھوڑ کی کوشش کی۔ امریکی سفارتخانے پر حملے کے دوران ان کی پولیس سے مڈبھیڑ ہوئی اور انہیں انتباہ کیا گیا کہ اگر وہ آگے بڑھے تو انہیں گولی مار دی جائے گی۔ لبنانی گورنمنٹ نے ڈنمارک حکومت پر واضح کیا کہ وہ ڈینش سفارتخانے کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ ایران کے شہر تہران میں آسٹریلیا کی سفارتخانے پر بموں سے حملہ کیا گیا تا ہم آگ پھیل نہ سکی اور سکیورٹی فورسز نے جلد اس پر قابو پالیا یہ بھی یاد رہے کہ آسٹریلیا یورپی یونین کا موجودہ چیئرمین ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ ڈنمارک کے لیے ہماری تمام تر سپورٹ اور قوت مہیا ہے۔ اسی طرح کے ریمارکس نیٹو کے جنرل سیکرٹری جیپ ڈی ہوپ شیفر نے ڈنمارک کے لیے دیے۔ اسرائیل کے انگریزی اخبار دی یروشلم نے بھی یہی کارٹون چھاپے اگرچہ وہ اس قدر چھوٹے تھے کہ انہیں دیکھنا بھی مشکل تھا۔ ایران نے ای۔یو سے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی تمام تر تجارت ڈنمارک سے منقطع کر دی۔ انڈونیشیا میں ملازمین کی استدعا پر ڈینش سفارتخانہ بند کر دیا گیا۔ ایران میں موجود ڈنمارک کے سفارتخانے کی بلڈنگ پر ۲۰ دستی بموں سے حملہ کیا گیا تاہم بلڈنگ محفوظ رہی۔ ڈنمارک میں موجود امریکی سفیر نے بیان دیتے ہوئے کہا ڈنمارک کے میڈیا کی امریکہ مکمل ۱۰۰ فیصد تائید کرتا ہے اس نے یہ بھی کہا کہ امریکہ میڈیا کی مکمل آزادی پر یقین رکھتا ہے اور وہ ڈنمارک کے میڈیا کے متعلق کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔ سیریا کے مفتی اعظم نے ڈنمارک سے تعلق منقطع کر دیے اور کہا کہ جونہی حالات بہتر ہوں گے ان تعلقات کو دوبارہ بحال کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ دس ہزار مظاہرین نے ڈنمارک کے سفارتخانے کا گھیراؤ کیا جب کہ اسے جلانے میں دس یا پندرہ افراد کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسے دوبارہ اس سے بہتر تعمیر کر کے ڈینش لوگوں کو تحفہ دیں گے یہ باتیں انہوں نے TV2 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہیں اور ڈنمارک کے لوگوں کو قرآن کا تحفہ دیا۔ سیریا نے ڈنمارک کے سفارتخانے کی حفاظت نہ کر سکنے پر سرکاری طور پر ڈنمارک سے اظہار افسوس کیا۔ ڈینش رفیوجی کونسل جو کہ چیچنیا میں سب سے بڑی انسانی فلاحی تنظیم ہے یہ چیچنیا اور انگوشتیا میں بہت سے لوگوں کو خوراک مہیا کرتی ہے، سے چیچن حکومت نے کہا ہے کہ موجودہ انتشار کے پیش نظر وہ چیچنیا سے نکل جائے یاد رہے کہ اس تنظیم کو سوڈان میں بھی امدادی کام کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ ایک ایرانی اخبار ہمشہری نے 'ہولوکاسٹ' پر ایک کارٹون بنانے کا مقابلہ کیا ہے جو کہ جیلینڈز پوسٹن اخبار میں چھپنے والے کارٹون کی جوابی کاروائی ہے۔ بگرام ایئربیس کے قریب دو آدمی احتجاجی مظاہرے میں مارے گئے۔ ڈنمارک کا باشندہ جو اس بدامنی کو پھیلانے کا ذمہ دار ہے، نے کہا ہے کہ اپریل ۲۰۰۳ء میں نے عیسیٰ کے یوم آخرت کے حوالہ سے کارٹون بنا کر اس اخبار کو بھیجے، لیکن اس کے ایڈیٹر نے یہ کہتے ہوئے انہیں واپس کر دیا کہ میں نہیں سمجھتا کہ لوگ اسے حقیقت سمجھتے ہوئے اس سے محظوظ ہوں لہذا کارٹون نہیں چھاپے گئے۔ ایک ہزار افراد نے فرانس کے شہر پیرس میں دوبارہ یہی خاکے یورپی یونین کے اخبار میں چھپنے پر احتجاج کیا۔ ایک ڈینش باشندے نے جے لینڈز پوسٹن اخبار کے خلاف ملک میں بدامنی پھیلانے کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ ٹیری ڈیوس جو کہ یورپی یونین کا جنرل سیکرٹری ہے نے کہا کہ اگرچہ کارٹون شائع کرنا قانوناً ٹھیک تھا، لیکن اس میں اخلاقی

حدود سے تجاوز کیا گیا۔

افغانستان میں ہزاروں مظاہرین نے مغربی صوبے فریاب کے دارالحکومت مظاہرین نے ان پر حملہ کیا۔ کچھ سے زخمی ہو گئے۔ اٹلی کے وزیر اس نے اس وقت کہی جب روم شائع کرنے والوں کے خلاف گارڈ کو دو ترکیوں کے قتل کے جب اس نے محمد ﷺ کے خاکے ہے جس نے آپ ﷺ کے دی تھیں۔ تہران میں تقریباً پھینکے۔ ڈینش طلباء تنظیموں مقصد مسلم امہ پر واضح کیا کہ صدر بش نے اینڈرز فوگ نامی رسالے کے ذمہ دار شائع کیے۔ یمنی گورنمنٹ کر دیئے کہ انہوں نے آ

کارٹون بھی شائع کیا جو اخبار کو اشاعت سے رو ڈنمارک کے غیر ملکی قون چیف ایڈیٹر کارسٹن جسٹ مجلے نے بھی تین کار کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی کا حکم جاری کیا۔ اگرچہ میری یونیورسٹی کے ڈائ دفتر کے پتہ پر ارسال

رسالہ

جمادی الاولیٰ ، الآخر ۱۴۲۹ھ

صفحہ 143

قاری فہد اللہ

حدود سے تجاوز کیا گیا۔

افغانستان میں ہزاروں مظاہرین کے پولیس اور نیٹو کے امن دستوں کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔ افغانستان کے مغربی صوبے فریاب کے دارالخلافہ میمنہ میں ایک ملٹری بیس کے اندر ۳ افراد اس وقت ہلاک ہوگئے جب مظاہرین نے ان پر حملہ کیا۔ کچھ دیر بعد مزید افراد جن میں ۵ ناروے کے باشندے تھے ایک گرنیڈ کے پھٹنے سے زخمی ہوگئے۔ اٹلی کے وزیر اعظم سلویو برلسکونی نے ترکی سے کہا ہے کہ اس تعصب کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ یہ بات اس نے اس وقت کہی جب رومن کیتھولک کا ایک پادری قتل کیا گیا۔ طالبان نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ خاکے شائع کرنے والوں کے خلاف اعلان جہاد کیا جائے۔ ایک تحقیق کے بعد ڈینش پولیس اس نتیجہ پر پہنچی کہ ایک گارڈ کو دو ترکیوں کے قتل کرنے والی کہانی جھوٹی ہے۔ طلباء کے ایک اخبار کے ایڈیٹر کو اس وقت معطل کر دیا گیا جب اس نے محمد ﷺ کے خاکے شائع کیے۔ کارڈف یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس یونین کا اخبار 'گیر یڈ' وہ پہلا اخبار ہے جس نے آپ ﷺ کے خاکے شائع کیے جو عالمی مظاہروں کا سبب بنے انہوں نے اس کی آٹھ ہزار کاپیاں جلا دی تھیں۔ تہران میں تقریباً ایک سو مظاہرین نے ناروے کے سفارتخانے پر حملہ کیا اس پر پتھراؤ کیا اور دستی بم پھینکے۔ ڈینش طلباء تنظیموں نے مل کر آرس میں پرامن احتجاج کیا، لیکن یہ احتجاج ڈنمارک کے حق میں تھا۔ اس کا

(بقیہ)

مقصد مسلم امہ پر واضح کیا کہ ڈنمارک حکومت اس مسئلہ میں تنہا نہیں ہے بلکہ عوام بھی اس کے ساتھ ہے۔ امریکی صدر بش نے اینڈرز فوگ کو فون کر کے یقین دلایا کہ وہ ان حالات میں ڈنمارک کے ساتھ ہیں۔ نیویارک پریس نامی رسالے کے ذمہ داران نے خاکے شائع کرنے پر احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ ریپبلک نامی اخبار نے چار خاکے شائع کیے۔ یمنی گورنمنٹ نے دو پرائیویٹ اخبار یمن آبزرور اور الحریۃ کے لائسنس اس وجہ سے منسوخ کر دیے کہ انہوں نے آپ ﷺ سے منسوب خاکوں کی اشاعت کی۔

کارٹون بھی شائع کیا جو آپ ﷺ کی طرف منسوب تھا۔ یہ کارٹون فرانسیسی خاکہ نویس 'کابو' نے بنایا تھا۔ مذکورہ اخبار کو اشاعت سے پہلے 'فرنچ مسلم آرگنائزیشن'، 'فرنچ کونسل آف مسلم فیتھ' پیرس کی طرف سے روکا گیا تھا۔ ڈنمارک کے غیر ملکی قوانین کے ماہر جیز نے کہا کہ میرے خیال کے مطابق خاکے شائع کرنے والے اخبار کے چیف ایڈیٹر کارسٹن خاکوں کی اشاعت سے مبرا ہیں۔ برازیل کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے میگزین ویجا نے بھی تین کارٹون شائع کیے اور یہی خاکے ان کی ویب سائٹ پر بھی موجود تھے۔ کینیڈا اور آئرلینڈ کی کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی کے منتظمین نے طلباء اخبار، کینڈر کو اپنے کیمپس میں خاکے شائع ہونے کے بعد تقسیم کرنے کا حکم جاری کیا۔ اگرچہ کیمپس کے منتظمین نے اس کی دو ہزار کاپیاں اپنے قبضے میں لے لیں۔ کینیڈا کی سینٹ میری یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پروفیسر پیٹر مارچ نے خاکے شائع کرنے والے اخبار کی اس کاپی کو جو اس کے دفتر کے پتہ پر ارسال کی گئی تھی طلباء کے احتجاج پر نذرآتش کر دیا۔ ایرانی اخبار نے ہولوکاسٹ کے کارٹون شائع

ــــ مئی، جون ۱۰ء ــــ

صفحہ 144

خاکوں کی اشاعت ، لمحہ بہ لمحہ رپورٹ

کیے چند دنوں بعد جب جے لینڈز پوسٹن کو اس کے خاکے شائع کرنے کے بارے میں کہا گیا تو چیف ایڈیٹر نے کہا کہ ہم ہولو کاسٹ کے خاکے شائع کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے۔

تھے کو ختم کر دیا۔ روس کے اخبار ولگوگریڈ اور جرنل سکائی وڑٹ نے ایک نیا کارٹون جس کی نسبت آپ ﷺ کی طرف کی گئی تھی شائع کیا۔ جاپانی گورنمنٹ کی مداخلت کے باوجود اس اخبار نے یہ کہتے ہوئے خاکے شائع کر دیے کہ میڈیا آزاد اور خود مختار ہے حکومت اس میں مداخلت نہ کرے۔ خاکوں کے شائع ہونے پر جاپانی حکومت نے کوئی ایکشن نہ لیا۔ روزنامہ الینینس ، الینینس کی یونیورسٹی کا سرکاری اخبار ہے اس نے چھ خاکے شائع کیے۔ سویڈن کے اخبار نے اطلاع دی کہ دفتر خارجہ کی یقین دہانی کے باوجود یہ خاکے ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ نیویارک ٹائم نے مکہ میٹنگ میں کہا کہ کارٹونز کی اشاعت واضح ترین ظلم ہے۔

بند کیا جائے۔ ناروے کے عیسائی اخبار میگزینٹ کے ایڈیٹر نے خاکوں کی اشاعت پر معذرت کی۔ ناروے مسلم تنظیم نے اس کی معذرت قبول کر لی اور امید کی کہ اس معاملے کو ختم کر دیا جائے گا۔ کینیا میں جھگڑے کے دوران ایک آدمی جو خاکوں کے خلاف احتجاج کر رہا تھا مارا گیا۔ رپورٹرز کے مطابق کینیا کی پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔ جس کے نتیجہ میں ایک آدمی شدید زخمی ہو گیا۔ ایشیائی مسلمانوں نے بڑی بڑی ریلیاں نکالیں۔ میسڈونا میں دو اخبارات 'ڈم' اور 'ویسٹ' نے ۱۲ خاکے شائع کیے۔ ڈنمارک کے سفراء اور سیاسی ملازمین نے نامساعد حالات کی بناء پر ایران ، سیریا اور انڈونیشیا کو چھوڑ دیا۔

کر ، بھائیوں کو ستا کر تم نے محمد ﷺ کی توہین کی ہے۔ اس اشتعال انگیز کام کو ختم کیا جائے۔

ہمشاری نامی جریدے کا کہنا ہے کہ اس سے ہمارا مقصود مغرب کے دعویٰ آزادی اظہار رائے کا پتہ لگانا ہے، یہ ڈنمارک کے اخبار میں آپ ﷺ کے خاکے شائع کرنے کی جوابی کاروائی ہے۔ ہمشاری اخبار کے مطابق آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والا خاکہ نویس 'مائیکل' آج کل تنقید کا شکار ہے، کیونکہ یہ بھی اس مقابلہ میں شریک تھا۔

اخبارات کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان میں ہزار سے زائد مظاہرین نے کئی مغربی مصنوعات کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کو نقصان پہنچایا۔ اس دوران دو آدمی مارے گئے۔ اطالوی وزیر نے ایک ایسی ٹی شرٹ پہنی جس پر آپ ﷺ سے منسوب خاکے بنے ہوئے تھے۔ اس نے کہا کہ میرے پاس یہ کارٹونوں والی ٹی شرٹ ہے جسے میں نے سب سے پہلے پہن کر مسلمانوں کو اشتعال دلایا ہے۔

خاکوں کے حوالہ سے کوئی بات ک رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ اسلام نے کارٹونز کے خلاف مقدمہ دائر

نے مزید یہ بیان جاری کیا کہ شائع کیے ہیں ہم ان کے پہنچی ہے تاہم وہ پر امن احتجا جانا چاہیے۔ کراچی میں لگ

ملین ڈالر اور ایک کار کے انہوں نے کہا کہ یہ اعلا ہزاروں مظاہرین نے محسوس ہوتا تھا کہ اس حم تنزانیہ کے شہر دارالسلام کر دیے ہیں۔ مظاہرین نے کہا کہ اگر ایسا نہ کیا ساتھ ان سے تمام مطا ہانگ کانگ میں ہزاروں

دے دیا۔ نائب سفیر احتجاج کیا۔ ان کا ایسے کتبے اٹھا رکھے کے لیے بردباری کی مظاہرین نے عیسائی

کرنے کی کوشش ک دارالحکومت استنبول

جمادی الاولیٰ ، ۱۴۲۷ھ

صفحہ 145

قاری فہد اللہ

خاکوں کے حوالہ سے کوئی بات کی۔ نیلا میں ڈنمارک کے سفارتخانے کے باہر مظاہرین نے پلے کارڈ (کتبے) اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ اسلام کی توہین کرنے والوں کو قتل کیا جائے۔ انسانی حقوق کی علمبردار این۔جی۔اوز نے کارٹونز کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔

نے مزید یہ بیان جاری کیا کہ ہم ڈنمارک اور اس طرح کے دوسرے ممالک جن کے اخبارات وغیرہ نے خاکے شائع کیے ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں اس بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگرچہ اس حرکت سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچی ہے تاہم وہ پرامن احتجاج کا حق رکھتے ہیں اور مزید یہ کہا کہ آزادی اظہار رائے کو کسی پابندی سے ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔ کراچی میں لگ بھگ چار ہزار مظاہرین نے مارچ کیا اور ڈنمارک کے وزیراعظم کا پتلا نذر آتش کیا۔

ملین ڈالر اور ایک کار کے انعام کا اعلان کیا۔ اتر پردیش (انڈیا) کے منسٹر نے 11.5 ملین ڈالر کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انعام اس آدمی کے لیے ہے جس نے کسی بھی خاکہ نویس کو قتل کیا۔ بن غازی (لیبیا) میں ہزاروں مظاہرین نے ڈنمارک کے سفارتخانے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں گیارہ ہلاکتیں ہوئیں۔ بظاہر یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس حملہ کے پیچھے اطالوی منسٹر روبوٹ کا ہاتھ تھا جس نے ایک روز بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ تنزانیہ کے شہر دارالسلام میں ڈنمارک اور ناروے کے سفارتخانوں نے اپنے دفاتر مظاہرین کے خوف سے بند کر دیے ہیں۔ مظاہرین کا حکومت سے یہ مطالبہ تھا کہ ۲۱ روز میں ان سفارتکاروں کو واپس بھیج دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو تنزینیا کے تمام مسلمان ڈنمارک اور ناروے کی تمام چیزوں کا بائیکاٹ کرنے کے ساتھ ان سے تمام سیاسی تعلقات ختم کر دیں گے۔ موزنیک میں ’ساوانا‘ نامی اخبار نے آٹھ خاکے شائع کیے۔ ہانگ کانگ میں ہزاروں مسلمانوں نے خاکوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

دے دیا۔ نائب منسٹر نے روم کی مسجد اکبر کے دورہ کا اعلان کیا ہے۔ کوپن ہیگن میں تین ہزار مظاہرین نے پرامن احتجاج کیا۔ ان کا پیغام تھا کہ مذہب اور ثقافت کے معاملہ میں مسلمانوں سے مکالمہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایسے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ آزادی اظہار کے ساتھ (دیگر مذاہب) کی عزت ضروری ہے اس امر کے لیے بردباری کی ضرورت ہے۔ مغربی نائیجیریا میں ساٹھ مظاہرین مظاہرہ کے دوران قتل کر دیے گئے۔ ان مظاہرین نے عیسائی چرچ اور املاک کو نذر آتش کیا۔

کرنے کی کوشش کی، امریکہ کے جھنڈے نذر آتش کیے اور بھرپور امریکہ مخالف نعرے بازی کی۔ ترکی کے دارالحکومت استنبول میں فیلیسیٹی پارٹی نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں لاکھوں افراد شریک ہوئے۔

—— مئی ، جون ۲۰۰۸ء ——

صفحہ 146

خاکوں کی اشاعت ،لمحہ بہ لمحہ رپورٹ

اسلام کے متعلق حالات حاضرہ میں اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔ ڈنمارک کے وزیر اعظم نے دوبارہ کہا کہ خط میں صرف جے لینڈز پوسٹن اخبار کے خلاف کاروائی کرنے کا کہا گیا تھا۔ پوپ نے لوگوں سے کہا کہ انہیں کسی بھی مذہب اور اس کے شعائر کی عزت کرنی چاہیے اور ایسی تمام باتوں سے احتراز کرنا چاہیے جس سے مذہبی احساسات مجروح ہوں۔

کیا۔ نائیجیریا ہی کے دوسرے شہر ’میڈوگری‘ میں فسادات ہوئے۔ ان دونوں واقعات میں ۲۴ لوگ ہلاک ہوئے۔ او آئی سی نے خاکوں کی وجہ سے ہونے والے جھگڑے اور ڈنمارک کے کارٹونسٹ کی موت کے فتووں کی مذمت کی۔ بیلارس کے اخبار ودا نے ۱۲ کارٹونز شائع کیے۔ لتھوانیا کے صحافیوں اور ناشران کی جماعت برائے اخلاقیات نے اپنے بیان میں کہا کہ محمد ﷺ کے خاکوں کی اشاعت لتھوانیا کے قانون اور صحافتی اقدار سے متصادم نہیں ہے۔ کمیشن نے یہ فیصلہ بھی دیا کہ پی۔ این۔ ایس کے مطابق یہ خاکے مذہبی بنیادوں پر نفرت میں اضافہ کا باعث نہیں ہیں۔

رسالہ ختم نبوت

کارٹونز کی اشاعت کی اور انکی اس حرکت کو بڑی سیاسی جماعتوں نے تنقید کا نشانہ بنایا۔

کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرو جیسے نعرے لگائے۔ پولیس نے پاکستان کے شہر لاہور میں بھی درجنوں سخت گیر مسلمانوں کو احتجاج سے روکنے کے لیے گرفتار کیا۔

یورپی مفادات کے خلاف ردعمل پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔

گردی کے خلاف دوسو سے زائد طلبہ نے احتجاج کیا۔

درجن بھر مصنفوں میں سے ہیں جنہوں نے فرانس کے ہفت روزہ اخبار چارلی ہیبڈو میں اپنے ناموں کے ساتھ اسلامی اقدار کے خلاف بیان دیے۔ اقوام متحدہ کی تنظیم بحالی برائے فلسطینی مہاجرین (یواین ڈبلیو آر اے) نے ڈنمارک کے سفیروں کو پرتشدد دھمکیاں ملنے کے بعد تمام سیکنڈے نیوین شہریوں کو فلسطینی علاقوں کو چھوڑنے کا کہا۔ ڈنمارک پولیس نے عوام کو مسلمان اقلیت کے خلاف مزید الزامات لگانے سے منع کر دیا اور کہا ڈنمارک کی سالمیت کیلئے اس کیس کی حقیقت تبدیل نہیں کی جائے گی۔ ۶۳ فیصد فلسطینیوں نے خاکوں کے خلاف احتجاج کیا۔

----------------- جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۷ھ -----------------

بندش کے لیے کیا گیا تھا۔ اخبار نے ا

انسانی حقوق میں شکایت درج کرو

حملے کی کوشش کی جس پر برلن پولیس ن نماز جنازہ میں پچاس ہزار لوگوں نے

کارٹون چھپ گئے تھے لہٰذا ا اس واقعہ پر معافی مانگی۔

شائع کرنے کے متعلق بحث اکری، اور عبدالکامل جو کہ ب

کے گورنر نے اس کی وجہ یہ ب میں ایرانی انقلابی گارڈز نے اور ڈیلٹن بکس اپریل اور

جس میں دعویٰ کیا گیا کہ کر دیا گیا۔

کی وجہ سے وہاں جانا مع

لوگ محفوظ ہو سکیں۔ لی تہمت لگا رہے ہیں ج ساتھ دوستی چاہتے ہیں

صفحہ ۱۴۷

قاری فہد اللہ

بندش کے لیے کیا گیا تھا۔ اخبار نے اس سال کے شروع میں محمد ﷺ کے کچھ اور خاکے بنا کر شائع کر دیئے۔

انسانی حقوق میں شکایت درج کروائی۔

حملے کی کوشش کی جس پر برلن پولیس نے گرفتار کر لیا اور بعد ازاں جیل میں تشدد کر کے شہید کر دیا۔ پاکستان میں اس کی نماز جنازہ میں پچاس ہزار لوگوں نے شرکت کی۔

کارٹون چھپ گئے تھے لہٰذا اس اخبار کی تمام کاپیاں واپس کر دی جائیں اور اس نے مسلم کونسل آف ویلز سے اس واقعہ پر معافی مانگی۔

شائع کرنے کے متعلق بحث و تمحیص کی گئی۔ حاضرین میں چوٹی کے سائنسدان اور بڑے بڑے علماء جن میں احمد اکری، اور رسید بلیابل جو کہ ڈنمارک کی ناموس رسالت کمیٹی کے عہدیدار ہیں، بھی شریک تھے۔

کے گورنر نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ یہ سویڈن حکومت کے ساتھ خاکوں کی اشاعت میں ملوث تھے۔ تہران میں ایرانی انقلابی گارڈز نے خاکوں کے خلاف احتجاج میں زنجیر زنی کی۔ امریکہ میں دو بڑے کتب خانوں بارڈرز اور ویلڈن بکس اپریل اور مئی کے شمارے رکھنے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ ان میں متنازعہ خاکوں کو شائع کیا گیا تھا۔

جس میں دعویٰ کیا گیا کہ خاکوں کی اشاعت غیر قانونی ہے اور قابل مذمت ہے یہ مقدمہ ۲۶؍ اکتوبر کو خارج کر دیا گیا۔

کی وجہ سے وہاں جانا مناسب نہیں ہوگا۔

لوگ محظوظ ہو سکیں۔ لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے ایک جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو محمد ﷺ پر تہمت لگا رہے ہیں حقیقتاً وہ اپنے ہی پیغمبر پر تہمت لگا رہے ہیں انہیں اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں یا جنگ۔

— مئی، جون ۰۸ء —

صفحہ 148

خاکوں کی اشاعت، لمحہ بہ لمحہ رپورٹ

کرنے کا ٹاسک دیا۔

یہاں خون کی ندیاں بہا دی جائیں۔

کرنے کی پاداش میں جیل بھیج دیا۔

کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کو چار تا چھ سال کی سزا سنائی گئی جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ریلی میں ایسے نعرے لگا رہے تھے جیسے وہ کسی کو قتل کرنا چاہتے ہوں۔

قانون سازی کی جائے تاکہ آئندہ ایسا کام نہ ہو۔

خلاف بائیکاٹ کا فتویٰ جاری کیا۔

کے شبہ میں گرفتار کیا۔

گرفتاریوں کی خبر پر قابل اعتراض کارٹونز میں سے ایک دوبارہ شائع کر دیا۔

اس نے کارٹون شائع کیے تو نقصان کے ذمہ دار خود ہوں گے۔

قارئین!

کسی بھی قوم کے مہذب ہونے کی دلیل ہے کہ وہ اولاً تو کسی غیر اخلاقی فعل کا ارتکاب نہ کرے، لیکن اگر کسی غلط فہمی کی بنیاد پر کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو پھر اس کو تسلیم کرے نہ کہ اس غلط کو صحیح ثابت کرنے کے دلائل دے۔ ڈنمارک کے پریس نے جب یہ توہین آمیز حرکت کی تو انہوں نے اس پر معذرت کے بجائے کسی شخصیت یا کتاب کی توہین کرنا اپنا بنیادی حق سمجھا جو کہ حقیقتاً ڈیڑھ ارب انسانوں کی حق تلفی ہے۔ افسوس تو باقی اقوامِ مغرب پہ ہے جو اتنی بھی اخلاقی جرأت نہیں رکھتے کہ کسی غلط کو غلط کہہ سکیں، بلکہ اس بارے میں مغرب کا عمومی رویہ متعصبانہ اور غیر منصفانہ رہا ہے اور جن لوگوں نے اس واقعہ کی مذمت کی ان کا طرز عمل بھی یہ رہا کہ ڈنمارک بھی ناراض نہ ہو اور مسلمان بھی خوش ہو جائیں۔ مغرب کی اس شرمناک فعل میں شرکت اور ڈینش پریس کی پشت پناہی انکے اسلام دشمن اور غیر مہذب ہونے کی بین دلیل ہے۔

------- جمادی الاولیٰ، الآخرة ۱۴۲۹ھ -------

سیدنا رسول ﷺ

صفحہ 149

ابو جابر عبداللہ دامانوی ، کراچی

توہین رسالت ﷺ ؟

اللہ تعالیٰ کے بندوں میں اس کے سب سے زیادہ محبوب اور پیارے بندے انبیاء کرام علیہم السلام ہی ہیں۔ یہی وہ مقدس اور پاکباز ہستیاں ہیں کہ جنہیں رسالت کے لئے منتخب فرمایا گیا۔ انبیاء علیہم السلام کا مقام جس قدر اعلیٰ و ارفع اور بلند ہے، اسی قدر لوگوں نے ان سے نفرت و عداوت کا اظہار کیا، ان کا مذاق اڑایا، ان کے قتل کے درپے رہے اور انہیں دیوانہ، جادوگر، کذاب قرار دیا۔

اللہ کے آخری نبی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی ان تمام مراحل سے گزرنا پڑا۔ آپ ﷺ کو اپنی قوم سے ہر طرح کی سخت اذیت و تکالیف اٹھانی پڑی۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین بنا کر بھیجا اور قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا ۝

[الاحزاب:۴۰]

”محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔“

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا ۙ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ ۖ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ۝

[الاعراف:۱۵۸]

”اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں، وہ ذات کہ جس کے لئے ہی آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہی زندگی اور موت دیتا ہے۔ پس تم اللہ اور رسولؐ پر ایمان لاؤ۔ اس نبی اُمی پر جو اللہ اور اسکے ارشادات پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو تو امید ہے کہ تم راہ ہدایت پاؤ گے۔“

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ۝

[سبا:۲۸]

”اور (اے نبی ﷺ) ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لئے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے ہیں۔“

کفار و مشرکین نے ہر دور میں دین حق کو مٹانے کی بھرپور کوشش کی ہے، لیکن وہ اپنی ان کوششوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَی اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ۝ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ كُلِّهٖ ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ ۝

[التوبۃ:۳۲،۳۳]

”یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور (دین اسلام) کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں، لیکن اللہ اس کے سوا ہر بات کا انکار کرتا ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کافر اس کو کتنا ہی ناپسند کریں۔ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین

ــــــ مئی، جون ۲۰۰۸ء ــــــ

صفحہ 150

توہین رسالت ﷺ؟ حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ اس دین حق کو تمام ادیان (باطلہ) پر غالب کردے۔ خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔“

مسلمانوں کا طرز عمل

اہل اسلام اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں اور اللہ اور رسول ﷺ کی شان میں معمولی گستاخی اور بے ادبی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ﴾

[البقرۃ: ۱۶۵]

”اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔“ نیز ملاحظہ فرمائیں، التوبہ آیت نمبر ۲۴

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين»

[صحیح البخاری: ۱۵]

”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کے بیٹے اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ ہیں، «والذي نفسي بيده لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده»

(صحیح البخاری: ۱۴)

”اس ذات کی قسم کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ مجھے اپنے والد اور بیٹے سے زیادہ محبوب نہ سمجھے۔“

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے اپنی جان کے۔ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں عمر ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب تک تم مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ سمجھ لو (اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہ ہوگا) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ پس بے شک اللہ کی قسم اے نبی ﷺ! اب آپ ہی مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیارے اور محبوب ہیں۔ پس نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اب اے عمر (تمہارا ایمان کامل ہو گیا)

[صحیح البخاری: ۶۶۳۲]

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ﴾

[الأحزاب: ۶]

”نبی ﷺ مومنوں کے لئے اپنی جانوں سے بڑھ کر عزیز ہیں۔“

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا﴾ ”جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔“

[الأحزاب: ۵۷]

﴿وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَ يَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ يُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

[التوبۃ: ۶۱]

”اور ان میں سے وہ بھی ہیں کہ جو نبی ﷺ کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ کان ہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ وہ کان تمہارے بھلے کے لئے ہے۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور مسلمانوں کی بات کا یقین کرتا ہے اور تم میں سے جو اہل ایمان ہیں یہ ان کے لئے رحمت ہے۔ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو اذیت دیتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔“

ـــــــ جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ـــــــ

صفحہ 151

ابو جابر عبداللہ دامانوی

رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں جن لوگوں نے آپ کو اذیت پہنچائی یعنی آپ کو گالی دی اور آپ کا مذاق اڑایا۔ انہیں عبرتناک سزائیں دی گئیں۔ ابولہب لعین نے جب آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو اس کے جواب میں تبت یدا ابی لہب وتب نازل ہوئی۔ یعنی ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ برباد ہوگیا۔

کعب بن اشرف یہودی نے جب آپ ﷺ کی شان میں گستاخیاں شروع کیں تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک عجیب حیلہ سے اسے کیفر کردار تک پہنچایا۔ [صحیح البخاری: ۴۰۳۷]

اسی طرح ابورافع یہودی کو سیدنا عبداللہ بن عتیق رضی اللہ عنہ نے ایک عجیب انداز سے آخر کار قتل کر ڈالا۔

[صحیح البخاری: ۴۰۳۹]

ایک اندھے صحابی رضی اللہ عنہ کی لونڈی نے نبی ﷺ کو گالیاں دیں تو اس صحابی رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم گواہ رہو کہ اس کا خون رائیگاں ہے۔ [سنن ابی داؤد: ۴۳۶۱] واضح رہے کہ نبی ﷺ کی بیویوں اور اس کی بیٹیوں کو بھی گالی دینا اور ان کی شان میں گستاخی کرنا درحقیقت نبی ﷺ ہی کی گستاخی ہے۔ اس بات پر اُمت کا اتفاق ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کی سزا صرف اور صرف قتل ہے۔

انگریز کے دور میں جب راج پال نے نبی ﷺ کی ذات اقدس پر حملے کئے تو غازی علم الدین شہیدؒ نے اسے کیفر کردار تک پہنچایا۔ موجودہ دور میں شیطان رشدی اور تسلیمہ ملعونہ نے آپ ﷺ کی ذات مبارکہ پر حملے کئے ہیں جس کے خلاف مسلمان اپنے غم وغصہ کا اظہار کرچکے ہیں۔

اب ڈنمارک میں خبیث عناصر نے پھر سر اٹھایا اور نبی ﷺ کے متعلق کارٹون اور خاکے شائع کرکے مسلمانوں کے جوش و جذبات کو بیدار کیا ہے اور تا حال ان لوگوں کے خلاف مسلمان غم وغصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ اور ہر جگہ جلسے جلوس ہورہے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری حکومت بھی سعودیہ عربیہ کی طرح ڈنمارک حکومت سے سفارتی تعلقات ختم کردے اور ڈنمارک کے سفیر کو اس کے ملک میں واپس بھیج دے اور اپنا سفیر وہاں سے منگوالے۔ نیز ایسے ممالک سے تجارتی تعلقات بھی ختم کردئیے جائیں۔ توہین رسالت کے جواب میں صرف مظاہرے کافی نہیں ہیں بلکہ ایسے لوگوں کے خلاف عملاً جہاد کی ضرورت ہے، کیونکہ لاتوں کے بھوت کبھی باتوں سے نہیں مانا کرتے۔

٭........٭........٭

اپنی ہی پھونکی آگ میں دشمن جلا کرے
بغضِ نبی کے پہاڑ تلے خود ہی دب مرے
محمدؐ کی شان کیسے گھٹا سکتا ہے کوئی
وہ علم سرنگوں نہ ہو جسے بلند خدا کرے
[کامران طاہر]

ـــ مئی، جون ۲۰۰۸ء ـــ

صفحہ 152

محمد شفیق کوکب ٭

رسالت مآب ﷺ غیر مسلم مفکرین کی نظر میں

اللہ کے فرستادہ پیغمبر سیرت وصورت میں اکمل ترین ہوا کرتے ہیں۔ اللہ نے اپنے آخری نبی ﷺ کو بھی صفات کمال سے متصف فرمایا۔ انکی سیرت، صورت، تعلیمات اور زندگی کا ایک ایک پہلو قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے قابل اتباع بنایا۔ آپ ﷺ کے حسن و جمال، خاندان، فصاحت و بلاغت اور آپ کے نبی برحق ہونے کا اعتراف خود جان ڈیون پورٹ، ڈاکٹر ویٹ، سر ولیم میور، ڈاکٹر اے اسپرنگر، واشنگٹن ارونگ، تھامس کارل لائل اور مائیکل ہارٹ جیسے عیسائی، یہودی و مستشرقین نے کیا۔ کاش مغرب توہین آمیز خاکے چھاپنے سے پہلے ختمی المرتبت ﷺ کے متعلق مذکورہ بالا لوگوں کی آراء کو ہی سامنے رکھ لیتا کہ ان کے مستشرقین نے اپنی ساری زندگیاں نبی اور اسلام کے عیوب ڈھونڈنے میں صرف کر دیں، لیکن باوجود کوششوں کے ایسی کوئی بات نہ نکال سکے جس سے اسلام کا چہرہ داغدار ہوتا ہو، بلکہ ان میں سے انصاف پسند مستشرقین نے آپ ﷺ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی تعریف ہی کی ہے۔ زیر نظر تحریر میں فاضل مصنف نے ایسے لوگوں کے آپ ﷺ کے متعلق توصیفی کلمات یکجا کر دیئے ہیں اس طرح کی تحریریں مغرب اور دیگر مذاہب کے انصاف پسند طبقہ کے نبی ﷺ کی شخصیت کو جاننے کے لیے رہنمائی کا کام دے سکتی ہیں۔ [طاہر]

مشرق و مغرب کے بڑے بڑے محقق، دانشور اور مفکرین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا مقام دنیا کی عظیم ہستیوں میں سب سے اونچا اور بلند ہے اور غیر مسلم محققین نے آپ ﷺ کو تہذیب، دیانت، امانتداری، غریبوں پر رحم و کرم، مساوات بین الاقوام عدل وانصاف اور تمام اوصاف حمیدہ کا مکمل نمونہ مان لیا ہے۔ ان مفکرین نے اپنی تحریروں میں سرور کائنات ﷺ کے متعلق جو اعتراف کیا ذیل کی سطور میں وہ بیان کیا جائے گا۔

◉ آنحضرت ﷺ کی نسبت بعض عیسائیوں کی رائے

معجزات نبوی ﷺ (جن میں سب سے عظیم معجزہ قرآن کریم ہے) گمراہی کی وادیوں میں بھٹکنے والوں کے لئے تا قیامت چراغ راہ رہیں گے اور کمالات احمدی ﷺ گم کردہ راہ انسانوں کے لئے مشعل ہدایت کا کام دیتے رہیں گے اور رحمت کا وہ سرچشمہ جویان حق کو ہمیشہ سیراب کرتا رہے گا اور بحر تحقیق میں غواصی کرنے والے اس دریائے معرفت سے جب تک دنیا قائم ہے، گوہر مقصود حاصل کرتے رہیں گے اور دنیا ہمیشہ اس حقیقت کا اعتراف کرتی رہے گی کہ ہر لحاظ سے آپ ﷺ سے زیادہ کامل انسان کائنات نے پیدا نہیں کیا۔

٭ لیکچرر ماڈرن کالج آف کامرس، فاضل کلیۃ الشریعۃ ، جامعہ لاہور الاسلامیہ

-------- جمادی الاولیٰ، الاٰخرۃ ۱۴۲۹ھ --------

صفحہ 153

محمد شفیق کوکب

کرہ ارض کے وہ حصے، جہاں جہالت کی گھٹائیں چھا رہی ہیں اور دنیا کے وہ ممالک جہاں گمراہی کے بادل سطح افلاک کو گھیرے ہوئے ہے، وہاں کے زمین و آسمان بھی ایک روز انوار رسالت سے بقعہ نور بنیں گے اور بالفرض کچھ لکھے بھی تو اس کی سند نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ درویش آخر اسی سرور کونین ﷺ کا ایک ادنیٰ غلام اور اس کی خیر الامم کا ایک نالائق فرد ہے، البتہ تعریف وہ ہے جو دشمن کے منہ سے نکلے، اس لئے بعض غیر متعصب عیسائی مؤرخین کے وہ خیالات یہاں درج کئے جاتے ہیں جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نسبت ظاہر کئے ہیں۔

◉ آنحضرت ﷺ کی شکل و شمائل

جان ڈیون پورٹ نبی کریم ﷺ کے حلیہ مبارک کے متعلق لکھتا ہے: ”آپ (ﷺ) کی شکل شاہانہ تھی، خدوخال باقاعدہ اور دل پسند تھے۔ آنکھیں سیاہ اور منور تھیں۔ دہن خوبصورت تھا، دانت موتیوں کی طرح چمکتے تھے، رخسار سرخ تھے۔ آپ (ﷺ) کی صحت نہایت اچھی تھی۔ آپ (ﷺ) کا تبسم دلآویز تھا اور آواز شیریں و دلکش تھی۔“

ایڈورڈ گبن لکھتا ہے: ”آنحضرت (ﷺ) حسن میں شہرہ آفاق تھے اور یہ نعمت صرف انہی کو بری معلوم ہوتی ہے، جن کو اللہ کی طرف سے عطا نہیں ہوئی۔ پیشتر اس کے کہ آپ (ﷺ) کوئی بات فرمائیں، آپ (ﷺ) کسی خاص آدمی یا گروہ کو متوجہ کر لیا کرتے تھے۔ لوگ آنحضرت (ﷺ) کی شاہانہ شکل، نورانی آنکھیں، خوشنما تبسم، ایسا چہرہ جو دل کے ہر ایک جذبہ کی تصویر کھینچ دے اور ایسے حرکات و سکنات جو زبان کا کام دیں، دیکھ دیکھ کر تعریف کیا کرتے تھے۔“

انتخاب

◉ آنحضرت ﷺ کا اعزاز خاندان

ڈاکٹر ویٹ لکھتا ہے: ”محمد (ﷺ) عرب کے نہایت اعلیٰ خاندان اور معزز قوم سے تھے۔ آپ (ﷺ) نہایت شکیل و جمیل اور عادات میں خلیق و بے تکلف تھے۔“

◉ آنحضرت ﷺ کی فصاحت

سر ولیم میور باوجودیکہ نہایت ہی متعصب عیسائی ہے، لیکن آپ ﷺ کی تعریف میں لکھتا ہے: ”آنحضرت (ﷺ) کی گفتگو جزیرہ نمائے عرب کی خوشنما زبان کا خالص ترین نمونہ تھی۔“

◉ آنحضرت ﷺ کا نبی برحق ہونا

واشنگٹن ارونگ ”Life Of Muhammad“ میں لکھتا ہے: ”آنحضرت (ﷺ) کے اوائل زمانہ سے وسطِ حیات تک کے حالات سے ہمیں کچھ نہیں معلوم ہوتا کہ اس عجیب و غریب فریب سے جس کا الزام آپ (ﷺ) پر (عیسائیوں) نے لگایا ہے، آپ کی کیا غرض تھی؟ اور ایسا پاکھنڈ پھیلانے سے آپ کا مدعا کیا تھا؟ کیا حصولِ مال مقصود تھا؟ نہیں! کیونکہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے نکاح سے آپ (ﷺ) دولت مند ہو چکے تھے۔ تو کیا حصولِ جاہ مراد تھی؟ نہیں! یہ بھی بات نہ تھی کیونکہ وہ پہلے ہی اپنے وطن میں عقل و امانت میں عظیم

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 154

رسالت مآب غیر مسلم مفکرین کی نظر میں

المرتبہ تھے اور قریش کے بزرگ قبیلے اور اس کے معزز و ممتاز طبقہ میں سے تھے۔ تو کیا حصول منصب مقصود تھا؟ مگر آپ (ﷺ) کا یہ بھی خیال نہ تھا، کیونکہ کئی پشتوں سے تولیت کعبہ اور امارت حرم آپ (ﷺ) ہی کے قبیلے میں تھی۔"

تعلیم محمدی ﷺ و اصلاحات

ایڈورڈ گبن کہتا ہے: "محمد (ﷺ) کا مذہب شکوک و شبہات سے پاک وصاف ہے۔ قرآن مجید کی وحدانیت اور حفاظت اس پر ایک عمدہ شہادت ہے۔ مکے کے پیغمبر ﷺ نے بتوں کی، انسانوں کی اور ستاروں کی پرستش کو معقول دلائل سے رد کر دیا۔ وہ اصول اوّل، یعنی ذات باری تعالیٰ، جس کی بنا عقل و وحی پر ہے، محمد (ﷺ) کی شہادت سے استحکام کو پہنچی، چنانچہ اس کے معتقد ہندوستان سے لے کر مراکو تک موحد کے لقب سے ممتاز ہیں۔"

سر ولیم میور لکھتا ہے: "ہم بلا تامل اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ آنحضرت (ﷺ) نے ہمیشہ کے لئے توہمات باطلہ کو، جن کی تاریکی مدتوں سے جزیرہ نما عرب پر چھائی تھی، کالعدم کر دیا۔ معاشرت کے لحاظ سے بھی اسلام میں کچھ کم خوبیاں نہیں ہیں۔ مذہب اسلام اس بات پر فخر کر سکتا ہے کہ اس میں پرہیزگاری کا ایک ایسا درجہ موجود ہے، جو کسی اور مذہب میں نہیں۔"

آنحضرت ﷺ کی مقرر کردہ اذان

اذان کی نسبت ایک عیسائی مصنف لکھتا ہے: "مختلف اوقات میں نماز کا اعلان مؤذن مسجد کے میناروں پر کھڑے ہوکر اذان کے ذریعے کرتے ہیں۔ ان کی آواز، جو فضا میں بلند ہوتی ہے اور شہروں کے غل غپاڑے میں مسجد کی بلندی سے دلکش و دلچسپ معلوم ہوتی ہے، عین سنسان رات میں اس کا اثر اور بھی عجیب طور سے شاعرانہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اکثر فرنگیوں کی زبان سے بے ساختہ مؤذن کی تعریف نکل گئی ہے کہ انہوں نے یہودیوں کے معبد کی قرنا اور کلیسائے نصاریٰ کے گھنٹوں کی آواز کے مقابلہ میں انسانی آواز کو پسند کیا۔"

تھامس کارلائل "Thomas Carlyle"

تھامس کارلائل انیسویں صدی کا ایک نامور انگریز مصنف، مورخ اور مفکر تھا۔ اس کے لیکچروں کا مجموعہ "On Heroes and Hero Worship" بہت مشہور ہے، جس میں ایک لیکچر رسالت مآب ﷺ کے متعلق بھی ہے۔ ایک ایسے دور میں جس میں عیسائی اہل قلم اور اہل کلیسا اسلام اور بانی اسلام پر طرح طرح کے الزامات عائد کرکے اپنے مذہبی تعصب اور تنگ نظری کا ثبوت دے رہے تھے، کارلائل نے پیغمبر اسلام کی نبوت اور اعلیٰ کردار کا اعتراف جس خلوص اور دیانت کے ساتھ کیا ہے، وہ خود اس کی بالغ نظری اور روشن ضمیری کی ایک واضح دلیل ہے۔ پیشِ نظر اقتباس کارلائل کے لیکچر سے ماخوذ ہے، وہ کہتا ہے: "ہمارے پیش نظر ہیرو محمد (ﷺ) کو اپنے ابنائے جنس میں خدا نہیں مانا گیا بلکہ انسان سمجھا گیا ہے، جسے خدا کی طرف سے وحی ہوئی، یعنی پیغمبر کسی بڑے انسان کو سمجھ لینا لوگوں کی نہایت فاش غلطی ہے، لیکن مشکل سوال یہ پیش رہا ہے کہ دراصل اسے کیا سمجھنا چاہئے اور کس طرح سے اس کا خیرمقدم کرنا چاہئے۔ لوگوں کو ہمیشہ ایسے انسان میں صفات ایزدی

کا کچھ نہ کچھ پرتو تو نظر آیا ہے۔ اور ایک سوال محمد (ﷺ) میرے خیال میں پیغمبر صادق ہیں اور کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہیں۔ حضرت محمد (ﷺ) پیغمبر تھے اور ان کا پیش کردہ مذہب بے سر و پا غلط ثابت ہوتے ہیں۔ اسی ہستی کے خلاف کثرت میں اس عظیم ہستی کے خلاف کھڑا کیا ہے۔ اس صدیوں کے نشیب وفراز سے گزرتے ہوئے کیا یہ اٹھارہ کروڑ انسان ہماری طرح خدائے گم کردہ راہ سمجھیں تو سوچنے کا مقام ہے، کہ کرہ ارض میں محمد (ﷺ) کے اصول آگے ہم اسے تسلیم کر سکتے ہیں کہ یہ سب کہ جھوٹا آدمی کسی مذہب کا بانی ہو اور ان اشیاء کے خواص کا علم نہ ہو مکان ومکیں نہ کہلا سکے گا، بلکہ انسان سما سکتے ہیں۔"

وہ مزید کہتا ہے: the first characteristic of call an original man: he Infinite Unknown with e way or other, we all Direct from the Inner ion with that.Hearsays following hearsays; it d of revelation: what rom the heart of the hings. God has made e latest and newest rstanding:' we must mas Carlyle, P:61-62]

"میرا خیال ہے کہ خلوص کہتے ہیں۔ اس کی فطری

صفحہ 155

محمد شفیق کوکب

کا کچھ نہ کچھ پرتو تو نظر آیا ہے۔ اور ایک سوال اہم رہا ہے کہ لوگ ایسے شخص کو خدا سمجھیں یا پیغمبر یا کچھ اور، حضرت محمد (ﷺ) میرے خیال میں پیغمبر صادق ہیں اور میں آپ (ﷺ) کے وہ اوصاف بیان کر دینا چاہتا ہوں، جو انصاف کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہیں۔ حضرت محمد (ﷺ) کے متعلق ہم عیسائیوں کے یہ خیالات کہ وہ (نعوذ باللہ) ایک جعلی پیغمبر تھے اور ان کا پیش کردہ مذہب بے سر و پا عقیدوں کا مجموعہ ہے، غور و فکر کی روشنی میں یہ خیالات بالکل بے بنیاد اور غلط ثابت ہوتے ہیں۔ اسی ہستی کے خلاف کھڑا کیا جھوٹ اور افترا کا وہ طوفان عظیم جو ہم نے اپنے مذہب کی حمایت میں اس عظیم ہستی کے خلاف کھڑا کیا ہے۔ اس عظیم ہستی کے لئے نہیں، ہم مسیحوں کے لئے باعث شرم ہے۔ گذشتہ بارہ صدیوں کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اس پیغمبر عالی مقام کا پیغام آج بھی ۱۸ کروڑ انسانوں کے لئے مشعل راہ۔ کیا یہ اٹھارہ کروڑ انسان ہماری طرح خدائے تعالیٰ کے بنائے ہوئے نہیں ہیں؟ اگر ہم اتنے کروڑ افراد کو بھٹکے ہوئے اور گم کردہ راہ سمجھیں تو سوچنے کا مقام ہے، کیا جعلی پیغام بارہ صدیوں تک اس کامیابی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ آج بھی کرۂ ارض میں محمد (ﷺ) کے اصول آگے بڑھ رہے ہیں جن پر بندگان خدا کی بیشتر تعداد آج بھی ایمان رکھتی ہے۔ کیا ہم اسے تسلیم کر سکتے ہیں کہ یہ سب روحانی بازی گری کا ایک ادنیٰ کرشمہ تھا۔ جس پر اتنے خدا کے بندے ایمان لائے؟ کیا جھوٹا آدمی کسی مذہب کا بانی ہو سکتا ہے؟ جھوٹا آدمی تو اینٹ اور چونے کا مکان نہیں بنا سکتا۔ اگر کسی کو مٹی، چونے اور ان اشیاء کے خواص کا علم نہ ہو اور وہ ان کا پورا لحاظ نہ رکھے، جو مکان کی تعمیر میں استعمال ہوتے ہیں تو اس کا بنایا ہوا مکان، مکان نہ کہلائے گا، بلکہ مٹی کا ڈھیر ہو گا۔ ایسا مکان بارہ صدیوں تک قائم نہیں رہ سکتا اور نہ اس میں اٹھارہ کروڑ انسان سما سکتے ہیں۔"

وہ مزید کہتا ہے:

"I should say sincerity, a deep,great,genuine sincerity,is the first characteristic of all men in any way heroic. Such a man is what we call an original man; he comes to us at first hand. A messenger he sent from the Infinite Unknown with tidings to us.We may call him poet,Prophet, god:-in one way or other, we all feel that the words he utters are as no other man,s words.Direct from the Inner Fact of things;-he lives,and has to live,in daily communion with that.Hearsays cannot hide it from him; he is blind, homeless, miserable, following hearsays; it glares in upon him.Really his utterances, are they not a kind of revelation; what we must call such for want of some other name? It is from the heart of the world that he comes; he is portion of the primal reality of things. God has made many revelations:but this man too,has not God made him, the latest and newest of all? The' inspiration of the Almighty giveth him understanding:' we must lissten before all to him" ["On Heroes and Hero Worship" by Thomas Carlyle, P:61-62]

"میرا خیال ہے کہ خلوص، بڑا گہرا خلوص اور سچا خلوص ہر بڑے انسان کی پہلی خوبی ہے اور ایسے شخص کو ہم 'اوریجنل انسان' کہتے ہیں۔ اس کی فطرت کسی پہلے مرقع کی نقل نہیں ہوتی۔ وہ ایک ایسا قاصد ہے، جو پردۂ غیب سے پیغام دے کر

نقیب

مئی، جون ۸۰ء

صفحہ 156

رسالت مآب غیر مسلم مفکرین کی نظر میں

ہمارے پاس بھیجا گیا۔ خواہ ہم اسے شاعر کہیں یا پیغمبر یا دیوتا، بہر کیف ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ ساری نوع انسانی کے الفاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ وہ حقیقت اشیاء کی روح رواں سے نکلتا ہے اور رات دن اسی میں بسر کرتا ہے۔ اوہام اس سے اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتے۔ وہ اندھا ہو، بے خانماں ہو، مصیبت زدہ ہو، روز مرہ کی گفتگو میں منہمک ہو، لیکن یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح ہر وقت اس کے پیش نظر رہتی ہے۔ ہم کسی طرح بھی محمد (ﷺ) کو حریص اور منصوبہ باز اور ان کی تعلیمات کو جہل و نادانی نہیں سمجھ سکتے، وہ جو پیغام لے کر آئے وہ بالکل سچا تھا۔ وہ ایک آواز تھی جو پردۂ غیب سے بلند ہوئی۔ اس شخص کے نہ اقوال جھوٹے تھے نہ افعال، اس میں تنگ ظرفی اور نمائش کا شائبہ تک نہ تھا۔ وہ زندگی کا ایک جادۂ تاباں تھا، جو خاص سینۂ فطرت سے ہویدا ہوا اور جسے خالقِ عالم نے کائنات کو منور کرنے کے لئے بھیجا تھا۔“

تھامس کارلائل مزید آپ ﷺ کے متعلق کہتا ہے: ”مادرِ صحرا کا یہ سادگی پسند فرزند اپنے بل بوتے پر کام کرتا ہے۔ وہ اپنی ذات کے متعلق غلط ادعا نہیں کرتا۔ اس میں نہ تو غرور و خود نمائی ہے، نہ خوشامد و عاجزی۔ وہ اپنی اصلی حالت میں پایا جاتا ہے۔ وہ اپنی عبا کو خود پیوند لگاتا اور اپنی نعلین کو خود مرمت کرتا ہے۔ دوسری طرف بے تکلفی سے ایران کے بادشاہوں اور یونان کے شہنشاہوں کو ان کے فرائض پر توجہ دلاتا ہے۔“

[On Heroes and Hero-Worship:82]

"To the Arab Nation it was as a birth from darkness into light; Arabia first became alive by means of it .A poor shepherd people, roaming unnoticed in its deserts since the creation of the world: a Hero Prophet was sent down to them with a word they could believe:see, the unnoticed becomes world-notable, the small has grown world-great; within one century afterwards, Arabia is at Grenada on this hand,at Delhi on that - glancling in valour and splendour and the light of genius, Arabia shines through long ages over a great section of the world.Belief is great, life-giving .The history of a Nation becomes fruitful, soul-elevating, great, so soon as it believes . These Arabs, the man Mahomet, and that one century,-is it not as if a spark had fallen,one spark, on a world of what seemed black unnoticeable sand; but lo, the sand proves explosive powder, blazes heaven-high from Delhi to Grenada! I said, the great Man was always as lightning out of Heaven; the rest of men waited for him like fuel, and then they too would flame".

[On Heroes and Hero-Worship:101-102]

”عربوں کے حق میں اسلام گویا اندھیروں میں روشنی کا ظہور تھا، جس کے اثر سے ملک عرب پہلے پہل بیدار ہوا۔ ایک غریب گلہ بان قوم، جو ابتدائے آفرینش سے ریگ زاروں میں گمنام تھی، اس کی ہدایت کے لئے ایک ہیرو پیغمبر کے لباس میں ایسا پیغام دے کر بھیجا گیا جس پر وہ ایمان لاسکی۔ دیکھو، اب وہ گمنام چرواہے دنیا میں مشہور ہو جاتے ہیں اور وہ حقیر شتر بان پورے عالم پر چھا جاتے ہیں۔ ایک صدی

-------------- جمادی الاولیٰ، الآخره ۱۴۲۹ھ --------------

کے اندر عرب کا سکہ دہلی سے غرناطہ تک ضوفشانی کرتا رہا۔ ایمان ایک بڑی نعمت داستان سے معمور ہوئی۔ عربوں کی قوم یہ ایک چھوٹی سی چنگاری ایسے تودۂ عظیم پر شعلے دہلی سے غرناطہ تک بلند ہوئے اور ہے اور باقی سب لوگ تودہ ہیزم کی طرح

”اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت محمد

”میری رام چندر جی مہاراج، بھگوان سب روحانی بادشاہ تھے اور میں کسی کوئی شک نہیں کہ ہر ریفارمر نے کی مثال نہیں مل سکتی۔“

”پیشوائے دین اسلام حضرت محمد ہر حیثیت سے دنیا کے لئے سبق آم

”وحدانیت و مساوات، یہ دونوں سے بڑے رہنما اور ہادی ہیں۔ اس وقت فیض تک رسائی کا سہرا

”اس بعثت کے بعد صفحہ ارض پر وہی لوگ تھے، جو کچھ دنوں پہلے پیتے تھے اور آپس میں خون خرابہ قدر تنگ خیال کی جاتی تھی کہ حد نہ تھی۔ جہالت کی انتہا یہ معمولی تعلیم کا اثر نہ تھا، بلکہ ہونے اور اس سوسائٹی میں ش ضرور بندگانِ خدا کی ہدایت

صفحہ 157

محمد شفیق کوکب

کے اندر عرب کا سکہ دہلی سے غرناطہ تک جاری ہو گیا۔ اس کی شجاعت و ذہانت کا آفتاب مدت تک ایک عالم کے لئے ضوفشانی کرتا رہا۔ ایمان ایک بڑی اور جاں بخش نعمت ہے۔ جہاں کوئی قوم ایمان لائی ہے، تاریخ اس کی عظمت کی داستان سے معمور ہوئی۔ عربوں کی قوم، آنحضرت (ﷺ) کی ذات اور ایک صدی کی مدت یوں معلوم ہوتا ہے، گویا ایک چھوٹی سی چنگاری ایسے تودۂ عظیم پر گری، جو بظاہر محض انبار خاکستر تھا، مگر وہ انبار آتش گیر مادہ ثابت ہوا، جس کے شعلے دہلی سے غرناطہ تک بلند ہوئے اور آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ میں کہتا ہوں کہ بڑا انسان ایک برق آسمانی ہوتا ہے اور باقی سب لوگ تودۂ ہیزم کی طرح اس کے منتظر رہتے ہیں، جنہیں وہ ایک لمحہ میں شعلہ روشن بنا دیتا ہے۔‘‘

”اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت محمد (ﷺ) بڑے سچے اور سچے راست باز ریفارمر تھے۔“

[معجزات اسلام: ۶۷]

”میری رام چندر جی مہاراج، بھگوان سری کرشن جی، گورو نانک دیو جی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ سب روحانی بادشاہ تھے اور میں کہتا ہوں کہ ان میں ایک روحانی شہنشاہ بھی ہے، جس کا مقدس نام محمد ﷺ تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ریفارمر نے آکر دنیا میں بہت کچھ کیا، مگر حضرت محمد ﷺ نے دنیا پر اس قدر احسان کئے ہیں جن کی مثال نہیں مل سکتی۔“

[غازیان ہند: ۱۲۸]

”پیشوائے دین اسلام حضرت محمد (ﷺ) کی زندگی دنیا کو بے شمار قیمتی سبق پڑھاتی ہے اور آنحضرت (ﷺ) کی زندگی ہر حیثیت سے دنیا کے لئے سبق آموز ہے بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھ، سمجھنے والا دماغ اور محسوس کرنے والا دل ہو۔“

[معجزات اسلام: ۷۳]

”وحدانیت و مساوات، یہ دونوں بے بہا اصول دنیا کو حضرت بانی اسلام نے دیئے۔ محمد ﷺ انسانی جماعت کے سب سے بڑے رہنما اور ہادی ہیں۔ جب تک وحدانیت و مساوات کے اصول سے بڑھیا اصول دنیا کو دستیاب نہیں ہوتے، اس وقت فیض تک رسانی کا سہرا محمد (ﷺ) کے سر رہے گا۔“

[معجزات اسلام: ۶۷]

”اس بعثت کے بعد صفحہ ارض پر ایک جدید تہذیب و ترقی کا ظہور ہوا۔ زیادہ تعجب خیز امر یہ ہے کہ اس تہذیب کے بانی وہی لوگ تھے، جو کچھ دنوں پہلے بالکل وحشی تھے اور تہذیب کی ہوا نے ان کو چھوا بھی نہ تھا۔ وہ لوگ دن رات شرابیں پیتے تھے اور آپس میں خون خرابے کے سوا کوئی کام نہ تھا۔ معمولی بات پر بھی قبیلے کٹ مرتے تھے۔ لڑکی کی ولادت اس قدر ننگ خیال کی جاتی تھی کہ پیدا ہوتے ہی گلا گھونٹ دیا جاتا تھا۔ غلاموں اور لونڈیوں کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کی کوئی حد نہ تھی۔ جہالت کی انتہا یہ تھی کہ دادا پر دادا کا بدلہ پوتے پڑپوتے لیتے تھے۔ ان حالات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معمولی تعلیم کا اثر نہ تھا، بلکہ محمد (ﷺ) کو خداوند عالم کی طرف سے مدد و ہدایتیں تھیں کہ باوجود ان کے غیر تعلیم یافتہ ہونے اور اس سوسائٹی میں نشوونما پانے کے ایسی کایا پلٹ دی جس سے ہم یہ مان لینے پر مجبور ہیں کہ حضرت محمد (ﷺ) ضرور بندگان خدا کی ہدایت کے لئے خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں۔ حضرت محمد (ﷺ) کی شخصیت عظیم شخصیت تھی۔

مئی، جون ۸۰ء

صفحہ 158

رسالت مآب غیر مسلم مفکرین کی نظر میں

چنانچہ ہمارے آقا سردار گورونانک صاحب، جن کی مذہبی رواداری اور بے لاگ انصاف پسند تعلیم کو دنیا نے مانا ہے، انہوں نے حضرت محمد (ﷺ) کی سیرت دیکھ کر ان کی تعریف میں ایک دوھا لکھا ہے، جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت محمد (ﷺ) کی شخصیت دنیا کے تمام انصاف پسند اور غیر متعصب مذاہب میں بھی پسندیدہ رہی۔

ڈٹھا نور محمدی ﷺ ڈٹھا نبی رسول
نانک قدرت دیکھ کر خودی گئی سب بھول

[غازیان ھند: ۱۱۷]

٭ ڈاکٹر کلارک

”حضرت محمد (ﷺ) کی تعلیمات کو ہی یہ خوبی حاصل ہے کہ اس میں وہ تمام اچھی باتیں موجود ہیں، جو دیگر مذاہب میں نہیں پائی جاتیں۔“

[میزان التحقیق: ۲۳]

٭ لالہ لاجپت رائے

”میں پیغمبر اسلام کو دنیا کے بڑے بڑے مہاپرشوں میں سمجھتا ہوں۔“

[رسالہ ایمان، لاہور مئی ۱۹۲۵ء]

٭ واشنگٹن جون

نبی کریم ﷺ کے متعلق کہتے ہیں کہ انجیل برناباس میں حضرت عیسیٰ ؑ فرماتے ہیں:

کرے گا کہ میں ہوں۔

[انجیل برناباس: باب ۱۱۲، آیت ۱۵۔۱۶، ص ۲۴۵]

کو پیدا کیا ہے۔

[انجیل برناباس: باب ۹۷، آیت ۱۶۔۱۷، ص ۱۸۳]

”محمد (ﷺ) نامی شخص کا ظہور ہو گا مکہ مکرمہ میں اس کے نور اور روشنی سے پورا جہاں روشن ہو جائے گا تو یہ صرف اسلام ہی ہے۔“

[محمد (ﷺ) فی التوراۃ والانجیل والقرآن: ۴۷]

٭ ڈاکٹر بدھ ویر سنگھ دہلوی

”محمد (ﷺ) ایک ہستی تھے، اس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر، جن کے عقیدہ کے لحاظ سے حضرت ایک پیغمبر تھے، دوسرے لوگوں کے لئے محمد (ﷺ) کی سوانح عمری ایک نہایت ہی دل بڑھانے والی اور سبق آموز ثابت ہوتی ہے۔“

[رسالہ مولوی اخبار، ربیع الاول، ۱۳۵۱ھ]

٭ میجر آرتھر گلن مورنڈ

جمادی الاولیٰ ، الاٰخرۃ ۱۴۲۹ھ

صفحہ 159

محمد شفیق کوکب ”حضرت محمد (ﷺ) بلاشبہ اپنے عصر مقدس میں ارواح طیبہ میں سے تھے۔ وہ صرف مقتدر راہنما ہی نہ تھے بلکہ تخلیق دنیا سے اس وقت تک جتنے صادق سے صادق اور مخلص سے مخلص پیغمبر آئے ان سب سے ممتاز رتبہ کے مالک تھے۔“

[استقلال دیوبند، ۱۹۲۶ء]

”حضرت محمد (ﷺ) نے جس وقت ”خدائے تعالیٰ ایک ہے“ یہ آواز بلند کی، تو اس وقت ہندوستان، ایران، عرب و عجم میں بت پرستی کا دور دورہ تھا۔ بلکہ خدا کی ہستی سے لوگ انکار کرتے تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد (ﷺ) کو فرمایا کہ ثابت کرو، کہ خدا تعالیٰ واقعی ہے۔“

[رسالہ پیشوا، ربیع الاول ۱۳۵۶ھ]

”میں حضرت محمد (ﷺ) پیغمبر اسلام کی بعثت، ان کی شخصیت اور ان کے کارہائے زندگی کو تاریخ کا ایک عظیم معجزہ سمجھتا ہوں۔“

[رسالہ پیشوا، ربیع الاول ۱۳۵۶ھ]

”محمد (ﷺ) سے قبل عرب کا ذہن و دماغ محو ہو رہا تھا۔ وہ شاعری اور مذہبی مباحث میں مبتلا تھے۔ مگر پیغمبر اسلام کے مبعوث ہوتے ہی ان کی قومی اور نسلی کامیابیوں نے ان میں وہ ولولہ پیدا کر دیا کہ تھوڑے ہی دنوں کے اندر ان کے ذہن و دماغ میں روشنی اور چمک دمک پیدا ہو گئی۔“

[الامان، دہلی مئی ۱۹۳۶ء]

مائیکل ہارٹ کی کتاب ”100 The“ میں تاریخ کا دھارا بدل دینے والی سو عظیم شخصیات میں یورپ کے ایک غیر جانبدار مفکر کا اعتراف حقیقت کہ دنیا کی عہد آفریں شخصیات کے امام صرف اور صرف محمد (ﷺ) ہیں۔

وہ اپنی کتاب ”100 The“ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ انگریزوں پر خطوط میں والٹیئر لکھتا ہے: ”۱۷۲۶ء میں انگلستان میں اپنے قیام کے دوران اس نے کسی عالم فاضل شخص کو اس سوال پر بحث کرتے ہوئے سنا کہ عظیم ترین آدمی کون تھا؟ سیزر، سکندر اعظم، تیمور لنگ یا کرامویل۔ ایک نے یہ دعویٰ کیا کہ نیوٹن بلاشک و شبہ عظیم ترین انسان تھا۔ والٹیئر نے اس بات سے اتفاق کیا کیونکہ ”جو ہمارے اذہان کو سچ کی طاقت سے زیر کرتا ہے، نہ ظلم و جبر سے ہمیں غلام بنالیتا ہے، ہمارے احترام کا مستحق ہے۔“

آیا کہ والٹیئر سچ مچ نیوٹن کو عظیم ترین انسان سمجھتا تھا یا وہ محض فلسفیانہ نکتہ اٹھا رہا تھا۔ اس قصے سے ایک دلچسپ سوال ابھرتا ہے کہ دنیا میں آنے والے اربوں انسانوں میں سے کن شخصیات نے تاریخ کے دھارے پر اپنے اثرات مرتب کئے۔

یہ کتاب میرے اپنے سوال کا جواب پیش کرتی ہے۔ سو شخصیات پر میری یہ کتاب ہمیں ان اثر آفریں ہستیوں سے روشناس کراتی ہے۔ میں تاکیداً یہ کہوں گا کہ یہ کتاب تاریخ کی محض عظیم ترین نہیں بلکہ سب سے زیادہ اثر آفریں شخصیات کی ہے۔ مثال کے طور پر میری کتاب میں سٹالن جیسے سنگدل اور بے رحم شخص کے لئے تو جگہ ہے مگر مقدس ماں کیبرینی ”Mother Cabrini“ کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔

مئی، جون ۱۹۸۰ء

صفحہ 160

رسالت مآب غیر مسلم مفکرین کی نظر میں

اس کی ایک مثال آنحضرت (ﷺ) کی ہے جنہیں میں نے عیسیٰ سے بلند مقام دیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ میرا یہ یقین ہے کہ محمد (ﷺ) نے دین اسلام کی تشکیل میں حضرت عیسیٰ کی نسبت عیسائیت کی تشکیل میں کہیں زیادہ ذاتی اثرات مرتب کئے۔ مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب "The 100" میں سب سے پہلے حضرت محمد (ﷺ) کو ہی منتخب کیا اور آپ (ﷺ) کی تعریف میں لکھتے ہیں :

"My choice of Muhammad to lead the list of the world,s most influential persons may surprise some readers and may be questioned by others,but he was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels. Of humble origins,Muhammad founded and promulgated one of the world,s great religions, and became an immensely effective political leader.Today, thirteen centuries after his death, his influence is still powerful and pervasive." ["The 100" by Michael H.Hart,P:33]

”میں نے دنیا کی ذی اثر شخصیات کی فہرست میں حضرت محمد (ﷺ) کو سر فہرست رکھا ہے۔ جس پر ممکن ہے قارئین متحیر بھی ہوں اور معترض بھی ، مگر تاریخ عالم میں واحد ذات برکات آپ (ﷺ) ہی ہیں جو دینی و دنیوی ہر سطح پر کامران رہے۔ اگر چہ آپ (ﷺ) کا تعلق عام، مگر معزز خاندان سے تھا، آپ (ﷺ) ایک غریب گھرانے کے فرد تھے مگر آپ (ﷺ) نے دنیا کے عظیم ترین مذاہب میں سے ایک کی بنیاد رکھی اور اس کی ترویج و اشاعت کی اور جلد ہی ایک اثر آفریں سیاسی رہنما بن گئے۔ آج مکہ میں آپ (ﷺ) کی رحلت کو تیرہ سو برس بعد بھی آپ (ﷺ) کی تعلیمات کا اثر قوی اور طاقتور ہے۔“

"Most Arabs at that time were pagans, who believed in many gods.There were, however, in Mecca, a small number of Jews and Christians; it was from them no doubt that Muhammad first learned of a single, omnipotent God who ruled the entire universe.When he was forty years old, Muhammad became convinced that this one true God (Allah) was speaking to him,and had chosen him to spread the true faith" ["The 100" by Michael H.Hart,P:34]

”اس دور میں اہل عرب کی اکثریت ملحد تھی ، وہ کئی دیوتاؤں پر ایمان رکھتے تھے۔ مکہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کی بھی ایک قلیل تعداد آباد تھی اور غالباً محمد (ﷺ) کو ان سے ہی ایک قادرِ مطلق خدا کا تصور ملا جس کے حکم کے تحت نظامِ کائنات چلتا ہے ۔ جب چالیس برس کی عمر میں آپ (ﷺ) کو منصب نبوت سے سرفراز کیا گیا تو آپ (ﷺ) کو کامل یقین ہو گیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے وہی ایک سچا رب تعالیٰ آپ (ﷺ) سے مخاطب ہے اور اس نے دین حق کی اشاعت کے لئے آپ (ﷺ) کا انتخاب کیا ہے۔“

"How, then, is one to assess the overall impact of Muhammad on human

جمادی الاولیٰ، الآخرہ ۱۴۲۹ھ

صفحہ 161

محمد شفیق کوکب

history? Like all religions, Islam exerts an enormous influence upon the lives of its followers.It is for this reason that the founders of the world,s great religions all figure prominently in this book.Since there are roughly twice as many Christians as Moslems in the world, it may initially seem strange that Muhammad has been ranked higher than Jesus.There are tow principal reasons for that decision.First. Muhammad played a far more impotant role in the development of Islam than Jesus did in the development of Christianity. Muhammad, however, was responsibale for both the theology of Islam its main ethical and moral principales.In addition, he played the key role in proselytizing the new faith, and in establishing the religious practices of Isalm."

["The 100" by Michael H.Hart,P:33-39]

”پھر انسانی تاریخ پر پیغمبر اعظم (ﷺ) کے کلی اثرات کا جائزہ کیسے لیا جائے، دیگر تمام مذاہب کی طرح اسلام نے بھی اپنے ماننے والوں کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ اسی بنا پر اس کتاب میں دنیا کے تمام مذاہب کے بانیوں کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا ہے، چونکہ دنیا میں عیسائیوں کی تعداد مسلمانوں سے دگنی ہے اس لئے ابتداً شاید محمد (ﷺ) کو عیسیٰ (علیہ السلام) پر فوقیت دینا عجیب لگے تاہم میرے اس فیصلے کی دو بنیادی وجوہات ہیں:

عیسیٰ (علیہ السلام) عیسائیت کے بنیادی اخلاقی اصولوں کے ذمہ دار ہیں۔

دین اسلام کی طرف لوگوں کو راغب کرنے میں اور اسلام کے بنیادی عقائد کو مسلمہ بنیادوں پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔“

"We see, then, that the Arab conquests of the seventh century have continued to play an important role in human history, down to the present day. It is this unparalleled combination of secula and religious influence which I feel entitles Muhammad to be considered the most influential single figure in human history" ["The 100" by Michael H.Hart, P:40]

”پس ہم دیکھتے ہیں کہ ساتویں صدی میں عربوں نے جو فتوحات کیں انہوں نے عصر حاضر تک انسانی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انسانی تاریخ میں اس بے مثال دینی ودنیوی امتزاج کی بنا پر میں نے محمد (ﷺ) کی اثر آفریں شخصیت کو سرفہرست رکھا ہے۔“

❖.........❖.........❖

مئی، جون ۱۸ء

صفحہ 162

موعظہ وتذکیر مفتی عبدالرحمن رحمانی*

مآل گستاخ رسول اور ہمارا کردار

سورہ احزاب کی آیات نمبر ۵۳۔۵۷، سورہ توبہ کی آیت ۶۱ اور سورہ حجرات کی آیات ۱۔۵ کے مطابق اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ پر ایمان لانا آپ کی فرمانبرداری کرنا، آپ ﷺ کی ذات سے محبت رکھنا، آپ کی عزت و توقیر کرنا اور آپ کی نصرت وحمایت کرنا فرض اور واجب ہے اور آپ کو کسی طرح سے ایذا پہنچانا بے توقیری کرنا اور توہین کرنا قطعی حرام اور موجب لعنت ہے۔ انبیاء کی بے حرمتی کرنا قوم یہود کا وطیرہ رہا ہے جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے۔ جیسا کہ سورۃ النساء آیت نمبر ۱۵۵ اور ۱۵۶، سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۱۳، ۴۱ اور ۴۲ میں واضح طور پر مذکور ہے۔ ابن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ سے صحیح مسلم، ابوداؤد اور نسائی میں مروی صحیح احادیث کے مطابق شاتم رسول واجب القتل ہے اور اس کے لئے مرتد کے احکامات ہیں۔ عہد نبوت میں ایک نابینا صحابی نے اپنی اُم ولد لونڈی کو جو نبی ﷺ پر سب وشتم کرتی تھی، قتل کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دیا۔

[سنن ابی داؤد: ۴۳۶۱، سنن النسائی: ۴۰۷۳]

اور عہد نبوت میں ہی ایک یہودیہ نبی ﷺ کو سب وشتم کرتی تھی ایک شخص نے اس کا گلہ گھونٹ کر اسے قتل کر دیا۔ تو نبی ﷺ نے اس کے قتل کو رائیگاں قرار دیا۔

[سنن ابی داؤد: ۴۳۶۲]

پھر تمام علماء اُمت کا اس پر اجماع ہے کہ شاتم رسول واجب القتل ہے۔ امام مالک نے موطا میں اس کو زندیق قرار دیا ہے اور زندیق کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔

[الاشراف، جلد ۲]

اور امام ابن منذر نے الاجماع میں اُمت کا اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ توہین رسالت کا مرتکب زندیق اور واجب القتل ہے۔

قرآن مجید سے اس کی دلیل ﴿إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾ [الکوثر: ۳] اور ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ سَيَصْلَى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ﴾ [سورۃ اللھب] ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹیں وہ خود ہلاک ہو گیا نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی، بھڑکنے والی آگ میں وہ جائے گا اور اس کی بیوی بھی جو لکڑیاں ڈھونے والی ہے۔ اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی رسی ہوگی۔“ صحیح بخاری میں امام بخاری ؒ نے بھی اس پر استدلال کرتے ہوئے کعب بن اشرف یہودی کے قتل اور ابورافع کے قتل کو دلیل کے طور پر کتاب المغازي میں ذکر کیا ہے اور یہ دونوں یہودی نبی ﷺ کو شعروں میں ایذا پہنچاتے

☆ مفتی ورئيس العدالة الشريعة، جماعة الدعوة، پاکستان ----- جمادی الاولیٰ ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ -----

تھے اور سب و شتم کرتے تھے اسی رسول ﷺ کو اسی جرم کی پاداش میں میں غیر مسلم اقلیت اور ذمی تھے، لیکن اُمت کے اسلاف سے لے کر القتل ہے۔ جن ممالک کے افراد مکمل معاشی بائیکاٹ کریں اور ہر جیسا کہ نبی ﷺ نے بدر یہود ونصاریٰ کے جتنے خاص و بَسَنْتُ اور اپریل فول جیسے کے کفار کے خلاف مسلمان ا ہوتا کہ ایسے موقع پر تمام مس

یورپی اقوام خود وہ دہشت ان کے شیاط جوش ایمانی وہ تجارت کے عیش اور ترک مصنو ورنہ یہ

صفحہ 163

مفتی عبدالرحمن رحمانی

تھے اور سب و شتم کرتے تھے اسی طرح خلفائے راشدین کے دور میں بھی بہت سی مثالیں ایسی موجود ہیں کہ شاتم رسول ﷺ کو اسی جرم کی پاداش میں قتل کیا گیا۔ چاہے وہ ذمی ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ کعب بن اشرف اور ابو رافع مدینہ میں غیر مسلم اقلیت اور ذمی تھے، لیکن شتم رسول ﷺ کے بعد ان کے عہد کو باطل قرار دے دیا۔

اُمت کے اسلاف سے لے کر اخلاف تک تمام قابل ذکر علما اس بات پر متفق ہیں کہ شاتم رسول مرتد اور واجب القتل ہے۔ جن ممالک کے افراد نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے، مسلمان ان کے خلاف اعلان جہاد کریں اور ان سے مکمل معاشی بائیکاٹ کریں اور براءت کا اعلان کریں۔

جیسا کہ نبی ﷺ نے بدر کے موقع پر قریش مکہ کے ساتھ اقتصادی مقاطعہ کے لئے قافلہ پر حملہ کیا تھا اسی طرح یہود و نصاریٰ کے جتنے خاص دن ہیں ان کی مخالفت کی جائے اور مسلمان 'جشن نوروز'، 'نیو ایئر نائٹ'، 'ویلن ٹائن ڈے'، 'بسنت' اور 'اپریل فول' جیسے یہود و نصاریٰ کے تمام تشخصات کو ختم کر کے اسلامی عقائد کی ترویج و اشاعت کریں اور دنیا کے کفار کے خلاف مسلمان ایک مسلم متحدہ قومیت بنائیں مسلمانوں کی الگ اسلامی فوج ہو اور مسلمانوں کی علیحدہ عدالت ہو تا کہ ایسے مواقع پر تمام مسلمان اپنی اجتماعی قوت کو بروئے کار لائیں۔

٭.......٭.......٭

ترک مصنوعات یورپ ہے فقط واحد علاج

یورپی اقوام کو ہے دُشمنی اسلام سے بغض ان کو ہے محمد مصطفیٰؐ کے نام سے
خود وہ دہشت گرد ہیں الزام ہے اسلام پر قتل و خون ریزی روا جمہوریت کے نام پر
ان کے شیطانی عزائم اور اپنی بے حسی اس طرح نازیبا خاکے چھاپنے کی شہ ملی
جوشِ ایمانی سے ہوں یہ احتجاجی ریلیاں توڑ دو ان کا تکبر اور یہ خرمستیاں
وہ تجارت کے بہانے ہم سے لیتے ہیں خراج چھوڑ دو ان سے تجارت، ہو درست انکا مزاج
عیش اور فیشن کی اشیا ان کی کردیں مسترد تم ہو غیرت مند تو مانو تقاضائے خرد
ترک مصنوعات یورپ ہے فقط واحد علاج جب معیشت بیٹھ جائے گی درست ہوگا مزاج
ورنہ یہ سب احتجاجی ریلیاں بیکار ہیں اپنی دولت ضائع کرنے والے ہم نادار ہیں

(بشکریہ ماہنامہ 'فیض الاسلام'، راولپنڈی)

مئی ، جون ۲۰۱۰ء

صفحہ 164

حافظ جاسم ادریس سلفی٭

رسول اللہ ﷺ کی نصرت و توقیر... چند تجاویز

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على سيد ولد آدم، محمد قائد المرسلين وإمام النبيين، وعلى آله وأصحابه أجمعين، وبعد!

ایک مؤمن و مسلم جس طرح اپنے آقا و رب تعالیٰ سے محبت کرتا ہے اسی طرح اپنے مطاع و رسول کریم ﷺ سے بھی محبت کرتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ﴿وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ﴾

[البقرة: ۱۶۵]

”کہ ایمان والے اللہ تعالیٰ سے شدید محبت کرنے والے ہیں۔“

قرآن کریم ایمان والوں کی یہ صفت بھی بتاتا ہے: ﴿اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ﴾

[الأحزاب: ۶]

”کہ نبی، مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں۔“

یعنی جس میں بھی ایمان ہوگا، وہ اپنے آپ سے بھی زیادہ رسول امین ﷺ سے محبت رکھے گا اور ان کے معاملے کو مقدم جانے گا۔ دراصل محبت کے اس جذبے کے بغیر، ایمان کا تصور ہی نہیں ہے۔

حدیث مبارکہ میں ہے: «ثلاث من كن فيه، وجد حلاوة الإيمان: من كان الله ورسوله أحب إليه مما سواهما» ”تین باتیں جس میں ہوں تو اس نے ایمان کی مٹھاس پالی: (سرفہرست) جس کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے اتنی محبت ہوگی، جتنی ان کے علاوہ کسی سے نہیں۔“

[صحیح البخاری: ۲۱]

ایک اور روایت میں ہے: «لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين»

[صحیح البخاری: ۱۵]

”تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اسے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں، اس کے والد، بچے اور تمام لوگوں سے بھی زیادہ۔“

اسی محبت و ایمان کے دیگر تقاضا جات (مثلاً آپ ﷺ کی اطاعت و اتباع، سنت کی پیروی اور اس سے لگاؤ، سیرت مبارکہ کا مطالعہ اور اس کو اپنانا وغیرہ) میں سے ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ آپ کے سچے اور آخری نبی ہونے پر یقین رکھا جائے، آپ ﷺ کی حمایت و نصرت کی جائے، آپ ﷺ کی عزت و توقیر اور احترام کیا جائے، یہ آپ ﷺ کی بعثت کے اہم مقاصد میں سے ہیں۔ قرآن کریم اس کی شہادت اس طرح دیتا ہے: ﴿اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ﴾

[الفتح: ۸، ۹]

”ہم نے آپ ﷺ کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے تاکہ تم سب لوگ اللہ پر ایمان لاؤ، اس کے رسول ﷺ پر یقین رکھو، اُن

164 ☆ نائب مفتی جماعت غرباء اہل حدیث، کراچی ----- جمادی الاولیٰ، الآخرة ۱۴۲۹ھ -----

صفحہ 165

حافظ جاسم ادریس سلفی کی مدد وحمایت کرو اور ان کا ادب و احترام ملحوظ رکھو۔"

ہمارے پیارے نبی ﷺ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ آپ ﷺ کی حمایت و نصرت اور عزت و تکریم، ہر ایماندار و دیانتدار شخص کرتا ہے (چاہے وہ اسلام کی نعمت سے ابھی تک سرفراز نہ ہوا ہو) ہر منصف مزاج انسان آپ ﷺ کی تعریف و حمایت کیوں نہ کرے؟ جبکہ آپ ﷺ مسلمانوں کے لئے 'رحمت' ہونے کے ساتھ ساتھ ساری انسانیت، سارے عالم، بلکہ تمام جہانوں کے لئے، پیکر رحمت و شفقت ہیں۔

[مفہوم آیات سورة التوبۃ: ۶۱ ، سورۃ الأنبیاء: ۱۰۷]

پھر آپ ﷺ کی حمایت و نصرت کا اعلان و اقرار تو حضرت عیسیٰ، حضرت موسیٰ، حضرت داؤد وسلیمان اور حضرت ابراہیم (علیہم السلام) سمیت تمام انبیاء کرام نے کیا تھا۔ [مفہوم آیت آل عمران: ۸۱] اس لحاظ سے ہمارے حبیب نبی آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ وخاتم النبیین ﷺ کی حمایت ونصرت کرنے بغیر، ہر یہودی، (حضرت) ابراہیم، اسحٰق، داؤد، سلیمان اور موسیٰ کے عہد کو توڑنے والا ہے، ہر عیسائی، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی بشارت کو ٹھکرانے والا ہے، (کچھ اختلافات کے ساتھ) بدھ مت، ہندومت اور سکھ مت (وغیرہ) کا نام لینے والے اپنے (مزعومہ) انبیاء کے وعدے، بچن اور تعلیمات کو مٹی میں ملا کر پامال کرنے والے ہیں۔ ان باتوں کا سراغ (باوجود تحریف وتبدیل کے) مذاہب عالم کی کتب میں موجود ہے۔ جس کی گواہی قرآن مجید، احادیث مبارکہ کے علاوہ تاریخ میں بھی ملتی ہے اور یہ گواہی دینے والے خود ان مذاہب کے علماء (اسکالرز) و محققین ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ ﷺ تمام ادیان و مذاہب کی رو سے محترم ہیں تو پھر ایسے واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں جن میں آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کے ساتھ 'استہزاء و گستاخی' کا پہلو ہو یا صراحۃً 'اہانت' کی کوشش کی گئی ہو۔ یقیناً اس ناکام و نامراد منصوبے میں شیطان لعین کا بہت بڑا ہاتھ ہے جو نہ صرف مسلمانوں سے بیر رکھتا ہے بلکہ ہر انسان اور بنی آدم کو وہ اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ اس لئے قرآن حکیم نے جہاں شیطان کی دشمنی کا ذکر فرمایا، وہاں 'یا ایھا الناس' (اے لوگو!) کا صیغہ استعمال کیا۔ [سورۃ فاطر: ۵، ۶]

اس کے علاوہ بھی کچھ ایسے اسباب ہیں جن کا تدارک لازمی ہے۔ مثلاً:

اس بات کو بھی 'توہین' کا سبب قرار دیا ہے۔ اللہ کا فرمان: ﴿... عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ...﴾ [الأنعام: ۱۰۸]

ہے: ﴿وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ...﴾ [حوالہ سابقہ] "کہ یہ لوگ جن معبودان باطلہ کو اللہ کے علاوہ پکارتے ہیں، انہیں تم برا نہ کہو (گالی نہ دو) کہ پھر وہ بھی اللہ کو گالی دیں گے حد سے تجاوز کرتے ہوئے اور لاعلمی کے سبب سے۔"

رسول اللہ ﷺ کے دور میں بھی ایک مسلمان اور یہودی میں اپنے اپنے نبی سے متعلق، ان کی فضیلت اور فوقیت میں جھگڑا ہوا تو آپ ﷺ نے یہ فرما دیا: ﴿لاَ تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الْأَنْبِيَاءِ﴾ [صحيح البخاري: ۳۴۱۴] "کہ مجھے دیگر انبیاء پر مقابلہً فضیلت نہ دو۔"

مئی، جون ۲۰۱۰ء

صفحہ 166

رسائل

رسول اللہ ﷺ کی نصرت وتوقیر ... چند تجاویز

میں سے ہیں۔

﴿قُلْ مُوتُوْا بِغَيْظِكُمْ ﴾ [آل عمران: ۱۱۹]

ان باتوں کے تدارک و علاج کے لئے مؤثر قدم اٹھانا پڑے گا۔ جیسے شریعت کی نظر میں ’جہاد‘ کہا گیا ہے۔ یہ جہاد اپنے نفسِ امّارہ کے خلاف شروع ہوگا تو انتہاء ”فقاتلوا أئمة الکفر“ پر ختم ہوگا۔

بلاشبہ اسبابِ مذکورہ میں سے آخر الذکر دو سبب بغیر ’قتال‘ (مسلح کارروائی) کے دور نہیں ہو سکتے۔ اس لئے رب تعالیٰ کا سچا قرآن گویا ہوتا ہے:

”اور یہ لوگ اگر اپنے عہد و پیمان کو توڑیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو کفر کے سرداروں اور پیشواؤں سے لڑ پڑو۔ ان کی قسموں اور یقین دہانیوں کا کوئی اعتبار نہیں، اسی طرح یہ (اپنی مذموم حرکتوں سے) باز آجائیں گے ۔“ [التوبة: ۱۲]

ذیل میں اس اہم مسئلے کے تدارک، طعن فی الدین اور اہانتِ رسول کی کوششوں کی روک تھام کیلئے کچھ تجاویز اور ہر مسلمان کے لئے کچھ نصیحتیں پیش کی جا رہی ہیں۔

جائیں اور اس سلسلے میں نشر و اشاعت کو تیز تر کیا جائے۔

طور پر بھی متحد ہو جائے۔ کیا ہم قرآن حکیم کے بیان کردہ ﴿فَاعْتَبِرُوْا یَا اُولِی الْاَبْصَارِ﴾ ﴿وَمَا یَذَّكَّرُ اِلَّا اُولُوْا الْاَلْبَابِ﴾ (وغیرہ) میں شمار ہونے کے لائق نہیں بن سکتے؟ کم از کم اس معاملے میں کفار سے سبق حاصل کر لینا چاہئے کہ کس طرح انہوں نے ایک دوسرے کی حمایت کر دی اور ”الکفر ملة واحدة“ کا کتنا بڑا ثبوت دے دیا ہے۔ مسلمانوں اور خصوصاً بلادِ اسلامیہ کے حکمرانوں کو چاہئے کہ ﴿وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا﴾ کا عملی مظہر بنیں۔

عالم کفر کو دوبارہ یقین آجائے «المؤمن للمؤمن كالبنيان، يشد بعضه بعضاً» [صحیح البخاری: ۴۸۱] ”کہ ایک مؤمن و مسلم دوسرے ساتھیوں کے لئے عمارت کی مانند ہے جو ایک دوسرے کے لئے سہارا اور قوت و مضبوطی کا باعث ہوتے ہیں۔“ یقین جانئے کہ کفار، مسلمانوں میں سے کچھ ’بندے‘ توڑے بغیر ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔

روک کر رسول اللہ ﷺ کی حمایت و نصرت کا اعلان کیا تھا) لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی مصنوعات کو اس معیار کا بنائیں کہ وہ کفار کی ان مصنوعات سے ہر کس و ناکس کو بے پرواہ کردے۔ بائیکاٹ کا مقصد صرف ان کی درآمدات کو روکنا نہیں بلکہ برآمدات کے سلسلے میں بھی لا تعلقی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث بھی ذہن میں رکھنی چاہئے: «لا تحدثوا حلفاً فى الاسلام» [رواه الترمذی: ۱۵۸۸] ”کہ کفار سے مزید معاہدات نہ کرنا۔“

----------- جمادی الاولیٰ، الاٰخرۃ ۱۴۲۹ھ -----------

صفحہ 167

حافظ جاسم ادریس سلفی

اس کے حصول سے منسلک کرنے کے بجائے ”اعلاء کلمۃ اللہ“ کے ساتھ خاص کیا جائے۔ منظم جہاد، فلسطین یا کشمیر کی آزادی تک نہیں، قیامت تک جاری رہنے والی کوشش وسعی کا نظریہ اجاگر کیا جائے۔

اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ﴾ [الأنفال: ۶۰] کے پیش نظر اس تنظیم کا فوجی و دفاعی شعبہ قائم کیا جائے۔ جس کے ذریعے مسلمانوں کی اتحادی افواج، دنیا میں حقیقی امن قائم کر کے دکھائیں۔

آزاری جرم ہے)

حکمران طبقہ خصوصی طور پر اپنی ملاقاتوں میں اس مسئلے کو زیر بحث لائیں۔ افہام وتفہیم بھی کی جائے۔ مسلمانوں کے عقیدہ ”ایمان بالرسل“ ﴿لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ﴾ [البقرة: ۲۸۵] کو وضاحت کے ساتھ پیش کیا جائے۔ سنجیدہ افراد کو سمجھایا جائے کہ مسلمان تو اپنے نبی ﷺ کی عزت کرتا ہے اور تمہارے نبی ﷺ کی عزت کی بھی پاسداری کرتا ہے۔ (وغیرہ)

کی لعنت بھیجی جائے۔

التبیان

نوٹ: یہ تجاویز ایسے اسباب اور واقعات کی روک تھام کے لئے ہیں۔ وگرنہ شاتمین و گستاخانِ رسول ﷺ وشعائرِ اسلام کی سزا تو صرف قتل ہے اور یہ مسئلہ مجمع علیہ ہے۔ ﴿يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ﴾ [يٰس: ۳۰]

❁ ـــــ ❁ ـــــ ❁

ہم پر گزر رہی ہیں قیامت کی ساعتیں
تہذیب شر میں حسن عمل کی رمق نہیں
سر ہو قلم حضور کے گستاخ کا ریاضؔ
جینے کا حق نہیں اسے جینے کا حق نہیں
[ریاض حسین چودھری]

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 168

احوال وطن سمیع الرحمٰن٭

اہلِ پاکستان کا خاکوں کے خلاف احتجاج

[۱۴؍فروری ۲۰۰۸ء تا ۴؍مئی ۲۰۰۸ء]

تاریخ شاہد ہے کہ باطل قوتوں کی طرف سے اسلام کے خلاف جب بھی کوئی طوفان بدتمیزی برپا کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان کے مسلمانوں نے اس کے خلاف بھر پور ایکشن لیا اور یہ ایکشن عملی طور پر افغانستان میں روسی جارحیت پر افغانی بھائیوں کی مدد کے طور پر ہو یا کشمیری مسلمانوں کے جانی و مالی تعاون پر۔ اسی طرح سلمان رشدی کی توہین آمیز کتاب ’شیطانی آیات‘ اور تسلیمہ نسرین کے خود ساختہ ناول اور گوانتانا موبے میں قرآن کی بے حرمتی جیسے واقعات میں بلا تفریق و مسالک ایک پلیٹ فارم پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔ ماضی کی طرح اب بھی جب کہ توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت کی گئی اس موقع پر پاکستان کے سیاسی، مذہبی، تجارتی، تعلیمی گویا ہر طبقہ و شعبہ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے خاکوں کی اشاعت کے خلاف جلسے جلوس اور احتجاجی کانفرنسوں کا ملک بھر میں انعقاد کیا اور پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ خاکے شائع کرنے والے عناصر کو قرار واقعی سزا دلوائیں۔ لہٰذا ہم مختلف طبقات کی طرف سے معروف پاکستانی اخبارات روزنامہ نوائے وقت اور روزنامہ ’جنگ‘ میں چھپنے والے احتجاجات کی مختصر رپورٹ پیش کرتے ہیں جو کہ ۱۴؍فروری ۲۰۰۸ء سے لے کر ۴؍مئی ۲۰۰۸ء تک کی ہے۔ اس رپورٹ سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانانِ پاکستان اغیار کی طرف سے اسلام اور شعائر اسلام پر دشنام طرازی ہرگز قبول نہیں کر سکتے۔ اور ان جیسے معاملات میں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو سکتے ہیں۔

[روزنامہ نوائے وقت، لاہور]

۱۴؍ فروری ۲۰۰۸ء

ڈنمارک میں توہین آمیز خاکے بنانے والے کارٹونسٹ کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں ۳ مسلمان افراد کی گرفتاری کے بعد ڈنمارک کے ۱۷؍ اخبارات نے گزشتہ روز توہین آمیز متنازعہ خاکے دوبارہ شائع کرنے کی شرارت کی ہے اور ان کی دوبارہ اشاعت کو کارٹونسٹ کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔ جس پر مسلمانوں میں سخت اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔

۱۵؍ فروری ۲۰۰۸ء

ڈنمارک میں توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت سے مسلم دنیا میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کویت کے ممبران پارلیمنٹ نے ڈنمارک کے مکمل بائیکاٹ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا

سلسلہ

۱۵؍فروری ۲۰۰۸ء

ناموس رسالت محاذ جماعۃ الد خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر شدید جذبات بھڑکانا چاہتا ہے۔ مسلمان جرات ہوئی۔ ناموس رسالت کی قائم ہونا چاہئے جو گستاخانہ خاکے رسالت کا ایسا پلیٹ فارم ہے واصل کرنے والوں کے مقد حافظ محمد سعید اور تحریک حری ملکوں کو گستاخانہ خاکوں کی

۱۶؍فروری ۲۰۰۸ء

ڈنمارک کے اخبارات کیا گیا۔ مظاہرین نے ا خطبات جمعہ میں مذہبی اور اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نورانی گروپ اللہ ﷺ کی شان میں اہتمام انجینئر سلیم اللہ خاں اور ڈنمارک کا پرچم جلا نے احتجاجی مظاہرے جسارت کے خلاف نعرے خطاب کرتے ہوئے مق کے دل زخمی ہیں۔ تحف جعفری، عامر چیمہ شہید نوید نے بھی خطاب کی ردعمل میں کہا ہے کہ ح خاطر جانیں قربان کر

٭ فاضل کلیۃ الشریعۃ، جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور

——— جمادی الاولیٰ، الاٰخرۃ ۲۹ھ ———

صفحہ 169

سمیع الرحمٰن

پارلیمنٹ نے ڈنمارک کے مکمل بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔ غزہ میں حماس نے بھی خاکوں کی دوبارہ اشاعت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس کے ذمہ دار معافی بھی مانگیں۔

۱۵؍ فروری ۲۰۰۸ء

ناموس رسالت محاذ، جماعۃ الدعوۃ پاکستان سمیت مذہبی حلقوں نے ڈنمارک کے اخبارات کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر شدید ردّعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے جذبات بھڑکانا چاہتا ہے۔ مسلمان حکمرانوں کے کمزور رویہ کی وجہ سے ڈنمارک کے اخبارات کو دوبارہ گستاخی رسول کی جرات ہوئی۔ ناموس رسالت کی حفاظت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا ادارہ قائم ہونا چاہئے جو گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے ممالک کو جواب دے سکے۔ نذیر احمد چیمہ نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت کا ایسا پلیٹ فارم بنایا جائے۔ جس کی ہر ضلع میں ایک منظم تنظیم ہو جو توہین رسالت کے مرتکب افراد کو جہنم واصل کرنے والوں کے مقدمات کی پیروی اور ان کے ورثاء کی مدد کرے۔ اسی طرح جماعۃ الدعوۃ کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید اور تحریک حرمت رسول ﷺ کے کنوینر مولانا امیر حمزہ نے کہا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب اداروں اور ملکوں کو گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا جواب دینا مسلم حکمرانوں پر فرض ہے۔

۱۶؍ فروری ۲۰۰۸ء

ڈنمارک کے اخبارات میں توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت کے خلاف پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین نے اس موقع پر ڈنمارک کے پرچم، ڈینش وزیراعظم اور ملعون کارٹونسٹوں کے پتلے نذر آتش کئے۔ خطبات جمعہ میں مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں۔ تحریک حرمت رسول، جماعۃ الدعوۃ، جے یو پی، دیگر مذہبی جماعتوں اور اسلامی جمعیت طلبہ کی اپیل پر گزشتہ روز ملک بھر میں توہین آمیز خاکوں کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔ جمعیت علماء پاکستان نورانی گروپ کے سیکرٹری جنرل قاری زوار بہادر نے کہا کہ ڈنمارک اور یورپ کے اخبارات نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کر کے بہت بڑی دہشت گردی کی ہے۔ جمعیت علماء پاکستان (نفاذ شریعت) کے زیر اہتمام انجینئر سلیم اللہ خاں، صاحبزادہ مختار رضوی، سید شاہد حسین گردیزی اور دیگر کی زیرقیادت زبردست مظاہرہ کیا گیا اور ڈنمارک کا پرچم جلایا گیا۔ لاہور میں منصورہ، مسجد شہداء مال روڈ اور جامعہ مسجد پنجاب یونیورسٹی کے باہر سینکڑوں طلبہ نے احتجاجی مظاہرے کئے جس میں شریک طلبہ نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ جس پر اس ناپاک جسارت کے خلاف نعرے درج تھے۔ اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی کے تحت تحفظ ناموس رسالت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ یورپی اخبارات میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے پوری اُمت مسلمہ کے دل زخمی ہیں۔ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کانفرنس سے جماعت اسلامی پنجاب کے سیکرٹری جنرل وقاص انجم جعفری، عامر چیمہ شہید کے والد گرامی پروفیسر نذیر چیمہ، اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ عتیق الرحمٰن اور ناظم جامعہ ہٰذا نوید نے بھی خطاب کیا۔ امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر اپنے ردّعمل میں کہا ہے کہ حکمران حرمت رسول کی بجائے مغرب کے مفادات کا تحفظ نہ کریں۔ مسلمان حرمت رسول کی خاطر جانیں قربان کرنے کو تیار ہیں۔ تحریک حرمت رسول کے کنوینر اور جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما مولانا امیر حمزہ

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 170

اہل پاکستان کا خاکوں کے خلاف احتجاج نے کہا کہ توہین رسالت کے مرتکب ملکوں کا معاشی بائیکاٹ انتہائی ضروری ہے۔

۲۲/ فروری ۲۰۰۸ء

پاکستان سنی کانفرنس کے ناظم اور مرکزی نائب ناظم اعلیٰ جماعت اہل سنت ڈاکٹر حمزہ مصطفائی، جماعت اہل سنت صوبہ پنجاب کے صدر علامہ خالد محمود نقشبندی، جنرل سیکرٹری پنجاب مفتی محمد اقبال چشتی، ناظم نشر و اشاعت امجد ارباب عباسی و دیگر نے کہا ہے کہ (آج) جمعہ المبارک کو ملک بھر میں توہین آمیز خاکوں کی مذمت میں ’یوم احتجاج‘ منایا جائے گا جب کہ ۹/ مارچ لیاقت باغ کی ’پاکستان سنی کانفرنس‘ میں اس سلسلہ میں ایک خصوصی قرار داد میں اسلامی ممالک کے سربراہان سے اس رویے کا سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ جمعرات کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تمام مغربی ممالک میں اپنے عقائد و مقدسات کی توہین کے لئے قوانین موجود ہیں، لیکن نام نہاد آزادی اظہار کے نام پر توہین آمیز خاکوں کی اشاعت مذموم ترین حرکت ہے۔

۲۲/ فروری ۲۰۰۸ء

لاہور بار ایسوسی ایشن میں ڈنمارک کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف ایک مذمتی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی گئی جس میں ڈنمارک کی اشیاء کے مکمل بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ قرار داد میاں عدنان یعقوب ایڈووکیٹ نے پیش کی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ ڈنمارک کی جانب سے بار بار توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا مقصد مسلمانوں کی دل آزاری ہے۔ اس لئے محض ڈنمارک کے ناظم الامور کو بلا کر احتجاج کرنا کافی نہیں بلکہ حکومت ڈنمارک کی اشیاء کا بائیکاٹ کرے۔

۲۳/ فروری ۲۰۰۸ء

ڈنمارک کے وزیر خارجہ پر سٹیج مولر نے کہا ہے کہ ڈنمارک کے شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان سفر نہ کریں اور دیگر مسلم ممالک میں جانے پر چوکنے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک کی حکومت خاکوں کی اشاعت کے بعد مسلمان ملکوں اور وہاں کے مذہبی رہنماؤں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر مسلمان ملکوں میں احتجاج پریشان کن ہے مگر اس احتجاج کی شدت ۲۰۰۶ء میں پیدا ہونے والے بحران سے کم ہے۔ ڈنمارک کے اخبارات میں توہین آمیز خاکوں کے خلاف صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور یوم احتجاج منایا گیا۔ احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ ریلیاں نکالی گئیں اور ڈنمارک کے پرچم اور توہین آمیز خاکے شائع کرنے والوں کے پتلے نذر آتش کئے گئے۔

۲۵/ فروری ۲۰۰۸ء

ڈنمارک کے اخبارات میں متنازعہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے، مظاہرین نے ڈنمارک کا پرچم اور ڈینش وزیراعظم کے پتلے نذر آتش کئے۔ حکومت پاکستان نے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے کمپنیوں کو توہین رسالت اور اسلام کے خلاف اشتعال انگیز مواد پر مبنی ویب سائٹ ’یو ٹیوب‘ بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

------ جمادی الاولیٰ، الآخرہ ۱۴۲۹ھ ------

صفحہ 171

سمیع الرحمٰن

۲۶ فروری ۲۰۰۸ء

لاہور میں تحفظ ناموس رسالت محاذ کی جانب سے لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت محاذ کے چیئرمین ڈاکٹر سرفراز نعیمی ، جے یو پی نفاذ شریعت کے انجینئر سلیم اللہ ، پیر اطہر القادری اور دیگر نے کی۔ مظاہرے میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے شملہ پہاڑی چوک کے چاروں اطراف میں مارچ بھی کیا اس دوران ٹریفک کی آمدورفت بھی معطل رہی۔ سوڈان نے ڈنمارک میں توہین رسالت پر مبنی خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر سخت احتجاج کرتے ہوئے ڈنمارک کی مصنوعات اور سرکاری وفود کے مکمل بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر نے ڈنمارک کے اخبارات میں گستاخانہ خاکے چھاپنے پر ڈنمارک کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کا حکم جاری کیا ہے۔ صدر عمر حسن البشیر نے حکام پر زور دیا کہ وہ ڈنمارک کے سرکاری وفود اور سفارت کاروں سے ملنے سے گریز کریں۔ انہوں نے شہریوں پر بھی زور دیا کہ وہ ڈنمارک کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔

۲۸ فروری ۲۰۰۸ء

جماعۃ الدعوۃ نے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کو منظم کرنے کے لئے مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کر دیئے ۔ ملک بھر میں جلسوں اجتماعات اور سیمینار کا انعقاد کیا جائے گا۔ حرمت رسول ﷺ کے تحفظ کے لئے چلائی جانے والی اس تحریک کے ذریعے نئی منتخب حکومت پر بھی دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ توہین آمیز خاکوں پر ٹھوس موقف اپنائیں ۔

۲۹ فروری ۲۰۰۸ء

تحریک حرمت رسول کی اپیل پر مذہبی جماعتیں آج جمعۃ المبارک کو ملک گیر یوم احتجاج منائیں گی۔ سینیٹ میں بھی توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے سپرد کر دیا گیا۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ امیر تنظیم اسلامی لاہور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طاغوتی قوتیں پریس کی آزادی کے نام پر صحافتی دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔ لاہور میں جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید نے ایک اجلاس کے دوران جرمنی کے وزیر داخلہ کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کفار منظم سازش اور منصوبہ بندی کے تحت سرکاری سر پرستی میں خاکوں کی اشاعت کے مسئلہ کو ہوا دے رہے ہیں اور مسلم حکمران امریکہ کی خوشنودی کے لئے اب بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔

یکم مارچ ۲۰۰۸ء

ڈنمارک میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف مذہبی جماعتوں کی اپیل پر لاہور ، اسلام آباد سمیت ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا۔ اس موقع پر مظاہرین اور دینی و مذہبی جماعتوں نے عوام سے یورپ بالخصوص ڈنمارک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی اور حکومت پاکستان سے معاملے پر شدید احتجاج کرنے ، ڈنمارک سے پاکستانی سفیر کی واپسی اور ڈنمارک کے سفیر کی بے دخلی جبکہ او آئی سی کا اجلاس بلانے اور معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا۔ دینی و مذہبی جماعتوں نے واضح کیا کہ تحفظ ناموس رسالت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا

مئی ، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 172

اہل پاکستان کا خاکوں کے خلاف احتجاج

جائے گا۔ اقوام متحدہ صورت حال کا نوٹس کیوں نہیں لیتی۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مغرب اور یورپ کے ممالک پر زور دیا جاوے کہ وہ خود بھی صورت حال کا جائزہ لیں۔ امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کافر قوتوں کو بہت مہنگی پڑے گی، تحفظ حرمت رسول ﷺ کے لئے ہر مسلمان عامر چیمہ شہید بننے کو تیار ہے۔ خاکوں کی اشاعت کے ردعمل میں امریکہ اور یورپ میں قرآن وسیرت النبی ﷺ کی کتب کا مطالعہ بڑھ گیا۔ سعودی عرب، مصر، لبنان و دیگر اسلامی ملکوں کے چھاپہ خانوں سے ڈیمانڈ پوری نہیں ہورہی۔

٢ / مارچ ٢٠٠٨ء

پاکستان نے ایک متعصب ڈچ سیاستدان کی طرف سے اسلام دشمن فلم تیار کرنے پر ہالینڈ کے سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے سخت احتجاج کیا گیا۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ڈچ سیاستدان گیرٹ ولڈرز کی طرف سے قرآن کی تعلیمات کے خلاف فلم تیار کرنا اس کی متعصب اور منافرت پر مبنی سوچ کی عکاسی کرتی ہے اور اس دلآزار اقدام کا آزادی اظہار سے کوئی تعلق نہیں، محمد صادق نے کہا کہ آزادی اظہار اور توہین کے لائسنس میں فرق ہونا چاہئے، ڈنمارک کے کارٹونسٹ اور گیرٹ ولڈرز کی گستاخانہ حرکات یورپ میں نفرت کی سیاست اور منافرت پھیلانے کا پراپیگنڈا ہے۔ پاکستان نے اس مسئلے کو یورپی پارلیمنٹ، ویٹی کن اور یورپی یونین کے سامنے اٹھایا ہے اور آئندہ سینی گال میں او آئی سی کی سربراہ کانفرنس میں بھی آواز بلند کرے گا، یورپی یونین کو توہین آمیز فلم اور خاکوں کا سخت نوٹس لینا چاہئے۔

٣ / مارچ ٢٠٠٨ء

ڈنمارک کے اخبارات میں گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کے خلاف لاہور، کراچی، گلگت سمیت ملک کے دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ شاکوٹ میں احتجاجی ریلی نکالی گئی جبکہ گوجرانوالہ میں احتجاجی جلسہ کا انعقاد کیا گیا، مظاہرین نے احتجاج کے دوران ڈنمارک کے پرچم نذر آتش کئے۔ امریکی صدر بش کے خلاف نعرہ بازی کی گئی۔

٨ / مارچ ٢٠٠٨ء

ڈنمارک کے اخبارات میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور ہالینڈ میں شرانگیز فلم کی تیاری کے خلاف صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا اس موقع پر احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ لاہور میں عالمی تنظیم اہل سنت کے زیر اہتمام گستاخانہ خاکوں اور ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ گیرٹ ویلڈرز کی طرف سے شرانگیز فلم بنانے پر گزشتہ روز نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ مظاہرین سے علامہ سید شاہد حسین گردیزی، سید مختار رضوی، محمد حسین گوندل اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمارے حکمران اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ جماعۃ الدعوۃ کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کفار کی طرف سے شروع کی گئی صلیبی جنگوں کا حصہ ہے۔ جامع مسجد القادسیہ میں خطبہ جمعہ کے دوران خطاب کر رہے تھے۔ پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام بھی یوم

جمادی الاولیٰ، الآخره ١٤٢٩ھ

صفحہ 173

سمیع الرحمن

احتجاج منایا گیا۔ مرکزی چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ انتخابات میں کامیاب ہونے والی جماعتیں ڈنمارک و دیگر ممالک کے سفیروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کریں۔ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام اسلام آباد میں توہین آمیز خاکوں کے خلاف مظاہرہ کیا گیا جس میں ڈنمارک کے خلاف نعرے بازی اور سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت قاضی حسین احمد نے کی۔ جماعۃ الدعوۃ نے ملک بھر میں حرمت رسول کنونشن منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے علاوہ فیصل آباد، گجرات، اوکاڑہ، سیالکوٹ، خوشاب، حاصل پور، ہارون آباد، جہلم، چکوال اور دیگر شہروں میں بھی زبردست احتجاجی مظاہرے اور جلوس نکالے گئے۔

۱۱؍ مارچ ۲۰۰۸ء

شیخوپورہ میں توہین آمیز خاکوں اور شرانگیز فلم کے خلاف انجمن تاجران کی اپیل پر مکمل ہڑتال ہوئی۔ تمام مارکیٹیں کاروباری مراکز اور بازار بند رہے۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈنمارک کے ساتھ سفارتی تعلقات فوری طور پر ختم کیے جائیں اور ان کی برآمدات پر بھی پابندی لگائی جائے۔

۱۳؍ مارچ ۲۰۰۸ء

پشاور میں اسلامی جمعیت طلبہ صوبہ سرحد نے چوک یادگار سے تحفظ ناموس رسالت ریلی نکالی۔ طلبہ گورنر ہاؤس جاکر اپنا احتجاجی ریکارڈ کرانا چاہتے تھے۔ سنٹرل جیل پشاور پہنچ کر پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی جس پر طلبہ مشتعل ہو گئے اور اس دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل پھینکے جس کے باعث کئی طلبا زخمی ہوئے۔ اس موقع پر مرقس گل کونسلر رفاقت بشیر، پرویز دیوان اور ضلعی ممبر کرامت مسیح نے بھی خطاب کیا۔

۱۴؍ مارچ ۲۰۰۸ء

لاہور میں سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے کا اہتمام جماعۃ الدعوۃ نے کیا۔ ۳۵ ٹرکوں میں سوار جماعۃ الدعوۃ کے کارکنوں جنہوں نے بینر اور جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے ۔’حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے‘ جیسے نعرے لگاتے ہوئے شہر کی مختلف سڑکوں پر گشت کرتے رہے۔ اس سے قبل لاہور پریس کلب کے باہر جماعۃ الدعوۃ نے حرمت رسول ﷺ کنونشن کا انعقاد کیا جس سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ سیاسی اُمور کے سربراہ حافظ عبدالرحمن مکی، مولانا امیر حمزہ، اعجاز چودھری، لاہور بار کے سیکرٹری عبداللطیف سرا، حافظ سیف اللہ منصور اور دیگر نے کہا کہ تحریک حرمت رسول ﷺ مستقل بنیادوں پر جاری رہے گی۔ ہم پاکستانی قوم کو بیدار کریں گے کہ کفار نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اس کا بدلہ لینا سب مسلمانوں پر فرض ہے۔ گستاخانہ خاکے تیار کرنے والے اور ان کے سرپرست ممالک صلاح الدین ایوبی کے فرزندوں سے نہیں بچ سکتے۔ دریں اثناء جماعۃ الدعوۃ کے زیر اہتمام لاہور کے دیگر ۳۰ سے زائد مقامات پر حرمت رسول کانفرنسوں کا بیک وقت انعقاد کیا گیا۔ اس دوران عوام کا زبردست جوش و جذبہ دیکھنے میں آیا۔ لوگوں نے ڈنمارک، ہالینڈ، ناروے، جرمنی اور دیگر گستاخ ممالک کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔

مئی ، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 174

اہل پاکستان کا خاکوں کے خلاف احتجاج

۱۵/ مارچ ۲۰۰۸ء

ڈنمارک میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور ہالینڈ میں قرآن مجید کے خلاف شر انگیز فلم کی تیاری کے خلاف جمعہ کے روز لاہور سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئی، مظاہرین نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے پتلے اور پرچم نذر آتش کئے کراچی میں سنی تحریک کی اپیل پر کئی علاقوں میں ہڑتال کی گئی کئی علاقوں میں کاروبار اور ٹریفک جزوی طور پر معطل رہی، شہر میں ہوائی فائرنگ، مسلح تصادم اور جلاؤ گھیراؤ کے مختلف واقعات میں ۵/ افراد جاں بحق ہوئے ۔ ۱۲ گاڑیاں نذر آتش کردی گئیں۔ ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ اے این این کے مطابق نماز جمعہ کے بعد انجمن تاجران ہال روڈ نے اپنے کاروبار بند کر کے احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔ نئی اسمبلیاں ڈنمارک اور ہالینڈ کے خلاف سب سے پہلی قرارداد منظور کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ اُمت مسلمہ آج ایک بار پھر سے صلاح الدین ایوبی کی راہ دیکھ رہی ہے۔ مختلف مساجد میں مولانا سیف الدین سیف، مولانا محب النبی، مولانا میاں عبدالرحمن، قاری مشتاق احمد، قاری زبیر احمد و دیگر نے اپنے خطابات میں کہا کہ گستاخان رسول کو پھانسی دی جائے۔ انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی اپیل پر ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا۔ انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے زیر اہتمام جامعہ قاسمیہ فیصل آباد، مرکز ختم نبوت چناب نگر، مرکز دارالارشاد چنیوٹ، جامعہ سراجیہ ڈیرہ اسماعیل خان، جامعہ فاروقیہ لاہور میں بڑے احتجاجی پروگرام ہوئے، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے مرکزی امیر مولانا عبدالحفیظ مکی، سیکرٹری جنرل ڈاکٹر احمد علی سراج، مولانا محمد الیاس چنیوٹی، جنرل سیکرٹری مولانا صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی، مولانا یونس حسن، مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا صاحبزادہ عاصم مخدوم نے احتجاجی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ڈنمارک کے سفیر کو ملک بدر کر کے سفارتی تعلقات فی الفور ختم کرے۔ عالم اسلام سے معافی نہ مانگی گئی تو غلامان رسول پوری دنیا میں احتجاج کریں گے۔ چھانگا مانگا سے نامہ نگار کے مطابق گستاخانہ خاکوں کے خلاف ریلی نکالی گئی جس کی قیادت مرکزی جمعیت اہل حدیث ضلع قصور کے امیر مولانا محمد شفیع اور اہل حدیث یوتھ فورس ضلع قصور کے صدر خلیل الرحمن ثاقب نے کی۔ دریں اثناء تمام اہل حدیث مساجد کا اجتماعی خطبہ مبارک مسجد اہل حدیث میں ہوا۔ جمعیت علماء اسلام (س) کے زیر اہتمام ملک بھر میں خاکوں کی اشاعت کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ سینیٹر قائد جمعیت مولانا سمیع الحق مرکزی رہنماؤں، مولانا محمد اجمل قادری و دیگر احتجاجی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گستاخانہ خاکے اُمت مسلمہ کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق کل جماعتی تحفظ ناموس رسالت کے زیر اہتمام بعد از نماز جمعہ ۳ بجے شیرانوالہ سے زیر قیادت ضلعی رہنما تحفظ ناموس رسالت ایک بھرپور ریلی نکالی گئی۔ سابق ممبر قومی اسمبلی قاضی حمید اللہ ضلعی صدر مجلس تحفظ ناموس رسالت ، مولانا محمد مشتاق چیمہ، نائب صدر بلال قدرت بٹ، جنرل سیکرٹری بابر رضوان باجوہ، ڈاکٹر عبدالمعین اور مذہبی سکالر علامہ زاہد الراشدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہل یورپ کے پس پردہ کچھ اور مقاصد ہیں ۔ تاہم مسلمان کسی صورت بھی اپنے پیارے آقا کی توہین اور قرآن مجید کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ اور مرنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔ ان رہنماؤں نے عوام سے ایک قرارداد کے ذریعے ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔ مولانا زاہد الراشدی نے کہا۔ او آئی سی دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ہالینڈ اور ڈنمارک کے

جمادی الاولیٰ ، الاخریٰ ۱۴۲۹ھ

صفحہ 175

سمیع الرحمن

ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرف مکمل بائیکاٹ کا فیصلہ کریں۔

۱۷/مارچ ۲۰۰۸ء فیصل آباد: انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ ورلڈ کے امیر مولانا عبدالحفیظ مکی، مولانا الیاس چنیوٹی، ایم پی اے سیکرٹری جنرل احمد علی سراج، صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی اور صدر سپاہ صحابہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے کہا ہے کہ ڈنمارک کے اخبارات نے توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور ہالینڈ میں شرانگیز فلم ریلیز کرنے کے خلاف بین الاقوامی سطح پر تحریک چلانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں ۲۰ مارچ کو لندن میں سیرت کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا اور پھر یورپ بھر میں بھی احتجاجی آواز اٹھائی جائے گی۔

۱۷/مارچ ۲۰۰۸ء ڈنمارک کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کے خلاف لاہور، اسلام آباد اور کراچی سمیت کئی شہروں میں زبردست مظاہرے کئے گئے۔ مظاہرین ڈنمارک سے سفارتی تعلقات ختم کر کے سفیر کی ملک بدری اور ڈنمارک کی اشیاء کے مکمل بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہے تھے۔

۱۸/مارچ ۲۰۰۸ء مسلم لیگ (ن) کی مذہبی امور کمیٹی پنجاب کے زیر اہتمام پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت شہزادی کبیر اور راحت افزا نے کی۔ مظاہرین ڈنمارک کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ شہزادی کبیر اور راحت افزا نے کہا کہ ڈنمارک کے اخبارات نے توہین آمیز خاکے شائع کر کے ملت اسلامیہ کے جذبات کو بھڑکایا ہے۔ لاہور میں ریلی کی قیادت اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ عتیق الرحمن نے کی۔ ناظم لاہور عبدالباسط اور ناظم پنجاب یونیورسٹی زاہد نوید نے کہا کہ توہین آمیز خاکوں کے معاملے پر مسلم ممالک کے حکمرانوں نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔

۱۹/مارچ ۲۰۰۸ء ڈنمارک کے اخبارات میں توہین آمیز خاکوں اور ہالینڈ میں اسلام مخالف فلم کی نمائش کے خلاف اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام ہزاروں طلباء نے پنجاب یونیورسٹی سے مسجد شہدا تک احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی کے شرکاء نے مسجد شہدا کے باہر دھرنا دیا اور گستاخ رسول کا پتلا بھی نذر آتش کیا۔

۲۰/مارچ ۲۰۰۸ء لاہور توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور شرانگیز فلم کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ کئی شہروں میں ریلیاں اور جلوس نکالے گئے اور دھرنے دیئے گئے۔ جماعۃ الدعوہ کے زیر اہتمام لاہور شاہدرہ میں حرمت رسول ﷺ کانفرنس منعقد کی گئی۔ ملتان اور فیصل آباد میں اساتذہ اور انجمن طلباء اسلام نے مظاہرے کئے۔ کوئٹہ میں بولان میڈیکل کالج کے طلباء نے پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا۔

مئی ، جون ۰۸ء

صفحہ 176

اہل پاکستان کا خاکوں کے خلاف احتجاج

۲۱ / مارچ ۲۰۰۸ء قاہرہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن نے کہا کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ کا حصہ ہے اور اس سازش میں پوپ بینی ڈکٹ ملوث ہیں۔ اسامہ بن لادن نے یہ بات ویب سائٹ پر جاری کئے گئے آڈیو پیغام میں کہی۔ جو عراق جنگ کے پانچ سال مکمل ہونے پر جاری کیا گیا ہے۔

۲۳ / مارچ ۲۰۰۸ء جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف گہری سازشوں کا حصہ ہے، بیرونی قوتیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کا رشتہ مذہب سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں، مسلم حکمران وعوام سیرت کے پیغام کو دنیا میں عام کریں۔ وہ جامع مسجد القادسیہ میں خطبہ جمعہ کے دوران خطاب کر رہے تھے۔

۲۴ / مارچ ۲۰۰۸ء لاہور میں شباب ملی کے زیراہتمام ریلی نکالی گئی۔ جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بینرز اور جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان ڈنمارک اور ہالینڈ کے سفیروں کو ملک بدر کرے ورنہ اسلام آباد میں دونوں ممالک کے سفارت خانوں کا گھیراؤ کریں گے۔

رسائل

۲۵ / مارچ ۲۰۰۸ء القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں صہیونی اور مغربی مفادات کو نشانہ بنائیں۔

۲۹ / مارچ ۲۰۰۸ء لاہور، اسلام آباد ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ گیرٹ وائلڈرز کی جانب سے اسلام کے بارے میں توہین آمیز فلم کو انٹرنیٹ پر جاری کرنے اور ڈنمارک میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف لاہور سمیت کئی شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ پاکستان نے واقعہ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ہالینڈ کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے رکن پارلیمنٹ کے اس فعل کی شدید مذمت کی ہے۔ ہالینڈ کے سفیر کو جمعہ کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور فلم ریلیز کرنے کے اقدام پر اور وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری برائے یورپ نے ان سے شدید احتجاج کیا۔

۳۱ / مارچ ۲۰۰۸ء حرمت رسول ﷺ کنونشن میں علماء کرام اور قائدین نے الیکٹرانک میڈیا مالکان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ٹی وی چینلوں پر ناموس رسالت ﷺ پر انگلی اٹھانے والے ممالک کے معاشی اور سفارتی بائیکاٹ کے لئے مستقل مہم چلائیں۔ سابق صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ نے علالت کے باوجود جماعۃ الدعوۃ کے حرمت رسول ﷺ کنونشن میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ ہر شخص کو تلاشی کے بعد مرکز القادسیہ کے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔ علماء کنونشن میں پاس کی گئی قرا علمائے کرام شیوخ الحدیث اور مدارس دینیہ کے کے لئے دعوت دیتے ہوئے کہا کہ گستاخانہ تھا لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ جلد رفیق تارڑ میں ان شاء اللہ کہا۔

۳۱ / مارچ ۲۰۰۸ء جماعۃ الدعوۃ لاہور کے زیراہتمام لگ بھگ ہے کہ وزیر اعظم نے ۱۰۰ دن کی ترجیحات میں رسالت ﷺ حکمرانوں کی ترجیحات میں خلاف جہاد کا اعلان کیا جائے۔ پاکس بنائے، مجرمانہ خاموشی اور مغربی ہم مسئلے پر ضرور استعفاء ہونا چاہیے۔ تارڑ، امیر جماعۃ الدعوۃ پروفیسر مولانا سمیع الحق، نائب امیر جماع پولیٹیکل پارٹی کے سربراہ علامہ نو رہنما پروفیسر عبدالرحمٰن مکی، جامعہ دیگر نے خطاب کیا۔ کنونشن میں ا نے اپنے خطاب میں کہا کہ مغربی گستاخیوں کے عادی ہو جائیں اور ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور معاملات اور ترجیحات ہیں، لیکن ان آتا۔ پروفیسر حافظ عبدالرحمٰن مکی نے ک ادا کریں۔ مولانا خورشید احمد گنگ الدین المشرقی نے کہا کہ مسل مولانا فضل الرحیم اشرفی نے کہا ک حرمت کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھ عیسائی علماء کی مجرمانہ خاموشی ان مسلمان یہ سمجھنے میں حق بجانب ہ میں اسلام کے خلاف برپا ہے۔

------------- جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ -------------

صفحہ 177

سمیع الرحمن

اجازت دی گئی۔ علماء کنونشن میں پاس کی گئی قرارداد پر پروگرام میں شریک سبھی دینی جماعتوں کے مرکزی قائدین جید علمائے کرام شیوخ الحدیث اور مدارس دینیہ کے مہتمم حضرات نے دستخط کئے۔ مولانا امیر حمزہ نے محمد رفیق تارڑ کو خطاب کے لئے دعوت دیتے ہوئے کہا کہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے والوں نے پرویز مشرف کو ان کی جگہ ایوان صدر میں بٹھایا تھا لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ جلد رفیق تارڑ صاحب پھر صدارت کی کرسی پر فائز ہوں گے اس پر شرکاء نے بلند آواز میں ان شاء اللہ کہا۔

۳۱؍ مارچ ۲۰۰۸ء

جماعۃ الدعوۃ لاہور کے زیر اہتمام ملک گیر ”حرمت رسول ﷺ“ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے ۱۰۰ دن کی ترجیحات میں حرمت رسول ﷺ کا معاملہ شامل نہ کر کے قوم کو مایوس کیا اور اگر ناموس رسالت ﷺ حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں تو ہمارا ان کے ساتھ چلنا مشکل ہو جائے گا۔ ڈنمارک اور ہالینڈ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا جائے۔ پارلیمنٹ گستاخی میں ملوث ممالک سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا قانون بنائے۔ محمدی کلچر عام اور مغربی کلچر کا خاتمہ کیا جائے۔ پاکستان کا ایٹم بم اور کہیں استعمال ہو یا نہ حرمت رسول ﷺ کے مسئلے پر ضرور استعمال ہونا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ، امیر جماعۃ الدعوۃ پروفیسر حافظ محمد سعید، امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پروفیسر ساجد میر، جے یو آئی کے سربراہ مولانا سمیع الحق، نائب امیر جماعت اسلامی مولانا اسلم سلیمی، جے یو آئی (ف) کے راہنما مولانا امجد خان، شیعہ پولیٹیکل پارٹی کے سربراہ علامہ نوبہار شاہ، جے یو پی نفاذ شریعت کے انجینئر سلیم اللہ خاں، جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما پروفیسر عبدالرحمن مکی، جامعہ اشرفیہ کے نائب مہتمم مولانا فضل الرحیم، اتحاد العلماء کے صدر مولانا عبد المالک اور دیگر نے خطاب کیا۔ کنونشن میں ملک بھر سے سینکڑوں علمائے کرام اور آئمہ مساجد نے شرکت کی۔ پروفیسر ساجد میر نے اپنے خطاب میں کہا کہ مغرب میں بار بار گستاخی رسول کا ارتکاب اس لئے کیا جا رہا ہے کہ رفتہ رفتہ مسلمان ان گستاخیوں کے عادی ہو جائیں اور ان کے دلوں سے محبت رسول ﷺ کا جذبہ ختم ہو جائے۔ حالانکہ یہ ان کی بھول ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور پارلیمنٹ کی بالا دستی ججوں کی بحالی ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ سب انتہائی معاملات اور ترجیحات ہیں، لیکن ان میں اہم ترین مسئلہ حرمت رسول کا ہے جو نئی حکومت کی ترجیحات میں کہیں نظر نہیں آتا۔ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہا کہ حرمت رسول ﷺ کے مسئلہ پر مسلمان حضرت حسان بن ثابت ؓ کا کردار ادا کریں۔ مولانا خورشید احمد گنگوہی نے کہا کہ مسلم حکمران و عوام موجودہ حالات کا جرأت سے مقابلہ کریں۔ حمید الدین المشرقی نے کہا کہ مسلم حکمران متحد ہو جائیں تو ڈنمارک اور ہالینڈ جیسے ملکوں کو بھی گستاخی کی جرات نہ ہو۔ مولانا فضل الرحیم اشرفی نے کہا کہ مسلم امہ متحد اور بیدار ہو جائیں۔ مسلمان محمد رسول اللہ ﷺ سمیت تمام انبیاء کرام کی حرمت کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں، لیکن رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی پر پوپ بینی ڈکٹ اور دیگر سرکردہ عیسائی علماء کی مجرمانہ خاموشی ان کے کردار پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہیں چاہئے کہ اپنی پوزیشن واضح کریں۔ ورنہ مسلمان یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ پوپ کے اسلام مخالف ریمارکس اس منظم مہم کا حصہ ہے جو مغرب میں اسلام کے خلاف برپا ہے۔

مئی ، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 178

اہل پاکستان کا خاکوں کے خلاف احتجاج

یکم اپریل ۲۰۰۸ء

لاہور، برلن، دمشق، تہران، جرمنی کے ایک تھیٹر میں شاتم رسول سلمان رشدی کی توہین آمیز کتاب پر مبنی ڈرامہ چلایا گیا۔ عرب لیگ کی جانب سے یورپ میں بڑھتے ہوئے اسلام مخالف اقدامات پر تشویش کا اظہار اُردن کے کئی ارکان پارلیمنٹ نے ہالینڈ سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ جرمنی کی طرف سے سلمان رشدی کا توہین آمیز ڈرامہ دکھانا یورپ کی اسلام مخالف مہم کا حصہ ہے۔ سوڈان کے صدر عمر البشیر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توہین آمیز اقدامات پر مسلمانوں کو ہالینڈ کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ ہالینڈ کے وزیر خارجہ میکسیم ورسکن نے پیر کے روز مسلمان ممالک کے وزراء سے ملاقات کر کے ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ کی توہین آمیز فلم پر مسلمانوں کے غم و غصے کو کم کرنے کی کوشش کی اور ان سے کہا کہ وہ ہالینڈ کے شہریوں اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے میں کردار ادا کریں۔

۵/اپریل ۲۰۰۸ء

ڈنمارک میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور ہالینڈ میں مذہبی منافرت پر مبنی فلم کی تیاری پر لاہور بار ایسوسی ایشن نے متفقہ طور پر قراردادیں منظور کیں کہ ان ممالک کے سفیروں کو ملک بدر کر کے سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں اور ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ لاہور بار نے یہ قراردادیں جنرل ہاؤس کے ایک اجلاس کے دوران منظور کیں۔

[روزنامہ جنگ، لاہور]

۲۰/فروری ۲۰۰۸ء

پاکستان نے ڈنمارک کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے ڈنمارک میں توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر شدید احتجاج کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری (یورپ) اکبر زیب نے منگل کو ڈنمارک کے ناظم الامور کو دفتر طلب کیا اور اس واقعہ پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت سے دنیا بھر میں مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پریس کی آزادی کو مقدم سمجھتے ہیں۔ مگر اظہار رائے کی آزادی دیگر مذاہب کی توہین اور انہیں بدنام کرنے کا لائسنس نہیں ہونا چاہئے۔

۲۵/فروری ۲۰۰۸ء

سنی تحریک کے ڈویژنل کنوینر علامہ مجاہد عبدالرسول خان کی قیادت میں گذشتہ روز پریس کلب کے باہر ڈنمارک کے خلاف توہین آمیز خاکے شائع کرنے پر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

۲۶/فروری ۲۰۰۸ء

نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی شان میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف لاہور پریس کلب کے باہر علما کرام و مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہودی لابی اور دیگر غیر مسلم نبی پاک کی شان میں گاہے بگاہے گستاخی کر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا کر انہیں آہستہ آہستہ اپنے اقدام سے عادی کرنے کی سازش میں مصروف ہے، مگر وہ ایسے مذموم

۲۸/فروری ۲۰۰۸ء

ڈنمارک کے اخبارات میں گستاخانہ خاکے جاری کر گئے تاکہ آئندہ کسی کو ناپاک جسارت کی جرات نہ ہو ثاقب نے یونین لاہور کے اجلاس سے خطاب کر

۲۹/فروری ۲۰۰۸ء

تنظیم اسلامی لاہور کے زیر اہتمام آج بعد نماز کی اشاعت کے خلاف پر امن مظاہرہ کیا گیا۔ آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف شدید ردعمل سے یہ سلسلہ رک نہیں سکتا۔

یکم مارچ ۲۰۰۸ء

یورپی ممالک ڈنمارک کی جانب سے نے یوم احتجاج منایا۔ اسلام آباد پریس ک جماعت اہلحدیث پاکستان، عالمی تنظیم گروپ) جماعت اسلامی، جمعیت علم کیے گئے۔ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر دانگراں میں حافظ عبدالغفار رو

۶/مارچ ۲۰۰۸ء

افغان صوبے لوگر میں اشاعت پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا۔ پاکستان نے قرآن پا اور اس کی ممکنہ نمائش کے خلاف صادق نے ہفتہ وار بریفنگ میں مسئلہ او آئی سی سربراہ اجلاس میں

۷/مارچ ۲۰۰۸ء

جماعت اسلامی کے سیکرٹری کرنے کی ضرورت ہے۔ حرمت

-------- جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ --------

صفحہ 179

سلمان رشدی کی توہین آمیز کتاب پر مبنی ڈرامہ مخالف اقدامات پر تشویش کا اظہار اردن کے کئی ۔ جماعة الدعوة پاکستان کے امیر پروفیسر حافظ نے ڈرامہ دکھانا یورپ کی اسلام مخالف مہم کا حصہ قرار دیا کہا کہ توہین آمیز اقدامات پر مسلمانوں کو ہالینڈ راسموسن نے پیر کے روز مسلمان ممالک کے مسلمانوں کے غم و غصے کو کم کرنے کی کوشش کی اور کردار ادا کیں۔

نفرت پر مبنی فلم کی تیاری پر لاہور بار ایسوسی مطالبہ کر کے سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں اور ایشن کے ایک اجلاس کے دوران منظور کیں۔

ڈنمارک میں توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ ) اکبر زیب نے منگل کو ڈنمارک کے ان کی دوبارہ اشاعت سے دنیا بھر میں آزادی کو مقدم سمجھتے ہیں۔ مگر اظہار رائے

گذشتہ روز پریس کلب کے باہر ڈنمارک

کے خلاف لاہور پریس کلب کے باہر یہودی لابی اور دیگر غیر مسلم نبی پاک کی آہستہ آہستہ اپنے ایمان سے عاری

مسیح الرحمٰن

کرنے کی سازش میں مصروف ہے۔ مگر وہ ایسے مذموم ارادے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔

۲۸ / فروری ۲۰۰۸ء

ڈنمارک کے اخبارات میں گستاخانہ خاکے جاری کرنے والوں کے خلاف حکومتی سطح پر سخت اقدامات کئے جائیں گے تاکہ آئندہ کسی کو ناپاک جسارت کی جرات نہ ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی صدر پیغام یونین ایس ڈی ثاقب نے یونین لاہور کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

۲۹ / فروری ۲۰۰۸ء

تنظیم اسلامی لاہور کے زیر اہتمام آج بعد نماز عصر پریس کلب لاہور کے باہر نبی کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف پرامن مظاہرہ کیا گیا۔ تنظیم اسلامی کے رہنما حبیب الرحمٰن، ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے کہا کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف شدید ردعمل ہمارے ایمان کا تقاضا ہے لیکن محض احتجاج، مظاہروں اور مذمتی بیان سے یہ سلسلہ رک نہیں سکتا۔

یکم مارچ ۲۰۰۸ء

یورپی ممالک ڈنمارک کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف ملک بھر میں دینی و مذہبی جماعتوں نے یوم احتجاج منایا۔ اسلام آباد پریس کلب کے سامنے اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جماعت اہلحدیث پاکستان، عالمی تنظیم اہل سنت، انجمن فدائیان مصطفیٰ تنظیم، اسلامی جمعیت علما پاکستان (نورانی گروپ) جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام اور دیگر تنظیموں کی طرف سے گزشتہ روز ریلیاں نکالی گئیں اور مظاہرے کیے گئے۔ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر نے جماعت اہلحدیث پاکستان کی طرف سے بھی گزشتہ روز جامع القدس چوک دالگراں میں حافظ عبدالغفار روپڑی کی قیادت میں مظاہرہ کیا۔

۶ / مارچ ۲۰۰۸ء

افغان صوبے لوگر میں سینکڑوں افغانیوں نے قرآن پاک سے متعلق متنازعہ فلم اور گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ہالینڈ، ڈنمارک کے پرچم جلائے اور دونوں ملکوں کی فوج سے افغانستان سے نکلنے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے قرآن پاک سے متعلق ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ گیرٹ ولڈرز کی طرف سے متنازع فلم بنانے اور اس کی ممکنہ نمائش کے خلاف ہالینڈ کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ گستاخانہ فلم اور خاکوں کے خلاف پاکستان کا اسلامی ممالک سے رابطہ ہے۔ یہ مسئلہ او آئی سی سربراہ اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔

۷ / مارچ ۲۰۰۸ء

جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل سید منور حسن نے کہا کہ تحفظ حرمت رسول ﷺ پر ملکی اور عالمی سطح پر قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے۔ حرمت رسول ﷺ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 180

اہل پاکستان کا خاکوں کے خلاف احتجاج

صرف مسلمانوں کے لیے ہی قابل احترام شخصیت نہیں ہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے راہبر ہیں۔ عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے ماہرین نے نبی پاک ﷺ کی سیرت طیبہ پر شاندار کتب تحریر کی ہیں۔

۱۳؍ مارچ ۲۰۰۸ء

تحفظ ناموس رسالت ﷺ محاذ کے ڈاکٹر سرفراز نعیمی، مولانا طاہر تبسم، صاحبزادہ رضا المصطفیٰ، مولانا نعیم نوری، پیر اطہر قادری، صاحبزادہ مختار رضوی، مولانا محمد اجمل گیلانی، صاحبزادہ شاہد گردیزی، مولانا محمد علی نقشبندی، انجینئر سلیم اللہ خاں، قاری محمد خان قادری، مولانا عبدالخالق، مولانا ضیاء الحق نقشبندی نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ۲۰۰۶ء میں یورپی ممالک میں توہین رسالت پر مبنی خاکے شائع ہونے پر یہ خیال کیا گیا تھا کہ یہ کسی کارٹونسٹ کی ذاتی حرکت یا اخبارات کی سازش تھی لیکن ان ہی خاکوں کو دوبارہ شائع کرنا اس امر کی غمازی کر رہا ہے یہ توہین رسالت کی عالمی تحریک نو کا حصہ ہے۔

۱۵؍ مارچ ۲۰۰۸ء

ڈنمارک کے اخبارات میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا گیا۔ کراچی میں کاروباری زندگی معطل رہی تمام بڑی مارکیٹیں اور بازار بند رہے۔ بسوں اور منی بسوں کو نذر آتش کیا گیا اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

رسالہ

۱۶؍ مارچ ۲۰۰۸ء

لاہور توہین آمیز خاکوں اور اسلام مخالف فلم کے خلاف گزشتہ روز لاہور میں تحفظ ناموس رسالت محاذ اور جمعیت طلبہ اسلام کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

۲۱؍ مارچ ۲۰۰۸ء

صدر اور وزیر اعظم پاکستان نے قوم پر زور دیا ہے کہ آپس میں اتفاق واتحاد پیدا کیا جائے۔ اعلیٰ انسانی اقدار کو فروغ دیتے ہوئے قانون اور اعلیٰ اخلاق کی بالا دستی کو یقینی بنایا جائے۔ مسلمانان عالم شان رسالت میں گستاخی برداشت نہیں کریں گے۔

۷؍ اپریل ۲۰۰۸ء

ڈنمارک کے اخبارات میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور ہالینڈ میں قرآن کی توہین پر مبنی فلم کے اجراء کے خلاف جماعت اسلامی کراچی کے تحت مزار قائد سے ٹاور تک منعقد ہونے والے’ شان مصطفیٰ مارچ‘ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مارچ کی قیادت جماعت اسلامی کے مرکزی جنرل سیکرٹری سید منور حسن نے کی۔ شان مصطفیٰ مارچ میں ہر وابستگی سے بالاتر ہوکر پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) پاکستان تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، پختون خواہ ملی پارٹی، سنی تحریک، جمعیت علماء اسلام (ف) جمعیت طلباء پاکستان، مرکزی جمعیت اہلحدیث، اسلامی تحریک پاکستان، مجلس تحفظ ختم نبوت بنوری ٹاؤن، جمعیت غرباء اہلحدیث اور دیگر مذہبی وسیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

—— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ 29ھ ——

۸؍ اپریل ۲۰۰۸ء

شیعہ رہنما علامہ سید افتخار حسین نقوی نے گزشتہ روز ایک مقامی ہوٹل میں پریس کا تمام مسلم ممالک سے یہ مطالبہ کرتے ہیں ک والوں کی سرپرستی کر رہے ہیں ان سب س

۱۶؍ اپریل ۲۰۰۸ء

قومی اسمبلی نے ڈنمارک کے اخب کے خلاف قرارداد مذمت متفقہ ط پیش کی کہ نبی ﷺ کی شان میں گ سے مطالبہ کرتا ہے کہ اپنے تما بنانے کے لئے اقدامات کئے جا جس میں کہا گیا ہے کہ ڈنمار پارلیمنٹرین گیرٹ وائلڈ

۴؍ مئی ۲۰۰۸ء

کراچی میں تحفظ ناموس رسا سفارت خانے بند کرنے کا مطا سنٹر تک ریلی نکالی گئی جس کی قیا مذکورہ بالا اخبارات کے ایجنڈ محبت رسول ﷺ کی شمع فروزاں لیے ہرگز تیار نہیں اور اس طرح اس کے دفاع میں یک زبان ہو ک سے اپنے مقتدر طبقہ کو توہین رسال پیش کش کرتے آئے ہیں۔

صفحہ 181

مسیح الرحمن

۸ /اپریل ۲۰۰۸ء

شیعہ رہنما علامہ سید افتخار حسین نقوی نجفی نے علامہ جاوید اکبر ساقی، علامہ کاظم رضا نقوی اور دیگر علماء کے ہمراہ گزشتہ روز ایک مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ملت اسلامیہ پاکستان کی طرف سے تمام مسلم ممالک سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈنمارک اور تمام ایسے مغربی ممالک جو توہین آمیز خاکوں جیسی جسارت کرنے والوں کی سرپرستی کر رہے ہیں ان سب کے خلاف متفقہ طور پر مسلم امہ کی خواہشات کے مطابق اقدامات کئے جائیں۔

۱۶/ اپریل ۲۰۰۸ء

قومی اسمبلی نے ڈنمارک کے اخبارات میں گستاخانہ خاکوں اور ہالینڈ کی پارلیمنٹ کے رکن کی طرف سے متنازعہ فلم کے خلاف قرارداد مذمت متفقہ طور پر منظور کر لی۔ منگل کو مسلم لیگ (ن) کے رکن صاحبزادہ محمد فضل کریم نے قرارداد پیش کی کہ نبی ﷺ کی شان میں توہین آمیز اور گستاخانہ خاکوں کی اشاعت ایوان پرزور مذمت کرتا ہے اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ اپنے تمام چارٹر میں تمام انبیاء کی شان میں گستاخیوں کو روکے اور ان کی عزت و عصمت کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمن نے ایوان میں متفقہ قرارداد پڑھی، جس میں کہا گیا ہے کہ ڈنمارک کے اخبارات میں نبی کریم ﷺ کی شان میں توہین آمیز خاکوں اور ہالینڈ کے پارلیمنٹیرین گیرٹ وائلڈرز کی فلم کے اجراء سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کی دل آزاری ہوئی ہے۔

(رپورٹ)

۴ /مئی ۲۰۰۸ء

کراچی میں تحفظ ناموس رسالت ریلی میں حکومت سے ایک ماہ کے اندر ڈنمارک، ناروے، جرمنی اور ہالینڈ کے سفارت خانے بند کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ تحفظ ناموس رسالت ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام کراچی میں مزار قائد سے تبت سنٹر تک ریلی نکالی گئی جس کی قیادت مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام نے کی۔

مذکورہ بالا اخبارات کے احوال و بیانات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی مسلمان ابھی اپنے دلوں میں محبت رسول ﷺ کی شمع فروزاں کیے ہوئے ہیں اور ناموس رسالت کے معاملہ میں کسی قسم کی مداہنت یا کمپرومائز کے لیے ہرگز تیار نہیں اور اس طرح کے معاملات جو کہ پاکستانی مسلمانوں کے مابین اشتراک کی حیثیت رکھتے ہیں ان کا اس کے دفاع میں یک زبان ہونا فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے ایک اچھا شگون ہے اور مسلمانان پاکستان ہمیشہ سے اپنے مقتدر طبقہ کو توہین رسالت جیسے مسائل پر مداہنت اختیار نہ کرنے اور اپنی طرف سے جانی و مالی تعاون کی پیش کش کرتے آئے ہیں۔

٭………٭………٭

مئی ، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 182

حافظ محمد احمد بھٹی ٭

توہین رسالت ﷺ اور مغربی رواداری

تمام باطل قوتیں اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مسلمانوں کے نزدیک محمد کی ذات بابرکات مرکز ملت کی حیثیت رکھتی ہے اور ان سے محبت وعقیدت مسلمان اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں اور یہی وہ مرکز محبت ہے جس کے لیے مسلمان یہ برداشت کر لیتے ہیں کہ ان کے جسم تختہ دار پر جھولتے ہیں تو جھول جائیں، مگر یہ گوارا نہیں کرتے کہ محمد ﷺ کی ناموس وحرمت کے خلاف ایک حرف بھی بولا جائے۔

یہ پاکستان کے مسلمانوں کی آپ ﷺ سے محبت ہی تھی کہ پاکستان میں گستاخ رسول کی سزا ’موت‘ کا باقاعدہ قانون بنوایا گیا اور مغرب و یورپ کی طرف سے پاکستان میں اس قانون کو ختم کرنے کے لیے رواداری کے نام پر درپردہ کی جانے والی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔

آج رواداری کے نام پر اُمت کی رگوں سے جوہر غیرت اور عقیدت رسول کا خاتمہ کرنے کی بھیانک سازش ہو رہی ہے اور اُمت کو اس بات کا درس دیا جا رہا ہے کہ جس طرح اقوامِ عالم اور مذاہبِ عالم سے رواداری مسلمانوں کا شیوہ ہے۔ اسی طرح گستاخی رسول کو بھی رواداری کی وجہ سے برداشت کر لینا چاہیے، کیونکہ یہ گستاخی آزادیِ تحریر وتقریر کے انسانی حق کی رو سے درست ہے کتنی عجیب منطق ہے۔ گستاخی کہیں ہو، کیسی بھی ہو اسے آج کسی بھی انسان کے لیے روا نہیں رکھا گیا۔ چہ جائیکہ وہ گستاخی ایک ارب سے زائد انسانوں کی جان سے عزیز تر ہستی کی کی جائے۔

ہمیں بسر و چشم تسلیم ہے کہ حضور اقدس کی حیات مبارکہ شفقت و رحمت، عفو و درگزر، محبت مَوَدت، اخلاق کریمانہ اور خصائل رحیمانہ کا بہترین نمونہ ہے، مگر ان تمام صفات مبارکہ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان پہلوؤں کو بنیاد بنا کر گستاخ رسول کے لیے درگزر کی راہیں تلاش کی جائیں اور آپ ﷺ کی سیرت طیبہ میں جو دینی غیرت کا روشن باب ہے اس پر بھی انصاف پسندی، وسیع النظری اور رواداری کا پردہ ڈال کر ڈھانپ دیا جائے۔

یہ بجا کہ آپ ﷺ نے اپنی ذات کے لیے عفو و درگزر کی بے پایاں مثالیں قائم فرمائیں، لیکن جب توقیر رسالت پر حملہ ہو، محرمات الٰہی پہ زد پڑے، شعائر اللہ کی بے حرمتی ہو یا حق و باطل کے خلط ملط ہو جانے کا اندیشہ ہو، وہاں آپ سے کسی قسم کی وسیع النظری یا رواداری منقول نہیں۔ بلکہ ان مقامات پر آپ نے باطل کے ساتھ ادنیٰ سا ’کمپرومائز‘ بھی برداشت نہ فرمایا۔ تریسٹھ سال پر محیط آپ ﷺ کی حیات طیبہ کا لمحہ لمحہ ہمارے سامنے ہے۔ آپ کی زندگی (سیرت طیبہ) کا مطالعہ یہ بتلاتا ہے کہ آپ نے ساری زندگی انتقامی رویہ اختیار نہیں کیا۔ تاریخ اس پر شاہد ہے کہ آپ ﷺ کی گستاخی ہمیشہ اسلام پر شب خون تصور کی جاتی رہی ہے اور اسلامیان عالم نے ایسے گستاخان وقت کا ہمیشہ پوری ہمت اور جذبے سے خاتمہ کیا۔ ذیل کی سطور میں چند ایسی مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔

٭ فاضل کلیۃ القرآن الکریم، جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور

--------- جمادی الاولیٰ، الآخرہ ۱۴۲۹ھ ---------

ہے؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ آپ پسند کرتے ہیں کہ میں اس کو قت آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں خ بن سلمہ رضی اللہ عنہ، کعب بن اشرف کے پا نے کہا اپنی عورتیں میرے پاس گرو پاس گروی نہیں رکھ سکتے کہ وہ ایک اسلحہ گروی رکھ سکتے ہیں۔ یہ وعدہ ہ دیا، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آ گ

چنتے ہوئے قتل کیا تھا۔ [صحیح

چنانچہ توہین رسالت کے مرتکبین حکومت کی طرف سے مقدمات پانے والے تمام مسلمانوں کو ای پر قابل ذکر ہیں جو ایک اَن پ پال کو قتل کیا۔ یادرہے کہ غاز غازی کی اپیل مسترد ہوئی ا انہوں نے کہا: ”ہم محض با

نوجوان عبدالقیوم نے ک ان شہیدانِ ملت کے ن ان ش قدر و آج مغرب روادار چاہتا ہے کہ دنیائے کاف مغرب کا آزادی ت ہوتی ہے یہ کسی نہ کسی پ

صفحہ 183

٭ حافظ محمد احمد بھٹی

رواداری

محمد ﷺ کی ذات بابرکات مرکز ملت کی حیثیت رکھنے کے علاوہ مرکز محبت ہے جس کے لیے مسلمان کچھ بھی ہو مگر یہ گوارا نہیں کرتے کہ محمد ﷺ کی توہین ہو۔ گستاخ رسول کی سزا ’موت‘ کا باقاعدہ قانون ہے جسے ختم کرنے کے لیے رواداری کے نام پر عشق رسول کا خاتمہ کرنے کی بھیانک سازش کی جا رہی ہے اور مذاہب عالم سے رواداری مسلمانوں کو بھی سیکھ لینا چاہیے، کیونکہ یہ گستاخی آزادی تحریر و تقریر کے نام پر، کیسی بھی ہو اسے آج کسی بھی انسان کی اپنی جان سے عزیز تر ہستی کی کی جائے۔

عفو و درگزر، محبت و مؤدت، اخلاق کریمانہ یہ سب بجا، مگر یہ کہ ان پہلوؤں کو بنیاد بنا کر گستاخ رسول کو معاف نہ کرنا جو دینی غیرت کا روشن باب ہے اس پر سمجھوتہ نہ فرمائیں، لیکن جب توقیر رسالت پر حرف آنے کا، معنی غلط ہو جانے کا اندیشہ ہو، وہاں آپ نے اپنے قول و عمل کے ساتھ ادنیٰ سا ’کمپرومائز‘ بھی نہیں کیا۔ تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ آپ کی زندگی (سیرت طیبہ) اور اسلامی تاریخ اس پر شاہد ہے کہ آپ ﷺ کی امت نے گستاخانِ وقت کا ہمیشہ پوری ہمت

حافظ محمد احمد بھٹی

نپٹے؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دی ہے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں یہ کام کروں گا اور کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں اس کو قتل کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ پھر آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں خلاف واقعہ (بہانے کے طور پر) کچھ کہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کہہ دینا۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب بن اشرف کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں ایک وسق یا دو وسق غلہ قرض دے دو۔ کعب نے کہا اپنی عورتیں میرے پاس گروی رکھ دو۔ کہنے لگے تم عرب کے حسین ترین آدمی ہو ہم اپنی عورتیں تمہارے پاس گروی نہیں رکھ سکتے کہ وہ ایک دو وسق کے لیے گروی بنیں یہ ہمارے لیے رسوائی کی بات ہے، لیکن ہم اپنا اسلحہ گروی رکھ سکتے ہیں۔ یہ وعدہ لے کر اس کے پاس سے چلے گئے، دوبارہ اس کے پاس آئے اور اسے قتل کر دیا، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہیں بھی اس کے قتل کی خبر دی ۔“ [صحیح البخاری: ۴۰۳۷،۲۵۱۰]

چمٹے ہوئے قتل کیا تھا۔ [صحیح البخاری: ۴۰۳۸]

چنانچہ توہین رسالت کے مرتکبین کو مسلمانوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ قتل کرنے والے مسلمانوں پر برطانوی حکومت کی طرف سے مقدمات چلائے گئے اور انہیں تعزیرات ہند ۱۸۶۰ء کے تحت موت کی سزا دی گئی۔ پھانسی پانے والے تمام مسلمانوں کو ایشیاء کے مسلمانوں نے قومی ہیروز کا درجہ دیا۔ ان میں غازی علم دین شہید خاص طور پر قابل ذکر ہیں جو ایک اَن پڑھ بڑھئی نوجوان تھا۔ جس نے ۶؍ اپریل ۱۹۲۹ء کو لاہور میں گستاخ رسول ہندو راج پال کو قتل کیا۔ یادرہے کہ غازی علم دین شہید کی سزائے موت کے خلاف آخری اپیل خود محمد علی جناح نے کی جب غازی کی اپیل مسترد ہوئی اور ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو تختہ دار پر لٹکایا گیا تو علامہ اقبالؒ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انہوں نے کہا: ”ہم محض باتیں کرتے رہ گئے جب کہ ترکھان کا بیٹا بازی لے گیا ۔“

[فقیر سید وحید الدین ، روزگار فقیر ، لاہور، لائن آرٹ پریس، ۱۹۹۵ء ۲: ۴۹، ۴۰]

کوچوان عبدالقیوم نے بھری عدالت میں اس بدبخت کو قتل کر دیا تھا اور عبدالقیوم کو پھانسی کی سزا دی گئی۔ ان شہیدانِ ملت کے لیے اقبال نے کہا تھا:

اِن شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں خوں جن کا حرم سے بڑھ کے

آج مغرب رواداری اور وسیع النظری کی آڑ میں مسلمانوں کے ایک ایک کر کے تمام شعائر کو مٹا دینا چاہتا ہے وہ چاہتا ہے کہ دنیائے کائنات میں اندلس کی طرح ایک بھی اسلام کا نام لیوا نہ رہے۔

مغرب کا آزادی صحافت اور رواداری کا واویلا صرف مسلمانوں کے لیے ہے جہاں اسلام کی اشاعت کی بات ہوتی ہے یہ کسی نہ کسی بہانے سے اسلام کے خلاف کوئی نہ کوئی ایشو کھڑا کر دیتا ہے اور اسے دہشت گردی کا نام دے کر

ـــ مئی، جون ۲۰۱۸ء ـــ

صفحہ 184

توہین رسالت اور مغربی رواداری

دبانے کی کوشش میں رہتا ہے جبکہ جہاں اس کے مفاد اور اسلام کو دبانے کے اقدامات ہو رہے ہوں تو وہاں گونگے شیطان کا کردار ادا کرتے ہوئے چپ سادھ لیتا ہے بلکہ در پردہ اپنے تمام لشکروں کے ساتھ میدان میں اتر آتا ہے۔ مغرب کا یہ دوہرا معیار اہل خرد سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے جس کی مثالیں تاریخ میں محفوظ ہیں ان کے دوہرے معیار کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ

لیکن یہ بند نہ کی گئی تو ایک غیور مسلمان خلیفہ حماس عبدالخالص نے واشنگٹن میں چند یہودی افسروں کو یرغمال بنا کر مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم کروایا، مگر بعد میں خلیفہ حماس ہی نہیں، بلکہ اس کی بیوی اور تین معصوم بچوں کو بھی شہید کر دیا گیا۔ کیا یہ بھی رواداری تھی؟

کے کی۔ جسے نیویارک سے شائع ہونے والے معروف یہودی ہفت روزہ ’جیوش ویک‘ نے ’مجاہدہ‘ قرار دیتے ہوئے اس پر طویل اداریہ تحریر کیا۔ کیا یہ بھی رواداری تھی؟

مسلمانوں کی عبادت گاہیں ہیں جن کو جلا دیا گیا اور کچھ عجائب گھروں میں تبدیل کر دی گئیں اور عریاں فلموں کے لیے کھول دی گئیں۔ گوانتا نامو بے میں انسانیت کی بھلائی پر مبنی کتاب عزیز (قرآن) کو ٹشو کے طور پر استعمال کیا گیا، کیا یہ بھی انصاف پسندی اور رواداری ہے؟ اگر کسی اسلامی ملک میں قائم چرچ میں یہی کارروائی ہو تو یہی مغرب رواداری و آزادی مخالف کا واویلہ مچا دیتا ہے۔

رواداری ہے؟ اگر نہیں، تو پھر مسلمانوں کے مجرم سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کو کس لیے پناہ دی گئی ہے؟

شائع کرنے پر تیار نہ ہوا۔ بلکہ اس جرم میں اسے برطانیہ چھوڑنا پڑا، گویا کہ اسلام کے خلاف بولنے، لکھنے کی پوری آزادی اور اسلام کے حق میں لکھنے پر پابندی، کیا یہ بھی رواداری ہے؟

سال یعنی ۱۳ فروری ۲۰۰۸ء کو بھی شائع ہوئے۔ کیا مغرب اس میں رواداری کا درس بھول گیا؟

اے اہل مغرب! ان سب باتوں کے باوجود بھی تم روادار ٹھہرے اور ہم متعصب اور دہشت گرد۔ تمہارا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے تمہاری تہذیب مٹتی جا رہی ہے۔ اب دنیا کو تم ورغلا نہیں سکتے جن افراد تک اسلام کا نور پہنچ چکا وہ اس کی روشنی سے اپنے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔ تمہاری خود ساختہ رواداری اور مادر پدر آزادی تمہارا منہ چڑا رہی ہے اور تمہارے علاقوں میں تہذیب مغرب سے برگشتہ لوگ گروہ در گروہ تہذیب اسلامی کے دامن میں پناہ لے رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب تمہاری دم توڑتی تہذیب آخری سانس لے اور پھر تہذیب مغرب کا سورج مغرب میں ڈوب جائے گا۔ ان شاء اللہ

——جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ——

صفحہ 185

محمد عمران اسلم ٭

مغرب کا جرم مسلسل

اسلام اپنی تعلیمات کے اعتبار سے ایک کامل واکمل دین ہے۔ آج بھی اگر کسی دین پر سب سے زیادہ عمل کیا جاتا ہے تو وہ صرف اور صرف دین اسلام ہے، اور اس دین کا مرکز ومحور حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ دنیا میں بسنے والے سوا ارب سے زائد محافظانِ ناموس مصطفیٰ ﷺ ہر چیز کے بارے میں مصالحانہ رویہ اختیار کر سکتے ہیں، لیکن وہ اسلام کی اقدار سے اپنی انتہائی مضبوط عقیدت کے بارے میں کوئی مصالحانہ رویہ اختیار نہیں کر سکتے۔

سید الانبیاء حضرت محمد ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی جز اور اسلام کی بنیادی قدر ہے اور کسی بھی شخص کا ایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اکرم ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ مان لیا جائے۔ حضور ﷺ نے فرمایا:

«لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين» ”تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے والد، بچوں اور تمام لوگوں سے پیارا نہ ہو جاؤں۔“

[صحیح البخاری: ۱۵]

توہین رسول سے مراد

توہین رسول سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی علامت، اشارہ، تحریر، تصویر یا قول کے ذریعے پیغمبر اسلام کی ذات وصفات اور آپ کے منصب رسالت کے مقام ومرتبہ کو بدنیتی اور توہین آمیز رویہ سے کم کرنے کی کوشش کرنا یا اس میں ایسی زیادتی کی کوشش کرنا جو شرعاً جائز نہ ہو۔

مسلمان ہونے کے ناطے سے ہم پر سب سے برتر عائد ہونے والا حق اس ذات مصطفویت کا ہے جنہیں قرآن نے رحمۃ للعلمین کے لقب سے نوازا ہے، لیکن یہ نادان انسان اپنے خود ساختہ حقوق کے غلغلے میں ایسے دین اور ایسے شخص کے حقوق پامال کرنے پر تلا بیٹھا ہے جو انسانیت کی معراج اور اعزاز وتکریم کے اعلیٰ منصب پر فائز ہیں۔ ذات نبوت ﷺ کی اہانت کی کوششوں نے ان ممالک میں بسنے والوں کی تہذیب وشائستگی کا کچا چٹھہ پوری دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے جو رواداری، مذہبی مفاہمت، باہمی احترام وآشتی اور وسیع النظری کے خوبصورت نعروں سے بھری پڑی ہے۔ تہذیب مغرب کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوٹ چکا ہے کہ اس کی بنیادیں ایسے دیدہ زیب نعروں پر قائم ہیں جو مفہوم ومعنی سے محروم ہیں۔

٭ فاضل کلیۃ الشریعۃ، جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 186

Monthly

مغرب کا جرم مسلسل

سلسلۂ اہانت

غیر مسلموں کی طرف سے دینِ اسلام پر یہ پہلا حملہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی ایسی نازیبا حرکات کی گئیں جن پر مسلمانوں کا اشتعال میں آنا لابدّی امر تھا۔

دینِ اسلام کی توہین پر مبنی تھے کو خوب پذیرائی دی گئی۔

کیا گیا کہ آپ ﷺ دنیا میں دہشت گردی کی وجہ ہیں۔ نعوذ باللہ

عورتوں کی پشت پر قرآنی آیات تحریر کی گئیں۔

انتہائی توہین آمیز خاکے شائع کیے گئے۔ ان سب خاکوں میں سے سب سے توہین آمیز خاکہ وہ تھا جس میں نبی اکرم ﷺ کے چہرۂ انور کو نعوذ باللہ کراہت آمیز مشابہت دے کر، عمامہ مبارک میں ایک بم کو چھپا ہوا دکھایا گیا۔ یہ خاکے ان دو سالوں میں گاہے بگاہے شائع ہوتے رہے، لیکن رواں سال میں ۱۳؍ فروری کو ایک بار پھر نئی منصوبہ بندی اور اشتراک کے ساتھ انہی خاکوں کو دوبارہ شائع کیا گیا ہے اور ہالینڈ میں ایک ایسی فلم ریلیز کی گئی ہے جس میں نبی کریم ﷺ کا مذکورہ بالا خاکہ دکھایا گیا اور ساتھ ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ دنیا میں قتل وغارت اور دہشت گردی کا سبب اسلام ہی ہے۔

نبی کریم ﷺ کی رحمت وشفقت

ان خاکوں کی مدد سے ایسے شخص کی توہین کا ارتکاب کیا گیا ہے جو پوری کائنات کے لیے رحمت وشفقت بن کر آیا۔ آپ ﷺ شدید خواہش کرتے کہ وہ ایک ایک شخص کو پکڑ کر گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر کامیابی کی راہ پر چلا سکیں تاکہ وہ دنیا وآخرت میں اللہ تعالیٰ کی مقررکردہ سعادتوں کو پانے میں کامیاب ہو جائیں اور جو شخص ذائقۂ ایمان کو پانے سے محروم رہ جاتا آپ ﷺ اس کے لیے سخت پریشان ہوجاتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی ان الفاظ میں ڈھارس بندھوائی:

﴿لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ اِنْ نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآئِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خَاضِعِیْنَ﴾

[الشعراء: ۳،۴]

’’شاید کہ آپ ﷺ اپنے آپ کو اس بناء پر ہلاک نہ کر بیٹھیں کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ تیرا رب اگر چاہے تو

جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ

آسمان سے ایسی نشانی نازل کرے کہ ان ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَـ ’’کیا تو لوگوں کو اس قدر مجبور کرتا ہے کہ

مزید فرمایا: ﴿اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْہِ کَلِمَۃُ الْعَذَ ’’وہ شخص جس پر عذاب کا فیصلہ ہو

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’میری اور لوگوں کی مثال اس ہو گیا تو پروانے اور کیڑے مکوڑے وہ پروانے اس پر غالب آجائے «فَأَنَا آخِذُکُم بِحُجَزِکُـ ’’لوگو! میں تمہیں تمہاری کمر

حضرت ابو ہریرہؓ سے میں روزِ محشر چلتا ہوا عرش ایسی حمد وتوصیف کروں گا جس «یا محمد إرفع رأسك، فیقال یا محمد! أدخل ’’اے محمد! اپنا سر اٹھا، جو کہوں گا کہ یا رب! میری داہنے دروازے سے داخل یہ لوگ جنت کے درواز ’’واللہ جنت کے دو کواڑ

انبیاء کی توہین کرنے وال وہ لوگ کس قدر بدب رسولوں کی توہین ایک ایسا ﴿وَلَقَدِ اسْتُہْزِئَ ’’تم سے پہلے بھی بچھ لیا، پھر دیکھ لو میری

صفحہ 187

محمد عمران اسلم

آسمان سے ایسی نشانی نازل کرے کہ ان کی گردنیں جھکائے بغیر چارہ نہ رہے۔“

ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ﴾

[یونس: ٩٩]

”کیا تو لوگوں کو اس قدر مجبور کرے گا کہ وہ ایمان لے کر ہی آئیں۔“

مزید فرمایا: ﴿أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ أَفَأَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِي النَّارِ﴾

[الزمر: ١٩]

”وہ شخص جس پر عذاب کا فیصلہ ہو چکا ہے، کیا آپ اس کو عذاب سے بچانے پر قادر ہیں۔“

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”میری اور لوگوں کی مثال اس طرح ہے کہ ایک شخص نے آگ جلائی، جب آگ جلنے کے سبب ارد گرد کا ماحول روشن ہو گیا تو پروانے اور کیڑے مکوڑے اس آگ میں گرنے لگے۔ وہ شخص ان کو اس آگ سے بچاتا ہے، لیکن وہ پروانے اس پر غالب آ جاتے ہیں اور آگ میں گرتے رہتے ہیں۔ «فأنا آخذ بحجزكم عن النار وهم يقتحمون فيها»

[صحيح البخاري: ۶۴۸۳]

”لوگو! میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر آگ سے بچاتا ہوں، لیکن تم اس میں گرنے پر مصر ہو۔“

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں روزِ محشر چلتا ہوا عرشِ الٰہی کے نیچے پہنچ کر رب ذوالجلال کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا۔ پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد و توصیف کروں گا جس کی مجھ سے قبل کسی نے تعلیم نہ دی ہوگی۔ تب مجھ سے کہا جائے گا: «يا محمد إرفع رأسك سل تعطه واشفع تشفع فأرفع رأسي فأقول: أمتي يا رب، أمتي يا رب فيقال يا محمد! أدخل من أمتك من لا حساب عليهم من الباب الأيمن من أبواب الجنة» ”اے محمد! اپنا سر اٹھا، جو مانگے گا تجھے دیا جائے گا اور جو سفارش کرے گا، تیری سفارش قبول کی جائے گی۔ تب میں کہوں گا کہ یا رب! میری امت، یا رب! میری امت۔ تب کہا جائے گا کہ اپنی امت میں ایسے لوگوں کو جنت کے داہنے دروازے سے داخل کر دو، جن پر کوئی حساب نہ ہو۔“

[صحيح البخاري: ۴۷۱۲]

یہ لوگ جنت کے دروازوں میں دیگر داخل ہونے والوں کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔ پھر مزید فرمایا: ”واللہ جنت کے دو کواڑوں کے مابین اس قدر وسعت ہے جتنی مکہ اور حمیر یا مکہ اور بصریٰ کے مابین ہے۔“

انبیاء کی توہین کرنے والوں کا انجام

وہ لوگ کس قدر بدبخت ہیں جو اپنے قلم سے کائنات کی عظیم ہستی کی شان گھٹانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ رسولوں کی توہین ایک ایسا جرم ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَأَمْلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ﴾ ”تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخرکار ان کو پکڑ لیا، پھر دیکھ لو میری سزا کیسی سخت ہے۔“

[الرعد: ٣٢]

مئی، جون ۲۰۱۸ء

Monthly

صفحہ 188

مغرب کا جرمِ مسلسل

حضور اکرم ﷺ کو ایذا پہنچانے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَاباً مُّهِيناً﴾ ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے۔“

[الأحزاب: ۵۷]

ایک جگہ پر ارشاد فرمایا: ﴿وَإِن نَّكَثُواْ أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُواْ فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُواْ أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لاَ أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ تَعْقِلُونَ﴾

[التوبة: ۱۲]

”اور اگر عہد کر کے یہ لوگ اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین کی توہین کرنے لگیں تو کفر کے سرداروں سے جنگ کرو اور ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہ کرو اور ان سے قتال کرو تاکہ یہ باز آجائیں۔“

ڈنمارک اور وہ ممالک جنہوں نے آزادی اظہار رائے کے نام پر اہانت رسول کی کوشش کی، ان ممالک کے اس حوالے سے اپنے قوانین کچھ اور ہی نقشہ پیش کرتے ہیں۔

ڈنمارک کے کریمنل کوڈ میں یہ بات شامل ہے:

”ہر وہ شخص جو ملک میں قانونی طور پر مقیم کسی فرد یا کمیونٹی کے مذہب یا عبادات اور دیگر معاملات کی تضحیک کرے گا، اسے زیادہ سے زیادہ چار ماہ کی قید یا جرمانہ کی سزا دی جا سکے گی۔“

ایسے ہی ڈنمارک کے پینل کوڈ میں یہ بات درج ہے:

”ایسا کوئی بھی بیان یا سرگرمیاں جرم ہیں، جو کسی بھی کمیونٹی کے افراد کے لیے رنگ، نسل، قومیت، مذہب یا جنس کے حوالے سے دل آزار ہوں۔“

آسٹریا میں حضرت عیسیٰ کی توہین کرنے پر عدالت نے درج ذیل فیصلہ صادر کیا کہ

”دفعہ ۹ کے تحت مذہبی جذبات کے احترام کی جو ضمانت فراہم کی گئی ہے، اس کے مطابق کسی بھی مذہب کی توہین پر مبنی اشتعال انگیز بیانات کو بدنیتی اور مجرمانہ خلاف ورزی قرار دیا جا سکتا ہے۔ جمہوری معاشرے کے اوصاف میں یہ وصف بھی شامل ہے کہ اس نوعیت کے بیانات، اقوال یا افعال کو تحمل، بردباری اور برداشت کی روح کے منافی خیال کیا جائے اور دوسروں کے مذہبی عقائد کے احترام کو یقینی بنایا جائے۔“

بہر کیف کارٹونز کی اشاعت سے مغرب کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آچکا ہے۔ اب مسلمانوں کو جان لینا چاہیے کہ یہ لوگ ان کے خیرخواہ کبھی بھی نہیں ہو سکتے، لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مغرب کی اندھا دھند تقلید کرنے کے بجائے تہذیب اسلامی کی طرف رخ کریں، کیونکہ اسلام ہی ایسی جائے پناہ ہے جس کے زیر عاطفت دنیا و آخرت کی بھلائیاں پنہاں ہیں اور یہی دین اکمل ہے جو شرف و کامرانی کی معراج ہے۔

٭……٭……٭

—— جمادی الاولیٰ، الآخرة ۱۴۲۹ھ ——

صفحہ 189

عمران ایوب لاہوری ٭ موعظہ وتذکیر

مسلمانوں میں اہانت رسول ﷺ کے مختلف پہلو

تمام اسلامی عقائد ونظریات کا مرکز ومحور محمد ﷺ کی ذات اقدس ہے۔ یہی بات ہے کہ جہاں ایک طرف ہر مسلمان فطری جذبہ کے تحت ہمہ وقت حب رسول کا دم بھرتا ہے وہاں دشمنان اسلام ہمیشہ پیغمبر اسلام کو مطعون کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ یہ سلسلہ عہد رسالت سے تاحال جاری ہے اور ستمبر ۲۰۰۵ء اور فروری ۲۰۰۸ء میں نبی کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔

ان خاکوں کی اشاعت پر مسلمانوں کی طرف سے شدید ردعمل ایک یقینی امر تھا۔ چنانچہ خاکے شائع کرنے والوں (بالخصوص ڈنمارک) کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے کئے گئے، ہڑتالیں کی گئیں، جلوس نکالے گئے، کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا۔ ان سے تجارتی روابط منقطع کرنے اور ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

پاکستان میں لاہور اور اسلام آباد سمیت دیگر بیشتر بڑے شہروں میں پر زور ہڑتالیں کی گئیں۔ قومی اسمبلی اور اراکین سینٹ نے خاموش مارچ کیا۔ طلبا نے ریلیاں نکالیں، چھ سو سے زائد تاجر تنظیموں نے ناموس رسالت ﷺ پر جان کی قربانی پیش کرنے کا اعلان کیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان ہڑتالوں وغیرہ کے سلسلے میں عوام الناس کے ادنیٰ ترین طبقہ سے لے کر حکام وقت تک الغرض زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق افراد نے حصہ لیا اور یہ عہد کیا کہ وہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں گے۔

دیکھنا یہ ہے کہ اہانت رسول کے مرتکبین کے خلاف اس قدر شدید ردعمل کا اظہار کرنے والے مسلمان کہیں لاعلمی میں خود تو اہانت رسول کے ارتکاب میں مبتلا نہیں۔ غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں بھی اہانت رسول کے چند پہلو موجود ہیں جن کی نشاندہی کرنے اور ان کی اصلاح کی طرف توجہ مبذول کرانے کی ضرورت ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔

رسول اللہ ﷺ کی بات کے مقابلے میں کسی ولی یا بزرگ کی بات کو ترجیح دینا

رسول اللہ ﷺ کی بات وہ ہے جو ارشاد ربانی کے بعد آپ کی زبان اطہر سے خارج ہوتی ہے۔ جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ﴾ [النجم: ۳،۴] ”آپ ﷺ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتے یہ تو ایک وحی ہے جو آپ ﷺ پر نازل کی جاتی ہے۔“

٭ مدیر ادارہ فقہ الحدیث فاؤنڈیشن، لاہور مئی، جون ۲۰۱۰ء

صفحہ 190

مسلمانوں میں اہانت رسول ﷺ کے مختلف پہلو

اور آپ ﷺ کی بات تو وہ ہے جس کے مقابلے میں کسی اور نبی کی بات کو بھی ترجیح نہیں دی جاسکتی، جیسا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے عمر ؓ کو تورات کا کوئی نسخہ پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ کا چہرہ غصے سے متغیر ہو گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ اگر موسیٰ ؑ بھی تمہارے سامنے ظاہر ہو جائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع شروع کر دو تو تم سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے اور اگر موسیٰ ؑ زندہ ہو جائیں اور میرا زمانہ نبوت پالیں تو وہ بھی میری ہی اتباع کریں گے۔“ [سنن الدارمي: ۴۴۱]

معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کی بات کے مقابلے میں کسی نبی کی بات بھی قابل ترجیح نہیں، لیکن اگر آج ہم نبی ﷺ کے صریح فرامین کے مقابلے میں اپنے اپنے امام، بزرگ اور پیر و مرشد کی بات کو قابل ترجیح سمجھیں تو کیا یہ اہانت رسول کا ارتکاب نہیں؟

نبی ﷺ کی تعلیمات کو ناکافی سمجھتے ہوئے ان میں اضافے کرنا

نبی ﷺ کی تعلیمات قیامت تک کے لئے ابدی و حتمی ہیں اور ہر دور کے انسانوں کے لئے ذریعہ ہدایت ہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ: ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا﴾ [الأعراف: ۱۵۸] ”(اے پیغمبرﷺ) کہہ دیجئے کہ اے لوگو! یقیناً میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں۔“

اور ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں: «بعثت إلى الناس كآفة» ”مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔“ [مسند أحمد: ۱۳۸/۶]

آپ ﷺ کا لایا ہوا دین آپ کی حیات مبارکہ میں ہی مکمل ہو گیا تھا جیسا کہ یہ آیت ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾ [المائدة: ۳] ”میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے۔“ اس پر شاہد ہے۔

لہٰذا اب اس میں کسی قسم کی ترمیم یا اضافے کی گنجائش نہیں۔ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان بھی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے: «إياكم ومحدثات الأمور فإن كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة» [السلسلة الصحيحة: ۲۷۳۵] ”(دین میں) نئے ایجاد کردہ کاموں سے بچو، کیونکہ ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“

ان تمام تصریحات کے باوجود اگر کوئی آپ ﷺ کی تعلیمات کو ناکافی سمجھے اور ان میں خود ساختہ اضافے کر کے انہیں دین کا حصہ باور کرائے تو بلاشبہ یہ اہانت رسول کا کھلا ارتکاب ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں کو تسلیم نہ کرنا

رسول اللہ ﷺ کے چند فیصلے یہ ہیں:

کیا جائے۔ [سنن أبي داؤد: ۴۴۱۵]

—— جمادی الاولیٰ، الآخره ۱۴۲۹ھ ——

صفحہ 91

عمران ایوب لاہوری

بلاشبہ آپ ﷺ کے درج بالا اور دیگر تمام فیصلے نہایت علم وحکمت پر مبنی ہیں جو ہر دور میں، ہر طرح کے حالات میں اور ہر طرح کے افراد کے لئے کافی ہیں، لیکن اگر کوئی آپ ﷺ کے ان فیصلوں کو مبنی بر تشدد، قابل ترمیم یا نا قابل عمل قرار دے اور آج کے کسی فرد یا ریاست کے فیصلوں کو آپ ﷺ کے فیصلوں کے مقابلے میں مبنی بر اعتدال اور قابل عمل سمجھے تو یقیناً وہ اہانت رسول کا مرتکب ہے۔

قانون سازی میں نبوی تعلیمات کی طرف رجوع نہ کرنا

نبوی تعلیمات تو یہ ہیں کہ قانون سازی اور جھگڑوں کے فیصلوں میں کتاب وسنت کی طرف رجوع کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کسی بھی قانون کے خلاف کوئی قانون نہ بنایا جائے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ﴾ [النساء : ۵۹] ”اگر کسی معاملے میں تمہارا تنازعہ ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول ﷺ کی طرف لوٹاؤ۔“

اور ایک دوسرا ارشاد یوں ہے کہ ﴿وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [المائدة: ۴۴] ”اور جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ کافر ہیں۔“

لیکن اگر کوئی یہ حق پارلیمنٹ کو دے تو یقیناً وہ شخص مجرم ہے اور نبی ﷺ کی توہین کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی توہین کا بھی مرتکب ہے۔

نبی ﷺ کے چہرے کے مقابلے میں کفار کے چہرے کو پسند کرنا

نبی کریم ﷺ کا چہرہ کائنات میں ہر شخص سے زیادہ خوبصورت تھا۔ چنانچہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کا چہرہ لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھا۔ [صحیح البخاری: ۳۵۴۹]

اور حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ”اگر تم رسول اللہ ﷺ کو دیکھتے تو ایسے معلوم ہوتا کہ سورج طلوع ہورہا ہے۔“ (سنن الدارمی: ۴۴/۱)

اس میں شک نہیں کہ آپ ﷺ کا چہرہ سب سے زیادہ خوبصورت تھا اور تقریباً سب اس کے معترف بھی ہیں مگر یہ بات یاد رہے کہ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر داڑھی موجود تھی جو نہ صرف آپ ﷺ کی سنت مبارکہ ہے بلکہ تمام انبیاء کی بھی سنت ہے اور متعدد مقامات پر آپ ﷺ نے داڑھی کو بڑھانے اور اسے معاف کرنے کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہے۔ آپ ﷺ کے برعکس یہود و نصاریٰ داڑھیاں منڈوایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کی مخالفت کا حکم دیا ہے۔

بہرحال آج اگر کوئی شخص داڑھی منڈوا کر سمجھے کہ وہ زیادہ خوبصورت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے رسول اللہ ﷺ کے چہرے سے زیادہ یہود و نصاریٰ کا چہرہ پسند ہے اور یقیناً یہ آپ ﷺ کی توہین ہے۔

یہ تو چند اَمثلہ تھیں ان کے علاوہ بھی کئی ایسے اُمور گنوائے جاسکتے ہیں جو اہانت رسول پر مبنی ہیں مگر شب و روز خود مسلمان ہی ان کے ارتکاب میں مبتلا ہیں۔

مئی، جون ۲۰۱۰ء

صفحہ 192

مسلمانوں میں اہانت رسول ﷺ کے مختلف پہلو

خلاصہ کلام

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کفار کی طرف سے اہانت رسول پر مسلمانوں کا شدید ردِّعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ ان میں حب رسول ﷺ کا جذبہ باقی ہے مگر یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ حب رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ادنیٰ ترین اہانت سے بھی خود کو بچایا جائے۔ آپ ﷺ کی سنت کی اتباع کی جائے۔ آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کو اپنی اور معاشرے کی اصلاح و فلاح کے لئے کافی سمجھا جائے۔ ان میں کسی بھی قسم کے اضافے سے گریز کیا جائے۔ آپ کی بات کے مقابلے میں کسی کی بات کو ترجیح نہ دی جائے۔ ہر طرح کے فیصلوں میں آپ ﷺ کی تعلیمات کو ملحوظ رکھا جائے۔ اپنی جان، مال، اولاد، الغرض کائنات کی ہر چیز سے بڑھ کر آپ ﷺ سے محبت کی جائے اور آپ ﷺ ہی کو اپنا آئیڈیل اور اُسوہ سمجھا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق سے نوازے۔ آمین

۞........۞........۞

نبی مکرم ﷺ سے عقیدت و محبت ایمان کی اولین شرط ہے اور یہ شرط معدوم ہونے پر انسان دائرہ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ فرمان نبوی ﷺ ہے: «لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين»

لیکن محبت کے برعکس اگر کوئی دریدہ دہن شخص رسول مکرم ﷺ کی شان اقدس میں ہرزہ سرائی کرتا ہے تو اس کا یہ عمل دنیا میں سزائے موت اور آخرت میں رسوا کن ہمیشگی کے عذاب کا مستوجب ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا... مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا﴾

[الأحزاب: ۵۷، ۶۱]

عہد رسالت میں بھی کوئی بدبخت اہانت کی جسارت کرتا تو حضور مکرم ﷺ اپنے جاں نثار صحابہ سے فرماتے «من يكفيني عدوی» ”کون ہے جو میرے اس دشمن کو کیفر کردار تک پہنچائے“ آپ ﷺ کے اس سوال کا عملی جواب دینے کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس پر ٹوٹ پڑتے اور ایسے ملعون گستاخ کا سر تن سے جدا کئے بغیر سکون نہ پاتے۔ ایسی بے شمار مثالیں کتب احادیث وسیر میں کعب بن اشرف، ابورافع یہودی، عصماء بنت مروان، ابن خطل، ام ولد اور دیگر گستاخانِ رسول کے قتل کی صورت میں ملتی ہیں۔

قرآن وسنت، اقوال صحابہ رضی اللہ عنہم، آراء ائمہ وفقہاء اور اجماع اُمت کی روشنی میں واضح ہو جاتی ہے کہ مرتکب اہانت رسول ﷺ واجب القتل ہے۔

عبدالرشید مجاہد آبادی جامعة الدراسات الإسلامية، لاہور

ـــــــــــــــ جمادی الاولیٰ، الآخرة ۱۴۲۹ھ ـــــــــــــــ

صفحہ 193

آصف ہارون

اہانت رسالت مآب ﷺ کی جسارت...... کیوں؟

”اے اسرائیل! تیری حدیں نیل سے فرات تک ہیں“ یہ وہ الفاظ ہیں جو آج بھی اسرائیلی پارلیمنٹ کی پیشانی پر کندہ ہیں جو اہل یہود کے غلیظ ذہن اور خبیث باطن کا کھلم کھلا اظہار کر رہے ہیں۔ ان سے یہ حقیقت بھی مترشح ہوتی ہے کہ پوری دنیا کے کافر بالعموم اور اہل یہود بالخصوص اپنے غلیظ ذہنوں کی پیداوار اور اپنے مکروہ و مذموم مقاصد کے ساتھ ’نور الہیٰ‘ کو بجھانا چاہتے ہیں خاص کر صلیب کے پجاریوں اور صہیونیت کے پیروکاروں کا یہ مقصد اوّل ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے اسلام کی سفید اور صاف شفاف چادر کو داغدار کر دیا جائے اور اُمت مسلمہ کا امن و سکون تہہ و بالا کر دیا جائے۔ اہل اسلام کے قلوب و اذہان سے اللہ و رسول ﷺ کی محبت کو کھرچ کر ملت اسلامیہ کو دولت ایمان سے یکسر محروم کر دیا جائے۔ اسلام دشمن، پلید یہودیوں کی اہل ایمان کے ساتھ اس معاندانہ روش کو قرآن نے بایں الفاظ بیان کیا ہے۔ ﴿لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَهُوْدَ﴾ [المائدة: ۸۲] ”یقیناً اے پیغمبر! آپ اہل ایمان کی دشمنی میں سب سے زیادہ سخت یہود کو پائیں گے۔“

یہود مدینہ نے عہد رسالت مآب میں جو شورشیں اور سازشیں کی تھیں ان سے تاریخ اسلام کا ہر طالب علم بخوبی آگاہ ہے۔ یہ کوئی نیا سلسلہ نہیں بلکہ گزشتہ چودہ صدیوں سے یہ معرکہ حق و باطل چلا آ رہا ہے یہود و نصاریٰ و دیگر اہل کفر و شرک آئے دن اہل اسلام کے خلاف نت نئے ہتھکنڈے اور پھندے تیار کرتے رہتے ہیں۔ اس سلسلے کی ایک کڑی ماضی قریب میں رسول اقدس ﷺ کے توہین آمیز خاکے بنا کر ناموس رسالت ﷺ اور عزت و عظمت کی مقدس و مطہر چادر کو تار تار کرنے کی ناکام جسارت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آنے والے وقتوں میں اہل کفر و شرک بالعموم اور اہل یہود بالخصوص اپنے پروٹوکولز کی روشنی میں پورے عالم اسلام کے لئے خطرے کی علامت ہیں۔ ان کی نظریں صرف پاکستان، افغانستان اور ایران و عراق پر نہیں بلکہ اہل اسلام کے ان مقدس مقامات پر ہیں جو مسلمانوں کو اپنی جان سے بڑھ کر عزیز ہیں۔ اس مکہ اور مدینہ پر ہیں جہاں سے انکی سرکوبی کے لئے جہادی قافلے روانہ ہوا کرتے تھے اور دنیا حرمین شریفین سے نکلنے والے قافلوں کے قدموں کی چاپ سنا کرتی تھی۔ الغرض آج پورا عالم کفر اپنے تمام تر وسائل اور ٹیکنالوجی کے ذریعے سے پرچم اسلام کو سرنگوں کرنے کی بھرپور تگ و دو میں دن رات مصروف ہے۔

اہانت رسول ﷺ کی جسارت کا ایک سبب مسلمانوں کی عملی کمزوری بھی ہے۔ موجودہ مسلمان اگر دولت ایمان سے یکسر محروم نہیں تو ضعف ایمان کی آلائشوں میں ضرور مبتلا ہو چکا ہے۔ ایمان کی کمزوری ہی وہ واحد وجہ ہے جس کی بنا

☆ فاضل کلیۃ الشریعۃ، جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 194

اہانت رسالت مآب ﷺ کی جسارت ...... کیوں؟

پر عالم کفر آج عالم اسلام کو خونخوار بھیڑیے اور باؤلے کتے کی طرح چیر پھاڑ رہا ہے۔ مسلمان سمجھیں نہ سمجھیں مگر عالم کفر اس کمزوری کو ضرور سمجھتا ہے کہ موجودہ مسلمان وہ نہیں جو آج سے چودہ سو برس پہلے تھا، اس کا سرسری سا اندازہ آپ اس بات سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ آج مغربی تہذیب وتمدن اہل اسلام کے گھروں کی زینت اور محلوں محفلوں کی سجاوٹ بن چکی ہے۔ فحاشی وعریانی کی مہلک وبا مسلم معاشروں میں اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ اغیار کی غلامی موجودہ مسلمان کے لئے قابل افتخار بن چکی ہے۔ کفار کی تقلید واتباع، چال ڈھال، رہن سہن، طور اطوار اور سیرت وکردار کا زہر نہ صرف اس کی رگوں میں سرایت کر چکا ہے بلکہ اس کے جسد خاکی کا جزو لاینفک بن چکا ہے جس کے نتیجے میں اس کی سوچ وفکر مسلوب، عقل وخرد مغلوب اور قلب وذہن مرعوب ہوچکے ہیں۔ موجودہ مسلمان کی اسی کمزوری کو بھانپتے ہوئے ڈنمارک کی چمگادڑوں اور مغربی گیدڑوں نے اہانت رسول ﷺ کی جسارت کر ڈالی ہے۔

ایمان کا تقاضا یہ تھا کہ رسول اکرم ﷺ سے دل وجان، مال ودولت، بیوی، بچوں، والدین، عزیز واقارب، دوست واحباب الغرض پوری انسانیت سے بڑھ کر محبت کی جاتی۔ جیسا کہ فرمان نبوی ﷺ ہے: «لا يؤمن احدكم حتى اكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين» ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والدین، اولاد اور پوری انسانیت سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔“ [صحیح البخاری: ۱۵]

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ مجھے ماسوائے اپنی جان کے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ تو نبی کریم ﷺ نے جواباً فرمایا: نہیں عمر، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب تک تم مجھے اپنی جان سے زیادہ محبوب نہ سمجھ لو اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہ ہوگا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ کی قسم اب آپ مجھے اپنی جان سے بڑھ کر پیارے اور محبوب ہیں۔ پس نبی کریم ﷺ نے کہا، اے عمر! اب تمہارا ایمان کامل ہو گیا۔ [صحیح البخاری: ۶۶۳۲]

حسب ذیل ارشاد باری تعالیٰ بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ﴾ [الأحزاب:۶] ”نبی کریم ﷺ اہل ایمان کے لئے اپنی جانوں سے بڑھ کر عزیز ہیں۔“

محبت رسول ﷺ کا تقاضا یہ تھا کہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ کو بطور اُسوۂ حسنہ مدنظر رکھا جاتا۔ آپ ﷺ کی اطاعت وتابعداری اور اتباع وفرمانبرداری کی جاتی اور آپ کے اوامر ونواہی کا پاس رکھا جاتا۔ تب جا کر ہم نبی ﷺ کے وفادار اور جان نثار کہلانے کے مستحق ٹھہرتے۔ ؎

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

لہٰذا، جب تک ہمارا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا پھرنا، سونا جاگنا، لین دین، کاروبار وتجارت، ہماری سیاست وسیاحت، تعلیم و تربیت، ولایت وبراءت، معیشت ومعاشرت، ہمارے نظریات وتصورات الغرض ہماری طبیعت ومزاج اور ہماری

ـــــــ جمادی الاولیٰ، الآخر ۱۴۳۰ھ ـــــــ

صفحہ 195

آصف ہارون

ایک ایک ادا، سنت رسول ﷺ اور اسوہ رسول ﷺ کے سانچے میں نہیں ڈھل جاتی تب تک ہم حقیقی معنوں میں محبت رسول ﷺ کے مصداق نہیں ٹھہر سکتے۔

اک حب محمد ﷺ ہی ہے مؤمن کا اثاثہ بس اس کے بنا کچھ نہیں اسلام ہمارا
نبی ﷺ سے محبت جو کرے گا دل و جان سے جنت ہے اس کی یہ ہے ایمان ہمارا

لیکن افسوس! جب آج کے مسلمان کے شب و روز کا بنظر غائر مطالعہ کیا جاتا ہے تو اس حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے کہ اس کو ہادی و رہنما، امام الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے وہ والہانہ محبت وعقیدت نہیں جو ہونی چاہئے تھی یہ اپنے آپ کو بیشک پکا و سچا مسلمان سمجھتا رہے، لیکن اس کے اعمال بول بول کر اس حقیقت کا انکشاف کر رہے ہیں کہ اس کا دعویٰ ایمان کھوکھلا اور محبت رسول ﷺ بناوٹی ہے اس کو سنت رسول ﷺ سے زیادہ اپنی جان و مال، دولت، شہرت، عزت، بیوی، بچے، والدین اور دوست و احباب پیارے ہیں۔ اس کی زبان قال کہے نہ کہے، لیکن اس کی زبان حال یہ راز افشا کر رہی ہے:

ہے فضول اور رائیگاں دعویٰ تیرا ایمان کا
گر نبیؐ تجھ کو نہ اپنی جان سے پیارا ہو

اطاعت رسول ﷺ میں جتنی سستی ہوگی محبت رسول ﷺ میں اتنی ہی کمی ہوگی اور محبت رسول ﷺ میں جتنی کمی ہوگی، ایمان میں اتنی ہی کمزوری ہوگی اور ایمان میں جتنی کمزوری ہوگی عالم کفر کو اس طرح کی جسارتیں کرنے کا اتنا ہی موقع ملتا رہے گا۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم غلامی محمد ﷺ کا طوق اپنی گردنوں میں ڈالیں۔ سنت رسول ﷺ سے سچی و سچی محبت وعقیدت رکھیں، حرمت رسول ﷺ کی خاطر جان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہ کریں۔ ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت سے ہی ہم کامیابی و کامرانی کی منازل طے کر سکتے ہیں ؎

ان کی عفت کی حفاظت آپ کے دین سے ہوئی چھین لی ابلیس نے جن پردہ داروں کی ردا
جس نے تھا جڑ سے اکھاڑا شرک و اوہام کو میرا دل اور میری جان، اولاد بھی اس پر فدا

تاریخ کے اوراق اس بات پر شاہد ہیں کہ آسمان کی نیلی چھت کے نیچے ایسے بہادر لوگ بھی رہا کرتے تھے جن کا ایمان چٹانوں جیسا تھا۔ محبت رسول ﷺ میں اس قدر سچے تھے کہ اپنا تن من دھن قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ رسول معظم ﷺ کے ادب واحترام کے اس قدر خواہاں تھے کہ آپ ﷺ کی مجلس میں اس طرح بیٹھتے جیسے اُن کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں اور مجلس نبوی ﷺ میں بیٹھے ہوئے ان جیالوں کے جذبات یہ تھے کہ اگر کوئی بلند آواز سے یا محمد کہہ دیتا تو فوراً سے پہلے اُن کی تلواریں اپنی میانوں سے باہر نکل آتیں اور اس بات کا انتظار کرتے کہ کب رسول اللہ ﷺ اپنے ابرو سے اشارہ کریں اور وہ گستاخ رسول کی گردن تن سے جدا کردیں۔

دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ
میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفیٰؐ کے بعد

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 196

اہانت رسالت مآب ﷺ کی جسارت......کیوں؟

قرونِ اولیٰ کے سعادت مند لوگ جب یہ نہیں برداشت کرتے تھے کہ کوئی ان کے محبوب کا نام بے ادبی سے پکارے تو پھر وہ اہانت رسول کو کیسے برداشت کر سکتے تھے؟ انہوں نے مظاہروں کی بجائے عملی میدان میں اتر کر محبت رسول کا ثبوت فراہم کیا۔ ان کے ایمان افروز واقعات سے تاریخ کے سنہرے اوراق آج بھی چمک رہے ہیں۔ کاش کہ آج کے مسلمان کے پاس اتنا وقت ہو کہ وہ اپنے اسلاف کی سیرت کا مطالعہ کرنے کے لئے تاریخ کی ورق گردانی کر سکے۔

افسوس اس بات پر نہیں کہ کفار نے اہانت رسول کی جسارت کیوں کی؟ ان سے کیا شکایت کہ ان کا کام ہی یہی ہے کہ اللہ کے نور کو بجھا دیا جائے۔ اسلام کو ختم کر دیا جائے۔ اہلیان اسلام کے قلوب واذھان سے حب رسول ﷺ کو کھرچ کھرچ کر اتار دیا جائے۔ ان کی سازشوں اور تدبیروں کے خلاف پروردگار کے حسب ذیل ارشادات ہی کافی ہیں:

﴿إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ﴾

[الحجر: ۹۵ تا ۹۹]

”ہم تیری توہین کرنے والوں کو خوب کافی ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ بھی دوسرا الہ کھڑا کرتے ہیں عنقریب انہیں پتہ چل جائے گا۔ ہمیں خوب علم ہے کہ ان کی اس تمسخرانہ حرکتوں سے تیرا سینہ تنگ ہوتا ہے (لیکن ان کی پرواہ مت کر) اور اپنے رب کی تسبیح بیان کر اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جا پھر زندگی بھر اپنے رب کی عبادت کرتا رہ۔“

﴿يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾ [الصف: ۸]

”(کافر) لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔“

لہٰذا ”سورج پر تھوکنے والے کا تھوک ہمیشہ اس کے چہرے پر آ گرتا ہے۔“

تاسف تو ان مسلم حکمرانوں پر ہے جو کفار کی خیرہ دستیوں سے بچنے کی بجائے ان کے آلہ کار بن کر ان کی انگلیوں پر ناچ رہے ہیں اور کٹھ پتلیوں ایسی زندگی بسر کر رہے ہیں شاید انہوں نے کبھی اس کہاوت پر غور نہیں کیا کہ ”شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔“ افسوس ان مسلمانوں پر ہے جو ۵۶؍ اسلامی ریاستوں کے سربراہ ہونے کے باوجود احتجاج و مظاہروں کے سوا کچھ نہیں کر سکے؟ صد فغاں ہے ان مسلمانوں پر جو اس وقت سراپا احتجاج تو بنے ہوئے ہیں، لیکن ان کی عقلیں اس بات کو سمجھنے سے عاری ہو چکی ہیں کہ وہ خود اہانتِ رسول کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اُسوۂ رسول ﷺ کو چھوڑ کر اغیار کی غلامی و چاپلوسی کیا اہانتِ رسول نہیں؟ والدین، اولاد، مال و متاع، دنیا و آرائشوں اور مادی خواہشوں کو محبت رسول پر ترجیح دینا کیا گستاخیٔ رسول نہیں؟ ارشاداتِ محمدیہ اور فرموداتِ نبویہ کو پسِ پشت ڈال دینا کیا اہانتِ رسول نہیں؟

اہلِ اسلام کی بے حسی کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ آج اُمتِ مسلمہ کے جسم پر ایک نہیں بلکہ بے شمار زخم لگ چکے ہیں۔ حرمتِ مسلم اس قدر ارزاں ہو چکی ہے کہ پاؤں کے نیچے مسلی جا رہی ہے اُمتِ مسلمہ کا زخم خوردہ جسم

—— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ——

اہانتِ رسول

صفحہ 197

آصف ہارون

سسکیاں لے رہا ہے اور عمر ؓ بن خطاب کے کسی روحانی فرزند کا منتظر ہے۔ کہاں ہیں وہ اہل ایمان جو مظلوم و مقہور اسلام کو ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لئے بے قرار ہوں؟ کہاں ہیں وہ اہل اسلام جو اسلام کو پورے عالم میں پھیلانے کے لئے بے تاب ہوں۔

اے مسلم حکمرانو! خدارا اب تو سنبھل جاؤ۔ اب تو آغوش نیند سے نکل آؤ۔ اب تو ہوش کے ناخن لو، محسن انسانیت ﷺ کی اہانت کی جارہی ہے اور اسلام کی عزت و آبرو کو داغدار کیا جارہا ہے اور تم ابھی تک خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہو؟ اللہ کی قسم اگر تم اب بھی نہ سنبھلے تو وہ دن دور نہیں جب تمہاری یہ شان و شوکت اور تمہاری یہ سلطنتیں و مملکتیں ختم اور تمہاری داستانیں عدم ہو جائیں گی اور قیامت تک تمہارا کوئی نام لیوا نہیں رہے گا۔

اے اہل اسلام! ہمیں ایک عہد کرنا ہو گا پھر عہد وفا کرنا ہو گا وہ یہ کہ ہم رسول محترم کی سچی و سچی اتباع و اطاعت کریں گے، ایمان کی تکمیل کریں گے، نفرتوں کو دور کریں گے، فاصلوں کو مٹائیں گے، انس و محبت کی شمع جلا کر، لالچ و حرص کی آگ بجھا کر، تفرقہ بازی اور عصبیت کو بھلا کر ہم ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ کریں گے اور اپنا تن من دھن قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے جب یہ ولولہ اور جذبہ ہمارے دلوں میں جاگزیں ہو گا تب ہمارا ایمان پختہ و محکم ہو گا اور ہم واقعی کامل مؤمن اور محبین نبی ﷺ کہلانے کے مستحق ٹھہریں گے۔ پھر کسی ڈنمارکی چمگادڑ اور مغربی گیدڑ کو یہ جرأت نہ ہو گی کہ اہانت رسول ﷺ کی جسارت کرے۔ ورنہ پھر گستاخان رسول ﷺ کو چن چن کر سولی پر چڑھا دیا جائے گا۔ ان شاء اللہ العزیز۔

نماز اچھی، روزہ اچھا، حج اچھا، زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلمان ہو نہیں سکتا
نہ کٹ مروں جب تک خواجہ یثرب کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا

٭………٭………٭

ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی ہو تو اس سے
برداشت نہ ہو پائے گی توہین رسالت
ناموس نبی ﷺ پر نہ ہو جو مرنے کی خواہش
بیکار بیکار ہے ہر اک عبادت

[سید عارف محمود]

— مئی، جون ۲۰۰۸ء —

صفحہ 198

أخبار الجامعہ

عبدالمنان، محمود احمد سیاف، انوار الحق٭

بزمِ اَدب بر موضوع ’ناموسِ رسالت‘

اور

ششماہی امتحانات کے نتائج

جامعہ لاہور الاسلامیہ ایک معروف تعلیمی ادارہ ہے۔ اس ادارے میں دینی اور دنیاوی تعلیم دی جاتی ہے۔ جامعہ ہٰذا میں ہر سال دو مرتبہ امتحانات کا انعقاد ہوتا ہے۔ پہلے امتحان کو ششماہی جب کہ دوسرے امتحان کو سالانہ امتحان کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ (۲۰۰۸ء) ۱۴۲۹ھ کے ششماہی امتحانات ۱۷؍ مارچ کو شروع ہوئے جو ۱۵؍ مارچ ۲۰۰۸ء تک جاری رہے۔ امتحانات کی تکمیل کے بعد ۲۸؍ مارچ تک جامعہ میں چھٹیوں کا اعلان کیا گیا۔

اساتذہ کرام کی سخت محنت اور جہد مسلسل کے باعث امتحانات کے اختتام کے فقط ۵ روز بعد ۳۰ مارچ کو رزلٹ مکمل طور پر تیار ہو چکا تھا۔ نتائج سے آگاہ کرنے کے لئے طلباء کو مسجد میں جمع ہونے کا حکم دیا گیا۔

اس پروگرام کا باقاعدہ آغاز قاری سلمان محمود صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ مدیرالتعلیم جناب حافظ حسن مدنی صاحب نے شفیق مدنی صاحب کو نتائج کا اعلان کرنے کی دعوت دی۔ جب کہ جناب حافظ انس مدنی صاحب اور جناب حافظ حسین اظہر صاحب نے ان کی معاونت کی۔

اس مرتبہ اولیٰ کلیہ کے طالب علم حافظ محمد زبیر ’کلیہ‘ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جب کہ ’ثانویہ‘ میں پہلی پوزیشن ثانیہ ثانوی کے طالب علم محمد اشفاق کے حصے میں آئی۔

باقی پوزیشن ہولڈرز طلباء کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

رابعہ کلیہ: میں عبدالباسط (۸۷ فیصد) سمیع اللہ (۶۸.۸۸ فیصد) اور کلیم اللہ (۶۷.۳۸ فیصد) نے بالترتیب پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔

ثالثہ کلیہ: آصف جاوید ۹۳.۵۰ فیصد، ارشد کاشمیری ۹۱.۱۳ فیصد اور محمد عباس ۸۲.۸۸ فیصد

ثانیہ کلیہ: مقصود احمد (۸۳.۶۳ فیصد) فواد بادشاہ (۸۱.۶۳ فیصد) محمد جمیل (۸۱.۱۳ فیصد)

اولیٰ کلیہ: حافظ محمد زبیر (۹۸.۲۵ فیصد) عبدالمنان (۹۷.۵۰ فیصد) انوارالحق (۹۷.۳۸ فیصد)

رابعہ ثانوی: روئیل ظفر (۸۱ فیصد) علی رضا (۸۰.۵۶ فیصد) محمد نعیم ۷۷.۱۳ فیصد)

ثالثہ ثانوی: اطہر نذیر (۹۶.۲۵ فیصد) عبدالماجد (۹۵.۸۸ فیصد) محمد ثاقب (۹۲.۲۵ فیصد)

ثانیہ ثانوی: محمد اشفاق ۹۸.۵۰ فیصد) عبدالمجید (۹۴.۶۹ فیصد) ندیم سلامت (۹۳.۲۵ فیصد)

شعبہ اتقان: عبدالرحمن شاکر (۹۷ فیصد) اعظم ساجد (۹۵.۶۷ فیصد) محمد زکریا (۹۵ فیصد)

☆ متعلمین ثانیہ کلیۃ ، جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور

------- جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ -------

شعبہ حفظ کے کل نمبر ۱۰۰ تھے پہلا گروپ: (نصف قرآن دوم: ابوبکر بٹ اور حکمت ال سوم: نصیر احمد ، محمد احمد ، اعجاز نوٹ: اس گروپ کی پہلی ا دوسرا گروپ: (۱۶ تا ۳۰ پار اول: محمد انس ، محمد سعید، م دوم: عبدالقیوم (۹۵ نمبر تیسرا گروپ: اول: انعام اللہ (۹۶ دوم: عثمان اسلم اور ا اور آخر میں مہمان خ دست مبارک سے انعاما ۱۵؍ اپریل بروز س مضامین میں فیل ہونے و کے ساتھ تحصیل علم میں م اس پروگرام میں ش کرنے والے ثانیہ ثانو وکیل الجامعہ نائب شیخ الجا سالانہ امتحانات م والے طلباء کے لئے مد ماہانہ وظیفے کے حق دار شعبہ کتب میں پ عالیہ سے کتا عالیہ سے حافظ ثانیہ خاصہ سے ثانویہ عامہ س شعبہ حفظ سے قاری محمد ر

صفحہ 199

عبد المنان، محمود، انوار

شعبہ حفظ کے کل نمبر ۱۰۰ تھے۔ پوزیشن ہولڈر کا اندراج کچھ یوں ہے:

پہلا گروپ: (نصف قرآن سے مکمل قرآن تک)

دوم: ابوبکر بٹ اور حکمت اللہ (۹۸،۹۸ نمبر)

سوم: نصیر احمد، محمد احمد، اعجاز ساجد (۹۷،۹۷ نمبر)

نوٹ: اس گروپ کی پہلی پوزیشن کا رزلٹ بعض وجوہات کی بناء پر موقوف کر دیا گیا تھا۔

دوسرا گروپ: (۶ تا ۱۵ پارے)

اول: محمد انس، محمد سعید ۱۰۰،۱۰۰ نمبر

دوم: عبدالقیوم (۹۵ نمبر) سفیان منیر (۹۲ نمبر)

تیسرا گروپ:

اول: انعام اللہ (۹۶ نمبر)

دوم: عثمان اسلم اور ابتسام امیر اختر مشترکہ طور پر دوم جبکہ عثمان مقصود (۹۴ نمبر) لے کر سوم رہے۔

اور آخر میں مہمان خصوصی محترم جناب عبدالمالک مجاہد (مدیر مکتبہ دارالسلام) نے پوزیشن ہولڈر طلباء میں اپنے دست مبارک سے انعامات تقسیم کئے اور اس طرح ظہر کے وقت یہ مجلس اپنے اختتام کو پہنچی۔

۱۵ اپریل بروز منگل نتائج کے سلسلے میں ایک دوسرا پروگرام منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں ایک یا ایک سے زائد مضامین میں فیل ہونے والے طلباء کو جسمانی و مالی سزا دی گئی تا کہ وہ آئندہ سستی اور کاہلی چھوڑ کر بھر پور محنت اور شوق کے ساتھ تحصیل علم میں مشغول ہو جائیں۔

اس پروگرام میں کلیہ ٹاپ کرنے والے اولیٰ کلیہ کے طالب علم حافظ محمد زبیر اور ثانویہ میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے ثانیہ ثانوی کے طالب علم محمد اشفاق کو ایک ایک ہزار روپے کا خصوصی انعام دیا گیا۔ ان دونوں طلباء نے وکیل الجامعہ نائب شیخ الحدیث محترم استاذ جناب رمضان سلفی صاحب کے دست مبارک سے اپنا اپنا انعام وصول کیا۔

سالانہ امتحانات ۲۰۰۷ء کی طرح ان امتحانات میں بھی نمایاں اور ایک مخصوص نسبت سے زائد نمبر حاصل کرنے والے طلباء کے لئے ۳۰۰ روپے ماہانہ وظیفہ کا اعلان کیا گیا۔ اس مرتبہ شعبہ کتب میں ۲۰ جب کہ شعبہ حفظ میں ۷ طلباء ماہانہ وظیفے کے حق دار ٹھہرے۔

شعبہ کتب میں وظیفہ حاصل کرنے والے طلباء کی تفصیل درج ذیل ہے:

عالمیہ سے سمیع اللہ، عبدالباسط، ارشد کاشمیری، محمد عباس، امیر معاویہ، آصف جاوید، کامران ایوب

عالیہ سے حافظ محمد زبیر، عبدالمنان، انوار الحق، خضر حیات، حبیب الرحمن صغیر

ثانیہ خاصہ سے عبد الماجد، محمد ثاقب، اظہر نذیر اور ضیاء الرحمن

ثانویہ عامہ سے محمد اشفاق، عبدالرحمن شاکر، اعظم ساجد اور محمد زکریا۔

شعبہ حفظ سے جو طلباء ماہانہ وظیفہ کے حق دار ٹھہرے ان کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

قاری محمد رفیق صاحب کی کلاس سے اظہر الرحمن، عبدالباسط خاں، ابوبکر محمد احمد، محمد ثوبان، ابتسام امیر، عبدالقیوم،

—— مئی، جون ۲۰۰۸ء ——

صفحہ 200

اخبار الجامعہ

انعام اللہ۔

قاری خلیل الرحمن صاحب کی کلاس سے نصیر احمد اور حکمت اللہ قاری ابراہیم ملتانی صاحب کی کلاس سے کلیم اللہ امین اور محمد انس قاری محمد یحییٰ صاحب کی کلاس سے احمد شاکر، اعجاز ساجد اور اسامہ قمر قاری حسان احمد صاحب کی کلاس سے ذیشان طارق اور محمد عثمان اسلم کے نام شامل ہیں۔

اس اعلان کا بھی اعادہ کیا گیا کہ سالانہ امتحانات کے بعد ایک مثالی طالب علم کے لئے حج کے انعام کا اعلان کیا جائے گا جب کہ مزید تین طلباء کو مثالی کارکردگی کی بنا پر عمرہ کا ٹکٹ دیا جائے گا۔ اس انعام کے لئے کلیہ کی کلاسز سے دو طالب علم (ایک کلیۃ الشریعہ سے اور ایک کلیۃ القرآن سے ) جبکہ ثانویہ کی کلاسز سے ایک طالب علم اس انعام کا حق دار ہو گا۔ مزید برآں جامعہ ہذا کے کسی ایک استاد کو بھی عمرہ کروایا جائے گا۔

طلباء جامعہ لاہور الاسلامیہ کا اعزاز

جامعہ ہذا کے تین ہونہار طلباء نے اس مرتبہ وفاق المدارس السلفیہ میں پوزیشنز حاصل کیں۔ ارشد کاشمیری نے عالیہ میں ۹۰۰ میں سے ۷۴۴ نمبر لے کر دوسری جب کہ عبد الخالق توقیر نے ۷۵۶ نمبر لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ عبدالمنان نے ثانوی خاصہ میں ۹۰۰ میں سے ۷۴۶ نمبر لے کر وفاق المدارس میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ مذکورہ بالا تینوں طلباء نے اپنا اپنا انعام کتب کی صورت میں وصول کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم و عمل میں مزید ترقی فرمائے۔ آمین

رپورٹ

حالات حاضرہ

ان دنوں جامعہ میں تعمیری اور تعمیراتی ہر دو سلسلے اپنے عروج پر ہیں۔ ذیل کی سطور میں اس کا ایک اجمالی خاکہ پیش کیا جاتا ہے:

تعمیراتی سرگرمیاں

انتظامیہ کی طرف سے اس امر کے پیش نظر تمام کلاسز، رہائشی ہال، کھانے کے ہال، مسجد، بیت الخلاء الغرض پورے جامعہ کو خوبصورت رنگ و روغن سے مزین کیا گیا ہے۔

جامعہ کے تمام فرش پر رگڑائی کا کام کروایا گیا۔

تہذیبی روایت کی اہمیت کے پیش نظر جامعہ کی انتظامیہ نے باورچی خانہ کی اصلاح پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے نئے باورچیوں کا تقرر کیا گیا، نئے تنور لگائے گئے اسی طرح نئے چولہے لگائے گئے، باورچی خانہ کے بیرونی ہال کو

ماربل سے فرنشڈ کیا گیا اور کھانے کیا گیا۔ اسی طرح طلباء کی سہولت کے پیش نظر کو پورا کرنے کا موقع فراہم کیا جاسکے۔

کلاسز کی ڈیکوریشن

تعلیمی عمل میں کلاس کا ماحول ایک اہم ک تمام کلاسز میں نئے رنگ و روغن کے ساتھ ساتھ الماریاں اور اساتذہ کے لئے نئے ڈیسک بنوانے کا انتظام کیا گیا تاکہ طلباء بغیر کسی احساس کمتری کے اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ

تعلیمی سرگرمیاں

جیسا کہ قارئین کرام جانتے ہیں کہ جامعہ رکھنے کے لئے انتظامیہ نے اس نظام کو مزید میں خاص طور پر بی اے کی تعلیم پر توجہ دیتے محمد یٰسین صاحب، حافظ انوار الحق صاحب، صاحب کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

ان اساتذہ اور انتظامیہ کی انتھک محنت طلباء اور میٹرک کے ۵۰ طلباء نے بھر پور کے تمام امتحانات میں سرخرو کرے۔ آمین

دیگر سرگرمیاں

تعلیمی سلسلے کو احسن انداز میں جاری نظر موسمی تبدیلی کے ساتھ جامعہ کی کلاسز اور پھر ۶:۱۵ پر اسمبلی کا انعقاد کیا جاتا ہوتے ہیں۔ پیریڈز کے ختم ہوتے ہی تک طلباء آرام کرتے ہیں۔

عصر کے بعد عصری تعلیم کا آغاز رات کا کھانا کھاتے ہیں اور عشاء کی اس طرح پورا دن تعلیمی مصروف

—— جمادی الاولیٰ ، الآخرة ۱۴۲۹ھ ——

صفحہ 201

عبد المنان، محمود، انوار

ماربل سے فرنشڈ کیا گیا اور کھانے کے لئے نئے برتنوں کا بھی انتظام کیا گیا اس طرح باورچی خانہ کو از سر نو تعمیر کیا گیا۔ اسی طرح طلباء کی سہولت کے پیش نظر کینٹین از سر نو تعمیر کی گئی تاکہ طلباء کو صاف ستھرے ماحول میں اپنی ضروریات کو پورا کرنے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔

کلاسز کی ڈیکوریشن

تعلیمی عمل میں کلاس کا ماحول ایک اہم کردار ادا کرتا ہے لہٰذا کلاسز کے ماحول کی جاذبیت میں اضافہ کے پیش نظر تمام کلاسز میں نئے رنگ و روغن کے ساتھ ساتھ نئے کارپٹ بچھائے گئے، کتابوں کو مرتب انداز میں رکھنے کے لئے نئی الماریاں اور اساتذہ کے لئے نئے ڈیسک بنوائے گئے اور گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لئے تمام کلاسز میں نئے ایئر کولرز کا انتظام کیا گیا تاکہ طلباء بغیر کسی احساس کمتری اور پریشانی کے اپنے تعلیمی سلسلہ کو مزید بہتر انداز میں جاری رکھ سکیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جامعہ میں جاری تعمیراتی کام کو خیریت سے انجام تک پہنچائے۔ (آمین)

تعلیمی سرگرمیاں

جیسا کہ قارئین کرام جانتے ہیں کہ جامعہ ہذا عصری علوم میں بھی ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ اس انفرادیت کو قائم رکھنے کے لئے انتظامیہ نے اس نظام کو مزید منظم کیا ہے۔ متعدد نئے اساتذہ کرام کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ جس میں خاص طور پر بی اے کی تعلیم پر توجہ دیتے ہوئے پروفیسر ذکاء اللہ (Superior College) اور ان کے علاوہ سید محمد علی، محمد یٰسین صاحب، حافظ انوار الحق صاحب، عبد الرحمٰن صاحب اور انتظامی معاملات کی نگرانی کے لئے قاری محمد بابر بھٹی صاحب کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ان اساتذہ اور انتظامیہ کی انتھک محنتوں سے الحمد للہ ۲۰۰۸ء کے Annual Examination میں بی اے کے ۱۴ طلباء اور میٹرک کے ۵۰ طلباء نے بھر پور حصہ لیا۔ اللہ رب العزت ان کی محنتوں کو بروئے کار لائے اور دنیا و آخرت کے تمام امتحانات میں سرخرو کرے۔ آمین

دیگر سرگرمیاں

تعلیمی سلسلے کو احسن انداز میں جاری رکھنے کے لئے صحیح وقت کا تعین ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اسی اہمیت کے پیش نظر موسمی تبدیلی کے ساتھ جامعہ کی کلاسز کے ٹائم ٹیبل میں ایک پرکشش تبدیلی کی گئی۔ فجر کی نماز کے بعد ناشتہ ہوتا ہے اور پھر ۶:۱۵ پر اسمبلی کا انعقاد کیا جاتا ہے جو ۲:۳۰ تک جاری رہتا ہے۔ جس میں ۵۰، ۵۰ منٹ کے سات پیریڈز ہوتے ہیں۔ پیریڈز کے ختم ہوتے ہی دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد نماز ظہر کی ادائیگی کی جاتی ہے اور پھر ظہر سے عصر تک طلباء آرام کرتے ہیں۔ عصر کے بعد عصری تعلیم کا آغاز کیا جاتا ہے جس کا تسلسل ۵:۲۵ تک جاری رہتا ہے۔ پھر مغرب کے بعد طلباء رات کا کھانا کھاتے ہیں اور عشاء کی نماز کے بعد ۱۰:۳۰ تک مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح پورا دن تعلیمی مصروفیت میں گزر جاتا ہے۔

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 202

اخبار الجامعہ

بزمِ ادب

حسب سابق مورخہ ۳۰ اپریل بروز بدھ ثانیہ کلیہ کے طلبا کی طرف سے ناموس رسالت ﷺ کے عنوان پر ایک بزم کا انعقاد کیا گیا۔ محترم بھائی فواد بھٹوی نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے اور اس بزم کا آغاز ان کلمات سے کیا کہ

”نبی ﷺ کی گستاخیاں مسلمانوں کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور اس کے حل کے متعلق انہوں نے کہا کہ اگر غیر مسلم نبی کی گستاخیاں کریں تو ہمارا کام یہ ہے کہ ہم آپ کی تعریفات کرتے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کفار کے نبی کو شاعر مجنون اور اس طرح کے کلمات کہنے سے نبی مکرم ﷺ کی حقارت نہیں ہونے لگی، کیونکہ اللہ رب العزت نے قرآن میں فرمایا کہ ﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ کہ ”تیرا ذکر ہم نے بلند کیا ۔“

اور اس طرح اس بزم کا آغاز تلاوت سے کرنے کے لئے قاری محمد اعظم شیرازی کو دعوت دی جنہوں نے قرآن کی آیات مبارکہ سے مجلس کو منور کیا۔ اس کے بعد نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی گئی ۔

اس کے بعد محترم فواد بھٹوی نے تقاریر کا آغاز کرتے ہوئے صبغت اللہ افغانی بھائی کو مدعو کیا جنہوں نے اردو زبان میں ”کفار ہم سے کیا اور کیوں چاہتے ہیں“ کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اسلام دشمنی اور کینہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت ابراہیم علیہم السلام کو تکالیف دیتے رہے جب نبی ﷺ کی باری آئی تو بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور آپ ﷺ کو بھی تکالیف سے دوچار کیا گیا اور جب دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے مشن سے ہٹنے والے نہیں تو کہا کہ چند دن تم ہمارے بتوں کی پوجا کرو اور چند دن ہم تمہارے بتوں کی پوجا کرتے ہیں تو اس کا جواب نبی نے نہیں بلکہ اللہ نے دیا۔ فرمایا:

﴿قُلْ يَأَيُّهَا الْكَفِرُوْنَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ وَلَا اَنْتُمْ عَبِدُوْنَ مَا أَعْبُدُ وَلَا اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ وَلَا اَنْتُمْ عَبِدُوْنَ مَا أَعْبُدُ لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ﴾ [سورۃ الکافرون]

پھر انہوں نے کہا کہ کفار چاہتے ہیں کہ تم ہمیشہ تفرقہ بازی میں مبتلا رہو۔ افغانستان، عراق، فلسطین میں اور ان کے علاوہ کوئی مملکت ایسی نہیں جہاں ان کا قانون نہ چلتا ہو۔ وہ چاہتے ہیں تم بھی اللہ کی جنت سے دور رہو، تمہاری کمائی حرام کی ہو جس طرح ان کی حرام کی ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ﴿وَجَاهِدْهُمْ بِه جِهَادًا كَبِيْرًا﴾ اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو حرام سے بچاؤ۔ تم قرآن وسنت کی پیروی میں زندگی گزار دو گے تو یہ آپ سے بھاگیں گے۔

پھر دوسرے مقرر افضال ساجد صاحب کو حرمت رسول ﷺ کے عنوان پر تقریر کے لئے مدعو کیا گیا انہوں نے کہا: دین اسلام اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے اور یہ دین قیامت تک کے لئے ہے جسے نبی لے کر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نبی ﷺ کی گستاخیاں وغیرہ یہ آج سے نہیں بلکہ جب سے نبوت کا اعلان کیا گیا اسی وقت سے نازیبا کلمات کہے

جاتے رہے۔ اس کی وجہ بیان کرتے کہ یہ ہم میں سے آئیں گے اور جب انہوں نے یہ دیکھا تو نبی ﷺ نے رسول کی سزا کے بارہ میں کہا کہ اللہ کہ فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا بھی لپٹے ہوں تو بھی انہیں نہ چھوڑو کی یہ ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی کہ وہ نبی پھر بھی معاف نہیں کیا گیا ۔

اس کے بعد فواد بھٹوی صاحب نے کی دعوت دی۔ جنہوں نے کہا کہ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا اِلَى اللهِ

اسی طرح انہوں نے کہا کہ علم ہوا تو نبی ﷺ نے فرمایا:

کی حدیث اس چیز کی گارنٹی دیتی جو آپ ﷺ سے سچی محبت ”جو میرے طریقہ کو اپنائے گا

انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ ہیں: ① اپنے آباؤ اجداد

اس کے بعد کوئز پروگرام محترم فواد بھٹوی نے جنہوں نے پیغمبر انقلاب انہوں نے کہا کہ:

”دنیا میں جتنے انقلابات کر سکے۔ ان انقلابات رخ بدل دیتا ہے اور ان اللہ ﷺ تھے۔ جنہوں نے

اس کے بعد قاری احسا کو معطر کیا۔ مختصر کوئز پروگرا ”نبی کریم ﷺ بحیثیت قا لیا تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ

—— جمادی الاولیٰ، الآخره ۲۹ھ ——

صفحہ 203

عبد المنان، محمود، انوار

جاتے رہے۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، کیونکہ یہودی عیسائی نبی ﷺ کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ ہم میں سے آئیں گے اور ہمارے دین کا پرچار کریں گے مگر نبی ﷺ نے دین اسلام کی تعلیمات کا پرچار کیا جب انہوں نے یہ دیکھا تو نبی ﷺ کی گستاخیاں شروع کردیں تاکہ مسلمانوں کو تکلیف ہو۔ پھر انہوں نے گستاخ رسول کی سزا کے بارے میں کہا کہ اللہ نے فرمایا: ﴿وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ﴾ انہوں نے کہا کہ فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان کیا گیا مگر گستاخ رسول ﷺ کے بارے میں فرمایا کہ اگر یہ کعبہ کے غلاف سے بھی لپٹے ہوں تو بھی انہیں نہ چھوڑو اس پر انہوں نے ابن خطل کے واقع کی طرف اشارہ کیا۔ جس نے اپنی دو لونڈیوں کی یہ ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی کہ وہ نبی کی گستاخی میں اشعار پڑھیں۔ وہ ابن خطل کعبہ کے غلاف سے لپٹا ہوا تھا مگر اسے پھر بھی معاف نہیں کیا گیا۔

اس کے بعد فواد بھٹوی صاحب نے قاری نصیر الرحمن کو ”ہماری رسول ﷺ سے محبت کیسی ہے۔“ کے عنوان پر گفتگو کی دعوت دی۔ جنہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ ﷺ کی محبت کے بارے میں بہت سی آیات اتاریں۔ فرمایا: ﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللّٰهِ﴾ اس میں کسی پیر، مفتی یا صحابی کی طرف نہیں بلکہ جو اللہ کی طرف دعوت دے۔

اس طرح انہوں نے کہا کہ عبداللہ ؓ بن عمرو بن عاص کو لوگوں نے روکا کہ ہر بات نہ لکھا کرو تو جب نبی ﷺ کو علم ہوا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوْحٰى﴾ تو پتہ چلا کہ اللہ کا فرمان اور آپ کی حدیث اس چیز کی گارنٹی دیتی ہے کہ آپ کی زبان سے حق کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا۔

جو آپ ﷺ سے صحیح محبت نہیں رکھتا اس کا ایمان مکمل نہیں اور حدیث بیان کی:

”جو میرے طریقہ کو اپنائے وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے اور جو مجھ سے محبت رکھتا ہے وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔“

انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کے حلیے کو اپنا آپ ﷺ سے محبت ہے اور نبی ﷺ سے محبت سے رکاوٹ تین چیزیں ڈالتیں ہیں: ① اپنے آباؤ اجداد کی پیروی ② معاشرے کا دباؤ ③ احساسِ کمتری

اس کے بعد کوئز پروگرام کا سلسلہ شروع ہوا جو احسن انداز میں اپنے اختتام کو پہنچا۔

محترم فواد بھٹوی نے کوئز پروگرام کے بعد تقاریر کا سلسلہ دوبارہ شروع کرتے ہوئے نصیر الرحمن کو تقریر کی دعوت دی۔ جنہوں نے پیغمبر انقلاب کے موضوع پر اپنے مخصوص انداز میں تقریر کی۔

انہوں نے کہا کہ:

”دنیا میں جتنے انقلابات بھی آئے ان کے اثرات صرف اجسام پر مرتب ہوئے۔ یہ انقلابات قلوب واذہان کو مسخر نہیں کر سکے۔ ان انقلابات سے بالا ایک اور انقلاب بھی ہے جو صرف مادی زندگی تک منحصر نہیں بلکہ یہ سوچوں اور دلوں کا رخ بدل دیتا ہے اور انسان کا رابطہ صرف ایک اللہ سے جوڑتا ہے۔ یہ انقلاب پیدا کرنے والے پیغمبر انقلاب محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔ جنہوں نے اخوت اور حسنِ اخلاق کا درس دیا۔“

اس کے بعد قاری احسان الٰہی یونس کو تلاوت کے لئے مدعو کیا گیا جنہوں نے سورہ صفات کی آیات مبارکہ سے مجلس کو معطر کیا۔ مختصر کوئز پروگرام کے بعد دوبارہ تقاریر کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے محمد جمیل کو تقریر کی دعوت دی جن کا عنوان ”نبی کریم ﷺ بحیثیت قائد اعظم“ آپ دنیا میں آنے کے بعد قائد نہیں بنے بلکہ عالم ارواح میں ہی اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں تمہارا حکم نہیں بلکہ ان کا حکم چلے گا۔

مئی، جون ٢٠٠٨ء

صفحہ 204

أخبار الجامعة

اس کے بعد محمد اعظم شیرازی کو نبی ﷺ بحیثیت مصلح معاشرہ کے عنوان پر ضوفشانیاں بکھیرنے کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ اگر ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی پر طائرانہ نظر ڈالیں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف عرب بلکہ پوری دنیا کی کایا پلٹ دی۔ آباء پرستی عام تھی۔ نسل پرستی کے بت کو پاش پاش کردیا۔ لسانی تعصبات کو ختم کردیا۔ محبت کو دلوں کی گہرائیوں میں اتارنے کی مثال محمد رسول اللہ ﷺ نے پیش کی۔

اس کے بعد نصیر الرحمن نے فواد بھٹوی کو دعوت دی کہ وہ "کیا نبی ﷺ دہشت گرد تھے؟" کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کریں۔

انہوں نے نہایت احسن انداز میں تاریخی حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب نبی کریم ﷺ دنیا میں تشریف لائے تو اس وقت درندگی کے مارے لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کردیا کرتے تھے۔ پانی کے پینے پلانے پر اور جانوروں کی دوڑ پر چالیس چالیس سال تک لڑائیاں جاری رہا کرتی تھیں۔ بیٹیوں کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا، لیکن جب نبیٔ رحمت جناب محمد رسول اللہ ﷺ دنیا میں تشریف لائے تو امن وامان کی ایسی فضا قائم کی کہ جب بھی صحابہ کرام ؓ کے کسی لشکر کو کسی جنگ یا معرکہ پر روانہ کرتے تو نصیحت فرماتے کہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کیا جائے صرف ان لوگوں کو قتل کیا جائے جو مقابلہ میں آئیں۔ کفار آج اس نبی ﷺ پر دہشت گردی کا الزام لگاتے ہیں۔ جنہوں نے دہشت گردی کو ختم کیا اور امن کا گہوارہ بنادیا۔

اس طرح سب سے آخر میں شیخ عبدالسلام فتح پوری صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ کی ناصحانہ گفتگو کے ساتھ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔

طالب علم کا اعزاز

آل پاکستان تقریری مقابلہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں منعقد ہوا جس میں جامعہ لاہور الاسلامیہ کی نمائندگی کے لئے دو طلباء محمد زاہد ہمدانی (رابعہ کلیہ) اور حافظ آصف جاوید (ثالثہ کلیہ) کو جامعہ میں ایک تقریری مقابلہ کے نتیجہ میں منتخب کیا گیا۔ جن میں سے محمد زاہد ہمدانی (رابعہ کلیہ) نے آل پاکستان تقریری مقابلہ منعقد فیصل آباد میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ الحمد للہ علی ذلک

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ موصوف طالب علم کے علم وعمل میں دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے۔ (آمین)

٭.........٭.........٭

ـــــــ جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۹ھ ـــــــ

حرمت

رسالت

میں

مکتبہ رحمانیہ ماڈل ٹاؤن کی کتب کا ایک وسیع ذخیرہ مستقل طور پر موجود ہے رسائل وجرائد آتے ہیں ہے کہ پاکستان کے مختلف پنجاب، بہاولپور یونیورسٹی حوالے سے مستفید ہوتے اشاریہ سازی ہوچکی ہے سے اشاریے شائع ’رشد‘ کے حرمت رسالت کے موضوع مضامین کا انتہائی والے تشنگان علم ترتیب دیا گیا ہے موجود ہیں۔ لہٰذا ٹاؤن، لاہور سے

طیب قاسمی عبدالحق اکرام اللہ ساجد اکرام اللہ ساجد ٭ معاون شعبہ رسائل

صفحہ 205

محمد زاہد حنیف٭

حرمت رسول ﷺ کے متعلق رسائل و جرائد

میں شائع ہونے والے مضامین کا اشاریہ

اشاریہ

مکتبہ رحمانیہ ماڈل ٹاؤن، جامعہ لاہور الاسلامیہ گارڈن ٹاؤن کا ملحقہ ادارہ ہے، جس میں اسلامی مصادر کی کتب کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ اس لائبریری میں کتب مصادر کے علاوہ شعبہ رسائل و جرائد بھی مستقل طور پر موجود ہے، جس میں اندرون اور بیرون ملک سے شائع ہونے والے ۲۵۰ سے زائد اسلامی رسائل و جرائد آتے ہیں۔ شعبہ میں ۱۹۵۸ء سے لے کر اب تک کے رسائل کا ریکارڈ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں کے تعلیمی اداروں سے خاص طور پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، جامعہ پنجاب، بہاولپور یونیورسٹی کے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے سینکڑوں طلباء مقالہ جات کی تیاری کے حوالے سے مستفید ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ شعبہ رسائل میں ۶۰ سے زائد اہم رسائل کی اشاریہ سازی ہوچکی ہے اور اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً مختلف جرائد میں مخصوص موضوعات پر ادارہ کی طرف سے اشاریے شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت کے تناظر میں ماہنامہ ’رشد‘ کے حرمت رسول نمبر کے لئے شعبہ رسائل کے معاون جناب محمد زاہد حنیف نے توہین رسالت کے موضوع پر مختلف جرائد میں شائع ہونے والے ۱۹۷۳ء سے لے کر اب تک کے ۴۰۰ کے قریب مضامین کا انتہائی عرق ریزی سے ایک جامع اشاریہ مرتب کیا ہے تا کہ اس موضوع پر مواد حاصل کرنے والے تشنگانِ علم کے لئے راہنمائی مل سکے۔ قارئین کی آسانی کے لیے اشاریہ کی ترتیب سن وار الف بائی ترتیب دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ اشاریہ صرف ان جرائد پر مشتمل ہے جو ادارہ ’محدث‘ کی لائبریری میں موجود ہیں۔ لہٰذا شائقین مضامین کی فراہمی کے لئے المكتبة الرحمانية ۹۹/جے بلاک ماڈل ٹاؤن، لاہور سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ [طاہر]

طیب قاسمی شانِ رسالت ﷺ ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک مارچ ۱۹۷۳ء ۱۷ تا ۲۳ عبدالحق ناموس رسالت اور دشمنان اسلام کی سازشیں ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک جولائی ۱۹۷۵ء ......... اکرام اللہ ساجد شان رسالت مقام رسالت ﷺ اور منصب رسالت محدث لاہور مارچ ۱۹۸۲ء ۱۲ تا ۱۳ اکرام اللہ ساجد توہین رسالت کے مرتکبین کو قرار واقعی سزا دی جائے ماہنامہ محدث، لاہور جولائی ۱۹۸۶ء ۱۱ تا ۱۲

☆ معاون شعبہ رسائل و جرائد، مکتبہ رحمانیہ، لاہور

........ ۲۰۰۸ء

صفحہ 206

اشاریہ مضامین حرمت رسول ﷺ

طیب شاہین لودھی شاتم گستاخ رسول کی سزا ❶ ماہنامہ محدث لاہور فروری ۱۹۸۶ء ۱۵ تا ۲۶ طیب شاہین لودھی شاتم گستاخ رسول کی سزا ❷ ماہنامہ محدث لاہور مارچ ۱۹۸۶ء ۱۱ تا ۲۳ ادارہ شکاگو میں عالمی کانفرنس ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ نومبر ۱۹۸۹ء ۱۱ تا ۱۴ خلیل الرحمن مجددی گستاخ رسول سلمان رشدی، اسلامی ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک جون ۱۹۸۹ء ۴۷ تا ۵۶ طرز فکر اور معتدل لائحہ عمل زاہد الحسینی انبیاء کرام کی توہین۔ شیخ کبیر کے افادات ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک دسمبر ۱۹۸۹ء ۵۳ زاہد الحسینی شاتم رسول کا شرعی حکم حدیث اور اجماع اُمت ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک اکتوبر ۱۹۸۹ء ۱۹ تا ۲۴ کی روشنی میں زاہد الراشدی ختم نبوت کے فکری وعملی تقاضے اور ہماری ذمہ داریاں ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ نومبر ۱۹۹۰ء ۲۵ تا ۳۰ عبدالرشید الغازی لاہور کا دجال ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک جون ۱۹۸۹ء ۴۷ تا ۴۸ محمد اقبال رنگونی شیطانک ورسز۔ رد عمل (سلمان رشدی کے خلاف مہم) ماہنامہ حق چار یار لاہور ستمبر ۱۹۸۹ء ۴۵ تا ۵۴ مظہر حسین قاضی ایک شیطان (رشدی) کی شیطانی کتاب اور ماہنامہ حق چار یار لاہور مارچ ۱۹۸۹ء ۲ تا ۱۳ دیگر گستاخان صحابہؓ شکیل عبدالرشید الغازی گستاخ رسول کو عمر قید کی سزا کا حکم ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک ستمبر ۱۹۹۰ء ۴۳ محمد سلیم سید توہین رسالت اور اہل مغرب کا منافقانہ رویہ ماہنامہ افکار معلم لاہور جون ۱۹۹۰ء ۲۴ محمد یوسف لدھیانوی کیا پاکستان میں رشدیوں کی حکومت ہے؟ ماہنامہ حق چار یار لاہور مئی ۱۹۹۰ء ۵۴ تا ۶۷ محمد قاسم نانوتوی عصمت انبیا کے بارے میں اہل اسلام کا عقیدہ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ فروری ۱۹۹۰ء ۹ تا ۱۰ صادق مغل گستاخ رسول کے لئے سزا ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک اگست ۱۹۹۲ء ۵۹ ابو طلحہ قانون توہین رسالت پر مبنی پورے ڈھانچے کو ماہنامہ الدعوۃ لاہور جولائی ۱۹۹۳ء ۴ بدلنے کی ضرورت ادارہ رتہ دوتھو توہین رسالت کیس ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ جنوری ۱۹۹۴ء ۴۰ تا ۴۴ اداریہ توہین رسالت کی سزا کے خلاف مہم ماہنامہ ختم نبوت کراچی مئی ۱۹۹۴ء ۲۱ امیر حمزہ توہین رسالت کے سنگین مجرم قوالوں کی گستاخیاں ماہنامہ الدعوۃ لاہور جولائی ۱۹۹۴ء ۱۶ تا ۲۱ زاہد الراشدی توہین رسالت اور قومی اسمبلی پاکستان کے نام عرضداشت ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ مئی ۱۹۹۴ء ۴۹ سرفراز خان صفدر رسول اللہ ﷺ کی محبت ایمان کا اولین تقاضا ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ مئی ۱۹۹۴ء ۶ تا ۱۰ سید احمد یوسف زئی توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی صحیفہ اہلحدیث کراچی ۲۶ جولائی ۱۹۹۴ء ۴ سید احمد یوسف زئی اسلام میں توہین رسالت کی سزا صحیفہ اہلحدیث کراچی مئی ۱۹۹۴ء ۳ تا ۴ صاحبزادہ ابوالحامد قانون توہین رسالت میں ترمیم ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ اگست ۱۹۹۴ء ۲ تا ۳ ضیاء الرحمن فاروقی گستاخ رسول کی شرعی سزا خلافت راشدہ فیصل آباد اگست ۱۹۹۴ء ۲۲ عبدالرشید الغازی پاکستان انسداد توہین رسالت کا قانون اور ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک اگست ۱۹۹۴ء ۵۱ تا ۵۴

—— جمادی الاولیٰ، الآخره ۲۹ھ ——

اقلیتوں کے حقوق عبدالمالک عرفانی توہین رسالت کے مغرب زدہ خواتین علی ندوی ابوالحسن رسالت محمدی ﷺ کی غلام محمد ڈاکٹر گستاخ رسول کے کا حکم (کٹر پادری کوثر نیازی گستاخ رسول کا حکم (ڈاکٹر غلام محمد اسلم رانا بائبل اور گستاخ محمد اسلم رانا کیا گستاخ حقوق کی محمد یامین عابد گستاخ ورلڈ اسلامک فورم توہین ابوالقاسم برلاس توہین ابو طلحہ اخبار وادارہ ادارہ ڈاکٹر حسن نعمانی محمد طاہر نقاش توہین کے محمد اظہر یہ محمد سلیم سید ناموس سید احمد یوسف زئی گستاخ عبدالرحمن باوا توہین عبدالرحمن باوا توہین عطاء اللہ صدیقی قانون محمد اظہر ایک عبدالاعلیٰ کیا تبدیلی

صفحہ 207

ماہنامہ محدث لاہور فروری ۱۹۸۶ء ۱۵ تا ۲۶ ماہنامہ محدث لاہور مارچ ۱۹۸۶ء ۱۱ تا ۲۳ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ نومبر ۱۹۸۹ء ۱۱ تا ۱۳ ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک جون ۱۹۸۹ء ۴۷ تا ۵۶

ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک دسمبر ۱۹۸۹ء ۵۳ ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک اکتوبر ۱۹۸۹ء ۱۹ تا ۲۴

ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ نومبر ۱۹۹۰ء ۲۵ تا ۳۰ ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک جون ۱۹۸۹ء ۴۷ تا ۴۸ ماہنامہ حق چار یار لاہور ستمبر ۱۹۸۹ء ۴۵ تا ۵۴ ماہنامہ حق چار یار لاہور مارچ ۱۹۸۹ء ۲ تا ۱۳

ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک ستمبر ۱۹۹۰ء ۴۳ ماہنامہ افکار معلم لاہور جون ۱۹۹۰ء ۲۴ ماہنامہ حق چار یار لاہور مئی ۱۹۹۰ء ۵۶ تا ۶۷ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ فروری ۱۹۹۰ء ۹ تا ۱۰ ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک اگست ۱۹۹۲ء ۵۹ ماہنامہ الدعوۃ لاہور جولائی ۱۹۹۴ء ۴

ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ جنوری ۱۹۹۲ء ۴۰ تا ۴۴ ماہنامہ ختم نبوت کراچی مئی ۱۹۹۴ء ۲۱ ماہنامہ الدعوۃ لاہور جولائی ۱۹۹۴ء ۱۶ تا ۲۱ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ مئی ۱۹۹۴ء ۴۹ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ مئی ۱۹۹۴ء ۶ تا ۱۰ ماہنامہ محدث کراچی ۲۶ جولائی ۱۹۹۴ء ۴ ماہنامہ محدث کراچی مئی ۱۹۹۴ء ۳ تا ۴ ماہنامہ الاسلام بھیرہ اگست ۱۹۹۴ء ۲ تا ۳ ماہنامہ نداء فیصل آباد اگست ۱۹۹۴ء ۲۲ ماہنامہ محدث کراچی اگست ۱۹۹۴ء ۵۱ تا ۵۴

محمد زاہد حنیف

اقلیتوں کے حقوق

عبد المالک عرفانی توہین رسالت کے قانون پر ماڈرن اور ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ جون ۱۹۹۴ء ۱۲ تا ۱۴ مغرب زدہ خواتین کا اعتراض علی ندوی ابوالحسن رسالت محمدی ﷺ کی عظمت ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک اگست ۱۹۹۴ء ۳۳ تا ۴۲ غلام محمد ڈاکٹر گستاخ رسول کے لئے موت کی سزا ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ اپریل ۱۹۹۴ء ۳۵ تا ۳۶ کا حکم ( کوثر نیازی کے مکتوب کا جواب) کوثر نیازی گستاخ رسول کے لئے موت کی سزا ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ اپریل ۱۹۹۴ء ۳۵ تا ۳۶ کا حکم ( ڈاکٹر غلام محمد کے مکتوب کا جواب) محمد اسلم رانا بائبل اور گستاخ رسول کی سزا ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ اگست ۱۹۹۴ء ۲۷ تا ۳۰ محمد اسلم رانا کیا گستاخ رسول کی سزا کا قانون واقعی مسیحی ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ اگست ۱۹۹۴ء ۳۱ تا ۳۵ حقوق کی پامالی ہے؟ محمد یاسین عابد گستاخ رسول کے لئے سزائے موت اور بائبل ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ مئی ۱۹۹۴ء ۱۳ تا ۱۷ ورلڈ اسلامک فورم توہین رسالت کا قانون اور مغربی لابیاں ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ جولائی ۱۹۹۲ء ۴۱ تا ۴۴ ابوالقاسم براس توہین رسالت پر موت کی سزا کا قانون اور .... ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ مئی ۱۹۹۵ء ۲۳ تا ۲۵ ابوطلحہ مسئلہ توہین رسالت ( مجرموں کی رہائی کیوں ) ماہنامہ الدعوۃ لاہور جون ۱۹۹۵ء ۳ اخبار و آراء لعنت ایسی امداد پر جس کی قیمت توہین رسالت ہو ماہنامہ الدعوۃ لاہور اپریل ۱۹۹۵ء ۵۵ ادارہ توہین رسالت کے بارے گوجرانوالہ میں مجلس مذاکرہ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ جون ۱۹۹۵ء ۲۳ تا ۲۶ ڈاکٹر حسن نعمانی مسئلہ توہین رسالت ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک مئی ۱۹۹۵ء ۴۹ تا ۵۸ محمد طاہر نقاش توہین رسالت کیس ( حقائق و واقعات اور اکثریت ماہنامہ الدعوۃ لاہور مارچ ۱۹۹۵ء ۱۲ تا ۱۸ کے جذبات کا خون ) محمد اظہر یہ مسلمان ہے جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود ماہنامہ حق چار یار لاہور جولائی ۱۹۹۶ء ۲۹ تا ۴۷ محمد سلیم سید ناموس رسول پر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے جانثار ماہنامہ افکار معلم لاہور اگست ۱۹۹۶ء ۹ سید احمد یوسف زئی گستاخ رسول کون؟ صحیفہ اہلحدیث کراچی مارچ ۱۹۹۷ء ۲۱ تا ۲۲ عبد الرحمن باوا توہین رسالت کی سزا اور ملعون یوسف علی ماہنامہ ختم نبوت کراچی مئی ۱۹۹۷ء ۴۲ تا ۵۴ عبد الرحمن باوا توہین رسالت کے جرم کا ایک خطرناک رجحان ماہنامہ ختم نبوت کراچی ۲۳ مئی ۹۷ء ۵۶ تا ۶۰ عطاء اللہ صدیقی قانون توہین رسالت (انسانی حقوق اور امریکی مداخلت) ماہنامہ الدعوۃ لاہور ستمبر ۱۹۹۷ء ۱۸ تا ۲۳ محمد اظہر ایک اور گستاخ رسول جسٹس جاوید اقبال ماہنامہ حق چار یار لاہور ستمبر ۱۹۹۷ء ۲۳ تا ۲۹ عبد الاعلی کیا حدود آرڈیننس اور قانون توہین رسالت میں ماہنامہ الدعوۃ لاہور اگست ۱۹۹۸ء ۳۳ تا ۳۵ تبدیلی کی ضرورت ہے؟

مئی، جون ۹۸ء

صفحہ 208

اشاریہ: مضامین حرمت رسول ﷺ

عطاء اللہ صدیقی اسلام کے قانون توہین رسالت پر اعتراضات کا جائزہ ماہنامہ محدث لاہور جولائی ۱۹۹۸ء ۳۲ تا ۴۳ عطاء اللہ صدیقی قانون توہین رسالت پر اعتراضات کا جائزہ ماہنامہ محدث لاہور جولائی ۱۹۹۸ء ۳۲ تا ۴۳ عطاء اللہ صدیقی اسلام کے قانون توہین رسالت میں تبدیلی ماہنامہ محدث لاہور جولائی ۱۹۹۹ء ۲۴ تا ۴۳ محرکات و مضمرات یوسف طیبی قانون توہین رسالت کا تحقیقی جائزہ ماہنامہ الدعوۃ لاہور اگست ۱۹۹۸ء ۳۳ تا ۳۵ زاہد الراشدی توہین رسالت پر موت کی سزا کا قانون ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ جون ۱۹۹۹ء ۴ ادارہ توہین رسالت کی سزا کا قانون اور برطانوی ایم پی اے ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ مئی ۲۰۰۰ء ۲۱ ادارہ توہین رسالت کی سزا کے قانون میں تبدیلی ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ مئی ۲۰۰۰ء ۲۳ عطاء اللہ صدیقی ام الحقوق۔ رسالت کے حقوق ماہنامہ محدث لاہور جون ۲۰۰۰ء ۲۸ تا ۳۳ عطاء اللہ صدیقی تحفظ ناموس رسالت کے بعد ماہنامہ محدث لاہور جون ۲۰۰۰ء ۲ تا ۴ محمد شریف توہین رسالت کے قانون میں ترمیم ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک مئی ۲۰۰۰ء ۵۲ تا ۵۴ ادارہ سزائے موت کا حکم ماہنامہ حرمین جہلم مارچ ۲۰۰۱ء ۶ تا ۲۶ ادارہ ریاض گوہر شاہی کا عبرت ناک انجام ماہنامہ حرمین جہلم جنوری ۲۰۰۲ء ۲ اسماعیل قریشی قانون توہین رسالت کی مجوزہ ترمیم کا علمی جائزہ ماہنامہ حرمین جہلم مارچ ۲۰۰۲ء ۹ تا ۱۲ زاہد الراشدی تحریک ختم نبوت کے مطالبات ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ مئی ۲۰۰۲ء ۲ تا ۳ زاہد الراشدی امریکی مطالبات (قادیانیت اور توہین رسالت) ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ مارچ ۲۰۰۲ء ۲ تا ۵ اور پاکستان کی پوزیشن قاضی کاشف نیاز مسلمان ناموس رسالت پر جان کیوں دیتے ہیں؟ ماہنامہ الدعوۃ لاہور جنوری ۲۰۰۳ء ۱۲ تا ۲۲ یوسف طیبی قانون توہین رسالت میں تبدیلی کی ضرورت ہے ❶ ماہنامہ الدعوۃ لاہور جون ۲۰۰۳ء ۱۴ تا ۱۷ یوسف طیبی قانون توہین رسالت میں تبدیلی کی ضرورت ہے ❷ ماہنامہ الدعوۃ لاہور جولائی ۲۰۰۳ء ۲۲ تا ۲۵ یوسف طیبی کیا حدود آرڈیننس اور قانون توہین رسالت ماہنامہ الدعوۃ لاہور جون ۲۰۰۳ء ۲۷ تا ۳۱ میں تبدیلی کی ضرورت ہے؟ اداریہ سیاسی و تہذیبی ایجنڈا ماہنامہ الحسن لاہور مئی ۲۰۰۵ء ۴۸ تا ۵۳ محمد اسماعیل قریشی قانون توہین رسالت میں ترمیم کے مضمرات ماہنامہ محدث لاہور جنوری ۲۰۰۵ء ۲۵ تا ۳۰ محمد اسماعیل قریشی قانون توہین رسالت میں ترمیم کے مضمرات ترجمان القرآن لاہور جنوری ۲۰۰۵ء ۴۱ تا ۴۶ ابرار احمد بگوی تہذیبی یا صلیبی جنگ ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ فروری، مارچ ۰۶ء ۳ تا ۴ ابرار حسین ساقی دشمنان اسلام سے دوستی ایک لمحہ فکریہ دعوت تنظیم اسلام گوجرانوالہ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۲ تا ۱۶ ابرار حسین ناموس رسالت کا قانون اور اقلیتوں کے حقوق ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۱۷ تا ۱۷۱ ابن قادر مصطفیٰ یہود و نصاریٰ کی نبی آخر الزمان سے دشمنی کی تاریخ ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۲۱ تا ۲۸

رسائل و جرائد

—— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۲۹ھ ——

ابوالاعلیٰ مودودی توہین رسالت ابو حماس ناموس رسالت ابو زید فاروقی حرمت رسول ابو شراحیل توہین اسلام کے المناک ابو عبد اللہ توہین رسالت ابو عمر ہاشمی دنیا کو ہے اثر جونپوری مت کرو احسان اللہ قاضی فساد انگیز احمد سرور ملک توہین احمد سرور ملک یہود و احمد رضا خان بریلوی حب احمد سرور ملک توہین احمد سرور ملک گستاخان احمد سرور ملک محمد احمد سعید کاظمی سید توہین اداریہ روزنامہ دن کام اداریہ نوائے وقت توہین اداریہ شاتمانہ اداریہ اہانت اداریہ گستاخانہ اداریہ توہین اداریہ توہین اداریہ توہین اداریہ توہین اداریہ توہین اداریہ توہین اداریہ توہین اداریہ توہین

صفحہ 209

محمد زاہد حنیف

ابوالاعلیٰ مودودی توہین رسالت (پوپ کے نام مودودی کا خط) ماہنامہ بیدار ڈائجسٹ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۶ ابوحماس ناموس رسالت پامال کرنے والے کا عبرتناک انجام ماہنامہ ضرب طیبہ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۲۰ تا ۲۲ ابوزید فاروقی حرمت رسول کی اہمیت ضیائے حدیث سوہدرہ ستمبر ۲۰۰۶ء ۵۴ تا ۵۵ ابوشراحیل توہین اسلام توہین قرآن اور توہین رسالت ماہنامہ الاحرار لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۸ تا ۲۷ کے المناک سانحات ابوعبداللہ توہین رسالتمآب عالمی قوانین کے ترازو میں سہ ماہی التراث غواڑی اپریل ۲۰۰۶ء ۲۰ تا ۲۵ ابوعمر ہاشمی دنیا کو ہے پھر معرکہ روح و بدن پیش ماہنامہ ضرب طیبہ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۸ تا ۱۹ اثر جونپوری مت کرو مجبور ہم کو [نظم] ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۷۸ احسان اللہ قاضی فساد انگیز خاکے ہفت روزہ ایشیا لاہور ۲ مارچ ۲۰۰۶ء ۳۱ احمد سرور ملک توہین انبیاء ...... یہود و نصاریٰ کا مذہبی فریضہ ماہنامہ بیدار ڈائجسٹ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۷ تا ۱۸ احمد سرور ملک یہود و نصاریٰ اور توہین رسالت ماہنامہ بیدار ڈائجسٹ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۹ تا ۱۰ احمد رضا خان بریلوی حب مصطفیٰ قرآن وحدیث کی روشنی میں ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۶ تا ۱۲ احمد سرور ملک توہین انبیاء علیہ السلام، یہود و نصاریٰ کا مذہبی فریضہ ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ اپریل، مئی ۲۰۰۶ء ۲۱ تا ۲۶ احمد سرور ملک گستاخان رسول کا عبرتناک انجام صدائے اسلامک فاؤنڈیشن لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۳ تا ۲۰ احمد سرور ملک محمدﷺ غیر مسلم سکالرز کی نظر میں ماہنامہ ضرب طیبہ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۵ تا ۱۷ احمد سعید کاظمی سید توہین رسالت کی سزا ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۳۵ تا ۵۳ اداریہ روزنامہ ’دن‘ کامیاب ترین مظاہرے کے اسٹیج کو فتح کرنے کی سازش ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۱۵ تا ۱۲۱ اداریہ نوائے وقت توہین آمیز خاکے، او آئی سی کا ہنگامی اجلاس کب ہوگا؟ ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۹۱ تا ۹۳ اداریہ شان رسالتمآب میں مستشرقین کی گستاخی علماء ماہنامہ بلاغ القرآن لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۹ تا ۱۲ اسلام کی خدمت میں ایک مشورہ اداریہ اعراض کی ضرورت ماہنامہ تذکیر لاہور مئی ۲۰۰۶ء ۳۵ تا ۳۸ اداریہ اہل صلیب کے گھٹیا ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا جائے ماہنامہ بیدار ڈائجسٹ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۵ تا ۶ اداریہ تحریک تحفظ ناموس رسالت چند حقائق ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۵ تا ۱۲ اداریہ توہین رسالت اور عالمی ردعمل ماہنامہ عرفات لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۴ تا ۶ اداریہ توہین رسالت پر یورپ کا منافقانہ طرز عمل ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۱۶۷ تا ۱۶۸ اداریہ توہین رسالت کا دانستہ ارتکاب ماہنامہ خطیب لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۴ تا ۷ اداریہ توہین رسالت کا مقدمہ عوام کی عدالت میں ماہنامہ العصر پشاور مارچ ۲۰۰۶ء ۲ تا ۷ اداریہ توہین رسالت کے المناک واقعات ماہنامہ الاحرار لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۶ تا ۷ اداریہ توہین مذاہب کے سد باب کے لئے ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۳۹ تا ۴۱

اشاریہ

مئی ، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 210

اشاریہ مضامین حرمت رسول ﷺ

اداریہ عالمی سطح پر قانون سازی کی ضرورت اداریہ توہین آمیز خاکے اور لیبیا کا ردّعمل ماہنامہ آب حیات لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۵ تا ۱۸ اداریہ توہین آمیز خاکے۔ جب چوٹ لگتی ہے ماہنامہ آمین لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۴۰ تا ۴۷ اداریہ دینی و روحانی تحریکیں سیاست کی قربان گاہ ماہنامہ ساحل کراچی اپریل ۲۰۰۶ء ۳۱ تا ۳۵ اداریہ شان رسالت مآب میں گستاخی، معافی ہی کافی نہیں، ماہنامہ الحسن لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۳ تا ۱۵ سزا بھی ضروری ہے اداریہ عالم اسلام نے مغرب کو پہچاننے کا سنہری ماہنامہ ساحل کراچی اپریل ۲۰۰۶ء ۳ تا ۳۰ موقع ضائع کر دیا اداریہ کارٹون کا مسئلہ ماہنامہ تذکیر لاہور مئی ۲۰۰۶ء ۳۰ تا ۳۴ اداریہ مسلمانوں کی دل آزاری۔ مسلم امہ کا افسوسناک پہلو ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۳ تا ۴ اداریہ مغرب کا رویہ ہفت روزہ ایشیا لاہور ۹ فروری ۲۰۰۶ء ۷ اداریہ مقدمہ توہین رسالت...... لمحہ فکریہ ماہنامہ رضائے مصطفیٰ مئی ۱۹۹۴ء ۱ اداریہ نازیبا خاکے اور عالمی ذرائع ابلاغ ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۱۶۹ تا ۱۷۰ اداریہ ناموس رسالت اور ہماری ذمہ داریاں ماہنامہ تعمیر افکار کراچی مارچ ۲۰۰۶ء ۴ اداریہ ناموس رسالت کی حفاظت ہماری جان و مال کی پندرہ روزہ ترجمان دہلی ۱۶ مارچ ۲۰۰۶ء ۳ تا ۴ حفاظت سے بڑھ کر ہے اداریہ ناموس رسالت کے پروانوں کی گرفتاریاں ماہنامہ سیدھا راستہ لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۳ اداریہ نیا جال پرانے شکاری۔ قدیم تحریک استشراق ماہنامہ فقہ اسلامی کراچی مارچ ۲۰۰۶ء ۲ تا ۷ کا جدید اقدام اداریہ ہلاک ہوئے کارٹونوں والے سہ ماہی ایقاظ ملتان اپریل تا جون ۲۰۰۶ء ۴۱ تا ۴۲ اداریہ یہ بدترین قسم کی دہشت گردی ہے پندرہ روزہ ترجمان دہلی ۱۶ فروری ۲۰۰۶ء ۳ تا ۴ اداریہ آبروئے ماز نام مصطفیٰ است ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۳ مارچ ۲۰۰۶ء ۳ ارشاد احمد ارشد شر شیطان رشدی ماہنامہ الدعوۃ لاہور جولائی ۲۰۰۷ء ۱۶ تا ۲۰ ارشاد فارانی تحفظ ناموس رسالت۔ ایمان کا تقاضا ہفت روزہ ایشیا لاہور ۲ مارچ ۲۰۰۶ء ۳۴ ارشاد فارانی ڈنمارک (نظم) ماہنامہ آمین لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۵۸ تا ۵۹ ارشاد فارانی غازی علم الدین بنو (نظم) ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۶ اپریل ۲۰۰۶ء ۲۷ اسرار الحق قاسمی اخبارات میں اہانت رسول ناقابل برداشت ماہنامہ فیصل ہند نئی دہلی مارچ ۲۰۰۶ء ۶۵ اسماعیل قریشی یورپ میں انبیاء علیہ السلام کی توہین کا قانون ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۳۵ تا ۳۸ اشفاق احمد مغل توہین رسالت پر مبنی کارٹونوں کی اشاعت ہفت روزہ ایشیا لاہور ۹ فروری ۲۰۰۶ء ۱۲

اشفاق حسین حافظ توہین آمیز کارٹون شائ اطہر علی مجددی سید توہین رسالت کے خلاف کی سرگرمیاں الیاس اطہر توہین رسالت کی سزا م امام کعبہ معافی نامنظور خاکے بنا والے کو سخت سزا دی جا انس مدنی حافظ امام کعبہ کا توہین رسال انور قدوائی سید توہین آمیز خاکے۔ ایک اوریا مقبول جان عامر چیمہ شہید اور ایاز محمود رضوی ناموس مصطف ایاز محمود رضوی توہین آمیز ایاز محمود رضوی یورپی اے آر خان ڈنما اے ۔ آر ۔ خالد گستا اُم عبدالرب توہین اُم عبدالرب ناموس بشیر عثمانی راجہ توہین بلقیس سیف توہین بندہ خاکی اخبا

محمد طاہر قاسمی توہین تأثیر مصطفیٰ، سید توہین آم تأثیر مصطفیٰ، سید غلامی رسو تأثیر مصطفیٰ، سید غلامی رسو تنزیل الصدیق الیمنی توہین رسال تنویر حسین مجددی گستاخ رسول ثروت جمال اصمعی توہین آمیز خا ثروت جمال اصمعی توہین آمیز کی حکمت عملی ک

—— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۷ھ ——

صفحہ 211

ماہنامہ آب حیات لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۸تا۱۵ ماہنامہ آئین لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۴۰تا۳۴ ماہنامہ ساحل کراچی اپریل ۲۰۰۶ء ۳۵تا۳۱ ماہنامہ الحسن لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۵تا۳

ماہنامہ ساحل کراچی اپریل ۲۰۰۶ء ۴۰تا۳۳

ماہنامہ تذکیر لاہور مئی ۲۰۰۶ء ۳۳تا۳۰ ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۴تا۳ ہفت روزہ ایشیا لاہور ۹ فروری ۲۰۰۶ء ۷ ماہنامہ رضائے مصطفیٰ مئی ۱۹۹۴ء ۱ ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۱۷۰تا۱۶۹ ماہنامہ تعمیر افکار کراچی مارچ ۲۰۰۶ء ۴ پندرہ روزہ ترجمان دہلی ۱۶ مارچ ۲۰۰۶ء ۳

ماہنامہ سیدھا راستہ لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۳ ماہنامہ فقہ اسلامی کراچی مارچ ۲۰۰۶ء ۷تا۲

سہ ماہی ایقاظ ملتان اپریل تا جون ۲۰۰۶ء ۴۱تا۲۴ پندرہ روزہ ترجمان دہلی ۱۶ فروری ۲۰۰۶ء ۴تا۳ ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۳ مارچ ۲۰۰۶ء ۳ ماہنامہ الدعوۃ لاہور جولائی ۲۰۰۷ء ۲۰تا۱۶ ہفت روزہ ایشیا لاہور ۲ مارچ ۲۰۰۶ء ۳۳ صدائے نین لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۵۹تا۵۸ ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۶ اپریل ۲۰۰۶ء ۲۷ فیصل ہند نئی دہلی مارچ ۲۰۰۶ء ۶تا۵ ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۳۸تا۳۵ ہفت روزہ ایشیا لاہور ۹ فروری ۲۰۰۶ء ۱۲

محمد زاہد حنیف

اشفاق حسین حافظ توہین آمیز کارٹون شائع کرنے والے اخبارات و جرائد ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۱۶۱تا۱۶۰ اطہر علی مجددی سید توہین رسالت کے خلاف عالمی ادارہ تنظیم الاسلام دعوت تنظیم الاسلام گوجرانوالہ مارچ ۲۰۰۶ء ۶۳تا۶۰ کی سرگرمیاں الیاس اظہر توہین رسالت کی سزا۔ تاریخ کی روشنی میں ماہنامہ افکار معلم لاہور مئی ۲۰۰۶ء ۳۲تا۳۱ امام کعبہ معافی نامنظور خاکے بنانے والے اور چھاپنے ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۱۱ فروری ۲۰۰۶ء ۵ والے کو سخت سزا دی جائے انس مدنی حافظ امام کعبہ کا توہین رسالت پر خطبہ جمعہ ماہنامہ ضرب طیبہ لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۲۳تا۲۰ انور قدوائی سید توہین آمیز خاکے۔ ایک منظم سازش پندرہ روزہ صحیفہ اہلحدیث کراچی ۱۵ مارچ ۲۰۰۶ء ۲۷تا۲۶ اوریا مقبول جان عامر چیمہ شہید اور لاہور کی بدنصیبی ماہنامہ افکار معلم لاہور جون ۲۰۰۶ء ۸۰تا۷۹ ایاز محمود رضوی ناموس مصطفیٰ اور غیر مسلم مصنفین ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۱۱۹تا۱۱۳ ایاز محمود رضوی توہین آمیز خاکے، مسلمانوں کے خلاف سازش ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۱۵۰تا۱۲۶ ایاز محمود رضوی یورپی مصنوعات کا بائیکاٹ کیوں ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۱۲۷تا۱۲۶ اے آر خان ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے ہفت روزہ ایشیا لاہور ۲ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۶تا۱۵ اے ۔ آر ۔ خالد احتجاج کا انداز بدلنے کی اشد ضرورت ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۳۵تا۱۳۲ اُم عبدالرب ناموس رسالت پر جان بھی قربان ماہنامہ البنّات ڈی جی خان اپریل ۲۰۰۶ء ۱۳تا۱۰ اُم عبدالرب ناموس رسالت پر جان بھی قربان ہے ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۳تا۱۱ بشیر عثمانی راجہ کارٹونوں کی اشاعت مغربی دہشت گردی ہفت روزہ ایشیا لاہور ۹ مارچ ۲۰۰۶ء ۲۷تا۲۶ بلقیس سیف مغرب کا درس رواداری کیا ہوا ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۶ فروری ۲۰۰۶ء ۱۸ بندہ خاکی تف ہے ہم پر (ڈنمارک و دیگر یورپی ماہنامہ افکار معلم لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۶۸تا۶۳ اخبارات میں توہین رسالت محمد طاہر کاظمی توہین رسالت کی سزا ماہنامہ الاشرف کراچی اپریل ۲۰۰۶ء ۳۲تا۲۵ تاثیر مصطفیٰ، سید توہین آمیز خاکوں کی اشاعت ہفت روزہ تنظیم اہلحدیث لاہور ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۵تا۱۳ تاثیر مصطفیٰ، سید غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے ہفت روزہ تنظیم اہلحدیث لاہور ۳ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۱تا۱۰ تاثیر مصطفیٰ، سید غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے ہفت روزہ ایشیا لاہور ۲۳ فروری ۲۰۰۶ء ۲۱ تنزیل الصدیق الحسینی توہین رسالت اور مغرب کا انداز فکر ہفت روزہ الاعتصام لاہور ۳ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۹تا۱۶ تنویر حسین مجددی گستاخ رسول واجب القتل ہے دعوت تنظیم الاسلام گوجرانوالہ مارچ ۲۰۰۶ء ۲۶تا۱۷ ثروت جمال عصمی توہین آمیز خاکوں کا مسئلہ اور عالم اسلام کی حکمت عملی ماہنامہ بیداری حیدرآباد مارچ ۲۰۰۶ء ۷تا۲ ثروت جمال عصمی توہین آمیز خاکوں کا مسئلہ اور عالم اسلام ہفت روزہ تنظیم اہلحدیث لاہور ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۵تا۱۰ کی حکمت عملی کیا ہو؟

مئی، جون ۲۰۰۸ء

اشاریہ

صفحہ 212

اشاریہ مضامین حرمت رسول ﷺ

جان ایل ایسپوزیٹو مسلمان اور مغرب ۔ کچھ مشترک بنیادیں ماہنامہ آئین لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۴۱ تا ۴۴ رشید احمد انگوہی جاوید اقبال توہین رسالت اور آزادی رائے کی حقیقت ماہنامہ الاحرار لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۲۱ تا ۲۲ رشید احمد انگوہی مسل جم لوب کارٹون ۔ بحران کے حوالے سے امریکہ میں جاری بحث ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۰ تا ۱۲ رشید احمد فاروقی توہین جمیل الدین عالی آزادی اظہار کا غلط استعمال ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۱۲۰ تا ۱۲۵ رضا زیدی ق حبیب الرحمن حنیف شاتم رسول کی شرعی سزا ماہنامہ ضرب طیبہ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۰ تا ۱۲ رضی الدین سید ا حسن مدنی حافظ توہین آمیز خاکے اسلام اور عصری قانون ماہنامہ محدث لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۲۲ تا ۲۴ رضی الدین سید حسین احمد قاضی امریکہ کا دہرا معیار ہفت روزہ ایشیا لاہور ۹ مارچ ۲۰۰۶ء ۷ تا ۱۰ روح اللہ توحیدی حشمت اللہ صدیقی اسلام کے خلاف مغربی مؤرخین کا پروپیگنڈا پندرہ روزہ صحیفہ اہلحدیث کراچی یکم جون ۲۰۰۶ء ۱۱ تا ۱۳ ریاض حسین چودھری حمید الدین المشرقی توہین رسالت اور خاکوں کی چال ماہنامہ خطیب لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۸ تا ۲۳ زاہد الراشدی مو حمید الحسن توہین آمیز خاکے ماہنامہ ضرب طیبہ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۴ تا ۵ ساجد میر، پرو حمید اللہ قریشی دریدہ دہن یورپ کے نام مودودی کا پیغام ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۶ فروری ۲۰۰۶ء ۱۷ ساجد میر، پرو حمید اللہ قریشی عالم اسلام کسی بڑے سانحے سے دوچار ہونے والا ہے ہفت روزہ ایشیا لاہور ۲ مارچ ۲۰۰۶ء ۲۸ تا ۲۹ سید احمد فرا خالد عاربی ڈاکٹر ڈنمارک کے کارٹون ماہنامہ سوئے حرم لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۷ تا ۹ سرور سہا

بقیہ خ

خالد محمود ترمذی اہانت رسول کی مکروہ تاریخ ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۶ اپریل ۲۰۰۶ء ۲۴ تا ۲۵ سعدیہ خالد محمود ناموس محمدی اور ناموس عیسوی ماہنامہ الفاروق کراچی اپریل ۲۰۰۶ء ۸ تا ۱۰ خالد بن عبداللہ معاشی قطع تعلق ۔ کارٹونوں کی اشاعت کے تناظر میں سہ ماہی ایقاظ ملتان اپریل تا جون ۲۰۰۶ء ۴۲ تا ۵۴ سعید احمد خالد رشید حافظ توہین رسالت اور اُمت مسلمہ کی ذمہ داریاں ماہنامہ الفاروق کراچی جون ۲۰۰۶ء ۵۰ تا ۵۳ خرم شہزاد حرمت رسول کا دفاع احتجاج سے نہیں ماہنامہ ضرب طیبہ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۶ تا ۹ سعید احمد چنیوٹی جہاد فی سبیل اللہ سے ہوگا سلیم اللہ صفدر خرم مراد فیصلہ کن مسئلہ نبوت محمدی، اسلام اور مغرب کی کشمکش ترجمان القرآن لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۳۱ تا ۴۶ سمیحہ راحیل قاضی خلیل الرحمن قادری اہل یورپ اپنے ہاں انبیاء علیہم السلام کی گستاخی ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۲۹ تا ۳۳ سیف الرحمن ربانی پر سزائے موت رائج کریں سیف اللہ مغل خورشید احمد پروفیسر شیطانی کارٹون۔تہذیبی کروسیڈ کا زہریلا ہتھیار ترجمان القرآن لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۲۳ تا ۲۴ شاہد الاسلام راحیل جہانگیر چودھری ناموس رسالت اور پرتشدد احتجاجی مظاہرے ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۲۲ تا ۱۲۵ شاہد حسن صدیقی راشد الخالد رحمۃ للعالمین پر توہین آمیز قلم [مترجم: محمد اسلم صدیق] ماہنامہ محدث لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۴۳ تا ۴۶ شاہدہ مبین راشد الحق سمیع حقانی یورپ میں رہبر انسانیت کی توہین ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک جنوری ۲۰۰۶ء ۶ تا ۶ شریف شیدہ آمیز کارٹونوں کی اشاعت شفیق الرحمن حافظ رب نواز خان توہین رسالت سلگتا مسئلہ دعوت تنظیم اسلام گوجرانوالہ مارچ ۲۰۰۶ء ۶ تا ۱۰ شفیق خان پسرور ربیعہ عالیہ خان مغرب کے مذموم عزائم ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۶ فروری ۲۰۰۶ء ۱۹

———— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۱۴۲۷ھ ————

صفحہ 213

ماہنامہ آئین لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۴۱ تا ۴۳ ماہنامہ الاحرار لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۲۱ تا ۲۲ ث ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۰ تا ۱۲ ۔ ضیائے اسلام حیدر آباد اپریل ۲۰۰۶ء ۱۲۰ تا ۱۲۵ ماہنامہ ضرب طیبہ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۰ تا ۱۲ ماہنامہ محدث لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۲۲ تا ۲۳ ہفت روزہ ایشیا لاہور ۹ مارچ ۲۰۰۶ء ۷ تا ۱۰ پندرہ روزہ مجلۃ الحدیث کراچی یکم جون ۲۰۰۶ء ۱۱ تا ۱۳ ماہنامہ خطیب لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۸ تا ۲۳ ماہنامہ ضرب طیبہ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۵ تا ۷ ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۶ فروری ۲۰۰۶ء ۱۷ ہفت روزہ ایشیا لاہور ۲ مارچ ۲۰۰۶ء ۲۸ تا ۲۹ نامہ سوئے حرم لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۷ تا ۹ روزہ ایشیا لاہور ۱۶ اپریل ۲۰۰۶ء ۲۳ تا ۲۵ رالفاروق کراچی اپریل ۲۰۰۶ء ۸ تا ۱۰ ی ایقاز ملتان اپریل تا جون ۲۰۰۶ء ۴۲ تا ۵۴ رالفاروق کراچی جون ۲۰۰۶ء ۵۰ تا ۵۳ ضرب طیبہ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۶ تا ۹

قرآن لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۳۱ تا ۴۶ فات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۲۹ تا ۳۴

آئین لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۲۳ تا ۲۴ ت لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۲۲ تا ۱۲۵ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۲۳ تا ۳۶ کوڑہ خٹک جنوری ۲۰۰۶ء ۲ تا ۶

لام گوجرانوالہ مارچ ۲۰۰۶ء ۶ تا ۱۰ لاہور ۱۶ فروری ۲۰۰۶ء ۱۹

محمد زاہد حنیف

رشید احمد انگوی مسلمان کو مسلمان کر دیا طوفان: مغرب نے ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک مارچ ۲۰۰۶ء ۴۳ تا ۴۷ رشید احمد انگوی مسلمان کو مسلمان کر دیا۔ ڈنمارک و دیگر ماہنامہ افکار معلم لاہور مئی ۲۰۰۶ء ۳۳ تا ۴۷ رشید احمد مرتقائی توہین رسالت...... شیطانی چوکور ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۰۱ تا ۱۰۶ رضا زیدی توہین رسالت اور ہماری بے حسی سبیل ہدایت لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۸ رضی الدین سید اسلام کے خلاف مستشرقین کی گستاخیاں خواتین میگزین لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۳۶ تا ۳۷ رضی الدین سید اسلام کے خلاف مستشرقین مغرب کی گستاخیاں ۱۵ روزہ مجلۃ الحدیث کراچی یکم اپریل ۲۰۰۶ء ۲۲ تا ۲۴ روح اللہ توحیدی گستاخانہ خاکے عملی کردار ماہنامہ سیرۃ السلف پشاور اپریل ۲۰۰۶ء ۶۴ تا ۶۶ ریاض حسین چودھری احتجاجی قطعات ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۰۶ زاہد الراشدی مولانا مغرب توہین رسالت اور اُمت مسلمہ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ مارچ ۲۰۰۶ء ۳۲ تا ۔ ساجد میر، پروفیسر شاتم رسول کی سزا اور اس کی معافی ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ء ۹ تا ۱۰ ساجد میر، پروفیسر شاتم رسول کی سزا اور اس کی معافی ماہنامہ سیرۃ السلف پشاور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۷ تا ۲۰ سدھیر احمد فریدی توہین آمیز کارٹون اور مسلمانوں کا ردّعمل ہفت روزہ ایشیا لاہور ۲ مارچ ۲۰۰۶ء ۳۰ سرور سہارنپوری حکیم تم نے کس ذات اقدس کی توہین کی ہے [نظم] ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۹ تا ۲۰ سعودی علمائے کرام ڈنمارک اور ناروے گستاخانہ کارٹون کی اشاعت ۱۵ روزہ مجلۃ الحدیث کراچی یکم مارچ ۲۰۰۶ء ۲۸ پر معافی مانگیں سعید الرحمن، مولانا توہین رسالت پر صرف احتجاج نہیں عملی ماہنامہ السعید اوگی جنوری ۲۰۰۶ء ۲ تا ۴ قدم اٹھانے کی ضرورت ہے سعید احمد چنیوٹی توہین رسالت پر مبنی خاکوں کی اشاعت ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۲۱ اپریل ۲۰۰۶ء ۷ تا ۸ سلیم اللہ صفدر حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے [ترجیحی نشست] ماہنامہ ضرب طیبہ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۳۰ تا ۳۳ سمیحہ راحیل قاضی توہین رسالت یا تہذیبی تصادم ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۸۳ تا ۸۶ سیف الرحمن ربانی ملعون اخبارات جنہوں نے کارٹون شائع کئے ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ اپریل، مئی ۲۰۰۶ء ۲۷ تا ۳۰ سیف اللہ مغل عالمی امن کے قاتل۔ کارٹون ماہنامہ البنات ڈی جی خان مارچ ۲۰۰۶ء ۹ شازیہ اسلام یورپی یونین اور عالم اسلام ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ مئی ۲۰۰۶ء ۶ تا ۸ شاہد حسن صدیقی توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور امت مسلمہ ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۶ اپریل ۲۰۰۶ء ۲۲ تا ۲۳ کا اقتصادی ہتھیار شاہدہ مبین مسلمانوں کے دشمن اور گستاخ رسول کا صحیح علاج ۱۵ روزہ مجلۃ الحدیث کراچی ۱۳ جون ۲۰۰۶ء ۱۵ تا ۱۶ شریف شیدہ گستاخانہ خاکے [قطعہ] ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۸۶ شفیق الرحمن حافظ ناموس رسالت محاذ کا اعلان۔ ہم زندہ قوم ہیں ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۱۰ تا ۱۱۳ شفیق خان پسروری ناموس رسالت اور ہماری ذمہ داریاں ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۲۷ مئی ۲۰۰۶ء ۷ تا ۱۰

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 214

اشاریہ مضامین حرمت رسول ﷺ

صادق علی زاہد ناموس رسالت کی اہمیت ماہنامہ فقہ اسلامی کراچی اپریل ۲۰۰۶ء ۱۵ تا ۲۰ عبدالرؤف مفتی توہین رسالت صلاح الدین سعیدی ناموس رسالت [نظم] ماہنامہ جہان رضا لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۶۳ عبدالرؤف، مفتی توہین رسالت طاہر القادری ڈاکٹر توہین آمیز خاکے اور مغرب کا دوغلا پن ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۷۸ تا ۱۷۸ عبدالسلام، سید گستاخ رسول طاہر القادری ڈاکٹر دنیا کو تہذیبی تصادم سے بچایا جائے ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۱۳۸ تا ۱۴۵ عبداللطیف حلیم تحفظ ناموس طاہر عبدالرزاق ناموس رسالت پر فتنہ وحید الدین کی یلغار ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک فروری ۲۰۰۶ء ۳۸ تا ۵۳ عبدالعظیم عمری اس جرم نابکار طلحہ سعید حافظ گستاخ رسول کی شرعی سزا ❶ ماہنامہ الدعوۃ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۲۸ تا ۳۱ عبداللہ خان ناموس رسالت طلحہ سعید حافظ گستاخ رسول کی شرعی سزا ❷ ماہنامہ الدعوۃ لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ................ عبدالمالک مجاہد محبت رسول ظفر حجازی ناموس رسالت اور نصاب تعلیم ماہنامہ افکار معلم لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۵۱ تا ۵۳ عبدالمالک مجاہد محبت رسول ظفر علی راجا توہین تنقید [قطعہ] ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۹۰ عبدالمعید علی الم انگیز ظفر علی راجا کب بھلا ۔ [قطعہ] ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۸۲ عبدالوہاب خان توہین عابد مسعود ڈوگر توہین رسالت کے واقعہ پر احتجاج مذہبی ماہنامہ الاحرار لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۳۴ تا ۳۵ عبید اقبال قاسم توہین جماعتی ابھی تک منتشر ہیں عبید اللہ عفیف، مفتی گستاخ عارف محمود سید ناموس رسالت پر چلو سر کٹائیں [نظم] ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۴۲ عتیق الرحمٰن سنبھلی اے عبدالجبار سلفی توہین آمیز خاکوں پر مشترکہ اعلامیہ ماہنامہ محدث لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۵۵ تا ۵۸ عرفان صدیقی جنگ عبدالجبار شاکر توہین نبی کے مرتکب لوگ [نظم] ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۶ مئی ۲۰۰۶ء ۶ عرفان صدیقی عبدالرحمٰن خلیق شاتم رسول کی سزا ضیائے حدیث سوہدرہ جون ۲۰۰۶ء ۱۵ تا ۱۶ عرفان صدیقی عبدالرحمٰن سلفی توہین رسالت ایک ناقابل معافی جرم ۱۵ روزہ الارشاد کراچی یکم مارچ ۲۰۰۶ء ۱۳ تا ۱۸ عطاء الرحمٰن عبدالرحمٰن سلفی توہین رسالت ایک ناقابل معافی جرم ہے ۱۵ روزہ صحیفہ اہلحدیث کراچی ۱۵ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۵ تا ۱۶ عطاء الرحمٰن عبدالرحمٰن یورپ سے سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۶ فروری ۲۰۰۶ء ۲۲ یوسف القرضاوی عبدالرزاق اختر یہود و نصاریٰ اور شعائر اسلام کی توہین ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۱۶۲ تا ۱۶۶ عمر فاروق سید عبدالرشید ارشد توہین رسالت اور مغرب ماہنامہ خطیب لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۷ تا ۲۱ غلام رسول سعیدی عبدالرشید اعوان شیطان کا پیغام اپنے چیلوں کے نام ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۶ فروری ۲۰۰۶ء ۱۶ غلام رسول سعیدی عبدالرشید ارشد توہین رسالت اور مغرب سبیل ہدایت لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۴ تا ۱۷ فردوس جمال عبدالرشید ارشد توہین رسالت ماہنامہ افکار معلم لاہور جون ۲۰۰۶ء ۴۵ تا ۵۱ فریحہ نذیر عبدالرشید ارشد توہین آمیز خاکوں کی اشاعت ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۶ فروری ۲۰۰۶ء ۱۴ فرید اللہ عادل عبدالرشید اظہر پیغمبر اسلام کی توہین کفار کا قدیم حربہ ہے ترجمان الحدیث فیصل آباد اپریل ۲۰۰۶ء ۹ تا ۱۱ فہیم ترمذی محترمہ عبدالرشید اظہر پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز حرکات ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۳۱ مارچ ۲۰۰۶ء ۷ تا ۸ فیض رسول فیضان عبدالرؤف سکھروی توہین رسالت و گستاخان رسول کا عبرتناک انجام ماہنامہ الحسن لاہور مئی ۲۰۰۶ء ۱۸ تا ۳۹ قریب اللہ رحمانی عبدالرؤف سکھروی توہین رسالت اور گستاخان رسول کا عبرتناک انجام سکون و احسان کراچی اپریل ۲۰۰۶ء ۳۳ تا ۷۳ کاشف نیاز قاسمی

ــــ جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۲۹ھ ــــ

صفحہ 215

محمد زاہد حنیف

اشاریہ

عبد الرؤف مفتی توہین رسالت اور گستاخان رسول کا بدترین انجام ❶ ماہنامہ الصیانہ لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۲۸ تا ۳۱ عبد الرؤف مفتی توہین رسالت اور گستاخان رسول کا بدترین انجام ❷ ماہنامہ الصیانہ لاہور مئی ۲۰۰۶ء ۳۸ تا ۴۳ عبد السلام، سید گستاخ رسول کے متعلق فتویٰ ماہنامہ سیرۃ السلف پشاور اپریل ۲۰۰۶ء ۲۳ تا ۲۴ عبد اللطیف حلیم تحفظ ناموس رسالت ہفت روزہ تنظیم اہلحدیث لاہور ۳ مارچ ۲۰۰۶ء ۳ تا ۵ عبد العظیم عمری اس جرم ناروا کی آخر سزا ملے گی ماہنامہ راہ اعتدال عمر آباد مارچ ۲۰۰۶ء ۲۰ تا ۲۴ عبد اللہ خان ناموس رسالت کے پروانوں کا احتجاج ہفت روزہ ایشیا لاہور ۲۳ فروری ۲۰۰۶ء ۱۹ عبد المالک مجاہد محبت رسولؐ کے روح پرور نظارے ❶ ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۵ تا ۱۷ عبد المالک مجاہد محبت رسولؐ کے روح پرور نظارے ❷ ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۲۴ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۰ عبد المجید علی اَلم انگیز حادثات پندرہ روزہ ترجمان دہلی ۱۶ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۳ تا ۱۴ عبد الوہاب خان توہین رسالت اور امت مسلمہ کی ذمہ داریاں سہ ماہی التراث غواڑی اپریل ۲۰۰۶ء ۱ تا ۱۱ عبید اقبال قاسم توہین رسالت نا قابل برداشت ماہنامہ فیصل ہندی دہلی مارچ ۲۰۰۶ء ۴ عبید اللہ عفیف، مفتی گستاخی رسول کی شرعی سزا کے متعلق چند سوال اور جواب تنظیم اہلحدیث لاہور ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ء ۶ تا ۸ عتیق الرحمن سنبھلی اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے ماہنامہ الفرقان لکھنؤ مارچ ۲۰۰۶ء ۳ تا ۷ عرفان صدیقی جنگ تو شروع ہے ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۳ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۴ عرفان صدیقی متعفن سوچ کے مکروہ مظاہر ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۹۸ تا ۱۰۰ عرفان صدیقی ہے یہی بہتر ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۰۷ تا ۱۰۹ عطاء الرحمن توہین رسالت کا واقعہ نئے عالمی قانون کی ضرورت ہفت روزہ ایشیا لاہور ۹ مارچ ۲۰۰۶ء ۲۹ عطاء الرحمن خفیہ ہاتھ ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۲۹ تا ۱۳۱ یوسف القرضاوی شان رسولؐ میں گستاخی اور پیروان رسول کا موقف ہفت روزہ ایشیا لاہور ۲ مارچ ۲۰۰۶ء ۲۴ تا ۲۷ عمر فاروق سید تحفظ ناموس رسالت کیسے کریں گے؟ ۱۵ روزہ صحیفہ اہلحدیث کراچی ۱۳ جون ۲۰۰۶ء ۱۹، ۲۰ غلام رسول سعیدی گستاخ رسول کی شرعی سزا ماہنامہ بیدار ڈائجسٹ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۹ تا ۲۱ غلام رسول سعیدی گستاخ رسول کی شرعی سزا ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ اپریل ، مئی ۰۶ء ۱۵ تا ۱۹ فردوس جمال آخری سہارا سہ ماہی التراث غواڑی اپریل ۲۰۰۶ء ۳۳ تا ۳۴ فریحہ نذیر توہین رسالت پر خواتین کا ردِ عمل کیا ہو صدائے اسلام فاؤنڈیشن لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۳۳ تا ۴۴ فرید اللہ عادل ہم بے بس ہیں ۔ بے حس نہیں ماہنامہ العصر پشاور اپریل ۲۰۰۶ء ۳۵ تا ۳۸ فہیم ترمذی محترمہ خاکوں کی خاک [نظم] ماہنامہ السعید اوگی مئی ۲۰۰۶ء ۱۹ فیض رسول فیضان منقبت ناموس رسالت [نظم] دعوت تنظیم اسلام گوجرانوالہ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۱ قریب اللہ رحمانی اظہار رائے کی آزادی یا توہین رسالت ماہنامہ العصر پشاور اپریل ۲۰۰۶ء ۴۰ تا ۴۶ کاشف نیاز قاضی ڈنمارک ڈھٹائی پر کیوں اترا؟ ماہنامہ الدعوۃ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۶ تا ۲۱

مئی ، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 216

اشاریہ مضامین حرمت رسول ﷺ

محمد قاسم اسلام اور مستشرقین کاشف نیاز قاضی رحمۃ للعالمین ۱۰۰ غیر مسلم دانشوروں کا خراج عقیدت ❶ ماہنامہ الدعوۃ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۳۹ تا ۴۲

محمد متین خالد شہیدان ناموس رسالت کاشف نیاز قاضی رحمۃ للعالمین ۱۰۰ غیر مسلم دانشوروں کا خراج عقیدت ❷ ماہنامہ الدعوۃ لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ...........

محمد نشاط تابش گستاخانہ رسول گوہر ملسیانی توہین رسالت کرتے ہو [نظم] ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۶ اپریل ۲۰۰۶ء ۲۳

محمد نشاط تابش گستاخانہ رسول لیاقت علی خان نیازی توہین رسالت کا قانون مذاہب عالم کی نظر میں ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۵۵ تا ۶۳

محمد نشاط تابش گستاخانہ مجاہد الحسینی توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد کیا ماہنامہ الاحرار لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۳۶ تا ۳۷

محمد یاسین ظفر ناموس صلیبی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا؟

محمد ابراہیم نفیس توہین رسال محسن فارانی یورپی پارلیمنٹ میں صلیبی جنگ کی بازگشت ’البنات‘ ڈی جی خان اپریل ۲۰۰۶ء ۱۲ تا ۱۶

محمد احمد حافظ کیا د محمد ابراہیم نفیس احتجاج ہمارا حق ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۴

محمد ادریس سلفی حرمت محمد ابراہیم نفیس توہین رسالت اور اُمہ کی بیداری ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۲۴ فروری ۲۰۰۶ء ۶

محمد ارسلان گستا محمد اسماعیل قریشی شاتم رسول کے بارے میں دربار نبوت کے فیصلے ماہنامہ خطیب لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۲۲ تا ۲۶

محمد اسرار الحق قاسمی محمد افضل شمسی قانون توہین رسالت اور حدود آرڈیننس؛ از سر نو جائزہ ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک اکتوبر ۲۰۰۶ء ۱۷ تا ۱۹

محمد اقبال ثاقب محمد اکرم فضل سازشوں سے اسلام کا چراغ بجھایا نہ جاسکے گا ہفت روزہ ایشیا لاہور ۲۴ فروری ۲۰۰۶ء ۲۴

محمد انیس الرحمان محمد بلال حماد محبت رسول کے تقاضے ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۱۴ اپریل ۲۰۰۶ء ۱۲

محمد حفیظ اللہ خان محمد حمید اللہ خلیل انتہا پسند اصل میں کون ہے؟ ماہنامہ الاحرار لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۳۶ تا ۳۸

محمد سعید حافظ محمد حنیف جالندھری تہذیبی تصادم کی راہ کون ہموار کر رہا ہے ماہنامہ الخیر ملتان مارچ ۲۰۰۶ء ۶۳

محمد سعید شاہد مفتی محمد حنیف جالندھری پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکے ماہنامہ الخیر ملتان مئی ۲۰۰۶ء ۱۷ تا ۲۰

محمد سعید شیخ محمد رمضان سلفی در دل مسلم مقام مصطفیٰ است ہفت روزہ تنظیم اہلحدیث لاہور ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ء ۵۳

محمد شفیق پسروی محمد زاہد کیا یہ محض آزادی اظہار کا مسئلہ ہے؟ ماہنامہ الصیانۃ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۷۴

محمد شہباز حسن حافظ محمد سرور ملک توہین آمیز خاکے۔ چرچ کی منصوبہ بندی ماہنامہ بیدار ڈائجسٹ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۱ تا ۱۲

محمد شہباز حسن حافظ محمد سرور ملک گستاخان رسول کا عبرتناک انجام ماہنامہ بیدار ڈائجسٹ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۳ تا ۱۵

محمد صدیق محمد شہباز حافظ گستاخ رسول ❶ ہفت روزہ الاعتصام لاہور ۲۴ جون ۲۰۰۶ء ۸ تا ۲۰

محمد ظہور الحسن مظہر محمد شہباز حافظ گستاخ رسول ❷ ہفت روزہ الاعتصام لاہور ۳۰ جون ۲۰۰۶ء ۱۵ تا ۱۹

محمد فرید العمادی محمد شہباز حافظ گستاخ رسول ❸ ہفت روزہ الاعتصام لاہور ۲ جولائی ۲۰۰۶ء ۱۰ تا ۱۳

محمد فضل اللہ سلفی محمد صدیق حضور اکرم کی توہین کرنے والا دہشت گرد ہے ماہنامہ الخیر ملتان اپریل ۲۰۰۶ء ۱۹ تا ۲۱

محمد معاویہ بخاری محمد علی جانباز توہین رسالت اور احادیث نبویہ ﷺ ماہنامہ محدث لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۵۵ تا ۵۷

محمد معاویہ بخاری محمد علی جانباز توہین رسالت اور احادیث نبویہ ﷺ ماہنامہ صدائے ہوش لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۹ تا ۲۱

محمد معاویہ بخاری محمد عمران مغرب کی منافقت ترجمان الحدیث فیصل آباد مارچ ۲۰۰۶ء ۴۲ تا ۴۴

محمد فضل الرحیم اسلامی دنیا کے بارے میں مغرب کا سیاسی اور تہذیبی ایجنڈا ماہنامہ الصیانۃ لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۳۲ تا ۳۷

محمد یحییٰ گوندلوی محمد قاسم حمران یکجہتی کشمیر سے تحریک حرمت رسول تک ماہنامہ الدعوۃ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۱ تا ۱۴

ـــــ جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۲۹ھ ـــــ

صفحہ 217

محمد زاہد حنیف

ماہنامہ الدعوۃ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۳۴ تا ۳۹ محمد قاسم اسلام اور مستشرقین اور ان کے اعتراضات ترجمان الحدیث فیصل آباد اپریل ۲۰۰۶ء ۲۴ تا ۲۶ ماہنامہ الدعوۃ لاہور اپریل ۲۰۰۶ء محمد متین خالد شہیدان ناموس رسالت ماہنامہ الاحرار لاہور جون ۲۰۰۶ء ۱۹ تا ۲۷ ت روزہ ایشیا لاہور ۱۶ اپریل ۲۰۰۶ء ۲۳ محمد منشا تابش گستاخانہ رسول انام اور ان کا انجام ❶ ماہنامہ الجامعہ جھنگ مارچ ۲۰۰۶ء ۳۳ تا ۳۶ ندائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۵۵ تا ۶۳ محمد منشا تابش گستاخانہ رسول انام اور ان کا انجام ❷ ماہنامہ الجامعہ جھنگ اپریل ۲۰۰۶ء ۳۹ تا ۴۱ نامہ الاحرار لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۳۶ تا ۳۷ محمد منشا تابش گستاخانہ رسول انام اور ان کا انجام ❸ ماہنامہ الجامعہ جھنگ مئی ۲۰۰۶ء ۱۲ تا ۲۷ ماعت ڈی جی خان اپریل ۲۰۰۶ء ۱۴ تا ۱۶ محمد یاسین ظفر ناموس مصطفیٰ ..... اور ہماری ذمہ داریاں ترجمان الحدیث فیصل آباد مارچ ۲۰۰۶ء ۵۴ ت روزہ اہلحدیث لاہور ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۴ محمد ابراہیم نفیس توہین رسالت اور مسلم اُمہ کی بیداری ہفت روزہ الاعتصام لاہور ۳۱ مارچ ۲۰۰۶ء ۲۹ تا ۳۰ ت روزہ اہلحدیث لاہور ۲۴ فروری ۲۰۰۶ء ۶ محمد احمد حافظ کیا ذات مآب پر تنقید برداشت کی جاسکتی ہے ماہنامہ الاحرار لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۳۳ تا ۳۵ مجلہ خطیب لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۲۴ تا ۲۶ محمد ادریس سلفی حرمت رسول اور اہل کتاب کا طرز عمل ترجمان الحدیث فیصل آباد مارچ ۲۰۰۶ء ۱۰ تا ۱۴ نامہ الحق اکوڑہ خٹک اکتوبر ۲۰۰۶ء ۱۷ تا ۱۹ محمد ارسلان گستاخانہ خاکے اور مسلم اُمہ کی ذمہ داریاں ماہنامہ العصر پشاور مارچ ۲۰۰۶ء ۴۵ تا ۴۷ ت روزہ ایشیا لاہور ۲۴ فروری ۲۰۰۶ء ۲۳ محمد اسرار الحق قاسمی کارٹونوں کی اشاعت اسلام کے خلاف ایک منصوبہ بند مہم ماہنامہ راہ اعتدال عمر آباد مارچ ۲۰۰۶ء ۱۷ تا ۱۹ ت روزہ اہلحدیث لاہور ۱۴ اپریل ۲۰۰۶ء ۱۲ محمد اقبال ثاقب تہذیبوں کا تصادم اور اُمت مسلمہ کی ذمہ داریاں ماہنامہ المہدی ڈی جی خان اپریل ۲۰۰۶ء ۲ تا ۴ نامہ الاحرار لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۳۶ تا ۳۷ محمد انیس الرحمان توہین آمیز خاکے، عرب میڈیا کے آئینے میں ماہنامہ الدعوۃ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۲۲ تا ۲۴ مجلہ الخیر ملتان مارچ ۲۰۰۶ء ۳ تا ۶ محمد حفیظ اللہ خان یورپ کی رواداری کہاں گئی ماہنامہ صراط مستقیم برمنگھم فروری ۲۰۰۶ء ۲۶۵ مجلہ الخیر ملتان مئی ۲۰۰۶ء ۱۷ تا ۲۰ محمد سعید حافظ شاتم رسول کی کم از کم سزا موت ہے ماہنامہ ضرب طیبہ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۳ تا ۱۴ ت روزہ اہلحدیث لاہور ۱۰ مارچ ۲۰۰۶ء ۳ تا ۵ محمد سعید شاہد مفتی تکریم انبیاء علیہ السلام ماہنامہ ضرب طیبہ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۲۳ تا ۲۵ نامہ الصیانۃ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۴ تا ۷ محمد سعید شیخ اے مسلم اُمہ جاگ ذرا ماہنامہ عرفات لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۳۵ تا ۴۶ ماہنامہ الامت لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۱ تا ۱۴ محمد شفیق پسروری ناموس رسالت اور ہماری ذمہ داریاں ترجمان الحدیث فیصل آباد اپریل ۲۰۰۶ء ۱۲ تا ۱۵ ماہنامہ الامت لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۳ تا ۱۵ محمد شہباز حسن حافظ گستاخ رسول کی اخروی سزا دعوة التوحید اسلام آباد جون ۲۰۰۶ء ۲۲ تا ۴۷ زہ الاعتصام لاہور ۲۴ جون ۲۰۰۶ء ۱۸ تا ۲۰ محمد شہباز حسن حافظ گستاخ رسول کی دنیوی سزا دعوة التوحید اسلام آباد مئی ۲۰۰۶ء ۲۵ تا ۴۳ زہ الاعتصام لاہور ۳۰ جون ۲۰۰۶ء ۱۵ تا ۱۹ محمد صدیق مسلم حکمران اور تحفظ ناموس رسالت ماہنامہ القاسم نوشہرہ اپریل ۲۰۰۶ء ۱۷ تا ۱۸ زہ الاعتصام لاہور ۲۷ جولائی ۲۰۰۶ء ۱۰ تا ۱۳ محمد ظہور الحسن مظہر زمانہ منتظر ہے پھر نئی شیرازہ بندی کا ماہنامہ حق چار یار لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۵۳ مجلہ ملتان اپریل ۲۰۰۶ء ۱۹ تا ۲۱ محمد فرید الھادم مسئلہ توہین رسالت کا مستقل حل ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۸۷ تا ۹۰ محدث لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۳۷ تا ۵۷ محمد فضل اللہ سلفی واقعہ اہانت رسول۔ اظہار رائے کی آزادی یا گستاخی پندرہ روزہ ترجمان دہلی ۱۶ مارچ ۲۰۰۶ء ۱۵ تا ۱۶ ندائے ہوش لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۹ تا ۲۱ محمد معاویہ بخاری توہین آمیز کارٹون اور نقلی و عقلی دلائل ماہنامہ الاحرار لاہور جون ۲۰۰۶ء ۲۳ تا ۲۶ زہ فیصل آباد مارچ ۲۰۰۶ء ۲۴ تا ۴۴ محمد معاویہ بخاری گستاخ رسول کا عبرتناک انجام ماہنامہ الاحرار لاہور جولائی ۲۰۰۶ء ۲۹ تا ۳۰ دائے لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۲۴ تا ۲۸ محمد معاویہ بخاری ڈنمارک میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے ماہنامہ الاحرار لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۲۹ تا ۳۳ دائے لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۱ تا ۱۳ والے کا انٹرویو محمد یحییٰ گرگزلوی بائبل اور توہین انبیاء علیہم السلام ماہنامہ صدائے ہوش لاہور مئی ۲۰۰۶ء ۹ تا ۱۶

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 218

اجمل نیازی، ڈاکٹر قافلہ حجاز میں حسینی جذبوں کا ارشاد محمود کارٹونوں کی اشاعت ارشاد احمد حقانی مغربی تہذیب ۔ اسلام دشمنی اظہار الحق توہین آمیز خاکوں کے خلاف افضال احمد قریشی توہین رسالت اور مغربی مفکر الطاف حسن قریشی آتش گل بھڑک اٹھی ہے انور قدوائی، سید توہین آمیز خاکے ... ایک اوریا مقبول جان آبروئے ماؤ نام مصطفیٰ ﷺ اے کیو نیبی امیران بسنت و ناموس اے آر خالد، ڈاکٹر احتجاج کا انداز بدلیے جمیل الدین عالی آزادی اظہار کا فلا چوہدری وقار احمد پاکستان میں قانون حمید الدین المشرقی توہین رسالت رفعت قادر حسن ناموس رسالت ریحان اظہر جسارت توہین رسال کے لئے لمحہ فکر زاہد حسین صدیقی توہین آمیز خاکہ سبط الحسن ضیغم حضور کے باغی سجاد علی شاہ جسٹس غازی علم دین سعید نوابی مسلمانوں و سفیر صدیقی توہین آمیز سلیم یزدانی ڈنمارک کے شفیق الرحمٰن حافظ ناموس رسالت شفیق الرحمٰن حافظ توہین رسالت شفیق الرحمٰن حافظ توہین رسالت شہرت پانے شمس الحق قاضی توہین رسال شوکت جنجوعہ تہذیبوں کا ت ضیاء الحق قاسمی شرمناک حرک

اشاریہ، مضامین حرمت رسول ﷺ

محمد یحییٰ گوندلوی موجودہ بائبل اور توہین انبیاء ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۲۸ اپریل ۲۰۰۶ء ۱۷ تا ۱۱ محمد یسین ظفر حرمت رسول اور اس کے تقاضے ترجمان الحدیث فیصل آباد اپریل ۲۰۰۶ء ۸ تا ۷ محمد یوسف سالک توہین رسالتمآب کفار کا قدیم حربہ ہے سہ ماہی التراث غواڑی اپریل ۲۰۰۶ء ۳۲ تا ۲۸ محمد یونس توہین رسالت اور یہود کا کردار ترجمان الحدیث فیصل آباد مارچ ۲۰۰۶ء ۹ تا ۶ محمود احمد سہارنپوری دشمن کی نت نئی سازشیں اور ہماری ذمہ داریاں فیض الاسلام راولپنڈی اپریل ۲۰۰۶ء ۴۸ تا ۲۵ محمود احمد مفکر توہین آمیز خاکے سہ ماہی التراث غواڑی اپریل ۲۰۰۶ء ۲۷ تا ۲۶ محمود الرشید حدوثی توہین آمیز خاکے اور احتجاج کی عالمگیر تحریک ماہنامہ آب حیات لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۱۰ تا ۷ خانہ کعبہ کی آواز سنو مرزا محمد الیاس پیغمبر انسانیت ۔ یورپی اخبار کی گستاخی پر احتجاج ہفت روزہ ایشیا لاہور ۹ فروری ۲۰۰۶ء ۱۱ تا ۸ مسرت شہزادی تحفظ ناموس رسالت کی اہمیت فیض الاسلام راولپنڈی مئی ۲۰۰۶ء ۱۹ تا ۱۸ مسز اختر سعید گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر [نظم] فیض الاسلام راولپنڈی جون ۲۰۰۶ء ۲۳ مسلمہ بتول مغرب کا آزادی اظہار ماہنامہ پکار ملت لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۲۰ تا ۱۸ مصباح عبدالکریم مسلمان جاگ ذرا تیرے اٹھنے کا وقت آیا ماہنامہ البنات ڈی جی خان مارچ ۲۰۰۶ء ۲۳ مظفر وارثی وزیر اعظم ڈنمارک سے [قطعہ] ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۰۹ مقصود احمد حافظ شاتم رسول کا عبرتناک انجام دعوۃ التوحید اسلام آباد جولائی ۲۰۰۶ء ۶ تا ۴ منظور احمد شاہ توہین رسالت ماہنامہ انوار الفرید ساہیوال اپریل ۲۰۰۶ء ۲۵ تا ۲۳ منظور عالم ڈاکٹر سالار کارواں ہے میر حجاز اپنا ماہنامہ راہ اعتدال عمر آباد مارچ ۲۰۰۶ء ۱۶ تا ۱۴ منیب الرحمٰن مفتی تحریک تحفظ ناموس رسالت چند گذارشات ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۶ء ۸۲ تا ۷۹ منیب الرحمٰن مفتی تحریک تحفظ ناموس رسالت ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۹۳ تا ۸۹ میگزین رپورٹ عالم اسلام کے عالمگیر احتجاج نے یورپی ممالک ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۱۵۹ تا ۱۵۱ کے ہوش اُڑا دیئے

رپورٹ ندیم اقبال احمدانی خاکے اور کارٹون ۔ اصل مقاصد کیا ہے ماہنامہ البنات ڈی جی خان اپریل ۲۰۰۶ء ۲۱ تا ۲۰ نورالواجد جدوں مغرب فساد انگیزی سے باز رہے ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۶ فروری ۲۰۰۶ء ۲۱ تا ۲۰ یاسر احمد زیرک ایک ناپاک جسارت ماہنامہ العصر پشاور مارچ ۲۰۰۶ء ۵۲ تا ۲۸ یوسف علی سید میں نے خاکے کیوں شائع کئے۔ ملعون ضیائے اسلام حیدرآباد اپریل ۲۰۰۶ء ۱۲۸ تا ۱۲۶ ایڈیٹر فلیمنگ روز کی ہرزہ سرائی

اداریے آغا شاہی نسلی و مذہبی منافرت اور یورپی و عالمی قوانین ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ مارچ ۲۰۰۶ء ۹ تا ۵ ابن صدیق محسن انسانیت اور یورپی بھیڑیئے ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۶ء ۴۰ تا ۲۸ اجمل نیازی، ڈاکٹر ناموس رسالت کے لئے مظاہرہ یا پولیس مقابلہ ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۶ء ۱۳۵ تا ۱۳۳

------- جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۲۹ھ -------

صفحہ 219

ت لاہور ۱۸ اپریل ۲۰۰۶ء ۷ تا ۱۱ صل آباد اپریل ۲۰۰۶ء ۷ تا ۸ غازی اپریل ۲۰۰۶ء ۲۸ تا ۳۲ صل آباد مارچ ۲۰۰۶ء ۶ تا ۹ نڈی اپریل ۲۰۰۶ء ۲۵ تا ۴۸ غازی اپریل ۲۰۰۶ء ۲۶ تا ۲۷ لاہور مارچ ۲۰۰۶ء ۷ تا ۱۰

۹ فروری ۲۰۰۶ء ۱۱۸ تا ۱۱ نڈی مئی ۲۰۰۶ء ۱۸ تا ۱۹ نڈی جون ۲۰۰۶ء ۲۳ ہور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۸ تا ۲۰ خان مارچ ۲۰۰۶ء ۲۳ ہور اپریل ۲۰۰۶ء ۱۰۹ آباد جولائی ۲۰۰۶ء ۳ تا ۶ صل آباد اپریل ۲۰۰۶ء ۲۳ تا ۲۵ آباد مارچ ۲۰۰۶ء ۱۴ تا ۱۶ اپریل ۲۰۰۶ء ۷۹ تا ۸۲ اپریل ۲۰۰۶ء ۸۹ تا ۹۳ اپریل ۲۰۰۶ء ۱۵۱ تا ۱۵۹

ن اپریل ۲۰۰۶ء ۲۰ تا ۲۱ ۱۶ فروری ۲۰۰۶ء ۲۰ تا ۲۱ مارچ ۲۰۰۶ء ۴۸ تا ۵۲ اپریل ۲۰۰۶ء ۱۲۶ تا ۱۲۸

مارچ ۲۰۰۶ء ۵ تا ۹ جون ۲۰۰۷ء ۳۸ تا ۴۰ جون ۲۰۰۷ء ۱۳۳ تا ۱۳۵

محمد زاہد حنیف اجمل نیازی، ڈاکٹر قافلہ حجاز میں حسینی جذبوں کا طوفان ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۰۹تا۱۱۱ ارشاد محمود کارٹونوں کی اشاعت ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۰۳تا۱۰۵ ارشاد احمد حقانی مغربی تہذیب۔ اسلام دشمنی کے عمیق اسباب ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۵۹تا۲۶۲ اظہار الحق توہین آمیز خاکوں کے خلاف احتجاج کب شروع ہوا ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۷۴تا۷۸ افضال احمد قریشی توہین رسالت اور مغربی مفکرین کا فکری انتشار ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۳۱تا۲۳۳ الطاف حسن قریشی آتش گل بھڑک اٹھی ہے ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۳۰تا۱۳۲ انور قدوائی سید توہین آمیز خاکے ..... ایک منظم سازش ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۸۶تا۸۹ اوریا مقبول جان آبروئے ما، نام مصطفیٰ است ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۱۷تا۱۱۹ اے یو نعیمی اسیران بسنت و ناموس رسالت ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۶۶تا۱۶۸ اے آر خالد، ڈاکٹر احتجاج کا انداز بدلنے کی اشد ضروری ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۷۹تا۱۸۲ جمیل الدین عالی آزادی اظہار کا غلط استعمال، کچھ تاریخ، کچھ تجاویز ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۷۹تا۲۸۳ چوہدری وقار احمد پاکستان میں قانون توہین رسالت کا پس منظر ماہنامہ الحقیقت شکر گڑھ مارچ ۲۰۰۷ء ۱۴۶تا۱۴۹ حمید الدین المشرقی توہین رسالت اور کارٹونی چال ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۸۲تا۸۶ رفعت قادر حسن ناموس رسالت کے پس منظر ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۷۶تا۱۷۸ ریحان اظہر جسارت توہین رسالت دنیا بھر کے مسلمانوں ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۳۸تا۲۴۰ کے لئے لمحہ فکریہ زاہد حسین صدیقی توہین آمیز خاکے، مذموم مقاصد اور امن کا لائحہ عمل ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۱۳تا۲۱۸ سبط الحسن ضیغم حضور کے بارے میں توہین آمیز خاکے ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۰۶تا۱۰۸ سجاد علی شاہ جسٹس غازی علم دین شہید اور حالیہ خاکے ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۲۳تا۲۲۷ سعید نوابی مسلمانوں ہمارے نبی کی توہین ہوئی تھی ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۲۰تا۲۲۳ سفیر صدیقی توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور مغرب کا رویہ ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۹۶تا۱۰۱ سلیم یزدانی ڈنمارک کے اخبار کی اشتعال انگیزی ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۶۶تا۶۹ شفیق الرحمان حافظ ناموس رسالت محاذ کا اعلان ہم زندہ قوم ہیں ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۲۵تا۱۲۸ شفیق الرحمٰن حافظ توہین رسالت اور ایک کرائم ماسٹر کے بلیو آئیڈ بوائز ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۹۸تا۲۰۵ شفیق الرحمٰن حافظ توہین رسالت، ڈالر، پاسپورٹ اور مغربی ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۹۰تا۱۹۷ شہرت پانے کا حربہ شمس الحق قاضی توہین رسالت ایک منظم سازش ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۳۱تا۲۴۰ شوکت جنجوعہ تہذیبوں کا تصادم یا قیامت کی آمد ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۶۷تا۲۶۹ ضیا الحق قاسمی شرمناک مظاہرے ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۳۳تا۱۴۳

مئی، جون ۲۰۰۸ء

صفحہ 220

اشاریہ: مضامین حرمت رسول ﷺ

عابدہ سلطان مغرب کی اسلام دشمنی ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۵۳تا۲۵۵ مریم گیلانی اگر سلمان رشدی کو مار دیا ہوتا عارف محمود سید زندہ نہ رہے دہر میں گستاخ کوئی بھی [نظم] ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۲۹ مصطفیٰ کمال قاضی ۱۴ فروری کی احتجاجی ریلی اور عارف محمود سید غیرت دینی کا پھر احیاء کریں ۔ [نظم] ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۱ مقصود احمد تبسم محبت اور مذمت (نظم) عارف محمود ناموس رسالت پر چلو سر کٹائیں [نظم] ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۱۹ منو بھائی کوئی حیرت نہیں ہوتی عائشہ چودھری اسلام مخالف قوتوں کے مذموم عزائم ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۶۳تا۲۶۶ موسیٰ خان جلوئی توہین آمیز کارٹون، قومی عباس عبقری مغربی ملکوں کی دورخی پالیسی ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۵۶تا۲۵۸ نصرت مرزا تیس سالہ صلیبی جنگ یا عبدالستار الغازی پر تشدد مظاہروں کی حقیقی وجوہات کے ادراک کی ضرورت ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۶۹تا۱۷۲ نصرت مرزا امریکہ، یورپ کشمکش اور عبدالستار الغازی چراغ مصطفویٰ سے شرار بولہبی کی آویزش ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۴۵تا۲۵۳ ہمراز سبق عبدالقادر حسن ناموس رسالت اور پیغام رسالت ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۳۱تا۳۳ آصف محمود ایڈووکیٹ کیا رسول اللہ صرف عبدالقدیر رشک تہذیبوں کا ٹکراؤ ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۶۹تا۲۷۱ آصف محمود Holocaust اور عبدالقیوم ساجد ناموس رسول کی دولت اور مغرب کی تہی دامن تہذیب ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۴۱تا۴۴ آصف محمود Holocaust عرفان صدیقی متعفن سوچ کے مکروہ مظاہرے ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۸تا۵۰ ابن حارث ڈنمارک کی تازہ عرفان صدیقی یہ چنگاری ہنوز دبی رہنے دیں ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۱۰تا۲۱۲ ابوبکر صدیق حسنیوی گفتار کے غازی عرفان صدیقی یہ دہشت گرد ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۵۷تا۱۵۹ احسان الحق ابو سعد محمد ﷺ کی عطاء الرحمن اے اہل مغرب ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۶۳تا۶۵ ادارہ جہلم میں تحفظ ناموس عطاء الرحمن قانون کی عملداری ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۷۳تا۱۷۵ ادارہ توہین رسالت اور علی کیانی توہین آمیز مواد کی اشاعت اور برطانیہ ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۹۳تا۹۵ ادارہ محمد ﷺ کے گستاخ فواد حسین چوہدری میں نے لاہور جلتے دیکھا ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۴۱تا۱۴۲ ادارہ یہود و نصاریٰ فیضی کچھ تو سمجھے خدا کرے کوئی ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۸۳تا۱۸۵ اسرار احمد ڈاکٹر کلثوم رانجھا ناموس رسالت کا مسئلہ ہمارے ایمان کی آزمائش ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۳۴تا۳۷ اشتیاق بیگ کوکب نورانی ڈاکٹر آزادی اظہار کی آڑ میں ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۵۳تا۵۵ اظہر منظور المانی کے ایم اعظم مغرب اور اسلام کا تصادم ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۷۲تا۲۷۵ اکرم فضل مبین رشید دنیا تقسیم ہو رہی ہے ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۵۱تا۵۲ اللہ دتہ مفتی ڈنمارک مجاہد منصوری آزادی صحافت کی آڑ میں غیر ذمہ داری کی انتہا ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۷۰تا۷۴ امجد عباسی توہین آم محبوب الرسول قادری گستاخان رسول کا عبرتناک انجام ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۱تا۳۰ انور غازی توہین آم [قرآن وحدیث اور تاریخ کی روشنی میں] این خان توہین قرآ محمد نواز کھرل تحفظ ناموس رسالت ۔ ایک روح پرور دستاویز ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۷تا۲۰ بابر فاروق حافظ گستاخ۔ محمد اشرف شریف آزادی اظہار کے نام پر مغرب کا تجاوز ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۸۴تا۲۸۵ برق التوحیدی گستاخانہ خاکے محمد نعیم طاہر رضوی اپنی بات ماہنامہ کنز الایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۸تا۹

—— جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۲۹ھ ——

صفحہ 221

محمد زاہد حنیف

اشاریہ رسائل

مریم گیلانی اگر سلمان رشدی کو مار دیا ہوتا ماہنامہ کنزالایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۰۲ تا ۱۰۳

مصطفیٰ کامل قاضی ۱۴ فروری کی احتجاجی ریلی اور گرفتار شدگان ماہنامہ کنزالایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۵۲ تا ۱۵۶

مقصود احمد تبسم محبت اور مذمت (نظم) ماہنامہ کنزالایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۱۹

متو بھائی کوئی حیرت نہیں ہوتی ماہنامہ کنزالایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۱۲ تا ۱۱۳

موسیٰ خان جلوانی توہین آمیز کارٹون، توڑ پھوڑ اور سازشیں ماہنامہ کنزالایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۵۱ تا ۱۵۳

نصرت مرزا تیس سالہ صلیبی جنگ یا عالمی جنگ ماہنامہ کنزالایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۲۷۶ تا ۲۷۸

نصرت مرزا امریکہ یورپ کشمکش اور دل آزار کارٹون ماہنامہ کنزالایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۹۰ تا ۹۲

ہمراز سبق ماہنامہ کنزالایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۳۵ تا ۱۴۶

آصف محمود ایڈووکیٹ کیا رسول اللہ صرف مولویوں کے رسول ہیں ماہنامہ کنزالایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۱۴ تا ۱۱۶

آصف محمود Holocaust اور مغرب کی سول سوسائٹی ماہنامہ کنزالایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۲۳ تا ۱۳۴

آصف محمود Holocaust اور مغرب کی آزادی صحافت ماہنامہ کنزالایمان لاہور جون ۲۰۰۷ء ۱۲۰ تا ۱۲۲

ابن حارث ڈنمارک کی تازہ ناپاک جسارت ہفت روزہ ایشیا لاہور ۶ مارچ ۲۰۰۸ء ۱۶ تا ۱۸

ابوبکر صدیق حسینوی گفتار کے غازی۔ کردار کے غازی کہاں ہے ماہنامہ الاخوۃ لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۲۲ تا ۲۳

احسان الحق ابو سعد محمد ﷺ فرق بین الناس ماہنامہ ضرب طیبہ لاہور مارچ ۲۰۰۸ء ۲۸ تا ۳۱

ادارہ جہلم میں تحفظ ناموس رسالت کارواں کا شاندار استقبال ماہنامہ حرمین جہلم مئی ۲۰۰۸ء ۴۷

ادارہ توہین رسالت اور مسلم امہ کی ذمہ داریاں ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۱۱ مارچ ۲۰۰۸ء ۳

ادارہ محمد ﷺ کے گستاخانہ خاکے ماہنامہ الدعوۃ لاہور مارچ ۲۰۰۸ء ۵، ۴۲

ادارہ یہود و نصاریٰ کے معاندانہ عزائم اور ماہنامہ الحسن لاہور مئی ۲۰۰۸ء ۱۱ تا ۱۳

اُمتِ مسلمہ کی بیداری

اسرار احمد ڈاکٹر اسلام دشمنی مغرب کے اہداف کیا ہے ہفت روزہ ندائے خلافت لاہور ۲۴ اپریل ۰۸ء ۸ تا ۹

اشتیاق بیگ گستاخ رسول کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ماہنامہ ندوۃ العلم کراچی جنوری ۲۰۰۸ء ۲۰ تا ۲۱

اظہر منظور المانی مغرب کا اظہار آزادی اس قدر پراگندہ کیوں ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۳ اپریل ۲۰۰۸ء ۱۶

اکرم فضل گستاخ ممالک سے بائیکاٹ کیا جائے ۱۵ روزہ صحیفہ اہلحدیث کراچی ۲۳ مئی ۲۰۰۸ء ۱۱ تا ۱۲

اللہ دتہ مفتی ڈنمارک۔ رائے کے اظہار کی آزادی ماہنامہ بلاغ القرآن لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۱۲ تا ۱۴

امجد عباسی توہین آمیز خاکوں کی مکروہ اشاعت ترجمان القرآن لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۱۹ تا ۲۲

انور غازی توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور یورپ ماہنامہ محدث لاہور مارچ ۲۰۰۸ء ۷۶ تا ۸۰

امین خان توہین قرآن پر مبنی فلم ہفت روزہ ایشیا لاہور ۲۸ فروری ۲۰۰۸ء ۲۴ تا ۲۸

بابر فاروق حافظ گستاخ۔ ہمارے جذبات سے نہ کھیلیں ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۱۱ اپریل ۲۰۰۸ء ۱۹ تا ۲۰

برق التوحیدی گستاخانہ خاکے اور ہماری منافقت التوحید ٹوبہ ٹیک سنگھ مارچ ۲۰۰۸ء ۱ تا ۳

مئی، جون ۰۸ء

صفحہ 222

4. 5. 6. 7. 8. 23. Pla

com

اشاریہ مضامین حرمت رسول ﷺ

تنزیل الصدیق الحسینی دربار رسالت ﷺ کے مجرم جامعہ ابی بکر اسلامیہ کراچی مئی ۲۰۰۸ء ۲ تا ۳

حامد الرحمٰن حرمت رسول ﷺ پر جان بھی قربان ہے ماہنامہ ہمقدم لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۲

حامد کمال الدین ناموس رسالت ﷺ اور مغرب کے اوباش ماہنامہ ضرب طیبہ لاہور مئی ۲۰۰۸ء ۴ تا ۷

حامد کمال الدین ہلاک ہوئے کارٹونوں والے ماہنامہ ضرب طیبہ لاہور مئی ۲۰۰۸ء ۱۶ تا ۱۹

حذیفہ وستانوی جانور بھی گستاخی رسول کو برداشت نہ کر سکا ماہنامہ الفاروق کراچی جون ۲۰۰۸ء ۲۳ تا ۲۵

حسن مدنی حافظ احادیث میں توہین رسالت کے واقعات ماہنامہ محدث لاہور مارچ ۲۰۰۸ء ۶۱ تا ۷۵

حسن مدنی حافظ رحمۃ للعالمین ﷺ کی توہین اور ہمارا فرض ماہنامہ محدث لاہور مارچ ۲۰۰۸ء ۲ تا ۱۹

حشمت اللہ صدیقی توہین آمیز خاکے ۱۵ روزہ صحیفہ اہلحدیث کراچی ۱۰ مارچ ۲۰۰۸ء ۱۳ تا ۱۳

خالد ارشد شیخ حرمت رسول ﷺ ضیائے حدیث سوہدرہ مارچ ۲۰۰۸ء ۳۸ تا ۴۵

خلیل الرحمٰن قادری گستاخی رسول ۔ وسیع البنیاد بین الاقوامی ماہنامہ سوئے حجاز لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۲ تا ۵ قانون سازی کی ضرورت

راشد الحق سمیع یورپ کا دوبارہ توہین رسالت کا ارتکاب ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک اپریل ۲۰۰۸ء ۲ تا ۳

رپورٹ ناموس رسالت ﷺ کنونشن منہاج القرآن لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۴۰ تا ۴۳

رعایت اللہ فاروقی قانون توہین رسالت ﷺ ماہنامہ الاحرار لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۲۰ تا ۲۷

رفیق احمد بالاکوٹی گستاخ رسول کی شرعی سزا اور حکومت کی ذمہ داری ماہنامہ بینات کراچی جون ۲۰۰۸ء ۳۰ تا ۳۳

رسالہ

زبیر احمد حرمت رسول ﷺ کا تحفظ ماہنامہ ضرب طیبہ لاہور مئی ۲۰۰۸ء ۱۲ تا ۱۵

زیب النساء اے کشتہ ستم تیری غیرت کو کیا ہوا؟ ماہنامہ فکر لاثانی علی پور مارچ ۲۰۰۸ء ۷۳ تا ۷۹

ساجد میر، پروفیسر گستاخ رسول کی شرعی سزا اور اس کی معافی ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۱۹ اپریل ۲۰۰۸ء ۷ تا ۸

سعید احمد جلالپوری قانون توہین رسالت ﷺ میں کمزوریاں ماہنامہ بینات کراچی مارچ ۲۰۰۸ء ۱ تا ۱۷

ضیا الحق نقشبندی تحفظ ناموس رسالت ﷺ ریلی ماہنامہ فکر لاثانی علی پور اپریل ۲۰۰۸ء ۵۵ تا ۵۶

طیب قاسمی قاری شان رسالت ﷺ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر ماہنامہ الحسن لاہور فروری ۲۰۰۸ء ۱۸ تا ۲۳

عاکف سعید حافظ توہین رسالت ﷺ پر مبنی خاکوں کی اشاعت ماہنامہ میثاق لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۳ تا ۶

عبدالجبار شاکر توہین رسالت ﷺ اور مغرب ترجمان الحدیث فیصل آباد مئی ۲۰۰۸ء ۱۱ تا ۲۳

عبدالجبار شاکر توہین رسالت ﷺ اور مغرب ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۷ مئی ۲۰۰۸ء ۷ تا ۱۱

عبدالجبار عبدالغنی تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے تقاضے ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۲۹ مارچ ۲۰۰۸ء ۷ تا ۹

عبدالحق الحدیدی اُمت مسلمہ ایک اور عامر چیمہ کی منتظر جامعہ ابی بکر اسلامیہ کراچی اپریل ۲۰۰۸ء ۲۲ تا ۲۳

عبدالحمید عامر حافظ خاک کا ڈھیر ماہنامہ حرمین جہلم مئی ۲۰۰۸ء ۳ تا ۶

عبدالرؤف سکھروی توہین رسالت اور گستاخان رسول کا بدترین انجام ماہنامہ المعہد کراچی مئی ۲۰۰۸ء ۷۰ تا ۹۳

عبدالستار شانی ملعون اکبر رشدی ماہنامہ نورالعرفان لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۲۳

عبدالقدوس مفتی اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین کے خلاف قانون ماہنامہ الحقانیہ سرگودھا اپریل ۲۰۰۸ء ۳ تا ۶

------ جمادی الاولیٰ، الاٰخرۃ ۱۴۲۹ھ ------

عبدالوحید سلیمان حرم عبداللہ عفیف گستا عبداللہ عفیف گستا عبداللہ لطیف توہین عبداللہ لطیف توہین عظیم سرور یہ خا علامہ اکرام گستاخ عمران احمد قاضی ناموس فارس اے نور امریک فضل ربی مولانا قاسم رسول ڈاکٹر آقا کریم الدین عمر کلیم یونس حافظ محمد اسلم رضوی محمد اسلم رضوی محمد اکرم فضل محمد امجد محمد تقی عثمانی محمد زبیر آل محمد سمیع محمد طفیل محمد طفیل محمد عثمانی محمد نور الحق محمد نور الحق محمد توقیر حفیظ محمد ظہور الحسین اظہر محمد محب اللہ نوری

صفحہ 223

فکر اسلامیہ کراچی مئی ۲۰۰۸ء ۲ تا ۳ الاعتصام لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۲ ضرب طیبہ لاہور مئی ۲۰۰۸ء ۷ تا ۱۴ ضرب طیبہ لاہور مئی ۲۰۰۸ء ۱۶ تا ۱۹ القاروق کراچی جون ۲۰۰۸ء ۲۳ تا ۲۵ محدث لاہور مارچ ۲۰۰۸ء ۵۶ تا ۷۱ محدث لاہور مارچ ۲۰۰۸ء ۲ تا ۱۹ صحیفہ اہلحدیث کراچی ۱۰ مارچ ۲۰۰۸ء ۱۳ تا ۱۶ حدیث سوہدرہ مارچ ۲۰۰۸ء ۳۵ تا ۳۸ ندائے حجاز لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۲ تا ۵

حق اکوڑہ خٹک اپریل ۲۰۰۸ء ۲ تا ۳ القرآن لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۴۰ تا ۴۴ الاحرار لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۲۰ تا ۲۷ بینات کراچی جون ۲۰۰۸ء ۳۰ تا ۳۳ ضرب طیبہ لاہور مئی ۲۰۰۸ء ۱۲ تا ۱۵ ثر لاثانی علی پور مارچ ۲۰۰۸ء ۷۳ تا ۷۹ زہ اہلحدیث لاہور ۱۹ اپریل ۲۰۰۸ء ۷ تا ۸ بینات کراچی مارچ ۲۰۰۸ء ۳ تا ۱۷ ثر لاثانی علی پور اپریل ۲۰۰۸ء ۵۵ تا ۵۶ من لاہور فروری ۲۰۰۸ء ۱۸ تا ۲۳ میثاق لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۳ تا ۶ الحدیث فیصل آباد مئی ۲۰۰۸ء ۱۱ تا ۲۳ زہ اہلحدیث لاہور ۷ مئی ۲۰۰۸ء ۱۱ تا ۱۷ زہ اہلحدیث لاہور ۲۹ مارچ ۲۰۰۸ء ۷ تا ۹ فکر اسلامیہ کراچی اپریل ۲۰۰۸ء ۲۲ تا ۲۳ حرمین جہلم مئی ۲۰۰۸ء ۳ تا ۶ معھد کراچی مئی ۲۰۰۸ء ۷۰ تا ۹۴ العرفان لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۲۳ حقانیہ سرگودھا اپریل ۲۰۰۸ء ۳ تا ۶

محمد زاہد حنیف سازی کی ضرورت عبدالوحید سلیمان حرمت رسول ﷺ پر صیہونی حملے ماہنامہ خطیب لاہور مئی ۲۰۰۸ء ۵ تا ۱۳ عبید اللہ عفیف گستاخ رسول کی شرعی سزا کے متعلق چند سوال چند جواب تنظیم اہلحدیث لاہور ۹ مئی ۲۰۰۸ء ۵ تا ۹ عبید اللہ عفیف گستاخ رسول کی شرعی سزا ہفت روزہ الاعتصام لاہور ۹ مئی ۲۰۰۸ء ۱۳ تا ۱۸ عبید اللہ لطیف توہین رسالت پر احتجاج ہفت روزہ الاعتصام لاہور ۲۴ اپریل ۲۰۰۸ء ۱۷ تا ۱۸ عبید اللہ لطیف توہین رسالت پر احتجاج صحیفہ اہلحدیث کراچی ۲۳ اپریل ۰۸ء ۲۰ تا ۲۱ عظیم سرور یہ ڈنمارک والے کون ہیں ماہنامہ عرفات لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۶۱ تا ۶۳ علماء اکرام گستاخی سازش کے سدباب کے لئے ٹھوس لائحہ عمل پندرہ روزہ البصیر فیصل آباد مئی ۲۰۰۸ء ۹ تا ۱۰ عمران احمد قاضی ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ ماہنامہ ندوۃ العلم کراچی اپریل ۲۰۰۸ء ۷ تا ۱۲ فارش اے نور امریکہ، یورپ اور عالم اسلام ماہنامہ روح بلند لاہور مئی ۲۰۰۸ء ۲۴ تا ۲۷ فضل ربی مولانا گستاخ رسول ﷺ کی سزا پندرہ روزہ صحیفہ اہلحدیث کراچی ۲۳ مئی ۲۰۰۸ء ۱۳ تا ۱۶ قاسم رسول ڈاکٹر آزادی اظہار یا کچھ اور؟ ہفت روزہ ایشیا لاہور ۳ جنوری ۲۰۰۸ء ۱۹ تا ۲۱ کریم الدین عمر روشن خیالی اور توہین رسالت ماہنامہ عرفات لاہور مئی ۲۰۰۸ء ۱۸ تا ۲۲ کلیم یونس حافظ نبی اکرم ﷺ کی شان اور گستاخ رسول کا انجام اور سزا ماہنامہ ندائے سلفیہ فیصل آباد مئی ۲۰۰۸ء ۱۴ تا ۲۴ محمد اسلم رضوی توہین آمیز خاکے اور وقت کی پکار ماہنامہ راہ فلاح لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۹ تا ۱۱ محمد اسلم رضوی توہین آمیز خاکے ماہنامہ ضیائے حرم لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۴۰ تا ۴۳ محمد اکرم فضل تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ریاض ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۷ اپریل ۲۰۰۸ء ۲۶ تا ۲۸ محمد امجد سعید تورات اور انجیل میں توہین انبیاء المفکرۃ الاسلامیہ گجرات جنوری ۲۰۰۸ء ۳۱ تا ۳۲ محمد تقی عثمانی مفتی گستاخانہ خاکے و فلم فتنہ تدریس القرآن کراچی مئی ۲۰۰۸ء ۷ تا ۱۰ محمد زبیر آل محمد گستاخ رسول کی سزا اور اس کا انجام ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۱۱ مارچ ۲۰۰۸ء ۷ تا ۹ محمد سمیع نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والو ہفت روزہ ندائے خلافت لاہور ۳ اپریل ۰۸ء ۸ محمد طفیل گستاخانہ خاکوں پر حکومت کا فیصلہ صحیفہ اہلحدیث کراچی ۷ مئی ۲۰۰۸ء ۱۴ تا ۱۵ محمد طفیل گستاخانہ خاکوں کی اشاعت صحیفہ اہلحدیث کراچی ۲۵ مارچ ۰۸ء ۱۹ تا ۲۱ مدثر عثمانی ناموس رسالت پس منظر اور پیش منظر ماہنامہ آب حیات لاہور مارچ ۲۰۰۸ء ۱۳۷ تا ۱۴۱ محمد نور الحق گستاخانہ خاکے اسباب اور ہماری ذمہ داریاں ماہنامہ المعھد کراچی مئی ۲۰۰۸ء ۳ تا ۷ محمد نور الحق دشمنان دین وملت کا موثر جواب ماہنامہ المعھد کراچی جنوری ۲۰۰۸ء ۳ تا ۶ محمد توقیر حفیظ توہین آمیز خاکے اور اُمت مسلمہ کا کردار ماہنامہ الاخوۃ لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۳۳ تا ۳۴ محمد ظہور الحسین اظہر توہین آمیز خاکے ماہنامہ حق چار یار لاہور مئی ۲۰۰۸ء ۳ تا ۴ محمد محب اللہ نوری تحفظ ناموس رسالت ﷺ ماہنامہ نور الحبیب بصیر پور مارچ ۲۰۰۸ء ۵ تا ۷

مئی، جون ۰۸ء

اشاریہ

صفحہ 224

اشاریہ مضامین حرمت رسول ﷺ

محمود الرشید حدوثی ہندو راہنما اور رسالت مآب ﷺ ماہنامہ آب حیات لاہور مارچ ۲۰۰۸ء ۷۳ تا ۷۶ مسز محمد فیصل غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے ماہنامہ ندوۃ العلم کراچی مئی ۲۰۰۸ء ۳۹ تا ۴۰ مصطفیٰ راح، نعیم الرحمٰن گستاخانہ خاکے فلم فتنہ ماہنامہ رشد لاہور مارچ / اپریل ۲۰۰۸ء ۲ تا ۱۰ منظور احمد نعمانی ناموس رسالت ﷺ اور سرفروشاں اسلام ماہنامہ آب حیات لاہور مارچ ۲۰۰۸ء ۶۹ تا ۷۲ نذیر احمد اسد تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا رواں لمحہ بہ لمحہ ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۱۹ اپریل ۲۰۰۸ء ۲۳ تا ۲۴ نذیر الحسن تحفظ ناموس رسالت کے لئے بچوں کا سب سے بڑا مظاہرہ خواتین میگزین لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۱۵ نذیر الحسن ناموس رسالت ﷺ کے لئے ریلیاں ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۳ مارچ ۲۰۰۸ء ۹ تا ۱۰ نور محمد اعوان ڈاکٹر گستاخانہ خاکے اور مغرب کی فکری پسماندگی ماہنامہ ہمقدم لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۱۶ تا ۱۸ وسیم ڈنمارک اور ہالینڈ کی گستاخی ماہنامہ ندوۃ العلم کراچی مئی ۲۰۰۸ء ۴۱ تا ۴۴ یاسر حبیب اللہ توہین رسالت ﷺ کی جرات کیوں ماہنامہ بینات کراچی اپریل ۲۰۰۸ء ۴۶ تا ۵۲ یاسر ریاض آزادی اظہار اور مغرب کا دوغلا پن خواتین میگزین لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۱۳ تا ۱۴ یاسر ریاض آزادی اظہار رائے اور مغربی رویہ ماہنامہ پکار ملت لاہور اپریل ۲۰۰۸ء ۲۳ تا ۲۵ .................. قرآن اور محمد عربی ﷺ کی شان میں گستاخی تذکرہ دارالعلوم خانیوال مئی ۲۰۰۸ء ۲۹ تا ۳۲

٭......٭......٭

وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین

—جمادی الاولیٰ، الآخرۃ ۲۹ھ—

com

4. 5. 6. 7. 8. 23. Plan

محمد رسول اللہ

بذریعہ ڈاک منگوانے کی سہولت موجود ہے

ناشر

بہاء الدین زکریا یونیورسٹی حدیث شریف ایمان افروز اقوال رسول خوبصورت و

PDF 225

قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ

طالبان علم کا علمی و فکری مجلہ

رُشد

لاہور

ماہنامہ

جون ۲۰۰۸ء

حرمتِ رسول

نمبر

سرپرست

حافظ عبدالرحمٰن مدنی

نگران

مولانا محمد رمضان سلفی

إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ

ہم کافی ہیں آپ ﷺ کی طرف سے ان مذاق اڑانے والوں کو۔ سورۃ الحجر آیت 95

جامعۃ لاھور

الاسلامیۃ

پاکستان

مُحَمَّد

صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم

Denmark

Norway

Germany

Holland

يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ

یہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کے نور کو اپنے منہ سے، اور اللہ کو پورا کرنا ہے اپنا نور، خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔

سورۃ الصف آیت 8

قیمت خصوصی اشاعت 30 روپے

جاوید خان

0321 4041991