پندرہ روزہ کورس برائے ردِ قادیانیت · مولانا منظور احمد چنیوٹی
15 Roza Rad-e-Qadyaniyat Course · Maulana Manzoor Chinioti
PDF 1

قادیانیت دستاویزی ثبوتوں کے حصار میں پندرہ روزہ کورس برائے

رَدِّ قادیانیت

قادیانی کُتُب کے حَوَالہ جات کا عَکْس مُبَلِّغین اور مناظرین کے لئے لاجواب ھتھیار

افادات

سَفِیرِ خَتْمِ نُبُوَّت، قاطع مرزائیت، مُناظرِ اسلام حضرت علّامہ مَولانا مَنْظُور اَحْمَد چنیوٹی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ

PDF 2

قادیانیت دستاویزی ثبوتوں کے حصار میں

پندرہ روزہ کورس برائے

رَدِّ قادیانیّت

قادیانی کتب کے حوالہ جات کا عکس، مبلغین اور مناظرین کے لیے لاجواب تحفہ!

سفیر ختم نبوت قاطع مرزائیت حضرت علامہ

مولانا منظور احمد چنیوٹی

جنرل سیکرٹری انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ

(ناشر)

کتاب گھر: السادات سینٹر بالمقابل دارالافتاء والارشاد ناظم آباد کراچی

PDF 3

نام کتاب.............ردّ قادیانیت افادات.............مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ سن اشاعت بار اوّل.............اگست ۲۰۰۱ء سن اشاعت بار دوم.............مع اضافات و ضمیمہ مفیدہ جنوری ۲۰۰۴ء کمپوزنگ و اسکینگ.............مولوی محمد عمران دہلوی، مولوی محمد اشرف، جمال عبداللہ عثمانی تصحیح و ترتیب.............مولوی آصف محمود، مولوی مدثر الاسلام ناشر.............کتاب گھر، السادات سینٹر بالمقابل دارالافتاء والارشاد ناظم آباد کراچی ہدیہ............. تعداد.............۲۰۰۰

ملنے کے پتے

فون: ۶۶۸۳۳۰۱-۰۲۱ ، ۶۶۸۸۲۳۹-۰۲۱

فون: ۳۳۲۸۶۰-۰۴۶۶، فیکس: ۳۳۱۳۳۰-۰۴۶۶

PDF 4

محدث العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے دو ملفوظ

ملفوظ نمبر ۱

مرض الموت میں حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی چارپائی اٹھوائی اور دارالعلوم دیوبند کی مسجد کے محراب کے پاس رکھوا کر آخری وصیت ارشاد فرمائی: ”اس اُمت کیلئے اب تک قادیانیت سے بڑھ کر فتنہ وجود میں نہیں آیا۔ مسلمانوں کے ایمان کو اس فتنۂ ارتداد سے بچاؤ اور اپنی ساری قوتیں اس میں صرف کر ڈالو۔ یہ ایسا جہاد ہے جس کا بدلہ جنت ہے، میں اس بدلے کا ضامن بنتا ہوں ۔“

یہ روایت حضرت علامہ مولانا شمس الحق افغانی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمائی، جسے نقل کر کے انکے تصدیقی دستخط کروا لئے گئے ،حضرت افغانی نے فرمایا کہ حضرت شاہ صاحب کی یہ روایت مجھے مولانا محمد صدیق صاحب جو حاضر مجلس تھے کی وساطت سے پہنچی تھی، انہوں نے فارسی میں خط لکھا جس کا ایک جملہ یہ تھا:

”دریں بارہ کلام پر اثر نمود کہ سنگ خارہ موم مے کرد“

ملفوظ نمبر ۲

”ہم پہ یہ بات کھل گئی ہے کہ گلی کا کتا بھی ہم سے بہتر ہے اگر ہم تحفظ ختم نبوت نہ کرسکیں ۔“

(نقش دوام : از مولانا انظر شاہ کشمیری، مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان، ص ۱۹۱)

صفحہ (الف)

بخاطر حصول شفاعت

جامعۃ الرشید چونکہ علماء و طلبہ کی خدمت کے ساتھ عوام میں دینی شعور پیدا کرنے کے لئے کوشاں رہا ہے اس لئے تعلیم بالغاں کے لئے ”فہم دین کورس“ کے ساتھ اس سال گرمیوں کی چھٹی میں اسکول و کالج کے طلبہ کے لئے چالیس روزہ ”دورۂ صیفیہ“ (سمر کیمپ) کا بھی انعقاد کیا گیا۔ اس میں ہر اتوار کو اکابر علماء کو دعوت دی جاتی تھی کہ وہ دورہ کے شرکاء اور دیگر حاضرین سے کسی موضوع پر بیان فرمائیں۔ اس سلسلے میں جب قادیانیت سے تعارف کے لئے سفیر ختم نبوت حضرت علامہ منظور احمد صاحب چنیوٹی دامت برکاتہم العالیہ کو زحمت دی گئی کہ وہ اپنی زندگی بھر کی محنت اور تجربات سے جامعہ کے اساتذہ و طلبہ اور دورہ کے شرکاء کو استفادہ کا موقع دیں تو جامعہ کے اساتذہ اور درجہ تخصص و تکمیل کے طلبہ کی خواہش ہوئی کہ حضرت اگر انہیں مزید وقت دیں اور ردّ قادیانیت کے بنیادی اصولوں سے واقف کر دیں تو یہ ان کے لئے بہت نافع اور مفید ہوگا۔ حضرت نے ...... اللہ تعالیٰ ان کی صحت اور عمر میں برکت عطا فرمائے ...... یہ درخواست قبول فرمالی اور پندرہ روزہ دورہ کی تدریس کا اعلان کر دیا گیا۔

صفحہ (ب)

اتفاق سے بندہ انہی دنوں قادیان اور اسرائیل کے درمیان خفیہ تعلقات کے دستاویزی ثبوتوں پر کام کر رہا تھا۔ اس ”کھوج کھرے“ کے پیچھے پھرتے پھرتے خبر لگی کہ فیصل آباد کے ایک نوجوان بھائی کامران کے پاس نقشوں اور تصویروں کا ایسا نایاب ذخیرہ ہے جس سے مطلب کی چیز ہاتھ لگ سکتی ہے۔ بندہ فیصل آباد جا پہنچا، وہاں سے چناب نگر کی سیر اور تصویریں لینے کا شوق چرایا تو حضرت دامت برکاتہم کی خدمت میں چنیوٹ حاضری دی۔ دورۂ صیفیہ کے دوران چونکہ جمعرات کے دن شرکاء کو تاریخ اسلام، سیرت نبوی اور جغرافیہ قرآنی کے متعلق نقشے، تصاویر اور خاکے پروجیکٹر پر دکھائے جاتے تھے اس لئے بندہ نے حضرت سے عرض کی کہ آپ اس دورہ میں خوب اہتمام فرمائیں، قادیانیوں سے متعلق تمام کتب ساتھ لے چلیں، حوالہ جات کے عکس سبق کے دوران پرجیکٹر پر دکھائے جائیں گے اور پھر ان کو کتاب کے آخر میں لگا دیا جائے گا۔ چنانچہ یہ ”عکسی ضمیمہ“ جو آپ کے ہاتھ میں ہے اسی دورہ کے دوران تیار کیا گیا۔ اس کی ترتیب میں ہمارے ہاں کے تخصص کے طلبہ نے ...... جن کے نام ضمیمہ کے سرورق پر لکھے گئے ہیں ...... نہایت جانفشانی سے کام کیا۔ بندہ کی خواہش تھی کہ اس ضمیمہ کے ساتھ ”رد قادیانیت کے زریں اصول“ کا ضمیمہ بھی انہی پندرہ دنوں میں تیار ہو جانا چاہیے بعد میں حضرت دامت برکاتہم تشریف لے جائیں گے،

صفحہ (ج)

قادیانیوں کی کتابیں ہاتھ نہ لگیں گی، طلبہ بھی تمرین افتاء میں مشغول ہوجائیں گے پھر یہ کام کہیں ادھورا نہ رہ جائے، اس واسطے ان طلبہ نے دن رات محنت کی، تمام حوالہ جات کی اصل مآخذ ومصادر سے مراجعت وتطبیق کی، جو کتابیں موجود نہ تھیں ان کے حصول کے لئے رابطے کئے گئے اور بالآخر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور معجزہ ختم نبوت کی برکت سے یہ کام پایۂ تکمیل تک پہنچا، کچھ حوالہ جات نہ مل سکے تھے ان کو بعد میں تلاش کرلیا گیا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ حضرت علامہ صاحب دامت برکاتہم کا سایہ تادیر قائم رکھے۔ جن طلبہ نے یہ محنت کی ہے ان کے علم، عمر اور خدمات میں برکت عطا فرمائے، انہیں اس طرح کے مزید مفید اور تحقیقی کاموں کے لئے موفق فرمائے، جامعۃ الرشید کو ...... جس نے اس کام کے لئے جملہ سہولتیں فراخدلی سے مہیا کیں ....... اکابر کے قائم کردہ اداروں کی طرح قبولیت خاصہ اور نافعیت عامہ عطا فرمائے اور ختم نبوت کی اس حقیر خدمت کو ہم سب کی طرف سے اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرما کر روز قیامت جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور زیارت کا ذریعہ بنائے۔

آمین یارب الضعفاء والمساکین.

ابولبابہ غفرلہٗ ۱۴۲۴/۶/۷ھ

صفحہ ۷

پیش لفظ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمدللہ وحدہ، والصلوۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ ،

أما بعد:

دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈو الہ یار سندھ سے فراغت کے بعد ملتان میں امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ صاحب بخاری کے قائم کردہ ختم نبوت مدرسہ میں رد قادیانیت کی تربیت حاصل کرنے کیلئے 1951ء میں بندہ ناچیز داخل ہوا، فاتح قادیان استاذ محترم حضرت مولانا محمد حیات صاحبؒ سے تربیت حاصل کی ، ہم کل چار یا پانچ ساتھی تھے ۔ 1952ء کے اوائل میں فارغ ہوا اور اس کے بعد مدرسہ دارالہدیٰ چوکیرہ ضلع سرگودہا میں تدریس کی خدمت پر مامور ہو گیا ، درسی کتب پڑھانے کے ساتھ ساتھ طلباء کو رد قادیانیت کی تربیت دینا بھی شروع کر دی ، وہاں سے 1954ء میں اپنے آبائی شہر چنیوٹ آ کر جامعہ عربیہ کی بنیاد رکھی ، اور حسب معمول طلبہ کی تربیت جاری رہی ، پھر میرے مربی اور شفیق استاذ حضرت علامہ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے حکم پر شعبان کی تعطیلات میں کراچی میں ان کے جامعہ علوم الاسلامیہ میں مدت تک یہی خدمت سرانجام دینے کی سعادت حاصل کرتا رہا ، اسی طرح تنظیم اہل سنت کے زیر اہتمام ملتان میں بھی حضرت علامہ دوست محمد قریشیؒ اور حضرت علامہ عبدالستار تونسوی مدظلہ کے حکم پر دس یا پندرہ روزہ تربیتی کورس کراتا رہا۔ اپنی کاپی جو راقم نے اپنے استاذ مرحوم فاتح قادیان سے دوران تربیت لکھی تھی ، اس سے ضروری حوالہ جات طلباء کو لکھواتا تھا اور بندہ نے اپنے تجربہ کی روشنی میں ایک نئی ترتیب دے دی ، جس میں

صفحہ ٨

استاذ محترم کی ترتیب کے برعکس پہلا موضوع بجائے ”حیات عیسیٰ علیہ السلام“ کے ” مرزا قادیانی کے صدق و کذب“ کو اصل موضوع قرار دیا اور قادیانیوں سے موضوع گفتگو طے کرنے کیلئے عقلی اور نقلی دلائل سے ثابت کیا کہ اصل موضوع مدعی نبوت کی ذات اور کردار ہے۔ اگر وہ ایک سچا اور شریف النفس انسان بھی ثابت ہو جائے تو ہمیں دوسری بحثوں ”حیات مسیح علیہ السلام“ اور ”ختم نبوت“ کے موضوعات پر گفتگو کرنے اور فریقین کا وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں، ہم بغیر کسی قسم کی بحث کئے اسے اپنے تمام دعاوی میں سچا مان لیں گے اور اگر وہ اپنی تحریرات سے شریف اور سچا انسان ہی ثابت نہ ہو، بلکہ پرلے درجہ کا کذاب، بدزبان، بدکردار، بداخلاق، شرابی، زانی اور انگریز کا ٹاؤٹ ثابت ہورہا ہو تو پھر دوسری بحثوں میں پڑنا فریقین کا وقت ضائع کرنا ہے، جیسا کہ مرزا قادیانی اور اسکے دونوں جانشینوں نے خود اس بات کا فیصلہ دے دیا ہے۔

اس لئے میری ترتیب میں پہلا عنوان ”تعین موضوع“ ہے اور یہی اصل موضوع ہے جس پر راقم نے عقلی و نقلی دلائل پیش کئے ہیں، اس موضوع کو طے کر لینے کے بعد حدیث رسول کریم ﷺ کے مطابق قادیانی کے کذاب و دجال ہونے پر چند دلائل دیے گئے ہیں، اس کے بعد ”حیات مسیح“ پھر ”ختم نبوت“ کا موضوع پیش کیا گیا ہے۔

جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی اور دفتر تنظیم اہلسنت ملتان میں تیاری کراتے ہوئے شریک درس طلبہ سے نوٹس تیار کرنے کیلئے کہا، ان نوٹس کی جانچ پڑتال کرکے ایک کاپی تیار کی۔ آئندہ ہر سال اسی کاپی کی فوٹوسٹیٹ اپنے طلبہ میں تقسیم

صفحہ 9

کردی جاتی۔ اس طرح ان نوٹس سے طلباء کا وقت بھی بچا اور دوران تحریر وہ عجیب غریب غلطیوں سے بھی بچ گئے۔ دوران کورس قادیانی کتب سے حوالہ جات دکھائے جاتے تا کہ انہیں عین الیقین ہوجائے اور حوالہ جات کی مزید تشریح زبانی کر دی جاتی۔

اسی کاپی کی مدد سے مسجد نبوی شریف میں کئی سال مغرب اور عشاء کے درمیان یونیورسٹی کے طلبہ کو عربی میں پڑھاتا رہا۔ ۱۹۸۵ء میں مدینہ یونیورسٹی کے چانسلر نے شاہ فہد کی خصوصی اجازت سے سرکاری طور پر اس حقیر کو دعوت دی تو بندہ یونیورسٹی میں طلبہ کو عصر سے مغرب تک اسی کاپی کی مدد سے تیاری کراتا رہا۔ ایشیا کی عظیم اسلامی یونیورسٹی اور ہماری مادر علمی دارالعلوم دیوبند کے منتظمین نے 1990ء میں دارالعلوم میں ایک تربیتی کیمپ کا انتظام کیا، پورے ہندوستان سے منتخب علماء کو جمع کیا گیا اور دارالعلوم سے فارغ ہونے والے طلبہ کی ایک کثیر تعداد اس کے علاوہ تھی۔

بندہ نے ان نوٹس کی ایک کاپی وہاں ارسال کی کہ اس کی فوٹوسٹیٹ کروالیں تاکہ حاضرین کورس میں تقسیم کی جاسکے۔ چونکہ حاضرین کی تعداد زیادہ تھی اس لئے انہوں نے دو ہزار کے قریب اسی کاپی کو چھپوالیا۔

چونکہ قلمی کاپی کی نسبت پرنٹ کاپی کے صفحات کی تعداد کم تھی، نیز اکابر علماء دیوبند کی خواہش تھی کہ اس کاپی کو کتابی شکل میں بھی شائع کیا جائے، اگر چہ راقم اس رائے سے کچھ زیادہ متفق نہیں تھا کیونکہ اس کا کامل فائدہ باضابطہ پڑھنے سے ہی ہوتا ہے، لیکن اکابر کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے بندہ ناچیز نے اس کی اجازت دے دی۔ چنانچہ میرے مشورہ اور رائے سے اس میں چند مفید اضافے کر کے اور کچھ ترتیب درست کر کے عزیز محترم مولانا سلمان منصور پوری اطال اللہ عمرہ، نائب مفتی

صفحہ 10

واستاذ جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مراد آباد، نواسہ حضرت شیخ العرب والعجم مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے اسے کتابی شکل میں ترتیب دے دیا۔ میری نظر ثانی اور چند ضروری اضافہ جات کے بعد اب یہی کتاب ”رد مرزائیت کے سنہری اصول“ کے عنوان سے کتابی شکل میں تقریباً اڑھائی سو صفحات پر مشتمل، دارالعلوم دیوبند کی کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چھپ چکی ہے اور وہاں سے دستیاب ہوسکتی ہے۔

بعد ازیں جب جولائی ۲۰۰۳ء میں الرشید ٹرسٹ کراچی کے زیر اہتمام جامعۃ الرشید، اور دارالافتاء والارشاد کی انتظامیہ کی خواہش پر کراچی کے مختلف جامعات کے علماء اور درجہ تخصص کے طلبہ کو یہ کورس کرانے کے لئے جامعۃ الرشید احسن آباد کراچی حاضری ہوئی تو یہاں بھی اسی ”کاپی“ کی مدد سے پندرہ روزہ کورس کرایا۔

یہاں تو ماشاء اللہ جدید آلات اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ مشینری اور اعلیٰ سے اعلیٰ وسائل دستیاب ہوئے ہیں جن کے ذریعہ اسباق پڑھانا مزید آسان اور سمجھانا اور زیادہ سہل ہو گیا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے تو حوالہ جات کتابوں سے دکھا کر بات سمجھائی جاتی تھی مگر اب ان جدید وسائل کی دستیابی کے بعد جامعۃ الرشید والوں نے یہ انتظام کیا ہے کہ جو حوالہ جات دکھانا درکار ہو تو اس صفحہ کو کمپیوٹر پر اسکین کر کے جس ہال یا کمرہ میں سبق ہو رہا ہو وہاں سامنے دیوار پر بڑے پروجیکٹر کے ذریعہ مطلوبہ صفحہ دکھایا جاتا جو دور بیٹھا شخص بھی با آسانی اس صفحہ کی عبارت کو خود دیکھ اور پڑھ سکتا ہے۔ اس سے پڑھنے والے کو ”عین الیقین“ ہو جاتا ہے۔ اور ماشاء اللہ اگلا اقدام انہوں نے یہ کیا کہ ان تمام حوالہ جات کو ایک سی، ڈی (کومپیکٹ ڈسک) میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا ہے اس سے دو بہت بڑے فائدے ہوئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ میرا یہ زندگی

صفحہ 11

بھر کی محنت کا نچوڑ محفوظ ہوگیا ہے کہ اب میں بالکل مطمئن ہوں یہ اب بعد میں بھی ہمیشہ کام آتا رہے گا۔ اور دوسرا اس سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اب جہاں بھی دورہ پڑھانے کے لئے جانا ہوگا تو پہلے کی طرح کتابوں کی پیٹیاں اور بھاری بھرکم بکسے اٹھا کر لے جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی بلکہ صرف وہی ایک سی ڈی لے لی اور باقی کتابوں کے بغیر ہی سفر پر چلا گیا جیسا کہ گزشتہ دنوں لندن کے ابراہیم کمیونٹی کالج کے ڈائریکٹر مولانا حافظ محمد مشفق الدین کی دعوت پر گیا ہوں وہاں صرف یہی ایک سی ڈی ہی لے کر گیا تھا، جس کی مدد سے مکمل دورہ پڑھا کر آیا ہوں، حوالہ والی دیگر کتب کے بوجھ اٹھانے کی بالکل ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑا کارنامہ ہے اور بہت بڑا کام ہوگیا ہے جو پچاس سالوں میں اب تک نہیں ہوا تھا اس ساری محنت کا سہرا جامعۃ الرشید کراچی کی انتظامیہ کے سر ہے جنہوں نے دن رات ایک کر کے تمام وسائل بڑی خوشدلی سے اور فراخدلی سے استعمال میں لا کر یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے۔۔۔۔۔۔ اس پر میں ان حضرات کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کیونکہ اس کام سے بندہ کو قلبی خوشی اور اطمینان حاصل ہوا ہے۔ جامعۃ الرشید والوں نے صرف اسی پر ہی بس نہیں کی بلکہ ایک اور حوصلہ افزاء اور خوش کن کام یہ کیا کہ میرے بعض ضروری ترامیم و اضافہ کو جو اب میں نے کئے ہیں ان کو شامل کرنے کے بعد اس کاپی میں مرزا قادیانی کی جن جن کتب کا حوالہ دیا گیا ہے ان تمام حوالہ جات کو آخر میں ایک ضمیمہ کے طور پر شامل کر دیا گیا ہے ساتھ ہی ساتھ جس کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے اس کے ٹائٹل والے صفحے کو بھی شروع میں لگا دیا ہے اور کاپی میں اس ضمیمے کا صفحہ نمبر حاشیہ پر دے دیا گیا ہے اب جو حوالہ کی اصل دیکھنا چاہے

صفحہ ۱۲

وہ کتاب کے آخر میں لگے ضمیمہ سے دیکھ سکتا ہے۔ یوں گویا قادیانیوں کو قادیانیت کا حقیقی چہرہ دکھانے کے لئے انہیں کا آئینہ ان کے ہاتھ میں تھما دیا گیا ہے کہ اس آئینے میں اپنے پیشوا اور اپنے مذہب کو اپنی آنکھوں دیکھ لو اور پہچان لو کہ یہ تمہارے مذہب کی حقیقت ہے۔

میں سمجھتا کہ ان حضرات کا مجھ پر اور امت مسلمہ پر یہ بہت بڑا احسان ہے اور پھر مزید یہ کہ اس کاپی کو اپنے زیر اہتمام ”کتاب گھر“ بالمقابل دارالافتاء والارشاد کراچی کی طرف سے شائع کرنے کا اہتمام بھی فرما دیا ہے اب یہ کاپی ”ضرب مومن“ کے تمام دفاتر سے اور ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ ضلع جھنگ سے بیک وقت دستیاب ہے۔ اس پر جہاں میں ان حضرات کا تہہ دل سے ممنون ہوں وہاں اگر میں اس کاپی کی تیاری میں ڈیزائنر جناب جمال عبداللہ عثمانی صاحب، مولانا محمد عمران دہلوی صاحب اور حوالہ جات کی درستگی اور تخریج میں حصہ لینے والے مولانا آصف محمود، مولانا مدثر الاسلام صاحب اور حوالہ جات کو اسکین کر کے سی ڈی تیار کرنے والے مولانا محمد اشرف صاحب کا شکریہ ادا نہ کروں تو یہ ضرور نا انصافی ہوگی۔

اس لئے میں ان تمام حضرات کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو قبول فرماتے ہوئے ان کے لئے اسے صدقہ جاریہ اور نجات کا ذریعہ بنائیں اور انہیں ہمیشہ دینی کاموں میں اسی طرح دلچسپی لیتے رہنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ جملہ منتظمین کو اس کا بہترین بدلہ اور اجر جزیل نصیب فرمائیں۔

اس تمام وضاحت کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ یہ واضح ہو جائے کہ یہ کوئی باضابطہ تصنیف نہیں ہے، بلکہ میرے ضروری نوٹس ہیں۔ اگرچہ ہر اردو پڑھا لکھا

صفحہ ۱۳

عالم، غیر عالم اپنی استعداد کے مطابق اس سے استفادہ کر سکتا ہے مگر اس سے مکمل استفادہ وہی کر سکتا ہے جو شریک دورہ ہو کر باضابطہ طور پر پڑھے اور سمجھے، کیونکہ دوران تدریس ان حوالہ جات کی تشریح میں اور کئی مفید باتیں بھی آ جاتی ہیں جو اس پندرہ روزہ کورس میں درج نہیں یا جو صرف دوران سبق ہی بتائی اور سمجھائی جا سکتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ راقم الحروف کی اس کاوش اور محنت کو قبول فرمائیں اور گم گشتہ راہ قادیانیوں کے لئے ذریعہ ہدایت بنائیں۔

آخر میں تمام حضرات سے درخواست ہے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میری اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشیں۔ آمین!

احقر منظور احمد چنیوٹی عفا اللہ عنہ

صفحہ ۱۴

صفحہ ضمیمہ

﴿باب اول﴾

مرزا غلام احمد قادیانی کا مختصر تعارف

خاندانی پس منظر:

’’میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ (برطانیہ ) کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی ’’تاریخ رئیسان پنجاب‘‘ میں ہے اور ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھکر سرکار انگریزی کی مدد کی تھی یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیاں خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں، مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں، مگر تین چٹھیاں جو مدت سے چھپ چکی ہیں ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں، پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور جب جموں کے گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔ پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا ،تاہم سترہ برس سے سرکار انگریزی کی امداد اور تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں۔‘‘

(کتاب البریہ: روحانی خزائن: ج۱۳،ص۴تا۶)

۱۵۱،۱۵۲،۱۵۳

صفحہ ۱۵

صفحہ نمبر

نام ونسب:

”اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطاء محمد اور میرے پردادا صاحب کا نام گل محمد تھا اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جو اب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے ۔“

(حاشیہ کتاب البریہ:ص۱۴۴، روحانی خزائن:ص۱۶۲، ۱۶۳، ج ۱۳، بحوالہ سیرۃ المہدی:

حصہ اول، ص ۱۱۶)

- ۱۵۶، ۱۵۷ ص ۴۰۰

تاریخ و مقام پیدائش:

مرزاغلام احمد قادیانی بھارت کے مشرقی پنجاب ضلع گورداسپور تحصیل بٹالہ قصبہ قادیان میں پیدا ہوا۔ اپنی تاریخ پیدائش کے بارے میں اس نے یہ وضاحت کی ہے:”اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا سترہویں برس میں تھا۔“

(کتاب البریہ:ص۱۵۹، حاشیہ روحانی خزائن:ص۱۷۷، ج۱۳)

۱۵۸

ابتدائی تعلیم:

مرزا قادیانی نے قادیان ہی میں رہ کر متعدد اساتذہ سے تعلیم حاصل کی جس کی تفصیل خود اس کی زبانی حسب ذیل ہے:

”بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور

صفحہ ۱۶

صوفیہ

چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔ اور جب میری عمر تقریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کیلئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدائے تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استاذوں کے نام کا پہلا لفظ ”فضل“ ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صَرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا ان کو بھی میرے والد نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کیلئے مقرر کیا تھا اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے ۔“

(حاشیہ کتاب البریہ: ۱۶۱ تا ۱۶۳، روحانی خزائن: ج۱۳، ص ۱۷۹ تا ۱۸۱)

۱۵۹۱۸۱۱۰۰۱۶۱

جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی خود لکھتا ہے: ”تمام نفوس قدسیہ انبیاء کو بغیر کسی استاد یا اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوض قدیمہ کا نشان ظاہر فرمایا۔“

(دیباچہ براہین احمدیہ: ص ۷، روحانی خزائن: ج ۱، ص ۱۶)

ملازمت:

مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا لکھتا ہے:

”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ

صفحہ ۱۷

صفحہ ضمیمہ

میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا، پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں، اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔“

(سیرۃ المہدی:حصہ اول،ص۴۳،روایت نمبر۴۹،مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی) حوالہ نمبر ۴

واضح رہے کہ پنشن کی یہ رقم سات صد روپیہ تھی۔

(سیرۃ المہدی:حصہ اول،ص۱۳۱،روایت نمبر۱۳۲) حوالہ نمبر ۵

منکوحات مرزا:

مرزا غلام احمد قادیانی کی تین بیویاں تھیں، پہلی بیوی جس کو (پھجے کی ماں) کہا جاتا ہے اور اس کا نام حرمت بی بی تھا، اس سے ۱۸۵۲ء یا ۱۸۵۳ء میں شادی ہوئی دوسری بیوی جس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے اس سے نکاح ۱۸۸۴ء میں ہوا۔ اس کی ایک اور بیوی بھی تھی جس کے ساتھ بقول اسکے اس کا نکاح آسمانوں پر ہوا تھا، جس کا نام محمدی بیگم تھا، مگر اس کے ساتھ اس کی شادی ساری زندگی نہ ہوسکی، اس کا مفصل تذکرہ آئندہ پیشگوئی نمبر ۶ کے ذیل میں آئے گا۔

اولاد:

یہ دونوں مرزا پر ایمان نہ لائے تھے، مرزا فضل احمد مرزا قادیانی کی زندگی

صفحہ ۱۸

میں مر گیا لیکن مرزا نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔ (روزنامہ الفضل: قادیان، ۷ جولائی ۱۹۳۲ء: ص ۳)

جبکہ مرزا سلطان احمد کو مرزا نے عاق کر دیا تھا۔

مرزا کی دوسری بیوی سے درج ذیل اولاد ہوئی:

لڑکے: مرزا محمود احمد ۔ مرزا شوکت احمد ۔ مرزا بشیر احمد اول ۔ مرزا شریف احمد ۔ مبارک احمد ۔ بشیر احمد ایم اے۔

لڑکیاں: مبارکہ بیگم ۔ امۃ النصیر ۔ امۃ الحفیظ بیگم ۔ عصمت ۔

ان میں سے فضل احمد، بشیر اول، شوکت احمد، مبارک احمد، عصمت اور امۃ النصیر کا مرزا کی زندگی میں ہی انتقال ہو گیا تھا جبکہ باقی اولاد (سلطان احمد، محمود احمد، بشیر احمد، شریف احمد، مبارک بیگم، امۃ الحفیظ بیگم ) مرزا قادیانی کی موت کے بعد بھی زندہ رہی۔

(دیکھئے نسب نامہ مرزا،سیرۃ المہدی:حصہ اول،ص ۱۱۶، روایت ۱۲۹)

خلاصہ کلام یہ کہ مرزا کے ہاں دونوں بیویوں سے آٹھ لڑکے اور چار لڑکیاں پیدا ہوئی تھیں۔ چار لڑکے اور دو لڑکیاں مرزا کی زندگی میں انتقال کر گئیں جبکہ چار لڑکے اور دو لڑکیاں زندہ رہیں۔

مرزا کے دعوے:

مرزا نے درجہ بدرجہ دعوے کئے تھے جس کا نقشہ حسب ذیل ہے:

ملہم من اللہ، مجدد، مسیح موعود، مہدی، ظلی بروزی نبوت، مستقل نبوت ۔

ان دعووں پر چند حوالہ جات:

صفحہ ۱۹

صفحہ نمبر

خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے۔“

(حاشیہ کتاب البریہ: ص ۱۸۳، روحانی خزائن: ج ۱۳، ص ۲۰۱) ۱۶۱

(۲) ”میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہوں۔“

(کتاب البریہ: ص ۱۸۴، روحانی خزائن: ج ۱۳، ص۲۰۲) ۱۶۲

(۳) ”إنی فضلتک علی العالمین قل أرسلت إلیکم جمیعا.“ ترجمہ: میں نے تجھ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی تو کہہ دے کہ میں تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ (تذکرہ: ص ۱۲۹، طبع دوم، اربعین نمبر ۲: ص ۱۷، روحانی خزائن: ج ۱۷، ص ۳۵۳) ۱۶۳

(۴) ”اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔“ ۱۶۴

(ازالہ اوہام: ص ۱۹۰، روحانی خزائن: ج ۳، ص ۱۹۲، تذکرہ: ص ۱۷۷، طبع دوم) ۲۸۳

(۵) ”جعلناک المسیح ابن مریم.“ ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا۔ ۳۵۰

(ازالہ اوہام: ص ۶۷۳، روحانی خزائن: ج ۳، ص ۴۶۰، تذکرہ: ص ۹۰، ۲۱۵، ۲۲۳، طبع دوم) ۲۵۴،۲۶۷،۳۶۷

(۶) ”وبشرنی وقال إن المسیح الموعود الذی یترقبونه والمہدی المسعود الذی ینتظرونه ہو أنت.“ ترجمہ: خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ وہ مسیح موعود اور مہدی مسعود جس کا لوگ انتظار کرتے ہیں تو ہے۔ ۲۱۱

(اتمام الحجہ: ص ۴، روحانی خزائن: ج ۸، ص ۲۷۵، نور الحق: حصہ دوم، ص ۲۳ تا ۲۵، روحانی خزائن: ج ۸، ص ۲۱۵، ۲۱۶) ۲۱۱،۲۱۴

(۷) ”جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔“ (ایک غلطی کا ازالہ: ص ۸، روحانی خزائن: ج ۱۸، ص ۲۱۲) ۲۲۲

(۸) ”إنا أنزلنہ قریباً من القادیان.“ ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے۔ (حاشیہ براہین احمدیہ: حصہ چہارم، ص ۴۹۸، روحانی خزائن: ج ۱، ص ۵۹۳، تذکرہ: ص ۶۲۴، طبع دوم) ۵۴۷

صفحہ ۲۰

صفحہ نمبر

(دافع البلاء:ص۱۱، روحانی خزائن:ج۱۸،ص۲۳۱) ۲۷۷

من الله ۔“ ترجمہ: اور کہہ کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا تعالیٰ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔ (تذکرہ:ص۳۶۰)

اے سردار! تو خدا کا مرسل ہے راہِ راست پر۔ ۲۸۲

(حقیقۃ الوحی:ص۱۰۷، روحانی خزائن:ج۲۲،ص۱۱۰، تذکرہ:ص۲۵۸، ۲۵۹)

وحی میں بھی پائے جاتے ہیں۔“

(خلاصہ عبارت اربعین نمبر۴:ص۶، روحانی خزائن:ج۱۷،ص۴۳۵، ۴۳۶) ۲۷۹،۲۷۶

اس آیت کا مصداق ہے: ”ھو الذی أرسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ۔“ (اعجاز احمدی:ص۱۷، روحانی خزائن:ج۱۹،ص۱۱۳) ۲۸۸

مرزا کے جانشین:

مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء بروز منگل لاہور میں ہوئی اس کا پہلا خلیفہ حکیم نورالدین ہوا جو بھیرہ کا تھا یہ بڑا اجل طبیب تھا اور عالم تھا یہ کشمیر کے راجہ کے پاس رہتا تھا ، راجہ کشمیر نے اسے انگریز کی جاسوسی کے الزام میں نکال دیا تھا ، اس کا چونکہ مرزا قادیانی سے پہلے سے رابطہ اور تعلق تھا اس لئے دونوں اکٹھے

صفحہ ۲۱

ضمیمہ

ہو گئے، پھر دونوں نے مل کر اس دھندے کو چلایا یہ اس کا دست راست تھا اور علم میں اس سے بہت اونچا تھا۔ حکیم نورالدین کی خلافت ۱۹۱۴ء تک رہی اس کے بعد خلافت کے دو امیدوار تھے: (۱) مولوی محمد علی لاہوری (۲) مرزا محمود احمد

مولوی محمد علی لاہوری، مرزا کا بڑا قریبی مرید تھا اور بہت پڑھا لکھا آدمی تھا، قابلیت کے لحاظ سے واقعی وہ خلافت کا حقدار تھا، مگر مقابلہ میں چونکہ خود مرزا کا بیٹا تھا، اس لئے اس کو کامیابی نہ ہوئی اور چونکہ مرزا بشیر الدین کے حق میں اس کی والدہ کا ووٹ بھی تھا جس کو مرزائی ام المؤمنین کہتے ہیں، اس لئے مرزا بشیر الدین خلیفہ بن گیا۔ بوقت خلافت مرزا بشیر الدین کی عمر ۲۴ سال تھی اس کی شہزادوں کی سی زندگی تھی اور خوب عیاش تھا۔ ۱۹۶۵ء تک یہ خلیفہ رہا اس نے اپنے والد کے سوانح پر کتاب بھی لکھی جس کا نام سیرت مسیح موعود ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس نے متعدد کتب لکھیں۔

مولوی محمد علی لاہوری ۱۹۱۴ء سے ۱۹۲۰ء تک قادیان میں رہا اگرچہ جماعت کا کام کرتا رہا مگر اس نے بیعت نہ کی اور نہ اس کی پارٹی نے بیعت کی، ان کو ”غیر مبائعین“ کہا جاتا تھا، اس نے ۱۹۲۰ء میں باقاعدہ علیحدہ دکان بنانا چاہی، چنانچہ اس نے لاہور آکر ایک تنظیم بنائی جس کا نام ”انجمن اشاعت الاسلام احمدیہ“ رکھا اور خود اس جماعت کا پہلا امیر بنا۔ چونکہ مرکز ان کے پاس نہ تھا اس لئے اس کا کام زیادہ نہ چلا لیکن بڑا سمجھدار تھا، اپنی تنظیم کو خوب مضبوط کیا اور غیر ممالک میں پھیلایا اور غیر ممالک میں اس کی جماعت کو بڑی کامیابی ہوئی۔

یہ مرزا کو نبی نہیں مانتے بلکہ محض مصلح یا مجدد مانتے ہیں اور نبوت کو ختم مانتے

صفحہ ۲۲

صفحہ

ہیں ۔ ہم کہتے ہیں یہ محض ان کی منافقت ہے ، اگر ان کا اختلاف حقیقی ہے تو لاہوری جماعت والوں کو چاہیے کہ وہ قادیانیوں کو کافر کہیں کیونکہ وہ ایک غیر نبی کو نبی مانتے ہیں اور سلسلہ نبوت جاری مانتے ہیں، اسی طرح قادیانیوں کو بھی چاہیے کہ وہ لاہوریوں کو کافر کہیں کیونکہ وہ ایک سچے نبی کی نبوت کے منکر ہیں۔

محمد علی لاہوری کے مرنے کے بعد جماعت کا امیر صدر الدین بنا اور اب ڈاکٹر نصیر احمد ہے۔ ان دو پارٹیوں کے علاوہ مرزائیوں کی چند اور پارٹیاں بھی ہیں مگر یہ دونوں پارٹیاں زیادہ مشہور ہیں، ان دو پارٹیوں کا مباحثہ چار نکات پر راولپنڈی میں ہوا تھا، جو کہ درج ذیل ہے:

یہ مباحثہ بصورت رسالہ ”مباحثہ راولپنڈی“ کے نام سے شائع ہوا، یہ ایک نہایت اہم رسالہ ہے ،اس میں دونوں پارٹیوں کے دلائل خود مرزا کی تحریرات سے موجود ہیں۔

مرزا بشیر الدین کی وفات کے بعد اس کا بیٹا مرزا ناصر احمد خلیفہ بنا، یہ برابر ۱۹۸۲ء تک خلیفہ رہا۔ بروز بدھ مورخہ ۸ اور ۹ جون ۱۹۸۲ء کی درمیانی شب ہارٹ اٹیک سے ہلاک ہو کر واصل جہنم ہوا۔ اس کی موت کے بعد خلافت کے بارے میں جھگڑا ہوا ، بعض کی رائے تھی کہ مرزا بشیر الدین کے بیٹے مرزا رفیع احمد کو خلیفہ بنایا جائے جبکہ بعض مرزا طاہر احمد کے حق میں تھے۔ بہر حال اسی کشمکش میں مرزا رفیع احمد کو اغوا

صفحہ ۲۳

ضمیمہ

کر لیا گیا اور یوں مرزا طاہر احمد جو مرزا ناصر احمد کا بھائی ہے خلیفہ بن گیا۔

﴿باب دوم﴾

مرزائیوں اور مسلمانوں کے مابین متنازع فیہ مسائل

تعین موضوع:

مرزائیوں اور مسلمانوں کے مابین متنازع فیہ مسائل تین ہیں:

مرزائی عموماً یہ کوشش کرتے ہیں کہ پہلے دو موضوعات پر بحث کی جائے، تیسرے موضوع پر بحث کرنا انہیں موت نظر آتی ہے، حتی کہ بعض اوقات اس موضوع سے گھبراتے ہوئے وہ مناظرہ ہی کو خیر باد کہہ دیتے ہیں، وہ عموماً حیات عیسیٰ یا اجرائے نبوت کے متعلق مناظرہ کرتے ہیں، مگر ہمیں چاہیے کہ سب سے پہلے انہیں مجبور کریں کہ وہ سیرت مرزا پر مناظرہ کریں کیونکہ اصل بحث کسی مدعی ماموریت کی سیرت و کردار پر ہی ہونی چاہیے، اگر اس کی سیرت و کردار بے داغ ہو تو پھر دوسرے مسائل کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ ہر مدعی پہلے اپنی سیرت قوم کے سامنے پیش کرتا ہے، جیسا کہ نبی اکرم خاتم النبیین ﷺ نے اہل مکہ کے سامنے صفا پہاڑی پر چڑھ کر اپنی چالیس سالہ زندگی پیش کی۔ قرآن مجید میں ہے:

صفحہ ۲۴

صفحہ نمبر

” فقد لبثت فيكم عمراً من قبله أفلا تعقلون .“ اس لئے ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہم سب سے پہلے مرزا صاحب کی زندگی اور کردار کو ان کی اپنی تحریروں کے آئینہ میں دیکھیں ، اگر وہ اپنی تحریروں کی رو سے ایک پاکیزہ سیرت ، شریف ، دیانتدار اور سچا انسان ثابت ہو جائے تو اسکے تمام مسائل دعاوی کو بلا حیل و حجت مان لیں گے اور دوسرے مسائل میں بحث کرنے اور وقت ضائع کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوگی اور اگر وہ کسی ایک بات میں جھوٹا ثابت ہو جائے تو بقول خود مرزا کے اس کی کسی بات کا اعتبار نہیں رہے گا، چنانچہ مرزا صاحب خود تحریر کرتے ہیں:

”ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت : دوسرا حصہ، ص ۲۲۲، روحانی خزائن : ج ۲۳، ص ۲۳۱)

لہٰذا پہلے ہم مرزا صاحب کی سیرت و کردار دیکھتے ہیں۔

ہم بلا خوف تردید کہہ سکتے ہیں کہ کسی مرزائی کے اندر یہ جرات نہیں ہے کہ وہ مرزا کو اس کی اپنی تحریروں کی رو سے ایک سچا اور شریف انسان ثابت کر سکے ۔ ہم آگے چل کر ”مشت نمونہ از خروارے“ اس کے کذاب ہونے کے چند دلائل پیش کریں گے لیکن اس بحث سے قبل ہم اپنی تائید میں مرزا صاحب کے دونوں خلفاء کی تحریریں پیش کرتے ہیں۔

حوالہ نمبر ۱:

” جب یہ ثابت ہو جائے کہ ایک شخص فی الواقع مامور من اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا ہے تو پھر اجمالاً اس کے تمام دعاوی پر ایمان لانا واجب

صفحہ ۲۵

ہوجاتا ہے...... غرض اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ مدعی ماموریت فی الواقع سچا ہے یا نہیں اگر اس کی صداقت ثابت ہو جائے تو اسکے تمام دعاوی کی صداقت بھی ساتھ ہی ثابت ہو جاتی ہے اور اگر اس کی سچائی ہی ثابت نہ ہو تو اس کے متعلق تفصیلات میں پڑنا وقت کو ضائع کرنا ہوتا ہے۔“

(دعوۃ الامیر : مصنفہ بشیر الدین محمود ،ص ۴۹، ۵۰) ۲۹۰،۲۹۱

حوالہ نمبر ۲:

”خاکسار (بشیر احمد ایم۔اے) عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول (حکیم نور الدین) فرماتے تھے کہ..... ایک مخالف شخص..... میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب! کیا نبی کریمﷺ کے بعد بھی کوئی نبی ہو سکتا ہے؟ میں نے کہا نہیں، اس نے کہا کہ اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو پھر؟ میں نے کہا پھر ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا وہ صادق و راست باز ہے یا نہیں ۔ اگر صادق ہے تو بہرحال اس کی بات کو قبول کریں گے۔“

(سیرۃ المہدی: حصہ اول ،ص ۹۸، روایت نمبر ۱۰۹) ۲۹۲

ان دو حوالہ جات سے بخوبی معلوم ہو گیا کہ اصل بحث صدق و کذب پر ہونی چاہیے، اگر وہ ہو ہی جھوٹا تو پھر اس کے دعاوی وغیرہ پر بحث کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ اب ہم اس بات پر دلیل دیں گے کہ وفات و حیات مسیح پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔

حوالہ نمبر ۳:

”اول تو یہ جاننا چاہیے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہماری ایمانیات کا کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو بلکہ صدہا

صفحہ ۲۶

صفحہ ضمیمہ

پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں، جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا۔‘‘

(ازالۃ اوہام: ص ۱۴۰، روحانی خزائن: ج ۳، ص ۱۷۱) ۴

اس حوالہ سے چند امور واضح ہوئے:

نہیں ہوتا۔

حوالہ ۲: ”کل میں نے سنا تھا کہ ایک شخص نے کہا کہ اس فرقہ میں اور دوسرے لوگوں میں سوائے اس کے کچھ فرق نہیں کہ یہ لوگ وفات مسیح کے قائل ہیں اور وہ لوگ وفات مسیح کے قائل نہیں، باقی سب عملی حالت مثلاً نماز، روزہ اور زکوٰۃ اور حج وہی ہیں۔ سو سمجھنا چاہیے کہ یہ بات صحیح نہیں کہ میرا دنیا میں آنا صرف حیات مسیح کی غلطی کو دور کرنے کے واسطے ہے اگر مسلمانوں کے درمیان صرف یہی ایک غلطی ہوتی تو اتنے کے واسطے ضرورت نہ تھی کہ ایک شخص خاص مبعوث کیا جاتا اور الگ جماعت بنائی جاتی اور ایک بڑا شور بپا کیا جاتا؛ یہ غلطی دراصل آج نہیں پڑی بلکہ میں جانتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے تھوڑے ہی عرصہ بعد یہ غلطی پھیل گئی تھی اور کئی خواص اور اولیاء اور

صفحہ ۲۷

صفحہ ضمیمہ

اہل اللہ کا یہی خیال تھا، اگر یہ کوئی ایسا اہم امر ہوتا تو خدا تعالیٰ اسی زمانہ میں اس کا ازالہ کر دیتا۔‘‘

(احمدی اور غیر احمدی میں فرق: از مرزا غلام احمد قادیان، ص ۲) ۲۷۷

اس حوالہ سے چند امور واضح ہوئے:

گیا تھا۔

حوالہ نمبر ۳:

’’اور مسیح موعود کے ظہور سے پہلے اگر امت میں سے کسی نے یہ خیال بھی کیا کہ حضرت عیسیٰ دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو ان پر کوئی گناہ نہیں صرف اجتہادی خطا ہے جو اسرائیلی نبیوں سے بھی بعض پیش گوئیوں کے سمجھنے میں ہوتی رہی ہے۔‘‘

(حاشیہ حقیقت الوحی: ص ۳۰، روحانی خزائن: ج ۲۲، ص ۳۲) ۷۲۸

اس حوالہ سے جو امور واضح ہوئے وہ یہ ہیں:

حوالہ نمبر ۴:

’’ہماری یہ غرض ہرگز نہیں کہ مسیح علیہ السلام کی وفات حیات پر جھگڑے اور مباحثہ کرتے پھرو یہ ایک ادنیٰ سی بات ہے۔‘‘

(ملفوظات احمدیہ: ج ۲، ص ۷۲ جدید) ۶۰۳

اس حوالہ سے یہ واضح ہوا:

صفحہ ۲۸

مؤقف

و جھگڑے کریں۔

سو ہم کہتے ہیں کہ جب یہ مسئلہ ہمارے ایمانیات کی جڑ نہیں ہے، جب یہ دین کے رکنوں میں سے رکن نہیں، جب اسلام کی حقیقت سے اس کا کچھ تعلق نہیں، جب اس کے بیان کرنے یا نہ کرنے سے اسلام میں کچھ فرق نہیں پڑتا، جب یہ مسئلہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے بعد جلد ہی پھیل گیا تھا، جب یہ عقیدہ خواص کا تھا، اولیاء کا تھا، اہل اللہ کا تھا اور جب یہ کوئی خاص امر نہیں ہے، جب اس کا ازالہ خدا نے ضروری نہیں سمجھا ، جب اس کا عقیدہ رکھنے والے پر کوئی گناہ نہیں ، جب یہ محض اجتہادی غلطی ہے، جب اس قسم کی خطائیں سابقہ انبیاء سے بھی ہوتی رہیں، جب آپ کی غرض اس پر مباحثہ کرنے کی نہیں اور جب یہ ادنیٰ سی بات ہے تو اس مسئلہ پر بحث کرنے کی کوئی ضرورت واہمیت باقی نہ رہی، لہٰذا ہم سب سے پہلے مرزا کی سیرت و کردار پر بحث کریں گے جو انتہائی اہم اور ضروری ہے۔

تعین موضوع نہایت اہم اور کٹھن معاملہ ہے، مسلمان مناظر کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ سیرت مرزا کا موضوع طے کیا جائے اور مرزائی مناظر کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ حیات و وفات مسیح، اجرائے نبوت جیسے موضوعات میں وقت ضائع کیا جائے۔ اس لئے اس مرحلہ میں ہمارے مناظر کو انتہائی سمجھداری سے کام لینا چاہیے۔ ہمارے مناظر کے اندر اتنی قوت ہونی چاہیے کہ وہ اپنا موضوع منوالے، اگر کسی صورت میں بھی مرزائی مناظر یہ موضوع نہ مانے تو پھر بے شک مناظرہ نہ کرو۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ

صفحہ ۲۹

صفحہ نمبر

اگر ان کا ایک موضوع مانو، تو اپنا بھی ایک موضوع منوالو! اگر ان کے دو موضوع مانو، تو پھر اپنے بھی دو موضوع منوالو ! یعنی :

سیرت مرزا غلام احمد قادیانی اور سیرت بشیر الدین محمود۔

مرزائی حربہ:

مرزائی مناظر موضوع طے ہونے سے قبل ہی ہمارے مناظر کے سامنے چالاکی سے کوئی نہ کوئی آیت یا حدیث وفات مسیح پر بطور دلیل پیش کر دیتے ہیں حالانکہ ابھی موضوع بحث طے نہیں ہو چکا ہوتا اور ہمارا مناظر ان کی دلیل کو معمولی سمجھتے ہوئے اس کے پرخچے اڑانا شروع کر دیتا ہے اور یوں خود بخود مرزائیوں کا من بھاتا موضوع وفات مسیح شروع ہو جاتا ہے ،اس لیے ہمارے مناظر کو چاہیے کہ جب تک موضوع طے نہ ہو، جواب نہ دے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بات چیت کے دوران ہی مرزا کا کوئی جھوٹ، کوئی بدمعاشی وغیرہ انتہائی رعب سے بیان کرنا چاہیے اور اس طرح دباؤ ڈالنا چاہیے کہ تمہارا نبی ایسا تھا، اگر ایسا نہ ہو تو گویا میں ہار گیا وغیرہ تو اس طرح کرنے سے مرزائی مناظر جب اس کا جواب دے گا تو خود بخود سیرت مرزا کا موضوع شروع ہو جائے گا اور میدان ان شاء اللہ آپ کے ہاتھ میں ہو گا۔

ایک اہم نکتہ:

اگر کوئی شخص حضرت عیسیٰؑ کو فوت شدہ مانے مگر مرزا کو نبی نہ مانے تو مرزائیوں کے نزدیک وہ پھر بھی کافر ہے، معلوم ہوا اصل مدار مرزا کی ذات ہے اس لیے سب سے پہلے مرزا کی سیرت پر بحث ہونی چاہیے اسی طرح اگر کوئی شخص عیسیٰ علیہ

صفحہ ۳۰

السلام کی وفات مانے اور نبوت کو بھی جاری مانے مگر مرزا کو نبی نہ مانے تب بھی وہ مرزائیوں کے نزدیک مسلمان نہیں، معلوم ہوا کہ اصل مدار مرزا کی ذات ہے اسی لئے سب سے پہلے مرزا کی ذات و سیرت پر بحث ہوگی، جیسا کہ بہائی فرقہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا بھی قائل ہے اور نبوت بھی جاری مانتا ہے مگر مرزائیوں کے نزدیک وہ پھر بھی کافر ہے کیونکہ وہ مرزا کو نبی نہیں مانتا۔ اس لیے معلوم ہوا کہ اصل محل نزاع مرزا کی ذات ہے اور اسی پر ہم بحث کرنا چاہتے ہیں۔

﴿باب سوم﴾

بحث اول

صدق و کذب مرزا

مذکورہ بالا موضوع میں ہم مدعی ہوں گے، مرزائی صاحبان اول تو اس موضوع کو تسلیم ہی نہیں کرتے، اگر بامر مجبوری انہیں تسلیم کرنا پڑے تو وہ مدعی بن جاتے ہیں حالانکہ یہ اصول غلط ہے، جو فریق جو موضوع پیش کرے اصولاً اس کو اس کا مدعی ہونا چاہیے، مرزا صاحب کی سیرت و کردار کا موضوع چونکہ ہماری طرف سے پیش ہوا ہے، لہٰذا مدعی ہمیں ہونا چاہیے اور حیات و وفات کا موضوع عموماً مرزائیوں کی طرف سے پیش ہوتا ہے اور وہ اس پر مصر ہوتے ہیں لہٰذا وفات مسیح کے مسئلہ میں مدعی انہیں ہونا چاہیے۔

صفحہ ۳۱

صفحہ ضمیمہ

﴿پہلی دلیل﴾

کذبات مرزا:

کذبات مرزا بیان کرنے سے قبل ان آیات کو بار بار دہرانا چاہیے:

لعنة الله على الكاذبين ، ومن أظلم ممن افترى على الله كذبا أو قال أوحي إليّ ولم يوح إليه شيء“ وغیرہ

نیز جھوٹ کے متعلق مرزا صاحب کے اپنے فتوے بھی بار بار بیان کرنے چاہئیں۔

جھوٹ کے متعلق مرزا صاحب کے اپنے فتوے:

(حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ:ص ۱۳، روحانی خزائن: ج ۱۷، ص ۵۶) ۲۷۵

(تتمہ حقیقت الوحی:ص ۲۶، روحانی خزائن: ج ۲۲، ص ۵۵۹) ۲۷۶

خزائن: ج ۱۱، ص ۳۴۳، حقیقت الوحی:ص ۲۰۶، روحانی خزائن: ج ۲۲، ص ۲۱۵) ۲۷۸

(انجام آتھم:ص ۴۰، مطبع قادیان، روحانی خزائن: ج ۱۱، ص ۴۳،) ۲۷۹

کہتا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ پر ہوئی ہے ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سؤروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔“ (براہین احمدیہ: حصہ پنجم، ص ۱۲۶، روحانی خزائن: ج ۲۱، ص ۲۹۲) ۲۸۰

صفحہ ۳۲

صفحہ ضمیمہ

(شحنہ حق ، ص ۶۰، روحانی خزائن: ج ۲، ص ۳۸۶) ۱۹

اعتبار نہیں رہتا۔‘‘

(چشمہ معرفت: دوسرا حصہ، ص ۲۲۲، روحانی خزائن: ج ۲۳، ص ۲۳۱) ۲۰

اب ہم مرزا کے چند ایک جھوٹ پیش کرتے ہیں، اس کے کذبات کا کما حقہ احاطہ کرنا کارے دارد ہے۔ ہم نمونے کے طور پر چند اکاذیب مرزا بیان کریں گے۔

جھوٹ نمبر ۱:

’’اولیاء گزشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی ہے کہ وہ (مسیح موعود ۔ ناقل) چودہویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔‘‘

(اربعین نمبر ۲، ص ۲۳، طبع چناب نگر (ربوہ)، روحانی خزائن: ج ۱۷، ص ۴۳۱) ۲۱

وضاحت : مطبع قادیان میں انبیاء کا لفظ ہے بعد کے ایک ایڈیشن میں یہ وضاحت کی گئی کہ یہ لفظ غلطی سے لکھا گیا اور اب نئے ایڈیشن میں یہ وضاحت بھی حذف کر دی گئی ہے۔ اولیاء جمع کثرت ہے اور جمع کثرت دس سے اوپر ہوتی ہے، اس لئے کم از کم دس معتمد اولیاء کے نام پیش کرو جنہوں نے بذریعہ کشف مہر لگائی ہو اور ولی ایسا ہو جس کو دونوں فریق صحیح ولی مانیں۔ ہم کہتے ہیں کہ مرزا کا یہ سفید جھوٹ ہے کسی مسلمہ ولی نے اس بات کی تصریح نہیں کی کہ مہدی چودہویں صدی میں ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔ یہ تمام اولیاء کرام پر جھوٹ ہے۔

جھوٹ نمبر ۲:

’’اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس

صفحہ ۳۳

صفحہ نمبر

شخص‘ یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کیلئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی ۔“

۲۴۱

(اربعین نمبر ۴، ص ۱۳، روحانی خزائن: ج ۱۷، ص ۴۴۲)

یہ بھی بالکل صاف جھوٹ ہے، کسی ایک پیغمبر سے یہ خواہش کرنا ثابت نہیں ہے۔

هاتوا برهانكم إن كنتم صادقين .

جھوٹ نمبر ۳:

”یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توراۃ کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی بلکہ مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے ۔“

۲۴۲

(کشتی نوح : ص ۵، روحانی خزائن: ج ۱۹، ص ۵)

اس عبارت کے متعلق اسی صفحہ پر حاشیہ لکھا ”مسیح موعود کے وقت میں

طاعون کا پڑنا بائبل کی کتابوں میں موجود ہے ۔ (زکریا : باب ۱۴، آیت ۱۲، بائبل:

۲۴۳

انجیل متی : باب ۲۴، آیت ۷، مکاشفات : باب ۲۲، آیت ۸، عہد نامہ جدید : ص ۲۵۹)

۲۴۴

اس عبارت میں ایک جھوٹ نہیں، بلکہ خدا تعالیٰ کی چار آسمانی کتابوں پر چار صریح جھوٹ ہیں ۔ مذکورہ کتب کے مذکورہ صفحات پر ہرگز مسیح موعود کے وقت طاعون کے پڑنے کا ذکر نہیں ہے۔

مرزائی عذر:

جب مرزائیوں سے سوال کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں مسیح موعود کے وقت طاعون پڑنے کا ذکر کہاں ہے؟ تو مرزائی جواب دیتے ہیں کہ قرآن مجید کی اس آیت میں مسیح موعود کے وقت میں طاعون پڑنے کا ذکر ہے اور یہ آیت پڑھتے ہیں :

صفحہ ۳۴

” وإذا وقع القول عليهم أخرجنا لهم دابة من الأرض تكلمهم ......الخ.“

(پ۲۰، سورۃ النمل، آیت ۸۲)

اور کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے اپنی کتاب نزول مسیح : ص ۳۸، ۳۹، ۴۰، روحانی خزائن : ج ۱۸،ص۴۱۵ تا ۴۱۸ میں اس ”دابۃ الأرض“ سے مراد طاعون لیا ہے اور مرزائی اس آیت کو طاعون پر اس طرح چسپاں کرتے ہیں کہ ”دابۃ الأرض“ سے مراد چوہا ہے جو زمین سے نکلے گا اور ” تکلمهم“ کا مطلب ہے کہ ان کو کاٹے گا۔

جواب اول:

کسی مفسر، کسی محدث، کسی مجدد نے یہاں ”دابۃ“ سے مراد طاعون اور طاعون کا چوہا نہیں لیا، یہ مرزا کا اپنا افتراء ہے، ہم بلا خوف تردید قادیانی امت کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ تیرہ صدیوں کے کسی مجدد کا نام پیش کریں جس نے اس آیت میں ” دابۃ الأرض“ سے مراد طاعون لیا ہو۔

جواب ثانی:

اگر بالفرض تمہاری یہ من گھڑت تفسیر مان بھی لی جائے تو اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ یہ طاعون مسیح موعود کے وقت میں پڑے گا؟ تقریب تام نہیں ہے۔

جواب ثالث:

خود مرزا غلام احمد قادیانی نے اس آیت کی متعدد تفسیریں بیان کی ہیں۔ اپنی ”کتاب ازالہ اوہام“ ج ۲،ص ۲۰۹، روحانی خزائن ص ۳۷۰، ج ۳ پر لکھتا ہے: ” وإذا وقع القول عليهم أخرجنا لهم دابة من الأرض ...... الخ “

(پ۲۰، النمل ۸۲)

صفحہ ۳۵

صفحہ نمبر

یعنی جب ایسے دن آئیں گے جب کفار پر عذاب نازل ہو اور ان کا وقت مقرر قریب آجائے تو ایک گروہ ”دابۃ الأرض“ کا زمین سے نکالیں گے وہ گروہ متکلمین کا ہوگا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا یعنی وہ علماء ظاہر ہوں گے جن کو علم کلام اور فلسفہ میں یدطولیٰ ہوگا۔

اس عبارت میں خود مرزا نے ”دابۃ الأرض“ سے مراد متکلمین و علماء ظاہر لئے ہیں۔ معلوم ہوا دابۃ الأرض سے مراد طاعون یا طاعون کا چوہا نہیں ہے۔

اسی طرح اپنی کتاب ”حمامتہ البشریٰ“ میں ”دابۃ الأرض“ سے مراد علماء سوء لیا ہے:

" إن المراد من دابة الأرض علماء السوء الذين يشهدون بأقوالهم أن الرسول حق ويقرون بحق ثم يعملون الخبائث ويخدمون الدجال كأن وجودهم من جزئين جزء مع الإسلام وجزء مع الكفر أقوالهم كأقوال المؤمنين وأفعالهم كأفعال الكافرين فأخبر رسول الله ﷺ عن أنهم يكثرون في آخر الزمان وسموا دابة الأرض لأنهم أخلدوا إلى الأرض وما أرادوا أن ۲ ؎ يرفعوا إلى السماء ...... الخ . “

(حمامة البشریٰ ص ۸۶، روحانی خزائن : ج ۷ ص ۳۰۸)

یہاں مرزا صاحب نے ”دابۃ الأرض“ سے مراد علماء سوء یعنی منافقین کو لیا ہے پھر اس سے مراد طاعون کا چوہا کیسے ہو گیا ؟ کہاں علماء سوء، کہاں علماء متکلمین اور کہاں طاعون کا چوہا؟ اور یہ تین اقوال آپس میں متضاد ہیں ۔ ایک ہی آیت کی تین تفسیریں مرزا صاحب کے کذاب اور منافق ہونے کی واضح دلیل ہیں اور مرزا خود ۳ ؎ تسلیم کرتا ہے کہ پاگل اور منافق کے کلام میں تضاد ہوتا ہے ۔ (ست بچن، ص ۳۱ ، روحانی

صفحہ ۳۶

صفحہ نمبر

خزائن : ج ۱۰، ص ۱۴۳) معلوم ہوا کہ خود مرزا صاحب پاگل اور منافق ہیں ۔

مذکورۃ الصدر حمامۃ البشریٰ کی عبارت میں ایک اور جھوٹ بھی ہے کہ یہ ”فأخبر رسول اللّٰه ﷺ“ سے شروع ہوتا ہے ہم پوچھتے ہیں کہ حضورﷺ نے یہ کس حدیث میں خبر دی ہے؟ وہ حدیث پیش کریں، یہ حضورﷺ پر صریح افتراء اور بہتان ہے اور آپﷺ نے فرمایا:

”من کذب علی متعمداً فلیتبوأ مقعدہ من النار.“

ترجمہ : ”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا پس وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔“ لہٰذا یہ جھوٹ بول کر بھی مرزا جہنمی ہوا۔

جھوٹ نمبر ۴:

”ہمارے نبیﷺ نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا تھا، مگر عیسیٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی استاد سے تمام توراۃ پڑھی تھی، سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا، سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا، سو میں یہ حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔“

(ایام الصلح:ص۱۴۷، روحانی خزائن:ج۱۴،ص۳۹۴)

یہ صریح جھوٹ ہے، حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام نے کون سے مکتبوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کی؟ یہ ان انبیاء پر صریح الزام ہے، قرآن و احادیث صحیحہ سے ثابت کرو کہ حضرت عیسیٰ نے کون سے یہودی عالم سے توراۃ پڑھی تھی۔ حالانکہ قرآن پاک

صفحہ ۳۷

صفحہ نمبر

میں ہے ” ويعلمهم الكتاب والحكمة والتوراة والإنجيل.“ یعنی میں خود ان کو تعلیم دوں گا ، اسی طرح قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: ” وإذ علمتك الكتاب والحكمة والتوراة والإنجيل . “ ترجمہ: اور جب میں نے کتاب وحکمت اور توراۃ وانجیل سکھائی ۔ (پ ۷، سورۃ المائدۃ، آیت ۱۱۰، ع ۱۰)

اس میں بھی تعلیم کی نسبت خدا تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے ، آگے جو اپنے بارے میں لکھا ہے کہ میرا یہی حال ہے۔...... الخ

یہ بھی صاف جھوٹ ہے ، ہم ثابت کرتے ہیں کہ مرزا کے متعدد اساتذہ تھے۔ کتاب

۱۶۰، ۱۶۱

البرية : ص ۱۶۱ تا ۱۶۳، روحانی خزائن : ج ۱۳، ص ۱۸۰، ۱۸۱ کے حاشیہ پر اس کے اپنے ہاتھوں سے اس کی تعلیم کا حال موجود ہے ، جیسا کہ شروع میں گذر چکا ہے۔

مرزائی عذر:

مرزائی ان ہر دو حوالوں میں تاویل کر کے تطبیق کرتے ہیں کہ یہ سفید جھوٹ نہیں ہے، جو پڑھا ہے اس سے مراد قرآن کے ظاہری الفاظ ہیں اور جہاں لکھا کہ نہیں پڑھا اس سے مراد معارف و معانی ہیں۔

جواب:

یہ تاویل متعدد وجوہ سے غلط ہے:

وجہ اول:

مرزا غلام احمد نے اپنے حال کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے حال سے تشبیہ دی ہے، کیا حضور ﷺ نے بھی ظاہری الفاظ کسی استاد سے پڑھے تھے؟ یہ اس کا تشبیہ

صفحہ ۳۸

ضمیمہ

دینا بتا رہا ہے کہ وہ خود یہاں ظاہری الفاظ و معانی وغیرہ کا فرق مراد نہیں لے رہا۔

وجہ ثانی:

اس سے معارف و معانی مراد لینا غلط ہے کیونکہ اس نے خود تین چیزیں بیان کیں:

(۱) قرآن (۲) حدیث (۳) تفسیر معارف و معانی تو تفسیر میں ہوتے ہیں یہ اس کا علیحدہ علیحدہ بیان کرنا یعنی ایک جگہ قرآن بولنا اور آگے تفسیر بولنا اس پر دال ہے کہ وہ ظاہری الفاظ و معارف دونوں کی نفی کر رہا ہے کہ دونوں میں میرا استاد کوئی نہیں۔

وجہ ثالث:

اس عبارت میں یہ تاویل کرنا کہ اس سے مراد معارف و معانی ہیں ٹھیک نہیں ہے کیونکہ اس میں اس نے قسم اٹھائی ہے ”سو میں یہ حلفاً کہہ سکتا ہوں ...... الخ“ اور قسم میں ظاہر معنی مراد ہوتا ہے وہاں تاویل استثناء وغیرہ نہیں چل سکتے۔ مرزا صاحب نے خود قسم کے متعلق اصول بیان کیا ہے، یہ بڑا اہم اصول ہے جو ہمیں ”نزول مسیح“ کی احادیث میں بھی کام دے گا۔ جہاں نبی کریم ﷺ نے قسم اٹھا کر ایک مضمون بیان فرمایا ہے، اسی طرح یہاں بھی یہ اصول کام دے گا اور ایک جگہ مرزا کا ایک مرید مرزا کی صفت میں یہ شعر کہتا ہے:

ہے خدا سے تو خدا تجھ سے واللہ
تیرا رتبہ نہیں آتا بیان میں
صفحہ 39

صفحہ نمبر

مرزائی اس کی تاویل کرتے ہیں مگر چونکہ یہاں اس نے واللہ کے لفظ سے قسم اٹھا دی اس لئے تاویل نہیں چل سکے گی اس طرح یہ اصول بے شمار مواقع میں کام دے گا اصول یہ ہے:

" والقسم يدل على أن الخبر محمول على الظاهر لا تأويل فيه ولا استثناء وإلا فأى فائدة كانت في ذكر القسم . “

(حاشیہ حمامة البشریٰ: ص ۲۶، روحانی خزائن: ج ۷، ص ۱۹۲) ۶۷

علاوہ ازیں خود مرزا صاحب نے تسلیم کیا ہے کہ تمام انبیاء کا کوئی استاد اور اتالیق نہیں ہوتا: ”اور تمام نفوس قدسیہ انبیاء کو بغیر کسی استاد اور اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوض قدیمہ کا نشان ظاہر فرمایا۔“

(دیباچہ براہین احمدیہ: ص ۷، روحانی خزائن: ج ۱ ص ۱۶) ۷

جھوٹ نمبر ۵:

”احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور وہ چودہویں صدی کا مجدد ہوگا۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ: حصہ پنجم، ص ۱۸۸، روحانی خزائن: ج ۲۱، ص ۳۵۹) ۷۶

جبکہ حاشیہ کتاب البریہ: ص ۱۸۷، ۱۸۸، روحانی خزائن: ج ۱۳، ص ۲۰۵، ۲۰۶ کی ۱۶۵، ۱۶۶ عبارت یہ ہے:

”بہت سے اہل کشف نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر خبر دی تھی کہ وہ مسیح موعود چودہویں صدی کے سر پر ظہور کرے گا اور یہ پیش گوئی اگرچہ قرآن شریف میں صرف اجمالی طور پر پائی جاتی ہے، مگر احادیث کی رو سے اس قدر تواتر تک پہنچی ہے کہ جس کا کذب عند العقل ممتنع ہے۔“

صفحہ ۴۰

احادیث جمع کثرت ہے، اس لئے کم از کم دس احادیث صحیحہ متواترہ دکھاؤ، جن میں مسیح موعود کے چودھویں صدی کے سر پر آنے کے الفاظ وغیرہ موجود ہوں، مگر ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزائی امت تا قیامت کوئی ایک بھی صحیح حدیث نہیں دکھا سکتی۔

جھوٹ نمبر ۶:

”اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہیے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں، مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے، خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی:

”ھٰذا خلیفۃ اللّٰہ المہدی۔“

اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“

(شہادۃ القرآن: ص ۴۱، روحانی خزائن: ج ۶ ص ۳۳۷)

جھوٹ، بالکل جھوٹ، بخاری شریف میں اس قسم کی کوئی حدیث نہیں۔

ھَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ۔

قادیانی عذر:

ہمارا سوال یہ ہے کہ بخاری شریف سے دکھاؤ؟ کیونکہ مرزا نے بخاری شریف کا حوالہ دیا ہے۔

صفحہ ۴۱

ضمیمہ

انہوں نے بھی غلط حوالہ دیا، جواب یہ ہے کہ کیا ان کے غلط حوالہ دینے سے مرزا کی بات سچی بن جائیگی؟ ہرگز نہیں۔

غلط ہو جانا اور بات ہے، مگر اتنی تحدی اور زور شور سے حوالہ دینا اور پھر غلط دینا یہ دھوکہ اور فریب ہے۔

سے اس کی معذرت دکھاؤ! اور کوئی سچا نبی نسیان پر قائم رہ نہیں سکتا۔ نسیان کا وقوع اور چیز ہے اس پر استقلال اور چیز ہے۔

جواب یہ کہ آگے آئے الفاظ "أصح الكتب بعد كتاب الله." وغیرہ اس کی تردید کرتے ہیں۔

جھوٹ نمبر ۷:

"تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ ح مکہ اور مدینہ اور قادیان ۔"

(حاشیہ ازالہ اوہام : ص ۷۷، روحانی خزائن : ج ۳، ص ۱۴۰)

جھوٹ نمبر ۸:

"وقد سبونی بكل سب فمارددت عليهم جوابهم." ح ترجمہ: مجھ کو گالی دی گئی میں نے جواب نہیں دیا۔

(مواہب الرحمٰن: ص ۱۸، طبع اول، ص ۲۰، طبع

دوم، روحانی خزائن : ج ۱۹، ص ۲۳۶)

یہ بالکل جھوٹ ہے کہ میں نے لوگوں کی گالیوں کا جواب نہیں دیا، بلکہ خود

صفحہ ۴۴

صفحہ نمبر

مرزا صاحب نے تسلیم کیا ہے: ”میرے سخت الفاظ جوابی طور پر ہیں ابتدا سختی کی مخالفوں کی طرف سے ہے۔“ (دیباچہ کتاب البریۃ: ص ۱۱، روحانی خزائن: ج ۱۳، ص ۱۱) ۱۵۵

مرزا صاحب کی گالیوں کے چند نمونے

یعنی مرزا کی تہذیب و شرافت

مرزا کی گالیوں کے مطالعہ سے پہلے گالیوں سے متعلق اس کے اپنے چند فتاویٰ لکھے جاتے ہیں، جن میں اس نے گالی دینے کی سخت مذمت کی ہے:

تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“ (اربعین نمبر ۳: ص ۳۶، روحانی خزائن: ج ۱۷، ص ۴۲۶) ۲۱۸

(اربعین نمبر ۴: ص ۵، روحانی خزائن: ج ۱۷، ص ۴۷۱) ۲۲۲

۴) ”گالیاں سن کر دعا دو، پا کے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو، تم دکھاؤ انکسار“

(براہین احمدیہ: ج ۵، ص ۱۱۴، روحانی خزائن: ج ۲۱، ص ۱۴۴) ۲۷۰

اب مرزا صاحب کی گالیوں کے چند نمونے ملاحظہ فرمالیں۔

وينتفع من معارفها ويقبلني ويصدق دعوتى إلا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون ۔ “

صفحہ ۴۴

ضمیمہ

ترجمہ: ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کے علوم سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے مگر کنجریوں کی اولاد، جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے پس وہ قبول نہیں کرتے۔“

(آئینہ کمالات اسلام: ص ۵۴۷، ۵۴۸، روحانی خزائن: ج ۵ ص ۵۴۷، ۵۴۸) ۵۴۷، ۵۴۸

(۲) مولوی سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق چند اشعار ملاحظہ فرمائیں

ومن اللئام أری رجیلا فاسقا غولا لعینا نطفة السفہاء

ترجمہ: اور لئیموں میں سے ایک فاسق آدمی کو دیکھتا ہوں کہ ایک شیطان ملعون ہے، سفیہوں کا نطفہ ہے۔

شکس خبیث مفسد ومزور
نحس یسمی السعد فی الجہلاء

ترجمہ: بدگو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھانے والا منحوس ہے، جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے۔

آذیتنی خبثا فلست بصادق ان لم تمت بالخزی یا ابن بغاء

ترجمہ: تو نے اپنی خباثت سے مجھے دکھ دیا ہے پس میں سچا نہیں ہوں گا اگر ذلت کے ساتھ تیری موت نہ ہو اے نسل بدکاراں۔ (تحفہ حقیقت الوحی: ص ۱۴، ۱۵، روحانی خزائن:

ج ۲۲ ص ۲۴۵، ۲۴۶، انجام آتھم: ص ۲۸۱، ۲۸۲، روحانی خزائن: ج ۱۱ ص ۲۸۱، ۲۸۲) ۲۴۵، ۲۴۶ - ۲۸۱، ۲۸۲

وضاحت: بغایا، بغیہ کی جمع ہے جس کا معنی ہے بدکار عورت جیسا کہ قرآن کریم میں ہے: ”وما كانت أمك بغيا“ اور باغی جس کا معنی سرکش ہے اس کی جمع بغاۃ ہے۔

فائدہ: ذرية البغايا کا ترجمہ خود مرزا نے خراب عورتوں کی نسل، بازاری عورتیں

صفحہ ۴۴

سوئیپر

اور کنجریوں کا بیٹا کیا ہے۔ (نور الحق: حصہ اول، ص ۱۲۳، روحانی خزائن: ج ۸، ص ۱۶۳، انجام آتھم: ۱/۱۱ ص ۲۸۲، روحانی خزائن: ج ۱۱، ص ۲۸۲، خطبہ الہامیہ: ص ۴۹، روحانی خزائن: ج ۱۶، ص ۴۹) ۲/۱۱

کہ تم یہودیا نہ خصلت کو چھوڑو گے، اے ظالم مولویو! تم پر افسوس! کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔“ (حاشیہ انجام آتھم: ص ۱۹، روحانی خزائن: ۴/۱۱ ج ۱۱، ص ۲۱)

جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔“ (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم: ص ۲۵، روحانی خزائن: ج ۱۱، ص ۳۰۹) ۵/۱۱

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم: ص ۱۸، روحانی خزائن: ج ۱۱، ص ۳۰۲) ۶/۱۱

إن العدا صاروا خنازير الفلا
ونسائهم من دونهن الأكلب

ترجمہ: دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتوں سے بڑھ گئی ہیں۔ (نجم الہدیٰ: ص ۵۳، روحانی خزائن: ج ۱۴، ص ۵۳) یعنی میرے مخالف جنگلوں کے ۷/۱۱ سؤر ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔

٭ تنبیہ ٭

مرزائی اگر مرزا قادیانی کے جھوٹوں کے جواب میں یہ کہیں کہ العیاذ باللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی تین جھوٹ بولے تھے، جیسا کہ بخاری شریف میں ہے تو مرزا صاحب کے جھوٹ بھی اسی طرح کے ہیں تو اس کے دو جواب ہیں:

صفحہ ۴۵

صفحہ نمبر

ابراہیم علیہ السلام کا کلام تو توریہ اور تعریض کے طور پر ہے، وہ حقیقت میں جھوٹ ہے ہی نہیں، سمجھنے والوں کی غلطی ہے ورنہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو کلام کیا ہے وہ مبنی بر حقیقت ہے، جیسا کہ شراح حدیث نے اسکی وضاحت کر دی۔

(۲) مرزا قادیانی نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی نسبت اس راویت کی رو سے جھوٹ کا الزام لگانے والوں کو خبیث، شیطان، پلید مادہ والا کہا ہے، اس نے لکھا:

”حضرت ابراہیم کی نسبت یہ تحریر شائع کرے کہ مجھے جس قدر ان پر بدگمانی ہے اس کی وجہ ان کی دروغ گوئی ہے تو ایسے خبیث کی نسبت اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کی فطرت ان پاک لوگوں کی فطرت سے مغائر پڑی ہوئی ہے اور شیطان کی فطرت کے موافق اس پلید کا مادہ اور خمیر ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام: ص ۵۹۸، روحانی خزائن: ج ۵، ص ۵۹۸) ۷

﴿دوسری دلیل﴾

جھوٹی پیش گوئیاں

اس بحث سے قبل خود مرزا صاحب ہی کے قلم سے لکھے ہوئے چند ایک اصول ملاحظہ فرمائیں:

اصول نمبر ۱:

”بدخیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق وکذب جانچنے کیلئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں۔“

(آئینہ کمالات اسلام: ص ۲۸۸، روحانی خزائن: ج ۵، ص ۲۸۸) ۷

اصول نمبر ۲:

علاوہ اس کے جن پیش گوئیوں کو مخالف کے سامنے دعویٰ کے طور پر پیش کیا

صفحہ ۴۶

صفحہ ضمیمہ

جاتا ہے وہ ایک خاص طور کی روشنی اور بداہت اپنے اندر رکھتی ہیں اور ملہم لوگ حضرت احدیت میں خاص طور پر توجہ کر کے ان کا زیادہ تر انکشاف کرا لیتے ہیں۔

(ازالہ اوہام :ص ۴۰۴، روحانی خزائن: ج ۳، ص ۳۰۹) ٤؎

ان دو اصولور کے بعد ہم کہتے ہیں کہ کوئی ایک پیش گوئی مرزا صاحب کی پیش کرو! جس کو دشمن کے سامنے بطور دعویٰ پیش کیا ہو اور پھر وہ پوری ہوئی ہو۔

ہمارا دعویٰ ہے کہ وہ ایک دعویٰ میں بھی سچا نہ ہوا اور بقول اپنے رسوا اور ذلیل ہوا، چنانچہ تریاق القلوب : ص ۱۷۰، روحانی خزائن: ج ۱۵، ص ۳۸۲ پر لکھا ہے: ۵؎ ’’اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ اس کی رسوائی کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ کسی ایک پیش گوئی میں جھوٹا ثابت ہو جائے ، بفرض محال اس کی کچھ پیش گوئیاں سچی بھی نکلیں تو وہ اس کے دعویٰ کی صداقت کی دلیل نہیں بن سکتیں، ایسے تو بہت سے منجموں کی پیش گوئیاں بھی سچی نکلتی رہتی ہیں، ہاں! کسی ایک پیش گوئی کا جھوٹا نکلنا اس کے کاذب ہونے کی صریح دلیل ہے۔

وضاحت:

مرزا صاحب کی جھوٹی پیش گوئیاں بیان کرنے سے قبل قرآن مجید کی یہ آیت بار بار پڑھنی چاہیے:

” فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله إن الله عزيز ذوانتقام.“ (ابراہیم : ۴۷)

صفحہ ۴۷

صفحہ ضمیمہ

ترجمہ: خدا تعالیٰ کو اپنے رسولوں کے ساتھ وعدہ خلافی کرنے والا گمان نہ کر، اللہ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔

پہلی جھوٹی پیش گوئی عبداللہ آتھم کے متعلق

”اور آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے ، تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے، وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ سے لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے، اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جو پیش گوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجا کھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے، اسی طرح پر جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے، سو الحمدللہ والمنہ کہ اگر یہ پیش گوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظہور نہ فرماتی تو ہمارے یہ پندرہ دن ضائع گئے تھے....... میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کیلئے تیار ہوں، مجھ کو ذلیل کیا جاوے، روسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے مجھ کو پھانسی دیا جاوے ہر ایک بات کیلئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا، ضرور

صفحہ ۴۸

صوفیہ

کرے گا، ضرور کرے گا، زمین آسمان ٹل جائیں، پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی ...... اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔‘‘ (جنگ مقدس: ص ۲۰۹ تا ۲۱۱، روحانی خزائن: ج ۶ ص ۲۹۱ تا ۲۹۳)

۸۶،۸۵،۸۴

مرزا صاحب کی یہ پیش گوئی عبداللہ آتھم پادری کے متعلق ہے۔ مرزا نے اس سے ۱۸۹۳ء میں مناظرہ کیا۔ پندرہ دن برابر مناظرہ ہوتا رہا، نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا شکست کھا گیا پھر گھر آ کر بتاریخ ۵ جون ۱۸۹۳ء اس کے متعلق یہ پیش گوئی گھڑ دی کہ وہ جتنے دن مناظرہ ہوتا رہا اتنے ماہ کے اندر اندر ہلاک ہوگا ، اگر ہلاک نہ ہوا تو میں جھوٹا ہوں گا۔ اس نے پندرہ ماہ خوب احتیاط سے گزارے ، اپنا کھانا وغیرہ خود پکاتا تھا ، آخر کار پندرہ ماہ ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء کو مکمل ہوئے مگر آتھم پادری نہ مرا۔

اس کے بعد عیسائیوں نے بٹالہ کے مقام پر عبداللہ آتھم کو ہاتھی پر سوار کر کے ایک عظیم الشان جلوس نکالا ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا پتلا بنا کر اس کا منہ کالا کر کے اس کے گلے میں رسہ ڈال کر اس کو پھانسی دی پھر جلا کر دفن کیا ۔

اب ہم مرزائیوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ پیش گوئی پوری ہوئی اور پندرہ ماہ کے اندر عبداللہ آتھم ہلاک ہوا ؟؟ ہرگز ایسا نہیں ہوا، اور مرزا اپنی اس پیش گوئی میں دوسری پیش گوئیوں کی طرح ذلیل ورسوا ہوا۔ واضح رہے کہ عبداللہ آتھم کا انتقال ۲۷ جولائی ۱۸۹۶ء کو ہوا جبکہ مرزا کی پیش گوئی کی مدت گزر چکی تھی ۔

۷۳۱

(نزول المسیح : ص ۱۶۸، روحانی خزائن : ج ۱۸ ص ۵۴۶)

مرزائی عذر:

عبداللہ آتھم نے اس مجلس میں ساٹھ ستر آدمیوں کے سامنے جناب نبی اکرم ﷺ کو

صفحہ ٤٩

دجال کہنے سے رجوع کر لیا تھا۔ (خلاصہ عبارت حاشیہ حقیقت الوحی: ص ۲۷۰، روحانی خزائن: ج ۲۲، ص ۲۱۹)

جواب نمبر ۱:

اگر اسی وقت اس نے رجوع کر لیا تھا تو مرزا کو اسی وقت اسی مجلس میں اعلان کرنا چاہیے تھا کہ چونکہ اس نے رجوع کر لیا ہے، لہٰذا میری پیش گوئی میں کوئی حرج نہیں آئے گا بلکہ میری پیش گوئی پوری ہوگئی، حالانکہ مرزا صاحب کو بعد میں بھی یقین نہیں تھا کہ یہ پیش گوئی پوری ہوگئی یا نہیں۔ اسی لئے تو مرزا صاحب نے اس کی ہلاکت کیلئے وظائف و دعائیں کیں اور واویلا کیا وغیر ذلک ۔ چنانچہ دیکھئے سیرۃ المہدی: حصہ اول، ص ۱۷۸، روایت نمبر ۱۶۰ حصہ دوم، ص ۱۲۱:

"بسم اللہ الرحمن الرحیم : بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے اور میاں حامد علی مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے بتائے تھے) لے لو اور ان پر فلاں سورت کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو (مجھے وظیفہ کی تعداد بھی یاد نہیں رہی) میاں عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورت یاد نہیں رہی مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورت تھی ، جیسے ألــــــــــــــــــــــــم ترکیف......الخ۔ اور ہم نے یہ وظیفہ تقریباً ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا۔"

جواب نمبر ۲:

مرزا بشیر الدین محمود اس اعتراض کے جواب میں کہ تیری دعائیں قبول نہیں ہوئیں لکھتا ہے: "حضرت صاحب کی بھی قبول نہیں ہوئی تھیں۔" چنانچہ دیکھئے الفضل: ۲۰ جولائی ۱۹۴۰ء : "آتھم کے متعلق پیش گوئی کے وقت جماعت کی جو حالت تھی وہ ہم

صفحہ ۵۰

صفحہ ضمیمہ

سے مخفی نہیں۔ میں اس وقت چھوٹا سا بچہ تھا اور میری عمر کوئی ساڑھے پانچ برس کی تھی مگر وہ نظارہ مجھے خوب یاد ہے کہ جب آتھم کی پیش گوئی کا آخری دن آیا تو کتنے کرب واضطراب سے دعائیں کی گئیں میں نے محرم کا ماتم بھی اتنا سخت نہیں دیکھا، حضرت مسیح موعود ایک طرف دعا میں مشغول تھے۔۔۔۔۔الخ ۔‘‘

مرزائی عذر نمبر ۲:

فریق سے مراد صرف عبداللہ آتھم نہیں بلکہ تمام عیسائی ہیں، جیسا کہ مرزا نے انوارالاسلام:ص۲، روحانی خزائن: ج۹، ص۲ میں لکھا ہے۔

جواب:

مرزا صاحب نے خود مقدمہ میں تسلیم کیا ہے کہ فریق سے مراد صرف عبداللہ آتھم ہے، دیکھئے حاشیہ کتاب البریہ:ص ۱۸۸، روحانی خزائن: ج۱۳، ص۲۰۶:

۱۶۲

’’عبداللہ آتھم کی بابت ہم نے شرطیہ پیش گوئی کی تھی کہ اگر رجوع بحق نہ کرے گا تو مر جائے گا، عبداللہ آتھم صاحب کی درخواست پر پیش گوئی صرف اس کے واسطے کی تھی ، کل متعلقین مباحثہ کی بابت پیش گوئی نہ تھی۔‘‘

مرزائی عذر نمبر ۳:

عبداللہ آتھم نے دل سے رجوع کر لیا تھا اس لیے ہلاک نہ ہوا اگر رجوع نہیں کیا تھا تو قسم اٹھائے۔

(کتاب البریہ:ص ۱۸۷، روحانی خزائن: ج۱۳، ص۱۹۶)

۱۶۲

الجواب:

اگر عبداللہ آتھم نے رجوع کر لیا تھا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ رجوع پندرہ ماہ

صفحہ ۵۱

صفحہ ضمیمہ

کے اندر کیا تھا یا بعد میں؟ اگر مدت کے اندر کیا تھا تو مرزا صاحب نے اعلان کیوں نہیں کیا تھا، اگر پندرہ ماہ کے بعد رجوع کیا تھا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اسے تو پندرہ ماہ کے اندر مرنا تھا۔ نیز اگر رجوع کرلیا تھا تو چنے کے دانے کیوں پڑھائے، دعائیں کیوں کیں، اور عیسائیوں نے فتح کا اتنا بھر پور جشن کیوں منایا تھا۔ رہی بات قسم کا نہ اٹھانا تو وہ اس لئے قسم نہیں اٹھا سکتا تھا کیونکہ عیسائی مذہب میں ہر قسم کی قسم

۴۷۳

ناجائز ہے دیکھئے انجیل متی:باب۵،ص۸،آیت نمبر۳۴،۳۵: ”پھر تم سن چکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ جھوٹی قسمیں نہ کھانا بلکہ اپنی قسمیں خداوند کیلئے پوری کرنا لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ بالکل قسم نہ کھانا نہ تو آسمان کی کیونکہ وہ خدا کا تخت ہے، نہ زمین کی کیونکہ وہ اس کے پاؤں کی چوکی ہے نہ یروشلم کی کیونکہ وہ بزرگ بادشاہ کا شہر ہے نہ اپنے سر کی قسم کھانا کیونکہ تو ایک بال کو بھی سفید یا کالا نہیں کر سکتا، بلکہ تمہارا کلام ہاں ہاں یا نہیں نہیں ہو کیونکہ جو اس سے زیادہ ہے وہ بدی سے ہے۔“

علاوہ ازیں خود مرزا صاحب کو بھی اس حقیقت سے مفر نہیں کہ مذہب عیسائیت میں ہر قسم کی قسم کی ممانعت ہے، چنانچہ خود مرزا صاحب اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ ہرگز قسم نہ کھاؤ

۴۷۴

بلکہ بے ہودہ قسموں سے تمہیں روکتا ہے۔“ (کشتی نوح: ص۲۷، روحانی خزائن: ج۱۹ ص۲۹) معلوم ہوا عبداللہ آتھم کا قسم سے انکار اپنے مذہب کی بنا پر تھا۔ جیسا کہ مرزا کا سؤر خوری

۴۷۵

سے انکار اپنے مذہب کی بنا پر تھا۔ (کتاب البریہ:ص۱۷۸، روحانی خزائن: ج۱۳ ص۱۹۶) مرزا نے اشتہار جاری کئے کہ اگر وہ خوف زدہ نہیں ہوا اور رجوع بحق نہیں

صفحہ ۵۲

بقیہ

ہوا تو مباہلہ کرے اور قسم اٹھائے، عبداللہ آتھم نے قسم اٹھانے سے انکار کیا، کہ مسیحی مذہب میں قسم کھانا منع ہے، تب ہم نے اس اشتہار مورخہ ۹؍۹۳ء کو جاری کیا تھا کہ مرزا خنزیر کا گوشت کھا کر ثابت کرے کہ وہ مسلمان ہے، کیونکہ اور مسلمان اس کو مسلمان نہیں مانتے، تب عبداللہ آتھم کا یہ کہنا اس کے برابر ہوگا۔

﴿دوسری جھوٹی پیش گوئی﴾

مرزا صاحب اپنی موت کے متعلق پیش گوئی کرتے ہیں: ’’ہم مکہ میں مریں ۲۷۲ گے یا مدینہ میں۔‘‘ (البشریٰ: ص ۱۵۵، تذکرہ جدید: ص ۵۹۱، تذکرہ قدیم: ص ۵۸۴) ہمارا دعویٰ ہے کہ مکہ میں مرنا تو درکنار، مرزا صاحب کو مکہ مدینہ دیکھنا نصیب نہ ہوا اور اس پیش گوئی ۲۷۶ میں بھی ذلیل و رسوا ہوا۔ ثبوت کیلئے دیکھو! سیرۃ المہدی: حصہ ۳، ص ۱۱۹، روایت نمبر ۲۷۶ لکھا ہے:

’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود نے حج نہیں کیا، اعتکاف نہیں کیا اور زکوٰۃ نہیں دی، تسبیح نہیں رکھی، میرے سامنے ضب یعنی گوہ کھانے سے انکار کیا۔‘‘

اس حوالہ سے معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کو مکہ میں جانا نصیب نہ ہوا بلکہ اس کی وفات لاہور میں بمرض ہیضہ لیٹرین کی جگہ پر ہوئی۔ (سیرۃ المہدی: حصہ اول، ص ۱۱)

کہاں مکہ اور مدینہ اور کہاں جائے حاجت (لیٹرین)۔

ببیں تفاوت راہ از کجا است تا بکجا
صفحہ ۵۳

صفحہ نمبر

﴿تیسری جھوٹی پیش گوئی﴾

پیر منظور کے ہاں لڑکے کی پیدائش:

”پہلے یہ وحی الٰہی ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا بہت جلد آنے والا ہے اور اس کے لئے یہ نشان دیا گیا تھا، کہ پیر منظور محمد لدھیانوی کی بیوی محمدی بیگم کو لڑکا پیدا ہوگا اور وہ لڑکا اس زلزلہ کے لئے ایک نشان ہوگا۔“

(حاشیہ حقیقت الوحی: ص۱۰۰، روحانی خزائن: ج۲۲، ص۱۰۳، ضمیمہ تذکرہ: ص۶۵۰، ۶۵۱) ۲۸۴

یہ پیر منظور اس کا خاص مرید تھا، مرزا کو معلوم ہوا کہ اُس کی بیوی حاملہ ہے، پیش گوئی گھڑ لی کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا، مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ لڑکی پیدا ہوگئی۔ مرزا صاحب نے یہ کہا کہ اس سے یہ تھوڑا ہی مراد ہے کہ اسی حمل سے لڑکا پیدا ہوگا، آئندہ کبھی لڑکا پیدا ہوسکتا ہے، مگر ہوا یہ کہ وہ عورت ہی مرگئی اور دوسری پیش گوئیوں کی طرح یہ بھی صاف جھوٹ ثابت ہوئی نہ اس عورت کے لڑکا پیدا ہوا اور نہ ہی زلزلہ آیا اور یوں مرزا صاحب ذلیل و رسوا ہوئے۔

﴿چوتھی جھوٹی پیش گوئی﴾

لیکھ رام کے متعلق:

مرزا صاحب کی غلط اور جھوٹی پیش گوئیوں میں سے آپ مسلمانوں اور عیسائیوں کے متعلق پیش گوئیاں سن چکے ہیں، اب تیسری قوم ہندوؤں کے متعلق سنیے۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ان تینوں قوموں کے مقابلہ میں مرزا کی پیش گوئیاں جھوٹی نکلیں اور ذلیل و رسوا ہوا۔ لیکھ رام ایک پنڈت تھا جس سے مرزا کا اکثر مناظرہ رہتا تھا،

صفحہ ۵۴

صفحہ نمبر

ایک مرتبہ اس سے تنگ آکر مورخہ ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء کو اس کے متعلق یہ پیش گوئی کی:

’’اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیف سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے اور اگر میں اس پیش گوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا بھگتنے کیلئے تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے۔‘‘ (ملحقہ آئینہ کمالات اسلام: ص ۳، روحانی خزائن: ج ۵، ص ۶۵۰، ۶۵۱، تریاق القلوب: ص ۱۷۰، روحانی خزائن: ج ۱۵، ص ۳۸۱)

نمبر ۲۷۶-۲۸۶

مرزائی عذر:

یہ پیش گوئی پوری ہو گئی کیونکہ لیکھرام مقررہ مدت کے اندر چھری سے قتل کر دیا گیا تھا۔

الجواب:

مرزا صاحب کی یہ پیش گوئی بھی پوری نہ ہوئی کیونکہ اس پیش گوئی میں تصریح ہے کہ وہ ’’خارق عادت عذاب‘‘ سے ہلاک ہوگا اور خارق عادت عذاب وہ ہوتا ہے جس کی دنیا میں کوئی نظیر نہ پائی جائے اور اس طرح کی نظیریں تو سینکڑوں پائی جاتی ہیں، لہٰذا خارق عادت عذاب نہ ہوا اور مرزا صاحب کی پیش گوئی جھوٹی نکلی۔

مرزا نے خود خارق عادت کی تعریف اپنی کتاب حقیقت الوحی: ص ۱۹۶، روحانی خزائن: ج ۲۲، ص ۲۰۴ پر لکھی ہے: ’’خارق عادت اسی کو کہتے ہیں کہ اس کی نظیر دنیا میں نہ پائی جائے۔‘‘

نمبر ۲۸۷

اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ صراحت کے ساتھ تعریف ضمیمہ براہین احمدیہ: ج ۵، ص ۸۸، روحانی خزائن: ج ۲۱، ص ۲۴۸ پر لکھی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ مرزا

نمبر ۲۸۸

صفحہ ۵۵

صفحہ نمبر

قادیانی کی یہ پیش گوئی بھی صاف جھوٹ نکلی۔ کیونکہ لیکھ رام ۶ مارچ ۱۸۹۷ء کو بذریعہ قتل فوت ہوا۔

مرزا صاحب کا دجل:

لیکھ رام کے قتل کے بعد مرزا نے دجل و فریب سے کام لیتے ہوئے نزول مسیح میں چھری کا لفظ بھی اپنی پیش گوئی کو سچا بنانے کیلئے اپنے پاس سے اضافہ کر دیا جو

۲۹۲

اس کا صریح دجل و فریب ہے۔ یہ اضافہ دیکھئے نزول المسیح : ص ۱۷۵، روحانی خزائن : ج ۱۸ ص ۵۵۳ ورنہ چھری کا لفظ اس کی پیش گوئی کے الفاظ میں موجود نہیں ہے۔

لیکھ رام کی پیش گوئی:

مرزا صاحب نے جو لیکھ رام کے متعلق پیش گوئی کی تھی وہ تو صاف جھوٹی نکلی۔ اس کے بالمقابل لیکھ رام نے بھی مرزا صاحب کے متعلق پیش گوئی کی تھی کہ مرزا صاحب تین سال کے اندر ہیضہ کی موت مرجائے گا جو پوری ہوگئی۔

مرزائی عذر:

لیکھ رام کی پیش گوئی جھوٹی نکلی کیونکہ مرزا صاحب اگرچہ ہیضہ سے مرے ہیں ، مگر اس کی مقررہ مدت کے بعد مرے ہیں ، اس لئے اسکی پیش گوئی سچی نہ ہوئی۔

جواب:

لیکھ رام کی نفس پیش گوئی ہیضہ کے ساتھ مرنے کی تھی اور وہ پوری ہوئی ، مرزا

۲۹۳

صاحب ہیضہ سے ہی مرا (دیکھو سیرۃ المہدی: حصہ اول، ص ۱۱، حیات ناصر: ص۱۴) رہی مدت کی بات

۲۹۴

تو مدت کے بارے میں خود مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ مدتوں میں استعارہ بھی ہوتا ہے جیسا کہ مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے خاوند سلطان محمد داماد احمد بیگ کے متعلق پیش

صفحہ ۵۶

صفحہ نمبر

گوئی کی تھی کہ وہ اڑھائی سال کے اندر مرے گا اور جب وہ اڑھائی سال کے اندر نہ مرا تو مرزا صاحب نے کہا: ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ (سلطان محمد خاوند محمدی بیگم ) کی تقدیر مبرم ہے، اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پوری کرے گا ، جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیش گوئی پوری ہو گئی ۔ اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے اور وقتوں میں تو کبھی استعارات کا بھی دخل ہوتا ہے۔“

۱۳۵

(حاشیہ انجام آتھم: روحانی خزائن: ج۱۱، ص ۳۱)

ہم کہتے ہیں کہ جب مرزا صاحب نے خود تسلیم کر لیا کہ وقتوں میں کبھی استعارہ بھی ہوتا ہے، اسی طرح لیکھ رام کی پیش گوئی میں بھی استعارہ ہوگا اور یوں اس کی پیش گوئی پوری ہو گئی۔

﴿پانچویں پیش گوئی﴾

مرزا صاحب کی عمر کے متعلق:

”خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ میری پیش گوئی سے صرف اس زمانہ کے لوگ ہی فائدہ نہ اٹھائیں بلکہ بعض پیش گوئیاں ایسی ہوں کہ آئندہ زمانہ کے لوگوں کیلئے ایک عظیم الشان نشان ہوں، جیسا کہ براہین احمدیہ وغیرہ کتابوں کی پیش گوئیاں کہ میں تجھے اسی برس یا چند سال زیادہ یا اس سے کچھ کم عمر دوں گا۔“

۱۸۲

(حاشیہ تریاق القلوب، ص۳۴، روحانی خزائن: ج۱۵، ص۱۵۲)

”خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم ..... اور جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ

صفحہ ۵۷

صفحہ ضمیمہ

کے متعلق ہیں تو وہ چوہتر اور چھیاسی کے اندر اندر عمر کی تعین کرتے ہیں۔ بہرحال میرے پر تہمت ہے کہ میں نے اس پیش گوئی کے زمانہ کی کوئی بھی تعیین نہیں کی اور خدا

۲۸۳۔۲۸۴

تعالیٰ بار بار اپنی وحی فرما رہا ہے ہیں کہ ہم تیرے لئے یہ نشان دکھلائیں گے اور ان کو کہہ

۲۸۵، ۲۸۶، ۲۸۷

دے کہ یہ نشان میری سچائی کا گواہ ہوگا ۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ: حصہ پنجم ، ص ۹۷، روحانی خزائن: ج ۲۱، ص ۲۵۸، ۲۵۹، حقیقت الوحی: ص ۹۶، روحانی خزائن: ج ۲۲، ص ۱۰۰)

اب مرزا صاحب کی تاریخ پیدائش معلوم کرنا ضروری ہے مرزا صاحب نے خود

۲۸۸

لکھا ہے کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں ہوئی ۔ ( حاشیہ کتاب البریہ: ص ۱۵۹، روحانی خزائن: ج ۱۳، ص ۱۷۷)

دوسرا قرینہ یہ ہے کہ اس کتاب میں آگے مرزا صاحب نے لکھا ہے :

۲۸۹

۱۸۵۷ء کی جنگ کے وقت میں سولہ یا سترہ سال کا تھا۔ (کتاب البریہ: ص ۱۵۹، روحانی خزائن : ج ۱۳، ص ۱۷۷) مرزا کے مرنے کے بعد مرزا صاحب کی یہ پیش گوئی صاف جھوٹی ہوگئی اور یہ ’’عظیم الشان نشان‘‘ بھی مرزا کے کذب کا عظیم الشان اور زندہ جاوید ثبوت بن گیا۔ مرزا کے مرنے کے بعد مرزائی سخت پریشان ہوئے کیونکہ اس حساب سے اس کی عمر ۶۸ سال یا ۶۹ سال بنتی ہے اور پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوئی ہے ۔ مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا کہ میری تحقیق میں مرزا صاحب کی پیدائش ۱۸۳۷ء میں ہوئی مگر پھر بھی عمر پیش گوئی کے موافق نہیں بنتی۔

پھر بشیر احمد ایم ۔ اے نے کہا کہ حضرت کی پیدائش ۱۸۳۶ء میں ہوئی ، مگر پھر ایک اور تحقیق کی گئی کہ پیدائش ۱۲ فروری ۱۸۳۵ء میں ہوئی ، مگر پھر ایک اور تحقیق کی گئی کہ پیدائش ۱۳ فروری ۱۸۳۵ء میں ہوئی، اس لحاظ سے بھی پورے ۷۴ سال نہیں بنتے

صفحہ ۵۸

صفحہ ضمیمہ

پھر ڈاکٹر بشارت احمد لاہوری نے مرزا کی سیرت پر کتاب لکھی، جس کا نام ”مجدد اعظم “ رکھا اس نے تحقیق کی کہ حضرت کی پیدائش ۱۸۳۹ء میں ہوئی۔ ان کے ایک اور محقق نے بتایا کہ حضرت ۱۸۳۰ء میں پیدا ہوئے، سوال یہ کہ اس کی تاریخ پیدائش میں مرنے کے بعد اس قدر اختلاف کیوں ہوا؟

یہی اس کے جھوٹے ہونے کی صریح دلیل ہے، ایک کا ابطال دوسرے کو لازم ہے، مرزائی خود فیصلہ کریں کہ مرزا صاحب سچے ہیں یا ان کے چیلے؟ مرزا صاحب کا اپنا بیان صحیح اور قوی ہے یا ان کے چیلوں کا؟ کیونکہ یہ اس کا عدالتی بیان ہے، اس عدالتی بیان کی رو سے اس کی عمر ۶۸ یا ۶۹ سال بنتی ہے۔

﴿چھٹی جھوٹی پیش گوئی﴾

محمدی بیگم کے متعلق:

اس پیش گوئی کے بارے میں دو باتیں پیش نظر رکھیں:

والدہ مرزا کی چچا زاد بہن تھی۔ (۲) مرزا کی پہلی بیوی (پھجے کی ماں) کے چچا زاد بھائی کی بیٹی تھی (۳) مرزا کے لڑکے فضل احمد کی بیوی کی ماموں زاد بہن تھی۔

مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کو زبردستی اپنے نکاح میں لانے کا ارادہ کیا، اتفاق ایسا ہوا کہ ایک زمین کے ہبہ نامہ کے سلسلہ میں مرزا احمد بیگ کو مرزا قادیانی

صفحہ ۵۹

صفحہ ضمیمہ

کے دستخط کی ضرورت پڑی، چنانچہ وہ مرزا قادیانی کے پاس گیا اور اس سے کاغذات پر دستخط کرنے کی درخواست کی، مرزا قادیانی نے اپنی مطلب براری کیلئے اس موقع کو غنیمت جانا اور احمد بیگ سے کہا کہ استخارہ کرنے کے بعد دستخط کروں گا، جب کچھ دن بعد دوبارہ احمد بیگ نے دستخط کرنے کی بات کی تو مرزا نے جواب دیا کہ دستخط اس شرط پر ہوں گے کہ اپنی لڑکی محمدی بیگم کا نکاح میرے ساتھ کر دو۔

مرزا لکھتا ہے: ”و كانت بنته هذه المخطوبة جارية حديثة السن عذراء وكنت حينئذٍ جاوزت الخمسين.“

ترجمہ: محمدی بیگم ابھی چھوکری ہے اور میری عمر پچاس سال سے متجاوز ہے۔

(آئینہ کمالات اسلام: ص۵۷۴، روحانی خزائن: ج۵، ص۵۷۴)

مرزا کی پیش گوئی کے الفاظ یہ ہیں: ”پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کیلئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا اور بے دینوں کو مسلمان بناوے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلاوے گا، چنانچہ عربی الہام اس بارے میں یہ ہے:

”كذبوا بايتنا وكانوا بها يستهزؤن فسيكفيكهم الله ويردها إليك لا تبديل لكلمات الله إن ربك فعال لما يريد أنت معي وأنا معك عسى أن يبعثك ربك مقاماً محموداً.“

یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور پہلے سے ہنسی کر رہے تھے سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہوگا اور

صفحہ ۶۰

صفحہ نمبر

انجام کار اس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا، کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے، تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے۔۔۔۔ الخ ۔‘‘ ۲۶

(آئینہ کمالات اسلام : ص ۲۸۶ ، ۲۸۷ ، روحانی خزائن: ج ۵، ص ۲۸۶ ، ۲۸۷) ۲۷

’’میری اس پیش گوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں:

پہنچے گا۔

اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔

اب آپ ایماناً کہیں کہ کیا یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں؟ اور ذرا اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ ایسی پیش گوئی سچ ہو جانے کی حالت میں انسان کا فعل ہو سکتا ہے؟‘‘

(آئینہ کمالات اسلام : ص ۳۲۵، روحانی خزائن: ج ۵، ص ۳۲۵) ف

’’میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کر دے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیش گوئی پوری ہو گئی اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے اور وقتوں میں

صفحہ ۶۱

صفحہ نمبر تو کبھی استعارات کا بھی دخل ہو جاتا ہے۔

(حاشیہ انجام آتھم، روحانی خزائن : ج ۱۱،ص ۳۱) ۱۳۱

اس پیش گوئی کے بارے میں چند اہم معلومات :

(آئینہ کمالات الاسلام، روحانی خزائن : ج ۵،ص ۲۸۶) ۲

مرزا کا دجل وفریب :

مرزا کو اصل الہام یہ ہوا تھا: ”وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آ جائے اور یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آوے ۔“

(مجموعہ اشتہارات : ج ۱،ص ۲۱۹) ۲۱۵

جب محمدی بیگم کا نکاح سلطان بیگ سے ہوا تو مرزا نے پیش گوئی کے الفاظ بدل دئے، چنانچہ لکھتا ہے:

اختیار میں نہیں ۔“

(شہادۃ القرآن :ص ۸۰، روحانی خزائن : ج ۶،ص ۳۷۶) ۱۶

صفحہ ۶۲

صفحہ نمبر

محمدی بیگم کے متعلق چند مزید الہامات:

”إنا زوجناكها.“ (تذکرہ: ص ۲۴۸) ترجمہ: ہم نے تیرا نکاح اس سے ۴۶۹ کر دیا۔

اور یہی عبارت مرزائیوں کے قرآن یعنی تذکرہ کے صفحہ ۲۸۳ پر بھی موجود ہے ان میں صاف آ گیا کہ خدا تعالیٰ نے مرزا صاحب کا نکاح محمدی بیگم سے کر دیا۔

”إنا مهلكوا بعلها كما أهلكنا أباها ورادوها إليك“ (تذکرہ: ص ۲۲۶) ۴۷۰ ترجمہ: ہم محمدی بیگم کے خاوند کو ہلاک کریں گے جس طرح اس کے باپ کو ہلاک کیا اور اس کو تیری طرف لوٹائیں گے۔

﴿تبصرہ﴾

مرزا قادیانی اپنی اس پیش گوئی میں دوسری پیش گوئیوں کی طرح جھوٹا نکلا اور یہ پیش گوئی جس کو اپنی صداقت کا نشان ٹھہرایا تھا وہ اس کے جھوٹے ہونے کا واضح اور کھلا نشان ثابت ہوا، مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی امت اس میں ذلیل ورسوا ہو کر پریشانی کے عالم میں اس کی مختلف تاویلات کرتی ہیں۔ امر واقع یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے ان دعووں میں پورے طور پر جھوٹا ثابت ہوا، کوئی ایک دعویٰ بھی اس کا سچا ثابت نہیں ہوا اور مرزا سلطان محمد جس کو بمطابق پیش گوئی مرزا، اڑھائی سال میں مرنا تھا یا کم از کم مرزا کی زندگی میں مرنا تھا وہ بقید حیات رہا اور مرزا کے مرنے کے چالیس سال بعد تک زندہ رہا، یعنی ۱۹۴۸ء میں فوت ہوا، اور محمدی بیگم جو مرزا قادیانی کے کذب کا کھلا نشان اور منہ بولتا ثبوت تھی، ۱۹۶۶ء میں بحالت اسلام ۱۹ نومبر بروز

صفحہ ٦٣

صفحہ ضمیمہ ہفتہ بمقام لاہور فوت ہوئیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنی اس پیش گوئی کی تائید میں وہ حدیث بھی پیش کی جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لانے کے بعد شادی بھی کریں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی۔ ” یتزوج ویولد لہ “ کے الفاظ ہیں، مرزا قادیانی نے اس حدیث کو اپنے متعلق قرار دیتے ہوئے اس سے محمدی بیگم سے شادی ہونا مراد لی۔

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم : ص ۵۳، روحانی خزائن : ج ۱۱، ص ۳۳۷)

خدا کو منظور ہی یہ تھا کہ اس دجال کو ذلیل و رسوا کیا جائے اور مرزا قادیانی باوجود اتنے دعووں اور اتنے زور و شور سے پراپیگنڈہ کرنے کے باوجود خائب و خاسر ہوا۔ فالحمدللہ علی ذلک .

وضاحت :

مرزا فضل احمد کی ساس یعنی مرزا صاحب کی سمدھن محمدی بیگم کی پھوپھی لگتی تھی۔ یعنی احمد بیگ کی بھانجی لگتی تھی، اسکا نام عزت بی بی تھا۔ مرزا نے تریاق القلوب : مطبوعہ ۱۹۰۱ء ص ۷۳، روحانی خزائن : ج ۱۵، ص ۲۸۷ پر لکھا ہے : ” اس زمانہ کے قریب ہی یہ بھی الہام ہوا تھا: ” بکر و ثیب “ یعنی ایک کنواری اور ایک بیوہ تمہارے نکاح میں آئے گی ۔“

مرزا کو ۳۱ برس بعد یہ الہام یاد آیا اور امید تھی کہ محمدی بیگم اگر کنواری نہیں تو بیوہ ہو کر عقد میں آئے گی ، مگر مرزا کی وفات تک وہ مرزا سلطان محمد کی سہاگن ہی رہی اور یہی عرصہ نہیں بلکہ مرزا کے بعد چالیس برس تک وہ سلطان محمد کے بستر راحت کی زینت رہی اور بہرحال مرزا کی اس نامراد عاشقی کے ایام مستعار میں نہ وہ بیوہ ہوئی اور

صفحہ ٦٤

نہ ہی مرزا کا یہ الہام شرمندۂ تعبیر ہوسکا۔

تذکرہ (مجموعہ الہامات مرزا) کے مصنف نے اس کی یہ تاویل کی ہے: ”یہ الہام اپنے دونوں پہلوؤں سے مرزا کی بیوی نصرت جہاں کی ذات میں ہی پورا ہوا جو کہ باکرہ آئی اور ثیبہ ہوکر رہ گئی۔“

(حاشیہ تذکرہ: ص ۳۹)

یہ تاویل قادیانی تاویلات کی ایک ادنیٰ سی جھلک اور نمونہ ہے کہ اگر مرزا کی بیوی بیوہ ہوگئی، تو گویا مرزا کا بیوہ سے نکاح ہو گیا اور یہ پیش گوئی اس طرح پوری ہوگئی۔

مرزا کی اکثر پیش گوئیاں اسی انداز سے پوری ہوئیں اور در حقیقت اسی طرح کی تاویلات سے قادیانیت کا قصر ارتداد کھڑا ہے، اگر ان تاویلات کا سہارا ہٹا دیا جائے تو ایک لحظہ میں قادیانی کا قصر ارتداد زمین بوس ہو جائے۔

﴿تیسری دلیل﴾

شاعری مرزا:

مرزا نے اپنی صداقت میں قصیدہ اعجاز یہ پیش کیا، اس کے علاوہ مرزا کا اور بے شمار منظوم کلام بھی ہے جس کو ”درِ ثمین“ عربی، اردو اور فارسی تین حصوں میں علیحدہ علیحدہ جمع کیا گیا ہے حالانکہ شعر نبی کے لائق نہیں بلکہ نبی کیلئے تہمت ہے اور کفار نا ہنجار نے رسول اللہ ﷺ پر یہ تہمت لگائی:

” أئنالتارکوا ألهتنا لشاعر مجنون .“

(پ۲۳، سورة ۳۷، آیت۳۶، ۲۷)

اور خدا تعالیٰ نے اس کا جواب دیا:

” وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ .“

(پ۲۳، سورة یٰسٓ، آیت۶۹)

صفحہ ۶۵

صوفیہ

مرزا چونکہ جناب نبی اکرمﷺ کے ظل اور بروز ہونے کا مدعی ہے، لہٰذا اس کو بھی شعر کہنا زیب نہیں دیتا۔ مرزا کو کیا معلوم تھا کہ جس شاعری کو وہ اپنا کمال سمجھ رہا ہے وہی اس کے جھوٹے ہونے کا کھلا نشان بن جائے گا۔ باقی رسول اللہﷺ سے جو موزون کلام منقول ہے وہ شعر نہیں ہے وہ کلام اتفاقیہ موزون ہو گیا، جیسے:

”هل أنت إلا إصبع دميت ، وفي سبيل الله ما لقيت.“

یا جیسے:

”اللهم لا عيش إلا عيش الآخرة، فاغفر الأنصار والمهاجرة.“

ان کو اصطلاحاً شعر کہنا مناسب نہیں ہے۔ شعر کی تعریف یہ ہے:

”هو كلام موزون يقصد به قال الشيخ السمعاني النظم هو الكلام المقفى الموزون قصداً.“

یعنی شعر میں قصد اور ارادہ شرط ہے جو بلا ارادہ و بلا قصد کلام موزون ہو جائے اس کو شعر نہیں کہتے۔

علاوہ ازیں مرزا صاحب نے اپنے اس قصیدے کو ”اعجازیہ“ کہا یعنی اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا، مگر مولوی منت اللہ مونگیری نے اس قصیدے کا جواب لکھ کر اس کے اعجاز کو خاک میں ملا دیا تھا اور پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی نے بھی اس قصیدہ کی اغلاط اور چوریاں بیان کی تھیں لیکن اگر اس کا مقابلہ کوئی بھی نہ کر سکتا تو پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ وہ بجائے دین بننے کے خود مرزا صاحب کے کذاب ہونے کی کھلی نشانی تھی۔ جو چیز اصل (حضرت محمد مصطفیٰﷺ) میں ہونا عیب ہو، وہ بروز (مرزا غلام احمد) میں ہونا کمال کیسے ہو سکتی ہے؟ فافہم و تدبر.

صفحہ ٦٦

صفحہ نمبر

﴿چوتھی دلیل﴾

مختلف زبانوں میں وحی

قرآنی اصول:

قرآن مجید میں ہے ”وما أرسلنا من رسول إلا بلسان قومہ.“ (پ ۱۳، سورۃ ابراہیم، آیت ۴) ترجمہ: اور ہم نے ہر رسول کو اس کی زبان کے اندر وحی کی۔ یہ اصول حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت محمد ﷺ تک قائم رہا۔

اب سوچئے! اگر مرزا خدا کا نبی تھا تو اس کی وحی بھی اس کی قوم کی زبان کے مطابق یعنی پنجابی یا اردو میں ہونی چاہیے تھی، مگر مرزائیوں کے قرآن (تذکرہ) کے اندر جو وحی مذکور ہے اس میں تقریباً دس زبانیں ہیں، یہ ”تعدد السنۃ“ ہی مرزا کے کذاب ہونے کی صریح دلیل ہے، علاوہ ازیں مرزا پر بعض ایسی زبانوں میں بھی وحی ہوئی جن کو وہ خود بھی نہ جانتا تھا اور اپنی وحیوں کے ترجمے دوسروں سے سمجھتا تھا، یہ بھی اس کے جھوٹا ہونے کی صریح دلیل ہے۔

مرزائیو! کوئی نبی ایسا بتاؤ! جس کے اوپر دو تین زبانوں میں وحی آئی ہو اور کوئی نبی بتاؤ! جو اپنی وحی کا ترجمہ نہ جانتا ہو۔

مرزائی عذر نمبر ۱:

یہ متعدد زبانوں کے اندر وحی ہونا مرزا صاحب کے کمال کی دلیل ہے نہ کہ

صفحہ ۶۷

صفحہ ضمیمہ

ان کے جھوٹا ہونے کی ۔ جتنی زیادہ زبانوں میں وحی ہوگی وہ اس نبی کا کمال ہوگا۔

جواب:

اول تو قرآن کی رو سے یہ کمال ہی نہیں، کمال یہی ہے کہ اس کی اپنی قومی زبان کے اندر وحی ہو، بفرض محال اگر کمال مانیں بھی تو اس وحی کو سمجھنا بھی کمال ہے اور مرزا اپنی بعض وحیوں کو سمجھ ہی نہیں سکتا تھا، بلکہ دوسرے لوگوں سے ترجمہ پوچھتا تھا اور پھر اگر یہ کمال ہے تو گویا مرزا تمام انبیاء سے اس کمال میں سبقت لے گیا کیونکہ دیگر انبیاء کو تو صرف ایک ہی زبان میں وحی ہوتی تھی۔

مرزائی عذر:

مرزا صاحب چونکہ انٹرنیشنل نبی تھے اس لیے ان کے اوپر متعدد زبانوں میں وحی آئی۔

جواب نمبر۱:

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ انٹرنیشنل نبی تھے ان کے اوپر کیوں نہ متعدد زبانوں میں وحی آئی اور مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ میں ان کا ظل اور بروز ہوں تو نبی ﷺ پر اتنی زبانوں میں کیوں نہ وحی آئی؟ عجب بات ہے کہ اصل سے ظل اور بروز بڑھ جائے۔

جواب نمبر۲:

اس وقت دنیا میں تقریباً ساڑھے چار ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں اگر مرزا انٹرنیشنل نبی تھا تو پھر اس کو ساڑھے چار ہزار زبانوں میں وحی ہونی چاہیے تھی۔ مزید لطف کی بات یہ ہے کہ مرزا صاحب پر بعض وحی ایسی بھی آئی جو لفظاً ولغۃً ٹھیک نہ تھی، یہ

صفحہ ۶۸

بھی اس کے جھوٹا ہونے دلیل ہے۔

﴿پانچویں دلیل﴾

مولانا ثناء اللہ رحمہ اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ:

۵۰۴،۵۰۳

اس کے بارے میں مکمل تفصیلات محمدیہ پاکٹ بک ،ص ۶۲۹، ۶۵۰ پر ملاحظہ فرمائیں۔ ہم مرزا کے اشتہار کا خلاصہ بیان کرتے ہیں۔

”بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب! السلام علی من اتبع الہدیٰ. مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب و تفسیق کا سلسلہ جاری ہے، ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں کذاب ودجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔۔۔۔۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔۔۔۔۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں ، جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔۔۔۔۔اور اگر میں کذاب و مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ سنّت اللہ کے موافق مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے پس، اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے، جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی وحی یا الہام کی بناء پر پیش گوئی نہیں بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔۔۔۔۔ اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری

صفحہ ۶۹

صفحہ ضمیمہ

موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین !

بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں، اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“

الراقم عبد اللہ الصمد مرزا غلام احمد مسیح موعود

مرقومہ: یکم ربیع الاول ۱۳۲۵ھ، ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء

(مجموعہ اشتہارات: ج ۳، ص ۵۷۸) ۳۴۱

خدائی فیصلہ:

اللہ تعالیٰ کی نظروں میں چونکہ مرزا قادیانی کذاب و دجال اور جھوٹا تھا اس لیے اس دُعاء کے پورے ایک سال، ایک ماہ ، گیارہ دن بعد یعنی ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا ہیضہ کی موت سے لاہور میں مر گیا اور اللہ تعالیٰ نے مولوی ثناء اللہ صاحب اور ان کی جماعت اور تمام مسلمانوں کو خوش کر دیا ۔ مرزا کے مرنے کے بعد چالیس سال تک مولوی صاحب زندہ رہے اور ۱۹۴۸ء میں سرگودہا میں وفات پائی ۔

٭ مرزا قادیانی کا ہیضہ سے مرنا ٭

حوالہ نمبر ۱:

”والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا ، مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سوگئی، لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کیلئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے، اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو آپ نے ہاتھ سے مجھے جگایا میں اٹھی تو

صفحہ ۷۰

آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے کیلئے بیٹھ گئی، تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا تم اب سو جاؤ، میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا، مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جا سکتے تھے اس لیے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی، مگر ضعف بہت ہو گیا تھا اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہو گئی ۔‘‘

(سیرۃ المہدی: حصہ اول، ص ۱۱، ۱۲، روایت ۱۲)

اس حوالہ سے مرزا قادیانی کا ہیضہ سے مرنا روزِ روشن کی طرح واضح ہے کیونکہ دست اور قے جب دونوں اکٹھے ہو جائیں اس کو ہیضہ کہتے ہیں نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے پاخانہ پر مرا تھا۔

مرزائی عذر:

مرزا صاحب ہیضہ کی مرض سے نہیں مرے، اگر وہ ہیضہ سے مرتے تو ریل گاڑی میں انکی میت لے جانے کی اجازت ہرگز نہ ہوتی کیونکہ یہ قانوناً منع ہے حالانکہ مرزا کی لاش کو ریل گاڑی پر لاد کر قادیان لے جایا گیا ۔

جواب نمبر ۱:

مرزا قادیانی بقول اپنے ”انگریز کا خود کاشتہ پودا“ تھا، اسلئے اس کی لاش کو ریل گاڑی پر لے جانا کچھ مشکل بات نہ تھی۔

صفحہ ۷۱

صفحہ نمبر

جواب نمبر ۲:

اس جواب کے دو مقدمے ہیں۔

(ازالہ اوہام، روحانی خزائن ج۳ ص۳۹۴)

جس میں کہا تھا کہ اگر میں مولانا ثناء اللہ کی زندگی میں مر جاؤں تو میں کذاب و دجال ٹھہروں گا اور عملاً یہی ہوا کہ ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا کا مولانا ثناء اللہ کی زندگی میں انتقال ہو گیا۔ جس سے مرزا کا اپنے قول کے مطابق دجال ہونا ثابت ہوا۔ اب ہم کہتے ہیں کہ جب مرزا دجال اور ریل گاڑی دجال کا گدھا ہے (بقول مرزا کے ) تو قدرت الہی نے دجال کیلئے اس کے گدھے پر سوار ہونے کا انتظام کر دیا اور انگریزی پولیس اپنی نگرانی میں اس کی لاش لاہور سے قادیان لے گئی۔

حوالہ نمبر ۲:

مرزا قادیانی نے اپنے سسر میر ناصر نواب کو بلا کر کہا:

’’میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔‘‘

(حیات ناصر : ص۱۴)

مرزا صاحب کے اس اعتراف کے بعد کہ ’’مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے‘‘ اب کسی تاویل یا انکار کی گنجائش نہیں ہے، واضح ہو کہ مرزا صاحب نے طب کی کتب بھی پڑھی ہوئی تھیں، لہٰذا ان کا یہ کہنا قابل اعتبار ہوگا۔

مرزائیوں کا ایک اور عذر:

مرزا قادیانی نے اس آخری فیصلہ کے ذریعے مولوی ثناء اللہ کو مباہلہ کی

صفحہ ۷۲

دعوت دی تھی کیونکہ مولوی ثناء اللہ بالمقابل مباہلہ کیلئے تیار نہ ہوا، اس لئے مرزا صاحب کا اس کی زندگی میں مرنا جھوٹے ہونے کی دلیل نہیں۔

جواب:

یہ سراسر جھوٹ ہے، مرزا کے اس آخری فیصلہ میں کوئی مباہلہ کا لفظ نہیں ہے، نہ ہی اس میں یہ موجود ہے کہ مولوی ثناء اللہ بھی اس قسم کی دعا کریں، یہ محض یک طرفہ دعا تھی جو مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مانگی، جس کو خدا تعالیٰ نے قبول فرما کر فیصلہ کر دیا، اسی بات پر کہ مرزا صاحب کا یہ اشتہار محض یک طرفہ دعا ہے یا مباہلہ ہے؟ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور میر قاسم علی قادیانی کا لدھیانہ میں ۱۹۱۲ء میں تحریری مناظرہ ہوا تھا، جس میں سردار بچن سنگھ وکیل کو سرپنچ مقرر کیا گیا تھا۔ اور دونوں حضرات نے تین تین صد روپیہ اس کے پاس جمع کرا دیا کہ جو اپنا دعویٰ ثابت کرے، اس کو یہ چھ صد روپیہ دے۔ بالآخر سردار بچن سنگھ نے فیصلہ مولوی ثناء اللہ کے حق میں کر دیا اور چھ صد روپیہ بھی انکے حوالے کر دیا، اس رقم سے مولوی صاحب نے اس مناظرہ کو ”فاتح قادیان“ کے نام سے شائع کیا جو کہ آج بھی سرگودہا سے دستیاب ہے۔

باب چہارم

بحث ثانی حیات و وفات مسیح علیہ السلام

تنقیح موضوع:

مرزائی عموماً عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق وفات و حیات کے عنوان پر بحث

صفحہ ۷۳

صفحہ نمبر

کرتے ہیں حالانکہ یہ عنوان بالکل غلط ہے، قادیانیوں نے بڑی مکاری وعیاری سے کام لیتے ہوئے اس غلط عنوان کو موضوع بحث بنا رکھا ہے، موضوع بحث در حقیقت رفع اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عنوان سے ہونا چاہیے ، جس کے لئے درج ذیل دلائل پیش کئے جاتے ہیں ۔

توجیہ:

یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ قرآن حکیم اہل کتاب کے تمام اختلافات کے لئے بطور حکم آیا ہے ، جیسا کہ قرآن کریم کا دعویٰ ہے :

” وما أنزلنا عليك الكتاب إلا لتبين لهم الذى اختلفو فيه وهدىً ورحمةً لقوم يؤمنون.“

ترجمہ : اور ہم نے کتاب کو آپ پر صرف اسی لئے نازل کیا ہے تاکہ آپ ان کیلئے وہ چیز بیان کریں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور اس قوم کیلئے جو ایمان لاتے ہیں ہدایت اور رحمت ہے ۔

(پارہ ۱۴،سورۃ النحل، ع ۸، آیت ۶۴)

چنانچہ مرزا قادیانی نے بھی مندرجہ بالا آیت سے یہی استدلال کیا ہے : ’’ہم نے اس کو اس لئے تجھ پر اتارا ہے تا کہ امور متنازعہ فیہ کا اس سے فیصلہ کر دیں۔‘‘

(ازالہ اوہام : ۶۵۵، روحانی خزائن : ج ۳ ص ۴۵۴)

اب ہم عیسائیوں کے عقائد کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق درج ذیل عقائد رکھتے ہیں

صفحہ ۷۴

صوفیہ

اسی طرح یہود کے بھی عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق چند خیالات پائے جاتے ہیں، رفع اور نزول کے علاوہ باقی تمام غلط عقائد کی قرآن مجید نے بڑے صریح الفاظ میں تردید کی ہے، ملاحظہ ہو:

ردِ تثلیث:

”لقد کفر الذین قالوا إن الله ثالث ثلاثة...... الخ .“ (سورة مائدہ، ع۱۰

آیت ۷۳)

ترجمہ: البتہ تحقیق وہ لوگ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے۔

ردِ الوہیت:

” لقد کفر الذین قالوا إن الله هو المسیح ابن مریم . “

(پارہ ۶، سورة المائدہ، ع۱۰، آیت ۷۲)

ترجمہ: البتہ تحقیق کہ وہ لوگ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ ہی عیسیٰ بن مریم ہیں۔

ردِ ابنیت:

” وقالت النصاریٰ المسیح ابن الله . “ (پارہ ۱۰، سورہ توبہ، ع۵، آیت ۳۰)

ترجمہ: اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح، اللہ کا بیٹا ہے۔

ردِ صلیب و کفارہ:

” وما قتلوه وما صلبوه . “ (پارہ ۶، سورۃ النساء، ع ۲، آیت ۱۵۷)

ترجمہ: اور نہیں قتل کیا انہوں نے اس کو اور نہ سولی دیا اس کو۔

”ولا تزر وازرة وزراً أخرىٰ . “ (پارہ ۲۲، سورہ ۱۵، ع۳، آیت ۱۸)

صفحہ ۷۵

صفحہ ضمیمہ

ترجمہ: نہیں اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ۔

اب رہا ان کا عقیدہ رفع ونزول ،تو ہم پوچھتے ہیں کہ اس کا فیصلہ قرآن حکیم نے کہاں کیا ہے؟ اگر یہ عقیدہ بھی دوسرے عقائد کی طرح غلط اور باطل تھا تو قرآن مجید کو صریح الفاظ میں، جیسے: ”ما رفع ، لم يرفع ، لا ينزل “ وغیرہ سے تردید کرنی چاہیے تھی، حالانکہ ہم بلاخوف تردید یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ قرآن مجید میں کوئی ایسا اشارہ تک نہیں پایا جاتا اور نہ حدیث کے ذخیرہ میں کوئی ایک حدیث اس مضمون کی ملتی ہے، بلکہ اس کے برعکس قرآن اور حدیث نے بڑے زور دار الفاظ میں ان کے اس عقیدہ کی تائید کی ہے، اگر قرآن مجید اس عقیدہ کی تائید نہ بھی کرتا بلکہ صرف سکوت اختیار کرتا تو بھی ان کا یہ عقیدہ درست اور صحیح ماننا پڑتا۔ مرزا نے خود اس اصول کو تسلیم کیا ہے کہ نہایت ادب واحترام سے فرماتے ہیں: ”اب ہم دیکھتے ہیں کہ واقعی صلیب کے متعلق قرآن شریف کیا کہتا ہے؛ اگر یہ خاموش ہے تو پتہ چلا کہ یہود ونصاریٰ اپنے خیالات میں حق پر ہیں۔“

(ریویو آف ریلیجنز: اپریل ۱۹۱۹ء، ج ۱۸، شمارہ نمبر ۶، ص ۱۴۹، ۱۵۰)

رفع ونزول کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ

حوالہ نمبر ۱:

”یہ کہ وہ ان کے دیکھتے دیکھتے اوپر اٹھا لیا گیا اور بدلی نے اسے ان کی نظروں سے چھپا لیا اور اسکے جاتے وقت جب وہ آسمان کی طرف غور سے دیکھ رہے تھے تو دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے ان کے پاس آ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے ، اے گلیلی مردو! تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو۔ یسوع جو تمہارے پاس سے

صفحہ ۷۶

صفحہ

آسمان پر اٹھایا گیا ہے، اسی طرح پھر آئے گا جس طرح تم نے اسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے۔“

(رسولوں کے اعمال : باب ۱، آیت ۹، ۱۰، ۱۱، متی : ۲۴، آیت ۲۳ تا ۳۰) ۲۸

حوالہ نمبر ۲:

”پس توبہ کرو ! اور رجوع لاؤ! تاکہ تمہارے گناہ مٹائے جائیں اور اس طرح خداوند کے حضور سے تازگی کے دن آئیں اور وہ اس مسیح کو جو تمہارے واسطے مقرر ہوا ہے یعنی یسوع کو بھیجے، ضرور ہے کہ وہ آسمان میں اس وقت تک رہے جبتک کہ وہ سب چیزیں بحال نہ کی جائیں جنکا ذکر خدا نے اپنے پاک نبیوں کی زبانی کیا ہے جو دنیا کے شروع سے ہوتے آئے ہیں، چنانچہ موسیٰؑ نے کہا کہ خداوند خدا تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے مجھ سا ایک نبی پیدا کرے گا جو کچھ وہ تم سے کہے اسکی سننا۔ اور یوں ہوگا کہ جو شخص اس نبی کی نہ سنے گا، وہ امت میں سے نیست و نابود کر دیا جائے گا۔“

(رسولوں کے اعمال : باب ۳، آیت ۲۰ تا ۲۴) ۲۹

حوالہ نمبر ۳:

”غرض خداوند یسوع ان سے کلام کرنے کے بعد آسمان پر اٹھایا گیا اور خدا کی دہنی طرف بیٹھ گیا۔“

(مرقس : باب ۱۶، آیت ۱۹) ۳۰

حوالہ نمبر ۴:

”جب وہ انہیں برکت دے رہا تھا تو ایسا ہوا کہ ان سے جدا ہو گیا اور آسمان پر اٹھایا گیا۔“

(لوقا : باب ۲۴، آیت ۵۱) ۳۱

حوالہ نمبر ۵:

”یسوع نے اس سے کہا مجھے نہ چھو، کیونکہ میں اب تک باپ کے پاس اوپر نہیں

صفحہ ۷۷

صفحہ نمبر

گیا لیکن میرے بھائیوں کے پاس جا کر ان سے کہہ کہ میں اپنے باپ اور تمہارے باپ اور اپنے خدا اور تمہارے خدا کے پاس اوپر جاتا ہوں۔‘‘ (یوحنا: باب۲۰، آیت۱۷) ۳۴

حوالہ نمبر۲:

’’مگر یسوع خاموش ہی رہا، سردار کاہن نے اس سے کہا: میں تجھے زندہ خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر تو خدا کا بیٹا مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے۔ یسوع نے اس سے کہا تو نے خود کہہ دیا بلکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اس کے بعد تم ابن آدم کو قادرِ مطلق کی دہنی طرف بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھو گے۔‘‘ (متی: باب۲۶،آیت۶۳،۶۴) ۳۵

حوالہ نمبر۷:

’’اور اس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور اس وقت زمین کی سب قومیں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی۔‘‘ (متی: باب۲۴،آیت۳۰) ۳۶

مرزا کا اعتراف:

مریم ہی دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔‘‘ (ازالہ اوہام: ص۲۱۹، روحانی خزائن: ج۳ ص۳۱۸، ۳۱۹) ۳۷

ترجمہ: اور یہ کہ اس (عیسیٰ علیہ السلام) کی حیات کا عقیدہ ملت نصرانیہ سے مسلمانوں میں آیا ہے۔ (الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی: ص۳۹، روحانی خزائن: ج۲۲، ص۲۶۰) ۳۸

مرزائی عذر نمبر۱:

قرآن مجید نے جب عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا اعلان کر دیا تو اس سے عیسائیوں

صفحہ ۷۸

صفحہ نمبر

کے رفع اور نزول کا عقیدہ خود بخود باطل ہو گیا۔ قرآن مجید میں تیس سے زائد آیات موت عیسیٰ کے بارے میں موجود ہیں۔

(ازالہ اوہام: روحانی خزائن: ج ۳، ص ۴۲۳ تا ۴۲۸، ۳۱۹)

الجواب:

تیس آیت نہیں، اگر تیس پارے بھی عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کر دیں تو اس سے عیسائیوں کے رفع اور نزول کے عقیدہ کی تردید نہیں ہوگی کیونکہ عیسائی موت کے تو خود قائل ہیں، لیکن موت کے تین دن بعد زندہ اٹھائے جانے اور قیامت کے قریب بہ جسد عنصری نازل ہونے کے بھی قائل ہیں اگر یہ عقیدہ غلط ہے تو ضرورت اس کی تردید کی ہے، موت سے اس عقیدہ کی تردید نہیں ہوگی۔

(عقیدہ موت کیلئے دیکھو! لوقا: باب ۲۳، آیت ۵۲ تا ۵۶، باب ۲۴، آیت ۱ تا ۱۲، ۲۴)

مرزائی عذر نمبر ۲:

رفع اور نزول کا عقیدہ عیسائیوں کا متفقہ عقیدہ نہیں ہے کیونکہ متی اور یوحنا جو کہ صحابی ہیں انہوں نے اس عقیدہ کی ہرگز تصدیق نہیں کی کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے۔

(خلاصہ ازالہ اوہام: ص ۴۱۹، ۴۲۰، روحانی خزائن: ج ۳، ص ۳۱۹) ع

جواب نمبر ۱:

غلط، بالکل غلط، یہ مرزا کی یا تو صریح کذب بیانی ہے یا اس کی جہالت، کیونکہ ان دونوں کتابوں میں اس عقیدہ کا ذکر موجود ہے، اس کے حوالے ماقبل گزر چکے ہیں۔

جواب نمبر ۲:

”دروغ گو را حافظہ نہ باشد“ کے مصداق مرزا قادیانی اپنی اسی کتاب ”ازالہ اوہام“ ص ۴۲۸ روحانی خزائن: ج ۳، ص ۲۲۵ پر تحریر کر چکا ہے: ع

صفحہ ۷۹

صفحہ ضمیمہ

’’نصاریٰ کے تمام فرقے اور چاروں اناجیل اسی پر متفق ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے ۔‘‘ اب مرزا خود تسلیم کر چکا ہے کہ تمام فرقے اور چاروں اناجیل اس عقیدہ پر متفق ہیں، لہٰذا اعتراض ہی ختم ہو گیا اور ہمارا سوال علیٰ حالہ قائم رہا ، جس کا مرزائیوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

مرزائی عذر نمبر ۳:

ایلیا نبی کے متعلق یہودیوں کا موجودہ عقیدہ ہے کہ وہ زندہ آسمانوں پر اٹھایا گیا ہے اور پھر دوبارہ نازل ہوگا جس طرح عیسائیوں کا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق عقیدہ ہے، تو کیا یہ عقیدہ صحیح ہے یا غلط؟ اگر غلط ہے تو قرآن وحدیث سے اس کی تردید دکھائیں اور اگر تردید نہ پائی جائے اور قرآن وحدیث خاموشی اختیار کریں تو تمہارے اصول کے مطابق ثابت ہوا کہ یہودیوں کا ایلیا کے بارے میں یہ عقیدہ ٹھیک ہے، جیسا کہ تم ہمیں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہتے ہو۔

جواب نمبر ۱:

یہ اصول صرف ہمارے نزدیک ہی مسلم نہیں ہے بلکہ اسے خود مرزا صاحب نے بھی تسلیم کیا ہے، جیسا کہ حوالہ گزر چکا ہے۔

(ریویو آف ریلیجنز)

لہٰذا مرزا صاحب کے اس تسلیم شدہ اصول کے مطابق اگر قرآن مجید نے ایلیا علیہ السلام کی آمد ثانی کی تردید نہیں کی تو ثابت ہوا کہ ان کا یہ عقیدہ درست ہے ، بقول شخصے

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
صفحہ ۸۰

حصہ نمبر

جواب نمبر ۲:

یہودیوں کے اس عقیدہ کی تردید کا مطالبہ قرآن وحدیث سے کرنا صریح حماقت اور جہالت ہے، اس لئے کہ ایلیا کا تذکرہ ایجابی اور سلبی رنگ میں قرآن وحدیث میں مذکور نہیں ، لہٰذا اس کا محض بائبل میں ذکر ہونا کافی نہیں، بخلاف عیسیٰ علیہ السلام کے کہ ان کا ذکر قرآن وحدیث میں بڑی صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ ایلیا کا عیسیٰ علیہ السلام پر قیاس کرنا غلط ہے، یہ قیاس، قیاس مع الفارق ہے۔

اعتراض:

یہودی ایلیا کے بجسدہ آنے کے منتظر تھے حالانکہ ایلیا سے مراد ان کا مثیل یوحنا نبی تھا اسی طرح عیسیٰ سے مراد بھی ان کا مثیل مراد ہے نہ کہ بعینہ عیسیٰ بن مریم۔

جواب:

اس ساری کہانی کا دارومدار بھی بائبل پر ہے جو عقلاً اور نقلاً محرف ہے۔ ۱۸۰

(تریاق القلوب: ص ۸، روحانی خزائن: ج ۱۵، ص ۱۴۲، ۱۴۳، مقدمہ دافع البلاء: ص ۱۹، روحانی خزائن: ۱۸۱

۱۸، ص ۲۳۹، طبع جدید : ص ۳۷، چشمہ معرفت : ص ۲۵۱، روحانی خزائن: ج ۲۳، ص ۲۶۶) ۲۳۱

قرآن وحدیث سے اس کی کوئی نظیر ہو تو پیش کیجئے جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام ۲۴۲ کی تصدیق قرآن وحدیث میں ہے۔

خلاصہ کلام:

کلام سابق سے یہ بات روز روشن سے زیادہ واضح ہوگئی کہ اصل بحث رفع و نزول کی ہے نہ کہ موت وحیات کی جس کو مرزائیوں نے اپنی چالاکی اور عیاری سے موضوع بحث بنا رکھا ہے۔

صفحہ ۸۱

مقدمہ

وجہ اول:

اس لئے کہ موت وحیات، رفع ونزول کو لازم ہے نہ کہ رفع ونزول، موت وحیات کو، لہٰذا اگر بحث کی جائے تو اس وقت تک تمام نہیں ہو گی جب تک حیات کے بعد رفع کو ثابت نہ کیا جائے اور موت کے بعد عدم رفع ثابت نہ کیا جائے ، تو معلوم ہوا کہ اصل بحث رفع ونزول کی ہے۔

وجہ دوم:

اس لئے کہ رفع ونزول عیسائیوں کا عقیدہ ہے اگر یہ بھی مثل دوسرے عقائد کے غلط ہے تو قرآن وحدیث کو اس کی تردید کرنی چاہیے تھی حالانکہ قرآن وحدیث نے اس کی تردید نہیں، بلکہ ان کے اس عقیدہ کی تائید اور تصدیق کی ہے جسے ہم بعون اللہ قرآن وحدیث واجماع امت اور اقوال مرزا سے ثابت کریں گے ، اگر قرآن وحدیث اس عقیدے کی تائید میں کچھ بھی نہ کہے تو بھی مرزا کے مسلمہ اصول کے مطابق یہ عقیدہ صحیح ثابت ہو جاتا ہے۔

﴿اثبات رفع ونزول باقوال مرزا از روئے قرآن مجید﴾

حوالہ نمبر ۱:

”اب اس تحقیق سے ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کی آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف میں پیش گوئی موجود ہے۔“

(ازالہ اوہام: حصہ دوم، ص ۶۷۵، روحانی خزائن: ج ۳ ص ۴۶۴)

حوالہ نمبر ۲:

”ھو الذی أرسل رسولہ بالہدٰی ودین الحق۔“

صفحہ ۸۲

ضمیمہ

ترجمہ: اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا۔ (پارہ ۱۰، توبہ ،ع ۵، آیت ۳۳: پارہ ۲۶، فتح، ع ۴، آیت ۲۸: پارہ ۲۸، صف، ع ۱، آیت ۹)

یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا......حضرت مسیح کی پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے ۔“ (حاشیہ براہین احمدیہ: حصہ چہارم، ص ۴۹۹، ۵۰۰ طبع قدیم، ص ۴۵۸ جدید، روحانی ۱۷- خزائن : ج ۱،ص ۵۹۳، ۵۹۴، طبعہ چشمہ معرفت: ص ۸۳، روحانی خزائن : ج ۲۳، ص ۹۱) ۴۴-

حوالہ نمبر ۳:

” عسٰی ربکم أن یرحمکم وإن عدتم عدنا ۔“ (پ ۱۵،ع ۱، آیت ۸)

”یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح علیہ السلام کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف اور احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے ، اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا میں اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کردیں گے ۔“

(حاشیہ براہین احمدیہ: حصہ ۴، ص ۵۰۵ ، روحانی خزائن: ج ۱، ص ۶۰۱ ، ۶۰۲) ۱۴،۱۵

مرزائی عذر:

ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مرزا نے براہین احمدیہ کے ان حوالوں میں عیسیٰ علیہ

صفحہ ٨٣

صفحہ ضمیمہ

السلام کی آمد ثانی کے عقیدہ کو صراحتاً تسلیم کیا ہے لیکن یہ محض رسمی طور پر لکھ دیا گیا ہے جیسا کہ مرزا نے اعجاز احمدی: ج ١٩،ص ١٠٧ پر اعتراف کیا ہے (روحانی خزائن: ج١٩،ص١١٣) اھ

جواب نمبر ١:

یہ عقیدہ رسمی نہیں بن سکتا اس لئے کہ مرزا نے اس کے ثابت کرنے میں آیات قرآنیہ پیش کی ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ عقیدہ رسمی طور پر نہیں لکھا بلکہ یہ قرآنی طور پر لکھا ہے۔

جواب نمبر ٢:

مرزا قادیانی نے جس کتاب میں یہ عقیدہ لکھا ہے وہ بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کی گئی ہے، مؤلف اس وقت خدائے تعالیٰ کی طرف سے ملہم اور مامور تھا اور اس کتاب پر دس ہزار کا اشتہار بھی دیا گیا ہے۔ (تبلیغ رسالت مجموعہ اشتہارات: ج١،ص١٨، ؂١ روحانی خزائن: ج١،ص٥٢٣،٥٢٤ ملحقہ براہین احمدیہ: ص١٨،١٩ وملحقہ آئینہ کمالات اسلام: روحانی خزائن: ج٥، ؂٢ ص٢٧٥، وسرمہ چشم آریہ جدید: ص١٦٩، روحانی خزائن: ج٢،ص٣١٩)

مجدد کی تعریف:

”جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخواں فروش نہیں ہوتے، بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ ﷺ اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں، خدا تعالیٰ انہیں ان تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں اور ان کی باتیں از قبیل جوشیدن ہوتی ہیں نہ محض از قبیل نوشیدن اور وہ حال سے بولتے ہیں نہ مجرد قال سے اور خدا تعالیٰ کے الہام کی تجلی ان کے دلوں پر ہوتی ہے اور وہ ہر ایک مشکل کے وقت روح القدس سے سکھلائے

صفحہ ۸۴

صوفیہ

جاتے ہیں اور ان کی گفتار کردار میں دنیا پرستی کی ملونی نہیں ہوتی کیونکہ وہ بکلی مصفی کیے گئے اور تمام و کمال کھینچے گئے ہیں۔‘‘

(حاشیہ فتح اسلام: ص ۹، روحانی خزائن: ج ۳، ص ۷) ۲۲

’’وہ مجدد خدائے تعالیٰ کی طرف سے آئے گا یعنی علوم لدنیہ اور آیات سماویہ کے ساتھ۔‘‘

(ازالۃ اوہام: ص ۱۵۴، روحانی خزائن: ج ۳، ص ۱۷۹) ۲۳

جواب نمبر ۳:

یہ رسمی عقیدہ یا اجتہادی غلطی اس لئے بھی نہیں ہو سکتی کہ یہ کتاب بقول مرزا صاحب نبی اکرم ﷺ کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے اور اس کا نام ’’قطبی‘‘ بتایا گیا ہے یعنی قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے ۔ (براہین احمدیہ قدیم ایڈیشن: ص ۲۴۹، ۷ روحانی خزائن: ج ۱، ص ۲۷۵) تو اگر اس کے اس عقیدہ کو رسمی عقیدہ یا اجتہادی غلطی کہہ کر غلط قرار دیا گیا تو یہ قطبی نہیں رہے گی اور اس کے دلائل مستحکم اور غیر متزلزل نہیں ہوں گے، خصوصاً جب کہ نبی اکرم ﷺ کے مبارک ہاتھوں میں آچکی اور آپ کی مبارک نظر سے گزر چکی تو آپ نے ایسی فاش غلطی جو مرزا صاحب کے نزدیک شرک عظیم ہے، کس طرح نظر انداز کر دیا۔

دیکھو! مرزا کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ماننا شرک عظیم ہے: ” فمن سوء الأدب أن يقال إن عيسى ما مات إن هو إلا شرك عظيم ،يأكل الحسنات ويخالف المحكمات بل هو توفى كمثل إخوانه ومات كمثل أهل زمانه وأن عقيدة حياته قد جاءت في المسلمين من الملة النصرانيه.“

(الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی: ص ۳۹، روحانی خزائن: ج ۲۲، ص ۶۲۰) ۲۷

صفحہ ۸۵

ضمیمہ

جواب نمبر ۴:

یہ اجتہادی غلطی اس لیے بھی نہیں بن سکتی کہ مرزا صاحب خود تسلیم کرتے ہیں کہ ہم نے اس کتاب میں کوئی دعویٰ اور کوئی دلیل اپنے قیاس سے نہیں لکھی۔

(حاشیہ براہین احمدیہ: حصہ دوم، ص ۹۹، روحانی خزائن: ج ۱، ص ۸۸)

اثبات رفع ونزول از روئے احادیث باقوال مرزا

حوالہ نمبر ۱:

”مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔۔۔۔۔الخ۔“

(ازالۃ اوہام: ص ۵۵۷، روحانی خزائن: ج ۳، ص ۴۰۰)

تواتر کی تعریف بھی مرزا صاحب کے زبانی سن لیجئے: ”تواتر ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تواریخ کی رو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔“

(ازالۃ اوہام: ص ۵۵۶، روحانی خزائن: ج ۳، ص ۳۹۹)

حوالہ نمبر ۲:

” اب پہلے ہم صفائی بیان کیلئے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کیساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے، وہ دو نبی ہیں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے اور دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں، ان دونوں نبیوں کی نسبت

صفحہ ۸۶

صفحہ ضمیمہ

عہد قدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کر رہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے۔ انہی کتابوں سے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں ۔“ (توضیح المرام: ص ۳، روحانی خزائن: ج ۳، ص ۵۲، آئینہ کمالات اسلام: ص ۲۶۸، روحانی خزائن: ج ۵، ۱۔ ص ۲۶۸، براہین احمدیہ: ج ۴، ص ۲۱۳، روحانی خزائن: ج ۱، ص ۴۴۱، حاشیہ شہادت القرآن: ص ۹) ۲۔

حوالہ نمبر ۳: ۳۔

”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“ (ازالہ اوہام: ص ۸۱، روحانی خزائن: ج ۳، ص ۱۴۲) ۴۔

وضاحت:

یہ حدیث صحیح مسلم میں نہیں بلکہ سنن ابی داؤد: ج ۲، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال میں مذکور ہے۔ قادیانیوں کیلئے چونکہ مرزا قادیانی کی تحریرات حجت ہیں اس لئے الزامی طور پر مذکورہ حوالہ لکھا جاتا ہے۔

اثبات رفع ونزول مسیح از روئے اجماع امت

العنصری مما أجمع علیہ الأمۃ وتواتر بہ الأحادیث۔“

(تفسیر البحر المحیط: ج ۲، ص ۴۷۳)

ویؤید الدین۔“

(تفسیر جامع البیان: تحت آیت إنی متوفیک)

صفحہ ۸۷

صوفیہ

تلخيص الحبير.“

مرزائیوں کی شہادت کہ رفع ونزول عیسیٰ پر تمام مفسرین کا اجماع ہے، حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب تلخیص الحبیر کے صفحہ ۳۱۹، ۳۲۰ پر عام مفسرین کا اجماع نقل کیا ہے۔

(عسل مصفیٰ:ص۱۶۴)

مرزائیوں کے نزدیک بھی حافظ ابن حجر عسقلانی آٹھویں صدی کے مجدد ہیں، یہ مجددین کی اس فہرست میں داخل ہیں جو کہ عسل مصفی کے صفحہ ۱۶۲ قدیم، ۱۱۷ جدید سے شروع ہوتی ہے اور کتاب ہذا مرزا کی مصدقہ ہے۔

ایک اہم اصول:

مرزائیوں کے ساتھ بحث کرنے سے پہلے یہ طے کر لینا چاہیے کہ فریقین اگر آیات قرآنیہ کی تفسیر وتشریح اپنی مرضی ورائے سے کریں گے تو بحث کا کوئی فائدہ نہ ہوگا، تم اپنے معنی بیان کرو گے اور ہم اپنے، بحث کا حاصل کچھ نہ نکلے گا، اس لئے مناسب ہے کہ تیرہ صدیوں میں سے چند ایسے مفسرین ومجددین کا انتخاب کر لیں جن کی بات ہر دو فریق تسلیم کریں۔

چودھویں صدی کے مفسرین ومجددین کی بات بے شک نہ مانو، تیرہ صدیوں میں سے ایک مفسر ومجدد کا انتخاب کر لو، جس کا بیان کیا ہوا معنی اور تفسیر معتبر اور قول آخر مانی جائے گی اور مجددین میں سے ان مجددین کا انتخاب کرتے ہیں جو فریقین کے

صفحہ ۸۸

صفحہ نمبر

نزدیک مسلم ہیں اور مرزائیوں کے مسلم مجددین کی فہرست کتاب ”عسل مصفیٰ“ میں موجود ہے۔ (واضح ہو کہ یہ کتاب عسل مصفیٰ وہ کتاب ہے جو مرزا صاحب کے ایک مرید مرزا خدا بخش نے لکھی اور ہر روز جو لکھی جاتی وہ باقاعدہ مرزا صاحب کو سنائی جاتی اگر کبھی وہ اتفاقاً مرزا صاحب کو نہ سناتا تو مرزا صاحب بڑے اہتمام کے ساتھ اس کے متعلق استفسار کرتے کہ آج تم نے مجھے اس کتاب کا مسودہ کیوں نہیں سنایا، غرضیکہ یہ پوری کتاب مرزا غلام احمد قادیانی نے پورے اہتمام کے ساتھ سنی، گویا یہ مرزا صاحب کی مصدقہ کتاب ہے اور اس کے اندر جو مجددین کی فہرست ہے وہ مرزا غلام احمد کے نزدیک بھی مسلم مجددین ہیں) اب ہم کتاب ”عسل مصفیٰ“ سے وہ فہرست نقل کرتے ہیں۔

(عسل مصفیٰ:ص ۱۶۲، طبع قادیان ۱۸۹۲ء مصنفہ مرزا خدا بخش، ج ۱، ص ۱۱۷)

پہلی صدی میں اصحاب ذیل مجدد تسلیم کئے گئے ہیں:

(۱) عمر بن عبدالعزیز (۲) سالم (۳) قاسم (۴) مکحول۔

علاوہ ان کے اور بھی اس صدی کے مجدد مانے گئے ہیں چونکہ جو مجدد جامع صفات حسنہ ہوتا ہے وہ سب کا سردار اور فی الحقیقت وہی مجدد فی نفسہ مانا جاتا ہے اور باقی اس کی ذیل سمجھے جاتے ہیں، جیسے انبیاء بنی اسرائیل میں ایک نبی بڑا ہوتا تھا تو دوسرے اس کے تابع ہو کر کاروائی کرتے تھے، چنانچہ صدی اول کے مجدد متصف بجمیع صفات حسنہ حضرت عمر بن عبدالعزیز تھے۔

(نجم الثاقب: ج۲،ص۹،قرۃ العیون،مجالس الابرار)

دوسری صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں:

(۱) امام محمد بن ادریس ابوعبداللہ شافعی (۲) احمد بن محمد بن حنبل شیبانی (۳) یحییٰ بن عون غطفانی (۴) اشہب بن عبدالعزیز بن داؤد قیس (۵) ابوعمرو مالکی مصری (۶)

صفحہ ۸۹

صفحہ نمبر خلیفہ مامون رشید بن ہارون (۷) قاضی حسن بن زیاد حنفی (۸) جنید بن محمد بغدادی صوفی (۹) سہل بن ابی سہل بن رسمکہ الشافعی (۱۰) بقول امام شعرانی حارث بن اسعد محاسبی ابو عبداللہ صوفی بغدادی (۱۱) اور بقول قاضی القضاۃ علامہ عینی احمد بن خالد الخلال ابوجعفر حنبلی بغدادی۔

(نجم الثاقب: ج۲،ص۱۴، قرۃ العیون، مجالس الابرار)

تیسری صدی کے مجددین:

(۱) قاضی احمد بن شریح بغدادی شافعی (۲) ابوالحسن اشعری متکلم شافعی (۳) ابوجعفر طحاوی ازدی حنفی (۴) احمد بن شعیب (۵) ابو عبدالرحمن نسائی (۶) خلیفہ مقتدر باللہ عباسی (۷) حضرت شبلی صوفی (۸) عبیداللہ بن حسین (۹) ابوالحسن کرخی وصوفی حنفی (۱۰) امام تقی بن مخلد قرطبی مجدد اندلس اہل حدیث۔

چوتھی صدی کے مجددین:

(۱) امام ابوبکر باقلانی (۲) خلیفہ قادر باللہ عباسی (۳) ابوحامد اسفرانی (۴) حافظ ابونعیم (۵) ابوبکر خوارزمی حنفی (۶) بقول شاہ ولی اللہ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ المعروف بالحاکم نیشاپوری (۷) امام بیہقی (۸) حضرت ابو طالب مکی صاحب قوت القلوب جو طبقہ صوفیاء سے ہیں (۹) حافظ احمد بن علی بن ثابت خطیب بغداد (۱۰) ابواسحاق شیرازی (۱۱) ابراہیم بن علی بن یوسف فقیہ المحدث۔

پانچویں صدی کے مجدد اصحاب:

(۱) محمد بن محمد ابوحامد امام غزالی (۲) بقول عینی وکرمانی حضرت راعونی حنفی (۳) خلیفہ مستظہر باللہ بن مقتدی باللہ عباسی (۴) عبداللہ محمد بن محمد انصاری ابو اسماعیل ہروی

صفحہ ٩٠

صفحہ ضمیمہ

(۵) ابوطاہر سلفی (۶) محمد بن احمد ابوبکر شمس الدین سرخسی فقیہ حنفی۔

چھٹی صدی کے مجددین:

(۱) محمد بن عبداللہ فخر الدین رازی (۲) علی بن محمد (۳) عزالدین بن کثیر (۴) امام رافعی شافعی صاحب زبدہ شرح شفا (۵) یحییٰ بن حبش بن میرک حضرت شہاب الدین سہروردی شہید امام طریقت (۶) یحییٰ بن اشرف بن حسن محی الدین نووی (۷) حافظ عبدالرحمن ابن جوزی۔

ساتویں صدی کے مجدد اصحاب:

(۱) احمد بن عبدالحلیم تقی الدین ابن تیمیہ حنبلی (۲) تقی الدین ابن دقیق العید (۳) شاہ شرف الدین مخدوم بہائی سندی (۴) حضرت معین الدین چشتی (۵) حافظ ابن القیم جوزی شمس الدین محمد بن ابی بکر بن ایوب بن سعد بن القیم الجوزی زرعی دمشقی حنبلی (۶) عبداللہ بن اسعد بن علی بن سلیمان بن فلاح ابو محمد عفیف الدین یافعی شافعی (۷) قاضی بدرالدین محمد بن عبداللہ اشبلی حنفی دمشقی۔

آٹھویں صدی کے مجددین:

(۱) حافظ علی بن حجر عسقلانی شافعی (۲) حافظ زین الدین عراقی شافعی (۳) صالح بن عمر بن ارسلان قاضی بلقینی (۴) علامہ ناصر الدین شازلی بن سنت سبکی۔

نویں صدی کے مجدد اصحاب:

(۱) عبدالرحمن کمال الدین شافعی معروف بہ امام جلال الدین سیوطی (۲) محمد بن عبدالرحمن سخاوی شافعی (۳) سید محمد جونپوری مہدی اور بقول بعض دسویں صدی کے مجدد ہیں۔

صفحہ ٩١

صفحہ نمبر

دسویں صدی کے مجدد اصحاب یہ ہیں:

(۱) ملا علی قاری (۲) محمد طاہر فتنی گجراتی، محی الدین محی السنۃ (۳) حضرت علی بن حسام

الدین معروف بہ علی متقی ہندی مکی۔

گیارہویں صدی کے مجددین:

(۱) عالم گیر بادشاہ غازی اورنگ زیب (۲) حضرت آدم صوفی (۳) شیخ احمد بن

عبدالاحد بن زین العابدین فاروقی سرہندی معروف بامعام ربانی مجدد الف ثانی۔

بارہویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں:

(۱) محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان نجدی (۲) مرزا مظہر جان جاناں دہلوی (۳) سید

عبدالقادر بن احمد بن عبد القادر حسنی کوکبانی (۴) حضرت احمد شاہ ولی اللہ صاحب

محدث دہلوی (۵) امام شوکانی (۶) علامہ سید محمد بن اسماعیل امیر یمن (۷) محمد حیات

بن ملا زینہ سندھی مدنی۔

تیرہویں صدی کے مجددین:

(۱) سید احمد بریلوی (۲) شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (۳) مولوی محمد اسماعیل شہید

دہلوی (۴) بعض کے نزدیک شاہ رفیع الدین صاحب بھی مجدد ہیں (۵) بعض نے

شاہ عبد القادر کو مجدد تسلیم کیا ہے، ہم اس کا انکار نہیں کر سکتے کہ بعض ممالک میں بعض

بزرگ ایسے بھی ہوں گے جن کو مجدد مانا گیا ہو اور ہمیں اطلاع نہ ملی ہو۔

مرزائی سوال:

مرزائی عموماً سوال کرتے ہیں کہ چودہویں صدی کا مجدد کون ہے، واضح ہو

صفحہ ۹۲

صفحہ نمبر

کہ ان کے نزدیک آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی ہی چودہویں صدی کا مجدد ہے۔

جواب:

ہم جواب میں چودہویں صدی کے مجددین کے ضمن میں یہ نام پیش کرتے ہیں:

(۱) حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند (۲) حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی (۳) مفسر قرآن حضرت مولانا حسین علی (۴) شیخ العرب والعجم حضرت مولانا حسین احمد مدنی (۵) حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی بانی تبلیغ جماعت (۶) سید المحدثین حضرت مولانا سید علامہ انور شاہ کشمیری (۷) شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری (۸) حضرت شاہ عبدالقادر رائپوری (۹) حضرت خلیفہ غلام محمد، دین پور شریف ۔

نوٹ: مرزا خدا بخش کی اس دی گئی فہرست میں تیرہ صدیوں کے مجددین کی تعداد اکیاسی بنتی ہے۔

کتاب عسل مصفیٰ کی تائید وتوثیق:

واضح ہو کہ مولوی خدا بخش مصنف کتاب ”عسل مصفیٰ“ اپنی اس کتاب کے صفحہ ۷۶ پر لکھتا ہے کہ میری اس کتاب کو حکیم نور الدین بھیروی، مولوی عبدالکریم سیالکوٹی، مولوی محمد احسن امروہی نے تو نہایت ہی پسند فرمایا۔ آگے لکھتا ہے: ”حضرت مرزا غلام احمد قادیانی رئیس قادیان مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام (نعوذ باللہ العظیم) نے بھی اس ناچیز رسالے کو عزت کی نگاہ سے دیکھا اور اس کے سننے سے اظہار خوشی فرمایا۔ سو دوسری وجہ جو اس کتاب کے لکھنے کی محرک ہوئی وہ یہی ہے کہ خود ہادی امام میری ناچیز خدمت کو نظر قبولیت سے دیکھتے ہیں۔“

(”عسل مصفیٰ: ج۱ ص۷)

صفحہ ۹۳

ضمیمہ

دلائل اثبات رفع ونزول از روئے قرآن مجید

آیت نمبر ۱:

” ھوالذی أرسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ.“

(حاشیہ براہین احمدیہ: ج۴، ص۴۵۹، ایڈیشن قدیم، ص۴۹۹، روحانی خزائن: ج۱، ص۵۹۳) ١؎

آیت نمبر ۲:

” عسیٰ ربکم أن یرحمکم.“

(حاشیہ براہین احمدیہ: ج۴، روحانی خزائن: ج۱، ص۶۰۱، قدیم ایڈیشن ص۵۰۵) ٢؎

آیت نمبر ۳:

” ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین.“ (سورۃ آل عمران، ع۵، آیت۵۴)

ترجمہ : اور انہوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اللہ تدبیر کرنے والوں میں بہتر تدبیر کر نیوالے ہیں۔

طرز استدلال:

یہود نامسعود کی تدبیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی تھی اور انہوں نے آپ کو قتل کرنے کی پوری کوشش کی جس کا اللہ تعالیٰ نے ”ومکروا“ میں ذکر فرمایا ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تدبیر کا ذکر فرمایا اور اپنی تدبیر کو بہتر بتایا، ان کی تدبیر ناکام ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر غالب ہوگئی ، چنانچہ ” یہوداء اسکریوطی‘‘ جو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں سے تھا، تیس روپے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑوانے والے کیلئے اس مکان میں داخل ہوا، اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت

صفحہ ۹۴

بقیہ ضمیمہ

عیسیٰ کی شکل میں تبدیل کر دیا اور عیسیٰ کو اپنی کمال قدرت سے آسمان پر اٹھا لیا۔ مذکورہ بالا آیت کی تمام مفسرین نے یہی تفسیر بیان کی ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس تدبیر کا ذکر کیا ہے کوئی ایک مفسر یا مجدد پیش نہیں کیا جاسکتا جس نے یہاں پر عیسائیوں اور مرزائیوں کی تدبیر بیان کی ہو۔

نکتہ:

”مکر“ کہتے ہیں لطیف خفیہ تدبیر کو۔ اگر اچھے مقصد کیلئے ہو تو اچھا ہے اور برائی کیلئے ہو تو برا ہے۔ اسی لئے ” ولا يحيق المكر السيئى إلا بأهله“ میں مکر کے ساتھ سیئی کی قید لگائی ہے اور یہاں خدا تعالیٰ کو خیر الماکرین کہا۔ مطلب یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں اور خفیہ تدبیریں شروع کر دیں، حتیٰ کہ بادشاہ کے کان بھر دیے کہ یہ شخص (معاذ اللہ) ملحد ہے، تورات کو بدلنا چاہتا ہے، سب کو بددین بنا کر چھوڑے گا۔ اس نے مسیح علیہ السلام کی گرفتاری کا حکم دے دیا، ادھر یہ ہورہا تھا اور ادھر حق تعالیٰ کی لطیف اور خفیہ تدبیر ان کے توڑ میں اپنا کام کر رہی تھی، جس کا آگے ذکر آئے گا۔ بیشک خدا کی تدبیر سب سے بہتر اور مضبوط ہے جسے کوئی توڑ نہیں سکتا۔

(تفسیر عثمانی: از علامہ شبیر احمد عثمانی، ص ۷۱)

آیت نمبر ۴:

” إذ قال الله يا عيسى إنى متوفيك ...... الخ.“

(آل عمران:ع۶، آیت۵۵)

ترجمہ : اے عیسیٰ! بے شک میں تجھے لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔

یہ آیت بھی عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع جسمانی کی صریح دلیل ہے، اس

صفحہ ۹۵

صفحہ ضمیمہ

میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی تدبیر کے بالمقابل عیسیٰ کو تسلی دیتے ہوئے ان سے چار وعدے فرمائے ہیں:

یہ چار وعدے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے اس وقت کئے جب یہود نامسعود آپ کے قتل کا منصوبہ تیار کر چکے تھے یہاں پر ’’رافعک‘‘ میں جو رفع کا وعدہ ہے وہ بالاتفاق تمام مجددین ومفسرین رفع جسمانی ہے، مرزا غلام احمد قادیانی کذاب سے قبل جس قدر مجددین گزرے ہیں، کوئی ایک مجدد بھی ایسا پیش نہیں کیا جا سکتا جس نے یہاں رفع سے مراد رفع درجات یا رفع روحانی لیا ہو، البتہ ’’متوفیک‘‘ کے معنی میں علماء کرام کی دو رائے ہیں۔ اکثر علماء نے اس کا معنی پورا پورا لینے کا کیا ہے یعنی جسد مع الروح کیونکہ یہی ’’توفی‘‘ کا حقیقی معنی ہے۔ بعض علماء نے متوفیک کا معنی ’’ممیتک‘‘ لیا ہے، جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے لیکن یہ بھی ہمیں مضر نہیں ہے، اس لئے کہ جن حضرات نے ’’توفی‘‘ کا معنی موت کا لیا ہے وہ اس میں تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں یعنی ’’ممیتک عند انقضاء أجلک ورافعک الآن.‘‘ میں تجھے ماروں گا جب تیری موت کا وقت مقرر ہوگا اور اب تجھے اٹھانے والا ہوں، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’متوفیک :ممیتک.... قولہ :ممیتک

صفحہ ۹۶

صفحہ ضمیمہ

محمول على وفاة عيسى عليه السلام في آخر الزمان.“

(تفسیر ابن عباس)

ہمارا دعویٰ ہے کہ واؤ ترتیب کیلئے نہیں ہوتی ، یہاں بھی واؤ ہے اور ترتیب ملحوظ نہیں ہے ، اس کے برخلاف مرزا نے لکھا: ” قرآن مجید کی ترتیب کو الٹنا یہ مسلمانوں کا کام نہیں ہے کیا اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم نہ تھا کہ وہ صحیح ترتیب سے کلام فرمادیتے ۔اے مسلمان مولویو! تمہیں اللہ تعالیٰ کے کلام میں تغیر و تبدل کرنے سے شرم نہیں آتی ۔“

(خلاصہ عبارت ازالہ اوہام: روحانی خزائن : ج ۳، ص ۴۲۵ تا ۴۲۶)

جواب نمبر ۱:

تمام علماء نحو اس بات پر متفق ہیں کہ واؤ ترتیب کیلئے نہیں ہوتی بلکہ مطلق جمع کیلئے ہوتی ہے ، بخلاف ثم اور فاء کے۔ شرح مائۃ عامل کا طالب علم بھی اس سے آگاہ ہے۔

جواب نمبر ۲:

قرآن مجید میں اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ”واؤ“ ہمیشہ ترتیب کیلئے نہیں ہوتی ، جیسا کہ حضرت مریم کو فرمایا:

” واسجدی وارکعی “ ترجمہ: اور سجدہ کیا کر اور رکوع کیا کر۔

(پ۳، آل عمران ۴۳، ع ۵)

” فأخذه الله نكال الآخرة والأولى .“ ترجمہ: پس اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا و آخرت کے عذاب میں پکڑا۔

(پ۳۰، النازعات ۲۵، ع۱)

جواب نمبر ۳:

اس پوری آیت میں مرزائیوں کے نزدیک بھی ترتیب ٹھیک نہیں ہے کیونکہ مرزائیوں کی تفسیر کے مطابق آیت کا معنیٰ یوں ہوگا:

” اے عیسیٰ ! میں تجھے پہلے موت دینے والا ہوں اس کے بعد تیرا روحانی

صفحہ ۹۷

حصہ ضمیمہ

رفع یا رفع درجات کروں گا، اس کے بعد تجھے کافروں سے پاک کروں گا اور اس کے بعد تیرے متبعین کو تیرے دشمنوں پر غالب کروں گا۔“

اب مرزائیوں کے خیال کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کشمیر کی طرف ہجرت کرنے کے بعد واقعہ صلیب سے ستاسی سال بعد کشمیر میں ہوئی، تو اب ”مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا“ ترجمہ: میں تجھے کافروں سے پاک کروں گا، پہلے ہو گیا اور وفات اور رفع ستاسی برس بعد ہوا، جس سے معلوم ہوا کہ ترتیب مرزائیوں کے نزدیک بھی قائم نہ رہی، واقعہ کے طور پر تطہیر پہلے ہوئی اور اس کے بعد وفات پھر رفع اور پھر غلبہ۔

؎ الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

جواب نمبر ۴:

کئی ایک مفسرین نے یہاں ترتیب کو الٹ کر تفسیر کی ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

جواب نمبر ۵:

عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق افراط کا شکار ہوئے اور انہیں الٰہ تک بنادیا اور یہود تفریط کے قائل ہوئے تو درجہ نبوت سے بھی نیچے گرا دیا۔ خدا تعالیٰ کو دونوں کی تردید کرنا مقصود تھی، عیسائیوں نے شرک کیا تھا اور یہود نے گستاخی رسول، چونکہ شرک بہرحال گستاخی رسول سے بڑا جرم ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے اس کی تردید کی لفظ

صفحہ ۹۸

”متوفیک“ سے، کہ میں تجھے موت دوں گا۔ مطلب صاف ظاہر ہے کہ جس پر موت آتی ہے وہ الہ اور معبود نہیں ہو سکتا، اس کے بعد یہود کی تردید ”ورافعک إلی“ سے کی یعنی تم نے میرے رسول کی شان میں کمی کی میں نے تو ان کو اوپر اٹھا لیا اور اوپر اٹھانے سے ان کی رفعت شان ظاہر ہوئی۔

بحث لفظ ”توفی“

اس لفظ کا مادہ ”وفی“ ہے یعنی جب یہ مادہ باب تفعل میں چلا جائے تو اس کے حقیقی معنی پورا پورا لینے کے ہوں گے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”أتوفیت الثمن“ ہاں موت اور نیند کے معنی میں بھی مجازاً استعمال ہوتا ہے جبکہ وہاں کوئی قرینہ موجود ہو جیسے ” هوالذی یتوفاکم بالیل“ (وہی ہے جو تمہیں رات کو موت دیتا ہے ) (پارہ ۷، الانعام ۶۰، ع ۷) اسی طرح ” الله یتوفی الأنفس حین موتها والتی لم تمت فی منامها.“ ترجمہ: اللہ تعالیٰ جانوں کو ان کی موت کے نزدیک قبض کر لیتا ہے اور جو ابھی نہیں مرے ان کی جان نیند میں قبض کر لیتا ہے۔

(پ ۲۴، الزمر ۴۲، ع ۵)

یہ آیات اس بات کی صریح دلیل ہیں کہ ”توفی“ کا حقیقی معنی موت نہیں ہے، اگر اس کا حقیقی معنی موت ہوتا تو موت اور توفی کا تقابل درست نہ تھا یہاں آیت میں توفی کے ساتھ موت اور عدم موت دونوں جمع ہو رہی ہیں۔

توفی کا معنی از کتب سلف:

صفحہ ۹۹

صفحہ نمبر الوفاة قبضا ليس بموت.“ (مجمع البحر ص ۴۵۴، ج۲ منقول از عسل مصفی: ج ۱، ص ۱۷۵) ۴۷۷

(تفسیر صافی: ج۱، عسل مصفی: ج۱، ص ۱۸۷)

نوع منه.“ (حاشیہ شیخ احمد صاوی مالکی علی جلالین : ص ۳۱۵ منقول از عسل مصفی: ص ۱۸۷)

توفی کے معنی پر مرزا قادیانی کا چیلنج

حوالہ نمبر ۱:

”توفی باب تفعل ہو، اللہ فاعل ہو، ذی روح مفعول ہو، لیل اور نوم کا قرینہ بھی نہ ہو تو وہاں قبض روح بمعنی موت ہی ہوگا جو اس کے خلاف دکھلاوے اسکو مبلغ ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔“ (تحفہ گولڑویہ: ص ۴۵، روحانی خزائن: ج ۱۷، ص ۱۶۲، مثلہ ایام ۴۹۸ الصلح: ص ۱۳۹، روحانی خزائن: ج ۱۴، ص ۳۸۴) (ازالہ اوہام: حصہ دوم ص ۹۱، روحانی خزائن: ج ۳، ص ۲۰۳) ۵۶۱

جواب نمبر ۱:

یہ محض مرزا کا من گھڑت قاعدہ ہے، کسی امام لغت نے یہ قاعدہ تحریر نہیں کیا اگر کوئی قادیانی کسی امام لغت سے یہ قاعدہ دکھا دے تو ہم اسے دس ہزار روپیہ انعام دیں گے۔

جواب نمبر ۲:

مرزا کا یہ من گھڑت قاعدہ اس کی اپنی تحریر سے ٹوٹ رہا ہے۔ براہین احمدیہ حصہ ۴ ص ۵۲۰ میں متوفیک کا معنی لکھا ہے: ”میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا۔“

(حاشیہ براہین احمدیہ: ص ۵۲۰، روحانی خزائن: ج ۱، ص ۶۲۰) ۷

صفحہ 100

صوفیہ

حوالہ نمبر ۲:

براہین احمدیہ کا وہ الہام یعنی یا عیسی إنی متوفيك ...... الخ .“ جو سترہ برس سے شائع ہو چکا ہے اس کے اس وقت خوب معنی کھلے یعنی یہ الہام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اسوقت بطور تسلی ہوا تھا جب یہود ان کو مصلوب کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس جگہ بجائے یہود، ہنود کوشش کر رہے ہیں اور الہام کے یہ معنی ہیں کہ میں تجھے ایسی ذلیل اور لعنتی موتوں سے بچاؤں گا۔ (حاشیہ سراج منیر: ص ۶۱، روحانی خزائن: ج ۱۲، ص ۲۴) ۱۴۱

جواب:

☆ انعامی حوالہ ☆

”عن ابن عمر وإذا رمی الجمار لا یدری أحد ما لہ حتی یتوفاہ اللہ یوم القیامۃ .“ (الترغیب والترہیب: ج ۲، ص ۱۰۳، طبع دار الفکر، باب الترغیب فی رمی ۱۴۲ الجمار، وما جاء فی رفعہا، رواہ البزار والطبرانی وابن حبان واللفظ لہ)

اس حدیث شریف میں مرزائیوں کی تمام شرائط موجود ہیں، مگر ”توفی“ کا معنی موت نہیں ہے۔

﴿ہمارا چیلنج﴾

ہمارا دعویٰ ہے کہ اگر توفی باب تفعل سے ہو، اللہ اس میں فاعل ہو اور ذی روح اس کا مفعول ہو جو بن باپ پیدا ہوا ہو وہاں پر توفی کا معنی پورا پورا لینا اور اٹھانا ہوگا، موت کا معنی نہیں ہے، کوئی مرزائی ”مرد میدان“ ہے جو ہمارے اس قاعدے کو توڑ کر منہ مانگا انعام حاصل کرے، اگر مرزائی کہیں کہ آپ کا یہ قاعدہ کہاں لکھا ہوا ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ علم النحو کی جس کتاب میں مرزا کا قاعدہ لکھا ہوا ہے اسی کتاب میں ساتھ یہ بھی لکھا ہوا ہے۔

صفحہ ١٠١

ضمیمہ

آیت نمبر ۵:

”وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله إليه وكان الله عزيزاً حكيماً.“

(پارہ ۶ سورة النساء ۱۵۷، ۱۵۸، ع ۲۲) ترجمہ: اور انہوں نے اس (عیسیٰ علیہ السلام) کو نہیں مارا یقیناً، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔

حکیم نور الدین نے اس آیت کا ترجمہ یہ کیا ہے:”بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔“

(حاشیہ فصل الخطاب : ص ۳۱۴)

یہ آیت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی اور حیات کی صریح دلیل ہے۔

نکتہ: یہودیوں کی طرف سے قتل کا فعل واقع نہیں ہوا تھا بلکہ یہ محض ان کا ایک جھوٹا دعویٰ تھا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ملعون ہونے کے من جملہ اسباب میں سے ان کے اس قول کو لعنتی ہونے کا سبب بتایا ہے نہ کہ فعل کو، اس لئے ”وقتلہم“ نہیں فرمایا بلکہ ”وقولہم“ فرمایا۔

مرزائی عذر:

اس آیت میں رفع سے مراد رفع روحانی اور رفع درجات ہے، کیونکہ یہودیوں کے نزدیک صلیب کی موت لعنتی شمار ہوتی ہے تو یہاں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے جواب میں فرمایا کہ وہ ان کو ذلیل نہیں کر سکے بلکہ ہم نے ان کے درجات بلند کر دیئے۔

جواب نمبر ۱:

یہ غلط، بالکل غلط ہے، ہم پورے دعویٰ سے کہتے ہیں بلکہ ہمارا امت مرزائیہ کو چیلنج ہے کہ مرزا قادیانی سے پہلے تیرہ صدیوں کے مسلمہ بین الفریقین جس قدر مجدد

صفحہ ١٠٢

موجز

اور مفسر گذرے ہیں، ان میں سے کسی ایک نے بھی یہاں رفع سے مراد رفع درجات یا روحانی رفع نہیں لیا ،سب نے بالاتفاق یہاں رفع سے مراد اسی جسم عنصری سے آسمانوں پر اٹھایا جانا مراد لیا ہے۔ فاتوا برہانکم ان کنتم صادقین

جواب نمبر ۲:

یہ تمہارا مفروضہ کہ صلیب کی موت لعنتی موت ہوتی ہے ،سراسر غلط اور یہودیانہ نظریہ ہے۔ اول یہ ہے کہ اس کا دارو مدار بائبل پر ہے جو محرف ہے۔ دوم اس لئے کہ انہوں نے اپنے رائج طریقہ سے کئی ایک انبیاء علیہم السلام کو قتل کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”ویقتلون الانبیاء بغیر حق“ ترجمہ: اور وہ انبیاء کو ناحق مار ڈالتے تھے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ ان انبیاء کو جنہیں وہ برحق نہیں مانتے تھے، اپنے رائج طریقہ یعنی صلیب کے ذریعہ ختم کرتے تھے یعنی قتل کرتے تھے، تو وہاں اللہ تعالیٰ نے ان کا رفع کیوں نہیں بیان کیا بلکہ ان کے رفع کا ذکر تک بھی نہیں کیا جب کہ ان کا قتل وقوع میں آچکا ہے اور یہ قتل وقوع میں بھی نہیں آیا محض یہودیوں کا قتل کا قول ہے۔

جواب نمبر ۳:

یہاں رفع روحانی اس لئے بھی نہیں ہوسکتا کہ یہاں پر چار جگہ واحد مذکر غائب کی ضمیر آئی ہے، جن میں تین ضمیروں کا مرجع بالاتفاق عیسیٰ بن مریم جسد مع الروح ہے، ان ضمیروں کا مرجع نہ صرف جسد ہے اور نہ صرف روح، کیونکہ قتل اور صلیب کا فعل تب ہی واقع ہوسکتا ہے جب جسد اور روح اکٹھے ہوں تو لامحالہ رفع کی ضمیر کا مرجع بھی جسد مع الروح ہی ہوگا نہ کہ فقط روح نیز یہاں پر ”کان اللّٰہ

صفحہ ۱۰۴

سوئم

عزیزاً حکیماً “ کا جملہ اس بات کی قوی دلیل ہے کہ یہاں رفع جسمانی ہی ہے ورنہ رفع روحانی کیلئے ان صفات کے لانے کی ضرورت نہیں تھی اور یہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں زائد جملہ ہو جائے گا۔

مرزائی عذر:

عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر کیسے جاسکتے ہیں؟ اول: تو اس میں کئی ناری کرے ہیں، دوم : اس لئے کہ جب نبی اکرم ﷺ سے مشرکین نے کہا کہ آپ آسمانوں پر جائیں تب ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ الخ تو جناب نبی اکرم ﷺ نے جواب میں فرمایا ھل کنت إلا بشراً رسولاً (میں تو صرف بشر رسول ہوں)

(پارہ ۱۵، بنی اسرائیل:۹۳)

جواب:

عیسیٰ علیہ السلام اسی طرح چلے گئے جیسے موسیٰ علیہ السلام چلے گئے۔

(بحوالہ نور الحق: ص ۵۱، روحانی خزائن: ج ۸، ص ۶۹) ذیل میں ملاحظہ فرمائیں ۔

٭ ایٹم بم نمبر ۱ ٭

” هٰذَا هُوَ مُوسَى فَتَى اللّٰهِ الَّذِىْ أَشَارَ اللّٰهُ فِىْ كِتَابِهِ إِلَى حَيَاتِهِ وَفَرَضَ عَلَيْنَا أَنْ نُّؤْمِنَ بِأَنَّهُ حَىٌّ فِى السَّمَاءِ وَلَمْ يَمُتْ وَلَيْسَ مِنَ الْمَيِّتِيْنَ “

(نور الحق: ص ۵۰، روحانی خزائن: ج ۸، ص ۶۹،۶۸)

مرزائی اعتراض:

مرزائی عموماً اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ یہاں ” حَىٌّ فِى السَّمَاءِ “ سے مراد روحانی حیات ہے اور آگے ” لَمْ يَمُتْ “ سے نفی روحانی موت کی ہو رہی ہے۔

صفحہ ١٠٤

صغیر

جواب نمبر ۱:

کیا کوئی شخص ان کی روحانی موت کا قائل ہے کہ تم اس کو ثابت کر رہے ہو روحانی حیات تو کفار کو بھی حاصل ہے۔

جواب نمبر ۲:

آگے اسی حوالہ میں مرزا نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تقابل کیا ہے کہ موسیٰ تو بے شک زندہ ہیں ، مگر عیسیٰ کے بارے میں ہمیں آیات سے ثبوت ملتا ہے کہ وہ فوت ہو چکے ہیں ، جس طرح کہ آگے حوالہ میں مذکور ہے ”ولا تجد مثل هذه الآيات فى شأن عيسى“ تو ہم پوچھتے ہیں کہ اس تقابل سے تو معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ پر روحانی موت آگئی حالانکہ روحانی موت کسی پر بھی واقع نہیں ہوتی تقابل تب ہی درست بن سکتا ہے، جب موسیٰ کی جسمانی حیات مراد لی جائے۔

☆ایٹم بم حوالہ نمبر ۲☆

”بل حياة كليم الله ثابت بنص القرآن الكريم ألا تقرء فى القرآن ما قال الله تعالى وعزوجل :” ولا تكن فى مرية من لقائه‘ وأنت تعلم أن هذه الآية نزلت فى موسى فهى دليل صريح على حياة موسى عليه السلام لأنه لقى رسول الله ﷺ والأموات لا يلاقون الأحياء ولا تجد مثل هذه الآيات فى شان عيسى عليه السلام نعم جاء ذكر وفاته فى مقامات شتى فتدبر

صفحہ ۱۰۵

صفحہ نمبر

فإن الله يحب المتدبرين .“

(حمامۃ البشریٰ : ص ۳۵، روحانی خزائن: ج ۷، ص ۲۲۱، ۲۲۲)

جواب نمبر ۲:

یہاں پر بحث جانے کی نہیں بلکہ لیجانے کی ہے ہم بھی مانتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام تو کیا کوئی نبی بھی آسمانوں پر نہیں جاسکتا، سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ لے جاسکتے ہیں یا نہیں؟ جناب نبی کریم ﷺ نے زیادہ سے زیادہ اس جواب میں اپنی بشریت کے اقرار میں خود جانے کی نفی کی ہے، نہ کہ اللہ تعالیٰ کے لے جانے کی۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ کے لے جانے کا ذکر فرماتے ہیں: ”سبحان الذي أسرى بعبده ...... الخ.“ یہاں بھی رفع میں فاعل اللہ تعالیٰ ہے۔

مرزائی اعتراض:

آیت مذکورہ میں بل ابطالیہ مراد لینا بالکل غلط ہے؛ کیونکہ قرآن مجید کلام اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام میں بل ابطالیہ نہیں آسکتا۔

جواب:

جن نحویوں نے یہ بات کہی ہے انہوں نے اس بات کی بھی تصریح کر دی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کفار کا قول نقل کریں تو ان کی تردید میں بل ابطالیہ آتا ہے جیسا کہ احمدیہ پاکٹ بک والے مرزائی نے خود ص ۳۳۰ پر نقل کیا ہے: قرآن مجید میں کئی مقامات پر بل ابطالیہ استعمال کیا گیا ہے، مثلاً: ”وقالوا اتخذ الله ولدا سبحانه بل له ما في السموات والأرض كل له قانتون.“ (پارہ ۱، آیت ۱۱۶، رکوع ۱۳) ترجمہ: اور انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد پکڑی، پاکی ہے اس

صفحہ 106

کو بلکہ اسی کیلئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب کچھ اسی کے فرمانبردار ہیں۔

”وقالوا اتخذ الرحمن ولدا سبحانه بل عباد مكرمون .“ (پارہ ۱۷ الانبیاء :آیت ۲۶) ترجمہ : اور انہوں نے کہا کہ رحمٰن نے اولاد پکڑی وہ اولاد سے پاک ہے بلکہ جن کو تم اولاد بتاتے ہو، وہ مکرم بندے ہیں۔

”أم يقولون افتری بل هوالحق من ربک.“ ترجمہ: کیا وہ کہتے ہیں کہ جھوٹ باندھ لیا ہے بلکہ وہ تیرے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔

فائدہ:

بل ابطالیہ یا اضرابیہ جس کلام میں آتا ہے اس میں بل کے ماقبل اور مابعد والے مضمون میں منافات ہوتی ہے ورنہ بل ابطالیہ بے سود ہے، اب متنازعہ فیہ آیت میں اس کے مابعد سے اگر رفع درجات مراد لیا جائے تو اس کی ماقبل سے منافات نہیں ہاں! رفع حیاً اور قتل میں منافات ہے۔

مرزائی اعتراض:

یہ ضروری نہیں کہ رفعہ میں ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسد مع الروح ہوں جیسا کہ قرآن مجید میں وارد ہے:”ثم أماته فأقبره .“ یہاں دو ضمیریں آئی ہیں جو انسان کیطرف لوٹتی ہیں پہلی ضمیر جسد مع الروح کی طرف اور دوسری ضمیر صرف جسد یا روح کی طرف۔

جواب نمبر ۱:

صفحہ ۱۰۷

اب مندرجہ بالا آیت میں موت واقع ہونے کے بعد جبکہ جسد اور روح میں انفصال ہو گیا تو لامحالہ دوسری ضمیر کا مرجع یا جسد ہو گا یا فقط روح ، دونوں نہیں بن سکتے ، بخلاف متنازعہ فیہ آیت کے کہ اس میں قتل اور صلیب یعنی موت کی نفی کے بعد رفع کے ساتھ ضمیر آرہی ہے تو لامحالہ یہاں رفع جسد مع الروح ہو گا نہ کہ فقط روح کا لہٰذا یہ قیاس ، قیاس مع الفارق ہے۔

جواب نمبر ۲:

یہاں ”أَقْبَرَهٗ“ میں ضمیر جسد مع الروح انسان کی طرف لوٹ رہی ہے اور یہاں پر انسان کے مختلف حالات ذکر ہورہے ہیں۔

مرزائی اعتراض:

رَفَعَهٗ میں ضمیر کا مرجع صنعت استخدام ہے۔

جواب:

یہ مرزائیوں کی جہالت اور کور علمی کا بین ثبوت ہے اگر انہیں صنعت استخدام کی تعریف معلوم ہوتی تو وہ اس قسم کی جہالت کا ثبوت نہ دیتے۔

صنعت استخدام اسے کہتے ہیں کہ ایک لفظ جس کے دو معنی ہوں ، لفظ سے ایک معنی مراد لیا جائے اور جب اس لفظ کی طرف کوئی ضمیر لوٹائی جائے تو اس سے دوسرا معنی مراد لیا جائے یا ایک لفظ کے دو معنی ہوں اس کی طرف دو ضمیریں لوٹائی جائیں ایک ضمیر سے ایک معنی اور دوسری ضمیر سے دوسرا معنی مراد لیا جائے (دیکھو مختصر المعانی وغیرہ ص ۴۷۵) یہاں پر عیسیٰ بن مریم کے دو معنی نہیں کہ صنعت استخدام بن سکے۔

صفحہ ۱۰۸

ضمیمہ

مرزائی اعتراض:

إليــــــه سے مراد آسمانوں پر لینا درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”فأينما تولوا فثم وجه الله“ یعنی پس جدھر کو منہ کرو اُدھر ہی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے (پارہ ۱، ع ۱۴، البقرہ ۱۱۵) ”وهو الله فى السماء إله وفى الأرض إله.“ ترجمہ: اور اللہ ہی کی ذات ہے جو زمینوں

میں بھی معبود ہے اور آسمانوں میں بھی معبود ہے۔ (پارہ ۲۵، ع ۱۳، آیت ۸۴)

جواب نمبر ۱:

إليه سے مراد اِلى السماء ہے، جیسا کہ مرزا صاحب خود تسلیم کرتے ہیں : ”ہر ایک نبی اپنے درجہ کے موافق آسمانوں کی طرف اُٹھایا جاتا ہے اور اپنے قرب کے انداز کے موافق رفع سے حصہ لیتا ہے اور انبیاء واولیاء کی روح اگر چہ دنیوی حیات کے زمانہ میں زمین پر ہو مگر پھر بھی اس آسمان سے تعلق ہوتا ہے جو اس کی روح کیلئے حد رفع ٹھہرایا گیا ہے اور موت کے بعد وہ روح اس آسمان میں جا ٹھہرتی

ع ہے جو اس کیلئے حد رفع مقرر کیا گیا ہے۔“ (ازالہ اوہام: ۳، روحانی خزائن، ج ۳، ص۲۷۶)

اب اس حوالہ سے ثابت ہو گیا کہ اِلیــــــہ سے مراد آسمان ہے لہذا حد رفع میں قادیانیوں اور ہمارا کوئی اختلاف نہ ہوا بلکہ اختلاف مرفوع شے میں ہے کہ اٹھائی کون سی چیز گئی ہے فقط روح یا جسد مع الروح۔ اس کا جواب بل ابطالیہ میں موجود ہے کیونکہ بل کے ماقبل اور مابعد میں ضدیت ہے اور ضدیت کیلئے وحدت زمانی ضروری ہے لہذا عدم موت اور رفع کا زمانہ بھی ایک ہونا چاہیے اور آپ کے نزدیک عدم موت اور رفع کے درمیان ۸۷ برس کا طویل فاصلہ ہے۔

صفحہ ١٠٩

ضمیمہ

جواب نمبر ۲:

اصل بات یہ ہے کہ بلندی کی نسبت اللہ تعالیٰ اپنی طرف کرتے ہیں چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات بلند اور ارفع ہے جیسے فرمایا:” إليه يصعد الكلم الطيب “ یہاں بھی الیہ سے مراد آسمان ہی ہے۔

جواب نمبر ۳:

قرآن خود گواہی دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں میں ہے ” أء منتم من في السماء أن يخسف بكم الأرض ...... الخ . ترجمہ : ” کیا تم نڈر ہو اس ذات سے جو آسمان میں ہے کہ تم سب کو زمین میں دھنسا دے۔ (پارہ۲۹،الملک ۱۶)

جواب نمبر ۴:

مرزا کا الہام ہے: ۱)” فرزند دل بند گرامی ارجمند مظہر الاول والآخر مظہر الحق

۱- ۱۴۸

والعلا كأن الله نزل من السماء .“ (تذکرہ:ص۱۴۴، ۱۴۸، طبع دوم، حاشیہ ازالہ اوہام:ص۱۵۶، روحانی خزائن: ج ۳، ص ۱۸۰)

۲- ۸۱

۲) ” جرى الله فى حلل الأنبياء.“ (تذکرہ:ص۸۱)

۳- ۶۲۶

”كأن الله نزل من السماء.“ (تذکرہ:ص ۶۲۶ ،مجموعہ

۴- ۱۰۱

اشتہارات: ج ۱، ص ۱۰۱) اس الہام سے معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کے نزدیک اللہ تعالیٰ آسمانوں پر ہے۔

جواب نمبر ۵:

خود مرزا کا قول ہے: ” ألا يعلمون أن المسيح ينزل من

صفحہ ١١٠

توضیح

السماء بجميع علومه ولا يأخذ شيئا من الأرض مالهم لا يشعرون . “

(آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن ج ۵ ص ۲۰۹)

۷

مرزائی اعتراض:

” إذا تواضع العبد رفعه الله إلى السماء السابعة . “ دیکھئے! اس میں رفع جسمانی مراد نہیں بلکہ روحانی مراد ہے حالانکہ یہ حدیث بعینہ بل رفعه اللہ کی طرح ہے۔

جواب نمبر ۱:

یہاں رفع سے پہلے تواضع کا قرینہ موجود ہے لہٰذا یہاں پر رفع درجات ہی مراد ہوگا نیز یہ قیاس مع الفارق ہے کیونکہ یہ آیت کے مشابہ نہیں کیونکہ آیت میں تو پہلے قتل کی نفی موجود ہے ، قتل کی نفی کے بعد تو رفع جسمانی ہوگا بخلاف اس کے کہ یہاں نہ قتل کا ذکر ہے اور نہ بل ابطالیہ موجود ہے اسی طرح باقی تمام جگہوں میں سمجھیں جہاں جہاں رفع درجات مراد ہوگا وہاں کوئی نہ کوئی قرینہ ضرور موجود ہوگا۔

جواب نمبر ۲:

کسی مقام میں رفع سے رفع درجات یا رفع روحانی پائے جانے سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ متنازع فیہ آیات میں بھی رفع سے مراد روحانی رفع ہے، ہم بلا خوف تردید یہ کہہ چکے ہیں کہ اس آیت میں کسی ایک مسلم مفسر یا مجدد نے رفع روحانی مراد نہیں لیا اگر ہمت ہے تو مرزا کے علاوہ اس سے قبل کسی مجدد کا نام پیش کرو۔

آیت نمبر ۶:

” وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ...... الخ . “ اور اہل

صفحہ ۱۱۱

ضمیمہ

کتاب میں سے ہر ایک اس (عیسیٰ پر یعنی آپ کے زندہ ہونے ) پر ایمان لائے گا آپ (عیسیٰ) کی موت سے پہلے اور آپ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔“

(پارہ ۶، النساء ۱۵۹، ع ۲۲)

آیت مذکورہ میں بہ اور موتہ دونوں ضمیروں کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور آیت کا مطلب ہے کہ آئندہ زمانہ میں جس قدر اہل کتاب موجود ہوں گے تمام کے تمام عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے قبل ان پر ایمان لائیں گے، یہ آیت اس بات کی صریح دلیل ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اب تک فوت نہیں ہوئے اور وہ قیامت کے قریب دوبارہ تشریف لائیں گے۔ تمام مفسرین نے آیت مذکورہ کا یہی معنی بیان کیا ہے دیکھئے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی :

” والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ...... الخ.“

تو اس کے بعد فرمایا ” وإن شئتم فاقرؤا وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به ...... الخ.“ حضرت ابو ہریرہؓ صحابی رسول نے حدیث رسول بیان کرنے کے بعد یہ آیت بطور استشہاد پیش کی جس سے آیت کی تفسیر واضح ہو گئی، صحابی رسول ﷺ کی اس تفسیر کے بعد کسی انسان کی تفسیر جو اس کے خلاف ہو اس کی کوئی وقعت نہیں اور درحقیقت یہ تفسیر حضرت ابو ہریرہؓ کی نہیں بلکہ یہ حضورﷺ کی تفسیر ہے کیونکہ ایسے مقامات میں ابو ہریرہؓ اپنے قیاس سے کچھ نہیں کہہ سکتے، ان کی اکثر عادت شریفہ یہ تھی کہ کسی حدیث کے بیان کرنے کے بعد وہ استشہاد کے طور پر کبھی تو فرماتے ” قال رسول الله ﷺ وإن شئتم فاقرؤا “ اور کبھی ” قال رسول الله “ نہیں کہتے تھے صرف ” إن شئتم “ کہہ دیتے تھے۔ نیز دیکھئے اکابر سلف

صفحہ ۱۱۲

صفحہ

نے نزول عیسیٰ علیہ السلام پر آیت مذکورہ کو ہی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔

حوالہ نمبر ۱:

”فإن قيل فما الدليل علىٰ نزول عيسىٰ عليه السلام من القرآن فالجواب الدليل علىٰ نزوله قوله تعالىٰ ’وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته۔‘

۱۴ (الیواقیت والجواہر للعلامہ شعرانی، ج۲،ص۵۶۷،مطبوعہ مصر)

حوالہ نمبر ۲:

”ونزول عيسىٰ من السماء كما قال الله تعالىٰ وأنه أى عيسىٰ لعلم للساعة أى علامة القيامة ،وقال الله تعالىٰ: وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمننّ به قبل موته أى قبل موت عيسىٰ بعد نزوله عند قيام الساعة فيصير الملل ملة واحدة۔

۲۷ (شرح فقہ اکبر از ملا علی قاری، ص ۱۳۶)

مرزائی اعتراض:

بعض مفسرین نے قبل موتہ کی ضمیر کا مرجع اہل کتاب کو بنایا ہے اور یہ قراءۃ شاذہ کے موافق بھی ہے۔ قراءۃ شاذہ ”قبل موتھم“ ہے۔

جواب نمبر ۱:

حضرت ابوہریرہؓ کی تفسیر کے بعد کسی اور تفسیر کی کوئی حاجت نہیں اور نہ کسی پر اعتماد ہے۔

جواب نمبر ۲:

جن حضرات نے ضمیر کا مرجع اہل کتاب کو بنایا ہے وہ اس کے باوجود عیسیٰ

صفحہ ۱۱۳

نمبر

علیہ السلام کے رفع جسمانی اور آمد ثانی کے تمام امت کی طرح قائل ہیں لہٰذا ان کا اہل کتاب کو مرجع بنانا ہمیں مضر نہیں ہے۔

جواب نمبر ۳:

حکیم نور الدین بھیروی نے متنازعہ فیہ آیت کا ترجمہ اپنی کتاب ”فصل الخطاب بمقدمہ اہل الکتاب“ حصہ دوم، ص ۴۱۴ میں یوں کیا ہے : ”اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر ان کے گواہ ۔“ ملاحظہ فرمائیے! ان دونوں جگہوں میں کس صراحت کے ساتھ مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنایا گیا ہے۔

کتاب فصل الخطاب کی تعریف وتوثیق:

اس کتاب کی تعریف وتوثیق مرزا صاحب کی زبانی مرزا صاحب کی کتاب آئینہ کمالات اسلام :ص ۵۸۲ ، روحانی خزائن: ج ۵، ص ۵۱۴ میں ملاحظہ فرمائیں نیز کتاب فصل الخطاب کے مقدمہ ص ۶ تا ۷ میں بھی ملاحظہ فرمائیں۔

آیت نمبر ۷:

”وإنه لعلم للساعة فلا تمترن بها......الخ.“ اور بے شک وہ قیامت کی نشانی ہے پس اس میں شک مت کرو۔

(پارہ ۲۵، الزخرف ۶۱ ، ع ۶)

یہ آیت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قرب قیامت کے وقت نازل ہونے کی صریح دلیل ہے، جیسا کہ تمام مفسرین نے إنه کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا ہے

صفحہ ۱۱۴

صفحہ نمبر

اور اس طرح شاہ عبد القادر صاحب نے جو مرزا کے نزدیک تیرہویں صدی کے مجدد ہیں، یہ ترجمہ کیا کہ حضرت عیسیٰ کا آنا نشان قیامت ہے اور اس طرح ملا علی قاری نے فقہ اکبر: ص ۱۴۶ پر اس آیت کو نزولِ عیسیٰ علیہ السلام پر بطور دلیل پیش کیا ہے اور مرزا قادیانی نے بھی اپنی کتاب ”اعجاز احمدی“ میں ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام کو بنایا ہے

۲۵۲

(اعجاز احمدی بنام ضمیمہ نزول مسیح: ص ۲۱، روحانی خزائن: ج ۱۹، ص ۱۴۰)

آیت نمبر ۸:

”ویکلم الناس فی المهد وکہلا ...... الخ.“ ترجمہ: اور وہ (عیسیٰ) لوگوں سے کلام کریں گے گود میں بھی اور بڑھاپے میں بھی۔ (سورہ مریم)

واقعہ رفع یا صلیب یا قتل بالاتفاق قبل الکہولت عالم جوانی میں ہوا ہے پس ضروری ہے کہ وہ دوبارہ نازل ہوں تا کہ زمانہ کہولت کی گفتگو بھی صحیح ہو جائے اب مہد میں کلام کرنا خارق عادت ہے جیسا کہ مرزا صاحب نے ”تریاق القلوب ص ۸۹ ، روحانی خزائن: ج ۱۵، ص ۲۱۷، ۲۱۸“ میں تسلیم کیا ہے اور کہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے مہد میں کلام کی تو میرے بیٹے نے دو مرتبہ ماں کے پیٹ میں باتیں کیں تو مہد کی طرح زمانہ کہولت کی کلام بھی خارق عادت ہونی چاہیے اور وہ تب ہی ہو سکتا ہے جب ان کا دوبارہ نزول مانا جائے ورنہ زمانہ کہولت میں ہر ایک بات کرتا ہے تو پھر احسان کیسے ہوا۔ ”هو قول الحسین بن الفضل البجلی: أن المراد بقوله وکہلاً أن يكون کہلاً بعد أن ینزل من السماء فی آخر الزمان ویکلم الناس ویقتل الدجال قال الحسین بن الفضل: وفي هذه الآية نص فی أنه علیہ السلام سینزل إلی الأرض۔“

۲۵۴

(التفسیر الکبیر: ج ۸، ص ۵۲، دارالکتب العلمیہ، خازن: ج ۱، ص ۲۹۳)

صفحہ ۱۱۵

صفحہ ضمیمہ

کما قیل۔

دندان تو جملہ در دہانند
چشمان تو زیر ابرو ہا نند

یہ کلام کسی نے اپنے محبوب کی تعریف میں کہا تھا کہ تیرے سارے دانت منہ کے اندر ہیں اور تیری آنکھیں ابروؤں کے نیچے ہیں تو یہ کوئی خاص تعریف کی بات نہیں ہے اور جس طرح یہ کلام تعریف نہیں بن سکتا اسی طرح اگر ويكلم الناس فى المہد وکھلاً کو خارق عادت نہ مانا جائے تو وہ بھی اسی طرح بے معنی ہو جائے گا کیونکہ کہولت اگر پہلے کی مراد لی جائے تو پھر تو ہر ایک کہولت کے زمانہ میں کلام کرتا ہے پھر یہ احسان خدا نے کاہے کو جتلایا احسان تب ہی بنتا ہے جبکہ اسے خارق عادت مانا جائے اور خارق عادت تب ہی ہو سکتا ہے جبکہ دوبارہ نزول کے بعد کہولت کے زمانہ میں ان کا کلام مانا جائے جیسا کہ مفسرین نے صراحت کر دی ہے۔

آیت نمبر ۹:

”إذ كففت بنى اسرئيل عنك ...... الخ“ اور جب ہم نے بنی اسرائیل کو تجھے (نقصان پہنچانے) سے روک دیا۔ (پارہ ۷، المائدہ ۱۱۰، ع ۱۵)

یہ بھی قیامت کے روز اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے احسانات گنواتے ہوئے فرمائیں گے اگر رفع اور نزول نہ مانا جائے تو کف نہیں ہو سکتا کیا کف ایسا ہوا کہ ان کو اتنا مارا کہ وہ بے ہوش ہو گئے پسلی چھیدی گئی، کانٹوں کا تاج پہنایا گیا حتیٰ کہ سولی پر چڑھا دیا گیا لہذا ماننا پڑے گا کہ ان کو بالکل دشمنوں سے محفوظ رکھ کر آسمانوں پر اٹھا کر بنی اسرائیل سے بچالیا۔

صفحہ ۱۱۶

ضمیمہ

آیت نمبر ۱۰:

”وإذ علمتك الكتاب والحكمة.....الخ“ اور جب (اے عیسیٰ) میں نے تجھے کتاب اور حکمت کی تعلیم دی۔

﴾پارہ۷، المائدہ۱۱۰، ع۱۵﴿

یہاں بھی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن احسان جتلاتے ہوئے یہ احسان یاد دلائیں گے کہ میں نے تجھے قرآن کریم اور سنت کی تعلیم دی بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کے پیدا ہونے سے پہلے ہی ان کی والدہ کو بطور بشارت یہ بات فرمادی تھی کہ تیرے بیٹے کو قرآن کریم کی تعلیم دوں گا اگر انہوں نے دوبارہ اس وقت میں نہیں آنا تھا تو انہیں قرآن سکھانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا انبیاء سابقین میں سے کسی اور نبی کو بھی قرآن کی تعلیم دی گئی ہے؟ لہٰذا اس سے صاف اور واضح طور پر معلوم ہوگیا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ اس امت محمدیہ میں تشریف لانا ہے اور حضورﷺ کی شریعت کی تابعداری کرنی ہے اس لئے خصوصیت سے آپ کو قرآن کی تعلیم دی اور پھر قیامت کے روز بطور احسان کے ذکر فرمائیں گے بلکہ پیدا ہونے سے پہلے بھی اس احسان عظیم کو ان کی والدہ کے سامنے بطور پیش گوئی بیان فرمایا۔

فائدہ عظیمہ:

اس آیت سے قادیانیوں کے ایک وسوسہ اور شبہ کا ازالہ ہو گیا جو وہ کہا کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام بقول تمہارے اس امت میں دوبارہ تشریف لائیں گے تو کیا وہ کسی مولوی کے پاس قرآن پڑھنے بیٹھیں گے یا ان کیلئے جبرائیل امین نازل ہوں گے کیونکہ انہوں نے زمین پر تو قرآن پڑھا نہیں تو یہ آیت مذکورہ میں اس شبہ کا ازالہ ہو

صفحہ ۱۱۷

گیا کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن مجید کی تعلیم دیں گے جیسا کہ تورات وانجیل کی خود اللہ تعالیٰ نے تعلیم دی۔ تلك عشرة كاملة

﴿ رفع ونزول کا اثبات احادیث نبویہ سے ﴾

حدیث نمبر ۱:

”عن عبد اللہ بن عمر قال قال رسول اللہ ﷺ: ینزل عیسیٰ ابن مریم إلی الأرض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمساً وأربعین سنة ثم یموت فیدفن معی فی قبری۔“

(باب نزول عیسیٰ، فصل ثالث مشکوۃ شریف: ص ۴۸۰)

مرزا اس کی تائید میں لکھتا ہے کہ ظاہر حدیث پر عمل کریں ”تو ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی ہو جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔“

ح (حاشیہ ازالہ اوہام: حصہ دوم: ص ۴۷۰، روحانی خزائن: ص ۴۵۲، ج ۳)

مرزا کی اس عبارت سے واضح ہو گیا کہ قبر سے مراد یہاں پر روضہ ہے لہٰذا مرزائیوں کا اعتراض رفع ہو گیا دوسری بات یہ بھی واضح ہو گئی کہ مرزا نے اس حدیث کو صحیح بھی تسلیم کر لیا ہے۔

نیز دیکھو اس میں ”فیتزوج ویولد لہ“ کو صحیح تسلیم کر رہا ہے۔ ”اس پیش گوئی کی تصدیق کیلئے جناب رسول ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ فیتزوج ویولد لہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔“

ح (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم: ص ۵۳، روحانی خزائن: ج ۱۱، ص ۳۳۷)

حدیث نمبر ۲:

”إذا بعث اللہ عیسیٰ ابن مریم فینزل عند المنارة البیضاء

صفحہ ۱۱۸

صفحہ نمبر

الشرقی دمشق بین مهر ودتین واضعا كفيه على أجنحة ملكين ......فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله ۔“

(مشکوٰۃ: فصل اول، باب علامات بین یدی الساعۃ)

ترجمہ: اچانک اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمائیں گے وہ دمشق کی جامع مسجد کے سفید مشرقی مینار پر اتریں گے وہ دو زرد چادریں پہنے ہوں گے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے...... پھر وہ دجال کی تلاش میں نکلیں گے تاآنکہ اسے باب لد کے مقام پر پائیں گے، پھر اسے قتل کر دیں گے۔

(ازالۃ اوہام: طبع اول: ص ۲۰، طبع دوم: ص ۹۱، طبع پنجم: ص ۹۵، روحانی خزائن: ص ۲۰۹، ج ۳ حاشیہ والا صفحہ )

مرزائی ”لد“ کا مطلب لدھیانہ لیتے ہیں یہاں پر مرزا صاحب نے خود لد سے مراد بیت المقدس کے دیہات سے ایک گاؤں تسلیم کیا ہے۔

(بحوالہ حمامۃ البشریٰ: ص۲۴، ازالۃ اوہام: ص۲۲۰ روحانی خزائن: ج۳، ص۲۰۹)

حدیث نمبر۳:

” عن جابر رضی الله عنه قال...... فينزل عيسى بن مريم فيقول أميرهم: تعال صل لنا فيقول: لا، إن بعضكم على بعض أمراء تكرمة الله هذه الأمة ۔“ (مشکوٰۃ: باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

ترجمہ: عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو مسلمانوں کے امیر اُن سے کہیں گے کہ آئیے! نماز پڑھائیے وہ فرمائیں گے نہیں تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں یہ اللہ کا اس امت کیلئے اعزاز ہے۔“

اس حدیث نے مرزائیوں کی تمام تاویلات واہیہ اور خیالات باطلہ کا بخوبی قلع قمع کر دیا اور روزِ روشن کی مانند واضح کر دیا کہ مسیح آنے والا وہی اسرائیلی نبی ہے نہ

صفحہ ۱۱۹

صوفیہ

کہ اس امت کا کوئی اور شخص نیز مہدی اور عیسیٰ دونوں علیحدہ علیحدہ شخصیتیں ہیں نہ کہ ایک جس طرح قادیانی کہتے ہیں، مسیح اور مہدی ایک ہی شخص کے نام ہیں جو مرزا ہے اور دلیل یہ دیتے ہیں ”لامہدی الا عیسیٰ“ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ابن ماجہ کی روایت ہے جو سند کے اعتبار سے بالکل ساقط اور غیر معتبر ہے۔

علاوہ ازیں خود مرزا نے لکھا ہے ”اس لیے ماننا پڑا ہے کہ مسیح موعود اور مہدی اور دجال تینوں مشرق میں ہی ظاہر ہوں گے ۔“

(تحفہ گولڑویہ: ص ۴۷، روحانی خزائن:

لفظ ”تینوں“ سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں علیحدہ علیحدہ شخصیات ہیں اور سابقہ

ص ۱۲۷، ج ۱۷)

حدیث بذات خود اس بات کا علیحدہ ثبوت ہے کہ یہ دونوں الگ الگ شخصیات ہیں۔

حدیث نمبر ۴:

" وعن الحسن البصری قال قال رسول اللہ ﷺ لليهود:إن عيسى لم يمت وإنه راجع إليكم قبل يوم القيامة۔“

۵ (درمنثور: ج ۲، ص ۲۲۵ طبع دارالفکر)

ترجمہ:”حسن بصری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے یہود کو فرمایا بے شک عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے اور بے شک وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹ کر آنے والے ہیں۔“

یہ حدیث حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عدم موت اور مراجعت کا قطعی ثبوت ہے۔

اعتراض:

یہ حدیث حسن بصری سے مروی ہے اور درمیان میں کسی صحابی کا واسطہ نہیں ہے لہٰذا مرسل ہے اس لئے اس درجہ کی نہیں کہ اس سے استدلال کیا جاسکے۔

صفحہ ۱۲۰

عقیدہ

جواب نمبر ۱:

حضرت حسن بصری کی مرسلات حجت ہیں اور حکم مرفوع متصل میں ہیں ان کے استاد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں۔

جواب نمبر ۲:

تم اس کے مخالف کوئی مرفوع حدیث دکھا دو جس میں ہو کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہو إن عيسى مات بلکہ ضعیف ہی دکھا دو جس میں موت کی تصریح موجود ہو۔

حدیث نمبر ۵:

” ألستم تعلمون أن ربنا حي لا يموت وأن عيسى يأتي عليه الفناء ۔“

(صحیح مسلم: جلد ۱، ص ۸۷، طبری: ج ۳، ص ۲۸۹)

ترجمہ: کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا پروردگار زندہ ہے، نہیں مرے گا اور بے شک عیسیٰ علیہ السلام پر فنا آنے والی ہے یا آئے گی۔

یہ حضور ﷺ نے اس وقت فرمایا جبکہ عیسائیوں کے ساتھ مناظرہ ہوا آپ نے فرمایا کہ تم عیسیٰ کو کس طرح الوہیت کا درجہ دیتے ہو جبکہ ان پر فنا آئے گی اس میں آپ نے مضارع کا صیغہ استعمال فرمایا جو استقبال پر دال ہے اگر واقعی فوت ہو چکے ہوتے تو حضور ﷺ فرماتے ” أتى عليه الفناء “۔

حدیث نمبر ۶:

” يحدث أبو هريرة عن النبى ﷺ قال: والذى نفسى بيده ليهلن

صفحہ ١٢١

موضوع

ابن مریم بفج روحاء حاجاً أو معتمراً أو يثنيهما ۔“

(صحیح مسلم: ج ۱،ص ......)

ترجمہ : اس میں حضور ﷺ نے قسم کھا کر یہ مسئلہ بیان فرمایا اور قسم کے متعلق مرزا صاحب کا حوالہ گذار چکا ہے کہ اس میں تاویل نہیں چل سکتی اور ظاہر پر محمول ہوتی ہے۔

حدیث نمبر ۷ :

”أنا أولى الناس بعيسى ابن مريم فى الأولى والآخره، الأنبياء إخوة من العلات وأمها تهم شتى ودينهم واحد وليس بيننا نبى. فى رواية لأنه لم يكن بينى و بينه نبى وأنه نازل وإذا رأيتموه فاعرفوه ......الخ “ (حقیقت نبوۃ: مصنفہ مرزا محمود ، ص ۱۸۸، سنن ابی داؤد: ج ۲، ص ۲۳۸) ۲۸۴

ترجمہ : دنیا اور آخرت میں میرے سب سے زیادہ قریب عیسیٰ علیہ السلام ہیں تمام انبیاء باپ شریک بھائی ہیں اور ان کی مائیں جدا جدا ہیں ،اور ان کا دین ایک ہے اور ہمارے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور ایک روایت میں ہے کہ میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور بے شک وہ نازل ہونے والے ہیں اور جب تم ان کو دیکھو گے تو پہچان لوگے۔

☆ ہمارا چیلنج ☆

مذکورہ بالا حدیث سے عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بڑی صراحت سے یہ چند الفاظ ثابت ہوتے ہیں: ’ينزل، يموت، يدفن، يأتى عليه الفناء‘ یہ تمام مضارع کے صیغے ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی اور عدم موت پر صریح دلیل ہیں اگر یہ درست نہیں تو ہم روئے زمین کے تمام مرزائیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ ان

صفحہ ۱۲۲

صفحہ نمبر

الفاظ کے برعکس ان کی نفی اور ضد ثابت کریں ، جیسے ینزل کے بجائے لا ینزل ، یموت کے بجائے مات، یدفن کی جگہ دفن، یأتی علیہ الفناء کی جگہ أتی علیہ الفناء ، لم یمت کی جگہ مات ، رفعہ کی جگہ ما رفعہ یالم یرفع ، ان الفاظ میں سے کوئی ایک لفظ بھی حضورﷺ کی صحیح حدیث سے کوئی مرزائی ثابت کرے اور منہ مانگا انعام حاصل کرے ۔ اور حدیث سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ عیسیٰ ہی نازل ہوں گے یعنی ابن مریم ہی نازل ہوں گے جبکہ مرزا تو ابن چراغ بی بی ہے کیونکہ یہ حدیث قسم سے بیان ہو رہی ہے اور مرزا قادیانی کے اصول کے مطابق اس میں کسی قسم کی تاویل نہیں ہو سکتی ۔

(حمامتہ البشریٰ :ص ۲۶ ، روحانی خزائن:ج ۷،ص ۱۹۲) لا

تردید دلائل وفات مسیح علیہ السلام

آیت نمبر ۱:

” فلما توفیتنی کنت أنت الرقیب علیہم وأنت علی کل شیء شہید “ پس جب تو نے مجھے قبض کیا (میری جان قبض کی ) تو تو ہی ان پر نگہبان تھا اور ہر چیز پر گواہ ہے ۔

(پارہ ۷، المائدہ ۱۱۷)

مرزائی استدلال :

یہ آیت اس بات کی صریح دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اگر ہم فوت شدہ تسلیم نہ کریں تو یہ اعتراض لازم آئے گا کہ اب جو عیسائی بگڑے ہوئے ہیں ان کے وہ ذمہ دار ہیں کیونکہ فرماتے ہیں کہ جب تک کہ میں ان میں زندہ

صفحہ ۱۲۳

صفحہ نمبر

تھا میں ذمہ دار تھا لیکن جب تو نے مجھے وفات دی تو میں ذمہ دار نہیں رہا، اس جواب سے معلوم ہوا کہ وہ اب فوت ہو چکے ہیں ورنہ ماننا پڑے گا کہ وہ موجودہ بگڑے ہوئے تمام عیسائیوں کے ذمہ دار ہیں کیونکہ وہ صاف صاف فرماتے ہیں کہ توفی سے پہلے کی زندگی کا میں ذمہ دار ہوں اور توفی کے بعد کا ذمہ دار نہیں ۔ نیز جب بقول تمہارے عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اپنی بگڑی ہوئی امت میں آئیں گے اور ان کو دیکھیں گے بگڑے ہوئے تو قیامت کے روز اللہ کے سامنے کس طرح لاعلمی کا اظہار کرسکیں گے یہ تو نعوذ باللہ جھوٹ بنتا ہے۔

جواب نمبر ۱:

آیت مذکورہ میں توفیتنی کا معنی وفات اور موت نہیں بلکہ رفعتنی و قبضتنی کے معنی ہیں اور تمام مفسرین نے آیت مذکور کے یہی معنی کئے ہیں، کوئی ایک مفسر یا مجدد بھی ایسا نہیں ملتا جس نے اس آیت سے وفات مسیح ثابت کی ہو۔ فاتوا برھانکم ان کنتم صادقین ۔

جواب نمبر ۲:

آیت مذکورہ میں تقابل موت وحیات نہیں بلکہ موجودگی اور عدم موجودگی کا ہے جس پر ”ما دمت فیھم“ کے الفاظ صریح دلیل ہیں کہ ”مادمت حیا“ نہیں فرمایا، معلوم ہوا کہ وہ اپنے زمانہ موجودگی کے ذمہ دار ہیں اور عدم موجودگی کے ذمہ دار نہیں بلکہ یہ الفاظ اس بات کے مشعر ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات میں کوئی زمانہ ایسا بھی ہونا چاہیے کہ جس میں آپ ان کے اندر موجود نہ ہوں اور زندہ ہوں ۔

صفحہ ۱۲۴

متوفیک

جواب نمبر ۳:

یہ بات غلط ہے کہ بگاڑ میں حد فاصل موت ہے جیسا کہ مرزائی بتاتے ہیں بلکہ موجودگی اور عدم موجودگی ہے جیسا کہ مرزائی تحریرات اس پر شاہد ہیں کہ عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہی میں ہجرت الیٰ کشمیر کے زمانہ میں جبکہ وہ ان کے اندر موجود نہ تھے بگڑ گئے تھے لہٰذا معلوم ہوا کہ بگاڑ اور عدم بگاڑ میں حد فاصل موجودگی اور عدم موجودگی ہے نہ موت و حیات ۔ مرزا صاحب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور یہود کا مکالمہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے خدا ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں

(چشمہ معرفت : حصہ ۲،ص۲۵۴، روحانی خزائن: ج۲۳،ص۲۶۶) ح ۴

مرزا خود تسلیم کرتا ہے کہ انجیل پر ابھی تیس برس بھی نہیں گزرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی یعنی عیسیٰ علیہ السلام خدا بنائے گئے اور تمام نیک اعمال کو چھوڑ کر ذریعہ معافی گناہ یہ ٹھہرا دیا گیا کہ ان کے مصلوب ہونے پر خدا کے بیٹے ہونے پر ایمان لایا جائے۔

اب اس عبارت میں صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ بگاڑ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہی میں ہو گیا تھا کیونکہ واقعہ صلیب تینتیس برس کی عمر میں ہوا ہے، جیسا کہ مرزا صاحب لکھتے ہیں:

”لیکن ہر ایک کو معلوم ہے کہ واقعہ صلیب

(تحفہ گولڑویہ: ص ۱۴۷، روحانی خزائن: ج ۱۷،ص ۳۱۱) ح ۵

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیش آیا تھا جبکہ آپ کی عمر ۳۳ برس اور چھ ماہ تھی۔“ واقعہ صلیب کے بعد انجیل کا نازل ہونا کہیں بھی ثابت نہیں، تو ان دونوں حوالوں کے

صفحہ ۱۲۵

حیات عیسیٰ

ملانے سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی تریسٹھ سال کی عمر میں ہی عیسائی بگڑ گئے تھے اور بقول مرزا آپ کی عمر ایک سو بیس سال ہوئی ہے، جس سے معلوم ہوا کہ تقریباً ستاون سال کے طویل عرصہ آپ کی زندگی ہی میں عیسائی بگڑتے رہے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ بگاڑ میں حد فاصل موت نہ رہی بلکہ آپ کی زندگی ہی میں ان کی عدم موجودگی کے زمانہ میں عیسائی بگڑ گئے تھے۔ فہو المقصود

مرزائی اعتراض:

بقول آپ کے جب عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں اپنی بگڑی ہوئی قوم کے اندر تشریف لائیں گے اور انکی زبوں حالی ملاحظہ فرمائیں گے تو وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے کس طرح لاعلمی کا اظہار کر سکیں گے، یہ تو غلط بیانی اور صریح جھوٹ ہوگا جو ان کی شان رفیع سے مستبعد ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ وہ فوت ہو چکے ہیں اور انہیں اپنی بگڑی ہوئی امت کا کوئی علم نہیں ہوگا۔

جواب نمبر ۱:

عیسیٰ علیہ السلام سے سوال علم یا لاعلمی کا نہیں ہوگا بلکہ کہنے یا نہ کہنے کا ہوگا، یہ مرزائیوں کا صریح دھوکہ اور غلط بیانی ہے، ذرا قرآن مجید ملاحظہ فرمائیں:

”ء أنت قلت للناس اتخذونی وأمى إلهين من دون الله قال سبحانک ما یکون لی أن أقول ما لیس لی بحق……الخ.“ (پارہ ۷، المائدہ ۱۱۶، ع۶) ترجمہ : کیا تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنالو؟ کہے گا پاک ہے تو ، میرے لائق نہیں کہ میں وہ چیز کہوں جو میرے لئے

صفحہ ۱۲۶

صفحہ نمبر

حق نہیں۔

دیکھئے! یہاں پر کیسی تصریح موجود ہے کہ سوال کہنے کے متعلق ہے جواب میں بھی کہنے کی نفی ہے، نہ یہاں علم کا سوال ہے اور نہ علم کی نفی ہے، ہاں! نفی یہاں مافی نفسک کے علم کی ہے نہ کہ ان کے بگاڑ کے علم کی نفی۔

جواب نمبر ۲:

اگر عیسیٰ علیہ السلام کے جواب میں علم کی نفی پائی جائے تو بھی کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے، آپ ذرا اس مکالمے سے پہلے ذرا اس مکالمے کو ملاحظہ فرمائیں جو تمام انبیاء سے ہو رہا ہے جبکہ تمام نبی اللہ تعالیٰ کے حضور میں اپنی لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں، حالانکہ تمام نبی اچھی طرح جانتے ہیں کہ انکی امتوں نے انہیں کیا جواب دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

” يوم يجمع الله الرسل فيقول ماذا أجبتم قالوا لا علم لنا إنك أنت علام الغيوب . “ ترجمہ: جس دن اللہ تعالیٰ تمام پیغمبروں کو اکٹھا فرمائیں گے، پس فرمائیں گے، تم کیا جواب دیے گئے تھے؟ عرض کریں گے کہ ہمیں علم نہیں، بے شک تو ہی غیبوں کا جاننے والا ہے۔

(پارہ۷، المائدہ ۱۰۹، ع۵)

جواب نمبر ۳:

مرزا صاحب خود تسلیم کر رہے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو قیامت سے قبل ہی اپنی امت کے بگاڑ کا علم ہو جائے گا، لہٰذا اب آپ بتائیں جب انہیں قیامت سے قبل علم ہو چکا تو ان کا نفی علم کا جواب کیسے درست ہو گا؟ فما ھو جوابکم فہو جوابنا

صفحہ ۱۲۷

حصہ ضمیمہ

حوالہ نمبر ۱:

”میرے پر یہ کشفاً ظاہر کیا گیا کہ یہ زہرناک ہوا جو عیسائی قوم میں پھیل گئی ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کی خبر دی گئی۔“

(آئینہ کمالات اسلام: روحانی خزائن: ج ۵، ص ۲۵۴)

حوالہ نمبر ۲:

”خدائے تعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح کو دکھایا یعنی ان کو آسمانوں پر اس کی اطلاع دے دی کہ تیری قوم اور تیری امت نے اس طوفان کو برپا کیا ہے۔“

(حاشیہ آئینہ کمالات اسلام: روحانی خزائن: ج ۵، ص ۲۶۸)

مرزائی اعتراض:

یہاں ”توفیتنی“ کا معنی موت ہی ہے، جیسا کہ بخاری شریف میں آتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے جب چند لوگوں کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا تو آپ نے فرمایا میں اس وقت کہوں گا جیسا کہ عبد صالح نے کہا تھا أقول كما قال العبد الصالح جب حضور ﷺ توفیتنی کا لفظ بولیں گے تو یہاں بالاتفاق مراد موت ہے اسی سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے مقولہ میں بھی اس سے مراد موت ہے۔

جواب نمبر ۱:

یہاں بھی مرزائیوں نے اپنی روایتی بے ایمانی، دجل یا اپنی جہالت کا ثبوت دیا ہے، یہاں عیسیٰ علیہ السلام اور حضور ﷺ دونوں غیر غیر ہیں جس پر ”کما“ کا لفظ

صفحہ ۱۲۸

صفحہ نمبر

تشبیہ دلالت کر رہا ہے کیونکہ مشبہ اور مشبہ بہ میں مغایرت ضروری ہے اگر حضورﷺ کا مقولہ بھی وہی مقولہ ہوتا تو آپ کما کی بجائے ما کا لفظ استعمال فرماتے، حضورﷺ نے جو حدیث میں فلما توفیتنی پڑھا ہے وہ آپ کا مقولہ نہیں بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کا مقولہ ہے۔ کما کا لفظ تغایر چاہتا ہے ورنہ کما کا مفہوم باطل ہو جاتا ہے، جیسے: ”کما ارسلنا الی فرعون رسولاً ...... الخ۔“ ترجمہ: جیسا کہ ہم نے فرعون کیطرف رسول بھیجا (تحفہ گولڑویہ، ص ۱۲۳، روحانی خزائن، ص ۳۰۵، ج ۱۷)

جواب نمبر ۲:

اگر عیسیٰ علیہ السلام اور حضور نبی اکرمﷺ کا مقولہ ایک مان بھی لیا جائے تب بھی تشبیہ کی وجہ سے ان کے معنی میں مغایرت پیدا کرنی پڑے گی، لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام جب بولیں گے تو معنی رفع ہوگا اور حضورﷺ بولیں گے تو معنی موت ہوگا۔ مرزا بھی یہ قاعدہ مانتا ہے کہ: ”مشبہ اور مشبہ بہ میں کچھ مغایرت ضروری ہے“

(تحفہ گولڑویہ، ص ۲۳، روحانی خزائن، ص ۱۹۳، ج ۱۷)

جواب نمبر ۳:

کیا یہ ضروری ہے کہ جب ایک لفظ دو مختلف شخصیتوں پر بولا گیا ہو تو اس کا معنی ایک ہی لیا جائے؟ کیوں نہ دونوں شخصیتوں کیلئے علیحدہ علیحدہ ان کے مناسب معنی لیا جائے، ایک ہی لفظ جب دو مختلف اشخاص پر بولا جائے تو حسب حیثیت و شخصیت اسکے جدا جدا معنی ہو سکتے ہیں۔ دیکھئے عیسیٰ علیہ السلام اپنے حق میں نفس کا لفظ بولتے ہیں اور خدا کیلئے بھی ”تعلم ما فی نفسی ولا أعلم ما فی نفسک“ تو کیا خدا اور مسیح کا نفس ایک طرح کا ہے؟ ٹھیک اسی طرح حضرت مسیح

صفحہ ١٢٩

صوفیہ

کی توفی ، أخذ الشيء وافياً ہے کیونکہ اگر موت مراد لی جائے تو نصوص صریحہ جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا ذکر ہے ان کے خلاف ہوگا۔

جواب نمبر ۴:

ہم پیچھے ”براہین احمدیہ“ اور ”سراج منیر“ کے حوالہ سے ثابت کرچکے ہیں کہ یہاں ”توفی“ کا معنی موت نہیں بلکہ پوری نعمت دینے یا ذلیل اور لعنتی موتوں سے بچانے کے ہیں، تو مرزا کے اس معنی کے مطابق آیت کا معنی یہ ہوگا کہ ”اے اللہ جب تو نے مجھے اپنی غالب تدبیر سے ذلیل اور لعنتی موتوں سے بچالیا اور انکی تدبیروں کو خاک میں ملا دیا یعنی مجھے آسمانوں پر اٹھالیا تو پھر اس کے بعد تو نگران ہے اور میں تو اس وقت تک نگران اور ذمہ دار ہوں جب تک ان میں موجود رہا۔“

دلیل از مرزا قادیانی بر نزول عیسیٰ علیہ السلام

” إن المسيح ينزل من السماء بجميع علومه ولا يأخذ شيئا من الأرض بما لهم لا يشعرون .“

(آئینہ کمالات اسلام:ص ۴۰۹، روحانی خزائن:ص ۴۰۹، ج۵) ۷۶

اس عبارت سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے ہی شریعت محمدیؐ اور تمام علوم اسلامیہ حاصل کر کے آئیں گے اور زمین میں کسی کے شاگرد نہیں ہوں گے، دیکھو! مرزا کہتا ہے: ”ما أنا إلا كالقرآن“

(تذکرہ:ص ۶۶۸) ۲۸۰

”وما ينطق عن الهوى إن هو إلا وحي يوحى.“

(تذکرہ:ص ۴۸۸) ۲۷۲

آیت نمبر ۲:

”ما المسيح ابن مريم إلا رسول قد خلت من قبله الرسل “

(پارہ ۶، ع ۱۴)

صفحہ ۱۳۰

FC: {"type":"image","url":"file:///home/sheikh/Desktop/khatme-nubuwwat-pipeline/storage/pages/book-143/p-131.png","alt_text":""}

موضوعیہ

ترجمہ: مسیح ابن مریم صرف رسول ہیں اور آپ سے پہلے رسول گزر چکے۔

آیت نمبر ۳:

”وما محمد إلا رسول قد خلت من قبلہ الرسل“

(پارہ۴،آیت۱۴۴،ع۲)

ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوا کہ جس طرح عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے تمام رسول فوت ہوچکے ہیں اسی طرح نبی اکرم ﷺ سے پہلے بھی تمام رسول فوت ہوچکے ہیں، جس سے نتیجہ نکلا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی فوت ہوچکے ہیں۔

جواب نمبر ۱:

کسی مفسر یا مجدد نے یہ معنی مراد نہیں لئے کہ حضور ﷺ سے پہلے تمام نبی فوت ہوچکے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام بھی فوت ہوچکے ہیں، اگر ہمت ہے تو کسی ایک مجدد کا نام پیش کرو! جس نے اس آیت کا مطلب یہ لکھا ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔

جواب نمبر ۲:

یہاں ”خلت“ کے معنی ”مضت“ ہیں، جیسا کہ تمام مفسرین نے اس کے یہی معنی کئے ہیں۔ قرآن میں اس کے نظائر موجود ہیں جن میں معنی موت کے نہیں، مثلاً: ”وإذا خلوا عضوا علیکم الأنامل من الغیظ قل موتوا بغیظکم“

(پارہ۴،آل عمران،ع۱۲)

ترجمہ: اور جب علیحدہ ہوتے ہیں تو اپنی انگلیاں غصے سے کاٹتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ اپنے غصے میں مرجاؤ۔ ”کذلک أرسلناک في أمة قد خلت من قبلہا أمم۔“ (آیت۳۰) حالانکہ اس وقت بھی بگڑی ہوئی امتیں موجود تھیں۔

صفحہ ۱۳۱

حصہ ضمیمہ

اعتراض:

ہم مانتے ہیں کہ ”خلت“ کا معنی ”مضت“ ہے لیکن قرآن مجید نے خود اس کی تصریح کر دی ہے، فرمایا: ”فإن مات أو قتل“ اس میں موت اور قتل میں حصر کیا۔ معلوم ہوا کہ حضورﷺ سے قبل بھی تمام انبیاء علیہم السلام کا ان دو افراد ہی میں حصر ہے یعنی وہ قتل ہوئے ہیں یا مر گئے ہیں، نیز حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی حضور نبی کریمﷺ کی وفات کے موقع پر خطبہ پڑھ کر متعین فرما دیا کہ یہاں ”خلت“ کا معنی موت ہے۔ فرمایا: ”من كان منكم يعبد محمداً فإن محمداً قد مات ومن كان منكم يعبد الله فهو حي لا يموت.“

جواب:

ہم کہتے ہیں کہ معنی بحال ہے کیونکہ جو خطبہ اس وقت پڑھا گیا ہے اس میں تو رفع مسیح کا ذکر ہے، مرزا لکھتا ہے:

”الملل والنحل: لعلامہ شہر ستانی، ج۳، ص ۵ میں اس قصہ کے متعلق یہ عبارت ہے: ”قال عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ: من قال: إن محمداً مات قتلته بسيفى هذا وإنما رفع إلى السماء كما رفع عيسى ابن مريم عليه السلام.“

(تحفہ غزنویہ: ص ۴۸، روحانی خزائن: ص ۵۸۰ تا ۵۸۱، ج ۱۵)

طریق استدلال:

حضرت عمر نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کو مقیس علیہ بنایا ہے جو کہ مسلّم تھا اور حضورﷺ کے رفع کو مقیس بنایا، اب جواب میں حضرت ابوبکر صدیق نے

صفحہ ۱۳۲

تردید صرف مقیس کی کی ہے، حالانکہ اگر مقیس علیہ غلط ہوتا تو پہلے اس کی تردید کرتے، مقیس کی خود بخود تردید ہو جاتی ہے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مقیس علیہ کی تردید نہ کرنا اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا اس پر سکوت کرنا اس سے رفع عیسیٰ پر تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہو گیا۔ نیز یہاں پر اختلاف بھی رفع جسمانی میں تھا کیونکہ حضور ﷺ کا روحانی رفع تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی مانتے تھے کیوں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو حضور ﷺ کی وفات کے ہی منکر تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع پر قیاس کر رہے تھے ،تو معلوم ہوا کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بھی منکر تھے تو وفات کے انکار سے رفع جسمانی ہوا نہ کہ روحانی ،باقی رہا یہ اعتراض کہ جسد اطہر کے موجود ہوتے ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات کیوں کہی۔ (تحفہ غزنویہ:ص ۵۵،روحانی خزائن:ص ۵۸۸،ج ۱۵)

جواب نمبر ۳:

مرزا نے ”خلت“ کا معنی یہاں موت نہیں کیا یعنی مسیح ابن مریم میں اس سے زیادہ کوئی بات نہیں کہ وہ صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے ہیں۔

(جنگ مقدس :ص ۷،روحانی خزائن :ص ۸۹، ج۶)

جواب نمبر ۴:

اگر ”خلت“ کے عموم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی داخل ہیں تو مرزائی صاحبان بتائیں ”ولقد أرسلنا رسلاً من قبلك وجعلنا أزواجاً وذريةً ......الخ“ ۔کیا اس آیت کے مطابق جبکہ تمام رسولوں کیلئے ان کی بیویاں اور اولاد ثابت ہو رہے ہیں کیا اس عموم میں عیسیٰ علیہ السلام بھی داخل ہیں؟ اور ان کیلئے بھی اولاد ہے؟ اگر وہ اس عموم سے خارج ہیں تو اسی طرح آیت متنازعہ فیہ میں بھی سمجھ

صفحہ ۱۳۳

صفحہ نمبر

ہیں ۔ اسی طرح ہر انسان کیلئے کہا گیا کہ اس کو جوڑے سے ہم نے پیدا کیا اور نطفے سے پیدا کیا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام بھی انسان ہیں اور وہ اس عموم سے خارج ہیں ، اسی طرح متنازعہ فیہ آیت میں سمجھ لیں ۔

جواب نمبر ۵:

اگر اس آیت سے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے تو موسیٰ علیہ السلام کیسے زندہ ہیں ؟؟ ما هو جوابکم فهو جوابنا.

آیت نمبر ۴:

” کانا یأکلان الطعام “ ترجمہ: اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے ۔

(پارہ ۶، المائدہ، ۷۵)

جب حضرت مریم علیہا السلام کا طعام موت سے بند ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی موت سے بند ہے ، اگر زندہ ہیں تو بتلایا جائے کہ وہ کیا کھاتے ہیں یا پیتے ہیں ؟؟

جواب نمبر ۱:

جو کھانا حضرت موسیٰ علیہ السلام کھاتے ہیں وہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کھاتے ہیں ۔

جواب نمبر ۲:

اس ظاہری کھانے کے علاوہ بھی اللہ کے نیک بندے زندہ رہ سکتے ہیں جن کا طعام یاد الٰہی ہوتا ہے۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں: ”اس درجہ پر مومن کی روٹی خدا ہوتا

صفحہ ۱۳۴

صوفیہ

ہے جس کے کھانے پر اس کی زندگی موقوف ہے اور مومن کا پانی بھی خدا ہوتا ہے جس کے پینے سے وہ موت سے بچ جاتا ہے اور اسکی ٹھنڈی ہوا بھی خدا ہوتا ہے۔“

(براہین احمدیہ حصہ ۵:ص۵۷، روحانی خزائن:ص۲۱۶، ج۲۱) ۱۶۱

جواب نمبر۳:

”قال العلامة الشعراني في اليواقيت والجواهر: ”فإن قيل فما الجواب عن استغنائه عن الطعام والشراب مدة رفعه فإن الله تعالىٰ قال: وما جعلناهم جسداً لا يأكلون الطعام فالجواب أن الطعام إنما جعل قوتاً لمن يعيش في الأرض لأنه مسلط عليه الهواء الحار والبارد فينحل بدنه فإذا انحل عوّضه الله تعالىٰ بالغذاء إجراءً؛ لعادته في هذه الخطة الغبراء وأما من رفعه الله إلى السماء فإنه يلطفه بقدرته و يغنيه عن الطعام والشراب كما أغنى الملائكة عنهما فيكون حينئذٍ طعامه التسبيح وشرابه التهليل كما قاله رسول الله ﷺ إنی أبيت عند ربی يطعمنی ويسقينی .“

(الیواقیت والجواهر:ج۲،ص۵۶۸) ۱۶۲

جواب نمبر۴:

جو خوراک آدم علیہ السلام کی تھی وہی عیسیٰ علیہ السلام کی ہے۔ کما قال الله تعالیٰ :” إن مثل عیسیٰ عند الله كمثل آدم “ ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال کی طرح ہے۔ (پارہ ۳، آل عمران، آیت ۵۹)

صفحہ ۱۳۵

حصہ ضمیمہ

جواب نمبر ۵:

اصل بات یہ ہے کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مریم علیہا السلام کی الوہیت توڑنے کیلئے بطور دلیل پیش کی گئی ہے کہ جو کھانے پینے کا محتاج ہو وہ الہ کیسے بن سکتا ہے، تو الوہیت کی تردید کیلئے ایک دو دفعہ کا کھانا بھی کافی ہے، اگر ہم کہیں کہ مرزا صاحب اور اس کی بیوی اکٹھے کھانا کھایا کرتے تھے تو کیا اس سے یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ اس کی بیوی بھی مر گئی ہے؟ حالانکہ وہ اس کے بعد بڑی مدت تک زندہ رہی۔

آیت نمبر ۵:

” وأوصانى بالصلوة والزكوة ما دمت حيا “

(پارہ ۱۶، مریم، آیت ۳۱)

اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں، اگر وہ زندہ ہیں تو بتائیے ! کہ وہ زکوٰۃ کس کو دیتے ہیں؟ اور نماز کس طرف منہ کر کے پڑھتے ہیں؟

جواب نمبر ۱:

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نماز پڑھتے ہیں تو ساتھ ساتھ عیسیٰ علیہ السلام بھی پڑھ لیتے ہیں اور جن غریبوں اور مسکینوں کو زکوٰۃ حضرت موسیٰ علیہ السلام دیتے ہوں گے انہیں عیسیٰ علیہ السلام بھی دیتے ہوں گے۔

جواب نمبر ۲:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیلئے نصاب آپ ثابت کر دیں ! غرباء فقراء ہم بتائیں گے۔ نیز یہ بتائیے کہ بچپن میں وہ کیسے نماز پڑھتے تھے اور کن لوگوں کو زکوٰۃ

صفحہ ۱۳۶

دیتے تھے؟ کیونکہ وہ تو بچپن سے کہہ رہے ہیں ”وَ أَوْصَانِی بِالصَّلوٰةِ وَالزَّکوٰةِ .“

جواب نمبر ۳:

اصل بات یہ ہے کہ نماز کی فرضیت چند شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔ جب تک وہ شرائط نہ پائی جائیں تب تک نماز اور زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔ کیا ہر مسلمان پر ہر وقت نماز اور زکوٰۃ فرض ہے؟ نماز فرض ہوتی ہے، جب وقت ہو، جب انسان عاقل بالغ ہو، اور زکوٰۃ فرض ہوتی ہے، جب صاحب نصاب ہو۔ حولان حول ہو۔ کیا عیسیٰ علیہ السلام نے یہاں دنیا میں رہتے ہوئے کبھی زکوٰۃ دی تھی؟ انہوں نے نہایت غربت اور عاجزی کی زندگی گذاری ہے، ان کے پاس اتنا مال ہی جمع نہیں ہوتا تھا کہ وہ زکوٰۃ دیں۔

تردید دلائل وفات عیسیٰ علیہ السلام از احادیث

حدیث نمبر ۱:

مرزائی عموماً وفات مسیح علیہ السلام پر یہ دلیل بڑے زور شور سے پیش کرتے ہیں کہ ” عن عائشة رضى الله عنها : أن عيسى بن مريم عاش عشرين ومائة سنة “

(رواہ الحاکم فی المستدرک)

جواب نمبر ۱:

یہ حدیث شریف قابل استشہاد نہیں ہے کیونکہ اس میں ابن لہیعہ ایک راوی ہے جو بالاتفاق ضعیف اور نا قابل اعتبار ہے۔

صفحہ ۱۳۷

صفحہ ضمیمہ

جواب نمبر ۲:

یہ حدیث عقلاً روایتاً اور درایتاً محال ہے کیونکہ اس حدیث کے شروع میں یہ مضمون ہے کہ ہر بعد میں آنے والا نبی پہلے نبی سے آدھی عمر پاتا ہے، اب اگر عیسیٰ سے دس بیس انبیاء اوپر شمار کئے جائیں تو ان کی عمر لاکھوں کروڑوں سال تک پہنچ جائے گی اگر آدم علیہ السلام تک چلیں تو آدم علیہ السلام کی عمر اس حساب سے اتنی بنے گی کہ موجودہ دور میں حساب کرنے والے تمام کمپیوٹر اور کیلکولیٹر سب فیل ہو جائیں گے۔ حساب کرنے سے معلوم ہوا کہ اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اوپر بیسویں نبی کی عمر ۶ کروڑ ۲۹ لاکھ ۱۴ ہزار ۵۶۰ سال بنتی ہے، جو عقلاً اور نقلاً محال ہے۔

جواب نمبر ۳:

اگر اس حدیث کو صحیح تسلیم کیا جائے تو اس حدیث کا معنی اور مفہوم ایسا لینا ہوگا جو دوسری احادیث صحیحہ متواترہ کے خلاف نہ ہو، چنانچہ ملا علی قاریؒ نے اس حدیث کی دوسری احادیث صحیحہ سے یوں تطبیق دی ہے کہ آپ کی نبوت سے قبل کی عمر چالیس سال ، نبوت کی عمر تینتیس سال ، دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کے بعد پنتالیس سال، اس اعتبار سے مجموعی عمر ۱۱۸ سال ہوئی اور کسر والے سال ملا کر ۱۲۰ سال بن جائے گی اور جس روایت میں آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سات سال زندہ رہیں گے اس سے مراد دجال کے قتل کے بعد سات سال ہیں۔

جواب نمبر ۴:

اگر یہ حدیث صحیح ہے تو مرزا قادیانی جھوٹا ہے، اس حدیث کی روشنی میں اس

صفحہ ۱۳۸

ضمیمہ

کی عمر ۳۱، ۳۲ سال ہونی چاہیے جبکہ اس کی عمر ۷۰ سال کے قریب بنتی ہے۔

حدیث نمبر ۲:

”لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیین لما وسعهما إلا اتباعی“

جواب نمبر ۱:

یہ حدیث درست ہے تو آپ کے بھی خلاف ہوئی کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام زندہ نہیں ہیں اور مرزا قادیانی موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا قائل ہے۔ (حوالہ گذر چکا ہے)

جواب نمبر ۲:

اس حدیث کی کوئی سند نہیں، یہ ایک بے سند مردود قول ہے، اگر کچھ طاقت ہے تو اس کی سند پیش کریں۔

جواب نمبر ۳:

صحیح روایت جو سند کے اعتبار سے مشکوٰۃ میں موجود ہے اس میں صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام ہے ”لو کان موسیٰ حیاً لما وسعه إلا اتباعی“

(مشکوٰۃ، ص۲۰)

حدیث نمبر ۳:

شرح فقہ اکبر کی روایت پیش کی جاتی ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام آتا ہے ”لو کان عیسیٰ حیاً لما وسعه إلا اتباعی“

جواب:

یہ کاتب کی غلطی ہے۔ ہندوستانی نسخوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ موسیٰ علیہ

صفحہ ۱۳۹

صوفیہ

اسلام کا نام ہے، اس غلطی پر فقہ اکبر کی اندرونی شہادتیں موجود ہیں، خاص کر مصنف شرح فقہ اکبر ملاعلی قاری حیات مسیح کے قائل ہیں۔

(شرح شفاء اور تذکرۃ الموضوعات)

تین جواب:

(۱) ؎ غیرت کی جا ہے موسیٰ زندہ ہو آسمان پر
مدفون ہو زمین میں شاہ جہاں ہمارا
(۲) ؎ مصطفیٰ زیر زمیں عیسیٰ نہاں بر آسماں
زیر دریا در شور بالا حباب ناتواں
(۳) ؎ الم تری البحر یعلو فوقہ جف
وتستقر باقصی قعرہ الدرر

مرزائیوں کی حالت زار:

مرزائی عموماً ایک معمولی سی بات لے کر اس میں رکیک تاویلیں کر کے اپنا الو سیدھا کرنیکی کوشش کرتے ہیں، کسی نے سچ کہا: ”ڈوبتے کو تنکے کا سہارا“۔ مرزائیوں کی اس حالت زار پر یہ رباعی بالکل فٹ ہے جو اخبار جنگ ۲۱؍ مارچ ۱۹۶۵ء سے ماخوذ ہے:

یہ سب آثار ہیں جہل و جنوں کے
یہ سب اطوار ہیں زار و زبوں کے
یہ چاروں لفظ ہیں مکر و فسوں کے
اگر ، لیکن ، چنانچہ اور چونکہ
صفحہ ۱۴۰

صفحہ نمبر

باب پنجم

بحث ثالث

مسئلہ ختم نبوت واجرائے نبوت

تنقیح موضوع:

جب کوئی مرزائی اجرائے نبوت کے موضوع پر گفتگو کرے، بحث شروع کرنے سے قبل یہ ضروری ہے کہ پہلے موضوع اور دعویٰ کو منقح کرلیں، جب تک دعویٰ واضح نہ ہوجائے کسی قسم کی بحث کرنا بالکل بے سود ہے۔

واضح ہو کہ مرزائی مطلق اجرائے نبوت کے قائل نہیں بلکہ ایک خاص قسم کی نبوت کے حضور ﷺ کے بعد جاری ہونے کے قائل ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے اس خاص قسم کو واضح کیا جائے جو ان کے نزدیک جاری ہے پھر اس خاص دعویٰ کے مطابق اس قسم کی خاص دلیل کا مطالبہ کیا جائے کیونکہ دعویٰ اور دلیل میں مطابقت ضروری ہے ورنہ یہ کھلی بددیانتی ہے کہ دعویٰ خاص اور دلیل اس کیلئے کوئی عام پیش کی جائے ، ہم بلاخوف تردید دعویٰ کرتے ہیں کہ قادیانی اپنے خاص دعویٰ کے مطابق قرآن وحدیث سے ایک بھی صحیح دلیل پیش نہیں کر سکتے۔

قادیانیوں کے نزدیک نبوت کی اقسام

حوالہ نمبر ۱:

’’میں نبیوں کی تین اقسام مانتا ہوں ۔ ایک جو شریعت لانے والے ہوں، دوسرا جو

صفحہ ۱۴۱

صفحہ نمبر

شریعت نہیں لائے لیکن ان کو نبوت بلا واسطہ ملتی ہے اور کام وہ پہلی امت کا ہی کرتے ہیں جیسے سلیمان و زکریا اور یحییٰ علیہم السلام اور ایک جو نہ شریعت لائے اور نہ ان کو بلا واسطہ نبوت ملتی ہے لیکن وہ پہلے نبی کی اتباع سے نبی ہوتے ہیں۔“

(قول فیصل: ص۱۴، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود) ۲۴۸

حوالہ نمبر ۲:

”اس جگہ یاد رہے کہ نبوت مختلف نوع پر ہے اور آج تک نبوت تین قسم پر ظاہر ہوچکی ہے:

کی اصطلاح میں مستقل نبوت ہے۔

ظلی نبوت کا دروازہ کھولا گیا۔“ (مسئلہ کفر و اسلام کی حقیقت: ص ۳۱، مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم اے)

حوالہ نمبر ۳:

”انبیائے کرام علیہم السلام دو قسم کے ہوتے ہیں: (۱) تشریعی (۲) غیر تشریعی۔ پھر غیر تشریعی بھی دو قسم کے ہوتے ہیں : (۱) براہ راست نبوت پانے والے۔ (۲) نبی تشریعی کی اتباع سے نبوت کے حاصل کرنے والے۔ آنحضرت ﷺ کے پیشتر صرف پہلی دو قسم کے نبی آتے تھے۔“ (مباحثہ راولپنڈی : ص۱۷۵) ۲۴۸

تبصرہ:

مذکورہ بالا حوالہ جات سے قادیانیوں کا دعویٰ واضح ہوگیا کہ ان کے نزدیک

صفحہ ۱۴۲

ضمیمہ

نبوت کی تین قسمیں ہیں، جن میں سے دو بند ہیں اور ایک خاص قسم (ظلی بروزی) جو کہ نبی اکرم ﷺ کی اتباع سے حاصل ہوتی ہے، وہ جاری ہے۔ لہذا اب خاص دعویٰ کے مطابق ان سے خاص دلیل کا مطالبہ ہونا چاہیے اسی طرح ان حوالہ جات سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ یہ خاص قسم حضور ﷺ کے بعد جاری ہوئی ہے، لہذا دلیل ایسی ہو جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ حضور ﷺ کے بعد یہ خاص قسم جاری ہوئی ہے، نیز اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ نبوت وہبی نہیں ہوگی بلکہ کسبی ہوگی، کیونکہ جب یہ اتباع سے حاصل ہوگی تو یہ کسبی ہوجائے گی نہ کہ وہبی۔ اب ان تنقیحات ثلاثہ کے بعد جب کوئی قادیانی اپنے دعویٰ کے ثبوت میں کوئی دلیل پیش کرے تو دیکھو! کہ کیا یہ دعویٰ کے مطابق ہے؟ یعنی کیا اس سے ظلی بروزی خاص قسم کی نبوت جاری ہوتی ہے یا عام؟ اور کیا اس میں حضور ﷺ کے بعد اس نبوت کا ذکر ہے یا مطلق؟ اور کیا اس سے نبوت وہبی ثابت ہوتی ہے یا کسبی؟ ہم بلا خوف تردید دعویٰ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان تنقیحات ثلاثہ کے مطابق وہ اپنے دعویٰ پر ایک دلیل بھی پیش نہیں کرسکتے۔

ایک ضروری تنبیہ:

قادیانیوں کی سب سے بڑی عیاری یہ ہے کہ دعویٰ تو اس خاص قسم کی نبوت کا ہے لیکن وہ عام موضوع اجرائے نبوت رکھ کر بحث شروع کردیتے ہیں اور ایسے عام دلائل پیش کرتے ہیں جو ان کے خاص دعویٰ کے مطابق نہیں ہوتے بلکہ وہ دلائل ان کے اپنے مسلمات کے خلاف ہوتے ہیں۔

نوٹ:

اکثر اوقات مرزائی امکان نبوت کی بحث چھیڑ دیتے ہیں یہاں امکان کی

صفحہ ۱۴۴

صفحہ ضمیمہ

بحث نہیں ہے وقوع کی بحث ہے اگر وہ امکان کی بحث چھیڑیں تو تریاق القلوب کی درج ذیل عبارت پیش کریں:

”مثلاً ایک شخص جو قوم کا چوہڑا یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے خدمت کرتا ہے کہ دو وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا اور چند دفعہ زنا میں گرفتار ہو کر اس کی رسوائی ہو چکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ (پاخانہ) اٹھاتے ہیں اب خدا کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ نبی اور رسول بھی بن جائے اور اسی گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لے کر آوے اور کہے کہ جو شخص تم میں سے میری اطاعت نہیں کرے گا خدا اسے جہنم میں ڈالے گا، لیکن باوجود اس امکان کے جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کبھی خدا نے ایسا نہیں کیا۔“

(تریاق القلوب، ص ۶۷، روحانی خزائن، ص ۲۷۹، ۲۸۰، ج ۱۵)

جب یہ عبارت پڑھیں، تو ساری پڑھ دیں، کیونکہ عموماً تھوڑی سی عبارت پڑھنے کے بعد مرزائی کہتے ہیں کہ آگے پڑھو! اور مجمع پر برا اثر ڈالتے ہیں۔ یہاں پر یہ واقعہ بھی ملحوظ خاطر رہے جب حضرت ابوسفیان زمانہ جاہلیت میں تجارتی سفر پر روم گئے تھے اور قیصر روم نے انہیں اپنے دربار میں بلا کر سوال پوچھے تھے، جن میں سے

صفحہ ۱۴۴

صفحہ نمبر

ایک سوال حضورﷺ کے خاندان کے بارے میں بھی تھا جس کا انہوں نے جواب دیا تھا کہ وہ ایک بلند مرتبہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور قیصر روم کا اس پر تبصرہ یہ تھا کہ انبیاء عالی نسب قوموں سے ہی مبعوث کیے جاتے ہیں۔

(صحیح البخاری: ج ۱، ص ۴)

اجرائے نبوت پر مرزائیوں کے دلائل

آیت نمبر ۱:

ترجمہ: اے بنی آدم ! اگر تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں بیان کریں ...... الخ

(پارہ ۸، اعراف، آیت ۳۵)

جواب نمبر ۱:

آپ کی دلیل دعوے کے مطابق نہیں کیونکہ رسول کا لفظ عام ہے۔ مرزا صاحب خود تسلیم کرتے ہیں کہ: ”رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں۔“

(آئینہ کمالات اسلام: روحانی خزائن: ص ۳۲۲، ج ۵)

جواب نمبر ۲:

اگر یہ اجرائے نبوت کی دلیل ہے تو اس میں تینوں قسمیں جاری ثابت ہوجائیں گی حالانکہ تم خود دو قسمیں بند مان چکے ہو، لہذا یہ آیت تمہارے بھی اسی طرح خلاف ہے جس طرح ہمارے خلاف ہے۔ ماھو جوابکم فہو جوابنا

جواب نمبر ۳:

اگر یہ اجرائے نبوت کی دلیل ہے تو اس سے ثابت ہوگا کہ عیسائی، ہندو، سکھ حتی کہ کوئی بھی مذہب، فرقہ یا قوم کا نبی ہو سکتا ہے کیونکہ بنی آدم میں سب شمار ہیں۔

صفحہ ۱۴۵

صفحہ ضمیمہ

جواب نمبر ۴:

اگر یہ آیت اجرائے نبوت کیلئے دلیل مان بھی لی جائے تو مرزا صاحب پھر بھی نبی نہیں بن سکتے کیونکہ بقول اپنے آدم کی اولاد ہی نہیں مرزا صاحب فرماتے ہیں:

؎ کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ، حصہ پنجم، ص ۹۷، روحانی خزائن، ص ۱۲۷، ج ۲۱)

اگر وہ بنی آدم میں سے تھا جیسا کہ ظاہر ہے تو پھر اس نے یہ جھوٹ بولا اور جھوٹ بولنے والا کبھی نبی نہیں ہو سکتا۔ رہی کسر نفسی والی تاویل، تو وہ بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ ایسی کسر نفسی کسی عقل مند انسان نے آج تک نہیں کی، باقی اس کی کسر نفسی کی حقیقت اس کے دیگر دعاویٰ اور تعلیمات سے واضح ہے، سنئے! مرزا صاحب کی تعلیمات:

؎ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء، ص ۲۰، روحانی خزائن، ص ۲۴۰، ج ۱۸)

استاد محترم مولانا محمد حیاتؒ نے فرمایا:

؎ ابن ملجم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بدتر غلام احمد ہے
؎ روضۂ آدم کہ جو تھا نامکمل اب تلک
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

(براہین احمدیہ: روحانی خزائن، ص ۱۴۴، ج ۲۱)

صفحہ 146

مؤلف

(۳)

؎ کر بلائے است سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

(۴)

؎ آدمم نیز احمد مختار در برم جامہ ہمہ ابرار

(۵)

؎ آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام مرا بتمام

(نزول مسیح ،ص ۹۹، روحانی خزائن: ص ۴۷۷، ج ۱۸)

(۶)

؎ انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمترم ز کسے

(نزول مسیح ،ص ۹۹، روحانی خزائن: ص ۴۷۷، ج ۱۸)

جواب نمبر ۵:

یہ اجرائے نبوت کی دلیل ہے تو مرزا صاحب کو پیش کرنی چاہیے، حالانکہ مرزا نے کسی کتاب میں بھی اس آیت کو پیش نہیں کیا۔ کوئی مرزائی اگر مرزا کی کتاب سے یہ دلیل ثابت کر دے تو منہ مانگا انعام حاصل کرے۔

جواب نمبر ۶:

اصل تحقیقی جواب یہ کہ عبارت کا سیاق و سباق دیکھنے سے یہ بات روز روشن

صفحہ ۱۴۷

صوفیہ

سے زیادہ واضح ہوگئی ہے کہ یہاں پر حکایت ماضی کی ہے، چنانچہ یہاں سے دو رکوع قبل حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کی پیدائش کا ذکر ہے، تمام واقعہ بڑی تفصیل سے اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں اور اس ضمن میں یہ ارشاد ہوتا ہے کہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مع ان کے رفقاء کے زمین پر اتار دیا تو ان کو یہ خطاب کیا گیا۔ اس صورت میں چار جگہوں پر بنی آدم سے خطاب کیا گیا ہے:

ترجمہ : اے بنی آدم ! تحقیق ہم نے تم پر لباس نازل کیا ۔“

(پارہ ۸، اعراف، آیت ۲۶)

ترجمہ : اے بنی آدم ! تمہیں شیطان نہ بہکاوے۔

(پارہ ۸، اعراف، آیت ۲۷)

ترجمہ : اے بنی آدم! اگر تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں۔

(پارہ ۸، اعراف، آیت ۳۵)

ترجمہ : اے بنی آدم ! ہر نماز کے وقت اپنی زینت حاصل کرو۔

(پارہ ۸، اعراف، آیت ۳۱)

ان چار جگہوں پر اس وقت اولاد آدم کو خطاب کیا گیا ہے اور یہ حضور ﷺ کے سامنے ماضی کی حکایت کی گئی ہے، حضور ﷺ یا آپ کی امت کو خطاب نہیں ہوا۔ کیونکہ آپ کی امت کو ”يا أيها الناس“ سے خطاب کیا جاتا ہے۔ ”یابنی آدم“ سے اس امت کو خطاب نہیں کیا گیا۔ ہاں! اگر پہلے حکم کا نسخ نہ ہو اور اس حکم میں یہ امت بھی شامل ہو جائے تو یہ علیحدہ بات ہے، چنانچہ اس کے بعد اس وعدہ کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے رسول بھیجے ہیں ان میں سے بعض کا تذکرہ تفصیلاً بیان کیا ہے، جیسے:

صفحہ ۱۴۸

حصہ ضمیمہ

"ولقد أرسلنا نوحاً" وغیرہ اس سلسلہ کو بیان کرتے کرتے آگے چل کر فرمایا: "ثم بعثنا من بعدهم موسى" پھر دور تک موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ چلا گیا حتی کہ نبی کریمﷺ تک اس سلسلہ کو پہنچا دیا اور پھر نبی کریمﷺ کا تذکرہ یوں فرمایا: "قل ياأيهاالناس إنى رسول الله إليكم جميعاً." اے نبیﷺ! فرما دیجئے میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ (پارہ ۹، اعراف، آیت ۱۵۸) اور اسی طرح مختلف مقامات میں اعلان کروائے "وما أرسلنك إلا كافة للناس." ترجمہ: اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام لوگوں کیلئے۔ (پارہ ۲۲، سورہ سباء، آیت ۲۸) "وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين ، ما كان محمد أبا أحد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين." ترجمہ: محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن اللہ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں اور انہی آیات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:" إن الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى ولا نبى." تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو نازل کرنے کے بعد رسولوں کے بھیجنے کا وعدہ فرمایا تھا اور پھر اس کے بعد اپنے وعدے کے مطابق جن رسولوں کو بھیجا ان کی ایک مختصر تاریخ بیان کی حتی کہ اس رسالت کو حضورﷺ تک پہنچا کر آپ پر نبوت و رسالت کے سلسلہ کو ختم فرمایا۔

جواب نمبر ۷:

اگر اس آیت سے نبوت جاری ثابت ہوتی ہے تو اس قسم کی یہ آیت بھی موجود ہے: "إما يأتينكم منى هدى فمن تبع هداى فلا خوف عليهم

صفحہ ۱۴۹

صفحہ نمبر

الخ…… اس آیت میں بھی وہی ”یأتینکم“ ہے اور اس کا سیاق و سباق بھی وہی ہے اگر اس آیت سے نبوت ورسالت جاری ہوتی ہے تو اس آیت سے شریعت جاری ہورہی ہے، حالانکہ وہ تمہارے نزدیک بھی بند ہے۔ ما هو جوابكم فهو جوابنا

مرزائی اعتراض:

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس آیت سے شریعت کا جاری ہونا ثابت ہوتا ہے لیکن ”الیوم أکملت لکم دینکم …… الخ .“ اس آیت سے ثابت ہوگیا کہ دین اور شریعت مکمل ہوچکی ہے لہٰذا اب کسی قسم کی نئی شریعت کی ضرورت نہیں رہی۔

الجواب:

جیسے اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ شریعت مکمل ہوگئی مزید شریعت کی ضرورت نہیں رہی، اسی طرح آیت خاتم النبیین سے یہ ثابت ہوگیا کہ سلسلہ نبوت ورسالت بھی ختم ہوگیا۔

آیت نمبر ۲:

”الله یصطفی من الملائکۃ رسلاً ومن الناس“ ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ فرشتوں اور آدمیوں میں سے پیغام پہنچانے والوں کو چن لیتا ہے۔“

(پارہ ۱۷، الحج، ع ۱۰، آیت ۷۵)

طرز استدلال:

اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہورہا ہے کہ نبوت اور رسالت کا سلسلہ جاری ہے۔ ”یصطفی“ مضارع کا صیغہ ہے جو حال اور استقبال پر دلالت کرتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں اور لوگوں سے رسول چنتا رہے گا لہٰذا

صفحہ ۱۵۰

صفحہ نمبر

ہمارا مدعا ثابت ہوا۔

جواب نمبر ۱:

یہ دلیل بھی دعویٰ کے مطابق نہیں، مطابقت ثابت کیجئے! دعویٰ خاص ہے اور دلیل عام ہے، کیونکہ رسول کا لفظ مرزا صاحب کے نزدیک عام ہے۔ ۶۰

(آئینہ کمالات اسلام : ص۳۲۲، روحانی خزائن : ص ۳۲۲، ج ۵، ایام الصلح : ص ۱۷۱، ۱۷۸، روحانی خزائن : ص ۴۱۹، ج ۱۴) ۱۶۶

یہاں عام لفظ کو کسی خاص معنی میں محدود کرنا صریح شرارت ہے، مرزا صاحب خود تسلیم کرتے ہیں : ’’ ایک عام لفظ کو کسی خاص معنی میں محدود کرنا صریح شرارت ہے۔‘‘ ۱۴۲

(نور القرآن : ص ۶۹، ج ۲، روحانی خزائن : ص ۴۴۴، ج ۹)

جواب نمبر ۲:

یہاں پر اللہ تعالیٰ نے ’’یصطفیٰ‘‘ فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چنے گا، حالانکہ تم جس نبوت کے اجراء کے قائل ہو وہ اللہ تعالیٰ کی اصطفاء سے نہیں بلکہ اطاعت سے (کسبی) ہوگی۔

جواب نمبر ۳:

آپ کا دعویٰ حضور ﷺ کے بعد نبوت جاری ہونے کا ہے، اس میں حضور کا کوئی ذکر نہیں بلکہ مطلق ہے لہٰذا اس اعتبار سے دعویٰ آپ کی دلیل کے مطابق نہیں رہا۔

آیت نمبر ۳:

”من يطع الله والرسول فأولئك مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين“ (پارہ ۵، النساء، ع ۸، آیت ۶۵)

صفحہ ۱۵۱

مع ضمیمہ

ترجمہ: جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے پس یہ لوگ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے نعمت کی پیغمبروں اور صدیقین اور شہداء اور صالحین۔

طرز استدلال:

اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی امت کو آپ کی اطاعت سے نبوت حاصل ہوتی ہے جس طرح آپ کی اطاعت سے امت میں صالح شہید اور صدیق ہوتے ہیں اسی طرح آپ کی اطاعت سے نبی بھی ہوتے ہیں اور یہی ہمارا دعویٰ ہے کہ آپ کی اطاعت والی نبوت جاری ہے لہٰذا ہمارے دعویٰ کیلئے یہ صریح دلیل ہے کیونکہ بالاتفاق حضور ﷺ کی اطاعت سے تین درجے ہوتے ہیں۔ اس لئے آیت کا یہ معنی کرنا درست نہیں ہوگا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے ان چار قسم کے لوگوں کے ساتھ ہونگے اور انہیں ان کی رفاقت حاصل ہوگی بلکہ جب تین درجہ اطاعت سے حاصل ہوتے ہیں تو چوتھا درجہ بھی اطاعت سے حاصل ہوگا وہ نبوت کا درجہ ہے اور یہاں پر ”مع“ کا معنی وہی ہے جو ”توفنا مع الابرار“ میں ہے۔

جواب نمبر ۱:

کسی ایک مجدد یا مفسر سے اپنے معنی کی توثیق پیش کریں۔

جواب نمبر ۲:

دلیل دعویٰ کے مطابق نہیں کیونکہ ”النبیین“ کا لفظ نبیوں کی تمام اقسام کو شامل ہے اگر اطاعت سے نبوت حاصل ہورہی ہے تو وہ ہر قسم کی ہوگی اور یہ تمہارے اپنے عقیدے اور دعویٰ کے خلاف ہے۔

صفحہ ۱۵۲

صفحہ نمبر

جواب نمبر ۳:

آیت کے شان نزول سے آیت کا مطلب بخوبی واضح ہو رہا ہے، شان نزول یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے ایک غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ! قیامت کے روز آپ بہت بلند مقام پر ہوں گے اور ہم خدا جانے کہاں ہوں گے، کیا ہماری آپ سے ملاقات ہوسکے گی؟ اور ہم اپنی آنکھوں کو آپ کے دیدار سے ٹھنڈا کرسکیں گے دنیا میں تو جب تھوڑی دیر بھی ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں تو آپ کی جدائی قابل برداشت نہیں ہوتی ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والوں کو ان نیک لوگوں کی رفاقت حاصل ہوگی اس سے معلوم ہوا کہ یہاں درجات کا ذکر نہیں ہے بلکہ محض رفاقت کا ذکر ہے۔

جواب نمبر ۴:

بخاری اور مسلم میں ایک حدیث ہے جو بعینہ اس آیت کی طرح ہے فرمایا:

”التاجر الصدوق مع النبيين والصديقين والشهداء والصالحين.“

تو کیا یہاں پر یہ مطلب ہوگا کہ سچا تاجر بھی نبی اور صدیق بن جائے گا یا یہ مطلب ہے کہ سچے تاجروں کو ان لوگوں کی رفاقت نصیب ہوگی۔

مرزائی اعتراض:

اگر آیت میں درجات کا ذکر نہیں اور محض رفاقت کا ذکر ہے تو آپ نے تین درجے صدیق ، شہید اور صالح سے نکال لیے کیونکہ بقول آپ کے اس آیت کا کے اس آیت کا معنی

صفحہ ۱۵۳

صفحہ ضمیمہ

یوں ہوگا کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ نبیوں کے ساتھ ہوگا وہ خود نبی نہیں ہوگا اور اسی طرح وہ صدیقوں کے ساتھ ہوگا خود صدیق نہیں بنے گا حالانکہ اس طرح تمہارے نزدیک بھی نہیں۔

جواب نمبر ۱:

اس آیت میں اس بات کا قطعاً ذکر نہیں ہے کہ کوئی شخص اطاعت کر کے نبی یا صدیق یا شہید ہوگا یا نہیں بلکہ یہاں مقصود صرف اطاعت کا نتیجہ بیان کرنا ہے کہ جو اطاعت کرے گا اس کو ان حضرات کے ساتھ رفاقت فی المکان حاصل ہوگی۔

جواب نمبر ۲:

ہم جو یہ سمجھتے ہیں کہ اطاعت کرنے سے نبی نہیں ہوگا یہ مقدمہ اس آیت سے نہیں بلکہ دوسری آیتوں کی بناء پر ہے، جیسے خاتم النبیین والی آیت ، کیونکہ خاتم الصدیقین اور خاتم الشہداء اور خاتم الصالحین کی کوئی آیت نہیں ہے ، اگر اس طرح خاتم النبیین کی آیت بھی نہ ہوتی تو ہم نبوت بھی مان لیتے، لیکن نبوت کا درجہ ماننے سے یہ آیت اور اس جیسی اور نصوص صریحہ اور احادیث صحیحہ مانع ہیں۔

جواب نمبر ۳:

اطاعت سے تین درجے جو ہم مانتے ہیں ، وہ اس آیت سے نہیں مانتے کیونکہ اس آیت میں درجات کا ذکر ہی نہیں وہ دوسری آیتوں سے مانتے ہیں جن میں درجات کا ذکر ہے اور جن آیات میں درجات بیان کئے گئے ہیں وہاں نبوت کا درجہ نہیں دیکھتے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’والذين آمنوا بالله ورسله أولئك هم

صفحہ ۱۵۴

صفحہ نمبر

الصدیقون والشہداء عند ربہم۔ “ اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے یہ لوگ ہیں صدیق اور شہداء اپنے رب کے نزدیک (پارہ ۲۷، الحدید ع۲، آیت ۱۹) دیکھئے! یہاں درجوں کا ذکر ہو رہا ہے رفاقت اور معیت کا ذکر نہیں ہے تو یہاں ’أولئك هم النبيون “ نہیں فرمایا بلکہ صدیقون اور شہداء فرمایا۔

جواب نمبر ۴:

اگر بقول آپ کے اطاعت سے یہ درجات حاصل ہوتے ہیں تو ہم سوال کرتے ہیں کہ یہ درجات کیسے ہیں؟ کیا حقیقی یا ظلی یا بروزی؟ اگر اطاعت سے نبی ظلی اور بروزی بنتے ہیں تو صدیق، شہید اور صالح بھی ظلی اور بروزی ہونے چاہئیں اور اگر وہ تین درجے حقیقی ہیں تو نبی بھی حقیقی ہونا چاہیے، یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جب اطاعت کرنے سے یہ چار درجے حاصل ہوتے ہیں ان میں سے تین تو حقیقی ہوں اور ایک ظلی، بروزی ہو، یا چاروں حقیقی مانو یا چاروں ظلی و بروزی۔ اور اگر کہو کہ ظلی و بروزی ، صدیق و شہید نہیں ہوتے، اول تو یہ مسلم نہیں، اگر مان بھی لیا جائے تو ہم کہتے ہیں کہ ظلی بروزی نبی بھی کوئی نہیں یہ بھی تمہاری جدید اصطلاح ہے۔ اور اگر کہو کہ ظلی شہید ہوتے ہیں تو ہم پوچھتے ہیں کیا ظلی حقیقی اور شہید کا حکم ایک ہے؟ اور یہ ظاہر ہے کہ حکم ایک نہیں کیونکہ مبطون اور غریق وغیرہ شہداء کو غسل دیا جاتا ہے حالانکہ حقیقی شہید کو غسل نہیں دیا جاتا ، معلوم ہوا کہ حکم ایک نہیں اور تمہارے نزدیک ظلی نبی کے احکام وہی ہیں جو حقیقی نبی کے ہیں کیونکہ تمہارے نزدیک ظلی نبی کا منکر کافر ہے۔

(حقیقت الوحی : ص ۱۶۷، روحانی خزائن : ص ۱۶۷، ج ۲۲ آئینہ کمالات اسلام : ص ۳۵، روحانی خزائن : ج

ص ۳۵، ج ۵)

صفحہ ۱۵۵

صفحہ ضمیمہ

مرزائی اعتراض:

یہاں مع بمعنی من ہے۔

جواب نمبر ۱:

اول تو ہم یہ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ مع بمعنی من کے ہوتا ہے کیونکہ کلام عرب میں مع ، من کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا، اگر یہ من کے معنی میں ہوتا تو مع پر من داخل نہ ہو سکتا حالانکہ کلام عرب میں اس کا ثبوت ملتا ہے، دیکھو! لغت کی مشہور کتاب ”المصباح المنير : ودخول من عليه نحو جئت ( من معه)“ یعنی عرب ”جئت من مع القوم“ بولتے ہیں پس مع پر من کا داخل ہونا اس بات کا مشعر ہے کہ مع کبھی من کے معنی میں نہیں آتا۔ باقی رہی وہ آیات جو قادیانیوں نے مغالطہ دیتے ہوئے پیش کی ہیں ان میں سے کسی ایک آیت میں بھی مع، من کے معنوں میں نہیں ہے۔ دیکھئے! ”وتوفنا مع الأبرار“ کی تفسیر میں مشہور مفسر امام رازی کیا معنی کرتے ہیں:

”وفاتهم معهم هى أن تموتوا على مثل أعمالهم حتى يكونوا في درجاتهم يوم القيامة قد يقول الرجل أنا مع الشافعي في هذه المسئلة ويريد به كونه مساوياً له في ذلك الاعتقاد.“

۳۷۴

(تفسیر کبیر : ج ۹، ص ۱۴۶، طبع دار الکتب العلمیہ طہران)

جواب نمبر ۲:

اگر ہم تسلیم بھی کر لیں کہ مع ، من کے معنی میں بھی کسی جگہ استعمال ہوتا

صفحہ ۱۵۶

ضمیمہ

ہے تو اس سے یہ کیسے لازم آ گیا کہ اس آیت میں بھی مع، من کے معنی میں ہے یہاں پر کسی ایک مفسر نے بھی یہ معنی نہیں لئے ۔

جواب نمبر ۳:

جب کوئی لفظ دو معنوں میں مستعمل ہو تو دیکھا جاتا ہے کہ حقیقت کس میں ہے اور مجاز کس میں جب تک حقیقت متعذر نہ ہو تو مجاز کی طرف رجوع نہیں کیا جاتا مع معیت اور رفاقت کے معنی میں حقیقت ہے اور یہاں حقیقت متعذر نہیں ہے، بلکہ ”وحسن أُولٰئک رفیقاً“ کا جملہ صاف اور صریح دلالت کر رہا ہے کہ یہاں معیت کے معنی میں ہے ورنہ یہ جملہ کلام الٰہی میں بالکل بے فائدہ اور زائد ہوگا کیونکہ جب اطاعت کرنے سے وہ لوگ خود نبی اور صدیق بن گئے تو پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ ان لوگوں کی رفاقت اچھی ہوگی۔

جواب نمبر ۴:

اگر مع کا معنی من لیا جائے تو درج ذیل آیات کا کیا معنی ہوگا: ”محمد رسول الله والذين معه...... الخ.“ اور ”إن الله مع الصابرين.“

جواب نمبر ۵:

مشہور مفسر امام رازی جو مرزا کے نزدیک چھٹی صدی کے مجدد ہیں انہوں نے تمہارے معنی کی صریح اور واضح تردید کی ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں: ”ومعلوم أنه ليس المراد من كون هؤلاء معهم هو

صفحہ ۱۵۷

صفحہ ضمیمہ

أنهم يكونون في عين تلك الدرجات لأن هذا ممتنع .“

(تفسیر کبیر:ج ۱۰،ص ۱۷،طبع دارالکتب العلمیه طہران)

جواب نمبر ۶:

مرزا نے خود اقرار کیا کہ اطاعت کرنے سے اور فنا فی الرسول ہو جانے سے نبوت نہیں ملتی بلکہ زیادہ سے زیادہ محدثیت کا درجہ حاصل ہو سکتا ہے اس سے نہیں بڑھ سکتا۔

حوالہ نمبر ۱:

’’جب کسی کی حالت اس نوبت تک پہنچ جائے (جو اس سے قبل مذکور ہو چکی ہے ) تو اس کا معاملہ اس عالم سے وراء الوراء ہو جاتا ہے اور ان تمام ہدایتوں اور مقاماتِ عالیہ کو ظلی طور پر پالیتا ہے جو اس سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو ملے تھے اور انبیاء اور رسل کا وارث اور نائب ہو جاتا ہے۔ وہ حقیقت جو انبیاء میں معجزہ کے نام سے موسوم ہوتی ہے وہ اس میں کرامت کے نام سے ظاہر ہو جاتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیاء میں عصمت کے نام سے نامزد کی جاتی ہے اس میں محفوظیت کے نام سے پکاری جاتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیاء میں نبوت کے نام سے بولی جاتی ہے اس میں محدثیت کے پیرایہ میں ظہور پکڑتی ہے حقیقت ایک ہی ہے لیکن باعث شدت اور ضعف رنگ کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں۔ اس لئے آنحضرتﷺ کے ملفوظات مبارکہ اشارہ فرما رہے ہیں کہ محدث نبی بالقوہ ہوتا ہے، اور اگر باب نبوت مسدود نہ ہوتا تو ہر ایک محدث اپنے وجود میں قوت اور استعداد نبی ہونے کی رکھتا تھا اور اسی قوت

صفحہ ۱۵۸

ضمیمہ

اور استعداد کے لحاظ سے محدث کا حمل نبی پر جائز ہے یعنی کہہ سکتے ہیں ”المحدث نبی“ جیسا کہ کہہ سکتے ہیں: العنب خمر نظراً علی القوۃ والاستعداد ومثل ہذا الحمل شائع متعارف فی عبارات القوم وقد جرت المحاورات علی ذلک کما لا يخفیٰ علی کل ذکی عالم مطلع علی کتب الأدب.“

(ریویو آف ریلیجنز: اپریل ۱۹۰۲ء بعنوان اسلام کی برکات، آئینہ کمالات اسلام: ص ۲۳۷، ۲۳۸، روحانی ۱۶

خزائن: ج ۵، ص ۲۳۷، ۲۳۸) ۲۶۱

اس عبارت سے واضح ہو گیا کہ ظلی نبوت بھی در حقیقت محدثیت ہی ہے اور ظلی نبی جو کامل اتباع سے بنتا ہے وہ حقیقت میں محدث ہے لہٰذا قادیانیوں کا یہ کہنا کہ اتباع اور اطاعت سے نبوت حاصل ہو جاتی ہے غلط ٹھہرا۔ یہاں پر مرزا محدث کا حمل جو نبی پر کر رہے ہیں اور ”المحدث نبی“ کہہ رہے ہیں وہ محض اس کی قوۃ اور استعداد کے لحاظ سے ہے۔

جیسا کہ عنب کا حمل قوت اور استعداد کے لحاظ سے خمر پر ہوتا ہے، تو اب ظاہر ہے کہ یہ حمل اگر چہ جائز ہے لیکن ان کے احکام مختلف ہیں، جیسا کہ عنب اور خمر کے احکام مختلف ہیں اسی طرح محدث جس کو بالقوۃ ہم نبی کہہ رہے ہیں اس کے احکام نبی سے مختلف ہونے چاہئیں۔ لہٰذا یہ بات ثابت ہو گئی کہ اطاعت کرنے سے مرزا کے نزدیک جو نبوت حاصل ہوتی ہے وہ محدثیت ہی ہے جس کا انکار کفر نہیں اور اطاعت سے اس مقام کے حاصل ہونے میں کوئی نزاع نہیں ہے۔

حوالہ نمبر ۲:

”حضرت عمر کا وجود ظلی طور پر گویا آنجناب ﷺ کا وجود ہی تھا۔“

صفحہ ۱۵۹

صوفیہ

۱۴ (ایام الصلح : ص ۳۵، روحانی خزائن : ص ۲۶۵، ج۱۴)

حوالہ نمبر ۳:

’’صدہا لوگ ایسے گزرے ہیں جن میں حقیقت محمدیہ متحقق تھی اور عنداللہ ظلی طور پر ان کا نام محمد یا احمد تھا۔‘‘

۱۵ (آئینہ کمالات اسلام : ص۳۴۶، روحانی خزائن : ص ۳۴۶، ج ۵)

نتیجہ:

مذکورہ بالا حوالوں سے بھی یہ بات واضح ہوگئی کہ اتباع اور اطاعت سے نبی نہیں ہو سکتے جبکہ بقول ان کے صدہا شخص ایسے گزر چکے ہیں جن کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد تھا اور حضرت عمر کا وجود بھی ظلی طور پر حضور کا ہی وجود تھا۔ تو کیا ان میں سے کسی ایک نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا؟ اور کوئی اپنی علیحدہ جماعت یا امت بنائی؟ یا اپنے منکرین کو کافر یا جہنمی کہا؟ فعلیکم البیان بالبرھان۔

جواب نمبر ۷:

امت میں سے سب سے اونچا مقام صدیقیت کا ہے شہید اور صالح اس سے نیچے کے مقام ہیں اطاعت کرنے سے یہ امت والے ہی مراتب حاصل ہو سکتے ہیں نہ کہ وہ خود نبی بن جائے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام کی جماعت جو حضور ﷺ کی پوری پوری متبع اور مطیع ہے جن کو دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ نے راضی ہو کر جنت کے سرٹیفکیٹ عطا فرمادیے اور ایسی اتباع کا نمونہ پیش کیا کہ قیامت تک امت میں اس کی نظیر نہیں پائی جاسکتی اور بقول مرزا ان میں حقیقت محمدیہ متحقق ہو چکی تھی اور حضور بھی ان کے حق میں ارشاد فرما رہے ہیں: ’’لو كان بعدي نبي لكان عمر‘‘ اور

صفحہ ۱۶۰

صفحہ ضمیمہ

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ” أبوبكر خير الناس بعدی إلا إن يكون نبى.“ لیکن اس کے باوجود صحابہ کرام میں سے کوئی بھی نبوت کے مقام پر فائز نہ ہوا اور کسی نے نبوت کا دعویٰ نہ کیا بلکہ حضرت ابوبکر جیسے صدیق رہے اور عمر جیسے شہید اور محدث بنے نبی تو کوئی بھی نہ بن سکا اب امت میں کون دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس نے ان حضرات سے بڑھ کر اتباع کی ہے اور نبوت کے مقام پر پہنچ گیا ہے۔

جواب نمبر ۸:

اگر اطاعت سے نبوت ملتی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کو کیوں نہیں ملی کیا وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب نہیں ہونگے کہ اے اللہ تو نے اطاعت سے نبوت عطا کرنی تھی تو ہم نے جبکہ تیرے رسول پر اپنی جانیں، مال اور اولاد ہر چیز قربان کر دی تھی، پھر ہم نے کیا قصور کیا تھا کہ نبوت کے بلند اور اعلیٰ ترین منصب پر ہمیں سرفراز نہ فرمایا؟ کیا تیرے انصاف کا یہی تقاضا تھا کہ ایک انسان جس کا ایمان بھی محل نزاع میں ہے اور انگریزوں کا جاسوس اور ایجنٹ بھی تھا اور بجائے حضورﷺ کی اطاعت کے انگریز کی اطاعت کو فرض سمجھتا تھا اس کو یہ مقام عطا کر دیا؟

؎ ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے

مرزا صاحب اور اطاعت انگریز:

”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے

صفحہ ۱۶۱

صفحہ نمبر

دو حصے ہیں ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں اور دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو، سو وہ سلطنت برطانیہ ہے۔‘‘

۷۲

(شہادۃ القرآن : ص ۸۲، روحانی خزائن:ص ۳۸۰، ج ۶ )

مرزائی اعتراض:

ہم نے جو معنی کیا ہے امام راغب ہمارے معنی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ وہ فرماتے ہیں: ” قال الراغب ممن أنعم علیہم من الفرق الأربع فی المنزلۃ والثواب النبی بالنبی والصدیق بالصدیق والشہید بالشہید والصالح بالصالح وأجاز الراغب أن یتعلق من النبیین لقولہ ومن یطع اللہ والرسول أی من النبیین ومن بعدہم. “

۷۳

(البحر المحیط : ج ۳ ص ۲۸۷)

دیکھئے! اس عبارت سے صاف واضح ہورہا ہے کہ ”من النبیین“ کو ” من یطع اللہ“ کے متعلق کریں گے، تو معنی یہ ہوگا کہ نبیوں میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ ایسا ہوگا۔ تو معلوم ہوا کہ اس امت میں بھی کچھ نبی ہونے چاہئیں جو رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں، اگر نبوت کا دروازہ بند ہے تو اس آیت کے مطابق وہ کون سا نبی ہوگا جو رسول اللہ کی اطاعت کرے گا۔

جواب نمبر ۱:

یہ عبارت امام راغب کی کسی کتاب میں نہیں ہے، اگر ہمت ہے تو امام راغب کی وہ کتاب پیش کرو جس میں یہ عبارت درج ہے۔

جواب نمبر ۲:

یہ قادیانیوں کا صریح دجل ہے اور اس حوالہ کے پیش کرنے میں بھی انہوں

صفحہ ۱۶۲

نے اپنے روایتی دجل وفریب سے کام لیا ہے، حوالہ ہذا تفسیر بحر محیط علامہ اندلسی کی کتاب سے پیش کیا ہے، حالانکہ علامہ اندلسی نے یہ قول نقل کر کے اس کی سخت ترین الفاظ میں تردید فرمائی ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

” وهذا الوجه الذي هو عنده ظاهر فاسد من جهة المعنى أو من جهة النحو. “

(البحر المحیط : ج ۳، ص ۲۸۷)

یعنی نحوی غلطی یہ ہے کہ ”من النبیین“ جزاء کا جزء ہے اور یہاں اسے شرط کا جزء قرار دیا جارہا ہے اور معنوی غلطی یہ ہے کہ یہ عبارت ختم نبوت کے خلاف ہے۔ ظاہر ہے کہ علامہ راغب جیسا فاضل شخص یہ غلطی نہیں کر سکتا، یہ عبارت ان کی طرف غلط منسوب ہے۔

جواب نمبر ۳:

امام راغب کے قول کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو بھی ہمارے مخالف نہیں ہے کیونکہ تمام انبیاء حضور ﷺ کے امتی اور متبع ہیں، دیکھئے ! شب معراج میں تمام انبیاء علیہم السلام نے آپ کی اتباع اور اقتداء کی اور بیت المقدس میں آپ کی امامت میں نماز ادا کی ، اس کے علاوہ انبیاء سابقین اور بنی اسرائیل سلسلہ کے آخری نبی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آیات قرآنی اور احادیث نبویہ کی رو سے قیامت سے قبل اس امت میں تشریف لائیں گے اور آپ ﷺ کی شریعت کی اتباع اور اطاعت کریں گے۔ لہٰذا انبیاء میں سے ایک فرد کامل ایسا مل گیا جو آپ کی اتباع اور اقتداء کرے گا۔

ہمارا سوال:

کیا نبوت وہبی ہے یا کسبی ؟ اگر کہو کہ نبوت وہبی ہے تو تمہارا استدلال ختم،

صفحہ ۱۶۴

حصہ ضمیمہ ۱۶۴

کیونکہ تم جس نبوت کے قائل ہو (یعنی کہ وہ اطاعت سے حاصل ہوتی ہے ) وہ تو کسبی ہے اور اگر کہو کہ ہے تو وہبی لیکن کسب کو دخل ہے جیسا کہ ”يھب لمن يشاء إناثاً “ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو جب اس میں کسب کا دخل ہے، تو وہ کسبی بھی ہوگئی، صرف وہبی نہیں اور کسبی نبوت غلط ہے جیسا کہ آئندہ واضح کیا جاتا ہے۔ باقی جو آیت آپ نے پیش کی ہے، اول تو وہ قیاس، قیاس مع الفارق ہے۔ کہاں اولاد کا پیدا ہونا اور کہاں نبوت کا عطا ہونا۔ دوسرے یہ بھی غلط ہے کہ یہاں کسب کو دخل ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ یہاں کسب کو کوئی دخل نہیں ہے بلکہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ محض ہبہ ہے کیونکہ اگر وہ نہ چاہتے تو زوجین ساری عمر کسب کرتے رہیں اور ان کو کوئی چیز نہ دے اور اگر چاہے تو جہاں مطلقاً کسب نہ ہو وہاں دیدے، جیسا کہ حوا علیہا السلام اور عیسیٰ علیہ السلام۔

جواب نمبر ۲:

اگر نبوت کسبی مانی جائے تو عصمت باقی نہیں رہتی۔

جواب نمبر ۳:

حوالہ نمبر ۱:

علامہ شعرانی فرماتے ہیں: ”فإن قلت :فهل النبوة مكتسبة أو موهوبة فالجواب ليست النبوة مكتسبة حتى يتوصل إليها بالنسك والرياضات كما ظنه جماعة من الحمقى (كالقاديانية) وقد أفتى المالكية وغيرهم بكفر من قال :إن النبوة مكتسبة “

(الیواقیت والجواہر: ج ۱، ص ۲۹۵، ۲۹۶، طبع مکتبہ لاحیاء التراث العربی)

صفحہ ۱۶۴

صوفیہ

حوالہ نمبر ۲:

۴۸۴، ۴۸۵

” من ادّعى نبوة أحد مع نبينا ﷺ أو بعده ...... أو من ادّعى النبوة لنفسه أو جوّز اكتسابها و البلوغ بصفاء القلب إلى مرتبتها و كذلك من ادّعى منهم أنه يوحىٰ إليه وإن لم يدّع النبوة فهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبي ﷺ لأنه أخبر ﷺ أنه خاتم النبيين لا نبي بعده .“

(شرح شفاء للقاضی عیاض، ج۲، ص۵۱۵، ۵۱۶ طبع بیروت)

امام رازیؒ کی تفسیر:

” ومعلوم أنه ليس المراد من كون هؤلاء و معهم هو أنهم يكونون في عين تلك الدرجات لأن هذا ممتنع .“

(تفسیر کبیر، ص۲۶۳)

امام رازیؒ مرزا کے نزدیک چھٹی صدی کے ایک مشہور اور مسلّم مجدد ہیں۔ دیکھئے کس صراحت سے انہوں نے مرزائیوں کی تفسیر کی تردید کی ہے کہ ”فأولئك مع الذين“ سے مراد یہ نہیں کہ اطاعت کرنے سے ان کو وہ درجات حاصل ہوں گے کیونکہ یہ ممتنع ہے بلکہ اس سے مراد صرف ان کی صحبت ہے، جیسا کہ ہم کہتے ہیں۔

جواب نمبر ۴:

” أن رسول الله ﷺ كان يدعو قرب وفاته ، اللهم بالرفيق الأعلىٰ مع الذين أنعمت عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين هل المراد منه أن يصير من النبيين الخ وهو نبي ورسول عظيم من قبل ، بل معناه أن الرسول كان

صفحہ ۱۶۵

یبطورِ جواب:

صفہ نمبر

يطلب عن ربه الرؤف الرحيم أن ينقله من دارالدنيا إلى جواره
حيث يحصل له رفته الأنبياء والصديقين . “

جواب نمبر ۵:

اس آیت میں ” مَنْ يطع الله ورسوله “ میں ” من “ عام ہے جو کہ مذکر مؤنث دونوں کو شامل ہے اس آیت سے کوئی عورت بھی نبی ہونے پر استدلال کرسکتی ہے، حالانکہ قادیانی بھی اس کے قائل نہیں۔ ما هو جوابكم فهو جوابنا

نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں مرزا کا اعتراف:

حوالہ نمبر ۱:

” اور اس میں کوئی شک نہیں کہ محدثیت محض وہبی ہے کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ نبوت کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی ۔“

(ترجمہ حمامة البشری، ص۸۲، روحانی خزائن، ص ۳۰۱، ج ۷ ) ۲۰

حوالہ نمبر ۲:

” صراط الذين أنعمت عليهم “ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو یہ مرتبہ ملا انعام کے طور پر ملا یعنی محض فضل سے نہ کسی عمل کا اجر ۔“

(چشمہ مسیحی، ص۴۲، روحانی خزائن، ص ۳۶۵، ج۲۰) ۲۶

فائدہ:

یہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز ہے کہ مرزا اپنے ہی مسلمات کے خلاف لکھ گیا اسی لیے کہا گیا ہے کہ ” جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے“

لفظ خاتم کا معنی:

قادیانی حضرات لفظ خاتم کے مختلف معنی کرتے ہیں، کبھی تو اس کا معنی ” مہر

---

Oh wait, I missed formatting properly for some lines and references. Let's do it carefully.

Let's transcribe exactly.

Page number line:

Actually `صفحہ نمبر` is on the right? No, `صفحہ نمبر` is printed on the left side of `۱۶۵`. Or is it on the right? `۱۶۵` is in the middle. On the left it says `صفحہ نمبر`. Or `حاشیہ نمبر`? `صفحہ نمبر` seems to be printed, wait. `صفحہ نمبر` on the left. But wait, `صفحہ نمبر` seems to be a note at the margin. Let me zoom in. `صفحہ نمبر`. Is it `@PAGE ۱۶۵`? Yes. And then what about `صفحہ نمبر`? It just says `صفحہ نمبر` on the left side. Let me put it as prose or part of the page header. But the page header is:

and then `صفحہ نمبر` might be just `صفحہ نمبر` on the left. Actually, it looks like `۱۶۵` and `صفحہ نمبر`. Maybe the text is: ۱۶۵ صفحہ نمبر

Wait, let's look at the Arabic poem/prose: يطلب عن ربه الرؤف الرحيم أن ينقله من دارالدنيا إلى جواره حيث يحصل له رفته الأنبياء والصديقين . “

No, wait, "حيث يحصل له رفته" -> "حيث يحصل له رفقة الأنبياء والصديقين ." "يطلب عن ربه الرؤف الرحيم أن ينقله من دارالدنيا إلى جواره" Let's check the letters. يطلب عن ربه الرؤف الرحيم أن ينقله من دارالدنيا إلى جواره حيث يحصل له رفقة الأنبياء والصديقين . “

Then there's a heading: جواب نمبر ۵:

Then prose: اس آیت میں ” من یطع الله ورسوله “ میں ” من “ عام ہے جو کہ مذکر مؤنث دونوں کو شامل ہے اس آیت سے کوئی عورت بھی نبی ہونے پر استدلال کرسکتی ہے، حالانکہ قادیانی بھی اس کے قائل نہیں۔ ما ھو جوابکم فھو جوابنا

Wait, `ما هو جوابكم فهو جوابنا`

Then a major heading (largest font): نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں مرزا کا اعتراف:

Then a minor heading: حوالہ نمبر ا: (It's `حوالہ نمبر ا:` or `حوالہ نمبر ۱:`? It looks like `حوالہ نمبر ۱:`)

Then prose: ”اور اس میں کوئی شک نہیں کہ محدثیت محض وہبی ہے کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ نبوت کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی ۔“

Then reference: (ترجمہ حمامة البشریٰ، ص۸۲، روحانی خزائن، ص ۳۰۱، ج ۷ ) And on the left margin there is an upside-down '۲۰' or something? Wait, there is a number vertically written on the left margin. `۲۰` or `٢٥`? It says `۲۰` with a line under it, or `۲۵`? Let's check `۲۵` below and `۲۰` above. Or `۲۰` above and `۲۶` below. Look at the first reference margin: `۲۰` is visible on the far left. Is it part of the reference line? The instructions say: "a reference/citation (the parenthesised text set to the left)". But wait, the parenthesized text is set towards the left of the page, not necessarily the absolute margin. "parenthesised text set toward the LEFT of the page". Let's transcribe the parenthesized text as `@REF`. What about the `۲۰` on the margin? It might just be `۲۰`. So: `@REF (ترجمہ حمامة البشری، ص۸۲، روحانی خزائن، ص ۳۰۱، ج ۷ ) ۲۰` Let's re-examine the image. `۲۰` is on the far left, almost vertically aligned. Maybe it's just `۲۰`. Wait, it's `۲۰` over a line, like a fraction? No, it's a `۲۰` with a dash below it or something? It's just `۲۰`. And below, it's `۲۶`? Wait, below it is `۲۶` or `۲۵`? Actually, it looks like `۲۶`. Wait, in the second reference it's `۲۵` or `۲۶`? It looks like `۲۶` or `۲۵`. Let's look closely: it's `۲۵` or `۲۶`. Looks like `۲۵` but reversed? No, the `۵` is standard Urdu `۵` (like a heart or zero). The top one is `۲۰`. The bottom one is `۲۵`. Wait, let's look at the crop: `۲۰` with a bar below it? No, just `۲۰` with something small. It's actually `۲۰` and `۲۵`. But they are rotated 90 degrees? No, they are upright. Wait, `۲۰` is horizontal, but written in the margin. Let's look at the crop. Ah, it's `20` and `25` with a vertical line or just written at the edge. I'll just append it to the reference line.

Let's do the next section: حوالہ نمبر ۲: ” صراط الذين أنعمت عليهم “ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو یہ مرتبہ ملا انعام کے طور پر ملا یعنی محض فضل سے نہ کسی عمل کا اجر ۔“

Reference: (چشمہ مسیحی، ص۴۲، روحانی خزائن، ص ۳۶۵، ج۲۰)

Margin number: ۲۵

So: `@REF (چشمہ مسیحی، ص۴۲، روحانی خزائن، ص ۳۶۵، ج۲۰) ۲۵`

Next heading: فائدہ:

Prose: یہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز ہے کہ مرزا اپنے ہی مسلمات کے خلاف لکھ گیا اسی لیے کہا گیا ہے کہ ” جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے“

Next heading: لفظ خاتم کا معنی:

Prose: قادیانی حضرات لفظ خاتم کے مختلف معنی کرتے ہیں، کبھی تو اس کا معنی ”مہر

Let's refine everything.

First line:

Is there anything else on the top? On the left side, it says `صفحہ نمبر` (page number). Should I include it? Yes, it's printed text. But wait, it's on the same line as `۱۶۵`? Yes, `۱۶۵` is centered, and `صفحہ نمبر` is on the far left. Actually, the text `صفحہ نمبر` is written obliquely or diagonally. It looks like `صفحہ نمبر`. So line 2: صفحہ نمبر

Wait, let's just write `صفحہ نمبر` as a prose line if it's there. But `صفحہ نمبر` is on the first line. So I will write:

صفحہ نمبر

Then the Arabic prose: يطلب عن ربه الرؤف الرحيم أن ينقله من دارالدنيا إلى جواره حيث يحصل له رفقة الأنبياء والصديقين . “

Wait, is it "رفته"? No, "رفقة" (company). The dots are connected. "رفقة" makes perfect sense.

Then:

جواب نمبر ۵:

Then prose: اس آیت میں ” مَنْ يطع الله ورسوله “ میں ” من “ عام ہے جو کہ مذکر مؤنث دونوں کو شامل ہے اس آیت سے کوئی عورت بھی نبی ہونے پر استدلال کرسکتی ہے، حالانکہ قادیانی بھی اس کے قائل نہیں۔ ما هو جوابكم فهو جوابنا

Wait, look at "مَنْ يطع الله ورسوله", the text in the image is: اس آیت میں ” من يطع الله ورسوله “ میں ” من “ عام ہے جو

Wait, the "من" has no fatha in the image. "من يطع الله ورسوله"

Then: کہ مذکر مؤنث دونوں کو شامل ہے اس آیت سے کوئی عورت بھی نبی ہونے پر استدلال کرسکتی ہے، حالانکہ قادیانی بھی اس کے قائل نہیں۔ ما ھو جوابکم فھو جوابنا

Wait, "ما ھو جوابکم فھو جوابنا" -> "ما هو جوابكم فهو جوابنا". The 'h' is regular standard Urdu/Arabic "هو". In Urdu it's usually written "ما ھو جوابکم فھو جوابنا". Looking at the image, it's "ما هو جوابكم فهو جوابنا". Let's use Arabic letters if it's Arabic, or just transcribe as it looks. The image has "ما ھو جوابکم فھو جوابنا". I'll write `ما ھو جوابکم فھو جوابنا`.

Then:

نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں مرزا کا اعتراف:

Then:

حوالہ نمبر ۱:

Then: ”اور اس میں کوئی شک نہیں کہ محدثیت محض وہبی ہے کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ نبوت کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی ۔“

Then:

(ترجمہ حمامة البشریٰ، ص۸۲، روحانی خزائن، ص ۳۰۱، ج ۷ ) ۲۰

Let's check the text of the reference. "(ترجمہ حمامة البشریٰ، ص۸۲، روحانی خزائن، ص ۳۰۱، ج ۷ )" Is it "البشریٰ" or "البشری"? It is written "البشری". Wait, looking closely, it's "البشری" without the khari zabar, or maybe a tiny one. I will use "البشری". And the volume number: "ج ۷" or "ج ۷"? It's "ج ۷". The page number: "ص ۳۰۱". Is there a margin number? Yes, `۲۰`. I'll put it at the end of the REF line.

Then:

حوالہ نمبر ۲:

Then: ” صراط الذين أنعمت عليهم “ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو یہ مرتبہ ملا انعام کے طور پر ملا یعنی محض فضل سے نہ کسی عمل کا اجر ۔“

Then:

(چشمہ مسیحی، ص۴۲، روحانی خزائن، ص ۳۶۵، ج۲۰) ۲۵

Let's check "ص ۴۲" -> wait, it is "ص ۴۲" or "ص ۲۴"? It looks like "ص ۴۲". Wait, no, it's `۴۲` or `۲۲`? It's `۴۲`. No, `۴۲`. Wait, let me zoom in on `(چشمہ مسیحی، ص۴۲، روحانی خزائن، ص ۳۶۵، ج۲۰)` It's `۴۲`.

Wait, the number on the margin is `۲۵`? Actually, it looks like `۲۶` because the `۶` is clearly visible in other places, wait no, it's an Urdu `۵` (heart-shaped). `۲۵`. Let me look closely. Yes, it's `۲۵`.

Then:

فائدہ:

Then: یہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز ہے کہ مرزا اپنے ہی مسلمات کے خلاف لکھ گیا اسی لیے کہا گیا ہے کہ ” جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے“

Is the ﷺ symbol there? Yes, `صلى الله عليه وسلم` ligature. "آنحضرت ﷺ کی". I will use the `ﷺ` character.

Then:

لفظ خاتم کا معنی:

Then: قادیانی حضرات لفظ خاتم کے مختلف معنی کرتے ہیں، کبھی تو اس کا معنی ”مہر

Wait, the instruction says:

<text> a major heading (largest font)

<text> a smaller sub-heading

Let's classify the headings. "جواب نمبر ۵:" is small, so `@H2 جواب نمبر ۵:` "نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں مرزا کا اعتراف:" is very large, so `@H1 نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں مرزا کا اعتراف:` "حوالہ نمبر ۱:" is small, so `@H2 حوالہ نمبر ۱:` "حوالہ نمبر ۲:" is small, so `@H2 حوالہ نمبر ۲:` "فائدہ:" is small, so `@H2 فائدہ:` "لفظ خاتم کا معنی:" is small, wait. "لفظ خاتم کا معنی:" is larger than "فائدہ:" and "حوالہ نمبر". It's almost as large as "نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں...". Let me check its font size. "لفظ خاتم کا معنی:" Actually, it looks about the same size as "فائدہ:", just a different thickness? No, "فائدہ:" is larger than regular text but not huge. "لفظ خاتم کا معنی:" is clearly larger. Let me compare "نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں مرزا کا اعتراف:" and "لفظ خاتم کا معنی:". Both are bold and large. Wait, "جواب نمبر ۵:", "حوالہ نمبر ۱:", "حوالہ نمبر ۲:", "فائدہ:" are all the same size (medium). "نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں مرزا کا اعتراف:" and "لفظ خاتم کا معنی:" are the same size (large). So:

نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں مرزا کا اعتراف:

لفظ خاتم کا معنی:

جواب نمبر ۵:

حوالہ نمبر ۱:

حوالہ نمبر ۲:

فائدہ:

Let's double check this. "جواب نمبر ۵:" is definitely @H2. "نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں مرزا کا اعتراف:" is definitely @H1. "حوالہ نمبر ۱:" is @H2. "حوالہ نمبر ۲:" is @H2. "فائدہ:" is @H2. "لفظ خاتم کا معنی:" is @H1. Wait, let's look at "لفظ خاتم کا معنی:". It has the same thickness and height as the H1 above it. Yes, it's an @H1.

Let's check the Arabic poetry. Wait, the first two lines: يطلب عن ربه الرؤف الرحيم أن ينقله من دارالدنيا إلى جواره حيث يحصل له رفقة الأنبياء والصديقين . “ Are they centered poetry? No, they look like prose. They are aligned to the right. Let's see: "يطلب عن ربه..." starts with an indent, like a paragraph of prose. The second line "حيث يحصل..." goes almost to the left margin. It's not centered poetry. So it should be normal prose.

Let's check the exact text again. يطلب عن ربه الرؤف الرحيم أن ينقله من دارالدنيا إلى جواره حيث يحصل له رفقة الأنبياء والصديقين . “

Is it "الرؤف"? Yes, "الرؤف". Or "الرؤوف"? It's spelled "الرؤف" in the image. "دارالدنيا" is written together. "رفقة" - the qaf has two dots.

Prose block 2: اس آیت میں ” من يطع الله ورسوله “ میں ” من “ عام ہے جو کہ مذکر مؤنث دونوں کو شامل ہے اس آیت سے کوئی عورت بھی نبی ہونے پر استدلال کرسکتی ہے، حالانکہ قادیانی بھی اس کے قائل نہیں۔ ما هو جوابكم فهو جوابنا

Wait, "ما ھو جوابکم فھو جوابنا" -> it looks like "ما ھو جوابکم فھو جوابنا" with the 'do-chashmi he' in "ھو" and "فھو" ? No, it's regular Urdu standard gol 'he' (ہ). It is written "ما ھو" with a hook 'he' or gol 'he'. In Urdu orthography for Arabic, it's often "هو" with the standard letter. I will use "ما ھو جوابکم فھو جوابنا" as that's how it's visually rendered (with the loop hanging down). Actually, Arabic "هو" in this font looks like that. Let's use `ما هو جوابكم فهو جوابنا`.

Prose block 3: ”اور اس میں کوئی شک نہیں کہ محدثیت محض وہبی ہے کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ نبوت کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی ۔“

Prose block 4: ” صراط الذين أنعمت عليهم “ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو یہ مرتبہ ملا انعام کے طور پر ملا یعنی محض فضل سے نہ کسی عمل کا اجر ۔“

Prose block 5: یہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز ہے کہ مرزا اپنے ہی مسلمات کے خلاف لکھ گیا اسی لیے کہا گیا ہے کہ ” جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے“

Prose block 6: قادیانی حضرات لفظ خاتم کے مختلف معنی کرتے ہیں، کبھی تو اس کا معنی ”مہر

Let's review the punctuation. `اس آیت میں ” من يطع الله ورسوله “ میں ” من “ عام ہے جو` The quotes are `”` and `“` or similar. I'll use `”` and `“`. Wait, looking closely at the first quote: `” من يطع الله ورسوله “`. The closing quote is `“`. `” من “` -> opening is `”` and closing is `“`. `”اور اس میں کوئی شک نہیں کہ محدثیت محض وہبی ہے کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ` `نبوت کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی ۔“` `” صراط الذين أنعمت عليهم “` `” جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے“` `”مہر`

Let's check the references. `@REF (ترجمہ حمامة البشری، ص۸۲، روحانی خزائن، ص ۳۰۱، ج ۷ ) ۲۰` Wait, look at the margin numbers again. Top margin number: `۲۰`. Under it there is a short horizontal line, like a fraction bar or a separator. Then `۲۵` below it? No, `۲۰` is for the first reference, `۲۵` is for the second. But there is a small horizontal line under `۲۰` and also under `۲۵`. So the number is just `۲۰` with a line under it, denoting it's a marginal note number. I will write `@REF (ترجمہ حمامة البشری، ص۸۲، روحانی خزائن، ص ۳۰۱، ج ۷ ) ۲۰` and `@REF (چشمہ مسیحی، ص۴۲، روحانی خزائن، ص ۳۶۵، ج۲۰) ۲۵`

Let's check the `صفحہ نمبر` again. Is it `صفحہ نمبر`? Yes. It's written diagonally. Where should I put it? The instructions say: "Put ONE tag at the very START of the line... Ordinary prose lines take NO tag". I'll put it on a new line after `@PAGE ۱۶۵`. Wait, it's just `صفحہ نمبر` printed in the margin, probably as a header label. I'll just put it as the first line of prose.

Wait, looking at the top, the page number is `۱۶۵`. To the left of it, there is `صفحہ نمبر` written. So it's basically the header. I will transcribe it as:

صفحہ نمبر

Let's review the whole layout.

صفحہ نمبر

يطلب عن ربه الرؤف الرحيم أن ينقله من دارالدنيا إلى جواره حيث يحصل له رفقة الأنبياء والصديقين . “

جواب نمبر ۵:

اس آیت میں ” من يطع الله ورسوله “ میں ” من “ عام ہے جو کہ مذکر مؤنث دونوں کو شامل ہے اس آیت سے کوئی عورت بھی نبی ہونے پر استدلال کرسکتی ہے، حالانکہ قادیانی بھی اس کے قائل نہیں۔ ما هو جوابكم فهو جوابنا

نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں مرزا کا اعتراف:

حوالہ نمبر ۱:

”اور اس میں کوئی شک نہیں کہ محدثیت محض وہبی ہے کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ نبوت کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی ۔“

(ترجمہ حمامة البشری، ص۸۲، روحانی خزائن، ص ۳۰۱، ج ۷ ) ۲۰

حوالہ نمبر ۲:

” صراط الذين أنعمت عليهم “ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو یہ مرتبہ ملا انعام کے طور پر ملا یعنی محض فضل سے نہ کسی عمل کا اجر ۔“

(چشمہ مسیحی، ص۴۲، روحانی خزائن، ص ۳۶۵، ج۲۰) ۲۵

فائدہ:

یہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز ہے کہ مرزا اپنے ہی مسلمات کے خلاف لکھ گیا اسی لیے کہا گیا ہے کہ ” جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے“

لفظ خاتم کا معنی:

قادیانی حضرات لفظ خاتم کے مختلف معنی کرتے ہیں، کبھی تو اس کا معنی ”مہر

Let me double check the spelling of "دارالدنيا". Yes, it's joined in the image "دارالدنيا". "الصديقين" has a dot below the noon? No, standard noon. "کرسکتی ہے،" comma is present. "حالانکہ قادیانی بھی اس کے قائل نہیں۔" The dash/period is there. "ما هو جوابكم فهو جوابنا" No punctuation after this. "نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں مرزا کا اعتراف:" Colon at the end. "حوالہ نمبر ۱:" Colon at the end. "وہبی" -> yes, written "وہبی". "ہوسکتی" -> written together. "جیسا کہ" -> written separately. "ترجمہ حمامة البشری،" -> comma after Bushra. "ص۸۲،" -> comma. "روحانی خزائن،" -> comma. "ص ۳۰۱،" -> comma. "ج ۷ )" -> parenthesis. "صراط الذين أنعمت عليهم" -> Arabic text. "یہ مرتبہ ملا انعام کے طور پر ملا یعنی محض فضل سے نہ کسی عمل کا اجر ۔“" -> dash before closing quote. "چشمہ مسیحی، ص۴۲، روحانی خزائن، ص ۳۶۵، ج۲۰" -> all commas in place. `۴۲` is correct. `۳۶۵` is correct. `۲۰` is correct. "آنحضرت ﷺ" -> the sallallahu alaihi wasallam ligature is clearly present. "مسلمات کے" -> correct. "سر چڑھ کر بولے“" -> correct. No period before closing quote. "لفظ خاتم کا معنی:" -> colon at the end. "معنی کرتے ہیں،" -> comma at the end. "کبھی تو اس کا معنی ”مہر" -> opening quote, no closing quote.

Let's check the number `۲۰` and `۲۵` on the margin. It looks like `۲۰` and `۲۶`? Let me zoom in a LOT on the second reference margin number. It has a flat horizontal line at the top, a vertical line down, and the loop on the right. That's a `۵` (۵) in Urdu. Wait, let's look at the `۶` in `۳۶۵`. The `۶` has a loop on the left and tail down. Yes, the digit in the margin is a `۵`. So it's `۲۵`. What about the digit in the top margin? It's `۲۰` with a zero.

Let's do a final check on the text of the references. `(ترجمہ حمامة البشری، ص۸۲، روحانی خزائن، ص ۳۰۱، ج ۷ ) ۲۰` `(چشمہ مسیحی، ص۴۲، روحانی خزائن، ص ۳۶۵، ج۲۰) ۲۵`

Let me check the Arabic paragraph again. "يطلب عن ربه الرؤف الرحيم أن ينقله من دارالدنيا إلى جواره حيث يحصل له رفقة الأنبياء والصديقين . “ " Yes, that's exactly what's there.

Let's check the spelling of "مذکر مؤنث". "مذکر مؤنث". No waw between them. Correct. "دونوں کو شامل ہے". Correct. "عورت بھی نبی ہونے پر استدلال". Correct. "کرسکتی ہے، حالانکہ قادیانی بھی اس کے قائل نہیں۔" Correct. "ما هو جوابكم فهو جوابنا" Correct.

Is the heading `نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں مرزا کا اعتراف:` actually an H1? Yes, it is the largest font. Is `لفظ خاتم کا معنی:` an H1? Yes, it's the exact same size and bold as the previous H1.

Should "صفحہ نمبر" be included? Yes, it's printed text. I'll leave it as an untagged prose line right after the @PAGE tag. Or should it be on the same line? The instruction says: "@PAGE <n> the printed page number... Make this the FIRST line of your output." So `صفحہ نمبر` has to be a separate line since @PAGE expects only the digits.

Let's re-read the first sentence of prose. يطلب عن ربه الرؤف الرحيم أن ينقله من دارالدنيا إلى جواره حيث يحصل له رفقة الأنبياء والصديقين . “

Is the first word `يطلب`? Yaa, Taa, Laam, Baa. `يطلب`. Correct. `عن` Correct. `ربه` Correct. `الرؤف` Correct. `الرحيم` Correct. `أن` Correct. `ينقله` Correct. `من` Correct. `دارالدنيا` Correct. `إلى` Correct. `جواره` Correct.

Second line: `حيث` Correct. `يحصل` Correct. `له` Correct. `رفقة` Correct. `الأنبياء` Correct. `والصديقين` Correct. `. “` Correct.

Wait, is there a space between `.` and `“`? Yes, looks like it.

Everything seems solid. Generating the response.

صفحہ نمبر

يطلب عن ربه الرؤف الرحيم أن ينقله من دارالدنيا إلى جواره حيث يحصل له رفقة الأنبياء والصديقين . “

جواب نمبر ۵:

اس آیت میں ” من يطع الله ورسوله “ میں ” من “ عام ہے جو کہ مذکر مؤنث دونوں کو شامل ہے اس آیت سے کوئی عورت بھی نبی ہونے پر استدلال کرسکتی ہے، حالانکہ قادیانی بھی اس کے قائل نہیں۔ ما هو جوابكم فهو جوابنا

نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں مرزا کا اعتراف:

حوالہ نمبر ۱:

”اور اس میں کوئی شک نہیں کہ محدثیت محض وہبی ہے کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ نبوت کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی ۔“

(ترجمہ حمامة البشری، ص۸۲، روحانی خزائن، ص ۳۰۱، ج ۷ ) ۲۰

حوالہ نمبر ۲:

” صراط الذين أنعمت عليهم “ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو یہ مرتبہ ملا انعام کے طور پر ملا یعنی محض فضل سے نہ کسی عمل کا اجر ۔“

(چشمہ مسیحی، ص۴۲، روحانی خزائن، ص ۳۶۵، ج۲۰) ۲۵

فائدہ:

یہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز ہے کہ مرزا اپنے ہی مسلمات کے خلاف لکھ گیا اسی لیے کہا گیا ہے کہ ” جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے“

لفظ خاتم کا معنی:

قادیانی حضرات لفظ خاتم کے مختلف معنی کرتے ہیں، کبھی تو اس کا معنی ”مہر

صفحہ ۱۶۶

مؤلفہ

لگائے‘ کا اور کبھی ’خاتم المحدثین والشعراء‘ کی طرح ’افضل النبیین‘ معنی کرتے ہیں۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ مرزا نے یہی خاتم کا لفظ اپنی متعدد کتابوں میں استعمال کیا ہے اور تمام جگہوں میں اس کا معنی آخری ہی لیا ہے، مثلاً:

الخلفاء ہے یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر آنے والا ہے۔“

(حاشیہ چشمہ معرفت: ص۳۱۸، ؂

روحانی خزائن: ج۲۳، ص۳۳۳)

اس پر ختم ہیں، اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔“

(حاشیہ چشمہ معرفت: ص۳۲۴، روحانی خزائن: ؂

ج۲۳، ص۳۴۰)

کتب سماوی ہے۔“

(ازالۃ اوہام: ص۴۳۷، روحانی خزائن: ج۳، ص۱۷۰) ؂

عیسیٰ خاتم الانبیاء ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ: ص۲۵، روحانی خزائن: ج۱۷، ص۱۷۲) ؂

مرزا صاحب نے مذکورہ بالا تمام جگہوں میں خاتم کا معنی آخری لیا ہے جو واضح طور پر ہماری تائید کرتا ہے۔

اکٹھے پیدا ہوئے تھے پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے پھر میں نکلا تھا اور میں اپنے والدین کے ہاں خاتم الاولاد تھا میرے بعد کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں پیدا ہوا۔“

(تریاق ؂

القلوب ص ۱۵۷ قدیم، ص۳۰۰ جدید، روحانی خزائن: ج۱۵، ص۴۷۹، ضمیمہ براہین احمدیہ: حصہ پنجم، ص۸۶، ؂

روحانی خزائن: ص۱۱۲، ج۲۱)

صفحہ ۱۶۷

حصہ ضمیمہ

اسلام کے خاتم الانبیاء کا نام جو احمد اور محمد ہے ۔‘‘

(خاتمہ ضمیمہ براہین احمدیہ : حصہ پنجم ، روحانی

خزائن: ج ۲۱، ص ۴۱۲)

یہاں بھی مرزا نے خاتم الاولاد اور خاتم الانبیاء سے مراد آخری کے لئے ہیں اور خاتم الاولاد کا معنی یہ کیا ہے کہ میرے بعد میرے ماں باپ کے ہاں اور کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا نہیں ہوا، جس کا صاف معنی یہ ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کا آخری لڑکا ہے اسی طرح خاتم النبیین میں بھی یہی معنی ہو گا کہ آپﷺ آخری نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ، جیسا کہ مرزا صاحب کی پیدائش کے بعد مرزا کے والدین کے ہاں کوئی لڑکا لڑکی نہیں ہوا اس سے ان کے ایک اور شبہ کا ازالہ بھی ہو گیا۔

شبہ:

اگر حضورﷺ آخری نبی ہیں تو پھر عیسیٰ علیہ السلام کیسے آئیں گے؟ جب وہ آئیں گے تو آخری نبی وہ بن جائیں گے ، اس سے ثابت ہوا کہ یا تو عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں یا حضورﷺ خاتم النبیین یعنی آخری نبی نہیں ہیں ۔

جواب:

مذکورہ بالا حوالہ سے قادیانیوں کا یہ شبہ بھی ہباءً منثوراً ہو گیا کہ حضور ﷺ کے آخری نبی ہونے سے یہ کیسے لازم آ گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور اگر وہ فوت نہیں ہوئے تو حضورﷺ آخری نبی نہیں، دیکھئے! مرزا صاحب خاتم الاولاد ہیں اور اس کا بڑا بھائی غلام قادر زندہ موجود تھا، مرزا غلام احمد اپنے ماں باپ کا آخری لڑکا بھی ہے اور اس کا بڑا بھائی زندہ موجود بھی ہے، نہ تو اس کے آخری ہونے

صفحہ ۱۶۸

صفحہ نمبر

سے یہ لازم آیا کہ اس کا بڑا بھائی ضرور مر ہی چکا ہے اور نہ بڑے بھائی کے زندہ ہونے سے مرزا کے آخری ہونے میں کوئی فرق پڑا۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کو بھی سمجھ لیجئے ان کے زندہ رہنے سے حضور ﷺ کی خاتمیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا اگر کسی والد کے چار بیٹے یا کسی استاد کے کئی شاگرد یا کسی پیر کے کئی مرید ہوں، ان کا پہلا بیٹا زندہ ہو اور آخری مرجائے تو اس کے زندہ رہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ آخری مرجانے والا بیٹا آخری نہ ہو۔

نہایت ضروری حوالہ:

متنازع فیہ آیت کا ترجمہ مرزا نے ”نبیوں کا ختم کرنے والا“ کیا ہے نہ کہ مہر یا افضل ”یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا۔“

(ازالہ اوہام: حصہ دوم، ص ۶۱۴، روحانی خزائن: ج ۳، ص ۴۳۱)

لا نبی بعدی پر اعتراضات مع اجوبہ

اعتراض نمبر ۱:

لا نبی بعدی سے مراد یہ ہے کہ میرے بعد کوئی صاحب شریعت نبی نہیں ہوگا جیسا کہ اکثر علماء کی تصریحات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد کوئی صاحب شریعت نبی نہیں ہوسکتا نبی کریم ﷺ کی مراد بھی یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کی آمد بتلائی ہے اس سے معلوم ہوا کہ لا میں عام نفی مراد نہیں ہے۔

صفحہ ١٦٩

صفحہ ضمیمہ

جواب نمبر ۱:

یہاں پر ”لا“ نفی جنس کا ہے اور نفی عام ہے جیسا کہ مرزا نے خود تسلیم کیا ہے :”ألا تعلم أن الرب الرحيم المتفضل سمى نبينا ﷺ خاتم النبيين بغير استثناء وفسره نبينا ﷺ في قوله لا نبي بعدي ببيان واضح للطالبين ولو جوزنا ظهور نبي بعد نبينا ﷺ لجوزنا انفتاح باب وحى النبوة بعد تغليقها وهذا خلف كما لا يخفى على المسلمين وكيف يجئ نبي بعد رسولنا ﷺ وقد انقطع الوحى بعد وفاته وختم الله به النبيين ـ “

(حمامة البشریٰ: ص ۲۰، مطبوعہ ۱۸۹۴ء، روحانی خزائن: ج ۷، ص ۲۰۰)

جواب نمبر ۲:

مرزا صاحب نے کس صراحت کے ساتھ ”خاتم النبیین“ اور ”لا نبی بعدی“ کا وہی ترجمہ اور مفہوم لیا ہے جو ہم لیتے ہیں، باقی رہا عیسیٰ علیہ السلام والا اعتراض تو اس کا جواب گزر چکا ہے، ان کی آمد سے کسی قسم کا فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کے دوبارہ آنے سے انبیاء کی فہرست میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوگا۔

جواب نمبر ۳:

جیسے ”لا إله إلا الله“ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ظلی بروزی خدا نہیں اسی طرح ”لا نبي بعدي“ میں بھی یہی مفہوم ہوگا۔

اعتراض:

یہاں پر متکلم کی مراد دیکھنی چاہیے، مراد متکلم یہی ہے کہ آپ کے بعد صاحب

صفحہ ۱۷۰

ضمیمہ

تشریعی نبی کوئی نہیں ہوگا، ہر کلام میں متکلم کی مراد کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

جواب:

ہم کہتے ہیں کہ متکلم کی مراد بھی وہی ہے جو ہم بیان کرتے ہیں اور نزاع صرف لفظی ہے، جیسا کہ مرزا نے اپنی کتاب چشمہ معرفت: ص۱۸۰، روحانی خزائن: ۲؂ ج۲۳، ص۱۸۹ پر تحریر کیا ہے (واضح ہو کہ یہ کتاب مرزا کی موت سے چھ دن قبل ۲۰ مئی ۱۹۰۸ء کو چھپی) : ’’اور ہم میں اور ہمارے مخالف مسلمانوں میں صرف لفظی نزاع ہے اور وہ یہ کہ ہم خدا کے ان کلمات کو جو نبوت یعنی پیش گوئیوں پر مشتمل ہوں، نبوت کے اسم سے موسوم کرتے ہیں اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیش گوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں یعنی اس قدر کہ اس کے زمانہ میں اسکی کوئی نظیر نہ ہو، اس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں کیونکہ نبی اس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بکثرت آئندہ کی خبریں دے، مگر ہمارے مخالف مسلمان مکالمہ الٰہیہ کے قائل ہیں لیکن اپنی نادانی سے ایسے مکالمات کو جو بکثرت پیش گوئیوں پر مشتمل ہوں، نبوت کے نام سے موسوم نہیں کرتے حالانکہ نبوت صرف آئندہ کی خبر دینے کو کہتے ہیں جو بذریعہ وحی والہام ہو اور ہم سب اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ شریعت قرآن شریف پر ختم ہوگئی ہے، صرف مبشرات یعنی پیش گوئیاں باقی ہیں۔‘‘

(چشمہ معرفت: حصہ دوم ص ۱۸۰، روحانی خزائن: ج۲۳ ص۱۸۹) ۲؂

اعتراض:

’’لا نبی بعدی‘‘ کا یہ مطلب ہے کہ میرے مد مقابل اور مخالف ہو کر کوئی نبی نہیں آسکتا، جیسا کہ حدیث ’’فاولتہا کذّابین یخرجان بعدی‘‘ سے ثابت ہو رہا ہے۔

صفحہ ۱۷۱

صفحہ نمبر

جواب نمبر ۱:

’’بعدی‘‘ سے مراد ’’میری بعثت کے بعد‘‘ ہے خواہ زندگی میں ہو یا زندگی کے بعد، جیسا کہ قرآن مجید میں اسی لفظ کا استعمال ہوا ہے اور وہاں موت مراد نہیں بلکہ زندگی کے متعلق استعمال ہوا ہے، جیسے: ’’بِئْسَ مَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْ بَعْدِیْ‘‘ اور آیت ’’وَقَفَّیْنَا مِن بَعدِهِ الرُّسُلَ‘‘ سے معلوم ہوتا ہے، کیونکہ حضرت موسیٰ کی زندگی ہی میں کئی نبی موجود تھے، نیز ’’بَعْدِیْ‘‘ کا معنی خود مرزا نے ’’زمانہ‘‘ کا کیا ہے ’’مقابلہ‘‘ کا نہیں کیا۔

(کتاب البریہ: روحانی خزائن: ج ۱۳ ص ۲۱۷، ۲۱۸)

۱۶۸،۱۶۷ ۔ ۱۳۲ ۔ ۹۸ ’’کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کی رو سے آنحضرت ﷺ کے بعد تشریف لاوے۔‘‘

(انجام آتھم : ص ۲۷، ۲۸ روحانی خزائن: ج ۱۱ ص ۲۷، حمامۃ البشریٰ ص ۲۰، روحانی خزائن: ج ۷، ص ۲۰۰)

جواب نمبر ۲:

لفظ ’’بعدی‘‘ کا مخالفت یا مقابلہ کے معنی میں استعمال ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہاں بھی یہی معنی مراد ہوں، اگر آپ میں ہمت ہو تو کسی قرینہ سے ثابت کریں کہ یہاں یہی معنی ہے یا کسی مسلم مجدد نے یہ معنی کئے ہوں۔

اقوال بزرگان بر اجرائے نبوت و جوابات آں

کرتے ہیں، ان میں اکثر و بیشتر میں دجل و تلبیس سے کام لیا جاتا ہے، انہی بزرگوں کی ختم نبوت کے متعلق تصریحات موجود ہیں۔

صفحہ ۱۷۲

صفحہ نمبر

ہیں ان تمام سے مقصد یہ ہے کہ ان کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ انکے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی چونکہ یقینی ہے اور وہ حضورﷺ کی شریعت کے تابع ہوں گے، اس لئے وہ یوں کہہ دیتے ہیں کہ حضورﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے بلکہ آپ کا تابع ہو کر آسکتا ہے اس سے مراد ان کی صرف عیسیٰ علیہ السلام ہی ہوتے ہیں نہ یہ کہ کوئی قاعدے کے طور پر وہ پیش کرتے ہیں۔ تفصیل کیلئے علامہ خالد محمود کی کتاب ”عقيدة الأمة فی معنی ختم النبوة “ اور مولانا محمد نافع کا رسالہ ”ختم نبوت اور سلف صالحین “ ملاحظہ ہو۔

کہ حضور کے بعد نبوت جاری ہے، بلکہ مرزا صاحب خود تسلیم کرتے ہیں کہ سلف صالحین محدثیت اور مجددیت کے قائل ہیں۔ مرزا نے اپنے مرنے سے ایک دن قبل ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء بوقت ظہر ایک سرحدی پٹھان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا : ”میں کسی نئی نبوت کا قائل نہیں، بلکہ جس قسم کی نبوت کے قائل شیخ ابن العربی وغیرہ ہیں میں بھی اسی قسم کی نبوت کا قائل ہوں اور اس کی ضرورت ہے۔“

اور یہ بالکل واضح ہے کہ یہ حضرات مجددیت اور محدثیت کے قائل تھے، اگر یہ نبوت کے قائل ہوتے تو یہ لوگ اپنے پر ایمان لانے کی دعوت دیتے اور اپنے منکرین کو کافر کہتے ، حالانکہ ان میں سے کوئی بھی بات نہیں ہے۔

☆......☆......☆

صفحہ ۱۷۳

﴿باب ششم﴾

صداقت مرزا پر ادلہ اور ان کے جوابات

دلیل اول:

”فقد لبثت فیکم عمراً من قبلہ.“ مرزائی کہتے ہیں کہ جس طرح نبی کریم ﷺ نے اپنی نبوت سے قبل کی زندگی جو کفار میں گزاری تھی کو بطور دلیل پیش کیا اسی طرح مرزا صاحب کی بھی نبوت سے قبل کی زندگی بے داغ ہے، بعد کی زندگی پر الزامات لگائے گئے، مگر چونکہ اس وقت مخالفت تھی اس لئے الزامات لگائے گئے، تو مرزا کی پہلی زندگی دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بے داغ ہے اور مرزا صاحب خدا کے سچے نبی ہیں۔

جواب نمبر ۱:

نبی کی ساری زندگی پاک اور بے داغ ہوتی ہے، بعد کی زندگی سے بحث سے فرار اختیار کرنا اس پر دال ہے کہ اس کی زندگی میں ضرور کچھ کالا کالا ہے۔

جواب نمبر ۲:

مرزا نے اپنی پہلی زندگی میں انگریز کی عدالت میں مقدمہ لڑ کر وراثت حاصل کی، حالانکہ نبی کسی کا وارث نہیں ہو سکتا۔ ”نحن معاشر الأنبياء لا نورث ولا نورث“

جواب نمبر ۳:

آپ کا یہ صغریٰ اور کبریٰ ہی مسلم نہیں، یہ تو بالکل صحیح ہے کہ نبی کی نبوت سے

صفحہ ۱۷۴

ضمیمہ

پہلے کی زندگی بھی پاک وصاف اور بے داغ ہوتی ہے اور دعوائے نبوت سے بعد کی زندگی بھی پاک وصاف ہوتی ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ جس کی پہلی زندگی پاک وصاف اور بے عیب ہو وہ نبی بھی ہو جائے ، جس طرح نبی کیلئے ضروری ہے کہ وہ شاعر نہ ہو ، وہ کسی سے لکھنا پڑھنا نہ سیکھے ، جو جھوٹ نہ بولتا ہو لیکن یہ تو ضروری نہیں کہ جو شاعر نہ ہو یا لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو یا جھوٹ نہ بولتا ہو وہ نبی بھی ہو جائے۔

جواب نمبر۴:

مرزا قادیانی نے خود تسلیم کیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے سوا کوئی معصوم نہیں اور نہ میں معصوم ہوں ، ملاحظہ ہو: ”لیکن افسوس کہ بٹالوی صاحب نے یہ نہ سمجھا کہ نہ مجھے اور نہ کسی انسان کو بعد انبیاء علیہم السلام کے معصوم ہونے کا دعویٰ ہے۔“

(کرامات الصادقین:ص۵، روحانی خزائن:ج۷،ص۴۷)

جواب نمبر۵:

مرزا قادیانی خود اقرار کرتا ہے کہ میں نے بہت عرصہ گم نامی کا گزارا ہے، کہتا ہے: ”یہ اس زمانہ کے الہام ہیں جس پر تیس برس سے زیادہ عرصہ گذر چکا ہے اور یہ تمام الہام ”براہین احمدیہ“ میں شائع ہو چکے ہیں جن کے شائع ہونے پر اب ۲۶ برس سے زیادہ عرصہ گذر گیا اور یہ وہ زمانہ تھا جس میں مجھے کوئی بھی نہیں جانتا تھا نہ کوئی موافق تھا نہ مخالف ، کیونکہ میں اس زمانہ میں کچھ بھی چیز نہ تھا اور ایک أحد من الناس اور زاویہ گمنامی میں پوشیدہ تھا...... بلکہ اس قصبہ کے تمام لوگ اور دوسرے ہزار ہا لوگ جانتے ہیں کہ اس زمانہ میں درحقیقت میں اس مردہ کی طرح تھا جو قبر میں صد ہا سال سے مدفون ہو اور کوئی نہ جانتا ہو کہ یہ کس کی قبر ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی:ص۲۸،۲۷، روحانی خزائن:ج۲۲،ص۴۵۹تا۴۶۱)

صفحہ ۱۷۵

سوانح

جب مرزا قادیانی بقول اپنے ایسا گمنام تھا کہ اس کا نہ کوئی مخالف تھا نہ موافق بلکہ وہ ایک مردے کی طرح تھا جو صد ہا سال سے قبر میں مدفون ہو، تو اب ایسی زندگی کا بطور صفائی دعویٰ پیش کرنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟

جواب نمبر ۶: (ماں کی نافرمانی)

”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو، حضرت نے کہا کہ میں یہ نہیں لیتا انہوں نے کوئی اور چیز بتائی، حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا وہ اس وقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں، سختی سے کہنے لگیں کہ جاؤ پھر راکھ سے روٹی کھا لو، حضرت روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہو گیا۔“

(سیرۃ المہدی: حصہ اول، ص ۲۲۵، روایت ۲۴۵)

ہر عقل مند بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ مرزا کی ماں کا مقصود ہرگز یہ نہیں تھا کہ تم سچ مچ راکھ ہی سے روٹی کھاؤ، بلکہ بطور زجر کہا گیا تھا اور جہاں اس حوالہ سے مرزا صاحب کی بے وقوفی ثابت ہو رہی ہے وہاں مرزا صاحب کی ماں کی نافرمانی بھی ثابت ہو رہی ہے۔ اب بتائیے کوئی نبی اپنی ماں کی نافرمانی کر سکتا ہے؟ اور وہ بھی معروف کام میں

جواب نمبر ۷:

”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور

صفحہ ۱۷۶

صفحہ نمبر

دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر اُدھر پھراتا رہا پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے...... الخ۔‘‘ (سیرۃ المہدی: حصہ اول، ص۴۳، روایت نمبر ۴۹) واضح ہو کہ مرزا کی عمر اس وقت ۲۴ / ۲۵ سال تھی کیونکہ پیدائش (کتاب البریہ: ص۱۵۹، روحانی خزائن: ج ۱۳ ص ۱۷۷) ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء ہے اور تاریخ ملازمت (سیرۃ المہدی: ص ۱۵۴) ۱۸۶۴ء ہے۔ نیز واضح ہو کہ یہ پنشن کی رقم معمولی رقم نہ تھی بلکہ سات صد روپیہ تھی جو آجکل کے ساٹھ لاکھ کے برابر ہو سکتی ہے۔

اب مرزا صاحب کی عمر کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور اتنی خطیر رقم کو بھی ذہن میں رکھتے ہوئے خط کشیدہ الفاظ پر غور فرمائیں کہ آخر اتنی رقم کہاں کہاں خرچ ہوئی؟ کیا حضرت صاحب اس وقت بچے تھے کہ امام دین آپ کو بہلا پھسلا کر اور دھوکہ دے کر کہیں اور لے گیا اور ادھر اُدھر پھرانے کا کیا مطلب ہے؟ اگر مرزا صاحب اتنے بھولے اور چھوٹے تھے تو گھر والوں نے اتنی بڑی رقم لینے کیلئے انہیں کیوں بھیجا؟ ذرا غور فرمائیں! کہ یہ لفظ کہاں کہاں کی غمازی کرتا ہے؟ پھر سوچیں! کہ یہ روپیہ کوئی نیک کام میں خرچ نہیں ہوا بلکہ ’’اُڑایا گیا‘‘ اور اڑانا وہاں ہی بولا جاتا ہے جہاں کارِ خیر نہ ہو۔

ہم مرزائیوں سے سوال کرتے ہیں کہ آپ اس سات صد روپے کا حساب دیں کہ کہاں خرچ ہوا؟ بصورت دیگر آپ کے نبی کی عصمت باقی نہیں رہتی اور آپ کا دعویٰ باطل ہو جاتا ہے کہ مرزا صاحب کی نبوت سے قبل کی زندگی بالکل بے داغ تھی۔

جواب نمبر ۸:

نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے اپنے گھر کے آدمیوں کو بلا کر ان کے

صفحہ ۱۷۷

صفحہ ضمیمہ

- نے اپنی صفائی کا اعلان کیا انہوں نے یک زبان ہو کر اعلان کیا کہ ” جربناك مراراً فما وجدنا فيك إلا صدقاً.“ یعنی ہم نے آپ کو بار بار آزمایا پس ہم نے تجھ میں سچائی کے سوا کچھ نہیں پایا۔ اس کے برعکس مرزا قادیانی اپنی صفائی میں مولوی محمد حسین پیش کرتا ہے جو کہ کچھ تھوڑا عرصہ اس کے ساتھ رہا تھا، حالانکہ وہ مرزا قادیانی کے شہر کا رہنے والا بھی نہ تھا۔ حضور اکرم ﷺ کی صفائی تو آپکے قبیلے کے سردار ابوسفیان نے ہرقل بادشاہ کے سامنے اس وقت پیش کی تھی جبکہ ابھی انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور اسی طرح حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا جو آپ کی رفیقہ حیات تھیں ، انہوں نے آپ کی پہلی زندگی کی صفائی پیش کی، جبکہ آپ کی طرف پہلی دفعہ جبرائیل امین آئے تھے اور آپ ﷺ کی آخری زندگی کی صفائی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پیش کر رہی ہیں فرماتی ہیں ”كان خلقه القرآن“ آپ کا اخلاق قرآن ہے۔

اب مرزا قادیانی کی بیویوں کی گواہی و حالت سنیں، مرزا قادیانی اپنی پہلی بیوی فضل احمد اور سلطان احمد کی ماں المعروف ”پھجے دی ماں“ سے فضل احمد کی پیدائش کے بعد تقریباً ۳۳ سال عملاً مجرد رہا، نہ اسے طلاق دی اور نہ ہی اسے بیوی کی طرح بسایا بلکہ عملاً مجرد رہ کر آیت کریمہ ” ولا تذروها كالمعلقة“ کی صریح مخالفت کی اس طرح ” عاشروهن بالمعروف ولا تميلوا كل الميل“ کی بھی صریح مخالفت ہوئی۔

حوالہ نمبر ۱:

” بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ حافظ نور محمد صاحب متوطن فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا - کہ حضرت مسیح موعود کئی دفعہ فرمایا کرتے تھے کہ سلطان احمد (مرزا سلطان احمد - صاحب) ہم سے سولہ سال چھوٹا ہے اور فضل احمد بیس برس اور اس کے بعد ہمارا اپنے

صفحہ ۱۷۸

صفحہ نمبر

گھر سے کوئی تعلق نہیں رہا۔“

(سیرۃ المہدی: حصہ ۲، ص۶۲، روایت ۳۸۲) ۴۱

حوالہ نمبر ۲:

”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر ”پھجے دی ماں“ کہا کرتے تھے بے تعلقی سی تھی، جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور ان کا ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں اس لئے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی۔“

(سیرۃ المہدی: حصہ اول، ص۳۴، روایت ۴۱) ۳۹۵، ۳۹۶

اس حوالہ کی چند سطور کے بعد لکھا ہے ”حتی کہ محمدی بیگم کا سوال اٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرا دیا اور فضل احمد کی والدہ نے (مرزا کی دوسری بیوی) ان سے قطع تعلق نہ کیا بلکہ ان کے ساتھ رہیں، تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دے دی۔“

(سیرۃ المہدی: حصہ اول، ص۳۴، روایت ۴۱) ۳۹۶

نوٹ:

مرزا نے دوسری شادی نصرت جہاں بیگم سے ۱۸۸۴ء میں کی تھی اور پھجے کی ماں کو ۱۸۹۲ء میں طلاق دی تھی اور ۱۸۹۲ء میں محمدی بیگم کا نکاح سلطان احمد سے ہوا۔

دلیل ثانی:

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا: ”ولو تقول علینا بعض الأقاويل لأخذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين .“ ترجمہ: اگر محمد مصطفیٰ ﷺ مجھ پر کوئی جھوٹا افتراء باندھیں، میں ان کی شہ رگ کاٹ کر ہلاک کر دیتا۔

صفحہ ۱۷۹

سفرنامہ

اس سے ثابت ہوا کہ اگر مرزا قادیانی خدا تعالیٰ پر جھوٹا افتراء کرتا تھا تو اسے ۲۳ سال کے اندر اندر ہلاک کر دیا جاتا اور اسکی شہ رگ کاٹ دی جاتی کیونکہ نبی اکرم ﷺ دعویٰ نبوت کے بعد ۲۳ سال تک بقید حیات رہے۔

جواب نمبر ۱:

اس آیت کا سیاق و سباق دیکھیں تو بات واضح ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کسی قاعدہ کلیہ کے طور پر نہیں بلکہ یہ قضیہ شخصیہ ہے اور صرف حضور ﷺ کے متعلق یہ بات کہی جارہی ہے اور یہ بھی اس بناء پر کہ بائبل میں موجود تھا کہ اگر آنے والا پیغمبر اپنی طرف سے کوئی جھوٹا الہام یا نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ جلد مارا جائے گا:

”میں ان کیلئے ان ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ اسے حکم دوں گا ، وہی ان سے کہے گا اور جو کوئی میری باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں ان کا حساب ان سے لوں گا، لیکن جو نبی گستاخ بن کر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اس کو حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے۔“

(کتاب استثناء: ۱۸ تا ۲۰)

جواب نمبر ۲:

اگر مرزا قادیانی اور اس کے متبعین کے اس اصول کو تسلیم کر لیا جائے تو کئی سچے نبی نعوذ باللہ جھوٹے بن جائیں گے اور کئی جھوٹے نبی سچے ہو جائیں گے۔

حضرت یحییٰ اور ان کے علاوہ کئی اور اسرائیلی پیغمبر بہت تھوڑی عمر میں یعنی ۲۳ سال کی مدت کے اندر اندر شہید کر دیئے گئے۔ مرزا کے اصول کے مطابق یحییٰ

صفحہ ۱۸۰

مدیر

علیہ السلام اور دیگر انبیاء جو ۲۳ سال کے اندر شہید ہوئے وہ جھوٹے بن جائیں گے نعوذ باللہ اور کئی جھوٹے نبی سچے ہو جائیں گے، جیسے بہاء اللہ ایرانی جو دعویٰ نبوت کے چالیس سال بعد تک زندہ رہا، مرزا قادیانی کے اس اصول کے مطابق بہاء اللہ جو صاحب شریعت نبی ہونے کا مدعی تھا، سچا ثابت ہو رہا ہے حالانکہ مرزائی اس کو جھوٹا مانتے ہیں۔ بہاء اللہ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ۱۲۶۹ھ میں کیا تھا اور ۱۳۰۹ھ تک زندہ رہا تو اس کی بعد از دعویٰ نبوت زندگی چالیس سال بنتی ہے۔

(بہائیوں کی کتاب، کتاب الفرائد،ص ۲۵،۲۶،الحکم:۲۴ اکتوبر ۱۹۰۲ء ص۴)

جواب نمبر ۳:

مرزا قادیانی اپنی دلیل کی رو سے بھی جھوٹا ثابت ہوتا ہے، اس کا دعویٰ نبوت اگر چہ محل نزاع ہے، کیونکہ اس کے ماننے والے دو جماعتوں میں منقسم ہیں، لاہوری گروپ اس کو نبی نہیں تسلیم کرتا اور نہ اس کا دعویٰ نبوت مانتا ہے، اس کے برعکس قادیانی گروپ اس کو نبی مانتا ہے لیکن ان کی تحقیق یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے دعوائے نبوت ۱۹۰۱ء میں کیا ہے اور مرزا قادیانی کی موت ۱۹۰۸ء میں ہوئی۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی اپنی دلیل کے مطابق بھی جھوٹا ہے کیونکہ وہ ۲۳ سال کی مدت کے اندر ہیضے سے ہلاک ہوا۔

جواب نمبر ۴:

بالفرض اگر یہ قانون عام بھی تسلیم کر لیا جائے تو سچے نبیوں کے متعلق ہوگا، جھوٹے نبیوں کو مہلت مل سکتی ہے، فرعون و نمرود جنہوں نے خدائی کا دعویٰ کیا ان کو بھی مہلت ملی اور جب مرزا کا دیگر دلائل سے جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا تو ان پر یہ قانون نہ

صفحہ ۱۸۱

لگے گا، پہلے مرزا کے سچا نبی ہونے کا ثبوت پیش کرو۔

مرزائی عذر:

مرزا پر جب علماء نے اعتراض کیا کہ بعض ایسے مفتری بھی ہیں جو ۲۳ سال کے اندر اندر ہلاک نہ ہوئے، جیسے اکبر بادشاہ اور روشن دین جالندھری وغیرہ۔ اگر ۲۳ سال کے اندر ہلاک ہونا ضروری ہے تو یہ حضرات جنہوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے کیے تھے ۲۳ سال کے اندر اندر ہلاک کیوں نہ ہوئے؟

تو مرزا قادیانی نے اس کا یہ جواب دیا کہ جن جھوٹوں کے آپ نام پیش کرتے ہیں آپ ثابت کریں کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ بھی کیا ہو اور اپنے پر وحی نازل ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہو پھر وہ ۲۳ سال تک زندہ رہے ہوں۔ کیونکہ ہماری تمام بحث وحی نبوت میں ہے (مطلق دعوے میں نہیں۔ ناقل)۔

(ضمیمہ اربعین ۳، ۴، ص ۱۱، روحانی خزائن، ج ۱۷، ص ۴۷۷، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، ص ۲۷۲، روحانی خزائن، ج ۱۷، ص ۷۲) رقم ۴۴۲ رقم ۲۰۲

”اس مقام سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے اب اس کے مقابل یہ پیش کرنا کہ اکبر بادشاہ نے نبوت کا دعویٰ کیا یا روشن دین جالندھری نے دعویٰ کیا یا کسی اور شخص نے دعویٰ کیا اور وہ ہلاک نہیں ہوئے یہ دوسری حماقت ہے جو ظاہر کی جاتی ہے، بھلا اگر یہ سچ ہے کہ ان لوگوں نے نبوت کے دعوے کیے اور ۲۳ برس تک ہلاک نہ ہوئے تو پہلے ان لوگوں کو خاص تحریر سے ان کا دعویٰ ثابت کرنا چاہیے اور وہ الہام پیش کرنا چاہیے جو الہام انہوں نے خدا کے نام پر لوگوں کو سنایا یعنی یہ کہا کہ ان لفظوں کے ساتھ میرے پر وحی نازل ہوئی ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں اصل لفظ ان کی وحی کے کامل ثبوت کے ساتھ

صفحہ ۱۸۲

مناظرہ

پیش کرنے چاہئیں، کیونکہ ہماری تمام بحث وحی نبوت میں ہے۔“

الجواب:

یہ عبارت ہمارے حق میں ہے کیوں کہ اگر تمام بحث وحی نبوت میں مانی جائے تو مرزا نے ۱۹۰۱ء میں دعویٰ کیا اور ۱۹۰۸ء میں مر گیا اور اپنی تحریر سے اس کے کذب پر مہر لگ گئی۔

؎ الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

دلیل ثالث:

پیغمبر خدا ﷺ نے فرمایا کہ مہدی کی نشانی یہ ہے کہ اس کے زمانہ میں رمضان المبارک کے مہینہ میں چاند اور سورج گرہن ہوگا یہ نشان مرزا قادیانی پر پورا ہوتا ہے، جس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی حدیث نبوی کے مطابق سچا مہدی ہے۔

(حقیقۃ الوحی: ص ۱۹۴، روحانی خزائن: ج ۲۲ ص ۲۰۲)

جواب نمبر ۱:

قادیانی جس روایت کو حدیث نبوی بنا کر پیش کرتے ہیں یہ سراسر جھوٹ ہے، پیغمبر خدا پر بہتان عظیم ہے اور صریح دھوکہ ہے۔ یہ حدیث رسول نہیں بلکہ امام محمد باقر کا قول ہے جو دارقطنی نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔

جواب نمبر ۲:

امام محمد باقر کا یہ قول سند کے لحاظ سے انتہائی ساقط اور مردود ہے یہ قول بمع سند، یوں ہے:” عن عمرو بن شمر عن جابر عن محمد بن علی قال:

صفحہ ۱۸۳

صفحہ نمبر

إن لمہدینا آیتین لم تکونا منذ خلق السموات والأرض تنکسف القمر لأول لیلة من رمضان وتنکسف الشمس فی النصف منہ ولم تکونا منذ خلق اللہ السموات والأرض .“ الخ

(دارقطنی:ج۱،الجزءالثانی ص ۶۵،طبع دارالفکر)

اس عبارت میں پہلا راوی عمرو بن شمر ہے جس کے متعلق میزان الاعتدال میں لکھا ہے: ”لیس بشیء زائغ ، کذاب، رافضی ، یشتم الصحابۃ ویروی الموضوعات عن الثقات ، منکر الحدیث ، لا یکتب حدیثہ ، متروک الحدیث.“

(میزان الاعتدال:ج۳،ص۳۶۸، ۳۶۹،دارالمعرفہ)

علامہ شمس الدین ذہبی جو فن رجال کے امام ہیں وہ اس راوی کی مذمت میں نو جملے لکھتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ اس راوی کی روایت ہرگز قابل اعتبار نہیں۔

دوسرا راوی ہے جابر، اس نام کے بہت سے راوی ہیں جن میں ایک جابر جعفی ہے جس کے متعلق امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے جس قدر جھوٹے لوگ ملے ہیں، جابر جعفی سے زیادہ جھوٹا کوئی نہیں ملا۔

تیسرا راوی محمد بن علی ہے، اس نام کے بہت سے راوی گذرے ہیں اس کی کوئی دلیل نہیں کہ اس محمد بن علی سے مراد محمد باقر ہی ہوں۔ کیونکہ عمرو بن شمر کی عادت تھی ”یروی الموضوعات عن الثقات“ کہ وہ موضوع روایت ثقہ راویوں کی طرف منسوب کر کے روایت کیا کرتا تھا۔ جس روایت کی سند کا یہ حال ہو وہ کیسے قابل حجت ہو سکتی ہے۔

صفحہ ۱۸۴

عقیدہ

جواب نمبر ۳:

بفرض محال اگر اسے امام محمد باقر کا صحیح قول مان لیا جائے تو مرزا قادیانی پھر بھی جھوٹا ہے کیونکہ مرزا قادیانی کے زمانہ میں رمضان کی جن تاریخوں میں یہ گرہن لگا تھا وہ اس قول کے مطابق نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کے زمانہ میں رمضان کی تیرہ تاریخ کو چاند گرہن اور اٹھائیس تاریخ کو سورج گرہن لگا تھا۔ حالانکہ اس قول کے مطابق مہدی کی نشانی یہ ہے کہ اس زمانہ میں چاند گرہن رمضان المبارک کی پہلی تاریخ کو اور سورج گرہن پندرہ تاریخ کو لگے گا۔

مرزائی عذر:

قانون قدرت یہ ہے کہ چاند گرہن ہمیشہ تیرہ، چودہ، پندرہ چاند کی تاریخوں میں سے کسی ایک تاریخ میں لگتا ہے اور سورج گرہن چاند کی ستائیس، اٹھائیس اور انتیس میں سے کسی ایک تاریخ کو لگتا ہے۔ آج تک چاند کی پہلی تاریخ میں چاند گرہن اور پندرہ تاریخ میں سورج گرہن نہیں لگا۔ لہٰذا امام محمد باقرؒ کے قول میں ’’لأول لیلة من رمضان‘‘ سے مراد گرہن کی ان راتوں میں سے پہلی رات یعنی تیرہویں کی رات مراد ہے اور ’’فی النصف منہ‘‘ سے مراد سورج گرہن کی تین تاریخوں میں سے درمیانی تاریخ یعنی اٹھائیس مراد ہے اور مرزا صاحب کے زمانہ میں رمضان کی تیرہ کو چاند گرہن اور اٹھائیس کو سورج گرہن لگا تو یہ گرہن امام محمد باقرؒ کے قول کے مطابق ہو گیا۔

جواب نمبر ۱:

روایت کے الفاظ اس بے ہودہ تاویل کے ہرگز متحمل نہیں ہو سکتے۔ آپ

ہمارے مہدی کے یہ دو نشان سے ایسے نشان ظاہر نہیں ہو

یہ قول اسی صورت رکھا جائے، اول ’’لیلة رمضان مراد لی جائے، کیونکہ اور سورج کو کبھی گرہن نہیں سورج گرہن مرزا قادیانی کے عرصہ میں تین مرتبہ رمض کتاب ’’ویوز آف دی گلوبز‘‘ تتمہ ایک صدی کے گرہنوں اس کتاب یعنی ’’شہادت آ

صفحہ ۱۸۵

ضمیمہ

نے فرمایا ”لأول ليلة من رمضان“ نہ کہ ”اول ليلة من ليالى الکسوف“۔ تیرہ رمضان کو کوئی احمق بھی اول رمضان نہیں کہتا اور نہ ہی ”فی النصف منہ“ سے اٹھائیس تاریخ مراد لی جاسکتی ہے۔ اٹھائیس تاریخ ستائیس، اٹھائیس، انتیس تاریخوں میں درمیانی کہلا سکتی ہے، ان تاریخوں کی نصف نہیں ہو سکتی، اور نہ ہی کوئی احمق اٹھائیس تاریخ کو نصف رمضان کہہ سکتا ہے۔

جواب نمبر ۲:

مرزا قادیانی کی یہ تاویل اس لئے بھی باطل ہے کہ اس قول میں دو مرتبہ یہ جملہ آیا ہے: ” لم تکونا منذ خلق اللہ السموات والأرض. “ یعنی ہمارے مہدی کے یہ دو نشان ایسے ہوں گے کہ جب سے آسمان و زمین بنے ہیں تب سے ایسے نشان ظاہر نہیں ہوئے ہوں گے۔

یہ قول اسی صورت میں صحیح ہو سکتا ہے کہ جب اسے ظاہری الفاظ کے مطابق رکھا جائے ، اول ”لیلۃ “ سے یکم رمضان اور ”نصف منہ“ سے پندرہ رمضان مراد لی جائے ، کیونکہ جب سے آسمان و زمین بنے ہیں ان تاریخوں میں چاند اور سورج تک کو کبھی گرہن نہیں لگا۔ تیرہ رمضان کو چاند گرہن اور اٹھائیس رمضان کو سورج گرہن مرزا قادیانی سے قبل ہزاروں مرتبہ لگ چکا ہے، مرزا سے قبل ۲۵ سال کے عرصہ میں تین مرتبہ رمضان کی انہی تاریخوں میں گرہن لگ چکا ہے۔ مسٹر کیتھ کی کتاب ”ویوز آف دی گلوبز“ اور ”حدائق النجوم“ میں اٹھارہ سو ایک سے لے کر ۱۹۰۰ء تک ایک صدی کے گرہنوں کی فہرست دی گئی ہے جس میں سے ۴۵ سالوں کی فہرست اس کتاب یعنی ” شہادت آسمانی“ مؤلفہ مولانا سید ابو احمد رحمانی میں صفحہ ۱۵ سے ۲۲ تک

۵۰۰/۳۹۲

صفحہ ۱۸۶

ضمیمہ

درج ہے۔

ایک اہم قاعدہ:

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کی ۲۷ ویں جلد میں گرہن کے متعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سات سو تریسٹھ برس پہلے سے ۱۹۰۱ء تک کا تجربہ لکھا ہے جس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ ہر ثابت شدہ یا مانا ہوا گہن ۲۲۳ برس قبل اور بعد اس قسم کا گہن ہوتا ہے یعنی وہ مانا ہوا گہن جس وقت اور جس مہینہ میں جس طور کا ہوگا ۲۲۳ برس سے قبل اور بعد بھی ان ہی خصوصیات کے ساتھ ویسا ہی دوسرا گہن ہوگا۔ اب اس حساب کی روشنی میں آپ غور کریں! جب ۱۲۶۷ھ سے ۱۳۱۴ھ تک چھیالیس برس میں تین مرتبہ گرہنوں کا اجتماع رمضان کی تیرہ اور اٹھائیس کو ہوا، اس قاعدے کو جاری کر کے دیکھا جائے کہ کس وقت میں گرہنوں کا اجتماع رمضان کی تیرہ اور اٹھائیس کو ہوا ہے۔ ذیل میں اس کا حساب پیش کر کے چند مدعیوں کے نام جو میرے علم میں ہیں پیش کئے جاتے ہیں، اس واقع میں کتنے ہوئے ہیں اس سے زیادہ ماہرین تاریخ جان سکتے ہیں۔

وقت طریف نامی بادشاہ مدعی موجود تھا، یہ صاحب شریعت نبی ہونے کا مدعی تھا، ۱۶۲ھ میں مرا تو اس کا بیٹا صالح بادشاہ ہوا۔

(ص ۵۰۱، ۵۰۲)

عیسیٰ مدعی نبوت موجود تھا، تفصیل کے لئے کتاب ”دوسری شہادت آسمانی: ص ۸۳، ۸۴“ ملاحظہ فرمائیں۔ دوسرے نقشے کے مطابق پہلا گرہن ۱۶۱ھ مطابق ۷۷۹ء رمضان کی انہی تاریخوں میں لگا۔ اس وقت صالح نامی مدعی نبوت موجود تھا اور اس

صفحہ ۱۸۷

ضمیمہ

صالح کے زمانہ میں مرزا قادیانی کی طرح دو مرتبہ رمضان کی ان تاریخوں میں گرہن لگا ہے یعنی ۱۳۱۱ھ اور ۱۳۱۲ھ کا ظہور ہندوستان میں نہ ہوا بلکہ امریکہ میں ہوا، اس وقت ”مسٹر ڈوئی“ وہاں مسیح موعود ہونے کا جھوٹا مدعی تھا۔

دوسرا گرہن ۱۳۱۲ھ مطابق ۱۸۹۵ء میں لگا جس میں مرزا قادیانی جھوٹا مدعی نبوت تھا۔

اس نقشہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ۴۵ سال میں سورج گرہن اور چاند گرہن تین مرتبہ رمضان المبارک میں اکٹھے لگے، تاریخیں حسب ذیل ہیں:

پہلا اجتماع:

پہلا چاند گرہن ۱۳ رمضان ۱۲۶۷ھ مطابق ۱۳ جولائی ۱۸۵۱ء اور سورج گرہن ۲۸ جولائی ۱۸۵۱ء مطابق ۲۸ رمضان ۱۲۶۷ھ کو لگا۔

دوسرا اجتماع:

چاند گرہن ۲۱ مارچ ۱۸۹۴ء مطابق ۱۳ رمضان ۱۳۱۱ھ ، سورج گرہن ۶ اپریل ۱۸۹۴ء مطابق ۲۸ رمضان ۱۳۱۱ھ

تیسرا اجتماع:

چاند گرہن ۱۱ مارچ ۱۸۹۵ء مطابق ۱۳ رمضان ۱۳۱۲ھ اور سورج گرہن ۲۶ مارچ ۱۸۹۵ء مطابق ۲۸ رمضان ۱۳۱۲ھ۔

واضح رہے کہ ان ۴۵ سالوں میں صرف مرزا قادیانی ہی نہیں بلکہ اور بھی مسیح یا نبی ہونے کے مدعی موجود تھے جس کی تفصیل کتاب ”دوسری شہادت آسمانی“ میں

صفحہ ۱۸۸

حصہ ضمیمہ

دیکھی جاسکتی ہے۔

﴿خلاصہ بحث﴾

ہر ایک ذی علم سمجھتا ہے کہ اگر اس اجتماع کو نشان قرار دیا جائے گا تو صرف ایک نشان ثابت ہوگا اور حدیث میں نہایت صاف طور سے دو نشانوں کی پیش گوئی کی گئی ہے اور ہر ایک نشان کو بے نظیر کہا ہے۔ اس لئے اگر ۱۳ اور ۲۸ رمضان کو گہن ہونا نشان ہے تو حدیث کے بموجب ہر ایک گہن کو نشان ہونا چاہیے اور ہر ایک کو بے نظیر ہونا چاہیے، مگر مذکورہ فہرست سے ظاہر ہے کہ ۹۰ برس کے عرصہ میں چاند گرہن رمضان کی ۱۳ تاریخ کو پانچ مرتبہ یعنی ۱۲۶۳ھ، ۱۲۶۷ھ، ۱۲۹۱ھ، ۱۳۱۰ھ، ۱۳۱۱ھ، ۱۳۱۲ھ ہوا ہے۔ اور سورج گرہن اٹھائیس رمضان کو ۴۶ برس میں چھ مرتبہ ہوا ہے، اور ان دونوں کا اجتماع ان تاریخوں میں تین مرتبہ ہوا۔ پھر کیا ایسے ہی گہن نشان و معجزہ ہو سکتے ہیں؟ ذرا ہوش کر کے جواب دو!

(دوسری شہادت آسمانی: ص ۱۴، حاشیہ ۲)

پینتالیس برس کی قلیل مدت میں گہنوں کا نقشہ

نمبر شمار چاند یا سورج گہن سن ہجری سن عیسوی انگریزی عربی وضاحت مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ ۱ چاند جزئی ۱۲۶۷ھ ۱۸۵۱ جولائی ۱۳ رمضان ۱۳ یہ گہن ہندوستان میں مرزا قادیانی کے دعویٰ سے قبل ہوا سورج = = = ۲۸ = ۲۸ جبکہ اس کی عمر گیارہ یا بارہ برس کی ہوگی ۔ ۲ چاند جزئی ۱۳۱۱ھ ۱۸۹۴ مارچ ۲۱ رمضان ۱۲ یہ گہن ہندوستان میں ہوا ہی نہیں بلکہ امریکا میں ہوا جس سورج = = = ۶ = ۲۸ وقت مسٹر ڈوئی مدعی مسیحیت وہاں موجود تھا۔ ۳ چاند کلی ۱۳۱۲ھ ۱۸۹۵ مارچ ۱۱ رمضان ۱۳ یہ گہن ہندوستان میں ہوا لیکن اس حدیث کا مصداق نہیں سورج = = = ۲۶ = ۲۸ کیونکہ اس سے قبل ایک ہی صدی میں اس گہن کی نظیر موجود ہے

صفحہ ۱۸۹

ضمیمہ

﴿ متفرقات ﴾

(۱) بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا، ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ، گھر سے میٹھا لاؤ، میں گھر میں آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا (چینی) اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی بس پھر کیا تھا میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔

(سیرۃ المہدی: حصہ اول ص ۲۴۴، روایت نمبر ۲۴۴)

(۲) براہین احمدیہ کی ابتدا میں مرزا کے ایک مرید معراج الدین عمر مرزائی نے مرزا صاحب کے حالات لکھے ہیں، لکھتا ہے: ”اگر کبھی اتفاق سے ان سے (مرزا کے والد سے) کوئی دریافت کرتا کہ مرزا غلام احمد کہاں ہے تو وہ یہ جواب دیتے کہ مسجد میں جاکر سقاوہ کی ٹونٹی میں تلاش کرو اگر وہاں نہ ملے تو مایوس ہو کر واپس مت آنا، مسجد کے اندر چلے جانا اور وہاں کسی گوشہ میں تلاش کرنا اگر وہاں بھی نہ ملے تو پھر بھی ناامید ہوکر لوٹ مت آنا، کسی صف میں دیکھنا کہ کوئی اسکو لپیٹ کر کھڑا کر گیا ہوگا، کیونکہ وہ تو زندگی میں مرا ہوا ہے اور اگر کوئی اسے صف میں لپیٹ دے تو وہ آگے سے حرکت بھی نہیں کرے گا۔ آپ کو شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی عرصہ سے آپ کو لگی ہوئی ہے اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے، اسی قسم کی اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو اس بات پر شاہد ناطق ہیں کہ آپ کو اپنے یار ازل کی محبت میں ایسی محویت تھی کہ جس

صفحہ ۱۹۰

صوفیہ

کے باعث سے اس دنیا سے بالکل بے خبر ہو رہے تھے۔“

(حالات مرزا از معراج الدین ، ملحقہ براہین احمدیہ : ص ۶۷ ، طبع قدیم ) ۲۵۲

(۳) ”ایک دفعہ کوئی شخص آپ کیلئے گرگابی لے آیا اور آپ نے پہن لی مگر اسکے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں چلتا تھا ، کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے ..... والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کیلئے نشان لگا دیئے تھے مگر باوجود اسکے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے۔“ (سیرۃ المہدی: ص ۶۷، حصہ اول، روایت ۸۳) ۲۵۸

(۴) بارہا دیکھا گیا کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے ہی میں لگے ہوئے ہوتے تھے بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگائے گئے دیکھے گئے۔

(سیرۃ المہدی: حصہ دوم، ص ۱۲۶، روایت ۴۴۴) ۲۷۳

(۵) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود اپنی جسمانی عادات میں ایسے سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تھے تو بے توجہی کے عالم میں اسکی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوتا تھا اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے گرگابی ہدیۃً لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں دائیں میں ، چنانچہ اس تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتی پہنتے تھے۔ اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں جب کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آجاتا۔

(سیرۃ المہدی: حصہ دوم، ص ۵۸، روایت ۳۷۵) ۴۰۴

(۶) بارہا جراب اس طرح پہن لیتے کہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی کبھی تو سرا آگے لٹکتا رہتا

صفحہ ۱۹۱

صوفیہ

اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ پیر کی پشت پر آ جاتی کبھی ایک جراب سیدھی دوسری الٹی اگر جراب کہیں سے پھٹ جاتی تو بھی مسح جائز رکھتے...... جوتی اگر تنگ ہوتی تو ایڑی بٹھا لیتے ۔ (سیرۃ المہدی: حصہ دوم، ص ۱۲۷، ۱۲۸ روایت ۴۴۴)

مرزائی عذر:

مرزائی ان روایات کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ ان کی سادگی پر دلالت کرتی ہیں، اب ذرا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیں! کہ وہ کس قدر ماہر تھا۔

”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ مدت کی بات ہے جب میاں ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی پہلی بیوی فوت ہو گئی اور ان کو دوسری بیوی کی تلاش ہوئی تو ایک دفعہ حضرت صاحب نے ان سے کہا کہ ہمارے گھر میں دولڑکیاں رہتی ہیں ان کو میں لاتا ہوں، آپ ان کو دیکھ لیں پھر ان میں سے جو آپ کو پسند ہو اس سے آپ کی شادی کر دی جائے۔ چنانچہ حضرت صاحب گئے اور ان دولڑکیوں کو بلا کر کمرہ کے باہر کھڑا کر دیا اور پھر اندر آکر کہا کہ وہ باہر کھڑی ہیں آپ چک کے اندر سے دیکھ لیں، چنانچہ میاں ظفر احمد صاحب نے ان کو دیکھ لیا، پھر حضرت صاحب نے ان کو رخصت کر دیا، اس کے بعد میاں ظفر صاحب سے پوچھنے لگے کہ اب بتاؤ ! کون سی لڑکی پسند ہے وہ نام تو کسی کا جانتے نہ تھے اس لیے انہوں نے کہا کہ جس کا منہ لمبا ہے وہ اچھی ہے ، اس کے بعد حضرت صاحب نے میری رائے لی، میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے تو نہیں دیکھا ، پھر آپ خود فرمانے لگے کہ ہمارے خیال میں تو دوسری لڑکی بہتر ہے جس کا منہ گول ہے، پھر فرمایا جس شخص کا چہرہ لمبا ہوتا ہو وہ بیماری وغیرہ کے بعد عموماً بد نما ہو جاتا ہے لیکن گول

صفحہ ۱۹۲

صفحہ ضمیمہ

چہرہ کی خوبصورتی قائم رہتی ہے۔ (سیرۃ المہدی: حصہ اول، ص ۲۵۹، روایت نمبر ۲۶۸) ۴۷۴

غیر محرم عورتیں اور مرزا قادیانی

تصویر کا ایک رخ

ان عورتوں کے ہاتھ سے بھی ہاتھ نہیں ملاتے تھے جو پاک دامن اور نیک بخت ہوتی تھیں اور بیعت کر لینے کے لئے آتی تھیں بلکہ دور بٹھا کر تلقین توبہ کرتے تھے۔

(نور القرآن: ج ۲، ص ۷۴، روحانی خزائن: ج ۹، ص ۴۴۹) ۴۷۵

ڈاکٹر محمد اسماعیل خاں صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود سے عرض کیا کہ میرے ساتھ شفاخانہ میں ایک انگریز لیڈی ڈاکٹر کام کرتی ہے اور وہ ایک بوڑھی عورت ہے، وہ کبھی کبھی میرے ساتھ مصافحہ کرتی ہے اس کے متعلق کیا حکم ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ تو جائز نہیں ہے آپ کو عذر کر دینا چاہیے کہ ہمارے مذہب میں یہ جائز نہیں۔

(سیرۃ المہدی: حصہ دوم، ص ۷۶، روایت ۴۰۱) ۴۷۶

بچاویں اور یاد رکھنا چاہیے کہ بغیر خاوند اور ایسے لوگوں کے جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جتنے مرد ہیں ان سے پردہ کرنا ضروری ہے۔“

(تبلیغ رسالت: ج ۱، ص ۴۰، مجموعہ اشتہارات: ج ۱، ص ۶۹) ۴۷۷

صفحہ ۱۹۳

کر نہ دیکھو کہ یہ بد نظری کا پیش خیمہ ہے۔‘

(نورالقرآن نمبر ۲، ص ۷۲، مطبوعہ الشرکۃ الاسلامیہ چناب نگر (ربوہ)، روحانی خزائن: ج ۹، ص ۴۴۷) ۱۷۱

تصویر کا دوسرا رخ

الرحمان صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے وقت میں میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کا پہرہ دیتی تھیں اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سوتے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگا دیا کرو! ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوتے ہوئے سنے اور آپ کو جگا دیا اس وقت رات کے بارہ بجے تھے ان ایام میں عام طور پر پہرہ پر مائی فجو مٹیانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھیں۔“ (سیرۃ المہدی: حصہ سوم، ص ۲۱۳، روایت ۸۸۶) ۱۷۲

بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب نے بیان کیا کہ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس کی خدمت میں رہی ہوں۔ گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی، بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی، مجھ کو اس اثناء میں کسی قسم کی تھکان اور تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا دو دفعہ ایسا موقع آیا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقع ملا پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند نہ غنودگی اور نہ تھکان معلوم ہوتی بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔ اسی طرح جب مبارک احمد

صفحہ ۱۹۴

ضمیمہ

صاحب فرماتے تو مجھ کو ان کی خدمت کے لئے بھی اسی طرح کئی راتیں گزارنی پڑتیں تو حضور نے فرمایا کہ زینب اس قدر خدمت کرتی ہے کہ ہمیں اس سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔

(سیرۃ المہدی: حصہ سوم، ص ۲۷۲، ۲۷۳، روایت نمبر ۹۱۰) ۷۸۵

حضرت ام المومنین نے ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسمات بھانو تھی وہ ایک رات جبکہ خوب سردی پڑ رہی تھی حضور کو دبانے بیٹھی، چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی اس لیے اسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں وہ حضور کی ٹانگیں نہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے، تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا: بھانو! آج بڑی سردی ہے۔ بھانو کہنے لگی: ”ہاں جی! تدے تے تہاڈی لتاں لکڑی دی طرح ہوئیاں ایں“ یعنی جی ہاں! جبھی تو آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہورہی ہیں۔

(سیرۃ المہدی: حصہ سوم، ص ۲۱۰، روایت ۷۸۰) ۷۸۶

مرحومہ بھانو سے ہنس کر فرمایا: اللہ تجھے اولاد دے۔ حضور کی دعا سے مرحومہ کے چھ بچے ہوئے، ایک لڑکی اور پانچ لڑکے پیدا ہوئے۔

(الفضل: ۲۰ مارچ ۱۹۲۸ء) ۷۸۷، ۲۳۸، ۲۳۹، ۲۴۰

نوٹ:

یہ مرحومہ عائشہ نام کی ایک کنواری دوشیزہ تھی، جو پندرہ سال کی عمر میں مرزا صاحب کی خدمت میں بھیجی گئی، تقریباً دو سال مرزا صاحب کی خدمت میں رہی اور ان کے پاؤں دباتی رہتی تھی، بعد میں مرزا صاحب نے اس کی شادی کر دی لیکن یہ شرط لگا دی کہ اسے قادیان سے باہر نہ لے جایا جائے۔

صفحہ ۱۹۵

ضمیمہ سوئم

﴿مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکار کافر کیوں؟﴾

(محمد خالد قریشی)

سابق معلم درجہ تخصص فی رد القادیانیہ

مرزا غلام احمد قادیانی اور اسکے پیروکاروں کے کفر میں کسی مسلمان کو شک نہیں رہا۔ پاکستان سمیت دنیا کے تقریباً جمیع مسلم ممالک نے مرزائیوں کے کفر کے احکامات جاری کر دیئے ہیں اور مسلمان علماء، فقہاء تو مرزا کے دور سے مرزائیوں کے کفر کی قلعی کھولتے آ رہے ہیں۔

قادیانی اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے نام پر اپنے باطل اور کفریہ عقائد کی تبلیغ اور اشاعت اور امت مسلمہ کے مفادات سے غداری کرتے ہیں اور عالم اسلام میں استعمار اور اسرائیل کی ایجنٹی کا کام سرانجام دیتے ہیں، انکی انہی ناپاک سازشوں اور اسلام دشمنی کی بناء پر مکہ مکرمہ میں ۶ تا ۱۰ اپریل ۱۹۷۴ء کو پورے عالم اسلام کی ایک سو چار (۱۰۴) تنظیموں کا اجتماع ہوا جس میں ۱۰ اپریل ۱۹۷۴ء کو ان تمام تنظیموں کے اجتماع میں ایک مشترکہ قرارداد پاس کی گئی جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔

چنانچہ حکومت پاکستان نے بھی ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی میں ایک قرارداد کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر رابطہ عالم اسلامی کے فیصلہ کی تائید کی۔ ذیل میں مختصراً قادیانیوں کے کفر کی چند وجوہات درج کی جاتی ہیں۔

صفحہ ۱۹۶

صفحہ نمبر

(۱) مرزا کا دعویٰ نبوت:

امت مسلمہ کا اس بات پر عہدِ صحابہ سے آج تک اجماع چلا آ رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد مدعی نبوت کافر ہے۔ چنانچہ ملاعلی قاریؒ (م ۱۰۱۶ھ) شرح فقہ اکبر میں ص ۲۰۲ پر لکھتے ہیں ” دعوی النبوة بعد نبينا ﷺ کفر بالإجماع “ یعنی اس بات پر امت کا کامل اجماع ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کفر ہے۔ اور مرزا نے جس وقت تک دعویٰ نبوت نہیں کیا تھا اس وقت وہ بھی مدعی نبوت کو کافر سمجھتا تھا چنانچہ اپنی کتاب حمامة البشرٰی: ص ۷۹، روحانی خزائن: ص ۲۹۷، ج ۷، پر لکھتا ہے:

”وما كان لى أن أدعى النبوة وأخرج من الإسلام وألحق بقوم کافرین.“

ترجمہ: میرا کیا حق ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کفار سے جاملوں۔

مگر جب مرزا کو اس مقام پر فائز ہونے کا شوق ہوا تو اس وقت نہ اس نے اسلام اور اہل اسلام کا فتویٰ دیکھا اور نہ اپنے ہی گریبان میں جھانک کر دیکھا بلکہ فوراً کہہ اٹھا:

(نزول مسیح: ص ۷، روحانی خزائن: ج ۱۸، ص ۳۸۱) ۲۳۵

(دافع البلاء: ص ۱۱، روحانی خزائن: ج ۱۸، ص ۲۳۱) ۲۴۰

صفحہ ۱۹۷

صفحہ نمبر

ہے اور رسول بھی۔

(ایک غلطی کا ازالہ : ص ۳، روحانی خزائن : ج ۱۸ ص ۲۰۷) ۴۲

بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔“

(حقیقت الوحی : ص ۲۸، روحانی خزائن : ج ۲۲ ص ۵۰۳) ۴۶

۲) توہین انبیاء کرام:

انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کفر ہے اور یہ کفر ایک بدیہی بات ہے کسی دلیل کا محتاج نہیں۔ مرزا قادیانی ہی کی زبانی سنیے:۔

(چشمہ معرفت : ص ۱۸، روحانی خزائن : ج ۲۳ ص ۳۹۰) ۴۷

لوگوں کو گالیاں دیتا ہے۔

(البلاغ المبین : ص ۱۹) ۴۴

اب مرزا کی طرف سے توہین انبیاء مختصراً ملاحظہ فرماویں:

(ازالہ اوہام : حصہ ۲، ص ۲۲۸، روحانی خزائن : ج ۳ ص ۴۳۹) ۵۳

(ازالہ اوہام : ص ۲۲۹، روحانی خزائن : ج ۳ ص ۴۳۸) ۵۴

(تریاق القلوب : ص ۱۳۰، روحانی خزائن : ج ۱۵ ص ۲۷۹) ۱۸۶

نے اپنے اجتہاد سے پیش گوئی کا محل و مصداق سمجھا تھا وہ غلط نکلا۔

(ازالہ اوہام : حصہ ۲، ص ۶۸۹، روحانی خزائن : ج ۳ ص ۴۷۲) ۵۷

صفحہ ۱۹۸

موقف

نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔“

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص۷۰، روحانی خزائن: ج۱۷ ص۲۰۵)

قدر بدزبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں۔“

(چشمہ مسیحی :ص۱۱، روحانی خزائن :ج۲۰ ص۳۴۶)

تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور خراب چال چلن کا ہے۔

(حاشیہ ست بچن : ص۱۷۲، روحانی خزائن: ج۱۰ ص۲۹۶)

وجہ سے۔“

(کشتی نوح: ص۶۶ جدید، ص۶۵ قدیم، حاشیہ روحانی خزائن: ج۱۹ ص۷۱)

قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم : ص ۵، روحانی خزائن : ج ۱۱ ص ۲۸۹)

اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم: ص ۷، روحانی خزائن: ج ۱۱ ص ۲۹۱)

ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان

صفحہ 199

عورت اس کی خدمت کرتی تھی اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء:ص ۴، روحانی خزائن: ج ۱۸ ص ۲۲۰)

۳) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کا انکار:

امت مسلمہ کا چودہ سو برس سے اجماعی عقیدہ ہے کہ رب العزت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھا لیا ہے اور قرب قیامت میں ان کا نزول ہوگا اور وہ دجال کو قتل کریں گے اور دین اسلام کی تائید کریں گے، چنانچہ تفسیر البحر المحیط: ج ۲،ص ۴۷۳ پر مذکور ہے: ”حياة المسيح بجسمه إلى اليوم و نزوله من السماء بجسمه العنصری مما أجمع عليه الأمة وتواتر به الأحاديث.“

ترجمہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس وقت تک زندہ ہونے اور اسی جسم عنصری کے ساتھ نازل ہونے کا عقیدہ ایسا عقیدہ ہے جس پر امت کا اجماع ہے اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔ چنانچہ ۱۸۹۲ء تک مرزا کا یہی عقیدہ تھا بلکہ اس نے آیات قرآنیہ سے استدلال کر کے اس عقیدہ کو ثابت کیا ہے مگر جب خود مسیح ابن مریم بننے کا شوق ہوا تو اس عقیدہ سے منحرف ہو کر یوں گویا ہوا:

آرائی اور ان کی اختراع پردازی ہے اور مسلمانوں میں سے جولوگ حضرت عیسیٰ کے اترنے کا گمان کرتے ہیں لا ریب انہوں نے حق کی پیروی نہیں کی بلکہ وہ گمراہی کی وادیوں میں سرگرداں ہیں۔

صفحہ ۲۰۰

صوفیہ

اور نیکیوں کو کھا جانے والی چیز ہے بلکہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح وفات پا گیا ہے اور اپنے اہل زمان کی طرح ہو گیا اور اسکی حیات کا عقیدہ عیسائیوں سے آیا ہوا ہے

(ملخص از ضمیمہ حقیقت الوحی: باب الاستفتاء، ص ۳۹، روحانی خزائن: ج ۲۲، ص ۶۲۰)

اب تک زندہ ہونا اور پھر کسی وقت مع جسم عنصری زمین پر آنا یہ سب ان پر تہمتیں ہیں ۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ: حصہ ۵، ص ۲۳۰ قدیم، روحانی خزائن: ج ۲۱، ص ۴۰۶)

کسی مراقی عورت کا وہم تھا۔“

(حاشیہ کتاب البریہ: ص ۲۳۹، روحانی خزائن: ج ۱۳، ص ۲۷۷)

۴) حرمت جہاد:

آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے: ” الجهاد ماض إلى يوم القيامة . “ ترجمہ: جہاد (غزو) یوم قیامت تک جاری رہے گا۔ یعنی جس وقت تک دنیا میں طاغوتی طاقتیں موجود ہیں اس وقت تک جہاد جاری رہے گا اور جب عیسیٰ کے نزول کے بعد باطل اور طاغوتی قوتیں ختم ہو جائیں گی تو پھر جہاد بھی ختم ہو جائے گا کیونکہ جہاد ہوتا ہے کفار اور اہل باطل سے جبکہ اس وقت کفار اور اہل باطل کا خاتمہ ہو جائے گا۔

انگریزوں نے جب ہندوستان پر اپنا طاغوتی قدم رکھا تو مسلم مجاہدین نے ان کا بھر پور مقابلہ کیا، جس کے باعث اس کا مستقبل ہندوستان میں خطرے میں پڑ گیا، چنانچہ مسلمانوں کے ازلی غدار مرزا غلام مرتضیٰ نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں

صفحہ ۲۰۱

مسیلمہ

۵۰ گھوڑے اور ۵۰ شہسوار بھیج کر مسلمانوں کے خلاف انگریزوں کی مدد کی اور پھر بھی جب کچھ نہ بنا اور مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد ختم نہ ہوا تو اس خاندان کے ایک ”چشم و چراغ“ نے اسلام اور مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر اپنے آقاؤں کے مستقبل کو پر امید اور خالی از خطرات بنانے کے لئے جہاد کے منسوخ ہونے کا اعلان کر دیا، مگر الحمدللہ پھر بھی نہ تو وہ انگریز ہی یہاں قرار پاسکا اور نہ اس کا خودکاشتہ پودا۔ چنانچہ مرزا غلام احمد خود رقمطراز ہے:

ہے اور غازی نام رکھا کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔“

(اشتہار چندہ منارۃ المسیح ،ص ب، ت، ضمیمہ خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن :ج ۱۶، ص ۱۷) ۱۹۷

کہ اس گورنمنٹ محسنہ (برطانیہ ، ناقل) سے ہرگز جہاد درست نہیں۔“

(تبلیغ رسالت : ج ۶، ص ۲۵، مجموعہ اشتہارات : ج۲،ص۳۶۶) ۲۱۷

اسکو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانے میں جہاد قطعاً حرام ہے۔“

(ضمیمہ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد :ص ۸، روحانی خزائن :ج۱۷،ص۲۸) ۲۰۲

دین کیلئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ :ص۲۶، ۲۷، روحانی خزائن :ج ۱۷، ص ۷۷، ۷۸) ۲۰۶،۲۰۴

صفحہ ۲۰۲

۵) انکار معجزات:

اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کو ان کی تصدیق کیلئے خاص نشان عطا فرماتے ہیں، اگر انبیاء کو یہ نشانات دیے جائیں تو معجزات کہلاتے ہیں اور اگر امت میں سے کسی نیک شخص سے یہ نشانات ظاہر ہوں تو کرامات کہلاتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی انبیاء کرام کے معجزات کو بھی تسلیم نہیں کرتا ہے، خصوصاً حضرت عیسیٰ کے معجزات کا منکر ہے جن کی بابت ارشاد ربانی ہے: ”إني قد جئتكم بآية من ربكم أني أخلق لكم من الطين كهيئة الطير فأنفخ فيه فيكون طيراً بإذن الله وأبرئ الأكمه والأبرص وأحي الموتى بإذن الله وأنبئكم بما تأكلون وما تدخرون في بيوتكم إن في ذلك لآية لكم إن كنتم مؤمنين .“

(پارہ۳، آل عمران، آیت ۴۹)

ترجمہ : میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں کہ میں تمہارے لیے مٹی کے پرندے کی صورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اڑتا ہوا جانور ہو جاتا ہے اور میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کرتا ہوں اور مردوں کو زندہ کرتا ہوں اور جو کچھ تم کھاتے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں ذخیرہ کرتے ہو اس کی تمہیں خبر دیتا ہوں اگر تم مومن ہو تو یقیناً اس میں تمہارے لیے نشانی موجود ہے۔

اب معجزات مسیح اور مرزا غلام احمد قادیانی کی بے ایمانی واضح ہو:

صفحہ ۲۰۴

صفحہ نمبر

سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ، ص ۶، روحانی خزائن : ج ۱۱ ص ۲۹۰) ٤

(۲) ”مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم ، مفلوج ، مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے۔“

(حاشیہ ازالۃ اوہام ، ص ۳۲۱ ، روحانی خزائن : ج ۳ ص ۲۶۳) ٤

(۳) ” یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا نہیں ، بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔“

(حاشیہ ازالۃ اوہام ، ص ۳۲۲، روحانی خزائن : ج ۳ ص ۲۶۴) ٤

(۴) ” ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو لعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں۔“

(حاشیہ ازالۃ اوہام ، ص ۳۰۵، روحانی خزائن : ج ۳ ص ۲۵۵، ۲۵۶) ۲۵۶ ۲۵۵

(۵) ”مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عمل (عمل الترب ) ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اسکو خیال کرتے ہیں اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدائے تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا ۔“

(حاشیہ ازالۃ اوہام ، ص ۳۰۹، روحانی خزائن : ج ۳ ص ۲۵۷، ۲۵۸) ۲۵۸ ۲۵۷

(۶) ” اور چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے اس لیے ان آیات کے

صفحہ ۲۰۴

معجزہ

روحانی طور پر معنی بھی کر سکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ امی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسیٰ نے اپنا رفیق بنایا،، گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔‘‘

(حاشیہ ازالۃ الاوہام: ص۴۰۴، روحانی خزائن: ج۳، ص۲۵۵) ح

(۷) ’’سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔‘‘

(حاشیہ ازالۃ الاوہام: ص۴۰۳، روحانی خزائن: ج۳، ص۲۵۴) م ۴۶

(۸) ’’یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کیلئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی بہرحال یہ معجزہ (پرندے بنا کر اڑانے کا، ناقل) صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا۔‘‘

(حاشیہ ازالۃ الاوہام: ص۴۲۲، روحانی خزائن: ج۳، ص۲۶۳) ع

کیا عجیب ہے قادیانی عقل و دانش کہ اگر روح القدس کی تاثیر تالاب میں ہو تو عین توحید ہے، اس سے شرک کا واہمہ بھی نہیں ہو سکتا لیکن اگر وہی خارق عادت فعل معجزانہ طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے صادر ہو تو شرک ہو جاتا ہے ’’بِئْسَ لِلظَّالِمِینَ بَدَلاً‘‘ معجزہ کو کھیل سمجھنا صرف اسی کا کام ہو سکتا ہے جس کی عقل و دانش اس سے روٹھ گئی ہو اور وہ ارتداد کی تپتے صحرا میں بھٹک رہا ہو کیونکہ ان معجزات

صفحہ ۲۰۵

صوفیہ

کا ثبوت قرآن سے ملتا ہے اور منکر قرآن مرتد، زندیق اور کافر ہے۔

۶) عیسیٰ علیہ السلام کے بن باپ پیدا ہونے سے انکار:

آیات قرآنیہ، احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے متولد ہوئے، چنانچہ جب آپ کی والدہ کو جبرئیل نے حضرت عیسیٰ کی پیدائش کی خوشخبری سنائی تو وہ قرآن کے الفاظ میں یوں فرمانے لگیں:

”قالت رب أنّی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر قال کذلک اللہ یخلق ما یشاء.“ ترجمہ: یعنی انہوں نے کہا اے میرے پروردگار، مجھے بچہ کیسے ہوگا حالانکہ مجھے کسی بھی بشر نے نہیں چھوا ہے۔ فرمایا کہ اللہ کا کام ایسا ہی ہوتا ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔

مگر قادیانی ہیں کہ نہ تو قرآن کو دیکھا اور نہ احادیث نبویہ کو اور نہ اجماع امت کی پرواہ کی۔ کافر بننے کے شوق میں ان سب باتوں کو بھلا کر حضرت عیسیٰ کو یوسف نجار کا بیٹا (اور وہ بھی ناجائز حمل سے) نعوذ باللہ قرار دیا۔ مختصراً ملاحظہ ہو:

تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں، نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں کیوں کہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا، پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔“

(کشتی نوح: ص ۱۶، روحانی خزائن: ج ۱۹، ص ۱۸) ۲۷۴

نجاری کا کام بھی کرتے رہے۔“

(حاشیہ ازالہ اوہام: ص ۳۰۳، روحانی خزائن: ج ۳، ص ۲۵۴، ۲۵۵) ۲۷۵، ۲۷۶

صفحہ ۲۰۶

سوئم

(۳) یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھیں۔“

(حاشیہ کشتی نوح: ص ۱۶، روحانی خزائن: ج ۱۹، ص ۱۸) ۲۴۷

(۴) ”آپ کی انہی حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم : ص ۶ ، روحانی خزائن : ج ۱۱، ص ۲۹۰) ۲۴۸

۷) مسلمانان عالم قادیانیوں کی چشم کور میں:

دجال قادیان نے جہاں پر سکھوں اور ہندوؤں کو گالیاں دی ہیں وہاں علمائے اسلام، صوفیائے کرام، صحابہ کرام اور انبیائے کرام کو بھی فحش گالیاں دی ہیں اور طرفہ یہ کہ مرزا کی ان فحش گالیوں سے پورے عالم میں کوئی مسلمان بھی نہ بچ سکا ہے۔

مزید برآں یہ کہ اس نے اور اسکے پیروکاروں نے مسلمانوں کو کافر کہہ کر آنحضرتﷺ کے فرمان عالی شان کے مطابق اپنے کفر کی تاکیدی مہر ثبت کر دی ہے۔ ملاحظہ ہو:

(۱) ”تلك كتب ينظر إليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع عن معارفها و يقبلني ويصدق دعوتى إلا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون . “

ترجمہ: یہ میری کتابیں ہیں جن کو ہر مسلمان محبت اور دوستی کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کتابوں میں ، میں نے جو معرفت کی باتیں لکھی ہیں ان سے نفع اٹھاتا ہے مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے ،مگر کنجریوں کی اولاد کہ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور وہ نہیں مانتے۔

(آئینہ کمالات اسلام: روحانی خزائن: ج ۵، ص ۵۴۷) ۲۴۹

صفحہ ۲۰۷

ضمیمہ

فرستادہ ، خدا کا مامور ، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے، جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘

(انجام آتھم : ص ۶۲، روحانی خزائن : ج ۱۱، ص ۶۲) ۱۴۷

داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا ، وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘

(اشتہار معیار الاخیار: از مرزا قادیانی ، ص ۸، مجموعہ اشتہارات : ج ۳، ص ۲۷۵) ۳۷۰

اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں اور خدا کے نزدیک قابلِ مواخذہ ہے۔‘‘

(مرزا قادیانی کا خط بنام ڈاکٹر عبدالحکیم خان: تذکرہ : طبع دوم، ص ۶۰۰) ۴۷۴

پڑھیں کیونکہ وہ ہمارے نزدیک خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔‘‘

(انوارِ خلافت : از مرزا محمود احمد قادیانی ،ص ۹۰) ۳۴۹

حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت : از مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان ، ص ۳۵) ۳۵۱

علیہ السلام کو مانتا ہے، مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا یا محمد ﷺ کو مانتا ہے، مگر مسیح موعود (دجال قادیان ) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

(کلمۃ الفصل : مرزا بشیر احمد ایم اے پسر مرزا قادیانی ، ص ۱۱۰) ۴۴۴

صفحہ ۲۰۸

صوفیہ

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروؤں کے کفر کی صرف چند وجوہات اور وہ بھی مختصراً تحریر کی ہیں اللہ تعالیٰ فتنہ ارتداد کے ان اسیروں کو راہ ہدایت نصیب فرمائے اور اس مختصر سی محنت کو ان کیلئے ذریعہ ہدایت اور راقم کیلئے ذریعہ نجات بنائے!!

واللہ المستعان و عليه التكلان

﴿مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے پر دس عقلی دلائل﴾

یوں تو بے شمار دلائل عقلیہ مرزا کے جھوٹا ہونے پر شاہد ہیں مگر صرف دس عقلی دلائل کذب مرزا پر پیش کئے جاتے ہیں:

سے فضل الٰہی ، فضل احمد اور گل علی شاہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں جن سے قرآن مجید و دیگر علوم پڑھے۔

(حاشیہ کتاب البریہ: ص ۱۶۱ قدیم، ص ۱۷۷ جدید، روحانی خزائن: ج ۱۳، ص ۱۸۰، ۱۸۱)

۱۵۹،۱۶۰،۱۶۱

الله ليعذبهم وأنت فيهم“ جبکہ مرزا کی زندگی میں قادیان میں سخت زلزلہ آیا اور طاعون جیسی موذی مرض نے قادیان والوں کو آپکڑا۔

(حقیقت الوحی: ص ۲۲۲، روحانی خزائن: ج ۲۲، ص ۲۸۷)

۲۸۲

إذا وعد أخلف کا عظیم مصداق ٹھہرا ہے مثلاً براہین احمدیہ کی پچاس جلدوں کی قیمت وصول کر کے صرف پانچ جلدیں لکھیں اور یہ کہنے لگا کہ اول پچاس جلدیں لکھنے کا ارادہ تھا مگر اب صرف پانچ پر اکتفا کیا ہے کیونکہ پچاس اور پانچ میں صرف صفر کا فرق ہے،

صفحہ ۲۰۹

ولکن بعثت داعياً ورحمةً اللهم اهد قومي فإنہم لا یعلمون. “ جبکہ مرزا لعنتوں کی مشین گن تھا اور کئی شخصیات پر اس نے اپنی لعنتی مشین گن سے لعنتوں کی بوچھاڑ کی ہے مثلاً اس نے اپنی کتاب نور الحق: ص ۱۵۸ تا ۱۶۲، روحانی

صفحہ ضمیمہ ۱۰۸ تا ۱۱۲

خزائن : ج ۸، ۱۵۸ تا ۱۶۲ میں ایک ہزار مرتبہ گن کر لعنت کا لفظ لکھا ہے (ممکن ہے یہ مرزائیوں کا درود ہزاری ہو )۔

عمر کے تقریباً نصف یعنی ۶۳ سال ہوئی اب اس قانون کے تحت مرزا قادیانی کی عمر آنحضرتﷺ کی عمر کے نصف یعنی ۳۲ سال ہونی چاہیے مگر اسکی عمر ۶۹ برس ہوئی

(سیرۃ المہدی: ص ۱۳۹، حصہ اول، روایت ۱۳۵)

۴۰۲

مگر مرزا نے کبھی ہجرت نہیں کی بلکہ اپنے وقت کے کافر ظالم انگریز حکمران کے قصیدے لکھتا رہا ہے۔

تعالیٰ کی طرف سے کتابیں نازل ہوتی ہیں، مرزا قادیانی پڑھتا لکھتا رہا ہے اس کی چوراسی تصنیفات ہیں جن پر قادیانی اپنی جہالت سے فخر کرتے ہیں، الٹی مت ماری گئی۔

اس کا ایک شعر ملاحظہ ہو:

صفحہ ۲۱۰

صفحہ نمبر

کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

۲۶۶ (درثمین: ص۹۴، براہین احمدیہ: حصہ پنجم، روحانی خزائن: ج۲۱، ص۱۲۷)

ساتھ ہوتی ہے مگر مرزا اپنے سینکڑوں ارادوں اور وعدوں میں ناکام و نامراد ہوا۔ بطور مثال محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کا ارادہ بزعم مرزا خدائی وعدہ آسمانوں پر نکاح یاد رکھنے کے قابل ہے۔

" فإذا توفی اللہ عزوجل نبیاً قط إلا دفن حیث یقبض روحہ۔ "

۲۶۷ (کنز العمال: ج۶، جزء۱۱، ص۲۱۵، طبع دارالکتب العلمیہ بیروت)

" ما قبض اللہ تعالیٰ نبیاً إلا فی الموضع الذی یحب أن یدفن فیہ"

(ایضاً)

مگر مرزا کے ساتھ اسکے الٹ ہوا کہ لاہور میں ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء بروز منگل بمرض ہیضہ فوت ہوا اور پھر مال گاڑی میں (جس میں گدھے، کتے اور خنزیر، پتھر، اور کوئلہ وغیرہ لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہیں) لاد کر قادیان میں دفن کیا گیا۔ بالآخر

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ

صفحہ ۲۱۱

چند کتب جن کا حاصل کرنا ضروری ہے

صفحہ ۲۱۲
صفحہ ۲۱۳

مرزا قادیانی کی کتب کا اجمالی تعارف

نام کتاب سن اشاعت نام کتاب سن اشاعت براہین احمدیہ جلد اول و دوم ۱۸۸۰ کرامات الصادقین ۱۸۹۳ براہین احمدیہ جلد سوم ۱۸۸۲ حمامۃ البشریٰ ۱۸۹۳ براہین احمدیہ جلد چہارم ۱۸۸۴ نور الحق جلد اول ۱۸۹۳ پرانی تحریریں ۱۸۸۹،۱۸۷۹ نور الحق جلد ثانی ۱۸۹۴ سرمہ چشم آریہ ۱۸۸۶ اتمام الحجہ ۱۸۹۴ شحنہ حق ۱۹۲۳ سر الخلافہ ۱۸۹۴ سبز اشتہار ۱۸۸۸ انوار الاسلام ۱۸۹۴ فتح الاسلام ۱۸۹۱ منن الرحمٰن ۱۸۹۵ توضیح مرام ۱۸۹۱،۱۸۹۰ ضیاء الحق ۱۸۹۵ ازالہ اوہام جلد اول و دوم ۱۸۹۱ نور القرآن نمبر ۱ ۱۸۹۵ الحق مباحثہ لدھیانہ ۱۸۹۱ نور القرآن نمبر ۲ ۱۸۹۵ الحق مباحثہ دہلی ۱۸۹۱ معیار المذاہب ۱۸۹۵ آسمانی فیصلہ ۱۸۹۱ آریہ دھرم ۱۸۹۵ نشان آسمانی ۱۸۹۲،۱۸۹۱ ، ست بچن ۱۸۹۵ آئینہ کمالات اسلام ۱۸۹۳ اسلامی اصول کی فلاسفی ۱۸۹۶ برکات الدعا ۱۸۹۳ انجام آتھم ۱۸۹۶ حجۃ الاسلام ۱۸۹۳ سراج منیر ۱۸۹۷ جنگ مقدس ۱۸۹۳ حجۃ اللہ ۱۸۹۷ شہادۃ القرآن ۱۸۹۳ تحفہ قیصریہ ۱۸۹۷ تحفہ بغداد ۱۸۹۳ محمود کی آمین ۱۸۹۷ نزول مسیح ۱۹۰۲ کتاب البریہ ۱۸۹۸

صفحہ ۲۱۴

تحفۃ الندوی ۱۹۰۲ البلاغ فریاد درود ۱۸۹۸ اعجاز احمدی ۱۹۰۲ ضرورت الامام ۱۸۹۸ حکم ربانی کا ریویو ۱۹۰۲ نجم الہدیٰ ۱۸۹۸ مواہب الرحمٰن ۱۹۰۳ راز حقیقت ۱۸۹۸ نسیم دعوت ۱۹۰۳ کشف الغطا ۱۸۹۸ سناتن دھرم ۱۹۰۳ ایام الصلح ۱۸۹۸ تذکرۃ الشہادتین ۱۹۰۳ حقیقت الوحی ۱۸۹۹ سیرت الابدال ۱۹۰۳ مسیح ہندوستان میں ۱۸۹۹ لیکچر لاہور ۱۹۰۴ ستارہ قیصرہ ۱۸۹۹ لیکچر سیالکوٹ ۱۹۰۴،۱۹۰۳ تریاق القلوب ۱۹۰۲/۱۸۹۹ لیکچر لدھیانہ ۱۹۰۵ تحفہ غزنویہ ۱۹۰۰ براہین احمدیہ جلد پنجم ۱۹۰۵ روئیداد جلسہ دعا ۱۹۰۰ الوصیت ۱۹۰۵ خطبہ الہامیہ ۱۹۰۱/۱۹۰۰ احمدی اور غیر احمدی میں فرق ۱۹۰۵ لجۃ النور ۱۹۰۰ ضمیمہ الوصیت ۱۹۰۶ رسالہ جہاد ۱۹۰۰ چشمہ مسیحی ۱۹۰۶ تحفہ گولڑویہ ۱۹۰۲/۱۹۰۰ تجلیات الٰہیہ ۱۹۰۶ اربعین ۱۹۰۰ قادیان کے آریہ اور ہم ۱۹۰۷ اعجاز المسیح ۱۹۰۱ حقیقت الوحی ۱۹۰۷ ایک غلطی کا ازالہ ۱۹۰۱ چشمہ معرفت ۱۹۰۸ دافع البلاء ۱۹۰۲ پیغام صلح ۱۹۰۸ الہدیٰ والتبصرۃ لمن یریٰ ۱۹۰۲ سراج دین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب ۱۸۹۷ منقول از مطبوعہ اشتہار اجمالی تعارف م دارالفضل چناب نگر (ربوہ)

صفحہ ۲۱۵

ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد کی مطبوعات

نمبر شمار نام کتاب

PDF 217

رد قادیانیت کے زریں اصول

مولانا منظور احمد چنیوٹی

دوسرا ایڈیشن مع اسکین شدہ حوالہ جات ضمیمہ مفیدہ

تحفظ ختم نبوت کے محاذ کے ایک بہتر سالہ بوڑھے جرنیل کی زندگی کا حاصل ہے جس نے ربوہ کے پڑوس....... چنیوٹ میں بیٹھ کر..... دماغ کی وسعتوں سے قادیانیت کا مشاہدہ کیا...... دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اسے محسوس کیا...... نصف صدی سے زائد عرصہ تک جھوٹی نبوت سے ایک زبردست جنگ لڑی...... جو تاریخ تحفظ ختم نبوت کا ایک درخشاں باب ہے..... قوت عشق سے پرواز کر کے...... دنیا بھر میں جعلی نبوت کا تعاقب کیا...... اسے خائب وخاسر کیا...... اور دہر میں ”لا نبی بعدی“ سے چراغاں کیا......!!! یہ کتاب رد فتنہ قادیانیت کا انسائیکلوپیڈیا اور مرزا قادیانی کا شناختی کارڈ ہے۔

اس کتاب میں....... حقانیت عقیدہ ختم نبوت پر قرآن وحدیث کے فولادی دلائل اس کتاب میں....... حیات ونزول مسیح علیہ السلام پر آفتاب سے روشن براہین کا انبار اس کتاب میں....... قادیانی دجل وتلبیس اور ان کے پیدا کردہ شکوک وشبہات کا علمی ریمانڈ

اس کتاب کا ہر ہر لفظ قادیانیت کی جھوٹی زبان پر دہکتا ہوا انگارہ کی ہر ہر سطر قادیانیت کے سینے کو پھاڑتا ہوا تیر کا ہر ہر صفحہ فتنہ قادیانیت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا نقیب

اس کتاب میں قادیانیت ہر سمت سے بے نقاب...... مرزا قادیانی ہر پہلو سے بے حجاب مجرم اور آئینہ روبرو...... فرنگیت اور قادیانیت در......

یہ کتاب انقلاب آفریں...... مجاہد ساز...... اور قادیانیت سوز ثابت ہوگی (انشاء اللہ)

ہر مسلمان گھرانے کی ضرورت...... ہر مجاہد ختم نبوت کی احتیاج

پڑھیے اور تحفظ ختم نبوت کیلئے آگے بڑھیے

کتاب گھر: السادات سینٹر بالمقابل دارالافتاء والارشاد ناظم آباد نمبر ۴ کراچی

PDF 218

1

عکسی ضمیمہ

کتاب میں دیے گئے تمام حوالہ جات کا عکس

قادیانیت دستاویزی ثبوتوں کے حصار میں

مرتبین:

۱۔ احمد

۲۔ آصف محمود

۳۔ عبدالقہار

۴۔ فیصل احمد

۵۔ مدثر الاسلام

۶۔ مشتاق احمد

زیرنگرانی:

مفتی ابولبابہ شاہ منصور

زید مجدہم

یہ تمام طلبہ درجہ تخصص سال ۱۴۲۴ھ کے شرکاء تھے۔

PDF 219

ب

اشاریہ

سرورق کے بعد تلاش فرمائیے۔

ہے، اس کے ذریعے متعلقہ صفحہ پر آپ کو متعلقہ حوالہ خط کشیدہ مل جائے گا۔

آ گئی ہیں، اس لئے قادیانی کتب کے حوالہ جات پہلے دیے گئے ہیں اور اہل سنت والجماعت کی کتب کے عکس بعد میں۔

خزائن“ کی ترتیب پر رکھی گئی تھی بعد ازاں دیگر کتب کی شمولیت کی وجہ سے انہیں حروف تہجی کی ترتیب کے مطابق کر دیا گیا۔ اور اہل سنت کی کتب کی ترتیب مضامین کے اعتبار سے ہے یعنی پہلے تفسیر پھر حدیث پھر فقہ...... الخ

PDF 220

ج

فہرست ٹائٹل ضمیمہ

نمبر شمار عنوانات صفحہ نمبر ۱ روحانی خزائن جلد ۱ ۱ ۲ براہین احمدیہ حصہ اول ۲ ۳ براہین احمدیہ حصہ دوم ۴ ۴ براہین احمدیہ حصہ سوم ۶ ۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۹ ۶ روحانی خزائن جلد ۲ ۱۷ ۷ شحنہ حق ۱۸ ۸ روحانی خزائن جلد ۳ ۲۰ ۹ فتح اسلام ۲۱ ۱۰ توضیح المرام ۲۳ ۱۱ ازالہ اوہام حصہ اول ۲۵ ۱۲ ازالہ اوہام حصہ دوم ۴۵ ۱۳ روحانی خزائن جلد ۵ ۴۹ ۱۴ آئینہ کمالات اسلام ۶۰ ۱۵ روحانی خزائن جلد ۶ ۸۱

PDF 221

و

نمبر شمار عنوانات صفحہ نمبر ۱۶ جنگ مقدس ۸۲ ۱۷ شہادۃ القرآن ۸۷ ۱۸ روحانی خزائن جلد ۷ ۹۳ ۱۹ کرامات الصادقین ۹۴ ۲۰ حمامۃ البشریٰ ۹۶ ۲۱ روحانی خزائن جلد ۸ ۱۰۴ ۲۲ نور الحق حصہ اول ۱۰۵ ۲۳ نور الحق حصہ دوم ۱۱۴ ۲۴ اتمام الحجۃ ۱۱۷ ۲۵ روحانی خزائن جلد ۹ ۱۱۹ ۲۶ انوار الاسلام ۱۲۰ ۲۷ نور القرآن حصہ دوم ۱۲۳ ۲۸ روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۲۶ ۲۹ ست بچن ۱۲۷ ۳۰ روحانی خزائن جلد ۱۱ ۱۳۰ ۳۱ انجام آتھم ۱۳۱ ۳۲ روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۴۷ ۳۳ سراج منیر ۱۴۸ ۳۴ روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۵۰

PDF 222

ھ

نمبر شمار عنوانات صفحہ نمبر ۳۵ کتاب البریہ ۱۵۱ ۳۶ روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۷۰ ۳۷ نجم الہدیٰ ۱۷۱ ۳۸ ایام الصلح ۱۷۳ ۳۹ روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۷۸ ۴۰ تریاق القلوب ۱۷۹ ۴۱ تحفہ غزنویہ ۱۹۲ ۴۲ روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۹۶ ۴۳ خطبہ الہامیہ ۱۹۷ ۴۴ روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۰۰ ۴۵ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ۲۰۱ ۴۶ تحفہ گولڑویہ ۲۰۳ ۴۷ اربعین مکمل چار حصے ۲۱۵ ۴۸ روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۲۴ ۴۹ ایک غلطی کا ازالہ ۲۲۵ ۵۰ دافع البلاء ۲۲۸ ۵۱ نزول المسیح ۲۳۴ ۵۲ روحانی خزائن جلد ۱۹ ۲۴۳ ۵۳ کشتی نوح ۲۴۴

PDF 223

و

نمبر شمار عنوانات صفحہ نمبر ۵۴ اعجاز احمدی ۲۵۰ ۵۵ مواہب الرحمٰن ۲۶۰ ۵۶ روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۶۲ ۵۷ چشمۂ مسیحی ۲۶۳ ۵۸ روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۶۶ ۵۹ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۲۶۷ ۶۰ روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۷۹ ۶۱ حقیقت الوحی ۲۸۰ ۶۲ روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۹۸ ۶۳ چشمہ معرفت حصہ اول، دوم ۲۹۹ ۶۴ ملفوظات جلد ۲ ۳۰۸ ۶۵ مجموعہ اشتہارات جلد ۱ ۳۱۰ ۶۶ مجموعہ اشتہارات جلد ۲ ۳۱۶ ۶۷ مجموعہ اشتہارات جلد ۳ ۳۱۹ ۶۸ احمدی اور غیر احمدی میں فرق ۳۲۳ ۶۹ احمدیہ پاکٹ بک ۳۲۵ ۷۰ اربعین (طبع قدیم) ۳۲۷ ۷۱ اسلامی قربانی ۳۲۹ ۷۲ البلاغ المبین ۳۳۱

صفحہ ذ

نمبر شمار عنوانات صفحہ نمبر ۷۳ الفضل ۳۳۳ ۷۴ القول الفیصل ۳۴۸ ۷۵ انوار خلافت ۳۵۰ ۷۶ آئینہ صداقت ۳۵۱ ۷۷ براہین احمدیہ (قدیم) ۳۵۳ ۷۸ تذکرہ ۳۵۵ ۷۹ حقیقت النبوۃ ۳۸۴ ۸۰ حیات ناصر ۳۸۶ ۸۱ خطوط امام بنام غلام ۳۸۸ ۸۲ دعوۃ الامیر ۳۹۰ ۸۳ سیرت المہدی (حصہ اول) ۳۹۳ ۸۴ سیرت المہدی (حصہ دوم) ۴۰۹ ۸۵ سیرت المہدی (حصہ سوم) ۴۱۷ ۸۶ عسل مصفّٰی ۴۲۳ ۸۷ فصل الخطاب ۴۳۰ ۸۸ کلمۃ الفصل ۴۳۴ ۸۹ مباحثہ راولپنڈی ۴۳۸ ۹۰ انجیل ۴۴۰ ۹۱ تفسیر ابن عباس ۴۵۴

صفحہ ح

نمبر شمار عنوانات صفحہ نمبر ۹۲ تفسیر البحر المحیط ۴۵۷ ۹۳ تفسیر الدر المنثور ۴۵۹ ۹۴ تفسیر کبیر جلد ۸ ۴۶۱ ۹۵ تفسیر کبیر جلد ۹ ۴۶۳ ۹۶ تفسیر کبیر جلد ۱۰ ۴۶۵ ۹۷ تفسیر جامع البیان جلد ۳ ۴۶۷ ۹۸ الترغیب والترہیب جلد ۲ ۴۶۹ ۹۹ سنن الدار قطنی ۴۷۱ ۱۰۰ کنز العمال جلد ۱۱ ۴۷۳ ۱۰۱ میزان الاعتدال جلد ۳ ۴۷۵ ۱۰۲ الیواقیت والجواہر حصہ اول ۴۷۸ ۱۰۳ الیواقیت والجواہر حصہ دوم ۴۸۱ ۱۰۴ شرح الشفاء حصہ دوم ۴۸۴ ۱۰۵ شرح فقہ اکبر ۴۸۷ ۱۰۶ المصباح المنیر حصہ دوم ۴۸۹ ۱۰۷ دوسری شہادت آسمانی ۴۹۱ ۱۰۸ محمدیہ پاکٹ بک ۵۰۳

صفحہ 1

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۱

براہین احمدیہ

چہار حصص

صفحہ 2

ٹائیٹل طبع اول حصہ اول

ایک مہر ایک سانچے سے بنائی گئی ہے اگر وہ

گم ہو جائے تو شاید بن سکے یہاں نہ بن سکے

جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا

بفضل عظیم حضرت ہادی عالم عالمیان و رحمت عمیم رہنمائے گمگشتگان کتاب الہام مسمی بہ

بَرَاهِيْنِ اَحْمَدِيَّة

ملقب بہ

اَلْبَرَاهِيْنُ الْاَحْمَدِيَّة عَلَى حَقِّيَّةِ كِتَابِ اللّٰهِ الْقُرْآنِ وَالنُّبُوَّةِ الْمُحَمَّدِيَّة

جس کو فخرِ اہلِ اسلام پنجاب جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیسِ اعظم قادیان

ضلع گورداسپور پنجاب دام اقبالہم نے کمال تحقیق اور تدقیق سے تالیف کر کے

منکرین اسلام پر حجت پوری کرنے کیلئے بغرض انعام دس ہزار روپیہ شائع کیا

امرتسر پنجاب

سفیر ہند پریس میں در سنہ ۱۸۸۰ء طبع ہوئی

اس پر کسی کو ہرگز ہرگز مجالِ براءۃ

۱۲۹۷ تاریخ مقررہ کی عذر نہ رہا وہ

امیر علی دولہ پرنٹر

صفحہ 3

براہین احمدیہ دیباچہ

خلق جوید پناہ و سایۂ کس واں پناہ ہمہ تو ہستی و بس
ہست یادت کلید ہر کارے خاطرے بے تو خاطر آزارے
ہرکہ نالید بدرگہت بہ نیاز بخت گم کردہ را بیابد باز
لطف تو ترکِ طالبان نکند کس بکارِ رہت زیاں نکند
ہرکہ با ذات تو سرے دارد پشت بر روئے دیگرے دارد
زینکہ جملہ کار بر تو بگذارد رو بہ اغیار ازچہ رو آرد
ذات پاکت بس ست یار یکے دل یکے جان یکے نگار یکے
ہرکہ پوشیدہ با تو در سازد رحمتت آشکار بنوازد
ہرکہ گیرد درت بصدق و حضور از در و بام او ببارد نور

منہ

ہرکہ راحت گرفت کارش شد صد اُمیدے بروزگارش شد
ہرکہ راہِ تو جُست یافتہ است تافت آں رو کہ سَر نتافتہ است
وانکہ از ظلِ قُربتِ تو رمید بر درِ ہر کہ رفت ذلت دید
اے خداوند من گناہم بخش سوئے درگاہِ خویش راہم بخش
روشنی بخش در دل و جانم پاک کن از گناہ پنہانم
دلستانی و دلربائی کُن بہ نگاہے گرہ کشائی کُن
در دو عالم مرا عزیز توئی وآنچہ میخواہم از تو نیز توئی

بلکہ حمد اور تعریف اس قادرِ مطلق کی ذات کے لائق ہے کہ جس نے ساری روحیں اور اجسام بغیر کسی مادہ اور ہیولیٰ کے اپنے ہی حکم اور امر سے پیدا کر کے اپنی قدرتِ عظیمہ کا نمونہ دکھلایا اور تمام نفوسِ قدسیۂ انبیا کو بغیر کسی اُستاد اور اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوضِ قدیمہ کا نشان ظاہر فرمایا پس سچا محسن اور حقیقی حمد و ثنا کا مستحق وہ ذات ہے کہ جس نے بغیر کسی استحقاقِ سابق کے

نمبر ۱ براہین احمدیہ

صفحہ 4

ٹائٹل پیج بار اول

۵۳

حصہ دوم

جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا

بفضلِ عظیم حضرت ہادیِ عالم و عالمیان رَحمۃً لّلعالمین رہنمائے گمگشتگانِ کنار و جوانبِ عوامِ دہر

بَرَاهِينُ اَحْمَدِيَّه

مُلَقَّب بہ

اَلْبَرَاہِيْنُ الْاَحْمَدِيَّة عَلٰى حَقِيْقَةِ كِتَابِ اللّٰهِ الْقُرْاٰنِ وَالنُّبُوَّةِ الْمُحَمَّدِيَّة

جس کو فخرِ اہلِ اسلام جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیسِ اعظم قادیان ضلع گورداسپور پنجاب ہمام نے کمالِ تحقیق اور تدقیق سے تالیف کر کے منکرینِ اسلام پر حجت تمام پوری کرنے کیلئے بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ شائع کیا

امرتسر پنجاب

سفیرِ ہند پریس در سنہ ۱۸۸۰ء طبع ہوئی

امیر علی رویلہ پرنٹر

اِس اسمِ مکرم کے عددِ ابجدی یہ ہیں مگر بوجہ تاخیر طبع کے ۱۲۹۸ میں شائع ہوئی

تاریخِ اتمامِ تالیف بحسابِ جمل ۱۲۹۷ اس کتاب کا نام تاریخی ہے

صفحہ 5

٨٨

میں یہ بات غیر ممکن ہو جاتی ہے جو ناظرین اس کتاب کے کہ جن کے پاس فریق ثانی کی کتب موجود نہیں کسی بات کو صحیح طور پر سمجھ سکیں یا کسی رائے کے ظاہر کرنے کا موقعہ پاویں۔ پس چونکہ یہ کتاب اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے کہ جس میں بہ نیت اتمام حجت کے پورا پورا جواب دینے والے کو انعام کثیر دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ تو ایسی کتاب کے مقابلہ پر فریب اور تدلیس کو استعمال میں لانا ایک بے جا اور بے سود چالاکی ہے۔ لہٰذا بکمال تاکید لکھا جاتا ہے کہ صفائی اس میں ہے جو صرف اسی حالت میں کوئی ردّ لکھنے والا شرائط اشتہار سے استفادہ اُٹھا سکتا ہے کہ جو تقریر ہمارے منہ سے نکلی ہے اور جو طرز عبارت ہماری کتاب میں مندرج ہے وہ سب کامل طور پر بترتیب و بالفاظہ بیان کرے۔

سوم یہ امر بھی ہر یک صاحب پر روشن رہے کہ ہم نے اس کتاب میں جس قدر دلائل حقانیت قرآن مجید اور براہین صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم لکھے ہیں یا جو جو فضائل اور محاسن قرآن شریف کے اور آیات بینات منجانب اللہ ہونے اس کتاب کے کتاب ہٰذا میں درج کئے ہیں یا جس طور کا اس کی نسبت کوئی دعویٰ کیا ہے۔ وہ سب دلائل وغیرہ اسی مقدس کتاب سے ماخوذ اور مستنبط ہیں یعنے دعویٰ بھی وہی لکھا ہے جو کتاب ممدوح نے کیا ہے۔ اور دلیل بھی وہی لکھی ہے جو اسی پاک کتاب نے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے نہ ہم نے فقط اپنے ہی قیاس سے کوئی دلیل لکھی ہے اور نہ کوئی دعویٰ کیا ہے جو کچھ ہم نے لکھا ہے سب آیاتِ رحمٰن سے ہمارے دلائل اور دعاوٰی ماخوذ ہیں۔ پس اگر کوئی صاحب بمقابلہ ہماری دلائل کے کچھ اپنی کتاب کے متعلق لکھنا چاہیں یا کوئی دعویٰ کریں۔ تو ان پر بھی لازم ہے کہ بپابندی اسی طریق معہود ہمارے کے کاربند ہوں۔ یعنی وہی دعویٰ اور وہی دلیل نفس کتاب اور اصول کتاب کے اثبات کی نسبت پیش کریں جو اُن کی کتاب میں مندرج ہو۔ اور اس جگہ یہ بھی یاد رکھیں کہ دلیل سے ہماری مراد وہ دلیل ہے کہ جس کو محقق لوگ اپنے مطالب کے اثبات میں پیش کیا کرتے

صفحہ 6

ٹائیٹل طبع اول حصہ سوم

جَاءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا

بفضل عظیم حضرت ہادیِ عالم عالمیان و رحمتِ عمیم رہنمائے گمگشتگان کتابِ لاجواب موسوم بہ

بَرَاہِینِ اَحْمَدِيَّة

۱۲۹۹

ملقب بہ

اَلْبَرَاہِیْنُ الْاَحْمَدِیَّة عَلٰی حَقِیْقَةِ كِتَابِ اللّٰهِ الْقُرْاٰنِ وَ النُّبُوَّةِ الْمُحَمَّدِیَّة

جس کو فخر الاسلام جناب مرزا غُلام احمد رئیسِ اعظم قادیان

ضلع گورداسپور پنجاب دام اقبالہم نے بکمال تحقیق اور تدقیق سے تالیف کر کے

منکرینِ اسلام پر حجتِ اسلام پوری کر نیکے لئے بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ شائع کیا

امرتسر پنجاب

سَفِيْرِ هِنْد پریس میں سنہ ۱۸۸۲ء طبع ہوئی

آرام کر کے دل سے پڑھیں اس کو بے قرار

حقا کہ ہے یہ نسخۂ اکسیر و بے بہا

المرقم حضرت مولانا سید محمد غزنوی رحمہ اللہ

تاریخ ۱۸ جمادی الاخریٰ ۱۲۹۹ھ

امیر علی دولہ پرنٹر

صفحہ ۲۷۵

7 براہین احمدیہ ۲۷۵ پہلا فصل بقیہ حاشیہ نمبر ۱۱ بقیہ حاشیہ نمبر ۱۲

یونانی ، لاطینی ، انگریزی ، سنسکرت وغیرہ سے کسی قدر دینی صداقتیں

۲۳۹ ہیں کہ ایک مسکین اور عاجز اور ذلیل آدمی کی طرح سیدھا ہماری طرف چلا آوے اور بوجہ صبر اور برداشت اور اطاعت اور خلوص کو صادق لوگوں کی طرح اختیار کرے تا اشتہار دینے کے مطلب کو پاوے۔ اور اگر اب بھی کوئی فتنہ کرے تو وہ خود اپنی بے ایمانی پر آپ گواہ ہے۔ غرض کوتاہ نظر لوگ جب دیکھتے ہیں کہ خدا کے نبیوں اور رسولوں کو بھی تکالیف پیش آتی رہتی ہیں ۔ تو اس پر وہ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ اگر اقتدار الوہیت کہ جو الہامی خبروں کا نشان سمجھا گیا ہے۔ نبیوں کے شامل حال ہوتا تو اُن کو تکلیفیں کیوں پیش آتیں اور کیوں

اسی زمانہ کے قریب کہ جب یہ ضعیف اپنی عمر کے پہلے حصّہ میں ہنوز تحصیل علم میں مشغول تھا جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ۔ اور اُس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی کہ جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے۔ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے جس نام کی تعبیر اب اس اشتہاری کتاب کی تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے۔ غرض آنحضرت نے وہ ۲۴۰ کتاب مجھ سے لے لی ۔ اور جب وہ کتاب حضرت اقدس نبوی کے ہاتھ میں آئی تو آنکتاب کو ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوش رنگ اور خوبصورت میوہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا مگر بقدر خربوزہ تھا ۔ آنحضرت نے جب اس میوہ کو تقسیم کرنے کیلئے قاش قاش کرنا چاہا تو اس قدر اس میں سے شہد نکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مبارک مرفق تک شہد سے بھر گیا۔ تب ایک مردہ کہ جو دروازہ سے باہر پڑا تھا ۔ آنحضرت کے معجزہ سے زندہ ہو کر اس عاجز کے پیچھے آ کھڑا ہوا اور یہ عاجز آنحضرت کے سامنے کھڑا تھا جیسے ایک مستغیث حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ اور آنحضرت بڑے جاہ و جلال اور حاکمانہ شان سے ایک زبردست پہلوان کی طرح کرسی پر جلوس فرما رہے تھے۔ پھر خلاصہ کلام یہ کہ ایک قاش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے

صفحہ ۲۷۶

8 براہین احمدیہ پہلی فصل

۲۵۰ بقیہ حاشیہ نمبر ۱

نکال کر پیش کریں یا اپنی ہی عقل کے زور سے کوئی الہیات کا نہایت باریک دقیقہ پیدا کریں سب سے زیادہ انہیں پر مصیبتیں پڑتیں لیکن یہ وسوسہ بالکل بے اصل ہے جو سراسر کم توجہی سے پیدا ہوتا ہے ۔ الہامی خبروں کا قادرانہ طور پر بیان ہونا شے دیگر ہے اور انبیاء کی مصیبتیں ایک دوسرا امر ہے کہ جو انواع اقسام کی حکمتوں پر مشتمل ہے ۔ اور حقیقت حال پر مطلع ہونے سے تمہیں معلوم ہوگا کہ مصیبتیں اصل میں مصیبتیں نہیں ۔ بلکہ بڑی بڑی نعمتیں ہیں کہ جو انہیں کو دی جاتی ہیں جن پر خدا کا فضل اور کرم ہوتا ہے ۔ اور یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ جن میں نبیوں اور تمام دنیا کو فائدہ ہے ۔ اس جگہ تحقیق مقام یہ ہے کہ انبیاء

۲۵۱ بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱

مجھ کو اس غرض سے دی کہ تئیں اُس شخص کو دُوں کہ جو نئے سرے زندہ ہوا ۔ اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں اور وہ یک قاش میں نے اس نئے زندہ کو دیدی اور اُس نے وہیں کھالی ۔ پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھا چکا ۔ تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت کی کرسی مبارک اپنے پہلے مکان سے بہت ہی اونچی ہو گئی ۔ اور جیسے آفتاب کی کرنیں پھوٹتی ہیں ایسا ہی آنحضرت کی پیشانی مبارک بتواتر چمکنے لگی کہ جو دینِ اسلام کی تازگی اور ترقی کی طرف اشارت تھی ۔ تب اسی نور کے مشاہدہ کرتے کرتے آنکھ کھل گئی۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَى ذٰلِكَ۔ یہ وہ خواب ہے کہ تقریباً دو سو آدمی کو انہیں دنوں میں سنائی گئی تھی جن میں سے پچاس یا کم و بیش ہندو بھی ہیں کہ جو اکثر اُن میں سے ابھی تک صحیح و سلامت ہیں اور وہ تمام لوگ خوب جانتے ہیں کہ اُس زمانہ میں براہین احمدیہ کی تالیف کا ابھی نام و نشان نہ تھا اور نہ یہ مرکوز خاطر تھا کہ کوئی دینی کتاب بنا کر اُس کے استحکام اور سچائی ظاہر کرنے کے لئے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا جائے ۔ لیکن ظاہر ہے کہ اب وہ باتیں جن پر خواب دلالت کرتی ہے کیسی زُود پوری ہو گئیں ۔ اور جس قطبیت کے اسم سے اس وقت کی خواب میں کتاب کو موسوم کیا گیا تھا۔ اِسی قطبیت کو اب مخالفوں کے مقابلے پر بوجہ دلائلِ کثیرہ پیش کر کے حُجتِ اسلام اُن پر پوری کی گئی ہے ۔ اور جس قدر اجزا اس خواب کے ابھی تک ظہور میں نہیں آئے اُن کے ظہور کا سب کو منتظر رہنا چاہیے کہ آسمانی باتیں کبھی ٹل نہیں سکتیں ۔

صفحہ 9

۳۱۳

جلد چهارم

جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا

بفضلہٖ تعالیٰ وحسن توفیقہٖ یہ کتاب مستطاب طبع ہوئی حق تعالیٰ اسکو تمام عالم کے لئے موجب ہدایت کرے آمین

قیمت بوجہ طوالت کتاب و اندراج مضامین کثیرہ پانچ روپیہ مقرر ہوئی ہے مگر جسکو مقدرت نہ ہو اسکو مفت دیجائے گی فقط

ملقب بہ اَلْبَرَاهِيْنُ الْاَحْمَدِيَّة عَلَى حَقِيْقَةِ كِتَابِ اللّٰهِ الْقُرْآنِ وَالنُّبُوَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ جسکو فخر اہلِ اسلام پنجاب جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس اعظم قادیان ضلع گورداسپور پنجاب دام فیوضہ نے کمال تحقیق اور تدقیق سے تالیف کر کے منکرین اسلام پر حُجّتِ اسلام پوری کرنے کے لئے بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ شائع کیا ۔ مطبع ریاضِ ہند امرتسر میں باہتمام کمترین محمد حسین مراد آبادی ۱۸۸۴ء میں طبع ہوئی

صفحہ 10

براہین احمدیہ ۲۴۱ پہلی فصل

حقہ بھی پائی جائے۔ ابتدا میں جب خدا نے انسان کو پیدا کیا۔ اُس وقت بذریعہ الہام بولیوں کی تعلیم کرنا ایسا امر تھا۔ کہ جس میں دونوں طور

دلی عاجزی کے ساتھ امداد الٰہی چاہتا ہے۔ اور نہ اُس کی روحانی حالت درست ہوتی ہے۔

۲۴۱

بلکہ اُس کے ہونٹوں میں دُعا اور اُس کے دل میں غفلت یا ریاء ہوتی ہے۔ یا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا اُس کی دُعا کو سُن تو لیتا ہے ! اور اس کے لئے جو کچھ اپنی حکمت کاملہ کے رُو سے مناسب اور اصلح دیکھتا ہے عطا بھی فرماتا ہے لیکن نادان انسان خدا کی ان الطاف خفیہ کو شناخت نہیں کرتا۔ اور بباعث اپنے جہل اور بے خبری کے شکوہ اور شکایت شروع کر دیتا ہے۔ اور اس آیت کے مضمون کو نہیں سمجھتا ؂ لہ عَسٰٓی اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْئًا وَّهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَيْئًا وَّهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ط وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ یعنی یہ ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو بُری سمجھو اور وہ اصل میں تمہارے لئے اچھی ہو اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو دوست رکھو اور وہ اصل میں تمہارے لئے بُری ہو۔ اور خدا چیزوں کی اصل حقیقت کو جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اب ہماری اس تمام تقریر سے واضح ہے کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کس قدر عالی شان صداقت ہے جس میں حقیقی توحید اور عبودیت اور خلوص میں ترقی کرنے کا نہایت عمدہ سامان موجود ہے جس کی نظیر کسی اور کتاب میں نہیں پائی جاتی۔ اور اگر کسی کے زعم میں پائی جاتی ہے تو وہ اس صداقت کو معہ تمام دوسری صداقتوں کے جو ہم نیچے لکھتے ہیں نکال کر پیش کرے۔ اس جگہ بعض کوتہ اندیش اور نادان دشمنوں نے ایک اعتراض بھی بسم اللہ کی بلاغت پر کیا ہے۔ ان معترضین میں سے ایک صاحب تو پادری عماد الدین نام ہیں۔ جس نے اپنی کتاب ہدایت المسلمین میں اعتراض مندرجہ ذیل لکھا ہے۔ دوسرے صاحب باوا

بقیہ حاشیہ درحاشیہ نمبر ۲ نہیں کر سکتے۔ مگر میرے بعد ایک دوسرا آنیوالا ہے وہ سب باتیں کھول دیگا اور علم دین کو بمرتبہ کمال پہنچائے گا۔ سو حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے اور ایک عرصہ تک وہی ناقص کتاب لوگوں کے ہاتھ میں رہی اور پھر اسی نبی معصوم

لہ البقرۃ : ۲۱۶

صفحہ ۴۲۲

11 براہین احمدیہ ۴۲۲ پہلی فصل ۳۶۴ کی شرائط موجود تھی۔ اوّل ذاتی قابلیت پہلے انسان میں جیسا کہ چاہیے الہام نرائن سنگھ نام وکیل اندوری ہیں۔ جنہوں نے پادری کے اعتراض کو سچ سمجھ کر اپنے دلی عناد کے تقاضا کی وجہ سے وہی پوچ اعتراض اپنے رسالہ ودیا پرکاش میں درج کر دیا ہے۔ سو ہم اس اعتراض کا معہ جواب اسکے لکھنا مناسب سمجھتے ہیں تا منصفین کو معلوم ہو کہ فرط تعصب نے ہمارے مخالفین کو کس درجہ کی کور باطنی اور نابینائی تک پہنچا دیا ہے۔ ۳۶۵ کہ جو نہایت درجہ کی روشنی ہے۔ وہ اُن کو تاریکی دکھائی دیتی ہے۔ اور جو اعلیٰ درجہ کی خوشبو ہے۔ وہ اُس کو بدبو تصور کرتے ہیں۔ سو اب جاننا چاہیے کہ جو اعتراض بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی بلاغت پر مذکورہ بالا لوگوں نے کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اگر رحمٰن الرحیم جو بسم اللہ میں واقع ہے یہ فصیح طرز پر نہیں۔ اگر رحیم الرحمٰن ہوتا۔ تو فصیح اور صحیح طرز تھی۔ کیونکہ خدا کا نام رحمٰن باعتبار اُس رحمت کے ہے کہ جو اکثر اور عام ہے اور رحیم کا لفظ بہ نسبت رحمٰن کے اس رحمت کے لئے آتا ہے کہ جو قلیل اور خاص ہے۔ اور مقتضائے کلام یہ ہے کہ قلت سے کثرت کی طرف انتقال ہو۔ نہ یہ کہ کثرت سے قلت کی طرف۔ یہ اعتراض ہے کہ ان دونوں صاحبوں نے اپنی آنکھیں بند کر کے اس کلام پر کیا ہے۔ جس کلام کی بلاغت کو عرب کے تمام اہل زبان جن میں بڑے بڑے شاعر بھی تھے با وجود سخت مخالفت کے تسلیم کر چکے ہیں۔ بلکہ بڑے بڑے معاند اس کلام کی شان عظیم سے نہایت درجہ تعجب میں پڑ گئے۔ اور اکثر اُن میں سے کہ جو فصیح اور بلیغ کلام کے اسلوب کو بخوبی جانتے نمبر ۱۱ پہچاننے والے اور مذاق سخن سے عارف اور با انصاف تھے۔ وہ مہر قرآنی کو طاقتِ انسانی سے باہر دیکھ کر ایک معجزہ عظیم یقین کر کے ایمان لے آئے جن کی شہادتیں

۳۶۶ بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۲ کی پیشین گوئی کے بموجب قرآن شریف کو خدا نے نازل کیا اور ایسی جامع شریعت عطا فرمائی جس میں نہ توریت کی طرح خواہ نخواہ ہر جگہ اور ہر محل میں دانت کے عوض دانت نکالنا ضروری لکھا اور نہ انجیل کی طرح یہ حکم دیا کہ ہمیشہ اور ہر حالت میں دست دراز لوگوں کے طمانچے کھانے چاہئیں۔ بلکہ وہ کامل کلام عارضی خیالات سے ہٹ کر حقیقی نیکی کی طرف

صفحہ ۵۹۳

براہین احمدیہ پہلی فصل

۴۹۹ تمھید ھشتم جو امر خارق عادت کسی ولی سے صادر ہوتا ہے۔

وہ حقیقت میں اُس متبوع کا معجزہ ہے جس کی وہ اُمت ہے اور یہ بدیہی اور

۴۹۹ مسلّم ہے کہ جس کے علم قدیم سے ایک ذرہ مخفی نہیں اور جس کی طرف کوئی نقصان اور خسران عاید نہیں ہوسکتا۔ اور جو ہر ایک قسم کے جہل اور آلودگی اور ناتوانی اور غم اور حزن اور درد اور رنج اور گرفتاری سے پاک ہے وہ کیوں کر اُس چیز کا عین ہوسکتا ہے کہ جو بدرجۂ یقین کامل پہنچکر پھر منکر ہیں۔ پھر بعد اسکے فرمایا ۔ اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ قَرِیْبًا مِّنَ الْقَادِیَانِ۔ وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاہُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ ۔ صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَ کَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلاً ۔ یعنے ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الہام پُر از معارف وحقائق کو قادیان کے قریب اُتارا ہے اور ضرورت حقہ کے ساتھ اُتارا ہے اور بضرورتِ حقہ اُترا ہے ۔ خدا اور اُسکے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی اور جو کچھ خدا نے چاہا تھا وہ ہونا ہی تھا۔ یہ آخری فقرہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کے ظہور کیلئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حدیث متذکرہ بالا میں اشارہ فرما چکے ہیں اور خدائے تعالیٰ اپنے کلام مقدس میں اشارہ فرما چکا ہے چنانچہ وہ اشارہ حصہ سوم کے الہامات میں درج ہو چکا ہے اور قرآنی اشارہ اس آیت میں ہے۔ ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ۔ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے۔ اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ۴۹۹ ظہور میں آئے گا۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائینگے تو اُن کے ہاتھ سے دینِ اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رُو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بحدّی اتحاد ہے کہ نظرِ کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر

لہ النصف : ۱۰

بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱۱

بقیہ حاشیہ نمبر ۱۱

صفحہ 13

براہین احمدیہ ۵۹۴ پہلی فصل

منہ

ظاہر ہے کیونکہ جب کسی امر کا ظاہر ہونا کسی شخص اور کسی خاص کتاب کی متابعت

بقیہ حاشیہ نمبر ۲

اُن سب بلاؤں میں مبتلا رہے ۔ کیا انسان جس کی روحانی ترقیات کے لئے اس قدر حالات منتظرہ ہیں جن کا کوئی کنارہ نظر نہیں آتا۔ وہ اس ذات صاحب کمال تام سے مشابہ یا اس کا عین ہو سکتا ہے جس کے لئے کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں ؟ ہاں اس کی

بقیہ حاشیہ نمبر ۳

بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادم دین تھا۔ اور اُس کی انجیل توریت کی فرع ہے۔ اور یہ عاجز بھی اُس جلیل الشان نبی کے احقر خادموں میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے۔ اگر وہ حامد ہیں تو وہ احمد ہے۔ اور اگر وہ محمود ہیں تو وہ محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم ۔ سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہتِ تامہ ہے اسلئے خدا وند کریم نے مسیح کی پیشگوئی میں ابتداء سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے یعنی حضرت مسیح پیشگوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور مخفی طور پر اُس کا محل اور

بقیہ حاشیہ نمبر ۳

مورد ہے یعنی روحانی طور پر دینِ اسلام کا غلبہ جو حجج قاطعہ اور براہین ساطعہ پر موقوف ہے اس عاجز کے ذریعہ سے مقدّر ہے۔ گو اسکی زندگی میں یا بعد وفات ہو۔ اور اگرچہ دینِ اسلام اپنے دلائل حقہ کے رُو سے قدیم سے غالب چلا آیا ہے اور ابتداء سے اسکے مخالف رُسوا اور ذلیل ہوتے چلے آئے ہیں ۔ لیکن اس غلبہ کا مختلف فرقوں اور قوموں پر ظاہر ہونا

منہ

ایک ایسے زمانہ کے آنے پر موقوف تھا کہ جو باعث کُھل جانے راہوں کے تمام دُنیا کو ممالک متحدہ کی طرح بناتا ہو اور ایک ہی قوم کے حکم میں داخل کرتا ہو۔ اور تمام اسباب اشاعتِ تعلیم اور تمام وسائل اشاعت دین کے بتمامتر سہولت و آسانی پیش کرتا ہو۔ اور اندرونی اور بیرونی طور پر تعلیم حقانی کے لئے نہایت مناسب اور موزون ہو۔ سو اب وہی زمانہ ہے کیونکہ بباعث کُھل جانے راستوں اور مطلع ہونے ایک قوم کے دُوسری قوم سے اور ایک مُلک کے دُوسرے مُلک سے سامان تبلیغ کا بوجہ احسن میسر آ گیا ہے اور بوجہ انتظام ڈاک و ریل و تار و جہاز و وسائل متفرقہ اخبار وغیرہ کے دینی تالیفات کی اشاعت کے لئے بہت سی آسانیاں ہو گئی ہیں ۔ غرض

صفحہ 14

براہین احمدیہ ۶۰۱ پہلی فصل نے منع کیا ہے اور اسی کتاب کا پابند رہتا ہے جو اُس کے شارع نے دی ہے تو برخلاف قسم دوم کے کہ اُس میں انفکاک جائز ہے اور جبتک ولایت کسی ولی کی قسم سوم تک نہیں پہنچتی عارضی ہے اور خطرات سے امن میں نہیں۔ وجہ یہ کہ جبتک انسان کی سرشت میں خدا ۵۰۵ کی محبّت اور اُسکے غیر کی عداوت داخل نہیں تب تک کچھ رنگ رتبہ ظلم کا اسمیں باقی ہے کیونکہ اسکے حقِ ربوبیت کا

حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳ ۳ ؂ خَلَقَ اٰدَمَ فَاَکْرَمَہٗ۔ پیدا کیا آدم کو پس اکرام کیا اُس کا۔ جَرِیُّ اللّٰہِ فِيْ حُلَلِ الْاَنْبِيَاءِ جری اللہ نبیوں کے حلوں میں۔ اِس فقرہ الہامی کے یہ معنے ہیں کہ منصب ارشاد و ہدایت اور مورِدِ وحی الٰہی ہونے کا دراصل خاصہ انبیاء ہے اور اُن کے غیر کو بطور مستعار ملتا ہے اور یہ حِصّہ انبیاء اُمتِ محمدیہ کے بعض افراد کو بغرض تکمیل ناقصین عطا ہوتا ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِيَاءِ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ۔ پس یہ لوگ اگرچہ نبی نہیں پر نبیوں کا کام اُن کو سُپرد کیا جاتا ہے۔ وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْھَا۔ اور تھے تم ایک گڑھے کے کنارہ پر سو اُس سے تم کو خلاصی بخشی یعنے خلاصی کا سامان عطا فرمایا عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَ عَلَیْکُمْ وَ اِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَہَنَّمَ ۵۰۶

حاشیہ در حاشیہ ۴ ؂ لِلْکَافِرِیْنَ حَصِیْرًا خدائے تعالیٰ کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے جو تمپر رحم کرے۔ اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کیلئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیت اِس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حقِ محض جو دلائلِ واضحہ اور آیاتِ بیّنہ سے کھُل گیا ہے۔ اُس سے سرکش رہیں گے۔ تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائیگا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دُنیا پر اُتریں گے اور تمام راہوں اور

صفحہ 15

براہین احمدیہ ۶۰۲ پہلی فصل

منہ وہ اس صورت میں بالکل اپنے نفس سے محو ہوکر اپنے شارع کی دِقّہ داری بقیہ حاشیہ نمبر ۳ جیسا کہ چاہئے تھا ادا نہیں کیا۔ اور لقاء تام حاصل کرنے سے ہنوز قاصر ہے۔ لیکن جب اس کی سرشت میں محبت الٰہی اور موافقت باللہ بخوبی داخل ہوگئی۔ یہاں تک کہ خدا اُس کے کان ہو گیا جن سے وہ سُنتا ہے۔ اور اُس کی آنکھیں ہو گیا تہ سڑکوں کو خَس و خاشاک سے صاف کر دیں۔ گے اور کج اور ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا۔ وہ فعل بھی جو اُس کے ہاتھ کو اپنی سچی قیّومی سے نیست و نابود کر دے گا۔ اور یہ وہ مقام ہے۔ جو ماورائے مجذوب کے واقع ہوا ہے یعنے اسوقت جلالِ طور پر جلوۂ تعالےٰ اُسے مجتنب کریگا۔ اب بجائے اسکے جمالی طور پر یعنی خرقِ اوامر عسکراتی کا اتمام محبّت کر رہا ہے۔ تُوبُوْا وَ اَصْلِحُوْا وَ اِلَی اللّٰہِ تَوَجَّہُوْا وَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلُوْا وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ در حاشیہ نمبر ۳ الصَّلٰوۃِ۔ توبہ کرو اور فسق اور فجور اور کفر اور معصیت سے باز آؤ اور اپنے حال کی اصلاح کرو اور خدا کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور اُسپر توکّل کرو اور صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ اُس سے مدد چاہو۔ کیونکہ نیکیوں سے بدیاں دُور ہو جاتی ہیں۔ بُشْریٰ لَکَ یَا اَحْمَدِیْ۔ اَنْتَ مُرَادِیْ وَمَعِیْ۔ غَرَسْتُ کَرَامَتَکَ بِیَدِیْ۔ خوشخبری ہو تجھے اے میرے احمد۔ تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔ مَیں نے تیری کرامت کو اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ۔ مومنین کو کہدے کہ اپنی آنکھیں نامحرموں سے بند رکھیں اور اپنی ستر گاہوں کو اور کانوں کو نالائق اُمور سے بچاویں۔ یہی اُن کی پاکیزگی کیلئے ضروری اور لازم ہے۔ یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر یک مومن کے لئے منہیات سے پرہیز کرنا اور اپنے اعضاء کو ناجائز افعال سے محفوظ رکھنا لازم ہے اور یہی طریق اُس کی پاکیزگی کا مدار ہے۔

چشم گوش و دیدہ بند لے حق گزیں یاد گن فرمان قل للمؤمنین
صفحہ 16

براہین احمدیہ ۶۲۰ ا - باب در حاشیہ بقیہ ثبوت نمبر ۲ و نمبر ۳

اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۔ اَلْجُزْءُ نُہُمُ سُوْرَةُ اٰلِ عِمْرَانَ۔ وَلَوْ لَا اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِيْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَا اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۝ وَلَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ ۵۲۷ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰکِنَّ اللّٰهَ ذُوْفَضْلٍ

۵۲۸ آیت میں تعلیم کی گئی ہے۔ جو فرمایا ہے۔ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ۔ یہ وہ مرتبہ ہے جس میں انسان کو خدا کی محبت اور اُس کے غیر کی عداوت سرشت میں داخل ہو جاتی ہے۔ اور بطریق طبعیت اُس میں قیام پکڑتی ہے۔

میرا اور تیرا دشمن ہے۔ کہہ خدا کا امر آیا ہے سو تم جلدی مت کرو۔ جب خدا کی مدد آئیگی تو کہا جائیگا کہ کیا میں تمہارا خدا نہیں۔ کہیں گے کہ کیوں نہیں۔ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَ

یَحْزَنُوْنَ۔ تَمُوْتُ وَاَنَا رَاضٍ مِّنْكَ فَادْخُلُوْا الْجَنَّةَ اِنْشَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ۔ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا اٰمِنِیْنَ۔ سَلَامٌ عَلَیْكَ جُعِلْتَ مُبَارَکًا۔ سِمَةُ اللّٰهِ اِنَّهُ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ اَنْتَ مُبَارَكٌ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ۔ رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَبَرَکَاتُهُ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔ اُذْکُرْ نِعْمَتِی الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْكَ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ۔ یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِیْ اِلٰی رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۔ مَنَّ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ وَ اَحْسَنَ اِلَیْ اَحْبَابِکُمْ وَ عَلَّمَکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ۔ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا۔ میں تجھ کو پوری نعمت دونگا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ اور جو لوگ تیری متابعت اختیار کریں۔ یعنی حقیقی طور پر اللہ و رسول کے متبعین میں داخل ہو جائیں۔ اُن کو اُن کے مخالفوں پر جو انکاری ہیں ۔ قیامت تک غلبہ بخشوں گا۔ یعنے

له اٰل عمران : ۱۰۴ شه القصص : ۴۸

صفحہ 17

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۲

پُرانی تحریریں ۔ سُرمہ چشم آریہ

شحنۂ حق ۔ سبز اشتہار

صفحہ 18

لَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا قرآن شریف الجزء پنجم

یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ کافر مومنوں کو مغلوب کرنے کے لئے راہ پاسکیں۔

کتاب لاجواب

شحنۂ حق

جس کا دوسرا نام یہ ہے

آریوں کی کسی قدر خدمت

اور

اُن کے ویدوں اور نکتہ چینیوں کی کچھ ماہیت

یہ رسالہ جو تالیفات مرزا غلام احمد صاحب مؤلف براہین احمدیہ میں سے ہے اُس پُر افترا رسالہ کا جواب ہے جو چند قادیان کے ہندؤں کی طرف سے بامداد واعانت لیکھ رام پشاوری چشمہ نور امرتسر میں چھپا تھا سو عام فائدہ کے لئے مرزا صاحب موصوف کی طرف سے مطبع ریاض ہند امرتسر میں باہتمام شیخ نور احمد مالک مطبع طبع ہوکر شایع ہُوا

۳۲۳

صفحہ 19

۶۰

عجیب قدرت دکھلاتا ہے کہ جب امام مذکور بحالت زار نزار گھر واپس آیا تو اثر الہام برعکس پایا یعنے لڑکے کے آثار صحت دیکھے غرض کہ منہ منحوس سے یہ کلمہ نکلنا ہی تھا کہ دم بدم لڑکے کو آرام ہونے لگا۔ جب لوگوں نے مجیب الدعوات صاحب (یہ وہی لفظ ہندو کی لیاقت کا ہے) کی ہنسی اُڑائی تو جواب دیا کہ الہام غلط نہیں ہو سکتا ۔ دایم یہ بچہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ تمام ہوا تتمہ پُر افترا آریہ کا ۔

اب دیکھنا چاہئے کہ وہ کنجر جو ولد الزنا کہلاتے ہیں وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں مگر اس آریہ میں اس قدر بھی شرم باقی نہ رہی جس قوم میں اس جنس کے شریف و امین لوگ ہیں وہ کیا کچھ ترقیاں نہیں کریں گے ۔ اب اس نیک ذات آریہ پر فرض ہے کہ یک جلسہ کرا کر ہمارے روبرو اس بہتان کی تصدیق کراوے تا اصل راوی کو حلف دے کر پوچھا جائے اور اس بے اصل بہتان کے لئے نہ صرف ہم اس راوی کو حلف دیں گے بلکہ آپ بھی حلف اُٹھائیں گے فریقین کے حلف کا یہ مضمون ہو گا کہ اگر سچ سچ اپنے حافظہ کی پوری یادداشت سے بلا ذرہ کم و بیش میں نے بیان نہیں کیا تو اے خدائے قادر مطلق اور اے پرمیشر سرب شکتیمان ایک سال تک اپنے قہر عظیم سے ایسی میری بیخ کنی کر اور ایسا ہیبت ناک عذاب نازل فرما کہ دیکھنے والوں کو عبرت ہو اور پھر اگر ایک سال تک آسمانی عذاب سے اصل راوی محفوظ رہا تو ہم اپنے جھوٹا ہونے کا خود اشتہار دیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ایسے بہتان صریح کو بے فیصلہ نہیں چھوڑے گا۔ یہ تو ہمارے لئے اور ایک ملہم من اللہ کے لئے ممکن بلکہ کثیرالوقوع ہے کہ کوئی خواب یا الہام مشتبہ طور پر معلوم ہو جس کے احتمالی طور پر کئی معنے کئے جائیں مگر یہ افترا کہ قطعی طور پر یہی الہام ہو گیا کہ دین محمد جان محمد کا لڑکا اب مرے گا اس کی قبر کھودو

۲۸۶

صفحہ 20

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۳

فتح اسلام ۔ توضیح مرام

ازالہ اوہام

صفحہ 21

ٹائٹل پیج طبع اوّل

الحمدللہ والمنۃ کہ رسالہ تالیف کردہ مجدد دوران مسیح الزمان مرزا غلام احمد

رئیس قادیان موسوم بہ

الہامی یہ کتاب ان باتوں میں سے ہے جنکی نسبت خدا نے بتلادیا بحقوق طبع محفوظ ہے کوئی چھاپنے کی جرات نہ کرے الہامی

فتح اسلام

اور خدا تعالیٰ کے تجلّی خاص کی بشارت

اور اُسکی پیروی کی راہوں اور اُسکی تائید کے

طریقوں کی طرف دعوت

جمادی الاوّل ۱۳۰۸ ہجری میں

باہتمام شیخ نور احمد مالک مطبع ریاض ھند میں طبع ہوکر ہدایت عامہ و

تبلیغ پیام اور اتمام حُجّت کی غرض سے بامداد لطفِ الٰہی شائع کیا گیا۔

صفحہ 22

بیان مسیح موعود ۷ بقیہ حاشیہ بلکہ یہ زمانہ صبر وشکر کا مقام اور ایمان اور یقین کے بڑھانے کا وقت ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے وعدہ کو پورا کر دیا اور اپنے رسول کی پیشگوئی میں ایک منٹ کا بھی فرق پڑنے نہیں دیا۔ اور نہ صرف اس پیشگوئی کو پورا کر کے دکھلایا بلکہ آئندہ کے لئے بھی ہزاروں پیشگوئیوں اور خوارق کا دروازہ کھول دیا۔ اگر تم ایماندار ہو تو شکر کرو اور شکر کے سجدات ص بجالاؤ کہ وہ زمانہ جس کا انتظار کرتے کرتے تمہارے بزرگ آباء گزر گئے اور بیشمار روحیں اُس کے شوق میں ہی سفر کرگئیں۔ وہ وقت تم نے پالیا۔ اب اس کی قدر کرنا یا نہ کرنا اور اس سے فائدہ اُٹھانا یا نہ اُٹھانا تمہارے ہاتھ میں ہے۔ پس اس کو بار بار بیان کرو اور گاؤ اور اس کے اظہار سے مت

٭ مشائخ کا دستور ہو رہا ہے کہ صلحاء نام کے ہوتے ہیں نہ کہ کامل اور واقعی طور پر مجددِ دین کہا جائے بلکہ توجہ الی اللہ کو طریقِ مقصود ٹھہرانا قرآنی راہوں کی تجدید کرنا اور دین کا بہترین ۔ قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کو دنیا میں پھیلانا بیشک عمدہ طریق ہے مگر رسمی طور پر اور تکلف اور فکر اور خوض سے یہ کام کرنا اور اپنا نفس واقعی طور پر حدیث اور قرآن کا مورد نہ ہونا۔ ایسی ظاہری اور بے مغز خدمتیں ہر ایک با علم آدمی کر سکتا ہے اور ہمیشہ جاری ہیں ان کو مجددیت سے کچھ علاقہ نہیں۔ یہ تمام امور خدا تعالیٰ کے نزدیک فقط استخوان فروشی ہے اس سے بڑھکر نہیں۔ اللہ جلشانہ فرماتا ہے لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ اور ص فرماتا ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۔ اندھا اندھے کو کیا راہ دکھلاوے گا اور مجذوم دوسروں کے بدنوں کو کیا صاف کریگا۔ تجدید دین وہ پاک کیفیت ہے کہ اوّل عاشقانہ جوش کے ساتھ اس پاک دل پر نازل ہوتی ہے کہ جو مظہر الٰہی کے درجہ تک پہنچ گیا ہو۔ پھر وہ شرر جس میں جلوہ گری کی اُسکی حرارت ہوتی ہے۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخوان فروش نہیں ہوتے بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور رُوحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ انہیں ان تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں اور انکی باتیں از قبیل جوشیدن ہوتی ہیں نہ محض از قبیل کوشیدن۔ اور جو کمالات وہ دکھاتے ہیں نہ مجرد قال ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کے الہام کی تجلی انکے دلوں پر ہوتی ہے اور وہ ہر ایک مشکل کے وقت روح القدس سے سکھائے جاتے ہیں اور انکی گفتار اور کردار میں کوئی نفسانی بُو نہیں ہوتی کیونکہ وہ بکلی مصفا کئے گئے اور تمام و کمال کھینچے گئے ہیں۔ منہا ص

عہ الصف : ۳ - ۲ سہ المائدۃ : ۱۰۶

صفحہ 23

۴۹

ٹائٹل پیج طبع اول

حصہ دوم رسالہ فتح اسلام از تالیفات مجدد دوران

و مسیح الزمان مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان جن کا نام نامی ہے

الہامی

توضیح مرام

الہامی

کیا یہ سچ ہے کہ میں اُس کے پترس کی باتیں کرتا ہوں بخدا جھوٹا ہے جو

منہ لگاتا ہے، میں اُس کے پیار کی باتیں کرتا ہوں جو اُس کے من کو بھاتی ہیں،

مطبع ہند بہتمام منشی مالک دین

در مطبع ریاض ہند امرتسر باہتمام شیخ نور احمد صاحب طبع شد

صفحہ 24

توضیح مرام ۵۲ مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا

چھاپیں گے پس مدعی ہو کر مقابل پر کھڑے ہو جانا اُن کے لئے سخت حجاب ہو جائے گا جس سے باہر نکلنا اور اپنی مشہور کردہ رائے سے رجوع کرنا اُن کے لئے مشکل بلکہ محال ہوگا۔ کیونکہ ہمیشہ یہی دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی مولوی ایک رائے کو علیٰ رؤس الاشهاد ظاہر کر دیتا ہے اور اپنا فیصلہ ناطق اُسکو قرار دیتا ہے تو پھر اس رائے سے عود کرنا اُسکو موت سے بدتر دکھائی دیتا ہے۔ لہٰذا میں نے ترحماً للہ یہ چاہا کہ قبل اس کے کہ وہ مقابل پر آکر ہٹ اور ضد کی بلا میں پھنس جائیں آپ ہی اُنکو ایسے صاف اور مدلل طور پر سمجھا دیا جائے کہ جو ایک دانا اور منصف اور طالب حق کی تسلی کیلئے کافی ہو۔ اگر بعد میں پھر لکھنے کی ضرورت پڑے گی تو شاید ایسے لوگوں کے لئے وہ ضرورت پیش آوے کہ جو غایت درجہ کے سادہ لوح اور غبی ہیں جن کو آسمانی کتابوں کے استعارات مصطلحات و دقائق تاویلات کی کچھ بھی خبر بلکہ مس تک نہیں اور لا یمسہ کی نفی کے نیچے داخل ہیں۔

دیکھو متی ۱۱ ۔ باب ۱۴ آیت

" ۱۷ "

" ۱۲ "

" ۱۳ "

اب پہلے ہم صفائی بیان کے لئے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کے رو سے جن نبیوں کا اِسی وجودِ عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا؂ اور ادریس بھی ہے ۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں ۔ ان دونوں نبیوں کی نسبت عہدِ قدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کر رہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کیطرف اُٹھائے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اُتریں گے اور تم اُن کو آسمان سے آتے دیکھو گے ۔ یہاں ان ہی کتابوں سے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں لیکن حضرت ادریس کی نسبت جو بائبل میں یوحنا یا ایلیا کے نام سے پکارے گئے ہیں انجیل میں یہ فیصلہ دیا گیا ہے کہ یحییٰ بن زکریا کے پیدا ہونے سے ان کا آسمان سے اترنا وقوع میں آ گیا ہے چنانچہ حضرت مسیح صاف صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ ”یوحنا جو آنیوالا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو“ سو ایک نبی کے محکمہ سے ایک آسمان پر جانے والے اور پھر کسی وقت اترنے والے یعنی یوحنا کا مقدمہ

؂ طبعاً بلکہ الیاس پڑھا جائے۔ شمس

صفحہ 25

ازالہ اوہام ۱۴۰ حصہ اوّل

حالانکہ وہ بجائے خود اپنے تئیں محض برحق سمجھتے تھے کیونکہ اُن کی بائبل کے ظاہری الفاظ پر نظر تھی۔ ۷۲؎ افسوس کہ ہمارے مسلمان بھائی بھی اسی گرداب میں پڑے ہوئے ہیں اور حضرت مسیح کی نسبت یہودیوں کی طرح اُن کے دلوں میں بھی یہی خیال جما ہوا ہے کہ ہم اُنہیں سچ مچ آسمان پر اُڑتے دیکھیں گے اور یہ اعجوبہ ہم بچشم خود دیکھیں گے کہ حضرت مسیح زرد رنگ کی پوشاک پہنے ہوئے آسمان سے اُترتے چلے آتے ہیں اور دائیں بائیں فرشتے اُن کے ساتھ ہیں اور تمام بازاری لوگ اور دیہات کے آدمی ایک بڑے میلہ کی طرح اکٹھے ہو کر دُور سے اُن کو دیکھ رہے ہیں اور

فيه اختلافا كثيرا ۔ قل لو اتبع الله اهواءهم لفسدت السموات والارض ۷۳؎ و من فيهن ولبطلت حكمته وكان الله عزيزا حكيما ۔ قل لو كان البحر مداداً لكلمات ربي لنفد البحر قبل ان تنفد كلمات ربي ولو جئنا بمثله ۷۴؎ مدداً ۔ قل ان كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله وكان الله غفورا رحيما ۔ پھر اس کے بعد الہام کیا گیا کہ ان علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا ۔ میری عبادت گاہ ۷۵؎ میں ان کے چولھے ہیں میری پرستش کی جگہ میں ان کے پیالے اور ٹھوٹھیاں رکھی ہوئی ہیں اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں (ٹھوٹھیاں :۔ چھوٹی پیالیاں ہیں جن کو ہندوستان میں کٹوریاں کہتے ہیں عبادت گاہ سے مراد اس الہام میں زمانہ حال کے اکثر مولویوں کے دل ہیں جو دنیا سے بھرے ہوئے ہیں) اس جگہ مجھے یاد آیا کہ جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم میرزا غلام قادر میرے ۷۶؎ قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلنہ قریباً من القادیان تو میں نے سنکر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے ؟ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ اور مدینہ اور قادیان ۔ کشف تھا

صفحہ 26

ازالہ اوہام ۱۰۱ حصہ اول

نقل ٹائیٹل بار اول

حصہ اول

نہ کرے قبول پر کیا کروں خدا نے قبول کر لیا اور بڑے زوروں کے ساتھ مجھ کو اس کا سچا ہونا دکھلا دیا اب کوئی مانے یا نہ مانے

ازالۂ اوہام

فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ

الحمد والمنت کہ بماہ مبارک ذی الحجہ ۱۳۰۸ھ کتاب جامع معارف قرآنی و شارح اسرار کلام ربانی از تالیفات مرسل یزدانی و مامور رحمانی جناب میرزا غلام احمد صاحب قادیانی

مَطْبَعِ رِيَاضِ هِنْدِ میں بِاِهْتِمَامِ شَيْخْ اَمْجَدْ عَلِيّ مطبوع گردید بِفَرْمَائِشِ مُتَكَفِّلِ مُهِمَّاتِ مَسِيحِيّ نُورِ مُحَمَّدْ مَالِكِ مَطْبَعِ مَذْكُورِ

تعداد جلد ۴۰۰ قیمت فی جلد ٤؍

صفحہ 27

ازالہ اوہام ۱۴۲ حصہ اول

افسوس کہ ہماری قوم کے لوگ استعارات کو حقیقت پر حمل کر کے سخت پیچیدگی میں پھنس گئے ہیں اور ایسی مشکلات کا سامنا انہیں پیش آ گیا ہے کہ اب اُن سے بآسانی نکلنا اُن لوگوں کیلئے سخت دشوار ہے اور جو نکلنے کی راہیں ہیں وہ انہیں قبول نہیں کرتے ۔ مثلاً صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اُتریں گے تو اُن کا لباس زرد رنگ کا ہو گا اس لفظ کو ظاہری لباس پر حمل کرنا کیسا لغو خیال ہے زرد رنگ پہننے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی لیکن اگر اس لفظ کو ایک کشفی استعارہ قرار دے کر معبّرین کے مذاق اور تجربہ کے موافق اُسکی تعبیر کرنا چاہیں

تو یہ کہ جب وہ مسیح آئے گا تو مسلمانوں کی اندرونی حالت کو جو اُس وقت بغایت درجہ بگڑی ہوئی ہو گی اپنی صحیح تعلیم سے درست کرے گا اور اُن کے روحانی افلاس اور باطنی ناداری کو بکلی دور فرما کر جواہرات علوم وحقائق ومعارف اُن کے سامنے رکھ دے گا یہاں تک کہ وہ لوگ اس دولت کو لیتے لیتے تھک جائینگے اور اُن میں سے کوئی طالب حق روحانی طور پر مفلس اور نادار نہیں رہے گا بلکہ جس قدر سچائی کے بھوکے اور پیاسے ہیں اُن کو بکثرت طیب غذا صداقت کی اور شربت شیریں معرفت کا پلایا جائے گا اور علوم حقہ کے موتیوں سے اُن کی جھولیاں پُر کر دی جائیں گی اور جو مغز اور لب لباب قرآن شریف کا ہے اس عطر کے بھرے ہوئے شیشے اُن کو دئے جائیں گے۔

دوسری علامت خاصہ یہ ہے کہ جب وہ مسیح موعود آئے گا تو صلیب کو توڑے گا اور خنزیروں کو قتل کریگا اور دجال یک چشم کو قتل کر ڈالے گا اور جس کافر تک اس کے دم کی ہوا پہنچے گی وہ فی الفور مر جائیگا سو اس علامت کی اصل حقیقت جو روحانی طور پر مراد رکھی گئی ہے یہ ہے کہ مسیح دنیا میں آ کر صلیبی مذہب کی شان و شوکت کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالے گا اور اُن لوگوں کو جن میں خنزیروں کی بے حیائی اور خوکوں کی بے شرمی اور نجاست خوری ہے اُن پر دلائل قاطعہ کا ہتھیار چلا کر ان سب کا کام تمام کرے گا اور وہ لوگ جو صرف دنیا کی آنکھ رکھتے ہیں مگر دین کی آنکھ بکلی ندارد ۔ بلکہ ایک بد نما ٹینٹ اُس میں نکلا ہوا ہو اُنکو تین حجتوں کی سیف قاطعہ سے ملزم کر کے اُن کی منکرانہ ہستی کا خاتمہ کر دے گا اور نہ صرف ایسے یک چشم لوگ بلکہ ہر ایک کافر جو دینِ محمدی کو بنظر احتقار دیکھتا ہے مسیحی دلائل کے جلالی دم سے روحانی طور پر مارا جائے گا ۔ غرض یہ سب عبارتیں استعارہ کے طور پر واقع ہیں جو اس عاجز پر

صفحہ 28

حصہ اول ۱۷۰ ازالہ اوہام خاتم النبیین وخیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شوشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا ۱۳۰ جو احکام قرآنی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے اور ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ ادنیٰ درجہ صراط مستقیم کا بھی بغیر اتباع ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ راہ راست کے اعلیٰ مدارج بجز اقتدا اس امام الرسل کے حاصل ہو سکیں کوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت اور قرب کا بغیر سچی اور کامل متابعت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم ہرگز حاصل کر ہی نہیں سکتے ہمیں جو کچھ ملتا ہے محض طفیلی اور ظلی طور پر ملتا ہے اور ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ جو راستباز اور کامل لوگ شرف صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہو کر تکمیل منازل سلوک کر چکے ہیں اُن کے کمالات کی نسبت بھی ہمارے کمالات اگر ہمیں حاصل ہوں بطور ظل کے واقع ہیں اور اُن میں بعض ایسے جزئی فضائل ہیں جو اب ہمیں کسی طرح سے حاصل نہیں ہو سکتے ۔ غرض ہمارا اُن تمام باتوں پر ایمان ہے جو قرآن شریف میں مندرج ہیں اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدائے تعالیٰ کی طرف سے لائے اور تمام محدثات اور ۱۴۱ بدعات کو ہم ایک فاحش ضلالت اور جہنم تک پہنچانے والی راہ یقین رکھتے ہیں گو افسوس کہ ہماری قوم میں ایسے لوگ بہت ہیں جو بعض حقائق اور معارف قرآنیہ اور دقائق آثار نبویہ کو جو اپنے وقت پر بذریعہ کشف و الہام زیادہ تر صفائی سے کھلتے ہیں محدثات اور بدعات میں ہی داخل کر لیتے ہیں حالانکہ معارف مخفیہ قرآن و حدیث ہمیشہ اہل کشف پر کھلتے رہے ہیں

صفحہ 29

ازالہ اوہام ۱۷۱ حصہ اول

اور علماء وقت اُن کو تسلیم کرتے رہے ہیں لیکن اس زمانہ کے اکثر علماء کی یہ عجیب عادت ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ کا الہام ولایت جس کا کبھی سلسلہ منقطع نہیں اپنے وقت پر بعض مجمل مکاشفات نبویہ اور استعارات سربستہ قرآنیہ کی کوئی تفسیر کرے تو بنظر انکار و استہزاء اُس کو دیکھتے ہیں حالانکہ اُصول میں ہمیشہ یہ حدیث پڑھتے ہیں کہ قرآن شریف کیلئے ظہر و بطن دونوں ہیں اور اس کے عجائبات قیامت تک ختم نہیں ہو سکتے اور ہمیشہ اپنے منہ سے اقرار کرتے ہیں کہ اُمتِ محمدیہ میں کشوف و الہامات اولیاء کو وحی صحیح کے قائم مقام سمجھتے رہے ہیں۔ ہم نے جو رسالہ فتح اسلام اور توضیح مرام میں اس اپنے کشفی والہامی امر کو شائع کیا ہے کہ

(مسیح)

مسیح موعود سے مراد یہی عاجز ہے میں نے سُنا ہے کہ بعض ہمارے علماء اس پر بہت افروختہ ہوئے ہیں اور انہوں نے اس بیان کو ایسی بدعات میں سے سمجھ لیا ہے کہ جو خارج اجماع اور برخلاف عقیدہ متفق علیہا کے ہوتی ہیں حالانکہ ایسا کرنے میں اُن کی بڑی غلطی ہے۔ اوّل تو یہ جاننا چاہیے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہماری ایمانیات کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رُکن ہو بلکہ صدہا پیشگوئیوں میں سے یہ ایک پیشگوئی ہے جس کو حقیقتِ اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں جس زمانہ تک یہ پیشگوئی بیان نہیں کی گئی تھی اُس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اُس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا۔ اور پیشگوئیوں کے بارہ میں یہ ضروری نہیں کہ وہ ضرور اپنی ظاہری صورت میں ہی پوری ہوں بلکہ اکثر پیشگوئیوں میں ایسے ایسے استعارے پوشیدہ ہوتے ہیں کہ قبل از ظہور پیشگوئی خود انبیاء کو ہی جن پر وہ وحی نازل ہو سمجھ میں نہیں آسکتے چہ جائیکہ دوسرے لوگ ان کو یقینی طور پر سمجھ لیں۔ دیکھو جس حالت میں ہمارے سیّد و مولیٰ آپ اس بات کا

۱۷۱

اقرار کرتے ہوں کہ بعض پیشگوئیوں کو میں نے کسی اور صورت پر سمجھا اور ظہور اُن کا کسی اور صورت پر ہوا۔ تو پھر دوسرے لوگ گو فرض کے طور پر ساری اُمت ہی کیوں نہ ہو کب ایسا دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہماری سمجھ میں غلطی نہیں۔ سلف صالح ہمیشہ اس طریق کو پسند کرتے رہے ہیں

صفحہ ۱۷۹

ازالہ اوہام حصہ اول بتلاویں کہ کس نے اس صدی کے سر پر خدا تعالےٰ سے الہام پاکر مجدّد ہونے کا دعویٰ کیا ہے یوں تو ہمیشہ دین کی تجدید ہو رہی ہے مگر حدیث کا تو یہ منشاء ہے کہ وہ مجدّد خدائے تعالےٰ کی طرف سے آئے گا یعنی علوم لَدُنّیہ و آیاتِ سماویہ کے ساتھ۔ اب بتلاویں کہ اگر یہ عاجز حق پر نہیں ہے تو پھر کون آیا جس نے اس چودھویں صدی کے سر پر مجدّد ہونے کا ایسا دعویٰ کیا جیسا کہ اس عاجز نے کیا کوئی الہامی دعویٰ کے ساتھ تمام مخالفوں کے مقابل پر ایسا کھڑا ہوا جیسا کہ یہ عاجز کھڑا ہوا۔ تفکروا وتندموا واتقوا اللّٰہ ولا تغفلوا اور اگر یہ عاجز مسیح موعود ہونے کے دعویٰ میں غلطی پر ہے تو آپ لوگ کچھ کوشش کریں کہ مسیح موعود جو آپ کے خیال میں ہے انہیں دنوں میں آسمان سے اتر آوے کیونکہ میں تو اس وقت موجود ہوں مگر جس کے انتظار میں آپ لوگ ہیں وہ موجود نہیں اور میرے دعویٰ کا ٹوٹنا صرف اسی صورت میں متصوّر ہے کہ اب وہ آسمان سے اتر ہی آوے۔ ۱۵۹ تا میں ملزم ٹھہر سکوں۔ آپ لوگ اگر سچ پر ہیں تو سب مل کر دعا کرو کہ مسیح ابن مریم جلد آسمان سے اترتے دکھائی دیں اگر آپ حق پر ہیں تو یہ دعا قبول ہو جائے گی کیونکہ اہلِ حق کی دُعا مبطلین کے مقابل پر قبول ہو جایا کرتی ہے۔ لیکن آپ یقیناً سمجھیں کہ یہ دُعا ہرگز قبول نہیں ہو گی کیونکہ آپ غلطی پر ہیں سچ تو آچکا لیکن آپ نے اُس کو شناخت نہیں کیا اب یہ اُمید موہوم آپ کی ہرگز پوری نہیں ہوگی یہ زمانہ گزر جائے گا اور کوئی ان میں سے مسیح کو اُترتے نہیں دیکھے گا۔

حالانکہ تیرہویں صدی کے اکثر علماء چودھویں صدی میں اُس کا ظہور معین کر گئے ہیں اور بعض تو چودھویں صدی والوں کو بطور وصیت یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ اگر اُن کا زمانہ پاؤ تو ہمارا السلام علیکم اُنہیں کہو۔ شاہ ولی اللہ صاحب رئیس المحدثین بھی انہیں میں سے ہیں۔ بالآخر ہم یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور بھی

صفحہ 31

ازالہ اوہام ۱۸۰ حصہ اول

مسیح کا مثیل بن کر آوے کیونکہ نبیوں کے مثیل ہمیشہ دنیا میں ہوتے رہتے ہیں

۱۵۶

بلکہ خدائے تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیشگوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے کہ میری ہی ذریت سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہوگی وہ آسمان سے اترے گا اور زمین والوں کی راہ سیدھی کرے گا وہ اسیروں کو رستگاری بخشے گا اور اُن کو جو شبہات کے زنجیروں میں مقید ہیں رہائی دیگا۔ فرزند دلبند گرامی وارجمند مظہر الحق والعلاء كَاَنَّ الله نزل من السماء لیکن یہ عاجز ایک خاص پیشگوئی کے مطابق جو خدائے تعالیٰ کی مقدس کتابوں میں پائی جاتی ہے مسیح موعود کے نام پر آیا ہے۔ واللّٰہ اعلم وعلمہ احکم۔

جائیکہ از مسیح و نزولش سخن رود
گویم سخن اگر چہ ندارند باورم
کَاندر دلم دمید خداوند کردگار
کای برگزیدہ راز رو صدق مظہرم
موعودم و بحلیہ ماثور آمدم
حیف است گر بدیدہ نہ بینند منظرم
رنگم چو گندم است و بمو فرق بین ست
زانساں کہ آمد است در اخبار سرورم
ایں مقدم نہ جاے شکوکست و التباس
سید جدا کند ز مسیحائے احمرم
از کلمہ منارۂ شرقی عجب مدار
چوں خود ز مشرق است تجلیٰ نیرم
اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسٰی کجاست تا بہ نہد پا بمنبرم
صفحہ 32

ازالہ اوہام ۱۹۲ حصہ اول

۱۹۰ منہ

علمائے ہند کی خدمت میں نیاز نامہ

اے برادران دین و علمائے شرع متین! آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو تم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سُنا گیا ہو بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدائے تعالیٰ سے پا کر براہین احمدیہ کے کئی مقامات میں تصریحاً درج کر دیا تھا جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہو گا۔ پس یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعض روحانی خواص طبع اور عادات اور

۱۹۱

اخلاق وغیرہ کو خدائے تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھی ہیں اور دوسرے کئی انوار پیشتر جن کی تصریح انہی رسالوں میں کر چکا ہوں میری زندگی کو مسیح ابن مریم کی زندگی سے سخت مشابہت ہے اور یہ بھی میری طرف سے کوئی نئی بات ظہور میں نہیں آئی کہ میں نے ان رسالوں میں اپنے تئیں وہ موعود ٹھہرایا ہے جس کے آنے کا قرآن شریف میں اجمالاً اور احادیث میں تصریحاً بیان کیا گیا ہے کیونکہ میں تو پہلے بھی براہین احمدیہ میں تصریح لکھ چکا ہوں کہ میں وہی مثیل موعود ہوں جس کے آنے کی خبر روحانی طور پر قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں پہلے سے وارد ہو چکی ہے۔ تعجب کہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ نمبر ۶ جلد سات میں جس میں براہین احمدیہ کا ریویو لکھا ہے ان تمام الہامات کی اگرچہ ایمانی طور پر نہیں مگر امکانی طور پر تصدیق کر چکے اور بدل و جان مان چکے ہیں مگر پھر بھی سُنا جاتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب موصوف کو بھی اور لوگوں کا شور اور غوغا دیکھ کر

صفحہ 33

ازالۃ الاوہام ۲۰۹ حصہ اول

تب وہ شخص زندہ ہو کر ایک روشن اور چمکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ اس کے سامنے آجائیگا اور اس کی الوہیت سے انکار کرے گا سو دجال اسی قسم کی گمراہ کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہو گا کہ ناگہاں مسیح ابن مریم ظاہر ہو جائے گا اور وہ ایک منارہ سفید کے پاس دمشق کے شرقی طرف اترے گا مگر ابن ماجہ کا قول ہے کہ بیت المقدس میں اترے گا اور بعض

۲۱۹

کہتے ہیں کہ نہ بیت المقدس اور نہ دمشق بلکہ مسلمانوں کے لشکر میں اترے گا جہاں حضرت مہدی ہونگے۔

اور پھر فرمایا کہ جس وقت وہ اترے گا اس وقت اس کی زرد پوشاک ہوگی یعنی زرد رنگ کے دو کپڑے اُس نے پہنے ہوئے ہوں گے (یہ اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت اُس کی صحت کی حالت اچھی نہیں ہوگی) اور دونوں ہتھیلیاں اُس کی دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہوں گی۔ مگر بخاری کی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن مریم کو بجائے دو فرشتوں کے دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر طواف کرتے دیکھا۔ پس اس حدیث سے نہایت صفائی سے یہ بات کھلتی ہے کہ دمشقی حدیث میں جو دو فرشتے لکھے ہیں وہ دراصل وہی دو آدمی ہیں کہ دوسری حدیث میں بیان کئے گئے ہیں اور اُن کے کندھوں پر ہاتھ رکھنے سے مطلب یہ ہے کہ وہ مسیح کے مددگار اور انصار ہو جائیں گے۔

اور

صفحہ 34

ازالہ اوہام ۲۲۵ حصہ اول

کہ حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں اور ناظرین پر واضح ہو گا کہ حضرت ابن عباس قرآن کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارہ میں اُن کے حق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا بھی ہے ۔

پھر اسی معالم میں لکھا ہے کہ وہب سے یہ روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ ۲۴۸ تین گھنٹہ کے لئے مر گئے تھے اور محمد بن اسحاق سے روایت ہے کہ نصاریٰ کا یہ گمان ہو کہ سات گھنٹہ تک مرے رہے مگر مؤلف رسالہ ہٰذا کو تعجب ہے کہ محمد بن اسحاق نے سات گھنٹہ تک مرنے کی نصاریٰ کی کن کتابوں سے روایت لی ہے کیونکہ تمام فرقے نصاریٰ کے اسی قول پر متفق نظر آتے ہیں کہ تین دن تک حضرت عیسیٰ مرے رہے اور پھر قبر میں سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور چاروں انجیلوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے اور خود حضرت عیسیٰ انجیلوں میں اپنی تین دن کی موت کا اقرار بھی کرتے ہیں بہر حال موت ان کی ثابت ہے اور ماسوا ان دلائل متذکرہ کے یہود و نصاریٰ کا بالاتفاق اُن کی موت پر اجماع ہو اور انکی موت پر تواتر اُن کے مرنے پر شاہد ہے اور پہلی کتابوں میں بھی بطور پیشگوئی اُن کے مرنے کی خبر دی گئی تھی ۔

اب یہ گمان کہ مرنے کے بعد پھر اُن کی روح اُسی جسم خاکی میں داخل ہو گئی اور وہ جسم زندہ ہو کر آسمان کی طرف اٹھایا گیا ۔ یہ سراسر غلط گمان ہے یہ بات بالاتفاق جمیع کتب الٰہیہ ثابت ہے کہ انبیاء و اولیاء مرنیکے بعد پھر زندہ ۲۴۹ ہو جایا کرتے ہیں یعنی ایک قسم کی زندگی انہیں عطا کی جاتی ہے جو دوسروں کو نہیں عطا کی جاتی ۔ اسی طرف وہ حدیث اشارہ کرتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ مجھے قبر میں میت رہنے نہیں دے گا اور زندہ کر کے اپنی طرف اُٹھا لے گا ۲۵۰ اور زبور نمبر ۱۶ میں بھی حضرت

حاشیہ : اصل ترجمہ حدیث کا یہ ہے کہ میری عزت خدا تعالیٰ کی جناب میں اس سے زیادہ ہے کہ مجھے چالیس دن تک قبر میں رکھے یعنی میں اس مدت کے اندر اندر زندہ ہو کر آسمان کی طرف اٹھایا جاؤں گا ۔ اب دیکھنا چاہیے

صفحہ 35

حصہ اول ۲۵۴ ازالہ اوہام

۳۰۱ اور اگر یہ کہا جاوے کہ قرآن شریف کے ایسے معنے کرنا کہ جو پہلوں سے منقول نہیں ہیں الحاد ہے جیسے مولوی عبد الرحمٰن صاحبزادہ مولوی محمد لکھوی نے اس عاجز کی نسبت لکھا ہے تو میں کہتا ہوں کہ میں نے کوئی ایسے اجنبی معنے نہیں کئے جو مخالف ان معنوں کے ہوں جن پر صحابہ کرام اور ۳۰۲ تابعین اور تبع تابعین کا اجماع ہو۔ اکثر صحابہ مسیح کا فوت ہو جانا مانتے رہے، دجال معہود کا فوت ہو جانا مانتے رہے پھر مخالفانہ اجماع کہاں سے ثابت ہوا۔ قرآن شریف میں میرے نزدیک ایسی شہادتیں ہیں جو مسیح ابن مریم کے فوت ہونے پر دلالت یقینی کر رہی ہیں۔ غرض یہ ۳۰۳ بات کہ مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور اسی جسم کے ساتھ اُترے گا ثبوت بپایہ

۱ یہاں یہ شبہ نہ رہے کہ بفرض توجیہہ عبث نہیں ہوتا جیسے شق القمر جو ہمارے سید ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھلایا تھا (۲) دوسرے عقلی معجزات ہیں جو اس خارق عادت عقل کے ذریعہ سے ظہور پذیر ہوتے منہ ہیں جو الہام الٰہی سے ملتی ہے جیسے حضرت سلیمان کا یہ معجزہ جو صَرْحٌ مُمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ جس کو دیکھ کر بلقیس کو ایمان نصیب ہوا ۔

۳ اب جاننا چاہیئے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ اُن دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے اور در اصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔ وہ لوگ جو فرعون کے وقت میں مصر میں ایسے ایسے کام کرتے تھے جو سانپ بنا کر دکھلا دیتے تھے اور کئی قسم کے جانور طیار کر کے ان کو زندہ جانوروں کی طرح چلا دیتے تھے ۔ وہ حضرت مسیح کے وقت میں منہ عام طور پر یہودیوں کے ملکوں میں پھیل گئے تھے اور یہودیوں نے اُن کے بہت سے ساحرانہ کام سیکھ لئے تھے جیسا کہ قرآن کریم بھی اس بات کا شاہد ہے۔ سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالےٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو ۔ کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک

النمل : ۴۴

صفحہ 36

حصہ اول ۲۵۵ ازالہ اوہام

دوسرے یہ بھی بات ہے صحابہ کا ہرگز اس پر اجماع نہیں۔ بھلا اگر ہے تو کم سے کم تین سو یا چار سو صحابہ کا نام لیجئے جو اس بارہ میں اپنی شہادت ادا کر گئے ہیں ورنہ ایک یا دو آدمی کے بیان کا نام اجماع رکھنا سخت بد دیانتی ہے۔ ماسوا اس کے یہ بھی ان حضرات کی سراسر

۳۰۴

غلطی ہے ۔ قرآن کریم کے معانی کو بزمانہ گذشتہ محدود و مقید سمجھتے ہیں۔ اگر اس خیال کو تسلیم کر لیا جاوے تو پھر قرآن شریف معجزہ نہیں رہ سکتا۔ اور اگر ہو بھی تو شاید اُن عربیوں کے لئے جو بلاغت شناسی کا مذاق رکھتے ہیں۔

۳۰۵

جاننا چاہیئے کہ کھلا کھلا اعجاز قرآن شریف کا جو ہر ایک قوم اور ہر ایک اہل زبان پر روشن

بڑھئی کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے بنانے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے اور جیسے انسان میں قوے موجود ہوں ان کے موافق اعجاز کے طور پر بھی مدد ملتی ہے جیسے ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی

۳۰۶

قوے حقائق اور معارف تک پہنچنے میں نہایت تیز و قوی تھے ۔ سو اسی کے موافق قرآن شریف کا معجزہ عطا ہوا جو جامع جمیع دقائق و معارف الٰہیہ ہے ۔ پس اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیئے کہ حضرت مسیح نے اپنے ابا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو عقلی معجزہ دکھلایا ہو اور ایسا معجزہ دکھلانا عقل سے بعید بھی نہیں کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دُم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں ۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بکتے ہیں اور یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں تو اس فن میں اور ہر سال نئے نئے نکلتے آتے ہیں ۔ اور چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے اس لئے ان آیات کے روحانی طور پر معنی بھی کر سکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ اُمّی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسیٰ نے اپنا رفیق بنایا گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ بنایا پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی جس سے وہ پرواز کرنے لگے ۔

۳۰۷

ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز بطریق عمل التنویم بھی کرنے کی طاقت

صفحہ 37

حصہ اول ۲۵۶ ازالہ اوہام

ہو سکتا ہے جس کو پیش کر کے ہم ہر ایک ملک کے آدمی کو خواہ ہندی ہو یا پارسی یا یورپین یا ص ۳۰۳ امریکن یا کسی اور ملک کا ہو ملزم و ساکت ولاجواب کر سکتے ہیں۔ وہ غیر محدود معارف و حقائق وعلوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر ایک زمانہ کے خیالات کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں۔ اگر ص ۳۰۴ قرآن شریف اپنے حقائق و دقائق کے لحاظ سے ایک محدود چیز ہوتی تو ہرگز وہ معجزہ تامہ نہ ٹھہر سکتا تھا۔ فقط بلاغت وفصاحت ایسا امر نہیں ہے جس کی اعجازی کیفیت ہر ایک ناخواندہ کو معلوم ہو جائے کھلا کھلا اعجاز اس کا تو یہی ہے کہ وہ غیر محدود معارف اور

* سے بطور لہو و لعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں۔ انسان کی روح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ ص ۳۰۵ کسی لکڑی ایک جماد پر جو بالکل بے جان ہے ڈال سکتی ہے۔ تب جماد سے وہ بعض حرکات صادر ہونے لگتی ہیں جو جان داروں سے صادر ہوا کرتی ہیں۔ راقم رسالہ ہذا نے اس علم کے بعض مشق کرنے والوں کو دیکھا ہے کہ ص ۳۰۶ کہ انہوں نے ایک لکڑی کی تپائی پر ہاتھ رکھ کر ایسا اپنی حیوانی روح سے اُسے گرم کیا کہ اس نے چاروں طرف حرکت کرنا شروع کر دیا اور کتنے آدمی گھوڑے کی طرح اس پر سوار ہوئے اور اس کی تپائی ہونے میں کچھ کمی نہ ہوئی۔ سو یقینی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اگر ایک شخص اس فن میں کامل مشق رکھے اور مٹی کا ایک پرندہ بنا کر اس کو پرواز کرانا چاہے تو وہ بھی دکھا دے تو کچھ بعید نہیں کیونکہ کچھ اندازہ نہیں کہ اس فن کے کمال کی کہاں تک انتہاء ہے۔ اور جبکہ ہم چشم خود دیکھتے ہیں کہ اس فن کے ذریعے ایک جماد میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ جانداروں کی طرح چلنے لگتا ہے تو پھر اگر کسی پرندہ میں پرواز بھی ہو تو بعید کیا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ایسا جانور جو مٹی یا لکڑی وغیرہ سے بنا ص ۳۰۷ ہو اور عمل الترب سے اپنی روح کی گرمی اس کو پہنچائی جاوے وہ درحقیقت زندہ نہیں ہوتا بلکہ بدستور بے جان اور جماد ہوتا ہے صرف عامل کے روح کی گرمی بالارادہ اس کو جنبش میں لاتی ہے ۔ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآنی منشاء کے

۱۵۶

صفحہ 38

براہین ۲۵۷ حصہ اول

منہ ۳۰۸

بے بہرہ رکھتا ہے جو شخص قرآن شریف کے اس اعجاز کو نہیں مانتا وہ علم قرآن سے سخت بے نصیب ہے ومن لم یؤمن بھذا الاعجاز فواللہ ما قدر القرآن حق قدرہ

منہ ۳۰۹

ولا عرف اللہ حق معرفتہ وما وقر الرسول حق توقیرہ۔ اے بندگانِ خدا! یقیناً یاد رکھو کہ قرآن شریف میں غیبیہ محامد ومعارف وحقائق کا اعجاز ایسا اکمل اعجاز ہے جس نے ہر ایک زمانہ میں تلوار سے زیادہ کام کیا ہے اور ہر ایک زمانہ اپنی نئی

منہ ۳۱۰

حالت کے ساتھ جو کچھ شبہات پیش کرتا ہے یا جس قسم کے اعلیٰ معارف کا دعویٰ کرتا ہے ان کی پوری مدافعت اور پورا الزام اور پورا پورا مقابلہ قرآن شریف میں موجود ہے کوئی شخص

* ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان کا جن اور مجنون ہونا بھی بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا اور نہ درحقیقت ان کا زندہ ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔ اس جگہ یہ بھی جاننا چاہیئے کہ سلب امراض کرنا یا اپنی روح کی گرمی بیمار میں ڈال دینا درحقیقت یہ سب عمل الترب کی شاخیں ہیں۔ ہر یک زمانہ میں ایسے لوگ ہوتے رہتے ہیں اور اب بھی ہیں جو اس روحانی عمل کے ذریعہ سے سلب امراض کرتے رہتے ہیں اور مفلوج ، مجذوم، مدقوق وغیرہ ان کی توجہ سے اچھے

منہ ۳۱۱

ہوتے رہتے ہیں جن لوگوں کی معلومات وسیع ہیں وہ میرے اس بیان پر شہادت دے سکتے ہیں کہ بعض فقراء نقشبندی وسہروردی وغیرہ نے بھی ان مشقوں کی طرف بہت توجہ کی تھی اور بعض ان میں اس قدر مشاق گزرے ہیں کہ صد ہا بیماروں کو اپنے یمین و یسار میں بٹھا کر صرف نظر سے اچھا کر دیتے تھے اور محی الدین ابن عربی صاحب کو بھی اس میں خاص درجہ کی مشق تھی۔ اولیاء اور اہل سلوک کی تواریخ اور سوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں مگر بعض لوگ اپنی ولایت کا ایک ثبوت بنانے کی غرض سے یا کسی اور نیت سے ان شغلوں میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اور اب یہ بات قطعی اور یقینی

منہ ۳۱۲

طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن وحکم الٰہی الیسع کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے گو الیسع کے درجہ کاملہ سے کم رتبہ ہوتے تھے۔ کیونکہ الیسع کی لاش نے بھی معجزہ دکھلایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہو گیا مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم کے ساتھ لگنے سے ہرگز زندہ نہ ہو سکیں یعنی وہ دو چور جو مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔ بہر حال مسیح کی یہ ٹونے کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ عمل اس قدر کے لائق نہیں۔ جیسا کہ

۱۵۷

صفحہ ۲۵۸

ازالہ اوہام

برہمو یا بدھ مذہب والا یا آریہ یا کسی اور رنگ کا فلسفی کوئی ایسی الٰہی صداقت نکال نہیں ۳۱۱ سکتا جو قرآن شریف میں پہلے سے موجود نہ ہو۔ قرآن شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے جس طرح صحیفہ فطرت کے عجائب و غرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں یہی حال ان صحف مطہرہ کا ہے تا خدائے تعالیٰ کے قول میں مطابقت ثابت ہو۔ اور میں اس سے پہلے لکھ چکا ہوں کہ قرآن شریف کے عجائبات ۳۰۲ الہام میرے پر کھلتے رہتے ہیں اور اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ تفسیروں میں ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔ مثلاً یہ جو اس عاجز پر کھلا ہے کہ ابتدائے خلقت آدم سے جس قدر آنحضرت صلی اللہ

ص۳۱ توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔ لیکن مجھے وہ راہ پسند ہے جس پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قدم مارا ہے اور حضرت مسیح نے بھی اس عمل مسمریزم کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو ان کی فطرت میں مرکوز تھے باذن و بحکم الٰہی اختیار کیا تھا مسیح کو بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔ واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت بُرا خاصہ یہ ہے کہ جو شخص

اسکی اُن روحانی تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں بہت ضعف آجاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے اس کے حق میں بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماروں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے مگر جہالت دور کرنے اور توحید اور ص۳۱۱ استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں اُنکی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔ لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ ان جسمانی امور کی طرف توجہ نہ فرمائی اور تمام زور اپنی روح کا دلوں میں ہدایت پیدا ہونے کیلئے ڈالا اسی وجہ سے تکمیل نفوس میں بڑھ کر رہے۔ بلکہ ہزار ہا بندگانِ خدا کو کمال کے درجہ تک پہنچا دیا اور اصلاح خلق اور امداد فی تبدیل اخلاق میں وہ مینہ برسایا جس کی ابتدائے دنیا سے آج تک نظیر نہیں پائی جاتی حضرت مسیح کے عمل سے وہ مرے جو زندہ ہوئے تھے یعنی قریباً تین آدمی جو گویا نئے سرے زندہ ہو گئے تھے وہ

صفحہ ۲۶۴

40

حصہ اوّل ازالہ اوہام

اُن کے بعض مکتوبات اس عاجز کے پاس موجود ہیں انشاء اللہ بوقت ضرورت شائع کئے جائیں گے ۔

٣٤٤

اب مولوی عبد الرحمٰن صاحب براہ مہربانی فرماویں کہ جبکہ سلف صالح کے خلاف قرآن شریف کے معنے کرنے سے انسان ملحد ہو جاتا ہے اور اسی وجہ سے یہ عاجز بھی ان کی نظر میں ملحد ہے کہ خدا تعالیٰ کے الہام سے بعض آیات کے معانی مخفی

٣٤٥

اس پر ظاہر ہوتے ہیں تو پھر مولوی عبد اللہ صاحب مرحوم غزنوی کی نسبت جو انکے مرشد ہیں کیا فتویٰ ہے؟

یہ ظاہر ہے کہ مسیح جو جو کام اپنی قوم کو دکھلاتا تھا وہ دعا کے ذریعہ سے ہرگز نہیں تھے اور قرآن شریف میں بھی کسی جگہ یہ ذکر نہیں کہ مسیح بیماروں کو چنگا کرنے یا پرندوں کے بنانے کے وقت دعا کرتا تھا بلکہ وہ اِسی روح کے ذریعہ سے جس کو روح القدس کے فیضان سے برکت بخشی گئی تھی ایسے ایسے کام اقتداری طور پر دکھلاتا تھا چُنانچہ جس نے کبھی اِسی عمل میں نور سے تکمیل پائی ہو گی وہ تمہارے اِس بیان کی بہ یقین تام تصدیق کریگا اور

٣٤٦

قرآن شریف کی آیات بھی بآواز بلند یہی پکار رہی ہیں کہ مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اسکو طاقت بخشی گئی تھی اور خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہر یک ذرہ بشر کی فطرت میں مودع ہے مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں ۔ چُنانچہ اس بات کا تجربہ اسی زمانہ میں ہورہا ہے ۔ مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم مفلوج مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے لیکن بعد کے زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دِکھلائے اُس وقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہیں تھا

٣٤٧

غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور اُن میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا ۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی ۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی

٣٤٨

ہی رہتی تھی ۔ جیسے سامری کا گوسالہ ۔ فتدبر فانہ نکتۃ جلیلۃ ما یلقہا الا ذو حظ عظیم ۔ منہ *

صفحہ 40

ازالہ اوہام ۲۶۳ حصہ اول

اُن کے بعض مکتوبات اس عاجز کے پاس موجود ہیں انشاء اللہ بوقت ضرورت شائع کئے جائیں گے۔

۳۲۲

اب مولوی عبد الرحمٰن صاحب براہ مہربانی فرماویں کہ جبکہ سلف صالح کے نزدیک قرآن شریف کے معنے کرنے سے انسان ملحد ہو جاتا ہے اور اسی وجہ سے یہ عاجز بھی اُن کی نظر میں ملحد ہے کہ خدا تعالیٰ کے الہام سے بعض آیات کے معانی مخفی

۳۲۳

ظاہر کرتا ہے تو پھر مولوی عبد اللہ صاحب مرحوم غزنوی کی نسبت جو اُنکے مرشد ہیں کیا فتویٰ ہے؟

منہ: ظاہر ہے کہ مسیح جو جو کام اپنی قوم کو دکھلاتا تھا وہ دعا کے ذریعہ سے ہرگز نہیں تھے اور قرآن شریف میں بھی کسی جگہ یہ ذکر نہیں کہ مسیح بیماروں کے چنگا کرنے یا پرندوں کے بنانے کے وقت دعا کرتا تھا بلکہ وہ اپنی روح کے ذریعہ سے جس کو روح القدس کے فیضان سے برکت بخشی گئی تھی ایسے ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا

۳۲۴

تھا چنانچہ جس نے کبھی اپنی عمر میں غور سے مسمریزم کی کتابیں پڑھی ہونگی وہ ہمارے اس بیان کی بہ یقین تمام تصدیق کریگا اور قرآن شریف کی آیات بھی بآواز بلند یہی پکار رہی ہیں کہ مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اسکو طاقت بخشی گئی تھی اور خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہر ایک فرد بشر کی فطرت میں مودع ہے مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں۔ چنانچہ اس بات کا تجربہ اسی زمانہ میں ہو رہا ہے۔ مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم مفلوج مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے لیکن بعد کے زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے اسوقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہیں تھا

۳۲۵

غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر بعد ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت کا مٹی پر پرتو ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ۔ فتدبر فانہ نکتۃ جلیلۃ ما یلقھا الا ذو حظ عظیم۔ منہ

صفحہ 41

۲۷۶

بلند تر ہے اور اُن کی رُوح مسیح کی روح کی طرح دوسرے آسمان میں نہیں اور نہ حضرت موسیٰ کی روح کی طرح چھٹے آسمان میں بلکہ سب سے بلند تر ہے اور اسی کی طرف معراج کی حدیث بتصریح دلالت کر رہی ہے۔ بلکہ معالم النبوۃ میں بصفحہ ۲۷۵ یہ حدیث لکھی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج میں چھٹے آسمان سے آگے گذر گئے تو ۳۴۵ حضرت موسیٰ نے کہا ربّ لم اظن ان یرفع علیّ احدٌ یعنی اے میرے خداوند مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ کوئی نبی مجھ سے اوپر اُٹھایا جائے گا اور اپنے رفع میں مجھ سے آگے بڑھ جائے گا۔ اب دیکھو کہ یرفع کا لفظ محض تحقق درجات کے لئے استعمال کیا ہے اور آیت موصوفہ بالا کے احادیث نبویہ کی رو سے یہ معنے کھلے کہ ہر ایک شخص اپنے درجہ کے موافق آسمانوں کی طرف اُٹھایا جاتا ہے اور اپنے قرب کے اندازہ کے موافق رفع سے حصہ لیتا ہے اور انبیاء اور اولیاء کی روح اگر چہ دنیوی حیات کے زمانہ میں زمین پر ہو مگر پھر بھی اُس آسمان سے اُس کا تعلق ہوتا ہے جو اس کی روح کے لئے بطور تعین ٹھہرایا گیا ہے اور موت کے بعد وہ روح اُس آسمان میں جا ٹھہرتی ہے جو اُس کیلئے حدّ رفع مقرر کیا گیا ہے۔ چنانچہ وہ حدیث جس میں عام طور پر موت کے بعد ارواح کے اُٹھائے جانے کا ذکر ہے اِس بیان کی مؤیّد ہے اور چونکہ یہ بحث نہایت صریح اور صاف ہے اور کسی قدر ہم پہلے لکھ بھی چکے ہیں اِس لئے کچھ ضرورت نہیں کہ اس کو زیادہ طول دیا جائے۔

۳۴۶ اس مقام میں یہ بھی بیان کرنے کے لائق ہے کہ بعض مفتریوں نے جب دیکھ لیا کہ درحقیقت انّی متوفیک میں توفّی کے معنے وفات دینے کے ہیں اور بعد اس کے جو رافعک الیّ واقع ہے وہ بقرینہ صریحہ وفات کے روح کے رفع پر دلالت کر رہا ہے تو انہیں فکر پڑی کہ یہ صریح ہماری رائے کے مخالف ہے اِس لئے اُنہوں نے گویا اپنے تئیں مفسر قرآنی کا مصلح قرار دے کر یا اپنے لئے استادی کا منصب تجویز کر کے یہ

صفحہ 42

ازالہ اوہام ۳۰۹ حصہ اول

محال ہے تو لائقِ اعتبار نہیں اور اس لائق نہیں کہ نبی کی صدق نبوت پر بطور دلیل اور شاہد ناطق یہ تصور کی جائیں یا کسی مخالف منکر کے سامنے پیش کی جائیں تو اس بات کا جواب یہ ہے کہ یہ بات کہ پیشگوئیاں کبھی اپنے ظاہر پر ہی پوری ہو جاتی ہیں کبھی مخفی طور پر اُن کا ظہور ہوتا ہے۔ اس سے ربّانی پیشگوئیوں کی عظمت میں کچھ بھی فرق نہیں آتا بلکہ باریک بینوں کی نظر میں اور بھی عظمت کھلتی ہے۔ کیا اگر فلاسفہ کا قول کوئی موٹی عقل کا آدمی اُلٹے طور پر سمجھ لیوے اور پھر اس کے معقول معنے جو نہایت مدلل اور ثابت شدہ ہیں کھل جائیں تو اس غلطی سے ان صحیح معنوں کو کچھ حرج پہنچ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔

ماسوا اس کے پیشگوئیوں میں ایک قدر مشترک بہر حال ایسا باقی رہتا ہے کہ خواہ وہ حقیقت پر محمول سمجھی جائیں اور یا بالآخر کوئی مجازی معنے نکل آویں وہ قدر مشترک بدیہی طور پر ظاہر کر دیتا ہے کہ یہ پیشگوئی درحقیقت سچی اور انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے۔

علاوہ اس کے جن پیشگوئیوں کو مخالف کے سامنے دعویٰ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے وہ ایک خاص طور کی روشنی اور بداہت اپنے اندر رکھتی ہیں اور ہم لوگ بحضرت احدیّت میں خاص طور پر توجہ کر کے اُن کا راز اور سرّ انکشاف کرا لیتے ہیں مگر معمولی طور پر بہت کچھ چھپے ہوئے گوشے پیشگوئیوں کے ہوتے ہیں۔ اور یہ سراسر نادانی کی ضد ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ خواہ نخواہ پیشگوئی حقیقت پر محمول ہوا کرتی ہے۔ جس نے یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں کو دیکھا ہوگا وہ اس بات کو خوب جانتا ہوگا کہ کس قدر پیشگوئیوں میں استعارات اُن کی کتابوں نے استعمال کئے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض مواضع میں دن ذکر کر کے اُس سے برس مراد لیا ہے۔ درحقیقت پیشگوئیاں از قبیل مکاشفات ہوتی ہیں اور اس چشمہ سے نکلتی ہیں جو استعارات کے رنگ سے بھرا ہوا ہے اپنی خوابوں کو دیکھو کیا کوئی سیدھے طور پر بھی خواب آتی ہے۔ مگر شاذونادر۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ مکاشفات کو استعارات کے خلعت سے آراستہ کر کے اپنے نبیوں کی طرف

صفحہ 43

حصہ اول ۳۱۸ ازالہ اوہام

کر سکتا ہے جو ایک مامور من اللہ کی نسبت جن جن فتوحات اور امور عظیمہ کا تذکرہ پیشگوئی کے لباس میں ہوتا ہے اس میں یہ ہرگز ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ وہ سب کچھ اسی کے ذریعہ

۴۱۸

سے پورا بھی ہو جائے بلکہ اُس کے خالص متبعین اس کے ہاتھوں اور پیروں کی طرح سمجھے جاتے ہیں اور ان کی تمام کارروائیاں اسی کی طرف منسوب ہوتی ہیں۔ جیسے ایک سپہ سالار کسی معرکہ جنگ میں عمدہ عمدہ سپاہیوں اور مدبروں کی مدد سے کسی دشمن کو گرفتار کرتا ہے یا قتل کر دیتا ہے تو وہ تمام کارروائی اُسی کی طرف منسوب کی جاتی ہے اور بلا تکلف کہا جاتا ہے کہ اُس نے گرفت کر لیا یا قتل کیا۔ پس جبکہ یہ محاورہ شائع متعارف ہے تو اس بات میں کونسا تکلف ہے کہ اگر فرض کے طور پر بھی تسلیم کریں کہ بعض پیشگوئیوں کا اپنی ظاہری صورت پر بھی پورا ہونا ضروری ہے تو ساتھ اس کے یہ بھی تسلیم کر لینا چاہیئے کہ وہ پیشگوئیاں ضرور پوری ہوں گی اور ایسے لوگوں کے ہاتھ سے ان کی تکمیل کرائی جائے گی کہ جو پورے طور پر پیروی کی راہوں میں فانی ہونے کی وجہ سے اور سینہ آسمانی روح کے ملنے کے باعث سے اس عاجز کے وجود کے ہی حکم میں ہوں گے اور ایک پیشگوئی بھی جو براہین میں درج ہو چکی ہے اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور وہ الہام یہ ہے یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیَّ وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامۃ ۔ اس مسیح کو بھی یاد رکھو جو اس عاجز کی ذریت میں سے ہے جس کا نام ابن مریم بھی رکھا گیا ہے کیونکہ اس عاجز کو براہین میں مریم کے نام سے بھی پکارا ہے۔

۴۱۹

درحقیقت مسیح ابن مریم ہی دوبارہ دنیا میں آئیں گے پس اگر یہ عقیدہ صحیح نہیں تھا تو کیوں خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کی تکذیب نہ کی بلکہ حدیثوں میں ابن مریم کے آنے کا وعدہ دیا گیا۔

صفحہ 44

ازالہ اوہام ۳۱۹ حصہ اوّل امّا الجواب ۔ پس واضح ہو کہ خدائے تعالیٰ نے تو قرآن کریم میں اس عقیدہ کی تکذیب کر دی جبکہ بیان کر دیا کہ درحقیقت مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور پھر مسیح کے دوبارہ زندہ ہونے کا کہیں ذکر نہیں ۔ کیا اور حدیثوں میں بھی اس مدعا کے بارہ میں کہیں قرآن شریف کی مخالفت نہیں کی گئی ۔ ایک حدیث بھی ایسی نہیں ملے گی جو مسیح ابن مریم کا زندہ بجسدہ العنصری آسمان کی طرف اُٹھائے جانا بیان کرتی ہو ۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس عقیدہ کی تکذیب کرنے میں کچھ فرق نہیں رکھا ۔ آنے والے مسیح کو امتی ٹھہرایا ۔ حلیہ و قول و اثر میں اختلاف ڈال دیا اور مسیح کا فوت ہو جانا بیان کر دیا ۔ سو اس قدر بیان کافی تھا ۔ اور چونکہ پیشگوئیوں میں خلق اللہ کے ابتلاء کے لئے یہ بھی منظور ہوتا ہے کہ کچھ کیفیت اُن کی پوشیدہ بھی رکھی جائے اس لئے کسی قدر پوشیدہ بھی رکھا گیا تا وقت پر صادقوں اور کاذبوں کا امتحان ہو جائے ۔ اور یہ بیان بھی صحیح نہیں ہے کہ عیسائیوں کا متفق علیہ یہی عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح دنیا میں پھر آئیں گے کیونکہ بعض فرقے اُن کے حضرت مسیح کے فوت

بقیہ حاشیہ ص ۲۴۰

ہو جانے کے قائل ہیں ۔ اور حواریوں کی دونوں انجیلوں یعنی متی اور یوحنا نے اس بیان کی ہرگز تصدیق نہیں کی کہ مسیح درحقیقت آسمان پر اٹھایا گیا ۔ ہاں مرقس اور لوقا کی انجیل میں لکھا ہے مگر وہ حواری نہیں ہیں اور نہ کسی حواری کی روایت سے انہوں نے لکھا ۔

(۹) سوال ۔ لیلۃ القدر کے اور معنی کر کے نیچریت اور باطنیت کا دروازہ کھول دیا ہے ۔

امّا الجواب ۔ معترض صاحب نے اس اعتراض سے لوگوں کو دھوکا دیا ہے اس جگہ اصل حقیقت یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا ہے کہ پہلے معنے لیلۃ القدر کے جو علماء کرتے ہیں وہ بھی مسلم اور بجا ہیں اور ساتھ اُن کے یہ بھی معنے ہیں اور ان دونوں میں کچھ منافات نہیں ۔ قرآن شریف ظہر بھی رکھتا ہے اور بطن بھی اور صدہا معارف اس کے اندر پوشیدہ ہیں ۔ پس اگر اس عاجز نے تفہیم الٰہی سے لیلۃ القدر

صفحہ 45

ازالہ اوہام ۳۲۳ حصہ دوم

نقل ٹائیٹل بار اوّل

حصہ دوم

نقل مطابق اصل

پس یہ ایک خدائے تعالیٰ کی تائید اور بڑے زور اور حجت کی کتاب ہے جس کی سچائی ظاہر کر دیگا

ازالۃ اوہام

فِیْہِ بَأْسٌ شَدِیْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ

الحمد والمنت کہ بماہ مبارک ذی الحجہ ۱۳۰۸ھ کتاب جامع معارف قرآنی و شارح اسرار کلام ربانی از تالیفات مرسل یزدانی و مامور رحمانی جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی

مطبع ریاض ہند امرتسر میں منشی فضل احمد مطبوعہ باہتمام و سعی نور محمد مالک مطبع کے گردیدہ

تعداد جلد ۷۰۰ قیمت فی جلد علیحدہ

صفحہ 46

ازالہ اوہام ۳۵۲ حصہ دوم

نصوص بینہ کے مخالف صریح پڑی ہوئی ہے صحیح بھی مان لیں اور اس کے معنے کو ظاہر پر ہی حمل کریں تو ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی ہو جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔ کیونکہ اس حدیث کی رو سے کہ جو علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل ہے مثیلوں کی کمی نہیں اور ایسا ہی یہ آیت کریمہ بھی مثیلوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت علیہم اور نیز قرائن قویہ کی وجہ سے بفرض صحت اس کو ایک استعارہ تسلیم کر کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ ایک اشارہ محبت اور اتحاد کی طرف ہے۔ مثلاً جو دشمن ہو اس کے لئے انسان کہتا ہے کہ اس کی قبر بھی میرے نزدیک نہ ہو۔ لیکن دوست کے لئے قبر کا بھی ساتھ چاہتا ہے اور مکاشفات میں اکثر ایسے امور دیکھے جاتے ۴۱۴ ہیں۔ ایک مدت کی بات ہے جو اس عاجز نے خواب میں دیکھا جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارکہ پر میں کھڑا ہوں اور کئی لوگ مر گئے ہیں یا مقتول ہیں ان کو لوگ دفن کرنا چاہتے ہیں۔ اسی عرصہ میں روضہ کے اندر سے ایک آدمی نکلا اور اس کے ہاتھ میں سرکنڈہ تھا اور وہ اس سرکنڈہ کو زمین پر مارتا تھا اور ہر ایک کو کہتا تھا کہ تیسری اس جگہ قبر ہوگی۔ تب وہ یہی کام کرتا کرتا میرے نزدیک آیا اور مجھ کو دکھلا کر اور میرے سامنے کھڑا ہو کر روضہ شریفہ کے پاس کی زمین پر اس نے اپنا سرکنڈہ مارا اور کہا کہ تیسری اس جگہ قبر ہوگی۔ تب آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنے اجتہاد سے اس کی یہ تاویل کی کہ یہ معیت معادی کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ جو شخص فوت ہونے کے بعد روحانی طور پر کسی مقدس کے قریب ہو جائے تو گویا اس کی قبر اس مقدس کی قبر کے قریب ہو گئی۔ واللہ اعلم وعلمہ احکم ܀

۱؎ الفاتحہ : ۷-۶

صفحہ 47

ازالہ اوہام ۳۷۰ حصہ دوم

مراد ہے جو آسمانی روح اپنے اندر نہیں رکھتے لیکن زمینی علوم وفنون کے ذریعہ سے منکرین اسلام کو لاجواب کرتے ہیں اور اپنا علم کلام اور طریق مناظرہ تائید دین کی راہ میں خرچ کر کے بجان و دل خدمت شریعت غرا بجالاتے ہیں۔ سو وہ چونکہ درحقیقت زمینی ہیں آسمانی نہیں ۔ اور ۵۰۳ آسمانی روح کامل طور پر اپنے اندر نہیں رکھتے اس لئے دابۃ الارض کہلاتے ہیں اور چونکہ کامل تزکیہ نہیں رکھتے اور نہ کامل وفاداری ۔ اس لئے چہرہ ان کا انسانوں کا ہے مگر بعض اعضاء ان کے بعض دوسرے حیوانات سے مشابہ ہیں ۔ اسی طرف اللہ جلشانہ اشارہ فرماتا ہے وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ ۔ یعنی جب ایسے دن آئیں گے جو کفار پر عذاب نازل ہو اور ان کا وقت مقرر قریب آجائے گا تو ہم ایک گروہ دابۃ الارض کا زمین سے نکالیں گے وہ گروہ متکلمین کا ہوگا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا ۔ یعنی وہ علماء ظاہر ہوں گے جن کو علم کلام اور فلسفہ میں بڑا طولیٰ ہوگا۔ وہ جا بجا اسلام کی حمایت میں کھڑے ہو جائیں گے اور اسلام کی سچائیوں کو استدلالی طور پر مشارق مغارب میں پھیلا ئیں گے اور اس جگہ اخرجنا کا لفظ اس وجہ سے اختیار کیا کہ آخری زمانہ میں ان کا خروج ہوگا نہ حدوث یعنی تخمی طور پر یا کم مقدار کے طور پر تو پہلے ہی سے تھوڑے بہت ہر ایک زمانہ میں وہ پائے جائیں گے لیکن آخری زمانہ میں بکثرت اور نیز اپنے کمال لائق کے ساتھ ۵۰۴ پیدا ہوں گے اور حمایت اسلام میں جا بجا واعظین کے منصب پر کھڑے ہو جائیں گے اور شمار میں بہت بڑھ جائیں گے ۔

واضح ہو کہ یہ خروج کا لفظ قرآن شریف میں دوسرے پیرایہ میں یا جوج ماجوج کیلئے بھی آیا ہے اور دخان کے لئے بھی قرآن شریف میں ایسا ہی لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ جس کے معنوں کا ماحصل خروج ہی ہے اور دجال کے لئے بھی حدیثوں میں یہی خروج کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ سو اس لفظ کے استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے تا اس بات کی طرف

۱؎ نمل : ۸۳ ۲۷۰

صفحہ 48

ازالہ اوہام ۳۹۹ حصہ دوم شامل حال ہو گئی۔ ایسا ہی نصرت الٰہی ایک رنگ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شامل ہو گئی اور درحقیقت وہی نصرت ہے جو اپنے اپنے محل پر رنگارنگ کے معجزات کے ۵۵۵ نام سے موسوم ہوتی ہے۔ سو میں خوب جانتا ہوں کہ جیسا کہ نصرت الٰہی حضرت مسیح کے شامل حال ہوئی تھی میں بھی اس نصرت سے بے نصیب نہیں رہوں گا۔ لیکن یہ ضرور نہیں کہ وہ نصرت جسمانی بیماروں کے اچھا کرنے سے ظاہر ہو۔ بلکہ خدائے تعالیٰ نے ایک الہام میں میرے پر ظاہر فرمایا کہ خلق اللہ کی روحانی بیماریوں اور شکوک اور شبہات کو وہ نصرت دُور کرے گی۔ جیسا کہ میں پہلے اس سے لکھ چکا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ مستعد دلوں پر اثر پڑتا جاتا ہے اور پرانی بیماریاں دور ہوتی جاتی ہیں اور نصرت الٰہی اندر ہی اندر کام کر رہی ہے اور خدا تعالیٰ نے اپنے خاص کلام سے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ نبی ناصری کے نمونہ پر اگر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ روحانی بیماریوں کو بہت صاف کر رہا ہے اس سے زیادہ کہ کبھی جسمانی بیماریوں کو صاف کیا گیا ہو۔

حال کے نیچری جن کے دلوں میں کچھ بھی عظمت قال اللہ اور قال الرسول کی باقی نہیں رہی یہ بے اصل خیال پیش کرتے ہیں کہ جو مسیح ابن مریم کے آنے کی خبریں صحاح میں موجود ۵۵۶ ہیں یہ تمام خبریں نری غلط ہیں۔ شاید اُن کا ایسی باتوں سے مطلب یہ ہے کہ تا اس عاجز کے

تواتر کی قوت

اس دعوے کی تحقیر کر کے کسی طرح اس کو باطل ٹھہرایا جاوے لیکن وہ اس قدر تواتر سے انکار کر کے اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالتے ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تواریخ کے رو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔ جیسا کہ ہندوؤں کے بزرگوں رامچندر اور کرشن وغیرہ کا وجود تواتر کے ذریعہ سے ہی ہم نے قبول کیا ہے۔ گو تحقیق تفتیش تاریخی واقعات میں ہندو لوگ بہت کچے ہیں مگر باوجود اس تواتر کے جو اُن کی مسلسل تحریروں سے پایا جاتا ہے ہرگز یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ راجہ رامچندر اور راجہ کرشن یہ سب فرضی ہی نام ہیں۔

صفحہ 49

حصہ دوم ۴۰۰ ازالہ اوہام

اب سمجھنا چاہئیے کہ گو اجمالی طور پر قرآن شریف اکمل واتم کتاب ہو مگر ایک حصہ کثیر دین کا اور طریقہ عبادات وغیرہ کا مفصل اور مبسوط طور پر احادیث سے ہی ہم نے لیا ہو اور اگر احادیث کو ہم بکلی ساقط الاعتبار سمجھ لیں تو پھر اس قدر بھی ثبوت دینا ہمیں مشکل ہوگا کہ در حقیقت حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما وعثمان ذوالنورین اور جناب علی کرم اللہ وجہہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام اور امیر المومنین تھے اور وجود رکھتے تھے صرف فرضی نام نہیں کیونکہ قرآن کریم میں ان میں سے کسی کا نام نہیں۔ ہاں اگر کوئی حدیث قرآن شریف کی کسی آیت سے صریح مخالف ومغائر پڑے مثلاً قرآن شریف کہتا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا اور حدیث یہ کہے کہ فوت نہیں ہوا تو ایسی حدیث مردود اور ناقابل اعتبار ہوگی لیکن جو حدیث قرآن شریف کے مخالف نہیں بلکہ اس کے بیان کو اور بھی بسط سے بیان کرتی ہے وہ بشرطیکہ جرح سے خالی ہو قبول کرنے کے لائق ہے۔ پس یہ کمال درجہ کی بے نصیبی اور بھاری غلطی ہے کہ یک لخت تمام حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ لیں اور ایسی متواتر پیشگوئیوں کو جو خیر القرون میں ہی تمام ممالک اسلام میں پھیل گئی تھیں اور مسلمات میں سمجھی گئی تھیں بمدد موضوعات داخل کردیں۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنیکی پیشگوئی ایک اول درجہ کی پیشگوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیشگوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے ۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں درحقیقت اُن لوگوں کا کام ہے جنکو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی کے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا اور باعث اس کے کہ اُن لوگوں کے دلوں میں قال اللہ اور قال الرسول کی عظمت باقی نہیں رہی اس لئے جو بات اُن کی اپنی سمجھ سے بالاتر ہو اُس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کرلیتے ہیں۔ قانون قدرت بے شک حق اور باطل کے آزمانے کے لئے ایک آلہ ہے مگر ہر ایک قسم کی آزمائش کا اسی پر مدار نہیں۔

صفحہ 50

ازالہ اوہام ۴۰۹ حصہ دوم

بنا کر تمہاری طرف بھیجوں گا اور جب تم اشد درجہ سرکشیوں کی وجہ سے سیاست کے لائق ٹھہر جاؤ گے تو تم میں عبداللہ ظہور کرے گا جو مہدی ہے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں وعدے کہ محمد بن عبداللہ آئے گا یا عیسیٰ ابن مریم آئے گا دراصل اپنی مراد و مطلب میں ہم شکل ہیں۔ محمد بن عبداللہ کے آنے سے مقصود یہ ہے کہ جب دنیا ایسی حالت میں ہو جائے گی جو اپنی درستی کیلئے سیاست کی محتاج ہوگی تو اُس وقت کوئی شخص مثیل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر ظاہر ہو گا اور یہ ضرور نہیں کہ درحقیقت اس کا نام محمد ابن عبداللہ ہو۔ بلکہ احادیث کا مطلب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کے نزدیک اس کا نام محمد ابن عبداللہ ہو گا۔ کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مثیل بن کر آئے گا۔ اسی طرح عیسیٰ بن مریم کے آنے سے مقصود یہ ہو کہ جب عقل کی بد استعمالی سے دنیا کے لوگ یہودیوں کے رنگ پر ہو جائیں گے اور روحانیت اور حقیقت کو چھوڑ دیں گے اور خدا پرستی اور حُبّ الٰہی دلوں سے اُٹھ جائے گی تو اُس وقت وہ لوگ اپنی روحانی اصلاح کے لئے ایک ایسے مصلح کے محتاج ہوں گے جو روح اور حقیقت اور حقیقی نیکی کی طرف ان کو توجہ دلاوے اور جنگ اور لڑائیوں سے کچھ واسطہ نہ رکھے اور یہ نام مسیح ابن مریم کے لئے مسلم ہے کیونکہ وہ خاص ایسے کام کے لئے آیا تھا اور یہ ضرور نہیں کہ آنے والے کا نام درحقیقت عیسیٰ ابن مریم ہی ہو۔ بلکہ احادیث کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک قطعی طور پر اس کا نام عیسیٰ بن مریم ہے۔ جیسے یہودیوں کے نام خدا تعالیٰ نے بندر اور سُور رکھے اور فرمایا وجعل منھم القردۃ والخنازیرؔ ایسا ہی اُس نے اِس اُمت کے مفسد طبع لوگوں کو یہودی ٹھہرا کر اس عاجز کا نام مسیح ابن مریم رکھ دیا اور اپنے الہام میں فرما دیا جعلناک المسیح ابن مریم۔

پھر مولوی صدیق حسن صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم جب نازل ہوگا تو قرآن کریم کے تمام احکام حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ سے اُن پر کھولے جائینگے یعنی وحی اُن پر نازل ہوا کرے گی۔ مگر وہ حدیث کی طرف رجوع نہیں کریگا کیونکہ وحی کے

۱؎ مائدہ : ۶۱

صفحہ 51

ازالہ اوہام ۴۲۳ حصہ دوم

۵۹۰

قرآن شریف کی وہ تیس آیتیں

جن سے مسیح ابن مریم کا فوت ہونا ثابت ہوتا ہے

(۱) پہلی آیت۔ یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطہرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ ۔ یعنی اے عیسیٰ میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور پھر عزت کے ساتھ اپنی طرف اٹھانے والا اور کافروں کی تہمتوں سے پاک کرنیوالا ہوں اور تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دینے والا ہوں۔

۵۹۱

(۲) دوسری آیت جو مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کرتی ہے یہ ہے۔ بل رفعہ الله الیہ یعنی مسیح ابن مریم مقتول اور مصلوب ہوکر مردود اور ملعون لوگوں کی موت سے نہیں مرا۔ جیسا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا خیال ہے۔ بلکہ خدا تعالیٰ نے عزت کے ساتھ اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ جاننا چاہیے کہ اس جگہ رفع سے مراد وہ موت ہو جو عزت کے ساتھ ہو۔ جیسا کہ دوسری آیت اس پر دلالت کرتی ہے ورفعنٰہ مکاناً علیّا۔ یہ آیت حضرت ادریس کے حق میں ہے اور کچھ شک نہیں کہ اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ ہم نے ادریس کو موت دے کر مکان بلند میں پہنچا دیا۔ کیونکہ اگر وہ بغیر موت کے آسمان پر چڑھ گئے تو پھر بوجہ ضرورت موت جو ایک انسان کے لئے ایک لازمی امر ہے یہ تجویز کرنا پڑے گا کہ یا تو وہ کسی وقت اوپر ہی فوت ہو جائیں اور یا زمین پر آکر فوت ہوں۔ مگر یہ دونوں شق ممتنع ہیں۔ کیونکہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جسم خاکی موت کے بعد پھر خاک ہی میں داخل کیا جاتا ہے اور خاک ہی کی طرف عود کرتا ہے۔ اور خاک ہی سے اس کا حشر ہوگا۔ اور ادریس کا پھر زمین پر آنا اور دوبارہ آسمان سے

(۱) آل عمران ع ۶ آیت ۵۹ (۲) نساء آیت ۱۵۹ (۳) مریم آیت ۵۸

صفحہ 52

حصہ دوم ۴۳۱ الہام

الطعام ويمشون في الاسواق (الجزء نمبر ۱۸ سورة الفرقان ع ۳) یعنی ہم نے تجھ سے پہلے جس قدر رسول بھیجے ہیں وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں پھرتے تھے ۔ اور پہلے ہم بنص قرآنی ثابت کر چکے ہیں کہ دنیوی حیات کے لوازم میں سے طعام کا کھانا ہے ٦٢ سو چونکہ وہ اب تمام نبی طعام نہیں کھاتے لہٰذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سب فوت ہو چکے ہیں جن میں بوجہ کلمہ حصر مسیح بھی داخل ہے ۔

يخلقون اموات غير احياء وما يشعرون ايان يبعثون (سورة النحل الجزء نمبر ۱۴) یعنی جو لوگ بغیر اللہ کے پرستش کئے جاتے اور پکارے جاتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ آپ پیدا شدہ ہیں ۔ مر چکے ہیں زندہ بھی تو نہیں ہیں اور نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے ۔ دیکھو یہ آیتیں کس قدر صراحت سے مسیح اور اُن سب انسانوں کی وفات پر دلالت کر رہی ہیں جن کو یہود اور نصاریٰ اور بعض فرقے عرب کے اپنا معبود ٹھہراتے تھے اور اُن سے دعائیں مانگتے تھے ۔ اگر اب بھی آپ لوگ مسیح ابن مریم کی وفات کے قائل نہیں ہوتے تو سیدھے یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہمیں ٦٣ قرآن کریم کے ماننے میں کلام ہے ۔ قرآن کریم کی آیتیں سنکر پھر وہیں ٹھہر جانا کیا ایمانداروں کا کام ہے ۔

وخاتم النبیین (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا ۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا پس اس سے بھی بکمال وضاحت ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ دنیا میں نہیں آ سکتا۔ کیونکہ ٦٤

٦٢ الفرقان : ٢١ ٦٣ النحل ٢١-٢٢ ٦٤ الاحزاب : ٤١

صفحہ ۴۳۹

53 ازالہ اوہام حصه دوم

کہ مریض ایسا ملحد اور کافر ہے کہ ہرگز ہدایت پذیر نہیں ہوگا۔ اور ظاہر ہے کہ جس کافر کا مآل کار کفر ہی ہو وہ بھی جہنمی ہی ہوتا ہے۔ غرض ان دونوں صاحبوں نے کہ خدا انہیں بہشت نصیب کرے اس عاجز کی نسبت جہنم اور کفر کا فتویٰ دے دیا اور بڑے زور سے اپنے الہامات کو شائع کر دیا ۔ ہم اس جگہ ان صاحبوں کے الہامات کی نسبت کچھ زیادہ لکھنا ضروری نہیں سمجھتے ۔ صرف اس قدر تحریر کرنا کافی ہے کہ الہام رحمانی بھی ہوتا ہے اور شیطانی بھی ۔ اور جب انسان اپنے نفس اور خیال کو دخل دے کر کسی بات کے انکشاف کے لئے بطور استخارہ یا استخبارہ وغیرہ کے توجہ کرتا ہے۔ خاص کر اس حالت میں کہ جب اس کے دل میں یہ تمنا مخفی ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کسی کی نسبت کوئی بُرا یا بھلا کلمہ بطور الہام مجھے معلوم ہو جائے تو شیطان اُس وقت اُس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور در

صفحہ 54

ازالہ اوہام ۴۵۴ حصہ دوم

۶۵۹ فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ۔ لَا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ ط هٰذَا بَصَائِرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ۔ فَبِاَىِّ حَدِيْثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ۔ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ ۔ یعنی یہ قرآن اس راہ کی طرف ہدایت کرتا ہے جو نہایت سیدھی ہے اس میں اُن لوگوں کے لئے جو پرستار ہیں حقیقی پرستش کی تعلیم ہے اور یہ اُن کیلئے جو متقی ہیں کمالاتِ تقویٰ کے یاد دلانے والا ہے یہ حکمت ہے جو کمال کو پہنچی ہوئی ہے اور یہ یقینی سچائی ہے اور اس میں ہر ایک چیز کا بیان ہے یہ نورٌ علیٰ نور اور سینوں کو شفا بخشنے والا ہے رحمٰن نے قرآن کو سکھلایا۔ ایسی کتاب نازل کی جو اپنی ذات میں حق ہے اور حق کے وزن کرنے کے لئے ایک ترازو ہے وہ لوگوں کے لئے ہدایت ہو اور اجمالی ہدایتوں کی اس میں تشریح ہے اور وہ اپنے دلائل کے ساتھ حق اور باطل میں فرق کرتا ہے اور وہ قولِ فصل ہے اور شک و شبہ سے خالی ہے ہم نے اس کو اس ۶۵۸ لئے تجھ پر اتارا ہے کہ تا امور متنازعہ فیہ کا اس سے فیصلہ کر دیں اور مومنوں کیلئے ہدایت ۶۵۹ اور رحمت کا سامان تیار کر دیں۔ اس میں وہ تمام صداقتیں موجود ہیں جو پہلی کتابوں میں متفرق اور پراگندہ طور پر موجود تھیں ایک ذرہ باطل کا اس میں دخل نہیں نہ آگے سے اور نہ پیچھے سے۔ یہ لوگوں کے لئے روشن دلیلیں ہیں اور جو یقین لانے والے ہیں اُن کے لئے ہدایت و رحمت ہے سو ایسی کونسی حدیث ہے جس پر تم اللہ اور اُس کی آیات کو چھوڑ کر ایمان لاؤ گے یعنی اگر کوئی حدیث قرآن کریم سے مخالف ہو تو ہرگز نہیں ماننی چاہیئے بلکہ رَد کر دینی چاہیئے۔ ہاں اگر کوئی حدیث بذریعہ تاویل قرآن کریم کے بیان سے مطابق آسکے مان لینا چاہیئے۔ پھر بعد اس کے ترجمہ بقیہ آیات کا یہ ہے کہ اُن کو کہہ دے کہ خدائے تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے یہ قرآن ایک بے مثل نعمت ملی ہے سو اس کو تم خوشی سے قبول کرو۔ یہ اُن مالوں سے اچھا ہے جو تم جمع کرتے ہو یہ اس بات

۱؎ بینہ : ۳ ۲؎ حم سجدہ : ۴۲ ۳؎ اعراف : ۲۰۴ ۴؎ جاثیہ : ۶ ۵؎ یونس : ۵۹

صفحہ 55

حصہ دوم ۴۷۴ ازالہ اوہام

جس کا محض خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے تولد ہونا جس کا آسمان پر ابن مریم نام ہے تو کیوں خدا تعالیٰ کی قدرت اس ابن مریم کے پیدا کرنے سے مجبور رہ گئی۔ سو اُس نے محض اپنے فضل سے بغیر وسیلہ کسی زمینی والد کے اس ابن مریم کو روحانی پیدائش اور ملکی زندگی بخشی جیسا کہ اس نے خود اس کو اپنے الہام میں فرمایا اِنّا احيیناك بعد ما اهلكنا القرون الاولى وجعلناك المسيح ابن مريم۔ یعنی پھر ہم نے تجھے زندہ کیا بعد اس کے جو پہلے قرنوں کو ہم نے ہلاک کر دیا اور تجھے ہم نے مسیح ابن مریم بنایا یعنی بعد اس کے جو عام طور پر مشائخ اور علماء میں موت روحانی پھیل گئی۔ انجیل میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح ستاروں کے گرنے کے بعد آئے گا۔

۷۲۶

اب اس تحقیق سے ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کی آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف میں پیش گوئی موجود ہے۔ قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کی ۱۴۰۰ برس تک مدّت ٹھہرائی ہے۔ بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کی رُو سے اس مدت کو مانتے ہیں اور آیت وانا على ذهاب به لقادرون ۱؎ بھی جس کے بحساب جمل ۱۲۷۴ عدد ہیں ماہِ چاند کی سلخ کی راتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں نئے چاند کے نکلنے کی بشارت چھپی ہوئی ہے جو غلام احمد قادیانی کے عددوں میں بحساب جمل پائی جاتی ہے اور یہ آیت کہ هو الذی ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله۲؎ در حقیقت اسی مسیح ابن مریم کے زمانہ سے متعلق ہے کیونکہ تمام ادیان پر روحانی غلبہ بجز اس زمانہ کے کسی اور زمانہ میں ہرگز ممکن نہیں تھا وجہ یہ کہ یہی زمانہ ہے کہ جس میں ہر قسم کے اعتراضات اور شبہات پیدا ہو گئے ہیں اور انواع اقسام کے عقلی حملے اسلام پر کئے گئے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے وان من شيءٍ الا عندنا خزائنه وما

۷۲۷

ننزله الا بقدر معلوم۳؎ یعنی ہر ایک چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں مگر بقدر معلوم اور بقدر ضرورت ہم اُن کو اُتارتے ہیں۔ سو جس قدر معارف و حقائق بطور دلائل ہیں

۱؎ مومنون : ۱۹ ۲؎ صف : ۱۰ ۳؎ حجر : ۲۲

صفحہ 56

ازالہ اوہام ۴۷۲ حصہ دوم

کہ یہ حرکت تو خلاف منشاء پیشگوئی ہے۔ اُسی طرح ابن صیاد کی نسبت صاف طور پر وحی نہیں کھلی تھی اور آنحضرتؐ کا اوّل اوّل یہی خیال تھا کہ ابن صیاد ہی دجال ہے ۔ مگر آخر میں رائے بدل گئی تھی۔ ایسا ہی سورہ روم کی پیشگوئی کے متعلق جو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شرط لگائی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ بضع کا لفظ لغت عرب میں نو برس تک اطلاق پاتا ہے اور میں بخوبی مطلع نہیں کیا گیا کہ نو برس کی حد کے اندر کس سال یہ پیشگوئی پوری ہوگی ۔ ایسا ہی وہ حدیث جس کے یہ الفاظ ہیں فذهب وهلی الى انها اليمامة او هجر فاذا هى المدينة يثرب ۔ صاف صاف ظاہر کر رہی ہے کہ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اجتہاد سے پیشگوئی کا محل ومصداق سمجھا

(۲۹۷)

تھا وہ غلط نکلا۔ اور حضرت مسیح کی پیشگوئیوں کا سب سے عجیب تر حال ہے۔ بارہا انہوں نے کسی پیشگوئی کے معنے کچھ سمجھے اور آخر کچھ اور ہی ظہور میں آیا۔ یہودا اسکریوطی کو ایک پیشگوئی میں بہشت کا بارہواں تخت دیا لیکن وہ شقی بہشت سے محروم رہا۔ اور پطرس کو کبھی بہشت کی کنجیاں دیں اور کبھی اس کو شیطان بنایا۔ اسی طرح انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کا مکاشفہ کچھ بہت صاف نہیں تھا اور کئی پیشگوئیاں ان کی بسبب غلطی فہمی کے پوری نہیں ہوسکیں مگر اپنے اصلی معنوں پر پوری ہو گئیں۔ بہر حال ان تمام باتوں سے یقینی طور پر یہ اصول قائم ہوتا ہے کہ پیشگوئیوں کی تاویل اور تعبیر میں انبیاء علیہم السلام کبھی غلطی بھی کھاتے ہیں جس قدر الفاظ وحی کے ہوتے ہیں وہ تو بلاشبہ اول درجہ کے سچے ہوتے ہیں مگر نبیوں کی عادت ہوتی ہے کہ کبھی اجتہادی طور پر بھی اپنی طرف سے اُن کی کسی قدر تفصیل کرتے ہیں ۔ اور چونکہ وہ انسان ہیں اس لئے تفسیر میں کبھی احتمال خطا کا ہوتا ہے ۔ لیکن امور دینیہ ایمانیہ میں اس خطا کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کیونکہ انکی تبلیغ

(۲۹۸)

میں منجانب اللہ بڑا اہتمام ہوتا ہے اور وہ نبیوں کو عملی طور پر بھی سکھلائی جاتی ہیں چنانچہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہشت اور دوزخ بھی دکھایا گیا اور آیات متواترہ محکمہ بینہ کی

صفحہ 57

ازالہ اوہام ۴۹۳ حصہ دوم

کہ جب دجال کے بے جا جھگڑے کمال تک پہنچ جائیں گے تب مسیح موعود ظہور کرے گا اور اس کے تمام جھگڑوں کا خاتمہ کر دے گا۔

ان دسوں علامتوں میں سے ایک بھاری علامت دجال معہود کی یہ لکھی ہے کہ اس کا فتنہ تمام ان فتنوں سے بڑھ کر ہو گا کہ جو ربانی دین کے مٹانے کے لئے ابتداء سے لوگ کرتے آئے ہیں اور ہم اسی رسالہ میں ثابت کر چکے ہیں کہ یہ علامت عیسائی مشنوں میں بخوبی ظاہر و ہویدا ہے ۔

ازاں جملہ ایک بڑی بھاری علامت دجال کی اس کا گدھا ہے جس کے بین الاذنین کا اندازہ ستر باع کیا گیا ہے اور ریل کی گاڑیوں کا اکثر اسی کے موافق سلسلہ طولانی ہوتا ہے اور اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ وہ دخان کے زور سے چلتی ہیں جیسے بادل ہوا کے زور سے تیز حرکت کرتا ہے۔ اس جگہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے کھلے طور پر ریل گاڑی کی طرف اشارہ فرمایا ہے چونکہ یہ عیسائی قوم مطیہ ہے جن کا امام و مقتدا یہی دجال گروہ ہے اس لئے ان گاڑیوں کو دجال کا گدھا قرار دیا گیا۔ اب اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو گا کہ علاماتِ خاصہ دجال کے انہیں لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ انہیں لوگوں نے مکروں اور فریبوں کا اپنے وجود پر خاتمہ کر دیا ہے اور دین اسلام کو وہ ضرر پہنچایا ہے جس کی نظیر دنیا کے ابتداء سے نہیں پائی جاتی اور انہیں لوگوں کے متبعین کے پاس وہ گدھا بھی ہے جو دخان کے کے زور سے چلتا ہے جیسے بادل ہوا کے زور سے ۔ اور انہیں لوگوں کے متبعین زمین کو

بقیہ حاشیہ کہا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن آسمان پر اُٹھایا جائے گا۔ پھر انہیں حدیثوں میں لکھا ہے کہ پھر دوبارہ قرآن کو زمین پر لانے والا ایک مرد فارسی الاصل ہو گا جیسا کہ فرمایا لَو كَانَ الْإِيمَانُ مُعَلَّقًا عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهٗ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ ۔ یہ حدیث درحقیقت اسی زمانہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو آیت اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَ میں اشارۃً بیان کیا گیا ہے ۔ منہ

صفحہ 58

ازالہ اوہام ۶۰۳ حصہ دوم

پورا لینا ہے یعنی یہ کہ روح کے ساتھ جسم کو بھی لے لینا۔ مگر ایسے معنے کرنا اُن کا سراسر افتراء ہے قرآن کریم کا عموماً التزام کے ساتھ اس لفظ کے بارے میں یہ محاورہ ہے کہ وہ لفظ قبض روح اور وفات دے دینے کے معنوں پر ہر ایک جگہ اس کو استعمال کرتا ہے۔ یہی محاورہ تمام حدیثوں اور جمیع اقوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پایا جاتا ہے جب سے دنیا میں عرب کا جزیرہ آباد ہوا ہے اور زبان عربی جاری ہوئی ہے کسی قول قدیم یا جدید سے ثابت نہیں ہوتا کہ توفی کا لفظ کبھی قبض جسم کی نسبت استعمال کیا گیا ہو بلکہ جہاں کہیں توفی کے لفظ کو خدا تعالیٰ کا فعل ٹھہرا کر انسان کی نسبت استعمال کیا گیا ہے وہ صرف وفات دینے اور قبض روح کے معنی پر آیا ہے نہ قبض جسم کے معنوں میں۔ کوئی کتاب لغت کی اس کے مخالف نہیں۔ کوئی مثل اور قول اہل زبان کا اس کے مغائر نہیں۔ غرض ایک ذرہ احتمال

۹۱۹

مخالفت کی گنجائش نہیں۔ اگر کوئی شخص قرآن کریم سے یا کسی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا اشعار و قصائد و نظم و نثر قدیم و جدید عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذوی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو وہ بجز قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر بھی اطلاق پا گیا ہے یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ہزار روپیہ نقد دوں گا اور آئندہ اس کی کمالات حدیث دانی اور قرآن دانی کا اقرار کر لوں گا۔ ایسا ہی اگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یا ان کا کوئی ہمخیال یہ ثابت کر دیوے کہ الدجال کا لفظ جو بخاری اور مسلم میں آیا ہے بجز دجال معہود کے کسی اور دجال کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے تو مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں ایسے شخص کو بھی جس طرح ممکن ہو ہزار روپیہ نقد بطور تاوان دوں گا۔ چاہیں تو مجھ پر ڈگری کرالیں یا تمسک لکھالیں ۔ اس اشتہار کے مخاطب خاص طور پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں۔

صفحہ 59

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۵

آئینہ کمالاتِ اسلام

صفحہ 60

(ٹائیٹل طبع اول)

الحمد للہ والمنت کہ بتائید و توفیق آں نعم المولیٰ و نعم النصیر و عنایات

آں ذاتِ جلیل و عظیم و کبیر حصہ اول کتاب لاجواب موسوم بہ

آئینہ کمالاتِ اسلام

جس کا دوسرا نام دافع الوساوس بھی ہے

بماہ فروری سنہ ۱۸۹۳ء

مطبع ریاض ہند قادیان میں باہتمام شیخ نور احمد مہتمم

و مالک مطبع طبع ہو کر شائع ہؤا

صفحہ 61

مقدمہ حقیقۃ الاسلام ۲۳۷ بقیہ حاشیہ

کر لیتا ہے۔ اور اگر وہ ہاون حوادث میں پیسا بھی جائے اور غبار سا کیا جائے تب بھی بجز انّی مع اللّٰہ کے اور کوئی آواز اُس کے اندر سے نہیں آتی۔ جب کسی کی حالت اس نوبت تک پہنچ جائے تو اُس کا معاملہ اس عالم سے وراء الوراء ہو جاتا ہے اور اُن تمام ہدایتوں اور مقامات عالیہ کو ظلی طور پر پالیتا ہے جو اُس سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو ملے تھے اور انبیاء اور رُسل کا وارث اور نائب ہو جاتا ہے وہ حقیقت جو انبیاء میں معجزہ کے نام سے موسوم ہوتی ہے وہ اِس میں کرامت کے نام سے ظاہر ہو جاتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیاء میں عصمت کے نام سے نامزد کی جاتی ہے۔ اِس میں محفوظیت کے نام سے پکاری جاتی ہے۔ اور وہی حقیقت جو انبیاء میں نبوت کے نام سے بولی جاتی ہے۔ اِس میں محدثیت کے پیرایہ میں

طاقت اور انسان کی فطرت سے بالاتر ہیں تو پھر آپکا یہ اُصول ٹوٹتا ہے کہ وحی اور کچھ چیز نہیں صرف ملکہ فطرت ہے کیونکہ انسان کی فطرت خدائی کی طاقتیں اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتی۔ ہر یک انسان کی فطرت اُسی قدر ملکہ رکھتی ہے جو اُسکی بشریت کے مناسب حال ہے اور چونکہ آپکا یہی مذہب ہے کہ وحی کی حقیقت ملکہ فطرت سے زیادہ نہیں تو یہی اعتراض جس کا ابھی مَیں نے ذکر کیا ہے وارد ہوگا۔ ہر ایک اہلِ حال جو وحی کی حقیقت کو بطور واردات کے جانتا ہے وہ آپکی اِس قیاسی بات پر ہنسے گا جو وحی صرف ملکہ فطرت ہے اگرچہ اسقدر تو سچ ہے کہ وحی الٰہی کے انوار قبول کرنے کے لئے فطرتِ قابلہ شرط ہے جس میں وہ انوار منعکس ہوسکیں جو خدائے تعالیٰ کسی وقت اپنے خاص ارادہ سے نازل کرے مگر یہ سراسر جھوٹ ہے کہ وہ انوار انسانی فطرت میں ہی جمع ہیں اور مبداء فیض سے اُس کے ارادہ کے ساتھ کچھ نازل نہیں ہوتا جو اپنے اندر خدائی طاقتوں کی رنگ و بوُ رکھتا ہو۔ عزیز سید جن خیالات کی آپ اِس مسئلہ میں پیروی کرتے ہیں وہ درحقیقت اسلام کی تعلیم

صفحہ 62

دافع الوساوس ۲۳۸ مقدمہ حقیقت نما

ظہور پکڑتی ہے حقیقت ایک ہی ہے لیکن بباعث شدّت اور ضعف رنگ کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں اِسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ملفوظات مبارکہ اشارت فرما رہے ہیں کہ محدّث نبی بالقوۃ ہوتا ہے اور اگر باب نبوت مسدود نہ ہوتا تو ہر یک محدّث اپنے وجود میں قوّت اور استعداد نبی ہو جانے کی رکھتا تھا اور اسی قوّت اور استعداد کے لحاظ سے محدّث کا حمل نبی پر جائز ہے یعنے کہہ سکتے ہیں کہ المحدّث نبی جیساکہ کہہ سکتے ہیں کہ العنب خمر نظراً علی القوۃ والاستعداد ومثل ہذا الحمل شایع متعارف فی عبارات القوم وقد جرت المحاورات علی ذلک کما لا یخفی علی کل ذکی عالم مطلع علی کتب الادب والکلام والتصوّف اور اسی کل کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جلّشانہ نے اِس قراءت کو جو

بقیہ حاشیہ نمبر ۲ صفحہ گزشتہ

نہیں ہے بلکہ اُن کور باطن فلسفیوں کی رائیں ہیں جو حضرت باری تعالیٰ عزاسمہ کو مدبّر بالارادہ نہیں سمجھتے بلکہ آفتاب اور ماہتاب کی طرح بعض امور کے صدور کے لئے علّت موجبہ خیال کرتے ہیں جب آپ خدائے تعالیٰ کو مدبّر بالارادہ اور اپنی مرضی کے ساتھ منزّل وحی یقین کریں گے اور وحی کو ایسی چیز سمجھیں گے جو اُسی سے نکلتی ہے اور اسی کے اُتارنے سے الٰہی قوّت کے ساتھ دلوں پر اترتی ہے تو اس صورت میں آپ اس کو ملکہ فطرت نہیں کہہ سکتے اور نہ اس کا نام فطری قوّت رکھ سکتے ہیں بلکہ ایک نُور اللہ قرار دیں گے جو خدائے تعالیٰ کے ہاتھ سے اور اُس کے ارادہ سے اُسی وقت اُترتا ہے جب وہ چاہتا ہے۔ ہاں وہ نُور جو اُترتا ہے وہ فطرتِ قابلہ پر ہی اپنی روشنی ڈالتا ہے اور اپنا اُتار اُس کو جتلا دیتا ہے۔

اور یہ کہنا کہ ہم اس طرح پر وحی کو مان نہیں سکتے کیونکہ وہ عقل انسانی کے مافوق ہے۔ سو اس کا یہی جواب ہے کہ عقل انسانی اگر ایک ثابت شدہ صداقت کو اپنے فہم اور ادراک سے

صفحہ 63

دافع الوسواس ۲۲۹ مقدمہ حقیقت اسلام

وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبي ولا محدث ہے۔ مختصر کر کے قراءت ثانی میں صرف یہ الفاظ کافی قرار دیئے کہ وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبي ۔ اور اس سوال کا جواب کہ جس شخص کو شرف مکالمہ الٰہیہ کا نصیب ہو وہ کب اور کن حالات میں افاضہ کلام الٰہی کا زیادہ تر مستحق ہوتا ہے۔ یہ ہے کہ اکثر شدائد اور مصائب کے نزول کے وقت اولیاء اللہ پر کلام الٰہی نازل ہوتا ہے تا انکی تسلی اور تقویت کا موجب ہو جب وہ نزول آفات اور حوادث فوق الطاقت سے نہایت شکستہ اور دردمند اور کوفتہ ہو جاتے ہیں اور حزن اور قلق انتہا کو پہنچ جاتا ہے تب خدا تعالیٰ کی صفت کلام اُن کے دل پر متجلی ہوتی ہے اور کلمات طیبہ الٰہیہ سے اُن کو سکینت اور تشفی بخشی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملہم کی انکساری حالت الہامی آگ سے افروختہ ہو تو مجھے وہ صداقت صرف اس وجہ سے رد کرنے کے لائق نہیں ٹھہرے گی کہ عقل اسکی حقیقت تک نہیں پہنچتی ۔ دنیا میں بہتیرے ایسے خواص نباتات و جمادات و حیوانات میں پائے جاتے ہیں کہ وہ تجارب صحیحہ کے ذریعہ سے ثابت ہیں مگر عقل انسان کے مافوق ہیں۔ یعنی عقل انکی حقیقت تک پہنچ نہیں سکتی اور انکی حقیقت بتلا نہیں سکتی پس ایسا ہی وہ وحی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی اور پاک دلوں تک وہ علوم پہنچاتی ہے جو بشری طاقتوں سے بلند تر ہیں پھر جبکہ یہ حال ہے کہ عقل بجائے خود کوئی چیز نہیں بلکہ ثابت شدہ صداقتوں کے ذریعہ سے قدر و منزلت پیدا کرتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ وحی سماوی ایک ثابت شدہ صداقت ہے جو اپنے اندر اعجازی قوّت رکھتی ہے ۔ اور علوم غیبیہ پر مشتمل ہوتی ہے اور ہم اس دعویٰ کے ثابت کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ پھر آزمائش کے لئے متوجہ نہ ہونا کیا اُن لوگوں کا شیوہ ہو سکتا ہے جو حقیقی صداقتوں کے بھوکے اور پیاسے ہیں۔

صفحہ 64

دافع الوساوس ۲۵۴ معیار حقیقت اسلام

نہیں تو خدائے تعالیٰ سے ڈرو اور حدیثوں کے وہ معنے کرو جو ہو سکتے ہیں۔ واقعات موجودہ کو نظر انداز مت کرو تا تم پر کھل جائے کہ یہ عام ضلالت وہی سخت دجالیت ہے جس سے ہر ایک نبی ڈراتا آیا ہے جسکی بنیاد اِس دُنیا میں عیسائی مذہب اور عیسائی قوم نے ڈالی جس کیلئے ضرور تھا کہ مجددِ وقت مسیح کے نام پر اُٹھے کیونکہ بنیادِ فساد مسیح کی ہی اُمت ہے اور میرے پر کشفاً یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ زہر ناک ہوا جو عیسائی قوم سے دُنیا میں پھیل گئی حضرت عیسیٰ کو اسکی خبر دی گئی۔ تب اُن کی رُوح رُوحانی نزول کیلئے حرکت میں آئی اور اُس نے جوش میں آکر اور اپنی اُمت کو ہلاکت کا مفسدہ پرداز پا کر زمین پر اپنا قائم مقام اور شبیہہ چاہا جو اُس کا ایسا ہم طبع ہو کہ گویا وہی ہو۔ سو اُس کو خدائے تعالیٰ نے وعدہ کے موافق ایک شبیہہ عطا کی اور اُس میں مسیح کی ہمّت اور سیرت

حاشیہ پر جو مجاہدات سے خدا تعالیٰ کو ڈھونڈتے ہیں ظاہر ہو جاتا ہے۔ غرض جو بات مومنوں کی سمجھ سے برتر ہے اُس کے دریافت کرنے کی یہ راہ نہیں ہے کہ وہ فرقہ ضالّہ فلاسفروں کے دست نگر ہوں اور گُم گشتہ سے راہ پوچھیں بلکہ اُن کے لئے صدق اور صبر سے عرفان کا مرتبہ عطا کیا جاتا ہے جس مرتبہ پر پہنچ کر تمام عُقدے اُن کے حل ہو جاتے ہیں۔

اِس زمانہ میں جو مذہب اور علم کی نہایت سرگرمی سے لڑائی ہو رہی ہے اُسکو دیکھ کر اور علم کے مذہب پر حملے مشاہدہ کر کے بیدل نہیں ہونا چاہیئے کہ اب کیا کریں۔ یقیناً سمجھو کہ اِس لڑائی میں اسلام کو مغلوب اور عاجز دشمن کی طرح صلح جوئی کی حاجت نہیں بلکہ اب زمانہ اسلام کی رُوحانی تلوار کا ہے جیسا کہ وہ پہلے کسی وقت اپنی ظاہری طاقت دکھلا چکا ہے۔ یہ پیشگوئی یاد رکھو کہ عنقریب اِس لڑائی میں بھی دشمن ذلّت کے ساتھ پس پا ہو گا اور اسلام فتح پائیگا۔ حال کے علومِ جدیدہ کیسے ہی زور آور حملے کریں۔ کیسے ہی نئے نئے ہتھیاروں کے ساتھ چڑھ چڑھ کر آئیں مگر انجام کار اُن کیلئے ہزیمت ہے پس شکرِ نعمت کے

صفحہ 65

دافع الوساوس ۲۶۸ مندرجہ حقیقت اسلام

جگہ دیتا ہے۔ اور میرے فضل سے نومید مت ہو۔ یوسف کو دیکھ اور اُس کے اقبال کو۔ فتح کا وقت آرہا ہے اور فتح قریب ہے۔ مخالف یعنے جن کے لئے توبہ مقدر ہے اپنی سجدہ گاہوں میں گرینگے کہ اے ہمارے خدا ہمیں بخش کہ ہم خطا پر تھے۔ آج تم پر کوئی سرزنش نہیں خدا تمہیں بخش دیگا اور وہ ارحم الراحمین ہے۔ مَیں نے ارادہ کیا کہ ایک اپنا خلیفہ زمین پر مقرر کروں تو مَیں نے آدم کو پیدا کیا جو نجی الاسرار ہے۔ ہم نے ایسے دن اُس کو پیدا کیا جو وعدہ کا دن تھا۔ یعنے جو پہلے سے پاک نبی کے واسطہ سے ظاہر کر دیا گیا تھا کہ وہ فلاں زمانہ میں پیدا ہوگا اور جسوقت پیدا ہوگا فلاں قوم دُنیا میں اپنی سلطنت اور طاقت میں غالب ہوگی اور فلاں قسم کی مخلوق پرستی رُوئے زمین پر پھیلی ہوئی ہوگی۔ اُسی زمانہ میں وہ موعود پیدا ہُوا اور وہ

بقیہ حاشیہ بنیاد فساد اور زمین میں دجالیت کی نجاست پھیلانے والے تھے اور اصلیت سے بگڑ کر دجال اکبر بن گئے تھے۔ اور چونکہ اس اُترنے والے کیلئے یہ موقعہ نہ ملا کہ وہ کچھ روشنی زمین والوں سے حاصل کرتا یا کسی کی صحبت یا شاگردی سے فیضیاب ہوتا بلکہ اُس نے جو کچھ پایا آسمان کے خدا سے پایا۔ اِسی وجہ سے اُسکے حق میں اِسی حصّہ کی پیشگوئی میں یہ الفاظ آئے کہ وہ آسمان سے اتریگا یعنے آسمان سے پائیگا زمین سے کچھ نہیں پائے گا۔ اور حضرت عیسیٰ کے نام پر اِس عاجز کے آنے کا سِرّ یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح کو دکھایا یعنے اُن کو آسمان پر اِس فتنہ کی اطلاع دے دی کہ تیری قوم اور تیری اُمّت نے اس طوفان کو برپا کیا ہے تب وہ اپنی قوم کی خرابی کو کمال فساد پر دیکھ کر نزول کے لئے بیقرار ہُوا اور اُس کی رُوح سخت جنبش میں آئی اور اُس نے زمین پر اپنی ارادات کا ایک مظہر چاہا۔ تب خدا تعالیٰ نے اُس وعدہ کے موافق جو کیا گیا تھا مسیح کی رُوحانیت اور اُسکے جوش کا ایک جوہر قابل میں نازل کیا۔ سو ان معنوں کر کے وہ آسمان سے اُترا اُسی کے موافق جو ایک دفعہ

صفحہ 66

بقیہ حاشیہ ۲۸۶ دافع الوساوس

سے یہ ہبہ نامہ لکھا گیا ۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ بجز ہماری رضا مندی کے بیکار تھا اسلئے مکتوب الیہ نے بتمامتر عجز و انکسار ہماری طرف رجوع کیا۔ تاہم اُس ہبہ پر راضی ہو کر اُس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں اور قریب تھا کہ دستخط کر دیتے لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مدّت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے کہ جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہئے۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا۔ پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آ پہنچا تھا جس کو خدائے تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا ۔ اُس خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کیلئے سلسلہ جنبانی کر اور انکو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروّت تم سے اسی شرط سے کیا جائیگا ۔ اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہو گا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصّہ پاؤ گے جو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں درج ہیں لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہو گا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائیگی وہ روزِ نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائیگا ۔٭ اور اُنکے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی۔ درمیانی زمانہ میں بھی اُس دختر کیلئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔ پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کیلئے بار بار توجّہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دُور کرنے کے بعد انجامکار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا ۔ اور بیدینوں کو مسلمان بناوے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلائے گا ۔ چنانچہ عربی الہام اس بارے میں یہ ہے ۔ کَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِؤُنَ فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ وَيَرُدُّهَا اِلَيْكَ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمَاتِ

٭ تین سال تک فوت ہونا روزِ نکاح کے حساب سے ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ کوئی واقعہ اور حادثہ اس سے پہلے نہ آوے بلکہ بعض مکاشفات کے رُو سے مکتوب الیہ کا زمانہ حوادث جن کا انجام معلوم نہیں قریب پایا جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔ منہ

یہ اللہ کی بھاری پیشگوئیوں سے ہے جسکو میں نے پہلے سے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو بغرض اتمام حجت چھاپ دیا اور پھر اسکو ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء میں بھی چھاپ دیا ہے۔ اور ہر ایک کے لئے یہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ فالحمد للہ علی ذالک

صفحہ 67

مقدمہ حقیقت اسلام ۲۸۷ دافع الوسواس

اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ ۔ اَنْتَ مَعِيْ وَ اَنَا مَعَكَ عَسَى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا ۔ یعنے انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے سو خدا تعالیٰ اُن کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہوگا اور انجامکار اسکی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائیگا ۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے ۔ تیرا ربّ وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے ۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملیگا جس میں تیری تعریف کی جائیگی یعنے گو اوّل میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بد ظنی کی راہ سے بد گوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں لیکن آخر خدا تعالیٰ کی مدد کو دیکھ کر شرمندہ ہونگے اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہوگی۔

اِسی جگہ ایک اور اعتراض فوراً دفع کرنے کے لائق ہو اور وہ یہ ہو کہ اگر یہ الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا اور اُسپر اعتماد کلّی تھا تو پھر پوشیدہ کیوں رکھا اور کیوں اپنے خط میں پوشیدہ رکھنے کیلئے تاکید کی ٭ اُس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک خانگی معاملہ تھا اور جن کیلئے یہ نشان تھا اُنکو تو پہنچا دیا گیا تھا اور یقین تھا کہ والد اُس دختر کا اِسلئے اشاعت سے رنجیدہ ہوگا ۔ اِسلئے ہم نے دل شکنی اور رنجدہی سے گریز کی ۔ بلکہ یہ بھی نہ چاہا کہ در حالت ردّ و انکار وہ بھی اِس امر کو شایع کریں اور گو ہم شایع کرنے کیلئے مامور تھے مگر ہم نے مصلحتاً دُوسرے وقت کی انتظار کی ۔ یہانتک کہ اُس لڑکی کے ماموں مرزا نظام الدین نے جو مرزا امام الدین کا حقیقی بھائی ہے شدّت غیض و غضب میں آکر اس مضمون کو آپ ہی

٭ یہ الہام جو شرطی طور پر مکتوب الیہ کی موت فوت پر دلالت کرتا تھا ہم کو بالطبع اسکی اشاعت سے کراہت تھی بلکہ ہمارا دل یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس سے مکتوب الیہ کو مطلع کریں مگر اُسکے کمال اصرار سے جو اُس نے زبانی اور کئی انکساری خطوں کے بھیجنے سے ظاہر کیا ۔ ہم نے سراسر سچی خیر خواہی اور نیک نیتی سے اُسپر یہ امر سربستہ ظاہر کر دیا پھر اُسنے اور اُسکے عزیز مرزا نظام الدین نے اِس الہام کے مضمون کی آپ شہرت دی۔ منہ

صفحہ 68

دافع الوساوس ۲۸۸ مقدمہ حقیقۃ

شائع کر دیا اور شائع بھی ایسا کیا کہ شاید ایک یا دو ہفتہ تک دسہزار مرد و عورت تک ہماری درخواست نکاح اور ہمارے مضمون الہام سے بخوبی اطلاع یاب ہو گئے ہونگے۔ اور پھر زبانی اشاعت پر اکتفاء نہ کر کے اخباروں میں ہمارا خط چھپوایا اور بازاروں میں ان کے دکھلانے سے دھنڈورا جا بجا پیٹا گیا اور عورتوں اور بچوں تک اس خط کے مضمون کی منادی کی گئی۔ اب جب مرزا نظام الدین کی کوشش سے وہ خط ہمارا نور افشاں میں بھی چھپ گیا۔ اور عیسائیوں نے اپنے مادہ کے موافق یہی افترا کرنا شروع کیا تو ہم پر فرض ہو گیا کہ اپنے قلم سے اصلیت کو ظاہر کریں۔ بدخیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا اور نیز یہ پیشگوئی ایسی مبہم نہیں کہ جو پہلے پہل اسی وقت میں ہم نے ظاہر کی ہے بلکہ مرزا امام الدین ونظام الدین اور اس جگہ کے تمام آریا اور نیز لیکھرام پشاوری اور صدہا دوسرے لوگ خوب جانتے ہیں کہ کئی سال ہوئے کہ ہم نے اسی کے متعلق مُجملاً ایک پیشگوئی کی تھی یعنے یہ کہ ہماری برادری میں سے ایک شخص احمد بیگ نام فوت ہونیوالا ہے۔ اب منصف آدمی سمجھ سکتا ہے کہ وہ اس پیشگوئی کا ایک شعبہ تھی یا یوں کہو کہ یہ تفصیل اور وہ اجمال تھی اور اس میں تاریخ اور مدّت ظاہر کی گئی اور اُس میں تاریخ اور مدّت کا کچھ ذکر نہ تھا اور اس میں شرائط کی تصریح کی گئی اور وہ ابھی اجمالی حالت میں تھی۔ سمجھدار آدمی کیلئے یہ کافی ہو کہ پہلی پیشگوئی اُس زمانہ کی ہے کہ جبکہ ہنوز وہ لڑکی نابالغ تھی اور جبکہ یہ پیشگوئی بھی اسی شخص کی نسبت ہے جس کی نسبت اب سے پانچ برس پہلے کی گئی تھی یعنے اُس زمانہ میں جبکہ اُس کی یہ لڑکی آٹھ یا نو برس کی تھی تو اسپر نفسانی افتراء گمان کرنا اگر حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ ۔

خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپورہ پنجاب ۔ ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء

صفحہ 69

۳۲۲

کیا گیا ہے یعنے یہ کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور مکالمہ الٰہیہ سے مشرف ہوں اور مامور من اللہ ہوں اور میری صداقت کا نشان یہ پیشگوئی ہے۔ اب آپ اگر کچھ بھی اللہ جل شانہٗ کا خوف رکھتے ہیں تو سمجھ سکتے کہ ایسی پیشگوئی جو منجانب اللہ ہونے کیلئے بطور ثبوت کے پیش کی گئی ہے اُسی حالت میں سچی ہو سکتی تھی کہ جب درحقیقت یہ عاجز منجانب اللہ ہو کیونکہ خدا تعالیٰ ایک مفتری کی پیشگوئی کو جو ایک جھوٹے دعوے کے لئے بطور شاہد صدق بیان کی گئی ہرگز سچی نہیں کر سکتا۔ وجہ یہ کہ اس میں خلق اللہ کا دھوکا لگتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہٗ خود مدعی صادق کیلئے یہ علامت قرار دیکر فرماتا ہے وان يك صادقاً يصبكم بعض الذى يعدكم ١؎ اور فرماتا ہے فلايظهر على غيبه احداً ٢؎ الا من ارتضى من رسول ٣؎ یہ رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدّث داخل ہیں۔ پس اس پیشگوئی کے الہامی ہونے کیلئے ایک مسلمان کیلئے یہ دلیل کافی ہے جو منجانب اللہ ہونے کے دعویٰ کے ساتھ یہ پیشگوئی بیان کی گئی اور خدا تعالیٰ نے اُس کو سچی کر کے دکھلا دیا اور اگر آپکے نزدیک یہ ممکن ہے کہ ایک شخص دراصل مفتری ہو اور سراسر دروغگوئی سے کہے کہ میں خلیفۃ اللہ اور مامور من اللہ اور مجدد وقت اور مسیح موعود ہوں اور میرے صدق کا نشان یہ ہے کہ اگر فلاں شخص مجھے اپنی بیٹی نہیں دیگا اور کسی دُوسرے سے نکاح کر دے گا تو نکاح کے بعد تین برس تک بلکہ اس سے بہت قریب فوت ہو جائے گا اور پھر ایسا ہی واقعہ ہو جائے تو برائے خدا اس کی نظیر پیش کرو۔ ورنہ یاد رکھو کہ مرنے کے بعد اس انکار اور تکذیب اور تکبر سے پوچھے جاؤ گے۔ خدا تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ ان الله لا يهدى من هو مسرف كذاب ٤؎ یہ سوچکر دیکھو کہ اس کے یہی معنی ہیں جو شخص اپنے دعویٰ میں کاذب ہو اسکی

١؎ مومن : ٢٩ ٢؎ الجن : ٢٨ ٤؎ مومن : ٢٩

صفحہ 70

۳۲۵

وقت تک مرا رہیگا۔ مگر میری اس پیشگوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں ۔ اول نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا ۔ دوم نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقیناً زندہ رہنا۔ سوم پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔ چہارم اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مرجانا ۔ پنجم اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا ۔ ششم پھر آخر بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اسکے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا ۔ اب آپ ایماناً کہیں کہ کیا یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں اور ذرہ اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ کیا ایسی پیشگوئی سچے ہو جانے کی حالت میں انسان کا فعل ہو سکتی ہے ۔ پھر اگر اس پیشگوئی پر جو لڑکی کے باپ کے متعلق ہے جو ۲۰؍ ستمبر ۱۸۹۳ء کو پوری ہو گئی آپکا دل نہیں ٹھہرتا تو آپ اشاعۃ السنہ میں ایک اشتہار حسب اپنے اقرار کے دیدیں کہ اگر یہ دوسری پیشگوئیاں بھی پوری ہو گئیں تو اپنے ظنون باطلہ سے توبہ کرونگا اور دعوے میں سچا سمجھ لونگا اور ساتھ اس کے خدا تعالیٰ سے ڈر کر یہ بھی اقرار کر دیں کہ ایک تو ان میں سے پوری ہو گئی اور اگر اس پیشگوئی کے پورا ہو جانے کا آپکے دل میں زیادہ اثر نہ ہو تو اس قدر تو ضرور چاہئیے کہ جبتک اخیر ظاہر نہ ہو کف لسان اختیار کریں جب ایک پیشگوئی پوری ہو گئی تو اسکی کچھ تو ہیبت آپ کے دل پر چاہئیے ۔ آپ تو میری ہلاکت کے منتظر اور میری رسوائی کے دنوں کے انتظار میں ہیں اور خدا تعالیٰ میرے دعویٰ کی سچائی پر نشان ظاہر کرتا ہے اگر آپ اب بھی نہ مانیں تو میرا آپ پر زور ہی کیا ہے لیکن یاد رکھیں کہ انسان اپنے اوائل ایام انکار میں بباعث کسی اشتباہ کے معذور ٹھہر سکتا ہے لیکن نشان دیکھنے پر ہرگز معذور نہیں

صفحہ 71

۳۴۶ ہو ۔ پس ایسا ہی ہو گیا ۔ اس تقریر میں اس وہم کا بھی جواب ہے کہ نزول کیلئے مسیح کو کیوں مخصوص کیا گیا ۔ کیوں نہ کہا گیا کہ موسیٰ نازل ہو گا ۔ یا ابراہیم نازل ہو گا ۔ یا داؤد نازل ہو گا۔ کیونکہ اس جگہ صاف طور پر کھل گیا کہ یہودیہ فتنوں کے لحاظ سے مسیح کا نازل ہونا ہی ضروری تھا کیونکہ مسیح کی ہی قوم بگڑی تھی اور مسیح کی قوم میں ہی دجّالیت پھیلی تھی اسلئے مسیح کی رُوحانیت کو ہی جوش آنا لائق تھا۔ یہ وہ دقیق معرفت ہے کہ جو کشف کے ذریعہ سے اس عاجز پر کھلی ہے اور یہ بھی کھلا کہ یوں مقدّر ہو کہ ایک زمانہ کے گذرنے کے بعد کہ خیر و صلح اور غلبۂ توحید کا زمانہ ہو گا۔ پھر دُنیا میں فساد اور شرک اور ظلم عود کر یگا اور بعض بعض کو کیڑوں کی طرح کھائیں گے اور جاہلیت غلبہ کریگی اور دوبارہ مسیح کی پرستش شروع ہو جائے گی اور مخلوق کو خدا بنانے کی جہالت بڑے زور سے پھیلے گی اور یہ سب فساد عیسائی مذہب سے اس آخری زمانہ کے آخری حصّہ میں دُنیا میں پھیلیں گے ۔ تب تیسرا قوس پھر مسیح کی روحانیت سخت جوش میں آکر جلالی طور پر اپنا نزول چاہے گی ۔ تب ایک قہری تجلّی میں اسکا نزول ہوکر اُس زمانہ کا خاتمہ ہو جائیگا تب آخر ہوگا اور دُنیا کی صف لپیٹ دیجائیگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسیح کی اُمت کی نالائقی و کوتاہیوں کیوجہ سے مسیح کی رُوحانیت کیلئے یہی مقدّر تھا کہ تین مرتبہ دُنیا میں نازل ہو۔

اِس جگہ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانیت بھی اسلام کے اندرونی مفاسد کے غلبہ کے وقت ہمیشہ ظہور فرماتی رہتی ہے اور حقیقت محمّدیہ کا حلول ہمیشہ کسی کامل متبع میں ہو کر جلوہ گر ہوتا ہے اور جو احادیث میں آیا ہے کہ مہدی پیدا ہو گا اور اُسکا نام میرا ہی نام ہو گا اور اُس کا خُلق میرا ہی خُلق ہوگا۔ اگر یہ حدیثیں صحیح ہیں تو یہ اِسی نزول رُوحانیت کیطرف اشارہ ہے لیکن وہ نزول کسی خاص فرد میں محدود نہیں۔ صدہا ایسے لوگ گذرے ہیں جن میں حقیقت محمدیہ محقّق تھی اور عنداللہ ظلّی طور پر اُنکا نام محمّد یا احمد تھا۔ لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت مرحومہ ان فسادوں سے بفضلہ تعالیٰ محفوظ رہی ہے جو حضرت عیسیٰ کی اُمت کو پیش آئے اور ابتک ہزار ہا صلحاء اور اتقیاء اِس اُمت میں موجود ہیں کہ جو فخر دُنیا کی طرف پشت دیکر بیٹھے ہوئے ہیں پنجوقتہ توحید کی اذان کی مساجد میں ایسی گونج پڑ رہی ہے کہ آسمان تک محمّدی توحید کی شعاعیں پہنچتی ہیں۔ پھر کون موقع تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانیت کو ایسا جوش آتا جیسا کہ حضرت مسیح کی رُوح میں عیسائیوں کے دجّالانہ اور مفسدانہ طوفانوں اور مشرکانہ تعلیموں اور نبوّت میں بیجا دخلوں اور خدائے تعالیٰ کی ہمسری کرنے نے پیدا کر دیا ۔ اِس زمانہ میں یہ جوش حضرت موسیٰ کی رُوح کو بھی اپنی اُمت کے لئے نہیں آسکتا تھا کیونکہ وہ تو نابود ہو گئی۔

صفحہ 72

۴۰۹

ختم الله على قلوبهم فهم لا ينظرون الى الحق ولا يقصدونه ولا يبجلون ويحتقرون الذى ارسله الله الى عباده ويقولون قد انبأنا الله انه كافر كذّاب ـ ويصرّون على قولهم وهم يكذبون ـ و يقولون إن البركات كلّها منوطة بالبيعة ـ ومالهذا الرجل شرف بيعة شيخ من المشايخ ـ وما بيعتهم إلا كصفقة المغبون ـ وإن قولهم الا كذبٌ نَحتته الصوّاغون ـ يا حسرةً عليهم الا يعلمون ـ ان المسيح ينزل من السماء بجميع علومه ـ ولا ياخذ شيئا من الارض مالهم لا يشعرون ـ الا يعلمون انّ الذين يُرسلون من لدن ربّهم لا يحتاجون الى بيعة احد ـ وهم من ربّهم يتعلّمون ـ وكل علم منه ياخذون ـ به يبصرون و به يسمعون وبه ينطقون ـ ليسكن

ترجمه : و میخواهم درختان پژمرده اسلام را آبیاری کنم و شما با من ستیزید ـ نمی بینید که اسلام غریب گردیده و بر سرش رسیده آنچه نه گوشے شنیده و نه چشمے دیده ـ و نه گوینده گوید ـ در شگفت ام که ازیں حالت ہا زلزله شما را نمی گیرد و المے نمی رسد ـ وغیرت و اشتعال پنجه بر دامن شما نزند ـ مرد خوانم شما را یا مخنّث می باشید ـ آگاه می باشید که فتنه ہا عظیم شده و تاریکیها عام گردیده ـ و زمین آنچه در باطنش مدفون بود بروں انداخته و خود را پرداخته و بدعات بیضه ہا گذاشته ـ و تعلیمات قرآن رخت از عالم برداشته ـ جان ہا به پستی گرائیده و مائل بدنیا شده و در زیر چادر گمرہی سر در کشیده ـ و در سوراخ خواهشہاے بد فرو خزیده ـ و ہر قوم راہ حق گذاشته و راہ کج را

صفحہ 73

۵۴۷

ومنح لى من النعم الظاهرة والباطنة وجعلنى من المجذوبين۔ وكنت شابا وقد شخت وما استفتحت بابا الا فتحت۔ وما سألت من نعمة الا اعطيت وما استكشفت من امر الا كشفت۔ وما ابتهلت فى دعاء الا اجيبت۔ وكل ذالك من حبّى بالقرآن وحبّ سيدى وامامى سيّد المرسلين۔ اللهم صل وسلم عليه بعدد نجوم السموت وذرات الارضين ومن اجل هذا الحبّ الذى كان فى فطرتى كان الله معى من اوّل امرى حين ولدت وحين كنت رضيعا عند ظئرى وحين كنت اقرأ فى المتعلمين۔ وقد حبب الىّ منذ دنوت العشرين ان انصر الدين۔ واجادل البراهمة والقسيسين۔ وقد الفت فى هذه المناظرات مصنفات عديدة۔ ومؤلفات مفيدة منها كتابى البراهين۔ كتاب ندر ما نسج على منواله فى ايام خالية فليقرءه من كان من المرتابين۔ قد سللت فيه صوارم الحجج القطعية على اقوال الملحدين۔ ورميت بشهبها الشياطين المبطلين۔ قد خفض هام كل معاند بذالك السيف المسلول۔ وتبيّنت فضيحتهم بين ارباب المنقول والمعقول۔ وبين المصنفين۔ فيه دقائق العلوم وشواردها والالهامات الطيبة الصحيحة و الكشوف الجليلة ومواردها۔ ومن كل ما يجلّى درر معارف الدين المتين ولى كتب اخرى تشابهه فى الكمال۔ منها الكمل والتوضيح والازالة وفتح الاسلام وكتاب آخر سبق كلها الفته فى هذه الايام اسمه دافع الوساوس هو نافع جدّا للذين يريدون ان يروا حسن الاسلام ويكفون افواه المخالفين۔ تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها ويقبلنى ويصدق

صفحہ 74

۵۴۸

دعوتى - الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون ـ ولما بلغت اشد عمرى و بلغت اربعين سنة جاءتنى نسيم الوحى بريّا عنايات ربّى ليزيد معرفتى و يقينى و يرتفع حجبى واكون من المستيقنين فاول ما فتح علىّ بابه هو الرؤيا الصالحة فكنت لا ارى رؤيا الا جاءت مثل فلق الصبح وانى رايت فى تلك الايام رؤيا صالحة صادقة قريبا من الفين او اكثر من ذالك ـ منها محفوظة فى حافظتى وكثير منها نسيتها ـ ولعل الله يكررها فى وقت اخر ونحن من الآملين ـ ورايت فى غلواء شبابى وعند دواعى التصابى كانى دخلت فى مكان وفيه حفدتى وخدمى فقلت طهّروا فراشى فان وقتى قد جاء ثم استيقظت وخشيت على نفسى وذهب وهلى الى اننى من المائتين ـ ورايت ذات ليلة وانا غلام حديث السن كانى فى بيت لطيف نظيف يذكر فيها رسول الله صلّى الله عليه وسلّم فقلت ايّها النّاس اين رسول الله صلى الله عليه وسلّم فاشاروا الى حجرة فدخلت مع الداخلين ـ فبش بى حين وافيته ـ وحيانى باحسن ما حيّيته وما انسى حسنه وجماله وملاحته وتحننه الى يومى هذا ـ شغفنى حبّا وجذبنى بوجه حسين قال ما هذا بيمينك يا احمد فنظرت فاذا كتاب بيدى اليمنى وخطر بقلبى انه من مصنفاتى قلت يا رسول الله كتاب من مصنفاتى قال ما اسم كتابك فنظرت الى الكتاب مرة اخرى وانا كالمتحيّرين ـ فوجدته يشابه كتابا كان فى دار كتبى واسمه قطبى قلت يا رسول الله اسمه قطبى قال ارنى كتابك القطبى فلما

صفحہ 75

۵۷۶

ومودۃ الاقارب وحقوق الوصلۃ وتجدنی ناصر نوائبک وحامل اثقالک فلا تضیع وقتک فی الاباء ولا تستنکر حبک ولا تکونن من الممترین۔ وھا انا کتبت مکتوبی ھذا من امر ربی لاعلن امری فاحفظ مکتوبی ھذا فی صندوقک فانہ من صدوق امین واللہ یعلم اننی فیہ صادق و کل ما وعدت فھو من اللہ تعالٰی وما قلت اذ قلت ولکن انطقنی اللہ تعالٰی بالھامہ۔ وکانت ھذہ وصیۃ من ربی فقضیتھا ما کان لی حاجۃ الیک و الی بنتک وما ضیق اللہ علیّ والنساء سواھا کثیرۃ واللہ یتولی الصالحین۔ فلا تنظر الی مکتوبی بعین الارتیاب۔ فانہ کتبتہ بمحض النصح والتزام الصدق والصواب۔ ودع الجدال وانتظر الآجال۔ فان مضی الاجل وما حصحص الصدق فاجعل حبلا فی جیدی وسلاسل فی ارجلی وعذبنی بعذاب لم یعذب بہ احد من العالمین۔ کنتم قد طلبتم آیۃ من ربی فھذہ آیۃ لکم انہ یاخذ المنکرین من مکان قریب و یختار ما کان اقرب التعذیبات فی حقھم و ادنی من افھامھم واشد اثرا فی اعراضھم۔ و اجسامھم لیری المختالین ضعفھم و یکسر کبر الضائمین۔ ھذا ما کتبت الی احمد بیگ فی سنۃ ۱۳۰۴ فاعرض و ابی و سکت و بکّت وعاف وصلتی وضاق ذرعا من نصیحتی وکان من المعادین۔ ومعہ عادانی قومہ وعشیرتہ الذین کانوا اقربین۔ وکانوا یعافون ان یزوّجوا بناتھم اقارب مثلہ او یزوّجوا امرء تحتہ امرأۃ اخریٰ وکانت بنتہ ھذہ المخطوبۃ جاریۃ حدیثۃ السن عذراء وکنت حینئذ جاوزت الخمسین۔ وکان جدّھا

صفحہ 76

۵۸۴

والبراھین۔ طوبی لمن حصلھا وعرفھا وقرءھا بامعان النظر فلا یجد مثلھا من مُعین۔ ومن اراد حل غوامض التنزیل۔ واستعلام اسرار کتاب الرب الجلیل۔ فعلیہ بالاشتغال بھذہ الکتب وبالعکوف علیھا فانھا کافلة بما یبغیہ الطالب الذھین۔ یصبی القلوب اریج ریحانھا والثمرات مستکثرة فی اغصانھا۔ ولا شک انھا جنة قطوفھا دانیة لا یسمع فیھا لاغیة۔ نزل للطیبین۔ منھا فصل الخطاب لقضایا اھل الکتاب۔ ومنھا تصدیق البراھین۔ تناسق فیھا جزیل المعانی مع متانة الالفاظ ولطافة المعانی حتی صارت اسوة حسنة للمولفین۔ ویتمنی المتکلمون ان ینسجوا علی منوالھا وترنمت بالثناء علیھا السنۃ المحررین۔ جواھرھا تفوق جواھر النحور۔ ودررھا فاقت درر البحور وانھا احسم دلیل علی کمالاتہ۔ واقطع برھان علی ربانیاتہ۔ وستعلمون نباھا بعد حین

قد شمر المولف الفاضل فیھا لتفسیر نکات القرآن عن ساق الجد والعنایة۔ واعتنی فی تحقیقہ باتفاق الروایة والدرایة فواھا لھممہ العالیة۔ وافکارہ الوقادة المرضیة۔ فھو فخر المسلمین۔ ولہ ملکة عجیبة فی استخراج دقائق القرآن۔ وبط کنوز حقائق الفرقان۔ ولا شک انہ ینور من انوار مشکوة النبوة۔ ویاخذ نورا من نور النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) بمناسبة شان الفتوة۔ وطھارة الطین۔ وامرہ عجیب۔ وفنی غریب۔ تتفجر انھار انوار الاسرار بلمة من لمحاتہ۔ وتندفق مناھل الافکار۔

صفحہ 77

۵۹۸

حضرت موسیٰ کی نسبت یہ کہے کہ نعوذ باللہ وہ مالِ حرام کھانیوالا تھا ۔ یا حضرت مسیح کی نسبت یہ زبان پر لاوے کہ وہ طوائف کے گندہ مال کو اپنے کام میں لایا۔ یا حضرت ابراہیم کی نسبت یہ تحریر شائع کرے کہ مجھے جس قدر اُن پر بدگمانی ہو اسکی وجہ اُنکی دروغگوئی ہو تو ایسے خبیث کی نسبت اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اُسکی فطرت اُن پاک لوگوں کی فطرت سے مغائر پڑی ہوئی ہو اور شیطان کی فطرت کے موافق اُس پلید کا مادہ اور خمیر ہو۔ سو حضرت بٹالوی صاحب یاد رکھیں کہ جسقدر آپ اس عاجز کی نسبت بباعث اپنی نادانی کے دروغگوئی کے الزام لگاتے ہیں وہ اُسی قسم کے اعتراض ہیں جو پہلے اس سے نابکار لوگوں نے انبیاء علیہم السلام پر کئے ہیں جبکہ آپ پر تکبّر اور غرور اور خود پسندی کا اعتراض ہو جو اُسی معلّم الملکوت کا خاصہ ہے جو آپکا قرین دائمی ہو۔ اگر کوئی ذنب حقیقت میں ہم سے ظہور میں آیا ہو تو ہم اُسکی سزا پائینگے۔ اور اگر خلیل اللہ کے کلمات کی طرح ہمارا کوئی کلمہ کسی نادان کی نظر میں بصورت دروغ معلوم ہو تو یہ اُسکی نادانی ہو گی جو ایکدن ضرور اسکو رسوا کریگی۔ خدا تعالیٰ ایسے لوگوں سے پناہ میں رکھے جو ابلیس کی چادر پہنکر اپنی نفسانی پندار سے۔ ہمچو من دیگرے نیست کہتے پھریں اور اپنی کور باطنی سے دوسروں کی نکتہ چینی کریں۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ قیامت کے دن شرک کے بعد تکبّر جیسی اور کوئی بلا نہیں۔ یہ ایک ایسی بلا ہے جو دونوں جہان میں انسان کو رُسوا کرتی ہے۔ خدا تعالیٰ کا رحم ہر ایک موحد کا تدارک کرتا ہے مگر متکبر کا نہیں۔ شیطان بھی موحد ہونے کا دم مارتا تھا مگر چونکہ اُسکے سر میں تکبّر تھا اور آدم کو جو خدا تعالیٰ کی نظر میں پیارا تھا تکبر کی نظر سے دیکھا اور اُسکی نکتہ چینی کی اسلئے وہ مارا گیا اور طوقِ لعنت اُسکی گردن میں ڈالا گیا ۔ سو پہلا گناہ جس سے ایک شخص ہمیشہ کیلئے ہلاک ہُوا تکبّر ہی تھا۔ اب مَیں اللہ جلشانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو بدکار مفتری کو بے سزا نہیں چھوڑتا کہ خدا تعالیٰ نے جیسے مجھے مسیح ابن مریم قرار دیا ایسا ہی آدم بھی قرار دیا اور فرمایا کہ اردت ان استخلف فخلقت آدم ۔ یعنے میں نے ارادہ کیا کہ دُنیا میں اپنا خلیفہ مقرر کروں سو مَیں نے آدم کو پیدا کیا یعنے اس عاجز کو۔ سو جبکہ مَیں آدم ٹھہرا تو میرے لئے ایک نکتہ چیں بھی چاہئے تھا۔ جو اوّل لوگوں کی نظر میں ملکوت میں داخل ہو اور پھر الٰی یوم الدین لعنت کا جامہ پہنے۔ سو اب معلوم ہُوا کہ وہ آپ ہی ہیں۔ اور پھر مَیں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ فقرہ جو میں اُوپر لکھ آیا ہوں یہ اللہ جلشانہ کا کلام ہے۔ اور اگر یہ اللہ جلشانہ کا کلام نہیں تو مَیں دُعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ایک رات بھی مجھ کو مہلت نہ دے اور میرے پر وہ سزا نازل کرے جو کسی پر نہ کی ہو۔ اے میرے خدا۔ اے میرے ہادی ۔ رہنما ۔ اگر یہ تیرا کلام نہیں۔ اگر تو نے ہی مجھے خلیفہ مقرر نہیں کیا۔ اگر تُو نے ہی میرا نام عیسیٰ نہیں رکھا اور تُو نے ہی میرا نام آدم نہیں رکھا تو مجھے

صفحہ 78

۲ کے ساتھ شامل کیا گیا تھا۔ اندرمن مراد آبادی اور لیکھرام پشاوری کو اِس بات کی دعوت دی تھی کہ اگر وہ خواہشمند ہوں تو انکی قضا و قدر کی نسبت بعض پیشگوئیاں شایع کی جائیں سو اس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہوگیا۔ لیکن لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیشگوئی چاہو شایع کر دو۔ میری طرف سے اجازت ہے۔ سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جلشانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا :۔ عجل جسد لہ خوار ۔ لہ نصب و عذاب ۔ یعنے یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے جسکے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اُس کے لئے اِن گستاخیوں اور بد زبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے جو ضرور اُس کو مل رہے گا۔ اور اس کے بعد آج جو ۲۰ فروری ۱۸۹۳؁ء روز دوشنبہ ہے اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو بیس فروری ۱۸۹۳؁ء ہے۔ چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بد زبانیوں کی سزا میں یعنے اُن بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کی ہیں عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔ سو اَب مَیں اِس پیشگوئی کو شایع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ

۶۵۰

صفحہ 79

٣

میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہو جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارقِ عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے۔ اور اگر میں اس پیشگوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کیلئے میں تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسّہ ڈال کر کسی سُولی پر کھینچا جائے اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔ زیادہ اس سے کیا لکھوں۔ واضح رہے کہ اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت بے ادبیاں کی ہیں جن کے تصوّر سے بھی بدن کانپتا ہے۔ اسکی کتابیں عجیب طور کی تحقیر اور توہین اور دشنام دہی سے بھری ہوئی ہیں کون مسلمان ہے جو اُن کتابوں کو سُنے اور اُس کا دل اور جگر ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو۔ باایں ہمہ شوخی وخیرگی یہ شخص سخت جاہل ہے۔ عربی سے ذرّہ مسّ نہیں۔ پندرہ بیس روپیہ مہینہ کا بھی عہدہ نہیں اور یہ پیشگوئی اتفاقی نہیں بلکہ اِس عاجز نے خاص اِسی مطلب کیلئے دُعا کی جس کا یہ جواب ملا۔ اور یہ پیشگوئی مسلمانوں کیلئے بھی نشان ہو۔ کاش وہ حقیقت کو سمجھتے اور اُنکے دل نرم ہوتے۔ اَب میں اُسی خدا عزّ و جل کے نام پر ختم کرتا ہوں جس کے نام سے شروع کیا تھا۔ والحمد للہ والصلوۃ والسّلام علٰی رسولہ محمّد المصطفٰی افضل الرسل وخیر الوریٰ سیّدنا وسیّد کل ما فی الارض والسّماء۔ خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپورہ (۲۰ فروری ۱۸۹۳؁ء)

٭ اب آریوں کو چاہیئے کہ سب مل کر دُعا کریں کہ یہ عذاب اُن کے اِس وکیل سے ٹل جائے۔ منہ

۵۱

صفحہ 80

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ اَفْضَلِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ النَّبِیّٖنَ

اشتہار

کتاب براہین احمدیہ جس کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم و مامور ہو کر بوجہ اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے جس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کا اشتہار ہے جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں سچا دین اور سچا مذہب جس کے ذریعہ سے انسان خدا تعالیٰ تک پہنچے اور نقص سے بری ہو کر اس کی تمام پاک برکاتوں اور نعمتوں پر دلی یقین سے ایمان لاتا ہے وہ فقط اسلام ہے جس کی سچائی کی برکتیں آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں اور صداقت کی روشنی دن کی طرح ظاہر ہو رہی ہے اور دوسرے تمام مذاہب ایسے بدیہی البطلان ہیں کہ نہ عقلی تحقیقات سے ان کے اصول صحیح اور درست ثابت ہوتے ہیں اور نہ ان پر چلنے سے ایک ذرہ روحانی برکت اور رحمت الٰہی مل سکتی ہے بلکہ ان کی پابندی سے انسان نہایت درجہ کا کور باطن اور بے حس ہو جاتا ہے جس کی سفاہت پر اسی جہان میں نشانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

اس کتاب میں دین اسلام کی سچائی کو دو طرح پر ثابت کیا گیا ہے۔ (۱) اول تین سو مضبوط اور قوی دلائل عقلیہ سے جن کی شان و شوکت قدر و منزلت اس سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی مخالفِ اسلام ان دلائل کو توڑ دے تو اس کو دس ہزار روپیہ دینے کا اشتہار دیا گیا ہے اگر کوئی سچا ہے تو اپنی تسلی کے لئے عدالت میں رجسٹری بھی کرالے۔ (۲) دوئم ان آسمانی نشانوں سے کہ جو سچے دین کی کامل سچائی ثابت ہونے کے لئے از بس ضروری ہیں۔ اس حصہ دوئم میں مؤلف نے جس غرض سے کہ حقانیتِ دین اسلام آفتاب کی طرح روشن ہو جائے تین قسم کے نشان ثابت کر کے دکھلائے ہیں۔ اوّل وہ نشان کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مخالفین نے خود بحضرت ممدوح کے ہاتھ سے اور آنجناب کی دعا اور توجہ اور برکت سے ظاہر ہوتے دیکھے جن کو مؤلف یعنی خاکسار نے تاریخی طور پر ایک اعلیٰ درجہ کے ثبوت سے مخصوص و ممتاز کر کے درج کتاب کیا ہے۔ دوئم وہ نشان کہ جو خود قرآن شریف کی ذات با برکات میں دائمی اور ابدی اور بے مثل طور پر پائی جاتی ہیں جن کو راقم نے بیان شافی اور کافی سے ہر یک عام و خاص پر کھول دیا ہے اور کسی نوع کا عذر کسی کے لئے باقی نہیں رکھا۔ سوئم وہ نشان کہ جو کتاب اللہ کی پیروی اور متابعتِ رسولِ برحق کے اس شخص میں جو کہ بطور وراثت ملتے ہیں جن کے اثبات میں اس بندہ درگاہ نے بفضلِ خدا وند حضرت قادرِ مطلق یہ صریحی ثبوت دکھلایا ہے کہ بہت سے سچے الہامات اور خوارق اور کرامات اور اخبارِ غیبیہ اور اسرارِ لدنیہ اور کشوفِ صادقہ اور دعائیں مقبولہ کہ جو خود اس خادم دین سے صادر ہوئے ہیں اور جن کی صداقت پر بہت سے مخالفین مذہب (آریوں وغیرہ سے) بشہادت و رُؤیت گواہ ہیں کتاب موصوف میں درج کئے ہیں اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدّدِ وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بشدّت مناسبت اور مشابہت ہے اور اس کو خواص انبیاءِ رسل کے نمونہ پر محض بہ برکت متابعتِ حضرت خیر البشر افضل الرسل صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں پر اکابرِ اولیاء سے فضیلت دی گئی ہے کہ جو اُس سے پہلے گزر چکے ہیں اور اس کے قدم پر چلنا موجب نجات و سعادت و برکت اور اُس کے برخلاف چلنا موجب بُعد و حرمان ہے۔ یہ سب ثبوت کتاب براہین احمدیہ تک پڑھنے سے کہ جو منجملہ تین سو جزو کے قریب ۲۴ جزو کے چھپ چکی ہے ظاہر ہوتے ہیں اور طالبِ حق کے لئے خود مصنف پوری پوری تسلی و تشفی کرنے کو ہر وقت مستعد اور حاضر ہے۔ وذلك فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم ۔ والسلام علیٰ من اتبع الهدی۔ اور اگر اس اشتہار کے بعد بھی کوئی شخص سچا طالب بن کر اپنی عقدہ کشائی نہ چاہے اور دلی صدق سے حاضر نہ ہو تو ہماری طرف سے اس پر اتمامِ حجت ہے جس کا خدا تعالیٰ کے روبرو اُس کو جواب دینا پڑے گا۔ بالآخر اس اشتہار کو اس دعا پر ختم کیا جاتا ہے کہ اے خداوند کریم تو تمام قوموں کے مستعد دلوں کو ہدایت بخش کہ تا تیرے رسولِ مقبول افضل الرسل محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور تیرے کامل و مقدس کلام قرآن شریف پر ایمان لاویں اور اس کے حکموں پر چلیں تا ان تمام برکتوں اور سعادتوں اور حقیقی خوشحالیوں سے متمتع ہو جاویں کہ جو سچے مسلمان کو دونوں جہانوں میں ملتی ہیں اور اس جاویدانی نجات اور حیات سے بہرہ ور ہوں کہ جو نہ صرف عقبیٰ میں حاصل ہو سکتی ہے بلکہ سچے ایماندار اسی دُنیا میں اس کو پاتے ہیں بالخصوص قوم انگریز جنہوں نے ابھی تک اس آفتابِ صداقت سے کچھ روشنی حاصل نہیں کی اور جن کی شائستہ تر اور مہذّب اور با رحم گورنمنٹ نے ہم کو اپنے احسانات اور دوستانہ معاملات سے ممنون کر رکھا اس بات کے لئے دلی جوش بخشتا ہے کہ ہم اُن کی دُنیاوی برکتوں کے لئے جو اُنہیں ملی ہیں ان کی بہبودی و سلامتی چاہیں اور دلی منّتیں بحضورِ قادرِ مطلق پیش کرتے ہیں کہ آخرت میں بھی نورانی حصّہ بر ہوں : فنسئل الله تعالیٰ خيرهم فی الدنيا و الاخرة اللهم اهدهم وايدهم بِروُحٍ مِنكَ و اجعل لهم حظًا كثيرًا فى دينكَ واجذبهم بجذبك و قَوِّهِمْ بتائيدك انك على كل شئ قدير واخر دعوانا ان الحمد لله رب العٰلمين ۔ آمین ثم آمین و الحمد لله رب العالمين!

راقم خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ملک پنجاب (چھپی سفیر ہند پریس امرتسر میں باہتمام چرن داس)

صفحہ 81

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۶

برکاتُ الدُّعاء ۔ حُجَّۃُ الاسلام ۔ سچائی کا اظہار

جنگِ مقدس ۔ شہادۃ القرآن

صفحہ 82

جنگ مُقدّس

یعنی

تحقیقِ حق کیواسطے اہلِ اسلام اور عیسائیانِ امرتسر میں بمقام امرتسر

مباحثہ

۲۲ مئی ۱۸۹۳ء سے شروع ہوکر ۵ جون ۱۸۹۳ء کو

ختم ہُوا

اہلِ اسلام کی طرف سے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی بحث کیلئے قادیان سے امرتسر تشریف لائے۔ اور عیسائی صاحبان کیطرف سے ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب پینشنر انتخاب ہو کر جلسہ مباحثہ میں پیش ہوئے۔ راقم کو مصدّقہ تحریریں چھاپکر مشتہر کرنے کی جلسہ بحث میں ہر دو جانب سے اِجازت دی گئی۔

جو

حرف بحرف مطابق روزانہ مصدّقہ بمہر ہر دو جانب چھپکر شائع ہُوا کی اور وہ سب کاپیاں فروخت ہوگئیں۔ اب بار دوم اُسی حیثیت سے شایقین کیلئے چھاپی گئیں۔

راقم

شیخ نور احمد مالک و مہتمم ریاضِ ہند پریس امرتسر (پنجاب)

مطبوعہ ریاضِ ہند پریس امرتسر

صفحہ 83

اہل اسلام اور عیسائیوں میں مباحثہ ۸۹ ۲۲؍ مئی ۱۸۹۳ء

سوال الوہیت مسیح پر

۲۲؍ مئی ۱۸۹۳ء بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِهٖ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ وَ اَصْحَابِهٖ اَجْمَعِیْنَ

اَمَّا بَعْد واضح ہو کہ بموجب شرائط قرار دادہ پرچہ علیحدہ مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۸۹۳ء پہلا سوال ہماری طرف سے تجویز ہوا تھا کہ ہم الوہیت حضرت مسیح علیہ السلام کے بارہ میں مسٹر عبداللہ آتھم صاحب سے سوال کرینگے۔ چنانچہ مطابق اسی شرط کے ذیل میں لکھا جاتا ہے۔

واضح ہو کہ اس بحث میں یہ نہایت ضروری ہوگا کہ جو ہماری طرف سے کوئی سوال ہو۔ یا ڈپٹی عبداللہ آتھم کی طرف سے کوئی جواب ہو وہ اپنی طرف سے نہ ہو بلکہ اپنی اپنی الہامی کتاب کے حوالہ سے ہو جس کو فریق ثانی حُجّت سمجھتا ہو۔ اور ایسا ہی ہر ایک دلیل اور ہر ایک دعویٰ جو پیش کیا جاوے وہ بھی اسی التزام سے ہو۔ غرض کوئی فریق اپنی اس کتاب کے بیان سے باہر نہ جائے جس کا بیان بطور حُجّت ہو سکتا ہے۔

بعد اسکے واضح ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے بارہ میں قرآن کریم میں بغرض رد کرنے خیالات اُن صاحبوں کے جو حضرت موصوف کی نسبت خُدا یا ابن اللہ کا اعتقاد رکھتے ہیں یہ آیات موجود ہیں۔

مَا الْمَسِیحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ ط اُنْظُرْ کَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ۔ ۱؎ (سیپارہ ۶ رکوع ۱۳)

یعنے مسیح بن مریم میں اس سے زیادہ کوئی بات نہیں کہ وہ صرف ایک رسول ہوا اور اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے ہیں ۔ اور یہ کلمہ کہ اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے ہیں۔ یہ قیاس استقرائی کے طور پر ایک استدلال لطیف ہے کیونکہ قیاسات کے جمیع اقسام میں سے استقراء کا مرتبہ بڑا عالیٰ شان ہے

۱؎ المائدہ : ۷۵

صفحہ 84

اہل اسلام اور عیسائیوں میں مباحثہ ۲۹۱ ۵۔ جون ۱۸۹۳ء

تباہ نہیں ہوگا۔ یہ ایک بڑے درخت کی طرح ہو جائیگا اور پھیل جائیگا اور اسمیں بادشاہ ہونگے اور جیسا کہ کزرع اخرج شطأہ ۱؎ میں اشارہ ہے اور پھر فصاحت بلاغت کے بارہ میں فرمایا بلسان عربی مبین ۲؎ اور پھر اسکی نظیر مانگی اور کہا کہ اگر تم کچھ کر سکتے ہو اسکی نظیر دو۔ پس عربی مبین کے لفظ سے فصاحت بلاغت کے سوا اور کیا معنی ہو سکتے ہیں؟ خاصکر جب ایک شخص کہے کہ میں یہ تقریر ایسی زبان میں کرتا ہوں کہ تم اسکی نظیر پیش کرو۔ تو بجز اس کے کیا سمجھا جائیگا کہ وہ کمال بلاغت کا مدعی ہے اور مبین کا لفظ بھی اسی کو چاہتا ہے۔ بالآخر چونکہ ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب قرآن شریف کے معجزات کے عمداً منکر ہیں اور اسکی پیشینگوئی سے بھی انکاری ہیں اور مجھ سے بھی اسی مجلس میں تین بیمار پیش کر کے ٹھٹھا کیا گیا کہ اگر دینِ اسلام سچا ہے اور تم فی الحقیقت ملہم ہو تو ان تینوں کو اچھا کر کے دکھاؤ حالانکہ میرا یہ دعویٰ نہ تھا کہ میں قادر مطلق ہوں نہ قرآن شریف کے مطابق مواخذہ تھا۔ بلکہ یہ تو عیسائی صاحبوں کے ایمان کی نشانی ٹھہرائی گئی تھی کہ اگر وہ سچے ایماندار ہوں تو وہ ضرور لنگڑوں اور اندھوں اور بہروں کو اچھا کریں گے۔ مگر تاہم میں اس کے لئے دعا کرتا رہا ہوں اور

آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دُعا کی کہ تُو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اُس نے مجھ پر نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے

۱؎ الفتح : ۲۹ ۲؎ الشعراء : ۱۹۶ ۲۰۹

صفحہ 85

اہل اسلام اور عیسائیوں میں مباحثہ ۲۹۲ ۵ ۔ جون ۱۸۹۳ء

جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لیکر یعنی ۱۵ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاویگا اور اسکو سخت ذلت پہنچیگی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اُسکی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اُسوقت جب یہ پیشینگوئی ظہور میں آویگی بعض اندھے سُوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سُننے لگیں گے ۔

اسی طرح پر جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے سو الحمد للہ والمنۃ کہ اگر یہ پیشینگوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظہور نہ فرماتی تو ہمارے یہ پندرہ دن ضائع گئے تھے۔ انسان ظالم کی عادت ہوتی ہے کہ باوجود دیکھنے کے نہیں دیکھتا اور باوجود سننے کے نہیں سنتا اور باوجود سمجھنے کے نہیں سمجھتا ۔ اور جُرأت کرتا ہے اور شوخی کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ خدا ہے لیکن اَب مَیں جانتا ہوں کہ فیصلہ کا وقت آ گیا۔ مَیں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اَور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کیلئے تھا۔ مَیں اِس وقت یہ اقرار کرتا ہوں

۲۱۰

صفحہ 86

اہل اسلام اور عیسائیوں میں مباحثہ ۲۹۳ ۵ - جون ۱۸۹۳ء

کہ اگر یہ پیشینگوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ رُوسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسّہ ڈالا جاوے مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کیلئے تیار ہوں اور میں اللہ جلشانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کریگا۔ ضرور کریگا۔ ضرور کریگا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اُس کی باتیں نہ ٹلیں گی +

اب ڈپٹی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ نشان پورا ہو گیا تو کیا یہ سب آپ کے منشاء کے موافق کامل پیشینگوئی اور خدا کی پیشینگوئی ٹھہریگی یا نہیں ٹھہریگی اور رسول اللہ صلعم کے سچے نبی ہونے کے بارہ میں جنکو اندرون بائبل میں دجال کے لفظ سے آپ نامزد کرتے ہیں محکم دلیل ہو جائیگی یا نہیں ہو جائے گی۔ اب اس سے زیادہ میں کیا لکھ سکتا ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ہی فیصلہ کر دیا ہو۔ اب ناحق ہنسنے کی جگہ نہیں اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو۔ اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔ لیکن اگر میں سچا ہوں۔ تو انسان کو خدا مت بناؤ۔ توریت کو پڑھو کہ اس کی اوّل اور کھلی تعلیم کیا ہے اور تمام نبی کیا تعلیم دیتے آئے اور تمام دُنیا کس طرف جھک گئی۔ اب میں آپ سے رخصت ہوتا ہوں اِس سے زیادہ نہ کہونگا۔ والسّلام علٰی من اتّبع الہدیٰ +

دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ از جانب ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام عیسائی صاحبان

تمام شد

۲۱۱

صفحہ 87

۲۹۵

(ٹائٹل پیج طبع بار ثانی)

الحمدللہ والمنت کہ رسالہ طیبہ مبارکہ

المسماۃ بہ

شَهَادَةُ القُرْآنِ

عَلٰی

نُزُوْلِ الْمَسِیحِ الْمَوْعُوْدِ فِی آخِرِ الزَّمَانِ

مطبع پنجاب پریس سیالکوٹ میں

باہتمام

منشی غلام قادر صاحب

فصیحؔ کے چھپا

صفحہ 88

۳۰۴

بالکل غافل تھے بلکہ حق بات جو ایک بدیہی امر کی طرح ہو یہی ہو کہ آئمہ حدیث کا اگر لوگوں پر کچھ احسان ہے تو صرف اسقدر کہ وہ امور جو ابتداء سے تعامل کے سلسلہ میں ایک دنیا انکو مانتی تھی انکی اسناد کے بارے میں اُن لوگوں نے تحقیق اور تفتیش کی اور یہ دکھلا دیا کہ اس زمانہ کی موجود حالت میں جو کچھ اہل اسلام تسلیم کر رہے ہیں یا عمل میں لا رہے ہیں یہ ایسے امور نہیں جو بطور بدعات اسلام میں اب مخلوط ہو گئے ہیں بلکہ یہ وہی گفتار و کردار ہے جو آنحضرت صلعم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو تعلیم فرمائی تھی

افسوس کہ اس صحیح اور واقعی امر کے سمجھنے میں غلط فہمی کر کے کوتہ اندیش لوگوں نے کسقدر بڑی غلطی کھائی جسکی وجہ سے آجتک وہ حدیثوں کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اگرچہ یہ تو سچ ہے کہ حدیثوں کا وہ حصہ جو تعامل قولی فعلی کے سلسلہ سے باہر ہے اور قرآن سے تصدیق یافتہ نہیں یقین کامل کے مرتبہ پر مسلّم نہیں ہو سکتا لیکن وہ دوسرا حصہ جو تعامل کے سلسلہ میں آگیا اور کروڑ ہا مخلوقات ابتداء سے اُسپر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آئی ہو اُسکو ظنی اور شکی کیونکر کہا جائے ایک دُنیا کا مسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک اور باپوں سے دادوں تک اور دادوں سے پردادوں تک بدیہی طور پر مشہور ہو گیا اور اپنے اصل مبداء تک اُسکے آثار اور انوار نظر آگئے اسمیں تو ایک ذرہ شک کی گنجائش نہیں رہ سکتی اور بغیر اسکے انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا کہ ایسے مسلسل عملدرآمد کو اوّل درجہ کے یقینیات میں سے یقین کرے پھر جبکہ آئمہ حدیث نے اس سلسلہ تعامل کے ساتھ ایک اور سلسلہ قائم کیا اور اس تعامل کا اُتار راستگو اور متدین راویوں کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیا تو پھر بھی اُس پر جرح کرنا در حقیقت اُن لوگوں کا کام ہے جنکو بصیرت ایمانی اور عقلِ انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔

اب اس تمہید کے بعد یہ بھی واضح ہو کہ مسیح موعود کے بارے میں جو احادیث میں پیشگوئی ہے وہ ایسی نہیں ہو کہ جسکو صرف ائمہ حدیث نے چند روایتوں کی بناء پر لکھا ہو و بس بلکہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ پیشگوئی عقیدہ کے طور پر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ و ریشہ میں داخل چلی آئی ہو گویا جس قدر اُسوقت رُوئے زمین پر مسلمان تھے اُسی قدر اس پیشگوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اسکو ابتداء سے یاد کرتے چلے آتے تھے اور ائمہ حدیث امام بخاری وغیرہ نے اس پیشگوئی کی نسبت

۸

صفحہ 89

۳۰۵ اگر کوئی امر انہی کوشش سے نکالا ہو تو صرف یہی کہ جب اُس کو کروڑ ہا مسلمانوں میں مشہور اور زبان زد پایا تو اپنے قاعدہ کے موافق مسلمانوں کے اس قولی تعامل کے لئے روایتی سند کو تلاش کر کے پیدا کیا اور روایات صحیحہ مرفوعہ سے جنکا ایک ذخیرہ اُنکی کتابوں میں پایا جاتا ہے اسناد کو دکھایا۔ علاوہ اسکے کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ اگر نعوذ باللہ یہ افترا ہو تو اس افترا کی مسلمانوں کو کیا ضرورت تھی اور کیوں انہوں نے اسپر اتفاق کر لیا اور کس مجبوری نے انکو افترا پر آمادہ کیا تھا۔ پھر جب ہم دیکھتے ہیں کہ دُوسری طرف ایسی حدیثیں بھی بکثرت پائی جاتی ہیں جنمیں یہ پیشگوئی کیگئی ہے کہ آخری زمانہ میں علماء اس اُمت کے یہودی صفت ہو جائینگے اور دیانت اور خدا ترسی اور امانتداری بالکُل اُن سے دُور ہو جائیگی اور اُس زمانہ میں صلیبی مذہب کا بہت غلبہ ہوگا اور صلیبی مذہب کی حکومت اور سلطنت تقریباً تمام دنیا میں پھیل جائیگی تو اور بھی ان احادیث کی صحت پر دلائل قاطعہ پیدا ہوتے ہیں کیونکہ کچھ شک نہیں کہ اس زمانہ میں یہ پیشگوئی پوری ہو گئی اور ہمارے اس زمانہ کے علماء درحقیقت یہودیوں سے مشابہ ہو گئے اور نصاریٰ کی سلطنت اور حکومت ایسی دُنیا میں پھیل گئی کہ پہلے زمانوں میں اسکی نظیر نہیں پائی جاتی۔ اس حالت میں ایک جُز اس پیشگوئی کا صریح اور صاف اور بدیہی طور پر پورا ہو گیا تو پھر دُوسری خبر کی صداقت میں کیا کلام رہا۔ یہ بات تو ہر ایک عاقل کے نزدیک مسلّم ہے کہ اگر مثلاً ایک حدیث احاد میں سے ہو اور سلسلۂ تعامل بھی داخل نہ ہو مگر ایک پیشگوئی پر مشتمل ہو کہ وہ اپنے وقت پر پوری ہو جائے یا اُس کا ایک جُزو پورا ہو جائے تو اس حدیث کی صحت میں کوئی شک باقی نہیں رہیگا۔ مثلاً نارِ حجاز کی حدیث جو صحیحین میں درج ہے کچھ شک نہیں کہ احاد میں سے ہے لیکن وہ پیشگوئی قریباً چھ سو برس گذرنے کے بعد بعینہ پوری ہو گئی جسکے پُورا ہونے کے بارے میں انگریزوں کو بھی اقرار ہے اور اُس زمانہ میں پوری ہوئی کہ جب صد ہا سال ان کتابوں کی تالیف اور شائع ہونے پر بھی گذر چکے تھے تو کیا ان حدیثوں کی نسبت اب یہ رائے ظاہر کر سکتے ہیں کہ وہ احاد ہیں کہ وہ یقینی طور پر قبول کے لائق نہیں۔ کیونکہ جب اُن کی صداقت کھُل گئی تو پھر ایسا خیال دل میں لانا نہایت بُری اور مکروہ نادانی ہے۔ پس ایسا ہی مسیح موعود کی پیشگوئی میں سوچ لو کہ

۹

صفحہ 90

۳۳۷

یہ چند احکام بطور نمونہ ہم نے لکھے ہیں اس میں ایک تھوڑی سی عقل کا آدمی بھی سوچ سکتا ہے کہ بظاہر یہ تمام خطاب صحابہ کیطرف ہو لیکن درحقیقت تمام مسلمان ان احکام پر عمل کرنے کے لئے مامور ہیں نہ یہ کہ صرف صحابہ مامور ہیں وبس ۔ غرض قرآن کا اصلی اور حقیقی اسلوب جسسے سارا قرآن بھرا پڑا ہے یہ ہے کہ اسکے خطاب کے مورد حقیقی اور واقعی طور پر تمام وہ مسلمان ہیں جو قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے گو بظاہر صورت خطاب صحابہ کیطرف راجع معلوم ہوتا ہے پس جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ یہ وعدہ یا وعید صحابہ تک ہی محدود ہے وہ قرآن کے عام محاورہ سے عدول کرتا ہے

صفحہ 91

۲۷۶

انسان کے اختیار میں ہو بلکہ محض اللہ جلشانہ کے اختیار میں ہیں سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیشگوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔ یہ تینوں پیشگوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تینوں بڑی قوموں پر حاوی ہیں یعنی ایک مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے ۱ اور ایک ہندوؤں پر اور ایک عیسائیوں سے اور انمیں جو وہ پیشگوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہو بہت ہی عظیم الشان ہو کیونکہ اسکے اجزاء یہ ہیں (۱) کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو (۲) اور پھر داماد اسکا جو اسکی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو (۳) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو (۴) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو (۵) اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو (۶) اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جائے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔

اور اگر اب بھی یہ تمام ثبوت میاں محمد صاحب کے لئے کافی نہ ہوں تو پھر طریق سہل یہ ہے کہ اس تمام رسالہ کو غور سے پڑھنے کے بعد بذریعہ کسی چھپے ہوئے اشتہار کے مجھ کو اطلاع دیں کہ میری تسلی ان اُمور سے نہیں ہوئی اور میں ابھی تک افترا سمجھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ میری نسبت کوئی نشان ظاہر ہو تو میں انشاء اللہ القدیر انکے بارہ میں توجہ کرونگا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کسی مخالف کے مقابل پر مجھے مغلوب نہیں کریگا کیونکہ میں اُسکی طرف سے ہوں اور اُسکے دین کی تجدید کیلئے اُسکے حکم سے آیا ہوں لیکن چاہئے کہ وُہ اپنے اشتہار میں مجھے عام اجازت دیں کہ جس طور سے میں اُنکے حق میں الہام پاؤں اُسکو شائع کرادوں اور مجھے تعجب ہے کہ جس حالت میں مسلمانوں کو کسی مجدّد کے ظاہر ہونے کے وقت خوش ہونا چاہیے یہ پیچ و تاب کیوں ہو اور کیوں انکو بُرا لگا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے دین کی حمیت پوری کرنے کیلئے ایک شخص کو مامور کر دیا ہے لیکن مجھے معلوم ہوا ہے کہ حال کے اکثر مسلمانوں کی ایمانی حالت نہایت ردی ہوگئی ہو اور فلسفہ کی موجودہ زہر نے اُنکے اعتقاد کی بیخکنی کر دی ہو انکی زبانوں پر بیشک اسلام ہو لیکن دل اسلام سے بہت دُور جا پڑے

لے اُور سے لیکر رکھتی ہے تک طبع بار دوم میں موجود نہیں۔ ناقل

صفحہ 92

۳۸۰ میں تو دلوں کو اندر ہی اندر دیدی ہے بہرحال جبکہ ہمارے نظام بدنی اور امور دنیوی میں خدا تعالیٰ نے اس قوم میں سے ہمارے لئے گورنمنٹ قائم کی اور ہمنے اس گورنمنٹ کے وہ احسانات دیکھے جن کا شکر کرنا کوئی سہل بات نہیں اسلئے ہم اپنی معزز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس گورنمنٹ کے اسی طرح مخلص اور خیر خواہ ہیں جس طرح کہ ہمارے بزرگ تھے ہمارے ہاتھ میں بجز دُعا کے اور کیا ہے سو ہم دُعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اِس گورنمنٹ کو ہر یک شَر سے محفوظ رکھے اور اُسکے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔ خدا تعالیٰ نے ہر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اُسکا شکر کرنا۔ سو اگر ہم اِس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شَر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہمنے خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جسکو خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کو بطور نعمت کے عطا کرے۔ درحقیقت یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور ایک دُوسری سے وابستہ ہیں اور ایک کے چھوڑنے سے دُوسری کا چھوڑنا لازم آ جاتا ہو۔ بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا دُرست ہے یا نہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ سوال اُنکا نہایت حماقت کا ہو کیونکہ جسکے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے اُس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہو۔ سو میرا مذہب جسکو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہو کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں دُوسرے اس سلطنت کی جسنے امن قائم کیا ہو جسنے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ ہم یورپ کی قوموں کے ساتھ اختلاف مذہب رکھتے ہیں اور ہم ہر گز خدا تعالیٰ کی نسبت وہ باتیں پسند نہیں کرتے جو اُنھوں نے پسند کی ہیں۔ لیکن ان مذہبی امور کو رعیّت اور گورنمنٹ کے رشتہ سے کچھ علاقہ نہیں۔

۸۴

صفحہ 93

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۷

تحفہ بغداد ۔ حمامۃ البشریٰ

صفحہ 94

ٹائٹل طبع اول

هَذِهِ رِسَالَةٌ مُبَارَكَةُ الْمُسَمَّاةُ

كَرَامَاتُ الصَّادِقِينَ

ولمن يأت برسالة مثلها [ فلهُ إنعام

الفِ من الورق غير مقلّد

كانَ أو من المقلّدين

وانها

قَدْ طُبِعَتْ بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ في پنجاب فريس سيالكوت

باهتمام

المنشى غلام قادر [الفصيح] مالك المطبع فالحمد لله ربّ العالمين -

صفحہ 94

ٹائیٹل طبع اول

هٰذِهِ رِسَالَةٌ مُّبَارَكَةٌ الْمُسَمَّاةُ

كَرَامَاتُ الصَّادِقِيْنْ

ولِمن يَأتِ برسالةٍ مثلِها فلهُ اِنْعام

الْفٍ من الورق غير مقلّدٍ

كانَ اَو مِن المقلّدين

وانّها

قَدْ طُبِعَتْ بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِه فى فنجاب فريس سيالكوت

باهتمام

المنشى غلام قادر الفصيح مالك المطبع فالحمد لله ربّ العالمين ۔

صفحہ 95

۴۷ دیکھیں گے کہ وہ سہو اور نسیان سے مبرا ہیں یا نہیں اور کوئی غلطی صرف اور نحو کی رُوسے اُن میں پائی جاتی ہے یا نہیں اگر نہیں پائی جائیگی تو پھر بالمقابل تفسیر لکھنے اور نظم شعر کا قصیدہ بنانے میں کچھ عذر نہ ہوگا۔ مگر دانشمندوں نے سمجھ لیا کہ بٹالوی صاحب نے اپنی جان بچانے کیلئے یہ حیلہ نکالا ہے کیونکہ اُن کو خوب معلوم ہے کہ عربی یا فارسی کی کوئی مبسوط تالیف سہو اور غلطی سے خالی نہیں ہو سکتی اور حیلہ جو کیلئے کوئی نہ کوئی لفظ گو سہو کاتب ہی سہی حجت پیش کرنے کیلئے ایک سہارا ہو سکتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بہت ہاتھ پیر مارکر اور مثل مشہور مرتا کیا نہ کرتا پر عمل کرکے یہ شرمناک عذر پیش کر دیا اور اپنے دل کو اس بازاری چال بازی سے خوش کر لیا کہ کسی ایک سہو کاتب یا فرض کرو اتفاقاً کسی غلطی کے نکلنے سے یہ حجت ہاتھ آجائیگی کہ اب غلطی تمہاری کسی کتاب میں نکل آئی اسلئے اب بحث کی ضرورت نہیں رہی۔ لیکن افسوس کہ بٹالوی صاحب نے یہ نہ سمجھا کہ نہ مجھے اور نہ کسی انسان کو بعد انبیاء علیہم السلام کے معصوم ہونیکا دعویٰ ہے۔ جو شخص عربی یا فارسی میں مبسوط کتابیں تالیف کریگا ممکن ہی کہ حسب مقولہ مشہورہ قَلَّمَا سلم مُکثار کے کوئی صرفی یا نحوی غلطی اُس سے ہو جائے اور بوجہ خطا نظر کے اُس غلطی کی اصلاح نہ ہو سکے۔ اور یہ بھی ممکن ہو کہ سہو کاتب سے کوئی غلطی چھپ جائے اور باعث ذہول بشریت مؤلف کی اسپر نظر نہ پڑے پھر اس یکطرفہ نکتہ چینی میں دونوں فریق کی علمی طاقتوں کا موازنہ کیونکر ہو۔ غرض بٹالوی صاحب کے ایسے بیہودہ جوابات سے یقینی طور پر معلوم ہو گیا کہ علم تفسیر اور علم ادب میں قسّامِ حقیقی نے ان کو کچھ بھی حصہ نہیں دیا اور بجز لعن طعن اور چال بازی کی مشق کے اور کچھ بھی اُن کے دل اور دماغ اور زبان کو لوازم انسانیت نہیں ملی۔ اِسی وجہ سے اوّل مجھے اُن کے اِس قسم کے تعصبات کو دیکھ کر دل میں یہ خیال آیا تھا کہ اب ہمیشہ کے لئے ان سے اعراض کیا جائے۔ لیکن عوام کا یہ غلط خیال دُور کرنے کے لئے کہ گویا میاں محمد حسین بٹالوی یا دوسرے مخالف مولوی جو اِس بزرگ کے ہم مشرب ہیں علم ادب اور حقائق تفسیر کلام ۵

صفحہ 96

۱۶۵

حمامتنا تطير بريش شوق وفى منقارها تحية السلام
الى وطن النبي حبيب ربي وسيد رسله خير الانام

الرسالة

اللطيفة المشتملة على معارف القرآن ودقائقه المسماة

حَمَامَةُ البُشْرى

إلى

أَهْلِ مَكَّةَ وَصُلَحَاءِ أُمِّ القُرَى

لحضرة احمد المسيح الموعود والمهدي المعهود

عليه وعلى مُطاعِهِ الصلوة والسلام

الطبعة الاولى فى رجب ١٣١١ سنة الهجرية

صفحہ 96

۱۶۵

حمامتاً تطير بريش شوق وفى منقارها تحفة السلام
الى وطن النبى حبيب ربى وسيد رسله خير الانام

الرِّسَالَة

اللطيفة المشتملة على معارف القرآن ودقائقه المسماة

حَمَامَةُ البُشْرَىٰ

الى

اَهْلِ مَكَّةَ وَصُلَحَاءِ أُمِّ الْقُرَى

لِحَضْرَةِ اَحْمَدَ المَسِيحِ المَوعُودِ والمَهْدِىِ المَعهُودِ

عَلَيْهِ وَعَلَى مُطَاعِهِ الصَّلوٰةُ وَالسَّلَام

الطبعة الاولىٰ فى رجب سنة ١٣١١ الهجرية

صفحہ 97

١٩٢

من جملتها هذا الالهام ، أعنى يا عيسى انى متوفيك ورافعك الي ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة ، مثلا وان الله قد سمّانى فى هذا عيسى ؛ ومن جملتها الهام آخر خاطبنى ربى فيه وقال انى خلقتك من جوهر عيسى وانك وعيسى من جوهر واحد وكشيئ واحد ؛ ومن جملتها الهام سمى فيه كل من خالفنى من العلماء اليهود و النصارى ـ ثم ما ألهمت الى عشر سنين بمثل هذه الالهامات وما كنت أدرى انى أدعى بعد هذه المدة الطويلة و أسمّى مسيحا موعودا من الله تعالى بل كنت خلت ان المسيح نازل من السماء كما هو مركوز فى مدارك القوم ؛ ولكنى كنت اقول فى نفسى تعجبا ان الله لم سمانى عيسى ابن مريم فى الهامه المتواتر المتتابع ولم قال انك وانه من جوهر واحد ، ولم سمى المخالفين اليهود والنصارى ؟ فظهرت عليّ معانى تلك الالهامات والاشارات بعد و عن ابن مسعود لا يأتى مائة سنة وعلى الارض نفس منفوسة اليوم رواه مسلم ، وهكذا ذكر البخارى فى صحيحه والمضمون واحد لا حاجة الى الاعادة ـ فوجب من هذا على كل مؤمن ان يؤمن بموت الدجال بعد المائة من زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم والّا فكيف يمكن التخلف فيما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بوحى من الله تعالى مؤكدا بقسمه ، والقسم يدل على ان الخبر محمول على الظاهر لا تأويل فيه ولا استثناء ، والّا فايّ فائدة كانت فى ذكر القسم ؛ فتدبر كالمفتشين المحققين ـ واما تطبيق هذين الحديثين فلا يمكن الّا بعد تأويل حديث الدجال وجعله من قبيل الاستعارات ؛ فنقول ان حديث خروج الدجال يدل على خروج طائفة الكذابين فى آخر الزمان من قوم النصارى ، وفى الحديث اشارة الى انهم يشابهون آباءهم المتقدمين فى مكرهم وخديعتهم وانواع فتنتهم وحرصهم على اضلال الناس كانهم هم ، الّا ان آباءهم كانوا مقيدين بالسلاسل والاغلال ولكن هؤلاء يخرجون من ذلك السجن ويضع الله عنهم اغلالهم فيعييثون يمينا وشمالا ويفسدون فى الارض

٢٦

صفحہ 98

۲۰۰

فى حديث ذكر رفع المسيح حياً بجسده العنصرى بل نجد ذكر وفاة المسيح فى البخارى والطبرانى وغيرهما من كتب الحديث ، فليرجع الى تلك الكتب من كان من المرتابين۔

واما ذكر نزول عيسى ابن مريم فمّا كان لمؤمن ان يحمل هذا الاسم منه المذكور فى الاحاديث على ظاهر معناه ، لانه يخالف قول الله عز وجل : ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين * ، الا تعلم ان الرب الرحيم المتفضل سمّى نبينا صلى الله عليه وسلم خاتم الانبياء بغير استثناء ، وفسره نبينا فى قوله لا نبي بعدى ببيان واضح للطالبين ؟ ولو جوزنا ظهور نبي بعد نبينا صلى الله عليه وسلم لجوزنا انفتاح باب وحى النبوة بعد تغليقها وهذا خلف كما لا يخفى على المسلمين۔ وكيف يجيئ نبي بعد رسولنا صلى الله عليه وسلم وقد انقطع الوحى بعد وفاته وختم الله به النبيين ؟ اعتقد كثير من الجاهلين۔

واما الاختلافات التى توجد فى هذه الاحاديث فلا يخفى على مهرة الفن تفصيلها ، وقد ذكرنا شطراً منها فى رسالتنا " الازالة " فليرجع الطالب اليها۔ وقد جاء فى حديث ان المسيح والمهدى يجيئان فى زمن واحد ؛ وجاء فى حديث آخر انه لا مهدى الا عيسى ؛ وجاء فى حديث ان المسيح والمهدى يتلاقيان ويتشاور المهدى والمسيح فى مهمات الخلافة ويكون زمانهما زماناً واحداً ؛ وفى حديث آخر ان المهدى يبعث فى وسط قرون هذه الامة والمسيح ينزل فى آخرها ؛ وفى حديث من البخارى ان المسيح يجيئ حكماً عدلاً فيكسر الصليب ، يعنى يجيئ فى وقت غلبة عبدة الصليب فيكسر شوكة الصليب ويقتل خنازير النصارى ؛ وفى حديث آخر انه يجيئ فى وقت غلبة الدجال على وجه الارض فيقتله بحربته۔ فاعلم ان هذا المقام مقام حيرة منه ۲۱ وتعجب للناظرين۔ وتفصيله ان مجيئ المسيح لكسر صليب النصارى وقتل خنازيرهم يشهد بصوت عال على ان المسيح الموعود لا يجيئ الا فى وقت غلبة النصارى

۳۲

* الاحزاب : ٤٠

صفحہ 99

۲۲۱

السماء ؛ وانت تعلم ان جسمه العنصری مدفون فی المدینة ، فما معنی هذا الحدیث الا الحیاة الروحانیة والرفع الروحانی الذی هو سنة الله بأصفیائه بعدما توفاهم ؟ کما قال عز وجل : یا أیتها النفس المطمئنة ، ارجعی الی ربک ، وما معنی قول ارجعی الی ربک الا المعنی الذی یفهم من قول رافعک الیّ ، فان الرجوع الی الله راضیة مرضیة والرفع الی الله أمر واحد ، وقد جرت عادة الله تعالیٰ انه یرفع الیه عباده الصالحین ، بعد موتهم ویؤویهم فی السموات بحسب مراتبهم ؛ ولاجل ذلک لقی نبینا صلی الله علیه وسلم کل نبی خلا من قبله فی لیلة المعراج فی السموات فوجد آدم فی السماء الدنیا و وجد عیسی و ابن خالته یحیی فی السماء الثانیة ووجد موسی فی السماء الخامسة ـ وهذه الاحادیث صحیحة تجدها فی البخاری وغیرہ من الصحاح ؛ ثم الذین لا یریدون الحق یتعامون و ینسون رفع الانبیاء کلهم و یصرون علی حیاة عیسی و رفعه ، ویقرؤن حدیث المعراج ثم ینسونه ویضیعون أعمارهم غافلین ـ أ عیسی حی و مات المصطفیٰ ؟ تلک اذا قسمة ضیزیٰ ! اعدلوا هو أقرب للتقوی ـ و اذا ثبت ان الانبیاء کلهم أحیاء فی السموات ، فأی خصوصیة ثابتة لحیاة المسیح ، أهو یأکل و یشرب وهم لا یأکلون ولا یشربون ؟ بل حیاة کلیم الله ثابت بنص القرآن الکریم ؛ أ لا تقرء فی القرآن ما قال الله تعالیٰ وعز وجل : فلا تکن فی مریة من لقائه ؟ و انت تعلم ان هذه الآیة نزلت فی موسیٰ فهی دلیل صریح علی حیات موسیٰ علیه السلام ؛ لانه لقی رسول الله صلی الله علیه وسلم والاموات لا یلاقون الاحیاء ، ولا تجد مثل هذه الآیات فی شأن عیسی علیه السلام ، نعم

۵۵

صفحہ 100

۲۲۲ جاء ذكر وفاته فى مقامات شتى ، فتدبر فان الله يحب المتدبرين ـ ولعلك تقول لم ذكر الله تعالى قصة رفع عيسى عليه السلام بالخصوصية وكذالك قصة نفى صلبه فى القرآن ، وأى سر ومصلحة فى ذكرهما وأى حاجة اشتدت لهذا البيان ؟ فاعلم ان علماء اليهود وفقهاءهم ـ غضب الله عليهم كانوا ظانين ظن السوء فى شأن عيسى عليه السلام وكانوا يقولون انه مفترى كذاب ، وكان مكتوباً فى التوراة ان المتنبئ الكاذب يصلب ويلعن ولا يرفع الى الله تعالى كالانبياء الصادقين ـ فأرادوا ان يصلبوا المسيح ليثبتوا كذبه بحسب احكام التوراة وليبينوا للناس انه ملعون كذاب ولا يرفع الى الله : قاتلهم الله ولعنهم ـ كيف احتالوا فى نبى من المقربين ! فسعوا لصلبه وبذلوا له كل كيد ومكر لعله يصلب ويحصل لهم حجة على كذبه وعدم رفعه بكتاب الله التوراة ـ فبشر الله عيسى عليه السلام قائلا : يا عيسى انى متوفيك يعنى مميتك حتف أنفك ، ورافعك الى يعنى رافعك الى حضرة القرب كالانبياء الاصدقاء ولست بنعمة الله من الملعونين ۳۷ والمكذبين ـ فهذه المواعيد تسلية من الرب الكريم لعيسى عليه السلام ورد على اليهود ، وقول مبشر بان الله لا يهدى كيد الخائنين ـ والرفع كما علمت آنفاً ليس مخصوصاً بعيسى عليه السلام ، والانبياء كلهم قد رفعوا وكان مقعدهم عند مليك مقتدر ، وقد وجد نبينا صلى الله عليه وسلم كل نبى مرفوعاً الى السماء من السموات بل وجد بعض الانبياء ارفع من عيسى عليه السلام ـ وفى آية : وما قتلوه وما صلبوه اشارة اخرى وهى ان النصارى زعموا ان عيسى صلب لاجل تطهيرهم من المعاصى وظنوا كأنه حمل بعد الصلب جميع ذنوبهم على نفسه وهو كفارة لهم ومطهرهم من جميع ۵۶

صفحہ 101

۲۹۷

وما قلت للناس الا ما كتبت فى كتبى من اننى محدث و يكلمنى الله كما يكلم المحدثين ـ والله يعلم انه اعطانى هذه المرتبة فكيف ارد ما اعطانى الله ورزقنى من رزق أ أعرض عن فيض رب العالمين؟ وما كان لى ان ادعى النبوة واخرج من الاسلام والحق بقوم كافرين ـ وها اننى لا أصدق الهاماً من الهاماتى الا بعد ان اعرضه على كتاب الله واعلم انه كلما يخالف القرآن فهو كذب والحاد وزندقة فكيف ادعى النبوة وانا من المسلمين ـ و احمد الله على انى ما وجدت الهاماً من الهاماتى يخالف كتاب الله بل وجدت كلها موافقاً بكتاب رب العالمين ـ

ومن الناس من يقول ان باب الالهام مسدود على هذه الامة وما تدبر فى القرآن حق التدبر وما لقى الملهمين ـ فاعلم ايها الرشيد ان هذا القول باطل بالبداهة ويخالف الكتاب والسنة وشهادات الصالحين ـ اما كتاب الله فأنت تقرأ فى القرآن الكريم آيات تؤيد قولنا هذا وقد اخبر الله تعالى فى كتابه المحكم عن بعض رجال ونساء كلمهم ربهم وخاطبهم وامرهم ونهاهم وما كانوا من الانبياء ولا رسل رب العالمين ـ الا تقرء فى القرآن لا تخافى ولا تحزنى انّا رادّوه اليك وجاعلوه من المرسلين ١؎

فتدبر ايها المنصف العاقل كيف لا يجوز مكالمات الله ببعض رجال هذه الامة التى هى خير الامم وقد كلم الله نساء قوم خلوا من قبلكم وقد اتاكم مثل الاولين ـ فان كان بعض الناس فى شك من الهامى وكان منه لهم عجب من ان يخاطب الله احداً من هذه الامة ويكلمه من غير ان يكون نبياً فلم لا يحكمون القرآن فيما شجر بينهم ولم لا يردون الامر الى الله ورسوله ان كانوا مؤمنين ـ وقد قال الله تعالى لهم البشرى فى الحياة

١؎ قصص : ٨ ١٣١

صفحہ 102

٣٠١

ظهورها وخروجها الى الفعل الا سد باب النبوة و الى ذلك اشار النبى صل الله عليه وسلم فى قوله لوكان بعدى نبى لكان عمر وما قال هذا الا بناءاً على ان عمر كان محدثاً فأشار الى ان مادة النبوة و بذرها يكون موجوداً فى التحديث ولكن الله ما شاء ان يخرجها من مكمن القوة الى حيز الفعل و الى ذلك اشارة فى قراءة ابن عباس وما ارسلنا من رسول ولا نبى ولا محدث فأنظر كيف أدخل الرسل والنبيون والمحدثون فى هذه القراءة فى شأن واحد وبين الله ان كلهم من المحفوظين ومن المرسلين- ولا شك ان التحديث موهبة مجردة لا تنال بكسب البتة كما هو شأن النبوة ويكلم الله المحدثين كما يكلم النبيين ويرسل المحدثين كما يرسل الرسل ويشرب المحدث من عين يشرب فيها النبى فلا شك انه نبى لولا سد الباب وهذا هو السّر فى ان رسول الله صل الله عليه وسلم اذا سمّى الفاروق محدثا قفّا على اثره قوله لوكان بعدى نبى لكان عمر وما كان هذا الا اشارة الى ان المحدث يجمع كمالات النبوة فى نفسه ولا فرق الا فرق الظاهر والباطن والقوة والفعل فالنبوة شجرة موجودة فى الخارج مثمرة بالغة الى حدها والتحديث كمثل بذر فيه يوجد فى القوة كما يوجد فى الشجرة بالفعل وفى الخارج وهذا مثال واضح للذين يطلبون معارف الدين و الى هذا اشار رسول الله صلى الله عليه وسلم فى حديث علماء امتى كانبياء بنى اسرائيل والمراد من العلماء المحدثون الذين يؤتون العلم من لدن ربهم ويكونون من المكلمين- وقد استصعب الفرق بين التحديث والنبوة على بعض الناس فالحق ان بينهما فرق القوة والفعل كما بينت آنفاً فى مثال الشجرة وبذرها

١٣٥

صفحہ 103

٣٠٨

الكافرين وتشهد ان دين الاسلام حق حتى انها تقتل ابليس وتمزقه وبعض الاحاديث يدل على انها امرأة كافرة خادمة للشيطان و جساسة للدجال وليس فيها خير فلا يمكن التوفيق بينهما الا ان نقول ان المراد من دابة الارض علماء السوء الذين يشهدون باقوالهم ان الرسول حق والقرآن حق ثم يعملون الخبائث ويخدمون الدجال كان وجودهم من جزئين جزء مع الاسلام وجزء مع الكفر اقوالهم كاقوال المؤمنين وافعالهم كافعال الكافرين فاخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن انهم يكثرون فى آخر الزمان وسموا دابة الارض لانهم اخلدوا الى الارض وما ارادوا ان يرفعوا الى السماء واطمئنوا بالدنيا وشهواتها وما بقى لهم قلب كالانسان واجتمعت فيهم عادات السباع و الخنازير والكلاب تراهم مستكبرين متبخترين كانهم بلغوا السماء ومسوها ولم تخرج ارجلهم من الارض من شدة انتكاسهم الى الدنيا فهم كالذى شدد اسره وكالمسجونين يكلمون الناس من الاست لا من الافواه يعنى ولا تجد فى كلماتهم طهارة وبركة واستقامة و نورانية كلمات الصالحين ؂

٭ قال قائل لوكان هذا هو الحق ان دابة الارض هى طائفة علماء هذا الزمان فيلزم ان يكون تكفيرهم حقا وصدقا فان من شأن دابة الارض انها تسم المؤمن والكافر فمن جعله الدابة كافرا (يشير المعترض الينا) فعليكم ان تقروا بكفره فان التكفير بمنزلة الوسم من دابة الارض فيقال فى جواب هذا المعترض ان المراد من الوسم اظهار كفر كافر وايمان مؤمن فهذا الاظهار على نوعين قد يكون بالاقوال وقد يكون بالافعال ونتائجها وقد جرت سنت الله انه قد يجعل الكافرين والفاسقين علة موجبة لظهور انوار ايمان انبياءه واولياءه الاترى الى سيدنا ونبينا محمد المصطفى صلعم كيف كانت

١٤٢

صفحہ 104

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۸

نور الحق ہر دو حصہ ۔ اتمام الحجۃ

سِرّ الخلافۃ

صفحہ 105

ٹائٹل پیج بار اول

يٰاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ

الحمد لله الموفق انى كتبت هذه الرسالة والصحيفة العجالة لعلاج مرض

المتنصرين الذى امتد مداه وعمتهم بلواه واكلتهم نار انكار الفرقان. والصول

على كتاب الله القرآن. فاردنا ان ننجيهم من مخلب الحمام. ونريهم سوء داءهم ونهديهم

الى دواء السقام. فالَّفْنَا هذا الكتاب مع انعام كثير لمن اجاب. وهو خمسة

الاف من الدراهم لكل من اتى بمثله وارى العجائب. وهو بفضل الله حسن

وطيب ولطيف وادق. وسميته الحصة الاولى من

نورالحق

”عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ

وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ

لِلْكَافِرِيْنَ حَصِيْرًا اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ

يَهْدِيْ لِلَّتِيْ هِيَ اَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِيْنَ

الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ

اَجْرًا كَبِيْرًا“

قد طبع فى المطبع المصطفائى پریس فى لاهور سنه ١٣١١ هجرى

بار اول جلد ۸۰۰

١

صفحہ 106

۶۸

وَفِىْ زَعْمِىْ هٰذَا بَيَانُ بَعْضِ الْعُلَمَاءِ وَ اِمَّا صَاحِبُ الْاِنْسَانِ الْكَامِلِ عَبْدُ الْكَرِيْمِ یہ تو بعض علماء کا قول ہے مگر صاحب کتاب انسان کامل عبد الکریم نے الَّذِىْ هُوَ مِنَ الْمُتَصَوِّفِيْنَ فَبَلَغَ الْاَمْرُ اِلَى النِّهَايَةِ وَقَالَ اِنَّ التَّثْلِيْثَ جو متصوفین میں سے ہے اس بارے میں حد ہی کر دی اور کہا کہ تثلیث بِمَعْنًى حَقٌّ وَلَا حَرَجَ فِيْهِ وَاِنَّ عِيْسٰى كَذَا وَكَذَا بَلْ اَشَارَ اِلٰى اَنَّهٗ لَيْسَ ایک معنی کے رو سے حق ہے اور اسمیں کچھ حرج نہیں اور عیسٰی ایسا ہو اور ایسا ہو بلکہ اس طرف اشارہ کردیا کہ بِمَخْلُوْقٍ وَمِنْهُمْ مَّنِ اعْتَدٰى فِىْ كَذِبِهٖ وَقَالَ بِسْمِ اللّٰهِ الْاَبِ وَالْاِبْنِ وَ وہ خدا تعالیٰ کی مخلوق میں سے نہیں ہے اور بعض آدمی جھوٹ بولنے میں بہت بڑھ گئے اور یہ لکھا کہ بسم اللہ الاب والابن و رُوْحِ الْقُدُسِ كَذٰلِكَ اَيَّدُوا الْفِرْيَةَ وَنَصَرُوْهَا وَكَانَ الْكَذِبُ اَوَّلَ الْاَمْرِ روح القدس اسی طرح انہوں نے جھوٹ کی تائید کی اور جھوٹ کو مدد دی اور جھوٹ پہلے پہلے تو

۵۰

قَلِيْلًا ثُمَّ مَنْ جَاءَ بَعْدُ مِنْ كَاذِبٍ اَلْحَقَ بِكَذِبِهٖ كَذِبًا اٰخَرَ حَتّٰى ارْتَفَعَتِ تھوڑا تھا پھر جو شخص ایک جھوٹے کے بعد آیا اُس نے کچھ اپنی طرف سے بھی پہلے جھوٹ پر زیادہ کیا یہانتک کہ جھوٹ کی عِمَارَةُ الْكَذِبِ وَجُعِلَ ابْنُ عَجُوْزَةٍ ابْنَ اللّٰهِ وَبَعْدَ ذٰلِكَ جُعِلَ اِلٰهَ الْعَالَمِيْنَ عمارت بہت اونچی ہو گئی اور ایک بڑھیا عورت کا بچہ خدا کا بیٹا بنایا گیا اور پھر خدا کر کے مانا گیا خبردار ہو کہ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ ٠ اِنْ عِيْسٰى اِلَّا نَبِىُّ اللّٰهِ كَاَنْبِيَاءِ اٰخَرِيْنَ وَاِنْ جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہے۔ عیسیٰ صرف اور نبیوں کی طرح ایک نبی خدا کا ہے اور وہ هُوَ اِلَّا خَادِمُ شَرِيْعَةِ النَّبِىِّ الْمَعْصُوْمِ الَّذِىْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ حَتّٰى اُس نبی معصوم کی شریعت کا ایک خادم ہے جس پر تمام دودھ پلانیوالیاں حرام کی گئی تھیں یہانتک کہ اَقْبَلَ عَلٰى ثَدْىِ اُمِّهٖ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ عَلٰى طُوْرِ سِيْنِيْنَ جَعَلَهٗ مِنَ الْمُجَذَّبِيْنَ هٰذَا هُوَ مُوْسٰى اپنی ماں کی چھاتیوں تک پہنچایا گیا اور اُسکا خدا کوہ سینا میں اُس سے ہمکلام ہوا اور اُسکو پیارا بنایا یہ وہی موسٰی ہے

٭ (الفائدة) كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى عَلٰى جَبَلٍ وَكَلَّمَ الشَّيْطٰنُ عِيْسٰى عَلٰى جَبَلٍ فَانْظُرِ الْفَرْقَ بَيْنَهُمَا اِنْ كُنْتَ مِنَ النَّاظِرِيْنَ ٠ خدا ایک پہاڑ پر موسیٰ سے ہمکلام ہوا اور ایک پہاڑ پر شیطان عیسٰی سے ہمکلام ہوا سو ان دونوں قسم کے مکالمہ میں غور کر اگر غور کرنے کا مادہ ہے ۔

۶۸

صفحہ 107

۶۹

فَتَى الله الذى اشار الله فى كتابه الى حياته وفرض علينا ان نؤمن مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات ایمان لاویں انه حى فى السماء ولم يمت وليس من الميتين۔ کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مُردوں میں سے نہیں۔ واما نزول عيسى من السماء فقد اثبتنا بطلانه فى كتابنا حمامة البشرى مگر یہ بات کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان سے نازل ہونگے سو ہم نے اس خیال کا باطل ہونا اپنی کتاب حمامۃ البشریٰ وخلاصته انا لا نجد فى القرآن شيئا فى هذا الباب من غير خبر وفاته میں بخوبی ثابت کر دیا ہے اور خلاصہ اس کا یہ ہے کہ ہم قرآن میں بجز وفات حضرت عیسیٰؑ کے اور کچھ ذکر نہیں پاتے اور الذى نجدها فى مقامات كثيرة من الفرقان الحميد نعم جاء لفظ النزول وفات کا ذکر نہ ایک جگہ بلکہ کئی مقامات میں پاتے ہیں ہاں بعض احادیث میں نزول کا فى بعض الاحاديث ولكنه لفظ قد كثر استعماله فى لسان العرب لفظ آیا ہو لیکن وہ لفظ ایسا ہے کہ زبان عرب میں اکثر استعمال اس کے على نزول المسافرين اذا نزلوا من بلدة ببلدة او من ملك بملك مسافروں کے حق میں ہے جب وہ ایک شہر سے دوسرے شہر میں وارد ہوں اور یا ایک ملک سے دوسرے متغربين والنزيل هو المسافر كما لا يخفى على العالمين۔ ملک میں سفر کر کے آویں اور نزیل تو مسافر کو ہی کہتے ہیں جیسا کہ جاننے والوں پر پوشیدہ نہیں۔ واما لفظ التوفى الذى يوجد فى القرآن فى حق المسيح وغيره مگر توفی کا لفظ جو قرآن میں حضرت مسیحؑ اور دوسروں کے حق میں پایا جاتا ہے سو اسمیں بغیر معنے مارنے کے من بنى آدم فلا سبيل فيه الى تاويل أُخرى بغير الاماتة واخذنا اور کوئی تاویل نہیں ہو سکتی اور یہ معنے مارنے کے ہم نے معناه من النبى ومن اجل الصحابة لا من عند انفسنا وانت تعلم ط نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس کے بزرگ صحابہ سے لئے ہیں یہ نہیں کہ اپنی طرف سے گھڑے ہیں اور تو جانتا ہے کہ

۶۹

صفحہ 108

۱۵۸

المهلة منا ثلٰثة اشهر للمعارضين فان لم يبارزوا ولن يبارزوا فاعلموا تین مہینہ مہلت ہے اور اگر مقابل پر نہ آویں اور ہرگز نہ آئینگے پس یقیناً جانو انهم كانوا من الكاذبين۔ کہ وہ جھوٹے ہیں۔ واعلموا ان هذا الانعام فى صورة اذا اتوا برسالة كمثل رسالتنا وعجالة اور یاد رکھنا چاہئیے کہ یہ انعام اس صورت میں ہے کہ جب بالمقابل رسالہ بعینہ ہمارے اس رسالہ کے كمثل عجالتنا واثبتوا انفسهم كمماثلين ومشابهين۔ و اما اذا ابوا وولوا مشابہ ہو اور مماثلت اور مشابہت کو ثابت کریں ۔ لیکن اگر بنانے سے انکار کریں الدبر كالثعالب ما استطاعوا على هذه المطالب وماتركوا عادة توهين القرآن اور لومڑیوں کی طرح پیٹھیں دکھلاویں اور ان مطالب پر قدرت نہ پاسکیں اور نہ توہین قرآن شریف کی وما امتنعوا من قدح كتاب الله الفرقان وما تابوا من ان يسموا انفسهم مولويين عادت کو چھوڑیں اور کتاب اللہ کی جرح وقدح سے باز نہ آویں وما ازدجروا من سبّ رسول الله صلّى الله عليه وسلم خاتم النبيين ما ازدجروا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشنام دہی سے رکیں اور نہ اس بیہودگی کو اپنے تئیں من قولهم ان القرآن ليس بفصيح وما تركوا سبيل التحقير والتوهين فعليهم روکیں کہ قرآن فصیح نہیں ہے اور نہ توہین اور تحقیر کے طریق کو چھوڑیں پس انپر خداتعالیٰ من الله الف لعنة فليقل القوم كلهم امين۔ کی طرف سے ہزار لعنت ہے پس چاہئیے کہ تمام قوم کہے کہ آمین۔

١ لعنت ٢ لعنت ٣ لعنت ٤ لعنت ٥ لعنت ٦ لعنت ٧ لعنت ٨ لعنت ٩ لعنت ١٠ لعنت ١١ لعنت ١٢ لعنت ١٣ لعنت ١٤ لعنت ١٥ لعنت ١٦ لعنت ١٧ لعنت ١٨ لعنت ١٩ لعنت ٢٠ لعنت ٢١ لعنت ٢٢ لعنت ٢٣ لعنت ٢٤ لعنت

۱۵۸

صفحہ 109

۱۵۹

۳۱ لعنت ۳۰ لعنت ۲۹ لعنت ۲۸ لعنت ۲۷ لعنت ۲۶ لعنت ۲۵ لعنت ۱۱۹ ۳۸ لعنت ۳۷ لعنت ۳۶ لعنت ۳۵ لعنت ۳۴ لعنت ۳۳ لعنت ۳۲ لعنت ۴۵ لعنت ۴۴ لعنت ۴۳ لعنت ۴۲ لعنت ۴۱ لعنت ۴۰ لعنت ۳۹ لعنت ۵۲ لعنت ۵۱ لعنت ۵۰ لعنت ۴۹ لعنت ۴۸ لعنت ۴۷ لعنت ۴۶ لعنت ۵۹ لعنت ۵۸ لعنت ۵۷ لعنت ۵۶ لعنت ۵۵ لعنت ۵۴ لعنت ۵۳ لعنت ۶۶ لعنت ۶۵ لعنت ۶۴ لعنت ۶۳ لعنت ۶۲ لعنت ۶۱ لعنت ۶۰ لعنت ۷۳ لعنت ۷۲ لعنت ۷۱ لعنت ۷۰ لعنت ۶۹ لعنت ۶۸ لعنت ۶۷ لعنت ۸۰ لعنت ۷۹ لعنت ۷۸ لعنت ۷۷ لعنت ۷۶ لعنت ۷۵ لعنت ۷۴ لعنت ۸۷ لعنت ۸۶ لعنت ۸۵ لعنت ۸۴ لعنت ۸۳ لعنت ۸۲ لعنت ۸۱ لعنت ۹۴ لعنت ۹۳ لعنت ۹۲ لعنت ۹۱ لعنت ۹۰ لعنت ۸۹ لعنت ۸۸ لعنت ۱۰۱ لعنت ۱۰۰ لعنت ۹۹ لعنت ۹۸ لعنت ۹۷ لعنت ۹۶ لعنت ۹۵ لعنت ۱۰۸ لعنت ۱۰۷ لعنت ۱۰۶ لعنت ۱۰۵ لعنت ۱۰۴ لعنت ۱۰۳ لعنت ۱۰۲ لعنت ۱۱۵ لعنت ۱۱۴ لعنت ۱۱۳ لعنت ۱۱۲ لعنت ۱۱۱ لعنت ۱۱۰ لعنت ۱۰۹ لعنت ۱۲۲ لعنت ۱۲۱ لعنت ۱۲۰ لعنت ۱۱۹ لعنت ۱۱۸ لعنت ۱۱۷ لعنت ۱۱۶ لعنت ۱۲۹ لعنت ۱۲۸ لعنت ۱۲۷ لعنت ۱۲۶ لعنت ۱۲۵ لعنت ۱۲۴ لعنت ۱۲۳ لعنت ۱۳۶ لعنت ۱۳۵ لعنت ۱۳۴ لعنت ۱۳۳ لعنت ۱۳۲ لعنت ۱۳۱ لعنت ۱۳۰ لعنت ۱۴۳ لعنت ۱۴۲ لعنت ۱۴۱ لعنت ۱۴۰ لعنت ۱۳۹ لعنت ۱۳۸ لعنت ۱۳۷ لعنت ۱۵۰ لعنت ۱۴۹ لعنت ۱۴۸ لعنت ۱۴۷ لعنت ۱۴۶ لعنت ۱۴۵ لعنت ۱۴۴ لعنت ۱۵۷ لعنت ۱۵۶ لعنت ۱۵۵ لعنت ۱۵۴ لعنت ۱۵۳ لعنت ۱۵۲ لعنت ۱۵۱ لعنت ۱۶۴ لعنت ۱۶۳ لعنت ۱۶۲ لعنت ۱۶۱ لعنت ۱۶۰ لعنت ۱۵۹ لعنت ۱۵۸ لعنت ۱۷۱ لعنت ۱۷۰ لعنت ۱۶۹ لعنت ۱۶۸ لعنت ۱۶۷ لعنت ۱۶۶ لعنت ۱۶۵ لعنت ۱۷۸ لعنت ۱۷۷ لعنت ۱۷۶ لعنت ۱۷۵ لعنت ۱۷۴ لعنت ۱۷۳ لعنت ۱۷۲ لعنت ۱۸۵ لعنت ۱۸۴ لعنت ۱۸۳ لعنت ۱۸۲ لعنت ۱۸۱ لعنت ۱۸۰ لعنت ۱۷۹ لعنت ۱۹۲ لعنت ۱۹۱ لعنت ۱۹۰ لعنت ۱۸۹ لعنت ۱۸۸ لعنت ۱۸۷ لعنت ۱۸۶ لعنت ۱۹۹ لعنت ۱۹۸ لعنت ۱۹۷ لعنت ۱۹۶ لعنت ۱۹۵ لعنت ۱۹۴ لعنت ۱۹۳ لعنت ۲۰۶ لعنت ۲۰۵ لعنت ۲۰۴ لعنت ۲۰۳ لعنت ۲۰۲ لعنت ۲۰۱ لعنت ۲۰۰ لعنت ۲۱۳ لعنت ۲۱۲ لعنت ۲۱۱ لعنت ۲۱۰ لعنت ۲۰۹ لعنت ۲۰۸ لعنت ۲۰۷ لعنت ۲۲۰ لعنت ۲۱۹ لعنت ۲۱۸ لعنت ۲۱۷ لعنت ۲۱۶ لعنت ۲۱۵ لعنت ۲۱۴ لعنت ۲۲۷ لعنت ۲۲۶ لعنت ۲۲۵ لعنت ۲۲۴ لعنت ۲۲۳ لعنت ۲۲۲ لعنت ۲۲۱ لعنت ۲۳۴ لعنت ۲۳۳ لعنت ۲۳۲ لعنت ۲۳۱ لعنت ۲۳۰ لعنت ۲۲۹ لعنت ۲۲۸ لعنت ۲۴۱ لعنت ۲۴۰ لعنت ۲۳۹ لعنت ۲۳۸ لعنت ۲۳۷ لعنت ۲۳۶ لعنت ۲۳۵ لعنت ۲۴۸ لعنت ۲۴۷ لعنت ۲۴۶ لعنت ۲۴۵ لعنت ۲۴۴ لعنت ۲۴۳ لعنت ۲۴۲ لعنت ۲۵۵ لعنت ۲۵۴ لعنت ۲۵۳ لعنت ۲۵۲ لعنت ۲۵۱ لعنت ۲۵۰ لعنت ۲۴۹ لعنت ۲۶۲ لعنت ۲۶۱ لعنت ۲۶۰ لعنت ۲۵۹ لعنت ۲۵۸ لعنت ۲۵۷ لعنت ۲۵۶ لعنت

۱۵۹

صفحہ 110

١٦٠

١٢٠ ٢٦٣ لعنت ٢٦٤ لعنت ٢٦٥ لعنت ٢٦٦ لعنت ٢٦٧ لعنت ٢٦٨ لعنت ٢٦٩ لعنت ٢٧٠ لعنت ٢٧١ لعنت ٢٧٢ لعنت ٢٧٣ لعنت ٢٧٤ لعنت ٢٧٥ لعنت ٢٧٦ لعنت ٢٧٧ لعنت ٢٧٨ لعنت ٢٧٩ لعنت ٢٨٠ لعنت ٢٨١ لعنت ٢٨٢ لعنت ٢٨٣ لعنت ٢٨٤ لعنت ٢٨٥ لعنت ٢٨٦ لعنت ٢٨٧ لعنت ٢٨٨ لعنت ٢٨٩ لعنت ٢٩٠ لعنت ٢٩١ لعنت ٢٩٢ لعنت ٢٩٣ لعنت ٢٩٤ لعنت ٢٩٥ لعنت ٢٩٦ لعنت ٢٩٧ لعنت ٢٩٨ لعنت ٢٩٩ لعنت ٣٠٠ لعنت ٣٠١ لعنت ٣٠٢ لعنت ٣٠٣ لعنت ٣٠٤ لعنت ٣٠٥ اللعنة ٣٠٦ اللعنة ٣٠٧ اللعنة ٣٠٨ اللعنة ٣٠٩ اللعنة ٣١٠ اللعنة ٣١١ اللعنة ٣١٢ اللعنة ٣١٣ اللعنة ٣١٤ اللعنة ٣١٥ اللعنة ٣١٦ اللعنة ٣١٧ اللعنة ٣١٨ اللعنة ٣١٩ اللعنة ٣٢٠ اللعنة ٣٢١ اللعنة ٣٢٢ اللعنة ٣٢٣ اللعنة ٣٢٤ اللعنة ٣٢٥ اللعنة ٣٢٦ اللعنة ٣٢٧ اللعنة ٣٢٨ اللعنة ٣٢٩ اللعنة ٣٣٠ اللعنة ٣٣١ اللعنة ٣٣٢ اللعنة ٣٣٣ اللعنة ٣٣٤ اللعنة ٣٣٥ اللعنة ٣٣٦ اللعنة ٣٣٧ اللعنة ٣٣٨ اللعنة ٣٣٩ اللعنة ٣٤٠ اللعنة ٣٤١ اللعنة ٣٤٢ اللعنة ٣٤٣ اللعنة ٣٤٤ اللعنة ٣٤٥ اللعنة ٣٤٦ اللعنة ٣٤٧ اللعنة ٣٤٨ اللعنة ٣٤٩ اللعنة ٣٥٠ اللعنة ٣٥١ اللعنة ٣٥٢ اللعنة ٣٥٣ اللعنة ٣٥٤ اللعنة ٣٥٥ اللعنة ٣٥٦ اللعنة ٣٥٧ اللعنة ٣٥٨ اللعنة ٣٥٩ اللعنة ٣٦٠ اللعنة ٣٦١ اللعنة ٣٦٢ اللعنة ٣٦٣ اللعنة ٣٦٤ اللعنة ٣٦٥ اللعنة ٣٦٦ اللعنة ٣٦٧ اللعنة ٣٦٨ اللعنة ٣٦٩ اللعنة ٣٧٠ اللعنة ٣٧١ اللعنة ٣٧٢ اللعنة ٣٧٣ اللعنة ٣٧٤ اللعنة ٣٧٥ اللعنة ٣٧٦ اللعنة ٣٧٧ اللعنة ٣٧٨ اللعنة ٣٧٩ اللعنة ٣٨٠ اللعنة ٣٨١ اللعنة اللعنة ٣٨٢ اللعنة ٣٨٣ اللعنة ٣٨٤ اللعنة ٣٨٥ اللعنة ٣٨٦ اللعنة ٣٨٧ اللعنة ٣٨٨ اللعنة ٣٨٩ اللعنة ٣٩٠ اللعنة ٣٩١ اللعنة ٣٩٢ اللعنة ٣٩٣ اللعنة ٣٩٤ اللعنة ٣٩٥ اللعنة ٣٩٦ اللعنة ٣٩٧ اللعنة ٣٩٨ اللعنة ٣٩٩ اللعنة ٤٠٠ اللعنة ٤٠١ اللعنة ٤٠٢ اللعنة ٤٠٣ اللعنة ٤٠٤ اللعنة ٤٠٥ اللعنة ٤٠٦ اللعنة ٤٠٧ اللعنة ٤٠٨ اللعنة ٤٠٩ اللعنة ٤١٠ اللعنة ٤١١ اللعنة ٤١٢ اللعنة ٤١٣ اللعنة ٤١٤ اللعنة ٤١٥ اللعنة ٤١٦ اللعنة ٤١٧ اللعنة ٤١٨ اللعنة ٤١٩ اللعنة ٤٢٠ اللعنة ٤٢١ اللعنة ٤٢٢ اللعنة ٤٢٣ اللعنة ٤٢٤ اللعنة ٤٢٥ اللعنة ٤٢٦ اللعنة ٤٢٧ اللعنة ٤٢٨ اللعنة ٤٢٩ اللعنة ٤٣٠ اللعنة ٤٣١ اللعنة ٤٣٢ اللعنة ٤٣٣ اللعنة ٤٣٤ اللعنة ٤٣٥ اللعنة ٤٣٦ اللعنة ٤٣٧ اللعنة ٤٣٨ اللعنة ٤٣٩ اللعنة ٤٤٠ اللعنة ٤٤١ اللعنة ٤٤٢ اللعنة ٤٤٣ اللعنة ٤٤٤ اللعنة ٤٤٥ اللعنة ٤٤٦ اللعنة ٤٤٧ اللعنة ٤٤٨ اللعنة ٤٤٩ اللعنة ٤٥٠ اللعنة ٤٥١ اللعنة ٤٥٢ اللعنة ٤٥٣ اللعنة ٤٥٤ اللعنة ٤٥٥ اللعنة ٤٥٦ اللعنة ٤٥٧ اللعنة ٤٥٨ اللعنة ٤٥٩ اللعنة ٤٦٠ اللعنة ٤٦١ اللعنة ٤٦٢ اللعنة ٤٦٣ اللعنة ٤٦٤ اللعنة ٤٦٥ اللعنة ٤٦٦ اللعنة ٤٦٧ اللعنة ٤٦٨ اللعنة ٤٦٩ اللعنة ٤٧٠ اللعنة ٤٧١ اللعنة ٤٧٢ اللعنة ٤٧٣ اللعنة ٤٧٤ اللعنة ٤٧٥ اللعنة ٤٧٦ اللعنة ٤٧٧ اللعنة ٤٧٨ اللعنة ٤٧٩ اللعنة ٤٨٠ اللعنة ٤٨١ اللعنة ٤٨٢ اللعنة ٤٨٣ اللعنة ٤٨٤ اللعنة ٤٨٥ اللعنة ٤٨٦ اللعنة ٤٨٧ اللعنة ٤٨٨ اللعنة ٤٨٩ اللعنة ٤٩٠ اللعنة ٤٩١ اللعنة ٤٩٢ اللعنة ٤٩٣ اللعنة ٤٩٤ اللعنة ٤٩٥ اللعنة ٤٩٦ اللعنة ٤٩٧ اللعنة ٤٩٨ اللعنة ٤٩٩ اللعنة ٥٠٠

١٦٠

صفحہ 111

١٦١

١٦١ اللعنة ٥٠٧ اللعنة ٥٠٦ اللعنة ٥٠٥ اللعنة ٥٠٤ اللعنة ٥٠٣ اللعنة ٥٠٢ اللعنة ٥٠١ اللعنة ٥١٤ اللعنة ٥١٣ اللعنة ٥١٢ اللعنة ٥١١ اللعنة ٥١٠ اللعنة ٥٠٩ اللعنة ٥٠٨ اللعنة ٥٢١ اللعنة ٥٢٠ اللعنة ٥١٩ اللعنة ٥١٨ اللعنة ٥١٧ اللعنة ٥١٦ اللعنة ٥١٥ اللعنة ٥٢٨ اللعنة ٥٢٧ اللعنة ٥٢٦ اللعنة ٥٢٥ اللعنة ٥٢٤ اللعنة ٥٢٣ اللعنة ٥٢٢ اللعنة ٥٣٥ اللعنة ٥٣٤ اللعنة ٥٣٣ اللعنة ٥٣٢ اللعنة ٥٣١ اللعنة ٥٣٠ اللعنة ٥٢٩ اللعنة ٥٤٢ اللعنة ٥٤١ اللعنة ٥٤٠ اللعنة ٥٣٩ اللعنة ٥٣٨ اللعنة ٥٣٧ اللعنة ٥٣٦ اللعنة ٥٤٩ اللعنة ٥٤٨ اللعنة ٥٤٧ اللعنة ٥٤٦ اللعنة ٥٤٥ اللعنة ٥٤٤ اللعنة ٥٤٣ اللعنة ٥٥٦ اللعنة ٥٥٥ اللعنة ٥٥٤ اللعنة ٥٥٣ اللعنة ٥٥٢ اللعنة ٥٥١ اللعنة ٥٥٠ اللعنة ٥٦٣ اللعنة ٥٦٢ اللعنة ٥٦١ اللعنة ٥٦٠ اللعنة ٥٥٩ اللعنة ٥٥٨ اللعنة ٥٥٧ اللعنة ٥٧٠ اللعنة ٥٦٩ اللعنة ٥٦٨ اللعنة ٥٦٧ اللعنة ٥٦٦ اللعنة ٥٦٥ اللعنة ٥٦٤ اللعنة ٥٧٧ اللعنة ٥٧٦ اللعنة ٥٧٥ اللعنة ٥٧٤ اللعنة ٥٧٣ اللعنة ٥٧٢ اللعنة ٥٧١ اللعنة ٥٨٤ اللعنة ٥٨٣ اللعنة ٥٨٢ اللعنة ٥٨١ اللعنة ٥٨٠ اللعنة ٥٧٩ اللعنة ٥٧٨ اللعنة ٥٩١ اللعنة ٥٩٠ اللعنة ٥٨٩ اللعنة ٥٨٨ اللعنة ٥٨٧ اللعنة ٥٨٦ اللعنة ٥٨٥ اللعنة ٥٩٨ اللعنة ٥٩٧ اللعنة ٥٩٦ اللعنة ٥٩٥ اللعنة ٥٩٤ اللعنة ٥٩٣ اللعنة ٥٩٢ اللعنة ٦٠٥ اللعنة ٦٠٤ اللعنة ٦٠٣ اللعنة ٦٠٢ اللعنة ٦٠١ اللعنة ٦٠٠ اللعنة ٥٩٩ اللعنة ٦١٢ اللعنة ٦١١ اللعنة ٦١٠ اللعنة ٦٠٩ اللعنة ٦٠٨ اللعنة ٦٠٧ اللعنة ٦٠٦ اللعنة ٦١٩ اللعنة ٦١٨ اللعنة ٦١٧ اللعنة ٦١٦ اللعنة ٦١٥ اللعنة ٦١٤ اللعنة ٦١٣ اللعنة ٦٢٦ اللعنة ٦٢٥ اللعنة ٦٢٤ اللعنة ٦٢٣ اللعنة ٦٢٢ اللعنة ٦٢١ اللعنة ٦٢٠ اللعنة ٦٣٣ اللعنة ٦٣٢ اللعنة ٦٣١ اللعنة ٦٣٠ اللعنة ٦٢٩ اللعنة ٦٢٨ اللعنة ٦٢٧ اللعنة ٦٤٠ اللعنة ٦٣٩ اللعنة ٦٣٨ اللعنة ٦٣٧ اللعنة ٦٣٦ اللعنة ٦٣٥ اللعنة ٦٣٤ اللعنة ٦٤٧ اللعنة ٦٤٦ اللعنة ٦٤٥ اللعنة ٦٤٤ اللعنة ٦٤٣ اللعنة ٦٤٢ اللعنة ٦٤١ اللعنة ٦٥٤ اللعنة ٦٥٣ اللعنة ٦٥٢ اللعنة ٦٥١ اللعنة ٦٥٠ اللعنة ٦٤٩ اللعنة ٦٤٨ اللعنة ٦٦١ اللعنة ٦٦٠ اللعنة ٦٥٩ اللعنة ٦٥٨ اللعنة ٦٥٧ اللعنة ٦٥٦ اللعنة ٦٥٥ اللعنة ٦٦٨ اللعنة ٦٦٧ اللعنة ٦٦٦ اللعنة ٦٦٥ اللعنة ٦٦٤ اللعنة ٦٦٣ اللعنة ٦٦٢ اللعنة ٦٧٥ اللعنة ٦٧٤ اللعنة ٦٧٣ اللعنة ٦٧٢ اللعنة ٦٧١ اللعنة ٦٧٠ اللعنة ٦٦٩ اللعنة ٦٨٢ اللعنة ٦٨١ اللعنة ٦٨٠ اللعنة ٦٧٩ اللعنة ٦٧٨ اللعنة ٦٧٧ اللعنة ٦٧٦ اللعنة ٦٨٩ اللعنة ٦٨٨ اللعنة ٦٨٧ اللعنة ٦٨٦ اللعنة ٦٨٥ اللعنة ٦٨٤ اللعنة ٦٨٣ اللعنة ٦٩٦ اللعنة ٦٩٥ اللعنة ٦٩٤ اللعنة ٦٩٣ اللعنة ٦٩٢ اللعنة ٦٩١ اللعنة ٦٩٠ اللعنة ٧٠٣ اللعنة ٧٠٢ اللعنة ٧٠١ اللعنة ٧٠٠ اللعنة ٦٩٩ اللعنة ٦٩٨ اللعنة ٦٩٧ اللعنة ٧١٠ اللعنة ٧٠٩ اللعنة ٧٠٨ اللعنة ٧٠٧ اللعنة ٧٠٦ اللعنة ٧٠٥ اللعنة ٧٠٤ اللعنة ٧١٧ اللعنة ٧١٦ اللعنة ٧١٥ اللعنة ٧١٤ اللعنة ٧١٣ اللعنة ٧١٢ اللعنة ٧١١ اللعنة ٧٢٤ اللعنة ٧٢٣ اللعنة ٧٢٢ اللعنة ٧٢١ اللعنة ٧٢٠ اللعنة ٧١٩ اللعنة ٧١٨ ١٦٢ اللعنة ٧٣١ اللعنة ٧٣٠ اللعنة ٧٢٩ اللعنة ٧٢٨ اللعنة ٧٢٧ اللعنة ٧٢٦ اللعنة ٧٢٥ اللعنة ٧٣٨ اللعنة ٧٣٧ اللعنة ٧٣٦ اللعنة ٧٣٥ اللعنة ٧٣٤ اللعنة ٧٣٣ اللعنة ٧٣٢

١٦١

صفحہ 112

١٦٢

اللّعنة ٧٣٧ اللّعنة ٧٣٨ اللّعنة ٧٣٩ اللّعنة ٧٤٠ اللّعنة ٧٤١ اللّعنة ٧٤٢ اللّعنة ٧٤٣ اللّعنة ٧٤٤ اللّعنة ٧٤٥ اللّعنة ٧٤٦ اللّعنة ٧٤٧ اللّعنة ٧٤٨ اللّعنة ٧٤٩ اللّعنة ٧٥٠ اللّعنة ٧٥١ اللّعنة ٧٥٢ اللّعنة ٧٥٣ اللّعنة ٧٥٤ اللّعنة ٧٥٥ اللّعنة ٧٥٦ اللّعنة ٧٥٧ اللّعنة ٧٥٨ اللّعنة ٧٥٩ اللّعنة ٧٦٠ اللّعنة ٧٦١ اللّعنة ٧٦٢ اللّعنة ٧٦٣ اللّعنة ٧٦٤ اللّعنة ٧٦٥ اللّعنة ٧٦٦ اللّعنة ٧٦٧ اللّعنة ٧٦٨ اللّعنة ٧٦٩ اللّعنة ٧٧٠ اللّعنة ٧٧١ اللّعنة ٧٧٢ اللّعنة ٧٧٣ اللّعنة ٧٧٤ اللّعنة ٧٧٥ اللّعنة ٧٧٦ اللّعنة ٧٧٧ اللّعنة ٧٧٨ اللّعنة ٧٧٩ اللّعنة ٧٨٠ اللّعنة ٧٨١ اللّعنة ٧٨٢ اللّعنة ٧٨٣ اللّعنة ٧٨٤ اللّعنة ٧٨٥ اللّعنة ٧٨٦ اللّعنة ٧٨٧ اللّعنة ٧٨٨ اللّعنة ٧٨٩ اللّعنة ٧٩٠ اللّعنة ٧٩١ اللّعنة ٧٩٢ اللّعنة ٧٩٣ اللّعنة ٧٩٤ اللّعنة ٧٩٥ اللّعنة ٧٩٦ اللّعنة ٧٩٧ اللّعنة ٧٩٨ اللّعنة ٧٩٩ اللّعنة ٨٠٠ اللّعنة ٨٠١ اللّعنة ٨٠٢ اللّعنة ٨٠٣ اللّعنة ٨٠٤ اللّعنة ٨٠٥ اللّعنة ٨٠٦ اللّعنة ٨٠٧ اللّعنة ٨٠٨ اللّعنة ٨٠٩ اللّعنة ٨١٠ اللّعنة ٨١١ اللّعنة ٨١٢ اللّعنة ٨١٣ اللّعنة ٨١٤ اللّعنة ٨١٥ اللّعنة ٨١٦ اللّعنة ٨١٧ اللّعنة ٨١٨ اللّعنة ٨١٩ اللّعنة ٨٢٠ اللّعنة ٨٢١ اللّعنة ٨٢٢ اللّعنة ٨٢٣ اللّعنة ٨٢٤ اللّعنة ٨٢٥ اللّعنة ٨٢٦ اللّعنة ٨٢٧ اللّعنة ٨٢٨ اللّعنة ٨٢٩ اللّعنة ٨٣٠ اللّعنة ٨٣١ اللّعنة ٨٣٢ اللّعنة ٨٣٣ اللّعنة ٨٣٤ اللّعنة ٨٣٥ اللّعنة ٨٣٦ اللّعنة ٨٣٧ اللّعنة ٨٣٨ اللّعنة ٨٣٩ اللّعنة ٨٤٠ اللّعنة ٨٤١ اللّعنة ٨٤٢ اللّعنة ٨٤٣ اللّعنة ٨٤٤ اللّعنة ٨٤٥ اللّعنة ٨٤٦ اللّعنة ٨٤٧ اللّعنة ٨٤٨ اللّعنة ٨٤٩ اللّعنة ٨٥٠ اللّعنة ٨٥١ اللّعنة ٨٥٢ اللّعنة ٨٥٣ اللّعنة ٨٥٤ اللّعنة ٨٥٥ اللّعنة ٨٥٦ اللّعنة ٨٥٧ اللّعنة ٨٥٨ اللّعنة ٨٥٩ اللّعنة ٨٦٠ اللّعنة ٨٦١ اللّعنة ٨٦٢ اللّعنة ٨٦٣ اللّعنة ٨٦٤ اللّعنة ٨٦٥ اللّعنة ٨٦٦ اللّعنة ٨٦٧ اللّعنة ٨٦٨ اللّعنة ٨٦٩ اللّعنة ٨٧٠ اللّعنة ٨٧١ اللّعنة ٨٧٢ اللّعنة ٨٧٣ اللّعنة ٨٧٤ اللّعنة ٨٧٥ اللّعنة ٨٧٦ اللّعنة ٨٧٧ اللّعنة ٨٧٨ اللّعنة ٨٧٩ اللّعنة ٨٨٠ اللّعنة ٨٨١ اللّعنة ٨٨٢ اللّعنة ٨٨٣ اللّعنة ٨٨٤ اللّعنة ٨٨٥ اللّعنة ٨٨٦ اللّعنة ٨٨٧ اللّعنة ٨٨٨ اللّعنة ٨٨٩ اللّعنة ٨٩٠ اللّعنة ٨٩١ اللّعنة ٨٩٢ اللّعنة ٨٩٣ اللّعنة ٨٩٤ اللّعنة ٨٩٥ اللّعنة ٨٩٦ اللّعنة ٨٩٧ اللّعنة ٨٩٨ اللّعنة ٨٩٩ اللّعنة ٩٠٠ اللّعنة ٩٠١ اللّعنة ٩٠٢ اللّعنة ٩٠٣ اللّعنة ٩٠٤ اللّعنة ٩٠٥ اللّعنة ٩٠٦ اللّعنة ٩٠٧ اللّعنة ٩٠٨ اللّعنة ٩٠٩ اللّعنة ٩١٠ اللّعنة ٩١١ اللّعنة ٩١٢ اللّعنة ٩١٣ اللّعنة ٩١٤ اللّعنة ٩١٥ اللّعنة ٩١٦ اللّعنة ٩١٧ اللّعنة ٩١٨ اللّعنة ٩١٩ اللّعنة ٩٢٠ اللّعنة ٩٢١ اللّعنة ٩٢٢ اللّعنة ٩٢٣ اللّعنة ٩٢٤ اللّعنة ٩٢٥ اللّعنة ٩٢٦ اللّعنة ٩٢٧ اللّعنة ٩٢٨ اللّعنة ٩٢٩ اللّعنة ٩٣٠ اللّعنة ٩٣١ اللّعنة ٩٣٢ اللّعنة ٩٣٣ اللّعنة ٩٣٤ اللّعنة ٩٣٥ اللّعنة ٩٣٦ اللّعنة ٩٣٧ اللّعنة ٩٣٨ اللّعنة ٩٣٩ اللّعنة ٩٤٠ اللّعنة ٩٤١ اللّعنة ٩٤٢ اللّعنة ٩٤٣ اللّعنة ٩٤٤ اللّعنة ٩٤٥ اللّعنة ٩٤٦ اللّعنة ٩٤٧ اللّعنة ٩٤٨ اللّعنة ٩٤٩ اللّعنة ٩٥٠ اللّعنة ٩٥١ اللّعنة ٩٥٢ اللّعنة ٩٥٣ اللّعنة ٩٥٤ اللّعنة ٩٥٥ اللّعنة ٩٥٦ اللّعنة ٩٥٧ اللّعنة ٩٥٨ اللّعنة ٩٥٩ اللّعنة ٩٦٠ اللّعنة ٩٦١ اللّعنة ٩٦٢ اللّعنة ٩٦٣ اللّعنة ٩٦٤ اللّعنة ٩٦٥ اللّعنة ٩٦٦ اللّعنة ٩٦٧ اللّعنة ٩٦٨ اللّعنة ٩٦٩ اللّعنة ٩٧٠ اللّعنة ٩٧١ اللّعنة ٩٧٢ اللّعنة ٩٧٣ اللّعنة ٩٧٤ اللّعنة ٩٧٥ اللّعنة ٩٧٦ اللّعنة ٩٧٧ اللّعنة ٩٧٨ اللّعنة ٩٧٩ اللّعنة ٩٨٠ اللّعنة ٩٨١ اللّعنة ٩٨٢ اللّعنة ٩٨٣ اللّعنة ٩٨٤ اللّعنة ٩٨٥ اللّعنة ٩٨٦ اللّعنة ٩٨٧ اللّعنة ٩٨٨ اللّعنة ٩٨٩ اللّعنة ٩٩٠ اللّعنة ٩٩١ اللّعنة ٩٩٢ اللّعنة ٩٩٣ اللّعنة ٩٩٤ اللّعنة ٩٩٥ اللّعنة ٩٩٦ اللّعنة ٩٩٧ اللّعنة ٩٩٨ اللّعنة ٩٩٩ اللّعنة ١٠٠٠

١٦٢

صفحہ 113

١٦٣

۱۲۳

واشهد الاحرار و الاساری انی اضع البركة و اللعنة امام النصاریٰ اور میں آزادوں اور قیدیوں کو گواہ کرتا ہوں کہ میں آج برکت اور لعنت نصاریٰ کے آگے رکھتا ہوں اما البركة فينالهم بركة الدنيا عند مقابلة الكتاب وينالون انعاماً كثيرا برکت سے مراد دنیا کی برکت ہے کہ مقابلہ کے وقت ان کو حاصل ہوگی اور وہ بہت سا انعام مع الفتح والغلب او ينالهم بركة الآخرة عند التوبة وترك توهين مع فتح اور غلبہ کے پائیں گے یا برکت سے مراد آخرت کی برکت ہے کہ توبہ اور ترک توہین قرآن القرآن وترك صفة المرحان و اما اللعنة فترد عليهم الا عند کے بعد ان کو ملے گی لعنت یہ صرف اس حالت میں وارد ہوگی کہ جب بالمقابل رسالہ نہ بنا سکیں اعراضهم عن الجواب ومع ذالك عدم امتناعهم عن الشتم والسب اور باوجود اس کے والقدح فی کتاب رب الارباب رب العالمین کہ وہ قرآن شریف کی توہین اور تحقیر سے بھی باز نہ آویں۔ واعلم ان كل من هو من ولد الحلال وليس من ذرية البغايا اور جاننا چاہیئے کہ ہر یک شخص جو ولد الحلال ہے اور خراب عورتوں ونسل الدجال فيفعل امراً من امرين اما كف اللسان بعد وترك اور دجال کی نسل میں سے نہیں ہو وہ دو باتوں میں سے ایک بات ضرور اختیار کریگا یا تو بعد اسکے دروغگوئی الافتراء والمين و اما تاليف الرسالة كرسالتنا وترصيع المقالة كمقالتنا اور افترا سے باز آجائے گا یا ہمارے اس رسالہ جیسا رسالہ بنا کر پیش کرے گا ولكن الذی ما ازدجر من القدح فی بلاغة القرآن وما امتنع من الانکار مگر وہ شخص کہ جس نے نہ تو ہمارے رسالہ جیسا رسالہ بنایا اور نہ قرآن کریم کی جرح و قدح سے باز آیا من فصاحة الفرقان فعليه كلما قلنا وكتبنا فی هذا القرطاس عليه اور نہ فصاحت قرآنی پر حملہ بیجا کرنے سے اپنے تئیں روکا پس اُسپر وہ سب باتیں وارد ہونگی جو ہم اس رسالہ ١٦٣

صفحہ 114

(ٹائٹل طبع اول)

نور الحق الحصة الثانية

تنبيه:- ہر ایک خریدار کو چاہیے کہ اس کتاب کو ایک مجلد کتاب تصور کرے کیونکہ یہ رسالہ جو چار حصوں میں منقسم ہے بطبع اول و ثانی ایک ہی کتاب ہے اور اس کا نام نور الحق ہے جس کے پہلے حصہ میں شیخ ابوسعید کی تمام لغویات کا رد ہے اور حصہ ثانی میں عیسائیوں کے اشتہار کا جواب ہے یہ جو ہم نے کتابیں اور رسالے مقابل کتب کے طبع کیے ہیں یہ بحولہ و فضلہ ہی ہے ورنہ جمع خرچ سے ہمیں کسی یار و خویش نے ایک حبه کی خبر نہیں لی۔ الحمدللہ کہ یہ رسالہ بھی ایک مخلص کے مردانہ اور مخلصانہ پیرایہ میں پورے اسباب کے ساتھ چھپ گیا مگر افسوس ہے کہ ہنوز اس قدر مقروض ہوں کہ آج دل قابو سے باہر ہے ۔ اس کا حال کوئی کیا لکھے ۔ انما اشكو بثی و حزنی الی اللہ۔ الراقم خاکسار غلام احمد

الحمد لله الذى اجزل لنا طوله و انجز وعده و اتم قوله وارى بعض الآيات وافحم المنكرين و المكذبين فاردت ان اظهر سناه لمن ام مسالك هداه ولما حل ميقاتي بفضل الله الكريم ورحمته انه الرحمن الرحيم فظهرت آية الخسوف و الكسوف من الله الرحمن الرؤف فالقى فى روعى ان اولج سرادقها فى هذا الباب من اية للطلاب فاقامها الله الا حبذا حق وجعلتها حصة من حصتى نور الحق ومعها اتمام خمسة آلاف للذين يدعون كفاءتي والذين يكذبون القرآن و يتبعون الشيطان ويتكلمون فى بلاغة القرآن ولا يحسبونه من الله الرحمان اردت بتاليف هذه الرسالة وحصته الاولى ان اظهر جهالة المؤيد ضلالة تلك الحمر واكشف خديعتهم لذوى النهى ارى الحق لمن يرى بعد ما ازمعت تاليف هذا الكتاب الهمت من رب الارباب ان الكافرين المنكرين لا يقدرون على ان يأتوا بآيات مثل هذا فى نثرها و نظمها مع اقتران معانيها و حكمها فمن اراد ان يكذبنا فليعارضنا بمثل كلامنا فان لم يأتوا بمثله الى امد لا يبلغه غيره ولا يدركه معاند ولو كان على الهواء سيارا وهذا الكتاب الذى هو الطف وادق سميته الحصة الثانية من

نور الحق

هذا رسالة كالعضب الجراز لافحام كل من تمحض للمبارزة اول مخاطبينا بالاصالة فى الانام المتنصرين الذين هم كالانعام وعالمهم الذى لوى عنقه كالانعام واخوانه الذين يقولون انا نحن المولويون الماهرون فى العربية والعلوم الادبية ثم لم يقدروا الا بتسجيع مجنونين مضلى العوام بكلمات كالسراب بل كالجذام ثم بعد هؤلاء كل مخالف من اهل الاهواء وكل من قال انى ارضعت ثدى الادب وحوت عيبتى من علوم الفصحاء غايته فى المائة والمائتين فالان ننظرهم هل يقومون فى الميدان كقيامهم على منبر الافتراء والعدوان او يولون الدبر ويشهدون على انفسهم انهم كانوا من الجاهلين۔

لمؤلفه طبع فى المطبع مفيد عام فى بلدة لاهور سنة ١٣١١ هجرى سلمه الغني تعداد جلد ۳۰۰۰ قیمت فی جلد ٦ ر

صفحہ 115

۲۱۵ نور الحق الحصّة الثانية .

عجيبة واوضاعه غريبة وهو خارق للعادة ومخالف للمعمول والسنّة عجیب ہیں اور اسکی وضعیں غریب ہیں اور وہ خارق عادت اور مخالف معمول اور سنت ہے۔ فثبت ما جآء فى القرءان وحديث خاتم النبيّين ولا شك ان اجتماع پس اس سے وہ غیر معمولی ہونا ثابت ہوا جس کا بیان قرآن کریم اور حدیث خاتم الانبیاء میں موجود ہے اور کچھ شک نہیں کہ الخسوف والكسوف فى شهر رمضان مع هذه الغرابة امر خارق للعادة کسوف خسوف اس مہینہ رمضان میں اس غیر معمولی حالت کے ساتھ جمع ہونا ایک امر خارق عادت ہے واذا نظرت معه رجلاً يقول انى انا المسيح الموعود والمهدى المسعود اور جب کہ اس کے ساتھ تو نے ایک آدمی کو دیکھا جو کہتا ہو کہ میں مسیح موعود اور مہدی ہوں اور خسوف والملهم المرسل من الحضرة وكان ظهوره مقارناً بهذه الاية فلاشك کسوف کے ساتھ اس کا ظہور مقارن ہے پس کچھ شک نہیں کہ

ص ۲۴

انها امور ما سمع اجتماعها فى اوّل الزمان ومن ادعى فعليه ان يثبت ہیں جو پہلے کسی زمانہ میں جمع نہیں ہوئے جو انکار کرے اور ثابت کر کے دکھلاوے کہ کسی وقوعه فى حين من الاحيان . ثم لما ظهرت هذه الاية فى هذه الديار وقت پہلے اس سے یہ کسوف خسوف معہ مدعی مہدو مسیح وقوع میں آچکا ہو۔ پھر جبکہ یہ نشان اسی ملک وهذا المقام ولم يظهر اثر منها فى بلاد العرب والشام فهذه شهادة اور اسی مقام میں ظاہر ہوا اور بلاد عرب اور شام میں کچھ اسکا نشان من الله العلام لصدق دعوانا يا اهل الاسلام فقفوا فرادى فرادى ثم اتركوا نہ پایا گیا تو یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے صدق دعویٰ پر ایک نشان ہوا پس تم ایک ایک ہو کر کھڑے ہو جاؤ اور جو من بخل وعادى ثم تفكروا ودعوا عناداً ولا تلقوا بايديكم الى التهلكة شخص بخیل اور دشمن ہو اُسکو چھوڑ دو پھر فکر کرو اور عناد کو چھوڑ دو اور اپنے ہاتھوں سے اپنے تئیں ہلاک مت کرو ولا تفسدوا فساداً ولا تعرضوا مستعجلين . يا عباد الله رحمكم الله اور جلدی سے کنارہ کش مت ہو جاؤ ۔ اے بندگان خدا

۲۹

صفحہ 116

۲۱۲ اتقوا الله ولا تتکبروا وفکروا وتدبروا ایجوز عندکم ان یکون المھدی فکر کرو اور سوچو کیا تمہارے نزدیک جائز ہے کہ مہدی تو فی بلاد العرب او الشام و آیتہ تظھر فی ھذا المقام وانتم تعلمون بلاد عرب اور شام میں پیدا ہو اور اس کا نشان ہمارے ملک میں ظاہر ہو اور تم جانتے ہو ان الحکمة الالھیة لا تبعد الآیت من اھلھا وصاحبھا ومحلھا کہ حکمت الٰہیہ نشان کو اُس کے اہل سے جُدا نہیں کرتی فکیف یمکن ان یکون المھدی فی مغرب الارض و آیتہ تظھر فی پس کیونکر ممکن ہے کہ مہدی تو مغرب میں ہو اور اُس کا نشان مشرقھا فکفاکم ھذا ان کنتم من الطالبین ۔ مشرق میں ظاہر ہو اور تمہارے لئے اسقدر کافی ہو اگر تم طالب حق ہو۔ ثم مع ذالك لا یخفے علیکم ان بلاد العرب و الشام خالیة عن اھل پھر یہ بھی تم پر پوشیدہ نہیں کہ بلاد عرب اور شام ایسے ھذہ الادعاء ولن تسمع اثرا منہ فی تلك الارجاء ولکنکم تعلمون انی اقول مدعی کے وجود سے خالی ہیں اور ان اطراف میں ایسے مدعی کا نشان نہیں پایا جاتا مگر تم جانتے ہو کہ میں کئی من بضع سنین بامر رب العلمین انی انا المسیح الموعود والمھدی برس سے بامر ربّ العالمین کہہ رہا ہوں کہ میں مسیح موعود اور مہدی المسعود وانتم تکفروننی وتلعنوننی وتکذبوننی وجاءتکم البینات و مسعود ہوں اور تم مجھے کافر ٹھہراتے اور لعنت کرتے اور جھٹلاتے ہو اور کھلی کھلی نشانیاں تمہارے پاس ازیلت الشبھات ثم کنتم علی التکفیر مصرّین ۔ اعجبتم ان جاءکم منذر منکم پہنچیں اور تمہارے شبہات دُور کئے گئے اور پھر تم کافر ٹھہرانے پر اصرار کرتے رہے۔ کیا تمنے تعجب کیا کہ تم میں ایک علی راس المائة فی وقت نزول المصائب علی الملة واشتداد العلة وکنتم ڈرا نیوالا صدی کے سر پر آیا اور اُسوقت آیا کہ جب دینِ اسلام پر مصیبتیں اُتر رہی تھیں اور بیماری بہت شدّت کر گئی تھی اور

صفحہ 117

ٹائیٹل پیج طبع اول

الحمد لله الذی وفقنا لتالیف رسالتنا هذه التی الفت

لافحام المولوی رسل بابا الامرتسری وتبکیته وفصل فیه

کل امر لتبکیته وسمیت

اِتْمَامُ الحُجَّةِ

علی الذی لَجَّ وَزَاغَ

عَنِ المَحَجَّةِ

وطبعت فی مطبع گلزار محمدی فی بلدة لاهور ۱۳۱۱ ھ

تعداد جلد ۷۰۰

قیمت فی جلد ۳ ر

صفحہ 118

۲۷۵ لأجله تركوا بروق الدنيا وزينتها برؤية لعله ونهضوا الى ما امروا باذعان القلب سعادة السيرة وجاهدوا فى الله على ضعف من المريرة وما كانوا قاعدين تبتلوا الى الله تبتيلا وجمعوا خزائن الاخرة وما ملكوا من الدنيا فتيلا وما مالوا الى استمراء المعرة وبذلوا انفسهم لاشاعة الملة وقفوا ظلال رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى صاروا من الموقنين شروا انفسهم ابتغاء مرضات الرب اللطيف ورضوا لمرضاته بمفارقة المألف والاليف والووا ابصارهم عن الدنيا وما فيها واخذتهم جذبة عظمى فجذبوا الى الله رب العالمين۔

أما بعد فاعلم ان اخوة الاسلام يقتضى النصح وصدق الكلام ومن اعطى علما من علوم فاخفاه كسر مكتوم فهو احد من الخائنين ۔ وان العلوم لا تنتهى دقائقها ولا تحصى حقائقها ولا مانع لظهورها ولا محاق لبدورها وكم من علم ترك للاخرين۔ وقد علمنى ربى من اسراره اخبرنى من اخباره وجعلنى مجدد هذه المائة وخصنى فى علومه بالبسطة والسعة وجعلنى لرسله من الوارثين ۔ وكان من مفاتح تعليمه وعطايا تفهيمه ان المسيح عيسى بن مريم قد مات بموته الطبعى وتوفى كاخوانه من المرسلين ۔ وبشرنى وقال ان المسيح الموعود الذى يرقبونه والمهدى المسعود الذى ينتظرونه هو انت تفعل ما يشاء فلا تكون من الممترين ۔ وقال انا جعلناك المسيح ابن مريم ففض ختم سره وجعلنى على دقائق الامر من المطلعين ۔ وتواترت هذه الالهامات وتتابعت البشارات حتى صرت من المطمئنين ثم تخيرت طريق الحمامة ورجعت الى كتاب الله خفير طرق السلامة فوجدته عليه اوّل الشاهدين ۔ واىّ بيان يكون اوضح من بيانه يعيسى انى متوفيك فانظر هداك الله قبل توفيك وجعلك من المستبصرين۔

واكده الله بقوله فلما توفيتنى ففكر فيه يا من اذيتنى وحسبتنى من الكافرين ۔ وهذا نص لا يرده قول مكابر بائر ولا يجرحه سهم ختار فى معترك الا ۳

صفحہ 119

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۹

انوار الاسلام ۔ منن الرحمٰن ۔ ضیاء الحق

نورالقرآن ہر دو حصہ ۔ معیار المذاہب

صفحہ 120

ٹائیٹل پیج بار اول

جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا

اَنْوَارُ الْاِسْلَام

یگانہ پریس میں مالک و مدبر رسالہ انوار الاسلام کے اہتمام سے چھپا

تعداد اشاعت (۳۰۰۰)

صفحہ 121

روحانی خزائن ۲ جلد ۶ اب یاد رہے کہ پیشگوئی میں فریقِ مخالف کے لفظ سے جس کے لئے ہاویہ یا ذلّت کا وعدہ تھا ایک گروہ مراد ہے۔ جو اس بحث سے تعلق رکھتا تھا خواہ خود بحث کرنے والا تھا یا معاون یا حامی یا سرگروہ تھا ہاں مقدم سب سے ڈپٹی عبداللہ آتھم تھا کیونکہ وہی دوسرے عیسائیوں کی طرف سے منتخب ہو کر پندرہ دن جھگڑتا رہا مگر درحقیقت اس لفظ کے حصّہ دار دوسرے معاون اور محرک اور ان کے سرگروہ بھی تھے کیونکہ عرفاً فریق اس تمام گروہ کا نام ہے جو ایک کام بالتقابل کرنے والا یا اس کام کا معاون یا اس کام کا بانی یا مجوز یا حامی ہو۔ اور پیشگوئی کی کسی عبارت میں یہ نہیں لکھا گیا کہ فریق سے مراد صرف عبداللہ آتھم ہے۔ ہاں میں نے جہاں تک الہام کے معنے سمجھے وہ یہ تھے کہ جو شخص اس فریق میں سے بالمقابل باطل کی تائید میں نفسِ خود بحث کرنے والا ہے اس کے لئے ہاویہ سے مراد سزائے موت ہے لیکن الہامی لفظ صرف ہاویہ ہے اور ساتھ یہ بھی شرط ہے کہ حق کی طرف رجوع کرنے والا نہ ہو اور حق کی طرف رجوع نہ کرنے کی قید ایک الہامی شرط ہے جیسا کہ میں نے الہامی عبارت میں صاف لفظوں میں اس شرط کو لکھا تھا اور یہ بات بالکل سچ اور یقینی اور الہام کے مطابق ہے کہ اگر مسٹر عبداللہ کا دل جیسا کہ پہلے تھا ویسا ہی توہین اور تحقیر اسلام پر قائم رہتا اور اسلامی عظمت کو قبول کر کے حق کی طرف رجوع کرنے کا کوئی حصہ نہ لیتا تو اسی میعاد کے اندر اُسی کی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا لیکن خدا تعالیٰ کے الہام نے مجھے جتلا دیا کہ ڈپٹی عبداللہ آتھم نے اسلام کی عظمت اور اس کے رعب کو تسلیم کر کے حق کی طرف رجوع کرنے کا کسی قدر حصّہ لے لیا جس حصّہ نے اس کے وعدہ موت اور کامل طور کے ہاویہ میں تاخیر ڈال دی اور ہاویہ میں تو گرا لیکن اس بڑے ہاویہ سے تھوڑے دنوں کے لئے بچ گیا جس کا نام موت ہے اور یہ ظاہر ہے کہ الہامی لفظوں اور شرطوں میں سے کوئی ایسا لفظ یا شرط نہیں ہے جو بے تاثّیر ہو یا جس کا کسی قدر بھی جزو ہو جانا اپنی تاثیر پیدا نہ کرے۔ لہٰذا ضرور تھا کہ جس قدر مسٹر عبداللہ آتھم کے دل نے حق کی عظمت کو قبول کیا اس کا فائدہ اس کو پہنچ جائے سو خدا تعالیٰ نے ایسا ہی کیا اور مجھے فرمایا اطلع اللّٰہ علی ھمہ وغمہ۔ ولن تجد لسنۃ اللّٰہ تبدیلا ولا تھنوا ولا تحزنوا وان تم الاعلون ان کنتم مؤمنین ویعزک ویجلک انک انت الاعلےٰ۔ وتمزق الاحشاء بحر عمیق غرقاً واراہ ھو یبور۔ انا نکشف السر عن ساق یومئذٍ یفرح المؤمنون۔ ثلۃ من الاولین و ثلۃ من الآخرین یعدھم تذکرۃ فمن شاء اتخذ الیٰ ربہ سبیلا۔ ترجمہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے ھم و غم پر اطلاع پائی اور اس کو مہلت دی جب تک کہ وہ بیباکی اور سخت گوئی اور

صفحہ 122

ٹائیٹل طبع اول

وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيْلٍؕ

جو شخص مظلوم ہونے کے بعد انتقام لے اس پر کوئی الزام نہیں

نُوْرُ الْقُرْاٰن

نمبر ۲

بابت ماہ ستمبر، اکتوبر، نومبر، دسمبر ۱۸۹۵ء و جنوری، فروری، مارچ، اپریل ۱۸۹۶ء

خاکسار محمد سراج الحق جمالی نعمانی

مُطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل دین صاؔ مالک مطبع کے چھپا

۔۔۔ جلد فی قیمت فی جلد ۸ ؍

۳۷۳

صفحہ 123

۴۴۴

اعتراض پنجم

محمد صاحب کی ایک غیر عورت پر نظر پڑی ۔ تو آپ نے گھر میں آکر اپنی بیوی سودہؓ سے خلوت کی پس جو شخص غیر عورت کو دیکھ کر اپنے نفس پر غالب نہیں آسکتا ۔ جب تک اپنی عورت سے خلوت نہ کرے اور اپنے نفس کی حرص کو پورا نہ کرے ۔ تو وہ فرد اکمل کیونکر ہو سکتا ہے ۔ :

اقول میں کہتا ہوں کہ جس حدیث کے معترض نے اُلٹے معنے سمجھ لئے ہیں وہ صحیح مسلم میں ہے۔ اور اس کے الفاظ یہ ہیں ۔ عن جابر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رای امرأۃ فاتی امرأتہ زینب وھی تمعس منیتہ لھا فقضی حاجتہ ۔ اس حدیث میں سودہؓ کا کہیں ذکر نہیں اور معنے حدیث کے یہ ہیں کہ آنحضرت نے ایک عورت کو دیکھا۔ پھر اپنی بیوی زینبؓ کے پاس آئے۔ جو چمڑہ کو مالش کر رہی تھی ۔ سو آنحضرت نے اپنی حاجت پوری کی۔ اب دیکھو کہ حدیث میں اس بات کا نام ونشان نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس عورت کا حسن وجمال پسند آیا ۔ بلکہ یہ بھی ذکر نہیں کہ وہ عورت جوان تھی یا بُڈھی تھی ۔ اور یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ آنحضرت نے اپنی بیوی سے آکر صحبت کی ۔ الفاظ حدیث صرف اِس قدر ہیں کہ اُن سے اپنی حاجت کو پورا کیا اور لفظ قضی حاجتہ لغت عرب میں مباشرت سے خاص نہیں ہے قضاء حاجت پاخانہ پھرنے کو بھی کہتے ہیں اور کئی اور معنوں کے لئے مستعمل ہوتا ہے ۔ یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی سے صحبت ہی کی تھی۔ ایک عام لفظ کسی خاص معنی میں محدود کرنا صریح شرارت ہے علاوہ اس کے آنحضرت

نورالقرآن نمبر ۲ ۲۹

صفحہ 124

۴۴۴ روحانی خزائن جلد ۶

درخت کی طرف دوڑے گئے کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ درخت ان کا یا ان کے والد صاحب کی ملک میں سے تھا۔ پس جو شخص بیگانہ درخت کو دیکھ کر اپنے نفس پر غالب نہ آسکا اور پیٹ کو بھینٹ چڑھانے کے لئے اس کی طرف دوڑا گیا سو وہ خدا تو کیا بلکہ بقول آپ کے فرد اکمل بھی نہیں۔ الغرض کسی کے دل میں یہ خیال گذرنا کہ یہ چیز خوبصورت ہے یہ ایک علیحدہ امر ہے جس کو خدا نے آنکھیں دی ہیں جیسے وہ کانٹے اور پھول میں فرق کر سکتا ہے۔ ایسا ہی وہ خوبصورت اور بدصورت میں فرق کر سکتا ہے۔ آپ کے خدا صاحب کو شاید یہ قوت ممیزہ فطرت سے نہیں ملی ہو گی کہ پیٹ کی شہوت کے لئے تو انجیر کے درخت کی طرف دوڑے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ کس کا انجیر ہے۔

تعجب کہ ایک شہوانی اور کھاؤ پیو کو شہوت پرست نہ کہا جائے اور وہ پاک ذات جس کی زندگی اور جس کا ہر ایک فعل خدا کے لئے تھا۔ اس کا نام اس زمانہ کے پلید طبع شہوت پرست رکھیں۔ عجیب تاریکی کا زمانہ ہے۔ یہ اسلام کی اعلیٰ تعلیم کا ایک نمونہ ہے کہ ہرگز قصداً کسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھو کہ یہ بد نظری کا پیش خیمہ ہے۔ اور اگر اتفاقاً کسی خوبصورت عورت پر نظر پڑے اور وہ خوبصورت معلوم ہو تو اپنی عورت سے صحبت کر کے اس خیال کو ٹال دو۔ خوب یاد رکھو کہ یہ تعلیم اور یہ حکم حفظ ما تقدم کے طور پر ہے جو شخص مثلاً ہیضہ کے دنوں میں ہیضہ سے بچنے کے لئے حفظ ما تقدم کے طور پر کوئی دوا استعمال کرتا ہے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کو ہیضہ ہو گیا ہے۔ یا ہیضہ کے آثار اس میں ظاہر ہو گئے ہیں بلکہ یہ بات اس کی دانشمندی میں محسوب ہو گی اور سمجھا جائے گا کہ وہ اس بیماری سے طبعاً نفرت رکھتا ہے اور اس سے

۷۲

صفحہ 125

۴۹۴ روحانی خزائن جلد ۹

پڑ گیا ہے کہ یہ کھاؤ پیو ہے۔ اس سے کس تقویٰ اور نیک بختی کی امید ہو سکتی ہے ہمارے سید و مولیٰ افضل الانبیاء خیر الاصفیاء محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا تقویٰ دیکھئے کہ وہ ان عورتوں کے ہاتھ سے بھی ہاتھ نہیں ملاتے تھے جو پاکدامن اور نیک بخت ہوتی تھیں اور بیعت کر لینے کے لئے آتی تھیں بلکہ دور بٹھا کر صرف زبانی تلقین توبہ کرتے تھے کون عقلمند اور پرہیز گار ایسے شخص کو پاک باطن سمجھے گا جو جوان عورتوں کے چھونے سے پرہیز نہیں کرتا۔ اب خبر یسوع کی سنو کہ ایک کسبی قریب بیٹھی ہے اور بائبل میں ہے کہ کبھی ہاتھ لمبا کر کے سر پر عطر مل رہی ہے کبھی پیروں کو پکڑتی ہے اور کبھی اپنے خوشنما اور سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے۔ اور وہ یہ تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ یسوع صاحب اس حالت میں وجد میں بیٹھے ہیں اور کوئی اعتراض کرنے لگے تو اس کو جھڑک دیتے ہیں یہ یاد رکھو کہ عمر جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد ۔ اور ایک خوبصورت کسبی عورت سامنے پڑی ہے جسم کے ساتھ جسم لگا رہی ہے۔ کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے اور اس پر کیا دلیل ہے کہ اس کسبی کے چھونے سے یسوع کی شہوت نے جنبش نہیں کی تھی ؟ افسوس کہ یسوع کو یہ بھی میسر نہیں تھا کہ اس فاسقہ پر نظر ڈالنے کے بعد اپنی کسی بیوی سے صحبت کر لیتا۔ بدبخت زانیہ کے چھونے سے اور ناز و ادا کرنے سے کیا کچھ نفسانی جذبات پیدا ہوئے ہوں گے ۔ اور شہوت کے جوش نے پورے طور پر کام کیا ہوگا۔ اسی وجہ سے یسوع کے منہ سے یہ بھی نہ نکلا کہ اے حرام کار عورت مجھ سے دور رہ ۔ اور یہ بات انجیل سے ثابت ہوتی ہے کہ وہ عورت طوائف میں سے تھی۔ اور زنا کاری میں سارے شہر میں مشہور تھی ۔

۷۴

صفحہ 126

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۱۰

آریہ دھرم ۔ ست بچن

اسلامی اُصول کی فلاسفی

صفحہ 127

ٹائٹل بار اوّل

ولمن انتصر بعد ظلمه فاولئک ما علیہم من سبیل

جو شخص مظلوم ہوکے بدلہ لے اس پر کوئی الزام نہیں

ست بچن

آریہ دہرم

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں حکیم فضل الدین مالک مطبع

کے اہتمام سے چھپے

۴۰۰ جلد چھپی

قیمت فی جلد ۱/۲/

صفحہ 128

۱۴۳ کرتے ہیں اور ہم تسلیم کر لیں گے کہ شاید کسی مسلمان نے موقعہ پا کر گرنتھ میں داخل کر دیئے ہیں لیکن اگر دلائل قاطعہ سے یہ ثابت ہو جائے کہ باوا صاحب نے اسلام کے عقاید قبول کر لئے تھے اور وید پر اُن کا ایمان نہیں رہا تھا تو پھر وہ چند اشعار جو باوا صاحب کے اکثر حصہ کلام سے مخالف پڑتے ہیں جعلی اور الحاقی تسلیم کرنے پڑیں گے یا ان کے ایسے معنے کرنے پڑیں گے جن سے تناقض دور ہوجائے اور ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق ۔ پس بڑی بے ادبی ہوگی کہ متناقض باتوں کا مجموعہ باوا صاحب کی طرف منسوب کیا جائے ۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ باوا صاحب نے ایسے مسلمانوں اور قاضیوں مفتیوں

صفحہ 129

۲۹۶

کہ ایک خط مستقیم میں باہم رکھ دیا جاوے تو شاید ایک مسافر کی دو منزل طے کرنے تک بھی وہ دکانیں ختم نہ ہوں۔ عبادات سے فراغت ہے اور دن رات معاصی پیشہ اور دنیا پرستی کے کام میں ہیں پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یسوع کے مصلوب ہونے سے اس پر ایمان لانیوالے گناہ سے رک نہیں سکتے بلکہ جیسا کہ بند ٹوٹنے سے ایک تیز دھار دریا کا پانی ارد گرد کے دیہات کو تباہ کر جاتا ہے ایسا ہی کفارہ پر ایمان لانے والوں کا حال ہو رہا ہے اور میں جانتا ہوں کہ عیسائی لوگ اس پر زیادہ بحث نہیں کریں گے کیونکہ جس حالت میں ان نبیوں کو جن کے پاس خدا کا فرشتہ آتا تھا۔ یسوع کا کفارہ بدکاریوں سے روک نہ سکا تو پھر کیونکر مجہولوں اور پیشہ وروں اور خشک پادریوں کو ناپاک کاموں سے روک سکتا ہے۔ غرض عیسائیوں کے خدا کی کیفیت یہ ہے جو ہم بیان کر چکے۔

تیسرا مذہب ان دو مذہبوں کے مقابل پر جن کا ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں اسلام ہے اس مذہب کی خداشناسی نہایت صاف صاف اور انسانی فطرت کے مطابق ہے۔ اگر تمام مذہبوں کی کتابیں نابود ہو کر ان کے سارے تعلیمی خیالات اور تصورات بھی محو ہو جائیں تب بھی وہ خدا جس کی طرف قرآن رہنمائی کرتا ہے۔ آئینہ قانون قدرت میں صاف صاف نظر آئیگا اور اس کی قدرت اور حکمت سے بھری ہوئی صورت ہر ایک ذرہ میں چمکتی ہوئی دکھائی دے گی غرض وہ خدا جس کا پتہ قرآن شریف بتلاتا ہے اپنی موجودات پر فقط قہری حکومت نہیں رکھتا بلکہ موافق آیتہ کریمہ الست بربکم قالوا بلیٰ کے ہر ایک ذرہ ذرہ اپنی طبیعت اور روحانیت سے اس کا حکم بردار ہے۔ اس کی طرف جھکنے کے لئے ہر ایک طبیعت میں ایک کشش پائی جاتی ہے۔ اس کشش سے ایک ذرہ بھی خالی نہیں اور یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ ہر ایک چیز کا خالق ہے کیونکہ نور قلب اس بات کو مانتا ہے کہ وہ کشش جو اس کی طرف جھکنے کیلئے تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے وہ بلاشبہ اسی کی طرف سے ہے جیسا کہ قرآن شریف نے اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان من شئی الا یسبح بحمدہ یعنی ہر ایک چیز اس کی پاکی اور اس کے محامد بیان کر رہی ہے اگر خدا ان چیزوں کا خالق نہیں تھا تو ان چیزوں میں خدا کی طرف کشش کیوں پائی جاتی ہے۔

حاشیہ ۔ یہ سب عیسائیوں کی اپنی کتب کے اقوال سے ثابت ہوا ہے جو خود تسلیم کر چکے ہیں کہ جن کی صفات کسی حالت میں مخلصانہ نہیں ہوسکتیں اور جو اپنے اس عقیدے میں ایک شرک عظیم کے مرتکب ہیں کہ ایک بندہ عاجز اور گناہگار کو خدا کے شریک گردانتے ہیں کیا ان کا یہ مذہب سچا مذہب کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے ۔ منہ

٭ مجہول سے عیسائی معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کا دعویٰ مسٹر ڈوئی کا ایک بد نتیجہ ہے۔ منہ

صفحہ 130

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۱۱

انجام آتھم مع ضمیمہ

صفحہ 131

ٹائیٹل پیج بار اول

جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ

اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

بفضلہ تعالیٰ

یہ رسائل للّٰہ جن کے نام بتفصیل ذیل ہیں

انجام آتھم

خدائی فیصلہ ۔ دعوتِ قوم

مکتوب عربی بنام عُلماء

مطبع ضیاء الاسلام میں طبع ہو کر عام فائدہ

کے لئے شائع کئے گئے

بمقام قیمت فی جلد ۴/ قادیان

صفحہ 132

۲۱

رحیمانہ عادت مجرموں کا واجب تدارک کرانے سے روکتی رہی بلکہ جس حالت میں پہلے حملہ کی وجہ سے آتھم زندگی کا امن اُٹھ گیا تھا تو کیا عقل باور کرسکتی ہے کہ پھر بھی آتھم صاحب نے درگذر اور عفو کو ہاتھ سے نہ چھوڑا ۔ اور کسی نے اُس کو یہ مشورہ نہ دیا کہ اب دشمن کا تدارک بہت ضروری ہے۔ اور اس میں دو فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ اپنی جان کا بچاؤ اور دوسرے دشمن کے مذہب کی ذلّت جو عیسائیوں کا عین مطلب ہے ۔

یہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ آتھم کا بیان صرف اس اعتبار تک محدود تھا کہ جو ایک مدّعاعلیہ کے ایسے بیان پر کر سکتے ہیں جس کا اس کے پاس کچھ بھی ثبوت نہ ہو اگر اس نے اُن حملوں کا واقعی طور پر معائنہ کیا تھا تو وہ بڑا ہی بدقسمت تھا کہ باوجودیکہ اس کی کوٹھی بہت سے آدمیوں سے بھری ہوئی تھی۔ تب بھی وہ کسی اپنے آدمی کو کوئی سوار یا پیادہ یا گھوڑا یا ہتھیار دکھلا نہ سکا۔ اور نہ بیان کر سکا یہاں تک کہ پیشگوئی کی میعاد گزر گئی گویا جس طرح فری میسن کے لوگ اپنا راز ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔

بقیہ حاشیہ

ہمیں کون سی ضرورت پیش آئی تھی کہ انگریزوں کی عدالتوں کے دروازہ پر اپنے تئیں سرگردان کرتے۔ ہم تو اس وقت سے ہی آتھم کو مُردہ ہوا دیکھتے تھے جبکہ جاہل عیسائی اور نادان بٹالوی اور اس کے ہمنوا آتھم مذکور کو زندہ سمجھتے تھے۔ لیکن یہ فرض آتھم کا تھا کہ جن بے ثبوت حملوں کے الزاموں سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ وہ صریحاً اس پیشگوئی کی عظمت سے ڈرتا رہا جو نہایت ہولناک لفظوں میں بیان کی گئی تھی اور ضرور اس نے سچ مچ اپنے خوف کی اصل حقیقت چھپانے کے لئے اقدام قتل کا بے ثبوت افترا بنا لیا۔ عدالت میں نالش کر کے ان حملوں کا ثبوت دیتا اور مجرموں کو واقعی سزا دلاتا۔ کیونکہ اُس کے بے ثبوت دعووں کا بار ثبوت تو اسی کے ذمہ تھا۔ لیکن وہ ظالم مفتری تو قسم بھی نہ کھا سکا چہ جائیکہ نالش کرتا۔ کیا ضرور نہ تھا کہ وہ کسی طرح نالش سے یا قسم سے یا خانگی طور پر ثبوت دینے سے اپنی صفائی ظاہر کر دیتا۔ کیا وہ چار حملے یعنی ارادہ زہر خورانی اور سانپ چھوڑنا اور لدھیانہ اور فیروز پور میں جو بقول آتھم قتل کے لئے حملے ہوئے ان تمام حملوں کا ثبوت میرے ذمہ تھا یا آتھم کی گردن پر تھا۔

اے بدذات فرقہ مولویوں ! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو ! تم پر افسوس ! کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔

صفحہ 132

۲۱

رحیمانہ عادت مجرموں کا واجب تدارک کرانے سے روکتی رہی بلکہ جس حالت میں پہلے حملہ کی وجہ سے آئندہ زندگی کا امن اُٹھ گیا تھا تو کیا عقل باور کر سکتی ہے کہ پھر بھی آتھم صاحب نے درگزر اور عفو کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ اور کسی نے اس کو یہ مشورہ نہ دیا کہ اب دشمن کا تدارک بہت ضروری ہے۔ اور اس میں دو فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ اپنی جان کا بچاؤ اور دوسرے دشمن کے مذہب کی ذلت جو عیسائیوں کا عین مطلب ہے ۔

یہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ آتھم کا بیان صرف اس اعتبار تک محدود تھا کہ جو ایک مدعا علیہ کے ایسے بیان پر کر سکتے ہیں جس کا اس کے پاس کچھ بھی ثبوت نہ ہو اگر اس نے اُن حملوں کا واقعی طور پر معائنہ کیا تھا تو وہ بڑا ہی بدقسمت تھا کہ باوجود یکہ اس کی کوٹھی بہت سے آدمیوں سے بھری ہوئی تھی۔ تب بھی وہ کسی اپنے آدمی کو کوئی سوار یا پیادہ یا گھوڑا یا ہتھیار دکھلا نہ سکا۔ اور نہ بیان کر سکا۔ یہانتک کہ پیشگوئی کی میعاد گزر گئی گویا جس طرح خفیہ پولیس کے لوگ اپنا راز ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔

ضمیمہ انجام آتھم ص ۳۵

ہمیں کون سی ضرورت پیش آئی تھی کہ انگریزوں کی عدالتوں کے دروازہ پر اپنے تئیں سرگردان کرتے۔ ہم تو اس وقت سے ہی آتھم کو مُردہ ہوا دیکھتے تھے جبکہ جاہل عیسائی اور نادان لکھالوی اور اس کے ہمخیال آتھم مذکور کو زندہ سمجھتے تھے۔ لیکن یہ فرض آتھم کا تھا کہ جن بے ثبوت حملوں کے الزاموں سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ وہ صریحا اس پیشگوئی کی عظمت سے ڈرتا رہا جو نہایت ہولناک لفظوں میں بیان کی گئی تھی اور ضرور اس نے سچ مچ اپنے خوف کی اصل حقیقت چھپانے کے لئے اقدامِ قتل کا بے ثبوت افترا بنا لیا۔ عدالت میں نالش کر کے ان حملوں کا ثبوت دیتا اور مجرموں کو واقعی سزا دلاتا۔ کیونکہ اُس کے بے ثبوت دعووں کا بارِ ثبوت تو اسی کے ذمہ تھا۔ لیکن وہ ظالم مفتری تو قسم بھی نہ کھا سکا چہ جائیکہ نالش کرتا۔ کیا ضرور نہ تھا کہ وہ کسی طرح نالش سے یا قسم سے یا خانگی طور پر ثبوت دینے سے اپنی صفائی ظاہر کر دیتا۔ کیا وہ چار حملے یعنی ارادہ زہر خوانی اور سانپ چھوڑنا اور لودھیانہ اور فیروز پور میں جو بقول آتھم قتل کے لئے حملے ہوئے ان تمام حملوں کا ثبوت میرے ذمہ تھا یا آتھم کی گردن پر تھا۔

اے بدذات فرقہ مولویاں ! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس ! کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔

صفحہ 133

۲۷

موت اس پر وارد ہو گا۔ اسکے جلد مرنے کا موجب ہو گئی اور جیسا کہ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں وہ ہمارا اشتہار ۲۰ ستمبر ۱۸۹۵ء کے بعد جو ہمارا آخری اشتہار بطور اتمام حجت تھا پورے سات مہینے بھی زندہ نہ رہ سکا۔ پس کیا یہ خدا کا فعل نہیں ہے کہ اس نے آتھم کے اصرار انکار پر موت کی سزا سے اسکا تمام جھوٹ اور افترا یک لخت ظاہر کر دیا ٭

اب بیان کرو کہ کونسا قانونی سقم ہماری اس تقریر میں ہے۔ اور آتھم کو ملزم قرار دینے کے لئے کس ثبوت کی کسر رہ گئی ہے۔ بلاشبہ اُسی کی عملی حالت نے اس پر فرد قرار داد جرم لگا دی جس پر وہ ایک بھی صفائی کا گواہ پیش نہ کر سکا۔ اب عیسائیوں کو اس کی ناحق کی حمایت سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ہم نے بہت صفائی سے بار بار اس بات پر زور دیا کہ آتھم اس بیان میں بالکل جھوٹا ہے کہ اس کے قتل کے

بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۳۲

ہوں اور قرآن شریف کو مانتا ہوں۔ کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے۔ اور آیت وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسول اور نبی ہوں۔ صاحب انصاف طبع کو یاد رکھنا چاہئے کہ میں عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جلشانہٗ کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے۔ اُن کو میں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا۔ لیکن بار بار کہتا ہوں کہ اُن الہامات میں جو لفظ مُرْسَل یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے۔ اور اصل حقیقت جس کی میں علیٰ رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئیگا نہ کوئی پُرانا اور نہ کوئی نیا۔ وَمَنْ قَالَ بَعْدَ رَسُوْلِنَا وَسَیِّدِنَا اِنِّیْ نَبِیٌّ اَوْ رَسُوْلٌ عَلٰی وَجْہِ الْحَقِیْقَۃِ وَالْاِفْتِرَاءِ وَتَرْکِ الْقُرْآنِ وَاَحْکَامِ الشَّرِیْعَۃِ الْغَرَّاءِ فَھُوَ کَافِرٌ کَذَّابٌ۔ غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ فیوض سے اپنے تئیں الگ کر کے اور اس پاک سرچشمہ سے جدا ہو کر آپ ہی براہِ راست نبی اللہ بننا چاہتا ہے تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیا

حاشیہ ایسے مکذب کا سخت عذاب میں گرفتار ہو کر مرنا میرے الہام کی ہی تصدیق تھی۔ چنانچہ براہین احمدیہ میں ایسے کئی مخاطبات الہامیہ میری نسبت پائے گئے جو

صفحہ 134

۲۸

لئے ہماری طرف نابجا جوڑتے ہوئے۔ ہم نے اس کو اپنے پہلے اشتہاروں میں بہت غیرت دلائی۔ اور غیرت دینے والے الفاظ استعمال کئے۔ مگر کچھ ایسا دھوکا اس کے دل میں بیٹھ گیا تھا۔ کہ وہ سر نہ اُٹھا سکا۔ پھر ہم نے نہایت الحاح اور انکسار کے ساتھ یشوع کی عزت اور مرتبہ کو یاد دلا کر قسم دی اور جہاں تک الفاظ ہمیں مل سکے۔ ہم نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اس بہتان کو جو ہم پر لگاتا ہے ثابت کرے یا قسم کھاوے۔ لیکن وہ ان بدبخت جھوٹوں کی طرح چپ رہا جن کا کانشنس ہر وقت اُن کو ملامت کرتا ہے کہ تم خدا کی لعنت کے نیچے کارروائی کر رہے ہو۔ یقیناً اس کو یہ خوف کھا گیا کہ تحقیق کرانے کے وقت اس کے جھوٹے منصوبے کے تمام پرو بال گر جائیں گے۔ اور قسم کھانے کی حالت میں خدا کا قہر اس پر نازل ہوگا۔ سو اس نے نہ نالش کی اور نہ قسم کھائی۔

کلمہ بنائے گا۔ اور عبادات میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کر دے گا۔ پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے ۔

لیکن یادرکھنا چاہئے کہ جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے بعض اوقات خدا تعالٰے کے الہامات میں ایسے الفاظ استعارہ اور مجاز کے طور پر اس کے بعض اولیاء کی نسبت استعمال ہو جاتے ہیں اور وہ حقیقت پر

بقیہ حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۸

محمول نہیں ہوتے۔ سارا جھگڑا یہ ہے جس کو نادان متعصب اور طرف کھینچ کر لے گئے ہیں۔ ابن مریم کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبان مقدس حضرت نبوی سے نبی اللہ نکلا ہے وہ انہی مجازی معنوں کے رو سے ہے جو صوفیاء کرام کی کتابوں میں مسلم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الٰہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا۔

قول۲۔ حضرت اقدس مرزا صاحب نے اپنے صادق یا کاذب ہونے کا معیار اپنی بیش بہا اور لاثانی کتاب شہادۃ القرآن میں درج فرمایا ہے (یعنی آتھم اور احمد بیگ ہوشیارپوری کے داماد کی موت کی پیشگوئی اور لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبت پیش خبری) اب ناظرین خود بخود سمجھ لیں گے۔ کہ وہ سچا دعوٰی ہے یا دروغ بے فروغ ۔

اقول ۔ میں کہتا ہوں کہ لیکھرام کی پیشگوئی کی میعاد تو ابھی بہت باقی ہے سو اس کا ذکر پیش از وقت ہے ہاں آتھم اور احمد بیگ اور داماد احمد بیگ کی نسبت جو پیشگوئی تھی اس کی میعاد گزر چکی ہے درحقیقت یہ دو پیشگوئیاں تھیں۔ ایک آتھم کی موت کی نسبت دوسری احمد بیگ اور اس کے داماد کی موت کی نسبت۔ سو آتھم ۲۷ جولائی ۱۸۹۶ء کو بروز دوشنبہ فوت ہوگیا۔ اور ایک آنکھیں رکھنے والا سمجھ سکتا ہے کہ پیشگوئی

صفحہ 135

۱۳۵

اگر اب بھی عیسائی باز نہ آئیں تو بہتر ہے کہ ہم اور اُن کے چند سرگروہ مباہلہ کے طور پر میدان میں آکر خدا کے انصاف سے فتویٰ لے لیں۔ جھوٹے پر بغیر تعین کسی فریق کے لعنت کرنا کسی مذہب میں ناجائز نہیں۔ نہ ہم میں نہ عیسائیوں میں نہ یہودیوں میں۔ یہی وجہ ہے کہ پادری وائٹ بریکٹ شملہ جانے سے کچھ عرصہ پہلے چند اپنے عیسائیوں کے ساتھ قادیان میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ آتھم نہیں مرا۔ میں نے کہا کہ اُس نے اسلامی پیشگوئی سے ڈر کر پیشگوئی کی شرط سے فائدہ اٹھایا۔ اور خود اقرار کیا کہ میں ڈرتا رہا اور ان جملوں کا ثبوت نہ دے سکا جو ڈرنے کی وجہ ٹھہرائی۔ وائٹ نے کہا کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔ یعنی جھوٹوں پر لعنت ہو۔ میں نے کہا کہ بیشک جھوٹوں پر لعنت وارد ہوگی۔ اگر آتھم جھوٹا ہے یا میں تو خدا اس کا فیصلہ کر دیگا۔ چنانچہ تھوڑے عرصہ کے بعد اس لعنت کا اثر آتھم پر وارد ہوگیا۔

بقیہ حاشیہ ۳ کہ اب میں کذاب کہلا کر اپنی قوم کی طرف واپس نہیں جاؤں گا اور دوسری راہ لی۔ دیکھو تفسیر درمنثور تحت تفسیر آیت مغاضبا۔ اور دیکھو صفحہ ۱۱۴ الشفاء مصنفہ القاضی عیاض ہم اور جگہ حضرت عیسیٰ علیہ کو ہی منصف ٹھہراتے ہیں کہ کیا آپ کہہ سکتے ہیں۔ کہ خدا کا یہ الہام جھوٹا نکلا اور نعوذ باللہ یونس کذاب تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا علم اکثر لوگوں سے جاتا رہا ہے اور بظاہر اہلحدیث بھی کہلاتے ہیں۔ مگر حدیثوں کے مغز سے ناواقف ہیں۔ ہم بار بار لکھ چکے ہیں۔ کہ انہی قصوں کے لحاظ سے اہل سنت کا یہ عام عقیدہ ہے کہ وعید کی میعاد کی تاخیر کسی سبب توبہ یا خوف کی وجہ سے جائز ہے، کس قدر افسوس کی بات ہے کہ مسلمان کہلا کر اور ان احادیث کو پڑھ کر پھر اس پیشگوئی کی تکذیب کی جائے جو یونس کی پیشگوئی سے ہم شکل ہے اور ایسے امور میں اس عاجز کو کاذب ٹھہرایا جائے جن میں دوسرے انبیاء بھی شریک ہیں *

میں بارہا کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو۔ اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔ اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پوری کر دے گا۔ جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشگوئی پوری ہو گئی۔ اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے۔ اور وقتوں میں تو کبھی امتداد کا بھی دخل ہو جاتا ہے یہانتک کہ بائبل کی بعض پیشگوئیوں میں دو سو سال بڑھائے گئے ہیں جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ ذرا شرم کرنی چاہئیے کہ جس حالت میں خود احمد بیگ اسی پیشگوئی کے مطابق میعاد کے اندر فوت ہو گیا اور وہ پیشگوئی کے اوّل نمبر پر تھا تو پھر اگر خدا کا خوف ہو تو اس پیشگوئی کے نفس مفہوم میں شک کیا جاوے کیونکہ ایک وقوع یافتہ امر کی یہ دوسری شاخ ہے جس حالت میں خدا اور رسول

صفحہ 136

۲۴

آتھم کے مقدمہ میں دیکھ چکے ہو کہ باوجود اُس کے بہت سے منصوبوں کے پھر آخر حق ظاہر ہو گیا۔ کیا تمہارے دل قبول نہیں کر گئے کہ آتھم کا قسم سے انکار کرنا اور نالش سے انکار کرنا اور حملوں کا ثبوت دینے سے انکار کرنا صرف اسی وجہ سے تھا کہ اس نے ضرور الہامی شرط کے موافق حق کی طرف رجوع کر لیا تھا۔ تمہیں معلوم ہے کہ باوجود اس کے کہ ملامتی اشتہاروں کی بہت ہی اس کو مار پڑی مگر وہ الزام سے اپنے تئیں بری نہ کر سکا جو اس کے اقرار خوف اور بے ثبوت ہونے عذر حملوں سے اس پر وارد ہو چکا تھا۔ یہاں تک کہ اس موت نے اُس کو آپکڑا جس سے وہ ڈرتا رہا۔ اور ضرور تھا کہ وہ انکار کے بعد جلد مرتا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی پاک پیش گوئیوں کے رُد سے بھی سزا اس کے لئے ٹھہر چکی تھی۔ سو اُس خدا سے خوف کرو جس نے آتھم کو بڑی سرگردانیوں کے گرداب میں ڈال کر آخر اپنے وعید کے موافق ہلاک کر دیا۔ خدا کی کھلی کھلی پیش گوئیوں سے منہ پھیرنا یہ بدمستوں کا کام ہے نہ نیک لوگوں کا۔ اور جھوٹ کے مُردار کو کسی طرح نہ چھوڑنا۔ یہ کتوں کا طریق ہے نہ انسانوں کا۔ میاں حسام الدین عیسائی لکھتے ہیں کہ آتھم چار دن تک بیہوش رہا۔ مگر وہ اس کا سر نہیں بیان کر سکتے کہ کیوں چار دن تک بیہوش رہا۔ سو جاننا چاہئے کہ یہ چار دن کی سخت جان کندنی ان چار افترائوں کی اسی دُنیا میں اس کو سزا دی گئی۔ جو اُس نے زہر خورانی کے اقدام کا افترا کیا۔ سانپ چھوڑنے کا افترا کیا۔ لدھیانہ اور فیروزپور کے حملہ کا افترا کیا اور عیسائیوں کے خوش کرنے کے لئے اصل وجہ خوف کو چھپایا۔ سو عیسائیوں کے لئے اس سے زیادہ اور کوئی شرم کی جگہ نہیں کہ آتھم ان کے مذہب کے جھوٹا ہونے پر گواہی دے گیا۔ اب اگر آتھم کی گواہی پر اعتبار نہیں تو اس نئے طریق سے دوبارہ حجت اللہ کو پورا کرا لینا چاہئے۔ اور اس نئے طریق میں کوئی شرط بھی نہیں۔ سیدھی بات ہے کہ اگر باہم دُعا کرنے کے بعد جسکے ساتھ فریقین کی طرف سے آمین بھی ہوگی۔ میرے مقابل کا شخص ایک سال تک خدا تعالیٰ کی فوق العادت عذاب سے بچ گیا۔ تو جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں تاوان مذکورہ بالا ادا کرونگا ۔

اور میں حضرات پادری صاحبان کو دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ اس طرح کا طریق دُعا اُن کے

صفحہ 137

۶۲

يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ۔ وَهٰذَا تَذْكِرَةٌ مومن خوش ہونگے ۔ اور گروہ پہلوں میں سے اور ایک گروہ پچھلوں میں سے اور یہ تذکرہ ہے پس فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّهٖ سَبِيْلًا ۔ اِنَّ النَّصَارٰی حَوَّلُوا الْاَمْرَ ۔ سَنَرُدُّهَا جو چاہے خدا کی راہ کو اختیار کرے ۔ نصاریٰ نے حقیقت کو بدلا دیا ہے سو ہم ذلت اور مسکنت عَلَی النَّصَارٰی ۔ لَيُنْبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ ۔ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ حَلِيْمٍ کو نصاریٰ پر واپس پھینکیں گے ۔ اور حطمہ نام دوزخ میں ڈال دیا جاویگا ۔ ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَاءِ كَاَنَّ اللّٰهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ ۔ اِسْمُهٗ خوشخبری دیتے ہیں جو حق اور بلندی کا مظہر ہو گا گویا خدا آسمان سے اُترا ۔ نام اس کا عِمَانْوَايِلْ ۔ يُولَدُ لَكَ الْوَلَدُ ۔ وَيُدْنٰی مِنْكَ الْفَضْلُ ۔ اِنَّ فَضْلِيْ قَرِيْبٌ عمانوایل ۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے ۔ تجھے لڑکا دیا جائیگا اور خدا کا فضل تجھ سے نزدیک ہو گا ۔ میرا فضل قریب ہے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ۔ عِجْلٌ جَسَدٌ لَّهٗ خُوَارٌ ۔ فَلَهٗ نَصَبٌ وَّعَذَابٌ کہہ میں شرور خلق سے پناہ مانگتا ہوں ۔ یہ ایک بچھڑا ہے جس میں گائے کی سی آواز ہے یعنی لیکھرام جس کو دکھ کی مار اور عذاب ہوگا ۔ یعنی اسی دنیا میں

(فارسی و اردو الہام)

بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔ خدا تیرے سب کام درست کردیگا اور تیری ساری مرادیں تجھے دیگا۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤں گا اور تیری برکتیں پھیلاؤں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کریگا

آمین

یہ کسی قدر نمونہ ان الہامات کا ہے جو وقتاً فوقتاً مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئے ہیں اور ان کے سوا اور بھی بہت سے الہامات ہیں مگر میں خیال کرتا ہوں کہ جس قدر میں نے لکھا ہے۔ وہ کافی ہے۔

اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے۔ کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے اور نیز ان تمام الہامات میں اس عاجز کی اس قدر تعریف اور توصیف ہے کہ اگر یہ تعریفیں درحقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں ۔ تو ہر یک مسلمان کو چاہیئے کہ تمام تکبر اور نخوت اور شیخی سے الگ ہو کر ایسے

صفحہ 138

۲۸

يا شمسنا انظر برحمة وتحننا يسعى اليك الخلق كالاركاء
اے آفتاب ما بسوئے من برحمت بنگر مردم بسوئے تو برائے پناہ گرفتن مے دوند
انت الذى هو عين كل سعادة تهوى اليك قلوب اهل صفاء
تو آں ہستى کہ چشمه ہر سعادت است سوئے تو دلہائے اہل صفا مائل ہستند
انت الذى هو مبدء الانوار نورت وجه المدن والبيداء
تو اوئے کہ مبدء انوار ہست نور دادے روئے مدینہ ہائے و دشت ہائے را
انى ارى فى وجهك المتهلل شأنا يفوق شئون وجه ذكاء
مے بینم در روئے روشن تو شانے کہ بر شانہائے آفتاب فوقیت دارد
شمس الهدى طلعت لنا من مكة عين الندى نبعت لنا بحراء
آفتاب ہدایت از مکہ برما طلوع کرد چشمہ بخشش از غار حرا بر ما ظاہر شد
ضاهت اياك الشمس بعض ضيائه فاذا تواريت فهاج منه بكائى
روشنی آفتاب ببعض روشنی ہائے تو مے ماند پس چوں دور مے روے بے اختیار مرا گریہ آمد
نسعى للقيام بدين محمد لسنا كرجل فاقد الاعضاء
ما بجہت بپا داشتن دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوشش مے کنیم ما مثل آں مردے نیستیم کہ بے دست و پا باشد
اعلى المهيمن هممنا فى دينه نبنى منازلنا على الجوزاء
خدا تعالیٰ در دین خود ہمت ہائے ما را بلند کردہ است منزلہائے خود را بر جوزا بنا مے نہیم
انا جعلنا كالسيوف فندمغ راس اللئام وهامة الاعداء
ما همچو شمشیر ہا گردانیده شده ایم پس سر لئیماں و دشمنان را مے کوبیم
ومن اللئام ارى رجيلا فاسقا غولا لعينا نطفة السفهاء
و از لئیماں مردے بدکار را مے بینم کہ شیطان لعین از نطفہ سفیہان است
شكس خبيث مفسد ومزور نجس واخو السعد فى الجهلاء
بدخو خبیث مفسد و دروغ آراینده است و نجس است و نام او برادرِ سعد اللہ نہادہ اند
ما فارق الكفر الذى هو ارثه ضاها أباه وامه بعماء
کفرے کہ وراثت او بود ازاں علیحدہ نشده است و در کوری پدر و مادر خود را مشابہ است
قد كان مولود الهنود وزرعهم من عبدة الاصنام كالاباء
ایں شخص از مولودان ہنود و تخم ایشاں بود و مثل پدر و جد خود از بت پرستان بود
فالان قد غلبت عليه شقاوة كانت مبيدة امه العمياء
پس اکنوں بر وے شقاوت غالب آمده است کہ مادر کور او را ہلاک کرده بود
انى اراه مكذبا ومكفرا ومحقرا بالسب والازراء
من او را مے بینم کہ تکذیب مے کند و مرا کافر میگوید و با تحقیر کردن و دشنام دادن بہتان ہا مے بندد
يؤذى فما نشكو وما نتاسف كلب فيغلى قلبه لعواء
آزار مے دہد و ما نه شکایت میکنیم و نه تاسف میخوریم و سگ است که دل او براے عوعو کردن بجوش مے آید
صفحہ 139

۲۸۲

كحل العناد جفونه بعجاجة فالآن ملأ عيناه من اقذاء
چشم پوش ہائے او را با گرد کینہ سرمہ سا کردہ است پس اکنون پر است چشم ہائے او را از غبار ہائے اند
يا لاغوى ان المهيمن ينظر تحت القهرت قادر مولائى
اے غارت کنندہ دین خدا تعالیٰ مے بیند از قہر جائے اُمید قادر است مولائے من
الحق لا يعلى بنار خديعة الى متى الخفاش يحسد ذكاء
راستی بآتش مکر سوختہ نمے شود تا کے شب پرہ بحسد آفتاب زیست
اني اراك تميس بالخيلاء انسيت يوم الطعنة النجلاء
من می بینم کہ بہ ناز و تکبر خراماں مے روی آیا آں روز را فراموش کر دی کہ زخم فراخ خواہید خورد
لا تتبع اهواء نفسك شقوة يلقيك خبث النفس في الحوباء
ہوائے نفس خود را از شقاوت پیروی مکن زاں جهت نفس در چاه فوا باد انداخت
فرس تبجحت خفت ذرع صهوانه خفت ان ترديك عثرة فى عدواء
نفس تو اسپ بد است از بلندی پشت او بترس ازیں بترس کہ دویدن بیجا در او ترا بر زمین افگند
ان السموم لشر ما فى العالم ومر السموم عداوة الصلحاء
در دنیا زہر ہائے بدترین چیزی است دانی زہر ہائے بد عداوت صالحان است
اذيتنى خبثا فلست بصادق انى وسمت بخزى دين بغاء
مرا بخباثت خود ایذاء دادی پس تو صادق نئ گو تو بسوئے رسوائی بد دیناں بدت خواہد آمد
الله مخزى حزبكم ومحزنى حتى يجيئ الناس تحت لوائى
خدا تعالیٰ گروہ شما را رسوا خواہد کرد و مرا عزت خواہد داد تا بحدیکہ مردم زیر لوائے من خواہند آمد
يا ربنا افتح بيننا بكرامة يا من يرى قلبى ولب نجائى
اے خدائے ما در ما بكرامت خود فیصلہ کن اے آنکہ دلم را و مغز نیت مرا مے بینی
يا من ارى ابوابه مفتوحة للسائلين فلا ترد دعائى
اے آنکہ در ہائے او را برائے سائلان کشادہ می بینم دعائے مرا ردّ مکن
امين

اليوم قضينا ما كان علينا من التبليغات ـ وعصمنا نفساً عن مآثم ترك الواجبات ـ و قد امروز ہرچہ بر ما از تبلیغ فرض بود ادا کردیم ـ و نفس خود را از گناہ ترک واجب محفوظ داشتیم ـ و وقت

حان ان نصرف الوجه عن هذه المباحثات ـ الا ما ينبغى ليس السائلين السادات ـ وازمعنا ان آمد کہ ما ازیں مباحثات رو بگردانیم ـ مگر آنچہ شیوہ سائلان بود بکنند ـ و قصد کردیم کہ

لا نخاطب الجماعة بعد هذه التوضيحات ـ ولو سبونا كما أروا من قبل من العادات ـ وما غلظنا عليهم بعد ازیں توضیحات علماء را مخاطب نکنیم ـ اگرچہ دشنام ہا دہند چنانچه پیش ازیں بہیں عادات خود نمودہ اند ـ و ما

الا لتنبيههم ـ الا انهم بهائم يظنون اننا نتعمد بغيا ـ فالآن نودعهم بدموع جارية من الحسرات ـ وعين غريقة بدایشان درشتی کہ کردیم محض برائے آگاہ کردن کردیم ـ و احمقان می پندارند کہ دانستہ بر نیت بد مستعد ہیں اکنون ایشان را با غمہائے جانگداز

فى سيل العبرات ـ وهذا منا خاتمة المخاطبات ـ تمت از حسرت و درع می کنیم و این کلمہائے آب رحمت می نمائیم پس امروز این رسالہ را با خاتمہ مخاطبات است ـ فقط

مولوی عبد الجبار غزنوی ۔ مولوی عبد الحق غزنوی ۔ مولوی محمد بشیر سہسوانی ۔ مولوی ثناء اللہ امرتسری ۔ مولوی محمد حسین بٹالوی ۔ مولوی غلام دستگیر قصوری ۔

مولوی محمد حسن لدھیانوی ۔ مولوی عبد العزیز لدھیانوی ۔ مولوی محمد یحییٰ لدھیانوی ۔ مولوی محمد علی لدھیانوی ۔ مولوی عبد الرحمن مہاجر مکی ۔ مولوی محمد حسن مہاجر مکی ۔

مولوی نیاز احمد قصبہ کھادیان ۔ خلیفہ محی الدین بابی گجرات ۔ مولوی فیض احمد ڈسکہ ۔ مولوی عبد الدین مکی ۔ مولوی ثناء اللہ امرتسر ۔

صفحہ 140

۲۸۹

یہ کیسی خباثت تھی کہ آتھم کی موت کو جو عین الہام کے موافق بیباکی کے بعد بلا توقف ظہور میں آئی کسی نے اس کو نشان الٰہی قرار نہ دیا۔ وہ گندے اخبار نویس جو آتھم کے مؤید تھے پیشگوئی کی حقیقت کھلنے کے بعد ایسے تجاہل سے چپ ہو گئے کہ گویا مر گئے۔ اب آنکھیں کھولو اور اُٹھو اور جاگو اور تلاش کرو۔ کہ آتھم کہاں ہے۔ کیا خدا کے حکم نے اس کو قبر میں نہ پہنچا دیا۔ ہر ایک منصف اس پیشگوئی کو تسلیم کریگا

جائے گا، دیکھو یسوع کو کیسی سوجھی اور کیسی پیش بندی کی۔ اب کوئی حرامکار اور بدکار بنے تو اس سے معجزہ مانگے، یہ تو وہی بات ہوئی کہ جیسا کہ ایک فریبی مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی لوگوں میں مشہور کیا کہ میں ایک ایسا ورد بتلا سکتا ہوں جس کے پڑھنے سے پہلی ہی رات میں خدا نظر آجائیگا بشرطیکہ پڑھنے والا حرام کی اولاد نہ ہو۔ اب بھلا کون حرام کی اولاد بنے اور کہے کہ مجھے وظیفہ پڑھنے سے خدا نظر نہیں آیا۔ آخر ہر ایک شیخ جی کو یہی کہنا پڑتا تھا، کہ ہاں صاحب نظر آگیا، سو یسوع کی بندشوں اور تدبیروں پر قربان ہی جائیں اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے کیسا داؤ کھیلا، یہی آپکا طریق تھا، کہ ایک مرتبہ کسی یہودی نے آپ کی قوتِ

بقیہ حاشیہ صفحہ ۲۸۸

شجاعت آزمانے کے لئے سوال کیا کہ اے اُستاد قیصر کو خراج دینا روا ہے یا نہیں، آپ کو یہ سوال سنتے ہی اپنی جان کی فکر پڑ گئی کہ کہیں باغی کہلا کر پکڑا نہ جاؤں، سو جیسا کہ معجزہ مانگنے والوں کو ایک لطیفہ سناکر معجزہ مانگنے سے روک دیا تھا، اس جگہ بھی وہی کارروائی کی اور کہا کہ قیصر کا قیصر کو دو اور خدا کا خدا کو، حالانکہ حضرت کا پختہ عقیدہ یہ تھا، کہ یہودیوں کے لئے یہودی بادشاہ چاہیے نہ کہ مجوسی، اسی بناء پر مسیحا یہودیے شہزادہ بھی کہلایا مگر تقدیر نے یاوری نہ کی۔

متی کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی عقل بہت موٹی تھی، آپ جاہل عورتوں اور عوام الناس کی طرح مرگی کو بیماری نہیں سمجھتے تھے بلکہ جن کا آسیب خیال کرتے تھے۔

ہاں آپ کو گالیاں دینی اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی، ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آجاتا تھا، اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے، مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں ہی دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔

یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی جس جس پیشگوئی کو اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے فرمایا ہے، ان کتابوں میں ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا

صفحہ 141

۳۹۰

مگر شاید بعض بدذات مولوی منہ سے اقرار نہ کریں مگر دل اقرار کر گئے ہیں۔ پھر ایک اور پیشگوئی نشان الہی ہے جس کا ذکر براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں ہے اور وہ یہ ہے يَا أَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَةُ عَلٰی شَفَتَيْكَ ۔ اے احمد فصاحت بلاغت کے چشمے تیرے لبوں پر جاری کئے گئے سو اس کی تصدیق کئی سال سے ہو رہی ہے۔ کئی کتابیں عربی بلیغ فصیح میں تالیف کر کے

بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ

بلکہ وہ اوروں کے حق میں تھیں جو آپ کے تولد سے پہلے پوری ہوگئیں اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے۔ اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لئے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں۔ لیکن آپ کی اس بیجا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں عقل اور کانسینس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔ آپ کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قسمت نے آپ کو زیرکی سے کچھ بہت حصہ نہیں دیا تھا اور یا اس اُستاد کی یہ شرارت ہے کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا بہرحال آپ علمی اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک ممبر شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔

ایک فاضل پادری صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کو اپنی تمام زندگی میں تین مرتبہ شیطانی الہام بھی ہوا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ اسی الہام سے خدا سے منکر ہونے کے لئے بھی تیار ہو گئے تھے۔

آپ کی انھی حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفا خانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔

عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور اُن کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔ اور نہ جانا کہ معجزہ مانگ کر کونسا بڑا جرم

۶

صفحہ 142

۲۹۱

ہزار ہا روپیہ کے انعام کے ساتھ علماء اسلام اور عیسائیوں کے سامنے پیش کی گئیں مگر کسی نے سر نہ اٹھایا اور کوئی مقابل پر نہ آیا۔ کیا یہ خدا کا نشان ہے یا انسان کا ہذیان ہے۔

پھر ایک اور پیشگوئی نشان الٰہی ہے جو براہین کے صفحہ ۲۳۸ میں درج ہے ۔ اور وہ یہ ہے

الرَّحْمٰن عَلَّمَ الْقُرْآن ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے علم قرآن کا وعدہ دیا تھا۔ سو اس وعدہ کو ایسے طور سے

بقیہ حاشیہ

ہی اولاد نہیں۔ آپ کا یہ کہنا کہ میرے پیرو زہر کھائیں گے اور ان کو کچھ اثر نہیں ہوگا۔ یہ بالکل جھوٹ نکلا۔ کیونکہ آجکل زہر کے ذریعہ سے یورپ میں بہت خودکشی ہو رہی ہے۔ ہزار ہا مرتے ہیں۔ ایک پادری کو کیسا ہی موٹا ہو تین رتی اسٹرکنیا کھانے سے دو گھنٹے تک بآسانی مر سکتا ہے۔ پھر یہ معجزہ کہاں گیا۔ ایسا ہی آپ فرماتے ہیں کہ میرے پیرو بیمار کو کہیں گے کہ یہاں سے اُٹھ اور وہ اُٹھ جائے گا یہ کس قدر جھوٹ ہے بھلا ایک پادری صرف بات سے ایک الٹی ہوئی کو سیدھا کر کے تو دکھلائے۔

ممکن ہے کہ اپنی معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو۔ یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اُسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے ۔ خیال ہو سکتا ہے۔ کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہونگے اسی تالاب سے آپکے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپکا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔ اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔

آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے ۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا۔ کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔

۷

صفحہ 143

۳۰۲

سے انکار کرتے ہیں۔ کیا اس قدر اخبار غیب کوئی خود بخود تراش سکتا ہے۔ اور کیا یہ ایک کذاب کی نشانی ہے۔ کہ اس طور سے خدا اس کی تائید کرے اور ایسے عام جلسوں میں جھوٹے دجال کو عزت

* حاشیہ دنیا میں بہت نادان اس دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ کہ وہ اس انعام غیب کو جو خدا تعالےٰ کے خاص بندوں کو اس کی طرف سے ہوتا ہے بنظر توہین اور تحقیر دیکھتے ہیں ۔ بعض جاہل سجادہ نشین اور فقیری اور مولویت کے شتر مرغ الہام کے معارف کو سنتے ہی جھٹ بول اٹھتے ہیں کہ یہ کچھ حقیقت نہیں۔ یہ تو ہمارے ادنیٰ مریدوں کو بھی ہوا کرتا ہے ۔ بعض کہہ دیتے ہیں کہ یہ ابتدائی حالات کا ایک ناقص مرتبہ ہے جس سے آگے گذر جانا چاہئیے اور ہم نے اپنی دستگیری سے مریدوں کو اوپر کی طرف کھینچنا ہے۔ یہ کچھ نہیں ۔ ہیچ ہے۔ لیکن جاننا چاہئیے کہ یہ سب شیاطین الانس ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح خدا کے نور کو بجھا دیں۔ یہ تو سچ ہے کہ کبھی سچی خواب ادنیٰ مومن یا کافر کو بھی آجاتی ہے۔ اور کوئی ٹوٹا پھوٹا فقرہ الہام کے رنگ میں ہر ایک مومن کے دل میں القاء ہو سکتا ہے بلکہ کبھی ایک فاسق بھی تنبیہ یا تخویف کے طور پر پا سکتا ہے مگر وہ امر جس کو یہ عاجز پیش کرتا ہے یعنی مکالمات الہیہ وہ بغیر خاص اور برگزیدہ بندوں کے کسی کو عطا نہیں کیا جاتا ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ادنیٰ مشارکت سے کوئی شخص اس لقب کا مستحق نہیں ہو سکتا جو حضرت احدیت کے فضل سے اکمل اور اتم فرد کے لئے مخصوص ہے۔ دنیا کے کمالات کی طرف نظر کر کے دیکھو ۔ کیا کسی دیوار پر ایک اینٹ لگانے سے کوئی شخص کامل معماروں میں شمار ہو سکتا ہے یا ایک دوا بتلانے سے ڈاکٹر کہلا سکتا ہے ۔ یا عربی یا انگریزی کا ایک لفظ سیکھنے سے اس زبان کا امام تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ یوں تو چماروں چوہڑوں اور فاسقوں کو بھی خدا کے پاک نبیوں سے خواب دیکھنے میں مشارکت ہے۔ مگر کیا اس ایک ذرہ سی مشارکت سے تمام فاسق انبیاء کے ہم پایہ اور ہم مرتبہ شمار کئے جائیں گے ۔ یہ جہلاء کی غلطیاں ہیں کہ جو قلت تدبر سے اُن کے نفوس امارہ پر محیط ہو رہی ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ ناتمام صوفیوں بلکہ فاسقوں اور فاجروں اور کافروں سے بھی خدا تعالیٰ کی یہ سنت جاری ہے کہ کبھی وہ سچی خوابیں دیکھتے ہیں ۔ بعض وقت کوئی ٹوٹا پھوٹا فقرہ بطور الہام بھی سن لیتے ہیں۔ بعض وقت کشفی طور پر کسی مردہ کو دیکھ لیتے یا کشف قبور کے رنگ میں کسی روح سے ملاقات کر لیتے ہیں۔ مگر وہ ایسے ناتمام نظاروں سے کسی کمال کے وارث نہیں کہلا سکتے ۔ اور خدا تعالیٰ ان چماروں یا ناتمام فقیروں کو اس لئے رؤیا یا کشف یا

۱۸

صفحہ 144

٣٠٩

بالمقابل ایک جگہ بیٹھ کر زبان عربی میں میرے مقابل میں سات آیت قرآنی کی تفسیر لکھیں اور یا ایک سال تک

ان تمام واقعات سے اطلاع پاوے تا اس کی بے خبری اس کی شفیع نہ ہو۔ پھر بعد اس کے قسم کھاوے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور جھوٹی ہے۔ پھر اگر وہ ایک سال تک اس قسم کے وبال سے تباہ نہ ہو جائے اور کوئی فوق العادت مصیبت اس پر نہ پڑے تو دیکھو کہ میں سب کو گواہ کرکے کہتا ہوں کہ اس صورت میں میں اقرار کروں گا کہ ہاں میں جھوٹا ہوں ۔ اگر عبدالحق اِسی بات پر اصرار کرتا ہے تو وہی قسم کھا دے اور اگر محمد حسین بٹالوی اس خیال پر زور دے رہا ہے تو وہی میدان میں آوے ۔ اور اگر مولوی احمد اللہ امرتسری یا ثناء اللہ امرتسری ایسا ہی سمجھ رہا ہے، تو انہیں پر فرض ہے کہ قسم کھانے سے اپنا تقویٰ دکھلاویں اور یقیناً یاد رکھو کہ اگر اُن میں سے کسی نے قسم کھائی کہ آتھم کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور عیسائیوں کی فتح ہوئی ۔ تو خدا اس کو ذلیل کرے گا۔ رُوسیاہ کرے گا۔ اور لعنت کی موت سے اس کو ہلاک کرے گا کیونکہ اس نے سچائی کو چھپانا چاہا۔ جو دینِ اسلام کے لئے خدا کے حکم اور ارادہ سے زمین پر ظاہر ہوئی ۔

مگر کیا یہ لوگ قسم کھائیں گے ؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ یہ جھوٹے ہیں۔ اور کتوں کیطرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔

اب اگر کوئی یہ سوال کرے کہ اگرچہ عبدالحق کے مباحثہ میں اس طرف سے کسی بددُعا کا ارادہ نہ کیا گیا۔ مگر جو صادق کے سامنے مباحثہ کے لئے آیا ہو۔ کسی قدر تو بعد مباحثہ ایسے امور کا پایا جانا چاہیئے جن پر غور کرنے سے اس کی ذلت اور نامردی پائی جائے اور اپنی عزت دکھلائی دے۔

سو جاننا چاہیئے کہ وہ امور بہ تفصیل ذیل ہیں جو بحکم العاقبۃ للمتقین ہماری عزت کے موجب ہوئے۔ اول ۔ آتھم کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی۔ وہ اپنے واقعی معنوں کے رُو سے پوری ہو گئی۔ اور اُسی دن وہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی۔ جو پندرہ برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۲۱ میں لکھی گئی تھی۔ آتھم اصل منشاء الہام کے مطابق مرگیا ۔ اور تمام مخالفوں کا مُنہ کالا ہوا ۔ اور اُن کی تمام جھوٹی خوشیاں خاک میں مل گئیں۔ اس پیشگوئی کے واقعات پر اطلاع پاکر صدہا دلوں کا کُفر ٹُوٹا اور ہزاروں خط اس کی تصدیق کے لئے پہنچے۔ اور مخالفوں اور مُکّہ بازوں پر وہ لعنت پڑی جو اب دم نہیں مارسکتے ۔ دوسرا :۔ امر جو مباحثہ کے بعد میری عزت کا موجب ہوا وہ اُن عربی رسالوں کا مجموعہ ہے جو مخالف مولویوں اور پادریوں کے ذلیل کرنے کے لئے بتألیف

۱؎ ھود : ۵۰ ۲۵

صفحہ 145

۳۲۷

رکھتی تھی کہ ان لوگوں کو احمد بیگ کی وفات کے بعد اپنے عزیز داماد کی موت کا فکر کھانے لگا۔ اور اِس طرح ہراساں ہو کر رجوع الی الحق کرتے۔ کیا انسان میں یہ خاصیت نہیں کہ چشم دید تجربہ اس پر سحراً اثر ڈالتا ہے سو درحقیقت ایسا ہی ہوا۔ احمد بیگ کی موت نے اس کے وارثوں کو خاک میں ملا دیا۔ اور ایسے غم میں ڈالا کہ گویا وہ مر گئے اور سخت خوف میں پڑ گئے اور دعاؤں اور تضرع میں لگ گئے۔ سو ضرور تھا۔ کہ خدا تعالیٰ اس جگہ بھی تاخیر ڈالتا۔ جیسا کہ آتھم کے متعلق کی پیشگوئی میں تاخیر ڈالی۔ ہم عربی مکتوب میں لکھ چکے ہیں کہ یہ پیشگوئی بھی مشروط بہ شرط تھی اور ہم یہ بھی بار بار بیان کر چکے ہیں کہ وعید کی پیشگوئی بغیر شرط کے بھی تخلف پذیر ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ یونس کی پیشگوئی میں ہوا۔ ٭

سو چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی۔ تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے اِن بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی۔ اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔ اور ذلّت کے سیاہ داغ اُن کے منحوس چہروں کو بندروں اور سُوروں کی طرح کر دیں گے۔ سُنو! اور یاد رکھو کہ میری پیشگوئیوں میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جو خدا کے نبیوں اور رسولوں کی پیشگوئیوں میں ان کا نمونہ نہ ہو۔ بیشک یہ لوگ میری تکذیب کریں۔ بیشک گالیاں دیں۔ لیکن اگر میری پیشگوئیاں نبیوں اور رسولوں کی پیشگوئیوں کے نمونہ پر ہیں تو اُن کی تکذیب اُنہیں پر لعنت ہے۔ چاہئے کہ اپنی جانوں پر رحم کریں اور رُوسیاہی کے ساتھ نہ مریں۔ کیا یونس کا قصّہ انہیں یاد نہیں کہ کیونکر وہ عذاب ٹل گیا۔ جس میں کوئی شرط بھی نہ تھی۔ اور اس جگہ تو شرطیں موجود ہیں۔ اور احمد بیگ کے اصل وارث جن کی تنبیہ کے لئے یہ نشان تھا اُس کے مرنیکے بعد پیشگوئی سے ایسے متاثر ہوئے تھے کہ اس پیشگوئی کا نام لے لیکر روتے تھے اور پیشگوئی کی عظمت دیکھ کر اس گاؤں کے تمام مرد عورت کانپ اُٹھے تھے۔ اور عورتیں چھاتیاں مار کر کہتی تھیں کہ ہائے وہ باتیں سچ نکلیں۔ چنانچہ وہ لوگ اُس دن تک غم اور خوف میں تھے جب تک اُن کے داماد سلطان محمد کی میعاد گزر گئی پس اس تاخیر کا یہی سبب تھا جو خدا کی قدیم سنت کے موافق ظہور میں آیا۔ خدا کے الہام میں جو توقیتی

٭ اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولدلہ ۔ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کریگا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد

بھی اس کی ہوتی ہے۔ بلکہ اس میں اشارہ ہے کہ وہ خاص تزوج جس کے لئے ایک نشان کے طور پر پیشگوئی کی گئی ہے۔ وہ ضرور ظہور میں آئے گا۔ اور اسی طرح وہ اولاد جو بوجہ نشان ہونے کے ایک خاص اولاد ہے۔ وہ بھی ضرور پیدا ہوگی۔ پس اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی کس قدر صریح اور کھلی کھلی ہے جس سے انکار کرنا ایک بے ایمان اور بے دین کا کام ہے۔ منہ

صفحہ 146

جماعت پر لعنت نہیں پڑی۔ بیشک خُدا نے ان لوگوں کو ذلّت کی رُوسیاہی کے اندر غرق کر دیا۔ مُباہلہ کا کُھلا کُھلا اثر اس کو کہتے ہیں۔ اور خدا کی تائید اس کا نام ہے اور تکلّف سے جُھوٹ بولنا گوہ کھانا ہے۔

ہم اس مضمون کے خاتمہ میں یہ بیان کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ جن ناپاک طبع لوگوں نے تکفیر پر کمر باندھی ہے اُن کے مقابل پر ایسے لوگ بھی بہت ہیں جن کو عالمِ رویا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور اُنہوں نے جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عاجز کی نسبت دریافت کیا اور آپ نے فرمایا کہ وہ شخص درحقیقت منجانب اللہ ہے اور اپنے دعویٰ میں صادق ہے چنانچہ ایسے لوگوں کی بہت سی شہادتیں ہمارے پاس موجود ہیں۔ جس شخص کو اس تحقیق کا شوق ہے وہ ہم سے اس کا ثبوت لے سکتا ہے۔

اور غزنوی افغانوں کی جماعت جو ناپاک خیالات اور تکذیب کی بلا میں گرفتار ہیں۔ اُن کے لئے اگر وہ انصاف اور خدا ترسی سے کچھ حصّہ رکھتے ہیں اُن کے والد بزرگوار مولوی عبداللہ صاحب کی شہادت کافی ہے ہمارے پاس وہ گواہ موجود ہیں جو حلف سے بیان کر سکتے ہیں کہ مولوی عبداللہ صاحب نے اپنے کشف کی رُو سے بتلایا تھا کہ ایک نُور آسمان سے نازل ہوا۔ اور قادیان کی سمت میں اُترا ہے اور اُن کی اولاد اِس نُور سے محروم رہ گئی۔ اس گواہی میں حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار بھی شریک ہیں۔ جو مولوی عبداللہ کے دوست اور مُحسن بھی ہیں بلکہ اُن کے بھائی محمد یعقوب نے ایک جلسہ میں قسم کھا کر کہا تھا کہ مولوی عبداللہ نے اُس نُور کے ذکر کے وقت اس عاجز کا نام بھی لیا تھا کہ یہ نور اُن کے حصہ میں آگیا اور میری اولاد بے نصیب اور بے بہرہ رہی لہٰذا مناسب ہے کہ عبدالحق غزنوی اور عبدالجبار جو اپنی شرارت اور خباثت سے تکفیر اور گالیوں پر زور دے رہے ہیں۔ اپنے فوت شدہ بزرگ کے کلمات کی تحقیق ضرور کر لیں۔ ایسا نہ ہو کہ اُن کی وصیت کی نافرمانی کر کے اُن کے عاق بھی ٹھہر جائیں۔ اس بزرگ مولوی عبداللہ نے اپنی زندگی کے زمانہ میں میرے نام بھی دو خط بھیجے تھے اور اُن خطوں میں قرآنی آیتوں کے الہام کے ساتھ مجھے خوشخبری دی تھی کہ تم کفّار پر غالب رہوگے۔ اور پھر وفات کے بعد میرے پر ظاہر کیا تھا۔ کہ میں آپ کے دعویٰ کا مصدّق ہوں چنانچہ میں اللہ جلشانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ انہوں نے میرے دعویٰ کو سُنکر تصدیق کی اور صاف لفظوں میں مجھے کہا کہ ”جب میں دُنیا میں تھا، تو مَیں اُمید رکھتا تھا کہ ایسا شخص خُدا تعالےٰ کی طرف سے مبعوث ہو گا“۔ یہ اُن کے الفاظ ہیں۔ ولعنۃ اللہ علی الکاذبین ۔

اور اس وقت کے سجادہ نشینوں میں سے دو بزرگ اور ہیں جنہوں نے اس عاجز کے مقام اور مرتبہ سے انکار نہیں کیا اور قبول کیا ہے۔ ایک تو میاں غلام فرید صاحب چاچڑاں والے پیر نواب صاحب بہاولپور میں

۵۹

صفحہ 147

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۱۲

سراج منیر ۔ استفتاء اُردو ۔ حُجّۃ اللّٰہ ۔ تحفہ قیصریہ

محمود کی آمین ۔ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جوابات

صفحہ 148

ٹائیٹل طبع اوّل

مطبوعہ ضیاء الاسلام

١٣١٤ھ

سِرَاج مُّنِير

مشتمل بر نشانہائے رَبِّ قدیر

قادیان دارالامان

مئی ۱۸۹۷ء

صفحہ 149

سراج منیر ۲۴

طور سے خبر دے سکتا ہو کہ گویا وہ موجود ہے۔ کیا چھ سال کی میعاد بیان کرنا اور عید کے دوسرے دن کا پتہ دینا اور صورت موت بیان کر دینا یہ خدا سے ہونا محال ہے ؟ اگر خدا سے محال ہے تو ان قیدیوں کے ساتھ انسان کی اپنی پیشگوئی کیونکر ممکن ہو۔ کیا دُور دراز عرصہ سے ایسی صحیح خبریں دینا انسان کا کام ہے ؟ اگر ہے تو اسکی دنیا میں کوئی نظیر پیش کرو۔ گورنمنٹ کو یہ فخر ہونا چاہئیے کہ اس مُلک میں اور اسکے زمانہ بادشاہت میں خدا اپنے بعض بندوں سے وہ تعلق پیدا کر رہا ہو کہ جو قصّوں اور کہانیوں کے طور پر کتابوں میں لکھا ہوا ہو۔ اس مُلک پر یہ رحمت ہے کہ آسمان زمین سے نزدیک ہو گیا ہو۔ ورنہ دوسرے ملکوں میں اسکی نظیر نہیں!

یہ بھی ظاہر کر دینا ضروری ہے کہ مختلف مقامات پنجاب سے کئی خط میرے پاس پہنچے ہیں جنمیں بعض آریہ صاحبوں کے جوشوں اور نامناسب منصوبوں کا تذکرہ ہے۔ میرے پاس وہ خط بحفاظت موجود ہیں ! اور اس جگہ کے بعض آریہ کو میں نے وہ خط دکھلا دیئے ہیں۔ چنانچہ ایک خط جو گوجرانوالہ سے ایک معزز اور رئیس کا مجھ کو پہنچا ہے۔ اس کا مضمون یہ ہے کہ ”اس جگہ دو دن تک جلسہ ماتم لیکھرام ہوتا رہا اور قاتل کے گرفتار کنندہ کے لئے ہزار روپیہ انعام قرار پایا ہے اور دو سَو اسکے لئے جو نشان دہی کرے۔ اور خارجاً سُنا گیا ہے کہ ایک خفیہ انجمن آپ کے قتل کے لئے منعقد ہوئی ہے ٭ اور اس انجمن کے ممبر قریب قریب شہروں کے لوگ (جیسے لاہور، امرتسر، بٹالہ اور خاص گوجرانوالہ کے ہیں) منتخب ہوئے ہیں۔ اور تجویز یہ ہے کہ بتیس ہزار روپیہ چندہ ہو کر کسی شریر طامع کو اس کام کیلئے مامور کریں تا وہ موقعہ پا کر قتل کردے ٭ چنانچہ دو ہزار روپیہ تک چندہ کا بندوبست ہو بھی گیا ہے۔ باقی دوسرے شہروں اور دیہات سے وصول کیا جائیگا۔“ پھر بعد اس کے

٭ یہی خبر اجمالاً پیسہ اخبار میں بھی لکھی ہے ۔ منہ

٭ براہین احمدیہ کا وہ الہام یعنی یا عیسے انی متوفیک جو سترہ برس سے شائع ہوچکا ہے اُسکے اسوقت خوب معنے کھلے یعنی یہ الہام حضرت عیسے کو اُسوقت بطور تسلی ہوا تھا جب یہود اُنکے مصلوب کرنیکے لئے کوشش کررہے تھے۔ اور اسیجگہ بجائے یہود ہنود کوشش کر رہے ہیں اور الہام کے یہ معنے ہیں کہ میں تجھے ایسی ذلیل اور لعنتی موتوں سے بچاؤں گا۔ دیکھو اس واقعہ نے عیسی کا نام اس عاجز پر کیسے چسپاں کردیا ہے۔ منہ

۲۱

صفحہ 150

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۱۳

کتاب البریہ ۔ البلاغ

ضرورة الامام

صفحہ 151

نوٹ ۔ یہ جو الہامات اس رسالہ کے ٹائٹل پیج پر لکھے گئے ہیں یہ اس الہام کے ساتھ ہیں جو اس رسالہ کے صفحہ ۱۶۱ میں درج ہے ۔ اور یہ سب الہامات اس رسالہ کی تالیف سے چند روز پہلے ہوئے ہیں

١- أَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۔ فَبَرَّأَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا وَكَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا ۔ وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۔ يَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللّٰهُ وَمَكْرُ اُولٰئِكَ هُوَ يَبُوْرُ ۔ مَا هٰذَا إِلَّا تَهْدِيْدٌ مِّنَ الْحُكَّامِ ۱؎ ۔ إِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ إِلٰى مَعَادٍ ۲؎ ۔ إِنِّيْ مَعَ الْاَفْوَاجِ آتِيْكَ ۔ ٢۔ بشارتیں ہیں ۔ حق تعالیٰ تجھے ضائع نہیں چھوڑے گا۔ اور نہ میں تجھے ضائع کروں گا۔ اور میں تیرا نگہدار اور حامی ہوں۔ اور تجھے کہیں گے کہ یہ سب مکر اور طوفان ہے۔ ۳؎ جس قدر پہلے فرمایا تھا وہی وعدہ دوبارہ اس الہام میں لفظ براءت کے ساتھ دیا گیا ہے۔

۳؎ یہ الہام جو براہین احمدیہ میں مندرج ہے اور آج سے سترہ برس پہلے چھپ گیا ہے اس مقدمہ کی طرف ایسا صاف اشارہ ہے جس کو ہر ایک نیک دل قبول کر سکتا ہے گو کیسا ہی ہٹ دھرم ہو بجز اس کے کہ آنکھیں بند کرلے اور یہ بھی کیسا کھلا کھلا نشان ہے کہ جس مقدمہ میں ایک خون کا الزام لگایا گیا تھا براءت کے لفظ سے اس کی تفہیم فرمائی ہے۔

مُہر المہدی و المسیح الموعود

بماہ

جنوری ۱۸۹۸ء

كِتَابُ البَرِيَّةِ

مع

آيَاتِ البَرِيَّة

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں چھپی

تعداد جلد ۷۰۰

۱؎ یہ الہام جو آج سے سترہ برس پہلے براہین احمدیہ میں مندرج ہو چکا ہے اس کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ اس مقدمہ کے متعلق ہے پس کیا ہی خدا کا خوفناک اور عظیم الشان نشان ہے جو سترہ برس پہلے دکھلایا گیا اور براہین احمدیہ میں چھپوایا گیا۔

۲؎ یعنی تو اس مقدمہ سے براءت پا کر بخیریت اپنے گھر میں واپس آئے گا۔ سو ایسا ہی ظہور میں آیا اور میں بمقام بٹالہ سے بخیریت اپنے مکان پر واپس آیا فالحمد للہ

یہ رسالہ جس کا نام کتاب البریّہ ہے اسی مقدمہ کے متعلق ہے جو عیسائیوں کی طرف سے میرے پر دائر ہوا تھا جس کا ذکر تفصیل سے اس کتاب میں موجود ہے ٭ اور اس مقدمہ سے پہلے اس کتاب میں میں نے وہ الہامات لکھ دیئے تھے جو چھ ماہ پہلے مجھے اس مقدمہ کی نسبت ہوئے تھے جن کا منشاء یہ تھا کہ عنقریب خدا تعالیٰ ایک ایسا امر ظاہر کرے گا جس سے اس کی براءت ظاہر ہو گی سو خدا تعالیٰ نے ایسا ہی کیا اور مجھ کو بری کیا یہ مقدمہ جو مسٹر ڈوئی صاحب بہادر مجسٹریٹ ضلع گورداسپور کی عدالت میں پادری مارٹن کلارک کی طرف سے دائر ہوا تھا اور جس میں مخالفوں نے چاہا تھا کہ مجھ کو ملزم کریں اور میری نسبت نہایت درجہ کی جھوٹی گواہیاں بنائی تھیں مگر خدا نے اپنے فضل سے مجھ کو بچا لیا اور مخالفوں کو شرمندہ کیا پس یہ رسالہ اسی براءت کی شکر گزاری میں تالیف کیا گیا ہے فالحمد للہ علی ذالک۔

٭ ظاہر ہے کہ یہ الہام کیسا صفائی سے میرے اس مقدمہ سے تعلق رکھتا ہے جس میں میری نسبت ارادہ قتل کا الزام لگایا گیا تھا اور کس صفائی سے ان الہامات میں اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ میں بری کیا جاؤں گا اور میرے مخالف ذلیل اور شرمندہ ہوں گے۔ پس یہ خدا کی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان ہے جو اس نے ظاہر کیا اور میری بریت ظاہر کی اور اس پیشنگوئی کی تصدیق فرمائی جو اس رسالہ کے صفحہ ۱۶۱ میں درج ہے۔

صفحہ 152

۴

ایک ظلم عظیم ۷۲ ہے۔ میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا والد میرزا غلام مرتضےٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیاں خوشنودی حکام اُن کو ملی تھیں۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں مگر تین چٹھیاں جو مدت سے چھپ چکی ہیں اُن کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات

Translation of Certificate of J. M. Wilson

To, Mirza Ghulam Murtaza Khan Chief of Qadian

I have perused your applica- tion reminding me of your and your family's past services and rights I am well aware that since the introduction of the British Govt. you and your family have certainly remained devoted faith- ful and steady subjects and that your rights are really worthy of regard. In every respect you may rest assured and satisfied that the

نقل مراسلہ (ولسن صاحب) نمبر ۲۵۳

تہور پناہ شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضےٰ رئیس قادیان حفظہٗ

مراسلہ شما مشعر بیاد دہانی خدمات و حقوق خود و خاندان خود بملاحظہ حضور اینجانب در آمد ما خوب میدانیم کہ بلاشک شما و خاندان شما از ابتدائے دخل و حکومت سرکار انگریزی جان نثار وفا کیش ثابت قدم ماندہ اید۔ و حقوق شما در اصل قابل قدر اند۔ بہر نہج تسلی و تشفی دارید۔ سرکار انگریزی حقوق

صفحہ 153

۵

کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا ۔ اور جب تریمو کے گذر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی

British Govt. will never forget your family's rights and services which will receive due considera- tion when a favourable oppurtuni- ty offers itself.

You must continue to be faithful and devoted objects as in it lies the satisfaction of the Govt. and your wellfare. 11.6.1849 Lahore.

خدمات شما مورد توجہ کردہ خواہد شد ۔ باید کہ ہمیشہ ہوا خواہ و جان نثار سرکار انگریزی بمانند کہ دریں امر خوشنودی سرکار و بہبودی شما متصور است ۔ فقط المرقوم ۱۱ جون ۱۸۴۹ء مقام لاہور انارکلی

نقل مراسلہ

(رابرٹ کسٹ صاحب بہادر کمشنر لاہور) تہور و شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضےٰ رئیس قادیان بعافیت باشند ۔

صفحہ 154

۶

میں شریک تھا۔ پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا ۔ تاہم سترہ ۱۷ برس سے سرکار انگریزی کی امداد اور تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں۔ اُس سترہ

از آنجا کہ ہنگام مفسدہ ہندوستان موقوعہ ۱۸۵۷ء از جانب آپکے رفاقت و خیرخواہی و مدد دہی سرکار دولتمدار انگلیشیہ در باب نگہداشت سواران و بہم رسانی اسپاں بخوبی بمنصہ ظہور پہونچی اور شروع مفسدہ سے آج تک آپ بدل ہوا خواہ سرکار رہے اور باعث خوشنودی سرکار ہوا لہٰذا بصلہ دہی اس خیرخواہی اور خیرسگالی کے خلعت مبلغ دو صد روپیہ کا سرکار سے آپ کو عطا ہوتا ہے اور حسب منشاء چٹھی صاحب چیف کمشنر بہادر نمبری ۵۷۶ مورخہ ۱۰؍ اگست ۱۸۵۸ء پروانہ ہذا باظہار خوشنودی سرکار و نیکنامی و وفاداری بنام آپ کے لکھا جاتا ہے ۔ مرقومہ تاریخ ۲۰ ستمبر ۱۸۵۸ء

Translation of Mr. Robert Cast's Certificate To, Mirza Ghulam Murtaza Khan, Chief of Qadian.

As you rendered great help in enlisting sowars and supplying horse to Govt. in the mutiny of 1857 and maintained loyalty since its beginning upto date and thereby gained the favour of Govt. a Khalat worth Rs. 200/- is presented to you in recognition of good services, and as a reward for your loyalty.

Moreover in accordance with the wishes of Chief Commissioner as conveyed in his no. 576 dt. 10th August 58. This parvana is addressed to you as a token of satisfaction of Govt. for your fedelity and repute.

صفحہ 155

11

میں پسند نہیں کرتا کہ ایسی درخواستوں پر کوئی انذاری پیشگوئی کی جائے بلکہ آئندہ ہماری طرف سے یہ اصول رہے گا کہ اگر کوئی ایسی انذاری پیشگوئیوں کے لئے درخواست کرے تو اس کی طرف ہرگز توجہ نہیں کی جائے گی جب تک وہ ایک تحریری حکم اجازت صاحب مجسٹریٹ ضلع کی طرف سے پیش نہ کرے۔ یہ ایک ایسا طریق ہے جس میں کسی غلطی کی گنجائش نہیں رہے گی۔

یہ بات بھی میں تسلیم کرتا ہوں کہ مخالفوں کے مقابل پر تحریری مباحثات میں کسی قدر میرے الفاظ میں سختی استعمال میں آئی تھی۔ لیکن وہ ابتدائی طور پر سختی نہیں ہے بلکہ وہ تمام تحریریں نہایت سخت حملوں کے جواب میں لکھی گئی ہیں۔ مخالفوں کے الفاظ ایسے سخت اور دشنام دہی کے رنگ میں تھے جن کے مقابل پر کسی قدر سختی مصلحت تھی۔ اس کا ثبوت اُس مقابلہ سے ہوتا ہے جو میں نے اپنی کتابوں اور مخالفوں کی کتابوں کے سخت الفاظ اکٹھے کر کے کتاب مثل مقدمہ مطبوعہ کے ساتھ شامل کئے ہیں جس کا نام میں نے کتاب البریّت رکھا ہے اور بایں ہمہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ

میرے سخت الفاظ جوابی طور پر ہیں ابتدا سختی کی مخالفوں کی طرف سے ہے۔

اور میں مخالفوں کے سخت الفاظ پر بھی صبر کر سکتا تھا۔ لیکن دو مصلحت کے سبب سے میں نے جواب دینا مناسب سمجھا تھا۔ اوّل یہ کہ تا مخالف لوگ اپنے سخت الفاظ کی سختی میں جواب پا کر اپنی روش بدلیں اور آئندہ تہذیب سے گفتگو کریں۔ دوم یہ کہ تا مخالفوں کی نہایت ہتک آمیز اور غصہ دلانے والی تحریروں سے عام مسلمان جوش میں نہ آویں اور سخت الفاظ کا جواب بھی کسی قدر سخت پا کر اپنی پرجوش طبیعتوں کو اس طرح سمجھا لیں کہ اگر اُس طرف سے سخت الفاظ استعمال ہوئے تو ہماری طرف سے بھی کسی قدر سختی کے ساتھ اُن کو جواب مل گیا اور اس طرح وہ وحشیانہ انتقاموں سے رکے رہیں۔ میں خوب جانتا ہوں کہ ایسی مذہبی تحریروں سے جیسا کہ لیکھرام اور اندرمن

صفحہ 156

۱۴۲

بالکل جھوٹ تھی۔ اور اس کا نام عبدالحمید تھا۔ نہ عبدالمجید جیسا اُس نے بیان کیا تھا نہ وہ پٹالہ کا برہمن تھا۔ بلکہ پیدائشی مسلمان علاقہ جہلم سے تھا۔ اس کا چچا برہان الدین غازی ایک مشہور مخبوط جنونی ہے۔ اور اُن کا تمام کا تمام خاندان مرزا قادیانی پر فدائی مرید ہے۔ یہ نوجوان عیسائی مشنری کے مدرسوں میں یتیموں کی طرح گجرات میں رہا تھا۔ اس نے اپنے چچا کے چالیس روپے چرا کر بُرے کاموں میں خرچ کئے۔ جس پر اس کے چچا نے مرزا قادیانی کے پاس اُس کو بھیج دیا۔ میں خود بٹالہ گیا۔ اور پھر اس سے دریافت کیا۔ اور پانچ گواہوں کے سامنے اس نے کھلا کھلا اقرار کیا کہ اُسے مرزا غلام احمد نے میرے قتل کے لئے بھیجا ہے۔ وہ موقعہ کی تلاش میں تھا کہ جب کبھی وہ مجھے سویا ہوا یا کسی اور حالت میں پائے تو میرے سر کو پتھر سے یا کسی اور ایسی چیز سے پھوڑے۔ اس نے یہ تمام واقعات اپنی مرضی سے لکھے۔ میں اس لکھے ہوئے کاغذ کو پیش کرتا ہوں جس پر اُس نے آٹھ گواہوں کے سامنے دستخط کئے۔ میری واقفیت مرزا صاحب سے

بقیہ حاشیہ

کا قائم مقام ہو جائے۔ تا اگر ایسی خوش بیانی سے کسی کا وقت خوش ہو تو اس سوانح نویس کی دنیا اور آخرت کی بہبودی کے لئے دُعا بھی کرے۔ اور صفحات تاریخ پر نظر ڈالنے والے خوب جانتے ہیں کہ جن بزرگ محققوں نے نیک نیتی اور افادہ عام کے لئے قوم کے ممتاز شخصوں کے تذکرے لکھے ہیں انہوں نے ایسا ہی کیا ہے۔

اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پردادا صاحب کا نام گل محمد تھا اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے ٭ اور میرے بزرگوں کے

حاشیہ در حاشیہ

٭ عرصہ سترہ یا اٹھارہ برس کا ہوا کہ خدا تعالیٰ کے متواتر الہامات سے مجھے معلوم ہوا تھا۔ کہ میرے باپ دادے فارسی الاصل ہیں۔ وہ تمام الہامات میں نے ان ہی دنوں میں براہین احمدیہ کے حصہ دوم میں درج کر دئیے تھے جن میں سے میری نسبت ایک یہ الہام ہے۔ خُذُوا التَّوْحِیْدَ

۱۴۲

صفحہ 157

١٦٣

اس مباحثہ کے وقت سے ہے جو ۱۸۹۳ء میں موسم گرما میں ہوا تھا۔ میں نے اس مباحثہ میں بڑا بھاری حصہ لیا تھا یہ مباحثہ اس میں اور ایک بڑے بھاری عیسائی عبداللہ آتھم کے مابین ہوا جو مر گیا ہے۔ میں میر مجلس تھا۔ اور دو موقعوں پر مسٹر آتھم کی جگہ بطور مباحث کے بیٹھا تھا مرزا صاحب کو بہت ہی رنج ہوا تھا۔ اس کے بعد اس نے ان تمام کے موت کی پیش گوئی کی جنہوں نے اس مباحثہ میں حصہ لیا تھا اور میرا حصہ بہت ہی بھاری تھا۔ اس وقت سے اس کا سلوک میرے ساتھ بہت ہی مخالفانہ رہا ہے۔ اس مباحثہ کے بعد خاص دلچسپی کا مرکز مسٹر آتھم رہا۔ چار الگ کوششیں اس کی جان لینے کے لئے کی گئیں۔ اس کی موت کی مقرر کردہ میعاد کے آخری دو ماہ میں خاص پولیس کا پہرہ دن رات فیروز پور میں رکھا گیا۔ اُسے امرتسر سے انبالے اور انبالے سے فیروز پور بھاگنا پڑا۔ ان کوششوں کے باعث سے جو اُس کی جان لینے کے لئے کی گئیں (اور یہ کوششیں عام طور پر مرزا صاحب سے منسوب کی گئی ہیں۔ اس کی موت

بقیہ حاشیہ

پرانے کاغذات سے جو اب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے اور اُن کے ساتھ قریباً دو سو آدمی اُن کے توابع اور خدام اور اہل و عیال میں سے تھے اور وہ ایک معزز رئیس کی حیثیت سے اس ملک میں داخل ہوئے اور اس قصبہ کی جگہ میں جو اسوقت ایک جنگل پڑا ہوا تھا جو لاہور سے تخمیناً بفاصلہ پچاس کوس گوشۂ شمال مشرق واقع ہے فروکش ہو گئے جس کو انہوں نے آباد کر کے اس کا نام اسلام پور رکھا

بقیہ حاشیہ در حاشیہ

التوحيد يا ابناء الفارس یعنے ترجمہ کر کے کہو ۔ توحید کو پکڑو اے فارس کے بیٹو۔ پھر دوسرا الہام میری نسبت یہ ہے لوكان الايمان معلقا بالثريا لناله رجل من فارس یعنی اگر ایمان ثریا سے معلق ہوتا تو یہ مرد جو فارسی الاصل ہے وہیں جا کر اس کو لے لیتا۔ اور پھر ایک تیسرا الہام میری نسبت یہ ہے ان الذين كفروا رد عليهم رجل من فارس شکر اللہ سعیہ یعنے جو لوگ کافر ہوئے اس مرد نے جو فارسی الاصل ہے ان کے مذاہب کو رد کر دیا۔ خدا اس کی کوشش کا شکر گزار ہے۔ یہ تمام الہامات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد میں فارسی تھے۔ والملحق ما اظهره الله سنة

١٦٥

صفحہ 158

۱۷۷

ملا عبداللہ آتھم صاحب کو ایک ہزار انعام کا وعدہ دیا گیا تھا۔ شرطیہ طور پر (تسلیم کیا گیا) ۔ ۱۳ عبداللہ آتھم صاحب کو دو ہزار روپیہ کے انعام کا وعدہ دیا گیا ۔ ۱۴ ایضاً تین ہزار ایضاً ۔ ۱۵ ایضاً چار ہزار ایضاً ۔ ۱۶ انجام آتھم شائع کیا گیا (تسلیم ہوا) ۱۷ انجام آتھم میں مرزا صاحب نے پیش گوئی کی تھی کہ ۳۹ مولوی اور ۸۶ چھاپہ والے اگر ہمارے پر ایمان نہیں لاویں گے تو مرجائیں گے (مرزا صاحب نے اس کو تسلیم نہیں کیا) ۱۸ اس پیش گوئی میں لیکھرام کے مرنے کی بابت وہ لوگوں کو بتلاتے ہیں کہ مباہلہ کریں (تسلیم کیا گیا) ۔ ۱۹ گنگا بشن کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا) ۱۹ مولوی محمد حسین بٹالوی کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا گیا) ۲۰ رائے ہند سنگھ کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا گیا) ۲۱ پیشگوئی بابت مرنے لیکھرام کی ۔ (تسلیم کیا گیا) ۲۲ نسبت

بقیہ حاشیہ سواروں کے اپنی گرہ سے خرید کر دئے تھے اور آئندہ گورنمنٹ کو اس قسم کی مدد کا عندالضرورت وعدہ بھی دیا۔ اور سرکار انگریزی کے حکام وقت سے بوجہ دے خدمات عمدہ عمدہ چٹھیاں خوشنودی مزاج ان کو ملی تھیں۔ چنانچہ سرلیپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ غرض وہ حکام کی نظر میں بہت ہردلعزیز تھے۔ اور بسا اوقات ان کی دلجوئی کے لئے حکام وقت ڈپٹی کمشنر، کمشنر ان کے مکان پر آکر ان کی ملاقات کرتے تھے۔ یہ مختصر میرے خاندان کا حال ہے میں ضروری نہیں سمجھتا کہ اس کو بہت طول دوں۔ اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا سترہویں برس میں تھا۔ اور ابھی ریش و بروت کا آغاز نہیں تھا۔ میری پیدائش سے پہلے میرے والد صاحب نے بڑے بڑے مصائب دیکھے۔ ایک دفعہ ہند وستان کا پیادہ پا سفر بھی کیا۔ لیکن میری پیدائش

( بقیہ ) نوٹ۔ میں توام پیدا ہوا تھا ایک لڑکی جو میرے ساتھ تھی وہ چند روز کے بعد فوت ہو گئی تھی۔ میں خیال کرتا ہوں کہ اس طرح پر خدا تعالیٰ نے انثیت کا مادہ مجھ سے بکلی الگ کر دیا۔ منہ

۱۵۹

صفحہ 159

۱۵۹

عبدالمجید بتلایا اور کہا کہ میں جنم کا برہمن ہوں اور کہ میرا ہندو نام رلیا رام ہے اور والد کا نام رام چند ہے اور بھوری دروازہ بٹالہ کا رہنے والا ہوں ۱۷ سال کی عمر میں مرزا نے مجھے مسلمان کیا تھا جس کو سات سال گذرے ہیں۔ وہ ایک ہندو دوست کی ترغیب سے مسلمان ہوا تھا۔ اور وہ دوست بھی اسی وقت مسلمان ہو گیا تھا۔ میرا دوست اروڑہ قوم کا تھا اور کرپا رام اُس کا نام تھا۔ اب اس کا نام عبدالعزیز ہے اور بٹالہ میں کپوری دروازہ کے اندر تمباکو فروشی کرتا ہے سات سال کے عرصہ میں مرزا صاحب کے یہاں طالب علم رہا اور قرآن کی تعلیم پاتا رہا۔ حال میں جو مرزا صاحب کے دعاویٰ کی نسبت الہامات باطل ثابت ہوئے تو اس کو یقین ہوا کہ مرزا صاحب نبی نہیں ہیں۔ اور اس نے خیال کیا کہ مرزا صاحب اچھے آدمی نہیں ہیں اور شعبدہ باز ہیں۔ میں سیدھے قادیان سے آیا ہوں۔ اور عام طور پر علانیہ میں نے مرزا صاحب کو گالیاں دی تھیں جب میں وہاں سے چلا تھا میں اپنے ساتھ کچھ نہیں لایا۔ خداوند مسیح کا قول ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ پیچھے چلو۔ میں اور کچھ نہیں چاہتا صرف بپتسمہ لینا چاہتا ہوں۔ اپنی معاش ٹوکری اُٹھا کر قلی گری کر کے بسر کروں گا۔ ہم کو کوئی کافی وجہ اس نے نہ بتلائی کہ وہ امرتسر کیوں آیا ہے

بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۵۸

اور ملک داری کی پیشین گوئی اور وہ سلسلہ ہمارے وقت میں آکر بالکل ختم ہو گیا اور ایسا ہوا تاکہ خدا تعالیٰ نیا سلسلہ قائم کرے جیسا کہ براہین احمدیہ میں اس سُبحانہٗ کی طرف سے یہ الہام ہے سبحان اللہ تبارك وتعالیٰ زاد مجدك ينقطع اباءك ويبدء منك یعنے خدا جو بہت برکتوں والا اور بلند اور پاک ہے اس نے تیری بزرگی کو تیرے خاندان کی نسبت زیادہ کیا۔ اب سے تیرے آبا کا ذکر قطع کیا جائے گا اور خدا تجھ سے شروع کرے گا۔ اور ایسا ہی اس نے مجھے بشارت دی کہ میں تجھے برکت دوں گا اور بہت برکت دوں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ پھر میں پہلے سلسلہ کی طرف عود کر کے لکھتا ہوں کہ بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم

صفحہ 160

١٨٠

کیونکہ بٹالہ اور گورداسپور میں مشنری صاحب موجود ہیں اور نہ اس نے کوئی خاص وجہ بتلائی کہ وہ کیوں خاص کر میرے پاس آیا ہے۔ جب کہ اور بھی مشنری صاحب موجود ہیں۔ اس نے صرف یہ کہا کہ اتفاقیہ ایک شخص کے آپ کی کوٹھی بتلانے پر آیا ہوں جب ہم نے اُس سے پوچھا کہ تم نے کرایہ ریل کا کہاں سے لیا تو وہ بتلا نہ سکا۔ ان باتوں پر ہماری خاص توجہ غور کے واسطے ہوئی اور بغور طالب معاملہ ہم نے سمجھا اور یہ میرے دل میں گذرا کہ اس کے بیانات لیکھرام کے قاتل کے بیانات سے عجیب تشبیہ رکھتے ہیں۔ پس ہم نے اس کی طرف خاص دھیان رکھا۔ پس اس سے گفتگو کر کے ہم نے قصد مذکور کیا۔ اس شخص نے واقفیت دین عیسوی سے ظاہر کی ہم نے پوچھا کہاں سے یہ واقفیت حاصل کی۔ اس نے کہا کہ قادیان میں ایک عیسائی بٹالہ کا رہتا ہے جو مسلمان ہو کر مرزا صاحب کے یہاں رہتا ہے نام اس کا سائیاں ہے۔ اس کے پاس انجیل مقدس تھی اور مطالعہ کیا کرتا تھا جہاں سے مجھے شوق و رغبت ہوئی۔ میں نے اس نوجوان کو جہاں سنگھ گیٹے والے شفاخانہ میں بھیج دیا۔ کہ وہاں طالب علموں کے پاس رہے اور تعلیم پائے۔ اور ہم نے اس کو بوتلوں کے صاف کرنے وغیرہ کا کام دیا۔ قریباً پانچ چھ یوم تک وہ اس جگہ رہا۔ اوّل اس میں قابل توجہ یہ بات تھی کہ وہ مرزا صاحب

بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ

اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔ اور جب میری عمر تقریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے۔ وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو اُن سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا

١٦٢

صفحہ 161

۱۸۱ کے حق میں بہت ہی برا بکتا تھا۔ دوم وہ بپتسمہ لینے کی ازحد خواہش رکھتا تھا۔ اور سوم وہ بلاوجہ اور بلاطلبی ہمارے کوٹھی پر آکر گھنٹوں پہروں ملاقات چاہتا تھا۔ اور باوجودیکہ دس سال کی عمر میں وہ محمدی ہوا تھا۔ اپنی گوت (برہمن) سے ناواقف تھا اور نانکوں سے ناواقف تھا۔ اور مختلف اشخاص سے مختلف قسم کی اپنی نسبت کہانی بیان کی۔ مثلاً ایک شخص سے اُس نے اپنے دوست ایسرداس نام کو بجائے کریا رام کے بتلایا۔ بعد انقضائے پانچ روز ہم نے اپنے ہسپتال واقع بیاس پر اُسے بھیج دیا۔ وہاں بھی میرے طالب علم پڑھتے ہیں جاتے ہی اس نے ایک خط مولوی نورالدین کے نام جو مرزا صاحب کا داہنے ہاتھ کا فرشتہ ہے لکھا۔ یہ اسی شخص کی زبانی معلوم ہوا تھا کہ خط اُس نے لکھا ہے۔ مطلب اس خط کا یہ تھا کہ میں عیسائی ہونے لگا ہوں آپ روک سکتے ہیں تو روک لیں۔ یہ مطلب بھی اُس کی زبانی ہی معلوم ہوا تھا اور دیگر شہادت بھی ہے۔ باعث خط لکھنے کا یہ تھا کہ ہم نے اس کو کہا تھا۔ کہ یہ بہتر نہ ہو گا کہ ہم مرزا صاحب کو لکھیں کہ یہ شخص عیسائی ہونا چاہتا ہے۔ کل کو یہ نہ کہیں کہ تم اُن کے چور ہو۔ اس نے کہا کہ نہیں میں خود ہی خط لکھتا ہوں۔ اور اس نے خط لکھ کر بیرنگ ڈاک میں ڈالا۔ اور مجھے خط کے ذریعہ سے خط لکھنے سے منع کیا تھا جب تک میرے بپتسمہ کا وقت ہو۔ وہ خط

بقیہ حاشیہ اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا۔ اور ان آخرالذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔ میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہئے ۔ کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے اور نیز اُن کا یہ بھی مطلب تھا کہ میں اس شغل سے الگ

۱۶۳

صفحہ 162

۱۹۴

خاص طور پر پیشگوئی ہے اور ہمارا نام موٹی قلم سے لکھا ہوا ہو۔ اشتہار حرف (ح) میں عداوت اور دشمنی کی زندگی مرنے کے قریب قریب ہے۔ میری زندگی سے مراد ہے گواہ نے از خود بیان کیا دستخط اشتہار حرف (ح) ستمبر ۱۸۹۴ء کے بہت عرصہ بعد قبل از مرگ مسٹر عبداللہ آتھم ہمنے جاری کیا تھا جب عبداللہ آتھم نہ مرا۔ مرزا صاحب کے برخلاف ہیجان اُٹھ کھڑا ہوا کہ وہ جھوٹا ہو۔ مرزا صاحب نے کہا کہ عبداللہ آتھم اسلئے نہیں مرا کہ وہ اندر سے مسلمان ہو گیا تھا جو خوف کا نتیجہ تھا۔ تب مرزا صاحب نے اشتہار جاری کئے کہ اگر وہ خوف زدہ نہیں ہوا اور رجوع بحق نہیں ہوا تھا۔ تو مباہلہ کرے اور قسم اُٹھاوے عبداللہ آتھم نے قسم اُٹھانے سے انکار کیا کہ مسیحی مذہب میں قسم کھانا منع ہے۔ تب ہم نے اس اشتہار حرف (ح) کو جاری کیا تھا کہ مرزا خوک کا گوشت کھا کر ثابت کرے کہ وہ مسلمان ہے کیونکہ اور مسلمان اسکو مسلمان نہیں مانتے تب عبداللہ آتھم کو یہ کہنا اسکے برابر ہوگا۔ وکیل کی جرح شروع ہوئی عبدالحمید کی زبانی معلوم ہوا کہ اور تین بھائی اُسکے ہیں۔ ہم کو معلوم نہیں کہ عبدالحمید کب قادیان میں آیا تھا۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ کب تک

بقیہ حاشیہ

کونسا عمل تھا جسکی وجہ سے یہ عنایت الہی شامل حال ہوئی۔ صرف اپنے اندر یہ احساس کرتا ہوں کہ فطرتاً میرے دل کو خدا تعالیٰ کی طرف وفاداری کے ساتھ ایک کشش ہے جو کسی چیز کے روکنے سے رک نہیں سکتی۔ سو یہ اسی کی عنایت ہے۔ میں نے کبھی ریاضات شاقہ بھی نہیں کیں اور نہ زمانہ حال کے بعض صوفیوں کی طرح مجاہدات شدیدہ میں اپنے نفس کو ڈالا اور گوشہ گزینی کے التزام سے کوئی چلہ کشی کی اور نہ خلاف سنت کوئی ایسا عمل رہبانیت کیا جسپر خدا تعالیٰ کے

٭ یہ ڈاکٹر کلارک نے بمعہ تمام عیسائی گواہوں کے اس مقدمہ میں انجیل اُٹھا کر قسم کھائی۔ اب اُسی منہ سے آتھم کا ذکر کیا ہے کہ اُس نے کہا قسم کھانی ہمارے مذہب میں منع ہے۔ یہ عجیب بات ہے دکھانے کے دانت اور کھانے کے اور۔ اور ڈاکٹر صاحب نے آپ سخت گوئی کی شکایت کی اور مسلمانوں کے آگے خنزیر کھانے کے لئے پیش کرتے ہیں۔ کیا ایک مسلمان کو کہنا کہ خنزیر کھا۔ یہ سخت لفظ نہیں ہے؟ منہا

صفحہ 163

۲۰۱

بہت کچھ لکھا ہے جس سے ہم ناخوش ہیں۔ مرزا صاحب کے مرید امرتسر میں بھی ہیں۔ یہ معلوم نہیں کہ کسقدر ہیں۔ میں قطب الدین۔ یعقوب اخبار نویس اور ایک اور شخص مریدان سے واقف ہوں۔ یہ معلوم نہیں کہ عبداللہ آتھم نے سانپ فیروز پور والے کو پیشتر خود دیکھا تھا یا نہ۔ میں نے دو دفعہ بندوق عبداللہ آتھم پر چلتے نہیں دیکھی رائے میار داس اکسٹرا اسسٹنٹ نے ہم سے ذکر کیا تھا۔ مکان میں آدمیوں کے داخل ہونے کی بابت بھی رائے میار داس نے کہا تھا۔ ان حملوں کی بابت پولیس میں معلوم نہیں کہ کوئی رپورٹ دیگئی تھی یا نہ یا کوئی استغاثہ

ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم خ ۲۱ ص ۳۸۲

ہوا۔ لیکن روحانی سختی کشی کا حصہ ہنوز باقی تھا۔ سو وہ حصہ ان دنوں میں مجھے اپنی قوم کے مولویوں کی بدزبانی اور بدگوئی اور تکفیر اور توہین اور ایسا ہی دوسرے جہلاء کے دشنام اور دل آزاری سے مل گیا۔ اور جس قدر یہ حصہ بھی مجھے ملا۔ میری رائے ہے کہ تیرہ سو برس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کم کسی کو ملا ہوگا۔ میرے لئے تکفیر کے فتوے طیار ہو کر مجھے تمام مشرکوں اور عیسائیوں اور دہریوں سے بدتر ٹھہرایا گیا۔ اور قوم کے سفہاء نے اپنے اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ سے مجھے وہ گالیاں دیں کہ ابتک مجھے کسی دوسرے کے سوانح میں انکی نظیر نہیں ملی۔ سو میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ دونوں قسم کی سختی سے میرا امتحان کیا گیا۔

تذکرہ ص ۳۵۱

اور پھر جب تیرہویں صدی کا اخیر ہوا اور چودہویں صدی کا ظہور ہونے لگا۔ تو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اِس صدی کا مجدّد ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ الرَّحْمٰن عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا اُنْذِرَ اٰبَآءُهُمْ وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ۔ قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ۔ یعنی خدا نے تجھے قرآن سکھلایا اور اسکے صحیح معنے تیرے پر کھولدیئے۔ یہ اسلئے ہوا کہ تاکہ ان لوگوں کو بد انجام سے ڈراوے۔ کہ جو

۱۸۴

صفحہ 164

۲۰۲

کیا گیا تھا۔ اگر کوئی استغاثہ ہوتا تو ضروری نہ تھا کہ ہم کو اطلاع ہوتی۔ عبدالرحیم حکمت کا کام کرتا ہے۔ اور پربھو داس ہمارا واعظ ہے۔ عبدالرحیم آٹھ نو ماہ سے ہمارے ماتحت ہے اور پریم داس ۷۔ ۸ سال سے۔ سوال۔ کس نے آپکو مخفی طور پر اطلاع دی تھی کہ مرزا صاحب سے خبردار رہو۔ جواب۔ ہم اس سوال کا جواب دینے کے قابل نہیں ہیں۔ سوال۔ کسی ہندو آریہ یا مسلمان یا عیسائی یا سرکاری افسر نے آپکو خبردار کیا ؟ جواب اس سوال کا جواب

بقیہ حاشیہ

باعث پشت در پشت کی غفلت اور نہ متنبہ کئے جانے کے غلطیوں میں پڑ گئے اور تا اُن مجرموں کی راہ کھل جائے کہ جو ہدایت پہنچنے کے بعد بھی راہ راست کو قبول کرنا نہیں چاہتے ان کو کہہ دے کہ میں مامور من اللہ اور اوّل المومنین ہوں۔ اور یہ الہام براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے جو انہی دنوں میں جس کو آج اٹھارہ سال کا عرصہ ہوا ہے۔ میں نے تالیف کر کے شائع کی تھی۔ اس کتاب کے الہامات پر نظر غور ڈالنے سے ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ خدا نے کیوں اور کس غرض سے مجھے اس خدمت پر مامور کیا۔ اور کیا حالت موجودہ زمانہ کی اور صدی کا سر اس بات کو چاہتا تھا یا نہیں کہ کوئی شخص ایسے غربت اسلام کے زمانہ اور کثرت بدعات اور سخت بارش بیرونی حملوں کے دنوں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے تائید اور تجدید دین کیلئے آوے۔ اور اسجگہ یہ بات بھی ذکر کرنے کے لائق ہے کہ براہین احمدیہ کے زمانہ تک اس ملک کے اکثر علما میرے دعویٰ مجدد ہونے کی تصدیق کرتے تھے اور کم سے کم یہ کہ نہایت حسن ظن سے میرے الہامات پر بڑے بڑے سخت متعصبوں کو بھی کوئی جرح نہ تھی۔ اور اکثر ان میں سے بڑی خوشی سے کہتے تھے کہ خدا نے اسلام کے لئے چودھویں صدی کو مبارک کیا کہ اپنی طرف سے ایک مجدد بھیجا اور بعض نے اُن میں نہایت اخلاص سے براہین احمدیہ کا ریویو بھی لکھا اور اس میں اس قدر میری تعریف کی کہ جس قدر ایک انسان کسی کامل درجہ کے راستباز اور پاک باطن اور خدا رسیدہ

۱۸۴

صفحہ 165

۲۰۵

نقل تتمہ بیان ڈاکٹر کلارک بصیغہ فوجداری اجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مورخہ فیصلہ نمبر بستہ نمبر مقدمہ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور ۹ اگست ۱۸۹۷ء ۳/م ۱۷/۲ ۵/۲ ۱۱/۲ مہر عدالت دستخط حاکم سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک مخبر بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری تتمہ بیان ڈاکٹر کلارک باقرار صالح ۔ ۱۲؍ اگست ۱۸۹۷ء ہمارے والد کلارک صاحب نے ہمکو اطلاع دی تھی کہ خبردار رہو مرزا صاحب نقصان پہنچائیں گے۔ کل مجھے جواب مصلحتاً نہیں دیا تھا۔ ڈاکٹر کلارک سُنایا گیا درست ہے دستخط حاکم

نشان نمبر ۱۶۳

اولیا ہندوستان کے قطبوں اور غوثوں کی نسل تھے جنکے بزرگوں کو لاکھوں انسان اعلیٰ درجہ کے ولی اور قطب وقت سمجھتے تھے۔ وہ لوگ اس جماعت میں داخل ہوئے اور ہوتے جاتے ہیں۔ غرض اللہ تعالیٰ کے فضل اور قدرت نے مولویوں کو اُنکے ارادوں میں نامراد رکھکر ہماری جماعت کو فوق العادت ترقی دی ہے اور دے رہا ہے۔ وہ لوگ جو در حقیقت پارسا طبع اور خدا ترس اور نوع انسان سے ہمدردی کرنیوالے اور دین کی ترقی کے لئے بدل و جان کوشش کرنیوالے اور خدا تعالیٰ کی عظمت کو دل میں بٹھانیوالے اور عقلمند اور ذکی فہم اور اولوالعزم اور خدا اور رسول سے سچی محبت رکھنے والے ہیں وہ اس جماعت میں بکثرت پائے جائیں گے ۔ میں دیکھتا ہوں کہ خداوند کریم اس بات کا ارادہ کر رہا ہے کہ اس جماعت کو بڑھاوے اور برکت دے اور زمین کے کناروں تک سعادتمند انسانوں کو کھینچکر اس میں داخل کرے۔

نشان نمبر ۱۶۴

اسجگہ اس بات کا لکھنا فائدہ سے خالی نہ ہوگا ۔ کہ میرا یہ دعویٰ کہ مَیں مسیح موعود ہوں ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے ظہور کی طرف مسلمانوں کے تمام فرقوں کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں اور احادیث نبویہ کی متواتر پیشگوئیوں کو پڑھکر ہر ایک شخص اس بات کا منتظر تھا کہ کب وہ بشارتیں ظہور میں آتی ہیں بہت سے اہل کشف نے خدا تعالیٰ سے الہام پاکر خبر دی تھی کہ وہ مسیح موعود چودھویں صدی

۱۸۷

صفحہ 166

۲۰۶

نقل بیان عدالت فوجداری باجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور مرقومہ فیصلہ نمبر رجسٹر نمبر مقدمہ ۴/ مورخہ ۱۵/۸/۹۸ ۸ اگست ۱۸۹۷ء زیر تجویز از محکمہ سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری بنام مرزا غلام احمد قادیانی بیان مرزا غلام احمد بلا حلف ۱۳؍ اگست ۱۸۹۷ء ہم نے کبھی پیشگوئی نہیں کی کہ ڈاکٹر کلارک صاحب مرجائینگے ۔ ہرگز ہمارا منشاء کسی لفظ سے یہ نہ تھا کہ صاحب موصوف مرجاوینگے ۔ عبداللہ آتھم کی بابت ہمنے شرطیہ پیشگوئی کی تھی کہ اگر رجوع بحق نہ کریگا تو مر جاوے گا ۔ عبداللہ آتھم صاحب کی درخواست پر پیشگوئی صرف اُس کے واسطے کی تھی ۔ کُل متکلمین مباحثہ کی بابت پیشگوئی نہ تھی ۔ لیکھرام کی درخواست پر اُسکے واسطے بھی پیشگوئی کی گئی تھی ۔ ہم نے کی تھی چنانچہ پوری ہوئی ۔ سُنایا گیا درست ہے ۔ حسب بیان درست درج ہوا ہے ۔ دستخط حاکم

بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۸۷ کے سر پر ظہور کرچکا۔ اور یہ پیشگوئی اگرچہ قرآن شریف میں صرف اجمالی طور پر پائی جاتی ہے مگر احادیث کے رو سے اسقدر تواتر تک پہنچی ہے کہ جس کا کذب عند العقل ممتنع ہے ۔ اگر تواتر کچھ چیز ہے تو کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی پیشگوئیوں میں سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مُنہ سے نکلیں۔ کوئی ایسی پیشگوئی نہیں جو اس درجہ تواتر پر ہو۔ جیسا کہ اس پیشگوئی میں پایا جاتا ہے۔ جس شخص کو اسلامی تاریخ سے خبر ہے وہ خوب جانتا ہوکہ اسلامی پیشگوئیوں میں سے کوئی ایسی پیشگوئی نہیں جو تواتر کے رُو سے اس پیشگوئی سے بڑھ کر ہو ۔ یہانتک کہ علما نے لکھا ہے کہ جو شخص اس پیشگوئی کا انکار کرے اُسکے کفر کا اندیشہ ہے ۔ کیونکہ متواترات سے انکار کرنا گویا اسلام کا انکار ہے۔ لیکن افسوس ہو کہ باوجود اس تواتر کے ہمارے زمانہ فیج اعوج کے علما نے اس پیشگوئی کے صحیح صحیح معنے سمجھنے میں بڑا دھوکہ کھایا ہے اور بباعث سخت غلط فہمی کے اپنے عقیدہ میں قابل شرم تناقضات جمع کرلئے ہیں ۔ یعنی ایک طرف تو قرآن شریف پر ایمان لاکر اور احادیث صحیحہ

۱۸۸

صفحہ 167

٢١٧

آیا کرتے تھے میں مُٹھیاں بھرتا تھا اور وہ مجھ سے پیار کیا کرتے تھے۔ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ ٢٠ سیر کا پتھر اُٹھا کر سوتے وقت یا اور موقعہ پاکر کلرک صاحب کو مارنا اور مار دینا۔ میں نے یہ سب حال قطب الدین کو بتلایا تھا۔ اور اُس نے کہا تھا کہ بیشک تو یہ کام کر اور میرے پاس چلا آ۔ (بسوال عدالت) اسوقت برہان الدین اور سلطان محمود مجھ سے ناراض ہیں کہ میرا روپیہ و جائداد اُنکے پاس ہو اور وہ دینا نہیں چاہتے۔ مولوی نور الدین کے پاس اسواسطے خط بھیجا تھا کہ مرزا صاحب اور وہ ایک ہی ہیں۔ جب میں امرتسر ہسپتال میں تھا میرا کوئی تعلق قطب الدین سے نہیں رہا تھا اور نہ کسی کے پاس میں نے کوئی خط لکھا تھا۔ فقط رقعہ میں نے بیاس میں ڈاکٹر

بقیہ حاشیہ غیر معقول بات ہرگز مقصود نہ تھی کہ ایک نبی جو اپنی زندگی کے دن پورے کر کے عادۃ اللہ کے موافق خدا تعالیٰ اور اپنی آخرت کی طرف بلایا گیا پھر وہ اس دار تکالیف اور دارالفتن میں بھیجا جائیگا۔ اور وہ نبوت جس پر مہر لگ چکی ہو اور وہ کتاب جو خاتم الکتب ہے فضیلت ختمیت سے محروم رہ جائیگی۔ بلکہ نہایت لطیف استعارہ کے طور پر یہ پیشگوئی کیگئی کہ ایک زمانہ ایسا آئیگا کہ جب عیسائی لوگ اپنی مخلوق پرستی اور صلیب کے باطل خیالات میں انتہاء درجہ کے تعصب تک پہنچ جائیں گے۔ اور اپنی کمال تحریف اور دجل کی وجہ سے مسیح دجال ہو جائیں گے۔ تب خدا تعالیٰ اپنی رحمت سے اُن کی اصلاح کے لئے ایک آسمانی مسیح پیدا کریگا۔ جو دلائل شافیہ سے ان کی صلیب کو توڑ دیگا۔ اس پیشگوئی کے سمجھنے میں اہل عقل اور تدبر کرنیوالوں کے لئے کچھ بھی دقت نہ تھی۔ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ مقدسہ ایسے صاف تھے کہ خود اس مطلب کی طرف رہبری کرتے تھے کہ ہرگز اس پیشگوئی میں بنی اسرائیل کا دوبارہ دنیا میں آنا مراد نہیں ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرما دیا تھا۔ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت کریمہ

١٩٩

صفحہ 168

۲۱۸

صاحب کو لکھا تھا۔ (سوال وکیل ملزم) لقمان جب میں چھ سال کی عمر کا تھا مر گیا تھا۔ میں نے کچھ روپے بغیر علم سلطان محمود کے گھر سے لئے تھے۔ گھر والی عورتوں کو اطلاع کر دی تھی۔ اور نہر پر چلا گیا تھا۔ میرے دو بھائی اور محمد کامل و محمد عالم گھر پر ہیں۔ میں نے محمد عالم کا زیور نہیں لیا۔ اُس نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ اسکے پاس میرا روپیہ تھا۔ پانچ چھ سال کی بات ہے۔ باپ کی زمین پر دوسرے بھائی میرے قابض ہیں۔ حصہ پیدا وار لیتا ہوں وہ میری طرف سے کاشت کرتے ہیں۔ جائیداد کی وجہ سے اور سوتیلے بھائی ہونے کی وجہ سے مجھ سے خفا رہتے ہیں۔ سات ماہ سے جہلم سے نکلا ہوا ہوں۔ برہان الدین کا لڑکا محمد کامل کی لڑکی سے منسوب ہے

نوٹ : یہ عبارت مرزا محمود کی ہے۔

ولٰکن رسول اللہ و خاتم النبیین ۱؎ بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا۔ کہ فی الحقیقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔ پھر کیونکر ممکن تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کے رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریف لاوے۔ اس سے تو تمام تار و پود اسلام درہم برہم ہو جاتا۔ اور یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ نبوت سے معطل ہو کر آئے گا“ نہایت بیہودگی اور گستاخی کا کلمہ ہے۔ کیا خدا تعالیٰ کے مقبول اور مقرب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے اپنی نبوت سے معطل ہو سکتے ہیں؟ پھر کونسا راہ اور طریق تھا کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آتے۔ غرض قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خاتم النبیین رکھ کر اور حدیث میں خود آنحضرت نے لَا نَبِيَّ بَعْدِي فرما کر اس امر کا فیصلہ کر دیا تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کے رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا۔ اور پھر اس بات کو زیادہ واضح کرنے کیلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ آنے والا مسیح موعود اسی اُمت میں سے ہوگا۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث اِمَامُكُمْ مِّنْكُمْ اور صحیح مسلم کی حدیث فَامَّكُمْ مِّنْكُمْ جو عین مقام ذکر مسیح موعود میں ہے صاف طور پر بتلا رہی ہے کہ وہ مسیح موعود اسی اُمت میں سے ہو گا۔ !!! پھر دوسرا فیصلہ کہ جو اس بارے میں قرآن اور حدیث نے کر دیا۔ یہ موجود تھا۔ کہ

۱؎ الاحزاب : ۴۰

صفحہ 169

۲۷۴

بات کے کہنے پر عبدالحمید ہمارے پاؤں پر گر پڑا اور زار زار رونے لگا۔ بڑا پشیمان معلوم ہوتا تھا اور کہا کہ میں اب سچ سچ بیان کرتا ہوں جو اصل واقعہ ہے اور تب اُس نے وہ بیان ہمارے رُوبرو دئے کہ جو ہم نے حرف بحرف اسکی زبان سے لکھا اور عدالت میں پیش کیا۔ ہم نے تب ڈپٹی کمشنر بہادر کو تار دی اور گواہ کو گورداسپور لائے۔ وہ جیسے بیان لکھا ہے ہمارے احاطہ میں رہتا ہے اور اپنی مرضی سے جہاں جی چاہتا ہے آتا جاتا ہے۔ آج صبح عبدالحمید نے ہم سے کہا تھا کہ ایک شخص نے (عبدالغنی ۔ یاد دلانے پر گواہ نے نام کی بابت کہا کہ یہی نام ہے) اسکو کہا ہے کہ پہلے بیان کے مطابق پھر بیان لکھوانا ورنہ قید ہو جاؤ گے۔ ہمارے خدمتگاروں نے اُس شخص کو دیکھا تھا جب عبدالحمید ہم کو کہنے آیا تو معلوم ہوا کہ عبدالغنی احاطہ سے چلا گیا تھا۔ ڈاکٹر گرنے صاحب نے ہم سے دریافت کیا تھا اور انہوں نے ہم کو چٹھی لکھی ہے جو پیش کی جاتی ہے۔ حرف ۷ ۔ دستخط بخط انگریزی۔ سُنایا گیا درست ہے۔ تسلیم ہوا۔ دستخط حاکم

نقل بیان وارث دین گواہ بحلف مقدمہ فوجداری اجلاس مسٹر ایم ڈبلیو ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بہادر گورداسپور سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری : مہر عدالت : دستخط حاکم ۲۰ اگست ۱۸۹۷ء ۔ بیان وارث دین گواہ بحلف ۔ ولد احسان علی ذات عیسائی ساکن جنڈیالہ عمر ۲۷-۲۸ سال بیان کیا کہ جب محمد بخش تھانہ دار عبدالحمید کو

بقیہ حاشیہ صفحہ ۲۷۳

تنگ کرنا شروع کیا کہ یسوع نعوذ باللہ لعنتی اور خدا سے دُور اور مہجور تھا۔ تبھی تو مصلوب ہو گیا۔ اور یسوع گو زندہ بچ گیا تھا۔ مگر اُس کا پھر ظالم یہودیوں کے سامنے جانا مصلحت نہ تھی۔ اسلئے عیسائیوں نے یہ بات کہکر پیچھا چھڑایا کہ فلاں عورت یا مرد کے رُوبروئے یسوع لعنت کے دنوں کے بعد آسمان پر چلا گیا ہے۔ مگر یہ بات یا تو بالکل جھوٹا منصوبہ اور یا کسی مراقی عورت کا وہم تھا۔ کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ ہوتا کہ یسوع کو جسم کے سمیت آسمان پر پہنچا دے اور اس طرح پر مشاہدہ کرا کر لعنت کے داغ سے پاک کرے تو ضروری تھا کہ دُشمن

صفحہ 170

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۱۴

نجم الہدیٰ ۔ رازِ حقیقت ۔ کشف الغطاء

ایام الصلح ۔ حقیقۃ المہدی

صفحہ 171

ھدیۃ الاولیاء

بسم اللہ کا عجیب عمل

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب طبع شد

نقاش جمیل احمد ثاقب

تعداد ۱۰۰۰

صفحہ 172

۵۳

اقوم لدعوة الانام - وفعل ما شاء و هو احكم الحاکمین - والله يعلم ما فی قلبی ولا یعلم احد من العالمین ۔ ہ

کرنے کا حکم کیا ۔ اور جو چاہا کیا ۔ اور وہ احکم الحاکمین ہے ۔ ہ

حِبٌّ لَنَا فَمُحَبَّتُه نَتَجَنَّبُ وعن المنازل والمراتب نرغب

ہمارا ایک دوست ہے اور ہم اُس کی محبت سے پُر ہیں۔ اور مراتب اور منازل سے ہمیں بے رغبتی اور نفرت ہے۔

انى ارى الدنيا مُمَحِلَةَ اهلها جَدَبَت وارض ودادنا لا تجدب

میں دیکھتا ہوں کہ دنیا اور اُس کے طالبوں کی زمین قحط زدہ ہو گئی ہے یعنی جلدی تباہ ہو جائیگی اور ہماری محبت کی زمین کبھی قحط زدہ نہیں ہوگی۔

يتمايلون على النعیم وإننا مِلْنَا الى وجه يسر ويطرب

لوگ دنیا کی نعمت پر جھکتے ہیں ۔ مگر ہم اس مُنہ کی طرف جھک گئے ہیں جو خوشی پہنچانے والا اور طرب انگیز ہے۔

انا تعلقنا بنور حبيبنا حتى استنار لنا الذى لا يخشب

ہم اپنے پیار کے دامن سے آویختہ ہیں ایسے کہ جو مکدّر اور شفاف نہیں ہو سکتا وہ بھی ہمارے لئے منور ہو گیا۔

ان العدا صاروا خنازير الفلا ونساء هم من دونهن الاکلب

دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے ۔ اور اُن کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں ۔

آنچہ درخواست کرد که او احکم الحاکمین است و خدا می داند آنچه در دل من است و غیر او ازاں آگاه نه ۔

اشعار

ما را محبوبی است که از حبّ او پر می باشیم ۔ و از مراتب و مناصب بکلی فراغ داریم ۔

می بینم دنیا و زمین طالبانش را قحط براں چیرہ شدہ ولے زمین دوستی ما هموارہ سرسبز خواهد بود ۔

مردم بر نعمتہائے دنیا سر فرود آوردہ اند ولیکن ما میل سوئے روئے آوردہ ایم کہ شادی و خرمی بخشد ۔

ما دست بدامان دوست خود زدہ ایم از ہمیں سبب است کہ آنچہ مکدّر و تیرہ شدہ بود بوجہتِ ما روشن گردیدہ ۔

دشمنان ما خنزیر ہائے بیابان شدہ اند و زنان آنها سگ ماده ہا را در پس انداخته اند ۔

صفحہ 173

ٹائٹل بار اول

الحمدللہ والمنہ کہ یہ رسالہ

موسومہ

ایام الصلح

قیمت فی جلد عدر

تعداد اشاعت ۷۰۰

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم حافظ فضل الدین صاحب

بھیروی مالک مطبع کے مطبوع ہوا

یکم جنوری ۱۸۹۹ء

صفحہ 174

۲۶۵ ایام الصلح

مسلمانوں کے اولوالابصار کو چاہیئے کہ ان سے عبرت پکڑیں اور صرف متشابہات پر نظر رکھ کر تکذیب میں جلدی نہ کریں اور جو باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے کھل جائیں ان سے اپنی ہدایت کے لئے فائدہ اُٹھاویں ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ شک یقین کو دفع نہیں کر سکتا ۔ پس پیشگوئیوں کا وہ حصہ جو ظاہری طور پر ابھی پورا نہیں ہوا وہ ایک امر شکی ہے ۔ کیونکہ ممکن ہے کہ الیاس نبی کے دوبارہ آنے کی طرح وہ حصہ استعارہ یا مجاز کے رنگ میں پورا ہو گیا ہو مگر انتظار کرنے والا اِس غلطی میں پڑا ہو کہ وہ ظاہری طور پر کسی دن پورا ہوگا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض احادیث کے الفاظ محفوظ نہ رہے ہوں ۔ کیونکہ احادیث کے الفاظ وحی متلو کی طرح نہیں اور اکثر احادیث احاد کا مجموعہ ہیں۔ اعتقادی امر تو الگ بات ہے ۔ جو چاہو اعتقاد کرو مگر قطعی اور یقینی فیصلہ یہی ہے کہ احاد میں عندالعقل امکان تغیر الفاظ کا ہے۔ چنانچہ ایک ہی حدیث میں جو مختلف طریقوں اور مختلف راویوں سے پہنچتی ہے اکثر ان کے الفاظ اور ترتیب میں بہت سا فرق ہوتا ہے ۔ حالانکہ وہ ایک ہی وقت میں ایک ہی مونہہ سے نکلی ہے۔ پس صاف سمجھ آتا ہے کہ چونکہ اکثر راویوں کے حفظ اور طرز بیان جدا جدا ہوتے ہیں۔ اس لئے اختلاف پڑ جاتا ہے۔ اور نیز پیشگوئیوں کے متشابہات کے حصہ میں یہ بھی ممکن ہے کہ بعض واقعات پیشگوئیوں کے جن کا ایک ہی دفعہ ظاہر ہونا امید رکھا گیا ہے وہ متفرقاً ظاہر ہوں یا کسی اور شخص کے واسطہ سے ظاہر ہوں۔ جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی کہ قیصر و کسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں آپ کے ہاتھ پر رکھی گئی ہیں۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ پیشگوئی کے ظہور سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے تھے۔ نہ آنجنابؐ نے نہ قیصر نہ کسریٰ کے خزانہ کو دیکھا اور نہ کنجیاں دیکھیں۔ مگر چونکہ مقدّر تھا کہ وہ کنجیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلی طور پر گویا آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی تھا۔ اس لئے عالم وحی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ قرار دیا گیا۔ خلاصہ کلام یہ کہ دھوکا کھانے والے اسی مقام پر دھوکا کھاتے ہیں۔ وہ اپنی بدقسمتی سے پیشگوئی کے ہر ایک حصہ کی نسبت یہ امید رکھتے ہیں کہ

۳۹

صفحہ 175

ایام الصلح

۲۸۴

۱۴۹

ہوچکا ہے کہ یا عیسیٰ انی متوفیک کے یہ معنے ہیں کہ اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گا۔ چنانچہ امام بخاری نے اسی مقام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث لکھی ہے جس میں كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ ہے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہی معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کئے ہیں۔ پھر بعد اس کے جو حضرت عیسیٰ کی وفات کے بارے میں قرآن نے فرمایا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اور عبداللہ بن عباس کے قول میں بھی یہی آیا دوسرے معنے کرنے یہودیوں کی طرح ایک خیانت ہے۔ غور کر کے دیکھ لو کہ تمام قرآن میں بجز روح قبض کرنے کے توفی کے اور کوئی معنے نہیں۔ تمام حدیثوں میں بجز مارنے کے اور کسی محل میں توفّی کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ تمام لغت کی کتابوں میں یہی لکھا ہے کہ جب خدا تعالیٰ فاعل ہو اور کوئی انسان مفعول ہو مثلاً یہ قول ہو کہ توفَّی اللہ زیدًا تو بجز روح قبض کرنے اور مارنے کے اور کوئی معنے نہیں لئے جاویں گے۔ پس جب اس صراحت اور تحقیق سے فیصلہ ہو چکا کہ توفی کے معنے مارنا ہے اور آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی سے ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی توفی عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے ہو چکی ہے۔ یعنی وہ خدا بنائے جانے سے پہلے فوت ہو چکے ہیں۔ تو پھر اب تک اُنکی وفات کو قبول نہ کرنا یہ طریقِ بحث نہیں بلکہ بے حیائی کی قسم ہے۔ خدا تعالیٰ نے چونکہ ان لوگوں کو ذلیل کرنا تھا کہ جو خواہ نخواہ حضرت عیسیٰ کی حیات کے قائل ہیں۔ اس لئے اُس نے نہ ایک پہلو سے بلکہ بہت سے پہلوؤں سے حضرت عیسیٰ کی موت کو ثابت کیا۔ توفی کے لفظ سے موت ثابت ہوئی اور پھر آیت وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل سے موت ثابت ہوئی ٭ اور پھر آیت ما المسیح بن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل سے موت ثابت

٭ قرآن کے محاورہ کے رُو سے جہاں کسی اُمّت پر خلت کا لفظ بولا گیا ہے وہاں اس اُمّت کے لوگ مُراد لی ہے۔ تم ایک بھی ایسی آیت پیش نہ کر سکو گے جس میں کسی انسانی گروہ کو خلت کا مصداق قرآن نے ٹھہرایا ہو اور پھر اس آیت کے معنے موت نہ ہوں بلکہ کچھ اور ہوں۔ یہی وجہ ہے جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس آیت سے تمام نبیوں کی موت پر استدلال کیا ۔ منہ

۱۵۸

۱؎ الِ عمران: ۵۶ ۲؎ المائدۃ : ۱۱۷

صفحہ 176

۳۹۴ ایام الصلح

وَوَجَدَكَ ضَاۤلًّا فَهَدٰى ؂ ۱ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمّی ہونے کی طرح ظاہری علم کسی اُستاد سے نہیں پڑھا تھا ۔ مگر حضرت عیسٰے اور حضرت موسٰے مکتبوں میں بیٹھے تھے۔ اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی اُستاد سے تمام توریت پڑھی تھی۔ غرض اسی لحاظ سے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اُستاد سے نہیں پڑھا خدا آپ ہی اُستاد ہوا ۔ اور پہلے پہل خدا نے ہی آپ کو اِقْرَاْ کہا۔ یعنی پڑھ ۔ اور کسی نے نہیں کہا۔ اس لئے آپ نے خاص خدا کے زیر تربیت تمام دینی ہدایت پائی اور دوسرے نبیوں کے دینی معلومات انسانوں کے ذریعہ سے بھی ہوئے ۔ سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا ۔ سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کریگا ۔ اور قرآن اور حدیث میں کسی اُستاد کا شاگرد نہیں ہو گا ۔ سو میں حلْفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے ۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ مَیں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے ۔ یا کسی مفسّر یا محدّث کی شاگردی اختیار کی ہے ۔ پس یہی مہدویت ہے جو بنبُوّتِ محمّدیہؐ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے ۔ اور اسرارِ دین بلا واسطہ میرے پر کھولے گئے ۔ اور

۱۴۸

جس طرح مذکورہ بالا وجہ سے آنے والا مہدی کہلائے گا اسی طرح وہ مسیح بھی کہلائیگا کیونکہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانیت بھی اثر کرے گی ۔ لہٰذا وہ عیسیٰ ابن مریم بھی کہلائیگا اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے اپنے خاصۂ مہدویت کو اس کے اندر چھوڑا ۔

+ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عبدہ بھی ہے اور اس لئے خدا نے عبدہ نام رکھا کہ اس عبودیت کا مغز خضوع اور ذلّ ہے اور عبودیت کی حالت کا ثمرہ یہ ہے جس میں کسی قسم کا غلوّ اور بلندی اور عُجب نہ رہے اور صاحب اس حالت کا اپنی عملی تکمیل محض خدا کی طرف سے دیکھے ۔ اور کوئی ہاتھ درمیان نہ دیکھے ۱۲ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ کہتے ہیں معبد

نوٹ :۔ یہ مرتبہ مہدویت کا جو بلا احسانِ انسان اپنی تکمیل محض خدا تعالیٰ کی طرف سے دیکھے بجز اس مہدی کامل کے جس کی عملی تکمیل تمام و کمال محض خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ہوئی ہو دوسرے کو میسّر نہیں آسکتا کیونکہ اپنی جد و جہد اور کوشش کا اثر ضرور ایک ایسا خیال پیدا کرتا ہے کہ جو عبودیتِ تامہ کے منافی ہے ۔ اس لئے مرتبہ عبودیت کاملہ بھی بوجہ اس کے جو مرتبہ مہدویت کاملہ کے تابع ہے بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی دوسرے کو بوجہ کمال حاصل نہیں ۔ ذَالِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَاءُ فَاشْهَدُوْا اَنَّا نَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُوْلُه - مِنْهُ

۱۶۸ ۱؂ الضحیٰ : ۷

صفحہ 177

۴۱۹ ایام صلح

یہ کام خدا تعالیٰ نے کیا ہے اور ہندوؤں کے دلوں میں اُس کی عظمت ڈال دی تا ایک نامی آدمی کی نسبت پیشگوئی متواتر ہو کر اُس کا اثر بڑھ جائے اور صفحہ روزگار سے مٹ نہ سکے ۔ اب ۱۴۱ جب تک عزت کے ساتھ لیکھرام کو یاد کیا جائیگا تب تک یہ پیشگوئی بھی ہندوؤں کو یاد رہیگی۔ غرض لیکھرام کو عزت کے ساتھ یاد کرنا پیشگوئی کی قدر و منزلت کو بڑھاتا ہے۔ اگر پیشگوئی کسی چوہڑے چمار اور نہایت ذلیل انسان کی نسبت ہوتی تو کیا قدر ہوتی ؟ سچ ہے مَیں اس خیال سے غمگین تھا کہ پیشگوئی تو پوری ہوئی مگر ایک ایسے معمولی شخص کی نسبت کہ جو پشاور میں سات آٹھ روپیہ کا پولیس کے محکمہ میں نوکر تھا۔ لیکن جب مَیں نے سُنا کہ مرنے کے بعد اُس کی بہت عزت کی گئی تو وہ میرا غم خوشی کے ساتھ بدل گیا۔ اور مَیں نے سمجھا کہ اب لوگ خیال کریں گے کہ ایسے معمولی آدمی پر میری دُعاؤں کا حملہ نہیں ہوا بلکہ اُس پر ہوا جس پر تمام قوم مل کر روئی جس کے مرنے پر بڑا ماتم ہوا جس کے مرثیے بنائے گئے جس کی یادگار رکھنے لئے بہت سا روپیہ اکٹھا کیا گیا۔ سو یہ خدا کا احسان ہے کہ اسطرح پر اُس نے پیشگوئی کو عظمت دی۔ فالحمد للّٰہ علی ذالک

قولہ :۔ کسوف خسوف کی حدیث موضوع ہے ۔

اقول :۔ کسی شیطان نے آپ کو دھوکا دیا ہے ۔ وہ حدیث نہایت صحیح ہے اور صرف دارقطنی میں نہیں بلکہ حدیث کی اور کتابوں میں بھی ہے۔ اور شیعہ میں بھی ہے اور اہل سنّت میں بھی۔ ماسوا اس کے یہ اصول محدثین کا مانا ہوا ہے کہ اگر کسی حدیث کی پیشگوئی پوری ہو جائے اور بالفرض اگر اس حدیث کو موضوع ہی سمجھا گیا تھا تو پوری ہونے کے بعد وہ صحیح حدیث سمجھی جائیگی کیونکہ خدا نے اُس کی سچائی پر گواہی دی۔ کیونکہ خدا کے سوا غیب کی کسی کو طاقت نہیں۔ ٭ حدیث کا علم ایک ظنی علم ہے۔ بسا اوقات ایک حدیث صحیح ہوتی ہے اور ممکن ہے

٭ یہ قرآن شریف میں ہے۔ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُولٍ۔ یعنی کامل طور پر غیب کا بیان کرنا صرف رسولوں کا کام ہے ۔ دوسرے کو یہ مرتبہ عطا نہیں ہوتا ۔ رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یا محدّث اور مجدّد ہوں ۔ منہ

۱؂ الجن : ۲۶ ، ۲۷

۱۹۳

صفحہ 178

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد نمبر ۱۵

مسیح ہندوستان میں ۔ ستارہ قیصریہ ۔ تریاق القلوب

تحفہ غزنویہ ۔ رُئداد جلسہ دعا

صفحہ 179

۱۲۷

انّ ھذا الکتاب یدفع وساوس الخنّاس۔ وفیہ

شفاءٌ للناس۔ وھو یھب السکینة

ویجلو الکروب۔ وسمیتہ ۔

تریاق القلوب

تصنیف

امام ربانی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی

مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسّلام

صفحہ 180

۱۴۲

حالانکہ حضرت مسیح کی مادری بولی عبرانی تھی۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ کبھی حضرت مسیح نے ایک فقرہ یونانی کا بھی کسی سے پڑھا تھا اور نہ حواریوں نے جو اُمّی محض تھے کسی مکتب میں یونانی سیکھی بلکہ وہ ہمیشہ ماہی گیروں کے کام کرتے رہے۔ اب چونکہ عیسائیوں کو یہ سخت مصیبت پیش آئی کہ کوئی عبرانی انجیل موجود نہیں صرف قریباً ساٹھ انجیلیں یونانی میں ہیں جو باہم متناقض ہیں۔ جن میں سے یہ چار چن لی گئیں جو وہ بھی باہم مخالفت رکھتی ہیں۔ بلکہ ہر ایک انجیل اپنی ذات میں بھی مجموعۂ تناقضات ہے۔ ان مشکلات کے لحاظ سے یونانی کو اصل زبان ٹھہرایا گیا ہے۔ لیکن یہ اس قدر بیہودہ بات ہے کہ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ ان پادری صاحبوں نے کس قدر جھوٹ اور جعل سازی پر کمر باندھی ہے حضرت مسیح کے وقت میں رومی سلطنت تھی اور گورنمنٹ کی لاطینی زبان تھی۔ اور حضرت مسیح کو چونکہ گورنمنٹ سے کوئی تعلق ملازمت نہ تھا اور نہ ریاست اور جاہ طلبی کی خواہش تھی۔ اس لئے انہوں نے لاطینی کو بھی نہیں سیکھا۔ وہ ایک مسکین اور عاجز اور غریب طبع اور سادہ وضع انسان تھا۔ اُس کو وہی بولی یاد تھی جو ناصرہ میں اپنی ماں سے سیکھی تھی یعنے عبرانی۔ جو یہودیوں کی قومی بولی ہے اور اسی بولی میں توریت وغیرہ خدا کی کتابیں ص تھیں ؎ غرض یہ چاروں انجیلیں جو یونانی سے ترجمہ ہو کر اس ملک میں پھیلائی جاتی ہیں۔ ایک ذرہ قابل اعتبار نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پیروی میں کچھ بھی برکت نہیں۔ خدا کا جلال اُس شخص کو ہرگز نہیں ملتا جو ان انجیلوں کی پیروی کرتا ہو۔ بلکہ یہ انجیلیں حضرت مسیح کو بدنام کر رہی ہیں۔ کیونکہ ایک طرف تو ان انجیلوں میں سچے عیسائی کی یہ علامتیں ٹھہرائی گئی ہیں کہ وہ آسمانی نشانوں کے دکھلانے پر قادر ہو۔ اور دوسری طرف عیسائیوں کا یہ حال ہے کہ وہ ایک مُردہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایک ذرہ آسمانی برکت ان کے ساتھ نہیں اور کوئی نشان دکھلا نہیں سکتے۔ اس لئے وہ علامتوں کا ذکر کرنے کے وقت ہمیشہ

؎ صلیب پر جبکہ حضرت مسیح کو موت کا سامنا معلوم ہوتا تھا اُس وقت بھی عبرانی فقرہ زبان پر جاری ہوا۔ اور وہ یہ ہے کہ ایلی ایلی لما سبقتانی ۔ منہ

۱۴

صفحہ 181

۱۴۳ ہر مجلس میں شرمندہ ہوتے ہیں اور ناحق اور بیجا تاویلیں کرنی پڑتی ہیں۔ خدا نے مجھے دُنیا میں اس لئے بھیجا کہ تا میں حلم اور خلق اور نرمی سے گم گشتہ لوگوں کو خدا اور اُس کی پاک ہدایتوں کی طرف کھینچوں اور وہ نور جو مجھے دیا گیا ہے اس کی روشنی سے لوگوں کو راہِ راست پر چلاؤں ۔ انسان کو اس بات کی ضرورت ہے کہ ایسے دلائل اُس کو ملیں جن کے رُو سے اُس کو یقین آ جائے کہ خدا ہے ۔ کیونکہ ایک بڑا حصّہ دُنیا کا اسی راہ سے ہلاک ہو رہا ہے کہ ان کو خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی الہامی ہدایتوں پر ایمان نہیں ہے اور خدا کی ہستی کے ماننے کیلئے اس سے زیادہ صاف اور قریب الفہم اور کوئی راہ نہیں کہ وہ غیب کی باتیں اور پوشیدہ واقعات اور آئندہ زمانہ کی خبریں اپنے خاص لوگوں کو بتلاتا ہے اور وہ نہاں در نہاں اسرار جن کا دریافت کرنا انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے اپنے مقربوں پر ظاہر کر دیتا ہے۔ کیونکہ انسان کے لئے کوئی راہ نہیں جس کے ذریعہ سے آئندہ زمانہ کی ایسی پوشیدہ اور انسانی طاقتوں سے بالا تر خبریں اسکو مل سکیں۔ اور بلا شبہ یہ بات سچ ہے کہ غیب کے واقعات اور غیب کی خبریں بالخصوص جن کے ساتھ قدرت اور حکم ہے ایسے امور ہیں جن کے حاصل کرنے پر کسی طور سے انسانی طاقت خود بخود قادر نہیں ہو سکتی سو خدا نے میرے پر یہ احسان کیا ہے جو اس نے تمام دُنیا میں مجھے اس بات کے لئے منتخب کیا ہے کہ تا وہ اپنے نشانوں سے گمراہ لوگوں کو راہ پر لاوے ۔ لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے آسمان سے دیکھا ہے۔ کہ عیسائی مذہب کے حامی اور پیرو یعنے پادری سچائی سے بہت دُور جا پڑے ہیں اور وہ ایک ایسی قوم ہے کہ نہ صرف آپ صراطِ مستقیم کو کھو بیٹھے ہیں بلکہ ہزارہا کوس تک خشکی تری کا سفر کر کے یہ چاہتے ہیں کہ اوروں کو بھی اپنے جیسا کر لیں ۔ وہ نہیں جانتے کہ حقیقی خدا کون ہے بلکہ اُن کا خدا اُنہی کی ایک ایجاد ہے۔ اس لئے خدا کے اُس رحم نے جو انسانوں کے لئے وہ رکھتا ہے تقاضا کیا کہ اپنے بندوں کو اُنکے دام تزویر سے چھڑائے۔ اس لئے اُس نے اپنے اِس مسیح کو بھیجا تا وہ دلائل کے حربہ سے اُس صلیب کو توڑے جس نے حضرت عیسیٰ ۱۵

صفحہ 182

۱۵۲

ایسی پیشگوئی کرنا انسانی طاقتوں میں داخل ہے؟ اگر ہے تو کوئی اس کا مقابلہ کر کے دکھلا دے۔ ایسا ہی جب براہین احمدیہ میں یہ الہام شائع کیا گیا کہ ”میں تجھے ایک نامور انسان بناؤں گا۔ اور لوگوں کے دلوں میں تیری محبت ڈالونگا اور دُور دُور سے لوگ تیرے پاس آئیں گے۔ اور دُور دُور سے تیرے آرام کی چیزیں تجھے پہنچائی جائیں گی “ اس زمانہ کو اب بیس برس گزر گئے اور یہ عاجز اسوقت ایک ایسا گمنام آدمی تھا کہ بجز ایسے دو چار آدمیوں کے کہ جو میرے باپکے وقت سے میرے رو آشنا تھے اور کوئی بھی پنجاب اور ہندوستان سے مجھ کو نہیں جانتا تھا اور نہ مجھ سے ہمدردی اور دوستی کا تعلق رکھتا تھا۔ پھر بعد اسکے اس پیشگوئی کے مطابق لاکھوں انسانوں بلکہ کروڑوں میں یہ مشہور کیا گیا اور کئی ہزار آدمی مجھ سے ہمدردی اور دوستی اور اخلاص کا تعلق رکھنے والے پیدا ہو گئے اور ہندوستان کے کناروں تک بلکہ برہما اور بندر عباس اور مدراس اور پشاور اور حیدر آباد اور افریقہ اور کابل کے ملک سے انواع واقسام کے تحفے لوگوں نے بھیجے اور میرے سلسلہ کیلئے پیسے روپیہ سے مدد کی اور ہمیشہ کرتے ہیں پس یہ مقامِ رقت اور وجد کا ہے کہ کیونکر اُس وقت اس زمانہ کی پیشگوئیاں جبکہ میں ایک ہیچ اور ذلیل چیز کی طرح اس جنگل میں پڑا تھا۔ نہایت کروفر اور شان و شوکت سے پوری ہو گئیں۔ اپنے دلوں میں غور کرو اور عقلمندوں سے پوچھو کہ کیا اِس قسم کی پیشگوئیوں میں انسانی طاقت کا دخل ہے۔٭ بعض نادان جن کو تعصب نے اندھا کر دیا ہے کہتے ہیں کہ اگر چہ بعض پیشگوئیاں سچی نکلیں جیسا کہ احمد بیگ کے فوت ہونے کی اور لیکھرام کے قتل کئے جانے کی اور لاہور کے جلسۂ اعظم مذاہب

٭ خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ میری پیشگوئی سے صرف اس زمانہ کے لوگ ہی فائدہ نہ اُٹھائیں بلکہ بعض پیشگوئیاں ایسی ہوں کہ آئندہ زمانہ کے لوگوں کیلئے ایک عظیم الشان نشان ہوں جیسا کہ براہین احمدیہ وغیرہ کتابوں کی پیشگوئیاں کہ ”میں تجھے اَسّی برس یا چند سال زیادہ یا اس سے کچھ کم عمر دوں گا اور مخالفوں کے ہر ایک الزام سے تجھے بری کرونگا اور تجھے ایک بڑا خاندان بناؤں گا۔ اور تجھ سے ایک عظیم الشان انسان پیدا کروں گا اور تیرے تابعین سے دنیا بھر جائیگی اور وہ ہمیشہ دُوسروں پر غالب رہیں گے۔ اور تو ہلاک نہیں ہوگا جبتک کہ راستی کے دلائل کو زمین پر قائم نہ کرلے اور جبتک کہ خبیث اور طیّب میں فرق پیدا نہ ہولے۔ اور خدا تجھے اسقدر برکت دیگا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“۔ منہ

۲۴

صفحہ 183

۲۰۱

نور احمد نے کہا کہ خدا کی قدرت سے کیا تعجب کہ وہ لڑکا دے۔ اس سے قریباً تین برس کے بعد جیسا کہ ابھی لکھتا ہوں دہلی میں میری شادی ہوئی اور خدا نے وہ لڑکا بھی دیا اور تین اور عطا کئے۔ اس بیان کی تمام یہ لوگ تصدیق کریں گے بشرطیکہ قسم نمونہ نمبر ۳ دے کر پوچھا جائے۔ اور حافظ نور احمد سخت مخالف ہے مگر نمونہ نمبر ۳ کی قسم اس کو بھی سچ بولنے پر مجبور کرے گی۔

بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعۃ السنۃ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اُس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آجکل کوئی الہام ہوا ہے ؟ میں نے اسکو یہ الہام سنایا۔ جس کو مَیں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ بِکْرٌ وَّ ثَیِّبٌ ۔ جس کے یہ معنے اُس کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کئے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک بکر ہو گی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہو گیا۔ اور اسوقت بفضلہ تعالیٰ چار پسر اِس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے میں نہیں یقین کر سکتا کہ مولوی محمد حسین بوجہ شدّتِ عناد اور تعصب اِس پیشگوئی کی نسبت اپنی واقفیت بیان کرسکے۔ لیکن اگر حلف مطابق نمونہ نمبر ۳ دیجائے تو اِس صورت میں اُمید ہے کہ سچ بول دے۔

قادیان اور لالہ ملاوامل کھتری ساکن قادیان اور جان محمد مرحوم ساکن قادیان اور ۳۵ بہت سے اور لوگوں کو یہ خبر دی تھی کہ خدا نے اپنے الہام سے مجھے اطلاع دی ہے کہ

۷۳

صفحہ 184

۲۱۷

یعنے کچھ تھوڑا عرصہ صبر کر کہ میں تجھے ایک پاک لڑکا عنقریب عطا کرونگا۔ اور یہ پنجشنبہ کا دن تھا اور ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ کی دوسری تاریخ تھی جبکہ یہ الہام ہوا۔ اور اس الہام کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا ۔ ربّ اصلح زوجتی ھذہ ؂ یعنے اے میرے خدا میری اِس بیوی کو بیمار ہونے سے بچا۔ اور بیماری سے تندرست کر۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس بچہ کے پیدا ہونے کے وقت کسی بیماری کا اندیشہ ہے۔ سو اس الہام کو مَیں نے اس تمام جماعت کو سُنا دیا جو میرے پاس قادیان میں موجود تھے اور اخویم مولوی عبدالکریم صاحب نے بہت سے خط لکھ کر اپنے تمام معزز دوستوں کو اس الہام سے خبر کر دی ۔ اور پھر جب ۱۴؍ جون ۱۸۹۹ء کا دن چڑھا جسپر الہام مذکورہ کی تاریخ کو جو ۱۳؍ اپریل ۱۸۹۹ء کو ہوا تھا۔ پورے دو مہینے ہوتے تھے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُسی لڑکے کی مجھ میں رُوح بولی اور الہام کے طور پر یہ کلام اُس کا مَیں نے سُنا۔ انّی اسقط من اللہ واصیبہ۔ یعنے اب میرا وقت آگیا۔ اور مَیں اب خدا کی طرف سے اور خدا کے ہاتھوں سے زمین پر گرونگا۔ اور پھر اسی کی طرف جاؤں گا۔ اور اسی لڑکے نے اسی طرح پیدائش سے پہلے یکم جنوری ۱۸۹۸ء میں بطور الہام یہ کلام مجھ سے کیا اور مخاطب بھائی تھے کہ مجھ میں اور تم میں ایک دن کی میعاد ہے۔ یعنے اے میرے بھائیو۔ مَیں پورے ایک دن کے بعد تمہیں ملوں گا۔ اِس جگہ ایک دن سے مراد دوؔ برس تھے۔ اور تیسرا برس وہ ہے جس میں پیدائش ہوئی۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں۔ اور پھر بعد اسکے ۱۴؍ جون ۱۸۹۹ء کو وہ پیدا ہوا۔ اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا۔ اُسی مناسبت کے

٭ بچہ پیدا ہونے کے بعد جیسا کہ الہام کا منشاء تھا میری بیوی بیمار ہو گئی چنانچہ ابتک بعض عوارض مرض موجود ہیں اور اعراض شدیدہ سے بفضلہ تعالیٰ صحت ہو گئی ہے۔ منہ ٭

۸۹

لحاظ سے اُس نے دنوں میں سے چو بچہ چوتھا گھنڈلی عقیقہ ہوا۔ اور ا امساکِ باراں ک یہ چار لڑ میں خدا تعالیٰ نے طور پر لوگوں کو س لاکھوں انسانوں میں اس حقیر الشا پاؤ گے کہ اوّل تو ہر ایک لڑکے ک ہونے والا ہے۔

۷۲

تمام دنیا میں چھپو پیدا ہونے کی خب ہر چہار لڑکوں میں نے صریح طور پر ا ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء رکھا گیا۔ تب میں اب ناظر ہوں کہ کس کس

صفحہ 185

۲۱۸

لحاظ سے اس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا یعنے ماہ صفر۔ اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا یعنے چہار شنبہ۔ اور دن کے گھنٹوں میں سے دوپہر کے بعد چوتھا گھنٹہ لیا۔ اور پیشگوئی ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے مطابق پیر کے دن اس کا عقیقہ ہوا۔ اور اس کی پیدائش کے دن یعنی بروز چہار شنبہ جو چوتھے گھنٹہ میں کئی دن کے امساک باراں کے بعد خوب بارش ہوئی۔

یہ چار لڑکے ہیں جن کی پیدائش سے پہلے ان کے پیدا ہونے کے بارے میں خدا تعالیٰ نے ہر ایک دفعہ پہلے خبر دی اور یہ ہر چہار پیشگوئی نہ صرف زبانی طور پر لوگوں کو سنائی گئیں بلکہ پیش از وقت اشتہاروں اور رسالوں کے ذریعہ لاکھوں انسانوں میں مشتہر کی گئیں۔ اور پنجاب اور ہندوستان میں بلکہ تمام دُنیا میں اس عظیم الشان غیب گوئی کی نظیر نہیں ملے گی۔ اور کسی کی کوئی پیشگوئی ایسی نہیں پاؤ گے کہ اوّل تو خدا تعالیٰ نے چار لڑکوں کے پیدا ہونے کی اکٹھی خبر دی ہو۔ پھر ہر ایک لڑکے کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے الہام سے اطلاع کر دی کہ وہ پیدا

۴۷

ہونے والا ہے۔ اور پھر وہ تمام پیشگوئیاں لاکھوں انسانوں میں شائع کی جائیں۔ تمام دُنیا میں پھرو۔ اگر اس کی کہیں نظیر ہے تو پیش کرو۔ اور عجیب تر یہ کہ چار لڑکوں کے پیدا ہونے کی خبر جو سب سے پہلے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں دی تھی اُسوقت ہر چہار لڑکوں میں سے ابھی ایک بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ اور اشتہار مذکور میں خدا تعالیٰ نے صریح طور پر پسر چہارم کا نام مبارک رکھ دیا ہے۔ دیکھو صفحہ ۳۔ اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء دُوسرے کالم کی سطر نمبر ۸۔ سو جب اس لڑکے کا نام مبارک احمد رکھا گیا۔ تب اس نام رکھنے کے بعد یکدفعہ وہ پیشگوئی ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کی یاد آگئی۔

اب ناظرین کے یاد رکھنے کے لئے ان ہر چہار پسر کی نسبت یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ کس کس تاریخ میں ان کے تولّد کی نسبت پیشگوئی ہوئی اور پھر کس کس تاریخ

۹۰

صفحہ 186

۲۷۹

اور رسولوں اور محدثوں کے بارے میں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں اور تمام قوموں کے لئے واجب الاطاعت ٹھہرتے ہیں۔ قدیم سے خدا تعالیٰ کا ایک خاص قانون ہے جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔

ہم اِس سے پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ ایسے اولیاء اللہ جو مامور نہیں ہوتے۔ یعنے نبی یا رسول یا محدث نہیں ہوتے اور اُن میں سے نہیں ہوتے جو دُنیا کو خدا کے حکم اور الہام سے خدا کی طرف بُلاتے ہیں۔ ایسے ولیوں کو کسی اعلیٰ خاندان یا اعلیٰ قوم کی ضرورت نہیں، کیونکہ اُن کا سب معاملہ اپنی ذات تک محدود ہوتا * منہ ہے۔ لیکن ان کے مقابل پر ایک دُوسری قوم کے ولی ہیں جو رسول یا نبی یا محدث کہلاتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک منصبِ حکومت اور قضا کا لیکر آتے ہیں اور لوگوں کو حکم ہوتا ہے کہ ان کو اپنا امام اور سردار اور پیشوا سمجھیں۔ اور جیسا کہ وہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اس کے بعد خدا کے اُن نائبوں کی اطاعت کریں۔ اِس منصب کے بزرگوں کے متعلق قدیم سے خدا تعالیٰ کی یہی عادت ہے کہ اُنکو اعلیٰ درجہ کی قوم اور خاندان میں سے پیدا کرتا ہے۔ تا اُنکے قبول کرنے اور اُنکی اطاعت کا جُوا اُٹھانے میں کسی کو کراہت نہ ہو۔ اور چونکہ خدا نہایت رحیم و کریم ہے اِس لئے نہیں چاہتا کہ لوگ ٹھوکر کھائیں۔ اور اُن کو ایسا ابتلا پیش آوے جو اُنکو اِس سعادتِ عظمیٰ سے محروم رکھے کہ وہ اُس کے مامور کے قبول کرنے سے اِس طرح پر رُک جائیں کہ اس شخص کی نیچ قوم کے لحاظ سے ننگ اور عار اُنپر غالب ہو۔ اور وہ دلی نفرت کے ساتھ اِس بات سے کراہت کریں کہ اُسکے تابعدار بنیں اور اُسکو اپنا بزرگ قرار دیں۔ اور انسانی جذبات اور تصورات پر نظر کر کے یہ بات خوب ظاہر ہے کہ یہ ٹھوکر طبعاً نوعِ انسان کو پیش آجاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنے بھنگی ہے۔ اور ایک

۱۵۱

صفحہ 187

۲۸۰

گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دو وقت اُنکے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرتے آتا ہے اور اُنکے پاخانوں کی نجاست اُٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہوکر اُس کی رسوائی ہو چکی ہے۔ اور چند سال جیلخانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے بُرے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اُسکو جوتے بھی مارے ہیں اور اُسکی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مُردار کھاتے اور گُوہ اُٹھاتے ہیں۔ اَب خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہوکر مسلمان ہو جائے۔ اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل اسپر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بنجائے اور اُسی گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لیکر آوے اور کہے کہ جو شخص تم میں سے میری اطاعت نہیں کریگا خدا اُسے جہنم میں ڈالے گا۔ لیکن باوجود اِس امکان کے جب سے کہ دُنیا پیدا ہوئی ہے کبھی خدا نے ایسا نہیں کیا۔ کیونکہ ایسا کرنا اُسکی حکمت اور مصلحت کے خلاف ہے اور وہ جانتا ہے کہ لوگوں کے لئے یہ ایک فوق الطاقت ٹھوکر کی جگہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو پُشت دَر پُشت رذیل چلا آتا ہے اور لوگوں کی نظر میں نہ صرف وہ نیچ ہے بلکہ اُس کا باپ اور دادا اور پڑدادا اور جہانتک معلوم ہے قوم کے نیچ ہیں اور ہمیشہ سے شریر اور بدکار ہوتے چلے آئے ہیں۔ اور مویشیوں کی طرح اُدنیٰ خدمتیں کرتے رہے ہیں۔ اَب اگر لوگوں سے اُسکی اطاعت کرائی جائے تو بلاشبہ لوگ اُسکی اطاعت سے کراہت کریں گے۔ کیونکہ ایسی جگہ میں کراہت کرنا انسان کیلئے ایک طبعی امر ہے۔ اِسلئے خدا تعالیٰ کا قدیم قانون اور سُنّت یہی ہے کہ وہ صرف اُن لوگوں کو منصبِ دعوت یعنے نبوّت وغیرہ پر مامور کرتا ہے جو اعلیٰ خاندان میں سے ہوں۔ اور ذاتی طور پر بھی چال چلن اچھے رکھتے

۱۵۷

صفحہ 188

۲۸۵

شاہی خاندان ہے اور بنی فارس اور بنی فاطمہ کے خون سے ایک معجون مرکب ہے۔ یا شہرتِ عام کے لحاظ سے یوں کہو کہ وہ خاندان مغلیہ اور خاندان سادات سے ایک ترکیب یافتہ خاندان ہے۔ مگر میں اسپر ایمان لاتا اور اسی پر یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے خاندان کی ترکیب بنی فارس اور بنی فاطمہ سے ہے۔ کیونکہ اسی پر الہام الٰہی کے تواتر نے مجھے یقین دلایا ہے اور گواہی دی ہے۔

نعمتی رئیت خدیجتی انک الیوم لذو حظ عظیم ۔ ترجمہ ۔ میری نعمت کا شکر کر ۔ تو نے میری خدیجہ کو پایا آج تو ایک حظِ عظیم کا مالک ہے۔ براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۸ ۔ اور اسی زمانہ کے قریب ہی یہ بھی الہام ہوا تھا بکر و ثیب یعنی ایک کنواری اور ایک بیوہ تمہارے نکاح میں آئے گی۔ یہ مؤخر الذکر الہام مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کو بھی سنا دیا گیا تھا۔ لیکن الہام مذکورہ بالا جس میں خدیجہ کے پانے کا وعدہ ہے۔ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۵۸ میں درج ہوکر نہ صرف محمد حسین بلکہ لاکھوں انسانوں میں اشاعت پا چکا تھا۔ ہاں شیخ محمد حسین مذکور ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کو سب سے زیادہ اس پر اطلاع ہے۔ کیونکہ اُس نے براہین احمدیہ کے چاروں حصوں کا ریویو لکھا تھا اور اسکو خوب معلوم تھا کہ ان صفات کی ایک باکرہ بیوی کا وعدہ دیا گیا ہے۔ جو خدیجہ کی اولاد میں سے یعنی سیّد ہوگی۔ جیسا کہ الہام موصوفہ بالا میں آیا ہے۔ کہ تو میرا شکر کر اِس لئے کہ تو نے خدیجہ کو پایا یعنی تو خدیجہ کی اولاد کو پائے گا۔ اِسی کی تائید میں وہ الہام ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۲ حاشیہ دوم اور صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔ اردت ان استخلف فخلقت آدم۔

۱۵۹

ہے کہ نور اور نو قتل ہونے کے آواز ہوتی ہے اور جو خوار ۔ یہ نع اور نصب ۔ خدا تعالیٰ کی تائید آئینہ کمالات دانشمند سمجھ سکتا طبعی موت سے فانی سے کوچ موت پر دلا

عیسائیوں عرصہ میں تکلیفوں ہو جاویں دیکھتے ا ڈرانے اور نہ کاذب

صفحہ 189

۳۸۱

ہے کہ خوّار اور خوار کے لفظ کو انسان پر اُس حالت میں بھی بولتے ہیں کہ جب وہ قتل ہونے کے وقت فریاد کرتا ہے۔ اور قتل کرنے کے وقت جو ہتھیار کی آواز ہوتی ہے اُس کا نام بھی خوار ہے۔ اور جیسا کہ ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ پیشگوئی یعنے عجل جسد لہ خوار۔ لہ نصب وعذاب ۔ اپنے ان دو لفظوں کے رُو سے جو خوار اور نصب ہے لیکھرام کے قتل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اسی کے موافق خدا تعالیٰ کی تفہیم سے ہم نے وہ اشعار اور نیز چند سطریں نثر کی لکھی ہیں جو کتاب آئینہ کمالاتِ اسلام کے پانچویں ضمیمہ میں درج ہیں جن پر نظر غور کر کے ایک دانشمند سمجھ سکتا ہے کہ ان بیانات سے صاف واضح ہوتا ہے کہ لیکھرام اپنی طبعی موت سے نہیں بلکہ بذریعہ قتل پیشگوئی کے مفہوم کے مطابق اس جہانِ فانی سے کوچ کرے گا۔ چنانچہ اس ضمیمہ کے صفحہ ۲ کی عبارت جو اس صورتِ موت پر دلالت کرتی ہے یہ ہے:۔

"اب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں (بیماریوں) سے نرالا اور خارق عادت (یعنے طبعی موتوں سے جو عادت میں داخل ہیں الگ ہو) اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو (یعنے انسان سمجھ سکتا ہو کہ یہ ایک ناگہانی آفت ہے جو دلوں پر ایک ڈرانے والا اثر کرتی ہے) تو سمجھو کہ مَیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اُس کی رُوح سے میرا یہ نطق ہے۔ اور اگر میں اس پیشگوئی میں کاذب نکلا (یعنے اگر ہیبت ناک طور پر لیکھرام کی موت نہ ہوئی)

۲۵۳

صفحہ 190

۳۸۲

تو ہر ایک سزا بھگتنے کے لئے میں تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسّہ ڈال کر کسی سُولی پر کھینچا جائے ۔ اور باوجود میرے اِس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے ۔ زیادہ اِس سے کیا لکھوں ۔ اب آریوں کو چاہیئے کہ سب ملکر دُعا کریں کہ یہ عذاب اُن کے اِس وکیل سے ٹل جائے “ فقط

اور صفحہ ایک کے اشعار اسی ضمیمہ میں جو لیکھرام کی صورتِ مَوت پر بلند آواز سے دلالت کرتے ہیں یہ ہیں :-

عجب نوریست در جانِ محمدؐ تجلّے ہست در کانِ محمدؐ
زظلمتہا دلے آگہ شود صاف کہ گردد از محبّانِ محمدؐ
عجب دارم دل آں ناقصاں را کہ رُو تابند از خوانِ محمدؐ
ندانم ہیچ نفسے در دو عالم کہ دارد شوکت و شانِ محمدؐ
خدا زاں سینہ بیزارست صد بار کہ ہست از کینہ دارانِ محمدؐ
خُدا خود سوزد آں کرمِ دنی را کہ باشد از عُدُوّانِ محمدؐ
اگر خواہی نجات از مستیٔ نفس بیا در ذیلِ مستانِ محمدؐ
اگر خواہی کہ حق گوید ثنایَت بشو از دل ثنا خوانِ محمدؐ
اگر خواہی دلیلے عاشقش باش محمدؐ ہست بُرہانِ محمدؐ
سرے دارم فدائے خاکِ احمدؐ دلم ہر وقت قربانِ محمدؐ
بگیسوئے رسول اللہ کہ ہستم نثارِ رُوئے تابانِ محمدؐ
دریں رہ گر کُشندم ور بسوزند نتابم رُو زِ ایوانِ محمدؐ
بکارِ دیں نترسم از جہانے کہ دارم رنگِ ایمانِ محمدؐ

۲۵۴

صفحہ 191

۴۷۹

جسپر بکمال و تمام دورہ حقیقت آدمیہ ختم ہو ۔ وہ خاتم الاولاد ہو۔ یعنے اس کی موت کے بعد کوئی کامل انسان کسی عورت کے پیٹ سے نہ نکلے ۔ اب یاد رہے کہ اس بندہ حضرت احدیت کی پیدائش جسمانی اس پیشگوئی کے مطابق بھی ہوئی ۔ یعنے میں توام پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جسکا نام جنت تھا ۔ اور یہ الہام کہ یا آدم اسکن انت و زوجك الجنۃ جو آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے۔ اس میں جو جنت کا لفظ ہے اس میں یہ ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی جو میرے ساتھ

ص ۱۵۶

پیدا ہوئی اسکا نام جنت تھا۔ اور یہ لڑکی صرف سات ماہ تک زندہ رہ کر فوت ہو گئی تھی۔ غرض چونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام اور الہام میں مجھے آدم صفی اللہ سے مشابہت دی تو یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا۔ کہ اس قانونِ قدرت کے مطابق جو مراتب وجود دوریہ میں حکیم مطلق کی طرف سے چلا آتا ہے۔ مجھے آدم کی خُو اور طبیعت اور واقعات کے مناسب حال پیدا کیا گیا ہو۔ چنانچہ وہ واقعات جو حضرت آدم پر گذرے ۔ منجملہ اُن کے یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش زوج کے طور پر تھی۔ یعنے ایک مرد اور ایک عورت ساتھ تھی۔ اور اسی طرح پر میری پیدائش ہوئی۔ یعنے جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا۔ اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا۔ اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا۔ اور میں اُن کیلئے خاتم الاولاد تھا۔ اور یہ میری پیدائش کی وہ طرز ہے جس کو بعض اہل کشف نے مہدی خاتم الولایت کی علامتوں میں سے لکھا ہے اور بیان کیا ہے کہ وہ آخری مہدی جس کی وفات کے بعد اور کوئی مہدی پیدا نہیں ہوگا۔ خدا سے براہِ راست

۴۵۱

صفحہ 192

ٹائیٹل طبع اول

الحمد للہ

والمنّۃ کہ رسالہ ہذا

از تصنیفات حضرت

امام ہمام مسیح موعود و مہدی معہود

جناب مرزا غلام احمد صاحب نصرہ اللہ وایّدہ

الموسوم بہ

تحفہ غزنویہ

١٩٠٢ء

بماہ اکتوبر

پیکٹ

۴

وی پی

۱ ر

مطبع ضیاء الاسلام قادیان ضلع

گورداسپور میں باہتمام حکیم حافظ

فضل الدین صاحب

بھیروی مالک مطبع

چھپکر شائع

ہوا

محصول ڈاک

۱ ر

قیمت

۴

تعداد اشاعت

۷۰۰

صفحہ 193

۵۸۰

ابوبکر نے الشاکرین تک یہ آیت پڑھکر سنائی۱۲ کہا راوی نے پس بخدا گویا لوگ اس سے بے خبر تھے کہ یہ آیت بھی خدا نے نازل کی ہے۔ اور ابوبکر کے پڑھنے سے اُن کو پتہ لگا۔ پس اس آیت کو تمام صحابہ نے ابوبکر سے سیکھ لیا۔ اور کوئی بھی صحابی یا غیر صحابی باقی نہ رہا جو اس آیت کو پڑھتا نہ تھا۔ اور عمر نے کہا کہ بخدا میں نے یہ آیت ابوبکر سے ہی سنی جب اس نے پڑھی۔ پس میں اُس کے سُننے سے ایسا بے حواس اور زخمی ہو گیا ہوں کہ میرے پیر مجھے اُٹھا نہیں سکتے اور میں اُس وقت سے زمین پر گرا جاتا ہوں جب سے کہ میں نے یہ آیت پڑھتے سُنا۔ اور یہ کلمہ کہتے سُنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔ اور اس جگہ قسطلانی شرح بخاری کی یہ عبارت ہے۔ وعمر بن الخطاب یكلم الناس يقول لهم ما مات رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم .... ولا يموت حتى ۴۸ يقتل المنافقین۔ یعنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے باتیں کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے۔ اور جب تک منافقوں کو قتل نہ کرلیں فوت نہیں ہونگے اور ملل و نحل شہرستانی میں اس قصہ کے متعلق یہ عبارت ہے۔ قال عمر بن الخطاب من قال ان محمدا

٭ اس آیت کا اگلا فقرہ یعنے افان مات او قتل صاف بتلا رہا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک گزر جانا صرف دو قسم پر ہے یا بذریعہ موت حتف انف اور یا بذریعہ قتل اور خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ گزر جانا اس طرح بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص زندہ بجسم عنصری آسمان پر چلا جائے۔ پس جبکہ خدا تعالیٰ نے گزر جانے کی تشریح لفظ افان مات او قتل سے آپ کر دی اور امر حصر کر دیا تو اسکے بعد نہ ماننا کسی صالح مومن کا کام نہیں۔ منہ

※ الملل لابی الفتح الامام محمد بن عبد الكريم الشهرستاني المتوفی ۵۴۸ھ قال التاج السبکی فی طبقاتہ کتاب الملل والنحل للشہرستانی ھو عندی خیر کتاب فی ھذا الباب صفحہ ۶۔ منہ

۵۰

صفحہ 194

۵۸۱ مات فقتلته بسيفى هذا ۔ وانما رفع الى السماء كما رفع عيسى ابن مريم عليه السلام وقال ابو بكر بن قحافه من كان يعبد محمداً فان محمداً قد مات ومن كان يعبد اله محمد فانه حى لا يموت وقرء هذه الآية وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افائن مات او قتل انقلبتم على اعقابكم فرجع القوم الى قوله ۔ دیکھو ملل نحل جلد ثالث ۔ ترجمہ یہ ہے کہ عمر خطاب کہتے تھے کہ جو شخص یہ کہیگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔ تو میں اپنی اسی تلوار سے اُس کو قتل کر دونگا۔ بلکہ وہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں جیسا کہ عیسیٰ بن مریم اُٹھائے گئے اور ابوبکر نے کہا کہ جو شخص محمد صلی اللہ ص ۴۹ علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے تو وہ تو ضرور فوت ہو گئے ہیں۔ اور جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی عبادت کرتا ہے تو وہ زندہ ہے نہیں مرے گا۔ یعنے ایک

٭ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ جو شخص حضرت سیدنا محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ کلمہ منہ پر لائے گا کہ وہ مر گئے ہیں تو میں اس کو اپنی اسی تلوار سے اسکو قتل کر دونگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کو اپنے کسی خیال کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر بہت غلو ہو گیا تھا اور وہ اس کلمہ کو جو آنحضرت مر گئے کلمہ کفر اور ارتداد سمجھتے تھے۔ خدا تعالیٰ ہزارہا نیک اجر حضرت ابو بکر کو بخشے کہ جلد تر انھوں نے اس فتنہ کو فرو کر دیا اور نص صریح کو پیش کر کے بتلا دیا کہ گذشتہ تمام نبی مر گئے ہیں اور جیسا کہ انھوں نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ کو قتل کیا درحقیقت اس تصریح سے بھی بہت سے فج اعوج کے کذابوں کو تمام صحابہ کے اجتماع سے قتل کر دیا۔ گویا چار کذاب نہیں بلکہ پانچ کذاب مارے ۔ یا الٰہی ان کی جان پر کروڑہا رحمتیں نازل کر آمین ۔ اگر اس جگہ خلت کے یہ معنے کئے جائیں کہ بعض نبی زندہ آسمان پر جا بیٹھے ہیں تب تو اس صورت میں حضرت عمر حق بجانب ٹھہرتے ہیں اور یہ آیت انکو ص ۴۹

۱؎ آل عمران : ۱۴۵ ۵۱

صفحہ 195

۵۸۸

و انار القلوب ونشط الفاتر ۔ وكانوا قبل ذالك غرض اللظى ۔ او كرجل التهبت احشاءه بالطوى بما عيل صبرهم بموت النبى سيدهم المصطفى محمد المجتبى وما قلقت قلوبهم وصار فوادهم فارغا بما فقد واحبّهم خير الورى وكانوا كالمبهوتين فاذا قام عبدالله الصديق ۔ فتح عليهم باب التحقيق ۔ و ارواهم من هذا الرحيق ۔ وقُضى الامر و أزيل الشبهات ۔ وسكنت الاصوات ۔ وانعقد الاجماع على موت المسيح وسائر الانبياء الماضين بل هو اوّل ما اجمع عليه الصحابة بعد موت خاتم النبيين ۔ و لهذا ۵۵ الاجماع شان اكبر من اجماع انعقد على خلافة ابى بكر الصديق فآن الصحابة اتفقوا عليه كلهم وما بقى من فريق ۔ وقبلوا ذالك الامر من غير تردد و توقف بل باتم الاذعان و اليقين ۔ وكان كلهم يتلون الآيت و يُقِرُّون بموت الرسل ويبكون على موت سيّد المرسلين ۔ حتى اذا سمع الفاروق الآية قال عُقِرْت وما تقلنى رجلاي وكان من الحزن كالمجانين ۔ وقال حسّان وهو يرثى رسول الله صلى الله عليه وسلم : ۔

كنت السواد لناظرى فعمى عليك الناظر ٭ من شاء بعدك فليمت فعليك كنت احاذر

يعنى اى سيّدى وحبيبى كنت قرة عينى فَفُقِدَ نُور عينى بفقدانك ولا ابالى بعدك ان يموت عيسى او موسى او نبى آخر فانى كنت عليك اخاف فاذا متّ فليمت من كان من السابقين وفى هذه اشارة الى ان الآية التى تلاها الصديق نبّهت الصحابة على موت الانبياء كلهم فما بقى لهم همّ فى شانهم مثقال ذرّة وما كانوا متاسفين ۔ بل استبشروا بموت الجميع بعد موت رسولهم الامين ۔ لو كان الامر خلاف ذالك اعنى ان ثبت حيوة احد من الانبياء السابقين بنص القرآن وبآية من

۵۸

صفحہ 196

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۱۶

خُطبَۃُ الہامیّہ ۔ لُجَّۃُ النُّوْر

صفحہ 197

ٹائیٹل بار اول

هذا هو الكتاب الذى الهمت حصة منه من رب العباد . فى يوم عيد من الاعياد . فقرأته على الحاضرين . بانطاق الروح الامين . من غير مدد الترقيم والتمرين . فلاشك انه آية من الآيات . وما كان لبشر ان ينطق كمثلى مرتجلا مستحضرا فى مثل هذه العبارات . وكان الناس يرقبون طبعه رقبة يوم العيد ويستطلعون بعيون المشتاق المريد . فالحمد لله الذى اراهم مقصودهم بعد الانتظار . ووجدوا مطلوبهم كبستان مذللة اغصانه من الثمار . وانه صنيعة احسان الحضرة . ومطية تبليغ الناس الى السعادة وانه غيث من الله بعد ما أمْحَلَتِ البلاد وعم الفساد . ولن تجد هذه المعارف فى الآثار المقتفاة المدوَّنة من الثقات . بل هى حقائق اوحيت الىّ من رب الكائنات . وانه اظهار تام . وهل بعد المسيح يكتم . وهل بعد خاتم الخلفاء يخفى السّر حتم . وليس من العجب ان تسمع من خاتم الائمة . نخبة ما سمعت من قبلُ من علماء الملة . بل العجب كل العجب ان يأتى المسيح الموعود والامام المنتظر وتكفره الناس وخاتم الخلفاء ثم لا يأتى بمعرفة جديدة من حضرة الكبرياء . ويتكلم ككلم العامة من العلماء ولا يفرق فرقا بينا بين الظلمة والضياء . وانى سميت هذه الرسالة

خُطْبَةُ الْاِلْهَامِيَّة

وَالَّتِيْ عُلِّمْتُهَا اِلْهَامًا مِّنْ رَّبِّيْ كَانَتْ اٰيَةً

ثمن نسخة واحدة ٤ آنہ وانها طبعت فى مطبع ضياء الاسلام قاديان باهتمام الحكيم فضل الدين البھيروى فى سنة ١٣١٩ من الهجرة المقدسة تعداد الاشاعة ٢١٠٠

صفحہ 198

۱۷ خطبہ الہامیہ

پاک رسول محمد صلے اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی کی ہے اور سب خدا جو بنائے گئے ہیں باطل ہیں۔ کیوں باطل ہیں؟ اس لئے کہ اُن کے ماننے والے کوئی برکت اُن سے پا نہیں سکتے۔ کوئی نشان دکھا نہیں سکتے۔

دوسرے وہ لالٹین جو اس منارہ کی دیوار میں نصب کی جائیگی اس کے نیچے حقیقت یہ ہے کہ تا لوگ معلوم کریں کہ آسمانی روشنی کا زمانہ آگیا۔ اور جیسا کہ زمین نے اپنی ایجادوں میں قدم آگے بڑھایا ایسا ہی آسمان نے بھی چاہا کہ اپنے نوروں کو بہت صفائی سے ظاہر کرے۔ تا حقیقت کے طالبوں کے لئے پھر تازگی کے دن آئیں۔ اور ہر ایک آنکھ جو دیکھ سکتی ہے آسمانی روشنی کو دیکھے اور اُس روشنی کے ذریعہ سے غلطیوں سے بچ جائے۔

تیسرے وہ گھنٹہ جو اس منارہ کے کسی حصہ دیوار میں نصب کرایا جائے گا اس کے نیچے یہ حقیقت مخفی ہے کہ تا لوگ اپنے وقت کو پہچان لیں یعنی سمجھ لیں کہ آسمان کے دروازوں کے کھلنے کا وقت آگیا۔ اب سے زمینی جہاد بند کئے گئے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ جیسا کہ حدیثوں میں پہلے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئیگا تو دین کے لئے لڑنا حرام کیا جائیگا۔ سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اُٹھاتا ہے اور غازی نام رکھا کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔ صحیح بخاری کو کھولو اور اُس حدیث کو پڑھو کہ جو مسیح موعود کے حق میں ہے یعنی یضع الحرب جس کے یہ معنے ہیں کہ جب مسیح آئے گا تو جہادی لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائیگا۔ سو مسیح آچکا۔ اور یہی ہے جو تم سے بول رہا ہے۔

غرض حدیث نبوی میں جو مسیح موعود کی نسبت لکھا گیا تھا کہ وہ منارہ بیضاء کے پاس نازل ہوگا۔ اس سے یہی غرض تھی کہ مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے کہ اُسوقت بباعث دنیا کے باہمی میل جول کے اور نیز راہوں کے کھلنے اور سہولت ملاقات کی وجہ سے تبلیغ احکام اور دینی روشنی پہنچانا اور ندا کرنا ایسا سہل ہو گا کہ گویا یہ شخص منارہ پر کھڑا ہے۔ یہ اشارہ ریل اور تار اور اگن بوٹ اور انتظام ڈاک کی طرف تھا جس نے تمام دنیا کو

صفحہ 199

۴۹ خطبہ الہامیہ

التَّزْيِينَاتِ ١٦٤ وَاِفْنَاءَ الْيَوْمِ كُلِّهِ فِى الْخُزَعْبِلَاتِ ١٦٥ زینت ہا و بسر کردن ہمہ روز در کار ہائے باطلہ زینتوں کے ساتھ اور تمام دن بے ہودہ باتوں میں ضائع کرنے میں

وَالْمُهَادَيَاتِ ١٦٦ مِنَ الْقَلَايَا ١٦٧ وَالتَّفَاخُرَ بِلُحُومِ الْبَقَرَاتِ و ہدیہ ہا از گوشت ہا و فخر کردن بگوشت ہائے گاوان اور ایک دوسرے کو ہدیہ بھیجنے کا تحفہ اور باہم فخر کرنا گائے کے گوشت

وَالْجِدَايَا ١٦٨ وَالْاَفْرَاحَ وَالْمَرَاحَ ١٦٩ وَالْجَذَبَاتِ ١٧٠ وَ و گوسپندان و خوشی ہا و طراوت شادی و جذبہ ہائے نفس و اور بکروں کے گوشت کے ساتھ ۔ اور خوشیوں اور رنگا رنگ کی شادیاں اور نفس کی کششیں اور

الْجِمَاحَ ١٧١ وَ الضَّحْكَ وَالْقَهْقَهَةَ ١٧٢ بِاِبْدَاءِ النَّوَاجِذِ سرکشی و خندہ و قہقہہ بظاہر کردن دندانِ پسین سرکشیاں اور ہنسی اور قہقہہ مار کر ہنسنا پچھلے دانتوں کے نکالنے سے

وَالثَّنَايَا ١٧٣ وَ التَّشَوُّقَ اِلٰى رَقْصِ الْبَغَايَا ١٧٤ وَبَوْسِهِنَّ و دندانِ پیشین و شوق کردن سوئے رقص زنان بازاری و بوسہ گرفتن ایشان اور اگلے دو دانتوں کے نکالنے سے۔ اور شوق کرنا بازاری عورتوں کے رقص کی طرف اور ان کا بوسہ

وَعِنَاقِهِنَّ ١٧٥ وَبَعْدَ هٰذَا نِطَاقِهِنَّ ١٧٦ فَاِنَّا لِلّٰهِ عَلٰى و بغل گیری ایشان و پس ازیں جائے کمربند ایشاں یعنی بدکاری با ایشاں پس بر مصیبت ہائے اسلام اور گلے لپٹانا اور بعد اس کے ان کا جائے کمربند ۔ پس ہم اسلام کی مصیبتوں پر

مَصَائِبِ الْاِسْلَامِ ١٧٧ وَانْقِلَابِ الْاَيَّامِ ١٧٨ مَاتَتِ الْقُلُوْبُ انا للہ می باید گفت و نیز بر ایام کہ برخلاف اسلام گردش آمد دل ہا مردند انا للہ پڑھتے ہیں اور نیز دنوں کی گردش پر دل مر گئے

صفحہ 200

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۱۷

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

تحفہ گولڑویہ ۔ اربعین

صفحہ 201

ٹائیٹل بار اول

هَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ

گورنمنٹ انگریزی

اور

جہاد

۲۲؍ مئی ۱۹۰۰ء

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب چھپا

تعداد ۴۰۰

صفحہ 202

ضمیمہ رسالہ جہاد ۲۸

اور مجھے خو بو اور رنگ اور روپ کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ مسیح کا اوتار کر کے بھیجا۔ ایسا ہی اس نے حقوق خالق کے تلف کے لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد رکھا اور مجھے توحید پھیلانے کے لئے تمام خو اور بو اور رنگ اور روپ اور جامہ محمدی پہنا کر حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا اوتار بنا دیا۔ سو مَیں ان معنوں کر کے عیسیٰ مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی۔ مسیح ایک لقب ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا تھا۔ جس کے معنے ہیں خدا کو چھونے والا۔ اور خدائی انعام میں سے کچھ لینے والا۔ اور اس کا خلیفہ اور صدق اور راستبازی کو اختیار کرنے والا۔ اور مہدی ایک لقب ہے جو حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا تھا۔ جس کے معنے ہیں کہ فطرۃً ہدایت یافتہ اور تمام ہدایتوں کا وارث اور اسم ہادی کے پورے عکس کا محل۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت نے اس زمانہ میں ان دونوں لقبوں کا مجھے وارث بنا دیا اور یہ دونوں لقب میرے وجود میں اکٹھے کر دیئے۔ سو مَیں ان معنوں کے رو سے عیسیٰ مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی۔ اور یہ وہ طریق ظہور ہے جس کو اسلامی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں۔ سو مجھے دو بروز عطا ہوئے ہیں بروز عیسیٰ اور بروز محمد۔ غرض میرا وجود ان دونوں نبیوں کے وجود سے بروزی طور پر ایک معجون مرکب ہے عیسیٰ مسیح ہونے کی حیثیت سے میرا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو وحشیانہ حملوں اور خونریزیوں سے روک دوں۔ جیسا کہ حدیثوں میں صریح طور سے وارد ہو چکا ہے کہ جب مسیح دوبارہ دنیا میں آئے گا تو تمام دینی جنگوں کا خاتمہ کر دیگا۔ سو ایسا ہی ہوتا جاتا ہے۔ آج کی تاریخ تک تیس ہزار٭ کے قریب یا کچھ زیادہ میرے ساتھ جماعت ہے جو برٹش انڈیا کے متفرق مقامات میں آباد ہے اور ہر ایک شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے اُسی روز سے اُس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعاً حرام ہے۔ کیونکہ مسیح آچکا۔ خاصکر میری تعلیم

٭ گو یہ خاص آدمی جو علم اور فہم سے کافی بہرہ رکھتے ہیں دس ہزار کے قریب ہوں گے مگر ہر ایک قسم کے لوگ جن میں ناخواندہ بھی ہیں تیس ہزار سے کم نہیں ہیں۔ بلکہ شاید زیادہ ہوں۔ منہ ٭

۶

صفحہ 203

```

ٹائٹل پیج طبع اوّل

الحمدلله والمنۃ کہ یہ رسالہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اور ان کے مریدوں اور ہمخیال لوگوں پر اتمامِ حجت کے لئے محض نصیحۃً للہ شائع کیا گیا ہے اور بغرض اس کے کہ عام لوگوں پر حق واضح ہو جائے اس رسالہ کے ساتھ پچاس روپیہ کے انعام کا اشتہار بھی دیا گیا ہے جو اسی ٹائیٹل پیج کے دوسرے صفحہ پر مندرج ہے اور یہ رسالہ موسوم بہ

تحفہ گولڑویہ

ہو کر مطبع ضیاء الاسلام قادیان ضلع گورداسپور میں باہتمام حکیم حافظ فضل الدین صاؔب بھیروی مالک مطبع چھپ کر یکم ستمبر ۱۹۰۲؁ء کو شائع ہوا

قیمت بلا محصول ۱ر عدد ۷۰۰ ڈاک ۲آ کل ۱ر ۲آ ```

صفحہ 204

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ۴۲

نادم اور شرمسار کر دیتا اسلئے حافظ صاحب بھی اور منکروں کی طرح خدا کے الزام کے نیچے آگئے اور ایسا اتفاق ہوا کہ ایک مجلس میں جس کا ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں میری جماعت کے بعض لوگوں نے حافظ صاحب کے سامنے یہ دلیل پیش کی کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں ایک شمشیر برہنہ کی طرح یہ حکم فرماتا ہے کہ یہ نبی اگر میرے پر جھوٹ بولتا اور کسی بات میں افتراء کرتا تو میں اس کی رگ جان کاٹ دیتا اور اس مدت دراز تک وہ زندہ نہ رہ سکتا ۔ تو اب جب ہم اپنے اس مسیح موعود کو اس پیمانہ سے ناپتے ہیں تو براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دعویٰ منجانب اللہ ہونے اور مکالمات الٰہیہ کا قریباً تیس برس سے ہے اور اکیس برس سے براہین احمدیہ شائع ہے۔ پھر اگر اس مدت تک اس مسیح کا ہلاکت سے امن میں رہنا اس کے صادق ہونے پر دلیل نہیں ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تئیس برس تک موت سے بچنا آپ کے سچا ہونے پر بھی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ نے اسجگہ ایک جھوٹے مدعی رسالت کو تیس برس تک مہلت دی اور لو تقول علینا ۱؎ کے وعدہ کا کچھ خیال نہ کیا تو اسی طرح نعوذ باللہ یہ بھی قریب قیاس ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی باوجود کاذب ہونے کے مہلت دے دی ہو ۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کاذب ہونا محال ہے ۔ پس جو مستلزم محال ہو وہ بھی محال ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ قرآنی استدلال بدیہی البطلان جبھی ٹھہر سکتا ہے۔ جبکہ یہ قاعدہ کلیہ مانا جائے کہ خدا اس مفتری کو جو خلقت کے گمراہ کرنے کے لئے مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہو کبھی مہلت نہیں دیتا ۔ کیونکہ اس طرح پر اُس کی بادشاہت میں گڑ بڑ پڑ جاتا ہے اور صادق اور کاذب میں تمیز اُٹھ جاتی ہے۔ غرض جب میرے دعویٰ کی تائید میں یہ دلیل پیش کی گئی تو حافظ صاحب نے اس دلیل سے سخت انکار کر کے اس بات پر زور دیا کہ کاذب کا تئیس برس تک یا اس سے زیادہ زندہ رہنا جائز ہے ۔ اور کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایسے کاذبوں کی میں نظیر پیش کرونگا جو رسالت کا جھوٹا دعویٰ کر کے تئیس برس تک یا اس سے زیادہ زندہ رہے ہوں ۔ مگر اب تک کوئی نظیر پیش نہیں کی

۱؎ الحاقہ : ۴۵

صفحہ 205

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ۵۶

ہونے کا دعویٰ کر کے قوم کا مصلح قرار نہیں دیتا اور نہ نبوت اور رسالت کا مدعی بنتا ہے ۔ اور محض ہنسی کے طور پر یا لوگوں کو اپنا رسوخ جتانے کے لئے دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے یہ خواب آئی ۔ اور یا الہام ہوا اور جھوٹ بولتا ہے یا اس میں جھوٹ ملاتا ہے وہ اس نجاست کے کیڑے کی طرح ہے جو نجاست میں ہی پیدا ہوتا ہے اور نجاست میں ہی مر جاتا ہے ۔ ایسا خبیث اس لائق نہیں کہ خدا اس کو یہ عزت دے کہ تو نے اگر میرے پر افتراء کیا تو میں تجھے ہلاک کر دوں گا بلکہ ۱۳ وہ بوجہ اپنی نہایت درجہ کی ذلت کے قابل التفات نہیں کوئی شخص اس کی پیروی نہیں کرتا کوئی اس کو نبی یا رسول یا مامور من اللہ نہیں سمجھتا ۔ ماسوا اس کے یہ بھی ثابت کرنا چاہیئے کہ اس مفتریانہ عادت پر بتیس ۳۲ برس گزر گئے ۔ ہمیں حافظ محمد یوسف صاحب کی بہت کچھ واقفیت نہیں مگر یہ بھی امید نہیں ۔ خدا اُن کے اندرونی اعمال بہتر جانتا ہے ۔ اُن کے دو قول تو ہمیں یاد ہیں اور سُنا ہے کہ اب وہ ان سے انکار کرتے ہیں (۱) ایک یہ کہ چند سال کا عرصہ گذرا ہے کہ بڑے بڑے جلسوں میں انہوں نے بیان کیا تھا کہ مولوی عبداللہ غزنوی نے میرے پاس بیان کیا کہ آسمان سے ایک نور قادیان پر گرا اور میری اولاد اس سے بے نصیب رہ گئی ۔ (۲) دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ نے انسانی تمثل کے طور پر ظاہر ہو کر اُن کو کہا کہ مرزا غلام احمد حق پر ہے کیوں لوگ اس کا انکار کرتے ہیں ۔ اب مجھے خیال آتا ہے کہ اگر حافظ صاحب ان دو واقعات سے اب انکار کرتے ہیں جن کو بار بار بہت سے لوگوں کے پاس بیان کر چکے ہیں تو نعوذ باللہ بے شک اُنہوں نے خدا تعالیٰ پر افتراء کیا ہے ٭۔ کیونکہ جو شخص سچ کہتا ہے اگر وہ مر بھی جائے تب بھی انکار نہیں کر سکتا

٭ میں ہرگز قبول نہیں کرونگا کہ حافظ صاحب ان ہر دو واقعات سے انکار کرتے ہیں ۔ ان واقعات کا گواہ تو میں ہوں بلکہ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت گواہ ہے اور کتاب ازالہ اوہام میں ان کی زبانی مولوی عبداللہ صاحب کا کشف درج ہو چکا ہے ۔ میں تو یقیناً جانتا ہوں کہ حافظ صاحب ایسا کذب صریح ہرگز زبان پر نہیں لائیں گے گو قوم کی طرف سے ایک بڑی مصیبت میں گرفتار ہو جائیں ۔ اُن کے بھائی محمد یعقوب نے تو انکار نہیں کیا تو وہ کیونکر کرینگے ۔ جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں ۔ منہ

صفحہ 206

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ۷۷

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

دینی جہاد کی ممانعت کا فتوٰے

مسیح موعود کی طرف سے

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کیلئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے دیں کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے

+ نوٹ :- (ایک زبردست الہام اور کشف) آج ۹ جون ۱۸۹۹ء کو بروز شنبہ بعد دوپہر ۲ بجے کے وقت مجھے تھوڑی سی غنودگی کے ساتھ ایک ورق جو نہایت سفید تھا دکھلایا گیا۔ اسکی آخری سطر پر لکھا تھا اقبال ۔ میں خیال کرتا ہوں کہ اِس سطر میں یہ لفظ لکھنے سے انجام کی طرف اشارہ تھا یعنی انجام ۲۷ باقبال ہے۔ پھر ساتھ ہی یہ الہام ہوا کہ قادر کے کاروبار نمودار ہوگئے۔ کافر جو بکتے تھے وہ گرفتار ہوگئے۔ اس کے یہ معنے مجھے سمجھائے گئے کہ عنقریب کچھ ایسے زبردست نشان ظاہر ہو جائینگے جس سے وہ کجرو جو مجھے کافر بکتے تھے الزام میں پھنس جائینگے اور خوب پکڑے جائیں گے اور کوئی گریز کی جگہ اُن کے لئے باقی نہیں رہے گی ۔ یہ پیشگوئی ہے ۔ ہر ایک پڑھنے والا اس کو یاد رکھے ۔ اس کے بعد ۱۳ جون ۱۸۹۹ء کو بوقت ساڑھے گیارہ بجے یہ الہام ہوا کہ کافر جو بکتے تھے وہ نگونسار ہو گئے جتنے تھے سبھی گرفتار ہو گئے ۔ یعنی کافر بکنے والوں پر خدا کی حجت ایسی پوری ہو جائیگی کہ ان کیلئے کوئی عذر کی جگہ نہ رہی ۔ یہ آئندہ زمانہ کی خبر ہے کہ عنقریب ایسا ہو گا اور کوئی ایسی چمکتی ہوئی دلیل ظاہر ہو جائیگی کہ فیصلہ کر دے گی ۔ منہ

۴۱

صفحہ 207

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ۷۸

۲۷

دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبی کی حدیث کو جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو
کیوں بھولتے ہو تم یضع الحرب کی خبر کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر
فرما چکا ہے سیّد کونین مصطفےٰ عیسیٰ مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا
جب آئے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا
پیویں گے ایک گھاٹ پہ شیر اور گوسفند کھیلیں گے بچے سانپوں سے بے خوف و بے گزند
یعنی وہ وقت امن کا ہوگا نہ جنگ کا بھولیں گے لوگ مشغلہ تیرو تفنگ کا
یہ حکم سُن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وہ کافروں سے سخت ہزیمت اُٹھائے گا
اِک معجزہ کے طور سے یہ پیشگوئی ہے کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے
القصہ یہ مسیح کے آنے کا ہے نشاں کر دے گا ختم آکے وہ دیں کی لڑائیاں
ظاہر ہیں خود نشاں کہ زماں وہ زماں نہیں اب قوم میں ہماری وہ تاب و تواں نہیں
اب تم میں خود وہ قوت و طاقت نہیں رہی وہ سلطنت وہ رعب وہ شوکت نہیں رہی
وہ نام وہ نمود وہ دولت نہیں رہی وہ عزمِ مقبلانہ وہ ہمت نہیں رہی

۲۸

وہ علم وہ صلاح وہ عفت نہیں رہی وہ نور اور وہ چاند سی طلعت نہیں رہی
وہ دَرد وہ گداز وہ رقّت نہیں رہی خلقِ خدا پہ شفقت و رحمت نہیں رہی
دل میں تمہارے یار کی اُلفت نہیں رہی حالت تمہاری جاذب نعمت نہیں رہی
حمق آ گیا ہے سر میں وہ فطنت نہیں رہی کسل آ گیا ہے دل میں جلادت نہیں رہی
وہ علم و معرفت وہ فراست نہیں رہی وہ فکر وہ قیاس وہ حکمت نہیں رہی
دُنیا و دیں میں کچھ بھی لیاقت نہیں رہی اب تم کو غیر قوموں پہ سبقت نہیں رہی
وہ اُنس و شوق و وجد وہ طاعت نہیں رہی ظلمت کی کچھ بھی حدّ و نہایت نہیں رہی
ہر وقت جھوٹ ۔ سچ کی تو عادت نہیں رہی نورِ خدا کی کچھ بھی علامت نہیں رہی

۴۲

صفحہ 208

تحفہ گولڑویہ ۱۲۷

پس یہ ماننا ضروری ہے کہ وہ اس اُمت کا خاتم الاولیاء ہے ٭ جیسا کہ سلسلہ موسویہ کے خلیفوں میں حضرت عیسیٰ خاتم الانبیاء ہے ۔ اگر درحقیقت وہی عیسیٰ علیہ السلام ہے جو دوبارہ آنے والا ہے تو اس سے قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ قرآن جیسا کما کے لفظ سے مستنبط ہوتا ہے دونوں سلسلوں کے تمام خلیفوں کو من وجہ مماثل قرار دیتا ہے اور یہ ایک نصِ قطعی ہے کہ اگر ایک دنیا اس کے مخالف اکٹھی ہو جائے ۔ تب بھی وہ اس نصِ واضح کو ردّ نہیں کر سکتی کیونکہ جب پہلے سلسلہ کا عین ہی نازل ہو گیا تو وہ مغائرت فوت ہو گئی اور لفظ کما کا مفہوم باطل ہو گیا ۔ پس اس صورت میں تکذیب قرآن شریف لازم ہوئی ۔ وھذا باطل وکلما یستلزم الباطل فھو باطل ۔ یاد رہے کہ قرآن شریف نے آیت کما استخلف الذین من قبلھم میں وہی کما استعمال کیا ہے جو آیت کما ارسلنا الی فرعون رسولاً میں ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہو کر نہیں آئے بلکہ یہ خود موسیٰ بطور تناسخ آ گیا ہے ۔ یا یہ دعویٰ کرے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے کہ توریت کی اس پیشگوئی کا میں مصداق ہوں ۔ بلکہ اس پیشگوئی کے کے معنے یہ ہیں کہ خود موسیٰ ہی آجائے گا جو بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہے ۔ تو کیا اس فضول دعویٰ کا یہ جواب نہیں دیا جائیگا کہ قرآن شریف میں ہرگز بیان نہیں فرمایا گیا کہ خود موسیٰ آئیگا بلکہ کما کے لفظ سے مثیل موسیٰ کی طرف اشارہ فرمایا ہے پس یہی جواب ہماری طرف سے ہے کہ اسجگہ بھی سلسلہ خلفاء محمدی کے لئے کما کا لفظ موجود ہے

٭ شیخ محی الدین ابن عربی اپنی کتاب فصوص میں مہدی خاتم الاولیاء کی ایک علامت لکھتے ہیں کہ اس کا خاندان چینی حدود میں سے ہو گا ۔ اور اس کی پیدائش میں یہ ندرت ہو گی کہ اس کے ساتھ ایک لڑکی بطور توام پیدا ہو گی ۔ یعنی اس طرح پر خدا اناث کا مادہ اس سے الگ کر دے گا ۔ سو اسی کشف کے مطابق اسی عاجز کی ولادت ہوئی ہے اور اسی کشف کے مطابق میرے بزرگ چینی حدود سے پنجاب میں پہنچے ہیں ۔ منہ

١؂ النور : ۵۶ ٢؂ المزمل : ۱۶ ۲۱

صفحہ 209

تحفہ گولڑویہ ۱۶۲ کی طرف پھیر لیتا ہے تو اس طرح پر تو مخالف کا بھی حق ہے کہ وہ بھی تاویل سے کام لے تو پھر فیصلہ قیامت تک غیر ممکن۔ یہ اعتراض ہے جو ہمارے مخالف کرتے ہیں اور نیز اپنے نادان چیلوں کو سکھاتے ہیں مگر انہیں معلوم نہیں کہ وہ خود اس اعتراض کے نیچے ہیں۔ ہم تو کسی حدیث *۲ کے ظاہر الفاظ کو نہیں چھوڑتے جب تک قرآن اپنے نصوص صریحہ سے مع دوسری حدیثوں کے اس کو نہ چھڑائے اور تاویل کے لئے مجبور نہ کرے۔ چنانچہ اس جگہ بھی ایسا ہی ہے۔ اگر یہ لوگ خدا تعالیٰ سے خوف کر کے کچھ سوچتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ درحقیقت یہ اعتراض تو انہی پر ہوتا ہے۔ کیونکہ قرآن شریف میں حضرت مسیح کے بارے میں صاف لفظوں میں یہ پیشگوئی موجود تھی کہ یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ یعنی اے عیسیٰ میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور وفات کے بعد اپنی طرف اٹھانے والا۔ لیکن ہمارے مخالفوں نے اس نص کے ظاہر لفظوں پر عمل نہیں کیا اور نہایت مکروہ اور پُر تکلف تاویل سے کام لیا۔ یعنی رافعک کے فقرہ کو متوفیک کے فقرہ پر مقدم کیا اور ایک صریح تحریف کو اختیار کر لیا۔ اور یا بعض نے توفی کے لفظ کے معنے بھر لینا کیا جو نہ قرآن سے نہ حدیث سے نہ علم لغت سے ثابت ہوتا ہے۔ اور جسم کے ساتھ اٹھائے جانا اپنی طرف سے ملا لیا۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے متوفیک کے معنے صریح ممیتک بخاری میں موجود ہیں۔ اُن سے منہ پھیر لیا۔ اور علم نحو میں صریح یہ قاعدہ مانا گیا ہے کہ توفی کے لفظ میں جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول بہ ہو ہمیشہ اسجگہ توفی کے معنے مارنے اور رُوح قبض کرنے کے آتے ہیں۔ مگر ان لوگوں نے اس قاعدہ کی کچھ بھی پروا نہیں رکھی۔ اور خدا کی تمام کتابوں میں کسی جگہ رفع الی اللہ کے معنے یہ نہیں کئے گئے کہ کوئی جسم کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا جائے لیکن ان لوگوں نے زبردستی سے بغیر وجود کسی نظیر کے رفع الی اللہ کے اسجگہ یہ معنے کئے کہ جسم کے ساتھ اٹھایا گیا۔ ایسا ہی توفی کے اُلٹے معنے کرنے کے وقت کوئی نظیر پیش نہ کی اور بھر لینا معنے لے لئے۔ اب بتلاؤ کہ کس نے نصوص کے ظاہر پر عمل کرنا چھوڑ دیا ؟ یا یوں سمجھ لو کہ ۷۸

صفحہ 210

۱۶۷ تحفہ گولڑویہ

اس لئے ماننا پڑا کہ انوار مسیحیہ کے ظہور کا مشرق بھی ہندوستان ہی ہے کیونکہ جہاں بیمار ہو وہیں طبیب آنا چاہیئے اور بموجب حدیث لو کان الایمان عند الثریا لنالہ رجال او رجل من هؤلاء (ای من فارس) دیکھو بخاری صفحہ ۷۱۶ ۔ رجل فارسی کا جائے ظہور بھی یہی مشرق ہے ؎ اور ہم ثابت کر چکے ہیں کہ وہی رجل فارسی مہدی ہے۔ اس لئے ماننا پڑا کہ مسیح موعود اور مہدی اور دجال تینوں مشرق میں ہی ظاہر ہونگے اور وہ ملک ہند ہے ۔

اب اس سوال کا میں جواب دیتا ہوں کہ اکثر مخالف جوش میں آکر مجھ سے پوچھا کرتے ہیں کہ تمہارے مسیح موعود ہونے کا کیا ثبوت ہے۔ کیا کسی قرآن شریف کی آیت سے تمہارا مسیح موعود ہونا ثابت ہوتا ہے ؟ اور پھر آپ ہی یہ حجت پیش کرتے ہیں کہ اگر محض سچی خواب یا کسی سچے کشف سے کوئی مسیح موعود یا مہدی بن سکتا ہے تو دنیا میں ایسے ہزار ہا لوگ موجود ہیں جن کو سچی خوابیں آتی ہیں اور کشف بھی ہوتے ہیں اور ہم بھی انہی میں سے ہیں۔ تو کیا وجہ کہ ہم مسیح موعود نہ کہلاویں ؟

اما الجواب واضح ہو کہ یہ اعتراض صرف میرے پر نہیں بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام پر ہے ۔ اور میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ سچی خوابیں اکثر لوگوں کو آ جاتی ہیں ۔ اور کشف بھی ہو جاتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات بعض فاسق اور فاجر اور تارک صلوٰۃ بلکہ ۴۸ بدکار اور حرام کار بلکہ کافر اور اللہ اور اس کے رسول سے سخت بغض رکھنے والے اور سخت توہین کرنے والے اور سچ مچ اخوان الشیاطین شاذ و نادر طور پر سچی خوابیں دیکھ

؎ ایسا ہی ایک حدیث میں لکھا ہے کہ اصفہان سے ایک لشکر اٹھے گا جس کی جھنڈیاں کالی ہونگی اور ایک فرشتہ آواز دیگا کہ ان میں خلیفۃ اللہ المہدی ہے ۔ اور اصفہان بھی حجاز سے مشرق کی طرف ہے اسلئے ثابت ہوا کہ مہدی مشرق میں ہی پیدا ہوگا یا یہ کہ فارسی الاصل ہوگا ۔ منہ

صفحہ 211

تحفہ گولڑویہ ١٩٤

وہ ان ہر دو نبی صاحب الشریعت کی قوم میں سے نہیں ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ اس لئے کہ ان کا کوئی باپ نہیں ۔ اور اسلام کے مسیح موعود کی نسبت جو آخری خلیفہ ہے خود علمائے اسلام مان چکے ہیں کہ وہ قریش میں سے نہیں ہے اور نیز قرآن شریف فرماتا ہے کہ یہ دونوں مسیح ایک دوسرے کا عین نہیں ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں اسلام کے مسیح موعود کو موسوی مسیح موعود کا مثیل ٹھہراتا ہے نہ عین ۔ پس محمدی مسیح موعود کو موسوی مسیح کا عین قرار دینا قرآن شریف کی تکذیب ہے۔ اور تفصیل اس استدلال کی یہ ہے کہ کَمَا کا لفظ جو آیت کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ میں آیا ہے اس سے تمام محمدی سلسلہ کے خلیفوں کی موسوی سلسلہ کے خلیفوں کے ساتھ مشابہت کے لئے آتا ہے اور مماثلت ہمیشہ من وجہ مغایرت چاہتی ہے۔ یہ نہیں کہ ایک چیز اپنے نفس کی مثیل کہلائے بلکہ مشبہ اور مشبہ بہ میں کچھ مغایرت ضروری ہے اور عین کسی وجہ سے اپنے نفس کا مغائر نہیں ہو سکتا۔ پس جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ کے مثیل ہو کر اُنکے عین نہیں ہو سکتے ایسا ہی تمام محمدی خلیفے جن میں سے آخری خلیفہ مسیح موعود ہے وہ موسوی خلیفوں کے جن میں سے آخری خلیفہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں کسی طرح عین نہیں ہو سکتے اس سے قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ کَمَا کا لفظ جیسا کہ حضرت موسیٰ اور آنحضرت کی مشابہت کے لئے قرآن نے استعمال کیا ہے وہی کَمَا کا لفظ آیت کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ میں وارد ہے جو اسی قسم کی مغایرت چاہتا ہے جو حضرت موسیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے۔ یادرہے کہ اسلام کا بارھواں خلیفہ جو تیرھویں صدی کے سر پر ہونا چاہیئے وہ یحییٰ نبی کے مقابل پر ہے جس کا ایک پلید قوم کے لئے سر کاٹا گیا (دیکھئے متی ١٤) اس لئے ضروری ہے کہ بارھواں خلیفہ قریشی ہو جیسا کہ حضرت یحییٰ اسرائیلی ہیں۔ لیکن اسلام کا تیرھواں خلیفہ جو چودھویں صدی کے سر پر ہونا چاہیئے جس کا نام مسیح موعود ہے اس کیلئے ضروری تھا کہ وہ قریش میں سے نہ ہو جیسا کہ حضرت

١٠٧

صفحہ 212

تحفہ گولڑویہ ۲۰۵ بقیہ حاشیہ صفحہ ۲۰۴

اور تم میں بھی بہتوں میں یہ مادہ موجود ہے۔ پس خبردار رہو اور دُعا میں مشغول رہو تا ٹھوکر نہ کھاؤ ۔ اور اس آیت کا دوسرا فقرہ جو الضالین ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں اے ہمارے پروردگار اس بات سے بھی بچا کہ ہم عیسائی بن جائیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ

ملا ہوا ہے کہ گویا ان رُوحوں میں ایک رُوح ہے اور پھر دنیوی زندگی میں بھی کچھ فتور نہیں۔ اس جہان میں بھی ہے اور اُس جہان میں بھی۔ گویا دونوں طرف اپنے دو پیر پھیلا رکھے ہیں۔ ایک پیر دُنیا میں اور دوسرا پیر فوت شدہ رُوحوں میں ۔ اور دنیوی زندگی بھی عجیب کہ باوجود اس قدر امتداد مدّت کے کھانے پینے کی محتاج نہیں اور نیند سے بھی فارغ ہے اور پھر آخری زمانہ میں بڑے کرّوفر اور جلالی فرشتوں کے ساتھ آسمان پر سے اُترے گا۔ اور گویا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج کی رات میں نہ چڑھنا دیکھا گیا اور نہ اُترنا مگر مسیح کا اُترنا دیکھا جائیگا۔ تمام مولویوں کے روبرو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُترے گا۔ پھر اسی پر بس نہیں بلکہ مسیح نے وہ کام دکھلائے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم باوجود اصرار مخالفوں کے دکھلا نہ سکے۔ بار بار قرآنی اعجاز کا ہی حوالہ دیا ۔ بقول تمہارے مسیح سچ مچ مُردوں کو زندہ کرتا رہا ۔ شہر کے لاکھوں انسان ہزاروں برسوں کے مرے ہوئے زندہ کر ڈالے ۔ ایک دفعہ شہر کا شہر زندہ کر دیا۔ مگر

٭ ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ حضرت مسیح کو اتنی بڑی خصوصیت آسمان پر زندہ چڑھنے اور اتنی مدّت تک زندہ رہنے اور پھر دوبارہ اُترنے کی جو دی گئی ہے اسکے ہر ایک پہلو سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک بڑا تعلّق جس کا کچھ حد و حساب نہیں حضرت مسیح سے ہی ثابت ہوتا ہے مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ترسٹھ برس تک بھی عمر نہ پہنچی مگر حضرت مسیح اب قریباً دو ہزار برس سے زندہ موجود ہیں ۔ اور خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چھپانے کیلئے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفّن اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی مگر حضرت مسیح کو آسمان پر جو بہشت کی جگہ اور فرشتوں کی ہمسائیگی کا مکان ہے بلا لیا۔ اب بتلاؤ محبت کس سے زیادہ کی؟ عزت کس کی زیادہ کی؟ قرب کا مکان کس کو دیا اور پھر دوبارہ آنے کا شرف کس کو بخشا؟ منہ ٭

۱۱۹

صفحہ 213

۳۰۵ تحفہ گولڑویہ محمد مصطفےٰ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے وقت میں سلسلہ محمدیہ کا مسیح آئیگا جبکہ رومی طاقتوں کے ساتھ اسلامی سلطنت مقابلہ نہیں کرسکے گی ۔ اور کمزور اور پست اور مغلوب ہو جائے گی اور ایسی سلطنت زمین پر قائم ہو گی جس کے مقابل پر کوئی ہاتھ کھڑا نہیں ہوسکے گا ۔ اور مسیح نے تمام انجیل میں کہیں دعویٰ نہیں کیا کہ میں موسٰی کی مانند ہوں مگر قرآن آواز بلند سے فرماتا ہے کہ انّا ارسلنا الیکم رسولاً شاہدًا علیکم کما ارسلنا الیٰ فرعون رسولاً ۔ یعنی ہم نے اِس رسول کو اے عرب کے خونخوار ظالمو ! اُسی رسول کی مانند بھیجا ہے جو تم سے پہلے فرعون کی طرف بھیجا

۱۴۴

گیا تھا ۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ پیشگوئی جو اس شدومد سے قرآن شریف میں لکھی گئی ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتی تو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ اس دعویٰ دروغ کے ساتھ جو اپنے تئیں موسٰی کا مثیل ٹھہرایا کبھی اپنے مخالفوں پر فتحیاب نہ ہو سکتے مگر تاریخ گواہی دے رہی ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو وہ فتح عظیم اپنے مخالفوں پر حاصل ہوئی کہ بجز نبی صادق دوسرے کے لئے ہرگز میسر نہیں آسکتی تھی پس مماثلت اس کا نام ہے جسکی تائید میں دونوں طرف سے تاریخی واقعات اس زور شور سے گواہی دے رہے ہیں کہ وہ دونوں واقعات بدیہی طور پر نظر آتے ہیں ۔ اور موسٰی کے یہ تین کام کہ گروہ مخالف کو جو فرعون تھا ہلاک کرنا اور پھر اپنے گروہ کو حکومت اور دولت بخشنا اور اُن کو شریعت عطا کرنا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے انہی تین کاموں کے ساتھ ایسے مشابہ ثابت ہو گئے کہ گویا وہ دونوں کام ایک ہی ہیں ۔ یہ ایک ایسی مماثلت ہے جس سے ایمان قوی ہوتا ہے اور یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ دونوں کتابیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ اِس پیشگوئی سے خدا کے وجود کا پتہ لگتا ہے کہ وہ کیسا قادر اور زبردست خدا ہے کہ کوئی بات اُس کے آگے انہونی نہیں ۔ اسی جگہ سے طالب حق کے لئے حق الیقین کے درجہ تک یہ معرفت پہنچ جاتی ہے کہ آنے والا مسیح موعود امت محمدیہ میں ہے نہ کہ وہی عیسیٰ نبی اللہ دوبارہ دنیا میں آ کر رسالت محمدیہ کی خاتمیت کے مسئلہ کو مشتبہ کر دیگا اور نعوذ باللہ خاتم النبیین کو لفظ بے معنی بنا دیگا

له المزمل : ١٦ ٢١٩

صفحہ 214

تحفہ گولڑویہ ۳۱۱

بلکہ جس طرح سویا ہوا آدمی دوسرے عالم میں چلا جاتا ہے اور اس حالت میں بسا اوقات وفات یافتہ لوگوں سے بھی ملاقات کرتا ہے ۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کشفی حالت میں اس دنیا سے وفات یافتہ کے حکم میں تھے ۔ ایسا ہی حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے ایک سو بیس برس عمر پائی ہے لیکن ہر ایک کو معلوم ہے کہ واقعہ صلیب اُس وقت حضرت عیسیٰ کو پیش آیا تھا جبکہ انکی عمر صرف تینتیس برس اور چھ مہینے کی تھی ۔ اگر یہ کہا جائے کہ باقیماندہ عمر بعد نزول پوری کر لیں گے تو یہ دعویٰ حدیث کے الفاظ سے مخالف ہے ماسوا اس کے حدیث سے صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود اپنے دعوے کے بعد چالیس برس دنیا میں رہے گا تو اس طرح پر تینتیس ۳۳ برس ملانے سے کل تہتر برس ہوئے نہ ایکسو بیس ۱۲۰ برس ۔ حالانکہ حدیث میں یہ ہے کہ ایک سو بیس برس اُن کی عمر ہوئی ۔

اور اگر یہ کہو کہ ہماری طرح عیسائی بھی مسیح کی آمد ثانی کے منتظر ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ ابھی ہم بیان کر چکے ہیں مسیح نے خود اپنی آمد ثانی کو الیاس نبی کی آمد ثانی سے مشابہت دی ہے جیسا کہ انجیل متی ۱۷ باب آیت ۱۰ و ۱۱ و ۱۲ سے یہی ثابت ہوتا ہے ۔ ماسوا اس کے عیسائیوں میں سے بعض فرقے خود اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی الیاس نبی کی طرح بروزی طور پر ہے ۔ چنانچہ نیولائف آف جیزس جلد اوّل صفحہ ۴۱۰ مصنفہ ڈی ۔ ایف سُٹراس میں یہ عبارت ہے :۔

( جرمن کے بعض عیسائی محققین کی رائے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا )

Crucifiction they maintain, even if the feet as well as the hands are supposed to have been nailed occasions but very little loss of blood. It kills therefore only very slowly

۲۲۵

صفحہ 215

ٹائیٹل بار اول

الحمد للہ و المنۃ

کہ تمام مخالفوں پر الٰہی حجت پوری کرنے کیلئے

یہ رسالہ

جس کا نام ہے

اربعین

لاتمام الحجۃ علی المخالفین

بمقام قادیان مطبع ضیاء الاسلام میں باہتمام حکیم فضلدین صاحب

مالک مطبع چھپکر

شائع ہوا

جلد ۱۷

قیمت ۵ ؍

۱۵۔ دسمبر ۱۹۰۰؁ء

صفحہ 216

۳۵۳ اربعین نمبر ۳

حمد فاضت الرحمة على شفتيك ـ انك باعيننا ـ يرفع الله ذكرك ـ يتم نعمته عليك في الدنيا والاخرة ـ يا احمدى انت مرادى ومعى ـ بنيت كرامتك بيدى ـ ونظرنا اليك وقلنا يا نار كوني بردا وسلاما على ابرهيم ـ يا احمد يتم اسمك ولا يتم اسمى ـ بوركت يا احمد وكان بارك الله فيك حقا فيك ـ شانك عجيب واجرك قريب ـ اني جاعلك للناس اماما ـ أكان للناس عجبا قل هو الله عجيب ـ يجتبى من يشاء من عباده ـ ولا يُسئل عما يفعل وهم يسئلون ـ انت وجيه في حضرتي اخترتك لنفسي الارض والسماء معك كما هو معى ـ وسرّك سرّى ـ انت منى بمنزلة توحيدي وتفريدى ـ فحان ان تعان وتعرف بين الناس ـ هل اتى على الانسان حين من الدهر لم يكن شيئا مذكورا ـ وكاد ان يعرف بين الناس ـ وقالوا انّى لك هذا ـ وقالوا ان هذا الا اختلاق وينصر الله المؤمن جعل له الحاسدين في الارض ـ قل هو الله ثم ذرهم في خوضهم يلعبون ـ سبحان الله تبارك وتعالى زاد مجدك ـ ينقطع آباءك ويبدء منك ـ وما كان الله ليتركك حتى يميز الخبيث من الطيب ـ اردت ان استخلف فخلقت آدم ـ يا آدم اسكن انت وزوجك الجنة ـ يا احمد اسكن انت وزوجك الجنة ـ يا مريم اسكن انت وزوجك الجنة ـ تموت وانا راض منك ـ فادخلوا الجنة انشآء الله آمنين ـ سلام عليكم طبتم فادخلوها آمنين ـ خدا تیرے سب کام درست کر دیگا اور تیری ساری مرادیں تجھے دیگا ـ سلام عليك جعلت مباركا ـ وانى فضلتك على العالمين وقالوا ان هو الا افك افترى وما سمعنا بهذا في آبائنا الاولين وكان ربك قديرا ـ يجتبى اليه من يشاء ـ ولقد كرّمنا بني آدم و

۱۱

صفحہ 217

اربعین نمبر ۲ ۳۷۱ کی درگاہ میں جواب دینا نہیں پڑے گا ؟ گو کیسے ہی دل سخت ہو گئے ہیں آخر اس قدر تو خوف چاہیئے تھا کہ جو شخص صدی کے سر پر پیدا ہوا اور رمضان کے کسوف خسوف نے اس کی گواہی دی اور اسلام کے موجودہ ضعف اور دشمنوں کے متواتر حملوں نے اُس کی ضرورت ثابت کی اور اولیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہو گا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا ایسے شخص کی تکذیب میں جلدی نہ کرتے ۔ آخر ایک دن مرنا ہے اور سب کچھ اسی جگہ چھوڑ جانا ہے ۔ دیکھو اگر مَیں خدا کی طرف سے ہوا اور تم نے میری تکذیب کی اور مجھے کافر قرار دیا اور دجال نام رکھا تو جناب الٰہی کو کیا جواب دو گے ؟ کیا انہی کی مانند جواب ہیں جو یہودیوں اور عیسائیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انکار کرنے کے وقت اپنی کتابوں میں لکھے ہیں کہ توریت کے تمام نشان قرار دادہ پورے نہیں ہوئے اور کچھ رہ گئے ہیں ۔ سو مدت ہوئی کہ خدا تعالیٰ اُن کو جواب دے چکا کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے وہ سب کچھ صحیح نہیں ہے اور نہ وہ تمام معنے صحیح ہیں جو تم کر رہے ہو ۔ جو شخص حَکَم کر کے بھیجا

۲۳

گیا ہے اس کی بات کو سُنو ۔ سو یہی جواب خدا تعالیٰ کی طرف سے اب ہے چاہو تو قبول کرو ۔ آہ آپ لوگوں کو چاہیئے تھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے قصّے سے عبرت پکڑتے ان لوگوں کی حضرت مسیح اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہی حجت تھی کہ ہم نہیں مانیں گے جب تک تمام علامتیں پوری نہ ہولیں اور بوجہ زمانہ دراز اور انواع تغیرات کے یہ غیر ممکن تھا اس لئے وہ کفر پر مرے ۔ سو تم اُسی طرح ٹھوکر مت کھاؤ۔ جو یہودی اور نصرانی کھا چکے ۔ اگر تمہارا ذخیرہ سب کا سب صحیح ہوتا تو پھر حَکَم مجدد کے آنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ہر ایک فرقہ کو یہی خیال ہے کہ جو کچھ میرے پاس ہے یہی صحیح ہے۔ اب یہ تمام فرقے تو سچ پر نہیں۔ اس لئے سچ وہی ہے جو حَکَم کے منہ سے نکلے ۔ اگر ایمان ہو تو خدا کے مقرر کردہ حَکَم کے حکم سے بعض حدیثوں کا چھوڑنا یا ۲۹

صفحہ 218

اربعین نمبر ۴ ۴۲۶

ممن افتری علی اللّٰہ کذبا۔ تنزیل من اللّٰہ العزیز الرحیم۔ لتنذر قوماً ما انذر اباءھم ولتدعو قوماً اخرین۔ عسی اللّٰہ ان یجعل بینکم و بین الذین عادیتم مودۃً۔ یخرّون علی الاذقان سجداً ربنا اغفر لنا انا کنا خاطئین۔ لا تثریب علیکم الیوم یغفر اللّٰہ لکم۔ و

۳۶

ھو ارحم الراحمین۔ انی انا اللّٰہ فاعبدنی ولا تنسنی واجتھد ان تصلنی واسئل ربک وکن سئولا۔ اللّٰہ ولیّ حنّان۔ علّم القران۔ فبایّ حدیث بعدہ تحکمون۔ نزلنا علی ھٰذا العبد رحمۃ۔ وما ینطق عن الھوی۔ ان ھو الا وحی یوحٰی۔ دنٰی فتدلّٰی فکان قاب قوسین او ادنیٰ۔ ذرنی والمکذبین انّی مع الرسول اقوم۔ ان یومی لفصل عظیم۔ وانک علی صراط مستقیم۔ و انا نرینک بعض الذی نعدھم او نتوفینک۔ وانی رافعک الیّ۔ ویاتیک نصرتی۔ انی انا اللّٰہ ذو السلطان۔ ترجمہ :۔ اور کہتے ہیں کہ یہ بناوٹ ہے اور یہ شخص دین کی بیخ کنی کرتا ہے۔ کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا۔ کہہ اگر یہ امر خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو تم اس میں بہت سا اختلاف پاتے یعنی خدا تعالیٰ کی کلام سے اس کے لئے کوئی تائید نہ ملتی اور قرآن جو راہ بیان فرماتا ہے یہ راہ اس کے مخالف ہوتی اور قرآن سے اس کی تصدیق نہ ملتی اور دلائل حقّہ میں سے کوئی دلیل اس پر قائم نہ ہوسکتی اور اس میں ایک نظام اور ترتیب اور علمی سلسلہ اور دلائل کا ذخیرہ جو پایا جاتا ہے یہ ہرگز نہ ہوتا اور آسمان اور زمین میں سے جو کچھ اس کے ساتھ نشان جمع ہو رہے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہ ہوتا۔ اور پھر فرمایا خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق ...... اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔ ان کو کہہ دے کہ اگر میں نے افترا کیا ہے تو

۸۴

صفحہ 219

۲۴۵ اربعین نمبر ۴

ایک دلیل ہے اور خدا تعالیٰ کے قول کی تصدیق تبھی ہوتی ہے کہ جھوٹا دعویٰ کرنیوالا ہلاک ہو جائے ورنہ یہ قول منکرین پر حجت نہیں ہو سکتا اور نہ اس کے لئے بطور دلیل ٹھہر سکتا ہے بلکہ وہ کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تئیس برس تک ہلاک نہ ہونا اس وجہ سے نہیں کہ وہ صادق ہے بلکہ اسوجہ سے ہے کہ خدا پر افتراء کرنا ایسا گناہ نہیں ہے جس سے خدا اسی دنیا میں کسی کو ہلاک کرے کیونکہ اگر یہ کوئی گناہ ہوتا اور سنت اللہ اس پر جاری ہوتی کہ مفتری کو اسی دنیا میں سزا دینا چاہیے تو اس کے لئے نظیریں ہونی چاہیے تھیں ۔ اور تم قبول کرتے ہو کہ اس کی عہ کوئی نظیر نہیں بلکہ بہت سی ایسی نظیریں موجود ہیں کہ لوگوں نے تئیس برس تک بلکہ اس سے زیادہ خدا پر افترا کئے اور ہلاک نہ ہوئے۔ تو اب بتلاؤ کہ اس اعتراض کا کیا جواب ہو گا؟ اور اگر کہو کہ صاحب الشریعت افترا کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری ۔ تو اول تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افترا کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا ۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی ؎ مثلاً یہ الہام قل للمومنین

چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے اسلئے خدا تعالیٰ نے میری ٭ تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے ۔ واصنع الفلک باعیننا و وحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیھم یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا۔ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔ منہ

صفحہ 220

اربعین نمبر ۴ ٢٣٦

يغضوا من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذالك ازكى لهم یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تئیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی ۔ اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان هذا لفي الصحف الاولى صحف ابراهيم وموسىٰ ؂ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے ۔ اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستيفاء امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستيفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی ۔ غرض یہ سب خیالات فضول اور کوتہ اندیشیاں ہیں ۔ ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے تاہم خدا تعالیٰ نے اپنے نفس پر یہ حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور مامور کے ذریعہ سے یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو۔ جھوٹی گواہی نہ دو ۔ زنا نہ کرو ۔ خون نہ کرو ۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا بیان کرنا بیان شریعت ہے جو مسیح موعود کا بھی کام ہے ۔ پھر وہ دلیل تمہاری کیسی گاؤ خورد ہوگئی کہ اگر کوئی شریعت لاوے اور مفتری ہو تو وہ تیئس برس تک زندہ نہیں رہ سکتا ۔ یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ تمام باتیں بے ہودہ اور قابل شرم ہیں ۔ جس رات میں نے اپنے اس دوست کو یہ باتیں سمجھائیں تو اسی رات مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ حالت ہو کر جو وحی اللہ کے وقت میرے پر وارد ہوتی ہے وہ نظارہ گفتگو کا دوبارہ دکھلایا گیا ۔ اور پھر الہام ہوا ۔ قل ان ھدی الله ھو الھدی یعنی خدا نے جو مجھے اس آیت لو تقول علينا کے متعلق سمجھایا ہے وہی معنے صحیح ہیں ۔ تب اس الہام کے بعد میں نے چاہا کہ پہلی کتابوں میں سے بھی اس کی کچھ نظیر تلاش کروں ۔ سو معلوم ہوا کہ تمام بائبل ان نظیروں سے بھری پڑی ہے کہ جھوٹے نبی ہلاک کئے جاتے ہیں ۔ سو میں

۹۴

؂ الاعلى : ۱۹ - ۲۰

صفحہ 221

اربعین نمبر ۴ ۴۴۴

اِطِّلَاع

میں نے اپنا ارادہ یہ ظاہر کیا تھا کہ اس رسالہ اربعین کے چالیس اشتہار جُدا جُدا شائع کروں ۔ اور میرا خیال تھا کہ مَیں صرف ایک ایک صفحہ کا اشتہار یا کبھی ڈیڑھ صفحہ یا بغایت کار دو صفحہ کا اشتہار شائع کرونگا اور یا کبھی شاید تین یا چار صفحہ لکھنے کا اتفاق ہو جائیگا ۔ لیکن ایسے اتفاقات پیش آ گئے کہ اس کے برخلاف ظہور میں آیا ۔ اور نمبر دو اور تین اور چار رسالوں کی طرح ہو گئے ۔ چنانچہ اس رسالہ کی قریباً ستر صفحہ تک نوبت پہنچ گئی اور درحقیقت وہ امر پورا ہو چکا جس کا مَیں نے ارادہ کیا تھا اس لئے مَیں نے ان رسائل کو صرف چار نمبر تک ختم کر دیا اور آئندہ شائع نہیں ہوگا۔ جس طرح ہمارے خدائے عزّوجلّ نے اوّل پچاس نمازیں فرض کیں پھر تخفیف کر کے پانچ کو بجائے پچاس کے قرار دے دیا ۔ اِسی طرح مَیں بھی اپنے ربّ کریم کی سنت پر ناظرین کے لئے تخفیف تصدیع کر کے نمبر چار کو بجائے نمبر چالیس کے قرار دے دیتا ہوں اور اپنی اس تحریر کو اپنی جماعت کے لئے چند نصیحتوں پر ختم کرتا ہوں ۔

نَصَائِح

۱۳

اے عزیزو ! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اُس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی ۔ اس لئے اب اپنے ایمانوں کو خوب مضبوط کرو اور اپنی راہیں درست کرو ۔ اپنے دلوں کو پاک کرو اور اپنے مولیٰ کو راضی کرو۔

دوستو ! تم اس مسافر خانہ میں محض چند روز کے لئے ہو۔ اپنے اصلی گھروں کو

۱۰۰

صفحہ 222

اربعین نمبر ۴ ۴۷۱

دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے ۔ اور دوسری بیماری جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدّت سے دامنگیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں ۔ بسا اوقات میرا یہ حال ہوتا ہے کہ نماز کے لئے جب زینہ چڑھکر اوپر جاتا ہوں تو مجھے اپنے ظاہر حالت پر امید نہیں ہوتی کہ زینہ کی ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پر پاؤں رکھنے تک میں زندہ رہوں گا ۔ اب جس شخص کی زندگی کا یہ حال ہے کہ ہر روز موت کا سامنا اس کے لئے موجود ہوتا ہے اور ایسے مریضوں کے انجام کی نظیریں بھی موجود ہیں تو وہ ایسی خطرناک حالت کے ساتھ کیونکر افتراء پر جرأت کر سکتا ہے اور وہ کس صحت کے بھروسے پر کہتا ہے کہ میری اتنی برس کی عمر ہوگی ۔ حالانکہ ڈاکٹری تجارب تو اس کو موت کے پنجہ میں ہر وقت پھنسا ہوا خیال کرتے ہیں ۔ ایسی مرضوں والے مدقوق کی طرح گداز ہو کر جلد مر جاتے ہیں یا کاربنکل یعنی سرطان سے اُن کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ تو پھر جس زور سے میں ایسی حالت پُر خطر میں تبلیغ میں مشغول ہوں کیا کسی مفتری کا کام ہے ۔ جب میں بدن کے اوپر کے حصہ میں ایک بیماری ۔ اور بدن کے نیچے کے حصہ میں ایک دوسری بیماری دیکھتا ہوں تو میرا دل محسوس کرتا ہے کہ یہ وہی دو چادریں ہیں جن کی خبر جناب رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ۔

مَیں محض نصیحتاً لِلّٰہ مخالف علماء اور ان کے ہمخیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بد زبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے ۔ اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی ۔ لیکن اگر مجھے آپ لوگ کاذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہو کر یا الگ الگ میرے پر بد دعائیں کریں

۱۲۹

صفحہ 223

۴۷۷ اربعین

اس مقام سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ مفتری ہلاک کیا جاتا ہے۔ اب اس کے مقابل یہ پیش کرنا کہ اکبر بادشاہ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور فلاں جالندھری نے دعویٰ کیا یا کسی اور شخص نے دعویٰ کیا اور وہ ہلاک نہیں ہوئے یہ ایک دوسری حماقت ہے جو ظاہر کی جاتی ہے ۔ بھلا اگر یہ سچ ہے کہ ان لوگوں نے نبوت کے دعوے کئے اور تیئیس برس تک ہلاک نہ ہوئے تو پہلے اُن لوگوں کی خاص تحریر سے انکا دعویٰ ثابت کرو اور وہ الہام پیش کرنا چاہیئے جو الہام انہوں نے خدا کے نام پر لوگوں کو سُنایا اور کہا کہ ان لفظوں کے ساتھ میرے پر وحی نازل ہوئی ہے کہ مَیں خدا کا رسول ہوں۔ اور اصل لفظ اُن کی وحی کے کامل ثبوت کے ساتھ پیش کرنے چاہئیں۔ کیونکہ ہماری تمام بحث وحیِ نبوت میں ہے جسکی نسبت یہ ضروری ہے کہ بعض کلمات پیش کر کے یہ کہا جائے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ہمارے پر نازل ہُوا ہے۔

غرض پہلے تو یہ ثبوت دینا چاہیئے کہ کونسا کلام الٰہی اس شخص نے پیش کیا ہے جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ۔ پھر بعد اسکے یہ ثبوت دینا چاہیئے کہ جو تیئیس برس تک کلام الٰہی اس پر نازل ہوتا رہا وہ کیا ہے یعنی کل وہ کلام جو کلام الٰہی کے دعوے پر لوگوں کو سُنایا گیا ہے پیش کرنا چاہیئے جس سے پتہ لگ سکے کہ تیئیس برس تک متفرق وقتوں میں وہ کلام ۱۲ اس غرض سے پیش کیا گیا تھا کہ وہ خدا کا کلام ہے۔ یا ایک مجموعی کتاب کے طور پر قرآن شریف کی طرح اس دعوے سے شائع کیا گیا تھا کہ یہ خدا کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا ہے ۔ جب تک ایسا ثبوت نہ ہو تب تک بے ایمانوں کی طرح قرآن شریف پر حملہ کرنا اور آیت لو تقول کو ہنسی ٹھٹھے میں اُڑانا اُن شریر لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ پر بھی ایمان نہیں ۔ اور صرف زبان سے کلمہ پڑھتے اور باطن میں اسلام سے بھی منکر ہیں ۔

منہ

۱۳۵

صفحہ 224

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۱۸

اعجاز المسیح ۔ ایک غلطی کا ازالہ ۔ اَلْهُدَى وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ يَّرٰى

دافع البلاء ۔ نزول المسیح

صفحہ 225

۲۰۵

ایک غلطی کا ازالہ

از

حضرت مسیح موعود علیہ السلام

صفحہ 226

۲۰۷

عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اسکے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے جری اللہ فی حلل الانبیاء یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں (دیکھو براہین احمدیہ ص ۵۰۴) پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ پھر یہ وحی اللہ ہے جو ص ۵۵۵ براہین میں درج ہے۔ ”دنیا میں ایک نذیر آیا“ اس کی دوسری قرأت یہ ہے کہ دُنیا میں ایک نبی آیا۔ اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا۔ سو اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرتؐ تو خاتم النبیین ہیں۔ پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آسکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ بیشک اس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پرانا نہیں آسکتا۔ جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اُتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں انکو نبی بھی مانتے ہیں۔ بلکہ چالیس برس تک سلسلۂ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ بیشک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے اور آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے۔ لیکن ہم اس قسم کے عقاید کے سخت مخالف ہیں۔ اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین اور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیشگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے۔ اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرۃ صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنا فی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے

۱؎ الاحزاب : ۴۰

صفحہ 227

میرے مخالف حضرت عیسیٰ بن مریم کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوبارہ دنیا میں آئیں گے ۔ اور چونکہ وہ نبی ہیں اس لئے اُنکے آنے پر بھی وہی اعتراض ہو گا جو مجھ پر کیا جاتا ہے۔ یعنی یہ کہ خاتم النبیین کی مُہر نبوت ٹوٹ جائے گی۔ مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو در حقیقت خاتم النبیین تھے مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہر نبوت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بار ہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت وَاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ۱ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں ۔ اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے۔ اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا ۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا ۔ اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں صلی اللہ علیہ وسلم پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی ۔ کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت محمدؐ تک ہی محدود رہی ۔ یعنی بہر حال محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی رہے نہ اور کوئی ۔ یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالاتِ محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔ بھلا اگر مجھے قبول نہیں کرتے تو یوں سمجھ لو کہ مہدی موعود خلق اور خُلق میں ہم رنگ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا اور اُس کا اسم آنجناب کے اسم سے مطابق ہوگا۔ یعنی اُس کا نام بھی محمدؐ اور احمدؐ ہوگا اور اُس کے اہلبیت میں سے ہوگا ٭ اور بعض حدیثوں میں ہے کہ مجھ میں سے ہو گا ۔ یہ بھی تو اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ وہ روحانیت کے رُو سے اسی نبی میں سے نکلا ہو گا اور اسی کی رُوح کا روپ ہوگا۔ اس پر نہایت قوی قرینہ یہ ہے کہ جن الفاظ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلق بیان کیا۔ یہاں تک کہ دونوں کے نام ایک کر دیئے ان الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُس موعود کو اپنا بروز بیان فرمانا چاہتے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ کا یشوعا بمنزلہ تھا۔ اور بروز

٭ حاشیہ :۔ یہ بات میرے اجداد کی تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک دادی ہماری شریف خاندان سادات اور بنی فاطمہ میں سے تھی ۔ اسکی تصدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کی اور خواب میں مجھے فرمایا کہ سَلْمَانُ مِنَّا اَهْلَ الْبَيْتِ عَلَى مَشْرَبِ الْحَسَنِ میرا نام سلمان رکھا یعنی دو سلم ۔ اور سلم معنے صلح کو کہتے ہیں یعنی مقدر ہے کہ دو صلح میرے ہاتھ پر ہوگی ۔ ایک اندرونی جو اندرونی بغض محو کر دے گی ۔ دوسری بیرونی کہ جو بیرونی عداوت کے وجوہ کو پامال کر کے اسلام کی عظمت

۱ الجمعۃ : ۴

صفحہ 228

ٹائیٹل طبع اول

رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ

الْفَاتِحِيْنَ

الحمد للہ کہ زمانہ کی ضرورت کے موافق بہتوں کو طاعون سے نجات

دینے کے لئے یہ رسالہ تالیف کیا گیا اور اس کا نام

ہے

دَافِعُ الْبَلَاءِ وَمِعْيَارُ اَهْلِ الْاِصْطِفَاءِ

بمقام

قادیان دارالامان

باہتمام حکیم فضلدین صاحب مطبع ضیاء الاسلام

میں چھپا

تعداد جلد ۵۰۰ اپریل ۱۹۰۲ء

صفحہ 229

۲۲۰

قیامت تک نجات کا پھل کھلانے والا وہ ہے جو زمین حجاز میں پیدا ہُوا تھا اور تمام دُنیا اور تمام زمانوں کی نجات کے لئے آیا تھا اور اب بھی آیا مگر بروز کے طور پر۔ خدا اُس کی برکتوں سے تمام زمین کو متمتع کرے۔ آمین خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان

انسان جب حیاء اور انصاف کو چھوڑ دے تو جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے۔ لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دُوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اسپر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سُنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اُسکے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اُسکے بدن کو چُھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اُسکی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور ۱ رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصّے اِس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔ اور پھر یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یحییٰ کے ہاتھ پر جس کو عیسائی یوحنا کہتے ہیں جو پیچھے ایلیاہ بنایا گیا اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی اور اُنکے خاص مُریدوں میں داخل ہوئے تھے۔ اور یہ بات حضرت یحییٰ کی فضیلت کو بداہت ثابت کرتی ہے کیونکہ بمقابل اسکے یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ یحییٰ نے بھی کسی کے ہاتھ پر توبہ کی تھی پس اِس کا معصوم ہونا بدیہی امر ہے اور مسلمانوں میں یہ جو مشہور ہے کہ عیسیٰ اور اُسکی ماں مسّ شیطان سے پاک ہیں اسکے معنے نادان لوگ نہیں سمجھتے۔ اصل بات یہ ہے کہ پلید یہود نے حضرت عیسیٰ اور اُنکی ماں پر سخت ناپاک الزام لگائے تھے اور دونوں کی نسبت نعوذ باللہ شیطانی کاموں کی تہمت لگاتے تھے سو اِس افتراء کا ردّ ضروری تھا پس اس حدیث کے اِس سے زیادہ کوئی معنے نہیں کہ یہ پلید الزام جو حضرت عیسیٰ اور اُنکی ماں پر لگائے گئے ہیں یہ صحیح نہیں ہیں بلکہ ان معنوں کر کے وہ مَسّ شیطان سے پاک ہیں ورنہ اس قسم کے پاک ہونیکا واقعہ کسی اور نبی کو بھی پیش نہیں آیا۔ منہ

۱؎ آل عمران : ۴۰

صفحہ 230

۲۳۱

تو کچھ تعجب نہیں کہ اس معجزہ نما جانور کی گورنمنٹ جان بخشی کرے۔ اسی طرح عیسائیوں کو چاہیئے کہ کلکتہ کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ اس میں طاعون نہیں پڑے گی کیونکہ بڑا بشپ برٹش انڈیا کا کلکتہ میں رہتا ہے۔ اسی طرح میاں شمس الدین اور اُنکی انجمن حمایت اسلام کے ممبروں کو چاہیئے کہ لاہور کی نسبت پیشگوئی کریں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا۔ اور منشی الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ جو الہام کا دعویٰ کرتے ہیں اُنکے لئے بھی یہی موقع ہو کہ اپنے الہام سے لاہور کی نسبت پیشگوئی کرکے انجمن حمایت اسلام کو مدد دیں ۔ اور مناسب ہے کہ عبدالجبار اور عبدالحق شہر امرتسر کی نسبت پیشگوئی کریں۔ اور چونکہ فرقہ وہابیہ کی اصل جڑ دہلی ہے۔ اسلئے مناسب ہے کہ نذیر حسین اور محمد حسین دہلی کی نسبت پیشگوئی کریں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہیگی۔ پس اس طرح سے گویا تمام پنجاب اس مہلک مرض سے محفوظ ہو جائے گا۔ اور گورنمنٹ کو بھی مفت میں سبکدوشی ہو جائیگی۔ اور اگر ان لوگوں نے ایسا نہ کیا تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ اور بالآخر یاد رہے کہ اگر یہ تمام لوگ جن میں مسلمانوں کے ملہم اور آریوں کے پنڈت اور عیسائیوں کے پادری داخل ہیں چُپ رہے تو ثابت ہو جائے گا کہ یہ سب لوگ جھوٹے ہیں اور ایک دن آنے والا ہے جو قادیان سورج کی طرح چمک کر دکھلا دیگی کہ وہ ایک سچے کا مقام ہے۔ بالآخر میاں شمس الدین صاحب کو یاد رہے کہ آپ نے جو اپنے اشتہار میں آیت امن یجیب المضطر لکھی ہے اور اس سے قبولیت دعاء کی اُمید کی ہے۔ یہ اُمید صحیح نہیں ہے کیونکہ کلام الٰہی میں لفظ مضطر سے وہ ضرر یافتہ مُراد ہیں جو محض ابتلاء کے طور پر ضرر یافتہ ہوں نہ سزا کے طور پر۔ لیکن جو لوگ سزا کے طور پر کسی ضرر کے تختہ مشق ہوں وہ اس آیت کے مصداق نہیں ہیں ورنہ لازم آتا ہے کہ قوم نوح اور قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ کی دُعائیں اس اضطرار کے وقت میں قبول کی جاتیں مگر ایسا نہیں ہُوا اور خدا کے ہاتھ نے اُن قوموں کو ہلاک کر دیا۔ اور

۱؎ النمل : ۶۳ ۱۵

صفحہ 231

۲۳۹

ایک شخص ساکن جموں چراغ دین نام کی نسبت

اپنی تمام جماعت کو ایک عام اطلاع

چونکہ اس شخص نے ہمارے سلسلہ کی تائید کا دعویٰ کرکے اور اس بات کا اظہار کر کے کہ میں فرقہ احمدیہ میں سے ہوں جو بیعت کر چکا ہوں طاعون کے بارے میں شاید ایک یا دو اشتہار شائع کئے ہیں اور میں نے سرسری طور پر کچھ حصہ انکا سنا تھا اور قابلِ اعتراض حصہ ابھی سنا نہیں تھا تھا اسلئے میں نے اجازت دی تھی کہ اسکے چھپنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ مگر افسوس کہ بعض خطرناک لفظ اور بیہودہ دعوے جو اسکے حاشیے میں تھے اس کو میں کثرت لوگوں اور دوسرے خیالات کی وجہ سُن نہ سکا اور محض نیک ظنی سے ان کے چھپنے کے لئے اجازت دی گئی۔ اب جو دانستہ اسی شخص چراغدین کا ایک اور مضمون پڑھا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ مضمون بڑا خطرناک اور زہریلا اور اسلام کے لئے مضر ہے اور سر سے پیر تک لغو اور باطل باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ چنانچہ اس میں لکھا ہے کہ میں رسول ہوں اور رسول بھی اولوالعزم اور اپنا کام یہ لکھا ہے کہ تا عیسائیوں اور مسلمانوں میں صلح کراوے اور قرآن اور انجیل کا تفرقہ باہمی دُور کرے اور ابن مریم ایک حواری بنکر یہ خدمت کرے اور رسول کہلاوے اور ہر ایک شخص جانتا ہے کہ قرآن شریف نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ انجیل یا توریت سے صلح کریگا بلکہ ان کتابوں کو محرف مبدل اور ناقص اور ناتمام قرار دیا ہے اور تاجِ خاص اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ کا اپنے لئے رکھا ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ یہ سب کتابیں انجیل توریت قرآن شریف کے مقابل پر کچھ بھی نہیں اور ناقص اور محرف اور مبدل ہیں اور تمام بھلائی قرآن میں ہے جیسا کہ آج سے بائیس برس پہلے براہین احمدیہ میں یہ الہام موجود ہے۔ قل انما انا بشر مثلکم یوحى الی انما الهکم اله واحد والخیر کلہ فی القران لا یمسہ الا المطهرون۔ دیکھو براہین احمدیہ ص۵۱۱ یعنے انکو کہدے کہ میں تمہارے جیسا ایک آدمی ہوں مجھ پر یہ وحی ہوتی ہے کہ خدا ایک ہے اُس کا کوئی ثانی نہیں اور تمام بھلائی قرآن میں ہے۔ پاک دل لوگ اس کی حقیقت

۲۳

۱؎ المائدة : ۴

صفحہ 232

۲۴۰

سمجھتے ہیں۔ پس ہم قرآن کو چھوڑ کر اور کس کتاب کو تلاش کریں اور کیونکر اسکو نا کامل سمجھ لیں۔ خدا نے ہمیں تو یہ بتلایا ہو کہ عیسائی مذہب بالکل مرگیا ہو اور انجیل ایک مُردہ اور ناتمام کلام ہو۔ پھر زندہ کو مُردہ سے کیا جوڑ۔ عیسائی مذہب سے ہماری کوئی صلح نہیں۔ وہ سب کا سب ردّی اور باطل ہو اور آج آسمان کے نیچے بجز فرقان حمید کے اور کوئی کتاب نہیں۔ آج سے بائیس برس پہلے براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے میری نسبت یہ الہام درج ہے جو اسکے صفحہ ۲۴۱ ۲۷ میں پاؤ گے اور وہ یہ ہو:۔ ولن ترضٰی عنك اليهود ولا النصارٰی و خرّقوا له بنین و بنات بغير علم قل ھو الله احد الله الصمد لم یلد ولم یولد ولم یكن له كفواً احد۔ ويمكرون ويمكر الله والله خير الماكرين۔ الفتنة هھنا فاصبر كما صبر اولو العزم وقل رب ادخلنی مدخل صدق۔ یعنے تیرا اور یہود اور نصاریٰ کا کبھی مصالحہ نہیں ہوگا اور وہ کبھی تجھ سے راضی نہیں ہونگے (نصاریٰ سے مراد پادری اور انجیلوں کے حامی ہیں) اور پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے ناحق اپنے دل سے خدا کیلئے بیٹے اور بیٹیاں تراش رکھی ہیں اور نہیں جانتے کہ ابن مریم ایک عاجز انسان تھا۔ اگر خدا چاہے تو عیسےٰ ابن مریم کی مانند کوئی اور آدمی پیدا کر دے یا اس سے بھی بہتر جیسا کہ اُس نے کیا۔ مگر وہ خدا تو واحد لاشریک ہے جو موت اور تولد سے پاک ہے اُس کا کوئی ہمسر نہیں۔ یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہو کہ عیسائیوں نے شور مچا رکھا تھا کہ مسیح بھی اپنے قرب اور وجاہت کے رُو سے واحد لاشریک ہے۔ اب خدا بتلاتا ہے کہ دیکھو میں اُس کا ثانی پیدا کرونگا جو اس سے بھی بہتر ہے۔ جو غلام احمد ہے یعنے احمد کا غلام۔

زندگی بخش جام احمد ہے کیسا پیارا یہ نام احمد ہے
لاکھ ہوں انبیاء مگر بخدا سب سے بڑھکر مقام احمد ہے
باغ احمد سے ہم نے پھل کھایا میرا بستاں کلام احمد ہے
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے

یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور اگر تجربہ کے رُو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے ۲۴

بڑھکر میرے ساتھ نہ ہو تو مظلوم کے لئے۔ باقی ترجمہ بھی کرم کریگا اور وہ دن نزدی یہ ایک رُوحانی طور کی ہجر انجام کار زمین میں تبدیلی پ اب سوچ لو کہ ہم میں اور مخلوقات سے بہتر سمجھتے ہے کہ جب فریقین کچھ کچھ عیسائی مذہب کو سراپا ناپاکی پر صلح کریں۔ اِس قدر مُدّت جھوٹا مذہب بالکل فنا ہو کرینگے تب اِس دُنیا کا خا بلکہ ہمارا جواب ان لوگوں کو یہ کیسی ناپاک رسالت ہے میرا مُرید کہلا کر یہ ناپاک کلمہ اِن دونوں مذہبوں کا مصال مذہب ہے جس کی نسبت اُس کی شامت سے اُس سے صلح ؟ پھر باوجو میں رسول اللہ ہوں یہ کس نبوت بازیچۂ اطفال ۔ رسولوں کی تائید میں اور ر کے ساتھ ہارون ۔ لیکن ت

۱؎ الکافرون : ۲ - ۳

صفحہ 233

۲۴۱

بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔ خدا نے ایسا کیا نہ میرے لئے بلکہ اپنے نبی مظلوم کے لئے۔ باقی ترجمہ اس الہام کا یہ ہو کہ عیسائی لوگ ایذارسانی کیلئے مکر کرینگے اور خدا بھی مکر کریگا اور وہ دن آزمائش کے دن ہونگے اور یہ کہ خدایا پاک زمین میں مجھے جگہ دے۔ یہ ایک رُوحانی طور کی ہجرت ہے اور جیسا کہ ابتک میں سمجھتا ہوں اس کے معنے یہ ہیں کہ انجام کار زمین میں تبدیلی پیدا ہو جائے گی اور زمین راستی اور سچائی سے چمک اُٹھے گی۔ اب سوچ لو کہ ہم میں اور عیسائیوں میں کس قدر بعد المشرقین ہو۔ جس پاک وجود کو ہم تمام مخلوقات سے بہتر سمجھتے ہیں۔ اسکو یہ مُفتری قرار دیتے ہیں صلح تو اس حالت میں ہوتی ہے کہ جب فریقین کچھ کچھ چھوڑنا چاہیں۔ لیکن جس حالت میں ہمارا دین اور ہماری کتاب عیسائی مذہب کو سراپا ناپاک اور نجس سمجھتا ہے اور واقعی ایسا ہی ہے تو پھر ہم کس بات پر صلح کریں۔ اس قدر مذہبی مخالفت کا انجام صلح ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ انجام یہ ہے کہ جھوٹا مذہب بالکل فنا ہو جائے گا اور زمین کے کل نیک طینت انسان سچائی کو قبول کرینگے تب اس دُنیا کا خاتمہ ہوگا۔ ہمارا عیسائیوں سے مذہبی رنگ میں کچھ بھی ملاپ نہیں بلکہ ہمارا جواب ان لوگوں کو یہی ہے۔ قُلْ یٰاَیُّهَا الْکَافِرُوْنَ لَا اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ۔ پس یہ کیسی ناپاک رسالت ہے جس کا چراغ دین نے دعویٰ کیا ہے۔ جائے غیرت ہے کہ ایک شخص میرا مُرید کہلا کر یہ ناپاک کلمات منہ پر لاوے کہ میں مسیح ابنِ مریم کی طرف سے رسول ہوں تا ان دونوں مذہبوں کا مصالحہ کروں۔ لَعْنَةُ اللّٰہِ عَلَی الْکَافِرِیْنَ۔ عیسائیت وہ مذہب ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قریب ہے کہ اُس کی شامت سے زمین پھٹ جائے۔ آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ کیا اُس سے صلح؟ پھر باوجود ناتمام عقل اور ناتمام فہم اور ناتمام پاکیزگی کے یہ بھی کہنا کہ میں رسول اللہ ہوں یہ کسقدر خدا کے پاک سلسلہ کی ہتکِ عزت ہے گویا رسالت اور نبوت بازیچۂ اطفال ہے۔ نادانی سے یہ نہیں سمجھتا کہ گو پہلے زمانوں میں بعض رسولوں کی تائید میں اور رسول بھی اُن کے زمانہ میں ہوئے تھے جیسا کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ہارون۔ لیکن خاتم الانبیاء اور خاتم الاولیاء اس طریق سے مُستثنیٰ ہے

لے الکافرون : ۲-۳ ؎ البقرۃ : ۹۰

صفحہ 234

ٹائیٹل طبع اوّل

كيف انتم اذ انزل فيكم ابن مريم و امامكم منكم خدائے تعالیٰ کے بے انتہا احسانوں میں سے یہ بھی ایک عظیم الشان فضل و احسان ہے ۔ کہ کتاب مستطاب منبع ایقان و عرفان مسمیٰ بہ

عدو در غم بدی بر روئے من بخندد اند صادقم ز طرف مولا باین الہام آمد

نزول المسيح

این دو شاہد از پئے تصدیق من استادہ اند فی آخر الزمان آسمان بارد نشان الوقت میگویند زمین

خود مسیح موعود علیہ السلام کے قلم سے نکلی ہوئی جس کا نزول جمالی اور جلالی رنگوں میں حضرت ختم الرسل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق (جو آخری زمانہ کے متعلق تھیں) اسوقت کے اولوالالباب و اولواالابصار نے برأی العین مشاہدہ کیا

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں چھپ کر بحسن اہتمام مہدی حسین مہتمم کتب خانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زیر نگرانی شائع ہوئی ۔ ٹائیٹل پیج مطبع میگزین قادیان میں چھپ کر طیار ہوا ۔ بار اوّل تعداد اشاعت ۲۹۰۰ شعبان المعظم ۱۳۲۷ ہجری قیمت ۴؍ ماہ اگست ۱۹۰۹ء

صفحہ 235

نزول المسیح ۳۸۱

۲؎

کا نام پاکر اور اُسی میں ہو کر اور اُسی کا مظہر بن کر آیا ہوں۔ اِس لئے میں کہتا ہوں کہ جیسا کہ قدیم سے یعنی آدم کے زمانہ سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک ہمیشہ مفہوم اس آیت کا سچا نکلتا آیا ہے ایسا ہی اب بھی میرے حق میں سچا نکلے گا۔ کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ

٭حاشیہ یہ قول اس حدیث کے مطابق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آنے والا مہدی اور مسیح موعود میرا اسم پائے گا اور کوئی نیا اسم نہیں لائے گا یعنی اسکی طرف سے کوئی نیا دعوےٰ نبوت اور رسالت کا نہیں ہوگا بلکہ جیسا کہ ابتداء سے قرار پا چکا ہے وہ محمدی نبوت کی چادر کو ہی ظلی طور پر پہنے ہوئے گا اور اپنی زندگی اُسی کے نام پر ظاہر کریگا اور مرکز بھی اُسی کی قبر میں جائیگا تا یہ خیال نہ ہو کہ کوئی علیحدہ وجود ہے اور یا علیحدہ رسول آیا بلکہ بروزی طور پر وہی آیا جو خاتم الانبیاء تھا۔ مگر ظلی طور پر اسی راز کے لئے کہا گیا کہ مسیح موعود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں دفن کیا جائیگا کیونکہ رنگ دوئی اس میں نہیں آیا پھر کیونکر علیحدہ قبر میں تصور کیا جائے دنیا اس نکتہ کو نہیں پہچانتی۔ اگر اہلِ دنیا اس بات کو جانتے کہ اسکے کیا معنی ہیں کہ اِسْمُهُ کَاسْمِيْ وَيُدْفَنُ مَعِيْ فِيْ قَبْرِيْ۔ تو وہ شوخیاں نہ کرتے اور ایمان لاتے۔ اس نکتہ کو یاد رکھو کہ میں رسول اور نبی نہیں ہوں یعنی باعتبار نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے۔ اور میں رسول اور نبی ہوں یعنے باعتبار ظلیت کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔ اگر میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد اور احمد اور مصطفٰے اور مجتبیٰ نہ رکھتا اور نہ خاتم الانبیاء کی طرح خاتم الاولیاء کا مجھ کو خطاب دیا جاتا بلکہ میں کسی علیحدہ نام سے آتا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے ہر ایک بات میں وجود محمدی میں مجھے داخل کر دیا یہانتک کہ یہ بھی نہ چاہا کہ یہ کہا جائے کہ میرا کوئی الگ نام ہو یا کوئی الگ قبر ہو کیونکہ ظل اپنے اصل سے الگ ہو ہی نہیں سکتا اور ایسا کیوں کہا گیا اس میں راز یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس نے خاتم الانبیاء

۵

صفحہ 236

نزول المسیح ۴۱۵

جماعت اور ضالین یعنی عیسائیوں کے زمانہ ترقی کی خبر ہے۔ سو کس قدر خوشی کی بات ہے کہ وہ باتیں آج پوری ہوئیں :

بالآخر میں ایک اور رُؤیا لکھتا ہوں جو طاعون کی نسبت مجھے ہوئی اور وہ یہ کہ میں نے ایک جانور دیکھا جس کا قد ہاتھی کے قد کے برابر تھا مگر منہ آدمی کے منہ سے ملتا تھا اور بعض اعضاء دوسرے جانوروں سے مشابہ تھے اور میں نے دیکھا کہ وہ یوں ہی قدرت کے ہاتھ سے پیدا ہو گیا اور میں ایک ایسی جگہ پر بیٹھا ہوں جہاں چاروں طرف بن ہیں جن میں بیل گدھے گھوڑے کتے سور بھیڑیے اونٹ وغیرہ ہر ایک قسم کے موجود ہیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ سب انسان ہیں جو بدعملوں سے ان صُورَتوں میں ہیں۔ اور پھر میں نے دیکھا کہ وہ ہاتھی کی ضخامت کا جانور جو مختلف شکلوں کا مجموعہ ہے جو محض قدرت سے زمین میں سے پیدا ہو گیا ہے وہ میرے پاس آ بیٹھا ہے اور قطب کی طرف اُس کا منہ ہے یہ خاموش صورت ہے آنکھوں میں بہت حیا ہے اور بار بار چند منٹ کے بعد اُن بنوں میں سے کسی بن کی طرف دوڑتا ہے اور جب بن میں داخل ہوتا ہے تو اُس کے داخل ہونے کے ساتھ ہی شُورِ قیامت اُٹھتا ہے اور ان جانوروں کو کھانا شروع کرتا ہے اور ہڈیوں کے چبانے کی آواز آتی ہے۔ تب وہ فراغت کر کے پھر میرے پاس آبیٹھتا ہے اور شاید دس منٹ کے قریب بیٹھا رہتا ہے اور پھر دوسرے بن کی طرف جاتا ہے اور وہی صورت پیش آتی ہے جو پہلے آئی تھی اور پھر میرے پاس آبیٹھتا ہے۔ آنکھیں اُس کی بہت لمبی ہیں اور میں اُس کو ہر ایک دفعہ جو میرے پاس آتا ہے خوب نظر لگا کر دیکھتا ہوں۔

۲۸

اور وہ اپنے چہرہ کے اندازہ سے مجھے یہ بتلاتا ہے کہ میرا اِس میں کیا قصور ہے میں مامور ہوں اور نہایت شریف اور پرہیز گار جانور معلوم ہوتا ہے اور کچھ اپنی طرف سے نہیں کرتا بلکہ وہی کرتا ہے جو اسکو حکم ہوتا ہے۔ تب میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی طاعون

۳۹

صفحہ 237

نزول المسیح ۴۱۶

ہے اور یہی وہ دَابَّةُ الاَرْض ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں ہم اس کو نکالیں گے اور وہ لوگوں کو اس لئے کاٹے گا ۔ کہ وہ ہمارے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ ۱؎ اور جب مسیح موعود کے بھیجنے سے خدا کی حجت اُن پر پوری ہو جائے گی تو ہم زمین میں سے ایک جانور نکال کر کھڑا کریں گے وہ لوگوں کو کاٹے گا اور زخمی کریگا اس لئے کہ لوگ خدا کے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ دیکھو سورۃ النمل الجزو نمبر ۲۰ ۔ اور پھر آگے فرمایا ہے وَ يَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ يُكَذِّبُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ ۔ حَتّٰى اِذَا جَاءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰيٰتِيْ وَلَمْ تُحِيْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّاذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا يَنْطِقُوْنَ ۲؎۔ ترجمہ ۔ اُس دن ہم ہر ایک اُمت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہمارے نشانوں کو جھٹلاتے تھے اور اُن کو ہم جُدا جُدا جماعتیں بنا دیں گے یہاں تک کہ جب وہ عدالت میں حاضر کئے جائیں گے تو خدائے عزوجل اُن کو کہے گا کہ کیا تم نے میرے نشانوں کی بغیر تحقیق کے تکذیب کی یہ تم نے کیا کیا اور ان پر بوجہ اُن کے ظالم ہونے کے حُجت پوری ہو جائے گی اور وہ بول نہ سکیں گے۔ سورۃ النمل الجزو نمبر ۲۰۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہی دابۃ الارض جو ان آیات میں مذکور ہے جس کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونا ابتدائے سے مقرر ہے یہی وہ مختلف صورتوں کا جانور

۳۹

ہے جو مجھے عالم کشف میں نظر آیا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ طاعون کا کیڑا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کا نام دابۃ الارض رکھا کیونکہ زمین کے کیڑوں میں سے ہی یہ بیماری پیدا ہوتی ہے اِسی لئے پہلے چوہوں پر اس کا اثر ہوتا ہے اور مختلف صورتوں

۱؎ النمل: ۸۳ ۲؎ النمل: ۸۴-۸۶

صفحہ 238

۴۱۴ نزول المسیح

میں ظاہر ہوتی ہے اور جیسا کہ انسان کو ایسا ہی ہر ایک جانور کو یہ بیماری ہو سکتی ہے اِسی لئے کشفی عالم میں اسکی مختلف شکلیں نظر آئیں۔ اور اس بیان پر کہ دابۃ الارض در حقیقت مادہ طاعون کا نام ہے جس سے طاعون پیدا ہوتی ہے مفصلہ ذیل قرائن اور دلائل ہیں: (۱) اوّل یہ کہ دابۃ الارض کے ساتھ عذاب کا ذکر کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۱؎ وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ یعنی جب ان پر آسمانی نشانوں اور عقلی دلائل کے ساتھ حُجّت پوری ہو جائیگی تب دابۃ الارض زمین میں سے نکالا جائے گا۔ اب ظاہر ہے کہ دابۃ الارض عذاب کے موقعہ پر زمین سے نکالا جائیگا نہ یہ کہ یوں ہی بیہودہ طور پر ظاہر ہو گا جس کا نہ کچھ نفع نہ نقصان۔ اور اگر کہو کہ طاعون تو ایک مرض ہے مگر دابۃ الارض لغوی معنوں کے رُو سے ایک کیڑا ہونا چاہیئے جو زمین میں سے نکلے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حال کی تحقیقات سے یہی ثابت ہوا ہے کہ طاعون کو پیدا کرنے والا وہی ایک کیڑا ہے جو زمین میں سے نکلتا ہے بلکہ ٹیکہ لگانے کے لئے وُہی کیڑے جمع کئے جاتے ہیں اور اُن کا عرق نکالا جاتا ہے اور خُورد بین سے ثابت ہوتا ہے کہ اُن کی شکل یوں ہے (۰۰) یعنی بہ شکل دو نقطہ۔ گویا آسمان پر بھی نشان کسوف خسوف دو کے رنگ میں ظاہر ہوا اور ایسا ہی زمین میں ۔ (۲) دُوسرا قرینہ یہ ہے کہ قرآن شریف کے بعض مقامات بعض کی تفسیر ہیں۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف میں جہاں کہیں یہ مرکب لفظ آیا ہے اس سے مراد کیڑا لیا گیا ہے مثلاً یہ آیت فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖٓ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ ۲؎ یعنی ہم نے سلیمان پر جب موت کا حکم جاری کیا تو جنّات کو کسی نے اُن کے مرنے کا پتہ نہ دیا۔ مگر گھن کے کیڑے نے کہ جو سلیمان کے عصا کو کھاتا تھا۔ منہ سورة السباء الجزو نمبر ۲۲۔ اب دیکھو اس جگہ بھی ایک کیڑے کا نام دابۃ الارض رکھا گیا بس اس سے زیادہ دابۃ الارض کے اصلی معنوں کی دریافت کیلئے اور کیا شھادت ہوگی

۱؎ النمل : ۸۳ ۲؎ السباء : ۱۴

۴۱

صفحہ 239

نزول المسیح ۴۱۸

کہ خود قرآن شریف نے اپنے دوسرے مقام میں دابۃ الارض کے معنے کیڑا کیا ہے۔ سو قرآن کے برخلاف اس کے معنی کرنا یہی تحریف اور الحاد اور دجل ہے۔ (۳) تیسرا قرینہ یہ ہے کہ آیت میں صریح معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے نشانوں کی تکذیب کے وقت میں کوئی امام الوقت موجود ہونا چاہیے کیونکہ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ کا فقرہ یہی ہے کہ اتمام حجت کے بعد یہ عذاب ہو اور یہ تو متفق علیہ عقیدہ ہے کہ خروج دابۃ الارض آخری زمانہ میں ہوگا جبکہ مسیح موعود ظاہر ہو گا تاکہ خدا کی حجت دُنیا پر پوری کرے۔ پس ایک منصف کو یہ بات جلد تر سمجھ آسکتی ہے کہ جبکہ ایک شخص موجود ہے جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور آسمان اور زمین میں بہت سے نشان اس کے ظاہر ہو چکے ہیں تو اب بلاشبہ دابۃ الارض یہی طاعون ہے جس کا مسیح کے زمانہ میں ظاہر ہونا ضروری تھا اور چونکہ یاجوج ماجوج موجود ہے اور مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُوْنَ کی پیشگوئی تمام دُنیا میں پوری ہو رہی ہے اور دجالی فتنے بھی انتہا تک پہنچ گئے ہیں اور پیشگوئی يُتْرَكُ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا بھی بخوبی ظاہر ہوچکی ہے۔ اور شراب اور زنا اور جھوٹ کی بھی کثرت ہو گئی ہے اور مسلمانوں میں یہودیت کی فطرت بھی جوش مار رہی ہے تو صرف ایک بات باقی تھی جو دابۃ الارض زمین میں سے نکلے سو وہ بھی نکل آیا۔ اس بات پر جھگڑنا جہالت ہے کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاں جگہ پھٹے گی اور دابۃ الارض وہاں سے سر نکالے گا پھر تمام دُنیا میں چکر مارے گا کیونکہ اکثر پیشگوئیوں پر استعارات کا رنگ غالب ہوتا ہے جب ایک بات کی حقیقت کھل جائے تو ایسے اوہام باطلہ کے ساتھ حقیقت کو چھوڑنا ص۷۱ کمال جہالت ہے۔ اسی عادت سے بدبخت یہودی قبول حق سے محروم رہ گئے۔ (۴) قرینہ چہارم دابۃ الارض کے طاعون ہونے پر یہ ہو کہ سورۃ فاتحہ میں ایک رنگ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہو کہ کسی وقت بعض مسلمان بھی ہُو بہُو وہی بنجائینگے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام

۱؎ الانبیاء : ۹۷

۴۲

صفحہ 240

نزول مسیح ۴۴۴ ص ٩٩

تا بخیال عشق تیر مرکب راند کہ ازان دشت خاکی ہیچ نماند کشتہ دلبر و دلدار اے رستہ بکل ز ننگ و نام اے
پر ز عشق و تہی ز ہر عارے قصہ کوتاه کرد آوازے آں ندائے یقیں کہ گوش شنید کرد کار و ز غیر حق برید
رفتہ بیروں ز حلقہ اغیار دل بریدہ ز غیر آں دلدار پاک گشتہ ز لوث ہستی خویش رستہ از بند خود پرستی خویش
آنچناں بار در بکوئے انداخت کہ نداند بدیگرے پرداخت قدم صدق زدہ براه عدم گم بیادش ز فرق تا بقدم
ذکر دلبر غذائے او گشتہ ہمہ دلبر برائے او گشتہ سوختہ ہر غرض بجز دلدار دوختہ چشم دل ز غیر نگار
دل و جاں بر رخش فدا کرده وصل او اصل مدعا کرده مردہ ز خویشتن فنا کرده عشق جوشیده کار ہا کرده
از خودی ہائے خود فتاد جدا سیل خیزد ربودش از جا تن چو فرسود دلستان آمد دل چو از دست رفت جاناں آمد
عشق دلبر بروئے او بارید ابر رحمت بکوئے او بارید از یقینی کہ شد ز غفارے در دل او برست گلزارے
ہر ظہورے یکے سبب دارد داند آن کو بداں طلب دارد پس چنیں شورش محبت یار کہ بشوید ہم از خودی آثار
ایں میسر نمی شود زنہار بجز الطاف دلبر و دلدار عشق کو رو نماید از دیدار تیرگی بر خیزد از گفتار
بالخصوص آں سخن کہ آندلدار خاصیت دارد اندر ایں اسرار کشتہ او یک نہ دو نہ ہزار ایں قتیلان او بروں ز شمار
ہر زمانے قتیل ناز و بغمزہ ست غازہ روئے او دم عیسٰی ست ایں سعادت چو بود قسمت ما رفتہ رفتہ رسید نوبت ما
کربلائے است سیر ہر گامم صد حسین است در گریبانم آمدم نیز احمد مختار در برم جامہ ہمہ ابرار
کارہائے کہ کرد با من یار برتر از دفتر است ز اظہار آنچہ داد است ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بتمام
دل من برد و الفت خود داد خود مرا شد بوحی خود اُستاد وحی او را عجب اثر دیدم روئے آں مہرباں قمر دیدم
دیدم از خلق رنج و مکروہات وایں ہمہ چیز است پیش من لذات دیدم از بحر عشق جلوۂ یار کار دیگر برآمد از یک کار
آنچہ من بشنوم زوحی خدا بخدا پاک و منزہ ز خطا ہمچو قرآن منزہ اش دانم از خطاہا یہیں است ایمانم
من خدارا بدو شناختہ ام دل بدیں آتش گداختہ ام بخدا ہست ایں کلام مجید از دہان خدائے پاک و وحید
آنچہ برمن عیاں شد از دادار آفتابے است با دو صد انوار ایں عطائیست ز رب الاربابم نگون سارم ار ازو تابم
انبیاء گرچہ بوده اند بسے من بعرفان نہ کمترم ز کسے وارث مصطفیٰ شدم بہ یقیں شد درونم برنگ یاسین
آں یقینی کہ بود عیسیٰ را بر کلامے کہ شد برو القاء آں یقیں کلیم بر تورات واں یقیں ہائے سید السادات
صفحہ 241

نزول المسیح ۵۴۶

نمبر شمار تاریخ بیان پیشگوئی پیشگوئی میں شرط کیا تھی اور اُس کی رُو سے نیز خارق عادت پیشگوئی کا کیا نتیجہ دنیا پر ظاہر ہو چکا ہے تاریخ ظہور پیشگوئی

۱۶۸ بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۶۸

کے گزرنے کے پیچھے اپنے رجوع پر بھی قائم نہ رہ سکا اور اُس کے دل میں وہ خوف نہ رہا جو پندرہ مہینہ کی میعاد کے اندر تھا اور جھوٹ بولا اور کہا کہ میں پیشگوئی سے ہرگز نہیں ڈرا اور جب چار ہزار روپیہ نقد دینے کے وعدہ سے قسم کیلئے بلایا گیا تو قسم بھی نہ کھائی۔ لہٰذا خدا نے انکار اور اخفاء شہادت اور بیباکی کے بعد ہمارے آخری اشتہار سے سات ماہ کے اندر یعنی پندرہ مہینہ کے اندر ہی مار دیا اور ۲۶ جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروز پور اُسکی زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔ اس صورت میں جو پندرہ مہینہ پیشگوئی کے لئے مقرر ہوئے تھے آتھم اس دائرہ کے اندر ہی مرا اور پندرہ مہینہ کی میعاد بہرصورت قائم رہی یہ پیشگوئی خداتعالیٰ کی طرف سے جمالی رنگ میں تھی یعنی رفق اور نرمی کے لباس میں۔ چونکہ آتھم نے اپنی روش میں نرمی اختیار کی اور اُس سخت گستاخ زبانی کو اختیار نہ کیا جسکو لیکھرام نے اختیار کیا تھا اسلئے خدا تعالیٰ نے بھی اسسے نرمی کا ہی برتاؤ کیا اور اسکو مہلت دینے اور آخر مارنے سے جمالی رنگ کا نشان دکھلایا لیکن لیکھرام نہایت دریدہ دہن اور بدزبان تھا اسلئے خدا نے جلالی رنگ کا نشان اس میں دکھلایا اور جب نادانوں اور اندھوں نے اُس جمالی نشان کا قدر نہ کیا جو بذریعہ آتھم ظاہر ہوا تو خدا نے اس کے بعد لیکھرام کی موت کا نشان جو ہیبت ناک اور جلالی تھا ظاہر کر دیا۔

دستخط گواہان رویت سرانجام مفتی محمد صادق صاحب۔ صاحبزادہ سراج الحق صاحب۔ قاضی ضیاء الدین صاحب۔ مولوی عبداللہ سنوری صاحب۔ شیخ چراغ علی صاحب وغیرہ اس پیشگوئی کے گواہ ہیں۔

صفحہ 242

۵۵۳

فضل المسیح ۱۷۵

نمبر شمار تاریخ بیان پیشگوئی جسکے حق میں پیشگوئی کیگئی ہو یا اُسی وحی نے خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں پیشگوئی کا ظہور

الا اے دشمن ناداں بے راہ بترس از تیغ بُرّانِ محمدؐ
الا اے منکر از شانِ محمدؐ ببین از نورِ تابانِ محمدؐ
کرامت گر چہ بے نام و نشان است بیا بنگر ز غلمانِ محمدؐ

یہ تصویر اس ملعون پنڈت لیکھرام پشاوری کی ہے جسکی نسبت حضور علیہ السلام نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ یہ شخص ایک خونی کے ہاتھ سے ہلاک ہوگا چنانچہ ایسا ہی ہوا

لیکھرام پشاوری کی لاش کی وہ تصویر جو اس کو آریوں کے سپرد کرنے سے قبل لی گئی ۔

ثابت ہوگیا کہ سچی پیشگوئی کی تھی کہ اگرچہ یہ سڑا مارا جا چکا۔ اب دیکھو کہ مسلمانوں کا خدا ہندوؤں کے مصنوعی پیشوا پر غالب آگیا۔ پس زندہ موجود ہوں اور یہ مر گیا اور اسکی شیطانی پیشگوئی جھوٹی نکلی اس شخص کی لاش اسلام کی سچائی کا کھلا کھلا ثبوت دے رہی ہے۔ پس خدا کے فضل سے اسکے چہرہ پر پھٹکار اور لعنت برس رہی ہے ۔

صفحہ 243

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۱۹

کشتی نوح تحفۃ الندوہ ۔ اعجاز احمدی ۔ ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی

مواہب الرحمٰن ۔ نسیم دعوت ۔ سناتن دھرم

صفحہ 244

ٹائیٹل پیج بار اول

تیرے خدا کی وحی مجھے فرماتی ہے کہ

میں تجھے اور ان سب کو جو تیرے گھر کی

چار دیواری میں ہوں گے بچاؤں گا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اِصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ

جو لوگ تیرے ساتھ بیعت کرتے ہیں وہ خدا ہی سے بیعت کرتے ہیں خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے

رسالہ آسمانی ٹیکا جو طاعون کے بارے میں اپنی جماعت کیلئے تیار کیا گیا

ہر ایک جاندار چیز پر طاعون کی موت ہے اور زمین پر موت کا غلغلہ ہے اور ہر ایک اس موت سے ڈرتا ہے

یہ وہ کشتی ہے جس میں سوار ہونے والا ہلاکت سے بچایا جائے گا کیونکہ یہ خدا کے حکم سے اور اس کی وحی سے تیار کی گئی ہے

کشتی نوح

اور دوسرا نام

دعوت الایمان

تیسرا نام

تقویۃ الایمان

اِرْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖىهَا وَمُرْسٰىهَا لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ

اس کشتی میں سوار ہو جاؤ اللہ کے نام پر اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے آج کے دن خدا کی تقدیر سے کوئی بچا نہیں سکتا مگر وہ جس پر اس کا رحم ہو

۵؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء

بمقام قادیان دارالامان میں ضیاء الاسلام پریس میں چھپ کر منشی حامد علی کے اہتمام سے شائع ہوا

تعداد جلد ۵۰۰

صفحہ 245

تقویۃ الایمان ۵ کشتی نوح

طاعون کے حملہ سے بچارہے گا اور وہ سلامتی جو ان میں پائی جائیگی اسکی نظیر کسی گروہ میں قائم نہیں ہوگی اور قادیان میں طاعون کی خوفناک آفت جو تباہ کرنے نہیں آئیگی الاّ کم اور شاذ و نادر۔ کاش اگر یہ لوگ دلوں کے سیدھے ہوتے اور خدا سے ڈرتے تو بالکل بچائے جاتے کیونکہ مذہبی اختلاف کی وجہ سے دنیا میں عذاب کسی پر نازل نہیں ہوتا۔ اس کا مؤاخذہ قیامت کو ہوگا۔ دنیا میں محض شرارتوں اور شوخیوں اور کثرت گناہوں کی وجہ سے عذاب آتا ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود ۵ کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشگوئیاں ٹل جائیں۔ اور نیز یہ بھی یاد رہے کہ ہمیں اس الہی وعدہ کے مقابل اس لئے انسانی تدبیروں سے پرہیز کرنا لازم ہو تا نشان الہی کو کوئی دشمن دوسری طرف منسوب نہ کرے۔ لیکن اگر ساتھ اس کے خدا تعالیٰ اپنی کلام کے ذریعہ سے خود کوئی تدبیر سمجھائے یا کوئی دوا بتلا دے۔ تو ایسی تدبیر یا دوا اس نشان میں کچھ حارج نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ اُس خدا کی طرف سے ہے جسکی طرف سے وہ نشان ہو۔ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ اگر شاذ و نادر کے طور پر ہماری جماعت میں سے بذریعہ طاعون کوئی فوت ہوجائے تو نشان کے قدر و مرتبہ میں کوئی خلل آئیگا۔ کیونکہ پہلے زمانوں میں موسیٰ اور یشوع اور آخر میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا تھا کہ جن لوگوں نے تلوار اُٹھائی اور صدہا انسانوں کے خون کئے انکو تلوار سے ہی قتل کیا جائے۔ اور یہ نبیوں کیطرف سے ایک نشان تھا جس کے بعد فتح عظیم ہوئی۔ حالانکہ بمقابل مجرمین کے اہل حق بھی انکی تلوار سے قتل ہوتے تھے مگر بہت کم۔ اور اسقدر نقصان سے نشان میں کچھ فرق نہیں آتا تھا پس ایسا ہی اگر شاذ و نادر کے طور پر ہماری جماعت میں سے بعض کو بباعث اسباب مذکورہ طاعون ہو جائے۔ تو ایسی طاعون نشان الہی میں کچھ بھی حرج انداز نہیں ہوگی۔ کیا یہ عظیم الشان نشان نہیں کہ میں بار بار کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس پیشگوئی کو ایسے طور سے ظاہر کرے گا کہ ہر ایک طالب حق کو کوئی شک نہیں رہے گا اور وہ سمجھ جائے گا کہ معجزہ کے طور پر خدا نے اس جماعت سے معاملہ کیا ہے۔ بلکہ بطور

۵ مسیح موعود کے وقت میں طاعون کا پڑنا بائبل کی زکریا کی کتاب میں موجود ہے۔ دیکھو۔ زکریا باب ۱۴۔ انجیل متی باب ۲۴۔ بحوالہ نشان آسمانی

صفحہ 246

تقویۃ الایمان ۱۱ کشتی نوح

بڑھنے اور مرنے سے پاک ہے۔ وہ ایسا ہے کہ باوجود دور ہونے کے نزدیک ہے اور باوجود نزدیک ہونے کے وہ دور ہے۔ اور باوجود ایک ہونے کے اُسکی تجلیّات الگ الگ ہیں۔ انسان کیطرف جب ایک نئے رنگ کی تبدیلی ظہور میں آئے تو اسکے لئے وہ ایک نیا خدا بنجاتا ہے۔ اور ایک نئی تجلی کے ساتھ اُس سے معاملہ کرتا ہے۔ اور انسان بقدر اپنی تبدیلی کے خدا میں بھی تبدیلی دیکھتا ہے۔ مگر یہ نہیں کہ خدا میں کچھ تغیر آجاتا ہے بلکہ وہ ازل سے غیر متغیر اور کمالِ تام رکھتا ہے۔ لیکن انسانی تغیّرات کے وقت جب نیکی کی طرف انسان کے تغیّر ہوتے ہیں۔ تو خدا بھی ایک نئی تجلی سے اُس پر ظاہر ہوتا ہے۔ اور ہر ایک ترقی یافتہ حالت کے وقت جو انسان پر ظہور میں آتی ہے خدا تعالیٰ کی قادرانہ تجلی بھی ایک ترقی کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے وہ خوارق عادت قدرت اسی جگہ دکھلاتا ہے جہاں خارق عادت تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔ خوارق اور معجزات کی یہی جڑ ہے۔ یہ خدا ہی ہو ہمارے سلسلہ کی شرط ہے۔ اِس پر ایمان لاؤ۔ اور اپنے نفس پر اور اپنے آراموں پر اور اپنے کل تعلقات پر اُسکو مقدم رکھو۔ اور عملی طور پر بہادری کے ساتھ اُس کی راہ میں صدق و وفا دکھلاؤ۔ دنیا اپنے اسباب اور اپنے عزیزوں پر اُسکو مقدم نہیں رکھتی مگر تم اُسکو مقدم رکھو تاکہ آسمان پر اُسکی جماعت لکھے جاؤ۔ رحمت کے نشان دکھلانا قدیم سے خدا کی عادت ہے۔ مگر تم اُس حالت میں اس عادت سے حصہ لے سکتے ہو کہ تم میں اور اُس میں کچھ جدائی نہ رہے اور تمہاری مرضی ۱۲ اُسکی مرضی اور تمہاری خواہشیں اُسکی خواہشیں ہو جائیں۔ اور تمہارا سر ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت مراد یابی اور نامرادی میں اُس کے آستانہ پر پڑا رہے۔ تا جو چاہے سو کرے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم میں وہ خدا ظاہر ہو گا جس نے مدت سے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے۔ کیا کوئی تم میں ہے جو اس پر عمل کرے اور اُسکی رضا کا طالب ہو جائے اور اُسکی قضا و قدر پر ناراض نہ ہو۔ سو تم مصیبت کو دیکھ کر اور بھی قدم آگے رکھو کہ یہ تمہاری ترقی کا ذریعہ ہے۔ اور اُسکی توحید زمین پر پھیلانے کے لئے اپنی تمام طاقت سے کوشش کرو اور اُسکے بندوں پر رحم کرو اور اُن پر زبان یا ہاتھ یا کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو۔ اور کسی پر تکبر نہ کرو گو اپنا ماتحت ہو۔ اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔ غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بنجاؤ تا قبول کئے جاؤ۔ بہت ہیں جو حلم ظاہر کرتے ہیں مگر وہ اندر سے

۱۳

صفحہ 247

کشتی نوح ۱۸ بقیہ حاشیہ

وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا ۔ بلکہ مسیح تو مسیح میں تو اسکے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں۔ اور مریم کی وہ شان ہے جسنے ایک مدّت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا ۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے یوسف نجار سے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتولی ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض ہ

منہ

اِن سب باتوں کے بعد پھر میں کہتا ہوں کہ یہ مت خیال کرو کہ ہم نے ظاہری طور پر بیعت کر لی ہے۔ ظاہر کچھ چیز نہیں۔ خدا تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور اسی کے موافق تم سے معاملہ کریگا۔ دیکھو میں یہ کہکر فرض تبلیغ سے سبکدوش ہوتا ہوں کہ گناہ ایک زہر ہے اس کو مت کھاؤ۔ خدا کی نافرمانی ایک گندی موت ہے اس سے بچو ۔ دُعا کرو تا تمہیں طاقت ملے۔ جو شخص دُعا کے وقت خدا کو ہر ایک بات پر قادر نہیں سمجھتا بجز وعدہ کی مستثنیات کے وہ میری جماعت میں سے نہیں۔ جو شخص جھوٹ اور فریب کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص دُنیا کے لالچ میں پھنسا ہُوا ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص درحقیقت دین کو دُنیا پر مقدم نہیں رکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص پُورے طور پر ہر ایک بدی سے اور ہر ایک بدعملی سے یعنی شراب سے اور قمار بازی سے۔ بد نظری سے

حاشیہ :- یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔ چار بھائیوں کے نام یہ ہیں۔ یہودا۔ یعقوب ۔ شمعون ۔ یوسُس ۔ اور دو بہنوں کے نام یہ تھے آسیا ۔ لیڈیا ۔ دیکھو کتاب اپاسٹولک ریکارڈس مصنفہ پادری جان ایلن گائیلز مطبوعہ لندن ۱۸۸۶ء صفحہ ۱۵۹ و ۱۶۶ منہ

۲۰

صفحہ 248

تقویۃ الایمان ۲۹ کشتی نوح

شہوت کے خیال سے نامحرم عورتوں کو مت دیکھو اور بجز اسکے دیکھنا حلال۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ ہرگز نہ دیکھ نہ بد نظری سے اور نہ نیک نظری سے کہ یہ سب تمہارے لئے ٹھوکر کی جگہ ہے۔ بلکہ چاہیئے کہ نامحرم کے مقابلہ کے وقت تیری آنکھ خوابیدہ رہے۔ تجھے اُسکی صُورت کی کچھ خبر نہ ہو مگر اس قدر جیسا کہ ایک دھندلی نظر سے ابتداء نزول المآء میں انسان دیکھتا ہے۔ قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ اتنی شراب مت پیو کہ مست ہو جاؤ۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ ہرگز نہ پی۔ ورنہ تجھے خدا کی راہ نہیں ملے گی اور خُدا تجھ سے ہمکلام نہیں ہو گا اور نہ پلیدیوں سے پاک کرے گا۔ اور وہ کہتا ہے کہ یہ شیطان کی ایجاد ہے۔ تم اس سے بچو۔ قرآن تمہیں انجیل کی طرح فقط یہ نہیں کہتا کہ اپنے بھائی پر بے سبب غصّہ مت ہو۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ صرف اپنے ہی غصہ کو تھام بلکہ تو اِصوا بالمرّحمہ پر عمل بھی کر اور دُوسروں کو بھی کہتا رہ کہ ایسا کریں۔ اور نہ صرف خود رحم کر بلکہ رحم کیلئے اپنے تمام بھائیوں کو وصیّت بھی کر۔ اور قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ بجز زنا کے اپنی بیوی کی ہر ایک ناپاکی پر صبر کرو اور طلاق مت دو۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ الخبیثاتُ ١؂ للخبيثين قرآن کا یہ منشاء ہے کہ ناپاک پاک کے ساتھ رہ نہیں سکتا پس اگر تیری بیوی زنا تو نہیں کرتی مگر شہوت کی نظر سے غیر لوگوں کو دیکھتی ہے اور اُن سے بغل گیر ہوتی ہے اور زنا کے مقدمات اس سے صادر ہوتے ہیں گو ابھی تکمیل نہیں ہوئی اور غیر کو اپنی برہنگی دکھلا دیتی ہے اور مُشرک اور مُفسدہ ہے اور جس پاک خُدا پر تُو ایمان رکھتا ہے اُس سے وہ بیزار ہے۔ تو اگر وہ باز نہ آئے تو تُو اُسے طلاق دے سکتا ہے کیونکہ وہ اپنے اعمال میں تجھ سے علیحدہ ہو گئی۔ اب تیرے جسم کا ٹکڑہ نہیں رہی پس تیرے لئے اب جائز نہیں ہے کہ تُو دیّوثی سے اسکے ساتھ بسر کرے کیونکہ اب وہ تیرے جسم کا ٹکڑہ نہیں ایک گندہ اور متعفن عضو ہے جو کاٹنے کے لائق ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ باقی عضو کو بھی گندہ کردے اور تُو مر جائے۔ اور قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ ہرگز قسم نہ کھا۔ بلکہ بیہودہ قسموں سے تمہیں روکتا ہے۔ کیونکہ بعض صورتوں میں قسم فیصلہ کے لئے ایک ذریعہ ہے۔ اور خدا کسی ذریعہ ثبوت کو ضائع کرنا نہیں چاہتا۔ کیونکہ اس سے اسکی حکمت تلف ہوتی ہے۔ یہ طبعی امر ہے کہ

١؂ النور : ۲۷

صفحہ 249

کشتی نوح ۷۱ تقویۃ الایمان

کیلئے عادت کر لیا جاتا ہے۔ وہ دماغ کو خراب کرتا اور آخر ہلاک کرتا ہے۔ سو تم اس سے بچو۔ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ تم کیوں ان چیزوں کو استعمال کرتے ہو جن کی شامت سے ہر ایک سال ہزارہا تمہارے جیسے نشہ کے عادی اِس دُنیا سے کوچ کر جاتے ہیں۔ اور آخرت کا عذاب الگ ہے۔ پرہیز گار انسان بن جاؤ تا تمہاری عمریں زیادہ ہوں اور تم خدا سے برکت پاؤ۔ حد سے زیادہ عیاشی میں بسر کرنا لعنتی زندگی ہے۔ حد سے زیادہ بدخلق اور بے رحم ہونا لعنتی زندگی ہے۔ حد سے زیادہ خدا یا اُسکے بندوں کی ہمدردی سے لاپروا ہونا لعنتی زندگی ہے۔ ہر ایک امیر خدا کے حقوق اور انسانوں کے حقوق سے ایسا ہی پوچھا جائیگا جیسا کہ ایک فقیر بلکہ اس سے زیادہ۔ پس کیا ہی بد قسمت وہ شخص ہے جو اس مختصر زندگی پر بھروسہ کر کے سچے خدا سے منہ پھیر لیتا ہے اور خدا کے حرام

۶۲

کو ایسی بیباکی سے استعمال کرتا ہے کہ گویا وہ حرام اس کیلئے حلال ہو غصہ کی حالت میں دیوانہ بنکر کسی کو گالی کسی کو زخمی اور کسی کو قتل کرنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔ اور شہوات کے جوش میں بے حیائی کے طریقوں کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ سو وہ سچی خوشحالی کو نہیں پائیگا یہاں تک کہ مریگا۔ اے عزیزو تم تھوڑے دنوں کیلئے دُنیا میں آئے ہو۔ اور وہ بھی بہت کچھ گزر چکے۔ سو اپنے مولیٰ کو ناراض مت کرو۔ ایک انسانی گورنمنٹ جو تم سے زبردست ہو۔ اگر تم سے ناراض ہو تو وہ تمہیں تباہ کر سکتی ہے پس تم سوچ لو کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے کیونکر تم بچ سکتے ہو۔ اگر تم خدا کی آنکھوں کے آگے متقی ٹھہر جاؤ تو تمہیں کوئی بھی تباہ نہیں کر سکتا اور وہ خود تمہاری حفاظت کریگا۔ اور دشمن جو تمہاری جان کے درپے ہے تم پر قابو نہیں پائیگا۔ ورنہ تمہاری جان کا کوئی حافظ نہیں۔ اور تم دشمنوں سے ڈر کر یا اور آفات میں مبتلا ہو کر بیقراری سے زندگی بسر کرو گے۔ اور تمہاری عمر کے آخری دن بڑے غم

٭ یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔ مگر اے مسلمانو! تمہارے نبی علیہ السلام تو ہر ایک نشہ سے پاک اور معصوم تھے جیسا کہ وہ فی الحقیقت معصوم ہیں۔ پھر تم مسلمان کہلا کر کس کی پیروی کرتے ہو۔ قرآن انجیل کی طرح شراب کو حلال نہیں ٹھہراتا۔ پھر تم کس دستاویز سے شراب کو حلال ٹھہراتے ہو۔ کیا مرنا نہیں ہے؟ منہ

۷۳

صفحہ 250

ٹائیٹل بار اوّل

اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ الحمدللہ والمنۃ کہ ضمیمہ نزول المسیح جسکے ساتھ

دس ہزار روپیہ کا اشتہار ہے

حسب استدعا مولوی ثناء اللہ صاحب امرت سری کے محض پانچ دن میں ابتداء ۵ نومبر ۱۹۰۲ء سے طیار ہو کر اس کا نام

اعجاز احمد

رکھا گیا اَور اس رسالہ میں پیر مہر علی شاہ صاؔب ومولوی اصغر علی صاؔب و مولوی علی حائری صاحب شیعہ وغیرہ بھی مخاطب ہیں جن کا نام رسالہ میں مفصل درج ہو (تاریخ طبع ۱۵ نومبر ۱۹۰۲ء) بمقام قادیان باہتمام حکیم فضل الدین صاحب مطبع ضیاءالاسلام میں طبع ہوا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ

تعداد اشاعت ۳۵۰۰

صفحہ 251

ضمیمہ ۱۱۴ نزول المسیح

وحی سے بیان کرتا ہوں اور مجھے کب اس بات کا دعویٰ ہے کہ میں عالم الغیب ہوں جب تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا کہ تو مسیح موعود ہے اور عیسیٰ فوت ہوگیا ہے۔ تب تک میں اسی عقیدہ پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہو۔ اسی وجہ سے کمال سادگی کی رو سے حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی نسبت براہین میں لکھا تھا۔ جب خدا نے مجھ پر اصل حقیقت کھولدی تو میں اس عقیدہ سے باز آگیا۔ پس بغیر کمال یقین کے جو میرے دل پر محیط ہو گیا اور مجھے نور سے بھر دیا اُس رسمی عقیدہ کو نہ چھوڑا حالانکہ اسی براہین میں میرا نام عیسیٰ رکھا گیا تھا اور مجھے خاتم الخلفاء ؂۱ ٹھہرایا گیا تھا اور میری نسبت کہا گیا تھا کہ تو ہی کسر صلیب کریگا۔ اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اِس آیت کا مصداق ہے کہ ھوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ تاہم یہ الہام جو براہین احمدیہ میں کھلے کھلے طور پر درج تھا خدا کی حکمت عملی نے میری نظر سے پوشیدہ رکھا اور اسی وجہ سے باوجودیکہ میں براہین احمدیہ میں صاف اور روشن طور پر مسیح موعود ٹھہرایا گیا تھا مگر پھر بھی میں نے بوجہ اس ذہول کے جو میرے دل پر ڈالا گیا حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ پس میری کمال سادگی اور ذہول پر یہ دلیل ہے کہ وحی الٰہی مندرجہ براہین احمدیہ تو مجھے مسیح موعود بناتی تھی مگر میں نے اس رسمی عقیدہ کو براہین میں لکھ دیا۔ میں خود تعجب کرتا ہوں کہ میں نے باوجود کھلی کھلی وحی کے جو براہین احمدیہ میں مجھے مسیح موعود بناتی تھی کیونکر اسی کتاب میں یہ رسمی عقیدہ لکھ دیا۔

پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بیخبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدّومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دیجائے تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔

پس جب اس بارہ میں انتہا تک خدا کی وحی پہنچی اور مجھے حکم ہُوا کہ فاصدع بما تؤمر یعنے جو تجھے حکم ہوتا ہے وہ کھولکر لوگوں کو سنا دے اور بہت سے نشان مجھے دیئے گئے اور میرے دل میں روز روشن

؂۱ الصف : ۱۰

۹

صفحہ 252

ضمیمہ ۱۳۰ نزول المسیح

نمونہ یہودیوں کو دیا گیا اور ان کیلئے وہ ساعت ہو گئی۔ قرآنی محاورہ کی رُو سے ساعۃ عذاب ہی کو کہتے ہیں۔ سو خبر دیگئی تھی کہ یہ ساعۃ حضرت عیسیٰ کے انکار سے یہودیوں پر نازل ہوگی۔ پس وہ نشان ظہور میں آگیا اور وہ ساعۃ یہودیوں پر نازل ہوگئی۔ اور نیز اسی زمانہ میں طاعون بھی اُنپر سخت پڑی اور درحقیقت اُن کیلئے وہ واقعہ قیامت تھا۔ جسکے وقت لاکھوں یہودی نیست و نابود ہوگئے اور ہزار ہا طاعون سے مرگئے۔ اور باقیماندہ بہت ذلّت کے ساتھ متفرق ہوگئے۔ قیامتِ کبریٰ تو تمام لوگوں کیلئے قیامت ہوگی مگر یہ خاص یہودیوں کیلئے قیامت تھی۔ پھر ایک اور قرینہ قرآنِ شریف میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا ؎ یعنی اے یہودیو ! عیسیٰ کے ساتھ تمہیں پتہ لگ جائیگا۔ کہ قیامت کیا چیز ہے اُسکے مثل تمہیں دیجائیگی یعنی مَثَلًا لِّبَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ ؎ یہ قیامت تمہارے پر آئیگی اس میں شک نہ کرو۔ صاف ظاہر ہے کہ قیامتِ حقیقی جو ابتک نہیں آئی۔ اُسکی نسبت غیر موزوں تھا کہ خُدا کہتا کہ اس قیامت میں شک نہ کرو۔ اور تم اسکو دیکھوگے۔ اُس زمانہ کے یہودی تو سب مرگئے اور آنیوالی قیامت اُنہوں نے نہیں دیکھی۔ کیا خدا نے جھوٹ بولا۔ ہاں طیطوس رومی والی قیامت دیکھی۔ سو قیامت سے مراد وہی قیامت ہے جو حضرت مسیح کے زمانہ میں طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں کو دیکھنی پڑی اور پھر طاعون کے ذریعہ سے اُسکو دیکھ لیا۔ یہ خدا کی کتابوں میں پُرانا وعدہ عذاب کا چلا آتا تھا۔ جس کا بائبل میں جا بجا ذکر پایا جاتا ہے۔ قرآن شریف میں اسکے ۲۲ لئے خاص آیت نازل ہوئی۔ یہی وعدہ قرآن شریف اور پہلی کتابوں میں موجود ہے اور اسی سے یہودیوں کو تنبیہ ہوئی۔ ورنہ دُور کی قیامت سے کون ڈرتا ہے۔ کیا اسوقت کے مولوی اُس قیامت سے ڈرتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ اور جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے۔ یہ لفظ ساعۃ کا کچھ قیامت سے خاص نہیں اور نہ قرآن نے اسکو قیامت سے خاص رکھا ہے۔ افسوس کہ نیم مُلّا جنکی عاقبت خراب ہے اپنی جہالت سے ایسے ایسے معنے کرلیتے ہیں جن سے اصل مطلب فوت ہوجاتا ہے۔ آخری قیامت سے یہودیوں کو کیا خوف تھا۔ مگر قریب کے عذاب کی پیشگوئی بیشک اُنکے دلوں پر اثر ڈالتی تھی۔

؎ الزخرف : ۶۱ ؎ الزخرف : ۵۹ ۳۹

صفحہ 253

نزول المسیح ۱۵۰ ضمیمہ

۳۹ اب میں اپنے خدائے قدیر و کریم و قدوس و غیور پر توکل کر کے قصیدہ کو لکھتا ہوں اور اپنے مؤید اور محسن کو مدد چاہتا ہوں اے میرے حامی قادراور دعاؤں کے اسرار کے گواہ میری مدد کر اور ایسا کر کہ یہ تیرا نشان دنیا میں چمکے اور کوئی مخالف میعاد مقررہ میں اسکی نظیر بنانے میں قادر نہ ہو اے میرے پیارے ایسا ہی کر اور بہتوں کو اس نشان اور اس تمام مضمون سے ہدایت دے۔ آمین ثم آمین اور وہ قصیدہ یہ ہے۔

القصيدة الاعجازية

ایا ارض مُدَّ* قد دفاکِ+ مُدَمَّر وارداک ضلیل واغراک مموغر

اے مکہ کی زمین ایک ہلاک کرنیوالے نے تیری ہستی کو مٹا دیا ۔ جس نے تجھے ہلاک کیا ۔ ہلاک کیا گمراہ کرنیوالے تجھے اور راہ بھٹکانیوالے نے تجھ پر تغیر کیا

دعوتِ کذوباً مفسداً صِيْدَ الذی کحوت غدیر اخذه لا يُعَذِّرُ

تو نے ایک جھوٹے مفسد ۔ برے مکار کو بُلا لیا ۔ جس کا پکڑنا ڈھاب کی مچھلی کی طرح برا کام نہیں۔

وجاءكِ صحبی ناصحین کاخوة یقولون لا تبغوا هوى وتصبّروا

اور میرے دوست تیرے پاس آئے جو بھائیوں کی طرح نصیحت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جھوٹی ہوس کی طرف میل مت کرو اور صبر کرو

فظل أُساریکم اساریٰ تعصّب یریدون من یغوی کذئبٍ یُعَقِّرُ

پس تم میں سے وہ لوگ جو تعصب کے قیدی تھے ۔ انہوں نے چاہا کہ اس شخص کو تلاش کریں جو بھیڑئیے کیطرح پھاڑے اور چیرے

* مُدَّ عربی میں مکہ کو بھی کہتے ہیں مسلمان جن جن ملکوں میں گئے اور جو جو انہوں نے نام رکھے وہ اکثر عربی تھے۔ منہ

+ دفو کے معنی ہیں نیست و نابود کرنا۔ سو مکہ کے لوگ اپنے اوہام کیوجہ سے پہلے ہی خستہ تھے ثناء اللہ نے جا کر اور جھوٹ بول کر انکو کشتہ کر دیا اور وہ خود مُدَمَّر تھا یعنے بمعنے آگے ہلاک شدہ تھا۔ سو ہلاک شدہ نے ان نادانوں کو ہلاک کر دیا۔ منہ

۴۶

صفحہ 254

نزول المسیح ۱۶۴ ضمیمہ

الیک ارد محامدی رُدّت کلھا وما انا الا مثل درّی یعقر
میری طرف ان تمام تعریفوں کو ردّ کرتا ہوں جن کا میں قصد کرتا ہوں اور میں نہیں ہوں مگر ایک مرغے کیطرح جو خاک میں ملایا جاتا ہو
وقالوا علیٰ المحسنین فضل بنفسہ اقول نعم واللہ ربی سیظھر
اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے تمام محسنین پر اپنے تئیں اچھا سمجھا میں کہتا ہوں کہ ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کردے گا
ولو کنت کذاباً لمّا کنت بعدہ کمثل یھودی ومن یتنصر
اور اگر میں جھوٹا ہوتا تو پھر اس کے بعد میں ایک یہودی اور مرتد نصرانی کی مانند بھی نہ ہوتا
ولکننی من امر ربی خلیفۃ مسیحٌ سمعتم وعدہ فتفکروا
مگر میں اپنے خدا کے حکم سے خلیفہ اور مسیح موعود ہوں اب تم سوچ لو ۔
فما شان موعود وما فیہ عندکم من القول قول نبینا فتدبروا
پس مسیح موعود کی کیا شان ہو اور تمہارے پاس اسکے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا قول ہے ۔
حدیث صحیح عندکم تقرّونہ فلا تکتموا ما تعلمون واظھروا
تمہارے پاس ایک صحیح حدیث ہے جس کو تم پڑھتے ہو پس جو کچھ تم جانتے ہو اسکو پوشیدہ مت کرو اور ظاہر کرو
و من یکتمن شھادۃ کان عندہ فسوف یری تعذیب نار تسعّر
اور جو شخص اس گواہی کو پوشیدہ کریگا جو اسکے پاس ہے ۔ پس عنقریب وہ آگ کا عذاب دیکھے گا جو خوب بھڑکائی جائے گی
فلا تجعلوا کذباً علیکم عقوبۃ ودع یا ثناء اللہ قولاً تزوّر
پس تم جھوٹ کو اپنے لئے وبال کا ذریعہ مت ٹھہراؤ اور اے ثناء اللہ تو جھوٹ بولنا چھوڑ دے ۔
۵۳ ترکت طریق کرام قوم وخلقھم ھجوتَ بمردٍ عامداً لتُحقّر
تو نے شریفوں کے خلق اور طریق کو چھوڑ دیا ۔ اور تو نے موضع مرد میں قصداً ہماری ہجو کی تاکہ تحقیر کرے
وشتّان ما بین الکرام وبینکم وان الفتی یخشی الحسیب یحذر
اور کہاں شریف اور کہاں تم لوگ اور نیک انسان خدا سے ڈرتا ہے اور بدی سوچنے سے پرہیز کرتا ہے
ترکناک حتی قیل لا یعرف القلی فجئتَ خصيماً اَيُّھَا الْمُسْتَكْبِرُ
ہم نے تجھے چھوڑ دیا تھا یہاں تک کہ تم لوگ کہنے لگے کہ یہ کینہ کو نہیں جانتے ہیں۔ پس تو خود مقابلہ کے لئے آیا ہے اے متکبر ۔

۶۰

صفحہ 255

القصيدة ۱۸۱ ضمیمہ نزول المسیح

تكاد السموات العلى من كلامكم تفطرن لولا وقتها متقرر قریب ہے کہ آسمان تمہاری کلام سے پھٹ جائیں اگر ان کے پھٹنے کا وقت مقرر نہ ہو

اكان حسين افضل الرسل كلهم اكان شفيع الانبياء ومؤثر کیا حسین تمام نبیوں سے بڑھ کر تھا ۔ کیا وہ ہی نبیوں کا شفیع اور سب سے برگزیدہ تھا۔

الا لعنة الله الغيور على الذى يهيم باطراء ولا يتبصر ۶۹ خبردار ہو کہ خدائے غیور کی لعنت اس شخص پر ہے جو مبالغہ آمیز باتوں کو بکتا ہے اور نہیں دیکھتا

واما مقامى فاعلموا ان خالقى يحمّدنى من عرشه ويوقر اور میرا مقام یہ ہے کہ میرا خدا عرش پر سے میری تعریف کرتا ہے اور عزت دیتا ہے

لنا جنة سبل الهدى ان انهارها نسيم الصبا من شانها تتحير ہمارے لئے ایک بہشت ہے کہ ہدایت کی راہیں اسکی نہریں ہیں اور نسیم صبا اس کی شان سے حیران ہو رہی ہے ۔

تكدر ماء السابقين وعيننا الى آخر الايام لا تتكدر پہلوں کا پانی مکدر ہوگیا اور ہمارا پانی اخیر زمانہ تک مکدّر نہیں ہوگا۔

رأيتم وانتم تذكرون رواتكم ومه من نقول عند عين تبصر ہم نے دیکھ لیا اور تم اپنے راویوں کا ذکر کرتے ہو۔ اور کیا قصے دیکھنے کے مقابل پر کچھ چیز ہیں۔

وشتان ما بينى وبين حسينكم فانى اؤيد كل ان وانصر اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک آن خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔

واما حسين فاذكروا دشت كربلا الى هذه الايام تبكون فانظروا مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو ۔ اب تک تم روتے ہو پس سوچ لو ۔

وانى بفضل الله فى حجر خالقى اربى واعصم من لئام تنمروا اور میں خدا کے فضل سے اسکے کنف عاطفت میں پرورش پارہا ہوں اور کمینے لئیموں کے حملہ سے جو پلنگ صورت ہیں بچایا جاتا ہوں ۔

وان ياتنى الاعداء بالسيف والقنا فوالله انى احفظن واظفر اور اگر دشمن تلواروں اور نیزوں کے ساتھ میرے پاس آویں پس بخدا میں بچایا جاؤں گا اور مجھے فتح ملے گی۔

۷۷

صفحہ 256

ضمیمہ ۱۸۳ نزول المسیح

أتزعم انّ رسولنا سيّد الورى على زعم شانئِه توفى ابترًا کیا تُو گمان کرتا ہے کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے اولاد ہونے کی حالت میں وفات پائی جیسا کہ دشمن بدگو کا خیال ہے

فلا والذی خلق السّماءَ لاجلِہ لہ مثلنا وُلدٌ الى يوم يحشرُ مجھے اس کی قسم جس نے آسمان بنایا بلکہ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ ہماری مثل اسکے لئے لڑکے ہیں جو قیامت تک پیدا ہوتے جائینگے

و انّا ورثنا مثلَ وُلدٍ متاعَہ فایّ ثبوت بعد ذلک يُحْضَرُ اور ہم نے اولاد کی طرح اس کی وراثت پائی ۔ پس اس سے بڑھ کر اور کونسا ثبوت ہے جو پیش کیا جائے ۔

لہ خسف القمر المنیر وان لی غسا القمران المشرقان أتنكرُ اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا کیا تُو انکار کریگا ۔

وکان کلامٌ معجزٌ آيةً لّہ کذلک لی قولٌ علی الکلّ یبهرُ اور اُس کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا۔ اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا جو سب پر غالب ہے

اذا القوم قالوا بِدعةٌ الوحی عامدًا عجبتُ فانی ظلّ بدرٍ یُنوّرُ جب قوم نے کہا کہ یہ تو عمداً وحی کا دعویٰ کرتا ہے۔ مَیں نے تعجب کیا کہ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل ہوں

و انّى لظلٍّ ان یخالف اصلَہ فما فیہ فی وجہی یلوح و یزهرُ اور سایہ کیونکر اپنے اصل سے مخالف ہو سکتا ہے پس وہ روشنی جو اُس میں ہے وہ مجھ میں چمک رہی ہے

و انّى لذونسبٍ کاصلِ الطبیعہ ومن طینہ المعصوم طینی معطرُ اور مَیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ذونسب ہوں اور اس کی پاک مٹی کا مجھ میں خمیر ہے ۔

کفی العبد تقوی القلب عند حسیبنا ولیس لِنَسَبٍ ذو صلاحٍ مُعیّرُ اور بندہ کو دل کا تقویٰ کافی ہے۔ اور ایک صالح کو اس لئے سرزنش نہیں کر سکتے کہ اسکی نسب اعلیٰ نہیں۔

ولکن قضٰی ربّ السما لأئمّةٍ لهم نسبٌ کیلا یهیج التنفرُ مگر خدا نے اماموں کے لئے چاہا کہ وہ ذو نسب ہوں تاکہ لوگوں کو انکی کم نسبی کا تصور کر کے نفرت پیدا نہ ہو

و من کان ذا نسبٍ کریمٍ ولم یکن لہ حسب فهو الدَّنِیُّ المحقَّرُ اور جو شخص اچھی نسب رکھتا ہے مگر اُس میں ذاتی صفات کچھ نہیں وہ کمینہ اور حقیر ہے ۔

۷۹

صفحہ 257

ضمیمہ نزول المسیح ۱۸۸ القصيده

اتعصون بغيا من أتى من مليككم
وقد تمت الاخبار والآي تبهر

کیا تم محض بغاوت سے اس شخص کی نافرمانی کرتے ہو جو تمہارے بادشاہ کی طرف سے آیا ہوا اور خبریں پوری ہو گئیں اور نشان چمک اٹھے

وقد قيل منكم يأتين إمامكم
وذلك في القرآن نبأ مكرر

اور تم سن چکے ہو کہ تمہارا امام تم میں سے ہی آئے گا اور یہ خبر تو قرآن میں کئی مرتبہ آچکی ہے ۔

پیر گولڑہ کے نام

أتاني كتاب من كذوب يزوّر
كتاب خبيث كالعقارب يأبر

مجھے ایک کتاب کذاب کی طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خبیث کتاب اور بچھو کی طرح نیش زن ۔

فقلت لك الويلات يا أرض جولر
لعنت بملعون فانت تدمر

پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت تو ملعون کے سبب سے ملعون ہو گئی پس تو قیامت تک ہلاکت میں رہے گی

تكلم هذا النمس كالزمع شاتماً
وكل امرء عند التخاصم يسبر

اس فرومایہ نے کمینہ لوگوں کی طرح گالی کے ساتھ بات کی ہے اور ہر ایک آدمی خصومت کے وقت آزمایا جاتا ہے ۔

أتزعم يا شيخ الضلالة انني
تقولّت فاعلم ان ذيلي مطهر

کیا تو اے گمراہی کے شیخ یہ گمان کرتا ہے کہ میں نے جھوٹ بنایا ہے پس جان کہ میرا دامن جھوٹ سے پاک ہے ۔

اتنكر حقا جاء من خالق السما
سيبدي لك الرحمن ما انت تنكر

کیا تو اس حق سے انکار کرتا ہے جو آسمان سے آیا۔ خدا عنقریب تیرے پر ظاہر کریگا جس چیز کا تو نے انکار کیا ہے۔

اذا ما رأينا ان قلبك قد غسا
ففاضت دموع العين والقلب يضجر

جب ہم نے دیکھا کہ تیرا دل سیاہ ہو گیا۔ تو آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے اور دل بیقرار تھا ۔

أخذتم طريق الشرك مركز دينكم
أهذا هو الاسلام يا متكبر

تم نے شرک کے طریق کو اپنے دین کا مرکز بنا لیا ۔ کیا یہی اسلام ہے اے متکبر ۔

وها انا الا نائب الله في الورى
ففروا الي وجانبوا البغي واحذروا

اور میں مخلوق کے لئے خدا کا نائب ہوں۔ پس میری طرف بھاگو اور نافرمانی چھوڑ دو اور ڈرو

وان قضاء الله يأتي من السما
وما كان ان يطوى ويلغى ويهجر

اور خدا کی تقدیر آسمان سے آئے گی ۔ اور ممکن نہیں ہوگا کہ موقوف رکھی جاوے اور باطل سمجھی اور روکی جاوے ۔

۸۴

صفحہ 258

القصيدة ۱۹۳ ضمیمہ نزول المسیح

وَيَوْمٍ فَعَلْتُمْ مَا فَعَلْتُمْ بِغَدْرِكُمْ بِاَخِ الْحُسَيْنِ وَوُلْدِهِ اِذْ اُحْصِرُوا

اور جبکہ تم نے وہ کام کیا جو کیا حسین کے بھائی مسلم کے ساتھ اور اس کی اولاد کے ساتھ اور وہ قید کئے گئے

فَظَلَّ الأُسَارَى يَلْعَنُوْنَ وَفَاءَكُمْ فَرَرْتُمْ وَاَهْلُ الْبَيْتِ اُوْذُوا وَ دُمِّرُوا

پس وہ قیدی یعنی اہلبیت تمہاری وفا پر لعنت کرتے تھے تم بھاگ گئے اور اہلبیت دکھ دیئے گئے اور قتل کئے گئے

هُنَاكَ تَرَاءَى عَجْزُ مَنْ تَحْسَبُوْنَهُ شَفِيْعَ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ فَتَفَكَّرُوْا

تب عجز اور ضعف اس شخص کا یعنی حسین کا ظاہر ہوگیا۔ جس کو تم کہتے تھے کہ آنحضرت صلعم کی بھی شفاعت کریگا۔ پس تم فکر کرو

زَعَمْتُمْ حُسَيْنًا اَنَّهُ سَيِّدُ الْوَرَى وَكُلُّ نَبِيٍّ مِنْهُ يَنْجُوْ وَ يُغْفَرُ

تم گمان کرتے ہو کہ حسین تمام مخلوق کا سردار ہے۔ اور ہر ایک نبی اُسی کی شفاعت سے نجات پائیگا اور بخشا جائیگا۔

فَاِنْ كَانَ هَذَا الشِّرْكُ فِى الدِّيْنِ جَائِزًا فَبِاللَّغْوِ رُسْلُ اللّٰهِ فِى النَّاسِ بُعْثِرُوْا

پس اگر یہ شرک دین میں جائز ہوتا ۔ تو تمام پیغمبر محض لغو طور پر مبعوث شمار کئے جاتے۔

منه

وَذَلِكَ بُهْتَانٌ وَتَوْهِيْنُ شَانِهِمْ لَكَ الْوَيْلُ يَا غُوْلَ الْفَلَا كَيْفَ تَجْسُرُ

اور یہ بہتان ہے اور انبیاء علیہم السلام کی کسر شان ہے اے جنگلوں کے غول تجھ پر ویل یہ تو کیا دلیری کرتا ہے

طَلَبْتُمْ فَلَاحًا مِنْ قَتِيْلٍ بِخَيْبَةٍ فَخَيَّبَكُمْ رَبٌّ غَيُوْرٌ مُتَبِّرُ

تم نے اُس کشتہ سے نجات چاہی کہ جو نومیدی سے مر گیا پس تم کو خدا نے جو غیور ہے ہلاک کرنیوالا ہے نومید کیا اور تباہ کیا

وَوَاللّٰهِ لَيْسَتْ فِيْهِ مِنِّى زِيَادَةٌ وَعِنْدِى شَهَادَاتٌ مِنَ اللّٰهِ فَانْظُرُوْا

اور بخدا اُسے مجھ سے کچھ زیادت نہیں۔ اور میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں پس تم دیکھ لو

وَاِنِّى قَتِيْلُ الْحُبِّ لَكِنْ حُسَيْنُكُمْ قَتِيْلُ الْعِدَا فَالْفَرْقُ اَجْلَى وَاَظْهَرُ

اور مَیں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے

حَدَرْنَا سَفَائِنَكُمْ اِلَى اَسْفَلِ الثَّرَى وَاَوْثَانَكُمْ فِى كُلِّ وَقْتٍ نُكَسِّرُ

ہم نے تمہاری کشتیاں تحت الثریٰ کی طرف اُتار دیں اور تمہارے بت ہر وقت توڑ رہے ہیں ۔

وَوَاللّٰهِ اِنَّ الدَّهْرَ فِى كُلِّ وَقْتِهِ يَصِيْحُ بِكُمْ فِى نُصْحِهِ لَا يُقَصِّرُ

اور بخدا کہ زمانہ اپنے ہر ایک وقت میں تمہیں نصیحت کر رہا ہے اور نصیحت میں کچھ قصور نہیں کرتا

۸۹

صفحہ 259

القصيده ١٩٤ ضمیمہ نزول المسیح

تناهى لسان الناس عن داغ شتم وقولكم يجرى ولا يتحسر

تمام لوگوں نے بد زبانی کی عادت چھوڑ دی۔ اور تمہاری زبان اب تک لعنت بازی پر جاری ہے جو کبھی نہیں پچھتاتی ۔

اشعتم طريق اللعن في اهل سُنة فاجراه اهل وقتكم فان شئتم انظرا

تم نے لعنت بازی کے طریقوں کو اہل سنت الجماعت میں شائع کر دیا پس انہوں نے بھی یہ طریق جاری کر لیا اگر چاہو تو دیکھ لو

فياليت متّم قبل تلك الطرائق ولم يك دين الله منكم يختسرا

پس کاش تم ان تمام طریقوں سے پہلے ہی مر جاتے ۔ اور خدا کا دین تمہارے سبب سے تباہ نہ ہوتا ۔

جعلتم حُسيناً افضل الرسل كلهم وجزتم حدود الصدق والله ينظرا

تم نے حسین کو تمام انبیاء سے افضل ٹھہرا دیا۔ اور سچائی کی حدوں سے آگے گذر گئے ۔

*۲۸ وعند النوائب والاذى تذكرونه كأَنَّ حُسيناً ربّكم يا مُزوّرا

اور مصیبتوں اور دکھوں کے وقت اُسی کو یاد کرتے ہو گویا حسین تمہارا رب ہے اے بدبخت جھوٹ بولنے والے

وخرت له احباركم مثل ساجد فما جرم قوم اشركوا او تنصرا

اور تمہارے احبار ساجدوں کی طرح اُسکے آگے گر گئے۔ پس بت پرستوں یا عیسائیوں کا کیا گناہ ہے ۔

نسيتم جلال الله والمجد والعلى وما وردكم الا الحسين اتنكرا

تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا ۔ اور تمہارا ورد صرف حسین ہو گیا تو انکار کرتا ہے ۔

فهذى على الاسلام احدى المصآئب لدى نفحات المسك قذر مقذرا

پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے ۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گُوہ کا ڈھیر ہے ۔

وان كان هذا الشرك في الدين جائزا فباللغو رسل الله في الناس بعثرا

اور اگر شرک دین میں جائز ہے ۔ پس خدا کے پیغمبر بیہودہ طور پر لوگوں میں بھیجے گئے ۔

واي صلاح ساق جند نبينا الى حرب حزب المشركين فدمّرا

اور کیا غرض تھی کہ ہمارے نبی کا لشکر مقابلہ کیلئے چلا گیا ۔ مشرکوں کی لڑائی کے مقابل پر پس ان کو ہلاک کیا ۔

*حاشیہ ۔ اس شعر کا یہ مطلب ہے کہ جب شرک جائز تھا اور کافروں نے اپنے ان معبودوں کی حمایت میں جو حسین کی طرح غیراللہ تھے مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا تھا پھر آخر مسلمانوں کو اجازت ہوئی کہ اب تم بھی ان مشرکوں کا

صفحہ 260

ٹائیٹل طبع اول

هذا كتاب الفته من تائيد ربي المنان

ووالله إنه من قوة ربي لا من قوة الانسان

وانه لاية عظيمة لمن تفكر و خاف الديان۔

واني سميته

مَوَاهِب الرَّحْمٰن

وَانا عَبْدُ الله الاحد غلام احمد عافاه الله

وايد وجعل قريتي هذه قاديان

دار الاسلام ومهبط الملئكة

الكرام

(امين)

قد طبع في مطبع ضياء الاسلام قاديان باهتمام

الحكيم فضل الدين البهيروي كاربعة عشر خلون

من شوال ١٣٢٠هـ مطابقاً لاربعة عشر خلون من

شهر جنوری سنة ١٩٠٣ء

التعداد ٢٠٠٠

صفحہ 261

مواہب الرحمن ۲۳۶

اخر من كتب اولی ۔ اتكفيك هذه الشواهد او ناتيك بامثال اخرى ۔ از کتاب ہائے نخستیں بودہ آیا کفایت کنند ترا ایں گواہان یا دیگر امثال ہا بیاریم ۱۸ فان فكرت فيما تلوت عليك من الامثال ذکرا ۔ فستعلم انك قد بلغت منی پس اگر فکر کنی در انچه بر تو خواندم از امثال برائے یاد دہانیدن پس عنقریب بدانی که از ما عذر کامل عذرا ۔ هذا وسأكشف عليك امرالم تستطع عليه صبرا ۔ شنیدی ایں است بطور مختصر و عنقریب مفصل بیاں آں امر می کنم کہ برو صبر نہ کردی ۔

البيان الشافي في هذا الباب وتفصيل ما الجأني

بیان شافی دریں باب و تفصیل آں امر کہ چرا برائے

الى ترك التطعيم والتوكل على رب الارباب

ترک خال زدن مضطر گردیدم و بیان توکل بر خدائے خُدا ونداں ۔

اعلم ان موضوع امرنا هذا هو الدعوى الذي عرضت على الناس قلت اني بدان کہ موضوع ایں امر ما آں دعویٰ است کہ بر مردم پیش کردم و گفتم کہ من انا المسيح الموعود والامام المنتظر المعهود ۔ حكمنى الله لرفع اختلاف الامة مسیح موعود ہستم و امام منتظر معہود ہستم خدا مرا حکم مقرر کردہ است برائے دفع اختلاف اُمت وعلمني من لدنه لادعوالناس على البصيرة ۔ فما كان جوابهم الا السب و و از جناب خود مرا تعلیم داد تا مردم را بوجہ بصیرت بخوانم پس جواب اوشاں بجز ایں ہیچ نبود کہ دشنام ہا الشتم والفحشاء ۔ والتكفير والتكذيب والايذاء ۔ وقد سبونى بكل سب دادند و فحش ہا گفتند و کافر گفتن و دروغگو قرار دادن و ستم کردن و مرا از ہر گونہ سبّ و شتم یاد کردند فما رددت عليهم جوابهم ۔ وما عبأت بمقالهم وخطابهم ۔ ولم يزل پس جواب سَبّ و شتم ہا ندادم و پروائے قول گفتگو و خطاب ایشاں ندانستم و دشنام دادن

صفحہ 262

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۲۰

تذکرۃ الشہادتین سیرت الابدال لیکچر لاہور لیکچر سیالکوٹ لیکچر لدھیانہ

الوصیت ۔ چشمہ مسیحی ۔ تجلیات الٰہیہ ۔ قادیان کے آریہ اور ہم

صفحہ 263

ٹائیٹل بار اول

الحمدللہ والمنۃ

یہ رسالہ ایک عیسائی کی کتاب ینابیع الاسلام کے

جواب میں تالیف ہو کر اس کا نام مندرجہ ذیل رکھا گیا

یعنے

چشمۂ مسیحی

اور یہ

مطبع میگزین قادیان میں باہتمام چوہدری

الٰہ داد صاحب ۹؍ مارچ ۱۹۰۶ء کو طبع ہوکر

شائع ہُوا

تعداد جلد (۱۰۰)

صفحہ 264

چشمہ مسیحی ۳۴۶

بدی کی گئی۔ مگر جو کوئی عفو کرے اور اس عفو میں کوئی اصلاح مقصود+ ہو تو اس کا اجر خدا کے پاس ہے۔ یہ تو قرآن شریف کی تعلیم ہے۔ مگر انجیل میں بغیر کسی شرط کے ہر ایک جگہ عفو اور درگذر کی ترغیب دی گئی ہے اور انسانی دوسرے مصالح کو جن پر تمام سلسلہ تمدّن کا چل رہا ہے پامال کر دیا ہے اور انسانی قویٰ کے درخت کی تمام شاخوں میں سے صرف ایک شاخ کے بڑھنے پر زور دیا ہے اور باقی شاخوں کی رعایت قطعاً ترک کر دی گئی ہے۔ پھر تعجب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اُس پر بددعا کی اور دوسروں کو دعا کرنا سکھلایا۔ اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو۔ مگر خود اس قدر بد زبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور بُرے بُرے اُن کے نام رکھے۔ اخلاقی معلّم کا فرض یہ ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھلاوے۔ پس کیا ایسی تعلیم ۱۲ ناقص جس پر انہوں نے آپ بھی عمل نہ کیا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے؟ پاک اور کامل تعلیم قرآن شریف کی ہے جو انسانی درخت کی ہر ایک شاخ کی پرورش کرتی ہے اور قرآن شریف صرف ایک پہلو پر زور نہیں ڈالتا بلکہ کبھی تو عفو اور درگذر کی تعلیم دیتا ہے مگر اس شرط سے کہ عفو کرنا قرین مصلحت ہو اور کبھی مناسب محل اور وقت کے مجرم کو سزا دینے کے لئے فرماتا ہے۔ پس درحقیقت قرآن شریف خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کی تصویر ہے جو ہمیشہ ہماری نظر کے سامنے ہے۔ یہ بات نہایت معقول ہے کہ خدا کا قول اور فعل دونوں مطابق ہونے چاہئیں۔ یعنی جس رنگ اور طرز پر دنیا میں خدا تعالیٰ کا فعل نظر آتا ہے ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کی سچی کتاب اپنے فعل کے مطابق تعلیم کرے۔ نہ

+ قرآن شریف نے بے فائدہ عفو اور درگذر کو جائز نہیں رکھا۔ کیونکہ اس سے انسانی اخلاق بگڑتے ہیں اور شیرازہ نظام درہم برہم ہو جاتا ہے بلکہ اس عفو کی اجازت دی ہے جس سے کوئی اصلاح ہو سکے۔ منہ

۱۴

فلسفیانہ فطرت میں بے خ محبت خالق ضروری محبت ذ کے حصہ سے ایک فانی مو محبتوں کا باہم متضاد ہونا مخلوق کی طرح وجود پ عقل سے محال ہے کہ جب خدا کے بندوں کو خدائی یہ دعویٰ پیدا ہو کر حق م ایک مخلوق نال م نفسانی حالت میں م

صفحہ 265

265

چشمہ مسیحی ۲۶۵

انسان کی فطرت میں ہے خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی محبت ذاتی انسان کی محبت ذاتی میں ایک خارق عادت جوش بخشتی ہے۔ اور ان دونوں محبتوں کے ملنے سے ایک فنا کی صورت پیدا ہو کر بقا باللہ کا نور پیدا ہو جاتا ہے۔ اور یہ بات کہ دونوں محبتوں کا باہم ملنا ضروری طور پر اس نتیجہ کو پیدا کرتا ہے کہ ایسے انسان کا انجام فنا فی اللہ ہو اور خاکستر کی طرح یہ وجود ہو کر (جو حجاب ہے) سراسر عشقِ الٰہی میں رُوح غرق ہو جائے اس کی مثال وہ حالت ہے کہ جب انسان پر آسمان سے صاعقہ پڑتی ہے تو اس آگ کی کشش سے ۴۲ انسان کے بدن کی اندرونی آگ یک دفعہ باہر آجاتی ہے تو اس کا نتیجہ جسمانی فنا ہوتا ہے پس دراصل یہ روحانی موت بھی اسی طرح دو قسم کی آگ کو چاہتی ہے۔ ایک آسمانی آگ اور ایک اندرونی آگ اور دونوں کے ملنے سے وہ فنا پیدا ہو جاتی ہے جس کے بغیر سلوک تمام نہیں ہو سکتا۔ یہی فنا وہ چیز ہے جس پر سالکوں کا سلوک ختم ہو جاتا ہے۔ اور جو انسانی مجاہدات کی آخری حد ہے۔ اسی فنا کے بعد فضل اور موہبت کے طور پر مرتبہ بقا کا انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ صِرَاطَ الَّذِينَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۱؂ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو یہ مرتبہ بطور انعام ملے نہ بوجہ حسنِ عمل کے نہ کسی عمل کا اجر۔ اور یہ عشقِ الٰہی کا آخری نتیجہ ہے جس سے ہمیشہ کی زندگی حاصل ہوتی ہے اور موت سے نجات ہوتی ہے۔ ہمیشہ کی زندگی بجز خدا تعالیٰ کے کسی کا حق نہیں ۔ وہی

٭ انسان چونکہ بوجہ اپنی بشریت کی کمزوری کے ایسے اعمال بجا نہیں لا سکتا جن سے بے انتہا اور غیر محدود نعمتوں کا حقدار ہو جائے ۔ اور بغیر حصول ان نعمتوں کے سچی اور حقیقی نجات پا ہی نہیں سکتا اس لئے انسان جب اپنی قوت اور طاقت کی حد تک مجاہدہ اور جپ تپ کر لیتا ہے تب عنایت الٰہی اس کی کمزوری پر رحم کر کے محض فضل سے اس کی دستگیری کرتی ہے اور صلہ کے طور پر وصالِ الٰہی کا وہ انعام اس کو دیتی ہے جو پہلے اس سے راستبازوں کو دیا گیا تھا ۔ منہ

۳۳ ۱؂ الفاتحة : ٧

صفحہ 266

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۲۱

براہین احمدیہ حصہ پنجم

صفحہ 267

جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل کان زهوقاً

آنانکہ بر دعاویٰ ما حملہ ہا کنند

وز راہِ جہل عربدہ ہا برپا کنند

گر یک نظر کنند دریں نسخہ کتاب

ہست ایں یقیں کہ ترکِ عناد و ابا کنند

باور نمی کنم کہ نیایند عذر خواہ

ویں امر دیگر است کہ ترکِ حیا کنند

براہین احمدیہ

حصہ پنجم

(۵)

ملقب

بالبراہین الاحمدیۃ علی حقیقۃ کتاب اللہ القرآن والنبوۃ المحمدیۃ

مؤلفہ

حضرت اقدس مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام

صفحہ 268

براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۳۱

یہ تو جاہلانہ ہذیان ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ انہی حصص براہین احمدیہ میں فرماتا ہے۔ انت منی بمنزلۃ لا یعلمہا الخلق یعنی تیرا میرے نزدیک وہ مقام ہے جس کو دنیا نہیں جانتی ۔ یہ جواب اسی قسم کا ہے جیسا کہ آدم کی نسبت قرآن شریف میں ہے ۔ قال انی اعلم ما لا تعلمون ۱؎ بلکہ یہی آیتیں بعینہ اگرچہ براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں نہیں مگر دوسری کتابوں میں میری نسبت بھی وحی الٰہی ہو کر شائع ہو چکی ہیں۔ تیسرے آدم سے مجھے یہ بھی مناسبت ہے کہ آدم توام کے طور پر پیدا ہوا اور میں بھی توام پیدا ہوا۔ پہلے لڑکی پیدا ہوئی بعدہٗ میں ۔ اور با ایں ہمہ میں اپنے والد کے لئے خاتم الولد تھا۔ میرے بعد کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔ اور میں جمعہ کے روز پیدا ہوا تھا ۔ اور آدم کا حوا سے پہلے پیدا ہونا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ سلسلہ دنیا کا مبدء ہے ۔ اور میرا اپنی توام ہمشیرہ سے بعد میں پیدا ہونا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ میں دنیا کے سلسلہ کے خاتمہ پر آیا ہوں۔ چنانچہ چھٹے ہزار کے آخر میں میری پیدائش ہے اور قمری حساب کی رو سے اب ساتواں ہزار جاتا ہے ۔

اسی طرح براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں خدا تعالیٰ نے میرا نام نوح بھی رکھا ہے اور میری نسبت فرمایا ہے۔ ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا انہم مغرقون۔ یعنی میری آنکھوں کے سامنے کشتی بنا اور ظالموں کی شفاعت کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کر کہ میں ان کو غرق کرونگا۔ خدا نے نوح کے زمانہ میں ظالموں کو قریباً ایک ہزار سال تک مہلت دی تھی۔ اور اب بھی خیر القرون کی تین صدیوں کو علیحدہ رکھ کر ہزار برس ہی ہو جاتا ہے۔ اس حساب سے اب یہ زمانہ اُس وقت پر آ پہنچا ہے جبکہ نوح کی قوم عذاب سے ہلاک کی گئی تھی۔ اور خدا تعالیٰ ۲؎ نے مجھے فرمایا ۔ اصنع الفلک باعیننا و وحینا ۔ ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیھم۔ یعنی میری آنکھوں کے روبرو اور میرے حکم سے کشتی بنا۔ وہ لوگ جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ نہ تجھ سے بلکہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے ۔ یہی بیعت کی کشتی ہے جو انسانوں کی جان اور ایمان بچانے

۱؎ البقرۃ : ۳۱

صفحہ 269

براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۲۷

۹۷ اے خدا اے کار ساز و عیب پوش و کردگار
اے مرے پیارے مرے محسن مرے پروردگار
کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکر و سپاس
وہ زباں لاؤں کہاں جس سے ہو یہ کاروبار
بدگمانوں سے بچایا مجھ کو خود بن کر گواہ
کر دیا دشمن کو اک حملہ سے مغلوب اور خوار
کام جو کرتے ہیں تیری راہ میں پاتے ہیں جزا
مجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف و کرم ہے بار بار
تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم
کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعت قرب و جوار
کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
یہ سراسر فضل واحساں ہے کہ میں آیا پسند
ورنہ درگہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمتگزار
دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ سب دشمن ہوئے
پر نہ چھوڑا ساتھ تو نے اے میرے چارہ کار
اے مرے یار یگانہ اے مری جاں کی پناہ
بس ہے تو میرے لئے مجھ کو نہیں تجھ بن بکار
میں تو مر کر خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف
پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار
اے فدا ہو تیری راہ میں میرا جسم و جان و دل
میں نہیں پاتا کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار
ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے
گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار
نسل انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے
تیرے بن دیکھے نہیں کوئی بھی یار غمگسار
لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول
میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگہ میں بار
اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم
جن کا مشکل ہے کہ تا روز قیامت ہو شمار
آسماں میرے لئے تو نے بنایا اِک گواہ
چاند اور سورج بنے میرے لئے تاریک و تار
تو نے طاعون کو بھی بھیجا میری نصرت کیلئے
تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار
ہو گئے بیکار سب حیلے جب آئی وہ بلا
ساری تدبیروں کا خاکہ اڑ گیا مثل غبار
سر زمین ہند میں ایسی ہے شہرت مجھ کو دی
جیسے چمکے برق کا اِک دم میں ہر جا اشتہار
صفحہ 270

براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۴۴

روضۂ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک
میرے آنے سے ہُوا کامل بجملہ برگ و بار

۱۱۷

وہ خدا جس نے نبی کو تھا زرِ خالص دیا
زیور دیں کو بنایا ہے وہ اب مثلِ سُنار
وہ دکھاتا ہے کہ دیں میں کچھ نہیں اکراہ و جبر
دیں تو خود کھینچے ہے دل مثلِ بتِ سیمیں عذار
پس یہی ہے رمز جو اُس نے کیا منع از جہاد
تا اُٹھائے دیں کی راہ جو اُٹھا تھا اک غبار
تا دکھائے منکروں کو دیں کی ذاتی خوبیاں
جن سے ہوں شرمندہ جو اسلام پر کرتے ہیں وار
کہتے ہیں یورپ کے ناداں یہ نبی کامل نہیں
وحشیوں میں دِیں کو پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار
پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اک معجزہ
معنیٔ رازِ نبوت ہے اِسی سے آشکار
نور لائے آسماں سے خُود بھی وہ اک نور تھے
قومِ وحشی میں اگر پیدا ہوئے کیا جائے عار
روشنی میں مہرِ تاباں کی بھلا کیا فرق ہو
گرچہ نکلے روم کی سرحد یا از زنگبار
اے مرے پیارو شکیب و صبر کی عادت کرو
وہ اگر گالیاں بَکیں بدگو تم بنو مشکِ تتار
نفس کو مارو کہ اس جیسا کوئی دشمن نہیں
چپکے چپکے کرتا ہے پیدا وہ سامانِ دمار
جس نے نفسِ دوں کو ہمّت کر کے زیر پا کیا
چیز کیا ہیں اُس کے آگے رُستم و اسفندیار
گالیاں سُن کر دُعا دو پاکے دُکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار
تم نہ گھبراؤ اگر وہ گالیاں دیں ہر گھڑی
چھوڑ دو اُن کو کہ چھپوائیں وہ ایسے اشتہار
چُپ رہو تم دیکھ کر اُن کے رسالوں میں شتم
دَم نہ مارو گر وہ ماریں اور کر دیں حالِ زار
دیکھ کر لوگوں کا جوش و غیظ مت کچھ غم کرو
شدّتِ گرمی کا ہے مخزن بارانِ بہار
افترا اُن کی نگاہوں میں ہمارا کام ہے
یہ خیال اللہ اکبر کس قدر ہے نابکار
خیر خواہی میں جہاں کی خوں کیا ہم نے جگر
جنگ بھی تھی صلح کی نیت او کیں سے فرار
پاک دل پر بدگمانی ہے یہ شقوت کا نشاں
اب تو آنکھیں بند ہیں دیکھیں گے پھر انجامِ کار
صفحہ 271

ضمیمہ براہین احمدیہ ۲۱۶ حصہ پنجم تپایا جائے یہاں تک کہ سُرخ ہو جائے اور آگ کے رنگ پر ہو جائے ۔ اس لون سے اُلوہیت کے آثار اور افعال ظاہر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ لوہا بھی اس درجہ پر آگ کے آثار اور افعال ظاہر کرتا ہے مگر یہ نہیں کہ وہ مومن خدا ہو گیا ہے بلکہ محبت الٰہیہ کا کچھ ایسا ہی خاصہ ہے جو اپنے رنگ میں ظاہر وجود کو لے آتی ہے اور باطن میں عبودیت اور اس کا ضعف موجود ہوتا ہے۔ اس درجہ پر مومن کی روٹی خدا ہوتا ہے جس کے کھانے پر اس کی زندگی موقوف ہے اور مومن کا پانی بھی خدا ہوتا ہے جس کے پینے سے وہ موت سے بچ جاتا ہے ۔ اور اس کی ٹھنڈی ہوا بھی خدا ہی ہوتا ہے جس سے اس کے دل کو راحت پہنچتی ہے ۔ اور اس مقام پر استعارہ کے رنگ میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ خدا اس مرتبہ کے مومن کے اندر داخل ہوتا اور اس کے رگ و ریشہ میں سرایت کرتا اور اس کے دل کو اپنا تخت گاہ بنا لیتا ہے ۔ تب وہ اپنے رُوح سے نہیں بلکہ خدا کی رُوح سے دیکھتا اور خدا کی رُوح سے سنتا اور منہ خدا کی رُوح سے بولتا اور خدا کی رُوح سے چلتا اور خدا کی رُوح سے دشمنوں پر حملہ کرتا ہے کیونکہ وہ اس مرتبہ پر نیستی اور استہلاک کے مقام میں ہوتا ہے اور خدا کی رُوح اس پر اپنی محبت ذاتیہ کے ساتھ تجلّی فرما کر حیاتِ ثانی اس کو بخشتی ہے ۔ پس اس وقت روحانی طور پر اس پر یہ آیت صادق آتی ہے ۔ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ ۔

یہ تو وجود روحانی کا مرتبہ ششم ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اور اس کے مقابل پر جسمانی پیدائش کا مرتبہ ششم ہے اور اس جسمانی مرتبہ کے لئے بھی وہی آیت ہے جو روحانی مرتبہ کے لئے اوپر ذکر ہو چکی ہے یعنی ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ ۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جب ہم ایک پیدائش کو تیار کر چکے تو بعد اس کے ہم نے ایک اور پیدائش سے انسان کو پیدا کیا ۔ اٰخَرَ کے لفظ سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ وہ ایسی فوق الفہم پیدائش ہے جس کا سمجھنا انسان کی عقل سے بالا تر ہے اور اُس کے فہم سے بہت دُور یعنی رُوح جو قالب کی

صفحہ 272

ضمیمہ براہین احمدیہ ۲۴۸ حصہ پنجم

اب آپ خود منصف ہو کر سوچیں کہ الہام عفت الدیار محلھا ومقامھا اپنے لفظی معنوں کے رُوسے اس زلزلہ کی پیشگوئی پر چسپاں ہوتا ہے جو پہلے اس سے ذکر بھی کیا گیا یا طاعون پر۔ ماسوا اِس کے زلزلہ کی پیشگوئی کا اس فقرہ سے یعنی عفت الدیار کی پیشگوئی سے جیسا کہ معنوں کی رُو سے تعلق ہے ایسا ہی قُربِ زمانی کی رُو سے بھی تعلق ہے اور وہ یہ کہ عفت الدیار کے الہام سے پانچ ماہ پہلے صریح الفاظ میں زلزلہ کا الہام ہو چکا ہے اور دونوں پیشگوئیاں ایک دوسرے کے بعد شائع ہو چکی ہیں ۔ یعنی پہلے زلزلہ کا دھکا اور پھر عفت الدیار محلھا و مقامھا ۔ اور ان دونوں کے اندر طاعون کا کوئی ذکر نہیں ۔

٨٨

قولہ ۔ اگر الہام عفت الدیار الخ کی نسبت قطعی طور پر علم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ زلزلہ کے متعلق ہے تو پھر ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا ۔

اقول ۔ افسوس آپ کو سنت اللہ کی کچھ بھی خبر نہیں ۔ نبی کے لئے کسی پیشگوئی کے کسی خاص پہلو کا قطعی علم ہونا کچھ ضروری نہیں ۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ پیشگوئی میں اس بات کا ہونا تو ضروری ہے کہ اس کا مفہوم خارق عادت ہو اور انسانی طاقت یا مکر و فریب اس کا مقابلہ نہ کر سکے ۔ مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر ایک پہلو سے اس پیشگوئی کی حقیقت ظاہر کی جائے ۔ توریت میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایک عظیم پیشگوئی محض گول مول ہے کہ ایک نبی موسیٰ کی مانند بنی اسرائیل میں سے اُنکے بھائیوں میں سے آئیگا ۱؂ اور کہیں کھول کر نہ بتلایا کہ بنی اسماعیل میں سے آئیگا ۔ اور اس کا یہ نام اور اس کے باپ کا یہ نام ہوگا۔ اور مکہ میں پیدا ہوگا اور اتنی مدت بعد آئیگا ۔ اس لئے یہود کو اس پیشگوئی سے کچھ بھی فائدہ نہ ہوا ۔ اور اسی غلطی سے لاکھوں یہود جہنم میں جا پڑے حالانکہ قرآن شریف نے اسی پیشگوئی کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا ہے ۔ اِنَّا اَرْسَلْنَا اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا ۔ اور یہود کہتے ہیں کہ

۱؂ توریت میں بعض جگہ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ وہ تم میں سے ہی آئیگا ۔ منہ

لہ المزمل : ۱۶

صفحہ 273

ضمیمہ براہین احمدیہ ۲۵۸ حصہ پنجم

بارے میں اس قدر کافی سمجھا گیا ہے کہ وہ خارق عادت اور انسانی طاقتوں سے بالاتر ہوں یا یہ کہ کسی ایسے غیب پر مشتمل ہوں جو انسانی پیش بینی سے بلند تر ہو ۔ جب ایک پیشگوئی خارق عادت کے طور پر بیان کی جائے جس کے بیان کرنے کے وقت کسی عقل اور فہم کو یہ خیال نہ ہو کہ ایسا امر ہونے والا ہے اور صریح وہ ایک غیر معمولی بات ہو جس کی گذشتہ صدہا سال میں کوئی نظیر نہ پائی جائے اور نہ آئندہ اس کے ظہور کے لئے آثار ظاہر ہوں اور وہ پیشگوئی سچی نکلے ۹۷ تو عقل سلیم حکم دیتی ہے کہ ایسی پیشگوئی ضرور منجانب اللہ سمجھی جائیگی ورنہ تمام نبیوں کی پیشگوئیوں سے انکار کرنا پڑیگا ۔ اب ذرا کان کھول کر سن لو کہ آئندہ زلزلہ کی نسبت جو میری پیشگوئی ہے اُس کو ایسا خیال کرنا کہ اُس کے ظہور کی کوئی بھی حد مقرر نہیں کی گئی یہ خیال سراسر غلط ہے کہ جو محض خفت تدبر اور کثرت تعصب اور جلد بازی سے پیدا ہوا ہے ۔ کیونکہ بار بار وحی الٰہی نے مجھے اطلاع دی ہے کہ وہ پیشگوئی میری زندگی میں اور میرے ہی ملک میں اور میرے ہی فائدہ کے لئے ظہور میں آئیگی ۔ اور اگر وہ صرف معمولی بات ہو جس کی نظیریں آگے پیچھے صدہا موجود ہوں اور اگر کوئی ایسا خارق عادت امر نہ ہو جو قیامت کے آثار ظاہر کرے تو پھر میں خود اقرار کرتا ہوں کہ اس کو پیشگوئی مت سمجھو ۔ اس کو بقول اپنے تمسخر ہی سمجھ لو ۔ اب میری عمر ستر برس کے

سنه ۱۹۰۵ء یکم مئی

قریب ہے اور تیس برس کی مدت گزر گئی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم ۔ پس اس صورت میں اگر خدا تعالیٰ نے اس آفت شدیدہ کے ظہور میں بہت ہی تاخیر ڈال دی تو زیادہ سے زیادہ سولہ سال ہیں اس سے زیادہ نہیں کیونکہ ضرور ہے کہ یہ حادثہ میری زندگی میں ظہور میں آجائے ٭

٭ خدا تعالیٰ کا الہام ایک یہ بھی ہے ۔ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زلزلہ موعودہ کے وقت بہار کے دن ہونگے ۔ اور جیسا کہ بعض الہامات سے سمجھا جاتا ہے غالباً وہ صبح کا وقت ہوگا یا اس کے قریب اور غالباً وہ وقت نزدیک ہے جبکہ وہ پیشگوئی ظہور میں آجائے اور ممکن ہے کہ خدا اس میں کچھ تاخیر ڈال دے ۔ منہ

صفحہ 274

ضمیمہ براہین احمدیہ ۲۵۹ حصہ پنجم

لیکن پیشگوئی کا مطلب یہ نہیں کہ پورے سولہ سال تک ظہور اس پیشگوئی کا معرض التوا میں رہے گا بلکہ ممکن ہے کہ آج سے ایک دو سال تک یا اس سے بھی پہلے یہ پیشگوئی ظہور میں آجائے ۔ اور نہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ میری عمر اسی سال سے ضرور زیادہ ہو جائیگی بلکہ اس بارے میں جو فقرہ وحی الٰہی میں درج ہے اس میں مخفی طور پر ایک امید دلائی گئی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو اسی برس سے بھی عمر کچھ زیادہ ہو سکتی ہے اور جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو چھہتر اور چھیاسی کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں۔ بہر حال یہ میرے پر تہمت ہے کہ میں نے اس پیشگوئی کے زمانہ کی کوئی بھی تعیین نہیں کی۔ اور خدا تعالیٰ بار بار اپنی وحی میں فرما رہا ہے کہ ہم تیرے لئے یہ نشان دکھلائیں گے۔ اور ان کو کہہ دے کہ یہ نشان میری سچائی کا گواہ ہوگا مَیں تیرے لئے اتروں گا اور تیرے لئے اپنے نشان دکھلاؤں گا مَیں اس وقت تیرے پاس اپنی فوجیں لے کر آؤں گا جبکہ کسی کو خبر نہیں ہو گی۔ اور اس وقت کو کوئی نہیں جانتا مگر خدا۔ ۸۰ اور جیسا کہ موسیٰ کے زمانہ میں ہوا کہ فرعون اور ہامان اُس وقت تک دھوکہ میں رہے جبتک کہ رودِ نیل کے طوفان نے ان کو پکڑا۔ ایسا ہی اب بھی ہوگا۔ اور پھر فرمایا کہ تو میری آنکھوں کے سامنے کشتی تیار کر اور ظالم لوگوں کی سفارش مت کر۔ اور ان کا شفیع مت بن کہ میں اُن سب کو غرق کروں گا۔ ایسا ہی اور صریح الہامات الٰہی ہیں۔ اور سب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ پیشگوئی میری زندگی میں اور میرے ہی زمانہ میں ظہور میں آئیگی اور اس کی یہ حدّ ہے جو معین اور مقرر ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کر سکتی۔ مگر نہیں معلوم کہ وہ مہینوں کے بعد ظہور میں آئے گی یا ہفتوں کے بعد یا برسوں کے بعد۔ بہرحال وہ سولہ سال سے تجاوز نہیں کرے گی۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسا کہ استنباطِ آیاتِ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ دُنیا کی عمر حضرت آدم سے لے کر سات ہزار سال ہے۔ اور اس میں سے ہمارے زمانہ تک چھ ہزار برس گذر چکے ہیں۔ جیسا کہ اعداد سورۃ والعصر سے معلوم ہوتا ہے۔ اور بموجب حساب قمری کے اب ہم ساتویں ہزار میں ہیں۔ اور

صفحہ 275

ضمیمہ براہین احمدیہ ۲۹۲ حصہ پنجم

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کوئی اعتقاد نہیں رکھتا کہ آپ بھی پھر آئیں گے۔ کیونکہ آنجناب نے اپنی آمد اوّل میں ہی کافروں کو وہ ہاتھ دکھائے جو اب تک یاد کرتے ہیں اور پوری کامیابی کے ساتھ آپ کا انتقال ہوا ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ ابن العربی صاحبؒ نے آخر عمر میں اپنے پہلے اقوال سے رجوع کر لیا تھا ۔ اس لئے ان کا آخری بیان پہلے بیان سے متناقض ہے ۔ ایسا ہی بعض اور فرقے صوفیوں کے کھلے طور پر حضرت عیسیٰ کی وفات کے قائل ہیں ۔ اور ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کا اسی پر اجماع ہو گیا تھا جو کہ انبیاء گذشتہ جن میں ١٢٦ حضرت عیسیٰ بھی شامل ہیں فوت ہو چکے ہیں ۔ اُن میں سے ایک بھی زندہ نہیں ۔ پھر جیسے جیسے مذہب اسلام میں جہالت اور بدعات پھیلتی گئیں یہ بدعت بھی دین کا ایک جزو ہو گئی کہ حضرت عیسیٰ مُردہ ارواح کی جماعت میں سے نکل کر پھر دنیا میں واپس آئیں گے ۔ اس عقیدہ نے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ہے ۔ کیونکہ تمام دنیا میں سے صرف ایک ہی انسان کو یہ خصوصیت دی ہے کہ وہ آسمان پر مع جسم چلا گیا اور کسی زمانہ میں مع جسم واپس آئیگا ۔ یہ عقیدہ حضرت عیسیٰ کو خدا بنانے کی سچی دلیل ہے کیونکہ ان کو ایک خصوصیت دی گئی ہے جس میں کوئی بشر ان کا شریک نہیں ۔ اور یہ عقیدہ اسلام کے چہرہ پر ایک بدنما داغ ہے ۔

بالآخر میں مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب کو محض للہ پند و نصیحت کرتا ہوں کہ آپ اس عمر تک پہنچ گئے ہیں ۔ اب خدا تعالیٰ کے مقابل پر بے ہودہ چالاکیوں کو چھوڑ دیں۔ آپ نے بہت زور لگایا ہر ایک قسم کا مکر کیا اور نور کے بجھانے کے لئے ظاہری شرع کے حیلوں سے کام لیا مگر انجام کار نامراد رہے ۔ اگر یہ مفتری ہی ہوتا تو آپ کا کہیں نہ کہیں ہاتھ پڑ جاتا اور حق کیونکر تباہ ہو جاتا ۔ ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات تراشتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے ۔ ایسا بد ذات انسان ٹھگوں اور چوروں اور بدمعاشوں سے بدتر ہوتا ہے پھر کب ممکن ہے کہ خدا اس کی حمایت کرے اگر یہ کاروبار

صفحہ 276

ضمیمہ براہین احمدیہ ۳۵۹ حصہ پنجم

عیسیٰ علیہ السلام حضرت موسیٰ سے چودھویں صدی میں پیدا ہوئے تھے۔ مَیں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے چودھویں صدی میں ظاہر ہوا ہوں اور اس آخری زمانہ کی نسبت خدا تعالٰی نے قرآن شریف میں یہ خبریں بھی دی تھیں کہ کتابیں اور رسالے بہت سے دنیا میں شائع ہو جائیں گے اور قوموں کی باہمی ملاقات کے لئے راہیں کھل جائیں گی۔ اور دریاؤں میں سے بکثرت نہریں نکلیں گی۔ اور بہت سی نئی کانیں پیدا ہو جائیں گی۔ اور لوگوں میں مذہبی امور میں بہت سے تنازعات پیدا ہونگے۔ اور ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرے گی۔ اور اسی اثناء میں آسمان سے ایک صُور پھونکی جائیگی۔ یعنی خدا تعالٰی مسیح موعود کو بھیجکر اشاعت دین کے لئے ایک تجلّی فرمائیگا۔ تب دینِ اسلام کی طرف ہر ایک ملک میں سعید الفطرت لوگوں کو ایک رغبت پیدا ہو جائیگی۔ اور جس حد تک خدا تعالٰی کا ارادہ ہے تمام زمین کے سعید لوگوں کو اسلام پر جمع کریگا۔ تب آخر ہوگا۔ سو یہ تمام باتیں ظہور میں آگئیں۔ ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئیگا۔ اور وہ چودھویں صدی کا مجدّد ہوگا۔ سو یہ تمام علامات بھی اس زمانہ میں پوری ہو گئیں۔ اور لکھا تھا کہ وہ اپنی پیدائش کی رُو سے دوصدیوں میں اشتراک رکھے گا۔ اور ذُو نام پائے گا۔ اور اُسکی

بقیہ حاشیہ ص ۳۵۸ ہوا تھا مگر یہ انہوں نے غلطی کی ہے۔ یہودیوں کی تاریخ سے بالاتفاق ثابت ہے کہ یسوع یعنی حضرت عیسیٰ موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا تھا اور وہی قول صحیح ہے اگرچہ مشابہت کے ثابت کرنے کیلئے پوری مطابقت ضروری نہیں ہوا کرتی جیسا کہ اگر کسی آدمی کو کہیں کہ یہ شیر ہے تو یہ ضروری نہیں کہ شیر کی طرح اس کے پنجے اور کھال ہو اور دُم بھی ہو اور آواز بھی شیر کی طرح رکھتا ہو بلکہ ایک شخص کو دوسرے کا تمثیل ٹھہرانے میں ایک حد تک مشابہت کافی ہوتی ہے۔ پس اگر عیسائیوں کا قول قبول کر لیں کہ حضرت عیسیٰ حضرت موسیٰ سے پندھویں صدی میں ہوئے تھے تا ہم مضائقہ نہیں کیونکہ چودھویں اور پندھویں صدی میں بہت تھوڑا فرق ہے اور اسقدر فرق زمانہ کا مشابہت میں کچھ حرج نہیں ڈالتا مگر ہم انجیل پر یہودیوں کے قول کو ترجیح دیتے ہیں جو کہتے ہیں کہ یسوع یعنی حضرت عیسیٰ حضرت موسیٰ کے بعد عین چودھویں صدی میں مدعیِ نبوت ہوا تھا کیونکہ ان کے ہاتھ میں عبرانی توریت ہے وہ بنسبت عیسائیوں کے تراجم کے صحیح ہے۔ منہ

صفحہ 277

حصہ پنجم ۴۰۶ ضمیمہ براہین احمدیہ

ہاں اسجگہ ایک طالب حق کا یہ حق ضرور ہے کہ وہ یہ سوال پیش کرے کہ اس میں کیا حکمت اور مصلحت تھی کہ توریت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف مثیل موسیٰ کر کے بیان کیا گیا لیکن انجیل میں خود عیسیٰ کر کے ہی بیان کر دیا گیا ۔ اور کیوں جائز نہیں کہ عیسیٰ سے مراد درحقیقت عیسیٰ ہی ہو اور وہی دوبارہ آنے والا ہو ۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو کسی طرح دوبارہ نہیں آ سکتے کیونکہ وہ وفات پا گئے ۔ اور ان کا وفات پا جانا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں صریح لفظوں میں بیان فرما دیا ہے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس جماعت میں آسمان پر بیٹھے ہوئے دیکھ لیا جو اس جہان سے گذر چکے ہیں ۔ پھر تیسری شہادت یہ کہ تمام اصحاب رضی اللہ عنہم کے اجماع سے تمام نبیوں کا فوت ہو جانا ثابت ہو گیا ۔ پھر بعد اس کے عقل سلیم کی شہادت ہے جو شہادات ثلاثہ مذکورہ کی مؤید ہے کیونکہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے عقل نے اس واقعہ کی کوئی نظیر نہیں دیکھی اور کوئی نبی آج تک نہ کبھی مع جسم عنصری آسمان پر گیا اور نہ واپس آیا ۔ پس چار شہادتیں باہم مل کر قطعی فیصلہ دیتی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں ۔ اور اُن کا زندہ آسمان پر مع جسم عنصری جانا اور اب تک زندہ ہونا اور پھر کسی وقت مع جسم عنصری زمین پر آنا یہ سب اُن پر تہمتیں ہیں ۔ افسوس کہ اسلام بت پرستی سے بہت دور تھا ۔ لیکن آخر کار اسلام میں بھی بُت پرستی کے رنگ میں یہ عقیدہ پیدا ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ کو ایسی

۲۳۱

خصوصیتیں دی گئیں جو دوسرے نبیوں میں نہیں پائی جاتیں ۔ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو اس قسم کی بُت پرستی سے رہائی بخشے ۔ عیسیٰ کی موت میں اسلام کی زندگی ہے اور عیسیٰ کی زندگی میں اسلام کی موت ہے ۔ خدا وہ دن لاوے کہ غافل مسلمانوں کی نظر اس راہ راست پر پڑے ۔ آمین

اب خلاصہ کلام یہ کہ جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات قطعی طور پر ثابت ہے تو پھر یہ گمان پیدا ہونا باطل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے رہا سوال مذکورہ کے اس حصہ کا جواب کہ ایک اُمتی کا عیسیٰ نام رکھنے میں کیا مصلحت تھی اور کیوں انجیل

صفحہ 278

خاتمہ براہین احمدیہ ۴۱۲ حصہ پنجم نے تمام وہ امور جو براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں مخفی اور مستور تھے ان پر ہر ایک پہلو سے روشنی ڈال دی ۔ ایک طرف وہ موعودہ پیشگوئیاں جن کے ظہور کی انتظار تھی کافی طور پر ظہور میں آگئیں اور دوسری طرف قرآنی حقائق اور معارف جو معرفت کو کامل کرتے تھے بخوبی کھل گئے اور ساتھ اس کے اسماء الانبیاء کا راز بھی جو پہلے چار حصوں میں سربستہ تھا یعنی وہ نبیوں کے اسماء جو میری طرف منسوب کئے گئے تھے اُن کی حقیقت بھی کما حقہ منکشف ہوگئی یعنی یہ راز بھی کہ خدا تعالیٰ نے تمام انبیاء علیہم السلام کا نام براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں میرا نام کیوں رکھ دیا ہے۔ اور نیز یہ راز بھی کہ اخیر پر بنی اسرائیل کے خاتم الانبیاء کا نام جو عیسیٰ ہے اور اسلام کے خاتم الانبیاء کا نام جو احمد اور محمد ہے (صلے اللہ علیہ وسلم) یہ دونوں نام بھی میرے نام کیوں رکھ دیئے ؟ ان تمام چھپی ہوئی حقیقتوں کا بھی انکشاف ہو گیا ۔ اور میرا نام آسمان پر عیسیٰ وغیرہ ہونا وہ راز تھا جس کو اسی طرح خدا تعالیٰ نے صدہا سال تک مخفی رکھا تھا۔ جیسا کہ اصحاب کہف کو مخفی رکھا تھا۔ اور ضرور تھا کہ وہ تمام راز سربستہ رہیں جب تک کہ وہ زمانہ آجائے جو ابتداء سے مقدر تھا۔ اور جب وہ زمانہ آگیا ۔ اور یہ تمام باتیں پوری ہوگئیں تو وقت آگیا کہ پنجم حصہ لکھا جائے ۔ پس اسی بات نے براہین احمدیہ کی تکمیل کو تئیس برس تک معرض التواء میں رکھا تھا ۔ یہ خدا کے اسرار ہیں۔ جن پر انسان بجز اس کے مطلع کرنے کے اطلاع نہیں پاسکتا۔ ہر ایک انسان جو اس پنجم حصہ کو پڑھے گا وہ اس بات کے لئے مجبور ہوگا کہ یہ اقرار کرے کہ اگر ان پیشگوئیوں اور دوسرے اسرار کے کھلنے سے پہلے پنجم حصہ لکھا جاتا تو وہ گذشتہ حصوں کی حقیقت دکھلانے کے لئے ہرگز آئینہ نہ ٹھہر سکتا ۔ بلکہ اس کا لکھنا محض بے ربط اور بے تعلق ہوتا۔ پس وہ خدا جو حکیم اور عالم الغیب ہے اور ہر ایک کام اس کا اوقات سے وابستہ ہے اُس نے یہی پسند کیا کہ اوّل وہ تمام پیشگوئیاں اور تمام حقیقتیں ظاہر ہو جائیں جو حصص سابقہ کے وقت میں ابھی ظاہر نہیں ہوئی تھیں پھر بعد میں پنجم حصہ لکھا جائے تا وہ اُن تمام امور کے

صفحہ 279

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۲۲

حقیقۃ الوحی

صفحہ 280

ٹائٹل پیج بار اول

قادر کے کار و بار نمودار ہو گئے ۔ کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے

وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُورُونَ

وَإِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ (سورة صافات)

وَكَفَانِي مِمَّا أُوحِيَ إِلَيَّ هٰذَا الْوَحْيُ الْمُبَشِّر

قَالَ رَبُّكَ إِنَّهُ نَازِلٌ مِّنَ السَّمَاءِ مَا يُرْضِيْكَ وَمَا تَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ

مَا أُرْسِلَ نَبِيٌّ إِلَّا أُخْزِيَ بِهِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُونَ ۔ إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا

وَالَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ - وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا بِأَنَّ لَهُمُ الْفَتْحَ ۔ وَاللّٰهُ مُتِمُّ

نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ كَتَبَ اللّٰهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِيْ لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ

لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ -

حقیقة الوحی

خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ یہ کتاب جامع جس میں ہر ایک قسم کے

حقائق اور معارف اور بہت سے آسمانی نشان درج ہیں محض اُسی کے

فضل اور کرم اور خاص اُسکی توفیق اور تائید سے مرتب و تالیف ہوکر

مطبع میگزین قادیان میں باہتمام مینجر مطبع کے چھپی

تعداد ایک ہزار جلد "تاریخ اشاعت ۱۵؍ مئی ۱۹۰۷ء"

صفحہ 281

حقیقۃ الوحی ۳۲

اور آپؐ کی پیروی سے نہیں بلکہ براہِ راست مقامِ نبوت حاصل رکھتا ہو گا اور اسکی عملی حالتیں شریعت محمدیہ کے مخالف ہونگی اور قرآن شریف کی صریح مخالفت کر کے لوگوں کو فتنہ میں ڈالیگا اور اسلام کی ہتک عزت کا موجب ہوگا۔ یقیناً سمجھو کہ خدا ہرگز ایسا نہیں کریگا۔ رہا یہ شک کہ حدیثوں میں مسیح موعود کے ساتھ نبی کا نام موجود ہے مگر ساتھ اُس کے اُمّتی کا نام بھی تو موجود ہے۔ اور اگر موجود بھی نہ ہوتا تو مفاسدِ مذکورہ بالا پر نظر کر کے ماننا پڑتا کہ ہرگز ایسا ہو نہیں سکتا کہ کوئی مستقل نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آئے کیونکہ ایسے شخص کا آنا صریح طور پر ختم نبوت کے منافی ہے۔ اور یہ تاویل کہ پھر اُس کو اُمتی بنایا جائیگا اور وہی نو مسلم نبی مسیح موعود کہلائیگا۔ یہ طریق عزتِ اسلام سے بہت بعید ہے جس حالت میں حدیثوں سے ثابت ہے کہ اسی اُمت میں سے یہود پیدا ہونگے تو افسوس کی بات ہے کہ یہود تو پیدا ہوں اِس اُمت میں سے اور مسیح باہر سے آوے۔ کیا ایک خدا ترس کیلئے یہ ایک مشکل بات ہے؟ کہ جیسا کہ اسکی عقل اس بات پر تسلّی پکڑتی ہے کہ اس اُمت میں بعض لوگ ایسے پیدا ہونگے جن کا نام یہود رکھا جائیگا۔ ایسا ہی اِسی اُمت میں سے ایک شخص پیدا ہو گا جس کا نام عیسیٰ اور مسیح موعود رکھا جائیگا۔ کیا ضرورت ہے کہ حضرت عیسیٰ کو آسمان سے اُتارا جائے اور اُسکی مستقل نبوت کا جامہ اُتار کر اُمتی بنایا جائے۔ اگر کہو کہ یہ کارروائی بطور سزا کے ہوگی کیونکہ انکی اُمت نے اُنکو خدا بنایا تھا تو یہ جواب بھی بیہودہ ہے کیونکہ اس میں حضرت عیسیٰ کا کیا قصور ہے۔

شبہ

یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ کا دوبارہ دنیا میں آنا اجماعی عقیدہ ہے یہ سراسر افترا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع صرف اس آیت پر ہوا تھا کہ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۱ پھر بعد انکے اُمت میں طرح طرح کے فرقے پیدا ہوگئے۔ چنانچہ معتزلہ اب تک حضرت عیسیٰ کی وفات کے قائل ہیں۔ اور بعض اکابر صوفیہ بھی ان کی موت کے قائل ہیں اور مسیح موعود کے ظہور سے پہلے اگر اُمت میں کسی کو یہ خیال بھی گیا کہ حضرت عیسیٰ دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو ان پر کوئی گناہ نہیں صرف اجتہادی خطا ہے جو اسرائیلی نبیوں سے بھی بعض پیشگوئیوں کے سمجھنے میں ہوتی رہی ہے۔ منہ

لہ ۱ آلِ عمران: ۱۴۵

۳۲

صفحہ 282

باب چہارم ۸۷ حقیقت الوحی

۸۴ اور تیری ساری مُرادیں تجھے دیگا۔ رَبُّ الاَفواج اِس طرف توجّہ کریگا اِس نشان کا مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں یَا عِیْسٰی اِنّی مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گا اور تجھے اپنی طرف اُٹھاؤنگا اور میں تیرے اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ تابعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا ۔

بقیہ حاشیہ ۔ اور توحش و بے جا تنفّر نایاب ہوئے ۔ پس میرا لڑکا مبارک احمد قریباً دو برس کی عمر میں ایسا بیمار ہوا کہ حالتِ یاس ظاہر ہو گئی اور ابھی میں دُعا کر رہا تھا کہ کسی نے کہا کہ لڑکا فوت ہو گیا۔ یعنے اب دُعا کا وقت نہیں مگر میں نے دعا کرنا بند نہ کیا۔ اور جب میں نے اسی حالتِ توجہ الی اللہ میں لڑکے کے بدن پر ہاتھ رکھا تو معاً مجھے نبض پھرتا محسوس ہوا۔ اور ابھی میں ہاتھ اُس سے علیحدہ نہیں کیا تھا کہ صریح طور پر لڑکے میں جان محسوس ہوئی اور چند منٹ کے بعد ہوش میں آکر بیٹھ گیا۔ اور پھر طاعون کے دور میں جبکہ قادیان میں طاعون زور پر تھا میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا اور ایک سخت تپ محرّقہ کے رنگ میں چڑھا جس سے لڑکا بالکل بے ہوش ہو گیا اور بے ہوشی میں دونوں ہاتھ مارتا تھا مجھے خیال آیا کہ اگرچہ انسان کو موت سے گریز نہیں مگر اگر لڑکا ان دنوں میں جو طاعون کا زور ہے فوت ہو گیا تو تمام دشمن اس تپ کو طاعون ٹھہرائیں گے اور خدا تعالیٰ کی اُس پاک وحی کی تکذیب کریں گے کہ جو اُس نے فرمایا ہے اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ یعنی میں ہر ایک کو جو تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہے طاعون سے بچاؤں گا۔ اِس خیال سے میرے دل پر وہ صدمہ وارد ہوا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ قریباً رات کے بارہ بجے کا وقت تھا کہ جب لڑکے کی حالت ابتر ہو گئی اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ یہ معمولی تپ نہیں یہ اور ہی بلا ہے تب میں کیا بیان کروں کہ میرے دل کی کیا ۸۵ حالت تھی کہ خدا نخواستہ اگر لڑکا فوت ہو گیا تو ظالم طبع لوگوں کو حق پوشی کے لئے بہت کچھ سامان ہاتھ آ جائے گا۔ اسی حالت میں میں نے وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑا ہو گیا اور معاً کھڑا ہونے کے ساتھ ہی مجھے وہ حالت میسّر آگئی جو استجابت دُعا کے لئے ایک کھلی کھلی نشانی ہے اور میں اُس خدا کی

۸۷

صفحہ 283

حقیقۃ الوحی ١٠٠ باب چہارم

اطال اللہ بقاءک ۔ اَسّی یا اُسپر پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم ۔ خدا تیری عمر دراز کرے گا ۔ اَسّی برس یا پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم ۔ میں تجھے بہت برکت دُونگا ۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈینگے ۔ تیرے لئے میرا نام چمکا ۔ پچاس یا ساٹھ نشان اور دکھلاؤنگا ۔ خُدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور اُن کی تعظیم ص ۹۷ ملوک اور ذوی الجبروت کرتے ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں ۔ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار

بقیہ حاشیہ سے نبی کیونکر اللہ جلشانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنایا ۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی اِسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا یعنی آپ کی پیروی کمالاتِ نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجّہِ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوّتِ قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی ۔ یہی معنی اس حدیث کے ہیں کہ علماءُ امتی کانبیاءِ بنی اسرائیل یعنی میری اُمّت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہونگے اور بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے مگر اُنکی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرّہ کچھ دخل نہ تھا اِسی وجہ سے میری طرح اُن کا یہ نام نہ ہوا کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمتی ۔ بلکہ وہ انبیاء مستقل ہی کہلائے اور براہ راست اُن کو منصبِ نبوت ملا ۔ اور اُن کو چھوڑ کر جب اور بنی اسرائیل کا حال دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان لوگوں کو

١٠٠

صفحہ 284

باب چہارم ۱۰۳ حقیقت الوحی

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ ۔ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی

اس کے بعد ایک اور زلزلہ آئیگا۔ بہار جب دوبارہ آئے گی تو پھر ایک اور زلزلہ آئے گا۔

پھر بہار آئی تو آئے صبح کے آنے کے دن ۔ ربّ اخّر وقت

پھر بہار جب بار سوم آئیگی تو اسوقت اطمینان کے دن آجائینگے اور اسوقت پھر خدا کی نشان ظاہر کر نیوالے عذاب رنگ زلزلہ کے ظہور

ھذا ۔ اخّرہ اللہ الی وقت مسمیٰ ۔ تریٰ نصراً عجيباً

میں کسی قدر تاخیر کر دے۔ خدا نمونہ قیامت کے زلزلہ کے ظہور میں ایک وقت مقرر تک تاخیر کر دیگا ۔ تُو ایک عجیب مدد دیکھے گا۔

بقیہ حاشیہ ۱۔ جو مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے اور مکہ کی زمین بول اٹھی کہ میں اس مبارک قدم کے نیچے ہوں جسکے دل نے اس قدر توحید کا شور ڈالا جو آسمان اس کی آہ و زاری سے بھر گیا۔ خدا بے نیاز ہو اسکو کسی ہدایت یا ضلالت کی پرواہ نہیں پس یہ نورِ ہدایت جو عادتاً غایت درجہ عربی جزیرہ میں ظہور میں آیا اور پھر دنیا میں پھیل گیا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلی سوزش کی تاثیر تھی۔ ہر ایک قوم توحید سے دُور اور مہجور ہو گئی مگر اسلام میں ہمیشہ یہ توحید جاری رہا یہ تمام برکتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا نتیجہ تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُونُوا مُؤْمِنِیْنَ یعنی کیا تو اس غم میں اپنے تئیں ہلاک کر دیگا جو

* پہلے یہ وحی الہیٰ ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا بہار میں جلوہ گر ہوگا اور اس کیلئے یہ نشان دیا گیا تھا کہ میاں منظور محمد کے پیدا ہو۔ سو یہ محمد یحییٰ لڑکا پیدا ہو گیا اور وہ لڑکا اس زلزلہ کیلئے ایک نشان ہو گیا اسلئے اس کا نام بشیر الدولہ ہوگا۔ کیونکہ وہ ہماری ترقی سلسلہ کیلئے بشارت دیگا۔ اسی طرح اس کا نام عالم کباب ہو گا۔ کیونکہ اگر لوگ توبہ نہیں کرینگے تو بڑی بڑی آفتیں دنیا میں آئینگی۔ ایسا ہی اس کا نام کلمۃ اللہ اور کلمۃ العزیز ہوگا کیونکہ وہ خدا کا کلمہ ہوگا جو وقت پر ظاہر ہوگا اور اس کیلئے اور نام بھی ہونگے۔ مگر بعد اسکے میں نے دُعا کی کہ اس زلزلہ نمونہ قیامت میں کچھ تاخیر ڈال دی جائے۔ اس دُعا کا اللہ تعالیٰ نے اس وحی میں خود ذکر فرمایا اور جواب بھی دیا چنانچہ وہ فرماتا ہے۔ ربّ اخّر وقوع ھذا اخرہ اللہ الی وقت مسمیٰ یعنی خدا نے دُعا قبول کر کے اس زلزلہ کو کسی اور وقت پر ڈال دیا جو ہنوز مخفی تھی یہ وحی قریبًا چار ماہ سے اخبار بدر اور الحکم میں چھپ کر شائع ہو چکی ہے اور چونکہ زلزلہ نمونہ قیامت آنے میں تاخیر ہو گئی اسلئے ضرور تھا کہ لڑکا پیدا ہونے میں بھی تاخیر ہوتی ۔ لہٰذا میاں منظور محمد کے گھر میں ۱۷ جولائی ۱۹۰۶ء میں بروز سہ شنبہ لڑکی پیدا ہوئی اور یہ دُعا کی قبولیت کا ایک نشان ہوا اور نیز وحی الہیٰ کی سچائی کا ایک نشان ہوا جو لڑکی پیدا ہونے سے قریباً چار ماہ پہلے شائع ہو چکی تھی مگر یہ ضرور ہو گا کہ درمیانی زلزلے آتے رہیں گے اور ضرور ہو گا کہ زمین نمونہ قیامت زلزلہ نہ دیکھتی رہے جبتک کہ وہ موعود لڑکا پیدا ہو۔ یاد رہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی بڑی رحمت کی نشانی ہے کہ لڑکی پیدا کر کے آئندہ بلا یعنی زلزلہ نمونہ قیامت کی نسبت تسلی دیدی کہ اس میں بموجب وعدہ اخرہ اللہ الی وقت مسمیٰ ابھی تاخیر ہے اور اگر الٰہی لڑکا پیدا ہو جاتا تو ہر یک زلزلہ اور ہر ایک آفت کے وقت سخت غم اور اندیشہ دامن گیر ہوتا کہ شاید وہ وقت آگیا اور تاخیر کا کچھ اعتبار نہ رہتا اور اب تو تاخیر ایک شرط کے ساتھ مشروط ہو کر متعین ہو گئی ۔ منہ منہ ۱۲

صفحہ 285

حقیقۃ الوحی ۱۱۰ باب چہارم

۱؂ ۞ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الصِّهْرَ وَ النَّسَبَ ط اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ اَذْهَبَ اُس خدا کی تعریف ہے جس نے دامادی اور نسب کا رشتہ تیرے پر احسان کیا ۔ اس خدا کی تعریف ہے جس نے میرا عَنِّی الْحَزَنَ وَ اٰتَانِیْ مَا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِیْنَ ۔ یٰسٓ ۔ اِنَّکَ غم دُور کیا ۔ اور مجھ کو وہ چیز دی جو اس زمانہ کے لوگوں میں سے کسی کو نہیں دی گئی ۔ اے سردار تو خدا کا لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۙ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ؕ تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ ۙ اُرِدْتُ مرسل ہے راہِ راست پر اُس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحیم ہے اُتاری گئی ہے مراد یہ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ ۔ یُحْیِ الدِّیْنَ وَ یُقِیْمُ الشَّرِیْعَةَ ۔ کیا کہ اس زمانہ میں اپنا خلیفہ مقرر کروں سو میں نے آدم کو پیدا کیا ۔ وہ دین کو زندہ کریگا اور شریعت کو قائم کرے گا۔

چو دَورِ خُسْرَوی۲؂ آغَاز کردند + مسلمان را مسلمان باز کردند

جب مسیح السلطان کا دور شروع کیا گیا تو مسلمانوں کو جو صرف رسمی مسلمان تھے نئے سرے سے مسلمان بنانے لگے اِنَّ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا ۔ قَرُبَ اَجَلُکَ آسمان اور زمین ایک گٹھڑی کی طرح بندھے ہوئے تھے ہم نے اُن دونوں کو کھول دیا یعنی زمین کو اپنی پوری قوت پر کیا اور آسمان کو بھی ۔ اب تیرا وقت الْمُقَدَّرُ ۔ اِنَّ ذَا الْعَرْشِ یَدْعُوْکَ ۔ وَلَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَاتِ موت قریب آگیا ۔ ذوالعرش تجھے بلاتا ہے اور ہم تیرے لئے کوئی رُسوا کنندہ امر نہیں چھوڑیں گے ذِکْرًا ؕ قُلْ مِیْعَادُ رَبِّکَ وَلَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَاتِ شَیْئًا ۔ تیرے رب کا وعدہ آ گیا ہے اور ہم تیرے لئے کوئی امر رُسوا کنندہ باقی نہیں چھوڑیں گے ۔ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں اُس دن خدا کی طرف سے زندگی کے دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں اُس دن سب جماعت دل برداشتہ سب پر اُداسی چھا جائے گی ۔ یہ ہوگا ۔ یہ ہوگا ۔ یہ ہوگا۔ اور اُداس ہو جائے گی ۔ - کئی واقعات کے ظہور کے بعد

۱؂ یعنی خدا نے تجھ پر یہ احسان کیا کہ ایک شریف اور معزز اور شہرت یافتہ اور باوجاہت خاندان سے تجھے پیدا کیا اور دوسرے یہ احسان کیا کہ ایک معزز دلی کے سادات خاندان سے تیری بہو بنائی ۔ منہ ۲؂ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں مسیح آخرالزمان کو بادشاہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اس سے مراد آسمانی بادشاہی ہے یعنی وہ آئندہ سلسلہ کا ایک بادشاہ ہو گا اور بڑے بڑے اکابر اُس کے پیرو ہوں گے ۔ منہ ۱۲؂

صفحہ 286

حقیقۃ الوحی ۱۶۷ بعض اعتراضوں کے جواب

کہ اصل شریر پیچھے سے پکڑے جاتے ہیں جو اصل مبدء فساد ہوتے ہیں جیسا کہ ان قہری نشانوں سے ۱۶۳ جو حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے دکھلائے۔ فرعون کا کچھ نقصان نہ ہُوا صرف غریب مارے گئے لیکن آخر کار خدا نے فرعون کو مع اُس کے لشکر کے غرق کیا۔ یہ سُنّت اللہ ہے جس سے کوئی واقف کار انکار نہیں کر سکتا۔

سوال (۶)

حضورِ عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہلِ قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ اُن مومنوں کے جو آپ کی تکفیر کر کے کافر بن جائیں صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا۔ لیکن عبدالحکیم خان کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اُس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔ یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے۔

الجواب۔ یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اِسی وجہ سے مجھے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؂۱ یعنی بڑا ظالم وہ ہے جو خدا پر افترا کرتا ہے یا اُس کی آیتوں کی تکذیب کرتا ہے۔ پس جس جگہ میں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو مجھ پر نازل ہوا مجھے مفتری ٹھہراتا ہے۔ اور اگر میں مفتری نہیں تو بلاشبہ وہ کفر اُس پر پڑے گا جیسا کہ اُس نے مجھے کافر ٹھہرایا۔ اور بلاشبہ وہ خدا کی کتاب کی آیتوں کی تکذیب کرنے والا ٹھہرا اور خدا کے کلام کی تکذیب کرنے والا کافر ہے۔ سو جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دینے سے کافر ٹھہرتا ہے۔ اِسی لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے۔ منہ ؏

؂۱ الاعراف : ۳۸

صفحہ 287

بعض اعتراضوں کے جواب ۲۰۲ حقیقۃ الوحی

ایک وہ وقت تھا کہ خدا کے سچے مسیح کو صلیب نے توڑا اور اس کو زخمی کیا تھا اور آخری زمانہ میں یہ مقدّر تھا کہ مسیح صلیب کو توڑے گا یعنی آسمانی نشانوں سے کفارہ کے عقیدہ کو دنیا سے اُٹھاوے گا۔ عوض معاوضہ گلہ ندارد *

اٰیتین لم تکونا منذ خلق السمٰوات والارض ینکسف القمر لاوّل لیلۃ من رمضان وتنکسف الشّمس فی النّصف منہ ترجمہ یعنی ہمارے مہدی کیلئے دو نشان ہیں اور جب سے کہ زمین و آسمان خدا نے پیدا کیا یہ دو نشان کسی اور مامور اور رسول کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے ان میں سے ایک یہ ہو کہ مہدی موعود کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند کو گرہن اسکی اوّل رات میں ہوگا یعنی تیرھویں تاریخ میں اور سورج کا گرہن اسکے دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوگا یعنی اسی رمضان کے مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کو اور ایسا واقعہ ابتدائے دنیا سے کسی رسول یا نبی کے وقت میں کبھی ظہور میں نہیں آیا صرف مہدی موعود کے وقت اُس کا ہونا مقدّر ہے۔ اب تمام انگریزی اور اُردو اخبار اور جملہ ماہرین ہیئت اس بات کے گواہ ہیں کہ میرے زمانہ میں ہی جس کو عرصہ قریباً بارہ سال کا گذر چکا ہے اسی صفت کا چاند اور سورج کا گرہن رمضان کے مہینہ میں وقوع میں آیا ہے اور جیسا کہ ایک اور حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔

۱۹

یہ گرہن دو مرتبہ رمضان میں واقع ہوا ہے پہلا اس ملک میں اور دوسرا امریکہ میں اور دونوں مرتبہ انھیں تاریخوں میں ہوا ہے جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے اور چونکہ اس گرہن کے وقت میں مہدی موعود ہونے کا مدعی کوئی زمین پر بجز میرے نہیں تھا اور نہ کسی نے میری طرح اس گرہن کو اپنی مہدویت کا نشان قرار دیکر صدہا اشتہار اور رسالے اُردو اور فارسی اور عربی میں دنیا میں شائع کئے اسلئے یہ نشان آسمانی میرے لئے متعین ہوا۔ دوسری بڑی دلیل یہ ہے کہ بارہ برس پہلے اِس نشان کے ظہور سے خدا تعالیٰ نے اِس نشان کے بارے میں مجھے خبر دی تھی کہ ایسا نشان ظہور میں آئیگا۔ اور وہ خبر براہین احمدیہ میں درج ہو کر قبل اسکے کہ یہ نشان ظاہر ہو۔ لاکھوں آدمیوں میں مشہور ہو چکی تھی۔

۲۰۲

صفحہ 288

بعض اعتراضوں کے جواب ۲۰۴ حقیقة الوحی

معلوم نہیں کہ اسلامی سن یعنی تیرہ سو برس میں کن کن لوگوں نے محض افتراء کے طور پر مہدی موعود ہونے کا دعویٰ بھی کیا بلکہ لڑائیاں بھی کیں ۔ مگر کون ثابت کر سکتا ہے کہ اُنکے وقت میں چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان کے مہینہ میں دونوں جمع ہوئے تھے۔ اور جبتک یہ ثبوت پیش نہ کیا جائے تب تک بلاشبہ یہ واقعہ خارق عادت ہے کیونکہ خارق عادت اسی کو کہتے ہیں کہ اُسکی نظیر دنیا میں نہ پائی جائے اور صرف حدیث ہی نہیں بلکہ قرآن شریف نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ دیکھو آیت وخسف القمر و جمع الشمس والقمر ۱؂

تیسرا یہ اعتراض پیش کیا جاتا ہے کہ یہ حدیث مرفوع متصل نہیں جو صرف امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کا قول ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ائمہ اہل بیت کا یہی طریق تھا کہ وہ بوجہ اپنی وجاہت ذاتی کے سلسلہ حدیث کو نام بنام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانا ضروری نہیں سمجھتے تھے ان کی یہ عادت شائع متعارف ہو چکی چنانچہ شیعہ مذہب میں صد ہا اسی قسم کی حدیثیں موجود ہیں اور خود امام دارقطنی نے اسکو احادیث کے سلسلہ میں لکھا ہے ماسوا اس کے یہ حدیث ایک غیبی امر پر مشتمل ہے جو تیرہ سو برس کے بعد ظہور میں آگیا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس وقت

۱۹۷

مہدی موعود ظاہر ہوگا اُسکے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند گرہن تیرہویں رات کو ہوگا اور اسی مہینہ میں سورج گرہن اٹھائیسویں دن ہوگا اور ایسا واقعہ کسی مدعی کے زمانہ میں بجز مہدی موعود کے زمانہ کے پیش نہیں آئیگا اور ظاہر ہے کہ ایسی کھلی کھلی غیب کی بات بتلانا بجز نبی کے اور کسی کا کام نہیں ہے ؕ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے لا یظھر علی غیبہ احداً الا من ارتضیٰ من رسول ۔ یعنی خدا اپنے غیب پر بجز برگزیدہ رسولوں کے کسی کو مطلع نہیں فرماتا پس جبکہ یہ پیشگوئی اپنے معنوں کے رُو سے کامل طور پر پوری ہو چکی تو اب یہ کچے بہانے ہیں کہ

۱؂ خدا تعالیٰ نے مختصر لفظوں میں فرما دیا کہ آخری زمانہ کی نشانی یہ ہے کہ ایک ہی مہینہ میں شمس اور قمر کے کسوف خسوف کا اجتماع ہوگا اور اسی آیت کے اگلے حصہ میں فرمایا کہ اسوقت مکذّب کو فرار کی جگہ نہیں ہوگی جس سے ظاہر ہے کہ وہ کسوف خسوف مہدی موعود کے زمانہ میں ہوگا۔ خلاصہ یہ کہ چونکہ وہ کسوف خسوف خدا کی پیشگوئی کے مطابق واقع ہوگا اسلئے مکذبوں پر حجت پوری ہو جائے گی ۔ منہ ۔

لہ القیامة : ٩ - ١٠ لہ الجن : ٢٧ - ٢٨

صفحہ 289

حقیقۃ الوحی ۲۱۵ بعض اعتراضوں کے جواب

معلوم نہیں کہ کہاں تک خدا تعالیٰ کے علم میں میرے ایام دعوت کا سلسلہ ہو اسلئے یہ لوگ باوجود مولوی کہلانے کے یہ کہتے ہیں کہ ایک خدا پر افترا کرنیوالا اور جھوٹا ملہم بننے والا اپنے ابتدائے افترا سے تیس سال تک بھی زندہ رہ سکتا ہے اور خدا اُس کی نصرت اور تائید کرسکتا ہے اور اسکی کوئی نظیر پیش نہیں کرتے۔ اے بیباک لوگو ! جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔ جو کچھ خدا نے اپنے لطف وکرم سے میرے ساتھ معاملہ کیا یہاں تک کہ اِس ٭ مدت دراز میں ہر ایک دن میرے لئے ترقی کا دن تھا۔ اور ہر ایک مفسد جو میرے تباہ کرنے کے لئے اُٹھایا گیا خدا نے دشمنوں کو رسوا کیا۔ اگر اس مدت اور اس تائید اور نصرت کی تمہارے پاس کوئی نظیر ہے تو پیش کرو۔ ورنہ بموجب آیت لو تقول علینا یہ نشان بھی ثابت ہوگیا اور تم راستی پر پکڑے جاؤ گے۔

۱۹۔ انیسواں نشان یہ ہے کہ خواجہ غلام فرید صاحب نے جو نواب بہاولپور کے پیر تھے میری تصدیق کے لئے ایک خواب دیکھا جس کی بنا پر میری محبت خدا تعالیٰ نے اُنکے دل میں ڈالدی اور اسی بنا پر

ص ۲۰

کتاب اشارات فریدی میں جو خواجہ صاحب موصوف کے ملفوظات ہیں جا بجا خواجہ صاحب موصوف میری تصدیق فرماتے ہیں۔ اہلِ فقر کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ ظاہری جھگڑوں میں بہت کم پڑتے ہیں اور جو کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُنکو بذریعہ خواب یا کشف یا الہام پتہ ملتا ہے اسی پر ایمان لاتے ہیں۔ پس چونکہ خواجہ غلام فرید صاحب پیر صاحب مہاروی کی طرح پاک باطن تھے اسلئے خدا نے اُن پر میری سچائی کی حقیقت کھولدی اور کئی مولوی جیسے مولوی غلام دستگیر خواجہ صاحب کو میرا مکذب بنانے کیلئے آپکے گاؤں میں پہنچے جیسا کہ کتاب اشارات فریدی میں خواجہ صاحب نے خود یہ حالات بیان کئے ہیں اور بعض غزنویوں کا بھی خواجہ صاحب موصوف کے پاس خط پہنچا مگر آپ نے

٭ یہ یاد رہے کہ اگر میرے زمانہ الہام کو اس تاریخ سے لیا جائے جب اوّل حصّہ براہین احمدیہ کا لکھا گیا تھا تب تو اس سال سے میرے الہام کے زمانہ کو ستائیس ۲۷ سال کے قریب ہوتے ہیں اور جب براہین احمدیہ کے چہارم حصّہ سے شمار کیا جائے تو تب پچیس ۲۵ سال گزر گئے ہیں اور جب وہ زمانہ لیا جائے کہ جب پہلے الہام شروع ہوا تب تیس ۳۰ سال ہوتے ہیں ۔ منہ

۲۱۵

صفحہ 290

بعض اعتراضوں کے جواب ۲۱۶ حقیقۃ الوحی

کسی کی بھی پروا نہیں کی اور ان خشک مُلّانوں کو ایسے دندان شکن جواب دئے کہ وہ ساکت ہو گئے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے آپکا خاتمہ مصدق ہونے کی حالت میں ہوا چنانچہ وہ خطوط جو آپ نے میری طرف لکھے اُن سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے کس قدر میری محبت اُنکے دل میں ڈال دی تھی اور کس قدر اپنے فضل سے میرے بارہ میں اُنکو معرفت بخش دی تھی۔ خواجہ صاحب نے اپنی کتاب اشارات فریدی میں مخالفوں کے حملوں کا جابجا جواب دیا ہے جیسا کہ ایک جگہ اشارات فریدی میں لکھا ہے کہ کسی نے خواجہ صاحب موصوف کی خدمت میں عرض کی کہ آتھم میعاد کے بعد مرا نہیں انہوں نے میرا نام لیکر فرمایا کہ اس بات کی کیا پروا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آتھم اُنہیں کے نفس سے مرا ہے یعنی اُنہیں کی توجہ اور عقد ہمت نے آتھم کا خاتمہ کر دیا۔ اور کسی نے میری نسبت آپکو کہا کہ ہم ان کو مہدی موعود کیونکر مان لیں کیونکہ مہدی موعود کی ساری علامتیں جو حدیثوں میں لکھی ہیں اُن میں پائی نہیں جاتیں۔ تب خواجہ صاحب اس کلمہ پر ناراض ہوئے اور فرمایا کہ یہ تو کہو کہ تمام قرار دادہ نشان جو لوگوں نے پہلے سے سمجھ رکھے تھے کس نبی یا رسول میں سب کے سب پائے گئے اگر ایسا وقوع میں آتا تو کیوں بعض کافر رہتے اور بعض ایمان لاتے۔ یہی سنّت اللہ ہے کہ جو جو علامتیں پیشگوئیوں میں کسی آنیوالے نبی

٭ میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ آتھم کی نسبت جو پیشگوئی تھی وہ اپنے مفہوم کے مطابق پوری ہو گئی۔ اگر آتھم لوگوں کے روبرو جو ساٹھ یا ستر تھے دجال کہنے سے رجوع نہ کرتا تو اُسوقت کہہ سکتے تھے کہ پیشگوئی نہ ہوئی مگر جبکہ آتھم نے رجوع کر لیا تھا۔ تو ضرور تھا کہ وہ شرط کا فائدہ اُٹھاتا بلکہ اگر آتھم باوجود اسقدر رجوع کے جو اسکی اپنی عزت اور حشمت کی کچھ پروا نہ کر کے عیسائیوں کے مجمع میں ہی رجوع کیا پھر بھی پندرہ مہینہ کے اندر مر جاتا تو خدا تعالیٰ کے وعدہ پر اعتراض ہوتا۔ تب کہہ سکتے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی مگر اب باوجود رجوع کے پھر اعتراض کرنا اُن لوگوں کا کام ہے جن کو دین اور دیانت سے کچھ سروکار نہیں۔ ہاں جب آتھم پندرہ مہینہ کے گزرنے کے بعد شوخ چشم ہو گیا اور خدا تعالیٰ کے احسان کا شکر گزار نہ ہوا۔ تب ایک دُوسری پیشگوئی کے مطابق میرے آخری اشتہار سے پندرہ مہینہ کے اندر مر گیا۔ بہرحال اسکی موت پندرہ مہینہ سے باہر نہ نکل سکی۔ چنانچہ ایک عقلمند نے باوجود عیسائی ہونے کے اقرار کیا ہے کہ آتھم کی نسبت جو پیشگوئی تھی وہ نہایت صفائی سے پوری ہو گئی اور انکار ہٹ دھرمی ہے۔ منہ

۲۱۶

صفحہ 291

حقیقة الوحی ۳۴۶ نشانات صداقت

اِس لئے دُعا کی گئی ۔ ۵؍مارچ ۱۹۰۵ء کو مَیں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا میرے سامنے آیا اور اُس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا مَیں نے اُس کا نام پُوچھا۔ اُس نے کہا نام کچھ نہیں، مَیں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اُس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی ٹیچی۔ پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں یعنی عیّن ضرورت کے وقت پر آنیوالا ۔ تب میری آنکھ کُھل گئی۔ بعد اس کے خدا تعالیٰ کی طرف سے کیا ڈاک کے ذریعہ سے اور کیا براہِ راست لوگوں کے ہاتھوں سے اس قدر مالی فتوحات ہوئیں جن کا خیال و گمان نہ تھا اور کئی ہزار روپیہ آگیا چُنانچہ جو شخص اس کی تصدیق کیلئے صرف ڈاک خانہ کے رجسٹر ہی ۵؍مارچ ۱۹۰۵ء سے ۳۳۳ اخیر سال تک دیکھے اُس کو معلوم ہو گا کہ کس قدر روپیہ آیا تھا۔

یاد رہے کہ خدا تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ اکثر جو نقد روپیہ آنیوالا ہو۔ یا اور چیزیں تحائف کے طور پر ہوں اُن کی خبر قبل از وقت بذریعہ الہام یا خواب کے مجھ کو دیدیتا ہے اور اس قسم کے نشان پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔

میں اُس نے میرے آنے کی بطور پیشگوئی خبر دی ہے اور میرا نام بھی لکھا ہے اور بتلایا ہے کہ تیرھویں صدی کے اخیر میں وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا اور میری نسبت یہ شعر لکھا ہے کہ :۔

مہدیِ وقت وعیسیِٰ دوراں ہر دو را شہسوار می بینم

یعنی وہ آنیوالا مہدی بھی ہوگا اور عیسیٰ بھی ہو گا دونوں ناموں کا مصداق ہوگا اور دونوں طور کے حصے لے کر آئیگا۔ پس اس اثناء میں کہ مَیں یہ شعر پڑھ رہا تھا عین پڑھنے کیوقت مجھے یہ الہام ہوا :۔

از پئے اِس محمد حسن را تارکِ روزگار می بینم

یعنی مَیں دیکھتا ہوں کہ مولوی سید محمد احسن امروہی اِسی غرض کیلئے اپنی نوکری سے جو ریاست بھوپال میں تھی علیحدہ ہو گئے تا خدا کے مسیح موعود کے پاس حاضر ہوں اور اُسکے دعوے کی تائید کے لئے خدمت بجا لائیں اور یہ ایک پیشگوئی تھی جو بعد میں نہایت صفائی سے ظہور میں آئی ۔

۳۴۶

صفحہ 292

تتمہ ۴۲۵ حقیقة الوحی

ویسا ہی یہ پیشگوئی بھی ظہور میں آگئی جو خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ظاہر فرمائی۔ کیونکہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں اُسی روز سے جبکہ خدا تعالیٰ نے اسکی نسبت مجھے یہ خبر دی کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ جس کو آجتک بارہ برس گزر گئے اُسی وقت سے اولاد کا دروازہ سعداللہ پر بند کیا گیا اور اُس کی بد دعاؤں کو اُسی کے منہ پر مار کر خدا تعالیٰ نے تین لڑکے بعد اس الہام کے مجھ کو دیئے اور کروڑ ہا انسانوں میں مجھے عزت کے ساتھ شہرت دی اور اس قدر مالی فتوحات

۱۱۴

اور آمدنی نقداً اور جنس اور طرح طرح کے تحائف مجھ کو دیئے گئے کہ اگر وہ سب جمع کئے جاتے تو کئی کوٹھے اُن سے بھر سکتے تھے۔ سعد اللہ چاہتا تھا کہ میں اکیلا رہ جاؤں کوئی میرے ساتھ نہ ہو پس خدا تعالیٰ نے اِس آرزو میں اُسکو نامراد رکھا کئی لاکھ انسان میرے ساتھ کر دیا اور وہ چاہتا تھا کہ لوگ میری مدد نہ کریں مگر خدا تعالیٰ نے اسکی زندگی میں ہی اُسکو دکھلا دیا کہ ایک جہان میری مدد کیلئے میری طرف متوجہ ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے وہ میری مالی مدد کی کہ صد ہا برس میں کسی کی ایسی مدد نہیں ہوئی۔ اور وہ چاہتا تھا کہ مجھ کو کوئی عزت نہ ملے مگر خدا نے ہر ایک طبقہ کے ہزارہا انسانوں کی گردنیں میری طرف جھکا دیں اور وہ چاہتا تھا کہ میں اُسکی زندگی میں ہی مرجاؤں اور میری اولاد بھی مرجائے مگر خدا تعالیٰ نے میری زندگی میں اُسکو ہلاک کیا اور الہام کے دن کے بعد تین لڑکے اور مجھ کو عطا کئے پس یہ موت اسکی بڑی نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہوئی۔ اور یہی پیشگوئی مَیں نے کی تھی جو خدا تعالیٰ کے فضل سے پوری ہوگئی۔ اور وہ پیشگوئی جس میں مَیں نے لکھا تھا کہ نامرادی اور ذلّت کے ساتھ میرے رُوبرو وہ مرے گا۔ وہ انجام آتھم میں عربی شعروں میں ہے اور وہ یہ ہے :-

وَمِنَ اللِّئَامِ اَرٰی رَجِيْلًا فَاسِقًا غُوْلًا لَعِيْنًا نُطْفَةَ السُّفَهَاءِ
اور لئیموں میں سے ایک فاسق آدمی کو دیکھتا ہوں کہ ایک شیطان ملعون ہے سفیہوں کا نطفہ
شَكِسٌ خَبِيْثٌ مُفْسِدٌ وَمُزَوِّرٌ نَحْسٌ يُسَمَّى السَّعْدَ فِي الْجُهَلَاءِ
بد گو بدخو خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھلانے والا منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے

٭ میں لکھ چکا ہوں کہ یہ چند شعر اُس وقت سخت اذیت سے لکھے گئے جبکہ بدقسمت سعد اللہ کی بد زبانی حد سے زیادہ گزر گئی تھی۔ منہ

صفحہ 293

تتمہ ۴۴۶ حقیقۃ الوحی

يَا لَاعِنِيْ اِنَّ الْمُهَيْمِنَ يَنْظُرُ خَفْ قَهْرَ رَبِّ قَادِرٍ مَوْلَايَ

اے مجھ کو لعنت کرنے والے خدا تجھ کو دیکھ رہا ہے اُس خدا کے قہر سے خوف کر جو میرا قادر آقا ہے ۔

اِنِّيْ أَرٰىكَ تَمِيْسُ بِالْخُيَلَاءِ اَنْسَيْتَ يَوْمَ الطَّعْنَةِ النَّجْلَاءِ

میں تجھے دیکھتا ہوں کہ ناز اور تکبر کے ساتھ تو چلتا ہے کیا تجھ کو وہ دن یاد نہیں آیا کہ جو بڑی طاعون کی ہوا اُڑیگی۔ تیرا کیا حال ہوگا

۱۵ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَ نَفْسِكَ شِقْوَةً يُلْقِيْكَ حُبُّ النَّفْسِ فِي الْحَوْبَاءِ

اپنی نفسانی خواہشوں کی بدبختی کی وجہ سے پیروی مت کر تجھے تیرے نفس کی محبت کوئیں میں ڈالے گی ۔

فَرَسٌ خَبِيْثٌ خَفْ ذَرْعَ هَوَاتِهِ خَفْ اَنْ تَزِلَّكَ عُدْوَةٌ وَعَدْوَاءُ

تیرا نفس ایک خبیث گھوڑا ہے اسکی بہکنے کی بلندی کو خوف کر اور تو اِس بات سے ڈر کہ ناہموار چلنا اس کا تجھے زمین پر گرا دے

اِنَّ السُّمُوْمَ لَشَرُّ مَا فِي الْعَالَمِ شَرُّ السُّمُوْمِ عَدَاوَةُ الصُّلَحَاءِ

جو کچھ دُنیا میں ہے ان سب سے بدتر زہریں ہیں اور زہروں سے بدتر صلحاء کی دشمنی ہے ۔

آذَيْتَنِيْ خُبْثًا فَلَسْتُ بِصَادِقٍ اِنْ لَّمْ تُمَتْ بِالْخِزْيِ يَا ابْنَ بَغَاءِ

تو نے اپنی خباثت سے مجھے بہت دُکھ دیا ہے۔ پس میں سچا نہیں ہوں گا اگر ذلّت کے ساتھ تیری موت نہ ہو ۔

اَللّٰهُ يُخْزِى حِزْبَكُمْ وَيُعِزُّنِيْ حَتّٰی يَجِيْئَ النَّاسُ تَحْتَ لِوَائِيْ

اور عنقریب خُدا تجھے معہ تیرے گروہ کے ذلیل کریگا اور مجھے عزت دیگا یہانتک کہ لوگ میرے جھنڈے کے نیچے آجائینگے

يَا رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا بِكَرَامَةٍ يَا مَنْ يَّرٰی قَلْبِيْ وَلُبَّ لِحَائِيْ

اے میرے خدا مجھ میں اور سعداللہ میں فیصلہ کر یعنی جو کَاذِب ہے اسکو ہلاک کر۔ اے وہ جو میرے دل اور میرے اندر کی اور بیرونی باتوں کو دیکھتا ہے

يَا مَنْ اَرٰی اَبْوَابَهُ مَفْتُوحَةً لِّلسَّآئِلِيْنَ فَلَا تَرُدَّ دُعَائِيْ

اے میرے خدا میں تیری رحمت کے دروازے دُعا کرنیوالوں کیلئے کھلے دیکھتا ہوں پس تو میری سعداللہ کے حق میں دُعا کو جو موت کی دُعا ہے رَدّ نہ کر یعنی میری سُن ۔

یہ دُعا اور مباہلہ موت کی نسبت ہے منہ

اور جیسا کہ میں نے ان تمام اشعار کے نیچے ہر ایک شعر کا ترجمہ کر دیا ہے ان کے پڑھنے سے ظاہر ہے کہ میں نے سعد اللہ سے ان اشعار میں مباہلہ کیا تھا اور جیسا کہ اُسنے اپنی کتاب شہاب ثاقب میں مباہلہ کے طور پر میری موت کو اپنی زندگی میں چاہا تھا۔ اُس کے مقابل پر میں نے بھی اپنے

٭ سعد اللہ کی موت صرف ایک نشان نہیں بلکہ تین نشان ہیں (۱) اسکی موت کی نسبت میری پیشگوئی (۲) میری موت کی نسبت بطور مباہلہ اسکی پیشگوئی کہ گویا میں اُس کی زندگی میں ہی مر جاؤں گا (۳) اس کی موت کی نسبت میری دُعا قبول ہو گئی ۔ منہ

صفحہ 294

تتمہ ۲۵۹ حقیقة الوحی

خواب میں ایک شخص کی موت دیکھی جاتی ہے اور اسکی تعبیر زیادت عمر ہوتی ہے یہ ہی حال اُن مولویوں کا جو بڑے دیانتدار کہلاتے ہیں۔ جھوٹ بولنے سے بدتر دُنیا میں اور کوئی بُرا کام نہیں۔ ایسے

۲۷

جھوٹ کو خدا نے رجس کے ساتھ مشابہت دی ہے مگر یہ لوگ رجس سے پرہیز نہیں کرتے ہم نے اِس قدر وضاحت سے سعد اللہ کا مرنا پیشگوئی کے مطابق ثابت کر کے لکھا ہے مگر کیا مولوی ثناء اللہ صاحب مان لینگے؟ نہیں بلکہ کوشش کرینگے کہ کسی طرح ردّ کریں اِن لوگوں کا خدا تعالیٰ سے جنگ ہے۔ نہیں دیکھتے کہ اگر یہ منصوبہ انسان کا ہوتا تو یہ برکات اسکے شامل حال نہ ہوتیں کیا کوئی ایماندار خدائے عزّ وجلّ کی نسبت ان افعال کو منسوب کر سکتا ہے کہ ایک شخص کو وہ دعوائے الہام کے بعد تیس بتیس برس کی مہلت دے اور دن بدن اسکے سلسلہ کو ترقی بخشے اور ایسے وقت میں جبکہ اسکے ساتھ ایک آدمی بھی نہیں تھا یہ بشارت اسکو دی کہ لاکھوں انسان تیرے سلسلہ میں داخل کئے جائینگے اور کئی لاکھ روپیہ اور طرح طرح کے تحائف لوگ تجھے دینگے اور دُور دُور سے ہزارہا لوگ تیرے پاس آئینگے یہانتک کہ وہ راہ گہرے ہو جائینگے اور اُن میں گڑھے پڑ جائینگے جن راہوں سے وہ آئیں گے۔ تجھے چاہیئے کہ اُنکی کثرت کی وجہ سے توُ تھک نہ جائے اور اُن سے بد اخلاقی نہ کرے خدا تجھے تمام دُنیا میں شہرت دیگا اور بڑے بڑے نشان تیرے لئے دکھلائیگا اور خدا تجھے نہیں چھوڑے گا جبتک وہ رُشد اور گمراہی میں فرق کر کے نہ دکھلاوے اور دشمن زور لگائینگے اور طرح طرح کے مکر اور فریب اور منصوبے استعمال کرینگے مگر خدا انہیں نامراد رکھے گا۔ خدا ہر ایک قدم میں تیرے ساتھ ہو گا اور ہر ایک میدان میں تجھے فتح دے گا۔ اور تیرے ہاتھ پر اپنے نور کو پورا کریگا۔ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اور اپنی قدرت نمائی سے تجھے اُٹھاؤنگا میں تجھے دشمنوں کے ہر ایک حملہ سے بچاؤں گا اگرچہ لوگ تجھے نہ بچاویں۔ اگرچہ لوگ تیرے بچانے کی کچھ پروا نہ رکھیں مگر میں تجھے ضرور بچاؤں گا۔

یہ اس زمانہ کے الہام ہیں جس پر تیس برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور یہ تمام الہام

صفحہ 295

تتمہ ۴۷۰ حقیقۃ الوحی

براھین احمدیہ میں شائع ہوچکے ہیں جن کے شائع ہونے پر اب چھبیس ۲۶ برس سے زیادہ عرصہ گزر گیا۔ اور یہ وہ زمانہ تھا جس میں مجھے کوئی بھی نہیں جانتا تھا نہ کوئی موافق تھا نہ مخالف ۔ ص ۲۵۸ کیونکہ میں اُس زمانہ میں کچھ بھی چیز نہ تھا اور ایک اَحَدٌ مِّنَ النَّاس اور زاویہ گمنامی میں پوشیدہ تھا پھر بعد اسکے آہستہ آہستہ ترقی ہوئی اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے تیس بتیس برس پہلے پیشگوئی کی تھی وہ سب باتیں ظہور میں آگئیں اور اب تک کئی لاکھ انسان قادیان میں آکر سلسلہ بیعت میں داخل ہوچکا ہے اور درحقیقت اس کثرت سے لوگ بیعت کیلئے قادیان میں آئے کہ اگر مجھے یہ الہام یاد نہ ہوتا ولا تصعّر لخلق الله ولا تسئم من النّاس تو مَیں اتنی ملاقاتوں سے تھک جاتا۔ اور جیسا کہ شرط ہے طریق اخلاق کو بجا نہ لاسکتا مگر یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اُسکی رحمت ہے کہ اُس نے اِن واقعات سے تیس بتیس برس پہلے مجھ کو اِن واقعات کی خبر دیدی اور ڈاکخانوں کے رجسٹروں سے تحقیق ہوسکتا ہے کہ اب تک مالی فتوحات میں کئی لاکھ روپیہ آچکا ہے اور اس سے زیادہ وہ روپیہ ہے جو لوگ خود آکر دیتے ہیں اور بعض لوگ خطوط کے ذریعہ سے نوٹ بھیج دیتے ہیں اور تخمیناً تین ہزار کے قریب اس سلسلہ کی ہرایک مد کا ماہواری خرچ ہے جس سے ظاہر ہے کہ ان دنوں میں ماہوار آمدنی بھی اسی قدر ہے۔ حالانکہ جس زمانہ میں ان فتوحات مالیہ کی پیشگوئی براہین احمدیہ میں شائع ہوئی تھی اُس زمانہ میں کوئی شخص ایک پیسہ سالانہ بھی نہیں دیتا تھا اور نہ کوئی امید تھی اور اس پیشگوئی پر تیس بتیس برس گزر گئے اور اُس زمانہ کی ہے جبکہ سال میں ایک پیسہ بھی کسی طرف سے نہیں آتا تھا اور نہ کوئی میری جماعت میں داخل تھا بلکہ میں اُس تخم کی طرح تھا جو زمین کے اندر پوشیدہ ہو جیسا کہ براہین احمدیہ میں جس کے شائع ہونے پر چھبیس ۲۶ برس گزر گئے خدا تعالیٰ نے میری نسبت یہ گواہی دی ہے اور وہ یہ الہام ہے۔ ربِّ لا تذرنی فرداً وَّ انْتَ خیْرُ الوارثین۔ یعنے دُعا کر کہ اے خدا مجھے اکیلا مت چھوڑ۔ اس سے ظاہر ہے کہ مَیں اُس وقت جبکہ یہ پیشگوئی فرمائی گئی اکیلا تھا۔ اور پھر دُوسرا الہام براہین احمدیہ میں میری نسبت یہ ہے کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْاَہٗ یعنے مَیں اُس بیج کی طرح تھا جو زمین میں بویا گیا اور نہ صرف یہ الہامات ہیں بلکہ اس قصبہ کے تمام لوگ

صفحہ 296

حقیقۃ الوحی ۵۰۳ تتمہ

وحی الٰہی نے مجھے ٹھہرایا ہے اور بتصریح بیان فرمایا کہ وہ میرے حق میں ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا۔ ومن ینکر بہ فلیبارز للمباھلۃ ولعنۃ اللہ علیٰ من کذب الحق او افتریٰ علیٰ حضرۃ العزۃ۔ اور یہ دعوٰی اُمت محمدیہ میں سے آجتک کسی اور نے ہرگز نہیں کیا کہ خدا تعالیٰ نے میرا یہ نام رکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی سے صرف میں اِس نام کا مستحق ہوں۔ اور یہ کہنا کہ نبوت کا دعوٰی کیا ہے کس قدر جہالت کس قدر حماقت اور کس قدر حق پوشی ہے۔ اے نادانو! میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعوٰی کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں بلکہ مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت ومخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے۔ سو مکالمہ ومخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔ یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ ومخاطبہ رکھتے ہیں۔ میں اُس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں۔ ولکل ان یصطلح۔

اور میں اُس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جسکے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُسی نے مجھے بھیجا ہے اور اُسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اُسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اُس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں جن میں سے بطور نمونہ کسی قدر اِس کتاب میں بھی لکھے گئے ہیں۔ اگر اُسکے معجزانہ افعال اور کھلے کھلے نشان جو ہزاروں تک پہنچ گئے ہیں میرے صدق پر گواہی نہ دیتے تو میں اُس کے مکالمہ کو کسی پر ظاہر نہ کرتا۔ اور نہ یقیناً کہہ سکتا کہ یہ اُس کا کلام ہے پر اُس نے اپنے اقوال کی تائید میں وہ افعال دکھائے جنہوں نے اُس کا چہرہ دکھانے کے لئے ایک صاف اور روشن آئینہ کا کام دیا +

صفحہ 297

ضمیمہ حقیقۃ الوحی ۶۶۰ الاستفتاء

اشدّ الانکار۔ وعلٰی حیاتہ یصرّون وتلک کلمۃ بھا یموتون۔ فاجتنب ذلک ان کنت من الذین یؤمنون بالفرقان ولا یکفرون۔ ولا تکن کمثل الذین ترکوا کلام اللہ وراء ظھورھم فلا یبالون۔ ویقولون ان المسلمین اجمعوا علٰی حیاتہ کلا بل ھم یکذبون۔ واین الاجماع وفیھم المعتزلون۔ واذا قیل لھم الا تتفکرون فی قول ربکم فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ او بہ لا تؤمنون؟ فلیس جوابھم الا ان یحرفوا آیات اللہ ویقولوا ان معنی التوفی رفع الروح مع الجسم العنصری انظر کیف عن الحق یعدلون۔ ویعلمون ان ھذا القول قول یجیب بہ عیسٰی بحضرۃ العزۃ یوم القیامۃ اذ یسئلہ اللہ عن ضلالۃ الامۃ وکذلک فی الفرقان تقرءون۔ فعجبت واللہ کل العجب من شانھم ومن عقلھم وعرفانھم۔ الا یعلمون انہ ما کان للبشر ان یحضر یوم النشور۔ من قبل ان یقبض روحہ ویکون من اصحاب القبور۔ مالھم لا یتدبرون۔ وقد حثا الصحابۃ التّراب فوق

۳۹

خیر البریۃ۔ ومزارہ موجود الی ھذا الوقت فی المدینۃ المنوّرۃ۔ فمن سوء الادب ان یقال ان عیسٰی ما مات وان ھو الا شرک عظیم۔ یأکل الحسنات یمحق الحصاۃ بل ھو توفی کمثل اخوانہ۔ ومات کمثل اھل زمانہ۔ وان عقیدۃ حیاتہ قد جاءت فی المسلمین من الملۃ النصرانیۃ۔ وما اتخذوہ الھا الا بھذہ الخصوصیۃ۔ ثم اشاعھا النصارٰی ببذل الاموال فی جمیع اھل البدو والحضر۔ بما لم یکن احد فیھم من اھل الفکر والنظر۔ واما المتقدمون من المسلمین فلم یصدر منھم ھذا القول الا علٰی طریق العثار والعثرۃ۔ فھم قوم معذورون عند الحضرۃ بما کانوا خاطئین غیر متعمدین۔ وما اخطأوا الا من وجہ الطبائع الساذجۃ واللہ یعفو عن کل مجتھد یجتھد بنصیحۃ النیۃ۔ ویؤدّی حق التحقیق من غیر خیانۃ علٰی قدر الاستطاعۃ۔ الا الذین جاءھم الامام الحکم مع البیّنات

صفحہ 298

روحانی خزائن

تصنیفات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۲۳

چشمۂ معرفت پیغام صلح

صفحہ 299

(نقل ٹائٹل طبع اول) ٭ یہ بغیر دستخط مہتمم کتب خانہ کے کتاب مسروقہ سمجھی جاوے گی ٭

قَدْ فَرَغْنَا مِنَ الرَّدِّ عَلَی قَوْمٍ يُسَمَّوْنَ آرِيَةً فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ اِنَّا اِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِيْنَ (ترجمہ) ہم آریوں کے رد لکھنے سے فراغت کر چکے سو اُس خدا کو سب تعریف ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، ہم جب ایک قوم پر چڑھائی کرتے ہیں اور اُنکے صحن میں اُترتے ہیں تو وہ صبح اُن کی ایک بُری ہی صبح ہوتی ہے جو تباہی کی خبر دیتی ہے

یہ کتاب آریہ صاحبوں کے اس مضمون کے جواب میں ہے جسکو انہوں نے اپنے مذہبی جلسہ میں دسمبر ۱۹۰۷ء میں پڑھا جو چار سو معزز ہماری جماعت کے مسلمانوں کے رُوبرو اُنکو اپنے گھر میں بلا کر سُنایا تھا جو ہمارے سیّد و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور دشنام دہی سے پُر تھا جس میں دینِ اسلام پر جابجا توہین اور ہنسی اور ٹھٹھا کیا گیا تھا اور نہایت شوخی سے گندی گالیاں دے کر اور بے حیا تہمتیں ہمارے مقدس ذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگا کر صدہا مسلمانوں کو خود مدعو کر کے نہایت دُکھ دیا تھا اور اُس کتاب کا نام ہے

چشمہ معرفت

از مؤلفات حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعودؒ جو ۱۵؍ مئی ۱۹۰۸ء کو مطبع انوار احمدیہ مشین پریس قادیان ضلع گورداسپور میں طبع ہوئی باہتمام شیخ یعقوب علی ترابؔ منیجر

دو ہزار چار قیمت فی جلد ۱۲؍ اور قیمت مجلد تین روپے

صفحہ 300

چشمہ معرفت ۹۱

۸۳

قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں۔ زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں جو قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اُس تکمیل کے لئے اسی اُمت میں سے ایک نائب مقرر کیا

جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہو اور اُسی کا نام خاتم الخلفاء ہے

پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اُس کے آخر میں مسیح موعود ہے اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا نہ ہولے کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اُسی نائب النبوت کے عہد سے وابستہ کی گئی ہو اور اُسی کیطرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے لہ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ع یعنی خدا وہ خدا ہے جسنے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اُسکو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیشگوئی میں کچھ تخلف ہو اس لئے اِس آیت کی نسبت اُن سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئیگا کیونکہ اس عالمگیر غلبہ کیلئے تین امر کا پایا جانا ضروری ہے جو کسی پہلے زمانہ میں وہ پائے نہیں گئے۔

کی راہیں کھل جائیں اور سفر کی ناقابل برداشت مشقتیں دُور ہو جائیں اور سفر بہت جلدی طے ہوسکے گویا سفر سفر ہی نہ رہے اور سفر کو جلد طے کرنے کے لئے فوق العادت اسباب میسر آجائیں کیونکہ جب تک مختلف ممالک کے باشندوں کیلئے ایسے اسباب اور سامان حاصل نہ ہوں کہ وہ فوق العادت کے طور پر ایک دوسرے سے مل سکیں اور بآسانی ایک دوسرے کی ایسے طور سے ملاقات کر سکیں کہ گویا وہ ایک ہی شہر کے باشندے ہیں تب تک ایک قوم کے لئے یہ موقعہ حاصل نہیں ہو سکتا کہ وہ یہ دعویٰ کریں کہ اُن کا دین تمام دنیا کے دینوں پر

لہ الصف : ۱۰

صفحہ 301

چشمۂ معرفت ١٨٩ غلام احمد

بندوں سے مکالمہ مخاطبہ کرتا تھا اب بھی کرتا ہے اور ہم میں اور ہمارے مخالف مسلمانوں میں صِرف لفظی نزاع ہے اور وہ یہ کہ ہم خدا کے اُن کلمات کو جو نبوت یعنی پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے اسم سے موسوم کرتے ہیں اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیشگوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں یعنی اِس قدر کہ اُس کے زمانہ میں اُس کی کوئی نظیر نہ ہو اِس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں کیونکہ نبی اُس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بہ کثرت آئندہ کی خبریں دے مگر ہمارے مخالف مسلمان مکالمہ الٰہیہ کے قائل ہیں ۔ لیکن اپنی نادانی سے ایسے مکالمات کو جو بکثرت پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں

ص ١٨١

نبوت کے نام سے موسوم نہیں کرتے حالانکہ نبوت صرف آئندہ کی خبر دینے کو کہتے ہیں جو بذریعہ وحی و الہام ہو اور ہم سب اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ شریعت قرآن شریف پر ختم ہو گئی ہے صرف مبشرات یعنی پیشگوئیاں باقی ہیں۔"

اور پھر خدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی صفات میں سے ایک صفت تقدّس بھی ہے۔ یعنی یہ کہ وہ ہر ایک عیب اور نقصان سے پاک ہے لیکن ظاہر ہے کہ گونگا ہونا ایک عیب ہے۔ ایسا ہی باوجود دعوائے قدرت کے ایک رُوح کو بھی پیدا نہ کر سکنا یہ بھی عیب ہے۔ ایسا ہی اپنا وجود ثابت کرنے کے لئے کوئی پُختہ اور محکم دلائل پیش نہ کرنا یہ بھی عیب ہے۔ ایسا ہی اُس کے مقابل پر ازلی اور ابدی طور پر کوئی اور وجود بھی ہوتا یہ بھی اُس کے لئے عیب ہے پس باجود اِس قدر عیوب کے ساتھ تقدّس کہاں رہ سکتا ہے۔ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی عَمَّا یَصِفُوْنَ ؎

ایک اور ضروری صفت خدا تعالیٰ کی ہے جس کو وید اندر ہی اندر ہضم کر گیا ہے اور وہ اُس کا توّاب اور غفور ہونا ہے اور توّاب اور غفور کے یہ معنی ہیں کہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور گنہ بخشنے والا ہے ظاہر ہے کہ انسان اپنی فطرت میں نہایت کمزور ہے اور خدا تعالیٰ کے صدہا احکام کا اُس پر بوجھ ڈالا گیا ہے پس اس کی فطرت میں یہ داخل ہے کہ وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے بعض احکام کے ادا کرنے سے قاصر رہ سکتا ہے اور کبھی نفسِ امّارہ کی بعض خواہشیں اُس پر غالب آجاتی ہیں پس وہ اپنی کمزور فطرت کی رُو سے حق رکھتا ہے کہ کسی لغزش کے وقت اگر

؎ الانعام : ١٠١

صفحہ 302

چشمہ معرفت ۲۱۸ حصہ دوم

میں تغیرات ڈالتا ہے اور یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالا یُطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے پس جب کہ بموجب اصول آریہ سماج کے وید کے رشیوں کی زبان ویدک سنسکرت نہیں تھی اور نہ وہ اُس کے بولنے اور سمجھنے پر قادر تھے اور پھر خدا کا ایسی بیگانہ زبان میں اُن

صفحہ 303

چشمہ معرفت ۲۲۱ دوسرا حصہ

پھر ماسوا اس کے اگر اس وجہ سے انکار کیا جاتا ہے کہ یہ امر خارق عادت ہے۔ تو کیا بموجب اصول آریوں کے وید کے بعد الہام الہی ہونا یہ خارق عادت امر نہیں ہے پس جبکہ لیکھرام کی موت نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ وہ قادر خدا اس زمانہ میں بھی برخلاف وید کے مقرر کردہ قانون قدرت کے الہام کرتا ہے تو وید کا سارا قانون قدرت درہم برہم ہو گیا اس صورت میں وید کی بات کا کوئی بھی اعتبار نہ رہا ۔ ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا اور اگر لیکھرام والی پیشگوئی سے تسلی نہیں ہوئی تو پھر درخواست کرنے سے اور کوئی ذریعہ تسلی کا پیدا ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی صدہا الہامی پیشگوئیاں جو پوری ہو چکی ہیں تسلی دے سکتی ہیں غرض وید کا قانون قدرت ایسا جھوٹا ثابت ہوا کہ ساتھ ہی وید کو بھی لے ڈوبا۔ پھر اسی بناء پر اعتراض کرنا حیا سے بعید ہے۔ ظاہر ہے کہ وید نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے بعد خدا کی قوت متکلمہ ہمیشہ کے لئے مسلوب رہے گی مگر ہم نے چمکتے ہوئے نشانوں کے ساتھ ثابت کر دیا کہ وید نے جو کچھ دعویٰ کیا ہے اور جو کچھ آئندہ کے لئے خدا کے الہام کے بارہ میں لکھا ہے کہ وہ محال اور قانون قدرت کے برخلاف ہے وہ سراسر جھوٹ اور خلاف حق ہے بلکہ خدا ہمیشہ اپنے بندوں کو الہام کرتا ہے تو پھر بتلاؤ کہ اس کے بعد بار بار اسی وید کو پیش کرنا جس کے قانون قدرت کا نمونہ ہم دیکھ چکے ہیں۔ کس قدر خلاف حیا و شرم ہے۔

ص۲۲۳

غرض لیکھرام کی موت نے ثابت کر دیا کہ وید کی یہ تعلیم سراسر غلط ہے کہ اس کے بعد الہام نہیں ہے تو پھر وید کے مقرر کردہ قانون قدرت پر اعتبار کیا رہا۔ خدا تعالیٰ کے کروڑ ہا قانون قدرت ابھی مخفی ہیں اور آہستہ آہستہ ظاہر ہورہے ہیں مگر افسوس ان لوگوں پر کہ دانستہ آنکھ بند کر لیتے ہیں اگر یورپ کا کوئی شخص یہ بات ظاہر کرے کہ میں پتھر میں سے پانی نکال سکتا

صفحہ 304

چشمہ معرفت ۲۶۶ روحانی خزائن آیا ہے اور اس وقت آیا ہے جب کہ دنیا خدا کے راہ کو بھول چکی تھی اور جن بیماروں کیلئے آیا۔ اُن کو اُس نے چنگا کر کے دکھلا دیا اور نہ توریت اور نہ انجیل وہ اصلاح کر سکی جو قرآن شریف نے کی کیونکہ توریت کی تعلیم پر چلنے والے یعنی یہودی ہمیشہ بار بار بت پرستی میں پڑتے رہے چنانچہ تاریخ جاننے والے اس پر گواہ ہیں اور وہ کتابیں کیا با عتبار علمی تعلیم کے اور کیا باعتبار عملی تعلیم کے سراسر ناقص تھیں اس لئے اُن پر چلنے والے بہت جلد گمراہی میں پھنس گئے۔ انجیل پر ابھی تیس برس بھی نہیں گزرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی یعنی حضرت عیسیٰ خدا بنائے گئے اور تمام نیک اعمال کو

۲۵۵

چھوڑ کر ذریعہ معافی گناہ یہ ٹھہرا دیا کہ اُن کے مصلوب ہونے اور خدا کا بیٹا ہونے پر ایمان لایا جائے پس کیا یہی کتابیں تھیں جن کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نقل کی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ کتابیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک ردی کی طرح ہو چکی تھیں اور بہت جھوٹ اُن میں ملائے گئے تھے جیسا کہ کئی جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں اور اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہیں چنانچہ اس واقعہ پر اس زمانہ میں بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے پس جب کہ بائبل محرف مبدل ہو چکی تھی اور جو بائبل کے حامی تھے وہ بقول پادری فنڈل اور دوسرے محقق عیسائیوں کے اس زمانہ میں نہایت درجہ بدچلن ہو چکے تھے اور زمین پاپ اور گناہ سے بھر گئی تھی اور آسمان کے نیچے بجز معصیت اور مخلوق پرستی کے اور کوئی عمل نہ تھا اس طرف آریہ ورت بھی خراب ہو چکا تھا۔ اس کے لئے پنڈت دیانند کی گواہی ستیارتھ میں کافی ہے اور قرآن شریف نے خود اپنے آنے کی ضرورت یہ پیش کی ہے کہ اس زمانہ میں ہر ایک قسم کی بدچلنی اور بد اعتقادی اور بدکاری زمین کے رہنے والوں پر محیط ہو گئی تھی تو اب خدا کا خوف کر کے سوچنا چاہیئے کہ کیا باوجود جمع ہونے اتنی ضرورتوں کے پھر بھی خدا نے نہ چاہا کہ اپنے تازہ اور زندہ کلام سے

صفحہ 305

چشمہ معرفت ۳۳۴ حصہ ضمیمہ

دشمنوں کو ہلاک کیا یا اُن کے مقابل پر مجھے ہر ایک قسم کے انعام سے مشرف کیا ۔ اور اُن کو ذلت کی زندگی میں ڈالا یا ذلت کے ساتھ دنیا سے اٹھا لیا ۔ اور خدا نے میری تائید میں اس قسم کے نشان بھی ظاہر کئے کہ میرے وجود سے بھی پہلے بعض صلحاء نے میرا نام لیکر میرے ظہور کی خبر دی تھی اور بعض نے میرے ظہور سے تیس برس پہلے میرا نام لیکر اور میرے گاؤں کا نام لیکر میرے ظہور کی خبر دی ۔ اور خدا نے میرے لئے ایک یہ بھی نشان ٹھہرایا کہ پہلے تمام نبیوں نے مسیح موعود کے ظہور کے لئے جس زمانہ کی خبر دی تھی اور جو تاریخی طور پر مسیح موعود کے ظہور کے لئے مدت مقرر کی تھی خدا نے ٹھیک ٹھیک مجھے اُسی زمانہ میں پیدا کیا ۔٭ ایسا ہی اسلام کے تمام اولیاء کا اس پر اتفاق تھا کہ اس مسیح موعود کا زمانہ چودھویں صدی سے تجاوز نہیں کرے گا اور حدیث الْآيَاتُ بَعْدَ الْمِائَتَيْنِ بھی اس پر دلالت کرتی تھی سو خدا نے چودھویں صدی کے سر پر مجھے مامور اور مخاطب فرمایا خدا نے قرآن شریف میں ایک جگہ یہ بھی فرمایا تھا کہ آخری زمانہ میں مذاہب کے جنگ ہوں گے اور دریائی لہروں کی طرح ایک مذہب دوسرے مذہب پر گرے گا تا اس کو نابود

٭حاشیہ بعض ناواقف یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ مسیح موعود کا قرآن شریف میں کہاں ذکر ہے ؟ اس کا یہ جواب ہے کہ خدا کی کتابوں میں مسیح موعود کے کئی نام ہیں منجملہ اُن کے ایک نام خاتم الخلفاء ہے یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر آنے والا ہے سو اس نام کے ساتھ قرآن شریف میں مسیح موعود کے بارے میں پیشگوئی موجود ہے چنانچہ سُورۃ نُور میں خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ مسلمانوں میں سے آخری دنوں تک اُن کے دین کی تقویت کے لئے خلیفے پیدا کرتا رہے گا اور اُن کے ذریعہ سے خوف کے بعد امن کی صورت پیدا کر دے گا ۔ آخری دنوں تک خلیفوں کا پیدا

صفحہ 306

چشمہ معرفت ۲۴۰ خصوصیت اسلام

میں اکیلا اپنے خدا کی جناب میں کسی امر کے لئے رجوع کروں تو خدا میری ہی تائید کرے گا مگر نہ اس لئے کہ سب سے میں ہی بہتر ہوں بلکہ اس لئے کہ میں اُس کے رسول پر دلی صدق سے ایمان لایا ہوں اور جانتا ہوں کہ تمام نبوتیں اُس پر ختم ہیں اور اُس کی شریعت خاتم الشرائع ہے مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوت جو اُس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اُس کے چراغ میں سے نُور لیتی ہے وہ ختم نہیں کیونکہ وہ محمدی نبوت ہے یعنی اُس کا ظل ہے اور اُسی کے ذریعہ سے ہے اور اُسی کا مظہر ہے ٭ اور اُسی سے فیضیاب ہے۔ خدا اُس شخص کا دشمن ہے جو قرآن شریف کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہے اور محمدی شریعت کے برخلاف

۲۲۵

چلتا ہے اور اپنی شریعت چلانا چاہتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا بلکہ آپ کچھ بننا چاہتا ہے۔ مگر خدا اُس شخص سے پیار کرتا ہے جو اس کی کتاب قرآن شریف کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اُس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو درحقیقت خاتم الانبیاء سمجھتا ہے اور اس کے فیض کا اپنے تئیں محتاج جانتا ہے پس ایسا شخص خدا تعالیٰ کی جناب میں پیارا ہو جاتا ہے اور خدا کا پیار یہ ہے کہ اس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اُس کو اپنے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کرتا ہے اور اُس کی حمایت میں اپنے نشان ظاہر کرتا ہے اور جب اُس کی پیروی کمال کو پہنچتی ہے تو ایک ظلی نبوت اُس کو عطا کرتا ہے جو نبوت محمدیہ کا ظل ہے یہ اس لئے کہ تا اسلام ایسے لوگوں کے وجود سے تازہ رہے

٭ ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ کوئی شریعت ہے اور اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو بلاشبہ وہ بے دین اور مردود ہے لیکن خدا تعالیٰ نے ابتداء سے ارادہ کیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات متعدیہ کے اظہار و اثبات کے لئے کسی شخص کو آنجناب کی پیروی اور متابعت کی وجہ سے وہ مرتبہ کثرت مکالمات اور مخاطبات الٰہیہ بخشے کہ جو اس کے وجود میں عکسی طور پر نبوت کا رنگ پیدا کر دے سو اس طور سے خدا نے میرا نام نبی رکھا یعنی نبوت محمدیہ میرے آئینہ نفس میں منعکس ہو گئی اور ظلی طور پر نہ اصلی طور پر مجھے یہ نام دیا گیا تا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کا کامل نمونہ ٹھہروں۔ منہ ۱۲

صفحہ 307

۳۹۰

کچھ نہ کچھ خبث نیت دل میں رکھ لیتا ہے کیونکہ اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے اور سب پر ایمان لانا فرض ہے۔ پس مسلمانوں کو بڑی مشکلات پیش آتی ہیں کہ دونوں طرف اُن کے پیارے ہوتے ہیں۔ بہر حال جاہلوں کے مقابل

صفحہ 308

ملفوظات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۲

صفحہ 309

۷۲

کے پاس صحابہؓ بیٹھتے۔ آخر نتیجہ یہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اللہ فی اصحابی۔ گویا صحابہؓ خدا کا روپ ہو گئے۔ یہ درجہ ممکن نہ تھا کہ اُن کو ملتا اور دُور ہی بیٹھے رہتے۔ یہ بہت ضروری مسئلہ ہے۔ خدا تعالیٰ کا قرب بندگانِ خدا کا قرب ہے اور خدا تعالیٰ کا ارشاد كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ ١؂ اس پر شاہد ہے۔ یہ ایک سِرّ ہے جس کو تھوڑے ہیں جو سمجھتے ہیں۔ مامور من اللہ ایک ہی وقت میں ساری باتیں کبھی بیان نہیں کر سکتا بلکہ وہ اپنے دوستوں کے امراض کی تشخیص کر کے حسبِ موقع اُنکی اصلاح بذریعہ وعظ و نصیحت کرتا رہتا ہے اور وقتاً فوقتاً وہ اُن کے امراض کا ازالہ کرتا رہتا ہے۔ اب جیسے آج میں ساری باتیں بیان نہیں کر سکتا۔ ممکن ہے کہ بعض آدمی ایسے ہوں۔ جو آج ہی تقریر سُنکر چلے جاویں اور بعض باتیں اُن میں اُن کے مذاق اور مرضی کے خلاف ہوں تو وہ محروم گئے۔ لیکن جو متواتر یہاں رہتا ہے۔ وہ ساتھ ساتھ ایک تبدیلی کرتا جاتا ہے اور آخر اپنے مقصد کو پا لیتا ہے۔ ہر ایک آدمی سچی تبدیلی کا محتاج ہے جس میں تبدیلی نہیں ہے۔ وہ مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰی کا مصداق ہے۔ مجھے بہت سوز و گداز رہتا ہے کہ جماعت میں ایک پاک تبدیلی ہو۔ جو نقشہ اپنی جماعت کی تبدیلی کا میرے دل میں ہے وہ ابھی پیدا نہیں ہوا۔ اور اس حالت کو دیکھ کر میری وُہی حالت ہے۔ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ ٢؂

صرف وفاتِ مسیح مقصود نہیں

میں نہیں چاہتا کہ چند الفاظ طوطے کی طرح بیعت کے وقت رَٹ لئے جاویں۔ اس سے کچھ فائدہ نہیں۔ تزکیۂ نفس کا علم حاصل کرو۔ کہ ضرورت اسی کی ہے۔ ہماری یہ غرض ہرگز نہیں کہ مسیح کی وفات حیات پر جھگڑے اور مباحثہ کرتے پھرو۔ یہ ایک ادنیٰ سی بات ہے۔ اسی پر بَس نہیں ہے یہ تو ایک غلطی تھی۔ جس کی ہم نے اصلاح کر دی۔ لیکن ہمارا کام اور ہماری غرض ابھی اس سے بہت دُور ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ تم اپنے اندر ایک تبدیلی

١؂ التوبۃ : ١١٩

٢؂ الشعراء : ٤

صفحہ 310

مجموعہ اشتہارات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد اوّل

صفحہ 311

۱۸ (۹) بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

اشتہار

تصنیف کتاب براہین احمدیہ بحقیت الاسلام

لجمیع عاشقان صدق و انتظام سرمایہ طبع کتاب

ایک کتاب جامع دلائل معقولہ و منقولہ اثبات حقانیت قران شریف صدق نبوت حضرت محمّد مصطفےٰ صلّی اللہ علیہ وسلم جس میں ثبوت کامل منجانب کلام اللہ ہونے قران شریف اور سچا ہونے حضرت خاتم الانبیاء کا اس قطعی فیصلہ سے کیا گیا ہے کہ ساتھ اس کتاب کے ایک اشتہار بھی بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ کے اسی مراد سے منسلک ہے کہ اگر کوئی صاحب جو حقانیت اور افضلیت فرقان شریف سے منکر ہے ، براہین مندرجہ اس کتاب کو توڑ دے یا اپنی الہامی کتاب میں اسی قدر دلائل یا نصف اس سے یا ثلث اس سے یا ربع اس سے یا خمس اس سے ثابت کر کے دکھلا دے جس کو تین منصف مقبولہ فریقین تسلیم کر لیں تو مشتہر اس کو بلا عذر اپنی جائداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبضہ و دخل دے دیگا۔ بوجہ منکرانہ اصرار پنڈت دیانند

صفحہ 312

١٩

صاحب اور ان کے بعض سکرٹریوں کی تصنیف ہوئی ہے اور نام اس کتاب کا مندرجہ حاشیہ رکھا گیا ہے بَراہِینِ اَحمَدِیَّہ عَلیٰ حَقِّیَّتِ کِتَابِ اللّٰہِ القُرآنِ وَ النُّبُوَّۃِ المُحَمَّدِیَّۃِ

لیکن بوجہ ضخامت چھپنا اس کتاب کا خریداروں کی مدد پر موقوف ہے۔ لہٰذا یہ اشتہار بجہت اطلاع جملہ اخوان مومنین و برادران موحدین و طالبانِ راہ حق و یقین شایع کیا جاتا ہے کہ بہ نیت معاونت اور نصرت دین مبین کے اس کتاب کے چندہ میں بحسب توفیق شریک ہوں یا یوں مدد کریں کہ بہ نیت خریداری اس کتاب کے مبلغ پانچ روپیہ جو اصل قیمت اس کتاب کی قرار پائی ہے بطور پیشگی بھیج دیں تا سرمایہ طبع اس کتاب کا اکٹھا ہو کر بہت جلد چھپنی شروع ہو جائے۔ اور جیسے جیسے چھپتی جائے گی بخدمت جملہ صاحبین جو بہ نیت خریداری چندہ عنایت فرمائیں گے مرسل ہوتی رہے گی۔ لیکن واضح رہے کہ جو صاحب بہ نیت خریداری چندہ عنایت فرمائیں وہ اپنی درخواست خریداری میں بقلم خوشخط اسم مبارک و مفصل پتہ و نشان مسکن و ضلع وغیرہ لکھ کر جس سے بلا ہرج اجزاء کتاب کے وقتاً فوقتاً ان کی خدمت گرامی میں پہنچتے رہیں ارقام فرماویں

المشـــــتہر مرزا غلام احمد رئیس قادیان ضلع گرداسپور ملک پنجاب

مکرر بڑی شکر گزاری سے لکھا جاتا ہے کہ حضرت مولوی چراغ علی خاں صاحب معتمد دارالمہام دولت آصفیہ حیدر آباد دکن نے بغیر ملاحظہ کسی اشتہار کے خود بخود اپنے کرم ذاتی و ہمت اور حمیت و جمعیت اسلامیہ سے بوجہ چندہ اس کتاب کے ایک نوٹ دس روپیہ کا بھیجا ہے۔

(مطبوعہ سفیر ہند امرتسر)

صفحہ 313

۶۹

کرتی ہیں اور ان کی اجازت کے بغیر ان کا مال خرچ کر دیتی ہیں اور ناراض ہونے کی حالت میں بہت کچھ بُرا بھلا ان کے حق میں کہہ دیتی ہیں۔ ایسی عورتیں اللہ اور رسول کے نزدیک لعنتی ہیں۔ ان کا نماز روزہ اور کوئی عمل منظور نہیں۔ اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ کوئی عورت نیک نہیں ہو سکتی جب تک پوری پوری اپنے خاوند کی فرمانبرداری نہ کرے اور دلی محبت سے اس کی تعظیم بجا نہ لائے اور پسِ پشت یعنی اس کے پیچھے اس کی خیرخواہ نہ ہو۔ اور پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عورتوں پر لازم ہے کہ اپنے مَردوں کی تابعدار رہیں۔ ورنہ ان کا کوئی عمل منظور نہیں۔ اور نیز فرمایا ہے کہ اگر غیرِ خدا کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں حکم کرتا کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں۔ اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے حق میں کچھ بد زبانی کرتی ہے یا اہانت کی نظر سے اس کو دیکھتی ہے اور حکمِ ربانی سُن کر پھر بھی باز نہیں آتی تو وہ لعنتی ہے۔ خدا اور رسول اس سے ناراض ہیں۔ عورتوں کو چاہیئے کہ اپنے خاوندوں کا مال نہ چُراویں اور نامحرم سے اپنے تئیں بچاویں۔ اور یاد رکھنا چاہیئے کہ بغیر خاوند اور ایسے لوگوں کے جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جتنے مَرد ہیں اُن سے پردہ کرنا ضروری ہے۔ جو عورتیں نامحرم لوگوں سے پردہ نہیں کرتیں شیطان ان کے ساتھ ساتھ ہے۔ عورتوں پر یہ بھی لازم ہے کہ بدکار اور بدمزاج اور بد اطوار عورتوں کو اپنے گھروں میں نہ آنے دیں اور ان کو اپنی خدمت میں نہ رکھیں کیونکہ یہ سخت گناہ کی بات ہے کہ بدکار عورت نیک عورت کی ہم صحبت ہو۔

مصلحت کے لئے کوئی دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہے تو وہ عورت اور اس کے اقارب سخت ناراض ہوتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں اور شور مچاتے ہیں اور اس بندۂ خدا کو ناحق ستاتے ہیں۔ ایسی عورتیں اور ایسے ان کے اقارب بھی نابکار اور خراب ہیں۔ کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ نے اپنی حکمتِ کاملہ سے جس میں صدہا مصالح ہیں۔ مَردوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ

صفحہ 314

١٠١ نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔ اے مظفر تجھ پر سلام خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے ۔ اور تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں ۔ جو چاہتا ہوں سو کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفےٰ کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا ۔ ایک ذکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا ۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہوگا۔ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس رُوح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے ۔ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا ۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور رُوح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمتہ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت وغیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنیوالا ہو گا (اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے) دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ ۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاوّل والآخر۔ مظہر الحق والعلاء کانّ اللہ نزل من السماء جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا ۔ نُور آتا ہے نُور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا ۔ ہم اس میں اپنی رُوح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا ۔ اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک

صفحہ 315

٣١٩ (۵۷)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ ط وَكَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًا عَلِيْمًا ١؂

اِشْتِہَار نُصْرَتِ دِیْن و قَطْعِ تَعَلُّق

از اَقَارِب مُخَالِفِ دِیْن

عَلٰی مِلَّةِ اِبْرَاهِيْمَ حَنِيْفًا
چوں بدندان تو کرمے اوفتد آں نہ دنداں بکن ہمی اوستاد

ناظرین کو یاد رہے کہ اس عاجز نے ایک دینی خصومت کے پیش آجانے کی وجہ سے ایک نشان کے مطالبہ کے وقت اپنے ایک قریبی مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم والہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی ۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجاوے اور یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آوے ۔ چنانچہ تفصیل ان کل امور مذکورہ بالا کی اس اشتہار میں درج ہے ۔ اب باعث تحریر اشتہار ہٰذا یہ ہے کہ میرا بیٹا سلطان احمد نام جو نائب تحصیلدار لاہور میں ہے اور اس کی تائی صاحبہ جنہوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے ، وہی اس مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہیں ۔ اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے ۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفتانہ کارروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں

١؂ النساء : ١٤٨

صفحہ 316

مجموعۂ اشتہارات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد دوم

صفحہ 317

٣٦٦

(١٦٤) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عریضہ بپائے انڈین گورنمنٹ عالیہ انگریزی ؀

اس عریضہ میں پہلے یہ گذارش کرنا چاہتا ہوں کہ میں کون ہوں۔ سو مختصر عرض یہ ہے کہ میں اس نواح کے ایک رئیس اور سرکار انگریزی کے سچے خیر خواہ کا بیٹا ہوں جن کا نام مرزا غلام مرتضیٰ تھا جن کا ذکر رئیسان پنجاب مسٹر گریفن میں موجود ہے۔ وہ گورنمنٹ کے وفادار خیرخواہ تھے جنہوں نے ۱۸۵۷ء میں پچاس گھوڑوں سے معہ سواروں کے سرکار انگریزی کی مدد دی اور وہ اس ضلع میں ہر یک موقعہ مدد کے وقت سرکار انگریزی کو کام آتے رہے ہیں اور ہر یک مدد کے کام میں اپنی حیثیت کے موافق اس ضلع میں ان کا قدم سبقت رکھتا تھا۔ اور حکام وقت اُن کو بڑے لطف اور مہربانی کی نظر سے دیکھتے تھے اور گورنر جنرل کے دربار میں ان کو کرسی ملتی تھی اور ۱۸۵۷ء کی خیرخواہی کے عوض سرکار انگریزی نے ان کو انعام بھی دیا تھا۔ ترمون کے گذر پر جو گورداسپورہ کے قریب واقع ہے۔ جب باغیوں کا عبور ہوا تو اُن مفسدوں کے مقابلہ میں جن لوگوں نے سپاہیانہ بہادری دکھلائی تھی اُن میں سے میرا حقیقی بھائی مرزا غلام قادر مرحوم تھا جس کو اس شجاعت پر خوشنودی مزاج کی حکام کی طرف سے چٹھیاں ملی تھیں۔ اور میں بذات خود سترہ برس سے سرکار انگریزی کی ایک ایسی خدمت میں مشغول ہوں کہ درحقیقت وہ ایک ایسی خیرخواہی گورنمنٹ عالیہ کی مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ میرے بزرگوں سے زیادہ ہے اور وہ یہ کہ میں نے بیسیوں کتابیں عربی اور فارسی اور اُردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز

صفحہ 318

۳۹۷

جہاد درست نہیں بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرف زر کثیر چھاپ کر بلاد اسلام میں پہنچائی ہیں ۔ اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس مُلک پر بھی پڑا ہے ۔ اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسی جماعت طیار ہوتی جاتی ہے کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں۔ ان کی اخلاقی حالت اعلیٰ درجہ پر ہے اور مَیں خیال کرتا ہوں کہ وہ تمام اس ملک کے لئے بڑی برکت ہیں اور گورنمنٹ کے لئے دلی جان نثار ۔

اب اس تمہید کے بعد مَیں اصل مطلب کو لکھتا ہوں ۔ اور وہ یہ ہے کہ جب سے لیکھرام پشاوری جو آریہ صاحبوں کا ایک واعظ تھا۔ لاہور میں کسی کے ہاتھ سے قتل کیا گیا ہے۔ عجیب طرح پر آریوں اور ہندوؤں کا شور و غوغا عام مسلمانوں کی نسبت عموماً اور میری نسبت خصوصاً پھیل رہا ہے ۔ اور بغیر کسی ثبوت کے کھلے کھلے طور پر قتل کی تہمتیں میری نسبت لگا رہے ہیں۔ اور اُن کی تیز تحریروں سے پایا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسے حملہ کی طیاری کر رہے ہیں جو نہ صرف میرے لئے بلکہ عام مسلمانوں کے لئے اور گورنمنٹ کے انتظام کے لئے خطرناک ہے اور اخبارات اور خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مفسدانہ ارادوں کے بانی مبانی صرف چند آدمی ہیں ۔ جو لاہور اور گوجرانوالہ اور امرت سر اور بٹالہ اور چند دوسرے قصبوں کے باشندے ہیں ۔ غالباً وہ اپنی تعداد میں پچاس سے زیادہ نہیں ہوں گے اور باقی لوگ درحقیقت انہیں سرغنوں کے افروختہ ہیں اور انہیں کی بھڑکائی ہوئی آگ کے شعلے ہیں۔ جس وقت مَیں خیال کرتا ہوں کہ ان دنوں میں یہ آریہ صاحبان عام مسلمانوں کو کیا کیا دھمکیاں دے رہے ہیں اور جیسا کہ اخبار رہبر ہند ۱۵؍ مارچ ۱۸۹۷ء میں افواہاً بیان کیا گیا ہے ۔ پشاور کے سکھوں کی پلٹنوں کو کس طور سے اغوا کرنے کے لئے کوشش کی گئی ہے تو مَیں دیکھتا ہوں کہ اس وقت سرکار انگریزی کا بڑا فرض

صفحہ 318

۳۸۷

جہاد درست نہیں بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرف زر کثیر چھاپ کر بلاد اسلام میں پہنچائی ہیں۔ اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس مُلک پر بھی پڑا ہے۔ اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسی جماعت طیار ہوتی جاتی ہے کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں۔ ان کی اخلاقی حالت اعلیٰ درجہ پر ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ وہ تمام اس ملک کے لئے بڑی برکت ہیں اور گورنمنٹ کے لئے دلی جان نثار۔

اب اس تمہید کے بعد میں اصل مطلب کو لکھتا ہوں۔ اور وہ یہ ہے کہ جب سے لیکھرام پشاوری جو آریہ صاحبوں کا ایک واعظ تھا۔ لاہور میں کسی کے ہاتھ سے قتل کیا گیا ہے۔ عجیب طرح پر آریوں اور ہندوؤں کا شور و غوغا عام مسلمانوں کی نسبت عموماً اور میری نسبت خصوصاً پھیل رہا ہے۔ اور بغیر کسی ثبوت کے کھلے کھلے طور پر قتل کی تہمتیں میری نسبت لگا رہے ہیں۔ اور اُن کی تیز تحریروں سے پایا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسے حملہ کی طیاری کر رہے ہیں جو نہ صرف میرے لئے بلکہ عام مسلمانوں کے لئے اور گورنمنٹ کے انتظام کے لئے خطرناک ہے اور اخبارات اور خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مفسدانہ ارادوں کے بانی مبانی صرف چند آدمی ہیں۔ جو لاہور اور گوجرانوالہ اور امرتسر اور بٹالہ اور چند دوسرے قصبوں کے باشندے ہیں۔ غالباً وہ اپنی تعداد میں پچاس سے زیادہ نہیں ہوں گے اور باقی لوگ درحقیقت انہیں سرغنوں کے افروختہ ہیں اور انہیں کی بھڑکائی ہوئی آگ کے شعلے ہیں۔ جس وقت میں خیال کرتا ہوں کہ ان دنوں میں یہ آریہ صاحبان عام مسلمانوں کو کیا کیا دھمکیاں دے رہے ہیں اور جیسا کہ اخبار رہبر ہند ۱۵؍ مارچ ۱۸۹۷ء میں افواہاً بیان کیا گیا ہے۔ پشاور کے سکھوں کی پلٹنوں کو کس طور سے اغوا کرنے کے لئے کوشش کی گئی ہے تو میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت سرکار انگریزی کا بڑا فرض

صفحہ 319

مجموعہ اشتہارات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد سوم

صفحہ 320

۲۷۵

از جانب متوکل علی اللہ الاحد غلام احمد عافاہ اللہ و ایّد ۔ بخدمت مکرم بابو الٰہی بخش صاحب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

بعد ہذا اس عاجز کو اس وقت تک آں مکرم کے الہامات کی انتظار رہی ۔ مگر کچھ معلوم نہیں ہوا کہ توقف کا کیا باعث ہے۔ میں نے سراسر نیک نیتی سے جس کو خدائے کریم جانتا ہے یہ درخواست کی تھی تا اگر خدا تعالیٰ چاہے تو ان متناقض الہامات میں کچھ فیصلہ ہوجائے کیونکہ الہامات کا باہمی تناقض اور اختلافات اسلام کو سخت ضرر پہنچاتا ہے اور اسلام کے مخالفوں کو ہنسی اور اعتراض کا موقع ملتا ہے اور اس طرح پر دین کا استخفاف ہوتا ہے۔ بھلا یہ کیونکر ہوسکے کہ ایک شخص کو تو خدا تعالیٰ یہ الہام کرے کہ تو خدا تعالیٰ کا برگزیدہ اور اس زمانہ کے تمام مومنوں سے بہتر اور افضل اور مثیل الانبیاء اور مسیح موعود اور مجدد چودھویں صدی اور خدا کا پیارا اور اپنے مرتبہ میں نبیوں کی مانند اور خدا کا مرسل ہے اور اس کی درگاہ میں وجیہ اور مقرب اور مسیح ابن مریم کی مانند ہے اور اِدھر سے دوسرے کو یہ الہام کرے کہ یہ شخص فرعون اور کذاب اور مسرف اور فاسق اور کافر اور ایسا اور ایسا ہے۔ ایسا ہی اس شخص کو تو یہ الہام کرے کہ جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے اور پھر دوسرے کو یہ الہام کرے کہ جو اس کی پیروی کرتے ہیں وہ شقاوت کا طریق اختیار کرتے ہیں۔ پس آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کس قدر اسلام پر یہ مصیبت ہے کہ ایسے مختلف الہام ہوں اور مختلف فرقے پیدا ہوں جو ایک دوسرے کے سخت مخالف ہوں۔ اس لئے ہمدردی اسلام اسی میں ہے کہ ان مختلف الہامات کا فیصلہ ہوجائے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کوئی فیصلہ کی راہ پیدا کردے گا اور اس مصیبت سے مسلمانوں کو چھوڑائے گا۔ لیکن یہ فیصلہ تب ہوسکتا ہے کہ ملہمین جن کو الہام ہوتا ہے وہ زنانہ سیرت اختیار نہ کریں اور مرد میدان بن کر جس طرح کے الہام ہوں وہ سب دیانت کے ساتھ

صفحہ 321

۵۷۸ (۲۷۶)

مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ يَسْتَنْبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ ۔ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ۱؎

بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب ! سلام علی من اتبع الھدٰی۔ مدت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود کذّاب دجال مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذّاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دُکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہو سکتا اگر میں ایسا ہی کذّاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذّاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشدّ دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔ اور اگر میں کذّاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئی تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ۔ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشگوئی نہیں محض دُعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے ۔ اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے اگر یہ دعویٰ مسیح موعود

۱؎ یونس : ۵۴

صفحہ 322

۵۷۹

ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے آمین۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دُکھ دیتا ہے ۔ آمین یا رب العالمین ۔ میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا ۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر گئی ۔ وہ مجھے اُن چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بدزبانیوں میں آیت ۱؎ لا تقف ما لیس لک بہ علم پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دُور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دوکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بدآدمی ہے ۔ سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بد اثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے ۔ اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتمس ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر ۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر ۔ آمین ثم آمین ۔ ۲؎ ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔ آمین۔

بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے ۔

الراقم عبداللہ الصمد مرزا غلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ و ایّدہ مرقوم تاریخ ۱۵؍ اپریل ۱۹۰۷ء مطابق یکم ربیع الاول ۱۳۲۵ھ روز دوشنبہ

۱؎ بنی اسرائیل ۳۶ ۲؎ الاعراف : ۸۹

صفحہ 323

(لِلّٰہ)

احمدی اور غیر احمدی

میں

کیا فرق ہے ؟

تقریر

حضرت مسیح موعود علیہ السلام

بر موقعہ

جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ ۱۹۰۵ء

ــــ الناشر ــــ

مہتمم نشر و اشاعت صدر انجمن احمدیہ ربوہ (پاکستان)

صفحہ 324

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِيْمِ

احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟

ایک جماعت الگ بنانے کی وجہ

کل میں نے سُنا تھا ۔ کہ ایک شخص نے کہا ۔ کہ اس فرقہ میں اور دوسرے لوگوں میں سوائے اس کے اور کچھ فرق نہیں ۔ کہ یہ لوگ وفات مسیح کے قائل ہیں اور وہ لوگ وفات مسیح کے قائل نہیں ۔ باقی سب عملی حالت مثلاً نماز روزہ اور زکوٰۃ اور حج وہی ہیں ۔ سو سمجھنا چاہیئے کہ یہ بات صحیح نہیں کہ میرا دنیا میں آنا صرف حیات مسیح کی غلطی کو دور کرنے کے واسطے ہے ۔ اگر مسلمانوں کے درمیان صرف یہی ایک غلطی ہوتی تو اتنے کے واسطے ضرورت نہ تھی کہ ایک شخص خاص مبعوث کیا جاتا اور الگ جماعت بنائی جاتی ۔ اور ایک بڑا شور بپا کیا جاتا ۔ یہ غلطی دراصل آج نہیں پڑی بلکہ میں جانتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوڑے ہی عرصہ بعد یہ غلطی پھیل گئی تھی ۔ اور کئی خواص اور اولیا اور اہل اللہ کا یہی خیال تھا اگر یہ کوئی ایسا اہم امر ہوتا تو خدا تعالیٰ اسی زمانہ میں اس کا ازالہ کر دیتا ۔ لیکن اس زمانہ میں بہت سی باتیں مسلمانوں میں ایسی داخل ہو گئی ہیں ۔ جن کی اصلاح کی ضرورت ہے ؎

صفحہ 325

(جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں)

لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنۢ بَيِّنَةٍ وَّيَحْيٰى مَنْ حَيَّ عَنۢ بَيِّنَةٍ

مذہبی انسائیکلوپیڈیا

مکمل تبلیغی

پاکٹ بک

مُصَنِّفَہ

جناب ملک عبدالرحمن صاحب خادم

بی ۔ اے ۔ ایل ایل ۔ بی ۔ ایڈووکیٹ گجرات

جس کو

منشی محمد رمضان احمدی پوسٹل پنشنر گجرات

نے

مصنف کی اجازت سے شائع کیا ۔

قیمت ۸ روپے

(پنجاب پریس لمیٹڈ لاہور)

صفحہ 326

۳۳۰

نہیں ، کیا جو نہ مقتول ہو ، نہ مصلوب وہ آسمان پر اٹھایا جاتا ہے ؟ آنحضرتؐ و حضرت موسیٰؑ کو زندہ آسمان پر مانتے ہو ؟ کیونکہ نہ وہ ہوئے اور نہ مصلوب ۔

قرآن کریم میں ہے وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ہ بَلِ ادَّارَکَ عِلْمُہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ۔ (نمل ع ۴)

جو بمعنی ( اِنْتِقَالٌ مِّنْ غَرَضٍ اِلٰی اٰخَرَ ) کے لئے آیا بَلْ رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ والی آیت میں بَلْ کا ماقبل بھی کلام خدا ہے پس بَلْ ابطالیہ نہیں ہو سکتا ۔

ہاں جب خدا تعالیٰ کفار کا قول نقل کرے تو بفرض توجیہ میں بَلْ ابطالیہ آ سکتا ہے ورنہ اصالتاً خدا تعالیٰ کے میں ابطالیہ وارد نہیں ہو سکتا ۔ ملاحظہ ہو : ۔

عَلٰی ھٰذَا الْوَجْہِ (اَیْ لِانْتِقَالٍ مِّنْ غَرَضٍ اِلٰی اٰخَرَ) (التصریح جلد ۱ صفحہ ۵۸) کہ قرآن کریم میں بَلْ سوائے تو اور کسی صورت میں (یعنی بغرض ابطال) نہیں آتا ۔

الدَّمَامِیْنِیُّ مُتَعَقِّباً فِیْہِ عَلٰی مَا قَالَ ابْنُ مَالِکٍ مِنْ عَدَمِ وُقُوْعِ الْاِضْرَابِ الْاِبْطَالِیِّ فِی الْقُرْاٰنِ ۔ (التصریح نیز ۲۲ ص) کہ سیوطی نے بہت سے اقوال اور مثالیں نقل کر کے ا

صفحہ 327

۳۷

اربعین

٤

المكتبة العامة للجماعة الاسلامية الاحمدية بربوة ۱۲ ۹۱

تصنیف لطیف

حضرت اقدس میرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود علیہ السلام

شائع کردہ

بک ڈپو تالیف و تصنیف ربوہ

قیمت مجلد ۱/۸/- روپیہ . ایڈیشن چهارم تعداد ۱۰۰۰ قیمت بلا جلد ۱/- روپیہ

صفحہ 328

۷ اربعین نمبر ۴

اول تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے خدا نے افترا کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ، ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا، پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی* مثلاً یہ الہام قل للمؤمنین یغضوا من ابصارہم و یحفظوا فروجہم ذٰلک ازکٰی لہم ، یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تئیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان ہٰذا لفی الصحف الاولٰی صحف ابراہیم و موسیٰ یعنے قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی، غرض یہ سب خیالات فضول اور کوتہ اندیشیاں ہیں، ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلعم

* چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فُلک یعنے کشتی کے نام سے موسوم کیا جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے واصنع الفلک باعیننا و وحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون الله ید الله فوق ایدیہم یعنے اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں، یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے مدار نجات ٹھہرایا پس جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے ، منہ

44

صفحہ 329

اسلامی قربانی

(نمبر ۳۴)

مؤلف

قاضی یار محمد صاحب بی ۔ او ۔ ایل پلیڈر

مكتبة الادارة المركزية اسم الكتاب رقم الكتاب چنیوٹ - پاکستان

خلیفہ مجاز حضرت مسیح موعود

مكتبة الادارة المركزية للدعوة والارشاد اسم الكتاب رقم الكتاب

سن اشاعت ۱۹۱۶ء

ریاض ہند پریس امرتسر میں چھپ کر قاضی یار محمد نے شائع کیا

صفحہ 330

اسلامی قربانی ۱۳

ظاہر ہے کہ یلج الجمل فی سم الخیاط اشارت کے طور پر ہے۔ اور مردانہ ایک درجے کی علامت مجازاً مقرر فرمائی گئی ہیں ۔ جیسا کہ حضرت مسیح ع علیہ السلام نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حا آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ مخنث ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ا ربوبیت کی طاقت کا اظہار فرمانا تھا۔ صیغہ فاعلہ کے لیے اشارہ کا را پس جن لوگوں کو میرا وہ رقعہ جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی میں لکھا تھا اور اُس میں اپنی کشفی حالت ظاہر کی تھی میرے جنون کی دلی نظر آتا ہے وہ اپنے ایمان کی فکر کریں اور قرآن کے الفاظ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ کی کسوٹی پر اپنے ایمان کو پرکھیں اور اللہ تعالیٰ ڈرنے والے کو دو جنت عطا فرمانے کا وعدہ فرماتا ہے پھر اس کی تعریف درمیانی فقرات میں ۔ بہتے اون میں چشمے ہونگے۔ لولو اور مرجان پہنائے ہونگے وغیرہ وغیرہ اخیر میں فرماتا ہے کہ اون دو جنتوں سے دو جنت اور بھی ہیں یعنے جیسے مرنے کے بعد اون کو دو جنت ملیں گے ا اسی دنیوی زندگی میں بھی دو جنت ملیں گے اور الفاظ مَنْ كَانَ فِى هٰذِهٖ اَعْمٰی فَهُوَ فِى الْاٰخِرَةِ اَعْمٰی ۔ اس کی تشریح ہے۔

اب میرانی صاحب اور مولوی محمد علی صاحب مہربانی فرما کر کھول کر کہیں کہ اُن کو دو جنت کون سے حاصل ہیں۔ یو نہی اعتراض کر دینا تو بڑا آسان ہے۔ خود کسی منصب کے ہو کر دُنیا کو بتا دیں کہ اُن کو یہ مقام ملا۔ اون خوابوں اور کشفوں کو ظاہر کرتا ہوں جو مجھ پر بصیغہ پیشگوئی ظاہر ہوئے اور ہونے وا ایک سال سے زیادہ عرصہ گذرا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ پشاور کے گردا گرد مسلمان بادشاہ کی چھاؤنی پڑ رہی ہے۔ انجام کچھ معلوم نہ ہوا۔ مگر تاہم

صفحہ 331

وما علی الرسول الا البلاغ المبین

اَلْبَلَاغُ الْمُبِیْن

جس میں

(۱) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سب سے آخری لیکچر

جو رؤسا لاہور کے سامنے ۱۷۔ مئی کو دیا ۔ اور (۲) ۲۵۔ مئی بوقت

عصر کی تقریر اور (۳) حضرت خلیفۃ المسیح کی سب سے پہلی تقریر اور (۴)

آپکے لئے پیام و عقائد جماعت احمدیہ پھر (۵) ثبوت صداقت درج ہے۔

محرم الحرام ۱۳۳۲ھ

انوار احمدیہ مشین پریس قادیان ضلع گورداسپور میں چھپوا کر المصنف نے شائع کیا

تعداد جلد ایک ہزار قیمت ۱ر

صفحہ 332

19

اپنی نسبت چند

غلط فہمیوں کا ازالہ

یہ کہ مشہور کر رکھا ہے کہ میں پیغمبروں کو گالیاں دیتا ہوں سنو! میرے نزدیک وہ بڑا ہی خبیث ملعون اور بد ذات ہے جو خدا کے برگزیدہ اور مقدس لوگوں کو گالیاں دے۔

دوسرا الزام

کہتے ہیں کہ میں معجزات کا منکر ہوں حالانکہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ جس دین میں کوئی معجزہ نہیں وہ دین قائم رہ سکتا ہی نہیں عقلی دلیل سے کوئی کب تک قائم رہ سکتا ہے جب تک خدا کی خاص تائید و نصرت شامل حال نہ ہو اگر خدا نے پہلے کام کئے تو اب بھی کریگا کیا بات ہے کہ اس نے پہلے زمانے میں خوارق دکھائے مگر اب نہیں دکھا سکتا۔ کیا خدا بڈھا ہو گیا کیا اس کا تصرف جاتا رہا۔ جواب دو۔ پہلے زمانہ کی طرح نہیں کر سکتا۔

زندہ اسلام صرف

احمدیت میں ہے

سنو! میں اس بات میں صاحب تجربہ ہوں جیسے پہلے نشان ظاہر ہوئے تھے اب بھی ویسے ہی نشان ظاہر ہوتے ہیں جیسے پہلے وحی و الہام کا بعض عباد مخصوص ہوتے تھے اب بھی ہوتے ہیں اور ہوتے رہینگے جس دین میں وحی و الہام کا سلسلہ نہیں وہ مردہ ہے۔ اگر یہ دین مردہ ہو تو تم کس دین کو لیکر ضدی قوموں میں تبلیغ کرتے ہو کیا مردہ مردے کو اٹھا سکتا ہے کیا اندھا اندھے کی رہنمائی کر سکتا ہے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ دین اسی طرح زندہ ہے جس طرح نبی کریم کے وقت تھا۔ ہمارا خدا اسی طرح زندہ ہے جس طرح کہ وہ پہلے تھا۔ اگر کوئی ایسا ہو کہ وہ مردہ دین اور مردہ خدا کو پسند کرتا ہو تو کرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں صحیح ہیں انکو جو نہ مانے وہ مسلمان کیسا ہے

قیامت تک ہادی

خدا تعالیٰ نے یہ اپنے ذمہ لیا ہے انہیں منزل مقصود تک پہنچانے کا اور اس نے ایک صریح وعدہ کیا۔ اب کیا یہ مناسب ہے۔ اور یہ اس کی شان کے مطابق ہے کہ ہمیں رستے میں چھوڑ دیتا۔ مثلاً ایک شخص نے وعدہ کیا۔ کلکتہ تک پہنچا دینے کا اب اسکو پورا نہ کرے تو کیسی بری بات ہے انسان خدا کے حضور اندھے کی طرح ہے وہ اسے اپنی رہنمائی سے منزل مقصود تک پہنچائیگا۔ اور قیامت تک ہادی بھیجتا رہیگا۔ قرآن شریف میں اسی لئے لیستخلفنہم آیا ہے جس سے قیامت تک خلفاء کی بعثت ثابت ہوتی ہے میں اسی وعدہ کے مطابق آیا۔ اسلئے موعود کہلایا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں یہ دعویٰ تناسخ نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ امت عیسیٰ والے یہود کی طرح ہو جائے گی۔ اور انکا

صفحہ 333

اخبار بدر قادیان جلد ۲ ۱۲ ۲۵؍ اگست ۱۹۰۴ء

خریدار بڑھانے کی کوشش کریں۔ کیونکہ نہایت خرچ ہونے سے کم قیمت والی اخبار کا چلنا مشکل ہے۔ ہر ایک کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس مفید اخبار کی امداد میں حتی الوسع سعی کر کے اور ایک یا دو قائم کر کے پورے ہمت سے دوست اس کام کے متکفل بنیں میری یہ عاجزانہ درخواست ہے کہ وہ اس معاملہ میں پوری امداد کریں لیکن تا حال ان کی طرف سے سخت غفلت و نا امیدی رہی ہے ۔

سلسلہ حقہ کے نئے ممبر

(جو عہد نامہ بیعت ۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا)

مولوی قطب الدین صاحب مبلغ سیالکوٹ سے خط دیتے ہیں کہ اس ضلع کے دیہات میں سلسلہ خدا کا دنبدن ترقی پر ہے ۔ اب ایک سو سے زائد آدمی نئے سلسلہ حقہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ فقط ۔

قاضی عبد العزیز صاحب ۔ ڈاکٹر بدر الدین صاحب ساکن بھاٹیہ میاں عمر الدین صاحب ۔ ولائت بخش صاحب ۔ میاں شیر محمد جیو پنڈت علاقہ جموں شیخ احمد صاحب ولد شیخ حبیب صوبہ دار ۔ منشی فتح دین مقام سوہاوہ میاں بخش صاحب ولد نتھو ۔ ساکن سینی ۔ علاقہ بھگواڑہ میاں کرم الہی صاحب ۔ خان محمد والہ ۔ بھیرہ احمد حسن صاحب محرر سیٹلمنٹ افسر الہ آباد ۔ قصوری احمد الدین صاحب ۔ ولد علم الدین قصاب ۔ شہر جہلم ہمشیرہ عبد العزیز صاحب کشمیری ۔ محلہ کلاں

شعر و سخن

(از اکمل آف گولیکیہ)

امام اپنا خلیفہ اس زمان میں غلام احمد ! امام الزماں میں
غلام احمد پہ فخر عرب و عجم مکان اس کا ہے گویا لامکاں میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
غلام احمد مسیحا ہے، ہے افضل بروزِ مصطفےٰ ہو کر جہاں میں
غلام احمد کا خادم ہے جو دل سے وہ بیشک جائیگا باغِ جناں میں
تسلی دل کو روحانی ہے حاصل یہ ہے اعجاز احمد کی زباں میں
بھلا اس معجزے سے بڑھکے کیا ہو خدا اک مردہ کو لایا جاں میں
قلم سے کام جو کر کے دکھایا نہاں طاقت تھی یہ سیف و سناں میں
محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اک بار غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
غلام احمد پہ اکمل فدا ہو یہ رتبہ تو نے پایا ہے جہاں میں
تری مدحت سرائی مجھ سے کیا ہو ترا رتبہ بیاں ہو کیا زباں میں
ترے در پہ میں آیا جاں اماں میں

انصار بدر

میرے مخلصین شائقین اخبار بدر کا چندہ جو احباب کے حال پر بطور مہربانی کی نظر رکھ کر طے کیا ہے ۔ وہ اسکے سستے کے خریدار بن کر نیکی میں حصہ لے رہے ہیں جن متدین بزرگواروں نے ہمارے صمیم قلب کے خط کا جواب بھی نہیں دیا تحریر فرماتے ہیں کہ یہ رنگ طبعی ہو کر ان بعض ظن ہم دنیا دار پیدا کر دے جن کا ہمیں خیال ہی نہیں حکم یا چٹھی روز مرہ جن کے نام بھیجتے ہیں ان کے نام اخبار جاری کر دیا جائے اللہ تعالیٰ حکیم صاحب روڑکی والے اور دوسرے دوستوں کی بھی توفیق نیکی کی عطا فرماوے۔ حکیم صاحب کو جو بدر کے سچے ہمدرد ہیں ، دارالاماں پہنچائے حکیم دوست محمد خان صاحب ۔ چک راجہ شیر خان ۔ کھیب ۔ مدیر اخبار بدر کے معاونین پر حقیقت جو خندہ دلی کا اظہار فرمایا کرتے ہیں ، بہرحال حکیم صاحب موصوف نے بہت بڑے فدیہ دینے کا وعدہ کیا ہے اللہ تعالیٰ ان کو توفیق نیک عطا فرماوے ۔ برادر فضلدین صاحب ساکن قادیان حال مقیم محکمہ نہر چناب اخبار بدر کی خدمت میں مصروف رہ کر ایک خریدار دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اس عزیز بھائی کو جزائے خیر دے ۔ آمین ۔ دوسرے احباب سے بھی درخواست ہے کہ جہاں تک ہو سکے اخبار کے لئے ہمت کریں

بقیہ

قاضی ضیاء الدین قاضی غلام نبی صاحب ۔ موضع سمیر پریم کوٹ ۔ حافظ آباد میاں فضل کریم صاحب پٹواری ۔ قصبہ مانگٹ تحصیل حافظ آباد میاں الله دین صاحب ۔ امام مسجد قاضیاں پھلور فضل کریم صاحب طالب علم ۔ بستی کاکواں والی بھیرہ سردار علی صاحب ولد سردار خان صاحب ۔ بھورال سنڈہ ۔ ریاست پٹیالہ محمد ظفر بیگ صاحب ۔ سمانہ ریاست پٹیالہ عبد الله صاحب ۔ امام مسجد سکندران ضلع لدھیانہ محبوب علی صاحب چٹھی رسان " " " " " " " " " " " " " میاں اسد اللہ صاحب ۔ چک سکندر کھاریاں ضلع گجرات میاں محمد دین صاحب " " " " " " " " " " " " " " " " " " احمد الدین صاحب " " " " " " " " " " " " " " " " " " مسمات بیگم " " " " " " " " " " " " " " " " " " عبدالکریم علی صاحب محرر ۔ گڑھا ۔ بھٹک پرگنہ سانبھر منشی نعمت خان صاحب ۔ احمدی موضع بوبک ۔ ضلع جالندھر گلاب الدین صاحب و فضل الدین صاحب مہر پور ۔ علاقہ مہاراج زین الدین و نور الدین صاحبان کٹھوعہ محمد اعظم خان صاحب چک شاکھو ۔ اروڑی ضلع لائل پور محمد عبداللہ صاحب ولد غلام محمد صاحب ۔ پھگواڑہ ۔ جالندھر

صفحہ 334

۴ روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مورخہ ۲۰/ جولائی ۱۹۳۶ء نمبر ۱۷۳

جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ابراہیم فوت ہوا۔ تو آپ نے اسے عثمان بن مظعون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ۔ کہ جا اپنے بھائی عثمان بن مظعون کے پاس ۔

غرض بعض روایات کے مطابق صحابہؓ کی صلی اللہ علیہ وسلم کے گریہ و زاری پر حیرت، اور بعض کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے (کا ذکر کر چکا ہوں) ۔ مگر آخر

اللہ تعالیٰ کی مشیت

غالب آئی۔ اور وہی ہوا جو اس نے چاہا تھا۔ ایک دفعہ آپ قبرستان کے پاس سے گزر رہے تھے، کہ آپ نے ایک بڑھیا کو دیکھا۔ کہ وہ ایک قبر پر بیٹھی بین ڈال رہی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے قریب گئے۔ اور فرمایا بڑھیا کیا کرتی ہے۔ اس نے کہا۔ میرا بچہ فوت ہو گیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بڑھیا صبر کر۔ خدا کی یہی مشیت تھی۔ بڑھیا نے شدت غم میں آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔ کہ کون شخص اس سے باتیں کر رہا ہے۔ اور کہہ رہی تھی ۔ کہ مجھ پر بیتی ہے۔ جب انسان کی آنکھوں میں آنسو آئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنے سر کو جھکائے ہوئے ہوتا ہے۔ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا نہیں تھا۔ کہنے لگی میاں دوسروں کے لئے نصیحت ہوتی ہے۔ ورنہ جس کے دل کو لگتی ہے۔ وہی جانتا ہے۔ کہ یہ صدمہ کتنا سخت ہوتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مائی صبر کر۔ کیا رونا ہے جو تم رو چکی ہو۔ اور یہ کہہ کر آپ اپنے مکان کی طرف تشریف لے گئے۔ بعد میں کسی نے اسے بتایا ۔ کہ بدبخت ! وہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ وہ سنتے ہی دوڑتی ہوئی۔ آپ کے پاس پہنچی۔ اور کہنے لگی یا رسول اللہ میں نے صبر کیا۔ آپ نے فرمایا الصبر عند اول صدمة ۔ صبر تو وہی ہے جو شروع میں کیا جائے۔ ورنہ رو دھو کر تو سب کو صبر آ جاتا ہے۔ ایک دفعہ آپ کا ایک نواسا فوت ہو گیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگ گئے۔ ایک صحابی کہنے لگا یا رسول اللہ آپ تو دوسروں کو صبر کی تلقین کیا کرتے ہیں۔ اور خود روتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ آنکھیں روتی ہیں۔ اور یہ رحمت کی علامت ہے۔ اگر تمہارا دل خدا تعالیٰ نے سخت بنا دیا ہے تو میں کیا کروں ؟

غرض رونا آپ کے دل میں بھی تھا۔ اور اس وجہ سے کوئی نہیں کہہ سکتا۔ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچوں کے لئے دعائیں نہیں کی ہونگی۔ مگر باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بچوں کے لئے دعائیں کیں۔ آپ کے گیارہ بچے فوت ہو گئے۔ (روایات میں اختلاف ہے بعض میں کم تعداد کا ذکر ہے) صحابہؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ کہ دیکھو میری بھی کئی اولادیں فوت ہوئی ہیں۔ شاید کوئی بے وقوف یہ خیال کرے۔ کہ ہم نے دعائیں نہیں کیں۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گیارہ بچے فوت ہوئے تھے۔ اب کیا یہ کہا جائے گا۔ کہ آپ نے ان کے متعلق دعائیں نہیں کی تھیں۔ یا یہ کہا جائے گا۔ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعائیں تو کی ہونگی مگر قبول نہ ہوئیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی بیماری پر ان کی صحت کے لئے کتنی دعائیں کیں۔ ہمارے سلسلہ کے اخبارات کی فائلیں اس پر گواہ ہیں۔ کہ کیا مولوی عبدالکریم صاحب تندرست ہوگئے۔ اور کیا اس کے باوجود آپ نے دنیا کو چیلنج دیا ہے یا نہیں کہ مجھے

قبولیت دعا کا معجزہ

دیا گیا ہے۔ اور اس نشان میں میرا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اب کیا کوئی مخالف اگر یہی بات پیش کرے کہ جب مولوی عبد الکریم صاحب کے متعلق آپ کی دعا قبول نہ ہوئی۔ تو آپ نے قبولیت دعا کے نشان میں مقابلہ کرنے کا چیلنج کس طرح دے دیا۔ تو کیا اس کی یہ بات معقول ہوگی۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ آپ نے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی صحت کے لئے بہت دعائیں کیں۔ اور آپ کو ان سے اس قسم کا تعلق تھا کہ جب وہ فوت ہوئے تو گو آپ کی عادت میں یہ بات داخل تھی۔ کہ آپ ہمیشہ مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ جاتے۔ اور دیر تک مختلف دینی مسائل پر باتیں کرتے رہتے۔ (مولوی عبد الکریم صاحب زاویہ مسجد میں ہمیشہ آپ کے دائیں طرف بیٹھا کرتے تھے) جب مولوی صاحب کی وفات ہو گئی تو آپ نے مغرب کے بعد مسجد میں بیٹھنا بند کر دیا۔ ایک دفعہ میں گو ذرا سا لڑکا ہی تھا۔ عرض کی کہ حضور مغرب کے بعد مسجد میں تشریف رکھا کرتے تھے۔ اور

مختلف دینی مسائل

بیان کیا کرتے تھے۔ جس سے آنے والے مہمانوں اور مدرسے والوں کو بہت کچھ فائدہ ہوتا تھا۔ مگر اب عرصہ سے بیٹھنا بند کر دیا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ حضور پھر اس سلسلہ کو جاری فرمائیں کیونکہ لوگوں کو حضور کے نہ بیٹھنے کی وجہ سے بہت تکلیف ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اب مجھ سے بیٹھنا برداشت نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جب میری نظر اس طرف جاتی ہے۔ جہاں مولوی عبد الکریم صاحب بیٹھا کرتے تھے۔ تو میرے دل کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔ اس طرح ہمارا چھوٹا بھائی

مبارک احمد جب بیمار ہوا

تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کے لئے کتنی ہی دعائیں کیں مگر ان دعاؤں کے باوجود وہ فوت ہو گیا۔ کیونکہ خدا کی مشیت یہی تھی۔ اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے۔ کہ چونکہ مولوی عبدالکریم صاحب کے لئے آپ نے دعائیں کیں مگر وہ قبول نہ ہوئیں۔ اور مولوی صاحب فوت ہو گئے۔ پھر مبارک احمد کے لئے آپ نے دعائیں کیں۔ گو وہ بھی قبول نہ ہوئیں۔ اور مبارک احمد فوت ہو گیا۔ ایسی حالت میں دنیا کو چیلنج دینے کے معنی کیا ہوتے ؟ اگر کسی طرح معلوم ہوتا کہ آپ کی دعائیں زیادہ سنی جاتی ہیں۔ بلکہ اس سے ہمیں پہلے

بشیر اول فوت ہوا

اور آپ نے اس کے لئے بہت دعائیں کیں۔ جو تو آپ کو اس کی وفات پر علم ہوا ۔ کہ جس لڑکے کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیشگوئی ہے۔ اس کا نام بشیر اول تھا۔ لیکن جب تک وہ زندہ رہا آپ کا یہی خیال تھا۔ کہ وہی موعود لڑکا ہے۔ اور آپ نے اسی دعوے سے اس کے لئے دعائیں کیں۔ بلکہ دوسروں سے بھی کہا۔ کہ وہ بھی اس کے لئے دعا کریں

مگر اللہ تعالیٰ کی پیشگوئی

کے ماتحت جو بات بھی ہو۔ اس کے خلاف ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ اس وقت ایسا ہی تھا۔ کہ آپ کی دعائیں بظاہر رد ہوتی معلوم ہوتی تھیں۔ مگر حقیقت میں رد نہیں ہوتی تھیں۔ بلکہ ان کی قبولیت کسی اور پیرایہ میں تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق آتا ہے۔ کہ ایک دفعہ وہ ایک عیسائی راہب کے پاس سے گزرے جو اپنے گرجے میں عبادت کر رہا تھا۔ آپ نے اس کو دیکھا اور رونے لگے۔ صحابہؓ نے پوچھا۔ یا امیر المومنین آپ کیوں روتے ہیں۔ اس نے تو عیسائیت کو نہیں چھوڑا۔ اور آپ اس کے لئے روتے ہیں۔ آپ نے فرمایا میں اس لئے نہیں روتا۔ بلکہ اس لئے روتا ہوں۔ کہ یہ شخص کیسی محنت کر رہا ہے۔ مگر اس کی محنت اسے دوزخ کی طرف لے جا رہی ہے۔ پس ظاہری محنت پر نہ جاؤ۔ بلکہ یہ دیکھو کہ وہ محنت کس راستے پر ہو رہی ہے۔

صفحہ 335

ص ۵ اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ ۶؍ جولائی ۱۹۲۳ء نمبر ۷ جلد ۱۰

حضرت خلیفۃ المسیح کی ڈائری

(۳؍ جون ۱۹۲۳ء عصر)

ایک بااثر دربار

فرمایا کہ آج جو دربار میں نے بلایا ہے اس کی کے متعلق مل چکی ہے، اصل الفاظ نہیں۔ بلکہ اس کا خلاصہ ہے۔ جو میری زبان پر جاری تھا ۔

ٹیکے کے لوگوں کا دیہات میں کیمپ

فرمایا یہ جو مشہور ہے کہ طاعون کے دنوں میں دیہات میں کیمپ لگا کر خیموں میں رھا کریں۔ ان کو خیموں میں جا کر ٹیکہ لگایا کریں۔ نہ ان پر خیمہ کا بوجھ پڑے۔

بے اطمینانی

فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ اس بات کا تجربہ کیا جائے ۔ کہ ایک مبلغ لے کر تمام گاؤں پر صرف کر دیا جائے۔ جب تک دورے پر سے عودت نہ کر آئیں۔ انکو نہ دیا جائے۔ اس جنگ کے دوران میں ایک برٹش افسر کا پتا لگا تھا۔ کہ وہ تمام کا تمام توپخانہ ایک دفعہ بچا لایا تھا۔ اور آگے پیچھے کر کے اس طریقے سے دھوکا دیا تھا کہ دس دس میل زمین ایسی ہی خالی تھی جیسے حملے میں لی جاتی ہیں۔ اس کو ظاہراً توپخانہ نہیں کہہ سکتے تھے اسے آخری وقت میں نکالا تھا۔ اس لئے اس کے طریق کی پوری تحقیق نہیں ہو سکی کہ خفیہ ہے یا غیر خفیہ ۔ بہت سے اخباروں میں اس کے متعلق بڑے لمبے مضامین شائع ہوئے تھے۔ اگر اس طریق پر تبلیغ کی جائے تو شاید روپیہ یہاں کے لوگ بھی دیں اور باہر سے بھی لوگ بلائے جائیں جو تبلیغ کر سکتے ہوں۔ اور وہ سب ایک ضلع میں ہی جائیں پھر یقیناً اللہ تعالیٰ کے فضل سے موجودہ وقت کی نسبت زیادہ مفید نتیجہ برآمد ہو ۔

ایک صاحب نے

ہندو کے ہاتھ کا کھانا

عرض کیا کہ کیا ہندو کے ہاتھ کا کھانا جائز ہے۔ اگر وہ صاف ستھرا ہو ۔ اور

کوئی غلط فہمی نہ ہو ۔ نیز اس کے متعلق اور پاس پڑوس والوں کا بھی خیال رکھا جائے۔ البتہ نیز یہ کہ جب تک اس کی پوری تفتیش نہ ہو سوال ہوا۔ کہ ہندو اور سکھ کے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی کھانا جائز ہے۔ فرمایا ہندو کی پکی ہوئی میں کوئی حرج نہیں وہ مسلمانوں ہی کا پکایا ہوا کھاتے ہیں۔ سوال ہوا کہ سکھ جھٹکا کھاتے ہیں۔ فرمایا وہ ناجائز ہے۔ اہل کتاب کے ساتھ کھانے کے یہ معنے نہیں کہ جو چیزیں شریعت اسلام میں ناجائز ہیں۔ وہ ان کے ساتھ کھانے سے جائز ہو جاتی ہیں۔

(۴؍ جون ۱۹۲۳ء ظہر)

بعض مشہور کتب کے متعلق رائے

فرمایا یہ جو مشہور ہے کہ فلاں نے یہ بات کہی ہے۔ حافظ روشن علی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ اس میں کچھ حصہ شیعوں کا بھی ہے۔ فرمایا یہ تو سچ ہے کہ بعض حصے اسکے کچھ شیعہ سے ملتے ہیں۔ لیکن وہ دوسرے مقامات ہیں جن کی تشریح خود ہی کر دی ہے۔

فرمایا ابن جنی کی کتاب خصائص بڑی مفید ہے۔ اور کتاب الفقہ السنیہ بھی بہت ہی افادیت کی کتاب ہے۔ اس کے مصنف نے عربی زبان اور دین کی بڑی خدمت کی ہے۔ اور خضری تاریخ بھی بہت اعلیٰ ہے۔ یہ وہ کتب ہیں جن کی نسبت حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ میں اور وہ ایک جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔ اسی طرح ایسا معلوم ہوتا کہ یعقوبی و خضری کا دماغ دونوں ایک ہیں۔ البتہ ان میں ایک نقص ہے کہ وہ کچھ محنت نہیں کر سکتا ۔ اس کی کتاب کے مطالعہ سے

مسلمان اور عیسائی مورخین

پہلے تو برا اثر ہوتا ہے۔ لیکن اگر ساری کتاب پڑھی جائے۔ تو بجائے مضر ہونے کے اس کا اثر الٹا ہے۔ کہ یہ بے اصل باتیں گڑھ لی ہیں ۔ ورنہ یہ نہیں ہوتا ۔ کہ جو پڑھنے والے پر برا اثر ہو۔ کہ ہمارے اسلاف کی کچھ روایات ہیں جن کو ہمیں قائم رکھنا ہے۔ لیکن یورپین مورخوں نے اس بات کا خیال رکھا ہے۔ وہ اپنی ہسٹری لکھتے ہیں تو

اپنے اسلاف کے آثار کو دکھا سکتے ہیں۔ کہ پڑھنے والے پر ان کی شخصیت کا رعب پڑتا ہے۔ اور خود بخود دل چاہتا ہے کہ ہمیں بھی ایسا ہی بننا چاہئے۔ مگر مسلمان مورخ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء کے وقار کو چھوڑ کر تاریخ میں یہ دکھاتے ہیں۔ کہ ہمارے اسلاف بڑے نکمے تھے عیسائیوں نے جو طریق اختیار کیا وہ درست ہے۔ کیونکہ تاریخ کا جو ایک مدعا ہے وہ ایک آئینہ ہوتا ہے یہ اثر پیدا ہونا چاہئے کہ تمہارے اسلاف کے یہ کارنامے ہیں۔ اور ان کی یہ روایات ہیں اور تمہیں ان روایات کو محفوظ رکھنا ہے۔ اس کے بغیر کبھی تاریخ کا فائدہ نہیں مرتب ہو سکتا۔

روحانی ترقی کا میدان

یہ بھی ایک بات ہے کہ ہر شخص کے لئے اللہ تعالیٰ نے الگ میدان رکھا ہے۔ حتیٰ کہ مجددوں کے متعلق بھی یہ مسلم ہے کہ مجدد آ سکتا ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ آنحضرت ؐ اس میدان میں سب سے آگے بڑھ گئے۔ اور خدا نے آئندہ کے متعلق بھی گواہی دی کہ آپ آئندہ آنے والی نسلوں سے بھی آگے بڑھے ہوئے ہیں۔ چنانچہ یہی ایک وجہ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اور کوئی رسول کریم کے برابری کے درجہ میں نہیں آسکتا ہے۔ اور مسیح موعود ؑ اپنے درجہ میں سب سے آگے بڑھ گئے ہیں۔ یہ دلیل ہے جو لوگوں کو ہمارے خلاف بھڑکا سکتی ہے ۔ مگر آئندہ زمانہ میں یہ ثابت کر دکھایا جائے گا کہ یہی حق ہے۔ کیونکہ اگر روحانی ترقی کے تمام راہیں ہم پر بند ہیں۔ تو اسلام کا کچھ بھی فائدہ نہیں۔ اور پھر اس میں کوئی خوبی بھی نہیں ۔ کہ ایک کو بڑھا دیا جائے۔ اور دوسروں کو بڑھنے نہ دیا جائے۔ ہاں خوبی یہ ہے کہ موقع سب کو دیا جائے پھر آگے جو بڑھ جائے ۔

(۶؍ جون ۱۹۲۳ء عصر)

طبری کے پڑھنے کا طریق

شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے کہا ۔ طبری سے صحیح روایت معلوم کرنے کا کیا طریقہ ہے ۔ فرمایا جس طرح بائبل کے منبع چار ہیں۔ اسی طرح طبری نے بھی چار سلسلے چلائے ہیں۔ جن میں سے دو بڑے سلسلے ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ جس بات کو وہ ثابت کرنا چاہتا ہے

صفحہ 336

۶ اخبار " قادیان دارالامان " مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۳۲ء نمبر ۵

اس کے متعلق روایتیں جمع کر دیتا ہے ۔ اور اس کے مخالف روایتوں کو بھی جمع کرتا ہے۔ لیکن اپنی مخالفین کے گروہ جو واقدی وغیرہ کا گروہ ہے اس کے راویوں کی روایتوں کو لیتا تو شاذ و نادر ہی لیتا ہے۔ علاوہ ازیں جو ایک دفعہ اسکی خصلت کی بد نمائی بھی کر دیتا ہے۔ مثلاً عمرو بن العاص کے متعلق اس نے یہ ثابت کرنا ہے۔ کہ وہ شریر نہ تھے ۔ اور حضرت عثمان کے بدخواہ نہ تھے۔ اس کے لئے جہاں وہ ایک یہ روایت لائیگا کہ حضرت عثمانؓ کا جنازہ پڑھنے آئے۔ اس دوسری طرف وہ روایتیں لائیگا کہ وہ آخر تک حضرت عثمان پر حسن ظن رہے ۔ اور عمرو بن العاص آخر تک ان کے خیر خواہ رہے ۔

بغیر باپ کے پیدا ہونا

فرمایا ۔ مفتی صاحب نے لکھا ہے کہ امریکہ میں ایک نیا علم نکلا ہے ۔ اور تجربہ سے کامیاب ثابت ہو رہا ہے کہ بغیر باپ کے اولاد ہو سکتی ہے۔ اگر یہ علم پورے طور پر تجربہ میں آ گیا تو اس سے ہماری تائید ہوگی ۔ اور مسیح ناصری کی خدائی پر گہری ضرب لگیگی ۔ اور ساتھ ہی مولوی ثناء اللہ کی مجددیت کا خاتمہ ہو جائیگا ۔ جو انہوں نے کہا کہ مسیح کی حیات کے عقیدے کو مرزا صاحب نے توڑ کر اور اسکی خدائی کے دوسرے رکن یعنی بے باپ پیدا ہونے کے عقیدے کو میں توڑتا ہوں ۔ حالانکہ حضرت صاحب نے بے پدر ولادت مسیح کو اپنے عقائد میں سے لکھا ہے۔

(۱۰؍ جون ۱۹۳۲ء عصر)

آئینہ صداقت کا جواب

مولوی محمد علی صاحب نے آئینہ صداقت کے خلاف جو ایک رسالہ ”حقیقت اختلاف“ نام کا لکھا ہے ۔ اور ابھی شائع نہیں ہوا تھا اس کے ذکر میں فرمایا ۔ یہ مسئلہ باقی تھا ۔ کیونکہ غیر مبائعین پر تو خوب بحث ہو چکی ہے ۔ اس بحث سے تاریخ سلسلہ مکمل ہو جائیگی ۔ میرا یہ خیال ہے کہ وہ انجمن میں جو اختلافات وغیرہ ہوا کرتے تھے ان کا ذکر کرینگے ۔ مگر اس کتاب میں مندرجہ واقعات سے انکار نہیں کر سکینگے ۔ خواجہ کمال الدین محمد علی صاحب مخالفت میں کتنے ہی حد سے بڑھ چکے ہوں ۔ تاہم ان واقعات کی تردید کرنا مشکل ہے ۔ اور انکا جواب ایسا ہی ہوگا جیسا کہ حضرت صاحب نے دیا کہ ایک قصہ بیان کرتے تھے ۔ کہ ایک شخص اپنے کھیت کی باڑ لگا رہا تھا ۔ دوسرے شخص نے کہا کہ تم شرارتی باتیں لگاتے ہو ۔ یہ سن کر وہ بگڑا ۔ اس نے کہا تم نے بھی تو اپنی لڑکی کا نکاح کیا ہی تھا ۔ پہلے نے کہا ان دونوں باتوں کا تعلق کیا ہے ۔ دوسرے نے جواب دیا ۔ باڑ ہی سے باتیں نکلتی ہیں ۔ اسی طرح مولوی صاحب نے اصل واقعہ میں تو جھوٹا بننا ہو گا ۔ ادھر ادھر کی ہانک کر اپنے مخالفانہ خیالات سے مولوی صاحب جواب کو پورا ثابت کرینگے ۔

(۱۱؍ جون ۱۹۳۲ء ظہر)

احمدی باپ کی اولاد

ایک مخلص دوست احمدی جو فوت ہو چکے ہیں ۔ ان کی اولاد کی بدعملی کا ذکر آیا ۔ حضور نے سندھ کے ایک احمدی لڑکے سے ارشاد فرمایا کہ مرحوم بہت مخلص اور قدیم احمدی تھے ۔ ان کے بیٹوں کا خیال رکھنا چاہیئے ۔ لڑکے جماعت کی امانت ہوتے ہیں اگر خراب ہو جائیں تو اس کی ذمہ داری وہاں کی جماعت پر عاید ہوتی ہے ۔

دعوت و تبلیغ

مستری امیر بخش صاحب احمدی امرتسر نے ایک احمدی خاتون کے طریق تبلیغ کے متعلق عرض کیا کہ وہ مستورات کو اپنے مکان پر بلاتی ہیں ۔ ان کے لئے کچھ چائے وغیرہ تیار کرتی ہیں ۔ اور ان کو وعظ بھی کرتی ہیں ۔ فرمایا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب تبلیغ کا کام شروع کیا ۔ لوگ آپ کی بات نہیں سنتے ۔ تو آپ نے ضیافت فرمائی اور پھر سناتے ۔ مادی دعوۃ کے ذریعہ سننے کا چسکا پڑ گیا ۔ یہ طریق اختیار کیا گیا ۔ مگر لوگوں نے اس کے مقابلہ میں یہ صورت اختیار کی کہ کھانا کھا کر چلے جاتے تھے۔ اور آپ کی بات سننے کے لئے نہ ٹھہرتے تھے ۔ حضرت علیؓ جو اس وقت بچے تھے انہوں نے عرض کیا کہ میں ایک طریق عرض کرتا ہوں ۔ اس طرح یہ لوگ سن لیا کرینگے ۔ اور وہ یہ ہے کہ آپ پہلے نصیحت فرمائیں اور بعد میں کھانا پیش کریں ۔ اسطرح وہ لوگ سنتے تھے۔ گو پیچ و تاب کھاتے تھے ۔

فرمایا مادی دعوۃ بھی روحانی دعوۃ کے لئے ممد ہو جاتی ہے۔ جب اس دعوۃ کے ذریعہ لوگوں کے تعلقات قائم ہو گئے ۔ تو وہ باتیں بھی سن لیتے ہیں ۔

ہندوؤں میں تبلیغ

حضور نے مستری صاحب سے دریافت فرمایا ۔ کہ کیا آپ ہندوؤں میں بھی تبلیغ کرتے ہیں ۔ مستری صاحب نے عرض کیا اس طرف توجہ نہیں کی اب انشاء اللہ ان کو بھی تبلیغ کرینگے ۔ فرمایا ہندوؤں میں تبلیغ کرنے کی بہت ضرورت ہے ۔ آریہ سماج تباہ ہو رہی ہے ۔ میں نے بھی احمدیوں کو اس طرف توجہ دلائی ہے۔ کہ ایک حصہ ہندوؤں میں تبلیغ کرنے کے لئے وقف ہونا چاہیئے ۔ کیونکہ میرا تجربہ ہے کہ ہندوؤں میں سے آنے والے سوائے چند ایک کے زیادہ مخلص ہوتے ہیں ۔ اور سوچا بھی یہی ہو گا ۔ کہ ہندوستان کے سات کروڑ مسلمان جو ہندوؤں میں سے آئے ہوئے ہیں ۔ جو مسلمان باہر سے آئے ہیں یا آئے ہیں وہ بہت تھوڑے ہیں ۔ مسلمانوں نے یہ خیال کیا کہ ہندو مسلمان نہیں ہو سکتے ۔ تب سے مسلمان ہونا بھی بند ہو گئے ۔ ایسا خیال کرنے والوں نے یہ نہ سمجھا کہ اتنے مسلمان جو ہوئے ہیں ۔ وہ ہندوؤں میں سے ہوئے ہیں ۔ جس طرح تازہ بارش کا پانی آنے پر گدلا پانی صاف ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح قوم میں جب نئے لوگ داخل ہو کر نیا جوش اور نئی زندگی لاتے ہیں تو پرانے لوگوں میں مذہب سے تعلق محض رسمی رہ جاتا ہے ۔

(۱۱؍ جون ۱۹۳۲ء عصر)

جزیہ کے ٹیکس پر نیا اعتراض

مولوی شفیع داؤدی نے پٹنہ کے ایک رسالہ میں کسی ہندو کا اعتراض پیش کیا ۔ کہ وہ کہتے ہیں اسلام نے غیر اقوام پر جزیہ مقرر کر کے انہیں رعایا بنا لیا ہے اور اس طرح ان کو بزدل بنا دیا ہے۔ فرمایا ۔ conscription (فوجی خدمت جبریہ) ادا کرنے پر موقوف تھی ۔ نہ کہ ان کو جنگ سے روک دیا جاتا تھا تو جنگ کے لئے مجبور کئے جاتے تھے ۔ مگر ان

صفحہ 337

اخبار الفضل قادیان دار الامان ۱۷ جولائی ۱۹۲۳ء نمبر ۵ جلد ۱۰

سمجھے جاتے تھے۔ سیدھے اور طریقِ حکومت میں عادل اور منصف نہ کہ واضعینِ جزیہ کہ جنہیں بُرا جانے ۔ حالانکہ تاریخ سے ثابت ہے ۔ کہ قہر و اقتدار والے ظالم پیشہ لوگ مسلمانوں کی طرف ہی میں شامل ہوتے تھے ۔

ہاں ایک اور لوگ جو جنگ میں شامل ہوتے تھے۔ ان کا پیشہ لٹیرا کہا جاتا تھا۔ فرمایا ۔ جنگ کے باوجود جو لوگ ٹیکس مسلمان دیتے تھے۔ بعض ان کو بھی دیتے تھے جن مسلمان بادشاہوں نے ہند میں جزیہ معاف بھی کر دیا تھا۔ ان کا رسول اللہ ﷺ اور اصحاب کے وقت کوئی مثال مجھے معلوم نہیں۔ جس میں (غالباً بصرہ میں) کہا عورتوں کو حصہ ملتا بھی ہے ۔ پہلے تو یہ ہوتا کہ مدینہ میں آکر گزارہ کرنا ہوتا تھا۔ یا پھر یہیں کو بوجہ دیگر تنخواہ یا کوئی اور حصہ ملتا۔ مگر ۔ مرکز کے لئے دیا :

فرمایا ۔ لوگ جو سوال سے باز نہیں آتے کہتے ہیں کہاں ہو ۔ تو کہتے ہیں کہ کوئی کہتی ہے۔ یا سنتی نہیں کہ کام کے لئے کہا گیا ۔ تو اس نے جوابدیا میں بیمار ہوں ۔ جب کھا نا کھانے کے بعد بلوایا تو کہا پیٹ خراب ہے۔ دونوں صورتوں میں کام کرنے سے انکار ۔ حضرت صاحب کے متعلق مخالفین اعتراض کیا کرتے کہ جب یہ پیشگوئی کرتے ہیں۔ تو جن کو نشان دیا جاتا پھر وہ مرتے نہیں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ایک کو زندہ رکھ کر آپ کی صداقت کا نشان دکھایا تو اس کو دبا دیا کہ یہ مرا کیوں نہیں۔ گویا اگر کوئی مرتا ہے تو اعتراض کہ کیوں مرتا ہے ۔ اور اگر کوئی زندہ ہے۔ تو بھی اعتراض کہ کیوں نہیں مرتا :

سحر اور تزکیہ

نفس میں

کوئی تعلق نہیں

ایک صاحب نے سوال کیا کہ سحر ۔ دم و غیرہ کا روحانیت سے کیا تعلق ہے فرمایا کچھ تعلق نہیں ۔ یہ منتر وغیرہ ۔ کہ جب مسلمان ہندوستان میں وارد ہوئے۔ اور انھوں نے ہند و سادھوؤں میں دیکھا کہ وہ توجہ اور دَم کرتے ہیں۔ اور لوگوں میں ان کی وجہ سے اصل بات اور کرامات کے متعلق اشتباہ اور شک پیدا ہو گیا ہے ۔ تو اس شک و اشتباہ کو دُور کرنے کے

لئے انہوں نے وہ منتر جو جادو منتر میں آتے ہیں سیکھ کر ان کو کیا۔ تاکہ تائید میں کوئی کرامت بھی ہو۔ درحقیقت اس کا تصوف سے کوئی تعلق نہ تھا۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ فلسفہ کا دین سے تعلق نہ تھا۔ مگر عوام کو دین سکھانے کے لئے جس طرح علم کلام میں فلسفہ کو داخل کیا گیا۔ اسی طرح باطنی صوفیاء نے تصوف میں توجہ کو داخل کیا۔ تاکہ لوگ یہ نہ کہدیں کہ یہ اس فن کو جانتے نہیں۔ اگر در حقیقت یہ چیز جو روحانیت ہوتی ۔ تو باہر کے ملکوں میں بھی پائی جاتی ۔ مگر سوائے ہندوستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے اقطاب کے عرب۔ عراق۔ مصر اور ایران کے اولیاء کی کتب میں اس کی تعلیم نہیں ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اب اس بات پر فیصلہ کر دیا ۔ کہ نہ اس سے اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو سکتی ہے نہ ہی یہ کوئی علم ہے ۔ کیوں کہ اس کو اچھے اور بُرے مسلم اور کافر بھی پڑھ سکتے ہیں۔ یہ تو ایک فن ہے۔ جس طرح ہپناٹزم وغیرہ علوم ہیں۔ تو ان کا دین سے تعلق نہیں ۔ مگر جس فن سے اثر پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہ سچ ہو تو بیدین لوگ اس کو نہیں کر سکتے ۔ اگر یہ سحر در حقیقت روحانیت میں داخل ہوتا۔ تو پھر بیدین لوگ اس کو نہ کر سکتے ۔ اور یہ صرف سچے مذاہب میں پایا جاتا ۔ مگر اس کو ہر ایک مذہب والا اور ہر ایک خیال کے آدمی کا سیکھ لینا بتلاتا ہے۔ کہ اس علم کا مذہب سے تعلق نہیں :

سوال: کیا اس کا سیکھنا جائز ہے۔ فرمایا ۔ جائز تو ہے۔ مگر لغو ہے ۔ میں نے سیکھا ہے۔ اور یہ محض ریاضت ہے جاہل پیر بتاتے ہیں تا کہ مرید بنیں۔ حالانکہ اس میں کرامت وغیرہ کچھ نہیں ۔ اگر کوئی سیکھے۔ تو بجائے کار آمد ہونے کے لوگوں کو دھوکہ دینے کا ذریعہ بنتا ہے :

معجزہ اور شعبدہ میں فرق

سوال ۔ معجزہ اور شعبدہ میں کیا فرق ہے۔ فرمایا ۔ معجزہ والا تو جب چاہے اسے دکھا سکتا ہے۔ اور اس کو ہر ایک شخص دیکھ سکتا ہے۔ لیکن شعبدہ وقتِ خاص پر دکھایا جاتا ہے اور نہ ہر شخص دکھا سکتا ہے۔ نیز یہ کہ شعبدہ با مشق ہے اور معجزہ بغیر سیکھے آ جاتا ہے ۔ اور بھی فرق کئی ہیں :

شق القمر ایک کشف

اور پیش گوئی تھا

سوال ۔ کیا شق القمر کا معجزہ کفار کی خواہش پر دکھایا گیا ۔ فرمایا اس میں ایک پیشگوئی تھی کہ عرب کی حکومت مٹا دی جائیگی۔ چاند فی الواقع دو ٹکڑے نہیں ہوا تھا۔ بلکہ کشف میں ایسا دکھایا گیا تھا ۔ اور کشف ایسے ہو سکتے ہیں کہ دوسرے بھی اس میں شامل ہوں۔ چنانچہ اُس مجلس والوں نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ۔ اور ہندوستان کے ایک راجہ نے بھی اس کو دیکھا ۔ تاکہ آئندہ کے لئے گواہی ہو ۔ یہ خیال کہ فی الواقع چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔ صحیح نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو علم ہیت والے جو رصد گاہوں میں بیٹھے تھے ۔ وہ ضرور دیکھتے۔ لیکن انھوں نے اس کو ریکارڈ نہیں کیا :

فرضی اعلانات

انجمن تائید الاسلام لاہور کے رسالہ رہنمائے ترقی میں بعنوان مرض الموت ایک زہریلا اعتراض چھپا ہے جس میں ایک فرضی روح الامین سے افترا گھڑا ہے اور چھاپا گیا ہے۔ مگر در حقیقت نہ خدا نے روح الامین کو بھیجا نہ اس نام کا کوئی مرجع ہے۔ مگر محض دھوکہ اور جھوٹ کے نام کو اُس موقع پر کام میں لایا۔ جس کا مخاطب سیکرٹری انجمن احمدیہ لاہور تھا۔ اس کے آگے بھی اخبار میں میں نے اس کی تردید کی تھی کہ یہ نام فرضی ہے۔ اب سنا جاتا ہے۔ کہ فرضی ناموں اور فرضی شہروں سے اعلانات شائع کراتے ہیں۔ جو سراسر افترا اور اخلاق شکنی اگر کوئی شخص ارتداد اختیار کرے۔ تو اس سے اصلیت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ کیونکہ روئے زمین پر کروڑوں لوگ مخالف ہیں ۔ لیکن احمدیت میں داخل ہونیوالوں کی فہرستیں شائع ہوتی ہیں۔ اور مخالفین تو بے فائدہ میں چیختے ہیں باوجود مخالفت شدید کے احمدیت کس طرح دن بدن کامیاب ہو رہی ہے :

غلام جیلانی خان احمدی ۔ کلرک ڈاکخانہ نئی پور *

صفحہ 338

بسم الله الرحمن الرحيم

قادیان دارالامان مورخہ ۲۰ ۔ مارچ ۱۹۲۷ء

رنگون میں احمدیوں کی نماز باجماعت

کے غیر از احمدیوں کے بعد براہ نماز جنازہ کے دن اس مسئلہ کو لے کر ان کا مقاطعہ کرتے ۔ لیکن افسوس کہ یہاں کے ہوتے ہیں ۔ ان میں سے اگر کوئی نماز ہی نماز کا اس سے میں نے یہ دریافت کیا کہ بات تھی ۔ اور اگر وہ غیر احمدیوں کے ساتھ ہی اور کتنا عرصہ کا یہ عذاب حضور سے ثابت نہیں ہے۔ کسی ارشاد کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے غیر مبائعین نے اپنے سالانہ جلسہ منعقدہ اکتوبر میں غیر احمدیوں کے ساتھ نماز پڑھنے کی قرارداد

اپنے خط کے ساتھ ایک خلیفۃ المسیح الثانی نے بندوبست کر دیا ہوا تھا ! ازینت روزانہ نمازوں کے مسئلہ کے متعلق کہ نہیں ۔ ان کے جو خلیفۃ المسیح الثانی نے نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے ۔ خلیفۃ المسیح الثانی کی ہدایت ہے کہ جو احمدی غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں وہ احمدی نہیں ہیں۔ اس لئے ان کو احمدیوں کے مظاہرہ کرتے ہیں ۔

مدینہ کا یہ پہلا میں چھوٹی سی مسجد کی امامت نمازیوں کی تعداد قبل از وقت ایک نماز کے لئے اس کی کی نمازیوں کی تعداد سے نماز پڑھتے ہیں ۔ اور بعض اوقات ان کی مسجد میں اہلحدیث اور غیر مقلدوں کی آمد و رفت رہتی ہے یہ لوگ بھی کی طرح نماز باجماعت کے لئے نماز باجماعت کا کوئی بندوبست نہیں کرتے۔ حالانکہ ان کے نزدیک بھی ان کی مسجدوں کو خلافت مرزا غلام

صفحہ 339

نمبر ۷۴ جلد ۱۵ اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ ۲۰ مارچ ۱۹۳۴ء

محترمہ عائشہ مرحومہ کے حالات زندگی

میری بیوی جو مجھے بہت پیاری تھی خدا تعالیٰ کی مصلحت کے ماتحت جو ہنوز مجھ سے پوشیدہ رکھی گئی ہے خدا کے رسول مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں اگست ۱۹۰۶ء میں میاں بیوی بنایا تھا ۔ بائیس سال زندہ رہی۔ بڑی جفاکش ۔ بڑی قانع ۔ بڑی محبّت میں بڑھی ہوئی ۔ اور بڑی فرمانبردار تھی۔ صوم و صلوٰۃ کی پابند تھی۔ عام عورتوں کی طرح باتونی نہ تھی۔ والدین کے آگے چوں وچرا کبھی نہ کرتی تھی۔ جو کھانے کو دیتے۔ وہ کھاتی۔ اور جو پہننے کو دیتے۔ وہ پہنتی۔ مارچ ۱۸۸۳ء میں پیدا ہوئی تھی۔ جب مدرسہ میں پڑہتی۔ تو ہفتہ میں صرف ایک پیسہ سیاہی، قلم، کاغذ وغیرہ کے لئے ملا کرتا تھا۔ کھانے کو اس نے کبھی نہیں مانگا ۔ نہ ماں باپ سے کبھی ۔ والدہ نے ایک دفعہ اسے نذر کے طور پر مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کے عقد میں بغیر خطبہ و مہر مقرر کرنے کے صرف مسجد میں چند لوگوں کے روبرو دیدیا۔ پندرہ برس کی عمر میں وہ دارالامان میں مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس آئیں۔ اور ۱۸۹۸ء کی آخری سہ ماہی میں ان کا نکاح مولوی عبد الکریم صاحب کے ساتھ ہوا۔ جو مسیح موعود علیہ السلام نے منعقد کیا اور اکتوبر ۱۹۰۵ء کو میاں صاحب موصوف فوت ہوئے ۔ قریباً سات برس ان کی زوجیت میں رہیں۔ انہی ایام کے متعلق وہ روایت ہے۔ جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔ اے نے اپنی کتاب سیرۃ المہدی حصہ دوم کے صفحہ ۷۹ پر درج کی ہے ۔ اور جو یہ ہے :-

"ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا ۔ کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک بچّہ نے گلی میں ایک چھپکلی ماری۔ اور پھر اُسے مذاقاً مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی چھوٹی اہلیہ پر پھینک دیا۔ جس پر مارے ڈر کے ان کی چیخیں نکل گئیں ۔ اور چونکہ مسجد کا قرب تھا۔ ان کی آواز مسجد میں بھی سنائی دی۔ مولوی عبد الکریم صاحب جب گھر آئے تو انہوں نے غیرت کے جوش میں اپنی بیوی کو بہت کچھ سخت سست کہا۔ حتیٰ کہ ان کی یہ غصّہ کی آواز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنے مکان میں سن لی ۔"

قدرتی فضیلت ہے۔ اور کیونکہ وہ عورتوں کے نان نفقہ کے ذمہ دار ہیں ۔

کسی باعصمت کا کام محض عبادت تک محدود نہیں اور اس پر ذمہ داری کا بوجھ ہے ۔ اس لئے قرآن مجید نے عورت سے طلب کیا ہے۔ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَیۡبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ کہ وہ نیکو کار اور ماننے والی اور اپنے خاوند کی غیر حاضری میں حفاظت کرنے والی ہوں ۔ ہاں یادر ہے کہ جہاں پر اللہ تعالیٰ نے عورت کو مرد کی بہترین رفیقِ زندگی بننے کی تلقین کی ہے ۔ وہاں پر مردوں کو معیارِ نیکو کاری ہی عورتوں سے حسنِ سلوک قرار دیا ہے ۔ فرمایا خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ کہ زیادہ اچھا وہ ہے جو اپنی بیوی سے اچھا سلوک کرے۔ آنحضرت صلعم نے اپنی حیاتِ طیبہ میں ہزار مسلمانوں کو جبلِ عرفات سے آخری پیغام دیا :- "دیکھو عورتوں کے ساتھ کبھی بدسلوکی نہ کرنا ۔ ان سے ہمیشہ نرمی سے پیش آنا" ۔ الغرض قرآن مجید میں اس قسم کی بیسیوں آیات و احادیث موجود ہیں جن میں فریقین یا بالخصوص مردوں کے لئے زریں ہدایت بیان کی گئی ہیں۔ قرآن پاک نے مرد کو بیوی کے اخراجات کا ذمہ دار قرار دیا ہے ۔ اس کی سہولت بہم پہنچانے کا اسے حکم دیا ہے اور پھر سورۃ طلاق میں رہائش و مکان کا حق بھی قائم کیا ہے ۔ غرض جو زندگی کی ضرورتیں ہیں۔ ان کے متعلق تفصیلی احکام بیان فرمائے ہیں۔ عورتوں کی شہادت کو قبول کیا ہے ۔ مگر ان کی فطری کمزوری اور طبعی تقاضے کے ماتحت دو عورتوں کی شہادت کو ایک مرد کی شہادت کے برابر قرار دیا ہے ۔ گویا یہ ہر پہلو سے افراط و تفریط سے پاک تعلیم ہے ۔

میں اپنے مسلم بھائیوں اور بہنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے اپنے حقوق سے تجاوز نہ کریں ۔ کیونکہ ایسا کرنا نہ کسی کے حق میں مفید ہے ۔ اور نہ ہی دیر پا ہوگا۔ ہندوستان میں عورتیں بہت پس افتادہ ہیں ۔ مسلم خواتین اپنے دائرہ میں بہت پیچھے ہیں ۔ مسلم مردوں کا فرض ہے ۔ کہ انہیں اسلامی حقوق دیں ۔ لیکن مسلم عورتوں کو چاہئے کہ دنیا کی زہر آلود نام نہاد تحریک آزادی کا مطالعہ نہ کریں ۔ کیونکہ وہ فائدہ مند نہ ہوسکے گی ۔ اور نہ ہی ان کے لئے مفید ثابت ہوگی :-

صفحہ 340

اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ ۲۰ مارچ ۱۹۲۸ء ۷

مبارکبادیں دے رہے تھے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام مسلمانوں کا لیڈر رکھا ہے ۔

عین جلسہ کے ایام میں سیرت المہدی حصہ دوم چھپ کر قادیان آئی ۔ جب میں نے روایت ۸۰۴ کو پڑھا۔ تو مرحومہ کو یہ سنائی ۔ اس وقت بالکل تندرست تھیں انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ اور کہا بچہ سے مراد خود محمود یعنی حضرت میاں صاحب ہیں ۔

غالباً ۲ اگست ۱۸۹۸ء کی نماز ظہر کے وقت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت استاذی المکرم مولانا نور الدین صاحب سے فرمایا کہ کیا غلام محمد کا نکاح ہو چکا ہے یا نہیں۔ حضرت مولوی صاحب نے اسی روز بعد از ظہر مجھ سے دریافت فرمایا اور کہا کہ حضرت صاحب کا ارادہ ہے کہ عائشہ کے ساتھ تمہارا نکاح کیا جائے۔ تمہاری کیا رائے ہے۔ میں ایام رخصت کی وجہ سے علی گڑھ سے قادیان آیا ہوا تھا ۔ کیونکہ میں اس وقت بی ۔ اے میں تعلیم پا رہا تھا۔ میں نے عرض کی مجھے حضرت صاحب کا حکم بسر و چشم منظور ہے ۔ ۸ اگست ۱۸۹۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مندرجہ ذیل رقعہ حضرت استاذی المکرم مولوی نور الدین صاحب کو لکھا۔

مخدومی مکرمی حضرت مولوی صاحب سلمہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ جو امر حق دختر شادی خاں کی نسبت میں نے بیان کیا تھا۔ ابھی اس کو کوئی وعدہ نہیں دینا چاہئیے۔ کیونکہ اس لڑکی اور اس کے باپ کے منشاء سے ہمیں اطلاع نہیں۔ صرف گمنام طور پر بغیر تصریح کسی کے نام کے اس سے دریافت فرماویں۔ دوسرے ایک اور موقعہ ہے یعنی شیخ نیاز احمد وزیر آبادی کی بیوی فوت ہو گئی ہے۔ وہ نہایت مالدار ہیں ان کو بھی شادی کی ضرورت ہے ۔ شاید وہ اس موقعہ کو پسند کریں۔ لیکن اگر اس جگہ اس کا نکاح ہو تو یہ عمدہ ہے ۔ کہ یہ شرط کی جاوے گی ۔ کہ غلام محمد اسی جگہ رہے گا ۔ اس طرح امید ہے کہ کسی وقت کام آسکتی ہے ۔ آئندہ جو آپ کی مرضی ہو ۔ مرزا غلام احمد

پھر ۱۱ اگست ۱۸۹۸ء کو مولوی محمد علی صاحب ایم اے نے مندرجہ ذیل خط حضرت مسیح موعودؒ کو لکھا ۔

سیدی و مولائی سلمکم اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ حضرت مولوی صاحب نے مجھے کل فرمایا تھا ۔ کہ آج شادی خاں صاحب کو بلا کر نکاح کا فیصلہ کیا جائے میں نے ان کو بلایا تھا۔ وہ کہتے ہیں حضرت صاحب سے دریافت کیا جاوے کہ حضور جو رقم تجویز فرماویں ۔ تو عصر کی نماز کے وقت ہو سکتا ہے ۔ والسلام خاکسار محمد علی

مندرجہ بالا رقعہ کی پشت پر مندرجہ ذیل جواب حضور ارقام فرماتے ہیں ۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ آج میری طبیعت دورانِ سر کے باعث اس قدر بیمار سی ہے کہ چارپائی سے اٹھنا مشکل تھا۔ اس وقت اٹھ کر بیٹھا ہوں ۔ کہ باہر آنے کے قابل نہیں ۔ میرے نزدیک پانسو روپیہ (مہر) ہم کُفو کی ہے ۔ اس قدر مہر اس لئے تجویز کرتا ہوں کہ یہ لڑکی بیوہ جیسی نہیں ہے ۔ اور لڑکا ہو نہار ہے۔ اس پر کوئی بوجھ نہیں ہے ۔ امید کہ اس کی لیاقت اور حیثیت اس سے بھی بہت زیادہ ہو جائیگی ۔ میرے نزدیک اس سے کم ہرگز نہیں۔ اگر زیادہ ہو تو مضائقہ نہیں ۔ والسلام مرزا غلام احمد

غالبًا اس کے بعد دوسرے یا تیسرے روز بعد نماز عصر حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے صحن میں مجلس نکاح منعقد ہوئی تھی جہاں آج کل مدرسہ خواتین ہے ۔ اس نکاح کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بڑے اہتمام کے ساتھ اپنے گھر میں سرانجام دیا ۔ حضرت صاحب خود موجود تھے ۔ اور حضرت مولوی استاذی المکرم نور الدین صاحب نے خطبہ نکاح پڑھا ۔ دوران خطبہ میں کچھ قطرات بارش بھی پڑے تھے ۔ اور حضور نے مسکرا کر ارشاد فرمایا تھا ۔ کہ یہ نکاح مبارک ہو گا ۔ کیونکہ رحمت الٰہی بارانِ رحمت کی شکل میں نازل ہو رہی ہے ۔

حضور اکثر مرحومہ کی خدمتِ سفر کے بارہ میں فرماتے کہ بہت پسند تھی۔ حضور نے ایک دفعہ مرحومہ کو دعا دے کر فرمایا ۔ کہ اللہ تجھے اولاد دے ۔ حضور کی دعا سے مرحومہ کے چھ بچے پیدا ہوئے ۔ ایک لڑکی اور پانچ لڑکے جن میں سے ایک فوت ہو گیا ہے ۔ اور چار لڑکے اور ایک لڑکی زندہ موجود ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو خادمِ دین بنائے ۔ آمین ثم آمین

خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ان الفاظ کو پورا کیا ۔ کہ اگر اس جگہ اس کا نکاح ہو تو یہ عمدہ ہے کہ یہ شرط کی جاوے گی کہ غلام محمد اسی جگہ رہے ۔ حضور نے مجھ سے یہاں رہنے کی کسی وقت شرط نہیں کرائی تھی۔ مگر خدا کی شان ہے ۔ کہ میں یہاں رہا ۔ اور میں نے زندگی وقف کرنے کی درخواست حضور کو دی ۔ جو مفتی محمد صادق صاحب کے پاس رکھی گئی تھی ۔ اس کو پورا کرنے کے لئے میں نے نور الدین صاحب کو کہا کہ مجھے تبلیغ کے لئے باہر بھیجا جائے۔ کیونکہ میرا تو ان ہی

صفحہ 341

جلد ۲۱ اخبار الفضل قادیان دارالامان ۲۷ فروری ۱۹۳۴ء ۸۲

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خطبہ عید الفطر

خوشی میں غم اور غم میں خوشی کا خیال رہے

از حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

فرمودہ ۱۷/ جنوری ۱۹۳۴ء

اللہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ نے اپنی تعلیم اور دوسرے مذاہب کی تعلیم میں ایک

بڑا امتیاز

یہ ہے کہ دوسرے مذاہب کی تعلیمیں

اشتراک

ہے۔ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو ہر کسی کی عبادت کی بتاتا ہے۔ اسے جائز ہونے کا حکم دیتا کوئی مذہب ایسا نہیں جس میں روزے کی کوئی نہ کوئی شکل نہ ہو۔ اسلام میں حج ہے۔ تو توریت اور ہر مذہب میں مقدس مقام ہے جہاں جانا موجب فرض سمجھا جاتا ہے زکوٰۃ کی تعلیم دی ہے۔ تو ہر مذہب میں صدقہ خیرات پائی ہے۔ اور چندہ عیسائی یہودی زردشتی سب مذاہب میں موجود ہے۔ پس

اجمالی رنگ

جائے تو اسلامی تعلیم اور دوسرے مذاہب میں کوئی سی ملے وہ لوگ جنہوں نے

تفصیلات اور انکی اہمیت

کیا ہوتا ۔ کہہ دیتے ہیں۔ کہ سب مذاہب ایک ہی ہیں یا ہیں نہیں ۔ وہ دیکھتے ہیں ۔ کہ سب نے خدا کی یاد اس دن اور نیکی وقفہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ سب نے نماز روزہ کا حکم دیا ہے۔ پس ان کی کوئی تامل نہیں بلکہ وہ کہتا ہے ۔ پس

زمین و آسمان میں

اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے ۔ کہ جیسے کپڑا ہے۔ وہ بھی کپڑا ہے ہی ہیں۔ اینٹوں سے ملکر عمارتیں بنتی ہیں۔ جس کا نام مکان ہوتا ہے ملکر جسم کا جو حصہ ہے اس سے مختلف ہوتا ہے۔ جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا ۔ کہ

یورپین سوسائٹی کا حیرت افزا حصہ

بمبئی سے چونکہ ہم انگلستان گئے درمیان میں مجھے اس کا موقعہ نہ ملا ۔ واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سے جو میرے ساتھ تھے۔ کہا ۔ کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں ۔ جہاں یورپین سوسائٹی عریانی سے نظر آئے۔ وہ بھی فرانس سے واقف تو تھے ۔ مگر مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے ۔ جس کا نام قاصد مجھے یاد نہیں رہا ۔ اوپیرا میں بیٹھا کہتے ہیں ۔ چوہدری صاحب نے بتایا۔ کہ یہ اعلیٰ سوسائٹی کی جگہ ہے ۔ جسے دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں ۔ کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہے۔ میری نظر چونکہ کمزور ہے ۔ اس لئے دور سے میں اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا۔ تو ایسا معلوم ہوا۔ کہ سینکڑوں عورتیں ننگی ہیں۔ میں نے چوہدری صاحب سے کہا۔ کیا یہ ننگی ہیں ۔ انہوں نے کہا۔ ہاں ننگی ہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے وہ ننگی معلوم ہوتی تھیں۔ تو یہ بھی ایک لباس ہے ۔ اسی طرح ان لوگوں کے شام کی دعوتوں کے لباس الگ الگ ہوتے ہیں۔ نائیٹ ڈریس کا بھی لباس یعنی ننگا پن ہے۔

چھپائی جائے بلکہ قطع تعلق کے ساتھ ہی دوسرا اندیشہ یہ کہ اگر عفو کے صلہ میں دی تو

نام دونوں کا لباس ۔

اسی طرح عورت نماز پڑھتے وقت اپنا سر نہیں چھپائے۔ کہ ان کا عضو ہو گیا ہے۔ اور نماز نہیں سمجھے ہیں۔ جگہ خلاف ہے۔ یورپ میں اس حد تک جا نکلے۔ تو اس کی پوشش کے لئے اس کی طرف دھیان تک دیکھتے ہی رہے ۔ یا گرمیوں میں خندقوں والا سردیوں میں تھوڑے پانی میں کھڑے رہے۔ لٹکے رہے۔ پھر ایک پادری نے ۔ کہا ساتویں دن کوئی حصہ پڑھے۔ گانا سنا۔ باجا بجایا۔ کچھ دھما چوکڑی کے متعلق تو عام شکایت کی جاتی ہے ۔ کہ لوگ صرف اسی وقت نہاتے ہیں۔ جب کہ میت گاڑنے ۔ اور وہ نہ ہو۔ غسل جنابت میں بھی نہیں نہاتے لیکن پچھلے وقتوں کی تاریخ میں لکھتے ہیں ہوتی ہے۔ اسی طرح گرمیوں میں بھی بڑے آزار بروز ہوتے ہیں۔ اگر کوئی غریب آدمی اس پر تو وہ اُف نہ کریں ۔ پھر ایک عبادت آریوں نے ساتویں دن مندر میں جمع ہو کر گا لیتے ۔ اور مگر یہ عبادت ایسی ہی ہے جیسے پکچرز کا جانا دماغی طالب علم ہوں دورے میں دولت ملے۔ یہاں ایک دن میں نے دیکھا ۔ کہ وہ سخت مغموم میں نے پوچھا۔ کیا بات ہے دریافت کیا تو غفلت ہو گئی ہے ۔ امتحان سر پر ہے۔ اور میرا خوف کیا۔ یہ تو وقت ضائع کرنا ہے۔ اس کے سزا دی ہے ۔ جس کا مجھے افسوس ہے۔ انہوں میں گئے۔ میں نے اپنے دروازہ سے باہرسے کیا آپ نے بھی جوتے گاؤں آنے والے دیکھے ہیں کہ کتنا خوشی ہوتی ہے۔ نے۔ وہ آکر آ ہے۔ تو عیسائی بن جاتے ۔ پس جیسے عبادت

سب سے زیادہ جامعہ چیزوں کا

ہیں ۔ وہ روزہ گاتے بجاتے ہیں۔ بلکہ در پشتیاں ہیں ۔ جنہیں گلا اُسے دے کر جن کا ۔ غرض ایک طرف تو یہ عبادت ہے دوسری طرف تو

صفحہ 342

روزنامہ الفضل قادیان دار الامان مورخہ ۲۱ اگست ۱۹۳۶ء 4

اور مجھے مروجہ منافق غلط قرار دے رہے ہیں۔ اس لئے آپ ہی اُنہیں ایک بات فرما کر ہم میں ملا دیں۔ حالانکہ اسے چاہئے تھا۔ وہ پہلے ان منافقوں سے مشورہ لیتا اور ہم کو بتاتا کہ منافق کون ہوتا ہے۔ پھر جو تعریف یہ بتاتے اسے قرآن میں نازل کرتا ۔ لیکن اس قدر اعتراضات کرنے کے باوجود ہر خط میں بڑا اخلاص بھی ظاہر کیا ہوا ہے۔ اور لکھا ہوا ہے۔ ہم سلسلہ کے خادم ہیں مگر

اس کی تسلی کے لئے محبت کا اندازہ اسی سے ہو سکتا ہے ۔ کہ ایک خط میں جس کے متعلق اس نے قسمیں کھائی ہیں کہ وہ اُسی کا لکھا ہوا ہے۔ اس پر یہ تحریر کیا ہے۔ کہ حضرت مسیح موعود ولی اللہ تھے۔ اور ولی اللہ کبھی جھوٹی باتیں نہیں کرتے ہیں۔ مگر اُنہوں نے کبھی نعوذ باللہ زنا کر لیا ۔ تو اس میں حرج کیا ہوا ۔

پھر لکھا ہے۔ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض نہ تھا۔ کیونکہ وہ بھی کبھی زنا کیا کرتے۔

اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے۔ کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔ اس اعتراض سے پتہ لگتا ہے۔ کہ یہ شخص پیدائشی اندھا ہے۔ اس لئے کہ ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق یہ اعتقاد ہے۔ کہ آپ نبی اللہ تھے۔ مگر یہ اندھے اس بات کو نہیں مانتے اور وہ آپ کو صرف ولی اللہ سمجھتے ہیں ۔

تو جب کوئی شخص ایک سچائی پر اعتراض کرتا ہے۔ اُسے لازماً دوسری سچائیوں پر بھی اعتراض کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً مستری صاحب کو سب سے پہلے میری خلافت میں نقائص نظر آئے۔ اب اس کا یہ لازمی نتیجہ ہے۔ کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ پر بھی ان کا حملہ ہو۔ کیونکہ جس طرح میں خلیفہ ہوں۔ اسی طرح وہ بھی خلیفہ تھے۔ جس طرح میں یہ کہتا ہوں۔ کہ خدا تعالیٰ نے مجھے خلیفہ بنایا ہے۔ کسی انسان نے نہیں بنایا۔ اسی طرح آپ بھی فرمایا کرتے تھے۔ کہ مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے۔ اور کسی انسان کی یہ طاقت نہیں۔ کہ مجھے خلافت سے معزول کرے۔ پھر آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے۔ کہ جو شخص میری خلافت پر اعتراض کرے گا۔ وہ جہنم میں جائے گا۔ اور جب میں مرجاؤں گا۔ تو پھر وہی کھڑا ہوگا۔ جس کو خدا چاہے گا۔ اور خدا اس کو آپ کھڑا کرے گا۔

پس جب انہوں نے بھی یہی باتیں کہی ہیں۔ تو معترض اپنے دل میں سوچتا اور کہتا ہے۔ اگر حضرت خلیفہ اولؓ کی باتیں صحیح تھیں۔ تو پھر وہ خلافت پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔ اور اگر موجودہ خلافت قابل اعتراض ہے۔ تو حضرت خلیفہ اولؓ کی خلافت بھی باطل ہے۔ اور چونکہ اس کے دل میں بغض ہوتا ہے۔ اس لئے وہی اعتراض جو وہ مجھ پر کرتا ہے۔ حضرت خلیفہ اولؓ پر بھی کر دیتا ہے۔ اور اس طرح ان کی خلافت کا بھی منکر ہو جاتا ہے۔ پھر اس ــ

اور جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اُن پیشگوئیوں کو دیکھتا ہے جو آپ نے میرے متعلق فرمائیں۔ آپ کی اُن دعاؤں کو پڑھتا ہے۔ جو آپ نے میرے لئے اور اپنی باقی تمام اولاد کے لئے کیں۔ تو اسے کہنا پڑتا ہے۔ یہ بھی غلط ہیں۔ وہ پیشگوئیاں سنتا اور کہتا ہے۔ یہ پوری نہیں ہوتیں۔ اور دعاؤں کو پڑھتا ہے تو کہتا ہے۔ ہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعائیں بیشک کی تھیں مگر وہ قبول نہیں ہوئیں۔ دشمنوں کی دعائیں تو قبول ہو جائیں۔ لیکن اگر دعائیں قبول نہ ہوں۔ تو خدا کے مسیح اور اس کے نبی کی۔ اپنے متعلق تو ان کا یہ دعویٰ ہے۔ کہ وہ بار بار کہتے ہیں۔ ہم دعائیں کریں گے۔ اللہ ہمیں غلبہ دے گا۔ اللہ ہماری سنے گا۔ مگر کیا مسیح کی خدا نے نہیں سنی۔ جو ان کے قول کے مطابق کتابوں میں یہ لکھا تھا۔ کہ خدا نے اس کی دعاؤں کو نہ سنا۔ دوستوں کی نہ اپنی منافقوں اور بدباطنوں کی۔

پھر یہ لکھتے ۔ اور مجھے کہتا ہے تم نے

بیواؤں کے نذرانے

وصول کر کر کے اُسے غریب کر دیا ۔ تم اس وقت یہاں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہو ۔ کیا تم میں سے کوئی ایک شخص بھی قسم کھا کر کہہ سکتا ہے ۔ کہ میں نے کبھی ایک پیسے کا بھی اُس سے فائدہ اُٹھایا ہو ۔ میرا طریق ہمیشہ یہ ہے ۔ کہ بعض دوست میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں ۔ ہم فلاں مدّ میں کچھ دینا چاہتے ہیں ۔ تو اُس مدّ کو میں جو لنگر کا کہلاتا ہو ۔ یا جس میں کسی کا حق ہو ۔ تو اس کو میں اپنے پاس نہیں رکھتا ۔ سوائے اس کے کہ بعض دفعہ کوئی مجھے کپڑا دے یا دُشالہ دے دے تو وہ دوسری بات ہے ۔ ورنہ میں نے کبھی کسی کو نہیں کہا ۔ ہاں جو شخص نہیں دیتا ۔ بلکہ بعض تو کئی کئی خط لکھتے ہیں ۔ اور پھر اس میں اپنا رونا روتے اور شکایت کرتے ہیں ۔ اور ہمیں جواب نہ دیا ۔ میں اُن کے خطوں کا اس لئے جواب نہیں دیتا ۔ کہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہوں ۔ حالانکہ میں جواب اسلئے نہیں دیتا ۔ کہ یہ بات میری طبیعت کے خلاف ہے ۔ اور میں اُسے بھی سوال کا ایک رنگ سمجھتا ہوں ۔ کہ میں اگر کسی دوست کو کہوں کہ کچھ تحفہ دے جائے تو میں اُسے وہ بھی نہیں کہتا ۔ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہ امر ثابت ہے کہ آپ ہدیہ قبول فرمایا کرتے تھے آپ نے فرمایا کہ ہدیہ کو بغیر اشراف نفس بغیر نفس کی خواہش کے اگر کوئی شخص تحفہ دے تو اُسے قبول کر لو ۔ بَارَکَ اللہُ لَکَ فِیہ اللہ تعالیٰ تجھے اس میں برکت دے ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ایسے تحائف قبول کیا کرتے ۔ آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تجارت نہیں کیا کرتے تھے ۔ آپ کی کوئی جائیداد بھی نہیں تھی ۔ پھر آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے ۔ کہ میں کوئی اجر نہیں مانگتا ۔ ایسی صورت میں صحابہ میں سے اگر کوئی اپنی مرضی سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کرتا ۔ تو آپ

سے میں نے فرمایا کہ مجھے فلاں کام میں مدد دو تو اس طرح میں نے کبھی روپیہ لے لیا۔ اور یہ نذرانے تو میں نے اب تک بہت ہی تھوڑے لئے ہیں۔ کسی نے ہزار ہا روپے کے نذرانے کہے ہیں کہ لے لو۔ میں نے نہیں لئے۔ جو بعض خطوط آتے ہیں۔ کہ یہ روپیہ ہماری طرف سے فلاں دینی کام میں خرچ کر دو۔ میں وہ روپیہ بھی اس دفتر کے سامنے پیش نہیں کرتا کہ ایک شخص نے یہ روپیہ دیا ہے۔ حضرت مسیح موعود نے یہی طریق برتا ہے۔ جو روپیہ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں آتا تھا۔ آپ اس سے جو روپیہ دین کے کاموں میں خرچ کرتے اس کا تو حساب لکھواتے تھے۔ جو اپنی ذاتی ضرورت کے لئے یا اپنے گھر کی ضرورت کے لئے خرچ کرتے تھے۔ اس کا کوئی حساب نہیں رکھتے تھے۔ یہ طریق سب خلفاء نے اپنایا

صفحہ 343

روزنامہ الفضل قادیان دارالامان ۶۔ فروری ۱۹۳۲ء

استعمال کیا جاتا اپنی مرضی سے یہ احسان جتاتا ہے کہ اور یہ کہتا ہے کہ لوگ کب اس کے طرح میں بھی اس کی بیعت اور خلافت کی ۔ تو نے مجھ کو میں اسے چھوڑ اس حالت میں تم شخص بیگانگی مرضی سے وہ کسی سے مل کر مسیح موعود کا کی زندگی ہی میں کے ایام میں زمیندار وہ اس ہوتی کہ وہ خدا وقت خرم و پسندیدہ ہو سے لے لیوے علیہ الصلوٰۃ و میں پوچھا ۔ کے سامنے کہ ایک شخص پر یہ چونی پڑی حضرت مسیح موعود نے یہ چونی اس کا فعل خدا نہیں اس ۔ تم سے اگر حالت میں کے کمال کا میں ہی اٹھ اپنی خوشی لو۔ چنانچہ خوشی سے میں نے اپنے لحاظ سے

منافقوں اور باطنیوں کی

میرے مخالف مجھے یہ طعنہ دیتے ہیں کہ میں جماعت سے نذرانے وصول کر کر کے۔ بے دریغ خرچ کرتا ہوں۔ تم اس وقت یہاں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہو۔ کیا تم میں سے کوئی ایک شخص بھی قسم کھا کر کہہ سکتا ہے ۔ کہ میں نے کبھی ایک پیسے کا بھی اس سے فائدہ اٹھایا ہو۔ میرا طریق ہمیشہ یہ ہے کہ بعض دوست میرے پاس آتے ہیں۔ کہتے ہیں ۔ ہم فلاں چیز آپ کے لئے لانا چاہتے ہیں۔ وہ کسی قسم کی ہو۔ مثلاً دوشالہ ہو۔ بستر ہو۔ یا جوتیاں۔ غرض کوئی چیز ہو۔ مگر میں کبھی انہیں جواب نہیں دیتا۔ سوائے اس کے کہ بعض دفعہ کوئی مجھ سے کپڑوں یا جوتی کا ناپ لے لے تو یہ دوسری بات ہے ۔ ورنہ میں نے کبھی کسی کو ایسی باتوں کا جواب نہیں دیا ۔ بلکہ بعض تو کئی کئی خط لکھتے ہیں۔ اور جب میں جواب نہیں دیتا تو وہ شکایت کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں شاید میں ان کے خطوں کا اس لئے جواب نہیں دیتا ۔ کہ میں سب کو حقیر سمجھتا ہوں۔ حالانکہ میں جواب اس لئے نہیں دیتا۔ کہ یہ بات میری طبیعت کے خلاف ہے ۔ اور میں اسے پیری مریدی کا ایک رنگ سمجھتا ہوں۔ ہاں اگر کوئی دوست خود بخود کوئی تحفہ دے جائے تو میں اسے ردّ بھی نہیں کرتا۔ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہ امر ثابت ہے کہ آپ ایسے تحائف قبول فرما لیا کرتے تھے۔ اور فرمایا کرتے تھے ۔ کہ بغیر نفس کی خواہش کے اگر کوئی چیز بطور ہدیہ دے تو اسے قبول کرلو۔ بارک اللہ لک فیہ (اللہ تعالیٰ تجھے اس میں برکت دے)۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باوجودیکہ تحائف قبول کر لیا کرتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی تھے۔ اور آپ کو دنیا کی کوئی اور طمع بھی نہیں تھی۔ پھر آپ نے تحائف کیوں قبول کئے؟ اس کی وجہ یہی ہے ۔ کہ اس سے محبت بڑھتی ہے۔ اس لئے آپ بھی فرمایا کرتے تھے۔ کہ مجھے خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ کہ میں تجھے ان پر غلبہ دوں گا۔ کوئی تجھے خلافت سے معزول نہ کرسکے گا۔ پھر آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے۔ کہ جو شخص میری خلافت پر اعتراض کرتا ہے۔ وہ اس شخص کی مانند ہے ۔ جو کہ یہ کہتا ہے کہ مسیح موعود کا کام یہ تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کا اوتار تھا۔ حالانکہ آپ تو یہ کہتے ہیں کہ میں تو ایک امتی نبی ہوں۔ میں نبیوں کا ماتحت ہوں۔ پھر منافقوں کو کیا حق ہے۔ اگر حضرت خلیفہ اول کو بنانا صحیح نہیں ۔ تو پھر وہ خدا تعالیٰ پر کیا اعتراض کریں گے۔ اور اگر یہ خلافت صحیح ہے۔ تو خدا تعالیٰ نے ہی حضرت خلیفہ اولؒ کو بنایا ہے۔ پس ان کا اعتراض باطل ہے۔ اور چونکہ ان کے دل میں بغض ہوتا ہے۔ اس لئے وہی اعتراض صادر ہوگا جو کہ ان کے خبث باطن کو ظاہر کرے۔ پھر یہی لوگ کہتے ہیں۔ اس طرح ان کی مخالفت کا بھی پتہ لگ جاتا ہے۔ پھر جب سے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان پیشگوئیوں کو دیکھتے ہیں جو آپ نے میرے متعلق فرمائیں۔ یا آپ کی اُن دعاؤں کو پڑھتے ہیں جو آپ نے میرے لئے اور اپنی باقی تمام اولاد کے لئے کیں۔ تو انہیں کہنا پڑتا ہے۔ یہ بھی غلط ہی ہیں۔ یہ پیشگوئیاں سب غلط نکلیں۔ یہ پوری نہیں ہوئیں۔ اور دعاؤں کا ذکر سنتے ہیں تو کہتے ہیں ۔ ہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعائیں بیشک کی تھیں مگر وہ قبول نہیں ہوئیں۔ اور نبیوں کی دعائیں بھی تو قبول نہیں ہوتیں۔ لیکن اگر دعائیں قبول نہ ہوں۔ تو خدا کے مسیحؑ اور اس کے مامور کی ہتک! اپنے متعلق تو ان کا یہ دعویٰ ہے ۔ کہ وہ بار بار کہتے ہیں ۔ ہم دعا کریں گے۔ اللہ ہمیں غلبہ دے گا۔ ورنہ منافق غلط قرار دے دیتے ہیں۔ حالانکہ اس نے آپ ہی آپ ایک بات قرآن کریم سے نکال دی۔ حالانکہ اسے چاہئے تھا۔ وہ پہلے ان باتوں میں مشورہ لیتا اور پوچھتا بھی۔ کہ آخر کوئی سچائی ہے۔ پھر جو تعریف یہ بتاتے ہیں ۔ ان کے نزدیک کیا ہے۔ لیکن اس قدر افتراء پردازی کے باوجود میں اللہ تعالیٰ کا فضل مانگتا ہوں۔ اور یہ یقین رکھتا ہوں کہ ۔ یہ بات حالت تک پہنچ گئی ہے۔ اس کو تسلی کے لئے کہا جائے دیکھو حضرت خلیفہ اول کی یہ تفسیر ہے۔ تو وہ کہے گا۔ یہ تفسیر آپ کے دماغ کا ایک جزو ہے۔ کسی پر اثر نہ کیا ہے۔ بلکہ حضرت خلیفہ اولؒ ولی اللہ تھے۔ اور ولی اللہ بھی کبھی سہو کر جایا کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے کہہ بھی دیا۔ تو پھر اس میں حرج کیا ہوا۔ یہ تو ممکن ہے۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام غلطی کریں۔ کیونکہ وہ بھی تو دنیا میں رہتے تھے۔ لیکن اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے۔ کیونکہ وہ ہر وقت دنیا کو تکتا رہتا ہے۔ اس اعتراض سے یہ پتہ لگتا ہے۔ کہ یہ شخص پیدا ہی غلط ہوا ہے۔ اس لئے کہ ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن پر ایمان ہے۔ کہ آپ نبی اللہ تھے۔ مگر دنیا کے لوگ اس بات کو نہیں جانتے اور منافق کی موت مرتے ہیں۔

تو جب کوئی شخص ایک سچائی پر اعتراض کرتا ہے۔ اُسے لازماً دوسری سچائیوں پر بھی اعتراض کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً مصری صاحب جو سب سے پہلے میری خلافت کے مخالف نظر آئے۔ اب ان کا یہ حال ہے کہ وہ حضرت خلیفہ المسیح الاولؒ

صفحہ 344

بمبئی ۔ ۲۲ جولائی ۔ اسٹیشن پر حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بخیریت بمبئی پہنچ گئے ۔ احباب جماعت نے اسٹیشن پر شاندار استقبال کیا ۔ حضور کی صحت بفضلہ تعالیٰ اچھی ہے ۔ احباب جماعت سے حضور کی صحت و کامیابی کے لئے دعا کی درخواست ہے ۔ مکرم سید محمود اللہ شاہ صاحب بمبئی سے تار دیتے ہیں کہ حضور نے فیصلہ فرمایا ہے کہ ۲۴ جولائی کو بمبئی سے روانہ ہو کر ۲۵ جولائی کو دہلی اور ۲۶ جولائی کو قادیان پہنچیں گے ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

رجسٹرڈ نمبر ایل ٦٠ روزنامہ الفضل قادیان جلد ۱۳ مؤرخہ ۲۷ جولائی ۱۹۲۵ء ۷ محرم ۱۳۴۴ھ

الفضل ۱۷ جولائی ۱۹۲۵ء جنازہ فضل احمد اور ہماری ذمہ داری از حکیم دین محمد

ہمارا فرض

ہمارے دوستوں کو خوب معلوم ہے کہ اس وقت جماعت احمدیہ کے خلاف کس قدر شور و غوغا برپا ہے ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے تبلیغ اسلام کا کام شروع کیا ہے ۔ ایک طرف تو ہندو ہمارے خلاف ہیں اور دوسری طرف مسلمان بھی ہمارے خلاف ہیں ۔ یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کہ ہم نے اسلام کی سچی خدمت کا بیڑا اٹھایا ہے ۔ وہ ہر بات میں ہماری مخالفت کر رہے ہیں ۔ اور ہمیں مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ لیکن ہم ان کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ارادوں میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے ۔ ہماری جماعت روز بروز ترقی کر رہی ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوں گے ۔

میں ہوتے ہیں وہ ہر بات کے خلاف ہیں ، اس کی مخالفت میں اپنی جان دے دیں گے ، لیکن ہم ان کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ان کی یہ کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی ۔

ہمیں اس بات کا رنج ہے ۔ ایک طرف تو ہم نے تبلیغ اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں اور دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ہم پر انہی لوگوں کی طرف سے حملے ہو رہے ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ۔ اور جو بظاہر اسلام کے سچے خادم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ لیکن دراصل وہ لوگ اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ ان کی ساری زندگی اسلام کی مخالفت میں گزر رہی ہے ۔ اور ان کی ساری کوششیں اس بات پر صرف ہو رہی ہیں کہ ہم کسی طرح احمدیت کو دنیا سے مٹا دیں ۔ لیکن ہم ان کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ارادوں میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے ۔

صفحہ 345

روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مورخہ ۷ جولائی ۱۹۳۲ء

ذکر حبیب علیہ السلام

روایات جناب حکیم دین محمد صاحب ٹالوی کوئٹہ

بوصیلہ صیغہ تالیف وتصنیف قادیان

(١٠) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنے اول دعویٰ بیعت کے ایام میں پڑھنے کے لئے حافظ حامد علی صاحب کے پاس رہنے کے بوجہ میری کافی عمر بیس برس تھی۔ ۳۰۔ ۴۰ یوم دوران میں غیب کے مکاشف مذہب کی طرف سے "نورالحق" لانے کے موقعہ پر جناب مولوی نورالدین صاحب نے حضرت اقدس چونکہ قادیان آکر حضرت اقدس ملنے سے قبل انہیں میکملن ایجوکیشن کے متعلق پڑھے بعدہ جب جب میں حضرت میں حضرت اقدس سے ملنے کے متعلق توہین آمیز الفاظ سنے تو حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔ کہ آپ کیوں وہاں گئے۔ اور کیوں نہ اٹھ کر چلے آئے

(١١) ڈاکٹر محمد اسمعیل خان صاحب سپرنٹنڈنٹ پینشنر جوکہ محکمہ صحت میں قادیان آئے ہوئے تھے، صاحبزادہ میاں مبارک احمد بیمار تھا (یہ صاحبزادہ صاحب کو بھی حضور علیہ السلام نے ان کو مشورہ کے لئے بلایا میں ان کے ساتھ اندر چلا گیا۔ صاحبزادہ کو چارپائی پر لٹا لیا گیا تھا۔ صاحبزادہ صاحب

پر ہوتی تھیں۔ اس لئے خلوت اندرونی طور پر اور مہمانوں کا طور پر سخت تھا۔ مگر دوسرے صاحبزادہ صاحب کی وفات دیکھا حضرت اقدس بیماری موج میں بڑے منہمک دوران میں لڑکی کو کشف وفات کے بعد انا للہ و انا پڑھ کر الگ ہو گئے۔ اور حضور نے ان دنوں اپنی تقریر ماحصل یہ تھا۔ کہ مبارک مطابق پیدا ہوا۔ اور الہام کی وفات پائی ہے۔

(١٢) ایک دفعہ صاحبزادہ نواب مبارک بیگم صاحبہ جوکہ مرزا مبارک احمد مرحوم کی ہمشیرہ ہیں نے کہا کہ صاحبزادی صاحبہ ہر طرح مناتی تھیں مگر وہ نہ سنتے تھے۔ آخر بی بی صاحبہ حضرت اقدس کے پاس گئیں۔ اور کہا ابا جی مبارک مجھ سے خفا ہو گیا ہے۔ مانتا نہیں ضد کرتا ہے حضور علیہ السلام جو اس وقت کسی تصنیف میں مصروف تھے۔ انہیں چند اشعار لکھ کر دے دیئے۔ انہوں نے وہ میاں صاحب کے سامنے ہو کر پڑھ دیئے۔ سنتے ہی وہ خوش ہو گئے۔

مبارک کو میں نے ستایا نہیں
کبھی میرے دل میں یہ آیا نہیں
میں بھائی کو کیوں کر ستا سکتی ہوں
وہ کیا میری اماں کا جایا نہیں
الہیٰ خطا کر دے میری معاف
کہ تجھ بن تو رب البرایا نہیں

(١٣) ایک دفعہ سیر کے دوران میں حضور علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ مٹی کی ہنڈیا میں پکا ہوا کھانا دیگچی کی نسبت بہتر ہوتا ہے نیز حضور علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ اگر کوئی شخص لوہے کی ہنڈیا بنائے ۔ اور اس میں کھانا پکایا جائے۔ تو اس میں کچھ نہ کچھ فولاد کا جزو ضرور مل جائے گا۔ جس سے کھانا مقوی ہو جائے گا۔

(١٤) ایک دفعہ کسی انگریز خواندہ دوست نے انگریزی زبان کے متعلق کہا۔ کہ وہ مخارج میں زیادہ وسعت ۔ اور کھنچنے کی اہلیت رکھتی ہے حضور علیہ السلام نے ان سے پوچھا کہ انگریزی میں میرا پانی کا کیا ترجمہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا مائی واٹر۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا یہ مطلب تو عربی میں لفظ مائی سے ادا ہو جاتا ہے۔ (عربی میں مائی کے معنے میرا پانی ہے)

(١٥) حضور علیہ السلام کی عادت تھی۔ کہ جب کوئی مہمان بات کرتا۔ تو بڑے غور سے سنتے کبھی اس کی بات کو نہ کاٹتے۔ جب وہ کہہ چکتا۔ تو پھر حضور علیہ السلام خود گفتگو شروع فرماتے۔ حضور علیہ السلام کا تکیہ کلام "اصل میں بات یہ ہے" تھا۔ اپنی بات کو اصل میں بات یہ ہے کہہ کر شروع فرماتے۔ تقریر کے وقت ابتدا دھیمی آواز سے ہوتی ۔ مگر رفتہ رفتہ خوب تیز ہو جاتی

(١٦) ایک دفعہ ایک فوٹو گرافر لاہور سے آیا۔ جس کی دوکان انارکلی میں ہے۔ اس سے حضور علیہ السلام نے تعلیم الاسلام ہائی سکول (جہاں اب بورڈنگ مدرسہ احمدیہ ہے ۔ مرتب) کے صحن میں (کرسی پر) بیٹھ کر تصویر کھنچوائی۔

(١٧) ایک دفعہ کسی امر کے تذکرہ کے ضمن

میں فرمایا۔ کہ دعا کے لئے تعلق کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ سنتے ہیں۔ کسی بزرگ کے پاس کوئی شخص جس کا ایک بیگ گم ہو گیا تھا۔ دعا کے لئے آیا۔ اس بزرگ نے اس سے کہا۔ کہ چار آنے کا حلوہ لاؤ۔ چنانچہ وہ حلوہ لے آیا۔ حلوائی جب حلوہ دینے کے لئے ردی کے کاغذ میں ڈالنے لگا۔ تو اس شخص نے دیکھا ۔ کہ وہ ردی کا کاغذ ہی اس بیگ کا گمشدہ تمسک ہے۔ اس نے کہا کہ اس پر حلوہ ڈال کر اسے خراب نہ کرنا۔ چنانچہ وہ من وعن کاغذ پر حلوہ اٹھوا کر اس بزرگ کے پاس لایا۔ اور اپنا گمشدہ تمسک مل جانے کا ذکر بھی سنایا

(١٨) ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے مولوی محمد احسن صاحب امروہی سے فرمایا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو ایک محبت آمیز خط لکھیں ۔ چنانچہ مولوی صاحب نے ایک خط جس کا نام "رقعۃ الوداد" تھا عربی میں لکھا۔ اور حضور علیہ السلام کو سنایا

(١٩) میرے قیام کے دوران میں مرزا فضل احمد صاحب ابن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جنازہ ملتان سے قادیان لایا گیا (ملتان میں آپ سب انسپکٹر پولیس تھے۔ وہیں بیمار ہوئے اور وہیں فوت ہوئے) حضرت اقدس کو مخالف رشتہ داروں نے اطلاع دی۔ حضرت اقدس نے کہلا بھیجا ۔ کہ جاؤ دفن کرو۔ حضور علیہ السلام جنازہ میں شامل نہیں ہوئے۔ اور نہ ہی جماعت کے کسی فرد کو جنازہ میں شامل ہونے کا حکم دیا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے مسجد مبارک میں بیٹھے ہوئے تقریر فرمائی تھی۔ جس کا مفہوم یہ تھا۔ کہ جو خدا تعالیٰ کا نہیں بنتا ۔ وہ ہمارا بیٹا نہیں ہو سکتا ۔ آپ سب لوگ جو اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔ ہماری اولاد ہیں۔

صفحہ 346

لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں، اس کے بعد فرماتے ہیں: ”اس طرح اوّل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے ۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔ اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا ۔ اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا“

(حقیقة الوحی ص ۱۴۹ و ۱۵۰)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ان الفاظ سے ظاہر ہے ۔ کہ پہلے آپ کو حضرت مسیح کی ممات کے عقیدہ میں بارش کی طرح نازل ہونے والی وحی الٰہی نے جبراً تبدیلی پیدا کرائی ۔ اسی طرح اپنے آپ کو نبی سمجھنے پر بھی بارش کی طرح کی وحی الٰہی نے مجبور کیا۔ گویا ان دونوں عقیدوں میں ایک ہی جیسی مشیت کام کر رہی تھی۔ دعویِٰ نبوت کی بابت بھی تبدیلی پیدا بذریعہ وحی ہوئی اور نبوت کے متعلق بھی سابقہ عقیدہ میں وحی نے ہی تبدیلی کرائی ورنہ اس سے قبل جس طرح عام مسلمانوں کی طرح حضرت مسیح کے بارہ میں آپ یہ عقیدہ رکھتے تھے۔ کہ وہ زندہ آسمان پر ہیں ۔ اور دوبارہ آئیں گے۔ اسی طرح نبوت اور تعریف نبوت کے متعلق بھی

عام مسلمانوں کیطرح عقیدہ

رکھتے تھے۔ مثلاً اگست ۱۸۹۹ء میں حضور سمجھتے تھے ۔ کہ ”اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنی ہوتے ہیں۔ کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں۔ یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں۔ یا نبی سابق کی امت نہیں کہلاتے۔ اور براہ راست بغیر استفادہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں“

(انجام آتھم ص ۲۸)

گویا پہلے آپ نبی کی تعریف یہ قرار دیتے تھے۔ جیسا کہ

عام مسلمانوں کا خیال

ہے کہ وہ نئی شریعت لاتے ہیں۔ یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں۔

یا نبی سابق کی امت نہیں کہلاتے براہ راست بغیر استفادہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔

مگر بعد میں جب بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی ۔ تو آپ نے اس عقیدہ میں تبدیلی کر کے یوں فرمایا :-

”چونکہ میرے نزدیک نبی وہی کہلاتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی اور کثرت سے نازل ہو۔ جو غیب پر مشتمل اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا بغیر شریعت کے“

(تجلیات الٰہیہ صفحہ ۲۶)

نیز فرمایا :-

”نبی کے معنی صرف یہ ہیں۔ کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں ۔ اور نہ یہ ضروری ہے۔ کہ وہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۳۸)

ایک اور جگہ فرمایا :-

”نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے“

(ایام الصلح ص ۱۴۶)

الغرض حقیقۃ الوحی کے حوالہ نے واضح کر دیا ہے۔ کہ نبوت اور ممات مسیح کے متعلق آپ کا عقیدہ پہلے عام مسلمانوں کیطرح کا تھا۔ مگر بعد دونوں میں تبدیلی فرمائی پس نبوت کے مسئلہ اور تعریف نبوت میں تبدیلی کے حل کرنے کے لئے ہماری صریح و قاطع زبردست اصول یہ ہے کہ خود حضور جس طرح مسیح کی دوبارہ آمد کا عقیدہ پر تاویل کرتے تھے۔ اسی طرح نبوت کے بارہ میں تاویل فرماتے رہے۔ اور جس طرح وہاں تناقض تھا۔ حضور فرماتے ہیں کہ اسی طرح کا یہاں تناقض ہے۔ تو پھر دونوں عقیدے بالکل متوازی اور ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ پس اب

انصاف کا تقاضا

یہ ہے کہ جسطرح ہم آمد مسیح کے مسئلہ کا حل کرتے ہیں ویسے ہی حضور کی نبوت کے مسئلہ کو بھی حل کریں اور اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو در اصل ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کو مسخ کرتے ہیں جو کہ ایک خطرناک طریقہ ہے

صفحہ 347

اور پھر جب آپ نے قرآن مجید پر غور کیا تو قطعی طور پر معلوم ہو گیا ۔ کہ واقعہ میں مسیح ابن مریم وفات پا چکے ہیں ۔ اور آنے والا اسی امت محمدیہ میں سے ہوگا۔ اور تقریباً ۱۲ برس تک آپ نے باوجود الہامات میں ان باتوں کے بتائے جانے کے ۔ اعلان نہیں کیا۔ بلکہ ان کی تاویل کرتے رہے۔ مگر جب نشانات الٰہیہ ظاہر ہوئے ۔ تو انہوں نے جبر کر کے آپ کو منوایا۔

اب یہ بات سوچنی چاہیئے کہ محض عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کا مسئلہ ۔ یہ ایسا ہے کہ اگر معقول طور پر کوئی شخص ۔ آپ کے ساتھ تبادلۂ خیالات کرتا تو آپ پر اس کی حقیقت بخوبی روشن اور آپ اس بات کے قائل ہو جاتے کہ مسیح ابن مریم آسمان پر نہیں ۔ اور کہ آنے والا اسی اُمت میں سے پیدا ہوگا ۔ اور وہ قرآن شریف اور احادیث کی رو سے بھی اس بات کو تسلیم کر لیتے کہ حضرت مسیحؑ وفات پاگئے ہیں۔ اور آخری خلیفہ آنے والا اسی امت کا فرد ہوگا ۔ مگر باوجودیکہ اتنے الہامات اور اس قدر وحی الٰہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہوئی ۔ پھر بھی مجبور ہو کر آپ نے اس بات کو قبول کیا۔ سوال یہ ہے کہ

جبر کی کیا صورت پیش آئی؟

وہ یہی تھی ۔ کہ یہاں صرف حیاتِ مسیح کا سوال نہیں تھا۔ بلکہ آپ کی ذات کا سوال تھا۔ اگر صرف اتنا ہی ہوتا کہ حضرت مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں۔ اور آنے والا مسیح اسی امت میں پیدا ہوگا۔ جو حضرت مسیح ناصری کا مثیل ہوگا۔ تو آپ کو اس بات کے ماننے میں ہرگز کوئی تامل نہ ہوتا۔ تامل اس وجہ سے تھا۔ کہ آپ کو کہا گیا ۔ کہ آنے والے مسیح آپ ہیں۔ اور یہ پیشگوئی آپ کی ذات میں پوری ہونی ہے۔ اس وجہ سے آپ رکتے تھے۔ اور الہامات کی تاویل کرتے تھے۔ آپ کی طبعیت کے قبول کرنے سے مانع ہو رہی تھی۔ بعض لوگوں کو چند الہام ہو جاتے ہیں۔ تو وہ سمجھتے ہیں۔ کہ ہم بڑے بزرگ بن گئے ہیں مگر باوجودیکہ آپ کو آپ کی بزرگی کے بالکل نمایاں اور واضح رنگ میں الہام ہوتے رہے۔ اور کثرت سے ہوتے رہے۔ لیکن پھر بھی آپ ان کی تاویل کرتے رہے۔ اور کہتے رہے کہ آنے والا موعود آسمان سے آئے گا۔ اس کی اصل وجہ یہی تھی۔ کہ آپ کی طبعیت شہرت پسند نہیں بلکہ پنہاں پسند تھی۔ اور چونکہ یہ باتیں جو الہامات میں تھیں آپ کی طبعیت کے خلاف تھیں اس لئے ان کے ماننے کے لئے تیار نہ ہوتے۔ آپ کو پرہیزگاری ۔ اور پھر گمنامی پسند تھی ۔ آپ نے کبھی شہرت دنیا طلب نہ کی تھی ۔ اور چونکہ آپ کو خاکساری پسند تھی ۔ شہرت و عزت کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ اور ان خطابات کو فوراً اپنے اوپر چسپاں کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اس لئے آپ ان باتوں پر غور کرنے سے رکتے تھے۔ مگر آخر جب وحی الٰہی اور تواتر کی ضرب نے اس بات پر مجبور کر دیا تو آپ کو ناچار ماننا پڑا۔

اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی

نبوت کا مسئلہ

ہے۔ جب آپ سے یہ سوال کیا گیا ۔ کہ پہلے آپ لکھتے تھے۔ کہ مجھے مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے۔ اور اس طرح اپنی شان کم بیان کرتے تھے۔ مگر بعد میں آپ نے بیان کیا کہ میں مسیح ابن مریم سے تمام شان میں بڑھ کر ہوں۔ سو ان دونوں عبارتوں میں تناقض ہے۔ تو اس سوال کے جواب میں حضور نے اوائل میں اپنے حیاتِ مسیح ناصری کے عقیدہ کا ذکر کر کے تحریر فرمایا۔ کہ

”یہ ایسا کیوں لکھا گیا۔ اور کلام میں یہ تناقض کیوں پیدا ہو گیا۔ سو اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو۔ کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے۔ کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے

صفحہ 348

طبع ثانی

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ

اور زمین میں فساد مت پھیلاؤ بعد اس کے کہ اس کی اصلاح ہوچکی اور پکارو اس کو ڈرتے اور امید رکھتے۔

اللہ کی رحمت یقیناً نیکی کاروں کے قریب ہے۔

اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِ

الحمدللہ کہ یہ رسالہ جس کا نام

القول الفصل

جناب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب فضل عمرؓ

خلیفۃ المسیح والمهدی خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ

نے

خواجہ کمال الدین صاحب وکیل لاہور کے رسالہ ”اندرونی اختلافات سلسلہ احمدیہ کے اسباب“

کے جواب میں

صرف ایک دن میں تالیف کیا

انجمن ترقی اسلام کی طرف سے مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں چھپ کر شائع ہوا

۳۰ جنوری ۱۹۱۵ء

کی بحث میں سیاہ نہ کرتے۔ خواجہ صاحب بار بار دلائل پر ایک شخص جو ان لوگوں میں سے کے طور پر پیش کرنا ہے۔ ایک بات تحریر میں اعلان کرتا ہے لیکن جب ایسا بیان ہوا ہے تو وہ نہ تحریر پیش برابر اس غلط بیانی کو پھیلا رہے ہیں تین باتوں میں سے ایک پر مجبور کریں کر کے (یعنی حلف حضرت مسیح موعود مجھ سے غلطی ہو گئی۔ میں اپنے بیان میں پھر بڑے زور سے اعلان صاحب کو نبی مانتا ہوں۔ لیکن نہ ایسا علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر نبوت ملی حقیقی نبی کے یہ معنے ہوں کہ وہ نبی یا کسی نبی کو رکھا جائے تو میں آپ کو کی تین اقسام مانتا ہوں۔ ایک جو شریعت ان کو بلا واسطہ نبوت ملتی ہے۔ اور علیہم السلام اور ایک وہ جو نہ شریعت پہلے نبی کی اتباع سے نبی ہوتے ہیں نہیں گذرا کہ اس کی اتباع میں ہی انس انسان کے اتباع میں ہی پائی جاسکتی تھی میں سے بھی صرف مسیح موعود کو اس در نظیر نہ ملنے کی یہ وجہ نہیں کہ پہلے حقیقی نبی

صفحہ 349

کی بحثیں سیاہ نہ کرتے۔ خواجہ صاحب بار بار دلائل پر زور دیتے ہیں لیکن میں پوچھتا ہوں کہ دلائل کس چیز کا نام ہے۔ ایک شخص جو ان لوگوں میں سے ہے جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود کے معتقدین میں ایک معتمد کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ایک بات بیان کرتا ہے اور بیان ہی نہیں کرتا اس کا اعلان کرتا ہے اور پھر تحریر میں اعلان کرتا ہے لیکن جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ بات کس تحریر میں ہے یا کس تقریر میں ایسا بیان ہوا ہے تو وہ نہ تحریر پیش کرتا ہے اور نہ اپنی سماعت کی حلفی شہادت دیوے۔ اور اس کے دوست برابر اس غلط بیانی کو پھیلاتے ہیں تو اب وہ کونسا طریق ہے جس سے فیصلہ ہو سکے؟ آپ ہی ان کو تین باتوں میں سے ایک پر مجبور کریں یا تو وہ میری تحریر پیش کریں یا اپنی سماعت کو حلفاً موکد کر کے (جیسی حلف حضرت مسیح موعود نے تریاق القلوب میں لکھی ہے) شائع کریں یا یہ اعلان کریں کہ مجھ سے غلطی ہوگئی۔ میں اپنے بیان کو واپس لیتا ہوں۔ اس کے سوا اور کونسا طریق فیصلہ ہے ؟ میں پھر بڑے زور سے اعلان کرتا ہوں جیسا کہ پہلے متعدد بار اعلان کر چکا ہوں کہ میں مرزا صاحب کو نبی مانتا ہوں ۔ لیکن نہ ایسا کہ وہ نئی شریعت لائے ہیں۔ اور نہ ایسا کہ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر نبوت ملی ہے۔ اور ان معنوں سے آپ کو حقیقی نبی نہیں مانتا۔ ہاں اگر حقیقی نبی کے یہ معنے ہوں کہ وہ نبی ہے یا نہیں تو میں کہوں گا کہ اگر حقیقی کے مقابلہ میں نقلی یا بناوٹی یا اسمی نبی کو رکھا جائے تو میں آپ کو حقیقی نبی مانتا ہوں۔ بناوٹی نقلی یا اسمی نہیں مانتا۔ میں نبیوں کی تین اقسام مانتا ہوں۔ ایک جو شریعت لانے والے ہیں دوسرے جو شریعت تو نہیں لاتے لیکن ان کو بلا واسطہ نبوت ملتی ہے ۔ اور کام وہ پہلی اُمت کا ہی کرتے ہیں۔ جیسے سلیمان ، زکریا ، یحیٰ علیہم السلام اور ایک وہ جو نہ شریعت لاتے ہیں اور نہ ان کو بلا واسطہ نبوت ملتی ہے۔ لیکن وہ پہلے نبی کی اتباع سے نبی ہوتے ہیں۔ اور سوائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی نبی اس شان کا نہیں گزرا کہ اس کی اتباع میں ہی انسان نبی بن جائے۔ لہٰذا اس قسم کی نبوت صرف اس اکمل انسان کے اتباع میں ہی پائی جاسکتی تھی۔ اس لئے پہلی اُمتوں میں اس کی نظیر نہیں۔ اور اس اُمت میں سے بھی صرف مسیح موعود کو اس وقت تک یہ درجہ عطا ہوا ہے۔ اور پہلی اُمتوں میں اس کی نظیر نہ ملنے کی یہ وجہ یہ تھی کہ پہلے حقیقی نبی آسکتے تھے۔ اس لئے ایسے نبی کی کوئی ضرورت نہ تھی۔

صفحہ 350

۹۰ مقبول ہو۔ اس کا یہی جواب دیتے ہیں کہ جس پر گورنمنٹ خوش ہو اسی کو پیش کیا کرتے ہیں۔ پس اگر گورنمنٹ کے سامنے اپنا ڈیپوٹیشن لے جانے کے لئے کسی ایسے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو اسکی نظر میں مقبول ہو، تو پھر یہ کونسی عقلمندی ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کے لئے ایک ایسے آدمی کو اپنے آگے کھڑا کیا جائے جو مغضوب ہو یہ کوئی مشکل بات نہیں۔ آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے اس لئے ان لوگوں کو اپنا امام نہیں بنانا چاہیئے جنھوں نے حضرت مسیح موعود کو قبول نہیں کیا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور مغضوب ٹھہر چکے ہیں۔ اور ہمیں اس وقت تک کسی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیئے جب تک کہ وہ بیعت میں داخل نہ ہو جائے۔ اور ہم میں شامل نہ ہو۔ خدا تعالیٰ کے مامور ایک بڑی چیز ہوتے ہیں جو ان کو مقبول نہیں کرتا وہ خدا کی نظر میں مقبول نہیں ہوسکتا۔ اس میں شک نہیں کہ بعض غیر احمدی ایسے ہونگے جو سچے دل سے حضرت مسیح موعود کو صادق نہیں مانتے۔ اس لئے قبول نہیں کرتے۔ لیکن ہم بھی مجبور ہیں کہ ایسے لوگوں کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ خواہ کسی وجہ سے ہی وہ حق کے منکر ہیں۔ غیر احمدیوں کا اس بات پر چڑنا کہ ہم ان کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے ایک لغو امر ہے۔ وہ غیر احمدی جو یہ سمجھتا ہے کہ مرزا صاحب جھوٹے ہیں وہ ہم کو مسلمان کیونکر سمجھتا ہے ۔ اور کیوں اس بات کا خواہاں ہے کہ ہم اس کے پیچھے نماز پڑھیں۔ ہمارا اس کے پیچھے نماز پڑھ لینا اسے کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ غیر احمدیوں سے ہم دیگر دُنیاوی اور تمدنی تعلقات کو منقطع کردیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو عیسائیوں کو بھی اپنی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دی تھی۔ پس جب با وجود اس قدر اختلاف کے دین میں ایک دوسرے کو مذہبی سہولتیں بہم پہنچانے کا حکم ہے تو دُنیاوی تعلقات کو ترک کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے ۔ دوسروں سے محبت کرو پیار کرو۔ ان کی مصیبت کے وقت ان کے کام آؤ۔ بیمار کا علاج کرو۔ بھوکے کو روٹی

صفحہ 351

منظور احمد چنیوٹی

جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

آئینہ صداقت

جس میں امام جماعتِ احمدیہ سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ نے مولوی محمد علی صا۔ اور اُن کے معدودے چند رفقاء کی جماعت احمدیہ سے علیحدگی کے اسباب صحیح واقعات اور سچے حالات کا انکشاف اور پردہ اٹھا کر غلط فہمیوں کا سد باب فرمایا ہے

تاریخ اشاعت ۲۴ ستمبر ۱۹۲۱ء مطابق ۲۱ محرم الحرام ۱۳۴۰ھ اسلامیہ سٹیم پریس لاہور میں چھپ کر دفتر صدر انجمن احمدیہ قادیان دارالامان سے شائع ہوا

صفحہ 352

باب اوّل

اُن غلط واقعات کی تردید میں جو مولوی محمد علی صاحب نے

اختلاف سلسلہ کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے بیان کئے ہیں ۔

مولوی محمد علی صاحب کا تبدیلی عقیدہ

کے متعلق مجھ پر بے جا الزام

مسیحیوں سے غلط طور پر ہماری مشابہت بتانے کے بعد مولوی محمد علی صاحب نے اختلافات کی ایک تاریخ بیان کی ہے۔ جس میں انھوں نے اپنی طرف سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد بعض اشخاص سے متاثر ہو کر میں نے (یعنے اس عاجز نے) اپنے عقائد میں تبدیلی پیدا کی ہے ۔

تغیّر عقائد

یہ تبدیلی عقیدہ مولوی صاحب تین امور کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ اوّل یہ کہ میں نے حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ خیال پھیلا دیا ہے کہ آپ فی الواقع نبی ہیں ۔ دوّم یہ کہ آپ ہی آیت اسمہٗ احمد کی پیشگوئی مذکورہ قرآن کریم (سورۃ صف) کے مصداق ہیں۔ سوّم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انھوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

ہر سہ عقائد کا بیان

میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں۔ لیکن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ ۱۹۱۴ء یا اس سے تین چار سال پہلے سے میں نے یہ عقائد اختیار کئے ہیں۔ بلکہ جیسا کہ میں آگے ثابت کروں گا۔ ان میں سے اول الذکر اور آخر الذکر حضرت مسیح موعود کے وقت سے ہیں۔ اور ثانی الذکر عقیدہ جیسا کہ خود میں نے اپنے لیکچروں میں بیان کیا ہے۔ جو چھپ بھی چکے ہیں۔ حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد حضرت استاذی المکرم خلیفۃ المسیح اول رض سے گفتگو اور انکی تعلیم کا نتیجہ ہے۔

صفحہ 353

وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ

فَوَاللّٰهِ الَّذِي جَعَلَ لِلْمُتَّقِينَ الْخَيْرَ كُلَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ

خدا کی قسم یہ وہ کتاب ہے جس نے اس کو پایا اس نے معالم حق کو سمجھا تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل پر ہلاک ہو اور جو جئے وہ دلیل پر جئے بلاشک

مشتمل بر چندین مباحث عالیہ و تحقیقات عمیقہ کہ ان کے مطالعہ سے شکوک و اوہام اہل باطل کے سب دفع ہو جائیں

الْبَرَاهِينُ الْاَحْمَدِيَّةُ عَلَى حَقِيْقَةِ كِتَابِ اللّٰهِ الْقُرْاٰنِ وَالنُّبُوَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ

حصہ سوم

براہین احمدیہ

مصنفہ ملہم ربانی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام جسکے

جواب لکھنے والے کو دس ہزار روپیہ انعام دیا جاتا ہے اس انعام کا

١٨٨٠ء سے اعلان ہے

اب بھی اس انعام کا اجراء کسی دعویدار سے نہیں ہو سکا

اشاعت ثانی بامر

سیدنا محمود امیرالمؤمنین

خلیفۃ المسیح الثانی

باہتمام محمد طاہر

سیکرٹری اشاعت

مطبع انوار احمدیہ قادیان میں چھپ کر شائع ہوئی

تعداد طباعت طبع دوم ۲۵۰۰

حصہ ۳

قیمت سوا روپے ۔ مجلد پونے دو روپے

صفحہ 354

(۶۷) حضرت مسیح موعود کے مختصر حالات تمنا تھی کہ کبھی آپ کو کوئی بڑی جگہ مل جائے اور خوب استغراق سے کام کر کے کوئی بڑا معزز عہدہ حاصل کریں لیکن مجھے اس بات پر زور نہیں تھا مجھے یہی وہم رہتا تھا کہ ایسے لوگ جن کی آنکھوں سے اور ہر تیور سے شعلے نکلیں کہیں ہمیشہ کے لئے غائب نہ ہو جائیں ۔ اور شاید آپ نوکری چھوڑ کر گھر پر ہی رہیں ۔ اس مشورہ کو بھی آپ نے میری خاطر قبول فرمایا اور تھوڑے عرصہ بعد استعفاء دے دیا ۔ جس کی وجہ سے مجھے اگرچہ خدا کے فضل کی بدولت رشتہ داروں کے طعنوں سے مخلصی ہوئی تھی ۔ مگر یہ خیال تھا کہ اب آپ کی تنخواہ ختم ہو جائے گی لیکن قادیان پہنچے اور والد صاحب نے بدستور آپ کو دنیوی امور کے کاموں میں مصروف کر دیا ۔ اس جگہ آپ اپنے کام کے لئے بہت وقت نکال لیتے اور اکثر قرآن شریف کے ترجمہ اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں مشغول رہتے اور بسا اوقات والد صاحب کو بھی وہ کتابیں سنایا کرتے تھے میرزا غلام مرتضیٰ صاحب کا یہ کلام ہے کہ میں جب اس کو دیکھتا ہوں تو اس کی لاپروائی سے سخت کڑھتا ہوں اور جب اس کو دنیوی کاموں سے الگ اور مطالعہ کتب دینیہ میں مشغول پاتا ہوں تو دل جل کر خاک ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہوں کہ یہ کسی کام کے لائق نہیں اور اکثر دوستوں کے کہنے سے کہ ایک دفعہ آکر غلام احمد کو دیکھو تو کہتے کہ اس نے تو ساری عمر مسجد میں ہی گزار دی ۔ بعض دوستوں کو یہی فکر رہتی تھی کہ آپ کسطرح اس سستی کو چھوڑ دیں تو بڑے عہدے پر لگ جائیں ۔ کبھی اتفاق سے ان سے کوئی شخص ملتا اور پوچھتا کہ غلام احمد کہاں ہیں ؟ تو وہ یہ جواب دیتے کہ مسجد میں جاکر خدا کی کوٹھی میں تلاش کرو اگر وہاں نہ ملے تو مایوس ہو کر واپس مت آنا ۔ مسجد کے اندر چلے جانا اور وہاں کسی گوشہ میں تلاش کرنا غرض کبھی نہ کبھی وہیں مل جائے گا ۔ پھر فرماتے ایک تو اس کی صفت یہ ہے کہ کوئی اس کو ایک جگہ کھڑا کر گیا ہو گا ۔ کیونکہ وہ تو زندگی میں مرا ہوا ہے ۔ اور اگر کوئی اسے سخت سست کہہ دے تو وہ آگے سے حرکت بھی نہیں کریگا ۔ آپ تو بچپن سے بہت سادہ اور مرنجاں مرنج طبع واقع ہوئے تھے اور سادگی اس درجہ تک پہنچی ہوئی تھی کہ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے ۔ اسی قسم کی بیسیوں باتیں ہیں جو اس بات پر شاہد ہیں کہ آپ اپنے خدا عزوجل کی محبت میں ایسی محویت رکھتے تھے کہ اپنے تئیں اس دنیا سے بالکل بے خبر ہو رہے تھے ۔

اصل حالت یہ تھی کہ آپکے والد آپکی گوشہ نشینی کی زندگی پر اسقدر حسرت اور ملالت ظاہر کیا کرتے تھے کہ سن کر رونا آتا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے ۔ کہ جس قدر میں نے دنیا کے لئے سعی کی ہے اگر میں وہ سعی دین کے لئے کرتا تو شاید آج قطب یا غوث ہوتا ۔ اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے ؏ محو در گوشہ قناعت جز بیابے چند ۔ زانکہ در یاد کسے صبح کنند شامے چند یہی وصف پایا جاتا تھا ۔ اور فخر کے ساتھ کہا کرتے تھے ؏ ببوئے مشتاق و فدائے کسے ۔ دردے ست کہ در خون تپد چو ماہیئے ایکدفعہ انہوں نے خواب بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلعم کو دیکھا کہ بڑی شان کے ساتھ میرے مکان کی طرف چلے آتے ہیں جیسا کہ ایک عظیم الشان بادشاہ آتا ہے تو میں اسوقت انکی طرف پیشوائی کے لئے دوڑا ۔ جب قریب پہنچا تو خیال آیا کہ کچھ نذر پیش کرنی چاہئیے تب جیب میں ہاتھ ڈالا جس میں صرف ایک روپیہ تھا ۔ اور جب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی کھوٹا ہے یہ دیکھ کر میں رو پڑا ۔ یہاں

صفحہ 355

ساری عمر کی دعا جو فرشتہ سے کرائی ۱۹ میں تیری عمر کو سب سے بڑھا دوں گا ۲۸ ڈاکٹر عبدالحکیم ۲۵۴ ۳۳۴ سے مراد کیا ہے ۳۴۱۹ ثَمَانِينَ حَوْلاً أَوْ قَرِيباً مِّنْ ذٰلِكَ ۱۴۵ "غلام احمد قادیانی" میرے سوا اس کا نام نہیں نورالحق جیسی کتاب کوئی پیش نہیں کر سکتا خواہ وہ نیا منع ہو جائے

مجموعہ الہامات

تذکرہ

حصص مطبوعہ اول تا سوم

انک لَمِنَ المُرْسَلِينَ کے بعد مِنَ الصَّالِحِينَ 408 مشین لال فرشتہ 554 یہود کی اصل مراد یحییٰ فرشتہ 526 و 828

انا منك وملجاها كما اصلحنا ابانا داود وما اليك ۲۲۶ اس موقع پر تیری طرف لوٹائیں گے ۔ ۲۷۸ و ۲۸۴ و ۲۳۶

الناشر الشركة الاسلامية ليمتد

صفحہ 356

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِيْنَ

تذکرہ

یعنے وحی مقدس یعنی مزید تائیدوں کا

رؤیا و کشوف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

تاریخ نزول وحی مقدس و متعلقات وحی

زمانہ تحصیل علم (۱) وَرَاَيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَّ اَنَا غُلَامٌ حَدِيْثُ السِّنِّ كَاَنِّيْ فِيْ بَيْتٍ لَطِيْفٍ نَّظِيْفٍ يُذْكَرُ فِيْهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ فَقُلْتُ اَيُّهَا النَّاسُ اَيْنَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔ فَاَشَارُوْا اِلٰی حُجْرَةٍ ۔ فَدَخَلْتُ مَعَ الدَّاخِلِيْنَ ۔ فَبَشَّ لِيْ حِيْنَ رَاَيْتُهٗ ۔ وَ حَيَّانِيْ بِاَحْسَنِ مَا حَيَّيْتُهٗ ۔ وَمَا اَنْسٰی حُسْنَهٗ وَ جَمَالَهٗ وَ مَلَاحَتَهٗ وَ تَحَنُّنَهٗ اِلٰی يَوْمِيْ هٰذَا شَغَفَنِيْ حُبًّا وَّ

؎۱ (ترجمہ از مرتب) اور اوائل ایام جوانی میں ایک رات میں نے (رویا میں) دیکھا کہ میں ایک عالیشان مکان میں ہوں۔ جو نہایت پاک اور صاف ہے۔ اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور چرچا ہورہا ہے۔ میں نے

صفحہ 357

١٧١

حق اور راستی کی طرف کھینچنے کے لئے کئی شاخوں١؂ پر امر تائید حق اور اشاعت اسلام کو منقسم کر دیا۔ ...... یہ پانچ طور کا سلسلہ جو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ...... خدا تعالیٰ کی نظر میں یہ سب ضروری ہیں ! اور جس اصلاح کے لئے اس نے ارادہ فرمایا ہے۔ وہ اصلاح بجز استعمال ان پانچوں طریقوں کے ظہور پذیر نہیں ہو سکتی“ (فتح اسلام ص١٩ و ص٢٠)

١٨٩٠ء ”مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ایک سخت بے دین ہندو سے اس عاجز کی ۲۱۸ گفتگو ہوئی۔ اور اس نے حد سے زیادہ تحقیر دین متین کے الفاظ استعمال کئے۔ غیرت دینی کی وجہ سے کسی قدر اس عاجز نے وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ پر عمل کیا۔ مگر چونکہ وہ ایک شخص کو نشانہ بنا کر درشتی کی گئی تھی۔ اس لئے الہام ہوا، کہ تیرے بیان میں سختی بہت ہے۔ رفق چاہئیے رفق“

(مکتوب بنام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ۔ مکتوبات احمدیہ جلد چہارم ص١٤)

١٨٩٩ء ”فضل الرحمٰن٢؂ کی نسبت اس عاجز کو پہلے سے ظنِ نیک ہے۔ ایک دفعہ ۲۱۹ اس کی نسبت سَيُهْدٰى٣؂ کا الہام ہو چکا ہے“ (از مکتوب مورخہ ٩ مارچ ١٨٩٩ء بنام حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ ۔ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ٢ صفحہ ٩٧)

١٨٩١ء ”اللہ جل شانہٗ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ۲۲۰ اور یہ بھی میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ میرے بارہ میں پہلے سے قرآن شریف

١؂ یہ پانچ شاخیں ہیں جن کی تفصیل حضور اقدس نے آگے اسی کتاب میں فرمائی ہے۔ پہلی شاخ تالیف و تصنیف کا سلسلہ ہے۔ دوسری اشتہارات ۔ تیسری مہمانخانہ اور مہمانوں کیخاطر مدارات۔ چوتھی مکتوبات اور پانچویں شاخ سلسلہ بیعت ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے فتح اسلام صفحہ ١٩ تا ٢١ (مرتب)

٢؂ مفتی فضل الرحمٰن صاحب داماد حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ (مرتب)

٣؂ (ترجمہ از مرتب) وہ ضرور سیدھے راستہ پر ڈالا جائے گا۔ (مرتب)

صفحہ 358

۸۱

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰهَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۔ وَمَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰهُ لَهٗ ۔ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَعَلَيَّ اِجْرَامٌ شَدِيْدٌ ۔ کہہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو سو میری پیروی کرو۔ یعنی اتباع رسول مقبول کرو۔ تاخدا بھی تم سے محبت رکھے۔ اور یہ بات جان لو۔ کہ اللہ تعالیٰ نئے سرے زمین کو زندہ کرتا ہے۔ اور جو شخص خدا کے لئے ہو جائے۔ خدا اس کے لئے ہو جاتا ہے۔ کہہ اگر میں نے یہ افترا کیا ہے۔ تو میرے پر جرم شدید ہے۔

اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ ۔ وَاِنَّ عَلَيْكَ رَحْمَتِيْ فِي الدُّنْيَا وَالدِّيْنِ ۔ وَاِنَّكَ مِنَ الْمَنْصُوْرِيْنَ آج تو میرے نزدیک با مرتبہ اور امین ہے۔ اور تیرے پر میری رحمت دنیا اور دین میں ہے۔ اور تو مدد دیا گیا ہے۔

يَحْمَدُكَ اللّٰهُ وَ يَمْشِيْ اِلَيْكَ
خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔
اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ
خبردار ہو خدا کی مدد نزدیک ہے۔
سُبْحَانَ الَّذِيْ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ لَيْلًا

پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو رات کے وقت میں سیر کرایا۔ یعنی ضلالت اور گمراہی کے زمانہ میں جو رات سے مشابہ ہے۔ مقامات معرفت اور یقین تک لَدُنِّیْ طور سے پہنچایا۔

خَلَقَ اٰدَمَ فَاَكْرَمَهٗ
پیدا کیا آدم کو پس اکرام کیا اس کا۔
جَرِيُّ اللّٰهِ فِيْ حُلَلِ الْاَنْبِيَاءِ ۔
جری اللہ نبیوں کے حُلّوں میں۔
صفحہ 359

۱۱۹

انہوں نے عام گھر والوں کو اس سے اطلاع دے دی۔ اور پھر چند ہفتہ میں ہی اس جہانِ فانی سے گذر گئے۔

(تریاق القلوب ص۱۳۹)

۱۸۸۳ء "اکسٹھواں نشان اپنے بھائی مرزا غلام قادر مرحوم کی وفات کی نسبت پیشگوئی ۱۳۷ ہے۔ جس میں میرے ایک بیٹے کی طرف سے بطور حکایت عن الغیر مجھے یہ الہام ہوا۔

اے عُمّی بازیِ خویش کردی و مرا افسوس بسیار دادی ۱؎

یہ پیشگوئی بھی اسی شرم پت آریہ کو قبل از وقت بتلائی گئی تھی۔ اور اس الہام کا مطلب یہ تھا کہ میرے بھائی کی بے وقت اور ناگہانی موت ہو گی، جو موجب صدمہ ہوگی۔۔۔۔ اور بعد اس کے میرے پر کھولا گیا۔ کہ یہ الہام میرے بھائی کی موت کی طرف اشارہ ہے۔ چنانچہ میرا بھائی دو تین دن کے بعد ایک ناگہانی طور پر فوت ہو گیا۔ اور میرے اس لڑکے کو اس کی موت کا صدمہ پہنچا"

(حقیقۃ الوحی ص۲۲۶)

۱۸۸۴ء "ہمارے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی وفات سے ایک دن ۱۳۸ پہلے الہام ہوا۔

جنازہ

اور میں نے اس الہام کی بہت لوگوں کو خبر دے دی۔ چنانچہ دوسرے روز بھائی صاحب فوت ہو گئے۔"

(نزول المسیح ص۲۲۵)

۱۸۸۴ء "اس ہفتہ میں بعض کلمات انگریزی وغیرہ الہام ہوئے ہیں۔ ۔۔۔ اور ۱۳۹ ۱۴؍دسمبر وہ کلمات یہ ہیں :-

پرلیشن ۔ عمر بُراطوس ۔ یا پلاطوس

۱؎ (ترجمہ از مرتب) اے چچا ! تو اپنی جان پر کھیل گیا اور مجھے بہت افسوس میں چھوڑ گیا۔ ۲؎ خاکسار مرتب کے عرض کرنے پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت اُمّ المومنین سے دریافت کیا۔ کہ مرزا غلام قادر صاحب کی وفات کس سنہ میں ہوئی تھی۔ تو آپ نے فرمایا کہ میری شادی سے (جو ۱۸۸۴ء میں ہوئی تھی) ایک سال قبل اُن کی وفات ہو چکی تھی۔ نیز کتاب پنجاب چیفس میں بھی سنہ وفات ۱۸۸۳ء ہی لکھا ہے۔

صفحہ 360

١٢٠

تذکرہ ص ۱۷ ۷۲۳۔ معلوم نہیں کہ کس زبان کے یہ الہام تھا۔ الفاظ یاد نہیں۔ ۲ مئی ۰۵ء

یعنے ہیاطوس لفظ ہے یا پلاطوس لفظ ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا۔ اور قحرم عربی لفظ ہے۔ اس جگہ براطوس اور پریشین کے معنے دریافت کرنے ہیں۔ کہ کیا ہیں، اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں؟ پھر وہ لفظ اور ہیں۔ ھُوْشَعَنَا ۔ تَعِسًا معلوم نہیں کس زبان کے ہیں۔ اور انگریزی یہ ہیں۔ اول عربی فقرہ ہے۔ يَا دَاوُدُ عَامِلْ بِالنَّاسِ رِفْقًا وَّ اِحْسَانًا یُو مُسْٹ ڈُو وِہاٹ آئی ٹُولڈ یُو ۔ تم کو وہ کرنا چاہئیے۔ جو میں نے فرمایا ہے۔ یہ اُردو عبارت بھی الہامی ہے۔ پھر بعد اس کے ایک اور انگریزی الہام ہے۔ اور ترجمہ اس کا الہامی نہیں . . . فقرات کی تقدیم تاخیر کی صحت بھی معلوم نہیں۔ اور بعض الہامات میں فقرات کا تقدم تاخر بھی ہو جاتا ہے . . . . اور وہ الہام یہ ہیں :- دَّوْآل مَین شُڈ بِی اِینْگِرِی بَٹ گاڈ اِز وِد یُو ۔ ہِی شَیل ہَیْلپ یُو۔ وَرڈْس آف گاڈ کَین نَاٹ اِیکس جَیْنْج ؎

؎ (۱) "یہ ایک عبرانی لفظ ہے جس کے معنے ہیں نجات دے، فرمایا کہ یا مسیح الخلق عدوانا کا مضمون اس سے ملتا جلتا ہے۔"

(البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ پرچہ ۸ مئی ۱۹۰۳ء ص۱۲۲)

(ب) "چونکہ یہ غیر زبان میں الہام ہے۔ اور الہام الہی میں ایک سرعت ہوتی ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ بعض الفاظ کے ادا کرنے میں کچھ فرق ہو۔ اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض جگہ خدا تعالیٰ انسانی محاورات کا پابند نہیں ہوتا ۔ یا کسی اور زمانہ کے متروکہ محاورہ کو اختیار کرتا ہے۔ اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ بعض جگہ انسانی گریمر یعنی صرف و نحو کے ماتحت نہیں چلتا۔ اس کی نظیریں قرآن شریف میں بہت پائی جاتی ہیں۔ مثلاً یہ آیت اِنَّ هٰذٰنِ لَسَاحِرٰنِ انسانی نحو کی رو سے اِنَّ ھٰذَیْنِ چاہئیے۔ منہ "

(حقیقة الوحی ص ۳۰۳ حاشیہ)

You must do what I told you. Though all men should be angry but God is with you. He shall help you. Words of God cannot exchange.

صفحہ 361

۱۲۱

ترجمہ ۔ اگرچہ تمام آدمی ناراض ہوں گے، لیکن خدا تمہارے ساتھ ہوگا۔ وہ تمہاری مدد کرے گا۔ اللہ کی کلام بدل نہیں سکتی۔

پھر بعد اس کے ایک دو اور الہام انگریزی ہیں جن میں سے کچھ تو معلوم ہے۔ اور وہ یہ ہے :۔

آئی شیل ہیلپ یُو ١؎

مگر بعد اس کے یہ ہے :۔

یُو ہیو ٹو گو امرت سر ٢؎

پھر ایک فقرہ ہے۔ جس کے معنے معلوم نہیں۔ اور وہ یہ ہے :۔

ہی ہل ٹس اِن دی ضلع پشاور ٣؎

(مکتوب ۱۳ دسمبر ۱۸۸۳ء بنام میر عباس علی شاہ صاحب۔ مکتوبات احمدیہ جلد اول ص ۶۸ و ۶۹)

براہین احمدیہ ابتدا میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی۔ اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی۔ پھر بعد اس کے قدرت الہیہ کی ناگہانی تجلّی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی۔ یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیمہ کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا۔ کہ ایک دفعہ پردۂ غیب سے اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَ کی آواز آئی۔ اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی۔ سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً و باطناً حضرت ربّ العالمین ہے : (بقیہ حاشیہ ہماری کتاب ۔ آخری صفحہ ٹائٹل براہین احمدیہ حصہ چہارم)

نوٹ : "ضلع" کا لفظ انگریزی زبان میں استعمال ہوتا ہے ۔ دیکھو : Public Servants Inquiries Act sec 8 (دی پبلک سرونٹس انکوائریز ایکٹ دفعہ ۸) نیز دی پنجاب کورٹس ایکٹ شائع کردہ منیر چند ۱۹۳۳ء ص ۸ زیر دفعہ ۴۷ (The Punjab Courts Act) نیز اکسفورڈ ڈکشنری زیر لفظ "ضلع" (مرتب)

صفحہ 362

۱۲۹

میں خدا نے اس قدر برکت ڈال دی ۔ کہ میں نے دلی یقین سے معلوم کیا ۔ کہ وہ پُر صحت طاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دُنیا میں مل سکتی ہے ۔ وہ مجھے دی گئی ۔ اور چار لڑکے مجھے عطا کئے گئے “ (تریاق القلوب صفحہ ۴۵ و ۴۶)

بَلَغَ عَدَدُهُمْ اِلٰی ثَلٰثَةٍ وَّ اَنْبَاَنِیْ بِهِمْ قَبْلَ وُجُوْدِهِمْ بِاَثَرٍ اَلْهَمَہٗ ؂ (انجام آتھم صفحہ ۱۸۲)

جَمِیْعًا ؂ (مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مورخہ ۲۰؍ دسمبر ۱۸۸۳ء مندرجہ ۲۰ دسمبر الحکم جلد ۱۹ نمبر ۳ مورخہ ۲۱؍ جنوری ۱۹۱۵ء صفحہ ۴ ) ۔

طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں۔ اور ایک کو دُوسرے سے اوائل مارچ بشدّت مناسبت اور مشابہت ہے ۔ اور اس کو خواص انبیاء و رسل کے نمونہ پر محض بہ برکت متابعت حضرت خیرالبشر وافضل الرسل صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ان بہتوں پر اکابر اولیاء سے فضیلت دی گئی ہے۔ کہ جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اور اس کے قدم پر چلنا موجب نجات و سعادت و برکت ہے۔ اور اس کے بر خلاف چلنا موجب بُعد و حرمان ہے “ (اشتہار ضمیمہ سرمہ چشم آریہ)

مامور ہُوا ہے کہ نبی ناصری اسرائیلی (مسیح) کی طرز پر کمال مسکینی و فروتنی و غربت و تذلل و ۵ مارچ

؂ (ترجمہ از مرتب) اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے بیٹوں کے بارہ میں بشارت کے بعد بشارت دی یہانتک کہ ان کی تعداد تین تک پہنچائی۔ اور مجھے ان کی پیدائش سے پہلے الہام کے ذریعہ ان کی خبر دی۔ (نوٹ از مرتب) اسکے متعلق حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے ۔ فرمایا ” جب میری شادی ہوئی ۔ اور میں ایک مہینہ قادیان ٹھہر کر واپس دہلی گئی ۔ تو ان ایام میں حضرت مسیح موعودؑ نے مجھے ایک خط لکھا کہ میں نے خواب میں تمہارے تین جوان لڑکے دیکھے ہیں“ (سیرۃ المہدی حصہ اوّل صفحہ ۷۴)

؂ (ترجمہ از مرتب) میں نے تجھ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ۔ کہہ میں تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں ۔

صفحہ 363

۱۴۴

بیماریوں سے صاف کریگا۔ وہ کلمتہ اللہ ہے۔ کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اُسے کلمہٴ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا۔ اور دل کا حلیم۔ اور علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائیگا۔ اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ (اس کے معنے سمجھ میں نہیں آئے) دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند۔ مَظْہَرُ الْاَوَّلِ وَالْاٰخِرِ۔ مَظْہَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَاءِ کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ جس کا نزول بہت مبارک اور جلالِ الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی رُوح ڈالینگے۔ اور خدا کا سایہ اُسکے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھیگا۔ اور اسیروں کی رُستگاری کا موجب ہوگا۔ اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ اور قومیں اس سے برکت

۱؎ یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں ۔ بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جل شانہٗ نے ہمارے نبی کریم رؤف و رحیم محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے ۔ اور درحقیقت یہ نشان ایک مُردہ کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ اعلیٰ و اولیٰ و اکمل و افضل و اَتم ہے ۔ کیونکہ مُردہ کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے۔ کہ جناب الٰہی میں دُعا کر کے ایک رُوح واپس منگوایا جاوے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت سی کلام ہے۔ مگر اس جگہ بفضلہٖ تعالیٰ و احسانہٖ و بہ برکت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا وند کریم نے اس عاجز کی دُعا کو قبول کر کے ایسی با برکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔ سو اگرچہ بظاہر یہ نشان احیائے موتیٰ کے برابر معلوم ہوتا ہے۔ مگر غور کرنے سے معلوم ہو گا ۔ کہ یہ نشان مُردوں کے زندہ کرنے سے صد ہا درجہ بہتر ہے ۔ مُردوں کی بھی رُوح ہی دُعا سے واپس آتی ہے ۔ اور اس جگہ بھی دُعا سے ایک رُوح ہی منگائی گئی ہے۔ مگر ان رُوحوں اور اس رُوح میں لاکھوں کوسوں کا

صفحہ 364

۲۹

ماں ہوگی۔ اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔ یہ تفاءل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس کی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے“

(تریاق القلوب صفحہ ۶۴ و ۶۵)

۱۸۸۱ء تخمیناً ”تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گذرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد حسین ۵۹ بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعۃ السنۃ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آج کل کوئی الہام ہوا ہے ؟ میں نے اس کو یہ الہام سنایا جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سُنا چکا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ

بِكْرٌ وَّ ثَيِّبٌ ۱؎

جس کے یہ معنے ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کئے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا۔ پورا ہوگیا۔ اور اس وقت بفضلہ تعالیٰ چار پسر اس بیوی سے موجود ہیں۔ اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے“

(تریاق القلوب صفحہ ۷۳) و ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۹۰

۱۸۸۱ء (۱) ”ایک ہندو آریہ . . . ایک مدت سے بہ مرض دق مبتلا تھا۔ اور رفتہ رفتہ ۶۰ اس کی مرض انتہا کو پہنچ گئی۔ اور آثار مایوسی کے ظاہر ہو گئے۔ ایک دن وہ میرے پاس آکر اور اپنی زندگی سے ناامید ہوکر بہت بیقراری سے رویا۔ میرا دل اس کی عاجزانہ حالت پر پگھل گیا۔ اور میں نے حضرت احدیت میں اس کے حق میں دعا کی چونکہ حضرت احدیت میں اس کی صحت مقدر تھی۔ اسلئے دعا کرنے کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا ۔

قُلْنَا يَا نَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّ سَلَامًا

یعنی ہم نے تپ کی آگ کو کہا کہ تُو سرد اور سلامتی ہوجا۔ چنانچہ اسی وقت اس ہندو

۱؎ خاکسار کی رائے میں یہ الہام الٰہی اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت ام المومنین کی ذات میں ہی پورا ہوا ہے۔ جو بکر یعنی کنواری آئیں۔ اور ثیّب یعنی بیوہ رہ گئیں۔ :۔ واللہ اعلم ۔ (مرتب)

۲؎ یہ عبارت طے کرتی ہے کہ یہ الہام باطل ہو گیا کیونکہ مرزا نے خود لکھا ہے ۔ کہ دو جزوں میں سے ۱۲ ایک جز باطل ہو جائے تو وہ اس بات کی مستلزم ہوتی ہے کہ دوسرا جز بھی باطل ہے ۔ دیکھو براہین احمدیہ ص ۲۶۲

صفحہ 365

۱۸۴

پہنچا ہی دیا جائے گا۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا۔ کہ اگرچہ پانچ ہزار تھوڑے آدمی ہیں۔ پر اگر خدا تعالیٰ چاہے۔ تو تھوڑے بہتوں پر فتح پا سکتے ہیں۔ اُس وقت میں نے یہ آیت پڑھی ۔ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللهِ “

(ازالۃ الاوہام صفحہ ۹۷ و ۹۸ حاشیہ)

۲۳۱ ۱۸۹۱ء ”اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ جو بات اس عاجز کی دُعا کے ذریعہ سے رَدّ کی جائے۔ وہ کسی اور ذریعہ سے قبول نہیں ہو سکتی۔ اور جو دروازہ اس عاجز کے ذریعہ سے کھولا جائے۔ وہ کسی اور ذریعہ سے بند نہیں ہو سکتا۔“

(ازالۃ الاوہام ص۱۷۲ حاشیہ)

۲۳۲ ۱۸۹۱ء ” اَنْتَ اَشَدُّ مِنَّا شَبَهًا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَاَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ خُلُقًا وَّ خَلْقًا وَزَمَانًا “ ۱؎

(ازالۃ الاوہام صفحہ ۱۴۲)

۲۳۳ ۱۸۹۲ء ”خدا تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیشگوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے کہ میری ہی ذُرّیت سے ایک شخص پیدا ہو گا۔ جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہوگی۔ وہ آسمان سے اُترے گا۔ اور زمین والوں کی راہ سیدھی کرے گا۔ وہ اسیروں کو رستگاری بخشے گا۔ اور ان کو جو شبہات کی زنجیروں میں مقید ہیں۔ رہائی دے گا۔ فرزند دلبندِ گرامی و ارجمند مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَاءِ كَاَنَّ اللّٰهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ “ ۲؎

(ازالۃ الاوہام صفحہ ۱۵۶)

۲۳۴ ۱۸۹۲ء ”چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو الْاٰيَاتُ بَعْدَ الْمِائَتَيْنِ ہے۔ ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرھویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہوگا۔ اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز

۱؎ (ترجمہ از مرتب) تُو کیا بلحاظ اخلاق کیا بلحاظ صورت و خلقت اور کیا بلحاظ زمانہ عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ سب لوگوں سے بڑھ کر مناسبت اور مشابہت رکھتا ہے۔ ۲؎ (ترجمہ از مرتب) فرزند دلبند ۔ بزرگ اور اقبال مند ۔ حق اور رفعت کا مظہر گویا کہ خدا آسمان سے اُتر آیا ہے۔

صفحہ 366

قائم ہو جائے گی۔ اور فتح کھلی کھلی ہو گی۔ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک بھاری جماعت ہیں۔ یہ سب بھاگ جائینگے اور پیٹھ پھیرلیں گے۔ اگر لوگ تجھے چھوڑ دیں گے، پر میں نہیں چھوڑونگا۔ اور اگر لوگ تجھے نہیں بچائینگے پر میں بچاؤں گا۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤنگا اور قدرت نمائی سے تجھے اُٹھاؤنگا۔ اے ابراہیم تجھ پر سلام۔ ہم نے تجھے خالص دوستی کے ساتھ چن لیا۔ خُدا تیرے سب کام درست کر دیگا اور تیری ساری مُرادیں تجھے دیگا۔ تُو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید اور تفرید۔ خُدا ایسا نہیں جو تجھے چھوڑ دے۔ جب تک وہ خبیث کو طیّب سے جُدا نہ کرے۔ وہ تیرے مجد کو زیادہ کریگا۔ اور تیری ذریّت کو بڑھائیگا۔ اور من بعد تیرے خاندان کا تجھ سے ہی ابتدا قرار دیا جائیگا۔ میں تجھے زمین کے کناروں تک عزّت کے ساتھ شہرت دُونگا۔ اور تیرا ذکر بلند کروں گا۔ اَور تیری محبت دِلوں میں ڈال دُونگا۔ جَعَلْنَاكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ (ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا۔ ان کو کہدے کہ میں عیسیٰ کے قدم پر آیا ہوں)۔ يَأْتِيْ عَلَيْكَ زَمَانٌ مُخْتَلِفٌ بِاَزْوَاجٍ مُّخْتَلِفَةٍ ١۔ وَ تَرى نَسْلًا بَعِيْدًا۔ وَ لَنُحْيِيَنَّكَ حَيٰوةً طَيِّبَةً ثَمَانِيْنَ حَوْلًا اَوْ قَرِيْبًا مِنْ ذٰلِكَ (ازالہ اوہام صفحہ ۶۳۲ - ۶۳۵)

١٨٩٠ء ”یہ وہ زمانہ ہے۔ جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا۔ جو کمال طغیان ۲۴۰ اس کا اُس سِن ہجری میں شروع ہوگا۔ جو آیت وَاِنَّا عَلٰى ذَهَابٍ بِهٖ (پ ۱۸)

له ترجمہ از مرتب :- تجھ پر مختلف ازواج (یعنی رفقاء) کے ساتھ مختلف زمانے آئیں گے۔ اور تُو دُور کی نسل دیکھے گا۔ اور ہم تجھے خوش زندگی نصیب کریں گے۔ اسّی سال یا اس کے قریب ۔

صفحہ 367

۲۱۹

لوگوں پر اثر بہت کم پڑیگا۔ ہاں اتمامِ حُجّت ہوگا" (آئینہ کمالاتِ اسلام ص ۳۶۶)

۱۸۹۳ء ١؂ قَدْ اَلْهَمَنِيْ رَبِّيْ فِيْ أَمْرِكُمْ وَ قَالَ ۲۹۰ إِنَّهُمْ يُنَادُوْنَ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ ؁

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۳۶۶)

۱۸۹۳ء ٢؂ هُوَ نَادَانِيْ وَقَالَ ۲۹۱ قُلْ لِعِبَادِيْ إِنِّيْ اُمِرْتُ وَ أَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۳۶۷)

۱۸۹۳ء ٣؂ نَادَانِيْ رَبِّيْ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ ۲۹۲ اِصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا وَ قُمْ وَ اَنْذِرْ فَاِنَّكَ مِنَ الْمَاْمُوْرِيْنَ ۔ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ ۔ وَ لِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ ۔ اِنَّا جَعَلْنَاكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ لِاِتْمَامِ حُجَّتِيْ عَلٰى قَوْمٍ مُّتَنَصِّرِيْنَ ۔ قُلْ هٰذَا فَضْلُ رَبِّيْ ۔ وَ إِنِّيْ اُجَرِّدُ نَفْسِيْ مِنْ ضُرُوْبِ الْخِطَابِ ۔ وَ اُمِرْتُ

۱؎ (ترجمہ از مرتب) (اے فقراء و مشائخ!) مجھے میرے رب نے آپ لوگوں کے متعلق الہام کے ذریعہ سے بتایا ہے ۔کہ یہ لوگ دُور سے پکارے جاتے ہیں۔ یعنی بہت دُور جا پڑے ہیں۔

۲؎ (ترجمہ از مرتب) اس نے مجھے پکار کر فرمایا۔ کہ میرے بندوں سے کہہ دے کہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں۔ اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔

۳؎ (ترجمہ از مرتب) میرے رب نے مجھے آسمان سے پکار کر فرمایا کہ تُو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے ماتحت کشتی تیار کر (لوگوں کو آنیوالے عذابوں سے) ڈرا۔ کیونکہ تُو مامور ہے کہ اُن لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادوں کے پاس کوئی نذیر نہیں آیا تھا۔ اور تاکہ مجرموں کی راہ اچھی طرح ظاہر ہو جائے۔ ہم نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا ہے ۔ تاکہ نصرانیت کو اختیار آنیوالے لوگوں پر میں اپنی حجّت پوری کروں۔ تُو کہہ کہ یہ میرے رب کا فضل ہے ۔ اور مَیں اپنے آپ کو ہر قسم کے خطابوں سے الگ رکھتا ہوں۔ اور مجھے اللہ تعالیٰ کیطرف سے حکم ملا ہے۔ اور میں سب سے پہلے ایمان لانیوالا ہوں۔

صفحہ 368

۲۲۳

الْحَيَاةِ - مَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَهُوَ يَحْيٰى - بَلْ يَكُونُ مِنَ الْمُحْيِيْنَ ۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ ۵۴۵ و ۵۴۶)

البشریٰ

" يَا أَحْمَدُ بَارَكَ اللّٰهُ فِيْكَ - اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ -

۲۹۹

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا اُنْذِرَ اٰبَاءُهُمْ - وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ - قُلْ اِنِّيْ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ - يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ - اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ - اَنْتَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيْدِيْ وَتَفْرِيْدِيْ فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَ تُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ - وَ يُعَلِّمُكَ اللّٰهُ مِنْ عِنْدِهٖ - تَقِيْمُ الشَّرِيْعَةِ وَتُحْيِ الدِّيْنَ - اِنَّا جَعَلْنٰكَ الْمَسِيْحَ بْنَ مَرْيَمَ - وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنْ عِنْدِهٖ وَلَوْ

بقیہ ترجمہ) وہ ایک سمندر ہے جس میں آبحیات موجیں مار رہا ہے ۔ جو اس میں سے پیتا ہے ۔ وہ زندہ ہو جاتا ہے ۔ بلکہ دُوسروں کو زندہ کرنے والا بن جاتا ہے ۔

(۲) ترجمہ از مرتب) اے احمد ! خُدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے ۔ خُدائے رحمان نے تجھے قرآن سکھلایا ۔ تاکہ تُو ان لوگوں کو ڈرائے ۔ جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے ۔ اور تاکہ مجرموں کی راہ کُھل جائے ۔ کہہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں ۔ اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں ۔ اَے عیسیٰ میں تجھے وفات دُوں گا ۔ اور اپنی طرف اُٹھاؤں گا ۔ اور منکروں کے ہر ایک الزام اور تہمت سے تیرا دامن پاک کروں گا ۔ اور تیرے تابعین کو ان پر جو منکر ہیں ۔ قیامت تک غلبہ بخشوں گا ۔ آج تُو میرے نزدیک با مرتبہ اور امین ہے ۔ تُو مجھ سے ایسا ہے ۔ جیسا میری توحید اور تفرید ۔ سو وہ وقت آگیا ۔ جو تیری مدد کی جائے ۔ اور تجھے لوگوں میں معروف و مشہور کیا جائے ۔ اور اللہ تعالیٰ تجھے اپنے پاس سے سکھائے گا ۔ تو شریعت کو قائم کرے گا۔ اور دین کو زندہ کریگا ۔ ہم نے تجھے مسیح بن مریم بنایا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کریگا ۔ اگرچہ لوگ

صفحہ 369

۲۲۶ وَ اَعِدْنِيْ لِاُصْلِحَ مَامَّ بِمَا لِاُحَارِبَ الْفَرَاعِنَةَ وَ الظّٰلِمِيْنَ ۝

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۶)

۲۰۲ ۱۸۹۳ء وَ هَنَّأَنِيْ رَبِّيْ وَ قَالَ اِنَّا مُهْلِكُوْ بَعْلِهَا لَمَّا اَهْلَكْنَا اَبَاهَا وَ رَادُّوْهَا اِلَيْكَ ۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ ۔ وَ مَا نُؤَخِّرُهُ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ ۔ قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّيْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَ ۔ وَ اِذَا جَاءَ وَعْدُ الْحَقِّ اَهٰذَا الَّذِيْ كُذِّبْتُمْ بِهٖ اَمْ كُنْتُمْ عَمِيْنَ ۝

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۶)

۲۰۳ ۱۸۹۳ء (۲) "وَ رَاَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَاَنِّيْ اَسْرَجْتُ جَوَادِيْ لِبَعْضِ مَرَادِيْ وَ مَا اَدْرِيْ اَيْنَ تَوَجُّهِيْ وَ اَيُّ اَمْرٍ مَطْلَبِيْ ۔ وَ كُنْتُ اَحِسُّ فِيْ قَلْبِيْ اَنَّنِيْ لِاَمْرٍ مِّنَ الْمَشْغُوْفِيْنَ ۔ فَاَمْتَطَيْتُ اَجْرَدِيْ ۔ بِاسْتِصْحَابِ بَعْضِ الْمُتَعَلِّقِيْنَ مُتَوَكِّلًا عَلَى اللّٰهِ تَسَنُّنَ اَهْلِ الصَّلَاحِ ۔ وَ لَمْ اَكُنْ كَالْمُتَبَادِرِيْنَ وَ جَدْتُنِيْ كَاَنِّيْ عَثَرْتُ عَلٰى خَيْلٍ قَصَدُوْا مُتَسَلِّحِيْنَ دَارِيْ

(بقیہ ترجمہ) کے لئے تیار کیا۔ تاکہ میں فرعونی سیرت لوگوں اور ظالموں سے جنگ کروں۔ ۱؎ (ترجمہ از مرتب) اور میرے رب نے مجھے مبارک دی اور فرمایا۔ ہم اس کے خاوند کو ذلیل کریں گے۔ جیسا کہ ہم نے اس کے باپ کو ہلاک کیا۔ اور اس (لڑکی) کو تیری طرف لوٹائیں گے۔ تیرے رب کی طرف سے (یہ) سچ ہے۔ پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔ اور ہم اسے صرف گنتی کی مدت تاخیر کریں گے۔ کچھ اس عرصہ کی انتظار کرو۔ اور میں (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں۔ اور جب خدا کا وعدہ آئے گا (تب کہا جائیگا) کیا یہ وہی ہے جس کو تم نے جھٹلایا تھا۔ یا تم اندھے تھے۔ ۲؎ (ترجمہ از مرتب) اور (ایک مرتبہ) میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں نے کسی مقصد کے لئے جانے کی غرض سے اپنے گھوڑے پر زین ڈالی ہے۔ اور یہ بات میں نہیں جانتا تھا کہ کدھر اور کس مقصد کیلئے جانے کی تیاری ہے۔ ہاں میں اپنے دل میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ میں کسی خاص بات کے شغف اور اشتیاق کی وجہ سے یہ تیاری کر رہا ہوں۔ میں نے کچھ ہتھیار لگا لئے۔ اور صالحین کے طریق کے مطابق اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے چستی کے ساتھ گھوڑے پر سوار ہوا۔ پھر میں نے ایسا محسوس کیا کہ گویا مجھے کچھ سواروں کا پتہ لگا ہے۔ جو مسلح ہیں۔ اور مجھے ہلاک کرنے کی غرض سے

صفحہ 370

۲۴۸

اِلَيْكَ اَمْرٌ مِّنْ لَّدُنَّا اِنَّا كُنَّا فَاعِلِيْنَ ٦٨ اِنَّهُمْ كَانُوْا يُكَذِّبُوْنَ بِاٰيَاتِيْ وَكَانُوْا بِيْ مِنَ الْمُسْتَهْزِئِيْنَ ٦٩ فَبُشْرٰى لَكَ فِي النِّكَاحِ ٧٠ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ ٧١ اِنَّا رَادُّوْهَا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ ٧٢ وَاِنَّا رَادُّوْهَا اِلَيْكَ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ ٧٣ فَضْلٌ مِّنْ لَّدُنَّا ٧٤ لِيَكُوْنَ اٰيَةً لِّلنَّاظِرِيْنَ ٧٥ شَاتَانِ تُذْبَحَانِ وَكُلٌّ مِّنْ عَلَيْنَا فَانٍ ٧٦ وَنُرِيْهِمْ اٰيَاتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْ اَنْفُسِهِمْ ٧٧ وَنُرِيْهِمْ جَزَاءَ الْفَاسِقِيْنَ ٧٨ اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ وَانْتَهٰى اَمْرُ الزَّمَانِ اِلَيْنَا اَلَيْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ ٧٩ بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ ٨٠ كُنْتُ كَنْزًا مَّخْفِيًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ ٨١ اَنَّ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ٨٢ قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ يُّوْحٰى اِلَيَّ اَنَّمَا اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ

ترجمہ : ۶۸ ۔ یہ لوگ میرے نشانوں کو جھٹلاتے تھے اور مجھ پر تمسخر کرتے تھے ۔ ۶۹ ۔ تجھے نکاح کے متعلق بشارت ہو ۔ یہ بات تیرے رب کی طرف سے حق ہے ۔ پس تو شک کرنے والوں میں سے مت ہو ۔ ہم نے اُس کو تیرے ساتھ ملا دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں ٹل نہیں سکتیں ۔ اور ہم اُسے تیری طرف واپس لائیں گے ۔ تیرا رب جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ یہ ہمارا فضل ہے تا دیکھنے والوں کے لئے ایک نشان ہو ۔ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی ۔ اور روئے زمین کے سب لوگ فنا ہونے والے ہیں ، اور ہم اُنہیں اردگرد اور خود اُن کی ذات میں نشان دکھائیں گے ۔ اور انہیں ہم نافرمانوں کی سزا (کا نمونہ) دکھائیں گے ۔ جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آئے گی ۔ اور زمانہ ہماری طرف رجوع کرے گا ۔ (اُس دن کہا جائے گا ۔ کہ) کیا یہ حق نہ تھا ؟ بلکہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کھلی گمراہی میں ہیں ۔ میں ایک خزانہ پوشیدہ تھا پس میں نے چاہا کہ ظاہر کیا جاؤں ۔ آسمان اور زمین بند گٹھری کی طرح تھے ۔ پس ہم نے ان کو کھول دیا ۔ کہہ میں محض ایک بشر ہوں جس پر وحی کی جاتی ہے ۔

صفحہ 371

۲۸۳ اِتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ - نَظَرَ اللهُ اِلَيْكَ مُعَطَّرًا - وَقَالُوْا اَتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْهَا قَالَ اِنِّيْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ - وَقَالُوْا كِتَابٌ مُّفْتَرًى مِّنَ الْكَفَرَةِ الْكَذَبِ - قُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاءَنَا وَاَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَةَ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ - سَلَامٌ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ صَافَيْنَاهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ - تَفَرَّدْنَا بِذٰلِكَ - يَا دَاوُدُ عَامِلْ بِالنَّاسِ رِفْقًا وَّ اِحْسَانًا - تَمُوْتُ وَاَنَا رَاضٍ مِّنْكَ - وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ - كَذَّبُوْا بِاٰيَاتِيْ وَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ - فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللهُ وَيَرُدُّهَا اِلَيْكَ - اَمْرٌ مِّنْ لَّدُنَّا اِنَّا كُنَّا فَاعِلِيْنَ - زَوَّجْنَاكَهَا - اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ - لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ - اِنَّا رَادُّوْهَا اِلَيْكَ - يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ - اِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَا اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ - اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ اِلٰى اَجَلٍ مُّسَمًّى - اَجَلٍ قَرِيْبٍ - يَأْتِيْ قَمَرُ الْاَنْبِيَاءِ وَ اَمْرُكَ يَتَأَتّٰى - هٰذَا يَوْمٌ عَصِيْبٌ - تَوَجَّهْتُ لِفَصْلِ الْخِطَابِ - اِنَّا رَادُّوْهَا اِلَيْكَ - اِنِ اسْتَجَارَتْكَ فَاَجِرْهَا - وَلَا تَخَفْ سَنُعِيْدُهَا سِيْرَتَهَا الْاُوْلٰى -

صفحہ 372

۳۶۰

تکلف کے طور پر یہ سمجھا ۔ کہ یہ صحت کی طرف اشارہ ہے ۔ لیکن دل نہیں مانتا تھا ۔ کہ اس خواب کی تعبیر صحت ہو ۔ سو اب اس خواب کی تعبیر ظہور میں آئی ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ “

(از مکتوب مورخہ ۲۵ اپریل ۱۹۰۰ء

بنام ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مندرجہ الحکم جلد ۴ نمبر ۱۵ مورخہ ۱۷ مئی ۱۹۰۰ء ص ۱۴)

۴۹۹ ۲۵ اپریل ۱۹۰۰ء ”اس خط کے لکھنے کے وقت میں جو ایوب بیگ مرحوم کی طرف توجہ تھی۔ کہ وہ کیونکر جلد ہماری آنکھوں سے ناپدید ہو گیا۔ اور تمام تعلقات کو خواب و خیال کر گیا۔ کہ یک دفعہ الہام ہُوا ۔

مبارک وہ آدمی جو اس دروازہ کے راہ سے
داخل ہو ۔

یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ عزیزی ایوب بیگ کی موت نہایت نیک طور پر ہوئی ہے۔ اور خوش نصیب وہ ہے۔ جس کی ایسی موت ہو “

(از مکتوب مورخہ ۲۵ اپریل ۱۹۰۰ء بنام ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب مندرجہ الحکم جلد ۴ نمبر ۱۵ مورخہ ۱۷ مئی ۱۹۰۰ء ص ۱۴)

۵۰۰ ۱۹۰۰ء ”خدا نے مجھے کہا۔ کہ اُٹھ اور ان لوگوں کو کہہ دے ۔ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے ۔ پس کیا تم خدا کی گواہی رَدّ کرو گے ۔ خدا کا کلام جو میرے پر نازل ہُوا ۔ اُس کے یہ الفاظ ہیں ۔

قُلْ عِنْدِیْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ ۔ قُلْ عِنْدِیْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ۔ وَقُلْ یَا اَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعًا ۔

(از اشتہار معیار الاخیار ص ۸ مورخہ ۲۰ مئی ۱۹۰۰ء)

(ترجمہ) ان کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم ایمان لاؤ گے یا نہیں ۔ ان کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے۔ پس تم قبول کرو گے یا نہیں ۔ کہہ اگر تم

لہ مرزا ایوب بیگ صاحب ۔ (مرتب)

صفحہ 373

۳۸۸

سَبِيْلَهُ - اَنْتَ الْقَائِمُ عَلٰی نَفْسِهٖ - مَظْهَرُ الْحَقِّ - وَ اَنْتَ مِنِّیْ مَبْدَءُ الْاَمْرِ - وَ اَنْتَ مِنْ مَّاءٍ نَّاوَّ هُمْ مِّنْ فَشَلٍ - اِذَا الْتَقَی الْفِئَتَانِ - فَاِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ - وَ يَنْصُرُهُ الْمَلَائِكَةُ اِنِّیْ اَنَا الرَّحْمٰنُ ذُو الْمَجْدِ وَالْعُلٰی - وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی - اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰی - اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ - وَلِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ - يَا عَبْدِيْ لَا تَخَفْ - اَلَمْ تَرَ اَنَّا نَأْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا - اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ - (اربعین نمبر ۳ صفحہ ۳۱ تا ۳۶)

بقیہ ترجمہ : ۔ نعمتیں تیرے پر پوری کرے گا ۔ تاکہ خدا کا یہ کام مومنوں کے لئے نشان ہو ۔ اَے ابراہیم ! تو میرے ساتھ ہے ۔ اور مَیں تیرے ساتھ ہوں ۔ تو روشن نشان اور فیصلہ کُن نشان ہے ۔ اللہ تعالیٰ تیرے ذریعہ سے لوگوں کو اپنی راہ دکھائے گا ۔ تو وَہ ہے جو اَپنے نفس کا ہر وقت نگران ہے ۔ زندہ خدا کا مظہر ۔ اور تو میری طرف سے امر مقصود کا مبدأ ہے ۔ اور تو ہمارے پانی میں سے ہے ۔ اور وہ فَشَل سے ہیں ۔ جَب دو گروہ آمنے سامنے ہوں گے ۔ تو مَیں اَپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا ۔ اور ملائکہ اُس کی مدد کریں گے ۔ مَیں ہی رحمان ہوں بزرگی اور بلندی والا ۔ اَور وَہ اپنی خواہش کے ماتحت نہیں بولتا ۔ بلکہ وَحی کا تابع ہے ۔ جو نازل کی جاتی ہے ۔ مَیں نے ارادہ کیا کہ مَیں خلیفہ بناؤں ۔ پس مَیں نے آدم کو پیدا کیا ۔ اور شروع میں بھی اور بعد میں بھی اللہ ہی کی حکومت ہے ۔ اَے میرے بندے مت ڈر ۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ ہم زمین کو اُس کے کناروں سے کم کرتے چلے آتے ہیں ۔ کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے ٭

صفحہ 374

۵۸۴

یہ الفاظ زبان پر جاری ہوئے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ اَوْصَلَنِيْ صَحِيْحًا ؎۱

(الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲ مورخہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۰۶ء ص ۱ و بدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخہ ۱۹؍ جنوری ۱۹۰۶ء ص ۱)

۹۷۹

۱۹۰۶ء

۱۴؍ جنوری

(۱) كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِيْ (۲) سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ (۳) ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔

(ترجمہ) خدا نے ابتداء سے مقدر کر چھوڑا ہے۔ کہ وہ اور اس کے رسول غالب رہیں گے (۲) خدائے رحیم کہتا ہے کہ سلامتی ہے۔ یعنی خائب و خاسر کی طرح تیری موت نہیں ہے۔ اور یہ کلمہ کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں اس کے یہ معنی ہیں۔ کہ قبل از موت مکی فتح نصیب ہوگی۔ جیسا کہ وہاں دشمن کو قہر کیساتھ مغلوب کیا گیا تھا اسی طرح یہاں بھی دشمن قہری نشانوں سے مغلوب کئے جائیں گے۔ دوسرے یہ معنے ہیں کہ قبل از موت مدنی فتح نصیب ہوگی۔ خود بخود لوگوں کے دل ہماری طرف مائل ہو جائیں گے۔ فقرہ كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِيْ مکہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور فقرہ سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ۔ مدینہ کی طرف“

(بدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخہ ۱۹؍ جنوری ۱۹۰۶ء ص ۱ و الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲ مورخہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۰۶ء ص ۱)

۹۸۰

۱۹۰۶ء

۱۵؍ جنوری

”تزلزل در ایوان کسریٰ فتاد“

(بدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخہ ۱۹؍ جنوری ۱۹۰۶ء ص ۱ و الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخہ ۲۴؍ جنوری ۱۹۰۶ء ص ۱)

(بقیہ حاشیہ) کا ہے۔ یہ ایک پیشگوئی تھی جس کا مطلب یہ تھا۔ کہ آپ کا مثیل دہلی جائیگا۔ لوگ اس پر پتھراؤ کریں گے۔ یہ جو سنگباری کی گئی دراصل مجھ پر تھی۔ جسے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مسند پر بٹھایا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ آپ کو یعنی آپ کے مظہر کو صحیح و سالم واپس قادیان لائیگا۔ .... یہ جو کہا گیا ہے کہ مجھے صحیح و سالم پہنچا دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض دُوسروں کو نقصان پہنچے گا“ (الفضل جلد ۲۲ نمبر ۴۲ مورخہ ۳۱؍ مئی ۱۹۳۵ء ص ۵) ؎۱ (ترجمہ) سب حمد اس اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے صحیح و سالم پہنچا دیا۔ ؎۲ (ترجمہ از مرتب) شاہِ ایران کے محل میں تزلزل پڑ گیا ۔ (نوٹ از مرتب) چنانچہ اس الہام کے بعد بالکل خلافِ توقع ایران میں جلد ہی شورِ بغاوت برپا ہوا۔ اور مظفر الدین شاہِ ایران نے مجبوراً بتاریخ

صفحہ 375

۶۰۰

کہتے ہیں۔ یا بشارت کسی اور وقت تک موقوف ہو"

(بدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۵؍ اپریل ۱۹۰۶ء ص ۲ والحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۶ء ص ۱)

۱۰۲۹ مارچ ۱۹۰۶ء "خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے۔ اور اُس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔ اور خدا کے نزدیک قابل مؤاخذہ ہے" (مکتوب بنام ڈاکٹر عبدالحکیم مرتد)

۱۰۳۰ ۳؍ اپریل ۱۹۰۶ء (۱) "هُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ" (۲) "اِنَّ اللّٰهَ قَدْ مَنَّ عَلَيْنَا" ؎ ۱

(بدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۲؍ اپریل ۱۹۰۶ء ص ۲ والحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۶ء ص ۱)

۱۳؍ اپریل ۱۹۰۶ء "کل خواب میں مولوی عبد الکریم صاحب کو دیکھا۔ کہ ایک بڑے کمرے میں پھر رہے ہیں۔ میں نے کہا آؤ۔ مصافحہ کر لیں۔ پھر مصافحہ کیا۔ اور میں اُنہیں کہتا ہوں۔ دعا کرو۔ دشمنوں پر خدا مجھے غلبہ دے۔ اور پھر آج دیکھا۔ کہ ایک کمرے میں پھرتے ہیں۔ بہت جوش میں اور سخت ناراض ہیں۔ کہ وہ میرا نام لے کر کہتے ہیں۔ کہ کیوں لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ اور کیوں نہیں مانتے اور بڑے جوش اور غضب سے کہہ رہے ہیں ۔"

(بدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۲؍ اپریل ۱۹۰۶ء ص ۲ والحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۶ء ص ۱)

۱۰۳۱ ۱۴؍ اپریل ۱۹۰۶ء " يَأْتِيْكَ الْفَرَجُ " ؎ ۲

(بدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ ۱۹؍ اپریل ۱۹۰۶ء ص ۲ والحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۶ء ص ۱)

۱۰۳۲ ۱۸؍ اپریل ۱۹۰۶ء (۱) " رَبِّ اَرِنِيْ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ (۲) يُرِيْكُمُ اللّٰهُ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ " ؎ ۳

؎ ۱ (ترجمہ) اللہ وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ اُسے تمام ادیان پر غالب کر دے۔ (۲) بے شک اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔

؎ ۲ (ترجمہ) تیرے پاس خوشی اور کشائش آئے گی ۔

؎ ۳ (ترجمہ) خدایا مجھے زلزلہ دکھا۔ جو اپنی شدت کی وجہ سے نمونہ قیامت ہے ۔ (۲) خدا تعالیٰ تمہیں وہ زلزلہ دکھائے گا ۔ جو اپنی شدت کی وجہ سے نمونہ قیامت ہوگا ۔

صفحہ 376

۶۳۷

نَحْنُ اَوْلِيَآءُ كُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ۔ ہم تمہارے متولی اور متکفل دنیا اور آخرت میں ہیں ۔ اِذَا غَضِبْتَ غَضِبْتُ۔ وَ كُلَّمَا اَحْبَبْتَ جس پر تو غضب ناک ہو میں غضب ناک ہوتا ہوں اور جن سے تو محبت کرتا ہو اَحْبَبْتُ ۔ مَنْ عَادٰى وَلِيًّا لِّيْ فَقَدْ اٰذَنْتُهٗ میں بھی محبت کرتا ہوں ۔ جو شخص میرے ولی سے دشمنی رکھے میں لڑنے کیلئے بِالْحَرْبِ - اِنِّيْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ۔ وَ اَلُوْمُ مَنْ اس کو تنبیہ کرتا ہوں۔ میں اس رسول کے ساتھ کھڑا ہونگا۔ اور اس شخص کو ملامت کرونگا يَّلُوْمُ - وَ اُعْطِيْكَ مَا يَدُوْمُ۔ يَاْتِيْكَ الْفَرَجُ۔ جو اسکو ملامت کرے۔ اور تجھے وہ چیز دونگا جو ہمیشہ رہیگی۔ کشائش تجھے ملے گی ۔ سَلَامٌ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ - صَافَيْنَاهُ وَ نَجَّيْنَاهُ مِنَ اس ابراہیم پر سلام ۔ ہم نے اس سے صاف دوستی کی اور غم سے الْغَمِّ - تَفَرَّدْ نَا بِذٰلِكَ - فَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ نجات دی۔ ہم اس امر میں اکیلے ہیں ۔ سو تم اس ابراہیم کے مقام سے اِبْرَاهِيْمَ مُصَلًّى - اِنَّا اَنْزَلْنَاهُ قَرِيْبًا مِّنَ عبادت کی جگہ بناؤ یعنی اس نمونہ پر چلو۔ ہم نے اس کو قادیان کے قریب الْقَادِيَانِ - وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ ۔ اتارا ہے ۔ اور وہ عین ضرورت کے وقت اتارا گیا اور ضرور سچے وقت اترا ہے صَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ - وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا ۔ خدا اور اسکے رسول کی پیشگوئی پوری ہوئی ۔ اور خدا کا ارادہ پورا ہونا ہی تھا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ جَعَلَكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ ۔ اس خدا کی تعریف ہے جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا ۔

صفحہ 377

۶۳۹

اَنْ يُّتِمَّ اَمْرَكَ ١٩١ اِنِّيْ اَنَا الرَّحْمٰنُ ۔ سَاَجْعَلُ لَكَ تیرے تمام کام پورے کرے۔ میں رحمان ہوں۔ ہر ایک امر میں تجھے سُهُوْلَةً فِيْ كُلِّ اَمْرٍ ۔ اُرِيْكَ بَرَكَاتِيْ مِنْ كُلِّ طَرْفٍ ۔ سہولت دوں گا۔ ہر ایک طرف سے تجھے برکتیں دکھلاؤں گا۔ نَزَلَتِ الرَّحْمَةُ عَلٰى ثَلَاثٍ ١٩٢ اَلْعَيْنِ وَعَلَى الْاُخْرَيَيْنِ ۔ میری رحمت تیرے تین عضو پر نازل ہے ایک آنکھیں اور دو اور عضو ہیں یعنی انکو سلامت تُرَدُّ اِلَيْكَ اَنْوَارُ الشَّبَابِ ۔ تَرٰى نَسْلًا بَعِيْدًا ١٩٣ ؎ رکھونگا اور جوانی کے نور تیری طرف عود کرینگے اور تو اپنی ایک دُور کی نسل کو دیکھ لے گا۔ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ مَظْهَرِ الْحَقِّ وَالْعَلَاءِ كَاَنَّ ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جس کے ساتھ حق کا ظہور ہوگا۔ گویا اللّٰهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ ۔ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ آسمان سے خدا اُترے گا۔ ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں نَافِلَةً لَّكَ ۔ سَبَّحَكَ اللّٰهُ وَرَافَقَكَ ۔ وَعَلَّمَكَ جو تیرا پوتا ہوگا۔ خدا نے ہر ایک عیب سے تجھے پاک کیا اور تجھ کو موافقت کی اور وہ عقائد مَا لَمْ تَعْلَمْ ۔ اِنَّهٗ كَرِيْمٌ يَّمْشِيْ اَمَامَكَ وَعَادٰى تجھے سکھلائے جن کا تجھے علم نہ تھا۔ وہ کریم ہے وہ تیرے آگے آگے چلا۔ اور تیرے دشمنوں کا مَنْ عَادٰى ۔ وَقَالُوْا اِنْ هٰذَا اِلَّا اخْتِلَاقٌ ۔ اَلَمْ وہ دشمن ہوا۔ اور کہیں گے کہ یہ تو ایک بناوٹ ہے۔ اے معترض کیا تو تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ۔ يُلْقِي الرُّوْحَ نہیں جانتا کہ خدا ہر ایک بات پر قادر ہے۔ جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے

؎ یہ خدا تعالیٰ کی وحی یعنی تَرٰى نَسْلًا بَعِيْدًا قریباً تیس سال کی ہے۔ منہ

(حقیقۃ الوحی ص 95 حاشیہ)

صفحہ 378

۶۵۰

٢٣١ اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ۔ دَسْتِ تو دُعائے تو مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا ۔ تیرا ہاتھ ہے اور تیری دُعا ٢٣٢ تَرَحَّمْ زَ خُدَا ۔ زَلْزَلَہ کا دھکَّا ۔ ٢٣٣ عَفَتِ الدّیَارُ مَحَلُّہَا اور خدا کی طرف سے رحم ہو۔ زلزلہ کا دھکّا جس سے ایک حصہ عمارت مٹ جائے گا مستقل سکونت وَمَقَامُہَا ۔ ٢٣٤ تَتْبَعُہَا الرَّادِفَۃُ ۔ ٢٣٥ پھر بہار آئی کی جگہ اور عارضی سکونت کی جگہ سب مٹ جائیگی۔ اسکے بعد ایک اور زلزلہ آئیگا۔ بہار جب دوبارہ خدا کی بات ٢٣٦ پھر پوری ہوئی۔ ٢٣٧ پھر بہار آئی تو آئے آئیگی تو پھر ایک اور زلزلہ آئیگا۔ پھر بہار جب بارِ سوم آئیگی تو اسوقت اطمینان کے دن آجائینگے ثلج کے آنے کے دن۔ رَبِّ اَخِّرْ وَقْتَ ہٰذَا ۔ اور اسوقت تک خدا کئی نشان ظاہر کریگا۔ اے خدا جو تُو زلزلہ کے ظہور میں کسی قدر تاخیر کردے۔ ٢٣٨ اَخَّرَہُ اللّٰہُ اِلٰی وَقْتٍ مُّسَمًّی اِنَّہُ تَرٰی نَصْرًا خدا نمونہ قیامت کے زلزلہ کے ظہور میں ایک وقت مقرر تک تاخیر کر دیگا۔ تب تُو ایک

اے پہلے یہ وحی الٰہی ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا بہت جلد آنے والا ہے۔ اور اس کے لئے یہ نشان دیا گیا تھا کہ پیر منظور محمد لدھیانوی کی بیوی محمدی بیگم کو لڑکا پیدا ہوگا۔ اور وہ لڑکا اس زلزلہ کے ظہور کے لئے ایک نشان ہوگا۔ اس لئے اس کا نام بَشِیْرُ الدَّوْلَہ ہوگا۔ کیونکہ وہ ہماری ترقی سلسلہ کے لئے بشارت دے گا۔ اسی طرح اس کا نام عالَم کباب ہوگا۔ کیونکہ اگر لوگ توبہ نہیں کریں گے تو بڑی بڑی آفتیں دنیا میں آئیں گی۔ ایسا ہی اس کا نام کلمۃ اللہ اور کلمۃ العزیز ہوگا۔ کیونکہ وہ خدا کا کلمہ ہوگا۔ جو وقت پر ظاہر ہوگا۔ اور اس کے لئے اور نام بھی ہوں گے۔ مگر بعد اس کے مَیں نے دعا کی کہ اس زلزلہ نمونہء قیامت میں کچھ تاخیر ڈال دی جائے۔ اس دُعا کا اللہ تعالیٰ نے اس وحی میں خود ذکر فرمایا اور جواب بھی دیا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ رَبِّ اَخِّرْ وَقْتَ ہٰذَا ۔ اَخَّرَہُ اللّٰہُ اِلٰی وَقْتٍ مُّسَمًّی یعنی خدا نے دُعا قبول کر کے اس زلزلہ کو کسی اور وقت پر ڈال دیا ہے۔ اور یہ

صفحہ 379

۶۵۸ سَفِيْنَةٌ وَّ سَكِيْنَةٌ - اِنِّیْ مَعَكَ وَ مَعَ اَهْلِكَ - اُرِيْدُ کشتی ہے اور آرام ہے۔ میں تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔ میں وہی ارادہ کرونگا مَا تُرِيْدُوْنَ ۔ پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جو تمہارا ارادہ ہے۔ بنگالہ کی نسبت پیشگوئی تھی جو تقسیم بنگالہ سے اہل بنگالہ کی دل آزاری کی جاری کیا گیا تھا ، اب ان کی دلجوئی ہو گی ۔ گئی ۔ خدا فرماتا ہے کہ پھر وہ وقت آتا ہے کہ پھر کسی پیرایہ میں اہل بنگالہ کی دلجوئی کی جائیگی ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الصِّهْرَ وَ النَّسَبَ ۲؎ اس خدا کی تعریف ہے جس نے دامادی اور نسب کی رو سے تیرے پر احسان کیا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ اَذْهَبَ عَنِّی الْحَزَنَ وَ اٰتَانِیْ اُس خدا کی تعریف ہے جس نے میرا غم دُور کیا ۔ اور مجھ کو وہ چیز دی مَا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِيْنَ ۔ لَيْسَ ۔ اِنَّكَ جو اِس زمانہ کے لوگوں میں سے کسی کو نہیں دی ۔ اے سردار ! تو

بقیہ حاشیہ ۱؎ مگر ضروری ہے کہ اس سے پہلے اور زلزلے بھی آئیں۔ اس لڑکے کے مفصلہ ذیل نام ہونگے۔ بشیر الدولہ کیونکہ وہ ہماری فتح کے لئے نشان ہو گا۔ کلمۃ اللہ خان۔ یعنی خدا کا کلمہ ۔ عالمگیر ۔ محمود ۔ شادی خان ۔ کلمۃ العزیز وغیرہ ۔ کیونکہ وہ خدا کا کلمہ ہو گا جس سے حق کا غلبہ ہو گا ۔ تمام دُنیا خُدا کے کلمے ہیں۔ اسلئے اس کا نام کلمۃ اللہ رکھنا غیر معمولی بات نہیں ہے۔ وہ لڑکا اب کی دفعہ پیدا نہیں ہوا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ۔ اَخَّرَهُ اللهُ اِلٰی وَقْتٍ مُّسَمًّی ۔ یعنی وہ زلزلہ الساعۃ جس کے لئے وہ لڑکا نشان ہو گا۔ ہم نے اس کو ایک اور وقت پر ڈال دیا ۔ منہ

(حقیقۃ الوحی ص۱۰۴ حاشیہ)

۲؎ یعنی خدا نے تجھ پر یہ احسان کیا کہ ایک شریف اور معزز اور شہرت یافتہ اور باوجاہت خاندان سے تجھے پیدا کیا ۔ اور دوسرا یہ احسان کیا کہ ایک معزز دہلی کے سادات خاندان سے تیری بیوی آئی ۔ منہ

(حقیقۃ الوحی ص۱۰۴ حاشیہ)

صفحہ 380

۶۵۹ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۔ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۔ تَنْزِيْلَ خدا کا مرسل ہے راہِ راست پر ۔ اس خدا کی طرف سے الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ ۔ ٣٢٢ اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ جو غالب اور رحم کرنے والا ہے ۔ میں نے ارادہ کیا کہ اس زمانہ میں اپنا خلیفہ مقرر کروں ۔ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ ۔ ٣٢٣ يُحْيِ الدِّيْنَ وَيُقِيْمُ الشَّرِيْعَةَ ۔ سو میں نے اس آدم کو پیدا کیا وہ دین کو زندہ کریگا اور شریعت کو قائم کریگا ۔ چُو دَورِ خُسْرَوِی لہ اٰغَاز كَرْدَنْد - ٣٢٤ مُسلمان را مُسلمان جب مسیح الزمان کا دور شروع کیا گیا تو مسلمان کو جو صرف رسمی مسلمان تھے نئے سرے سے بَاز كَرْدَنْد - ٣٢٥ اِنَّ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا مسلمان بنانے لگے ۔ آسمان اور زمین ایک گٹھڑی کی طرح بندھے ہوئے تھے ہم نے ان دونوں رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا ۔ ٣٢٦ قَرُبَ اَجَلُكَ الْمُقَدَّرُ ۔ کو کھول دیا یعنی زمین نے اپنی پوری قوت ظاہر کی اور آسمان نے بھی ۔ اب تیرا وقت موت قریب اِنَّ ذَا الْعَرْشِ يَدْعُوْكَ ۔ ٣٢٧ وَلَا نُبْقِیْ لَكَ مِنَ آگیا ۔ ذوالعرش تجھے بلاتا ہے ۔ ٣٢٨ اور ہم تیرے لئے کوئی الْمُخْزِيَاتِ ذِكْرًا۔ ٣٢٩ قُلْ مِيْعَادُ رَبِّكَ ۔ وَلَا نُبْقِیْ رسوا کنندہ امر نہیں چھوڑیں گے ۔ تیرے رب کا وعدہ آ گیا ہے اور ہم تیرے لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ شَيْئًا ط بہت تھوڑے دن لئے کوئی امر رسوا کنندہ باقی نہیں چھوڑیں گے ۔ زندگی کے دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں ۔ اُس دن خدا کی طرف سے سب پر اُداسی رہ گئے ہیں ۔ اُس دن سب جماعت دل برداشتہ اور اداس

لہ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں مسیح آخرالزمان کو بادشاہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اس سے مراد آسمانی بادشاہی ہے یعنی وہ آئندہ سلسلہ کا ایک بادشاہ ہوگا۔ اور بڑے بڑے اکابر اس کے پیرو ہوں گے۔ منہ

(حقیقة الوحی ص١٠٧ حاشیه)

صفحہ 381

۶۶۸

(۲) قَدْ سَمِعَ اللهُ ۔ اُجِيْبَتْ دَعْوَتُكَ ۔ اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ ؂

(۳) بَارَكَ اللهُ فِى اِلْهَامِكَ وَوَحْيِكَ وَرُؤْيَاكَ ۔

(۴) كَتَبْتُ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَحْمَةً ۔ وَكَتَبْتُ لَكَ رَحْمَةً فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ؂

(۵) نَزِيْدُ فِى رَحْمَتِكَ وَصِدْقِكَ وَ وَفَاءِكَ ؂ (اَىْ نَزِيْدُ بَرَكَاتٍ یہ خدا کی طرف سے نہیں صرف تفہیم ہی میرے لفظوں میں)

(۶) كُلُّ مُكَذِّبٍ جَاءَ ۔ يَا اَيُّهَا الْعَزِيْزُ مَسَّنَا وَاَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰاةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ۔ اِنَّ اللهَ يَجْزِى الْمُتَصَدِّقِيْنَ ؂

(۷) مَا اَنَا اِلَّا كَالْقُرْاٰنِ وَسَيَظْهَرُ عَلٰى يَدَىَّ مَا ظَهَرَ مِنَ الْفُرْقَانِ ؂

لہ (۲) اللہ تعالیٰ نے دُعا سُن لی۔ تیری دُعا قبول کی گئی۔ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور وہ جو نیکی کرتے ہیں۔

شہ (۳) برکت دی اللہ نے تیرے الہام میں اور تیری وحی میں اور تیری رویا میں۔

شہ (۴) تجھ پر ایمان لانے والوں کے لئے میں نے رحمت لکھ دی ہے۔ اور تیرے لئے دُنیا اور آخرت میں میں نے رحمت لکھ دی ہے۔

شہ (۵) تیری رحمت اور صدق اور وفا میں ہم زیادتی کرینگے یعنی تجھ پر برکات کی زیادتی کی جائے گی۔

شہ (۶) سب مُکَذِّب آئے اور کہنے لگے ۔ اے عزیز ہم اور ہمارے اہل و عیال تکلیف میں ہیں اور ہم تھوڑی سی پونجی لائے ہیں۔ پس ہمیں پورا پورا ناپ تول دے ۔ اور ہم پر صدقہ کر ۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزائے خیر دیتا ہے۔

شہ (۷) میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور عنقریب میرے ہاتھ پر وہ سب کچھ ظاہر ہوگا جو فرقان کو ظاہر ہوا۔

صفحہ 382

۸۲۸

میں اسی عہدہ پر نوکر تھا۔ میں نے اُس کو بلانا چاہا۔ وہ بھی نہ آیا۔ لاپرواہ رہا۔ اور میں نے دیکھا۔ کہ روپیہ کی بہت کمی ہے۔ کسی طرح بات نہیں بنتی۔ اسی اثناء میں ایک صالح مرد سادہ طبع سادہ پوش آیا۔ اُس نے اپنی بھری ہوئی مُٹھی روپیہ کی میری جھولی میں ڈال دی۔ اور ایسے جلدی چلا گیا کہ میں اُسکا نام بھی نہیں پُوچھ سکا۔ مگر پھر بھی روپیہ کی کمی رہی۔ پھر ایک صالح مرد آیا۔ جو محض نورانی شکل سادہ طبع ؎۱؎ ایک صوفی کی شکل کے مشابہ تھا جس کا نام غالباً کرم الٰہی یا فضل الٰہی ہے۔ جس نے کرتہ پہن کر ہمیں روپیہ دیا تھا۔ صُورت انسان کی ہے مگر علیحدہ خلقت کا آدمی معلوم ہوتا ہے۔ اس نے دونوں ہاتھ روپیہ سے بھر کر میری جھولی میں وہ روپیہ ڈال دیا۔ اور وہ بہت سا روپیہ ہو گیا۔ میں نے پُوچھا آپ کا نام کیا ۔ اُس نے کہا۔ نام کیا ہوتا ہے۔ نام کچھ نہیں۔ میں نے کہا بتلاؤ نام کیا ہے۔ اُس نے کہا۔ سچ۔ اور میں اُس وقت چشم پُر آب ہو گیا کہ ہماری جماعت میں ایسے بھی ہیں۔ جو اس قدر روپیہ دیتے ہیں اور نام نہیں بتلاتے اور ساتھ ہی کہتا ہوں کہ یہ تو آدمی نہیں ہے ، یہ تو فرشتہ ہے۔ اور جب بہت سے مال کا نظارہ میرے سامنے آیا۔ میں نے کہا میں اس میں سے ؎۱؎ کو دُونگا کہ وہ حاجتمند ہے۔ اور جب میں نے یہ خواب دیکھا اُس وقت رات کا ایک بجکر اُسپر پینتیس منٹ زیادہ گزر چکے تھے۔

۸۱

تخمیناً

۱۸؍مارچ ۱۹۰۵ء

میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی مجھے کہتا ہے۔ مَوت۔ یعنی چالیس دن کے بعد موت کا حکم ہے۔ میں نے مولوی محمد علی صاحب سے پُوچھا ہے۔ اِس حکم کا اپیل بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا۔ اپیل ہو سکتا ہے۔ بلکہ اپیل دَر اپیل بھی۔ پھر بعد اس کے مجھے ۱۸؍مارچ ۱۹۰۵ء کو بخار ہوا۔ پیشاب نہایت شدید درد سے آتا تھا اور پیشاب کی راہ خون آنا شروع ہوا۔ یہانتک

؎۱؎ یہ لفظ پڑھا نہیں گیا۔ (مرتب)

صفحہ 383

۸۴۰

ضیاء الاسلام پریس میں چھپا اور الشرکۃ الاسلامیہ لمیٹڈ نے

ربوہ سے شائع کیا

(مشین مین خواجہ عبدالرحمٰن)

صفحہ 384

مھا بدورائش رسوم

فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ الخ

یعنی غیب کا ایسا دروازہ کسی پر نہیں کھولتا مگر یہ کہ غیب پر غالب اور محیط اس قدر ہو جس کو رسول کا نام دیا گیا کیفیت اور با عتبار کمیت غیب کے دروازے پر

ص (حقیقة الوحی ص ۲۷)

اشعار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

نزول المسیح ص ۹۹

آنچہ داد است ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بتمام
انبیا گرچہ بودہ اند بسے من بعرفاں نہ کمترم زکسے
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین ہر کہ گوید دروغ است لعین

الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ کتاب

حقیقة النبوة

سنة ۱۹۱۵ء

حصہ اول

از افادات حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جسمیں اصولی طور پر حضرت حجۃ اللہ فی الارض فخر الانبیاء مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت و رسالت براہین قاطعہ کے ساتھ ثابت کیگئی ہے اور ہر پہلو سے اسپر مفصل بحث کیگئی ہے۔ یہیں طبع ہو کے اندر تصنیف اور طبع ہو کر انجمن ترقی اسلام کیطرفسے شائع ہوئی + مطبوعہ مطبع ضیاء الاسلام قادیان ۵ ربیع الثانی ۱۹۱۵ء

۱۱۸۹ ۱۵۳

صفحہ 385

حقیقۃ النبوۃ ١٨٨ حصہ اول

رکھتا تھا کہ اس کی قوت قدسیہ سے ایک نبی کا پیدا ہو جانا کچھ بھی بعید نہیں۔ اور جسے اس بات میں کچھ شک ہے۔ اس نے درحقیقت خاتم النبیین کے کمالات کو سمجھا ہی نہیں ۔ وہ اپنی ہوا و ہوس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و حرمت کو قربان کر رہا ہے۔ اور لوگوں کے خوش کرنے کے لئے اپنے آقا پر حملہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر رحم فرمائے ۔ اور انکو راہ راست کی طرف رہنمائی کرے۔ اس تمہید کے بعد میں حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق چند دلائل ذیل میں درج کرتا ہوں ۔

(۱) اول دلیل حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے پر یہ ہے ۔ کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسےٰ اور حضرت نوح اور حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کو نبی کہہ کر پکارا ہے ۔ حضرت مسیح موعود کو بھی قرآن کریم میں رسول کے نام سے یاد فرمایا ہے۔ چنانچہ ایک تو آیت مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد سے ثابت ہے ۔ کہ آنے والے مسیح کا نام اللہ تعالیٰ رسول رکھتا ہے۔ دوم آیت اذا الرسل اقتت سے ثابت ہے ۔ کہ آنے والا مسیح نبی ہوگا ۔ کیونکہ اس آیت میں مسیح موعود کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اور اس کے زمانہ کی نسبت ان الفاظ میں خبر دی گئی ہے ۔ کہ جب رسول وقت مقررہ پر لائے جائیں گے ۔ یعنے ایک ہی وقت میں سب رسولوں کو جمع کر دیا جائے گا اور مسیح موعود کے وجود میں وہ ظاہر ہوں گے ۔ اس آیت کو بھی خود حضرت مسیح موعود نے اپنے پر چسپان کیا ہے ۔ پس جس کا نام قرآن کریم رسول رکھتا ہے اس لئے مسیح موعود کے رسول نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ۔ جو دلیل پہلوں کے نبی ہونے کی ہے ۔ وہی حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے کی ہے + اگر حضرت موسیٰ و عیسٰی علیہما السلام نبی اور رسول تھے ۔ تو مسیح موعود بھی نبی تھے

صفحہ 386

داخلی صفحہ کا فوٹو

حضرت مسیح موعود کے اصحاب کی سوانح حیات و سیر کا سلسلہ

(نمبر اول) بزرگان سلف کی پاک زندگیاں جنکے پڑھنے سے قربانی کرنے اور ثواب پانے کا شوق پیدا ہوتا ہے

حیات ناصر

یعنے

حضرت میر ناصر نواب صاحب نبیرہ حضرت خواجہ میر درد رضی اللہ عنہما کے سوانح حیات و سیرت

جسکو

حضرت مولوی شیخ یعقوب علی عرفانی ایڈیٹر اخبار الحکم قادیان نے مرتب کیا

اور

ابوالمحمود محمد اکبر ضیاء سکریٹری ناظم ادارہ احمدیہ کے اہتمام سے مطبع یوسفی دہلی میں چھپوا کر تراب منزل دارالامان قادیان سے شائع کیا ۔

دسمبر ١٩٢٦ء

بار اول تعداد جلد ۵۰۰ قیمت فی جلد مجلد ١/- ر

ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ پاکستان

صفحہ 387

حیات ناصر ۱۴

بچشم خود دیکھے۔ بلکہ خود میری ذات اور میرے گھر والوں اور بچوں پر ان کا اثر پڑا۔ زلزلہ کے وقت نہایت اندیشہ ہوا کہ خدا جانے محمد اسمعیل کا کیا حال ہوا۔ ممکن ہے۔ قادیان میں کہیں کسی مکان کے تلے دب کر مرگیا ہو۔ حضرت صاحبؒ نے فرمایا کہ نہیں۔ مجھے الہام ہوا ہے۔ کہ ڈاکٹر محمد اسمعیل وہ مظفر ہو گا۔ محمد اسحاق کو دو دفعہ طاعون ہوا۔ آپ کی دُعا سے اچھا ہوا۔ اور آپنے پہلے ہی فرما دیا تھا۔ کہ یہ مریگا نہیں

دہلی میں علالت اور

حضرت کی دُعا و صحت

ایک دفعہ تین چار گھنٹے میں بخار ہی جاتا رہا اور گٹھلیاں بھی دو ہو گئیں مگر مجھے ایک دفعہ سخت گردہ کا درد ہوا۔ میں نے جب آپ کو بلوایا تو دُعا کر کے فوراً واپس ہو گئے۔ تہ خانہ میں جا کر دعاء شروع کردی جس کا اثر فوراً ہوا۔ اور یہ عاجز اچھا ہو گیا۔ ایک دفعہ ہم سب حضرت مرزا صاحب کے ہمراہ دلی گئے۔ وہاں میں سخت بیمار ہو گیا۔ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اور محمد اسمعیل میرا بیٹا سخت پریشان ہو گئے حضرت صاحبؒ نے مولوی حکیم نور الدین صاحب کو تار دیا۔ کہ فوراً چلے آؤ۔ وہ فوراً دلی چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء فرمادی۔ اور حضرت صاحب میرے تندرست ہونے سے بہت خوش ہوئے۔ ابتداء

حضرت اقدس کی خدمت

میں جب کہیں حضرت صاحب باہر تشریف لے جاتے تھے تو مجھے گھر کی حفاظت اور قادیان کی خدمت کے لئے چھوڑ جاتے تھے۔ اور اخیری زمانہ میں جب کہیں سفر کرتے تھے اور گھر کے لوگ ہمراہ ہوتے تھے۔ تو بندہ بھی ہمراہ ہی ہوتا تھا۔ چنانچہ جب آپ لاہور میں تشریف لے گئے جس سفر میں آپ کو سفر آخرت پیش آیا۔ تب بھی بندہ آپکے ہمراہ تھا۔ اور اس شام کی سیر میں بھی شریک تھا جس کے دوسرے روز آپنے قبل از دوپہر انتقال فرمایا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ؕ

اب بڑی اندوہناک تبدیلی میرے حال میں پیدا ہوئی۔ اور ایسی سخت مصیبت نازل ہوئی۔ کہ جس کی تلافی بہت مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا میری تکلیف کو کوئی نہیں جان سکتا۔ حضرت صاحب جس رات کو بیمار ہوئے۔ اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی۔ تو مجھے جگایا گیا تھا۔ جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا۔ اور آپ کا حال دیکھا۔ تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔ ایک مدت تو ہم پر آپکے

صفحہ 388

۷۸۶

اسم الکتاب:

خطوط امام بنام غلام

مرتبہ

حکیم محمد حسین قریشی

گر یک نفس دنی را پروریم

از سگان کوچہ ہا ہم کمتریم

گر شمارند سگ کویت مرا

گو کجا از آبرو ماند بجا

این ہمہ از لطف خاص کبریا

بر رضائے خویش کن انجام ما

تا برآید در دو عالم کام ما

ای کہ مہر تو حیات روح ما

مہر تو از جان و دل پروردہ ایم

از برای آن رہت بسپردہ ایم

از حضرت مسیح موعود علیہ السلام

خطوط امام

بنام غلام

حکیم محمد حسین صاحب

جان و دلم فدائے جمال محمد است

خاکم نثار کوچہ آل محمد است

دیدم بعین قلب شنیدم بگوش ہوش

در ہر مکان ندائے جمال محمد است

ایں چشمہ رواں کہ بخلق خدا دہم

یک قطرہ زبحر کمال محمد است

ایں آتشم ز آتش مہر محمدی ست

ویں آب من ز آب زلال محمد است

(حضرت مسیح)

حضور کے ادنیٰ غلام حکیم محمد حسین قریشی الکاکوی طارق لاہوری نے مرتب کر کے شائع کیے

صفحہ 389

سے زیادہ نہ ہو ۔ اور گوٹہ لگا ہوا ہو ۔ عید سے پہلے سلا کر بھیجیں ۔ قیمت اسکی کسی کے ہاتھ بھیجدیجائیگی ۔ یا آپ کے آنے پر آپ کو دیدیجانگی ۔ رنگ صوفی ہو گویا پہنے رہٹی یا جالی ہو ۔ اندازہ قمیص کا آپ کی لڑکی زینب کے اشارہ پر ہو ۔ والسلام ۔ خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۱۴؍ فروری ۶۱۸۹۳

۱۲ بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلی علی رسولہ الکریم محبّی اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ ۔ اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے ۔ آپ اشیاء خریدنی جو پرچہ میں درج ہیں دیں اور ایک بوتل ٹانک وائین کی پلومر کی دوکان سے خرید دیں ۔ کل ٹانک وائین چاہیئے ۔ اسکا لحاظ رہے ۔ باقی خیریت ہے ۔ والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ

۱۳ ذیل کا خط بوجہ اس امر کے ہے کہ جبکہ ہم مع عیال و اطفال قادیاں میں تھے اور واپسی کے وقت چونکہ برسات کے دن تھے راستہ سخت خطرناک تھا اور میں نے اپنے گھر کے لوگوں کے لئے یعنی بوجہ بار حمل و برسات کی بناء پر بگھی کے لئے ضرورتاً حضرت سے اجازت طلب کی کیونکہ بگھی کی سواری حالت حمل میں خطرناک ہوتی ہے اسپر حضور نے کمال مہربانی و شفقت سے ذیل کا خط لکھا ۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ ۔ انشاء اللہ درکار ہو تو آپ کو اختیار ہے کہ بگھی لے جائیں ۔ مگر میں نے سنا ہے کہ بٹالہ کی سڑک تک راستہ نہایت خراب ہے ۔ بگھی کی سواری خطرناک ہے ۔ اور ایسا ہی دوسری سواری بھی ۔ شاید دس روز تک راستہ کسی قدر درست ہو جائیگا ۔ میں گزشتہ دنوں میں بٹالے تک گیا تھا جگہ جگہ خوفناک راہ تھا ۔ خواہ مخواہ بہت ہی خطرناک ہو گا ۔ حمل کی حالت میں ان دنوں میں سواری پر آنا صدمہ کا باعث ہو سکتا ہے ۔ آپ خود بٹالہ کی سڑک تک راستہ کی حالت دیکھ لیں ۔ میرے نزدیک تو اس وقت گزرنا دس بارہ روز تک سخت خطرناک اور خوفناک ہے ۔ والسلام ؂ غلام احمد عفی عنہ

۱۴ دستی خط معرفت مولوی یار محمد صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ ۔ میں چند روز سے سخت بیمار ہوں ۔ بعض وقت جب دورہ درد آدھے سر شدت سے ہوتا ہے تو خاتمہ زندگی محسوس ہوتا ہے ۔ ساتھ ہی سر درد بھی ہے ۔ ایسی حالت میں روغن بادام ہاتھ پیروں کی ہتھیلیوں پر ملنا اور پینا فائدہ مند محسوس ہوتا ہے ۔ اس لئے میں مولوی یار محمد صاحب کو بھیجتا ہوں کہ آپ خاص تلاش سے ایسا روغن بادام کہ جو تازہ ہو ۔ اور کہنہ نہ ہو اور نیز اسکے ساتھ کوئی ملاوٹ نہ ہو ایک بوتل خرید کر بھیجیں یا جو ہو قیمت اسکی ارسال ہے ۔ اور نیز ہمارا پہلا گھنٹہ بھی کچھ بگڑ گیا ہے ۔ اسلئے ایک گھنٹہ عمدہ دیوار پر ٹانگنے کے لئے مبلغ ۳ روپیہ بھیجتا ہوں ۔ یہ گھنٹہ بخوبی امتحان کر کے ارسال فرماویں اسمیں یہی شرط ہے کہ اسکے ساتھ نیم گھنٹہ کی آواز دینے والی کل ہرگز نہو صرف گھنٹوں کی آواز دے کہ اس صورت میں بسا اوقات دھوکا ہو جاتا ہے ۔ اور اسکے ساتھ کئی دوسری چیزیں بھی خریدنی ہیں ...... ان چیزوں کی تفصیل ذیل میں ہے ۔ والسلام * مرزا غلام احمد عفی عنہ

۱۵ بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلی علی رسولہ الکریم محبّی اخویم حکیم محمد حسین صاحب قریشی السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ ۔ آج مولوی یار محمد لاہور بھیجے گئے ۔ مگر انہیں نہایت ضروری کام یاد نہ رہا اسلئے تکلیف دیتا ہوں کہ ایک لفافہ منسلک ہذا ہے جس میں چھ تولہ عطر ۔ اور اول درجہ کی خوشبو دار ہو ۔ اگر شرعی ہو تو بہتر ہو ۔ ورنہ اپنی ذمہ داری پر بھیجیں ۔ اور دو روپیہ آٹھ آنے کی ڈبیاں کہ جسمیں پتاسہ کی طرح ٹکیاں ہوتی ہیں ۔ تھوڑی جلدی ہو سکے تو بذریعہ وی پی روانہ فرماویں زیادہ خیریت ہے ۔ والسلام ۔ خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ

۱۶ بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلی علی رسولہ الکریم السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ ۔ دوتاریں پہنچیں نہایت فکر ہوا ۔ بیت الدعا میں بہت دعا کی گئی ۔ خدا تعالیٰ شفا بخشے ۔ پہلے اس سے الہام ہوا تھا ۔ کہ لاہور سے افسوسناک خبر آئی ۔ وہی خبر پہنچی ۔ خدا تعالیٰ آپ پر رحم کرے ۔ آمین ۔ پھر بھی ہمیں مکرر لکھیئے گا

صفحہ 390

هُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ

تحفۃ الملوک

الحمد للہ

مُجَلَّدْ سُوم اَزْ کِتَاب تحفۃ الملوک

مسمّٰی بہ

دعوۃ الامیر

اَعْنِیْ مکتوب حضرت حاجی میرزا بشیر الدین محمود احمد ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز امام جماعت احمدیّہ

خلیفۂ دوم حضرت میرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ وعلیٰ مطاعہ الصلوٰۃ والسلام

بخدمت عالی

شاہ والاجاہ امیر امان اللہ خاں بالقابہ

فرمانروائے دولت مستقلہ افغانستان و ممالک محروسہ

صفحہ 391

۴۹ دعوۃ الامیر

گئی دوبارہ بعثت کی پیشگوئی کرادی تا قومی منافرت خاتم النبیین علیہ السلام پر ایمان لانے میں روک نہ ہو۔ ان پیشگوئیوں میں درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اُمتی مامور کی خبر دی گئی تھی تاکہ اس کے ذریعے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق ہو کر تمام قومیں آپ کے ہاتھ پر جمع ہو جائیں۔ چنانچہ یہ سب پیشگوئیاں آپ کے وجود سے پوری ہوگئیں اور آپ مسیحیوں اور یہودیوں کے لئے مسیح ۔ زردشتیوں کے لئے مسیودر بہمی اور ہندوؤں کے لئے کرشن کے مثیل ہو کر نازل ہوئے تا تمام اہل مذاہب پر انہیں کی کتب سے آپکی صداقت ثابت ہو اور پھر آپ کے ذریعہ سے اسلام کی صداقت معلوم ہو کر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ غلامی میں باندھے جائیں۔

آپ کے دعوے کے دلائل

آپ کے دعوے کو مختصر الفاظ میں بیان کر دینے کے بعد میں اصولاً اس امر کے متعلق کچھ بیان کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ ایک مامور من اللہ کے دعوے کی صداقت کے کیا دلائل ہوتے ہیں اور پھر یہ کہ اُن دلائل کے ذریعے سے آپکے دعوے پر کیا روشنی پڑتی ہے کیونکہ جب یہ ثابت ہو جائے کہ ایک شخص فی الواقع مامور من اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا ہے تو پھر اجمالاً اس کے تمام دعاوی پر ایمان لانا واجب ہوجاتا ہے کیونکہ عقل سلیم اس امر کو تسلیم نہیں کرسکتی کہ ایک شخص خدا تعالیٰ کا مامور بھی ہو اور لوگوں کو دھوکا دے کر حق سے دور بھی لے جاتا ہو۔ اگر ایسا ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے علم پر ایک سخت حملہ ہو گا اور ثابت ہو گا کہ نعوذ باللہ من ذالک اُس نے اپنے انتخاب میں سخت غلطی کی اور ایسے شخص کو اپنا مامور بنا دیا جو دل کا ناپاک اور گندہ تھا اور بجائے حق اور صداقت کی اشاعت کے اپنی بڑائی اور عزت چاہتا اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر اپنے نفس کو مقدم کرتا تھا۔

علاوہ اسکے کہ یہ عقیدہ عقلِ سلیم کے خلاف ہے قرآن کریم بھی اس کو باطل کرتا ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللہُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللہِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ

صفحہ 392

دعوة الامیر ۵۰

بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ لا وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلَائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْبَابًا ط أَيَأْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ (آل عمران ع ٨) یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ کتاب اور حکم اور نبوت دیکر بھیجے اور پھر وہ لوگوں سے یہ کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ بلکہ وہ تو یہی کہیگا کہ خدا تعالیٰ کے ہو جاؤ بسبب اس کے کہ تم اللہ تعالیٰ کا کلام لوگوں کو سکھاتے اور پڑھتے ہو۔ اور نہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایسا آدمی لوگوں کو یہ کہے کہ فرشتوں یا نبیوں کو ربّ سمجھ لو۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ وہ کوشش کر کے لوگوں کو مسلمان بنائے اور پھر اُن کو کافر کر دے۔

غرض اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ مدعی ماموریت فی الواقع سچا ہے یا نہیں۔ اگر اُس کی صداقت ثابت ہو جائے تو اُس کے تمام دعاوی کی صداقت بھی ساتھ ہی ثابت ہو جاتی ہے۔ اور اگر اُس کی سچائی ہی ثابت نہ ہو تو اُس کے متعلق تفصیلات میں پڑنا وقت کو ضائع کرنا ہوتا ہے۔ پس میں اِسی اصل کے مطابق آپ کے دعوے پر نظر ثانی کرنا چاہتا ہوں تا جناب والا کو اُن دلائل سے مختصراً آگاہی حاصل ہو جائے جن کی بناء پر آپ نے اس دعوے کو پیش کیا ہے اور جن پر نظر کرتے ہوئے لاکھوں آدمیوں نے آپ کو اِس وقت تک قبول کیا ہے +

پہلی دلیل

ضرورت زمانہ

سب سے پہلی دلیل جس سے کسی مامور کی صداقت ثابت ہوتی ہے وہ ضرورت زمانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سُنَّت ہے کہ وہ بے محل اور بے موقع کوئی کام نہیں کرتا۔ جب تک کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی وہ اُسے نازل نہیں کرتا۔ اور جب کسی چیز کی حقیقی ضرورت پیدا ہو جائے تو وہ اُسے روک کر نہیں رکھتا۔ انسان کی جسمانی ضروریات میں سے کوئی چیز ایسی نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے مہیا نہ کیا ہو۔ چھوٹی سے چھوٹی ضرورت اُس کی پوری کر دی ہے۔ پس جب کہ دُنیاوی ضروریات کے پورا کرنے کا اُس نے اس قدر اہتمام کیا ہے۔ تو یہ اُس کی شان اور اُس کی رفعت کے منافی ہے کہ وہ اُس کی روحانی ضروریات کو نظر انداز کر دے اور اُن کے پورا کرنے کے لئے کوئی سامان

صفحہ 393

بسم الله الرحمن الرحيم

نحمده ونصلي على رسوله الكريم

وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

الله

الحمید

سیرت المہدی

علیہ السلام

حصہ اوّل

مُؤَلِّـفَـه

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم ۔ اے اَیَّدَهُ اللهُ تَعَالٰی

بمعہ حاشیہ

مولانا المکرم و محترم مولوی محمد اسمعیل صاحب مولوی فاضل و منشی فاضل مدرس مدرسہ احمدیہ ۔ قادیان

جسے محمد فخر الدین احمدی (ملتانی) مہتمم احمدیہ کتاب گھر قادیان نے بااہتمام شائع کر کے فخر پایا ۔

سنه ۱۹۳۹ء

قیمت فی جلد غیر مجلد

مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان

صفحہ 394

لاہوری نے آپکی چھاتی میں پستان کے پاس انجکشن یعنی دوائی کی پچکاری کی جس سے وہ جگہ کچھ اُبھر آئی۔ مگر کچھ افاقہ محسوس نہ ہوا ۔ بلکہ بعض لوگوں نے بُرا منایا ۔ کہ اس حالت میں آپ کو کیوں یہ تکلیف دی گئی ہے۔ تھوڑی دیر تک غرغرہ کا سلسلہ جاری رہا۔ اور ہر آن سانسوں کے درمیان کا وقفہ لمبا ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ آپ نے ایک لمبا سانس لیا اور آپ کی روح رفیق اعلیٰ کی طرف پرواز کر گئی۔ اللّٰھم صل علیہ وعلیٰ مطاعہ محمد و بارک وسلم ۔ خاکسار نے والدہ صاحبہ کی یہ روایت جو شروع میں درج کی گئی ہے جب دوبارہ والدہ صاحبہ کے پاس برائے تصدیق بیان کی ۔ اور حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کا ذکر آیا۔ تو والدہ صاحبہ نے فرمایا ۔ کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اسکے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے ۔ اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے ۔ اور میں بھی سو گئی ۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے اسکے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا ۔ تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اُٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپکے پاؤں دبانے کے لئے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا ۔ تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا۔ نہیں میں دباتی ہوں ۔ اتنے میں آپکو ایک اور دست آیا ۔ مگر اب اسقدر ضعف تھا ۔ کہ آپ پاخانہ نہ جا سکتے تھے ۔ اسلیئے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اُٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہو گیا تھا اسکے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے۔ تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے ۔ اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت

صفحہ 395

۱۲

دگرگوں ہوگئی ۔ اسپر میں نے گھبرا کر کہا ”اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے“ تو آپنے فرمایا ”یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا “ خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا ۔ کیا آپ سمجھ گئی تھیں ۔ کہ حضرت صاحب کا کیا منشا ہے ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ ”ہاں“ والدہ صاحبہ نے یہ بھی فرمایا ۔ کہ جب حالت خراب ہوئی اور ضعف بہت ہوگیا ۔ تو میں نے کہا کیا مولوی صاحب (حضرت مولوی نور الدین صاحب) کو بلائیں ؟ آپ نے فرمایا بلا لو نیز فرمایا ۔ محمود کو جگا لو ۔ پھر میں نے پوچھا محمد علی خان یعنی نواب صاحب کو بلا لوں ۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں ۔ کہ مجھے یاد نہیں کہ حضرت صاحب نے اس کا کچھ جواب دیا یا نہیں اور دیا تو کیا دیا۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث شریف میں آتا ہے ۔ کہ مرض موت میں آنحضرت صلعم کو بھی سخت کرب تھا۔ اور نہایت درجہ بے چینی اور گھبراہٹ اور تکلیف کی حالت تھی اور ہم نے دیکھا ہے ۔ کہ حضرت مسیح موعود کا بھی بوقت وفات قریباً ایسا ہی حال تھا ۔ یہ بات ناواقف لوگوں کے لیے موجب تعجب ہوگی ۔ کیونکہ دوسری طرف وہ یہ سنتے اور دیکھتے ہیں کہ صوفیاء اور اولیاء کی وفات نہایت اطمینان اور سکون کی حالت میں ہوتی ہے سو دراصل بات یہ ہے ۔ کہ نبی جب فوت ہونے لگتا ہے۔ تو اپنی امت کے متعلق اپنی تمام ذمہ داریاں اسکے سامنے ہوتی ہیں۔ اور ان کے مستقبل کا فکر مزید برآں اسکے دامنگیر ہوتا ہے ۔ تمام دنیا سے بڑھ کر اس بات کو نبی جانتا اور سمجھتا ہے کہ موت ایک دروازہ ہے جس سے گزر کر انسان نے خدا کے سامنے کھڑا ہونا ہے ۔ پس موت کی آمد جہاں اس لحاظ سے اس کو مسرور کرتی ہے ۔ کہ وصال محبوب کا وقت قریب آن پہنچا ہے۔ وہاں اسکی عظیم الشان ذمہ داریوں کا احساس اور اپنی امت کے متعلق آیندہ کا فکر اسکو غیر معمولی کرب میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔ مگر صوفیاء اور اولیاء ان فکروں سے آزاد ہوتے ہیں ۔ ان پر صرف ان کے نفس کا بار ہوتا ہے مگر نبیوں پر ہزاروں

صفحہ 396

٣٢

اور میں نے بہت استغفار پڑھا۔ یہ قصہ سنا کر میں نے خواجہ صاحب سے کہا کہ خواجہ صاحب آپ کی موت بھی کہیں اسی طریق کی نہ ہو۔ چنانچہ میں آپ کو سناتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی آتا ہے کہ آپ کمزور ایمان والوں اور منافقوں کی بہت خاطر تواضع کیا کرتے تھے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے کچھ مال تقسیم کیا۔ مگر ایک ایسے شخص کو چھوڑ دیا جسکے متعلق سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ وہ میرے خیال میں مومن تھا۔ اور ان لوگوں کی نسبت زیادہ حقدار تھا۔ جن کو آپ نے مال دیا چنانچہ سعدؓ نے اسکی طرف آپ کو توجہ دلائی۔ مگر آپ خاموش رہے۔ پھر توجہ دلائی۔ مگر آپ پھر خاموش رہے۔ سعدؓ نے پھر تیسری دفعہ توجہ دلائی۔ اس پر آپ نے فرمایا سعدؓ تو ہم سے جھگڑا کرتا ہے۔ خدا کی قسم بات یہ ہے کہ بعض وقت میں کسی کو کچھ دیتا ہوں۔ حالانکہ غیر اس کا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ مگر میں اسے اسلیئے دیتا ہوں کہ کہیں وہ منہ کے بل آگ میں نہ جا پڑے۔ یعنی تالیف قلب کے طور پر دیتا ہوں۔ کہ کہیں اسے ابتلاء نہ آجائے مفتی صاحب نے بیان کیا کہ جسکے ایمان کی حالت مطمئن ہو اسے ظاہری عزت اور خاطر مدارات کی ضرورت نہیں ہوتی اسکے ساتھ اور طریق پر معاملہ ہوتا ہے ۔

(۴۱)

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر پھجے دی ماں کہا کرتے تھے بے تعلقی سی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور انکا انکی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں۔ اسلیئے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی ہاں آپ اخراجات وغیرہ باقاعدہ دیا کرتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میری شادی کے بعد حضرت صاحب نے انہیں کہلا بھیجا کہ آجتک تو جس طرح ہوتا رہا ہوتا رہا اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے اسلیئے اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں کرونگا تو میں گنہگار ہونگا ۔ اسلیئے اب دو باتیں ہیں ۔ یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔ میں تم کو خرچ دیئے جاؤنگا۔ انہوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں

صفحہ 397

۲۴

بڑھاپے میں کیا طلاق لونگی۔ بس مجھے خرچ ملتا رہے۔ میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ چنانچہ پھر ایسا ہی ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ محمدی بیگم کا سوال اُٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرا دیا اور فضل احمد کی والدہ نے ان سے قطع تعلق نہ کیا۔ بلکہ ان کے ساتھ رہیں۔ تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دیدی خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ طلاق دینا آپ کے اس اشتہار کے مطابق تھا۔ جو آپ نے ۲ مئی ۱۸۹۱ء کو شائع کیا تھا اور جسکی سرخی تھی ”اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین“ اس میں آپ نے بیان فرمایا تھا کہ اگر مرزا سلطان احمد اور ان کی والدہ اس امر میں مخالفانہ کوشش سے الگ نہ ہوگئے۔ تو پھر آپ کی طرف سے مرزا سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہونگے اور ان کی والدہ کو آپ کی طرف سے طلاق ہوگی والدہ صاحبہ فرماتی تھیں۔ کہ فضل احمد نے اس وقت اپنے آپ کو عاق ہونے سے بچا لیا۔ نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ کہ اس واقعہ کے بعد ایک دفعہ مرزا سلطان احمد کی والدہ بیمار ہوئیں تو چونکہ حضرت صاحب کی طرف سے مجھے اجازت تھی۔ میں انہیں دیکھنے کے لئے گئی۔ واپس آکر میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا۔ کہ بھتیجے کی ماں بیمار ہے۔ اور یہ تکلیف ہے۔ آپ خاموش رہے۔ میں نے دُوسری دفعہ کہا تو فرمایا میں تمہیں دو گولیاں دیتا ہوں۔ یہ دے آؤ۔ مگر اپنی طرف سے دینا میرا نام نہ لینا۔ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ اور بھی بعض اوقات حضرت صاحب نے اشارۃً کنایۃً مجھ پر ظاہر کیا کہ میں ایسے طریق پر کہ حضرت صاحب کا نام درمیان میں نہ آئے اپنی طرف سے کبھی کچھ مدد کر دیا کروں سو میں کر لیا کرتی تھی +

(۴۲۷)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے شیخ عبدالرحمٰن صاحب مصری نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز ظہر کے بعد مسجد میں بیٹھ گئے۔ ان دنوں میں آپ نے شیخ سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق لکھا تھا کہ یہ ابتر رہیگا

صفحہ 398

۴۳ حصہ پر وہ قابض ہو گئے۔ مرزا غلام حسین کی چونکہ نسل نہیں چلی اسلیے ان کا حصہ پسران مرزا غلام مرتضیٰ صاحب و پسران مرزا غلام محی الدین کو مل گیا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ اس وقت مرزا تصدق جیلانی اور مرزا قاسم بیگ کی تمام شاخ معدوم ہو چکی ہے۔ علیٰ ھذا القیاس مرزا غلام حیدر کی بھی شاخ معدوم ہے۔ ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب اور مرزا امام الدین اور مرزا کمال الدین بھی لاولد فوت ہوئے۔ ہاں مرزا نظام الدین کا ایک لڑکا مرزا گل محمد موجود ہے۔ مگر وہ احمدی ہو کر حضرت صاحب کی روحانی اولاد میں داخل ہو چکا ہے۔ قال اللّٰہ تعالیٰ ۔ ینقطع آبائک و یبدأ منک اور یہ الہام اس وقت کا ہے۔ جب آپکے شجرہ خاندانی کی یہ تمام شاخیں سرسبز تھیں ۔

(۴۹) ۱۸۶۷ء کا واقعہ ہے

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پینشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پینشن وصول کر لی ۔ تو وہ آپکو پھسلا کر اور دھوکہ دیکر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے ۔ اور چونکہ تمہارے دادا کا منشا رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں اس لیے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔ اور کچھ عرصہ تک وہاں ملازمت پر رہے۔ پھر جب تمہاری دادی بیمار ہوئیں۔ تو تمہارے دادا نے آدمی بھیجا۔ کہ ملازمت چھوڑ کر آ جاؤ۔ جسپر حضرت صاحب فوراً روانہ ہو گئے۔ امرتسر پہنچکر قادیان آنے کے واسطے یکہ کرایہ پر لیا۔ اس موقعہ پر قادیان سے ایک اور آدمی بھی آپ کے لینے کے لیئے امرتسر پہنچ گیا۔ اس آدمی نے کہا یکہ جلدی چلاؤ کیونکہ ان کی حالت بہت نازک تھی پھر تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا۔ بہت ہی نازک حالت تھی جلدی کرو کہیں فوت نہ ہو گئی ہوں۔ والدہ صاحبہ بیان کرتی تھیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے ۔ کہ میں اسی

صفحہ 399

۶۷

عموماً جراب بھی پہنے رہتے تھے بلکہ سردیوں میں دو دو جوڑے اوپر تلے پہن لیتے تھے۔ پاؤں میں آپ ہمیشہ دیسی جوتا پہنتے تھے۔ نیز بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب سے حضرت مسیح موعود کو دورے پڑنے شروع ہوئے اسوقت سے آپ نے سردی گرمی میں گرم کپڑے کا استعمال شروع فرمادیا تھا۔ ان کپڑوں میں آپ کو گرمی بھی لگتی تھی۔ اور بعض اوقات تکلیف بھی ہوتی تھی مگر جب ایک دفعہ شروع کر دیئے تو پھر آخر

سیرت المہدی حصہ اول

تک یہی استعمال فرماتے رہے۔ اور جب سے شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی نے لائلپور میں احمدی ہونے پر آپ کے لئے کپڑوں کے جوڑے بنوا کر باقاعدہ لانے شروع کئے تھے اور حضرت صاحب کی عادت تھی کہ جیسا کپڑا کوئی لے آئے پہن لیتے تھے۔ ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گرگابی لے آیا آپ نے پہن لی مگر اسکے تسمے سیدھے بٹھانے کا آپکو پتہ نہیں لگتا تھا کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے ان کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ مینے آپکی سہولت کیواسطے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کیلئے نشان لگا دیئے تھے مگر با وجود اسکے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے اسلئے آپ نے اسے اتار دیا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت صاحب نے بعض اوقات انگریزی طرز کی قمیص کے کفوں کے متعلق بھی اسی قسم کی ناپسندیدگی کے الفاظ فرمائے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ صاحب موصوف آپکے لئے انگریزی طرز کی گرم قمیص بنوا کر لایا کرتے تھے۔ آپ انہیں استعمال تو فرماتے تھے۔ مگر انگریزی طرز کی کفوں کو پسند نہیں فرماتے تھے کیونکہ اول تو کفوں کے بٹن لگانے سے آپ گھبراتے تھے دوسرے وضو میں ان کے کھولنے اور بند کرنے کا التزام آپ کے لئے مشکل تھا۔ بعض اوقات فرماتے تھے کہ یہ کیا کان سے لٹکے رہتے ہیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ لباس کے متعلق حضرت مسیح موعود کا عام اصول یہ تھا کہ جس قسم کا کپڑا ملجاتا تھا پہن لیتے تھے۔ مگر عموماً انگریزی طریق لباس کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ کیونکہ اول تو اسے اپنے لئے سادگی کے خلاف سمجھتے تھے دوسرے آپ ایسے لباس سے جو اعضاء کو جکڑا ہوا رکھے بہت گھبراتے تھے۔ گھر میں تو پکے لٹھے صرف مل کے کرتے اور پگڑیاں تیار ہوتی تھیں۔ باقی سب کپڑے عموماً ہدیہ آپ کو آ جاتے تھے۔ شیخ

صفحہ 400

۹۸

تھے ۔ مگر حضرت صاحب کے چہرہ پر بالکل اطمینان تھا چنانچہ ہم سب قادیان چلے آئے بعد میں ہمنے سنا کہ مجسٹریٹ نے سرٹیفیکٹ پر بڑی جرح کی اور بہت تلملایا اور ڈاکٹر کو شہادت کے لیئے بلایا مگر اس انگریز ڈاکٹر نے کہا کہ میرا سرٹیفیکٹ بالکل درست ہے۔ میں اپنے فن کا ماہر ہوں اسپر میرے فن کی رو سے کوئی اعتراض نہیں کر سکتا اور میرا سرٹیفیکٹ تمام اعلیٰ عدالتوں تک چلتا ہے ۔ مجسٹریٹ بڑ بڑاتا رہا مگر کچھ پیش نہ گئی ۔ پھر اسی وقفہ میں اس کا گورداسپور سے تبادلہ ہو گیا ۔ اور نیز کسی ظاہراً نامعلوم وجہ سے اس کا تنزل بھی ہو گیا ۔ یعنی وہ ای۔ اے ۔ سی سے منصف کر دیا گیا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ غالباً اس مجسٹریٹ کا نام چندو لال تھا اور وہ تاریخ جسپر اس موقعہ پر حضرت صاحب نے پیش ہونا تھا ۔ غالباً ۱۰ فروری ۱۸۹۸ء تھی ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہ ایک دفعہ ہم نے حضرت صاحب سے دریافت کیا ۔ کہ حضور حدیث میں آتا ہے ۔ کہ سب نبیوں نے بکریاں چرائی ہیں کیا کبھی حضور نے بھی چرائی ہیں ؟ آپ نے فرمایا ۔ کہ ہاں میں ایک دفعہ باہر کھیتوں میں گیا ۔ وہاں ایک شخص بکریاں چرا رہا تھا اسنے کہا کہ میں ذرا ایک کام جاتا ہوں آپ میری بکریوں کا خیال رکھیں ۔ مگر وہ ایسا گیا کہ بس شام کو واپس آیا اور اس کے آنے تک ہمیں اسکی بکریاں چرانی پڑیں ۔ ٭

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ فتح اسلام توضیح مرام شائع ہوئیں ۔ تو ابھی میرے پاس نہ پہنچی تھیں اور ایک مخالف شخص کے پاس پہنچ گئی تھیں ۔ اسنے اپنے ساتھیوں سے کہا دیکھو اب میں مولوی صاحب کو یعنی مجھے مرزا صاحب سے علیحدہ کیئے دیتا ہوں ۔ چنانچہ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا ۔ کہ مولوی صاحب ! کیا نبی کریم صلعم کے بعد بھی کوئی نبی ہو سکتا ہے ؟ میں نے کہا نہیں اسنے کہا اگر کوئی نبوت کا دعوے کرے ۔ تو پھر ؟ میں نے کہا تو پھر ہم یہ دیکھینگے کہ کیا وہ صادق اور راستباز ہے یا نہیں ۔ اگر صادق ہے ۔ تو پھر ہم اسکی نبوت کو قبول کرینگے ۔ میرا یہ جواب سنکر وہ بولا ۔

صفحہ 401

۱۱۶

سے ملتے ۔ جو تیمور کے چچا تھے ۔ مرزا ہادی بیگ سے لیکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک کا شجرہ نسب مشمولہ ورق پر درج ہے ۔ اس شجرہ میں جن خانوں کے کونوں میں آڑے خطوط دکھائے گئے ہیں ۔ ان میں ایسے لوگوں کے نام درج ہیں ۔ جن کی نسل آگے نہیں چلی۔

(۱۲۹)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کئی جگہ اپنے قلم سے اپنے اور اپنے خاندان کے حالات لکھے ہیں مگر سب سے مفصل وہ بیان ہے جو کتاب البریہ میں درج ہے یہ بیان ایسا تو نہیں ہے کہ اس میں سب ضروری باتیں آگئی ہوں اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ حالات جو حضرت مسیح موعود نے خود دوسری جگہ تحریر فرمائے ہیں ۔ وہ سب اسمیں آگئے ہیں ۔ لیکن چونکہ یہ بیان سب سے زیادہ مفصل ہے اور حضرت صاحب نے ایک خاص تحریک کی بناء پر تحریر فرمایا تھا اسلئے اسکے خاص خاص حصے ہدیہ ناظرین کرتا ہوں ۔ حضرت صاحب فرماتے ہیں :۔

" اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں ۔ کہ میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پڑدادا صاحب کا نام گل محمد تھا۔ اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ۔ ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جو ابتک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے اور انکے ساتھ

لہ حاشیہ ۔ عرصہ پندرہ اٹھارہ سال کا ہوا کہ خدا تعالیٰ کے متواتر الہامات سے مجھے معلوم ہوا تھا کہ میرے باپ دادے فارسی الاصل ہیں ۔ یہ تمام الہامات نیز ان ہی دنوں میں براہین احمدیہ کے حصہ دوم میں درج کر دیئے تھے ۔ جن میں سے میری نسبت ایک یہ الہام ہے خذوا التوحید التوحید یا ابناء الفارس یعنی توحید کو پکڑو توحید کو پکڑو اے فارس کے بیٹو ۔ پھر دوسرا الہام میری نسبت یہ ہے لوکان الایمان معلقا بالثریا لنالہ رجل من فارس ۔ یعنی اگر ایمان ثریا سے معلق ہوتا تو یہ مرد جو فارسی الاصل ہے وہیں جا کر اسکو لے آتا اور پھر ایک تیسرا الہام میری نسبت یہ ہے ان الذین کفروا ردّ علیہم رجل من فارس شکر اللہ سعیہ ۔ یعنی جو لوگ کافر ہوئے اس مرد نے جو فارسی الاصل ہے انکے مذاہب کو ردّ کر دیا ۔ خدا اسکی کوشش کا شکر گزار ہو یہ تمام الہامات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے آباء اولین فارسی تھے ۔ والحق ما اظھرہ اللّٰہ ۔ منہ ۔

صفحہ 402

نونہال سنگھ شیر سنگھ اور دربار لاہور کے غدر و دورہ میں غلام مرتضیٰ ہمیشہ اپنی خدمت پر مامور رہا۔ ۱۸۴۱ء میں یہ جنرل وینچورا کے ساتھ منڈی اور کلو کی طرف بھیجا گیا ۱۸۴۳ء میں ایک پیادہ فوج کا کمیندار بنا کر پشاور روانہ کیا گیا۔ ہزارہ کے مفسدے میں اسنے کارہائے نمایاں کیئے اور جب ۱۸۴۸ء کی بغاوت ہوئی تو وہ اپنی سرکار کا وفادار رہا اور اس کیطرف سے لڑا۔ اس موقعہ پر اسکے بھائی غلام محی الدین نے بھی اچھی خدمات کیں۔ جب بھائی مہاراج سنگھ اپنی فوج کو لیئے دیوان مولراج کی امداد کے واسطے ملتان جا رہا تھا۔ تو غلام محی الدین ادھر سے جاگیرداران لنگڑیال شاہیوال اور صاحب خان ٹوانہ نے مسلمان آبادی کو برانگیختہ کیا اور مصر صاحب دیال کی فوج کے ساتھ ملکر باغیوں پر حملہ کر کے ان کو شکست فاش دی۔ اور دریائے چناب کی طرف دھکیل دیا۔ جہاں چھ سو سے زیادہ باغی دریا میں غرق ہو کر ہلاک ہو گئے۔ انگریزی گورنمنٹ کی آمد پر اس خاندان کی جاگیر ضبط ہو گئی۔ مگر سات سو کی ایک پنشن غلام مرتضیٰ اور اسکے بھائیوں کو عطا کیگئی اور قادیان اور اسکے گردو نواح پر انکے حقوق مالکانہ قائم رہے ۔ اس خاندان نے غدر ۱۸۵۷ء میں نہایت عمدہ خدمات کیں۔ غلام مرتضیٰ نے بہت سے آدمی بھرتی کئے اور اس کا بیٹا غلام قادر اسوقت جنرل نکلسن کی فوج میں تھا۔ جبکہ افسر موصوف نے تریموگھاٹ پر ۴۶ نیٹو انفنٹری کے باغیوں کو جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے۔ تہ تیغ کیا تھا۔ جنرل نکلسن نے غلام قادر کو ایک سند دی ۔ جس میں یہ لکھا کہ ۱۸۵۷ء کے غدر میں خاندان قادیان نے ضلع کے دوسرے تمام خاندانوں سے زیادہ وفاداری دکھائی ہے “

(۴۳۴)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ رسالہ کشف الغطاء میں جو حکام گورنمنٹ کیواسطے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا تھا حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں کہ :۔ ”میرا خاندان ایک خاندان ریاست ہے اور میرے بزرگ اہلیان ملک اور خود سر امیر تھے جو سکھوں کے وقت میں یکلخت تباہ ہوئے اور سرکار انگریزی کا اگرچہ سب پر احسان ہے

صفحہ 403

۱۳۹

+ حال بیان کرنا شروع کیا۔ مگر ڈپٹی کمشنر نے نہایت غصہ کے لہجہ میں کہا کہ تم بہت سے آدمی جمع ہو کر مجھ پر رعب ڈالنا چاہتے ہو۔ میں تم لوگوں کو خوب جانتا ہوں اور میں خوب سمجھتا ہوں۔ کہ یہ جماعت کیوں بن رہی ہے۔ اور میں تمہاری باتوں سے ناواقف نہیں اور میں اب جلد تمہاری خبر لینے والا ہوں۔ اور تم کو پتہ لگ جائیگا۔ کہ کس طرح ایسی جماعت بنایا کرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ چوہدری صاحب کہتے ہیں۔ ہم ناچار وہاں سے بھی ناکام واپس آگئے۔ اور حضرت صاحب کو سارا ماجرا سنایا۔ چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ ان دنوں میں مخالفت کا سخت زور تھا۔ اور انگریز حکام بھی جماعت پر بہت بدظن تھے۔ اور سمجھتے تھے کہ یہ کوئی سازش کے لیئے سیاسی جماعت بن رہی ہے۔ اور بٹالہ میں ان دنوں پولیس کے افسر بھی سخت معاند و مخالف تھے اور طرح طرح سے تکلیف دیتے رہتے تھے اور قادیان کے اندر بھی مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین وغیرہ اور انکی انگیخت سے قادیان کے ہندو اور سکھ اور غیر احمدی سخت ایذا رسانی پر تلے ہوئے تھے۔ اور قادیان میں احمدیوں کو سخت ذلت اور تکلیف سے رہنا پڑتا تھا۔ اور ان دنوں میں قادیان میں احمدیوں کی تعداد بھی معمولی تھی۔ اور احمدی سوائے حضرت کے خاندان کے قریباً سب ایسے تھے جو باہر سے دین کیخاطر ہجرت کر کے آئے ہوئے تھے۔ یا مہمان ہوتے تھے۔ حضرت صاحب نے یہ حالات دیکھے اور جماعت کی تکلیف کا مشاہدہ کیا تو جماعت کے آدمیوں کو جمع کر کے مشورہ کیا اور کہا کہ اب یہاں ایسے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ کہ یہاں رہنا مشکل ہو گیا ہے اور ہم نے تو کام کرنا ہے۔ یہاں نہیں تو کہیں اور سہی۔ اور ہجرت بھی انبیاء کی سُنت ہے۔ پس میرا ارادہ ہے۔ کہ کہیں باہر چلے جائیں۔ چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ اس پر پہلے حضرت خلیفہ اول نے عرض کیا۔ کہ حضور بھیرہ تشریف لے چلیں۔ وہاں میرے مکانات حاضر ہیں اور کسی طرح کی تکلیف نہیں مولوی عبدالکریم صاحب نے سیالکوٹ کی دعوت دی۔ شیخ رحمت اللہ صاحب نے کہا لاہور ہمارے ہاں تشریف لے چلیں۔ میرے دل میں بھی بار بار اٹھتا تھا۔ کہ میں اپنا مکان پیش کروں۔ مگر میں شرم سے رُک جاتا تھا۔ آخر میں نے بھی کہا ۔ کہ حضور میرے گاؤں میں تشریف لے چلیں۔ وہ سالم گاؤں ہمارا ہے اور کسی کا دخل

صفحہ 404

۱۵۴

کرتا ہے کہ لالہ بھیم سین صاحب کی کامیابی کے متعلق بھی حضرت صاحب نے خواب دیکھا تھا۔ کہ جتنے لوگوں نے امتحان دیا ہے ان میں سے صرف لالہ بھیم سین صاحب پاس ہوئے ہیں چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ یعقوب علی صاحب نے اپنی کتاب

(۱۵۰)

حیاۃ النبی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ ملازمت سیالکوٹ کے متعلق مولوی سید میر حسن صاحب سیالکوٹی کی ایک تحریر نقل کی ہے جو میں مولوی صاحب موصوف سے براہ راست تحریری روایت لے کر درج ذیل کرتا ہوں۔ مولوی صاحب موصوف سید میر حامد شاہ صاحب مرحوم سیالکوٹی کے چچا ہیں۔ اور سیالکوٹ کے ایک بڑے مشہور مولوی ہیں۔ مولوی صاحب مذہبًا احمدی یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متبع نہیں بلکہ سرسید مرحوم کے خیالات کے دلدادہ ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :۔

” حضرت مرزا صاحب ۱۸۶۴ء میں بتقریب ملازمت شہر سیالکوٹ میں تشریف لائے اور قیام فرمایا۔ چونکہ آپ عزلت پسند اور پارسا اور فضول ولغو سے مجتنب اور محترز تھے۔ اسواسطے عام لوگوں کی ملاقات جو اکثر تضیع اوقات کا باعث ہوتی تھی۔ آپ پسند نہیں فرماتے تھے۔ لالہ بھیم سین صاحب وکیل جن کے نانا ڈپٹی مکھن لال صاحب بٹالہ میں اکسٹرا اسسٹنٹ تھے۔ انکے بڑے رفیق تھے۔ اور چونکہ بٹالہ میں مرزا صاحب اور لالہ صاحب آپس میں تعارف رکھتے تھے۔ اسلئے سیالکوٹ میں بھی ان سے اتحاد کامل رہا پس سب سے کامل دوست مرزا صاحب کے اگر اس شہر میں تھے۔ تو لالہ صاحب ہی تھے اور چونکہ لالہ صاحب سلیم طبع اور لیاقت زبان فارسی اور ذہن رسا رکھتے تھے۔ اس سبب سے بھی مرزا صاحب کو علم دوست ہونے کے باعث ان سے بہت محبت تھی۔ مرزا صاحب کی علمی لیاقت سے کچہری والے آگاہ نہ تھے۔ مگر چونکہ اسی سال کے اوائل گرما میں ایک عرب نوجوان محمد صالح نام شہر میں وارد ہوئے اور ان پر جاسوسی کا شبہہ ہوا۔ تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے (جن کا نام پرسن تھا۔ اور پھر وہ آخر میں کمشنر راولپنڈی کی کمشنری کے ہو گئے تھے) محمد صالح کو اپنے محکمہ میں بغرض تفتیش حالات طلب کیا۔ ترجمان کی ضرورت تھی۔ مرزا صاحب چونکہ عربی میں کامل استعداد رکھتے تھے۔ اور عربی زبان میں تحریر و تقریر بخوبی

صفحہ 405

کرتا ہے کہ خاص حالت کی باتیں ہیں انبیاء جنہوں نے لوگوں کیلئے اسوہ حسنہ بننا ہوتا ہے اور حقوق العباد کی بھی بہترین مثال قائم کرنی ہوتی ہے عموماً ایسا طریق اختیار نہیں کرتے۔

(۱۹۰)

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب اتمام کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے اور میاں حامد علی مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے بتائے تھے۔) لے لو اور ان پر فلاں سورۃ کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو (مجھے وظیفہ کی تعداد بھی یاد نہیں رہی) میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورۃ یاد نہیں رہی مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورۃ تھی جیسے الم تر کیف فعل ربک باصحاب الفیل الخ ہے اور ہم نے یہ وظیفہ قریباً ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا۔ وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب کے پاس لے گئے۔ کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا ۔ کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا اسکے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے۔ اور فرمایا یہ دانے کسی غیر آباد کنوئیں میں ڈالے جائینگے۔ اور فرمایا کہ جب میں دانے کنوئیں میں پھینک دوں ۔ تو ہم سب کو سرعت کیساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہیے اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے ایک غیر آباد کنوئیں میں ان دانوں کو پھینک دیا۔ اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر سرعت کے ساتھ واپس لوٹ آئے۔ اور ہم بھی آپکے ساتھ جلدی جلدی واپس چلے آئے اور کسی نے منہ پھیر کر پیچھے کیطرف نہیں دیکھا ۔

(اس روایت میں جس طرح دانوں کے اُوپر وظیفہ پڑھنے۔ اور پھر ان دانوں کو کنوئیں میں ڈالنے کا ذکر ہے۔ اسکی تشریح حصہ دوم کی روایت نمبر ۳۱۵۔ میں کی جا چکی ہے۔ جہاں پیر سراج الحق صاحب مرحوم کی روایت سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ کام ایک شخص کی خواب کو ظاہر میں پورا کرنے کے لئے کروایا گیا تھا۔ ورنہ ویسے اس قسم کا فعل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت اور سُنت کے خلاف ہے اور دراصل اس خواب کے تصوری زبان میں ایک خاص معنی تھے۔ جو اپنے وقت پر پورے ہوئے)

(۱۹۱)

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک

صفحہ 406

۴۴۴

پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا۔ حضرت صاحب نے اسے اظہار ہمدردی کیا اور پوچھا کہ گرم قہوہ یا اور کوئی چیز منگوائیں؟ اسنے کہا نہیں کوئی بات نہیں۔ مگر بیچارے کو چوٹ سخت آئی تھی۔ والدہ صاحبہ کہتی ہیں کہ حضرت صاحب اسے خود ایک کمرے سے دوسرے کیطرف لیجاتے تھے اور ایک ایک چیز دکھاتے تھے۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے اس خانہ تلاشی کا ذکر اپنے اشتہار مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۸۹۹ء میں کیا ہے جہاں لکھا ہے ۔ کہ خانہ تلاشی ۸؍اپریل ۱۸۹۹ء کو ہوئی تھی اور نیز یہ کہ مہمان خانہ مطبخ وغیرہ کی بھی تلاشی ہوئی تھی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ لیکھرام ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ء کو قتل ہوا تھا۔ اور اسکے قتل پر آریوں کیطرف سے ملک میں ایک طوفان عظیم برپا ہو گیا تھا۔ سنا گیا ہے ۔ کہ کئی جو مسلمان بچے دشمنوں کے ہتھے چڑھ گئے بے دردی سے ذبح کئے گئے۔ لیکھرام کے قتل کے لئے بھی بہت سازشیں ہوئیں۔ اور یہ خانہ تلاشی بھی غالباً آریوں ہی کی تحریک پر ہوئی تھی۔

(۴۴۴)

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا۔ تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ۔ میں گھر میں آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا۔ اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی بس پھر کیا تھا۔ میرا دم رُک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے مَیں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ مجھے یاد آیا کہ ایک دفعہ گھر میں میٹھی روٹیاں پکیں ۔ کیونکہ حضرت صاحب کو میٹھی روٹی پسند تھی۔ جب حضرت صاحب کھانے لگے تو آپ نے اس کا ذائقہ بدلا ہوا پایا۔ مگر آپ نے اس کا خیال نہ کیا کچھ اور کھانے پر حضرت صاحب نے کڑواہٹ محسوس کی ۔ اور والدہ صاحبہ سے پوچھا ۔ کہ یہ کیا بات ہے کہ روٹی کڑوی معلوم ہوتی ہے ؟ والدہ صاحبہ نے پکانیوالی سے پوچھا اُسنے کہا مَیں تو میٹھا ڈالا تھا۔ والدہ صاحبہ نے پوچھا کہ کہاں سے لیکر ڈالا تھا ؟ وہ برتن لاؤ ۔ وہ عورت ایک ٹین کا ڈبہ اُٹھا لائی دیکھا تو معلوم ہُوا کہ کونین کا ڈبہ تھا۔ اور اس عورت نے جہالت سے بجائے میٹھے کے روٹیوں میں کونین ڈالدی تھی

صفحہ 407

۲۴۵

تھی ۔ اُسدن گھر میں یہی ایک لطیفہ ہو گیا ۔

(۲۴۵)

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا ۔ کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کیساتھ کچھ کھانے کو مانگا انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو۔ حضرت نے کہا نہیں یہ میں نہیں لیتا ۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی ۔ حضرت صاحب نے اُسپر بھی وہی جواب دیا۔ وہ اُسوقت کسی بات پر چڑھی ہوئی بیٹھی تھیں ۔ سختی سے کہنے لگیں ۔ کہ جاؤ پھر راکھ کر روٹی کھا لو۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈالکر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہو گیا ۔ یہ حضرت صاحب کا بالکل بچپن کا واقعہ ہے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ والدہ صاحبہ نے یہ واقعہ سُنا کر کہا کہ جھوٹ اُس عورت نے مجھے یہ بات سُنائی تھی ۔ اسوقت حضرت صاحب بھی پاس تھے ۔ مگر آپ خاموش رہے ۔

(۲۴۶)

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مولوی ذوالفقار علیخان صاحب نے کہ جن دنوں میں گورداسپور میں کرم دین کا مقدمہ تھا ایک دن حضرت صاحب کچہری کی طرف تشریف لے جانے لگے اور حسب معمول پہلے دُعا کے لیئے اُس کمرہ میں گئے جو اس غرض کے لیئے پہلے مخصوص کر لیا تھا ۔ میں اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ باہر انتظار میں کھڑے تھے اور مولوی صاحب کے ہاتھ میں اُسوقت حضرت صاحب کی چھڑی تھی ۔ حضرت صاحب دُعا کر کے باہر نکلے تو مولویصاحب نے آپ کو چھڑی دی حضرت صاحب نے چھڑی ہاتھ میں لے کر اُسے دیکھا اور فرمایا ۔ یہ کس کی چھڑی ہے ؟ عرض کیا گیا کہ حضور ہی کی ہے جو حضور اپنے ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا ۔ اچھا ۔ میں تو سمجھا تھا کہ یہ میری نہیں چوہدری صاحب کہتے ہیں ۔ کہ وہ چھڑی مُدت سے آپکے ہاتھ میں رہتی تھی ۔ مگر محویت کا یہ عالم تھا۔ کہ کبھی اُسکی شکل کو غور سے دیکھا ہی نہیں تھا ۔ کہ پہچان سکیں ۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ اسی طرح ایک دفعہ میں قادیان آیا ۔ اسوقت حضرت صاحب مسجد کی سیڑھیوں میں کھڑے ہو کر کسی افغان کو رخصت کر رہے تھے اور میں دیکھتا تھا کہ آپ اُس وقت خوش نہ تھے ۔ کیونکہ وہ شخص افغانستان میں جا کر تبلیغ کرنے سے ڈرتا تھا ۔ خیر میں جا کر حضور سے ملا ۔ اور

صفحہ 408

۲۵۹

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت

(۲۶۶)

فرماتے تھے کہ مجھے وہ لوگ جو دنیا میں سادگی کی زندگی بسر کرتے ہیں بہت ہی پیارے لگتے ہیں ۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے یہ حضرت

(۲۶۷)

صاحب فرمایا کرتے تھے ۔ کہ مرضیٰ مولا از ہمہ اولیٰ (یعنی خدا کی رضا سب سے مقدم ہونی چاہیے )

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے

(۲۶۸)

کہ مدت کی بات ہے جب میاں ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی پہلی بیوی فوت ہو گئی اور اُن کو دوسری بیوی کی تلاش ہوئی ۔ تو ایک دفعہ حضرت صاحب نے اُن سے کہا کہ ہمارے گھر میں کچھ لڑکیاں رہتی ہیں اُن کو میں لاتا ہوں آپ اُن کو دیکھ لیں ۔ پھر اُن میں جو جو آپ کو پسند ہو اُس سے آپکی شادی کر دی جاوے ۔ چنانچہ حضرت صاحب گئے اور ان دو لڑکیوں کو بلا کر کمرہ کے باہر کھڑا کر دیا اور پھر اندر آ کر کہا کہ وہ باہر کھڑی ہیں آپ چک کے اندر سے دیکھ لیں چنانچہ میاں ظفر احمد صاحب نے اُن کو دیکھ لیا اور پھر حضرت صاحب نے اُن کو رخصت کر دیا ۔ اور اسکے بعد میاں ظفر احمد صاحب سے پوچھنے لگے ۔ کہ اب بتاؤ۔ تمہیں کونسی لڑکی پسند ہے وہ نام تو کیا جانتے نہ تھے۔ اس لئے انہوں نے کہا۔ کہ جس کا منہ لمبا ہے۔ وہ اچھی ہے اسکے بعد حضرت صاحب نے میری رائے لی۔ میں نے عرض کیا۔ کہ حضور میں نے تو نہیں دیکھا۔ پھر آپ خود فرمانے لگے ۔ کہ ہمارے خیال میں تو دوسری لڑکی بہتر ہے۔ جس کا منہ گول ہے۔ پھر فرمایا جس شخص کا چہرہ لمبا ہوتا ہے ۔ وہ بیماری وغیرہ کے بعد عموماً بد نما ہو جاتا ہے ۔ لیکن گول چہرہ کی خوبصورتی قائم رہتی ہے ۔ میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا۔ کہ اس وقت حضرت صاحب اور میاں ظفر احمد صاحب اور میرے سوا اور کوئی شخص وہاں نہ تھا۔ اور نیز یہ کہ حضرت صاحب ان لڑکیوں کو کسی احسن طریق سے وہاں لائے تھے اور پھر ان کو مناسب طریق پر رخصت کر دیا تھا۔ جس سے ان کو کچھ معلوم نہیں ہوا مگر ان میں سے کسی کے ساتھ میاں ظفر احمد صاحب کا رشتہ نہیں ہوا۔ یہ مدت کی بات ہے ۔

خاکسار عرض کرتا ہے ۔ کہ اللہ کے نبیوں میں خوبصورتی کا احساس بھی بہت ہوتا ہے۔ دراصل جو شخص حقیقی حُسن کو پہچانتا اور اسکی قدر کرتا ہو۔ وہ مجازی حُسن کو بھی ضرور پہچانیگا ۔ اور

صفحہ 409

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ

سِیْرَۃُ الْمَہْدِیْ

(حصّہ دوّم)

تالیفِ لطیف حضرت صاحبزادہ میرزا بشیر احمد صاحب ایم اے

جسے

مینجر بکڈپو تالیف و اشاعت قادیان دارالامان

نے

ماہ دسمبر ۱۹۲۷ء میں شائع کیا ٭

اسلامیہ سٹیم پریس لمیٹڈ لاہور میں باہتمام محمد منظور الزمان منیجر کے چھپا

صفحہ 410

۵۸

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری زمانہ میں اکثر دفعہ احباب آپکے لئے نیا کرتہ بنوا لاتے تھے اور اسے بطور نذر پیش کر کے تبرک کے طور پر حضور کا اترا ہوا کرتہ مانگ لیتے تھے۔ اسطرح ایک دفعہ کسی نے میرے پاس ایک نیا کرتہ بھجوا کر پُرانے اترے ہوئے کرتہ کی درخواست کی۔ گھر میں تلاش سے معلوم ہوا کہ اسوقت کوئی اترا ہوا بے دھلا کرتہ نہیں ۔ جس پر آپ نے اپنا مستعمل کرتہ دھوبی کے ہاں کا دُھلا ہوا دیئے جانے کا حکم فرمایا ۔ میں نے عرض کیا کہ یہ تو دھوبی کے ہاں کا دُھلا ہوا کرتہ ہے اور وہ شخص تبرک کے طور پر میلا کرتہ لے جانا چاہتا ہے ۔ حضور مسکرا کر کہنے لگے کہ وہ بھی کیا برکت ہے جو دھوبی کے ہاں دھلنے سے جاتی رہے۔ چنانچہ وہ کرتہ اس شخص کو دیدیا گیا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ وہ شخص غالباً یہ تو جانتا ہو گا کہ دھوبی کے ہاں دُھلنے سے برکت جاتی نہیں رہتی لیکن محبت کا یہی تقاضا ہوتا ہے کہ انسان اپنے مقدس محبوب کا اُترا ہوا میلا بے دھلا کپڑا اپنے پاس رکھنے کی خواہش کرتا ہے اور اسی طبعی خواہش کا احترام کرتے ہوئے گھر میں پہلے میلے کپڑے کی تلاش کی گئی ۔ لیکن جب وہ نہ ملا تو دُھلا ہوا کرتہ دیدیا گیا ۔

(۳۷۵) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جسمانی عادات میں ایسے سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب پہنے ہوئے تھے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کیطرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی۔ اور بار ہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوا ہوتا تھا۔ اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لئے گرگابی ہدیۃً لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں دائیں میں چنانچہ اس تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتی پہنتے تھے۔ اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اسوقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں کہ جب کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ آکر داڑھ دانت کے نیچے آجاتا ہے ۔

(۳۷۶) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی وفات سے قبل سالہا سال اسہال کا عارضہ رہا تھا ۔ چنانچہ حضور اسی مرض میں فوت ہوئے ۔ بارہا دیکھا کہ حضور کو دست آنے کے بعد ایسا ضعف ہوتا تھا کہ حضور فوراً دودھ کا گلاس منگوا کر پیتے تھے ۔

صفحہ 411

۶۳

نہ تھے مجھے کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر ضرورت ہو گی تو بڑے ہو کر بچے اور شادی کر لیں گے نیز والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ حضرت صاحب اسبات کو پسند فرماتے تھے کہ اسلامی حدود کو ملحوظ رکھتے ہوئے عورتیں زیادہ شادیاں کریں تاکہ نسل جلدی جلدی ترقی کرے اور قوم پھیلے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بے شک نسل کی ترقی کا یہ ایک بہت عمدہ ذریعہ ہے اور نیز اس طرح یہ فائدہ بھی حاصل ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحبت یافتوں کو اپنے سامنے زیادہ بچوں کی تربیت کا موقعہ مل سکتا ہے۔ جو قومی فلاح و بہبودی کے لئے بہت ضروری ہے لیکن تعدد ازدواج کے متعلق عدل و انصاف کی جو کڑی شرطیں اسلام پیش کرتا ہے۔ ان کا پورا کرنا بھی ہر کس و ناکس کا کام نہیں ہاں جن کو توفیق حاصل ہو اور ان کو کوئی جائز ضرورت پیش آجائے وہ بے شک زیادہ بیویاں کریں تاکہ بجملہ ان فوائد کے جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔ یہ فائدہ بھی حاصل ہو کہ ایسے لوگوں کے نیک نمونے سے وہ بدظنی اور بدگمانی جو بعض لوگوں کے بدنمونے کے نتیجہ میں تعدد ازدواج کے متعلق اس زمانہ میں خصوصاً حلقہ نسوان میں پیدا ہو رہی ہے ،

(۳۸۲) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ حافظ نور محمد صاحب متوطن فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کئی دفعہ فرمایا کرتے تھے کہ سلطان احمد (یعنے مرزا سلطان احمد صاحب) ہم سے سولہ سال چھوٹا ہے اور فضل احمد بیس برس اور اسکے بعد ہمارا اپنے گھر سے کوئی لڑکا نہیں رہا ۔

(۳۸۳) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میر حامد شاہ صاحب مرحوم سیالکوٹی اور ان کے والد میر حسام الدین صاحب قادیان میں موجود تھے حضرت صاحب کے سامنے ذکر ہوا کہ میر حسام الدین صاحب کی بیوی فوت ہو چکی ہے جس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ میر صاحب کہیں اور شادی کرلیں۔ بلکہ میر حامد شاہ صاحب سے فرمایا کہ میر حسام الدین صاحب کی شادی کا بندوبست کرا دیں۔ اسوقت میر حسام الدین صاحب بہت معمر تھے ۔

صفحہ 412

۷۶

اپنی جگہ بدل دے۔ چنانچہ یہ تجویز کارگر ہوئی اور اس کی اصلاح ہو گئی۔ علم توجہ جسے انگریزی میں ہپناٹزم کہتے ہیں وہ بھی اسی مخفی قلبی رو کا نتیجہ ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ ہپناٹزم میں توجہ ڈالنے والا ارادہ اور شعور کے ساتھ اپنی توجہ کا ایک مرکز قائم کرتا ہے لیکن اس قسم کی عام حالت میں بلا ارادہ ہر شخص کے قلب سے ایک رو جاری رہتی ہے اور اسی لئے یہ رو ہپناٹزم کی رو کی نسبت بہت کمزور اور بطی الاثر ہوتی ہے ۔

محمد اسماعیل صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود سے عرض کیا کہ میرے ساتھ شفاخانہ میں ایک انگریز لیڈی ڈاکٹر کام کرتی ہے اور وہ ایک بڑھی عورت ہے وہ کبھی کبھی میرے ساتھ مصافحہ کرتی ہے اسکے متعلق کیا حکم ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ تو جائز نہیں ہے۔ آپ کو عذر کر دینا چاہئے کہ ہمارے مذہب میں یہ جائز نہیں ۔

سرور شاہ صاحب بیان کرتے تھے کہ ایک دفعہ قادیان کے قصابوں نے کوئی شرارت کی تو اسپر حضرت صاحب نے حکم دیا کہ ان سے گوشت خریدنا بند کر دیا جاوے۔ چنانچہ کئی دن تک گوشت بند رہا اور سب لوگ دال وغیرہ کھاتے رہے۔ ان دنوں میں نے (مولوی سید سرور شاہ صاحب نے) حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ میرے پاس ایک بکری ہے وہ میں حضور کی خدمت میں پیش کرتا ہوں حضور اسے ذبح کروا کے اپنے استعمال میں لائیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہمارا دل اسبات کو پسند نہیں کرتا کہ ہمارے دوست دالیں کھائیں اور ہمارے گھر میں گوشت پکے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ حضرت صاحب اسبات کے قائل تھے کہ سب مومنوں کے گھر میں ایک سا کھانا پکنا چاہئے اور سب کا تمدن وطریق ایک سا ہونا چاہئے ۔ بلکہ منشاء صرف یہ ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ گوشت خریدنے کی ممانعت کی گئی تھی آپ کے اخلاق نے یہ گوارا نہیں کیا کہ آپ اپنے لئے تو کوئی خاص انتظام کر لیں اور دوسرے ذی استطاعت احباب

صفحہ 413

۱۲۱ سیرۃ

آگاہ کر دیا۔

جسم اور قد آپکا جسم دُبلا نہ تھا۔ نہ آپ بہت موٹے تھے۔ البتہ آپ دہرے جسم کے تھے۔ قد متوسط تھا۔ اگر چہ ناپا نہیں گیا مگر اندازاً پانچ فٹ آٹھ انچ کے قریب ہوگا۔ کندھے اور چھاتی کشادہ اور آخر عمر تک سیدھے رہے نہ کمر جھکی نہ کندھے تمام جسم کے اعضا میں تناسب تھا۔ یہ نہیں کہ ہاتھ بے حد لمبے ہوں یا ٹانگیں یا پیٹ اندازہ سے زیادہ نکلا ہوا ہو۔ غرض کسی قسم کی بدصورتی آپ کے جسم میں نہ تھی۔ جلد آپ کی متوسط درجہ کی تھی نہ سخت نہ کھردری اور نہ ایسی ملائم جیسی عورتوں کی ہوتی ہے۔ آپکا جسم پلپلا اور نرم نہ تھا بلکہ مضبوط اور جوانی کی سی سختی لئے ہوئے۔ آخر عمر میں آپ کی کھال کہیں سے بھی نہیں لٹکی نہ آپ کے جسم پر جھریاں پڑیں ۔ آپ کا رنگ گندمی اور نہائت اعلیٰ درجہ کا گندمی تھا۔ یعنی اس میں ایک نورانیت اور سرخی جھلک مارتی تھی۔ اور یہ چمک جو آپ کے چہرہ کے ساتھ وابستہ تھی عارضی نہ تھی بلکہ دائمی کبھی کسی صدمہ رنج ابتلا مقدمات اور مصائب کے وقت آپ کا رنگ زرد ہوتے نہیں دیکھا گیا۔ اور ہمیشہ چہرہ مبارک کُندن کی طرح دمکتا رہتا تھا کسی مصیبت اور تکلیف نے اس چمک کو دور نہیں کیا۔ علاوہ اس چمک اور نور کے آپکے چہرہ پر ایک بشاشت اور تبسم ہمیشہ رہتا تھا اور دیکھنے والے کہتے تھے کہ اگر یہ شخص مفتری ہے اور دل میں اپنے تئیں جھوٹا جانتا ہے تو اسکے چہرہ پر بشاشت اور خوشی اور مسرت اور طمانیت قلب کے آثار کیونکر ہو سکتے ہیں۔ یہ نیک ظاہر کسی بد باطن کے ساتھ وابستہ نہیں رہ سکتا۔ اور ایمان کا نور بدکار کے چہرہ پر درخشندہ نہیں ہو سکتا۔ آتھم کی پیشگوئی کا آخری دن آگیا اور جماعت میں لوگوں کے چہرے پژمردہ ہیں اور دل سخت منقبض ہیں۔ بعض لوگ نا واقفی کے باعث مخالفین سے اس کی موت پر شرطیں لگا چکے ہیں۔ ہر طرف سوگ اور یاس کے آثار ظاہر ہیں۔ لوگ نمازوں میں چیخ چیخ کر رو رہے ہیں کہ اے خدا وند ہمیں رسوا مت کریو غرض ایسا کہرام مچ رہا ہے کہ غیروں کے رنگ بھی فق ہو رہے ہیں۔ مگر یہ خدا کا شیر گھر سے نکلتا ہے ہنستا ہوا اور جماعت کے سر برآوردوں کو مسجد میں بلاتا ہے مسکراتا ہوا۔ ادھر حاضرین کے دل بیٹھے جاتے

صفحہ 414 ۱۲۶

کپڑے بنتے تھے اور استعمال ہوتے تھے ۔ اور اسیطرح ساتھ ساتھ خرچ بھی ہوتے جاتے تھے یعنی ہر وقت تبرک مانگنے والے طلب کرتے رہتے تھے بعض دفعہ تو یہ نوبت پہنچ جاتی کہ آپ ایک کپڑا بطور تبرک کے عطا فرماتے تو دوسرا بنوا کر اس وقت پہننا پڑتا ۔ اور بعض سمجھ دار اس طرح بھی کرتے تھے کہ مثلاً ایک کپڑا اپنا بھیج دیا اور ساتھ عرض کر دیا کہ حضور ایک اپنا اترا ہوا تبرک مرحمت فرماویں ۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ اب آپ کے لباس کی ساخت سنئے ۔ عموماً یہ کپڑے آپ زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ کرتہ یا قمیض۔ پائجامہ۔ صدری ۔کوٹ۔ عمامہ ۔اسکے علاوہ رومال بھی ضرور رکھتے تھے اور جاڑوں میں جرابیں۔ آپ کے سب کپڑوں میں خصوصیت یہ تھی کہ وہ بہت کھلے کھلے ہوتے تھے۔ اور اگر چہ شیخ صاحب مذکور کے آوردہ کوٹ انگریزی طرز کے ہوتے مگر گلے بہت کشادہ اور لمبے یعنی گھٹنوں سے نیچے ہوتے تھے ۔ اور جبے اور چوغے بھی جو آپ پہنتے تھے تو وہ بھی ایسے لمبے کہ بعض تو ان میں سے ٹخنے تک پہنچتے تھے۔ اسی طرح کرتے اور صدریاں بھی کشادہ ہوتی تھیں ۔

بنیان آپ کبھی نہ پہنتے تھے بلکہ اس کی تنگی سے گھبراتے تھے۔ گرم قمیض جو پہنتے تھے اس کا اکثر اوپر کا بٹن کھلا رکھتے تھے۔ اسی طرح صدری اور کوٹ کا اور قمیض کے کالروں میں اگر بٹن ہوں تو وہ بھی ہمیشہ کھلے رہتے تھے آپکا طرز عمل ما انا من المتکلفین کے ماتحت تھا کہ کسی مصنوعی جکڑ بندی میں جو شرعاً غیر ضروری ہے پابند رہنا آپ کے مزاج کے خلاف تھا اور نہ آپ کو کبھی پرواہ تھی کہ لباس عمدہ ہے یا برش کیا ہوا ہے یا بٹن سب درست لگے ہوئے ہیں یا نہیں۔ صرف لباس کی اصلی غرض مطلوب تھی۔ بارہا دیکھا گیا کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے ہی میں لٹکے ہوئے ہوتے تھے بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگائے ہوئے دیکھے گئے۔ آپ کی توجہ ہمہ تن اپنے مشن کی طرف تھی اور اصلاح امت پر۔ اتنے محو تھے کہ اصلاح لباس کی طرف توجہ نہ تھی۔ آپ کا لباس آخر عمر میں چند سال سے بالکل گرم بنات کا ہی رہتا تھا۔ یعنی کوٹ اور صدری اور پاجامہ گرمیوں میں بھی گرم رکھتے تھے۔ اور یہ علالت طبع کے باعث تھا کہ سردی آپ کو موافق نہ تھی۔ اسلئے اکثر گرم کپڑے رکھا کرتے تھے۔ البتہ گرمیوں میں نیچے کرتہ ململ کا رہتا تھا۔ بجائے گرم کرتے کے پاجامہ آپ کا

صفحہ 415

۱۲۷

خضاب فرمایا کرتے تھے،

صدری گھر میں اکثر پہنتے تھے مگر کوٹ عموماً باہر جاتے وقت ہی پہنتے۔ اور سردی کی زیادتی کے دنوں میں اوپر تلے دو دو کوٹ بھی پہنا کرتے۔ بلکہ بعض اوقات پوستین بھی، صدری کی جیب میں یا بعض اوقات کوٹ کی جیب میں ایک رومال ہوتا تھا۔ آپ ہمیشہ بڑا رومال رکھتے تھے۔ نہ کہ چھوٹا جنٹلمینی رومال جو آجکل کا بہت مروج ہے اسی کے کونوں میں آپ مشک اور ایسی ہی ضروری ادویہ جو آپ کے استعمال میں رہتی تھیں اور ضروری خطوط وغیرہ باندھ رکھتے تھے۔ اور اسی رومال میں نقد وغیرہ جو نذر لوگ مسجد میں پیش کر دیتے تھے باندھ لیا کرتے،

گھڑی بھی آپ ضرور اپنے پاس رکھا کرتے مگر اس کی کنجی دینے میں چونکہ اکثر ناغہ ہو جاتا اسلئے

گھڑی

اکثر وقت غلط ہی ہوتا تھا۔ اور چونکہ گھڑی جیب میں سے اکثر نکل پڑتی اسلئے آپ اسے بھی رومال میں باندھ لیا کرتے۔ گھڑی کو ضرورت کے لئے رکھتے نہ زیبائش کے لئے۔

آپ کو دیکھ کر کوئی شخص ایک لمحہ کے لئے بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس شخص کی زندگی میں یا لباس میں کسی قسم کا بھی تصنع ہے یا یہ زیب وزینت دنیوی کا دلدادہ ہے۔ ہاں البتہ دائرہ شرع و جواز کے ماتحت آپ صاف اور ستھری چیز ہمیشہ پسند فرماتے اور گندی اور میلی چیز سے سخت نفرت رکھتے۔

صفائی کا اس قدر اہتمام تھا کہ بعض اوقات آدمی موجود نہ ہو تو بیت الخلا میں خود فینائل ڈالتے تھے۔

عمامہ شریف آپ ململ کا باندھا کرتے تھے۔ اور اکثر، اگاڑی کا پلو اوپر لمبا ہوتا تھا۔ شملہ آپ لمبا چھوڑتے تھے کبھی کبھی شملہ کو آگے ڈال لیا کرتے ۔ اور کبھی اس کا پلو دہن مبارک پر بھی رکھ لیتے۔

جبکہ مجلس میں خاموشی ہوتی۔ عمامہ کے باندھنے کی آپ کی خاص وضع تھی۔ نوک تو ضرور سامنے ہوتی مگر سر پر ڈھیلا ڈھیلا لپٹا ہوا ہوتا تھا۔ عمامہ کے نیچے اکثر رومی ٹوپی رکھتے تھے اور گھر میں عمامہ اتار کر صرف یہ ٹوپی ہی پہنے رہا کرتے۔ مگر نرم قسم کی وہ ہو جو سخت قسم کی نہ ہوتی۔

جرابیں آپ سردیوں میں استعمال فرماتے اور ان پر مسح فرماتے۔ یہ بعض اوقات زیادہ سردی میں دو دو جرابیں اوپر تلے چڑھا لیتے۔ مگر بارہا جراب اس طرح پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی۔ کبھی تلوہ آگے لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ پیر کی پشت پر آجاتی۔ کبھی ایک جراب سیدھی دوسری الٹی۔ اگر جراب کہیں سے کچھ پھٹ جاتی تو بھی مسح جائز رکھتے بلکہ فرماتے تھے کہ رسول صلعم کے

صفحہ 416

۱۲۸

اصحاب ایسے موزوں پر بھی مسح کر لیا کرتے تھے جن میں سے ان کی انگلیوں کے پوٹے باہر نکلے رہا کرتے ۔

جوتی آپ کی دیسی ہوتی۔ خواہ کسی وضع کی ہو۔ پشاوری۔ لاہوری۔ لدھیانوی سلیم شاہی ہر وضع کی پہن لیتے مگر ایسی جو کھلی کھلی ہو۔ انگریزی بوٹ کبھی نہیں پہنا۔ گرگابی حضرت صاحب کو پہنے جیتے نہیں دیکھا۔

جوتی اگر تنگ ہوتی تو اُس کی ایڑی بٹھا لیتے۔ مگر ایسی جوتی کے ساتھ باہر تشریف نہیں لیجاتے تھے۔ لباس کے ساتھ ایک چیز کا اور بھی ذکر کر دوں وہ یہ کہ آپ عصا ضرور رکھتے تھے۔ گھر میں یا جب مسجد مبارک میں روزانہ نماز کو جانا ہوتا۔ تب تو نہیں مگر مسجد اقصیٰ کو جانے کے وقت یا جب باہر سیر وغیرہ کے لئے تشریف لاتے تو ضرور ہاتھ میں ہوا کرتا تھا۔ اور موٹی اور مضبوط لکڑی کو پسند فرماتے مگر کبھی اس پر سہارا یا بوجھ دیکر نہ چلتے تھے جیسے اکثر ضعیف العمر آدمیوں کی عادت ہوتی ہے؛

کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ ۔ صدری ۔ ٹوپی۔ عمامہ رات کو اُتار کر تکیہ کے نیچے ہی رکھ لیتے۔ اور رات بھر تمام کپڑے جنہیں محتاط لوگ شکن اور میل سے بچانے کو الگ جگہ کھونٹی پر ٹانگ دیتے ہیں وہ بستر پر سر اور جسم کے نیچے دبے جاتے اور صبح کو ان کی ایسی حالت ہو جاتی کہ اگر کوئی فیشن کا دلدادہ اور سلوٹ کا دشمن ان کو دیکھ لے تو سر پیٹ لے ۔

موسم گرما میں دن کو بھی اور رات کو تو اکثر آپ کپڑے اُتار دیتے اور صرف چادر یا لنگی باندھ لیتے گرمی دانے بعض دفعہ بہت نکل آتے تو اس کی خاطر بھی کرتہ اُتار دیا کرتے۔ تہ بند اکثر نصف ساق تک ہوتا تھا۔ اور گھٹنوں سے اوپر ایسی حالتوں میں مجھے یاد نہیں کہ آپ برہنہ ہوئے ہوں ۔

آپ کے پاس کچھ کنجیاں بھی رہتی تھیں۔ یہ یا تو رومال میں یا اکثر ازار بند میں باندھ کر رکھتے۔ روئی دار کوٹ پہننا آپ کی عادت میں داخل نہ تھا۔ نہ ایسی رضائی اوڑھ کر باہر تشریف لاتے بلکہ چادر سفید مینڈو یا دھسہ رکھا کرتے تھے اور وہ بھی سر پر کبھی نہیں اوڑھتے تھے بلکہ کندھوں اور

صفحہ 417

حسنی لائبریری

وَعَلٰی عِبَادِہِ الْمُصْطَفٰے

سیرۃ المہدی

حصّہ سوم

مُرَتَّب فَرْمُودَہ

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے

جسے

محمد اسمعیل مولوی فاضل ومنشی فاضل نے قادیان دارالامان سے

شائع کیا

حقوق محفوظ

ایڈیشن اوّل صفر ۱۳۵۸ھ اپریل ۱۹۳۹ء تعداد ۱۰۰۰

صفحہ 418

119 سیرۃ المہدی حصہ سوم

تک میں نے ابھی بیعت نہ کی تھی۔

خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے حضرت صاحب سے قدیم تعلقات تھے جو غالباً حضرت خلیفہ اوّل کے واسطہ سے قائم ہوئے تھے۔ مگر مولوی صاحب موصوف نے بیعت کچھ عرصہ بعد کی تھی۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جماعت کے بہترین مقررین میں سے تھے۔ اور آواز کی غیر معمولی بلندی اور خوش الحانی کے علاوہ ان کی زبان میں غیر معمولی فصاحت اور طاقت تھی جو سامعین کو مسحور کر لیتی تھی۔

۶۷۲

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حج نہیں کیا۔ اعتکاف نہیں کیا۔ زکوٰۃ نہیں دی۔ تسبیح نہیں رکھی۔ میرے سامنے ضب یعنی گوہ کھانے سے انکار کیا۔ صدقہ نہیں کھایا۔ زکوٰۃ نہیں کھائی۔ صرف نذرانہ اور ہدیہ قبول فرما تے تھے۔ پیروں کی طرح مصلیٰ اور خرقہ نہیں رکھا۔ رائج الوقت درود و وظائف (مثلاً چہل سورہ ۔ دعائے گنج العرش ۔ درود تاج ۔ حزب البحر ۔ دعائے سریانی وغیرہ) نہیں پڑھتے تھے۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حج نہ کرنے کی تو خاص وجوہات تھیں کہ شروع میں آپ کے لئے مالی لحاظ سے انتظام نہیں تھا۔ کیونکہ ساری جائداد وغیرہ اوائل میں ہمارے دادا صاحب کے ہاتھ میں تھی اور بعد میں تایا صاحب کا انتظام رہا۔ اور اس کے بعد حالات ایسے پیدا ہو گئے ۔ کہ ایک تو آپ جہاد کے کام میں منہمک رہے دوسرے آپ کے لئے حج کا راستہ بھی مخدوش تھا۔ تاہم آپ کی خواہش رہتی تھی۔ کہ حج کریں۔ چنانچہ حضرت والدہ صاحبہ نے آپ کے بعد آپ کی طرف سے حج بدل کروا دیا۔ اعتکاف ماموریت کے زمانہ سے قبل غالباً بیٹھے ہونگے مگر ماموریت کے بعد بوجہ قلمی جہاد اور دیگر مصروفیت کے نہیں بیٹھ سکے کیونکہ یہ نیکیاں اعتکاف سے مقدم ہیں۔ اور زکوٰۃ اس لئے نہیں دی۔ کہ آپ کبھی صاحب نصاب نہیں ہوئے۔ البتہ حضرت والدہ صاحبہ زیور پر زکوٰۃ دیتی رہی ہیں۔ اور تسبیح اور رسمی وظائف وغیرہ کے آپ قائل ہی نہیں تھے۔

۶۷۳

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت صاحب کی آنکھوں میں مائی اوپیا تھا۔ اسی وجہ سے پہلی رات کا چاند نہ دیکھ سکتے تھے۔ مگر نزدیک سے آخر عمر تک باریک حروف بھی پڑھ لیتے تھے۔ اور عینک کی حاجت محسوس نہیں کی۔ اور ورنہ آنکھوں کی یہ حالت

صفحہ 419

۲۱۰

جو تم میرے بیٹے ہو گے تو ناول نہیں پڑھو گے "

خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یہ واقعہ یاد نہیں۔ مگر اس روایت سے مجھے ایک خاص سرور حاصل ہوا ہے کیونکہ میں بچپن سے محسوس کرتا آیا ہوں کہ مجھے ناول خوانی کی طرف کبھی توجہ نہیں ہوئی نہ بچپن میں نہ جوانی میں اور نہ اب۔ بلکہ ہمیشہ اس کی طرف سے بے رغبتی رہی ہے حالانکہ اکثر نوجوانوں کو اس میں کافی شغف ہوتا ہے اور خاندان میں بھی بعض افراد کبھی کبھی ناول پڑھتے رہے ہیں۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت صاحب نے کسی کو ناول پڑھتے دیکھا ہوگا۔ یا کسی اور وجہ سے ادھر توجہ ہوئی ہوگی جس پر بطریق انتباہ مجھے یہ نصیحت فرمائی۔ اور الحمد للہ میں حضرت صاحب کی توجہ سے خدا کے فضل کے ساتھ اس لغو فعل سے محفوظ رہا۔

۷۸۰ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ام المومنین نے ایک دن سُنایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بھانو تھی۔ وہ ایک رات جبکہ خوب سردی پڑ رہی تھی حضور کو دبانے بیٹھی۔ چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی۔ اس لئے اُسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں۔ وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا۔ بھانو آج بڑی سردی ہے۔ بھانو کہنے لگی ”ہاں جی تدے تے تہاڈی لتاں لکڑ دی وانگوں ہوئیاں ہوئیاں ایں “ یعنی جی ہاں تبھی تو آج آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہورہی ہیں۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے جو بھانو کو سردی کی طرف توجہ دلائی تو اس میں بھی غالباً یہ جتانا مقصود تھا کہ آج شاید سردی کی شدت کی وجہ سے تمہاری حس کمزور ہورہی ہے اور تمہیں پتہ نہیں لگا کہ کس چیز کو دبا رہی ہو۔ مگر اس نے سامنے سے اور ہی لطیفہ کر دیا۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ بھانو مذکورہ قادیان کے ایک قریب کے گاؤں بسرا کی رہنے والی تھی۔ اور اپنے ماحول کے لحاظ سے اچھی مخلصہ اور دیندار تھی۔ -

۷۸۱ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ قریباً ۱۸۹۸ء یا ۱۸۹۹ء کا واقعہ ہے کہ کہیں سے ایک بہت بڑا لوہے چینی کا پیالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آیا۔ جس کی بڑائی کی وجہ سے معلوم نہیں اہل بیت نے یا خود حضرت صاحب نے اس کا نام

صفحہ 420

سیرۃ المہدی حصہ سوم ۲۱۳

خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیر کا مرید کی نذر رد کرنا مرید کے لئے موت سے بڑھکر ہوتا ہے اس لئے سوائے اس کے کہ کسی پر کوئی خاص ناراضگی ہو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سب کی نذر قبول فرما لیتے تھے اور سب کے لئے دعا کرتے تھے اور ہر ایک کو اپنے اپنے رنگ میں دعا فائدہ پہونچاتی تھی ۔ کسی کو فتح کے رنگ میں اور کسی کو اور رنگ میں ۔

۷۸۶

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مائی رسول بی بی صاحبہ بیوہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹاموی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں ۔ اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سوتے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگا دینا ۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوتے سنے اور آپ کو جگا دیا ۔ اس وقت رات کے بارہ بجے تھے ۔ ان ایام میں عام طور پر پہرہ پر مائی فجو ، منشیانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھیں ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی رسول بی بی صاحبہ میری رضاعی ماں ہیں اور حافظ حامد علی صاحب مرحوم کی بیوہ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے خادم تھے۔ یہ مولوی عبدالرحمن صاحب ان کے داماد ہیں۔

۷۸۷

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب میں قادیان میں تھا اور اوپر سے رمضان شریف آگیا ۔ تو میں نے گھر آنے کا ارادہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ۔ یہیں سارا رمضان یہیں رہیں ۔ میں نے عرض کی ۔ حضور ایک شرط ہے کہ حضور کے سامنے کا جو کھانا ہو ۔ وہ میرے لئے آجایا کرے ۔ آپ نے فرمایا ۔ بہت اچھا ۔ چنانچہ دونوں وقت حضور ہمیشہ اپنے سامنے کا کھانا مجھے بھجواتے رہے ۔ دوسرے لوگوں کو بھی یہ خبر ہوگئی اور وہ مجھ سے چھین لیتے تھے یہ کھانا بہت سا ہوتا تھا ۔ کیونکہ حضور بہت کم کھاتے تھے ۔ اور بیشتر حصہ سامنے سے اسی طرح اٹھکر آجاتا تھا۔

۷۸۸

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کبھی کبھی ضیق صدر کی کیفیت ہو جاتی تھی ۔ جو بعض اوقات اچانک پیدا ہو جاتی تھی ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب گھر میں ایک چارپائی کو کھینچکر ایک طرف کرنے لگے ۔ تو اس وقت آپ کو اچانک چکر آگیا

صفحہ 421

کس خیال میں پھر رہے تھے۔ ورنہ حضور کو اکیلے پھرتے لدھیانہ میں نہ دیکھا تھا۔ اور خاکسار بھی اسی خیال سے سامنے نہ ہوا کہ شاید کوئی بھید ہوگا۔ پھر اسی لدھیانہ میں خاکسار نے اپنی آنکھ سے دیکھا کہ جب حضرت اقدس علیہ السلام دہلی سے واپس لدھیانہ تشریف لائے۔ تو حضور کی زیارت کے لئے اس قدر اسٹیشن پر ہجوم ہو گیا تھا کہ بڑے بڑے معزز لوگ آدمیوں کی کثرت اور دھکم پیل سے زمین پر گر گئے تھے۔ اور پولیس والے بھی عاجز آگئے تھے مگر گرد و غبار آسمان کو جا رہا تھا۔ اور حضور اقدس علیہ السلام نے بھی بڑی محبت سے لوگوں کو فرمایا کہ ہم تو یہاں چوبیس گھنٹے ٹھہریں گے ملنے والے وہاں قیامگاہ پر آجائیں۔ ایک وقت اکیلے یہاں پھرتے دیکھا اور پھر یہ بھی دیکھا کہ اس قدر ہجوم آپ کی زیارت کے لئے جمع ہو گیا تھا۔

اس مرتبہ لدھیانہ میں حضور علیہ السلام نے لدھیانہ میں ایک لیکچر دیا جس میں ہندو عیسائی مسلمان اور بڑے بڑے معزز لوگ موجود تھے تین گھنٹے حضور اقدس نے تقریر فرمائی ۔ حالانکہ بوجہ سفر دہلی کچھ طبیعت بھی درست نہ تھی۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ اس لئے حضور اقدس نے بوجہ سفر روزہ نہ رکھا تھا۔ اب حضور اقدس نے تین گھنٹہ تقریر جو فرمائی تو طبیعت پر ضعف سا طاری ہوا مولوی محمد احسن صاحب نے ایک پیالہ دودھ پیش کیا۔ جس پر بعض مخالفوں نے اعتراض کیا کہ مرزا رمضان میں دودھ پیتا ہے۔ اور شور مچایا۔ لیکن چونکہ پولیس کا آدمی موجود تھا۔ شور و شغب کرنے والے مسلمان وہاں سے نکال دیئے گئے۔ اس موقعہ پر یہاں پر تین تقاریر ہوئیں۔ اول مولوی سید محمد احسن صاحب کی ۔ دوسرے حضرت مولوی نور الدین صاحب کی ۔ تیسرے حضور اقدس علیہ السلام کی پھر یہاں سے حضور امرت سر تشریف لے گئے ۔ وہاں سنا ہے کہ مخالفوں کی طرف سے سنگباری بھی ہوئی

خاکسار عرض کرتا ہے کہ بازار میں اکیلے پھرنے کی بات تو خیر ہوئی مگر مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ حضور بازار کے اندر صرف صدری میں پھر رہے تھے۔ اور جسم پر کوٹ نہیں تھا۔ کیونکہ حضرت صاحب کا طریق تھا کہ گھر سے باہر ہمیشہ کوٹ پہنکر نکلتے تھے۔ پس اگر میر صاحب کو کوئی غلطی نہیں لگی تو اس وقت کوئی خاص بات ہوگی یا جلدی میں کسی کام کی وجہ سے نکل آئے ہوں گے۔ یا کوٹ کا خیال نہیں آیا ہوگا۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم :۔ ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیا کہ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت

صفحہ 422

سیرۃ المہدی حصہ سوم ۲۷۳

میں رہی ہوں۔ گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھکو پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی۔ مجھکو اس اثناء میں کسی قسم کی تھکان و تکالیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا۔ دو دفعہ ایسا موقعہ آیا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقعہ ملا۔ پھر بھی اس حالت میں مجھکو نہ نیند نہ غنودگی اور نہ تھکان معلوم ہوئی۔ بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔ اسی طرح جب مبارک احمد صاحب بیمار ہوئے۔ تو مجھکو ان کی خدمت کے لئے بھی اسی طرح کئی راتیں گزارنی پڑیں۔ تو حضور نے فرمایا کہ زینب اس قدر خدمت کرتی ہے کہ ہمیں اس سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ اور آپ کئی دفعہ اپنا تبرک مجھے دیا کرتے تھے۔

۹۱۱

بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت خلیفہ اول کے درس میں جب آیت وما ابرئ نفسی ان النفس لامارۃ بالسوء الا ما رحم ربی۔ ان ربی غفور رحیم آیا کرتی۔ تو آپ کہا کرتے تھے کہ یہ عزیز مصر کی بیوی کا قول ہے۔ ایک دفعہ حضرت صاحب کے سامنے بھی یہ بات کسی دوست نے پیش کر دی۔ کہ مولوی صاحب اسے امرأۃ العزیز کا قول کہتے ہیں۔ حضرت صاحب فرمانے لگے۔ کیا کسی کافر یا بدکار عورت کے منہ سے بھی ایسی معرفت کی بات نکل سکتی ہے۔ اس فقرہ کا تو لفظ لفظ کمال معرفت پر دلالت کرتا ہے۔ یہ تو سوائے نبی کے کسی کا کلام نہیں ہوسکتا۔ یہ عجز اور اعتراف کمزوری کا اور اللہ تعالیٰ پر توکل اور اس کی صفات کا ذکر یہ انبیاء ہی کی شان ہے۔ آیت کا مضمون ہی بتا رہا ہے کہ یوسف کے سوا اور کوئی اسے نہیں کہہ سکتا۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس واقعہ کا ذکر روایت ۲۶۴ میں بھی آچکا ہے۔

۹۱۲

بسم اللہ الرحمن الرحیم :۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ کسی تکلیف کے علاج کے لئے اس عاجز کو یہ حکم دیا۔ کہ ڈاکٹر محمد حسین صاحب لاہوری ساکن بھاٹی دروازہ سے (جو مدت ہوئے فوت ہوچکے ہیں) نسخہ لکھوا کر لاؤ۔ اور اپنا حال بھی لکھدیا۔ اور بتا بھی دیا۔ چنانچہ میں ڈاکٹر صاحب موصوف کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے نسخہ لا کر حضرت صاحب کو دیا۔ ڈاکٹر صاحب سے معلوم ہوا۔ کہ حضرت صاحب ان سے پہلے

صفحہ 423

عسل مصفا ۷

حدیث لوکان الایمان معلقا بالثریا لناله رجل من ابناء فارس اور آیہ کریمہ وآخرین منھم لما یلحقوا بھم خلیفۃ اللہ فی ھذا الزمان وکلیم اللہ فی الدوران شمس الہدی و بدرالدجیٰ صاحب ملکۃ الملکیہ ومہبط قوۃ القدسیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اس ناچیز رسالہ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا اور اس کے سننے سے اظہار خوشی فرمایا جس سے اس ہیچمدان کو ایک ہمت بندھی اور حوصلہ پیدا ہوا کہ اگر اور کوئی کتاب بھی خاکسار کی قلم سے نکلے تو انشاء اللہ وہ بھی ایسی ہی عزت و فخر کا تاج پہنے گی کیونکہ محض دینی جوش سے لکھی جائے گی اور اس میں کسی ایماء یا تقاضہ کو دخل نہیں ہو گا محض ابتغاء لوجہ اللہ وہ کارروائی ہوگی۔ سو دوسری وجہ جو اس کتاب کے لکھنے کی محرک ہوئی وہ یہی ہے کہ خود ہادی انام میری ناچیز خدمت کو نظر قبولیت سے دیکھتے ہیں۔

تیسرا باعث جو اس کتاب کے لکھنے کا محرک ہوا وہ یہ ہے کہ سفرہائے سابقہ میں جو تقریباً ملک پنجاب کے کل اضلاع ممالک مغربی و شمالی و ملک اودہ و صوبہ ہائے وسطی ہند و علاقہ بمبئی و مدراس کے بڑے بڑے شہروں میں کئے گئے اور بعد ازاں کے سفروں میں جو پچھلے دورہ پشاور و مارواڑ و ملک سندھ میں وقوع میں آئے مشاہیر علماء سے شرف ملازمت کے موقع پیش آئے اور مسئلہ حیات و ممات مسیح علیہ السلام پر گفتگوئیں بھی ہوئیں اور جہانتک میں نے دیکھا یہی پایا کہ علماء وقت صرف لکیر کے فقیر ہیں علوم دینی میں وسیع معلومات نہیں رکھتے۔ کم ہمت اور کم حوصلہ ہو رہے ہیں۔ انکی دلی اور پسندیدہ بات یہی ہے کہ جس طرح سے ممکن ہو بقیہ زندگی بے کھٹکے کٹ جائے۔ مسائل میں تدبر و خوض سے بالکل عاری۔ اسرار آیات قرآنیہ و معارف احادیث نبویہ سے بیزاری انکی عادت ہو رہی ہے۔ حقایق قرآن مجید و دقایق فرقان حمید سے معذوری اور علوم جدیدہ و فنون پسندیدہ سے مہجوری گویا انکی قسمت

صفحہ 424

۱۱۷

اصحاب مجدد تسلیم کئے گئے ہیں۔ جن میں سے بعض نے اپنی زبان سے دعویٰ مجددیت کیا ہے اور بعض نے نہیں کیا ۔صرف بعض لوگوں نے انکو اپنے اعتقاد اور علم سے مجدد تسلیم کرلیا ہے۔ ہم انکے نام صدی وار لکھ دیتے ہیں۔ تاکہ جو لوگ انکے اسمائے مبارکہ سے ناواقف اور نا آشنا ہیں۔ اچھی طرح سے واقف ہو جائیں۔

پہلی صدی میں اشخاص ذیل مجدد تسلیم کئے گئے ہیں

(۱) عمر بن عبدالعزیز (۲) سالم (۳) قاسم (۴) مکحول ۔ علاوہ انکے اور بھی اس صدی میں مجدد مانے گئے ہیں۔ چونکہ جو مجدد جامع صفات مجددیہ ہوتا ہے۔ وہ سب کا سردار اور فی الحقیقت وہی مجدد فی نفسہ مانا جاتا ہے۔ اور باقی اس کی ذیل سمجھے جاتے ہیں۔ جیسے انبیاء بنی اسرائیل میں ایک نبی بڑا ہوتا تھا ۔ تو دوسرے اسکے تابع ہو کر کارروائی کرتے تھے۔ چنانچہ صدی اول کے مجدد متصف بجمیع صفات مجددیہ حضرت عمر بن عبدالعزیز تھے دیکھو نجم الثاقب جلد ۴ صفحہ ۷۹ ۔ وقرة العیون و مجالس الابرار ۔

دوسری صدی کے مجدد اشخاص ذیل ہیں

(۱) امام محمد ادریس ابوعبداللہ شافعی (۲) احمد بن محمد بن حنبل شیبانی (۳) یحییٰ بن یحییٰ بن سنی غطفانی (۴) اشھب بن عبدالعزیز بن داؤد قیسی (۵) ابو عمرو دانی مقری (۶) ہارون امیر المومنین رشید عباسی (۷) قاضی حسن بن زیاد حنفی (۸) جنید بن محمد بغدادی صوفی (۹) سہل بن ابی سہل بن زنجلہ شافعی ۔ (۱۰) بقول امام شعرانی حارث بن اسعد محاسبی ابو عبداللہ صوفی بغدادی ۔ (۱۱) اور بقول قاضی القضات علامہ عینی ۔ احمد بن خالد الخلال ابو جعفر حنبلی بغدادی ۔ دیکھو نجم الثاقب جلد ۴ صفحہ ۸۲ ۔ قرة العیون ومجالس الابرار ۔

تیسری صدی کے مجدد اشخاص ذیل ہیں

(۱) قاضی احمد بن شریح بغدادی شافعی (۲) ابوالحسن اشعری متکلم شافعی ۔ (۳) ابو جعفر طحاوی ازدی حنفی (۴) احمد بن شعیب (۵) ابو عبدالرحمن نسائی (۶) خلیفہ مقتدر باللہ عباسی

صفحہ 425

(۷) حضرت شبلی صوفی (۸) عبید اللہ بن حسین (۹) ابوالحسن کرخی صوفی حنفی (۱۰) امام یحییٰ بن مخلد قرطبی مجدّد اندلس اہل حدیث ۔

چوتھی صدی کے مجدّد اصحاب ذیل ہیں

(۱) امام ابوبکر باقلانی (۲) خلیفہ قادر باللہ عباسی (۳) ابوحامد اسفرائنی (۴) حافظ ابو نعیم (۵) ابوبکر خوارزمی حنفی (۶) بقول شاہ ولی اللہ صاحبؒ محمد بن عبداللہ المعروف الحاکم نیشا پوری (۷) امام بیہقی ۔ (۸) حضرت ابوطالب مکیؒ صاحب قوت القلوب جو طبقہ صوفیہ سے ہیں (۹) حافظ احمد بن علی بن ثابت خطیب بغدادی (۱۰) ابو اسحاق شیرازی (۱۱) ابو محمد ابن علی بن یوسف فقیہ ۔ محدث ۔

پانچویں صدی کے مجدّد اصحاب ذیل ہیں

(۱) حجۃ الاسلام امام غزالیؒ (۲) بقول یحییٰ زکریا بن خطیب راعونی حنفی (۳) علامہ زمخشری (۴) ابوالقاسم عبداللہ عباسی (۵) عبدالحق بن عبدالخالق انصاری (۶) ابو اسمعیل ہروی (۷) امام احمد بن حسین خراسانی بیہقی ۔

چھٹی صدی کے مجدّد اصحاب ذیل ہیں

(۱) غوث اعظمؒ (۲) ابو عبداللہ فخرالدین رازیؒ (۳) علی بن محمد (۴) عبدالرحمن ابن بشیر (۵) امام ۔ علامہ شاطبی صاحبؒ شاطبیہ (۶) یحییٰ بن ہبیرہ (۷) حضرت شہاب الدین سہروردیؒ (۸) امام طریقت (۹) یحییٰ بن شرف بن حسن محی الدین نووی ۔ (۱۰) حافظ عبدالرحمن ابن جوزی ۔

ساتویں صدی کے مجدّد اصحاب ذیل ہیں

(۱) احمد بن عبدالحلیم تقی الدین ابن تیمیہ حنبلی (۲) تقی الدین ابن دقیق العید (۳) شاہ شرف الدین مخدوم بہاری ہندی (۴) حضرت معین الدین چشتی (۵) حافظ

صفحہ 426

۱۱۹

ابن القیم جوزی شمس الدین محمد بن ابی بکر بن ایوب بن سعد بن القیم الجوزی دمشقی دمشقی حنبلی (۶) عبدالله بن اسعد بن علی بن سلیمان بن خلاج ابو محمد عفیف الدین یافعی شافعی (۷) قاضی بدر الدین محمد بن عبداللہ شبلی حنفی دمشقی ۔

آٹھویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) حافظ علی بن حجر عسقلانی شافعی (۲) حافظ زین الدین عراقی شافعی (۳) صالح بن عمر بن ارسلان قاضی بلقینی (۴) علامہ ناصر الدین شاذلی ابن بنت میلی ۔

نویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) عبدالرحمن بن کمال الدین شافعی معروف بامام جلال الدین سیوطی (۲) محمد بن عبد الرحمن سخاوی شافعی (۳) سید محمد جون پوری مہدی (اور بقول بعض دسویں صدی کے مجدد ہیں)

دسویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) ملا علی قاری (۲) محمد طاہر فتنی گجراتی محی الدین محی السنہ (۳) حضرت علی بن حسام الدین معروف بعلی متقی ہندی مکی ۔

گیارہویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) عالمگیر بادشاہ غازی اورنگ زیب (۲) حضرت آدم بنوری صوفی (۳) شیخ احمد بن عبدالاحد بن زین العابدین فاروقی سرہندی معروف بامام ربانی مجدد الف ثانی

بارھویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

بعض کے نزدیک حضرت امیر تیمور بادشاہ بھی مجدد ہیں ۔

صفحہ 427

تیرہویں صدی کے مجدد اشخاص ذیل ہیں

(مسدس حالی)

(۱) سید احمد بریلوی (۲) شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (۳) مولوی محمد اسمعیل شہید دہلوی (۴) بعض کے نزدیک شاہ رفیع الدین صاحب بھی مجدد ہیں (۵) بعض نے شاہ عبد القادر کو مجدد تسلیم کیا ہے ۔ ہم اسکا انکار نہیں کر سکتے۔ کہ بعض ممالک میں بعض بزرگ ایسے بھی ہوں گے جنکو مجدد مانا گیا ہو۔ اور ہمیں انکی اطلاع نہ ملی ہو۔ وجہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو جامع جمیع صفات انسانی تھے۔ کوئی انسان ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔ کہ شریعت اسلام کے تمام محکمات کی خدمات کو سر انجام دے سکتا ۔ اسلئے ضروری بلکہ اشد ضروری تھا۔ کہ شریعت حقہ اسلام کے ہر پہلو اور ہر محکمہ کے ضعف اور کمزوری کو دور کرنے کے لئے الگ الگ افراد اس خدمت پر مامور ہوتے اور مشاہدہ اور تجربہ گواہی دیتا ہے کہ ایسا ہی ہوتا رہا۔ چنانچہ فہرست مجددین سے واضح ہوتا ہے۔ کہ کوئی مجدد فقیہ ہے کوئی محدث ہے۔ کوئی مفسر ہے کوئی صوفی کوئی متکلم ہے۔ اور کوئی بادشاہ ہے۔ الغرض جن کاموں کو ایک ذات جامع جمیع صفات انسانی بحسن و خوبی سر انجام دیتی تھی ۔ اب مختلف زمانوں میں مختلف افراد مختلف پہلوؤں میں ان خدمات کو بجا لاتے رہے۔ اور اس سے کوئی مسلمان انکار نہیں کر سکتا۔

جب یہ امر روز روشن کی طرح ظاہر ہو گیا۔ کہ ہر صدی کے سر پر کسی مجدد کا آنا ضروری ہے۔ تو اب کوئی وجہ نہیں کہ چودہویں صدی کے سر پر کوئی مجدد نہ آوے۔ مجدد کا آنا نہایت ہی ضروری ہے۔ خاص کر ایسے پرفتن زمانہ میں جبکہ اسلام پر ہر پہلو اور ہر طرف سے مصائب کے پہاڑ کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں ۔ اور اسلام ایسے غرقابہ میں پھنس گیا ہے ۔ کہ جس سے جانبری نہایت ہی مشکل ہو گئی ہے۔ ہاں یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ہر صدی میں جو مجدد آیا ہے ۔ اسکا ایسا کام ہی ہوتا تھا۔ کہ اسلام پر جس پہلو سے حملہ کیا گیا ۔ یا جس بات میں اسلام ضعیف ہو گیا۔ اس بات یا نقص کو دور کرنے کے لئے وہ مجدد کھڑا ہوا۔ اور مجدد کے لئے یہ ضروری نہیں ہوتا

صفحہ 428

۱۷۵

پنجم لفظ توفی کا استعمال کاغذات سرکاری میں

وہ انکے کاغذات سرکاری میں جب کسی مرے ہوئے کا ذکر ہوتا ہے یا اگر کوئی دوران میں مر جاتا ہے تو ہمیشہ لفظ متوفی اسکی بابت لکھا جاتا ہے اور نیز کاغذات پٹواری والعرض میں مرے ہوئے کی نسبت بجز متوفی کے اور کوئی لفظ نہیں لکھا جاتا۔ غرض کلام اللہ و حدیث رسول اللہ و آثار صحابہ و اقوال سلف صالحین و محاورات سرکاری و ادبی و بازاری سے صاف ظاہر ہے کہ لفظ توفی موت کے لئے آتا ہے۔ اب ہم ان لوگوں سے پوچھتے ہیں جو توفی کے معنے موت کے نہیں لیتے۔ کہ کبھی ان لوگوں کی نسبت بھی یہ خیال ہے کہ فلان شخص بھی آسمان پر اٹھایا گیا یا کسی حاکم سرکاری و چیف کورٹ نے یہ معنے کر کے متوفی و توفی سے نکالے ہیں کہ وہ شخص جسکی نسبت متوفی استعمال کیا گیا ہے کہیں غائب نہیں ہوا یا خود آسمان پر چلا گیا۔ حالانکہ اسی خیال کی بناء پر اسکی جائداد کی تقسیم کی ممانعت کر دی ہو کیا ایک مثال بھی پیش نہیں کر سکتے تو پھر کیوں اور کس وجہ سے انکار کرتے ہوئے یہ ہٹ دھرمی ؟

ششم لفظ توفی کے معنے لغت عرب سے

یہ بھی بالیقین معلوم ہووے کہ یہ توفی بصیغہ تفعیل یقال توفی اللہ تعالٰی ای قبض روحہ ۔ ماضی کے معنے مارنے کے ہیں جیسے توفی اللہ کے معنے حق تعالٰی نے اسکی روح کو قبض کر لیا ۔ قاموس توفی فلان کو مارنا ۔ وافی لینا یعنی اسکا پورا لینا ۔ اسکا مرنا بھی مراد ہوتا ہے۔ یا کچھ اور ۔

(اساس البلاغۃ جلد ۲ صفحہ ۴۶۱) توفی فلان وتوفاہ اللہ وادرکتہ الوفاۃ یعنی

اللہ تعالٰی نے اسکو مار دیا۔ اسکو موت نے آ لیا و مات ۔

(مجمع البحار جلد ۲ صفحہ ۵۴) متوفیک ورافعک على التقدیم والتأخیر وقیل یکون الوفاۃ

للنوم حسب یعنی متوفیک ورافعک مقدم و موخر ہیں اور موت نیند کی موت ہوگی نہ حقیقی بہر حال توفی کے معنے قبض روح یا موت کے ہیں باقی تقدیم و تاخیر کا بار ثبوت صاحب کتاب پر ہے۔

(اقرب الموارد جلد ۲ صفحہ ۱۴۷۷) توفی ۔ المدۃ بلغها وستكملها توفى الله زیداً ۔

اماتہ توفی فلان مجہولاً قبضت روحہ مات فالله المتوفی والعبد المتوفی کے معنے مدت کا پورا ہونا اور کامل ہو جانا۔ اللہ تعالٰی نے زید کو توفی کر دیا یعنی اسکی روح کو قبض کر لیا۔ فلان شخص متوفی کیا گیا یعنے اسکی روح قبض کی گئی اور مر گیا یہاں خدا فاعل اور بندہ

صفحہ 429

تو ہی ان پر نگہبان تھا۔

اس وقت جب تو نے مجھے اٹھا لیا یا مار دیا۔

مرا بسوے خود مراقب بودی بر آنہا یعنے جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگہبان تھا۔

کے معنی شے کا پورا لینا اور موت بھی اس کی ایک قسم ہے۔

آخرہ۔ یعنے جب تو نے مجھ کو مارا اور آسماں پر لے گیا تو تو ان پر نگران تھا۔

فی اخذ الشیٔ وافیا والموت نوع منہ۔ یعنے توفی کسی چیز کے پورا لینے کے وقت استعمال ہوتا ہے اور موت بھی اس کی ایک قسم ہے۔

توفاہ قبل ان یرفعہ۔ یعنے کہتے ہیں کہ یہ آیت اسی بات پر دال ہے کہ اللہ سبحانہ نے مسیح علیہ السلام کو ان کے رفع سے پہلے مار دیا تھا۔

ہے۔

رفعہ علیہ السلام الیٰ السماء وکان بعد موتہ یعنے ضحاک سے مروی ہے کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ مار دیا۔ اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الیٰ السماء موت کے بعد تھا۔

صفحہ 430

يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَاَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ

فصل الخطاب

لمقدّمة

اهل الكتاب

از افاضات

حضرت مولوی نور الدین خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ عنہ

ناشر :۔ الشرکۃ الاسلامیہ لمیٹیڈ ربوہ

صفحہ 431

۶

حضرت اقدس علیہ السلام مؤلف کتاب ہذا کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ نے

" ایسی کتابیں تصنیف کی ہیں جو بہت سے مفید مطالب اور بہت سے نکات پر مشتمل ہیں ۔ جن کی نظیر پہلے لوگوں کی کتابوں میں نہیں پائی جاتی ۔ ان کی عبارتیں باوجود مختصر ہونے کے فصاحت سے پُر ہیں ۔ اور ان کے الفاظ نہایت دلرُبا خوبصورت اور عمدہ ہیں ۔ جو غور سے پڑھنے والوں کو پاکیزہ شربت پلاتی ہیں ۔ اور اس کی کتابوں کی مثال اُس ریشم کی مانند ہے جو مشک سے معطر ہو ۔ اور مزید براں اس میں موتی اور یاقوت اور بہت سی کستوری ملائی گئی ہو ۔ پھر اس میں عنبر ملا کر معجون کی طرح بنایا گیا ہو ۔ آپ کی تصنیفات کیا بلحاظ مضامین کی جامعیت اور تنوع کے اور کیا بلحاظ جاذبِ قلوب دلائل و براہین کی قوت کے دوسرے لوگوں کی تصانیف پر فوقیت لے گئی ہیں ۔ مبارک ہو اُس شخص کو جو انہیں حاصل کرے ۔ اور دوسروں کو اُن کی حقیقت سے آگاہ کرے اور انہیں بنظرِ غائر پڑھے ۔ وہ انکی مانند کوئی مددگار نہیں پائیگا ۔ اور جو شخص چاہے کہ قرآنِ مجید کے عقدوں کو حل کرے اور خدا تعالیٰ کی کتاب کے اسرار پر واقف ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ ان کتابوں کی پوری توجہ سے ورق گردانی کرے اور اس پر دَوام اختیار کرے کیونکہ یہ کتب کفیل ہیں اس امر کی جو ایک ذہین طالب علم کا مقصود ہوتا ہے ۔ ان کے ریحان کی خوشبو دلوں کو فریفتہ کرتی ہے ۔ ان کی شاخوں میں کثرت سے میوے ہیں اور کوئی شک نہیں کہ وہ اس باغ کی طرح ہیں

صفحہ 432

جس شجر کے خوشے لٹکے ہوئے ہیں۔ اور اس میں کوئی لغویات سُنائی نہیں دیتیں۔ اور پاک لوگوں کے لئے وہ مقام راحت لامکانی ہے۔ اُن میں سے ایک کا نام فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب ہے۔ اور دوسری کا نام تصدیق براہین احمدیہ ہے۔ ان میں باوجود متانت الفاظ اور لطافت (مبانی) مضامین کے قیمتی معانی پرو دیئے گئے ہیں یہاں تک کہ وہ مؤلفین کے لئے اُسوۂ حسنہ ہو گئی ہیں۔ علمائے کلام خواہش رکھتے ہیں کہ وہ انہیں کتابوں کی طرز پر لکھیں۔ اور بڑے بڑے علماء نے ان کتابوں کی مدح سرائی کی ہے . . . . . . . . . . اور مؤلف فاضل نے ان کتابوں میں قرآن شریف کے نکات کی تفسیر کے لئے پوری کوشش کی ہے اور اپنی تحقیق میں روایت و درایت کے متفق کرنے کی طرف توجہ مبذول کی ہے۔ پس آفرین ہے اُس کی عالی ہمّت کے لئے اور اُسکے روشن پسندیدہ افکار کے لئے۔

وہ مسلمانوں کا فخر ہے۔ اور اسلام و اس کے دفاع کے لئے مرد میدان ہے اور فرقان حمید کے حقائق کے خزانوں کے کھولنے میں عجیب ملکہ ہے ۔ بلا شک وہ مشکوٰۃِ نبوت کے انوار سے منور ہے اور شارعِ مدینہ کے مناصبِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار سے منور ہے۔ وہ ایک عجیب غریب بلند ہمت مرد ہے۔ اس کے ایک ایک لمحہ کے ساتھ انوار کی نہریں بہتی ہیں۔ اس کے ایک ایک ریشہ کے ساتھ فکروں کے مشرب پھوٹتے ہیں۔ اور یہ خدائے تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہے عطا کرتا ہے۔ اور وہ سب سے بہتر عطا کرنے والا ہے ۔“

(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ ۵۸۴۔۵۸۵)

صفحہ 433

۳۱۴

مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَا بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ١؎ وَإِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا - سیپارہ ۶ - سورۃ نساء - رکوع ۲ -

بات دُور چلی گئی ۔ ان باغبانوں نے اپنے آخری نبی راستباز صلح کار کو اپنے زعم میں قتل کیا ۔ مار ڈالا ۔ بنی اسرائیل کے سارے نبی خدا کے پلوٹھے تھے ۔ اور مسیح آخری پلوٹھے ۔ اب باغ اوروں کے سپرد ہوا ۔ باغ یروشلم ۲؎ تھا ۔ پہلے اسکے باغبان بنی اسرائیل میں سے رہے ۔ ان کی بے ایمانی سے اب وہ باغ بنی اسمعیل کے سپرد ہوا ۔ یاجوج دراز گوش کہتے ہیں ۔ وہ آخری آچکے اب موعود کون ہے ۔ عقل والو سوچو ۔ انجیل میں لکھا ہے ۔ مالک باغ باغ اوروں کو سپرد کریگا ۔ آخر کسان آچکے ۔ معاملہ ختم نہیں ۔ کیسے پہلے بنی اسمعیل اس کے مالک ہوئے ۔ اب تیرہ سو برس سے مالک ہیں ۔ یہود اور عیسائیوں کے لئے عہدۂ باغبانی نہیں رہا ۔ باغ کا نام بھی بدل گیا ۔ یروشلم سے بیت المقدس بنا ۔

- یہ متی اس نئی قوم کے حق میں کہتا ہے ۔ وہ موسم پر پھل دینگے۔ متی ۲۱ باب ۴۱ ۔ اور عرب میں حج کے ایام کو موسم کہتے ہیں ۔ پھر لوقا ۲۰ باب ۱۶ ۔ اُنہوں (بنی اسرائیل) نے یہ سُن کے کہا ۔ ایسا نہ ہو ۔ تب اُسنے اُنکی طرف دیکھ کے کہا ۔ پھر وہ کیا ہے جو لکھا ہے کہ وہ پتھر جسے راجگیروں نے رَد کیا وہی کونے کا سرا ہوا ۔ ہر ایک جو اس پتھر پر گرے ۔ چُور ہوگا ۔ اور جسپر وہ گرے اُسے پیس ڈالیگا ۔ اور متی ۲۱ باب ۴۴ ۔ اسلیئے میں تمہیں کہتا ہوں

بقیہ حاشیہ شک میں ہیں اور اُن لوگوں کو اس کا کچھ بھی یقینی علم نہیں ہے مگر گمان کی پیروی ۔ اور نہ مارا اُس کو از راہ یقین ۔ بلکہ اللہ نے اُس کو اپنی طرف اُٹھا لیا ۱۲ ۔ ١؎ اور نہیں کوئی اہلِ کتاب سے مگر البتہ ایمان لاویگا ساتھ اُسکے پہلے موت اُسکی کے اور دن قیامت کے ہوگا اُوپر اُنکے گواہ ۱۲ ۲؎ بنی اسرائیل کو خدا نے مصر سے لاکر یروشلم میں آباد کیا ۔ اور اُن میں انبیاء و رُسل بھیجے ۔ یسعیاہ ۵ باب ۔

صفحہ 434

۶۱۶

آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے ٭ لو تمہیں طُور تسلّی کا بتاتا ہوں میں

ریویو آف ریلیجنز

یعنی

دین کی ماہانہ تفسیر

جلد ۱۴ بابت ماہ مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء نمبر ۳ و ۴

چندہ سالانہ:

مطابق جمادی الاول و جمادی الثانی ۱۳۳۳ ہجری

قیمت فی کاپی

فہرست مضامین

کی تفصیل صفحہ ۸۱ - ۱۲۴

صفحہ 435

ریویو

کلمۃ الفصل

جلد نمبر ۱۴

جو اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق کریں یعنی اللہ پر ایمان لے آئیں اور رسولوں کو نہ مانیں یا کہتے ہیں کہ ہم بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ کوئی بین بین کی راہ نکالیں یہی لوگ پکے کافر ہیں اور اللہ نے کافروں کے لئے ذلیل کرنیوالا عذاب تیار کیا اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کھلے الفاظ میں ان لوگوں کا رَدّ کیا ہے جو تمام رسولوں کا ماننا جزو ایمان نہیں سمجھتے۔ پس اس آیت کے رُو سے ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہو مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہو مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اور یہ فتویٰ ہماری طرف سے نہیں ہے بلکہ اس کی طرف سے ہے جس نے اپنے کلام میں ایسے لوگوں کے لئے اُولٰئِکَ ھُمُ الکٰفِرُوْنَ حَقًّا فرمایا ہے۔ فتدبروا

اور اگر یہ کہا جاوے کہ اس آیت میں تو صرف رسولوں پر ایمان لانے کا سوال ہے مسیح موعود کا کوئی ذکر نہیں پس انکا انکار کیونکر روا ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں مسیح موعود کے متعلق بیسیوں جگہ نبی اور رسول کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں جیسا کہ فرمایا "دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اسکو قبول نہ کیا" یا جیسے فرمایا یا ایھا النبی اطعم الجائع والمعتر یا جس طرح فرمایا انی مع الرسول اقوم مسیح موعود نے اپنی متعدد کتابوں میں اپنے دعویٰ رسالت اور نبوت کو بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے جیسا کہ آپ لکھتے ہیں کہ "ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں" (دیکھو بدر ۵۔ مارچ ۱۹۰۸ء) یا جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ "مَیں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر مَیں (دیکھو خط حضرت مسیح موعود بطرف ایڈیٹر اخبار عام لاہور) یہ خط حضرت مسیح موعود نے اپنی وفات سے صرف تین دن پہلے یعنی ۲۳۔ مئی ۱۹۰۸ء کو لکھا اور آپ کا یہ خط ۲۶۔ مئی ۱۹۰۸ء کو اخبار عام میں شائع ہوا۔ پھر اسی پر بس نہیں کہ مسیح موعود نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے بلکہ یوں کہا ہے کہ خود محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے مسیح کا نام نبی اللہ رکھا جیسا کہ صحیح مسلم سے

صفحہ 436

۱۱۲ کلمۃ الفضل جلد ۱۴

خوب سمجھتی تھیں کہ لا نبی بعدی کے وہی معنی ہیں جو خاتم النبیین کے ہیں لیکن آپ نے عوام الناس کو دھوکہ سے بچانے کے لیئے فرمایا کہ قولوا خاتم النبیین ولا تقولوا لا نبی بعدی مگر وائے قسمت مسلمانوں کی کہ جس دھوکہ سے انکو ان کی مادر مشفق نے متنبہ کردیا تھا انہوں نے اسی جگہ ٹھوکر کھائی۔

اس جگہ یہ یاد رہے کہ آجتک نبوت تین قسم پر ظاہر ہو چکی ہے اول تشریعی نبوت جس کی دو موٹی مثالیں موسیٰ کی نبوت اور نبوت محمدیہ ہیں ایسی نبوت کو مسیح موعود نے حقیقی نبوت کے نام سے پکارا ہے۔ دوئم وہ نبوت جس کے لیئے تشریعی یعنی حقیقی ہونا ضروری نہیں بلکہ صرف اتنا ضروری ہے کہ وہ بلا واسطہ جناب باری تعالیٰ کی طرف سے ملے جیسے عیسیٰ یحییٰ داؤد سلیمان اور زکریا علیہم السلام کی نبوتیں یہ لوگ گو موسیٰ کی شریعت کے پابند تھے اور ان کا مشن صرف تورات کی اشاعت تھا لیکن تاہم انہوں نے موسیٰ کی اتباع کی وجہ سے نبوت نہیں پائی کیونکہ تورات کی تعلیم بوجہ خصوصیات زمانی اور مکانی کے اس درجہ کی نہ تھی کہ اس پر کار بند ہونے کی وجہ سے کوئی شخص نبوت کا درجہ پاسکے بلکہ ایک حد تک تورات انسان کو چلاتی تھی اور پھر جسکو اللہ تعالیٰ نے نبوت کا درجہ دینا ہوتا تھا اسے براہ راست بلند کر کے نبوت عطا کی جاتی تھی ایسی نبوت حضرت مسیح موعود کی اصطلاح میں مستقل نبوت ہے تیسری قسم نبوت کی ظلی نبوت ہے جسکے یہ معنی ہیں کہ نہ تو انسان کوئی نئی شریعت لائے جس سے حقیقی نبی بنجاتا ہے جیسے موسیٰ اور نہ اسے براہ راست نبوت ملی ہو جس سے مستقل نبی کہلاتا ہے جیسے عیسیٰ بلکہ ایک ایسے کامل انسان کی اتباع کی وجہ سے نبوت ملے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت مل سکے اور نہ قرآن کریم سے پہلے کوئی ایسی کتاب تھی جسپر پورے طور پر کاربند ہونے سے انسان نبوت کا درجہ حاصل کرسکے یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے حقیقی اور مستقل نبی تو ہوتے رہے مگر ظلی نبی کوئی نہ ہوا کیونکہ آپ سے پہلے دنیا میں کوئی کامل انسان موجود نہ تھا اور قرآن سے پہلے کوئی کامل کتاب نہ تھی مگر آپ کی آمد سے

صفحہ 437

نمبر ۳ ریویو آف ریلیجنز ۱۱۳

مستقل اور حقیقی نبوتوں کا دروازہ بند ہو گیا اور ظلی نبوت کا دروازہ کھولا گیا پس اب جو ظلی نبی ہو کر آوے وہ نبوت کی مہر کو توڑنے والا نہیں کیونکہ اسکی نبوت اپنی ذات میں کچھ چیز نہیں بلکہ وہ محمدی نبوت کا ظل ہے نہ کہ مستقل نبوت۔ اور یہ جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ظلی یا بروزی نبوت گھٹیا قسم کی نبوت ہے یہ محض ایک نفس کا دھوکا ہے جس کی کوئی بھی حقیقت نہیں کیونکہ ظلی نبوت کے لیئے یہ ضروری ہے کہ انسان نبی کریم صلعم کی اتباع میں اسقدر غرق ہو جاوے کہ من تو شدم تو من شدی کے درجہ کو پالے ایسی صورت میں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جمیع کمالات کو عکس کے رنگ میں اپنے اندر اُترتا پائیگا حتیٰ کہ ان دونوں میں قرب اتنا بڑھیگا کہ نبی کریم صلعم کی نبوت کی چادر بھی اس پر چڑھائی جائیگی جب جا کر وہ ظلی نبی کہلائیگا پس جب ظل کا یہ تقاضا ہے کہ اپنے اصل کی پوری تصویر ہو اور اسی پر تمام انبیاء کا اتفاق ہے تو وہ ناداں جو مسیح موعودؑ کی ظلی نبوت کو ایک گھٹیا قسم کی نبوت سمجھتا یا اسکے معنی ناقص نبوت کے کرتا ہے وہ ہوش میں آوے اور اپنے اسلام کی فکر کرے کیونکہ اُس نے اس نبوت کی شان پر حملہ کیا ہے جو تمام نبوتوں کی سرتاج ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ لوگوں کو کیوں حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت پر ٹھوکر لگتی ہے اور کیوں بعض لوگ آپ کی نبوت کو ناقص نبوت سمجھتے ہیں کیونکہ میں تو یہ دیکھتا ہوں کہ آپ آنحضرت صلعم کے بروز ہونے کی وجہ سے ظلی نبی تھے اور اس ظلی نبوت کا پایہ بہت بلند ہے۔ یہ ظاہر بات ہے کہ پہلے زمانوں میں جو نبی ہوتے تھے انکے لیئے یہ ضروری نہ تھا کہ ان میں وہ تمام کمالات رکھے جاویں جو نبی کریم صلعم میں رکھے گئے بلکہ ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطا ہوتے تھے کسی کو بہت کسی کو کم ۔ مگر مسیح موعودؑ کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اِس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے پس ظلی نبوت نے مسیح موعودؑ کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اسقدر آگے بڑھایا کہ نبی کریمؐ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔ اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ عیسیٰؑ کے لیئے یہ ضروری نہ تھا کہ وہ نبی کریمؐ کے تمام کمالات حاصل کر لینے کے بعد نبی بنایا جاتا۔ داؤدؑ و سلیمانؑ

صفحہ 438

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

مباحثہ راولپنڈی

(مابین)

جماعت احمدیہ راولپنڈی و احمدیہ انجمن اشاعت اسلام راولپنڈی

مضامین مناظرہ

یہ مناظرہ مشترکہ اخراجات سے شائع ہو رہا ہے

سیکرٹریز دونوں فریقین مناظرہ

صفحہ 439

۱۷۵

جماعت احمدیہ کا تیسرا پرچہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

نبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

انبیاء علیہم السلام دو قسم کے ہوتے ہیں۔ (۱) تشریعی (۲) غیر تشریعی ۔ پھر غیر تشریعی نبی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ (۱) براہ راست نبوت پانے والے (۲) نبی تشریعی کی اتباع سے نبوت کے حاصل کرنے والے ۔

یہ ہر قسم کے نبی نبی ہیں ۔ تشریعی ہوں ۔ یا غیر تشریعی ۔ براہ راست ہوں یا غیر تشریعی اتباع سے فیض نبوت پانے والے ہوں جنہیں امتی نبی اور مجازی نبی بھی حضرت اقدس نے فرمایا ہے ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیشتر صرف پہلی دو قسم کے نبی آتے تھے ۔ کیونکہ کوئی نبی مقام خاتم الانبیاء کو حاصل نہ کر چکا تھا۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ تھا ۔ کہ خاتم الانبیاء کے بعد براہ راست نبوت کا دروازہ بند کر کے اس کی اتباع میں یہ مقام جاری کر دیا جائے ۔ یہ فخر صرف حضرت سرور کائنات صلعم کو بخشا گیا۔ کہ آپ کا امتی آپ کی پیروی سے مقام نبوت بھی پا سکا

مجازی ۔ ظلی ۔ بروزی یہ اصطلاحات حضرت مسیح موعود نے بیان فرمائی ہیں ۔ اور اس لئے کہ دوسرے لوگ حضرت کے دعوائے نبوت سے یہ نتیجہ نہ اخذ کریں ۔ کہ حضور آنحضرت صلعم سے علیحدہ ہو کر اور قرآنی شریعت کو چھوڑ کر ادعاء فرما رہے ہیں ۔ اس وہم کے ازالہ کے لئے یہ تمام اصطلاحیں ذکر کی گئی ہیں ۔ ان سے نبوت کی نفی مراد نہیں ۔ بلکہ طریق حصول نبوت سے آگاہ کرنا مدنظر ہے ۔ ورنہ حضرت اقدس کے الہامات میں بالاتفاق نبی اور رسول کے لفظ بغیر کسی ظلی ۔ مجازی یا بروزی کی قید کے استعمال ہوئے ہیں ۔

کیا یہ افسوس کا مقام نہ ہوگا۔ کہ آج حضرت کے ماننے کا دعوےٰ کرنے والے محض

صفحہ 440

۱۳-۵ متی ۵

ہوتا کیونکہ آسمان پر تمہارا اجر بڑا ہے اسلئے کہ لوگوں نے اُن نبیوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے اسی طرح ستایا تھا ؏

۱۳ تم زمین کے نمک ہو لیکن اگر نمک کا مزہ جاتا رہے تو وہ کس چیز سے نمکین کیا جائیگا ؟ پھر وہ کسی کام کا نہیں سوا اسکے کہ باہر ۱۴ پھینکا جائے اور آدمیوں کے پاؤں کے نیچے روندا جائے ؏ تم دنیا کے نور ہو ۔ جو شہر پہاڑ پر بسا ہے وہ چھپ نہیں سکتا ؏ اور ۱۵ چراغ جلا کر پیمانہ کے نیچے نہیں بلکہ چراغدان پر رکھتے ہیں تو اُس ۱۶ سے گھر کے سب لوگوں کو روشنی پہنچتی ہے ؏ اسی طرح تمہاری روشنی آدمیوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھکر تمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے تمجید کریں ؏

۱۷ یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے ۱۸ آیا ہوں منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں ؏ کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلیگا جب تک سب کچھ ۱۹ پورا نہ ہو جائے ؏ پس جو کوئی ان چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے بھی کسی کو توڑیگا اور یہی آدمیوں کو سکھائیگا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائیگا لیکن جو اُن پر عمل کریگا ۲۰ اور اُنکی تعلیم دیگا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائیگا ؏ کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر تمہاری راستبازی فقیہوں اور فریسیوں کی راستبازی سے زیادہ نہ ہوگی تو تم آسمان کی بادشاہی میں ہرگز داخل نہ ہو گے ؏

۲۱ تم سُن چُکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ خون نہ کرنا اور جو ۲۲ کوئی خون کریگا وہ عدالت کی سزا کے لائق ہوگا ؏ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنے بھائی پر غصہ ہوگا وہ عدالت کی سزا کے لائق ہوگا اور جو کوئی اپنے بھائی کو پاگل کہیگا وہ صدر عدالت کی سزا کے لائق ہوگا اور جو اُسکو احمق کہیگا وہ آتش جہنم ۲۳ کا سزاوار ہوگا ؏ پس اگر تُو قربان گاہ پر اپنی نذر گذرانتا ہو اور ۲۴ وہاں تجھے یاد آئے کہ میرے بھائی کو مجھ سے کچھ شکایت ہے ؏ تو وہیں قربانگاہ کے آگے اپنی نذر چھوڑ دے اور جاکر پہلے اپنے ۲۵ بھائی سے ملاپ کر تب آکر اپنی نذر گذران ؏ جب تک تُو اپنے مدعی کے ساتھ راہ میں ہے اُس سے جلد صلح کر لے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مدعی تجھے منصف کے حوالہ کر دے اور منصف تجھے سپاہی کے حوالہ کر دے اور تُو قید خانہ میں ڈالا جائے ؏ میں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک تُو کوڑی کوڑی ادا نہ کر دیگا وہاں سے ہرگز نہ چھوٹیگا ؏

۲۷ تم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ زنا نہ کرنا ؏ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ جس کسی نے بُری خواہش سے کسی عورت پر نگاہ کی اُس نے اپنے دل میں اُس کے ساتھ زنا کر لیا ؏ پس اگر تیری دہنی آنکھ تجھے ٹھوکر کھلائے تو اُسے نکالکر اپنے پاس سے پھینک دے کیونکہ تیرے لئے یہی بہتر ہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بدن جہنم میں نہ ڈالا جائے ؏ اور اگر تیرا دہنا ہاتھ تجھے ٹھوکر کھلائے تو اُسکو کاٹکر اپنے پاس سے پھینک دے کیونکہ تیرے لئے یہی بہتر ہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بدن جہنم میں نہ جائے ؏ یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو کوئی اپنی بیوی کو چھوڑے اُسے طلاقنامہ لکھ دے ؏ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنی بیوی کو حرامکاری کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑ دے وہ اُس سے زنا کراتا ہے اور جو کوئی اس چھوڑی ہوئی سے بیاہ کرے وہ زنا کرتا ہے ؏

۳۳ پھر تم سُن چُکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ جھوٹی قسم نہ کھانا بلکہ اپنی قسمیں خداوند کے لئے پوری کرنا ؏ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ بالکل قسم نہ کھانا نہ تو آسمان کی کیونکہ وہ خدا کا تخت ہے ؏ نہ زمین کی کیونکہ وہ اُسکے پاؤں کی چوکی ہے ۔ نہ یروشلم کی کیونکہ وہ بڑے بادشاہ کا شہر ہے ؏ نہ اپنے سر کی قسم کھانا کیونکہ تو ایک بال کو بھی سفید یا کالا نہیں کر سکتا ؏ بلکہ تمہارا کلام ہاں ہاں یا نہیں نہیں ہو کیونکہ جو اس سے زیادہ ہے وہ بدی سے ہے ؏

۳۸ تم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت ؏ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے دہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اُسکی طرف پھیر دے ؏ اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا کرتا لینا چاہے تو چوغہ بھی اُسے لے لینے دے ؏ اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جائے اُسکے ساتھ دو کوس چلا جا ؏ جو کوئی تجھ سے مانگے اُسے دے اور جو تجھ سے قرض چاہے اُس سے منہ نہ موڑ ؏

۴۳ تم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ اپنے پڑوسی سے محبت رکھ اور اپنے دشمن سے عداوت ؏ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور اپنے ستانے والوں کے لئے دُعا کرو ؏ تاکہ تم اپنے باپ کے جو آسمان پر ہے بیٹے ٹھہرو کیونکہ وہ اپنے سورج

صفحہ 441

۲۳ متی ۲۵ - ۲۴

۳۴ بھیجتا ہوں ۔ اُن میں سے تم بعض کو قتل اور مصلوب کرو گے اور بعض کو اپنے عبادت خانوں میں کوڑے مارو گے اور ۳۵ شہر بہ شہر ستاتے پھرو گے ٭ تاکہ سب راستبازوں کا خون جو زمین پر بہایا گیا تم پر آئے ۔ راستباز ہابیل کے خون سے لیکر برکیاہ کے بیٹے زکریاہ کے خون تک جسے تم نے مقدس اور قربان گاہ کے ۳۶ درمیان قتل کیا ٭ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ اِس زمانہ کے لوگوں پر آئیگا ٭ ۳۷ اے یروشلیم ! اے یروشلیم ! تُو جو نبیوں کو قتل کرتا اور تیرے پاس بھیجے گئے اُنکو سنگسار کرتا ہے ! کتنی بار مَیں نے چاہا کہ جس طرح مُرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کر لیتی ہے اُسی طرح مَیں بھی تیرے ۳۸ لڑکوں کو جمع کرلوں مگر تم نے نہ چاہا ٭ دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ۳۹ ویران چھوڑا جاتا ہے ٭ کیونکہ مَیں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے مجھے پھر ہرگز نہ دیکھو گے جب تک نہ کہو گے کہ مبارک ہے وہ جو خُداوند کے نام سے آتا ہے ٭

۲۴ اور یسوع ہیکل سے نکل کر جا رہا تھا کہ اُسکے شاگرد اُسکے پاس ۲ آئے تاکہ اُسے ہیکل کی عمارتیں دِکھائیں ٭ اُس نے جواب میں اُن سے کہا کیا تم اِن سب چیزوں کو نہیں دیکھتے ؟ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہاں کسی پتھر پر پتھر باقی نہ رہیگا جو گرایا نہ جائیگا ٭ ۳ اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اُسکے شاگردوں نے الگ اُسکے پاس آکر کہا ہمکو بتا کہ یہ باتیں کب ہونگی ؟ اور تیرے ۴ آنے اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا ؟ ٭ یسوع نے جواب ۵ میں اُن سے کہا کہ خبردار ! کوئی تمکو گمراہ نہ کرے ٭ کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئینگے اور کہینگے مَیں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں ۶ کو گمراہ کرینگے ٭ اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔ خبردار ! گھبرانہ جانا کیونکہ اِن باتوں کا واقع ہونا ضرور ہے لیکن اُس وقت ۷ خاتمہ نہ ہوگا ٭ کیونکہ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی ۸ کریگی اور جگہ جگہ کال پڑینگے اور بھونچال آئینگے ٭ لیکن یہ سب باتیں ۹ مصیبتوں کا شروع ہی ہونگی ٭ اُس وقت لوگ تمکو ایذا دینے کے لئے پکڑوائینگے اور تمکو قتل کرینگے اور میرے نام کی خاطر سب قومیں تم سے ۱۰ عداوت رکھینگی ٭ اور اُس وقت بہتیرے ٹھوکر کھائینگے اور ایک ۱۱ دُوسرے کو پکڑوائینگے اور ایک دُوسرے سے عداوت رکھینگے ٭ اور بہت سے جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہونگے اور بہتیروں کو گمراہ کرینگے ٭

۱۲ اور بے دینی کے بڑھ جانے سے بہتیروں کی محبّت ٹھنڈی پڑ جائیگی ٭ ۱۳ مگر جو آخر تک برداشت کریگا وہ نجات پائیگا ٭ اور بادشاہی کی ۱۴ اِس خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو تب خاتمہ ہوگا ٭ ۱۵ پس جب تم اُس اُجاڑنے والی مکروہ چیز کو جس کا ذکر دانی ایل نبی کی معرفت ہوا مُقدس مقام میں کھڑا ہوا دیکھو (پڑھنے والا ۱۶ سمجھ لے) ٭ تو جو یہودیہ میں ہوں وہ پہاڑوں پر بھاگ جائیں ٭ ۱۷ جو کوٹھے پر ہو وہ اپنے گھر کا اسباب لینے کو نیچے نہ اُترے ٭ اور جو ۱۸ کھیت میں ہو وہ اپنا کپڑا لینے کو پیچھے نہ لوٹے ٭ مگر افسوس اُن پر ۱۹ جو اُن دِنوں میں حاملہ ہوں اور جو دُودھ پلاتی ہوں ! ٭ پس دُعا کرو ۲۰ کہ تمکو جاڑوں میں یا سبت کے دِن بھاگنا نہ پڑے ٭ کیونکہ اُس ۲۱ وقت اَیسی بڑی مصیبت ہوگی کہ دُنیا کے شروع سے نہ اب تک ہوئی نہ کبھی ہوگی ٭ اور اگر وہ دِن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ ۲۲ بچتا ۔ مگر برگزیدوں کی خاطر وہ دِن گھٹائے جائینگے ٭ اُس وقت ۲۳ اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ ۲۴ کرنا ٭ کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہونگے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دِکھائینگے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی ۲۵ گمراہ کر لیں ٭ دیکھو مَیں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے ٭ پس اگر وہ ۲۶ تم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے تو باہر نہ جانا یا دیکھو وہ کوٹھیوں میں ہے تو یقین نہ کرنا ٭ کیونکہ جیسے بجلی پورب سے نکل کر ۲۷ پچھم تک دِکھائی دیتی ہے ویسے ہی ابنِ آدم کا آنا ہوگا ٭ جہاں ۲۸ مُردار ہے وہاں گِدھ جمع ہو جائینگے ٭ ۲۹ اور فوراً اُن دِنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائیگا اور چاند اپنی روشنی نہ دیگا اور ستارے آسمان سے گرینگے اور آسمانوں کی ۳۰ قوتیں ہلائی جائینگی ٭ اور اُس وقت ابنِ آدم کا نشان آسمان پر دِکھائی دیگا ۔ اور اُس وقت زمین کی سب قومیں چھاتی پیٹیں گی اور ابنِ آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر ۳۱ آتے دیکھیں گی ٭ اور وہ نرسنگے کی بڑی آواز کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجیگا اور وہ اُسکے برگزیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کے اِس کنارے سے اُس کنارے تک جمع کرینگے ٭ ۳۲ اب انجیر کے درخت سے ایک تمثیل سیکھو۔ جونہی اُسکی ڈالی نرم ہوتی اور پتے نکلتے ہیں تم جان لیتے ہو کہ گرمی نزدیک ہے ٭ اِسی ۳۳ طرح جب تم اِن سب باتوں کو دیکھو تو جان لو کہ وہ نزدیک بلکہ دروازہ پر

۲۸

صفحہ 442

۷۵ ، ۲۶ متی ۲۴ ، ۲۷

۶۰ ڈھونڈھنے لگے مگر نہ پائی گو بہت سے جھوٹے گواہ آئے۔ لیکن ۶۱ آخر کو دو آئے۔ اور اُنہوں نے کہا کہ اِس نے کہا ہے مَیں خُدا کے ۶۲ مقدِس کو ڈھا سکتا اور تین دن میں اُسے بنا سکتا ہوں ٭ اور سردار کاہن نے کھڑے ہو کر اُس سے کہا تُو جواب نہیں دیتا؟ یہ تیرے خلاف کیا گواہی دیتے ہیں؟ ٭ ۶۳ مگر یسوع خاموش رہا۔ سردار کاہن نے اُس سے کہا میں تجھے زندہ خُدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر تُو خُدا کا بیٹا مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے ٭ ۶۴ یسوع نے اُس سے کہا تُو نے خود کہہ دیا بلکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اِسکے بعد تم ابنِ آدم کو قادرِ مطلق کی دہنی طرف بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر ۶۵ آتے دیکھو گے ٭ اُس پر سردار کاہن نے اپنے کپڑے پھاڑے اور کہا کہ اِس نے کُفر بکا ہے۔ اب ہم کو گواہوں کی کیا حاجت رہی؟ ۶۶ دیکھو تم نے ابھی یہ کُفر سُنا ہے۔ تمہاری کیا رائے ہے؟ اُنہوں ۶۷ نے جواب میں کہا وہ قتل کے لائق ہے ٭ اُس پر اُنہوں نے اُس کے مُنہ پر تھوکا اور اُسکے مُکے مارے اور بعض نے طمانچے مار کر کہا ٭ ۶۸ اے مسیح ہمیں نبوّت سے بتا کہ تجھے کس نے مارا ؟ ٭ ۶۹ اور پطرس باہر صحن میں بیٹھا تھا کہ ایک لونڈی نے اُسکے پاس ۷۰ آکر کہا تُو بھی یسوع گلیلی کے ساتھ تھا ٭ اُس نے سب کے سامنے ۷۱ یہ کہہ کر اِنکار کیا کہ میں نہیں جانتا تُو کیا کہتی ہے ٭ اور جب وہ ڈیوڑھی میں چلا گیا تو دوسری نے اُسے دیکھا اور جو وہاں تھے ۷۲ اُن سے کہا یہ بھی یسوع ناصری کے ساتھ تھا ٭ اُس نے قَسم ۷۳ کھا کر پھر اِنکار کیا کہ مَیں اُس آدمی کو نہیں جانتا ٭ تھوڑی دیر کے بعد جو وہاں کھڑے تھے اُنہوں نے پطرس کے پاس آکر کہا بیشک تُو بھی اُن میں سے ہے کیونکہ تیری بولی سے بھی ۷۴ ظاہر ہوتا ہے ٭ اُس پر وہ لعنت کرنے اور قَسم کھانے لگا کہ مَیں ۷۵ اُس آدمی کو نہیں جانتا اور فی الفور مرغ نے بانگ دی ٭ پطرس کو یسوع کی وہ بات یاد آئی جو اُس نے کہی تھی کہ مرغ کے بانگ دینے سے پہلے تُو تین بار میرا اِنکار کریگا اور وہ باہر جا کر زار زار رویا ٭

۲۷

۱ جب صبح ہوئی تو سب سردار کاہنوں اور قوم کے بزرگوں ۲ نے یسوع کے خلاف مشورہ کیا کہ اُسے مار ڈالیں ٭ اور اُسے باندھ کر لے گئے اور پیلاطُس حاکم کے حوالہ کیا ٭ ۳ جب اُسکے پکڑوانے والے یہُوداہ نے یہ دیکھا کہ وہ مجرم ٹھہرایا گیا تو پچھتایا اور وہ تیس روپے سردار کاہنوں اور بزرگوں کے پاس ۴ واپس لا کر کہا ٭ مَیں نے گناہ کیا کہ بے قصور کو قتل کے لئے پکڑوایا۔ اُنہوں نے کہا ہمیں کیا؟ تُو جان ٭

۵ اور وہ روپوں کو مقدِس میں پھینک کر چلا گیا اور جا کے اپنے آپ کو پھانسی دی ٭ ۶ سردار کاہنوں نے وہ روپے لیکر کہا کہ انکو ہیکل کے خزانہ میں ڈالنا روا نہیں کیونکہ یہ خون کی قیمت ہے ٭ ۷ پس اُنہوں نے مشورہ کر کے اُن روپوں سے ۸ کمہار کا کھیت پردیسیوں کے دفن کرنے کے لئے خریدا ٭ اِسی سبب ۹ سے وہ کھیت آج تک خون کا کھیت کہلاتا ہے ٭ اُس وقت وہ پورا ہوا جو یرمیاہ نبی کی معرفت کہا گیا تھا کہ جسکی قیمت ٹھہرائی گئی تھی اُنہوں نے اُسکی قیمت کے وہ تیس روپے لئے یعنی اُسکی ۱۰ قیمت جو بنی اسرائیل نے ٹھہرائی تھی ٭ اور اُنکو کمہار کے کھیت کے لئے دیا جیسا خُداوند نے مجھے حکم دیا ٭ ۱۱ یسوع حاکم کے سامنے کھڑا تھا اور حاکم نے اُس سے یہ پُوچھ کر کہا کیا تُو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ یسوع نے اُس سے کہا تُو خود کہتا ۱۲ ہے ٭ اور جب سردار کاہن اور بزرگ اُس پر الزام لگا رہے تھے تو ۱۳ اُس نے کچھ جواب نہ دیا ٭ اِس پر پیلاطُس نے اُس سے کہا تُو نہیں سُنتا یہ تیرے خلاف کتنی گواہیاں دیتے ہیں؟ ٭ ۱۴ اُس نے ایک بات کا بھی اُسکو جواب نہ دیا۔ یہاں تک کہ حاکم نے بہت تعجب ۱۵ کیا ٭ اور عید پر حاکم کا دستور تھا کہ عوام کے لئے ایک قیدی جسے ۱۶ وہ چاہتے تھے چھوڑ دیتا تھا ٭ اُس وقت برابا نام اُنکا ایک مشہور ۱۷ قیدی تھا ٭ پس جب وہ اکٹھے ہوئے تو پیلاطُس نے اُن سے کہا تم کِسے چاہتے ہو کہ میں تمہاری خاطر چھوڑ دُوں؟ برابا کو یا یسوع ۱۸ کو جو مسیح کہلاتا ہے؟ ٭ کیونکہ اُسے معلوم تھا کہ اُنہوں نے اُسکو ۱۹ حسد سے پکڑوایا ہے ٭ اور جب وہ تختِ عدالت پر بیٹھا تھا تو اُسکی بیوی نے اُسے کہلا بھیجا کہ تُو اُس راستباز سے کچھ کام نہ رکھ کیونکہ میں نے آج خواب میں اُسکے سبب سے بہت دُکھ اُٹھایا ہے ٭ ۲۰ لیکن سردار کاہنوں اور بزرگوں نے لوگوں کو اُبھارا کہ برابا کو مانگ ۲۱ لیں اور یسوع کو ہلاک کرائیں ٭ حاکم نے اُن سے کہا کہ اِن دونوں میں سے کِسے چاہتے ہو کہ تمہاری خاطر چھوڑ دُوں؟ اُنہوں نے ۲۲ کہا برابا کو ٭ پیلاطُس نے اُن سے کہا پھر یسوع کو جو مسیح کہلاتا ۲۳ ہے کیا کروں؟ سب نے کہا وہ مصلوب ہو ٭ اُس نے کہا کیوں؟ اُس نے کیا برائی کی ہے؟ مگر وہ اور بھی چلاتے گئے کہ وہ ۲۴ مصلوب ہو ٭ جب پیلاطُس نے دیکھا کہ کچھ بن نہیں پڑتا بلکہ اُلٹا بلوا ہوتا جاتا ہے تو پانی لیکر لوگوں کے رُوبرو اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا مَیں اِس راستباز کے خون سے بری ہوں ۔ تم جانو ٭ سب

۳۲

صفحہ 443

١-٧ مرقس و لُوقا ١٥

۴۴ اور اس نے صُوبہ دار کو بُلا کر اُس سے پُوچھا کہ اُسکو مرے ہُوئے دیر ہو گئی ہے؟ ۴۵ جب صُوبہ دار سے حال معلُوم کیا تو لاش یُوسُف کو دلا دی ؎ اُس ۴۶ نے ایک مہین چادر مول لی اور لاش کو اُتار کر اُس چادر میں لپیٹا اور اُس نے اُسے ایک ایسی قبر کے اندر جو چٹان میں کھودی گئی تھی رکھا اور قبر کے مُنہ پر ایک ۴۷ پتھر لڑھکا دیا ؎ اور مریم مگدلینی اور یوسیس کی ماں مریم دیکھتی تھیں کہ وہ کہاں رکھا گیا ہے ؎ ۱ جب سبت کا دن گزر گیا تو مریم مگدلینی اور یعقوب کی ماں مریم اور سلومی نے خوشبو دار چیزیں مول لیں تاکہ آ کر اُس پر ملیں ؎ وہ ۲ ہفتہ کے پہلے دن بہت سویرے جب سُورج نکلا ہی تھا قبر پر گئیں ؎ ۳ اور آپس میں کہتی تھیں کہ ہمارے لیئے پتھر کو قبر کے مُنہ پر سے کون ۴ لڑھکائیگا ؟ ؎ جب اُنھوں نے نگاہ کی تو دیکھا کہ پتھر لڑھکا ہُوا ہے ۵ کیونکہ وہ بہت ہی بڑا تھا ؎ اور قبر کے اندر جا کر اُنھوں نے ایک جوان کو سفید جامہ پہنے ہُوئے دہنی طرف بیٹھے دیکھا اور نہایت حیران ۶ ہوئیں ؎ اُس نے اُن سے کہا ایسی حیران نہ ہو۔ تم یسُوع ناصری کو جو مصلوب ہُوا تھا ڈھونڈتی ہو۔ وہ جی اُٹھا ہے۔ وہ یہاں نہیں ۷ ہے۔ دیکھو یہ وہ جگہ ہے جہاں اُنھوں نے اُسے رکھا تھا ؎ لیکن تم جا کر اُسکے شاگردوں اور پطرس سے کہو کہ وہ تم سے پہلے گلیل کو جاتا ہے ۸ جیسا اُس نے تم سے کہا تھا وہاں اُسے دیکھو گے ؎ پس وہ نکل کر قبر سے بھاگیں کیونکہ لرزش اور دہشت اُن پر غالب آگئی تھی اور اُنھوں نے کسی سے کچھ نہ کہا کیونکہ وہ ڈرتی تھیں ؎ ۹ ہفتہ کے پہلے روز جب وہ سویرے جی اُٹھا تو پہلے مریم مگدلینی کو

جس میں سے اُس نے سات بدرُوحیں نکالی تھیں دکھائی دیا پس ۱۰ اُس نے جا کر اُنکے ساتھیوں کو جو ماتم کرتے اور روتے تھے خبر دی ؎ اور ۱۱ اُنھوں نے یہ سُنکر کہ وہ جیتا ہے اور اُس نے اُسے دیکھا ہے یقین نہ کیا ؎ اسکے بعد وہ دُوسری صورت میں اُن میں سے دو کو جب وہ دیہات ۱۲ کی طرف پیدل جا رہے تھے دکھائی دیا ؎ اُنھوں نے بھی جا کر باقی لوگوں ۱۳ کو خبر دی مگر اُنھوں نے اُنکا بھی یقین نہ کیا ؎ پھر وہ اُن گیارہ کو بھی جب کھانا کھانے بیٹھے تھے دکھائی دیا اور اُس نے ۱۴ اُنکی بے اعتقادی اور سخت دلی پر اُنکو ملامت کی کیونکہ جنہوں نے اُسکے جی اُٹھنے کے بعد اُسے دیکھا تھا اُنھوں نے اُنکا یقین نہ کیا تھا ؎ اور ۱۵ اُس نے اُن سے کہا کہ تم تمام دُنیا میں جا کر ساری خلق کے سامنے انجیل کی منادی کرو ؎ جو ایمان لائے اور بپتسمہ لے وہ نجات پائیگا اور ۱۶ جو ایمان نہ لائے وہ مجرم ٹھہرایا جائیگا ؎ اور ایمان لانے والوں ۱۷ کے درمیان یہ معجزے ہونگے۔ وہ میرے نام سے بدرُوحوں کو نکالینگے ۔ نئی نئی زبانیں بولینگے ۔ سانپوں کو اُٹھا لینگے اور اگر ۱۸ کوئی ہلاک کرنے والی چیز پینگے تو اُنہیں کچھ ضرر نہ پہونچیگا ۔ وہ بیماروں پر ہاتھ رکھینگے تو اچھے ہو جائینگے ؎ غرض خُداوند یسُوع اُن سے کلام کرنے کے بعد آسمان پر اُٹھا لیا ۱۹ گیا اور خُدا کی دہنی طرف بیٹھ گیا ؎ پھر اُنھوں نے نکل کر ہر جگہ منادی ۲۰ کی اور خُداوند اُنکے ساتھ کام کرتا رہا اور کلام کو اُن معجزوں کے وسیلہ سے جو ساتھ ساتھ ہوتے تھے ثابت کرتا رہا ۔ آمین ٭

لُوقا کی انجیل

چونکہ بہتوں نے اس پر کمر باندھی ہے کہ جو باتیں ہم میں پوری ہوئی ہیں اُنکو ترتیب وار بیان کریں جیساکہ اُنہوں نے جو شُروع سے خُود دیکھنے والے اور کلام کے خادم تھے اُنکو ہم تک پہنچایا ؎ اَے مُعزّز تھِیُفِلس مَیں نے بھی مُناسب جانا کہ سب باتوں کا سِلسلہ شُروع سے ٹھیک ٹھیک دریافت کر کے اُنکو تیرے لیئے ترتیب سے لکھوں ؎ تاکہ جن باتوں کی تُو نے تعلیم پائی ہے اُنکی پُختگی تجھے

معلوم ہو جائے ٭ یہودیہ کے بادشاہ ہیرودیس کے زمانہ میں ابیاہ کے فریق میں ۵ زکریاہ نام ایک کاہن تھا اور اُسکی بیوی ہارون کی اولاد میں سے تھی اور اُس کا نام الیشبع تھا ؎ اور وہ دونوں خُدا کے حضور راستباز ۶ اور خُداوند کے سب احکام و قوانین پر بے عیب چلنے والے تھے ؎ اور ۷ اُنکے اولاد نہ تھی کیونکہ الیشبع بانجھ تھی اور دونوں عُمر رسیدہ تھے ؎

۵۱

صفحہ 444

۲۳ : ۱۴ لوقا ۲۳ : ۵۵

حقیقت میں مَیں نے اُس میں کچھ قصور نہیں پایا ٭ نہ ہیرودیس نے ۔ کیونکہ اُس نے اُسے ہمارے پاس واپس بھیجا ہے ۔ اور دیکھو ۔ اِس سے کوئی ۱۵ ایسا فعل سرزد نہیں ہُوا جس سے وہ قتل کے لائق ٹھہرے ٭ پس ۱۶ مَیں اِسکو پٹوا کر چھوڑ دیتا ہوں ٭ ۱۷ اور اُسے عید میں ضرور تھا کہ کسی کو اُنکی خاطر چھوڑ دے ٭ ۱۸ تب وہ سب مل کر چلّائے کہ اِسے لے جا اور ہماری خاطر برابّا کو چھوڑ دے ٭ ۱۹ یہ کسی بغاوت کے باعث جو شہر میں ہوئی تھی اور خُون کرنے کے سبب سے قید میں ڈالا گیا تھا ٭ ۲۰ مگر پیلاطُس نے یسوع کے چھوڑنے کے اِرادہ سے پھر اُن سے کہا ٭ ۲۱ لیکن وہ چلّا کر کہنے لگے کہ اُسکو مصلوب کر مصلوب ٭ اُس نے ۲۲ تیسری بار اُن سے کہا کیوں ؟ اِس نے کیا بُرائی کی ہے ؟ مَیں نے اِس میں قتل کی کوئی وجہ نہیں پائی ۔ پس مَیں اِسے پٹوا کر چھوڑ ۲۳ دیتا ہوں ٭ مگر وہ اصرار کر کے پیچھے پڑے رہے کہ وہ مصلوب کیا جائے اور اُنکا رولا مچانا بڑھتا گیا ٭ تب پیلاطُس نے حکم ۲۴ دیا کہ اُنکی درخواست کے موافق ہو ٭ اور جو شخص بغاوت اور ۲۵ خُون کرنے کے سبب قید میں پڑا تھا اور جسے اُنہوں نے مانگا تھا اُسے چھوڑ دیا اور یسوع کو اُنکی مرضی کے موافق اُنکے حوالہ کیا ٭ ۲۶ اور جب اُسکو لئے جاتے تھے تو اُنہوں نے شمعون نامی ایک کرینی کو جو دیہات سے آتا تھا پکڑ کر صلیب اُس پر لادی کہ ۲۷ یسوع کے پیچھے پیچھے لے چلے ٭ اور لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ اور بہت سی عورتیں جو اُسکے لئے چھاتی پیٹتی تھیں اُسکے پیچھے پیچھے ۲۸ چلیں ٭ یسوع نے اُنکی طرف پھر کر کہا اَے یروشلیم کی بیٹیو ! میرے لئے نہ رو بلکہ اپنے اور اپنے بچوں کے لئے ۲۹ رو ٭ کیونکہ دیکھو وہ دن آتے ہیں جن میں لوگ کہیں گے مبارک ہیں وہ بانجھیں اور وہ رحم جو بارور نہ ہوئے اور ۳۰ وہ چھاتیاں جنہوں نے دُودھ نہ پلایا ٭ اُس وقت وہ پہاڑوں ۳۱ سے کہنا شروع کرینگے کہ ہم پر گر پڑو اور ٹیلوں سے کہ ہمیں چھپا لو ٭ ۳۲ کیونکہ جب ہرے درخت کے ساتھ ایسا کرتے ہیں تو سُوکھے کا کیا حال ہوگا ؟ ٭ ۳۳ اور دو اور آدمیوں کو بھی جو بدکار تھے لئے جاتے تھے کہ اُسکے ساتھ قتل کئے جائیں ٭ اور جب وہ اُس جگہ پر پہنچے جسے کھوپڑی کہتے ہیں تو وہاں اُنہوں نے اُسکو اور اُن بدکاروں کو بھی ایک کو دہنی اور دُوسرے

۳۴ کو بائیں طرف ٭ یسوع نے کہا اَے باپ ! اِنکو معاف کر کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کرتے ہیں ۔ اور اُنہوں نے اُسکے کپڑوں کے ۳۵ حصے کر کے اُن پر قرعہ ڈالا ٭ اور لوگ کھڑے دیکھ رہے تھے اور سردار بھی ٹھٹھے مار مار کر کہتے تھے کہ اِس نے اوروں کو بچایا ۔ اگر ۳۶ یہ خدا کا مسیح اور اُسکا برگزیدہ ہے تو اپنے کو بچائے ٭ سپاہیوں ۳۷ نے بھی پاس آ کر اور سرکہ پیش کر کے اُس پر ٹھٹھا مارا ٭ اور کہا کہ ۳۸ اگر تُو یہودیوں کا بادشاہ ہے تو اپنے آپ کو بچا ٭ اور ایک نوشتہ بھی اُسکے اُوپر لگایا گیا تھا کہ یہ یہودیوں کا بادشاہ ہے ٭ ۳۹ پھر جو بدکار صلیب پر لٹکائے گئے تھے اُن میں سے ایک اُسے ۴۰ طعنہ دینے لگا کہ کیا تُو مسیح نہیں ؟ تو اپنے آپ کو اور ہم کو بچا ٭ مگر دُوسرے نے اُسے جھڑک کر جواب دیا کہ کیا تُو خُدا سے بھی ۴۱ نہیں ڈرتا حالانکہ اُسی سزا میں گرفتار ہے ؟ ٭ اور ہماری سزا تو واجب ہے کیونکہ اپنے کاموں کا بدلہ پا رہے ہیں لیکن اِس نے ۴۲ کوئی بے جا کام نہیں کیا ٭ پھر اُس نے کہا اَے یسوع جب تُو ۴۳ اپنی بادشاہی میں آئے تو مجھے یاد کرنا ٭ اُس نے اُس سے کہا مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ آج ہی تُو میرے ساتھ فردوس میں ہوگا ٭ ۴۴ پھر دوپہر کے قریب سے تیسرے پہر تک تمام مُلک میں ۴۵ اندھیرا چھایا رہا ٭ اور سُورج کی روشنی جاتی رہی اور مقدس ۴۶ کا پردہ بیچ سے پھٹ گیا ٭ پھر یسوع نے بڑی آواز سے چلا کر کہا اَے باپ ! مَیں اپنی رُوح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ۴۷ ہوں اور یہ کہہ کر دم دے دیا ٭ یہ ماجرا دیکھ کر صُوبہ دار نے خُدا کی تمجید کی اور کہا بیشک یہ آدمی راستباز تھا ٭ اور جتنے لوگ اِس ۴۸ تماشے کے لئے جمع ہوئے تھے یہ ماجرا دیکھ کر چھاتی پیٹتے ہوئے لوٹ گئے ٭ ۴۹ اور اُسکے سب جان پہچان اور وہ عورتیں جو گلیل سے اُسکے ساتھ آئی تھیں دُور کھڑی یہ باتیں دیکھ رہی تھیں ٭ ۵۰ اور دیکھو یُوسف نام ایک شخص مشیر تھا جو نیک اور راستباز ۵۱ آدمی تھا ٭ اور اُنکی صَلاح اور کام سے رضامند نہ تھا یہ یہودیوں ۵۲ کے شہر اَرِمتیہ کا باشندہ اور خُدا کی بادشاہی کا منتظر تھا ٭ اُس ۵۳ نے پیلاطُس کے پاس جا کر یسوع کی لاش مانگی ٭ اور اُسکو اُتار کر مہین چادر میں لپیٹا ۔ پھر ایک قبر کے اندر رکھ دیا جو چٹان ۵۴ میں کھدی ہوئی تھی اور اُس میں کوئی کبھی رکھا نہ گیا تھا ٭ وہ ۵۵ تیاری کا دن تھا اور سبت کا دن شروع ہونے کو تھا ٭ اور اُن

صفحہ 445

۲۴ لوقا ۵۶-۲۳

عورتوں نے جو اُسکے ساتھ گلیل سے آئی تھیں پیچھے پیچھے جاکر اُس ۵۶ کی قبر کو دیکھا اور یہ بھی کہ اُسکی لاش کس طرح رکھی گئی ۔ اور لوٹ کر خوشبو دار چیزیں اور عطر تیار کیا ۔ ۲۴ سبت کے دن تو اُنہوں نے حکم کے مطابق آرام کیا ۔ لیکن ہفتے کے پہلے دن وہ صبح سویرے ہی اُن خوشبو دار چیزوں کو جو تیار کی تھیں لیکر قبر پر آئیں۔ اور پتھر کو قبر پر سے لڑھکا ہُوا پایا ۲ مگر اندر جاکر خُداوند یسُوع کی لاش نہ پائی ۔ اور ایسا ہُوا کہ جب وہ اِس بات سے حیران تھیں تو دیکھو دو شخص براق پوشاک پہنے ۵ اُنکے پاس آکھڑے ہُوئے ۔ جب وہ ڈر گئیں اور اپنے سر زمین پر جھکائے تو اُنہوں نے اُن سے کہا کہ زندہ کو مُردوں میں کیوں ۶ ڈھونڈتی ہو ؟ وہ یہاں نہیں بلکہ جی اُٹھا ہے ۔ یاد کرو کہ ۷ جب وہ گلیل میں تھا تو اُس نے تم سے کہا تھا ۔ ضرور ہے کہ ابنِ آدم گنہگاروں کے ہاتھ میں حوالہ کیا جائے اور مصلوب ۸ ہو اور تیسرے دن جی اُٹھے ۔ اُسکی باتیں اُنکو یاد آئیں ۔ ۹ اور قبر سے لوٹ کر اُنہوں نے اُن گیارہ اور باقی سب لوگوں ۱۰ کو اِن سب باتوں کی خبر دی ۔ جنہوں نے رسولوں سے یہ باتیں کہیں وہ مریم مگدلینی اور یُوانہ اور یعقوب کی ماں مریم ۱۱ اور اُنکے ساتھ کی باقی عورتیں تھیں ۔ مگر یہ باتیں اُنہیں کہانی سی معلوم ہُوئیں اور اُنہوں نے اُنکا یقین نہ کیا ۔ ۱۲ اِس پر پطرس اُٹھ کر قبر تک دوڑا گیا اور جُھک کر نظر کی اور دیکھا کہ صرف کفن ہی پڑا ہے اور اِس ماجرے سے تعجب کرتا ہُوا اپنے گھر چلا گیا ۔ ۱۳ اور دیکھو اُسی دن اُن میں سے دو آدمی اُس گاؤں کی طرف جارہے تھے جسکا نام اِمّاؤس ہے ۔ وہ یروشلم سے قریباً ۱۴ سات میل کے فاصلہ پر ہے ۔ اور وہ اِن سب باتوں کی بابت ۱۵ جو واقع ہُوئی تھیں آپس میں بات چیت کرتے جاتے تھے ۔ جب وہ بات چیت اور پُوچھ پاچھ کر رہے تھے تو ایسا ہُوا کہ یسُوع ۱۶ آپ نزدیک آکر اُنکے ساتھ ہولیا ۔ لیکن اُنکی آنکھیں بند کی ۱۷ گئی تھیں کہ اُسکو نہ پہچانیں ۔ اُس نے اُن سے کہا یہ کیا باتیں ہیں جو تم چلتے چلتے آپس میں کرتے ہو ؟ وہ غمگین سے ۱۸ کھڑے ہوگئے ۔ پھر ایک نے جسکا نام کلیُپاس تھا جواب میں اُس سے کہا کیا تو یروشلم میں اکیلا مسافر ہے جو نہیں ۱۹ جانتا کہ اِن دنوں اُس میں کیا کیا ہُوا ہے ؟ اُس نے اُن

سے کیا بیتی ہے ؟ اُنہوں نے اُس سے کہا یسوع ناصری کا ماجرا جو خُدا اور ساری اُمت کے نزدیک کام اور کلام میں قدرت والا نبی تھا ۔ اور سردار کاہنوں اور ہمارے حاکموں ۲۰ نے اُسکو پکڑوا دیا تاکہ اُس پر قتل کا حکم دیا جائے اور اُسے مصلوب کیا ۔ لیکن ہم کو اُمید تھی کہ اسرائیل کو خلاصی دینے ۲۱ والا وہ ہی ہے اِن سب باتوں کے علاوہ آج تیسرا ۲۲ دن ہے کہ یہ باتیں ہُوئیں ۔ اور ہم میں سے چند عورتوں نے بھی ہم کو حیران کر دیا ہے جو سویرے ہی قبر پر گئی تھیں ۔ اور جب اُسکی ۲۳ لاش نہ پائی تو یہ کہتی ہُوئی آئیں کہ ہم نے رویا میں فرشتوں کو بھی دیکھا ۔ اُنہوں نے کہا وہ زندہ ہے ۔ اور بعض ہمارے ۲۴ ساتھیوں میں سے قبر پر گئے اور جیسا عورتوں نے کہا تھا ویسا ہی پایا مگر اُسکو نہ دیکھا ۔ اُس نے اُن سے کہا اے نادانو اور ۲۵ نبیوں کی سب باتوں کے ماننے میں سُست اعتقادو ! کیا ۲۶ مسیح کو یہ دُکھ سہنا اور اپنے جلال میں داخل ہونا ضرور نہ تھا؟ ۲۷ پھر موسیٰ سے اور سب نبیوں سے شروع کر کے سب صحیفوں میں جتنی باتیں اُسکے حق میں لکھی ہُوئی ہیں وہ اُنکو سمجھائیں ۔ ۲۸ اِتنے میں وہ اُس گاؤں کے نزدیک پہنچ گئے جہاں جاتے تھے ۔ اور اُسکے ڈھنگ سے ایسا معلوم ہُوا کہ وہ آگے بڑھنا چاہتا ہے ۔ ۲۹ اُنہوں نے اُسے یہ کہہ کر مجبور کیا کہ ہمارے ساتھ رہ کیونکہ شام ہُوا چاہتی ہے اور دن اب بہت ڈھل گیا ۔ پس وہ اندر گیا کہ اُنکے ساتھ رہے ۔ جب وہ اُنکے ساتھ کھانا کھانے بیٹھا تو ایسا ۳۰ ہُوا کہ اُس نے روٹی لیکر برکت دی اور توڑ کر اُنکو دینے لگا ۔ اِس ۳۱ پر اُنکی آنکھیں کھُل گئیں اور اُنہوں نے اُسکو پہچان لیا اور وہ اُنکی نظر سے غائب ہوگیا ۔ اُنہوں نے آپس میں کہا کہ جب وہ راہ میں ۳۲ ہم سے باتیں کرتا اور ہم پر نوشتوں کا بھید کھولتا تھا تو کیا ہمارے دل جوش سے جلتے نہ تھے ؟ پس وہ اُسی گھڑی اُٹھکر یروشلم ۳۳ کو لوٹ گئے اور اُن گیارہ اور اُنکے ساتھیوں کو اکٹھا پایا ۔ جو کہتے ۳۴ تھے کہ خُداوند بیشک جی اُٹھا اور شمعون کو دکھائی دیا ۔ پھر ۳۵ اُنہوں نے راہ کا حال بیان کیا اور یہ بھی کہ اُسے روٹی توڑتے وقت کس طرح پہچانا ۔ وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ یسُوع آپ اُنکے بیچ میں آکھڑا ۳۶ ہُوا اور اُن سے کہا تمہاری سلامتی ہو ۔ مگر اُنہوں نے گھبرا کر ۳۷ اور خوف کھا کر یہ سمجھا کہ کسی رُوح کو دیکھتے ہیں ۔ اُس نے اُن

۸۰

صفحہ 446

۲۴ لوقا ۲۴ ۲۱-۱

سے کہا تم کیوں گھبراتے ہو ؟ اور کس واسطے تمہارے دل میں ۳۹ شُبہے پیدا ہوتے ہیں ؟ ۳۹ میرے ہاتھ اور میرے پاؤں دیکھو کہ میں ہی ہوں ۔ مجھے چھو کر دیکھو کیونکہ رُوح کے گوشت ۴۰ اور ہڈیاں نہیں ہوتیں جیسا مجھ میں دیکھتے ہو ۴۰ اور یہ کہہ کر ۴۱ اُس نے اُنہیں اپنے ہاتھ اور پاؤں دِکھائے ۴۱ جب مارے خوشی کے اُنکو یقین نہ آیا اور تعجّب کرتے تھے تو اُس نے اُن ۴۲ سے کہا کیا یہاں تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے ؟ ۴۲ اُنہوں ۴۳ نے اُسے بُھنی ہوئی مچھلی کا ٹکڑا دیا ۴۳ اُس نے لے کر اُنکے رُوبرو کھایا ۔ ۴۴ ۴۴ پھر اُس نے اُن سے کہا یہ میری وہ باتیں ہیں جو میں نے تم سے اُس وقت کہی تھیں جب تمہارے ساتھ تھا کہ ضروُر ہے کہ جتنی باتیں مُوسیٰ کی توریت اور نبیوں کے صحیفوں اور زبور ۴۵ میں میری بابت لکھی ہیں پُوری ہوں ۴۵ پھر اُس نے اُنکا

ذہن کھولا تاکہ کِتابِ مُقدّس کو سمجھیں ۴۶ اور اُن سے کہا یوں ۴۶ لکھا ہے کہ مسیح دُکھ اُٹھائے گا اور تیسرے دِن مُردوں میں سے جی اُٹھے گا ۴۷ اور یروشلیم سے شروع کر کے سب قوموں میں توُبہ ۴۷ اور گناہوں کی معافی کی منادی اُسکے نام سے کی جائیگی ۴۸ تم ۴۸ اِن باتوں کے گواہ ہو ۴۹ اور دیکھو جسکا میرے باپ نے وعدہ ۴۹ کیا ہے میں اُسکو تم پر نازل کرتا ہوں لیکن جب تک عالمِ بالا سے تم کو قوّت کا لباس نہ ملے اِس شہر میں ٹھہرے رہو ۔ ۵۰ پھر وہ اُنہیں بیتِ عنیاہ کے سامنے تک باہر لے گیا اور ۵۰ اپنے ہاتھ اُٹھا کر اُنہیں برکت دی ۵۱ جب وہ اُنہیں برکت دے ۵۱ رہا تھا تو ایسا ہُوا کہ اُن سے جُدا ہو گیا اور آسمان پر اُٹھایا گیا ۵۲ اور وہ اُسکو سجدہ کر کے بڑی خوشی سے یروشلیم کو لوٹے ۵۲ ۵۳ اور ہر وقت ہیکل میں حاضر ہو کر خدا کی حمد کیا کرتے ۵۳ تھے ۔

یُوحنّا کی اِنجیل

۱ اِبتدا میں کلام تھا اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا ۲ یہی اِبتدا میں خُدا کے ساتھ تھا ۳ سب چیزیں اُسکے وسیلہ سے پیدا ہوئیں اور جو کچھ پیدا ہُوا ہے اُس میں ۴ سے کوئی چیز بھی اُسکے بغیر پیدا نہیں ہوئی ۴ اُس میں زِندگی ۵ تھی اور وہ زِندگی آدمیوں کا نُور تھی ۵ اور نُور تاریکی میں چمکتا ۶ ہے اور تاریکی نے اُسے نہ بُجھایا ۶ ایک آدمی خُدا کی طرف ۷ سے بھیجا گیا جسکا نام یُوحنّا تھا ۷ یہ گواہی کے لئے آیا کہ نُور ۸ کی گواہی دے تاکہ سب اُسکے وسیلہ سے ایمان لائیں ۸ وہ خُود ۹ نُور نہ تھا مگر نُور کی گواہی دینے کو آیا تھا ۹ حقیقی نُور جو ہر ایک ۱۰ آدمی کو روشن کرتا ہے دُنیا میں آنے کو تھا ۱۰ وہ دُنیا میں تھا اور ۱۱ دُنیا اُسکے وسیلہ سے پیدا ہوئی اور دُنیا نے اُسے نہ پہچانا ۱۱ وہ ۱۲ اپنے گھر آیا اور اُسکے اپنوں نے اُسے قبوُل نہ کیا ۱۲ لیکن جتنوں نے اُسے قبوُل کیا اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق ۱۳ بخشا یعنی اُنہیں جو اُسکے نام پر ایمان لاتے ہیں ۱۳ وہ نہ خُون سے نہ جِسم کی خواہش سے نہ اِنسان کے اِرادہ سے بلکہ خُدا

سے پیدا ہوئے ۱۴ اور کلام مُجسّم ہُوا اور فضل اور سچائی سے معمُور ۱۴ ہو کر ہمارے درمیان رہا اور ہم نے اُسکا ایسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اِکلوتے کا جلال ۱۵ یُوحنّا نے اُسکی بابت گواہی ۱۵ دی اور پکار کر کہا کہ یہ وہی ہے جسکا مَیں نے ذِکر کیا کہ جو میرے بعد آتا ہے وہ مُجھ سے مُقدّم ٹھہرا کیونکہ وہ مُجھ سے پہلے تھا ۱۶ کیونکہ اُسکی معمُوری میں سے ہم سب نے پایا یعنی فضل ۱۶ پر فضل ۱۷ اِسلیئے کہ شریعت تو مُوسیٰ کی معرفت دی گئی مگر فضل ۱۷ اور سچائی یسوُع مسیح کی معرفت پہنچی ۱۸ خُدا کو کسی نے کبھی ۱۸ نہیں دیکھا ۔ اِکلوتا بیٹا جو باپ کی گود میں ہے اُسی نے ظاہر کِیا ۔ ۱۹ اور یُوحنّا کی گواہی یہ ہے کہ جب یہوُدیوں نے یروشلیم سے ۱۹ کاہن اور لاوی یہ پوُچھنے کو اُسکے پاس بھیجے کہ توُ کون ہے ؟ ۲۰ تو اُس نے اِقرار کیا اور اِنکار نہ کِیا بلکہ اِقرار کیا کہ مَیں تو مسیح ۲۰ نہیں ہوں ۲۱ اُنہوں نے اُس سے پوُچھا پھر کون ہے ؟ کیا توُ ۲۱ ایلیاہ ہے ؟ اُس نے کہا مَیں نہیں ہوں ۔ کیا توُ وہ نبی ہے ؟

۸۱

صفحہ 447

۱۷-۲۰ یُوحنّا ۲۸

۱ ہفتہ کے پہلے دن مریم مگدلینی اَیسے تڑکے کہ ابھی اندھیرا تھا قبر پر آئی اور پتھر کو قبر سے ہٹا ہوا دیکھا ٭ پس وہ شمعون ۲ پطرس اور اُس دوسرے شاگرد کے پاس جسے یسوع عزیز رکھتا تھا دوڑی ہوئی گئی اور اُن سے کہا کہ خُداوند کو قبر سے نکال لے گئے اور ہمیں معلوم نہیں کہ اُسے کہاں رکھ دیا ٭ ۳ پس پطرس اور وہ دوسرا شاگرد نکل کر قبر کی طرف چلے ٭ اور ۴ دونوں ساتھ ساتھ دوڑنے لگے اور دوسرا شاگرد پطرس سے آگے بڑھ کر قبر پر پہلے پہنچا ٭ اُس نے جھک کر قبر کے اندر نگاہ کی ۵ اور سوتی کپڑے پڑے دیکھے مگر اندر نہ گیا ٭ شمعون پطرس ۶ اُسکے پیچھے پیچھے پہنچا اور اُس نے قبر کے اندر جاکر دیکھا کہ ۷ سوتی کپڑے پڑے ہیں ٭ اور وہ رُومال جو اُسکے سر سے بندھا ہوا تھا سوتی کپڑوں کے ساتھ نہیں بلکہ لپٹا ہوا ایک ۸ جگہ الگ پڑا ہے ٭ پس وہ دوسرا شاگرد بھی جو پہلے قبر پر آیا تھا اندر گیا اور اُس نے دیکھ کر یقین کیا ٭ کیونکہ وہ اب ۹ تک اُس نوشتہ کو نہ جانتے تھے جسکے مطابق اُسکا مُردوں ۱۰ میں سے جی اُٹھنا ضرور تھا ٭ پس یہ شاگرد اپنے گھر کو واپس چلے گئے ٭ ۱۱ لیکن مریم باہر قبر کے پاس کھڑی روتی رہی اور جب روتے روتے قبر کی طرف جھک کر اندر نگاہ کی ٭ تو دو فرشتوں ۱۲ کو سفید پوشاک پہنے ہوئے ایک کو سرہانے اور دُوسرے کو پینتانے بیٹھے دیکھا جہاں یسوع کی لاش پڑی تھی ٭ ۱۳ اُنہوں نے اُس سے کہا اے عورت تُو کیوں روتی ہے؟ اُس نے اُن سے کہا اِسلئے کہ میرے خُداوند کو اُٹھا لے گئے ہیں اور معلوم نہیں کہ اُسے کہاں رکھا ہے ٭ یہ کہہ کر وہ ۱۴ پیچھے پھری اور یسوع کو کھڑے دیکھا اور نہ پہچانا کہ یہ یسوع ۱۵ ہے ٭ یسوع نے اُس سے کہا اے عورت تُو کیوں روتی ہے؟ کِس کو ڈھونڈتی ہے؟ اُس نے باغبان سمجھ کر اُس سے کہا میاں اگر تُونے اُسکو یہاں سے اُٹھایا ہو تو مجھے بتا دے کہ اُسے کہاں رکھا ہے تاکہ مَیں اُسے لے جاؤں ٭ یسوع ۱۶ نے اُس سے کہا مریم ! اُس نے مُڑ کر اُس سے عبرانی زبان میں کہا رَبُّونِی ! یعنی اَے اُستاد ٭ یسوع نے اُس سے کہا ۱۷ مجھے نہ چھو کیونکہ مَیں اب تک باپ کے پاس اُوپر نہیں گیا بلکہ میرے بھائیوں کے پاس جاکر اُن سے کہہ کہ مَیں

نئی بنائی ہے اور اُس وقت سے وہ شاگرد اُسے اپنے گھر لے گیا ٭ ۲۸ اِسکے بعد جب یسوع نے جان لیا کہ اب سب باتیں تمام ہوئیں تاکہ نوشتہ پُورا ہو تو کہا کہ مَیں پیاسا ہوں ٭ وہاں ۲۹ سرکہ سے بھرا ہوا ایک برتن رکھا تھا ۔ پس اُنہوں نے ایک اسپنج کو سرکہ میں بھگو کر زُوفے کی شاخ پر رکھا اور ۳۰ اُسکے منھ سے لگایا ٭ پس جب یسوع نے وہ سرکہ پیا تو کہا کہ تمام ہُوا اور سر جھکا کر جان دے دی ٭ ۳۱ پس چونکہ تیاری کا دن تھا یہودیوں نے پیلاطُس سے درخواست کی کہ اُنکی ٹانگیں توڑ دی جائیں اور لاشیں اُتار لی جائیں تاکہ سبت کے دن صلیب پر نہ رہیں کیونکہ وہ سبت ۳۲ ایک خاص دن تھا ٭ پس سپاہیوں نے آکر پہلے اور دُوسرے شخص کی ٹانگیں توڑیں جو اُسکے ساتھ مصلوب ہوئے ۳۳ تھے ٭ لیکن جب اُنہوں نے یسوع کے پاس آکر دیکھا کہ ۳۴ وہ مرچکا ہے تو اُسکی ٹانگیں نہ توڑیں ٭ مگر اُن میں سے ایک سپاہی نے بھالے سے اُسکی پسلی چھیدی اور فی الفور ۳۵ اُس سے خُون اور پانی نکلا ٭ جس نے یہ دیکھا ہے اُسی نے گواہی دی ہے اور اُسکی گواہی سچّی ہے ۔ اور وہ ۳۶ جانتا ہے کہ سچ کہتا ہے تاکہ تُم بھی ایمان لاؤ ٭ یہ باتیں اِسلئے ہوئیں تاکہ یہ نوشتہ پُورا ہو کہ اُسکی کوئی ہڈی نہ توڑی جائیگی ٭ ۳۷ پھر ایک اور نوشتہ کہتا ہے کہ جسے اُنہوں نے چھیدا اُس پر نظر کرینگے ٭ ۳۸ اِن باتوں کے بعد اَرِمتیہ کے رہنے والے یُوسف نے جو یسوع کا شاگرد تھا (لیکن یہودیوں کے ڈر سے خُفیہ طور پر) پیلاطُس سے اجازت چاہی کہ یسوع کی لاش لیجائے۔ پس پیلاطُس نے اجازت دی۔ پس وہ آکر اُسکی لاش لے گیا ٭ ۳۹ اور نیکدیمس بھی آیا۔ جو پہلے یسوع کے پاس رات کو گیا تھا اور پچاس سیر کے قریب مُرّ اور عُود ملا ہُوا لایا ٭ پس اُنہوں ۴۰ نے یسوع کی لاش لے کر اُسے سُوتی کپڑے میں خُوشبودار چیزوں کے ساتھ کفنایا جس طرح کہ یہودیوں میں دفن کرنے کا ۴۱ دستور ہے ٭ اور اُس جگہ جہاں وہ مصلوب ہُوا تھا ایک باغ تھا اور اُس باغ میں ایک نئی قبر تھی جس میں کبھی کوئی نہ ۴۲ رکھا گیا تھا ٭ پس اُنہوں نے یہودیوں کی تیاری کے دن کے باعث چونکہ وہ قبر نزدیک تھی یسوع کو وہیں رکھا ٭

۱۰۵

صفحہ 448

۱۸ - ۲۰ يُوحنّا ۲۱

۱۸ گیا لیکن میرے بھائیوں کے پاس جاکر اُن سے کہہ کہ مَیں اپنے باپ اور تمہارے باپ اور اپنے خدا اور تمہارے خدا کے پاس اُوپر جاتا ہوں ٭ مریم مگدلینی نے آکر شاگردوں کو خبر دی کہ مَیں نے خداوند کو دیکھا اور اُس نے مجھ سے یہ باتیں کہیں ٭ ١٩ پھر اُسی دن جو ہفتہ کا پہلا دن تھا شام کے وقت جب وَہاں کے دروازے جہاں شاگرد تھے یہودیوں کے ڈر سے بند تھے یسوع آکر بیچ میں کھڑا ہُوا اور اُن سے کہا تمہاری ۲۰ سلامتی ہو! ٭ اور یہ کہہ کر اُس نے اپنے ہاتھوں اور پسلی کو اِنہیں دکھایا۔ پس شاگرد خُداوند کو دیکھ کر خوش ہُوئے٭ ۲۱ یِسوع نے پھر اُن سے کہا تمہاری سلامتی ہو جس طرح باپ نے ۲۲ مجھے بھیجا ہے اُسی طرح مَیں بھی تمہیں بھیجتا ہوں ٭ اور یہ کہہ کر اُن پر پھونکا اور اُن سے کہا رُوحُ القُدُس لو٭ جنکے گُناہ تم بخشو اُنکے بخشے گئے ہیں۔ جنکے گُناہ تم قائم رکھو اُنکے قائم رکھے گئے ہیں ٭ ۲۴ مگر اُن بارہ میں سے ایک شخص یعنی توما جسے توام کہتے ۲۵ ہیں یِسوع کے آنے کے وقت اُنکے ساتھ نہ تھا ٭ پس باقی شاگرد اُس سے کہنے لگے کہ ہم نے خداوند کو دیکھا ہے مگر اُس نے اُن سے کہا جب تک مَیں اُسکے ہاتھوں میں میخوں کے سُوراخ نہ دیکھ لوں اور میخوں کے سُوراخوں میں اپنی انگلی نہ ڈال لوں اور اپنا ہاتھ اُسکی پسلی میں نہ ڈال لوں ہرگز یقین نہ کرونگا ٭ ۲۶ آٹھ روز کے بعد جب اُسکے شاگرد پھر اندر تھے اور توما اُنکے ساتھ تھا اور دروازے بند تھے یسوع نے آکر بیچ میں کھڑا ۲۷ ہو کر کہا تمہاری سلامتی ہو ٭ پھر اُس نے توما سے کہا اپنی انگلی پاس لا کر میرے ہاتھوں کو دیکھ اور اپنا ہاتھ پاس لاکر میری ۲۸ پسلی میں ڈال اور بے اعتقاد نہ ہو بلکہ اعتقاد رکھ٭ توما نے جواب میں اُس سے کہا اے میرے خداوند ! اے میرے خدا! ۲۹ یسوع نے اُس سے کہا تو تو مجھے دیکھ کر ایمان لایا ہے ۔ مبارک وہ ہیں جو بغیر دیکھے ایمان لائے ٭ ۳۰ اور یسوع نے اور بہت سے مُعجزے شاگردوں کے ۳۱ سامنے دکھائے جو اِس کتاب میں لکھے نہیں گئے ٭ لیکن یہ اِسلئے لکھے گئے کہ تم ایمان لاؤ کہ یِسوع ہی خدا کا بیٹا مسیح

ہے اور ایمان لا کر اُسکے نام سے زندگی پاؤ ٭ اِن باتوں کے بعد یسوع نے پھر اپنے آپ کو تبریاس کی جھیل ۱ کے کنارے شاگردوں پر ظاہر کیا اور اِس طرح ظاہر کیا ٭ شمعون ۲ پطرس اور توما جو توام کہلاتا ہے اور نتن ایل جو قانایِ گلیل کا تھا اور زبدی کے بیٹے اور اُسکے شاگردوں میں سے دو اور شخص جمع تھے ٭ شمعون پطرس نے اُن سے کہا مَیں مچھلی ۳ پکڑنے جاتا ہوں ۔ اُنہوں نے اُس سے کہا ہم بھی تیرے ساتھ چلتے ہیں ۔ وہ نکل کر کشتی پر سوار ہُوئے مگر اُس رات کچھ نہ پکڑا ٭ مگر صبح ہوتے ہی یِسوع کنارے پر آکھڑا ہُوا مگر ۴ شاگردوں نے نہ پہچانا کہ یہ یِسوع ہے ٭ پس یِسوع نے اُن ۵ سے کہا بچو! تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ نہیں ٭ اُس نے اُن سے کہا کشتی کی دہنی طرف ۶ جال ڈالو تو پاؤگے۔ پس اُنہوں نے ڈالا اور مچھلیوں کی کثرت سے پھر کھینچ نہ سکے ٭ اِسلئے اُس شاگرد نے جس سے ۷ یِسوع محبت رکھتا تھا پطرس سے کہا کہ یہ تو خداوند ہے ۔ پس شمعون پطرس نے یہ سُنکر کہ خداوند ہے کُرتہ کمر سے باندھا کیونکہ ننگا تھا اور جھیل میں کُود پڑا ٭ اور باقی شاگرد چھوٹی کشتی ۸ پر سوار مچھلیوں کا جال کھینچتے ہُوئے آئے کیونکہ وہ کنارے سے کچھ دُور نہ تھے بلکہ تخمیناً دو سو ہاتھ کا فاصلہ تھا ٭ پس جب وہ ۹ کنارے پر اُترے تو اُنہوں نے کوئلوں کی آگ اور اُس پر مچھلی رکھی ہُوئی اور روٹی دیکھی ٭ یسوع نے اُن سے کہا جو مچھلیاں ۱۰ تم نے ابھی پکڑی ہیں اُن میں سے کچھ لاؤ ٭ شمعون پطرس ۱۱ نے چڑھ کر ایک سو ترپن بڑی مچھلیوں سے بھرا ہُوا جال کنارے پر کھینچا ۔ مگر باوُجود مچھلیوں کی کثرت کے جال نہ پھٹا ٭ یسوع نے اُن سے کہا آؤ کھانا کھا لو اور شاگردوں میں ۱۲ سے کسی کو جُرأت نہ ہُوئی کہ اُس سے پُوچھے تُو کون ہے ؟ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خداوند ہی ہے ٭ یسوع آیا اور روٹی ۱۳ لے کر اُنہیں دی۔ اِسی طرح مچھلی بھی دی ٭ یسوع مُردوں ۱۴ میں سے جی اُٹھنے کے بعد یہ تیسری بار شاگردوں پر ظاہر ہُوا ٭ اور جب کھانا کھا چکے تو یِسوع نے شمعون پطرس سے ۱۵ کہا اَے شمعون یُونا کے بیٹے کیا تُو اِن سے زیادہ مجھ سے محبت رکھتا ہے؟ اُس نے اُس سے کہا ہاں خداوند تُو تو

١٠٦

صفحہ 449

۱۹۰ | یوحنا و اعمال | ۱۔۱۱

جانتا ہی ہے کہ میں تجھے عزیز رکھتا ہوں۔ اُس نے اُس سے کہا۔ تو میرے برے چرا ٭ اُس نے دوبارہ اُس سے پھر کہا اے شمعون یوحنا کے بیٹے کیا تو مجھ سے محبت رکھتا ہے؟ اُس نے کہا ہاں خداوند تُو تو جانتا ہی ہے کہ مَیں تجھ کو عزیز رکھتا ہوں۔ اُس نے اُس سے کہا تو میری بھیڑوں کی گلہ بانی کر ٭ اُس نے تیسری بار اُس سے کہا اَے شمعون یوحنا کے بیٹے کیا تو مجھے عزیز رکھتا ہے؟ چونکہ اُس نے تیسری بار اُس سے کہا کیا تو مجھے عزیز رکھتا ہے اس سبب سے پطرس نے دلگیر ہو کر اُس سے کہا اَے خداوند! تُو تو سب کچھ جانتا ہے۔ تجھے معلوم ہی ہے کہ میں تجھے عزیز رکھتا ہوں۔ یسوع نے اُس سے کہا تو میری بھیڑیں چرا ٭ مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ جب تو جوان تھا تو آپ ہی اپنی کمر باندھتا تھا اور جہاں چاہتا تھا پھرتا تھا مگر جب تو بوڑھا ہوگا تو اپنے ہاتھ لمبے کریگا اور دُوسرا شخص تیری کمر باندھیگا اور جہاں تُو نہ جائیگا وہاں تجھے لیجائیگا٭ اُس نے اِن باتوں سے اشارہ کر دیا کہ وہ کس طرح کی موت

سے خدا کا جلال ظاہر کریگا اور یہ کہہ کر اُس سے کہا میرے پیچھے ہو لے ٭ پطرس نے مڑ کر اُس شاگرد کو پیچھے آتے ۲۰ دیکھا جس سے یسوع محبت رکھتا تھا اور جس نے شام کے کھانے کے وقت اُسکے سینہ کا سہارا لے کر پوچھا تھا کہ خداوند تیرا پکڑوانے والا کون ہے؟ ٭ پطرس نے اُسے ۲۱ دیکھ کر یسوع سے کہا اَے خداوند! اِسکا کیا حال ہوگا؟ یسوع ۲۲ نے اُس سے کہا اگر مَیں چاہوں کہ یہ میرے آنے تک ٹھہرا رہے تو تجھ کو کیا؟ تو میرے پیچھے ہولے ٭ پس بھائیوں میں ۲۳ یہ بات مشہور ہو گئی کہ وہ شاگرد نہ مریگا۔ لیکن یسوع نے اُس سے یہ نہیں کہا تھا کہ یہ نہ مریگا بلکہ یہ کہ اگر مَیں چاہوں کہ یہ میرے آنے تک ٹھہرا رہے تو تجھ کو کیا؟ ٭ یہ وہی شاگرد ہے جو اِن باتوں کی گواہی دیتا ہے اور ۲۴ جس نے اِنکو لکھا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اُسکی گواہی سچی ہے ٭ اور بھی بہت سے کام ہیں جو یسوع نے کئے۔ اگر وہ ۲۵ جدا جدا لکھے جاتے تو مَیں سمجھتا ہوں کہ جو کتابیں لکھی جاتیں اُنکے لئے دُنیا میں گنجایش نہ ہوتی ٭

رَسُولوں کے اَعمال

اَے تھیُفِلُس! مَیں نے پہلا رسالہ اُن سب باتوں کے بیان میں تصنیف کیا جو یسوع شروع میں کرتا اور سکھاتا رہا ٭ اُس دن تک جس میں وہ اُن رسولوں کو جنہیں اُس نے چنا تھا رُوحُ القدس کے وسیلہ سے حکم دے کر اُوپر اُٹھایا گیا ٭ اُس نے دُکھ سہنے کے بعد بہت سے ثبوتوں سے اپنے آپ کو اُن پر زندہ ظاہر بھی کیا چنانچہ وہ چالیس دن تک اُنہیں نظر آتا اور خدا کی بادشاہی کی باتیں کہتا رہا ٭ اور اُن سے مل کر اُنکو حکم دیا کہ یروشلیم سے باہر نہ جاؤ بلکہ باپ کے اُس وعدہ کے پورا ہونے کے منتظر رہو جسکا ذکر تم مجھ سے سُن چکے ہو٭ کیونکہ یوحنا نے تو پانی سے بپتسمہ دیا مگر تم تھوڑے دنوں کے بعد رُوحُ القدس سے بپتسمہ پاؤ گے ٭ پس اُنہوں نے جمع ہو کر اُس سے یہ پوچھا کہ اَے

خداوند کیا تُو اِسی وقت اسرائیل کو بادشاہی پھر عطا کریگا؟ ۶ اُس نے اُن سے کہا اُن وقتوں اور میعادوں کا جاننا جنہیں ۷ باپ نے اپنے ہی اختیار میں رکھا ہے تمہارا کام نہیں٭ لیکن جب رُوحُ القدس تم پر نازل ہوگا تو تم قوّت پاؤ گے اور ۸ یروشلیم اور تمام یہودیہ اور سامریہ میں بلکہ زمین کی اِنتہا تک میرے گواہ ہو گے ٭ یہ کہہ کر وہ اُنکے دیکھتے دیکھتے اُوپر اُٹھا لیا گیا اور ۹ بدلی نے اُسے اُنکی نظروں سے چھپا لیا ٭ اور اُسکے جاتے ۱۰ وقت جب وہ آسمان کی طرف غور سے دیکھ رہے تھے تو دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے اُنکے پاس آ کھڑے ہوئے٭ اور کہنے لگے اَے گلیلی مردو! تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف ۱۱ دیکھتے ہو؟ یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا ہے اُسی طرح پھر آئیگا جس طرح تم نے اُسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے ٭

۱۰۶

صفحہ 450

۳ - ۴ اعمال ۴ : ۱

پطرس اور یوحنا کو ہیکل میں جاتے دیکھا تو اُن سے بھیک مانگی ۴ پطرس اور یوحنا نے اُس پر غور سے نظر کی اور پطرس نے کہا ۵ ہماری طرف دیکھ o وہ اُن سے کچھ ملنے کی اُمید پر اُنکی طرف ۶ متوجہ ہُوا o پطرس نے کہا چاندی سونا تو میرے پاس ہے نہیں مگر جو میرے پاس ہے وہ تجھے دِئے دیتا ہُوں۔ یسُوع ۷ مسیح ناصری کے نام سے چل پھر o اور اُسکا دہنا ہاتھ پکڑکر اُسکو اُٹھایا اور اُسی دم اُسکے پاؤں اور ٹخنے مضبوط ہو گئے o ۸ اور وہ کُودکر کھڑا ہو گیا اور چلنے پھرنے لگا اور چلتا اور کُودتا اور ۹ خُدا کی حمد کرتا ہُوا اُنکے ساتھ ہیکل میں گیا o اور سب لوگوں ۱۰ نے اُسے چلتے پھرتے اور خُدا کی حمد کرتے دیکھ کر o اُسکو پہچانا کہ یہ وہی ہے جو ہیکل کے خُوبصورت دروازہ پر بیٹھا بھیک مانگا کرتا تھا اور اُس ماجرے سے جو اُس پر واقع ہُوا تھا سخت دنگ اور حیران ہُوئے o

۱۱ جب وہ پطرس اور یوحنا کو پکڑے ہُوئے تھا تو سب لوگ ہکّا بکّا حیران ہوکر اُس برآمدہ کی طرف جو سلیمان کا کہلاتا ہے اُنکے ۱۲ پاس دوڑے آئے o پطرس نے یہ دیکھ کر لوگوں سے کہا اے اسرائیلیو ! اِس پر تم کیوں تعجب کرتے ہو اور ہمیں کیوں اِس طرح دیکھ رہے ہو کہ گویا ہم نے اپنی قدرت یا پرہیزگاری سے ۱۳ اِس شخص کو چلتا پھرتا کر دیا؟ o ابراہام اور اسحاق اور یعقوب کے خُدا یعنی ہمارے باپ دادا کے خُدا نے اپنے خادم یسُوع کو جلال دیا جسے تم نے پکڑوا دیا اور جب پیلاطس نے اُسے چھوڑ ۱۴ دینے کا قصد کیا تو تم نے اُسکے سامنے اُسکا انکار کیا o تم نے اُس قدُوس اور راستباز کا انکار کیا اور درخواست کی کہ ایک ۱۵ خونی تمہاری خاطر چھوڑ دیا جائے o مگر زندگی کے مالک کو قتل کیا جسے خُدا نے مُردوں میں سے جِلایا۔ اِسکے ہم گواہ ہیں o ۱۶ اُسی کے نام نے اُس ایمان کے وسیلہ سے جو اُسکے نام پر ہے اِس شخص کو مضبوط کیا جسے تم دیکھتے اور جانتے ہو بلکہ اُسی ایمان نے جو اُسکے وسیلہ سے ہے یہ کامل تندرستی تم سب ۱۷ کے سامنے اِسے دی o اور اب اے بھائیو ! مَیں جانتا ہُوں کہ تم نے یہ کام نادانی سے کیا اور اَیسا ہی تمہارے سرداروں ۱۸ نے بھی o مگر جن باتوں کی خُدا نے سب نبیوں کی زبانی پیشتر خبر دی تھی کہ اُسکا مسیح دُکھ اُٹھائیگا وہ اُس نے اِسی ۱۹ طرح پوری کیں o پس توبہ کرو اور رجوع لاؤ تاکہ تمہارے گناہ

۲۰ مٹائے جائیں اور اِس طرح خُداوند کے حضور سے تازگی کے دن آئیں o اور وہ اُس مسیح کو جو تمہارے واسطے مقرّر ہُوا ہے ۲۱ یعنی یسُوع کو بھیجے o ضرور ہے کہ وہ آسمان میں اُس وقت تک رہے جب تک کہ وہ سب چیزیں بحال نہ کی جائیں جنکا ذکر خُدا نے اپنے پاک نبیوں کی زبانی کیا ہے جو دُنیا کے شروع سے ۲۲ ہوتے آئے ہیں o چنانچہ موسیٰ نے کہا کہ خُداوند خُدا تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے مجھ سا ایک نبی پیدا کریگا۔ جو کچھ وہ تم ۲۳ سے کہے اُسکی سُننا o اور یوں ہوگا کہ جو شخص اُس نبی کی نہ سُنیگا ۲۴ وہ اُمت میں سے نیست و نابود کر دیا جائیگا o بلکہ سموئیل سے لیکر پچھلوں تک جتنے نبیوں نے کلام کیا اُن سب نے اِن ۲۵ دنوں کی خبر دی ہے o تم نبیوں کی اَولاد اور اُس عہد کے شریک ہو جو خُدا نے تمہارے باپ دادا سے باندھا جب ابراہام سے کہا کہ تیری اَولاد سے دُنیا کے سب گھرانے برکت پائینگے o ۲۶ خُدا نے اپنے خادم کو اُٹھا کر پہلے تمہارے پاس بھیجا تاکہ تم میں سے ہر ایک کو اُسکی بدیوں سے ہٹا کر برکت دے o

باب ۴

جب وہ لوگوں سے یہ کہہ رہے تھے تو کاہن اور ہیکل کا سردار ۲ اور صدُوقی اُن پر چڑھ آئے o وہ سخت رنجیدہ ہُوئے کیونکہ یہ لوگوں کو تعلیم دیتے اور یسُوع کی نظیر دے کر مُردوں کے جی ۳ اُٹھنے کی منادی کرتے تھے o اور اُنہوں نے اُنکو پکڑکر دُوسرے ۴ دن تک حوالات میں رکھا کیونکہ شام ہو گئی تھی o مگر کلام کے سُننے والوں میں سے بہتیرے ایمان لائے۔ یہاں تک کہ مَردوں کی تعداد پانچ ہزار کے قریب ہو گئی o

۵ دُوسرے دن یوں ہُوا کہ اُنکے سردار اور بزرگ اور فقیہ ۶ اور سردار کاہن حنّا اور کائفا اور یوحنا اور اسکندر اور جتنے سردار کاہن کے گھرانے کے تھے یروشلیم میں جمع ہُوئے o اور اُنکو ۷ بیچ میں کھڑا کر کے پُوچھنے لگے کہ تم نے یہ کام کس قدرت اور کس نام سے کیا؟ o اُس وقت پطرس نے رُوحُ القدُس سے ۸ معمور ہوکر اُن سے کہا o اے اُمت کے سردارو اور بزرگو! اگر ۹ آج ہم سے اُس اِحسان کی بابت باز پُرس کی جاتی ہے جو ایک ناتوان آدمی پر ہُوا کہ وہ کیونکر اچھا ہو گیا o تو تم سب اور ۱۰ اسرائیل کی ساری اُمت کو معلوم ہو کہ یسُوع مسیح ناصری کے نام سے جسے تم نے مصلوب کیا اور خُدا نے مُردوں میں سے جِلایا اُسی کے ۱۱ نام سے یہ شخص تمہارے سامنے تندرست کھڑا ہے o یہی

صفحہ 451

۴-۲۲ مکاشفہ ۲۰:۲۲

ہوگی اور خدا اور برّہ کا تخت اُس شہر میں ہوگا اور اُسکے ۴ بندے اُسکی عبادت کرینگے ٭ اور وہ اُسکا منہ دیکھینگے اور ۵ اُسکا نام اُنکے ماتھوں پر لکھا ہُوا ہوگا ٭ اور پھر رات نہ ہوگی اور وہ چراغ اور سُورج کی روشنی کے محتاج نہ ہونگے کیونکہ خداوند خُدا اُنکو روشن کریگا اور وہ ابدُالآباد بادشاہی کرینگے ٭ ۶ پھر اُس نے مجھ سے کہا یہ باتیں سچ اور برحق ہیں چُنانچہ خداوند نے جو نبیوں کی رُوحوں کا خُدا ہے اپنے ۷ فرشتہ کو اِسلئے بھیجا کہ اپنے بندوں کو وہ باتیں دِکھائے جنکا جلد ہونا ضرور ہے ٭ اور دیکھ مَیں جلد آنے والا ہوں ۔ مبارک ہے وہ جو اِس کتاب کی نبوّت کی باتوں پر عمل کرتا ہے ٭ ۸ مَیں یُوحنّا ہُوں جو اِن باتوں کو سُنتا اور دیکھتا تھا اور جب مَیں نے سُنا اور دیکھا تو جِس فرشتہ نے مجھے یہ باتیں دِکھائیں مَیں اُسکے پاؤں پر سجدہ کرنے کو گِرا ٭ ۹ اُس نے مجھ سے کہا خبردار ! اَیسا نہ کر ۔ مَیں بھی تیرا اور تیرے بھائی نبیوں اور اِس کتاب کی باتوں پر عمل کرنے والوں کا ہمخدمت ہوں ۔ خُدا ہی کو سجدہ کر ٭ ۱۰ پھر اُس نے مجھ سے کہا اِس کتاب کی نبوّت کی باتوں کو پوشیدہ نہ رکھ کیونکہ وقت نزدیک ہے ٭ جو بُرائی ۱۱ کرتا ہے وہ بُرائی ہی کرتا جائے اور جو نجس ہے وہ نجس ہی ہوتا جائے اور جو راستباز ہے وہ راستبازی ہی کرتا جائے اور جو پاک ہے وہ پاک ہی ہوتا جائے ٭

دیکھ مَیں جلد آنے والا ہوں اور ہر ایک کے کام کے موافق ۱۲ دینے کے لئے اجر میرے پاس ہے ٭ مَیں الفا اور اومیگا ۔ ۱۳ اوّل و آخر ۔ اِبتدا و اِنتہا ہوں ٭ مبارک ہیں وہ جو اپنے جامے دھوتے ہیں کیونکہ زندگی کے درخت کے پاس آنے ۱۴ کا اِختیار پائینگے اور اُن دروازوں سے شہر میں داخل ہونگے مگر کُتّے اور جادُوگر اور حرامکار اور خُونی اور بُت پرست اور ۱۵ جھُوٹی بات کا ہر ایک پسند کرنے اور گھڑنے والا باہر رہیگا ٭ مجھ یسُوع نے اپنا فرشتہ اِسلئے بھیجا کہ کلیسیاؤں کے ۱۶ بارے میں تمہارے آگے اِن باتوں کی گواہی دے مَیں داؤد کی اصل و نسل اور صُبح کا چمکتا ہُوا ستارہ ہوں ٭ اور رُوح اور دُلہن کہتی ہیں آ اور سُننے والا بھی کہے ۱۷ آ ۔ اور جو پیاسا ہو وہ آئے اور جو کوئی چاہے آبِ حیات مُفت لے ٭ مَیں ہر ایک آدمی کے آگے جو اِس کتاب کی نبوّت کی ۱۸ باتیں سُنتا ہے گواہی دیتا ہوں کہ اگر کوئی آدمی اُن میں کچھ بڑھائے تو خُدا اِس کتاب میں لکھی ہوئی آفتیں اُس پر نازِل کریگا ٭ اور اگر کوئی اِس نبوّت کی کتاب کی باتوں میں سے کچھ ۱۹ نکال ڈالے تو خُدا اُس زندگی کے درخت اور مُقدّس شہر میں سے جنکا اِس کتاب میں ذِکر ہے اُسکا حصّہ نکال ڈالیگا ٭ جو اِن باتوں کی گواہی دیتا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ بیشک ۲۰ مَیں جلد آنے والا ہوں ۔ آمین ۔ اے خداوند یسُوع آ ٭ خُداوند یسُوع کا فضل مُقدّسوں کے ساتھ رہے آمین۔ ۲۱

۲۵۹

صفحہ 452

زکریاہ و ملاکی ١٠-١

بادشاہ کے انگور کی حوضوں تک اپنے مقام پر رہے گا ١١ اور لوگ اس میں سکونت کرینگے اور پھر لعنت نہ ہو گی بلکہ یروشلیم امن و امان سے رہے گا ١٢ اور خداوند یروشلیم سے جنگ کرنے والی سب قوموں پر یہ عذاب نازل کریگا کہ کھڑے کھڑے اُنکا گوشت سڑ جائیگا اور اُنکی آنکھیں چشم خانوں میں سڑ جائینگی اور اُنکی زبان اُنکے منہ میں سڑ جائیگی ١٣ اور اُس روز خداوند کی طرف سے اُنکے درمیان بڑی گھبراہٹ ہو گی اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑینگے اور ایک دوسرے کے خلاف ہاتھ اُٹھائینگے ١٤ اور یہوداہ بھی یروشلیم میں لڑے گا اور ارد گرد کی سب قوموں کا مال یعنی سونا اور چاندی اور لباس بڑی کثرت سے فراہم کیا جائیگا ١٥ اور گھوڑوں خچروں اونٹوں گدھوں اور سب حیوانوں پر جو اُن لشکر گاہوں میں ہونگے وُہی عذاب نازل

ہوگا اور یروشلیم سے لڑنے والی قوموں میں سے جو بچ رہینگے ١٦ سال بسال بادشاہ ربّ الافواج کو سجدہ کرنے اور عیدِ خیام منانے کو آئینگے اور دُنیا کے اُن تمام قبائل پر جو بادشاہ ١٧ ربّ الافواج کے حضور سجدہ کرنے کو یروشلیم میں نہ آئینگے مینہ نہ برسے گا اور اگر قبیلہِ مصر جن پر بارش نہیں ہوتی نہ آئیں تو ١٨ اُن پر وہی عذاب نازل ہو گا جو خداوند اُن غیر قوموں پر نازل کریگا جو عیدِ خیام منانے کو نہ آئینگی اہل مصر اور اُن ١٩ سب قوموں کی جو عیدِ خیام منانے کو نہ جائیں یہی سزا ہو گی اُس روز گھوڑوں کی گھنٹیوں پر مرقوم ہو گا خداوند کے لئے ٢٠ مقدّس اور خداوند کے گھر کی دیگیں مذبح کے پیالوں کی مانند مقدّس ہونگی بلکہ یروشلیم اور یہوداہ میں کی سب ٢١ دیگیں ربّ الافواج کے لئے مقدّس ہونگی اور سب ذبیحہ گزراننے والے آئینگے اور اُنکو لیکر اُن میں پکائینگے اور اُس روز پھر کوئی کنعانی ربّ الافواج کے گھر میں نہ ہو گا ۔

ملاکی

خداوند کی طرف سے ملاکی کی معرفت اسرائیل کے لئے بارِ نبوّت ۔ خداوند فرماتا ہے مَیں نے تم سے محبّت رکھی تو بھی تم کہتے ہو تُو نے کس بات میں ہم سے محبّت ظاہر کی ؟ خداوند فرماتا ہے کیا عیسو یعقوب کا بھائی نہ تھا ؟ لیکن مَیں نے یعقوب سے محبّت رکھی ٣ اور عیسو سے عداوت رکھی اور اُس کے پہاڑوں کو ویران کیا اور اُسکی میراث بیابان کے گیدڑوں کو دی ٤ اگر ادوم کہے ہم برباد تو ہوئے پر ہم ویرانوں کو پھر از سرِ نو تعمیر کرینگے تو ربّ الافواج فرماتا ہے وہ تعمیر کرینگے پر مَیں ڈھا دُونگا اور لوگ اُنکا نام شرارت کی سرحد اور وہ لوگ جن پر ہمیشہ خداوند کا قہر ہے رکھینگے ٥ اور تمہاری آنکھیں دیکھینگی اور تم کہو گے کہ خداوند اسرائیل کی حدود سے آگے تک بزرگ ہو ۔ ٦ ربّ الافواج تم کو فرماتا ہے اَے میرے نام کی تحقیر

کرنے والے کاہنو ! بیٹا اپنے باپ کی اور نوکر اپنے آقا کی تعظیم کرتا ہے پس اگر مَیں باپ ہوں تو میری عزّت کہاں ہے ؟ اور اگر آقا ہوں تو میرا خوف کہاں ہے ؟ پر تم کہتے ہو ہم نے کس بات میں تیرے نام کی تحقیر کی ؟ تم میرے مذبح پر ناپاک ٧ روٹی گزرانتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم نے کس بات میں تیری توہین کی ؟ اِسی میں جو کہتے ہو خداوند کی میز حقیر ہے جب تم اندھے کی ٨ قربانی کرتے ہو تو کیا یہ بُرائی نہیں ؟ اور جب لنگڑے اور بیمار کو گزرانتے ہو تو کچھ نقصان نہیں ! اِسے ہی اپنے حاکم کی نذر کر ۔ کیا وہ تجھ سے خوش ہو گا اور تُو اُسکا منظورِ نظر ہو گا ؟ ربّ الافواج فرماتا ہے اب ذرا خدا کو مناؤ تاکہ وہ ہم پر رحم ٩ فرمائے ۔ تمہارے ہی ہاتھوں نے یہ گزرانا ہے ۔ کیا تم اُسکے منظورِ نظر ہو گے ؟ ربّ الافواج فرماتا ہے کاشکہ تم میں کوئی ١٠ ایسا ہوتا جو دروازے بند کرتا اور تم میرے مذبح پر عبث آگ نہ جلاتے ! ربّ الافواج فرماتا ہے مَیں تم سے خوش نہیں

٨٩١

صفحہ 453

۱ - سموئیل

۸ - ۲

آواز سنائی نہ دیتی تھی پس عیلی کو گمان ہُوا کہ وہ نشہ میں ہے ۔ ۱۴ سو عیلی نے اُس سے کہا کہ تُو کب تک نشہ میں رُہیگی؟ اپنی مے کا نشہ اُتار ۔ ۱۵ حنّہ نے جواب دیا نہیں اے خداوند ! مَیں ایک غمگین عورت ہوں ۔ مَیں نے نہ تو مے پی ہے نہ کوئی نشہ پیا پر خداوند کے آگے اپنا دل اُنڈیلا ہے ۔ ۱۶ تُو اپنی لونڈی کو خبیث عورت نہ سمجھ ۔ مَیں تو اپنی فکرمندی اور دُکھ کے ہجوم کے باعث اب تک بولتی رہی ۔ ۱۷ تب عیلی نے جواب دیا تُو سلامت جا اور اسرائیل کا خدا تیری مراد جو تُو نے اُس سے مانگی ہے پوری کرے ۔ ۱۸ اُس نے کہا تیری خادمہ پر تیرے کرم کی نظر ہو ۔ تب وہ عورت چلی گئی اور کھانا کھایا اور پھر اُسکا چہرہ اُداس نہ رہا ۔ ۱۹ اور صبح کو وہ سویرے اُٹھے اور خداوند کے آگے سجدہ کیا اور رامہ کو اپنے گھر لوٹ گئے اور القانہ نے اپنی بیوی حنّہ سے مباشرت کی اور خداوند نے اُسے یاد کیا ۔ ۲۰ اور ایسا ہُوا کہ وقت پر حنّہ حاملہ ہوئی اور اُسکے بیٹا ہُوا اور اُس نے اُسکا نام سموئیل رکھا کیونکہ وہ کہنے لگی مَیں نے اُسے خداوند سے مانگ کر پایا ہے ۔ ۲۱ اور وہ شخص القانہ اپنے سارے گھرانے سمیت خداوند کے حضور سالانہ قربانی چڑھانے اور اپنی منّت پوری کرنے کو گیا ۔ ۲۲ لیکن حنّہ نہ گئی کیونکہ اُس نے اپنے خاوند سے کہا جب تک لڑکے کا دُودھ نہ چھڑایا جائے مَیں یہیں رہونگی اور تب اُسے لیکر جاؤنگی تاکہ وہ خداوند کے سامنے حاضر ہو اور پھر ہمیشہ وہیں رہے ۔ ۲۳ اور اُسکے خاوند القانہ نے اُس سے کہا جو تجھے اچھا لگے سو کر جب تک تُو اُسکا دُودھ نہ چھڑائے ٹھہری رہ ۔ فقط اتنا ہو کہ خداوند اپنے سخن کو برقرار رکھے ۔ سو وہ عورت ٹھہری رہی اور اپنے بیٹے کو دُودھ چھڑانے کے وقت تک پلاتی رہی ۔ ۲۴ اور جب اُس نے اُسکا دُودھ چھڑایا تو اُسے اپنے ساتھ لیا اور تین بچھڑے اور ایک ایفہ آٹا اور مے کی ایک مشک اپنے ساتھ لے گئی اور اُس لڑکے کو شیلاہ میں خداوند کے گھر لائی اور وہ لڑکا بہت ہی چھوٹا تھا ۔ ۲۵ اور اُنہوں نے ایک بچھڑے کو ذبح کیا اور لڑکے کو عیلی کے پاس لائے ۔ ۲۶ اور وہ کہنے لگی اے میرے مالک تیری جان کی قسم ! اے میرے مالک مَیں وہی عورت ہوں جس نے تیرے پاس یہیں کھڑی ہو کر خداوند سے دُعا کی تھی ۔ ۲۷ مَیں نے اِس لڑکے کے لئے دُعا کی تھی اور خداوند نے میری مراد جو مَیں نے اُس سے مانگی پوری کی ۔ ۲۸ اِسی لئے مَیں نے بھی اِسے خداوند کو دے دیا ۔ یہ اپنی زندگی بھر کے لئے خداوند کو دے دیا گیا ہے ۔ تب اُس نے وہاں خداوند کے آگے سجدہ کیا ۔

۲ اور حنّہ نے دُعا کی اور کہا کہ

میرا دل خداوند میں مگن ہے ۔
میرا سینگ خداوند کے طفیل سے اونچا ہُوا ۔
میرا منہ میرے دُشمنوں پر کُھل گیا ہے
کیونکہ مَیں تیری نجات سے خوش ہوں ۔
۲ خداوند کی مانند کوئی قدّوس نہیں
کیونکہ تیرے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں
اور نہ کوئی چٹان ہے جو ہمارے خدا کی مانند ہو ۔
۳ اِس قدر غرور سے اور باتیں نہ کرو
اور بڑا بول تمہارے منہ سے نہ نکلے
کیونکہ خداوند خدا یِ علیم ہے
اور اعمال کا تولنے والا ۔
۴ زور آوروں کی کمانیں ٹُوٹ گئیں
اور جو لڑکھڑاتے تھے وہ قوّت سے کمربستہ ہوئے ۔
۵ وہ جو آسودہ تھے روٹی کی خاطر مزدُور بنے
اور جو بھوکے تھے ایسے نہ رہے
بلکہ جو بانجھ تھی اُسکے سات ہوئے
اور جسکے پاس بہت بچے ہیں وہ گھٹتی جاتی ہے ۔
۶ خداوند مارتا ہے اور جلاتا ہے ۔
وہی قبر میں اُتارتا اور اُس سے نکالتا ہے ۔
۷ خداوند مسکین کر دیتا اور دولتمند بناتا ہے ۔
وہی پست کرتا اور سرفراز بھی کرتا ہے ۔
۸ وہ غریب کو خاک پر سے اُٹھاتا
اور کنگال کو گھورے میں سے نکال کھڑا کرتا ہے
تاکہ اُنکو شاہزادوں کے ساتھ بٹھائے
اور جلال کے تخت کے وارث بنائے
کیونکہ زمین کے ستون خداوند کے ہیں ۔

۲۵۹

صفحہ 454

المملكة العربية السعودية جامعة أم القرى مركز البحث العلمي وإحياء التراث الإسلامي كلية الشريعة والدراسات الإسلامية مكة المكرمة

جامعة أم القرى UMM AL QURA UNIVERSITY

من التراث الإسلامي الكتاب الثالث والخمسون

تفسير ابن عباس

ومروياته في التفسير

من كتب السنة

تأليف الدكتور عبدالعزيز بن عبدالله الحميدي

(الجزء الأول)

صفحہ 455

٤ - ما جاء في قوله تعالى

﴿ إذ قال الله يا عيسى إني متوفيك ورافعك إلي ﴾ (آل عمران/٥٥).

* * *

قال الإمام البخاري : قال ابن عباس رضي الله عنهما :

(٤٧)

﴿ متوفيك ﴾ مميتك . (١)

وقد أخرجه الإمام ابن جرير الطبري من طريق علي بن أبي طلحة عن ابن عباس . (٢)

وإسناد هذا الأثر حسن كما تقدم . (٣)

بيان المعنى :

قوله «مميتك» محمول على وفاة عيسى عليه السلام في آخر الزمان ، ومما يؤيد هذا ما أخرجه إسحاق بن بشر وابن عساكر من طريق جويبر

(١) صحيح البخاري، كتاب التفسير، سورة المائدة، باب رقم (١٣) . (٢) تفسير الطبري ٢٩٠/٣ . (٣) انظر الحديث رقم (٢) .

- ١٦٩ -

صفحہ 456

عن الضحاك عن ابن عباس في قوله ﴿ إني متوفيك ورافعك ﴾ يعني رافعك ثم متوفيك في آخر الزمان . (١)

فعلى هذا يكون هذا الكلام من المقدم والمؤخر كما روى عن قتادة وغيره فيكون تقدير الكلام : إني رافعك إلي ومتوفيك بعد ذلك . (٢)

وتقديم التوفي على الرفع لا يقتضي التقدم في الزمن لأن الواو لا تقتضي الترتيب .

وذكر الله سبحانه توفي عيسى عليه السلام على سبيل الامتنان عليه حيث جاء رداً على اليهود الذين حاولوا المكر به ليقتلوه فبين الله له أنهم لن يصلوا إليه ، بل سيتوفاه ربه إذا حان أجل موته .

وقد جاء في القرآن والأحاديث الصحيحة أن عيسى عليه السلام قد رفعه الله حياً وأنه سينزل في آخر الزمان فمن ذلك قوله تعالى ﴿ وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله إليه ﴾ (النساء /١٥٨) .

وقوله تعالى ﴿ ويكلم الناس في المهد وكهلاً ﴾ (آل عمران /٤٦) - وعيسى عليه السلام رفع شاباً وإنما يكون كهلاً حينما ينزل في آخر الزمان .

وقد أشار إلى هذا ابن جرير الطبري في روايته عن عبدالرحمن بن زيد بن أسلم . (٣)

(١) الدر المنثور ٣٦/٢. (٢) تفسير ابن كثير ٣٨١/١/١ . (٣) تفسير الطبري ٢٩٠/٣ .

- ١٧٠ -

صفحہ 457

تفسير

البحر المحيط

لمحمد بن يوسف الشهير بأبي حيان الأندلسي الغرناطي

٦٥٤ - ٧٥٤ هـ

وبِهامِشِه

١ - تفسير النهر الماد من البحر لأبي حيان نفسه

٢ - كِتابُ الدّر اللقيط من البحر المحيط للإمام

تاج الدين الحنفي النحوي تلميذ أبي حيان

٦٨٢ - ٧٤٩ هـ

الجزء الثالث

طُبع بالتصوير

عَن طبعة مولاي السلطان عبد الحفيظ سُلطان المغرب

١٣٢٨ هـ

الطبعة الثانية

١٣٩٨ هـ - ١٩٧٨ م

دار الفكر

للطباعة والنشر والتوزيع

صفحہ 458

الراغب أن يتعلق من النبيين بقوله ومن يطع الله والرسول أى من (٢٨٧) النبيين ومن بعدهم ويكون قوله فاولئك اشارة الى الملأ

نبي وحبه جرى في كلامه وقوله مع الذين أنعم الله عليهم تفسير لقوله صراط الذين أنعمت عليهم وهم من ذكر في هذه الآية والظاهر أن قوله من النبيين تفسير للذين أنعم الله عليهم فكأنه قيل من يطع الله ورسوله منكم ألحقه الله بالذين تقدمهم من أنعم عليهم * قال الراغب من أنعم عليهم من الترقي الاربع فى المنزلة والثواب النبى بالنبى والصديق بالصديق والشهيد بالشهيد والصالح بالصالح وأجاز الراغب أن يتعلق من النبيين بقوله ومن يطع الله والرسول أى من النبيين ومن بعدهم ويكون قوله فأولئك مع الذين أنعم الله عليهم اشارة الى الملأ الأعلى ثم قال وحسن أولئك رفيقا ويبين ذلك قول النبي صلى الله عليه وسلم حين الموت اللهم ألحقني بالرفيق الأعلى وهذا ظاهر انتهى وهذا الوجه الذى هو عنده ظاهر فاسد من جهة المعنى ومن جهة النحو أما من جهة المعنى فان الرسول هنا هو محمد صلى الله عليه وسلم أخبر الله تعالى أن من يطيعه ويطيع رسوله فهو مع من ذكر ولو كان من النبيين معلقا بقوله ومن يطع الله والرسول لكان قوله من النبيين تفسيرا لمن في قوله ومن يطع فيلزم أن يكون في زمان الرسول أو بعده أنبياء يطيعونه وهذا غير ممكن لأنه قد أخبر تعالى أن محمدا خاتم النبيين * وقال هو صلى الله عليه وسلم لا نبي بعدي وأما من جهة النحو فا قبل فاء الجزاء لا يعمل فيما بعدها لو قلت ان تقم هند فعمرو ذاهب ضاحكة لم يجز واختلفوا في الأوصاف الثلاثة التي بعد النبيين * فقال بعضهم كلها أوصاف لموصوف واحد وهي صفات متداخلة فانه لا يمتنع في الشخص الواحد أن يكون صديقا وشهيدا وصالحا * وقيل المراد بكل وصف صنف من الناس فأما الصديق فهو فعيل للمبالغة كشريب * فقيل هو الكثير الصدق * وقيل هو الكثير الصدقة وللمفسرين في تفسيره وجوه * الأول ان كل من صدق بكل الذي لا يتخالجه فيه شك فهو صديق لقوله تعالى والذين آمنوا بالله ورسله أولئك هم الصديقون * الثانى أفاضل أصحاب الرسول * الثالث السابق الى تصديق الرسول فصار في ذلك قدوة لسائر الناس وأما الشهيد فهو المقتول في سبيل الله المخصوص بغسل الميت وفرق الشرع حكمهم فى ترك الغسل والصلاة لأنهم أكرم من أن يشفع فيهم وقد تقدم الكلام في كونهم أحياء ولماذا لم يكرر لفظ الشهداء فى الآية يعم أنواع الشهداء الذين ذكرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم * وقال أبو عبد الله الرازي لا يجوز أن تكون الشهادة مفسرة بكون الانسان مقتول الكافر بل نقول الشهيد فعيل بمعنى فاعل وهو الذى يشهد بدين الله تارة بالحجة والبيان وتارة بالسيف والسنان فالشهداء هم القائمون بالقسط وهم الذين ذكرهم الله في قوله شهد الله أنه لا إله الا هو * والصالح هو الذي يكون صالحا في اعتقاده وعمله وجاء هذا التركيب على هذا القول على حسب التنزل من الاعلى الى الأدنى فالأدنى منه وفي هذا ترغيب للمؤمنين في طاعة الله وطاعة رسوله حيث وعدوا بمرافقة أقرب عباد الله الى الله وأرفعهم درجات عنده * وقال الراغب قسم الله المؤمنين في هذه الآية أربعة أقسام وجعل لهم أربعة منازل بعضها دون بعض وحث كافة الناس أن لا يتأخروا عن منزل واحد منهم * الأول الأنبياء الذين تمدهم قوة الالهية ومثلهم كمن يرى الشئ عيانا من قريب ولذلك قال تعالى أفتمارونه على ما يرى * الثاني الصديقون وهم الذين يزاحمون الأنبياء في المعرفة ومثلهم كمن يرى الشئ عيانا من بعيد واياه عنى أمير المؤمنين حين قيل له هل رأيت الله فقال ما كنت لأعبد شيئا لم أره ثم قال لم تره العيون بشواهد الأبصار ولكن رأته القلوب بحقائق الايمان * الثالث الشهداء وهم الذين يعرفون الشئ

( الدر )

أكرمك لمن قال أزورك هي جواب وجزاء وذهب الاستاذ أبو علي الى أنها لا تتقدر بالجواب والجزاء في كل موضع وقواه مع ظاهر كلام سيبويه والصحيح قول الفارسي ( ح ) أجاز الراغب أن يتعلق من النبيين بقوله ومن يطع الله والرسول أى من النبيين ومن بعدهم ويكون قوله فأولئك مع الذين أنعم الله عليهم اشارة الى الملأ الأعلى ثم قال وحسن أولئك رفيقا ويبين ذلك قول النبي صلى الله عليه وسلم حين الموت اللهم ألحقني بالرفيق الأعلى وهذا ظاهر انتهى كلامه ( ح ) وهذا الوجه الذي هو عنده ظاهر فاسد من جهة المعنى ومن جهة النحو أما من جهة المعنى فان الرسول هنا هو محمد صلى الله عليه وسلم أخبر الله تعالى أن من يطيعه ويطيع رسوله فهو مع من ذكر ولو كان من النبيين متعلقا بقوله ومن يطع الله والرسول لكان قوله من النبيين تفسيرا لمن في قوله ومن يطع فيلزم أن يكون في زمان الرسول أو بعده أنبياء يطيعونه

وهذا غير ممكن لانه قد أخبر تعالى ان محمدا هو خاتم النبيين وقال هو صلى الله عليه وسلم لا نبي بعدي وأما من جهة النحو فما قبل فاء

صفحہ 459

تفسير

الدر المنثور في التفسير المأثور

للإمام

عبد الرحمن بن الكمال جلال الدين السيوطي

٩١١هـ

ضبط النص والتصحيح واسناد الآيات ووضع الحواشي والفهارس

بإشراف دار الفكر

حقوق الطبع محفوظة للناشر

الجزء الثاني

دار الفكر

للطباعة والنشر والتوزيع

صفحہ 460

الجزء الثالث ٢٢٥ سورة آل عمران

وأخرج عبد الرزاق وابن جرير وابن أبي حاتم عن الحسن قال ﴿ متوفيك ﴾ من الأرض.

وأخرج ابن جرير وابن أبي حاتم من وجه آخر عن الحسن في قوله ﴿ إني متوفيك ﴾ يعني وفاة المنام رفعه الله في منامه ، قال الحسن : قال رسول الله ﷺ لليهود : « ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة » .

وأخرج ابن أبي حاتم عن قتادة ﴿ إني متوفيك ورافعك اليّ ﴾ قال : هذا من المقدم والمؤخر . أي رافعك اليّ ومتوفيك .

وأخرج ابن جرير وابن أبي حاتم عن مطر الوراق في الآية قال ﴿ متوفيك ﴾ من الدنيا وليس بوفاة موت .

وأخرج ابن جرير بسند صحيح عن كعب قال : لما رأى عيسى قلة من اتبعه وكثرة من كذبه ، شكا ذلك الى الله . فاوحى الله إليه ﴿ إني متوفيك ورافعك اليّ ﴾ واني سأبعثك على الاعور الدجال فتقتله ، ثم تعيش بعد ذلك أربعا وعشرين سنة . ثم أميتك ميتة الحي . قال كعب : وذلك تصديق حديث رسول الله ﷺ حيث قال «كيف تهلك أمة أنا في أوّلها وعيسى في آخرها ؟» .

وأخرج اسحق بن بشر وابن عساكر عن الحسن قال : لم يكن نبي كانت العجائب في زمانه أكثر من عيسى الى أن رفعه الله ، وكان من سبب رفعه ان ملكاً جباراً يقال له داود بن نوذا ، وكان ملك بني اسرائيل هو الذي بعث في طلبه ليقتله ، وكان الله أنزل عليه الإنجيل وهو ابن ثلاث عشرة سنة ، ورفع وهو ابن أربع وثلاثين سنة من ميلاده . فأوحى الله إليه ﴿ إني متوفيك ورافعك إليّ ومطهرك من الذين كفروا ﴾ يعني ومخلصك من اليهود فلا يصلون الى قتلك .

وأخرج ابن جرير وابن أبي حاتم من وجه آخر عن الحسن في الآية قال : رفعه الله إليه فهو عنده في السماء .

وأخرج ابن جرير وابن أبي حاتم عن وهب قال : توفى الله عيسى بن مريم ثلاث ساعات من النهار حتى رفعه إليه .

وأخرج ابن عساكر عن وهب قال : أماته الله ثلاثة أيام ثم بعثه ورفعه .

وأخرج الحاكم عن وهب ان الله توفى عيسى سبع ساعات ثم أحياه ، وان مريم حملت به ولها ثلاث عشرة سنة ، وأنه رفع ابن ثلاث وثلاثين ، وان أمه بقيت بعد رفعه ست سنين .

الدر المنثور م ١٥ ج ٢

صفحہ 461

التفسير الكبير

للامام

الفخر الرازي

الجزء الثامن

الطبعة الثانية

الناشر

دار الكتب العلمية

طهران

صفحہ 462

٥٢ قوله تعالى : ويكلم الناس فى المهد وكهلا . الآية

( والجواب ) من وجوه ( الأول ) أن المراد منه بيان كونه متقلبا فى الأحوال من الصبا إلى الكهولة والتغير على الإله تعالى محال ، والمراد منه الرد على وفد نجران فى قولهم : إن عيسى كان إلها ( والثانى ) المراد منه أن يكلم الناس مرة واحدة فى المهد لإظهار طهارة أمه ، ثم عند الكهولة يتكلم بالوحى والنبوة ( والثالث ) قال أبو مسلم : معناه أنه يتكلم حال كونه فى المهد ، وحال كونه كهلا على حد واحد وصفة واحدة وذلك لا شك أنه غاية فى المعجز ( الرابع ) قال الأصم : المراد منه أنه يبلغ حال الكهولة .

( السؤال الثالث ) نقل أن عمر عيسى عليه السلام إلى أن رفع كان ثلاثا وثلاثين سنة وستة أشهر ، وعلى هذا التقدير : فهو ما بلغ الكهولة .

( والجواب ) من وجهين ( الأول ) بينا أن الكهل فى أصل اللغة عبارة عن الكامل التام ، وأكمل أحوال الإنسان إذا كان بين الثلاثين والأربعين ، فصح وصفه بكونه كهلا فى هذا الوقت ( والثانى ) هو قول الحسين بن الفضل البجلى : أن المراد بقوله ( وكهلا ) أن يكون كهلا بعد أن ينزل من السماء فى آخر الزمان ، ويكلم الناس ، ويقتل الدجال ، قال حسين بن الفضل : وفى هذه الآية نص فى أنه عليه الصلاة والسلام سينزل إلى الأرض .

( المسألة الرابعة ) أنكرت النصارى كلام المسيح عليه السلام فى المهد ، واحتجوا على صحة قولهم بأن كلامه فى المهد من أعجب الأمور وأغربها ، ولا شك أن هذه الواقعة لو وقعت لوجب أن يكون وقوعها فى حضور الجمع العظيم الذى يحصل القطع واليقين بقولهم ، لأن تخصيص مثل هذا المعجز بالواحد والإثنين لا يجوز ، ومتى حدثت الواقعة العجيبة جدا عند حضور الجمع العظيم فلا بد وأن تتوفر الدواعى على النقل فيصير ذلك بالغا حد التواتر ، وإخفاء ما يكون بالغا إلى حد التواتر ممتنع ، وأيضاً فلو كان ذلك لكان ذلك الإخفاء ههنا ممتنعا لأن النصارى بالغوا فى إفراط محبته إلى حيث قالوا إنه كان إلها ، ومن كان كذلك يمتنع أن يسعى فى إخفاء مناقبه وفضائله بل ربما يجعل الواحد ألفاً فثبت أن لو كانت هذه الواقعة موجودة لكان أولى الناس بمعرفتها النصارى ، ولما أطبقوا على إنكارها علمنا أنه ما كان موجوداً البتة .

أجاب المتكلمون عن هذه الشبهة ، وقالوا : إن كلام عيسى عليه السلام فى المهد إنما كان للدلالة على براءة حال مريم عليها السلام من الفاحشة ، وكان الحاضرون جمعا قليلين ، فالسامعون لذلك الكلام ، كان جمعا قليلا ، ولا يبعد فى مثله التواطؤ على الإخفاء ، وبتقدير : أن يذكروا ذلك إلا أن اليهود كانوا يكذبونهم فى ذلك وينسبونهم إلى البهت ، فهم أيضاً قد سكتوا لهذه العلة فلأجل هذه الأسباب بقى الأمر مكتوما مخفيا إلى أن أخبر الله سبحانه وتعالى محمدا صلى الله عليه وسلم بذلك ، وأيضاً فليس كل النصارى ينكرون ذلك ، فانه نقل عن جعفر بن أبى طالب : لما قرأ على النجاشى

صفحہ 463

التفسير الكبير

للإمام

الفخر الرازي

الجزء التاسع

الطبعة الثانية

الناشر

دار الكتب العلمية

طهران

صفحہ 464

١٤٦ قوله تعالى «وتوفنا مع الأبرار» الآية

(المسألة الأولى) اعلم أنهم طلبوا من الله تعالى فى هذا الدعاء ثلاثة أشياء : أولها : غفران الذنوب ، وثانيها : تكفير السيئات ، وثالثها : أن تكون وفاتهم مع الأبرار . أما الغفران فهو الستر والتغطية ، والتكفير أيضا هو التغطية ، يقال : رجل مكفر بالسلاح ، أى مغطى به ، والكفر منه أيضا ، وقال لبيد :

فى ليلة كفر النجوم ظلامها

اذا عرفت هذا : فالمغفرة والتكفير بحسب اللغة معناهما شىء واحد .

أما المفسرون فذكروا فيه وجوها : أحدها : أن المراد بهما شىء واحد وإنما أعيد ذلك للتأكيد لأن الالحاح فى الدعاء والمبالغة فيه مندوب ، وثانيها : المراد بالأول ما تقدم من الذنوب، وبالثانى المستأنف ، وثالثها : أن يريد بالغفران ما يزول بالتوبة ، وبالتكفير ان ما تكفره الطاعة العظيمة ، ورابعها : أن يكون المراد بالاول ما أتى به الانسان مع العلم بكونه معصية وذنبا . وبالثاني : ما أتى به الانسان مع جهله بكونه معصية وذنبا .

وأما قوله (وتوفنا مع الأبرار) ففيه بحثان : الاول : أن الأبرار جمع بر أو بار، كرب وأرباب، وصاحب وأصحاب ، الثانى : ذكر القفال فى تفسير هذه المعية وجهين : الاول : أن وفاتهم معهم هى أن يموتوا على مثل أعمالهم حتى يكونوا فى درجاتهم يوم القيامة ، قد يقول الرجل أنا مع الشافعى فى هذه المسألة : ويريد به كونه مساويا له فى ذلك الاعتقاد ، والثانى: يقال فلان فى المطامع مع أصحاب الألوف ، أى هو مشارك لهم فى أنه يعطى ألفا . والثالث : أن يكون المراد منه كونهم فى جملة أتباع الأبرار وأشياعهم ، ومنه قوله (فأولئك مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين والصديقين)

(المسألة الثانية) احتج أصحابنا على حصول العفو بدون التوبة بهذه الآية أعنى قوله تعالى حكاية عنهم (فاغفر لنا ذنوبنا) والاستدلال به من وجهين : الأول : أنهم طلبوا غفران الذنوب ولم يكن للتوبة فيه ذكر ، فدل على أنهم طلبوا المغفرة مطلقا ، ثم ان الله تعالى أجابهم اليه لأنه قال فى آخر الآية (فاستجاب لهم ربهم) وهذا صريح فى أنه تعالى قد يعفو عن الذنب وان لم توجد التوبة . والثانى : وهو أنه تعالى حكى عنهم أنهم لما أخبروا عن أنفسهم بأنهم آمنوا، فعند هذا قالوا فاغفر لنا ذنوبنا ، والفاء فى قوله (فاغفر) فاء الجزاء وهذا يدل على أن مجرد الايمان سبب لحسن طلب المغفرة من الله ، ثم ان الله تعالى أجابهم اليه بقوله (فاستجاب لهم ربهم) فدلت هذه الآية على ان مجرد الايمان سبب لحصول الغفران ، إما من الابتداء وهو بأن يعفو عنهم ولا يدخلهم النار أو بأن يدخلهم النار ويعذبهم مدة ثم يعفو عنهم ويخرجهم من النار ، فثبت دلالة هذه الآية من

صفحہ 465

التفسير الكبير

للامام

الفخر الرازي

الجزء العاشر

الطبعة الثانية

الناشر

دار الكتب العلمية

طهران

صفحہ 466

قوله تعالى «ومن يطع الله والرسول فأولئك مع الذين أنعم الله عليهم» الآية ١٧١

أى ومن يطع الله فى كونه إلها ، وطاعة الله فى كونه إلها هو معرفته والإقرار بجلاله وعزته وكبريائه وصمديته ، فصارت هذه الآية تنبيها على أمرين عظيمين من أحوال المعاد ، فالأول : هو أن منشأ جميع السعادات يوم القيامة إشراق الروح بأنوار معرفة الله ، وكل من كانت هذه الأنوار فى قلبه أكثر ، وصفاؤها أقوى ، وبعدها عن التكدر بمحبة عالم الأجسام أتم كان إلى السعادة أقرب وإلى الفوز بالنجاة أوصل . والثانى : انه تعالى ذكر فى الآية المتقدمة وعد أهل الطاعة بالأجر العظيم والثواب الجزيل والهداية إلى الصراط المستقيم ، ثم ذكر فى هذه الآية وعدهم بكونهم مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين ، وهذا الذى وقع به الختم لابد أن يكون أشرف وأعلى مما قبله ، ومعلوم أنه ليس المراد من كون هؤلاء معهم هو أنهم يكونون فى عين تلك الدرجات ، لأن هذا ممتنع ، فلا بد وأن يكون معناه أن الأرواح الناقصة إذا استكملت علائقها مع الأرواح الكاملة فى الدنيا بسبب الحب الشديد ، فاذا فارقت هذا العالم ووصلت إلى عالم الآخرة بقيت تلك العلائق الروحانية هناك ، ثم تصير تلك الأرواح الصافية كالمرايا المجلوة المتقابلة ، فكأن هذه المرايا ينعكس الشعاع من بعضها على بعض ، وبسبب هذه الانعكاسات تصير أنوارها فى غاية القوة ، فكذا القول فى تلك الأرواح فأنها لما كانت مجلوة بصقالة المجاهدة عن غبار حب ماسوى الله ، وذلك هو المراد من طاعة الله وطاعة الرسول ، ثم ارتفعت الحجب الجسدانية أشرقت عليها أنوار جلال الله ، ثم انعكست تلك الأنوار من بعضها إلى بعض وصارت الأرواح الناقصة كاملة بسبب تلك العلائق الروحانية ، فهذا الاحتمال خطر بالبال والله أعلم بأسرار كلامه .

( المسألة الثالثة ) ليس المراد بكون من أطاع الله وأطاع الرسول مع النبيين والصديقين ، كون الكل فى درجة واحدة ، لأن هذا يقتضى التسوية فى الدرجة بين الفاضل والمفضول ، وإنه لا يجوز ، بل المراد كونهم فى الجنة بحيث يتمكن كل واحد منهم من رؤية الآخر ، وإن بعد المكان ، لأن الحجاب إذا زال شاهد بعضهم بعضا ، وإذا أرادوا الزيارة والتلاقى قدروا عليه ، فهذا هو المراد من هذه المعية .

( المسألة الرابعة ) اعلم أنه تعالى ذكر النبيين ، ثم ذكر أوصافا ثلاثة : الصديقين والشهداء والصالحين ، واتفقوا على أن النبيين مغايرون للصديقين والشهداء والصالحين ، فأما هذه الصفات الثلاثة فقد اختلفوا فيها ، قال بعضهم : هذه الصفات كلها لموصوف واحد ، وهى صفات متداخلة فانه لا يمتنع فى الشخص الواحد أن يكون صديقا وشهيدا وصالحا . وقال الآخرون : بل المراد

صفحہ 467

جَامِعُ البَيَانِ

عَنْ

تَأْوِيلِ آيِ القُرْآنِ

تأليف

أبي جعفر محمد بن جرير الطبري

المتوفى ٣١٠ هـ

قَدَّمَ لَهُ

الشيخ خليل الميس

ضَبْط وَتَوْثِيق وَتَخْرِيج

صِدْقِي جَمِيل العَطَّار

الجزء الثالث

دار الفكر

للطباعة والنشر والتوزيع

صفحہ 468

۲۲۲ سورة آل عمران / تفسير الآيتين : ١ - ٢

من قولهم، واختلاف أمرهم كله، صَدْرُ سورة آل عمران إلى بضع وثمانين آية منها، فقال : ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ فافتتح السورة بتبرئة نفسه تبارك وتعالى مما قالوا، وتوحيده إياها بالخلق والأمر، لا شريك له فيه، وردا عليهم ما ابتدعوا من الكفر، وجعلوا معه من الأنداد، واحتجاجاً عليهم بقولهم في صاحبهم، ليعرفهم بذلك ضلالتهم، فقال : ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ﴾ أي ليس معه شريك في أمره.

٥١٣٧ - حدثني المثنى، قال: ثنا إسحاق، قال: ثنا ابن أبي جعفر، عن أبيه، عن الربيع في قوله : ﴿الم اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ قال : إن النصارى أتوا رسول الله ﷺ، فخاصموه في عيسى ابن مريم، وقالوا له : من أبوه؟ وقالوا على الله الكذب والبهتان، لا إله إلا هو، لم يتخذ صاحبة ولا ولداً. فقال لهم النبي ﷺ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ لَا يَكُونُ وَلَدٌ إِلَّا وَهُوَ يُشْبِهُ أَبَاهُ؟» قالوا: بلى. قال: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَبَّنَا حَيٌّ لَا يَمُوتُ، وَأَنَّ عِيسَى يَأْتِي عَلَيْهِ الفَنَاءُ؟». قالوا : بلى. قال : «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَبَّنَا قَيِّمٌ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ يَكْلَؤُهُ وَيَحْفَظُهُ وَيَرْزُقُهُ؟». قال : بلى. قال : «فَهَلْ يَمْلِكُ عِيسَى مِنْ ذَلِكَ شَيْئاً؟». قالوا : لا . قال : «أَفَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ؟». قالوا : بلى . قال : «فَهَلْ يَعْلَمُ عِيسَى مِنْ ذَلِكَ شَيْئاً إِلَّا مَا عُلِّمَ؟» قالوا : لا . قال : «فَإِنَّ رَبَّنَا صَوَّرَ عِيسَى فِي الرَّحِمِ كَيْفَ شَاءَ، فَهَلْ تَعْلَمُونَ ذَلِكَ؟» . قالوا : بلى. قال : «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَبَّنَا لَا يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَلَا يَشْرَبُ الشَّرَابَ وَلَا يُحْدِثُ الحَدَثَ؟». قالوا : بلى. قال : «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ عِيسَى حَمَلَتْهُ امْرَأَةٌ كَمَا تَحْمِلُ المَرْأَةُ، ثُمَّ وَضَعَتْهُ كَمَا تَضَعُ المَرْأَةُ وَلَدَهَا، ثُمَّ غُذِيَ كَمَا يُغَذَّى الصَّبِيُّ، ثُمَّ كَانَ يَطْعَمُ الطَّعَامَ وَيَشْرَبُ الشَّرَابَ ويُحْدِثُ الحَدَثَ؟». قالوا : بلى. قال: «فَكَيْفَ يَكونُ هَذَا كَمَا زَعَمْتُمْ؟». قال : فعرفوا ثم أبوا إلا جحوداً، فأنزل الله عز وجل: ﴿الم اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الحَيُّ القَيُّومُ﴾

القول في تأويل قوله تعالى : ﴿الحَيُّ القَيُّومُ﴾ .

اختلفت القراء في ذلك، فقرأته قراء الأمصار : ﴿الحَيُّ القَيُّومُ﴾ . وقرأ ذلك عمر بن الخطاب وابن مسعود فيما ذكر عنهما : «الحَيُّ القَيَّامُ». وذكر عن علقمة بن قيس أنه كان يقرأ : «الحَيُّ القَيِّمُ».

٥١٣٨ - حدثنا بذلك أبو كريب، قال : ثنا عثام بن علي، قال : ثنا الأعمش، عن إبراهيم، عن أبي معمر، قال : سمعت علقمة يقرأ : «الحَيُّ القَيِّمُ» قلت : أنت سمعته؟ قال : لا أدري .

صفحہ 469

الترغيب والترهيب

مِنَ الحَدِيثِ الشَّرِيفِ

تأليف

الامام الحافظ زكي الدين

عبد العظيم بن عبد القوي المنذري

تحقيق

سَعِيد مُحَمَّد اللَّحَّام

مُراجَعَة

مكتب البحوث والدراسات

الجزء الثاني

دار الفكر

للطباعة والنشر والتوزيع

صفحہ 470

كتاب الحج / الترغيب في رمي الجمار، وما جاء في رفعها ١٠٣

وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ مِائَةَ مَرَّةٍ، ثُمَّ يَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ مِائَةَ مَرَّةٍ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ مِائَةَ مَرَّةٍ، إِلا قَالَ اللهُ تَعَالَى: يَا مَلائِكَتِي : مَا جَزَاءُ عَبْدِي هَذَا سَبَّحَنِي وَهَلَّلَنِي، وَكَبَّرَنِي، وَعَظَّمَنِي، وَعَرَفَنِي، وَأَثْنَى عَلَيَّ، وَصَلَّى عَلَى نَبِيِّي. أَشْهِدُوا مَلائِكَتِي (١) أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُ، وَشَفَّعْتُهُ فِي نَفْسِهِ، وَلَوْ سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا لَشَفَّعْتُهُ فِي أَهْلِ الْمَوْقِفِ». رواه البيهقي، وقال: هذا متن غريب، وليس في إسناده من ينسب إلى الوضع، والله أعلم.

(١٨١٢) ١٦٠ - وَعَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ الدَّارَانِيِّ قَالَ: سُئِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْوُقُوفِ بِالْجَبَلِ ، وَلِمَ لَمْ يَكُنْ فِي الْحَرَمِ . قَالَ: لأَنَّ الْكَعْبَةَ بَيْتُ اللهِ، وَالْحَرَمَ بَابُ اللهِ، فَلَمَّا قَصَدُوهُ وَافِدِينَ أَوْقَفَهُمْ بِالْبَابِ يَتَضَرَّعُونَ. قِيلَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَالْوُقُوفُ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ؟ قَالَ : لأَنَّهُ لَمَّا أَذِنَ لَهُمْ بِالدُّخُولِ إِلَيْهِ، أَوْقَفَهُمْ بِالْحِجَابِ الثَّانِي، وَهُوَ الْمُزْدَلِفَةُ، فَلَمَّا أَنْ طَالَ تَضَرُّعُهُمْ أَذِنَ لَهُمْ بِتَقْرِيبِ قُرْبَانِهِمْ بِمِنًى. فَلَمَّا أَنْ قَضَوْا تَفَثَهُمْ، وَقَرَّبُوا قُرْبَانَهُمْ فَتَطَهَّرُوا بِهَا مِنَ الذُّنُوبِ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ أَذِنَ لَهُمْ بِالزِّيَارَةِ إِلَيْهِ عَلَى الطَّهَارَةِ. قِيلَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَمِنْ أَيْنَ حُرِّمَ الصِّيَامُ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ؟ قَالَ: لأَنَّ الْقَوْمَ زُوَّارُ اللهِ، وَهُمْ فِي ضِيَافَتِهِ، وَلا يَجُوزُ لِلضَّيْفِ أَنْ يَصُومَ دُونَ إِذْنِ مَنْ أَضَافَهُ. قِيلَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَعَلُّقُ الرَّجُلِ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ لأَيِّ مَعْنًى هُوَ؟ قَالَ: هُوَ مِثْلُ الرَّجُلِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ صَاحِبِهِ جِنَايَةٌ فَيَتَعَلَّقُ بِثَوْبِهِ، وَيَتَنَصَّلُ إِلَيْهِ (٢) ، وَيَتَخَضَّعُ لَهُ (٣) لِيَهَبَ لَهُ جِنَايَتَهُ . رواه البيهقي وغيره هكذا منقطعاً، ورواه أيضاً عن ذي النون من قوله : وهو عندي أشبه، والله أعلم.

(١٠) الترغيب في رمي الجمار، وما جاء في رفعها

[قال الحافظ]: تقدم في الباب قبله في حديث ابن عمر الصحيح : «وَإِذَا رَمَى الْجِمَارَ لا يَدْرِي أَحَدٌ مَا لَهُ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . لفظ ابن حبان، ولفظ البزار: «وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ فَلَكَ بِكُلِّ حَصَاةٍ رَمَيْتَهَا تَكْفِيرُ كَبِيرَةٍ مِنَ الْمُوبِقَاتِ».

(١) اشهدوا يا ملائكتي. (٢) يتبرأ إليه من آثامه وذنوبه. (٣) يتخضع له: يتذلل أمامه.

صفحہ 471

سُنَنُ الدَّارَقُطْنِي

لِلْإِمَامِ الكَبِيرِ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيِّ

٣٠٦ هـ ــــ ٣٨٥ هـ

طبعة جديدة منقحة تمتاز

ومزودة بفهارس علمية شاملة للأحاديث والآيات

المجلد الأول

الأحاديث : ١ - ٢٧٨٩

دار الفكر

للطباعة والنشر والتوزيع

صفحہ 472

العيدين/ باب صفة صلاة الخسوف والكسوف وهيئتهما ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ٤٥

نبي الله ﷺ : «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَجَلَّى لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ» تابعه نوح بن قيس عن يزيد بن عبيد .

١٧٧٧ - حدثنا أبو سعيد الأصطخري ، ثنا محمد بن عبد الله بن نوفل ، ثنا عبيد بن يعيش ، ثنا يونس بن بكير ، عن عمرو بن شمر ، عن جابر ، عن محمد بن علي قال : «إن لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق السماوات والأرض ، تنكسف القمر لأول ليلة من رمضان ، وتكسف الشمس في النصف منه ، ولم تكونا منذ خلق الله السماوات والأرض» .

١٧٧٨ - حدثنا ابن أبي داود ، ثنا أحمد بن صالح ومحمد بن سلمة قالا : نا ابن وهب ، عن عمرو بن الحارث ، أن عبد الرحمن بن القاسم حدثه ، عن أبيه ، عن عبد الله بن عمر ، عن رسول الله ﷺ قال : «إِنَّ الشَّمْسَ وَالقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا» .

صفحہ 473

كَنْزُ العُمَّال

في سُنَنِ الأَقْوَالِ وَالأَفْعَالِ

تأليف

العلامة علاء الدين علي المتقي بن حسام الدين الهندي

المتوفى سنة ٩٧٥ هـ

تحقيق

محمود عمر الدمياطي

الجزء الحادي عشر

منشورات

محمد علي بيضون

دار الكتب العلمية

بيروت - لبنان

صفحہ 474

الباب الثاني

في فضائل سائر الأنبياء صلوات الله وسلامه عليهم أجمعين

وفيه فصلان :

الفصل الأول

في بعض خصائص الأنبياء عموما

خيرها رجلاً . (ابن سعد - عن قتادة بلاغاً) .

الله تعالى حتى يُنفخ في الصور . (ك في تاريخه ، هق في حياة الأنبياء - عن أنس) .

عن عائشة) .

جابر) .

(خ ، هـ - عن أبي هريرة) .

عن أبي مليكة مرسلاً) .

عن أبي بكر) .

صفحہ 475

مِيزَانُ الاعْتِدَالِ

فِي نَقْدِ الرِّجَالِ

تأليف أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ الذَّهَبِي المتوفى سنة ٧٤٨ هجرية

تحقيق على محمد البجاوى

المجلد الثالث

دَارُ المَعْرِفَةِ

للطباعة والنشر بيروت - لبنان ص . ب ٥٧٦٩

صفحہ 476

- ٢٦٨ -

ومنها : لا تمشوا في المساجد ، وعليكم بالقميص وتحته الإزار .

ومنها : العرافة أولها ملامة ، وأوسطها ندامة ، وآخرها عذاب يوم القيامة .

ثم قال أبو حاتم بن حبان: والصواب في عمرو بن شعيب أن يحول إلى تاريخ الثقات؛ لأن عدالته قد تقدمت . فأما المناكير في حديثه - إذا كانت في روايته عن أبيه عن جده - فحكمه حكم الثقات إذا رووا (١) المقاطيع والمراسيل بأن يترك من حديثهم المرسل (٢) والمقطوع ، ويحتج بالخبر الصحيح .

قلت : قد أجبنا عن روايته عن أبيه عن جده بأنها ليست بمرسلة ولا منقطعة . أما كونها وجادة ، أو بعضها سماع وبعضها وجادة ، فهذا محل نظر . ولسنا نقول : إن حديثه من أعلى أقسام الصحيح ، بل هو من قبيل الحسن .

وقد توفي بالطائف سنة ثمان عشرة ومائة .

٦٣٨٤ - عمرو بن شمر الجعفي الكوفي الشيعي ، أبو عبد الله . عن جعفر بن محمد ؛ وجابر الجعفي ، والأعمش .

روى عباس عن يحيى : ليس بشيء . وقال الجوزجاني : زائغ كذاب . وقال ابن حبان : رافضي يشتم الصحابة ، ويروي الموضوعات عن الثقات .

وقال البخاري : منكر الحديث . قال يحيى : لا يكتب حديثه ، ثم قال البخاري : حدثنا حامد بن داود ، حدثنا أسيد بن زيد ، عن عمرو بن شمر ، عن جابر ، عن أبي الطفيل ، عن علي وعمار ، قالا : كان النبي صلى الله عليه وسلم يقنت في الفجر ويكبر يوم عرفة من صلاة الغداة ، ويقطع صلاة العصر آخر أيام التشريق .

وبه : عن عمرو ، عن عمران بن مسلم ، عن سويد بن غفلة ، عن بلال ، عن أبي بكر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم : لا يتوضأ من طعام أحل الله أكله .

وبه : عن سويد ، عن علي : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمر مناديه أن يجعل أطراف أنامله عند مسامعه، وأن يثوب في صلاة الفجر وصلاة العشاء إلا في سفر .

(١) س : رأوا . (٢) س : المراسيل .

صفحہ 477

- ٢٦٩ -

وقال النسائى والدارقطنى وغيرهما : متروك الحديث .

على بن الجعد ، حدثنا عمرو بن شمر ، أخبرنا جابر ، عن الشعبى ، عن صعصعة بن صُوحان : سمعتُ زامل بن عَمْرو الجذامى يحدث عن ذى الكلاع الحميرى ، سمعت عُمر يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إنما يبعث المقتتلون على النيات (١) . قال السليمانى : كان عمرو يضعُ على الروافض (٢) .

قلت : أظنه عمر بن شوذب .

تكلم فيه . ساق ابن عدى له هذا الحديث عن العمرى ، عن نافع ، عن ابن عمر - مرفوعاً : أنا نشبه عثمان بأبينا إبراهيم . رواه زيد بن الحريش عنه . وهو منكر جداً.

الأزدى .

روى عن شعبة وطبقته ، وعنه البخارى والفسوى وخَلْق . وثقه ابن معين . وقال النسائى : ليس به بأس . وقال إسحاق بن سيار : سمعتُ عَمْرو بن عاصم يقول : كتبتُ من حماد بن سلمة بضعة عشر ألفاً . وقال بُندار : لولا شيء لتركته .

(١) هـ : الثبات . (٢) ل : للروافض . وفى س : كان يصنع الروافض . (٣) في قوله من علماء التابعين نظر ، ولعله تجوز في ذلك ، وقد ذكره ابن حبان في ثقاته في الطبقة الرابعة والله أعلم (هامش س) .

صفحہ 478

اليواقيت والجواهر

في بيان عقائد الأكابر

وبذيله

الكبريت الأحمر

في بيان علوم الشيخ الأكبر محيي الدين بن العربي (المتوفى سنة ٦٣٨ هـ)

وهو منتخب من كتاب لواقح الأنوار القدسية المختصر من الفتوحات المكية

تأليف الشيخ عبد الوهاب بن أحمد بن علي الشعراني الشافعي (سنة ٩٧٣ هـ)

طبعة جديدة مصححة ومخرجة الآيات القرآنية الكريمة

الجزء الأول

دار إحياء التراث العربي مؤسسة التاريخ العربي بيروت - لبنان

صفحہ 479

المبحث الثلاثون: في بيان حكمة بعثة الرسل في كل زمان ٢٩٥

وخالف أمره هلك ودخل النار ليقوم العدل من الله تعالى في عباده بعد إقامة الحجة والله أعلم .

وقد رأيت في كتاب سراج العقول للإمام أبي طاهر القزويني في الباب الخامس والثلاثين منه ما نصه: اعلم أن الله تعالى قد خلق جميع الكائنات من فضله وكرمه بعد أن لم يكن للكون أثر ولا للمكون خبر ثم أنه تعالى لما خلقهم من فضله لم يتركهم سدى هملاً غافلين عما يرجع إلى مصالحهم في الأمور الدينية والدنيوية ولما كان الجليل جل جلاله منزهاً عن المجيء إليهم والنزول عليهم ولم يكن كلامه بحرف ولا صوت حتى يسمعوا كلامه كفاحاً بعث إليهم منهم رسلاً مبشرين ومنذرين ليبلغوا إلى أسماع عباده كلامه وقد ألم بعض الشعراء بهذا المعنى فقال:

ولما تعذر أن نلتقي وزاد النزاع وجد السقم
سعيت إليك برجل الرسول وناجاك عني لسان القلم

قال تعالى: ﴿رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ﴾ [النساء: ١٦٥]. إن الحق تعالى من جملة فضله علينا إرسال الرسل إلينا كما أنه خلقنا بفضله من العدم إذ لا يجب عليه تعالى شيء ألبتة.

(فإن قلت): فما حقيقة النبوة؟

(فالجواب): هو خطاب الله تعالى شخصاً بقوله: «أنت رسولي واصطفيتك لنفسي». كما مر في المبحث قبله الله أعلم حيث يجعل رسالته.

(فإن قلت): فهل النبوة مكتسبة أو موهوبة؟

(فالجواب): ليست النبوة مكتسبة حتى يتوصل إليها بالنسك والرياضات كما ظنه جماعة من الحمقى فإن الله تعالى حكى عن الرسل بقوله: ﴿قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَى مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ﴾ [إبراهيم: ١١] وأمر النبي ﷺ، أن يقول: ﴿سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا﴾ [الإسراء: ٩٣] فالنبوة إذن محض فضل الله تعالى كما مر خلافاً للمعتزلة ومن تابعهم من قولهم: بوجوب النبوة عقلاً من جهة اللطف والحق أنها جائزة عقلاً واجبة تواتراً ونقلاً ينتهي إلى المعاينة وهي من فضل الله ورحمته وتدبيره في الملك والملكوت بأوامره ونواهيه على من يشاء كيف يشاء وعلى هذا فالنبوة صفة راجعة إلى اصطفاء الله شخصاً بخطابه

الجان والجان خلق بين الملائكة والبشر الذي هو الإنسان وهو عنصري، ولهذا تكبر فلو كان طبيعياً خالصاً من غير حكم العنصر ما تكبر وكان مثل الملائكة وهو برزخي النشأة له وجه إلى الأرواح النورية بلطافة النار منه فله الحجاب والتشكل وله وجه إلينا أيضاً به كان عنصرياً ومارجاً فأعطاه الاسم اللطيف أن يجري من ابن آدم مجرى الدم ولا يشعر به وأطال في ذلك ثم قال: فالاسم اللطيف هو الذي جعل الجان يستر عن أعين الناس فلا تدركهم الأبصار إلا متجسدين والله أعلم. وقال في الباب الثاني ومائتين ما نصه اعلم أن آداب الشريعة كلها ترجع إلى ما نذكره وهو أن لا يتعدى العبد في الحكم موضعه في جوهر كان، أو في عرض، أو في زمان،

صفحہ 480

الجزء الأول من اليواقيت والجواهر في بيان عقائد الأكابر ٢٩٦

ولو بواسطة الملك ولا ترجع إلى نفس ذلك الشخص الذي هو النبي حتى إنه يقال: استحق النبوة لذاته وإذا كانت كذلك فلا تبطل بالموت كما لا تبطل بالنوم والغفلة فمن قال: إن النبوة مأخوذة من النبأ وهو الخبر إذ هو المخبر عن الله تعالى ومن مات لا يخبر نقول له: حكم النبوة باق عليه أبداً حياً وميتاً كما أن حكم نكاحه كذلك. وفي الحديث: «زوجاتي في الدنيا زوجاتي في الآخرة». وفي الحديث أيضاً: «الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون». وقد أفتى المالكية وغيرهم بكفر من قال: إن النبوة مكتسبة والله أعلم.

(فإن قيل): هلا أرسل الله تعالى الملائكة فإنهم كانوا بهيئتهم الملكية أدعى إلى الحق والاستجابة لهم وكانت الكفرة لا تقول: ﴿أَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهُ﴾ [القمر: ٢٤].

(فالجواب): أن هذا السؤال قد سبق من كفار مكة وأجاب الله تعالى عن ذلك بقوله تعالى: ﴿قُل لَّوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُولًا﴾ [الإسراء: ٩٥] وقال تعالى: ﴿وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنَاهُ رَجُلًا وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ﴾ [الأنعام: ٩]. والمعنى في ذلك أن في الرسالة امتحاناً واختباراً فينظر تعالى وهو العالم بما يكون قبل أن يكون هل يقوم بهم داء الحسد فلا يطيعون ذلك الرسول أو يطيعونه وذلك أن الحسد موضوعه أن يكون بين الجنس الواحد فليس بين البشر والملك حسد ولذلك طلب كفار مكة أن يكون الرسول إليهم ملكاً لعدم الحسد بينهم وبين الملك بخلاف محمد ﷺ، وأيضاً فإن عامة البشر لا تطيق أن ترى الملائكة بأعيانهم وصفاتهم في صورهم فضلاً عن أخذ الكلام عنهم وإنما يستأنس الجنس بالجنس ولا عجب من أن يفزع الآدمي من صورة الملك الذي يسد الخافقين بنشر جناح واحد. ولقد بلغنا أن الله تعالى خلق عجائب في أعالي الهند وأقاصي بلاد الصين وجزائرها أُناساً إذا أبصروا أحداً منا خروا لوجوههم ميتين ولو أبصر منا واحدٌ صورة أحدهم لانشقت مرارته خيفة منه وفي القصر المشيد خلق لا يقع بصر أحد منا عليهم إلا ترامى فمات لوقته ولقد ربطوا إنساناً بحبال وثيقة وقالوا له: انظر ونحن نمسك فنظر إليهم فتمزع من الحبال ونزل إليهم قطعاً قطعاً. وحديث بدء الوحي مشهور فإن رسول الله ﷺ، مع قوته وشهامته لما رأى الملك أولاً بحراء قاعداً على كرسي بين السماء والأرض، وله صوت هائل

أو في مكان، أو في وضع، أو في إضافة، أو في حال، أو في مقدار، أو عدد، أو في مؤثر، أو في مؤثر فيه فأما أدبه في الجوهر فهو أن يعلم العبد حكم الشرع في ذلك فيجريه فيه، بحسبه وأما أدب العبد في الأعراض فهو ما يتعلق بأفعال المكلفين من وجوب، وحظر، وإباحة، ومكروه، وندب وأما أدبه في الزمان فلا يتعلق إلا بأوقات العبادات المرتبطة بالأوقات فكل وقت له حكم في المكلف ومنه ما يضيق وقته ومنه ما يتسع وأما أدبه في المكان كمواضع العبادات مثل بيوت الله فيرفعها عن البيوت المنسوبة إلى الخلق ويذكر فيها اسمه وأما أدبه في الوضع فلا يسمى الشيء بغير اسمه ليغير عليه حكم الشرع بتغيير اسمه فيحلل ما كان محرماً

صفحہ 481

اليواقيت والجواهر

في بيان عقائد الأكابر

وبأسفله

الكبريت الأحمر

في بيان علوم الشيخ الأكبر

محيي الدين بن العربي المتوفى سنة 638 هـ

وهو منتخب من كتاب لواقح الأنوار القدسية

المختصر من الفتوحات المكية

تأليف

الشيخ عبد الوهاب بن أحمد بن علي الشعراني المصري الحنفي

(ت 973 هـ)

طبعة جديدة مصححة ومخرجة الآيات القرآنية الكريمة

الجزء الثاني

دار إحياء التراث العربي مؤسسة التاريخ العربي

بيروت - لبنان

صفحہ 482

المبحث الخامس والستون: في بيان أن جميع أشراط الساعة التي أخبرنا بها الشارع حق ٥٦٧

طلوعها من المغرب فيقال لهم أليس الله تعالى قد أجرى العادة بأن كل دوارة ودورها من رحى ودولاب إذا انتهى دورها ترجع منعكسة ثم تقف فيم تنكرون أن الله تعالى يعكس دوران الشمس عند انتهاء أدوارها قال تعالى: ﴿وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا﴾ [يس: ٣٨] والمستقر مصدر بمعنى الاستقرار واللام بمعنى إلى كما قال الله تعالى: ﴿بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَىٰ لَهَا﴾ [الزلزلة: ٥] أي إليها قال: وعند وقوف الشمس في وسط السماء تشقق السماء وتنكدر النجوم ويقولون في المثل السائر الدولاب إذا تعطل تكسر وهنا تظهر الشمس والقمر في وسط السماء كالغرارتين وفي رواية أخرى كالثورين الأسودين فإذا طلعا إلى وسط السماء رجعا نازلين إلى المغرب لا أنهما يغربان في المشرق كما توهمه بعضهم وفي الحديث أنهما يطلعان من المغرب مكورتين كالغرارتين فلا ضوء للشمس ولا نور للقمر وما بين طلوع الشمس من مغربها إلى نفخ الصور أقل من أن يركب الرجل المهر بعد النتاج.

(فإن قيل): قد ورد في الحديث أنهما يطلعان ذلك اليوم من المشرق إلى نفخ الصور؟

(فالجواب): لا اعتبار بذلك الطلوع إذ هو طلوع اضطراب للوقوف والانتهاء لا طلوع دأب لهما بحساب وكذلك يكون حال كل دوارة إذا انتهى دورها تنعكس مرة وترجع أخرى ثم تقف هكذا سنة الله في الخلق ﴿وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَحْوِيلًا﴾ [فاطر: ٤٣] وتقدم في مبحث الإيمان أن الشمس إذا طلعت من مغربها أغلق باب التوبة فمن كان مؤمناً لا يدخل قلبه بعد ذلك كفر ومن كان كافراً لا يدخل قلبه بعد ذلك إيمان فراجعه.

(فإن قيل): فما الدليل على نزول عيسى عليه السلام من القرآن؟

(فالجواب): الدليل على نزوله قوله تعالى: ﴿وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ﴾ [النساء: ١٥٩] أي حين ينزل ويجتمعون عليه وأنكرت المعتزلة والفلاسفة واليهود والنصارى عروجه بجسده إلى السماء وقال تعالى في عيسى عليه السلام ﴿وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ﴾ [الزخرف: ٦١] قريء لعلم بفتح اللام والعين والضمير في أنه راجع إلى عيسى عليه السلام لقوله تعالى: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا﴾ [الزخرف: ٥٧] ومعناه أن نزوله علامة القيامة وفي الحديث في صفة الدجال فبينما هو في الصلاة إذ بعث الله المسيح ابن مريم فنزل عند المنارة البيضاء

وشرائع ما فيه جناح، وأما ما تولد عن نكاح الشبه في العقول والأشباح فهو سفاح وهذا الباب مغلق قد رميت إليك بالمفتاح. وقال: لما دعا الله تعالى الأرواح من هياكلها بمشاكلها حنت إلى ذلك ، وهان عليها مفارقة الوعاء فكان لها الانفساخ بالسراح من هذه الأشباح ثم إذا وقعت الإعادة عادت إلى ما كانت عليه روحاً وجسماً هذا معنى الرجوع. وقال اسوداد الوجوه من الحق المكروه وكالغيبة والنميمة وإفشاء السر فهو مذموم وإن كان صدقاً فلذلك قال الله تعالى: ﴿لِيَسْأَلَ الصَّادِقِينَ عَنْ صِدْقِهِمْ﴾ [الأحزاب: ٨] أي هل أذن لهم في إفشائه أم لا فما كل صدق حق واعلم أنه لو كان نسبتنا إليه حقاً ما ذم أحد خلقاً ولو ذمه لكفر ولو كان ما استتر

صفحہ 483

٥٦٨ الجزء الثاني من اليواقيت والجواهر في بيان عقائد الأكابر

شرقي دمشق بين يديه مهرذوبتان واضعاً كفه على أجنحة ملكين والمهرذوبتان بالذال المعجمة والمهملة معاً حلتان مصبوغتان بالورس فقد ثبت نزوله عليه السلام بالكتاب والسنة وزعمت النصارى أن ناسوته صلب ولاهوته رفع والحق أنه رفع بجسده إلى السماء والإيمان بذلك واجب قال تعالى: ﴿بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ﴾ [النساء: ١٥٨] قال أبو طاهر القزويني: واعلم أن كيفية رفعه ونزوله وكيفية مكثه في السماء إلى أن ينزل من غير طعام ولا شراب مما يتقاصر عن دركه العقل ولا سبيل لنا إلا أن نؤمن بذلك تسليماً لسعة قدرة الله تعالى وأطال في ذكر شبه الفلاسفة وغيرهم في إنكار الرفع.

(فإن قيل): فما الجواب عن استغنائه عن الطعام والشراب مدة رفعه؟ فإن الله تعالى قال: ﴿وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ﴾ [الأنبياء: ٨] .

(فالجواب): أن الطعام إنما جعل قوتاً لمن يعيش في الأرض لأنه مسلط عليه الهواء الحار والبارد فيتحلل بدنه فإذا انحل عوضه الله تعالى بالغذاء إجراء لعادته في هذه الخطة الغبراء وأما من رفعه الله إلى السماء فإنه يلطفه بقدرته ويغنيه عن الطعام والشراب كما أغنى الملائكة عنهما فيكون حينئذٍ طعامه التسبيح وشرابه التهليل كما قاله ﷺ «إني أبيت عند ربي يطعمني ويسقيني» وفي الحديث مرفوعاً أن بين يدي الدجال ثلاث سنين، سنة تمسك السماء قطرها والأرض ثلث نباتها وفي السنة الثانية تمسك السماء ثلثي قطرها والأرض ثلثي نباتها وفي السنة الثالثة تمسك السماء قطرها كله فقالت له أسماء بنت زيد: يا رسول الله إنا لنعجن عجيننا فما نخبزه حتى نجوع فكيف بالمؤمنين حينئذ فقال يجزيهم ما يجزي أهل السماء من التسبيح والتقديس. قال الشيخ أبو طاهر: وقد شاهدنا رجلاً اسمه خليفة الخراط كان مقيماً بأبهر من بلاد المشرق مكث لا يطعم طعاماً منذ ثلاث وعشرين سنة وكان يعبد الله ليلاً ونهاراً من غير ضعف فإذا علمت ذلك فلا يبعد أن يكون قوت عيسى عليه السلام التسبيح والتهليل والله أعلم

فهو تعالى المعروف بأنه غير معروف والحق الذي يقال: ما قبح وذم فمنا، وما حسن وحمد فمما خرج عنا. وقال العارف مسود الوجه في الدنيا والآخرة، لكن اسوداد السيادة لما كان عليه من العبادة فإن وجه الشيء كونه وذاته وعينه وقال في قوله: ﴿وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾ [طه: ١١٤] الإنسان مجبول على الطمع فلا يقال فيه يوماً إنه قنع فإن قنع فقد جهل وأساء الأدب ومن هنا كان العارف لا يزهد قط في الطلب وما أراد منك بذلك إلا دوام الافتقار في الليل والنهار ﴿فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ ٧ وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَب ٨﴾ [الشرح: ٧ - ٨] ولا يتقبل الحق من العباد إلا بما به عليهم جاد فمنه بدأ الجود وإليه يعود فيا من يطلب القديم أنت عديم فقل لربك إنما نحن بك ولك خلقتنا لنعبدك وفي عبادتنا نشهدك ثم على قدر ما سألناك من الشهادة تنقصنا من العبادة.

(وقال): لا يؤثر الحرص في القدر إلا إذا كان من القدر وكم من حريص لم يحصل على طائل لعدم الأمر من القائل من قصرت همته في طلب المزيد فليس من كمل العبيد لا تستكثر

صفحہ 484

شرح الشفا

للقاضي عياض

شرح

الملا علي القاري الهروي المكي

المتوفى سنة ١٠١٤هـ

ضبطه وصححه

عبد الله محمد الخليلي

الجزء الثاني

منشورات

محمد علي بيضون

لنشر كتب السنة والجماعة

دار الكتب العلمية

بيروت - لبنان

صفحہ 485

في حكم من سب الله تعالى وملائكته إلى آخره ٥١٥

أو تكذيباً لنبوته (أوْ لَيْسَ الَّذِي كَانَ بِمَكَّةَ والحِجَازِ) الشامل لها وللمدينة يحتمل أن يكون جهلاً وأن يكون تكذيباً (أَوْ لَيْسَ بِقُرَشِيّ) وفيه أن العلم بكونه قريشياً ليس ضرورياً فغايته أن يكون كاذباً به جاهلاً بوصفه ولا يلزم منه كونه مكذباً به وأغرب الدلجي حيث قال لأنه كذبه عليه الصلاة والسلام في قوله أنا أفصح من نطق بالضاد بيد أني من قريش فإن

صفحہ ٥١٦

486

في حكم من سب الله تعالى وملائكته إلى آخره

ملهمون (وَإِنْ لَمْ يَدَّعِ النُّبُوَّةَ) كعبد الله بن أبي سرح من قريش كان يكتب الوحي لرسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم فلما نزل ﴿ولقد خلقنا الإنسان من سلالة من طين﴾ عجب من تفصيل خلق الإنسان فقال ﴿فتبارك الله أحسن الخالقين﴾ فقال عليه الصلاة والسلام أكتبها كذلك نزلت فشك وقال لئن كان محمد صادقاً لقد أوحى إلي كما أوحى إليه أو كاذباً لقد قلت كما قال فارتد عن الإسلام ولحق بالمشركين فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بقتله يوم الفتح فاستأمن له عثمان فأسلم وحسن إسلامه وكان أخاه لأمه وولاه زمن خلافته مصر (أَوْ أَنَّهُ) أي أو يدعي أنه حال اليقظة (يَصْعَدُ إلى السَّماءِ وَيَدْخُلُ الجَنَّةَ وَيَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَيُعَانِقُ الحُورَ العِينَ) أي البيض الواسعة الأعين وفيه أن هذا كله يقتضي الكذب لا الكفر كما لا يخفى (فَهؤُلاءِ) الطوائف (كُلُّهُمْ كُفَّارٌ) أي فإنهم (مُكَذِّبُونَ لِلنَّبِيِّ صلى الله تعالى عليه وسلم لأنَّهُ أَخْبَرَ) عن نفسه (أَنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لا نَبِيَّ بَعْدَهُ) أي ينبأ فلا يرد عيسى لأنه نبي قبله وينزل بعده ويحكم بشريعته ويصلي إلى قبلته ويكون من جملة أمته (وأَخْبَرَ عَنِ الله تَعَالَى أَنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ) وهذا أقوى دليلاً مما قبله فتأمل (وَأَنَّهُ أُرْسِلَ كَافَّةً) أي رسالة جامعة (لِلنَّاسِ) لقوله تعالى ﴿وما أرسلناك إلا كافة للناس﴾ أي أصالة وللجن تبعاً (وَأَجْمَعَتِ الأُمَّةُ عَلَى حَمْلِ هَذَا الكَلَامِ) الذي صدر عنه عليه الصلاة والسلام (على ظَاهِرِهِ) لعدم صارف عنه (وَأَنَّ مَفْهُومَهُ المُرَادُ به) هو المقصود منه (دُونَ تَأْوِيلٍ) في ظاهره (ولا تَخْصِيصٍ) في عمومه (فَلا شَكَّ فِي كُفْرِ هَؤُلَاءِ الطَّوَائِفِ كُلِّهَا) أي لتكذيبهم الله ورسوله (قَطْعاً) أي بلا شبهة (إِجْمَاعاً) بلا مخالفة (وَسَمْعاً) أي وسماعاً من الكتاب والسنة ما يدل على كفرهم بلا مرية (وَكَذَلِكَ وَقَعَ الإِجْمَاعُ على تَكْفِيرِ كُلِّ مَنْ دَافَعَ نَصَّ الكِتَابِ) القديم وحمله على خلاف ما ورد به من المعنى القويم كحمل بعض المتصوفة قوله تعالى في قوم نوح ﴿مما خطيئاتهم أغرقوا فأدخلوا ناراً﴾ على ما حاصله أغرقوا في بحر المحبة فأدخلوا نارها ووجدوا الله دون غيره أنصاراً وكذلك قوله في قوله تعالى ﴿وإذا جاءتهم آية قالوا لن نؤمن حتى نؤتى مثل ما أوتي رسل الله الله أعلم حيث يجعل رسالاته﴾ أن الكلام تم في أوتي وأن رسل الله مبتدأ وخبره الله وأعلم خبر مبتدأ محذوف وأمثال ذلك مما صدر عنهم هنالك (أَوْ خَصَّ حَدِيثاً) أي أو دافع صريح حديث (مُجْمَعاً على نَقْلِهِ مَقْطُوعاً بِهِ) أي بصحته (مُجْمَع على حَمْلِهِ على ظَاهِرِهِ) من غير تأويله وفي نسخة أو خص حديثاً مجمعاً على نقله من جهة مبناه وحمله على ظاهره من جهة معناه (كَتَكْفِيرِ الخَوَارِجِ بِإِبْطَالِ الرَّجْمِ) بالجيم للمحصن الثيب ولم يشرط الشافعي الإسلام في الرجم لظاهر حديث الموطأ وغيره أن اليهود أتوا رسول الله تعالى عليه وسلم برجل وامرأة من اليهود قد زنيا فرجمهما وشرطه أبو حنيفة ومالك لحديث من أشرك بالله فليس بمحصن ثم اعلم أن العلماء أجمعوا على وجوب جلد الزاني البكر مائة وهو الثابت بالآية ورجم المحصن الثيب المأخوذ من الآية المنسوخة تلاوة لا حكماً وهو قوله تعالى ﴿الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة نكالاً من الله والله عزيز حكيم﴾ وقد عمل بها صلى الله تعالى عليه وسلم في

صفحہ 487

اللّٰهُ يَجْتَبِيْ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَآءُ وَيَهْدِيْ اِلَيْهِ مَنْ يُّنيْبُ

الحمد لله علیٰ احسانہ کہ درین ایام میمنت انجام کتاب مستطاب لاجواب یعنے

شرح فقہ اکبر

ملّا علی قاری

علیہ الرحمۃ

بتصحیح و ترجمہ

بسعی مرعی و اہتمام کلّی جناب مولوی حافظ محمد عبد الرحمٰن صاحب محترم

بکتابخانہ ہذا و در سنه ۱۳۴۷ هجري

بمطبع مجتبائی دہلی مطبوعہ شد

صفحہ 488

شرح فقه اكبر ۱۳۶ كان بمكة فى اوائل البعثة خديجة ثم تزوج عائشة او يقال القضية كانت متعددة ولذا اختلف فى الانتهاء فقيل الى الجنة وقيل الى العرش وقيل الى ما فوقه وهو مقام فكان قاب قوسين او ادنى ولا يلزم من تعدد الواقعة وتعدد الصلوة كل مرة كما توهم ابن القيم معترضا وخروج الدجال ويأجوج وماجوج كما قال الله تعالى اذا فتحت يأجوج وماجوج وهم من كل حدب ينسلون اى يسرعون وطلوع الشمس من مغربها كما قال الله تعالى يوم ياتي بعض ايات ربك لا ينفع نفسا ايمانها لم تكن امنت من قبل او كسبت فى ايمانها خيرا اى لا ينفع الكافر ايمانه فى ذلك اليوم اى طلوع الشمس من المغرب ولا الفاسق الذى ما كسبت خيرا فى ايمانه توبته يعنى لا ينفع نفسا ايمانها ولا كسبها فى الايمان ان لم تكن امنت من قبل او كسبت فيه خيرا ونزول عيسى عليه السّلام من السّماء كما قال الله تعالى وانه لعلم للساعة اى علامة القيمة وقال الله تعا وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته اى قبل موت عيسى بعد نزوله عند قيام الساعة فتصير الملل واحدة وهى ملة الاسلام الحنيفية وفى نسخة قدّم طلوع الشمس على البقية وعلى كل تقدير فالواو لمطلق الجمعية ولا ترتيب للقضيتين فان المهدى يظهر اولا فى الحرمين الشريفين ثم يأتى بيت المقدس فيأتى الدجال ويحصره فى ذلك الحال فينزل عيسى من المنارة الشرقية فى دمشق الشام ويجى لقتال الدجال فيقتله بحربة فى الحال فانه يذوب كالملح فى الماء عند نزول عيسى عليه السّلام من السّماء فيجتمع عيسى بالمهدى وقد اقيمت الصلوة فيشير المهدى لعيسى بالتقدم فيمتنع معللا بان هذه الصلوة اقيمت لك فانت اولى بان تكون الامام فى هذا المقام فيقتدى به ليظهر متابعته لنبينا صلّى الله تعالى عليه وسلّم كما اشار الى هذا المعنى صلّى الله تعا عليه وسلّم بقوله لو كان موسى حيا لما وسعه الا اتباعى وفى التنزيل وجد ذلك عند قوله تعالى واذ اخذ الله ميثاق النّبيّين لما اتيتكم من كتاب وحكمة ثم جائكم رسول الاية فى شرح الشفاء وغيره وقد ورد انه يبقى فى الارض اربعين سنة ثم يموت ويصلى عليه المسلمون ويدفنونه على ما رواه الطيالسى فى مسنده وروى غيره انه يدفن عند النبى صلّى الله تعا عليه وسلّم وافضل خلفائه ولذا يدفن

له فيقتدى به الخ يعنى عيسى بالمهدى

صفحہ 489

المِصْبَاح المُنِير

في غريب الشرح الكبير للرافعي

تأليف العالم العلامة

احمد بن محمد بن على المُقْرِى الفَيُّومِى

المتوفى عام ٧٧٠ هـ

الجزء الثانى

مِنْ مَنْشُورَاتِ دَارِ الهِجْرَة

ايران - قم

صفحہ 490

مع ٥٧٦ مقت

( تَمَعَّطَ ) فَأْرَةٌ هُوَ عَلَى حَذْفِ مُضَافٍ وَالْأَصْلُ تَمَعَّطَ شَعَرُ فَأْرَةٍ وَكَذَلِكَ قَوْلُهُمْ ( تَمَعَّطَ ) الذِّئْبُ إِذَا سَقَطَ شَعَرُهُ .

مَعَ : ظَرْفٌ عَلَى الْمُخْتَارِ بِمَعْنَى لَدَى لِدُخُولِ التَّنْوِينِ نَحْوُ خَرَجْنَا ( مَعاً ) وَدُخُولِ مِنْ عَلَيْهِ نَحْوُ جِئْتُ ( مِنْ مَعِهِ ) أَيْ مِنْ عِنْدِهِ وَلَكِنِ اسْتِعْمَالُهُ شَاذٌّ وَهُوَ بِفَتْحِ الْعَيْنِ وَإِسْكَانُهَا لُغَةٌ لِبَنِي رَبِيعَةَ فَتُكْسَرُ عِنْدَهُمْ لِالْتِقَاءِ السَّاكِنَيْنِ نَحْوُ ( مَعِ ) الْقَوْمِ وَقِيلَ هُوَ فِي السُّكُونِ حَرْفُ جَرٍّ وَقَالَ الرُّمَّانِيُّ إِنْ دَخَلَ عَلَيْهِ حَرْفُ جَرٍّ كَانَ اسْماً وَإِلَّا كَانَ حَرْفاً وَتَقُولُ خَرَجْنَا ( مَعاً ) أَيْ فِي زَمَانٍ وَاحِدٍ وَكُنَّا ( مَعاً ) أَيْ فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ مَنْصُوبٌ عَلَى الظَّرْفِيَّةِ وَقِيلَ عَلَى الْحَالِ أَيْ مُجْتَمِعِينَ وَالْفَرْقُ بَيْنَ فَعَلْنَا ( مَعاً ) وَفَعَلْنَا جَمِيعاً أَنَّ ( مَعاً ) تُفِيدُ الِاجْتِمَاعَ حَالَةَ الْفِعْلِ وَ ( جَمِيعاً ) بِمَعْنَى كُلِّنَا يَجُوزُ فِيهَا الِاجْتِمَاعُ وَالِافْتِرَاقُ وَأَلِفُهَا عِنْدَ الْخَلِيلِ بَدَلٌ مِنَ التَّنْوِينِ لِأَنَّهُ عِنْدَهُ لَيْسَ لَهُ لَامٌ وَعِنْدَ يُونُسَ وَالْأَخْفَشِ كَالْأَلِفِ فِي الفَتَى فَهِيَ بَدَلٌ مِنْ لَامٍ مَحْذُوفَةٍ وَأَفْعَلُ هَذَا مَعَ هَذَا أَيْ مَجْمُوعاً إِلَيْهِ .

مَعْمَعَةٌ : اخْتِلَافُ الْأَصْوَاتِ وَأَصْلُهَا فِي الْتِهَابِ النَّارِ وَ ( مَعْمَعَةُ ) الْقِتَالِ شِدَّتُهُ .

مَعَكَهُ : فِي التُّرَابِ ( مَعْكاً ) مِنْ بَابِ نَفَعَ دَلَكَهُ بِهِ وَ ( مَعَّكَهُ ) ( تَمْعِيكاً ) ( فَتَمَعَّكَ ) أَيْ مَرَّغَهُ فَتَمَرَّغَ .

مَعَنَ : المَاءُ ( يَمْعَنُ ) بِفَتْحَتَيْنِ جَرَى فَهُوَ ( مَعِينٌ ) وَ ( أَمْعَنَ ) الْفَرَسُ ( إِمْعَاناً ) تَبَاعَدَ فِي عَدْوِهِ وَمِنْهُ قِيلَ ( أَمْعَنَ ) فِي الطَّلَبِ إِذَا بَالَغَ فِي الِاسْتِقْصَاءِ وَ ( الْمَاعُونُ ) بِمَعْنَى مَتَاعِ الْمَنْزِلِ وَ ( الْمَاعُونُ ) اسْمٌ جَامِعٌ لِأَثَاثِ الْبَيْتِ كَالْقِدْرِ وَالْفَأْسِ وَالْقَصْعَةِ وَ ( الْمَاعُونُ ) أَيْضاً الطَّاعَةُ .

الْمِعَى : الْمِصْرَانُ وَكَسْرُهُ أَشْهَرُ مِنَ الضَّمِّ وَجَمْعُهُ ( أَمْعَاءٌ ) مِثْلُ عِنَبٍ وَأَعْنَابٍ وَجَمْعُ الْمِعَاءِ ( أَمْعِيَةٌ ) مِثْلُ حِمَارٍ وَأَحْمِرَةٍ .

مَغَرَةٌ : الطِّينُ الْأَحْمَرُ بِفَتْحِ الْمِيمِ وَالْغَيْنِ وَالتَّسْكِينُ تَخْفِيفٌ وَ ( الْأَمْغَرُ ) فِي الْخَيْلِ الْأَشْقَرُ .

الْمَغْصُ : وَجَعٌ فِي الْأَمْعَاءِ وَالْتِوَاءٌ وَهُوَ بِالسُّكُونِ قَالَ الْجَوْهَرِيُّ وَالْفَتْحُ عَامِّيٌّ وَقَالَ الْأَزْهَرِيُّ أَيْضاً الصَّوَابُ مَغْصٌ قَالَهُ ابْنُ السِّكِّيتِ وَهُوَ ( الْمَغْصُ ) وَ ( الْمَغْسُ ) بِالْغَيْنِ الْمُعْجَمَةِ سَاكِنَةً وَلَا يُقَالُ بِتَحْرِيكِهَا وَ ( مُغِصَ ) فُلَانٌ بِالْبِنَاءِ لِلْمَفْعُولِ فَهُوَ ( مَمْغُوصٌ ) وَحَكَى ابْنُ الْقُوطِيَّةِ ( مَغِصَ ) ( مَغَصاً ) مِنْ بَابِ تَعِبَ وَ ( مُغِصَ ) بِالْبِنَاءِ لِلْمَفْعُولِ ( مَغْصاً ) بِالسُّكُونِ وَبِالصَّادِ لُغَةٌ فِيهِمَا .

مَغِلَ : ( مَغَلاً ) مِنْ بَابِ تَعِبَ فَهُوَ ( مَغِلٌ ) وَجَعٌ يَأْخُذُ الدَّوَابَّ عَنْ أَكْلِ التُّرَابِ .

مَقَتَهُ : ( مَقْتاً ) مِنْ بَابِ قَتَلَ أَبْغَضَهُ أَشَدَّ الْبُغْضِ عَنْ أَمْرٍ قَبِيحٍ وَ ( مَقُتَ ) إِلَى النَّاسِ

صفحہ 491

کتاب ۸ رقم الف ۱۰۱۸

قَالَ اللهُ مِنْ اٰيَاتِهِ الَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ رات دن اور چاند اور سورج سب اسی کی قدرت کی نشانیاں ہیں ۔

اللہ تعالیٰ کا ہزار شکر ہے کہ ہدایت صداقت کا چشمہ یعنی رسالہ لاثانی

دوسری شہادت آسمانی

جس میں نہایت محققانہ طور سے ثابت کیا گیا ہے کہ رمضان میں معمولی گہنوں کا اجتماع جیسا کہ ۱۳۱۱ھ میں ہوا تھا امام مہدی کی علامت نہیں یہ صرف مرزا صاحب نے اپنی بناوٹ اور فریب سے اسکو اپنے لئے آسمانی نشان قرار دیا ہے

از افادات کاملہ مقبول خواص و عوام حضرت مولانا سید ابواحمد رحمانی متع اللہ المسلمین بطول بقائہ

از امداد عزیزان عالی ہمت مولوی حکیم سراج الدین احمد و سید مظفر حسن و سید فدا احمد صاحبان سلمہم اللہ تعالیٰ

بار دوم دفتر کتب خانہ رحمانیہ محلہ قاضی بجنور

تعداد طبع ۲۰۰۰

صفحہ 492

۱۴ میں لکھے گئے ہیں اسوقت میرے پاس اس فن کی دو کتابیں موجود ہیں مسٹر کیتھ کی کتاب یوز آف دی گلوبس اور حدائق النجوم پہلی کتاب انگریزی میں ہے اور دوسری فارسی میں ان دونوں کتابوں میں لکھنے کے وقت سے آئندہ گہنوں کی فہرست دی ہے مسٹر کیتھ نے پورے سو برس کی فہرست دی ہے یعنی ۱۸۰۱ء سے ۱۹۰۰ء تک مسٹر کیتھ کی فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ سو برس کے عرصہ میں پانچ مرتبہ سورج گہن اور چاند گہن کا اجتماع رمضان شریف میں ہوا اور حدائق النجوم کی فہرست میں تریسٹھ برس کے اندر تین گہنوں کا اجتماع رمضان شریف میں لکھا ہے چونکہ یہ تینوں اجتماع ایسے ہیں کہ دونوں کتابوں کے مولف اسپر متفق ہیں اور ان تینوں گہنوں کے دیکھنے والے بھی اسوقت تک موجود ہیں اور ان گہنوں کا ظہور بھی بالاتفاق ۱۳ ، ۱۴ رمضان شریف اور ۲۷ ، ۲۸ کو ہوا ہے۔ اسلیئے میں صرف پینتالیس برس کے گہنوں کی فہرست ان دونوں کتابوں سے نقل کرتا ہوں تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس قلیل مدت میں تین مرتبہ ایسے گہنوں کا اجتماع رمضان میں ہوا پھر دنیا کی ابتدا سے اس کثیر مدت میں کسقدر ہوا ہوگا۔ اسے خیال کرو۔

۱؂ یہ عمدہ کتاب فارسی زبان میں نہایت فصیح انشا میں ہے ضخامت میں ۸۱۵ صفحوں پر ۱۸۳۵ء میں مطبع محمدی لکھنؤ میں چھپی ہے اسوقت نہایت کمیاب ہے جو فہرست گہنوں کی نقل کیگئی ہے وہ ص ۷۱۵ سے ص ۷۱۷ تک ہے اور مسٹر کیتھ کی کتاب کا جو نسخہ میرے پاس ہے وہ لندن میں ۱۸۴۴ء میں چھپا ہے اُسکے ص ۲۷۶ سے ص ۲۷۹ تک یہ فہرست ہے یہ کتاب بھی ان دنوں کمیاب ہے ۱۲

۲؂ یہ تقریر مرزا صاحب کے خیال کے موجب کی گئی ہے مگر ہر ایک ذی علم سمجھتا ہے کہ اگر اس اجتماع کو نشان قرار دیا جائیگا تو صرف ایک نشان ثابت ہوگا اور حدیث میں نہایت صاف طور سے دو نشانوں کی پیشین گوئی کی ہے اور ہر ایک نشان کو بے نظیر کہا ہے اسلیئے اگر ۱۳ تاریخ اور ۲۸ رمضان کو گہن ہونا نشان ہو تو حدیث کے بموجب ہر ایک گہن کو نشان ہونا چاہیئے اور ہر ایک کو بے نظیر ہونا چاہیئے مگر مذکورہ فہرست سے ظاہر ہے کہ اڑسٹھ برس کے عرصہ میں چاند گہن رمضان کے ۱۳ تاریخ کو پانچ مرتبہ ہوا یعنی ۱۸۰۳ء اور ۱۸۲۲ء اور ۱۸۴۱ء اور ۱۸۶۰ء اور ۱۸۶۹ء میں اور سورج گہن ۲۸ رمضان کو ۷۴ برس میں چھ مرتبہ ہوا اور دونوں کا اجتماع ان تاریخوں میں تین مرتبہ ہوا۔ پھر کیا ایسے ہی گہن نشان و معجزہ ہو سکتے ہیں۔ ذرا ہوش کر کے جواب دو ۔ ۱۲

صفحہ 493

۱۵

گہنوں کی فہرست ملاحظہ ہو

نمبر شمار چاند یا سورج گہن گہن جزئی یا کلی سنہ عیسوی سنہ ہجری زمانہ اوسط چاند گہن یا سورج گہن انگریزی مہینہ عربی مہینہ مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ دوپہر دن یا آدھی رات ۱ چاند جزئی ۱۸۵۱ ۱۲۶۷ جنوری ۱۷ ربیع الاول ۱۳ دوپہر کے بعد رمضان شریف ۲ چاند جزئی 〃 〃 جولائی ۱۳ رمضان ۱۴ آدھی رات کے بعد میں گہنوں کا پہلا ۳ سورج 〃 〃 جولائی ۲۸ رمضان ۲۸ دوپہر کے بعد اجتماع ۴ چاند کلی ۱۸۵۲ ۱۲۶۸ جنوری ۷ ربیع الاول ۱۴ آدھی رات کے بعد ۵ چاند کلی 〃 〃 جولائی ۱ رمضان ۱۴ دوپہر کے بعد ۶ سورج 〃 ۱۲۶۹ دسمبر ۱۱ صفر ۲۸ آدھی رات کے بعد ۷ چاند جزئی 〃 〃 دسمبر ۲۶ ربیع الاول ۱۴ دوپہر کے بعد ۸ چاند جزئی ۱۸۵۳ 〃 جون ۲۱ رمضان ۱۳ آدھی رات کے بعد ۹ چاند 〃 ۱۸۵۴ ۱۲۷۰ مئی ۱۲ شعبان ۱۴ دوپہر کے بعد ۱۰ چاند 〃 〃 ۱۲۷۱ نومبر ۴ صفر ۱۲ دوپہر کے بعد ۱۱ چاند کلی ۱۸۵۵ 〃 مئی ۲ شعبان ۱۴ آدھی رات کے بعد ۱۲ سورج 〃 〃 مئی ۱۶ شعبان ۲۸ 〃 ۱۳ چاند کلی 〃 ۱۲۷۲ اکتوبر ۲۵ صفر ۱۳ 〃 ۱۴ چاند جزئی ۱۸۵۶ ۱۲۷۲ اپریل ۲۰ شعبان ۱۴ آدھی رات کے بعد ۱۵ سورج 〃 ۱۲۷۳ ستمبر ۲۹ محرم ۲۸ 〃 ۱۶ چاند جزئی ۱۸۵۷ 〃 اکتوبر ۱۳ صفر ۱۴ دوپہر کے بعد

صفحہ 494

14

گہنوں کی فہرست

نمبر شمار چاند گہن یا سورج گہن کلی یا جزئی سنہ عیسوی سنہ ہجری زمانہ اوسط چاند گہن یا سورج گہن انگریزی عربی مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ دوپہر یا آدھی رات کے بعد ۱۷ سورج ۱۸۵۷ ۱۲۷۴ ستمبر ۱۸ محرم ۲۸ آدھی رات کے بعد ۱۸ چاند جزئی ۱۸۵۸ " فروری ۲۷ رجب ۱۲ دوپہر کے بعد ۱۹ سورج " " مارچ ۱۵ رجب ۲۸ " ۲۰ چاند جزئی " ۱۲۷۵ اگست ۲۴ محرم ۱۴ " ۲۱ چاند کلی ۱۸۵۹ " فروری ۱۷ رجب ۱۳ آدھی رات کے بعد ۲۲ سورج " " جولائی ۲۹ ذی الحجہ ۲۸ دوپہر کے بعد ۲۳ چاند کلی " ۱۲۷۶ اگست ۱۳ محرم ۱۳ " ۲۴ چاند جزئی ۱۸۶۰ " فروری ۷ رجب ۱۴ آدھی رات کے بعد ۲۵ سورج " " جولائی ۱۸ ذی الحجہ ۲۸ دوپہر کے بعد ۲۶ چاند جزئی " ۱۲۷۷ اگست ۱ محرم ۱۳ " ۲۷ سورج ۱۸۶۱ " جنوری ۱۱ جمادی الثانی ۲۸ آدھی رات کے بعد ۲۸ سورج " " جولائی ۸ ذی الحجہ ۲۹ " ۲۹ چاند جزئی " ۱۲۷۸ دسمبر ۱۷ جمادی الثانی ۱۴ " ۳۰ سورج " " دسمبر ۳۱ جمادی الثانی ۲۸ دوپہر کے بعد ۳۱ چاند کلی ۱۸۶۲ " جون ۱۲ ذی الحجہ ۱۳ آدھی رات کے بعد ۳۲ چاند کلی " ۱۲۷۹ دسمبر ۶ جمادی الثانی ۱۳ "

صفحہ 495

۱۷

گہنوں کی فہرست

نمبر شمار چاند گہن یا سورج گہن کلی یا جزئی سنہ عیسوی سنہ ہجری زمانہ اوسط چاند گہن یا سورج گہن

انگریزی عربی

مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ دوپہر دن یا آدھی رات کے بعد

۳۳ سورج ۱۸۶۲ ۱۲۷۹ دسمبر ۲۱ جمادی الثانی ۲۸ آدھی رات کے بعد

۳۴ سورج ۱۸۶۳ " مئی ۱۷ ذیقعدہ ۲۷ دوپہر کے بعد

۳۵ چاند کلی " " جون ۲ ذی الحجہ ۱۴ آدھی رات کے بعد

۳۶ چاند جزئی " ۱۲۸۰ نومبر ۲۵ جمادی الثانی ۱۴ "

۳۷ سورج ۱۸۶۴ " مئی ۶ ذیقعدہ ۲۹ "

۳۸ چاند جزئی ۱۸۶۵ ۱۲۸۱ اپریل ۱۱ ذیقعدہ ۱۴ "

۳۹ چاند جزئی " ۱۲۸۲ اکتوبر ۴ جمادی الاولیٰ ۱۴ دوپہر کے بعد

۴۰ سورج ۱۸۶۵ ۱۲۸۲ اکتوبر ۱۹ جمادی الاولیٰ ۲۸ دوپہر کے بعد

۴۱ سورج ۱۸۶۶ " مارچ ۱۶ شوال ۲۸ "

۴۲ چاند کلی " " مارچ ۳۱ ذیقعدہ ۱۴ آدھی رات کے بعد

۴۳ چاند کلی " ۱۲۸۳ ستمبر ۲۴ جمادی الاولیٰ ۱۴ دوپہر کے بعد

۴۴ سورج ۱۸۶۷ " مارچ ۶ شوال ۲۸ آدھی رات کے بعد

۴۵ چاند جزئی " " مارچ ۲۰ ذیقعدہ ۱۴ "

۴۶ چاند جزئی " ۱۲۸۴ ستمبر ۱۴ جمادی الاولیٰ ۱۵ "

۴۷ سورج ۱۸۶۸ " اگست ۱۸ ربیع الثانی ۲۸ "

۴۸ چاند جزئی ۱۸۶۹ " جنوری ۲۸ شوال ۱۴ "

صفحہ 496

١٨

گہنوں کی فہرست

نمبر شمار چاند گہن یا سورج گہن کلی یا جزئی سنہ عیسوی سنہ ہجری زمانہ اوسط چاند گہن یا سورج گہن دوپہر دن یا آدھی رات کے بعد انگریزی عربی مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ ۴۹ چاند جزئی ۱۸۶۹ ۱۲۸۶ جولائی ۲۳ ربیع الثانی ۱۳ دوپہر کے بعد ۵۰ سورج " " اگست ۷ ربیع الثانی ۲۸ " ۵۱ چاند کلی ۱۸۷۰ " جنوری ۱۷ شوال ۱۴ " ۵۲ چاند کلی " ۱۲۸۷ جولائی ۱۲ ربیع الثانی ۱۴ " ۵۳ سورج ۱۸۷۰ ۱۲۸۷ دسمبر ۲۲ رمضان ۲۸ دوپہر کے بعد ۵۴ چاند جزئی ۱۸۷۱ " جنوری ۶ شوال ۱۴ " ۵۵ سورج " ۱۲۸۸ جون ۱۸ ربیع الاول ۲۸ آدھی رات کے بعد ۵۶ چاند جزئی " " جولائی ۲ ربیع الثانی ۱۳ دوپہر دن کے بعد ۵۷ سورج " " دسمبر ۱۲ رمضان ۲۸ آدھی رات کے بعد ۵۸ چاند جزئی ۱۸۷۲ ۱۲۸۹ مئی ۲۲ ربیع الاول ۱۳ دوپہر کے بعد ۵۹ سورج " " جون ۶ ربیع الاول ۲۸ آدھی رات کے بعد ۶۰ چاند " " نومبر ۱۵ شعبان ۱۳ " ۶۱ چاند کلی ۱۸۷۳ ۱۲۹۰ مئی ۱۲ ربیع الاول ۱۴ " ۶۲ سورج " " مئی ۲۶ ربیع الاول ۲۸ " ۶۳ چاند کلی " " نومبر ۴ رمضان ۱۴ دوپہر دن کے بعد ۶۴ چاند جزئی ۱۸۷۴ ۱۲۹۱ مئی ۱ ربیع الاول ۱۴ "

صفحہ 497

۱۹

گہنوں کی فہرست

نمبر شمار چاند گہن یا سورج گہن کلی یا جزئی سنہ عیسوی سنہ ہجری زمانہ اوسط چاند گہن یا سورج گہن انگریزی عربی مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ دوپہر دن یا آدھی رات کے بعد ۶۵ سورج ۱۸۷۴ ۱۲۹۱ اکتوبر ۱۰ شعبان ۲۸ آدھی رات کے بعد ۶۶ چاند جزئی ۱۸۷۴ ۱۲۹۱ اکتوبر ۲۵ رمضان ۱۳ آدھی رات کے بعد ۶۷ سورج ۱۸۷۵ ۱۲۹۲ اپریل ۶ صفر ۲۸ " ۶۸ سورج " " ستمبر ۲۹ شعبان ۲۸ دوپہر دن کے بعد ۶۹ چاند جزئی ۱۸۷۶ ۱۲۹۳ مارچ ۱۰ صفر ۱۳ آدھی رات کے بعد ۷۰ چاند " " " ستمبر ۳ شعبان ۱۴ دوپہر دن کے بعد ۷۱ چاند کلی ۱۸۷۷ ۱۲۹۴ فروری ۲۷ صفر ۱۳ " ۷۲ سورج " " مارچ ۱۵ صفر ۲۹ آدھی رات کے بعد ۷۳ سورج " " اگست ۹ رجب ۲۸ " ۷۴ چاند کلی " " اگست ۲۳ شعبان ۱۳ دوپہر دن کے بعد ۷۵ چاند کلی ۱۸۷۸ ۱۲۹۵ فروری ۱۷ صفر ۱۴ آدھی رات کے بعد ۷۶ سورج " " جولائی ۲۹ رجب ۲۸ دوپہر کے بعد ۷۷ چاند جزئی " " اگست ۱۲ شعبان ۱۴ آدھی رات کے بعد ۷۸ سورج ۱۸۷۹ ۱۲۹۶ جنوری ۲۲ محرم ۲۸ دوپہر کے بعد ۷۹ سورج ۱۸۷۹ ۱۲۹۶ جولائی ۱۹ رجب ۲۸ آدھی رات کے بعد ۸۰ چاند جزئی " ۱۲۹۷ دسمبر ۲۸ محرم ۱۴ دوپہر کے بعد

صفحہ 498

۲۰

گہنوں کی فہرست

نمبر شمار چاند گہن ہے یا سورج گہن کلی ہے یا جزئی سنہ عیسوی سنہ ہجری زمانہ اوسط چاند گہن یا سورج گہن انگریزی عربی دوپہر دن یا آدھی مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ رات کے بعد ۸۱ سورج ۱۸۸۰ ۱۲۹۷ جنوری ۱۱ محرم ۱۲ دوپہر کے بعد ۸۲ چاند کلی " " جون ۲۲ رجب ۱۳ " ۸۳ چاند کلی " ۱۲۹۸ دسمبر ۱۶ محرم ۱۳ " ۸۴ سورج " " دسمبر ۳۱ محرم ۲۸ " ۸۵ سورج ۱۸۸۱ " مئی ۲۸ جمادی الثانی ۲۹ آدھی رات کے بعد ۸۶ چاند کلی " " جون ۱۲ شعبان ۱۴ " ۸۷ چاند جزئی " ۱۲۹۹ دسمبر ۵ محرم ۱۲ دوپہر کے بعد ۸۸ سورج ۱۸۸۲ " مئی ۱۷ جمادی الثانی ۲۸ آدھی رات کے بعد ۸۹ سورج " " نومبر ۱۱ ذی الحجہ ۲۹ " ۹۰ چاند ۱۸۸۳ ۱۳۰۰ اپریل ۲۲ جمادی الثانی ۱۴ دوپہر کے بعد ۹۱ چاند جزئی " " اکتوبر ۱۶ ذی الحجہ ۱۴ آدھی رات کے بعد ۹۲ سورج ۱۸۸۳ ۱۳۰۰ اکتوبر ۳۱ ذی الحجہ ۲۹ آدھی رات کے بعد ۹۳ سورج ۱۸۸۴ ۱۳۰۱ مارچ ۲۷ جمادی الاول ۲۸ ۹۴ چاند کلی " " اپریل ۱۰ جمادی الثانی ۱۴ دوپہر کے بعد ۹۵ چاند کلی " " اکتوبر ۴ ذی الحجہ ۱۴ ۹۶ سورج " " اکتوبر ۱۹ ذی الحجہ ۲۹ آدھی رات کے بعد

صفحہ 499

۲۱

گہنوں کی فہرست

زمانہ اوسط چاند گہن یا سورج گہن انگریزی عربی نمبر شمار چاند گہن یا سورج گہن کلی یا جزئی سنہ عیسوی سنہ ہجری مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ دوپہر یا آدھی رات کے بعد ۹۷ چاند جزئی ۱۸۸۵ ۱۳۰۲ مارچ ۳۰ جمادی الثانی ۱۲ دوپہر کے بعد ۹۸ چاند جزئی " " ستمبر ۲۴ ذی الحجہ ۱۴ آدھی رات کے بعد ۹۹ سورج ۱۸۸۶ ۱۳۰۳ اگست ۲۹ ذیقعدہ ۸ دوپہر کے بعد ۱۰۰ چاند جزئی ۱۸۸۷ ۱۳۰۴ فروری ۸ جمادی الاولیٰ ۱۴ آدھی رات کے بعد ۱۰۱ چاند جزئی " " اگست ۳ ذیقعدہ ۱۴ دوپہر کے بعد ۱۰۲ سورج " " اگست ۱۹ ذیقعدہ ۲۸ آدھی رات کے بعد ۱۰۳ چاند کلی ۱۸۸۸ ۱۳۰۵ جنوری ۲۸ جمادی الاولیٰ ۱۴ دوپہر کے بعد ۱۰۴ چاند کلی " " جولائی ۲۳ ذیقعدہ ۱۳ آدھی رات کے بعد ۱۰۵ چاند جزئی ۱۸۸۹ ۱۳۰۶ جنوری ۱۷ جمادی الاولیٰ ۱۴ آدھی رات کے بعد ۱۰۶ چاند جزئی " " جولائی ۱۲ ذیقعدہ ۱۳ دوپہر کے بعد ۱۰۷ سورج " ۱۳۰۷ دسمبر ۲۲ ربیع الثانی ۲۸ " ۱۰۸ چاند جزئی ۱۸۹۰ " جون ۳ شوال ۱۴ آدھی رات کے بعد ۱۰۹ سورج " " جون ۱۷ شوال ۲۸ " ۱۱۰ چاند جزئی " ۱۳۰۸ نومبر ۲۶ جمادی الاولیٰ ۱۴ دوپہر کے بعد ۱۱۱ چاند کلی ۱۸۹۱ " مئی ۲۳ شوال ۱۴ " ۱۱۲ سورج " " جون ۶ شوال ۲۸ "

صفحہ 500

۲۲

گہنوں کی فہرست

نمبر شمار چاند گہن یا سورج گہن کلی یا جزئی سنہ عیسوی سنہ ہجری زمانہ اوسط چاند گہن یا سورج گہن انگریزی عربی مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ دوپہر دن یا آدھی رات کے بعد ۱۱۳ چاند کلی ۱۸۹۱ ۱۳۰۹ نومبر ۱۶ ربیع الثانی ۱۳ آدھی رات کے بعد ۱۱۴ چاند جزئی ۱۸۹۲ 〃 مئی ۱۱ شوال ۱۳ دوپہر کے بعد ۱۱۵ چاند کلی 〃 ۱۳۱۰ نومبر ۴ ربیع الثانی ۱۳ 〃 ۱۱۶ سورج 〃 ۱۸۹۳ 〃 اپریل ۱۶ رمضان ۲۸ 〃 رمضان شریف ۱۱۷ چاند جزئی ۱۸۹۴ ۱۳۱۱ مارچ ۲۱ رمضان ۱۴ دوپہر کے بعد میں گہنوں کا دوسرا ۱۱۸ سورج 〃 〃 〃 〃 ۶ رمضان ۲۸ آدھی رات کے بعد اجتماع ۱۱۹ چاند جزئی ۱۸۹۴ ۱۳۱۲ ستمبر ۱۵ ربیع الاول ۱۴ آدھی رات کے بعد ۱۲۰ سورج 〃 〃 〃 〃 ۲۹ ربیع الاول ۲۸ 〃 رمضان شریف ۱۲۱ چاند کلی ۱۸۹۵ 〃 مارچ ۱۱ رمضان ۱۴ آدھی رات کے بعد میں گہنوں کا تیسرا ۱۲۲ سورج 〃 〃 〃 〃 ۲۶ رمضان ۲۸ 〃 اجتماع ۱۲۳ سورج 〃 〃 ۱۳۱۳ اگست ۲۰ صفر ۲۸ دوپہر کے بعد ۱۲۴ چاند کلی 〃 〃 ستمبر ۴ ربیع الاول ۱۴ آدھی رات کے بعد

یہ پینتالیس برس کے گہنوں کی فہرست ہے جو حدائق النجوم فارسی اور مسٹر کیتھ کی انگریزی کتاب یوز آف دی گلوبس سے نقل کی گئی ہے صرف سن ہجری کی مطابقت زیادہ کر دی گئی ہے اس فہرست میں دو باتوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس فہرست سے معلوم ہوا کہ ماہر علم ہیئت اور نجوم نے خاص گہن کے

صفحہ 501

۸۳

کہ ایسا واقعہ کبھی ظہور میں نہیں آیا۔ یہ کہنا حدیث کے صریح خلاف ہے۔ حدیث میں نہایت صاف طور سے دو واقعے بیان کئے ہیں ایک چاند گہن کا دوسرا سورج گہن کا اور دونوں کی نسبت یہ کہا ہے کہ ان دونوں واقعوں کا ظہور کسی وقت میں نہیں ہوا ۔ یہ وجہ ہے حدیث میں کہا گیا کہ ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں۔

غلطی / افتراء

دوسری غلط بیانی اس جملہ میں یہ ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی طرف سے اُن گہنوں کیلئے یہ قید بڑھائی ہے کہ کسی رسول یا نبی کے وقت میں اُن کا ظہور نہیں ہوا۔ حالانکہ حدیث کے کسی جملہ یا کسی لفظ میں اس قید کا اشارہ بھی نہیں ہے۔ بلکہ حدیث کا آخری جملہ نہایت وضاحت سے بتا رہا ہے کہ ان گہنوں کے دونوں واقعے ایسے بنظیر ہیں کہ مہدی سے پہلے کسی وقت میں انکا ظہور نہوا ہو گا۔ یہ جملہ صاف بتا رہا ہے کہ کسی رسول یا نبی کیوقت کی قید غلط ہے۔

غرضیکہ اس جملے میں مرزا صاحب نے دو غلطیاں کیں یا یوں کہا جائے کہ دو تحریفیں کیں ایک یہ کہ دو واقعوں کو ایک بتایا و دوسری یہ کہ حدیث میں رسول کیوقت کی قید نہ تھی مرزا صاحب نے اپنی طرف سے بڑھادی۔

ناظرین اسپر نظر کریں کہ یہاں تک نفس حدیث کا بیان تھا جسمیں چھ فقرے مرزا صاحب کے نقل کئے گئے۔ ان چھ فقروں میں مختلف طریقے سے گیارہ غلطیاں مرزا صاحب کی بیان کی گئیں صاحبان دانش غور کے بعد اس کو بخوبی معلوم کر سکتے ہیں۔

اب بیان حدیث کے بعد مرزا صاحب کے دعوے اور رفع اعتراضات کو ملاحظہ کیا جائے لکھتے ہیں ۔

(۷) جملہ ماہرین ہیئت اس بات کے گواہ ہیں کہ میرے زمانہ میں ہی جس کو عرصہ قریباً بارہ سال گذر چکا ہے اسی صفت کا چاند اور سورج کا گہن رمضان کے مہینہ میں وقوع میں آیا ہے “ اس قول میں مرزا صاحب اس طرح کے گہن کو اپنے زمانہ سے خاص کرتے ہیں

صفحہ 502

۸۴ اور کہتے ہیں کہ میرے ہی زمانہ میں اس صفت کا گہن وقوع میں آیا۔ حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ جملہ ماہرین ہیئت اور ناظرین حدائق النجوم اور رسالہ یوز آف دی گلوبس اس کے غلط ہونے پر گواہ ہیں اور اس کی بھی گواہی دیتے ہیں کہ اس صفت کے گہن اپنے معہود وقت پر ہوتے رہتے ہیں اس کا شمار کوئی نہیں بتا سکتا کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کتنے مرتبہ اور کس کس وقت رمضان کی ۱۳ اور اٹھائیس تاریخ کو گہن ہوا۔ یہ بیان سابق سے ظاہر ہے کہ صرف چھیالیس برس کے عرصہ میں تین مرتبہ اس قسم کا گہن ہوا۔ اسپر قیاس کیا جائے کہ اسی سے قبل بے انتہاء زمانہ میں کتنے مرتبہ ہوا ہوگا۔ اس کے بعد ص ۱۹ میں لکھتے ہیں ۔

واقع ہو چکا ہے۔ اوّل اس ملک میں دوسرے امریکہ میں اور دونوں انہیں تاریخوں میں ہوئے جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے“ اس قول کا حاصل یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جو کہ ہمارے مہدی کے لئے اس قسم کے گہن دو مرتبہ ہوں گے۔ مگر یہ محض غلط ہے کسی حدیث میں ایسا نہیں آیا۔ اگر کسی کو دعوے ہو تو اس حدیث کو دکھائے جھوٹ مگر نہیں دکھا سکتا۔ اور مرزا صاحب کی صداقت ثابت نہیں کر سکتا۔ کوئی صحیح حدیث ایسی نہیں ہے جس سے صراحۃً یا اشارۃً یہ دعوے ثابت ہوتا ہو اور اگر غور سے دیکھا جائے تو دارقطنی کی مذکورہ روایت اس کو غلط ثابت کرتی ہے۔

۱۴ دوسری غلطی اس قول میں یہ ہے کہ ایسے گہنوں کا دو مرتبہ وقوع میں آنا لکھ کر کہتے ہیں کہ اوّل اس ملک میں یعنی ہندوستان میں۔ دوسرے امریکہ میں حالانکہ اسکے برعکس ہوا ہے یعنی اوّل امریکہ میں ۱۸۸۹ء کے رمضان میں ہوا۔ یہ وہ ملک ہے جہاں مسٹر ڈوئی مدعی کاذب موجود تھا۔ اور دوسرے ہندوستان میں ۱۸۹۴ء کے رمضان میں۔ اور مرزا صاحب نے اوّل اسی سن کے گہن کو اپنے لئے شہادت قرار دیا تھا

صفحہ 503

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ الاحزاب ۴۰

مُحَمَّدِیَّہ پاکٹ بُک

مُؤَلِّفَہ

مولانا مُحَمَّد عبداللہ صاحب معمار مرحوم امرتسری ۱۳۶۹ھ ۱۹۵۰ء

فاضل مرزائیات

ناشر

اَلْمَكْتَبَةُ السَّلَفِيَّة شیش محل روڈ، لاہور ۲

صفحہ 504

۶۴۹ محمدیہ پاکٹ بک

باب چہارم

مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ

مرزا صاحب کے کذاب ہونے پر تیرھویں دلیل

مرزا صاحب نے جب اپنے جھوٹے دعاوی سے دنیا کو گمراہ کرنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہر فرعونے را موسیٰ والی قدیم سنت کو کام فرما کر مرزا صاحب کا سر کچلنے کو حضرت مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری کو کھڑا کیا۔ چنانچہ مولانا موصوف نے مرزا صاحب کے جال کو تار تار بکھیر دیا اور ہر میدان میں قادیانی علماء کو فاش شکستیں دیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا صاحب اپنی عمارت کو گرتے دیکھ کر اپنے باغ کو اجڑتے ملاحظہ کر کے اپنے گھر کو برباد ہوتے اپنی زمین کو تاخت و تاراج ہوتے دیکھ کر بظاہر سر دھڑ کی بازی مگر بباطن چالبازی پر اتر آئے چنانچہ آپ نے ایک نہایت ہی پر فریب اور دجل آمیز اشتہار دیا اور باوجودیکہ مرزا کو خدا پر قطعاً ایمان نہ تھا۔ پھر بھی لوگوں کے دکھلانے کو اس اشتہار میں خدا کو مخاطب کرتے ہوئے یہ دعا کی :

مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ يَسْتَنْبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ ط قُلْ اِيْ وَرَبِّيْ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ط

صفحہ 505

۶۵۰ ضمیمہ پاکٹ بک

بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ ۔ مدت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے۔ اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افترا ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کیلئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں کہ میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا ۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی ہی میں ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہے ۔ تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ سنت اللہ کے موافق مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے ۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے ۔ جیسے طاعون ، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں ۔ یہ کسی وحی یا الہام کی بنا پر پیشگوئی نہیں بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افترا ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افترا کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک

صفحہ 506

ختم نبوت پر چند منتخب آیات و احادیث

بحمد اللہ پندرہ روزہ رد قادیانیت کورس اور اس میں آنے والے حوالہ جات کا عکسی ضمیمہ مکمل ہوا۔ اب آخر میں طلبہ کی آسانی وسہولت کے لئے ختم نبوت کی دلیل بننے والی کچھ منتخب آیات واحادیث اجمالی طور پر ذکر کی جارہی ہیں۔ ان کی مزید تفصیل تشریح تفاسیر وشروح کے علاوہ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ”ختم نبوت کامل“ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

ختم النبوة فى القرآن:

وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما. (الأحزاب:۴۰)

ورضيت لكم الإسلام ديناً. (المائدہ:۳)

وحكمة ثم جاء كم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه.

(آل عمران:۸۱)

ملك السمٰوت والأرض. (الأعراف:۱۵۸)

نذيراً. (الفرقان:۱)

صفحہ 507

آیت نمبر۷: - وأوحى إلى هذا القران لأنذركم به ومن بلغ. (الانعام:۱۹)

آیت نمبر۸:- يأيها الناس قد جاء كم الرسول بالحق من ربكم فأمنوا خيرا لكم. (النساء:۱۷۰)

آیت نمبر۹:- وما أرسلناك إلا رحمة للعلمين . (الأنبياء:۱۰۷)

آیت نمبر۱۰:- ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولّى ونصله جهنم وساء ت مصيرا . (النساء:۱۱۵)

آیت نمبر۱۱:- ثلة من الأولين وقليل من الأخرين. (الواقعة:۱۳-۱۴)

آیت نمبر۱۲:- ثلة من الأولين وثلة من الأخرين. (الواقعة:۳۹-۴۰)

آیت نمبر۱۳:- ألم نهلك الأولين ثم نتبعهم الأخرين.

(المرسلت:۱۶-۱۷)

آیت نمبر۱۴:- وإن تسألوا عنها حين ينزل القرآن تبدلكم. (المائدة:۱۰۱)

آیت نمبر۱۵:- هو الذى أرسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله وكفى بالله شهيدا. (الفتح:۲۸)

آیت نمبر۱۶:- يأيها الذين امنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولى الأمر منكم . (النساء:۵۹)

آیت نمبر۱۷:- ومن يطع الله ورسوله يدخله جنّت تجرى من تحتها الأنهر ومن يتول يعذبه عذابا أليما. (الفتح:۱۷)

آیت نمبر۱۸:- من يطع الرسول فقد أطاع الله ومن تول فما أرسلنك عليهم حفيظا . (النساء:۸۰)

آیت نمبر۱۹:- ألم تر إلى الذين يزعمون أنهم أمنوا بما أنزل إليك وما أنزل من قبلك . (النساء:۶۰)

آیت نمبر۲۰:- والذين امنوا وعملوا الصلحت وأمنوا بما نزل على

صفحہ 508

محمد وهو الحق من ربهم كفر عنهم سيئاتهم وأصلح بالهم . (محمد:٢)

ختم النبوة فى الحديث :

حديث نمبر ١: عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن مثلى ومثل الأنبياء من قبلى كمثل رجل بنى بيتا فأحسنه وأجمله إلا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به يعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة وأنا خاتم النبيين.

(بخاری:کتاب الانبیاء، مسلم:ج۲،ص۲۴۸)

حديث نمبر ٢:عن أبى سعيد بن الخدرى رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مثلى ومثل النبيين كمثل رجل بنى داراً فأتمها إلا لبنة واحدة فجئت أنا فأتممت تلك اللبنة. (رواه مسلم واحمد)

حديث نمبر ٣:عن جابر رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مثلى ومثل الأنبياء من قبلى كمثل رجل بنى داراً فأكملها وأحسنها إلا موضع لبنة فكان من دخلها فنظر إليها وقال ما أحسنها إلا موضع اللبنة فختم بى الأنبياء. (رواه الشیخان والترمذی وابن ابی حاتم)

حديث نمبر ٤:عن أبى حازم رضى الله تعالى عنه قال قاعدت أبا هريرة خمس سنين فسمعته يحدث عن النبى صلى الله عليه وسلم قال كانت بنو إسرائيل تسوسهم الأنبياء كلما هلك نبى خلفه نبى وأنه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء فيكثرون قالوا فما تأمرنا، قال فوا بيعة الأول فالأول، أعطوهم حقهم فإن الله سائلهم عما استرعاهم. (بخاری:ج۱،ص۴۹۱،

مسلم:کتاب الامارة، مسند احمد: ج۲، ص۲۹۷، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن ابی شیبہ)

حديث نمبر ٥: عن جبير بن مطعم رضى الله تعالى عنه أن النبى صلى

صفحہ 509

الله عليه وسلم قال أنا محمد أنا أحمد وأنا الماحى الذى محى الله بى الكفر و أنا حاشر الذى يحشر الناس على عقبى وأنا العاقب والعاقب الذى ليس بعده نبى. (بخاری: ج ۱،ص ۵۲۱)

حدیث نمبر ۶: - عن أبى هريرة رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لقد كان فيما قبلكم من الأمم محدثون فإن يكن فى أمتى أحد فإنه عمر، زاد زكريا بن أبى زائدة عن سعد أبى سلمة عن أبى هريرة رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لقد كان فيما كان قبلكم من بنى إسرائيل رجال يكلمون من غير أن يكونوا أنبياء فإن يكن فى أمتى منهم أحد فعمر . ( رواه البخاری رحمہ اللہ تعالى فى صحيحه ص ۵۲۱ ج ۱ فى مناقب عمر وكذلک رواه مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ)

حدیث نمبر ۷: - عن سعد بن أبى وقاص رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلى أنت منى بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبى بعدى . (رواه البخارى ومسلم فى غزوه تبوک) وفى لفظ المسلم خلفه عليه السلام فى بعض مغازيه فقال له على يارسول الله صلى الله عليه وسلم خلفتنى مع النساء والصبيات فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم أما ترضى أن تكون بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبوة بعدى وفى لفظ آخر عنده إلا أنك لست نبياً .

حدیث نمبر ۸: - عن أبى هريرة رضى الله تعالى عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال لا تقوم الساعة حتى يقتتل فئتان فيكون بينهما مقتله عظيمة دعوهما واحدة ولا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريبا من ثلاثين كلهم يزعم أنه رسول الله. (رواه البخارى ومسلم واحمد )

صفحہ 510

حدیث شریف ۱۵: عن ابی موسیٰ الاشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یسمی لنا نفسہ اسماء فقال أنا محمد وأحمد والمقفی. الحدیث (مسلم: ج۲،ص ۲۶۱)

حدیث شریف ۱۶: عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فی حدیث الشفاعۃ فیقول لھم عیسیٰ اذھبوا الی غیری اذھبوا الی محمد صلی اللہ علیہ وسلم فیأتون محمداً صلی اللہ علیہ وسلم فیقولون یا محمد، أنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) وخاتم النبیین الخ

(بخاری: ج۲،ص۶۸۵، مسلم: ج۱،ص۱۱۱)

حدیث شریف ۱۷: عن أنس رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعثت أنا والساعۃ کھاتین.

(بخاری، مشکوٰۃ المصابیح باب قرب القیامۃ)

حدیث شریف ۱۸: عن عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا قالت قال رسول اللہ صلی اللہ قد کان فی الامم قبلکم محدثون فإن یکن فی أمتی منھم أحد فعمر بن الخطاب. (مسلم، نسائی وابویعلیٰ واحمد)

حدیث شریف ۱۹: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نحن الآخرون السابقون یوم القیامۃ بید أنھم اوتوا الکتاب من قبلنا واوتینا من بعدھم.

الحدیث (بخاری ومسلم والنسائی من الکنز: ج۲،ص۲۳۰)

حدیث نمبر ۲۰: عن حذیفۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مثلہ ولفظہ نحن الآخرون من أھل الدنیا والأولون یوم القیامۃ. (مسلم ج۲ ص۲۸۲)

صفحہ 511

حدیث نمبر ۹:۔ عن جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مثلہ عند

مسلم . (فتح الباری مطبوعہ ہند ص ۲۴۳ ، باب ۱۴)

حدیث نمبر ۱۰:۔ عن ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أنہ سیکون فی أمتی کذابون ثلثون کلہم یزعم أنہ نبی وأنا خاتم النبیین لا نبی بعدی. (رواہ مسلم)

حدیث نمبر ۱۱:۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال فضلت علی الأنبیاء بست أعطیت جوامع الکلم ونصرت بالرعب أحلت لی الغنائم وجعلت لی الأرض مسجداً وطہورا وأرسلت إلی الخلق کافۃ وختم بی النبیون. (رواہ مسلم فی الفضائل)

حدیث نمبر ۱۲:۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا أیہا الناس إنہ لم یبق من النبوۃ إلا المبشرات.

(بخاری فی کتاب التعبیر : ج ۱۲، ص ۳۳۱)

حدیث نمبر ۱۳:۔ عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کشف الستارۃ ورأسہ معصوب فی مرضہ الذی مات فیہ والناس صفوف خلف أبی بکر فقال یا أیہا الناس إنہ لم یبق من مبشرات النبوۃ الا الرؤیاء الصالحۃ یراہا المسلم أو تریٰ لہ.

(مسلم والنسائی وغیرہ)

حدیث شریف ۱۴:۔ عن عبداللہ بن إبراہیم بن قارظ أشہد أنی سمعت أباہریرۃ یقول قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فإنی آخر الأنبیاء ومسجدی اخر المساجد.

(مسلم : ج ۱، ص ۲۴۶ ، نسائی ولفظہ خاتم الانبیاء وخاتم المساجد )

PDF 742

اہم اعلان

پندرہ روزہ کورس برائے رد قادیانیت

آپ کے ہاتھ میں ہے) کے ذریعہ سے مناظر اسلام حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ تقریباً چالیس سال سے مسلسل اپنے مرکزی ادارہ دعوت وارشاد چنیوٹ میں ’’پندرہ روزہ کورس برائے رد قادیانیت‘‘ ماہِ شعبان میں خود بہت اہتمام کے ساتھ پڑھاتے ہیں۔ کورس کے اختتام پر باقاعدہ امتحان ہوتا ہے جس میں اول، دوم، سوم آنے والے طلبہ کے لیے ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے اور شرکاء دورہ کو اسناد وانعامات سے نوازا جاتا ہے۔

یہ کورس ۶ شعبان سے ۲۰ شعبان تک ہر سال باقاعدہ منعقد کیا جاتا ہے۔ خواہش مند حضرات درج ذیل پتہ پر رجوع کریں۔

دوسالہ تخصص فی ردالقادیانیہ

دورہ حدیث شریف کے فضلاء کے لیے دوسالہ ’’تخصص فی ردالقادیانیہ‘‘ کا انتظام بھی کیا گیا ہے جس میں ذی استعداد طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ انگلش اور کمپیوٹر بھی سکھانے کا اہتمام ہے۔ قیام وطعام کے علاوہ شرکاء کو ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔ خواہش مند حضرات ، فضلاء کرام دورۂ حدیث کی اصل سند کے ہمراہ داخلہ لے سکتے ہیں ۔ یہ داخلہ شوال کی ابتداء میں ہوتا ہے۔

’’وفاق‘‘ کے تحت درسِ نظامی کی تعلیم کا بھی معقول انتظام ہے۔

المعلن: محمد ثناء اللہ چنیوٹی ناظم شعبہ نشرواشاعت، جامعہ عربیہ، ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد نزد تھانہ صدر کچہری چنیوٹ ضلع جھنگ (پنجاب) فون: 0466-332820 موبائل: 0320-4892512 فیکس: 0466-331330