ناموس رسالت ﷺ کے خلاف بے نظیر فیصلہ · علامہ ابو ٹیپو خالد الازہری
Namoos-e-Rasalat K Kilaf Banazeer ka Faysla · Allama Abu Tipu Khalid al Azhari
PDF 1

ناموس رسالتﷺ کے خلاف

بے نظیر فیصلہ

گستاخان رسول کی حکومتی سرپرستی اور

حوصلہ افزائی کی شرمناک داستان

ترتیب و تحقیق:

علامہ ابو ٹیپو خالد الازہری

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف تحفظ ناموس رسالت، لاھور

PDF 2

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں

نام کتاب ............. ناموس رسالت ﷺ کے خلاف بے نظیر فیصلہ ترتیب و تحقیق ............. علامہ ابو ٹیپو خالد الازہری بار اول ............. گیارہ سو سن اشاعت ............. 1999ء ناشر ............. انٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف تحفظ ناموس رسالت ﷺ لاہور قیمت ............. 200/= روپے

کو عدالت کی طرف سے س

ایڈیشنل سیشن جج لاہور کا

اور سیکولر رہنماؤں کا رو

صفحہ 3

فہرست

کو عدالت کی طرف سے موت کی سزا 34

ایڈیشنل سیشن جج لاہور کا مکمل فیصلہ 35

اور سیکولر رہنماؤں کا ردعمل 50

صفحہ 4

سے عناد ختم کرے (اداریہ روزنامہ نوائے وقت لاہور) 56

فرمودات (اداریہ روزنامہ خبریں لاہور) 58

کی سزا (اداریہ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی) 59

(پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث کراچی) 60

نوٹس لے (اداریہ روزنامہ خبریں لاہور) 66

سفارت کاروں کی ملاقاتیں 70

(اداریہ روزنامہ نوائے

(نصر اللہ خلجی نمائندہ '

کا خون (ماہنامہ الدعوہ

(اداریہ ماہنامہ الخیر ملتان

کا منصوبہ اور قتل غا

کر رہی ہے (ماہنامہ '

صفحہ 5

مذہبی و سیاسی رہنماؤں کے تاثرات 165

(اداریہ روزنامہ نوائے وقت لاہور) 173

(نصراللہ خلجی نمائندہ ”تکبیر“ کی رپورٹ) 191

کا خون (ماہنامہ الدعوہ لاہور کی رپورٹ) 196

(اداریہ ماہنامہ الخیر ملتان) 203

کا منصوبہ اور قتل غارت گری (اداریہ ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان) 205

کر رہی ہے (ماہنامہ محقق لاہور) 207

صفحہ 6

(اداریہ ہفت روزہ لولاک فیصل آباد) 209

(نمائندہ ہفت روزہ زندگی لاہور کی رپورٹ) 212

بیرون ملک روانگی سے قانونی پیچیدگیاں (سرفراز سید کا تجزیہ) 219

کریں گی؟ (پندرہ روزہ تحریک لاہور) 222

(اداریہ ماہنامہ عالم اسلام اور عیسائیت، اسلام آباد) 224

صفحہ 7
صفحہ 8

سزائے موت دے دی گئی 258

فکر انگیز تحریریں 259

کا اندیشہ خلیل ملک 287

اور یورپی پریس ڈاکٹر یٰسین رضوی 290

صفحہ 9

میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ کا جائزہ مولانا زاہد الراشدی 293

جج صاحبان جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ 314

این جی اوز کی آڑ میں گھناؤنی سرگرمیاں جیمز صوبے خاں 395

افراد تلاش کرتے ہیں وجیہہ احمد صدیقی 400

صفحہ 10

پاکستان کے خلاف سازش چوہدری رستم علی 415

(مجلس ختم نبوت) 419

عہدوں پر قادیانیوں کا تقرر 422

بے نظیر بھٹو کو سزائے موت دی جائے 419

(پیرس کے ادارے کا ایوارڈ برائے 1988ء) 430

یہ تیرے حبیب ﷺ کی بات ہے ڈاکٹر اے آر خالد 443

صفحہ 11

انتساب

غازی علم الدین شہید کے نقش قدم پر گامزن

مجاہد تحفظ ناموس رسالت ﷺ

احمد شیر خان نیازی

(حال مقیم کیمپ جیل لاہور)

کے نام

جو پوری ملت اسلامیہ کی آبرو ہے!

صفحہ 12

احساس زیاں

امت مسلمہ کا فرد واحد ہو یا پوری قوم‘ سب کا معاملہ یہی ہے کہ ان کی عزت و وقار‘ شرف و افتخار‘ اقتدار و اختیار‘ سطوت و جلال‘ کمال و جمال سب کا راز محمد عربی ﷺ کے نقش پا سے وابستگی ہی میں مضمر ہے۔ ان کی عظمت و محبت کا سوت و منبع بھی محمد ﷺ‘ ان کے دین و عقائد کا ماخذ و مرکز بھی محمد ﷺ‘ ان کے ایمان و اعمال کا مبتدا و منتہا بھی محمد ﷺ اور ان کے لیے سب سے معتبر‘ سب سے کامل و اکمل حوالہ بھی محمد ﷺ ۔

مسلمان اگر کسی کو جانتے اور مانتے ہیں تو اسی حوالے سے‘ مسلمانوں میں اگر کوئی بڑا بنتا ہے تو اسی حوالے سے‘ اور جو بھی آگے بڑھتا اور چلتا ہے تو اسی حوالے سے۔ مسلمان تو ابوبکر کو بھی مانتے ہیں تو اس لیے کہ وہ دامن محمد ﷺ سے وابستہ ہیں۔ عمر کو اگر جانتے ہیں تو وہ بھی اس لیے کہ وہ بھی نعلین محمد ﷺ پہ فدا۔ عثمان و علی کی اہمیت ہے تو وہ بھی نام محمد ﷺ کے دم سے۔ نماز ہو یا روزہ‘ زکوٰۃ ہو یا حج‘ قبلہ ہو یا قرآن‘ بلکہ اللہ کا فرمان‘ سب کی پہچان اس لیے کہ محمد ﷺ نے یوں ہی فرمایا ہے۔

عظمت مسلم کا یہی وہ بنیادی پتھر ہے جسے اپنی راہ سے ہٹانے کے لیے کفر و باطل بے چین رہتا ہے۔ اس کے لیے کبھی تو وہ براہ راست وار کرتا ہے اور کبھی وحید الدین قسم کے لوگوں کو اندر ہی اندر جڑیں کھوکھلی کرنے پہ مامور کر دیتا ہے۔ ایسی ہی اک صورت حالات وطن عزیز میں اس وقت منظر عام پر آئی تھی جب گوجرانوالہ کے نواحی گاؤں میں چند عیسائیوں کی طرف سے توہین محمد ﷺ کا ارتکاب کیا گیا۔ اس ”سنہری موقع“ پہ ”تربیت یافتہ“ لوگ اپنی کمین گاہوں سے نکل کر فوراً میدان میں آ کودے اور نہ صرف اس فعل شنیع کے مرتکب افراد کی حمایت میں کمربستہ ہوئے بلکہ آزادی فکر‘ اظہار رائے کی آزادی اور حقوق انسانی کے نام پر رسول اقدس ﷺ کی شان میں گستاخی کا حق بھی طلب کرنے

صفحہ 13

لگے اور اس ضمن میں عائد قانونی پابندیوں کو توڑنے کے لیے اپنے آقاؤں کی سفارشیں بھی لانے لگے۔ ان لوگوں کا یہ طرز عمل اور رویہ تو میری نظر میں اتنا حیران کن نہیں (کہ وہ تو اپنے ”فرائض“ کو بطریق احسن انجام دے رہے تھے) جتنا کہ یہ امر پریشان کن اور تشویش ناک ہے کہ اس نازک موقع پر عشق محمد ﷺ کے دعویداروں کی طرف سے جس غیرت و حمیت کا مظاہرہ ہونا چاہیے تھا‘ وہ دور دور تک نظر نہیں آیا۔ کفر و باطل کو شاید یہی ٹیسٹ مطلوب تھا۔ اگر یہی تھا تو یقیناً اس کا نتیجہ ان کے کاغذات میں مثبت ہی لکھا گیا ہو گا۔ ہاں مگر چند ”دیوانے“ تھے جو آہ و فغاں کرتے رہے مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے؟ اس ”داستان بے غیرتی“ کی لمحہ بہ لمحہ روداد اور مرتب تاریخ علامہ ابو ٹیپو خالد الازہری نے آپ کے سامنے لا کر رکھ دی ہے۔

اس ساری داستان میں اگرچہ کچھ زندہ کردار اور امید کے روشن دیے بھی ہیں مگر بحیثیت مجموعی پس منظر میں جھانکا جائے تو وہاں بے غیرتی‘ بے حمیتی اور بے حسی کے کالے سائے بھی چھائے نظر آتے ہیں۔ اب آپ تک اس داستان کے پہنچانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اللہ نے ہمیں ابھی موقع دے رکھا ہے۔ کیوں نہ ہم از سر نو اس بات کا جائزہ لے لیں کہ اس وقت ہم کس سمت کھڑے تھے اور مستقبل میں اگر ایسی صورت پیش آجائے تو کس سمت ہوں گے!

علامہ ابو ٹیپو خالد الازہری امت کے رواں لمحوں کی تاریخ مرتب کرنے میں یقیناً ایک روشن نام ہے۔ ان کا سینہ نام محمد ﷺ سے وابستہ غیرت و محبت کا اک سورج ہے جس کے ساتھ ہم نے صالحیت اور خشیت کے بہت سے چراغ ٹمٹماتے ہوئے دیکھے ہیں اور اسی طرح بہت سے دیے وہاں سے روشنی پاتے بھی دیکھے ہیں۔ اب آپ کا چراغ اس نور سے روشن ہوتا ہے یا ٹمٹما کے بجھ جاتا ہے‘ اس کی پہچان و تشخیص بہرحال آپ کی ذمہ داری ہے۔ میری دعا بہرحال یہی ہے کہ جس طرح میری شمع ایمان‘ اس سینہ سے براستہ اس کتاب کے‘ کچھ اور روشن ہوئی ہے‘ اللہ کرے آپ کی اس سے بھی بڑھ کر ہو جائے۔ (آمین)

ڈاکٹر محمد صدیق شاہ بخاری لاہور

صفحہ 14

داغ ندامت

بدقسمتی سے پاکستان کی سرزمین گستاخان رسول ﷺ کے لیے بے حد زرخیز ثابت ہوئی ہے جہاں وہ اپنے خبث باطن کا اظہار بھرپور اور آزادانہ طریقے سے کرتے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ انہیں حکومتی حوصلہ افزائی اور سرپرستی بھی حاصل رہتی ہے۔

مئی ۱۹۹۳ء میں گوجرانوالہ کے ایک نواحی گاؤں (رتہ دوہتر) میں عیسائیوں نے ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت شان رسالت ﷺ میں توہین کا ارتکاب کیا۔ ملزمان رحمت مسیح‘ منظور مسیح اور سلامت مسیح نے کاغذ کی پرچیوں پر حضور نبی کریم ﷺ کے مبارک نام کے ساتھ گستاخانہ جملے لکھ کر انہیں مقامی گاؤں کی مسجد کی لیٹرینوں میں پھینکا۔ ان میں بعض ایسی پرچیاں بھی برآمد ہوئیں جن پر آقا ﷺ اور آپ ﷺ کے اہل بیت کے خلاف گندی گالیاں لکھی ہوئی تھیں (نعوذ باللہ، ثم نعوذ باللہ) اس سے پہلے مسجد کی لیٹرین کی اندرونی دیوار اور مقامی سکول کی بیرونی دیوار پر بھی حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف توہین آمیز کلمات لکھے پائے گئے۔ یہ ناپاک سلسلہ کافی عرصہ جاری رہا۔ بالآخر بڑی کوششوں کے بعد ملزمان موقع پر گرفتار ہوئے۔ بڑی تگ و دو کے بعد مقدمہ درج ہوا۔ سیشن کورٹ میں ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی۔ مکمل عدالتی طریق کار کے بعد جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق ملزمان کو سزا سنائی گئی۔ اس پر امریکہ اور یورپ میں کھلبلی مچ گئی۔ مغربی میڈیا نے چیخ چیخ کر دہائی دی کہ پاکستان میں عیسائیوں کو آزادی اظہار کے جرم میں سزا سنا دی گئی ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیمیں ملزمان کے دفاع میں پورے لاؤ لشکر کے ساتھ میدان میں آگئیں۔ انہی دنوں ”کرائم منسٹر آف پاکستان“ بے نظیر بھٹو جو اپنے اقتدار کی کنفرمیشن اور ہر امریکی مفاد کو پورا کرنے کی یقین دہانی کے لیے امریکہ جا رہی تھیں، اس مسئلہ پر نہایت غم و غصہ کا اظہار فرمایا اور کہا کہ

”توہین رسالت کے مجرموں کو سزا دینے کے فیصلہ پر وہ ذاتی طور پر ناخوش ہیں اور عدالت کے فیصلہ پر انہیں حیرت بھی ہوئی ہے اور دکھ بھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ توہین رسالت ﷺ کے قانون میں ترمیم کرنا چاہتی ہیں“۔ (روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، روزنامہ ”جنگ“ لاہور، ۱۴ فروری ۹۵ء)

صفحہ 15

لہٰذا بے نظیر بھٹو کی خواہش اور حکم پر حکومت نے ملزمان کی طرف سے ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ لاہور ہائی کورٹ میں اس کیس کی سماعت ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی کیے گئے جسٹس عارف اقبال بھٹی اور جسٹس چودھری خورشید احمد نے کی جنہیں چیف جسٹس الیاس نے ایک منصوبے کے تحت نامزد کیا۔ ان دونوں ججوں کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا اور وہ اس کے سابقہ سرگرم رہنما رہ چکے تھے۔ جسٹس عارف اقبال بھٹی نے تو باقاعدہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا تھا اور وہ پیپلز ورکس پروگرام کے انچارج بھی رہے۔ دینی حلقوں کی طرف سے بڑی شدت کے ساتھ یہ مطالبہ کیا گیا کہ مذکورہ دونوں ججوں کو اس کیس کی سماعت سے روک دیا جائے اور اس بین الاقوامی شہرت یافتہ کیس کی سماعت کے لیے غیر جانبدار، اچھی شہرت کے مالک سینئر ججوں پر مشتمل فل بنچ تشکیل دیا جائے مگر حکومت نے نہ صرف یہ مطالبہ مسترد کر دیا بلکہ ملزمان کی پوری طرح مدد کی۔

ان مذکورہ ججوں کو حکومت کی طرف سے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ہر صورت میں ملزمان کو بری کریں۔ عدلیہ کی تاریخ میں اس بات کی مثال نہیں ملتی کہ نہ صرف اس کیس کی تیز ترین سماعت کی گئی بلکہ تماشہ یہ ہوا کہ استغاثہ کے وکلاء کو سنا تک نہیں گیا۔ بہر حال چند دنوں کی ”اندھا دھند“ سماعت کے بعد مجرمین توہین رسالت ﷺ کو ”باعزت“ بری کر دیا گیا جبکہ عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ:

”اس کیس کی از سر نو تفتیش کر کے اصل مجرم تلاش کیے جائیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت اس طرف فوری توجہ دے گی اور اس سلسلہ میں ضروری اقدامات کرے گی“۔

لیکن آج تک

بلکہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے ملزمان کو وی آئی پی کا درجہ دے کر پورے پروٹوکول کے ساتھ بیرون ممالک روانہ کر دیا جس سے تمام گستاخان رسول ﷺ کی نہ صرف حوصلہ افزائی ہوئی بلکہ انہیں اس ناپاک کام کی شہ بھی ملی۔

حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک فل بنچ نے احتساب بنچ کے بعض فیصلوں کے خلاف بے نظیر بھٹو کی ایک اپیل کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیے ہیں کہ

صفحہ 16

”انصاف کے تقاضوں کو قربان کر کے مقدمات تیزی سے نمٹانا انصاف نہیں کہلا سکتا“

کاش سپریم کورٹ کے یہ تاریخی ریمارکس توہین رسالت ﷺ کیس کی سماعت کرنے والے ججوں کے پیش نظر رہتے۔

قدرت کا انتقام دیکھئے کہ جب بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر پر کرپشن اور سرکاری خزانہ کی لوٹ مار کے مقدمات قائم ہوئے تو انہیں ”خدا“ یاد آیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے احتساب بنچ میں اپنے خلاف کرپشن کے ریفرنس کی سماعت کے موقع پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے ”مس سوئس“ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ”جو جج حکومت کے ساتھ کسی نہ کسی طور پر وابستہ رہے ہیں‘ ان کے روبرو ہمارے مقدمات نہیں لگائے جانے چاہئیں“۔ (روزنامہ ”دن“ لاہور‘ ۳ جون ۱۹۹۸ء)

ایک اور موقع پر انہوں نے عدلیہ پر عدم اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ : ”انصاف ہوتا ہی نہیں‘ ہوتا نظر بھی آنا چاہیے۔ جس جج کے پاس بھی میرا کیس جاتا ہے‘ وہ حکومت کا حامی نظر آتا ہے“ (روزنامہ ”دن“ لاہور‘ ۲۳ جون ۱۹۹۸ء)

اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری کے خلاف مقدمات کی سماعت جانبدار ججوں سے کرائی جا رہی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس اجمل میاں سے اپیل کی کہ ان کیسوں کو غیر جانبدار ججوں کو دیا جائے۔ (روزنامہ ”دن“ لاہور‘ ۲۰ اکتوبر ۱۹۹۸ء)

اسے کہتے ہیں میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو

سب سے قابل افسوس اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس بین الاقوامی حساس کیس کی سماعت کے دوران مغربی ممالک کے نمائندہ افراد‘ صحافی‘ بشپ‘ حقوق انسانی کے رہنما‘ سیکولر اور عیسائی مذہبی‘ سیاسی رہنما عدالت کے اندر اور باہر بے حد متحرک رہے۔ لیکن مسلمانوں کے مذہبی اور سیاسی رہنما صرف اخبارات میں محض خالی بیان دینے تک محدود رہے۔

نامور صحافی جناب حافظ شفیق الرحمٰن اپنے کالم ”امریکہ بہادر سن لے“ میں لکھتے ہیں: ”یہاں توہین رسالت کیس کے حوالے سے کتنا شور ڈالا گیا۔ منظور مسیح کا کیس جب عدالت میں تھا‘ مغربی ذرائع ابلاغ اور سفارت کار اور ان کی گماشتہ این جی اوز کی وظیفہ خوار گھسیٹی بیگمات اس کی رہائی کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے تو اس وقت تو پاکستان کی کسی بڑی‘ درمیانی یا چھوٹی جماعت نے

صفحہ 17

وں کو قربان کر کے مقدمات تیزی سے نمٹانا انصاف نہیں

یہ تاریخی ریمارکس توہین رسالت ﷺ کیس کی سماعت کرنے

جب بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر پر کرپشن اور سرکاری خزانہ کی نے تو انہیں ”خدا“ یاد آیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے احتساب بنچ میں کی سماعت کے موقع پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے ”مس ”جو جج حکومت کے ساتھ کسی نہ کسی طور پر وابستہ رہے ہیں، ان میں لگائے جانے چاہئیں“۔ (روزنامہ ”دن“ لاہور، ۳ جون

نے عدلیہ پر عدم اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ: ہوتا نظر بھی آنا چاہیے۔ جس جج کے پاس بھی میرا کیس جاتا ہے، روزنامہ ”دن“ لاہور، ۲۴ جون ۱۹۹۸ء)

رٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو اور ان کے مقدمات کی سماعت جانبدار ججوں سے کرائی جا رہی ہے۔ انہوں اپیل کی کہ ان کیسوں کو غیر جانبدار ججوں کو دیا جائے۔ (روزنامہ

پ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو

اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس بین الاقوامی حساس کیس کی کے نمائندہ افراد، صحافی، بشپ، حقوق انسانی کے رہنما، سیکولر الت کے اندر اور باہر بے حد متحرک رہے۔ لیکن مسلمانوں کے بارات میں محض خالی بیان دینے تک محدود رہے۔

شفیق الرحمن اپنے کالم ”امریکہ بہادر سن لے“ میں لکھتے ہیں: ت کیس کے حوالے سے کتنا شور ڈالا گیا۔ منظور مسیح کا نا، مغربی ذرائع ابلاغ اور سفارت کار اور ان کی گماشتہ حسینی بیگمات اس کی رہائی کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا تو پاکستان کی کسی بڑی، درمیانی یا چھوٹی جماعت نے

امریکیوں کے اس براہ راست مداخلت پر احتجاج نہیں کیا۔ مسلم لیگ نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔ نواز شریف، بے نظیر، عمران خان، قاضی حسین احمد، طاہر القادری، اجمل قادری، فضل الرحمن، سمیع الحق میں سے کسی نے بھی اعلان نہیں کیا کہ پاکستانی عدالتی معاملات اور قوانین کے بارے میں امریکیوں اور ان کے پالتو گماشتوں کی مذموم بالواسطہ مداخلت پر ہم احتجاج کرتے ہیں۔ تب تو نواز شریف کے ہونٹوں پر بھی مہر تھی....... بے نظیر کی آنکھوں پر پردہ تھا....... قاضی صاحب نے بھی کانوں میں انگلیاں ٹھونسی ہوئی تھیں....... کسی کے اشارے پر احتساب مارچ کرنے والے طاہر القادری کی بھی حمیت کی رگیں نہ پھڑکیں۔ وہ بھی ایک منٹ کی ریلی یا لانگ مارچ کے لیے سڑکوں پر نہیں آئے...... اور تو اور اسلامی انقلاب کے اکلوتے دعویدار اور دھرنا ایکسپرٹ قاضی حسین احمد نے بھی کسی برطانوی یا امریکی سفارت خانے کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان نہیں کیا...... یہ موقع تھا جب امریکہ کے خلاف بھرپور عوامی جذبات کو بیدار کیا جا سکتا تھا......

(روزنامہ ”دن“ لاہور، ۱۴ اگست ۱۹۹۸ء)

معروف دانشور اور عاشق صادق جناب عطاء اللہ صدیقی فرماتے ہیں کہ ”موجودہ دور کے فتنوں سے بے خبر رہنا بذات خود ایک فتنہ میں مبتلا ہونے کے مترادف ہے“۔

بہر حال یہ واقعہ ایک ایسا داغ ندامت ہے جو ملت اسلامیہ کے روشن چہرے سے کبھی نہیں مٹ سکتا اور سوائے معدودے چند عاشقان رسول ﷺ کے، تمام مسلمان اس کوتاہی، بے حسی اور لاپروائی میں برابر کے ذمہ دار ہیں جس کی سزا وہ اجتماعی طور پر بے سکونی، پریشانی اور بے اطمینانی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

یہ کتاب قدرے تاخیر سے شائع ہو رہی ہے۔ اس دوران فیصلہ کرنے والے دونوں جج صاحبان آخرت کو سدھار چکے ہیں۔ جسٹس عارف اقبال بھٹی ایک نوجوان کے ہاتھوں قتل ہوئے جبکہ جسٹس چودھری خورشید احمد اخباری اطلاعات کے مطابق اس واقعہ کے بعد دھمکیوں کے خوف سے انتہائی ڈپریشن اور کرب کی بناء پر گھر میں مقید ہو کر رہ گئے۔ وہ گھر کے دروازے یا ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے پر فوراً زمین پر اوندھے منہ لیٹ جاتے (بالکل ملعون گستاخ رسول سلمان رشدی کی طرح کہ ایک دفعہ اس کے گھر کے باہر ایک ٹیکسی کا ٹائر پھٹا تو رشدی ڈر کے مارے بے ہوش ہو گیا۔ اس نے سمجھا کہ موت کا فرشتہ آ پہنچا ہے اور ابھی کوئی عاشق رسول ﷺ اس کے کمرے میں داخل ہو کر اسے واصل جہنم کرنے والا ہے) آخر کار اس خوف و ہراس کی کیفیت میں

صفحہ 18

جسٹس خورشید جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

شعیب بن عزیز نے سچ ہی کہا تھا ؎

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

میرے خیال میں دونوں جج صاحبان نے دنیا و آخرت میں سرخرو ہونے کا سنہری موقع گنوا دیا۔ شفیع المذنبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کا کیس گنہگار امتیوں کے پاس آیا تھا۔ یہ کوئی دنیاوی کیس نہ تھا جس میں انگریزی قانون کی موشگافیوں کا سہارا لے کر ملزم کی حمایت کی جاتی بلکہ یہ تو خالصتاً حصول شفاعت محمدی ﷺ کا کیس تھا جس کے مقابلہ میں دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کی سفارشوں اور خواہشوں کو جوتی کی نوک پر رکھ دیا جاتا ہے۔ انسان اس باسعادت امتحان میں سب کچھ ہار کر بھی جیت جاتا ہے۔

توہین رسالت ﷺ کے سلسلہ میں ایک مشہور واقعہ متھرا کے مالدار برہمن کا ہے جسے شان رسالت ﷺ میں توہین کا مجرم پایا گیا اور مغل شہنشاہیت کے چیف جسٹس شیخ عبدالغنی (قاضی القضاۃ) نے اسے موت کی سزا سنائی۔ مغل شہنشاہ اکبر نے اپنی حسین و جمیل ہندو مہارانیوں کے پر زور اصرار اور خوشامدی ”جیالے“ درباریوں کے اکسانے اور احتجاج پر متھرا کے وی آئی پی برہمن کی زندگی بچانے کی سرتوڑ کوشش کی لیکن عدلیہ نے اکبر کی درخواست پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ وہاں تمام کاروبار حکومت دین الٰہی کے نام سے سیکولر خطوط پر چل رہا تھا لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہمارے مذکورہ جسٹس صاحبان نے تو اسلام اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا حلف اٹھایا ہوا تھا۔۔۔۔۔ مگر افسوس وہ اس کا بھی پاس نہ کر سکے۔

پیپلزپارٹی ایسی اسلام اور پاکستان دشمن حکومت سے تو خیر یہی توقع تھی مگر ستم ظریفی کی انتہا دیکھئے کہ بھاری مینڈیٹ سے سرشار، نام نہاد اسلام پسند محب وطن شریف حکومت بھی قانون توہین رسالت ﷺ کے سلسلہ میں خود کو امریکہ کے سامنے Surrender کر چکی ہے۔ چند سال پیشتر ۱۹۹۴ء میں بے نظیر کابینہ کے وزیر قانون سید اقبال حیدر نے امریکی خواہش پر قانون توہین رسالت ﷺ کو غیر مؤثر کرنے کے سلسلہ میں جو قانون سازی کی تھی کہ :

”جو شخص بذریعہ الفاظ زبانی، تحریری یا اعلانیہ، اشارتاً، یا کنایتاً، بہتان تراشی کرے، یا رسول کریم حضرت محمد ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کرے، اسے زیادہ سے زیادہ دس سال سزائے قید دی جائے گی۔ اس الزام کے تحت ملزم کے خلاف مقدمہ درج نہ ہو گا اور نہ ہی پولیس ملزم کو گرفتار کرے گی اور جو شخص اس جرم (توہین رسالت ﷺ ) کا الزام کسی پر لگائے، وہ ڈپٹی کمشنر یا مجسٹریٹ

صفحہ 19

کے روبرو درخواست دے کہ ”فلاں شخص“ نے توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب کیا ہے، متعلقہ ڈپٹی کمشنر یا مجسٹریٹ اپنے طور پر اس امر کی تحقیقات کرے گا کہ یہ الزام کہاں تک صحیح ہے، اگر وہ تفتیش کے بعد اس الزام کی تصدیق نہ کرے تو مدعی (مقدمہ درج کرانے والا) کے خلاف مقدمہ درج ہو گا جس کی سزا زیادہ سے زیادہ دس سال سزائے قید ہو گی“۔

آج موجودہ حکومت اس تبدیلی کو امریکہ کے کہنے پر نافذ کر رہی ہے۔ حالانکہ اقبال حیدر کے بیان پر نہ صرف پورے ملک میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی، بلکہ احتجاجی جلسے، جلوس اور پہیہ جام ہڑتالیں بھی شروع ہو گئی تھیں۔ اس وقت کی اپوزیشن (موجودہ حکمرانوں) نے بھی بڑے جوش و خروش کے ساتھ مسلمانوں کی مکمل حمایت کرتے ہوئے قانون توہین رسالت ﷺ میں اس تبدیلی کو غلط قرار دیا تھا اور بے نظیر حکومت کے اس فیصلہ کو خلاف اسلام قرار دیتے ہوئے اسے نیک مشورہ دیا تھا کہ وہ اس قانون کو نافذ نہ کر کے خدا اور اس کے رسول کے غضب کو دعوت نہ دے۔

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔۔۔۔۔موجودہ حکومت بھی وہی ناپاک کھیل، کھیل رہی ہے جو اس کی مخالف حکومت نے کھیلا تھا اور بری طرح ناکام و نامراد ہوئی تھی۔

حال ہی میں وفاقی وزیر مذہبی امور و سینیٹر راجہ ظفر الحق نے سابق وفاقی وزیر اقبال حیدر کی طرز پر توہین رسالت ﷺ کے مبینہ واقعات پر ایف آئی آر کے اندراج کے قانون توہین رسالت ﷺ میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ وہ اقلیتی رکن قومی اسمبلی بشپ ڈاکٹر روفن جولیس کی جانب سے ”جشن یوم تکبیر“ کے حوالہ سے جلیل ٹاؤن میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں تبدیلی کے سلسلہ میں وزیر اعظم سے حتمی منظوری کے بعد صوبائی حکومتوں کو سمری بھجوائی جائے گی تاکہ ڈویژن و اضلاع کی سطح پر ایسی کمیٹیاں تشکیل دی جاسکیں جن میں مسلم، غیر مسلم، سرکردہ شخصیات، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی عہدے کے افسران بھی شامل ہوں اور کمیٹیاں اپنے اپنے اضلاع میں توہین رسالت ﷺ کے الزام کی تحقیقات کریں گی۔ قصور وار ہونے پر مقدمہ درج ہوگا۔ اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی رانا نذیر احمد خان، ارکان قومی اسمبلی غلام دستگیر خان، ڈاکٹر روفن جولیس، صوبائی وزیر آب پاشی چودھری محمد اقبال، میئر کارپوریشن غلام قادر خان، چیئرمین ضلع کونسل احسن جمیل و دیگر نے خطاب کیا۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، ۲۷ مئی ۱۹۹۹ء)

صفحہ 20

المیہ یہ ہے کہ جناب رفیق تارڑ صاحب صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے ناموس رسالت ﷺ کے بارے میں ایک سچے مسلمان کی طرح بے حد حساس اور باخبر تھے۔ جسٹس کی حیثیت سے اس مسئلہ کے بارے میں ان کے فیصلہ جات ہمیشہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد سینٹ کے ممبر ہونے کی حیثیت سے اخبارات و جرائد میں ان کے کئی ایک مضامین شائع ہوئے، جس میں انہوں نے اس مسئلہ پر کھل کر اپنے موقف کا بھرپور اظہار کیا۔ ان میں سے دو مضامین اس کتاب کے صفحہ نمبر 314 اور 320 پر پیش خدمت ہیں، جن کا ایک ایک لفظ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ غیرت و حمیت میں ڈوبے ہوئے یہ مضامین اتنے جامع، علمی، مدلل، بے باک اور چشم کشا ہیں کہ انہیں بار بار پڑھنے اور عمل کرنے کو جی چاہتا ہے۔۔۔۔۔ لیکن برا ہو اس وقت کا، جب وہ وزیر اعظم کے والد بزرگوار میاں محمد شریف کے "خاص فضل" اور "توفیق" سے "بالاتفاق رائے" صدر پاکستان نامزد ہوئے۔ اس عہدہ جلیلہ کے خاص "اثرات" اور "فیوض و برکات" کی وجہ سے جناب تارڑ صاحب کے تمام سابقہ خیالات و نظریات تبدیل ہو چکے ہیں۔

جناب تارڑ صاحب نے اپنے مذکورہ بالا مضامین میں لکھا ہے: "قادیانیوں کے گرو گھنٹال ڈاکٹر عبدالسلام نے مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے والی آئینی ترمیم منظور ہونے پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ "میں اس لعنتی ملک (مملکت خداداد پاکستان) کی زمین پر اپنا قدم نہیں رکھنا چاہتا اور المیہ یہ ہے کہ حکومت نے گورنمنٹ کالج لاہور کی لائبریری کو اس شخص سے منسوب کر دیا ہے" پھر اس کے بعد وہ قادیانیوں کے اسلام کے خلاف روح فرسا اور دل شکن عقائد و نظریات تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔

لطیفہ یہ ہے کہ حال ہی میں تارڑ کی رضامندی سے محکمہ ڈاک نے غدار پاکستان ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا یادگاری ٹکٹ جاری کیا ہے"۔

مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟

1987ء میں جب جناب تارڑ صاحب لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس کے عہدہ پر فائز تھے، 28 جون کو ان کے پاس شعائر اسلامی کی توہین کے سلسلہ میں ایک کیس ملک جہانگیر جوئیہ بنام سرکار سماعت کے لیے منظور ہوا۔ اس کیس میں قادیانی وکیل شیخ مجیب الرحمن نے بھری عدالت میں اقرار کیا کہ: "مدعی نبوت مرزا قادیانی (نعوذ باللہ) "محمد رسول اللہ" کا درجہ رکھتا ہے اور ہر قادیانی کا یہی عقیدہ ہے"۔

اس سلسلہ میں اس ۔ الفضل " کا مندرجہ ذیل اقتباس "پس مسیح موعود (م لیے دوبارہ دنیا میں تشریف ہاں اگر محمد رسول اللہ الفضل " ص 158) مجھے یاد ہے کہ مجیب الر مجیب الرحمن کے اپنے عقیدہ: خوب سوال و جواب اور تکرار پی ایل ڈی 458 لاہور 87 عہدے بطور ایڈووکیٹ جنرل حیثیت سے اپنے فرائض سرا میں سرشار ہو کر لڑا۔ اللہ تعالیٰ قادیانی ایڈووکیٹ کے دل آز ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے تماشا یہ ہے کہ یہی مجی صاحب کی منظوری سے بھار سے نامزد وکیل ہے۔

جناب رفیق تارڑ صا بھی "خاموشی نیم رضا" کا ا خدمت میں عرض کیا گیا تو انہ "امریکہ بہادر کی طر حالانکہ جناب رفیق "دنیا کے ایک جذباتی وابستگی رکھنے جاتا کہ نام نہاد اہم

صفحہ 21

اس سلسلہ میں اس نے مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم۔اے کی کتاب ”کلمتہ الفصل“ کا مندرجہ ذیل اقتباس پڑھا:

”پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے‘ جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو پھر ضرورت پیش آتی“۔ (”کلمتہ الفصل“ ص 158)

مجھے یاد ہے کہ مجیب الرحمن ایڈووکیٹ کی اس بات پر تارڑ صاحب بہت پریشان ہوئے اور مجیب الرحمن کے اپنے عقیدہ پر اصرار کرنے اور مرزا قادیانی کو بار بار ”محمد رسول اللہ“ کہنے پر خوب سوال وجواب اور تکرار ہوئی‘ جس کا تفصیلی ذکر انہوں نے اپنے فیصلہ میں بھی کیا۔ (دیکھئے پی ایل ڈی 458 لاہور 1987ء) اس کیس میں حکومت کی طرف سے جناب خلیل الرحمن رمدے بطور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب پیش ہوئے‘ جو آج کل لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس کیس کو عشق رسول ﷺ میں سرشار ہو کر لڑا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے (آمین) انہوں نے بھی مجیب الرحمن قادیانی ایڈووکیٹ کے دل آزار عقیدہ اور توہین عدالت پر مبنی رویہ کی نہ صرف مذمت کی بلکہ ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے بار بار عدالت کی توجہ اس طرف مبذول کروائی۔

تماشا یہ ہے کہ یہی مجیب الرحمن قادیانی ایڈووکیٹ آج کل صدر پاکستان جناب رفیق تارڑ صاحب کی منظوری سے بھاری بھر تنخواہ و مراعات کے عوض احتساب سیل میں حکومت کی طرف سے نامزد وکیل ہے۔

۔ ہائے ہم کیا سمجھے تھے آپ کیا نکلے

جناب رفیق تارڑ صاحب قانون توہین رسالت ﷺ کو غیر موثر بنانے کے حالیہ عمل میں بھی ”خاموشی نیم رضا“ کا اصول اپنائے ہوئے ہیں۔ اس سلسلہ میں جب جناب تارڑ صاحب کی خدمت میں عرض کیا گیا تو انہوں نے بڑی شان بے نیازی سے فرمایا کہ

”امریکہ بہادر کی طرف سے ہم پر بے حد دباؤ ہے‘ لہٰذا ہم مجبور ہیں“۔

حالانکہ جناب رفیق تارڑ صاحب کے اپنے الفاظ ہیں کہ

”دنیا کے ایک ارب سے زیادہ مسلمان حضور نبی کریم ﷺ سے انتہائی جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ کی ناموس کا معاملہ ہو تو پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ نام نہاد اہم شخصیتوں کا حدود اربعہ کیا ہے؟ وہ کتنی طاقتور ہیں اور کیا چاہتی

صفحہ 22

ہیں؟"

جناب تارڑ صاحب سے بصد احترام پوچھا جاسکتا ہے کہ بطور صدر مملکت آپ کی تقرری پر ملکی و غیر ملکی میڈیا نے کتنی شدید تنقید کی، آپ کی داڑھی کا تمسخر اڑایا گیا، آپ کی شخصیت کو بھونڈے انداز سے پیش کیا گیا، آپ کے خلاف جانبدار ہونے کے ریفرنس دائر کیے گئے، آپ پر الزام لگایا گیا کہ آپ ایوان صدر آنے والے ہر مہمان کی تواضع فحش لطائف سے کرتے ہیں، آپ کو "اتفاق" کا زر خرید غلام کہا گیا، آپ کو صدر فضل الہی سے تشبیہ دی گئی، منتخب اراکین پارلیمنٹ نے آپ کے سالانہ خطاب پر اپنے بھر پور غم و غصہ کا اظہار کر کے آپ کی جو "عزت افزائی" کی ۔۔۔۔۔ کیا یہ سب کچھ دباؤ نہ ہے، کیا اس پر آپ نے کبھی استعفیٰ دیا۔۔۔۔ آپ ماشاء اللہ جٹ فیملی سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنی عزت اور انا کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتی۔ اگر آپ اپنے اقتدار کی خاطر یہ دباؤ برداشت کر سکتے ہیں تو ناموس رسالت ﷺ کی خاطر امریکی دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کیوں نہ کر سکے؟ ہم مجبور، کمزور اور بے نوا مسلمان یہ معاملہ اپنے اللہ پر چھوڑتے ہیں جو بندوں کو چند روزہ اقتدار دے کر انہیں آزماتا ہے۔

فاعتبروا یا اولی الابصار

یہ حقیقت جناب رفیق تارڑ صاحب کے پیش نظر بہر حال رہنی چاہیے کہ جو علم و فراست اور عہدہ و اختیار تحفظ ناموس رسالت ﷺ سے بے گانہ کر دے، اس کی قیمت گھاس کی خشک پتی جتنی بھی نہیں!

دراصل ہمارے حکمران امریکہ کی خواہش پر قانون توہین رسالت ﷺ میں تبدیلی کے لیے ذہنی طور پر مکمل تیار ہو چکے ہیں لیکن وہ اس تبدیلی سے در پیش آنے والے خطرات سے بھی گھبراتے ہیں کہ کہیں عوام انہیں اقتدار سے باہر نہ پھینک دیں۔ لہٰذا انہوں نے یہ چال چلی کہ ملک کے تمام ڈپٹی کمشنر حضرات کو زبانی طور پر ہدایات جاری کیں کہ آئندہ شان رسالتؐ میں گستاخی کا واقعہ پیش آنے کے باوجود کسی ملزم کے خلاف بھی مقدمہ درج نہ کیا جائے اور اگر مسلمانوں کے پر زور احتجاج و ہڑتال کے پیش نظر اور حالات کو کنٹرول کرنے کی خاطر، بادل ناخواستہ مقدمہ درج کر بھی لیا جائے تو اس بات کی پوری کوشش کی جائے کہ ملزم جلد از جلد ضمانت پر رہا ہو جائے۔ اس دوران اگر ملزم بیرون ملک جانا چاہے تو اسے تمام تر سہولتیں مہیا کی جائیں اور اسے باعزت طور پر رہا کروانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ قصہ مختصر یہ کہ اب امریکہ کے دباؤ پر ہر حکومت یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ آئندہ قانون توہین رسالت کے تحت کسی بھی

صفحہ 23

ملزم کو سزا نہیں ملے گی۔ غالباً ہر حکومت یہ چاہتی ہے کہ امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے قانون توہین رسالت ﷺ کو ختم کرنے کی بجائے اس پر عمل درآمد کا مکمل خاتمہ کر کے اسے مفلوج کر کے رکھ دیا جائے----- اس کی تازہ مثال ملاحظہ فرمائیں: ۱۹۹۷ء میں لاہور کے خوش پوش علاقہ ڈیفنس (کیو بلاک) کے ایک رہائشی ابوالحسن یوسف علی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور خود کو مرد کامل اور (نعوذ باللہ) حضرت محمد ﷺ کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”محمد ﷺ جسمانی طور پر اب تک زندہ ہیں جن کی پہلی شکل خود آدم تھے اور موجودہ شکل ”یوسف علی“ ہے۔ اس نے کہا کہ وہ قرآن کی شرارتی آیتوں کو مٹا کر دنیا میں امن قائم کرے گا۔ اس کے ساتھ ۱۰۰ صحابہ موجود ہیں اور جو بھی میری بیعت کرے گا‘ اس کو حضور ﷺ کی زندہ صورت میں زیارت کرادے گا۔ اور جب کوئی اس کی بیعت کر کے اس سے مطالبہ کرتا کہ اب مجھے حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کراؤ تو وہ کہتا کہ میں تمہارے سامنے ہوں۔ میری زیارت کر لو۔ میں خود ”محمد رسول اللہ“ ہوں (نعوذ باللہ) مزید برآں اس نے نماز اور روزے کو غیر ضروری قرار دیا اور انتہائی گھناؤنی اخلاقی حرکات کا بھی مرتکب ہوا۔

ملزم کے خلاف نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے اور توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ہونے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ C-295 کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ یوسف کذاب نے ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی۔ ملزم کے خلاف عدالت میں اس کی اپنی کتب‘ تقاریر کی آڈیو کیسٹیں اور ویڈیو کیسٹیں بھی پیش کی گئیں۔ جن کی بنیاد پر موقف اختیار کیا گیا کہ ملزم توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ہوا ہے اور سزائے موت کا مستحق ہے اور یہ ناقابل ضمانت جرم ہے۔ ملزم کی طرف سے سلیم اے رحمان ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل یاسمین سہگل نے ضمانت کی حمایت کی اور کہا کہ ملزم کی ضمانت قبول کر لی جائے۔ چیف جسٹس جناب جسٹس راشد عزیز خاں نے سرکاری وکیل کی اس بات پر حیرت کا اظہار کیا اور استفسار کیا گیا کہ آپ کو کس نے کہا ہے کہ یہ بیان دیں؟ آپ سے تو ضمانت کی مخالفت کی توقع تھی۔ اس پر سرکاری وکیل نے چیف جسٹس کو برجستہ جواب دیا کہ جناب والا آپ کے کہنے پر...... چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ جس پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل یاسمین سہگل نے کہا کہ سوری می لارڈ‘ دراصل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے مجھے کہا تھا کہ درخواست ضمانت کی مخالفت نہ کی جائے۔ (کیونکہ امریکہ کی طرف سے یہی ہدایت تھی) اس پر جناب چیف جسٹس نے

صفحہ 24

ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ 5 جون 1999ء)

یہ سب کچھ داغ ندامت نہیں تو اور کیا ہے؟

میں یہاں خصوصی طور پر ایڈیشنل سیشن جج جناب محمد مجاہد حسین کی عظمت کو سلام کرتا ہوں جنہوں نے نامساعد حالات، بے پناہ حکومتی دباؤ، پرکشش لالچ و ترغیب اور خوف اور دھمکیوں کے باوجود حق و انصاف پر مبنی فیصلہ سنا کر قرون اولیٰ کے قاضیوں کی یاد تازہ کر دی۔ انہیں اس فیصلہ کی پاداش میں جن جانگسل مرحلوں سے گزرنا پڑا، وہ ایک الگ داستان ہے۔ ان کا اسلام پر غیر متزلزل ایمان، عقائد پر ثابت قدمی اور حصول شفاعت محمدیؐ کی بے پناہ خواہش و بے قراری قابل صد رشک ہے۔ زندہ باد مجاہد حسین ۔۔۔۔۔ زندہ باد۔

اسی طرح جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ، رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ اور جناب خواجہ ابرار مجال ایڈووکیٹ کی خدمات بھی قابل تحسین ہیں جنہوں نے اس کیس کو محبت رسول ﷺ میں سرشار ہو کر لڑا، امت مسلمہ ہمیشہ ان پر فخر کرتی رہے گی۔

کتاب کی تیاری کے سلسلہ میں برادر عزیز جناب رضوان الرحمن رضی، حافظ شفیق الرحمن، جناب طاہر رزاق، ڈاکٹر محمد صدیق شاہ بخاری، جناب عزیز الرحمن ثانی (لاہور) اور حافظ محمد ثاقب صاحب (گوجرانوالہ) کی بھرپور معاونت حاصل رہی جس کے لیے میں ان سب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

آئیے بوجھل دل کے ساتھ اپنی منہ مانگی شکست کی المیہ روداد پڑھیں ۔۔۔۔۔ شاید ندامت کے آنسوؤں سے یہ داغ دھل جائے!

علامہ ابو ٹیپو خالد الازہری لاہور، جولائی 1999ء

صفحہ 25

ہوئے اسے رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

(روزنامہ

داغ ندامت نہیں تو اور کیا ہے؟ ایڈیشنل سیشن جج جناب محمد مجاہد حسین کی عظمت کو سلام کرنا ہے بے پناہ حکومتی دباؤ، پرکشش لالچ و ترغیب اور خوف اور پر مبنی فیصلہ سنا کر قرون اولیٰ کے قاضیوں کی یاد تازہ کر دی۔ مکمل مرحلوں سے گزرنا پڑا، وہ ایک الگ داستان ہے۔ ان کا ثابت قدمی اور حصول شفاعت محمدی کی بے پناہ خواہش و بے او مجاہد حسین۔۔۔ زندہ باد۔ قریشی ایڈووکیٹ، رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ اور جناب ت بھی قابل تحسین ہیں جنہوں نے اس کیس کو محبت رسول لمہ ہمیشہ ان پر فخر کرتی رہے گی۔ میں برادر عزیز جناب رضوان الرحمن رضی، حافظ شفیق صدیق شاہ بخاری، جناب عزیز الرحمن ثانی (لاہور) اور کی بھرپور معاونت حاصل رہی جس کے لیے میں ان سب کا

نہ مانگی شکست کی المیہ روداد پڑھیں ۔۔۔۔۔ شاید ندامت

علامہ ابو ثوبہ خالد الازھری لاہور، جولائی 1999ء

ناموس رسالت کے خلاف بے نظیر فیصلہ

گوجرانوالہ کے مشہور ترین توہین رسالت کیس کی ابتداء 1993ء میں اس وقت شروع ہوئی جب اس کیس کا ایک اہم ملزم رحمت مسیح ولد نانک مسیح جو سابق رکن صوبائی اسمبلی اعظم چیمہ کے داماد اشرف دہتر کے ہاں نوکر تھا، نے تھانہ کوٹ لدھا کے گاؤں پھوکر پور میں مسلمانوں کی مسجد کے عین سامنے مسیحی عبادت گاہ قائم کر کے تبلیغی سرگرمیاں شروع کیں۔ گاؤں والے رحمت کے عیسائی ہونے کے باوجود اس کے ساتھ برابری کا سلوک کرتے تھے، لیکن یہ بدطینت انسان ہمیشہ فتنہ پرور ذہنیت کا مظاہرہ کرتا تھا۔ ممکن ہے اسے عیسائیت کے خفیہ اسلام دشمن مشنوں کی مکمل سپورٹ اور پشت پناہی حاصل ہو۔ کیونکہ وہ گاؤں میں مسیحی مشن کا سربراہ تھا اور دوسرے افراد کی نسبت عیسائیت پر بھرپور معلومات رکھتا تھا۔

ملزم رحمت مسیح نماز فجر کے وقت گرجا گھر کی گھنٹی زور زور سے بجاتا اور اس کے ساتھی لاؤڈ سپیکر پر اونچی آواز میں مسیحی گانے گاتے۔ جس سے مسجد میں مصروف عبادت، مسلمانوں کو اکثر پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا اور تکلیف اٹھانا پڑتی۔ اور بعض اوقات رحمت مسیح لاؤڈ سپیکر پر اپنے مذہب کی تبلیغ کرتا اور دوران تبلیغ جناب نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا، قرآن کا مذاق اڑاتا اور مسلمانوں کو عیسائیت قبول کرنے کی دعوت دیتا۔ رحمت کو گاؤں کے سرکردہ لوگوں نے کئی دفعہ پیار سے سمجھایا، مگر وہ باز نہ آیا۔ بالآخر معاملہ شدت اختیار کر گیا۔ لڑائی جھگڑے بھی ہوئے اور ایک دفعہ گاؤں کے معززین کے ہمراہ تھانہ میں صلح بھی ہوئی اور دوسری بار علاقہ مجسٹریٹ تک بات پہنچی اور انہوں نے رحمت مسیح کے تحریری معذرت نامہ پر معاملہ نمٹا دیا۔ یہ تحریری معذرت نامہ 7 جولائی 1992ء کا تحریر کردہ ہے۔ کچھ عرصہ بعد رحمت مسیح نے پھر شرارتیں کرنا شروع کر دیں۔ اب گاؤں میں قرآن مجید کے اوراق کی بے حرمتی کے کئی واقعات ہوئے۔ جن کے بارے میں گاؤں کے مسلمانوں کا پکا یقین تھا کہ رحمت مسیح اس قسم کے واقعات کا مرتکب ہے۔ اب گاؤں والوں نے رحمت مسیح کی ان مذموم سازشوں کی سرکوبی کے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس پر رحمت مسیح گاؤں چھوڑ کر

صفحہ 26

دوسرے قریبی گاؤں رتہ دوہتڑاں چلا آیا۔ اور کچھ عرصہ بعد یہاں بھی وہی مذموم سرگرمیاں شروع کر دیں جو اس نے گاؤں پھوکر والا میں شروع کی تھیں۔ رتہ دوہتڑاں وہی گاؤں ہے جہاں مشہور زمانہ ”مقدمہ توہین رسالت“ نے جنم لیا۔ رحمت مسیح نے آتے ہی گاؤں کے نوجوان عیسائی سلامت مسیح کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ ملا لیا۔ اس کے ذہن میں یہ ڈالا کہ تم زندہ ہی مر گئے ہو کہ مسلمانوں کا مولوی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق درس دیتا ہے اور ان کو اللہ کا بندہ کہتا ہے اور تم بالکل خاموش بیٹھے ہو۔ اس طرح رحمت نے ایک دوسرے شخص منظور مسیح کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا اور اپنی سازشوں کا آغاز کر دیا۔ اسی گاؤں کی جامع مسجد کی لیٹرینوں میں مئی 93ء کے دوران ایسی پرچیاں ملنا شروع ہوئیں جن پر نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخانہ جملے لکھے ہوتے۔ پرچیاں مسجد کی لیٹرینوں میں پھینک دی جاتیں اور پھینکنے والوں کا پتہ نہ چلتا۔ تھوڑے عرصہ بعد مسجد کی لیٹرین کی اندرونی دیوار پر حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف توہین آمیز کلمات لکھے پائے گئے۔ ایسے ہی گستاخانہ الفاظ مقامی سکول کی دیواروں پر بھی لکھے نظر آئے۔ مزید چند روز بعد گاؤں کی اسی مسجد میں ایک پوسٹر جس پر کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے ساتھ نہایت اہانت آمیز غلیظ کلمات لکھے ہوئے تھے۔ یہ سلسلہ تقریباً ایک سال سے جاری تھا۔ گاؤں کے لوگ پریشان ہو گئے۔ گاؤں والوں نے ٹوہ لگانا شروع کی لیکن گاؤں والوں کو ابھی تک کسی مجرم کا سراغ نہ ملا تھا۔ کیونکہ مجرم یہ کام اس ہوشیاری سے کرتے کہ کسی کو پتہ نہ چلتا تھا کہ یہ حرکت کون کر رہا ہے اور کب کرتا ہے؟ سب گاؤں والے خصوصاً مولوی فضل حق صاحب خصوصی طور پر پریشان تھے جو کہ گاؤں کی جامع مسجد کے امام اور خطیب بھی ہیں۔ 9 مئی 93ء کا واقعہ ہے کہ نماز عصر کے بعد مولوی فضل حق، محمد اکرم اور محمد بخش نمبردار کے ہمراہ مسجد سے نکلے تو انہوں نے رحمت مسیح، سلامت مسیح اور منظور مسیح کو مسجد کی بیرونی پلستر شدہ سیمنٹڈ دیوار پر اینٹ کے روڑے کی مدد سے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں توہین آمیز کلمات لکھتے ہوئے دیکھا۔ حافظ فضل حق اور ان کے رفقا نے ملزموں کو پکڑنے کی کوشش کی۔ رحمت مسیح بھاگ گیا اور دوسرے دونوں ملزم پکڑے گئے۔ ان کے پاس اس قسم کی درجنوں پرچیاں برآمد ہوئیں جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ مسجد کی دیوار پر شان رسالتؐ کے خلاف غلیظ کلمات کو کپڑے کی مدد سے مٹا دیا گیا۔ ملزمان کو تھانہ لے جایا گیا، پولیس نے انہیں حوالات میں بند کر دیا لیکن مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا گیا۔

صفحہ 27

مولانا زاہد الراشدی لکھتے ہیں:

گاؤں والوں نے جب دیکھا کہ پولیس مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول کر رہی ہے تو اس سلسلہ میں تھانہ کوٹ لدھا ہی کے ایک اور گاؤں کوٹ لالہ کے ماسٹر عنایت اللہ سے ملے اور ان سے کیس کے اندراج کے سلسلہ میں تعاون کی درخواست کی۔ ماسٹر عنایت اللہ مذکور کا تعارف یہ ہے کہ وہ پرائمری سکول کے ٹیچر ہیں اور پرجوش مذہبی کارکن ہیں۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے بیعت کا تعلق رکھتے ہیں۔ ۵۳ء کی تحریک ختم نبوت اور اس کے بعد متعدد تحریکات میں حصہ لے چکے ہیں، قید و بند کے مراحل سے کئی بار گزر چکے ہیں، گاؤں میں دو بار قادیانی لاش کے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے میں رکاوٹ بن چکے ہیں اور اسی نوعیت کے مذہبی معاملات میں انتہائی جرات اور جوش و جذبہ کے ساتھ علاقے کے مسلمانوں کی راہنمائی کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ ان کا احترام کرتے ہیں، اسی وجہ سے رتہ دوہتڑ کے مسلمان بھی ان کے پاس آئے کہ تھانہ کوٹ لدھا کی پولیس، توہین رسالتؐ کے مبینہ واقعہ کے ملزموں کے خلاف مقدمہ درج نہیں کر رہی، اس لیے وہ ان سے تعاون کریں۔ چنانچہ ماسٹر عنایت اللہ نے ارد گرد کے دیہات سے مسلمانوں کو جمع کیا اور تھانہ پہنچ گئے۔ واقعہ کی خبر سن کر دوسرے دیہات سے بھی مسلمان کوٹ لدھا میں جمع ہو چکے تھے۔ یہ واقعہ 11 مئی کا ہے، لوگوں نے تھانہ کوٹ لدھا کا گھیراؤ کر لیا اور حافظ آباد سے گوجرانوالہ جانے والا روڈ بلاک کر دیا۔ بالاخر عوام کے احتجاج کے بعد وقوعہ کے تیسرے روز پولیس نے ملزموں کے خلاف ایف آئی آر نمبر 56 مورخہ 11 مئی 1993ء کو درج کر لی۔“

اب اس کے بعد مرحلہ تیسرے ملزم رحمت مسیح کی گرفتاری کا تھا جس کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ گوجرانوالہ میں ایک مسیحی ایم پی اے کے گھر میں چھپا ہوا ہے اور اسے بیرونی ملک بھجوانے کی سازش ہو رہی ہے۔ ماسٹر عنایت اللہ اور گوجرانوالہ کے علماء نے ضلعی انتظامیہ سے بات کی، جس پر رحمت مسیح کو گرفتار کر لیا گیا اور تینوں ملزم جیل بھیج دیے گئے۔

ضمانت کی کوشش: ملزمان کے خلاف مقدمہ ’توہین رسالت‘ کے قانون کے تحت درج ہوا، جس کی سزا موت ہے اور سیشن کورٹ میں مقدمہ کی سماعت شروع ہو گئی۔ ملزمان کی طرف سے اپنی گرفتاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جو ۲۰؍ جون کو خارج کر دی گئی۔ سیشن کورٹ گوجرانوالہ میں بھی ضمانت کی درخواست دائر ہوئی جو ۱۰؍

صفحہ 28

جولائی کو عدم پیروی کی بنا پر خارج ہو گئی۔

بیرونی لابیوں کی دلچسپی : اس دوران اس کیس میں بیرون ملک لابیوں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی دلچسپی کا اظہار شروع ہو گیا، چنانچہ آل انڈیا ریڈیو نے ۱۱ جولائی کو اور پھر ۱۳ نومبر کو اس کیس کے بارے میں مفصل پروگرام نشر کیا، جس میں ملزمان کو بے گناہ ثابت کیا گیا۔ قانون توہین رسالت پر سخت تنقید کی گئی۔ اور مدعی مقدمہ ماسٹر عنایت اللہ اور ۸۰ سالہ بوڑھے مولانا فضل حق کی کردار کشی کی گئی۔ بی بی سی نے ۲۹ نومبر کو اس موضوع پر اپنے مخصوص انداز اور مخصوص مقاصد پر مبنی رپورٹ نشر کی۔ اس کے ساتھ ہی بیرونی ممالک سے وفود کی گوجرانوالہ آمد کا آغاز ہو گیا۔ کئی وفود گاؤں رتہ دوہتر تک پہنچے، بعض ضلعی انتظامیہ سے ملے، کچھ نے عدالتی افسران سے بھی ملاقاتیں کیں۔ انڈیا ریڈیو نے اس کے بعد بھی ایک بار اس کیس کے بارے میں پروگرام نشر کیا جبکہ بی بی سی اور وائس آف امریکہ نے بھی کیس پر تبصرے کیے اور اخبارات و جرائد میں توہین رسالت کی سزا کے قانون اور رتہ دوہتر کیس کے بارے میں مضامین اور خبروں کا سلسلہ چل پڑا۔

ہیومن رائٹس کمیشن : بیرونی لابیوں کی دلچسپی کے ساتھ ہی پاکستان کا ہیومن رائٹس کمیشن بھی متحرک ہو گیا اور کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ کے ساتھ حنا جیلانی ایڈووکیٹ اور نعیم شاکر ایڈووکیٹ گوجرانوالہ آنے لگے۔

مدیحہ لودھی کی آمد : مبینہ طور پر اس دوران امریکہ میں پاکستان کی موجودہ سفیر مدیحہ لودھی بھی ایک امریکی صحافی کے ہمراہ گوجرانوالہ آئیں اور سیشن کورٹ کے ایک ذمہ دار عدالتی افسر سے ملاقات کر کے ملزموں کی ضمانت کے بارے میں بات چیت کی۔

رابن رافیل کی مداخلت : روزنامہ مساوات لاہور ۸ نومبر ۹۳ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق امریکہ کی نائب وزیر خارجہ مسز رابن رافیل نے اپنے دورہ اسلام آباد کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر "رتہ دوہتر کیس" کا معاملہ اٹھایا اور سیکرٹری خارجہ پاکستان نے انہیں یقین دلایا کہ ملزموں کو ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا۔

ایک ملزم کی ضمانت : پاکستان کے سیکرٹری خارجہ کے مطابق امریکہ کی نائب وزیر خارجہ کو بتایا گیا کہ پاکستان میں نئی منتخب جمہوری حکومت، انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات عمل میں لائے گی۔ عاصمہ جہانگیر، حنا جیلانی اور دوسرے لوگوں کی طرف سے

صفحہ 29

مقدمہ میں دلچسپی اور اپنی سوچ کے مطابق یا پیشہ وارانہ فرائض کے تحت تگ و دو اگرچہ تنقید کا نشانہ بنی ہے مگر سنجیدہ فکر حلقوں نے بیرونی عناصر کی مداخلت پر زیادہ غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ بالخصوص رابن رافیل کا طرز عمل اور حکومت پاکستان کا معذرت خواہانہ ردعمل کسی بھی طور پر قابل فہم قرار نہیں پاتا۔

وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور رابن رافیل میں ایک تعلق کا ذکر (خواہ جملہ معترضہ کے طور پر ہی سہی) بھی خالی از دلچسپی نہ ہوگا۔ وزیر اعظم بے نظیر اپنی آپ بیتی ”دختر مشرق“ (Daughter Of The East) کے تتمہ میں صدر ضیاء الحق اور ان کے رفقاء سفر کی وفات کی خبر سے متعلق اپنے تاثرات میں لکھتی ہیں:

"My Heart went out to Ambassador Raphels wife Nancy who like me had just recently married. Now her husband whom I had met and found very warm and committed to the idea of restoring democracy to Pakistan was dead."

(مجھے (پاکستان میں امریکی) سفیر رافیل کی اہلیہ نینسی یاد آئی، جس کی میری طرح حال ہی میں شادی ہوئی تھی۔ (افسوس!) اب اس کا شوہر، جن سے میری ملاقات ہوئی تو انہیں پاکستان میں بحالی جمہوریت کے بارے میں گرم جوش پایا تھا، اس دنیا میں نہیں رہا تھا۔)

گستاخی رسول کے زیر نظر مقدمہ کے تذکرہ میں وزیر اعظم کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں دائر ایک رٹ پٹیشن کا ذکر بھی بے محل نہ ہوگا۔ یہ رٹ پاکستان موومنٹ ورکرز فورم کے صدر ڈاکٹر ضیاء الاسلام نے آئین کے آرٹیکل ۱۹۹ کے تحت دائر کی، جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے اس مبینہ بیان کو بنیاد بنایا گیا جس میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ گستاخی رسول کا قانون اور جداگانہ انتخابات، بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہیں“۔ وکلاء صفائی نے کیس کے ایک ملزم سلامت مسیح کے بارے میں یہ موقف اختیار کیا کہ وہ نابالغ ہے، اس لیے اس کی ضمانت لی جائے۔ اسے نابالغ ثابت کرنے کے لیے اس کی عمر کے بارے میں حافظ آباد چرچ کا سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا اور سیشن کورٹ نے ملزم کی ضمانت اس کیفیت کے ساتھ منظور کر لی کہ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۴ نومبر ۹۳ء میں شائع شدہ خبر

صفحہ 30

کے مطابق۔

”پاکستان میں مقیم ایک اعلیٰ امریکی افسر نے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو اس گرفتاری کے متعلق اطلاع دیتے ہوئے ملزم کی رہائی کا مطالبہ کیا چنانچہ پرائم منسٹر سیکرٹریٹ سے حکومت پنجاب کے ایک اعلیٰ افسر کو سلامت مسیح کی رہائی کے متعلق حکم دیا گیا جس نے معقول ضمانتیں میسر نہ ہونے کی بناء پر اور اعلیٰ افسروں کی ناراضگی کے خوف سے خود پچاس ہزار روپے کی ذاتی ضمانت دے کر ملزم سلامت مسیح کو رہا کرا دیا“۔

سیشن کورٹ نے سلامت مسیح کی ضمانت، پیش کردہ سرٹیفکیٹ کے مطابق نابالغ ہونے کی بناء پر منظور کر لی جبکہ دوسرے دو ملزمان کی ضمانت مسترد کر دی جس کے خلاف ہائی کورٹ لاہور میں اپیل دائر کی گئی اور ۳ جنوری کو ان کی ضمانت بھی ہائی کورٹ نے منظور کر لی۔

”روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۳ جنوری ۹۴ء کی خبر کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ایس۔ ایم زبیر نے توہین رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقدمہ میں ملوث دو عیسائیوں منظور مسیح اور رحمت مسیح کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ اس کیس کے تیسرے ملزم سلامت مسیح کی ضمانت اس سے قبل سیشن کورٹ گوجرانوالہ سے منظور ہو چکی ہے جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے ملزموں کی درخواست پر، کیس کی سماعت بھی گوجرانوالہ سیشن کورٹ سے لاہور سیشن کورٹ میں منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

وزیر اعظم کا انکوائری آرڈر : روزنامہ ”جنگ لاہور“ ۲۱ دسمبر ۹۳ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے۔۔۔

”توہین رسالت‘ کے مقدمہ کے حوالے سے ہدایت کی ہے کہ اس امر کی تحقیقات کی جائے کہ یہ مقدمہ ذاتی دشمنی کے حوالے سے بنایا گیا ہے تو اسے فی الفور واپس لے لیا جائے ورنہ متعلقہ قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے۔ پتہ چلا ہے کہ اس ضمن میں فوری تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور وزیر اعظم کی ہدایات کی روشنی میں ذاتی دشمنی ثابت ہونے پر مقدمہ واپس لے لیا جائے گا“۔

منظور مسیح کا قتل

”لاہور ہائی کورٹ کے نزدیک ٹرنر روڈ پر تین موٹر سائیکل سواروں نے اندھا

صفحہ 31

دھند فائرنگ کر کے گوجرانوالہ کے گستاخ رسول کے مقدمے کے ملزم منظور مسیح کو ہلاک اور ملزمان سلامت مسیح، رحمت مسیح اور ان کے رشتہ دار جان جوزف کو زخمی کر دیا۔ زخمیوں سلامت مسیح اور جان جوزف کو میو ہسپتال اور رحمت مسیح کو گنگا رام ہسپتال پہنچایا گیا۔ ملزم ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔ مقتول پارٹی کے ارکان سیشن کورٹ میں سیشن جج کی عدالت میں توہین رسالت کے مقدمہ میں پیشی بھگت کر پولیس سکواڈ کی حفاظت میں اپنے وکیل نعیم شاکر ایڈووکیٹ کے دفتر تک آئے اور پھر معمول سے کچھ دیر قبل ہی گوجرانوالہ جانے کے لئے جی پی او بس سٹاپ کی طرف جا رہے تھے کہ موٹر سائیکل سواروں نے سینکڑوں راہ گیروں کے سامنے انہیں گولیوں سے بھون ڈالا۔ مزنگ پولیس نے قتل اور اقدام قتل کے الزام میں رتہ دھوتڑا گوجرانوالہ کے تین افراد مولوی فضل حق، ماسٹر عنایت اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا اور پولیس کی ایک پارٹی ملزموں کی گرفتاری کے لئے رتہ دھوتڑا گوجرانوالہ روانہ ہو گئی۔“

(روزنامہ جنگ، نوائے وقت، مورخہ 6 اپریل 1994ء)

منظور مسیح اور سردار آصف احمد علی (وزیر خارجہ)

کہ اس قتل میں بھارتی انٹیلی جنس کا ہاتھ ہے۔ حکومت کے پاس اس کے شواہد ہیں۔ حتمی تصدیق ہوتے ہی ان شواہد کو منظر عام پر لایا جائے گا“۔ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور، ۸ اپریل ۹۴ء)

منظور مسیح کے قتل پر عیسائی احتجاج

کے لاہور میں قتل کے خلاف برطانوی وزیراعظم جان میجر کی رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ اور لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا“۔ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور، ۱۱ اپریل ۹۴ء)

مختلف عیسائی تنظیموں کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین ریگل چوک سے

صفحہ 32

ہوتے ہوئے اپنے مقررہ روٹ پینوراما سنٹر سے ہٹ کر وزیر اعلیٰ ہاؤس جانا چاہتے تھے، جس پر پولیس نے جلوس کے شرکاء کو وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کی اجازت نہ دی۔ اس موقع پر مظاہرین مشتعل ہو گئے اور انہوں نے مختلف دفاتر کی عمارتوں، دوکانوں، اور گاڑیوں کے شیشوں پر پتھراؤ شروع کر دیا اور ٹریفک میں بھی خلل ڈالا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے دو تین آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور معمولی لاٹھی چارج بھی کیا، جس کے نتیجے میں ایک نامعلوم شخص زخمی ہو گیا، تاہم پولیس نے صورتحال پر قابو پا لیا"۔ (روزنامہ

"خبریں" ۲۳؍ اپریل ۹۴ء)

میاں منظور احمد وٹو سے ملاقات کی اور منظور مسیح کے قتل کے بارے میں احتجاجی یاداشت پیش کی۔ یادداشت میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ توہین رسالت کے قانون کو ختم کیا جائے انہوں نے کہا کہ حکومتوں کی طرف سے بار بار یقین دہانیوں کے باوجود ہمارے بنیادی انسانی حقوق (نبی کریمؐ کی شان میں گستاخیاں کرنا) کی حفاظت نہیں کی جاتی۔ ملاقات کرنے والوں میں بشپ آف لاہور الیگزینڈر جان ملک، کیتھولک بشپ آف لاہور آرمنڈو ٹرینڈاڈ، بشپ آف فیصل آباد جان جوزف، بشپ آف رائے ونڈ سیموئیل آزریہ، بشپ آف اسلام آباد انتھونی لوبو اور فادر عمانویل یوسف شامل تھے"۔ (روزنامہ "جنگ" لاہور، ۱۸؍ اپریل ۹۴ء)

نے مسیحیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہر میں منظور مسیح کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ "مسیحی بچاؤ تحریک" قانون توہین رسالت کے خاتمہ کے لیے حکومت کو مجبور کرے گی"۔ (روزنامہ "جنگ" لاہور، ۱۸؍ اپریل ۹۴ء)

نے منظور مسیح کی ہلاکت کے خلاف ایک جلوس نکالا۔ جلوس میں شامل افراد نے اپنے سروں میں مٹی ڈال کر سینہ کوبی کرنے کے علاوہ اپنے کپڑوں کو پھاڑ ڈالا اور منظور مسیح کے قتل اور شریعت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی"۔ (روزنامہ "خبریں" ۲۴؍ اپریل ۹۴ء)

ایک احتجاجی جلوس نکالا جس سے مال روڈ دو گھنٹے بند رہا۔ جلوس کا آغاز کیتھڈرل چرچ دی مال سے ہوا۔ یہ جلوس منظور مسیح کے قاتلوں کو گرفتار کرنے اور توہین رسالت کے متعلق آئین کی شق ۲۹۵ سی بی کے خاتمہ کے لیے نکالا، جس میں شرکاء نے "جاگ مسیحی جاگ،

صفحہ 33

تیرے گھر کو لگ گئی آگ" ۔۔۔ "منظور تیرے خون سے انقلاب آئے گا" ۔۔۔ "۲۹۵ سی بی کے تحت تمام مقدمات ختم کئے جائیں" کے نعروں پر مشتمل بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے۔ جلوس کے شرکاء نے گورنر ہاؤس تک احتجاجی مظاہرہ کیا اور گورنر ہاؤس کے باہر زبردست نعرے بازی کی۔ جلوس کی قیادت بشپ سموئیل رابرٹ، عزرا یاہ جان جوزف فیصل آباد، چیئرمین نیشنل افیئرز کمیشن وکٹر عزرا یاہ، بشپ منور دتا (پشاور) سردار فیروز چیئرمین این سی سی پی، ڈاکٹر پیارے لال، ماڈریٹر پریسبیٹیرین چرچ آف پاکستان، ایس کے گل سیکرٹری این سی سی پی، ڈاکٹر مبشر حسن، آئی اے رحمان، عزیز صدیقی، حنا جیلانی، عابد حسن منٹو، نعیم شاکر، پطرس غنی، طارق جاوید اور دیگر عیسائی رہنماؤں نے کی۔ (روزنامہ "خبریں" ۲۲ اپریل ۹۴ء)

صدر لغاری اور منظور مسیح

"صدر مملکت سردار فاروق احمد خان لغاری کے دورۂ امریکہ پر روانگی سے قبل لاہور ائیرپورٹ پر گورنر، وزیر اعلیٰ پنجاب، سینئر صوبائی وزیر اور انتظامیہ و پولیس کے اعلیٰ حکام نے انہیں لاہور ہائی کورٹ کے باہر قتل ہونے والے توہین رسالت کے مقدمہ میں ملوث منظور مسیح کے مقدمہ قتل کے بارے میں مکمل طور پر بریفنگ دی اور باقاعدہ ایک ضخیم "بریف" بھی صدر مملکت کو پیش کیا گیا اور اس بارے میں کہا گیا کہ بوقت ضرورت یہ بریف امریکی حکومت کو پیش کر دیا جائے۔ اس بریف میں مقدمہ قتل کی مکمل فائل بھی موجود تھی۔ انتہائی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دورہ امریکہ پر روانگی سے کچھ روز قبل ایوان صدر میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے صدر مملکت سے ملاقات کی تھی اور وہ معاملات زیر بحث آئے تھے، جو صدر کے دورہ امریکہ کے دوران اہمیت کے حامل تھے۔ اس ملاقات میں جو بات بطور خاص زیر بحث آئی، وہ منظور مسیح کا قتل تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کو بتایا گیا کہ یورپی ممالک میں اس قتل پر سخت تشویش پائی جاتی ہے اور اس امر کا کامل یقین ہے کہ امریکی حکومت یا وہاں کسی اخبار نویس کی جانب سے آپ سے یہ استفسار کیا جا سکتا ہے کہ توہین رسالت کا ایسا ملزم منظور مسیح جس کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ نے واضح حکم دیا تھا کہ پولیس اس کی جان و مال کی حفاظت کرے، اسے کس طرح قتل کر دیا گیا۔ اور آپ کی حکومت اس کی حفاظت کرنے میں کامیاب کیوں نہ ہو سکی۔ اس امر کے پیش نظر حفظ ماتقدم کے طور پر صدر مملکت نے

صفحہ 34

فیصلہ کیا کہ وہ اپنے دورہ امریکہ پر لاہور سے روانہ ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو کو بھی وہاں سے ہی ساتھ لے لیا جائے گا۔ صدر مملکت جمعرات ۱۹ مئی کو جب لاہور ائیرپورٹ پہنچے تو گورنر پنجاب چوہدری محمد الطاف حسین، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو، سینئر صوبائی وزیر سید مخدوم الطاف احمد، چیف سیکرٹری جاوید قریشی، ڈی آئی جی لاہور شاہد حسن اور ایس ایس پی لاہور جاوید نور کے علاوہ متعدد اعلیٰ افسر ائیرپورٹ پر موجود تھے۔ انہوں نے وی وی آئی پی لاؤنج میں صدر مملکت کو منظور مسیح قتل کیس کے بارے میں طویل بریف کیا۔ پھر تحریری بریفنگ بھی دے دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مملکت نے بدھ کے روز امریکی نائب صدر سے ملاقات کے بعد امریکہ کے اعلیٰ حکام کو منظور مسیح کے قتل کے اہم نکات بتا دیئے ہیں۔

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، ۷ مئی ۹۴ء)

توہین رسالت کے ملزمان رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو

عدالت کی طرف سے موت کی سزا

”لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج محمد مجاہد حسین نے گوجرانوالہ کے توہین رسالت کیس کے دو ملزموں سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو حضور اکرمؐ کی شان میں گستاخی کرنے کے جرم میں سزائے موت اور پچیس پچیس ہزار روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنا دیا ہے جبکہ عدالت نے حضرت عائشہؓ اور حضرت فاطمہؓ کے بارے میں توہین آمیز پرچیاں پھینکنے کے جرم میں دو دو سال قید اور دس دس ہزار روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنایا۔ دونوں ملزموں کو حضورؐ کی شان میں گستاخی پر ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۲۹۵ سی اور حضرت فاطمہؓ اور حضرت عائشہؓ کے بارے میں توہین آمیز الفاظ سے متعلق پرچیاں تقسیم کرنے پر دفعہ ۲۹۸ اے کے تحت سزائیں دی ہیں۔ دونوں مجرموں کو عدم ادائیگی جرمانہ مجموعی طور پر مزید اڑھائی اڑھائی سال قید بھگتنی ہوگی۔ مقدمے میں ملزموں کی طرف سے عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ اور استغاثہ کی طرف سے رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ اور سرکار کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی رانا محمد یاسین نے پیروی کی۔ عدالت کے حکم میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملزموں پر جرم ثابت ہو گیا ہے۔ اس مقدمے میں ملوث منظور مسیح کو اپریل ۹۳ء میں تھانہ نوشہرہ ورکاں گوجرانوالہ میں درج کیا گیا تھا۔ پہلے مقدمے کا چالان گوجرانوالہ کی ایک سیشن عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت لاہور کی سیشن عدالت میں کرنے کے لیے ہائی کورٹ نے

م جاری کیا تھا۔ منظور مسیح، رحم سے ضمانت منظور کی گئی تھی، من مقدمے کی سماعت بھی لاہور کے جمعرات کو مقدمے کا فیصلہ پانچ بجے صبح ہی پولیس کی بھاری ہونے کے بعد فاضل جج کی عدالت لی۔ عدالت کے باہر کھڑی پولیس گیا۔ گاڑی میں متعدد پولیس کے کے بعد رحمت مسیح کا بیٹا امتیاز وو میں فریق وکلا بھی شامل تھے، کو ب وقت عدالت میں فاضل جج کے ع تھا۔ فاضل جج نے صبح گیارہ بجے ضمانت پر تھے، دوپہر ایک بجے کے تک پہنچایا گیا، ملزموں کے آنے بجے مکمل ہوا، ملزموں کی خاتون ا خلاف اپیل دائر کریں گی۔ دونوں ہے۔ عدالت میں لاہور میں موجو غیر ملکی نشریاتی ادارے کے نمائند

سلامت مسیح او

ایڈیشنل

”شروع خدا کے نام ۔ بعدالت محمد مجاہد حسین ایڈیشنل سیشن جج لاہور ریاست

صفحہ 35

حکم جاری کیا تھا۔ منظور مسیح، رحمت مسیح اور سلامت مسیح کی جنوری ۹۳ء میں ہائی کورٹ سے ضمانت منظور کی گئی تھی، منظور مسیح کے مقدمہ قتل میں ملوث ملزموں کے خلاف مقدمے کی سماعت بھی لاہور کے ایک ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں ہو رہی ہے۔ جمعرات کو مقدمے کا فیصلہ پانچ بجے شام سنایا گیا۔ صبح ہی پولیس کی بھاری جمعیت سیشن کورٹ کے احاطہ میں موجود تھی۔ فیصلہ ہونے کے بعد فاضل جج کی عدالت کی چھت اور ارد گرد موجود پولیس نے پوزیشن سنبھال لی۔ عدالت کے باہر کھڑی پولیس وین میں ملزموں کو سخت حفاظت میں لے جا کر بیٹھا دیا گیا۔ گاڑی میں متعدد پولیس کے جوان جو مسلح تھے، وہ بھی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ فیصلہ سننے کے بعد رحمت مسیح کا بیٹا امتیاز دھاڑیں مار مار کر روتا رہا۔ عدالت میں موجود تمام افراد جن میں فریق وکلا بھی شامل تھے، کو فیصلہ سے قبل کمرہ عدالت سے باہر بھیج دیا گیا۔ فیصلہ کے وقت عدالت میں فاضل جج کے علاوہ ان کا عملہ اور دونوں متذکرہ ملزموں کے سوا کوئی نہ تھا۔ فاضل جج نے صبح گیارہ بجے فیصلہ سنانے کا وقت مقرر کیا تھا مگر دونوں ملزمان کو جو ضمانت پر تھے، دوپہر ایک بجے کے بعد پولیس کی حفاظت میں ان کے گھروں سے کمرہ عدالت تک پہنچایا گیا، ملزموں کے آنے کے بعد فاضل جج نے فیصلہ تحریر کرنا شروع کیا فیصلہ پانچ بجے مکمل ہوا، ملزموں کی خاتون ایڈووکیٹ عاصمہ جہانگیر اتوار کو فاضل عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گی۔ دونوں ملزموں کو اپیل کے لیے سات دن کی مہلت فراہم کی گئی ہے۔ عدالت میں لاہور میں موجود امریکی قونصلیٹ آفس کی پولیٹیکل آفیسر ایمنی خان اور غیر ملکی نشریاتی ادارے کے نمائندے بھی موجود تھے۔"

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، ۱۱؍ فروری ۹۵ء)

سلامت مسیح اور رحمت مسیح کے خلاف مقدمے میں

ایڈیشنل سیشن جج لاہور کا مکمل فیصلہ

"شروع خدا کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بعدالت محمد مجاہد حسین ایڈیشنل سیشن جج لاہور ریاست

صفحہ 36

بنام

رتہ دوتڑہ، تھانہ کوٹ لدھا تحصیل و ضلع گوجرانوالہ

پھوکھا پور، تحصیل و ضلع گوجرانوالہ

فیصلہ:

اور ۲۹۸ اے زیر دفعہ ۳۴ ت پ ایک ایف آئی آر نمبر ۵۶ جو مورخہ ۱۱ مئی ۱۹۹۳ء کو درج ہوئی تھی، کے نتیجہ میں مقدمہ چلانے کے لیے میرے پاس بھیجا گیا۔

عدالت میں جاری تھی کہ ملزم سلامت مسیح نے عدالت عالیہ لاہور میں درخواست دائر کی کہ اس مقدمے کو لاہور منتقل کر دیا جائے چنانچہ عدالت عالیہ لاہور کے جج جناب جسٹس خضر حیات نے ۱۲ جنوری ۱۹۹۴ء کو ایک حکم نامے کے ذریعے یہ تفتیش سیشن جج لاہور کو منتقل کر دی اور تب سیشن جج لاہور جناب عبدالحفیظ چیمہ (جو کہ اب ہائی کورٹ کے جج بن چکے ہیں) کی عدالت میں مورخہ یکم مارچ ۱۹۹۴ء کو موجودہ ملزمان اور آنجہانی منظور مسیح کے خلاف الزام عائد کر دیا گیا لیکن مورخہ ۵ اکتوبر ۱۹۹۴ء کو فاضل سیشن جج لاہور نے عدالت عالیہ سے درخواست کی کہ اس مقدمے کو کسی اور عدالت میں منتقل کر دیا جائے چنانچہ مورخہ ۲۸ نومبر ۱۹۹۴ء کو عدالت عالیہ لاہور کے جج جناب جسٹس اعجاز نثار نے اس مقدمے کو موجودہ عدالت میں بھیج دیا۔

دوران سماعت ایک ملزم منظور مسیح قتل کر دیا گیا اور اس کا حوالہ ۲۸ جولائی ۱۹۹۴ء کی تاریخ میں آرڈر شیٹ میں دیا گیا ہے۔

سے دی گئی ہے، کے مطابق وہ رتہ دوتڑہ کی مسجد کے خطیب اور امام ہیں۔ مقدمے کے اندراج سے ایک سال پہلے مسجد کے بیت الخلا کی دیواروں پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں کچھ گستاخانہ الفاظ تحریر پائے گئے۔ کچھ مدت کے بعد مسجد کے دروازے کے نزدیک کاغذات کے ایسے ٹکڑے ملے جن پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان

صفحہ 37

الله دتہ عیسائی وٹ لدھا تحصیل و ضلع گوجرانوالہ تھانک عیسائی و ضلع گوجرانوالہ

کو تھانہ کوٹ لدھا نے زیر دفعہ ۲۹۵ سی زیر دفعہ ۳۴ ت پ تب ایک ایف آئی آر نمبر ۵۶ جو مورخہ ۱۱ مئی ۱۹۹۳ء کو درج دمہ چلانے کے لیے میرے پاس بھیجا گیا۔ سماعت ایڈیشنل اینڈ سیشن جج گوجرانوالہ جناب ایس ایم الہی کی لزم سلامت مسیح نے عدالت عالیہ لاہور میں درخواست دائر کی کہ کر دیا جائے چنانچہ عدالت عالیہ لاہور کے جج جناب جسٹس خضر کو ایک حکم نامے کے ذریعے یہ تفتیش سیشن جج لاہور کو منتقل ہور جناب عبدالحفیظ چیمہ (جو کہ اب ہائی کورٹ کے جج بن چکے کم مارچ ۱۹۹۴ء کو موجودہ ملزمان اور آنجہانی منظور مسیح کے خلاف ورخہ ۵ر اکتوبر ۱۹۹۴ء کو فاضل سیشن جج لاہور نے عدالت عالیہ مقدمے کو کسی اور عدالت میں منتقل کر دیا جائے چنانچہ مورخہ عالیہ لاہور کے جج جناب جسٹس اعجاز نثار نے اس مقدمے کو

ملزم منظور مسیح قتل کر دیا گیا اور اس کا حوالہ ۲۶ر جولائی ۱۹۹۴ء وایا گیا ہے۔ درخواست جو مسمی فضل حق ولد مولوی مظفر الدین کی جانب دھا رتہ دوہتڑہ کی مسجد کے خطیب اور امام ہیں۔ مقدمے کے مسجد کے بیت الخلا کی دیواروں پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ گستاخانہ الفاظ تحریر پائے گئے۔ کچھ مدت کے بعد مسجد کے کے ایسے ٹکڑے ملے جن پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان

میں گستاخانہ الفاظ تحریر تھے۔ اسی نوع کے کچھ کاغذات چند روز بعد اسی مسجد میں سے ملے اور پھر مزید چند روز بعد گاؤں کی ایک مسجد میں ایک پوسٹر نما کاغذ پھینکا گیا، جس پر کلمہ طیبہ کے ساتھ انتہائی اہانت اور غلط آمیز کلمات لکھے ہوئے تھے۔ مورخہ ۸ مئی ۱۹۹۳ء کو شام کے وقت ملزم سلامت مسیح، رحمت مسیح اور منظور مسیح (آنجہانی) کو جامع مسجد کی دیوار پر توہین آمیز الفاظ تحریر کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ درخواست گزار نے گواہ استغاثہ محمد اکرم اور محمد بخش نمبردار کے ہمراہ ملزموں کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ بھاگ جانے میں کامیاب ہو گئے۔ مدعی اور گواہوں نے تمام ایسے الفاظ کو مسجد کی دیوار پر سے مٹا دیا اور اب وہ کاغذات جن پر یہ الفاظ تحریر تھے اور جو کہ اس وقت تک محفوظ تھے، پولیس کے حوالے کر دیئے گئے۔ چنانچہ ایس ایچ او تھانہ کوٹ لدھا، امان اللہ خان نے ایف آئی آر تحریر کی۔ ایس ایچ او مذکورہ جائے وقوعہ پر خود گیا۔ اس نے موقع کا ملاحظہ کیا اور بغیر کسی سکیل کے محض اندازے سے ایک غیر محتاط نقشہ تیار کیا۔ مولوی فضل حق نے کاغذ کے ٹکڑے، جن پر توہین رسالت پر مبنی تحریر تھی، اس کے حوالے کیے جنہیں قبضے میں لے کر اس نے مدعی کا بیان زیر دفعہ ۱۶۱ فوجداری ایکٹ درج کیا جبکہ رحمت مسیح کو ۱۳ مئی ۱۹۹۳ء کو گرفتار کیا اور تحقیقات مکمل کر کے ان کا چالان پیش کر دیا گیا۔ پھر تفتیشی آفیسر نے یہ مقدمہ محرر کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اسے اپنے قبضے میں محفوظ رکھ سکے۔

ثابت نہیں کیا گیا تھا۔ اس لیے استغاثہ کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنے دعوے کی حمایت میں گواہی فراہم کرے۔

جاری نہیں رکھ سکیں گے کیونکہ ایسا کرنے میں ان کی جان کو خطرہ تھا۔ فاضل ڈسٹرکٹ اٹارنی کی استدعا پر انہیں گواہ پر جرح کی اجازت دی گئی۔ دوران جرح گواہ نے تسلیم کیا کہ اس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی درخواست وہی تھی جو اس نے مقدمے کے اندراج کے وقت مقامی تھانہ میں داخل کی تھی اور جس پر اس کے دستخط بھی ثبت تھے۔ اس نے کہا کہ اس پر ایک قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ مستقبل میں بھی ایسا ہو سکتا ہے لیکن اس نے وکیل صفائی کے ایک استفسار کے جواب میں کہا کہ اس کو ملزموں کی طرف سے جان کا خطرہ نہیں ہے۔

صفحہ 38

اور مولوی فضل حق کے ہمراہ مسجد سے باہر آئے تو سلامت مسیح پتھر کے ساتھ دیوار پر کچھ لکھ رہا تھا۔ رحمت مسیح اور مقتول منظور مسیح بھی وہاں کھڑے تھے۔ اس نے تقدس کے پیش نظر ان الفاظ کو دہرانے سے انکار کر دیا۔ ملزم چونکہ جنوب کی طرف بھاگ گیا، اس لیے پکڑا نہ جا سکا۔ اس نے مزید کہا کہ کچھ نامعلوم افراد مسجد کے غسل خانوں میں کچھ الفاظ لکھنے کے ساتھ ساتھ ایسی چٹیں مسلسل پھینک رہے تھے اور چونکہ وہ ایسا کرنے والوں کے بارے میں نہیں جانتے تھے اس لیے ان کے خلاف کارروائی نہ کر سکے۔ فضل حق نے مزید الزام لگایا کہ منظور مسیح (آنجہانی) نے ایک دن امام مسجد مولوی فضل حق کو حضرت عیسیٰؑ پر لیکچر دینے کی کوشش کی۔ اس نے یہ بھی تصدیق کی کہ چونکہ چٹیں انہوں نے اپنی تحویل میں لے لی تھیں، اس لیے وہ تحقیقاتی آفیسر کے سامنے پیش کر دی گئی تھیں اور برآمدگی کی دستاویزات پر اس کے اور محمد بخش کے دستخط ہیں۔

وکیل صفائی کی جرح کے دوران اس نے کہا کہ وہ انڈر میٹرک ہے اور منظور مسیح کو جانتا ہے۔ اس نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ اس کے والد کا منظور مسیح کے والد کے ساتھ شیشم کے درختوں کی چوری کے معاملے میں جھگڑا ہوا تھا۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ اس کے دادا کے ملزم سلامت مسیح کے دادا سے اختلافات ہوئے تھے۔ اس نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ سلامت مسیح کے دادا نے اس کے دادا کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ بہرحال اس نے تسلیم کیا کہ منظور مسیح کو قتل کیا جا چکا ہے۔ اس نے اس امر کو بھی تسلیم کیا کہ مولوی فضل حق اور ماسٹر عنایت بھی اس مقدمے میں اس کے ساتھ فریق تھے۔ ماسٹر عنایت اس کے استاد تھے لیکن ایک اور شخص، شریف اس کا رشتہ دار نہ تھا۔ اس نے اس امر سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ ماسٹر عنایت کے بیٹے کی شادی ہوئی تھی یا کہ نہیں۔ بہرحال اس کے بھائی کی شادی ہوئی، بعد میں طلاق ہو گئی۔ اس نے جرح کے دوران مزید بتایا کہ فاروق احمد اس کے باپ کے ماموں کا بیٹا ہے۔ اس نے اس امر کو بھی درست قرار دیا کہ آنجہانی منظور مسیح نے ان کے کھیتوں میں سے پانی کا کھال نکالا تھا لیکن اس امر سے انکار کیا کہ ان کے منظور مسیح کے ساتھ اس مقدمے سے پہلے کسی اور وجہ سے اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ اس نے مزید کہا کہ مجاہد کا باپ ارشد ان کی برادری میں سے ہے لیکن اس نے اس امر سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ سلامت مسیح کے اس کے کزن کے ساتھ کبوتروں کے مسئلے پر اختلافات ہوئے تھے۔ اس نے مجاہد کی عمر ۱۴، ۱۵ سال بتائی۔ اس نے کہا کہ اس نے وہ چٹیں جن پر توہین رسالتؐ کے الفاظ تحریر تھے، پہلی دفعہ ۱۱

صفحہ 39

کے ہمراہ مسجد سے باہر آئے تو سلامت مسیح پتھر کے ساتھ دیوار پر کچھ لکھ رہا تھا اور مقتول منظور مسیح بھی وہاں کھڑے تھے۔ اس نے تقدس کے پیش نظر ان کو دہرانے سے انکار کر دیا۔ ملزم چونکہ جنوب کی طرف بھاگ گیا، اس لیے اس نے مجاہد کے بارے میں مزید کہا کہ کچھ نامعلوم افراد مسجد کے غسل خانوں میں کچھ کاغذ کی چٹیں مسلسل پھینک رہے تھے اور چونکہ وہ ایسا کرنے والوں کے نام معلوم نہیں تھے اس لیے ان کے خلاف کارروائی نہ کر سکے۔ فضل حق نے مزید بتایا کہ (شاہد گجراتی) نے ایک دن امام مسجد مولوی فضل حق کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف لکھی تھیں۔ اس نے یہ بھی تصدیق کی کہ چونکہ چٹیں انہوں نے اپنی تحویل میں رکھی تھیں اس لئے وہ تحقیقاتی آفیسر کے سامنے پیش کر دی گئی تھیں اور برآمدگی کی فرد پر اس گواہ محمد بخش کے دستخط ہیں۔

جرح کے دوران اس نے کہا کہ وہ انڈر میٹرک ہے اور منظور مسیح کو پڑھاتا تھا۔ اس نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ اس کے والد کا منظور مسیح کے والد کے ساتھ کبوتروں کی چوری کے معاملے میں جھگڑا ہوا تھا۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ ملزم سلامت مسیح کے دادا سے اختلافات ہوئے تھے۔ اس نے تسلیم کیا کہ سلامت مسیح کے دادا نے اس کے دادا کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ اس نے تسلیم کیا کہ منظور مسیح کو قتل کیا جا چکا ہے۔ اس نے اس امر سے انکار کیا کہ مولوی فضل حق اور ماسٹر عنایت بھی اس مقدمے میں اس کے ساتھ ملزموں کے استاد تھے لیکن ایک اور شخص، شریف اس کا رشتہ دار ہے۔ اس نے لاعلمی کا اظہار کیا کہ ماسٹر عنایت کے بیٹے کی شادی ہوئی اور منظور مسیح کے بھائی کی شادی ہوئی، بعد میں طلاق ہو گئی۔ اس نے جرح کے دوران کہا کہ احمد اس کے باپ کے ماموں کا بیٹا ہے۔ اس نے اس امر کو درست قرار دیا کہ منظور مسیح نے ان کے کھیتوں میں سے پانی کا کھال نکالا تھا اس نے انکار کیا کہ ان کے منظور مسیح کے ساتھ اس مقدمے سے پہلے کسی اور مسئلے پر اختلافات تھے۔ اس نے مزید کہا کہ مجاہد کا باپ ارشد ان کی برادری سے ہے۔ اس نے اس امر سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ سلامت مسیح کے اس کے چچا ارشد کے ساتھ مسئلے پر اختلافات ہوئے تھے۔ اس نے مجاہد کی عمر ۱۴، ۱۵ سال بتائی۔ اس نے کہا کہ وہ چٹیں جن پر توہین رسالت کے الفاظ تحریر تھے، پہلی دفعہ ۱۱

مئی ۱۹۹۳ء کو دیکھیں۔ وکیل صفائی کے سوال پر کہ ان چٹوں پر کیا چیز قابل اعتراض تھی؟ اس نے کہا کہ وہ ان کو دہرانے کی سکت نہیں رکھتا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس وقت قابل اعتراض مواد کو پھاڑ دیا تھا لیکن جب اس کو کلمہ طیبہ والا پوسٹر دکھایا گیا تو اس نے کہا کہ قابل اعتراض فقرات کلمہ طیبہ کے آخری حصے پر لکھے ہوئے ہیں۔ اس نے کہا یہ تقریباً ۵/۴ بجے کا وقت تھا جب وہ نماز عصر ادا کرنے مسجد گئے اور نماز ادا کر کے مسجد سے باہر نکلے۔ اس نے کہا کہ وہ وقوعہ کے روز دوپہر بارہ بجے کھیتوں سے واپس آگیا تھا اور بعد ازاں ظہر کی نماز بھی مسجد میں جا کر ادا کی تھی اور وقوعہ کے روز وہ سورج غروب ہونے کے بعد اپنے گھر پہنچا تھا۔ بہرحال اس نے کہا کہ چونکہ وہ جاٹ ہے، اس لیے درست وقت نہیں بتا سکتا۔ گواہ نے جرح کے دوران مزید کہا کہ وقوعہ ۱۱ مئی ۱۹۹۳ء کو ہوا جبکہ وہ تھانے رپٹ درج کروانے ۱۱ مئی ۸ بجے پہنچا۔ اس نے مولوی فضل حق اور محمد بخش نمبردار کے ہمراہ مسجد کی دیوار پر لکھے الفاظ پڑھے لیکن وہ تقدس کے پیش نظر ان کو دہرانے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ اس نے مزید کہا کہ مولوی فضل حق نے وہ الفاظ مسجد کی دیوار پر سے صاف کر ڈالے۔ وہ فقرے پانچ چھ الفاظ پر مشتمل تھے اور وہ کپڑے کا لفافہ جس سے وہ الفاظ صاف کیے گئے وہ تفتیشی آفیسر کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ وہ یہ الزام صرف اس وجہ سے لگا رہا ہے کیونکہ اس کے رشتہ دار مجاہد کا کبوتروں کے مسئلے پر سلامت مسیح سے جھگڑا ہوا تھا۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ ان کی منظور مسیح (مقتول) کے ساتھ کوئی پرانی دشمنی ہے۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ وہ مولوی فضل حق اور ماسٹر عنایت کے کہنے پر غلط الزام لگا رہا ہے۔ اس نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ مولوی فضل حق مدعی نے موجودہ مقدمہ کی پیروی کے لیے کوئی چندہ اکٹھا کیا تھا۔

جب وہ مولوی فضل حق کے ساتھ مسجد سے باہر آئے تو انہوں نے دیکھا کہ رحمت مسیح، سلامت مسیح اور منظور مسیح (مقتول) دیوار پر پتھر سے کچھ لکھ رہے تھے۔ اس نے کہا کہ وہ ان الفاظ کو بیان کرنے کی سکت نہیں رکھتا جو ملزموں نے دیوار پر لکھے۔ اس نے مزید کہا کہ ملزمان انہیں دیکھ کر بھاگ گئے۔ مولوی فضل حق نے متعلقہ کاغذ کی چٹیں (ثبوت) اس کے سامنے پولیس کے سامنے پیش کیں اور ان کاغذات کی وصولی کی دستاویزات پر اسی کے دستخط ہیں۔

صفحہ 40

جرح کے دوران اس نے بتایا کہ یہ سارا مواد پہلی مرتبہ اس نے اس وقت دیکھا جب یہ تھانہ میں پولیس آفیسر کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے قابل اعتراض مواد پڑھنے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ ان کو نہیں پڑھ سکتا۔ اس نے جرح کے دوران مزید کہا کہ پولیس نے اس طرح کے تمام کاغذات کا اس کے سامنے پارسل بنایا۔ اس نے کہا کہ وہ وقوعہ سے ایک گھنٹہ قبل مسجد میں گیا لیکن وہ صحیح وقت بتانے سے قاصر ہے۔ اس نے کہا کہ وقوعہ شام کو ہوا جبکہ وہ مسجد سے اپنے گھر کو جا چکا تھا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ملزمان جنوب کی سمت بھاگے تھے۔ اس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وقوعہ کے بعد سے وہ ایک دفعہ بھی ملزمان کو نہیں ملا۔ گواہ نے کہا کہ ملزمان ایک مخصوص طبقہ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ اس نے کہا کہ نہ تو اس کے بیٹے کا منظور مسیح سے اور نہ ہی منظور مسیح کا اس کے بیٹے سے کوئی جھگڑا ہوا تھا اور نہ ہی اس نے سلامت مسیح اور مجاہد کے کسی اس طرح کے تنازعے کے بارے میں سنا تھا۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ سلامت مسیح (ملزم) کو پولیس نے کہاں سے گرفتار کیا۔ اس نے مزید کہا کہ انہوں نے وقوعے کے بعد ملزموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ گواہ نے مزید کہا کہ ماسٹر عنایت کا گاؤں میں کوئی رشتہ دار نہ تھا اور وہ کافی عرصہ سے گاؤں میں دیکھا بھی نہیں گیا تھا۔ اس نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے اس قسم کا کوئی اور واقعہ اس واقعے کے بعد نہیں سنا اور نہ ہی اس نوعیت کا کوئی اور واقعہ ان کے گاؤں کے سکول میں وقوع پذیر ہوا تھا۔ گواہ نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ چھ اور لوگوں کو اسی طرح کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس نے مزید کہا کہ اس نے کبھی نہیں سنا کہ منظور مسیح نے مولوی فضل حق کے ساتھ مذہبی معاملات پر کوئی گفتگو کی ہو۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ رحمت مسیح نے عیسائیوں سے ماسٹر عنایت کے خلاف محکمہ تعلیم کو ایک درخواست دینے کے لیے اس پر دستخط کرائے تھے کیونکہ ماسٹر عنایت نے عیسائیوں کے بچوں کو پڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ رحمت مسیح نے کوئی الیکشن لڑا تھا۔ اس درخواست گزار اور گواہوں نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ انہوں نے کبوتروں کے مسئلے پر سلامت مسیح کی دھنائی کی تھی۔ انہوں نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ اس مقدمے کے ذریعے انہوں نے گاؤں کے عیسائی طبقے کے خلاف کوئی سازش کی۔ انہوں نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ چونکہ رحمت مسیح نے گاؤں کے چرچ میں لاؤڈ سپیکر لگایا تھا اس لیے یہ مقدمہ اس کو سزا دینے کے لیے گھڑا گیا۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ ان لوگوں نے اس مقدمے کی پیروی کے

صفحہ 41

لیے چندہ اکٹھا کیا بلکہ کہا کہ وہ اس مقدمے میں گواہ کے طور پر پیش ہونے کے لیے خود اپنے خرچ پر موجودہ عدالت میں حاضر ہوا ہے۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ اس معاملے کی ابتداء سے قبل ان کے گاؤں کے عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کا کوئی تنازعہ ہوا تھا۔ اس نے یہ تسلیم کیا کہ سلامت مسیح (ملزم) ان پڑھ ہے کیونکہ اسے وہ تقسیم برصغیر سے جانتا ہے۔

اس نے وکیل صفائی کی جرح کے دوران بتایا کہ اس نے چند الفاظ دیوار پر لکھے دیکھے تھے جو بعد میں صاف کر دیے گئے تھے۔ وہ الفاظ پڑھے نہیں جا سکتے تھے۔ اس نے کہا کہ اسے رحمت مسیح کی طرف سے چرچ میں لگائے جانے والے لاؤڈ سپیکر کی تنصیب کے خلاف کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی۔ اس نے کہا کہ اس نے ملزم کا نمونہ تحریر حاصل نہیں کیا تھا۔ اس نے کہا کہ چونکہ لوگ سخت اشتعال میں تھے‘ اس لیے وہ ملزمان کو ان کی جانوں کو درپیش خطرے کے پیش نظر تھانہ میں لے آیا۔ اس نے مزید کہا کہ اسے مولوی فضل حق کی جانب سے ایسی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی کہ منظور مسیح یا دیگر ملزمان اس کے ساتھ کسی قسم کی بحث میں الجھے تھے۔ اس نے کہا کہ اس نے سلامت مسیح اور منظور مسیح (مقتول) کو ان کے گھروں سے گرفتار کیا۔ رحمت مسیح کو ایک ایم پی اے عادل شریف گل نے خود ایس ایس پی گوجرانوالہ کے سامنے پیش کیا۔

ریکارڈ کیا گیا جس نے اس امر سے انکار کیا کہ اس نے گواہوں کے بیانات کے مطابق چند الفاظ یا فقرے اپنے گاؤں کی جامع مسجد کی دیوار پر تحریر کیے تھے جو کہ یہ لوگ تقدس کی وجہ سے بیان نہ کر پاتے ہوں۔ اس نے اس امر سے بھی انکار کیا کہ دستاویزات نمبر ۱ اور ۲ اس نے اور اسکے شریک ملزمان نے مل کر تیار کی تھیں جن میں نبی پاک محمد مصطفیٰؐ کے متعلق شرانگیز باتیں تحریر تھیں بلکہ اس نے کہا کہ وہ بالکل ان پڑھ ہے اور اس امر کا خدشہ ظاہر کیا کہ یہ دستاویزات گواہوں نے خود تیار کی ہیں۔ ایک حتمی سوال کے جواب میں کہ یہ مقدمہ اس کے خلاف ہی کیوں درج کیا گیا اور تمام گواہوں نے اس کے خلاف ہی الزام کا اعادہ کیوں کیا ہے؟ اس نے کہا کہ ایک گواہ محمد اکرم کے بھتیجے ارشد کے بیٹے مجاہد کے ساتھ اس کا کچھ روز قبل جھگڑا ہوا تھا۔ اگلے دن جب وہ کھیتوں سے واپس آیا تو اسی گاؤں کے پچاس ساٹھ مسلمان آئے۔ انہوں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کے خاندان کو

صفحہ 42

یا اسے کچھ نہیں بتایا۔ انہوں نے گاؤں کے سکول میں اسے پھینٹی لگائی۔ محمد بخش نے اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے اس جرم کا اعتراف نہ کیا تو وہ اسے جان سے مار ڈالے گا اور جب اس نے چارپائی پر بیٹھنے کی کوشش کی تو محمد بخش نے اسے زمین پر بیٹھنے کو کہا اور اسے ”چوڑھا“ کہہ کر پکارا۔ انہوں نے اسے یہ دھمکی بھی دی کہ عیسائیوں میں سے جو بھی ان کے رستہ میں آیا اس کے ساتھ یہی سلوک کیا جائے گا۔ اس کے والدین اسے چھڑوانے کے لیے آئے اور ملزمان سے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ جھگڑا نہیں کریں گے۔ ان کے والدین نے اس ضمن میں قسم بھی دینے کی کوشش کی لیکن وہاں موجود لوگوں نے قسم لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ تم ”چوڑھے“ ہو اور قابل اعتماد نہیں ہو۔ اس کا چچا وہاں آیا اور اس نے کہا کہ وہ مسلمانوں کا احترام کرتے ہیں اور مذہبی معاملات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کیونکہ وہ ”بدھو“ ہیں۔ وہاں پر موجود لوگوں نے اس کی ماں کو بھی مارا اور اس کو گھر بھیج دیا۔ حاجی اکرم نے اس کے باپ سے کہا کہ چونکہ اس کے باپ نے شیشم کے درختوں کی چوری میں اس کے باپ کو گوجرانوالہ میں ایک مقدمے میں ملوث کیا تھا‘ اس لیے وہ اس کا بدلہ موجودہ نسل سے لے گا۔

ملزم نے دوسرے ملزم رحمت مسیح کے ساتھ اپنی کسی رشتہ داری سے انکار کیا اور کہا کہ اس نے پہلی مرتبہ اس کو تھانے کی حوالات میں دیکھا تھا۔ بہرحال ملزم سلامت مسیح نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو جھٹلانے کے لیے کوئی گواہی پیش کرنے سے انکار کر دیا جو کہ استغاثہ نے اسکے خلاف زیر دفعہ ۲۹۵ (c) تعزیرات پاکستان عائد کئے تھے۔

اس الزام سے کہ اس نے مسجد کی دیوار پر کوئی قابل اعتراض الفاظ تحریر کیے تھے لیکن ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ ماسٹر عنایت کوٹ لدھا میں رہتا ہے جو ”پھوکر“ گاؤں سے صرف چار ایکڑ دور واقع ہے‘ اس نے عیسائیوں کے بچوں کو پڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔ ملزم نے عیسائی طبقے کے لوگوں کے دستخط ایک درخواست پر حاصل کیے اور ماسٹر عنایت کے خلاف یہ درخواست تعلیم کے اعلیٰ حکام کو دے دی جس پر (ماسٹر نے) اسے وقت آنے پر سبق سکھانے کی دھمکی دی۔ اس نے کہا کہ اس نے ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سے اجازت نامہ حاصل کر کے چرچ کے اندر ایک لاؤڈ سپیکر بھی لگایا تھا۔ اس نے اس ضمن میں اپنے گاؤں کے معززین مولوی محمد رشید اور شاہ محمد سے بھی بات کی اور انہیں یقین دلایا تھا کہ اذان اور نماز کے اوقات میں یہ سپیکر استعمال نہیں کیا جائے گا لیکن ماسٹر عنایت نے اس سپیکر کی تنصیب کی اس بنا پر مخالفت کی کہ سپیکر کی آواز سے اس کے سکول میں پڑھنے

صفحہ 43

والے بچے ڈسٹرب ہوں گے۔ اس پر اس نے سپیکر اتار کر صندوق میں سنبھال دیا کیونکہ اس کو یقین تھا کہ اللہ کی عبادت کے لیے اسے اس سپیکر کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نے اس امر سے انکار کیا کہ سلامت مسیح اس کا رشتہ دار یا واقف کار ہے۔ اس نے کہا کہ اسے اس مقدمے کے متعلق اپنے بھائی سے اس وقت پتہ چلا جب وہ اس کو ملنے گوجرانوالہ گیا۔ اس کے بھائی نے بتایا کہ ان کو غلط طور پر اس مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے اور لوگ ان کی خواتین کی بے حرمتی کرنے اور ان کے گھروں کو آگ لگانے کے لیے تلے بیٹھے تھے۔ چنانچہ اس نے خود ہی عادل شریف ایم پی اے سے رابطہ کیا جس نے اس کو ایس ایس پی گوجرانوالہ کے سامنے پیش کیا۔ جہاں سے اسے براہ راست جیل بھیج دیا گیا۔ اس نے کہا کہ وہ مسلمانوں اور دیگر تمام مذاہب کے لوگوں کا احترام کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ ماسٹر عنایت نے حبیب اللہ، محمد صادق ولد رحیم بخش، محمد اکرم، محمد صادق ولد اللہ بخش اور خادم حسین جو کہ کوٹ لدھا کے رہائشی ہیں، پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دیا۔ محمد صادق ولد رحیم بخش، محمد صادق ولد اللہ بخش اور حبیب اللہ ولد مولوی محمد رشید اس گروپ کے لیے لوگوں سے چندہ بھی اکٹھا کرتے رہے ہیں اور انہوں نے ہی ان پر قاتلانہ حملہ کیا جس میں ان کا شریک ملزم منظور مسیح قتل اور وہ زخمی ہو گئے۔ اس نے اپنے دفاع میں کوئی گواہی پیش کرنے یا خود استغاثہ کی طرف سے زیر دفعہ (۲) ۲۹۸ تعزیرات پاکستان کے تحت لگائے گئے الزامات کی تردید سے انکار کیا۔

خلاف درج کیا گیا مقدمہ مکمل طور پر جھوٹا اور کھوکھلا ہے۔ اس نے کہا کہ مقدمے کے اندراج میں خاطر خواہ تاخیر کا کوئی تسلی بخش جواز پیش نہیں کیا جا سکا۔ یہ بھی دلیل دی گئی کہ گواہوں کے بیانات میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے کیونکہ ایک مسلمان کے طور پر وہ اس امر سے لاعلم ہیں کہ وقوعہ کے دنوں میں نماز عصر کے کیا اوقات ہوتے ہیں۔ اس نے مزید کہا کہ گواہ نمبر ۱ اپنے بیان سے پیچھے ہٹا ہے۔ اس لیے اس کی گواہی پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے کہا اور بہت سے مقدمات صرف اس نوع کی گواہیوں کی بناء پر قائم کیے گئے۔ اس نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر مدعی اور گواہ استغاثہ نمبر ۱ کو اپنی جان کے خطرے کا خدشہ ملزموں کی طرف سے نہیں ہے جو کہ اس نے عدالت میں اپنے بیان کے دوران بھی تسلیم کیا ہے تو پھر اسے ان عناصر کو بے نقاب کرنا چاہیے۔ جن کی طرف سے اس کی جان کو خطرہ ہے۔ دراصل وہ ایک جھوٹا آدمی ہے جس نے دستاویز نمبر ۱ اور ۲ مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ سستے طریقے سے کھیلنے کے لیے خود تیار کی ہے۔ اس نے

صفحہ 44

مزید کہا کہ ایک خود ساختہ کہانی کے ذریعے ان کو پھنسانے کے لیے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے متعلق یہ مواد تخلیق کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گواہوں نے اس امر کی بھی تصدیق کی ہے کہ کس مقدس شخصیت کے متعلق وہ توہین آمیز اور بدتمیزانہ الفاظ تحریر کیے تھے۔ وکیل صفائی نے مزید کہا کہ گواہ استغاثہ نمبر ۳ نے کاغذ پر انتہائی واضح الفاظ میں لکھا گیا کلمہ طیبہ بھی پڑھنے سے انکار کر دیا جس کا مطلب ہے کہ وہ اس عبارت سے بھی بالکل آگاہ نہیں تھے جو مسجد کی دیواروں پر یا کلمہ طیبہ کے درمیان اس پوسٹر پر لکھی گئی۔ وکیل صفائی نے مزید کہا کہ ملزم واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ نہ صرف اسلام بلکہ دوسرے تمام مذاہب کا اسی طرح احترام کرتے ہیں جس طرح عیسائیت کا۔ مزید برآں نہ ہی وہ پتھر جس سے گستاخانہ الفاظ تحریر کیے گئے تھے اور نہ ہی وہ صافہ (کپڑا) جس سے ان کو صاف کیا گیا عدالت میں پیش کئے جا سکے۔ استغاثہ کے گواہ نمبر ۱ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملزم جنوب کی طرف بھاگ گیا جبکہ نقشہ کے مطابق جنوب کی طرف کوئی راستہ ہی نہیں۔ یہ بھی دلیل دی گئی کہ سلامت مسیح کی عمر صرف ۱۳ سال ہے جبکہ گواہ استغاثہ نے کہا کہ وہ اسے تقسیم ہند سے جانتا ہے۔ فاضل وکیل صفائی نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ چونکہ استغاثہ ملزموں کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں کر سکا ہے اس لئے وہ اس امر کے حق دار ہیں کہ ملزموں کو اس الزام سے باعزت بری کر دیا جائے۔

۱۴- فاضل ڈسٹرکٹ اٹارنی جنرل جن کی معاونت رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ نے کی‘ نے کہا کہ استغاثہ بغیر کسی شک و شبہے کے اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے انتہائی احترام اور لگاؤ کا معاملہ تھا جس کی وجہ سے گواہان استغاثہ نے ان الفاظ کو دہرانے سے انکار کیا جو ملزموں نے مسجد کی دیوار پر تحریر کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مسلمان صرف ذاتی دشمنی اور انا کی تسکین کے لیے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے متعلق اس قسم کی کوئی دستاویز خود بنانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر گواہ نمبر ۱ نے استغاثہ کے واقعات کی ہر پہلو سے تصدیق کی‘ اس لیے ان کو ایسا گواہ قرار نہیں دیا جا سکتا جو اپنی گواہی سے منحرف ہوا ہو یا پیچھے ہٹا ہو۔ یہ بھی کہا گیا کہ دستاویز نمبر ۱ اور ۲ جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے متعلق نازیبا اور توہین آمیز کلمات درج ہیں اور استغاثہ کی طرف سے مہیا کردہ مواد ملزموں کو جرم کے ساتھ وابستگی کا مکمل ثبوت فراہم کرتا ہے اور ملزموں کو سزا کا مستحق ثابت کرتا ہے۔

۱۶- میں نے بڑی احتیاط سے ریکارڈ کا معائنہ کیا اور دونوں فریقین کے وکلاء کو

صفحہ 45

کے ذریعے ان کو پھنسانے کے لیے نبی پاک (صلی اللہ علیہ کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گواہوں نے اس امر کی بھی شخصیت کے متعلق وہ توہین آمیز اور بدتمیزانہ الفاظ تحریر کیے ۔ گواہ استغاثہ نمبر ۳ نے کاغذ پر انتہائی واضح الفاظ میں لکھا کر دیا جس کا مطلب ہے کہ وہ اس عبارت سے بھی بالکل وں پر یا کلمہ طیبہ کے درمیان اس پوسٹر پر لکھی گئی۔ وکیل طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ نہ صرف اسلام بلکہ دوسرے تمام تے ہیں جس طرح عیسائیت کا۔ مزید برآں نہ ہی وہ پتھر جس تھے اور نہ ہی وہ صافہ (کپڑا) جس سے ان کو صاف کیا گیا ستغاثہ کے گواہ نمبر ۱ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملزم جنوب کی طابق جنوب کی طرف کوئی راستہ ہی نہیں۔ یہ بھی دلیل دی ، ۱۳ سال ہے جبکہ گواہ استغاثہ نے کہا کہ وہ اسے تقسیم ہند ئی نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ چونکہ استغاثہ ملزموں کے سکا ہے اس لئے وہ اس امر کے حق دار ہیں کہ ملزموں کو جائے۔

، جنرل جن کی معاونت رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ نے کی‘ و شبہے کے اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

، اللہ علیہ وسلم سے اپنے انتہائی احترام اور لگاؤ کا معاملہ تھا نے ان الفاظ کو دہرانے سے انکار کیا جو ملزموں نے مسجد کی نے کہا کہ کوئی بھی مسلمان صرف ذاتی دشمنی اور انا کی ۔ علیہ وسلم کی ذات کے متعلق اس قسم کی کوئی دستاویز خود یہ بھی کہا گیا کہ اگر گواہ نمبر ۱ نے استغاثہ کے واقعات کی ہر کو ایسا گواہ قرار نہیں دیا جا سکتا جو اپنی گواہی سے منحرف لیا کہ دستاویز نمبر ۱ اور ۲ جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ ر توہین آمیز کلمات درج ہیں اور استغاثہ کی طرف سے مہیا ند وابستگی کا مکمل ثبوت فراہم کرتا ہے اور ملزموں کو سزا کا

سے ریکارڈ کا معائنہ کیا اور دونوں فریقین کے وکلاء کو

تفصیل سے سنا۔

اپنی گواہی میں اپنی جان کو درپیش خطرے کے خدشے کا اظہار کیا لیکن اس نے وقوعہ کے متعلق استغاثہ کے دعوؤں سے اختلاف نہیں کیا اور جب اس کو وہ کاغذات دیے گئے جن پر نازیبا کلمات تحریر تھے تو اس نے ان کاغذات کو نہ صرف پہچان لیا بلکہ ان کے مندرجات کی بھی تصدیق کی اور درخواست پر بھی اپنے دستخطوں کے سوال ثبت ہونے کے بارے میں استفسار پر مثبت جواب دیا۔ اس نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ وقوعہ بہرحال ہوا تھا۔ اس کا اس امر سے انکار کہ اس کو ملزموں کی طرف سے جان کا کوئی خطرہ ہے‘ کبھی کسی چیز کو ثابت نہیں کرتا۔ اس کی گواہی کے مستند ہونے کے بارے میں کوئی دوسرا لفظ نہیں کہا جا سکتا۔ اس کے بارے میں اس شک کا اظہار تو ہو سکتا ہے کہ آیا وہ اس وقت غلط بیان دے رہا تھا جب وہ تفتیشی آفیسر کے سامنے تھا یا اس وقت جب جرح کے دوران عدالت کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرا رہا تھا۔ لیکن دونوں صورتوں میں اس نے نہ تو ملزم سے کوئی رعایت کی ہے اور نہ ہی اس متعلقہ مواد سے کوئی اختلاف کیا ہے جو درخواست کی تصدیق میں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ اس کے بجائے اس نے اپنی درخواست کی‘ جو وہ پہلے ہی تھانے کو دے چکا ہے‘ تصدیق کی ہے۔ اس لیے اس مقدمے کو نبٹاتے وقت درخواست کے تمام مندرجات پر غور کیا جانا ضروری ہے۔

دوسرے یہ کہ گواہ محمد اکرم نے استغاثہ کی تفصیلات کی مکمل تصدیق کی ہے۔ اگرچہ گواہان استغاثہ نمبر ۲ اور ۳ نے ان الفاظ کو جو مسجد کی دیوار پر تحریر کیے گئے تھے اور یا پھر دستاویزات نمبر ۱ اور ۲ پر پائے گئے کو دہرانے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کا ایمان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ان کی محبت اور لگاؤ انہیں اس امر کی اجازت نہیں دیتا۔ فاضل وکیل صفائی نے جرح کے دوران‘ ان سے یہ بات منوانے کی کوششیں کی کہ گواہوں اور ملزموں کے درمیان کوئی پرانی دشمنی تھی۔ گواہوں نے نہ صرف اس الزام سے انکار کیا بلکہ گواہ استغاثہ نمبر ۲ محمد اکرم نے تو خود ہی یہ بھی بتایا کہ اگرچہ منظور مسیح نے ان کے کھیتوں کی زمین میں سے پانی کا ”کھال“ نکالا تھا لیکن اس وقوعے سے پہلے ان کا ان کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھا۔ تب وکیل صفائی نے پوچھا کہ کیا ان کی برادری کے ایک آدمی ارشد کا بیٹا مجاہد کبوتروں کے تنازعے پر ملزم سلامت مسیح سے جھگڑا تھا تو انہوں نے مکمل طور پر انکار کر دیا۔ فاضل وکیل صفائی نے اس امر کا پورا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی کہ گواہ استغاثہ نمبر ۲ نے نازیبا کلمات کو دہرانے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ قابل

صفحہ 46

اعتراض مواد کو پھاڑ دیا گیا تھا جو کہ صحیح حالت میں سیل شدہ دستاویزات کی شکل میں دستیاب ہے۔ بلاشک و شبہ کلمہ طیبہ جو کہ دستاویز نمبر۱ پر لکھا ہوا ہے، کے اوپر بہت شدید توہین آمیز کلمات لکھے ہوئے ہیں اور اسی طرح کے کلمات اس حصے پر بھی ہیں جو دستاویز نمبر۱ سے علیحدہ کر دیا گیا لیکن دستاویز نمبر۲ کی صورت میں دستیاب ہے۔ اسی طرح محمد بخش نمبردار سے جب وکیل صفائی نے پوچھا کہ کیا انہوں نے ملزم سلامت مسیح کو صرف اسی وجہ سے پھینٹی لگائی تھی کہ اس نے مجاہد کے ساتھ کبوتروں کے مسئلے پر تنازعہ کیا تھا اور ملزم رحمت مسیح نے چرچ میں لاؤڈ سپیکر نصب کیا تھا تو انہوں نے انکار کیا۔ اسی طریقے سے جس طرح کہ اوپر ذکر آیا ہے ملزمان کا ماسٹر عنایت اور مجاہد کے ساتھ تنازعہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور سلامت کو سکول میں بند کر کے پھینٹی لگانے اور اس کے خلاف توہین رسالت کے الزام میں مقدمہ درج کرانے کا تعلق بھی دونوں کے بزرگوں کے درمیان شیشم کے درختوں کے چوری کے سلسلہ میں مقدمہ بازی سے جوڑا گیا۔ یہ اتنے چھوٹے معاملات اور نکات ہیں کہ میرا نہیں خیال کہ کوئی مسلمان اس قدر گر سکتا ہے کہ نبی پاک محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس قدر توہین آمیز اور نازیبا الفاظ پر مشتمل مواد تیار کرنے کی جسارت کر سکے۔ گواہوں کے مجموعی مشاہدے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دراصل ملزم نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے متعلق نازیبا الفاظ مسجد کی دیوار پر تحریر کر کے ان کے مقدس نام کی بے حرمتی کرنے کی جسارت کی۔ اس امر کی تصدیق تفتیشی آفیسر امان اللہ خان کے اس بیان سے بھی ہو جاتی ہے، جو اس نے گواہ استغاثہ نمبر۴ کے طور پر عدالت میں حاضر ہو کر دیا اور کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس نام کے متعلق الفاظ دیواروں پر لکھے ہوئے تھے جنہیں بعد ازاں کپڑے کے صافے سے صاف کیا گیا تھا اور دوسرے گواہوں نے بھی اسی بات کی تصدیق کی کہ الفاظ صافے سے صاف کر دیے گئے تھے۔ اگر وہ پتھر یا اینٹ کا ٹکڑا اور وہ صافا جس سے یہ الفاظ صاف کیے گئے، قبضے میں نہیں لیا جا سکا تو اس سے استغاثہ کا نقطہ نظر کسی طور پر بھی متاثر نہیں ہوتا کیونکہ اینٹ یا پتھر کی فراہمی اور صافے کی دستیابی کوئی اتنی بڑی گواہی نہیں کہ اس کا مجموعی مقدمے پر بہت زیادہ فرق پڑے۔

مختلف حقائق کو متعارف کرایا جو اس سے قبل جرح کے دوران بھی منظر عام پر نہیں لائے جا سکے تھے۔ اس طرح کے مقدمات میں کم از کم ملزم کو خود بھی (زیر دفعہ ۳۴۰ تعزیرات پاکستان) یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ عدالت میں بتا سکے کہ اس نے گواہی سے متعلقہ

صفحہ 47

تھا جو کہ صحیح حالت میں سیل شدہ دستاویزات کی شکل میں مہ طیبہ جو کہ دستاویز نمبر۱ پر لکھا ہوا ہے‘ کے اوپر بہت شدید ہیں اور اسی طرح کے کلمات اس حصے پر بھی ہیں جو دستاویز دستاویز نمبر ۲ کی صورت میں دستیاب ہے۔ اسی طرح محمد بخش نے پوچھا کہ کیا انہوں نے ملزم سلامت مسیح کو صرف اسی وجہ نے مجاہد کے ساتھ کبوتروں کے مسئلے پر تنازعہ کیا تھا اور ملزم ؤ سپیکر نصب کیا تھا تو انہوں نے انکار کیا۔ اسی طریقے سے ملزمان کا ماسٹر عنایت اور مجاہد کے ساتھ تنازعہ ثابت کرنے کی سکول میں بند کر کے پھینٹی لگانے اور اس کے خلاف توہین درج کرانے کا تعلق بھی دونوں کے بزرگوں کے درمیان چشم سلہ میں مقدمہ بازی سے جوڑا گیا۔ یہ اتنے چھوٹے معاملات ں کہ کوئی مسلمان اس قدر گر سکتا ہے کہ نبی پاک محمد مصطفیٰ اس قدر توہین آمیز اور نازیبا الفاظ پر مشتمل مواد تیار کرنے کے مجموعی مشاہدے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دراصل یہ وسلم کی ذات کے متعلق نازیبا الفاظ مسجد کی دیوار پر تحریر بے حرمتی کرنے کی جسارت کی۔ اس امر کی تصدیق تفتیشی ان سے بھی ہو جاتی ہے‘ جو اس نے گواہ استغاثہ نمبر ۴ کے یا اور کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس نام کے متعلق تھے جنہیں بعد ازاں کپڑے کے صافے سے صاف کیا گیا تھا ں بات کی تصدیق کی کہ الفاظ صافے سے صاف کر دیے گئے اور وہ صافہ جس سے یہ الفاظ صاف کیے گئے‘ قبضے میں نہیں قطہ نظر کسی طور پر بھی متاثر نہیں ہوتا کیونکہ اینٹ یا پتھر کی ما اتنی بڑی گواہی نہیں کہ اس کا مجموعی مقدمے پر بہت زیادہ

۳۴ تعزیرات پاکستان اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بالکل اس سے قبل جرح کے دوران بھی منظر عام پر نہیں لائے مات میں کم از کم ملزم کو خود بھی (زیر دفعہ ۳۴۰ تعزیرات کہ وہ عدالت میں بتا سکے کہ اس نے گواہی سے متعلقہ

دستاویزات خود تیار نہیں کیں لیکن نہ تو اس نے ایسا گواہ کی طرف سے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کیا اور نہ ہی وکیل صفائی نے اس ضمن میں اس سے سوال کرنا پسند کیا کہ آیا ملزموں نے یہ دونوں کاغذ تیار کیے تھے یا نہیں۔ ملزم کا یہ دعویٰ بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ان پڑھ ہے اور ایسے کاغذات تیار نہیں کر سکتا کیونکہ اردو زبان‘ جس میں یہ جسارت کی گئی ہمارے تعلیمی اداروں میں پہلی جماعت سے پڑھائی جا رہی ہے۔ اس لئے میرے خیال میں بغیر کسی شک و شبے کے استغاثہ جرم ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

ملزمان کے خلاف جرم ثابت ہو گیا ہے۔

کی صاحبزادی) اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے بارے میں بھی مواد تھا‘ جس میں ان کی ذات پر حملے کئے گئے تھے۔ اس کے متعلق ملزموں نے اپنی صفائی میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ اس لئے ان کے خلاف زیر دفعہ ۲۹۸ اے (جسے دفعہ ۳۴ پی پی سی کے ساتھ پڑھا جائے گا) بھی الزام ثابت ہو جاتا ہے۔

مسیح کو پہلے جرم میں موت کی سزا اور ۲۵ ہزار روپے جرمانے کی سزا سناتا ہوں۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں انہیں دو سال قید بامشقت سخت بھگتنا ہوگی۔ علاوہ ازیں ان ملزمان کو دوسرے جرم میں ۲۹۸ اے کے تحت بھی سزا سناتے ہوئے مزید دو سال قید اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سناتا ہوں۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں چھ ماہ قید بامشقت بھگتنا ہوگی۔ ملزمان جو ضمانت پر رہا تھے۔ عدالت میں موجود ہیں‘ ان کے ضمانتی مچلکے برخاست کئے جاتے ہیں۔ ان کو گرفتار کر لیا جائے اور ان کو جیل پہنچا دیا جائے تاکہ وہ وہاں اپنی سزا بھگت سکیں۔

جائے۔

اندر میرے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکیں گے۔

صفحہ 48

محمد مجاہد حسین ایڈیشنل سیشن جج ۹ فروری ۱۹۹۵ء

روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور نے ”توہین رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ملزموں کو سزا“ کے عنوان سے اپنے اداریہ میں لکھا

”لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج محمد مجاہد حسین نے گوجرانوالہ کے توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ملزموں سلامت مسیح اور رحمت مسیح کے لیے موت کی سزا کا فیصلہ دیا ہے۔ اسلام میں توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا موت مقرر کی گئی ہے اگر قانون کی کوئی عدالت اس گستاخی کے مرتکب کسی ملزم کو سزا نہ بھی دے تو خود عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جان پر کھیل کر بھی ملعون ملزم کا خاتمہ کر دیتے ہیں جیسا کہ انگریز کے دور میں غازی علم الدین شہیدؒ نے کارنامہ انجام دیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد گو شہری حقوق میں ملکی اقلیتیں مساوی حیثیت کی حامل ہیں لیکن مذہبی طور پر کسی بھی دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں‘ قانون کی رو سے بھی ایسا فعل جرم کی ذیل میں آتا ہے۔ تاہم یہ افسوس ناک حقیقت ہے کہ بعض حلقے اپنی نام نہاد ترقی پسندی یا مخصوص مفادات کے تحت اقلیتوں کو گمراہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس فیصلے پر جذباتی ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے حالانکہ اسے تمام اقلیتوں بالخصوص مسیحی بھائیوں کا فرض ہے کہ اس سپرٹ میں لیں کہ کسی بھی مذہب میں دوسرے مذہب یا اس کے جلیل القدر بانی کے بارے میں توہین آمیز رویہ اختیار کرنا جائز نہیں اور جمہوریت نام ہی دوسرے کے جذبات اور عقائد کے احترام کا ہے۔ اسلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا بھی قائل ہے اور دیگر انبیائے کرام کے احترام و تقدس کا درس دیتا ہے خاص طور پر اہل کتاب ہونے کے ناطے مسیحی بھائیوں کو اس رواداری اور برداشت کا ثبوت دینا چاہیے جو مسلمان اپنے مسیحی بھائیوں کے اعتقادات کے سلسلے میں اپناتے ہیں اور دیگر اقلیتوں کو مذہبی رسومات کی مکمل آزادی ہے۔ پاکستانی اخبارات کرسمس کے موقع پر مسیحی بھائیوں کے مضامین اور پیغامات شائع کرتے ہیں اور ریڈیو‘ ٹی وی پر بھی خصوصی پروگرام پیش کیے جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر جے سالک نے کہا ہے کہ مسیحی برادری جذباتی ہونے کی بجائے موجودہ قوانین میں بہتری کی کوشش کرے۔ جارج کلیمنٹ نے کہا کہ اگر سزاؤں پر عمل درآمد ہوا تو اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ پاکستان میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پانچ مسیحی ارکان اسمبلی نے کہا ہے کہ مسیحی عوام کو صدمہ

صفحہ 49

ہوا ہے اور مسیحی انصاف کے لیے متحد ہو جائیں۔ دوسری طرف مسلمان علمائے کرام نے اس فیصلے کو سراہا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ توہین رسالت کی سزا موت ہے۔ اس فیصلے سے پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔

بہر حال مسیحی برادری اور دیگر اقلیتوں کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کا خیال کریں کیونکہ تمام مسلمان، مسیحوں کے مذہب اور ان کے پیغمبر پر ایمان رکھتے ہیں اور اُس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا، اہل مغرب اس فیصلے کی بنیاد پر تو غلط سلط پراپیگنڈہ کر سکتے ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ خود لاہور کے ایک ہفت روزہ نے ایک اشتہار کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق مجروح ہو رہے ہیں۔ یہ اشتہار نام نہاد دانشوری اور لبرل ازم کا نتیجہ ہے ورنہ نصف صدی سے پاکستان میں مسلمان اور مسیحی بھائی اکٹھے زندگی بسر کر رہے ہیں اور کبھی کوئی بڑی شکایت سامنے نہیں آئی۔ پاکستانی آئین اقلیتوں کے حقوق کا مکمل نگہبان ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک عیسائی چیف جسٹس اے آر کارنیلس تو تمام پاکستانی طبقات کے لیے آج بھی یکساں طور پر محترم ہیں۔ قادیانی حضرات شکوے شکایت کرتے ہیں لیکن اس طبقے سے تعلق رکھنے والے سر محمد ظفر اللہ ہمارے پہلے وزیر خارجہ تھے اور ایک اور صاحب پاکستان ایئر فورس کے سربراہ رہے ہیں سرکاری اور نجی شعبے میں مسلمان اور اقلیتیں مل جل کر کام کر رہی ہیں اور کبھی کسی نے تفریق کا کوئی تاثر نہیں دیا۔ مسیحی بھائیوں کا فرض ہے کہ مسلمان تو سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین تک کو ملعون قرار دے چکے ہیں اور ان کے لیے موت کی سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ امریکہ اور اہل یورپ کے لیے یہ دونوں ہستیاں لائق احترام ہیں اور انہیں ہیرو بنایا جا رہا ہے اور امریکہ کے سفارتی نمائندے بھی اس پھانسی کی سزا کے حوالے سے گمراہ کن رول ادا کر رہے ہیں حالانکہ اس سزا کے خلاف ابھی اپیل باقی ہے۔ اسلام سے عیسائی دنیا کا بغض آج کے تہذیب و تمدن کے عروج کے زمانے میں سمجھ آنے والی بات نہیں۔ عیسائی بھائیوں کو صلیبی ادوار کی یادوں کو فراموش کر کے انسانیت کے ناطے مسلمانوں کے بنیادی حقوق کا احساس کرنا چاہیے خاص طور پر اس لئے بھی کہ کوئی مسلمان عیسائیت یا حضرت عیسیٰؑ کی توہین کا خیال بھی ذہن میں نہیں لا سکتا۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ ہمارے پاکستانی مسیحی بھائی اس مسئلے کو ایکسپلائٹ کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔"

(اداریہ روزنامہ ”نوائے وقت“ ۱۲ فروری ۱۹۹۵ء)

صفحہ 50

سیشن کورٹ کے فیصلہ کے خلاف مختلف سیاسی، عیسائی

اور سیکولر رہنماؤں کا ردعمل

فیصلہ بڑے غلط موقع پر ہوا ہے اور وہ اس سے ذاتی طور پر ناخوش ہیں اور عدالت کے فیصلے پر انہیں حیرت بھی ہوئی ہے اور دکھ بھی، اور ملزمان کے وکلاء کے لیے اپیل کی اب بھی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کرنا چاہتی ہیں اور اس سلسلہ میں وہ مولانا فضل الرحمان سے بات کر رہی ہیں۔“

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، روزنامہ ”جنگ“ لاہور، ۱۴ فروری ۹۵ء)

کیا تبصرہ کریں۔“

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور، ۱۵ فروری ۹۵ء)

میں دو مسیحیوں کی سزائے موت کو اسلامی اصولوں اور روایات کے منافی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حضرت نبیؐ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تو ”رحمتہ العالمین“ ہیں۔ اس لیے توہین رسالت کے جرم میں کسی غیر مسلم کو سزائے موت دینا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشخص کو بھی کم کرنے کے مترادف ہے۔ پیر کے روز یہاں اپنی اقامت گاہ پر ”نوائے وقت“ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فتاویٰ عالمگیری کے مطابق توہین رسالت کا اطلاق کسی غیر مسلم پر نہیں ہوتا، اس لئے کسی غیر مسلم کو توہین رسالت کی بناء پر سزا نہیں دی جاسکتی جبکہ متعلقہ قانون میں توہین رسالت کی جامع تعریف بھی موجود نہیں ہے کہ حضرت نبی کریمؐ کی ذات طیبہ کے بارے میں کیا بات کہی جائے تو وہ توہین رسالت کے زمرے میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کے جرم میں کسی غیر مسلم کو سزائے موت دینے سے بیرونی دنیا میں بھی ہمارا ”امیج“ خراب ہو رہا ہے اور اس پراپیگنڈہ کو بھی تقویت حاصل ہو رہی ہے کہ دینِ اسلام ”تھیا کریسی“ ہے اور اس میں ”لبرل ازم“ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری سوسائٹی پر مولوی اتنا حاوی ہو گیا ہے کہ کسی کو بھی محض مولوی کے ڈر سے حقائق سامنے لانے کی جرات نہیں ہوتی اور ہمارے سیاسی قائدین نے اس معاملہ میں منافقت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ تاکہ کہیں اسے مولویوں کی تنقید

صفحہ 51

کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تو سمجھتے ہیں کہ سلمان رشدی کی سزائے موت دینے کے بارے میں امام خمینی کا فتویٰ بھی درست نہیں ہے کیونکہ سلمان رشدی کے خلاف فتویٰ کی بنیاد نہیں بلکہ عدالت میں باقاعدہ ٹرائل کر کے ہی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سلمان رشدی عدالت کے روبرو اپنے موقف سے رجوع کرے اور اعلان کرے کہ وہ آئندہ دین اسلام یا حضرت نبی کریمؐ کے بارے میں بھی کوئی گستاخی نہیں کرے گا تو پھر وہ توہین رسالت کا مرتکب نہیں ٹھہرے گا۔“

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ ۱۴ فروری ۹۵ء)

ہے‘ یہ بات عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نے ”پاکستان“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی‘ انہوں نے کہا اس فیصلے سے ملک میں فتنہ فساد بڑھے گا۔ اس طرح کے مقدمات میں ہمیں قانون تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ قاتل آزاد گھومیں اور بارہ سالہ بچے کو پھانسی دے دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ میں اس کیس پر آج اپیل دائر کروں گی مجھے امید ہے کہ آئندہ انہیں انصاف ملے گا۔ انہوں نے کہ یہ فیصلہ غلط ہوا ہے ہم اب اپیل میں جائیں گے۔ اس قسم کے فیصلے پہلے بھی ہوئے تھے اور ملزم ہائی کورٹ سے بری ہو گئے تھے۔“

(روزنامہ ”پاکستان“ ”جنگ“ لاہور‘ ۱۴ فروری ۹۵ء)

حوالے سے افسوس کا اظہار کیا کہ مذہب کے نام پر دو عیسائیوں کو موت کی سزا کا حکم سنایا گیا ہے۔ انہیں دو تھپڑ مار کر گھر بھیج دینا چاہیے تھا۔“

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ ۱۶ فروری ۹۵ء)

قانون میں موجودہ سقم دور کرنے یا اس قانون کے غلط استعمال کو ہی ختم کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ۲۹۵ سی کو ہی منسوخ کر دینا چاہیے۔“

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ ۲۰ فروری ۹۵ء)

کے مرتکب شخص کے لیے قتل کی سزا کے قائل نہیں ہیں کیونکہ یہ سزا‘ قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہے نیز غیر مسلم کو توہین رسالت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔“

(روزنامہ ”نوائے وقت“ ۱۷ فروری ۹۵ء)

صفحہ 52

الیگزینڈر جان ملک‘ بشپ جان جوزف‘ بشپ انتھونی لوبو اور بشپ سیموئیل عزرایاہ نے کہا کہ تمام بشپ حضرات دفعہ ۲۹۵ بی اور ۲۹۵ سی (قانون توہین رسالت) کی منسوخی کے لیے جلد ہی صدر اور وزیراعظم کو خط لکھیں گے۔ انہوں نے کہ وہ رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو کبھی بھی ایسی سزا کا شکار نہ ہونے دیں گے۔ اجلاس میں سلامت مسیح اور رحمت مسیح کیس کے تمام معاملات کی دیکھ بھال کے لیے چار رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی۔“

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ ۱۵ فروری ۹۵ء)

اسمبلی بیگم راج حمید گل اور ڈاکٹر شیلابی چارلس نے کہا ہے کہ وہ دفعہ ۲۹۵ سی کے تحت سزائے موت پانے والے سلامت مسیح اور رحمت مسیح کے لیے اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے مسیحی عوام کو سخت صدمہ پہنچا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس فیصلے پر ناخوشی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے مسیحی برادری سے اپیل کی کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے متحد رہیں۔ بشپ آف لاہور ڈاکٹر الیگزینڈر جان ملک نے سلامت اور رحمت مسیح کیس کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سزا سے مسیحی برادری میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقلیتوں کا استحصال کرنے والے قوانین منسوخ کئے جائیں۔“

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ ۱۱ فروری ۹۵ء)

اجلاس میں نیشنل کونسل آف چرچز کے صدر ایلڈر سردار فیروز مسیح‘ جنرل سیکرٹری سیموئیل گل اور بشپ آف سیالکوٹ سیموئیل پرویز ماڈریٹر‘ چرچ آف پاکستان اقلیتی محاذ کے مرکزی صدر ضیاء کھوکھر‘ سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر سٹیفن ملک‘ نائب صدر مائیکل ڈیوڈ‘ سیکرٹری جنرل جی ایم اختر اور متعدد کارکنان نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ۲۹۵ سی کے تحت کمزور استغاثہ اور بیشمار قانونی سقم ہونے کے باوجود رحمت مسیح اور ۱۴ سالہ سلامت مسیح کو سزائے موت کا حکم سنا کر پاکستان میں بسنے والی امن پسند اور وفادار اقلیتوں اور بالخصوص مسیحی اقلیت کو احساس محرومی میں مبتلا کر دیا ہے اور یہ محب وطن اقلیتیں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی ہیں کہ وہ اپنے ہی وطن میں عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ حیرانگی اس پر ہے کہ ۱۴ سالہ کمسن بچے کو سزائے موت اخلاقی‘ مذہبی اور قانونی اعتبار سے غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت کسی بچے کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی ہے۔ یہ فیصلہ

صفحہ 53

قابل مذمت ہے۔ تمام اقلیتوں کے خلاف امتیازی قوانین اور بالخصوص ۲۹۵ سی کے خاتمے تک اقلیتوں کی جدوجہد جاری رہے گی اور اس کے لیے جو بھی وسائل استعمال کرنا پڑے‘ اقلیتیں استعمال کرنے سے گریز نہیں کریں گی۔ انہوں نے ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ وہ ایوانوں کے اندر اپنا آئینی کردار ادا کریں۔"

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ ۱۳ فروری ۹۵ء)

ہیومن رائٹس کے جنرل سیکرٹری سلیم سلویسٹر اور نائب صدر جان جوزف‘ کرسچن ایسوسی ایشن پنجاب کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر اسٹیفن سراج ملک اور نائب صدر مائیکل ڈیوڈ‘ ہیومن ویلفیئر سوسائٹی کے صدر جارج سرویا اور سیکرٹری ایل ایم چوہان اور یونائیٹڈ کرسچن موومنٹ کے چیئرمین ایمیل ڈانیل نے اپنے اخباری بیان میں کہا کہ قانونی سقم کے باوجود رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو سزائے موت کا حکم سنا کر مسیحیوں کو عدم تحفظ میں مبتلا کر دیا گیا ہے

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور‘ ۱۲ فروری ۹۵ء)۔

پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور مسیحی عوام جلد ہی ۲۹۵ سی کے خاتمہ، مشنری تعلیمی اداروں کی واپسی اور ۱۹۷۳ء کے اصل آئین کی بحالی کے لیے ملک گیر تحریک چلائیں گے۔ اس سلسلہ میں جلد ہی بین الاقوامی اور ملکی سطح پر قائم انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور حکومت کو چاہیے کہ ایسے تمام قوانین کے خاتمے کے لیے، ٹھوس اقدامات کرے، جس سے ملک میں فرقہ واریت میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔"

(روزنامہ ”پاکستان“ لاہور‘ ۱۲ فروری ۹۵ء)

ویمن آرگنائزیشن کی صدر روبینہ جمیل نے مطالبہ کیا ہے کہ دفعہ ۲۹۵ سی (قانون توہین رسالت) فوراً منسوخ کی جائے کیونکہ اس سے امتیاز کی بو آتی ہے اور یہ جمہوریت کی بقاء اور استحکام کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کی منسوخی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور اس سلسلہ میں ہر طرح کے ذرائع بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔"

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ ۱۵ فروری ۹۵ء)

تحریک حقوق نسواں، نوائے خواتین، پاکستان سوشلسٹ پارٹی، ادارہ امن و انصاف، ینگ

صفحہ 54

ویمن کرسچن آرگنائزیشن اے جی ایم لیگل ایڈ سیل، یونائیٹڈ لیبر آرگنائزیشن اور ہیومن رائٹس برائے خواتین اور انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والے خواتین نے ریگل چوک میں مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ جمہوریت کی صحیح معنوں میں بحالی کے لیے حدود آرڈینینس، قصاص اور دیت کا قانون، توہین رسالتؐ کا قانون اور اسلامی قانون شہادت فوری طور پر منسوخ کئے جائیں۔"

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، ۳؍ فروری ۹۵ء)

غیر ملکی رد عمل اور مداخلت

جرمن صدر رومن ہرزوگ

امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ جرمنی بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نظریاتی جنگ میں شامل ہو گیا۔ گستاخانِ رسول بدبخت سلامت مسیح اور رحمت مسیح کی جرمنی کی حکومت نے جس طرح ”ہیروز“ کی حیثیت سے پذیرائی کی، مسلمانانِ عالم کے قلوب اس سے بری طرح مجروح ہوئے۔ جرمنی کے صدر نے پاکستان میں اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے اپنی پریس کانفرنس میں جو اعلان کیا، جنگ اخبار نے اس کی یوں خبر دی ہے۔

”جرمنی کے صدر ڈاکٹر رومن ہرزوگ نے کہا ہے کہ پاکستانی قیادت سے مذاکرات کے دوران وہ توہینِ رسالتؐ کے قوانین کے بارے میں سوالات کے جوابات سے مطمئن ہیں۔ صدر فاروق لغاری اور وزیر اعظم بینظیر بھٹو سے اپنی بات چیت کو بامقصد اور انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین سیاسی اور اقتصادی تعاون، یورپ کے واقعات، مسئلہ کشمیر سمیت جنوبی ایشیا کی صورت حال اور انسانی حقوق جیسے امور پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔ بدھ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن صدر نے کہا کہ انہوں نے توہین رسالت کے قانون کے حوالے سے نہ صرف صدر فاروق لغاری اور وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے بلکہ قائدِ حزبِ اختلاف محمد نواز شریف سے بھی گفتگو کی اور اس کے تحت سزا کو سخت قرار دیتے ہوئے اسے نرم کرنے کی تجویز پیش کی۔"

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور، ۶؍ اپریل ۹۵ء)

روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور کی خبر ملاحظہ فرمائیں۔

”جرمنی کے صدر رومن ہرزوگ نے کہا ہے کہ توہین رسالتؐ کے قانون میں

صفحہ 55

ن اے جی ایم لیگل ایڈ سیل، یونائیٹڈ لیبر آرگنائزیشن اور ہیومن ر انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والے خواتین نے ریگل چوک میں کہ جمہوریت کی صحیح معنوں میں بحالی کے لیے حدود آرڈینینس، ء توہین رسالت کا قانون اور اسلامی قانون شہادت فوری طور پر

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۳؍ فروری ۹۵ء)

غیر ملکی ردعمل اور مداخلت

جرمن صدر ڈاکٹر رومن ہرزوگ

ر فرانس کے ساتھ جرمنی بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف گیا۔ گستاخان رسول بدبخت سلامت مسیح اور رحمت مسیح کی جرمنی ”ہیروز“ کی حیثیت سے پذیرائی کی، مسلمانان عالم کے قلوب اس ف جرمنی کے صدر نے پاکستان میں اپنے دورے کے پہلے مرحلے پر نمک پاشی کرتے ہوئے اپنی پریس کانفرنس میں جو اعلان کیا، خبر دی ہے۔

ڈاکٹر رومن ہرزوگ نے کہا ہے کہ پاکستانی قیادت سے مذاکرات ق کے قوانین کے بارے میں سوالات کے جوابات سے مطمئن ر وزیر اعظم بینظیر بھٹو سے اپنی بات چیت کو بامقصد اور انتہائی ں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین سیاسی اور اقتصادی تعاون، کشمیر سمیت جنوبی ایشیا کی صورت حال اور انسانی حقوق جیسے امور کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن صدر نے ت کے قانون کے حوالے سے نہ صرف صدر فاروق لغاری اور ، بلکہ قائد حزب اختلاف محمد نواز شریف سے بھی گفتگو کی اور ر دیتے ہوئے اسے نرم کرنے کی تجویز پیش کی۔“

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور ۶؍ اپریل ۹۵ء)

ت ”لاہور کی خبر ملاحظہ فرمائیں۔

رومن ہرزوگ نے کہا ہے کہ توہین رسالت کے قانون میں

ابہام موجود ہے، جسے دور ہونا چاہیے۔ اس معاملہ پر میری صدر فاروق لغاری، وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور قائد اختلاف میاں نواز شریف سے دوستانہ ماحول میں بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس قانون کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ جن دو عیسائیوں پر توہین رسالت کا الزام تھا انہوں جرمن سے پناہ کی درخواست کی تھی اور جرمن آئین کے تحت ایسے افراد جن کے خلاف سیاسی، مذہبی یا نسلی بنیادوں پر کوئی انتقامی کارروائی ہو رہی ہو، انہیں جرمنی میں پناہ مل سکتی ہے۔“

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۶؍ اپریل ۹۵ء)

روزنامہ ”خبریں“ لاہور کی خبر ملاحظہ فرمائیں۔

”کراچی (ا پ پ، این این آئی، مانیٹرنگ ڈیسک) جرمنی کے صدر ڈاکٹر رومن ہرزوگ نے کہا ہے کہ پاکستان میں رحمت اور سلامت مسیح کیس کے خلاف مقدمات میں انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات پر یقین نہیں رکھتا لیکن جہاں کہیں انسانی حقوق کا مسئلہ ہو وہاں ہم سمجھتے ہیں کہ اس پر آواز اٹھانی چاہیے انہوں نے کہا کہ توہین رسالت قانون کے بارے میں کچھ زیادہ تو نہیں جانتے لیکن اس میں کچھ خامیاں ہیں، تاہم ان میں ترمیم کرنا یا نہ کرنا، پاکستان حکومت کا کام ہے۔ پاکستان کے بعض قوانین میں تبدیلی کی بھی ضرورت ہے۔ توہین رسالت قانون کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں انسانی حقوق کمیشن پاکستان اور چرچوں کے نمائندوں سے لاہور میں میری تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور عزت نفس کے معاملہ پر توجہ دی جا رہی ہے پاکستان کو اپنے ہاں انسانی حقوق کے معاملات درست کرنے چاہئیں، ورنہ جرمنی کے لیے مدد کرنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے توہین مذہب کے بارے میں پاکستانی قوانین پر تشویش کا بھی اظہار کیا۔“

(روزنامہ ”خبریں“ ۸؍ اپریل ۹۵ء)

روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور کی مزید ایک خبر ملاحظہ فرمائیں۔

”صدر ہرزوگ نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان کے توہین رسالت کے قانون پر بھی بات کی، ہم نے کہا ہے کہ اس کا کوئی اطمینان بخش حل تلاش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس مسئلہ پر پاکستانی لیڈروں سے تفصیلی بات چیت کی اور ہم آہنگی پائی گئی۔ ہم چاہتے ہیں توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کی جائے۔ ہمیں وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی کے اس بیان پر خوشی ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون

صفحہ 56

کی صحیح تشریح کی جائے گی اور شفاف اطلاق کیا جائے گا۔“

(روزنامہ ”نوائے وقت“ ۱۸ اپریل ۹۵ء)

روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور نے اپنے اداریہ ”جرمن صدر اور اہانت رسولؐ کا قانون‘ مغربی دنیا اسلام سے عناد ختم کرے!“ کے عنوان سے لکھا: ”جرمن صدر ہیری رامن ہرزوگ نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قانون میں ابہام ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے اور صدر لغاری اور اپوزیشن لیڈر میاں محمد نواز شریف سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اس قانون کو بہتر بنایا جائے گا۔ جرمن صدر نے کہا کہ جرمنی نے ملکی قوانین کے تحت دو پاکستانی عیسائی شہریوں کو اپنے ہاں پناہ دی ہے۔ جرمن صدر نے کشمیر کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ایک بار پھر نوٹس لیا ہے اور اس مسئلہ کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو اب بھی موثر قرار دیا ہے۔ جرمنی کے صدر نے اپنے دورے میں مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی ظلم و ستم پر جس تشویش کا اظہار کیا ہے‘ اس سے بھارت کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں اور اسے محسوس کر لینا چاہیے کہ اس کے جبر و تشدد کو عالمی رائے عامہ قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ جہاں تک پاکستان میں توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قانون کا تعلق ہے‘ اس کے ابہام کی طرف بھی جرمن صدر نے اشارہ کیا ہے اور اس میں تبدیلی کا مشورہ دیا ہے۔ جرمن صدر پاکستان کے معزز مہمان ہیں اور پاکستان‘ جرمنی کی دوستی کو گرانقدر خیال کرتا ہے۔ جرمن صدر خود بھی چیف جسٹس رہے ہیں‘ اس لیے ہمیں یقین ہے کہ انہیں توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قانون پر تو کوئی اعتراض نہیں ہو گا‘ کیونکہ اسلام میں اہانت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سزا پر کوئی ابہام نہیں‘ ویسے بھی یہ نازک مسئلہ ہے اور اس معاملے میں شرعی ہدایات واضح ہیں۔ حتیٰ کہ کوئی مسلمان اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبیؐ بھی تسلیم نہ کرے تو اسے دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے۔ اسلام چونکہ آخری دین ہے‘ اس لیے اس کے پیروکار تمام انبیاء کرام کا یکساں طور پر احترام ملحوظ رکھنے کے پابند ہیں۔ غیر مسلموں کو اگرچہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا‘ نہ اسلام کے نزدیک کسی غیر مسلم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جبراً عزت و توقیر کا پابند کیا جا سکتا ہے‘ تاہم ایک اسلامی مملکت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی ناقابل معافی جرم ہے۔ اس لیے اس قانون میں کسی

صفحہ 57

ڈھیل کی کوئی گنجائش نہیں، البتہ قانون کے اطلاق اور عدالتی سماعت کے دوران انصاف کے تقاضے پورا کرنے ضروری ہیں۔ اس پر اگر جرمن صدر کوئی مشورہ دے رہے ہیں تو اور بات ہے ورنہ توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قانون میں بجائے خود کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

جرمنی نے جن دو پاکستانی مسیحی شہریوں کو پناہ دی ہے، وہ جرمنی کے قوانین کے مطابق ہو سکتی ہے، دیگر ممالک میں پناہ طلب کرنے کے لیے متعلقہ قوانین موجود ہیں اور مختلف بنیادوں پر وہاں غیر ملکیوں کو پناہ دے دی جاتی ہے، اگرچہ پناہ دینے کے ان قوانین کو بھی کئی اعتبار سے چیلنج کیا جا سکتا ہے لیکن یورپی ممالک جس طرح اسلام سے برگشتہ اور اسلامی تعلیمات پر نکتہ چینی کرنے والے نام نہاد مسلمانوں کو جس عزت و توقیر سے نوازتے ہیں، وہ تو سراسر قابل اعتراض اور اشتعال انگیز حرکت ہے۔ سلمان رشدی ہو یا تسلیمہ نسرین، انہیں امریکہ اور یورپ میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے اور مغربی میڈیا انہیں ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے۔ اس رویے کو کسی لحاظ سے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، یہ تو خود یورپ اور امریکہ کے، اسلام کے خلاف اندرونی بغض و عناد کا کھلم کھلا اظہار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یورپ ابھی تک صلیبی اثرات سے آزاد نہیں ہو سکا اور اب اس تعصب کے جراثیم امریکہ کو بھی منتقل ہو گئے ہیں۔ سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن نے اپنی ایک کتاب میں اسلام کے چیلنج پر تفصیل سے بحث کی ہے اور ناٹو کے کمانڈر نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ کمیونزم کے خاتمے کے باوجود مغرب کو اسلامی دنیا سے خطرہ لاحق ہے۔ مغربی دنیا مختلف حیلے بہانوں سے مسلمانوں کو اسلام سے دور کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ کہیں ضرورت ہو تو مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ افغانستان کی جنگ کو جہاد قرار دے کر پاکستان اور ساری اسلامی دنیا کے مجاہدین کو روس کے خلاف ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اب جبکہ روسی کمیونزم کا خطرہ ٹل گیا ہے تو یہی مجاہدین اسے دہشت گرد، بنیاد پرست اور جنگجو نظر آنے لگے ہیں۔ مغربی دو عملی کی انتہا یہ ہے کہ ایک طرف تو جمہوریت کی حمایت کی جاتی ہے لیکن اگر اس جمہوریت کے راستے الجزائر میں مسلمان الیکشن جیت کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آتے ہیں تو ان کی مخالفت کی جاتی ہے اور ان کے مقابلے میں ایک استبدادی حکومت کی حمایت کی جاتی ہے۔ مغربی دنیا کی کوشش یہ بھی ہے کہ روشن خیالی، آزاد روی اور جدیدیت کے نام پر مسلمانوں کو ان کے بنیادی اعتقادات سے دور کر دیا جائے۔ بہرحال صلیب و ہلال کی یہ کشمکش ایک عرصے سے جاری ہے۔ مسلمان کے طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی دنیا، دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے

صفحہ 58

ساتھ بقائے باہمی کے اصول پر چلنے کی خواہاں ہے۔ اہل مغرب کو بھی اسلامی دنیا کے خلاف اپنے تاریخی عناد کو فراموش کر کے ”دیانت“ کے فلسفے پر عمل کرنا چاہیے۔ کرہ ارض پر قیام امن کو یقینی بنانے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ اس ایک مسئلہ کے سوا جرمن صدر نے باقی معاملات میں پاکستان کے موقف کی حمایت بھی کی ہے اور حق و انصاف پر مبنی کشمیری عوام کی جدوجہد سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا ہے، جس پر پاکستانی قوم اطمینان کا اظہار کرے گی“۔

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، ۱۷؍ اپریل ۹۵ء)

روزنامہ ”خبریں“ لاہور نے اپنے اداریہ ”قانون توہین رسالتؐ: جرمن صدر کے فرمودات“ کے عنوان سے لکھا:

”جمہوریہ جرمنی کے صدر رومن ہرزوگ نے کہا ہے کہ پاکستان کے توہین رسالتؐ کے قانون میں ابہام موجود ہے جسے دور کیا جانا چاہیے۔ بدھ کی شام اسلام آباد کے ہوٹل ”میریٹ“ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان صدر نے کہا کہ انہوں نے اس بارے میں صدر فاروق احمد لغاری، وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور قائد حزب اختلاف میاں محمد نواز شریف سے بھی بات کی ہے اور توقع کی ہے کہ اس قانون میں ترمیم کی جائے گی۔

پاکستان میں توہین رسالتؐ کے الزام میں سزائے موت پانے اور پھر عدالت عالیہ میں غیر معمولی عجلت میں اپیل کی سماعت کے بعد رہا ہونے والے دو عیسائیوں کو سیاسی پناہ دینے والے ملک کے صدر نے توہین رسالتؐ کے قانون میں ترمیم پر زور دے کر بلاشبہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے۔ اگرچہ جرمن صدر نے یہ تو نہیں بتایا کہ پاکستان کے برسر اقتدار لوگوں اور قائد حزب اختلاف نے انہیں اس سلسلے میں کیا یقین دہانی کرائی ہے لیکن ہم یہ بات گزشتہ تجربات اور حالات کی روشنی میں بلاخوف و تردید کہہ سکتے ہیں کہ وزیر اعظم نے ایسی ترمیم کی یقین دہانی ضرور کرائی ہوگی کیونکہ وہ اس قانون کے بارے میں ناپسندیدگی کا پہلے ہی برملا اظہار کر چکی ہیں۔

جرمنی نے دو پاکستانی مسیحیوں کو جس انداز میں اور جس پس منظر میں سیاسی پناہ دی ہے، اس کے بارے میں بھی پاکستانی عوام میں تلخ جذبات پائے جاتے ہیں اور اب جرمن صدر نے سرعام توہین رسالتؐ کے قانون میں ترمیم پر زور دے کر ان جذبات کی شدت میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے جو کسی مہمان صدر کو زیب نہیں دیتا۔ ہم صدر

صفحہ 59

پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جرمن صدر کے فرمودات کی روشنی میں اپنی حکومت کا موقف بیان کریں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو توہین رسالت کے قانون کے ضمن میں حکومتی عزائم کے متعلق عوام میں جو اندیشے پائے جاتے ہیں ان کو بڑھاوا ملے گا جو کسی طور بھی سودمند نہ ہوگا۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، ۷؍ اپریل ۹۵ء)

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ اپنے اداریہ ”قانون تحفظ ناموس رسالت اور توہین شان رسالت کی سزا“ میں لکھتے ہیں:

”جرمن صدر کا مذکورہ بیان پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی جارحانہ مداخلت کے مترادف ہے۔ صدر پاکستان کا اسلامی اور آئینی فرض تھا کہ جرمن صدر پر دو ٹوک الفاظ میں واضح کرتے کہ اسلام میں کسی بھی نبی کی شان میں گستاخی ناقابل معافی جرم ہے۔ چہ جائیکہ کوئی بدبخت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرزمین پر نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (فداہ ابی و امی) کے بارے میں کسی بھی طرح کی ہرزہ سرائی کی جرات کرے۔ اس بدبخت کی سزا موت سے کس طرح کم ہو سکتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں غلط انداز میں ادنیٰ شک و شبہ ایمان سوزی کے لیے کافی ہے، بڑی گستاخی تو دور کی بات ہے۔ جرمن صدر کے اعلان کے مطابق اقتدار و اختلاف کے سربراہ ان کی ہاں میں ہاں ملا چکے ہیں۔ آئین پاکستان اور قانون پاکستان کی رو سے ایسے لوگ مجرموں اور غداروں کی صف میں شمار ہوتے ہیں۔ منصب حکومت کی اہلیت کا سوال ہی خارج از بحث ہو جاتا ہے۔

جرمنی وہ ملک ہے جس کے ذرائع ابلاغ اور دانشور و اسکالر اپنے ملک میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اور اسلام کو وحشیوں کا مذہب باور کرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ عیسائیت کو یورپ کا مقدر قرار دے کر اسلام کے مقابل صلیبی فکر پیدا کر رہے ہیں۔ برصغیر میں انگریزی دور حکومت میں انگریزی نبوت کی بنیاد اسی غرض سے رکھی گئی تھی کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے دین اسلام کے مقابلہ میں انگریزی دین، اسلام کے نام پر، قادیانیت کی صورت میں دنیا میں پھیلا دیا جائے مگر بے پناہ وسائل اور پوری یورپی و امریکی قوت کی پشت پناہی کے علی الرغم امت خیر الرسل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس انگریزی نبوت کا پردہ چاک کر کے قادیانی امت کو جسد ملت سے کاٹ کر علیحدہ کر دیا تو اب

صفحہ 60

مغربی پٹھوؤں نے نیا پینترا بدلا ہے اور مسلمانوں کی دینی و ملی غیرت و حمیت کے مدار اور مرکز، نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام کو مسلمانوں کے دلوں میں کمتر ٹھہرانے کی غرض سے شان رسالت میں توہین و تحقیر کا وطیرہ اپنا لیا ہے۔ پہلے قادیانیوں کو اس پر اکسایا مگر مقاصد کے حصول میں سست روی دیکھ کر عیسائی بدبختوں کو اس کام پر لگا دیا اور پاکستان میں اپنے ایجنٹ حکمرانوں کے ذریعہ پہلے عدالتی چکروں سے گزار کر ان کو شہرت دی پھر صلیبی ہیرو بنا کر یورپ میں اعزازات سے نوازنے کی راہ اختیار کر رکھی ہے۔

کافر اور صلیب کے محافظوں سے ہمیں اتنی بڑی شکایت نہیں وہ تو دشمنان دین اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی امت کے خلاف غیظ و غضب اور عناد کے جہنم میں اس حد تک دھک رہے ہیں کہ ان کے سینے پھٹنے کے آثار نظر آتے ہیں۔ حیرت تو مسلمان کہلانے والے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہونے کے دعویدار، اصحاب اقتدار کے فہم و فکر اور عمل و کردار پر ہے کہ محبت اور دوستی کے دعوے کس ذات پاک سے اور خواہشات و مطالبات پورے کرتے ہیں اس کے دشمنوں کے۔ فیاللعجب۔

آخرت کی بات تو احکم الحاکمین کے علم و اختیار میں ہے اور انجام کار آنکھ بند ہونے کے بعد قبر سے شروع ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے ایوان اقتدار میں بے روک گونجنے والی کتنی آوازیں اپنے صاحب آواز کے ساتھ اس انجام کو پہنچ چکی ہیں اور موجودہ اصحاب اقتدار بھی ایک دن وہاں پہنچنے والے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مغربی آقاؤں کی خوشنودی نے کسی بھی ایک کو دوام بخشا؟ ہمارے پڑوس میں شہنشاہ ایران، امریکہ و یورپ کا کلب سیمین بنا ہوا تھا۔ وقت پڑنے پر کوئی اس کی ڈھارس بندھانے والا نہ پہنچ سکا۔ فاعتبروا یا اولو الابصار اقتدار کے ایوانوں پر قابض طاقت ور حضرات سے دردمندانہ درخواست ہے کہ ”ناموس رسالت“ کے نازک ترین معاملہ میں مثبت فہم و فکر کا انداز اپنائیں۔ خدارا دشمنوں کے جھانسے میں آکر نہ خود کو عذاب الٰہی کے لیے پیش کرنے کی راہ اختیار کریں اور نہ ہی مسلمانوں کو کسی آزمائش میں مبتلا کرنے کا ذریعہ و باعث بننے کا راستہ اپنائیں۔

ع اپنی ملت کو قیاس اقوام مغرب پر نہ کر

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، ۱۵ تا ۲۱ اپریل ۹۵ء)

پندرہ روزہ ”صحیفہ اہل حدیث“ کراچی نے اپنے اداریہ ”جرمن صدر کی

صفحہ 61

قانون توہین رسالتؐ کے خلاف ہرزہ سرائی" کے عنوان سے لکھا :

"جرمنی کے صدر رومن ہرزوگ آج کل پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ ان ہی موصوف نے یا ان ہی کی حکومت نے توہین شان رسالتؐ کے دو پاکستانی مجرموں رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو اپنے ملک میں سیاسی پناہ دے رکھی ہے۔ باوجودیکہ ابھی ان کے خلاف مقدمہ کی سماعت جاری ہے، ان کا جرمنی میں پناہ حاصل کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جرمنی نہ صرف اسلام کے دشمن ہیں بلکہ پاکستانی عدالتوں کا احترام کرنا نہیں جانتے۔ اب ان کے صدر نے، جو پاکستانی صدر لغاری کے مہمان ہیں، ہمارے ملک میں بیٹھ کر یہ بیان دے دیا ہے کہ توہین رسالتؐ کے قانون میں سزا نہایت سخت ہے، اس میں تخفیف ہونی چاہیے!....... ان کا یہ بیان صرف داخلی معاملات میں مداخلت نہیں، بلکہ ہمارے دین کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کے زمرے میں آتا ہے۔ مسلمانان پاکستان کی غیرت اس قسم کی خرافات کو ہرگز برداشت نہیں کر سکتی۔ ہم ان سطور کے ذریعے جرمن صدر کے ان خیالات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان سے اسلامی قانون کے خلاف اپنی ناپاک زبان چلانے پر مسلمانان پاکستان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

(پندرہ روزہ "صحیفہ اہل حدیث" کراچی، یکم تا ۱۶ ذی قعدہ ۱۴۱۵ھ)

"جرمن صدر اور قانون توہین رسالتؐ" کے عنوان سے محمد اسلم رانا ایڈیٹر "العقاب" لاہور، لکھتے ہیں:

"ہمیں افسوس اور رنج ہے کہ معزز مہمان کو حقائق سے پوری طرح آگاہ نہیں کیا گیا اور ان کے سامنے مشہور زمانہ گستاخی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیس کی غلط تصویر پیش کی گئی۔

پاکستان، حقوق انسانی کے عالمی اداروں اور مسیحی طاقتوں کے زبردست دباؤ میں تھی۔ ارباب اقتدار ذاتی طور پر بھی اسلامی قوانین اور بالخصوص گستاخ رسولؐ ایکٹ کے علی الاعلان مخالف ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو کا سیشن کورٹ کے فیصلہ پر "حیرت اور دکھ کا اظہار" (روزنامہ "جنگ" لاہور، ۴ فروری ۹۵ء) اس امر کی بین اور تازہ ترین شہادت ہے۔

یہ تھے وہ حالات جن میں گستاخی رسولؐ کے زیر بحث کیس کو خصوصی اہمیت دی گئی

صفحہ 62

اور عام روش سے ہٹ کر اپیل کی فوری سماعت کا اہتمام کیا گیا۔ مسلم عوام، قانونی حلقوں اور استغاثہ کے وکلاء کے احتجاج کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہ ملی۔ ان کی بڑے بینچ کی تشکیل اور مزید بحث کی درخواستیں رد ہوئیں اور ۹ دنوں کی بسرعت تمام کارروائی اور آخری دن کی سماعت کے بعد اسی شب پونے ۹ بجے ملزموں کو بری کر کے بحفاظت تمام جرمنی پہنچا دیا گیا۔

ہائی کورٹ کو بھی جلدی اور افراتفری کا شدید احساس تھا، چنانچہ: ”عدالت نے کہا ہمیں اس کیس میں کوئی جلدی نہیں ہے۔ یہ حساس نوعیت کا کیس ہے اور اس میں فریقین کے وکلاء کو تسلی سے سنا جائے گا۔ یہ کیس ہفتوں بھی چل سکتا ہے۔ یہ کیس ہم سب کے لیے اہم ہے۔ ہم کسی صورت میں ”شارٹ کٹ“ نہیں اپنائیں گے بلکہ وکلاء کے تفصیلی دلائل سنے جائیں گے“۔ (”نوائے وقت“ ۱۷ فروری صفحہ ۱، کالم ۶)

جبکہ عملاً ہوا یہ کہ :

معاونت کے لیے بلایا جائے۔ جس پر جسٹس عارف اقبال بھٹی نے کہا کہ یہاں کے وکیل تجربہ کار ہیں اور عالم بھی۔ (”نوائے وقت“ ۲۴ فروری)

ملتوی کر دی جائے۔ تاہم عدالت نے استدعا منظور نہیں کی اور زور دیا کہ فیصلہ آج ہی سنایا جائے گا۔ اس پر رشید مرتضیٰ، مولوی فضل حق کو لے کر احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے۔ کمرۂ عدالت میں موجود دینی جماعتوں کے ارکان بھی اٹھ کر چلے گئے۔ (”نوائے وقت“ ۲۴ فروری)

خیال رہے کہ صفائی کے وکلاء اور عدالتی معاونین کو دلائل پیش کرنے کا پورا پورا موقع دیا گیا تھا۔

اور جبکہ ملزمان بری ہی کر دیئے گئے تو انہیں ”صفائی کا پورا موقع فراہم نہ کیے جانے“ کی شکایت کا سوال کہاں رہا؟ اور اس کی ضرورت کیسی تھی؟ ”مفروضہ مان لیا جائے تو“ کم از کم، عام آدمی کی سمجھ سے بالا تر ہے!

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بدرجہ غایت عزت و تکریم جزو ایمان ہے۔

صفحہ 63

رایول کی فوری سماعت کا اہتمام کیا گیا۔ مسلم عوام‘ قانونی حلقوں احتجاج کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہ ملی۔ ان کی بڑے بنچ کی درخواستیں رد ہوئیں اور ۹ دنوں کی بسرعت تمام کارروائی اور بعد اسی شب پونے ۹ بجے ملزموں کو بری کر کے بحفاظت تمام

جلدی اور افراتفری کا شدید احساس تھا‘ چنانچہ: ہمیں اس کیس میں کوئی جلدی نہیں ہے۔ یہ حساس نوعیت کا یقین کے وکلاء کو تسلی سے سنا جائے گا۔ یہ کیس ہفتوں بھی چل ب کے لیے اہم ہے۔ ہم کسی صورت میں ”شارٹ کٹ“ نہیں تفصیلی دلائل سنے جائیں گے“۔ (”نوائے وقت“ ۱۷؍ فروری

اسماعیل قریشی نے عدالت سے استدعا کی کہ علماء کرام کو بھی ئے۔ جس پر جسٹس عارف اقبال بھٹی نے کہا کہ یہاں کے وکیل

(”نوائے وقت“ ۲۴؍ فروری)

نے فاضل عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی سماعت اتوار تک عدالت نے استدعا منظور نہیں کی اور زور دیا کہ فیصلہ آج ہی سنایا مرتضیٰ‘ مولوی فضل حق کو لے کر احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے۔ کمرۂ اعتوں کے ارکان بھی اٹھ کر چلے گئے۔ (”نوائے وقت“ ۲۴؍

صفائی کے وکلاء اور عدالتی معاونین کو دلائل پیش کرنے کا پورا

بری ہی کر دیئے گئے تو انہیں ”صفائی کا پورا موقع فراہم نہ کیے کہاں رہا؟ اور اس کی ضرورت کیسی تھی؟ معزز مہمان کا یہ قول‘ سے بالاتر ہے!

ج ایکٹ سے متعلق اصل نزاعی امر یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں وسلم کی بدرجہ غایت عزت و تکریم جزو ایمان ہے۔

ادھر عیسائی‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں (نعوذ باللہ) گستاخیاں کرنا‘ گالیاں بکنا اور توہین کرنا‘ دھڑلے سے اور ڈنکے کی چوٹ پر اپنا عالمی حق‘ انسانی حق‘ بنیادی حق اور مذہبی حق قرار دیتے ہیں۔ اس پر بضد ہیں اور مصر ہیں اور ڈٹے ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے‘ انسانی تنظیمیں‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دنیا بھر کی عیسائی طاقتیں ان کے اس موقف کی موید و حامی ہیں۔

المیہ یہ ہے اور بیان بھی کیا جا چکا ہے کہ شامت اعمال سے پاکستان کا برسر اقتدار طبقہ بھی سیکولر اور خلاف اسلام ذہن کا مالک ہے۔ پاکستان سے اسلام کی بیخ کنی کا علمبردار ہے۔ اسلامی قوانین کو منسوخ کرنے پر تلا بیٹھا ہے۔ خود جرمن صدر کے الفاظ ہیں: ”بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور عزت نفس کے معاملہ پر توجہ دی جا رہی ہے“۔

اس جگر پاش ماحول میں پاکستانی مسیحیوں‘ انسانی حقوق کے عالمی اداروں‘ انسانی تنظیموں‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور مسیحی ممالک کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ انسانی حقوق کے اس چارٹر‘ اقوام متحدہ کی اس قرارداد اور کسی بین الاقوامی کنونشن کی اس دستاویز کا ذرا ہمیں بھی دیدار کرا دو‘ جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوذ باللہ) گالیاں دینا‘ ان کی توہین کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں بدتمیزیاں کرنا‘ عیسائیوں کا عالمی حق‘ انسانی حق‘ بنیادی حق اور مذہبی حق ہو! حق جتایا گیا ہو۔

سنتے آ رہے ہیں وہ کچھ اس طرح ہے کہ توہین رسالت کا کیس موزوں تحقیقات کے بعد درج ہوگا۔ اگر ملزم پر جرم ثابت نہ ہوسکے تو مدعی کو دس برس قید بھگتنی ہوگی۔

جونہی اس ترمیم کی بات چلی۔ اہل اسلام اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ بات دب دبا جاتی ہے۔

ان دنوں شدید بیرونی دباؤ کی وجہ سے مسیحی برادری کے حوصلے بلند تر ہیں۔ سلامت اور رحمت کی رہائی سے تو مسیحی شیر ہوچکے ہیں۔ ان کی طرف سے ترمیم کی بات کم ہی سننے میں آتی ہے۔ اب کمال عزم و جرات سے کہتے ہیں:

”ہم اس امتیازی قانون پر بھی احتجاج کرتے ہیں جس کی رو سے توہین رسالتؐ کا مدعی اگر جھوٹا ثابت ہو جائے تو اسے صرف دس سال کی سزا دی جائے اور اگر مدعا علیہ جھوٹا ثابت ہو تو اسے پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔ ہم اس امتیازی قانون اور ظلم کے خلاف

صفحہ 64

ہرگز خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ (برطانیہ سے چھپنے والا مسیحی جریدہ ”نجات“ اپریل ۹۵ء صفحہ ۴، کالم ۳)

(۴) جرمن سربراہ نے جرمنی سے مدد حاصل کرنے کے لیے پاکستان پر ”انسانی حقوق کے معاملات درست کرنے“ کی جو قید لگائی ہے، اس کا مطلب واضح ہے کہ ”توہین مذہب کے بارے میں پاکستانی قوانین پر تشویش“ دور کی جانی چاہیے۔ یعنی انہیں تعزیرات پاکستان سے خارج کر دیا جائے۔ ”انسانی حقوق کے معاملات کی درستی“ کا یہی واحد حل ہے۔ جمہوریہ جرمنی کی ”توہین مذہب کے بارے میں پاکستانی قوانین پر تشویش“ جبھی دور ہوگی!

اللہ کریم کے فضل و کرم سے پاکستان ہر قسم کے وسائل سے مالا مال ہے۔ ضرورت ان کے صحیح استعمال، خلوص نیت، حب الوطنی، قومی، ملی اور ملکی نقطۂ نگاہ سے سوچنے، خودداری سے کام لینے اور نصرت خداوندی پر بھروسہ کرنے کی ہے۔

اگر ہم چند ٹکوں کی خاطر اپنے دین و ایمان کا سودا کرنے جھک پڑے تو دنیا و آخرت میں ہمارا مقام محتاج بیان نہیں!

۔ خدا کرے کہ مذہبی، ملی اور سیاسی حلقے اس سلسلہ میں اپنے اپنے فرائض پہچانیں اور ان کی ادائیگی کا کماحقہ احساس کریں۔ آمین ثم آمین۔

بات چل نکلی ہے تو ہم جرمنی سے متعلق جرمن ترجمان کے چند الفاظ جرمن صدر کی خدمت میں پیش کرنے کی عزت حاصل کریں گے:

”جرمنی کی طرح جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں، قدرتی بات ہے کہ وہ عدم تحفظ کے احساس کی وجہ سے گروپ اور تنظیمیں تشکیل دیتے ہیں اور ہر کام اور ہر بات میں رہنمائی کے لیے اپنے اصل ملکوں کی طرف دیکھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ مسلمان خواتین بھی اس رویے اور طرز عمل سے مستثنیٰ نہیں، بلکہ وہ اسلامی روایات میں خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہیں“۔ (”معلومات جرمنی“ ستمبر ۹۱ء، صفحہ ۱۵، کالم ۳)

یہ اس ملک (جرمنی) کے حالات ہیں جس کے آئین کا آغاز نسل انسانی کی عظمت کے اعتراف سے ہوتا ہے!

اقلیتی حقوق کے ضمن میں تحریر ہے کہ:

”پولینڈ میں جرمن اقلیت کو پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور یہ کہ پولینڈ میں جرمن اقلیت کو یورپی معیار انصاف کے مطابق اپنے آبائی علاقے میں تمام تر

صفحہ 65

قانونی حقوق حاصل ہونے چاہئیں اور فطری بات ہے کہ اس کے ساتھ ہی جرمنی میں آباد پولش نسل کے لوگوں کو بھی ایسے تمام حقوق حاصل ہوں گے"۔ ("معلومات جرمنی" ایضاً صفحہ ۵، کالم ۲)

پاکستان کی مسیحی برادری حکومت پاکستان سے جن حقوق و مراعات کی طالب ہے، کیا وفاقی جمہوریہ جرمنی اپنے ہاں کے مسلمانوں کو وہی حقوق دینے کو تیار ہے؟ جیسا کہ جرمن رہنما کے بیان سے ظاہر و باہر ہے، ان لوگوں کو پاکستان میں اسلام کا لفظ سننا بھی گوارا نہیں ہے۔ جبکہ جرمنی میں موجودہ مخلوط حکومت کٹر عیسائیوں کی ہے۔ پروٹسٹنٹ اور کیتھولک دونوں بڑے مسیحی فرقوں کے پیروکار اس کے کرتا دھرتا ہیں۔ اس مخلوط حکومت کی اہم ترین جماعت CDU "کرسچین ڈیموکریٹک پارٹی" (جیسا کہ پاکستان میں جماعت اسلامی) ہے۔ جرمن پارلیمنٹ کے عام انتخابات منعقدہ ۱۶ اکتوبر ۱۹۹۴ء میں ۷۹ء۱ فیصد ووٹوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جن میں سے اس جماعت نے ۴۱ء۴۳ فیصد ووٹ حاصل کیے۔ اس کی حلیف جماعت CSU "کرسچین سوشل یونین" کو ۷ء۳ فیصد ووٹ ملے۔ ۶۷۲ کے ایوان میں دونوں مذہبی جماعتوں نے مجموعی طور پر ۴۱۹ نشستیں جیتی ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں بھی اسی کولیشن نے اکثریت حاصل کر کے حکومت بنائی تھی۔ ("معلومات جرمنی" دسمبر ۱۹۹۴ء) خود جرمن صدر ایک سرگرم پروٹسٹنٹ کارکن رہ چکے ہیں"۔

(ماہنامہ "المذاہب" لاہور، مئی ۱۹۹۵ء)

علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات پیر بنیامین رضوی نے کہا ہے کہ محمد نواز شریف سمیت مسلم لیگ کا توہین رسالت کے قانون پر واضح موقف ہے۔ ہم رسول پاکؐ سمیت تمام انبیاء کرام کی عظمت و احترام کے قائل ہیں۔ اس پر ہمارا کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ روز کینٹ کچہری میں جرمنی کے صدر کے حوالہ سے توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کے بارے میں اخبارات میں شائع ہونے والی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گستاخ رسولؐ کے قانون کا مسئلہ خالصتاً ہمارے ملک کا مسئلہ ہے۔ بیرونی ممالک کو اس میں مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ یہ قانون ہمارے نظریہ کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بیرونی ممالک اس میں بلاجواز مداخلت کر رہے ہیں تو پھر شیطان رشدی اور تسلیمہ نسرین کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جرمن صدر کا یہ کہنا کہ ہم نے سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو انسانی حقوق کی بنیاد پر

صفحہ 66

جرمنی میں پناہ دی ہے‘ تو میرا ان سے یہ سوال ہے کہ یہ سہولت صرف غیر مسلموں کے لیے ہے۔ کیا جو گستاخی رسولؐ کا مرتکب ہوگا‘ جرمنی اسے پناہ دے گا۔ یہ انسانی ہمدردی بوسنیا اور کشمیر کے مسلمانوں پر کیوں نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا‘ یہ ایک تعصب ہے اور ملک کو غیر مسلم سٹیٹ بنانے کی خاطر ایک گھناؤنی سازش کی جا رہی ہے جو موجودہ حکومت کے ایما پر ہو رہی ہے“۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور‘ ۱۷ر اپریل ۹۵ء)

الحمراء آرٹس کونسل میں مولانا احمد علی لاہوری سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ”قوم کو بتایا جائے کہ جرمن صدر کو ناموس رسالتؐ کے قانون کے بارے میں کیا یقین دہانی کرائی گئی ہے؟ انسانی حقوق کی نگہبانی کی باتیں کرنے والوں نے کشمیر‘ بوسنیا اور چیچنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی اور شرم کی بات ہے کہ غیر ممالک کے سربراہ آکر پاکستان والوں سے کہتے ہیں کہ توہین رسالتؐ کے قانون میں ترمیم کی جائے“۔

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ ۱۷ر اپریل ۹۵ء)

آسٹریلوی وزیر خارجہ

”آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سینیٹر ہارن گارتھ ایونز نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم سے قانون توہین رسالتؐ کے بعض پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا ہے اور وزیر اعظم نے یقین دلایا ہے کہ توہین رسالتؐ کے قانون کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا“۔

(روزنامہ ”پاکستان“ لاہور ۲۶ر مئی ۹۵ء)

رابن رافیل نائب امریکی وزیر خارجہ

”جنوبی ایشیا کے امور سے متعلق نائب امریکی وزیر خارجہ رابن رافیل نے خارجہ تعلقات کی سب کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں عیسائیوں اور قادیانیوں کے خلاف توہین رسالت کے الزامات غلط ہیں“۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور‘ ۱۱ر فروری ۹۵ء)

روزنامہ ”خبریں“ لاہور نے اپنے اداریہ ”پاکستان کے اندرونی معاملات‘ حکومت رابن رافیل کے بیان کا نوٹس لے“ کے عنوان سے لکھا کہ:

”امریکہ کی نائب وز مقدمات کو غلط اور توہین رسالہ میں مداخلت کے مترادف ہے‘

ڈاکٹر ویر

”توہین رسالت کے ہے۔ یہ محض ایک ملک کا نہی سے توہین رسالت کے مقدمات پناہ مانگی ہے نہ ہی انہیں اس جرمنی کے نائب وزیر خارجہ ۔ قبول نہیں کرتے کہ یہ پاکستان معاملات میں مداخلت کے متر محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ سا انسانی حقوق پر یقین رکھتے ہیں کریں گے“۔

”برطانوی دفتر خارجہ اور رحمت مسیح کو توہین رسالہ بتایا ہے کہ مسٹر ٹونی بالڈرائی برطانیہ پاکستان کی عدالتی کار پاکستان دونوں کی جان بخش د

”وزیر خارجہ ڈنمارک

صفحہ 67

”امریکہ کی نائب وزیر خارجہ رابن رافیل کا عیسائیوں اور قادیانیوں کے متعلق مقدمات کو غلط اور توہین رسالت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دینا بھی پاکستان کے معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے، جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی"۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور‘ ۳ فروری ۹۵ء)

ڈاکٹر ویرین ہوئر نائب وزیر خارجہ جرمنی

”توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کے بارے میں پاکستانی حکام سے بات ہوئی ہے۔ یہ محض ایک ملک کا نہیں بلکہ عالمی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ پاکستان کی عدالتوں سے توہین رسالت کے مقدمات میں بری ہونے والے مسیحی افراد نے نہ تو جرمنی میں سیاسی پناہ مانگی ہے نہ ہی انہیں اس قسم کی کوئی پناہ دی گئی ہے۔ توہین رسالت کے بارے میں جرمنی کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اس قانون میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ ہم یہ موقف قبول نہیں کرتے کہ یہ پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور اس پر بات کرنا پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ انسانی حقوق کو دنیا کے کسی ایک خاص علاقہ تک محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ ساری دنیا کو سامنے رکھ کر دیکھا جانا چاہیے۔ ہم جمہوریت اور انسانی حقوق پر یقین رکھتے ہیں جو چیز ان کے منافی ہو، ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں اور کریں گے"۔

(روزنامہ ”پاکستان“ لاہور‘ ۸ اپریل ۱۹۹۵ء)

برطانوی دفتر خارجہ

”برطانوی دفتر خارجہ نے گزشتہ روز پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کر کے سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو توہین رسالت کے جرم میں سزا پر احتجاج کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ منسٹر ٹونی بالڈرائی نے اس سزا پر برطانیہ کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ پاکستان کی عدالتی کارروائیوں میں مداخلت نہیں کر سکتا لیکن چاہتا ہے کہ حکومت پاکستان دونوں کی جان بخش دے"۔

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ ۱۴ فروری ۱۹۹۵ء)

وزیر خارجہ ڈنمارک

”وزیر خارجہ ڈنمارک نے کہا ہے کہ وہ ان دو عیسائیوں کو سیاسی پناہ دینے کے لیے

صفحہ 68

تیار ہے، جنہیں پاکستان میں توہین رسالت’ پر سزائے موت سنائی گئی تھی مگر بعد میں ان کی اپیل منظور کرتے عدالت عالیہ نے انہیں بری کر دیا تھا۔ ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت سے سیاسی پناہ کی کوئی درخواست نہیں کی گئی مگر وہ خود ان دونوں افراد رحمت مسیح اور سلامت مسیح کی حفاظت کے پیش نظر پناہ کی پیشکش کرنے کو تیار ہے۔ ڈنمارک کی حکومت ۱۴ سالہ بچے اور ۴۸ سالہ مسیحی شخص کا کرایہ ادا کرنے کو بھی تیار ہے۔“

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، ۲۸ فروری ۱۹۹۵ء)

کلنٹن انتظامیہ

”باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کلنٹن انتظامیہ نے پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ وہ توہین رسالت’ کا قانون اقلیتوں کے خلاف بے جا استعمال کرنے سے باز رہے اور یہ کہ امریکہ حالیہ توہین رسالت’ کے کیس پر کڑی نظر رکھے گا۔ ذرائع کے مطابق حال ہی میں توہین رسالت’ کے کیس میں ملزم مسیحیوں کو بین الاقوامی طور پر بہت حمایت ملی اور جرمنی اور برطانیہ نے تو انہیں اور ان کے خاندان کو اپنے ملک مستقل رہائش تک کی پیشکش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو پہلے ہی توہین رسالت’ کے قانون کو ناجائز طور پر استعمال کرنے سے روکنے کے لیے اس میں ترمیم لانے کا عندیہ دے چکی ہیں اور امید ہے کہ مستقبل قریب میں اس قانون میں تبدیلیاں لائی جائیں گی۔“

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، ۲۶ فروری ۱۹۹۵ء)

امریکہ کی خاتون اول ہیلری کلنٹن اور بھارتی لابی

”امریکہ میں بھارتی لابی نے پاکستان کی ساکھ خراب کرنے اور اسے دہشت گرد ملک قرار دلانے کے لیے اپنی مہم تیز کر دی ہے۔ بھارتی سفارت کاروں کی ان تازہ کوششوں کا مقصد آئندہ ماہ وزیراعظم پاکستان کے دورہ امریکہ کو ناکام بنانا ہے۔ موجودہ وقت کا انتخاب اس لیے بھی کیا گیا ہے کہ امریکہ کی خاتون اول ہیلری کلنٹن آج کل جنوبی ایشیائی ممالک کے دورے پر ہیں۔ پاکستان کے خلاف اس مہم میں وہ چند مٹھی بھر بھارت نواز ارکان کانگریس پیش پیش ہیں جو اس سے قبل پاکستان میں توہین رسالت’ کے قانون کے تحت دو ملزموں کو سزا، کراچی میں دو امریکیوں کی ہلاکت اور رمزی یوسف کی گرفتاری

صفحہ 69

جیسے واقعات پر پاکستان کے خلاف زہر افشانی کرتے رہے ہیں۔ پاکستان دشمن مہم کے دوران کانگریس کے گیارہ ارکان نے، جن کا تعلق بھارتی لابی سے ہے، ہیلری کلنٹن کو خط لکھا ہے، جس میں ان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ توہین رسالت کا قانون ختم کرانے کے لیے حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور دو مسیحیوں کی سزا کے مسئلہ کو انسانی حقوق کے مسئلہ کے طور پر اٹھائیں۔

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ ۷ مارچ ۹۵ء)

امریکی یہودی لابی

”توہین رسالت“ کیس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر امریکی اور یہودی لابی ایک بار پھر سرگرم ہو گئی ہے اور توہین رسالت کے قانون کو غیر مؤثر بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے لے کر پاکستان میں کام کرنے والی بعض غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ عالمی اداروں کا سہارا لینے کے علاوہ خصوصی طور پر اس مقصد کے حصول کے لیے فنڈز بھی اکٹھے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی اور یہودی لابی نے گزشتہ چند برسوں میں عیسائیوں اور مرزائیوں سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے اپنی مہم شروع کی ہے اور حکومت پاکستان پر انسانی حقوق پامال ہونے کا بہانہ بنا کر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں سب سے زیادہ متحرک ہوئی ہیں اور حکومت پاکستان کو خاصا دباؤ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک محتاط جائزے کے مطابق غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو ایک طے شدہ پروگرام کے مطابق بھرپور بریفنگ دی گئی ہے اور ان تنظیموں کو الگ الگ ٹارگٹ دے کر فعال بنانے کی پالیسی بنائی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ منظم تحریک چلانے کی کوشش ہو رہی ہے کہ توہین رسالت سے متعلق قوانین اقلیتوں سے ناانصافی اور دباؤ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ قوانین سے مذہبی انتہا پسند ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، غلط الزامات لگائے جاتے ہیں اور ذاتی دشمنی کا بدلہ لینے کے لیے بھی ان قوانین کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا توہین رسالت سے متعلق قوانین کا خاتمہ ضروری ہے یا پھر کم از کم جرم ثابت کرنے کے لیے ایسی سخت شرائط لگا دی جائیں کہ کسی شخص کے لیے انہیں پورا کرنا انتہائی مشکل ہو۔ اس سلسلے میں خواتین سے زیادتی یا زنا کے معاملے سے متعلق اسلامی اور شرعی

صفحہ 70

قانون کا بھی حوالہ دیا جا رہا ہے، جس میں ملزم کو مجرم قرار دینے کے لیے چار چشم دید گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس پروپیگنڈے کے ساتھ ساتھ یہ دلیل بھی پیش کی جاتی ہے کہ توہین رسالتؐ قوانین میں ترمیم سے پاکستان کو عالمی سطح پر یہ فائدہ ہو گا کہ اقلیتوں سے ناانصافی اور زیادتی کے مواقع ختم کرنے پر عالمی ادارے اور بعض حساس ممالک بے حد مطمئن ہوں گے اور پاکستان کے لیے بنیاد پرستی کے الزام کی شدت میں کمی واقع ہوگی۔ حکومت پاکستان بیرونی حکومتوں اور عالمی اداروں کے دباؤ کی وجہ سے توہین رسالتؐ قوانین میں کسی حد تک ترمیم کرنے کے حق میں ہے“۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، ۲۰ فروری ۹۵ء)

توہین رسالتؐ کے مجرموں سے امریکی

اور برطانوی سفارت کاروں کی ملاقاتیں

”باوثوق ذرائع نے کوٹ لکھپت جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کا یہ دعویٰ غلط قرار دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ توہین رسالتؐ کے کیس میں سزائے موت پانے والے مجرمان سلامت مسیح اور رحمت مسیح کی ملاقات صرف اتوار کے روز ہوتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ”خبریں“ کی اس خبر کے بعد جس میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ مذکورہ مجرمان سے امریکی سفارتکار اور دیگر غیر ملکی شخصیات روزانہ شام پانچ بجے ملاقات کرتی ہیں، جس کے بعد پیر کے روز ایسی ملاقات پر پابندی عائد کی گئی جو کہ عارضی ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، وہ یہ کہ سلامت مسیح اور رحمت مسیح کے ملاقاتیوں کا اندراج متعلقہ رجسٹر میں نہیں کیا جاتا، اسے خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ اتوار کے روز متذکرہ مجرمان سے تین غیر ملکی شخصیات نے شام چھ بجے ایک ملاقات کی جس کا ذکر سلامت مسیح اور رحمت مسیح نے خود اپنے دیگر قریبی قیدیوں سے کیا اور بتایا کہ یہ برطانیہ اور امریکہ کے سفارت خانے کے افسران تھے۔ ان کا اندراج متعلقہ رجسٹر پر نہیں کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ اس دوران دونوں مجرمان کی سیل کے اندر تصویریں بھی اتاری گئیں۔ اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ جیل بھی موجود تھے۔ ذرائع نے پوری ذمہ داری سے مقامی اخبار (خبریں نہیں) کی اس خبر کی تردید کی ہے کہ برطانوی ہائی کمیشن اور حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں کی خواتین رہنماؤں کو متذکرہ مجرمان سے ملاقات کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ صرف اس میں یہ تبدیلی کی گئی ہے کہ اندراج

صفحہ 71

نہیں کیا جا رہا اور اسے خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ دونوں مجرمان، بی کلاس سیل میں رکھا گیا ہے۔ جیل کے بعض اہلکاروں اور افسران نے اپنے نام بتانے سے گریز کرتے ہوئے بتایا کہ سلامت مسیح اور رحمت مسیح کی خیریت دریافت کرنے کے لیے روزانہ وزیراعظم ہاؤس، گورنر ہاؤس سے رابطہ قائم کیا جاتا ہے“۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، ۲۲ فروری ۹۵ء)

ایمنسٹی انٹرنیشنل

”ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دنیا بھر میں جاری کیے جانے والے اعلامیہ میں سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو ضمیر کے قیدی قرار دیا گیا ہے“۔

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور، ۱۸ فروری ۱۹۹۵ء)

”اور مطالبہ کیا ہے کہ ان دونوں ملزمان کو جنہیں شان رسالت میں گستاخی کے الزام میں موت کی سزا سنائی ہے، رہا کیا جائے“۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، ۲۳ فروری ۹۵ء)

برطانوی پارلیمنٹ

”برطانوی پارلیمنٹ میں ایک تحریک پیش کی گئی ہے جس میں لاہور کی ایک عدالت کی طرف سے دو مسیحیوں کو سزائے موت کے فیصلہ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے تحریک پر جو سوموار کو پیش کی گئی، ۲۰۲ ارکان پارلیمنٹ کے دستخط ہیں۔ تحریک میں کہا گیا ہے کہ جب ۱۴ سالہ سلامت مسیح کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ قائم کیا گیا، اس کی عمر گیارہ سال تھی، وہ ان پڑھ تھا جبکہ اس کے خلاف الزام ہے کہ اس نے توہین رسالت کے نعرے لکھے۔ تحریک میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملزموں کو سزا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ تحریک ڈیوڈ، ایلٹن، انتھنی، کومبس، الفرڈ، مورس، بل، مشی، جان، آکسٹن، ورکر، ایلن، میل، ایرک، کلارک، لن جونز، جمی ڈوناچی اور جان کمنگز نے پیش کی تھی۔ یہ تحریک ”ارلی ڈے موشن“ کے طور پر پیش کی گئی تھی جو پارلیمنٹ کے ریکارڈ کا حصہ بن جائے گی“۔

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور، ۱۵ فروری ۹۵ء)

صفحہ 72

اکانومسٹ

"توہین رسالت" کیس میں پاکستان کی ایک عدالت میں دو ملزموں کو سزائے موت دینے کا جو اعلان کیا ہے، اس کا مغربی دنیا میں شدید ردعمل ہوا ہے اور اخبارات و جرائد پاکستان پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔ ہانگ کانگ سے شائع ہونے والے برطانوی جریدے "اکانومسٹ" نے "شورش زدہ پاکستان" کے زیر عنوان اپنے اداریہ میں ۱۴ سالہ لڑکے کو دی گئی سزا کو بربریت قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کے لیگل سسٹم کے احترام کو دھچکہ لگا ہے۔ خود وزیراعظم بے نظیر جانتی ہیں کہ پوری دنیا میں اس فیصلے سے پاکستان کی پوزیشن خراب ہوئی ہے۔ اب اگر خاموشی سے وزیراعظم اس فیصلے کے خلاف اپیل میں مدد کرتی ہیں یا جج بھی بنیاد پرستوں سے خوف زدہ نہیں ہوتے تو یہ کوئی خاص بات نہیں کیونکہ ایسا اقدام بھی پارٹی کے لیے سیاسی مفاد پر ہی مبنی ہوگا۔

(روزنامہ "نوائے وقت" لاہور‘ ۱۸ فروری ۹۵ء)

روزنامہ "نوائے وقت" لاہور نے اپنے اداریہ "پارلیمانی جمہوری نظام۔۔۔۔ ملکی بقاء کی ضمانت" کے عنوان سے لکھا :

"افغان جہاد سے فارغ ہونے کے بعد سی آئی اے کے ان ایجنٹوں کی ریشہ دوانیاں خود ہمارے خلاف ہی ہوں گی۔ وہ اپنی تنخواہ حلال کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرتے ہوں گے اور حقیقت یہ ہے کہ ان کی سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ توہین رسالت کیس میں غیر ملکی عناصر کی طرف سے کھلم کھلا مداخلت کی جا رہی ہے اور عدل و انصاف کے نظام کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کو پناہ اور اعزاز و اکرام سے نوازنے والا یورپ پاکستان میں ایک فوجداری کیس پر اثر انداز ہو رہا ہے اور ہم اس کے نیچے لگے ہوئے ہیں"۔

(روزنامہ "نوائے وقت" لاہور‘ ۲۳ فروری ۹۵ء)

صفحہ 73

توہین رسالت کا مقدمہ - لاہور ہائی کورٹ میں

لمحہ لمحہ کارروائی

”ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے ۸ فروری ۱۹۹۵ء کو گوجرانوالہ کے نواحی گاؤں کے دو عیسائیوں رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو جرم ثابت ہونے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ اے اور ۲۹۵ سی کے تحت سزائے موت اور ۲۵ ہزار روپے فی کس جرمانہ کی سزا سنائی۔ ملزموں نے اس فیصلہ کے خلاف عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ کی وساطت سے دفعہ ۴۱۰ کے تحت ۱۳ فروری ۱۹۹۵ء کو لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد الیاس نے اس اپیل پر خصوصی توجہ فرمائی اور اسے فوراً سننے کے لیے ۳ رکنی بنچ قائم کر دیا۔ بنچ کے ارکان میں مسٹر جسٹس فلک شیر، مسٹر جسٹس عارف اقبال بھٹی (ایڈہاک جج) اور مسٹر جسٹس خورشید احمد (ایڈہاک جج) شامل تھے۔ بنچ کے سربراہ مسٹر جسٹس فلک شیر تھے۔ اگلے روز یعنی ۱۴ فروری کو جب یہ فائل جناب جسٹس فلک شیر کے پاس پہنچی تو انہوں نے چیف جسٹس کو درخواست ان ریمارکس کے ساتھ واپس بھجوا دی کہ ”قانون کے مطابق قتل کی سزا کے خلاف اپیل سننے کے لیے ڈویژن یا سنگل بنچ قائم کیا جاتا ہے، ۳ رکنی بنچ نہیں۔ اس لئے اس مقدمہ کو بھی عام طریقہ کار کے مطابق ہی ڈیل کیا جائے۔“ ۱۴ فروری کو ہی چیف جسٹس نے اس نوٹ کو قبول کر لیا اور جسٹس فلک شیر جو بنچ کے سینئر جج تھے، کے بغیر جسٹس عارف اقبال بھٹی اور جسٹس خورشید احمد (ایڈہاک جج صاحبان) پر مشتمل ڈویژن بنچ ترتیب دے دیا۔ اس بنچ نے اسی دن سماعت شروع کر دی۔ آدھ گھنٹے کے نوٹس پر ایڈووکیٹ جنرل کو طلب کر لیا گیا، دونوں جج صاحبان نے مختصراً دلائل سننے کے بعد مناسب خیال کیا کہ مختلف سینئر وکلاء صاحبان کو عدالتی معاون (Amicus-Curaie) کے طور پر طلب کریں، جن کے نام یہ ہیں۔ ایس ایم ظفر ایڈووکیٹ، اعجاز بٹالوی ایڈووکیٹ، رفیق باجوہ ایڈووکیٹ، حنیف کھٹانہ ایڈووکیٹ، غلام باری سلیمی ایڈووکیٹ، خواجہ سلطان احمد ایڈووکیٹ، عابد حسن منٹو ایڈووکیٹ، مسٹر دلاور محمود

صفحہ 74

ایڈووکیٹ، ابھی ان سینئر وکلاء کو طلب کرنے کی بات ہو ہی رہی تھی کہ رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ کمرے میں داخل ہوئے۔

رشید مرتضیٰ قریشی : جناب والا! ٹھہریے! ٹھہریے۔ میری بات سنئے یہ عدالت تو اس درخواست کو سننے کی مجاز ہی نہیں۔ آپ لوگ کیا کرنے جا رہے ہیں؟

عدالت : قریشی صاحب عدالت خوب جانتی ہے کہ ہم یہ مقدمہ سننے کے مجاز ہیں کہ نہیں۔ آپ بھی اس ضمن میں عدالت کی معاونت کریں۔

رشید مرتضیٰ قریشی : اگر آپ کچھ وکلاء کو معاونت کے لیے طلب ہی کرنا چاہتے ہیں تو پھر علماء کو بھی بلائیے کیونکہ اس میں بہت سی ٹیکنیکل باتیں آتی ہیں۔

عدالت : ہمارا خیال ہے آپ ماشاء اللہ پڑھے لکھے اور باعمل مسلمان ہیں۔ آپ کو کسی عالم دین کے برابر، اسلام کا پتہ ہے، اس لیے آپ کی موجودگی میں عالم دین کو بلانے کی کیا ضرورت ہے؟

اس کے بعد سماعت اگلی صبح ۱۱ بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

۱۵ فروری

اگلے روز یعنی ۱۵ فروری کو جسٹس عارف اقبال حسین بھٹی کی عدالت کے باہر پولیس تعینات تھی۔ انجمن تحفظ ختم نبوت اور دیگر مذہبی تنظیموں کے کارکن ہائی کورٹ کے صحن اور سبزہ زار میں پائے جا رہے تھے۔ عدالت کے دروازے پر پولیس تعینات تھی جو لوگوں کو مناسب شناخت کے بغیر اندر داخل نہیں ہونے دیتی تھی۔

عدالت کے اندر پیپلز پارٹی سے متعلق خواتین کے علاوہ کئی ترقی پسند خواتین و حضرات، لاہور، رائے ونڈ اور قصور شہروں کے بشپ حضرات اور عیسائی رہنما کثیر تعداد میں تشریف فرما تھے۔ وکلاء کی بھی معتدبہ تعداد موجود تھی۔ کچھ ہی دیر بعد عابد منٹو، رفیق احمد باجوہ، حنیف کھٹانہ، جسٹس ریٹائرڈ دلاور محمود اور خواجہ سلطان بھی عدالت کی خصوصی دعوت پر تشریف لے آئے جبکہ درخواست گزار، ان کے وکلاء کے علاوہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے وکلاء بھی موجود تھے۔

جج صاحبان گیارہ بج کر اٹھاون منٹ پر عدالت میں تشریف لائے۔ کیس کی فائل پیش کی گئی۔ بلاوہ ہوا۔ اسی اثناء میں رشید مرتضیٰ قریشی جو سیشن کورٹ میں مدعی کے وکیل بھی تھے، کھڑے ہوئے اور بولے، جناب والا! میں نے توہین عدالت کی ایک درخواست بے نظیر کے خلاف داخل کی ہے، اس میں بے نظیر بھٹو پر آئین کی دفعہ ۶ کے تحت آئین سے

صفحہ 75

منحرف ہونے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ انہوں نے علماء کے خلاف اور پاکستان کے آئین کی اسلامی شقوں کے خلاف بیان دے کر خود کو اس عہدے کے لیے نااہل کر لیا ہے۔ اس لیے آپ اس کو سن لیں۔

اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ: جناب میں اعتراض کرتا ہوں، عدالت کی اس کارروائی پر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک عام نوعیت کا مقدمہ ہے جس میں ملزمان کو موت کی سزا ہوئی ہے۔ یہ روزانہ کا عمل ہے۔ لوگوں کو سزائے موت ہوتی ہے تو وہ عام طریقہ اختیار کرتے ہیں، لیکن اس مقدمے میں اس قدر جلدی سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔ اس کے علاوہ آپ کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ آپ سپریم کورٹ کے فیصلے سے انحراف نہیں کر سکتے۔ پھر نہ جانے کیوں آپ نے توہین رسالتؐ کی سزا پر رائے زنی کے لیے مختلف سینئر وکلاء کو طلب کیا ہے۔ یہ ایک غیر قانونی اور غیر آئینی طریقہ ہے۔ دراصل میں ہی وہ وکیل ہوں، جس نے اسے وفاقی شرعی عدالت میں دائر کیا تھا۔ اس کی پیروی کی تھی۔ ہم شرعی عدالت سے مقدمہ جیتے تھے۔ توہین رسالتؐ کی سزا، صرف اور صرف سزائے موت قرار دی گئی۔ حکومت اس کے خلاف اپیل میں سپریم کورٹ میں چلی گئی۔ ہم نے سپریم کورٹ سے بھی اپنے حق میں فیصلہ حاصل کیا۔ اس کے بعد آئینی لحاظ سے یہ لاء آف لینڈ بن چکا ہے، اس لیے اس کے بارے میں کوئی نکتہ یا سوال اٹھایا نہیں جا سکتا۔ میری آپ سے استدعا ہے کہ آپ اس معاملے کی نزاکت کا احساس کریں۔

عدالت : آپ کا خیال ہے کہ توہین رسالتؐ کے قانون ۲۹۵ سی کے تحت صرف سزا، موت ہی کی دی جا سکتی ہے۔

اسماعیل قریشی : جناب والا! بالکل ایسا ہی ہے۔ میرا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس مقدمے میں عدالت نے انتہائی مختصر نوٹس دیا ہے۔ نہ معلوم اس معاملے میں اتنی جلدی اور ایمرجنسی والی کون سی بات تھی۔ یہ کیس آیا اور آپ نے صرف ۲۴ گھنٹے کا نوٹس کر دیا۔ آپ نے مزید یہ کیا کہ معاونت کے لیے وکلاء کو بھی طلب کر لیا۔ ہمیں اس میں بہت کم وقت ملا ہے۔

عدالت : قریشی صاحب! آپ کیا چاہتے ہیں؟

: اسماعیل قریشی : میں چاہتا ہوں تمام وکلاء کو بحث کے لیے پورا پورا وقت ملے۔ میں اس مقدمے میں بنیادی انسانی حقوق اور دیگر موضوعات پر بھی بات کروں گا اور اس کے دیگر بھی بہت سے پہلو ہیں جن پر بحث کرنا ضروری ہے۔

صفحہ 76

عدالت : ہم آپ سے متفق ہیں اور آپ یقین رکھیں، آپ کو پورا پورا وقت دیا جائے گا۔ آج ہمارے پاس دو درخواستیں ہیں، ایک میں سزا کی معطلی کی استدعا کی گئی ہے جبکہ دوسری میں جلدی سماعت کی استدعا کی گئی ہے۔ ہمیں جلدی میں کوئی آرڈر پاس نہیں کرنا، ہم ہر ایک کو سنیں گے۔

رشید مرتضیٰ قریشی : (ججوں سے مخاطب ہو کر) جناب میں چیف جسٹس کو آپ کی وساطت سے وہی بات کہنا چاہتا ہوں جو جسٹس فلک شیر نے کہی ہے کہ آپ کو قانون کا اتنا بھی نہیں پتہ کہ معاملہ کیا ہے؟ حضور یہ میرے سامنے بیٹھا ججوں پر مشتمل بینچ انتہائی بے احتیاط ہے۔ بے نظیر بھٹو نے ان دو ججوں کو بٹھایا جو کنفرم بھی نہیں ہیں۔ اس لیے یہ جج مستقل انڈر پریشر رہیں گے اور مجھے یقین ہے کہ اس طرح انصاف کی روح متاثر ہوگی۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اس پھندے میں نہ آئیں اور اب آپ نے جبکہ خود ہی بشپ اور دیگر وکلاء کو بلا کر اس معاملے کو گنجلک بنا لیا ہے تو پھر اس کو بڑے بینچ کو سننے کے لیے بھیج دیں۔

عدالت : آپ اس مقدمے کی سماعت کے لیے بڑے بینچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو درخواست دیں۔

رشید مرتضیٰ قریشی : کرسی مضبوط نہیں ہوا کرتی، اس لیے بی بی کو چاہیے کہ بات کرتے وقت خدا کا خوف کرے۔ کرسی صرف آیت الکرسی والے کے ہاتھ میں ہے۔

عدالت : قریشی صاحب آپ ہمیں بتائیں ہم اس معاملے میں کیا کریں؟ ہم آپ کو اور آپ ہمیں ۱۹۶۰ء سے جانتے ہیں آپ ایک کمپی ٹینٹ Compitent آدمی ہیں۔ You are a man of integrity.

رشید مرتضیٰ قریشی : بے نظیر نے جو قاہرہ میں کہا تھا کہ میں مسجد اور چرچ کی بیٹی ہوں اور ان کی نمائندگی کرنے آئی ہوں۔ میرا خیال ہے، بے نظیر کو یہ بات یاد دلائی جائے اور اسے کہا جائے کہ عیسائیت میں توہین رسالت کی سزا موت ہے۔

عدالت : آپ ایک ذہین، سمارٹ اور قابل وکیل ہیں۔ عدالت آپ سے تعاون کی امید رکھتی ہے۔ آپ بڑے بینچ کی تشکیل کے لیے درخواست دائر کر دیں۔ آج صرف دو درخواستیں سنی جائیں گی۔

عاصمہ جہانگیر : جناب والا! یہ کورٹ آف لاء ہے۔ ہم یہاں پر ایسے نہیں آئے۔ ہم نے باقاعدہ چیف جسٹس صاحب کو درخواست دی تھی کہ وہ اس کیس کو آؤٹ آف ٹرن

صفحہ 77

سنیں۔ تب ہی یہ ممکن ہو سکا ہے۔

عدالت: آپ کی اس استدعا کی وجہ ہی سے تو اس مقدمے کو آؤٹ آف ٹرن سنا جا رہا ہے۔ کیا اب بھی آپ اس پر زور دیں گے کہ سزا کو معطل کر دیا جائے۔

رشید مرتضیٰ قریشی: جناب اس مسئلے پر لوگوں کے جذبات بہت بھڑکے ہوئے ہیں۔ یہ عدالت کے بس سے باہر کی بات ہے۔ یہ نبیؐ کی شان کا معاملہ ہے۔ اس پر کوئی دوسری بات نہیں ہوگی۔

عدالت: آپ یقین رکھیں، ہم آپ کو پورا سنیں گے۔ آپ کو سنے بغیر کوئی آرڈر جاری نہیں کیا جائے گا۔ کیوں عاصمہ جہانگیر! ہمارے خیال میں دوسرے فریق کو مناسب وقت دیا جانا چاہیے۔ دوسری پارٹی جو کہہ رہی ہے، کیا آپ اب بھی سزا کی معطلی پر اصرار کریں گی۔

عاصمہ جہانگیر: جناب والا! ان کو بھی ”آرگو“ کرنا ہے۔ آپ کے پاس وقت ہوگا، آپ ماہرین وکلاء کو سنئے گا۔ آپ پہلے میری استدعا سن لیں۔ مجھے دو دنوں میں بیرون ملک علاج کے لیے روانہ ہونا ہے، جہاں میرا دل کا آپریشن ہوگا۔

عدالت: ٹھیک ہے آپ اپیل میں دلائل دیں اور دوسرے وکلاء کو اپیل کی کاپیاں فراہم کردیں۔

عاصمہ جہانگیر نے فیصلے کا متن پڑھ کر سننا شروع کیا: جناب والا! اس کے دو حصے ہیں۔ ایک ۲۹۵ سی اور دوسرا ۲۹۸ اے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ گواہان استغاثہ نے وقوعہ کے مختلف اوقات بتائے ہیں۔ ایک نے کہا کہ یہ شام کے وقت ہوا، دوسرے نے کہا ”دیگر ویلے“ جبکہ تیسرے نے عصر اور مغرب کے درمیان کا وقت قرار دیا۔ ان میں سے ایک گواہ نے یہ بھی کہا کہ جب وہ گھر پہنچے تو اندھیرا پھیل چکا تھا۔

اسی طرح مولوی فضل حق کو مسجد کے ٹائلٹ میں سے کچھ الفاظ لکھے ملتے ہیں اور ٹھیک ایک سال بعد ان کے ہاں کاغذات پر کچھ الفاظ لکھ کر کوئی پھینک جاتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد ان کو وضو کی جگہ، ٹونٹیوں والی جگہ پر بھی اس قسم کے الفاظ ملتے ہیں اور پھر ایک دن سلامت مسیح، اللہ دتہ، منظور مسیح، رحمت مسیح وغیرہ انہیں مسجد کی دیواروں پر الفاظ لکھتے ہوئے مل جاتے ہیں۔ جناب والا! اگر آپ برآمدگی کی رپورٹ ملاحظہ فرما لیں تو تمام بات واضح ہو جاتی ہے۔ ملزمان سے کوئی چیز بھی برآمد نہیں ہوئی۔ ریکارڈ پر ان کے قبضے سے کسی چیز کی برآمدگی کا نہ ہونا ہی دراصل الزام کے کھوکھلے پن کو ظاہر کرتا ہے۔

صفحہ 78

جسٹس خورشید احمد خان نے قریشی صاحب کو بلایا اور انہیں کہا کہ مقدمے کی کاپیوں میں لگائی گئی مبینہ توہین آمیز تحریر والے کاغذات کی فوٹو کاپیاں ان میں سے ہٹا دی جائیں کیونکہ یہ کسی بھی مسلمان کے لیے ناقابل برداشت ہیں۔ دونوں وکلاء نے اس سے اتفاق کیا۔ عدالت نے یہ تمام صفحات اپنے قبضے میں لے لیے۔ اس موقع پر جج صاحب نے کہا : آپ پریس کے لوگ ماشاء اللہ عوامی دلچسپی اور مفاد کے پیش نظر بڑی درست رپورٹنگ کرتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ کوئی ایسی چیز نہیں لکھیں گے، جس سے لوگوں میں غلط تاثر یا رجحان پیدا ہو اور ایسی باتیں اچھے طریقے سے لکھیں گے جو جذبات کو سرد کرنے کا باعث بنیں۔ البتہ ان کاغذات کو تو آنا ہی نہیں چاہیے تھا، اب اگر آہی گئے ہیں تو ہم ان کو پبلک بکس میں سے خارج کرتے ہیں اور ان کو سیل کرنے کا حکم دیتے ہیں۔

جسٹس خورشید : جی عاصمہ جہانگیر! آپ دلائل شروع کریں۔

عاصمہ جہانگیر : پورے کیس میں چار گواہ بھگتے ہیں، جن میں مولوی فضل حق، محمد اکرم، محمد بخش اور امان اللہ شامل ہیں۔ آپ ان میں سے امان اللہ کا بیان دیکھیں۔ وہ تفتیشی آفیسر ہے لیکن اس نے وقوعہ کے نشانات یعنی تحریر اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی اور اس کے بنائے گئے نقشے میں سے بھی کافی خامی برآمد ہو چکی ہے۔

عدالت : عبدالستار نجم صاحب یہ تمام کاغذات جو ریکارڈ سے علیحدہ کرائے گئے ہیں، آپ ان کو ریکارڈ روم میں بھجوا دیں اور ان کو کہیں کہ سنبھال کر احتیاط سے رکھیں۔

عبدالستار نجم : میں نے کہہ دیا جناب والا۔

عدالت : آپ اس مرحلے پر اپنے دلائل کو صرف ضمانت کی درخواست پر محدود رکھیں۔

عاصمہ جہانگیر : جناب آپ میرے دلائل سن لیں۔ میں نے ڈاکٹر سے وقت لے رکھا ہے۔ کل کے بعد میں دستیاب نہیں ہوں گی۔

عدالت : دیکھیں ہمیں مخالف فریق کو بھی اپنے دلائل اور نکات کو ترتیب دینے کے لیے وقت دینا پڑے گا۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنے دلائل کو نہ پھیلائیں اور مختصر رکھیں۔

عاصمہ جہانگیر : جناب آپ ان کو بھی وقت دیں، وہ وقت لیں، ان کے بعد آپ کو معاونت کے لیے بلائے گئے وکلاء کو سننا ہے۔

اسماعیل قریشی : کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ مقدمے کو ان کی علاج سے واپسی تک

صفحہ 79

ملتوی کر دیا جائے۔

عاصمہ جہانگیر: جناب! یہ وہی دلائل ہیں جو میں اس وقت دوں گی۔ آپ آج ہی سن لیں، میں آپ سے بعد میں دلائل کے لیے وقت دینے کا مطالبہ نہیں کروں گی۔ جناب والا! آپ ملاحظہ کریں کہ مولوی فضل حق، جو اس مقدمے کا مدعی بھی ہے۔ وہ مقدمے کی ابتداء ہی میں اپنے بیان سے منحرف ہو گیا اور اس کے انحراف کے بعد تو یہ مقدمہ سرے سے باقی ہی نہیں رہتا۔

عدالت: یہ کوئی نجی شکایت یا مقدمہ نہیں بلکہ یہ کیس ریاست کی طرف سے درج کرایا گیا ہے۔ اس لیے اس کو کوئی شخص واپس نہیں لے سکتا۔

عاصمہ جہانگیر: پھر جناب آپ ملاحظہ کریں کہ گواہ کہتا ہے کہ وہ وقت نہیں بتا سکتا۔ (اتنی دیر میں عدالت کو مطلع کیا جاتا ہے کہ کاغذات کو سیل کر دیا گیا ہے)

عدالت: آپ مجھے Incorrect اور False کا فرق بتا سکتی ہیں۔ چلیں یہ بعد میں آئے گا۔

عاصمہ جہانگیر: گواہ کہتا ہے میں جاٹ ہوں۔ وقت نہیں بتا سکتا۔ وہ مئی کے مہینہ میں عصر پڑھنے گیا تھا اور اندھیرا پھیل رہا تھا جب باہر آیا۔ جناب مئی کے دنوں میں عصر پانچ بجے یا پونے پانچ بجے کے قریب ہوتی ہے اور عصر اور اندھیرا پھیلنے کے وقت میں واضح فرق ہوتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ وہ جب باہر آیا تو اس نے ملزمان کو کچھ الفاظ لکھتے دیکھا۔ وہ الفاظ نہیں بتا سکتا نہ اسے ان کے مفہوم کا پتہ ہے، لیکن اس کو صرف یہ پتہ ہے کہ چار، پانچ الفاظ تھے۔ کیا تھے؟ کیسے تھے؟ کیوں تھے؟ اس کو نہیں معلوم۔ اب جناب ایسے شخص کی گواہی پر تو کسی کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔

دراصل یہ بغیر گواہی کا مقدمہ ہے۔

It is a case of no evidence.

عدالت: کھٹانہ صاحب بیٹھے ہوئے ہیں۔

ستار نجم: نہیں جناب وہ چلے گئے ہیں۔

عدالت: یہ ان کا کیس ہے۔ ایک گواہ کہتا ہے میں جاٹ ہوں، دوسرا کہتا ہے میں راجپوت ہوں۔

عدالت میں قہقہہ لگا اور وکلاء میں سے ایک صاحب بولے: لیکن رفیق باجوہ صاحب تو تشریف رکھتے ہیں۔

صفحہ 80

عاصمہ جہانگیر (دلائل جاری رکھتے ہوئے) : لیکن جناب میرے موکل کے خلاف کچھ نہیں کہا گیا ہے اور جو کچھ بھی کہا، میرے موکل کے خلاف کچھ بھی نہیں کہا۔

عدالت : یہ ویسے حیرت کی بات ہے کہ ایک گواہ درخواست پر دستخط کرتا ہے لیکن کہتا ہے کہ وہ پڑھ لکھ نہیں سکتا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

ایک وکیل : جناب والا بعض لوگوں نے دستخط رٹ لیے ہوتے ہیں اور یہ بھی ان افراد میں سے معلوم ہوتا ہے۔

عاصمہ جہانگیر : لیکن جناب وہ تو درخواست کے بارے میں بھی یہی کہتا ہے کہ اس نے اپنے ہاتھ سے لکھی ہے۔

عدالت : نہیں یہ تو آپ کا دعویٰ ہے کہ اس نے ہاتھ سے لکھی۔ اس نے تو اعتراف نہیں کیا۔

عاصمہ جہانگیر : لیکن جناب والا! اس سارے معاملے میں وہ میرے موکل کے خلاف کوئی بات بھی نہیں کہتا۔ اب جناب آپ تفتیشی افسر کے بیان کو ملاحظہ کر لیں۔ وہ بھی اس ضمن میں خاموش ہے

عدالت : کیا ان چٹوں کے بارے میں استغاثہ نے ایسی کوئی شہادت پیش کی جس سے ثابت ہو سکے کہ وہ ملزمان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہیں۔

عاصمہ جہانگیر : کبھی نہیں جناب! کبھی نہیں۔ 9 مئی 93ء کو وقوعہ ہوتا ہے، یہ گیارہ کو جا کر رپورٹ کراتے ہیں اور پھر اتنے بڑے واقعے کے بعد گھر جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔

عدالت : ہم چاہتے ہیں کہ آپ کم از کم آج ان کے بیانات ضرور پڑھ لیں۔

عاصمہ جہانگیر : جناب والا! میرے موکل نے تو یہ جرم سرے سے کیا ہی نہیں۔ اس کے اوپر یہ صریحاً الزام ہے۔ (پھر اس کے بعد عاصمہ جہانگیر نے سلامت مسیح کا بیان پڑھنا شروع کیا ۔)

عدالت : آپ جلدی کر لیں، نماز کا وقت ہو گیا ہے۔

رشید مرتضیٰ قریشی : جناب میرا وہ کیس تو رہ ہی گیا جس میں، میں نے مقدمے کی اس بنچ کے سامنے سماعت کو چیلنج کیا ہے۔ جناب والا! اس عدالت کا احترام اپنی جگہ ہے اور بڑے احترام کے ساتھ میں یہ عرض کر رہا ہوں، ہم عوام کو کیسے منہ دکھا پائیں گے اور یہ بات کیسے بتا پائیں گے کہ "جیالے جج" درست فیصلے کر رہے ہیں۔ جناب جب آپ نے مقدمے کو اس قدر عجلت میں سنا ہے تو میں بھی یہ استحقاق رکھتا ہوں کہ میری اس مقدمے

صفحہ 81

(دلائل جاری رکھتے ہوئے) : لیکن جناب میرے موکل کے خلاف جو کچھ بھی کہا‘ میرے موکل کے خلاف کچھ بھی نہیں کہا۔

ے حیرت کی بات ہے کہ ایک گواہ درخواست پر دستخط کرتا ہے لیکن نہیں سکتا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

ب والا بعض لوگوں نے دستخط رٹ لیے ہوتے ہیں اور یہ بھی ان ہے۔

لیکن جناب وہ تو درخواست کے بارے میں بھی یہی کہتا ہے کہ اس ہے۔

یہ تو آپ کا دعویٰ ہے کہ اس نے ہاتھ سے لکھی۔ اس نے تو ہے۔

لیکن جناب والا! اس سارے معاملے میں وہ میرے موکل کے کہتا۔ اب جناب آپ تفتیشی افسر کے بیان کو ملاحظہ کرلیں۔ وہ کہتا ہے۔

چوں کے بارے میں استغاثہ نے ایسی کوئی شہادت پیش نہیں کی جس خان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہیں۔

بھی نہیں جناب! کبھی نہیں۔ 9 مئی 93ء کو وقوعہ ہوتا ہے‘ یہ گیارہ ہیں اور پھر اتنے بڑے واقعے کے بعد گھر جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔

تے ہیں کہ آپ کم از کم آج ان کے بیانات ضرور پڑھ لیں۔

جناب والا! میرے موکل نے تو یہ جرم سرے سے کیا ہی نہیں۔ نام ہے۔ (پھر اس کے بعد عاصمہ جہانگیر نے سلامت مسیح کا بیان

ری کرلیں‘ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔

و: جناب میرا وہ کیس تو رہ ہی گیا جس میں‘ میں نے مقدمے کی کو چیلنج کیا ہے۔ جناب والا! اس عدالت کا احترام اپنی جگہ ہے اور میں یہ عرض کر رہا ہوں‘ ہم عوام کو کیسے منہ دکھا پائیں گے اور یہ ”جیالے جج“ درست فیصلے کر رہے ہیں۔ جناب جب آپ نے میں سنا ہے تو میں بھی یہ استحقاق رکھتا ہوں کہ میری اس مقدمے

میں درخواست کو بھی ”آؤٹ آف ٹرن“ ڈیل کیا جائے۔

عاصمہ جہانگیر: جناب یہ بار بار مداخلت کر رہے ہیں۔ میں نے اس کیس کی اہمیت کے پیش نظر اس کو ترجیحی بنیادوں پر سنے جانے کی درخواست بھی مقدمے کے ساتھ ہی داخل کر دی تھی۔ اس میں کوئی ترجیحی یا غلط سلوک نہیں ہوا۔

عدالت: عاصمہ جہانگیر آپ تو اس مسئلے پر نہ بولیں۔ کل آپ نے اپیل کی‘ آج ہم اسے سن رہے ہیں اور آپ کیا چاہتی ہیں؟

عابد منٹو: جناب والا! ہم ایک مقصد لے کر اس عدالت میں آئے ہیں۔ آپ نے ہمیں اس معاملے پر معاونت کے لیے طلب کیا لیکن تاحال ہمارے سامنے صورت حال واضح نہیں کہ ہم نے عدالت کی کس نکتے پر معاونت کرنی ہے۔ آئین کی دفعات جو توہین رسالت کے متعلق ہیں۔ وہ 295 سی اور 298 اے ہیں۔ یہ ایک مقدمہ بلا گواہ ہے۔

عدالت: آپ کے سامنے سوال یہ ہوگا کہ 295 سی اور 298 اے میں شہادت کی نوعیت کیا ہوگی اور ایسی شہادت استغاثہ کر سکا ہے کہ نہیں کیونکہ اس میں موت کی سزا ہے۔ کیا اس میں عام شہادت ہوگی یا پھر تزکیہ الشہود والی ہوگی‘ یہ نکات ہیں جن پر آپ نے معاونت کرنا ہے۔

عابد منٹو: تو کیا اس شہادت پر یعنی تزکیتہ الشہود والی شہادت پر شہادت کا قانون لاگو ہوگا؟ کسی ایسے مقدمے میں جس میں گواہ شہادت کے الفاظ دہرانے سے انکاری یا قاصر ہو‘ شہادت کی کیا نوعیت ہو سکتی ہے؟ ماسوائے ان دستاویزات کے‘ جو آپ نے ریکارڈ سے ہٹا دی ہیں‘ مقدمے کی کوئی شہادت نہیں۔ گواہی کے نقطہ نظر سے تو یہ قابل اعتراض بات ہے۔ جب عدالت کو وہ الفاظ گواہوں کے ذریعے دیکھنے کا موقع نہیں ملا تو پھر اس بنا پر مثبت فیصلہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ یہ تو ایسے ہی ہے کہ کوئی محمد بخش آئے اور کہے کہ جناب میرے خیال میں فلاں نے قابل اعتراض کام کیا ہے اور عدالت اس کے خیال سے اتفاق کرے اور ملزم کو پھانسی چڑھا دے۔

عدالت: اصل مقدمہ یہ ہے کہ کیا استغاثہ کا یہ کہنا درست تھا یا نہیں؟ اس مقدمے کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

منٹو: جناب اصل گواہی تو صرف چٹ ہے۔ ان لوگوں نے منہ سے الفاظ ادا نہیں کیے۔ میں تمام مسلمان بھائیوں سے کہتا ہوں کہ وہ کسی ایسے مقدمے میں عدالت میں جائیں تو پورا یقین کر لیں‘ محض شک یا شبہے کی بنا پر کسی کو پھانسی دینے کی اجازت نہیں دی جا

صفحہ 82

کسی اور نہ ہی اسلام ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

عدالت: آپ نے درست سمت اشارہ کیا ہے۔ آپ کی رائے ہے کہ ایسے مقدمات جہاں ۲۹۵ سی کے تحت مقدمات کی سماعت ہوتی ہے تو اس قسم کے مقدمات میں ”مقدس“ اصولوں کے تحت تزکیتہ الشہود کی گواہی کا معیار ہوگا۔

منٹو: یہ بھی دیکھنا ہے کہ کیا اس قسم کی گواہی میں صرف اندازوں پر انحصار کیا جا سکتا ہے اور کیا ایسی گواہی فوجداری کے لیے قابل اعتماد ہے کہ نہیں؟

عدالت: ایسا قادیانی آرڈینینس میں کیا گیا تھا۔ ہم اس مقدمے کو پھیلانا نہیں چاہتے بلکہ سمیٹنا چاہتے ہیں۔ کل صبح ساڑھے نو بجے ان تین سوالات پر بات ہوگی۔

اسماعیل قریشی: جناب بہت سے لوگ کل دستیاب نہیں ہوں گے۔

عدالت: آپ بے فکر رہیں۔ ہم ان کو کل سن لیں گے۔ ہم کل ان کو مکمل سن کر پھر آپ کو وقت دیں گے۔

۱۶؍ فروری

مقدمے کی سماعت سوا دس بجے شروع ہوئی۔ رشید مرتضیٰ کھڑے ہوئے اور چلتے ہوئے ڈائس پر آئے۔

رشید مرتضیٰ قریشی: جناب والا! جب یہ مقدمہ آپ کے پاس آیا تھا تو آپ نے نہ جانے کس جلدی کے تحت اسے راتوں رات نپٹانے کی کوشش کی۔ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ آپ اس مقدمے کو نہیں سن سکتے۔ آپ اس کو چیف جسٹس کو واپس بھیج دیں۔ جناب والا! آپ مستقل جج نہیں ہیں۔ آپ سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکیں گے۔ آپ ملک کی وزیر اعظم کی منشاء کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دے سکیں گے۔

عدالت: آپ نے کل بھی یہی نکتہ اٹھایا تھا اور ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ اس کام کے لیے علیحدہ درخواست دائر کریں۔

اسماعیل قریشی: جناب اس میں درخواست کی ضرورت نہیں تھی۔ بہرحال آپ اصرار کرتے ہیں تو یہ درخواست لے لیں۔

رشید مرتضیٰ قریشی: جناب والا! یہ بنیادی حقوق کا آئینی مقدمہ ہے۔ اس میں بڑی عجیب و غریب صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اس میں آپ ایک مجرم کو، جو کہ قانون کے تحت قابل تعزیر ہے، سزا دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔

عدالت: آپ تشریف رکھئے! ہمیں ایک نکتے پر اپنی توجہ مرکوز کرنے دیں۔ بھئی

صفحہ 83

قریشی صاحب کو کرسی دے دیں۔

رشید مرتضیٰ قریشی: جناب برابری کا سلوک ہونا چاہیے۔ ان کی دفعہ تو آپ نے بڑی آسانی سے کیس آؤٹ آف ٹرن سن لیا اور جب اس عدالت عالیہ کا ایک سینئر جج کہہ رہا ہے کہ آپ صرف چیف جسٹس ہیں، قوانین کو ”اوور رول“ نہیں کر سکتے تو جسٹس فلک شیر جیسے سینئر جج کو کیسے بنچ کی تشکیل کے وقت نظرانداز کیا گیا۔ وہ سب سے سینئر جج تھے۔ مجھے معلوم ہے جناب والا! (اس کے بعد انہوں نے قائم مقام چیف جسٹس کے بارے میں ایک بات کہی اور پھر بولے) یہ بہت ظلم ہے بلکہ یہ ایک طرح سے توہین عدالت کے مترادف ہے۔

عدالت: آپ میں سے ایک صاحب یہ درخواست لے کر چیف جسٹس کے پاس چلے جائیں اور یہ درخواست ان سے مارک کرا لائیں۔

رشید مرتضیٰ قریشی: جناب! توہین عدالت کا وہ مقدمہ جو میں نے بے نظیر کے خلاف دائر کیا تھا، اب تک آپ کو ریفر نہیں کیا گیا۔ پتہ نہیں کیا وجہ ہے؟

عدالت: یہ چیف جسٹس صاحب کا حق ہے، وہ کسے مقدمہ بھیجیں اور کسے نہ بھیجیں اور یہ ان کا فرض بھی ہے کہ وہ درخواست کی نوعیت اور اہمیت کے لحاظ سے فیصلہ کر لیں۔

رشید مرتضیٰ قریشی: جناب والا! میں نے آپ سے زبانی درخواست کر دی ہے اور آئین کے مطابق زبانی درخواست بھی ایک درخواست ہی ہوا کرتی ہے۔ آپ اس کو پہلے پڑھ لیں۔

عدالت: ہم بالکل جلدی میں نہیں ہیں۔ ہم ہر ایک کو برابر کا موقع دیں گے، لیکن آپ لوگ مقدمے کی حدود کے اندر رہیں۔ ان سے باہر نہ نکلیں۔

رشید مرتضیٰ قریشی: جو چیف جسٹس کی عدالت میں درخواست لے کر گئے تھے، واپس آتے ہیں اور دور سے ہی کہتے ہیں۔ جناب والا مجھے کہنے کی اجازت دیجئے کہ چیف جسٹس (اس کے بعد انہوں نے ان پر ایک الزام لگایا) کو عوام کے جذبات کا اندازہ نہیں۔ عوام کو قابو کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ میں ابھی ان مشتعل لوگوں میں سے گزر کر آ رہا ہوں اور اگر جسٹس طلعت یعقوب یا ان کی نسل کا کوئی اور شخص ادھر سے گزر گیا تو ایمان سے اس کی لاش چھت کے ساتھ ٹنگی ہوگی۔

عدالت: آپ عدالت کی تقدیس کا دھیان رکھیں۔

رشید مرتضیٰ قریشی: جناب والا، مجھ سے زیادہ کون اس عدالت کی تقدیس کی بحالی

صفحہ 84

چاہے گا۔ میرا خون پسینہ میری جوانی، میری زندگی کے تیس سال کی کمائی عدالت عالیہ کی بنیادوں میں ہے۔ میں بے بنیاد بات نہیں کیا کرتا۔ مجھے بے نظیر کے ساتھ ہمدردی ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ قادیانی اس کے باپ کا بدلہ اس سے لینا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ اس امر کو نہیں بھولے کہ بھٹو نے انہیں غیر مسلم قرار دیا تھا۔ اب وہ اس کی بیٹی کے ہاتھوں غلط کام کروا کر اس کو عوام کے غیض و غضب کا شکار بنوانا چاہتے ہیں۔

عدالت: پتہ نہیں قریشی صاحب آپ کی درخواست ابھی آئی کیوں نہیں؟

ایک وکیل: جناب اس ساری صورتحال کا اصل ذمہ دار چیف جسٹس ہے۔ (اس کے بعد انہوں نے پھر چیف جسٹس کے بارے میں ریمارکس دیئے) ہم فاضل عدالت سے کہیں گے کہ وہ اس امر کا نوٹس لے اور یہ کیس واپس چیف جسٹس کو بھیج دے۔

عدالت: آپ ایک درخواست دے دیں۔ آپ کو معلوم ہی ہے کہ چیف جسٹس نے تو ایک بڑا بنچ بنایا تھا جبکہ سینئر جج (جسٹس فلک شیر) نے کہا کہ یہ ایک عام مقدمہ ہے۔ اس کو خاص کی طرح کیوں سنا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس کو عام طریقے میں ڈویژن بنچ کے سامنے آنے دیں۔ آپ جانتے ہیں دو یا تین ڈویژن بنچ ایسے ہیں، جو مستقلاً "قتل کے مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں اور اس طرح کی اپیلیں روزانہ سینکڑوں ہوتی ہیں اور عدالت عالیہ کی پالیسی ہے کہ اس ڈویژن بنچ کی صدارت سینئر جج کرتا ہے۔ اب سینئر جج نے یہ کیس واپس بھیج دیا۔ اگر کوئی بھی جج اس کیس کو سنتا تو ایسے ہی ہوتا۔ ہم ہر ایک کو سننا چاہتے ہیں۔ یہ مقدمہ وقت لے گا۔ آپ چیف جسٹس کے پاس جائیں اور درخواست مارک کروا لائیں۔

اسماعیل قریشی: جناب چیف جسٹس نے کہا ہے کہ اس ضمن میں، میں آپ سے گزارش کروں۔ آپ نے چیف جسٹس صاحب سے رابطہ کرنے کو کہا تھا، ہم وہاں گئے، اب انہوں (چیف جسٹس) نے آپ سے رابطہ کرنے کو کہا ہے۔

عدالت: چیف صاحب نے ایک عمل دہرا دیا ہے۔ اچھا آپ ایک درخواست لکھ لائیں، ہم ابھی اس کو رکھ لیتے ہیں۔

اسماعیل قریشی: آپ آدھ گھنٹے کے لیے عدالت ملتوی کر دیں۔

عدالت: قریشی صاحب، وکیل صفائی نے آج ملک سے باہر چلے جانا ہے، ان کو دلائل مکمل کر لینے دیں۔

اسماعیل قریشی: لیکن اس شرط پر کہ وہ ضمانت کے لیے زور نہیں دیں گی۔ (اتنی دیر

میں سینئر وکلاء اٹھ کر آگے آتے ہیں اور عد

عاصمہ جہانگیر: جناب والا، صرف سرٹیفکیٹ فائل کر دیے ہیں۔ پاور آف اٹار

عدالت: عاصمہ جہانگیر یہ سب بار

رشید مرتضیٰ قریشی: یہ جو آپ ۔ دینے کے لیے اکٹھا کر لیا ہے، اس کا کوئی ح

اسماعیل قریشی: جناب میں نے کہا لیے طلب کیا جائے کیونکہ تکنیکی لحاظ سے

رشید مرتضیٰ قریشی: واہ جناب والا لوگوں کو تزکیۃ الشہود پر رائے کے لیے بلا صحیح طریقے سے ادائیگی ہی کر ڈالے۔

عاصمہ جہانگیر: جناب والا! یہ حد ۔

رشید مرتضیٰ قریشی: میں حقائق ۔ کورٹ میں اور ثابت کرو کہ آپ ایک قاد

عدالت: عدالت اور انصاف کی ر کی فضا کو برقرار رکھیں۔ قریشی صاحب ہما مجھے توہین رسالت پر جو کتب دی ہیں۔ وہ سے واقعی بڑی رہنمائی ملی ہے۔ اس لیے یہ ملک سے باہر جا رہی ہیں۔ ہم آپ کو پا

رشید مرتضیٰ قریشی: جناب والا! ب اس سزا کے خلاف فیصلہ سنا دیں گے تو ہوں گی۔ ہمارا کیس لٹک جائے گا۔

عدالت: قریشی صاحب آپ آز جہانگیر نے بیرسٹر ابرار مجاز کی طرف اشارہ

عاصمہ جہانگیر: جناب والا! یہ جتنا

بیرسٹر ابرار مجاز: بی بی میں نے آ قوم کے لیے Abuse ہے۔

صفحہ 85

میں سینئر وکلاء اٹھ کر آگے آتے ہیں اور عدالت کو مطلع کرتے ہیں کہ وہ حاضر ہیں۔)

عاصمہ جہانگیر : جناب والا! صرف ان کو عدالت میں سنا جائے، جنہوں نے اپنے سرٹیفکیٹ فائل کر دیے ہیں۔ پاور آف اٹارنی سب کے پاس نہیں ہو سکتی۔

عدالت : عاصمہ جہانگیر یہ سب بار کے سینئر ممبر ہیں۔

رشید مرتضیٰ قریشی : یہ جو آپ نے سارے جاہلوں کو سینئر وکلاء کے بہانے رائے دینے کے لیے اکٹھا کر لیا ہے، اس کا کوئی حساب نہیں؟

اسماعیل قریشی : جناب میں نے کہا تھا کہ علماء کرام کو بھی اس ضمن میں رائے کے لیے طلب کیا جائے کیونکہ تکنیکی لحاظ سے ان کی رائے ہی قابل اعتماد ہو سکتی ہے۔

رشید مرتضیٰ قریشی : واہ جناب والا! آپ کو بھی داد دینا پڑے گی۔ یعنی عابد منٹو جیسے لوگوں کو تزکیۃ الشہود پر رائے کے لیے بلایا ہے۔ اسے کہیں کہ وہ تزکیۃ الشہود کے لفظ کی صحیح طریقے سے ادائیگی ہی کر ڈالے۔

عاصمہ جہانگیر : جناب والا! یہ حد سے بڑھ رہے ہیں۔

رشید مرتضیٰ قریشی : میں حقائق کے ساتھ بات کرتا ہوں۔ آؤ میرے ساتھ سول کورٹ میں اور ثابت کرو کہ آپ ایک قادیانی کی بیوی نہیں ہو۔

عدالت : عدالت اور انصاف کی روح کا تقاضا یہ ہے کہ تمام لوگ آداب اور احترام کی فضا کو برقرار رکھیں۔ قریشی صاحب ہم آپ کی درخواست ضرور دیکھیں گے۔ آپ نے مجھے توہین رسالتؐ پر جو کتب دی ہیں۔ وہ میں رات دو بجے تک پڑھتا رہا ہوں اور مجھے ان سے واقعی بڑی رہنمائی ملی ہے۔ اس لیے میں آج صرف اس لیے دلائل سننا چاہتا ہوں کہ یہ ملک سے باہر جا رہی ہیں۔ ہم آپ کو پھر یقین دلاتے ہیں کہ ہم جلدی نہیں کریں گے۔

رشید مرتضیٰ قریشی : جناب والا! یہ ملک سے باہر جا رہی ہیں۔ اس دوران اگر آپ اس سزا کے خلاف فیصلہ سنا دیں گے تو ہمیں سپریم کورٹ میں جانا پڑے گا، وہاں یہ نہیں ہوں گی۔ ہمارا کیس لٹک جائے گا۔

عدالت : قریشی صاحب آپ آج ہمیں کیس ختم کرنے دیں (اس دوران عاصمہ جہانگیر نے بیرسٹر ابرار مجاز کی طرف اشارہ کر کے کہا۔)

عاصمہ جہانگیر : جناب والا! یہ جنٹل مین مجھے مسلسل ابیوز (Abuse) کر رہا ہے۔

بیرسٹر ابرار مجاز : بی بی میں نے آپ کو کیا Abuse کرنا ہے آپ کا وجود ہی ملک و قوم کے لیے Abuse ہے۔

صفحہ 86

عاصمہ جہانگیر : جناب والا! دیکھئے انہوں نے کمرہ عدالت کے اندر گالیاں دی ہیں۔ میں اس کے خلاف احتجاج کرتی ہوں۔ (اس کے بعد عاصمہ جہانگیر نے بھی بہت شدید الفاظ میں شور مچایا اور بعض کوسنے بھی دیے اور حنا جیلانی بھی آگے آگئیں اور دونوں نے چیخ چیخ کر بولنا شروع کر دیا ۔)

عاصمہ جہانگیر + حنا : جناب والا! انہیں کمرہ عدالت سے باہر بھیجا جائے۔ ان کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

ان کے اس احتجاجی شور میں کمرے میں موجود دوسری خواتین کی آواز بھی شامل ہو گئی اور عدالت میں ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا۔

رشید مرتضیٰ قریشی: (عاصمہ کے پاس گئے) بیٹی آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں، اتنا سیریس نہ لو۔ ریلیکس کرو۔ پلیز بیٹا ایسا نہ کرو۔ (بیرسٹر ابرار مجاز سے مخاطب ہو کر) بھئی جب آپ کا بڑا بھائی اس محاذ پر موجود ہے تو آپ کو کیا ضرورت ہے۔ آپ خاموش رہو۔

عدالت : ہم نے آپ کا احتجاج نوٹ کر لیا ہے۔ آپ اب اس بات کو جانے دیں اور مقدمہ پر بات کریں۔

عاصمہ جہانگیر : جناب انہوں نے ایک رکن بار کو گالی دی ہے۔ انہوں نے مجھے تین بار ”کتیا“ کہا ہے۔ بہتر ہے ان کو باہر بھیج دیں۔

عدالت : ہم انہیں باہر نہیں بھیجیں گے۔

بیرسٹر ابرار مجاز : جناب یہ ان کی مخصوص تکنیک ہے۔ یہ اس طرح سے شہرت حاصل کرنا اور معاملے کو نیا رخ دینا چاہتی ہیں۔ یہ اس طرح کے ڈرامے کرنے کی ماہر ہیں۔

حنا + عاصمہ جہانگیر : دونوں نے مل کر شور مچا دیا اور بپھری ہوئی جھپٹنے کے لیے بیرسٹر ابرار مجاز کی طرف بڑھیں۔

رشید مرتضیٰ قریشی : جناب ان کو کہیں، یہ چیخ و پکار بند کریں۔ (اسی دوران عاصمہ جہانگیر اور حنا نے بھی بیرسٹر کو کوسنے دیے جن کا عدالت نے سخت نوٹس لیا اور جسٹس عارف اقبال حسین بھٹی نے بڑے سخت لہجے میں کہا:

عارف اقبال حسین بھٹی : عاصمہ جہانگیر، آپ ہوش میں تو ہیں، آپ کیا کر رہی ہیں۔ آپ نے احتجاج کیا، ہم نے نوٹ کر لیا اور ہم نے آپ کو یقین دلایا ہے کہ اگر آئندہ وہ ایسا کریں گے تو ان کو کمرہ عدالت سے نکال دیا جائے گا، لیکن آپ حد سے بڑھتی جا رہی

ہیں۔ خود پر قابو رکھیں اور مخاطب ہو کر) اب تک ہمارے قو معاملے میں اتحاد بین المسلم ضرورت ہے۔ جج، صحافی ح کا دھیان رکھیں گے۔ ہمار انہی مقاصد کو آگے بڑھان

عاصمہ جہانگیر : (دل کے خلاف ایک فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ یہ بات اب تک گئی۔ جناب دراصل ان ک مقدمہ بلاجواز ہے۔ اگر معام

عدالت : یہ ایک ملے تھے، کوئی بھی ان کو جب ۲۹۵ (سی) کے تحت کیونکہ اس کے جذبات اس

عاصمہ جہانگیر : پھر ہی آپ کہہ سکیں گے زور دے رہی ہوں کہ انہوں نے کچھ ہوتے دیکھا

عدالت : ہمارے پر لکھا گیا اور دوسرے و نہ پڑھیں۔ ہاں اگر استغ تو پھر ان کو پھانسی کی سزا

عاصمہ جہانگیر : لکھتے ہوئے نہیں دیکھا ملزموں کا پیچھا کیا اور ن

صفحہ 87

گیر: جناب والا! دیکھئے انہوں نے کمرہ عدالت کے اندر گالیاں دی ہیں۔ احتجاج کرتی ہوں۔ (اس کے بعد عاصمہ جہانگیر نے بھی بہت شدید الفاظ میں کوسنے بھی دیے اور حنا جیلانی بھی آگے آگئیں اور دونوں نے چیخ چیخ ۔)

غیرہ حنا: جناب والا! انہیں کمرہ عدالت سے باہر بھیجا جائے۔ ان کو یہاں نہ دی جائے۔

احتجاجی شور میں کمرے میں موجود دوسری خواتین کی آواز بھی شامل ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا۔

قریشی: (عاصمہ کے پاس گئے) بیٹی آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں، اتنا ں کرو۔ پلیز بیٹا ایسا نہ کرو۔ (بیرسٹر ابرار مجاز سے مخاطب ہو کر) بھئی اس محاذ پر موجود ہے تو آپ کو کیا ضرورت ہے۔ آپ خاموش رہو۔ نے آپ کا احتجاج نوٹ کر لیا ہے۔ آپ اب اس بات کو جانے دیں

ر: جناب انہوں نے ایک رکن بار کو گالی دی ہے۔ انہوں نے مجھے ۔ بہتر ہے ان کو باہر بھیج دیں۔ نہیں باہر نہیں بھیجیں گے۔

جاز : جناب یہ ان کی مخصوص تکنیک ہے۔ یہ اس طرح سے شہرت کو نیا رخ دینا چاہتی ہیں۔ یہ اس طرح کے ڈرامے کرنے کی ماہر

جہانگیر: دونوں نے مل کر شور مچا دیا اور بپھری ہوئی جھپٹنے کے لیے ہ بڑھیں۔

ریشی : جناب ان کو کہیں، یہ چیخ و پکار بند کریں۔ (اسی دوران عاصمہ بیرسٹر کو کوسنے دیے جن کا عدالت نے سخت نوٹس لیا اور جسٹس نے بڑے سخت لہجے میں کہا:

حسین بھٹی : عاصمہ جہانگیر، آپ ہوش میں تو ہیں، آپ کیا کر رہی کیا، ہم نے نوٹ کر لیا اور ہم نے آپ کو یقین دلایا ہے کہ اگر آئندہ کو کمرہ عدالت سے نکال دیا جائے گا، لیکن آپ حد سے بڑھتی جا رہی

ہیں۔ خود پر قابو رکھیں اور عدالت کے احترام کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں۔ (پریس رپورٹرز سے مخاطب ہو کر)

اب تک ہمارے قومی پریس نے بڑی معیاری اور متوازن رپورٹنگ کی ہے اور اس معاملے میں اتحاد بین المسلمین اور بین العوام کا بڑا دھیان رکھا ہے۔ اس امر کی بڑی سخت ضرورت ہے۔ جج، صحافی حضرات کا مشکور ہے اور امید کرتا ہے کہ آئندہ بھی آپ اس امر کا دھیان رکھیں گے۔ ہماری آپ لوگوں کے توسط سے علماء کرام سے التماس ہے کہ وہ بھی انہی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے کام کریں۔

عاصمہ جہانگیر: (دلائل شروع کرتے ہوئے) جناب! 9 فروری 95ء کو میرے موکل کے خلاف ایک فیصلہ سنایا گیا جس کے پیرا 21 میں لکھا گیا کہ ملزم تیسری کلاس تک پڑھنا جانتا ہے۔ یہ بات اب تک ریکارڈ پر نہیں تھی۔ نجانے یہ پہلے کیوں ریکارڈ پر نہیں لائی گئی۔ جناب دراصل ان کو میرے موکل کے خلاف کوئی گواہی نہیں مل رہی۔ یہ دراصل مقدمہ بلاگواہ ہے۔ اگر مطالعہ کیا جائے تو بات بہت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے۔

عدالت: یہ ایک ایسا مقدمہ ہے، جس میں ایسے ثبوت پیش کیے گئے جو چھ ماہ قبل طے تھے، کوئی بھی ان کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ اس امر میں ایک اور مشکل بات یہ ہے کہ جب 295 (سی) کے تحت گواہی کی بات کرتے ہیں تو گواہ کچھ بھی دہرانے سے قاصر ہے کیونکہ اس کے جذبات اس کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

عاصمہ جہانگیر: جناب یہ ایک عام مقدمہ ہے۔ اگر آپ نے کوئی بات سنی ہوگی تو پھر ہی آپ کہہ سکیں گے اور اگر نہیں سنی تو نہیں کہہ سکیں گے۔ دراصل میں اسی نکتے پر زور دے رہی ہوں کہ گواہوں نے کچھ دیکھا ہی نہیں تو وہ آپ کو کیسے بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے کچھ ہوتے دیکھا ہے۔

عدالت: ہمارے پاس اس ضمن میں دو طرح کی گواہیاں ہیں۔ ایک تو وہ جو دیواروں پر لکھا گیا اور دوسرے وہ جو چٹوں پر لکھا گیا تھا۔ بہتر تھا کہ ہم دیواروں کی تحریر پر بحث میں نہ پڑیں۔ ہاں اگر استغاثہ ثابت کر دے کہ ان چٹوں پر ملزمان میں سے کسی نے لکھا ہے تو پھر ان کو پھانسی کی سزا دینے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔

عاصمہ جہانگیر: آپ اس امر سے اتفاق کریں گے، ہر گواہ یہ کہتا ہے کہ اس نے لکھتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ صرف لکھا دیکھا اور اس کے بعد گھر چلا گیا۔ اس نے نہ تو ملزموں کا پیچھا کیا اور نہ ہی ان کے گھر جا کر ان کا پتہ کیا۔ اب تینوں ملزمان اتنی بڑی

صفحہ 88

واردات کرنے کے بعد تین دن تک اپنے گھر میں بیٹھے رہے۔ اس کی صرف یہی وجہ تھی کہ انہوں نے کوئی جرم ہی نہیں کیا تھا۔

جسٹس خورشید: آپ اس امر پر غور کریں کہ یہ ایک ”کریمنل ٹرائل“ ہے۔ آپ گواہوں کو چیلنج نہیں کر سکتیں۔ آپ ان کے بیانات کو حوالے کے طور پر پڑھ تو سکتی ہیں لیکن آپ اس امر کی توضیح نہیں کر سکتیں کہ یہ کیوں اور کیسے ہوا؟ اگر اس میں کسی جگہ سے آپ کو مدد ملی تو وہ بھی بتائیں اگر نہیں ملتی تو خاموشی سے گزر جائیں۔ کل آپ نے جو ایک پوائنٹ اٹھایا تھا اور جو آج نہیں ہے۔ وہ آپ کو ٹرائل کورٹ میں اٹھانا چاہیے۔ یہ باتیں آپ کو اور ڈسٹرکٹ اٹارنی کو ملزم سے پوچھنا چاہئیں تھیں۔ اب اگر آپ دونوں نے نہیں پوچھیں تو ہم کیا کریں۔ آپ اس بات پر دلائل دیں کہ ہم ایف آئی آر کا حوالہ دیں یا نہ دیں۔ یہ استغاثہ کا فرض ہے کہ الزام ثابت کرے۔

آپ کا یہ کہنا ہے کہ چونکہ استغاثہ ایک الزام کو ثابت نہیں کر سکا‘ اس لیے اس کو نہ دیکھیں۔

عاصمہ جہانگیر: جی ہاں۔

عدالت: آپ اس کا فائدہ لیں اور دلائل دیں کیونکہ جب تک یہ کیس پبلک پراسیکیوٹر واپس نہیں لے گا تو یہ ہمارے پاس ہے۔ (اس دوران عاصمہ جہانگیر نے مقدمات کے حوالے پیش کیے۔)

رشید مرتضیٰ قریشی (کھڑے ہوئے) جناب والا! معذرت کے ساتھ میرا کیس آ رہا ہے۔ آپ نے جس طرح ان کے مقدمے کے ساتھ کیا‘ اسی طرح میرے کیس کے ساتھ خصوصی سلوک کریں۔

عدالت: جی ہاں کیوں نہیں۔ بھئی قریشی صاحب کو کرسی دیں‘ ان کو بٹھائیں۔

عاصمہ جہانگیر: جناب والا! گواہ استغاثہ نمبر ۲ اور ۳ کی رائے میں واضح اختلاف ہے۔ ایک کہتا ہے کہ پتھر لیے کچھ لکھ رہے تھے‘ دوسرا کہتا ہے کہ ان کو لکھتے دیکھا۔ پھر دونوں کے بتائے گئے اوقات میں بھی واضح فرق ہے۔ ایک کچھ وقت بتاتا ہے‘ دوسرا کچھ اور۔ ان میں سے ایک کہتا ہے کہ ”دیگر ویلا“ دوسرا کہتا ہے عصر اور مغرب کا درمیانی وقت۔ ان اوقات میں بڑا فرق ہے۔ خصوصاً گرمیوں میں عصر کی نماز کب ہوتی ہے؟ آپ اس پر غور کریں۔ ایک کہتا ہے کہ ہم نماز پڑھ کر باہر نکلے تو اندھیرا پھیل چکا تھا۔ اندھیرا تو مغرب کے بعد پھیلتا ہے جبکہ اس دن روزنامہ جنگ میں نماز کے لیے دیئے گئے اوقات کے

صفحہ 89

مطابق مغرب کی نماز چھ بج کر اکیاون منٹ پر ہوتی ہے۔

عدالت: اگر آپ دیگر ویلہ، نماشی ویلہ اور شام ویلہ کی بحث میں پڑیں گی تو بات لمبی ہو جائے گی۔ آپ کی بات مختصراً یہ ہے کہ وقت کے لحاظ سے بات کریں۔

عاصمہ جہانگیر: اب تمام گواہان کہتے ہیں کہ نامعلوم لوگوں نے چٹوں کے ذریعے سے یہ کام کیا۔ ان میں سے کسی نے نہیں کہا کہ ہم نے پکڑا یا ہم نے پیچھا کیا اور نہ ہی یہ ملزمان کو جانتے تھے بلکہ ان دونوں گواہوں (گواہ نمبر ۲‘ ۳) نے مقدمہ کے اندراج کے وقت ملزموں کو دیکھا تھا۔

عدالت: جہاں تک ان پوسٹرز یا چٹوں پر لکھی گئی تحریر کا تعلق ہے۔ اگر استغاثہ ثابت کر دے کہ یہ ان کے ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہے تو پھر ۲۹۵ (سی) اور ۲۹۸ (اے) کے تحت ان کو سزا دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔

عاصمہ جہانگیر: جی ہاں! لیکن یہ بھی نہیں کہا گیا۔ انہوں نے چٹوں کے بارے میں کہا کہ کچھ نامعلوم لوگوں نے ایسا کیا۔ ایک سال قبل یہ چٹیں پھینکی گئی تھیں۔ اب تو یہ پڑھی بھی نہیں جا رہی ہیں۔

عدالت: فرض کریں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ چٹ نمبر ۱ اور چٹ نمبر ۲ جو ایک سال قبل پھینکی گئی تھیں، کس کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہیں تو آپ اس بات پر دلائل دیں کہ کیا وہ ۲۹۵ (سی) میں آتی ہیں۔ اس سلسلہ میں کوئی کیس ریفر کریں۔

عاصمہ جہانگیر: استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ ان کو یہ مواد تین دفعہ ملا۔ کسی نے ان کے ہاں ٹائلٹ میں بھی بار بار اس طرح کے الفاظ لکھے۔ جناب والا! آپ یہ بتائیں کہ کیا مسجد میں کوئی عیسائی جا سکتا ہے اور پھر اگر گیا بھی تھا، تو حیرت انگیز طور پر کسی نے اس کا نوٹس کیوں نہیں لیا۔ میں نے تو ثابت کرنا ہے کہ استغاثہ کے پاس کوئی مواد نہیں، وہ کوئی بات ثابت ہی نہیں کرتا۔

عدالت: کیا دیوار پر لکھے گئے، کی کوئی تحقیق کی گئی؟

عاصمہ جہانگیر: بالکل بھی نہیں۔

عدالت: استغاثہ کا یہ مقدمہ نہیں کہ ان کا تحریر کے ساتھ کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ آپ اپنے دلائل کو اس طرف مرکوز رکھیں۔

عاصمہ جہانگیر: جناب والا یہ تو میرا کیس ہی نہیں ہے۔ میرے خلاف تو کوئی ثبوت ہی نہیں اور نہ ہی مجھے اس امر کے بارے میں پتہ ہے۔ میرا موکل تو شام کے بعد گھر گیا

صفحہ 90

وقت بتا ہی نہیں سکتا۔

عدالت : باجوہ صاحب بھی جاٹ ہیں۔ ان سے پوچھ لیں کہ ۴ بجے کے بعد جاٹ کو کیا پتہ ہوتا ہے۔ (قہقہہ)

عاصمہ جہانگیر : گواہ استغاثہ نے کہا کہ وہ پڑھ نہیں سکتا اور نہ ہی ان الفاظ کو دہرا سکتا ہے جو دیوار پر لکھے ہوئے تھے لیکن اس نے کلمہ طیبہ، جو آپ کے پاس پوسٹر پر لکھا ہے، وہ پہچان لیا۔ یہ ایک بڑی اہم بات ہے کہ ایک بندہ پڑھ بھی نہیں سکتا اور آپ اس کے کہنے پر کسی کو پھانسی لگا دیں۔

عدالت : آپ یہ بات نہ کریں، ان پڑھ بندے کے جذبات پڑھے لکھے سے زیادہ شدید ہوتے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر : تو ٹھیک ہے۔ آج انہوں نے ایک کی گردن پھانسی ہے، کل کسی دوسرے کی گردن اس پھندے میں اپنے مقاصد کے لیے ڈال دیں گے۔

عدالت : ہم یہ واضح کردیں کہ یہ بات جذبات کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔

رفیق باجوہ : (جو اس دوران ڈائس پر کھڑے تھے) جناب والا! جو کچھ لکھا تھا، وہ تو میں بھی نہیں پڑھ سکتا بلکہ مجھ میں اسے دیکھنے کی ہمت بھی نہیں ہے۔

عدالت : باجوہ صاحب آپ کا نہیں ہمارا بھی یہی حال ہے۔ اس قدر شدید باتیں ہیں کہ خدا کی پناہ۔ جذبات کی بات نہ کریں۔ آپ ہمیں یہ بات بتائیں کہ اسے پڑھنا نہیں آتا۔

عاصمہ جہانگیر : میں تو یہی کہتی ہوں کہ جس پر ان کے جذبات مجروح ہوتے تھے، اس تحریر کو اتنی دیر تک سنبھالنے کی کیا ضرورت تھی؟ ان کو چاہیے تھا کہ پولیس کو بلاتے اور یہ تمام چیزیں اس کے حوالے کرتے اور ان لوگوں کو پکڑتے۔ انہوں نے ایسا کرنے میں دو دن لگا دیے اور دو دن بعد بھی پولیس نے ان لوگوں کو ان کے گھروں سے پکڑا۔ اگر میرے موکلوں نے ایسا کوئی جرم کیا تھا تو پھر بڑی نامعقول سی بات لگتی ہے کہ یہ لوگ گھر میں بیٹھ کر دو دن تک پولیس کا انتظار کرتے رہے۔ پھر یہ بھی نوٹ کریں کہ استغاثہ کہتا ہے کہ جنوب کی طرف بھاگے جدھر کوئی راستہ ہی نہیں۔ وہ مغرب یا مشرق کو جاسکتے ہیں جنوب کو نہیں۔

عدالت : آپ یہ باتیں پہلے بھی دہرا چکی ہیں۔ آگے چلئے۔

صفحہ 91

کو دیکھ لیں۔ مجھے وکالت کرتے ۲۶ سال ہو گئے ہیں لیکن میں نے ایسی صورتحال نہیں دیکھی کہ درخواست روکی گئی ہو۔

عدالت : ہم نے بھی چھتیس سال میں ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کیا۔ (عدالت میں موجود لوگوں نے قہقہہ بلند کیا اور اس کے ساتھ چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ عدالت نے اس امر کا بہت برا منایا۔)

رشید مرتضیٰ قریشی: جناب میں اس دور کی بات کرتا ہوں جس میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عدالت میں ایک جیالا کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) یہ اپنی قمیض کا کپڑا تم نے کہاں سے لیا؟

عدالت : تو کیا اس وقت بھی جیالے ہوتے تھے۔ (قہقہہ) نوٹ کریں بھئی اس وقت بھی جیالے تھے۔ باجوہ صاحب آپ آگے تشریف لائیں۔ حقائق پر بحث ہو چکی ہے تو کیا آپ اپنا نظریہ پیش کریں گے۔

رفیق باجوہ : سب کر لیں گے تو آخر میں، میں کروں گا۔

عدالت : ہم نے جو سوال پہلے دیے تھے، اب بھی دے دیتے ہیں۔ (عدالت نے دونوں سوالات وکلاء کو لکھوا دیے)

(اس اثناء میں عدالت رشید مرتضیٰ قریشی کی درخواستوں کا انتظار کرتی رہی)

اسماعیل قریشی : جناب والا بہتر ہو گا، اس کو رمضان کے بعد سن لیں۔ آخری عشرہ آ رہا ہے لوگوں نے اعتکاف بھی کرنا ہے۔ اس کی وجہ سے میرا تو رمضان کا مہینہ عبادت سے خالی جا رہا ہے۔

عدالت : قریشی صاحب آپ اعتکاف کر لیں، ہم بشپ اور وکلاء کو سن لیتے ہیں۔

(اسماعیل قریشی صاحب کا اصرار جاری رہا کہ رمضان کے بعد تک ملتوی کر دیں لیکن عدالت نے نہیں مانا۔)

عدالت : ٹھیک ہے جی! بیس تک ملتوی۔

اسی اثناء میں جب وکیل صفائی باہر نکلیں تو مشتعل لوگ ان کی طرف بڑھے لیکن ان کے ہمراہ خواتین و حضرات واپس کمرہ عدالت میں آگئے۔ مظاہرین نے پارکنگ میں کھڑی عاصمہ جہانگیر کی گاڑی پر حملہ کیا اور اسے نقصان پہنچایا۔ رشید مرتضیٰ قریشی پہنچے۔ انہوں نے مظاہرین کے سامنے ایک جذباتی تقریر کی اور ان کی اکثریت کو رلا دیا اور ان کو قائل کیا کہ وہ پرامن طور پر منتشر ہو جائیں۔ جس پر مظاہرین پرامن طور پر چلے گئے۔ اس

صفحہ 92

عاصمہ جہانگیر : اب یہ ملزم کا سکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ لائے ہیں حالانکہ یہ انہوں نے پہلے گواہوں میں پیش نہیں کیا۔ اس لیے اس کو اب ریکارڈ پر نہیں لایا جا سکتا۔ عدالت : آپ کا کہنا ہے کہ سکول سرٹیفکیٹ کو گواہی میں نہیں لیا جا سکتا؟ عاصمہ جہانگیر : پہلے جرم کی نوعیت کو دیکھ لیں۔ ایف آئی آر کے اندراج کے وقت دیکھتے ہیں۔

جسٹس (ریٹائرڈ) دلاور محمود جو کہ ماہر کے طور پر آئے ہیں۔ ڈائس پر تشریف لاتے ہیں۔ جناب والا! لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ باہر لوگ جو کچھ کر رہے ہیں‘ وہ عدالت کے وقار کے منافی ہے۔

عدالت : آپ بے فکر رہیں ہم اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔ ہم کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے اور نہ ہی ان کی وجہ سے ہم کوئی عمل روکیں گے۔ یہ ان کے جذبات ہیں۔ ان کا حق ہے کہ وہ جذبات کا اظہار کریں۔

رشید مرتضیٰ قریشی: جناب جو طریقے انہوں نے میرے کزن جناب جسٹس راشد عزیز کی عدالت میں کیے‘ وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس وقت تو کسی نے عدالت کے باہر کے شور و غل پر اعتراض نہیں کیا تھا۔

عدالت : ہمیں معلوم ہے کہ سزا گواہی کی بنا پر برقرار رکھی یا معطل کی جا سکتی ہے۔

عاصمہ جہانگیر : میں اس ضمن میں بے شمار حوالے دوں گی۔ عدالت : آپ آگے چلیں‘ ہم بہت حوالے سن چکے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے تمام دلائل کو مختصراً ایک بار پھر دہرایا اور اپنے دلائل سمیٹ لیے۔

عدالت : ہم آئین اور قانون کے اندر رہ کر اس کا فیصلہ کریں گے اور آئین سے باہر نہیں دیکھیں گے۔

اسماعیل قریشی : چونکہ وکیل صفائی نے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔ اس لیے مناسب وقت دے دیا جائے۔

عدالت : ہم تب تک کوئی فیصلہ نہیں کریں گے جب تک توہین عدالت والی درخواست موصول نہ ہو جائے۔

رشید مرتضیٰ قریشی : جناب والا! میری بے نظیر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست

صفحہ 93

ہنگامے کے قریباً ۲۵ منٹ بعد عدالت نے دوبارہ کارروائی کا آغاز کیا۔ عدالت نے توہین عدالت کی درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کر دیے جبکہ بڑے بینچ کی تشکیل کی درخواست مناسب احکامات کے لیے چیف جسٹس کو بھیج دی۔

دریں اثناء قائم مقام چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے جج جناب جسٹس محمد الیاس نے توہین رسالت کے مقدمے کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ یہ درخواست مدعی کے وکیل جناب رشید مرتضیٰ قریشی نے دائر کی تھی۔ ان کا موقف تھا کہ چونکہ اس مقدمے میں بہت اہم اور قانونی نقاط شامل ہیں، اس لیے اس کی سماعت فوری طور پر ایک لارجر بینچ کرے۔ انہوں نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا کہ اتنی اہم درخواست کی سماعت کے لیے عدالت عالیہ کے دو عارضی ججوں کا تقرر اس امر کا غماز ہے کہ حکومت ان ججوں پر دباؤ برقرار رکھ کر اپنی مرضی کا فیصلہ کروانا چاہتی ہے۔

چیف جسٹس نے دونوں متعلقہ ججوں، جناب جسٹس عارف اقبال حسین بھٹی اور جناب جسٹس خورشید احمد سے مشورے کے بعد اس درخواست کو مسترد کر دیا۔

۲۲ فروری

عدالت کی کارروائی کا آغاز بڑے ڈرامائی انداز میں ہوا۔ عدالت کے معاون جناب رفیق باجوہ کو اپنے دلائل دینا تھے، لیکن وہ ابھی روسٹرم پر تشریف لائے ہی تھے کہ رشید مرتضیٰ قریشی روسٹرم پر آگئے۔ ان کے ہاتھ میں روزنامہ ”خبریں“ کا تازہ پرچہ تھا، جس میں مولوی فضل حق کا انٹرویو چھپا تھا۔ مولوی فضل حق نے حفاظت مہیا ہونے پر مقدمے کی دوبارہ پیروی کا اعلان کیا تھا۔ رشید مرتضیٰ قریشی نے کہا کہ حکومت کھلے عام اس مقدمے میں براہ راست مداخلت کر رہی ہے۔

عدالت: قریشی صاحب! آپ تشریف رکھیے، ہم آپ کو سنیں گے۔

رشید مرتضیٰ قریشی: نہیں جناب والا! پہلے آپ میری بات سنئے۔ اگر مولوی فضل حق کو قتل کر دیا گیا تو خدا کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ اس کا خون آپ کی گردن پر ہوگا۔

عدالت: قریشی صاحب! آپ کے علم میں ہے کہ عدالت کسی اخبار کی خبر کی بنیاد پر کارروائی نہیں کر سکتی۔ آپ تشریف رکھیں ہم آپ کو پورا موقع دیں گے۔

رشید مرتضیٰ قریشی: لیکن جناب اس کے قتل کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟

عدالت: آپ تشریف رکھیے، ہم آپ کو پورا موقع دیں گے۔

بعد ازاں عدالت نے جناب رفیق باجوہ کو اپنے دلائل جاری رکھنے کو کہا۔ انہوں

صفحہ 94

نے کہا کہ عدالت جلدی نہ کرے اور حقائق کو تلاش کرنے کی سنجیدہ کوشش کرے۔ ان کا نقطہ نظر یہ بھی تھا کہ جب وکیل صفائی کا سارا موقف آیا ہے اور اخبارات میں شہ سرخیوں کے ساتھ رپورٹ ہو کر عوام تک پہنچا ہے تو پھر استغاثہ کے وکلاء کو بھی سنا جانا چاہیے جو نہ عدالت نے کیا ہے اور نہ کرتی نظر آتی ہے۔

بطور عدالتی معاون میرا فرض ہے کہ میں عدالت کا مفاد سامنے رکھوں اور ججوں کی عافیت بھی دیکھوں۔ آپ بھی مسلمان ہیں اور میں بھی مسلمان ہوں۔ ہم ایسے ملک کے شہری ہیں جس کا وجود ہی اس لیے لایا گیا کہ یہاں اپنی زندگیوں کو اللہ کے احکام کے مطابق گزار سکیں۔ اللہ جس ہستی سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، اگر اس ہستی کے خلاف سیاست، ڈپلومیسی، عدالتی فیصلوں یا ان سوچی باتوں کے ذریعے نفرت پیدا کی جائے تو نہ میری عاقبت محفوظ ہے اور نہ آپ کی عاقبت محفوظ ہو گی۔

عدالت کو مطلوب شہادت، ریکارڈ پر موجود ہے جو توہین رسالت ﷺ کے زمرے میں آتی ہے مگر جب بھی کوئی معاون وکیل کہتا ہے کہ اس مقدمہ میں شہادت نہیں ہے تو آپ (جج صاحبان) کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ جاتی ہے اور جب کوئی یہ کہہ دے کہ مقدمہ میں گواہی موجود ہے تو آپ کے چہروں پر ناگواری پھیل جاتی ہے اور آپ مداخلت کرتے ہیں۔

جسٹس عارف اقبال بھٹی : کیا آپ نے مسکراہٹ دیکھی ہے۔

رفیق احمد باجوہ : جی ہاں! یہاں بار بار کہا گیا کہ وہ الفاظ موجود نہیں جو توہین رسالت ﷺ کے زمرے میں آتے ہیں۔ اور گواہوں نے یہ الفاظ نہیں دہرائے۔ آپ نے بے حرمتی والے پمفلٹ پڑھے ہیں، کیا آپ فاضل جج صاحبان ان الفاظ کو دہرا سکتے ہیں؟

اس سوال پر عدالت میں سکتہ طاری ہو گیا۔

جسٹس خورشید احمد : ہم نے آپ کا سوال نوٹ کر لیا ہے۔

رفیق احمد باجوہ : آپ نے توہین آمیز کاغذ سر بمہر کر دیئے ہیں۔ اب یہ طے کرنا ہے کہ آپ نے یہ کام مسلمان کی حیثیت سے کیا یا جج کی حیثیت سے؟

جسٹس عارف اقبال بھٹی : آپ کو ہمارے مسلمان ہونے پر شک ہے؟

باجوہ : جی نہیں! آپ کے اندر مسلمان نے بے حرمتی برداشت نہیں کی اور پمفلٹ سربمہر کرا دئے، ورنہ وہ عدالتی ریکارڈ تھا، اس لیے سیل نہیں کیا جا سکتا تھا۔

جسٹس عارف اقبال بھٹی : وہ اشتعال

باجوہ : عدالت نے قابل اعتراض مـ عدالت وہ جذبات قائم رکھے۔

عدالت : آپ بات کو پھیلا کریں، وہ ہم آپ کو پہلے ہی بتا چکے ہـ

رفیق باجوہ : جناب کہا جاتا ہے اندھا دھند نہیں ہوتا۔

عدالت : اگر اندھا دھند ہو تـ کیوں بلایا جاتا۔ آپ کو تو بلایا ہی اس

رفیق باجوہ : اب اگر بلا لیا ہے

عدالت : آپ اپنے پیشے، اس نہیں ہیں۔

رفیق باجوہ : یہ آپ نے کیسے کروں گا، میں تو اس کا تصور بھی نہیں

عدالت : آپ وکلاء کی برادر رہنمائی کی امید رکھتے ہیں۔

رفیق باجوہ : اب جناب وقفے دستیاب ثبوت پر جتنی بھی قانون کی شقیں لاگو ہوتی ہیں اور کون سی لاگو

عدالت : آپ ہمیں ابھی بـ دیوار پر لکھی ہوئی تحریر ہے، جبکہ و کے ساتھ ساتھ ناقابل پہچان ہو چکی سے تعلق بھی ثابت کریں۔

رفیق باجوہ : میں آپ کو بتا د ہوں۔

عدالت : جب آپ دستاویـ مطابق ان دستاویزات کا حوالہ دینا چـ

صفحہ 95

جسٹس عارف اقبال بھٹی : وہ اشتعال انگیز مواد تھا‘ اس لیے سیل کر دیا گیا۔

باجواہ : عدالت نے قابل اعتراض مواد کو سربمہر کرتے وقت جن جذبات کا اظہار کیا تھا‘ عدالت وہ جذبات قائم رکھے۔

عدالت : آپ بات کو پھیلا رہے ہیں۔ آپ ہماری صرف دو نکات پر معاونت کریں‘ وہ ہم آپ کو پہلے ہی بتا چکے ہیں۔

رفیق باجوہ :جناب کہا جاتا ہے انصاف اندھا ہوتا ہے‘ انصاف اندھا ضرور ہوتا ہے‘ اندھا دھند نہیں ہوتا۔

عدالت : اگر اندھا دھند ہوتا تو آپ جیسے دیدہ ور کو عدالت کی معاونت کے لیے کیوں بلایا جاتا۔ آپ کو تو بلایا ہی اسی لیے ہے۔

رفیق باجوہ :اب اگر بلا لیا ہے تو سن بھی لیں۔

عدالت : آپ اپنے پیشے‘ اس بنچ کے خلاف بات کر رہے ہیں‘ ہم قطعاً جلدی میں نہیں ہیں۔

رفیق باجوہ : یہ آپ نے کیسے تصور کر لیا کہ میں اس بنچ یا اپنے پیشے کے خلاف بات کروں گا‘ میں تو اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

عدالت : آپ وکلاء کی برادری میں نئے دور کے نقیب اور راہنما ہیں‘ ہم آپ سے رہنمائی کی امید رکھتے ہیں۔

رفیق باجوہ :اب جناب وقفے کے بعد دلائل دوں گا۔ بہرحال ثبوت اور جرم کے دستیاب تعلق پر جتنی بھی قانون کی شقیں ہیں‘ انہیں پڑھ کر دیکھا جانا چاہیے کہ کون سی اس پر لاگو ہوتی ہیں اور کون سی لاگو کی جا رہی ہیں۔

عدالت : آپ ہمیں ابھی یہ بتائیں کہ ان کا تعلق کیسے ثابت ہوتا ہے۔ ایک تو دیوار پر لکھی ہوئی تحریر ہے‘ جبکہ دوسری تحریر بعض کاغذ کی چٹوں پر ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ناقابل پہچان ہو چکی ہے۔ اب آپ نے ان کا حوالہ دیا ہے تو ان کا ملزموں سے تعلق بھی ثابت کریں۔

رفیق باجوہ :میں آپ کو بتا دیتا ہوں اگر آپ مجھے بولنے کا موقع دیں گے تو بتاؤں گا ناں۔

عدالت : جب آپ دستاویزات کا حوالہ دیں گے تو پھر آپ کو قانون شہادت کے مطابق ان دستاویزات کا حوالہ دینا پڑے گا اور ان کو ثابت بھی کرنا پڑے گا۔

صفحہ 96

رفیق باجوہ: جناب والا میں نے آپ سے فیصلہ اپنے حق میں نہیں لینا ہے، بلکہ میں نے تو فیصلہ قانون کے حق میں لینا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ قانون کیا کہتا ہے، اس کی ضروریات کیا ہیں؟

عدالت: آپ نے ہماری رہنمائی کرنی ہے۔ آپ ہمیں متعلقہ آئینی دفعات بتا دیجئے، ان پر نظر رکھئے اور بتائیے کہ کیا ملزم پر الزام ثابت ہو گیا ہے؟

رفیق باجوہ: اگر دوستانہ بات کروں تو وہ یہ ہے کہ آپ مجھ پر اعتراض نہ کریں مجھے ٹوکیں ناں، مجھے بات کرنے دیں۔

عدالت: نہیں نہیں ہم آپ کو ہرگز ہرگز نہیں ٹوکیں گے۔ آپ اطمینان سے دلائل دیں۔ (اچھا جی باقی وقفے کے بعد)

وقفہ کے بعد عدالت کا آغاز ہوا۔ باجوہ صاحب نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا۔

رفیق باجوہ: میں بعض معاونین عدالت کی طرف سے اٹھائے گئے اس نکتے پر بات کر رہا تھا کہ مدعی جو کہ خود گواہ بھی ہے، اپنی درخواست واپس لینے سے اپنی اعتباریت کھو چکا ہے اور باقی حضرات بعد والے گواہ ثابت ہوتے ہیں، لیکن آپ کو حالات کو بہرحال پیش نظر رکھنا پڑے گا اور دیکھنا پڑے گا کہ کب وہ گواہ عناد رکھنے والا گواہ بنتا ہے اور کب اس پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ اس کیس میں میرا فرض چونکہ عدالت کی معاونت ہے، اس لیے میں عرض کروں کہ گواہ بہرحال عناد رکھنے والا گواہ نہیں ہے اور جو کچھ بھی اس نے حاضر ہو کر عدالت کے روبرو کیا، وہ محض اس بناء پر نہیں کیا کہ وہ مقدمے کو واپس لینا چاہتا تھا بلکہ اس نے واضح کیا کہ حالات اس قدر سنگین ہو گئے ہیں کہ وہ مقدمے کی پیروی سے معذور ہے۔ آپ کو دیکھنا یہ ہے کہ وہ کن حالات میں گواہی سے معذور ہوا۔ اگر حالات اس کے دعوے کے مطابق درست ثابت ہوں تو اس پر یقین کر لیا جائے ورنہ اس پر اعتبار نہ کیا جائے۔

عدالت: یہ تو اس نے زیریں عدالت میں بھی کہا تھا کہ وہ مقدمے کو جاری نہیں رکھنا چاہتا اور پھر اس کو بعض سوالات کیے گئے اور اس نے ان کے جوابات دیے، فرض کریں اب وہ عناد رکھنے والے گواہ کے طور پر آتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ کارروائی کو جاری نہیں رکھ سکتا تو پھر آپ کا کیا خیال ہے، اس بارے میں؟

رفیق باجوہ: اس نے ماتحت عدالت میں بھی یہ نہیں کہا کہ وہ مقدمہ واپس لیتا ہے، اس نے تو یہ کہا ہے کہ وہ بیان نہیں دے سکتا۔

عدالت: پھر عدالت کا فرض تھا کہ اس پر ذمہ داری کا بوجھ نہ ڈالتی کیونکہ اس کی

صفحہ 97

جان کو خطرہ تھا۔ رفیق باجوہ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اس کی جان کو بھی خطرہ تھا۔

رفیق باجوہ : میرے خیال میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کی سوال کرنے کی گزارش غیر ضروری تھی، جس پر عدالت نے اس کو سوالات کرنے کی اجازت دی۔

عدالت : لیکن اس کو تو صرف جرح کرنے کی اجازت دی گئی تھی اور اس جرح کے نتیجے میں اس نے کہا کہ یہ درخواست اس کی ہے، اس پر دستخط بھی اسی کے ہیں۔ اس پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا، پھر اس کو ایک قتل کے الزام میں جیل میں بھی رہنا پڑا تو کیا اس درخواست کو اٹھا کر پھینک دیا جائے؟

رفیق باجوہ : نہیں جناب اس کا اپنا پس منظر ہے، بہتر ہے عدالت ہر چیز کو اس کے پس منظر میں دیکھے، گواہ اگر آپ کے پاس آتا ہے کہ جناب میں گواہی نہیں دے سکتا کہ میری جان کو خطرہ ہے تو مجھے بتائیں کہ اس میں عدالت کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ کیا عدالت کا یہ فرض نہیں کہ اس خطرے کو ختم کرے؟ اگر عدالت ایسا کرنے سے معذور ہے تو پھر یہ عدل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

عدالت : آپ پٹڑی سے اتر رہے ہیں۔

رفیق باجوہ : اس میں پٹڑی سے اترنے والی کیا بات ہے۔ میں نے صرف یہ عرض کیا ہے کہ آپ غور فرمائیں کہ کیا ان حالات میں آپ اس گواہ کو عناد رکھنے والا گواہ قرار دے سکتے ہیں یا نہیں۔ آپ تو اسے محض اس لیے عناد رکھنے والا گواہ قرار دے رہے ہیں کیونکہ وہ استغاثہ کے دعوے کو سپورٹ کرتا ہے۔

عدالت : شہادت ایکٹ کے مطابق جو گواہ گواہی سے گریز کرے اور سچائی چھپانے کی کوشش کرے، اسے بھی عناد رکھنے والا گواہ قرار دیا گیا ہے۔

رفیق باجوہ : اسے تو کسی مرحلے پر بھی عناد رکھنے والا گواہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

عدالت : لیکن وہ تو سچا بیان دینے سے انکاری ہے۔

رفیق باجوہ : لیکن اس کی بنیاد استغاثہ کے مطابق، عناد رکھنے والے گواہ کا جھوٹ بولنا ہے، اگر کوئی آدمی صفائی کی طرف سے گواہ آتا ہے اور اس کے خلاف بیان دیتا ہے تو اس کو عناد رکھنے والا گواہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اپنا بیان دیتے ہوئے مدعی اور گواہ مولوی فضل حق نے استغاثہ کے خلاف کوئی بات کہی۔ کیا اس نے اپنے اس بیان کو دہرایا جو وہ پہلے سیشن کورٹ کے سامنے دے چکا تھا تو اس کا جواب ناں میں ہے۔ اس لیے اس کو عناد رکھنے والا گواہ قرار دینا جائز نہیں۔ اس کو ماتحت عدالت نے غلط اور غیر آئینی طور پر عناد رکھنے والا گواہ قرار دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کو عناد رکھنے والا گواہ

صفحہ 98

دینے کے نتائج کیا برآمد ہوئے اور وہ کس طریقے سے اس مقدمے کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ گواہ نے وہی بات جو ماتحت عدالت کے سامنے کہی تھی‘ وہ عدالت عالیہ کے سامنے بھی اس پر قائم رہا۔

عدالت: اس نے وہاں بھی اور یہاں بھی اپنی حفاظت کے لیے استدعا نہیں کی تھی لیکن اس نے استغاثہ سے انحراف بھی نہیں کیا تھا۔ اس کو کیا کہا جا سکتا ہے؟

رفیق باجوہ: دراصل یہ عدالت کا بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی فریق کی طرف سے کی جانے والی کوتاہی کو دور کرے۔

عدالت: نہیں نہیں باجوہ صاحب! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں‘ یہ نہیں ہوتا آپ قانون کا مطالعہ تو کریں۔

رفیق باجوہ: اگر آپ اسی طرح ٹوکتے رہیں گے تو بات نہیں بنے گی‘ مجھے اس بات کو ثابت کرنے دیجئے‘ مجھے بولنے تو دیجئے‘ آپ تو درمیان میں ہی ٹوک دیتے ہیں۔

رشید مرتضیٰ قریشی مداخلت کرتے ہیں اور عدالت کی توجہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں:

رشید مرتضیٰ قریشی: جناب مجھے تو یہ عرض کرنا ہے کہ ماتحت عدالت میں اس مرحلے پر بھی مجھے سنا ہی نہیں گیا تھا‘ لیکن میں اپنی بحث بعد میں عرض کروں گا۔

رفیق باجوہ: آپ دیکھیں کہ اگر کسی گواہ کو عناد رکھنے والا گواہ قرار دے دیا جائے تو اس کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔ اس کی تین ممکنہ صورتیں ممکن ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ عدالت کہے کہ اس کے بغیر بھی فیصلہ ممکن ہے اور دوسری یہ کہ عدالت کہے کہ اس گواہی کے بغیر فیصلہ ممکن نہیں اور تیسرا یہ کہ عدالت قرار دے کہ اس کی دوبارہ گواہی لینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ تینوں صورتیں آپ کے سامنے ہیں۔ آپ کو اس میں سے ایک کا فیصلہ کرنا ہے۔ آپ اس کو مردہ گھوڑا (Dead Horse) قرار دے کر نظرانداز نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ہنہنانے والا نہیں بولنے والا گھوڑا ہے۔

عدالت: اگر وہ بولتا ہے تو اسے کچھ تو کہنا چاہیے۔

رفیق باجوہ: جی ہاں بالکل یہی نکتہ جس پر میں آپ کی توجہ چاہتا ہوں‘ وہ اس عدالت میں آیا۔ اس نے موقف اختیار کیا کہ میری جان کو خطرہ ہے۔ اس نے اپنے وکلا کے ضمانت نامے منسوخ کر دیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ قانونی طور پر درست اور ممکن تھا تو میرا جواب یہ ہے کہ نہیں بالکل نہیں۔ آپ نے اس کی حفاظت کے لیے ایک لفظ بھی بولنا گوارا نہیں کیا جس سے اس کو حوصلہ ہوتا۔ اب وہ کیا کرتا‘ وہ محض پناہ لینے کے لیے پریس کے پاس گیا۔

عدالت: آپ اخبارات کا پریس میں گیا۔ آپ ایک بات پر تو ت

رفیق باجوہ: میں اسی بات پر بار مجھے ٹوک رہے ہیں۔ آپ مجھے ماتحت عدالت کو واپس بھیج دیں گے

اس کے بعد باجوہ صاحب اعتراض نہیں کیا۔

دراصل یہ امر ثابت ہے بتاتے ہیں کہ وہ مردہ گھوڑا نہیں ۔ یا نہیں بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ وہ ایسا جھوٹ بولنے کے لیے رشوت دی ہے۔

عدالت: اس حصے کی سمجھ کریں۔ آپ اس کے حقائق اور اصول دیے جاتے ہیں۔ اس میں ن

رفیق باجوہ: میں آپ سے یہ نقطہ نظر انسانوں کے نقطہ نظر س

عدالت: لیکن آپ حقائق کریں۔ کیا یہ قابل اعتماد ہے؟

رفیق باجوہ: کسی شک میں قابل اعتماد ہے۔ عرض یہ ہے کہ انسانی ذہن ایک سیکنڈ میں طے کر

عدالت: چلیں آپ کی اسی طرح لکھ کر پھینکا گیا تو پھر کی دلائل دیں۔

رفیق باجوہ: اس مقدمے ضائع بھی ہو سکتی ہیں اور بچ بھی لفظ بہت اہم ہے۔ ان کا قانون

صفحہ 99

عدالت: آپ اخبارات کا حوالہ نہ دیں۔ ہمیں بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ پریس میں گیا۔ آپ ایک بات پر تو قائم رہیں۔

رفیق باجوہ: میں اسی بات پر قائم ہوں، آپ سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے اور بار بار مجھے ٹوک رہے ہیں۔ آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا اب آپ اس کا بیان خود لکھیں گے یا ماتحت عدالت کو واپس بھیج دیں گے۔

اس کے بعد باجوہ صاحب نے ایک قانونی حوالہ پیش کیا، جس پر عدالت نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔

دراصل یہ امر ثابت ہے کہ وہ مردہ گھوڑا ہے کہ نہیں، رہنمائی کے اصول تو یہ بتاتے ہیں کہ وہ مردہ گھوڑا نہیں ہے۔ بنیادی سوال یہ دیکھنا ہے کہ وہ عناد رکھنے والا گواہ تھا یا نہیں بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ وہ ایماندار تھا یا بے ایمان، یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس کو یہ جھوٹ بولنے کے لیے رشوت دی ہو۔ عدالت کو اس کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کرنا ہے۔

عدالت: اس حصے کی سمجھ تو آگئی ہے۔ اب آپ کیس کے دوسرے نکات پر گفتگو کریں۔ آپ اس کے حقائق اور گواہی پر بات کریں۔ فوجداری قوانین میں تو اس قسم کے اصول دیے جاتے ہیں۔ اس میں تو قانون شہادت ایکٹ کا حوالہ بھی دیا جا سکتا ہے۔

رفیق باجوہ: میں آپ سے یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ کوئی نقطہ نظر آخری ہے جب تک یہ نقطہ نظر انسانوں کے نقطہ نظر تک محدود ہے، تو یہ مستقل نقطہ نظر ثابت نہیں ہو سکتا۔

عدالت: لیکن آپ حقائق پر بات کریں۔ ذرا ایف آئی آر کے حوالے سے بات کریں۔ کیا یہ قابل اعتماد ہے؟

رفیق باجوہ: کسی شک میں پڑے بغیر یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایف آئی آر فوری طور پر قابل اعتماد ہے۔ عرض یہ ہے کہ کیا جھوٹ بولنے کے لیے عرصہ کی ضرورت ہوتی ہے، یہ تو انسانی ذہن ایک سیکنڈ میں طے کرتا ہے کہ اس کو کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا۔

عدالت: چلیں آپ کی یہ بات مان لیتے ہیں کہ شہادت موجود ہے۔ اگر اسے واقعی اسی طرح لکھ کر پھینکا گیا تو پھر کیا ہوگا۔ کیا واقعاتی شہادت قابل قبول ہوگی۔ اس بارے میں دلائل دیں۔

رفیق باجوہ: اس مقدمے میں دراصل دو آدمیوں کی زندگی کا مسئلہ ہے۔ یہ زندگیاں ضائع بھی ہو سکتی ہیں اور بچ بھی سکتی ہیں۔ آپ کے فیصلے کا ہر کومہ، ہر فل سٹاپ اور ہر لفظ بہت اہم ہے۔ ان کا قانون کے مطابق ہونا بہت ضروری ہے، یہ نہیں چاہتا کہ بے گناہ

صفحہ 100

پھانسی پر چڑھ جائے لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ گناہ گار پھانسی سے بچ جائے۔ دراصل وہ معاشرہ جو انصاف سے عاری ہو جائے وہ اپنا حق جواز کھو دیتا ہے۔

عدالت : آپ اصل نکتے پر آئیں ہم آپ کی تمام باتیں سمجھ رہے ہیں۔

رفیق باجوہ : میں نہیں سمجھ رہا کہ آپ کیا سمجھ رہے ہیں۔

عدالت : آپ نے ایک بیان ”ڈویلپ“ کیا ہے کہ گواہی موجود ہے۔ اب اس کا اطلاق اور انطباق بتائیں۔

رفیق باجوہ : اگر آپ اس نکتے کو بہت ضروری خیال کرتے ہیں تو دیکھئے کہ گواہ کیا کہتا ہے۔

عدالت : باجوہ صاحب! کیا آپ آج بارہ بجے تک اپنے دلائل مکمل کر لیں گے۔

رفیق باجوہ : اگر آپ نہیں چاہتے تو میں ابھی ختم کر دیتا ہوں۔ میں اس لیے اس قدر تشریح میں جا رہا ہوں کہ اگر مختصر کیا تو آپ کے سر درد کا ذمہ دار میں نہیں ہوں گا، کیونکہ پھر ان اختیارات کو سمجھنے کے لیے آپ کو مغز ماری کرنا پڑے گی۔

عدالت : بہرحال آپ آگے چلیں، وقت کم ہے۔

باجوہ صاحب نے مولوی فضل حق کا بیان پڑھنا شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب مولوی فضل حق نے مقدمے کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا تھا تو پھر وکیل سرکار کا یہ پوچھنا غیر ضروری تھا، کیونکہ عدالت کو پہلے تو اس کی حفاظت اور پناہ مہیا کرنے کا مکمل انتظام کرنا چاہیے تھا۔

عدالت : اس نے مقدمے کی پیروی سے انکار کیا۔ اگر نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر عمل کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ جس نے گواہی چھپائی وہ ہم میں سے نہیں، ایسی صورت حال میں دیکھیں کہ اس کا یہ بیان اس کے سابقہ بیان پر کیا اثر ڈالے گا؟

رفیق باجوہ : جناب والا! گواہ استغاثہ نمبر ۱ مولوی فضل حق کو عناد رکھنے والا گواہ قرار دے دیا گیا، جس کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی اور جو بیان اصل میں ریکارڈ پر آنا چاہیے تھا، وہ نہیں آیا۔ استغاثہ خود بھی یہی کہتا ہے۔ اب آپ نے دیکھنا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوئے ہیں کہ نہیں اور یہ بات عدالت کے علم میں تھی یا نہیں۔

عدالت : آپ اس سے تصدیق کروا لیتے۔

رفیق باجوہ : پہلے یہ دیکھنا ہے کہ یہ درست ہوا ہے کہ نہیں اور اس امر کا تجزیہ کرنے کے لیے، اس کے اثرات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے، یعنی جو شہادت ریکارڈ پر آنا

صفحہ 101

چاہیے تھی‘ وہ آئی ہے یا کہ نہیں۔ اب اس عمل کے نتیجے میں اگر کسی کو سزا ملنا غلط بات ہے تو اس کا بری ہونا بھی غلط ہے۔

عدالت : آپ یہ ساری باتیں پہلے بھی کہہ چکے ہیں‘ باتوں کو نہ دہرائیں۔

رفیق باجوہ : (طنزیہ انداز میں) اچھا! شاید مجھے یاد نہیں رہتا۔

عدالت : (طنزیہ انداز میں) ہاں اس عمر میں اس طرح تو ہو جایا کرتا ہے۔

رفیق باجوہ : جناب والا! یہ بات ریکارڈ پر رہے کہ میں ایک ہی بات پر مختلف انداز میں دلائل دے رہا ہوں۔ میرا انداز تو ایک جیسا ہو سکتا ہے لیکن میں نے اب تک کوئی بات دہرائی نہیں ہے۔

عدالت : ہم نے آپ کا یہ نکتہ لکھ لیا ہے‘ اب آپ آگے چلئے۔

رفیق باجوہ : فضل حق کہتا ہے کہ درخواست اس نے دی اور اس پر دستخط اور تحریر اسی کے ہیں تو جناب والا! جب اس نے کہہ دیا کہ ایف آئی آر درست ہے تو ہمیں اس پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔

عدالت : یہ تو معاملہ ہی بڑا آسان ہو گیا۔ بھئی پھر آپ اپنے باقی مقدمات میں بھی ایسا کیا کیجئے۔ آپ گواہوں پر جرح کیوں کرتے ہیں؟

باجوہ: ایک واقعہ اگر وقوع پذیر ہوتا ہے تو آپ اس کو ایف آئی آر میں درج کرا دیتے ہیں‘ جیسا کہ مدعی نے کیا ہے اور یہ میرے سامنے وہی ایف آئی آر میں درج کرا دیتے ہیں۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کے زبانی بیان کو کوئی اہمیت دی جانی چاہیے کہ نہیں۔

عدالت : آپ کوئی ایسی مثال دیں‘ جس سے ملزموں کا واقعے کے ساتھ تعلق ثابت ہو جائے۔ ہمارے لیے وہی کافی ہوگی۔ ہم نے پہلے دن بھی آپ کو کہا تھا کہ اگر آپ ملزموں کا اس جرم کے ساتھ تعلق ثابت کر دیں تو کافی ہوگا۔

رفیق باجوہ : اب بتائیں کیا ایف آئی آر کو پڑھنے کی ضرورت ہے کہ نہیں؟

عدالت : لیکن ایف آئی آر والا واقعہ تو بیان کیا جا سکتا ہے کہ نہیں۔

رفیق باجوہ : اگر پہلے ضرورت تھی بھی تو اب یہ باقی نہیں ہے۔

عدالت : اب ضرورت ہے۔

رفیق باجوہ : اگر واقعہ یا وقوعہ کسی دستاویز میں درج ہو تو قانون کے تحت اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور واقعہ اپنی تمام جزئیات کے ساتھ اس ایف آئی آر میں درج ہے۔ اس لحاظ سے آپ کا اعتراض کہ گواہ‘ عناد رکھنے والا ہے یا منحرف ہے‘ ثابت

صفحہ 102

نہیں ہوتا۔

عدالت: اگر ہم آپ کی بات مان لیں تو پھر تو کوئی بھی آدمی کسی وکیل سے مشورہ کر کے کسی بھی شریف آدمی کے خلاف مقدمہ درج کرا سکتا ہے۔ اس پر جرح کی اجازت نہیں ہو گی اور ایف آئی آر ہی تمام حقائق کا منبع ہو گی تو پھر تو یہ بہت برا اور خطرناک ہو گا۔

رفیق باجوہ: تو جناب والا! آج تک ہمارے معاشرے میں کیا ہوتا چلا آ رہا ہے۔

عدالت: یہ ہمیں بھی پتہ ہے کہ عام پریکٹس کیا چل رہی ہے۔

رفیق باجوہ: در حقیقت یہ ہے کہ آپ لوگ بہرحال ایف آئی آر پر اعتبار کرتے ہیں۔

عدالت: آپ یہ بتائیں کہ بطور دستاویز پڑھا جا سکتا ہے کہ نہیں؟

رفیق باجوہ: کتنی دفعہ عرض کروں کہ اگر واقعہ دستاویز میں درج ہے تو پھر پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

عدالت: پھر تو ہمارے لیے فیصلہ کرنا بڑا مشکل ہو جائے گا۔ یہ نہ کہیے کہ یہ خطرناک بلکہ بہت مشکل بھی ہے۔

رفیق باجوہ: مشکل کام تو آپ نے خود کیا ہے۔

عدالت: ہم نے مشکل کشائی کے لیے تو آپ کو بلایا ہے۔

رفیق باجوہ: مشکل کشائی تو آپ خود کریں گے میں تو مقدور بھر مدد فراہم کروں گا۔

عدالت: ہم دیکھ رہے ہیں، باجوہ صاحب آپ کی اجازت سے، کہ لاہور ہائی کورٹ کے ایک سینئر وکیل جناب غلام باری سلیمی کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ باری صاحب، آپ آگے تشریف لے آئیں۔ باری صاحب کو کرسی دی جائے۔

(اسی اثناء میں لوگوں کی ایک بھاری تعداد کمرہ عدالت سے باہر چلی گئی)

رفیق باجوہ: آپ غلام باری سلیمی کو سنیں گے یا میں جاری رکھوں۔

عدالت: ہم تو آپ کو سننا چاہتے ہیں لیکن آپ مختصر نہیں کر رہے۔

رفیق باجوہ: اب آئیے اس کے تحریری بیان کی طرف۔ وہ کہتا ہے کہ مجھ پر قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے اور مزید حملوں کا خدشہ ہے۔ اس نے ان تمام اوامر کی وجوہات دی ہیں۔ یہاں اس عدالت کے سامنے اب آپ بتائیے کہ آپ نے کیا ایکشن لیا ہے؟ کوئی نہیں تو پھر آپ کیسے اصل صورت حال کی توقع رکھتے ہیں؟

اسی اثناء مقدمے کے اصل مدعی مولوی فضل حق اپنے وکیل اسماعیل قریشی کے ہمراہ کمرہ عدالت میں داخل ہوئے۔

صفحہ 103

تھوڑا سا شور مچا‘ کچھ کھسر پھسر ہوئی۔ (ججوں نے جو ریکارڈ کا معائنہ کر رہے تھے‘ سرگوشی میں یہ تبادلہ خیال کیا)

جسٹس خورشید :(عینک کے شیشوں کے اوپر سے دیکھتے ہوئے ۔) ”یہ کیا‘ یہ تو وہی بابا ہے۔“

جسٹس بھٹی (متوجہ ہوتے ہوئے) اچھا‘ یہ تو ٹھیک نہیں ہوا۔

اسی اثناء میں مذکورہ بالا دونوں اصحاب چلتے ہوئے روسٹرم پر پہنچے‘ اور اسماعیل قریشی عدالت سے مخاطب ہوئے۔

اسماعیل قریشی: جناب والا! یہ اس شخص کی درخواست ہے کہ اسے زبردستی۔۔۔۔

جسٹس عارف اقبال حسین بھٹی : قریشی صاحب! کیا ہم نے آپ کو بولنے کی اجازت دی ہے (مزید سختی سے) آپ عدالت کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں‘ آپ کس کی اجازت سے بول رہے ہیں؟

اسماعیل قریشی : جناب میں قطعاً عدالت کے سامنے دلائل پیش کرنے کھڑا نہیں ہوا‘ میں تو صرف مدعی کی طرف سے واپسی کی درخواست ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں۔

عدالت :لیکن آپ کو اجازت کس نے دی ہے (مزید سختی سے)

اسماعیل قریشی :میں نے صرف ایک درخواست ریکارڈ پر لانی ہے اگر عدالت اس کی اجازت دے تو ٹھیک ہے‘ ورنہ نہیں۔

عدالت : (انتہائی ناگواری سے) آپ اسے جمع کرا دیں اور اپنی جگہ پر تشریف رکھیں۔ آپ کی اس عدالت میں ۳۰ برس کی پریکٹس ہے‘ اس کے باوجود آپ عدالت کو خواہ مخواہ ڈسٹرب کر رہے ہیں۔

اسماعیل قریشی :جناب والا! میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اس کو دفتری عمل سے گزارے بغیر زیر غور لے آئیں کیونکہ اس میں فوری نوعیت کا مسئلہ درپیش ہے۔ ویسے بھی آپ اس مقدمے کو چونکہ آؤٹ آف ٹرن سن رہے ہیں۔ اس لیے امید ہے کہ میری درخواست پر بھی اسی طریقے سے غور کریں گے۔

عدالت : (پہلے والی ناگواری اور تلخی سے) جی نہیں! ہم نے اسے دفتری عمل سے گزارنے کے لیے بھیج دیا ہے۔ آپ تشریف رکھیے۔

رفیق باجوہ : تو جناب میں عرض کر رہا تھا کہ آپ یہ حوالے ملاحظہ فرمالیں‘ ان میں عدالت عظمیٰ نے اپنے مختلف فیصلوں میں گواہوں کی مقدار نہیں بلکہ معیار پر زور دیا ہے۔

عدالت :باجوہ صاحب اس کے بارے میں تو کوئی اختلاف ہی نہیں ہے‘ لیکن یہ

صفحہ 104

صورت حال تو ہر مقدمے میں مختلف ہو سکتی ہے، ہو سکتا ہے کہ ایک مقدمے میں یہ لاگو ہوں اور دوسرے میں لاگو ہی نہ ہوتی ہوں۔

رفیق باجوہ: میں دفعہ 295 (سی) کی بات کر رہا ہوں۔ جو توہین رسالت کے متعلق ہے کہ نبی اکرمؐ کی شان کے خلاف کوئی لفظ بولا گیا، لکھا دیکھا گیا یا نظر آیا یا دہرایا گیا۔ وہ توہین رسالت‘ کے ضمن میں آئے گا۔

عدالت: یہ بعد میں آئے گا۔ آپ پہلے گواہی کو وقوعہ کے ساتھ منسلک کرنے کی بات کریں۔

رفیق باجوہ: جناب والا! جس کرب کی میں بات کر رہا ہوں اور جس کی طرف میرا اشارہ ہے، آپ اس کو مدنظر رکھیں کہ اس تحریر کو سرعام پیش کرنے، دہرانے یا پھر ریکارڈ پر لانے کا کیا مقصد ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ الفاظ لکھے گئے۔

عدالت: لیکن جب مقدمہ درج کیا جائے گا تو پھر تو یہ الفاظ لکھنے میں آئیں گے۔

رفیق باجوہ: میں تو آپ کی طرف سے اٹھائے گئے اس سوال کا جواب دینے لگا ہوں کہ عدالت کے سامنے گواہوں نے یہ دہرانے سے کیوں پرہیز کیا۔ اگر آپ تحمل سے میری بات سنیں اور بار بار مداخلت نہ کریں تو شاید میں اپنی بات بخوبی سمجھا پاؤں گا۔

عدالت: لیکن یہ تو وہاں ہو گا جہاں کوئی تحریر نہ لکھی گئی ہو۔

رفیق باجوہ: بات یہ نہیں کہ کیا چیز تحریر شدہ تھی اور کیا نہیں تھی، بات اس کی ہے جو سنایا گیا ہے اور وہ تحریر جو مسجد کی دیوار سے مٹائی گئی، وہ صرف اس وقت ہی نظر آئے گی جب اس کو بظاہر نظر آنے پر دیکھا جائے گا کیونکہ جب یہ دیوار پر لکھا تھا تو ایک دستاویز تھا۔

عدالت: لیکن وہ تو مٹا دیا گیا۔ اس کا تو بظاہر کوئی ثبوت نہیں ہے۔

رفیق باجوہ: تو کیا کسی ایسے شخص کو، کہ جس کے جرم کے وقوعہ کا نام و نشان مٹا دیا جائے، یہ کہہ دیا جائے گا کہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا۔

عدالت: نہیں ہمارا یہ مطلب نہیں دراصل آپ۔۔۔۔

رفیق باجوہ: دراصل ایک تحریر جو دستیاب تھی اور کاغذوں پر تحریر تھی، وہ پولیس نے اپنے قبضہ میں لے لی تھی، عدالت میں آنے تک وہ لکھا ہوا مٹ گیا۔

عدالت: اب اس کا کیا کیا جائے۔

رفیق باجوہ: جو حوالہ میں پڑھ رہا ہوں، اس میں مختلف حرکات و سکنات کو خواہ وہ علیحدہ علیحدہ ہوں یا ایک ساتھ، اس کو جرم قرار دیا گیا ہے۔

صفحہ 105

ایڈووکیٹ جنرل : باجوہ صاحب آپ کے پاس جو بھی تحریر ہے، اسے دیکھ لیں۔ تمام شکلیں یہاں بیان کی گئی ہیں۔ یہ تمام حرکات براہ راست یا بالواسطہ طور پر کی گئی ہیں۔

رفیق باجوہ : جب تک اس قانونی حوالے کے تمام الفاظ پڑھ نہ لیے جائیں، ہمیں اس کی سمجھ نہیں آسکتی۔

عدالت : آپ کو تقریر میں بڑا اعجاز حاصل ہے اور آپ اس کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

رفیق باجوہ : بات تحریر کی ہو رہی ہے تو اسی پر مرکوز رہیں۔ ایک آدمی لکھ کر کہتا ہے کہ نبی آخر الزماں سچے نبی تھے، اب اگر وہ زبانی اس امر کی گواہی نہ بھی دے تب بھی یہ بات ثابت ہے کہ اس نے نبی کے آخر الزماں ہونے کی گواہی دی ہے۔

عدالت : آپ یہ کہیں کہ لکھ کر کہنے سے وہ پوری طرح ریکارڈ پر آ جاتے ہیں۔

رفیق باجوہ : آپ اس تحریر کو سامنے لائے بغیر اس کے معانی کو یا اس آدمی کے بیان کے مفہوم کو نہیں سمجھ سکتے۔ تحریر اور ادائیگی میں بڑا فرق ہے، لہجہ بھی بڑا فرق ڈالتا ہے مثلاً ایک آدمی آپ کو کہتا ہے ’آپ‘ اور آستین چڑھا لیتا ہے۔ انتہائی نرمی سے آپ کہتا ہے یوں مختلف سٹائل اور لہجے الفاظ کو مختلف معانی پہنا دیتے ہیں۔

عدالت : باجوہ صاحب آپ کدھر چلے گئے، یہ باتیں اس مقدمے پر لاگو نہیں ہوتی ہیں۔

باجوہ : لاگو ہوتی ہیں جناب! یہی تو بات میں آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ آپ کو اصل میں یہ دیکھنا ہے کہ لکھے گئے الفاظ نے لکھنے والے پر کیا اثر ڈالا ہے۔

عدالت : ہمارے سامنے ملزموں پر دو الزام ہیں، ایک تو وہ تحریر جو چٹوں پر لکھی گئی اور دوسری وہ جو دیوار پر لکھی گئی۔ آپ ان دونوں کے بارے میں بات کریں۔

باجوہ : آپ کے لیے مشکل اور درپیش مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو بار بار کہا گیا کہ یہ الفاظ اس نے تحریر کیے اور آپ کا خیال تھا اور متعدد معاونین کا خیال بھی، کہ یہ الزام ثابت نہیں ہوتا۔ حالانکہ معاملہ بالکل مختلف ہے۔ یہاں پر معاملہ چٹ لکھنے کا نہیں۔ چٹیں پھینکنے کا ہے۔

عدالت : ہم نے یہ بات نوٹ کر لی ہے۔

رفیق باجوہ : دیکھنا یہ ہے کہ واقعاتی شہادت اور دستاویزی شہادت کو علیحدہ کر کے دیکھا جا سکتا ہے کہ نہیں۔

عدالت : آپ مختصر کریں اور متعلقہ نکات پر بات کریں۔

صفحہ 106

رفیق باجوہ: مسئلہ دراصل یہ ہے کہ آپ کے سامنے کوئی وقوعہ ہوتا تو براہ راست گواہی ہوتی۔ یہ تو گواہوں کے سامنے ہوئی ہے، یہ آپ کے سامنے نہیں ہوئی اور گواہ بیان کرنے سے قاصر ہیں۔

عدالت: لیکن گواہی پیش کرنے اور اس پر ردعمل کا اظہار کرنے میں بہرحال کوئی فرق نہیں ہوتا ہے۔

رفیق باجوہ: دراصل یہاں پر پڑھنے والے کا ردعمل دیکھا جائے گا کہ لکھا دیکھ کر اس کے دل پر کیا گزری، اس کا ردعمل کیا تھا؟ یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کیا لکھا تھا اور کیوں لکھا گیا تھا۔

عدالت: دراصل اس مقدمے میں یہی ہوا ہے کہ جو کچھ دیکھنے والے گواہوں کا ردعمل تھا، اسے گواہی بنا کر پیش کر دیا گیا۔

جسٹس خورشید: آپ نے میرے سوال کو درست طریقے سے سمجھا نہیں ہے۔

باجوہ: میں آپ کے سوال کو اچھی طرح سمجھا ہوں۔ آپ میری گزارشات کو اچھی طرح سمجھ لیں تو بات بن جائے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ توہین رسالتؐ کے متعلق مواد پڑھنے کے بعد ہر آدمی گونگا ہے۔ آپ اسے لاکھ کہیں کہ وہ الفاظ بول کر دہرا کر بتاؤ، وہ نہیں بتا سکے گا۔ اس لیے استغاثہ کے گواہوں کو گونگے گواہ سمجھیں۔

عدالت: کیا وہ ان کو دہرا نہیں سکیں گے؟

باجوہ: بالکل بھی نہیں، اور نہ ہی یہ ان کے لیے ممکن ہے کیونکہ ان کی غیرت ایمانی کا یہ تقاضہ ہے۔

عدالت: ہاں۔۔۔۔۔۔۔ ہم اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ مواد دہرایا نہیں جا سکتا اور شاید اسی لئے گواہ اس کو دہرا نہیں سکے۔ لیکن آپ ”ریکوری میمو“ (برآمدگی رپورٹ) پڑھیے، گواہ کا بیان پڑھیے۔۔۔۔۔ ہاں یقیناً۔ (متعلقہ مواد کو ملاحظہ کرتے ہوئے) یہ تو ہمارے بس میں بھی نہیں کہ اس کو دہرا سکیں۔

باجوہ: اگر آپ کے اختیار میں نہیں تو پھر گواہوں کے اختیار میں کیسے ہوا کہ اسے دہرا سکیں۔ خدا کے لیے اس کو گواہوں کو دہرانے کے لیے نہ کہیں۔ مجھے کامل یقین ہے کہ آپ اپنے فیصلے میں بھی ان الفاظ کو نہیں لکھ سکیں گے جو الفاظ فاضل عدالت اور اس کے پڑھے لکھے جج نہیں لکھ سکتے، وہ ایک گواہ کیسے لکھ سکے گا؟ یہ تو ایسے ہی ہے اگر کوئی مجھے ماں کی گالی دیتا ہے تو میں جا کر ماں کو وہی گالی دے کر بتاؤں کہ ماں تمہیں فلاں نے یہ کہا ہے۔ اگر ایسا ہو گیا تو خدا کی پناہ پھر ماں مر جائے گی۔ پھر ماں، ماں نہیں رہے گی، پھر بیٹا، بیٹا

صفحہ 107

نہیں رہے گا۔ اس لئے گواہ کا یہ کہہ دینا کافی ہے کہ اس نے دیوار پر توہین رسالتؐ سے متعلق تحریر شدہ چند الفاظ دیکھے۔

عدالت: باجوہ صاحب سنیے! میرے بھی وہی جذبات ہیں جو اس تحریر کو دیکھ کر ان دو آدمیوں کے تھے۔ آپ کا خیال ہے کہ ان دونوں اشخاص کے جذبات کی بناء پر دو اشخاص کو پھانسی چڑھا دیا جائے۔ مسئلہ یہ نہیں ہے۔ مسئلہ ان گواہوں کے (Subjective) ہونے کا ہے، مسئلہ ان کے (Objective) ہونے کا نہیں۔

باجوہ: تو پھر آپ مجھے یہ بتا سکتے ہیں کہ ان لوگوں پر جھوٹے مقدمات کا کیا جواز تھا؟

عدالت: اس بات پر بعد میں گفتگو کر لیجئے گا۔

رفیق باجوہ: نہیں جناب! تب تک یہ بات واضح نہیں ہو سکے گی۔ گواہ اس قدر محتاط ہیں کہ ان کا حساب ہی نہیں۔ انہوں نے جب تک ان لوگوں کو یہ قبیح حرکت کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں لیا، تب تک انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔ وہ ایک سال تک انتظار کرتے رہے۔

عدالت: ان دونوں گواہوں نے جو بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔ آپ کے خیال میں کیا یہ سزائے موت کے لیے کافی ہے؟

رفیق باجوہ: میرا خیال ہے کہ کسی بھی قانون کے تحت یہ کافی شہادت ہے۔ ان گواہوں کو الفاظ دہرانے کے لیے نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ وہ الفاظ ہیں جو تھانیدار لکھ نہیں سکا۔ گواہ کہہ نہیں سکے۔ پھر سیشن جج نہیں کہہ سکا۔ آپ بھی نہیں کہہ سکتے تو پھر معاملہ ہی صاف ہے کہ توہین رسالتؐ ہوئی۔ یہ الفاظ عیسائی، مسلمان دنیا کے اندر تو متنازعہ ہو سکتے ہیں کہ توہین رسالتؐ کے زمرے میں آتے ہیں کہ نہیں، لیکن مسلمان، مسلمان دنیا کے اندر متنازعہ نہیں ہو سکتے۔

عدالت: باجوہ صاحب آپ بڑے مؤثر انداز میں اپنے دلائل پیش کر رہے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا کہ جب آپ لوگ میرے سامنے اپنے تنازعات پیش کرتے ہیں تو آپ میں سے بعض لوگ اپنے زیادہ مؤثر انداز کی وجہ سے اپنے حق میں زیادہ دلائل لا کر مقدمے کو اپنی سمت موڑ لیتے ہیں تو ایسے میں اگر آپ کو آپ کے حق سے زیادہ ملنے لگے تو وہ واپس کر دیا کریں۔ اس حدیث کی روشنی میں آپ ہمیں موجودہ شکل سے کیسے نکالیں گے۔

رفیق باجوہ: آپ انسانی سوچ اور فکر کے حوالے سے نہ سوچیں، یہ رہنمائی کا منبع

صفحہ 108

نہیں ۔ اگر عقل سے رہنمائی لیں گے تو یقیناً گمراہ ہوں گے۔

عدالت : اگر آپ نے صرف اپنے جذبات پر ہی سوچنا تھا تو پھر ۲۹۵ (سی) کو آئین میں داخل کیوں کیا تھا۔ آپ اس نکتے پر مرکوز نہیں کر رہے۔ اگر تو اس مقدمے کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے تو آپ ہمیں اس کا فیصلہ کرنے دیں اور اگر آپ ہر آدمی کو یہ حق اور اجازت دے دیں کہ جاؤ اور جس پر ’توہین رسالت‘ کا شک ہے‘ اسے مار ڈالو تو پھر تو ہمارے یہاں پر بیٹھنے کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔

رفیق باجوہ : ہم اس وقت جس مشکل میں ہیں‘ آپ کو اس کا شاید احساس نہیں۔ یہ وہی مشکل ہے جس میں ہمارا پورا معاشرہ فی الوقت مبتلا ہے۔ سوال تو بڑا ہی معقول ہے کہ وہ عدالت میں کیوں آئے‘ انہوں نے خود ہی ان ملزموں سے حساب کیوں پورا نہیں کر لیا۔ جناب والا! ہمارے عقیدے اور قانون میں شدید اختلاف ہے۔ ہمارا عقیدہ کچھ اور ہے قانون کچھ اور کہتا ہے۔ آج جب یہ بحث ہو رہی ہے کہ اس ملک میں ناموس رسالتؐ کے بارے میں کیا خیال ہے تو ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ قانونی اور آئینی طور پر اس ریاست کو جو اسلام کے نام پر وجود میں آئی تھی‘ آپ نے ایک ہی ہلے میں اسے ایک سیکولر ریاست میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب اس کو موجودہ نظام کے ذریعے اسرائیلی ریاست میں تبدیل کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

عدالت : باجوہ صاحب! (سختی) آپ انتہائی غیر متعلق ہو رہے ہیں۔ آپ ایسی باتیں نہ کریں۔ آپ اس مقدمے کو کسی اور طرف دھکیل رہے ہیں۔ آپ کو جو تقریر کا شوق ہے‘ وہ آپ اس عدالت سے باہر کسی جلسہ میں پورا کر لیجئے گا۔ آپ حدود و قیود کے اندر رہیں ورنہ ہم کچھ اور بھی کر سکتے ہیں۔

رفیق باجوہ : آپ مجھے ایسا سوال ہی کیوں کرتے ہیں جس کا جواب دینا ضروری ہو۔ آپ خود میری توجہ کے ارتکاز کو ختم کرتے ہیں اور پھر مجھے ٹوکتے ہیں۔

عدالت : ٹھیک ہے‘ ٹھیک ہے۔ آپ گواہ استغاثہ نمبر ۲ کا بیان پڑھیں۔

رفیق باجوہ : میں سارا نہیں پڑھ رہا صرف متعلقہ حصہ پڑھوں گا۔ ۵ مئی کو ۔۔۔۔

عدالت : یہ غیر متعلقہ ہے‘ اسے نہ پڑھیں۔

رفیق باجوہ : آپ نے کہا تھا کہ پڑھیں‘ ابھی میں نے پڑھنا شروع بھی نہیں کیا تو قبل اس کے کہ میں عرض کروں‘ آپ نے فرما دیا کہ یہ غیر متعلقہ ہے۔ پتہ نہیں آپ مجھ سے کیا اور کونسی معذرت چاہ رہے ہیں۔

صفحہ 109

جسٹس عارف: آپ "مائنڈ" نہ کریں۔

رفیق باجوہ: نہیں۔ میں غصہ نہیں کر رہا۔ اگر آپ مجھے نہیں سننا چاہتے تو سیدھی طرح کہہ دیں۔ اگر آپ مجھے معاونت کا صحیح وقت دیں گے اور صبر کے ساتھ سنیں گے اور میرے خیال میں عدالت کے وقار میں یقیناً اضافہ ہوگا۔

آپ دیکھیں کہ عدالت میں جرح کے دوران کیا پوچھا گیا؟ پوچھا یہ گیا کہ الفاظ کیا تھے؟ یعنی یہ تو طے تھا کہ وہ الفاظ بہرحال توہین رسالتؐ کے متعلق تھے لیکن کیا تھے، کسی نے نہیں بتایا اور نہ ہی کسی میں ہمت تھی۔ آپ جرح کا صفحہ ۱۶ ملاحظہ فرمائیں۔ مجموعی طور پر چٹوں میں جو تحریر تھی، وہ اس قابل نہیں تھی کہ دہرائی جاسکے پھر گواہ یہ بھی کہتا ہے کہ جو کچھ لکھا گیا، وہ اس قدر غلیظ اور توہین آمیز ہے کہ وہ دہرا نہیں سکتا۔

رفیق باجوہ: (جاری رکھتے ہوئے) ملزم کی اس حرکت کا فوری ردعمل تو یہ ہو سکتا تھا کہ مدعی خود اس پر حملہ کر کے اس کو مار دیتا لیکن اس کی غیرت نے گوارا نہیں کیا، وہ برداشت نہیں کر پایا۔ اس لئے اس نے اس تحریر کو بغیر کسی تاخیر کے مٹا دیا۔ اگر مدعی کو جھوٹا ہی ملزمان کو اس کیس میں ملوث کرنا تھا تو پھر اس نے ایک سال انتظار کیوں کیا، انہیں تو ایک سال قبل ہی ملزمان کو ملوث کر دینا چاہیے تھا۔ اس سے ان کی دیانتداری کا اظہار ہوتا ہے یعنی اس نے مثبت اور تعمیری سوچ رکھی۔ اس سوچ پر مدعی کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا اور وہ جرم کے ثبوت اکٹھے کرنے میں تاخیر ہونے کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قصہ مختصر عدالت کو اس نکتے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ الفاظ کیا تھے اور جب آپ الفاظ کا جائزہ لے رہے ہوں تو آپ کو ثبوت یعنی (Proof) کی تعریف کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔

اس کے بعد انہوں نے قانون کی کتاب سے ثبوت کی تعریف پڑھنی شروع کی تو عدالت نے ٹوک دیا۔

رفیق باجوہ: اگر آپ اجازت دیں گے تو جاری رکھوں گا ورنہ یہیں ختم کر دیتا ہوں۔

عدالت: نہیں کافی ہے کوئی اور بات آپ کے پاس اس کے علاوہ ہے تو کہہ دیں۔

رفیق باجوہ: یہ کہ تحریر کو دہرانا ضروری نہیں تھا۔ یہاں پر تو دو تحریریں پھر بھی ریکارڈ پر ہیں۔ یہ تو کافی شہادت ہے ورنہ تو آثار اور قرائن ہی سے بات کہہ دی جاتی تھی جو قانون کے مطابق ثبوت تھی۔

اس کی مثال یوں دیکھ لیں کہ ایک بچہ روتا ہوا ماں کے پاس آیا کہ فلاں نے اسے

صفحہ 110

ماں کی گالی دی ہے۔ اب کیا ماں اس سے یہ کہے کہ نہیں بیٹا پہلے وہ گالی دے کر بتا۔ نہیں ہرگز نہیں۔ نہ وہ ایسا کہے گی اور نہ بیٹا ایسا کرے گا بلکہ وہ اس بات پر سٹینڈ لے گی کہ اس کے بچے کو گالی دی گئی اور کیوں دی گئی۔

عدالت: باجوہ صاحب! آپ غیر متعلقہ ہو رہے ہیں۔ آپ برائے مہربانی مختصر کریں۔

رفیق باجوہ: جی نہیں یہ بات زیادہ متعلق ہے۔ یہ اس دنیا کی بات ہے۔ یہاں آپ کی اور میری سوچ کم کم ہی پہنچتی ہے۔ یہ روحانی دنیا کی بات ہے۔ عام زندگی تو عام زندگی ہے، روحانی دنیا میں اس امر کو رکھ کر سوچیں تو معاشرتی نظام تہ و بالا ہوتا نظر آتا ہے۔

عدالت: آپ گواہ استغاثہ نمبر 3 پر بات کریں۔

رفیق باجوہ: اس نے ایک بات تو وہی دہرائی ہے کہ پرچیاں ملیں اور دوسری یہ کہ مسجد کی دیوار پر لکھا جا رہا تھا۔

عدالت: اب یہ آپ کے سامنے ہے۔ پہلے والے نے کہا کہ صیغہ واحد استعمال کیا اور کہا کہ ایک آدمی لکھ رہا تھا۔ یہاں یہ کہتا ہے کہ تینوں لکھ رہے تھے۔ آپ بتائیے کس کو مانا جائے اور کس کو نہ مانا جائے۔

رفیق باجوہ: قانون کے مطابق تو عدالت کی صوابدید ہے کہ کس کو مانے لیکن دونوں میں سے ایک کو بہرحال درست ماننا پڑے گا۔ کس کو ماننا ہے یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے مجھے نہیں۔

عدالت: آپ بتائیں ناں!

رفیق باجوہ: میں تو کہوں گا کہ دونوں کو مان لیں۔ یہ ایسی گواہی نہیں کہ اس پر یقین نہ کیا جائے اور اسی موضوع پر دلائل دے رہا ہوں۔ یہ صرف بات کرنے کا انداز ہے، ہر ایک کی بات کا اپنا انداز ہوتا ہے۔

عدالت: ہم کہنے کے انداز کے متعلق غور کرنے نہیں بیٹھے۔

رفیق باجوہ: اصل بات لکھے جانے کی ہے جس کو کسی نے انکار نہیں کیا۔

عدالت: کیا آپ گواہان نمبر 1 اور 2 کے بیانات کا مطالعہ کرنے کے بعد بھی یہی کہتے ہیں۔

رفیق باجوہ: جی ہاں، میں ان کے بیانات کا مطالعہ کر کے ہی یہ بات عرض کر رہا ہوں۔

عدالت: یہ تو بالکل علیحدہ معاملہ ہے ان دونوں کے بیانات کا تو آپس میں کوئی رابطہ

صفحہ 111

ورثہ بنتا ہی نہیں۔

رفیق باجوہ : یہ ایک ہی معاملہ ہے جناب آپ غور نہیں فرما رہے۔ مختلف دوستوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مقدمہ شہادت ہے۔ اس لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ان گواہوں کا کیا کیا جائے، کیا ان کو غیر یقینی گواہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ نہیں، اور مختلف دوستوں نے تو گواہی کے وجود سے ہی انکار کر دیا۔ حالانکہ گواہی بھی موجود ہے اور اس قابل بھی ہے۔ اس پر یقین کیا جائے۔

عدالت : اچھا اب اس نکتے کو دیکھیں۔ پہلے گواہ نے کہا کہ الفاظ کی تعداد چار پانچ تھی جبکہ دوسرے نے کہا کی تین چار تھی۔ کیوں جی ایڈووکیٹ جنرل صاحب۔

ایڈووکیٹ جنرل : (اٹھ کر روسٹرم پر آکر) : جی ہاں ایسی ہی صورت حال ہے۔

عدالت : استغاثہ اور گواہوں پر بھروسہ نہ کرنے کی ایک یہ وجہ بھی ہے۔

ایڈووکیٹ : اور پھر ان میں سے ایک تو یہ بھی کہتا ہے کہ تینوں پتھر لیے لکھ رہے تھے۔ ایک کہتا ہے کہ ان میں ایک لکھ رہا تھا۔ باقی دو ویسے ہی کھڑے تھے۔

عدالت : اور باجوہ صاحب کا خیال ہے کہ دونوں پر یقین کر لیں۔

رفیق باجوہ : یہ ایسا اختلاف نہیں کہ وقوعے کا انکار ہو یا ملزم کو بے گناہ قرار دے دیا جائے کیونکہ لکھا بہرحال گیا ہے جس کی سزا قانون میں متعین ہے۔ دو باتیں ثابت ہیں ایک یہ کہ جو کچھ لکھا جا رہا تھا، وہ رسولؐ کے متعلق تھا اور دوسرا یہ کہ ان گواہوں کو بہرحال ایک حد تک مانا جا رہا تھا۔

اب حالت یہ ہے کہ میں تھک گیا ہوں، مجھے آپ اجازت دیں باقی کل کریں گے۔

عدالت : نہیں جی آج آپ کو مکمل کرنا ہے۔ اب آپ اس معاملے کو دیکھیں اور ایک ملزم جو کہ کم عمر ہے، اس کی تاریخ پیدائش کا نوٹس لیں۔ اس میں سرٹیفکیٹ لگا ہوا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کی عمر ۱۵ سال سے کم ہے اور جو تاریخ پیدائش وکیل صفائی کی طرف سے درج کی گئی ہے وہ سیکشن ۸۳ کے تحت آتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سات سے بارہ سال کی عمر کے بچے کا جرم، جرم نہیں مانا جائے گا۔ کیا اس سے یہ امر پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتا کہ ملزم کو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کیا لکھ رہا ہے۔

رفیق باجوہ : میرا خیال ہے کہ یہ غلط سرٹیفکیٹ لیا گیا ہے۔ یہ نہیں لیا جانا چاہیے تھا اور جب تک یہ ثابت نہ ہو جاتا کہ ملزمان کا عمل درست نہیں ہے۔ سیشن کورٹ کے جج کو اس کا جیوڈیشل نوٹس نہیں لینا چاہیے تھا۔

صفحہ 112

عدالت: ہم سمجھے تھے شاید یہ آپ کا آخری نکتہ ہے۔ اسی لیے آپ گھڑی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

رفیق باجوہ: نہیں جناب! ابھی تو کافی باتیں ثابت کرنا ہیں مجھے۔ ابھی تو میں نے سارا کیس ثابت کرنا ہے۔

عدالت: جی نہیں! آج آپ صبح نو بجے سے وقت لے رہے ہیں اور ایک بجنے کو ہے، آپ اس کو مکمل کریں۔ آپ پہلی دفعہ عدالتی معاون کی حیثیت سے ہمارے قابو میں آئے ہیں۔

رفیق باجوہ: یہ تو پتہ نہیں کہ میں آپ کے قابو آیا ہوں یا آپ میرے قابو آئے ہیں کیونکہ آثار و قرائن کچھ اور ہی بتا رہے ہیں۔

عدالت: آپ سے سوال پوچھا تھا کہ استغاثہ کا یہ دعویٰ کہ یہ پرچیاں اور دوسرے توہین آمیز مواد ملزموں نے تیار کیے تھے۔ یہ بات ثابت نہیں ہو سکی۔ اس پر آپ کی کیا رائے ہے۔

رفیق باجوہ: یہ درست نہیں ہے کہ ثابت نہیں ہو سکی بلکہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ یہ ملزموں نے لکھی تھی، اگر ایسی بات کہ وکیل صفائی کو اس کے تیار کرنے کے سلسلے میں مولوی فضل حق پر شک تھا تو اس سوال کو جرح کے دوران پوچھا جانا چاہیے تھا کہ جو نہیں پوچھا گیا۔

عدالت: آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ سوال جرح میں پوچھا جا سکتا تھا؟

رفیق باجوہ: یہ سوال اس طرح پوچھا جا سکتا تھا کہ گواہی میں تو ہے ہی نہیں کہ اس نے تحریر کی، گواہی میں تو یہ ہے کہ اس نے پھینکی۔

عدالت: گواہی میں اس کا ذکر ہے بھئی۔

رفیق باجوہ: آئیے ایف آئی آر پڑھتے ہیں، پتہ چل جائے گا۔

عدالت: چلئے پڑھیں۔

اس کے بعد باجوہ صاحب نے بآواز بلند ایف آئی آر پڑھنا شروع کی۔

عدالت: اس میں ذکر ہے کہ کچھ لوگ چٹیں پھینک جایا کرتے تھے اور پھر یہ کہ وہ لوگ لکھتے پائے گئے۔

رفیق باجوہ: جی نہیں وہ لوگ ایک اور جگہ لکھتے پائے گئے، اس لئے فرض کیا گیا کہ طہارت خانے میں بھی انہی کا لکھا ہوا تھا۔ اس لیے یہ تفصیل ایف آئی آر میں دینا ضروری

صفحہ 113

بھی نہیں تھی۔ میرے فاضل دوست نے کہا ہے کہ واقعاتی شہادت کیا ہوتی ہے تو میں یہ بھی عرض کروں گا، اگر آپ نے مجھے اجازت دی کہ کیا اسے واقعاتی شہادت سمجھا جانا چاہیے کہ نہیں۔

عدالت: چٹ کی برآمدگی سے واقعاتی شہادت بہرحال مختلف ہے۔ آپ اور میں قانون کو اچھی طرح جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ قانون کی ضروریات کیا ہیں۔ ملزم کے اردگرد جس طرح حالات کی زنجیر بن جاتی ہے کہ وہ اس سے نکل نہیں پاتا، ان تینوں گواہوں نے دیکھا اور چونکہ ایک سال سے ان کی مسجد میں اس قسم کی حرکت ہو رہی تھی، اس لیے جب یہ آدمی لکھتا ہوا پایا گیا تو فرض کر لیا کہ پہلے والی تمام حرکتیں بھی اسی نے کی ہوں گی۔ گواہی میں اس مرحلے پر خلاء بہرحال موجود ہے جس کو میں نہیں سمجھ سکتا۔

رفیق باجوہ: آپ موقع دیں، میں آپ کو سمجھا دیتا ہوں۔

عدالت: پھر تو آپ کے دلائل ختم ہی نہیں ہوں گے۔ آپ ختم کرنے کی طرف آئیں۔ ہم جانتے ہیں کہ حالات کیا ہوتے ہیں، حالات کی شہادت کیا ہوتی ہے، واقعاتی شہادت کیا ہوتی ہے۔ بہتر ہے آپ اس کو واقعاتی شہادت قرار نہ دیں بلکہ اس کو حالات کی شہادت ہی رہنے دیں۔

رفیق باجوہ: یہ تو حضرت یوسفؑ کے کرتے والی بات ہے۔

عدالت: چھوڑیں جی، یہ اس پر لاگو نہیں ہوتی۔ ایک آدمی نے یہ سارا معاملہ دیکھا۔ یہ حقیقت ہے کہ شاہ نے نہیں دیکھا تھا، ایک آدمی نے دیکھا تھا۔ ایک طرف سے انکار ہوا، دوسری سے الزام لگا۔ اس لیے اس کو حالات کی شہادت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

رفیق باجوہ: آپ تاریخ کے دھارے کو الٹا نہ موڑیں۔

عدالت: اب آپ یہ تو نہ کہیں کہ ----- حضرت یوسفؑ نے کرتا ہی الٹا پہنا ہوا تھا۔

رفیق باجوہ: میں نے یہ بات کب کہی ہے۔ یہ تو آپ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں۔

عدالت: میں نے کب آپ پر الزام لگایا ہے؟

رفیق باجوہ: یہ اور کیا ہے؟ میں نے اس قسم کی بات کہی ہی نہیں۔ آپ برائے مہربانی پرسنل نہ ہوں۔ مجھے پتہ ہے، میرے دلائل آپ کو پسند نہیں آ رہے۔

اس موقع پر رفیق باجوہ اور جسٹس خورشید کے درمیان خاصے تیز جملوں کا تلخ تبادلہ ہوا اور جسٹس عارف اقبال حسین بھٹی نے اس معاملے میں مداخلت کی۔

صفحہ 114

جسٹس عارف: باجوہ صاحب! آپ ایسا نہ کریں۔ آپ برائے مہربانی اپنے دلائل پر زور دیں۔ جی!

رفیق باجوہ: چٹوں کے پھینکے جانے کا انکار نہیں کیا، لیکن ملزموں نے اس سے انکار کیا کہ انہوں نے پھینکی تھیں۔

عدالت: ٹھیک ہے آپ چٹوں کے پھینکنے کے عمل کو ملزموں سے ملا دیں۔

رفیق باجوہ: مدعی نے کہا کہ کوئی پھینک جایا کرتا تھا لیکن اس سے متعلق ایک بات بھی جرح کے دوران نہیں پوچھی گئی۔

عدالت: لیکن یہ چٹیں تو اس نے ۱۱ مئی ۱۹۹۲ء کو پولیس تھانے میں دیکھی تھیں۔

رفیق باجوہ: آپ نے یہ کیسے فرض کر لیا کہ وہ اس نے ۱۱ مئی کو ہی دیکھی تھیں، اس کے متعلق تو کوئی بات بھی جرح کے دوران ان سے نہیں پوچھی گئی۔

عدالت: دیکھیں ہمیں مشکل میں نہ ڈالیں۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ ان کو دستاویزات عدالت میں دی گئی تھیں؟

رفیق باجوہ: یہ درست ہے کہ پوچھا نہیں گیا لیکن یہ بھی نہیں کہتے کہ ریکارڈ پر نہیں آیا۔ دراصل ان سے ان چٹوں کے بارے میں درست طریقے سے سوال ہی نہیں کیا گیا۔ لیکن یہ بات ریکارڈ پر لائی گئی۔ یہ سوال ایک انداز سے ان سے پوچھا گیا اور اس نے تسلیم کر لیا۔ بات پوچھے جانے میں آگئی۔ ایک ہی سوال میں ساری بات آگئی۔ الزامات لگائے گئے اور قبول کر لیے گئے۔

عدالت: اب ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ آپ ہمیں بطور عدالتی معاون کے یہ بتائیں کہ ملزموں کے حق میں کیا نکات ہیں۔

رفیق باجوہ: جی ہاں عدالت کے معاون کے طور پر یہ بھی میرا فرض ہے اور میں اسے نبھاؤں گا۔ ملزم کے حق میں سب سے پہلی بات اس کا اپنا بیان ہے، جس میں اس نے تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ اسی وقت اس نے ماسٹر عنایت کے خلاف سپیکر نہ لگانے دینے پر درخواست بھی دی تھی۔ وہ دراصل اپنے طبقے کا ایک لیڈر ہے۔ وہ عام آدمی نہیں ہے اور اسے اسی لیے اس مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔

عدالت: جو بات جرح میں نہیں آئی، وہ نہیں آئے گی، اس کو منہا کر دیا جائے گا۔

رفیق باجوہ: جی ہاں! وہ تو خود بخود ہو جائے گی۔

عدالت: بہت بہت شکریہ باجوہ صاحب

صفحہ 115

رفیق باجوہ: لیکن جناب ابھی تو میں نے بہت سے نکات پر بات کرنا ہے اور اصل بات تو تاحال باقی ہے۔

عدالت: نہیں باجوہ صاحب، ہم نے آپ کو پورا دن دیا ہے۔ آپ باقی نکات لکھ کر دے دیں، ہم دیکھ لیں گے۔

رفیق باجوہ: جناب لکھنے میں وقت لگے گا اور آپ کو ویسے بھی کل تک فیصلہ کرنا ہے۔

عدالت: آپ ہماری بات پر عمل درآمد کریں، ردعمل کا اظہار نہ کریں۔

رفیق باجوہ: جناب آپ نے اپنی پسند کے دلائل سننا تھے جو میں نے سنائے۔ بہرحال آپ کا شکریہ۔

عدالت: جی آپ کا شکریہ۔

عدالت: ہاں بھئی لائیں مولوی صاحب کو کہاں ہیں وہ۔

اسماعیل قریشی: آئیے تشریف لائیں مولوی صاحب۔

عدالت: تو کیا آپ مقدمے کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔

مولوی فضل حق: جی ہاں۔

عدالت: لکھیں جی! مولوی فضل حق نے آج ایک درخواست دی ہے کہ وہ مقدمے کی پھر سے پیروی کرنا چاہتا ہے۔ یہ درخواست ریکارڈ پر لائی گئی، مولوی صاحب کو اجازت دی جاتی ہے۔ ان کی طرف سے وکالت نامے بھی دوبارہ ریکارڈ پر لے آئے گئے جو کہ اس درخواست کے ساتھ منسلک ہیں اور اب فاضل وکلاء رشید مرتضیٰ قریشی اور اسماعیل قریشی اس کی نمائندگی کریں گے۔

یہ احکامات نوٹ کرانے کے بعد جج اسماعیل قریشی سے مخاطب ہوئے۔

عدالت: قریشی صاحب آپ تو اس مقدمے میں عدالتی معاون بھی تھے۔ اب آپ کا کیا بنے گا کیوں نہ رشید مرتضیٰ قریشی کو مکمل طور پر اس مقدمے کا انچارج بنا دیا جائے۔

اسماعیل قریشی: نہیں جناب! میں نے معاون عدالت کے طور پر آپ کی اور طرح سے معاونت کی تھی۔ اب میں مقدمے میں باقاعدہ وکیل کے طور پر دوسرے پہلوؤں پر روشنی ڈالوں گا، جن پر آپ نے مجھے بات کرنے سے روک دیا تھا۔

رشید مرتضیٰ قریشی: عدالت اس امر کا نوٹس لے کہ حکومت نے کس طرح اس مقدمے کی کارروائی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی اور وہ کس ڈھٹائی سے کھلے عام اس کی

صفحہ 116

مخالفت کر رہی ہے۔ آپ ان لوگوں کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں کیونکہ مولوی صاحب کہہ چکے ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔

عدالت : ہم دیکھیں گے کہ خطرہ پہلے تھا یا کہ اب ہے‘ حافظ صاحب آپ آگے آئیں۔ آپ جیسی بھی حفاظت چاہتے ہیں۔ آپ کو ملنی چاہیے۔

مولوی فضل حق : جناب مجھے مقامی پولیس کی طرف سے خطرہ ہے۔ پہلے بھی تھا اب تو اور شدید ہے۔

عدالت نے ایڈیشنل رجسٹرار کو‘ جو کمرہ عدالت میں موجود تھے‘ ہدایت کی کہ مولوی فضل حق کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

رشید مرتضیٰ قریشی : آپ تھوڑی سی حفاظت کی بات کرتے ہیں مجھے بھی گولی مارنے والے ارد گرد گھوم رہے ہیں۔

اسی اثناء میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری‘ فاروق امجد میر نے عدالت سے مخاطب ہو کر کہا کہ جناب کل بار کے انتخابات ہو رہے ہیں جس میں وکلاء نے بہر حال اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا ہے۔ آپ کے اس مقدمے کی وجہ سے پولیس کی بھاری جمعیت نے عدالت عالیہ کی عمارت کو گھیرا ہوا ہے۔ کل اڑھائی ہزار سے زائد وکلاء اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے اور پولیس کی وجہ سے ان کو ہائی کورٹ میں داخلے پر مشکل پیش آسکتی ہے۔ اس لیے آپ مقدمے کی سماعت پرسوں تک ملتوی کر دیں۔

عدالت : جناب آپ اپنا جمہوری حق استعمال کر رہے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے لیکن ہم بھی اپنا عدالتی فرض ادا کر رہے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ پولیس کوئی رکاوٹ ڈالے گی۔ پولیس کو ہم احکامات جاری کر دیتے ہیں لیکن سماعت ہر حال میں کل ہی ہو گی۔

آج عدالت میں روزنامہ خبریں کے اس خصوصی انٹرویو کا ذکر بھی ہوتا رہا جو موصوف نے مولوی فضل حق سے لیا تھا اور جس میں مولوی صاحب نے مقدمے کی پیروی کے لیے اپنی واپسی کا اعلان کیا تھا۔

آج عدالت نے ایک خصوصی حکم کے ذریعے عدالتی معاونین کی فہرست میں تبدیلی کی اور غلام باری سلیمی ایڈووکیٹ کو اس فہرست میں شامل کیا گیا۔

سماعت کے آغاز پر عدالت نے کہا:

”جی باری صاحب! تشریف لائیے۔“

غلام باری سلیمی : دراصل میں بہت مختصراً اپنے دلائل عرض کروں گا۔ مجھے تیاری

صفحہ 117

کے لیے بہت کم وقت ملا ہے کیونکہ مجھے کل رات ۱۰:۳۰ بجے اطلاع دی گئی۔ میری رائے میں استغاثہ کا اصل کام یہ ہوتا ہے کہ وہ بغیر کسی شک کے جرم کو ثابت کرے لیکن اس مقدمے میں کہیں بھی ملزم کا نام نہیں دیا گیا۔ یہ ملزمان کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ چٹیں پھینکی گئی تھیں لیکن کس نے پھینکی تھیں، اس کے بارے میں کوئی شناخت نہیں ہوئی۔ ایک سال بعد یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جناب یہ لوگ چٹیں پھینکنے والے تھے۔ اس ضمن میں تین شہادتیں ریکارڈ پر لائی گئیں۔ لیکن ان تینوں گواہوں نے اپنے بیانات میں کہیں بھی توہین رسالت کا ذکر نہیں کیا۔ تینوں نے کہا کہ ایسے الفاظ ہیں جو وہ دہرا نہیں سکتے۔ اگر وہ ان الفاظ کو دہرا نہیں سکتے تھے تو بتا ہی دیتے کہ کیا لکھا تھا۔ اب وہ کس بنا پر چاہتے ہیں کہ ملزمان کو لٹکا دیا جائے۔ میں پچھلے انتیس برسوں سے اس بار میں پریکٹس کر رہا ہوں اور میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ آئین کی دفعہ ۲۹۵ (سی) کے تحت جن ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے، ان میں سے ایک بھی پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتا ہے۔ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ ماتحت عدالت نے سزا کیوں اور کیسے دے دی اور تو اور، پولیس نے بھی مزید تحقیق کرنا گوارا نہیں کی۔

عدالت: باری صاحب! آپ باجوہ صاحب کی طرف سے اٹھائے گئے نکات پر بات کریں۔

باری: میں تو کہتا ہوں کہ عناد رکھنے والا گواہ دراصل "لوٹا" ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنی رائے کو بار بار تبدیل کرتا ہے۔

عدالت: جی ہاں ایسے گواہوں پر کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے۔

باری: میری آپ سے گزارش ہے کہ ایسے گواہوں کو قطعاً نہیں بخشا چاہیے۔ ان کو ضرور لٹکائیں انہوں نے بغیر کسی وجہ کے بے گناہ اشخاص کو اس میں ملوث کیا ہے؟

عدالت: ہمیں اس طرح کے گواہوں کی وجہ سے بڑی دقت ہوتی ہے۔ باری صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ۔ آئیے جی رشید مرتضیٰ قریشی صاحب تشریف لائیے۔

رشید مرتضیٰ قریشی: جی ہاں! آپ نے مجھے بار بار کرسی دے کر بٹھایا۔ حالانکہ اگر مجھے کرسی کی ضرورت ہوتی تو میں ۱۹۷۰ء میں بیٹھ جاتا، جب مجھے بھٹو نے اس کی پیش کش کی تھی۔

عدالت: جی ہاں! آپ ایک سٹیٹ فاروڈ آدمی ہیں۔ آپ ہمیں اس مسئلے پر معاونت کریں۔ ایک وکیل کے طور پر ہماری معاونت کریں اور بتائیں کہ جو گواہیاں اب تک ریکارڈ

PDF 118

پر لائی گئی ہیں، کیا ان پر اعتبار کیا جا سکتا ہے؟

رشید مرتضیٰ قریشی : جناب توہین رسالت (Blasphemy) کا سب سے پہلا مقدمہ اسلام کی تاریخ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر الزامات کا تھا۔ منافقین نے ام المومنین پر الزام لگایا تھا اور اس مقدمے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود آ کر گواہی دی تھی اور سورۃ النور میں ان کی بریت اور پاک دامنی کی گواہی دی۔

عدالت : آپ قرآن پاک کی متعلقہ آیات کا ریفرنس دیں۔

رشید مرتضیٰ قریشی: انہوں نے قرآن پاک کی متعلقہ آیات پڑھیں، اس کے بعد گویا ہوئے کہ قرآن نے ہمیں ہدایت کی کہ یہود و نصاریٰ کے ساتھ تعلقات نہ بڑھاؤ، گمراہ ہو جاؤ گے۔ جنسی بے راہ روی سے بچنے کے لیے پردے کے احکامات دیے گئے۔ پھر بعد میں دوسرے احکامات آتے ہیں۔ یہ جو توہین رسالت ہے، ان چٹھوں پر جو کہ گواہی کے طور پر عدالت کے سامنے پیش کی گئی ہیں ان میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ایسی ایسی غلط باتیں لکھی گئی ہیں کہ ایک مسلمان انہیں لکھنا تو کیا، سوچنا بھی گوارا نہیں کر سکتا۔ اگر یہ ثابت ہو جائے، جیسا کہ صفائی نے دعویٰ کیا ہے، کہ یہ تمام حرکت مولوی فضل حق نے خود کی ہے تو میں خود اس کو پتھر مار مار کر مار دوں گا۔ اس کیس میں ظلم یہ ہو رہا ہے کہ ملزم گواہ کے کردار کو زیر بحث لا رہا ہے جو کہ قانون شہادت کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی اتھارٹی بڑی واضح ہے۔

عدالت : کیا آپ نے ماتحت عدالت میں کہا تھا کہ آپ ملزم پر جرح کرنا چاہتے ہیں؟

رشید : میں نے کہا تھا لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا اور مجھے بلائے بغیر فیصلہ کر دیا۔

عدالت : انہیں آپ کو اپنی قابلیت آزمانے کا موقع دینا چاہیے تھا۔ آپ کی قابلیت کو کون نہیں جانتا۔

رشید : آپ فضل حق کا بیان ملاحظہ کریں وہ بڑا واضح بیان ہے کہ اس پر اس مقدمے کی واپسی کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ اب منظور وٹو صاحب کو اپنی پڑ گئی ہے اور انہوں نے اس سے انکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کیوں ہوا جبکہ یہ امر بہت واضح ہے کہ جرم ہوا تھا۔ اس کیس کو تو یہ لوگ بڑا اچھال رہے ہیں۔ اس جرم کو کسی نے ہوا تک نہیں لگنے دی، جس میں عیسائیوں نے مل کر سانگلہ ہل میں ایک مسلمان کو مار مار کر قتل کر دیا تھا۔ مسجد پر حملہ کیا تھا، پاکستان میں چرچ اور کلیسا جتنے آزاد ہیں، دنیا کے کسی خطے میں نہیں

ہیں اور یہ بدقسمتی سے عیسائیوں اور یہود ا

عدالت : حضرت عمر رضی اللہ تع زیر نگیں آگئی تھی تو اس وقت کے یہود ساتھ رہ رہے تھے اور اپنے مذہبی فرائ بھی بڑے آئیڈیل تعلقات میں رہ رہے ۔

رشید : میری بات مکمل ہونے د سے کرو کیونکہ ان میں سے چند ایسے ج تھا۔ جب حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ نبی اکر لیا تھا۔ اسی طرح حبشہ کا حکمران نجاشی تھا جو ۱۷ رمضان کو اسلام کے نام نظریاتی بنیادوں پر ضرب لگانے کے لیے

عدالت : قریشی صاحب لگتا ہ ہے۔ حالانکہ ہمارا آپ کا جنریشن گیپ

رشید : ایک سازش ۱۹۴۶ء میں پر قراقلی ٹوپی پہنی ہوئی تھی تو وہاں بات مغرب کو کھٹکتی تھی کہ کہیں یہ ن پارسی‘ عیسائی‘ یہودی سب اکٹھے ہوگ یہ لوگ پاکستان پر حملہ آور ہوئے۔

جناب والا! بے نظیر نے گز خاتون ہے۔ ایک اس کا چہرہ وہ ہے ج دکھاتی ہے۔ یہاں تسبیح پھیرتی نظر سے پہلے انٹرویو میں کہا تھا کہ اسلامی اس کو اسی وعدے پر اقتدار دیا گیا تھ کوشش کر رہی ہے اور موجودہ مق اجازت نہیں دیں گے۔ مجھے بھی خط کی پرواہ نہیں ہے۔

عدالت : دیکھیں یہ بات آپ

صفحہ 119

ہیں اور یہ بدقسمتی سے عیسائیوں اور یہودیوں کے ہاتھوں میں کھلونے بن چکے ہیں۔

عدالت: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کے دور میں جب تمام دنیا اسلامی حکومت کے زیر نگیں آگئی تھی تو اس وقت کے یہودی اور عیسائی تو اسلامی مملکت میں بڑی آزادی کے ساتھ رہ رہے تھے اور اپنے مذہبی فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ساتھ بھی بڑے آئیڈیل تعلقات میں رہ رہے تھے۔

رشید: میری بات مکمل ہونے دیں۔۔۔۔ ہاں اگر بیوی والی محبت چاہتے ہو تو ان سے کرو کیونکہ ان میں سے چند ایسے ہیں جو قرآن کو پہچان لیتے ہیں۔ جیسے ورقہ بن نوفل تھا۔ جب حضرت خدیجتہ الکبریٰ، نبی اکرم کو ان کے پاس لے کر گئی تھیں تو اس نے پہچان لیا تھا۔ اسی طرح حبشہ کا حکمران نجاشی بھی اسی گروہ میں تھا۔ پاکستان کا قیام بھی ایک معجزہ تھا جو ۲۷ رمضان کو اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور اسی لیے یہود و نصاریٰ اس کی نظریاتی بنیادوں پر ضرب لگانے کے لیے کوشاں ہیں۔

عدالت: قریشی صاحب لگتا ہے آپ کے اور ہمارے درمیان ”کمیونیکیشن گیپ“ ہے۔ حالانکہ ہمارا آپ کا جنریشن گیپ تو نہیں ہے۔

رشید: ایک سازش ۱۹۶۶ء میں ہوئی تھی، جب ایوب خان تاشقند گیا تھا، اس نے سر پر قراقلی ٹوپی پہنی ہوئی تھی تو وہاں پر قراقل پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ گئے تھے۔ یہ بات مغرب کو کھٹکی تھی کہ کہیں یہ لوگ واقعی اکٹھے نہ ہو جائیں۔ اسلام کے خلاف ہندو، پارسی، عیسائی، یہودی سب اکٹھے ہو گئے اور چونکہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا تو یہ لوگ پاکستان پر حملہ آور ہوئے۔

جناب والا! بے نظیر نے گزشتہ انتخاب اسی بناء پر جیتا تھا، وہ دوہرے کردار والی خاتون ہے۔ ایک اس کا چہرہ وہ ہے جو وہ مغرب کو دکھاتی ہے اور دوسری وہ جو اندرون ملک دکھاتی ہے۔ یہاں تسبیح پھیرتی نظر آتی ہے، سر پر دوپٹہ اوڑھتی ہے لیکن اس نے الیکشن سے پہلے انٹرویو میں کہا تھا کہ اسلامی قوانین ظالمانہ قوانین ہیں، میں ان کو ختم کراؤں گی۔ اس کو اسی وعدے پر اقتدار دیا گیا تھا۔ اب وہ اس کو ختم کرنے کے لیے مختلف طریقوں سے کوشش کر رہی ہے اور موجودہ مقدمہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے لیکن ہم اس کو اجازت نہیں دیں گے۔ مجھے بھی خطرہ ہے کہ لوگ مجھے قتل کر دیں گے لیکن مجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں ہے۔

عدالت: دیکھیں یہ بات آپ کس فورم پر اور کہاں کر رہے ہیں؟

صفحہ 120

رشید مرتضیٰ: ماتحت عدالت کی مجبوری تھی کہ وہ مقدمے کی سماعت کو مختصر کرے۔ اسی لیے جب انہوں نے مقدمے کا فیصلہ کرنا تھا تو مجھے بلایا تک نہیں۔ جب فضل حق نے بیان دیا تھا تو میں نے اپنا وکالت نامہ دیا تھا۔ اس مقدمے کا کیا ہوگا؟ آپ ایک شخص کی کنپٹی پر پستول رکھ دیں اور پھر اس سے فیصلہ کرائیں تو وہ کیا فیصلہ کرے گا اور انصاف کی توقع کیا ہوگی؟ جے سالک خفیہ طور پر اسرائیل کے دورے پر گیا تھا اور آپ کو بتاؤں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے اس کے ذریعے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ اس نے بھی عدالت کی کارروائی پر بیان بازی کی ہے۔ عدالت کو چاہیے کہ اس کو اور جان مائیکل کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرے اور اس مقدمے میں شامل تفتیش کرے۔

عدالت: آپ نے کہا ہے کہ تین گواہ پیش کیے گئے ہیں۔ ان پر بات کریں۔

رشید مرتضیٰ قریشی: تین میں سے دو نے کہا ہے کہ انہوں نے ان کو لکھتے دیکھا ہے۔ گواہی کے اکثریتی اصول کے تحت ان کی گواہی مانی جا سکتی ہے۔

عدالت: آئین کی دفعہ ۲۹۵ (سی) بڑی واضح ہے۔ گواہوں نے کہا ہے کہ ہم وہ الفاظ عدالت میں نہیں دہرا سکتے‘ کیا ان کا یہ کہہ دینا جرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ آپ ایک لائق جیورسٹ ہیں‘ ہماری اس پر معاونت کریں۔

رشید مرتضیٰ قریشی: جہاں تک ان الفاظ کا تعلق ہے جو دیوار پر لکھے گئے (یہ چٹیں تو اب اس قابل نہیں رہی ہیں کہ ان کو پڑھا جاسکے) وہ ابھی بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔ تفتیشی افسر سمیت کسی نے انہیں پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ وہ پتھر سے لکھے گئے تھے‘ ہو نہیں سکتا کہ وہ مٹ گئے ہوں عدالت کا اپنا فرض ہے کہ ان الفاظ کو پڑھے جانے کا انتظام کرے۔

عدالت: آپ کے کہنے کا مطلب کیا ہے؟

رشید مرتضیٰ قریشی: میں نے عرض کیا ہے کہ جو غلیظ الفاظ اور گالیاں آپ نے ان دستاویز میں پڑھی ہیں‘ اب آپ اس دیوار کو جا کر پڑھتے ہیں تو بات بڑی واضح ہو جاتی ہے۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اب بھی پڑھی جائیں گی۔ عدالت نے شہادت ایکٹ کی دفعہ ۴۴ کو بالکل نظرانداز کر دیا تھا۔ اس ضمن میں عدالت نے اپنی ذمہ داریاں بہرحال پوری نہیں کی ہیں۔ آپ نے اب تک ڈپٹی کمشنر اور مجسٹریٹ گوجرانوالہ کو توہین عدالت کے نوٹس جاری نہیں کیا اور اب تو بیگم بے نظیر بھٹو کا اس کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنا بالکل واضح ہے۔ آپ کو‘ ان سب کو نوٹس جاری کرنا چاہیے۔

عدالت: رشید مرتضیٰ قریشی صاحب آپ ساڑھے دس کے بعد وقت لے لیجئے گا۔

صفحہ 121

جی اسماعیل قریشی صاحب آپ تشریف لایئے۔ اسماعیل قریشی: میں آپ کو آپکے اپنے الفاظ ہی کا حوالہ دیتا ہوں۔ آپ نے کہا تھا کہ اگر آپ اس کی جگہ ہوتے تو آپ بھی ویسا ہی کرتے اور ملزموں کو موقع پر مار دیتے۔ جسٹس خورشید: جی نہیں، میں نے تو ایسا نہیں کہا۔ جسٹس عارف اقبال بھٹی: جی نہیں، انہوں نے کہا تھا کہ یہ ایک فطین آدمی کی طرح ردعمل کا اظہار کرتے۔ ظاہر ہے، آپ تو ان کو پکڑ نہیں سکتے تو ہم کیا کریں گے۔ اسماعیل قریشی: مجھے یہی سمجھ آئی تھی لیکن اگر دیکھا جائے تو یہی مسئلہ ہے اور اسی لیے یہ توہین رسالت کا قانون لایا گیا ہے۔ اب سوال اٹھایا گیا کہ انہوں نے دو دن کی تاخیر کیوں کی، فوراً اس پر ردعمل کیوں نہیں کیا۔ تو اس سلسلے میں عدالت کو گل مسیح کا مقدمہ پیش کروں گا۔

عدالت: جی ہاں! اسی عدالت کے ڈویژن بینچ نے قرار دیا تھا کہ تین دن کی تاخیر بھی جائز تھی کیونکہ مدعی کو بہرحال ملزم کو قابو کرنے کے لیے گاؤں والوں کو اکٹھا کرنا تھا۔ اسماعیل قریشی: جی ہاں یہ قانون بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس پر عمل درآمد کیا جا سکے ورنہ تو لوگ خود ہی نپٹ لیتے تھے۔

عدالت: آپ تو بڑے پڑھے لکھے وکیل ہیں، آپ کو توہین رسالت کے موضوع پر ملکہ حاصل ہے۔ آپ نے جو کتاب لکھی ہے، اس نے ہمارے لیے بڑی راہنمائی کا سامان کیا اور ہم سب آپ کی کوششوں کی قدر کرتے ہیں۔ یہ اسلام کی تاریخ کا حصہ ہے کہ اس میں سزائے موت بہت کم جرائم پر دی گئی ہے اور چھوٹے جرائم پر تو بالکل بھی سزائے موت نہیں دی جا سکتی اور یہ بات ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ جتنی بڑی سزا ہوگی اتنی بڑی گواہی کی ضرورت ہوگی۔

اسماعیل قریشی: یہ بات پہلے بھی ریکارڈ پر آچکی ہے اور میں عرض کر چکا ہوں اس پر بہر حال غور کرنا چاہیے۔

عدالت: لیکن آپ بھی یہ دیکھیں کہ اس میں سیکشن کا اضافہ ہوچکا ہے۔ اسماعیل قریشی: اس میں بھی گواہی کا وہی معیار ہوگا جو کہ حدود کیس میں ہوتا ہے اگر وہ معیار نہیں ہوگا تو تب تک سزا نہیں دی جاسکے گی۔ قذف میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ اسلامی قوانین بہت معقول ہیں۔ اب میں آپ کی خدمت میں توہین رسالت کے ضمن میں امامیہ موقف پیش کرتا ہوں۔ میں نے آپ سے ویسے تو پہلے ہی گزارش کی تھی کہ اس ضمن میں رائے کے لیے تمام مکتبہ ہائے فکر کو بلایا جائے اور تو اور اثنا عشریہ سے ایک مجتہد

صفحہ 122

ادھر آیا ہوا تھا کہ اسے اس کیس میں حاضر ہو کر اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا جائے تو میں امامیہ موقف پیش کر رہا تھا۔ یہ مولانا محمد حسین اکبر کی کتاب کا صفحہ ۲۴۷ ہے۔ یہ جامعۃ المنتظر کے پرنسپل بھی ہیں۔ ان کی اس کتاب کے صفحہ ۴۳ پر رشدی کے خلاف علماء کا بیان بھی ہے اور پھر امام خمینی کی طرف سے دیا گیا رشدی کے قتل کا فتویٰ بھی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ سلمان رشدی جہاں ملے‘ اس کو قتل کر دیا جائے۔ عدالت: آپ توہین رسالت کے قانون پر آئیں۔ اسماعیل قریشی: توہین رسالت کے قانون کے مطابق توہین رسالت کی کوئی بھی صورت ہو‘ وہ توہین رسالت ہوگی۔ خواہ وہ اشارے سے ہو‘ خواہ وہ حرکات و سکنات سے ہو۔ جیسے کوئی شخص کتے کی طرف اشارہ کر کے کہے کہ یہ اسماعیل قریشی ہے۔ عدالت: آپ کا خیال ہے کہ اس میں نبیؐ اکرم کی ذات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے؟ اسماعیل قریشی: جی ہاں‘ کیس لاء ڈکشنری کہتی ہے۔ پھر انہوں نے ڈکشنری میں سے توہین کی تعریف پڑھ کے سنائی۔ پھر انہوں نے جسٹس گل کی کتاب بھی دیکھی اور اس کا حوالہ دیا اور بولے میرے پاس اگرچہ اتنا وقت نہیں ہے اور نہ آپ نے اجازت دی ہے‘ لیکن یہ میں صرف اس لیے حوالے دے رہا ہوں کہ آپ کے ذہن میں توہین رسالت کے مطالب رہیں۔ پھر انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے میں سے ایک اتھارٹی پیش کی۔ عدالت: یہ اتھارٹی تو عبدالستار نجم نے بھی پیش کی تھی۔ آپ اس طرف آئیں عابد حسن منٹو نے کہا تھا کہ توہین رسالت کی تعریف ہونا ابھی باقی ہے۔ اسماعیل قریشی: یہ بہت زیادہ واضح طور پر (Define) کیا جا چکا ہے۔ اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ باجوہ صاحب کے دلائل بڑی تفصیل سے اس ضمن میں آچکے ہیں۔ میرا روزہ ہے اور یہ ماہِ رمضان ہے۔ رحمت کا مہینہ لیکن میری خواہش ہوگی کہ کسی کو خواہ مخواہ پھانسی پر لٹکا نہ دیا جائے بلکہ میں چاہتا ہوں کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ یہاں پر گواہیوں پر تدریج کا جو اصول لاگو ہوتا ہے‘ اس کی طرف آتا ہوں‘ اس ضمن میں انسائیکلو برٹانیکا کے صفحہ ۷۴ پر حوالہ دوں گا۔ عیسائی اپنے عقیدے کے مطابق توہین رسالت کی یوں تعریف کرتے ہیں (انہوں نے تعریف دہرائی) پھر بلیک لاء ڈکشنری کا حوالہ دیا۔ اس کے بعد گویا ہوئے: ”دیکھنا یہ ہے کہ اس کیس کے پیچھے اصل قوتِ عاملہ کیا ہے۔“ انہوں نے وہ الفاظ دہرانا گوارا نہیں کیے بلکہ صرف یہی کہا کہ یہ توہین رسالت کے الفاظ تھے۔ عدالت: ہمارا نہیں خیال کہ اس پر مزید کچھ کہنے کی کسر باقی ہے۔ آپ گواہوں کے

متعلق بات کریں۔ اسماعیل قریشی: نہیں نہیں سکتے۔ عدالت: کیا انہوں اسماعیل قریشی: جی ہاں عدالت: ان کا بیان اسماعیل قریشی: (بیان اس کو نہیں دہرا سکتے۔ عدالت: لیکن اس آئمہ کرام‘ نبی پاک‘ بزرگان اسماعیل قریشی: آپ تعریف کی ہے۔ عدالت: لیکن اس فضل حق کو ایک سال قید معقولیت متاثر ہوتی ہے گستاخی کی بھی تھی تو گواہ نوٹ کر لیا ہے۔ اسماعیل قریشی: وہ اہم دستاویز ہے اور متعلق لیں پھر آپ ایف آئی آ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور آمیز الفاظ منسلک کئے دیوار پر بھی کچھ لکھا گیا۔ عدالت: دیگر اسماعیل قریشی: اسی اثناء میں صاحب پوری تحریر پڑھ کھڑے ہو کر روسٹرم

صفحہ 123

متعلق بات کریں۔

اسماعیل قریشی: نہیں جناب میں نے گواہوں کے متعلق بھی کہا ہے کہ وہ اس کو دہرا نہیں سکتے۔

عدالت: کیا انہوں نے واقعی یہی کہا ہے؟

اسماعیل قریشی: جی ہاں۔

عدالت: ان کا بیان پڑھئے۔

اسماعیل قریشی: (بیان پڑھتے ہیں) وہ کہتا ہے کہ وہ تقدس کے اصول کے پیش نظر اس کو نہیں دہرا سکتے۔

عدالت: لیکن اس کو یہ تو واضح کرنا چاہیے تھا کہ کس کی تقدیس۔ کیونکہ تقدیس تو آئمہ کرام‘ نبی پاک‘ بزرگان دین‘ مسجد‘ مندر اور کلیسا کی بھی ہوتی ہے۔

اسماعیل قریشی: آپ آرٹیکل ۱۹ پر آئیں۔ شہادت ایکٹ کے‘ جس میں تقدس کی تعریف کی ہے۔

عدالت: لیکن اسماعیل قریشی جو مواد گواہی کے طور پر پیش کیا گیا ہے‘ وہ مولوی فضل حق کو ایک سال قبل ملا تھا۔ اس کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے‘ اس لیے اس کی معقولیت متاثر ہوتی ہے لیکن یہ بات بہرحال کھٹکتی ہے کہ انہوں نے نبی کریم کی شان میں گستاخی کی بھی تھی تو گواہوں کے بیانات میں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ آپ آگے چلیں ہم نے نوٹ کر لیا ہے۔

اسماعیل قریشی: وہ اہم دستاویز جو آپ نے پبلک بکس میں سے نکلوا دی تھی‘ وہ بہت اہم دستاویز ہے اور متعلقہ حقائق کا اس پر بڑی حد تک انحصار ہے۔ آپ اس کو ملاحظہ کر لیں پھر آپ ایف آئی آر کو دیکھیں اور پھر اس کو ملاحظہ کریں اس میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے اسمائے مبارک کے ساتھ توہین آمیز الفاظ منسلک کئے گئے ہیں۔ کیا اس کو ہم اس صورت میں نظر انداز کر سکتے تھے جبکہ دیوار پر بھی کچھ لکھا گیا۔ مسجد کی دیوار یا دیگر جگہوں پر اسی قسم کے الفاظ لکھے گئے۔

عدالت: دیگر جگہوں سے آپ کی کیا مراد ہے۔ دیگر جگہیں تو کئی ہو سکتی ہیں؟

اسماعیل قریشی: یہ تو آپ نے فیصلہ کرنا ہے‘ اس کا مطالعہ کر کے۔

اسی اثناء میں میاں صادق ایڈووکیٹ مداخلت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قریشی صاحب پوری تحریر پڑھیے۔ جج حضرات انہیں ٹوکتے ہیں تو میاں صادق اپنی نشست سے کھڑے ہو کر روسٹرم پر آجاتے ہیں اور خود پڑھتے ہیں۔

صفحہ 124

میاں صادق: (ایف آئی آر کی عبارت پڑھتے ہیں) ”وہی الفاظ چٹ پر لکھے ہوئے تھے‘ وہی دیوار پر لکھے پائے گئے۔ اسی لیے انہوں نے فوراً مٹا دیے۔“ جناب دراصل یہی فقرہ پورے مقدمے کی بنیاد ہے۔

عدالت نے اس نکتے پر غور کے لیے تمام وکلاء کو روسٹرم پر بلا لیا اور وکلا نے باہمی مشورے اور عدالت کی معاونت شروع کر دی۔ سب لوگوں نے تحریر کا معائنہ کرنا شروع کیا۔

عدالت: ایڈووکیٹ جنرل صاحب آپ آگے کیوں نہیں آ رہے۔ اس کا معائنہ کریں‘ یہ تحریر وہ ہے جو تھانے میں لکھی گئی۔ پھر اس پر مدعی نے دستخط کیے--------درخواست کسی اور کی ہے۔ دستخط بعد میں کیے گئے۔

میاں صادق: جناب والا! اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس درخواست کے ہر کومہ‘ فل سٹاپ کو تسلیم کرتا ہے۔

عدالت: یہ پولیس کی روایتی تحریر ہے۔ آپ اس کے الفاظ پر غور کریں۔ اب ادھر آ جائیں‘ اس کاغذ پر فحش الفاظ کا نمونہ تحریر دیکھیں۔ یہ دستخطوں والی لکھائی سے مل رہی ہے۔ یہ تو اسی آدمی کی لکھی لگتی ہے جس نے درخواست لکھی۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ یہ درخواست کسی اور نے لکھی اور مولوی فضل حق صاحب نے اس پر دستخط کر دیے۔

میاں صادق: جو اسرار اب تک اس پورے مقدمے کا احاطہ کیے ہوئے ہے‘ وہ یہ کہ چٹوں کا مضمون اور الفاظ ہیں اور ان کے بارے میں طے ہوتا ہے کہ وہ کس نے لکھی ہے۔

عدالت: یہ بنیادی دستاویز ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حافظ نے خود لکھی ہے یا کسی اور سے لکھوائی گئی ہے۔

میاں صادق: یہ مولوی فضل حق کی تحریر نہیں لگتی۔ دستخط اور تحریر میں واضح فرق نظر آتا ہے۔

عدالت: اس نے خود اعتراف کیا ہے کہ درخواست اور دستخطوں کی تحریر اس کی اپنی ہے۔

میاں صادق: وہ یہاں پر موجود ہے‘ اسے بلا کر پوچھ لیتے ہیں (یہ کہہ کر میاں صادق صاحب نے مولوی فضل حق کو آگے بلایا اور پوچھا۔) کیوں مولوی صاحب‘ کیا یہ آپ کی تحریر ہے؟

صفحہ 125

مولوی فضل حق: جی ہاں یہ تحریر اور دستخط دونوں میرے اپنے ہیں۔

عدالت: (انتہائی غصے سے) مولوی صاحب آپ کو کس نے بلایا ہے، آپ چلیں اپنی جگہ پر بیٹھیں، جب آپ کی ضرورت ہوگی تو آپ کو بلا لیں گے۔ دراصل جیسا تھانے میں معمول ہوتا ہے، یہ درخواست بھی ویسے لکھی گئی ہے۔

میاں صادق: لیکن جناب صرف دستخط کے دو الفاظ سے کسی کی تحریر کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

عدالت: آپ سے ہم نے اس لیے پوچھا تھا کیونکہ آپ ریونیو کے بہت اچھے وکیل ہیں، اس لیے آپ تحریر کے ہم سے زیادہ ماہر ہیں اور بات کو بہتر انداز سے سمجھ سکتے ہیں۔

میاں صادق: پھر ان نکات پر جاتے ہیں جن سے ان کا ہلکا سا اختلاف ظاہر ہوتا ہے۔ آپ موٹے موٹے حقائق پر بھی تو نظر کریں۔ (یہ کہہ کر وہ اپنی جگہ تشریف لے گئے)

اسماعیل قریشی: آپ کے پاس تحریر کے دو نمونے آچکے ہیں۔ بہتر تو یہ ہے کہ آپ ماہر تحریر کو بھجوا دیں اگر ایسا نہیں تو آپ اس کو خود بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ حتمی فیصلہ تو آپ ہی کو کرنا ہے۔

عدالت: قریشی صاحب! اس کا بیان دیکھیں کہتا ہے کہ مجھ پر بڑا دباؤ ہے اور میں مقدمے کو پرسو نہیں کرنا چاہتا۔

اسماعیل قریشی: لیکن اس کے بعد وہ ایک سوال کے جواب میں تسلیم کرتا ہے کہ یہ درخواست اس کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ وہ واقعہ سچا تھا، وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ واقعہ کب کب ہوا۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ صفائی کی طرف سے اس پر کوئی جرح نہیں کی گئی اور نہ ہی اس کے بارے میں ادھر سے کچھ بھی کہا گیا ہے۔

عدالت: ہاں اب اصل سوال کی طرف آئیں۔ یہ سوال باجوہ صاحب گول کر گئے تھے۔ وہ یہ کہ گواہوں میں اختلاف ہے کہ نہیں۔ اگر ان کے درمیان اختلاف ہے تو پھر کس گواہ پر یقین کیا جائے گا۔ کون صحیح اور کون سچا ہے؟

اسماعیل قریشی: یہاں پر دیکھنا یہ ہے کہ وہ گواہ کس مشاہدے پر انحصار کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے پھر اس کا بیان اپنے ساتھی سے تھوڑا سا اختلاف کر جاتا ہے تو یہ انسانی مشاہدے کی بات ہے اس میں اس کو اتنا باریک نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ واقعہ بہرحال ہوا ہے اور تینوں لوگ اس میں ملوث تھے۔

عدالت: اگر کوئی اختلاف سامنے آئے تو دیکھا جائے گا کہ وہ ملزم کی حمایت میں جاتا ہے یا گواہ کی حمایت میں۔

صفحہ 126

اسماعیل قریشی: بظاہر تو ان کی گواہی استغاثہ کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ بہرحال اس ضمن میں فیصلہ آپ کو کرنا ہے اور وہی ہوگا جو آپ چاہیں گے۔

عدالت: اگر کوئی گواہ اپنے بیان میں یہ بات کہہ دیتا کہ یہ الفاظ توہین رسالت پر مشتمل تھے تو ہمیں اس ضمن میں کوئی مشکل قطعاً پیش نہ آتی۔ آپ بھی اور رشید مرتضیٰ قریشی صاحب اس ضمن میں کوئی مفید معاونت نہیں دے سکے۔

اسماعیل قریشی: دوسرا جو گواہی کے معیار کی بات کی گئی ہے تو (Dilectie Corpus) کے مطابق کسی براہ راست شہادت کی ضرورت نہیں ہے۔ دیکھا جائے کہ حالات کیا تھے جن میں یہ الزام لگایا گیا کہ وہ آدمی جس نے سنا اور اس پر اس کا ردعمل کیا تھا۔

عدالت: تب میرے اندر کا جج کہے گا کہ حالات دیکھو ان حالات کے مطابق واقعہ کہاں کہاں ہوا ہے تو اسی صورت میں آپ کیا کہیں گے۔ یہ شہادت کے معیار کی بات ہے مقدار کی نہیں۔

اسماعیل قریشی: پھر آپ حالاتی شہادت پر انحصار کر لیں اور دستیاب شدہ دستاویزی گواہی کو حالات کے ساتھ منسلک کر کے دیکھ لیں۔ آپ نے کسی ایک کی گواہی کی بات نہیں کی۔ آپ نے تو سب کی گواہی کو ناقابل اعتبار قرار دیا ہے۔

عدالت: آپ کا خیال ہے کہ واقعاتی شہادت ہوتی ہے، اس پر انحصار کیا جانا چاہیے۔

اسماعیل قریشی: جی ہاں، میرا خیال ہے کہ شہادت ایکٹ میں دیے گئے شہادت کے الفاظ کے معانی پر پوری سپرٹ سے عمل ہونا چاہیے۔

عدالت: لیکن آپ اس کو ملزموں کے ساتھ کیسے منسلک کریں گے کہ وہ بہت ہی قابل اعتراض الفاظ لکھ رہے تھے۔ یہ الفاظ گواہی کے لیے کافی نہیں کیونکہ انہیں کہنا چاہیے تھا کہ یہ الفاظ رسول کریم کے خلاف تھے۔

اسماعیل قریشی: آپ انسانی ذہن کے حوالے سے بات کریں جب آپ ان چیزوں کو برداشت نہیں کر سکے تو پھر ان سے کیسے توقع رکھتے ہیں کہ برداشت کریں؟

جسٹس خورشید: میں اس لیے نہیں کہہ رہا بلکہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اہانت کے متعلق الفاظ کو دیکھنا ہی اصل میں ان کا کام تھا۔ اب دیکھیں، ہم ان کی گواہی کو کس حوالے سے دیکھیں۔ ان کے مقدمے کو کس کھاتے میں ڈالیں۔

اسماعیل قریشی: آپ کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں، آپ کے پاس دستاویزی

صفحہ 127

شہادت موجود ہے۔ اگر کوئی بات صحابہ کرام اور آئمہ کے بارے میں ہو گی تو وہ ۲۹۸ (اے) کے تحت آئے گی۔

عدالت: آپ کہتے ہیں کہ سزا دینے کے لیے شہادت کافی ہے؟

اسماعیل قریشی: جی ہاں!

عدالت: آپ ہمیں قائل کریں کہ یہ گواہی اتنی واضح، صاف اور مضبوط ہے کہ اس جرم کی سزا صرف اور صرف موت ہی ہے۔ وہ مواد کہاں ہے جس سے ہم جرم کا تعلق ملزم کے ساتھ ثابت کریں۔ ان کو کس طرح ۲۹۵(سی) اور کس طرح ۲۹۸(اے) میں لائیں گے۔ گواہوں نے جو بیانات دیے ہیں ان کو جرم کے ساتھ منسلک کرنا ضروری ہے۔

اسماعیل قریشی: جب تک آپ اس کو خود ملاحظہ نہیں کریں گے، بات واضح نہیں ہوگی۔

عدالت: اگر کوئی عدالت میں آ کر سچ نہیں بولے گا تو عدالت کیا کرے گی؟

اسماعیل قریشی: ان آدمیوں کے بلاجواز ملوث کرنے کی وجہ مجھے سمجھ نہیں آتی۔ ان کی آپس میں کوئی دشمنی نہیں، کوئی جائیداد کا جھگڑا نہیں، نہ ہی کوئی خاندانی دشمنی ہے۔ اس کے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے آپ پہلے ہی بھیڑیے اور بکری کے بچے کی مثال دے چکے ہیں کہ پانی اوپر سے آ رہا تھا۔

عدالت: بہت بہت شکریہ قریشی صاحب۔ آئیے جی خواجہ سلطان صاحب۔

اتنی دیر میں میاں صادق صاحب آگے آتے ہیں اور کہتے ہیں۔

میاں صادق: اگر آپ نے انصاف کے تقاضے پورے کرنا ہیں تو آپ نے ان چیزوں کا تعلق ملزمان سے ثابت کرنا ہے اور یہی اصل کام ہے، آپ یہ کام خود نہ کریں۔ حالات کا تجزیہ کریں اور پھر تعلق نکالیں۔

عدالت: یہی رفیق باجوہ صاحب کی رائے تھی۔

اتنے میں رشید مرتضیٰ قریشی صاحب آتے ہیں۔

رشید مرتضیٰ قریشی: جناب میں نے بعض چیزیں اپنی درخواست میں لکھ کر دی ہیں اس لیے آپ اس مقدمے کی سماعت کو اتوار تک لے جائیں۔

عدالت: نہیں جی، ہم نے آج اس مقدمے کو ختم کرنا ہے اور یہاں موجود کوئی ہمیں یہ حکم نہیں دے سکتا کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔

رشید مرتضیٰ قریشی: کیا آپ نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ آپ مجھے سنیں گے؟

عدالت: خواجہ صاحب آپ شروع کریں۔

صفحہ 128

خواجہ سلطان: رشید مرتضیٰ قریشی بیٹھ جائیں تو عرض کروں گا۔

رشید مرتضیٰ قریشی: جناب یہ کیس آپ آج ختم نہیں کر سکتے، آپ نے فضول ہی میں اتنے آدمیوں کو سنا ہے۔ آپ ہمیں بھی اپنی گزارشات عرض کرنے کی اجازت دیں۔ اس کیس میں بے نظیر بھٹو نے براہ راست مداخلت کی ہے۔ میں نے توہین عدالت کی درخواست دی تھی، وہ ابھی زیر سماعت ہے۔ آپ نے مجھے سننے کا وعدہ کیا، اب آپ اس سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، کیا یہ عدالت کا رویہ درست ہے۔ آپ جلدی میں فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، آپ ایسے نہ کریں، اگر ایسا کیا تو یہ بے نظیر کا فیصلہ معلوم ہوگا۔

عدالت: قریشی صاحب آپ تشریف رکھیں۔

رشید مرتضیٰ قریشی: (بعض سخت جملے)

عدالت: آپ کے اوپر پہلی توہین عدالت کب لگی تھی؟

رشید مرتضیٰ قریشی: میرے اوپر پہلی توہین عدالت ۱۹۸۳ء میں لگی تھی۔

عدالت: آپ چونکہ بڑے قابل وکیل ہیں، اس لیے آپ کو سزا کم دی گئی تھی۔

رشید مرتضیٰ قریشی: میں سزا سے نہیں ڈرتا۔ جو مغرب میں تعلیم یافتہ اس لیڈی (بے نظیر بھٹو) کے دوہرے چہرے سے پریشان ہوں۔ مغرب میں کچھ کہتی ہے۔ ادھر میرے پاکستان کے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے کچھ اور کہتی ہے۔ میرے ملک کا چہرہ بڑا خوبصورت ہے، خدا کے لیے اس خاتون کو اس پر کالک ملنے کی اجازت نہ دیں اگر آپ نے خدا اور اسکے رسولؐ کے احکامات کے خلاف فیصلہ کر دیا تو ہم ذلیل و خوار ہو جائیں گے۔

عدالت: قریشی صاحب آپ تشریف رکھیں۔

رشید مرتضیٰ قریشی: تو کیا آپ نے میری بات مان لی ہے، کیا آپ مجھے بات کرنے کا موقع دیں گے؟

عدالت: قریشی صاحب، آپ تشریف رکھئے۔

رشید مرتضیٰ قریشی: میری ۳۹ سال کی پریکٹس میں ایسا کبھی نہیں ہوا جیسا آپ لوگ کر رہے ہیں۔ (یہ کہہ کر انہوں نے اپنا گاؤن اتار کر کرسی پر دے مارا اور کہنے لگے) میں اس پر احتجاجاً اس عدالت سے واک آؤٹ کرتا ہوں۔

یہ کہہ کر وہ کمرہ عدالت سے باہر نکل گئے اور ان کے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود کئی باریش افراد بھی باہر نکل گئے اور حامیوں نے احاطہ عدالت میں نعرہ بازی شروع کر دی۔

جج نے ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا کر آہستگی سے کہا۔ ”ذرا ان لوگوں کا انتظام کریں۔“

صفحہ 129

خواجہ سلطان: مجھے اس عدالت میں ایک فوجداری وکیل کے طور پر پیش ہونے کا اتفاق ہوتا رہا ہے۔ مجھے یہ مقدمہ دیکھ کر انتہائی دکھ ہوا کہ اس مقدمے میں پولیس، پبلک پراسیکیوٹر، وکیل صفائی اور استغاثہ، تمام لوگوں نے اپنا فرض پورا نہیں کیا۔ یہ اس لحاظ سے اپنی نوعیت کا بہترین کیس ہے کہ اس میں گواہی کا صرف ایک فقرہ ہے اور جو شخصیت بھی اس فقرے میں دیے گئے ریمارکس کا نشانہ بنی ہو لیکن یہ فقرہ عدالتی کارروائی سے بہت زیادہ متعلقہ ہے۔ یہاں پر الزام دو حصوں پر مشتمل ہے ایک تو وہ حصہ جو دیوار پر لکھا ہوا تھا جو مٹایا گیا اور جو ہمارے پاس نہیں ہے۔ دوسرا جو چٹوں پر لکھا ہوا ہے اور مجھے کہنے دیجئے کہ جو الزام لگایا گیا، وہ بالکل بے بنیاد ہے۔ ان چٹوں پر حضرت عائشہؓ اور حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے متعلق الفاظ تحریر ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کے متعلق کوئی مواد ریکارڈ پر موجود ہے اور کیا وہ مواد موجودہ مقدمے میں موثر بھی ہے کہ نہیں۔ جہاں تک چٹوں کی گواہی کا تعلق ہے تو اس کا قانونی پہلو دیکھیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ چٹوں پر کس نے لکھا ہے۔ کس نے ان چٹوں کو مسجد میں پھینکا۔ پولیس نے اس مقدمے کا کوئی ریکارڈ نہیں لیا۔ اس نے تحقیق نہیں کی، اس لیے وہ ثابت نہیں کر سکے کہ ملزم نے سزا کہاں حاصل کی، اس نے کہاں لکھنا سیکھا۔ یہ تحقیقاتی آفیسر کا فرض تھا کہ وہ دیکھتا کہ جن کو ملوث کیا گیا ہے وہ واقعی ملزمان تھے بھی کہ نہیں۔ عام طور پر مقدمات کے اندراج میں تاخیر نہیں ہوا کرتی۔ میرے علم میں نہیں کہ سکول کا سرٹیفکیٹ گواہی میں شامل ہے بھی کہ نہیں۔ اگر یہ سرٹیفکیٹ شامل ہے پھر بھی یہ کہاں ثابت کرتا ہے کہ جناب ملزم لکھ رہا تھا یا اس نے لکھا۔

عدالت : آپ نے صرف ان نکات پر معاونت کرنی ہے جو ہم نے بہت پہلے آپ کے سامنے رکھے تھے۔

خواجہ سلطان: جہاں تک ان چٹوں کا تعلق ہے تو ایک سال تک ان کو سنبھال کر رکھا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اگر وہ چٹیں مجھے ملی ہوتیں تو کیا میں ان کو یوں اپنے میز کے دراز میں سنبھال کر رکھ سکتا۔ عجیب بات ہے کہ ایک سال تک اس تحریر کو تو برداشت کرتا رہا لیکن پندرہ منٹ تک مسجد کی دیوار پر برداشت نہ کر سکا اسے فوراً مٹا دیا۔ مدعی اور گواہوں کا رویہ اس سلسلے میں عجیب و غریب ہے۔ ایسا قبیح جرم ہوا ہے اور مدعی آ کر عدالت میں کہتا ہے کہ وہ اس کی پیروی نہیں کرے گا۔ دیکھا جانا چاہیے کہ ایسے آدمی کی گواہی پر سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ میں تو اس آدمی کو فوراً مار دوں گا اور اپنی جان

صفحہ 130

کی پروا نہیں کروں گا لیکن یہ رویہ اس آدمی نے جو اس کیس میں مدعی ہے، نہیں دکھایا۔ ایک ایسے قانون کی ضرورت ہے کہ ایف آئی آر پر انحصار نہ کیا جائے اور یہ بھی دیکھا جائے کہ اس نے عدالت کے سامنے حقائق نہیں بتائے۔ لوگ اس کے بارے میں مختلف سوال اٹھا رہے ہیں کیا پبلک پراسیکیوٹر کا فرض نہیں تھا کہ ہر حقیقت پر سوال کر کے روشنی ڈلواتا۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ایک آدمی نے جھوٹ بولا اور توہین رسالت کے معاملے میں ہم جھوٹ بول کر خدا کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں۔ مجھے تو شک ہے کہ اس ملک کو واقعی کچھ ہو نہ جائے۔

عدالت: آپ حقائق کو علیحدہ علیحدہ کریں ناں!

خواجہ سلطان: ہم قتل کے مقدمات میں سپریم کورٹ تک جاتے رہے ہیں۔ وہاں پر آج تک کسی نے نہیں کہا کہ آپ ایف آئی آر کی بناء پر ایسا نہیں کر سکتے۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ ایک ان پڑھ آدمی کہتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں جو ایف آئی آر ہے، وہ اس نے خود تحریر کی ہے۔ اس درخواست کی جس کی تحریر بہت خوبصورت ہے۔

پھر آخری اور سب سے اہم بات یہ کہ محمد کے اوپر ”^“ لکھا ہوا ہے اور تحریر بھی ایک خوبصورت تحریر ہے۔ ہمیں اس معاملے میں بڑا ایمان دار ہو کر سوچنا پڑے گا۔ بہت زیادہ محتاط ہونا پڑے گا۔ اور جو قانون آئین کی کتابوں میں لکھا ہے، اس پر عمل درآمد کرنا پڑے گا۔ یہ اپنی نوعیت کا واحد کیس ہے، ہم بڑے خطرناک مرحلے پر ہیں۔ یہ ایک ڈاکٹر کے فعل جیسا فعل ہے جو اپنا فرض ادا کرتے ہوئے بہت سی ناپسندیدہ اور ناخوشگوار چیزوں کو برداشت کرتا ہے۔ (پھر سب لوگ توہین آمیز کلمات پڑھتے ہیں۔)

عدالت: قریشی صاحب، حنا، میاں صادق صاحب، میاں عبدالستار نجم صاحب، سب لوگ آگے آئیں۔ خواجہ صاحب کہتے ہیں کہ ایک آدمی جو تیسری جماعت تک ہی سکول میں پڑھا ہو اتنی خوبصورت لکھائی کیسے لکھ سکتا ہے۔

اسماعیل قریشی: کچھ کہا نہیں جا سکتا جناب والا!

جج حضرات بھی آپس میں سرگوشیوں میں تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

خواجہ سلطان: بہت بدقسمتی کی بات ہے۔

عدالت: بہرحال آپ لوگوں کو یہ گواہی کی دستاویز کے طور پر دیکھنا پڑے گا۔ یہ دیکھیں کہ محمد کے اوپر ”^“ لکھا ہوا ہے۔

اسماعیل قریشی: لیکن جناب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ملزم نے ایسا اس لیے کیا ہو تاکہ

صفحہ 131

وہ خود مسلمان ہونے کا تاثر دینا چاہتا ہے اور یہ حرکت اس نے اسی لیے کی ہو۔

سارے لوگ اپنے جگہ بیٹھ گئے۔

خواجہ سلطان : یہاں پر ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کی روایت سی پڑ گئی ہے۔ بعض لوگوں کو دوسرے فرقے کے لوگ کافر قرار دے دیتے ہیں اور تو اور بعض افراد کو اس لیے بھی کافر قرار دے دیا جاتا ہے کہ وہ حضرت محمدؐ کے آخری نبی ہونے پر یقین نہیں رکھتے۔

اسماعیل قریشی : میں احتجاج کرتا ہوں جناب والا! یہ صاحب آئین میں طے شدہ باتوں پر بات کر رہے ہیں۔ جب قادیانیوں کو آئین میں کافر قرار دے دیا گیا ہے تو یہاں اس پر دوبارہ بات کرنے کا کیا تک ہے؟

خواجہ سلطان : میں نے کہا ہے کہ وہ کہتے ہیں۔ سیاسی کہانیوں کو ایک طرف رکھ دیں۔ ایک گواہ نے کہا کہ ایک شخص مسجد کی دیوار پر لکھ رہا تھا جبکہ دوسرے گواہ کا کہنا ہے کہ تینوں لکھ رہے تھے یہ بظاہر چھوٹا سا اختلاف ہے لیکن لکھے گئے الفاظ پانچ یا چھ تھے۔ تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ دو الفاظ ایک آدمی نے دو دوسرے اور دو تیسرے نے لکھے ہوں۔ یہ عدم شہادت کا مقدمہ ہے۔ ہمیں بڑا محتاط ہو کر اس کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔

گواہوں نے بھی ان الفاظ کو نہیں دہرایا، وہ اتنا کہہ سکتے تھے کہ صرف گالیاں دی تھیں۔ وہ کوئی اشارہ تو کریں کہ کیا کہا گیا۔ وہ یہ ہی کہہ دیں کہ نبی کو گالی دی گئی لیکن اگر دیوار سے لکھا مٹا دیا گیا تو ان کو بتانا پڑے گا کہ کیا لکھا تھا اور اسلام کا یہ اصول بھی مدنظر رکھیں کہ بڑی سزا کے لیے بہرحال بڑی گواہی کی ضرورت ہوتی ہے اور جن کی توہین کے بارے میں یہ مقدمہ ہے ان کا اپنا رویہ دیکھیں۔ ان پر ایک عورت روزانہ کوڑا پھینکا کرتی تھی۔ ایک دن نہیں پھینکی تو اس کے گھر جاتے ہیں۔ بیمار پا کر اس کی تیمارداری کرتے ہیں۔ یہ تھی توہین رسالتؐ کی سزا۔ انہوں نے تو دعا میں کہا تھا کہ ”اے خدا! یہ مجھے جانتے ہی نہیں تو ان کو معاف کر دے۔“ یہ مذہب ایسا نہیں، اس لیے اس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ پہلے پورے حالات کا تجزیہ کریں اگر وہ ملزم ثابت ہو جائیں تو پھر ان کو پھانسی دے دیں۔

عدالت : جی! میاں ستار نجم صاحب آپ آگے آئیں۔

ایڈووکیٹ جنرل: گواہ کہتے ہیں کہ وہ تقدیس (Sanctity) کے پیش نظر اس کو دہرا نہیں سکتا۔ تقدیس کی تعریف مختلف ہے۔ تقدیس کا مطلب دیکھیں۔ یہ صرف پیغمبر کی ہی نہیں ہوتی بلکہ یہ کسی بھی عالم دین کی بھی ہو سکتی ہے، آئمہ کرام کی بھی ہو سکتی ہے۔ کچھ

صفحہ 132

لوگ ان کا احترام نہیں کرتے لیکن اکثریت اب بھی ان کا احترام کرتی ہے۔ کسی کے قلبی اطمینان کے لیے معصوم لوگوں کو نہیں لٹکا دینا چاہیے۔ ہمیں اسلام نے سکھایا ہے کہ ملزم کو صفائی کا مکمل موقع فراہم کیا جائے۔ فیصلے آزادانہ طور پر کریں۔ یہ لوگ جو باہر نعرے لگا رہے ہیں‘ دنیا بھر کے پریس کو غلط تاثر دے رہے ہیں۔ وہ ہمارے مذہب کا صحیح تصور پیش نہیں کر رہے۔

جس نے اس تحریر کو لکھا ہے وہ بہت تعلیم یافتہ آدمی ہے۔ جس کی تحریر بہت خوبصورت ہے۔ یہاں پولیس آفیسر یا دوسرے لوگوں نے معاشرے کے مختلف طبقوں کے درمیان اتنے شدید اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان داؤ پر لگتا نظر آتا ہے۔

عدالت : رشید مرتضیٰ قریشی نے کل جو کچھ کہا اور جو کچھ انہوں نے آج کہا‘ وہ واضح طور پر شدید قسم کی توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ ہم اس نبی کی سنت پر عمل کریں گے جس کے ہم امتی ہیں اور جو رحمتہ اللعالمین ہے۔ اس لیے ہم ان کو معاف کرتے ہیں۔ ان کے خلاف ہم کوئی ایکشن نہیں لے رہے لیکن یہ پریس کی موجودگی میں کہنے کا مقصد ہے کہ یہ بات ان تک پہنچ جائے۔ ورنہ لوگ کہیں گے کہ عدالت نے کچھ نوٹس نہیں لیا۔

یہ مقدمہ دراصل ملک کے کئی طبقوں کے درمیان ایک ٹیسٹ کیس تھا۔ ہمیں قومی اور بین الاقوامی پریس کو بتانا ہے کہ ہم ایک جمہوری ملک ہیں۔ ہمارے ہاں جمہوریت کی روایات موجود ہیں۔ ہمارے ہاں شہری حقوق ہیں‘ عدلیہ آزاد ہے اور آئین کے مطابق تمام شہری برابر ہیں۔ اگر ایک شہری کے خلاف مقدمہ چلایا جائے تو اس کو اس قدر نہیں اچھالا جانا چاہیے۔ یہ ہمارے معاشرے کا اندرونی معاملہ تھا اور اس کو اگر ہمیں خود حل کرنے دیا جاتا تو بہتر تھا۔ ہم ۴ بجے دوبارہ بیٹھیں گے فیصلہ سنانے کے لیے۔

(ہفت روزہ ”زندگی“ لاہور‘ ۱۷ تا ۲۳ مارچ ۹۵ء)

توہین رسالت کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ یہ بہت زیادہ اخبارات میں رپورٹ ہوا اور میرے خیال میں اس کا کوئی پہلو تشنہ نہیں رہ گیا لیکن بہت سے حقائق ناظرین کے سامنے نہیں آئے۔ وہ درج ذیل ہیں۔

صفحہ 133

تھی۔

No boy cott

But boy at court

توہین رسالتؐ کیس، لاہور ہائی کورٹ کے باہر

۱۵ فروری ۹۵ء

مسٹر جسٹس عارف اقبال بھٹی (ایڈہاک جج) اور مسٹر جسٹس چوہدری خورشید احمد (ایڈہاک جج) کی عدالت میں چلنے والے توہین رسالتؐ کیس میں عام لوگوں اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ آج گیارہ بجے کا وقت مقرر تھا مگر دس بجے کمرہ

صفحہ 134

عدالت لوگوں سے پوری طرح بھر چکا تھا اور کمرے کے باہر سینکڑوں کی تعداد میں لوگ جمع تھے، اس مقدمے پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے اور پولیس کی بھاری نفری چاروں طرف تعینات تھی۔ مختلف سفارتی مشنوں کے نمائندے اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے رپورٹر بھی تمام وقت کمرہ عدالت میں موجود رہے۔ عدالت کے باہر لوگ عدالت، ججوں، وکلاء، ملزموں وغیرہ کے بارے میں گفتگو کرتے رہے۔ بالخصوص ملزمان کو سیشن کورٹ سے ملنے والی سزائے موت پر وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی طرف سے افسوس کا اظہار کئے جانے پر لوگوں نے بے حد غم و غصہ کا اظہار کیا۔ اس بیان کے خلاف میاں مارکیٹ اردو بازار کے محمد حسین چشتی نے ایک پمفلٹ بھی تقسیم کیا۔ جس میں کہا گیا کہ نبی پاکؐ کے نام پر مر کٹنے کا جذبہ رکھنے والے پاکستانیو اور غازی علم الدین شہید کے شہر کے لوگوں میں اعلان کر دو کہ ہم توہین رسالتؐ کے قانون میں ترمیم نہیں ہونے دیں گے۔ پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں ہمارے پیغمبرؐ کی شان میں گستاخی پر ہماری حکومت ملزمان کی حمایت کر رہی ہے جو انتہائی افسوسناک امر ہے۔

۱۶ فروری ۹۵ء

جمعرات کو لاہور ہائیکورٹ میں توہین رسالتؐ کیس کی سماعت کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری مجسٹریٹ کی قیادت میں موجود تھی۔ کمرہ عدالت میں کسی عام شخص کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور اخبار نویسوں کے کارڈ چیک کئے گئے۔ کمرہ عدالت کے باہر مذہبی کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ کیس کی سماعت پر ان افراد نے نعرے بازی شروع کر دی جو سماعت کے اختتام تک جاری رہی۔ یہ افراد توہین رسالتؐ کے ملزموں کو پھانسی دو، نعرہ تکبیر اللہ اکبر، نعرہ رسالت یا رسول اللہ، غلام ہیں غلام ہیں، رسول کے غلام ہیں، غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے، گستاخ رسولؐ کو چھوڑنے والے خود گستاخ رسول ہیں، جیالے جج نامنظور، جعلی جج نامنظور، گستاخ رسولؐ ہائے ہائے، چیف جسٹس واپس جاؤ میاں محبوب کو واپس لاؤ، چیف جسٹس چیپ جسٹس، امریکی ٹاؤٹ جسٹس الیاس جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ افراد اللہ ہو کا ورد بھی کرتے رہے اور وقفہ وقفہ سے بعض افراد تقاریر بھی کرتے رہے۔ چند افراد نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ”توہین رسالتؐ کیس سننے والے ججوں کی تقرری نامنظور“ لکھا ہوا تھا۔ کمرہ عدالت میں سماعت کے دوران نعروں کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں تاہم ججوں نے کسی ردعمل کا اظہار نہ کیا اور سماعت جاری رکھی۔ سماعت ختم ہونے پر وکلاء اور خواتین کمرہ عدالت سے باہر نکلنے لگیں تو ہجوم پرجوش

صفحہ 135

ہو گیا۔ پولیس نے کمرہ عدالت کے باہر برآمدے کو گھیرے میں لے لیا۔ مشتعل افراد تیزی سے آتے ہوئے اس راستے پر کھڑے ہوگئے جہاں سے ملزموں کے وکلا نے گزرنا تھا۔ عاصمہ جہانگیر، بیگم ایلس فیض، حنا جیلانی، عابد حسن منٹو، آئی اے رحمان، ڈاکٹر مبشر حسن، طارق سی قیصر، مدیحہ گوہر (اداکارہ) آگے جانے لگے تو مشتعل افراد ان کی طرف دوڑے آئے اور عاصمہ جہانگیر کے خلاف نعرے بازی کی۔ چند افراد عاصمہ جہانگیر پر حملہ آور ہوئے مگر پولیس اہلکاروں نے عاصمہ اور دیگر وکلا کو گھیرے میں لے لیا اور انہیں بحفاظت دوبارہ کمرہ عدالت تک پہنچایا۔ اس موقع پر پولیس نے کمرہ عدالت کے باہر پہرہ بٹھا دیا اور کسی شخص کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔ مشتعل افراد نے ہائیکورٹ کے احاطہ میں عاصمہ جہانگیر کی نئی ٹیوٹا کار نمبر ۶۵۲۶ کراچی پر اینٹیں اور پتھر مارے جس سے ان کی گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے۔ بعد ازاں پولیس نے عاصمہ جہانگیر کو اپنی گاڑی میں بٹھایا اور ہائیکورٹ کے احاطہ سے باہر لے گئے۔ قبل ازیں عاصمہ جہانگیر نے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کیس میں قانون کا سہارا لے رہے ہیں جبکہ دوسرا فریق دھمکیوں اور بندوقوں سے لڑنا چاہتا ہے۔ استغاثہ کے وکیل اسماعیل قریشی نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کیس کو معمول کے مطابق لیا جاتا تو یہ شاید لوگوں میں اشتعال پیدا نہ کرتا مگر اس کیس سے غیر معمولی نوعیت کا سلوک کیا جا رہا ہے۔ جس کے باعث لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔

عدالت کی کارروائی ۲۰ فروری تک ملتوی ہوگئی۔

۲۰ فروری ۹۵ء

توہین رسالتؐ کے مقدمہ کی ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران مختلف مکاتب فکر کے علماء کارکنوں اور عوام نے چوک جی پی او پر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا، نعرے بازی کی دھرنے مارے اور تقریباً پانچ گھنٹے تک مال روڈ پر ٹریفک بلاک کئے رکھی جس سے پورے شہر کی ٹریفک معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ مظاہرین نے حکومت اور عدلیہ کے خلاف نعرے بازی اور ہاتھ اٹھا کر ناموس رسالتؐ پر جان نچھاور کرنے کا عہد کیا۔ انہوں نے مختلف پوسٹر اور بینر بھی اٹھا رکھے تھے، جن پر درج تھا کہ ”یا اللہ یا رسول ہم شرمندہ ہیں، تیرے گستاخ زندہ ہیں“ مظاہرین صبح نو بجے سے ہی ہائیکورٹ کے سامنے جی پی او چوک پر جمع ہونا شروع ہوگئے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی بھاری نفری ہائیکورٹ کے چاروں طرف تعینات تھی۔ مظاہرین کو ہائیکورٹ کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی جس پر مظاہرین نے جی پی او

صفحہ 136

چوک میں احتجاجی مظاہرہ شروع کر دیا اور مختلف علاقوں سے مختلف تنظیموں اور مدرسوں کے علما اور کارکن جلوسوں کی شکل میں مظاہرین میں شامل ہونا شروع ہوگئے۔ اس دوران رکن صوبائی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم اندر داخل ہونے لگے تو گیٹ پر پولیس اور علماء کی جھڑپ ہوگئی۔ مظاہرین کی اکثریت باریش تھی اور انہوں نے سروں پر ”عاشقان رسولؐ کی سفید پٹیاں (کفن) باندھ رکھی تھی۔ تقریباً ساڑھے دس بجے جی پی او چوک پر چاروں طرف کی ٹریفک بلاک کر دی گئی، تقریباً گیارہ بج کر دس منٹ پر مظاہرین نے جی پی او چوک کے عین درمیان دو رکعت نوافل نماز نجات ادا کی۔ امامت جماعت اہل سنت کے مرکزی قائد صاحبزادہ پیر محمد افضل قادری نے کی۔ انہوں نے اپنی دعا میں کہا کہ ”اے اللہ! پاکستان کو قادیانیوں اور عیسائیوں سے نجات دلا۔“ مظاہرین نے جی پی او چوک پر چاروں طرف رکاوٹیں کھڑی کر کے اور دھرنا مار کر ٹریفک بلاک کئے رکھی جس سے پورے شہر کی ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور ساڑھے بارہ بجے سکولوں میں چھٹی ہونے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک بالکل جام ہوگئی۔ مظاہرین چار گھنٹے تک ہائیکورٹ کے باہر موجود رہے۔ دھرنا مارے بیٹھے رہے۔ بعض مظاہرین سڑک پر لیٹ گئے۔ اس موقع پر مختلف مکاتب فکر کے علما نے خطاب کرتے ہوئے اس امر کا عہد کیا کہ ناموس رسالتؐ پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی اور اس کے لیے جان کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا جائے۔ مظاہرین نے ہاتھ اٹھا کر ناموس رسالتؐ پر جان نچھاور کرنے کا عہد کیا۔ ان مظاہرین میں لاہور کے مقامی مدرسوں اور مختلف تنظیموں کے رہنماؤں اور اراکین کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی بڑی تعداد میں مظاہرین نے شرکت کی تھی۔ وقفہ وقفہ سے بعض لوگ تقریریں کرتے اور مطالبہ کرتے رہے کہ توہین رسالتؐ کے مرتکب عیسائیوں کو پھانسی دی جائے۔ مظاہرین سے رکن صوبائی اسمبلی صاحب زادہ فضل کریم نے بھی خطاب کیا اور اعلان کیا کہ لوگ آج بھی جلوس کی صورت میں اکٹھے ہوں۔ مقررین نے کہا کہ گستاخ رسول کو معاف نہیں کیا جائے گا اور اب گستاخان رسول کے گھروں پر حملے کئے جائیں گے اور جو جج جانبداری کا مظاہرہ کریں گے، انہیں معاف نہیں کیا جائے گا۔ تقریباً ڈیڑھ بجے رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کے باہر آئے تو مظاہرین نے انہیں کندھوں پر اٹھا لیا، نعرہ تکبیر اللہ اکبر نعرہ رسالت یا رسول اللہ ”دیوانے ہیں دیوانے ہیں نبی کے دیوانے ہیں اور ”گستاخ رسول کو پھانسی دو“ کے نعرے لگائے۔ رشید مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے اس موقع پر خطاب کیا اور کہا کہ پاکستان کو تباہ کرنے والے اصل ملزم قادیانی ہیں۔ انہوں نے بے نظیر کو خبردار کرتے ہوئے

کہا کہ ان کے والد بھٹو کو بھی قا تھا اور اگر بے نظیر نے ہوش کے والا سلوک کریں گے۔ انہوں نے جلوس کی شکل میں حکومت وز خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ا ناظم اعلیٰ پیر افضل قادری کے اعلان کیا گیا کہ کل منگل کی صب نکالا جائے گا۔

۱۱ فروری ۹۵ء

آج لاہور ہائی کورٹ م تنظیموں کے افراد نے تین گھنٹے اس سے قبل انہوں نے صبح ح نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کا موت دینے کا مطالبہ کر رہے کی۔ جی پی او چوک پر پہنچ کر شاہراہ قائد اعظم کی ٹریفک جز نوافل ادا کئے اور دعا کی۔ س معطل رہی جس سے مال روڈ کے ساتھ مذاکرات کے بعد سامنے دھرنا دے کر بیٹھ گئ مطالبہ کرتے رہے کہ توہین وزیر اعظم، حکومت اور ججوں مرکزی ناظم اعلیٰ جم کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتب سیاست کے لیے نہیں۔ ا معاملات میں مداخلت کر رہ نے فیصلے پر تبصرہ کر کے

صفحہ 137

کہا کہ ان کے والد بھٹو کو بھی قادیانیوں نے ہی سزائے موت دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اگر بے نظیر نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو قادیانی بے نظیر کے ساتھ بھی ان کے باپ والا سلوک کریں گے۔ انہوں نے مظاہرین کو منتشر ہو جانے کا کہا جس پر مظاہرین ایک جلوس کی شکل میں حکومت، وزیر اعظم، صدر مملکت، وفاقی وزیر جے سالک اور ججوں کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے اولڈ کیمپس تک گئے جہاں پر جماعت اہل سنت کے مرکزی ناظم اعلیٰ پیر افضل قادری کے مختصر خطاب کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے۔ اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ کل منگل کی صبح داتا دربار سے چوک جی پی او تک مرکزی احتجاجی جلوس نکالا جائے گا۔

۲۱ فروری ۹۵ء

آج لاہور ہائی کورٹ میں توہین رسالت کیس کی سماعت کے دوران مختلف مذہبی تنظیموں کے افراد نے تین گھنٹے سے زائد ہائی کورٹ کے گیٹ کے سامنے دھرنا دیے رکھا۔ اس سے قبل انہوں نے صبح حضرت داتا گنج بخش کے دربار سے احتجاجی جلوس نکالا، مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور وہ توہین رسالت کے مجرموں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف بھی زبردست نعرہ بازی کی۔ جی پی او چوک پر پہنچ کر مظاہرین سڑک کے درمیان دھرنا دے کر بیٹھ گئے جس سے شاہراہ قائد اعظم کی ٹریفک جزوی طور پر رک گئی۔ اس موقع پر مظاہرین نے سڑک پر ہی نوافل ادا کئے اور دعا کی۔ سڑک کے درمیان دھرنا دینے سے قریباً پون گھنٹہ تک ٹریفک معطل رہی جس سے مال روڈ کی ملحقہ سڑکوں پر رش کے باعث ٹریفک پھنس گئی تاہم پولیس کے ساتھ مذاکرات کے بعد مظاہرین سڑک سے ہٹ گئے اور ہائی کورٹ کے گیٹ کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ تمام وقت مقررین مظاہرین سے خطاب کرتے رہے اور مطالبہ کرتے رہے کہ توہین رسالت کے مرتکب افراد کو پھانسی دی جائے۔ مظاہرین نے وزیر اعظم، حکومت اور ججوں کے خلاف بھی نعرہ بازی کی۔

مرکزی ناظم اعلیٰ جماعت اہل سنت پیر محمد افضل قادری نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج اسلام اور رسالت کے تقدس کے لیے ہے، یہ کسی اقتدار یا سیاست کے لیے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ و برطانیہ مذہب سمیت ہمارے تمام معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دباؤ کا شکار ہے۔ بے نظیر بھٹو نے فیصلے پر تبصرہ کر کے عدالت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ اگر انہوں نے

صفحہ 138

معذرت نہ کی تو ہم رہیں گے یا وہ۔ امریکہ اور برطانیہ کی اس معاملے میں مداخلت سے ثابت ہو گیا ہے کہ بنیاد پرست وہ ہیں ہم نہیں۔ ہم اس مسئلے پر علماء کی کانفرنس بلائیں گے اور ملک بھر میں احتجاج کریں گے۔ پیر محمد افضل قادری نے کہا کہ مدعی کو مجبور کر کے کیس سے دستبردار کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ نے توہین رسالت کے مرتکب افراد کی ضمانت منظور کی یا رہائی دی تو ہم ہائی کورٹ کا فیصلہ نہیں مانیں گے اور بے نظیر بھٹو اور جیالوں کے خلاف جہاد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیس جیالے ججوں کو دیا گیا ہے کیونکہ جب آج عدالت میں شان رسالت کی بات ہوئی تو وہ معنی خیز ہنسی ہنس رہے تھے۔ انہوں نے مظاہرین سے کہا کہ مجھے غازی علم دین جیسے عشاق کی ضرورت ہے، اکثر لوگوں نے اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اس کیس کی سماعت ہوگی، ہم ہائیکورٹ کے سامنے دھرنا دیں گے۔ صاحب زادہ فضل کریم نے کہا کہ ہم حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ عدالتوں میں مداخلت نہ کرے، یہ کوئی معمولی نوعیت کا مقدمہ نہیں۔ اگر حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تو ہمارا بچہ بچہ حکومت کو ختم کر کے دم لے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر قانون کی بالادستی کو تسلیم نہ کیا گیا پھر ہمارا فیصلہ شان رسالت کا فیصلہ ہوگا۔ صاحب زادہ فضل کریم نے کہا ہم بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو امریکہ جا رہی ہیں اور وہاں پر سرٹیفکیٹ پیش کرنا چاہتی ہیں کہ وہ عدالتی فیصلے ختم کرا کے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کی ایک عالمی سازش ہے۔ اقوام متحدہ، چیچنیا، بوسنیا اور کشمیر میں لاکھوں افراد کی ہلاکت پر انسانی حقوق کی بات نہیں کرتا مگر پاکستان میں رحمت اور سلامت مسیح جیسوں کے لیے بین الاقوامی میڈیا حرکت میں آ گیا ہے۔ ہم اس مسئلہ میں خاموشی اختیار کرنے والے سیاست دانوں کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو پولیس یہاں پر کھڑی ہے، وہ بھی مسلمان ہے۔ بے نظیر بھٹو، منظور وٹو یا گورنر نے ان کی بخشش نہیں کروانی۔ مظاہرے کی قیادت پیر محمد افضل قادری، صاحب زادہ سید مصطفیٰ اشرف رضوی، پیر سید شمس الدین بخاری، مولانا سید محمد انور شاہ کاظمی اور اے ٹی آئی پنجاب کے ناظم ملک شہباز نعیم نے کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اس مقدمہ کے گواہ کو اغوا کر کے سرکاری حکام نے اپنا من پسند بیان لکھوایا اور اس سے پہلے مدعی کو بلیک میل کرنے کے لیے اس کے خلاف مقدمہ قتل بھی درج کیا گیا حکومت کے اس اقدام سے عدالتی نظام میں حکومت کی کھلی مداخلت

صفحہ 139

ثابت ہو گئی ہے۔ مظاہرین نے پیر محمد افضل قادری کی اقتداء میں باجماعت دو نوافل ادا کئے۔ سماعت کے بعد جب صاحب زادہ حاجی محمد فضل کریم احاطہ عدالت سے باہر آئے تو فلک شگاف نعروں سے ان کا استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر عالمی دعوت اسلامیہ کے علامہ مفتی محمد خان قادری، علامہ خلیل الرحمن قادری، علامہ محمد اسلام شہزاد، جے یو پی (نورانی گروپ) کے صوبائی صدر علامہ پیر سید محفوظ مشہدی، حاجی جاوید اقبال، انجینئر سلیم اللہ، مولانا ملک محبوب الرسول قادری، مولانا فدا محمد وقاص، جماعت اہل سنت کے صاحب زادہ سید مصطفیٰ اشرف رضوی، رائے محمد نواز کھرل سمیت درجنوں علماء و مشائخ بھی موجود تھے۔ صاحب زادہ فضل کریم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو سیاست دان تحفظ ناموس رسالت کے لیے میدان میں نہیں اتریں گے، ہم ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔

۲۲ فروری ۹۵ء

توہین رسالت کیس کے سلسلہ میں چوتھے روز بھی لاہور ہائیکورٹ کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔ دینی مدارس کے متعدد طلباء اور علماء نے احتجاج کیا، کچھ دیر کے لیے ٹریفک بھی جام کی گئی۔ علماء اور صوبائی اسمبلی کے رکن صاحبزادہ فضل کریم نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ ہم برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کے اس بیان پر احتجاج کرتے ہیں جس میں یہ کہا گیا ہے کہ گستاخی رسول کے ملزموں کو سزائے موت نہیں دی جائے گی۔ اسماعیل قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے ہمارے وکالت نامے واپس کرائے تو ہم نے کہا کہ تمام مسلمان مدعی ہیں۔ جلوس ۱۱ بجے سے اڑھائی بجے تک مال روڈ پر موجود رہا۔ علماء نے مظاہرے کے دوران فتوے دیے اور پمفلٹ تقسیم کئے جس میں کہا گیا۔ گستاخ رسول کو پناہ دینے والا بھی مجرم ہے اس کا مقدمہ لڑنے والا بھی مجرم اور واجب القتل ہے۔ ان کے ساتھ ہمدردی رکھنے والا بھی واجب القتل ہے۔ مظاہرین نے ہائیکورٹ کے باہر چوک میں نفل ادا کئے، اس وقت ٹریفک بلاک ہو گئی جسے تھوڑی دیر میں جاری کر دیا گیا۔ کیس کے مدعی مولوی فضل حق کی طرف سے دوبارہ پیروی کے اعلان کے بعد مظاہرین کے جوش و خروش میں اضافہ ہو گیا، کمرہ عدالت سے باہر چند لوگوں نے ان کے حق میں نعرے لگائے اور مولوی فضل حق نے وہاں پر تقریر کرنے کی کوشش کی، پولیس نے انہیں حفاظت میں لے کر رجسٹرار کے کمرے میں پہنچا دیا۔ بعد میں پولیس کی بھاری نفری انہیں لے کر باہر چلی گئی۔ ہائیکورٹ کے گیٹ پر مولوی فضل حق نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور حکومت نے مجھے لالچ اور

صفحہ 140

دھمکیوں کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کی‘ لیکن رسول اکرمؐ کی محبت کے پیش نظر میں ہر قسم کے لالچ اور دباؤ کے باوجود کیس کی پیروی کے لیے دوبارہ آگیا ہوں‘ اب اگر مجھے قتل بھی کر دیا جائے تو کوئی پروا نہیں۔

کیس کی کوریج کے لیے بڑی تعداد میں غیر ملکی نمائندے مسلسل آ رہے ہیں اور دو بڑے بین الاقوامی اداروں نے جنوبی ایشیا کے لیے اپنے اپنے بیورو چیف کو لاہور بھجوا دیا ہے۔ دہلی سے بھی صحافی لاہور پہنچ گئے ہیں۔ کمرہ عدالت کے اندر چالیس کے قریب صحافی مسلسل موجود رہے مگر کسی کو کیمرہ لے کر اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

قبل ازیں مولوی فضل حق ہائیکورٹ کے کمرے سے باہر آ رہے تھے تو ایک شخص نے انہیں کہا کہ اس کا گھر مولانا کے لیے حاضر ہے ایک اور شخص نے کہا کہ پولیس کی حفاظت کی کیا ضرورت ہے اللہ اور نبیؐ خود محافظ ہیں۔ مولوی فضل حق کمرہ عدالت سے باہر آئے تو وہاں موجود افراد نے مولوی فضل حق زندہ باد‘ مرد مجاہد مرد حق اور ان کے ہاتھ چوم لئے۔ کمرہ عدالت سے نکلتے ہی پولیس والے مولوی فضل حق کو گھیرے میں لے کر ڈپٹی رجسٹرار کے کمرے میں لے گئے جہاں سے اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ اور صاحبزادہ فضل کریم ایم پی اے اپنی ذاتی ضمانت پر مولوی فضل حق کو اپنے ساتھ لے گئے۔

مولوی فضل حق کی کہانی ۔۔ مولوی فضل حق کی زبانی

”۔۔۔۔۔۔ توہین رسالتؐ کیس کی پیروی سے منحرف ہونے والے مولوی فضل حق نے مقدمہ کی دوبارہ پیروی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ توہین رسالتؐ کے مستغیث نے اس فیصلہ کا اعلان روزنامہ خبریں کے دفتر میں خود آ کر تمام رپورٹروں اور سب ایڈیٹروں کے سامنے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مقدمہ کی عدم پیروی کی وجوہات بتائیں کہ ان پر شدید دباؤ ڈالا گیا تھا۔ جس کے باعث وہ ایسا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئے۔ مولوی فضل حق نے بتایا کہ میرے بارے میں یہ خبر بیرونی ذرائع ابلاغ نے عام کر دی تھی کہ میں نے مقدمہ واپس لے لیا ہے مگر میں نے ایسا نہیں کیا تھا بلکہ صرف پیروی سے انکار کیا تھا اور وہ فیصلہ بھی آج واپس لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ میرا ذاتی مقدمہ نہ تھا بلکہ عالم اسلام کا مقدمہ تھا۔ اپنے سابقہ فیصلہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھ پر جس قسم کے زبردست دباؤ تھے‘ اس کا اندازہ ان واقعات سے ہو جائے گا کہ میں نے عوام میں توہین رسالتؐ کے خلاف بیداری کی مہم چلائی اور ایک پمفلٹ شائع کیا‘ تقریباً ۲۰ روز بعد مقامی ایس ایچ او امان اللہ خان نے مجھے تھانہ میں مجرموں کی طرح طلب کر لیا اور کہا کہ تم نے

صفحہ 141

یہ پمفلٹ کیوں چھاپا ہے۔ اگر میں تمہیں اندر کر دوں تو تم باہر نہیں آسکو گے۔ اس موقع پر محلہ کے معززین ملک غفور احمد، نمبردار محمد اسلم، محمد بخش، قمر زمان اور جاوید احمد موجود تھے۔ ماحول کی سنگینی کے باعث ہم نے وقتی خاموشی اختیار کر لی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کی اس وقت کی سابق مشیر شیلا بی چارلس اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ آئی۔ انہوں نے مجھ سے مکمل واقعہ سنا۔ معاملہ سننے کے بعد شیلا بی چارلس نے مجھے دھمکی آمیز لہجہ میں کہا کہ آپ کے لیے کسی وقت یہ مقدمہ بہت بڑا نقصان ثابت ہوگا، لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ مقدمہ سے دستبردار ہو جائیں مگر میں نے کہا کہ یہ اللہ اور اس کے رسولؐ کا معاملہ ہے اس لیے میں کٹ تو سکتا ہوں مگر مقدمہ واپس نہیں لے سکتا۔ اس کے بعد ۴ ماہ ہی گزرے تھے کہ تھانہ کوٹ لدھا کے نئے ایس ایچ او محمد نواز رانجھا میرے گاؤں کے باہر آکر کھڑے ہو گئے اور ایک بچے کو پیغام دے کر مجھے بلوا بھیجا۔ میرے آنے پر محمد نواز رانجھا نے مجھے گاڑی کے اندر بٹھا لیا اور اس کے تمام شیشے بند کر کے ماحول کو خوفزدہ بنانے کی کوشش کی اور مجھے کہا کہ کچھ عرصہ بعد عیسائی آپ کے خلاف قتل کا مقدمہ بنا دیں گے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ کیس کی پیروی سے دستبردار ہو جائیں مگر میں نے ایک مرتبہ پھر اپنا پرانا موقف دہرایا اور کہا چاہے جتنے مرضی مقدمات بنا دیے جائیں، میں مقدمہ کی پیروی سے باز نہ آؤں گا۔ اسی دوران ملزمان کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے انتظامیہ سے ملی بھگت کر کے مقدمہ گوجرانوالہ سے لاہور منتقل کروا لیا۔ اس کے بعد توہین رسالتؐ کے ایک مجرم منظور مسیح کو لاہور میں نامعلوم افراد نے قتل کر دیا اور اس قتل کو حسب پروگرام ہمارے سر تھوپ دیا گیا اور مجھے جیل بھجوا دیا گیا۔ اس مقدمہ میں، میں نے ضمانت کروا لی اور توہین رسالتؐ کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے میں نے اپنی کوششیں شروع کر دیں۔ اسی دوران مجھ پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ میری جانب سے پولیس کو اطلاع ہونے کے باوجود کسی کے کان پر جوں نہ رینگی اور میری حفاظت کا کوئی انتظام نہ کیا گیا۔ ان تمام مراحل کے دوران مجھ پر مقامی افراد اور گاہے بگاہے اخبارات کی اطلاعات کے ذریعہ دباؤ ڈالا جاتا رہا مگر میں اپنی کوششوں میں مگن رہا۔ میں نے اس واقعہ کی اور سابقہ واقعات کی اطلاع سیشن جج کو فراہم کی مگر انہوں نے بھی اس واقعہ کو معمولی واقعہ سمجھا اور میری حفاظت کا کوئی بندوبست نہ کیا۔ جس پر میں نے کہا کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان افراد نے رسولؐ کی توہین کی ہے مگر میں اپنی جان کے خوف سے مقدمہ کی پیروی سے دستبردار ہوتا ہوں تاہم آئندہ تاریخ پر سیشن جج نے ملزمان کو جرم

صفحہ 142

ثابت ہونے پر پھانسی کی سزا سنا دی۔ جس پر اسلامی مملکت کی ”غریب پرور“ وزیر اعظم نے بیان دیا کہ مجھے اس بیان پر حیرت اور دکھ ہوا جو کہ عدالتی فیصلہ کی توہین تھا۔ میں نے ان واقعات اور وزیر اعظم کے بیان کا شدید اثر لیا۔ اس سزا کے بعد ملزمان ہائیکورٹ کے سامنے اپیل میں آگئے جہاں مقدمہ کی پیروی سے میری دستبرداری سے ۶ روز قبل مقامی پولیس کے اہلکار رات ساڑھے بارہ بجے اہل محلہ کو ہراساں کرتے ہوئے میرے گھر آگئے اور مجھے اپنے ہمراہ تھانہ لے گئے جہاں مجھے رات بھر رکھنے کے بعد صبح ۹ بجے کے قریب ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کے پاس لے جایا گیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے ہی توہین رسالتؐ اور وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ میں نے اثبات میں جواب دیا تو وہ مجھے گرفتار کر کے چیف سیکرٹری کے پاس لے گئے جس کے دفتر میں کچھ اعلیٰ افسران نے مجھ سے یہی سوال کیا اور بیان حلفی پر زبردستی دستخط کروا لئے کہ میں پیروی سے دستبردار ہوتا ہوں اور مجھے ہائیکورٹ لے آئے تاکہ میں پیروی واپس لے لوں۔ چنانچہ حالات و واقعات سے گھبرا کر میں نے یہ فیصلہ قبول کر لیا لیکن بعد میں، میں گھر آیا اور دوران نماز، خوف الٰہی نے مجھ پر غلبہ پا لیا اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ چاہے جان چلی جائے، ناموس رسالتؐ پر آنچ نہ آنے دوں گا۔ اس اعلان کے موقع پر رتہ دھوتراں کے معززین محمد اشرف بھٹہ، چوہدری خادم حسین سابق چیئرمین یونین کونسل بھڑی، چوہدری سلطان احمد اور مبارک علی وڑائچ بھی موجود تھے۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، ۲۲ فروری ۹۵ء)

بے نظیر بھٹو کے خلاف عدالت عالیہ میں درخواست

مولوی فضل حق (درخواست دہندہ)

بنام

مسز بے نظیر بھٹو بنت ذوالفقار علی بھٹو

وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد

اور آج تک کسی قسم کے جرم میں ملوث نہیں رہا ہوں۔

صفحہ 143

سلامت مسیح کو توہین رسالت کے جرم میں ایڈیشنل سیشن جج لاہور کی جانب سے مورخہ ۹۵-۲-۹ کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

کے "امیج" کو مغربی دنیا کی نظروں میں تباہ کر دے گی، بدنیتی اور غیر آئینی طریقے سے عدالت عالیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔

ہے اور عدالت پر جو کہ مندرجہ بالا مقدمے کے فیصلے کے خلاف اپیل سن رہی ہے، اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔

امریکن، بھارت اور اسرائیل کے علاوہ یہودی لابی کی آلہ کار بن چکی ہے اور پاکستان کا اسلامی تاثر تباہ کرنے کے لیے اپنی انتہائی کوششوں میں مصروف ہے۔

اس لیے استدعا ہے کہ مدعا علیہ کو صریحاً توہین عدالت کا ارتکاب کرنے پر سزا دی جائے۔

مزید استدعا ہے کہ پولیس کو احکامات صادر کیے جائیں کہ وہ مدعا علیہ (بے نظیر بھٹو) کے خلاف آئین کی دفعہ ۶ کے تحت قانون سے انحراف کرنے اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظر میں ملک کو بے توقیر کرنے کے جرم میں کارروائی کرے۔

درخواست دہندہ بذریعہ رشید مرتضیٰ قریشی (ایڈووکیٹ)

(یاد رہے کہ عدالت نے اپنے فیصلہ میں اس درخواست پر نہ تو کوئی فیصلہ سنایا اور نہ ہی فیصلہ میں کچھ لکھا گیا اور آج تک اس درخواست پر کسی قسم کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا)

صفحہ 144

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ

توہین رسالت کے ملزمان بری

لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس عارف اقبال بھٹی اور مسٹر جسٹس چودھری خورشید احمد پر مشتمل ڈویژن بینچ نے توہین رسالت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے دو عیسائی ملزموں رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو بری کر دیا۔ فاضل عدالت نے رات تقریباً نو بجے، ۴۲ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ ”ہم اللہ کے فضل سے اللہ اور رسولؐ کے سامنے سرخرو ہوں گے اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں شاباش دے گا“۔

جس وقت فیصلہ سنایا گیا تو نہ صرف کمرۂ عدالت کے باہر بلکہ کمرہ عدالت کے اندر بھی سادہ اور وردی میں ملبوس پولیس کے جوان موجود تھے۔ فیصلہ سناتے وقت خلاف معمول جج صاحبان کے عقب میں مسلح پولیس کے جوان موجود تھے۔ فیصلہ جسٹس عارف اقبال بھٹی نے اردو میں سنایا جب کہ فیصلہ انگریزی میں لکھا گیا تھا۔ جب فاضل جج نے عیسائی ملزموں کی بریت کا حکم سنایا تو عیسائی حضرات اور جیالی خواتین، جو عدالت میں موجود تھیں، نے کمرۂ عدالت میں تالیاں بجا کر فیصلہ کا خیر مقدم کیا مگر عدالت نے اس کا کوئی نوٹس نہ لیا۔ حالانکہ جب مقدمہ کی سماعت کے دوران رفیق باجوہ نے اس کیس کے بارے میں حقیقت پسندانہ دلائل دیئے تو کمرۂ عدالت میں موجود لوگوں نے انہیں ”واہ، واہ“ اور ”سبحان اللہ، سبحان اللہ“ کہہ کر خراج تحسین پیش کیا تو عدالت نے ان لوگوں کو سختی سے ڈانٹ دیا اور انہیں چپ رہنے کا حکم دیا۔

قبل ازیں عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ فیصلہ سہ پہر چار بجے سنایا جائے گا مگر چار بجے بتایا گیا کہ فیصلہ ساڑھے چھ بجے ہوگا۔ اس کے بعد آٹھ بجے کا وقت دیا گیا۔ بالآخر رات تقریباً نو بجے یہ فیصلہ سنایا گیا۔

کمرۂ عدالت کے دروازے پر دو ڈیوٹی مجسٹریٹ کھڑے تھے۔ تمام لوگوں کی جامہ تلاشی لی گئی۔ خواتین کے پرس تک چیک کیے گئے۔ پولیس کے سینکڑوں اہلکاروں نے فیصلے کے اعلان کے وقت ہائی کورٹ کی عمارت کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکار بھی موقع پر موجود رہے۔ مختلف مدارس کے اساتذہ و طلباء بھی موجود تھے، جنہیں

صفحہ 145

پہلے تو عدالت عالیہ کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہ دی گئی۔ بعد ازاں یہ لوگ اندر آ کر بیٹھے رہے۔ ایمرجنسی پولیس کی ایک درجن گاڑیاں بھی احاطہ عدالت میں موجود رہیں۔ اردگرد کی سڑکوں پر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی جب کہ ہائیکورٹ کی چھتوں پر بھی پولیس کے جوان تعینات تھے۔ کمرۂ عدالت میں کسی کو موبائل فون لے جانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ پولیس کے دونوں اہلکاروں نے ججوں کے میز کے اردگرد پہرہ رکھا اور کسی شخص کو میز کے قریب نہیں آنے دیا گیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج نے توہین رسالت کے ملزموں کو ۸ فروری کو سزائے موت سنائی تھی۔ ۱۲ فروری کو انہوں نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ ۱۳ فروری کو فل بنچ بنا دیا گیا۔ بعد ازاں فل بنچ کے احکام واپس لے کر ڈویژن بنچ قائم کیا گیا جس نے سات دن مسلسل سماعت کی اور ۲۳ فروری کو فیصلہ سنا کر ملزموں کو بری کر دیا۔

توہین رسالت کیس کے فیصلے پر ہائی کورٹ کے باہر کھڑے ہوئے مذہبی تنظیموں کے کارکن اور دینی مدارس کے طلباء مشتعل ہو گئے۔ انہوں نے دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا۔ اپنا سر پیٹنے لگے اور زبردست سینہ کوبی کی۔ کچھ مظاہرین پر سکتہ طاری ہو گیا۔ وہ زمین پر لیٹ گئے۔ ۴ افراد شدت غم سے بے ہوش ہو گئے۔ زبردست نعرہ بازی کی گئی۔ انہوں نے مشتعل ہو کر ٹریفک سگنل توڑ دیئے اور رکاوٹیں کھڑی کر کے جی۔پی۔او چوک میں ٹریفک روک دیا۔ لوگوں نے ہائی کورٹ کے اندر بھی داخل ہونے کی کوشش کی مگر وہاں پر موجود پولیس کی بھاری نفری نے انہیں اندر جانے سے روک دیا۔ کچھ لوگ ہائی کورٹ کے اندر بھی سینہ کوبی کر رہے تھے اور نعرے لگا رہے تھے۔ پولیس کے روکنے پر انہوں نے کہا کہ ہمیں گولی مار دو، ہم نہیں جائیں گے۔ کچھ مظاہرین سجدوں میں گر گئے۔ مجسٹریٹ ملک رزاق نے پولیس کو توڑ پھوڑ کرنے والوں کو پکڑنے کا حکم جاری کر دیا جس پر پولیس نے لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ کئی افراد کو حراست میں لے لیا۔ تاہم کچھ لوگوں نے بعض گرفتار افراد کو پولیس کی حراست سے چھڑوا لیا۔ مظاہرین نے اس کے ساتھ ہی پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ کچھ دیر بعد رکن صوبائی اسمبلی اور جمعیت علماء پاکستان کے قائم مقام سربراہ صاحبزادہ فضل کریم کے ہائی کورٹ سے باہر آنے پر تمام افراد ان کے اردگرد اکٹھے ہو گئے اور پتھراؤ بند کر دیا۔ فضل کریم نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں کہا کہ وہ فی الحال یہاں سے چلے جائیں۔ کل اڑھائی بجے وہ داتا دربار سے جلوس نکالیں گے۔ اس کے بعد

صفحہ 146

لوگ منتشر ہو گئے۔ لوگ صبح دس بجے سے ہی توہین رسالت کے کیس کا فیصلہ سننے کے لیے ہائی کورٹ کے باہر کھڑے تھے۔ رات نو بجے کیس کا فیصلہ ہوا۔ پونے نو بجے وہ سڑک کے درمیان آ گئے اور بلاکوں کو اکھاڑ کر سڑک بلاک کر دی اور ٹریفک روک دی۔ مظاہرین بڑے بڑے سیمنٹ کے بلاک اٹھا اٹھا کر سڑک پر پھینک رہے تھے۔ ابھی یہ ایکشن شروع ہوئے دس منٹ ہی ہوئے تھے کہ ہائی کورٹ کے اندر سے کیس کے فیصلے کی خبر پہنچ گئی جس کے بعد قریباً آدھ گھنٹہ تک احتجاج جاری رہا۔ بعد ازاں صاحبزادہ فضل کریم نے ڈیوٹی مجسٹریٹ سے حراست میں لیے گئے مظاہرین کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس والوں نے کہا کہ ان کے پاس کوئی شخص نہیں ہے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ ہماری پولیس سے کوئی دشمنی نہیں۔ وہ بھی مسلمان ہیں۔ وہ ریاست کو تباہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ مظاہرین نے ایک غیر ملکی ٹیلی ویژن کے نمائندے کو گھیر لیا اور اسے فلم بنانے سے منع کیا۔ پولیس نے اسے مظاہرین کے گھیرے سے نکالا اور وہ وہاں سے چلا گیا۔ دن کے وقت بھی مذہبی جماعتوں کے کارکن مظاہرے کرتے رہے، ٹریفک بلاک کی اور تقاریر کیں۔

کارکنوں نے یہ نعرے بلند کیے ”ہائے چھوڑ دیا، ہائے چھوڑ دیا“ ”اب گھر کس منہ سے جائیں گے“ ”جس طرح روس کا بیڑہ غرق ہوا، اسی طرح امریکہ کا بھی ہوگا“۔

توہین رسالت کیس کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے باہر ایجنسیوں کے اہلکار بھی موجود تھے جو اعلیٰ حکام کو لمحہ بہ لمحہ صورت حال سے آگاہ کرتے رہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے فوری بعد وزیر داخلہ میجر (ریٹائرڈ) نصیر اللہ بابر کو ملزموں کے بری ہونے کی اطلاع دی گئی، جنہوں نے وزیراعظم کو ہائی کورٹ کے فیصلے کے بارے میں بتایا۔

ہائی کورٹ کا فیصلہ

سماعت کنندہ بنچ: جسٹس عارف اقبال حسین بھٹی جسٹس چوہدری خورشید احمد

فریق اول: سلامت مسیح و دیگر (اپیلانٹ) فریق ثانی: سرکار (حکومت) (مسئول الیہ) عنوان مقدمہ: سلامت مسیح و دیگر بنام حکومت

صفحہ 147

مقدمہ نمبر: قتل ریفرنس نمبر ۲۸ اور فوجداری اپیل نمبر اور فوجداری اپیل نمبر ۳۸ سال ۱۹۹۵ء

فریق اول کے وکلاء: عاصمہ جہانگیر، حنا جیلانی، محبوب خاں ایڈووکیٹس فریق ثانی کے وکلاء: عبدالستار نجم ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، فاروق بیدار ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، شبیر رضا رضوی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، منصور عالمگیر قاضی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وکلاء مستغیث: رشید مرتضیٰ قریشی، محمد اسمعیل قریشی، چوہدری محمد صادق ایڈووکیٹس معاونین عدالت: ایس ایم ظفر، اعجاز حسین بٹالوی، عابد حسن منٹو، خواجہ سلطان احمد، میاں دلاور محمود، محمد حنیف کھٹانہ، رفیق احمد باجوہ، غلام باری سلیمی ایڈووکیٹس تاریخ ہائے سماعت: ۱۴، ۱۵، ۱۶، ۲۰، ۲۱، ۲۲، ۲۳ فروری ۹۵ء تاریخ فیصلہ: ۲۳ فروری ۹۵ء

جسٹس عارف اقبال حسین بھٹی

فیصلہ

ضلع گوجرانوالہ اور رحمت مسیح ولد نانک مسیح عیسائی، عمر ۴۸ سال، رہائشی گاؤں پھوکار پور، تحصیل و ضلع گوجرانوالہ کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات ۲۹۵ - سی، ۳۴ اور ۲۹۸ - اے، ۳۴ کے تحت مقدمے کی سماعت ہوئی اور فاضل ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے اپنے فیصلے مورخہ ۹ فروری ۱۹۹۵ء کے ذریعے دفعہ ۲۹۵ - سی، ۳۴ کے تحت ملزمان میں سے ہر ایک کو موت کی سزا اور پچیس ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ جرمانہ ادا نہ کرنے پر دو سال قید سخت کی سزا تجویز ہوئی۔ دفعہ ۲۹۸ اے، ۳۴ کے تحت ہر ملزم کو دس ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ جس کی عدم ادائیگی پر ہر ملزم کو چھ ماہ قید سخت کی سزا تجویز ہوئی۔ دونوں ملزمان نے اپنی اپنی سزا کے خلاف اپیل کی جب کہ ابتدائی عدالت (ایڈیشنل سیشن جج نے) سزا کے خلاف مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۳۷۴ کے تحت سزائے موت کی توثیق کا معاملہ بھیجا۔ ایک ہی سزا کے متعلق دو معاملات فیصلہ ہذا کے ذریعے طے کیے جائیں گے۔

کوٹ لدھا ضلع گوجرانوالہ میں ایک درخواست منسلکہ پی ۔ اے کے ذریعے درج کرائی۔ اس

صفحہ 148

نے اس ابتدائی رپورٹ میں بتایا کہ وہ موضع (گاؤں) رتہ دھوتڑاں کی مسجد میں خطیب اور امام تھا۔ مقدمہ درج کرنے سے تقریباً ایک سال پہلے مسجد کے غسل خانہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں قابلِ اعتراض الفاظ لکھے گئے۔ کچھ عرصہ بعد مسجد کے دروازے پر کاغذ کا ایک ٹکڑا پھینکا گیا، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز الفاظ لکھے تھے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد وضو کرنے کی جگہ پر اسی طرح کاغذات پھینکے گئے۔ پھر کلمہ طیبہ والے پوسٹر پر قابلِ اعتراض الفاظ لکھے گئے۔ شکایت کنندہ نے ابتدائی رپورٹ میں کہا کہ ۹ مئی ۱۹۹۳ء کو تقریباً شام کے وقت سلامت مسیح، رحمت مسیح اور منظور مسیح (حال متوفی) مسجد کی دیوار اور دیگر جگہوں پر اینٹ کے ایک ٹکڑے سے شانِ رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف توہین آمیز الفاظ اور دیگر مذہبی اشتعال انگیز الفاظ لکھتے دیکھے گئے۔ شکایت کنندہ، حاجی محمد اکرم اور نمبردار محمد بخش نے انہیں پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ بھاگ گئے۔ شکایت کنندہ اور گواہان نے فوراً یہ قابلِ اعتراض الفاظ صاف کر دیے۔ شکایت کنندہ نے پولیس کے سامنے وہ مواد جو قابلِ اعتراض تحریروں پر مشتمل تھا اور اس کے پاس تھا، پولیس کے سامنے پیش کیا، دو قابلِ اعتراض چٹیں (مسلکہ پی ۱ اور پی ۔ ۲) جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز الفاظ درج تھے، سب انسپکٹر نے اسی دن (مسلکہ پی بی) کے طور پر اپنے قبضے میں لے لیں۔

۳ ۔ سب انسپکٹر امان اللہ نے موقعہ واردات کا معائنہ کیا اور اس جگہ کا نقشہ (مسلکہ پی سی) کے طور پر تیار کیا۔ سب انسپکٹر نے سلامت مسیح اور منظور مسیح کو اس دن، ان کے گھروں سے گرفتار کیا جب کہ رحمت مسیح اپنی رضامندی سے پیش ہوگیا اور اسے ۱۳ مئی ۱۹۹۳ء کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیش مکمل ہونے پر چالان عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

۴ ۔ فاضل ایڈیشنل سیشن جج نے مقدمے کی سماعت کی۔ منظور مسیح دورانِ سماعت قتل کر دیا گیا۔ لہٰذا اس کے خلاف مقدمہ ختم ہوگیا۔ سلامت مسیح اور رحمت مسیح نے مقدمے کا دفاع کیا۔ استغاثہ نے کل چار گواہ پیش کئے۔ حافظ محمد فضل حق نے حاضر عدالت ہو کر حلفاً بیان کیا کہ موجودہ حالات اور اس کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کی وجہ سے وہ مقدمہ کی پیروی نہیں کرنا چاہتا۔

گواہ استغاثہ نمبر ۱ (حافظ محمد فضل حق) نے جو بیان دیا، وہ حسبِ ذیل ہے۔

”موجودہ حالات اور میری جان کو خطرہ لاحق ہونے کی وجہ سے مقدمے کی پیروی نہیں کرنا چاہتا۔ (اس مرحلے پر فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی نے استدعا کی کہ گواہ کو منحرف قرار دیا

صفحہ 149

جائے۔ ان کا خیال تھا کہ گواہ جان بوجھ کر حقائق کو چھپا رہا ہے۔ فاضل ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کی استدعا صحیح معلوم ہوتی ہے، لہٰذا انہیں اجازت دی گئی کہ گواہ پر جرح کریں۔)

☆☆ منجانب ڈی ڈی اے یہ درست ہے کہ درخواست (منسلکہ پی۔ اے) میرے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے اور اس پر میرے ہی دستخط ہیں۔ اس میں جس واقعہ کو بیان کیا گیا ہے، وہ حقیقت میں وقوع پذیر ہوا۔ مجھ پر حملہ ہوا ہے اور میں مزید حملے کا خطرہ محسوس کرتا ہوں۔

☆☆ منجانب وکیل صفائی مجھے ملزم کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں۔

۹ مئی ۱۹۹۳ء کو تقریباً عصر کا وقت تھا۔ میں، محمد بخش اور حافظ محمد فضل حق، مسجد سے باہر نکلے۔ سلامت مسیح ملزم حاضر عدالت ایک پتھر سے دیوار پر کچھ لکھ رہا تھا۔ رحمت مسیح ملزم حاضر عدالت اور منظور مسیح (حال متوفی) بھی وہاں کھڑا تھا۔ میں احترام کی وجہ سے وہ الفاظ دہرا نہیں سکتا۔ ملزم جنوب کی طرف بھاگ گیا۔ لہٰذا وہ اسے پکڑ نہ سکے۔ نامعلوم اشخاص غسل خانہ میں اینٹیں پھینکا کرتے تھے۔ ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ اینٹیں پھینکنے والے کون تھے؟ ہم نے کوئی کارروائی نہ کی۔ منظور مسیح ایک دن بحث کرنے لگا، جیسے حافظ محمد فضل حق یسوع مسیح پر لیکچر دیا کرتے تھے۔

(منسلکہ پی ۱، ۲) اس کے بعد انہیں تفتیشی افسر کے سامنے پیش کیا، میری موجودگی میں انہیں قبضے میں لیا گیا۔ (منسلکہ پی۔ ۸)

اور گواہ (محمد اکرم) کے مابین بعض تنازعات کے بارے میں گواہ سے کچھ سوالات کیے۔ گواہ نے تسلیم کیا کہ اس نے (منسلکہ پی ۔ ۱، ۲) پہلی دفعہ ۱۱ مئی ۱۹۹۳ء کو دیکھے۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ رحمت مسیح گاؤں پھوکر کا رہائشی تھا جو گواہ کے گاؤں سے ڈیڑھ میل کے فاصلے پر واقع تھا۔

”مورخہ ۹ مئی ۱۹۹۳ء کو تقریباً عصر اور مغرب کی نماز کے درمیان جب میں حافظ محمد فضل حق کے ساتھ مسجد میں بیٹھا تھا، ہمارے ساتھ حاجی محمد اکرم گواہ استغاثہ بھی بیٹھا تھا۔ ہم بعض تجاویز پر بحث کر رہے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ رحمت مسیح اور سلامت مسیح حاضر

صفحہ 150

عدالت اور منظور مسیح (حال مقتول) پتھروں کے ذریعے اپنے ہاتھوں سے دیوار پر لکھ رہے تھے۔ میں وہ الفاظ بیان نہیں کر سکتا‘ جو وہ دیوار پر لکھ رہے تھے۔ ہمارے دیکھتے دیکھتے ملزمان حاضر عدالت اور ان کا شریک ملزم (حال مقتول) بھاگ گئے۔ مولوی فضل حق گواہ استغاثہ نے (مسلکہ پی ۱‘ ۲) میرے سامنے پولیس کے حوالے کر دیئے‘ انہیں پولیس نے (مسلکہ پی بی) کے طور پر قبضے میں لیا‘ اس پر میں نے بھی دستخط کر دیئے“۔

۸۔ جرح کے دوران اس نے بھی تسلیم کیا کہ (مسلکہ پی ۱‘ ۲) اس نے پہلی دفعہ اس وقت دیکھے‘ جب گواہ استغاثہ (حافظ محمد فضل حق) نے انہیں تھانہ میں پولیس کے حوالے کر دیا۔ فاضل وکیل صفائی نے گواہ پر جرح کے دوران گواہ اور ملزمان کے مابین بعض جھگڑوں کے بارے میں سوال کیا اور اس نے جرح کے دوران بتایا کہ منظور مسیح گواہ استغاثہ ۱ کے ساتھ مذہبی معاملات پر بحث کیا کرتا تھا۔ گواہ سے ان دستخطوں کے بارے میں بھی سوال کیا گیا جو رحمت مسیح نے عیسائیوں سے بخلاف ماسٹر عنایت حاصل کیے‘ جس نے سکول میں عیسائی بچوں کو پڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔ گواہ سے رحمت مسیح کی طرف سے چرچ میں لاؤڈ سپیکر نصب کرنے کے بارے میں بھی ایک سوال کیا گیا‘ جس کی گواہ نے مخالفت کی تھی لیکن اس نے تسلیم نہ کیا۔

۹۔ گواہ استغاثہ نمبر ۴ سب انسپکٹر امان اللہ ایس۔ ایچ۔ او نے بیان کیا کہ اس نے اس مقدمے کی تفتیش ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر اور ابتدائی اطلاع ملنے کے بعد کی۔ اس نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹ درج کرنے کے بعد ملزموں کو گرفتار کیا‘ چٹوں پی۔ ۱ اور پی۔ ۲ کو قبضے میں لیا اور چالان پیش کر دیا۔ جرح میں اس نے بتایا کہ گواہوں نے تسلیم کیا کہ سلامت مسیح اور منظور مسیح کو ان کے گھروں سے گرفتار کیا گیا۔ فاضل وکیل صفائی نے بھی رحمت مسیح کی طرف سے چرچ میں لاؤڈ سپیکر نصب کرنے کے بارے میں اور منظور مسیح کے مولوی فضل حق گواہ استغاثہ نمبر ۱ کے ساتھ بحثوں میں مصروف رہنے کے بارے میں سوالات کیے۔

۱۰۔ فاضل عدالت سماعت ابتدائی نے رحمت مسیح کا بیان زیر دفعہ ۳۴۲ مجموعہ ضابطہ فوجداری قلم بند کرتے سوال نمبر ۳ یوں دریافت کیا:۔ ”یہ امر شہادت میں ہے کہ تم نے شریک ملزم مذکور کے ساتھ (مسلکہ پی ۱‘ ۲) تیار کیے اور ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس نام کو بگاڑنے کے لیے توہین آمیز کلمات درج کیے۔ تم اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ اس سوال کا ملزم / اپیل کنندہ نے یہ جواب دیا:۔

صفحہ 151

"یہ درست نہیں (منسلکہ پی ۱، ۲) دراصل خود گواہان استغاثہ نے تیار کیے"۔ سوال نمبر ۴ کہ "یہ مقدمہ تمہارے خلاف کیوں بنایا گیا اور گواہان استغاثہ نے تمہارے خلاف کیوں گواہی دی؟" اس نے بیان کیا کہ "ماسٹر عنایت نے عیسائی بچوں کو پڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس نے عیسائیوں کے دستخط حاصل کیے اور اس ٹیچر کے خلاف رپورٹ درج کروائی۔ اس ماسٹر نے اسے دھمکی دی کہ مناسب وقت آنے پر وہ اسے سبق سکھائے گا۔ اس نے مزید بیان کیا کہ اس نے ڈپٹی کمشنر سے اجازت لے کر چرچ میں لاؤڈ سپیکر نصب کرایا۔ گاؤں کے معزز افراد کے مشورے سے نماز کے اوقات میں لاؤڈ سپیکر بند رہتا تھا۔ ماسٹر عنایت نے احتجاج کیا کہ لاؤڈ سپیکر کی آواز سے اس کے طالب علم تنگ ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس نے لاؤڈ سپیکر اتروا دیئے۔ اس نے بیان کیا کہ سلامت مسیح اس کا رشتہ دار نہیں بلکہ واقف بھی نہیں تھا۔ اس کو معلوم ہوا کہ وہ مقدمہ میں غلط طور پر ملوث کیا گیا اور عادل شریف ایم۔ پی۔ اے کی مدد سے وہ ایس۔ ایس۔ پی گوجرانوالہ کے پاس گرفتاری کے لیے پیش ہوگیا۔ اس نے بیان کیا کہ وہ مسلمانوں کی عزت کرتا ہے اور دیگر مذاہب کا احترام کرتا ہے۔ ماسٹر عنایت نے اس کے خلاف محاذ بنا لیا ہے۔ اس نے الزام لگایا کہ منظور مسیح شریک مجرم کو انہی لوگوں نے مارا ہے۔ اس کو بھی ان کے ہاتھوں ضرر پہنچا ہے۔"

خلاف الزامات کی صحت سے انکار کیا اور بیان کیا کہ اس کا مجاہد کے ساتھ جھگڑا ہوا جو محمد اکرم گواہ استغاثہ کا بھتیجا (بھانجہ) تھا اور یہ کہ ملزم اور حاجی محمد اکرم کے مابین شیشم کا درخت چوری کرنے کے بارے میں جھگڑا ہونے کی وجہ سے عداوت تھی۔ اس سوال پر کہ وہ مقدمے میں کیوں ملوث کیا گیا"۔ اس نے بیان کیا کہ وہ اسلام اور دیگر مذاہب کا احترام کرتا ہے۔

کی پیروی کرنے کے لیے تیار نہیں، فاضل عدالت سماعت ابتدائی نے قرار دیا کہ شکایت (منسلکہ پی۔ اے) میں شامل تمام مواد ملزموں کے خلاف شہادت میں پڑھا جائے گا۔ فاضل عدالت سماعت ابتدائی گواہ استغاثہ نمبر ۲ اور گواہ استغاثہ نمبر ۳ کی شہادتوں کو قبول کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچی کہ جرائم زیر دفعات ۲۹۵۔ سی اور ۲۹۸۔ اے مجموعہ تعزیرات پاکستان ثابت ہوئے ہیں اور اس کے مطابق اس نے ملزموں کو سزا دی۔

صفحہ 152

اس نے بیان کیا کہ گواہ استغاثہ نمبر ۱ حافظ محمد فضل حق شکایت کنندہ نے حلفاً بتایا کہ وہ مقدمے کی پیروی نہیں کرنا چاہتا۔ اسے عمداً و ارادتاً حق کو چھپانے کی بنیاد پر منحرف قرار دیا گیا۔ جرح میں اس نے بتایا کہ درخواست (مسلکہ پی اے) اس کے ہاتھ کی تیار کردہ ہے اور اس پر اس کے دستخط ہیں اور یہ کہ (مسلکہ پی اے) میں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے، وہ حقیقتاً واقع ہوا تھا۔ فاضل وکیل نے کہا کہ وہ ایک منحرف گواہ تھا اور اس کے منحرف ہونے سے اس کے بیان کی شہادتی حیثیت ختم ہوگئی ہے۔ دیوار پر لکھنے یا قابل اعتراض چٹیں (مسلکہ پی اے ۲) پیش کرنے کے بارے میں واقعات پر عدالت میں کچھ بیان نہیں کیا۔ لہٰذا اس کی شہادت بے فائدہ ہے۔ فاضل وکیل صفائی نے کہا کہ گواہ استغاثہ نمبر ۲ اور گواہ استغاثہ نمبر ۳ کے بیانات میں شدید تضادات ہیں۔ گواہ استغاثہ نمبر ۲ نے بیان کیا کہ سلامت مسیح ملزم دیوار پر پتھر سے لکھ رہا تھا اور رحمت مسیح اور منظور مسیح بھی وہاں کھڑے تھے، جب کہ گواہ استغاثہ نمبر ۳ محمد بخش نے بیان کیا کہ رحمت مسیح، سلامت مسیح اور منظور مسیح کے ہاتھوں میں پتھر تھے جن سے وہ دیواروں پر لکھ رہے تھے۔ یہ شدید تضاد ہے جو دونوں عینی گواہوں کے موقف میں موجود تھا اور یہ تضاد ان کی شہادت کو مشکوک اور ناقابل اعتبار بنا دیتا ہے۔ فاضل وکیل صفائی نے مزید کہا کہ اگر گواہ استغاثہ نمبر ۲ کی شہادت کو قبول بھی کر لیا جائے تو بھی انہوں نے (دونوں گواہان استغاثہ نے) جرائم زیر دفعہ ۲۹۵۔ سی اور ۲۹۸۔ اے مجموعہ تعزیرات پاکستان کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ گواہ استغاثہ نمبر ۲ اور گواہ استغاثہ نمبر ۳ نے جو بات بیان کی، وہ صرف یہ تھی کہ دیوار پر کوئی بات لکھی جا رہی تھی۔ دونوں گواہوں نے یہ بیان نہیں کیا کہ تحریر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت توہین آمیز تھی یا کسی قوم کے مذہبی جذبات کے خلاف تھی۔ فاضل وکیل نے کہا کہ مسجد کی دیوار پر لکھے گئے مبینہ توہین آمیز الفاظ گواہوں نے فوراً مٹا دیئے تھے۔ یہ الفاظ عدالت میں گواہوں کی طرف سے پیش یا بیان نہیں کیے گئے۔ ان گواہوں کے تاثرات اور آراء قانون کے تحت عدالتی تجاویز کی بنیاد نہیں بنائی جاسکتیں۔ چٹوں (مسلکہ پی اے ۲) کے بارے میں وکیل صفائی نے دلیل دی کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اپیل کنندگان نے لکھی تھیں یا ان سے برآمد ہوئی تھیں یا ملزمان کے ساتھ ان کا کسی طرح کا کوئی تعلق تھا۔ یہ قابل اعتراض مواد گواہ استغاثہ نمبر ۱ نے ایک سال تک اپنے پاس رکھا اور پہلی دفعہ ۱۱ مئی ۱۹۹۳ء کو تھانہ میں پیش کیا۔ فاضل وکیل نے دو دن کی تاخیر سے ابتدائی رپورٹ کرنے پر شدید اعتراض کیا اور دلیل دی کہ گواہوں نے باہمی مشورہ کر کے اپیل کنندگان اور منظور مسیح (حال مقتول) کو مقدمے میں ملوث کیا اور یہ کہ یہ مقدمہ عدم شہادت کا معاملہ ہے۔

صفحہ 153

جو مواد موجود ہے اس کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپیل کنندگان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں بنتا۔ گواہوں نے دیوار پر لکھے گئے قابل اعتراض الفاظ بیان نہیں کیے اور نہ ہی اس کے لیے عدالت کو اعتماد میں لیا۔ گواہوں کا محض تاثر اور رائے، اپیل کنندگان کے خلاف ایسے شدید نوعیت کے جرم کی سزا کی بنیاد نہیں بن سکتی، جیسے تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔ سی کے تحت جرم ہے۔ استغاثہ کی طرف سے چٹوں (منسلکہ پی/ ۲) کسی تحریر کا اپیل کنندگان کے ساتھ رابطہ ثابت نہیں ہوا۔

کنندہ کی طرف سے پیش ہوئے، بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز الفاظ پر مسلمان قوم کے جذبات کے سلسلے میں ابتدائی رپورٹ میں، استغاثہ کے گواہوں نے شدید جرم کے ارتکاب کا الزام لگایا ہے۔ الفاظ اس قدر اشتعال انگیز تھے کہ گواہوں کو انہیں فوراً دیوار سے مٹا دینا پڑا اور گواہوں کے لیے ناممکن تھا کہ عدالت میں ان الفاظ کو دہراتے۔ یہ شہادت بجائے خود کافی ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعات ۲۹۵۔ سی ۲۹۸۔ اے کے تحت سزا دے دی جاتی۔ چٹیں (منسلکہ پی/ ۲) قرائن اور تائیدی شہادت مہیا کرتی تھیں۔

احتیاط کے ساتھ شہادت اور مقدمے کے مواد کا مطالعہ کیا، ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ عدم شہادت کا معاملہ ہے اور سزا بے بنیاد ہے۔ فوجداری اصول قانون کے اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے قانون شہادت کی شرح از جناب جسٹس خلیل الرحمان کے صفحات ۴۸، ۵۰ اور ۵۲ کا حوالہ دیا اور بتایا کہ فوجداری مقدمات میں عدالت کے فیصلے کی بنیاد ان قانونی وجوہ پر استوار ہونی چاہیے، جن کو قانونی شہادت نے قائم کیا ہو۔ استغاثہ کو ثابت کرنا چاہیے کہ اس کا موقف معقول شبہات سے پاک ہے اور شبہ کا فائدہ ملزم کو جانا چاہیے کیونکہ اسلامی قانون میں ملزم کو بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ کسی واقعہ کے بارے میں جسے لفظ بلفظ عدالت میں پیش نہ کیا گیا ہو، گواہ کی قیاس آرائیاں، مفروضے اور آراء کسی ملزم کو سزا دینے کی بنیاد نہیں بنائی جاسکتیں۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ شہادت براہ راست ہونی چاہیے اور شہادت کی تائید کرنے والے حالات معقول طور پر زور دار ہوں۔ فاضل ایڈووکیٹ نے امیر علی اور وڈ روف کا ”قانون شہادت“ جلد اول، ایڈیشن ۱۹۱۳ء صفحات ۷۱۲ تا ۷۱۴ بسلسلہ معیار ثبوت بابت معاملات دیوانی و فوجداری کا حوالہ دیا اور دلیل

صفحہ 154

دی کہ کسی فوجداری مقدمے میں مضبوط شک بھی سزا کی بنیاد نہیں بن سکتا اور کسی سخت اور شدید جرم کے معاملے میں سزا دہی کے لیے واضح اور مضبوط شہادت کی بنیاد ہونی چاہیے۔ انہوں نے ایک کتاب بعنوان اسلامک کریمینل جیورس پروڈینس (اسلامی فوجداری اصول قانون) از شرف باسیونی کا حوالہ دیا۔ یہ کتاب مختلف قانون دانوں کے مقالات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کے صفحہ ۱۸۱ سے ایک اقتباس کا حوالہ یوں ہے ”بے گناہی فرض کرنے کا اصول ہر شخص کو سزا سے محفوظ بنا دیتا ہے‘ یہاں تک کہ جرم کے ارتکاب کی شہادت ثابت ہو جائے۔ فرض کرنے کے اس تصور کی نفی شک کے کسی درجے سے نہیں ہوتی۔“ صفحہ ۱۰۹ پر مزید کہا گیا ہے ”یہ امر اسلامی قانون میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ ملزم کو بے گناہ فرض کیا جائے۔ جو کوئی اس سے مختلف بات کہتا ہے (یعنی کہتا ہے کہ ملزم نے ارتکاب جرم کیا) وہ اسے ثابت کرے“۔ اس اصول کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ بارِ ثبوت شکایت کنندہ پر ہے۔ فاضل وکیل نے ایک اور کتاب بعنوان ”عدل“ کا حوالہ دیا جو عرفان حسن صدیقی نے لکھی۔ فاضل وکیل نے اس کے صفحہ ۱۹۶ سے اقتباس پیش کیا ”اس باب میں اولین اصول یہ ہے کہ جتنی جرم میں سزا سخت ہے‘ اتنا ہی اس کے لیے معیار شہادت /گواہی سخت و کڑا ہے“۔ جناب عابد حسن منٹو ایڈووکیٹ نے بیان کیا کہ دفعات ۲۹۵۔ سی اور ۲۹۸۔ اے تعزیرات پاکستان کے حصے ہیں اور دیگر تمام معاملات کی طرح ان دفعات میں بھی قانون شہادت کے قواعد اطلاق پذیر ہوں گے۔ تزکیہ الشہود کا معیار اس معاملہ میں اطلاق پذیر نہیں۔

اتفاق کرتے ہوئے بیان کیا کہ ملک کا عام قانون اس مقدمے میں اطلاق پذیر ہے۔ لیکن فوجداری انصاف کا نمایاں اصول پیش نظر رکھنا چاہیے کہ قانون کی نظر میں ملزم بے گناہ ہے اور استغاثہ کو مکمل طور پر اپنا موقف ثابت کرنا چاہیے۔ اس لحاظ سے یہ مقدمہ عدم شہادت کا معاملہ ہے۔ انہوں نے ان فیصلوں پر انحصار کیا:-

PLD 1953, FC 93, 1969 SCMR 501, PLD 1952, LHR 384, PLD 1960 LHR 172, PLD 1979 LHR 279, 1976 PCRLJ 82.

کے آرٹیکل ۳‘ ۴ اور ۱۷ کا حوالہ دیا اور بیان کیا کہ استغاثہ کو چاہیے کہ وہ اپنا موقف شہادت کے ذریعے ثابت کرے۔ شہادت کو ثبوت کی شکل اختیار کرنی چاہیے جس پر ایک عام سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص ایک سچی‘ مضبوط اور ٹھوس شہادت کے طور پر یقین کرے جو

صفحہ 155

ملزم کی سزا پر منتج ہو سکے۔ انہوں نے بیان کیا کہ جرم کا ضروری جزو یعنی بنائے جرم، عدالت میں قوی، قابل اعتبار اور مضبوط شہادت کے ذریعے ثابت کرنی پڑے گی۔ شہادت اس قدر مضبوط اور درجہ قبولیت رکھنے والی ہو کہ ایک عام سمجھ بوجھ کا مالک شخص یقین کر سکے کہ شہادت سزا کے مقصد کے لیے کافی ہے اور سزا کا تقاضا کرتی ہے۔ انہوں نے پی ایل ڈی ۱۹۹۲ء لاہور ۴۵ کا حوالہ دیا اور کہا کہ تزکیۃ الشہود کا معیار بابت شہادت گواہان صرف حدود کے معاملات میں اطلاق پذیر ہے نہ کہ مقدمہ زیر سماعت میں۔ انہوں نے بیان کیا کہ انہوں نے شہادت کو پڑھا ہے۔ گواہوں نے الزامات زیر دفعات ۲۹۵- سی اور ۲۹۸- اے مجموعہ تعزیرات پاکستان کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ یہ ایک عدم شہادت کا مقدمہ ہے اور وہ حیران ہیں کہ اس کے باوجود فاضل عدالت نے اپیل کنندگان کو سزا دے دی۔

۱۹- جناب ایس۔ ایم۔ ظفر سینئر ایڈووکیٹ بطور عدالتی مشیر نے بیان کیا کہ انہوں نے مقدمے کے ریکارڈ کا مطالعہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ ایسا مقدمہ ہے کہ ملزم کو صاف بری کیے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ ملزم کی بریت سے اسلامی انصاف کے اصولوں کی فتح ہوگی اور اس بریت سے کسی کو شکست نہیں ہوگی۔ فاضل وکیل نے قرآن کی سورہ ۲۱ آیت ۱۰۷ کا حوالہ دیا جہاں حکم دیا گیا ہے کہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانیت بشمول مسلمان و غیر مسلم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ انصاف رسانی لطف و رحم کے ساتھ ہونی چاہیے جیسا کہ قرآن کریم میں سورہ ۲۱ کی آیت ۹۰ میں مذکور ہے۔ فاضل وکیل نے میثاق مدینہ کے آرٹیکل ۲۴ اور ۲۵ کا حوالہ دیا، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور قاضی القضاۃ حکم دیا کہ انصاف بلا امتیاز مہیا کیا جانا چاہیے۔ فاضل وکیل نے ایک کتاب ”عہد رسالت میں عدالتی نظام“ از یوسف گورایا کے صفحہ ۱۳۸ سے ایک اقتباس پیش کیا کہ گواہوں کو دستوری تحفظ عطا کرتے ہوئے قرآن کریم نے حکم دیا ہے کہ گواہوں کو سچ بولنا چاہیے اور وہ واقعات کی تفصیلات بغیر خوف اور جانبداری سے بیان کریں۔ اگر گواہ دیانتداری سے اپنا یہ فرض ادا نہیں کرتا یا امور واقعہ کو چھپاتا ہے تو وہ گناہگار ہے۔ ”یہ قاعدہ قرار دیتا ہے کہ فیصلہ ظاہری شہادت پر لینا چاہیے نہ کہ اس کے باطنی مفہوم کے مطابق۔ فاضل وکیل نے ”فتاویٰ عالمگیری“ ج ۵، صفحہ ۲۸۹ کا حوالہ دیا، جہاں درج تھا کہ ”دل آزاری پر لوگوں سے سن کر گواہی دینا مقبول نہیں ہے۔“ قابل اعتراض اور اشتعال انگیز معاملے کے بارے میں سنی سنائی شہادت مقبول نہیں اور کسی امر واقعہ کے بارے میں گواہ کا تاثر معتبر شہادت نہیں۔ فاضل وکیل نے کتاب بعنوان ”جدید دنیا میں اسلامی اصول قانون“ از انوار احمد قادری کا صفحہ ۵۰۰ پیش کیا جہاں مصنف

صفحہ 156

کہتا ہے کہ شریعت (اسلامی اصول قانون) کا بنیادی قاعدہ کہتا ہے کہ شبہات اور اس طرح کی اشیا کو کوئی وزن نہیں دینا چاہیے اور صرف یقینی امر یا شہادت سے ثابت شدہ کو ہی وزن دینا چاہیے۔ جو چیز شہادت سے ثابت ہو جائے، وہ ایسی ہے جیسی آنکھوں سے دیکھنے پر ثابت ہوئی۔ فاضل وکیل نے کئی دیگر کتابیں پیش کیں، جن کی مدد سے انہوں نے اپنی اس دلیل کو مضبوط کیا کہ یہ صرف عدالت میں پیش کردہ شہادت ہے جو کسی ملزم کو سزا دینے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ فاضل وکیل نے اس امر پر دوبارہ زور دیا کہ شدید صورتوں میں شہادت اور ثبوت کا معیار سخت اور مضبوط ہونا چاہیے اور موجودہ مقدمے میں شہادت کا ذرہ بھر بھی جرم کے ارتکاب کے ساتھ اپیل کنندگان کو منسلک نہیں کرتا۔

۲۰ - جناب رفیق احمد باجوہ ایڈووکیٹ بطور عدالتی مشیر نے قانون شہادت کی مختلف شقوں کا حوالہ دیا اور بیان کیا کہ یہ شہادت کی سچائی ہے جو مطلوب ہے، نہ کہ شہادت کا حجم۔ انہوں نے اپنے دلائل کے حق میں عدالت عظمیٰ کے کئی حوالوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ چٹ (مسلکہ پی اے ۲) جن پر حقیقتاً اشتعال انگیز اور قابل اعتراض مواد لکھا تھا، قرائن اور تائیدی شہادت کے طور پر لی جاسکتی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گواہ استغاثہ نمبر ۱ کو DDA کی طرف سے منحرف قرار نہیں دینا چاہیے اور کسی صورت میں اس کی شہادت منحرف گواہ کی حیثیت سے مسترد نہیں کرنی چاہیے، بلکہ بطور شہادت استعمال کرنی چاہیے۔ گواہ استغاثہ نے عدالت میں بتایا کہ اس نے ایک درخواست (ابتدائی رپورٹ، مسلکہ پی اے) جو اس کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تھی اور اس پر اس کے دستخط تھے اور جو واقعات و درخواست میں لکھے گئے تھے وہ حقیقتاً پیش آئے تھے۔ انہوں نے دلیل دی کہ ابتدائی رپورٹ کے مشمولات اگرچہ گواہ استغاثہ نمبر ۱ کے بیان میں ذکر نہیں کیے گئے تھے، تاہم وہ ایک اہم شہادت کے طور پر لیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بیان کیا کہ اس مقدمے کے مخصوص حالات کے پیش نظر گواہ استغاثہ نمبر ۲ اور گواہ استغاثہ نمبر ۳ کی گواہی کو اپیل کنندگان کو سزا دینے کے لیے بنیاد بنایا جاسکتا ہے، اگرچہ انہوں نے توہین آمیز الفاظ، جو مبینہ طور پر ملزموں نے دیوار پر لکھے تھے، عدالت میں نہیں دہرائے تھے۔ فاضل وکیل نے آخر میں کہا کہ اپیل کنندگان کے خلاف مقدمہ پوری طرح ثابت ہے۔ عدالت کے استفسار پر، کہ آپ کے خیال میں کون سے نکات صفائی کے حق میں ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ گواہوں کے بیانات صفائی کے حق میں سمجھے جاسکتے ہیں لیکن گواہوں کے یہ بیانات استغاثہ کے موقف کی تائید میں بھی لیے جاسکتے ہیں۔ شہادت کے معیار پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ سزا دہی کی بنیاد کسی گواہ کے واحد بیان پر بھی رکھی جاسکتی ہے، اگر عدالت اس نتیجے

صفحہ 157

پر پہنچے کہ اس کی شہادت قابل اعتبار ہے، یقین پیدا کرتی ہے اور اس مقدمہ کے خاص حالات سے مطابقت رکھتی ہے۔ ہم فاضل وکیل کے ان دلائل سے متفق نہیں ہیں کہ مسلک پی اے (درخواست) اس وقت ایک اہم شہادت کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے جب گواہ استغاثہ نمبر ۱ تسلیم کر لیتا ہے کہ اس نے ابتدائی رپورٹ درج کروائی۔ ہماری رائے میں ابتدائی رپورٹ ایک اہم شہادت نہیں۔ یہ صرف شکایت کنندہ (اطلاع دہندہ) کے اس بیان کی تائید یا تردید میں استعمال ہو سکتی ہے، جو وہ عدالت میں حلف پر دیتا ہے۔ گواہ استغاثہ نمبر ۱ نے عدالت میں اس امر کے بارے میں کچھ نہیں کہا کہ اس نے تفتیشی افسر کے سامنے مسلک پی ۱، ۲ (چٹیں) پیش کی تھیں یا نہیں کی تھیں۔ یہ صرف گواہ استغاثہ نمبر ۴ امان اللہ تفتیشی افسر کی شہادت کے ذریعے عدالت کے ریکارڈ میں بطور مسلک پی ۱، ۲ میں شامل ہوئیں۔ یہ چٹیں اگرچہ انتہائی اشتعال انگیز ہیں، تاہم یہ گواہ استغاثہ نمبر ۱ کے پاس ایک سال تک پڑی رہیں لیکن اس نے ان پر کوئی کارروائی نہ کی۔ ان حالات میں ہم شہادت کے اس حصے کو کس طرح اپیل کنندگان کے خلاف تائیدی یا قرائن شہادت تصور کر سکتے ہیں۔ استغاثہ اس امر میں ناکام رہا ہے کہ ان چٹوں کا اپیل کنندگان سے کوئی تعلق ہے۔

قریشی ایڈووکیٹ کو ان کی درخواست پر شکایت کنندہ کی طرف سے بولنے کی اجازت دی گئی۔ جناب رشید مرتضیٰ قریشی نے اپنے دلائل دہرائے لیکن جو کچھ پہلے انہوں نے کہا تھا، اس میں کوئی اضافہ نہ کر سکے۔ وہ شہادت اور قانونی نکات پر کچھ کہنے کے بجائے ملزمان کی طرف سے توہین رسالت پر لوگوں کے جذبات پر زور دیتے رہے۔

پاکستان میں نہیں کی گئی، لیکن اس لفظ کے لغوی معانی سے مدد لی جا سکتی ہے۔ واضعین قانون نے بہت مفصل اور جامع تناظر بیان کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس اسم شریف کی توہین سے متعلق تمام صورتوں میں احاطہ کرتا ہے۔ فاضل وکیل صفائی نے جناب عابد حسن منٹو ایڈووکیٹ اور جناب اعجاز حسین بٹالوی ایڈووکیٹ سے اس امر میں اتفاق کیا کہ ہر فوجداری الزام میں بنائے جرم کا وجود ثابت کرنا ضروری ہے، یعنی اولاً جرم واقع ہوا ہے، ثانیاً ملزم نے اس جرم کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اگر جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے تو وہ حالات جن میں اس جرم کا ارتکاب کیا گیا، قرائنی شہادت اور تائیدی شہادت کے طور پر لیے جا سکتے ہیں، گواہ استغاثہ نمبر ۲ اور گواہ استغاثہ نمبر ۳ کے

صفحہ 158

بارے میں فاضل وکیل صفائی نے کہا کہ وہ ان توہین آمیز الفاظ کو عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہے جو مبینہ طور پر دیوار پر لکھے تھے، اور انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے سلسلے میں تھے یا کسی اور شخصیت کی توہین کے سلسلے میں۔ انہوں نے کہا کہ استغاثہ کے حق میں فرض نہیں کرنا چاہیے کہ یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تقدس کے خلاف تھے۔

کیا کہ ریکارڈ کے مطالعہ کے بعد ان کی پختہ رائے ہے کہ استغاثہ اپیل کنندگان کے خلاف مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ گواہ استغاثہ نمبر ۱ پرلے درجے کا جھوٹا اور لوٹا تھا، جس نے اپنی پوزیشن اور نقطہ نظر تین دفعہ بدلا، پہلی مرتبہ عدالت سماعت ابتدائی میں اور دو مرتبہ عدالت ہذا کے سامنے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ معلوم کر کے حیران ہوئے کہ مسلکہ پی ۱، ۲ کو بطور اشتعال انگیز مواد ایک سال تک وہ اپنے قبضے میں رکھے رہا۔ فاضل وکیل نے کہا کہ عدالت میں امور واقعہ سے متعلق بیان پر جرح کے ذریعے وہ مواد تیار ہوا جو ملزموں کے جرم میں ملوث ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے عدالت کے سامنے آیا ہے۔ ابتدائی رپورٹ اہم شہادت نہیں اور یہ صرف عدالت میں شہادت دینے والے گواہ کی تردید یا تائید کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ تینوں ملزموں کے کھلم کھلا واضح فعل کے بارے میں گواہ استغاثہ نمبر ۲ اور گواہ استغاثہ نمبر ۳ کے بیانات میں تضاد ایک شدید تضاد ہے۔ استغاثہ گواہوں کے بیانات میں اس شدید تضاد کی کوئی وضاحت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ فاضل وکیل نے بیان کیا کہ گواہ استغاثہ نمبر ۲ اور گواہ استغاثہ نمبر ۳ کے بیان کے محض ایک مطالعہ سے دفعہ ۲۹۵ سی تعزیرات پاکستان نہیں بنتی۔ قرآن کریم اور احادیث کی رو سے ہر شبہ کا فائدہ ملزم کو جاتا ہے اور مبہم حالات، فرض کیے ہوئے امور، گواہوں کے تاثرات اور وجدان، یہ سب سزا کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ شک خواہ کتنا ہی مضبوط ہو، حقائق کی حیثیت حاصل نہیں کر سکتا۔ فاضل مشیر عدالت نے مزید کہا کہ دونوں الزامات کے بارے میں استغاثہ موجودہ اپیل کنندگان کے خلاف کچھ ثابت نہیں کر سکا۔ جہاں تک پہلے الزام کا تعلق ہے، گواہ یہ بیان کرنے میں ناکام رہے کہ الفاظ جو دیوار پر سے صاف کر دیئے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں توہین آمیز تھے یا صحابہ کرام یا امہات المومنین کی شان میں توہین آمیز تھے۔ جب صورت یہ ہو تو استغاثہ کو شک کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ یہ صرف صفائی کا حق ہے۔ چٹوں مسلکہ پی ۱، ۲ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان چٹوں کی تحریر استغاثہ کی طرف سے موجودہ اپیل کنندگان کی طرف منسوب

صفحہ 159

میں کی گئی، نہ ہی ایک لفظ تک ایسا کہا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ مسجد میں یہ چٹیں کس نے گرائیں۔ یہ امر کہ یہ چٹیں کسی نامعلوم شخص نے گرائیں، جن کا تحریر کنندہ نامعلوم تھا، موجودہ اپیل کنندگان کے خلاف قرینہ نہیں بن سکتا۔ فاضل مشیر عدالت نے بحث کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا مقدمہ تھا، جس میں سزا دلانے کے لیے استغاثہ کوئی ثبوت ریکارڈ پر نہیں لایا اور فاضل عدالت سماعت ابتدائی کے فیصلے میں اندرونی نقائص مضمر ہیں، جن کی تائید نہیں کی جاسکتی۔

۲۳ - خواجہ سلطان احمد ایڈووکیٹ نے بطور مشیر عدالت بیان کیا کہ استغاثہ کا موقف اندرونی طور پر مضر تضاد کا شکار ہے۔ قابل اعتراض چٹیں منسلک پی ۲، ایک سال تک گواہ استغاثہ کے پاس پڑی رہیں لیکن دیوار کی تحریر گواہوں نے فوری طور پر مٹا دی۔ تینوں گواہ استغاثہ یعنی نمبر ۱، ۲ اور ۳ اپیل کنندگان کے خلاف مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہے اور اپیل کنندگان کے خلاف شہادت کا ایک ذرہ بھر بھی نہیں پایا جاتا۔ انہوں نے تفتیشی ایجنسی، سرکاری وکیل اور عدالت سماعت ابتدائی کے غافلانہ طرز عمل کا حوالہ دیا۔ وہ ایک شدید سخت الزام کے حامل مقدمے میں اپنے اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے۔ پولیس نے ملزموں کا ریمانڈ نہ لیا اور چٹوں پر موجود تحریر کا تقابل کرنے کے لیے ملزموں کی تحریروں کے نمونے ماہر فن تحریر کے پاس نہیں بھیجے۔ عدالت ماتحت نے چٹوں کی برآمدگی کی بارے میں غلط فرد جرم لگائی، جب کہ استغاثہ کا یہ موقف ہی نہیں تھا۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی اپنا فرض انجام دینے میں ناکام رہے اور گواہ استغاثہ نمبر ۱ سے ابتدائی رپورٹ کے ہر ایک امر واقعہ کے بارے میں دریافت کیا۔ گواہان استغاثہ نے کسی ایسے لفظ کا ذکر نہیں کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس اسم شریف کے لیے توہین آمیز ہو، اس کے باوجود ماتحت عدالت نے اپیل کنندگان کو سزا دے دی۔ فاضل وکیل نے ہماری توجہ چٹ منسلکہ پی ۲ کی تحریر کی طرف دلائی، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ ”ص“ کی علامت ڈالی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ چھوٹی سی علامت ”ص“ کوئی غیر مسلم نہیں لکھ سکتا، اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چٹ کی تحریر تعلیم یافتہ اور پختہ کار کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔ فاضل وکیل نے کہا کہ یہ کام کسی تخریب کار یا قوم دشمن عناصر نے کیا ہے۔ فاضل وکیل نے ابتدائی رپورٹ منسلکہ پی- ۱ اے کی طرف اشارہ کیا اور بتایا کہ یہ کسی اور شخص نے لکھی ہے اور حافظ فضل حق نے صرف دستخط کئے ہیں اور یہ اس کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی نہیں جیسا کہ اس نے اپنے بیان میں کہا۔ فاضل وکیل نے مزید کہا کہ ابتدائی رپورٹ منسلکہ پی ۱ اے اور فرد برآمدگی منسلکہ پی بی، تھانہ کے کسی افسر نے صلاح مشورے کے

صفحہ 160

بعد تحریر کیا۔ دو دن کی تاخیر استغاثہ کے مقدمے میں شدید شبہات پیدا کرتی ہے۔

وکیل صفائی نے اپنی بحث ختم کر دی تھی اور اپنے عارضہ قلب کے علاج کے سلسلے میں بیرون ملک جا چکی تھیں۔ مزید شہادت اس لئے پیش کی جانی درکار تھی تاکہ استغاثہ کے موقف میں اندرونی طور پر مضمر نقائص کو دور کیا جا سکے۔ شکایت کنندہ نے اس خامی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم نے ایک علیحدہ تفصیلی حکم کے ذریعے بغرض انصاف اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

سنے۔ فاضل مشیران عدالت کی تفصیلی بحث بھی سنی۔ ہم نے غور سے ریکارڈ کا مطالعہ کیا، سات روز تک اپیل کی سماعت کی اور تمام واقعاتی اور قانونی پہلوؤں پر مفصل گفتگو کی۔

ابتدائی رپورٹ حافظ محمد فضل حق کی درخواست پر درج ہوئی۔ اس نے ابتدائی عدالت سماعت کے سامنے پیش ہو کر بطور گواہ حلفاً بیان دیا اور یہ خواہش ظاہر کی کہ موجودہ حالات اور خطرہ جان کے پیش نظر وہ مقدمے کی پیروی نہیں کرنا چاہتا۔ اسے ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کی طرف سے منحرف قرار دے دیا گیا کیونکہ وہ جان بوجھ کر سچائی کو چھپا رہا تھا۔ جرح کے جواب میں اس نے بیان کیا کہ درخواست ضمیمہ پی اے اس کے اپنے ہاتھ کی ہے اور اس پر اس کے دستخط ہیں، جو واقعہ ضمیمہ پی اے میں بیان کیا گیا ہے وہ حقیقتاً واقعہ ہوا۔ اس نے مزید بتایا کہ اسے ملزمان کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں۔ اس کے بیان کے پیش نظر ہماری یہ رائے ہے کہ اس نے استغاثہ کا مقدمہ کسی طور آگے نہیں بڑھایا۔ اس کے اس بیان کی وجہ سے ابتدائی رپورٹ کو اہم شہادت تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ابتدائی رپورٹ میں جو واقعات مذکور تھے۔ انہیں عدالت کے سامنے بیان کرنے میں ناکام ہوا۔ اس نے یہ بھی بیان نہیں کیا کہ اس نے پیشین ضمیمہ پی اے پولیس کے سامنے پیش کیا، اس طرح اس کا جرح میں یہ کہنا کہ واقعہ حقیقتاً پیش آیا، استغاثہ کے موقف کی کوئی مدد نہیں کرتا، جو گواہ عدالت میں حلف اٹھا کر جرح میں صحیح واقعات بیان نہیں کرتا، اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ حافظ فضل حق نے عدالت ہذا میں درخواست دی ہے کہ وہ مقدمے کی پیروی نہیں کرنا چاہتا اور اپنے وکیلوں کے وکالت نامے واپس لیتا ہے۔ اسے مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۹۵ء کو ایسا کرنے کی اجازت دی گئی۔ ۲۲ فروری ۱۹۹۵ء کو وہ پھر پیش ہوا اور ایک اور درخواست دی، جس میں بیان کیا کہ وہ مقدمہ کی پیروی کرنا چاہتا ہے اور اس نے مقدمے کے دوران نمائندگی

صفحہ 161

کے لیے وکلاء کو مختار نامہ دے دیا ہے۔ اس کی درخواست بغرض انصاف منظور کر لی گئی اور بغرض انصاف اس کے وکلاء کو اس کی نمائندگی کی اجازت دے دی گئی۔ اس کے اس رویے کی بنا پر وہ ایک قابل اعتبار گواہ نہیں۔ وہ دو دن تک واقعہ کی رپورٹ کرنے میں ناکام رہا اور توہین آمیز چٹیں منسلکہ پی ۱، ۲ ایک سال تک اپنے پاس رکھے رہا، جس سے اس کا اعتبار مشکوک ہو گیا۔ گواہ کے اس رویے اور اس کے بارے میں درج بالا امور واقعہ کے پیش نظر ہماری پختہ رائے ہے کہ وہ ایک ناقابل اعتبار گواہ ہے اور ہم اس کی شہادت کو مسترد کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس کی جرح کے دوران اس کی درخواست کی منسلکہ پی اے کے طور پر ریکارڈ میں شمولیت، اس کا بیان کہ ابتدائی رپورٹ میں بیان کردہ واقعہ حقیقتاً پیش آیا، دونوں کے ذریعے استغاثہ کے مقدمے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوتی اور نہ ہی منسلکہ پی اے کے مشمولات استغاثہ کے موقف کی کوئی مدد کرتے ہیں۔

ہے۔ ان کے بیانات پہلے ہی اوپر درج کئے جا چکے ہیں۔ محمد اکرم نے بیان کیا کہ سلامت مسیح پتھر سے دیوار پر کچھ لکھ رہا تھا، جب کہ رحمت مسیح اور منظور مسیح (حال متوفی) وہاں کھڑے تھے۔ اس نے احترام کے پیش نظر وہ الفاظ (جو دیوار پر لکھے تھے) نہیں دہرائے۔ گواہ نے اپنے بیان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کی وجہ سے توہین آمیز الفاظ نہیں دہرائے اور نہ ہی خاص طور پر ان الفاظ کا ذکر کیا۔ اس نے مزید بیان کیا کہ کوئی نامعلوم آدمی ان چٹوں کو غسل خانے میں پھینکتا تھا اور یہ قابل اعتراض چٹیں منسلکہ پی ۱، ۲ پہلی بار ۱۱۔ مئی ۱۹۹۳ء کو تھانے میں پیش کی گئیں۔ وکیل صفائی نے اس گواہ اور منظور مسیح و سلامت مسیح کے مابین کشیدہ تعلقات کے پس منظر کا ذکر کیا ہے۔ گواہ نے بیان کیا کہ قابل اعتراض فقرے (جو دیوار پر لکھے گئے تھے) پانچ چھ الفاظ پر مشتمل تھے جن کو مولوی فضل حق نے مٹا دیا۔

ساتھ مسجد سے باہر آیا تو انہوں نے دیکھا کہ رحمت مسیح، سلامت مسیح اور منظور مسیح (حال متوفی) پتھروں سے دیوار پر لکھ رہے تھے۔ ان الفاظ کو وہ دہرا نہیں سکتا جو دیوار پر لکھے تھے۔ اس نے مزید بیان کیا کہ مولوی فضل حق نے چٹیں منسلکہ پی ۱، ۲ اس کی موجودگی میں تھانے میں پیش کیں جن کو فرد قبضہ منسلکہ پی بی کے ذریعے قبضے میں کر لیا گیا۔ اس گواہ پر بھی طویل جرح کی گئی۔ صفائی نے اس گواہ کی سابقہ عداوت کے پس منظر کا الزام لگایا، اگرچہ گواہ نے اس پس منظر کی موجودگی سے انکار کیا۔

صفحہ 162

۳۰۔ ہم گواہ استغاثہ نمبر ۲ اور ۳ کی شہادت کو ملا کر اس پر بحث کرنا چاہیں گے‘ اور اس طرح موجودہ اپیل کنندگان کے خلاف الزامات سے متعلق ان کی شہادت کا تخمینہ لگائیں گے۔ ہماری رائے ہے کہ دونوں گواہان استغاثہ نے اپنے بیانات میں دیوار پر لکھی گئی تحریر کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ دونوں میں سے کسی نے اس تحریر یا ان الفاظ سے متعلق ایک لفظ بھی نہیں کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس اسم شریف کے لئے توہین آمیز تھے یا ان کے افراد خانہ کے لئے۔ دونوں گواہوں نے دیوار پر لکھنے کے واقعہ کے بارے میں ایک دوسرے کی تردید کی۔ گواہ استغاثہ نمبر ۲ نے بیان کیا کہ سلامت مسیح (دیوار پر) لکھ رہا تھا اور دوسرے شریک ملزمان کھڑے تھے جب کہ گواہ استغاثہ نمبر ۳ نے بیان کیا کہ تینوں ملزمان دیوار پر پتھروں سے لکھ رہے تھے۔ ہماری رائے ہے کہ یہ ایک شدید تضاد ہے جو ان گواہوں کے اعتبار کو منعکس کرتا ہے اور ان کے بیانات کو مشکوک بناتا ہے۔

۳۱۔ مزید برآں گواہ استغاثہ نمبر ۲ نے بیان کیا کہ (دیوار پر لکھی گئی) وہ تحریر پانچ چھ الفاظ پر مشتمل تھی اور اگر اسکا بیان گواہ استغاثہ نمبر ۳ کے بیان کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ ناقابل یقین اور تمسخرانہ لگتا ہے‘ کہ تینوں ملزمان ایک کے بعد دوسرا‘ یہ تحریر لکھ رہے ہیں جو کل پانچ چھ الفاظ پر مشتمل تھی۔ اصول قانون کے اسلامی نظریات کے مطابق عدالت میں سچ بولنا چاہیے اور سچائی کو چھپانا گناہ ہے۔ یہ ایک واضح سچائی ہے کہ جو کسی فوجداری مقدمے میں سزا کا تقاضا کرتی ہے۔ گواہوں کے دماغ اور سینے میں دفن اور چھپی ہوئی سچائی سزا کی بنیاد نہیں بن سکتی اور نہ ہی دی ہوئی سزا برقرار رہ سکتی ہے۔ قانون شہادت کے تحت استغاثہ کے الزامات پر مبنی حقائق‘ عدالت میں حلفاً دی ہوئی گواہی کے ذریعے ثابت کرنے ہوتے ہیں اور شہادت ان حقائق کے ثبوت کی بنیاد مہیا کرتی ہے جو نتیجہ کے طور پر ملزم کی سزایابی پر منتج ہوتی ہے۔ جس قدر جرم شدید ہوگا‘ اسی قدر مضبوط اور یقین پیدا کرنے والی شہادت ضروری ہے جو فوجداری انصاف رسانی کا ایک حصہ ہے۔ گواہ کی قیاس آرائیاں‘ مفروضے اور تاثرات‘ جو ملزم کے افعال کے بارے میں اس کے ذہن میں موجود ہیں اور کسی جرم کی شرانگیزی‘ یہ سب زور دار اور مضبوط شہادت‘ جو عدالت میں دی جائے‘ کے ذریعے ثابت کرنے ہوں گے۔ یہ فوجداری انصاف کا اہم اصول ہے کہ ہر شخص قانون کی نظر میں بے گناہ ہے اور یہ استغاثہ کا لازمی فرض ہے کہ مقدمہ کو مکمل طور پر ثابت کرے۔ ریکارڈ پر لائی ہوئی شہادت غیر مبہم اور اس طرح یقین دلانے والی ہونی چاہیے کہ عام سمجھ بوجھ رکھنے والا ہر شخص لازماً ایک ہی نتیجے پر پہنچے۔ اس معیار کو پیش نظر

صفحہ 163

رکھتے ہوئے ہم یہ رائے رکھتے ہیں کہ یہ دونوں گواہان استغاثہ مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ لہٰذا جواب نفی میں ہے۔ چٹ نمبر منسلکہ 1' 2 کا اپیل کنندگان سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ اس لئے ان کو اس الزام سے بری الذمہ قرار دیا جاتا ہے۔ چٹیں منسلکہ 1' 2 شدید توہین آمیز ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ گواہ استغاثہ نمبر 1 ان کو سارا سال اپنے پاس رکھے رہا۔ ان دونوں چٹوں کی تحریر تجربہ کار افراد کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے، اور اس امر کی تفتیش درکار ہے کہ اصل مجرم تلاش کئے جائیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عرصہ سے قوم دشمن عناصر مختلف قوموں اور فرقوں کے مابین نفرت کے جذبات بھڑکائے جا رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت اس طرف فوری توجہ دے گی اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرے گی۔

جو کچھ اوپر کہا گیا ہے، اس کے پیش نظر ہماری سوچی سمجھی رائے ہے کہ استغاثہ دونوں اپیل کنندگان کے خلاف مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ہم اپیل منظور کرتے ہیں اور اپیل کنندگان کو الزامات سے بری کرتے ہیں۔ ان کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے گا بشرطیکہ وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہوں۔ سزائے موت کی توثیق نہیں کی جا رہی ہے اور اس حکم کے ساتھ حوالہ واپس بھیجا جا رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ میں اپیل کے فیصلہ کے بعد قابل اعتراض مواد سیکرٹری داخلہ کے احکام کے تحت ضائع کر دیا جائے گا۔ کلمہ طیبہ کا پوسٹر امام مسجد کو واپس کر دیا جائے گا۔

فیصلہ ختم کرنے سے پہلے ہم درج ذیل حضرات کی قیمتی خدمات کی تعریف ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں۔ مسز عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ برائے اپیل کنندگان، جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ برائے شکایت کنندہ۔ ہم میاں عبدالستار نجم ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے عدالت کے سامنے منصفانہ، بے لاگ اور دلیرانہ بیان دیا، ہم خصوصاً ان ایڈووکیٹ حضرات کی طرف سے قیمتی مدد بطور عدالتی مشیر ہونے پر ان کے شکر گزار ہیں۔ جناب ایس ایم ظفر، اعجاز حسین بٹالوی، عابد حسین منٹو، خواجہ سلطان احمد، میاں دلاور محمود، محمد حنیف کھٹانہ، رفیق احمد باجوہ اور غلام باری سلیمی۔ بریت کا حکم جاری ہوا۔

(دستخط جج)

(K.L.R. 1995 cr.c. 178)

صفحہ 164

انصاف کا قتل

”پنجاب حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل میاں عبد الستار نجم نے لاہور ہائی کورٹ میں توہین رسالت کیس کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ حکومت پنجاب توہین رسالت کیس کے اصل ملزموں کے بارے میں تفتیش کر رہی ہے اور حکومت، اس سازش کے پیچھے خفیہ ہاتھوں کو بھی بے نقاب کرے گی۔ اے۔ جی نے کہا کہ حکومت، عدالت کے فیصلے کا انتظار کر رہی ہے۔ فیصلہ کے بعد ان تمام پہلوؤں پر تفتیش کی جائے گی کہ کیا یہ توہین رسالت کا عام کیس تھا یا مختلف طبقات میں تنازعہ پیدا کرنے کے لیے کسی کی سازش تھی۔

مزید برآں اس کیس کی سماعت کرنے والے ججوں نے توہین رسالت کے ملزموں کو بری کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں حکم دیا کہ ”اس کیس کی از سر نو تفتیش کر کے اصل مجرم تلاش کیے جائیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عرصہ سے قوم دشمن عناصر مختلف قوموں اور فرقوں کے درمیان نفرت کے جذبات بھڑکا رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت اس طرف فوری توجہ دے گی اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرے گی“۔

آج تک:

امیر شہر سلامت رہے تیرا انصاف
ہمارے نام ہی لکھ دیں تمام زنجیریں
صفحہ 165

ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف عوامی ردعمل

مذہبی و سیاسی رہنماؤں کے تاثرات

پر مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اسے امریکہ اور دیگر اسلام دشمن طاقتوں کے ایماء پر حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف قرار دیا۔

آقاؤں کو خوش کرنے کا معاملہ تھا۔ حکومت نے امریکہ سے کنفرمیشن لینی تھی اور ججوں نے حکومت سے جبکہ عاشقان مصطفیٰ نے مدینہ سے کنفرمیشن لینی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور وٹو نے مولوی فضل حق کے بارے میں بیان دے کر ثابت کر دیا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ انہوں نے برطانوی سفیر کو ملزموں سے ملوایا۔ ہمیں اسی دن توقع تھی کہ فیصلہ کیا ہوگا۔ ہم نے وزیراعظم کے خلاف توہین رسالت کی درخواستیں دیں مگر کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔ لہٰذا یہ کنگرو کورٹس ہے اور فراڈ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے اور انصاف کے حصول کے لیے آخری دم تک لڑتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عالیہ کے اس فیصلہ نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ حکومت نے جان بوجھ کر یہ کیس ایسے ججوں کے روبرو پیش کیا جو مستقل نہیں ہیں۔ رشید مرتضیٰ قریشی نے کہا کہ ہمیں خطرہ ہے کہ رحمت مسیح اور سلامت مسیح ملک سے فرار ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ سے ملکی عدلیہ کو شدید دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ قادیانی لابی کی کامیابی ہے۔

حسین احمد‘ مولانا اجمل قادری‘ سید امیر حسین گیلانی‘ مولانا محمد عبداللہ اور مولانا امجد خاں نے کہا ہے کہ اس فیصلہ سے صرف عوام کے جذبات ہی مجروح نہیں ہوئے بلکہ پوری امت اسلامیہ کے لیے یہ فیصلہ تشویش کا باعث بنا ہے“۔

صفحہ 166

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی کے مرتکب مجرموں کو بری کرنے کے ”جیالے“ ججوں کے فیصلے پر ہم خدا کی ہزار بار لعنت بھیجتے ہیں۔ حکومت نے اس فیصلے کی صورت میں پاکستان کے بارہ کروڑ عوام پر اللہ کے عذاب کو دعوت دی ۔

دباؤ میں ہے۔ ”جیالے ججوں“ نے ”جیالے پن“ کا ثبوت دیا ہے“۔

شہباز، جنرل سیکرٹری پنجاب محمد جمیل سعیدی نے کہا ہے کہ اس فیصلہ پر دستخط کر کے جیالے ججوں نے موت کے پروانے پر دستخط کر دیئے ہیں“۔

صاحبزادہ پیر محمد افضل قادری اور دوسرے رہنماؤں صاحبزادہ مصطفےٰ اشرف رضوی، محمد نواز کھرل، تنظیم المدارس کے ناظم اعلیٰ مفتی عبدالقیوم ہزاروی اور انجمن طلباء اسلام پاکستان کے مرکزی صدر حافظ طارق محمود رضا نے عدالتی فیصلے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے امریکی فیصلہ قرار دیا ہے“۔

قوتوں اور وزیر اعظم پاکستان کے ایماء پر توہین رسالت کے ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ کر کے اپنی عاقبت خراب کر لی ہے“۔

کنوینر تحریک تحفظ ناموس رسالت نے کہا کہ توہین رسالت کے مجرموں کو بری کرنے کا لاہور ہائی کورٹ کے ”جیالے ججوں“ کا فیصلہ عدالتی نہیں بلکہ حکومتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بروز جمعہ داتا دربار سے جمعیت علمائے پاکستان نیازی گروپ، جماعت اہلسنت، انجمن طلباء اسلام، جے یو آئی، جمعیت اہل حدیث مشترکہ طور پر دوپہر کو جلوس نکالے گی اور حکومت کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرے گی“۔

”پی پی اے کے مطابق تحریک جعفریہ پنجاب کے صدر علامہ سید افتخار حسین نے کہا ہے کہ توہین رسالت کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔ سپاہ صحابہ کے سیکرٹری اطلاعات مجیب الرحمٰن انقلابی، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر منظور شاکر نے عدالت کے اس فیصلے پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپاہ صحابہ اس فیصلے کے خلاف احتجاج

صفحہ 167

کرے گی۔ سپاہ محمد کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات علامہ سید سبطین جعفری نے عدالت کے اس فیصلے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ہماری حکومت خدا اور اس کے رسول کی ناراضگی تو مول لے سکتی ہے لیکن امریکہ کو ناخوش نہیں کر سکتی۔

دل معمور ہیں۔ اور حضور اکرم کے خلاف کوئی بات برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت ایک بہت نازک مسئلہ ہے"۔

بری کرنے کا فیصلہ مبینہ طور پر عدالت کا اپنا فیصلہ نہیں ہے"۔

سفارتی میڈیا اور حقوق انسانی کی تنظیموں کے ذریعے عدالت پر اثر انداز ہونے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ وزیر اعظم پاکستان کے بیان نے بھی شکوک و شبہات پروان چڑھائے تھے اور ہائی کورٹ کے بے نظیر سپیڈی ٹرائل کے فیصلے نے اس کیس کے نتیجے کو غیر معمولی بنا دیا ہے"۔

محمد رفیق تارڑ نے کہا ہے کہ توہین رسالت کیس انتہائی اہم نوعیت کا حامل کیس تھا۔ عام طور پر اس قسم کے مقدمات میں چیف جسٹس خود بینچ کے رکن ہوتے ہیں اور سینئر جج یا ججوں کو بینچ میں شامل کیا جاتا ہے مگر اس کیس میں دو ایڈیشنل ججوں کا بینچ بنایا گیا جنہیں فی الحال ملازمت کا بھی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ اس طرح سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ناموس سے متعلق مقدمہ کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کیس میں پیش کی گئی شہادت اور بریت کی تائید میں ظاہر کی گئی وجوہات کا تجزیہ کیے بغیر ہائی کورٹ کے فیصلہ پر کوئی حتمی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا مگر یہ بات ریکارڈ پر لانی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ توہین رسالت کا الزام قتل عمد کے الزام سے سنگین تر ہے کیونکہ قتل عمد قابل راضی نامہ جرم ہے مگر توہین رسالت میں راضی نامہ کا کوئی تصور نہیں، یہ ایک ایسا جرم ہے جس میں معافی نہیں۔ قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والے سینکڑوں مسلمان قیدی دو دو سال سے پھانسی کی کوٹھڑیوں میں بند پڑے ہیں اور ان کی اپیلوں کی سماعت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی مگر سزا یافتگان دو عیسائیوں کے کیس کی فوری سماعت کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ عیسائی اس ملک کے اول

صفحہ 168

درجے کے شہری ہیں اور وہ مسلمان جو دو سال یا اس سے بھی زائد عرصہ سے پھانسی کی کوٹھڑیوں میں پڑے اپنی اپیلوں کی سماعت کے منتظر ہیں، ان سے کم تر ہیں۔ فرنگی دور میں اس قسم کا امتیازی سلوک "یورپین برٹش سبجیکٹس" سے کیا جاتا تھا"۔

دس دس سال سے زیر سماعت ہیں، لیکن جس سرعت سے ہائیکورٹ نے اس کیس کی سماعت کی ہے، اس نے ان کے فیصلے کو مشکوک بنا دیا ہے۔ اس کیس کے دوران حکومت اور عدالت پر مستقل دباؤ رہا۔ غیر ملکی مداخلت نمایاں رہی اور خود وزیراعظم کے قبل از وقت غیر ذمہ دارانہ اظہار خیال کرنے کا کیا جواز ہے؟ یہ سب شواہد اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ کارروائی متاثر ہوئی ہے۔ عدالت کو چاہیے تھا کہ مقدمے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرتی، عدالت کی عجلت نے لوگوں کو مشکوک کر دیا ہے، جہاں تک ہیومن رائٹس کا تعلق ہے تو یہ ہمارا اپنا مسئلہ ہے جو حکومتیں خود بین الاقوامی دہشت گردی کر رہی ہیں، ان کی طرف سے اس حوالے سے تنقید کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور عدالت نے اس دباؤ کا صحیح مقابلہ نہیں کیا"۔

تھی یا نہیں، دکھ اس بات کا ہے کہ اللہ اور رسولؐ کے نام پر حاصل کردہ اس ملک میں توہین رسالتؐ ہوئی اور حکومت منہ دیکھتی رہ گئی۔ آخر کسی بدبخت نے تو وہ تحریر لکھی ہوگی، اگر وہ یہ لوگ نہیں تو کون ہیں؟ انہوں نے کہا، اس فیصلے نے پاکستان پر عذاب کی گھڑی نازل کر دی ہے اور جن لوگوں نے ملزمان کے بری ہونے پر وکلا کے منہ چومے، شیطان بھی ان کے منہ اس فیصلے کے بعد چوم رہا ہوگا۔ انہوں نے کہا، جب تک سپریم کورٹ فیصلہ نہ کرے، ملزمان کو ملک سے بھاگنے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے کہا، عدالت میں نبی کریمؐ کی عزت و احترام کے حوالے سے جو سوال پیدا ہوئے، اس پر عامتہ المسلمین کو دکھ ہوا ہے۔ کیا عدالت کو شان رسالتؐ مآب کا علم نہیں؟ انہوں نے کہا، اس فیصلے کے بعد مغرب کو تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی کے بعد دو اور ہیرو مل جائیں گے"۔

میں عدلیہ کو پریشرائز کیا گیا۔ حکومت نے پس پردہ دباؤ ڈال کر گستاخان رسولؐ کی سزا ختم کرا دی ہے۔ ان کا یہ اقدام انہیں لے ڈوبے گا"۔

تبصرہ کر کے عدالتوں کو کسی

کیس بڑا اہم تھا، لیکن ا تشکیل دیا جانا چاہیے تھا لوگوں میں یہ تاثر ابھرتا ہے بنچ بنایا جاتا جس کی سربراہ کے لیے تو فل بنچ بنا دیتے لینا چاہیے تھا۔ اے کریم بھی شکوک و شبہات پیدا تھا"۔

فیصلہ افراتفری کا فیصلہ ہے حساس مذہبی نوعیت کے مق ہماری عدالتیں پہلے ہی سیا میں بھی انہیں متنازعہ بنا دیا

کرتے ہوئے کہا کہ عدالت تھا کہ وہ اس کیس کا آؤٹ کے وکلاء کی تمام مصروفیا نے اضافی شہادتوں کی در گئی"۔

رسالتؐ کیس کا فیصلہ دور پرستی کا لیبل ہٹا کر سرخرو پوری دنیا کے مسلمانوں سزائے موت دینے سے ا

صفحہ 169

تبصرہ کر کے عدالتوں کو کسی مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتا“۔

کیس بڑا اہم تھا، لیکن اس کیس کی سماعت کے لیے سینئر اور کنفرم ججوں پر مشتمل بنچ تشکیل دیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا ”موسٹ جونیئر“ جج اگر صحیح فیصلہ بھی دیں تو لوگوں میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ فیصلہ صحیح نہ ہوا۔ اس کیس کی سماعت کے لیے سینئر ججوں کا بنچ بنایا جاتا جس کی سربراہی خود چیف جسٹس کرتے۔ انہوں نے کہا، چھوٹے چھوٹے کیسوں کے لیے تو فل بنچ بنا دیئے جاتے ہیں پھر اس حساس نوعیت کے معاملہ کو اتنا آسان نہیں لینا چاہیے تھا۔ اے کریم ملک نے کہا، توہین رسالت کیس کی آؤٹ آف ٹرن سماعت نے بھی شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں۔ اس کیس میں ایسی جلدی کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہیے تھا“۔

فیصلہ افراتفری کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا، کہ جس بھونڈے طریقہ اور جلد بازی سے اس حساس مذہبی نوعیت کے مقدمہ کا فیصلہ کیا گیا اس سے اچھی روایت کی بنیاد نہیں ڈالی گئی۔ ہماری عدالتیں پہلے ہی سیاسی مقدمات کی وجہ سے متنازعہ بنی ہوئی ہیں۔ اب مذہبی معاملات میں بھی انہیں متنازعہ بنا دیا گیا ہے“۔

کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اپنے اختیارات کا صحیح استعمال نہیں کیا۔ عدالت کو چاہیے تھا کہ وہ اس کیس کا آؤٹ آف ٹرن فیصلہ کرنے کی بجائے تحمل سے فیصلہ کرتی اور استغاثہ کے وکلاء کی تمام مصروفیات پر غور کرتی مگر عدالت نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اضافی شہادتوں کی درخواست بھی کی مگر اس پر بھی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی“۔

رسالت کیس کا فیصلہ دورہ امریکہ سے قبل کرانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ بے نظیر بنیاد پرستی کا لیبل ہٹا کر سرخرو ہو کر امریکہ جانا چاہتی ہیں تاکہ اپنے آقاؤں کو خوش کر سکیں۔ پوری دنیا کے مسلمانوں کا قتل کیا جا رہا ہے لیکن مسلمانوں کے ملک میں گستاخ رسول کو سزائے موت دینے سے امریکہ اور اس کے حواری چیخ اٹھے ہیں“۔

صفحہ 170

آرگنائزر ارشد خان لودھی اور قائم مقام سیکرٹری ممتاز رفیع نے کہا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ صحیح یا غلط ہوا‘ اس کا فیصلہ تو سپریم کورٹ کرے گی‘ مگر وزیراعظم کا بیان یہ ثابت کرتا ہے کہ عدلیہ آزاد نہیں‘ حکومت جیالے ججوں اور جن کی ملازمت ابھی پکی بھی نہیں‘ ان پر حکومتی دباؤ کے ذریعہ اپنی پسند کے فیصلے حاصل کروا رہی ہے۔

مسلم لیگی ترجمان نے کہا کہ چونکہ حکومت نے عدلیہ میں جیالے بھرتی کر کے اس اعلیٰ ترین ادارے کا تشخص مجروح اور اس کی ساکھ تباہ کر دی ہے‘ اس لیے توہین رسالتؐ کے ملزموں کے خلاف مقدمے کے بارے میں ایک عدالت کے فیصلے کو ایک فریق نے نہیں مانا جبکہ دوسری عدالت کے فیصلے کو دوسرے فریق نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کے برعکس اگر عدلیہ آزاد‘ خود مختار اور غیر سیاسی کردار کی حامل ہوتی تو اس کے فیصلوں پر سب کو اعتماد ہوتا۔ ترجمان نے کہا کہ حکومت نے اس انتہائی سنگین اور حساس نوعیت کے مقدمے کے سلسلے میں انتہائی نااہلی اور بدنیتی کا مظاہرہ کر کے ملک اور قوم کو بدنام کرنے کی مذموم حرکت کی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ یہ مقدمہ غیر متنازعہ اور مستقل ججوں کے پاس سماعت کے لیے بھیجتی اور مقدمے کی کارروائی کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر براہ راست دکھانے کے ساتھ ساتھ غیر معمولی عجلت سے گریز کرتی۔ اگر حکومت اسلامی تعلیمات پر صدق دل سے عمل کرتی تو نہ اقلیتوں کو شکایت پیدا ہوتی اور نہ مسلم اکثریت کے جذبات مجروح ہوتے۔ ترجمان نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ خود بھی ملکی قوانین کا احترام کرے اور اپنے آپ کو نام نہاد روشن خیال ثابت کرنے اور کسی مادی طاقت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ظلم و تشدد کرنے کی بجائے علمائے حق اور شمع رسالتؐ کے پروانوں کو اعتماد میں لے‘ پھر ساری دنیا دیکھے گی کہ مسلمان کتنی ذمہ داری‘ انصاف اور رواداری سے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں"۔

دنوں جو مقدمہ چلا اس کے بارے میں ہم یہ نہیں کہتے کہ ملزموں کو لازمی سزا دی جائے لیکن ہم نے جس طریقے سے مقدمہ کی کارروائی چلائی‘ اس سے ہم نے اپنے پورے عدالتی نظام کو ننگا کر کے رکھ دیا ہے۔

نظرثانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ ۱۶ اگست ۹۰ء کو حکومت نے خدا رسول کی

صفحہ 171

خوشنودی کی بجائے مغرب کے تلوے چاٹنے کی کوشش کی تو اس روز وہ حکومت ختم ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی توہین کرنے پر سات سال کی سزا دی گئی مگر توہین رسالتؐ کے ملزموں کو سرکاری پاسپورٹ ڈالر اور کپڑے دے کر باہر روانہ کر دیا گیا۔ اس معاملہ میں سارا پاکستان گنہگار ہے“۔

نے اپنی مرضی کے ججوں سے اپنی مرضی کا فیصلہ لے کر انتہائی بے غیرتی‘ بزدلی‘ امریکہ نوازی‘ رسولؐ دشمنی اور اسلام دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے‘ مسلمانوں کو یہ فیصلہ منظور نہیں‘ ان کا انشاء اللہ اپنا ہی فیصلہ ہوگا اور توہین رسالتؐ کرنے والے اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالتؐ کا کیس جونہی ہائیکورٹ میں گیا تھا تو اس وقت سے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ یہاں مجرموں کو بری کرنے کے لیے ہی لایا گیا ہے اور اس سلسلہ میں حکومت نے کھلی مداخلت کی“۔

جمع ہونے والے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہل سنّت نے تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ تحریک رسول اکرمؐ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو سزا دلوانے تک جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی پالیسیوں اور دباؤ کی وجہ سے پوری قوم کا عدلیہ پر سے اعتماد ختم ہو گیا ہے“۔

بری کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے یہ فیصلہ امریکہ اور برطانیہ کے دباؤ پر کیا ہے اور وزیراعظم بینظیر بھٹو بھی امریکہ جانے سے قبل اپنے امریکی آقاؤں کو خوش کرنا چاہتی تھیں تاکہ وہ اقتدار پر مزید قابض رہ سکیں“۔

کارپوریشن اعجاز احمد چوہدری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حکومت نے اگر توہین رسالت میں ترامیم کی کوششیں کیں تو ہم موجودہ حکومت کو ہی ختم کر دیں گے۔ انہوں نے کہا عدالت نے حکومت کے دباؤ میں ایسا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بینظیر نے پہلے بھی اسلامی سزاؤں کو وحشیانہ قرار دیا جس کا خمیازہ بینظیر اور آصف زرداری دونوں کو بھگتنا پڑا تھا۔

صفحہ 172

عیسائی ملزموں کی بریت کے فیصلہ کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ عدالتی نہیں بلکہ امریکی فیصلہ ہے یہ فیصلہ اس لئے نہایت عجلت کے ساتھ سنایا گیا ہے کہ بینظیر نے امریکہ کا دورہ کرنا ہے۔ عیسائیوں کے حق میں فیصلہ پر حکومتی اطمینان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بینظیر مکمل طور پر امریکہ کے گھر کی باندی بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف اب اس قدر شدید ردعمل ہوگا جو حکومت کی چولیں ہلا کے رکھ دے گا۔ توقیر رسالت مابؐ ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے"۔

بھٹو اور جیالے ججوں کو کافر قرار دیتے ہوئے' واجب القتل قرار دے دیا ہے۔ اس موقع پر شہر میں ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا جس نے پورے شہر کا چکر لگا کر حبیب بینک چوک پر ایک احتجاجی جلسہ کی شکل اختیار کی۔ جلوس میں حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین نے بینظیر مردہ باد' جیالا جج مردہ باد' مولانا فضل الرحمٰن مردہ باد' کے نعرے لگائے۔ احتجاجی مظاہرہ میں بھاری تعداد میں ہر مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔ شہر کے علماء دینی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے خطاب میں بینظیر بھٹو' جیالے جج اور حکومت کے تمام حکمرانوں کو کافر قرار دے دیا ہے اور ان کو واجب القتل قرار دے دیا ہے اور کہا گیا کہ موجودہ حکومت ملک میں برطانیہ اور امریکہ کا راج قائم کرنا چاہتی ہے۔ علماء نے کہا کہ حکمرانوں نے اسلامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے جب تک یہ فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا ہم نہ خود چین سے بیٹھیں گے اور نہ ہی حکمرانوں کو چین سے بیٹھنے دیں گے"۔

عقیدت اور محبت ہے' اسے ختم کروانے کے لیے امریکہ اور مغربی ممالک کی اس سازش کو موجودہ حکومت عملی جامہ پہنانا چاہتی ہے۔ اس نے ڈرامہ یہ کیا کہ توہین رسالتؐ کے مجرموں کو سیشن کورٹ سے سزا دلوائی گئی اور مقدمہ ایسے انداز میں تیار کیا گیا کہ ہائی کورٹ میں جا کر خارج ہو جائے۔ اس مقدمے کی کارروائی نے اسے مضحکہ خیز بنا دیا ہے۔ جس طرح عجلت میں اس کی سماعت ہوئی' دس دن کے اندر اندر اس کا فیصلہ ہوا۔ یہ سب پاکستان کی عدلیہ کے مروجہ طریقہ کار کے یکسر خلاف تھا۔ یہاں تو سالہا سال تک مقدمے کی باری ہی نہیں آتی۔ اگر آ جائے تو مدتوں فیصلے نہیں ہوتے' یہ سازش توہین رسالتؐ کے قانون کو بدنام کرنے کے لیے تیار کی گئی تھی۔ دوسری طرف امریکہ کا دورہ ہونے والا تھا' تو ہمارا یہ تاثر دینا مقصود تھا کہ میں آزاد خیال وزیراعظم ہوں"۔

صفحہ 173

پاکستان اس وقت انتہائی نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ کوئی پاکستانی نہیں چاہتا کہ اس ملک کو کسی طرح کا نقصان پہنچے، لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ جس کے نام پر یہ ملک معرض وجود میں آیا ہے اس کا احترام نہ کیا جائے اور حکومت ایسے لوگوں کو نہ صرف عدالت سے بری کر دے بلکہ خصوصی طور پر ان کے پاسپورٹ بنوائے اور خطیر رقم دے کر ملک سے بطور وی آئی پی رخصت کرے۔ توہین رسالتؐ کے قانون کے متعلق بعض وکلا جان بوجھ کر ابہام پیدا کر رہے ہیں۔ عاصمہ، جنہوں نے ان عیسائی نوجوانوں کا مقدمہ لڑا، یہودیوں کی ایجنٹ ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ قادیانی ہیں۔ اسلامی اقدار اور قرآن کریم کے واضح احکامات پر تنقید کرتی رہتی ہیں۔ علماء کو وہ جنونی کہتی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون، دشمنی، بغض و حسد، غلط اور بے محل وجوہ کی بنا پر اقلیتوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے اس میں ترمیم کی ضرورت ہے“۔

(ہفت روزہ ”زندگی“ لاہور ۷ تا ۱۳ اپریل ۱۹۹۵ء)

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ -- اخبارات و جرائد کی نظر میں

روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور نے اپنے اداریہ ”توہین رسالتؐ کیس....بیرونی دباؤ اور مداخلت!“ کے عنوان سے لکھا:

”لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے توہین رسالتؐ کیس میں موت کی سزا پانے والے دو مجرموں کو مقدمہ سے بری کر دیا ہے۔ جج صاحبان کا کہنا ہے کہ ”ہم خدا اور اس کے رسولؐ کے سامنے سرخرو ہوگئے۔ ضمیر کے مطابق فیصلہ دیا، اللہ ہمیں شاباش دے گا“ اللہ کا فیصلہ تو، آخرت میں جج صاحبان اللہ کے روبرو پیش ہوں گے تو سنیں گے۔ عام طور پر محسوس کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور مغرب نے جس طرح اس کیس میں حکومت پر دباؤ ڈالا اور اس دباؤ کے تحت جس عجلت سے اس کیس کی سماعت کروائی گئی اور فیصلہ سنوایا گیا۔ وہ پاکستان کی آزادی، خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی طاقتوں نے سفارتی میڈیا اور نام نہاد حقوق انسانی کی تنظیموں کے ذریعے عدالت پر اثر انداز ہونے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جے یو آئی نے کہا ہے کہ یہ عدلیہ کا نہیں، حکومت اور امریکہ کا فیصلہ ہے۔

صفحہ 174

مسلم لیگ (ن) پنجاب نے کہا ہے کہ حکومت نے صہیونی طاقتوں کے دباؤ میں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔ مدعی کے وکیل نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے امریکی حکومت خوش ہوگی۔ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ حکومت نے اس فیصلے سے بارہ کروڑ عوام پر اللہ کے عذاب کو دعوت دی ہے۔ زیر بحث کیس کے عدالتی میرٹ میں جائے بغیر کہ اس کی ذمہ داری متعلقہ جج صاحبان پر عائد ہوتی ہے‘ لیکن امریکہ اور اہل مغرب نے جس طرح براہ راست اس کیس میں مداخلت کی اور مغربی اور امریکی ذرائع ابلاغ نے بھی جس دلچسپی کا مظاہرہ کیا‘ اس سے ان کے مقاصد بھی الم نشرح ہوگئے۔ بی بی سی تو اس دوران میں جان بوجھ کر مسلسل توہین رسالت کے بجائے توہین مذہب کہتا رہا اور فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی کے لاہور میں متعین مسلمان نمائندے نے اپنے تبصرے میں ”پیغمبر صاحب“ کہنا پسند کیا‘ ان کی زبان بھی رسالت مآب کے شایان شان الفاظ ادا کرنے سے قاصر رہی‘ عام خیال یہ تھا کہ حکومت وزیراعظم کے امریکہ کے دورہ سے قبل اس کے کیس کا فیصلہ چاہتی ہے تاکہ واشنگٹن پہنچ کر انہیں کوئی ندامت نہ ہو‘ امریکہ اور مغرب کے زیر اثر‘ اسلام رواداری‘ حوصلے‘ بردباری اور اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا درس دیتا ہے۔ ہمارے حکمران اپنے آپ کو لبرل ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلام کے خلاف فنڈا منٹلزم اور ملی ٹنسی کے حوالے سے اس وقت امریکہ اور اہل مغرب نے پراپیگنڈہ کی جو انتہا کر دی ہے‘ وہ محتاج وضاحت نہیں نہ کسی سے یہ ڈھکا چھپا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہی امریکہ اور مغرب جو جمہوریت کے چیمپئن بنتے ہیں‘ انہیں الجزائر میں ”اسلام پسندوں“ کی انتخابی کامیابی ایک آنکھ نہیں بھائی‘ کل اگر مسلمان افغانستان میں روس کے خلاف لڑتا تھا تو امریکہ کے نزدیک ”مجاہد“ تھا‘ آج اگر کشمیری مسلمان اپنی آزادی کے لیے قربانی دے رہا ہے تو اسی امریکہ کے نزدیک ”ٹیررسٹ“ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور مغرب خود بہت بڑے فنڈا منٹلسٹ اور ٹیررسٹ ثابت ہو رہے ہیں۔ فرانس جیسے ملک میں مسلمان لڑکیوں کو سکارف پہننے کی اجازت نہیں مل سکی‘ توہین رسالت کیس میں امریکی اور مغربی حکومتوں‘ اداروں اور ذرائع ابلاغ کی دلچسپی کی واحد وجہ ملزموں کا عیسائی ہونا ہے اور مسلمانوں کے خلاف نیو ورلڈ آرڈر کی بالادستی کی کوشش بھی دراصل نئے صلیبی دور کی ابتدا ہے‘ توہین رسالت کیس میں ہماری حکومت کو بیرونی دباؤ سے آزاد رہنے کا تاثر دینا چاہئے تھا‘ پاکستان ایک آزاد‘ ہمہ مقتدر مسلمان ملک ہے‘ اگلی صدی کی آمد آمد ہے اور کسی استعمار کو ہمیں قبول نہیں کرنا چاہئے اور جو حکومت نیو ورلڈ آرڈر کا

صفحہ 175

طوق پاکستانی مسلمانوں کے گلے میں پہنانے کی کوشش کرے گی، وہ سمجھ لے کہ اس کے دن گنے جا چکے ہیں۔ پاکستان کو اس کیس کے حوالے سے بدنام کیا جا سکتا ہے کہ یہاں اقلیتوں کو تحفظ حاصل نہیں اور انڈیا اس پراپیگنڈے میں پیش پیش ہے حالانکہ بھارتی اقلیتوں کا جو حال ہے اور کشمیری مسلمانوں پر جو ظلم ہو رہا ہے اس کے بعد بھارت کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔"

(اداریہ روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۲۶؍ فروری ۹۵ء)

ماہنامہ ”ترجمان القرآن“ کے مدیر جناب خرم مراد (اشارات) اپنے اداریہ میں لکھتے ہیں:

”توہین رسالت کا حالیہ مقدمہ معمول کے مطابق محض جرم و سزا کا ایک مقدمہ ہوتا تو کوئی بات نہ تھی۔ اگر دونوں ملزم بے گناہ تھے یا ان کا جرم شرعی معیار شہادت کے مطابق ثابت نہ ہو سکا تھا یا اس میں کوئی ادنیٰ سا بھی شبہ تھا تو حق و انصاف کا تقاضا یہی تھا کہ ان کو بری کر دیا جائے۔ اس حق و انصاف اور رحم و درگزر کا، جس کی تعلیم ہمیں اسی نے دی ہے (صلی اللہ علیہ وسلم) جس کی توہین کا یہ مقدمہ تھا، جس نے بدترین دشمن کے ساتھ بھی عدل و رحم کا برتاؤ کیا ہے اور ہر قیمت پر کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ تو ہمارے معاہد اور برابر کے شہری تھے مگر پورے مقدمہ کے دوران جس طرح اور جس پیمانہ پر طاقت ور بیرونی اور اندرونی قوتیں اثر انداز ہوتی رہیں، اس نے اس مقدمہ کو ایک غیر معمولی نوعیت دے دی ہے۔ اس نے توہین رسالتؐ کے معاملہ کو ہمارے مقدر کا، ہمارے حال اور مستقبل کا، ایک آئینہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ افسوس کی بات ہے کہ اس کی وجہ سے ملزمان کی برات بھی مشتبہ ہو گئی ہے، جو یقیناً ان کے ساتھ ایک بے انصافی ہوئی ہے۔

اس آئینہ میں وہ ساری کھلی اور چھپی صورتیں بالکل آشکار ہو گئی ہیں جو آج ہمارے مستقبل کی نقشہ گری اور ہمارے مقدر کے بنانے بگاڑنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ اندرونی بھی اور بیرونی بھی، تہذیبی بھی اور سیاسی بھی، فکری بھی اور ابلاغی بھی۔ اس آئینہ میں ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری بربادی کے مشورے کہاں ہو رہے ہیں، جنگ کا نقشہ کیا ہے، محاذ کہاں کہاں کھولے جا رہے ہیں، مورچے کہاں کہاں بنائے گئے ہیں، چالیں کیا کیا چلی جا رہی ہیں، دور مار توپیں کدھر کدھر سے گولہ باری کر رہی ہیں، ہتھیار کون کون سے استعمال ہو رہے ہیں، پیش قدمی کن کن راستوں سے ہو رہی ہے، اندر کون کون ایجنٹ بنے ہوئے ہیں، عزائم کیا ہیں اور اصل ہدف کیا ہے۔ اور یہ بھی کہ ہماری قوت کا اصل راز کیا ہے، ہم بازی کیسے پلٹ سکتے ہیں، بلکہ جیت سکتے ہیں۔

صفحہ 176

ایک چہرہ مغرب کا ہے، اس کے حکمرانوں، اہل کاروں اور سفارت کاروں، اور میڈیا کے سحر کاروں کا چہرہ، جو پورے مقدمہ کے دوران تیز تیز چلتے، بھاگ دوڑ کرتے نظر آتے رہے۔ اب یہ کچھ ایسا ڈھکا چھپا بھی نہیں رہا۔ ذرا موقع نکلتا ہے، فوراً اوپر سے تہذیب، روشن خیالی اور انسانی ہمدردی کا چھلکا اتر جاتا ہے، اور نیچے سے وہی ۱۴۰۰ سال پرانا، مسلمان اور اسلام کی دشمنی اور پیغمبر اسلام، صلی اللہ علیہ وسلم، کے خلاف نفرت اور غصہ ٹپکتا ہوا چہرہ نمودار ہو جاتا ہے، سیکولر اور انسانی حقوق کی علم بردار ریاستیں بالآخر محض ”عیسائی“ ریاستیں ثابت ہوتی ہیں جو ہر ملک میں، ملکی قوانین کے خلاف، ”عیسائی حقوق“ کے لیے سرگرم ہو جاتی ہیں۔ فلسطین ہو یا بوسنیا، کشمیر ہو یا چیچنیا، الجیریا ہو یا فرانس۔ چہرہ روشن، اندرون چنگیز سے تاریک تر۔ مغرب کی یہ قوتیں ہمارے ہاں تہذیبی اور سیاسی غلبہ رکھتی ہیں، ہماری قسمت کے ساتھ کھیل رہی ہیں، یہاں تک کہ اب ہمارا ایک قانون اور ہمارے دو شہریوں کے خلاف ہماری عدالت میں ایک مقدمہ بھی ان کے غلبہ سے آزاد نہیں۔

ایک چہرہ مغرب کے فرزندوں کا ہے جو لارڈ میکالے کے خواب کی مکمل تعبیر ہیں: ”خون اور رنگ کے اعتبار سے تو ہم میں سے ہیں، مگر مذاق اور رائے، الفاظ اور سمجھ کے اعتبار سے انگریز“ یا، خلیل جبران کے الفاظ میں ”(جن کے جسم خواہ یہاں پیدا ہوئے ہوں) ان کی روحوں نے مغربی ہسپتالوں میں جنم لیا ہے۔ جو فصاحت و بلاغت کے دریا بہاتے ہیں، مگر ہمارے سامنے، افرنگ کے سامنے کمزور اور گونگے ہیں جو آزادی کے علم بردار ہیں، مصلح ہیں، پرجوش ہیں، مگر اپنے اسٹیجوں پر، اہل مغرب کے سامنے اطاعت کیش اور رجعت پسند ہیں“۔ یہ فرزندان مغرب، توہین رسالت جیسے معاملات میں ایک سو ایک فی صد مغرب کے ہم نوا رہتے ہیں، مغرب سے بڑھ کر پیش پیش ہوتے ہیں۔

ایک چہرہ ان کا ہے جو کسی طرح بھی لارڈ میکالے کے خواب کی مکمل تعبیر نہ بن سکے، وہ اسلام اور ملت سے اپنا رشتہ توڑ نہیں سکے، لیکن کسی نہ کسی درجہ میں افکار فرنگ کے طلسم میں گرفتار ہیں۔ ان کے مزاج کے لیے بھی یہ قبول کرنا مشکل ہوا ہے کہ توہین رسالت کی سزا موت ہو۔ وہ پوچھتے ہیں: کیا یہ سخت سزا قرآن سے ثابت ہے؟ کہیں یہ ملا کی تنگ نظری اور شدت کا شاخسانہ تو نہیں؟ جو رحمت للعالمین تھے اور جنہوں نے گالیاں کھا کر دعائیں دیں، ان کی توہین پر ایسی سخت سزا! دنیا ہمارے بارے میں کیا کہے گی، ہمیں کیا سمجھے گی، ہم اسے کیا منہ دکھائیں گے؟ خود نگری اور مستقبل بینی کا یہ آئینہ ہمارے ہاتھوں میں اگر مسئلہ توہین رسالت کے

صفحہ 177

ذریعہ آیا‘ تو بالکل بجا آیا۔ ”قوم را سرمایہ قوت ازو‘ حفظ سر وحدت ملت ازو“ اور ”ناز حکم نسبت او ملتیم“ آنحضورؐ کی ذات مبارک ہی ہماری قوت کا سرمایہ ہے‘ ہماری وحدت کا راز آپؐ سے وابستگی میں ہے‘ آپؐ سے نسبت ہی نے ہمیں ایک ملت بنایا ہے بلکہ ہمارے جسد ملی میں رسالتؐ ہی کی جان پھونکی گئی ہے‘ اسیؐ کے دم سے ہمارا دین ہے‘ ہمارا آئین ہے۔ ”حق تعالیٰ پیکر ما آفرید‘ وز رسالت در تن ما جاں دمید“ اور ”از رسالت در جہاں تکوین ما‘ از رسالت دین ما آئین ما“

-----------------

مغرب کا اضطراب اور شور و غوغا قابل فہم ہے۔ اس لیے نہیں‘ جیسا بعض لوگ سلمان رشدی کے واقعہ کے وقت سے کہہ رہے ہیں‘ کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مسلمانوں کے نزدیک رسولؐ کا مقام کیا ہے‘ اور کیوں ہے؟ مغرب سے ہماری مراد سارے اہل مغرب نہیں‘ ان میں سے اکثر کے بارہ میں یہ بات صحیح ہے اور مغرب کے طلسم میں گرفتار سادہ دل مسلمانوں کے بارہ میں بھی اور یقیناً ان سب کو سمجھانے کی ضرورت ہے‘ ان کو سمجھا لینے ہی میں ہماری کامیابی پوشیدہ ہے مگر جو حکمران‘ سفارت کار‘ دانشور اور میڈیا کے سحر کار‘ قانون توہین رسالت کے خلاف پیش پیش ہیں‘ وہ اسی لیے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ مسلمان ملت کی زندگی‘ وحدت اور قوت و توانائی کا راز‘ حضورؐ کے ساتھ وابستگی اور عشق و محبت میں پوشیدہ ہے‘ اور ان کی سربلندی کا راز بھی۔ ”در دل مسلم مقام مصطفیٰؐ است۔“

اسی لیے ہزار سال سے اوپر مدت ہو گئی‘ ان کے نقشہ جنگ کا ہدف یہی ”مقام مصطفیٰؐ“ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہی ملت کا ”قلب“ اور ”دارالحکومت“ ہے‘ اور اس کی شکست و ریخت‘ بربادی اور اس پر قبضہ کے بغیر اس ملت کو زیر کرنے کا اور کوئی نسخہ نہیں۔ اسی لیے حضورؐ کی ذات ان کے سارے حملوں کا اولین ہدف رہی ہے‘ اور ہے۔ اسی لیے وہ مسلسل ہر قسم کے انتہائی غلیظ وار‘ آپؐ کے خلاف کرتے رہے ہیں۔ اسی لیے سلمان رشدی ان کی آنکھوں کا تارا ہے‘ یورپ کی حکومتوں کے سفارتی تعلقات اور تجارتی مفادات‘ اس کے خلاف ”فتویٰ“ کے محور پر گھوم رہے ہیں۔ اسی لیے تسلیمہ نسرین ان کی ہیرو ہے۔ اسی لیے ہر وہ مسلمان جو شریعت مصطفوی کو بے وقعت کرے‘ جو تعلیمات محمدی کو مشکوک بنائے‘ جو مقام مصطفوی کو مجروح کرے‘ وہ انہیں محبوب ہے۔

اسی لیے حالیہ مقدمہ میں دو افراد کے خلاف مقدمہ دائر ہوتے ہی بیرونی ذرائع ابلاغ اور سفارت کار حرکت میں آگئے اور یہ واقعہ عالمی شہرت کا حامل بن گیا۔ ان سب کا ہدف

صفحہ 178

ملزموں کی بے گناہی ثابت کرنا نہیں، توہین رسالت کے قانون کی تنسیخ رہا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو، بی بی سی، وائس آف امریکہ، اخبارات، جرائد میں نشریات، مضامین اور خبروں کا ایک سلسلہ چل پڑا۔ بیرونی لابیوں کے ساتھ پاکستان کا ہیومن رائٹس کمیشن بھی متحرک ہو گیا۔ امریکہ میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی گوجرانوالہ گئیں اور عدالت پر ضمانت کے لیے زور ڈالا۔ امریکی نائب وزیر خارجہ رابن رافیل نومبر ۱۹۹۳ء میں اسلام آباد آئیں تو وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دوران اس کیس کو اٹھایا اور سیکرٹری خارجہ نے انہیں یقین دلایا کہ ملزموں کو ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے اس مقدمہ میں ذاتی دلچسپی لی۔ سزا ہوئی تو انہیں سخت دکھ ہوا۔ اپریل ۹۴ء میں مرکزی کابینہ نے ان کی صدارت میں گستاخ رسول کے لیے موت کی سزا کو ۱۰ سال قید کی سزا میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ تو عوامی ردعمل کا خوف ہے جو اب تک ایسے کسی اقدام سے روکے ہوئے ہے۔ پھر جب ملزموں کو سیشن کورٹ سے سزا ہو گئی تو سارے بین الاقوامی سفارتی اور ابلاغی ذرائع نے نفرت انگیز پروپیگنڈے اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کی مہم تیز تر کر دی۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر ملزمان سے ملاقات کے لیے جیل پہنچ گئے۔ لاہور ہائی کورٹ کی ایک بنچ نے، جو دو عارضی ججوں پر مشتمل تھی، مسلسل روزانہ اپیل کی سماعت شروع کر دی۔ بالاخر ملزمان رہا ہو گئے اور راتوں رات ان کو جرمنی روانہ کر دیا گیا۔

ہم اقلیتوں کو یہی یقین دہانی کراتے رہے ہیں کہ قانون توہین رسالت کے بعد فیصلے عدالت کرے گی اور لوگ قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے، عدالتوں کے فیصلے تسلیم کیے بغیر کوئی مہذب اور پرامن معاشرہ قائم بھی نہیں ہو سکتا اور ہمیں امید ہے کہ ہائی کورٹ نے صحیح فیصلہ کیا ہو گا۔ لیکن اس مسلسل بین الاقوامی اور حکومتی دباؤ اور عدالتی کارروائی میں حیرت انگیز سرعت نے پورے فیصلہ کو مشکوک بنا دیا ہے۔ اس دباؤ کے آگے اس دباؤ کی کیا حیثیت اور کیا وزن جو عدالتی کارروائی کے دوران اور فیصلہ کے بعد عوام نے لاہور کی سڑکوں پر نکل کر ڈالا۔ ہر تجزیہ نگار، پورا پس منظر جان بوجھ کر نظرانداز کر کے، سارا زور عوامی احتجاج کی مذمت کرنے میں لگاتا ہے۔ ہم بھی کسی عدالت پر اس طرح عوامی دباؤ ڈالنے کو صحیح نہیں سمجھتے۔ لیکن لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ دوسری طرف سے وہ لوگ زبردست دباؤ ڈال رہے ہیں جن کی مٹھی میں حکمرانوں کے اقتدار کی کنجی ہے، ڈالر ہیں، دہشت گرد قرار دینے کی لاٹھی ہے، امریکہ کے دورہ کا اعزاز ہے، تو پھر وہ اتنا بھی نہ کرتے تو کیا کرتے۔

تہذیب کے دعوؤں کے ساتھ اب مغرب کے لیے قرون وسطیٰ کی طرح دشنام

صفحہ 179

طرازیاں تو ممکن نہیں، ان کی جگہ آج کے رائج الفاظ کے پردہ میں، توہین رسالتؐ کے قانون پر حملہ ہو رہا ہے: انسانی اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے، مذہبی آزادی کے خلاف ہے، اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہے، اقلیتوں کے خلاف تعصب اور امتیاز پر مبنی ہے، اقلیتی فرقوں کے سر پر ننگی تلوار لٹکا دی گئی ہے، فرقہ واریت اور ذاتی عناد کی بنا پر غلط استعمال ہو رہا ہے، اس سے ملا کا، بنیاد پرستی کا، مذہبی جنون کا، تنگ نظری کا زور بڑھ گیا ہے، تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، وغیرہ وغیرہ۔

توہین رسالتؐ کے لیے سزا، اس مقصد کے لیے رائج الوقت قانون، اس کا استعمال اور اس بارہ میں خدشات کو حالیہ مقدمہ سے الگ کر کے دیکھا جائے، تب ہی ایک منصف مزاج آدمی اس قانون کے خلاف سارے مباحث میں کسی صحیح نتیجہ تک پہنچ سکتا ہے۔

بنیادی اور اولین سوال یہ ہے کہ کیا توہین رسالت کوئی جرم نہیں ہے، اور جرم ہے بھی تو کیا اس پر کوئی سزا نہیں ہونا چاہیے؟ رسالت تو بڑی چیز ہے، دنیا بھر میں ہمیشہ سے کسی بھی انسان کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچانا، تحریراً ہو یا زبانی، ایک جرم قرار دیا گیا ہے، اور ہتک عزت کے لیے سزا کا قانون موجود رہا ہے۔ کسی کے وہم و گمان میں کبھی یہ نہیں آیا کہ کسی دوسرے انسان کی بے عزتی کرنا، توہین کرنا ایک انسان کا انسانی اور بنیادی حق ہو سکتا ہے اور اس پر سزا دی جائے تو اس حق کی خلاف ورزی ہوگی۔ آج مغرب میں بھی یہی تصور اور یہی قانون ہے۔ ہاں، یہ بات ضرور ہے کہ مغربی قوانین کے تحت جس کی ہتک عزت ہوئی ہو، وہ خود ہی مدعی بن سکتا ہے گویا کیونکہ رسولؐ یا کوئی بھی دنیا سے گزرا ہوا آدمی، اب خود مدعی نہیں بن سکتا اس لیے اس کی جتنی توہین کر لی جائے، یہ جرم قابل سزا نہیں ہو سکتا۔ سلمان رشدی کے معاملہ میں مغرب نے مسلمانوں کے خلاف اسی دلیل کا سہارا لیا۔

لیکن اس سے زیادہ بودی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے؟ جب ایک عام آدمی کی ہتک عزت بھی قابل تعزیر جرم ہو، تو اس شخص کی ہتک عزت کیوں نہ ہو جو کروڑوں کو اپنی جان و مال ہی نہیں، اپنی ذات سے بڑھ کر محبوب ہے، جس کی عزت اور نام سے، ان کی عزت اور نام وابستہ ہے، جس کی توہین سے ان کی ذات کی، ان کے نام کی، ان کی اپنی عزت کی، ان کے دین کی، ان کے آئین کی، ان کی ملت کی توہین ہوتی ہے۔ حضورؐ کا مقام تو ہر مسلمان کے لیے یہی ہے۔ اس کی آبرو آپؐ کے نام سے ہے: ”آبروئے ما ز نام مصطفیٰ است“۔ وہ مسلمان ہو نہیں سکتا جب تک حضورؐ اسے اپنی جان، مال، والدین، دنیا کی ہر

صفحہ 180

چیز‘ یہاں تک کہ اپنے نفس اور ذات سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔ لا یومن احدکم حتیٰ اکون احب الیہ من ولدہ و والدہ والناس اجمعین (بخاری‘ مسلم)۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا اس جرم کے لیے موت کی سزا بہت سخت اور احترام آدمیت کے خلاف ہے؟ اگر اعتراض فی نفسہ موت کی سزا پر ہے کہ یہ وحشیانہ ہے‘ تو وہ زمانہ گزر گیا جب تہذیب کے جوش میں موت کی سزا کو بالکل منسوخ کرنے کی ہوا چلی تھی۔ اب تو انتہائی ”مہذب“ اور ”انسان دوست“ ہونے کے دعوے دار ملکوں میں‘ ایک کے بعد ایک‘ یہ سزا بحال کی جا رہی ہے‘ بلکہ ہر ملک جہاں یہ سزا ختم کی گئی‘ وہاں کی بھاری اکثریت موت کی سزا کی بحالی کے حق میں ہے۔ نہ صرف موت کی سزا‘ بلکہ جسمانی سزا کے حق میں بھی۔ جب سنگاپور میں ایک امریکن کو 6 بید مارنے کی سزا دی گئی تو‘ حکومت اور چند طبقات کی مخالفت کے باوجود‘ امریکیوں کی اکثریت نے اس سزا کی حمایت کی۔ مغرب میں بھی اس قسم کے جرم پر سخت سزاؤں کے قوانین موجود ہیں‘ اور پہلے تو زندہ جلایا جاتا رہا ہے۔

اگر اعتراض یہ ہو کہ یہ سزا جرم کے مقابلہ میں زیادہ سخت ہے‘ تو اس جرم کی نوعیت کا فیصلہ تو وہی کر سکتے ہیں جن کو اور جن کے پورے معاشرہ کو‘ اس جرم سے نقصان پہنچ رہا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار‘ اخلاق‘ صداقت‘ امانت‘ عدالت کو مجروح کرنا دراصل دین‘ ایمان‘ آئین‘ ریاست اور پوری امت مسلمہ‘ سب کو مجروح کرنا ہے۔ مسلمان ہی اس معاملہ میں مناسب قانون سازی کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ان کی مقننہ نے یہی سزا مناسب سمجھ کر یہ قانون منظور کیا ہے‘ ان کی اعلیٰ عدالتوں نے اس پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ یہ ایک جمہوری طریقے سے طے کردہ قانون ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عمر قید کی سزا موت کی سزا سے زیادہ وحشیانہ اور ظالمانہ سزا ہے‘ لیکن کوئی پارلیمنٹ یا کانگریس اپنی حدود میں یہ سزا دینے کا قانون بنائے‘ تو ہم اس کا فیصلہ کیسے بدلا سکتے ہیں؟

تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ قانون عیسائی اور ہندو جیسے اقلیتی فرقوں کے خلاف تعصب و امتیاز پر مبنی ہے‘ ان کو کچلنے‘ دبانے اور حقوق سے محروم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے‘ گویا ان کے سروں پر ننگی تلوار لٹکا دی گئی ہے؟ جہاں تک قانون کا تعلق ہے‘ اس میں ایک حرف اور ایک نقطہ بھی ایسا نہیں بتایا جا سکتا جو اقلیتی فرقوں کے خلاف ہو یا ان کا کوئی حق سلب کرتا ہو‘ اس کا اطلاق کسی نام نہاد مسلمان پر اسی طرح ہو گا جس طرح غیر مسلم پر۔ تعصب و امتیاز کی بات اس وقت صحیح ہو سکتی ہے جب یہ گمان کیا جائے کہ اقلیتی فرقوں کی باقاعدہ نیت یا پروگرام ہے کہ وہ توہین رسالت کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ

صفحہ 181

ان کا ایسا کوئی ارادہ یا منصوبہ نہیں، اگرچہ باہر والے ان سے یہ حرکت کروا کے انہیں اپنے مسلمان بھائیوں سے لڑانے اور انہیں پاکستان میں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے رکھتے ہوں۔ اگر اعتراض کی بنیاد یہ ہو کہ اس میں دوسرے مذاہب کے پیغمبروں کی توہین کو شامل نہیں کیا گیا ہے، تو یہ اعتراض بجا ہے اور اسے، اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت کورٹ کی سفارش کے مطابق، دور کیا جانا چاہیے۔

چوتھا سوال یہ ہے کہ کیا یہ قانون اس لیے منسوخ کر دیا جائے کہ ذاتی عناد یا فرقہ واریت کی خاطر اس کا غلط استعمال ہوا ہے، یا خدشہ ہے کہ ہو سکتا ہے؟ اگر خود قانون میں کوئی ایسی خامی ہے، خلا ہے، ابہام ہے، جو غلط استعمال کا ذریعہ بن سکتا ہے، تو ہماری رائے میں ایسی ہر خامی کو دور کیا جانا چاہیے، اور ممکنہ غلط استعمال کے خلاف ہر ممکن تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔ یہ ایسا معاملہ نہیں جو باہمی گفت و شنید سے حل نہ کیا جا سکتا ہو۔ ہمیں صرف مقام رسالت کا تحفظ مطلوب ہے، بے گناہ لوگوں کو توہین رسالت کے نام پر سزا دلوانا تو خود توہین رسالت کے زمرہ میں آسکتا ہے۔

لیکن اگر غلط استعمال کسی فرد یا پولیس کے غلط کردار کی وجہ سے ہے، تو اس کا علاج منسوخی نہیں۔ اس وجہ سے تو ہر قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ قیام امن کے، انسداد دہشت گردی کے، لوٹ کھسوٹ اور بدعنوانیوں کی روک تھام کے قوانین، حکومتیں بے دردی کے ساتھ اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں، کیا ان سب کو منسوخ کر دیا جائے؟ قتل کے قانون کے تحت پولیس اور بااثر لوگ بے گناہوں کو پھانستے ہیں، ان کو لوٹا جاتا ہے، بعض پھانسی پر بھی چڑھ جاتے ہیں، کیا ان کو بھی منسوخ کر دیا جائے؟ کوئی معقول آدمی یہ بات نہیں کہے گا۔ ذاتی عناد کی بنا پر بھی ملک میں بے شمار مقدمات کھڑے کیے جاتے ہیں۔ اس ظلم کا کوئی خصوصی تعلق اقلیتی فرقوں سے نہیں۔

پانچواں سوال یہ ہے کہ کیا قانون توہین رسالت کی وجہ سے فرقہ واریت میں، مذہبی جنون میں، اقلیتوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے کہ یہ قانون منسوخ کر دیا جائے؟ سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور شدت پیدا ہوئی ہے تو شیعہ سنی فرقہ واریت میں۔ حد سے بڑھتی ہوئی قتل و خون ریزی کی وجہ نسلی اور لسانی تعصبات، سیاسی جھگڑے اور انتقامی کارروائیاں ہیں۔ اس میں کوئی دخل قانون توہین رسالت کا نہیں، نہ کسی اور قانون کا اور ان کا شکار اکثریتی فرقہ ہے نہ کہ اقلیتی فرقے۔ ایک ایسے معاشرہ میں جہاں روز بروز تشدد اور خون ریزی بڑھ رہی ہے، کیا اقلیتی فرقوں کے لوگ اس سے بالکل محفوظ رہ سکتے ہیں؟

صفحہ 182

پھر تشدد کے ہر واقعہ کو فوراً اقلیت کے خلاف ظلم قرار دینا کہاں تک بجا ہے؟ پاکستان میں آج تک کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا، ذرا بھارت کے جمہوری، سیکولر، روشن خیال ملک پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے، جہاں کوئی مذہبی قوانین نہیں، جہاں ملا کا غلبہ نہیں، جہاں افغان جہاد کی باقیات نہیں، لیکن جہاں فرقہ وارانہ فسادات روز کا معمول ہیں۔

-------

قرآن و سنت کے دلائل سے جس طرح شاتم رسول کی سزا ثابت ہے، اور اس پر جس طرح فقہائے امت کا اجماع ہے اور جس طرح اس پر، ماسوا دور غلامی کے، ہر مسلمان ملک میں ہر زمانہ میں عمل درآمد ہوتا رہا ہے، اور دور غلامی میں بھی مسلمان جس طرح اپنا خون دے کر اسے نافذ کرتے رہے ہیں، اسے بیان کرنے کی چنداں حاجت نہیں۔ اس بارہ میں جمہور مسلمانوں کے درمیان نہ کبھی اختلاف رہا، نہ کوئی شک و شبہ۔ جس کو تحقیق کا شوق ہو، اس کے لیے ۱۔ محمد اسمعیل قریشی کی ناموس رسول اور قانون توہین رسالت، ۲۔ ابن تیمیہؒ کی الصارم المسلول علی شاتم الرسول، ۳۔ تقی الدین سبکیؒ کی السیف المسلول علی من سب الرسول، اور ۴۔ ابن عابدین شامی کی تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیر الانام کا مطالعہ کافی ہوگا۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ رحمت للعالمین نے تو گالیاں سن کر، پتھر کھا کر، دعا دی، اب ان کو گالی دینے والے کو موت کی سزا دی جائے؟ ایسے لوگ رحمت کے مفہوم سے آگاہ نہیں۔ رحمت کا تقاضا جہاں عفو و درگزر ہے، وہاں انصاف بھی ہے۔ رحمت للعالمین نے واقعہ افک میں قذف کے مرتکبین کو کوڑے لگوائے، زنا کے مجرموں کو سنگسار کرایا، مسلح لشکر لے کر نکلے جس نے بدر کے میدان میں ۷۰ سرداران قریش کو تہہ تیغ کر دیا، فتح مکہ کے دن جب ہر جانی دشمن کو معافی مرحمت فرما دی گئی، چھ مرتدین اور شاتمین کے قتل کا حکم صادر ہوا۔ آپؐ یہ نہ کرتے تو فساد مچتا، اور زیادہ ظلم برپا ہوتا۔ آپ نے کوئی حکم اپنی ذات کی خاطر نہیں دیا، دین اور ملت کے تحفظ کی خاطر دیا۔ جب رسالت ہی ایمان کی، دین کی، ملت کی بنیاد ہے، اس کی زندگی کی ضمانت ہے، تو توہین رسالت کے مجرم کو سزا دینا عین رحمت کا تقاضا تھا۔ اسی لیے یوم قیامت کو۔۔۔ جس دن نیکوکاروں کو انعام سے نوازا جائے گا، مگر بدکار جہنم میں جھونکے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت، رحمانیت اور رحیمیت کا دن قرار دیا ہے (الفاتحہ، الانعام)

موت کی سزا کا قانون کچھ فقہا و علماء، ملاؤں اور جنونیوں ہی کا ”جرم“ نہیں، اچھے

صفحہ 183

اچھے مغربی تعلیم یافتہ لوگ، جنہوں نے روح اسلام کو ضائع نہ کیا اور مقام محمدیؐ سے آگاہ رہے، اس ”مذہبی جنون“ کے جرم میں شریک رہے ہیں۔ علم الدین شہید نے، قانون اپنے ہاتھ میں لے کر، راج پال کو قتل کیا تو اس کے مقدمہ کی پیروی قائد اعظم نے کی، علامہ اقبال نے رشک کے ساتھ کہا کہ ”یہ لونڈا ہم سب پر بازی لے گیا“ اسے اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا، اور یہ شعر بھی کہا:

”ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے جن کا خون حرم سے بڑھ کر“

اسی جرم میں ایک خانساماں نے ایک انگریز میجر کی بیوی کا کام تمام کر دیا۔ میاں سر محمد شفیع نے، جو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن بھی تھے، اس کے مقدمہ کی پیروی کی۔ دوران بحث ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ ہائی کورٹ کے انگریز ججوں نے حیرت سے پوچھا: ”سر شفیع! کیا آپ جیسے ٹھنڈے دل و دماغ کا بلند پایہ وکیل بھی اس طرح جذباتی ہو سکتا ہے؟“ سر شفیع نے جواب دیا: ”جناب! آپ کو نہیں معلوم، ایک مسلمان کو اپنے پیغمبر کی ذات سے کتنی گہری عقیدت اور محبت ہوتی ہے۔ سر شفیع بھی اگر اس وقت وہاں ہوتا تو وہ بھی یہی کر گزرتا جو اس ملزم نے کیا ہے“۔

ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے بعض مسیحی بھائیوں نے اس قانون کے معاملہ میں حق پسندانہ اور معتدل مسلک اختیار کیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر، آں جہانی بشیر مسیح کے الفاظ ایسے ہی موقف کے آئینہ دار ہیں: ”ہم اس (قانون) کے خلاف نہیں۔ کوئی بھی سچا مسیحی توہین رسالت کا تصور نہیں کر سکتا، اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر واقعی کوئی اس فجیع جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ موت سے بھی سخت سزا کا حق دار ہے۔ لیکن یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی بے گناہ کو اس قانون کا نشانہ بنایا جائے“۔ (عالم اسلام اور عیسائیت، ج ۴، ش ۶، جون ۱۹۹۴ء ص ۴)۔ اسی طرح ماہنامہ کلام حق میں پادری ڈاکٹر کے ایل ناصر کے صاحبزادہ میجر جی ناصر کے الفاظ ہیں: ”ہم مسیحی قوم تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵- سی یعنی گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم (کی سزا) کے مخالف نہیں۔ ہم صرف یہ درخواست کرتے ہیں کہ ایک خصوصی کمیشن بنایا جائے۔ غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں اور اگر ملزم واقعی مجرم ہو تو اس کو قانون کے مطابق سزا دی جائے، ورنہ بصورت دیگر رہا کر دیا جائے۔ مقدمہ بھی خصوصی عدالت میں چلایا جائے، اور ملزم کو تمام قانونی سہولتیں بہم پہنچائی جائیں، تاکہ

صفحہ 184

اقلیتوں‘ خاص طور پر مسیحی اقلیت کو تحفظ و انصاف کا احساس ہو" (ایضاً، ص ۲۵)۔ یہ مطالبات یقیناً بجا ہیں۔

لیکن ہمیں افسوس ہے کہ مسیحی لیڈروں کی اکثریت‘ سوچے سمجھے بغیر‘ اس قانون کی اندھی مخالفت پر تل گئی ہے۔ اس طرح وہ ایک طرف مغربی سامراجی طاقتوں کے آلہ کار بھی بن رہے ہیں‘ دوسری طرف پاکستان میں اسلام دشمن اور سیکولر عناصر کے دوش بدوش کھڑے ہوگئے ہیں۔ ہم ان کی خدمت میں ادب سے عرض کریں گے کہ اگر ان کے پیش نظر اس قانون کے بارہ میں خدشات کے خلاف ضروری تحفظات حاصل کرنا ہے‘ بلکہ پاکستان کے شہری ہونے کے ناتے پاکستان میں اپنا جائز مقام حاصل کرنا ہے‘ تو انہوں نے غلط راستہ اختیار کیا ہے۔ نہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت سے انہیں یہ حاصل ہو سکتا ہے‘ نہ سیکولر عناصر کی مدد سے‘ اگرچہ وہ اقتدار میں آ جائیں۔ اس کا راستہ یہ ہے کہ وہ محب اسلام ممتاز شہریوں اور حق پسند علما اور دینی جماعتوں سے گفت و شنید کا آغاز کریں‘ انہیں اپنے خدشات سے آگاہ کریں‘ ممکن ہو تو ایک مشترک مسلم کرسچن کونسل تشکیل دیں‘ مسلمانوں پر زور دیں کہ وہ خاص طور پر اس قانون کے ضمن میں اسلام کے قانون عدل و شہادت کے تقاضوں کی تکمیل یقینی بنائیں‘ وہ ترمیمات کرانے میں ان کی مدد کریں جو قانون کو بے اثر بنائے بغیر کی جا سکتی ہیں‘ اور ان کے ساتھ انہیں خطوط پر معاملہ کریں جو حضورؐ نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ اختیار کیے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس طرح دونوں کے تعلقات بھی خوش گوار ہو جائیں گے‘ ان کے مسائل کا حل بھی خوش اسلوبی سے نکل آئے گا۔

شاید انہیں اسلام کے قانون عدل کے ان تقاضوں کا علم نہیں‘ جن کا نفاذ‘ ان کے خدشات کے ازالہ کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔

کا اختیار نہیں۔ جب منظور مسیح کو قتل کیا گیا تو ہم نے آگے بڑھ کر ترجمان کے صفحات میں اس کی مذمت کی۔

کرے۔ اس لیے کہ ”حد کی سزا میں شہادت کا معیار‘ عام شہادت کے معیار سے بہت زیادہ سخت اور غیر معمولی ہے۔ ایسے گواہوں کی شہادت قبول ہوتی ہے جو گناہ کبیرہ سے اجتناب کرتے ہوں‘ صادق القول اور عادل ہوں‘ اور مزید برآں تزکیہ الشہود کے معیار پر

صفحہ 185

بھی پورا اترتے ہوں" (محمد اسماعیل قریشی، ص ۴۶۱)

کی رو سے ملزم کو پہنچتا ہے۔ حدیث مبارک ہے ادرءوا الحدود بالشبہات، حدود کی سزاؤں کو شبہات کی بنا پر ختم کر دو" (ایضاً، ص ۴۶۷)

میں کوئی جرم مستوجب سزا نہیں ہوتا" (ایضاً، ص ۴۶۷)۔

بری کر دینے کی غلطی ایک بے گناہ کو سزا دینے کی غلطی سے بہتر ہے" (سنن البیہقی، ج۸، ص ۱۸۴)

بجائے اس کے کہ ہمارے مسیحی بھائی پاکستان کی سیکولر حکومت کے وعدوں پر جئیں، باہر کی مسیحی طاقتوں سے آس لگائیں۔ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ مسلمان، عیسائی، ہندو مل کر ایک متفقہ ترمیمی بل، حکومت اور اسمبلی کے سامنے پیش کر دیں، جو اسلامی قانون کے مطابق بھی ہو اور اقلیتوں کے لیے انصاف اور تحفظ کا ضامن بھی۔ ہماری رائے میں علما اور دینی جماعتوں کو اس مقصد کے لیے عیسائی رہنماؤں سے ڈائیلاگ شروع کرنا چاہیے۔

حالیہ قضیہ نے جو آئینہ ہمیں دیا ہے، اس میں مسلم ملت کی قوت کا اصل سرچشمہ بھی عیاں ہو رہا ہے۔ یہ سرچشمہ وہی ہے جس کے پیچھے ہمارے دشمن ۱۴۰۰ سال سے آج تک لگے ہوئے ہیں۔ ہماری قوت و توانائی کا سامان وہ ڈالر، وہ اسلحہ، وہ قرض اور امداد، وہ نسخے کیسے کر سکتے ہیں، جو ہمارے دشمن خود ہمیں فراہم کر رہے ہیں۔ یہ سرچشمہ تو روز اول سے دل مسلم میں مقام مصطفیٰ ہے، عشق مصطفیٰ ہے، اور ملت کی پوری زندگی میں اتباع اور اطاعت مصطفیٰ ہے، ہمیں اسی چشمہ سے سیراب ہونے میں لگ جانا چاہیے۔

آج تاریخ کا اسٹیج اسلام اور مغرب کے درمیان معرکہ کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ بظاہر ہمارا اور مغرب کا کیا مقابلہ۔ نہ ہمارے پاس اسلحہ، نہ ٹیکنالوجی، نہ معاشی ترقی، نہ اتحاد، نہ لیڈر شپ، نہ منزل، نہ مقصد۔ لیکن ان میں سے ہر چیز ہمیں حاصل ہو جائے گی اگر ہم قوت اور توانائی کے اس سرچشمہ تک پہنچ جائیں۔

کیمیا پیدا کن از مشت گلے
بوسہ زن بر آستان کاملے
صفحہ 186
دل ز عشق او توانا می شود
خاک ہم دوش ثریا می شود

انسان کامل کے آستانے پر سر رکھ کے بوسہ دینے ہی سے ہماری مشت خاک سونے کا ہالہ بنے گی‘ آپ کے عشق سے ہی ہمارے دل توانا ہوں گے‘ ہماری ترقی آسمان سے باتیں کرنے لگے گی۔

اس سے زیادہ فریب انگیز مغالطہ اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ”ترقی پسند“ بننا ہے یا ”بنیاد پرست“۔ ہمیں نہیں معلوم بنیاد پرست کے کیا معنی ہیں۔ لیکن ہماری بنیاد تو حضور کی ذات‘ آپ کی لائی ہوئی کتاب‘ آپ کی سنت اور آپ کا اسوہ ہے۔ ہم‘ جو اس بنیاد کے ناتے ”بنیاد پرست“ ہیں‘ سب سے بڑھ کر ترقی پسند ہیں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ امریکہ کی انگلی پکڑ کر چلے تو ترقی نہیں موت اور ذلت کا گڑھا ہمارا مقدر ہے۔ اس راہ کو چھوڑ کر چلنے والے ”ترقی یافتہ“ مسلمان ممالک کے ڈھانچے ہمارے سامنے بہت موجود ہیں۔

گشودم پردہ را از روئے تقدیر
مشو ناامید و راہ مصطفیٰ گیر
مقام خویش اگر خواہی دریں دیر
بحق دل بند و راہ مصطفیٰ رو

کاش ہم تقدیر کے اس راز کو پا لیتے‘ مستقبل بنانے کی وہ راہ پکڑ لیتے جو ترقی اور عروج کی ضامن ہے‘ اور دنیا میں اپنا وہ مقام بنا لیتے جو ہمارا مقدر ہے۔ وہ راہ‘ راہ مصطفیٰ کے سوا اور کوئی نہیں۔

دامنش از دست دادن موت است۔ حضور کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا‘ پروانہ موت ہے۔ آج کل مسلمان ہر جگہ‘ خصوصاً وطن عزیز پاکستان میں‘ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں‘ علاج کیا ہے‘ حل کیا ہے؟ علاج اور حل تو ایک ہی ہے۔ پہلے بھی‘ قوم زندگی از دم او یافت‘ حضور کے دم سے ہی زندگی ملی تھی‘ اور آج بھی سب کچھ آپ کا دامن پکڑنے‘ آپ کا مشن پورا کرنے‘ اور آپ کے پیچھے چلنے ہی سے ملے گا۔

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جنا

مدیر تکبیر اپنے ادار لکھتے ہیں۔

”دوسرا مقدمہ تو عدالت میں ہوئی اور اس سزائے موت سنائی گئی۔ ا خواص نے ناراضگی کا اظہا کہ توہین رسالت کے مقد پاکستان بچوں سے متعلق پر دستخط کر چکا ہے‘ یہ ہوئے اس چارٹر کا خیال پورا موقع ملا تھا‘ انہیں ج اقوام متحدہ کے سلسلے میں اس سے ذاتی طور پر ناخو تاکہ کوئی جھوٹ بول کر

(روزنامہ ”جنگ“ کراچی

وزیر اعظم کا عد

میں ایک قانون موجود یہ قانون ہٹنا تب بھی ان شامل تھا۔ اگر ہمارا قانو نہ ہوا اور بچوں کے سل اگر قانون سوچ سمجھ کر کے ہاتھ پیر پھولنا کیا تاثر کو رفع کرنے کے سے جی چرا کر یہ کہنا

صفحہ 187
یہ جاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

(ماہنامہ ”ترجمان القرآن“ لاہور، اپریل ۹۵ء)

مدیر تکبیر اپنے اداریہ ”متنازع عدالتیں اور متنازع فیصلے“ کے عنوان سے لکھتے ہیں۔

”دوسرا مقدمہ توہین رسالت کا تھا، جس کی سماعت معمول کے مطابق سیشن عدالت میں ہوئی اور اس نے اپنا فیصلہ صادر کیا، جس کے مطابق دو ملزموں کو جو عیسائی تھے سزائے موت سنائی گئی۔ اس فیصلے پر بیرون ملک احتجاج ہوا اور اندرون ملک محدود سطح پر خواص نے ناراضگی کا اظہار کیا، ان خواص میں سرفہرست خود وزیر اعظم تھیں جنہوں نے کہا کہ توہین رسالت کے مقدمے میں عدالت کے فیصلے پر مجھے بھی حیرت ہوئی اور دکھ بھی۔ پاکستان بچوں سے متعلق سنگین سزاؤں خصوصاً سزائے موت کے خلاف اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کر چکا ہے، یہ امر باعث حیرت ہے کہ ۱۴ سال کے بچے کو سزائے موت دیتے ہوئے اس چارٹر کا خیال کیوں نہیں رکھا گیا۔ عدالت آزاد تھی، دونوں ملزموں کے وکیلوں کو پورا موقع ملا تھا، انہیں چاہیے تھا کہ اس چارٹر کا حوالہ دیتے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت ہوا جب اقوام متحدہ کے سلسلے میں ریکارڈ بہت اچھا رہا ہے۔ یہ فیصلہ بہت غلط موقع پر ہوا ہے، میں اس سے ذاتی طور پر ناخوش ہوں۔ میں توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کرنا چاہتی ہوں تاکہ کوئی جھوٹ بول کر کسی کو سزا دلوانے کی کوشش کرے تو اسے سخت سزا دی جاسکے۔

(روزنامہ ”جنگ“ کراچی اور نوائے وقت کراچی، ۴ فروری ۱۹۹۵ء)

وزیر اعظم کا عدالت کے فیصلے پر یہ تبصرہ بہت غیر ضروری تھا۔ سوال یہ ہے کہ ملک میں ایک قانون موجود ہے جو عدالت نے نہیں بنایا بلکہ حکومت ہی کا وضع کردہ ہے۔ جب یہ قانون بنا تب بھی انسانی حقوق کا چارٹر موجود تھا، پاکستان اس پر دستخط کرنے والوں میں شامل تھا۔ اگر ہمارا قانون چارٹر سے متصادم ہے تو قانون سازی کے وقت اس پر غور کیوں نہ ہوا اور بچوں کے سلسلے میں کسی رعایت کی گنجائش قانون کے اندر کیوں نہ رکھی گئی اور اگر قانون سوچ سمجھ کر ہی بنایا گیا تھا تو پھر کسی خاص مقدمے میں بیرونی ردعمل پر حکومت کے ہاتھ پیر پھولنا کیا معنی؟ انسانی حقوق سے ہمارے قانون کے نظر آنے والے تصادم کے تاثر کو رفع کرنے کے لیے سرکاری سطح پر بنیادی استدلال طے کیا جانا چاہیے۔ اس محنت سے جی چرا کر یہ کہنا کہ عدالت نے اس چارٹر کا لحاظ کیوں نہ رکھا یا وکیلوں نے اس کا

صفحہ 188

حوالہ کیوں نہ دیا۔ اپنی کوتاہی دوسروں کے سر منڈھنے والی بات ہے۔ اس اعتراف کے باوجود کہ عدالت آزاد تھی اور اس نے دونوں ملزموں کے وکیلوں کو پورا موقع بھی دیا یہ کہنا کہ میں اس فیصلے سے ذاتی طور پر خوش نہیں ہوں۔ عدالتی فیصلے پر عدم اطمینان کا ہی اظہار ہے اور حکومت کی کوتاہی کو نظرانداز کر کے یہ باور کرانا کہ عدالتی فیصلے میں کسی خاص پہلو کا خیال نہیں رکھا گیا، عدالت کی عزت افزائی نہیں اس سے تو توہین عدالت ہی کا پہلو نکلتا ہے۔

عامتہ الناس کی سطح پر اگرچہ اس عدالتی فیصلے کی پذیرائی ہوئی تھی، لیکن فیصلے پر وزیراعظم کے مخالفانہ تبصرے نے احتجاج کی لہر اٹھا دی، فیصلے پر نہیں بلکہ فیصلے کے بارے میں وزیراعظم کا مخالفانہ ردعمل احتجاج کا موضوع بن گیا۔ وزیر قانون نے شیخ رشید کے فیصلے پر قائد حزب اختلاف کے مخالفانہ ردعمل کو تو توہین عدالت ٹھہرایا، لیکن سیشن عدالت کے فیصلے پر وزیراعظم کے مخالفانہ ردعمل کو انہوں نے یکسر نظرانداز کر دیا۔ کیا یہی عدل و انصاف کا تقاضہ ہے جو وزیراعظم نے پورا کیا؟

توہین رسالت کے مقدمے کے فیصلے کے خلاف اپیل لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت آئی اور سماعت اس تیزی سے ہوئی کہ ہائی کورٹ پر تیز رفتار سرسری سماعت والی عدالت کا گمان ہوا۔ اس عدالت کے فیصلہ سنانے میں بھی عجلت کا یہ عالم تھا کہ اگلے روز تک کا انتظار کرنے کے بجائے رات نو بجکر ۲۴ منٹ پر فیصلہ سنایا گیا۔ رات میں فیصلہ سنانے کی ہماری عدلیہ کی روایت نہیں، خلاف روایت ہے۔ وقوعہ محض اس عجلت کا نتیجہ تھا جو حکومت کے دباؤ نے لاحق کرائی تھی۔

اس فیصلے نے جو ردعمل پیدا کیا وہ ایک اخبار کی ان سرخیوں میں عیاں ہے ----- ”توہین رسالت کے ملزموں کو بری کرنے کے خلاف زبردست مظاہرے -- کراچی اور سندھ سمیت ملک بھر میں مذہبی تنظیموں کے جلوس، جلسے اور احتجاجی مظاہرے۔ فیصلہ اسلام کے خلاف سازش ہے۔ گستاخان رسولؐ کے لیے سزائے موت برقرار رکھنے کا مطالبہ۔ راولپنڈی کے بازار میدان کارزار بن گئے۔ پولیس اور مظاہرین میں زبردست جھڑپیں، لاٹھی چارج آنسو گیس، سادہ لباس پولیس والوں نے براہ راست فائر کھول دیا۔ پولیس کلہاڑی سے مسجد کا دروازہ توڑ کر جوتوں سمیت داخل ہو گئی، گلیوں میں گھس کر مظاہرین کا پیچھا کیا۔ چھتوں سے پولیس پر پتھراؤ، نوجوان نعرہ تکبیر اور نعرہ رسالت لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے، لاہور میں پولیس اور مظاہرین میں دو بدو جنگ، درجنوں گرفتار، کئی کے سر پھٹ

صفحہ 189

گئے، بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا، مشتعل ہجوم کا پیپلز پارٹی کے دفتر پر حملہ، پرچم اور پولیس چوکی نذر آتش، متعدد مقامات پر پتھراؤ، ٹریفک سگنلز، دکانوں کے بورڈ اور شیشے توڑ دیئے گئے، گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ ”توہین رسالتؐ کے مقدمے میں وزیر اعظم کے قبل از وقت بیان نے فیصلہ مشکوک بنا دیا“۔

ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ کیسا تھا؟ وہ اس ردعمل سے ظاہر ہے۔ لیکن کہا جا سکتا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کا معیار عوام کا جذباتی ردعمل متعین نہیں کر سکتا، چنانچہ عوام کے اس ردعمل کو برطرف کیجئے۔ ہمارے خیال میں اس فیصلے کے بارے میں وہ کچھ بہت اہم ہے جو اسی کورٹ کے سابق چیف جسٹس نے کہہ ڈالا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور سابق جج سپریم کورٹ جسٹس (ریٹائرڈ) محمد رفیق تارڑ صاحب نے کہا ہے کہ توہین رسالت کا مقدمہ انتہائی اہم نوعیت کا حامل مقدمہ تھا، عام طور پر اس قسم کے مقدمات میں چیف جسٹس خود بنچ کے رکن ہوتے ہیں اور سینئر ججوں کو بنچ میں شامل کیا جاتا ہے مگر اس مقدمے میں ان ایڈیشنل ججوں کا بنچ بنایا گیا، جنہیں فی الحال ملازمت کا بھی تحفظ حاصل نہیں ہے، اس طرح سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس سے متعلق مقدمے کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ اگرچہ توہین رسالتؐ والے مقدمات میں پیش کی گئی شہادت اور برأت کی تائید میں ظاہر کی گئی وجوہات کا تجزیہ کئے بغیر ہائی کورٹ کے فیصلے پر کوئی حتمی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا مگر یہ بات ریکارڈ پر لانا ضروری معلوم ہوتی ہے کہ توہین رسالت کا الزام قتل عمد کے الزام سے زیادہ سنگین ہے، کیونکہ قتل عمد قابل راضی نامہ جرم ہے، مگر توہین رسالت میں راضی نامے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جس میں معافی نہیں۔ قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والے سینکڑوں مسلمان دو دو سال سے پھانسی کی کوٹھڑی میں بند پڑے ہیں اور ان کی اپیلوں کی سماعت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی، سزایافتگان دو عیسائیوں کے مقدمے کی فوری سماعت کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ عیسائی اس ملک کے اول درجے کے شہری ہیں اور وہ مسلمان جو دو سال یا اس سے بھی زائد عرصے سے پھانسی کی کوٹھڑیوں میں پڑے اپنی اپیلوں کی سماعت کے منتظر ہیں، ان سے کم تر ہیں۔ فرنگی دور میں اس قسم کا امتیازی سلوک ”یورپین برٹش سبجیکٹس سے کیا جاتا تھا“۔

ہم نے اپنے ۲۲؍ فروری والے شمارہ ۸ میں شیخ رشید احمد کے متنازعہ عدالتی فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستانی عدلیہ کے بارے میں امریکی وزارت خارجہ کی ایک سالانہ

صفحہ 190

رپورٹ کا حوالہ دیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی عدلیہ آزاد نہیں۔ صدر پاکستان اپنے اختیارات سے ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلے کر کے بقیہ مدت کے لیے پسندیدہ جج مقرر کر سکتے ہیں۔ حکومت کی وزارت قانون اور عدل و انصاف ہائی کورٹس کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، خاص طور پر چھوٹی عدالتوں پر دباؤ ڈال کر ان سے من پسند فیصلے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ خصوصی عدالتوں میں ریٹائرڈ ججوں کو متعین کیا جاتا ہے جنہیں معاہدے پر ملازم رکھا جاتا ہے، ان عدالتوں کے جج اپنی ملازمتوں کے معاہدے کی تجدید کے لیے حکومت کے دباؤ کے تحت فیصلے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ تیزی سے مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالتوں میں سنگین جرائم میں ملوث ملزموں کے مقدمے چلائے جاتے ہیں، جو حکومت ہی سماعت کے لیے عدالتوں کو بھجواتی ہے۔ ماہرین قانون کے خیال میں یہ عدالتیں انصاف فراہم نہیں کر سکتیں۔

ان تبصروں کی روشنی میں یہ سمجھنا چنداں دشوار نہیں کہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر شدید عوامی ردعمل کیوں ہوا۔ حکومت اور اس کا طرز عمل، عدلیہ کی بے توقیری کا کلیدی سبب ہے۔ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اچھا نہیں۔ فوج، خفیہ سراغرسانی کے اداروں، پولیس اور انتظامیہ کی ساکھ تو برباد ہو چکی، اب عدلیہ کا وقار ہدف بنا ہوا ہے، ان اداروں کا اعتبار اور ساکھ ختم کر کے آخر ملک میں کس ادارے کے ذریعے معمول کا نظم و نسق بحال کیا جا سکے گا؟ کیا ملک میں نظم و نسق کی برقراری کے لیے بھی اقوام متحدہ کے اداروں کو ٹھیکے دیے جائیں گے، کھلی آنکھوں کے سامنے ایک اچھے بھلے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجائی جا رہی ہے اور اس سب کے باوجود بھی حکومت اپنے اقتدار کے تسلسل کو اپنا حق سمجھتی ہے، کیسا المیہ ہے یہ!

ہمارا خیال ہے کہ پیشتر اس کے کہ ملک میں طوائف الملوکی کی جڑیں گہری ہوں اور نراجیت استحکام پائے، حکومت کو اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جانا چاہیے، کیونکہ ملک میں امن و امان کی جو کیفیت ہے، وہ اظہر من الشمس ہے اور یہ کیفیت در حقیقت حکومت کی نااہلی کا کھلا ثبوت ہے۔ ایک نااہل حکومت کے مسلسل برسر اقتدار رہنے سے بہت سے قومی مفادات کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ متعدد حلقوں کی طرف سے موجودہ حکومت کے خاتمے کی آواز اٹھ چکی ہے، یہ مطالبہ سراسر بے بنیاد نہیں ہے۔

(ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی، ۹؍ مارچ ۱۹۹۵ء)

صفحہ 191

”حکومت اور عدالت پر امریکہ سمیت مغربی ممالک کا دباؤ“ کے عنوان سے نمائندہ ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی‘ جناب نصراللہ خلجی لکھتے ہیں:

”۲۳ فروری ۱۹۹۵ء کو لاہور ہائی کورٹ نے انصاف مہیا کرنے کی غالباً اپنی تاریخ کی تیز ترین سماعت کے ذریعے سزائے موت کے دو قیدیوں کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں بری کر دیا۔ ۲۱ فروری کو اپیل کی سماعت شروع ہوئی اور ۲۳ فروری کو ختم ہو گئی اسی رات آٹھ بجکر پینتالیس منٹ پر فیصلہ سنا دیا گیا‘ اس دوران دو مرتبہ وقت تبدیل کیا گیا۔ فیصلے کے اعلان کا وقت چار بجے مقرر کیا گیا‘ پھر اسے ساڑھے چھ بجے تک مؤخر کر دیا گیا اور بالآخر ساڑھے نو بجے فیصلہ کا اعلان کر دیا گیا۔ اس قدر تیز سماعت اور عدالتی فیصلہ کا فائدہ اٹھانے والے دو عیسائی رحمت مسیح اور سلامت مسیح تھے‘ مقدمہ توہین رسالتؐ کا تھا اور اس اپیل کی سماعت کرنے والے لاہور ہائی کورٹ کے دو جج مسٹر جسٹس عارف اقبال بھٹی اور مسٹر جسٹس خورشید احمد تھے۔ ان دونوں اصحاب کی پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستگی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ جناب عارف اقبال بھٹی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر لاہور میں دو مرتبہ عام انتخابات میں حصہ بھی لے چکے ہیں۔ اس مقدمہ میں آغاز تا اختتام پوری عیسائی دنیا نے بے پناہ دلچسپی لی۔ امریکہ کی نائب وزیر خارجہ رابن رافیل سے لے کر عیسائی دنیا کے سفارتکاروں اور انسانی حقوق کی انجمنوں نے حکومت پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈالا کہ توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتکب ان ملزموں کو بری کر دیا جائے‘ جن کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ سی کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ یہ دباؤ حکومت سے عدالت تک ہر جگہ برقرار رہا‘ جب ”ٹرائل کورٹ“ نے ملزموں کو ماہ فروری کے اوائل میں سزائے موت سنائی تو وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے باقاعدہ ایک بیان میں اس پر اپنی ناخوشی کا اظہار کیا۔

پاکستان کی تاریخ میں اس قدر تیز رفتاری کے ساتھ‘ روزانہ سماعت کی بنیاد پر کسی اپیل کی سماعت کرنے کا فیصلہ بہرحال اس سے منسلک ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ۲۴ فروری کو جنیوا میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کا اجلاس شروع ہو رہا تھا جس میں پاکستانی وفد کو جناب شریف الدین پیرزادہ کی زیر قیادت شریک ہونا تھا‘ حکومت پاکستان اس اجلاس سے قبل ہر حالت میں اپیل کا فیصلہ چاہتی تھی‘ اسی لئے استغاثہ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل عبدالستار نجم (جو پیپلز پارٹی کے نہایت معتبر رکن ہیں) نے وہی موقف اختیار کر لیا جو صفائی کے وکلاء نے اختیار کیا تھا۔ چنانچہ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو

صفحہ 192

نے بھی اطمینان محسوس کیا ہو گا کہ ان کے مجوزہ دورہ امریکہ کے موقع پر وہ رابن رافیل اور دیگر امریکی حکام سے کہہ سکیں گی کہ ان کی حکومت بنیاد پرستوں کے آگے نہیں جھکی اور انہوں نے دو عیسائیوں کو بری کرا کے دم لیا۔

سزائے موت کی اپیل کے مسئلے پر ایک طرف مغربی ممالک کا دباؤ تھا۔ جو صاف نظر آ رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی مغربی ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی اپیل کی کوریج کے لیے پہنچ گئے۔ بی بی سی دنیا کو بتا رہا تھا کہ پاکستان میں عیسائیوں کے خلاف جنگ شروع کر دی گئی ہے۔ عدالت کے اندر غیر ملکی ایجنسیوں کے نمائندے بھی ہمہ وقت موجود رہتے تھے‘ حکومت کو بھی فیصلہ کرانے کی بے حد جلدی تھی۔ عدالت کے معاونین وکلاء کی غالب اکثریت صفائی کے موقف کی حمایت میں کھڑی تھی۔

عدالت نے جن پہلوؤں کو مدنظر رکھا اور جن پہلوؤں کو نظرانداز کیا‘ ان میں مدعی فضل حق کی درخواست بھی شامل ہے جس میں حکومت کے دباؤ کا واضح ذکر ہے۔ اس کے باوجود لاہور ہائی کورٹ کے اس ڈویژن بنچ کو یقین ہے کہ ”ہم اللہ کے فضل سے اللہ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سرخرو ہوں گے‘ ہم توقع رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں شاباش دے گا۔ ہم نے یہ فیصلہ اپنے ضمیر کے مطابق دیا ہے‘ ہم آج اور قیامت کے روز خدا کے سامنے جوابدہ ہیں“۔

(ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی‘ ۸ مارچ ۹۵ء)

جناب مجیب الرحمن شامی اپنے اداریہ ”آستین کے سانپ“ کے عنوان سے لکھتے ہیں۔

”پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کسی مقدمے میں سیشن کورٹ سے موت کی سزا پانے والے کسی مجرم (یا مجرموں) کی اپیل کی سماعت چند روز کے اندر اندر ہائی کورٹ میں ہوئی۔ ہائی کورٹ نے مغرب کے بعد فیصلہ سنایا اور مجرموں کو باعزت بری کر دیا۔

ہر وہ شخص جسے پاکستان کے معاملات سے کچھ بھی دلچسپی ہے‘ اس بات سے آگاہ ہے کہ یہ مقدمہ ”قانون توہین رسالت“ کے تحت درج ہوا تھا۔ لاہور کی سیشن کورٹ نے اس کی سماعت کی‘ اور دو عیسائی نوجوانوں کو جن پر الزام تھا کہ وہ توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں‘ مجرم قرار دے دیا۔

اس فیصلے نے دنیا بھر میں تو ہنگامہ اٹھایا ہی‘ پاکستان کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو بھی صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے اخبار نویسوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایک

صفحہ 193

سوال کے جواب میں واضح طور پر کہا کہ انہیں اس فیصلے سے صدمہ پہنچا ہے۔ کسی سربراہ حکومت کی طرف سے عدلیہ کے طرز عمل پر اس طرح کا تبصرہ کسی مہذب معاشرے میں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہر ملک کی عدالتیں ایک نظام اور نظم کے تحت کام کرتی ہیں۔ پاکستان میں بھی تحریری دستور نے اس کا اہتمام کر رکھا ہے۔ جن جرائم کی سزا موت ہے، وہ مقدمے سیشن کورٹ میں زیر سماعت آتے ہیں۔ اگر کسی ملزم کو موت کا مستحق سمجھا جائے تو ہائی کورٹ کا ڈویژن بنچ اس کی اپیل سنتا ہے، اور اس کی توثیق کے بعد ہی سزا کو قابل عمل قرار دیا جاتا ہے۔ مجرم کو اس کے بعد سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ سے بھی مجرم کی درخواست مسترد ہو جائے تو صدر پاکستان سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہ چونکہ صدر کا صوابدیدی اختیار نہیں ہے، اس لیے اس معاملے میں وزیر اعظم کی ”ایڈوائس“ (مشورہ) فیصلہ کن قرار پاتی ہے۔

پاکستانی حکومت اور مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو یہ موقف اختیار کرنا چاہیے تھا کہ پاکستانی قانون کے تحت کئی جرائم کی سزا موت ہے۔ ان میں توہین رسالت کا جرم بھی شامل ہے۔ صرف رسول اکرم و معظم حضرت محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کا مقدر یہ نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ کے کسی بھی رسول کی توہین کی سزا یہی ہے۔ ہر ملک اور قوم کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے باشندوں کی روایات، تہذیب، عقائد اور تصورات کے مطابق قانون سازی کرے۔ مغرب کے وہ معاشرے جو مہذب کہلاتے ہیں، اور اپنی تہذیب پر فخر کرتے ہیں، ازالہ حیثیت عرفی کے قانون کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے ہاں کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے کی توہین کرے، اس کی عزت شہرت اور وقار پر داغ لگانے کی جرات کرے۔ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں اور بعض اوقات ہرجانے کی اتنی بھاری رقم ادا کرنی پڑتی ہے کہ چیخیں آسمان تک سنائی دیتی ہیں۔ اگر ایک عام شخص کی عزت (عالمی اقدار کے مطابق) کی حفاظت ضروری ہے، تو پھر ایک ایسے شخص کی عزت، وقار اور شان کی توہین کرنے کی کھلی چھٹی کیسے دی جا سکتی ہے، جس کو دنیا کے کروڑوں انسان، اپنا رہنما اور ملجا و ماویٰ مانتے ہوں، جس کے ایک ایک اشارے کو قطعی حکم کا درجہ حاصل ہو، اور جس کی پیروی دونوں جہان میں نجات کا واحد ذریعہ سمجھی جاتی ہو۔ اس شخص کی شان میں اگر کوئی گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ معاشرے کا امن و امان تباہ کرنا اور اس میں ایسی آگ لگانا چاہتا ہے، سینکڑوں جانیں جس کی نذر ہو سکتی ہیں۔ ایسا شخص تو مجرم اعظم ہے اور

صفحہ 194

معاشرے کو اس کے وجود سے پاک کرنا اجتماعی سلامتی اور امن و سکون کے لیے لازم ہے۔ یہ بات بھی سب کو بتانے اور سمجھانے کی تھی کہ پاکستان میں ہر سال سینکڑوں ہزاروں افراد کو پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے، وہ اس کے خلاف اپیلیں کرتے ہیں، اور جو آخری عدالت میں بھی مجرم قرار پاتے ہیں، ان ہی کو پھانسی پر لٹکایا جا سکتا ہے۔ کسی زیریں عدالت کے فیصلے پر چراغ پا ہونے کی ضرورت نہیں، مجرموں کو قانون کے اندر دیے گئے راستے پر سفر کرنا، اور اپنی بے گناہی ثابت کرنا چاہیے۔ اس کے بجائے حکومت خود ہی ہاہاکار میں شریک ہو گئی۔ اس نے اہل مغرب کے جذبات کو سرد کرنے کے لیے طرح طرح کے الفاظ استعمال کر لیے، لیکن اہل پاکستان کے جذبات کو آگ لگانے کا سبب بن گئی۔

لاہور ہائی کورٹ کے فاضل قائم مقام چیف جسٹس نے دونوں مسیحی نوجوانوں کی اپیل کی فوری سماعت کا حکم دیا۔ اگر اسے اپنی باری پر سنا جاتا تو اس کے لیے خاصا انتظار کرنا پڑتا۔ اس کے ساتھ ہی فل بینچ بنا ڈالا یعنی تین ججوں کو اپیل کی سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔ اس بینچ کے سینئر جج جناب جسٹس فلک شیر نے فائل پر یہ لکھ کر دستبرداری اختیار کرلی کہ قاعدے کے مطابق ڈویژن بینچ اس طرح کے معاملات کی سماعت کرتا ہے، اس لیے تیسرے جج کو بٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یوں معاملہ ڈویژن بینچ میں زیر بحث آگیا۔ اس بینچ کے دونوں فاضل ارکان ایڈہاک جج ہیں، اور انہیں تھوڑا عرصہ پہلے ہی جناب صدر نے ایک سال کے لیے اس منصب پر فائز کیا ہے۔ ایڈہاک جج کو کوئی دستوری تحفظ حاصل نہیں ہوتا، اور اسے ایک منٹ کے نوٹس پر ملازمت سے الگ کیا جا سکتا ہے۔

فاضل ڈویژن بینچ نے تیزی سے سماعت شروع کی، اور چند ہی دن کے اندر اندر بعد از نماز مغرب فیصلہ سنا دیا۔ مدعی کے وکیل نے کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا، اور عدالت کے باہر بھی سینکڑوں افراد نعرے لگاتے اور دھاڑیں مارتے رہے۔ دونوں مسیحی نوجوانوں کی برات کی خبر سن کر کئی بے ہوش ہوگئے، اور کئی نے سینہ کوبی کر کے خود کو ادھ موا کر ڈالا۔ سیشن کورٹ کے فیصلے کے بعد جو کچھ ہوا اور جس تیزی سے اپیل کی سماعت کی گئی، اس نے شکوک و شبہات کی ایک لہر اٹھادی۔ کہا جانے لگا کہ وزیر اعظم امریکہ کے دورے پر جانے سے پہلے پہلے اس مقدمے سے "بری" ہونا چاہتی ہیں۔ وہ اس طرح کا تاثر دے رہی ہیں کہ جیسے یہ مقدمہ دو مسیحی نوجوانوں پر نہیں، ان پر چل رہا ہو ۔۔۔ اور پھانسی کا رسہ ان کی گردن کے گرد لپیٹا جا رہا ہو۔

یہ ستم بھی ڈھایا گیا کہ مقدمے تک بات محدود رکھنے کے بجائے قانون توہین رسالت کو زیر بحث لانے کی کوشش کی گئی، اور اس پر بے اطمینانی کا اظہار شروع کر دیا

گیا۔۔۔ حالانکہ معاملہ قانون کا نہیں بدقسمتی سے بہت سے عیسائی کے پاکستانی زیر دستوں نے غلط مبحث غالب آ رہے ہیں، اور آستینیں چڑھا دیکھنے پر تیار نہیں ہے۔ پاکستان کے نہیں گے، انہیں چین سے رہنا نصیب

مجیب الرحمن شامی اپنے عنوان سے لکھتے ہیں۔

"اسی روز ڈاک کے بنڈ سیکرٹری اطلاعات پیر سید بنیامین کا ہیں۔ ان کے خلاف پنجاب اسمبلی شرف بھی حاصل ہے کہ تحریک نجا بجے تک لاہور کے تین تھانوں میں کلاشنکوف سے فائرنگ کرنے کا الز تین تھانوں کی حدود میں چھ وارداتو روز پہلے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات احمد، محمد الیاس، عبدالمجید، بابا لال م ہسپتال میں طبی سہولتوں کی کمی کے جنرل نے ادھر کا رخ نہیں کیا۔ کئی توفیق نہیں ہوئی۔ آئے تو یوں کہ کرنے گئے اور ان کا خصوصی خیال ساتھ سزائے موت کے کئی قیدی نہیں کی۔ ان میں بے شمار ایسے اف گزار چکے ہیں کہ ہائیکورٹ ان ۔ نہیں نکلی۔ پنجاب کی مختلف جیلوں طرف کسی کا دھیان کبھی نہیں گیا۔ قید ہیں، ان کا بھی کسی نے کوئی ح

صفحہ 195

گیا۔۔۔ حالانکہ معاملہ قانون کا نہیں، اس کی تنقید کا تھا۔۔۔۔۔۔۔ بدقسمتی سے بہت سے عیسائی بھائیوں، ان کے خارجی سرپرستوں اور ان سرپرستوں کے پاکستانی زیر دستوں نے غلط مبحث کا افسوس ناک مظاہرہ کیا۔ نتیجہ سامنے ہے۔ جذبات غالب آ رہے ہیں، اور آستینیں چڑھائی جا رہی ہیں۔۔۔ اپنی اپنی آستین میں چھپے سانپ کوئی دیکھنے پر تیار نہیں ہے۔ پاکستان کے رہنے والے جب تک آستین کے سانپوں سے نہیں نمٹیں گے، انہیں چین سے رہنا نصیب نہیں ہو گا۔"

(ماہنامہ قومی ڈائجسٹ لاہور مارچ ۹۵ء)

مجیب الرحمن شامی اپنے کالم ”جلسہ عام“ میں ”گستاخان حکومت“ کے عنوان سے لکھتے ہیں۔

”اس روز ڈاک کے بنڈل کو اٹھایا تو پہلا خط پنجاب مسلم لیگ کے بانکے سجیلے سیکرٹری اطلاعات پیر سید بنیامین کا تھا۔ وہ کوٹ لکھپت جیل میں اسیری کا مزا لوٹ رہے ہیں۔ ان کے خلاف پنجاب اسمبلی کے سابق سیکرٹری کے اغوا کا مقدمہ درج ہے۔ ان کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ تحریک نجات کے دوران ۲۰ ستمبر کو صبح دس بجے سے لے کر ایک بجے تک لاہور کے تین تھانوں میں ان کے خلاف چھ مقدمے درج کئے گئے۔ دو میں کلاشنکوف سے فائرنگ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ گویا تین گھنٹوں کے دوران انہوں نے تین تھانوں کی حدود میں چھ وارداتوں کا ارتکاب کر دکھایا تھا۔ پیر صاحب نے لکھا تھا کہ چند روز پہلے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات اچانک جیل کے معائنے پر پہنچے۔ گزشتہ چھ ماہ میں نذیر احمد، محمد الیاس، عبدالمجید، بابا لال مست اور محمد خلیل نامی چھ قیدی جیل حکام کی غفلت اور ہسپتال میں طبی سہولتوں کی کمی کے باعث موت کی آغوش میں دھکیل دیئے گئے لیکن انسپکٹر جنرل نے ادھر کا رخ نہیں کیا۔ کئی سیاستدان یہاں بند رکھے گئے لیکن ان کا حال پوچھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ آئے تو یوں کہ سیدھے سلامت مسیح اور رحمت مسیح کی خیریت دریافت کرنے گئے اور ان کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت دے کر چلے گئے۔ ان کے سیل کے ساتھ سزائے موت کے کئی قیدی موجود تھے لیکن کسی کی طرف دیکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ ان میں بے شمار ایسے افراد ہیں جو ایک سے دس سال تک کا عرصہ اس امید میں گزار چکے ہیں کہ ہائیکورٹ ان کے مقدمے کی سماعت کرے گی۔ ان کی ابھی تک اپیل نہیں سنی گئی۔ پنجاب کی مختلف جیلوں میں اس طرح کے آٹھ ہزار افراد موجود ہیں لیکن ان کی طرف کسی کا دھیان کبھی نہیں گیا۔ اس جیل میں مختلف الزامات کے تحت کئی اور مسیحی بھی قید ہیں، ان کا بھی کسی نے کوئی حال نہیں پوچھا۔ یہ شرف صرف ان دو افراد ہی کو حاصل

صفحہ 196

ہوا جن پر گستاخ رسولؐ ہونے کا الزام لگا۔ زیریں عدالت ان کے خلاف فیصلہ صادر کر چکی تھی اس کے باوجود ان کو خصوصی سلوک کا مستحق گردانا گیا۔ انہیں اس جگہ بند کیا گیا جہاں بی کلاس کا حامل ایک بنک افسر قید تھا۔ اس افسر کو کہیں اور پھینک کر سلامت اور رحمت مسیح کو یہاں ”قدم رنجہ“ فرمانے کے لیے کہا گیا۔

پیر بنیامین کا سوال ہے کہ مبینہ گستاخان رسولؐ پر تو نوازشات کا یہ عالم رہا لیکن گستاخان حکومت جس طرح قید کاٹ رہے ہیں اور ان پر جس طرح عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے، اس کی تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں کہ یہ دونوں مسیحی مجرم تھے یا نہیں۔ ان پر الزام تو غلیظ ترین تھا۔ گستاخان حکومت کے خلاف بھی، ابھی تک کچھ ثابت نہیں ہوا۔ لیکن ان کی دنیا اندھیر کرنے کی کوشش شد و مد سے جاری ہے۔ کیا حکومت کی شان میں گستاخی رسولؐ کی شان میں گستاخی سے بڑا جرم ہے؟ کیا مبینہ گستاخان حکومت مبینہ گستاخان رسولؐ سے بڑے مجرم ہیں؟ اس کا جواب اگر کسی سرکاری فقیہ کے پاس ہو تو وہی مرحمت فرما دے۔“

(روزنامہ جنگ لاہور ۳ مارچ ۱۹۹۵ء)

ماہنامہ ”الدعوۃ“ لاہور نے اپنی تحقیقی رپورٹ ”توہین رسالتؐ کیس، حقائق و واقعات اور اکثریت کے جذبات کا خون“ کے عنوان سے لکھا۔

”ہم ملک پاکستان کے باسی ہیں کہ جس کو عرف عام میں اسلام کا قلعہ بھی کہا جاتا ہے لیکن کبھی کبھی تو ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں کہ ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ اس اسلام کے قلعہ پر مسلمانوں کی نہیں بلکہ غیر مسلموں عیسائیوں کی حکمرانی، تسلط اور قبضہ ہے۔

مسلمان ایک اقلیت بن کر رہ گئے ہیں کہ جن کا دین اور ان کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ناموس بھی خطرے میں ہے۔ اس نام کے ملک میں جو چاہتا ہے جب چاہتا ہے، تحریر و تقریر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحابؓ پر دشنام طرازی کے تیر برساتا ہے جبکہ نام نہاد مسلمان حکمران چپ سادھے تجاہل عارفانہ کے تحت دین و دنیا سے غافل اپنی حکومت کے نشے میں دھت ہیں۔ اور ایسے گھناؤنے جرائم کے مرتکب ہونے والوں کے خلاف کارروائی کرنا، مغرب میں اپنے آپ کو فنڈامنٹلسٹ ثابت کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔

اسی طرح کے ایک مقدمے کا فیصلہ پچھلے دنوں ہائیکورٹ نے سنایا جس کے مطابق انہوں نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے اور آپ کو گالیاں دینے والے دو عیسائی افراد کو باعزت بری کر کے پوری امت مسلمہ کے سر شرم سے جھکا دیئے

صفحہ 197

اور اسلام کے قلعے کو مسمار ہی نہیں کر دیا بلکہ پوری امت مسلمہ میں اس کو ذلیل و رسوا کر کے بھی رکھ دیا ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ عدالت نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں) کو گالیاں دینے والوں کو جرم ثابت ہو جانے کے بعد بھی پوری دنیا کے میڈیا کے سامنے باعزت بری کرنے کا اعلان کیا.... جج صاحبان نے تو اعلان کر دیا .... لیکن وہ یہ نہ دیکھ سکے کہ ان کے اعلان کے بعد پورے ملک میں اہل ایمان پر کیا بیتی۔ کتنے معصوم بچوں اور بچیوں کے علاوہ عفت مآب ماؤں اور بہنوں نے غلط فیصلہ سنانے کے محرک بننے والے افراد اور جج صاحبان کے خلاف دست بدعا بلند کر دیئے اور رو رو کر ان کی ہلاکت اور بربادی کے لیے دعائیں مانگنے لگے.... جبکہ عیسائی ، قادیانی اور کفار خوشیوں اور شادمانیوں کے ڈنکے بجا رہے تھے۔ فحش اور تکبر بھرے گانوں پر فتح اور کامیابی کے نشے میں رقص کناں تھے اور ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے تھے۔

اس مقدمہ کے دوران جج عارف حسین بھٹی اور جسٹس چودھری خورشید احمد صاحبان کا کردار بالکل انوکھا اور مکمل طور پر جانبدارانہ رہا۔ وہ ماضی میں پیپلز پارٹی کے سرگرم جیالے رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔ ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دونوں ایڈہاک جج ہیں۔ جو اپنی نوکری پکی کروانے کے لیے حکومت کی نظر کرم کے منتظر اور محتاج ہیں۔ جب یہ جیالے جج توہین رسالت کا مقدمہ کمزور ہوتا ہوا دیکھتے تو مسکرانے لگتے اور جب دلائل عیسائیوں کے خلاف جاتے تو چہروں پر درشتگی پیدا ہو جاتی۔ اسی کیفیت کو رفیق احمد باجوہ نے بھری عدالت میں ججوں کو مخاطب کرتے ہوئے بیان کیا۔ اسی طرح رشید مرتضیٰ نے مقدمہ کے حق میں دلائل دینے کے لیے تین دن تک اپنی باری کا انتظار کیا۔ لیکن جب دلائل دینے کا وقت آیا تو جج صاحبان نے دلائل سننے سے یکسر انکار کر دیا تو رشید مرتضیٰ قریشی نے عدالت سے واک آؤٹ کیا۔ عدالت میں تمام باریش افراد بھی ان کے ہمراہ کمرہ عدالت سے نکل گئے اور انہوں نے باہر نکل کر نعرے لگائے جس پر ڈپٹی رجسٹرار ہائی کورٹ کو یہ ہدایت کی گئی کہ ان کا انتظام کریں۔

حکومت کو توہین رسالت کے سنگین جرم میں ملوث مجرمان کو بچانے کے لیے کیسے کیسے بے تکے دلائل کا سہارا لینا پڑا۔ اس کا اندازہ بھی مندرجہ ذیل مثال سے لگائیں۔ عدالتی معاون خواجہ سلطان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ (محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی توہین کرنے والا) کام کسی طرح غیر مسلم کا نہیں بلکہ کسی مسلمان کی کارروائی ہے۔ وہ بڑے تعجب سے کہنے لگے کہ یہاں ایسے لوگوں کو بھی کافر کہہ دیا جاتا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و

صفحہ 198

سلم کو آخری نبی نہیں مانتے۔ (یعنی وہ اس مقدمہ کے ذریعے مرزائیوں کو بھی بری الذمہ قرار دینا چاہتے ہیں)۔ مسلمان بھی تو کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے نہیں ہیں۔ (گویا یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین ہے۔) ان پر توہین رسالت کا مقدمہ کیوں نہیں چلایا جاتا۔

اب یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ادھر سے ہائی کورٹ کے ججوں نے حکومت کے پلان کے مطابق مجرموں کی باعزت رہائی کا اعلان کیا، ادھر حکومت نے اپنے پلان کے مطابق ان کے رہا ہونے سے قبل ہی بیرون ملک سفر کے لیے ان کے کاغذات، پاسپورٹ ٹکٹیں اور دیگر ڈاکومنٹس مکمل کروا رکھے تھے۔ لہٰذا رہائی کے فوراً بعد حکومت نے مجرموں کی خدمت میں دس دس ہزار ڈالر کی رقم بطور نذرانہ پیش کی اور ان کو طیارے پر چڑھا کر پورے پروٹوکول کے ساتھ جرمنی روانہ کر دیا.... اتنی عجلت کیوں....؟ شاید اس لیے کہ حکومت ڈرتی تھی کہ مدعی نے چونکہ سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ لہٰذا کہیں یہ پیارے اور لاڈلے پھر نہ پھنس جائیں اور کہیں امریکہ بہادر ناراض ہی نہ ہو جائے اور کہیں اپریل میں ہونے والا محترمہ کا دورہ ہی ناکام نہ ہو جائے۔ اس لیے سپریم کورٹ تک جانے کی نوبت ہی نہ آنے دی جائے۔ اور ان کو پاکستان سے ہی باہر بھیج دیا جائے۔ حالانکہ قانون کے مطابق جب تک مدعی کو فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ کا حق ہے، اتنے دن تک ان کو ملک سے باہر نہیں بھیجا جا سکتا تھا۔ لیکن یہاں تو حکومت نے ان کو ہر طرح سے بچانے کا تہیہ کر رکھا تھا۔

توہین رسالت میں کسی طرح شامل یا معاون افراد کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انجام شروع ہو گیا ہے۔

سے چھلنی ہو کر جہنم واصل ہو چکا ہے۔

ہو گیا لیکن جس ہاتھ سے نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف توہین آمیز کلمات لکھے تھے، وہ ہاتھ ناکارہ ہو کر رہ گیا ہے۔ اب وہ اس سے کام نہیں کر سکتا۔

ہی عیسائی افراد نے شراب پی کر اس کے ساتھ وہ سلوک کیا کہ وہ مرنے کے قریب ہو گئی اور دنیا والوں کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہی۔ مزید ذلت اس وقت اٹھانا پڑی جب انصاف کی طلب میں بھی اسکو الٹا ملزمان سے پولیس کے کہنے پر صلح کرنی پڑی، انہی ملزمان

صفحہ 199

سے جنہوں نے اس کی عزت و آبرو کا جنازہ نکال دیا تھا۔

ایک تاثر یہ بھی ہے کہ فیصلہ کرنے والے دونوں جج بھی ضمیر کے قیدی بن گئے ہیں اور اپنے کیے پر پچھتا رہے ہیں۔ ذہنی کرب سے مضطرب ہیں۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے عذاب کے لیے تیار رہیں جس میں دیر تو ہو سکتی ہے لیکن وہ ٹل نہیں سکتا۔ ویسے بھی ان کے لیے بدنامی کا اتنا ہی عذاب کافی ہے کہ وہ اپنی ہی وکلاء، جج برادری میں حقارت اور نفرت کی نظر سے دیکھے جانے لگے ہیں اور ان کی عزت ختم ہو چکی ہے۔

ویسے اگر غور سے دیکھا جائے تو سب سے پہلے توہین کا مقدمہ بے نظیر بھٹو پر بننا چاہیئے کہ انہوں نے قرآنی سزاؤں کو وحشیانہ قرار دے کر قرآن کی اور اللہ تعالیٰ کی توہین کی تھی اور اسی طرح بے نظیر بھٹو نے اپنے اقتدار میں آنے سے قبل ایک غیر ملکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ (برسراقتدار آکر اسلامی قوانین کو ختم کر دے گی) اور اب اس نے یہ کوشش شروع کردی ہے۔

ان جرائم کی بنا پر توہین قرآن اور توہین اسلام کا مقدمہ تو خود بے نظیر بھٹو پر بننا چاہیے تھا یا صدر لغاری پر کہ وہ گستاخ رسول منظور مسیح کی فائل لے کر اپنی صفائی کے لیے امریکہ حضور کے قدموں میں جا گرا۔ لیکن یہاں کی عدلیہ کا باوا آدم ہی نرالا ہے کہ لغاری اور بے نظیر بھٹو تو مجرم ہونے کے باوجود آزاد ہی نہیں بلکہ صدارت اور وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہیں اور حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والوں کو بھی جیالے ججوں کے ذریعہ سزا سے بچا لیا۔ ان کے سامنے ڈالروں کے ڈھیر لگائے ہیں۔ ان کو دنیا کے مختلف ممالک کے ویزے پیش کیے کہ آپ جونسے ملک جانا چاہیں، ذرا اشارہ تو فرمائیں مگر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت و عزت کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، ان پر طرح طرح کی پابندیاں اور سختیاں ہیں آخر وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ صرف اس لیے کہ امریکہ کو خوش کر کے اپنا اقتدار بچا سکیں گے۔

لیکن اے حکمرانو یاد رکھو کہ یہاں تو وہ بھی آئے جو کہتے تھے کہ میری کرسی بہت مضبوط ہے لیکن جب اس کی کرسی الٹی، تو پوری دنیا کے جمہوری اور کمیونسٹ بلاک اس کو مل کر بھی نہ بچا سکے۔ اس نے بھی اللہ کے دین سے جنگ چھیڑنے کا اعلان کیا تھا اور بے نظیر تمہارا امریکہ کو خوش کرنے کے لیے کشمیری مجاہدین کی سپلائی لائن کاٹنا، توہین رسالت کے مجرموں کو بری کرنا، توہین رسالت کے قانون کو غیر مؤثر کرنے اور اسلامی قوانین کو ختم کرنے کی کوششیں کرنا، اسلامی سزاؤں کو وحشیانہ قرار دینا، تمہارے ایسے کام ہیں کہ پوری امت مسلمہ کا سر شرم سے جھکا ہوا ہے اور تمہارے یہ فعل اللہ کے عذاب کو دعوت دے

صفحہ 200

رہے ہیں۔“

(ماہنامہ ”الدعوۃ“ لاہور مارچ ۱۹۹۵ء)

ماہنامہ ”الفاروق“ کراچی کے مدیر اپنے اداریہ ”قومی اور مذہبی غیرت کے منہ پر طمانچہ“ کے عنوان سے لکھتے ہیں۔

”متعدد مواقع ملت اسلامیہ کی تاریخ میں ایسے آئے ہیں جب کافروں اور منافقوں نے بالواسطہ طور پر ڈھکے چھپے لفظوں میں نبی برحق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات گرامی کو ہدف تنقید بنانے کی کوششیں کی ہیں۔ یہ کوششیں کبھی فرقہ باطلہ کے عقائد کی شکل میں ہوئیں۔ جیسے یہ کہنا کہ (نعوذ باللہ) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد دس بارہ صحابہؓ کے علاوہ سب مرتد ہو گئے تھے۔ گویا نبی رحمت خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تربیت اتنی ناقص تھی کہ دور کے رہنے والے قبائل (جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فیض براہ راست حاصل نہیں کر سکے تھے) مرتد ہوئے تو ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صحبت میں ہر گھڑی، ہر وقت مستعد رہنے والے صحابہؓ بھی (العیاذ باللہ) اسلام کو چھوڑ گئے تھے۔ اسی طرح بعض مصنفین اور بزعم خود مفکرین کا یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرنا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی بیٹیوں کو جن صحابیؓ کے نکاح میں دیا، وہ (نعوذ باللہ) ایسے خائن یا خائنوں کے مددگار تھے کہ مسلمانوں کا خیال رکھنے کی اجتماعی ذمہ داریاں، اقربا پروری کی بنیاد پر تقسیم کر دیں۔ یہ اور اس طرح کے ڈھکے چھپے تبصروں سے بھی لوگ خوب واقف ہیں۔ مگر بعض مواقع تاریخ کے صفحات پر ایسے بھی محفوظ ہیں جس میں باقاعدہ صراحت کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی گئی۔ یہی وہ واقعات تھے جنہوں نے غازی علم الدین شہید، غازی عبدالقیوم شہید اور ان جیسے عاشقان رسول کو جنم دیا۔ ابھی حال ہی میں دو نصرانیوں کی جانب سے توہین رسالت کے مبینہ ارتکاب پر پاکستانی عوام اور پاکستانی حکام نے اپنے اپنے حصے کا جو کردار ادا کیا ہے، وہ ایک دردمند مسلمان کے لیے واقعی قابل غور ہے۔

اس کیس کے مدعی مولوی فضل حق پر یہ مقدمہ واپس لینے کے لیے جتنا دباؤ ڈالا گیا، اس کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ مولوی فضل حق لاہور ہائیکورٹ سے مقدمے کا فیصلہ سنتے ہی حفاظتی تدبیر کے طور پر نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے۔ مولوی فضل حق نے کسی کو قتل نہیں کیا، کسی کا مال نہیں لوٹا، کسی کو جان سے مارنے کی دھمکی نہیں دی، کسی سیاسی لیڈر، وڈیرے، جاگیردار کو مقابلے کے لیے نہیں للکارا، پھر وہ کیا محرک تھا جس نے

صفحہ 201

مولوی فضل حق کو نامعلوم مقام پر پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ کیا یہ مولوی صاحب کا حق نہیں تھا کہ پیغمبر اسلام کے خلاف ہفوات بکنے والوں کو قانون کے سپرد کردیں۔ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن کے نام لیواؤں نے اس ملک کو بنایا ہے اور جن کے مبارک نام کو ذریعہ بنا کر لوگ اقتدار کی رسہ کشی کا کھیل کھیلتے ہیں، اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کو بجائے خود سزا دینے کے انہوں نے ایک قانون پسند شہری ہونے کے ناطے قانون ہی کے حوالے کر دیا۔ اب قانون کی کرسی پر بیٹھے ہوئے افراد کا کام تھا کہ وہ اس مقدمے پر کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ آیا اس مقدمے کو اپنی دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے سرمایہ بنایا جائے یا کافروں، منافقوں کی خوشنودی کی خاطر حقائق تک کو جھٹلا کر اپنے لیے جہنم خرید لی جائے؟

مولوی فضل حق صاحب کی روپوشی دراصل اس پس منظر کے ساتھ ہی سمجھ میں آسکتی ہے جو اس مقدمے کے دوران روز روشن کی طرح نظر آتی رہی ہے۔ مثلاً

تھانہ (تھانہ لدھا) تیار ہی نہیں تھا۔

سرکاری کاغذات میں درج کی۔

طرف سے ان کی حفاظت کا کوئی انتظام نہ کیا گیا۔

مقدمہ واپس لے لو ورنہ قید کر دیے جاؤ گے۔

دھمکیاں دیں۔

جبراً دستخط کروائے گئے۔

ذاتی طور پر کوٹ لکھپت جیل گئے۔

صفحہ 202

تھے اور نظریاتی اعتبار سے پیپلزپارٹی کے افراد تھے۔

تھے مگر قانونی گنجائش کے باوجود عدالت نے اجازت نہ دی۔

عدالت نے اجازت نہ دی اور عدالت کے اپنے معاون کو کارروائی سے واک آؤٹ کرنا پڑا۔

بیان بازی اور عملی اقدامات کرتا رہا۔

رکھا۔

(فیصلے) سے ذاتی طور پر ناخوش ہوں۔ میں توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کرنا چاہتی ہوں۔“

مقدمے میں دلچسپی کا بھرپور اظہار کرنے کے لیے خصوصی طور پر پاکستان آئیں۔

یہ سب کچھ تو وہ ہے جو اخبارات و جرائد کی زینت بنا۔ نہ معلوم درون خانہ کیا کیا ہوا ہو گا۔ کس نے کس کس طرح اس مقدمے پر اپنا اثر استعمال کیا ہو گا اور مسلمانوں کو مقدمے پر مصر رہنے کے لیے کیا کچھ سہنا پڑا ہو گا۔

کیا یہ بات ہماری قومی اور مذہبی غیرت کے منہ پر طمانچہ نہیں ہے کہ ایک مسلمان کسی غیر مسلم کے کسی فعل کو غیر اسلامی سمجھ کر اگر قانون کے حوالے کرنے کی کوشش کرے تو اسے یوں تکالیف اور مشقتوں کا سامنا کرنا پڑے کہ گھر بار چھوڑ کر پناہ لینے کی خاطر نامعلوم مقام پر منتقل ہونا پڑے۔ مگر ایسا کیوں نہ ہو.... جب عوام کے نمائندے بلکہ عوام کے نمائندوں کی نمائندہ ”وزیرہ عظمیٰ پاکستان خود بھی نہ صرف توہین رسالت کے مرتکبین سے ہمدردی کا اظہار کرتی رہی ہیں بلکہ بسااوقات نام لیے بغیر بہت کچھ کہہ گزرتی ہیں۔

وہ اس سے قبل اپنے ایک بیان میں اسلامی سزاؤں کو وحشیانہ قرار دے ہی چکی ہیں۔ اب حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران فرمایا ہے.... ”یہ لوگ (پاکستان میں اسلام کا عملی نفاذ چاہنے والے) ماضی کے نسبتاً سادہ واقعات سے چپکے ہوئے ہیں اور ایک دیومالائی

صفحہ 203

ماضی کو دوبارہ ظہور میں لانا چاہتے ہیں جس میں ایک ان پڑھ شخص اقتدار کی باگ ڈور حاصل کر سکتا تھا اور ایک جنگجو شہرت اور دولت حاصل کر سکتا تھا۔“ کاش کوئی وزیر اعظم سے سوال کرتا کہ آپ نے ”ان پڑھ اور جنگجو“ کہہ کر کس کی طرف اشارہ کیا ہے۔“

(ماہنامہ الفاروق کراچی ذیقعدہ ۱۴۱۵ھ)

مدیر ماہنامہ ”الخیر“ ملتان ”تحفظ ناموس رسالت میں حکومت اور عدلیہ کا کردار“ کے عنوان سے اپنے اداریہ میں لکھتے ہیں۔

”وزیر اعظم صاحبہ اور ان کے ہم نوا ایک عرصہ سے ”قانون توہین رسالت“ کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار کرتے چلے آ رہے تھے۔ ۱۹۹۳ء کے عام انتخابات سے پہلے ہی وزیر اعظم صاحبہ نے کہہ دیا تھا کہ وہ اسلامی قوانین بالخصوص ”توہین رسالت“ کو ختم کر دیں گی۔ ویسے بھی وہ مسلمانوں کی دل آزاری کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔

موجودہ ”توہین رسالت کیس“ میں وزیر اعظم صاحبہ اور ان کی جماعت سے نظریاتی طور پر وابستہ جسٹس حضرات نے جو کردار ادا کیا ہے، اس سے یہ سمجھنا بہت آسان ہے کہ وزیر اعظم صاحبہ اور ان کی حکومت، اسلام، اس کے قوانین اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا نظریات و جذبات رکھتی ہے اور مستقبل میں ان سے کیا توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں؟

اس کیس میں انتظامیہ اور عدلیہ نے استغاثہ اور مجرموں کے ساتھ جو مختلف طرز عمل اختیار کیا، اس کی روشنی میں ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم سے لے کر حکومت کے ادنیٰ اہل کار تک سب کو توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ دلی ہمدردیاں تھیں اور استغاثہ دائر کرنے والے اور اس کی پیروی کرنے والے ان کے نزدیک ملک کے ناپسندیدہ افراد تھے۔ ملزمان نے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی، اس دوران انتظامیہ نے ہر دو فریق کے ساتھ جو امتیازی برتاؤ روا رکھا، وہ بھی حیرت انگیز ہے۔

مستغیث مولوی حافظ فضل حق کو مقدمہ کی پیروی سے باز رکھنے کے لیے ترغیب و ترہیب کا ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ مستغیث پر قاتلانہ حملے ہوئے اور پولیس کو اطلاع بھی کی گئی۔ مگر کسی طرف سے حفاظت کا کوئی انتظام نہ کیا گیا۔ اس کے برعکس ملزمان نے حفاظت کی درخواست کی تو عدالت نے ان کے تحفظ کے لیے پولیس گارڈ مقرر کر دی جو ملزموں کو اپنے تحفظ میں گاؤں سے عدالت لاتی اور واپس چھوڑ کر آتی۔

صفحہ 204

مولوی حافظ فضل حق کو مقامی ایس ایچ او نے مجرموں کی طرح گھر سے بلا کر مقدمہ واپس نہ لینے پر قید کرنے کی دھمکی دی، وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور وٹو (جن کا دعویٰ ہے کہ میں قادیانی نہیں) کی سابق مشیر شیلابی چارلس نے مستغیث کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ”آپ کے لیے یہ مقدمہ اس وقت بڑا نقصان دہ ثابت ہوگا، لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ آپ مقدمہ سے دستبردار ہو جائیں۔“

تھانہ کوٹ لدھا کے ایس ایچ او محمد نواز رانجھا نے مستغیث کو بلا کر خوفزدہ کرتے ہوئے کہا کہ ”کچھ عرصہ بعد عیسائی آپ کے خلاف قتل کا مقدمہ بنا دیں گے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ کیس کی پیروی سے دستبردار ہو جائیں“۔

چیف سیکرٹری پنجاب کے دفتر میں اعلیٰ افسران کی موجودگی میں مقدمہ کی پیروی سے دستبرداری کے حلف نامہ پر جبراً مستغیث سے دستخط کروائے گئے اور اسے اس پر مجبور کیا گیا۔۔۔۔۔ مولوی حافظ فضل حق مستغیث کو اس سلسلہ میں جیل میں رکھا گیا تو بقول اس کے ”کسی نے مجھ سے پانی بھی نہ پوچھا“۔

لیکن جب ملزمان توہین رسالت کو ثبوت جرم کے بعد کوٹ لکھپت جیل میں بند کیا گیا تو آئی جی جیل خانہ جات محمد حسین چیمہ ذاتی طور پر جیل میں گئے اور مجرمان کو حکومت کا یہ خصوصی پیغام پہنچایا۔ ”انہیں ایک ماہ کے اندر اندر باعزت طور پر بری کروا کے رہا کر دیا جائے گا“۔ نیز ہدایت کی کہ ملزمان کا خصوصی خیال رکھا جائے اور ان کو ہر ممکن طریقہ سے خوش رکھنے کی کوشش کی جائے، اسلام آباد سے ان کی صحت کے بارے میں بار بار ٹیلی فون کر کے پوچھا جا رہا ہے، ان سے ملاقات کی ان کے چاہنے والوں کو عام اجازت دی جائے“۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عبدالستار نجم نے کہا ”میں حکومت کی جانب سے یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت اقلیتوں سے محبت کرتی ہے اور ان کے تمام حقوق کا تحفظ کرتی ہے“۔

ان حالات کی روشنی میں عوام پہلے ہی سمجھ گئے کہ حکومت ہائی کورٹ سے کیا فیصلہ کروانا چاہتی ہے۔ ہائی کورٹ کی سماعت کے دوران عدل و انصاف کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھا گیا۔ سماعت کے لیے ایسے بینچ کا انتخاب کیا گیا جس کے دونوں رکن نظریاتی طور پر پیپلز پارٹی سے وابستہ تھے۔ نیز وہ ایڈہاک تھے، ان کی ملازمت ابھی کنفرم ہونا تھی جب کہ کیس کی اہمیت و حرمت کا تقاضا یہ تھا کہ اس کی سماعت کے لیے ایسے سینئر ججوں کا انتخاب کیا جاتا جن کی شخصیت غیر متنازعہ ہوتی اور چیف جسٹس خود اس بینچ کے

صفحہ 205

رکن ہوتے۔

جسٹس حضرات دوران سماعت عدلیہ کی روایتی غیر جانبداری برقرار نہ رکھ سکے۔ وکیل استغاثہ اسماعیل قریشی مقدمہ کے سلسلے میں اضافی شہادتیں ریکارڈ پر لانا چاہتے تھے جو مگر عدالت نے انہیں اس کی اجازت نہ دی جس پر انہوں نے سخت احتجاج کیا اور عدالت سے واک آؤٹ کر گئے۔ بالآخر ۲۳ فروری کو عدلیہ کی روایات کے خلاف رات کے نو بجے ہائی کورٹ نے طے شدہ فیصلہ سنا دیا‘ جس میں ملزمان کو عدم ثبوت جرم کی بناء پر بری کر دیا گیا۔ حیرت کی بات ہے کہ ملزم سلامت مسیح کا والد علاقہ کے چیئرمین کو اپنے ایک خط میں لکھتا ہے کہ ”میں نے لڑکے کی بات سنی ہے‘ اس سے یہ غلطی کس نے کروائی ہے“۔

(”تکبیر“ ۹ مارچ)

مگر عدالت عالیہ کہتی ہے جرم ثابت نہیں ہوا۔

واقعہ ہے کہ تین چشم دید گواہ مولوی حافظ فضل حق‘ محمد اکرم اور محمد بخش شہادت دیتے ہیں۔ تفتیشی افسر امان اللہ اس کی تصدیق کرتا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج انہی شہادتوں کی بناء پر موت کا فیصلہ دیتے ہیں مگر عدالت عالیہ کو یہ شہادتیں نظر نہیں آتیں۔

اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ لکھتے ہیں ”ہم اللہ کے فضل سے اللہ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سرخرو ہوں گے ہم توقع رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں شاباش دے گا“۔ اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں‘ اس لئے قطعی طور پر تو نہیں کہا جا سکتا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے‘ ہاں یہ ضرور یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ حضرات وزیر اعظم‘ امریکہ اور مغربی ممالک کے سامنے سرخرو ہونگے اور وہ انہیں شاباش دیں گے۔

(ماہنامہ ”الخیر“ ملتان‘ اپریل ۹۵ء)

”توہین رسالت کے ملزموں کی رہائی‘ پاکستان میں عیسائی ریاست کے قیام کا منصوبہ اور قتل و غارت گری“ کے عنوان سے مدیر ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ لکھتے ہیں:

”گزشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ نے توہین رسالت کے مشہور مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو بری کر دیا۔ اس فیصلہ کے ردعمل میں ملک بھر میں تمام مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا۔ اخبارات و جرائد میں اس اہم مقدمہ کے حوالہ سے جو مواد سامنے آیا ہے‘ اس سے اس بات کا واضح اشارہ ملتا ہے کہ یہ فیصلہ کسی

صفحہ 206

زبردست دباؤ کا شاخسانہ ہے۔ پھر حکومت کی غیر معمولی دلچسپی، امریکہ، برطانیہ اور دیگر یورپین ممالک کی کھلی مداخلت اور عدلیہ کی تاریخ کے بالکل برعکس فیصلہ میں اس قدر عجلت نے اسے اور بھی مشکوک بنا دیا اور عوام میں عدلیہ کا وقار بھی مجروح ہوا۔ اس پر مستزاد یہ کہ ملزموں کو پورے اعزاز کے ساتھ فوراً ملک سے باہر بھجوانے کا انتظام بھی خود حکومت نے کیا۔ مقدمہ کے آغاز سے لے کر فیصلہ تک مغربی ممالک کے ذرائع ابلاغ نے اس حوالے سے جس طرح منفی پروپیگنڈہ کر کے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کیا، یہ سب باتیں ایک ہمہ گیر بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں سے خاص طور پر عیسائی اقلیت جارحانہ کارروائیوں میں مصروف ہے۔ سب سے پہلے شناختی کارڈ پر مذہب کے اندراج کے معاملہ میں ان کا احتجاج اور انکار سامنے آیا، اور عیسائی رہنماؤں نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر فیصلہ ہمارے خلاف ہوا تو صلیبی جنگوں کی یاد تازہ کر دیں گے۔ اس سلسلہ میں قادیانی بھی کھلے انداز میں ان کے ہمنوا ہو گئے۔ اس لیے کہ دفعہ ۲۹۵ سی کی زد میں اصلاً وہی آتے ہیں۔ انہوں نے عیسائیوں کو مہرہ بنا کر دوہرا وار کیا۔ بالآخر انہوں نے مسلمانوں کے واضح اکثریتی مطالبہ کے علی الرغم اپنی بات منوائی اور امریکہ و برطانیہ کے زور سے منوائی۔ پھر تسلسل کے ساتھ ملک بھر میں توہین رسالت کا سلسلہ شروع کر دیا اور مسلمانوں کے دل دکھا کر انہیں اس نازک حوالے سے مشتعل کرنے کی کوشش کی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اب تک توہین رسالت کے جتنے بھی مقدمات قائم ہوئے ہیں، ان میں سب کے سب عیسائی ملوث ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ سپین کے زوال کے موقع پر بھی یہی صورت حال پیدا کی گئی تھی اور عیسائیوں نے توہین رسالت کر کے مسلمانوں کو مشتعل کیا پھر متحد ہو کر انہیں تباہ و برباد کیا۔ بعینہ وہی تاریخ آج دہرائی جا رہی ہے۔ پاکستان کے عیسائی رہنما امریکہ و برطانیہ کو پاکستان میں مداخلت کی دعوت دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک وفاقی وزیر جے سالک نے اقوام متحدہ سے پاکستان کی امداد بند کرنے کی درخواست بھی کی۔ پاکستان کرسچن کانگریس نے عیسائیوں کے اسرائیل جانے پر پابندی ختم کرنے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ نومبر ۹۲ء میں توہین رسالت کے ایک ملزم گل مسیح کی سزائے موت کے خاتمہ کے لیے جان میجر کو مداخلت کے لیے خط لکھا اور اب پاکستان کرسچن لیگ کے صدر ڈاکٹر نسیم ڈین نے لندن میں ایک اجلاس میں مطالبہ کیا ہے کہ "اگر حکومت پاکستان عیسائیوں پر مظالم بند نہیں کرا سکتی تو عیسائیوں کے لیے پاکستان میں ایک الگ ریاست بنا کر انہیں خود مختاری دے دی جائے"۔ (روزنامہ "خبریں"

صفحہ 207

لاہور، ۴؍ مارچ ۱۹۹۵ء)

ہماری معلومات کے مطابق عیسائیوں نے اسی منصوبہ کی تکمیل کے لیے ملک بھر میں توہین رسالت کا ناپاک سلسلہ شروع کیا اور اب یہ مکروہ کھیل اپنے آخری مراحل میں داخل ہو رہا ہے۔ ۱۹۹۸ء تک پاکستان میں عیسائی ریاست کے قیام کو ممکن بنانے کا پروگرام دیا گیا ہے۔

پاکستان میں غیر ملکی مداخلت اب کوئی راز نہیں رہا۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ حمید گل کا یہ بیان انتہائی اہم ہے کہ ”ملکی سلامتی کی بقا کے بیس فیصد امکانات رہ گئے ہیں۔ اگر امریکی حصار سے باہر نہ نکلے تو ان کے بھی معدوم ہو جانے کا خدشہ ہے“۔

ہم سمجھتے ہیں کہ حالیہ فسادات اور قتل و غارت گری غیر ملکی سازش کا حصہ ہے۔ جس کے ذریعے پاکستان کے دینی تشخص کو ختم کر کے اور اسے سیکولر سٹیٹ بنا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے ہیں۔ بے نظیر زرداری کا بیان کہ ہمیں ”ترقی پسندی اور بنیاد پرستی دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا“۔ دینی حلقوں کے لیے خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ اب پاکستان کے مسلمانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ عیسائیوں کی رعایا بن کر رہنا چاہتے ہیں یا اپنی آزاد حیثیت میں۔

ہم مسلمان ہی کفار و مشرکین کے مشترکہ ہدف ہیں۔ اپنے دشمن اور اس کے ایجنٹوں کو پہچانئے، سوچئے اور پاکستان کو بچا لیجئے کہ پاکستان کی بقاء سے ہماری سلامتی وابستہ ہے۔

(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان، مارچ ۱۹۹۵ء)

ماہنامہ محقق لاہور کے مدیر اپنے اداریہ ”پاکستان کی سیکولر حکومت توہین رسالت کے قانون کو سبوتاژ کر رہی ہے“ میں لکھتے ہیں۔

چند روز قبل توہین رسالت کے مرتکب دو عیسائیوں کو موت کی سزا ملنے پر بے نظیر نے ناراضگی کا اظہار کیا اور پھر انہیں ہائی کورٹ سے رہا کرا کے جرمنی میں منتقل کر دیا۔ چونکہ اس قانون کو منسوخ کرنے کی کسی میں ہمت نہیں، اس لئے اسے ترمیم کے ذریعے بالواسطہ ختم کیا جا رہا ہے۔ حب رسول امت مسلمہ کے وجود کی بنیاد ہے اور اس سے عاری شخص کسی ایمان کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ توہین رسالت کے مجرم کی سزا موت ہے اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جاتی۔ لیکن امریکہ کی غلام حکومت اپنی غلامی میں

صفحہ 208

اس حد تک جا چکی ہے کہ ”عیسائی“ دنیا کو خوش کرنے کے لیے مسئلہ توہین رسالت کو تماشا بنانا چاہتی ہے۔

ترمیم بقول کامران حیدر مشیر انسانی حقوق یہ ہے کہ جھوٹا مقدمہ درج کرانے والوں کو دس سال قید کی سزا دی جا سکے گی اور اس کا اندراج کسی ڈپٹی کمشنر کے عہدے سے کم کے افسر کی ابتدائی تفتیش کے بعد ہی ہو گا۔ اس طرح کہ اس قانون کو اسلامی قانون شہادت کے قریب لایا جائے گا۔

کامران حیدر جو اپنے نام کے ساتھ سید لکھتا ہے اور اس کے بے دین ساتھی اس منافقت کے بعد کسی اسلام کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ سب سے پہلے وہ توہین رسالت کرنے والے کو بچانے کے لئے اندراج کے رستے میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔ حکومت کے لئے کسی بے دین افسر کو مقرر کرنا کیا مشکل ہے؟ اور اگر اندراج ہو جائے تو ضیاء الحق کے اسلامی قانون شہادت کے مطابق اسے ثابت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ گواہ کا متقی ہونا ضروری ہے اور تقویٰ ثابت کرنا ناممکن ہے اور پھر اس کے بعد دعوے کو جھوٹا قرار دیا جائے گا اور دس سال کی قید دی جائے گی۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ مجرم آزاد ہو گا اور مدعی جیل میں۔ کیا اس ترمیم کے بعد کسی کو عدالت میں جانے کی ہمت ہو گی؟ اور اگر نہیں ہو گی تو توہین کھلم کھلا ہو گی اور عام مسلمان منہ دیکھتا رہ جائے گا اور اگر باغیرت ہوا تو خود انتقام لے گا اور پھانسی پر جھول جائے گا۔ ”تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو!“

(ماہنامہ ”محقق“ لاہور، مئی ۹۵ء)

مزید اپنے اضافی نوٹ ”قانون توہین رسالت پر عیسائی کیوں معترض ہیں!“ کے عنوان سے لکھتے ہیں۔

”چور کی داڑھی میں تنکا: عیسائیوں کا اپنا عقیدہ (تثلیث اور کفارہ) خلاف انجیل ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام نے صرف نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور یہود کا نجات دہندہ (مسیح) نہ بن سکنے کی وجہ سے انہیں ہلاکت کی خبر دی اور وہ ہلاک ہوئے اور آج تک دنیا بھر میں منتشر ہیں اور مختلف قوموں کے ہاتھوں سزا کھا رہے ہیں۔ (یروشلم میں ان کی آبادی بھی عیسائیوں کی سازش ہے۔ اس طرح وہ انہیں مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاک کرنا چاہتے ہیں)۔ عیسائیوں نے قانون خدا کو جو توریت اور انجیل میں درج ہے‘ چھوڑ دیا ہے اور عیسیٰ کو ابن خدا ماننے کو کافی سمجھتے ہیں۔ ان کی اخلاقی بے راہروی سب کو معلوم ہے اور روپے

صفحہ 209

کے لالچ میں وہ قوموں کو برباد کرنے میں تامل نہیں کرتے۔ دنیا میں ان کا حریف صرف اسلام ہے اور اسلام کی کسی بات کو وہ جھٹلا نہیں سکتے۔ اس لئے ان کا طریق واردات صرف یہ ہے کہ ذات رسولؐ پر بہتان باندھے جائیں۔ یہی بات ہر عیسائی بچے کو سکھائی جاتی ہے اور امریکہ کی شہ پر پاکستان کے چوہڑے بھی اس کا ارتکاب کرتے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ توہین تو عام آدمی کی بھی نہیں کی جا سکتی تو کیا افضل الانبیاء ختم الرسل کی توہین کی اجازت دے دی جائے۔ (کوئی شریف آدمی خواہ وہ کسی عقیدہ کا ہو‘ ایسا نہیں کر سکتا۔) رسول خداؐ کی عزت کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اگر عیسائی قانون توہین رسالت پر معترض ہیں تو چور کی داڑھی میں تنکا‘ وہ اس کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ہم مسلمانوں کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ اپنی رواداری میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔ قرآن کا حکم یہ ہے اشداء علی الکفار رحماء بینہم (الفتح) (مومن کافروں پر سخت اور آپس میں رحمدل ہوتے ہیں)۔ نیز کہ قاتلوا الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظتہ (توبہ: ۱۲۳) اپنے قریب رہنے والے کافروں سے جنگ کرو اور وہ تم میں سختی پائیں۔ لہٰذا پاکستانی مسلمان اپنے قریبی کافروں سے رویہ سخت کر دیں“۔

(ماہنامہ ”محقّق“ لاہور‘ مئی ۹۵ء)

مدیر ”لولاک“ اپنے اداریہ ”توہین رسالت کیس۔۔ اور حکومت کا افسوسناک طرز عمل“ کے عنوان سے لکھتے ہیں۔

”توہین رسالت کیس میں موت کی سزا پانے والے دو عیسائی ملزمان کو گزشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے مقدمہ سے بری کر دیا۔ یاد رہے کہ لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج نے دو ملزموں کو جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ توہین رسالت کے اس مقدمہ کو ترجیحی بنیاد پر ہائی کورٹ میں لے جایا گیا اور ایک ہفتہ کے اندر اندر ملزمان کو باعزت بری کر دیا گیا۔ توہین رسالت کے غیر معمولی مقدمہ کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مقدمہ کے مدعی مولوی فضل حق کو پولیس کے ذریعہ خطرناک نتائج کی دھمکیاں دے کر اور دباؤ ڈال کر کیس سے دست بردار کرایا گیا۔ مقدمہ کا دوسرا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ میں وہ ”جیالے جج“ شامل تھے۔ جن کے خلاف کرپشن اور بدعنوانیوں کے سنگین مقدمات درج ہیں۔ ہائی کورٹ کے ان جج صاحبان نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ۔

”انہوں نے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں شاباش دے گا۔ وہ

صفحہ 210

اللہ تعالیٰ اور رسولؐ کے سامنے سرخرو ہو گئے ہیں۔"

ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ کے فیصلہ کے خلاف لاہور کے مسلمانوں نے شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ لاہور شہر میں بے شمار احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ جن پر پولیس نے فائرنگ اور لاٹھی چارج کیا۔ ملک کے دینی حلقوں میں اس فیصلہ کے خلاف شدید اضطراب اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دینی جماعتوں کی طرف سے عدالت کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم نے ہائی کورٹ ڈویژن بنچ کے فیصلہ کو جانب دارانہ اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے تمام دینی جماعتوں کو اس فیصلہ کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی ہے، جماعت اسلامی کے امیر جناب قاضی حسین احمد نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔ جے یو آئی کے قائدین نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ عدلیہ کا نہیں، حکومت اور امریکہ کا فیصلہ ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو صاحبہ اگلے ماہ امریکہ کا سرکاری دورہ کرنے والی ہیں۔ بعض حلقے یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ وزیراعظم نے واشنگٹن انتظامیہ کو خوش کرنے کے لیے اس کیس میں غیر معمولی دلچسپی لے کر اپنی مرضی کا فیصلہ کروایا ہے۔ تاکہ امریکہ کے دورے کے موقع پر ان سے باز پرس نہ کی جاسکے۔ امریکہ، وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی کمزوری ہے کیونکہ اسی پیا کے صدقے انہیں دوبارہ اقتدار حاصل ہوا ہے۔ اس لیے وزیراعظم صاحبہ ہر حالت میں امریکہ کو خوش کرنا چاہتی ہیں۔ وزیراعظم کا یہ طرز عمل کیا عدلیہ پر عدم اعتماد کے مترادف نہیں؟ شیخ رشید احمد ایم این اے کو کلاشنکوف کے مقدمے میں سزا کے فیصلہ پر تو وزیراعظم صاحبہ اعتماد کا اظہار کرتی ہیں اور یہ موقف اختیار کرتی ہیں کہ عدلیہ آزاد ہے اور ہمیں عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہئے لیکن دوسری طرف محترمہ گستاخان رسولؐ کے خلاف ہونے والے فیصلہ پر ناگواری اور ناراضگی کا اظہار کرتی ہیں، کیا یہ دو رخی نہیں؟

حکومت نے توہین رسالتؐ کے کیس میں جس عجلت کا مظاہرہ کیا اور سات دن میں فیصلہ کو پلٹ کر بارہ کروڑ مسلمانوں کے دینی جذبات کو مجروح کیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ طرفہ تماشا یہ کہ ملزمان کو چھٹی کے دن جیل سے رہا کروا کر انہیں بیرون ملک بھجوا دیا گیا۔ حکومت کے اس طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیحی اقلیت اول درجے کے شہری ہیں اور انہیں کسی بڑی طاقت کے اشارہ پر مراعات دے کر نوازا گیا ہے۔ حکومت جب خود قانون کے ساتھ ایسا مذاق کرے گی تو پھر ملک میں قانون کی بالادستی کیونکر قائم ہو سکتی ہے؟

صفحہ 211

حکومت توہین تحفظ رسالت کے مسئلہ پر کس قدر مخلص ہے؟ وزیراعظم صاحبہ کی طرف سے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان، حکومت امریکہ سے خوشگوار تعلقات اور دوستانہ روابط بے شک برقرار رکھے۔ دوستی کے رشتوں کی تجدید کرے۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن امریکہ جس طرح پاکستان کے اندرونی معاملات اور بالخصوص دینی معاملات میں مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، وہ پوری قوم کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ یہ امریکی طرز عمل پاکستان کی آزادی و خود مختاری کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکہ، یورپی ممالک اور مغربی ذرائع نے براہ راست توہین رسالت کے کیس میں جس دلچسپی کا مظاہرہ کیا، پاکستان میں بعض غیر ملکی سفارت کاروں نے اس مقدمہ میں اپنے آپ کو ملوث کر کے ثابت کر دیا ہے کہ اب یورپی ممالک کی مداخلت ہماری عدلیہ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

مسیحی اقلیت کے بارے میں ہم نے ہمیشہ نیک جذبات کا اظہار کیا ہے۔ اکثریتی اقلیت ہونے کے ناطے ان کی تکالیف اور مسائل کا ازالہ ہمارا حق ہے۔ مسیحی بھائی ہمارے معاشرہ کا حصہ ہیں۔ ان کا مرنا جینا ہمارے ساتھ ہے۔ انہیں آئین و قانون کے مطابق تمام بنیادی شہری حقوق حاصل ہیں لیکن مسیحی اقلیت کے مخصوص طرز عمل سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ مسیحی اقلیت مکمل طور پر غیروں کی آلہ کار بن گئی ہے قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے مسئلہ پر مسیحی اقلیت کے رہنماؤں نے قادیانیوں کی سرپرستی میں تحریک چلائی۔ حالانکہ اس مسئلہ میں متاثر ہونے والی اقلیت قادیانی تھے۔

روزنامہ ”ہندوستان ٹائمز“ نئی دہلی کی ۲۰ فروری کی اشاعت میں لندن کے حوالہ سے وجے دت کی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں پاکستان کرسچین لیگ کے صدر ڈاکٹر نسیم ڈین نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں عیسائیوں کے لیے علیحدہ ریاست بنا کر انہیں خود مختاری دی جائے۔ ایسے غیر دانشمندانہ مطالبہ کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔ تحفظ ناموس رسالت ایکٹ ایسے ملزمان کو تحفظ فراہم کرتا ہے جن پر توہین رسالت کا الزام لگایا جائے۔ کیا مسیحی راہنما یہ چاہتے ہیں کہ اہانت رسولؐ کے مسئلہ میں مسلمان قانون کو ہاتھ میں لیں۔ انہیں اپنے طرز عمل پر غور و فکر کرنا چاہئے۔

توہین رسالت کیس میں امریکی، مغربی حکومتوں، اداروں اور ذرائع ابلاغ کی دلچسپی کی واحد وجہ ملزموں کا عیسائی ہونا ہے۔ نیو ورلڈ آرڈر مسلمانوں کے لیے شکنجہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکہ کا واحد مقصد بنیاد پرستی کا خاتمہ ہے اور مسلمانوں کے دلوں سے دینی روح نکالنا ہے۔ مغربی ممالک پاکستان کی اقلیتوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں لیکن انہیں

صفحہ 212

بھارت کی اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم نظر نہیں آتے۔ کشمیری مسلمانوں پر جو ہندوستان میں اقلیت ہیں۔ ان کے حق میں مغربی ذرائع ابلاغ کیوں خاموش ہیں؟ ہماری حکومت کو برابری کی بنیاد پر امریکہ اور مغربی ممالک سے تعلقات رکھنا ہوں گے۔ اپنی آزادی و خود مختاری کے مسئلہ پر خودداری‘ اور قومی غیرت کا ثبوت دینا ہوگا۔ دینی معاملات میں امریکی مداخلت پر حکومت کو واضح اور دو ٹوک پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ وزیر اعظم صاحبہ امریکہ پر اتنا بھروسہ نہ کریں۔ خدا کی ذات پر توکل اور یقین کامل کو پختہ کریں۔

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نا امیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ ۳ مارچ ۹۵ء)

توہین رسالت کے ملزمان۔۔۔۔ وی آئی پی شخصیات

نمائندہ ”زندگی“ اپنی رپورٹ ”توہین رسالت کے سزا یافتگان کس حال میں ہیں؟“ کے عنوان سے لکھتے ہیں۔

”پیر بنیامین رضوی ایک دینی گھرانے کے چشم و چراغ اور پھالیہ کے معروف پیر سید یعقوب شاہ کے فرزند ہیں۔ عہدے کے اعتبار سے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات ہیں۔ متعدد مقدمات میں دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کوٹ لکھپت جیل میں بند ہیں۔ جہاں انہیں سزائے موت بلاک میں پھانسی گھاٹ سے ملحق ایک خصوصی سیل میں رکھا گیا ہے۔ اتوار ۱۹ فروری کو انہیں پیشی بھگتانے کے لیے جیل سے کینٹ کچہری لایا گیا تو کچھ اخبار نویس بھی وہاں موجود تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پیر بنیامین نے انکشاف کیا کہ ایک روز قبل سرکاری تعطیل کے روز آئی جی جیل خانہ جات محمد حسین چیمہ ذاتی طور پر جیل آئے اور سزائے موت بلاک نمبر ایک کے چکی نمبر ۵ میں مقیم توہین رسالت کے جرم میں سزا یافتہ مجرموں‘ سلامت مسیح اور رحمت مسیح سے ملاقات کی اور حکومت کا خصوصی پیغام ان کو پہنچایا جس کے متعلق خود ان مجرمان نے جیل کے دوسرے مکینوں کو بتایا کہ انہیں ایک ماہ کے اندر اندر باعزت بری کروا کر رہا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

پیر صاحب کو گلہ تھا کہ انہیں جیل میں نصف سال ہونے کو آیا ہے۔ اس پورے عرصہ میں آئی جی صاحب‘ اہم سیاسی قیدیوں کی موجودگی کے باوجود ایک بار بھی جیل تشریف

صفحہ 213

نہیں لائے حالانکہ اس دوران سات دیگر قیدی عدم توجہی اور ناروا سلوک کے باعث اپنی جانوں سے گزر چکے ہیں اور اب خصوصی طور پر چھٹی والے دن چار بجے جیل آئے اور سیدھے سلامت مسیح اور رحمت مسیح کے پاس تشریف لے گئے۔ ان کا حال احوال دریافت کیا‘ دلجوئی کی‘ جلد رہائی کی نوید سنائی اور جیل حکام کو ان ”مہمانوں“ کا ”خصوصی خیال“ رکھنے کی ہدایات جاری فرما کر چلے گئے۔

جیل کی کچھ خاص روایات اور قواعد و ضوابط ہوتے ہیں۔ انہی میں سے ایک یہ ہے کہ سزائے موت کے تمام قیدیوں کی جیل میں ”اڈوی“ لگتی ہے۔ ”اڈوی“ جیل کی ایک مخصوص اصطلاح ہے‘ جس سے مراد یہ ہے کہ ایک قیدی ایک دن ایک چکی میں سوتا ہے‘ دوسرا دن دوسری چکی میں اور تیسرا دن تیسری چکی میں گزارتا ہے گویا وہ مسلسل دو راتیں ایک چکی میں بسر نہیں کر سکتا۔ کوٹ لکھپت جیل میں سزائے موت کے تمام قیدیوں کو یہ ”اڈوی“ ہر روز لگ رہی ہے مگر توہین رسالت کے یہ دونوں مجرم اس سے مستثنیٰ ہیں اور آئی جی صاحب کے حکم پر انہیں مستقلاً ایک ہی جگہ رکھا گیا ہے۔ انہیں دوسرے قیدیوں کی طرح جیل کا لباس ابھی تک نہیں پہنایا گیا۔ آئی جی صاحب نے مزید ہدایت جاری فرمائی ہے کہ سزائے موت کے قیدیوں کو ذہنی اذیت (Mental Torture) پہنچانے کی روایت پر بھی رحمت اور سلامت مسیح کے معاملہ میں عمل نہیں ہوگا بلکہ ان کو ہر ممکن طریقہ سے خوش رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہیں اسلام آباد سے ان کی صحت کے بارے میں بار بار ٹیلی فون کر کے پوچھا جا رہا ہے۔

لاڈلے قیدیوں‘ رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو ان کی پسند کا کھانا مہیا کرنے کے علاوہ نئے تعمیر ہونے والے پہرہ نمبر ۵ میں رکھا گیا ہے‘ جہاں ان کی خدمت کے لیے مسلمان مشقتی مامور کیے گئے ہیں۔ جیل کے قواعد ہی کی روح سے ایک ہی مقدمہ میں سزائے موت پانے والے ایک سے زیادہ قیدیوں کو ایک ہی کمرے میں نہیں رکھا جاتا مگر اس کیس کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو نہ صرف مستقلاً ایک ہی جگہ رکھا گیا ہے بلکہ ان کی خواہش پر چند مزید مسیحی قیدی بھی ان کے ساتھ جمع کر دیے گئے ہیں تاکہ گپ شپ کے ذریعے ان کا دل بہلائے رکھیں اور انہیں کسی قسم کی پریشانی یا احساس تنہائی کا شکار نہ ہونے دیں۔ جیل میں قیدی سے ملاقات کرنا کتنا مشکل کام ہے‘ اس کے لیے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں‘ مگر جب سے یہ دو ”وی آئی پی“ قیدی کوٹ لکھپت جیل میں آئے ہیں۔ ان سے ملاقات کی ان کے چاہنے والوں کو عام اجازت ہے اور ان کے چاہنے والوں میں بعض اہم حکومتی شخصیات‘ اعلیٰ ترین سرکاری افسران اور بہت سے غیر ملکی

صفحہ 214

بھی شامل ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں ۲۱۹ قیدی ایسے ہیں جنہیں مختلف عدالتوں سے موت کی سزا سنائی گئی ہے اور سالہا سال سے وہ اپنی اپیلوں کی سماعت شروع ہونے کے منتظر ہیں۔ ایک قیدی محمد صادق ولد فضل دین اسی جیل میں آٹھ سال سے اپنی اپیل کی سماعت کے انتظار میں دن گن رہا ہے۔ یہی حال دیگر قیدیوں کا بھی ہے مگر اسے انصاف کے نام پر ناانصافی کے علاوہ کیا نام دیا جا سکتا ہے کہ رحمت مسیح اور سلامت مسیح کی اپیل سیشن کورٹ کے فیصلے کے تین دن کے اندر تیار ہو کر دائر ہوئی اور اس کی سماعت بھی شروع ہو گئی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پچھلی ربع صدی کا واحد واقعہ بتایا جاتا ہے کہ قتل کی کسی اپیل کی اس قدر ہنگامی طور پر سماعت شروع کی گئی ہو۔ اس سلسلے میں استغاثہ کی طرف سے سماعت چند روز کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا بھی منظور نہیں کی گئی۔ چیف جسٹس نے استغاثہ کے وکیل کی طرف سے معاملہ کی اہمیت کے پیش نظر‘ عدالت عالیہ کا بڑا بنچ تشکیل دینے کی درخواست بھی مسترد فرما دی ہے۔

بلاشبہ انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے‘ جس سے رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو بھی محروم نہیں کیا جانا چاہئے‘ مگر جب کوئی حکومت‘ کھلم کھلا عدالتی معاملات میں مداخلت کرنے لگے اور اسے عدلیہ کی ظاہری ساکھ اور عزت و وقار کا بھی خیال نہ رہے تو پھر ایسی حکومت کو اقتدار میں رہنے کا قطعاً حق نہیں رہتا۔ بہتر ہوتا توہین رسالت کے اس کیس کو قاضی حسین احمد امیر جماعت اسلامی کی تجویز کے مطابق عام عدالتی طریق کار کے مطابق ہی عدلیہ کو نمٹانے دیا جاتا‘ مگر حکومت اور اس کی سربراہ جس طرح اس انتہائی حساس مقدمہ میں رائے زنی اور مداخلت کر رہی ہیں اس کے نتیجے میں یقیناً اپنے اپریل کے دورہ امریکہ کے دوران اپنے لیے ”آزاد خیال وزیر اعظم“ کا ایک اور تحفہ بھی حاصل کر لیں گی۔ (پہلا تمغہ وہ ”رمزی“ کو امریکہ کے حوالے کر کے حاصل کر چکی ہیں) محترمہ وزیر اعظم کے لیے اس تحفے اور جواباً تحفے کی اہمیت اپنی جگہ مگر انہیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ان کی خواہش اور کوشش کے نتیجے میں عوام میں اس سے بھی زیادہ شدید ردعمل پیدا ہو سکتا ہے‘ جس کا مظاہرہ پاکستانی قوم ۱۹۷۷ء میں کر چکی ہے۔ اس قسم کا ردعمل جہاں ان کے اقتدار کی کشتی کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا‘ وہیں اقلیتوں کی جنت (پاکستان) میں امن و اطمینان سے زندگی بسر کرنے والے اقلیتی طبقات کے لیے بھی بہت سے مسائل پیدا کر سکتا ہے اور جہاں تک رحمت اور سلامت مسیح کی زندگی کا سوال ہے تو مسلمانوں میں آج

صفحہ 215

بھی بہت سے ”غازی علم الدین شہید“ موجود ہیں جو اپنے نبیؐ کی عزت و حرمت پر اپنا سب کچھ قربان کر دینے کو عین سعادت تصور کرتے ہیں۔ اس لیے حکومت اور عدالت دونوں کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ اس کیس کو معمول کی عدالتی کارروائی کے ذریعے ہی اپنے انجام تک پہنچنے دیں اور کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے، جس سے عدالتی فیصلہ شکوک و شبہات کا شکار ہو جائے اور عوام اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیں“۔

(ہفت روزہ ”زندگی“ لاہور، ۲۴ فروری تا ۲ مارچ ۹۵ء)

مزید براں پیر بنیامین رضوی نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو ایک خط ارسال کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ ”کوٹ لکھپت جیل میں موجود سزائے موت کے دو سو دس قیدیوں کی اپیلیں سات سات سال سے عدالت عالیہ میں زیر سماعت ہیں اور ایک اطلاع کے مطابق ملک بھر کی مختلف جیلوں میں اس قسم کے قیدی کئی کئی سال سے اپنی اپیلوں کی کارروائی شروع ہونے کے منتظر ہیں جس طرح چند دن قبل سلامت مسیح اور رحمت مسیح کی عدالت سے فیصلے کے بعد عدالت عالیہ نے ۱۲ دن کے اندر اندر فیصلہ کیا گیا، اسی ہی طرح آپ از خود نوٹس لے کر سزائے موت کے قیدیوں کی اپیلوں کی سماعت شروع کرنے کے سلسلہ میں سہولتیں فراہم کرنے کے لیے احکامات جاری کریں“

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، ۲۲ مارچ ۹۵ء)

خفیہ رہائی ۔ نامعلوم مقام پر منتقلی

”توہین رسالتؐ کے مقدمہ سے بری ہونے والے دونوں ملزموں سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو انتہائی خفیہ طریقے سے جمعتہ المبارک کی شام رہا کر کے خفیہ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ملزموں کی رہائی کو اس حد تک خفیہ رکھا گیا تھا کہ خصوصی طور پر اس مقدمے کی کوریج کے لیے آئی ہوئی غیر ملکی ٹیموں کو بھی رہائی کی اطلاع نہ ہو سکی۔ معتبر ذرائع کے مطابق توہین رسالتؐ کے ملزموں کی رہائی کو خفیہ رکھنے کے لیے انہیں جمعتہ المبارک کی شام اس وقت رہا کیا گیا جب تمام قیدیوں کو گنتی کرنے کے بعد ان کی بیرکوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ تمام حفاظتی انتظامات اس لئے کئے گئے تھے کہ مذہبی جماعتوں کے مشتعل کارکنوں کی طرف سے ملزموں کی جان کو ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تاہم معلوم ہوا ہے کہ جمعہ کی شام ایک مسیحی پادری اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ سنٹرل جیل کوٹ لکھپت آئے اور دونوں ملزموں کو اپنے ہمراہ گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔ خیال ظاہر کیا جا

صفحہ 216

رہا ہے کہ دونوں ملزم اس وقت کسی غیر ملکی سفارت خانے کی تحویل میں ہوں گے اور انہیں عنقریب بیرون ملک بھیج دیا جائے گا"۔

(روزنامہ ”پاکستان“ لاہور، ۲۶ فروری ۹۵ء)

”جمعرات کی شب تقریباً نو بجے رہائی کا فیصلہ ہونے کے بعد حکومت نے جمعہ کے روز چھٹی کے باوجود کوٹ لکھپت جیل سے دونوں ملزموں کو رہا کر دیا۔ جبکہ جیل انتظامیہ کا موقف ہے کہ چھٹی کے روز کسی بھی ملزم کو رہا نہیں کیا جاتا جبکہ اس کیس میں حکومت نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے ملزمان کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے ملزمان کو چھٹی کے باوجود رہا کروا دیا"۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، ۲۶ فروری ۹۵ء)

”دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ دونوں ملزموں رحمت مسیح و سلامت مسیح کو جیل سے رہا ہونے کے بعد گلبرگ لاہور میں ایک بڑی کوٹھی میں لے جایا گیا جہاں سے لاہور ایئرپورٹ پہنچایا گیا۔ لیکن ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق ان دونوں کی کسی فلائٹ میں بھی بکنگ نہ تھی۔ تاہم چانس پر انٹرنیشنل فلائٹ میں سیٹ طلب کی گئی تھی لیکن موسم کی خرابی کی وجہ سے کوئی بھی فلائٹ رات کو روانہ نہ ہو سکی۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دونوں ملزموں کو ایک سرکاری گاڑی میں ایئر پورٹ لے جایا گیا جس کے ساتھ پولیس کی حفاظتی گاڑی بھی تھی۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق توہین رسالت کیس میں رہا ہونے والے سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی کے بعد نامعلوم مقام پر پہنچا دیا گیا ہے"۔

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، ۲۶ فروری ۹۵ء)

سرکاری پروٹوکول کے ساتھ امریکہ روانگی

”باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو سرکاری پروٹوکول کے ساتھ جرمنی روانہ کر دیا گیا ہے جہاں پہنچ کر وہ کچھ عرصہ کے لیے فرینکفرٹ میں قیام کریں گے اور وہاں سے امریکہ روانہ ہو جائیں گے، بتایا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے توہین رسالت کیس کے فیصلہ کے بعد امریکہ کی خواہش پر ان افراد کو امریکہ بھیجا گیا ہے۔ ان دونوں ملزموں کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب فرینکفرٹ کی پرواز سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر پی کے ۷۷۱ کے ذریعے روانہ کیا گیا۔ اس موقع پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے اور ان کو سخت حفاظتی پہرے میں لاہور

صفحہ 217

سے اسلام آباد ایئرپورٹ لایا گیا تھا‘ بتایا گیا ہے کہ ان دونوں عیسائیوں کے قریبی رشتہ داروں کو بھی امریکہ منتقل کیا جا رہا ہے۔

معتبر ذرائع کے مطابق سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب اعلیٰ افسروں کی نگرانی میں زبردست حفاظتی انتظامات کر کے خصوصی پروٹوکول کے ساتھ‘ غیر ملکیوں کے حوالے کیا گیا۔ جدید اسلحہ سے لیس پولیس کی بھاری نفری کو رات ۱۰ بجے کوٹ لکھپت جیل کے ارد گرد الرٹ کر دیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی لاہور رینج‘ ایس ایس پی لاہور‘ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر لاہور نے براہ راست اس رہائی کی نگرانی کی اور کوٹ لکھپت جیل کی طرف آنے والی سڑک کے دونوں طرف مسلح کمانڈوز تعینات تھے۔ جمعہ کو جب ملزموں کی رہائی کی روبکار جیل پہنچی تو رات ۱۰ بجے کے قریب ایک پادری جوزف جن کے ہمراہ چند غیر ملکی بھی تھے‘ پولیس کی ۴ گاڑیوں کی حفاظت میں جیل پہنچے۔ جوزف پادری اور غیر ملکی جن کی تعداد ۳ بتائی جاتی ہے‘ کے ساتھ ایک ایس پی بھی تھے‘ یہ لوگ دس بج کر ۵ منٹ پر جیل کے اندر پہنچے‘ دس بج کر بیس منٹ پر بنیان اور نیکر میں ملبوس دونوں ملزموں کو ان کے پاس لایا گیا جہاں انہوں نے پادری سے لے کر نئے کپڑے پہنے‘ اس موقع پر انہیں پاسپورٹ‘ ویزے‘ غیر ملکی کرنسی اور جرمنی کی کنفرم ٹکٹیں بھی دی گئیں‘ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ توہین رسالت کیس میں رہا ہونے والے دو مسیحی باشندوں سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے سرکاری پاسپورٹ جاری کئے گئے۔

ان پاسپورٹوں پر اسلام آباد میں جرمن سفارتخانے سے ویزے لگوائے گئے اور دونوں مسیحیوں کو سخت حفاظتی انتظامات میں لاہور سے اسلام آباد ایئرپورٹ لا کر سرکاری پاسپورٹ گرم کپڑے‘ لیدر کے کوٹ‘ تین صندوقوں میں بند کر کے دیئے گئے۔ ان مسیحیوں کو دس دس ہزار ڈالر بھی حکومت پاکستان نے فراہم کئے تاکہ وہ بیرون ملک ابتدائی طور پر کسی مالی مشکل کا شکار نہ ہو سکیں۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو اپنی رہائی کی خبر ملی تو وہ ساری رات جیل میں شور مچا کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے رہے اور انہوں نے ایک مسیحی قیدی کو بتایا کہ ان کو گرین کارڈ مل چکے ہیں اور وہ آج ہی خصوصی پرواز کے ذریعے ملک سے باہر روانہ ہو جائیں گے“۔

(روزنامہ ”پاکستان“ ”نوائے وقت“ لاہور‘ ۲۷ فروری ۹۵ء)

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ ۲ مارچ ۹۵ء)

صفحہ 218

اپنی جانیں بے نظیر پر قربان کر دیں گے۔

”رحمت مسیح اور سلامت مسیح نے کہا ہے کہ وہ اپنی جانیں بینظیر بھٹو پر قربان کر سکتے ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے وہ پھانسی سے بچ گئے ہیں۔ جرمنی کے کثیر الاشاعت ہفت روزہ ”شپیگل“ میں شائع ہونے والے انٹرویو میں رحمت مسیح اور سلامت مسیح نے کہا کہ پاکستان میں اگر نواز شریف کی حکومت ہوتی تو انہیں سزائے موت دی جاتی۔“

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ ۵ مئی ۹۵ء)

دعوتیں ۔ استقبالیے

”سلامت مسیح اور رحمت مسیح کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان دنوں وہاں ان کے اعزاز میں مختلف عیسائی اور یہودی تنظیمیں‘ استقبالیے دے رہی ہیں۔ استقبالیہ تقریبات میں توہین رسالت کے مجرموں کو قیمتی تحائف دیئے جاتے ہیں‘ مغربی موسیقی کا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے اور ایسی تقریبات کے آغاز سے قبل ان مسیحی باشندوں کی حفاظت کے لیے سخت ترین حفاظتی انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ یہاں اسلام دشمن یہودی‘ مسیحی اور بعض نام نہاد ترقی پسند تنظیمیں‘ سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو اس فعل پر داد و تحسین دے رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق رحمت مسیح اور سلامت مسیح جو پاکستان میں دو وقت کی روٹی کا بھی بمشکل انتظام کرتے تھے‘ اب قیمتی کپڑوں میں ملبوس ہیں اور لاکھوں روپے ان کے پاس جمع ہو چکے ہیں اور اب وہ وہاں کی بااثر یہودی تنظیموں پر زور دے رہے ہیں کہ ہمارے اہل خانہ کو بھی پاکستان سے یہاں لایا جائے۔ دونوں مسیحی باشندے اپنی مذہبی عبادت کے لیے باقاعدہ چرچ جاتے ہیں اور وہاں کے عیسائی مذہب کے پیشوا انہیں مذہبی تعلیم کے لیے بطور خاص توجہ دیتے ہیں۔“

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور‘ ۷ مارچ ۹۵ء)

مبارک باد اور حوصلہ افزائی کے سینکڑوں خطوط

”سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو کوٹ لکھپت جیل میں چار روز بند رہنے کے دوران یورپی ممالک کی جانب سے چھ سو سے سات سو کے قریب خطوط آئے ہیں جن میں ان کی عمر درازی کی دعائیں اور انہیں حوصلہ دیا گیا ہے۔ جیل حکام کو موصول ہونے والے ان خطوط اور عید کارڈز میں لکھے گئے کلمات کچھ یوں ہیں۔ ”جو انسان کے لیے ناممکن ہے‘

صفحہ 219

وہ خدا کے لیے ممکن ہے" "ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں"۔ ان خطوط اور عید کارڈز، جو کہ ان کی رہائی کے بعد لکھے گئے، میں متعدد ممالک سے آئے ہوئے خطوط میں انہیں وہاں آنے کی دعوت بھی دی گئی ہے۔ ذرائع کا یہ بھی कहना ہے کہ ان خطوط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ آپ حق پر ہیں اور پورے یورپ کی عیسائی برادری آپ کے ساتھ ہے، ہمارے دل آپ کے دلوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل حکام نے ان خطوط کو سیل کر دیا ہے جن یورپی اور دیگر ممالک سے خطوط بھیجے گئے ان میں امریکہ، جرمنی، ہالینڈ، فرانس، ڈنمارک، ناروے، سویڈن، اٹلی اور انڈیا شامل ہیں۔ واضح رہے کہ جیل حکام کو موصول ہونے والے یورپی ممالک کے تمام خطوط انگلش میں لکھے گئے جبکہ سلامت مسیح اور رحمت مسیح ان پڑھ بتائے جاتے ہیں۔

"ہالینڈ، جرمنی، فرانس، انگلینڈ اور امریکہ سمیت متعدد یورپی ممالک سے آنے والے خطوط میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے رہنماؤں کے علاوہ ممتاز سفارتکاروں کے پیغام مبارکباد بھی شامل ہیں۔ منگل کی شام تک سینٹرل جیل کوٹ لکھپت میں ایک ہزار سے زائد خطوط موصول ہوچکے تھے اور مزید چلے آ رہے تھے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے دفتر میں ایسے خطوط کا ڈھیر لگ چکا ہے۔ جیل حکام کے لیے یہ بات پریشانی کا باعث بن گئی ہے کہ وہ ان خطوط کا کیا کریں؟ متعدد خطوط دونوں ملزموں کی رہائی سے قبل کے تحریر کردہ ہیں جن میں ان کی رہائی کے لیے دعائیہ کلمات لکھے گئے ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد جرمنی اور امریکہ سے آنے والے خطوط کی ہے اور زیادہ تر خواتین کی طرف سے لکھے گئے ہیں۔ جیل کے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جرمنی سے آنے والے کئی تہنیتی کارڈز پر اسلامی نکتہ نظر سے قابل اعتراض تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ بیرون ملک سے آنے والے خطوط کو پاکستان کا محکمہ ڈاک اچھی طرح پڑتال کے بعد متعلقہ افراد تک پہنچاتا ہے۔ تاہم اس امر کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ توہین رسالت کے ملزموں کے نام آنے والے ان خطوط کی جانچ پڑتال کی گئی ہے یا نہیں؟"

(روزنامہ "نوائے وقت" لاہور، روزنامہ "خبریں" لاہور، یکم مارچ ۹۵ء)

"توہین رسالت کیس سے بری ہونے والے ملزمان کی اچانک بیرون ممالک روانگی سے قانونی پیچیدگیاں" اس حساس مسئلہ کا تجزیہ کرتے ہوئے محترم "سرفراز سید" لکھتے ہیں۔

"توہین رسالت کیس میں بری ہونے والے دو افراد رحمت مسیح اور سلامت مسیح کی

صفحہ 220

اچانک بیرون ملک روانگی سے بعض اہم قانونی نکات پیدا ہو گئے ہیں جن کے نتیجہ میں اہم قانونی پیچیدگیاں اور مسائل سامنے آئیں گے۔ ایک اہم مسئلہ تو یہ ہے کہ ان افراد کی سزائے موت کے خاتمہ کے بارے میں ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد ۳۰ روز کے اندر سپریم کورٹ سے اپیل کئے جانے کا حق ابھی موجود ہے۔ یہ اپیل ریاست یا اس کیس کے مدعی کی طرف سے کی جاتی ہے۔ مدعی کے وکیل محمد اسماعیل قریشی نے بتایا ہے کہ انہیں ابھی تک ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلہ کی مصدقہ نقل نہیں ملی، اس کے لیے انہوں نے باقاعدہ درخواست دے رکھی ہے۔ فیصلہ کی نقل ملنے کے بعد وہ یقینی طور پر مدعی مولوی فضل حق کی طرف سے سپریم کورٹ میں مقررہ معیاد میں اپیل دائر کر دیں گے۔ اپیل ۲۶ مارچ تک دائر کی جا سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے طریقہ کار اور قانون کے مطابق سپریم کورٹ پہلے اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ اپیل کی قانونی گنجائش اور جواز موجود ہے یا نہیں؟ اگر جواز پیدا نہ ہو سکے تو پھر اپیل کی سماعت کی نوبت ہی نہیں آتی۔ سپریم کورٹ میں دوسری طرف سے ریاست اپیل دائر کر سکتی ہے تاہم فی الحال اس کا امکان دکھائی نہیں دے رہا، اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاست کی طرف سے اپیل دائر ہونے کا امکان ہوتا تو رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو اول تو پاسپورٹ ہی جاری نہ ہوتے اور اگر ان کے پاس پہلے سے پاسپورٹ موجود تھے تو انہیں بیرون ملک جانے سے روک دیا جاتا جیسا کہ پہلے بعض معاملات میں ہو چکا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مدعی جن دو افراد کے بری کئے جانے کے خلاف اپیل دائر کرنے والا ہے، وہ دونوں افراد ملک سے باہر جا چکے ہیں، ایک اطلاع کے مطابق انہیں ایک ملک کی مستقل شہریت کی پیش کش بھی ہو چکی ہے، اس پیشکش کو قبول کر لینے پر ان افراد کو پاکستان کی شہریت ختم کرنا پڑے گی۔ اس طرح ان کی حیثیت غیر ملکی کی ہو جائے گی۔ قانونی حلقوں میں اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ سپریم کورٹ میں اپیل کی سماعت شروع ہونے کی صورت میں، رحمت مسیح اور سلامت مسیح کی حاضری کی ضرورت پیش آئی یا یہ کہ ان کی سزائے موت پھر بحال ہو گئی تو اس پر عملدرآمد کے لیے کیا قانونی یا سیاسی طریقہ اختیار کیا جا سکے گا؟ پاکستان کے آئین یا تعزیرات میں کوئی ایسا قانون موجود نہیں جس کے تحت کسی غیر ملکی شخص کو پاکستان طلب کیا جا سکے۔ ماضی میں بعض پاکستانی باشندوں پر ان کی بیرون ملک موجودگی یا وہاں روپوشی کے دوران مقدمات چلا کر انہیں سزائیں سنائیں گئیں مگر ان افراد کو زبردستی پاکستان واپس نہیں لایا جا سکا۔ مدعی مولانا فضل حق کے وکیل محمد اسماعیل قریشی کا موقف ہے کہ ہائی کورٹ سے بری ہونے کے بعد قانونی یا آئینی طور پر سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو بیرون ملک جانے سے نہیں روکا جا سکتا تھا تاہم ماضی میں

صفحہ 221

روایت یہ رہی ہے کہ جس شخص کے خلاف فوجداری مقدمہ ابھی آخری اور حتمی فیصلہ تک نہ پہنچا ہو، اسے بیرون ملک نہیں جانے دیا جاتا خود حکومت ایسے شخص کے باہر جانے پر پابندی عائد کر دیتی ہے مگر موجودہ کیس میں ایسا نہیں کیا گیا۔ اس سے صورتحال مختلف ہوگئی ہے۔ ہائی کورٹ نے دونوں افراد کو ۲۳ فروری کو بری کیا اور تین روز کے اندر انہیں پاسپورٹ ویزے اور زرمبادلہ مل گیا۔ انہوں نے اس پر حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین روز کے اندر یہ سب کیسے ہو سکتا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ ۲۳ فروری سے پہلے یہ دونوں افراد جیل میں بند تھے۔ انہیں موت کی سزا کا حکم سنایا جا چکا تھا۔ یہ بات اہم ہے کہ جس شخص کو پھانسی دیئے جانے کا امکان ہو، اس کا جیل کے اندر پاسپورٹ کیسے بن سکتا ہے، اس لئے کہ پاسپورٹ کا تو مطلب ہی آزادانہ طور پر سرحد پار کرنا ہوتا ہے؟ ایک سوال کے جواب میں محمد اسماعیل قریشی نے کہا ہے کہ رحمت مسیح اور سلامت مسیح کے خاندان کے دوسرے ارکان کو باہر جانے سے نہیں روکا جا سکتا، ان لوگوں پر کوئی الزام نہیں، وہ ملک کے آزاد شہری ہیں اور کہیں بھی جا سکتے ہیں۔ اسلامی قوانین میں بھی ایک شخص کا جرم اور بوجھ کسی دوسرے شخص پر ڈالنے کی اجازت نہیں ہے“۔

(روزنامہ ”پاکستان“ لاہور‘ ۲۸ فروری ۹۵ء)

جناب حسنین طاہر اپنے تحقیقی تجزیہ میں لکھتے ہیں۔ ”اس مقدمہ سے دلچسپی رکھنے والے اس امر سے آگاہ تھے کہ ملزمان کو بریت کے بعد جرمنی بھجوا دیا جائے گا مگر حکومت نے اس سلسلے میں کوئی احتیاط نہیں برتی۔ پاکستان بھر میں ایئرپورٹس پر حکومت تقریباً ہر ۲۴ گھنٹے میں ایگزٹ لسٹ میں ترمیم کرتی ہے جو کہ سیاسی رہنماؤں کے سلسلہ میں ہوتی ہے مگر حکومت نے اس اہم معاملہ پر نہ صرف چشم پوشی کی بلکہ رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو ملک سے نکالنے کے لیے اپنی ”خدمات“ فراہم کیں۔ امریکہ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ پاکستان کا مجرموں کو اس کے ملک یا جس علاقہ میں جرم کیا ہو، کے حوالے کر دینے کا معاہدہ موجود ہے۔ اسی معاہدہ کے تحت پاکستان نے امریکہ میں مبینہ دہشت گردی کے ملزم رمزی یوسف کو امریکہ کے حوالے کیا تھا۔ اس معاہدہ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت جرمنی سے رحمت مسیح اور سلامت مسیح کی واپسی کی اپیل کرے گی۔ اگرچہ حکومت کے تعاون سے ہی رحمت اور سلامت بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ رحمت اور سلامت کے مقدمہ میں غیر ملکی اخبارات اور حکومتوں کی غیر معمولی دلچسپی چھپی بات نہیں ہے۔

صفحہ 222

اس مرحلے پر ۲۵ فروری کو برطانوی اخبار ”دی ٹائمز“ نے اداریہ میں عدالت عالیہ کے فیصلے کو ”سراہا“ ہے اور توہین رسالت کے قانون کو بنیاد پرستوں کا قانون قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ ۳۰۰ کے قریب عیسائی پاکستان کی مختلف عدالتوں میں توہین رسالت کے مقدموں کے سلسلہ میں گرفتار ہیں۔ ۲۶ فروری ۹۵ء کی ”دی آبزرور“ کی اشاعت میں اس اخبار کے نمائندہ جنیفر گر-فن نے لاہور سے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ رحمت اور سلامت کے بارے میں فیصلہ، بے نظیر بھٹو کی فتح ہے جنہوں نے رحمت اور سلامت کو سیشن کورٹ سے سزائے موت پر دکھ کا اظہار کیا تھا“۔

شاہد ظہیر سید ایڈووکیٹ اپنے مضمون ”انسانی حقوق کی علمبردار نام نہاد تنظیمیں ملزموں کو واپس کریں گی؟“ کے عنوان سے لکھتے ہیں۔

”عدالت کے فیصلہ پر زبان بندی کا قانون موجود ہے اور اس قانون میں سزا بھی موجود ہے۔ اگرچہ یہ قانون صرف غیر جیالے لوگوں کے لیے ہے اور جیالوں کی تاریخ عدالت عالیہ کے سامنے نعرے لگانے‘ کنگرو کورٹ کا لقب عوام میں متعارف کرانے اور عدالتی فیصلوں کو ”چمک“ سے خیرہ کر دینے کی ہے۔ ایسے الفاظ پر عدالت صرف مسکرا کر رہ گئی تھی۔ بہت چھوٹے ”بچے“ اور بہت بڑے ”طاقتور“ کی ہر بات پر مسکرایا جاتا ہے۔ وہ مسکراہٹ کونسی تھی یہ خبر نہیں۔ ہم عدالت کے معاملہ میں نہیں پڑتے مگر اپنی مغرور نسوانی حکومت کی نسوانی اداؤں کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتے جو اس کیس کے دوران نظر آئیں۔

پاکستان سے باہر جو دین اسلام کا مذاق اڑائے‘ نبی کریم کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے‘ دین کے ارکان سے ٹھٹھہ کرے‘ مذہب اسلام کا کسی بھی طرح مذاق اڑائے یورپ اور امریکہ اسے وی آئی پی بنا دیتے ہیں۔ ایک عام آدمی سے اٹھا کر اسے حکومت کا منظور نظر بنا کر اعلیٰ مقام عطا کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر کی آسائشیں اسے فراہم کی جاتی ہیں کروڑوں روپیہ تو محض ایسے لوگوں کی سیکورٹی پر خرچ اٹھتا ہے۔ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کو بین الاقوامی سطح پر حاصل ہونے والی پذیرائی اس بات کا کھلا ثبوت ہے۔ افریقہ اور روانڈا میں بھوک سے ہلاک ہونے والوں کو چند بوری گندم تک فراہم نہ کرنے والے لوگ‘ ان دونوں گستاخان اسلام اور شاتمان نبوت پر لاکھوں ڈالر خرچ کر چکے ہیں اور کئے جا رہے ہیں۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس مخصوص لابی نے اصول بنایا ہوا ہے کہ جو کوئی بھی اسلام یا اکابرین اسلام کو سب سے بڑی گالی دے گا‘ اسے اتنا ہی بڑا انعام دیا جائے گا۔

صفحہ 223

چند سالوں سے نام نہاد انسانی حقوق کا کچھ زیادہ ہی شور و غوغا ہے۔ ان نام نہاد حقوق کی کوئی تفصیل موجود نہیں۔ جسے امریکہ اور اسکے ڈھنڈورچی دوسروں پر فرض قرار دے رہے ہیں۔ گرچہ فطرت اور اسلام کے اصول پر ”ایک فرد کے ہاتھ کا حق صرف وہاں تک ہے جہاں سے دوسرے فرد کی ناک سے نہ ٹکرائے“۔ مگر ادھر اصرار ہے کہ دوسرے کی ناک کا مروڑنا اور توڑنا بھی انسانی حقوق کا حصہ ہے۔

پاکستان میں توہین رسالت کی سزا موت مقرر ہوئی تو یہ ڈھنڈورچی پاکستان کے بارے میں بھی شور مچانے لگے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات سے منسوب نعوذ باللہ The Last Temptation Of Chr نامی فلم بنانے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے پیغمبروں کی شان میں جابجا گستاخیاں کرنے والے اور قوم لوط سے منسوب غیر فطری قبیح فعل کو قانونی طور پر جائز قرار دینے والی قومیں‘ ہم سے کیا منوانا چاہتی ہیں۔ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی ہے۔ اس کے لئے ہر وہ بات جو مسلمانوں کو مرکزیت سے ہٹا کر ہیجان و وحشت کی طرف مائل کرے‘ بے لگام کرے‘ وہ اس قوم کی شہہ رگوں میں اتارنا مقصود ہے۔ کوئی سیکولر حکومت ہی ایسی توقعات پر پورا اتر سکتی ہے اور کوئی سیکولر معاشرہ ہی ایسی حکومت کو قائم رکھ سکتا ہے۔ اس لئے حالات اس رنگ میں رنگے جا رہے ہیں کہ لوگ مذہب سے بیزار ہو جائیں اور فرقہ واریت ہی مذہب کی پہچان بن جائے۔

گستاخی نبوت کے الزام سے بری ہونے والے ملزمان بحفاظت جرمنی پہنچا دیئے گئے ہیں اور اس تیزی میں یہ کس کو فرصت تھی کہ وہ سوچ لے کہ ابھی سپریم کورٹ میں اپیل بھی دائر ہو سکتی ہے اور اگر عدالت دوبارہ سزا سنا دے تو پھر ان ملزمان کی واپسی کیونکر ممکن ہوگی؟ کیا مسلمانوں کو گالیاں دینے والوں کی محافظ انسانی حقوق کی علمبردار نام نہاد تنظیمیں ملزموں کو واپس کریں گی؟ مگر ایسا کون سوچتا؟ رتہ دھوتڑا گاؤں کے خاک نشینوں کو جرمنی کی سرکاری مہمان نوازی کے ساتھ دس دس ہزار ڈالر کا اعزازیہ عطا کرنے والے دماغ کیا صرف حکومت کے ہیں؟ کیا قریہ قریہ گلی گلی نظریات کے سوداگر مسلمان اور مذہبی جماعتوں کے اسلام کا لباس اوڑھے سربراہان اس میں حصے دار نہیں؟ امت میں نفاق اور کمزوری کا بیج تو مان لیا کوئی دوسرا ہاتھ بوتا ہے۔ اس کی پرورش کون کرتا ہے؟ جب تک اس سوال کا جواب ڈھونڈ کر یہ سوال حل نہ کیا گیا تو کل پھر کوئی رشدی‘ کوئی تسلیمہ نسرین‘ کوئی رحمت مسیح کوئی منظور مسیح‘ کوئی سلامت مسیح رتہ دھوتڑا سے اٹھ کر جرمنی‘ امریکہ اور برطانیہ کا مہمان کہلائے گا اور کل کی نسل کوئی ایسی فلم بھی ریلیز ہوتی دیکھ لے گی جیسی کہ ان مہمانوں کے میزبانوں کی آزادی رائے میں بن سکتی ہے اور اس سے پہلے کہ ایسا ہو‘ خدا

صفحہ 224

اس قوم کو پہلے ہی کسی طوفان سے آشنا کر دے کہ اس کی موجوں میں کوئی اضطراب نظر نہیں آتا"۔

(پندرہ روزہ ”تحریک“ لاہور‘ ۱۶ اپریل ۹۵ء)

ماہنامہ عالم اسلام اور عیسائیت نے اپنے اداریہ ”رحمت مسیح اور سلامت مسیح کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری“ کے عنوان سے لکھا:

”رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو سیشن کورٹ سے سزائے موت سنائے جانے کے بعد پاکستان کو یورپی دنیا اور یورپی ذرائع ابلاغ کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا تھا۔ خود وزیراعظم پاکستان نے اس فیصلہ پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ ماہ فروری کے اوائل میں ابتدائی عدالت نے دونوں ملزموں کو سزائے موت سنائی تھی۔ ۲۱ فروری کو لاہور ہائی کورٹ میں سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت کا آغاز ہوا اور ۲۳ فروری کو مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ یوں ۲۵ فروری کو دونوں ملک سے باہر بھیج دیئے گئے۔

مغربی دنیا کی طرف سے قانون توہین رسالت (تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔سی) کو ایک بار پھر سخت طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حال ہی میں جرمن صدر نے اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر صدر پاکستان سے اس قانون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دیگر ممالک کی طرف سے بھی اس قانون کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ مغربی دنیا کی طرف سے شدید دباؤ، حکومت پاکستان کی طرف سے مدافعانہ اقدامات، مقدمہ کی تیز ترین سماعت، دونوں ملزموں کی بہ عجلت پاکستان سے روانگی اور قانون توہین رسالت کے خاتمہ کے مطالبات کو پاکستان کے عدالتی نظام کے خلاف عدم اعتماد سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ ابھی جب کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی قانونی گنجائش موجود تھی۔ دونوں ملزموں کو خصوصی انتظامات کے تحت بیرون ملک بھیج دینا عدالتوں پر عدم اعتماد کی توثیق ہے۔ قانون توہین رسالت کے خاتمہ کا مطالبہ اس اعتبار سے غیر منطقی اور مضر ہے کہ یہ قانون مرتکبان توہین رسالت کو سزا دینے کا اختیار عدالت کو دے کر ان ملزموں کو انفرادی حملوں سے محفوظ کر دیتا ہے۔ اگر عوام پر ایک بار یہ تاثر قائم ہو جائے کہ توہین رسالت کے ”مجرموں“ کو عدالت سے سزا نہیں ملے گی تو تقاضائے ایمان اور حب رسالت سے سرشار ہو کر لوگ ایسے ملزموں کو از خود سزا دینے لگیں گے جو ایک خطرناک رجحان ہوگا۔ خود زیر نظر مقدمہ میں اگر لوگوں کے سامنے عدالت کا دروازہ کھلا نہ ہوتا تو عین ممکن

صفحہ 225

تھا کہ مقدمہ درج ہونے سے قبل ہی یہ ملزمان مار ڈالے گئے ہوتے۔ عدالتی نظام کی ترویج، عدل و انصاف اور درست فیصلہ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے، ایک عدالت کے فیصلہ کے خلاف اس سے اعلیٰ تر عدالت میں اپیل کی جا سکتی ہے۔ کسی گناہ گار کو سزا سے بچا لینے سے کہیں زیادہ انسانیت سوز خطرناک اور وحشت انگیز عمل یہ ہو گا کہ قانونی اور عدالتی راستوں کا خاتمہ کر کے بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتار دیے جانے کے رستے کھول دیے جائیں۔ رحمت مسیح اور سلامت مسیح کے معاملات میں بیرونی دنیا کی مداخلت نے نہ صرف پاکستان کے عدالتی نظام کی توہین کی ہے بلکہ عدالت کے فیصلے کو مشکوک ٹھہرانے میں معاونت کرتے ہوئے توہین رسالت کے ”ملزموں“ کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دی ہے۔“

(ماہنامہ ”عالم اسلام اور عیسائیت“ مئی ۹۵ء)

ہوم سیکرٹری پنجاب کا انکشاف

پنجاب کے ہوم سیکرٹری حفیظ اختر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو باہر بھیجنے کے سلسلے میں مجھے اندھیرے میں رکھا گیا، جس پر میں نے وفاقی گورنمنٹ سے احتجاج کیا تھا۔

(روزنامہ جنگ، لاہور، 24 جون 1995ء)

ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل

”سپریم کورٹ آف پاکستان میں توہین رسالت کیس کے بارے میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس سجاد علی شاہ کے روبرو پیش ہوگی۔ سپریم کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار بدھا خاں کے مطابق یہ اپیل اسلام آباد بھجوائی جا رہی ہے تاکہ اسے چیف جسٹس آف پاکستان کے روبرو پیش کیا جائے۔ سپریم کورٹ کے ذرائع نے بتایا کہ یہ اپیل فوری نوعیت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس پر معمول کے مطابق کارروائی ہوگی۔ یہ اپیل توہین رسالت کیس کے مدعی مولوی فضل حق کی طرف سے رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے۔ قواعد کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان اس اپیل کی سماعت کے سلسلے میں مناسب احکامات جاری کریں گے۔ توہین رسالت کے اس کیس کو بین الاقوامی شہرت ملی۔ ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے دونوں ملزموں کو سزائے موت سنائی تھی تاہم لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس چوہدری خورشید احمد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے

صفحہ 226

کیس کے دو ملزموں ۴۸ سالہ سلامت مسیح اور ۱۴ سالہ رحمت مسیح کو بری کر دیا تھا۔ دونوں ملزمان جرمنی جا چکے ہیں۔ اس لئے یہ کیس سپریم کورٹ کی سطح پر بھی دلچسپی کا باعث ہو گا۔ پاکستان اور جرمنی کے مابین مجرموں کے تبادلوں کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے اور اس قانونی پیچیدگی کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ملزموں کو نوٹسوں کی تعمیل کس طرح کروائی جائے۔ قانونی حلقوں میں اس نکتہ پر بھی بحث جاری ہے کہ کیا ملزموں کی طرف سے ان کے وکیلوں کا پیش ہونا کافی ہو گا یا نہیں”۔

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ ۷ اپریل ۹۵ء)

دریں اثناء وفاقی وزیر ڈاکٹر شیر افگن خان نے کہا کہ ”توہین رسالت کیس میں ملوث دو عیسائیوں کا بیرون ملک چلے جانا کوئی بڑا مسئلہ نہیں‘ اگر سپریم کورٹ نے ان کے خلاف فیصلہ دیا تو وہ واپس آ جائیں گے“۔

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ ۴ مارچ ۹۵ء)

سیشن کورٹ لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج نے ۱۶ اپریل کو رحمت مسیح اور سلامت مسیح کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ دونوں کو عدالت میں پیش کرے۔ یہ دونوں حضرات توہین رسالت کے ایک اور ملزم منظور مسیح کے قتل کے کیس میں گواہ ہیں۔ اس کیس میں توہین رسالت کے مقدمہ کے مدعی مولوی فضل حق اور دیگر افراد ملزم کی حیثیت سے نامزد کیے گئے ہیں۔

دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ رحمت مسیح اور سلامت مسیح جو منظور مسیح کے قتل کے اہم گواہان ہیں‘ اس وقت ملک میں نہیں ہیں۔ ۲۳ فروری کو لاہور ہائی کورٹ نے ان دونوں کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں سزائے موت سے بری کیا اور ۲۵ فروری کو شب سوا گیارہ بجے پی آئی اے کی ایک پرواز سے انہیں اسلام آباد سے فرینکفرٹ (جرمنی) بھیج دیا گیا۔ انہیں ٹکٹ‘ پاسپورٹ اور ویزا ہنگامی بنیادوں پر قید کے دوران جیل کے اندر ہی فراہم کر دیا گیا تھا۔

اور یہی وجہ ہے کہ حقوق انسانی کی راہنما حنا جیلانی ایڈووکیٹ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ”فیصلہ تو ججوں نے کرنا ہے لیکن میری رائے میں اس کیس میں اپیل کرنے کی اجازت ہی نہیں دینی چاہیے“۔

(ہفت روزہ ”آج کل“ لاہور‘ ۱۶ تا ۲۲ مارچ ۹۵ء)

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ”وفاقی حکومت نے توہین رسالت کے کیس میں ملوث

صفحہ 227

رحمت مسیح اور سلامت مسیح کی جرمنی سے واپسی سے متعلق اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ کے خط کا جواب دو ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود نہیں دیا۔ اس کیس کے مدعی مولوی فضل حق کے وکیل اسماعیل قریشی نے وفاقی وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا کہ وفاقی حکومت نے اس امر کے باوجود ملزموں کو باہر جانے کی اجازت دی کہ ان پر سنگین الزامات ہیں۔ اس صورتحال میں ملزموں کے خلاف کارروائی چلانا ممکن نہیں کیونکہ انہیں عدالتی نوٹسوں کی تعمیل نہیں کروائی جاسکتی۔ خط میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت بتائے کہ کیا وہ اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ملزموں کو واپس لا کر سپریم کورٹ میں اپیل کی کارروائی شروع کروا دے یا وفاقی حکومت جرمنی میں مقیم ملزموں کا اتہ پتہ بتا دے۔ وکیل نے اس خط کی نقل جرمنی کے سفارت خانہ کو بھی بھجوائی تھی مگر اس کی جانب سے بھی کوئی جواب نہیں آیا"۔

(روزنامہ ”نوائے وقت“ ۲۸ مئی ۹۵ء)

رٹہ دھوتر (جہاں توہین رسالت کا واقعہ ہوا) میں ”روزنامہ

خبریں“ کا دورہ

روزنامہ ”خبریں“ کی انسپکشن ٹیم نے جب مقدمہ کے مرکزی کردار سلامت مسیح اور رحمت مسیح کی رہائشی بستی رٹہ دھوتر کا دورہ کیا تو تھانہ کوٹ لدھا کے علاقے میں واقع اس بستی سے مزید انکشافات ہوئے۔ ”خبریں“ انسپکشن ٹیم جب رٹہ دھوتر گاؤں سے ملحقہ مسیحی بستی پہنچی تو ہر طرف ویرانیوں کا راج تھا اور پوری بستی میں صرف ایک مسیحی خاندان آباد تھا جس کے سربراہ نذیر مسیح نے بتایا کہ سلامت وغیرہ کے حالیہ سلسلہ کے دوران ہی بستی کے تمام مسیحی خاندانوں کو جدید علاقہ فرانسیس آباد میں بسا دیا گیا ہے جس کا انتظام فادر مانی نے کیا تھا۔ اپنی منتقلی کے بارے میں نذیر مسیح نے بتایا کہ اسے بھی یہاں سے کوچ کرنے کی بابت کہا گیا تھا لیکن اس نے انکار کر دیا کیونکہ اس کی کسی مسلمان سے کوئی عداوت نہیں تھی اور نہ اسے یہاں قیام کے دوران کسی جانب سے ڈرایا دھمکایا گیا یا کوئی دباؤ ڈالا گیا۔ نذیر مسیح نے توہین رسالت کے واقعہ کی صحت کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں وہ کچھ نہیں جانتا بلکہ اسے سلامت اور رحمت کی گرفتاری عمل میں آنے کے بعد ہی معلوم ہوا تھا کہ یہ مقدمہ ہو گیا ہے۔ بعد ازاں انسپکشن ٹیم نے گرد و نواح کے بیسیوں افراد کے ہمراہ بستی کے قبرستان کا بھی دورہ کیا جہاں پر ہر برس مسیحیوں کا میلہ

صفحہ 228

لگتا ہے لیکن اس دوران مسیحیوں کی قبروں کے مناظر دیکھتے ہی ٹیم کے ساتھی دیہاتیوں کی نہ صرف چیخیں نکل گئیں بلکہ لوگ سر پیٹ کر اشکبار ہوگئے کیونکہ قبرستان میں موجود سائیں برکت مسیح، سائیں ڈھیٹریوالہ، سائیں رحمت مسیح، سائیں چنوں مسیح اور سائیں سردار مسیح پر مشتمل پانچ مسیحی افراد کی قبروں پر کلمہ طیبہ، آیۃ الکرسی، یا اللہ، یا محمد، یا علی، یا فاطمہ اور یا رسول اللہ جیسے مقدس ناموں سے آراستہ کپڑے کی چادریں "نعوذ باللہ" اس طرح چڑھائی گئی تھیں کہ مقدس الفاظ کی عبارت کا رخ مسیحی مرنے والے کے پیروں کی طرف ہوتا تھا، جسے دیکھتے ہی دیہاتیوں نے چلانا شروع کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ وہ عرصہ دراز سے واویلا کر رہے ہیں کہ یہاں پر مخصوص گروہ اسلامی اقدار کا مذاق اڑانے کے لیے سرگرم ہے۔ اس موقع پر دیہاتیوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس مقدمے کا مرکزی کردار ملزم رحمت مسیح ایک آسودہ حال زمیندار ہے۔ ایک ٹریکٹر ٹرالی کے علاوہ موٹر سائیکل کا مالک ہونے کے باوجود کسی خاص مقصد کے لیے سائیکل پر گاؤں گاؤں جا کر کریم پاؤڈر اور دیگر اشیاء فروخت کرتا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ رحمت مسیح کا اپنے گاؤں والوں سے پہلے بھی جھگڑا ہوچکا ہے کیونکہ وہ ٹھیک اس وقت جب نماز کے لیے جماعت کھڑی ہوتی، گرجا گھر میں اونچی آواز میں مخصوص میوزک لگا دیتا تھا لیکن بعد ازاں مقامی ایس ایچ او نے اس کی گاؤں والوں سے صلح کرا دی تھی۔

انسپکشن ٹیم نے توہین رسالت کیس کے مدعی مولوی فضل حق سے ملاقات کے لیے خواہش ظاہر کی تو بیشتر دیہاتیوں نے تفتیش شروع کر دی اور تسلی کے بعد ٹیم کو رتہ دھوتر کی جامع مسجد لے جایا گیا جہاں پر مولوی فضل حق نے بتایا کہ توہین رسالت کے واقعات کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک روز میں نے درس قرآن کے دوران اس آیت مبارکہ کا ترجمہ و تشریح بیان کی جس میں حضرت عیسیٰ کے بارے میں فرمان ہے کہ وہ "اللہ کے بیٹے نہیں، ان کے پیغمبر تھے" انہوں نے بتایا کہ اسی روز مقدمہ کا تیسرا ملزم منظور مسیح میرے پاس آیا اور کہا کہ آپ اس بات کو غلط بیان کر رہے ہیں، ہم حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں لیکن میں نے منظور مسیح کی یہ دلیل ماننے سے انکار کیا اور اس واقعہ کے کچھ ہی عرصے بعد توہین رسالت کے واقعات شروع ہوگئے، جس میں قرآن پاک کے اوراق کا کھیتوں سے شہید حالت میں ملنا، مسجد کی دیواروں اور طہارت خانے میں توہین آمیز تحریر اور اسی تحریر کی چٹیں ملنا شامل تھا۔ مولوی فضل حق نے بتایا کہ ہم نے ان واقعات کو دو برس تک انتہائی بے بسی اور کرب سے برداشت کیا کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ کسی

صفحہ 229

بے گناہ پر الزام آئے۔ پھر جب ہم نے سلامت مسیح‘ رحمت مسیح اور منظور مسیح کو اپنی آنکھوں سے مسجد کی دیوار پر وہی تحریر لکھتے ہوئے دیکھ لیا اور گاؤں کے نوجوانوں نے تعاقب کے بعد انہیں پکڑ لیا تو یہ کارروائی شروع کی۔ مولوی فضل حق نے انکشاف کیا کہ جب تینوں ملزم پکڑے گئے تو سلامت مسیح جو کبوتر پالنے کا شوقین ہے‘ نے سینکڑوں افراد کے سامنے ”اقبال جرم“ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ یہ سب کچھ رحمت مسیح کے ایماء پر کرتا رہا کیونکہ وہ اس کے عوض اسے پانچ روپے نقدی یا کبوتر دیتا تھا۔ مولوی فضل حق نے مزید بتایا کہ سلامت مسیح کے والد نے مجھے کراچی سے خط بھی بھیجا تھا کہ اس کے بیٹے کو چھوڑ دیا جائے کیونکہ وہ سب کچھ رحمت مسیح کے کہنے پر لالچ میں آکر کرتا رہا ہے۔ مولوی فضل حق نے کہا کہ عدالت نے جو کچھ بھی کیا‘ حکومت کے دباؤ میں کیا لیکن وہ بہت جلد سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔ انشاء اللہ جیت ہماری ہوگی۔ مولوی فضل حق نے ”خبریں“ کے کردار اور اس کے رپورٹروں کی تعریف کی کہ انہوں نے میرا بہت ساتھ دیا اور دوسری بار مجھے بحفاظت ہائی کورٹ تک پہنچانے کا بندوبست کیا۔

عدالتی حکم کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے مولوی فضل حق کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں کیا‘ تاہم گاؤں کے ۲۰ افراد نے مولوی فضل حق کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے اور انہیں ان کے گھر میں پابند کر کے گاؤں کی کڑی نگرانی شروع کر دی ہے۔ گاؤں میں آنے والے ہر اجنبی سے چھان بین کی جاتی ہے اور پوری تسلی سے پہلے کسی کو مولوی فضل حق سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ نوجوان دن کے علاوہ رات کو بھی پہرہ دے رہے ہیں تاکہ مولوی فضل حق کو کوئی شخص نقصان نہ پہنچا سکے۔ متعلقہ تھانہ کوٹ لدھا سے جب ”خبریں“ ٹیم نے اس سلسلے میں پوچھا تو تھانے میں موجود منشی طارق نے بتایا کہ ہم کس کس کی حفاظت کریں‘ مزید ہمیں اعلیٰ افسروں کی طرف سے بھی اس سلسلے میں کوئی ہدایت نہیں ملی۔ مولوی فضل حق کے لیے حفاظتی اقدامات کی تفصیل جاننے کے لیے جب روزنامہ ”خبریں“ نے ایس ایس پی گوجرانوالہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے بڑی رعونت اور توہین آمیز انداز میں جواب دیا کہ کیوں مولوی کے خلاف کسی نے اعلان جنگ تو نہیں کر دیا کہ سارے ضلع کی پولیس وہاں بھجوا دوں۔ ایس پی نے مزید کہا کہ مجھے ”اوپر“ سے اس سلسلہ میں کوئی ہدایت نہیں ملی اور ویسے بھی کسی اخبار کو مجھ سے اس طرح کا سوال پوچھنے کا کوئی حق نہیں ہے“۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور‘ ۲۷ فروری ۹۵ء)

صفحہ 230

”انجمن دشمنان ملک وملت“

مندرجہ ذیل ”دانشور“ حضرات نے اپنے اپنے مضامین میں توہین رسالت کے ملزمان کی حمایت کرتے ہوئے سیشن کورٹ سے ملنے والی سزا پر تنقید کی اور ہائی کورٹ کے (توہین رسالت کے ملزمان کو بری کرنے) کے فیصلہ پر اطمینان کرتے ہوئے تجویز دی کہ قانون توہین رسالت کو ختم کر دیا جائے یا اس میں ایسی ترمیم کر دی جائے کہ یہ قانون غیر موثر ہو کر رہ جائے۔ کیونکہ بقول ان کے اس میں ”ملک و ملت کی بقا ہے۔“ (انا للہ و انا الیہ راجعون)

نسیم زہرہ روزنامہ دی نیوز لاہور‘ 7 مارچ 1995ء غنی ایوبی روزنامہ نیشن لاہور‘ 22 فروری 1995ء احمد بشیر روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ لاہور‘ 22 فروری 1995ء عباس رشید روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ لاہور‘ 17 فروری 1995ء عزیز صدیقی ماہنامہ نیوز لائن کراچی‘ فروری 1995ء مظہر زیدی ماہنامہ نیوز لائن کراچی‘ فروری 1995ء حسن مجتبیٰ ماہنامہ نیوز لائن کراچی‘ فروری 1995ء کوثر جمال ہفت روزہ مہارت لاہور‘ 5 تا 13 مارچ 1995ء

پروفیسر احمد الدین ہفت روزہ مہارت لاہور‘ 21 تا 27 مارچ 1995ء مقبول الرحیم مفتی ہفت روزہ مہارت لاہور‘ فروری 1995ء عامر احمد خان ہفت روزہ آج کل لاہور‘ 23 تا 29 مارچ 1995ء ابو البیان (فرضی نام) ماہنامہ نیوز لائن کراچی‘ مارچ 1995ء فیض محمد صادق ہفت روزہ مہارت لاہور‘ 17 تا 27 مئی 1995ء حسین نقی " " " " " " " " " عنایت حسین بھٹی ماہنامہ سنہرا دور‘ جون 1995ء بشیر احمد بٹر روزنامہ پاکستان‘ لاہور 9 جون 1995ء ظفر اقبال روزنامہ پاکستان‘ لاہور 13 مارچ 1995ء روزنامہ پاکستان‘ لاہور‘ 2 جون 1995ء

صفحہ 231

سید افضل حیدر روزنامہ پاکستان‘ لاہور‘ 2 جون 1995ء خالد احمد ہفت روزہ آج کل لاہور‘ 9 تا 15 جون 95ء نجم سیٹھی ہفت روزہ آج کل لاہور‘ 23 فروری تا یکم مارچ 1995ء سید حیدر فاروق مودودی روزنامہ خبریں‘ بحوالہ ادارہ امن و انصاف کراچی‘ توہین رسالت (حصہ دوم) سید حیدر فاروق مودودی فرنٹیئر پوسٹ 21 جولائی 95ء

بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

”لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس خلیل الرحمان خاں نے گیارہ متاثرہ ججوں کے روبرو پیش ہونے والے مقدمات کی فہرستیں منسوخ کر دیں اور انہیں ڈویژن بنچوں سے نکال دیا۔ ان ججوں کی عدالتوں سے مقدمات کی فائلیں بھی اٹھوا لی گئی ہیں۔ یہ جج صاحبان آج سے لاہور‘ راولپنڈی‘ ملتان اور بہاولپور بنچوں میں عدالتی فرائض انجام نہیں دیں گے۔ فاضل چیف جسٹس نے یہ اقدامات چیف جسٹس کمیٹی کے فیصلہ کی روشنی میں اٹھائے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں چاروں صوبوں کے چیف جسٹسوں نے ان متاثرہ ججوں کو عدالتی کام نہ دینے کے بارے میں فیصلہ کیا تھا جن کے بارے میں چیف جسٹسوں نے کنفرمیشن کی سفارشات نہیں کیں۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت لاہور ہائی کورٹ کے ان متاثرہ ججوں کو آج اتوار سے کوئی عدالتی کام نہیں دیا جائے گا‘ ان کے روبرو ارجنٹ یا موشن کسی قسم کا کوئی کیس پیش نہیں ہو گا۔ چیف جسٹس خلیل الرحمان نے متاثرہ ججوں کے محفوظ کردہ اور اعلان کردہ غیر تحریری فیصلوں کی فہرست بھی طلب کر لی۔ ان ججوں میں لاہور ہائی کورٹ سے جسٹس عارف اقبال بھٹی اور جسٹس چوہدری خورشید احمد شامل ہیں۔

(روزنامہ نوائے وقت لاہور 16 جون 1996ء)

دریں اثناء گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) راجہ سروپ خاں نے گذشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے متاثر 9 ججوں کو الگ الگ خطوط میں

صفحہ 232

مشورہ دیا ہے کہ اگر ان پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے اعتراضات درست ہیں تو انہیں اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دینا چاہیے، تاہم اگر ان کے پاس ان اعتراضات کا کوئی جواب موجود ہے تو دس دن کے اندر اندر انہیں ارسال کر دیں۔ تین ججوں جسٹس خورشید احمد، جسٹس زاہد حسین بخاری اور چوہدری مشتاق احمد کے نام اپنے خط میں گورنر نے لکھا کہ آپ کے متعلق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے یہ نشاندہی کی ہے کہ آپ پر پیشہ ورانہ بدعنوانی کا الزام ہے۔ گورنر نے ان ججوں کو لکھا کہ اگر آپ یہ محسوس کریں کہ آپ پر الزامات اور اعتراضات درست ہیں تو میرا، آپ کو مشورہ ہے کہ آپ کسی کھلی عدالت کے سامنے اپنے جواب کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی شرمندگی سے بچنے کے لیے استعفیٰ دے دیں۔

(روزنامہ جنگ لاہور 2 اگست 96ء)

اس کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں جسٹس چوہدری خورشید احمد وغیرہ کو بدعنوانی کے الزامات پر فارغ کر دیا گیا اور اس دوران فیصلہ آنے سے پہلے جسٹس عارف اقبال بھٹی ریٹائرڈ ہو گئے۔

مشہور صحافی محترم الطاف حسن قریشی اپنے مضمون

”زوال کے آثار“ میں لکھتے ہیں

”پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب میاں محبوب احمد بھی وفاقی شرعی عدالت میں تبدیل کر دیئے گئے۔ انہوں نے اس حکم کو عدلیہ کی آزادی کے منافی سمجھا اور اس کی تعمیل نہیں کی۔ ان کی جگہ جسٹس محمد الیاس قائم مقام چیف جسٹس بنا دیئے گئے جس کی آئین کا ضمیر اجازت نہیں دیتا تھا۔ وہ اپنی برادری کے احترام سے کلیتہً محروم تھے۔ ہائیکورٹ کا اعلیٰ ترین منصب حاصل کرنے کی انہوں نے یہ قیمت چکائی کہ اپنے آپ کو اور عدالت عالیہ کو حکومت کے سپرد کر دیا۔ جج اس طرح بنائے جاتے رہے کہ فیصلہ ایگزیکٹو کی عین خواہش کے مطابق ہو۔ وہ فاضل عدالت جس کی ہیبت سے بڑے بڑے کانپ اٹھتے تھے، اب اس کے حکم کو ایک تھانیدار بھی وقعت دینے کے لیے تیار نہ تھا۔ بعض خواتین ججوں کے افسانوں سے میزان کے تقدس پر بہت کاری ضرب لگتی چلی

صفحہ 233

ئی کورٹ کے اعتراضات درست ہیں تو ‘ تاہم اگر ان کے پاس ان اعتراضات کا انہیں ارسال کر دیں۔ تین ججوں جسٹس ی مشتاق احمد کے نام اپنے خط میں گورنر ائی کورٹ نے یہ نشاندہی کی ہے کہ آپ ان ججوں کو لکھا کہ اگر آپ یہ محسوس ت ہیں تو میرا‘ آپ کو مشورہ ہے کہ آپ جہ میں پیدا ہونے والی شرمندگی سے بچنے

(روزنامہ جنگ لاہور 2 اگست 96ء)

روشنی میں جسٹس چوہدری خورشید احمد یا اور اس دوران فیصلہ آنے سے پہلے

پنے مضمون

جناب میاں محبوب احمد بھی وفاقی شرعی حکم کو عدلیہ کی آزادی کے منافی سمجھا ر الیاس قائم مقام چیف جسٹس بنا دیئے وہ اپنی برادری کے احترام سے کینہ " کرنے کی انہوں نے یہ قیمت چکائی کہ کر دیا۔ جج اس طرح بنائے جاتے رہے وہ فاضل عدالت جس کی ہیبت سے بڑے عہدیدار بھی وقعت دینے کے لیے تیار نہ کے تقدس پر بہت کاری ضرب لگتی چلی

گئی۔"

(ماہنامہ اردو ڈائجسٹ لاہور اپریل 1996ء)

کیس کی از سر نو سماعت کی جائے

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مطالبہ

”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا‘ محمد اسماعیل شجاع آبادی‘ علامہ ابو نیپو خالد الازہری‘ حاجی عبدالحمید رحمانی اور پیر شوکت علی نے اپنے مشترکہ بیان میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خلیل الرحمن کی طرف سے گیارہ متاثرہ ججوں کو فارغ کرنے کے فیصلہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدلیہ میں میرٹ کی فتح ہے اور اس فیصلہ سے جہاں عدلیہ کا معیار بلند ہوا ہے‘ وہاں حکومت سے بھی توقع ہے کہ وہ اس فیصلہ کو خوش دلی سے قبول کر کے اپنی سابقہ روایات کو نیا جنم دے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ توہین رسالت ﷺ کے مشہور زمانہ سلامت مسیح کیس کی ازسرنو سماعت کی جائے کیونکہ یہ پوری ملت اسلامیہ کا کیس تھا اور اس کیس میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے‘ اس کیس میں متاثرہ ججوں جسٹس خورشید احمد اور جسٹس عارف اقبال بھٹی نے حکومت کی ہدایت پر امریکہ کی مرضی کے مطابق فیصلہ دیا۔ اس کیس کی سماعت اتنی تیزی سے ہوئی کہ اس کی مثال عدلیہ کی تاریخ میں نہیں ملتی‘ اور حکومت نے اس کیس کی سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کے خوف سے ملزمان کو فوری طور پر پورے پروٹوکول کے ساتھ جرمنی روانہ کر دیا اور یہی وجہ ہے کہ اس کیس میں ملزمان کی غیر معمولی حوصلہ افزائی کی وجہ سے اب پورے ملک میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے واقعات ہو رہے ہیں جو حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔“

(روزنامہ وفاق لاہور 29 جون 1996ء)

صفحہ 234

جسٹس (ر) عارف اقبال بھٹی کا قتل

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس (ر) عارف اقبال بھٹی کو ٹرنر روڈ پر واقع ان کے چیمبر میں نامعلوم حملہ آور نے جمعہ کی صبح اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا جب ملکہ برطانیہ مال روڈ سے گزر رہی تھیں۔ لاہور پولیس کے افسر اور سینکڑوں افراد ملکہ برطانیہ کو سکیورٹی دینے میں مصروف تھے۔ ملزم نے پولیس کی مصروفیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے اطمینان سے واردات کی اور پیدل فرار ہو گیا‘ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ صبح ٹرنر روڈ پر واقع جسٹس (ر) عارف اقبال حسین بھٹی کے چیمبر میں ان کا منشی محمد زاہد موجود تھا۔ اس دوران 45 سالہ باریش شخص ایک تھیلا کندھے پر لٹکائے دفتر میں آیا اور منشی سے جسٹس (ر) عارف اقبال حسین بھٹی ایڈووکیٹ کی موجودگی کے بارے میں دریافت کیا۔ منشی نے کہا وہ ابھی نہیں آئے۔ مذکورہ شخص واپس چلا گیا اور ایک گھنٹہ بعد دوبارہ آیا‘ اس وقت بھی ایڈووکیٹ دفتر نہیں پہنچے تھے۔ منشی نے کہا وہ ساڑھے دس بجے آئیں گے۔ مذکورہ شخص پھر لوٹ گیا۔ پونے بارہ بجے وہی شخص آیا۔ زاہد نے اسے بتایا کہ ایڈووکیٹ صاحب آچکے ہیں‘ آپ اپنا نام بتائیں۔ مذکورہ شخص نے منشی کو ایک رقعہ دیا اور کہا‘ ان کو کہنا شیخ صاحب آئے ہیں۔ میں جونہی رقعہ لے کر جسٹس (ر) عارف اقبال حسین بھٹی کے چیمبر میں داخل ہوا‘ مذکورہ شخص نے موزر نکالا اور منشی کو بتائے بغیر اس کے پیچھے چیمبر میں گھس گیا اور موزر جسٹس (ر) عارف اقبال حسین بھٹی کی کنپٹی پر رکھ کر فائر کر دیا۔ منشی یہ صورتحال دیکھ کر جان بچا کر بھاگ نکلا۔ قاتل نے مزید فائر کیے جن میں تین چہرے اور دو پیٹ میں لگے۔ جسٹس (ر) عارف اقبال حسین بھٹی زخمی حالت میں کرسی سے گر گئے۔ قاتل نے اپنا تھیلا وہیں رکھ چھوڑا اور موزر لہراتا چیمبر سے باہر نکل کر گولی چلا کر شور مچانے لگا۔ جس پر درجنوں وکیل فائرنگ کی آواز سن کر عارف بھٹی کے دفتر کی طرف دوڑے‘ حملہ آور نے وکلاء کے سامنے موزر ڈب میں لگایا اور پیدل ہی فرار ہو گیا وکلاء اور منشی نے زخمی عارف اقبال بھٹی کو میو ہسپتال لے جانے کے لیے گاڑی میں ڈالا لیکن ملکہ برطانیہ کی مال روڈ پر آمد کی وجہ سے مال روڈ کو بند کر دیا گیا تھا‘ جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہو گئی اور زخمی کی گاڑی ٹریفک میں پھنس گئی۔ ڈرائیور نے گاڑی واپس موڑنا چاہی لیکن آدھ گھنٹہ بعد ٹریفک سے نکل سکی۔ زخمی کو سروسز ہسپتال لایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ قتل کی اطلاع ملنے پر آئی جی پنجاب‘ ڈی آئی

صفحہ 236

ناصر باغ پہنچ گئے تھے۔ گورنر نے جسٹس (ر) عارف اقبال بھٹی کے بھائیوں اور بیٹے سے ان کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت قاتل کی گرفتاری میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گی۔ نماز جنازہ کے بعد جسٹس (ر) عارف اقبال بھٹی کے بھائی اور بیٹا دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور انہیں پیپلز پارٹی کے قائدین دلاسے دیتے رہے اور کہتے رہے کہ عارف اقبال بھٹی کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور قاتل عبرتناک انجام کو پہنچے گا۔ نماز جنازہ اور گورنر شاہد حامد کے جانے کے بعد پیپلز پارٹی کے مشتعل کارکن نعرے لگاتے ہوئے ناصر باغ سے نکل کر مال روڈ پر آگئے، انہوں نے ٹریفک بلاک کر دی اور جسٹس (ر) بھٹی کے قتل کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ اور ماتم کیا۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ جسٹس (ر) عارف اقبال بھٹی کے قاتل کو ایک ہفتے میں گرفتار کر کے سرعام پھانسی پر نہ لٹکایا گیا تو شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ پارٹی کے خصوصی اجلاس میں اس سلسلے میں ایک قرار داد بھی منظور کی گئی۔ اجلاس میں راؤ سکندر اقبال، پروفیسر اعجاز الحسن، مصباح الرحمان، قاسم ضیاء، منور انجم، عارف حسین ہاشمی اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ (روزنامہ ”خبریں“ لاہور، 12 اکتوبر 1997ء)

ایف آئی آر سے عینی شاہد زاہد کا نام گول

مزنگ پولیس جسٹس (ر) عارف اقبال حسین بھٹی کے قتل کی ایف آئی آر میں سے عینی شاہد منشی زاہد کا نام گول کر گئی۔ مقتول کے بیٹے علی عارف کو مدعی اور چند دوستوں اور عزیزوں کو عینی شاہد بنا کر روایتی الفاظ پر مشتمل ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ ایف آئی آر کی تحریر کے مطابق مقتول کے بیٹے علی عارف کے حوالے سے بیان ہے کہ میں اپنے والد عارف اقبال حسین بھٹی کے دفتر میں امروز 10:10 بجے دن کار لینے کے لیے ابھی چند منٹ ان کے پاس دفتر میں ان کی میز کی دائیں سائیڈ پر پڑی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، ملک حیات میرے قریب بیٹھا تھا۔ مظفر علی بٹ کھڑے تھے۔ واقعہ کو میرے علاوہ ملک حیات اور مظفر بٹ نے بچشم خود دیکھا اور ملزم حملہ آور کو شناخت کیا، جس کو سامنے آنے پر بخوبی پہچان سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ واردات کے وقت مقتول عارف اقبال بھٹی کے دفتر میں صرف ان کا منشی زاہد موجود تھا۔

(روزنامہ خبریں لاہور 12 اکتوبر 1997ء)

ضمیر کی خلش

صفحہ 236

ناصر باغ پہنچ گئے تھے۔ گورنر نے جسٹس (ر) عارف اقبال بھٹی کے بھائیوں اور بیٹے سے ان کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت قاتل کی گرفتاری میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گی۔ نماز جنازہ کے بعد جسٹس (ر) عارف اقبال بھٹی کے بھائی اور بیٹا دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور انہیں پیپلز پارٹی کے قائدین دلاسے دیتے رہے اور کہتے رہے کہ عارف اقبال بھٹی کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور قاتل عبرتناک انجام کو پہنچے گا۔ نماز جنازہ اور گورنر شاہد حامد کے جانے کے بعد پیپلز پارٹی کے مشتعل کارکن نعرے لگاتے ہوئے ناصر باغ سے نکل کر مال روڈ پر آگئے، انہوں نے ٹریفک بلاک کر دی اور جسٹس (ر) بھٹی کے قتل کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ اور ماتم کیا۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ جسٹس (ر) عارف اقبال بھٹی کے قاتل کو ایک ہفتے میں گرفتار کر کے سرعام پھانسی پر نہ لٹکایا گیا تو شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ پارٹی کے خصوصی اجلاس میں اس سلسلے میں ایک قرار داد بھی منظور کی گئی۔ اجلاس میں راؤ سکندر اقبال، پروفیسر اعجاز الحسن، مصباح الرحمان، قاسم ضیاء، منور انجم، عارف حسین ہاشمی اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ (روزنامہ ”خبریں“ لاہور 12 اکتوبر 1997ء)

ایف آئی آر سے عینی شاہد زاہد کا نام گول

مزنگ پولیس جسٹس (ر) عارف اقبال حسین بھٹی کے قتل کی ایف آئی آر میں سے عینی شاہد منشی زاہد کا نام گول کر گئی۔ مقتول کے بیٹے علی عارف کو مدعی اور چند دوستوں اور عزیزوں کو عینی شاہد بنا کر روایتی الفاظ پر مشتمل ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ ایف آئی آر کی تحریر کے مطابق مقتول کے بیٹے علی عارف کے حوالے سے بیان ہے کہ میں اپنے والد عارف اقبال حسین بھٹی کے دفتر میں امروز 10:10 بجے دن کار لینے کے لیے ابھی چند منٹ ان کے پاس دفتر میں ان کی میز کی دائیں سائیڈ پر پڑی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، ملک حیات میرے قریب بیٹھا تھا۔ مظفر علی بٹ کھڑے تھے۔ واقعہ کو میرے علاوہ ملک حیات اور مظفر بٹ نے بچشم خود دیکھا اور ملزم متذکرہ بالا کو شناخت کیا جس کو سامنے آنے پر بخوبی پہچان سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ واردات کے وقت مقتول عارف اقبال بھٹی کے دفتر میں صرف ان کا منشی زاہد موجود تھا۔

(روزنامہ خبریں لاہور 12 اکتوبر 1997ء)

ضمیر کی خلش

صفحہ 237

جسٹس (ر) عارف اقبال بھٹی نے گوجرانوالہ کے مشہور توہین رسالت کے مقدمے کے ملزمان سلامت مسیح اور رحمت مسیح کی سزائے موت ختم کرتے ہوئے انہیں بری کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے کیا تھا، جس میں دوسرے جج (ر) چودھری محمد خورشید تھے۔ پیپلز پارٹی کے دور میں مقرر ہونے والے جسٹس (ر) چودھری خورشید فارغ کر دیئے گئے ۔ جبکہ جسٹس (ر) عارف اقبال بھٹی 62 سال کی عمر پوری ہونے کے بعد ریٹائرڈ ہو گئے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ جسٹس عارف اقبال بھٹی اکثر اوقات اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے تھے اور ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک مرتبہ کیس کے مدعی کے وکیل اسماعیل قریشی سے اس حوالے سے خصوصی طور پر ملنے گئے، اس ملاقات میں جسٹس (ر) عارف اقبال بھٹی نے اسماعیل قریشی کو اپنے فیصلے پر کھل کر رائے دینے کے لیے کہا، جس پر اسماعیل نے بتایا کہ مکی دور میں نبی کریم حضرت محمد ﷺ ، ان کی شان میں گستاخی کرنے والے کو برداشت نہیں، درگزر فرماتے تھے جب اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آگیا تو توہین رسالت کی سزا موت مقرر ہوئی جس پر جسٹس (ر) عارف اقبال بھٹی نے کہا کہ ان کے علم میں یہ بات نہ تھی۔ اسلامی ریاست تو پاکستان بھی ہے، اس لیے میرا دل مطمئن نہیں رہتا، اس بارے میں اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے (روزنامہ خبریں، لاہور) کو بتایا کہ سلامت مسیح، منظور مسیح اور رحمت مسیح توہین رسالت کے مرتکب ہو چکے تھے مگر عدالت کے فیصلے پر ہم نے تو بوجھل دل سے خاموشی اختیار کر لی تھی۔

1995ء کو جب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور محمد مجاہد حسین کی طرف سے ملزموں رحمت مسیح، سلامت مسیح کو سزائے موت دی گئی، اس وقت کی وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے سزا پر شدید دکھ اور حیرت کا اظہار کیا اور پھر مسٹر جسٹس عارف اقبال بھٹی کی طرف سے سنائے گئے فیصلہ میں دونوں ملزموں کو بری کر دیا گیا۔ استغاثہ کی طرف سے پیش ہونے والے وکیلوں رشید مرتضیٰ قریشی اور اسماعیل قریشی نے جسٹس عارف کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ امریکہ کے دباؤ اور پاکستانی حکومت کے ایماء پر کیا گیا۔ پاکستانی حکمرانوں نے امریکہ بہادر سے ایکسٹینشن لینا تھی جب کہ ججوں نے حکومت سے کنفرمیشن لینی تھیں۔ سب لوگوں نے اپنے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے فیصلہ دے دیا ہے۔ جبکہ ہم نے اپنے آقا ﷺ کی حرمت بچانے کے لیے مقدمہ لڑا، انہوں نے کہا کہ میں نے 35 سالہ پریکٹس میں ایسا کوئی موقع نہیں دیکھا کہ استغاثہ کے وکیل کو دلائل کے لیے وقت نہ دیا گیا ہو۔ یہ انوکھا مقدمہ تھا جسے یورپی ممالک گولڈن بک میں لکھیں گے اور مسلم مورخ اسے تاریخ کا سیاہ باب قرار دیں گے۔

(روزنامہ خبریں لاہور 12 اکتوبر 1997ء)

صفحہ 238

حالات زندگی

عارف اقبال بھٹی کا تعلق فقہ جعفریہ سے تھا۔ ان کی عمر 63 برس تھی اور وہ ساہیوال سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ پیپلز پارٹی کے ان رہنماؤں میں سے تھے جو 1970ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت سے متاثر ہو کر پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔ وہ 1979ء کے الیکشن میں جو بعد میں ملتوی کر دیئے گئے، پیپلز پارٹی کی طرف سے امیدوار تھے۔ عارف اقبال بھٹی 1979ء سے لیے کر 1982ء تک پیپلز پارٹی لاہور کے صدر رہے اور ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران صوبہ پنجاب کے نائب صدر بنا دیئے گئے۔ وہ متعدد بار جیل بھی گئے۔

وہ پیپلز پارٹی کی مجلس عاملہ کے رکن بھی رہے۔ 1988ء میں انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کے مقابلے میں حلقہ 95 سے انتخاب میں حصہ لیا اور ہار گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت میں آنے کے بعد انہیں محکمہ کسٹمز کا قانونی مشیر مقرر کر دیا، وہ بے نظیر حکومت کی معزولی تک اس عہدہ پر کام کرتے رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی جب دوسری دفعہ برسر اقتدار آئی تو عارف اقبال بھٹی کو 1994ء میں ہائیکورٹ کا جج مقرر کر دیا گیا۔ حکومت نے ان کی کنفرمیشن کا اعلامیہ جاری کر دیا تھا۔ مگر 20 مارچ 1996ء کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق ان کا نام ان ججوں میں شامل ہوا جن کی تقرریوں پر نظر ثانی کی جانی تھی، لیکن ان دنوں بیماری کے باعث بے نظیر بھٹو کی حکومت نے انہیں اہل خانہ کے ساتھ بیرون ملک علاج کے لیے بھجوا دیا۔ اسی دوران وہ ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچ گئے۔ ان کے والد پولیس میں سپاہی تھے جو بوجوہ معذور ہو گئے تھے۔ ایک بھائی سجاد بھٹی کو پیپلز پارٹی کے نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کا چیئرمین مقرر کیا تھا لیکن ان کے خلاف کیس ہوا۔ ان کے ایک اور بھائی ارشاد حسین بھٹی لاہور ہائیکورٹ کے وکیل ہیں۔ عارف اقبال بھٹی کے تین بچے ہیں۔ ایک بیٹا علی عارف بھٹی ایکسائز انسپکٹر ہے۔ جب کہ ایک بیٹی شادی شدہ ہے۔ ایک بیٹی کی ابھی شادی نہیں ہوئی۔ (روزنامہ ”خبریں“ لاہور، 12 اکتوبر

1997ء)

ملزم کا از خود اعتراف

لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج اور پیپلز پارٹی کے رہنما عارف اقبال بھٹی کے قاتل کو پولیس نے گرفتار نہیں بلکہ ملزم نے ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں از خود عارف اقبال بھٹی کے قتل کا اعتراف کیا جہاں وہ ایک اور قتل کی واردات کے بعد قید بھگت رہا تھا۔

صفحہ 239

اس نے سات روز قبل ایک وارڈن کو بلایا اور اسے کہا کہ میں سپرنٹنڈنٹ جیل سے ملنا چاہتا ہوں جس پر اسے سپرنٹنڈنٹ جیل شوکت نواز ٹوانہ نے اپنے دفتر بلایا۔ سپرنٹنڈنٹ جیل شوکت نواز ٹوانہ نے فون پر ”جنگ“ کو بتایا کہ ملزم ہشاش بشاش ان کے کمرے میں داخل ہوا اور بتایا کہ جناب میں نے ایک برس قبل لاہور میں ہائی کورٹ کے سابق جج عارف اقبال بھٹی کو قتل کیا تھا۔ اگر پولیس نے اس مقدمہ میں کوئی اور ملزم گرفتار کیا ہے تو وہ اسے چھوڑ دے۔ اس نے کہا کہ جسٹس نے چونکہ توہین رسالتؐ کے دو ملزم رہا کیے تھے، جس سے عارف بھٹی بھی توہین رسالتؐ کے مرتکب ہوئے۔ شوکت نواز ٹوانہ نے مزید بتایا کہ انہوں نے ملزم کا بیان سن کر فوری طور پر ایس پی جہلم آفتاب چیمہ کو آگاہ کیا جنہوں نے خود آکر ملزم سے تفتیش کی اور سی آئی اے لاہور کو آگاہ کر دیا۔ اقبال بھٹی کے قتل کی واردات کے بعد ملزم سے ایک بیگ گر گیا تھا جسے سی آئی اے کی ایک ٹیم لے کر جیل پہنچی جس میں قوالیوں کے چند کیسٹ اور کپڑوں کا جوڑا تھا جسے ملزم نے شناخت کیا اور واردات کے متعلق پولیس کو آگاہ کیا کہ اس نے کس طرح عارف اقبال بھٹی کو 38 بور کے پستول سے فائر کر کے ہلاک کیا۔ ملزم احمد شیر خاں میانوالی کے نواحی گاؤں ابا خیل، جسے تھانہ موسیٰ خیل لگتا ہے، کا رہائشی ہے۔ ملزم کا قد تقریباً چھ فٹ اور باریش ہے۔ سپرنٹنڈنٹ جیل نے مزید بتایا کہ ملزم کا کہنا ہے اگر رہا ہونے والے توہین رسالتؐ کے ملزم ملک میں رہتے تو وہ انہیں بھی ضرور قتل کرتا اور مجھے اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ احمد شیر کا تعلق کسی مذہبی تنظیم سے نہیں ہے۔

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور، 26 نومبر 1998ء)

توہین رسالت ﷺ کا ایک اور مقدمہ

سنٹرل جیل ساہیوال میں توہین رسالت کے مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے پیر کے روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساہیوال رانا عبد الغفار نے توہین رسالتؐ کے مجرم ایوب مسیح کو موت کی سزا کا حکم سنایا۔ استغاثہ کے مطابق ملزم ایوب مسیح 14 اکتوبر 1996ء کو چک EB-353 میں ایک مسلمان محمد اکرم اور دیگر افراد کی موجودگی میں حضرت رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی اور سنگین نوعیت کی توہین رسالتؐ کا مرتکب ہوا۔ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ سیشن جج پاک پتن کی عدالت میں سماعت شروع ہوئی تو ایک فریق نے اعتراض کیا۔ جس کے بعد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے مقدمہ کو سیشن جج ساہیوال کی عدالت میں ٹرانسفر کر دیا۔ سیشن کورٹ میں ملزم فریق نے فائرنگ کر کے ملزم کو ہلاک کرنے کی سازش کا ڈرامہ رچایا۔ جس کے بعد سیشن جج

صفحہ 240

ساہیوال کی درخواست پر محکمہ داخلہ پنجاب نے مقدمہ کی سماعت جیل کے اندر کرنے کی ہدایت کی۔ مدعی فریق کی طرف سے چار گواہ پیش کیے گئے جبکہ ملزم پارٹی نے صفائی کے لیے دو عیسائی گواہ پیش کیے۔ مدعی فریق کی پیروی افتخار خاور ایڈووکیٹ ممبر پنجاب بار کونسل نے کی جبکہ ملزم کی طرف سے محمد حنیف ڈوگر ایڈووکیٹ فیصل آباد نے پیروی کی۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور‘ 28 اپریل 1998ء)

بشپ جان جوزف کی خودکشی

بشپ جان جوزف فیصل آباد نے گستاخی رسول ﷺ کے الزام میں ایک عیسائی ایوب مسیح کو پھانسی کی سزا سنانے پر سیشن کورٹ کے سامنے احتجاجاً خود کشی کر لی۔ تفصیلات کے مطابق کیتھولک چرچ ساہیوال میں ایوب مسیح کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے خلاف گزشتہ رات ایک احتجاجی اجتماع ہوا جس میں فیصل آباد کیتھولک چرچ کے بشپ ڈاکٹر جان جوزف بھی شامل ہوئے۔ جلسہ کے اختتام پر وہ فادر یعقوب فاروق کے ہمراہ سیشن کورٹ پہنچے جہاں رائفل نکال کر خود کو کنپٹی پر گولی مار دی‘ جس سے وہ موقع پر ہلاک ہو گئے۔ اس خبر کو سنتے ہی اجتماع کے شرکاء اور ساہیوال کے عیسائی اکٹھے ہو گئے اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے ارد گرد کی سڑکوں کو بلاک کر کے احتجاج شروع کر دیا۔ بشپ جان جوزف پاپائے روم پوپ جان پال دوم کے پاکستان میں سب سے زیادہ قریبی مذہبی شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ وہ جسٹس اینڈ پیس کمیشن اور کاریتاس کے علاوہ بشپ کانفرنس پاکستان کے بھی چیئرمین تھے۔ اس حوالے سے انہیں پوپ کا نمائندہ برائے پاکستان بھی سمجھا جاتا تھا۔ (روزنامہ ”پاکستان“ لاہور‘ 7 مئی 1998ء)

عیسائیوں کی قانون شکنی

بشپ ڈاکٹر جان جوزف کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے آبائی شہر فیصل آباد روانہ کر دی گئی جہاں مشتعل عیسائیوں نے لاش سڑک پر رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور پولیس پر پتھراؤ کر کے مجسٹریٹ‘ اے ایس پی اور پولیس کے درجنوں اہلکاروں کو زخمی کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق جونہی بشپ کی موت کی خبر ساہیوال کے عیسائیوں کو ملی‘ وہ ضلع کچہری میں اکٹھے ہو گئے اور بشپ کی لاش سڑک پر رکھ کر ٹریفک بلاک کر دی۔ عیسائیوں نے سیشن جج کے گھر کا محاصرہ اور گھیراؤ کر کے نعرے بازی کی اور ان کے مکان کی طرف پتھراؤ کیا۔

ضلعی انتظامیہ مظاہرین سے کوئی سمجھوتہ کرنے میں ناکام رہی۔ رات چار بجے اقلیتی ایم۔

این اے پیٹر جان سہوتا کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا موجود تھے‘ جنہوں نے نعرے لگائے۔ جنازے گروہ کا مطالبہ تھا کہ لاش پور میں تدفین ہو۔ سا کے لیے جان دی ہے‘ شکل میں بشپ ہاؤس۔ چوک پہنچا تو پولیس نے ایس ایس پی اور ڈی مشتعل ہو گئے اور پولیس جمال خاں اور اے ایم

قتل یا خود کشی؟

ایس ایس پی سا پی اور تھانہ سول لائن مکمل کر کے رپورٹ ڈ اثناء ایک حساس ادار کیونکہ غیر ملکی ایجنسیاں سکتی ہیں۔ یاد رہے کہ کنپٹی پر گولی ماری۔ یہ با ان کے دوسرے ساتھی

کلمہ طیبہ کی بے حر

آنجہانی بشپ ڈ

صفحہ 241

این اے پیٹر جان سہوترا اور متوفی کے منہ بولے بیٹے ایم پی اے مائیکل جان کی آمد پر بشپ کی لاش کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا۔ بشپ کی میت جب فیصل آباد جھال خانوآنہ پہنچی تو وہاں سینکڑوں عیسائی موجود تھے، جنہوں نے حکومت اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے۔ جنازے کے بعد عیسائی فرقہ کے درمیان لاش دفن کرنے کا تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ ایک گروہ کا مطالبہ تھا کہ لاش فیصل آباد بشپ ہاؤس میں دفن کی جائے جبکہ ورثاء چاہتے تھے کہ خوش پور میں تدفین ہو۔ ساہیوال کے مشتعل عیسائیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے ساہیوال کے نوجوانوں کے لیے جان دی ہے، اس لیے وہ لاش ساہیوال لے کر جائیں گے۔ بعد ازاں لاش کو جلوس کی شکل میں بشپ ہاؤس لے جایا گیا، جہاں مظاہرین نے جگہ جگہ توڑ پھوڑ کی۔ جلوس جب جی ٹی ایس چوک پہنچا تو پولیس نے اسے روکنے کی کوشش کی، جس پر مظاہرین پولیس سے الجھ پڑے۔ تاہم ایس ایس پی اور ڈی سی کے سمجھانے پر لاش بشپ ہاؤس لے جائی گئی۔ جہاں پہنچ کر لوگ پھر مشتعل ہو گئے اور پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ جس سے دو مجسٹریٹ ملک صلاح الدین، مشارق جمال خاں اور اے ایس پی سمیت درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

(روزنامہ ”دن“ لاہور، روزنامہ ”جنگ“ لاہور، 9 مئی 1998ء)

قتل یا خودکشی؟

ایس ایس پی ساہیوال حامد مختار گوندل نے بشپ کی موت کی تحقیقات کے لیے دو ڈی ایس پی اور تھانہ سول لائن کے ایس ایچ او پر مشتمل الگ ٹیم تشکیل دی ہے جو 48 گھنٹوں میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔ سراغ رساں ادارے بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔ دریں اثناء ایک حساس ادارے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ قتل کی واردات بھی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ غیر ملکی ایجنسیاں پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے ایسے گھناؤنے کھیل بھی کھیل سکتی ہیں۔ یاد رہے کہ بشپ اپنے ڈرائیور اور ساتھی کے ہمراہ کچہری کے باہر گئے اور باہر نکل کر کنپٹی پر گولی مار لی۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ انہیں ایسا کرنے سے نہ تو ڈرائیور نے روکا اور نہ ہی ان کے دوسرے ساتھی نے، یہ صورت حال کافی حیران کن ہے۔

(روزنامہ ”دن“ لاہور، 9 مئی 1998ء)

کلمہ طیبہ کی بے حرمتی

آنجہانی بشپ فیصل آباد ڈاکٹر جان جوزف کی آخری رسومات میں شرکت کے بعد واپس

صفحہ 242

جانے والے ایک عیسائی رانجھا مسیح کے خلاف ریل بازار گنتی چوک میں ایک دکان پر لکھے ہوئے کلمہ طیبہ اور گنتی چوک میں آویزاں چند بابرکت کلمات کی بے حرمتی پر توہین رسالت کا مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ایک مقامی سینما میں کام کرنے والا رانجھا مسیح جب گنتی چوک میں پہنچا تو وہاں ایک پان فروش کی دکان پر کلمہ طیبہ کی توہین کی‘ جبکہ اس سے قبل اس نے گنتی چوک میں پلیٹوں پر پاکیزہ الفاظ کی بھی بے حرمتی کی تو وہاں پر موجود مسلمان مشتعل ہوگئے۔ اس پر ڈیوٹی پر موجود انتظامیہ کے افسران اور پولیس نے فوری محاصرہ کر لیا اور رانجھا مسیح کو سرکاری گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔

(روزنامہ ”پاکستان“ لاہور‘ 9 مئی 1998ء)

بشپ کی موت ایک معمہ

بشپ آف فیصل آباد جان جوزف کی چھ مئی کی شب ہونے والی پر اسرار موت قانونی اور سیاسی حوالے سے ایک الجھاؤ کا شکار ہوتی جارہی ہے۔ فادر یعقوب کے بقول جب ساڑھے نو بجے یہ واقعہ پیش آیا تو ڈرائیور پطرس بھی موجود تھا۔ احاطہ عدالت میں موجود چوکیدار نے بتایا اس نے گولی کی آواز سنی تو وہ چوکنا ہونے کے باعث گیٹ کی طرف دوڑا جہاں ایک شخص گیٹ کے باہر کی جانب ایک ڈیڑھ فٹ کے فاصلے پر چت گرا ہوا تھا۔ اس کا ایک بازو مڑا ہوا تھا جبکہ دوسرا سیدھا زمین پر پڑا ہوا تھا اور پستول زمین پر گرا ہوا تھا۔ اس سے تین چار فٹ کے فاصلے پر دو مزید افراد گاڑی سمیت کھڑے تھے لیکن دونوں میں سے کسی نے گرے ہوئے شخص پر جھک کر اس کی نبض دیکھے بغیر اور ہسپتال لے جانے کی کوشش کیے بغیر کہا یہ تو مرچکا ہے۔ چوکیدار نے کہا کہ یہ واقعہ دیکھ کر میں واپس اپنے دفتر کی طرف دوڑا تاکہ متعلقہ لوگوں کو اطلاع کر سکوں۔

یاد رہے کہ گولی لگنے کے بعد گرنے پر بشپ کو چھونے اور اٹھانے کے حوالے سے فادر یعقوب کا حوالہ دیتے ہوئے پروٹسٹنٹ فرقے کے ایک مقامی ڈاکٹر جارڈن پیٹرک نے کہا کہ یہی بات واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے فادر یعقوب نے مجھے بتائی ہے لیکن یہ بات غیر فطری سی لگتی ہے کہ کسی عام فرد کو بھی اس حالت میں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر یہ ممکن نہیں ہے کہ پاس کھڑا فرد اس کی نبض نہ ٹٹولے یا اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی کوشش نہ کرے۔ میری رائے میں ہو سکتا ہے فادر یعقوب یا پطرس نے عظیم رہنما کو اٹھانے کی کوشش کی ہو یا ان کی نبض وغیرہ چیک کرنے کے لیے انہیں چھوا ہو لیکن صدمے کے بعد اپنی اس ”فطری حرکت“ کو یاد نہ رکھ سکے ہوں۔ ڈاکٹر جارڈن پیٹرک نے کہا بشپ جس طرح چت گرے ہوئے ملے‘ اس سے بھی اس خیال

صفحہ 243

کو تقویت ملتی ہے کہ انہیں فادر یعقوب نے چھوا ہو گا۔ کیونکہ جس طرح گولی لگی ہے، اس سے ان کے گرنے کا یہ اندازہ توقع کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا سچی بات یہ ہے کہ اس طرح کے حادثے یا سانحے کے بعد ہر کوئی سب سے پہلے ہسپتال کی طرف بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب مجھے اطلاع ملی تو میں سیدھا جائے وقوعہ پر جانے کے بجائے سول ہسپتال کی طرف دوڑا لیکن مجھے جان کر حیرت ہوئی کہ بشپ کو ہسپتال لے جانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گرنے کے بعد بشپ کو چھوا یا ان کی نبض کیوں نہ چیک کی گئی یا ان کے بہتے ہوئے خون کو روکنے کی کوشش کیوں نہ کی گئی۔ اس کا تسلی بخش جواب تو فادر یعقوب فاروق دے سکیں گے۔

سول ہسپتال جہاں پر بشپ جان جوزف کا علی الصبح پوسٹ مارٹم کیا گیا‘ وہاں کے ایک سینئر ڈاکٹر اور اعلیٰ ذمہ دار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی استدعا کرتے ہوئے بتایا کہ دائیں ہاتھ سے چلائی گئی گولی سے لگتا تھا کہ گولی قریب سے ماری گئی ہے کیونکہ کنپٹی کا سوراخ اور دوسری جانب سر کی پچھلی جانب سے گولی باہر نکل گئی۔ تقریباً ایک ڈیڑھ انچ کا سوراخ تھا۔ مذکورہ ڈاکٹر نے بتایا کہ نعش صبح ساڑھے تین بجے کے بعد ہسپتال پہنچی جبکہ عیسائی نوجوانوں کی ٹولیاں رات تقریباً پونے دس بجے سے ہی نعرے لگاتی ہوئی اور دھمکیاں دیتی ہوئی ہسپتال پہنچ گئی تھیں۔ فادر یعقوب فاروق کی طرف سے تھانہ سول لائنز میں درج کرائی گئی رپورٹ اس حوالے سے انتہائی اہم ہے کہ یہ واقعہ کے بعد صرف آدھ گھنٹے بعد ہی درج کرادی گئی اور اس سلسلے میں اس قدر عجلت اور تیزی دکھائی گئی کہ اگر بشپ کو گولی لگنے کے بعد ہسپتال لے جانے کی کوشش کی جاتی تو شاید اتنا وقت مل جاتا کہ وہ مرنے سے قبل واقعہ کے بارے میں کچھ کہہ سکتے۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور‘ 9 مئی 1998ء)

عیسائی رہنماؤں کی نام نہاد دھمکی

کرسچن لبریشن فرنٹ پاکستان کے سربراہ شہباز بھٹی نے کہا کہ ”اگر وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ نے بشپ جان جوزف کی رسم جنازہ میں شرکت نہ کی تو کرسچن لبریشن فرنٹ کے چار مرکزی رہنما بشپ ہاؤس فیصل آباد کے سامنے چوک جی ٹی ایس میں خود سوزی کریں گے“۔

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ 10 مئی 1998ء)

لیکن عیسائی رہنما اپنے اس وعدہ سے منحرف ہو گئے۔ خبر کے مطابق کرسچن لبریشن فرنٹ کے رہنما اپنے خود سوزی پلان پر عمل نہ کر سکے۔ چاروں رہنماؤں نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ان کی بس فیصل آباد دیر سے پہنچی۔ اس لیے وہ 295 سی کے خلاف اپنی

صفحہ 244

قربانی پیش نہیں کر سکے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرسچین لبریشن فرنٹ کے چار رہنماؤں نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ اگر اتوار کو وزیراعظم یا وزیر اعلیٰ کی سطح پر کوئی شخصیت آنجہانی بشپ ڈاکٹر جان جوزف کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے نہ آئی تو وہ سمجھ لیں گے کہ حکومت سے 295 سی کے مسئلے پر اب کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ ایسی صورت میں وہ اتوار ہی کو بشپ ہاؤس کے باہر سرعام خودسوزی کرلیں گے لیکن وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کے آخری رسومات میں نہ آنے کے باوجود انہوں نے خودسوزی نہ کی۔

(روزنامہ ”پاکستان“ لاہور‘ 11 مئی 1998ء)

بشپ جوزف کے لیے بیرون ملک سے 15 لاکھ ڈالر

فیصل آباد کے بشپ جان جوزف کی خودکشی کی تفتیش نیا رخ اختیار کرگئی۔ معلوم ہوا ہے کہ تفتیشی ٹیموں نے توہین رسالت کے مرتکب مجرم ایوب مسیح کی امداد کے لیے بیرون ملک سے 15 لاکھ ڈالر پاکستان منتقل کیے جانے کا سراغ لگالیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جب 14 اکتوبر 1996ء کو محمد اکرم مدعی نے ایوب مسیح کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کروایا تو بیرون ملک سے بشپ ڈاکٹر جان جوزف کو ایک بیرونی ملک نے مقدمہ کی پیروی کے سلسلے میں پندرہ لاکھ ڈالر کی کثیر رقم فراہم کی جو ان کے فیصل آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے اور بشپ جان جوزف کی ایماء پر عاصمہ جہانگیر کے ذریعے فیصل آباد کے محمد حنیف ڈوگر کو کیس کی پیروی کے لیے نامزد کیا گیا۔ کیس کی پیروی کے سلسلے میں ہر پیشی پر محمد حنیف ڈوگر کو چار ہزار روپے یومیہ ادا کیے گئے اور دیگر اخراجات کے لیے ساہیوال کے فادر یعقوب فاروق کو مقرر کرکے ایک کثیر رقم فراہم کی گئی۔ مقدمہ کی کارروائی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پاکپتن کی عدالت میں شروع ہوئی تو مدعاعلیہ کی درخواست پر کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساہیوال کی عدالت میں منتقل کردی گئی جہاں ملزم پارٹی نے ملی بھگت سے جعلی فائرنگ کا ڈرامہ رچایا جس پر سیکرٹری داخلہ کے حکم پر کیس کی حساس نوعیت کے پیش نظر سماعت سنٹرل جیل ساہیوال کے اندر کرنے کا حکم دیا گیا اور 27 نومبر 1996ء سے سماعت جیل کے اندر ہوتی رہی اور بالآخر توہین رسالت کے جرم میں ملزم ایوب مسیح کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔ جب ایوب مسیح کو سزائے موت سنادی گئی تو ڈاکٹر جان جوزف اور فادر یعقوب کے درمیان اخراجات کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ تفتیشی ٹیمیں ان خطوط پر اپنی تفتیش کا دائرہ بڑھارہی ہیں۔ حتمی رپورٹ ایک دو دن میں سامنے آنے کی توقع ہے۔ این این آئی کے مطابق یہ رقم دونوں میں وجہ عناد تھی اور اخراجات کے مسئلہ پر ڈاکٹر

صفحہ 245

جان جوزف اور ان کے ساتھیوں میں جھگڑا بھی ہو چکا تھا۔

(روزنامہ ”دن“ لاہور‘ 11 مئی 1998ء)

عیسائیوں کی قانون شکنی

ڈاکٹر جان جوزف کو گزشتہ روز ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں کیتھڈرل سینٹ پیٹر اینڈ پال بشپ ہاؤس (مرکزی گرجا گھر) کے صحن میں دفن کر دیا گیا۔ تدفین کی رسم میں شرکت کے لیے ملک بھر سے عیسائی مذہبی‘ سیاسی اور سماجی شخصیات کے علاوہ ملک بھر کے عیسائیوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں ڈاکٹر جان جوزف کی تصاویر اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر 295C کے خلاف نعرے درج تھے۔ جنازہ جلوس کے شرکاء سینہ کوبی کرتے اور نعرے لگاتے رہے۔ ایک اطلاع کے مطابق پولیس نے جھنگ روڈ پر واقع ناصر کالونی سے سابق رکن قومی اسمبلی اور بے نظیر دور کے وزیر اقلیتی امور جے سالک کو اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ ایک بھرے ہوئے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے گرجا گھر کی جانب آ رہے تھے۔ بشپ ڈاکٹر جان جوزف کی تدفین میں جن نمایاں شخصیات نے شرکت کی‘ ان میں ارکان قومی اسمبلی طارق سی قیصر‘ بشپ روفن جولیس‘ پیٹر جان سہوترا‘ سائمن جیکب گل‘ پیٹر گل‘ بشپ صاحبان میں سے بشپ سموئیل پرویز‘ بشپ جان سموئیل اور سینٹ انتھونی سکول لاہور کے پرنسپل اور پاپائے روم کے سفیر سیموئل چودھری شامل تھے۔ بارہ بج کر بیس منٹ پر آنجہانی بشپ کے تابوت کو بشپ ہاؤس کے احاطے میں قبر میں اتار دیا گیا۔

جوزف کے مشن کو جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے 295 سی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ آخری رسومات کی تقریب تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہی۔ جس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ پنجاب حکومت کو دی جاتی رہی۔ اس تقریب میں بین الاقوامی میڈیا سے متعلقہ افراد نے بھی بہت بڑی تعداد میں شرکت کی اور آخری رسومات کی فلمیں بنائی جاتی رہیں۔ اس موقع پر شہر میں ہڑتال جیسی کیفیت رہی۔ جبکہ اس موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مقامی انتظامیہ نے سخت حفاظتی انتظامات کر رکھے تھے اور حساس علاقوں پر مشتمل عیسائیوں نے حکومت اور 295 سی کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔

(روزنامہ ”پاکستان“ لاہور‘ 11 مئی 1998ء)

ایک ارب افراد بھی اگر خود کشی کر لیں!

مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر محمد اعجاز الحق نے کہا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کے

صفحہ 246

خلاف تازہ مغربی مہم انتہائی غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔ جہاں تک توہین رسالت کے قانون کا تعلق ہے‘ یہ عیسائیوں نہیں بلکہ ہر اس فرد کے خلاف ہے جو توہین رسالت کا ارتکاب کرے‘ چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہو۔ ایک فرد کی خود کشی کی آڑ میں جس طرح آئین کی دفعہ کے خلاف طوفان اٹھایا جا رہا ہے‘ یہ ہمارے لیے تباہی اور بربادی کا راستہ کھولنے کے مترادف ہے۔ ایک فرد تو کیا ایک ارب افراد بھی اجتماعی خود کشی کر لیں تو ہم ناموس رسالت قانون کے بارے میں نظر ثانی یا تبدیلی کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں محمد اعجاز الحق نے کہا کہ عام قوانین یا آئینی دفعات کو بدلنے کے لیے خود کشی جیسے حربے استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ اگر یہ دروازہ کھولا گیا تو پھر کل کو چند درجن افراد خود کشی کر کے پورے آئین کو بدلنے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے عالمی ٹھیکیداروں کا موجودہ رویہ خود ان کے اس دعوے کے منافی ہے جو وہ ہمیشہ سے کرتے آ رہے ہیں۔ اعجاز الحق نے کہا کہ پاکستان میں مسلمانوں اور عیسائی بھائیوں کے درمیان اخوت اور محبت کا ایک لازوال رشتہ قائم ہے اور جو بھی اس کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے‘ وہ نہ عیسائیوں کا دوست ہے اور نہ ہی انسانیت کا خیر خواہ۔ روشن خیالی کے دعویداروں کو چاہیے کہ مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں اپنی کینہ پروری کے خول سے باہر آ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ ملعون رشدی سے لے کر تسلیمہ نسرین تک جس نے بھی سرکار دو عالم کی شان میں گستاخی کی تو مغرب نے ان کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔ وقت آ چکا ہے کہ مغرب اپنے طرز عمل سے ثابت کرے کہ وہ واقعی بنیادی حقوق انسانی کی پاسداری پر صدق دل سے یقین رکھتا ہے۔ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ ۱۱ مئی ۱۹۹۸ء)

وفاقی مذہبی وزیر راجہ ظفر الحق کا رد عمل

وفاقی وزیر مذہبی و اقلیتی امور راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ ہم کسی مغربی ملک کو پاکستان کے اندر مسلمانوں اور اقلیت کے درمیان تفریق نہیں ڈالنے دیں گے۔ امریکہ میں اس وقت 64 لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں مگر ان کو نہ تو ایوان میں اور نہ ہی سینٹ میں نمائندگی دی گئی ہے۔ برطانیہ میں 26 لاکھ کے قریب مسلمان آباد ہیں‘ جن میں سے صرف ایک مسلمان کو اس سال نمائندگی ملی ہے۔ مگر ہم نے امریکہ اور برطانیہ سے کبھی شکایت نہیں کی کہ وہ مسلمانوں کے بنیادی حقوق کو تحفظ نہیں دے رہے۔ مغربی قوتوں نے پاکستانی اقلیتوں کی حمایت کی ہے تو ہم اس کو مسترد کرتے ہیں۔ پورے ملک کے اندر اقلیتوں کی تعداد صرف 3 فیصد ہے۔ جس میں آدھے عیسائی

صفحہ 247

اور آدھی دوسری اقلیت ہیں۔ اتوار کی شام راولپنڈی پریس کلب میں قومی مسیحی سیمینار کے بعد صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ توہین رسالت دفعہ 295 کا قانون 1860ء میں نافذ کیا گیا تھا پھر اس میں 1927ء کو ترمیم ہوئی۔ دوبارہ ترمیم 1986ء میں ہوئی تو توہین رسالت کرنے والے کو سزائے موت کا مرتکب قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور اٹلی میں بھی توہین رسالت کے حوالے سے مختلف ممالک کی جانب سے آنے والے ردعمل کے بعد حکومت پاکستان نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفارتی مشنوں کے ذریعے مغربی دنیا کو توہین رسالت کے قانون کے بارے میں اپنے موقف سے آگاہ کرے۔ (روزنامہ ”جنگ“

لاہور‘ 11 مئی 1998ء)

یہ کیسی خودکشی تھی؟

سیشن کورٹ کے گیٹ کے باہر فیصل آباد کے بشپ ڈاکٹر جان جوزف کی ہلاکت کو متعلقہ تحقیقاتی ایجنسیاں یکطرفہ تجزیے کے ذریعے اپنی جان چھڑانے کے لیے اسے خودکشی کا واقعہ ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہیں جبکہ کسی غیر ملکی سازش کے امکان پر معمولی سا غور کرنے کا تردد تک نہیں کیا گیا ہے۔ قتل یا خودکشی کے اس واقعہ کے حقائق فی الحال واضح طور پر منظر عام پر نہیں آسکے ہیں۔ حکومتی ادارے شاید کسی ممکنہ غیر ملکی دباؤ کے تحت ان کی مرضی کی رپورٹ دے رہے ہیں۔ کیونکہ بقول ان کے واقعات کی روشنی میں یہ خودکشی بھی ثابت نہیں ہوتی۔ اگر جان جوزف کی موت کو خودکشی تسلیم کر بھی لیا جائے تو پہلے ان حالات کا تجزیہ ضروری ہے جن میں ایک شخص اور خصوصاً بشپ جان جوزف جیسا عالم اور باہوش شخص خودکشی جیسے انتہائی اقدام پر مجبور ہو سکتا ہے۔ بشپ ڈاکٹر جان جوزف نے وقوعہ کے روز رات تقریباً پونے دس بجے کا وقت خودکشی کے لیے چنا۔ جب ساری انتظامیہ امام بارگاہوں کے سکیورٹی انتظامات میں مصروف تھی۔ جائے وقوعہ بھی اس وقت مکمل طور پر سنسان تھا۔ صرف متوفی بشپ کے اپنے دو آدمی کیتھولک چرچ ساہیوال کا پادری یعقوب فاروق اور ڈرائیور پطرس موجود تھے۔ یہ کیسی احتجاجی خودکشی تھی جو اتنے خفیہ انداز میں کی گئی اور جس کی گواہی دینے والا کوئی تیسرا غیر جانبدار شخص نہیں ہے۔ خودکشی کی ایک اور وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ ایوب مسیح کو کچھ دنوں کے بعد پھانسی دی جا رہی ہوگی‘ لیکن یہاں قریب قریب ایسا کوئی امکان نہ تھا۔ ایوب مسیح کے لیے ہائی کورٹ میں اپیل کی جا رہی تھی۔ اس کے بعد بھی اپیل کی صورتیں موجود تھیں۔ ایسے حالات میں خودکشی کرنا ایک حیران کن بات تھی۔

صفحہ 248

مزید یہ کہ خود کشی اسلام اور عیسائیت دونوں مذاہب میں حرام ہے۔ ایک عام آدمی سے ایسی حماقت تو کسی حد تک متوقع ہو سکتی ہے، لیکن ایک مسلمان یا عیسائی عالم اس کا تصور تک نہیں کر سکتا۔ ابتداء میں انتظامیہ نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جائے وقوعہ پر پہنچنے کی زحمت تک گوارا نہ کی اور جب انتظامیہ وہاں پہنچی تو اس وقت تک سینکڑوں مظاہرین اکٹھے ہو چکے تھے جن کی موجودگی میں انتظامیہ کو لاش کے پاس پھٹکنے کی جرات نہ ہو سکی۔ ابتداء میں جن شواہد کا حصول ممکن تھا، وہ انتظامیہ نے اپنی سستی سے گنوا دیے۔ (روزنامہ ”خبریں“ لاہور، 11 مئی 1998ء)

دھمکیاں ملی تھیں شبہ ہے جوزف کو قتل نہ کیا گیا ہو (امریکی تنظیم)

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) بشپ جان جوزف 1996ء سے مذہبی بنیاد پر مظالم کی شکایت کرتے رہے تھے۔ انہوں نے ایسے امریکی گروپوں سے رابطے قائم کیے تھے، جو بعض مسلم ممالک کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ایسا ہی ایک قریبی رابطہ ایک پکے صہیونی ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے مائیکل ہورووٹز سے تھا جو مذہبی بنیاد پر مظالم سے آزادی کے قانون (فریڈم فرام ریلیجیس پراسیکیوشن ایکٹ) کا پروجیکٹ ڈائریکٹر بھی تھا۔ ورجینیا کی ہیمپٹن یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ممتاز احمد نے بتایا ہے کہ ہورووٹز نے انہیں بشپ کے خطوط دکھائے تھے۔ پروفیسر ممتاز احمد نے گزشتہ دسمبر میں اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے ملکوں کا دورہ کیا تھا۔ فریڈم فرام ریلیجیس پراسیکیوشن ایکٹ پیش کرنے والے رکن کانگریس فرینک وولف کا کہنا ہے کہ اس ایکٹ کے ذریعے دنیا بھر میں مذہبی بنیاد پر ہونے والے مظالم پر نظر رکھنے کا ایک نظام وضع کیا جائے گا لیکن ہورووٹز کا کہنا ہے کہ اصل نشانہ پاکستان، ایران، سوڈان، انڈونیشیا اور ملائیشیا ہوں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ ہڈسن انسٹی ٹیوٹ نے اس بل کی منظوری کے لیے لابنگ کی خاطر رقم جمع کرنے کے لیے امریکہ کے 370 چرچوں کا ایک نیٹ ورک بنایا ہے۔ ایک مبصر نے کہا ”انہیں ایک شہید کی ضرورت تھی جو انہیں پاکستانی عدالتوں سے نہ مل سکا“ بشپ جان جوزف کی خود کشی کا معاملہ ابھی واضح نہیں ہے لیکن فریڈم ہاؤس کے سینٹر فار ریلیجیس فریڈم کی ایک ترجمان نینا شی نے واشنگٹن ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جس قدر ہم انہیں جانتے ہیں، وہ خود کشی کرنے والے لگتے نہیں تھے۔ نینا نے بتایا کہ خود کشی سے چوبیس گھنٹے پہلے ان کی بشپ سے بات ہوئی تھی۔ انہیں ماضی میں قتل کی دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔ اس لیے شبہ ہے کہ یہ قتل ہی ہو۔ بوئنگ سمیت بعض بڑے امریکی تجارتی ادارے مجوزہ قانون کے خلاف ہیں اور انہوں نے ایک بڑی لابنگ فرم فرائیلی گروپ کی خدمات بھی حاصل کی ہیں۔ لیکن انہیں یونین آف امریکن ہبرو کانگریس، گینگرچ،

صفحہ 249

نیشنل ایسوسی ایشن آف آیوا، مجلس کرسچین کولیشن اور یو ایس کیتھولک کانفرنس کے اتحاد کا سامنا ہے ۔ پاکستانی سیاست کے ایک مبصر نے کہا لگتا ہے کہ پاکستانی سیاست دانوں کو اس تحریک کے پیچھے مربوط منصوبے اور اس کے نتیجے میں پاکستان اور دوسرے اہم اسلامی ملکوں کے لیے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کا اندازہ ہی نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بزعم خود فصاحت و بلاغت کا کوئی پتلا طوطے کی طرح چار سطریں سی این این پر دہرا کر ڈس انفارمیشن کی اس انتہائی منظم مہم کو شکست دے سکتا ہے۔ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ 11 مئی 1998ء)

عیسائی نوجوانوں کو اسلحہ فراہم کیا جائے گا‘ پیٹر جان سہوترا

اقلیتی ایم این اے پیٹر جان سہوترا نے فیصل آباد کے عیسائی نوجوانوں کو اسلحہ کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنے شناختی کارڈ جمع کروائیں تاکہ ان کے لائسنس بنوائے جائیں۔ (روزنامہ ”دن“ لاہور‘ 12 مئی 1998ء)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا موقف

بشپ جان جوزف کو ایک گہری سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد پاکستان میں عیسائی مسلم فساد پیدا کرنا ہے۔ ہم ایسی کسی سازش کو پاکستان میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس امر کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں خواجہ خان محمد‘ مولانا محمد یوسف لدھیانوی‘ مولانا عزیز الرحمن‘ مولانا اللہ وسایا‘ صاحب زادہ طارق محمود اور مولانا اسماعیل شجاع آبادی نے اپنے ایک اخباری بیان میں کیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ ”بشپ جان جوزف کاروباری طور پر بہت پریشان رہتے تھے۔ ان کی ستیانہ روڈ فیصل آباد میں ”ناصر گارمنٹس“ کے نام سے ایک بڑی فیکٹری ہے جہاں سے تیار کردہ مال بیرون ملک بھی جاتا ہے۔ یہ فیکٹری چند سالوں سے مسلسل خسارے میں جا رہی تھی۔ مزید برآں انہوں نے سینکڑوں لوگوں سے امریکہ کا ویزا لگوانے کی خاطر بھاری رقوم حاصل کی ہوئی تھیں۔ اس سلسلہ میں ان کا کئی لوگوں سے متعدد مرتبہ جھگڑا بھی ہوا اور معاملہ تھانہ تک بھی گیا۔ ایک مرتبہ مقامی صوبائی وزیر نے بھی انہیں ان رقوم کی واپسی کے لیے کہا تھا۔ متاثرہ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سلسلہ میں ثبوت کے ساتھ وزیر اعظم ہاؤس کو خطوط لکھے ہیں مگر بشپ کے اثر و رسوخ کی بناء پر ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بشپ جوزف کی تحقیقات ہائی کورٹ سے کرائے تاکہ اس سازش سے پردہ اٹھ سکے۔ (روزنامہ ”مساوات“ لاہور‘ 12.5.98)

صفحہ 250

بشپ جوزف کو قتل کیا گیا‘ ٹربیونل بنایا جائے: بشپ کینتھ

بشپ کینتھ لیزلی نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی ہے کہ ساہیوال میں خودکشی کرنے والے بشپ جان جوزف کی ہلاکت کی تحقیقات ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل عدالتی ٹربیونل سے کروائی جائیں۔ کیونکہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ ڈی آئی جی سمیت ساہیوال کے پولیس افسران پر مشتمل انکوائری ٹیم بنائی جائے جس کی نگرانی ہائی کورٹ کرے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عیسائی رہنما پطرس غنی اور جان جوزف کے ڈرائیور کا پاسپورٹ ضبط کیا جائے اور انکے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کی جائے۔ درخواست میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ اس واقعہ میں این جی اوز بھی شامل ہیں۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان تمام انبیاء اور بزرگ و برتر ہستیوں کے احترام کی اسی طرح گارنٹی فراہم کرتا ہے جس طرح حضور نبی کریم ﷺ کی۔ انہوں نے اس خدشہ کا اظہار بھی کیا کہ ایسا کرنے والے لوگ دراصل قادیانی تھے جو مسلمانوں کے بہروپ میں کرسچین ٹاؤن پر حملہ آور ہوئے۔

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ 12 مئی 1998ء)

70 عیسائی افراد نے بشپ کینتھ لیزلی پر تشدد کر کے ان کا گھر لوٹ لیا

بشپ کینتھ لیزلی کے گھر پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 86 ہزار روپے نقد کے علاوہ طلائی زیورات اور قیمتی پارچات لوٹ لیے اور بشپ پر تشدد کر کے فرار ہو گئے۔ کینتھ لیزلی کی تھانہ گلبرگ میں دی گئی درخواست کے مطابق یونس بھٹی‘ راجہ یوسف‘ لالہ مسیح‘ وکٹر عزراپا‘ پکی مسیح‘ گٹ مسیح‘ صابر مسیح‘ پادری سلامت‘ سلویسٹر اور سمیل وغیرہ سمیت ساٹھ ستر افراد نے زبردستی گھر میں گھس کر ان پر تشدد کیا اور گھر سے قیمتی زیورات‘ برتن‘ ٹی وی‘ کپڑے اور فائلیں لے کر چار چار کی ٹولی میں نکلنا شروع ہو گئے اور دراز سے 86 ہزار روپے بھی لے گئے۔

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ 19 مئی 1998ء)

عیسائیوں کی اشتعال انگیزی

کرسچین لبریشن فرنٹ پاکستان کے صدر شہباز بھٹی نے کہا ہے کہ ہم صرف 295C کا کلی طور پر خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کی ترمیم اور نہ ہی اس کو موثر بنانے کا مطالبہ کرتے

صفحہ 251

ہیں ۔ اس سے قبل انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آنسو بہانے کی بجائے ایٹم بم ظلم کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 295 سی کو فوراً مکمل طور پر ختم کرے۔ ایوب مسیح اور فیصل آباد کے رانجھا مسیح کو رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے یہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ہم یو این او کے سیکرٹری جنرل کو تحریری طور پر مداخلت کی اپیل کریں گے۔

پاکستان کرسچن ایکشن کمیٹی نے بشپ جان جوزف کے واقعہ کے سلسلے میں پیر کی سہ پہر مری روڈ پر احتجاجی جلوس نکالا اور مظاہرہ کیا جس میں سینکڑوں عیسائیوں نے شرکت کی۔ جلوس کا آغاز چاندنی چوک سے کیا گیا۔ جلوس اور مظاہرے کے باعث مری روڈ پر ٹریفک کا نظام تین گھنٹوں سے زائد وقت تک درہم برہم رہا اور ہزاروں افراد کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

جلوس کے شرکاء نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں جبکہ ہاتھوں میں پلے کارڈ اور سیاہ بینر اٹھا رکھے تھے۔ بینروں پر ”توہین رسالت کا قانون عیسائیوں کے قتل کے مترادف ہے“ توہین رسالت کے قانون کا استعمال پاکستان کی بقا کے لیے خطرہ ہے ‘ توہین رسالت کے قانون کی آڑ میں عیسائیوں کو قتل کیا جا رہا ہے “ 295C پاکستانی عیسائیوں کے سر پر ننگی تلوار ہے ”بشپ جان جوزف کا خون رنگ لائے گا“ درج تھا جبکہ شرکاء نے وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ پنجاب ، وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی اور انہیں ننگی گالیاں دیں ۔ جلوس کے دوران شرکاء مختلف چوراہوں میں بیٹھ کر دھرنا بھی دیتے رہے ۔

کیا۔ ایکشن کمیٹی کے صدر سہیل اشتیاق ، ڈاکٹر ڈیوڈ جان ، سلامت مسیح اور الیگزینڈر ولیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بشپ جان جوزف کے قتل کے ذمہ دار سابق صدر مرحوم جنرل ضیاء الحق ہیں جنہوں نے یہ توہین رسالت کا قانون پاس کروایا۔ انہوں نے کہا کہ جس دن سے یہ قانون پاس ہوا ہے ، اس دن سے آج تک اس قانون کی آڑ میں عیسائیوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ایک سازش کے تحت عیسائی قوم کو تخریب کاری پر اکسایا جا رہا ہے ۔ دیگر مقررین نے میاں نواز شریف ، میاں شہباز شریف ، اعجاز الحق ، راجہ ظفر الحق اور شیخ رشید کو بشپ جان جوزف کا قاتل قرار دیا اور کہا کہ ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے ۔ مریڑ حسن پل کے قریب عیسائی مقررین کے خطاب کے دوران لوگوں نے انتظامیہ کے افسران سے کہا کہ آپ لوگ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے ۔ مسلمان بے غیرت ہو گئے ہیں ، حضور ﷺ کی توہین کی جا رہی ہے اور پولیس خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے ۔ (روزنامہ ”خبریں“ لاہور، 12 مئی

صفحہ 252

(1998ء)

ہائی کورٹ نے ایوب مسیح کو سزائے موت کا حکم معطل کر دیا

لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کے مسٹر جسٹس محمد نسیم چودھری اور مسٹر جسٹس غلام محمد قریشی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے توہین رسالت ﷺ کیس کے ملزم ایوب مسیح کی سزائے موت کا حکم اپیل کا فیصلہ ہونے تک معطل کر دیا ہے۔ ایوب مسیح کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساہیوال کی عدالت نے توہین رسالت کا مرتکب پائے جانے کے بعد 27 اپریل کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ بعد ازاں ایوب مسیح نے لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں اپیل دائر کی۔ ہائی کورٹ ملتان بنچ نے اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سزائے موت کے فیصلے پر فی الحال عمل درآمد روک دیا ہے۔ مزید سماعت آئندہ ماہ ہو گی۔ (روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ 13 مئی 1998ء)

بشپ کو قتل کر کے عدالت کے باہر پھینکا گیا: چوکیدار کا بیان

سیشن کورٹ کے چوکیدار کے بیان کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب نے فیصل آباد کے بشپ ڈاکٹر جان جوزف کی ہلاکت کی تفتیش دو خفیہ ایجنسیوں اور کرائمز برانچ سے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تفتیشی ایجنسیوں کے روبرو سیشن کورٹ کے چوکیدار محمد شریف نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ 6 مئی کی رات تقریباً دس بجے وہ سیشن جج کی عدالت کے باہر پہرے پر موجود تھا کہ ایک گاڑی گیٹ سے تھوڑا پیچھے رکی جس میں سے ایک شخص کو سیشن کورٹ کے باہر پھینکا گیا اور اس کے بعد گولی چلنے کی آواز آئی تو اس نے گرے ہوئے شخص کے قریب دو افراد کو کھڑے دیکھا۔ اس پر اس نے اپنے حکام کو صورت حال سے آگاہ کیا کہ کوئی دہشت گرد کسی کو مار کر عدالت کے گیٹ پر پھینک گئے ہیں۔ سیشن جج ساہیوال نے ایس ایس پی ساہیوال کو اطلاع دی جو دو گھنٹے بعد موقعہ واردات پر پہنچے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ رانا آفتاب احمد نے اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہے۔ سیشن کورٹ کے چوکیدار کے بیان کو نہایت اہمیت دی جا رہی ہے۔ جس کی بناء پر محکمہ داخلہ نے واقعہ کی حساس نوعیت کے پیش نظر تحقیقات دو خفیہ ایجنسیوں اور کرائمز برانچ سے کرانے کا فیصلہ کیا۔ (روزنامہ ”دن“ لاہور‘ 14 مئی 1998ء)

سفارت کاروں کی دلچسپی

صفحہ 253

ایوب مسیح کی پیروی کے لیے پندرہ لاکھ ڈالر غیر ملکی امداد کے انکشاف اور جان جوزف کی ہلاکت پر پطرس مسیح اور فادر یعقوب کے شامل تفتیش کیے جانے پر امریکہ اور آسٹریلیا کے سفارت خانوں کی ساہیوال اور فیصل آباد میں سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔ ان کی طرف سے فیصل آباد سٹیٹ بینک کچہری اور نیشنل بینک ضلع کچہری ساہیوال کے فارن کرنسی اکاؤنٹس کے بارے میں تفصیلات اکٹھا کرنا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور 15 مئی 1998ء)

عیسائیوں کی توڑ پھوڑ

بشپ جان جوزف کی مبینہ خودکشی اور توہین رسالتؐ قوانین میں ترمیم کرنے کے سلسلے میں عیسائی برادری کے ہزاروں افراد نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور مختلف مقامات پر جلوس نکالے۔ مشتعل مظاہرین نے ایک پولیس گاڑی نذر آتش کر دی جبکہ بے شمار لوگوں کی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے۔ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی۔ متعدد لوگ بھاگ دوڑ کے باعث بے ہوش ہو گئے۔ ٹریفک بلاک ہو گئی۔ احتجاج کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا جو سہ پہر کو ختم ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق بشپ جان جوزف کی مبینہ خودکشی پر اور 295 سی کے قانون کے خاتمے کے مطالبے کے لیے گزشتہ روز ہزاروں عیسائی مظاہرین نے شاہراہ قائداعظم فیصل چوک میں مظاہرہ کیا۔ مظاہرین صبح نو بجے ہی فیصل چوک پہنچنا شروع ہو گئے تھے جبکہ اس موقع پر پولیس اور ایلیٹ فورس کی بھاری نفری موجود تھی۔ مظاہرے میں شامل ہونے کے لیے پاکستان کے مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد آئے تھے۔

مظاہرین نے مختلف پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین جن میں خواتین بھی شامل تھیں، 295 سی کے قانون کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ مظاہرے میں شامل ہونے کے لیے مختلف عیسائی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے گروپ مختلف علاقوں سے آ رہے تھے۔ فیصل چوک کی طرف آنے والے شہر کے تمام راستوں کو صبح 10 بجے ہی بند کر دیا گیا تھا۔ مظاہرین میں شامل نوجوان ڈنڈوں اور ہاکیوں سے مسلح تھے۔ اور تمام عیسائی مظاہرین نے کالی پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔ مظاہرے نے ہنگامے کی صورت اس وقت اختیار کی جب نوجوانوں کے ایک ٹولے نے شاہراہ قائداعظم پر ریگل چوک کی طرف جانے کی کوشش کی اور انہیں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے روکنے کی کوشش کی جس پر عیسائی نوجوانوں نے ایک پولیس افسر کو دھکا دینے کے بعد پولیس پر دھاوا بول دیا۔ جس کے بعد مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کے علاوہ ڈنڈوں سے مسلح

صفحہ 254

ہو کر حملہ کر دیا۔ جوابی کارروائی کے دوران پولیس نے آنسو گیس کی زبردست شیلنگ کی اور مظاہرین پر لاٹھی چارج شروع کر دیا جس سے مظاہرین مختلف راستوں سے منتشر ہو گئے۔ مظاہرین نے اپنے راستے میں آنے والی بلڈنگوں اور درجنوں گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے اور پنجاب ٹورازم کارپوریشن کے دفتر کے سامنے تھانہ گوجر پورہ کی گاڑی نمبر ایل اونی 4026 کو آگ لگادی۔ مظاہرین کی بڑی تعداد پولیس کے لاٹھی چارج سے بچنے کے لیے تھانہ سول لائنز کے سامنے واقع آبادی کے گھروں میں گھس گئے جنہیں پولیس نے گھروں سے زبردستی نکالا۔ مظاہرین کی بڑی تعداد ریگل چرچ میں داخل ہو گئی۔ چرچ کو بعد ازاں پولیس اور ایلیٹ فورس نے گھیرے میں لے لیا۔ چرچ کے اندر موجود مظاہرین‘ جن کی تعداد ہزاروں میں تھی‘ دوبارہ شاہراہ قائد اعظم پر احتجاجی دھرنا دینے کے لیے اجازت مانگ رہے تھے۔ لیکن اس بات کی اجازت نہ دی گئی۔ بعد ازاں چرچ کے بشپ اور پولیس افسران کے درمیان مذاکرات کے بعد مظاہرہ نہ کرنے کی یقین دہانی پر مظاہرین کو چرچ سے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

گلبرگ کے علاقہ منی مارکیٹ میں مظاہرین نے درجنوں گاڑیوں اور عمارتوں کے شیشے توڑ دیے۔ جامعہ حنفیہ قاسمیہ کے خطیب محمود الحسن کی گاڑی نمبر ایم این آر 1767 اور جامعہ کے سامنے کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے۔ یوحنا آباد کے علاقہ میں عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے‘ جن میں خواتین بھی شامل تھیں‘ فیروز پور روڈ بلاک کر دی۔ ٹائر جلائے اور گاڑیوں پر پتھراؤ کر کے ان کے شیشے توڑ دیے اور حکومت اور صدر رفیق تارڑ کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ سڑک اڑھائی گھنٹے تک بلاک رکھی۔ اطلاع ملنے پر علاقہ مجسٹریٹ اور پولیس موقع پر پہنچ گئی اور مشتعل مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ اس کے علاوہ شاد باغ اور کوٹ لکھپت میں مظاہرین نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ شہر بھر کے مظاہروں میں درجنوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ 40 کے قریب مشتعل عیسائی نوجوانوں نے جمعہ کے روز مری روڈ پر ٹریفک بلاک کر کے گاڑیوں اور دکانوں پر پتھراؤ شروع کر دیا اور سینکڑوں گاڑیوں پر پتھراؤ اور لاٹھیوں سے حملہ کر کے توڑ دیا جس سے متعدد مسافر زخمی ہو گئے۔ مشتعل نوجوانوں نے مری روڈ پر ٹریفک بلاک کر دی اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ لاٹھیوں‘ ڈنڈوں اور پتھروں سے گاڑیوں کے شیشے توڑ ڈالے۔ اس دوران مشتعل ہجوم نے دکانوں پر بھی پتھراؤ کیا اور سامنے والے شیشے توڑ ڈالے۔ پولیس اس موقع پر جلوس کے پیچھے رہی اور کوئی کارروائی نہ کی۔ پتھراؤ سے گاڑیوں میں بیٹھے مسافر شدید زخمی ہو گئے اور مری روڈ پر ٹریفک بلاک ہو گئی۔

صفحہ 255

تھانہ سول لائن کی قریبی مسجد پر مشتعل عیسائیوں کا دھاوا

احتجاجی مظاہرے کے دوران تھانہ سول لائن لاہور سے ملحقہ ہلال احمر کی بلڈنگ میں واقع مسجد قدسیہ پر بھی مشتعل عیسائیوں نے دھاوا بول دیا اور نعرے بازی کی اور مسجد کی کھڑکیوں اور روشن دانوں کے شیشے توڑ دیئے۔ لوگوں کی اطلاع پر پولیس نے مظاہرین کو وہاں سے منتشر کیا۔

برطانوی ممبر پارلیمنٹ کی اشتعال انگیز سرگرمیاں

برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی ہدایت پر برطانیہ کی ممبر پارلیمنٹ مس لوزنا ہنری سیمنز نے ساہیوال میں اقلیتوں کے سرکردہ چھ افراد سے ”خفیہ“ ملاقات کی۔ اس ملاقات سے قبل چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے امور داخلہ ملک ندیم کامران، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ساہیوال اور فوٹو گرافر کو بھی کمرے سے نکال دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ساہیوال پہنچنے کے بعد برطانوی پارلیمنٹ کی خاتون رکن مس لوزنا ہنری سیمنز نے مشن ہسپتال ساہیوال میں ڈائریکٹر جن ای گل، پروفیسر یعقوب ای ڈی سٹی، صابر پادری، سلیم پادری، کاشف اور دلبر جانی سے تیس منٹ تک علیحدگی میں ملاقات کی۔ ملاقات شروع کرنے سے قبل برطانوی ممبر پارلیمنٹ مس لوزنا نے فوٹو گرافر کو بھی فوٹو بنانے کے بعد باہر نکال دیا اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل الطاف اور چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے امور داخلہ ملک ندیم کامران سمیت کسی کو اس خفیہ میٹنگ میں نہیں بیٹھنے دیا۔ ذرائع نے بعد میں انکشاف کیا کہ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے مس لوزنا نے کہا کہ پاکستان آمد سے قبل برطانوی وزیر اعظم نے انہیں خصوصی ہدایت دی تھی کہ دورہ کے دوران عیسائیوں سے علیحدگی میں ملاقات کر کے پندرہویں ترمیم پر ان کا موقف حاصل کریں۔

ملاقات میں مس لوزنا نے عیسائیوں سے یہ بھی دریافت کیا کہ ان کے لیے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کیا کردار ادا کر رہا ہے اور کیا وہ ان کے کردار سے مطمئن ہیں؟ انہوں نے ملاقات میں پندرہویں ترمیم اور 295 سی کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے اقلیتوں کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے یقین دلایا کہ برطانوی حکومت پندرہویں ترمیم اور 295 سی پر سختی سے اپنے موقف پر قائم ہے۔ برطانوی ممبر پارلیمنٹ مس لوزنا کی عیسائیوں سے خفیہ ملاقاتوں پر ساہیوال کے مذہبی حلقے سراپا احتجاج بن گئے۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، 18 ستمبر 1998ء)

صفحہ 256

مسلمانوں کو عیسائی بننے کی آزادی دی جائے: آرچ بشپ

آرچ بشپ آف کینٹربری جارج کیری نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ جو افراد اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہیں انہیں ایسا کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح عیسائیوں کو اس کا حق حاصل ہے کہ وہ مسلمان ہو جائیں، مسلمانوں کو بھی عیسائی مذہب اختیار کرنے میں آزادی ہونی چاہیے۔ گو انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ ایک بڑا متنازعہ موضوع ہے۔ بعض اسلامی ملک مذہب تبدیل کرنے والوں کو مرتد قرار دیتے ہیں جس کی سزا موت ہے۔ بی بی سی کے مطابق آرچ بشپ نے یہ باتیں اسلام آباد میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ایک تقریر کے دوران کہیں۔ انہوں نے دونوں مذہبوں پر زور دیا کہ وہ انصاف کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں اور کہا کہ وہ نئی عبادت گاہوں کی تعمیر میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔

اے این این کے مطابق سابق نگران وزیر اعظم اور اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر معراج خالد نے کہا ہے کہ دوسرے مذاہب کے بارے میں رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ 6 دسمبر 1998ء)

ظفر الحق نے چرچ آف انگلینڈ کے وفد کو لاجواب کر دیا

چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ آرچ بشپ آف کنٹربری نے اپنے گیارہ رکنی وفد کے ہمراہ وفاقی وزیر مذہبی امور راجہ ظفر الحق سے ملاقات کی۔ ملاقات میں چرچ آف انگلینڈ کے وفد نے یہ سوالات اٹھائے کہ پاکستان میں توہین رسالت کا قانون ختم کیوں نہیں کیا جاتا اور مخلوط انتخابات کیوں نہیں کرائے جاتے؟

وفاقی وزیر مذہبی امور کی جانب سے ان سوالات کے تسلی بخش جواب سن کر چرچ آف انگلینڈ کے وفد کے پاس کوئی سوال نہیں رہا۔ بعد ازاں یہ وفد جب قائم مقام صدر وسیم سجاد سے ملا تو ایجنڈے کے مطابق دو سوالوں پر بات نہیں کر سکا۔ جمعہ کو ملاقات کے دوران وزیر مذہبی امور راجہ ظفر الحق نے وفد کو بتایا کہ پاکستان میں اقلیتوں کی تعداد کل 3 فیصد ہے جبکہ ہر ضلع کونسل سے یونین کونسل تک میں اقلیتوں کی نشستیں موجود ہیں اور اب تو ہر اقلیتی رکن اسمبلی کو ان کے حلقوں میں کام کے لیے 65 لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈ بھی دیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہولی اور کرسمس کے موقع پر ان کے غریب لوگوں کے لیے وزارت مذہبی امور اور گورنر کی جانب سے 10 لاکھ روپے دیے جاتے ہیں۔ اس طرح اقلیتی آبادی کے بچوں کے لیے خصوصی

صفحہ 257

تعلیمی وظائف بھی مختص ہیں۔ ان اقلیتوں کے آرٹسٹوں کو ہر سال ایوارڈ دیئے جاتے ہیں اور ایک ایوارڈ کی مالیت 50 ہزار روپے ہے۔ راجہ ظفر الحق نے کہا کہ دنیا میں ایسا کوئی ملک نہیں جو اقلیتوں کی اس طرح سے پذیرائی کرتا ہے۔ راجہ ظفر الحق نے چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ کو توہین رسالت کے قانون کے بارے میں بتایا کہ یہ قانون ہو یا نہ ہو، مسلمان اپنے رسول کریم ﷺ کے بارے میں توہین برداشت نہیں کر سکتے اور ان کا ردعمل اس پر بہت شدید ہوتا ہے۔ تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں ہیں جس میں اس جرم کے مرتکب افراد کو سزا لوگوں نے خود دی۔

راجہ ظفر الحق نے کہا کہ توہین رسالت کا قانون بن جانے کے بعد ملزم اپنی صفائی قانونی حق کے طور پر دیتا ہے اور اسے وکیل مقرر کرنے اور سزا پر دو اپیلیں کرنے کا بھی حق ہے۔ اگر قانون نہ ہو تو ایسی کوئی سہولت اسے نہیں مل سکے گی۔ انہوں نے کہا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت تو مذہبی تفریق کے بغیر کسی بھی پیغمبر کی توہین کرنے والا شخص سزا کا مرتکب ہوتا ہے۔ سارے پیغمبر ہمارے لیے یکساں ہیں اور یہ ہمارے ایمان کا جز ہے۔ راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اس کے مقابلے میں جب سلمان رشدی نے توہین آمیز کتابیں لکھیں اور مسلمانوں نے احتجاج کیا تو لندن میں اس پر اس لیے کوئی موثر اقدام نہیں ہو سکا کہ وہاں جو قانون ہے اس کے مطابق صرف حضرت عیسیٰ کی توہین کرنے والے کو ہی سزا دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلکہ سلمان رشدی کی تو حوصلہ افزائی ہوئی اور تحفظ دیا گیا۔

راجہ ظفر الحق نے کہا کہ یورپ اور امریکہ کے سربراہان نے تو سلمان رشدی ہو یا بنگلہ دیش کی تسلیمہ نسرین، انہیں پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز تحریریں لکھنے پر پناہ دی اور حوصلہ افزائی کی جس کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل انتہائی رنجیدہ ہیں۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، 6 دسمبر 1997ء)

295 سی ختم نہ کی تو..........!

پاکستان اقلیتی حق پرست پارٹی نے دھمکی دی ہے کہ اگر آئندہ تین ماہ کے اندر اندر 295 سی کے قانون کا خاتمہ نہ کیا گیا تو کرسچن یوتھ فورس کے پانچ نوجوان پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد اور چاروں اسمبلیوں کے سامنے خود سوزی کریں گے۔ جبکہ پارٹی کے چیئرمین پطرس غنی تادم مرگ بھوک ہڑتال کریں گے۔ اتوار کے روز منظور مسیح کی چوتھی برسی کے سلسلہ میں منعقدہ تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پطرس غنی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر 295 سی

صفحہ 258

سمیت تمام کالے قوانین فی الفور ختم کرے۔

(روزنامہ ”دن“ لاہور‘ 16 اپریل 1998ء)

دنیا بھر سے معافی کے مطالبے کے باوجود امریکی مجرم کو سزائے موت دے دی گئی

امریکہ میں قتل کے ایک مجرم ایلین فیسٹر کو جس کے مقدمہ نے بین الاقوامی توجہ حاصل کرلی تھی‘ بدھ کی صبح میسوری کی جیل میں سزائے موت دے دی گئی۔ 39 سالہ فیسٹر پر الزام تھا کہ اس نے 1983ء میں ایک سمگلر کو چار ہزار ڈالر کے بدلے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ تاہم اس کا موقف تھا کہ ہاتھا پائی کے دوران گولی حادثاتی طور پر چل گئی تھی۔ لیکن اس نے اقرار کیا کہ وہ اس کی موت کا ذمہ دار ہے۔ اس کے حامی اس کا کیس نئے سرے سے چلانے کی مہم پر نکل پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا وکیل اناڑی تھا۔ فیسٹر کے مقدمہ کے متعلق دو برطانوی دستاویزی فلموں نے برطانیہ‘ فرانس‘ سویڈن‘ آسٹریلیا‘ جرمنی‘ اٹلی اور ہالینڈ میں دھوم مچادی۔ جس کے بعد اسے ہر طرف سے خط ملنے لگے۔ ایک برطانوی خاتون دستاویزی فلم ”دی ایکسی کیوشن پروٹوکول“ دیکھ کر ایسی متاثر ہوئی کہ اس نے میسوری جاکر جیل میں فیسٹر سے شادی کرلی۔ بدھ کو اسے اپنے شوہر کی موت دیکھنا پڑی۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے پینل نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ فیسٹر کے دفاع کا حق مجروح کیا گیا ہے۔ ہالی ووڈ کے بڑے بڑے اداکار اور حقوق انسانی کے سیاہ فام لیڈر بھی ان سینکڑوں لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے فیسٹر کی معافی کے لیے ایک اپیل پر دستخط کیے مگر منگل کے روز میسوری کے گورنر نے اپیل مسترد کر دی۔ فیسٹر ساٹھواں فرد ہے جسے اس سال امریکہ میں سزائے موت دی گئی۔

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ 3 دسمبر 1997ء)

صفحہ 259

فکر انگیز تحریریں

صفحہ 260

انصاف میں

وقت : چھیا وکیل : قائد اپیل کنندہ : جج : دو عیسا مقتول : شا فیصلہ : ۲۲ کورٹ نے اپیل مس ہائی کورٹ کے فیصل موجود ہو تو قانونی طو غازی علم ا کہا ”کاش یہ سعادت ساتھ شہید کے لا پڑھے لکھوں سے با

وقت : چھ وکیل : علامہ جہانگی جج : دو مسلمان عا اپیل کنند سزا : شا

صفحہ 261

انصاف میں جلد بازی‘ انصاف کو دفن کر دیتا ہے!

حشمت حبیب ایڈووکیٹ

وقت : چھیاسٹھ سال قبل‘ ۱۷ جولائی ۱۹۲۹ء وکیل : قائد اعظم محمد علی جناح اور معاون فرخ حسین اپیل کنندہ : غازی علم الدین شہید جج : دو عیسائی براڈوے اور جان اسٹون مقتول : شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘ ہندو ناشر راجپال

فیصلہ : ۲۲ مئی ۱۹۲۹ء کو سیشن عدالت نے فیصلہ سنایا اور اس کے ۵۴ دن بعد ہائی کورٹ نے اپیل مسترد کر دی۔ غازی علم الدین کو سزائے موت دینے کے فیصلے کی توثیق اسی ہائی کورٹ کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی تھی جس میں یہ طے کیا گیا کہ اگر متبادل سزا موجود ہو تو قانونی طور پر بلوغت کی عمر نہ ہونے پر سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔

غازی علم الدین شہید کی تدفین سے قبل مولانا ظفر علی نے لحد میں اتر کر کہا ”کاش یہ سعادت مجھے نصیب ہوتی“۔ اقبالؒ جیسے شیدائی رسولؐ نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ شہید کے لاشے کو قبر میں اتارا تو زبان سے بے اختیار نکل گیا ”یہ جوان ہم سب پڑھے لکھوں سے بازی لے گیا“۔

وقت : چھیاسٹھ سال بعد ۲۳ فروری ۱۹۹۵ء وکیل : عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی جج : دو مسلمان عارف اقبال بھٹی‘ چوہدری خورشید احمد ایڈیشنل جج اپیل کنندہ : دو عیسائی سلامت مسیح اور رحمت مسیح سزا : شان رسالت مآبؐ میں گستاخی ۲۹۵ سی اور ۲۹۸ اے تعزیرات پاکستان کے

صفحہ 262

تحت سزائے موت‘ قید اور جرمانے کی سزائیں۔ فیصلہ : ۹ فروری ۱۹۹۵ء کو سیشن عدالت نے فیصلہ سنایا‘ اس فیصلے کی توثیق کے لیے ریفرنس بھیجا اور دوسری جانب سزا کا حکم پانے والوں نے اپیل دائر کر دی اور چودہ دن کے اندر اندر فیصلہ سنایا گیا کہ استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام ہو گیا‘ اس لیے اپیل منظور کرتے ہوئے اپیل کنندگان کی فوری رہائی کا حکم دیا جاتا ہے۔

پہلے مقدمہ میں ہم غلام قوم تھے‘ اس فیصلے کو مسلمانان برصغیر ہندو پاک نے ایک غلط فیصلہ قرار دیا اور عدالتی فیصلے کی رو سے پھانسی پانے والا شخص شہید رسالت کہلایا اور جب تک یہ دھرتی قائم رہے گی‘ غازی علم الدین کو اسی انداز میں خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ اس فیصلے میں ۵۴ دن لگے۔ دوسرے فیصلے میں کل ۱۴ دن بھی نہیں لگے۔ فیصلے سے پہلے ہی عام لوگوں نے یہ یقین کر لیا تھا کہ کیا فیصلہ آنے والا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے سابق جج جناب رفیق تارڑ نے اس فیصلے کے بارے میں تفصیلی بیان دے کر مسلمانان پاکستان کے شبہات کو یقین میں بدل دیا ہے۔ وزیر اعظم بے نظیر کے بیان کے حوالے سے جماعت اسلامی کے منور حسن اور دیگر افراد نے بھی کھل کر اپنے شبہات کا ذکر کیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ فی الوقت حتمی نہیں ہے‘ یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں جا سکتا ہے‘ اس لیے فیصلے پر رائے دینا مناسب نہیں ہوگا‘ تاہم ہائی کورٹ میں کارروائی کے دوران امریکہ اور مغرب نے اور ان عناصر سے شاباش حاصل کرنے والے نام نہاد ترقی پسند اور حقوق انسانی کے نام پر اپنی اپنی روزی تلاش کرنے والوں نے جو پھرتیاں دکھائی ہیں‘ ان کو دیکھ کر ہر شخص پریشان رہا۔ اگر یہ مقدمہ پاکستان کے آئین‘ ملکی قانون اور عدالتی طریقہ کار کے مطابق چلایا جاتا تو اس کا فیصلہ چاہے کچھ بھی ہوتا‘ اس کے خلاف موجودہ عوامی ردعمل نہ ہوتا اور یہ شکایت نہ ہوتی کہ قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں‘ لیکن عملاً انتظامیہ نے اس آئینی ضمانت کی کھلی خلاف ورزی کی تاکہ خاص مقاصد کے لیے مقدمے کو جلد سے جلد ختم کر کے یقینی نتائج حاصل کیے جائیں------ اس لیے یہ فیصلہ چاہے قانون اور آئین کے مطابق ہو اور عدالت عظمیٰ سے بھی اس کی توثیق ہو جائے‘ لوگ اس سے اتفاق نہیں کریں گے اور یہ صورتحال بہت افسوسناک ہوگی۔

اس طرح دیئے گئے فیصلوں کے نتائج قوموں کے مفاد میں نہیں ہوتے‘ اسی لیے ہم عدالتی کارروائی پڑھ کر بے چین ہوئے اور ۲۱ فروری ۱۹۹۵ء کو ارجنٹ میل سروس کے

صفحہ 263

ذریعے ایک خط جج صاحبان کو بھیجا، اس خط کے ساتھ دفعہ ۲۹۵ سی تعزیرات پاکستان سے متعلق ایک تفصیلی مضمون بعنوان ”ناقابل تبدیل قانون“ بھی روانہ کیا۔ اس خط میں مختصراً یہ کہا گیا کہ جب جج صاحبان کسی ایسے مقدمے کا فیصلہ کرنے والے ہوں جس کی بہت زیادہ تشہیر کی جا رہی ہو تو ایسے موقع پر انہیں مخاطب کرتے ہوئے لکھنا ممنوع تو نہیں ہے، لیکن ایسا کرنا نایاب ہے۔ آپ اس وقت جس مقدمہ کی سماعت کر رہے ہیں، اس میں ایک مجاز عدالت نے ۲۹۵ سی تعزیرات پاکستان کے تحت دو افراد کو سزا دی ہے، آپ نے جو حلف اٹھایا ہے، اس کے تحت ایک طرف آپ نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھنے، اس کا تحفظ اور دفاع کرنے کا عہد کیا ہے اور دوسری طرف آپ نے یہ عہد بھی کیا ہے کہ آپ ہر حالت میں، ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ بلا خوف و رعایت اور بلا رغبت و عناد قانون کے مطابق انصاف کریں گے۔ آپ نے وزیر اعظم بے نظیر، مغربی پریس، نام نہاد لادین حقوق انسانی کمیشن کے رد عمل، قادیانیوں کے مفادات اور سرکاری وکیل کے موقف کا جائزہ لیا ہوگا۔ چونکہ ہم حکمرانی قانون اور عدلیہ کی حاکمیت میں یقین رکھتے ہیں، اس لیے اس یقین کا اظہار کرتے ہیں کہ آپ اپنے فرائض منصبی قانون کے مطابق اور اپنے آئینی حلف کے مطابق ادا کریں گے۔ جہاں تک شان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی کی سزا کا تعلق ہے، اس پر حد کا اطلاق ہوتا ہے اور یہ قانون خداوند تعالیٰ کا بنایا ہوا ہے جو ناقابل تبدیل ہے۔ جج صاحبان کو ناقابل تبدیل قانون کے عنوان سے تحریر کیے گئے مضمون کی ایک کاپی اس مقصد کے تحت بھیجی کہ جو حقائق اس میں بیان کیے گئے ہیں، وہ شاید ان کے فیصلے میں معاون ثابت ہوں۔ ان سے اس توقع کا اظہار بھی کیا گیا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ انصاف میں عجلت سے کام لینا، انصاف کو دفن کرنا ہے، لیکن ہمیں یہ یقین ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے عادل ہر قسم کے حالات میں بلا خوف و رعایت اپنے فرائض ادا کرتے ہیں۔

بہر حال اب تفصیلی فیصلہ آچکا ہے، اس کا مطالعہ کرنے پر کئی سوال ابھرتے ہیں۔ اب یہ بات عدالت عظمیٰ کے لیے ہے کہ وہ کیا اقدام کرتی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف حکومت پنجاب، سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کرے گی کیونکہ حکومت پنجاب نے ہائی کورٹ میں خود اس فیصلے میں استغاثہ کے خلاف موقف اختیار کیا اور اپیل کنندگان کے موقف سے مکمل طور پر اتفاق کیا۔ شکایت کنندہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی خصوصی درخواست سپریم کورٹ میں پیش کر سکتا ہے اور عدالت کی نگاہ میں عوامی اہمیت کا کوئی نکتہ پایا گیا تو اپیل دائر کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ اپیل جن قانونی نکات پر دائر کی جاسکتی

صفحہ 264

ہے، ان کے بارے میں محترم اسماعیل قریشی اور رشید مرتضیٰ قریشی غور کریں گے۔ بادی النظر میں جو نکات اہم دکھائی دیتے ہیں، ان میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ۲۹۵ سی تعزیرات پاکستان کی سزا حد کے زمرے میں آتی ہے اور یہ فیصلہ وفاقی شرعی عدالت نے دیا۔ اس طرح جیسے شہادت کے قانون کا اطلاق حدود قوانین پر ہوتا ہے، اسی طرح ان کا اطلاق ۲۹۵ سی کے مقدمہ میں ہوگا۔ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ۲۹۵ سی میں تجویز کردہ سزا عام قانون یعنی تعزیرات پاکستان کے تحت ہے۔ تعزیرات پاکستان کے تحت تو متبادل سزا تجویز کی گئی تھی، لیکن وفاقی شریعت کورٹ کے فیصلے کے نفاذ کے بعد سزائے موت ہی اس جرم کی سزا ہے جو حد کے نفاذ کی بناء پر طے کی گئی ہے، اس لیے یہ خداوند تعالیٰ کی مقرر کردہ سزا ہونے کی بناء پر ناقابل تبدیل ہے۔ فتاویٰ عالمگیری کا حوالہ بھی بے تعلق ہے۔ فرزند اقبال نے شاید فتاویٰ عالمگیری پوری پڑھی نہ ہو جبکہ ہمیں یقین ہے کہ علامہ محمد اقبال نے نہ صرف فتاویٰ عالمگیری کو مکمل طور پر پڑھا بلکہ اس کی روح کو سمجھا بھی ہوگا، یہی وجہ ہے کہ وہ عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور انہوں نے غازی علم الدینؒ کی شہادت پر تاریخی کلمات کہے، عدالت جن افراد کو معاونت کے لیے بلاتی ہے وہ ایسے قانونی معاملے پر اپنی رائے دیتے ہیں جس کی تعبیر میں بظاہر مشکل پیش آ رہی ہو، اس مقدمے میں جن حضرات کو معاونت کے لیے بلایا گیا، ان میں رفیق احمد باجوہ ایڈووکیٹ نے استغاثہ کی حمایت کی جبکہ باقی تمام معاونین نے قانونی نکتے پر اپنی رائے دینے کی بجائے مقدمے کے حقائق پر اپنی رائے دی اور فیصلے کا زیادہ تر حصہ ان معاونین کی رائے کے حوالے پر مبنی ہے۔ اب فیصلہ سامنے آ چکا ہے۔ ہمیں یہ توقع کرنی چاہیے کہ یہ فیصلہ جانچ پڑتال کی کسوٹی سے گزر کر ایسی شکل اختیار کر لے گا کہ عوام کے لیے حتمی فیصلہ قابل قبول ہو، ورنہ ہم نے تو یہ دیکھا ہے کہ اس ملک میں عدالتی فیصلوں کو عدالتی قتل کا نام دینے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا اور حکمرانی قانون کا ڈھنڈورا پیٹنے والے خود اس ملک کی عدالتوں کے فیصلوں کو متنازعہ بنانے اور عدالتوں کی ساکھ کو متاثر کرنے کے لیے غیر ممالک سے ماہرین قانون بلا کر مجمع لگاتے ہیں"

(ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی، ۸ مارچ ۱۹۹۵ء)

صفحہ 265

عدلیہ کا احترام کیجئے

عدالت عالیہ سے توہین رسالت کے ملزموں کی بریت پر موقر مسیحی جریدہ ماہنامہ ”شاداب“ فروری ۹۵ء رقم طراز ہے:

”عدالت عالیہ کے اس تاریخ ساز اور جرات مندانہ فیصلہ پر ملے جلے تاثرات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وہ حلقے جو ماتحت عدالت سیشن کورٹ کے فیصلہ پر اظہار مسرت کر رہے تھے۔ عدالت عالیہ کے فیصلہ پر مختلف اور منفی ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں“۔

یہ میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو کی ناروا روایتی پالیسی ہے۔ گزشتہ روز تک یہی عیسائی برادران اور ان کے ہمنوا سیشن کورٹ کے فیصلہ کے سخت خلاف تھے۔ نیشنل کونسل آف چرچز نے اس فیصلہ پر سخت تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا۔ پاکستان اقلیتی محاذ برائے مساوی حقوق کے مرکزی چیئرمین پطرس غنی کی طرف سے سزائے موت پر گہرے دکھ اور ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ بشپ عزرایا نے کہا کہ اس فیصلہ سے سخت دکھ پہنچا ہے اور سخت دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ بشپ الیگزینڈر جان ملک نے کہا اس سے مسیحی برادری میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔ انسانی حقوق کی ۲۹ تنظیموں نے اس فیصلہ پر ناخوشی ظاہر کی۔ جاوید اقبال نے اس سزا کو اسلامی اصولوں کے منافی قرار دیا۔ وزیر اعظم محترمہ بے نظیر زرداری کو حیرت اور دکھ ہوا۔ برطانیہ نے احتجاج کیا اور غیر ملکی پریس کے مطابق اس فیصلہ سے پاکستان کے قانونی نظام کے احترام کو دھچکا لگا اور بیرونی دنیا میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی۔

ادھر آج یہی عیسائی مسلمانوں کو وعظ و نصیحت کر رہے ہیں کہ

”عدالتی فیصلہ کو تسلیم کرنا ہی قانون و انصاف کی عملداری کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ بصورت دیگر انارکی اور لاقانونیت معاشرہ کا حصہ بن جائے گی“۔ (”شاداب“ ایضاً)

سوال یہ ہے کہ کیا سیشن کورٹ کا فیصلہ عدالتی فیصلہ نہیں تھا؟ کیا اس کے خلاف

صفحہ 266

مذکورہ مسیحی شور و غوغا ”قانون اور انصاف کی عملداری تسلیم“ کرنے سے انکار‘ انارکی اور لا قانونیت نہیں تھا؟

مسیحی مبصر نے بجا طور پر لکھا:

”افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ ہم عدالتوں سے بھی اپنی مرضی سے فیصلے حاصل کرنے کے متمنی ہوتے جا رہے ہیں۔ حالانکہ عدالتوں کو قانون و انصاف کے مطابق فیصلے کرنا ہوتے ہیں“۔ (ایضاً)

سیشن کورٹ کے فیصلہ پر ہمارا عندیہ یہی تھا اور اب بھی ہم مسیحی دوست کے ساتھ سو فیصد متفق ہیں کہ :

”یہ نہ تو کسی کے اظہار مسرت کرنے کا مرحلہ ہے اور نہ ہی کسی قسم کے منفی ردعمل کی کوئی گنجائش ہے“۔ (ایضاً)

اصول اچھا ہے۔ اب عیسائی مسلمانوں کو اس پر دعوت عمل دے رہے ہیں حالانکہ جب موقع تھا تو خود ان کا طرز عمل اس کے خلاف تھا۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنی درد بھری گزارشات کا خاتمہ مسیحیوں کو مسیح کے اس سوال کی طرف توجہ دلانے کے ساتھ کریں:

”تو کیوں اپنے بھائی کی آنکھ کے تنکے کو دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کے شہتیر پر غور نہیں کرتا؟ اور جب تیری اپنی ہی آنکھ میں شہتیر ہے تو‘ تو اپنے بھائی سے کیونکر کہہ سکتا ہے کہ لا تیری آنکھ میں سے تنکا نکال دوں۔ اے ریاکار پہلے اپنی آنکھ میں سے تو شہتیر نکال‘ پھر اپنے بھائی کی آنکھ میں سے تنکے کو اچھی طرح دیکھ کر نکال سکے گا“۔ (انجیل متی‘ ۷ : ۳ تا ۵)

(ماہنامہ ”المذاہب“ لاہور‘ اپریل ۱۹۹۵ء)

صفحہ 267

انصاف کا عمل نظر بھی آنا چاہیے

زیڈ اے سلہری

”توہین رسالت“ کے الزام میں دو عیسائیوں کے خلاف جو مقدمہ تھا‘ اس پر عدالت عالیہ نے جو فیصلہ دیا ہے‘ اس پر اس وجہ سے کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ عدالت کے سامنے جو شہادت پیش کی گئی‘ وہ ناکافی تھی اور گواہان ایسا ناقابل تردید مواد پیش نہ کر سکے جس سے مبینہ ملزمان کا جرم پوری طرح ثابت ہو جاتا۔ اس کے باوجود رائے عامہ سخت مضطرب ہے۔ اس کرب و اضطراب کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ لوگ اس نازک مذہبی مسئلے کے بارے میں اس قدر شدید جذبات رکھتے ہیں کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات اقدس پر ذرا سی انگشت نمائی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ اہل ایمان کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ صرف یہ کہ ایک کامل ترین ہستی ہیں جن کا اسوۂ حسنہ‘ ان کے لیے مکمل طور پر مشعل راہ ہے بلکہ آپ کی ذات پاک اہل ایمان کے لیے اس قدر محبوب ہستی ہے کہ جس کے قدموں پر ہدیہ جان پیش کرنا‘ ان کے لیے سب سے بڑی سعادت ہے۔ ایک مسلمان کا ایمان ہے کہ

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

لیکن عدالتی فیصلے کے بعد جو واقعات رونما ہوئے ہیں‘ وہ ان حالات کی وجہ سے ہیں جن میں مقدمے کی سماعت ہوئی۔

فروری کی تیرہ تاریخ کو وزیر اعظم نے ملک بھر سے کالم نویسوں کو اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر افطار اور عشائیے پر مدعو کیا۔ اس موقع پر متذکرہ صدر مقدمے پر سیشن کورٹ نے چار روز قبل جو فیصلہ سنایا تھا‘ اس پر بھی بات ہوئی۔ وزیر اعظم نے واضح الفاظ میں اس فیصلے پر اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ خاص طور پر انہیں اس بات پر تشویش تھی کہ یہ فیصلہ ایک نازک وقت پر ہوا ہے‘ تاہم ملک کے ممتاز صحافیوں نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ

صفحہ 268

وہ صرف ”تعجب اور تشویش“ کے اظہار پر ہی اکتفا نہ کریں بلکہ مغربی ذرائع ابلاغ اور وہاں کے سرکاری ترجمان، پاکستان کو بدنام کرنے کی جو مہم چلا رہے ہیں، اس کی روک تھام کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کریں۔ اس سے قبل میز کے سرے پر اپنی نشست کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے وزیراعظم سے شیخ رشید کو دی گئی کڑی سزا کا سوال اٹھایا تو انہوں نے ترنت جواب دیا کہ یہ عدالتی معاملہ ہے اور وہ عدالتی عمل میں مداخلت کو اچھا نہیں سمجھتیں۔ لیکن جب میں نے دیکھا کہ وزیراعظم پر اس بات کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ توہین رسالت کے مقدمے میں دی جانے والی سزا کا سختی سے نوٹس لیں اور وہ بھی ان مطالبات پر مثبت ردعمل کا اظہار کر رہی ہیں تو میں نے اس جانب حاضرین کی توجہ مبذول کرائی کہ چونکہ وزیراعظم اپنے اس موقف کا اظہار کر چکی ہے کہ وہ عدالتی کارروائی میں مداخلت پر یقین نہیں رکھتیں تو خاص اس مقدمے میں ان سے مداخلت کی استدعا کرنا اچھی بات نہیں۔ اس پر یہ بحث ختم ہو گئی تاہم اس بحث میں پڑنے والوں کا مقصد ضرور پورا ہو گیا کیونکہ پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر وزیراعظم کی اس ”تشویش“ سے جس کا اظہار انہوں نے مقدمے کے فیصلے کے بارے میں کیا تھا، پوری دنیا کو آگاہ کر دیا۔

اس کے باوجود وزیراعظم کے متذکرہ بیان سے اس پروپیگنڈے کے طوفان میں ذرا بھر کمی نہ ہوئی جو مغربی اخبارات اور ٹیلی ویژن نے پاکستان کے خلاف اٹھا رکھا تھا۔ چنانچہ ان ذرائع ابلاغ میں سیشن کورٹ کے فیصلے کو سخت ترین الفاظ میں ہدف تنقید بنایا گیا اور دنیا بھر کو اطلاعات فراہم کرنے والی اس مشینری نے اس فیصلے کو اہم ترین خبر کے طور پر نشر کیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ فیصلے کے نو دن کے اندر اندر اپیل کی سماعت کے لیے ایڈہاک ججوں پر مشتمل ہائی کورٹ کا ایک ڈویژن بنچ تشکیل دے دیا گیا۔ جس برق رفتاری سے یہ سب کچھ کیا گیا، اس سے یہ یاس انگیز تاثر ابھرا کہ عدلیہ دباؤ میں کام کر رہی ہے کیونکہ حکومت مغربی ممالک کو خوش کرنے کے لیے سخت بے تاب دکھائی دے رہی تھی۔ چنانچہ اس پس منظر میں عدالتی فیصلے کے منصفانہ ہونے کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔ بلاشبہ انصاف تو ضرور ہوا لیکن اس پر ایسی گہری دھند چھا گئی کہ انصاف ہوتا دکھائی نہیں دیا۔

بہرحال قابل توجہ مسئلہ مغربی ممالک کا ردعمل ہے۔ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ آیا ان مقدمات پر بھی جو برطانوی اور فرانسیسی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، اس قسم

صفحہ 269

کی شدید تنقید اور تند و تیز تبصروں کی اجازت ہے؟ کیا اگر وہاں ایسا ہوتا تو یہ توہین عدالت کے زمرے میں نہ آتا؟ ممکن ہے پاکستانی ذرائع ابلاغ مغربی سامعین کے جذبات کو متاثر نہ کرتے ہوں کیونکہ یہ ذرائع ان کی سمعی رسائی میں نہیں لیکن ہمارے ملک میں یہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہاں تو بی بی سی اور سی این این اپنی چٹخارے دار خبروں اور تبصروں کے ساتھ پوری طرح سرگرم عمل ہیں اور وہ یہاں کے سامعین کے دماغوں اور قوت فیصلہ کو بہرحال متاثر کرتے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ جب مغربی رائے عامہ توہین رسالت کے تصور سے ہی بالکل بے بہرہ ہے تو پھر اس مسئلے پر وہاں کے عوام کی رائے ہمارے لیے وقعت ہی کیا رکھتی ہے؟ اس کے برعکس پاکستان میں توہین رسالت کا جو قانون موجود ہے، اس کے قابل اصلاح اسقام سے قطع نظر، وہ ہمارے معاشرے کے لیے زبردست اہمیت کا حامل ہے کیونکہ مسلمانوں کے ایمان کا یہ تقاضا ہے کہ وہ تمام انبیاء علیہم السلام کا پورا پورا احترام کریں۔ یہ قانون صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے لیے نہیں، اس کا اطلاق تمام بانیان مذاہب پر ہوتا ہے جبکہ مغربی باشندوں کو ایسی کوئی مجبوری نہیں۔ وہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف بلا خوف و خطر توہین آمیز الفاظ بکے جاسکتے ہیں۔ مغربی اخلاقیات الحاد کی اس حد تک پہنچ گئی ہیں کہ وہاں یہ نعرہ کہ ”خدا مر چکا ہے“ (نعوذ باللہ) بغیر کسی مخاصمانہ ردعمل کے لگایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ایسی فضا میں مغربی ممالک میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر کیچڑ اچھالنا ایک مرغوب مشغلہ بن چکا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں اور اپنی جگہ صحیح سمجھتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک کو اسلام میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اور نعوذ باللہ اگر وہ اس مقدس محور کو جنبش دے سکے........ جیسا کہ وہ اس کی شدید خواہش رکھتے ہیں تو اسلام کی تمام عمارت ہی زمین بوس ہو جائے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ شروع سے ان کی کوشش یہی رہی ہے۔ ان کی لائبریریاں ایسی کتابوں سے اٹی پڑی ہیں جن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف زہر اگلا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسی رسوائے زمانہ شخصیتوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔

ایسے حالات میں مغربی ممالک سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ توہین رسالت سے متعلق پاکستانی عوام کے جذبات کا صحیح ادراک کر سکیں۔ مغربی ممالک کو تشویش اس بات پر نہیں کہ توہین رسالت کے قانون میں کوئی خاص سقم موجود ہے بلکہ ان ممالک کو تو

صفحہ 270

اس قانون کے اصل الاصول اور اس کی روح سے ہی اختلاف ہے کیونکہ اس کا خمیر اس بے پناہ محبت اور عقیدت سے اٹھا ہے جو مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ سے اور تمام انبیاء علیہم السلام سے رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ مسئلہ گویا تہذیبی تضاد اور عناد کا ہے۔ چنانچہ اس مقدمے میں جس چیز نے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے، وہ یہ ہے کہ اس مقدمے کی سماعت ایسی فضا میں ہوئی ہے جس کا مقصد مغربی ممالک کے رد عمل کو آسودگی بہم پہنچانا اور انہیں بہرصورت مطمئن کرنا تھا۔ یہ بلاشبہ ایک اچھا تاثر تو نہیں لیکن حالات نے اسے یہ رنگ دے دیا ہے۔ مزید برآں یہ نظر آتا تھا کہ مغربی ممالک کی خوشنودی ہی باقی تمام بنی نوع انسان کے لیے اخلاقی ضابطہ ہے۔ یہ تصور، نظریہ پاکستان کے سراسر خلاف جاتا ہے کیونکہ وطن عزیز کا تو وجود ہی اسلامی اقدار کا مرہون منت ہے۔ ہم پاکستان میں اسلام کا نفاذ آزاد خیال بن کر کریں یا اسے رجعت پسندانہ اقدام سمجھ کر کریں، آئینی طور پر ہم نفاذ اسلام کے پابند ضرور ہیں۔ جدید مادی دور میں اسلام کی بنیاد پر پاکستان کا قیام، عالم اسلام کی ایک واحد بڑی کامیابی ہے۔ قصور سارا ہمارے احساس کمتری کا ہے نہ کہ قوت فیصلہ کا۔ چنانچہ قومی آزادی اور وقار کا تقاضا تو یہ تھا کہ توہین رسالتؐ کا قانون جو ہماری مخصوص ساخت پر مبنی ہے، اسے بغیر کسی روک ٹوک کے اپنا راستہ بنانے کی اجازت دی جاتی۔ اور یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ ؎

در دل مسلم مقام مصطفیٰ است
آبروئے ما ز نام مصطفیٰ است

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور ۶ مارچ ۱۹۹۵ء)

صفحہ 271

انصاف کا دوہرا معیار

ڈاکٹر یسین رضوی

”قومی اخبارات میں ایک ہی روز صفحہ اول پر دو خبریں نمایاں انداز سے شائع ہوئی ہیں۔ پہلی خبر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی بے نظیر وزیراعظم نے حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کے مرتکب ہونے والے دو عیسائیوں کو سزائے موت دیے جانے پر مذمت کا اظہار کیا ہے اور ان کی سزا کو سخت قرار دیا ہے۔ دوسری خبر میں کہا گیا ہے کہ آکسفورڈ میں تعلیم یافتہ وزیراعظم نے شیخ رشید احمد کی سزا کے حوالے سے دیے گئے مختلف بیانات کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ توہین عدالت کے مرتکب ہونے والے افراد کے خلاف کسی قسم کی رعایت برتے بغیر کارروائی کی جائے گی۔

اس خبر کا ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ بھی اتنا ہی افسوسناک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم نے توہین رسالت کے مقدمے میں دی جانے والی سزا پر تبصرہ کر کے اور اس سزا کو ”سخت“ قرار دے کر بیک وقت دو قصور کیے ہیں۔ پہلا قصور تو یہ ہے کہ وہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت اور اس سے ہمدردی ظاہر کر کے خود بھی توہین رسالت کی مرتکب ہوئی ہیں۔ اگر ان کی نگاہ میں توہین رسالت کی کوئی بھی سزا سخت ہے تو وہ کھل کر یہ اعلان کیوں نہیں کرتیں کہ توہین رسالت کا قانون غلط ہے اور اس کو منسوخ کرایا جائے گا۔

قارئین یہ بات بھولے نہیں ہوں گے کہ جولائی ۱۹۹۴ء میں پی پی پی کے سابق وزیر قانون سید اقبال حیدر بھی توہین رسالت کو ”وحشیانہ“ قرار دے کر منسوخ کرنے کا اشارہ دے چکے ہیں اور انہوں نے یہ اشارہ اس وقت دیا تھا جب وہ وزیراعظم کے ہمراہ برطانیہ کے دورے پر تھے۔ وزیراعظم تو واپس آگئی تھیں مگر اقبال حیدر اپنے اس بیان پر شاید شاباش وصول کرنے لندن میں رک گئے تھے اور پاکستان میں ان کے بیان پر خاصی لے دے ہوتی رہی۔ پھر اقبال حیدر نے وطن واپس آکر ٹی وی کیمروں کے سامنے پوری قوم

صفحہ 272

سے غلط بیانی کی کہ انہوں نے لندن میں ایسا کوئی بیان نہیں دیا اور یہ کہ حکومت توہین رسالت کا قانون تبدیل یا ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ وزیراعظم کا دوسرا قصور یہ ہے کہ انہوں نے قانون کے تحت قائم شدہ ایک اعلیٰ عدالت کے جج کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا کر خود بھی توہین عدالت کی ہے اور توہین عدالت کی جس ”سخت“ سزا کی دھمکی حکومت، اپوزیشن اور بعض صحافیوں کو دے رہی ہے، سب سے پہلے اس کی گرفت میں خود آتی ہے۔ ظاہر ہے کہ پی پی پی کے ہاں انصاف کا دوہرا معیار ہے۔ جب اس کے کارندے یا رہنما کوئی جرم کرتے ہیں تو وہ حب الوطنی اور جمہوریت کے زمرے میں شمار کر لیا جاتا ہے مگر جب کوئی مخالف شخص وہی جرم کر لے یا اس کے کھاتے میں ڈال دیا جائے تو اسے جج کے حوالے کر کے سزا دلوا دی جاتی ہے۔

اس طرز عمل کی دو حالیہ مثالوں کا ذکر بے حد ضروری ہے۔ پہلی مثال یہ ہے کہ ٹی وی پر ایک سو بیس روپے فی منٹ کے حساب سے بھاشن دینے والے ایک گول مٹول صحافی کا بیٹا چند ماہ قبل اخباری اطلاعات کے مطابق ایک سرکاری افسر کی کار چھیننے اور متعلقہ جرائم کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے فوراً بعد اس کی ضمانت بھی ہو گئی اور چند روز کے اندر اندر پولیس نے ”عدم ثبوت“ کی بناء پر کیس خارج بھی کر دیا۔ اس کے برعکس جب چودھری شجاعت حسین کی ضمانت سپریم کورٹ سے ہو گئی تو ایف آئی اے نے انہیں جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار کر کے گویا سپریم کورٹ کو واضح پیغام دے دیا کہ ہمیں آپ کے مقام اعلیٰ اور اختیارات کی نفی کرنی خوب آتی ہے۔

دوسری مثال یہ ہے کہ پی پی پی پنجاب کے سب سے بڑے جیالے جہانگیر بدر کے حقیقی بھائی امجد بدر کو چند ماہ قبل رنگے ہاتھوں ڈکیتی کے کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی امجد بدر کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہو گیا اور امجد بدر نے ڈاکے میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کر لیا۔ تاہم چند روز کے اندر اندر پولیس نے پی پی پی کی انصاف پسند حکومت کی براہ راست ہدایات پر امجد بدر کو مقدمے سے بری کرا لیا اور اب امجد بدر رنگے ہاتھوں اسلحہ سمیت پکڑے جانے کے باوجود آزاد گھوم رہا ہے۔ اس کے برعکس جیل میں نظربندی کے دوران پولیس نے شیخ رشید احمد کی لال حویلی پر وارنٹ کے بغیر چھاپہ مارا اور وہاں سے ایک کلاشنکوف ”برآمد“ کی تو اسی پنجاب کی پولیس نے ان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ قائم کر کے جج صاحب سے سات سال کی سزا دلوا دی۔

کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں؟
صفحہ 273

معاملہ توہین رسالتؐ کا ہو یا توہین عدالت کا، دہشت گردی کا ہو یا تخریب کاری کا‘ ڈکیتی کا ہو یا فراڈ اور غبن کا۔ پی پی پی کے معیار دوہرے ہیں۔ میں انہی کالموں میں عرض کر چکا ہوں کہ پی پی پی کے انصاف کا مجسمہ کانا ہے جو ایک آنکھ سے اپوزیشن کے تمام ”گناہ“ دیکھ لیتا ہے مگر بند آنکھ سے اپنے لوگوں کا کوئی گناہ بھی نہیں دیکھ سکتا۔ پی پی پی ایک غلط روایت کو زندہ کر رہی ہے۔ یہ روایت جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے شروع ہوئی تھی اور اب اسے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس روایت کو پی پی پی کے اپنے مستقبل کے لیے مثال کے طور پر استعمال کیا جائے گا اور جب پی پی پی اقتدار سے محروم ہو گی تو اس کے صف اول کے رہنما بھی اسی روایت کا شکار ہوں گے۔ اس بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ حکومت قصداً اپنے ساتھیوں کے لیے مستقبل میں جیلوں کے دروازے کھلوا رہی ہے۔

عدیم ہاشمی کا یہ شعر اس تمام صورت حال کی تفسیر ہے۔؎

خنجر بکف گروہ غلاماں ہے منتظر
آقا کبھی حصار سے باہر تو آئیں گے

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور ۲۲ جنوری ۱۹۹۵ء)

صفحہ 274

کچھ تو خدا کا خوف کیجئے

صاحبزادہ خورشید گیلانی

”قارئین کو یاد ہوگا کہ چند ماہ پہلے قانون انسداد توہین رسالتؐ پر حکومت اور اسلامیان پاکستان کے درمیان خاصا تنازعہ رہا اور اس وقت کے وزیر قانون نے حکومت کی رسوائی کا سامان کیا تھا‘ کابینہ قانون میں ترمیم کا بل منظور کر چکی تھی اور اسے باقاعدہ اسمبلی میں لے جانے کا پروگرام مرتب ہو چکا تھا لیکن عین وقت پر اسلامیان پاکستان کی گرفت سے حکومت کو ہزیمت اٹھانا پڑی اور بعد از بسیار خرابی حکومت کو عوامی جذبات کے آگے سرنڈر کرنا پڑا‘ اور اس معاملے کا سب سے منفرد پہلو یہ تھا کہ اس میں کسی نوعیت کی ”سیاست“ کو داخل نہیں ہونے دیا گیا تھا اور اپوزیشن کی خواہش اور کسی حد تک کوشش کے باوجود اس مسئلے میں اسے دخل دینے کا موقع نہیں دیا گیا‘ اور خالصتاً قانونی اور دانشورانہ سطح پر حکومت کو قائل کیا گیا کہ اس کی اپروچ بودی‘ نقطہ نظر لغو‘ اور استدلال انتہائی کمزور ہے۔ اس وقت جب یہ مسئلہ عروج پر تھا تو رحمت مسیح اور سلامت مسیح کا کیس عدالت کے زیر سماعت تھا‘ اور اس کیس کا ہر طرف چرچا تھا حتیٰ کہ گوجرانوالہ کے انتہائی چھوٹے اور پسماندہ قصبے ”کوٹ لدھا“ کی مضافاتی بستی ”رتہ دھوتر“ میں رونما ہونے والے توہین رسالتؐ کے واقعہ پر یہاں کی مسیحی برادری کے مقابلے میں برطانیہ کے اعلیٰ حکام اور امریکہ کے قونصل جنرل کو سب سے زیادہ تشویش تھی اور بی بی سی‘ اس کیس کو بین الاقوامی ایشو کے طور پر برابر نشر کیے چلا جا رہا تھا‘ گوجرانوالہ کی عدالت میں امریکی اور برطانوی افسران پہروں موجود رہتے‘ جن افسروں کو لاہور کے مال روڈ پر چلتے ہوئے ہر وقت موچ آ جانے کا ڈر رہتا ہے‘ وہی نازک اندام گوجرانوالہ کی کھنڈر نما سڑکوں پر ہنسی خوشی چلتے پھرتے دکھائی دیتے۔

یہی وہ کیس ہے جس کا فیصلہ چند روز پہلے ہوا اور ملزموں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی‘ اور اسی فیصلے پر وزیراعظم پاکستان تڑپ اٹھی ہیں۔ اور انہیں شدید ذہنی صدمہ اور

صفحہ 275

ماتم ہر محب رسول اور امت رسول کا جذبہ ہے! وزیراعظم کے تبصرے پر بہت زیادہ رنج پہنچا ہے اور اسے یقین نہیں آ رہا کہ یہ تبصرہ اور ردعمل اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کا ہے، اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ فیصلہ وزیراعظم پاکستان کو اس درجے کے فیصلے پر اپنا ردعمل اتنی جلد ظاہر کرنے اور بیان دینے کی کیا ایمرجنسی تھی؟

ہمارے خیال میں محترمہ کے تڑپ اٹھنے کے کئی نفسیاتی اور سیاسی اسباب ہیں، ایک یہ کہ وزیراعظم لاکھ دوپٹہ اور تسبیح سر پر اوڑھ اور ہاتھ میں تھام کر رکھیں، آخر ہیں تو مغربی اداروں کی تعلیم یافتہ مغربی کلچر کی دلدادہ۔ جس کے آداب و اطوار زندگی جدا، عقیدت و محبت کے تشکیلی عناصر مختلف، بنیادی انسانی حقوق کا تصور اور معیار الگ، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تصور دین بالکل منفرد! اب ایسے میں وہ لاکھ اردو میں بولیں مگر سوچتی تو انگریزی میں ہیں، انگریزی خیالات کا بھلا ”دیسی جذبات“ سے کیا جوڑ؟

دوسرے یہ کہ آج کل مسلمان حکمرانوں کو جو ”بنیاد پرست“ کا آسیب چمٹا ہوا ہے اور جس سے جان چھڑانے کی بے محابا کوششیں ہو رہی ہیں، یہ ردعمل بھی اسی آسیب زدگی کا شاخسانہ ہے، کہ ہائیں توہین رسالت جیسا معمولی جرم اور سزائے موت جیسی سخت سزا، یہ تو نری بنیاد پرستی ہے، اور ہم ٹھہرے بنیاد پرستی کے کٹر دشمن،

تیسرے یہ کہ جب ہم ذہنی اور فکری طور پر تسلیم کر چکے ہیں کہ ہمارا مدار تمدن اور معیار تہذیب، یورپ ہے تو خوب و زشت کے پیمانے ہمارے پاس نہیں، یورپ کے پاس ہیں جن پر ہم ہر چیز کو پرکھتے ہیں، تو لامحالہ جو رجحان، جو اپروچ، جو نظریہ اور جو بات، یورپ کو ناپسند ہے، ہم اسے کیوں کر پسندیدہ قرار دے سکتے ہیں؟ چونکہ اس قانون اور اس کیس کو شروع دن سے امریکہ اور برطانیہ نے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے، اس لیے بیگم صاحبہ کی مجبوری ہے کہ وہ بھی اسے کراہت کی نگاہ سے دیکھیں، اور اس کراہت کا کھلے عام اظہار بھی کریں تاکہ یورپ کا محترمہ کے ”بنیاد پرست“ ہونے کا معمولی سا شبہ اور شائبہ بھی دور ہو جائے۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں اس حیرت کا اظہار کیا ہے کہ چودہ سالہ بچے کو سزا سناتے ہوئے اقوام متحدہ کے اس چارٹر کا خیال نہیں رکھا گیا جس پر پاکستان دستخط کر چکا ہے، سوال یہ ہے کہ یو این او کے چارٹر کا ہمیں تو بہت خیال اور لحاظ ہے، حالانکہ انہی ۱۷

صفحہ 276

کی توثیق اور تنقید میں بہت سے مراحل باقی ہیں، لیکن یو این او کو اپنا چارٹر اس وقت کیوں بھول جاتا ہے کہ جب بوسنیا اور کشمیر میں چودہ سال کے نہیں، جھولا جھولتے اور دودھ پیتے بچے آتش و آہن کے جہنم میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔ وہاں اقوام متحدہ کے چارٹر کی بے حرمتی اور خلاف ورزی کا کسی کو کیوں خیال نہیں آتا؟ اور یہ سوال بھی بہر حال اہم ہے کہ یو این او کو عام انسانوں کے بنیادی حقوق کا تو خیال ہمیشہ رہا، انسانی جمعیت کے مقدس ترین نفوس اور برگزیدہ شخصیات انبیاء کرام کی حرمت اور ناموس کا کیوں خیال نہیں رہتا؟

ملعون رشدی کے حقوق تو یورپ کو ملحوظ خاطر ہیں، ناموس پیغمبر کا پاس و لحاظ کیوں نہیں؟ دراصل وزیراعظم نے اتنی عجلت میں ردعمل اس لیے ظاہر کیا ہے کہ وہ امریکہ کا دورہ کامیاب بنانا چاہتی ہیں، وہ نہیں چاہتیں کہ وہ امریکہ میں قدم رکھیں اور ان کے چہرے پر ”بنیاد پرستی“ کا داغ ہو۔

ہم قرآن و حدیث کی بات نہیں کرتے اور نہ ان سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ یہ ”حرکت“ پھر بنیاد پرستی کی ذیل میں آ جائے گی، اگرچہ قرآن مجید میں واضح ہے کہ یہود و نصاریٰ کبھی بھی اسلام اور اہل اسلام کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے، پھر بھی ہم قرآن کی نہیں امریکی دوستی کے برس ہا برس کے تجربے کی بات کرتے ہیں کہ امریکہ کبھی کسی سے خوش نہیں ہوتا تا آنکہ کوئی زینہ بہ زینہ نیچے اترتے ہوئے غلامی کی دہلیز پر کھڑا نہ ہو جائے۔ اور یہ تو سب کو معلوم ہے کہ غلام کے ساتھ معاملہ دوستی کا نہیں بلکہ اس سے مطالبہ بندگی کا ہوتا ہے، تو آخر ہماری وزیراعظم خود کو اور پوری پاکستانی قوم کو بندگی کے مقام پر کیوں کھڑا کرنا چاہتی ہیں۔

اس نفسیاتی خوف کا کوئی علاج نہیں کہ دنیا کیا کہے گی؟ مغرب کیا سمجھے گا؟ فی الواقع ہمیں دنیا کے سخت تبصروں سے بچنا چاہیے، اس کے طعنوں سے بھی ڈرنا چاہیے، لیکن ان تبصروں اور طعنوں کا شدید احساس ہمیں صرف دینی فیصلے کے وقت کیوں لاحق ہوتا، آگے پیچھے ان تبصروں اور طعنوں پر ہم کیوں نہیں چونکتے؟

کیا یہ مشہور عالم تبصرے ہمارے بارے میں نشر نہیں ہوتے اور یہ طعنے ہمیں نہیں دیے جاتے کہ پاکستانی حکومت آرمی چیف کے تسموں سے بندھی ہوتی ہے؟ یہ معمولی طعنہ ہے کہ پاکستان کی حکومت تین سو کروڑ روپے میں خریدی جاسکتی ہے اور یہ طعنہ بھی ہمارا دل چھلنی کر دیتا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس سیاسی سٹاک ایکسچینج بنا رہتا ہے، ہمارے بارے میں

صفحہ 277

یہ تبصرہ کہ پاکستان کو جمہوریت راس ہی نہیں آتی، وغیرہ۔ ان تبصروں پر ہمیں نہ کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے اور نہ ان کے ازالے کی ہم کوشش کرتے ہیں۔

ہماری محترمہ سے صرف اتنی گزارش ہے کہ وہ سو بار امریکہ کو آنکھوں پر بٹھائیں، ہزار بار یورپ کو معیار تہذیب بنائیں لیکن ایک بار خدا کا بھی خوف کھائیں، مانا کہ امریکہ انہیں اقتدار کی ضمانت فراہم کرتا ہے، یورپ انہیں آداب سیاست سکھاتا ہے لیکن بالآخر کسی کی ضمانت اور کسی کی سکھائی پڑھائی کام نہیں آئے گی، خدا کی رحمت اور رسولؐ کی شفاعت کام آئے گی،

آدمی کو اتنا روشن خیال بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ایمان کے لیے وبال بن جائے۔

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۲۳ فروری ۱۹۹۵ء)

صفحہ 278

بے نظیر‘ توہین رسالت ﷺ اور علماء کرام

پروفیسر کریم بخش نظامانی

”پاکستان میں سیکولرازم اور دینداری کی جدوجہد روز اول ہی سے جاری ہے۔ کبھی سیکولر طبقے کا پلڑا بھاری رہا ہے اور کبھی دینداروں کا۔ اب کے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیکولرازم نے بازی جیت لی ہے اور مسز بے نظیر بھٹو میدان میں کھڑی للکار للکار کر فرما رہی ہیں۔ ”کون ہوتا ہے حریف مئے مرد افگن عشق“ اور دینداری کے چمپئن منقار زیر پر‘ چپ سادھے ہوئے ہیں۔

شاتم رسولؐ کے خلاف سزائے موت تجویز کرنے پر مسز بے نظیر نے کسی اچھے ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ فرماتی ہیں۔

”ملک کے 12 کروڑ عوام ناموس رسالتؐ کی حفاظت خود کر سکتے ہیں۔ حکومت نے ناموس رسالتؐ کے سلسلہ میں سزائے موت کا قانون پیش کر کے ملک کو بنیاد پرستوں کی ریاست بنانے کی سازش کی ہے جو کہ بنیادی طور پر قائد اعظم کے نظریات کے خلاف ہے اور عوام کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ گواہوں اور شہادتوں کی بناء پر شان رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے والے کو سزا دینا اس لیے معنی نہیں رکھتا کہ ہمارے ملک میں تو ارکان پارلیمنٹ تک کو خرید لیا جاتا ہے اس صورتحال میں کرایہ کے گواہوں کی موجودگی میں انصاف کی توقع نہیں کی جا سکتی۔“

(روزنامہ جنگ کراچی 15 اگست 1992ء)

یہ بیان اتنا واضح ہے کہ اس کے دو مطلب نہیں نکالے جا سکتے۔ لیکن اس پر کسی تبصرہ سے پہلے میں شاتم رسولؐ کے متعلق سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے ایک صریح فیصلہ کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے بہت ہی سخت اقدام کیا۔ کندہ‘ یمن کے متصل واقع ہے۔ یمن میں جب اسود عنسی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو کندہ والوں نے بھی اس کی دعوت پر لبیک کہا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے وہاں بھی اپنی فوجیں روانہ فرمائیں۔ اشعث بن قیس نے کندہ اور حضر موت میں بغاوت کی آگ

صفحہ 279

بھڑکائی۔ حضرت ابو بکرؓ کے سالار زیاد نے مہاجر ابن ابی امیہ کو فوراً کندہ روانہ کیا۔ ادھر عکرمہؓ حضرموت میں کامیاب آپریشن فرما رہے تھے۔ ان دونوں حضرات نے سخت کارروائیوں کے بعد اپنے اپنے علاقوں میں منکرین ختم نبوت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور امن قائم ہو گیا۔ کندہ میں دو گانے والیاں تھیں، ایک مغنیہ اپنے اشعار میں رسول ﷺ کو (نعوذ باللہ) گالیاں دیا کرتی تھی (ثُمّ نعوذ باللہ من ذالک) اور دوسری مغنیہ مسلمانوں کی ہجو کرتی تھی۔ مہاجر بن ابی امیہ نے دونوں گانے والیوں کے ہاتھ کاٹ دیئے اور اگلے دانت نکلوا دیئے۔ جب سیدنا ابو بکرؓ کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انھوں نے مہاجر کو خط لکھا جس میں ان کی غلطیاں واضح کیں۔

ثانی اثنین ابو بکر صدیقؓ نے اپنے خط میں لکھا۔

”جو مغنیہ رسول ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی، اسے قتل کرنا ضروری تھا کیونکہ شان رسالت مآب ﷺ اور انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرنے والے (شاتم انبیاء) کی سزا دوسری سزاؤں سے مشابہ نہیں ہو سکتی۔ دوسری مغنیہ جو مسلمانوں کی ہجو کیا کرتی تھی، اگر وہ ذمی (غیر مسلم) تھی تو اس سے درگزر کرنا مناسب تھا۔“

(بحوالہ ابو بکر صدیقؓ۔ از محمد حسین ہیکل)

ثانی اثنینؓ کا یہ فیصلہ (فتویٰ) بار بار پڑھئے اور اگر ہمت ہے تو ان پر ”بنیاد پرست“ اور ”ملائیت“ کی پھبتی کس کر دیکھئے۔ ملک کے 12 کروڑ عوام دن کے تارے دکھلا دیں گے۔

اب قائد حزب اختلاف کے بیان کی جانب آتے ہیں۔ فرماتی ہیں کہ ملک کے 12 کروڑ عوام خود ہی کسی شاتم رسولؐ کی چمڑی ادھیڑ دیں گے۔ اس سلسلہ میں کوئی قانون بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ (میں نے ان کے بیان کا بین السطور مطلب یہی سمجھا ہے) گویا دوسرے مجرمین کو تو ریاست ہی سزا دے لیکن شاتم رسولؐ کو نہیں۔ کسی بھی جرم کے سلسلہ میں سزا کا اختیار ریاست (یا اس کی نمائندگی کرنے والی حکومت) سے چھین کر ”عوام“ کے ہاتھ میں دینا نراجیت، انارکی نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا مسز بے نظیر اس ملک میں وہی صورتحال پیدا کرنا چاہتی ہیں جو انقلاب فرانس کے دوران ”فال آف بسٹائیل“ کے بعد پیرس شہر میں پیدا ہو گئی تھی کہ سرراہ ”عوامی عدالتوں“ کے ذریعے لوگوں کی گردنیں ”مقدس کلہاڑوں“ (ہولی گلوٹن) سے کاٹی جاتیں تھیں؟ خدانخواستہ اگر یہاں ایسی صورتحال پیدا ہو گئی (اور میں نہایت سنجیدگی سے کہتا ہوں کہ ہم اس جانب

صفحہ 280

تیزی سے رواں دواں ہیں) تو ہمارے دشمن ورڈز ورتھ کا یہ گیت گنگنائیں گے کہ Bliss was it in that dawn to be alive To be young was very heaven ”اس صبح درخشاں میں صرف زندہ ہونا ہی ایک نعمت تھی اور جوان ہونا تو گویا جنت ہی میں رہنا تھا۔“

محترمہ مزید فرماتی ہیں کہ مسلمانوں کے آقا ﷺ کی شان مبارک کی حفاظت کر کے ”ملک کو بنیاد پرستوں کی ریاست بنانے کی سازش“ کی جا رہی ہے۔ سیکولرسٹوں اور دینداروں کی جنگ کے دوران اول الذکر طبقے نے تین الفاظ کو نہایت ہی کامیاب ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے یعنی فرقہ پرستی‘ مُلائیت اور بنیاد پرستی۔ تقسیم ہند سے پہلے جب مسلم عوام ”پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ“ کا نعرہ لگاتے‘ تو کانگریس کی طرف سے ”فرقہ پرست“ کا تیر چلایا جاتا۔ پاکستان بننے کے بعد جب اسلامی آئین اور اسلامی نظام زندگی اور حکومت الٰہیہ کے مطالبات کئے گئے تو جواباً ”سیکولر طبقے کی طرف سے“ مُلائیت‘ تنگ نظر ملا“ کی گولیاں برسائی گئیں اور جب یہ ہتھیار کار آمد نہ رہے تو اب یہودی لابی کی طرف سے ”بنیاد پرست“ کا بم تحفتاً ”مسلم دنیا کے سیکولرسٹوں کو موصول ہوا ہے اور محترمہ بے نظیر بھٹو دونوں ہاتھوں سے یہ بم‘ نواز حکومت پر پھینک رہی ہیں اور تمام دینی جماعتوں کے قائدین اس لیے خاموش ہیں کہ مسلم لیگی حکومت کی درگت بن رہی ہے۔ حتیٰ کہ مولانا فضل الرحمٰن‘ مولانا شاہ احمد نورانی اور محترم قاضی حسین احمد صاحب نے بھی بے نظیر صاحبہ کے بیانات کا نوٹس نہیں لیا۔

غنی روز سیاہ پیر کنعاں را تماشا کن
کہ نور دیدہ اش روشن کند چشم زلیخا را

پاکستان کے مسلمانوں کو یاد ہو گا کہ ذوالفقار علی بھٹو‘ ایوب خان کو چھوڑ کر جب حزب اختلاف میں آگئے تو اس وقت مولانا مودودی‘ مولانا احتشام الحق مرحوم‘ مولانا نورانی (جو نئے نئے سیاسی اسٹیج پر آئے تھے) اور کئی دوسرے علماء بھی حزب اختلاف کے ساتھ تھے۔ لیکن جب بھٹو نے سوشلزم کا نعرہ لگایا تو تمام علمائے حق نے ڈٹ کر بھٹو مرحوم کی مخالفت کی اور اس بات کی کوئی پروا نہیں کی کہ ان کے اس طرز عمل سے ایوب خان کے ہاتھ مضبوط ہوں گے‘ اس لیے کہ ان بزرگوں کو ”حزب اختلاف کے مفادات“ سے ”اسلام کا مفاد“ عزیز تھا۔ مولانا مودودی تو سوشلزم کے مخالفین کے

صفحہ 281

گویا سالار اعلیٰ تھے۔ ”ہم دس محاذوں پر لڑیں گے۔ ہم آمریت سے بھی لڑیں گے اور سوشلزم سے بھی، جب تک ہمارے جسموں پر سر موجود ہیں، یہاں سوشلزم نہیں آ سکتا، یہ ملک، امت محمدیہ کا ہے، ماؤ کی امت کا نہیں ۔“

یہ بیان (جس کا میں نے صرف مفہوم بیان کیا ہے) مولانا مودودی ہی کا ہے اور آج جب مسز بے نظیر صاحبہ شریعت کو سپریم لا ماننے سے انکار کرتی ہیں اور ناموس رسالتؐ کی حفاظت کے لیے تجویز کردہ قانون کو ”بنیاد پرستوں کی سازش“ قرار دیتی ہیں تو سوشلزم کے مقابلہ میں ڈٹ جانے والے علماء کے جانشینوں کی خاموشی پر دل خون کے آنسو روتا ہے اور زبان پر بے ساختہ اقبال کا یہ مصرع آ جاتا ہے کہ

”زاغوں کے تصرف میں ہے عقابوں کے نشیمن“

مسز بے نظیر کے مذکورہ بالا بیان میں یہ بھی ہے کہ شہادتوں کی بناء پر شان رسالت میں گستاخی کرنے والے کو سزا دینا اس لیے معنی نہیں رکھتا کہ ہمارے ملک میں تو ارکان پارلیمنٹ تک کو خرید لیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں کرایہ کے گواہوں کی موجودگی میں انصاف کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس صورتحال میں تو پورے پینل کوڈ پر خط تنسیخ پھیر دیجئے۔ پھر ڈاکوؤں اور چوروں کے لیے یہ سزائیں کیوں؟ قاتلوں اور رہزنوں کے لیے پھانسی اور جیل کیوں؟ منسوخ کر دیجئے پینل کوڈ کی دفعہ 302 کو، یورپ اور امریکہ بھی خوش ہو جائیں گے اور قاتل بھی آپ کے ورکر بن جائیں گے۔ کرایہ کے گواہوں کی موجودگی کے باوجود چوری، ڈاکے، رہزنی اور زنا بالجبر کے مجرمین کی سزاؤں پر تو کوئی اعتراض نہیں۔ صرف ”بیچارہ“ شاتم رسولؐ ہی ایسا لاڈلا ٹھہرا جس کو کچھ نہ کہا جائے !!

ناطقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہئے !

ہمارے سیاستدانوں کے پاس نہ تو اتنا وقت ہے اور نہ ہی ان کا یہ ذوق ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد کی تاریخ ہی پڑھ لیتے۔ مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ آج مجھے دینی رہنماؤں کو متوجہ کرنے کے لیے الفاظ لکھنے پڑ رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے ان بیانات کے خلاف پورے ملک میں ایک احتجاج اٹھ کھڑا ہوتا جس میں خود پیپلز پارٹی والے بھی شریک ہوتے۔ لیکن یہاں تو دینی و سیاسی جماعتوں کے سربراہان تک خاموش ہیں۔ اس کے برعکس آج سے ٹھیک 61 سال پہلے جب ہم غلام تھے، اس شہر کراچی میں زعیم ملت مولانا محمد علی جوہرؒ ، انگریز جج کی آنکھوں میں آنکھیں

صفحہ 282

ڈال کر فرماتے ہیں کہ:

"اگر مسلمانان ہند کے پاس حکومت (برطانیہ) سے مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ موثر قوت ہوتی تو وہ اسلامی قانون کے مطابق، آج حکومت کے خلاف اعلان جہاد کر دیتے، اگر وہ مسلمان بن کر رہنا چاہتے اور پھر ہمارے اس تنازعے (مقدمہ) کا تصفیہ خالق دینا ہال کے بجائے کسی اور جگہ ہوتا۔" (یاد رہے کہ مولانا جوہر اور ان کے ساتھیوں پر 1921ء میں بغاوت کا مقدمہ خالق دینا ہال کراچی ہی میں چلایا گیا تھا)۔

مولانا کے انگریزی الفاظ کا زور بیاں ترجمہ میں برقرار رکھنا میرے ایسے غیر اہل زبان کے لیے بہت ہی مشکل ہے۔ ضروری ہے کہ صرف منہ کا ذائقہ بدلنے کی خاطر مولانا کے اصل الفاظ بھی پیش کئے جائیں۔

"If Indian Muselmans had more effective force at their command to try conclusions with government, they would have been obliged today, by the Islamic law, If they chose to remain Musalmans, to declare Holy War against it, and this dispute of ours would have been in the course of settlement in a very different place from the Khalq-dina Hall."

(مقدمہ کراچی ۔ صفحہ 63)

مقدمہ کے چوتھے دن جیوری سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہیں "مجھے اپنے دفاع میں کچھ نہیں کہنا (ص 215) لیکن صاف صاف معاملہ Pointed Issue یہ ہے کہ برطانیہ کی رعایا کے لیے خدا کا قانون زیادہ اہم ہے یا انسانی قانون؟ (ص - 216)

اب میں بھی واضح الفاظ میں عرض کرتا ہوں کہ پاکستان کے 12 کروڑ عوام کے لیے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا مذکورہ بالا فیصلہ (فتویٰ) زیادہ اہم ہے یا حزب اختلاف کی لیڈر کا بیان؟

(روزنامہ جنگ لندن 22 اگست 92ء)

صفحہ 283

ہوا کے لب پہ اگر اسم حضورؐ آجائے

خالد سلطان

”نماز تراویح سے فارغ ہو کر مسجد سے نکل رہا تھا کہ مسجد کے دروازے پر ایک نورانی صورت، سفید ریش بوڑھے نے میرا بازو تھام کر پوچھا ”تم خالد سلطان ہو؟“

”جی جناب!“ میں نے عرض کیا۔

بوڑھا مجھے مسجد کے ایک کونے میں لے گیا جہاں ہم چٹائی پر بیٹھ گئے۔ کوٹ کی اندرونی جیب سے انہوں نے کاغذ کا پرزہ نکال کر اس پر لکھا ہوا نعتیہ کلام پڑھنا شروع کیا۔

ہوا کے لب پہ اگر اسم حضورؐ آ جائے
خزاں رسیدہ درختوں پہ نور آ جائے
میں اپنے آپ کو اونچا سمجھنے لگتا ہوں
اگر مدینے سے اک بھی کھجور آ جائے
تیرے خیال میں وہ رفعتیں ملیں ہم کو
قدم زمیں پہ رہے آسماں کو چھو آئے

وہ جوں جوں سناتے رہے، ان کی آواز کا اتار چڑھاؤ تبدیل ہوتا رہا، حتیٰ کہ بوڑھے کی توانا آواز ٹوٹ گئی، ان کی ہچکی بندھ گئی اور پھر میرے کاندھے کو زور زور سے جھٹکے دے کر پوچھنے لگے ”تم اتنے بے حس اور بے غیرت کیوں ہو گئے، توہین رسالت کے دو غیر مسلم مجرموں کو جس طرح ہمارے وطن میں خصوصی اور شاہانہ سلوک کا مستحق سمجھا گیا، تم بھی اس پر ابھی تک خاموش ہو، تمہارے قلم کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے، تمہاری ساری برادری (صحافی) خاموش ہے، پوری قوم خاموش ہے؟“ بڑے میاں نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے، دھاڑیں مار مار کر فریاد کرنے لگے۔

”اے خدایا! ہمیں کوئی مسیحا، کوئی نجات دہندہ نہیں چاہیے، عذاب الہی چاہیے، عذاب الہی، یا اللہ ہم تیرے عذاب کے انتظار میں ہیں، اسے بھیج، جلدی بھیج کہ اب ہم

صفحہ 284

اس کے مستحق ہیں۔"

میرے پاس اس عاشق رسولؐ کے لیے تسلی اور دلجوئی کا کوئی لفظ نہیں تھا۔ میں بھی اپنے آپ کو بے حسوں اور غیرت سے عاری لوگوں کے قبیلے کا ایک فرد سمجھ رہا تھا۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا جیسے اقبال، عطااللہ شاہ بخاری، شورش کاشمیری مرحوم اور غازی علم الدین شہید یہیں نہیں، کہیں اور پیدا ہوئے تھے۔ قدرے توقف کے بعد انہوں نے خود کو سنبھالتے ہوئے جیب سے قلم کاغذ نکالا اور میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے تحکم پدری کے انداز میں گویا ہوئے ”لکھو! لکھو! لکھو! ایک شخص جو اللہ اور رسولؐ کا نام لیوا ہے، اسے پوری ریاستی مشینری اور قوت کے بل بوتے پر ایک کیس میں سات سال کے لیے جیل میں ٹھونسا گیا، اعلیٰ عدالت میں اس کی اپیل کا ابھی نام و نشان بھی نظر نہیں آ رہا، جرم اس کا یہ تھا کہ وہ پاکستان کے نازک حکمرانوں کے بارے میں توہین آمیز گفتگو کیا کرتا تھا، ہاں ہاں! دین سے بیگانے حکمرانوں کے بارے میں، مگر دو عیسائی جنہوں نے توہین رسالت مآبؐ کا ارتکاب کیا، انکے دفاع میں نہ صرف سکینڈے نیویا سے لے کر امریکہ اور برطانیہ تک سارے عیسائی اکٹھے ہوئے بلکہ پاکستان کی پوری حکومت بھی انہیں بچانے اور نوازنے کے لیے میدان کے اندر کود پڑی۔ اعلیٰ عدالت میں دونوں کی اپیل بھی داخل ہوئی، سماعت بھی مکمل ہوئی اور بری بھی ہوئے اور اس پوری کارروائی میں مہینہ بھی نہ لگا اس لیے کہ وہ پاکستان کے حکمرانوں کی نہیں، ہمارے پیغمبرؐ کی توہین کا ارتکاب کر چکے تھے۔

کلاشنکوف کیس کی بھینٹ چڑھنے والے مظلوم کے لواحقین اور ساتھیوں سے سرکار والے کہتے ہیں، خبردار! فیصلے پر تنقید یا تبصرہ نہ کرو کہ توہین عدالت ہے مگر خود وزیراعظم توہین رسالتؐ کے مرتکب بدمعاشوں کو سزا دینے والے جناب رسولؐ کے سپاہی مجاہد جج جناب مجاہد حسین کے فیصلے پر تنقید کے تیر برسا رہی ہیں۔

حکومت کے سیاسی حریف تو کیا، ان کے والدین، اہل خانہ اور بچے تک ائرپورٹ پر روکے جاتے ہیں کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل ہے، ان کے خلاف مختلف کیسوں میں تحقیقات ہو رہی ہیں مگر دونوں مردودوں کو سرکاری اہتمام کے تحت وی آئی پی بنا کے امریکہ رخصت کیا جاتا ہے۔ یہ بھی نہیں سوچا جاتا کہ ابھی تو سپریم کورٹ میں ان کے خلاف اپیل ہونی ہے۔ وہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ کی پابندیوں سے آزاد اونچی مخلوق بن جاتے ہیں۔

حکمرانوں پر تنقید کرنے والوں کی اگر عدالتیں ضمانت لے بھی لیتی ہیں تو پھر بھی

صفحہ 285

مختلف حیلے بہانوں سے انہیں جیل سے نکلنے میں تین چار دن اور لگ جاتے ہیں مگر سلامت مسیح اور رحمت مسیح کے لیے جمعہ یعنی چھٹی کے دن بھی جیل کے دروازے کھول دیئے ہیں کیونکہ وہ وی آئی پی ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ وہ شاتم رسولؐ ہیں‘ گستاخان رسولؐ ہیں‘ گستاخان حکمران نہیں۔

یہ کہتے ہوئے بوڑھے کے جذبات میں ایک بار پھر تلاطم اٹھتا ہے‘ وہ مجھے زور زور سے جھنجھوڑنے لگتا ہے‘ ”ہاں! ہاں! لکھو اپنی طرف سے بھی تو کچھ لکھو‘ صرف مجھے کیوں گھور رہے ہو‘ لکھو‘ لکھو۔۔۔۔۔۔ میری طرف سے لکھو۔۔۔۔۔۔“

اے وہ لوگو! جو اپنے بدچلن والدین‘ بدمعاش اولاد اور آوارہ بیگمات کے بارے میں معمولی سی نازیبا مگر سچ بات بھی سننے پر تیار نہیں ہو‘ مرنے مارنے پر اتر آتے ہو‘ اپنے پیغمبرؐ اپنے خدا کے محبوب‘ دو جہانوں کے سردار اور سب کے لیے رحمت اللعالمینؐ کی شان میں دو بد ذاتوں کی ہرزہ سرائی پر خاموش کیوں ہو؟ دونوں ملعونوں کی حکومتی عزت افزائی اور بطور وی آئی پی بیرون ملک رخصتی نے بھی تمہارے قلب و ذہن کو نہیں جھنجھوڑا۔۔۔۔۔۔ بتاؤ یہ بے حسی اور بے غیرتی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے؟

لکھو! لکھو! اے کشتہ ستم تیری غیرت کو کیا ہوا۔۔۔۔۔۔ بوڑھا پھر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر گڑگڑانے لگتا ہے‘ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا ہے‘ اونچی آواز میں دوبارہ پڑھنے لگتا ہے۔

ہوا کے لب پہ اگر اسمِ حضورؐ آ جائے
خزاں رسیدہ درختوں پہ نور آ جائے
میں اپنے آپ کو اونچا سمجھنے لگتا ہوں
اگر مدینے سے ایک بھی کھجور آ جائے

اور اب میرے بھی ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور پھر اچانک اپنے ہی رونے کی آواز پر آنکھ کھل جاتی ہے۔ جاگ کے کیا دیکھتا ہوں‘ رات کے دو بجے ہیں‘ مہیب سناٹا‘ سیاہ رات اور چار سو گھپ اندھیرا‘ بکھرے ہوئے ریزہ ریزہ اعصاب کو سمیٹتے ہوئے سوچنے لگتا ہوں۔۔۔۔۔۔ اس بے حسی کے عالم میں یہ اندھیرے کیسے ڈھلیں گے‘ سیاہ رات کے بطن سے سپید سحر کیسے نمودار ہو گی‘ مہیب سناٹوں کو کون چیرے گا؟

اے ہمارے پیارے نبیؐ! اے امام الانبیاءؐ! اے سرکار دو جہاںؐ! آپؐ کی توہین پر اور آپؐ کی توہین کا ارتکاب کرنے والے شیطانوں کی عزت افزائی پر خاموش رہنے والوں

صفحہ 286

کے آباؤ اجداد تو ایسے بے حس نہیں تھے..... نجانے وہ چنگاریاں کب، کیسے اور کہاں دب گئیں؟

اقبالؒ، عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، شورش کاشمیری مرحوم اور غازی علم الدین شہید آپ کا قافلہ، آپ کا کارواں کہاں بچھڑ گیا ہے...... مدت ہوئی مجھے تو جرس کی بھی کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے..... کیا جرس بھی ہماری طرح خاموش اور بے حس ہو چکی ہے؟

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور 11 مارچ 1995ء)

صفحہ 287

ناموس رسالت پناہؐ پر حملوں میں اضافے کا اندیشہ

خلیل ملک

”دو روز پہلے ناموس رسالت پناہؐ کی حفاظت کے مسئلے پر طویل مگر نامکمل گفتگو ہوئی۔ اس ضمن میں بعض باتیں نوٹ کر لینے کی ہیں۔

خدا نہ کرے مگر اس امر کا قوی امکان ہے کہ سزائے موت کے باوجود توہین رسالتؐ کا ارتکاب کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کی دو بنیادی وجوہ ہیں‘ اول بے نظیر حکومت نے متعلقہ قانون غیر مؤثر بنا دیا ہے اگر اس قانون کے تحت عدالتوں میں مقدمے اس طرح چلتے‘ جس طرح کہ مقدمے چلائے جانے چاہئیں‘ اسلام کے دفاع میں بھی کوئی کسر نہ رکھی جاتی اور جو الزام لاتے‘ وہ بھی ثبوت پیش کرتے‘ قابل اور غیر متنازعہ اچھی شہرت کے جج مقدموں کی سماعت کرتے‘ معاملہ سپریم کورٹ تک جاتا اور اس ضمن میں نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک سے بھی چوٹی کے مسلمان علماء اور ماہرین اسلامی قانون کو عدالت سے تعاون کے لیے بلایا جاتا تو ساری دنیا کو یہ معلوم ہو جاتا کہ اگر کوئی رہا ہوا بھی ہے تو صرف اور صرف بے گناہ ہونے کی بنا پر۔ اسی طرح کوئی قانون کے معیار پر مجرم نکلا تو وہ سزائے موت سے نہیں بچ سکے گا۔ ساری دنیا کو یہ پیغام مل جاتا کہ معاملہ نہایت سنجیدہ ہے‘ اس لیے ہر کوئی نہایت محتاط رویہ اختیار کرتا مگر ہوا یہ کہ امریکہ اور مغرب نے ہمارے شب و روز کی عزیز ترین ہستی سے متعلق قوانین کو بھی موثر رہنے نہیں دیا۔ آج یہ حالت ہے کہ سیاسی کشمکش میں اگر وزیراعظم یہ محسوس کریں کہ شیخ رشید نے بے نظیر بھٹو بنت ذوالفقار علی بھٹو کی توہین کی ہے تو انصاف کے نظام کو استعمال کرتے ہوئے شیخ رشید کو سات سال کے لیے جیل بھجوا دیا جائے گا‘ لیکن اگر کوئی بدبخت‘ اسفل السافلین اپنی قلبی آلودگی کی وجہ سے جناب خاتم الانبیاء سرکار دو عالمؐ کے بارے میں جن کے نام کا کلمہ مشرق سے مغرب تک ایک ارب سے زیادہ انسان پڑھتے ہیں‘ جن کے غلبہ و اقتدار کا یہ عالم ہے کہ آج بھی ان کی تہذیب اور ناموس کی حفاظت کے لیے لاکھوں انسان

صفحہ 288

ہتھیار بند میدان جنگ میں اترتے ہوئے سب کچھ قربان کر رہے ہیں، گستاخی و توہین کا ارتکاب کرے تو اس کی رہائی کے لیے ایک افراتفری کے عالم میں عدالتیں لگائی جاتیں اور تعطیل عام کے دن بھی جیلیں کھول کر رہائی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ناموس رسالت پناہؐ کی اس سے زیادہ توہین اور کیا ہو گی کہ وزیراعظم کی توہین کرنے والے کو جیل بھیج دیا جاتا ہے اور جناب خاتم الانبیاءؐ کی توہین کے ملزموں کے روبرو سارا پاکستان بے بس ہو جاتا ہے اور ان کو زندگی کی ہر رعایت فراہم کی جاتی ہے۔ جب یہ طے ہو کہ وزیراعظم، توہین رسالتؐ کرنے والوں کی پشت پناہی کریں گی، سزا پانے کے بجائے مجرم وی آئی پی بن جائے گا تو بہت سے بدبخت ہوں گے جو ذلت کا یہ راستہ اختیار کریں گے۔

ثانیاً اقلیتوں کے لیے توہین رسالتؐ کو سب سے نفع بخش کاروبار بنا دیا گیا ہے۔ قارئین کو معلوم ہو گا کہ غیر ممالک کا ویزا حاصل کرنے اور وہاں سیاسی پناہ اور وظیفہ و روزگار حاصل کرنے کے لیے بے شمار بظاہر صحیح العقیدہ مسلمان بھی غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کا تعلق قادیانی گروہ سے ہے، بعض کہتے تھے کہ وہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور مارشل لاء حکومت ان پر ظلم ڈھا رہی ہے۔ اس طرح وہ جھوٹ بول کر ویزا اور غیر ممالک میں روزگار حاصل کرتے ہیں۔ اب یہ ہوا کہ جس نے توہین رسالت مآبؐ کا ارتکاب کیا، نہ صرف ملک کی وزیراعظم اس کی حفاظت کے لیے بے چین ہو گئیں بلکہ امریکہ اور یورپ کے لیڈروں نے اس کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کر دیئے۔ ہوائی جہاز کی ٹکٹوں اور غیر ممالک میں پناہ اور روزگار کی پیشکشوں کا شمار ممکن نہ رہا۔ اس سب کچھ میں حکومت پاکستان نے ایجنٹ کا کردار ادا کیا تو اقلیت میں سے ایسے مہم جو برآمد ہوتے رہیں گے جو یہ مہم جوئی کر کے اپنا مستقبل ”روشن“ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر توہین رسالتؐ کے ارتکاب سے پوری دنیا میں ”پبلسٹی“ ملتی ہو، غربت اور گمنامی سے ”نجات ملتی ہو“ ترقی یافتہ ملکوں کے دروازے کھلتے ہوں اور راتوں رات ”وارے نیارے“ ہو جاتے ہیں تو توہین رسالتؐ کا ارتکاب کرنے والوں میں کیسے کمی واقع ہو گی؟

چنانچہ جس کسی کو بھی حقیقی معنوں میں ناموس رسالت پناہؐ عزیز ہے، اس کے سامنے اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ پاکستان سے ایسی سیاسی قوت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے جو توہین رسالتؐ کے ملزموں کو بالواسطہ یا بلاواسطہ تحفظ فراہم کرتی ہو۔ ایسی قیادت کو سامنے لائے جو ناموس رسالتؐ اور اسلامی عقائد و تہذیب کی حفاظت کے معاملے میں دنیا سے لڑ جانے کو تیار ہو۔ محبت کے رشتے صرف نفع کے رشتے نہیں ہوتے، ان کے لیے جان

صفحہ 289

کی بازی بھی لگانی پڑتی ہے۔ سرورِ دوعالمؐ سے زیادہ ہماری وفا اور محبتوں کا کوئی مستحق نہیں ہے اور ہماری جان و مال کی قربانی کا بھی ان سے زیادہ کوئی مستحق نہیں ہے۔

ان کے بغیر کون ہے اس کائنات میں
مجھ سے فقیر‘ مالک و مولا کہیں جسے

تہذیبوں کے اس تصادم میں جس میں مغرب نے جارحیت اختیار کی ہے‘ اہل مغرب اسلامی معاشرے کو مٹانے کی غرض سے اس معاشرے کی بنیاد یعنی ناموس رسالتؐ کی حد درجہ توہین پر آمادہ ہیں اور اندرون ملک سے سیکولر عناصر ان کے ساتھ ہیں۔ گزشتہ چودہ سو سالہ ملی تاریخ گواہ ہے کہ ذکر اسم محمدؐ کبھی ماند نہ ہوا‘ جب تاتاریوں نے کم و بیش دنیا بھر سے اسلام کا اقتدار ختم کر دیا تو خود تاتاریوں کے دلوں میں یہ نور جلوہ گر ہوا‘ جہاں مسلمان ناکام ہوگئے وہاں اسم محمدؐ نے اپنا معجزہ دکھایا۔ اس لیے کوئی یہ نہ سوچے کہ کسی کا عالمی اقتدار (تاتاریوں سے بڑھ کر کیا اقتدار ہوگا؟) اس چراغ کی روشنی میں کمی کر سکتا ہے۔

اسلام بنیادی طور پر دعوت اور دلیل کا دین ہے‘ اس لیے تمام دینی جماعتوں کو بالخصوص پاکستان مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کو پاکستان کی مسیحی برادری کے ساتھ ایک ڈائیلاگ شروع کرنا چاہیے اور مسیحی برادری کو اس بین الاقوامی سازش سے آگاہ کرنا چاہیے پھر سرکارؐ کی رحمت للعالمینی سے نہ صرف آگاہ و مطلع کرنا چاہیے بلکہ عام مسیحی برادری تک بھی دعوت دین کا کام ہونا چاہیے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے بھائی ناموس رسالت پناہؐ کے لیے اپنے بہترین دماغوں اور لسانوں کو منظم کریں جو صبر اور اخلاق کے ساتھ مسیحی برادری کو دعوت پہنچا سکیں اگر اسلامی قیادت مسیحی برادری کے ساتھ ایک سنجیدہ ڈائیلاگ سے غافل رہتی ہے تو یہ ایک بدترین کوتاہی ہوگی جس کے سیاسی نتائج ہی نہیں‘ متعلقہ افراد کے لیے روحانی نتائج بھی خوفناک ہوں گے”۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور‘ یکم مارچ ۹۵ء)

صفحہ 290

نان گریجوایٹ وزیر اعظم، توہین رسالتؐ

اور یورپی پریس

ڈاکٹر یاسین رضوی

”کچھ عرصے سے میں ”خبریں“ کے لاکھوں قارئین کی خدمت میں دیار غیر سے حاضر ہو رہا ہوں۔ سفر کے دوران جو کچھ دیکھتا‘ سنتا اور محسوس کرتا ہوں‘ اسے ”خبریں“ کے محترم قارئین کی اطلاع کے لیے پوری صحافتی دیانت داری سے لکھ دیتا ہوں۔

برطانوی ذرائع ابلاغ نے توہین رسالت کیس میں ملوث دو پاکستانی مسیحیوں کی سزائے موت پر غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ تقریباً دو سال قبل ایک امام مسجد کی درخواست پر مقدمہ درج ہوا تھا اور ایف آئی آر میں نامزد تین ملزم گرفتار ہوئے تھے۔ اس وقت امریکہ کے اخبارات نے بھی اس مقدمے میں اسی قسم کی دلچسپی کا مظاہرہ کیا تھا اور بعض نجی محفلوں میں مجھے اپنے امریکی دوستوں سے جو کچھ سننا پڑا تھا‘ اس کا لب لباب یہ تھا کہ مسلمانوں کو اپنے مذہب کی تضحیک اور اکابرین کی توہین برداشت کرنی چاہیے اور خاص طور پر اپنے پیغمبر اکرمؐ کی توہین کے معاملے میں قطعی بے غیرتی اختیار کر کے اسے ”وسیع القلبی“ کا نام دے دینا چاہیے۔ یورپ اور امریکہ میں دین سے بے خبر اور فیشن کے مارے ہوئے جو مسلمان تیسرے درجے کے شہری کی سی زندگی گزار رہے ہیں‘ ان کا ردعمل بھی کم و بیش اسی قسم کا تھا اور وہ بھی وسیع القلبی اور بے حسی میں فرق قائم کیے بغیر شعائر اسلام یا اکابرین کی توہین کے معاملے میں اسی نوعیت کے خیالات رکھتے تھے۔ جب دو پاکستانی مسیحیوں کو سزا ہوئی تو میں نے امریکہ کے بعض اخبارات بھی منگوائے اور ان میں بھی سزائے موت کے حوالے سے شائع شدہ مواد کو غور سے پڑھا۔ پھر سزائے موت کے بارے میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کا تبصرہ بھی نظر سے گزرا لیکن یہ تبصرہ کیونکہ مغربی مفادات و نظریات سے بہت زیادہ ہم آہنگ تھا‘ اس لیے امریکی یورپی ذرائع ابلاغ نے اسے نمایاں طریقے سے اچھالا۔

صفحہ 291

بات کو مزید آگے بڑھانے سے قبل میں ”خبریں“ کے قارئین کو یہ بتاتا چلوں کہ بینظیر بھٹو ایسے والدین کی بیٹی ہیں جن کا مذہب سے واجبی سا تعلق بھی نہیں بنتا۔ جو لوگ مسز نصرت بھٹو کے خاندانی پس منظر سے آشنا ہیں‘ ان میں سے ایک میں بھی ہوں۔ یہ گھرانہ ایران میں ”صابونچی“ کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ لوگ بہائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مذہب نے عملاً اسلام سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہوا ہے اور کتاب‘ دین‘ فقہ‘ رسولؐ اور اصول مذہب کے حوالے سے یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے۔ ان کا صدر دفتر مرزائیوں کے قادیان کی طرح اسرائیل کے ساحلی شہر حیفہ ہے۔ اس پس منظر میں بینظیر نے خالص مغربی ماحول میں تربیت پائی۔ وہ تعلیم کے لیے کچھ عرصے انگلستان میں بھی رہیں مگر انہوں نے وہاں سے کوئی ڈگری حاصل نہیں کی۔ اسی لیے ان کی مادر علمی یعنی آکسفورڈ یونیورسٹی انہیں اپنا گریجوایٹ تسلیم نہیں کرتی۔ پی پی پی کی اندرونی پٹی میں جو لوگ شامل ہیں اور جو افراد مختلف حوالوں سے بینظیر بھٹو کو جانتے ہیں وہ یہ بات بھی مانتے ہیں کہ مختلف اقتصادی‘ مذہبی‘ علمی‘ معاشی‘ معاشرتی اور سیاسی امور پر بینظیر بھٹو کا علم‘ خاصا سطحی ہے اور وہ اپنے ہی جیسی معلومات رکھنے والوں کے حصار میں قید ہیں۔ ان کی واحد ”کوالیفکیشن“ یہ ہے کہ وہ ایک سابق وزیر خارجہ‘ سابق چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی ہیں۔

بات ان دو پاکستانی مسیحیوں کی ہو رہی تھی جنہیں توہین رسالتؐ کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان دونوں کی موت کی سزا پر وزیر اعظم اور یورپی اخبارات کے تبصروں میں کوئی فرق نہ تھا۔ اس سزا کے سنائے جانے کے فوراً بعد پی پی پی حکومت نے ایک بار پھر اس حقیقت کو ثابت کیا کہ پورے ملک کا عدالتی نظام‘ سرکاری مشینری کا اس حد تک تابع ہے کہ جس شخص کو حکومت چاہے‘ سات سال قید کی سزا دلوا دے اور جس شخص کو چاہے‘ پھانسی کے پھندے سے اتروا لے۔ چنانچہ موت کی سزا کے خلاف اپیل نہ صرف ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے منظور کر لی گئی بلکہ اس شان سے منظور کی گئی کہ اس اپیل کی فوری سماعت شروع کرکے چند روز کے اندر اندر فیصلہ سنا دیا گیا۔ حالانکہ موت کی سزا کے خلاف تین سو سے زائد اپیلیں کئی کئی برس سے ہائی کورٹ میں التوا میں پڑی ہوئی ہیں اور سزا یافتہ قیدی کال کوٹھڑیوں میں جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔

ہائی کورٹ سے ملزموں کی اپیل کی منظوری کے فوراً بعد قید کے دوران ان کے پاسپورٹ تیار ہو گئے۔ ویزے لگ گئے‘ زرمبادلہ دے دیا گیا۔ ٹکٹ خرید لیے گئے اور جہاز

صفحہ 292

میں نشستیں کنفرم کرا کے انہیں ایک ہفتے سے کم کی مدت میں ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔ پی پی پی لندن کے ایک سرکردہ رہنما نے اس صورتحال پر یوں تبصرہ کیا کہ اگر ہم جیل میں محبوس قیدی کے گھر سے کلاشنکوف برآمد کر سکتے ہیں تو جیل میں قید کے دوران پاسپورٹ اور ویزا کیوں نہیں دلوا سکتے۔

ایک پاکستانی اور مسلمان کی حیثیت سے اس سزائے موت کے بارے میں میرے جذبات بالکل واضح ہیں۔ میں عدالتی عمل پر کسی قسم کا تبصرہ نہیں کرنا چاہتا مگر یہ ضرور کہوں گا کہ غیر ملکی دباؤ میں آکر جس طرح عدالتی نظام اور جیل کے ضابطوں کا دامن تار تار کیا گیا‘ اس سے کوئی اچھی مثال قائم نہیں ہوئی ہے۔ اب کوئی بھی مسیحی یا قادیانی جب چاہے گا‘ میرے آقا و مولاؐ کی توہین کر لیا کرے گا اور پھر جان کے خطرے کا بہانہ بنا کر یورپ میں پناہ حاصل کر لیا کرے گا۔

ملک کے اندر اور باہر اس واقعہ کے پہلے اور بعد جو کچھ ہوا ہے‘ اس پر تو متضاد رائیں ہو سکتی ہیں مگر اس بارے میں سب ہی متفق ہیں کہ موت کی سزا کے اعلان سے لے کر ملزموں کے بیرون ملک سفر تک حکومت نے جو ”پھرتیاں“ دکھائی ہیں‘ وہ قابل مذمت ہیں۔

صفحہ 293

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال

کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ کا جائزہ

مولانا زاہد الراشدی

روزنامہ جنگ لندن ۸ جولائی کی ایک خبر کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں‘ اس سال کی رپورٹ میں بھی توہین رسالت کی سزا کے قانون اور قادیانیوں کو اسلام کا نام اور اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے روکنے کے قانون کو موضوع بحث بنایا ہے اور ان قوانین کے ضمن میں درج مقدمات اور گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان میں قادیانیوں اور مسیحیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا تذکرہ کیا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی تنظیمیں کسی ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں رپورٹ کی تیاری میں کیا طریق کار اختیار کرتی ہیں؟ اس کی ایک جھلک حال ہی میں پاکستان چائلڈ لیبر کے استعمال کے حوالے سے مغربی میڈیا اور لابیوں کی مہم کے ضمن میں سامنے آ چکی ہے جس میں بعض مناظر کو فلمانے کے لیے جعلی ماحول پیدا کرنے کے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ بات بھی منکشف ہو چکی ہے کہ بھارت کے تجارتی اداروں نے تجارتی مقاصد کے لیے اس مہم کے تانے بانے بنے اور مغربی میڈیا اور لابیاں اس میں ان کی شریک کار بنیں یا کم از کم اس مہم کے حق میں استعمال ہوئیں۔ اسی طرح جن دوستوں نے بی بی سی ۲ سے اس سال کے آغاز میں ”ایسٹ“ کے نام سے دکھائی جانے والی سیریز کے وہ حصے دیکھے ہیں جن میں پاکستان کے مذہبی حلقوں اور اداروں کی تصویر کشی کی گئی ہے‘ ان کے لیے اس تکنیک اور طریق واردات تک پہنچنا مشکل نہیں ہے جو پاکستان اور اس کے اسلامی تشخص کی تصویر خراب کرنے کے لیے مغرب کی فضائیں اور ذرائع ابلاغ ایک عرصہ سے استعمال کر رہے ہیں۔

مگر اس پس منظر سے قطع نظر‘ ہم ان دونوں قوانین کا ایک سرسری جائزہ پیش کرنا چاہتے ہیں جو سالہا سال سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹوں کا موضوع ہیں اور جنہیں انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کی تبدیلی پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے حتیٰ کہ چند ماہ قبل پاکستان کی امور کشمیر کمیٹی کے سربراہ نوابزادہ نصر اللہ خان کے دورہ جنیوا کے موقع پر

صفحہ 294

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انہیں پیش کی جانے والی یادداشت میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور انسانی جانوں کے ضیاع کو پاکستان میں قادیانیوں اور مسیحیوں کے انسانی حقوق کی مبینہ پامالی کے ساتھ جوڑ دیا تھا اور ان قوانین کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔

جہاں تک قادیانیوں کی اسلام کے نام پر سرگرمیوں کی ممانعت کا تعلق ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ قادیانی گروہ ایک نئے مدعی نبوت، مرزا غلام احمد قادیانی کا پیروکار ہے اور اپنے پیشوا کی ہدایات کو وحی الہی ہی تسلیم کرتا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے متفقہ فیصلہ کی رو سے یہ گروہ ملت اسلامیہ کا حصہ نہیں ہے اور قرآن کریم اور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کے دعوے کے باوجود بالکل اسی طرح مسلمانوں سے الگ ایک نئے مذہب کا پیروکار ہے جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تورات پر ایمان کے باوجود عیسائی صرف اس لیے یہودیوں سے الگ، ایک نئے مذہب کے پیروکار سمجھے جاتے ہیں کہ وہ ایک نئے پیغمبر، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی وحی کو بھی تسلیم کرتے ہیں یا حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام اور تورات و انجیل، دونوں پر ایمان کے باوجود مسلمان، ان دونوں سے الگ ایک نئے مذہب کے پیروکار کہلاتے ہیں کہ وہ قرآن کریم اور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ یہ آسمانی مذاہب کے درمیان ایک طے شدہ اصول ہے جس کے تحت سچ جھوٹ سے قطع نظر قادیانی گروہ مسلمانوں سے الگ ایک نئے مذہب کا پیروکار قرار پاتا ہے، اور ان کے لیے لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے نیا نام اختیار کرے اور مسلمانوں سے الگ نئی مذہبی اصطلاحات اور شعائر کو متعارف کرائے، مگر قادیانی گروہ اس مسلمہ حقیقت اور طے شدہ اصول کو قبول کرنے سے گریز کر رہا ہے اور اپنی نئی نبوت اور نئی وحی کو اسلام کے نام پر دنیا کے سامنے پیش کرنے پر مصر ہے جس پر مسلمانوں کو اعتراض ہے اور اسی اعتراض کو دور کرنے کے لیے پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے ایک متفقہ آئینی ترمیم کے ذریعہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے اور اس کے بعد قادیانیوں کو اسلام کا نام اور اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے قانوناً روکنے کا قانون بھی اس آئینی فیصلے کا منطقی تقاضا اور اس پر عمل درآمد کی طرف پیش رفت ہے۔

یہ ہے مسلم قادیانی تنازعہ کا اصل پس منظر جس کی بنیاد قادیانیوں کو شہری حقوق دینے یا ان سے محروم کرنے پر نہیں بلکہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان مذہبی امتیاز اور جداگانہ تشخص قائم کرنے پر ہے جو بہرحال دونوں کی مشترکہ ضرورت ہے لیکن انتہائی

صفحہ 295

حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ قادیانی مبادیات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے منطقی نتائج کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، وہ یہ کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر وحی نازل ہوئی تھی اور اس وحی پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمان ان کے ہم مذہب نہیں ہیں لیکن مسلمانوں اور قادیانیوں کے مذہب کو الگ الگ تسلیم کرتے ہوئے بھی وہ اپنے مذہب کے لیے الگ نام اور اصطلاحات اختیار نہیں کرنا چاہتے، صرف اس لیے کہ اشتباہ اور التباس کی فضا قائم رہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھا کر ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا کر سکیں۔

اس قسم کی صورت حال اس سے قبل ایران کے بہائیوں کے حوالہ سے بھی پیش آئی تھی کیونکہ بہائی بھی محمد علی اور بہا اللہ کی تعلیمات کا رشتہ وحی الٰہی سے جوڑتے ہیں لیکن انہوں نے قادیانیوں کی طرح دھوکے اور اشتباہ کو قائم رکھنے کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ مذاہب کے مسلمہ اصول کا احترام کرتے ہوئے اپنے لیے الگ نام اختیار کیا اور مسلمانوں سے اپنی اصطلاحات اور تشخص کو الگ کر لیا جس کی وجہ سے ان کے ساتھ مسلمانوں کا قادیانیوں کی طرح کا کوئی تنازعہ نہیں ہے، حتیٰ کہ کسی مسلم پارلیمنٹ کو انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی، اگر قادیانی گروہ بھی معروضی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے بہائیوں کی طرح الگ نام اور الگ شناخت کا راستہ اختیار کر لے تو مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان تنازعہ کی موجودہ کشیدگی اور منافرت ایک دوسرے کو برداشت کر لینے کی حد تک کم ہو سکتی ہے اور ویسے بھی قادیانیوں کے لیے اصولی اور منطقی طور پر دو ہی راستے ہیں کہ یا تو وہ نئی نبوت اور نئی وحی پر چار حرف بھیج کر ملت اسلامیہ کے اجتماعی دھارے میں واپس آ جائیں اور یا پھر اپنے لیے الگ نام اور الگ شناخت اختیار کریں، تیسرا کوئی راستہ بھی جائز اور معقول نہیں ہے اور جو راستہ انہوں نے اختیار کیا ہے، وہ تنازعہ اور کشیدگی کا راستہ ہے جو اختیار بھی انہوں نے کیا ہے اور اس کے نتائج بھی انہی کو بھگتنا ہیں۔

مسلم قادیانی تنازعہ کے اس پس منظر میں اگر حقوق کی پامالی کا سوال کہیں پیدا ہوتا ہے تو وہ مسلمانوں کے حقوق کا ہے نہ کہ قادیانیوں کے حقوق کا کیونکہ اپنی شناخت اور امتیاز کا تحفظ مسلمانوں کا حق ہے جو قادیانیوں کے غلط طرز عمل کی وجہ سے مجروح ہو رہا ہے۔ اس کشمکش میں اصل خطرہ مسلمانوں کو درپیش ہے کہ ان کا نام اور ان کی شناخت کا استعمال ایک ایسے گروہ کے لیے ہو رہا ہے جو ان کے وجود کا حصہ نہیں ہے اور ان سے الگ مذہبی

صفحہ 296

وجود رکھتا ہے، اس لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر مغربی اداروں کو چاہئے کہ وہ اگر واقعی انصاف کے علمبردار ہیں تو اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کریں اور واقعات کی یک طرفہ تصویر پیش کر کے اس پر فیصلے صادر کرنے کی بجائے مسلمانوں کے موقف اور مشکلات کا جائزہ لیں اور ان کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھائیں۔

یہی صورت حال توہین رسالت کی سزا کے قانون کے بارے میں بھی ہے کہ واقعات کی یکطرفہ تصویر کو مسلسل سامنے لایا جا رہا ہے اور اس قانون کو تبدیل کرانے یا بے اثر بنانے کے لیے مغرب کے ذرائع ابلاغ، لابیاں بلکہ حکومتیں دباؤ ڈال رہی ہیں، اس سلسلہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے، اس لیے اس میں تبدیلی ضروری ہے اور قانون کے غلط استعمال کے ثبوت کے طور پر رحمت مسیح اور سلامت مسیح کیس کا حوالہ دیا جاتا ہے، حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اس کیس کے سلسلہ میں مغربی ذرائع ابلاغ نے اب تک جو کچھ کہا ہے، وہ یک طرفہ ہے۔ دوسری طرف کا موقف کیس سے متعلقہ حضرات سے معلوم کرنے کی آج تک کسی مغربی تنظیم، حکومت یا نشریاتی ادارے نے زحمت گوارا نہیں کی، راقم الحروف ان افراد میں شامل ہے جو سیشن کورٹ کے فیصلے تک اس کیس کی پیروی میں مختلف سطح پر شریک رہے ہیں، اس لیے اس حیثیت سے مندرجہ ذیل حقائق کو ریکارڈ پر لانا ضروری سمجھتا ہے کہ:

کہ ہم ان کے ساتھ مل کر مشترکہ کمیٹی کی صورت میں اس کیس کی پبلک انکوائری کے لیے تیار ہیں، لیکن انہوں نے پیش کش قبول کرنا تو کجا اس سلسلہ میں رجسٹرڈ خطوط کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا۔

ڈویژن سے ملاقات کر کے ان سے درخواست کی کہ اس انکوائری میں ہمیں شریک کیا جائے تاکہ ہم اپنی معلومات کی بنیاد پر حقائق کو ریکارڈ پر لا سکیں۔ انہوں نے اس بات کا وعدہ کیا لیکن اس وعدہ کی تکمیل کی نوبت نہ آسکی۔

مقرر کی گئی تو ہم نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کمیٹی کے ارکان کو گوجرانوالہ تشریف لاکر براہ راست حالات کا جائزہ لینے کی دعوت دی مگر ایسا بھی نہ ہو سکا۔

صفحہ 297

گوجرانوالہ گئی ہیں، جن کی رپورٹیں سامنے آ چکی ہیں لیکن ان میں سے، کسی نے کیس کے مدعی اور اس کی پیروی کرنے والے علماء اور وکلاء سے رابطہ کی زحمت گوارا نہیں کی۔

ان حالات میں، اس کیس کے بارے میں عالمی سطح پر جو یکطرفہ پراپیگنڈہ ہوا ہے، وہ سب کے سامنے ہے اور سیشن کورٹ کی طرف سے ملزموں کو قانون کے مطابق سزائے موت سنانے کے بعد ہائی کورٹ میں جس تیز رفتاری کے ساتھ اپیل کے مراحل طے کیے گئے اور جو طریق کار اختیار کیا گیا، اس کی روشنی میں ملزموں کی بریت، رہائی اور بیرون ملک روانگی پر کوئی تبصرہ کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ تاہم اس کیس کے حوالے سے قانون کے غلط استعمال کے سلسلہ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے الزام کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے گوجرانوالہ کے علماء کرام کی طرف سے یہ پیش کش دہرائی جاتی ہے کہ ہم اس کیس کے اصل حقائق کو سامنے لانے کے لیے مسلمان اور مسیحی راہ نماؤں پر مشتمل مشترکہ انکوائری کمیٹی کے ذریعہ آج بھی پبلک انکوائری کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ وہ معروف معنوں میں انکوائری ہو۔ پہلے کی طرح انکوائری کے نام پر یکطرفہ کارروائی نہ ہو۔

پھر کسی قانون کے غلط استعمال کے امکان کو قانون کی تبدیلی کے لیے وجہ جواز قرار دینا، بجائے خود محل نظر ہے، قوانین کا غلط استعمال تناسب کی کمی بیشی کے ساتھ دنیا کے ہر ملک میں ہوتا ہے لیکن کہیں بھی ایسے تحفظات اختیار نہیں کیے جاتے جو ضرورت کے وقت قانون کے صحیح استعمال کے امکان کو ہی مخدوش بنا دیں کیونکہ جہاں قانون کے غلط استعمال کی روک تھام ضروری ہے، وہاں اس کے صحیح استعمال کی ضمانت بھی قانون کا تقاضا ہوتا ہے لیکن پاکستان میں توہین رسالت کی سزا کے قانون کے نفاذ کے طریق کار میں تبدیلی کے لیے جو ترامیم تجویز کی گئی ہیں، وہ اس معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ ان ترامیم میں کہا گیا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کے تحت ایف آئی آر کا اندراج ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی پیشگی انکوائری کے ساتھ مشروط کر دیا جائے اور اگر مدعی اپنے الزام کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اطمینان کے مطابق ثبوت فراہم نہ کر سکے تو اسے جھوٹے الزام کی سزا میں دس سال کے لیے قید کر دیا جائے، اس صورت میں قانون کے عملی نفاذ کے امکانات مخدوش ہونے کے ساتھ ساتھ قانون پر عمل درآمد کا انحصار کسی عدالتی سسٹم کی بجائے فرد واحد (ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ) کی صوابدید پر رہ جاتا ہے جو انصاف کے مسلمہ اصولوں کے منافی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان ترامیم کو پاکستان کی رائے عامہ نے مسترد کر دیا ہے اور ملی یک جہتی کونسل کی اپیل پر ۲۷ مئی ۹۵ء کو ملک گیر ہڑتال کر کے ان ترامیم کے خلاف عوامی فیصلہ صادر کر دیا

صفحہ 298

ہے۔ ان گزارشات کے علاوہ دو اور پہلو بھی ایمنسٹی انٹرنیشنل کے پیش نظر رہنے چاہئیں۔ ایک یہ کہ قادیانیوں کو ملت اسلامیہ کا حصہ تسلیم نہ کرنے اور ان سے اپنے لیے الگ نام اور شناخت کا مطالبہ کرنے کا تعلق مسلمانوں کے مذہبی عقائد سے ہے۔ اسی طرح ناموس رسالت کا تحفظ اور توہین رسالت پر موت کی سزا بھی مسلمانوں کا مذہبی معاملہ ہے اور یہ صرف اسلام کا حکم نہیں بلکہ متعدد تصریحات کی رو سے بائبل نے بھی اللہ تعالیٰ کے کسی سچے پیغمبر کی توہین پر موت ہی کی سزا بیان کی ہے‘ اس لیے دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں سے مطالبہ کرنا کہ وہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے طے کردہ انسانی حقوق کا معیار پورا کرنے کے لیے اپنے مسلمہ مذہبی عقائد سے منحرف ہو جائیں‘ کسی بھی طرح قرین انصاف نہیں ہے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل ایسا مطالبہ کر کے مسلمانوں کے مذہبی عقائد میں مداخلت کی مرتکب ہو رہی ہے۔

دوسری بات پاکستان کے حوالہ سے ہے کہ یہ دونوں قوانین پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کے منظور کردہ ہیں اور ان کے پیچھے رائے عامہ کا براہ راست دباؤ بھی موجود ہے جس کا اظہار ۲۷ مئی کو ایک بار پھر ہو چکا ہے‘ اس طرح ان قوانین کو منتخب پارلیمنٹ کی منظوری کے ساتھ ساتھ رائے عامہ کی پشت پناہی اور ملک کی اعلیٰ عدالتوں کی مکمل تائید حاصل ہے‘ اس لیے ان قوانین کی تبدیلی کا باہر سے مطالبہ کرنا رائے عامہ اور پارلیمنٹ کے فیصلوں کی توہین ہے جو مسلمہ جمہوری اصولوں کے منافی ہے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کا موجودہ طرز عمل بلاشبہ جمہوری اقدار اور اصولوں سے انحراف کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔

اس بنا پر ہم پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس سال کی رپورٹ کے ان حصوں کو حقیقت پسندانہ تسلیم نہیں کرتے جن کا تعلق اسلام کے نام پر قادیانیوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون اور توہین رسالت کی سزا کے قانون سے ہے‘ کیونکہ ہماری رائے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان معاملات میں جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے اور اصل حقائق تک پہنچنے یا انہیں منظر عام پر لانے میں سنجیدگی سے کام نہیں لیا"۔

(ماہنامہ "الشریعہ" گوجرانوالہ‘ اگست ۹۵ء)

صفحہ 299

کیا پاکستان میں مسیحیوں کی سلامتی خطرہ میں ہے؟

محمد اسلم رانا

ان دنوں گستاخ رسولؐ ایکٹ کے حوالہ سے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ زوروں پر ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ، اقلیتی حقوق کے اتلاف کی غلط اور مبالغہ آمیز خبریں شائع کر کے پاکستان کو بدنام کرنے میں ہمہ تن مصروف کار ہیں۔ مسلمانوں اور اسلام کا وقار دل کھول کر خراب کیا جا رہا ہے۔

برطانیہ کا ایک کثیرالاشاعت مذہبی جریدہ ”میتھو ڈسٹ ریکارڈر“ بابت ۲۱ مئی ۹۵ء ”پاکستان میں انسانی حقوق“ کے عنوان سے رقمطراز ہے:

انعام بیس ہزار پونڈ مقرر کیا تھا۔

گھونپ دیا گیا تھا۔

پھانسی گھاٹ تعمیر کر رکھا ہے۔

سلامتی کے بارے میں بہت متفکر ہیں۔

حکومت پاکستان اقلیتوں کو آئین میں مندرج حقوق اور مذہبی آزادی سے نوازے۔“

نہایت افسوس سے بلا خوف تردید ڈنکے کی چوٹ اعلان ہے کہ سلامت کے سر کی بیس ہزار پونڈ قیمت کا تقرر سفید جھوٹ اور صریح کذب بیانی ہے۔ سلامت مسیح کو جیل ہی سے پولیس کی گاڑی میں بٹھا کر بحفاظت تمام جہاز میں سوار کر کے جرمنی روانہ کر دیا

صفحہ 300

گیا تھا۔ اس کے قتل اور انعام مقرر کرنے کے مراحل کا سوال ہی پیدا نہ ہوا۔ اور توہین رسالت کے چالیس تو کیا ایک مجرم کو بھی پھانسی چڑھانے کا حکم نہیں ہوا ہے۔ گل مسیح، سلامت مسیح اور رحمت مسیح ہائی کورٹ سے بریت کے بعد جرمنی میں پناہ گزین ہیں۔ اتنے افراد کے خلاف تو آج تک مقدمات بھی درج نہیں ہوئے۔ وہ تعداد بھی بمشکل آدھ درجن ہو گی۔

مسیحی جریدہ ”کیتھولک نقیب“ بابت یکم فروری ۱۹۹۳ء کے مطابق ماسٹر نعمت احمر کے قتل کی:

”واردات کا پس منظر یہ ہے کہ قاتل کا بھائی مقتول کی جگہ اپنا تبادلہ کروانا چاہتا تھا۔ لیکن تبادلوں پر لگی پابندی کی وجہ سے ایسا ممکن نہ تھا۔ اس لیے مقتول کو دھمکیاں دی گئیں اور طرح طرح سے تنگ کیا گیا تاکہ وہ راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے۔ نعمت احمر نے اپنے قتل سے پیشتر مجاز حکام کو متعدد بار تحریری طور پر مطلع کیا لیکن اس سے پیشتر کہ نعمت احمر کی جگہ قانونی طور پر قاتل کے بھائی کا تبادلہ ہو جاتا، اس نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر نعمت احمر کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔“

بہر حال قاتل کو ۱۴ سال قید بامشقت کی سزا مل جانے کے بعد کیس ٹھپ ہو چکا ہے۔

سمندری کے اسلم مسیح کے خلاف کیس زیر سماعت ہے۔ پھانسی گھاٹ کی تعمیر افسانہ نویسی ہے۔ پاکستان میں پھانسی کی سزا پر جیل حکام عمل درآمد کرتے ہیں۔ عوام الناس کو اس کا اختیار نہیں ہوتا۔

پاکستان میں اقلیتیں مزے میں ہیں۔ انہیں آئین سے بڑھ کر سہولتیں اور مراعات میسر ہیں۔ واضح ہو کہ دنیا بھر میں کہیں بھی اقلیتوں کو پاکستان کے سے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ انہیں کھانے پینے، پہنے، حسب منشا پیشہ اپنانے، کاروبار کرنے، کام کاج سیکھنے، حصول تعلیم، مذہبی تہوار منانے، تبلیغ، محفلیں، جلسے جلوس نکالنے اور عبادات اور عبادت گاہیں تعمیر کرنے کی کھلی چھٹی ہے۔ ملک بھر میں آمدورفت، تنظیم سازی اور گھر بار بنانے کی آزادی ہے۔ میرٹ پر ملازمتوں کے دروازے وا ہیں۔ سی ایس ایس کے داخلہ میں آر ایس پونگر پارسی سے سکونتی سرٹیفکیٹ طلب کیا گیا تو انہوں نے کہا ہمارے آباؤ اجداد تین چار صدیوں سے یہاں رہائش پذیر ہیں، سرٹیفکیٹ کا مطلب کیا ہے؟ موصوف بلوچستان کے چیف سیکرٹری کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے۔ پھر ان کی خدمات مرکزی حکومت

صفحہ 301

کے سپرد کر دی گئیں۔ کیا سول، کیا فوج، اقلیتی ملازمین کو ہر جگہ اہلیت و قابلیت کی بناء پر جج، مجسٹریٹ، افسران، پاکستان کے چیف جج اور میجر جنرل تک ترقیاں ملتی ہیں۔ انہیں اپنا ووٹ دینے اور بلدیاتی اداروں، صوبائی اور مرکزی اسمبلیوں کے لیے اپنے نمائندے منتخب کرنے کے حقوق حاصل ہیں۔ اقلیتی ارکان و افراد، وزیر، مشیر، پارلیمانی سیکرٹری اور مختلف سرکاری کمیشنوں کے ممبران نامزد کیے جاتے ہیں۔ ان کی جانیں، اموال اور جائیدادیں اکثریتی طبقہ کی سی محترم و محفوظ ہیں۔ پامالی کی صورت میں ملکی قوانین کے تحت کارروائی کے بعد ملزمین بلا رو رعایت سزا پاتے ہیں۔ بلکہ مختلف مواقع پر اقلیتوں سے ترجیحی سلوک کی مثالیں موجود ہیں۔ قانون سازی اور ملکی امور میں حکومت ان کی خواہشات کا مقدور بھر احترام کرتی ہے۔

وطن عزیز پاکستان میں ۸۱ء کی مردم شماری کی رو سے ہندو ۱۲ لاکھ اور عیسائی ۱۳ لاکھ ہیں۔ ہندو ملکی معاملات میں بس واجبی سا حصہ لیتے ہیں۔ لیکن ملک کی مسیحی اقلیت انتہائی مستعد و موثر اور فعال ہے۔ دیار مغرب کی پشت پناہی کی وجہ سے بڑی دیدہ دلیر اور منہ زور ہے۔ نظریہ پاکستان اور پاکستان کے بنیادی نظریات کی شدید مخالف ہے۔ پاکستان میں اسلامی قوانین کا اجراء اسے قطعاً گوارا نہیں۔ اسلام کے مقدس نام پر حاصل کیے گئے پاکستان سے اسلام کو دیس نکالا اور اسے ایک سیکولر سٹیٹ میں تبدیل کرنے میں انتہا پسند ہے، کسی رواداری یا مصلحت پسندی کی قائل نہیں۔ اس کی منزل واضح اور مقاصد متعین ہیں۔

طبعاً عیسائیوں کو کوئی تکلیف نہیں ہے کھاتے پیتے، ہنستے بستے، مزے سے کلولیں کرتے ہیں۔ پر جونہی ملک میں اسلام کی بات کی جائے، اسلامی اقدار و شعائر کی ترویج و ترقی کی کوئی آواز سننے میں آئے، تو وہ آہ و زاری شروع کر دیتے ہیں اور ظلم ظلم پکار اٹھتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتی حقوق پامال ہو گئے، اقلیتیں دوسرے تیسرے درجہ کی شہری بن گئیں! مر گئے! لٹ گئے! ہائے! دہائی! پاہیا! مثلاً لکھا ہے ”شریعت بل اور شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ اس زیادتی کا کھلم کھلا ثبوت ہے۔“ (اداریہ ”شعور“ اگست ۹۲ء)

مسیحی برادری کی آرزو ہے کہ خواتین کے حقوق کے نام پر اسلامی پاکستان میں مادر پدر آزاد معاشرہ تعمیر ہو، خاتون خانہ شمع محفل بنے اور مغرب کی اخلاق باختگی پوری سحر سامانیوں کے ساتھ جاری و ساری ہو!

صفحہ 302

امید ہے کہ عیسائی ذہنیت کو سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل اقتباس کافی رہے گا!

"اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت ختم کی جائے"

لاہور (جنگ نیوز) قومی کمیشن برائے قانونی سہولیات کے وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے دو روزہ کنونشن کے اختتام پر سفارشات پیش کی گئیں جن میں کہا گیا کہ لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جانا چاہئے۔ مذہب چونکہ انسان کا ذاتی معاملہ ہے لہٰذا ریاست کو شہریوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ خانگی قوانین کو مدون اور باضابطہ بنایا جائے تاکہ ہر پاکستانی خاتون کو یکساں حقوق اور مراعات حاصل ہو سکیں۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ حکومت پاکستان خواتین سے متعلق امتیازی قوانین کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط کرے۔ فیڈرل شریعت کورٹ اور تمام خصوصی عدالتیں ختم کر دی جائیں۔ غیر سرکاری تنظیموں اور ارکان پارلیمنٹ کے درمیان موثر رابطہ قائم کیا جائے۔ مزید تاخیر کے بغیر حکومت اور اپوزیشن فوری طور پر خواتین کی نشستیں بحال کر دیں۔ سیاسی پارٹیوں کے ایکٹ میں تبدیلی کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو اس امر کا پابند بنایا جائے کہ وہ قومی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں خواتین کو ٹکٹ دیں۔ خواتین اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل ختم کر دی جائے۔ ریاست میں پالیسی بنانے والے اداروں میں خواتین کو بھی موثر نمائندگی دی جائے۔

("ساون" جون ۹۳ء صفحہ ۳۴ کالم ۳)

پاکستانی مسیحیوں کی سلامتی کے بارے میں متفکر اصحاب مطمئن و پرسکون رہیں ۔ پاکستان کی کل آبادی کا ۱.۵۶ فیصد مسیحی اقلیت خوب خوب خوشحال و مرفه الحال‘ مست الست‘ طاقتور اور مضبوط جمعیت ہے۔ اس کی قوت و حکمت کا بیان اسی کی زبانی درج ذیل ہے:

"ملائیت کو سیاست سے الگ رکھا جائے"

("نئی دنیا" جولائی ۹۴ء صفحہ ۲ کالم ۱)

"لاہور (نمائندہ جنگ) جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے عوامی حقوق کے زیر اہتمام ایک سیمینار میں جس کا موضوع "مذہب میں انتہا پسندی اور جمہوری سیاست" تھا۔ مقررین نے کہا:

"عوام اکثریت میں ہیں اس لیے محترمہ بے نظیر بھٹو مٹھی بھر ملاؤں کو نتھ ڈالیں۔ انہوں نے ایسا نہ کیا تو پھر ہم بھی محترمہ کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ ملا‘ حکومتوں کو بلیک میل کرتے آئے ہیں۔ لیکن اب حکومت ان کو منہ توڑ جواب دے۔ اس سلسلہ میں عوام

صفحہ 303

حکومت کے ساتھ ہیں۔"

"ہم مولویوں سے اخلاق سے بات کرتے ہیں لیکن وہ شیطان کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ حکومت ان ملاؤں کو حلوہ کھلانے کی بجائے انہیں جیلوں میں بھجوائے۔ یہ کھالیں بیچنے والے ملا، کیا خاک ترقی کریں گے۔ ہم بھاگنے والے نہیں ہیں۔ ان کے فتووں پر کوئی کان نہیں دھرے گا۔ یہ عالم دین نہیں، غنڈے ہیں۔ ہم ملک میں سیکولرازم لائیں گے۔ ہمیں اپوزیشن اور حکومت دونوں کا محاسبہ کرنا پڑے گا۔"

"مولوی یہاں بھی بنگلہ دیش بنانا چاہتے ہیں۔ ان کو ضیاء الحق کے دور کی بری عادتیں پڑی ہوئی ہیں۔"

"ہم ملاؤں کی دیواروں کو گرا کر دم لیں گے۔ اس دھرتی پر علماء نے جتنے افراد کو قتل کیا ہے۔ اتنے قتل انگریزوں نے بھی نہیں کئے تھے۔"

"اگر بے نظیر بھٹو نے حکومت کرنی ہے تو انہیں مولویوں کا محاسبہ کرنا ہوگا۔"

"ہم بھی کلاشنکوف اٹھا سکتے ہیں۔"

"مذہب کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے۔ پاکستان کے عوام ملائیت نہیں چاہتے۔"

"مذہب کے نام پر مسلمانوں اور عیسائیوں کو لڑایا جا رہا ہے اگر یہی حالات رہے تو ملک تباہ ہو جائے گا۔"

"جنونی ملاؤں نے پاکستان کو تباہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔"

"ملاں کی وجہ سے پاکستان کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔"

"جب بھی ملک اور قوم کو نقصان پہنچا، ملا کے ہاتھوں ہی پہنچا۔"

"جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے عوامی حقوق کے زیر اہتمام ہائی کورٹ سے اسمبلی چوک تک گزشتہ روز ملک میں دہشت گردی، اشتعال پھیلانے والی مذہبی تنظیموں اور فرقہ واریت کے خلاف احتجاجی ریلی منعقد کی گئی جس میں ۴۷ مختلف تنظیموں کے کارکنوں نے شرکت کی۔ ان تنظیموں میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، وومنز ایکشن فورم، وار موومنٹ فار جسٹس اینڈ سوشل ٹالرینس جسٹ، اے ایس آر تحریک حقوق نسواں، نوائے خواتین، پاکستان کرسچین نیشنل پارٹی، کرسچین آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس، سیمورگ، پاکستان سوشلسٹ پارٹی، ادارہ امن و انصاف، پنجاب نوجوان محاذ، پنجاب لوک رہس، شرک ت گاہ، واف، وائے ڈبلیو سی اے پنجاب، وومن لائرز ایسوسی ایشن، مزدور یونین بھٹہ، ہیومن

صفحہ 304

ریسورس سنٹر‘ اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ سیل‘ اپوا‘ ورکرز یونین‘ ایمکو ایمپلائز یونین باٹا‘ متحدہ لیبر یونین اور یونائیٹڈ لیبر فیڈریشن شامل تھیں۔ ریلی میں خواتین بھی موجود تھیں۔ ریلی میں شریک مظاہرین نے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے‘ جن پر درج تھا۔ ملاں گردی بند کرو۔ خواتین کو برابر کے حقوق دو۔ مولوی بدحال عوام خوشحال‘ جمہوریت اور سیکولرزم لازم و ملزوم ہیں‘ پاکستان بچانا ہے مولوی کو بھگانا ہے‘ ہم امن چاہتے ہیں‘ عورتوں کے حقوق مذہب کے نام پر بند نہ کرو‘ سیاست اور مذہب الگ ہیں‘ امن کا دشمن ملاں‘ مظاہرین نے ریلی کے دوران نعرہ بازی بھی کی۔ ریلی کی قیادت سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن نے کی۔ جبکہ آئی اے رحمان‘ عاصمہ جہانگیر‘ حنا جیلانی‘ حسین نقی‘ بیگم یوسف صلاح الدین‘ جوزف فرانس‘ الطاف بلوچ اور ملک انور موجود تھے۔“ (”نئی دنیا“ جولائی ۱۹۹۲ء)

قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اندراج کا فیصلہ مسیحی اقلیت کے احتجاج (اور بیرونی دباؤ) پر واپس لے لیا گیا تھا۔ اس ضمن میں مسیحی موقف تھا:

”اس حقیقت کو ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ یہ اقدام پاکستان کے اتحاد‘ سالمیت اور استحکام کے خلاف زہر قاتل ہے۔ وہ لوگ جو اس کو جداگانہ انتخاب اور نظریہ پاکستان کے عین مطابق سمجھتے ہیں وہ اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ نفرت‘ عصبیت اور مذہبی منافرت کے بیج بو کر پاکستان کو متحد نہیں رکھا جا سکتا۔ اگر دو قومی نظریہ سے پاکستان معرض وجود میں آ سکتا ہے تو کیا غیر مسلموں کو قومیت اور کاروبار حکومت سے الگ رکھ کر انہیں بھی علیحدہ وطن کے مطالبہ کی ترغیب نہیں دی جا رہی؟ یہ انتہائی قابل غور بات ہے۔ ہمیں ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہیے کہ हमारा کوئی بھی فیصلہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے خدانخواستہ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ اس لیے پاکستان کو ٹکڑے ہونے سے بچایا جائے۔“ (اداریہ ”کاتھولک نقیب“ یکم نومبر ۱۹۹۲ء)

”مذہبی شناختی کارڈ کا فیصلہ واپس لیا جائے تاکہ قوم مزید تقسیم ہونے سے بچ سکے اور نازیوں جیسی سوچ کو پاکستان میں نہ لایا جائے۔ ورنہ جرمن قوم کی تاریخ سے کون واقف نہیں؟“ (ایضاً صفحہ ۲۱ کالم ۱)

”اگر یہ علماء جداگانہ انتخابات پر یقین رکھتے ہیں تو یہ دو قومی نظریہ کو ہوا دیتے ہیں۔ وہ اقلیتوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ علیحدہ ملک کا مطالبہ کریں۔“

”اگر وہ ہمارے ساتھ اتنے ہی مخلص ہیں تو وہ ہمیں ویٹو Vito کا حق کیوں

صفحہ 305

نہیں دے دیتے؟"

”اس چیز سے قوم پرستی کی بجائے فرقہ پرستی‘ اقلیتوں میں جڑ پکڑ رہی ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو علیحدہ ملک یا الگ ملک کا مطالبہ ضروری ہو جائے گا۔“

”اگر چار یا پانچ فیصد سیاہ فام لوگ امریکہ جیسے ملک کی مشینری کو کنٹرول کر سکتے ہیں تو خیال کیجئے کہ یہاں پر اقلیتوں کے احتجاج کے اثرات کیا ہوں گے؟ اگر ان نتائج سے بچنا چاہتے ہو تو پی پی پی‘ اے این پی‘ تحریک استقلال جیسی جمہوری پارٹیوں کو متحدہ الیکشن کی تحریک چلانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیں۔“ (”شعور“ اگست ۹۲ء صفحہ ۲ کالم ۱)

”اقلیتوں سے مساوی سلوک کی ضمانت اور ان کی شکایتوں کے ازالہ کے لیے بہترین طریق کار یہ ہے کہ ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتے وقت ان کی رائے طلب کی جائے۔ آج تک اقلیتوں سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت کبھی ان کی رائے طلب نہیں کی گئی۔ اور ہمیشہ ان کے بارے میں فیصلے ان پر مسلط کیے جاتے رہے ہیں۔ مسلسل استحصال‘ حقوق کی پامالی‘ اپنے مقابلہ میں اکثریتی افراد کی خوشحالی اور کلیدی عہدوں پر تعیناتی سے اقلیتوں میں پہلے سے موجود محرومی کا احساس شدت اختیار کر جاتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ احساس محرومی کسی بھی شہری کی حب الوطنی مشکوک بنا دیتا ہے۔“ (”ساون“ اپریل

۹۴ء صفحہ ۱۵ کالم ۱)

اور اس مطالبہ کے مصنف کونسل فار دی ورلڈ انفارمیشن کے چیف ریفارمر علاقہ بشپ دانی ایل تسلیم تھے:

”مسیحیوں نے الگ صوبے ”تاکستان“ کا مطالبہ کر دیا۔“

لاہور (خبرنگار) پاکستان میں اقلیتی ونگ کے ایک گروپ‘ جن کا تعلق عیسائی برادری سے ہے‘ نے آئین کی دفعہ ۲۹۵ بی‘ سی جس کے مطابق گستاخ رسولؐ کی سزا موت ہے‘ سے تنگ آکر اپنے لیے ایک علیحدہ صوبے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ بات ایک عیسائی بشپ نے پریس کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے کہا اس ملک میں چونکہ عیسائیوں پر ظلم ہو رہے ہیں‘ عیسائیوں کے مطالبات پر کوئی غور نہیں کیا جا رہا اور آئے دن عیسائیوں کو گستاخ رسولؐ کی آڑ میں قتل کیا جا رہا ہے اور ہم پر ظلم و ستم کرنے والوں کو حکومت تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ ہمیں انصاف نہیں مل رہا۔ اس لیے ہم نے اس ظلم و ستم سے تنگ آ کر پاکستان میں ایک علیحدہ صوبہ کا مطالبہ کیا ہے اور اس صوبہ کا نام ”تاکستان“ ہو گا اور اس علاقہ کی بھی نشاندہی کی ہے کہ راوی اور ستلج کے درمیان والا علاقہ ہم عیسائیوں کو

صفحہ 306

دے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دس سے پندرہ ہزار کے قریب عیسائی برادری کے لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔ اور ہم اس تحریک کو پرامن طریقہ سے آگے بڑھاتے رہیں گے۔"

(”نئی دنیا“ جولائی ۹۴ء)

مذکورہ بالا مسیحی اقتباسات میں بہت سے بیانات غلط اور بہتیرے دعاوی محل نظر ہیں۔ مثلاً امریکہ کی ملکی مشینری پر سیاہ فام کنٹرول کی بات مضحکہ خیز اور خلاف حقائق ہی نہیں شدید لا علمی اور عقل و خرد سے بے تعلقی کی مظہر ہے!

امید ہے کہ یہ مختصر سی گذارشات پاکستانی مسیحیوں سے متعلق غلط پراپیگنڈہ کے ازالہ میں کچھ قدر و منزلت پا سکیں گی۔ آمین

صفحہ 307

آزاد پاکستان

"پاکستان کی ایک اعلیٰ عدالت نے حال ہی میں سلامت مسیح اور رحمت مسیح کی رہائی کا جو حکم صادر کیا ہے، وہ اس لیے نہیں تھا کہ ملزمان کے خلاف سرے سے کوئی شہادت موجود نہیں تھی بلکہ انہیں شک کا فائدہ دیا گیا جس کی بنا پر ان کی رہائی عمل میں آئی۔ اس کے برعکس انگریز کی عدالت میں (جن کی پیروی کو ہم اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں) چار دوسرے کشمیریوں سمیت میرے خلاف گیارہ سال قبل ایک بھارتی سفارت کار کو قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ مقدمہ سننے والے جج کا کہنا تھا کہ میرے خلاف جو شہادتیں پیش کی گئی ہیں، وہ ناکافی ہیں مگر اس کے باوجود درپردہ میرے لیے پندرہ سال قید کی سزا مقرر کردی۔ ۱۹۸۶ء میں سیکرٹری داخلہ نے اپنے طور پر اسے مزید دس سال آگے بڑھا دیا اور اس وقت تک اسے صیغہ راز میں رکھا جب تک ۱۹۹۳ء میں ہم نے یہ طویل قانونی جنگ جیت نہیں لی۔ جب ان کی یہ کارستانی ہمیں معلوم ہوئی تو ہم نے ان کے خلاف ہائی کورٹ میں دعویٰ دائر کر دیا جس نے ان کے فیصلے کو ۱۶ دسمبر ۱۹۹۴ء کو کالعدم قرار دے دیا‘ مگر اس کے باوجود ہم ابھی جیل میں ہیں۔ حالانکہ ہمارے ایک ساتھی تو دس سال کی بجائے گیارہ سال کی قید بھگت چکے ہیں۔ پاکستان میں عیسائیوں کے حق میں عدالتی فیصلے پر فی الفور عمل درآمد ہو جاتا ہے مگر یہاں برطانیہ میں سیکرٹری داخلہ کسی مسلمان کے معاملے میں ہائیکورٹ کے فیصلے کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔"

قیوم راجہ، ایچ۔ ایم پرزن لانگ لارٹن ایوشم، انگلینڈ (امپیکٹ انٹرنیشنل، لندن، اپریل ۱۹۹۵ء) (ہفت روزہ ”ندائے خلافت“ ۱۶ تا ۲۲ اگست ۹۵ء)

صفحہ 308

ملعون رشدی کی روحانی اولاد.... یہ کون لوگ ہیں؟

منور علی ملک

”خالد ملک بہت ذہین اور لائق نوجوان تھے۔ گوجرانوالہ کے ایک کالج میں انگریزی پڑھاتے تھے۔ بہت خوبصورت انگریزی لکھتے بھی تھے۔ روزنامہ پاکستان ٹائمز میں تاریخ اور ثقافت کے موضوعات پر ان کی متعدد تحریریں شائع ہوئیں۔ چند ماہ قبل خالد ملک، گردوں کے مہلک مرض میں مبتلا ہو گئے، ڈاکٹروں نے گردے کی تبدیلی کا مشورہ دیا۔ خالد کے والد نے جواں سال بیٹے کی جاں بچانے کے لیے اپنا گردہ دیا۔ راولپنڈی کے کڈنی سنٹر میں آپریشن ہوا اور نیا گردہ لگا دیا گیا۔

خالد ملک بائیں بازو کے معروف دانشور تھے۔ پی پی پی سے نظریاتی وابستگی کو اپنا طرۂ امتیاز سمجھتے تھے۔ گردے کا آپریشن ہوا تو وزیر اعظم بے نظیر نے سرکاری فنڈز سے ایک لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی۔ آپریشن کے بعد خالد ملک اپنے آبائی گاؤں واں بھچراں (ضلع میانوالی) آگئے۔ چند ہی روز بعد نئے گردے نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا۔ خالد دوبارہ چیک اپ کے لیے پنڈی گئے، چیک اپ ہوا مگر علاج کی مہلت نصیب میں نہ تھی۔ میرے ایک رفیق کار نے خالد ملک کی حیات مستعار کے آخری دنوں میں ان سے ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا۔

خالد کہہ رہے تھے۔ ”بھائی جان، مجھے اب بڑی شدت سے یہ احساس ستاتا رہتا ہے کہ میری یہ جان لیوا بیماری میرے ایک بہت بڑے گناہ کی سزا ہے۔ تم جانتے ہو کہ میں بائیں بازو کے دانشوروں میں اٹھتا بیٹھتا تھا۔ ان ہی لوگوں کی باتوں میں آکر میں نے اپنے نام میں سے لفظ ”محمد ﷺ“ بنیاد پرستی کی علامت (نعوذ باللہ) سمجھ کر حذف کر دیا اور صرف ”خالد ملک“ لکھنے لگا۔ اب مجھے یقین ہو چلا ہے کہ میری یہ بیماری اسی گناہ عظیم کی سزا ہے۔ اس لیے میں نے خداوند کریم سے اس گناہ کی معافی کے لیے التجا کرتے ہوئے یہ عہد کیا ہے کہ صحت یاب ہو کر میں اپنا نام خالد ملک کی بجائے ”محمد عبداللہ“ رکھوں گا۔ ہو سکتا ہے ان دو ناموں کی برکت سے خداوند غفور میرا یہ گناہ معاف فرما

صفحہ 309

دے۔“

اس ملاقات کے چند روز بعد خالد ملک چیک اپ کے لیے پنڈی چلے گئے۔ چیک اپ سے فارغ ہو کر کلینک سے نکلے‘ ایک ملازم ہمراہ تھا۔ چند ہی منٹ بعد وہ ملازم گھبرایا ہوا کلینک میں واپس آیا۔ اس نے ڈاکٹر کو بتایا کہ کلینک سے نکل کر چند ہی قدم چلنے کے بعد مریض اچانک گر پڑا اور لمبے لمبے سانس لینے لگا۔ ڈاکٹر صاحب فوراً موقع پر پہنچے تو خالد نے بلند آواز سے ایک مرتبہ کلمہ شہادت پڑھا اور......!

یہ قابل صد رشک موت اس بات کا ثبوت ہے کہ خالد کی توبہ قبول ہو چکی تھی بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ خداوند رحیم کو اس کا عہد توبہ اتنا پسند آگیا کہ اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے پاس بلا لیا۔

خالد اب اس دنیا میں نہیں۔ کاش اس کی زندگی میں کوئی اس سے ’ان رشدی النسل دانشوروں کے نام پوچھ لیتا‘ جن کے کہنے پر اس نے اپنے نام سے لفظ ”محمد ﷺ“ حذف کر دیا تھا۔ تاہم ان کے نام معلوم ہوں یا نہ ہوں‘ خالد کی بات سے یہ تو ثابت ہو گیا ہے کہ اس ریاست اسلامیہ میں بھی دانشوروں کے بھیس میں رشدی کی روحانی اولاد موجود ہے۔

ان اسلام دشمن لوگوں کے خلاف ایک معتبر شہادت حال ہی میں جناب احمد ندیم قاسمی سے بھی موصول ہوئی ہے۔ چند روز قبل اپنی سالگرہ کے سلسلے میں پاکستان ٹیلی ویژن سے ایک انٹرویو میں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا : ”ترقی پسند اہل قلم میں بعض لوگ میری نعت گوئی کی وجہ سے مجھے ترقی پسند ماننے سے منکر تھے۔“

ان معتبر شہادتوں کے بعد ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ان لوگوں سے صاف صاف کہہ دیا جائے کہ حضرات آپ غلط جگہ پر آگئے ہیں‘ اس سرزمین پاک تو آپ لوگوں کے لیے گیدڑ کی زندگی ہے یا کتے کی موت‘ لہٰذا آپ اگر اپنی ترقی پسندی کی خبر چاہتے ہیں تو سرحد پار کر کے اپنے گرو راج پال کے دیس میں جابسیں‘ کہ یہاں تو قدم قدم پر غازی علم الدین آپ کو واصل جہنم کرنے کے لیے سر بکف پھر رہے ہیں۔“

(روزنامہ خبریں لاہور 26 جنوری 1995ء)

صفحہ 310

عیسائی اقلیت کا ایک احسان ناشناس ”نمائندہ“

سائیں قلم

”9 جون 1993ء کے ”جسارت“ کے دوسرے صفحہ پر ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی ۔ مجھے نہیں معلوم کہ دوسرے اخباروں نے یہ خبر کس طور پر شائع کی یا نہیں کی ۔ یہ ایک نئے فتنے کا نقطہ آغاز ہے، اس لیے ہمیں اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ۔ اس نقطہ آغاز کو عیسائیوں کے اس بدلتے ہوئے سیاسی موقف کا ایک حصہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے جس کے نمائندے مسٹر سالک اور پاکستان کی قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے بعض ارکان ہیں ــــــــــــ اور ان سب باتوں کو پاکستان میں عیسائیوں کی دوسری سرگرمیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

لیجئے خبر ملاحظہ کیجئے ۔

مسیحیوں کے اسرائیل جانے پر پابندی ختم کی جائے، ناظر بھٹی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان کرسچن کانگریس کے صدر ناظر ایس بھٹی نے مقامی ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک کروڑ پاکستانی مسیحیوں کی مذہبی آزادیوں کے تحفظ میں خیر سگالی کے جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے پاسپورٹ میں اسرائیل جانے پر پابندی کو فوری طور پر ختم کرے اور یروشلم جانے اور مذہبی رسومات ادا کرنے کے خصوصی انتظامات کرے، انہوں نے حکومت پاکستان سے مزید مطالبہ کیا کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق اپنی خارجہ پالیسی میں مثبت تبدیلیاں لائے اور خصوصی طور پر بھارت اور اسرائیل کے حالیہ سفارتی تعلقات کی روشنی میں اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسیحیوں کے لیے اسرائیل میں اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے اسرائیل سے خصوصی اقدامات نہ کیے تو جولائی 93ء میں پاکستان کرسچن کانگریس کے

صفحہ 311

سالانہ کنونشن میں مذہبی آزادیوں کے تحفظات‘ مقدس مقامات کی زیارت اور پنجاب کی تقسیم کر کے مسیحی صوبہ کے قیام کی قراردادیں پیش کی جائیں گی۔

مناسب ہو گا کہ آپ اس خبر کو دو تین مرتبہ پڑھیں۔ سب سے پہلے تو ایک کروڑ عیسائیوں پر غور فرمائیے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو صداقت کے نبی تھے‘ اور پاکستان کرسچن کانگریس کے صدر نے دروغ گوئی میں گوئبلز کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ عام طور پر ارباب حل و اختیار ایسے دعوؤں کو غیر سنجیدہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں یا لطیفہ سمجھ کر مسکرا دیتے ہیں اور بس ــــــ لیکن اگر ایسے دعوؤں کو عرصہ تک نظر انداز کیا جائے تو پھر اسے ”صداقت“ قرار دے کر اس کی بنیاد پر قانون ساز اور دوسرے اداروں میں نمائندگی بھی طلب کی جاسکتی ہے۔

عیسائیوں کے علاوہ ایسے ہی دعوے بعض دوسری اقلیتیں بھی کرتی رہتی ہیں۔ قادیانی حضرات من گھڑت اعداد و شمار کی بنیاد پر انسانی حقوق کی انجمنوں‘ اداروں اور فورموں میں شور مچاتے اور مچواتے ہیں۔ حضرات اہل تشیع کا انداز بھی کچھ ایسا ہی ہے‘ مگر ان کے حقوق طلب کرنے والی انجمنوں میں اعداد و شمار کے سلسلے میں اتفاق رائے نہیں۔ بعض شیعہ رہنما اپنے آپ کو کل آبادی کا چالیس فیصد قرار دیتے ہیں اور 25 فیصد سے کم کی بات نہیں کرتے۔ ہم شیعوں کے مسئلہ کو دوسری اقلیتوں کے مثل قرار نہیں دیتے۔ جو شیعہ نص قرآنی سے انکار نہیں کرتے اور ارکان اسلام کو مانتے ہیں وہ ہمارے نزدیک مسلمان ہیں‘ ہمارا ہی حصہ ہیں اور ہماری تاریخ میں شیعوں کی عمومی تکفیر کبھی نہیں کی گئی۔ لیکن غالب حنفی اکثریت کے ملک میں نفاذ فقہ جعفریہ کا مطالبہ غیر منطقی اور مضحکہ خیز ہے۔ مگر اس تلخ حقیقت کو کیا کہئے کہ وہ حقوق طلبی میں اپنے آپ کو خود ہی مسلمانوں سے الگ کئے دیتے ہیں۔ بہرحال اس صورت حال کا تقاضہ ہے کہ

قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں مذہب کی صراحت موجودہ حالات میں اسلامی نقطہ نظر سے ضروری ہی نہیں بلکہ فرض ہے۔ پاکستانی قادیانیوں اور عیسائیوں کی اکثریت کے نام مسلمانوں جیسے ہیں۔ یہ حضرات ”مسلمان“ بن کر ارض حجاز جاتے ہیں۔ بہت سے عیسائی خاکروب مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں جا کر ملازمت کرتے ہیں۔

صفحہ 312

ہمارے سسرال میں کام کرنے والے بھٹی صاحب دو چار سال کے لیے غائب ہو گئے، واپس آئے تو معلوم ہوا کہ یہ مدت انہوں نے مکہ معظمہ میں گزاری۔ بہر حال شریف آدمی تھا، اس دھوکہ دہی کا اثر اس کے دل پر گہرا پڑا اور کچھ دنوں کے بعد دنیا سے جرم کے احساس کے ساتھ رخصت ہو گیا۔

پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ تو ہوتا ہے، مگر شناختی کارڈ کی بنا پر مذہب کو بدل کر یہ حضرات اپنا کام نکال لیتے ہیں۔ اب "ناظر الیس بھٹی" کے نام کو لیجئے۔ ان کے بارے میں کون کہے گا کہ یہ عیسائی ہیں۔ بہر حال اب انہوں نے عیسائیوں کے پاسپورٹ میں اسرائیل جانے کی اجازت کا مطالبہ کیا ہے، ان کے اس مطالبے سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ شناختی کارڈ پر بھی مذہب کا اندراج ہو گا کیونکہ پاسپورٹ شناختی کارڈ کی بنیاد پر بنتا ہے—— مذہب کے اندراج کا مطالبہ ایک دوسری اقلیت کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا تھا، اور اب عیسائی حضرات اس کے لیے خود جواز فراہم کر رہے ہیں۔

یروشلم یا القدس الشریف عیسائیوں کے لیے مقدس نہیں۔ وہ مسلمانوں کا تیسرا سب سے مقدس مقام ہے—— خانہ کعبہ، مسجد نبویؐ اور بیت المقدس—— ہمارے عیسائی بھائیوں کو اس حقیقت کو سامنے رکھنا چاہیے تھا کہ غاصب اسرائیل کی وجہ سے پاکستانی مسلمان بھی القدس کی زیارت سے محروم ہیں—— بیت المقدس جہاں سے نبی کریم ﷺ کا سفر معراج شروع ہوا، جہاں کی فضاؤں میں سرور کائنات ﷺ کے انفاس پاک کی خوشبو آج بھی رچی ہوئی ہے—— لیکن غاصبوں سے سمجھوتہ نہ کرنا بیت المقدس کی زیارت سے کہیں اہم ہے—— رہا عیسائیوں کا معاملہ، تو ان سے سوال ہے کہ ان کی غیرت کو کیا ہو گیا؟—— ان کے عقیدے کے مطابق تو حضرت مسیح کو انہی یہودیوں نے صلیب پر لٹکایا تھا (مسلمان کا یہ عقیدہ نہیں۔ ہم اسے حضرت عیسیٰ کی توہین قرار دیتے ہیں۔)

آگے بڑھ کر ناظر بھٹی صاحب نے ہماری پالیسی پر حملہ کیا ہے۔ وہ اس بات کو بھول گئے کہ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اور ہماری خارجہ پالیسی ہمارے دینی تصورات سے الگ نہیں کی جا سکتی۔ قوم پرست عرب ممالک اسرائیل سے صلح کر لیں، یہ ان کا معاملہ ہے لیکن پاکستان یہ نہیں کر سکتا۔

صفحہ 313

پاکستان میں اقلیتوں کو تمام بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں مگر انہیں اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ہمارے اسلامی کردار اور تشخص کو بدلنے کی کوشش کریں۔ پاکستان کا آئین اس تشخص کی علامت ہے اور یہ بھی اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے کہ اقلیتوں کی آبرو اور جان و مال کا تحفظ کیا جائے۔ اسلامی ریاست میں یہ، ہر مسلمان کا فریضہ ہے کہ وہ ذمیوں کی زمین، جائیداد، زندگی اور عزت کی حفاظت کرے۔ ذمیوں (اقلیتوں) کو اپنی املاک کی مکمل ملکیت حاصل ہوگی۔ ذمی کا خون، مسلمان کے خون سے کم محترم نہیں ہے ــــ اس وقت ذمی کے حقوق کا مسئلہ ہمارا موضوع نہیں۔ اس موضوع پر بہت سی کتابیں موجود ہیں۔ جو عیسائی برادران وطن قدرے تفصیل سے اس کا مطالعہ کرنا چاہیں تو وہ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے رسالہ کا مطالعہ کریں جس کا ترجمہ جناب خورشید احمد نے انگریزی زبان میں کیا ہے، اس کتابچے کا نام ہے

[RIGHTS OF NON- MUSLIMS IN ISLAMIC STATE]

اپنے بیان کے آخری حصہ میں ٹانگر بھٹی صاحب نے مسیحی صوبہ کے قیام اور پنجاب کی تقسیم کی دھمکی دی ہے۔ پاکستان کے موجودہ چار صوبوں کو انتظامی بنیاد پر چھوٹے صوبوں میں بانٹنے کی تجویز ایک الگ بات ہے، لیکن مسیحی صوبہ کے قیام کی تجویز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف غداری ہے اور غداری کی سزا ہر ملک اور معاشرے میں موت ہے۔

موجودہ حالات کے تناظر میں جب ہم اپنے قومی وجود کو فراموش کر کے اقتدار کی رسہ کشی کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ یہ بیان اور تجویز ایک بڑی سازش کا حصہ ہے اور غالباً امریکی طاغوت اس کے پیچھے ہے۔ ایک طرف پاکستان کو دہشت گرد قرار دلوانے کی کوششیں، دوسری طرف پاکستان پر حملہ کرنے کے جواز کے لیے بھارتی جدوجہد، کس کے سامنے نہیں۔ یہ لمحہ موجودہ ہر احتیاط کا تقاضہ کرتا ہے ــــ خدا کرے ہم تاریخ کو مایوس نہ کریں ــــ

(روزنامہ جسارت کراچی 21 جون 1993ء)

صفحہ 314

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین

اور غیر مسلم جج صاحبان

جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ

”اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی رو سے ملک کے صدر اور وزیر اعظم کا مسلمان ہونا ضروری ہے‘ اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہوئے انہیں اس بات کا اقرار کرنا ہوتا ہے کہ وہ حضور سرور کائنات ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی مانتے ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت کے مدعی کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں‘ چنانچہ آئینی طور پر کوئی غیر مسلم‘ ملک کا صدر یا وزیر اعظم نہیں ہو سکتا‘ اس کے برعکس اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تقرری میں کوئی پابندی حائل نہیں ہوتی‘ چنانچہ ہندو‘ سکھ‘ عیسائی‘ پارسی اور دیگر غیر مسلم اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کو‘ اگر وہ تقرری کی اہلیت کی تمام شرائط پوری کرتے ہوں‘ جج مقرر کرنے میں کوئی امر مانع نہیں‘ پاکستان کی عدلیہ میں جسٹس اے آر کار نیلیس‘ جسٹس دراب پٹیل اور جسٹس رستم سدھوا‘ نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ البتہ لاہوری یا قادیانی (مرزائی) مذہب کے پیروکاروں کا معاملہ ذرا مختلف نوعیت رکھتا ہے‘ گذشتہ چودہ سو سال سے تمام مسلمانوں کا یہ متفقہ عقیدہ چلا آ رہا ہے کہ حضور سرور کائنات ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرنے والا کافر‘ کذاب اور دائرہ اسلام سے خارج ہے‘ آپ ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے تھوڑا عرصہ بعد ہی جب ابھی اسلامی سلطنت کی بنیادیں پوری طرح استوار نہیں ہوئی تھیں‘ تو کئی فتنے اٹھ کھڑے ہوئے‘ منکرین زکوٰۃ اور مسیلمہ کذاب اپنی پوری شیطانی قوت کے ساتھ حق کے مقابل آ کھڑے ہوئے‘ اس وقت انتہائی نامساعد حالات میں بھی حضرت صدیق اکبرؓ نے جس پامردی اور استقامت سے ان فتنوں کا مقابلہ کر کے‘ ان کا قلع قمع کیا‘ وہ اسلامی تاریخ عزیمت کا ایک کھلا سنہری باب ہے‘ مرزائی مذہب کے پیروکاروں کو اعلیٰ عدالتوں کا جج بننے میں ایک ایسی آئینی رکاوٹ کا سامنا ہے‘ جسے وہ خود ہی دور نہیں کرنا چاہتے‘ بلکہ دانستہ اس سے چمٹے ہوئے ہیں‘ وہ یہ کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل

صفحہ 315

(a) (3) 260 کی رو سے‘ یہ ازلی‘ ابدی غیر مسلم آئینی طور پر بھی غیر مسلم قرار دے دیئے گئے ہیں‘ یہ لوگ دنیا بھر کے ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کو کافر سمجھتے اور اپنے آپ کو اصلی مسلمان قرار دیتے ہیں‘ یہ آئین کے متذکرہ بالا آرٹیکل 260 کو تسلیم نہیں کرتے‘ اس کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان میں کسی چھوٹے یا بڑے قادیانی شخص نے اپنا ووٹ نہیں بنوایا کیونکہ ان کا ووٹ غیر مسلم رائے دہندگان کی فہرست میں ہی درج کرایا جا سکتا ہے‘ اور وہ آرٹیکل 260 کی صریحاً ”خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرنے کو تیار نہیں‘ کیا ایسی صورت میں کسی مرزائی جج کا حلف کہ وہ ”اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا تحفظ اور دفاع کرے گا“ قابل اعتبار ہو سکتا ہے۔

ایک اخباری اطلاع کے مطابق ایک ”اعلیٰ شخصیت“ کی جناب جسٹس خلیل الرحمان خان صاحب سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے‘ اس وجہ سے ناراضگی ہو گئی ہے کہ انہوں نے ایک قادیانی سیشن جج کی بطور ہائی کورٹ جج تقرری کی سفارش نہیں کی۔ اس ”اعلیٰ شخصیت“ کی خدمت میں اطلاعاً عرض ہے کہ عدلیہ میں اب مزید کسی مرزائی جج کی تقرری کی گنجائش نہیں ہے‘ کیونکہ وہ پہلے ہی اپنی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ حصہ وصول کر چکے ہیں۔ اس وقت پنجاب میں قادیانیوں کے ووٹوں کی کل تعداد چار ہزار اٹھاسی ہے‘ جبکہ یہ پنجاب میں اپنی تعداد لاکھوں میں بتاتے ہیں‘ جو بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اپنے ووٹ جان بوجھ کر نہیں بنواتے‘ تاکہ ان کے نام بطور غیر مسلم درج نہ ہوں اور اس طرح یہ آئین کے آرٹیکل 260 کا منہ چڑاتے ہیں‘ بہر حال 4088 ووٹوں پر ان کا ایک جج بذریعہ سابق قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مقرر ہو چکا ہے‘ پنجاب میں مسلمان ووٹوں کی تعداد تین کروڑ اکیس لاکھ سے زیادہ ہے‘ لاہور ہائی کورٹ کے لیے ججوں کی آسامیوں کی منظور شدہ تعداد صرف پچاس ہے‘ اگر مسلمانوں کو 4088 ووٹوں پر جج کی ایک اسامی دی جائے تو تین کروڑ اکیس لاکھ سے زیادہ ووٹوں پر مسلمانوں کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں سات ہزار آٹھ سو باون سے زیادہ آسامیوں کا انتظام کرنا ہوگا۔ جسٹس خلیل الرحمان خان صاحب نے قادیانی سیشن جج کی سفارش نہ کر کے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے ساتھ دینی حمیت کا ثبوت دیا ہے۔ عدلیہ کی تاریخ میں ان کا نام ان کے سنہری کارناموں اور جرات مندانہ اور عادلانہ فیصلوں کی وجہ سے ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔ انہوں نے 20

صفحہ 316

مارچ 1996ء کے تاریخ ساز فیصلے سے پہلے بھی، ہمیشہ عدلیہ کی آزادی کی بات کی اور اس کی سزا بھی پائی، دو سال فیڈرل شریعت کورٹ بھگتی، کبھی کسی حکمران کے پاس کوئی ذاتی غرض لے کر نہیں گئے، سازشی عناصر، حکمرانوں کے پاس جا جا کر ان کی شکایت کرتے رہے کہ ”اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں“ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ایسے زمانے میں چیف جسٹس کے عہدہ جلیلہ پر فائز فرمایا، جب اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، فاضل سپریم کورٹ کے 20 مارچ کے فیصلے کے بعد، اب عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے، اب وہ دن گئے جب ایک قائم مقام چیف جسٹس نے حکومت کے اشارہ پر توہین رسالت ﷺ کے مبینہ مرتکب غیر مسلموں کی سزائے موت کے خلاف اپیل دو ہفتوں سے بھی کم مدت میں سماعت کرانے کا انتظام کر دیا تھا اور ایک دوسرے قائم مقام نے ایک ڈپٹی کمشنر کی خواہش پر اسی ضلع کے سیشن جج کو رات گیارہ بجے نیند سے بیدار کرا کے اسے ٹیلیفون پر یہ حکم دیا تھا کہ وہ اگلی صبح تین سو میل دور نئے سٹیشن پر جاکر چارج سنبھالے، اس سیشن جج کا قصور یہ تھا کہ اس نے ڈپٹی کمشنر اور دیگر افسران کے خلاف اس وقت کی اپوزیشن کی مقامی قیادت کے استغاثہ میں پراسس جاری کر دیا تھا۔

جسٹس خلیل الرحمان خان کے جانشین جسٹس اعجاز نثار صاحب خود پابند صوم صلوٰۃ اور ایک دینی اقدار کے حامل معزز خانوادے کے چشم و چراغ ہیں۔ جناب جسٹس سجاد علی شاہ نسباً سید ہیں اور ان کے بزرگوں نے باب الاسلام سندھ میں اسلام کی روشنی پھیلانے میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہوئی ہیں۔ ان معزز حضرات سے مسلم امہ توقع رکھتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے معاملات، ختم نبوت کے باغی اور فرنگی سامراج کے پٹھو، غلام احمد قادیانی کے امتیوں کے ہاتھ میں نہیں جانے دیں گے، یہ وہی لوگ ہیں جن کے گرو آنجہانی ظفر اللہ خان قادیانی نے حضرت قائداعظمؒ کا جنازہ اس بنا پر نہیں پڑھا تھا کہ وہ انہیں مسلمان نہیں سمجھتا تھا اور اس نے اپنے اس گندے عقیدے کا اظہار برملا کیا تھا، ان کے ایک اور گرو گھنٹال ڈاکٹر عبدالسلام نے مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے والی آئینی ترمیم منظور ہونے پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ”میں اس لعنتی ملک (مملکت خداداد پاکستان) کی زمین پر اپنا قدم نہیں رکھنا چاہتا“ یہ ایک عظیم المیہ ہے کہ حکومت سے وابستہ کچھ مغرب زدہ لوگوں نے اسے حقائق کے برعکس اچھالنے کی کوشش کی اور

صفحہ 317

گورنمنٹ کالج لاہور کی لائبریری کو اس شخص سے منسوب کر دیا۔

میں اس پر اسرار ”اعلیٰ شخصیت“ سمیت تمام متعلقہ اعلیٰ شخصیتوں کی توجہ مرزا غلام احمد قادیانی کی مندرجہ ذیل تحریروں کی طرف مبذول کرا کر انہیں اس بات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہوں کہ ان تحریروں کی رو سے مرزائیوں کے نزدیک ان کا اور ان کے دیندار والدین اور آباؤ اجداد کا کیا مقام متعین ہوتا ہے؟

”ہر مسلمان میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر بدکار عورتوں کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“ (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547)

یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ سر ظفر اللہ خاں آنجہانی نے حضرت قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا، اس لیے کہ وہ انہیں مسلمان نہیں سمجھتا تھا۔ میں یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ سر ظفر اللہ کے انتقال پر لاہور ہائیکورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس کی صدارت میں جج صاحبان کی ایڈمنسٹریشن کمیٹی کی میٹنگ میں آنجہانی کے لیے تعزیتی فل کورٹ ریفرنس کا معاملہ زیر غور آیا تو اس فقیر نے باقی حضرات کو یاد دلایا کہ اس شخص نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا، اس لیے تعزیتی ریفرنس دینا بے حمیتی کا مظہر ہوگا۔

جب دوسری طرف سے اصرار ہوا تو میں نے کہا کہ آنجہانی ”برادری“ تو میری تھا، یعنی جٹ تھا آپ حضرات کیوں مضطرب ہوتے ہیں۔ بالآخر یہ معاملہ اس وقت ٹھپ ہوا جب میں نے کہا کہ اگر کسی میں ہمت ہے تو ریفرنس کر کے دیکھ لے۔

کسی مرزائی جج کی طرف سے جج کے عہدہ کے حلف کے دوران تقیہ کر جانے یا اجتماعی حلف کی صورت میں چیف جسٹس کے پیچھے پیچھے حلف کے الفاظ دہراتے ہوئے گڑ بڑ کر جانے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ججوں کی اس وقت تک کی آخری کھیپ میں ایک صاحب قادیانی مذہب کے نہ صرف پیروکار بلکہ مبلغ ہیں۔ انتہائی معتبر شہادت کی بناء پر مجھے مکمل یقین ہے کہ وہ اس آئینی ترمیم کو جس نے انہیں اور ان کے ہم مذہبوں کو غیر مسلم قرار دیا ہے، ہرگز ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔ ایسی صورت میں کیا وہ اپنے اس حلف کی پاسداری کر پائیں گے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے فرائض دیانتداری، اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق ادا کریں گے۔ وفاداری قابل تقسیم نہیں ہوتی اگر وہ آئین کے حصے کو مردود سمجھتے ہیں تو باقی سے وفاداری کا دعویٰ محض فریب ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر ان کی تقرری کو اس بناء پر چیلنج کر دیا جائے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 260 (3)(a)(b) کو نہیں مانتے تو اپنے مذہب سے

صفحہ 318

وفاداری اور اپنے ”مسیح موعود“ کی محبت کو عہدے پر ترجیح دیتے ہوئے عدالتی منصب سے علیحدہ ہو جائیں گے۔

مسلمانوں کے معاملات ان لوگوں کے سپرد کرنا جو انہیں بدکار عورتوں کی اولاد سمجھتے ہوں شاید انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ضروری خیال کیا گیا ہے۔

اس دور پرفتن میں جبکہ دینی اقدار کے مسلسل اور متواتر انہدام پر بھی چاروں طرف قبرستان جیسا سناٹا ہے، یہ سطور لکھنے کا فریضہ میرے ناتواں کندھوں پر اس لیے آپڑا ہے کہ آج ہمارے درمیان امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا سید ابو الحسنات، محمد احمد قادری، مولانا مفتی محمود، مولانا عبدالحامد بدایونی، مولانا محمد داؤد غزنوی اور ان سب کے جانثار ساتھی (اللہ تعالیٰ سب کی قبروں کو منور فرمائے) ہم میں موجود نہیں۔

قم باذن اللہ کہہ سکتے تھے جو رخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن

اب وقت آگیا ہے کہ ان لوگوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے، اپنے آپ کو مسلم اور امت مسلمہ کو کافر قرار دیتے ہیں۔ ملازمتوں اور دیگر مراعات میں انہیں ان کی تعداد کے مطابق حصہ دیا جائے اور مسلمانوں کے حقوق غصب کرنے سے روک دیا جائے، ایک صوبائی حکومت پہلے ہی کنور ادریس کو وزیر مقرر کر کے فتنہ و فساد کا دروازہ کھول چکی ہے۔ ”اعلیٰ شخصیتوں“ کو ایسی کوئی مزید کوشش نہیں کرنی چاہیے، ملکی محکموں کے سربراہ اپنے ماتحت قادیانی افسروں سے اور ہائی کورٹوں کے چیف جسٹس اپنے ماتحت قادیانی ججوں سے، اس امر کا حلف نامہ کہ وہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 260 کے مطابق اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرتے ہیں، طلب کر کے دیکھ لیں کہ کون آئین کا پابند ہے اور کون منحرف۔ جو اپنے آپ کو آئین کے مطابق غیر مسلم تسلیم کر لیں، انہیں ان کی آبادی کے تناسب سے تمام حقوق دیئے جائیں۔

”اعلیٰ شخصیت“ یا شخصیتوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ مسلمان حضور نبی کریم ﷺ سے انتہائی جذباتی عقیدت رکھتے ہیں، وہ آپ ﷺ کے ناموس کی حفاظت کے لیے اپنی جان، مال، اولاد، والدین غرضیکہ ہر قیمتی متاع قربان کر دینے کو سب سے بڑی سعادت سمجھتے ہیں۔ 1953ء کی تحریک میں دس ہزار مسلمان نوجوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے تحفظ ختم نبوت کا فریضہ ادا کیا جو بالآخر 1974ء کی تحریک کا پیش خیمہ ثابت

صفحہ 319

ہوا اور انگریزی سامراج کے ”خود کاشتہ پودے“ کی جعلی نبوت کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا۔“

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۲۲ دسمبر ۱۹۹۶ء، روزنامہ ”خبریں“ لاہور ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۵ء)

صفحہ 320

رواداری کے نام پر آئین کی خلاف ورزی

سینیٹر جسٹس (ر) رفیق تارڑ

”آج کل لاہور ہائی کورٹ میں نئے ججوں کی تقرری کے سلسلہ میں اخبارات کے ذریعے منظر عام پر آنے والی خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ جن قادیانی سیشن ججوں کی بطور ہائی کورٹ جج، تقرری کی سفارش سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جناب خلیل الرحمن خاں صاحب نے نہیں کی تھی، ان کا معاملہ دوبارہ زیر غور لایا گیا ہے۔ وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اگر عیسائی یا پارسی حضرات اعلیٰ عدالتوں کے جج بن سکتے ہیں تو قادیانی کیوں نہیں۔

بادی النظر میں یہ بات عام آدمی کو اپیل کرتی ہے مگر قادیانی عقائد کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس دلیل میں قطعاً کوئی وزن نہیں۔ قادیانیوں کو چھوڑ کر دنیا بھر کے غیر مسلم، وہ عیسائی ہوں یا پارسی، ہندو ہوں یا سکھ، بدھ مت کے پیروکار ہوں یا دہریئے، سب کے سب دنیا کے ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کو مسلمان سمجھتے، مسلمان مانتے اور مسلمان کہتے ہیں۔ یہ صرف قادیانی اور لاہوری فرقہ کے مرزائی غیر مسلم ہی ہیں جو ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کو کافر قرار دیتے اور صرف خود کو مسلمان سمجھتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل ۲۶۰ قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیتا ہے، جسے یہ لوگ تسلیم نہیں کرتے۔ اس کا حتمی ثبوت یہ ہے کہ کسی قادیانی سرکاری ملازم یا کسی قادیانی چھوٹے یا بڑے جج (بشمول لاہور ہائی کورٹ کے قادیانی جج کے، جسے انتہائی اہم بینچ کا رکن مقرر کیا گیا ہے) کا پاکستان میں کسی انتخابی حلقہ میں ووٹ درج نہیں ہے، چونکہ ان کا ووٹ صرف غیر مسلموں کی فہرست میں درج ہو سکتا ہے، اس لیے وہ اپنا ووٹ نہیں بنواتے اور آئین کے آرٹیکل ۲۶۰ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتے۔ چیف جسٹس صاحبان پتہ کروا لیں کہ

صفحہ 321

جن قادیانیوں کو وہ ہائی کورٹ کا جج بنانا چاہتے ہیں، کیا ان کے ووٹ غیر مسلم ووٹروں کی فہرست میں پاکستان کے کسی انتخابی حلقہ میں درج ہیں۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر چیف جسٹس صاحبان اس بات پر غور فرمائیں کہ جو لوگ آئین کے آرٹیکل ۲۶۰ کو تسلیم ہی نہیں کرتے، وہ اعلیٰ عدالتوں کے جج بن جانے کی صورت میں کون سے آئین کا "تحفظ اور دفاع" کرنے کا حلف اٹھائیں گے۔ ان کا حلف اٹھانا تو ایسے ہی ہوگا جیسے کوئی خدا کا منکر، دھوکہ باز، خدا کی قسم اٹھا کر کسی معاملہ میں چالاکی اور عیاری سے دھوکہ بازی کر جائے۔ کیا کسی ایسے شخص سے آئین پاکستان کے تحفظ اور دفاع کا حلف لینا، جو آئین پاکستان یا اس کے کسی حصے کو تسلیم ہی نہ کرتا ہو، خود حلف دینے والے کے حلف کو مشکوک یا متنازع نہیں بنا دے گا۔ فاضل چیف جسٹس صاحبان ان قادیانی امیدواروں سے، جنہیں وہ اعلیٰ عدالت کا جج بنانا چاہتے ہیں، خود بالمشافہ دریافت فرما لیں کہ کیا وہ آئین پاکستان کے آرٹیکل ۲۶۰ کی رو سے اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرتے ہیں۔ ساری حقیقت کھل جائے گی۔

صوبہ پنجاب میں قادیانی ووٹروں کی تعداد ۴۰۸۸ ہے، ان میں کسی اعلیٰ یا ماتحت عدالت کے کسی قادیانی جج کا ووٹ درج نہیں ہے۔ ۴۰۸۸ ووٹوں پر وہ پنجاب میں اعلیٰ عدالت کے جج کی ایک اسامی حاصل کر چکے ہیں۔ اس صوبہ میں مسلمان ووٹروں کی تعداد تین کروڑ اکیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ اگر مسلمانوں کو ۴۰۸۸ ووٹوں پر ایک اسامی دی جائے تو لاہور ہائی کورٹ میں مسلمان ججوں کی تعداد سات ہزار آٹھ سے زیادہ ہونی چاہیے، جبکہ یہاں کل منظور شدہ اسامیوں کی تعداد صرف پچاس ہے۔ گزشتہ دنوں اخباری خبروں سے یہ معلوم ہوا تھا کہ ایک "اہم شخصیت" قادیانیوں کو ہر صورت ہائی کورٹ کا جج بنانا چاہتی ہے اور اسی کے اشارہ پر جسٹس خلیل الرحمن خاں کو سپریم کورٹ بھیجا گیا تھا۔ اگر آج پھر اس "اہم شخصیت" نے اس معاملے میں کسی قسم کا دباؤ ڈالا تو انشاء اللہ عامۃ المسلمین اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیں گے اور پھر ہرچہ بادا باد۔

دنیا کے ایک ارب سے زیادہ مسلمان، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ آپؐ کے ناموس کا معاملہ ہو تو پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ نام نہاد اہم شخصیتوں کا حدود اربعہ کیا ہے، وہ کتنی طاقتور ہیں اور کیا چاہتی ہیں، پھر مسلمان اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جان، اولاد، مال، والدین غرضیکہ ہر قیمتی متاع قربان کرنے کے لیے میدان میں سر بکف آتے ہیں۔ ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کی تحریکیں اس

صفحہ 322

بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ مملکت خداداد میں مسلمانوں کی گردنوں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی جعلی نبی کے پیروکاروں کو مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ مرزائیوں اور ان کی مہربان ”اہم شخصیت“ کو سر ظفر اللہ آنجہانی کی ذلت و رسوائی کے ساتھ وزارت خارجہ سے علیحدگی سے سبق سیکھنا چاہیے اور قادیانیوں کو عدلیہ میں پلانٹ کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ اہم شخصیت ہوش کے ناخن لے۔ اس کے اقتدار کے اپنے دن ہی اب کتنے ہیں۔ کیا اسے معلوم نہیں کہ چھ سات ماہ پہلے کی اس سے زیادہ بااختیار کئی اہم شخصیتیں آج پابجولاں ہیں۔ ان میں ایک ایسی شخصیت بھی شامل ہے جس نے اہم شخصیت کی سرپرستی کر کے اسے موجودہ حیثیت دلوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ رہے نام اللہ کا۔ ”اہم شخصیت“ کی طرح کی کئی لوٹا برانڈ اہم شخصیتیں اقتدار کا زمانہ ختم ہونے پر گمنامی کی اتھاہ گہرائیوں میں ”پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں“ کی تصویر بنی‘ زبانِ حال سے پکار رہی ہیں۔ ؎

دیکھو ”ہمیں“ جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو“

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور‘ ۲۴؍ اپریل ۱۹۹۷ء)

صفحہ 323

توہین رسالت ﷺ کے قانون میں ترمیم کیوں؟

ڈاکٹر انوار الحق۔ دمام‘ سعودی عرب

آج کل پاکستان کے اکثر شہروں میں حکومت پاکستان کے خلاف ہڑتالیں اور مظاہرے ہو رہے ہیں۔ عوام‘ حکومت کی توہین رسالت ﷺ کے قانون میں حالیہ ترمیم کے خلاف زبردست احتجاج کر رہے ہیں۔ پاکستانی عوام جو پہلے ہی معاشرے میں قانون اور سزا کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور مہنگائی کے ہاتھوں عاجز آئے ہوئے تھے‘ اب توہین رسالت ﷺ کے قانون میں ترمیم کا شوشہ چھوڑنے سے سخت غم و غصہ میں بھرے ہوئے ہیں۔ عوامی احتجاج کی یہ رو اگر چل پڑی تو بڑے بڑے طاغوتوں کو خس و خاشاک کی طرح بہالے جائے گی۔

پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت کا اسلام کے نفاذ سے متعلق کردار بالکل بھی قابل تعریف نہیں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کے منشور میں لکھا تھا کہ اسلام ہمارا مذہب ہے۔ اگر پیپلز پارٹی واقعی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے تو اسے اسلام سے خلوص اور محبت کا ثبوت دینا ہو گا‘ محض زبان سے اسلام سے محبت کا دعویٰ کر دینا کافی نہیں ہے۔ اعمال‘ درحقیقت دل کے اندر موجود یقین اور عقیدے کی گواہی دیتے ہیں‘ کچھ دیر کے لیے تو انسان دھوکے میں آسکتے ہیں لیکن کسی جماعت اور کسی افرادی گروہ کی حرکات و سکنات ایک عرصے تک دیکھنے کے بعد وہ حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں۔ لہٰذا قرآن حکیم میں حکم دیا گیا کہ کفار اور منافقین سے سختی سے پیش آؤ‘ ظاہر ہے کہ مسلم معاشرے میں کچھ لوگوں کو منافق سمجھا جائے گا تب ہی تو ان کے خلاف سختی سے پیش آیا جائے گا۔

کچھ عرصہ قبل بے نظیر صاحبہ اسلامی سزاؤں کو نعوذ باللہ ”وحشیانہ“ قرار دے چکی ہیں حالانکہ اگر ان سزاؤں کا اطلاق پاکستان میں ہوتا تو آج بے شمار لوگوں کی نیندیں حرام نہ ہوتیں‘ بے شمار لوگ آئے دن قتل نہ ہوتے‘ آئے دن محلوں میں چوری چکاری اور ڈاکے نہ ہوتے‘ اغوا اور زنا نہ ہوتے‘ لوگ سکون اور چین سے رہتے۔ یہ سب کچھ

صفحہ 324

اگر چند قاتلوں کے سر قلم کرنے اور چند ڈاکوؤں کے ہاتھ کاٹنے سے حاصل ہو جاتا تو زیادہ بہتر تھا یا اب جو ہو رہا ہے‘ وہ بہتر ہے‘ جہاں ہر روز بہت سے بے گناہ اور معصوم لوگوں کی جانیں‘ مال‘ عزت و آبرو اور سکون چھینا جا رہا ہے۔ اسلامی قوانین کے نفاذ سے مجموعی طور پر ہر سال ہزاروں زندگیاں بچتیں‘ لاکھوں لوگ مجرم بننے سے رک جاتے۔

جنوبی افریقہ کے دورے پر بے نظیر صاحبہ نے ونی منڈیلا کہ جن پر قتل اور ناجائز جنسی تعلقات کے الزام ہیں (جن کی وجہ سے ان کی نیلسن منڈیلا سے علیحدگی بھی ہے) کا تقابل حضرت فاطمہؓ سے کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حضرت مریمؑ کے لیے اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ وہ مادر عیسیٰؑ ہیں۔ ہم بے نظیر صاحبہ کے ان بیانات کو اس بات کی شہادت سمجھتے ہیں کہ انہیں نہ صرف یہ کہ اسلام کا علم نہیں ہے بلکہ ان میں ایک طرح کی اسلام کے معاملے میں بے حسی بھی پائی جاتی ہے۔ قرآن کریم میں حضرت مریمؑ کا اپنا ایک مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”اس نے مریمؑ کو دنیا کی تمام عورتوں پر چن لیا اور مریمؑ کو اپنی عبادت کے لیے مختص کر لیا“ جب مریمؑ کی والدہ ماجدہ حمل سے تھیں تو انہوں نے اپنی اولاد کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے نذر کر دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسے قبول کر لیا۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ مریمؑ بچپن ہی سے بے انتہا پاکیزہ‘ زاہدہ‘ عبادت گزار اور متقی تھیں۔ غیب سے ان کے پاس رزق بھی آتا تھا‘ اللہ تعالیٰ نے مریمؑ کو کسی شوہر کی اطاعت گزاری سے بھی محفوظ رکھا اور خالصتاً اپنی عبادت کے لیے قبول کیا۔ اس کے باوجود بغیر کسی مرد کے چھوئے اپنے حکم خصوصی سے انہیں عیسیٰؑ بھی عطا کئے۔ دنیا کی کوئی اور پاکدامن عورت اس آزمائش میں نہیں ڈالی گئی۔ اس سے حضرت مریمؑ کی عظمت کا علم ہوتا ہے۔ حضرت مریمؑ کی اپنی عظیم شخصیت تھی۔ الحمد اللہ آج بھی مسلمان اور قیامت تک بھی حضرت مریمؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی دیگر اہل مذاہب سے بڑھ کر عزت اور تکریم کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ خاتون جنت سیدہ فاطمہ الزہراؓ اور حضرت مریمؑ ان عظیم خواتین میں سے ہیں جن کے بارے میں ایک عام ان پڑھ مسلمان بھی کسی قسم کی گستاخی کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔ قرآن حکیم میں ایک سورۃ کا نام مریم ہے‘ ایک سورۃ کا نام آل عمران ہے جو مریم کے خاندان کا نام ہے اور دیگر بہت سی سورتوں میں بھی آنجناب کا ذکر خیر ہے۔

مندرجہ بالا گفتگو سے آپ نے اندازہ لگایا ہو گا کہ مسلمان حضرت آدمؑ سے

صفحہ 325

لے کر خاتم النبین حضرت محمد ﷺ تک کے تمام انبیا اور رسولوں کا احترام کرتے ہیں، ان سے محبت کرتے ہیں۔ در حقیقت ان تمام انبیا اور ان کی تعلیمات پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان ہو ہی نہیں سکتا نہ صرف یہ بلکہ قرآن حکیم نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ کسی بھی مذہب کے پیروکاروں کے معبودوں کو گالی نہ دیں۔ اسی طرح مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ دوسرے ادیان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچائیں۔ یہاں یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ خانہ کعبہ شروع سے ہی ایک مسجد کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا، اس میں بت بعد میں رکھے گئے تھے۔ اسی طرح سرزمین حجاز کو اللہ تعالیٰ نے شرک سے پاک علاقہ قرار دیا ہے۔ اس علاقے کے باہر غیر ادیان کی عبادت گاہوں کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔ ہاں اگر کسی علاقے کی تقریباً ساری آبادی از خود مسلمان ہو جائے تو وہ اپنی عبادت گاہوں کو خود مسجد میں بدل دیں یا پھر غیر مذہب کے لوگ اپنے عبادت گھر خود اپنی مرضی سے مسلمانوں کو فروخت کر دیں جس طرح بسا اوقات امریکہ وغیرہ میں ہوتا ہے۔

مسلمانوں کے لیے رسول اکرم ﷺ کی ذات، ان کی اپنی ذات سے بہت بڑھ کر ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی بیویاں، مسلمانوں کے لیے ماں کا درجہ رکھتی ہیں۔ رسول اکرم ﷺ اور امہات المومنات کے بارے میں بدکلامی اور فحش گوئی سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچنا ایک لازمی امر ہے۔ اس طرح کی بدکلامی اور فحش گوئی ایک بیمار ذہن ہی کر سکتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی بیمار ذہنیت بہت عام ہوتی جا رہی ہے۔ صرف پاکستان میں ہی نہیں، پوری دنیا میں یہودی خاص طور پر اس ذہنیت کے حامل ہیں، انہوں نے سلمان رشدی سے ”شیطانی آیات“ نامی کتاب لکھوائی۔ امریکی پریس کے مطابق وائنگ پریس (یہودیوں کا ادارہ) نے اس کام کے لیے ”شیطانی آیات“ لکھنے پر سلمان رشدی کو مبلغ دس لاکھ ڈالرز ادا کیے۔ نہ صرف یہ بلکہ سلمان رشدی کو مختلف ذرائع سے ”ہیرو“ بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ اسی طرح آج کل بنگلہ دیش کی تسلیمہ نسرین کو مغربی پریس خوب اچھال رہا ہے۔ جن لوگوں کو اس قسم کی بیماری لگ جائے، وہ باتوں کی زبان نہیں سمجھتے، وہ صرف اور صرف ایک ہی زبان سمجھتے ہیں اور وہ ہے طاقت کی زبان۔

ہمیں یہ بات بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ پاکستان ایک سیکولر ملک نہیں ہے، یہ

صفحہ 326

اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور یہ اسلام کے نفاذ کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ غیر مسلم اقلیتیں یہاں پر رہ کر تمام تر وہ حقوق تو حاصل کر سکتی ہیں جو اسلام ان کی حفاظت، امن اور دیگر دنیاوی کاروبار کے لیے عطا کرتا ہے لیکن وہ اسلامی شعائر کی توہین اور اسلام کے خلاف سازشیں کرنے کا حق حاصل نہیں کر سکتیں۔ پچھلے دنوں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اسمبلی میں نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کی توہین کی گئی۔ ایک اسلامی تشخص رکھنے والے ملک میں ایسی حرکات، معمولی حرکات نہیں سمجھی جاسکتیں۔ افسوس کی بات ہے کہ بعض نام نہاد مذہبی جماعتیں ”نظریہ ضرورت“ کے تحت موجودہ حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔ در حقیقت ان میں سے بعض نے انتخابات سے قبل ہی پیپلز پارٹی سے انتخابی اتحاد کر لیا تھا۔ ان کی ”ضرورت“ کیا تھی، سب کو اب اس کا علم ہے اور کون کن ذرائع سے ان ضروریات کو پورا کر رہا ہے، وہ بھی سب پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔

توہین رسالت ﷺ کے قانون میں ترمیم لانے کے ارادے، حکومت وقت کے خلاف عوام میں غیظ و غضب کا باعث بن رہے ہیں۔ عوام کسی بھی صورت میں توہین رسالت ﷺ کے مجرموں کو معاف نہیں کریں گے بلکہ اگر ملکی قانون بھی ان کی راہ میں آیا تو وہ اسے بھی ہاتھوں میں لینے سے گریز نہیں کریں گے کیونکہ ایک مسلمان کے لیے اسلام اس کا سب سے بڑا قانون ہے باقی دیگر قوانین اس کے تابع ہیں۔ کلمہ لا الہ الا اللہ، اسی بات کی تو شہادت ہے، لہٰذا کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سرے سے اسلام کے منافی قوانین بنائے ہی نہ جائیں تاکہ عوام اور حکومت میں غیر ضروری تصادم نہ ہو۔ جب توہین رسالت ﷺ کا قانون موجود ہو گا تو عدالت مجرم کو دفاع کا پورا موقع فراہم کر کے یا تو سزا دے گی یا بری کرے گی لیکن دوسری صورت میں عوام خود سڑکوں پر آ کر قانون ہاتھ میں لے گی۔ اس صورت میں قانون کے تمام تقاضے بھی پورے نہ ہو سکیں گے اور بعض بے گناہ افراد بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ ہم یہ باتیں محض مفروضے کے طور پر نہیں کہہ رہے بلکہ پاکستان میں ایسے واقعات پیش آچکے ہیں۔

ہم نہیں سمجھتے کہ کوئی غیر مسلم بھی جان بوجھ کر رسول کریم ﷺ یا اسلام کی توہین کرنا چاہے گا سوائے اس صورت میں کہ اس نے فتنہ و فساد پھیلانے اور شر انگیزی کی ٹھان ہی لی ہے۔ اس طرح کے شر انگیز لوگوں کی تعداد کم ہی ہے۔ توہین رسالت

صفحہ 327

ﷺ کا قانون اس طرح کے شرانگیز لوگوں کے منہ میں ایک لگام کا کام دیتا ہے۔ اسلام سنجیدہ اور علمی بحث و مباحث پر پابندی نہیں لگاتا لیکن دوسرے کی دل آزاری کرنا اور گالیاں دینا بہرحال بنیادی انسانی حقوق اور آزادی رائے کے زمرے میں نہیں آتے۔ اسلام مذہب میں زبردستی کا قائل نہیں، نہ ہی وہ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ دوسروں کو زبردستی مسلمان بنائیں۔ ہمارا کام صرف لوگوں تک حق کا پیغام پہنچانا ہے اسلام انسانی حقوق کے تحفظ کا سب سے بڑا داعی ہے۔ یہ مسلمان افواج کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ دشمن کی فصلوں کو تباہ کرے، ان کی مذہبی شخصیات کو گزند پہنچائے اور ان کی عبادت گھروں کو تباہ کرے۔ دوسری طرف اسلامی معاشرے میں اسلامی شخصیات اور اسلامی معاشرے کے بارے میں فحش گوئی اور بدکلامی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ توہین رسالت ﷺ کے قانون سے خود غیر مسلموں کو فائدہ ہے۔ وہ عدالت میں اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔ بے گناہی کی صورت میں اور شک کی صورت میں بری ہو سکتے ہیں۔ اس قانون سے کسی بھی ”مہذب“ غیر مسلم کو ڈرنے کی ضرورت نہیں، ہم حکومت پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لے۔

7 جولائی کے اخبارات میں توہین رسالت ﷺ کے قانون میں تبدیلی کے خلاف احتجاجی جلسوں، جلوسوں اور ہڑتالوں کی خبروں کے ساتھ ساتھ دو دلچسپ بیانات بھی شائع ہوئے ہیں۔ پہلا بیان وزیر اطلاعات و نشریات جناب خالد کھرل صاحب کا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

”قانون میں تبدیلی کا سوچ بھی نہیں سکتے، یہ اپوزیشن کا گمراہ کن پراپیگنڈہ ہے“

دوسرا بیان وزیر قانون و پارلیمانی امور جناب اقبال حیدر صاحب کا ہے، وہ فرماتے ہیں:

”توہین مذہب کے قانون میں تبدیلیاں ہمارے منشور کا حصہ ہیں“

ایک عام قاری ان بیانات کو پڑھ کر سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ جناب اقبال حیدر صاحب کب سے اپوزیشن میں شریک ہو گئے ہیں۔ نیز یہ کہ کھرل صاحب وزیر اطلاعات ہوتے ہوئے بھی جناب اقبال حیدر صاحب کی کارروائیوں اور بیانات تک سے مطلع نہیں۔ خالد کھرل صاحب مزید فرماتے ہیں ”ہماری قائد محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ خود سب سے بڑی عاشق رسول ﷺ ہیں، وہ بھلا کیسے برداشت کر سکتی ہیں کہ توہین

صفحہ 328

رسالت ﷺ کے قانون میں تبدیلی کا سوچا بھی جاسکے۔" کھرل صاحب کے بیان سے یوں لگتا ہے کہ گویا بے نظیر صاحبہ بھی خود اپنے وزیر قانون کے بیانات اور گستاخیوں سے قطعاً ناواقف ہیں وگرنہ وہ ضرور اقبال حیدر کے کان مروڑتیں ۔ اگر خدانخواستہ کھرل صاحب غلط ہیں اور اقبال حیدر صاحب ہی پی پی پی کی حقیقی پالیسیوں پر صدق دل سے عمل پیرا ہیں تو پھر حکومت کو تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ اگر رسول اکرم ﷺ سے سچے عشق کا دعویٰ ہے تو اس کی تصدیق عمل سے ہونا چاہیے۔ اور اگر خدانخواستہ دعویٰ جھوٹا ہے تو پھر ہمیں کچھ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں، وقت خود ہی کہے گا اور اس زور سے کہے گا کہ بہرے بھی سن سکیں گے۔

(روزنامہ خبریں لاہور 20 جولائی 1994ء)

صفحہ 329

قتل مرتد اور ذہن مغرب

محمد اسلم رانا

دسمبر ۹۷ء کے پہلے ہفتہ میں برطانیہ کے ممتاز عیسائی رہنما آرچ بشپ آف کنٹربری جارج کیری پاکستان کے دورہ پر آئے اور مختلف اجتماعات سے خطاب کیا۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا جس طرح عیسائیوں کو مسلم مذہب اختیار کرنے کی آزادی ہے اسی طرح مسلمانوں کو بھی مسیحی مذہب اختیار کرنے کی آزادی ہونی چاہئے (روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۵ دسمبر ۹۷ء)

بشپ صاحب کا یہ مطالبہ دراصل انگریزوں کی سوچ کا مظہر ہے۔ برطانیہ ایک آزاد ملک ہے۔ وہاں ہر شہری کو من مانی سوچ و فکر رکھنے اور تحریر و تقریر کی کھلی چھٹی ہے۔ برطانوی قوانین میں توہین مسیح کا قانون تو موجود ہے لیکن انسانی حقوق کے مذکورہ نظریات کے مدنظر عزت و توقیر مسیح کا تصور مفقود ہے۔ ویلز لورڈ مانچسٹر میں ایک شخص نے ۲ برس اپنے آپ کو مسیح ابن مریم کہلایا۔ پوپ روم سے اس کی خط و کتابت بھی رہی لیکن کسی نے اسے پوچھا تک نہیں تھا (ماہنامہ ”الہلال“ مانچسٹر دسمبر ۹۵ء)

مذاہب عالم کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے راقم الحروف کا مطالعہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی تجویز قابل پذیرائی نہیں ہے۔ صرف اسلام ہی نہیں دنیا کے ہر مذہب‘ ملت‘ معاشرہ اور نظام میں تبدیلی مذہب جرم ہے جس کی سزا موت ہے۔ چند مثالیں اور واقعات درج ذیل ہیں :۔

ایران کے بادشاہ شاہپور دوم نے یہ فرمان جاری کیا کہ اگر مجوسی یا دیگر زرتشتی اپنے مذہب کو ترک کرے تو اس کو سزائے موت دی جائے۔“ (”رسولوں کے نقش قدم پر“ مصنفہ بشپ ولیم جی ینگ مطبوعہ ۱۹۸۸ء صفحہ ۳۳۳)

چند برس پہلے تک روس میں کسی شہری کے کمیونزم سے انحراف کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا یہاں تک کہ الیکشن میں ملک کی واحد کمیونسٹ پارٹی کو ووٹ نہ دینے والوں کا کھوج لگا کر انہیں دن کے وقت تارے دکھائے جاتے تھے۔ روس اور چین میں فی زمانہ بھی مذہبی پابندیاں شدید ہیں۔ حکومت کے منظور نظر مذاہب کے دائرے سے نکلنے والوں کو قید و بند اور موت تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ واضح ہو کہ چین میں پوپ روم سے تعلق جتانے والے

صفحہ 330

رومن کیتھولک عیسائی ناقابل برداشت ہیں۔

ہنٹر لکھتا ہے کہ ”ہندوستان میں بدھ مت، ہندوازم کا دو میں سے ایک رقیب مذہب تھا۔ ۶۳۰ قبل مسیح کے قریب ایک مختصر عرصہ میں ہندو دشمنوں نے اسے تین بار تباہ کیا تھا۔“ ”داستانیں بتاتی ہیں کہ برہمن مصلحین کے اکسانے پر ہندو، بدھوں پر ظلم کیا کرتے تھے۔“

(A Brief History of the Indian People by Sir William Wilson Hunter : 1888, p. 73)

ہنٹر نے ایک روائت نقل کی ہے کہ جنوبی ہند کے ایک راجہ نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ ہندوستان کے انتہائی جنوبی کونہ سے لیکر ہمالیہ کے برف پوش پہاڑوں تک بدھوں کے سب بوڑھے مرد اور نوجوان بچے بھالے تہ تیغ کر دیئے جائیں اور جو انہیں قتل نہ کرے اسے بھی موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔ (ایضاً صفحہ ۸۵)

قصہ مختصر ہندوؤں نے بدھ مت اور بدھوں کے خاتمہ کی غرض سے ہر مذہبی اور حربی حربہ آزمایا موجودہ صورت حال اس طرح ہے کہ بھارت، نیپال، مشرقی ترکستان، تبت، منگولیا، برما، سیام، سیلون، سکم، بھوٹان، چین اور جاپان میں بدھوں کی تعداد ۸۰ کروڑ ہے۔ یہ دنیا کا تیسرا بڑا مذہب ہے۔ جبکہ مردم شماری ۱۹۹۱ء کی رو سے بدھ مت کی جنم بھومی بھارت میں بدھوں کی تعداد فقط ۶۳٬۸۷٬۵۰۰ ہے۔ ۱۹۸۱ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں ۲۶٬۳۹۰ بدھ بستے ہیں۔

ہندو ذہنیت ہے کہ سرزمین ہند، ہندومت اور اس کے پیرو کاروں کے لیے مخصوص ہے۔ جو مذہب ہندو مت کے زیر سایہ اور اس کے ماننے والے ہندو معاشرہ کا جزو بن کر نہ رہ سکتے ہوں ان کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔

اندریں حالات ہندوؤں نے مسلمانوں کا وجود کبھی بھی گوارا نہیں کیا۔ برصغیر کی ہزار سالہ تاریخ ہندو مسلم چپقلش کی خون آلود داستان ہے۔

قیام پاکستان کی ایک وجہ ہندو مسلم دشمنی بھی تھی

آج ہندو بھارت میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہے۔ انہیں گوناگوں طریقوں سے ہندومت میں واپس جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ کشمیریوں پر مسلط چھ لاکھ مسلح بھارتی افواج کا مقصد و مدعا وہاں سے مسلمانوں کا بزور شمشیر خاتمہ ہے۔

مسلمانوں کے ہندو دشمن مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کے نام سے بھارت کی ایک آزاد ریاست بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

صفحہ 331

وجہ مخاصمت برصغیر کے ۴۰ کروڑ مسلمانوں (کے آبا و اجداد) کا ہندومت چھوڑ کر (اسلام کا) ارتداد اختیار کرنا ہے!

چند سال ادھر اتر پردیش بھارت کے رام چندر ولد جمنا داس نے اسلام قبول کیا تو اسے والدین اور ہندوؤں نے بے تحاشا مارا پیٹا۔ پاؤں میں رسی باندھ کر جھاڑیوں، تنکوں، کانٹوں، کنکروں بھرے راستے میں پشت کے بل سوا کلو میٹر کھینچا اور مندر میں بند کر کے چلے گئے۔ جہاں سے بھاگ کر وہ بمبئی پہنچا۔

اسی نوجوان نے اپنے ہی علاقہ کی ایک خوبصورت، ذہین، ۲۰ سالہ گریجویٹ لڑکی ارمیلا کی داستان سنائی جس نے دہلی میں حصول تعلیم کے دوران اسلام قبول کر لیا تھا۔ گھر والوں نے اس پر ترغیب و تشدد کا ہر حربہ آزمایا لیکن اس نے اسلام سے ارتداد کو منظور نہ کیا۔ آخر کار اسے گاؤں سے باہر لے جا کر لکڑی کی کرسی پر بٹھا کر زندہ جلا دیا گیا تھا (ماہنامہ

”الفاروق“ کراچی جمادی الاول ۱۴۱۰ھ)

خود ہمارے ہاں پاکستان میں اسلام قبول کرنے والے عیسائیوں پر ان کے اعزہ و اقارب مظالم کے جو پہاڑ توڑتے ہیں ان کی دلخراش داستانیں آئے دن اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں۔ ہر مملکت اپنے باغیوں کو قتل کرتی ہے۔ اگر کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار کرے تو اس کی سزا بھی قتل ہے ہم آرچ بشپ کیری کو یاد دلانے کی عزت حاصل کریں گے کہ ارتداد کے ضمن میں یہودی اور عیسائی کتب مقدسہ تشدد اور انتہا پسند ہیں۔ تاریخ میں یہودیوں اور عیسائیوں کا وطیرہ ان کے مندرجات کا آئینہ دار رہا ہے۔ امید ہے کہ ایک سرسری سا مطالعہ کافی رہے گا۔

کلمہ کفر پر قتل : صحرائے سینا میں دو اسرائیلیوں کا آپس میں جھگڑا ہو گیا تو ایک نے خدا کے نام پر کفر بکا اور لعنت کی۔ حضرت موسیٰ پر حکم خداوندی نازل ہوا ”اس لعنت کرنے والے کو لشکر گاہ کے باہر نکال کر لیجا اور جتنوں نے اسے لعنت کرتے سنا وہ سب اپنے اپنے ہاتھ اس کے سر پر رکھیں اور ساری جماعت اسے سنگسار کرے اور تو بنی اسرائیل سے کہہ دے کہ جو کوئی اپنے خدا پر لعنت کرے اس کا گناہ اسی کے سر لگے گا اور وہ جو خداوند کے نام پر کفر بکے ضرور جان سے مارا جائے۔ ساری جماعت اسے قطعی سنگسار کرے (تفصیلات بائبل کی کتاب ”احبار“ ۲۴: ۱۰ تا ۱۶)

ترغیب شرک : سعی و ترغیب ارتداد کی سزا بھی قتل ہے۔ اس میں کسی مقدس ہستی،

صفحہ 332

اپنے قریبی عزیز اور کثرت تعداد کو بھی خاطر میں لانے کی اجازت نہیں ہے۔ چنانچہ لکھا ہے! ”اگر تیرے درمیان کوئی نبی یا خواب دیکھنے والا ظاہر ہو اور تجھ کو کسی نشان یا عجیب بات کی خبر دے اور وہ نشان یا عجیب بات جس کی اس نے تجھ کو خبر دی وقوع میں آئے اور وہ تجھ سے کہے کہ آ ہم اور معبودوں کی جن سے تو واقف نہیں پیروی کر کے پوجا کریں تو ہرگز اس نبی یا خواب دیکھنے والے کی بات کو نہ سننا کیونکہ خداوند تمہارا خدا تم کو آزمائے گا تاکہ جان لے کہ تم خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور جان سے محبت رکھتے ہو یا نہیں۔ وہ نبی یا خواب دیکھنے والا قتل کیا جائے۔“

”اگر تیرا بھائی یا تیری ماں کا بیٹا یا بیٹی یا تیری ہم آغوش بیوی یا تیرا دوست جس کو تو اپنی جان کے برابر عزیز رکھتا ہے تجھ کو چپکے چپکے پھسلا کر کہے کہ چلو ہم اور دیوتاؤں کی پوجا کریں تو تو اس کے ساتھ رضا مند نہ ہونا اور نہ اس کی بات سننا۔ تو اس پر ترس بھی نہ کھانا اور نہ اس کی رعایت کرنا اور نہ اسے چھپانا بلکہ تو اس کو ضرور قتل کرنا اور اس کو قتل کرتے وقت پہلے تیرا ہاتھ اس پر پڑے اس کے بعد سب قوم کا ہاتھ۔ تب سب اسرائیل سن کر ڈریں گے اور تیرے درمیان پھر ایسی شرارت نہیں کریں گے۔“

”اور جو شہر خداوند تیرے خدا نے تجھ کو رہنے کو دیئے ہیں اگر ان میں سے کسی کے بارے میں تو یہ افواہ سنے کہ چند خبیث آدمیوں نے تیرے ہی بیچ میں سے نکل کر اپنے شہر کے لوگوں کو یہ کہہ کر گمراہ کر دیا ہے کہ چلو ہم اور معبودوں کی جن سے تو واقف نہیں پوجا کریں تو تو اس شہر کے باشندوں کو تلوار سے ضرور قتل کر ڈالنا اور وہاں کا سب کچھ اور چوپائے وغیرہ تلوار ہی سے نیست و نابود کر دینا اور وہاں کی ساری لوٹ کو چوک کے بیچ میں جمع کر کے اس شہر کو اور وہاں کی لوٹ کو تنکا تنکا خداوند اپنے خدا کے حضور آگ سے جلا دینا اور وہ ہمیشہ کو ایک ڈھیر سا پڑا رہے اور پھر کبھی نہ بنایا جائے (تفصیلات کتاب استثنا باب ۱۳)

مکن نامی یہودی نے لوٹ کے مال میں سے ایک نفیس چادر، دو سو مثقال چاندی اور پچاس مثقال سونے کی ایک اینٹ چرالی۔ اس پر جماعت نے مکن، اس کے مذکورہ مال اور اس کے بیٹوں، بیٹیوں، بیلوں، گدھوں، بھیڑوں، بکریوں اور ڈیرے کو اور جو کچھ اس کا تھا سب کو وادی میں لے جا کر سنگسار کیا اور آگ میں جلایا۔ (یشوع باب ۷)

شرک اختیار کرنا: صحرانوردی کے آخری پڑاؤ کا واقعہ ہے۔ یہودی وہاں علاقہ موآب کی عورتوں کے بہکاوے میں آگئے۔ سارا واقعہ کتاب مقدس ہی کے الفاظ میں یوں ہوا :

صفحہ 333

"اور اسرائیلی شطیم میں رہتے تھے اور لوگوں نے موآبی عورتوں کے ساتھ حرام کاری شروع کر دی کیونکہ وہ عورتیں ان لوگوں کو اپنے دیوتاؤں کی قربانیوں میں آنے کی دعوت دیتی تھیں اور یہ لوگ جا کر کھاتے اور ان کے دیوتاؤں کو سجدہ کرتے تھے۔ یوں اسرائیلی بعل فغور کو پوجنے لگے۔ تب خداوند کا قہر بنی اسرائیل پر بھڑکا اور خداوند نے موسیٰؑ سے کہا سب سرداروں کو پکڑ کر خداوند کے حضور دھوپ میں ٹانگ دے تاکہ خداوند کا قہر بنی اسرائیل پر سے ٹل جائے۔ سو موسیٰؑ نے بنی اسرائیل کے حاکموں سے کہا کہ تمہارے جو جو آدمی بعل فغور کو پوجنے لگے ہیں ان کو قتل کر ڈالو" (گنتی ۲۵:۱ تا ۵)

واضح ہو کہ ان یہودیوں نے دین موسیٰؑ سے علانیہ برگشتگی اختیار نہیں کی تھی۔ پھر بھی تلوار کی نذر کر دیئے گئے!

۹۳۰ قبل مسیح میں سلیمانؑ کی وفات پر یہودی سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی۔ دس قبائل نے علی الاعلان بت پرستی شروع کر دی۔ اس کی پاداش میں ۷۲۱ قبل مسیح میں اسور کا بادشاہ سلمنسر اول انہیں اسیر بنا کر لے گیا اور ایران کے انتہائی شمالی صوبہ میڈیا میں جا بسایا۔ خدا معلوم وہاں انہیں زمین نگل گئی، ہوا میں تحلیل ہو گئے یا آسمان لے اڑا۔ ان کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ تاریخ انہیں بنی اسرائیل کے دس گم شدہ قبائل کے نام سے یاد کرتی ہے۔

(5) A Guide to Jewish knowledge by Chaim Pearl and

Reuben S. Brookes : 1978, p 79)

نافرمانی : سارے دین ہی کو رد کرنا تو کجا بات ٹھہری یہودیت میں ایک حکم کی عدولی کے جرم میں سزائے موت دیئے جانے کا بیان بھی موجود ہے۔

یہودیوں کو سبت کے دن کچھ کام کرنا منع تھا۔ یہ حکم نیا نیا ملا تھا۔ لوگ ابھی اس پر عمل درآمد سے مانوس نہیں ہوئے تھے کہ ایک شخص سبت کے روز بیابان میں لکڑیاں اکٹھی کرتا ہوا پایا گیا۔ اس پر بحکم موسیٰؑ ساری جماعت نے اسے لشکر گاہ سے باہر لے جا کر سنگسار کیا کہ وہ مر گیا (گنتی باب ۱۵:۳۲ تا ۳۶)

آگے چلئے موسیٰؑ اور ہارونؑ سے محض بدکلامی اور ان کے ساتھ گستاخانہ رویہ اختیار کرنے کے جرم میں خدا نے قورح پارٹی کو مع ان کے سارے مال و اسباب زمین میں دھنسا دیا تھا (تفصیلات گنتی باب ۱۶)

یہودیوں نے ایک نو مسیحی سٹیفنس کو اس بنیاد پر سنگسار کر دیا تھا کہ وہ موسیٰؑ اور خدا

صفحہ 334

کے خلاف کفر بکتا تھا اور پاک مقام اور شریعت کے برخلاف بولنے سے باز نہیں آتا تھا

(کتاب ”اعمال“ باب ۶‘ ۷)

عیسائیت میں بھی ارتداد ناقابل برداشت ہے پاپائے روم نے الحاد و بے دینی کے محاسبہ کی غرض سے ایک عدالت قائم کی جسے عدالت تفتیش یا عدالت احتساب کہا جاتا تھا۔ اس کی شاخیں سارے یورپ میں قائم تھیں۔ اکثر و بیشتر ملزموں کو سزائے موت دی جاتی تھی جس کی صورت عموماً آگ میں جلانا تھی۔ اس طرح جتنے آدمی جلائے گئے ان کی تعداد یورپ کے مورخین نے کئی لاکھ بتائی ہے فرانس کا مشہور مورخ لارینٹ لکھتا ہے کہ صرف ۱۶ سال کے عرصہ میں ۹ ہزار آدمی شعلوں کی نذر کئے گئے۔ (”تاریخ انقلابات عالم“ از ابو سعید بزمی ایم اے مطبوعہ ۱۹۳۹ء حصہ اول صفحہ ۱۸۹)

حکیم برونو ملک بہ ملک اور دربدر مارا مارا پھرتا رہا۔ بالاخر ۱۶۰۰ء میں پکڑا گیا۔ نئے خیالات اور نئی سائنس ماننے کی وجہ سے اسے ملحد ہی نہیں راس الملاحدہ قرار دے کر دینی عدالت کی جیل میں ڈالا گیا۔ ۲ برس کی قید کے بعد عدالت نے اس سفارش کے ساتھ حکام کے سپرد کیا کہ اسے نہایت نرمی سے سزا دی جائے اور یہ خیال رکھا جائے کہ اس کے خون کا ایک قطرہ بھی گرنے نہ پائے جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کو آگ میں ڈال کر جلایا جائے۔ (”نزاع مسیحیت و سائنس“ مصنفہ آرچیڈیکن پادری برکت اللہ صفحہ ۴)

عدالت احتساب چھوٹی سے چھوٹی بے دینی کا بھی نوٹس لیا کرتی تھی۔ (1888, P. 390)

(History of the christian Church by Prof. Dr. George Park Fisher

جون آف آرک فرانس کی ایک دیہاتی لڑکی تھی۔ فرانس والوں کے نزدیک وہ خدا کی طرف سے ان کی مدد کے لیے بھیجی گئی تھی۔ اس نے اپنے ملک کو انگریزوں سے آزاد کرانے کے لئے فرانسیسی افواج کی رہنمائی کی۔ جب وہ انگریزوں کے ہاتھ آئی تو انہوں نے اسے جادوگرنی قرار دے کر بائبل کے حکم کی تعمیل میں ۱۴۳۱ء میں آگ میں جلا ڈالا (خروج ۱۸:۲۲) (I, P. 61)

(The Pupil's Class-Book of English History by E.J.S. Lay : 1937, Book

سولہویں صدی کے شروع میں پروٹسٹنٹ تحریک نے پوپ روم کے مذہبی اور سیاسی اقتدار کو چیلنج کیا اور عیسائی دنیا رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ دو بڑے گروہوں میں بٹ گئی۔ اس تحریک کی پیدائش پر رومن کیتھولک‘ پروٹسٹنٹوں کو بدعت و بے دینی کے ملزم ٹھہراتے۔ پروٹسٹنٹ کیتھولکوں کو مشرک اور بت پرست کہتے۔ ان حالات میں طرفین

صفحہ 335

ایک دوسرے پر دل کھول کر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھاتے۔ ۱۵۲۷ء میں چارلس پنجم کی افواج نے پاپائیت کے صدر مقام روم پر حملہ کیا۔ دونوں پارٹیاں گرجا گھر لوٹنے، راہبات کی عصمت دری اور پوپ اور بڑے بڑے پادریوں کا محاصرہ کرنے پر سبقت لے گئیں۔ (1934, P. 299)

(History of England by Professor George Macaulay Trevelyan OM :

انگلستان کی ملکہ میری نے ۴ سال سے بھی کم عرصہ کے دوران قریباً ۳ صد پروٹسٹنٹوں کو زندہ جلایا۔ سپین کے رومن کیتھولک اپنے مقبوضہ ممالک میں اس سے دس گنا پروٹسٹنٹوں کو زندہ جلا رہے تھے (ایضاً صفحہ ۳۴۱) ۱۵۵۹ء سے برطانوی پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کر کے پوپ سے برطانیہ کے مذہبی تعلقات ختم کر دیئے۔ جس پر تاج برطانیہ کو مذہبی معاملات میں سپریم گورنر کا درجہ حاصل ہو گیا۔ (ایضاً صفحہ ۳۲۸) ملکہ الزبتھ اول کے عہد میں سالانہ ۴ کیتھولک اور ملکہ میری کے دورِ اقتدار میں ۵۶ پروٹسٹنٹ قتل کئے جاتے تھے وہ بدعتی نہیں ملک کے غدار سمجھے جاتے تھے۔ (ایضاً صفحہ ۳۶۳) آئرلینڈ میں پوپ کے مبلغین کو انگریزی مملکت کے غدار جان کر تختہ دار پر لٹکایا گیا جبکہ ان کے ہم مذہب انہیں کیتھولک کلیسیا کے شہداء قرار دیتے تھے۔ متعدد افراد عقیدہ تثلیث پر شک کرنے کی وجہ سے جلا ڈالے گئے۔ ان پر کوئی مذہبی فرقہ بھی ترس نہیں کھاتا تھا (ایضاً صفحہ ۳۶۵) فرانسیسی مصلح جان کیلون کے پیروکاروں نے تثلیث کے اطالوی منکر میکائل سرویٹس کو گرفتار کر کے اس پر مقدمہ چلایا، سزائے موت کا مستوجب قرار دیا اور ہلکی آنچ پر بھون بھون کر موت کے گھاٹ اتارا تھا۔

(Mankind's Search for God : 1990, p 23)

اگست ۱۵۷۲ء کے دوران پیرس میں باقاعدہ طور پر گھڑیال بجا کر پروٹسٹنٹوں کا قتلِ عام شروع ہوا۔ مرد، عورتیں، بچے بلا تمیز و بے دریغ تہہ تیغ کئے گئے۔ منصوبہ پروٹسٹنٹ تحریک کا بیج ہی ختم کر دینے کا تھا۔ پیرس میں ۲ ہزار افراد مارے گئے بقیہ فرانس میں پروٹسٹنٹ مقتولین کی تعداد ۲۰ ہزار تھی۔ تاریخ اس المیہ کو سینٹ بارتھولو میو کے قتلِ عام کا نام دیتی ہے۔ جب یہ خبریں روم پہنچیں تو بحکم پوپ خوشی کے گیت گائے گئے تھے (فشر کی تاریخ کلیسیا صفحہ ۳۳۹) دعا ہے کہ ہماری یہ مختصر سی کاوش اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ہو اور عیسائی دنیا اور نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار اسلام سے ارتداد کی اجازت طلب کرنے کی روش ترک کر دیں کہ یہ دین میں مداخلت ہے۔ آمین ثم آمین

صفحہ 336

عمران خان اور قانون توہین رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

محمد سہیل جاوید

عمران خان ایک عرصہ تک کرکٹ کی دنیا کے ہیرو رہے ہیں۔ ان کی پوری زندگی رنگینیوں اور سنگینیوں سے بھری ہوئی ہے۔ خوبصورت عورت ان کی کمزوری ہے۔ ایک موقع پر انہوں نے پاکستانی عفت مآب عورتوں کی توہین کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جس عورت پر ہاتھ رکھ دیں، وہ عورت اس سے تعلق قائم رکھنے سے انکار نہیں کر سکتی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے لاہور میں ایک کینسر ہسپتال بنایا۔ پھر پاکستانی سیاست میں داخل ہونے کے لیے پر پرزے نکالنے لگے۔ اخبارات میں مغرب کے خلاف اور اسلام کے حق میں مضامین شائع کروانے لگے۔ وہ ہر بات اسلام سے شروع کرتے اور اسلام پر ہی ختم کرتے۔ پھر یورپ کے مشہور یہودی تاجر گولڈ سمتھ کی بیٹی جمائما سے شادی کرنے کے بعد ان کی دولت کے بل بوتے پر "باقاعدہ" پاکستانی سیاست میں داخل ہو گئے۔ یاران واقف انہیں "مغرب کا ایجنٹ" کہتے ہیں۔ اسلام اور بانی اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ان کی معلومات اور نکتہ نظر کیا ہے؟ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ آیئے ملاحظہ فرمائیں۔

ایک موقع پر سلمان رشدی کی شیطانی آیات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ

کتاب پڑھ کر میں سختی سے اس کا قائل ہوں لیکن اس کی موت کی سزا کی حمایت نہیں کرتا۔ کیونکہ اسلام تو عفو و درگزر کی تعلیم دیتا ہے"۔

(روزنامہ "جنگ" لاہور ۲۳ فروری ۱۹۹۴ء)

بعد ازاں عمران خان نے بھارتی ہفت روزہ "نئی دنیا" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ:

صفحہ 337

رہا۔ کوئی چھوٹی عمر کا یا بے عقل لڑکا اہانت رسول کرے تو اسے اہانت رسول کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا اور نہ اسے پھانسی پر لٹکایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اسلام کو رسوا اور بدنام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں اپنی ذاتی رائے جیسا کہ اس نے سمجھا ہے، پیش کرتا ہے تو یہ غیر اسلامی نہیں"۔

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور ۲ فروری ۹۷ء)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، پیر شوکت علی، علامہ ابو ٹیپو خالد الازہری اور حاجی عبدالحمید رحمانی نے اپنے مشترکہ بیان میں پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے بھارتی ہفت روزہ (نئی دنیا) کو دیئے گئے انٹرویو پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا یہ بیان کہ ”پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنی ذاتی رائے کا اظہار غیر اسلامی نہیں“ توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہودیوں کو شروع ہی سے نبی کریم کی ذات گرامی سے عناد ہے اور دنیا بھر میں توہین رسالت کے مبینہ واقعات کے پس پردہ یہودی لابی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اب یہودی لابی نے اپنے داماد کے ذریعے نیا شوشہ چھوڑا ہے، جن سے تمام مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کسی قسم کا لفظ جس میں گستاخی کا شائبہ بھی پایا جاتا ہو، توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے۔ آزادی تحریر و تقریر کے عالمی اصول کو غلط مفہوم میں پیش کرنا عقل و دانائی پر ظلم ہے۔ آزادی کی تعریف یہ ہے کہ دوسروں کی آزادی مجروح نہ ہو۔ کروڑوں انسانوں کے قلوب کو مجروح کر دینا آزادی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہودیت سے مرعوب ہو کر اسلام کے احکامات کو بدلنے یا منسوخ کرنے کا یہ نامبارک سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا تو پھر اس کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن پاک نے پہلے ہی خبردار کر دیا ہے کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کی طرف سے کسی جزوی انحراف سے مطمئن نہیں ہوں گے بلکہ ان کی ثقافتی اقدار، تہذیبی اصول اور ورثہ کو اپنا لیں۔ ظاہر بات ہے کہ اسلام کے عقائد اور احکام جن تصورات پر قائم ہیں، وہ دور جدید کے لادینی، مغربی اور جمہوری تصورات سے بنیادی طور پر متعارض ہیں۔ اس لیے یہ کوشش فضول ہے کہ اسلامی احکام کی وہ تعبیریں کی جائیں، جن کو آج کا لادینی مغربیت زدہ طبقہ چاہتا ہے۔ انہوں نے

صفحہ 338

کہا کہ لندن کے ہائیڈ پارک میں اسپیکر کارنر میں آزادی تقریر کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ جو چاہے، جس کو چاہے گالیاں دے مگر وہاں بھی شرط ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت مریم علیہ السلام اور ملکہ وقت کے خلاف ایک حرف زبان سے نہ نکالے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن سے ایک روز پہلے عمران خان کا اصلی چہرہ مسلمانوں کے سامنے آگیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان فوری طور پر پوری ملت اسلامیہ سے معافی مانگے اور آئندہ کے لیے اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے احتیاط برتے۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، ۲۱ تا ۲۷ فروری ۱۹۹۷ء)

عمران خان نے مزید اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ

بلالؓ فوج کے جنرل بن گئے“

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، ۱۳ جنوری ۱۹۹۷ء)

علماء کرام نے عمران خان کے اس بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

”حضرت بلال حبشیؓ سچے عاشق رسولؐ تھے۔ آپ کی وجہ شہرت بطور موذن تھی۔ حضرت بلالؓ مجاہد ضرور تھے لیکن کبھی اسلامی لشکر کے جنرل مقرر نہیں ہوئے۔ حضورؐ کے گھریلو کام کاج آپ کے سپرد تھے۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ اسلامی تاریخ اور حضرت بلالؓ کے مصدقہ حالات زندگی کا بغور مطالعہ کریں۔ ادھر ادھر سے باتیں سن کر تاریخ اسلام کے ”نیم حکیم“ بننے کی کوشش نہ کریں۔ عمران کی جہالت سے سب واقف ہوچکے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار علماء کرام اور دینی جماعتوں کے رہنماؤں نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ایک انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ”حضورؐ نے مساوات کی تعلیم دی۔ اس لیے حضرت بلالؓ فوج کے جنرل بن گئے“۔ متحدہ جمعیت اہل حدیث کے سربراہ مولانا معین الدین لکھوی نے کہا کہ جس شخص کو حضرت بلالؓ جیسی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ پتہ نہیں، وہ سیاست کے سمندر میں ڈوب کر وزیراعظم بننے کے خواب دیکھتے ہوئے عالم دین بننے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

حضرت بلالؓ کبھی کسی اسلامی لشکر کے سالار مقرر نہیں کیے گئے تھے۔ آپ نے عاشق رسولؐ کی حیثیت سے بے پناہ تکالیف اٹھائیں۔ عمران خان نے لاعلم ہوتے ہوئے بھی

صفحہ 339

اسلامی شخصیات پر اتھارٹی بننے کی کوشش کی، جو انتہائی افسوس ناک ہے۔ مولانا نیازی نے کہا کہ عمران کو تاریخ اسلام کا مطالعہ کر کے بات کرنی چاہیے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی رہنما مولانا امجد خان نے کہا کہ حضرت بلالؓ کو جنرل بنا کر عمران خاں نے جہالت کا ثبوت دیا ہے۔ جب مکہ فتح ہوا تو حضور پاکؐ نے حضرت بلالؓ کو اذان دینے کا اعزاز بخشا۔ جبکہ حضرت بلالؓ حبشی، نبی اکرمؐ کے گھریلو کام کاج کے لیے مقرر کیے گئے۔ قاری رفیق احمد نے کہا کہ عمران خاں کو کم از کم اسلام کے معاملے میں جہالت کا ثبوت دینے سے باز رہنا چاہیے۔ آخر وہ کس قسم کا ”اجتہاد“ کر رہے ہیں۔ مدینہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل علامہ ضیاء اللہ بخاری نے کہا کہ حضرت بلالؓ کو اسلامی فوج کا جنرل بیان کر کے عمران خاں نے اسلامی تاریخ سے اپنی ”واقفیت“ کا ثبوت دے دیا ہے۔ وہ سیاست میں جو چاہیں، تجربے کرتے رہیں۔ کم از کم اسلامی تاریخ کو مسخ نہ کریں۔ متحدہ جمعیت اہلحدیث کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا نعیم بادشاہ نے کہا کہ حضرت بلالؓ کی وجہ شہرت بطور موذن تھی۔ بچہ بچہ اس بات کو جانتا ہے لیکن عمران خاں کون سی اسلامی تاریخ بیان کر رہے ہیں؟ کہیں یہ تاریخ انہیں اپنے سسرال سے تو نہیں ملی؟ معروف عالم دین مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ اس سے بڑی جہالت اور کیا ہو سکتی ہے کہ جس بات سے پوری دنیا آگاہ ہے، عمران خاں اس سے لاعلم ہیں۔ اس بیان سے عمران خاں کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے دین اسلام کے بارے میں مستند کتب کا مطالعہ کیا ہے۔ اگر اسلامی تاریخ کے حوالے سے وہ ایسی غلط باتیں بڑے اعتماد سے کہہ گئے تو دین اسلام کے بارے میں ان کی معلومات پر کس طرح اعتبار کیا جا سکتا ہے“۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور ۱۳ جنوری ۱۹۹۷ء)

ان بیانات کی روشنی میں پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ عمران خاں کی ڈور یہودی اور قادیانی لابی کے ہاتھوں میں ہے، جس پر وہ سرمایہ کاری کر کے مستقبل میں اسے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

برطانیہ کے گزشتہ انتخابات (اپریل ۱۹۹۷ء) میں عمران خان کی اہلیہ جمائما خان نے اپنے شیر خوار بیٹے کے ہمراہ پتنی کے علاقہ میں اپنے باپ سر جیمز گولڈ سمتھ کی انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ گولڈ سمتھ کا اس حلقے میں ٹوری پارٹی کے ڈیوڈ ملر سے مقابلہ تھا، جو کافی عرصہ سے اس علاقے کے ممبر پارلیمنٹ چلے آ رہے تھے۔ سر جیمز گولڈ سمتھ نے اپنی پارٹی فریڈم کے جھنڈے تلے الیکشن لڑا۔ اس انتخابی حلقے میں قادیانیوں کا ہیڈ کوارٹر بھی

صفحہ 340

ہے اور قادیانی ووٹروں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ گولڈ سمتھ اپنی بیٹی جمائما اور نواسے کے ہمراہ پیدل چل کر قادیانیوں کی عبادت گاہ میں گئے، جہاں قادیانیوں کے سربراہ اور موجودہ خلیفہ مرزا طاہر احمد نے ان کی پر تکلف چائے سے خاطر تواضع کی۔ گولڈ سمتھ کافی دیر تک قادیانیوں سے ملتے رہے اور ان سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔ جمائما نے بھی قادیانی خواتین سے انگریزی اور اردو میں بات چیت کی۔

اس کے جواب میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے سر گولڈ سمتھ کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے پاکستان میں قادیانی جماعت کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے، امتناع قادیانیت آرڈیننس اور ان کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان کے تفصیلی فیصلہ کی مکمل روداد سنائی اور انہیں اس سلسلہ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ سر گولڈ سمتھ نے قادیانی سربراہ کی تمام باتیں بڑی توجہ اور دلچسپی سے سنیں اور اپنے تعاون اور مستقبل میں ان سے رابطہ رکھنے کا یقین دلایا۔

اس ملاقات پر پاکستان کے اسلامی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسے قادیانی یہودی گٹھ جوڑ کا کھلا ثبوت قرار دیا اور کہا کہ قادیانیوں کی طرف سے ایک یہودی کے اعزاز میں دعوت مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ عمران خاں کو پکا مومن اور جمائما کو مومنہ کہنے والے اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور اس ملاقات کی کڑیاں ملائیں تو ان پر عمران خان، جمائما، گولڈ سمتھ اور قادیانیوں کے ربط و تعلق کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران یہودیوں اور قادیانیوں کا ایجنٹ ہے اور انہی کے ممی ڈیڈی کلچر اور ممانعت جہاد کے فروغ کے لیے پاکستان میں سرگرم ہے۔

ان برطانوی انتخابات میں گولڈ سمتھ بری طرح ہار گئے۔ انہیں عوام نے مسترد کر دیا۔ گولڈ سمتھ بمشکل ۱۵۰۰ ووٹ حاصل کر سکے۔ اس طرح ان کی ضمانت بھی ضبط ہو گئی۔ یعنی جو حالت پاکستانی انتخابات میں عمران خاں کی ہوئی، وہی حشر گولڈ سمتھ کا برطانیہ میں ہوا۔ وہاں کے لوگوں نے عمران خاں کے سسر کی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”انہیں میکسیکو چلے جانا چاہیے۔ کیونکہ یہاں لوگوں کو خریدا نہیں جا سکتا“۔

صفحہ 341

پاکستان میں اقلیتی حقوق کا مسئلہ

محمد اسلم رانا

پاکستان گولڈن جوبلی تقریبات کمیٹی کے زیر اہتمام قائد اعظم قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عیسائی رہنما بشپ سمن منوہا نے کہا کہ قائد اعظمؒ نے فرمایا تھا کہ تمام پاکستانی برابر کے شہری ہیں‘ لہٰذا اقلیتوں کے حقوق اور مسائل کا حل حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن تقریروں کے حوالہ سے ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جارہا۔

عیسائی برادری پاکستان کی اہم ترین اقلیت ہے۔ اس کے رہنماؤں کی طرف سے اس قسم کے بیانات سننے میں آتے رہتے ہیں۔ یہ سطور صورت حال کے مطالعہ کی غرض سے تحریر کی جارہی ہیں۔

اس عالم آب و گل کے اندر اقلیتی معاملات کا سلجھاؤ کچھ ٹیڑھی سی کھیر ہے۔ الحمد للہ کہ وطن عزیز پاکستان میں اقلیتوں کو‘ اکثریت کے برابر‘ تمام مسلمہ شہری حقوق حاصل ہیں اور وہ ان سے بہرہ ور بھی ہیں۔ انہیں رہنے سہنے‘ جینے‘ بسنے‘ جان و مال کے تحفظ‘ نقل و حرکت‘ اپنی جائیدادیں بنانے‘ خریدنے‘ پیشے اپنانے‘ اپنے دینی اور عام تعلیمی اور رفاہی اداروں کی تعمیر و قیام اور ملکی تعلیمی اداروں میں داخلہ‘ اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں شرکت و کامیابی‘ پولیس‘ فوج اور دیگر سرکاری و نیم سرکاری محکموں اور اداروں میں کوٹہ اور میرٹ کی بنا پر ملازمت کی مراعات اور سہولتیں حاصل ہیں۔ انہیں اپنے مذہبی جرائد‘ لٹریچر اور کتب کی سرعام تقسیم و اشاعت‘ فروخت اور خط و کتابت سکول تک چلانے

صفحہ 342

کی کھلی چھٹی ہے۔ اقلیتی عبادت گاہوں، مڑہیوں اور قبرستانوں کے لئے زمین مہیا کرنے اور ان کی چار دیواروں تک کی تعمیر سرکاری خرچہ پر ہونے کی مثالیں موجود ہیں۔ اپنی عبادات، جلسے اور کانفرنسیں منعقد کرنے، سرعام مذہبی اور سیاسی جلوس نکالنے، پبلک مقامات پر نعرے مارنے اور ٹریفک روک کر چوراہوں میں تقریریں کرنے میں آزاد ہیں۔ سابقہ دور حکومت میں ان کے مذہبی جلسوں کا انعقاد سرکاری اہتمام اور افسروں کی زیر نگرانی ہوتا رہا ہے۔ یہ لوگ سڑکوں پر اسلامی عقائد کے خلاف بینرز لگاتے ہیں۔ صلیبیں لہراتے، فتح صلیب کے نعرے مارتے اور عیسائی مجمع اور پاکستان کو صلیب سے برکت دیتے ہیں۔

اقلیتی افراد کو سرکاری کمیٹیوں اور کونسلوں میں لیا جاتا ہے۔ انہیں ووٹ دینے اور بلدیاتی اداروں، مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں میں اپنے ووٹوں سے 'اپنی پسند کے' اپنے ہم مذہب اور ہم مسلک اور ہم خیال نمائندے بھیجنے کے حقوق میسر ہیں۔ قومی اسمبلی میں ممبروں کی تعداد 10 اور صوبائی اسمبلیوں میں 34 ہے۔ انہیں صوبائی اور مرکزی وزراء، مشیر اور پارلیمانی سیکرٹری بھی مقرر کیا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی کے اقلیتی ممبران کو بھی باقاعدہ "حج کوٹہ" ملتا ہے جس سے عیسائی کرسمس منانے روم جاتے ہیں۔ پار سال ایسٹر کے تہوار پر دس عیسائیوں کو روم بھیجا گیا تھا جن پر 4 لاکھ 72 ہزار روپے خرچہ اٹھا تھا۔ 1996ء سے 50 عیسائیوں کو سرکاری اخراجات پر ایسٹر منانے روم بھیجنا منظور کیا گیا ہے۔

غرضیکہ پاکستان میں اقلیتوں کی چاندی ہے۔ دنیا بھر میں کہیں بھی اقلیتوں کو وہ حقوق و مراعات میسر نہیں ہیں جو انہیں پاکستان میں دی گئی ہیں۔

چند اقلیتی امراء و وزراء

تقرریوں کے ضمن میں واضح ہو کہ اہلیت و قابلیت کی بنا پر پاکستان کی تمام اقلیتوں کے لئے نوکریوں اور ملازمتوں کے دروازے وا ہیں اور ادنیٰ و اعلیٰ ملازمتوں پر فائز ہونے والوں میں شکایت کنندہ عیسائی برادری سے متعلق افراد کی اکثریت نظر آتی ہے۔ کچھ سابقہ و موجودہ اقلیتی امراء، وزراء کے اسما اور عہدے

صفحہ 343

درج ذیل ہیں۔ ارجن داس بگتی ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی‘ سیٹھ بھاری لعل وزیر اقلیتی امور صوبہ سرحد‘ ہری رام کشوری لعل وزیر اقلیتی امور سندھ‘ پیٹر جان سہوترا وزیر اقلیتی امور پاکستان‘ راجہ تری دیو رائے وفاقی وزیر‘ جے سالک وزیر بہبود آبادی و اقلیتی امور حکومت پاکستان‘ ڈاکٹر شیلابی چارلس‘ مائیکل جانسن اور پیٹر گل مشیران وزیر اعلیٰ پنجاب‘ جوشو افضل دین نائب وزیر قانون مغربی پاکستان‘ مس ماریہ ایلی پرسل سیکرٹری وزیراعظم پاکستان‘ میجر جنرل جولیس پیٹر کمانڈر انفنٹری ڈویژن‘ سہیل چودھری کیپٹن ائرفورس‘ سلیم سارک چیف انجینئر ہائیڈل آپریشن واپڈا‘ ٹی فیلبوس چیف انجینئر واپڈا‘ اے پی گل مجسٹریٹ درجہ اول‘ مریم قیصر (پاکستان میں پہلی خاتون) سول جج‘ اسحاق رحیم بخش سول جج درجہ اول‘ جیکب آئزک سپیشل فیڈرل جج اینٹی کرپشن‘ مسٹر جسٹس اے آر کارنیلیس چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان‘ حال ہی میں عیسائی ایڈووکیٹ موہن لال شاہانی کو سندھ ہائی کورٹ کا عارضی جج مقرر کیا گیا ہے۔ سموئیل ٹامس جوشوا آسٹریا میں سفیر‘ کرنل ایس کے ٹریسلر سفیر نمیبیا بعد ازاں چیف پروٹوکول آفیسر حکومت پاکستان‘ سموئیل پرویز بشپ آف سیالکوٹ اور جوزف فرانسس ارکان پارلیمانی کشمیر کمیٹی‘ جارج کلمنٹ ایم این اے پارلیمانی سیکرٹری امور خارجہ‘ آر ایس پونیگر سیکرٹری وزارت بجلی و پانی حکومت پاکستان‘ 95ء میں تین اور 96ء میں 6 عیسائی نوجوانوں نے سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔ پنجاب اسمبلی کے اقلیتی ارکان جو پنجاب اقلیتی بہبود فنڈ کے ممبران نامزد کئے گئے۔ جانسن مائیکل‘ ڈاکٹر شیلابی چارلس‘ پیٹر گل‘ لالہ مہرلال جمیل‘ بیگم راج حمید‘ عادل شریف گل اور مسٹر دارایوس لپٹن جی۔ سابقہ دور حکومت میں اقلیتوں کے وارے نیارے رہے۔ جے سالک وفاقی وزیر سارا دن عیسائی نوجوانوں کے لئے سفارشی چٹھیاں لکھتے رہتے تھے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان دنوں بالخصوص وزارت داخلہ و خارجہ حکومت پاکستان کے دفاتر میں عیسائی ملازمین ایک معتدبہ تعداد میں موجود ہیں۔

زیادہ تر سندھ میں بسنے والے 1276166 ہندو پاکستان کی دوسری بڑی اقلیت ہیں وہ ملکی سرگرمیوں میں بس واجبی سا حصہ لیتے ہیں۔ دیگر اقلیتی فرقوں کی

صفحہ 344

آبادی ناقابل التفات ہے۔ عیسائی برادری پاکستان کی سب سے بڑی اقلیت ہے۔ 1981ء کی مردم شماری کے مطابق ان کی کل آبادی 1310426 ہے۔ اقلیتوں کی نمائندگی اور اقلیتی امور کی حفاظت و حصول کا بیڑا عیسائی برادری نے ہی اٹھا رکھا ہے۔ اندرون و بیرون ملک عیسائیوں کا پراپیگنڈہ ہے کہ پاکستان میں اقلیتی افراد بدحالی اور اپنے حقوق کی پامالی کا شکار ہیں۔ وہ دوسرے تیسرے درجہ کے شہری ہیں۔ تلافی کی غرض سے عیسائی مطالبات کی فہرست کچھ یوں ہے۔

اقلیتی مطالبات

قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کی از سر نو اور منصفانہ حد بندی، دوہرے ووٹ کا حق، شریعت بل، اسلامی قوانین، بالخصوص حدود آرڈیننس، قانون شہادت دیت اور گستاخ رسول ﷺ ایکٹ کا خاتمہ، سینٹ، اسلامی نظریاتی کونسل اور فلم سنسر بورڈ میں اقلیتوں کی نمائندگی، قومی تحویل میں لئے گئے عیسائی تعلیمی اداروں کی واپسی، کرسمس، ایسٹر اور دیگر اقلیتی فرقوں کے مذہبی تہواروں کے مواقع پر ٹی وی سٹیشنوں سے ان کے مذہبی پروگراموں کو ٹیلی کاسٹ کرنا، سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی فرقوں کی خواتین کے لئے الگ نشستیں مختص کرنا، پالیسی بنانے والے ریاستی اداروں میں خواتین کی موثر نمائندگی، وفاقی مشاورتی کونسل برائے اقلیتی امور، اقلیتی کمیشن اور ضلعی اقلیتی کمیٹیوں کی تشکیل نو، بیرون ملک بھیجے جانے والے سیاسی اور ثقافتی حکومتی وفود میں اقلیتی افراد کی شمولیت، نرسنگ، ٹیچنگ، ٹیکنیکل کورسز، میڈیکل کالجوں اور دیگر پیشہ وارانہ اداروں میں اقلیتوں کے لئے نشستوں کی تخصیص، نگران حکومت میں اقلیتوں کی شمولیت، جداگانہ طریق انتخاب کی تنسیخ اور مخلوط انتخاب کی ترویج، غیر سرکاری تنظیموں اور ارکان پارلیمنٹ کے درمیان موثر رابطہ، پاکستان پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں اقلیتوں کی نمائندگی، وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کا خاتمہ، مذہب اور سیاست کی علیحدگی، پاکستان میں سیکولر سٹیٹ کا قیام، اقلیتوں سے مساوی سلوک کی ضمانت، اقلیتوں کی رضامندی کے بغیر ان پر کوئی فیصلہ مسلط نہ کیا

صفحہ 345

جائے‘ انہیں ویٹو کا حق ملنا چاہیے‘ وزیر اعظم‘ صدر مملکت‘ صوبائی گورنر اور کلیدی آسامیوں پر اقلیتی افراد کی تقرری‘ لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم نہ کیا جائے‘ چونکہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے لہٰذا ریاست شہریوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ خانگی قوانین کو مسلسل اور باضابطہ بنایا جائے‘ حکومت پاکستان خواتین سے متعلق امتیازی قوانین کے خاتمہ کے لئے اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط کرے‘ عیسائیوں کے ہاں بچہ کی پیدائش پر اس کا پانچ صد روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے‘ شراب پر پابندی نہ لگائی جائے‘ اگر کوئی عیسائی طالب علم اپنی مذہبی تعلیم کا سرٹیفکیٹ پیش کر دے تو میٹرک کے امتحان میں اسے بیس اضافی نمبر دیئے جائیں‘ بائبل کو باقاعدہ نصاب میں داخل کر کے اس کی تعلیم کا انتظام کیا جائے۔

صوبہ سرحد کی اقلیتوں کے مطالبات یہ بھی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی ملازمتوں میں اقلیتوں کی موثر نمائندگی‘ تمام تعلیمی اور تربیتی (زنانہ و مردانہ) اداروں میں کوٹہ سسٹم کے تحت دس فیصد خاص کر خیبر میڈیکل کالج پشاور اور ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد میں نشستوں کی تخصیص‘ بلدیاتی اداروں میں اقلیتوں کی بھرپور نمائندگی‘ قومی اسمبلی میں اقلیتی ارکان کی تعداد پچاس چاہئیے تاکہ وہ حکومت سازی میں ایک موثر قوت ہوں۔

ان میں سے اکثر و بیشتر مطالبات دور رس اور انتہائی خطرناک و مہلک نتائج کے حامل ہیں۔ ان پر صاد کر دینے سے ملک میں عیسائیوں کا راج ہوگا۔ قیام پاکستان کی خاطر عدیم المثال قربانیاں دینے والی مسلم اکثریت‘ ”چوتھے پانچویں“ درجہ کے شہریوں سے کہیں بدتر‘ عیسائیوں کی محکوم رعایا بن کے رہ جائے گی۔ ملک میں اسلام کسمپرسی کی حالت میں ہوگا۔ سیکولر سٹیٹ بن جانے کی صورت میں پاکستان کی سلامتی و وجود کا قطعا کوئی جواز نہیں رہے گا اور عیسائی مطالبات کی بدولت‘ ہندوؤں کا اکھنڈ بھارت کا نصف صدی پرانا چہیتا خواب مفتو مفت‘ بغیر ہینگ پھٹکڑی لگے پورا ہو جائے گا۔

اقلیتوں کو ان کے مطلوبہ حقوق دے کر اکثریت کے پاس‘ کیا مذہب‘ کیا ملک‘ کچھ بھی تو نہیں رہتا!“

(روزنامہ نوائے وقت لاہور 22 مئی 1997ء)

صفحہ 346

بشپ جان جوزف کو قتل کیا گیا؟

قاضی کاشف نیاز

برادران یوسف نے بیسویں صدی عیسوی کے ختم ہوتے ہوتے بھی ایک اور کارنامہ انجام دے ڈالا۔ اس صدی کے جاتے جاتے بھی انہوں نے اس کے دامن پر مصنوعی خون کے چھینٹے مار ڈالے تاکہ دنیا والوں کو یہ خون دکھا کر اسے کیش کیا جاسکے اور اپنے مذموم مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔ 6 مئی 98ء کو سیشن کورٹ ساہیوال کے سامنے رات کے اندھیرے میں بشپ جان جوزف کا جو خود کشی نما ڈرامہ ہوا، صلیبی تاریخ میں یہ کوئی پہلا ڈرامہ نہیں۔ صلیبیت نے ہر صدی میں بے نظیر ڈرامے سٹیج کیے۔ لوگوں کو دکھانا کچھ اور کرنا کچھ، یہ اس کا اولین طریقہ رہا ہے۔

ایک پنتھ کئی کاج کا منصوبہ

عین ان دنوں جبکہ بھارت کشمیر میں مجاہدین سے مکمل شکست کھانے کے بعد اپنی فوج کا مورال بلند کرنے کے لیے ایٹمی دھماکہ کرنے والا تھا، امریکی سامراج کے گماشتوں نے پاکستان کو ان دھماکوں کا جواب دینے سے روکنے اور دیگر مذموم مقاصد کے لیے ایک گھناؤنا منصوبہ بنایا۔ یہ ایک پنتھ دو کاج بلکہ کئی کاج کا منصوبہ تھا۔ بشپ جان جوزف کا جو خود کشی نما ڈرامہ رچایا گیا، اس میں بہت سے سیاسی اور مذہبی مقاصد بھی تھے اور ذاتی مقاصد بھی۔ اس کی تفصیل آگے کھل کر آپ کے سامنے آجائے گی۔

ایک مقصد تو یہ تھا کہ اس بہانے پوری عیسائی دنیا کو پاکستان کے خلاف بھڑکایا جاسکے۔ اور اس طرح پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ توہین رسالت ﷺ کے قانون 295-C کو بدل ڈالے۔ لیکن اس سے بڑا اور اصل مقصد یہ تھا کہ بھارت چونکہ چند ہی دنوں میں ایٹمی دھماکہ کرنے والا تھا، چنانچہ پہلے سے ایسی فضا بنائی گئی کہ اگر پاکستان ان دھماکوں کا جواب دینے کی کوشش کرے تو بھارت پر تو معمولی پابندیاں لگائی جائیں لیکن پاکستان کو یہ پیغام دیا جائے کہ تم پر

صفحہ 347

بھارت سے زیادہ سخت پابندیاں لگیں گی۔ کیونکہ تمہارے جرم دو ہوں گے۔ ایک ایٹمی دھماکہ اور دوسرے اقلیتوں کے خلاف ناروا سلوک اور امتیازی قوانین...... چنانچہ یہ خبر اب منظر عام پر آچکی ہے کہ بھارت کے ایٹمی دھماکے کے فوراً بعد امریکہ نے اقوام متحدہ میں پاکستان پر پابندیوں کے لیے ایسی درخواست تیار کر لی تھی جس میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو بنیاد بنایا گیا تھا لیکن ہمارے دوست ملک چین کی طرف سے ویٹو کے اشارے پر امریکہ کو یہ درخواست واپس لینا پڑی...... چنانچہ پاکستان کی طرف سے جوابی ایٹمی دھماکے کرنے کے باوجود چین کی وجہ سے پاکستان پر بھارت سے زیادہ پابندیاں نہ لگائی جاسکیں۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ مغرب میں ایک عام انسان کی ہتک عزت کے خلاف بے شمار سخت قوانین بنائے گئے ہیں لیکن ایک ایسا قانون جو مسلمانوں کے علاوہ عیسائیوں اور یہودیوں کے انبیاء کی عفت و عزت کا بھی محافظ ہو‘ اسے انسانی حقوق کے منافی قرار دیا جارہا ہے۔ اس قانون کے خلاف یہ مہم اس قدر پرزور اور پرشدت بنائی گئی کہ جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کر کے پوری انسانیت کے منہ پر طمانچہ مارا تو مغربی ذرائع ابلاغ نے پوری کوشش کی کہ اس دھماکے کو اس قدر اجاگر نہ ہونے دیا جائے لیکن توہین رسالت ﷺ کے قانون کے خلاف اپنی مہم کو انہوں نے زیادہ سے زیادہ نمایاں کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً لندن سے شائع ہونے والے دی گارڈین ویکلی (17 مئی 98ء) نے بھارت کے نیوکلیئر دھماکے پر عالمی ردعمل کی خبر صرف ایک کالمی خبر میں دی جبکہ پاکستان میں بشپ جوزف کے جنازے پر مسلم عیسائی تصادم کی خبر کو پانچ کالمی جگہ دی۔ اس سے مغربی ذرائع ابلاغ کی کھلی جانبداری اور ہندو نوازی کھل کر سامنے آجاتی ہے۔

پاکستانی بشپوں کی ذاتی مفادات کی جنگ

ان بین الاقوامی سیاسی اور مذہبی مقاصد کے علاوہ بشپ جان جوزف کے خودکشی نما ڈرامے میں کچھ یہاں کی مقامی سیاسی اور ذاتی چپقلش بھی کارفرما تھی۔ بلکہ اس واقعہ کی اصل بنیاد یہی تھی۔ تفتیشی ٹیم کی رپورٹوں‘ گھر کے بھیدیوں اور کچھ دیگر حقائق سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ بشپ جان جوزف نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے ذاتی وجوہ پر قتل کیا گیا۔ البتہ استعمار کے ایجنٹوں نے انہیں قتل کرنے کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کیا تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ عالمی سیاسی مفادات بھی سمیٹے جاسکیں اور اس قتل کی زیادہ سے زیادہ قیمت کیش کرائی جا سکے۔

جوزف کی ہلاکت سے اگر ہم دو تین ماہ پہلے کے پاکستانی کلیسا کے حالات کا کچھ مطالعہ کریں تو

صفحہ 348

یہ بات کھل کر سامنے آجائے گی کہ بشپ صاحبان اور دیگر عیسائی ذمہ داران اور کارکنان میں ایک دوسرے پر لوٹ مار کے الزامات کی جنگ ایک عرصے سے برپا تھی۔ یہ جنگ ایک تو مغرب سے آنے والی اس امدادی رقم پر تھی جو یہاں کے بشپ اور عیسائی اپنے پاکستانی عیسائیوں کو نہایت مظلوم ثابت کر کے ان کی فلاح و بہبود کے نام پر اور مسلمانوں میں تبلیغ کی غرض سے حاصل کرتے ہیں لیکن لاکھوں ڈالر سالانہ کی آنے والی اس امداد کا زیادہ تر حصہ غریب عیسائی لوگوں میں تقسیم کرنے کی بجائے بشپ صاحبان آپس میں ہی بانٹ لیتے ہیں۔ مغرب سے آنے والی اس ایڈ کی وجہ سے یہ بشپ صاحبان پاکستانی عیسائیوں کے ناخدا بن کر بہت سی اخلاقی برائیوں میں بھی ملوث ہو گئے ہیں۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ تین ماہ قبل اخبارات میں سینٹ انتھونی چرچ ایمپریس روڈ لاہور پر فائرنگ اور انجیل کی بے حرمتی کی خبر آئی۔ کسی چرچ پر فائرنگ کا پاکستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ اس خبر سے محسوس ہوتا تھا کہ اس فائرنگ اور بے حرمتی کا لازمی طور پر الزام مسلمانوں پر لگے گا اور پاکستان کے خلاف ایک زبردست مہم چلائی جائے گی۔ چنانچہ واقعہ کے فورا بعد امریکہ، برطانیہ اور جرمنی کے سفارت خانوں کی ٹیمیں انہی مذموم عزائم کے ساتھ لاہور پہنچ گئیں لیکن اس وقت حیرانی کی انتہا نہ رہی جب بشپ صاحبان نے اس واقعہ کا الزام اپنے مخالف عیسائی رہنماؤں پر لگا دیا اور ان پر مقدمے بھی درج کرا دیئے گئے۔ جمی ڈین، حفیظ سراج اور بابل فینسل کو گرفتار کر لیا گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان عیسائیوں پر انہی دفعات کے تحت مقدمات درج کرائے گئے جنہیں ختم کرنے کے لیے اب تک یہ بشپ صاحبان پاکستانی عیسائیوں کو مشتعل کیے ہوئے ہیں۔ گرفتار عیسائیوں اور ان کے ہمدردوں نے اپنے بشپوں کے رویہ پر کافی احتجاج کیا لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی۔ چنانچہ وہ آہستہ آہستہ اپنے پادریوں کا اصل گھناؤنا کردار سامنے لانے پر مجبور ہوتے گئے۔ سب سے پہلے مسز جمی ڈین قائم مقام چیئرمین اقلیتی عوامی بورڈ اور جمال آزاد صدر مائنارٹیز اصلاح ایسوسی ایشن رجسٹرڈ پنجاب کی طرف سے اخبار میں ایک اشتہار شائع ہوا جس کی عبارت یوں تھی:

عیسائی قوم سے اپیل، عیسائی قومی راہنماؤں پر ظلم کیوں؟

کچھ شر پسند عناصر نے اپنے گھناؤنے مفادات کے لیے پوری عیسائی قوم میں فسادات کروانے اور ملکی حالات خراب کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ہم عیسائیوں کے سچے، دیانتدار اور قومی راہنماؤں ایزک جمی ڈین، حفیظ سراج اور بابل فینسل پر جھوٹے الزامات کی مذمت کرتے

صفحہ 349

ہیں ۔ ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے ایزک جی نے تا مرگ اور حفیظ سراج نے پانچ دن کی بھوک ہڑتال حوالات میں شروع کر دی ہے۔ ہم عیسائی قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ زندہ مسیح کی عزت و شان اور قومی عیسائی رہنماؤں پر ظلم کے خلاف پرامن احتجاج کے لیے 23 مارچ صبح 9 بجے ریگل چوک پر اکٹھے ہوں۔ (روزنامہ جنگ لاہور‘ 23 مارچ 98ء)

چند دنوں بعد عیسائیوں کی دیگر تنظیمیں بھی بشپ صاحبان کے خلاف میدان میں آگئیں۔ تحریک اصلاح کلیسیا پاکستان کے صدر مارٹن جاوید مائیکل‘ ایم انور کمال‘ چیئرمین منارٹیز الائنس‘ پراہیم گل‘ کرسچین ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر جارج مختار بھٹی‘ تنظیم خدمت مہمان کے سربراہ رشید پطرس‘ مائیک سبھا پنجاب‘ مسز گلزرین جی ڈین‘ یونس مسیح اور دیگر کئی عیسائی تنظیموں کے ذمہ داران نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی‘ جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ گرجا گھر میں گولی تو کیا‘ پٹاخہ تک نہیں چلا۔ اور نہ ہی عیسائی رہنماؤں نے بائبل مقدس کی بے حرمتی کی۔ انہوں نے کہا کہ ایمپرس روڈ پر ایک چرچ کے فادر‘ عیسائی قومی رہنماؤں کو جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں پھنسا کر قتل کروانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس واقعہ کی تحقیقات ہائی کورٹ کے جج سے کروانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عیسائی رہنماؤں آئزک جی ڈین‘ حفیظ سراج اور پال ڈیمنڈ پر ایک سازش کے تحت پولیس سے ملی بھگت کر کے وہ دفعات لگائی گئی ہیں جن کی کل تک پادری فادر اور بشپ صاحبان پر زور مخالفت کر رہے تھے۔ (روزنامہ جنگ لاہور‘ روزنامہ خبریں لاہور‘ 28 مارچ 98ء)

ان گرفتار عیسائی رہنماؤں کی ہمدرد عیسائی عوام نے بشپ صاحبان کے خلاف فیصل چوک مال روڈ پر کافی عرصہ احتجاجی کیمپ لگائے رکھا۔ یہاں انہوں نے اس طرح کے بینر لگائے ہوئے تھے کہ بشپ صاحبان شانتی نگر کی مظلوم عیسائی عوام کے نام پر مغرب سے آنے والی کروڑوں کی امداد خود ہڑپ کر رہے ہیں۔ حکومت ان کا احتساب کرے وغیرہ وغیرہ۔

دوسری طرف پورے ملک کے بشپ صاحبان نے بھی اکٹھے ہو کر پریس کانفرنس کی۔ ان میں لاہور‘ ملتان‘ رائے ونڈ‘ راولپنڈی اور سیالکوٹ کے علاوہ فیصل آباد کے بشپ جان جوزف نے بھی شرکت کی جن کے ساتھ بعد میں مبینہ طور پر خودکشی یا قتل کا واقعہ پیش آیا۔ اس پریس کانفرنس میں چرچ آف پاکستان اور رومن کیتھولک چرچ کے بشپ الیگزینڈر جان ملک (بشپ آف لاہور) بشپ سیموائیل عزایا (بشپ آف رائے ونڈ) بشپ سیموائیل پرویز (بشپ آف سیالکوٹ) بشپ جان وکٹر مل (بشپ آف ملتان) بشپ جان سموائیل (بشپ آف فیصل آباد) آرچ بشپ آرمانڈو ٹرنیڈاڈ (بشپ آف لاہور) بشپ ٹونی لوبو (بشپ آف راولپنڈی) بشپ جان جوزف

صفحہ 350

(بشپ آف فیصل آباد) اور بشپ پطرس (بشپ آف ملتان) نے شرکت کی۔ انہوں نے اپنے مخالف عیسائی رہنماؤں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ عیسائی رہنما بن کر کلیسائی جائیداد ہتھیا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں کرائسٹ چرچ سرور روڈ‘ سینٹ انتھونی چرچ ایمپریس روڈ اور شیخوپورہ کے سلسلے میں ایک شخص ”سلیم ڈینیل نے دھوکہ سے رجسٹرار جوائنٹ سٹاک کمپنی لاہور کو غلط اطلاعات پہنچا کر چرچ کمیٹی برائے جائیداد کے نام ایک جھوٹا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا ہے تاکہ کلیسائی اداروں بالخصوص چرچز پر قبضہ کر کے ان کو فروخت کر دے۔ انہوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے لوگوں کا احتساب کرے اور حکومت تمام محکموں کو ہدایت کرے کہ وہ صحیح جانچ پڑتال کے بغیر کوئی سرکاری دستاویز جاری نہ کریں۔

(روزنامہ جنگ لاہور‘ 25 مارچ 98ء)

ایک بڑے پادری کی غیر اخلاقی حرکت.......مسز جمی ڈین کی فریاد

کچھ عرصہ بعد گرفتار عیسائی رہنما آئزک جمی ڈین کی زوجہ گلزرین کی طرف سے اخبار میں ”ظلم کی داستان“ کے تحت ”ایک بڑے پادری کا طرز عمل“ کے عنوان سے ایک ہولناک اور انکشاف انگیز خط شائع ہوا۔ یہ خط آپ بھی لفظ بہ لفظ پڑھیں اور چرچ کے پادریوں کی کرپشن کے علاوہ ان کی اخلاقی برائیوں کی کریہہ تصویر ملاحظہ فرمائیں:

”میرے خاوند آئزک جمی ڈین چیئرمین عوامی بورڈ پنجاب ایک انتہائی شریف اور قانون پسند شہری ہیں۔ ہم کسی بھی عبادت گاہ اور کسی بھی مذہبی کتاب کی بے حرمتی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے مگر ہم پر اپنے ہی مذہبی اجارہ داروں نے انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات لگانے شروع کر دیے ہیں۔ ہم اپنے ہی لوگوں کے ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔

ہمارے ایک مذہبی اجارہ دار ‘ایک بڑے اور مشہور چرچ کے فادر‘ پادری نے اپنی بداعمالیوں‘ بد اخلاقیوں کو چھپانے کے لیے انتہائی گھناؤنی حرکات شروع کر دی ہیں۔ اس نے میرے شوہر کے خلاف ایک مقدمہ زیر دفعات 98 / 125, 295A / 295, 296, 507 148 / 149, 506 (ت پ) تھانہ قلعہ گجر سنگھ لاہور میں محض اپنی پرانی رنجش اور انتقامی جذبے کے تحت درج کروایا ہے۔

پرانی رنجش یہ ہے کہ اس پادری کے باعث ایک عیسائی لڑکی پونم امید سے ہو گئی۔ ایک ماہ گزرا تو پادری نے ایک عیسائی لڑکے سے اس کا زبردستی نکاح کروا دیا۔ نکاح کے تیسرے دن لاہور کے ایک مشہور کرسچین سکول کی پرنسپل اور دیگر چند افراد کے تعاون سے پادری نے پونم کو

صفحہ 351

(بمطابق ریکارڈ ہسپتال) سر گنگا رام ہسپتال لاہور میں داخل کروا کر حمل ضائع کروا دیا۔ اس پر پونم کے لواحقین نے فادر مذکور کے خلاف متعلقہ سرکاری حکام کو درخواستیں دیں اور ہائی کورٹ لاہور میں ایک عدد رٹ برائے اندراج مقدمہ دائر کی۔ میرے شوہر نے ان لوگوں کی مدد کی۔ پادری کو بھی رنجش ہے۔ اس کا انتقام لینے کے لیے فادر نے یہ جھوٹا مقدمہ آئزک جمی ڈین کے خلاف درج کروایا ہے۔

روزنامہ ”خبریں“ کی وساطت سے اعلیٰ حکام سے درخواست ہے کہ وہ اس خط میں لکھے گئے واقعہ کی تصدیق کے لیے 23 اپریل 1991ء کے روزنامہ ”مشرق“ لاہور کی خبر پڑھ لیں اور میرے شوہر کے خلاف درج ہونے والے بے بنیاد مقدمے کو خارج کرنے کا حکم جاری کریں۔

گلزرین زوجہ آئزک جمی ڈین S / 2-32 / 7 طارق سٹریٹ‘ کوٹ لکھپت لاہور

(روزنامہ خبریں‘ لاہور‘ 24-5-98)

قارئین کرام! بشپ صاحبان اور ان کے مخالف عیسائیوں کے درمیان کرپشن‘ لوٹ مار اور اخلاقی الزامات کی اسی باہمی چپقلش کے دوران ایوب مسیح کا کیس سامنے آگیا جسے سیشن کورٹ ساہیوال کی عدالت نے توہین رسالت کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ اس کیس کی پیروی کرنے والے ایک مغربی ملک سے 15 لاکھ ڈالر کی ایڈ ملنے کی خبریں بھی منظر عام پر آئیں اور پھر چند ہی دنوں میں یہ خبر آتی ہے کہ فیصل آباد کے بشپ جان جوزف نے قانون توہین رسالت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود کشی کر لی ہے۔ بشپ جان جوزف کے خود کشی نما ڈرامے کے فوراً بعد پاکستانی کلیسا کے چند اجارہ داروں نے اب یہ مسئلہ پوری قوت سے اٹھایا کہ حکومت پاکستان توہین رسالت کے قانون کی دفعہ C-295 فوراً ختم کرے ورنہ عیسائی اسی طرح قربانیاں دے کر اس قانون کو ختم کرا دیں گے۔ انہوں نے یہاں تک دھمکیاں دیں کہ اس قانون کو ختم نہ کیا گیا تو وہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں میں یہ کیس لے جائیں گے جس سے پاکستان کی امداد بھی بند ہو جائے گی۔ ان کے پشت پناہ امریکہ نے بھی یہ بیان دے دیا کہ پاکستان اس قانون کو فوراً ختم کرے۔ دوسری طرف پاکستان کی 97 فیصد مسلم آبادی میں بھی اس قانون کے حوالے سے اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ مسلم عوام اب سمجھنے لگی کہ عیسائی اس واقعہ سے فائدہ اٹھا کر پاکستان پر مغربی دنیا کا زبردست دباؤ ڈالیں گے جس سے گھبرا کر ہو سکتا ہے پاکستان اس قانون کو ختم کرنے یا اسے تبدیل اور نرم کرنے پر تیار ہو جائے۔

قادیانی فیکٹر

صفحہ 352

مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان اس بڑھتی ہوئی کشمکش سے قادیانی حلقے نے حسب سابق سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔ عاصمہ جہانگیر جو ایک قادیانی کی بیوی ہے، اور اپنے رسالے ”جہد حق“ میں وہ قادیانیوں کو ہمیشہ احمدی لکھتی ہے، عیسائیوں کی حمایت میں کھل کر سامنے آ گئی۔ وہ فوری طور پر بشپ کے جنازے میں پہنچی اور یہ بیان دیا کہ بشپ کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ اس نے یہاں تک کہا کہ توہین رسالت کا قانون فتنے کھڑے کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ (روزنامہ خبریں، لاہور، 14 مئی 1998ء) عاصمہ نے مزید کہا کہ یہ قانون کئی بے گناہوں کی جان لے چکا ہے اور بشپ جان جوزف اس کے خلاف انتھک جدوجہد کر رہے تھے۔ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور، 9 مئی 98ء)

عاصمہ جہانگیر کا یہ مذکورہ بیان حقائق کے سراسر خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ توہین رسالت کا قانون جب سے بنا ہے، اب تک کسی بے گناہ کو تو کیا، کسی مجرم کو بھی اس قانون کے تحت سزا نہیں مل سکی۔ لیکن اس قانون کے بننے سے پہلے ایسے کئی واقعات ہوئے کہ لوگوں نے توہین رسالت کے ملزموں کو خود ہی ان کے انجام تک پہنچا دیا۔ چنانچہ لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے سے روکنے اور بے گناہ لوگوں کو بچانے کے لیے یہ قانون نافذ کیا گیا....... قادیانیوں کے چونکہ اس قانون کو ختم کرنے میں اپنے مفادات ہیں، پاکستانی مسلمانوں نے جس طرح متحد ہو کر انہیں قومی اسمبلی سے غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا تھا، اس وقت سے قادیانی طبقہ پاکستانی مسلمانوں سے اس کا انتقام لینے اور ملک میں سیاسی و آئینی انتشار پیدا کرنے کے لیے کمر بستہ ہے۔ کبھی وہ فرقہ وارانہ تخریب کاری کرتے ہیں، مسلم فرقوں کے باہمی اختلافات کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کر کے تمام مسلم فرقوں کے علماء کے خلاف نفرت کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ علماء کی شریف اور عفت مآب بیٹیوں کو آزادی کی پرکشش راہیں دکھا کر انہیں گھروں سے بھاگنے میں مدد دیتے ہیں اور کبھی غیر مسلموں بالخصوص عیسائیوں کے کندھوں پر اپنے مفادات کی بندوق چلاتے ہیں۔ قادیانیوں کی اس مہم میں عیسائیوں کے بعض اجارہ دار بشپ اور رہنما بھی اپنے ذاتی اور مسلکی مفادات کے لیے اندھا دھند شریک ہو جاتے ہیں۔ عیسائی عوام جن کی اکثریت انتہائی غریب لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے، ان بے چاروں کو ذاتی مفادات کی اس جنگ میں خوب استعمال کیا جاتا ہے۔ انہیں مسلمانوں سے لڑانے اور ملک کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے تمام ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں اور اگر غریب عیسائیوں اور ان کے حقیقی ہمدرد رہنماؤں کی آنکھیں کھل جائیں اور وہ حقیقت کا اظہار کرنے کی کوشش کریں تو ان پر جھوٹے مقدمے قائم کر کے انہیں جیلوں کی سیر کرا دی جاتی ہے۔ یہ اجارہ دار ٹولہ انہیں ملی بھگت سے اپنے راستے سے ہٹانے کی پوری کوشش کرتا ہے یا پھر یہ ٹولہ اپنے ہی

کسی ساتھی کو خود ہی مفادات کے حصول ایسی ہی صورت حال

خود کشی یا قتل؟

بشپ جان جو عرصہ گزرنے کے بع ہوتی ہے کہ بشپ ا ہیں جو عیسائیوں کے کوشش میں مصروف ڈالر حاصل کر کے خودکشی نما واقعہ پر پ 6 مئی شام کے خلاف ایک احتج نے بھی شرکت کی۔ کے مطابق بشپ جان مسیح کو پھانسی کی سز جوزف نے انہیں ا وہاں اتار کر وہ والپ زمین پر پڑے تھے۔ واقعہ رات تقریباً ٹٹولنے یا انہیں ہتھ گولی کی آواز سن ک ہاتھ مت لگاؤ۔ اس پھر اپنی کمیونٹی کو اطلا واقعہ کی ام ہے کہ بشپ جوزف

صفحہ 353

کسی ساتھی کو خود ہی ہٹا کر اپنے عوام کی ہمدردیاں اپنے لیے سمیٹنے اور اپنے مخصوص ذاتی و مسلکی مفادات کے حصول میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ بشپ جان جوزف کے خود کشی نما ڈرامے میں بھی ایسی ہی صورت حال ملی جلی طور پر موجود تھی۔

خود کشی یا قتل؟

بشپ جان جوزف نے خود کشی کی یا اسے پر اسرار طور پر قتل کیا گیا‘ اب اس واقعے کو کچھ عرصہ گزرنے کے بعد بہت سے ایسے حقائق سامنے آچکے ہیں جن سے اس بات کی قوی تصدیق ہوتی ہے کہ بشپ نے خود کشی نہیں کی بلکہ اسے قتل کیا گیا اور یہ قتل کروانے والے بھی وہی لوگ ہیں جو عیسائیوں کے خیر خواہ اور مذہبی رہنما بن کر غریب عیسائیوں کو مسلمانوں سے لڑانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اور پھر انہی غریب عیسائیوں کے نام پر وہ مغربی ممالک سے لاکھوں ڈالر حاصل کر کے خود عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں۔ آئیے اب بشپ جان جوزف کے خود کشی نما واقعہ پر پہلے تفصیل سے ایک نظر ڈالیں کہ واقعی یہ خود کشی ہے یا قتل؟

6 مئی شام چھ بجے کیتھولک چرچ ساہیوال میں ایوب مسیح کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے خلاف ایک احتجاجی اجتماع ہوا جس میں فیصل آباد کیتھولک چرچ کے بشپ ڈاکٹر جان جوزف نے بھی شرکت کی۔ اجتماع سے واپسی پر جب وہ فیصل آباد جانے لگے تو ان کے ساتھی فادر یعقوب کے مطابق بشپ جان جوزف نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مجھے وہ عدالت دکھائیں جہاں ایوب مسیح کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ چنانچہ وہ انہیں عدالت کے گیٹ کے قریب لے گئے۔ بشپ جوزف نے انہیں اور ڈرائیور کو گاڑی کے پاس کھڑے ہونے کو کہا اور خود آگے چلے گئے۔ انہیں وہاں اتار کر وہ واپس مڑے ہی تھے کہ گولی کی آواز آئی ...... انہوں نے مڑ کر دیکھا تو بشپ جوزف زمین پر پڑے تھے۔ انہوں نے خود کو کنپٹی پر گولی مارلی تھی اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ رات تقریباً ساڑھے 9 بجے پیش آیا۔ اس موقع پر فادر یعقوب نے بشپ جوزف کی نبض ٹٹولنے یا انہیں ہسپتال پہنچانے کی بھی فوری طور پر کوئی کوشش نہ کی بلکہ عدالت کا چوکیدار جب گولی کی آواز سن کر بشپ جوزف کے قریب آیا تو فادر یعقوب نے اسے کہا ”یہ تو مرچکا ہے‘ اسے ہاتھ مت لگاؤ۔ اس واقعہ کے فوراً بعد فادر یعقوب نے تھانے میں جاکر رپورٹ درج کروائی اور پھر اپنی کمیونٹی کو اطلاع دی۔

واقعہ کی اس تفصیل کو پڑھ کر ہر باشعور شخص کے ذہن میں فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بشپ جوزف نے فادر یعقوب سے رات کے وقت عدالت دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تو

صفحہ 354

فادر یعقوب نے لازماً یہ بات پوچھی ہو گی کہ وہ اس وقت عدالت کیوں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور پھر بشپ جوزف نے اس کی کوئی وجہ بھی بتائی ہو گی۔ لیکن ایف آئی آر میں انہوں نے اس وجہ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ کیونکہ یہ کوئی دن کا وقت نہیں تھا۔ اس وقت عدالت میں کسی عیسائی کے مقدمے کی سماعت بھی نہیں ہو رہی تھی۔ پھر آخر کیا وجہ تھی کہ وہ عدالت دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ سوال کرنا ضروری تھا اور اگر فادر یعقوب نے ان سے یہ سوال نہیں کیا تو یہ اور زیادہ حیران کن ہے۔

پھر جب بشپ جوزف اکیلے ہی عدالت دیکھنے چلے جاتے ہیں تو ڈرائیور یا فادر یعقوب میں سے کسی کو ضرور ان کے ساتھ جانا چاہیے تھا۔ ان کو رات کے اندھیرے میں عدالت اکیلے کیوں جانے دیا گیا۔ اس طرح جب بشپ گولی لگ کر گرے پڑے تھے تو آخر کیا وجہ ہے کہ فادر یعقوب یا ڈرائیور نے نہ تو ان کی نبض ٹٹولنے کی کوشش کی اور نہ ہسپتال پہنچانے کی بلکہ وہ پہلے تھانے پہنچ گئے اور پھر اپنی کمیونٹی کو اطلاع دیتے پھرے۔ فادر یعقوب نے بعد میں یہ کہا کہ وہ بشپ کا خون دیکھ کر بوکھلا گئے تھے، اس لیے وہ ہسپتال نہ جاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ برادران یوسف کی طرح کے عذر لنگ کے سوا کچھ نہیں...... فادر یعقوب کے بیانات اور واقعات میں اس قدر الجھاؤ اور تضادات ہیں کہ جن سے یہ کیس کسی طرح بھی خود کشی کا کیس محسوس نہیں ہو گا۔

چیف بشپ کیتھ کے انکشافات

بشپ جان جوزف نے خود کشی نہیں کی، انہیں قتل کیا گیا ہے۔ انہیں کسی دوسری جگہ قتل کرنے کے بعد رات کے اندھیرے میں سیشن کورٹ کے سامنے پھینک کر ہوائی فائرنگ کر کے لوگوں کو اکٹھا کیا گیا اور اسی سارے ڈرامے کو خود کشی کا نام دے دیا گیا۔ بائبل کے مطابق خود کشی کرنا خدا کی توہین اور بشپ جوزف ایسا نیک اور مذہبی شخص ایسی غلطی نہیں کر سکتا تھا۔ ان خیالات کا اظہار چیف بشپ کیتھ لیزلی نے "آزاد" کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ بشپ کیتھ نے کہا ہمارے مذہب میں خود کشی کسی حالت میں جائز نہیں۔ یہ کہنا بالکل بے بنیاد ہے کہ بشپ جان جوزف نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے قانون کے خلاف احتجاجاً خود کشی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فادر یعقوب اور ڈرائیور کے مطابق ساہیوال میں عیسائیوں کے جلسے میں 600 کے قریب لوگ موجود تھے اور بشپ جوزف نے فیصل آباد جاتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ایوب مسیح کو بچانے اور 295 سی کے خاتمے کے لیے میں انتہائی قدم اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کروں گا۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کہ اس اجتماع میں 600 افراد موجود تھے۔ وہاں صرف بیس پچیس عیسائی افراد موجود تھے اور اگر انہوں نے ایوب مسیح کی رہائی کے لیے خود کشی ہی کرنا تھی تو اس کا اعلان اس

صفحہ 355

اجتماع میں کیوں نہیں کیا؟ بشپ جوزف کی خودکشی کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے 600 افراد کا پراپیگنڈہ کیا گیا اور اخبارات سمیت غیر ملکی نشریاتی اداروں میں غلط خبریں لگوائی گئیں۔

فادر یعقوب اپنے بیان میں کہہ چکے تھے کہ ہم دونوں نے بشپ جوزف کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب انہوں نے بشپ جوزف کو ہاتھ نہیں لگایا تو انہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ وہ مرچکے ہیں۔ بشپ کیتھ نے کہا کہ بشپ جوزف کے قریبی رشتہ داروں کے آنے پر ان کی لاش کو ہسپتال لایا گیا۔ اس وقت تک انہیں ہسپتال لانے میں کافی گھنٹے صرف ہو چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی اخبارات سمیت بی بی سی‘ وائس آف امریکہ‘ وائس آف جرمنی جیسے ادارے اس واقعہ کو مت اچھالیں اور ان لوگوں کے بیانات شائع نہ کریں جو پاکستان میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو لڑوانا چاہتے ہیں۔ بشپ کیتھ نے واضح طور پر کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ بشپ جوزف کو قتل کیا گیا ہے۔ بشپ جوزف سارا دن ساہیوال میں رہے اور وہ دن کے وقت سیشن کورٹ جاسکتے تھے لیکن رات کے اندھیرے میں جہاں اس وقت نہ کوئی لائٹ تھی اور نہ ان کے پاس کوئی ٹارچ تھی‘ ان کو وہاں جانے کی کیا ضرورت محسوس ہوئی؟ بشپ کیتھ نے انکشاف کیا کہ ساہیوال کی سیشن کورٹ اور وہ جگہ جہاں عیسائیوں کا اجتماع تھا‘ گاڑی کے ذریعے وہاں سے سیشن کورٹ تک پہنچنے میں صرف دس منٹ لگتے ہیں۔ وہ اس دوران 2 گھنٹے کہاں غائب رہے؟

بشپ جوزف کو پہلے کسی دوسری جگہ قتل کر کے رات کے اندھیرے میں سیشن کورٹ لایا گیا اور پھر ہوائی فائرنگ کر کے لوگوں کو اکٹھا کیا گیا اور اس قتل کو خودکشی کا رنگ دے دیا گیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بشپ جوزف کے بعد فادر یعقوب بشپ کے اس عہدے کے حق دار تھے۔ بشپ کیتھ نے بتایا کہ جب کسی شخص کے سر پر لاٹھی ماری جائے تو اس کا سارا جسم خون سے لت پت ہو جاتا ہے جبکہ بشپ جوزف کے سر پر گولی ماری گئی اور موقع پر اتنا خون بھی موجود نہیں تھا حالانکہ انسانی دماغ ایسی چیز ہے جہاں پر خون کا سب سے زیادہ دباؤ اور پریشر ہوتا ہے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گولی دوسری جگہ پر ماری گئی اور وہاں پر خون بہا۔ انہوں نے کہا کہ جب بشپ جوزف کو ہسپتال لایا گیا تو ان کا سارا جسم اکڑا ہوا تھا جبکہ اس موسم میں انسانی جسم ایک آدھ گھنٹے میں اکڑ نہیں سکتا۔ چنانچہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہیں مرے ہوئے تین چار گھنٹے ہو چکے تھے۔

بشپ کیتھ نے بتایا کہ پستول کی گولی دماغ میں جاتے ہوئے چھوٹا سوراخ کرتی ہے جبکہ ان کے دماغ پر جو سوراخ موجود ہے‘ وہ کارتوس کا معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ بشپ جوزف کا پوسٹ مارٹم ٹھیک نہیں ہوا۔ پوسٹ مارٹم کرنے کے لیے نعش کی کھوپڑی کو

صفحہ 356

کاٹنا‘ اس کے مغز کا معائنہ کرنا‘ خون اور کلیجی کا ٹیسٹ کرنا شامل ہے جبکہ یہ تمام قواعد و ضوابط پورے نہیں کیے گئے۔ اگر ان کی کھوپڑی کو ٹانکا گیا ہو تا تو ان کے دماغ میں کارتوس کے ”چھرے“ بھی موجود ہوتے۔ اگر یہ تمام اصول و ضوابط پورے نہیں کیے گئے تو ان کا پوسٹ مارٹم ان کی خودکشی کی طرح جعلی اور جھوٹا ہے۔ فادر کیمستھ نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے۔ پاکستانی حکومت یا عوام نے تو کبھی بھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ صدر بل کلنٹن عورتوں کے ساتھ منہ کالا کرتے پھرتے ہیں۔ لہٰذا انہیں صدارت کی کرسی سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

فادر کیمستھ نے دکھ کا اظہار کیا کہ عاصمہ جہانگیر جیسے انسانی حقوق کے علمبردار پاکستان میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ عیسائی افراد سمیت دیگر بشپ حضرات کو بھی غلط گائیڈ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر پاکستان میں عیسائیوں کے مقدمات تو مفت لڑتی ہیں اور کوئی فیس نہیں لیتی لیکن انہیں باہر سے ”لمبے پیسے“ مل جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرانسس جوزف جیسے لوگ عاصمہ جہانگیر اور دوسری ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے پروردہ ہیں۔ فرانسس جوزف‘ جو نہایت غریب آدمی تھا‘ یہ YMCA لاہور میں ایک چپڑاسی کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ آج وہ عاصمہ جہانگیر کی بدولت 13 لاکھ کی گاڑی میں پھر رہا ہے۔ اس نے اپنے بچوں کی شادی پر رائے ونڈ میں لاکھوں روپے خرچ کیے۔ ایسے بہت سے لوگ عاصمہ جہانگیر اور دوسرے لوگوں کے آلہ کار ہیں اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ بشپ کیمستھ نے کہا کہ اس بات کا بھی واضح امکان ہے کہ انہیں خواب آور گولیاں کھلا دی ہوں یا اس دن روزہ کھولتے وقت ”سوپ“ میں کچھ ملا دیا ہو۔ سوپ پینے کے فوراً بعد وہ فیصل آباد جانے کے لیے روانہ ہو گئے تھے اور راستے میں ان کا کام تمام کر دیا گیا۔

فادر کیمستھ نے کہا حکومت چاہے نواز شریف کی ہو یا بے نظیر کی‘ کوئی بھی وزیر اعظم یا صدر یہ جرات نہیں کر سکتا کہ اس قانون میں ترمیم کر دے‘ یا ختم کر دے۔ کیونکہ انہوں نے مسلمانوں کے ووٹ سے وزیر بننا ہوتا ہے۔ کوئی بھی مسلمان یہ برداشت نہیں کرے گا کہ اس قانون کو ختم کیا جائے۔ بشپ کیمستھ نے کہا کہ وہ لوگ جو اس قانون کو غلط قرار دے رہے ہیں‘ ان لوگوں نے خود اسی قانون کے تحت اپنے عیسائی بھائیوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا۔ تسلیم ڈینئیل‘ جسے برائے نام آرچ بشپ کہا جاتا ہے‘ اس نے لاہور چھاؤنی کے چرچ آف پاکستان پر کچھ افراد کے ذریعے قبضہ کرایا۔ انسانی حقوق کا شور مچانے والوں نے اس پر دہشت گردی کی۔ عدالت کے ذریعے بائبل کی بے حرمتی‘ فادر کو تھپڑ مارنے اور انبیاء کرام کو برا بھلا کہنے پر اسے

صفحہ 357

گرفتار کرایا اور اس کی ضمانت بھی نہیں ہونے دی۔ بشپ آرمنڈو نے جمی ڈین نامی شخص کو اس قانون کے تحت حوالات بھجوا دیا۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ خود تو اس قانون کے ذریعے عیسائیوں کو اندر کروا رہے ہیں اور خود ہی اس قانون کے خلاف شور مچا رہے ہیں۔ (روزنامہ

”آزاد“ لاہور، 11 مئی 98ء)

بشپ کیتھ نے کہا کہ توہین رسالت کے سلسلے میں عیسائیت میں اسلام سے بھی سخت سزا مقرر ہے۔ اور حکم دیا گیا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب فرد کو کنواں کھود کر اس میں پھینک دیا جائے اور پھر اس قدر سنگ باری کی جائے کہ وہ تڑپ تڑپ کر مرجائے۔ (روزنامہ جنگ لاہور،

13 مئی 98ء)

بشپ کیتھ نے بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی، جس میں استدعا کی گئی کہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل ٹربیونل قائم کیا جائے۔ انہوں نے اپنی درخواست میں اس خدشہ کا اظہار کیا کہ اس واقعہ میں این جی اوز ملوث ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے عیسائی طبقے کو خبردار کیا کہ وہ انسانی حقوق کمیشن کے نام پر سرگرم نام نہاد مفاد پرست ٹولے سے آگاہ رہیں۔

بشپ کیتھ لیزلی نے جب اس طرح حق گوئی کی کوشش کی تو مفاد پرست ٹولے نے مسلح ہو کر ان کے گھر پر دھاوا بول دیا اور نقدی کے علاوہ طلائی زیورات اور قیمتی پارچات لوٹ لیے اور بشپ پر تشدد کر کے فرار ہو گئے۔

(روزنامہ ”جنگ“ لاہور، 19 مئی 98ء)

جماعت اسلامی کی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیتھ لیزلی نے کہا کہ بشپ جان جوزف کی موت پر حقائق کی نشاندہی کرنے پر مجھے مسلمانوں کا بشپ قرار دیا گیا ہے اور قاتلانہ حملہ کی دھمکی بھی دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت کا قانون بائبل میں بھی موجود ہے تو پھر جلوس اور جلسے کیوں ہو رہے ہیں؟ میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ شراب پر فی الفور پابندی لگائی جائے ۔ بائبل میں کہیں بھی اتوار کو چھٹی کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ جمعہ کی چھٹی کا تصور ہر جگہ موجود ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عاصمہ جہانگیر، حنا جیلانی اور ایگزیکٹو جان ملک کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں۔ یہ پاکستان کو بوسنیا بنانا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ سیالکوٹ یا لاہور کو عیسائیوں کی بستی بنانا چاہتے ہیں۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، 22 مئی 98ء)

انہوں نے کہا کہ کرسچین ٹاؤن فیصل آباد پر حملہ کرنے والے بھی دراصل قادیانی تھے جو مسلمانوں کے روپ میں حملہ آور ہوئے۔

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، 12 مئی 98ء)

قارئین کرام! عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی کی اسلام دشمن اور ملک دشمن حرکات تو سب

صفحہ 358

جانتے ہیں لیکن الیگزینڈر جان ملک جو بشپ کیتھولک چرچ آف پاکستان اور بشپ آف لاہور ہیں‘ ان کی سرگرمیاں اگرچہ پہلے بھی کچھ مشکوک تھیں لیکن بشپ جان جوزف کی ہلاکت کے بعد ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے جو شعلہ افشانی کی‘ اس سے مستقبل میں ان کے اصل عزائم بھی کھل کر سامنے آگئے۔ بشپ جان ملک نے کہا کہ اگر عیسائی بستیاں جلانا بند نہ کی گئیں تو ہم اپنے تحفظ کے لیے ”سپاہ مسیحا“ بنانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا ’یہ سپاہ مسیحا مسلح ہو گی اور ہم اپنے تحفظ کے لیے اس میں ایک نہیں‘ کئی ریاض بسرا پیدا کر دیں گے۔ (روزنامہ جنگ لاہور‘ 13 مئی) جان ملک کے اس بیان سے واضح ہو گیا کہ وہ اور ان کا ہمنوا ٹولہ غریب عیسائیوں کو ان کے حقوق کے نام پر مشتعل کر کے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ امن اور محبت کے دعویداروں نے اپنے چہروں پر سے خود ہی نقاب سرکا دیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے ذریعے ملک کے امن کو تہہ و بالا کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہیں۔

نیک مقصد کے لیے خودکشی جائز ہے‘ الیگزینڈر جان ملک‘ بشپ آف لاہور

ویسے یہ جان ملک صاحب ہیں تو بشپ آف لاہور لیکن جب ان سے ایک اخباری نمائندے نے سوال کیا کہ اگر جان جوزف نے خودکشی بھی کی ہے تو کیا خودکشی جائز ہے؟ تو فرمانے لگے کہ ”انہوں نے قربانی دی ہے اور ان کا مقصد نیک ہے“۔ (روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ 13 مئی 98ء) یعنی آج سے عیسائی دنیا اپنے مذہب میں یہ بات شامل کرلے کہ نیک مقاصد کے لیے خودکشی کرنا جائز ہے۔ اب بائبل جو مرضی کہتی رہے‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو چاہے کہتے رہیں کہ خودکشی جائز نہیں لیکن جب مذہب کے ٹھیکیدار پادری خود ہی ترمیم فرمادیں کہ نیک مقصد کے لیے خودکشی جائز ہے تو اب عام عیسائیوں کو کیا جرات کہ ان کے اس ”الہامی“ حکم کی مخالفت کر سکیں۔ بشپ صاحب کی اگر اس بودی دلیل کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص بچے گا جو اپنے تئیں کسی نہ کسی نیک مقصد کے لیے خودکشی نہ کرتا ہو۔ اکثر خودکشیاں غربت کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ لوگ دکھوں سے نجات پانے کے لیے خودکشی کرتے ہیں۔ وہ اسے بھی ایک نیک مقصد کہہ سکتے ہیں۔ کوئی محبت میں ناکامی پر خودکشی کرتا ہے۔ وہ بھی اسے اپنی عظیم قربانی کہہ کر نیک مقصد قرار دے سکتا ہے۔ بلکہ اب جاپان اور بعض دوسرے ملکوں میں حال ہی میں بہت سے سرپھرے دانشوروں نے اجتماعی خودکشیاں کر لیں۔ انہیں کسی شیطان نے اس راہ پر ڈالا کہ وہ خودکشی کر کے سیدھا جنت میں جائیں گے۔ چنانچہ ان کے مقصد کو بھی کوئی برا قرار نہیں دے سکتا۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے جنت میں جانے کے لیے خودکشی کی۔ غرض اس راہ پر

صفحہ 359

چل پڑیں تو خودکشی کے علاوہ دیگر بہت سے جرائم کو بھی جائز قرار دینے کی راہ کھل سکتی ہے۔ بہت سے لوگ قتل و غارت اور چوری ڈاکہ بھی اپنے تئیں نیک مقاصد کے لیے کرتے ہیں۔

قارئین کو یہ حیرت ہوگی کہ خودکشی کو سراہنے کے اس عمل میں صرف پاکستان کے بشپ ہی نہیں بلکہ پوپ پال بھی برابر کے شریک ہیں۔ جان جوزف کے جنازے میں پوپ کے نمائندے نے پوپ کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں جان جوزف کو اس خود کشی پر خراج تحسین پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر جو آواز اٹھائی ہے‘ اس کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دے گی۔ (روزنامہ جنگ‘ لاہور‘ 9 مئی 98ء)

جان جوزف کے بارے میں تو آج کی عیسائیت کا کوئی اخلاقی پیمانہ اس کی خودکشی کو سراہنے کی گنجائش پیدا کر سکتا ہے لیکن قارئین کرام آپ کو سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوگی کہ پچھلے دنوں پوپ پال کے ایک سیکورٹی گارڈ ٹورنی نے اپنے ایک آفیسر اور اس کی بیوی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور پھر خود کو بھی گولی مار کر خود کشی کر لی۔ اس پر نیوز ویک (18 مئی 1998ء) نے مختلف ذرائع کے حوالے سے یہ تحقیق دی کہ ٹورنی اور اس کے افسر ایسٹرمین کے درمیان ہم جنسی کا کیس تھا۔ نیوز ویک کے مطابق یہ اس طرح کا پہلا کیس نہیں تھا۔ پوپ پال کے محل ویٹیکن میں بہت سے کردار ہم جنسیت میں ملوث رہے ہیں۔ پوپ کے مہمانوں کا ایک خدمت گار لوزی بھی ایک سال قبل ایک پادری کے ساتھ ہم جنسیت میں ملوث پایا گیا۔ بعد میں وہ بھی اپنے اپارٹمنٹ میں پُر اسرار طور پر مردہ پایا گیا۔ لیکن پوپ نے ہم جنسیت‘ قتل اور خودکشی کے مرتکب ان کرداروں کے بارے میں کیا رویہ اختیار کیا‘ وہ انتہائی حیرت انگیز ہے۔ پوپ نے خود کشی کرنے والے ٹورنی اور اس کے دو مقتولوں کی آخری رسومات یکساں اعزازات کے ساتھ انجام دیں اور تینوں کو برابر کا خراج تحسین پیش کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جان جوزف کے لیے تو عیسائیت کوئی اخلاقی جواز پیدا کر کے کہہ سکتی ہے کہ اس نے ایک مقصد کے لیے خود کشی کی‘ لیکن ہم جنسیت میں ملوث ٹورنی کی خود کشی آخر کس نیک مقصد کے لیے تھی اور پھر یہ کون سا انصاف ہے کہ خودکشی کرنے والے قاتل اور مقتول دونوں کی آخری رسومات شایان شان اور یکساں اعزازات کے ساتھ انجام دی جائیں۔

مذہب کے ایسے ٹھیکیداروں کی طرف سے برائیوں کی اس طرح حوصلہ افزائی کرنے اور انہیں سند جواز عطا کرنے کا نتیجہ ہے کہ آج عیسائی دنیا میں قتل و غارت‘ اخلاقی جرائم اور خودکشی کی وارداتیں سب سے زیادہ ہو رہی ہیں۔ اللہ اور رسول کی تعلیمات کو چھوڑ کر مذہبی ناخداؤں کے پیچھے چلنے اور ان کی ہر بات کو خدائی درجہ قرار دینے کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ یہ روش جس بھی

صفحہ 360

معاشرے نے اپنائی، تباہی اور گمراہی اس کا مقدر بن گئی۔ اس روش نے عیسائیوں اور یہودیوں کی سچی آسمانی کتابوں کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ اللہ اگر قرآن کریم کی حفاظت کا ذمہ نہ لیتا تو ہمارے مذہبی پیشوا بھی یہ کام کر چکے ہوتے۔ الحمد للہ قرآن کی حفاظت کا ناقابل تردید ثبوت یہ ہے کہ چودہ سو سال سے آج تک اس کا ایک ایک حرف محفوظ ہے۔ جبکہ انجیل و توریت کا متن آج دنیا کے ہر خطے میں ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ بہر حال قرآن نے ہمیں ایسے مذہبی پیشواؤں سے آج سے چودہ سو سال پہلے ہی یہ کہہ کر تنبیہ کر دیا تھا:

اتخذوا احبارهم و رهبانهم اربابا من دون الله و المسيح ابن مريم وما امروا الا ليعبدوا الها واحدا

”انہوں نے اپنے پادریوں اور درویشوں کو اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے علاوہ معبود بنا رکھا تھا حالانکہ (ان کو) حکم صرف یہی تھا کہ ایک معبود کی عبادت کریں جس کے سوا کوئی معبود نہیں“ (التوبہ‘ 31)

جان جوزف خود کشی نہیں کر سکتے، ڈاکٹر جارڈن پیٹرک

پروٹسٹنٹ فرقے کے ممتاز عیسائی رہنما ڈاکٹر جارڈن پیٹرک نے بھی جان جوزف کی خودکشی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی صورت میں سامنے آنے والے تضادات کی بنیاد پر متعلقہ ادارے تحقیقات کر کے اصل حقائق سامنے لائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر ڈاکٹر جان جوزف کو جانتا ہوں۔ ان سے خودکشی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ 295-C قانون ختم کرنے کا مطالبہ درست نہیں۔ کیونکہ یہ کوئی یکطرفہ قانون نہیں ہے بلکہ تمام انبیاء کی عزت و توقیر کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا، عیسائی برادری بھی نبی ﷺ سے محبت کرتی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ 295-C کے خاتمے کی بجائے اسے مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ کوئی اس سے غلط فائدہ نہ اٹھا سکے۔ انہوں نے کہا جھوٹا الزام لگانے والے کے لیے سخت سزا مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔ (روزنامہ ”نوائے وقت“ 14 مئی 98ء)

ڈاکٹر جارڈن پیٹرک نے بشپ جوزف کو گولی لگنے کے بعد ان کو نہ چھونے کے بارے میں فادر یعقوب کے بیان کے حوالے سے کہا کہ یہ بات غیر فطری سی لگتی ہے کہ کسی عام فرد کو بھی اس حالت میں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر یہ ممکن نہیں ہے کہ پاس کھڑا فرد اس کی نبض نہ ٹٹولے یا اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی کوشش نہ کرے۔ انہوں نے کہا، سچی بات تو یہ ہے کہ اس طرح

صفحہ 361

کے حادثے یا سانحے کے بعد ہر کوئی سب سے پہلے ہسپتال کی طرف بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔ مجھے بھی جب اطلاع ملی تو میں سیدھا جائے وقوعہ پر جانے کی بجائے سول ہسپتال کی طرف دوڑا لیکن مجھے جان کر حیرت ہوئی کہ بشپ کو ہسپتال لے جانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گرنے کے بعد بشپ کو چھوا یا ان کی نبض کیوں نہ چیک کی گئی‘ یا ان کے بہتے ہوئے خون کو روکنے کی کوشش کیوں نہ کی گئی؟ (روزنامہ خبریں لاہور‘ 9 مئی 98)

تفتیشی ٹیموں‘ ماہرین اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے آئینے میں

محکمہ داخلہ پنجاب نے بشپ جوزف کی ہلاکت کی تفتیش دو خفیہ ایجنسیوں اور کرائمز برانچ کے سپرد کی۔ تفتیشی ایجنسیوں کے روبرو سیشن کورٹ کے چوکیدار محمد شریف نے بطور چشم دید بیان دیتے ہوئے کہا کہ 6 مئی کی رات تقریباً دس بجے وہ سیشن جج کی عدالت کے باہر پہرے پر موجود تھا کہ ایک گاڑی گیٹ سے تھوڑا پیچھے رکی جس میں سے ایک شخص کو سیشن کورٹ کے باہر پھینکا گیا اور اس کے بعد گولی چلنے کی آواز آئی۔ چوکیدار نے گرے ہوئے شخص کے قریب دو افراد کو کھڑے ہوئے دیکھا۔ وہ یہ منظر دیکھ کر سیشن جج ساہیوال کے گھر کی طرف دوڑ پڑا اور وہاں پہنچ کر صورت حال سے آگاہ کیا کہ دہشت گرد کسی کو مار کر عدالت کے گیٹ پر پھینک گئے ہیں۔ سیشن جج نے ایس ایس پی ساہیوال کو اطلاع دی جو دو گھنٹے بعد وہاں پہنچے۔

پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق خودکشی کے خلاف اور قتل کے حق میں 17 اہم نکات سامنے آئے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سانحہ کے وقت ”کنٹیکٹ فائر“ نہیں ہوا بلکہ فاصلہ سے فائر ہوا ہے۔ فاصلے سے فائرنگ ہونے کی صورت میں ”بلیکنگ“ باہر ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق خودکشی کیس میں 80 سے 90 فیصد ”کنٹیکٹ فائر“ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خودکشی میں اسلحہ فائر کے بعد ہاتھ میں موجود ہونے کا 90 سے 95 فیصد امکان ہوتا ہے اور باقی 5 فیصد میں زیادہ سے زیادہ اسلحہ جسم کے ساتھ ہی گرتا ہے لیکن ڈاکٹر جان جوزف کے ہاتھ سے اسلحہ 6 سے 7 فٹ کے فاصلے پر پڑا ہوا ملا۔ ماہرین کے مطابق خودکشی کیس میں فائرنگ والا ہاتھ اسی جگہ ساقط ہو جاتا ہے لیکن جان جوزف کا ہاتھ سینے پر تھا جو اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ جان جوزف نے گولی کا شکار ہونے کے بعد تکلیف سے بچنے کے لیے سینے کو دبانے کی کوشش کی اور اگر انہوں نے خودکشی کی ہوتی تو ماہرین کے مطابق وہ اپنا ہاتھ کسی صورت بھی سینے تک نہ لے جاتے۔ ماہرین کے مطابق بشپ جان جوزف کی اس پوسٹ مارٹم رپورٹ کے علاوہ جائے وقوعہ پر گولی کے خول کا نہ ملنا اور بشپ کو ہسپتال پہنچانے میں تاخیر سے ڈاکٹر جان جوزف کے قتل کے

صفحہ 362

شبہات کو مزید تقویت ملنے لگی ہے۔ (روزنامہ خبریں لاہور' 14 مئی 98ء) سول ہسپتال ساہیوال جہاں بشپ جوزف کا پوسٹ مارٹم کیا گیا' وہاں کے ایک سینئر اور اعلیٰ ذمے دار نے بتایا کہ نعش صبح ساڑھے تین بجے کے بعد ہسپتال پہنچی جبکہ عیسائی نوجوانوں کی ٹولیاں رات تقریباً پونے دس بجے سے ہی نعرے لگاتی ہوئی اور دھمکیاں دیتی ہوئی ہسپتال پہنچ گئی تھیں۔ قادر یعقوب کی طرف سے تھانہ سول لائنز میں درج کرائی گئی رپورٹ اس حوالے سے انتہائی اہم ہے کہ یہ واقعہ کے صرف آدھ گھنٹے بعد ہی درج کرا دی گئی اور اس سلسلے میں اس قدر عجلت اور تیزی دکھائی گئی کہ اگر بشپ کو گولی لگنے کے بعد ہسپتال لے جانے کی کوشش کی جاتی تو شاید اتنا وقت مل جاتا کہ وہ مرنے سے قبل واقعہ کے بارے میں کچھ کہہ سکتے۔ (روزنامہ خبریں لاہور' 9 مئی 98ء)

تفتیشی ٹیموں نے ملزم ایوب مسیح کی امداد کے لیے بیرون ملک سے بھاری رقوم ملنے کا بھی سراغ لگایا۔ بتایا گیا ہے کہ 14 اکتوبر 1996ء کو ملزم ایوب مسیح کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ چک 353 ای بی کے محمد اکرم نے درج کرایا تو اس وقت فوری طور پر ایک بیرونی ملک نے مقدمہ کی پیروی کے لیے مالی امداد فراہم کی تھی اور ملزم ایوب مسیح کے مقدمہ کی پیروی کے لیے عاصمہ جہانگیر کے ذریعے محمد حنیف ڈوگر ایڈووکیٹ کو نامزد کیا گیا اور انہیں ہر پیشی پر 4 ہزار روپے یومیہ الگ دیے گئے۔ جب ایوب مسیح کو سزا ہوئی تو ڈاکٹر جان جوزف اور قادر فاروق کے درمیان اخراجات کا مسئلہ ہوا۔ ایک اور بات حیران کن ہے کہ اس واقعہ کے فوراً بعد امریکہ اور آسٹریلیا کے سفارت کاروں کی فیصل آباد اور ساہیوال میں پراسرار سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔ دونوں سفارت کار نیشنل بینک کچہری بازار ساہیوال اور سٹیٹ بینک فیصل آباد میں فارن اکاؤنٹس کی تفصیلات اکٹھی کرتے رہے۔ اس سے ایوب مسیح کیس کے لیے 15 لاکھ ڈالر کی غیر ملکی امداد اور اس پر یعقوب اور جوزف کے درمیان جھگڑے کے شبے کو تقویت ملتی ہے۔ (15 مئی 98ء پاکستان)

بعض تبصرہ نگاروں نے اپنا خیال ظاہر کیا کہ حکومتی ادارے شاید کسی ممکنہ غیر ملکی دباؤ کے تحت ان کی مرضی کی رپورٹ دے رہے ہیں کیونکہ بقول ان کے واقعات کی روشنی میں اگر یہ قتل نہیں ہے تو پھر دوسری طرف واقعات کی روشنی میں یہ خودکشی بھی ثابت نہیں ہوتی۔ بشپ ڈاکٹر جان جوزف نے وقوعہ کے روز رات تقریباً پونے دس بجے کا وقت خودکشی کے لیے چنا۔ جب ساری انتظامیہ امام بارگاہوں کے سیکورٹی انتظامات میں مصروف تھی۔ جائے وقوعہ بھی اس وقت مکمل طور پر سنسان تھی، صرف متوفی بشپ کے اپنے دو آدمیوں کیتھولک چرچ ساہیوال کا پادری

صفحہ 363

یعقوب فاروق اور ڈرائیور پطرس موجود تھے۔ یہ کیس احتجاجی خودکشی تھی جو اتنے خفیہ انداز میں کی گئی اور جس کی گواہی دینے والا کوئی تیسرا غیر جانبدار شخص نہیں ہے۔ خود کشی کی ایک اور وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ ایوب مسیح کو کچھ دنوں کے بعد پھانسی دی جا رہی ہوتی، لیکن یہاں قریب قریب ایسا کوئی امکان نہ تھا۔ ایوب مسیح کے لیے ہائی کورٹ میں اپیل کی جارہی تھی، اس کے بعد بھی اپیل کی صورتیں موجود تھیں۔ ایسے حالات میں خود کشی کرنا ایک حیران کن بات تھی۔ مزید یہ کہ خودکشی اسلام اور عیسائیت دونوں مذاہب میں حرام ہے۔ ایک عام آدمی سے ایسی حماقت تو کسی حد تک متوقع ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک مسلمان یا عیسائی عالم اس کا تصور تک نہیں کر سکتا۔

دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جائے

جان جوزف کی لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کے لیے سٹیزن اینڈ لائرز رابطہ کمیٹی کے سیکرٹری کی طرف سے بلال سعید ایڈووکیٹ نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی جس میں یہ نکات اٹھائے گئے کہ چلائی گئی گولی کا خول وقوعہ سے ابھی تک نہیں مل سکا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق زخم کے بیرونی حصہ پر سیاہ دھبہ کا ہونا یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ ہلاکت والے فائر کا فاصلہ اس فاصلہ سے زیادہ ہے جو کوئی خودکشی کے لیے اپنے لیے استعمال کرتا ہے۔ بتایا گیا کہ لاش اور استعمال ہونے والے ہتھیار کا درمیانی فاصلہ بہت زیادہ ہے۔ آنجہانی بشپ کی لاش سے ظاہر ہونے والی علامات اس کے دماغی کرب کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ جس سے قتل کے شبہ کو تقویت ملتی ہے۔ یہ خود کشی کی علامات نہیں ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایک بڑا میڈیکل بورڈ سینئر سرجنوں پر مشتمل تشکیل دیا جائے جو قبر کشائی کے بعد لاش کا پوسٹ مارٹم کرے۔

پاکستان عیسائی پریم پارٹی کا احتجاج میں شریک ہونے سے انکار

پاکستان عیسائی پریم پارٹی کے سربراہ دانی ایل بھٹی نے بشپ جان جوزف کی خودکشی کے سلسلے میں کسی قسم کے احتجاج میں شریک ہونے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کی کال دینے والے ارکان اسمبلی نے ہی 295-C کے قانون پر دستخط کیے تھے۔ انہوں نے مسلم تنظیموں کے رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر سے کام لیں۔ تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے پر احتجاج کی کال دینے والے نام نہاد عیسائی رہنما پچھتائیں گے"۔ (روزنامہ جنگ لاہور، 17 مئی

98ء)

صفحہ 364

اقلیتیں اور پاکستان

قارئین کرام! جان جوزف کی مبینہ خودکشی کے بارے میں آپ نے گزشتہ صفحات میں تمام تر حقائق، واقعات اور گھر کے بھیدیوں کے بیانات ملاحظہ کر لیے۔ یہ سب باتیں 90 فیصد سے زیادہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جان جوزف کا کیس خود کشی کا نہیں بلکہ قتل کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ یہ عیسائیوں کے ایک اجارہ دار ٹولے اور قادیانیوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کے عیسائیوں کی اکثریت انتہائی غریب لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کو زیادہ تر کلیسا نے ان کی غربت سے فائدہ اٹھا کر انہیں عیسائی بنایا۔ جب تک ایسے لوگ عیسائی نہیں بن جاتے، اس وقت تک تو کلیسا کے مذہبی اجارہ دار مغرب سے آنے والی ایڈ ان پر کسی حد تک خرچ کرتے رہتے ہیں لیکن جب وہ عیسائی ہو جاتے ہیں تو کچھ عرصے بعد ان کی تمام تر معاشی مدد بند کر دی جاتی ہے اور پھر وہ اسی طرح دوبارہ غربت کے صحرا میں اکیلے بھٹکنے کے لیے رہ جاتے ہیں۔ ان غریب عیسائیوں کا اب زیادہ سے زیادہ مصرف یہ رہ جاتا ہے کہ اجارہ دار ٹولہ اپنی ذاتی اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ان کے حقوق کے نام پر انہیں استعمال کرے۔ انہیں مسلمانوں سے لڑانے کے لیے انہیں مختلف ایشوز بنا کر مشتعل کیا جائے اور بین الاقوامی طور پر ایسے فسادات کرا کر عیسائی دنیا کو متوجہ کیا جائے کہ پاکستان میں عیسائیوں پر شدید ظلم ہو رہا ہے اور اس بہانے مغربی ملکوں سے کروڑوں کی ایڈ لے کر وہ خود چھکے اڑائیں جبکہ غریب عیسائی استعمال ہو کر قربانیاں دیتے رہیں۔ حقائق جاننے والے جانتے ہیں کہ پاکستان کی اقلیتیں ان مسلمانوں سے کہیں بہتر زندگی گزار رہی ہیں جو غیر مسلم ملکوں میں اقلیت میں ہیں۔ عالم اسلام میں کوئی ایک ملک بھی اقلیتوں کے لیے کشمیر، بوسنیا، کوسوو یا فلسطین نہیں بنا۔

یہ تمام مثالیں صرف غیر مسلم دنیا نے پیش کی ہیں۔ پاکستان کی پوری پچاس سالہ تاریخ میں صرف ایک شانتی نگر کا واقعہ ہی اقلیتوں کے خلاف آج تک پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس میں بھی اگر چہ مبالغہ آرائی کا عنصر کافی حد تک شامل ہے اور اس سلسلے میں عدالتی ٹربیونل کی رپورٹ سامنے آ چکی ہے کہ اس فساد کا ذمہ دار ایک نور نبی نامی قادیانی تھا۔ جو ضلع خانیوال میں جماعت احمدیہ کا امیر ہے۔ دوسری طرف ہندوستان میں 50 سال میں کوئی دن مسلم کش فسادات سے خالی نہیں گیا۔ بابری مسجد کو پوری دنیا نے ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں ملیا میٹ ہوتے دیکھا لیکن ہندوستان کی حکومت، مسلمانوں کو یہ مسجد تو دوبارہ کیا بنا کر دیتی، مسجد شہید کرنے کے کسی ملزم کو اس نے آج تک سزا دینے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی۔ بلکہ ان ملزموں کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی گئی اور بی جے پی کی موجودہ کٹر ہندو حکومت کے دور میں مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کا کام

صفحہ 365

پوری ڈھٹائی سے کھلم کھلا جاری ہے۔

پاکستان میں اقلیتوں نے زندگی کے ہر شعبہ میں آزادانہ کام کیا ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے۔ عام سرکاری عہدوں سے لے کر فوج کے کلیدی عہدوں اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے تک انہیں ملے ہیں۔ اقلیتیں پاکستان میں ہمیشہ سکھ چین کی اور مثالی زندگی بسر کرتی رہی ہیں لیکن عیسائیوں کے بعض نام نہاد مذہبی ٹھیکیداروں، امریکی و سامراجی ایجنٹوں اور زر پرستوں کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے یہ صورت حال کسی طرح قبول نہیں۔ وہ اب غریب عیسائیوں کے کندھوں پر اپنے مفادات کی بندوق چلانا چاہتے ہیں۔ قادیانی کھلے اور چھپے طور پر ان کی کمر ٹھونک رہے ہیں لیکن الحمد للہ یہ بات بھی قابل اطمینان ہے کہ عیسائیوں کی اکثریت اب اس سازش کو سمجھنے لگی ہے۔ انہوں نے اس سازشی ٹولے کے ہاتھوں استعمال ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کی اکثریت بھی اب اس بات پر حیران ہے کہ جب توہین رسالت کا قانون نہ صرف مسلمانوں کے پیغمبر محمد ﷺ بلکہ ان کے پیغمبر عیسیٰؑ کے عزت و تقدس کا بھی محافظ ہے تو ہمارے بعض رہنما اسے انسانی حقوق کے خلاف کیوں قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ توہین مسیح کا قانون تو برطانیہ اور اٹلی میں بھی موجود ہے۔ بائبل میں بھی اس کی سزا موت ہے تو پھر صرف پاکستانی قانون پر اعتراض کیوں کیا جائے اور اگر یہ خدشہ ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوگا تو پھر دنیا کا کون سا قانون ہے جس کا غلط استعمال نہیں ہوتا۔ اس خدشے کی بنیاد پر تو پھر تمام قوانین ختم کر دینے چاہئیں۔

قانون توہین رسالت کے مخالفوں کے دل میں اپنے نبی عیسیٰؑ کا احترام بھی نہیں

ہم غریب عیسائیوں اور ان کے اصل ہمدرد لیڈروں سے گزارش کرتے ہیں کہ توہین رسالت کے قانون کے خلاف واویلا کرنے والے وہ ہیں جن کے دل میں کسی بھی نبی کا احترام نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سامراجی ایجنٹ ہیں۔ ان کا کسی مذہب اور پیغمبر پر یقین نہیں۔ یہ صرف زر اور مفادات کے بندے ہیں۔ سستی شہرت اور لیڈری کے بھوکے ہیں۔ یہی ان کا مذہب ہے۔ یہ لوگ اپنے مفادات کے حصول کے لیے مختلف مذاہب اور فرقوں کو لڑانے والے ہیں۔ مادر پدر آزاد معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں کوئی اصول اور کوئی قانون نہ ہو۔ جہاں روحانیات کا دخل نہ ہو، اولاد والدین سے آزاد ہو، فرد مذہب سے آزاد ہو اور پورا معاشرہ ہر اخلاقی بندھن، قانون اور ضابطے سے آزاد ہو۔ مذہب سے دلی وابستگی رکھنے والا کوئی فرد بھی اپنے پیغمبر کی توہین برداشت نہیں کر سکتا۔

صفحہ 366

لیکن قارئین کرام! آپ حیران ہوں گے کہ قانون توہین رسالت کی مخالفت کرنے والے بعض نام نہاد عیسائی رہنماؤں کے ٹولے کے سامنے حضرت عیسیٰ کی بھی جتنی توہین کی جائے، انہیں اس کی بھی پرواہ نہیں۔ اس حقیقت کا انکشاف ہمارے ایک بزرگ محترم علامہ محمد ابو شیخ خالد الازہری نے ہمیں بھیجے گئے ایک مراسلے میں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

”میں نے جے سالک سے چند سال پیشتر لاہور ہائی کورٹ میں ملاقات کی تھی اور اپنی ملاقات میں ان سے عرض کیا تھا کہ قادیانی حضرات اپنے انگریزی نبی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود ثابت کرنے کے لیے سرعام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں انتہائی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ آپ کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ ملاقات کے دوران میں نے انہیں مرزا قادیانی کی اصل کتب بھی دکھائیں تاکہ کوئی شبہ نہ رہ جائے۔ میں انتہائی کرب اور مجبوری کے ساتھ چند حوالہ جات بطور نمونہ پیش کرتا ہوں:

میں غصہ آجاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی"۔

(حاشیہ ”انجام آتھم“ ص 5‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ جلد 11‘ ص 289‘ از مرزا قادیانی)

معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا، اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا"۔ (حاشیہ ”انجام

آتھم“ ص 6 مندرجہ ”روحانی خزائن“ نمبر 11‘ ص 290‘ از مرزا قادیانی)

نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ (معاذ اللہ) جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا (معاذ اللہ) مگر شاید یہ بھی خدائی کے لیے ایک شرط ہو گی۔ آپ کا کنجریوں کے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو (معاذ اللہ) کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔ (”انجام آتھم“ ص 7‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“

نمبر 11‘ ص 291‘ از مرزا قادیانی)

صفحہ 367

السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے“۔ (کشتی نوح‘ ص 73‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ جلد 19‘ ص 71‘ از مرزا قادیانی)

مرزا قادیانی چونکہ خود شراب پیتا تھا‘ اس لیے اس نے اپنے لیے شراب کا جواز پیدا کرنے کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر الزام لگا دیا۔

بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا“ (دافع البلاء‘ ص 13‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ جلد 18‘ ص 233‘ از مرزا قادیانی)

☆۔

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء‘ ص 20‘ مندرجہ ”روحانی خزائن“ جلد 18‘ ص 240‘ از مرزا قادیانی)

انہوں نے میری تمام گفتگو بڑی توجہ اور انہماک سے سنی اور پھر اس کے جواب میں انہوں نے جو کچھ فرمایا‘ اس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میں بہت زیادہ پریشان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گستاخ کے لیے کسی قسم کی سزا کا مطالبہ نہیں کرتے اور ویسے بھی یہ ہمارا اور قادیانیوں کا معاملہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر مسلمانوں سے زیادہ عیسائی حضرات کا حق ہے۔ جب ہم اس پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کرتے تو آپ کو کیا تکلیف ہوتی ہے“۔ بالکل یہی باتیں انہوں نے گوجرہ میں 8 نومبر 1992ء کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں جو اگلے روز اخبارات میں شائع ہوئیں۔ ان حقائق سے آپ جے سالک کی مذہبی غیرت و حمیت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں“۔

غیرت مند عیسائیو! جے سالک کے طرز عمل کی روشنی میں آپ خود فیصلہ کر لیں کہ یہ کون سا ٹولہ ہے جسے اپنے نبی ﷺ کی عزت و ناموس کی ذرا بھی پروا نہیں۔ جے سالک کو سب جانتے ہیں کہ وہ سستی شہرت کا شوقین لیڈر ہے۔ شہرت کے لیے وہ گھٹیا سے گھٹیا حرکت کرنے پر بھی تیار ہو جاتا ہے۔ چھوٹے موٹے مطالبات کے لیے وہ کبھی اپنا گھر چھوڑ کر چڑیا گھر لاہور کے سامنے اپنی بیوی کے ہمراہ خیمہ زن ہو جاتا ہے‘ کبھی منہ میں چوسنی لے لیتا ہے‘ کبھی اپنے گھر کا سامان مال روڈ پر نذر آتش کر کے اس کی راکھ اپنے سر پر ڈال لیتا ہے‘ کبھی اونٹ مارچ کرتا ہے اور کبھی اسمبلی میں جوتیاں چھوڑ کر ننگے پاؤں باہر نکل آتا ہے۔

صفحہ 368

شہرت، دولت اور لیڈری کا بھوکا یہی ٹولہ غریب عیسائی عوام کو گمراہ کرنے اور انہیں مسلمانوں سے لڑانے پر تلا ہوا ہے۔ اس ٹولے نے ہمیشہ پہلی قوموں اور مذاہب کے لوگوں کو راہ حق سے گمراہ کیا ہے۔ الحمد للہ یہ مسلمانوں کا اعزاز ہے کہ وہ نہ صرف اپنے نبی ﷺ بلکہ دوسرے تمام سچے آسمانی مذاہب کے انبیاء کا بھی یکساں احترام کرتے ہیں۔ ان کے لیے موسیٰ علیہ السلام کی یا عیسیٰ علیہ السلام بھی اس قدر عزت و تقدس کا مقام رکھتے ہیں، جس قدر کہ حضرت محمد ﷺ کیونکہ اسلام نے انہیں اسی بات کی تعلیم دی ہے۔

لا نفرق بین احد من رسلہ ”ہم اللہ کے کسی رسول کے ماننے میں کوئی فرق نہیں رکھیں گے“۔

چاہیے تو یہ تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کی اس عالی ظرفی کو سراہا جاتا کہ مسلمان اللہ کے تمام سچے پیغمبروں کی عزت و تقدس کے یکساں محافظ ہیں۔ افسوس کہ غیر مسلموں کے متعصب، جاہل اور مادہ پرست لیڈروں نے اپنی عوام کو الٹا گمراہ کیا کہ جیسے مسلمان ان کے نبی کے دشمن ہوں۔ (معاذ اللہ)

ہماری غیر جانبدار عیسائی عوام سے گزارش ہے کہ اگر وہ اپنے نبی کے عالی شان مقام کی قدر جانتے ہیں، انسانیت کی ان عظیم محسن ہستیوں کی محبت اور اس کے تقاضوں سے کچھ بھی آگاہ ہیں تو ان ہستیوں کی محبت سے بے بہرہ لوگوں کو اپنی صفوں سے نکال دیں۔ یہ لوگ کسی مذہب کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ لوگ نہ خود حق کی راہ پر چلتے ہیں اور نہ دوسروں کو چلنے دیتے ہیں۔

(ماہنامہ ”الدعوۃ“ لاہور‘ جون ۱۹۹۸ء)

صفحہ 369

بشپ کی خودکشی یا قتل

صاحبزادہ طارق محمود‘ ایڈیٹر ماہنامہ ”لولاک“ ملتان

عاشورہ محرم سے ایک دن پہلے جب پوری قوم غم حسین ؓ میں آنسوؤں کے نذرانے بہاتے ہوئے شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کر رہی تھی‘ تو اسی روز احاطہ کچہری ساہیوال میں انصاف کی عدالت کے سامنے مسیحی قوم کے مسیحا کی خودکشی کا افسوس ناک واقعہ رونما ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سال محرم میں مثالی امن و امان رہا اور پورے ملک میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ عین اس موقع پر مسیحی اقلیت سے تعلق رکھنے والی مذہبی شخصیت کی احتجاجی موت کا واقعہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔ ملک کے مختلف شہروں میں مسیحیوں کی طرف سے ۲۹۵ سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ بشپ ڈاکٹر جان جوزف کی تدفین ان کے آبائی گاؤں خوش پور میں ہونا تھی لیکن ان کی میت کو بطور خاص فیصل آباد لایا گیا۔ اس موقع پر مشتعل مسیحی مظاہرین نے توڑ پھوڑ کے علاوہ کلمہ طیبہ اور درود پاک کے آویزاں بورڈوں کی بے حرمتی کی اور ان پر جوتے مارے۔ مسلمان نوجوانوں نے ایک ملزم رانجھا مسیح کو موقع پر پکڑ کر پولیس کے حوالہ کیا۔ بشپ کی خودکشی کے واقعہ پر مسیحی بھائیوں کا احتجاج قطعی بلاجواز تھا۔

جہاں تک آنجہانی ڈاکٹر جان جوزف کی خودکشی کے واقعہ کے حقائق اور شواہد کا تعلق ہے‘ اب ان کی موت پر اسرار نہیں رہی بلکہ ان کی موت کے بارہ میں حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر جان جوزف کے دو ساتھی یعقوب فاروق (فادر) جو اب بشپ ڈاکٹر جان جوزف کی جگہ لیں گے اور ان کا ڈرائیور موقع کے گواہ ہیں۔ انہوں نے خودکشی سے متعلق فوری طور پر رائے کیوں قائم کر لی؟ اندھیرے کی بناء پر دہشت گردی کے امکان پر ذرہ برابر غور نہیں کیا گیا۔ حالانکہ موجودہ حالات میں معمولی واقعہ پر بھی دہشت گردی کے امکان کو

صفحہ 370

رد نہیں کیا جاتا۔

چراغ گل کرنے کا عندیہ دیا تھا؟ اگر ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تو انہوں نے اس واقعہ کو خودکشی کیسے قرار دیا؟

پھر انہوں نے کیونکر وقوعہ کو خودکشی قیاس کر لیا۔۔۔؟

ہسپتال کیوں نہیں پہنچایا گیا؟ دونوں ساتھیوں نے اتنی تکلیف بھی گوارا نہیں کی بلکہ ان کی نعش ساری رات سیشن کورٹ کی عمارت کے سامنے پڑی رہی۔

کہ بشپ فی الواقعہ ختم ہو چکے ہیں؟ انہوں نے نہ تو خود آنجہانی ڈاکٹر جان جوزف کو ہاتھ لگایا۔۔۔۔ اور نہ ہی کسی اور کو ہاتھ لگانے دیا۔

ان کے سینے پر ہے۔ کیا خودکشی کرنے والے کے لیے ایسا ممکن ہے؟

مسیحیوں کو دکھا کر بتایا جاتا رہا کہ یہ ہمارے محبوب مذہبی پیشوا بشپ جان جوزف کا خون ہے۔ یہ کپڑا آنجہانی کے سر کے نیچے ہونے کی صورت میں ہی خون آلود ہو سکتا ہے۔ کیا خودکشی کے موقع پر یہ کپڑا آنجہانی بشپ نے سر کے نیچے رکھنے کا اہتمام پیشگی کر لیا تھا؟

ہیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ ڈاکٹر جان جوزف کو لگنے والی گولی ان کے ریوالور کی نہیں بلکہ وہ اور نوعیت کی ہے۔ دوسری روایت یہ بھی ہے کہ بشپ کو فائر دو لگے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ خودکشی کرنے والا اپنے ہاتھ سے دوسرے فائر کا متحمل ہو سکے۔

ابھی تک دفعہ ۳۰۹ ت پ کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا۔ کیا یہ اس بات کا بین ثبوت نہیں کہ مقامی پولیس اس واقعہ سے متفق نہیں۔

صفحہ 371

کو سیشن جج کی طرف سے دی جانے والی سزائے موت کے خلاف احتجاجاً سیشن کورٹ کی عمارت کے سامنے خودکشی کی۔ حقیقت حال یہ ہے کہ ایوب مسیح کے مقدمہ کی سماعت سیشن کورٹ کی بجائے جیل میں بطور خاص ہوئی اور فیصلہ بھی وہیں سنایا گیا۔ اب اصولی طور پر احتجاج کا تقاضا تو یہ تھا کہ خود کشی جیل کے سامنے کی جاتی۔

موت کے بعد ڈاکٹر جان جوزف نے کبھی مایوسی کا اظہار نہیں کیا۔ وقوعہ سے ایک روز پہلے ڈاکٹر جان جوزف کے ہاتھ کی تحریر جو منظر عام پر آئی ہے، اس میں ایوب مسیح کو بچانے کی تحریک میں پختہ عزم و ارادے کا اظہار کیا گیا ہے۔ اپنے آپ کا خاتمہ کر کے اس تحریک کو کیوں کر کامیاب بنایا جاسکتا ہے؟

بھرے مجمع میں کرنا چاہیے تھا تاکہ ان کی اقلیت کو بھی ان کی قربانی کا احساس ہو جاتا۔ رات کی تاریکی میں جہاں سیشن کورٹ کی عمارت بھی واضح نظر نہیں آتی، وہاں اپنے آپ کو مارنے کا اقدام خاصا مضحکہ خیز محسوس ہوتا ہے۔

حیثیت سے اور آنجہانی کی ذاتی زندگی کے حوالہ سے بھی اس اقدام سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔

بھی کوئی کمی نہ تھی۔ ڈاکٹر جان جوزف کا ارادہ و عزم بھی پختہ تھا۔ پھر یکایک خود کشی جیسے انتہائی اقدام کی ضرورت کیوں پیش آگئی؟

لگایا ہے کہ ڈاکٹر جان جوزف کو کہیں اور قتل کیا گیا۔ بعد ازاں اس کی لاش سیشن کورٹ کی عمارت کے سامنے رکھ کر ہوائی فائر کر کے خودکشی کا ڈرامہ رچایا گیا۔

ابھی تک مقامی پولیس سمیت تفتیش کرنے والے ادارے کسی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچے۔ پاکستان میں عیسائی اقلیت سے تعلق رکھنے والے کسی بشپ کے پراسرار قتل کا یہ پہلا

صفحہ 372

واقعہ ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ڈاکٹر جان جوزف اپنی اقلیت میں مذہبی پیشوا ہونے کی حیثیت سے ایک بلند مقام رکھتے تھے۔ ملک میں ہونے والے توہین رسالت کے مقدمات کی مکمل پیروی اور اعانت کیا کرتے تھے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے ان کے باقاعدہ رابطے اور ضابطے تھے۔ عیسائیت کی تبلیغ کے فنڈز مسیحی اقلیت کے فلاحی کاموں کی امداد کے علاوہ بعض صوابدیدی فنڈز میں انہیں خود مختاری حاصل تھی۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آنجہانی ڈاکٹر جان جوزف کے ہاں دولت کی ریل پیل تھی۔ موصوف نوٹوں میں کھیلتے تھے اور ڈالروں میں سوتے تھے۔ مقامی پریس اور اخبارات میں ان کی پریس کانفرنس کی خبریں اور ان کی تصاویر تواتر سے شائع ہوتی تھیں۔ اس مقصد کے لیے وہ فیاضی سے خرچ کرتے تھے۔ راقم کے تعلق والے ایک پریس فوٹوگرافر نے بتایا کہ وہ مجھے ہمیشہ بل کے علاوہ بھی نوازتے تھے۔ اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے ہاں بیرونی امداد کی کس قدر فراوانی تھی۔ واقفان حال کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ہر سال نئی گاڑی بدلتے تھے۔ اس لیے یہ مطالبہ بے جا نہ ہوگا کہ ان کے زیر سرپرستی چلنے والی تنظیم کاری ٹاس کے بینک اکاؤنٹ اور دیگر اثاثوں کی تفصیلی چھان بین کی جائے اور اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ ان اثاثوں پر مسیحی قیادت میں باہمی تنازعات کس نوعیت کے حامل تھے۔ حکومت دینی مدارس کے حوالے سے آئے روز ان کی بیرونی امداد کے بارے میں پڑتال کا اعلان کرتی ہے اور انہیں حسابات پیش کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، لیکن اقلیتوں اور بالخصوص مسیحی مشنری اداروں کی بیرون ملک امداد کے سلسلہ میں حکومت کیوں خاموش ہے؟ ایوب مسیح کی سزائے موت کے بعد ۱۵ لاکھ ڈالر کی گرانٹ کے باہمی تنازعہ کے پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ایک بات بہت حیران کن ہے کہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں میں صرف مسیحی اقلیت کی جانب سے اہانت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جرم کا بار بار کیوں ارتکاب کیا جاتا ہے؟ توہین رسالت کے مقدمہ میں وکیلوں کی چاندی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں دس دس لاکھ روپیہ فیس دی جاتی ہے۔ مخصوص مسیحی اقلیت کی طرف سے توہین رسالت کے بار بار جرم کے ارتکاب سے اس بات کا بھانڈہ پھوٹ جاتا ہے کہ یہ سارا بیرونی امداد کے لالچ اور حصول کا گھناؤنا چکر ہے۔

صفحہ 373

بشپ ڈاکٹر جوزف کے واقعہ قتل کے ضمن میں دو باتوں کا احتمال ممکن ہے۔ مسیحی اقلیت کے تحفظ اور مخصوص مفادات کے ضمن میں پورے ملک میں چرچ کی سطح پر آنجہانی سے زیادہ خودمختار اور قابل اعتماد اور کوئی بشپ نہ تھا۔

اولاً بشپ ڈاکٹر جان جوزف بیرونی امداد، اختیارات کے باعث اپنی اقلیت کے رہنماؤں کے حسد کا شکار ہوئے۔ ثانیاً بیرونی امداد دینے والے ادارے یا ملک ان سے جو توقعات وابستہ کیے بیٹھے تھے، آنجہانی نتائج کے اعتبار سے ان پر پورا نہیں اترے۔ لہٰذا انہیں ایک منظم سازش کے تحت راستہ سے ہٹا دیا گیا۔ تفتیش کی رفتار سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آنجہانی ڈاکٹر جان جوزف کے قتل کے حقائق کو گول کیا جا رہا ہے۔

صفحہ 374

بشپ کی خودکشی یا چرچ کی مہم؟

رفیق ڈوگر

عیسائی مذہب کے کیتھولک فرقہ کے بشپ جوزف کی ”خودکشی“ نے ساری دنیا کے نشریاتی اداروں، عیسائی تنظیموں اور ممالک کو توہین رسالت کے قانون کے خلاف منظم مہم چلانے کا موقع فراہم کر دیا۔ واقعات کے مطابق ایک عدالت نے ایک عیسائی کو خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے جرم میں موت کی سزا دی تھی۔ یہ سزا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون کے مطابق سنائی گئی تھی۔ اسی قانون میں اس سزا کے خلاف اپیل کی گنجائش بھی موجود ہے۔ لیکن کیتھولک چرچ کے انتہائی ذمہ دار مذہبی عہدے پر فائز بشپ جان جوزف نے قانونی طریقہ اختیار کرنے کی بجائے اس عدالت کے سامنے جاکر خودکشی کرلی۔ کیتھولک چرچ کے ایک اور ذمہ دار عہدیدار نے اس خودکشی کے عینی شاہد کے حوالے سے تھانے میں جو رپورٹ درج کرائی ہے، اس کے مطابق بشپ جوزف نے ان سے کہا تھا کہ وہ انہیں وہ عدالت دکھا دیں، جس نے ایک عیسائی کو موت کی سزا سنائی تھی۔ وہ اور ان کا وفادار ڈرائیور بشپ کی خواہش کے مطابق انہیں عدالت تک لے گئے۔ انہیں وہاں اتار کر وہ واپس مڑے ہی تھے کہ گولی کی آواز آئی۔ انہوں نے مڑ کر دیکھا تو بشپ جوزف زمین پر پڑے تھے۔ عدالت کے چوکیدار کے مطابق گولی کی آواز سن کر جب وہ باہر آیا تو ایک شخص (جان جوزف) چت گرا ہوا تھا۔ اس کا ایک بازو مڑا ہوا تھا، دوسرا سیدھا تھا اور پاس پستول پڑا تھا اور تین چار فٹ کے فاصلے پر دو افراد گاڑی سمیت کھڑے تھے۔ لیکن

صفحہ 375

دونوں میں سے کسی نے آگے بڑھ کر نبض دیکھنے یا اسے ہسپتال لے جانے کی کوشش نہیں کی بلکہ وہیں کھڑے چوکیدار سے کہا کہ ”یہ تو مرا ہوا ہے“۔ یہ دونوں شخص تھانے میں رپورٹ کرانے والا کیتھولک فرقہ کا ذمہ دار عہدیدار فادر یعقوب اور ان کا ڈرائیور پطرس تھے۔ جب بشپ جان جوزف نے انہیں عدالت لے جانے کو کہا تھا تو انہوں نے لازماً پوچھا ہو گا کہ وہ وہاں کیوں جانا چاہتے ہیں؟ یہ ایک فطری اور اصولی بات تھی۔ وہ ان کا مذہبی رہنما تھا، عدالت میں اس وقت کسی عیسائی کے خلاف کوئی سماعت نہیں ہو رہی تھی۔ فادر یعقوب نے اپنی ایف آئی آر میں یہ وجہ نہیں بتائی آخر کیوں؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ وہ چند فٹ کے فاصلے پر خاموش کھڑے اپنے بشپ کو خون میں لت پت پڑے کیوں دیکھتے رہے؟ انہوں نے اسے اٹھانے اور ہسپتال لے جانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ ایک انسانی فطرت ہے کہ عام آدمی بھی کسی اجنبی کو اس طرح اپنے کو گولی مارتا دیکھے تو اس کی طرف دوڑتا ہے، اس کی مدد کرتا ہے، اسے ہسپتال لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ فادر یعقوب عام آدمی نہیں تھا، خودکشی کرنے والا بھی کوئی اجنبی نہیں تھا، ان کا اپنا بشپ تھا۔ پھر وہ وہاں خاموش کیوں کھڑے رہے، اس کی نبض دیکھے بغیر عدالت کے چوکیدار کو کیسے کہہ دیا کہ یہ تو مرا ہوا ہے؟

ایک قابل غور پہلو یہ ہے کہ بشپ جان جوزف ایک مسیحی کی سزا کے سہارے توہین عدالت کے قانون کے خلاف مہم چلا رہا تھا۔ اس کی خودکشی کی موت کے ساتھ ہی ایک مقامی اخبار نے جو مغرب کے سرمایہ پر چلنے والی انسانی حقوق کی انجمنوں کا ترجمان اور سرپرست ہے، جان جوزف کی اس مہم کی کچھ تفصیلات بھی شائع کی تھیں، جن کے مطابق جان جوزف نے ان انسانی حقوق کی انجمنوں اور ان کی ساتھی این جی اوز کو لکھا تھا کہ ”آؤ اس سزا کو بنیاد بنا کر توہین رسالت کے قانون کو کالعدم قرار دینے کی جنگ عظیم لڑیں“۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جان جوزف کی خودکشی اس جنگ عظیم کا حصہ اور ایک سوچا سمجھا منصوبہ تو نہیں تھا؟ پہلے سے تیار کردہ اسی منصوبے کے تحت اس کے ساتھی مذہبی عہدیدار تو اسے عدالت تک نہیں لے گئے تھے؟ اور اسی منصوبے کی تکمیل کے لیے تو خاموش پاس نہیں کھڑے رہے تھے؟ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ لیکن مسلمانوں کے خلاف کیتھولک چرچ کی تاریخ میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ اندلس میں جب

صفحہ 376

مسلمانوں کی حکومت زوال میں داخل ہو رہی تھی تو وہاں کے چرچ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے کی ایک منظم مہم چلائی تھی۔ ان کے عہدیدار قرطبہ کے چوک میں آتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے تھے۔ کھلے عام سب کے سامنے حاکم وقت گالی دینے والے کو گرفتار کر کے سزا دیتا تھا اور کیتھولک چرچ اسے اپنا مذہبی ”ہیرو“ اور ”شہید“ قرار دے دیا کرتا تھا۔ اندلس کے کیتھولک چرچ نے اس طرح کے بہت سے ”ہیرو“ اور ”شہید“ پیدا کیے تھے۔ کیتھولک چرچ کی اس مہم کو سارے عیسائی ممالک کی حمایت اور سرپرستی حاصل ہوتی تھی۔ کیا کیتھولک چرچ اس حقیقت اور اپنی تاریخ سے انکار کر سکتا ہے؟ کیا اس کی تاریخ میں ایسے مسیحی ”شہیدوں“ کا ذکر فخریہ انداز میں نہیں کیا گیا؟ اگر کسی کو شبہ ہو تو وہ ہماری کتاب ”اندلس کی تلاش“ میں کیتھولک چرچ کی اس ”شہادت“ مہم کی تفصیل دیکھ سکتا ہے۔ یہ کتاب پاکستان میں عیسائیوں کی طرف سے ایسی مبینہ مہم شروع ہونے سے کافی پہلے شائع ہوئی تھی۔ کیا یہ صرف اتفاق ہے کہ جس روز بشپ جان جوزف نے عدالت کے سامنے خودکشی کی‘ اس روز کیتھولک چرچ کے پاکستانی بشپ اپنے مذہبی دارالحکومت ویٹیکن میں جمع تھے۔ انہوں نے وہاں بشپ جان جوزف کے لیے دعا کی اور چرچ کے ریڈیو سے پاکستانی عیسائیوں کے لیے جو پیغام نشر کیا گیا‘ اس میں کہا گیا تھا کہ ”جوزف کی موت پاکستان میں رہنے والے سب کیتھولک چرچ کے عہدیداروں اور رہنمائوں کے ضمیر بیدار کر دے گی اور وہ توہین رسالت کے قانون کو کالعدم کروانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے“۔

سوال یہ ہے کہ اگر عیسائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی نہیں دیتے تو انہیں اس قانون سے تکلیف کیا ہے؟ جو کوئی چور نہیں اسے چور کا ہاتھ کاٹنے کی سزا سے کیا تکلیف پہنچتی ہے؟ کیا سارے ذرائع ابلاغ‘ عیسائی ممالک‘ عیسائی تنظیموں اور ان کا ”نمک“ کھانے والی تنظیموں کا بیک وقت اٹھ کھڑے ہونا‘ کیتھولک چرچ کی کسی مہم اور منصوبے کا حصہ تو نہیں؟ یہ وہ پہلو ہیں جن کے بارے میں سوچنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

قتل‘ جھوٹ‘ دھوکہ‘ زنا اور گالی ہر زمانے اور معاشرے میں جرم رہے ہیں۔ جب انسان جنگلوں میں رہتا تھا اس وقت بھی یہ سنگین جرائم تھے‘ پتھر کے زمانے کے قبائلی کلچر میں بھی ان جرائم کے مرتکب افراد کو سنگین سزا دی جاتی تھی۔ آج کا معاشرہ تہذیب یافتہ

صفحہ 377

کہلاتا ہے۔ عیسائی ممالک اپنی تہذیبی برتری کے دعویدار ہیں لیکن اپنی تہذیبی برتری کے یہ مغربی دعویدار مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کو گالی دینے والوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ ایسے مجرموں کی حوصلہ افزائی کر کے انہیں اس سنگین جرم کی ترغیب دیتے ہیں‘ نام نہاد مہذب عیسائی ممالک کے اس مشترکہ جرم کی بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ بدبخت رشدی نے دین اسلام کی بنیادوں پر حملہ کیا‘ اسلام کی مقدس ہستیوں کو گالیاں دیں اور جھوٹ لکھا‘ تو اہل مغرب نے اسے داد دی۔ مغرب کے ذرائع ابلاغ نے اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے۔ مسلمانوں نے اس جرم کے خلاف ردعمل ظاہر کیا تو اسے ان کی بنیاد پرستی اور ذہنی پسماندگی کا نام دیا گیا۔ ایران کے روحانی پیشوا نے رشدی کے خلاف فتویٰ دیا تو ساری عیسائی دنیا رشدی کے دفاع کے لیے متحد ہو گئی۔ ایران سے سفارتی تعلقات تک ختم کر دیئے۔ برطانیہ نے کہا‘ رشدی اس کا شہری ہے‘ اسے اسلام کو گالیاں دینے کی آزادی ہے۔ اس کا قانون اپنے شہریوں کو اسلام کو گالیاں دینے کا حق دیتا ہے۔ دنیائے اسلام اور امت مسلمہ کے اس بدبخت مجرم کو اب تک اہل مغرب سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش کی ایک بدبخت اور بدفطرت خاتون تسلیمہ نسرین نے قرآن اور اسلام کے خلاف مضمون لکھا تو اہل مغرب نے اسے سر پر اٹھا لیا۔ مغربی ممالک نے اسے خوش آمدید کہا‘ اسے وی آئی پی مہمان بنایا‘ اس کے اعزاز میں جلسے کیے۔ اب تک وہ خاتون اہل مغرب کی مہمان ہے۔ کیا عیسائی ممالک اور ان کے اداروں کا یہ رویہ کیتھولک چرچ کی اسی مہم کا حصہ تو نہیں جو اس نے اندلس میں شروع کی تھی؟ عیسائیت نے رسول اسلام صلی اللہ علیہ وسلم‘ اسلامی عقائد اور ہستیوں کو گالیاں دینے کا طریقہ بدل لیا ہے‘ رویہ نہیں بدلا۔ اگر مسلمان ایسے مجرموں کے خلاف زبان کھولیں تو مغرب اور مغرب زدہ طبقے انہیں بنیاد پرست قرار دے دیتے ہیں۔ اگر کوئی عیسائی گالیاں دینے کا حق حاصل کرنے کے لیے خودکشی جیسے جرم کا ارتکاب کرے تو وہ بنیاد پرست نہیں ہوتا‘ روشن خیالی کا ہیرو اور شہید قرار پاتا ہے۔ نام نہاد سلمان رشدی گالی دے تو کسی مسلمان کو اس کے خلاف آواز بلند کرنے کا حق نہیں کیونکہ وہ برطانوی شہری ہے اور برطانوی قانون اسے یہ حق دیتا ہے۔ اگر کوئی پاکستانی شہری‘ پاکستانی قانون کی خلاف ورزی کرے‘ مسلمانوں کے پیغمبر اعظم کو گالی دے تو بھی پاکستان کو اس کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ عیسائی ہے۔

صفحہ 378

اس تضاد اور اتحاد پر غور کریں اور اس کی روشنی میں بشپ جوزف کی خودکشی اور مغرب کی مہم کو دیکھیں تو شکوک و شبہات گہرے ہو جاتے ہیں۔

چند سال پہلے ایک عیسائی دانشور ہمارے دفتر میں تشریف لائے، وہ بہت پریشان تھے۔ ”مغربی مشنری ادارے ہمارے بچے مروانا چاہتے ہیں“۔ عیسائی مشنری ادارے اپنے ہم مذہب پاکستانی عیسائیوں کے بچے مروانا چاہتے ہیں؟ ہمیں اس کی بات پر یقین نہیں آیا۔ وہ دانشور سماجی کارکن بھی ہیں (اس لیے ہم فی الحال ان کا نام نہیں لکھ رہے) اس نے بتایا کہ مغربی مشنری ادارے پاکستان کے اندر تاکستان کے نام سے ایک عیسائی خطہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ بائبل میں ”تاک“ انگور کو کہا گیا ہے۔ بائبل کے حوالے سے ”تاک“ عیسائیوں کے لیے مقدس نام ہے۔ سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے جن علاقوں میں عیسائیوں کی تعداد زیادہ ہے، ان مشنری اداروں نے ان کا نام ”تاکستان“ رکھ دیا ہے اور اس کے لیے کام بھی شروع کر دیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی عیسائی ان مغربی مشنری اداروں کی چال میں آگئے تو وہ مارے جائیں گے۔ وہ پاکستان اور پاکستانی معاشرے میں امن چین سے رہ رہے ہیں۔ اگر وہ اس چال میں آگئے تو مسلمان ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ان مشنری اداروں کا تو کچھ نہیں جائے گا، پاکستانی عیسائی مارے جائیں گے۔ اس کے بعد پاکستانی خاص طور پر لاہور میں پاکستانی عیسائیوں نے مغربی مشنری اداروں کے خلاف ایک مہم بھی شروع کی تھی، اگر کوئی اخبارات کی پرانی فائلیں دیکھے تو ان میں بہت کچھ مل جائے گا۔ بشپ جان جوزف کے آبائی گاؤں خوش پور کے کئی ایک عیسائی ہائی سکول سمندری میں ہمارے دوست اور کلاس فیلو ہوتے تھے۔ جو اساتذہ ہمیں آج بھی یاد ہیں، ان میں مارٹن پور اور ینگسن آباد کے دو عیسائی سوہن لعل اور ایرک ولیم بھی ہیں۔ ہمارا چاچا جلو عیسائی تھا۔ وہ برطانوی فوج میں تھا۔ اس نے لکھ دیا کہ وہ پاکستان جائے گا۔ عیسائی ریڈ کلف نے ہمارے بزرگوں کا گاؤں بھارت کو دے دیا۔ چاچا جلو وہاں نہیں گیا، وہ ساری عمر پاکستان میں پیداولی والوں کا معزز مہمان رہا۔ وہ سارے گاؤں کا مہمان تھا، جہاں چاہے رہے اور جس کا چاہے گریبان پکڑ لے۔ پاکستان کی اخبار نویس برادری کے چاچا چودھری عیسائی ہیں لیکن پاکستان کی اخبار نویس برادری جتنی عزت ان کی کرتی ہے، شاید ہی کسی مسلمان اخبار نویس کی کرتی ہوگی۔ ہم نے کبھی عیسائی مسلم کے حوالے سے نہیں سوچا تھا۔ ریڈکلف کمیشن

صفحہ 379

کے سامنے سارے ہندوستان کے عیسائیوں کے نمائندے نے عیسائیوں کا کیس پیش کر کے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں‘ کیونکہ مسلمان حضرت عیسیٰ کو بھی خدا کا پیغمبر مانتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ پاکستانی عیسائی اس معاشرے میں امن چین سے رہ رہے تھے۔ انہیں ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔ کبھی کسی مسلمان سے انہیں کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ کسی مسلمان نے بھی کبھی نہیں کہا تھا کہ کسی عیسائی نے قرآن‘ اسلام‘ پیغمبر اسلام کے خلاف کوئی نازیبا لفظ کہا ہے۔ توہین رسالت کا قانون قادیانیوں کی مسلسل ریشہ دوانیوں کی وجہ سے بنا مگر اس کے خلاف جوزف نے خودکشی کی؟ کیا اس کی وجہ وہی مغربی مشنری اداروں کی منصوبہ بندی اور کیتھولک چرچ کی مہم تو نہیں؟ اس بارے میں پاکستانی عیسائیوں کو بھی سوچنا چاہیے اور مسلمانوں اور حکومت کو بھی۔

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ ۱۳ / ۱۴ مئی ۱۹۹۸ء)

صفحہ 380

پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟

طارق اسماعیل ساگر

بشپ آف فیصل آباد ڈاکٹر جان جوزف کی عدالتی خودکشی یا قتل، کیونکہ یہ معاملہ خاصا الجھا رہا ہے، کے بعد سے مسیحی بھائیوں کی طرف سے احتجاج کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے اور یہ احتجاج خاصا پر تشدد ہوتا جا رہا ہے۔ جس کی ایک مثال فیصل آباد کے ہنگامے ہیں جو فادر جان جوزف کی تدفین کے روز ہوئے، جس میں ایک اطلاع کے مطابق مسلمان اور عیسائی دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف جلوس نکالے۔ مسیحی جلوس کے شرکاء نے ہاتھوں میں ڈاکٹر جان جوزف کی تصاویر اور کتبے اٹھا رکھے تھے۔ جن پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ سی کے خلاف نعرے درج تھے۔ خیال رہے ڈاکٹر جان جوزف کی موت کے بعد سے ملک بھر میں مسیحیوں کے جو جلوس نکل رہے ہیں، وہ ڈاکٹر جوزف کی موت کے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ تو شاید بہت کم کر رہے ہیں، جبکہ دفعہ ۲۹۵ سی جو اہانت رسول کے مرتکب پر گرفت کرتی ہے، کی منسوخی کا زیادہ غلغلہ برپا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ آٹھ دس سال سے ایک عجیب وبا نے سر اٹھایا ہے کہ ہمارے ہاں کچھ ایسے نام نہاد ماہرین انسانی حقوق نے جنم لے لیا ہے جو لاشعوری طور پر اس پچھتاوے کا شکار رہتے ہیں کہ (خاکم بدہن) ان کا جنم پاکستانی اور مسلمان گھرانوں میں کیوں ہوا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ کسی بھی اقلیت کے کسی فرد کے خلاف ہونے والے معمولی واقعہ کو اپنا این جی اوز کے لیے لاٹری ٹکٹ بنا کر اس کا بالکل غیر اخلاقی اور غیر انسانی استعمال کرنے لگتے ہیں۔ کسی دیہات میں کسی اقلیتی شہری اور مسلمان شہری کے درمیان لڑائی ہو جانا ہمارے معاشرے میں معمول کی بات ہے لیکن یہ لوگ اسے بین الاقوامی مسئلہ بنا دیتے ہیں تاکہ اپنی غیرت، حمیت اور ملکی اقتدار اعلیٰ کو داؤ پر لگا کر چند لاکھ روپے، غیر ملکی ویزے، بیرونی دورے وغیرہ حاصل کر سکیں۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ انسانی حقوق کے علمبردار مہذب ممالک کی حکومتوں کو گزشتہ دس سال سے اچانک پاکستان میں سب کچھ نظر آنے لگا ہے۔ خدا جانے انہوں نے کون سا ایسا سیٹلائٹ

صفحہ 381

واضح کر دیا ہے جو اس سے پہلے انہیں دکھائی نہیں دیتا تھا اور اب دکھائی دینے لگا ہے۔ اس سے پہلے بھی ان نام نہاد وطن فروشوں نے مختلف مسائل کی آڑ لے کر پاکستان کی ساکھ داؤ پر لگانے کی کوشش کی ہے۔ کبھی بانڈڈ لیبر، کبھی چائلڈ لیبر، کبھی غیر مسلموں کے حقوق اور اب دفعہ ۲۹۵سی کی آڑ لی گئی ہے۔

ماضی کے حوالے دینے کی بجائے ذرا موجودہ کیس پر بھی ایمانداری سے نظر ڈالیں تو صاف دکھائی دے گا کہ موجودہ مسئلے پر ہمارے مسیحی بھائی سخت غلط فہمی کا شکار ہیں اور کچھ نادیدہ قوتیں دراصل اسی واقعہ کی آڑ میں اپنا گھناؤنا کھیل رچا رہی ہیں۔

سب سے پہلے مسیحیوں کا نقطہ نظر لیں۔ فرض کیجئے کہ فادر جان جوزف کا یہ کہنا کہ ایوب مسیح کو غلط سزا دی گئی ہے اور دراصل یہ اہانت رسولﷺ کا نہیں بلکہ زمین کے قبضے کا کیس ہے تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ فادر جوزف نے اس لیے خودکشی کی کہ ایک واقعہ کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اس کا فیصلہ پاکستان کی کوئی بھی عدالت کر سکتی ہے اور ابھی ایوب مسیح کا کیس ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی جا سکتا ہے۔ جہاں تک اس متنازعہ خودکشی کا تعلق ہے، اس پر مسیحی بھائیوں کا موجودہ احتجاج سمجھ سے بالا تر ہے کہ فادر جان جوزف نے ایک غلطی کی تصحیح کے لیے خودکشی کی اور اب وہ اس غلطی کو دہرانے جا رہے ہیں؟ یہ خراج تحسین پیش کرنے کا کون سا انداز ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ فادر جان جوزف نے خودکشی ۲۹۵سی کے خلاف نہیں، ان کی دانست میں ایک غلط فہمی کے ازالے کے لیے کی تھی۔

آخر وہ کون سے عناصر ہیں، جنہوں نے اس واقعہ کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ۲۹۵سی کے خلاف احتجاج شروع کر دیا جو صرف نبی کریمﷺ کی ہی نہیں تمام انبیائے کرام جن میں حضرت عیسیٰؑ بھی شامل ہیں، کی حرمت قائم رکھنے کی ضمانت دیتا ہے اور یہ قانون پاکستان میں ہی نہیں، برطانیہ اور اٹلی میں بھی نافذ ہے جبکہ برطانیہ نے تو اس کی تشریح اس طرح کی ہے کہ جو کوئی حضرت عیسیٰؑ کی توہین کرے، وہ سزا کا مرتکب ہو گا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ اور دیگر ترقی پذیر ممالک جو خود کو حقوق انسانی کا علمبردار بتاتے ہیں، پاکستانی عیسائیوں کے مسئلے پر بے جا اور بے پناہ تعصب کا مظاہرہ کیوں کرتے ہیں؟

جہاں تک انسانی بہبود کی بات ہے تو امریکہ اور برطانیہ بھارت میں پولیس اور دوسری ایجنسیوں کے ستائے ہوئے ان ہزاروں لاکھوں سکھوں، مسلمانوں اور دیگر غیر ہندوؤں کو آخر کیوں پناہ نہیں دیتے، جن کے گھر بار تباہ ہوئے۔ بے گناہ قتل عام ہونے کی تصدیق امریکہ اور برطانیہ کی ہیومن رائٹس کمیٹیوں کی رپورٹس میں کی جا چکی ہے۔

صفحہ 382

سری نگر کے کتنے شہریوں کو امریکہ یا برطانیہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے جرم میں پناہ دی ہے اور لاکھوں کشمیریوں کے قتل عام کے بعد بیرون ممالک بھاگ جانے والے شاید بمشکل پندرہ یا بیس مظلوموں کو امریکہ اور برطانیہ نے پناہ دی ہے۔ جبکہ یہاں جو لڑکی اپنے گھر سے بھاگ کر معاشقہ کرے اس کے لیے دونوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ وہ لاہور کی صائمہ ہو یا کوئی اور‘ یہاں کی مذہبی گھرانے کی لڑکی کے گمراہ ہو کر بغاوت کی خبر ملی ان ممالک کے قونصلیٹ تمام سفارتی آداب ایک طرف رکھ کر خم ٹھوک کر ان ”مظلوموں“ کی مدد کو نکل آتے ہیں؟

اب فادر جوزف کی خودکشی پر امریکہ اور اس کے حواری پاکستان سے کس اخلاقی یا آئینی بنیاد پر ۲۹۵ سی ختم کرنے کی تلقین فرما رہے ہیں۔ کیا وہ اپنے گریبانوں میں جھانکنے کا تکلف بھی فرمائیں گے۔

ایسا مطالبہ سوائے مسلمانوں کو مشتعل کر کے یہاں اقلیتوں کے خلاف فضا پیدا کرنے کے اور کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتا؟

فادر جوزف کی خودکشی کو بیشتر حلقے خود کشی کی بجائے قتل کا روپ دے رہے ہیں‘ اب بڑی پراسرار بنتی جارہی ہے۔ تفتیشی ٹیموں کے مطابق توہین رسالت کے مرتکب ایوب مسیح کے کیس کی پیروی کے لیے بیرون ملک سے ۱۵ لاکھ ڈالر کی خطیر رقم پاکستان منتقل کیے جانے کا سراغ لگایا ہے۔ جب ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۶ء کو مدعی محمد اکرم نے ایوب مسیح کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کروایا تو بیرون ملک سے فادر جان جوزف کو مقدمے کی پیروی کے لیے ۱۵ لاکھ ڈالر کی خطیر رقم فراہم کی گئی۔ جو جان جوزف کے فیصل آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے۔ مقدمے کی کارروائی سیشن جج پاکپتن کی عدالت میں شروع ہوئی تو مدعا علیہ کی درخواست پر کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساہیوال کی عدالت میں منتقل کردی۔ جہاں ملزم پارٹی نے ملی بھگت سے جعلی فائرنگ کا ڈرامہ رچایا جس پر سیکرٹری داخلہ نے کیس کی حساس نوعیت کے پیش نظر سماعت ساہیوال جیل میں کروانے کے احکامات جاری کر دیے۔ ۲۷ نومبر ۱۹۹۷ء کو جب ایوب مسیح کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا ہوئی تو فادر جوزف اور فادر یعقوب کے درمیان مقدمے کے اخراجات پر تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اب پولیس اس مسئلے پر تحقیقات آگے بڑھا رہی ہے جو کہ مسیحی برادری نے اسے الزام تراشی قرار دیا ہے لیکن اسے نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔

جہاں تک امریکہ یا کسی اور ملک کی طرف سے ۲۹۵ سی کے ختم کرنے کے دباؤ کا تعلق ہے تو یہ بات امریکن بھی جانتے ہیں کہ ان کے اس مطالبے کو اس وقت تک پذیرائی نہیں مل سکتی جب تک کہ پاکستان میں ایک بھی نبی کریمؐ کا امتی زندہ ہے۔ ایسا مطالبہ سوائے دیوانے کے خواب کے

صفحہ 383

اور کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔ کیونکہ ناموس رسالت تو مسلمان کا جزو ایمان ہے۔ اگر کسی بدبخت نے ایسی گستاخی کی تو عین ممکن ہے کہ یہاں خانہ جنگی شروع ہو جائے۔ کیونکہ اب پاکستان کا قانون شان رسالت مآب کی حرمت کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر یہ قانون خدانخواستہ نہ رہا تو یہ ذمہ داری مسلمان خود ادا کرنے لگیں گے اور عشق رسول اللہ صرف علماء کا اعزاز نہیں‘ ہر مسلمان کی زندگی میں اس کے خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے اور کوئی بے وقوف تاریخ نہیں دہرائے گا۔

جہاں تک کسی کے ساتھ زیادتی کا تعلق ہے‘ عدالتوں کے دروازے کسی پر بند نہیں ہوئے۔ یہ تو ممکن ہے کہ ایوب مسیح کے کیس کی ہر ممکن تحقیق کی جائے۔ اسے ہر ممکن قانونی سہولت فراہم کی جائے لیکن یہ ہرگز ہرگز ممکن نہیں ہے کہ ۲۹۵سی ختم کر دی جائے۔ جہاں تک موجودہ ہنگاموں کا تعلق ہے یہ نہ تو مسیحی بھائی کر رہے ہیں‘ نہ مسلمان۔ ایک گھناؤنی سازش ہے جو ہر مستحکم حکومت کے خلاف رچائی جاتی ہے۔ اس کھیل کے کھلاڑی بھی کسی سے نہیں چھپتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تماشہ نہ بنیں اور نہ ہی غیروں کو تماشائی بننے کا موقع دیں۔

صفحہ 384

قانون توہین رسالت’ اور اقلیتیں

غضنفر عباس

ایوب مسیح کے توہین رسالت کے مقدمہ میں سزا کے خلاف مسیحی برادری بھی احتجاج کر رہی ہے اور امریکہ نے بھی اس میں دخل اندازی کی ہے۔ کہتے ہیں کہ بشپ جان جوزف نے احتجاجاً خودکشی کی ہے جس پر اس مسئلے کو زیادہ ہوا ملی۔ قانون توہین رسالت’ سے پہلے ہم اگر خودکشی کا جائزہ لے لیں تو بہتر ہو گا۔

اس ضمن میں جو باتیں علم میں آئی ہیں وہ یہ کہ عدالت کے فیصلہ کے بعد سب لوگ وہاں سے چلے گئے، لیکن رات کو مسیحی افراد نے ایک جلسہ منعقد کیا جس میں بشپ جان جوزف نے بھی شرکت کی۔ جلسہ کے بعد جان جوزف ڈرائیور اور فادر یعقوب کے ہمراہ دوبارہ عدالت پہنچے جہاں اس وقت کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ وہاں پر جان جوزف نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔ اس حوالے سے اگر ماہرین نفسیات سے سوال کیا جائے کہ خودکشی یا قتل کس حالت میں کیا جاتا ہے تو جواب ملے گا کہ قتل یا خودکشی کوئی بھی نارمل شخص نہیں کرتا، ایسا کرنے والا ابنارمل (دیوانہ) ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کسی بات پر شدت غم یا غصہ کی بناء پر وقتی طور پر اشتعال کی حالت اس نقطہ پر پہنچ جائے جہاں انسان کا دماغ کام نہیں کرتا اور اس کی کیفیت پاگلوں کی سی ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی انسان میں خاندانی طرز پر پاگل پن کے ایسے جراثیم موجود ہوں جو کسی بھی وقت کسی وجہ سے حملہ آور ہوں اور دماغی خلیات شعوری اور دفاعی عمل بند کر دیں، تب کوئی شخص قتل یا خودکشی کرتا ہے۔ بہرحال قتل کے حوالے سے تو اور بھی بہت سی توجیہات ہیں۔ ہم چونکہ خودکشی کے حوالے سے بات کر رہے ہیں، اس لیے قتل کو پس

صفحہ 385

پشت ڈال کر صرف خود کشی ہی پر غور کرتے ہیں۔ جس وقت جج نے ایوب مسیح کو پھانسی کی سزا سنائی تھی وہ اصل وقت تھا، خود کشی کرنے کا۔ جان جوزف یا ایوب مسیح کے دوسرے قرابت دار شدت غم سے ذہنی اشتعال کے اس نقطہ کو عبور کر جاتے جہاں دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور خود کو گولی مار کر یا کسی اور طریقہ سے جان دیتے تو بات سمجھ میں آجاتی کہ یہ واقعی خود کشی ہے لیکن فیصلے کے بعد عدالت سے جا کر رات کو ایک جلسہ میں شرکت کے بعد دو افراد کے ہمراہ واپس عدالت پہنچنا یہ بتاتا ہے کہ جان جوزف کو فیصلہ سننے کے بعد اگر کوئی صدمہ ہوا تھا تو وہ اس سے نکل آئے تھے۔ اس کے علاوہ خود کشی کا مطلب احتجاج تھا تو فیصلہ کے فوری بعد فیصلہ سنانے والے جج کی موجودگی اور سینکڑوں افراد کے سامنے خود کشی کرنا زیادہ موثر ثابت ہوتا اور وجہ بھی سمجھ میں آجاتی کہ فوری اور اچانک صدمہ سے ذہنی انتشار کے باعث خود کشی کی گئی۔ یہاں ایک اور قابل غور بات یہ ہے کہ خود کشی کرنے والا کوئی عام آدمی نہیں بلکہ بشپ تھے اور کلیسا کے مذہبی افراد نفس امارہ پر قابو رکھتے ہیں۔ بہت دھیمے اور ٹھنڈے دماغ کے ہوتے ہیں۔ اپنے مکتبہ فکر کے افراد کو خدا اور یسوع مسیح کی تعلیمات اور دروس سے آگاہ کرتے ہیں۔ یعنی تمام فادر جانتے ہیں کہ انسانیت کی فلاح میں انسان کی بقاء اور آخرت میں نجات ہے۔ دھیمے اور ٹھنڈے دماغ کا مالک ایسا شخص جو نفس امارہ کو قابو میں رکھتا ہو، اپنی زندگی کو انسانیت کی فلاح اور اللہ کی راہ میں وقف کر چکا ہو، وہ شخص کیسے اتنے بڑے گناہ کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ فادر کی زندگی اتنی سادہ اور بے ضرر ہوتی ہے کہ اس کو اپنے پاس اسلحہ رکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ تو بشپ جان جوزف کے پاس پستول کہاں سے آیا اور کیوں آیا؟ اس کا لائسنس تھا۔ اگر تھا تو کس کے نام تھا؟ اگر جان جوزف کے نام تھا تو ان کو کس سے خطرہ تھا کہ انہیں اسلحہ کی ضرورت محسوس ہوئی؟ اگر ان کا نہیں تھا تو پھر اسلحہ کس کا تھا؟ دوسری بات ان کے ہمراہ دو افراد اور بھی تھے، انہوں نے اس قبیح فعل سے بشپ کو کیوں نہ روکا، جو نہ تو انسانیت کے حوالے سے جائز ہے اور نہ شرعی حوالے سے۔

یہاں مختصر سا حوالہ سورۃ اخلاص کا دیتا ہوں۔ اس میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ بے نیاز ہے ”لم یلد“ ہے اور ”ولم یولد“ ہے یعنی نہ اس نے کسی سے جنم لیا اور نہ اس نے کسی کو جنم دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بے نیازی کی وجہ ہی یہ ہے کہ نہ والدین ہیں اور نہ

صفحہ 386

اولاد۔

اس آیت مبارکہ کی روشنی میں ظاہر ہوتا ہے کہ کلیسا کے مذہبی افراد اسی لیے شادی نہیں کرتے کہ کسی سے جنم نہ لینا تو ان کے بس میں نہیں البتہ وہ کسی کو جنم نہ دیں تاکہ دنیا سے بے نیاز رہ سکیں۔ یعنی نہ اولاد ہو اور نہ اولاد کے لیے دل میں دنیا کی لالچ پیدا ہو۔ اگر مادیت ذہن سے نکل جائے تو باقی روحانیت رہ جاتی ہے۔ روحانیت پر کار بند شخص اگر خودکشی کرلے تو دو میں سے ایک بات ضروری ہے یا تو وہ روحانیت میں داخل نہیں ہوا تھا اور یا پھر اس نے خودکشی نہیں کی۔ یہی بات جان جوزف پر صادق آتی ہے کہ مسیحی حوالے سے وہ مذہب کے جس مقام پر تھے اگر واقعی اس کے اہل تھے تو ان سے خودکشی جیسے اقدام کی توقع کرنا عبث ہے اور اگر انہوں نے واقعی خودکشی کی ہے تو پھر اس مذہبی مقام کے اہل نہ تھے۔ یہاں دوسری صورت ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ جان جوزف کیتھولک بشپ کانفرنس پاکستان‘ جسٹس اینڈ پیس کمیشن اور کاریتاس کے چیئرمین تھے۔ اتنے اہم مناصب پر مقرر شخص ظاہر ہے کہ ان مناصب کا اہل تھا اس لیے خودکشی مشکوک ہو جاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کو قتل کس نے کیا ہے؟ وجہ قتل کیا ہے؟ تو ایجنسیاں تحقیق کر رہی ہیں‘ جلدی یہ اسرار بھی کھل جائیں گے۔

یہاں ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل ہو سکتی تھی تو پھر بشپ نے امن کا راستہ چھوڑ کر پرتشدد راستہ کیوں اختیار کیا اور عدالتی فیصلہ کے خلاف غیر قانونی اقدام کیا توہین عدالت نہیں ہے؟ پھر اس پر امریکہ کا بیان بھی کیا توہین عدالت نہیں ہے؟

اس کے علاوہ اسلام میں توہین رسالت کا مطلب توہین ختم المرسلینؐ ہی نہیں ہے بلکہ اس کے تحت حضرت عیسیٰؑ ‘ حضرت موسیٰؑ ‘ حضرت داؤدؑ اور کسی بھی نبی کی توہین کا کسی کو بھی حق حاصل نہیں ہے۔ حقوق انسانیت خطرے میں اس سے نہیں پڑتے بلکہ حقوق انسانیت بتانے والوں کی توہین کرنے سے خطرے میں پڑتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اگر جان جوزف کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کو حقوق انسانی کے حق میں خودکشی تسلیم کر لیا جائے تو عدالت کی جانب سے ایوب مسیح کو بھی سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ایک شخص کو موت کی سزا سنانے پر خودکشی کرنے والے نے ویت نام میں ہزاروں

صفحہ 387

افراد کے قتل پر خودکشی کیوں نہ کی؟ بوسنیا ہرزیگووینا میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام پر کیوں خودکشی نہیں کی؟ ہزاروں کی تعداد میں بوسنیائی بچیاں جنسی تشدد کی بناء پر ہلاک ہوگئیں، ہزاروں کنواریاں سربوں کی درندگی کی بناء پر حاملہ ہو گئیں، تب حقوق انسانی کیوں خطرے میں نہ پڑے؟ کسی فادر نے خودکشی نہیں کی؟ پچھلے پچاس برسوں میں وادی کشمیر آگ اور خون میں ڈوبی ہوئی ہے، تب انسانی حقوق خطرے میں نہیں پڑے؟ کسی فادر نے خودکشی نہیں کی؟ اور صرف ایک گستاخ رسول کو سزا دینے پر نہیں، سزا سنانے پر انسانی حقوق خطرے میں اس طرح پڑے کہ جان جوزف نے خودکشی کرلی۔ نہیں اگر جان جوزف حقوق انسانی کے تحفظ کی خاطر خودکشی کرنے والے ہوتے تو تو بہت پہلے خودکشی کیا خود کشیاں ہوچکی ہوتیں۔ جب لاکھوں جوانیوں کے لٹنے پر، عصمتیں تار تار ہونے پر اور لاکھوں خون آلودہ بے جان جسموں پر کسی نے خودکشی نہیں کی، تو صرف ایک فرد واحد، جو گستاخ رسول بھی ہے، کو سزا سنانے پر خودکشی کرنا یہ بات حلق سے نہیں اترتی۔ اس لیے امکانات یہی ہیں کہ جان جوزف کو قتل کیا گیا ہے اگر یہ ملک دشمن عناصر کا کارنامہ ہے تو اب مسلم نوجوانوں کو اور مسیحی افراد کو مختلف افواہوں سے بھڑکایا جائے گا تاکہ پاکستان میں خانہ جنگی کی فضاء پیدا ہو۔ یاد رہے اس کا آغاز اسی کی دہائی میں کراچی سے ہوا تھا۔ جب پنجابی مہاجر اور پٹھان مہاجر فسادات شروع کروائے گئے، اس میں ناکامی کے بعد پنجاب میں فرقہ وارانہ فسادات کی کوششیں کی گئیں۔ اللہ کے فضل سے اس میں بھی دشمن ناکام رہے تو اب یہ ایک نیا شوشہ چھوڑا گیا۔ مقصد یہ ہے کہ کسی بھی طرح پاکستان میں عدم استحکام رہے۔ اسلام دشمنوں کی اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے تمام محب وطن پاکستانیوں پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

صفحہ 388

مدیر ”کلام حق“ کے تاثرات

معروف مسیحی عالم ڈاکٹر پادری کے۔ ایل۔ ناصر کے صاحبزادے جناب میجر (ریٹائرڈ) ٹی۔ ناصر اپنے والد کی دینی روایت کے پاسدار ہیں۔ ماہنامہ ”کلام حق“ (گوجرانوالہ) بابت مئی۔ جون ۱۹۹۸ء میں انہوں نے بشپ جان جوزف کے سانحہ ارتحال پر ایک سے زائد عنوانات کے تحت اظہار خیال کیا‘ ذیل میں ایک مضمون ”برگشتہ قوم“ کا ابتدائی حصہ اور دوسرا مضمون ”بشپ جان جوزف کے قتل کی کڑیاں“ من وعن نقل کیا جاتا ہے۔ (مدیر)

(الف) گزشتہ روز ملک بھر میں تعزیرات پاکستان ۲۹۵سی کے خاتمے کے لیے پرامن و پر تشدد مظاہرے ہوئے۔ چند افراد مبینہ طور پر ہلاک ہوئے‘ درجنوں زخمی اور سینکڑوں گرفتار۔ ہم نے قوم کو ان مظاہروں سے روکنے کی کوشش کی اور غدار کا خطاب پایا۔ آج مورخہ ۱۶ مئی ۱۹۹۸ء معلوم ہوا کہ ۲۹۵سی ختم نہ ہو سکی۔ بشپ جان جوزف کی موت یا قتل پر تمام حقائق کے منظر عام پر آنے سے بیشتر یہ تمام کارروائی بلاجواز تھی۔ میں مسیحی قوم سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مظاہرے‘ یہ توڑ پھوڑ‘ کلام مقدس کے کس حکم کی تعمیل میں کی گئی؟ سبھی مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے مسیحیوں کے جذبات کو بھڑکا کر یہ نامعقول کارروائی کی ہے۔ کاش ہمارے مذہبی اور سیاسی رہنما رومیوں ۱۳ باب ۱ تا ۳ پڑھ لیتے تو نہ بشپ صاحب قتل ہوتے‘ نہ مسیحی مزید مشکلات کا شکار ہوتے۔ افسوس کہ ہمارے مسیحی رہنما اپنی دینی ذمہ داری کو بھول چکے ہیں۔ آج کے پاسبان اس قابل بھی نہیں کہ موقع و محل کے مطابق کام کا وعظ بھی کر سکیں۔ یہاں میڈیکل سائنس پر وعظ ہوتے ہیں‘ کلیسیا خاموش

صفحہ 389

رہتی ہے۔ مسیحی بنیادی عقائد کے خلاف لیکچر دیئے جاتے ہیں‘ کلیسیا خاموش رہتی ہے۔ یہاں بدعتی تعلیم دی جاتی ہے‘ کلیسیا خاموش رہتی ہے۔ یہاں عبادت کو ناچ گانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے‘ کلیسیا خاموش ہے۔ مسیحیوں کو شراب کے پرمٹ بھی مذہبی رہنماؤں کی سفارش پر ملتے ہیں اور قوم مسیح بڑے ہوٹلوں میں لائنیں لگا کر شراب خریدتی ہے۔ زندہ مسیح کی کتنی بڑی گواہی دی جاتی ہے! مسیحیوں کے لیے شراب پینے کا حکم کہاں درج ہے؟ ذرا ہمیں بھی معلوم ہو‘ لیکن گزشتہ کئی برسوں سے صرف ایک رٹ لگائی جاتی ہے کہ ۲۹۵سی ختم کرو۔ کیوں؟ کیا دوسرے مذاہب کی بزرگ ہستیوں کی توہین کا بھی اجازت نامہ چاہیے؟ ہمارے ہر فرقے کے بشپ مناسب تعلیم دینے سے بھی قاصر ہیں۔ بے شمار بشپ پیدا ہو گئے ہیں‘ ایک سے زائد شادیاں رچا کر بشپ بن جاتے ہیں‘ سارے مل کر اپنے حلقوں میں مالی بدعنوانی کرتے ہیں اور جب کوئی پکڑا جائے تو آسانی سے چھوٹ جاتا اور گلے میں صلیب لٹکائے خود کو فرشتہ ظاہر کرتا ہے۔ شفائیہ کروسیڈز کے نام پر ڈھونگ کیا جاتا ہے۔ اربوں روپے کی مالیت کی کلیسیائی املاک فروخت کر دی گئیں۔ کتنے جلوس نکلے؟ امریکن مشن کی اپنی تعزیر میں ۲۹۵سی سے ملتی جلتی شق غیر تحریری صورت میں موجود ہے اور امریکن مشن کے اس ذاتی قانون نے کتنے مسیحیوں کو مقدمات چلائے بغیر زندہ درگور کر دیا ہے۔ کیا یہ احساس ہے مسیحی قوم میں؟---

(ب) قومی اخبارات اب تک یہی فرما رہے ہیں کہ تقدس مآب بشپ جان جوزف نے خودکشی کی ہے‘ لیکن ان کی موت پر جتنا غور کیا جائے‘ یہ بات ہی سامنے آتی ہے کہ ان کو قتل کیا گیا۔ قاتل کون ہے؟ اگر ٹھیک سمت میں تحقیق ہو تو معلوم کرنا چنداں مشکل کام نہیں۔ چونکہ میرا پیشہ ہتھیاروں سے کھیلنا رہا ہے‘ لہٰذا چند ایک ضروری نکات ذہن میں آئے ہیں۔

حوصلہ شخص سے خودکشی کی امید ہو سکتی ہے؟

کے سامنے یا عدالت میں خودکشی کرتے۔ رات کے وقت جب عدالت بند تھی‘ دیکھنے والا بھی کوئی نہیں تھا‘ خودکشی کرنا عجیب سی بات لگتی ہے۔

صفحہ 390

ہے۔

صورت میں اگر ہتھیار گرتا بھی ہے تو نعش کے قریب ترین ہونا ضروری ہے۔

صاحب کے ہاتھ پر بارود کے ذرات موجود تھے؟

وہ پستول (پستول اس لیے کہ ریوالور کا خول ریوالور میں رہ جاتا ہے، جبکہ پستول کا خول باہر گرتا ہے) جس سے بشپ صاحب نے مبینہ طور پر خودکشی کی، اس کا خول کہاں گیا اور نعش اور ہتھیار میں کتنا فاصلہ تھا؟

فاصلے پر تھے اور کیا انہوں نے بشپ صاحب کو روکنے کی کوشش کی؟

اس کی وجہ کیا تھی؟

پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت اندھیرے میں وہاں موجود تھا؟ اور کیا بشپ صاحب کے دونوں ساتھی مشکوک نہیں؟

بشپ صاحب کی مبینہ خودکشی یا قتل کا معاملہ نہایت پیچیدہ ہے اور اس کی ہر زاویے سے تحقیق ہی حقائق کو منظر عام پر لا سکتی ہے۔ امید ہے کہ پولیس کے ماہرین اصل حقائق تک ضرور پہنچیں گے۔ (ماہنامہ ”کلام حق“ گوجرانوالہ، مئی ۔ جون ۱۹۹۸ء)

(مندرجہ سہ ماہی ”عالم اسلام اور عیسائیت“ جولائی ۔ ستمبر ۱۹۹۸ء)

صفحہ 391

بشپ کی ”خودکشی“ نئے شواہد

اداریہ

فیصل آباد کے بشپ جان جوزف کی موت کی تحقیقات نے نیا رخ اختیار کر لیا، جب بشپ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ وہ جس گولی سے ہلاک ہوئے وہ کئی فٹ کے فاصلے سے چلائی گئی تھی، کیونکہ خودکشی کی صورت میں پستول کی نالی سر کے ساتھ لگائی جاتی ہے، مگر ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ پھر جس پستول سے فادر جوزف کا خودکشی کرنا بیان کیا گیا، وہ لاش سے کافی فاصلے پر ملا ہے، حالانکہ خودکشی کے بعد پستول ان کے ہاتھ میں ہی یا زیادہ سے زیادہ لاش کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔

بشپ جان جوزف کی مبینہ خودکشی کو بہانہ بنا کر عاصمہ جہانگیر اور مسیحی برادری کے بعض زعماء توہین رسالت کے قانون کے خلاف جو مہم چلا رہے ہیں، وہ ایک سوچی سمجھی سکیم کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ انسانی حقوق کے نام پر غیر حکومتی ادارے بنانا اور پھر پاکستان، اسلام اور اسلامی قوانین کے خلاف دریدہ دہنی کے ذریعے امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک سے نقد امداد حاصل کرنا، ان تنظیموں اور افراد کا شیوہ ہے۔ فادر جوزف کی مبینہ خودکشی کو بھی کیش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فادر کی موت کی تحقیقات کے ضمن میں چوکیدار کا بیان اور پوسٹ مارٹم رپورٹ، پھر گولی کا خول نہ ملنا بھی خودکشی کے بجائے قتل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بہتر ہوگا کہ حکومت اس ”قتل“ (یا خودکشی) کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائے تاکہ اسلام اور اسلامی قوانین کو گالیاں دینے والوں کا منہ بند کیا جا سکے۔

صفحہ 392

عاصمہ جہانگیر کا یہ بیان کہ توہین رسالت کا قانون فتنوں کا باعث ہے، ان کی ذہنی روش اور فکر کا عکاس ہے۔ عاصمہ جہانگیر کی قبیل کی سبھی عورتوں کو اسلام بطور مذہب ہی (نعوذ باللہ) فتنہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ نام نہاد ترقی پسند عناصر امریکی ڈالروں کے لیے اسلام کو گالی دینے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ اگرچہ ان میں سے اکثر (بدقسمتی سے) مسلمان ماں باپ کی اولاد ہیں۔ متعدد مسیحی سکالروں اور ممتاز رہنماؤں نے بھی فادر جوزف کی خود کشی کو مشکوک قرار دیا ہے لیکن یہ طبقہ انہیں ”شہید“ قرار دینے پر تلا ہوا ہے، حالانکہ فادر نے اگر خودکشی کی ہے تو خود اپنے مذہب کے مطابق بھی ان کی موت درست نہیں۔ چہ جائیکہ انہیں ”شہید“ قرار دیا جائے۔

ہماری عاصمہ جہانگیر صاحبہ اور دوسرے حضرات سے بھی گزارش ہے کہ وہ ذاتی مفادات کے لیے فتنہ و فساد پھیلانے کی کوشش نہ کریں۔ اس وقت پاکستان نہایت سنگین اور نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ ایسے موقع پر مذہبی جنون پھیلا کر ملک کو مزید کمزور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ حکومت کو بھی ایسے عناصر کا محاسبہ کرنا چاہیے، جو مسلمانوں اور مسیحی برادری کے درمیان فساد پھیلانے کا موجب بن رہے ہیں۔

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، ۱۵/ مئی ۱۹۹۸ء)

صفحہ 393

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا قانون اور بشپ لاہور

اداریہ

بشپ آف لاہور ڈاکٹر الیگزنڈر جان ملک نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مسیحی بستیاں جلانا بند نہ ہوئیں، تو ہم اپنے تحفظ کے لیے "سپاہ مسیحا" بنانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ۲۹۵ سی کا قانون دراصل اقلیتوں کو ڈرانے دھمکانے اور غلام بنانے کا قانون ہے۔

ڈاکٹر الیگزنڈر جان ملک ایک اقلیتی فرقے کے سربراہ ہیں، اس لیے وہ پورے ملک کے لیے قابل عزت ہیں لیکن ہمیں افسوس ہے کہ توہین رسالت قانون کے بارے میں مذہبی تعصب سے بالا ہو کر اظہار خیال نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ "جس طرح عیسائی فرقہ شراب اور زکوٰۃ کے بارے میں احکام شریعت سے مستثنیٰ ہے، اسی طرح اسے توہین رسالت کے قانون سے بھی مستثنیٰ قرار دیا جانا چاہیے"۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ سی پبلک لاء ہے اور جس طرح اس کا نفاذ مسلمانوں پر ہوتا ہے، اسی طرح غیر مسلموں پر بھی ہونا چاہیے۔ دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ زکوٰۃ اور شراب کے ضمن میں عیسائیوں کے اسلامی قوانین سے استثنا کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں توہین رسالت کے قانون سے بھی مستثنیٰ قرار دے دیا جائے کہ وہ جب چاہیں توہین رسالت کر لیں۔ بصورت دیگر وہ سپاہ مسیحا بنا لیں گے۔ بشپ آف لاہور جب خود کہتے ہیں کہ کوئی عیسائی کسی نبی خاص طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتا، تو

صفحہ 394

انہیں توہین رسالتؐ کے قانون سے اتنا ڈر کیوں لگتا ہے۔ پاکستان کے ۹۷ فیصد مسلمان اپنے نبی پاکؐ کی حرمت کے بارے میں بڑے حساس ہیں۔ جب کوئی شخص ان کے سامنے ان کے نبی پاکؐ کی توہین کرے تو وہ اسے برداشت نہیں کرتے۔ انگریز کے زمانے میں کئی ایسے واقعات تاریخ میں محفوظ ہیں۔ جب انہوں نے توہین کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا اور خود خواجہ یثربؐ کی حرمت پر کٹ مرے۔ دفعہ ۲۹۵سی اس لحاظ سے باعث رحمت ہے کہ اس نے توہین رسالتؐ کے ملزم کو صفائی کا موقع فراہم کر دیا ہے اور عدالتی نظام میں ایسے تحفظات موجود ہیں کہ کسی کو بلاجواز سزا نہ ملے۔ امریکہ اور بھارت کی تو خواہش ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو اکثریت سے لڑایا جائے، وہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں کو بھی آپس میں لڑا رہے ہیں۔ لیکن اقلیتوں کو سوچنا چاہیے کہ انہوں نے اس ملک میں رہنا ہے۔ اگر توہین رسالتؐ کے قانون پر انہوں نے اپنے حملے جاری رکھے تو اس سے اکثریت کے جذبات مجروح ہوں گے۔ بشپ آف لاہور بتائیں کہ آخر بعض مسیحی لیڈر توہین رسالتؐ کا لائسنس کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ جب وہ تمام انبیاء کی عزت کرتے ہیں تو انہیں اس قانون پر اعتراض کیوں ہے؟ ویسے بھی یہ محض رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کے سلسلے میں نہیں، دیگر انبیاء کرام کی حرمت کا تحفظ بھی اس کی منشاء ہے۔ مسلمان تو کسی نبیؐ کی توہین یا تنقیص کا تصور بھی نہیں کر سکتے، اس لیے ہم ان سے گزارش کریں گے کہ وہ دفعہ ۲۹۵سی کو خواہ مخواہ مذہبی مسئلہ نہ بنائیں۔

(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، ۱۴؍ مئی ۱۹۹۸ء)

صفحہ 395

بشپ الیگزینڈر جان ملک، کہوٹہ پلانٹ

اور بشپ سیموئیل رابرٹ عذرایا

غیر ملکی چرچ مشنوں اور این جی اوز کی آڑ میں گھناؤنی سرگرمیاں

جیمز صوبے خان (صدر نیشنل کرسچین لیگ پاکستان) کے انکشافات

امریکی چرچ مشنری تنظیم ورلڈ ڈویژن کا سیکرٹریٹ نما دفتر ۳/ ملی کوہستان کارنر ۱/۷ ایف ۸ / ۳ اسلام آباد میں تھا۔ اس میں ۲۷۰ افراد کام کرتے تھے۔ دسمبر ۹۱ء میں اس کے چند غیر ملکی مشنری افراد کہوٹہ پلانٹ کی تصاویر اتارتے ہوئے گرفتار ہوئے اور پھر حکومت نے ۲۴ گھنٹے کے اندر ان کو ملک سے نکال دیا اور دفتر سیل کر دیا۔ یہ تنظیم اپنے غیر ملکی مقاصد کو بروئے کار لانے کے لیے پاکستان میں مختلف چرچ مشنری تنظیموں اور اداروں کو سرمایہ فراہم کرتی رہی۔ جن میں خصوصاً چرچ آف پاکستان حلقہ لاہور کا بشپ الیگزینڈر جان ملک اور بشپ سیموئیل رابرٹ عذرایا سرفہرست ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل دور برطانیہ میں کراچی سے پشاور اور دہلی تک کے علاقہ کا صرف ایک انگریز بشپ ہوتا تھا، جو بشپ آف لاہور کہلاتا تھا۔ بشپ ملک، چرچ آف پاکستان اب ایک چھوٹے سے حلقہ کا بشپ ہے کیونکہ کراچی سے پشاور تک چرچ آف پاکستان کے اب آٹھ بشپ ہیں۔ بشپ الیگزینڈر جان ملک نے لاہور چھاؤنی کی فوجی سرگرمیوں کو حاصل کرنے کے لیے ماڈل کالونی والٹن روڈ پر والٹن ڈے کئیر سنٹر نامی فرضی اور جعلی ادارہ بنایا اور چھاؤنی میں کیتھڈرل سکول نمبر ۳ گرجا چوک کے پرنسپل مسٹر سمارٹ خوب داس کو اس ادارہ کا منیجر بنایا۔ اس سکول میں فوجی افسروں کے بچے ہی زیر تعلیم رہتے ہیں۔ پچاس لاکھ سے اس سکول کو ڈگری کالج بھی بنا دیا۔ سمارٹ خوب داس نے اس دوران ڈیفنس کالونی میں اپنا ذاتی عالیشان بنگلہ

صفحہ 396

بنالیا۔ پھر سمارٹ خوب داس کو حیدر آباد میں چرچ آف پاکستان کا بشپ بھی بنا دیا۔ بشپ الیگزینڈر جب ۸۱ء میں بشپ بنا تو سمارٹ خوب داس کو جہیز میں ساتھ لے آیا اور اس کی سالی سوئی کو بھی۔ بشپ ملک‘ سوئی اور کئی دوسری عورتوں سے گہرے مراسم رکھنے کی بنا پر رنڈی باز بشپ مشہور ہوا۔ اس سے پہلے یہ راولپنڈی چھاؤنی میں پادری تھا۔ ۸۱ء میں بشپ بننے کے بعد جب اپنے بھائیوں ہینڈرک اور جیمی ملک کے پاس کینیڈا کے مشہور شہر ٹورنٹو گیا تو وہاں کے ایک اخبار روزنامہ گلوب اینڈ میل میں انٹرویو دیا‘ جو ۲۲ اگست ۸۱ء کے شمارے میں شہ سرخی سے شائع ہوا۔ اس انٹرویو میں پاکستان اور حکومت کے خلاف کافی زہر افشانی کی گئی۔ اس دستاویزی ثبوت کی بناء پر اس کے خلاف خصوصی تحقیقات ہوئیں۔ بشپ ملک‘ امریکہ‘ جرمن‘ لندن اور ہالینڈ کی ایجنسیوں سے گہرے مراسم رکھتا ہے‘ جہاں سے خوب سرمایہ حاصل کرتا ہے۔ ہالینڈ کے مسٹر موک سیکشن ایشیا‘ پی او بکس نمبر AE-3830 / 200 ہالینڈ سے بھی سرمایہ حاصل کر رہا ہے۔ جس سے اس نے ظاہراً تو دیہاتوں میں اس سرمایہ سے سکول کھول رکھے ہیں۔ بشپ ملک منشی جان کا بیٹا ہے جو ضلع شیخوپورہ ننکانہ صاحب کے نزدیک ایک مسیحی گاؤں مارٹن پور چک نمبر ۷۳ کا رہائشی ہے۔ ایک انگریز مسٹر ہینڈرک اس گاؤں کی اراضی کا انچارج تھا اور بشپ ملک‘ کا والد منشی جان اس کا منشی تھا۔ جب اس کا پہلوٹھا بیٹا پیدا ہوا تو اس کا نام ہینڈرک رکھ دیا گیا۔ کیونکہ یہ ہینڈرک کا ہم شکل تھا۔ قیام پاکستان کے بعد جب ہینڈرک اپنے وطن واپس چلا گیا تو وقت کا راج بدل گیا۔ ذرائع آمدن ختم ہونے کی بنا پر ہجرت کر کے سیالکوٹ چلے آئے۔ لیکن یہاں بھی وقت نے ساتھ نہ دیا اور بمع اہل و عیال راولپنڈی میں مقیم ہو گئے۔ جہاں منشی جان سے جان ملک بن گیا۔ اور بشپ الیگزینڈر ٹیکسی چلانے لگا۔ پھر پادری بنا اور ۸۱ء میں لاہور حلقہ کا بشپ بنا۔ لاہور کا یہ حلقہ مال روڈ سے پرے شمالی علاقہ ہے۔

بشپ الیگزینڈر جان ملک جرمنی میں (کے این ایچ) نامی ڈونر ایجنسی سے بھی غریب بچوں اور معذوروں کے نام پر کافی سرمایہ حاصل کرتا ہے اور اپنی بیوی شمیم کو متعدد فلاحی تنظیموں کا سربراہ بنا رکھا ہے۔ بشپ ملک کے زیر سایہ ۲\۲۳۲ چائینہ چوک ریس کورس روڈ لاہور میں میکینکل سروسز ایسوسی ایشن (ٹی۔ایس۔اے) نامی ادارہ ریڈی میڈ ملبوسات کا تجارتی مرکز ہے۔ غیر ممالک کو مال برآمد ہوتا ہے۔ اس کی ایک تجارتی دوکان بنام ٹی ایس اے ریگل سینما مال روڈ پر واقع ہے۔ ایف سی کالج پراپرٹی کے چیئرمین اور سابق پروفیسر ارنسٹ ڈلوی کی بیوی اس دوکان کی سربراہ ہے۔ بظاہر یہ ادارہ سوشل ویلفیئر ہے۔ حیرت یہ ہے کہ اس ادارہ کی بلڈنگ میں خفیہ طور پر غیر ملکی مرد اور عورتیں بھی کام کرتی ہیں جو پراسرار سرگرمیوں میں ماہر ہیں۔ بشپ ملک نے

صفحہ 397

۹۱ / ۹۲ء میں صرف پٹرول کا خرچہ پچاس ہزار روپے لگایا۔ اس وقت اس کے پاس ایک مرسڈیز، پجارو اور سوزوکی کار کے علاوہ کئی دوسری گاڑیاں ہیں۔ دسمبر ۹۱ء میں ورلڈ ڈویژن اسلام آباد کے نمونہ پلانٹ کی تصاویر اتارنے پر غیر ملکیوں کو نکال دیا گیا، ان میں سے ایک ڈبہ کار بھی حاصل کر رکھا تھا۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کے تحت نیو لائف پروجیکٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے ٹرسٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین سے دس لاکھ روپے قرضہ حاصل کیا۔ جبکہ قرضہ دینے اور لینے والی دونوں تنظیموں کا یہ خود ہی چیئرمین تھا۔ اس سے اتحاد کیمیکل کے بالمقابل جنوب کی طرف شوم کرسچین کالونی بنانے کے لیے زمین خریدی اور فروخت کرنے کے لیے پراپرٹی ڈیلر بشپ مشہور ہوا۔ حالانکہ ۱۹۱۳ء کے کمپنیز ایکٹ کے ترمیمی آرڈیننس ۱۹۸۴ء کے سیکشن ۷۵ء کے مطابق ایک ڈائریکٹر نیچرل پرسن ہو گا اور وہ کسی دوسری تنظیم یا ادارہ کا نمائندہ یا عہدیدار نہیں ہو سکتا۔ جبکہ یہاں ایک ہی بدعنوان شخص بیک وقت متعدد تنظیموں اور اداروں کا عہدیدار ہے۔ اور ترمیمی آرڈیننس کی صریحاً خلاف ورزی کر رہا ہے۔

بشپ سیموئیل رابرٹ عذرایا بھی جرمن کی (کے این ایچ) نامی ڈونر ایجنسی سے سرمایہ حاصل کر رہا ہے اور اس کی بیوی خوشنوسرت نے ”دار المسرت“ نامی معذور بچوں کا مرکز کھول رکھا۔ جس میں اس کی ایک معذور بہن بھی ہے۔ دو غیر ملکی ماہر عورتیں ہیں۔ جن میں ایک جاپانی ہے۔ جن سے (کے این ایچ) تنظیم کے دو غیر ملکی ماہر ۹ مئی ۹۲ء کو بشپ عذرایا کے پاس آئے۔ سرمایہ حاصل کرنے کے تمام پروگرام طے ہوئے۔ رائے ونڈ سکول کے غریب مسیحی بچوں کی کتابوں، سٹیشنری، کپڑے اور کھانے پینے کا سرمایہ بھی حاصل کیا۔ لیکن اس کے باوجود ان بچوں سے ڈیڑھ صد روپے ماہوار حاصل کرتا رہا۔

اوپن ڈور اور عبادت نامی دونوں تنظیموں کے سربراہ آزاد مارشل ۷۲ء میں امریکی تنظیم بنام کیمپس کروسیڈ فار کرائسٹ B / 72 گلبرگ 2 کے سربراہ ایلون فیاض گل (فوت) سے منسلک ہوا۔ جب ۷۶ / ۷۷ء میں لاگو نامی بحری جہاز کراچی میں لنگر انداز ہوا تو اس سے ناطہ جوڑ کر غیر قانونی طور پر اس جہاز کے ذریعے رفو چکر ہوا۔ متواتر چھ سال اس جہاز کے ذریعے مختلف ممالک کے دورے کیے۔ اور غیر ملکی ماہرین سے ٹریننگ حاصل کر کے وطن واپس آتے ہی منی مارکیٹ کے نزدیک B / 58 گلبرگ ۲ لاہور میں کرائے کی کوٹھی میں اپنا مرکز بنایا۔ اس کے بعد غیر آباد علاقہ B / 455 کینال ویو سوسائٹی میں اپنا عالیشان بنگلہ بنایا اور یہاں اپنے بھائی اور سسر کو بھی بنگلے بنا کر دیے۔ اس کا بھائی عبید مارشل بھی چھ سال غیر ممالک میں رہا۔ اس کا سسر نفتالی ایل سندر داس روڈ لاہور پر واقع امریکی، یو ایس ایڈ ادارہ کے دفتر میں افسر تھا۔ آزاد مارشل نے اپنی

صفحہ 398

اس رہائش گاہ پر شاندار دفتر بھی بنایا۔ اور اپنے غیر ملکی آقاؤں کے ساتھ پیغام رسانی کے لیے خفیہ طور پر ٹیلیکس، کمپیوٹر اور فیکس وغیرہ غیر قانونی طور پر لگادیں۔ کیونکہ اس وقت ان کا قانونی رواج نہیں تھا۔ تنظیم کے تحت آزاد مارشل بشپ کے مذہبی لبادے میں غیر ملکوں کے خوب دورے کرتا ہے۔ اور امریکن سی آئی اے کا ڈان مکری اس کے پاس آتا جاتا ہے جو ایف سی کالج میں کافی عرصہ بطور لیکچرار رہا۔

ریوائیول نامی مسیحی مذہبی تنظیم کا ہیڈ کوارٹر بھارت سکندر آباد اے پی 500003 (انڈیا) ہے۔ جن کا ذیلی ہیڈ کوارٹر پاکستان میں ای 2-37 والٹن روڈ بالمقابل بوائے سکاؤٹ لاہور ہے۔ لیکن پاکستان میں اس کا نہ ہی کوئی چرچ ہے۔ نہ ہی فلاحی ادارہ ہے۔ انچارج امانت مسیح ہے۔ ڈاکٹر منیر برکت اس سے بھی منسلک ہے۔ اس کا سالا قمر شمس لندن میں پناہ لیے ہوئے ہے۔ یہاں بھی اس نے کراس پارٹی بنائی۔ امانت مسیح رکشا ڈرائیور تھا۔ اب اس کے پاس چار گاڑیاں ہیں۔ اس کا لڑکا پرون یامین پولیس انسپکٹر ہے۔ ڈاکٹر منیر برکت کا بھائی نذیر برکت اس کی موجودہ رہائش میں دستانے بنا کر برآمد کرتا اور ہیروئن ان میں بھرتا رہا۔ آخری بار کھلونوں میں ہیروئن بھری تو ظاہر ہو گیا۔ مک مکا سے جان خلاصی کرا کر امریکہ بھاگ گیا۔

بشپ الیگزینڈر جان ملک، معاون خصوصی کرنل (ر) کے ایم رائے اور بشپ رابرٹ عذرایا نے گزشتہ ماہ جون میں پر اسرار اور گھناؤنا پروگرام بنایا۔ جس کے تحت کیتھڈرل سکول نمبر ۲ پرانی انار کلی کا پرنسپل سیموئیل کے گل اور سکول اکاؤنٹنٹ منور انیس طالب دہلی (بھارت) بھاگ گئے۔ ۳۰ جولائی ۹۲ء کی دوپہر انڈین ائیر لائنز جہاز کے ذریعے لاہور سے روانہ ہوئے۔ اور اپنے ساتھ بیش قیمت جواہرات، نوادرات، سونا اور دیگر اشیاء لے گئے۔ دہلی کے ائیر پورٹ پر منور کے تایا نے ان کا استقبال کیا۔ اور پروگرام کے مطابق نو دن بعد ۱۹ اگست کی شام چھ بجے لاہور ائیر پورٹ پر اترے تو ان کے پاس تین بڑے بکس اور دو بڑے بیگ بھرے پڑے تھے۔ جن میں قیمتی کپڑا اور دیگر اشیاء تھیں۔ چیکنگ کرنے والوں نے چیکنگ کے بغیر ہی ان کا یہ سامان ان کے ساتھ باہر بھیج دیا۔ جنہوں نے آتے ہی بشپ ملک اور کرنل رائے کے حوالے کر دیا۔ دہلی میں کہاں رہے۔ کن لوگوں سے ملاقات کی۔ یہ تو وہی جانتے ہیں۔ اس گھناؤنے کاروبار کی تکمیل کے لیے پرنسپل سیموئیل گل ۱۵ جون کو اپنے سکول کے مرد و خواتین سٹاف کے ہمراہ سیر و تفریح کے بہانے شمالی علاقوں میں خصوصاً سوات گیا اور وہاں سے قیمتی جواہرات وغیرہ حاصل کیے۔ واپسی پر مری ہوتے ہوئے ۲۲ جون کو لاہور پہنچ گئے۔

اسی طرح پرنسپل سیموئیل کے گل یکم اگست ۹۱ء کو اپنے سکول سٹاف کے مرد و خواتین کے

صفحہ 399

۱۶ رکنی وفد کے ہمراہ جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور لندن کی سیر و تفریح کے لیے روانہ ہوا۔ جس میں گوجرانوالہ میں مقیم اس کا بہنوئی بھی شامل تھا۔ اپنے بہنوئی اور دیگر دو شخصیتوں کو ملازمت پر لندن چھوڑ آیا۔ لندن میں شاپنگ کے دوران جعلی ڈالر بھی دیئے گئے اور خاور وغیرہ پکڑے گئے۔ لیکن بشپ خیرالدین اور بشپ مائیکل نذیر علی نے ان کی جان بخشی کروادی۔ بشپ الیگزینڈر جان ملک کی ناجائز ذرائع کی آمدن ایک کروڑ روپے میں سے ۹۵ لاکھ روپے ویسٹ منسٹر بینک لندن میں اس نے جمع کرا دیئے۔ اس دوران بشپ ملک نے مری اور ٹوپا میں اپنے چند پادریوں کے ساتھ کیمپ بھی لگایا۔

اس سے پہلے ایک نیم فوجی چرچ تنظیم کا سربراہ ٹریٹوریل کمانڈ کرنل فرمان مسیح ۳۰ جولائی ۹۱ء کو دہلی پہنچا اور صرف نو گھنٹے قیام پذیر ہو کر سیدھا لندن روانہ ہوا۔ جہاں سیموئیل گل سے ملا۔ یاد رہے کہ اس تنظیم کا ہیڈکوارٹر ۳۵ شاہراہ فاطمہ جناح لاہور پر واقع ہے۔ کرنل فرمان مسیح کا ایک لڑکا لندن میں ہے۔ جس نے بھارت کی ایک سکھ عورت سے شادی کر رکھی ہے۔ اور پہلی بیوی سٹاف نرس کو چھوڑ رکھا ہے۔ کرنل فرمان مسیح نے چرچ کی کافی زمین فروخت کی۔ جہاں اب راجہ سنٹر ہے۔ بہار کالونی میں بنگلہ نما محل بنایا۔ اور ریٹائر ہونے کے بعد اب یہاں شرپسند ٹولہ کا سرغنہ بنا ہوا ہے۔

حیرت کا مقام ہے کہ جنگ گروپ کے میر شکیل الرحمٰن کے مخفی اثاثوں کے خلاف اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی غیر ملکی ارب پتی بیوی جمائما خاں کے خلاف ٹائلوں کی چوری کے پرچے تو درج ہو سکتے ہیں لیکن غیر ملکی چرچ تنظیموں کی پراسرار سرگرمیوں اور ان کی غیر سرکاری نام نہاد فلاحی این جی ۔ اوز کی گھناؤنی کرپشن کے خلاف ایک قدم بھی نہیں اٹھتا۔ ان بشپوں کو سرکاری ذرائع ابلاغ ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اخبارات والے کوریج دیتے ہیں۔ حکومت انتظامیہ اور حساس ادارے بھی کوئی توجہ نہیں دیتے کہ شمالی علاقوں کی سیر و تفریح اور مری وغیرہ میں کیمپ لگانے کا پس منظر کیا ہے۔ بھارت میں کیوں گئے۔ کہاں رہے اور کن لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ غیر ممالک میں کیا کرنے گئے۔ اور کیا کیا۔ غیر ممالک کے دوروں کے دوران، پاکستان کے سفارت کار بھی ان پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ اب این جی اوز کی فلاحی تنظیموں کی گھناؤنی کرپشن کی چھان بین شروع ہے۔ جن میں یہ لوگ بھی شامل ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ پنجاب حکومت ان کے خلاف کارروائی کرتی ہے یا نہیں۔

(ماہنامہ ”الدعوۃ“ لاہور، فروری ۱۹۹۹ء)

صفحہ 400

کشور ناہید صاحبہ! ایسی تاویلات

عیاش طبع افراد تلاش کرتے ہیں

وجیہ احمد صدیقی

محترمہ کشور ناہید کے اس مضمون سے، جس کا عنوان ”گنجان آباد نو غریب ملکوں کی ایک کہانی“ سے اختلاف کرنے کی جرات کروں گا۔

بیگم ڈاکٹر نفیس صادق (قادیانی) اقوام متحدہ میں بہبود آبادی کی چیئر پرسن منتخب ہوئیں تو آپ کا سر فخر سے بلند ہو گیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام (قادیانی) کو نوبل انعام ملا تو بھی ہمارا سر فخر سے بلند ہوا۔ ڈاکٹر عبدالسلام کو غیر مسلم کہہ کر مذاق اڑایا گیا تو دنیا بھر میں ہمارا مذاق اڑا۔ یہ عجیب بات ہے کہ ہم اپنے جذبات کا اظہار کریں تو دنیا میں ہمارا مذاق اڑتا ہے، لیکن مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ڈاکٹر عبدالسلام کا کہیں اس طرح استقبال ہوا ہو، جس کا آپ نے ذکر کیا ہے کیونکہ کراچی میں پی اے ایس ایس سی (پاکستان سائنس دانوں کی پیشہ وارانہ تنظیم) نے جو سپاسنامہ ڈاکٹر عبدالسلام کے اعزاز میں پیش کیا تھا، وہ میں نے تحریر کیا تھا۔ محترمہ آپ نے یہاں عوام کے جذبات کا خیال نہیں کیا۔ دین اسلام کے بارے میں پاکستان کے عوام بہت باشعور ہیں۔ وہ جانتے ہیں بے نظیر ہو یا نواز شریف، اسلام کے خلاف کام کرنے کی جرات دونوں میں سے کسی میں نہیں ہے۔ لہٰذا وہ کسی بھی ایسے شخص کو ایسے اعلیٰ عہدے پر دیکھ کر صرف اس لیے خوش نہیں ہو سکتے کہ وہ پاکستانی ہے۔ ڈاکٹر نفیس صادق کو تو پاکستان اور مسلمانوں کے کلچر کو جانتے ہوئے اقوام متحدہ کی پاپولیشن کانفرنس کا ایجنڈا پیش کرنا چاہیے تھا۔ حد یہ ہے کہ محترمہ وزیر اعظم کو اس ایجنڈے سے اختلاف کرنا پڑا کہ یہ ہماری ثقافت سے میل نہیں کھاتا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے تو یہ عہد کیا تھا کہ پاکستان میں جب تک

صفحہ 401

قادیانیوں اور مرزائیوں کو دوبارہ مسلمان قرار نہیں دیا جاتا، اس وقت تک وہ واپس پاکستان نہیں آئیں گے تو پھر کن مصلحتوں کے پیش نظر وہ اپنا عہد توڑ بیٹھے اور "ضیاء الحق جیسے آمر" کے دور میں واپس آگئے..... اب آئیے ادبی انعام ناول نگار اچے بے کو دعوت دینے کی بات ہے، تو سوچنے کی آزادی اظہار کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ لوگوں کی دل شکنی کی جائے یا قابل احترام مذاہب اور انبیا کرام کی توہین کی جائے۔

یہ بات کہہ کر آپ نے پھر عوام کی توہین کی ہے کہ شمالی علاقوں میں لوگوں کو سڑکوں پر لانے والوں کو خود شریعت کے بارے میں واضح طور پر یہ نہیں معلوم تھا کہ شریعت کے نفاذ سے ان کی مراد کیا ہے اور کیا شریعت آرڈینینس کے ذریعے نافذ ہو سکتی ہے۔ شریعت کے نفاذ سے اتنا خوف زدہ کیوں ہوا جاتا ہے۔ ضیاء الحق کے زمانے میں شریعت آرڈینینس کے خلاف ہی تو شریعت کے مخالفین احتجاج کرتے رہے ہیں۔ یہاں تو قوانین ایسے ہیں کہ صدر مملکت کو عدالت طلب بھی نہیں کر سکتی۔ حالانکہ منصف اور جج کو باوقار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو یہ اختیارات ہونے چاہئیں اور اس پر کسی کا دباؤ نہیں ہونا چاہیے اور ایسا صرف اسلامی نظام میں ممکن ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اب تک شمالی علاقہ جات کا سارا کاروبار آرڈیننسوں پر چل رہا ہے۔ ان کی کوئی نمائندگی نہیں ہے، لہٰذا ان کا یہ مطالبہ بالکل بجا ہے۔ اسی طرح قبائلی علاقہ جات میں جہاں جمہوریت کے نام پر غیر جمہوری رویہ اپنایا جاتا ہے اور جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں ضمیر فروشی کا کاروبار عام ہوا، وہاں کے ارکان اسمبلی جس طریقے سے منتخب ہوتے ہیں، وہ نہایت غیر جمہوری ہے۔ وہاں کی عورتوں کے حقوق تو بہت دور کی بات ہے، مردوں تک کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

شاہی محلے قاہرہ میں بھی آباد ہیں اور نیویارک میں بھی اور تھائی لینڈ میں تو یہ پسندیدہ کاروبار ہے۔ صرف پاکستان کے اسلامی ملک ہونے کے سبب سے ایسا نہیں ہوا ہے..... رہی بات تعلیم کی تو یہ حقیقت ہے کہ اسلام تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکتا بلکہ تعلیم کے حصول کو ہر مرد و عورت پر فرض کیا ہے لیکن یہ نام نہاد فلاحی تنظیمیں، جو عرف عام میں NGO's کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔ اپنی پہلی ضرب اسلامی تعلیمات پر لگاتی ہیں۔

محترمہ کشور ناہید کی یہ بات ان اسلامی تنظیموں کے لیے لمحہ فکریہ ہے، جو

صفحہ 402

ملک میں اسلامی نظام کا فروغ چاہتی ہیں۔ کیونکہ بہرحال کام کرنا صرف NGO's اور عیسائی مشنری اداروں کی ذمہ داری تو نہیں ہے۔

قرآن کی تاویل اور ازواج کے حوالے سے جو بات محترمہ کشور ناہید نے کی ہے، ایسی تاویلات صرف عیاش طبع افراد تلاش کرتے ہیں۔ کنیزوں اور لونڈیوں کی تاویلات بھی عیاش طبع افراد کرتے ہیں، ورنہ علماء کرام کی ازواج کی تعداد ایک یا دو ہی ملے گی۔ میں ایک سیاست دان کا نام لینا نہیں چاہتا لیکن سارا پاکستان جانتا ہے کہ انہوں نے ۹ شادیاں کیں اور شادیاں کرنا ایک کھیل بنا لیا جبکہ دوسرے عالم دین سیاستدان نے ایک شادی بھی نہیں کی۔ اس کی کوئی بھی مجبوری ہو سکتی ہے، لیکن اس موضوع کو چھیڑ کر اسلام کو مذاق نہیں بنایا جانا چاہیے۔

اب کچھ جاہل لوگ آج کی سائنس سے انکار کرتے ہیں تو اس کا الزام اسلام پر کیسے آ سکتا ہے۔ گلیلیو کا محاسبہ تو عیسائی راہبوں نے کیا تھا۔ مسلمان علماء کرام تو جدید سائنس کے بانی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کوئی سائنس کی کتاب نہیں ہے، یہ زندگی کا طریقہ بتانے والی کتاب ہے، یہ کہہ کر کہ بعض مسلمانوں کے بس میں ہوتا تو ٹیلی ویژن ایجاد نہیں ہو سکتا تھا، اسلام کی توہین نہ کیجئے۔ یہاں آپ نے یہ کیوں نہ کہا کہ بعض عیسائی راہبوں کے بس میں ہوتا تو ٹیلی ویژن ایجاد نہ ہو سکتا تھا۔

فرخندہ جبیں کا مسئلہ کچھ اور ہے۔ اسلام تو اس شرط کے ساتھ ہی شادی کی اجازت دیتا ہے کہ تم چار شادیاں کر سکتے ہو لیکن اگر انصاف نہیں کر سکتے تو ایک ہی نکاح کرو اور یہ حکم سورۃ النساء کی تیسری آیت میں ہے۔ اگر آپ غور سے یہ سورہ پڑھیں تو پہلا حکم یہ ہوا ہے کہ عورتوں کے مہر ان کو ادا کرو، بیوہ سے شادی کرنا، مطلقہ سے شادی کرنا ہمارے اس معاشرے میں ہندو معاشرے سے متاثر ہو کر معیوب بنا دیا گیا ہے...... ہم کس طرح سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ ہے۔ یہاں آج تک جتنی بھی تعزیرات نافذ ہیں، وہ انگریز کے دور کی نافذ ہیں۔ ان میں کہیں ایوب خانی دور کی پیوندکاری ہوئی تھی تو کبھی بھٹو دور کی سلائی اور آخر میں جنرل ضیاء الحق کے دور کی ”اسلامی پیوند کاری“ لیکن انگریزی تعزیرات کو منسوخ نہیں کیا گیا۔ ایوب خان دور کا مسلم فیملی لاء آرڈیننس اصل فساد کی جڑ ہے، جس کو برقرار رکھتے ہوئے ہمارا پولیس کا محکمہ حدود آرڈیننس کا نفاذ کرتا ہے تو یہ ملغوبہ جو صورتحال پیش کرتا ہے، وہ مغرب کو بہت پسند آئی ہے اور وہ اسے اسلام کے نمونے کے طور پر پیش

صفحہ 403

کرتا ہے اور پھر ایک غلغلہ بلند ہوتا ہے کہ یہ ہے اسلام اور اگر کوئی شخص واقعی خلوص دل سے اسلام کا نفاذ چاہتا ہے تو ہماری نام نہاد اسٹیبلشمنٹ اسے ناکام بنانے کے لیے کمربستہ ہو جاتی ہے اور ایسی ایسی تاویلات لائی جاتی ہیں کہ گویا اسلام کے مطابق زندگی گزارنا تو کانٹوں پر سونے کے مترادف ہے جبکہ سب سے سہل تو اسلام کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔

زکوٰۃ کے موجودہ نظام سے کسی کی فلاح ممکن نہیں ہے، بلکہ اس سے تو مزید ابتری پھیل رہی ہے۔ کٹوتی سے لے کر تقسیم تک کوئی بھی طریقہ کار اسلامی نہیں ہے۔ حد یہ ہے کہ اس میں سے بھی غبن کیا جاتا ہے اور زکوٰۃ کے ایسے استعمال کیے جاتے ہیں کہ جو شرعی طور پر جائز ہی نہیں۔

رہی یہ بات کہ یہاں تسلیمہ نسرین کی کتاب بھی چھپے اور سلمان رشدی کی بھی، اس سے تو میں متفق نہیں لیکن اس سے ضرور متفق ہوں کہ سیاسی اور ادبی تخلیقات کی آزادی ہونی چاہیے۔ آپ نے خود اعتراف کیا ہے کہ یہ قانون ۱۸۶۷ء کا ہے جبکہ انگریز کی حکومت تھی۔ لہٰذا انگریز کی بالادستی کو ختم کیجئے، تب ہی آپ کو آزادی کی فضا میسر آئے گی۔

یہ بات بھول جائیے کہ لوگوں نے مولویوں کو ووٹ نہیں دیے تو گویا اسلام کو مسترد کر دیا۔ بے نظیر بھٹو ہوں یا نواز شریف دونوں نے اسلام کی پاسداری کی قسم کھائی تھی اور یہ بات یاد رکھیے کہ ہماری کل آبادی کا ۵۰ فیصد بھی ووٹر نہیں ہے اور اس بار تو ووٹروں کی کل تعداد کے ۶۰ فیصد نے ووٹ ہی نہیں دیا تو یہ ظاہر ہی نہیں ہوتا کہ ان حضرات کو پاکستان کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ اسلامی ممالک میں عورت کی حکمرانی ان کے بے دین ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ پاکستان کے لوگ باشعور ہیں، اسی لیے تو یہاں خاندان کا نظام برقرار ہے، جو مغرب میں ختم ہوچکا ہے۔ اسی لیے یہاں ان قبیح امراض کی وہ کثرت نہیں ہے، جن کو مغرب ایڈز کہتا ہے۔ الحمدللہ!

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، ۱۰ مارچ ۱۹۹۵ء)

صفحہ 404

حضرت فاطمہؓ سے ونی منڈیلا کا تقابل

”پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری اطلاعات مشاہد حسین نے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی طرف سے جنوبی افریقہ کے نومنتخب صدر نیلسن منڈیلا کی طلاق یافتہ بیوی ”ونی منڈیلا“ کا خاتون جنت حضرت فاطمہؓ سے تقابل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی اس حرکت سے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے۔ ہفتہ کی شام مسلم لیگ میڈیا سنٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے لندن سے شائع ہونے والے اخبار ”دی ٹائمز“ میں شائع شدہ خبر کی کاپیاں بھی اخبار نویسوں میں تقسیم کیں۔ اخبار نے ”ونی منڈیلا“ سے بے نظیر کی ملاقات کی خبر کی سرخی یہ لگائی ہے کہ ”بے نظیر بھٹو نے مسز منڈیلا کا نبی کریمؐ کی بیٹی سے تقابل کیا ہے“۔ مشاہد حسین نے کہا کہ ونی منڈیلا ایک بدنام عورت ہے، جس پر دوسرے مردوں کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھنے کے الزامات ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اسے متعدد اخلاقی جرائم میں سزا ہوچکی ہے۔ ونی کے اسی مجرمانہ ریکارڈ اور بدنامی کی وجہ سے نیلسن منڈیلا نے اس سے علیحدگی اختیار کی۔ حتیٰ کہ اپنی حلف برداری کی تقریب میں بھی اسے مدعو نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اتنی گندی شہرت کی حامل عورت کی ”خاتون جنت“ سے مماثلت نہ صرف سارے عالم اسلام اور حضرت فاطمہؓ کی نسوانی پاکیزگی کے اعلیٰ ترین کردار کی توہین ہے بلکہ یہ خود بے نظیر بھٹو کی اپنی تاریخ، کلچر اور مذہب سے مکمل لاعلمی کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا اگرچہ بے نظیر بھٹو سیاسی مقاصد کے لیے ہماری دینی علامتوں کا جذباتی استعمال کرتی رہتی ہیں لیکن حقیقت میں نہ ان کا ان علامات کے ساتھ دینی و روحانی تعلق ہے اور نہ وہ ان کے اصل مرتبے و مقام سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی اس ناپاک جسارت پر ساری امت مسلمہ سے معافی مانگیں کیونکہ انہوں نے اپنی جہالت کی بنا پر پورے عالم اسلام کو ٹھیس پہنچائی ہے“۔ (روزنامہ ”خبریں“ لاہور، ۱۵ مئی ۱۹۹۴ء)

معروف صحافی محترم خلیل ملک اپنے کالم ”پس پردہ“ میں ”وزیر اعظم اور حضرت فاطمہؓ“ کے عنوان سے لکھتے ہیں:

”وزیر اعظم صاحبہ نے جنوبی افریقہ کے دورے کے موقع پر ونی منڈیلا کے

صفحہ 405

"فضائل" بیان کرنے کے لیے حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا حوالہ دیا۔ مسلم لیگ کی طرف سے احتجاج ہوا لیکن جو حلقے ناموسِ صحابہؓ (و صحابیاتؓ) کے قانون منظور کروا رہے ہیں اور وہ حلقے جو محبتِ اہل بیتؓ پر اپنا اجارہ سمجھتے ہیں، قبرستان میں پڑے مردوں سے بھی زیادہ خاموش رہے۔ نعوذ باللہ خدا ناراض ہو جائے، جناب رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جگر گوشہ کی توہین ہو جائے لیکن وزیر اعظم کو ناراض نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ہمیں اپنے قومی انحطاط کا اندازہ کرنا ہو تو مولوی فضل الرحمن اور مولوی سمیع الحق کی جانب دیکھنا چاہیے۔ خدا کی ناراضگی سے لاتعلق اور وزیر اعظم کی خوشنودی کے لیے سب کچھ کر گزرنے والے علماء حق ہیں یا علماء سوء اس کا فیصلہ ہر اہل ایمان خود کر سکتا ہے۔

وزیر اعظم صاحبہ نے ونی منڈیلا کی "شان" میں کیا کہا، کس طرح کہا، مجھے اس کا تجسس رہا کیونکہ اس میں نہ صرف شان اہل بیتؓ زیر بحث آتی ہے بلکہ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ

ادراک رکھتی ہیں۔

عظیم ترین ہستیوں کے بارے میں بھی وہی رویہ رکھتی ہیں جس کا مستحق وہ اپنے سیاسی مخالفین کو سمجھتی ہیں۔

سب سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے بارے میں خیالات، وزیر اعظم کے اپنے خیالات نہیں تھے، وہ مشہور ایرانی سکالر ڈاکٹر علی شریعتی کی کتاب "Fatima is Fatima" (فاطمہؓ فاطمہؓ ہے) سے ماخوذ تھے۔ کتاب کے بالکل آخر میں حضرت خاتون جنتؓ کے فضائل کی بحث سمیٹتے ہوئے ڈاکٹر علی شریعتی لکھتے ہیں: "فاطمہؓ کی شخصیت کے بارے میں گفتگو انتہائی دشوار ہے۔ وہ ایک عورت تھیں، اسلام نے مثالی عورت کا جو تصور پیش کیا ہے، اس تصور کی روشن تصویر، یہ پاکیزہ تصویر خود پیغمبرؐ نے اپنے انسانیت طراز ہاتھوں سے بنائی تھی، جس طرح سونے کو آگ میں تپا کر کندن بنایا جاتا ہے، اسی طرح پیغمبرؐ نے آپ کو سختی، فقر اور جدوجہد کی آنچ میں تپا کر نکھارا۔ آپ کی تعلیم و تربیت پر بڑی

صفحہ 406

گہری اور کڑی نظر رکھی اور آپ کو حیرت انگیز انسانی خوبیوں کا مظہر بنا دیا۔ وہ ہر اعتبار سے ایک مثالی عورت تھیں۔ نسوانیت کی تمام گوناگوں ابعاد کے لیے ایک مثالی نمونہ۔۔۔

اپنے والد کے حوالے سے ایک مثالی بیٹی۔ اپنے شوہر کے حوالے سے ایک مثالی بیوی۔ اپنے بچوں کے حوالے سے ایک مثالی ماں۔

وہ بذات خود ایک امام ہیں، ایک نمونہ مثال ہیں، ایک آئیڈیل ٹائپ ہیں۔ ان کا اسوہ عورتوں کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ ہے۔ ہر اس عورت کے لیے جو آزادانہ طور پر اپنی شخصیت کی تعمیر کرنے کی خواہش مند ہو، وہ ایک نگران اور شاہد ہیں۔ ان کی حیرت انگیز طفلی، ان کی جدوجہد اور کشمکش سے لبریز زندگی، داخلی اور خارجی ہر دو محاذ پر ان کا مسلسل جہاد اپنے باپ کے گھر، اپنے شوہر کے گھر اور اپنے معاشرہ میں ان کا کردار، ان کی فکر، ان کا عمل، غرض ان کی جامع اور مثالی شخصیت اس سوال کا مکمل جواب ہے کہ ایک عورت کو کیسا ہونا چاہیے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کہوں، بہت کچھ کہہ چکا مگر ابھی کہنے کے لیے بہت کچھ باقی ہے"۔

"فاطمہؑ کی شخصیت کا ہر پہلو روشن ہے۔ وہ کمال انسانیت کی شاہراہ پر ان کے ساتھ قدم بہ قدم چلتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ وہ ارتقائے انسانیت کے افق ہائے بلند پر علیؑ کی ہم پرواز ہیں۔ اسی سبب سے علیؑ نے ان کو اپنی دوسری بیویوں سے مختلف سطح پر دیکھا اور یہی رویہ ان کی اولاد کے ساتھ بھی رکھا۔ فاطمہؑ کے بعد علیؑ نے دوسری عورتوں سے عقد کیے اور ان سے اولادیں بھی ہوئیں مگر علیؑ نے ہمیشہ اپنی اس اولاد کو، جن کی ماں فاطمہؑ تھیں، اپنی دیگر اولاد سے ممتاز حیثیت دی۔ یہ "بنی علیؑ" کہلائے اور وہ "بنی فاطمہؑ"۔ کیا یہ تعجب انگیز بات نہیں کہ علیؑ جیسے عظیم باپ کے مقابلے میں بچوں کو ماں کی نسبت سے پہچانا جائے۔

اور ہم دیکھتے ہیں کہ خود پیغمبر کی نگاہ میں ان کی حیثیت دوسری بیٹیوں سے بالکل جدا تھی۔۔۔۔۔ میری عقل حیران ہے کہ ایسی شخصیت کے بارے میں کیا کہوں، کس عنوان سے کہوں؟

میری خواہش تھی کہ میں فرانس کے اس نامور خطیب کی تقلید کروں

صفحہ 407

جس نے ایک موقع پر ”لوئی“ کے حضور میں حضرت مریم علیہ السلام کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا ”سترہ سو برس سے مسلسل دنیا کے تمام سخن ور جناب مریم کے بارے میں داد سخن دے رہے ہیں۔ سترہ سو برس ہو گئے کہ پیہم شرق و غرب کے تمام فلسفی اور مفکرین جناب مریم کے فضائل بیان کر رہے ہیں۔ سترہ سو برس سے مسلسل تمام دنیا کے شاعر حضرت مریم کی تعریف میں اپنی تمام تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ سترہ سو برس سے مسلسل تمام فنکار، مصور، مجسمہ ساز، جناب مریم کی شخصیت و سیرت کی تصویر کشی کے باب میں معجزہ ہائے ہنر تخلیق کرتے رہے ہیں، لیکن طویل صدیوں پر محیط فکر و فن کی یہ تمام کوششیں اور یہ تمام معجزہ ہائے ہنر جناب مریم کی تعریف میں کہے گئے، اس مختصر سے جملہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے کہ

”مریم مادر عیسیٰ ہیں“۔

میں نے چاہا تھا کہ میں بھی اسی عنوان سے جناب فاطمہ کی تعریف میں کوئی جملہ کہوں، مگر میری تاب سخن سخت عاجز اور درماندہ ہے۔

میں نے چاہا کہوں: فاطمہ دختر خدیجہ بزرگ ہیں۔

میں نے دیکھا کہ یہ فاطمہ (کی مکمل تعریف) نہیں ہے۔

چاہا کہوں: فاطمہ دختر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔

مگر دیکھا کہ یہ فاطمہ (کی مکمل تعریف) نہیں ہے۔

سوچا کہوں: فاطمہ علی کی ہم سفر و ہم کفو ہیں۔

دیکھا کہ یہ فاطمہ (کی مکمل تصویر) نہیں ہے۔

سوچا کہوں: فاطمہ حسنین کی ماں ہیں۔

دیکھا کہ یہ فاطمہ (کی مکمل تصویر) نہیں ہے۔

سوچا کہوں: فاطمہ مادر زینب ہیں۔

مگر دیکھا کہ یہ بھی فاطمہ (کی مکمل تصویر) نہیں ہے۔

ہاں فاطمہ یہ سب کچھ ہے مگر یہی سب کچھ فاطمہ نہیں ہے۔

فاطمہ ”فاطمہ ہے“ ہاں

فاطمہ ”فاطمہ ہے“۔

قارئین کرام! یہ اقتباس بہت طویل تھا، مگر اس کا حوالہ یہ سمجھنے کے لیے ضروری تھا کہ وزیر اعظم صاحبہ نے فاطمہ ”فاطمہ ہے“ کا تصور کہاں سے لیا اور اسے کس طرح وفی

صفحہ 408

منڈیلا پر منطبق کیا۔ اگلی نشست میں زندہ رہے تو یہ عرض کروں گا کہ وزیر اعظم صاحبہ نے کیا کہا اور ان کے اپنے لفظوں کی روشنی میں، وزیر اعظم کی دین فہمی، وزیر اعظم کے علمی مقام و مرتبے اور وزیر اعظم کی دانشورانہ صلاحیت کی کیا تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ بھی دیکھیں گے کہ کیا فی الواقع وزیر اعظم، جگر گوشہ رسولؐ کی توہین کی مرتکب ہوئیں!"

(روزنامہ ”خبریں“ لاہور‘ ۵؍ جون ۱۹۹۴ء)

کیا وزیر اعظم نے گستاخی کا ارتکاب کیا؟

”گزارش ہے کہ گزشتہ روز کی گفتگو سامنے رکھیں، اس میں ڈاکٹر علی شریعتی کی جو بات بنیادی ہے، یہ ہے کہ

”میں نے چاہا کہوں: فاطمہؓ دختر خدیجہؓ بزرگ ہیں۔
میں نے دیکھا کہ یہ فاطمہؓ (کی مکمل تعریف) نہیں ہے۔
چاہا کہوں: فاطمہؓ دختر محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ہیں۔
مگر دیکھا کہ یہ فاطمہؓ (کی مکمل تعریف) نہیں ہے۔
سوچا کہوں: فاطمہؓ، علیؓ کی ہم سفر و ہم کفو ہیں۔
دیکھا کہ یہ فاطمہؓ (کی مکمل تصویر) نہیں ہے۔
سوچا کہوں: فاطمہؓ، حسنینؓ کی ماں ہیں۔
دیکھا کہ یہ فاطمہؓ (کی مکمل تصویر) نہیں ہے۔
سوچا کہوں: فاطمہؓ مادر زینبؓ ہیں۔
مگر دیکھا کہ یہ بھی فاطمہؓ (کی مکمل تصویر) نہیں ہے۔
ہاں فاطمہؓ یہ سب کچھ ہے مگر یہی سب کچھ فاطمہؓ نہیں ہے۔
فاطمہؓ، فاطمہؓ ہے، ہاں
فاطمہؓ، فاطمہؓ ہے۔“

۱۱؍ مئی ۱۹۹۴ء کو پاکستانی خبر رساں ایجنسی ”اے پی پی“ نے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی متنازعہ تقریر کا جو متن جاری کیا، وہ یوں ہے:

”انہوں نے حضرت فاطمہؓ کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہؓ رسول اکرمؐ کی بیٹی ہیں، حضرت خدیجہؓ کی بیٹی ہیں، حضرت علیؓ کی زوجہ محترمہ ہیں، حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کی والدہ ہیں، لیکن میں فاطمہؓ کو فاطمہؓ ہی کہتی ہوں۔ میں یہاں ولی کو ولی کہنے آئی ہوں۔ وہ (ولی) صرف بیوی

صفحہ 409

نہیں ہیں بلکہ ان کا اپنا بھی ایک (آزاد) مقام ہے۔ انگریزی میں (Position) غلطی سے (Passion) چھپ گیا) انہیں (ولی کو) قید کیا گیا۔ انہوں نے اپنے بچوں کی خود پرورش کی اور ملک در ملک سفر اختیار کیا‘ لیکن (اس سب کے باوجود) ولی‘ ولی ہیں“۔

اگر دونوں اقتباسات پر تھوڑا سا بھی غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وزیر اعظم صاحبہ نے بھی حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے بارے میں ڈاکٹر علی شریعتی کی تحریر پڑھ لی اور انہیں یہ انداز بیان پسند آیا‘ مگر ڈاکٹر صاحب نے جو بنیادی بات کہی‘ وہ نہ ان کے دماغ تک پہنچی‘ نہ دل میں اتری۔ مجھے شک کرنے کا حق نہیں‘ لیکن یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ سکتی ہے کہ اگر وزیر اعظم صاحبہ نے ساری کتاب پڑھی ہوتی اور اس کا سارا فلسفہ دل و دماغ میں اتار لیا ہوتا تو وہ ”ولی“ کے فضائل بیان کرنے کے لیے‘ حضرت فاطمہؓ کا حوالہ دینے کا ہرگز نہ سوچتیں۔ وزیر اعظم نے ایک سطحی ڈبیٹر (Debator) ہونے کا مظاہرہ کیا۔

اب یہ دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر علی شریعتی نے بنیادی طور پر کیا کہا۔

ڈاکٹر صاحب کا جو اقتباس میں نے پیش کیا ہے‘ وہ عربی فارسی خطابت‘ بالخصوص شیعہ خطابت کا بہترین نمونہ ہے۔ اس میں تکرار الفاظ سے ایسا سماں باندھا گیا ہے کہ عقیدت مند دل جھوم جھوم جاتا ہے۔ تاہم جن خواتین و حضرات نے ڈاکٹر علی شریعتی کو پڑھا ہے‘ وہ جانتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب محض علم کلام کے ماہر نہ تھے بلکہ علم کلام پر عبور ان کی خوبیوں میں شمار ہی نہیں ہوتا‘ ڈاکٹر علی شریعتی اس عصر کے حیران کن صاحبان علم میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنے عقیدے کے مطابق (اس سے جو اختلاف کرنا چاہے‘ کر سکتا ہے) مندرجہ ذیل باتیں کہیں:

کے لیے ان عالی مقام ہستیوں کی بھی محتاج نہیں ہیں‘ جو ان کے خاندان کا حصہ ہیں۔

اس نکتے کو بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب یہاں تک کہہ گئے کہ ”چاہا کہ کہوں فاطمہؓ دختر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں‘ مگر دیکھا کہ یہ فاطمہؓ (کی مکمل تعریف) نہیں ہے۔ گویا حضرت فاطمہؓ اپنی ہستی و مقام میں مکمل طور پر منفرد و ممتاز ہیں اور جب ”دختر محمدؐ“۔ ”زوجہ علیؓ“ اور ”مادر حسینؓ“ بھی تعریف و تصویر مکمل نہ کر سکیں تو پھر جس مقام کو

صفحہ 410

بیان کیا جا رہا ہے، وہ اس قدر عالی و بلند ہوگا کہ اسے مثال کے لیے بھی استعمال نہ کیا جا سکے گا۔ وزیر اعظم صاحبہ نے جب ”فاطمہؓ فاطمہؓ ہے“ کے تصور کو اپنی تقریر کی بنیاد بنایا تو یہ بات ان کے عقیدے میں شامل ہے کہ خاتون جنتؓ اس منفرد مقام پر فائز ہیں کہ کوئی ان کی مثل اور مثال نہیں ہو سکتا۔

خاتون جنتؓ کے اس تصور کے پیش نظر کسی نہایت ہی پاکباز خاتون کے مقام کو بھی ”فاطمہؓ فاطمہؓ ہے“ کی طرز پر بیان نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ وزیر اعظم صاحبہ نے ایک ایسی دنیا دار عورت کو اس تصور کا مستحق قرار دے دیا، جس پر قتل اور بدکاری کے الزامات ہیں اور جس کی جدوجہد، اب ثابت ہو چکا کہ لذات دنیا کے لیے تھی اور اب بھی ہے، بدقسمتی سے وزیر اعظم صاحبہ کو یہ شعور ہی نہیں ہے کہ عورت کے کردار میں، بالخصوص جب مثال، حضرت فاطمہؓ کی ہو، عصمت و معصومیت کو بنیاد کی حیثیت حاصل ہے۔ عورت کا وہ مغربی تصور، جس میں وہ دنیا میں بے حجاب مردوں کے شانہ بشانہ رہے، ملک در ملک سفر کرے، خاوند کی عدم موجودگی میں غیر مردوں کے ساتھ ہم سفر اور ہم بستر ہو اور جب تخت فتح کر لے تو عظیم کہلائے، اسلام میں قابل قبول نہیں ہے۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے اس فرق کو بیان کرنے کے لیے ہی تو ساری کتاب لکھی۔ اس گفتگو کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ

بیت میں اضافہ کیا ہے۔ اگر اس ملک پر عذاب ہے تو اس کی وجہ ایسی شخصیت کا پاکستان کی قیادت پر فائز ہونا ہے۔

نازک علمی مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت ہے، نہ جذبہ ہے۔

ہیں اور ان میں مشرق کی پاکیزگی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

میں بارہ کروڑ میں ایک بے نوا پاکستانی ہوں، مگر وزیر اعظم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے خدا سے، اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، اہل بیت سے اور تمام اہل اسلام سے اس گستاخی کی معافی مانگیں۔

وزیر اعظم بازار سیاست میں سب کچھ بیچیں، مملکت خداداد پاکستان ان کے ہاتھوں میں ہے، اس کے عوام ہیں، اس کا مستقبل ہے، اس کے جذبے ہیں، جو چاہیں بازار سیاست میں لے آئیں مگر ایسی گستاخی نہ کریں، جیسی وہ ونی منڈیلا کا قصیدہ کہنے اور خود کو ”عظیم

صفحہ 411

مقررہ“ کہلوانے کے لیے کر چکی ہیں”۔ (روزنامہ ”خبریں“ لاہور، 6 جون 1992ء)

جنوبی افریقہ کی تحریک آزادی کی ”خاتون اول“

اور ”مادر ملت“ پر شرمناک الزامات

”وہ کون سے الزامات تھے، جن کی وجہ سے تحریک آزادی کی خاتون اول غلامی سے نجات کے بعد معتوب ٹھہرائی گئی؟ وہ کیا حالات تھے جن کی وجہ سے دو پیار کرنے والے میاں بیوی ایک دوسرے سے دور ہوگئے؟ قصور خاوند کا تھا یا بیوی کا؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں ماضی کی راکھ کریدنا ہوگی۔

1958ء میں 41 سالہ وکیل اور شوقیہ باکسر نیلسن اپنی 25 سالہ بیوی ونی کو سویٹو کی ایک سنسان سڑک پر ڈرائیونگ سکھانے لے گیا لیکن ونی اس کی ہدایات پر اچھی طرح عمل نہیں کر پا رہی تھی، جس پر نیلسن جھنجھلا گیا اور سخت غصے کے عالم میں بیوی کو کار میں اکیلا چھوڑ کر گھر واپس آگیا لیکن ونی حیرت انگیز طور پر اس کی غیر موجودگی میں بہتر ڈرائیونگ کرنے لگی اور ایک گھنٹے بعد وہ قصبے کے اردگرد پراعتماد انداز میں ڈرائیونگ کر رہی تھی۔ 32 سال بعد اسی قصبے میں اپنے گھر کے سامنے میاں بیوی پھر اکٹھے تھے۔ اس بار وہ فوٹوگرافروں سے تصاویر بنوا رہے تھے۔ ایک فوٹوگرافر نے دونوں کو نزدیک آنے کے لیے کہا تو نیلسن نے اپنا بازو ونی کی کمر کے گرد حمائل کر دیا اور کہا ” میں وہ واحد شخص ہوں جو اس عورت کو قابو میں رکھ سکتا ہے۔“

ونی کی مالی و اخلاقی بدعنوانیوں سے آج پورا جنوبی افریقہ آگاہ ہوچکا ہے۔ ان میں سے ایک ایسی بھی ہے جس کی وجہ سے اس نے نیلسن جیسے عظیم ساتھی کو کھو دیا۔ نیلسن کی قید کے دوران ونی کے دوسرے مردوں کے ساتھ تعلقات کے بہت چرچے ہونے لگے۔ رات کے پچھلے پہر اس کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور اس کے بستر کے نیچے ایک فوٹوگرافر کو برآمد کر لیا گیا۔ اس کیس میں ایک نوجوان لائیبریرین نے اس کے خلاف گواہی دی۔ اگرچہ ونی نے اس کی تردید کر دی لیکن 1992ء میں ونی کے وہ تمام ”لو لیٹرز“ اخبارات میں شائع ہوگئے جو اس نے خود سے 28 سالہ چھوٹے ایک وکیل کو لکھے تھے جس سے اس کی جنسی بے راہ روی ثابت ہوگئی۔ عمرقید کی سزا پانے والے کسی بھی قیدی کے لیے اپنے ساتھی کو کہنے کے لیے جو بہترین الفاظ ہوتے ہیں وہ یہ ہوتے ہیں کہ ”

صفحہ 412

مجھے بھول جاؤ“ لیکن نیلسن اور ونی کے درمیان ان تین الفاظ کا کبھی تبادلہ نہیں ہوا۔ ونی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ”مجھے نہیں معلوم کہ شادی شدہ ہونے سے زندگی میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں یا شادی شدہ ہونا کیسا لگتا ہے۔“ اس نے کہا کہ ”میں دنیا کی سب سے زیادہ ”غیر شادی شدہ“ شادی شدہ عورت ہوں۔“

نیلسن کی قید کے وقت دونوں میں سے کسی کو یہ احساس نہیں تھا کہ یہ جدائی اتنی طویل ہو جائے گی لیکن ایسا ہوا اور نیلسن کی قید کے ساتھ ساتھ ونی کی بدعنوانیوں کی فہرست بھی طویل ہوتی گئی۔ ونی کی مالی بدعنوانیوں کے بارے میں نیلسن بہرحال اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتا ہے۔ نیلسن کا کہنا ہے کہ ”میں نے کبھی اس سے سونے چاندی اور ہیرے موتیوں کا وعدہ نہیں کیا اور نہ ہی میں اس قابل تھا۔“

بوئنڈ فورٹ میں اپنی جلاوطنی کے دوران وہ دنیا والوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی اور اسے مختلف ممالک کی طرف سے ہمدردی کے جذبات کے علاوہ بھاری رقوم بھی ملنے لگیں۔ سیکورٹی پولیس نے بعد میں ان عطیات کا انکشاف کیا جو ونی وصول کرتی رہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے ایک لاکھ ڈالر کا چیک، ہیری اوپن ہیمر کی طرف سے 15 ہزار رینڈز (جنوبی افریقہ کی کرنسی) کینیڈین سفارت خانے کی طرف سے 14 ہزار رینڈز، جرمنوں کی طرف سے پانچ ہزار مارک اور کیوبا کے شہریوں کی طرف سے 70 ہزار امریکی ڈالر ونی نے وصول کئے۔ یہ تمام عطیات خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی۔ بونڈ فورٹ کے شراب خانے میں ونی کا بڑا حصہ تھا۔ سویٹو کا گھر چونکہ خاتون اول کے معیار کے مطابق نہ تھا، اس لیے اس نے اپنا مینشن بنوا لیا، اس نے غریبوں کی بہبود کے لیے ایک ادارہ قائم کیا جس کے تمام فنڈز غائب ہو گئے اور پھر وہ سانحہ رونما ہو گیا جس نے ” مادر ملت“ کے چہرے پر کالک مل دی۔ سٹومپی پیٹی نامی 14 سالہ لڑکے کو اس کے گھر میں اس بری طرح سے پیٹا گیا کہ اس کی موت واقع ہو گئی۔ بعد میں لاش ایک چراگاہ سے برآمد ہوئی، تاہم عدالتوں نے اسے قتل سے بری الذمہ قرار دے دیا۔

اسی دوران ونی نے ٹاؤن شپ کے علاقے میں غریبوں کی جھونپڑیوں کے بیچوں بیچ ایک محل نما مکان تعمیر کرایا اور اپنے گرد باڈی گارڈز کا ایک گروپ اکٹھا کرنا شروع کر دیا جسے منڈیلا یونائیٹڈ فٹ بال ٹیم کا نام دیا گیا۔ ٹیم کے تمام لوگوں کی وجہ شہرت یہ تھی کہ وہ سویٹو میں ہونے والے مختلف جرائم میں ملوث تھے۔ گوروں کی اقلیتی حکومت کے

صفحہ 413

خلاف تحریک میں شامل بڑے بڑے لیڈروں نے متعدد بار ونی کو برسرعام تنقید کا نشانہ بنایا، مگر اس نے کسی کی نہ سنی تا آنکہ 1990ء میں منڈیلا رہا ہو گئے۔ منڈیلا کی رہائی سے کچھ ماہ قبل بھی ونی کے امیج کو ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا جب اس کا چیف باڈی گارڈ ایک چودہ سالہ لڑکے کے اغوا اور قتل میں براہ راست ملوث پایا گیا۔ اس چودہ سالہ لڑکے اور تین دیگر لڑکوں نے اغوا میں اعانت کرنے کے جرم میں ونی کو 6 سال قید کی سزا سنائی گئی لیکن بعد ازاں اپیل کرنے پر یہ سزا جرمانے میں تبدیل کر دی گئی۔

1992ء میں منڈیلا نے ونی کو طلاق دینے کا اعلان کر دیا۔ یہ علیحدگی ونی کے ساتھ ایک نوجوان کے تعلقات اور ونی کے ہاتھوں فنڈز کے خرد برد کی رپورٹیں منظر عام پر آنے کے بعد عمل میں آئی۔ اسی دوران ونی نے اے این سی کے تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا، جن میں اے این سی کے پالیسی ساز ادارے، نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت بھی شامل تھی۔

اس کے بعد سے جنوبی افریقہ کے اخبارات میں ان کے خلاف سکینڈلز چھاپنے کا سلسلہ شروع ہے، جن میں سے ونی کے خلاف ایک کمپنی کی جانب سے ایک مقامی عدالت میں دائر کیا جانے والا دعویٰ بھی شامل ہے۔ دعوے میں کہا گیا ہے کہ ونی نے انگولا سے ہیرے منگوانے کی خاطر جیٹ طیارہ چارٹر کرنے کے لیے اس سے قرض لیا تھا۔ گذشتہ فروری میں بھی ونی کو اس وقت شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب صدر منڈیلا نے ان سے کہا کہ وہ قومی حکومت کے خلاف تنقید کرنے پر سرعام معافی مانگیں۔ اس کے بعد ونی صدر منڈیلا کے منع کرنے کے باوجود مغربی افریقہ کے دورے پر روانہ ہو گئی۔

اس بات کے چند دن بعد ہی افریکن نیشنل کانگریس کے شعبہ خواتین کی گیارہ اہم ارکان نے ونی کے آمرانہ رویئے کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد 13 فروری کو ایک بڑا سکینڈل یہ بھی منظر عام پر آیا کہ شعبہ خواتین کے حسابات میں ایک لاکھ چالیس ہزار ڈالرز کے اس چیک کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جو وزیر اعظم پاکستان بے نظیر بھٹو نے اپریل میں اپنے دورے کے موقع پر ونی کو ویمنز لیگ کے خیراتی کاموں کے لیے دیا تھا۔ ونی کا اس سلسلے میں کہنا یہ تھا کہ یہ چیک اسے براہ راست دیا گیا تھا تاکہ وہ اسے مختلف خیراتی منصوبوں پر اپنی مرضی سے خرچ کر سکے۔ اس اسکینڈل کی گرد ابھی بیٹھنے بھی نہ پائی تھی کہ ونی، صدر منڈیلا کی یہ ہدایت نظر انداز کرتے ہوئے جنوبی افریقہ

صفحہ 414

کے دورے پر روانہ ہو گئیں کہ اے این سی کے ایک اہم اجلاس میں شرکت کے لیے وہ ملک ہی میں رہیں اور بیرونی دورے پر نہ جائیں۔

23/ مارچ کو ہی ٹائمز نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں دو کروڑ بیس لاکھ ڈالرز کے ایک اور سکینڈل کی نشاندہی کی گئی تھی۔ یکم مارچ کو پولیس نے سویٹو میں ونی کی رہائش پر چھاپہ مار کر بعض دستاویزات قبضے میں لے لیں اور ونی پر الزام لگایا کہ وہ کم آمدنی والے لوگوں کے لیے بنائی جانے والی ایک ہاؤسنگ سکیم سے پیسہ اینٹھنے کے لیے سرکاری حیثیت کا استعمال کر رہی ہے۔“

(روزنامہ خبریں لاہور 25 اپریل 1995ء)

قادیانیوں سے پیپلزپارٹی کا گٹھ جوڑ

بے نظیر کی زیر صدارت سنٹرل کمیٹی کے اجلاس منعقدہ کراچی میں

مرزائیوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں پیپلزپارٹی کا ممبر بنانے کا خفیہ فیصلہ

(روزنامہ ”الاتحاد“ دبئی کا انکشاف)

خصوصی رپورٹ: منیر احمد خلیلی

”متحدہ عرب امارات کے موقر، کثیر الاشاعت اور خبروں کی صحت کے اعتبار سے انتہائی موثق روزنامہ ”الاتحاد“ نے اپنی 2 جون 1986ء کی اشاعت میں یہ خبر شائع کی ہے کہ پیپلز پارٹی کی شریک چیئرمین بے نظیر بھٹو نے قادیانیوں اور لاہوری احمدیوں کو پیپلز پارٹی کی زیادہ سے زیادہ ممبر شپ دینے کی ہدایت کی ہے۔ حال ہی میں بے نظیر کی صدارت میں منعقد ہونے والے سنٹرل کمیٹی کے اجلاس میں قادیانیوں کو پیپلز پارٹی میں کھپانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ اجلاس میں اس موضوع پر بحث کے دوران بے نظیر بھٹو نے کہا کہ پارٹی کے دستور کی رو سے قادیانی فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پارٹی میں شامل کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ قادیانی کمیونٹی نے ماضی میں بھی پارٹی کی بھرپور تائید و حمایت کی ہے اور اب بھی وہ پارٹی میں اپنا رول ادا کرنا چاہتے ہیں، اس لیے انہیں اس کا موقع دیا جانا چاہیے۔ قادیانیوں کی جماعتی سیاست میں آزادانہ شرکت پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ اخبار نے اطلاع دی ہے کہ بے نظیر کی اس ہدایت کو سنٹرل کمیٹی کے ممبران تک

صفحہ 415

محدود رکھتے ہوئے اسے پورا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سردست اس فیصلے کی عام تشہیر سے گریز کرنے کا راستہ اس لیے اختیار کیا گیا ہے تاکہ عوامی سطح پر پارٹی کے خلاف مذہبی جماعتیں پارٹی کی جدوجہد کے اس ابتدائی مرحلے میں مخالفت کا طوفان نہ اٹھا دیں۔

(ہفت روزہ تکبیر کراچی 26 جون 1986ء)

چوہدری رستم علی! اپنے مضمون ”قادیانیوں اور پیپلز پارٹی کا اتحاد‘ پاکستان کے خلاف سازش“ کے عنوان سے لکھتے ہیں۔

”ہم مسلمانوں کی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ ہندوستان میں ایک مغل زادے نے ہماری سیاسی محکومی سے بھرپور فائدہ اٹھا کر نبوت کا دعویٰ کیا‘ اور برطانوی حکومت کی اعانت اور پشت پناہی سے نبوت کے نام پر چلائے گئے اس سیاسی کاروبار کو غیر منقسم ہندوستان کے علاوہ ان تمام برطانوی نو آبادیات میں پھیلایا جہاں کہیں انگریز نے اس کی ضرورت محسوس کی۔ قادیانی فتنہ کی سرکوبی کے لیے گزشتہ ایک صدی میں کئی تحریکیں اٹھیں۔ مسلمان اپنے مذہبی تشخص کو بچانے اور اپنے اندر پیدا ہونے والے اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے ہمیشہ مستعد رہے۔ لیکن قادیانیوں نے ہماری قومی تاریخ اور ہمارے اجتماعی سیاسی مفادات کو نقصان پہنچایا اور ہماری صفوں میں انتشار پیدا کیا۔

گزشتہ چند سال میں پاکستان کے خلاف قادیانی ریشہ دوانیاں زور پکڑتی گئیں کیونکہ ان کا سربراہ پاکستان سے بھاگ کر لندن چلا گیا کیونکہ ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں کے سد باب کے لیے ایک آرڈینینس اپریل 1984ء میں جاری کیا گیا تھا۔ گزشتہ پانچ سال میں قادیانیوں نے بین الاقوامی سطح پر اس آرڈینینس کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کیا۔ انسانی حقوق کے نام پر اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ اور اسلام دشمن طاقتوں کی خوشنودی اور ان کی ہر طرح سے اعانت کے حصول کے لیے‘ اپنے آپ کو ایک نام نہاد مظلوم اقلیت کے طور پر پیش کیا۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے نام پر جو تنظیمیں اور ادارے یک دم میدان عمل میں آگئے ہیں‘ ان میں سے کوئی ادارہ ایسا نہیں جو انسانی حقوق کے نام پر کی گئی‘ قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو بے نقاب کرے بلکہ ان اداروں میں قادیانیوں کا زبردست اثر و نفوذ ہے۔ بعض اداروں کے کرتا دھرتا اپنے آپ کو ترقی پسند‘ سامراج دشمن اور سیکولر رنگ میں پیش کرتے ہیں لیکن قادیانیوں کی مدد کے لیے ہر قسم کے محدود مذہبی پروپیگنڈے میں ملوث رہتے ہیں۔ 1984ء سے

صفحہ 416

قادیانی سربراہ نے ربوہ میں ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے جس کا ایک رکن اس شہر کا امیر جماعت ہوتا ہے۔ جس علاقے میں انسانی حقوق کا ادارہ قائم ہوتا ہے، اس ادارے کی ہر قسم کی مالی امداد کرنا اور اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا قادیانی امیر جماعت کا کام ہوتا ہے۔

ان اداروں میں اثر و نفوذ کے باعث قادیانی اپنے مطلب کے بیانات، اخبارات میں شائع کراتے ہیں اور پھر ان کو بین الاقوامی صیہونی پریس میں چھپواتے ہیں تاکہ قادیانی اقلیت پر کئے جانے والے فرضی مظالم کی آڑ میں مالی اور سیاسی مفادات حاصل کیے جاسکیں۔

قادیانیوں کی سیاسی سرگرمیوں میں یہ اضافہ گزشتہ سال اس وقت شروع ہوا جب ملک میں انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہوا۔ قادیانی سربراہ نے جون 1988ء کے بعد مباحثے کے نام پر ایک ڈھونگ رچا رکھا تھا اور درپردہ حکومت مخالف قوتوں سے ساز باز جاری تھی۔ الیکشن کے اعلان کے بعد قادیانیوں نے لندن میں ایک خفیہ اجلاس میں فیصلہ کیا کہ پاکستان میں لگائی گئی پابندیوں کے پیش نظر وہ پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں گے۔ 1970ء کے انتخابات میں قادیانی، ووٹروں کی فہرستوں میں بطور ووٹر شامل تھے اور انتخابات مخلوط ہونے کے باعث ان کے ووٹوں کی، ان علاقوں میں اہمیت تھی۔ جہاں ان کی اکثریت تھی۔ لیکن ضیاء شہید نے ایک تو انتخابات کا طریق کار بدلا اور جداگانہ طریق انتخاب کا اعلان کیا تاکہ اقلیتی جماعتیں اپنے نمائندے اپنے لوگوں میں سے چنیں، دوسرے اجتماعی مفادات پر ضرب نہ لگا سکیں۔

قادیانیوں نے اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا تھا، اس لیے انہوں نے اپنے نام ووٹروں کی لسٹ میں بطور غیر مسلم اقلیت درج نہ کرائے۔ یہ طریق عمل ربوہ جماعت کا تھا لیکن لاہوری جماعت، گوجرانوالہ کی اروپی جماعت جو مرزا غلام احمد قادیانی کو صاحب شریعت نبی اور رسول مانتی ہے، اس نے بطور قادیانی اپنے نام درج کرائے۔

قادیانی جماعت نے پیپلز پارٹی کے اکثر انتخابی امیدواروں کے لیے ہر سطح پر کام کیا اور ان سے خفیہ معاہدے کیے۔ قادیانیوں کی تنظیموں خدام احمدیہ اور لجنہ اما اللہ نے جماعت کے مربیوں کے احکامات کی روشنی میں اپنی مذموم سرگرمیاں جاری رکھیں۔ الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی اور قادیانیوں میں مستقل معاہدات ہو چکے ہیں اور وہ ایک

صفحہ 417

دوسرے کے مفادات کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔

وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو جب لندن تشریف لے گئیں تو قادیانیوں نے ان کی ہر طرح سے پذیرائی کی اور ان کے وفد کے کئی ارکان مرزا طاہر احمد کے قصر خلافت سرے‘ کے چکر لگاتے دیکھے گئے۔ اس ساز باز کا نتیجہ ہے کہ نسیم احمد قادیانی کو اقوام متحدہ میں ہمارا مستقل نمائندہ بنا دیا گیا۔ کنور ادریس قادیانی سندھ کے چیف سیکریٹری ہیں۔ سندھ انتظامیہ کی سرپرستی کے باعث قادیانی 1984ء کے آرڈیننس کی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر رہے ہیں۔ حکومت نے جن قیدیوں کو معافی دی ہے‘ ان میں سکھر کیس اور ساہیوال کیس کے قادیانی مجرموں کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔ حالانکہ ان کا جرم پورے ملک پر آشکارا ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ان تمام محکموں میں جہاں قادیانی پہلے دبک کر بیٹھے تھے‘ اب کھل کر سامنے آگئے ہیں اور دندناتے پھر رہے ہیں۔ وہ اپنی تعیناتیوں اور ترقیوں کے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔ کئی وفاقی وزراء کو قادیانیوں کے وفود نے مل کر اپنے مفادات کی فہرستیں پیش کی ہیں۔

پنجاب میں قادیانیوں نے نواز شریف کی حکومت کے خلاف کئی قسم کی سازشوں کا جال پھیلا رکھا ہے۔ جڑانوالہ‘ ننکانہ صاحب‘ گجرات وغیرہ میں قادیانیوں نے جان بوجھ کر مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کیا اور ایک تصادم کی فضا پیدا کی تاکہ پنجاب حکومت کے لیے سیاسی دشواریاں پیدا کی جائیں۔ ان علاقوں کے واقعات کو پنجاب حکومت کے خلاف استعمال کرنے کے لیے قادیانیوں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور عالمی انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کو تاریں دیں۔ بیرونی پریس کے نمائندوں کو راولپنڈی کے امیر جماعت نے ایک بریفنگ میں ان واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا اور بیرونی پریس کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالا۔

گزشتہ دنوں شیخوپورہ کے انتخابات میں قادیانیوں نے پی پی کے امیدوار کے لیے درپردہ کام کیا۔ جماعت احمدیہ لاہور کے امیر کی سربراہی میں قادیانیوں نے ایک سیل بنا کر اس انتخابات میں مداخلت کی جس کی خبریں اخبارات میں شائع ہوئی۔

آخر میں عرض ہے کہ پنجاب حکومت کے خلاف قادیانی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے اور لندن سے آنے والے قادیانی لٹریچر اور دوسرے مواد کو پوری طرح سے سنسر کرنا چاہیے جس میں اسلام دشمن مواد موجود ہوتا ہے۔ قادیانیوں کی عمومی

صفحہ 418

سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جائے اور ان کے بیرونی مشنوں کی اسلام دشمن کارروائیوں کو طشت از بام کرنا چاہیے۔"

(ہفت روزہ سیاسی لوگ لاہور 13 جنوری 1990ء)

بے نظیر بھٹو کے خلاف اسلام بیانات

20 جولائی 1990ء)

(روزنامہ جنگ لاہور 22 اکتوبر 1991ء)

کا مذاق اڑاتے ہوئے وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ”یہ کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ تعلیم یافتہ عورت کی گواہی ایک ان پڑھ مرد کے مقابلے میں آدھی ہو۔" (روزنامہ جنگ 3 مارچ 1990ء)

1990ء)

نظام قصاص و دیت نافذ کیا گیا تو بے نظیر نے کہا کہ ”صدر نے اسلام کے نام پر قصاص و دیت کا خوفناک قانون رائج کر دیا ہے۔" (روزنامہ جنگ 22 اگست 1989ء)

ہے) نے کہا کہ ”صدر پاکستان اور وزیراعظم کے مسلمان ہونے کی شرط غیر ضروری ہے۔" (روزنامہ جنگ لاہور 22 اگست 1989ء)

جھانسہ ہے، دھوکہ ہے، فریب کا پردہ ہے، ملا اور فوجی نہایت بے حیا اور بدچلن رہے ہیں۔" (سندھ کوارٹرلی 89-1987ء)

جنگ کوئٹہ 15 مئی 1989ء)

صفحہ 419

گا۔“ (روزنامہ نوائے وقت لاہور 10 اگست 1992ء)

ہے۔“ (روزنامہ نوائے وقت لاہور 10 اگست 1992ء)

(روزنامہ جسارت کراچی 8 نومبر 1992ء)

ہوگا۔“ (روزنامہ جسارت کراچی 8 نومبر 1992ء)

نومبر 1992ء)

بے نظیر نے مذہبی اقلیتوں کے بارے میں بیان

قادیانیوں کو خوش کرنے کے لیے دیا ہے

”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ترجمان مولانا اللہ وسایا نے پیپلز پارٹی کی شریک چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کے بیان کہ ”مذہبی بنیاد پر کسی کو اقلیت قرار نہیں دیا جا سکتا“ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بے نظیر کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر مذہبی بنیاد پر کسی کو اقلیت قرار دینا جرم ہے‘ تو اس کا ارتکاب سب سے پہلے پیپلز پارٹی کے عہد اقتدار میں ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا۔ مولانا نے کہا کہ انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ذوالفقار علی مرحوم کی جو سب سے بڑی نیکی تھی‘ آج ان کی بیٹی اس نیکی کو‘ بدی میں تبدیل کرنے کے لیے پر تول رہی ہے اور ان کا یہ بیان محض مرزائیوں کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ نواب محمد احمد خان کیس میں مسعود محمود وعدہ معاف گواہ تھا اور جس کے بیان پر بھٹو کو پھانسی کی سزا ہوئی۔ وہ شخص مسعود محمود ایف ایس ایف کا سربراہ اور قادیانی تھا۔ اس کے بعد سابق وزیر خارجہ ظفراللہ خاں قادیانی نے کہا تھا کہ بھٹو کا باون سال کی عمر میں مرنا‘ مرزا قادیانی کی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ مرزا نے کہا تھا کہ ”باون سال کی عمر میں ایک کتا مرے گا“۔ مولانا نے کہا کہ مرزا بشیر الدین کی موت پر یہ پیشنگوئی پوری ہوگئی تھی اور ہماری اس گرفت پر مرزائیوں کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ مولانا نے کہا‘ مرزائیوں نے مس بے نظیر بھٹو کے باپ کو انتقال کے بعد بھی معاف نہ کیا بلکہ ان کے متعلق ایسی زبان استعمال کی‘ جس سے انسانیت کی جبین

صفحہ 420

شرم سے عرق آلود ہو گئی۔ آج اپنے باپ کے قاتلوں کی صفائی کے لیے بے نظیر‘ یہ وطیرہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مولانا اللہ وسایا نے مس بے نظیر بھٹو کے اس بیان کے باقی مندرجات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جداگانہ انتخابات‘ دو قومی نظریہ پاکستان کا منطقی نتیجہ اور اس کی عملی تفسیر ہے‘ اس سے انحراف گویا نظریہ پاکستان سے انحراف ہے۔ تنگ نظر ملاؤں کا طعنہ دے کر مس بے نظیر نے اپنے سیاسی قدوقامت میں اضافہ نہیں کیا اور نہ ہی ان کے اس طعنہ سے قادیانی غیر مسلم اقلیت کے احتساب کے فریضہ سے ہم کنارہ کش ہو سکتے ہیں“۔

(روزنامہ ”نوائے وقت“ ملتان‘ ۱۸؍ مئی ۱۹۸۷ء)

ایں گناہیست کہ.....

”پیپلز پارٹی کی شریک چیئرپرسن بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی برادری کو صرف مذہبی عقائد کی بنا پر اقلیت قرار دینے کی حمایت نہیں کرتیں۔ ہم سب پاکستانی ہیں اور صرف یہی ایک بات اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کا قیام‘ اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک منصفانہ سماج تشکیل دینے کے لیے عمل میں آیا تھا اور اسلامیان برصغیر نے دو قومی نظریے کی بنا پر ایک علیحدہ وطن کی تشکیل کے لیے سرفروشانہ جدوجہد کی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد بابائے قوم قائد اعظم اور دوسرے قائدین نے واشگاف الفاظ میں اقلیتوں کو یہ یقین دہانی کرائی کہ ملک میں ان کے حقوق محفوظ رہیں گے اور انہیں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پاکستان میں باوقار زندگی بسر کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ گزشتہ چالیس سال سے یہاں اقلیتیں جس سکون اور چین سے زندگی گزار رہی ہیں‘ اس کا اعتراف اقلیتی قیادت نے ہمیشہ کیا ہے۔ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ‘ ان اقلیتوں کے خوشگوار تعلقات اور ملکی اتحاد و یکجہتی کے لیے ان کی بے پایاں خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا کریڈٹ جہاں ملک کے مسلم عوام کو جاتا ہے‘ وہاں ہمارے اقلیتی بھائی بھی اس میں برابر کے شریک ہیں۔

پاکستان کے ہر آئین میں غیر مسلم اقلیتوں کو ان کے شایان شان حقوق دیے گئے ہیں اور جہاں ہمسایہ ملک بھارت میں اس وقت بائیس ہزار سے زائد مسلم کش فسادات ہو چکے ہیں‘ وہاں پاکستان میں کسی غیر مسلم اقلیت اور مسلمانوں کے درمیان فسادات کی کیفیت پیدا نہیں ہو سکی۔ انفرادی سطح پر کوئی ایسی کارروائی ہوتی ہے تو اسے غیر مسلم اقلیتوں نے بھی امتیازی سلوک سے تعبیر نہیں کیا۔ ۱۹۷۳ء کے آئین میں بھی‘ جسے مس بھٹو کے والد

صفحہ 421

گرامی ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی پارٹی اپنا ایک تاریخی کارنامہ قرار دیتی رہی ہے، مختلف اقلیتوں کے خصوصی حقوق کا تذکرہ موجود ہے اور ان کے لیے آبادی کی بنیاد پر جمہوری اداروں میں نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ بھٹو دور حکومت میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا اور پیپلز پارٹی اسے اپنے کارنامے کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ غیر مسلم اقلیتوں کی طرف سے مسلسل مطالبے کے بعد مارشل لاء عہد میں اقلیتوں کے لیے جداگانہ طرز انتخاب کا اصول طے کیا گیا، جو نظریہ پاکستان کی روح کے مطابق تھا۔ اگر برصغیر میں جداگانہ انتخاب اختیار نہ کیا جاتا تو پاکستان کا قیام عمل میں نہ آ سکتا، نیز اس طریقہ انتخاب سے اقلیتوں کو پہلی بار اپنے نمائندے خود منتخب کرنے کا موقع ملا جبکہ ماضی میں اسمبلیوں کے مسلمان ارکان، اقلیتی نمائندوں کا انتخاب کرتے تھے، جو سراسر زیادتی تھی۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ جداگانہ طرز انتخاب کا فیصلہ مارشل لاء کے نفاذ کے فوری بعد سیاسی جماعتوں کے مشورے سے کیا گیا تھا، جس میں مس بھٹو کے ساتھ ایم آر ڈی کے اتحاد میں شامل کئی پارٹیوں کے سربراہ بھی شریک تھے۔ اس پس منظر میں مس بے نظیر بھٹو کا بیان غیر ذمہ دارانہ اور اقلیتوں اور مسلم اکثریت کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

جداگانہ طرز انتخاب پر کسی اقلیت نے بھی اعتراض نہیں کیا بلکہ مسلمہ اقلیتوں نے اسے ایک مناسب انتظام قرار دیا ہے۔ جہاں تک قادیانیوں کی طرف سے عالمی سطح پر کیے جانے والے اس پروپیگنڈے کا تعلق ہے کہ ان کے ساتھ پاکستان میں امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے تو یہ اس لیے غلط ہے کہ قادیانیوں نے آج تک اتفاق رائے سے آئین میں کی جانے والی اس ترمیم کو قبول نہیں کیا، جو مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں کی گئی تھی۔ اس آئینی ترمیم کے تقاضوں کے مطابق اگر کوئی قانون سازی ہوتی ہے تو اس پر بے نظیر بھٹو کا اعتراض بے جا ہے۔ کیونکہ اس کا سہرا ان کی پارٹی اپنے سر باندھ چکی ہے۔ ملک کے کسی بھی مکتب فکر نے آج تک اقلیتوں سے امتیازی سلوک کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور اقلیتیں پاکستان میں محبت، بھائی چارے اور سکون کی فضا میں قومی کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس لیے سیاست دانوں کو اس نازک مسئلہ پر اظہار خیال سے قبل اس کے نتائج و عواقب کا ضرور جائزہ لے لینا چاہیے۔

پچھلے دنوں یہ خبر منظر عام پر آئی تھی کہ امریکہ پاکستان کے لیے، جو اقتصادی اور فوجی امداد کا بل منظور کر رہا ہے، اس میں پاکستان سے اقلیتوں کے ساتھ حسن سلوک کی یقین دہانی کی شرط بھی شامل ہے۔ اگرچہ امریکہ یا پاکستان کی طرف سے اس امر کی تصدیق نہیں ہو سکی لیکن اگر یہ اطلاع درست ہے تو مس بھٹو کا بیان بالواسطہ طور پر امریکہ کو یہ

صفحہ 422

باور کرانے کے مترادف ہے کہ پاکستان میں واقعی اقلیتوں کے ساتھ اچھوتوں کا سا برتاؤ ہو رہا ہے اور انہیں دوسرے درجے کا شہری بنانے کے لیے قانون سازی ہو رہی ہے۔ مس بھٹو کا یہ بیان حقائق کے منافی ہے اور اسے مسلم اکثریت اور غیر مسلم اقلیت دونوں قبول کرنے کو تیار نہیں ہوں گے“۔

(اداریہ روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، ۱۸ مئی ۱۹۸۹ء)

بے نظیر بھٹو کی قادیانیت نوازی

حساس ترین عہدوں پر قادیانیوں کا تقرر

۔ ”۱۶ نومبر کے عام انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران پیپلز پارٹی پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ملک کے ہندو‘ یہودی اور قادیانی لابی کے زیر تسلط لانے کے عزائم رکھتی ہے۔ جس کو اس وقت محض ایک سیاسی شوشہ سمجھا گیا‘ مگر یہ الزامات رفتہ رفتہ درست ثابت ہو رہے ہیں۔ بے نظیر پہلے ہندوؤں اور یہودیوں کی ناز برداریاں تو کر رہی تھیں‘ اب قادیانیوں کو بھی نواز رہی ہیں۔ مثلاً

اقتدار میں آنے کے بعد حکومت نے ایک قادیانی کنور ادریس کو سندھ جیسے حساس ترین صوبے کا چیف سیکریٹری مقرر کیا‘ جہاں بھارت ایک منظم طریقے سے تخریبی کارروائیاں کرا رہا ہے۔ اس تقرر پر ایم۔ آر۔ ڈی میں پیپلز پارٹی کی حلیف جماعت‘ جمعیت علماء اسلام کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمن نے وزیر اعظم سے شدید احتجاج کیا‘ جس پر انہوں نے چیف سیکریٹری کو تبدیل کرنے پر رضامندی بھی ظاہر کر دی۔ مگر وعدے پر عملدرآمد کی نوبت نہ آئی۔

اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی ادارے میں سفیر کے تقرر کا معاملہ پیش آیا‘ تو وزیر اعظم کی نظر میں جو شخص موزوں ترین قرار پایا‘ وہ ان کے والد کے دور کے سیکریٹری اطلاعات ایک قادیانی نسیم احمد تھے‘ وہ ۱۶ نومبر کے انتخابات کے فوری بعد پاکستان پہنچ گئے تھے اور بے نظیر بھٹو کے حلف اٹھانے کے کافی عرصے بعد تک اکثر اوقات وزیر اعظم کے ساتھ دیکھے گئے اور اہم ترین معاملات میں ان کے مشورے شامل تھے۔

وزیر اعظم نے تازہ ترین تقرر وزارت خارجہ میں کیا ہے اور ایک قادیانی قدیر الدین احمد کو وزارت خارجہ میں ایڈیشنل سیکریٹری مقرر کیا ہے‘ اور حد یہ ہے کہ ان

صفحہ 423

کے ذمہ جو شعبہ سپرد کیا گیا ہے، وہ قومی سلامتی کا ہے۔ قدیر الدین احمد پہلے بھی وزارت خارجہ میں تھے اور ان کی تعیناتی امریکہ میں تھی، وہاں اپنے قیام کے دوران اس افسر نے ایک یہودی لڑکی سے شادی کرلی اور حکومت سے، اس کی اجازت لینے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی، جو قواعد کی سنگین ترین خلاف ورزی تھی، اس پر وزارت خارجہ نے ان کے خلاف تحقیقات کی اور جرم ثابت ہونے پر ملازمت سے برطرف کر دیا، اس صورت حال میں یہودی لابی کی وساطت سے وہ اقوام متحدہ میں ملازم ہو گئے اور انہیں ٹوکیو تعینات کر دیا گیا۔

بے نظیر بھٹو اقتدار میں آئیں، تو انہیں دوسری وزارتوں کی طرح وزارت خارجہ میں بھی ”دشمن ہی دشمن“ نظر آئے۔ اور انہوں نے اپنے دو مشیر اقبال اخوند اور ڈاکٹر نصیر اے شیخ قادیانی وزارت خارجہ میں لا بٹھائے۔ تمام ملاقاتیوں اور غیر ملکی دوروں میں اقبال اخوند ساتھ ساتھ ہوتے ہیں اور صدر مملکت سے، جو اہم غیر ملکی شخصیتیں ملاقات کرتی ہیں، اس وقت تو اقبال اخوند کی موجودگی لازمی ہوتی ہے، وزارت خارجہ میں ”دوستوں“ کو لانے کے پروگرام کے تحت قدیر الدین احمد کو پاکستان بلایا گیا، اور بطور ایڈیشنل سیکریٹری، انہیں وزارت خارجہ میں تعینات کر دیا گیا اور جو ذمہ داری ان کے سپرد کی گئی، وہ قومی سلامتی کی ہے۔ وہ براہ راست اقبال اخوند کی نگرانی میں کام کرتے ہیں اور قومی سلامتی سے متعلق حساس ترین فائلیں ان کی دسترس میں آگئی ہیں۔

آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کے تقرر، سیکورٹی کلیرنس کے بغیر آئی ایس آئی میں 24 افراد کی بھرتی، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) میں ایک جیالے کے بطور ایڈیشنل ڈائریکٹر تقرر اور اب وزارت خارجہ میں ایک قادیانی کے تقرر سے داخلی اور خارجی امور دونوں کے رازوں تک جیالوں کی پہنچ ہو گئی ہے۔ وزارت عظمیٰ، جیسے اہم ترین منصب پر فائز بے نظیر بھٹو اگر قومی راز لندن کے ہوٹل میں چھوڑ سکتی ہیں، تو ان جیالوں سے کیا کچھ بعید نہیں۔“

(ہفت روزہ تکبیر کراچی 7 ستمبر 1989ء)

اسلام کو مذاق نہ بنائیں

”وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے گزشتہ روز لاہور ایئر پورٹ پر اخبار نویسوں سے

صفحہ 424

باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کی بالا دستی پر یقین رکھتے ہیں اور انسانوں کے ہاتھ یا پاؤں کاٹنا مناسب نہیں سمجھتے۔ شریعت بل کے بارے میں قومی سطح پر جو بحث مباحثہ ہو رہا ہے یہ تو ایک جمہوری معاشرے کی علامت ہے تاکہ منتخب ایوانوں کی طرف سے منظور ہونے والا قانون ہر قسم کی خامیوں سے پاک ہو لیکن حکومتی ارکان نے اس سلسلے میں بیان بازی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، یہ بسا اوقات ملک کے مسلم عوام کے بنیادی عقائد اور دینی رجحانات سے بھی متصادم ہونے لگتا ہے جسے قابل رشک قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پچھلے دنوں قانون دان وزیر داخلہ نے یہ بیان دیا تھا کہ قومی اسمبلی شریعت بل کو منظور کر کے اپنے مینڈیٹ کی نفی کرے گی اور اب وزیر اعظم نے محاورۃ ہی سہی، اسلامی سزاؤں کے بارے میں ہی یہ رائے دے دی ہے کہ یہ مناسب نہیں۔ حالانکہ شریعت بل کے محرکین نے بھی کبھی پارلیمنٹ کی بالا دستی کو چیلنج نہیں کیا اور ان کی طرف سے ایوان بالا میں اسے پیش کرنا اور منظوری حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں اور اس مسئلہ کو سڑکوں پر حل کرنے کے قائل نہیں۔ انہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا نہ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شریعت بل پارلیمنٹ سے بالا بالا منظور کر کے قانون سازی کا اختیار عدلیہ کو دے دیا جائے۔ البتہ ایک اسلامی معاشرے میں پارلیمنٹ مادر پدر آزاد نہیں ہوتی، وہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کے اسلامی احکام کے تابع ہوتی ہے اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی اس کی مکلف ہے کہ وہ کوئی ایسی قانون سازی نہیں کر سکتی جو قرآن و سنت کے منافی ہو۔ شریعت بل میں بھی یہی بات بالفاظ دیگر کہی گئی ہے جس سے پارلیمنٹ کی بالا دستی متاثر نہیں ہوتی۔ جہاں تک ہاتھ کان یا ناک کاٹنے کا تعلق ہے تو یہ صرف مجرموں اور انسان دشمن عناصر کے ہی کاٹے جاتے ہیں اور جو لوگ انسانی شرف کا لحاظ نہ کرتے ہوئے دوسرے انسانوں کے لیے اذیت، خوف اور فساد کی علامت بن جاتے ہیں انہیں ہر معاشرے میں سزا دی جاتی ہے۔ اگر انسانی حقوق کا یہ تاثر قبول کر لیا جائے تو پھر کسی قاتل کو پھانسی اور چور کو قید میں ڈالنے کا بھی جواز باقی نہیں رہتا، ہم بیالیس سال سے انگریز کے قانون کے تحت قاتلوں کو سزائے موت دیتے چلے آ رہے ہیں لیکن کسی نام نہاد روشن خیال دانشور نے اسے نامناسب نہیں کہا۔ خود محترمہ نے بھی ان سزاؤں کے بارے میں کبھی اظہار خیال نہیں کیا لیکن اسلامی سزاؤں کے بارے میں نامناسب ہونے کی بات کر رہی ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہم معاشرے کو ڈاکوؤں، دہشت

صفحہ 425

گردوں‘ قاتلوں اور جرائم پیشہ افراد کے حوالے کرنا چاہتے ہیں یا اسے ایک مثالی اسلامی معاشرہ بنانے کے خواہاں ہیں جو جرائم سے پاک ہو۔ شریعت بل کو مختلف مکاتب فکر کے لیے قابل قبول ضرور بنایا جائے اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا اہتمام بھی ضرور ہونا چاہیے جیسا کہ علامہ اقبال بھی اس کے خواہاں تھے لیکن شریعت بل پر تنقید کے بہانے‘ اسلام اور اس کے نظام تعزیرات کو مذاق نہ بنایا جائے‘ یہ نہ صرف ملک کے عوام کے ساتھ زیادتی ہوگی بلکہ پارلیمنٹ کے بارے میں بھی یہ تاثر پیدا ہو گا کہ وہ شریعت کے نفاذ سے گریزاں ہے۔“

(ادارتی نوٹ روزنامہ نوائے وقت لاہور 21 جولائی 1990ء)

قرآنی احکامات کی توہین اور سرعام مخالفت کرنے پر

بے نظیر بھٹو کو سزائے موت دی جائے

”بے نظیر نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزیراعظم کی حیثیت سے شیطان رشدی سے بہت بڑا اور گھناؤنا جرم کیا ہے۔

بے نظیر حکومت نے نام نہاد جمہوریت کے نام پر جس طرح ملک و قوم کو تباہ کرنے اور قومی خزانے کی لوٹ مار کا منصوبہ تیار کیا ہے‘ اسی طرح وہ اسلامی احکامات کی خلاف ورزی اور اسلامی شعائر کی سرعام توہین کے مکروہ افعال کی بھی مرتکب ہو رہی ہے۔ وزیراعظم بے نظیر‘ ان کی والدہ سینئر وفاقی وزیر بیگم نصرت بھٹو اور ان کے وزراء شعائر اسلام کی توہین و تضحیک کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ حال ہی میں انہوں نے منتخب پارلیمنٹ کو اللہ کی امانت قرار دیتے ہوئے اسلامی سزاؤں کا ان الفاظ میں مذاق اڑایا کہ ”ہم انسانوں کے کان یا ہاتھ کاٹنے کو مناسب نہیں سمجھتے“ بے نظیر کے ان ریمارکس پر محب وطن مسلمانوں کی طرف سے زبردست غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ علماء کرام نے کہا ہے کہ اسلامی احکامات پر ناپسندیدگی کا اظہار کرنے والا قابل گردن زدنی ہے۔ محب وطن پاکستانی عوام نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو‘ شیطان رشدی سے بھی بڑے اور گھناؤنے جرم کی مرتکب ہوئی ہیں کیونکہ رشدی ایک فرد واحد ہے جبکہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزیراعظم ہیں۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بے نظیر کو

صفحہ 426

اسلامی شعائر کی توہین اور قرآنی احکامات کی مخالفت کرنے پر سزائے موت دی جائے۔"

(اداریہ ہفت روزہ ”سیاسی لوگ“ لاہور 27 جولائی 1990ء)

پی پی پی کی قیادت سے عوام پوچھتے ہیں

قادیانیوں کو کس صلہ میں نوازا جا رہا ہے؟

بھٹو کے بدترین دشمن بن گئے تھے۔ چنانچہ مسٹر بھٹو کو تختہ دار تک پہنچانے میں سب سے بڑا ہاتھ مسعود محمود قادیانی کا تھا جس نے وعدہ معاف گواہ بن کر مسٹر بھٹو کے خلاف شہادت دی، جس کے نتیجے میں مسٹر بھٹو کو سزائے موت ہوئی۔ اس طرح قادیانیوں نے مسٹر بھٹو سے ۱۹۷۴ء کے فیصلہ کا انتقام لیا۔

موت پر یہ فقرہ چسپاں کیا کلب یموت علی کلب ”یعنی کتا کتے کی موت مرے گا“۔ (انٹرویو چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی مندرجہ ”آتش فشاں“ لاہور یکم مئی ۱۹۸۲ء)

ہیں۔ لیکن مقام تعجب ہے کہ پی پی پی کی حکومت اس جماعت کو نواز رہی ہے۔ جس نے پی پی پی کے بانی مسٹر بھٹو کی وفات پر ”کتا کتے کی موت مرے گا“ کا نامعقول فقرہ استعمال کر کے اپنی بدباطنی کا ثبوت فراہم کیا تھا۔ قادیانی پی پی پی کی قیادت کو دھوکہ دے کر جس طرح مفادات حاصل کر رہے ہیں، ذیل میں ہم اس کی چند مثالیں پیش کرتے ہیں۔ ورنہ تو اس قسم کی بیسیوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔

منعقد کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ (لیکن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی بھرپور کوششوں سے ان کا جلسہ نہ ہو سکا)

منتظر تھے، وزیراعظم بنتے ہی محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان کی سزائے موت منسوخ کر کے اسے عمر قید میں تبدیل کر دیا۔

صفحہ 427

بادشاہ“ کنور ادریس قادیانی کو بنا کر سندھی عوام کی گردن پر اس کو مسلط کر دیا۔ بارہا اس کے تبادلہ کا اعلان ہوا مگر حکومت نے ”کہا کچھ اور کیا کچھ“ کی منافقانہ پالیسی پر عمل کیا۔ حکومت کی اس سے بڑی کذب بیانی کیا ہوگی کہ اس کے تبادلہ کے اعلان کے باوجود زیر سطور کی تحریر کے وقت (۲۴ مئی ۸۹ء) بھی وہ قادیانی صوبہ سندھ کا چیف سیکرٹری ہے۔ دنیا میں حکومتی سطح پر اس دھوکہ و کذب بیانی کی مثال نہیں ملتی۔

نمائندگی کا اعزاز بخشا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے ساڑھے سات کروڑ مسلمانوں کا یہ نمائندہ وزیر اعظم کی معیت میں مجوزہ دورہ پر امریکہ بھی جا رہا ہے، جبکہ اس سے پہلے نسیم احمد قادیانی کو پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کا انچارج بنایا گیا حالانکہ قادیانی جماعت کے سربراہ نے خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایک سازش کے تحت قادیانیوں کو آگے لایا جا رہا ہے جو باعث تشویش ہے۔

بریلوی اور اہلحدیث میں کوئی فرق نہیں سمجھتے۔

بطور اسٹینڈنگ کونسل مقرر کر دیا گیا ہے۔

ہو رہی ہے۔

متعصب اور سڑے ہوئے قادیانی کو مقرر کیا، جس کے ذریعہ اسے علاقے کے لوگوں کو مرتد بنانے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔

گورنمنٹ نے اس جشن پر پابندی عائد کر دی، اس لیے پنجاب میں قادیانی جشن نہیں منایا جا سکا، لیکن جن صوبوں میں پی پی پی کی حکومت تھی، خصوصاً پی پی پی کے صوبہ سرحد میں قادیانیوں نے زور و شور سے جشن منایا اور سندھ کے اعلیٰ حکام

صفحہ 428

خصوصاً قادیانی چیف سیکرٹری نے ان سے بھرپور تعاون کیا۔

کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اندرون سندھ قادیانی امتناع قادیانیت آرڈیننس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کر رہے ہیں۔ پی پی پی کے حکام کو اس کی طرف بار بار توجہ دلائی گئی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ گویا قادیانیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔

کتنے جری ہوگئے ہیں، اس کا اندازہ ذیل کے واقعات سے ہو سکتا ہے۔

آتش کر دیا اور فائرنگ کر کے دو مسلمانوں کو زخمی کر دیا۔

شامل تھا) نے فائرنگ کر کے دو مسلمانوں کو زخمی کر دیا۔ اصل ملزم تاحال گرفتار نہ ہو سکا۔

قادیانی موقع پا کر فرار ہو گیا۔

قرآن پاک کے پندرہ نسخوں کو نظر آتش کر دیا گیا۔

کہ مرزا طاہر پاکستان واپس ضرور آئے گا اور امتناع قادیانیت آرڈیننس منسوخ ہوگا۔ ان حالات میں پاکستان کے عوام پی پی پی کی قیادت سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ قادیانیوں کو کس خدمت کے صلہ میں نوازا جا رہا ہے۔ کیا اس لیے کہ قادیانیوں نے مسٹر بھٹو کی وفات پر اپنی بدفطرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جشن مسرت منایا تھا اور ان کی وفات کو اپنی سچائی کی دلیل قرار دیا تھا۔

سدباب کرے اور متذکرہ امور کی عملی تلافی کرے۔ کہیں اس قسم کے سنگین واقعات قادیانیوں کے خلاف کسی نئی تحریک کا پیش خیمہ نہ بن جائیں۔

(عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان)

صفحہ 429

بے نظیر کی مغربی عادات و اطوار

(برطانوی جریدے ”پرائیویٹ آئی“ کا ایک کالم)

”آبزرور“ لندن کی اشاعت یکم جون 1986ء میں بے نظیر بھٹو سے آئن جیک کا ایک انٹرویو شائع ہوا ہے جس میں اس نے بھٹو خاندان کی سیاست اور قائدانہ صلاحیتوں کا مبالغہ آمیز تذکرہ کرنے کے ساتھ ساتھ بعض انوکھے اور دلچسپ انکشافات بھی کیے ہیں‘ اس انٹرویو کی تفصیلات ”تکبیر“ کی آئندہ اشاعت میں پیش کی جائیں گی۔ اس دوران لندن کے ایک اور جریدے ”پرائیویٹ آئی“ نے‘ آئن جیک کی تحریر پر جو گرفت کی ہے‘ اس کی مختصر خبر ملاحظہ فرمائیے۔

لندن کے جریدے ”پرائیویٹ آئی“ کے کالم گردویل کے کالم نگار نے لکھا ہے کہ آبزرور میں بے نظیر بھٹو کے بارے میں آئن جیک کے مضمون نے مجھے حیرت زدہ کر دیا ہے جس میں آئن جیک نے مس بے نظیر بھٹو کو مثالی مسلم خاتون ظاہر کیا ہے۔ 12 جون کی اشاعت میں ”پرائیویٹ آئی“ کے کالم نگار نے تحریر کیا ہے کہ بے نظیر کا جیک کو یہ بیان کہ انہوں نے کبھی رقص نہیں کیا‘ قطعی غلط ہے۔ وہ آکسفورڈ میں ٹرانسو سسائن ڈانسنگ کلب کبھی کبھی جاتی تھیں اور پیٹر ہیڈن کے اس کلب میں بھی انہوں نے رقص کیا۔ انہوں نے ایک مقبول برانڈ کی ٹی شرٹ کے لیے ماڈلنگ بھی کی۔ اسٹوڈنٹ میگزین ”چرویل“ نے اس تصویر کی ایک کاپی حاصل کر لی‘ تاہم اس کی اشاعت سے قبل اسے الگ کر دیا گیا۔ کالم نگار کا کہنا ہے کہ ان تمام باتوں سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ بیان ہے کہ بے نظیر لڑکوں سے ملتی ہی نہیں تھیں یا پھر شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا تھا۔ جو لوگ انہیں جانتے ہیں‘ انہیں معلوم ہے کہ وہ تفریح پسند تھیں اور فل ڈلٹن‘ ٹونی فرائی اور سائمن واکر سے ان کی نوک جھونک رہتی تھی۔ کالم نگار نے دعویٰ کیا کہ مس بے نظیر کی سب سے زیادہ سائمن واکر سے وابستگی تھی جس سے وہ 1975ء میں نیوزی لینڈ میں ملی تھیں۔ اور نیوزی لینڈ ٹیلی ویژن کے لیے انہوں نے اپنے والد کے انٹرویو کے لیے سائمن کی پاکستان روانگی کا انتظام کیا تھا۔ بعض لوگ آکسفورڈ اور لندن میں مس بے نظیر بھٹو کی مغربی عادات و اطوار کا کھوج لگا رہے ہیں تاکہ ان کے خلاف مہم چلانے کے لیے ان عادات و اطوار کے بارے میں ثبوت استعمال کئے جاسکیں۔ کالم نگار نے کہا ہے کہ ہارورڈ

صفحہ 430

بھی ایک ایسی ہی جگہ ہے جہاں کی کہانیاں ان کے اسلامی اطوار کی تصویر سے مطابقت نہیں رکھتیں۔“

(ہفت روزہ تکبیر کراچی‘ 26 جون 1986ء)

کوثر نیازی

فرماتے ہیں ”حضرت مریمؑ کی طرح بے نظیر کی تعریف ممکن نہیں۔ جس طرح حضرت مریمؑ کی اتنی تعریف کافی ہے کہ وہ حضرت عیسیٰؑ کی والدہ ہیں‘ اسی طرح میں یہ کہوں گا کہ وہ بھٹو کی بیٹی ہیں۔“

(نوائے وقت کراچی 17 مئی 1993ء)

بے نظیر بھٹو دنیا کی پانچ انتہائی پرکشش خواتین میں شامل ہیں

”وزیر اعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو پانچ انتہائی پرکشش خواتین میں سے ایک ہیں۔ بھارتی فلم میلہ کے سروے کے مطابق بے نظیر بھٹو دنیا کی ان پانچ خواتین میں چوتھے نمبر پر ہیں جن کی ترتیب اس طرح ہے۔ میگریان‘ ریکھا‘ دلشاد‘ بے نظیر بھٹو اور کرشمہ کپور۔“

(روزنامہ خبریں لاہور 6 مارچ 95ء)

بے نظیر بھٹو دنیا کی دس انتہائی پرکشش شخصیات میں سے ایک

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خاتون وزیر اعظم کے لیے پیرس کے ادارے کا

ایوارڈ برائے 1988ء

”دنیا بھر کے ارب پتی لوگوں‘ ہالی وڈ کے فنکاروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اونچی سوسائٹی کی پرکشش اور جاذب نظر شخصیات کی سرگرمیوں کی‘ اہتمام کے ساتھ اشاعت کے لیے مشہور پیرس کے انتہائی فیشن ایبل جریدے ”دی بیسٹ“ نے جن دس شخصیات کو انتہائی پرکشش (موسٹ گلیمرس) ہونے کا ایوارڈ برائے 1988ء دیا ہے‘ ان میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خاتون

صفحہ 431

وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو بھی شامل ہیں۔ یہ ادارہ ہر سال دنیا بھر سے منتخب کی جانے والی ایسی دس شخصیات کو یہ ایوارڈ دیتا ہے۔ جریدے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اس بار یہ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں (Swedish Sex Bomb) کہلانے والی اور راکی و رامبو کے کردار ادا کرنے والے مشہور فلمی اداکار سلویسٹر اسٹالن کی سابقہ بیوی برجیٹ نیلسن بھی شامل ہے۔ تقسیم انعامات کی تقریب 19 دسمبر کو پیرس میں منعقد ہوئی، جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی نمائندگی ان کے مشیر جناب نسیم احمد (قادیانی)، بیگم نسیم احمد (قادیانی) اور پاکستانی سفیر جناب شاہد امین (قادیانی) نے کی۔ بے نظیر بھٹو کی جانب سے ایوارڈ جناب نسیم احمد (قادیانی) نے وصول کیا۔"

(ہفت روزہ تکبیر کراچی 12 جنوری 1989ء)

جدید مسلمان عورت؟

"ملکہ الزبتھ کے چھوٹے صاحبزادے ایک فلم بنا رہے ہیں، جس کا موضوع " جدید مسلمان عورت" ہو گا۔ اس فلم میں بے نظیر بھٹو کی شخصیت و کردار اور خیالات کو مرکزی اہمیت دی جائے گی۔"

(ارشاد احمد حقانی کا کالم حرف تمنا، روزنامہ جنگ لاہور، 9 دسمبر 94ء)

لبرل خاتون وزیر اعظم

"پچھلے دنوں مس رابن رافیل بمبئی میں تھیں۔ ایک ہندوستانی صحافی نے ان سے ایک سوال میں پاکستان میں بنیاد پرستی کی طرف اشارہ کیا تو مس رافیل نے جواب دیا۔ " آپ مجھے پاکستانی حکمرانوں کی بنیاد پرستی سے ڈرا رہے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ایک اعتدال پسند اور لبرل خاتون وزیر اعظم ہے، ہمیں جس کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس کی حمایت کرنی چاہیے۔"

(ارشاد احمد حقانی کا کالم حرف تمنا، روزنامہ جنگ لاہور 9 دسمبر 94ء)

بے نظیر کا مداح __ سلمان رشدی

صفحہ 432

”سلمان رشدی کی جو متعدد کتابیں حال میں یہاں دیکھنے میں آئیں‘ معلوم نہیں‘ ان میں سے کوئی پاکستان پہنچی یا نہیں‘ ان میں سے ایک کتاب Imaginary.Homelands بھی ہے‘ جو اس کے مضامین‘ شخصی خاکوں اور تبصروں کا مجموعہ ہے اور لندن سے شائع ہوا ہے۔ اس کی یہ تحریریں 1981ء اور 1991ء کے درمیانی عرصہ کی ہیں۔ موضوعات کا تعلق زیادہ تر ادب اور سیاست سے ہے۔ ان میں دو تحریریں ایسی بھی ہیں‘ جن میں اس نے ضیاء الحق شہید اور بے نظیر کے بارے میں راست اپنے تاثرات تحریر کئے ہیں اور یہ ایک لحاظ سے اس کے ذہن و نظریہ کے واضح مظہر بھی ہیں۔ ضیاء الحق کے بارے میں‘ اس نے اپنے جو خیالات و تاثرات تحریر کئے ہیں‘ ان کے حوالہ سے اس کے اور ضیاء الحق کے درمیان ویسا ہی ذہنی و نظری فاصلہ نظر آتا ہے‘ جیسا قرونِ اولیٰ کے اکابرِ اسلام اور رسولِ اکرم ﷺ اور اس کے درمیان محسوس ہوتا ہے۔ اپنی کتاب Satanic Verses میں ان اکابر کے لیے اس نے علامتوں اور حکایتوں کے پردے میں جو زبان استعمال کی تھی‘ شاید دشمنانِ اسلام بھی ایسی رکیک اور غیر شائستہ زبان استعمال نہ کرتے اور اسی طرح جو زبان اس نے ضیاء الحق کے لیے استعمال کی ہے‘ وہ بھی اس کی ذہنی خباثت اور فطری غلاظت کا اظہار کرتی ہے۔ اس طرح دیگر اکابرِ اسلام کی طرح دراصل ضیاء الحق کی عظمت کا پہلو بھی اجاگر ہوتا ہے۔

دوسری جانب بے نظیر اس کی محبوب شخصیت ہے۔ اور اس حد تک محبوب کہ 1988ء میں پاکستان کے عام انتخابات کو موضوع بنا کر‘ ان کے حوالے سے وہ لکھتا ہے کہ ---- ”بے نظیر اور پیپلز پارٹی‘ پاکستان کے لیے بہترین توقعات کی حامل ہیں اور اگر ان انتخابات میں مجھے ووٹ دینا ہوتا تو میں اسی (بے نظیر) کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرتا۔“ (صفحہ 58‘ سطر 4 تا 7)“

(ہفت روزہ تکبیر کراچی 6 جون 96ء)

معاشقہ بے نظیر کا شیر پاؤ سے

”پگھلی ہوئی بے نظیر بھٹو اور حیات محمد شیر پاؤ کی پہلی ملاقات ہوئی تو اس پہلی ملاقات ہی میں بے نظیر بھٹو نے اپنا دل ہار دیا۔ مبینہ طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ گو حیات محمد شیر پاؤ بھی بے نظیر کو پسند کرنے لگا تھا۔ لیکن یہ سوچ کر بے نظیر کی حوصلہ افزائی کرنے

صفحہ 433

سے قاصر رہا تھا کہ وہ اس کی پارٹی کے چیئرمین کی بیٹی ہے، بے نظیر نے شیرپاؤ کی طرف سے سرد مہری کے باوجود اپنی چاہت کی گرمی میں کوئی کمی واقع نہ ہونے دی اور ایسا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیا، جس کے تحت وہ شیرپاؤ سے گفتگو بھی کر سکتی تھی اور اس کی مہمان نوازی کے مزے بھی لوٹ سکتی تھی۔

حیات محمد شیرپاؤ ایک قبول صورت صحت مند نوجوان تھا۔ بے نظیر بھٹو نے اس پر ڈورے ڈالنے کی بے حد کوشش کی۔ لیکن کامیاب نہ ہو سکی، اس کی بڑی وجہ شیرپاؤ کی طرف سے ان روایات کا پاس بھی تھا جو صدیوں سے پٹھانوں میں رائج ہیں اور جن کے تحت ایک سچا پٹھان اپنے دوست کی بیٹی کو کبھی بھی بری نظر سے نہیں دیکھتا۔ شیرپاؤ کی بے توجہی نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور بے نظیر کے دل میں بھڑکی ہوئی نفسانی خواہشات کی آگ کسی طرح بھی سرد نہ ہو سکی۔

بے نظیر بھٹو کو، جب حیات محمد شیرپاؤ کو اپنا بوائے فرینڈ بنانے میں ناکامی ہوئی تو اس نے خیال کیا کہ شیرپاؤ اخلاقی حدود میں مقید ہے۔ اس لیے غیر اخلاقی حرکات کا مرتکب نہیں ہو سکتا، اسے رام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اخلاقیات کا سہارا لیا جائے۔ اس خیال کے تحت آنسہ بے نظیر بھٹو نے شیرپاؤ کے سامنے نکاح کی تجویز رکھی اور کہا کہ وہ اسے خلوص دل سے چاہتی ہیں، اس لیے اس کے نکاح میں آنے پر تیار ہے۔

یہ ان ایام کا ذکر ہے جب حیات محمد شیرپاؤ سرحد کے گورنر بن چکے تھے، انہوں نے سوچا، وزیر اعظم کی بیٹی سے نکاح کر کے وہ وزیر اعظم کے داماد کی حیثیت سے مزید سیاسی قوت تو حاصل کر سکتے ہیں، لیکن سرحد کے عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والے ان شکوک و شبہات کو دور نہیں کر سکتے جو اس نکاح کے بعد ان کے دلوں میں پیدا ہوں گے اور وہ سوچیں گے کہ ان کے گورنر نے، سرحد کے غیور پٹھانوں کی روایات کو پامال کرتے ہوئے ایک دوست کی لڑکی پر بری نظر ڈالی تھی اور اب اسے پھانس کر اس سے شادی کر رہا ہے۔ اس اندیشے کے علاوہ شیرپاؤ کو بے نظیر سے نکاح کرنے سے جو چیز باز رکھ رہی تھی۔ وہ بے نظیر بھٹو کی رنگین مزاجی اور ضرورت سے زیادہ آزاد خیالی تھی، پھر شیرپاؤ پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ وہ بے نظیر بھٹو کو اپنے رسم و رواج کی پابندی پر مجبور نہ کر سکے گا۔ بے نظیر بھٹو ایک آزاد پنچھی ہے جسے ڈال ڈال پر

صفحہ 434

بیٹھنے کی عادت ہے۔ وہ لاکھ چاہے، بے نظیر کو اپنی عادت ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ ان وجوہات کے تحت جب حیات محمد شیرپاؤ نے بے نظیر بھٹو سے شادی کرنے سے بھی صاف طور پر انکار کر دیا تو بے نظیر نے اپنی اس چاہت کا حال اپنی ماں نصرت بھٹو سے بیان کیا۔ نصرت بھٹو نے اپنی بیٹی کو یقین دلایا کہ وہ اس کے والد کی وساطت سے شیر پاؤ کو اس شادی پر مجبور کر دے گی۔ اس بات چیت کو چند روز گزرے تو نصرت بھٹو نے ایک مناسب موقع پر اپنے شوہر ذوالفقار علی بھٹو کو بتایا کہ بے نظیر، حیات محمد شیرپاؤ کو پسند کرتی ہے اور اس کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے، یہ سن کر بھٹو نے اپنی بیوی کو اجازت دے دی کہ وہ اس سلسلہ میں گفت و شنید کرے اور یہ شادی طے کر دے۔ وہ بخوشی شیرپاؤ کو بحیثیت داماد قبول کرلے گا۔ بھٹو نے اس روز کے بعد سے شیرپاؤ کو اپنا بیٹا کہنا شروع کر دیا تھا۔ اب بھٹو اٹھتے بیٹھتے شیرپاؤ کو اپنا بیٹا کہتا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی اجازت کے بعد نصرت بھٹو نے شیرپاؤ کے بزرگوں سے ربط و ضبط بڑھانا شروع کر دیا اور آخر کار ایک مرحلہ پر حرف مدعا زبان پر لے آئی۔ نصرت بھٹو نے کہا کہ وہ حیات محمد شیرپاؤ کو اپنا ”منہ بولا“ بیٹا سمجھتی ہے اور چاہتی ہے کہ اس منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا بنا لے جو اسی طرح ممکن ہے کہ بے نظیر بھٹو اور حیات محمد شیر پاؤ کی شادی ہو جائے اور حیات محمد شیرپاؤ اس کا داماد بن کر اس کے بیٹے کی حیثیت حاصل کرلے۔

حیات محمد شیرپاؤ کے بزرگوں نے یہ تجویز سن کر فوری طور پر نہ تو اس تجویز کو منظور کیا اور نہ نامنظور بلکہ اس سلسلے میں غور و فکر کا وعدہ کیا اور یہ بھی کہا کہ شادی چونکہ شیرپاؤ کی ہو رہی ہے۔ اس لیے اس کی رضامندی بھی حاصل کرنا ضروری ہے شیرپاؤ کے بزرگوں کا موقف درست تھا۔ اس لیے نصرت بھٹو خاموش ہو گئی۔

ایک ہفتہ بعد نصرت بھٹو ایک بار پھر شیرپاؤ کے بزرگوں سے ملاقات کے لیے پشاور گئی۔ اس ملاقات میں شیرپاؤ کے بزرگوں نے نصرت بھٹو کو بتایا کہ بعض وجوہات کے تحت شیرپاؤ اور بے نظیر کی شادی نہیں ہو سکتی۔ کافی سوچ و بچار کے بعد ہم خود بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بے نظیر اور حیات محمد شیرپاؤ کا بھلا اسی میں ہے کہ ان کی شادی نہ ہو، کیونکہ دونوں کے خاندانی رسم و رواج اور تہذیب و تمدن میں واضح فرق ہے۔

یہ سن کر نصرت بھٹو مارے غصے کے آپے سے باہر ہو گئی اور شیرپاؤ کے بزرگوں کو برا بھلا کہنے لگی۔ نصرت بھٹو کا کہنا تھا کہ بھٹو صاحب چونکہ حیات محمد شیرپاؤ سے پیار

صفحہ 435

کرتے ہیں، اسے اپنا ”بیٹا“ کہتے ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ اس سے رشتہ داری قائم کر کے اسے نہ صرف اثر و رسوخ اور سیاسی طاقت کے لحاظ سے پاکستان کی شخصیت نمبر دو (وزیراعظم بھٹو کے بعد) بنا دیں بلکہ عوامی مقبولیت کے لحاظ سے بھی اس کا نہ صرف پاکستان بھر میں کوئی ثانی نہ ہو، بلکہ بیرون پاکستان بھی شیرپاؤ کو پسندیدگی کی نظروں سے دیکھا جائے۔ نصرت بھٹو کا کہنا تھا کہ اس کی بیٹی بے نظیر بھٹو پاکستان کی ذہین ترین دوشیزہ ہے، حسن و جمال، فہم و فراست اور پختہ سیاسی شعور کی مالک ہے۔ پاکستان کے علاوہ یورپ اور امریکہ میں بھی لوگ اس سے آشنا ہیں اور بعض حلقوں میں اس کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے۔

نصرت بھٹو نے اپنی بیٹی بے نظیر بھٹو کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے۔ لیکن شیرپاؤ کے بزرگوں پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا، ہوتا بھی کیسے؟ یہ حقیقت ان پر روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ بے نظیر بھٹو ایک آزاد خیال لڑکی ہے جو سرتاپا مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے، رقص و سرور کی محفلوں میں شرکت کرنے والی، بوائے فرینڈز بنانے کی شوقین، بے نظیر بھٹو گھونٹ گھونٹ شیمپین پی کر دل بہلانے کی عادت میں بھی مبتلا تھی اور شیرپاؤ کے بزرگوں کو اس کے ان سارے مشاغل سے آگاہی حاصل تھی۔

نصرت بھٹو کی طرف سے بے نظیر اور شیرپاؤ کی شادی کی تحریک سے قبل بے نظیر بھٹو جب کبھی پشاور آتی تھی، اس کا قیام صدر پیپلز پارٹی سرحد اور گورنر سرحد حیات محمد شیرپاؤ کے ساتھ ہوتا تھا۔ اس طرح شیرپاؤ کے بزرگوں کو اسے قریب سے دیکھنے کے مواقع مل گئے تھے اور اب یہ ناممکن تھا کہ وہ آنکھوں دیکھ کر مکھی نگل لیں، پھر جہاں تک حیات محمد شیرپاؤ کا تعلق تھا اور اس تعلق کو اس شادی میں بنیادی اہمیت حاصل تھی، اسے بے نظیر بھٹو سے اپنی شادی ناپسند تھی، دراصل وہ بے نظیر بھٹو کی عادات و خصائل سے بخوبی واقف تھا اور ان کی روشنی میں اس حتمی نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ وہ اور بے نظیر بھٹو شادی کر کے پر مسرت زندگی بسر نہیں کر سکتے۔

حیات محمد شیرپاؤ کے بزرگوں کی طرف سے صاف انکار کے بعد نصرت بھٹو پشاور سے اسلام آباد پہنچی تو مارے غصے اور شرمندگی کے اس کی حالت دگرگوں تھی۔ نصرت بھٹو نے اپنے شوہر ذوالفقار علی بھٹو کو شیرپاؤ کے بزرگوں کے صاف انکار سے مطلع کیا اور ساتھ ہی بے نظیر بھٹو کی اس سلسلہ میں بے تابی کا حال بیان کیا تو مسٹر بھٹو کو

صفحہ 436

انتہائی صدمہ ہوا اور وہ گہرے غور و فکر میں کھو گیا۔

بیان کیا جاتا ہے کہ بھٹو نے شیرپاؤ کے بے نظیر بھٹو سے شادی کے انکار کو اپنی بے عزتی پر محمول کیا۔ وہ جوں جوں اس مسئلہ پر غور کرتا، اس کے غصے کی آگ بھڑکتی جاتی تھی، حتی کہ ایک مرحلہ پر اس کا غصہ شباب پر پہنچ گیا۔ اسے اپنی بیٹی بے نظیر بھٹو عزیز تھی اور اس سے زیادہ اسے اپنی عزت کا پاس تھا۔ وہ ذہنی طور پر ایک آمر تھا اور دوسرے آمروں کی طرح چاہتا تھا کہ اس کی ہر بات کو ”حکم شاہی“ سمجھا جائے اور اس کی بے چون و چرا تعمیل کی جائے، شیرپاؤ کے انکار نے اسے انگاروں پر لوٹا رکھا تھا اور وہ مسلسل کئی روز سے اس مسئلہ کو حل کرنے میں کوشاں تھا، لیکن بے نظیر بھٹو اور شیرپاؤ کی شادی کا مسئلہ تھا کہ کسی طرح حل ہی نہ ہو پاتا تھا۔ بھٹو اس مسئلے کو حل کرنے میں کوشاں تھا کہ اس کے شیطانی دماغ میں ایک سکیم ابھری پھر وہ جوں جوں اس سکیم پر غور کرتا اس پر اس کے مختلف پہلو بے نقاب ہو جاتے اور وہ اسے اپنے لیے زیادہ سے زیادہ سود مند اور مفید مطلب پاتا۔ مصداق ایک تیر دو نشانے، وہ اپنی اس سکیم سے ایک طرف تو حیات محمد شیرپاؤ سے اپنی اس بے عزتی کا انتقام لینا چاہتا تھا اور اسے حکم عدولی کی سزا دینا چاہتا تھا اور دوسری طرف اپنے سب سے بڑے دشمن اور اس کی پارٹی کو اپنی راہ سے ہٹانے کا خواہش مند تھا۔

بیان کیا جاتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے شیطانی دماغ نے جو سکیم ترتیب دی تھی، اس کے مختلف پہلوؤں پر گہرے غور و فکر کے بعد اسے عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ ہوا، اس سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سب سے پہلے تو یہ پروپیگنڈہ شروع ہوا کہ نیشنل عوامی پارٹی کا غیر ملکی طاقتوں سے رابطہ قائم ہے اور اس کے صدر جناب ولی خاں پاکستان کے دشمن نمبر اول ہیں اور پاکستان کی تباہی کے درپے ہیں۔

ابھی بھٹو اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مناسب موقع کی تلاش میں تھا کہ ایک روز بیٹھے بیٹھے اس کے جی میں آئی کہ حیات محمد شیرپاؤ کو ایک آخری موقعہ دے، دراصل اس سے اپنی بیٹی بے نظیر بھٹو کی بری حالت دیکھی نہ جاتی تھی، جس نے حیات محمد شیرپاؤ کی محبت سے محرومی کے بعد رو رو کر اپنا برا حال بنالیا تھا۔

بھٹو نے حیات محمد شیرپاؤ کو طلب کیا اور جب شیرپاؤ اس کی خدمت میں حاضر ہوا تو بھٹو نے اسے تحکمانہ لہجہ میں مخاطب کر کے کہا ”مسٹر! تم شاید اپنی اصل بھول چکے ہو، تم ایک معمولی پٹھان ہو جسے میں نے زمین سے اٹھا کر آسمان پر بٹھا دیا ہے۔ لیکن اب

صفحہ 437

مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ میں تمہیں پہچاننے میں سخت غلطی کا مرتکب ہوا ہوں، تم ایک خاک نشین ہو، اس لیے کبھی عرش نشیں نہیں ہو سکتے۔“

”میری غلطی! میرا قصور؟“ شیر پاؤ نے نظریں جھکائے ہوئے نہایت دھیمی آواز میں کہا۔

”تم نے میری بیٹی بے نظیر کا دل توڑ دیا ہے۔ تم نے میری بے عزتی کی ہے۔ میں تمہیں ”بیٹا“ کہہ کر پکارتا تھا اور اپنا بیٹا بھی سمجھتا تھا، لیکن تم نے میری شفقت اور میری مہربانیوں کا یہ صلہ دیا ہے کہ میری بیٹی ہی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور میری بے عزتی کے مرتکب ہوئے ہو۔“

”سر! بات یہ ہے کہ مس بے نظیر ایک مغرب زدہ ماڈرن گرل ہے، جب کہ میرا گھرانہ ابھی دقیانوسی خیالات کا مالک ہے اور میں خود بھی.....“

بھٹو نے حیات محمد شیر پاؤ کو فقرہ پورا نہ کرنے دیا اور چلا کر بولا!

”کیا کہا میری بیٹی مغرب زدہ ہے اور تم دقیانوسی خیالات کے مالک ہو۔ تمہیں غلط بیانی کرتے ہوئے شرم نہیں آتی، میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں، یہ تم ہی تھے نا، جو شملہ میں میری بیٹی کو ورغلاتے رہے ہو اور اب وہ پوری طرح تمہارے چنگل میں پھنس گئی ہے، تو اس سے آنکھیں چرا رہے ہو، مسٹر، میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں، تم ایک محسن کش انسان ہو، تم نے میری قربانیوں کا جائز فائدہ اٹھایا ہے اور میری بیٹی پر ڈورے ڈالنے کے بعد اسے دھتکار رہے ہو۔“

بھٹو غصہ میں پیچ و تاب کھا رہا تھا اور شیر پاؤ کی نظروں کے سامنے وہ سارے مناظر گھوم رہے تھے، جن میں بے نظیر بھٹو اس کے ساتھ شملہ کے مختلف مقامات پر سیر و تفریح میں مصروف نظر آتی تھی، دراصل ہوا یہ تھا کہ جن ایام میں ذوالفقار علی بھٹو، مسز اندرا گاندھی سے مذاکرات کے لیے شملہ گیا تھا، اس کے ہمراہ جو پارٹی تھی، اس میں اس کی بیٹی بے نظیر بھٹو اور حیات محمد شیر پاؤ بھی شامل تھے۔

حیات محمد شیر پاؤ مجبوراً سیر و تفریح کے پروگراموں میں بے نظیر بھٹو کے ساتھ شریک تو ضرور ہوتا تھا لیکن اس سیر و تفریح سے لطف اندوز ہونا اس کے بس کی بات نہ تھی، اسے ہر لمحہ یہ فکر ستاتی رہتی تھی کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو بے نظیر بھٹو کو ناگوار گزرے، علاوہ ازیں اسے یہ فکر بھی کھائے جا رہی تھی کہ کسی نے بے نظیر بھٹو اور اسے سیر و تفریح میں مصروف دیکھ لیا اور بے نظیر بھٹو کے والد ذوالفقار علی بھٹو کے

صفحہ 438

کان بھرے تو اس کی پوزیشن مشکوک ہو جائے گی، پھر پتہ نہیں چیئرمین بھٹو پر اس کا کیا رد عمل ہو۔ وہ اپنی بیٹی کا اس کی معیت میں گھومنا پھرنا پسند کرے یا نہ کرے۔

اور آخر کار ایک مرحلہ پر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ کسی نے چیئرمین بھٹو سے لگائی بجھائی کی اور اسے ذہن نشین کرا دیا کہ حیات محمد شیرپاؤ اس کی بیٹی پر اپنی محبت کے ڈورے ڈال رہا ہے اور بے نظیر اس کی باتوں پر یقین کر کے اپنا سب کچھ اس پر نچھاور کرچکی ہے، وہ دل و جان سے شیر پاؤ کو چاہتی ہے اور اب یہ معاملہ اس مرحلہ پر پہنچ گیا ہے کہ اگر چیئرمین بھٹو نے اپنی بیٹی اور شیرپاؤ کے درمیان حائل ہونے کی کوشش کی تو اس کی بیٹی اپنے باپ کے مقابلہ میں اپنے محبوب کا ساتھ دے گی۔

ذوالفقار علی بھٹو جو اپنے طبقے کی تہذیب کے مطابق نت نئے ارمانوں کا قائل تھا اور اپنی پسندیدہ عورتوں کے ساتھ ناجائز طور پر رنگ رلیاں منانا جائز خیال کرتا تھا، عشق و محبت کے جذبات اور باقاعدہ شادی وغیرہ کو جھنجھٹ قرار دے کر اس سے دور بھاگتا تھا، اسے جوں ہی اپنی بیٹی کے حیات محمد شیر پاؤ سے رومان کی خبر ہوئی، وہ آپے سے باہر ہو گیا، اس نے بے نظیر کو سخت سست کہا تو بے نظیر نے اسے صاف صاف بتا دیا کہ وہ حیات محمد شیر پاؤ سے محبت کر کے کوئی گناہ نہیں کر رہی، وہ اسے دل و جان سے چاہتی ہے اور اس کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے، جو کوئی گناہ نہیں ہے۔ گناہ تو بے نکاحی عورتوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنا ہے۔

ظاہر ہے چیئرمین بھٹو کو اپنی بیٹی کا یہ جواب کسی صورت پسند نہ آسکتا تھا۔ لیکن صورت احوال کا تقاضا یہ تھا کہ وہ خاموش رہے اور وہ قدرے خاموش بھی رہے۔ لیکن اس کی خاموشی وقتی تھی وہ اپنے ملک سے دور شملہ میں مسز اندرا گاندھی سے مذاکرات کے لیے آیا تھا۔ اس کی ساری توجہ اندرا گاندھی سے معاملات طے کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے تھی لیکن وہ اس قماش کا انسان تھا کہ بیک وقت چار چار اور آٹھ آٹھ معاملات میں دخل اندازی ضروری سمجھتا تھا۔ شملہ کانفرنس میں مذاکرات کے ساتھ ساتھ وہ اپنی دیگر پسندیدہ دلچسپیوں میں بھی بھرپور حصہ لیا کرتا تھا۔ شراب و کباب سے جی بہلانے والے بھٹو کو اپنی بیٹی اور حیات محمد شیرپاؤ کے مراسم ایک آنکھ نہ بھائے تھے، لیکن مصلحت کے تحت اس نے اپنی بیٹی کو ڈانٹنے ڈپٹنے پر اکتفا کی تھی البتہ وہ حیات محمد شیرپاؤ سے ناراض ناراض رہنے لگا تھا۔"

(ننگ وطن از ایم ایس رانا، رانا پبلی کیشنز اردو بازار لاہور)

صفحہ 439

”میری بہو بڑی بد معاش اور کرپٹ عورت ہے“

بے نظیر بھٹو کے سسر حاکم علی زرداری کے ریمارکس

مقبول احمد خان لودھی

سابق وزیر اعظم اور تاحیات چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بے نظیر بھٹو کے خلاف کرپشن کے مقدمہ کے فیصلے پر احتساب کے حامی پاکستانیوں نے لاہور ہائی کورٹ کے احتساب بینچ کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ بے نظیر بھٹو اب ملزمہ نہیں بلکہ مجرمہ ہیں۔ ان کے خلاف اس مقدمہ کو ان کے والد کے خلاف قتل کے مقدمہ کے مشابہ قرار نہیں دینا چاہیے کیونکہ ہر دو مقدمہ میں بہت فرق ہے۔ بھٹو مرحوم آزاد نہ تھے جبکہ بے نظیر گرفتار نہ تھیں اور آزادانہ عدالت عالیہ میں اپنا موقف پیش کرتی تھیں۔ بے نظیر کے حمایتی ان حقائق پر بحث نہیں کر پائے جو عدالت میں ثابت ہوئے۔

یہ حقیقت ہے کہ بے نظیر بھٹو اپنے مرحوم والد کی مانند جمہوریت پر عمل نہیں کر سکیں۔ ان کا تاحیات چیئرپرسن بنا رہنا ہی ایک واضح ثبوت ہے۔ ان کی پارٹی میں پارٹی الیکشن کا کبھی کوئی سوچ بھی نہ سکا حتیٰ کہ مخلص پارٹی لیڈر اور ورکرز اس پارٹی سے بدظن ہی نہ ہوئے، بلکہ پارٹی چھوڑنے پر مجبور بھی ہوئے۔ جن ورکرز نے صعوبتیں جھیلیں، ان کی مطلق قدر نہ کی گئی۔ ہر شہری کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ملک کی عدالتوں کا احترام کرے اور جج صاحبان کی توہین نہ کرے۔ اگر کوئی عدالتی فیصلہ شہری کے خیال کے مطابق غلط بھی صادر ہو جائے، تو وہ شہری اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کرنے کا پورا پورا حق رکھتا ہے مگر بے نظیر بھٹو کی زبان رک نہیں سکتی۔

صفحہ 440

جو الفاظ وہ کہہ چکی ہیں‘ کیا کوئی اور شہری یہی الفاظ کہے تو کیا وہ توہین عدالت کا مرتکب نہیں ٹھہرایا جائے گا؟

ایک مرتبہ نیشنل اسمبلی میں بے نظیر بھٹو نے ایک معزز مہمان صدر جمہوریہ ایران کی موجودگی میں سابق صدر اسحاق خان کے خلاف ناراضگی کا اظہار ” گو بابا گو‘ گو بابا گو“ کی رٹ لگا کر کیا اور اپنی جانب سے پوری کوشش کی کہ اسمبلی ہال میں بدمزگی پیدا ہو۔ دوسری مرتبہ بے نظیر نے موجودہ صدر پاکستان کے قومی اسمبلی کے خطاب کے دوران پارلیمانی گھٹیا حرکت کی۔ یہ طریقہ جمہوریت پسند لوگوں کا نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے علاوہ دنیا میں اور بے شمار ممالک میں بھی جمہوریت ہے۔ کیا وہاں کوئی آج تک ایسی مثال ملتی ہے‘ جو بے نظیر دو مرتبہ کرچکی ہیں۔ ہر جگہ‘ ہر طریقہ سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرچکنے کے باوجود ایسے موقع کو جو پاکستان کی عزت کا موقع ہو‘ کی بھی پرواہ نہیں کرتیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ پاکستان اور پاکستانی عوام کو بالکل اہمیت نہیں دیتیں۔

ہر وقت‘ ہر طرح کے رنگ برنگے بیانات داغنا ہی سیاسی لیڈر ہونے کا ثبوت نہیں ہوتا۔ حقیقی سیاسی لیڈر کو ہر وقت اپنے ذہن میں رکھنا پڑتا ہے کہ وہ ایسا بیان نہ دے‘ جو اس کے پہلے بیان کے خلاف ہو اور نہ ہی ملکی مفاد کو نقصان پہنچنے پائے۔ بے نظیر سندھ میں جاکر پنجاب کے خلاف بیان دیتی رہی ہیں اور یہ بھی کہا کہ بھارت سندھ کارڈ استعمال کرے گا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ بے نظیر نے بڑی جرات کے ساتھ اعتراف کیا کہ انہوں نے سکھوں کے معاملہ میں راجیو گاندھی کی مدد کی۔ ان سے پوچھا جائے کہ راجیو گاندھی کی مدد کرنا ان کی کیا مجبوری تھی یا کس شوق کے تحت یہ خدمت انجام دی گئی؟ یہی راجیو گاندھی پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا رہا اور اس کی اسلام آباد آمد پر کشمیر ہاؤس کے بورڈ تک بھی سڑکوں سے ہٹادیئے گئے تھے۔ کیا ایسے لیڈر کو محب وطن لیڈر تصور کیا جاسکتا ہے؟

بے نظیر کے پہلے دور حکومت میں ان کے شوہر کو مسٹر ٹین پرسنٹ کہا جاتا تھا جبکہ دوسرے دور میں تو کوئی بھی حکومتی کام مسٹر سنٹ پرسنٹ سے لین دین کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ اس بات کی تصدیق تو پیپلز پارٹی کے رکن بھی کرتے رہے

صفحہ 441

ہیں ۔ ایک مرتبہ کسی نے ایک فیڈرل سیکرٹری صاحب سے کوئی معمولی سا کام کروانا چاہا تو انہوں نے معذوری کا اظہار کیا اور کہا افسروں کے پاس کوئی اختیارات نہیں رہے ۔ یہ سب کام ان (زرداری صاحب) کے ذریعہ سے ہی ہوتے ہیں ۔ ایسے ہی کسی اور شخص سے ایک فیڈرل ڈپٹی سیکرٹری صاحب نے وعدہ کیا کہ وہ سب کچھ جو ان کے اختیار میں ہے‘ کر دیں گے مگر آخر مکمل کام وہیں سے ہو گا (زرداری صاحب سے) ۔ عام پاکستانی حیران تھا کہ ملک میں جو اہم اور بڑے کام ہو رہے ہیں‘ ان کا کیا حشر ہو تا ہو گا؟

بے نظیر بھٹو اپنے آپ کو دیانت دار سیاست دان کہنے کا دعویٰ کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ میرے ہاتھ صاف ہیں مگر لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ بے نظیر کون سا ”صابن“ استعمال کرتی ہیں کہ ان کے ہاتھ گندے نہیں ہوتے ۔

بے نظیر ملک سے باہر جاکر پاکستان کو بدنام کرتی ہیں ۔ ان کے بھائی بھی پاکستان کے لیے کبھی مفید ثابت نہ ہوئے ۔ ان کے مرحوم بھائی مرتضیٰ بھٹو کے خلاف اچھے خاصے کیس رجسٹر ہوئے تھے ۔ جب ان کے دور حکومت میں وہ واپس پاکستان پہنچے‘ تو سب کیس جھوٹے ثابت ہوئے اور ملزم معصوم ثابت ہوا ۔ اس وقت بے نظیر کو پاکستان کی عدالتوں کے خلاف کوئی شکوہ نہ ہوا ۔ بے نظیر بھٹو نے تعلیم بیرون ملک میں پائی‘ مگر ان کو معلوم نہیں کہ وہاں کے لوگ اپنی عدالتوں کا کتنا ادب و احترام کرتے ہیں ۔ ہٹلر نے اپنی زندگی میں کسی کی بھی پرواہ نہ کی‘ مگر وہ اپنے جج صاحبان کا احترام کرتا تھا ۔

بے نظیر سوئٹزرلینڈ کے بنک میں اپنے اکاؤنٹ کو پہلے تسلیم ہی نہ کرتی تھیں اور بعد میں تسلیم کر لیا اور یہ بھی کہا کہ میں اپنے ذخیرہ دولت کو پاکستان میں غیر محفوظ سمجھتی تھی ۔

جس روز پانچ جج حضرات نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججوں کی حیثیت سے حلف اٹھایا‘ اس تقریب کے خاتمہ پر باہر آتے ہوئے بے نظیر کے سسر حاکم علی زرداری سپریم کورٹ میں داخل ہوئے اور سپریم کورٹ کے استقبالیہ کے قریب میرے واقف نے پرانی واقفیت کی بنا پر ملاقات کی اور بار بار میرے واقف

صفحہ 442

سے کہا کہ ”میرے بیٹے کو بچاؤ۔“ دوران گفتگو حاکم علی زرداری نے صاف صاف الفاظ میں کہا کہ ”میری بہو گشتی‘ کنجری اور بدمعاش عورت ہے۔ یہ کرپٹ ہے۔ میرا بیٹا کرپٹ نہیں ہے۔ میرے بیٹے کو بچاؤ۔“ ہمارے معاشروں میں سسر اپنی بہو کی عزت کرتا ہے اور آئندہ نسل اسی سے جاری رہتی ہے۔ حاکم علی زرداری کے ان الفاظ سے اندازا ہوتا ہے کہ بے نظیر بھٹو اپنے سسر کو کس حد تک ناراض کر چکی ہیں۔

بے نظیر بھٹو اور ان کے مرحوم والد پاکستان کی غربت کے دشمن بن کر لیڈر بنے اور غریب عوام کے ہمدرد ترین دوست۔ مگر ہوا اس کے بالکل الٹ۔ ایک مرتبہ بے نظیر کہتی ہیں ”ہاری کا بیٹا‘ ہاری نہیں بنے گا تو اور کیا بنے گا۔“ جو لیڈر غربت کے خلاف جنگ لڑ رہا ہو‘ وہ اپنی ذات کے لیے زیورات اور وہ بھی از حد قیمتی‘ بیرون ملک اور پھر چوری چھپے خرید نہیں سکتا۔ سرے کاؤنٹی کے علاقہ میں اتنی بڑی رہائش (اس رہائش میں‘ میں لندن رائٹرز گلڈ کی وساطت سے تقریباً ایک دن گزار چکا ہوں) کی جائیداد خریدنے کی کیا ضرورت تھی۔ ان اقدام سے پاکستان میں غربت ختم کرنے میں مدد ملی یا غربت بڑھانے میں؟

(ماہنامہ افکار ایشیاء اسلام آباد مئی 1999ء)

صفحہ 443
میری لاج رکھ لے مرے خدا
یہ تیرے حبیب ﷺ کی بات ہے

ڈاکٹر اے آر خالد

دکھ تو اس بات کا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وزیراعظم (میاں نواز شریف) یوم اقبال کے موقعہ پر منعقدہ جلسہ میں یہ انکشاف کرنے کے بعد کہ ایک بدبخت رکن پارلیمنٹ نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمے کہے ہیں اور شریعت نافذ کرنے کی مخالفت کی ہے‘ اس بدبخت کا نام بتانے سے گریز کرتا ہے اور جب جلسہ گاہ میں حاضرین چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ اس بدبخت کا نام بتایا جائے تو وہ اپنی گریز کی اس پالیسی پر قائم رہتا ہے۔ وزیراعظم کے اس انکشاف اور پھر نام کے انکشاف سے گریز کی خبر کی اشاعت کے بعد رائے عامہ کے لیڈروں‘ مذہبی رہنماؤں‘ سیاسی قائدین اور دانشوروں کی طرف سے اس بدبخت رکن پارلیمنٹ کے نام بتانے پر اصرار کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے اور اب وزیراعظم کے لئے اس کو راز ہی رکھنا شاید ممکن نہ رہے کیونکہ غلامان محمد ﷺ اپنی تمام تر بد اعمالیوں اور گناہوں کے باوجود اپنے پیغمبر ﷺ کی ذات پر کسی قسم کے توہین آمیز ریمارکس کو برداشت نہیں کرتے۔ یہ ریمارکس تو کسی غیر مسلم حکومت میں کسی غیر مسلم کی طرف سے بھی برداشت نہیں کئے گئے‘ چہ جائیکہ ایسے ریمارکس دینے والا اس ملک کی پارلیمنٹ کا رکن ہو جس کے قیام کا خواب اسی عاشق رسول ﷺ نے دیکھا تھا اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے بابائے قوم حضرت قائد اعظمؒ کی قیادت میں حصول وطن کی جدوجہد کرنے کی ہدایت کی تھی۔

علامہ اقبال کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقد ہونے والے اس جلسہ میں جس

صفحہ 444

میں گستاخ رسول ﷺ کے نام کی پردہ پوشی وزیراعظم کر رہا ہے جس کی حکومت کے لئے کسی ایک رکن پارلیمنٹ کی حمایت یا مخالفت بے حیثیت اور بے معنی ہے‘ اس کی مخالفت سے حکومت ٹوٹنے کا اندیشہ نہیں اور اس کی حمایت حکومت کو مستحکم رکھنے کا باعث نہیں تو ایسی صورت میں علامہ کی روح بہت تڑپی ہو گی۔ اس کا عشق رسول ﷺ اس وقت اتنے جوش اور بے خودی میں آ جاتا ہے جب غازی علم الدین کی شہادت کا زمانہ ہے۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے علامہ کے بعد جو ملفوظات محفوظ کئے ہیں ان میں علامہ اقبال کا کہا ہوا یہ فقرہ بھی تھا جسے غازی علم الدین کی شہادت کے زمانے میں علامہ کی زبان سے بار بار سنا گیا۔

”اساں گلاں کر دے رہ گئے تو ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا“

یعنی ہم باتیں ہی بناتے رہے اور بڑھئی کا بیٹا بازی لے گیا۔

1923ء میں ہندو پبلشر راج پال کی نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخانہ کتاب کی اشاعت فی الحقیقت مسلمانوں کے عشقِ نبیؐ اور دینی حمیت و غیرت کو کھلا چیلنج تھا۔ ملزم کو ماتحت عدالت نے دو سال قید سخت اور ایک ہزار روپیہ جرمانے کی جو سزا دی تھی‘ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس سر شادی لال نے جب اس گستاخ کو بری کر دیا تو ایک عاشق رسول ﷺ خدا بخش نے اس ہندو مصنف پر حملہ کر دیا‘ حملہ ناکام رہا اور خدا بخش کو سات سال کی قید سنادی گئی۔ 9 مئی 1927ء کو ایک پٹھان نوجوان عبدالعزیز نے راج پال کو جہنم رسید کرنے کی کوشش کی‘ اس میں بھی وہ بچ گیا اور عبدالعزیز کو چودہ سال کی سزا سنا دی گئی۔ 6 اپریل 1929ء کو غازی علم الدین نے راج پال کو واصل جہنم کر کے مسلمانوں کی دلی آرزو پوری کر دی اور شہادت کا مرتبہ پایا جس پر علامہ بار بار رو کر یہ کہتے

”اسی گلاں کر دے رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا۔“

عشق رسول ﷺ کے حوالے سے اسی نوع کا دوسرا واقعہ جب 1933ء میں نتھو رام کی کتاب ”ہسٹری آف اسلام“ میں نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخانہ تحریر کا ہزارہ کے ایک نوجوان عبدالقیوم کو پتہ چلتا ہے تو وہ ستمبر 1934ء میں مقدمہ اہانت رسول ﷺ کے ملزم نتھو رام کی کارروائی کی سماعت کے لئے عدالت میں جانے والے دوسرے افراد کے ساتھ نتھو رام کے عین عقب میں موجود کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ دو انگریز ججوں پر مشتمل بنچ مقدمے کی کارروائی کا آغاز کرتا ہے۔ غازی عبدالقیوم تیز دھار کے چاقو سے نتھو رام پر ٹوٹ پڑا‘ اس کی گردن پر بھر پور وار کئے نتھو رام زخموں سے زمین پر گر پڑا‘ عبدالقیوم خود کو پولیس کے حوالے کر دیتا ہے۔ اقبال جرم کرتا ہے

صفحہ 446

میں اس کے اجر و ثواب کی راہ میں کیسے حائل ہو سکتا ہوں؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں ایسے مسلمان کے لئے وائسرائے کی خوشامد کروں جو زندہ رہا تو غازی ہے اور مر گیا تو شہید ہے۔‘‘ اور پھر علامہ لاہور اور کراچی کے عنوان سے یہ شعر رقم کرتے ہیں:۔

نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور
موت کیا شے ہے؟ فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
آہ اے مرد مسلماں تجھے کیا یاد نہیں؟
حرف ”لا تدع مَعَ اللّٰهِ اِلٰهاً اٰخَر“

گویا غازی علم الدینؒ اور غازی عبد القیومؒ کے متعلق ان اشعار کے ذریعے علامہ اقبالؒ ایسے واقعات میں اپنے انداز فکر اور مسلمانوں کے پسندیدہ طرز عمل کو بھی واضح کرتے ہیں اور پھر جب کچھ نوجوان علامہ اقبالؒ سے غازی علم الدین شہیدؒ کی شہادت پر گفتگو کرنے کے لئے ایک نوجوان محمد محمود پی سی ایس کے ساتھ جاتے ہیں تو ڈاکٹر اقبالؒ بڑے رقت آمیز لہجے میں کہتے ہیں ”میں تو یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی شخص میرے پاس آکر کہے کہ تمہارے پیغمبر ﷺ نے ایک دن میلے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔

علامہ اقبالؒ کی ساری شاعری کا خلاصہ اور لب لباب عشق رسول ﷺ اور اطاعت رسول ﷺ ہے۔ اسی لئے فرماتے ہیں:۔

بہ مصطفیٰ برساں خویش راہ کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ اُو نہ رسیدی تمام بولہبی است

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی علامہ اقبالؒ کے بارے میں لکھتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک کے ساتھ علامہ اقبالؒ کی والہانہ عقیدت کا حال اکثر لوگوں کو معلوم ہے مگر یہ شاید کسی کو معلوم نہیں کہ انہوں نے اپنا سارا فلسفہ اور اپنی تمام عقلیت کو آنحضور ﷺ کے قدموں میں ایک متاع حقیر کی طرح نذر کر کے رکھ دیا تھا‘ حدیث کی جن باتوں پر نئے تعلیم یافتہ ہی نہیں‘ پرانے مولوی تک کان کھڑے کرتے ہیں اور پہلو بدل بدل کر تاویلیں کرنے لگتے ہیں‘ یہ ڈاکٹر آف فلاسفی ان کے ٹھیٹھ مفہوم پر ایمان رکھتا تھا اور ایسی کوئی حدیث سن کر

صفحہ 447

ایک لمحہ کے لئے بھی اس کے دل میں شک کا گزر نہ ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک صاحب نے ان کے سامنے بڑے اچنبھے کے انداز میں اس حدیث کا ذکر کیا‘ جس میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اصحاب ثلاثہ کے ساتھ احد پر تشریف لے گئے‘ احد لرزنے لگا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ”ٹھہر جا! اوپر ایک نبی‘ ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اس پر پہاڑ ساکن ہو گیا۔“ اقبال نے حدیث سنتے ہی کہا ”اس میں اچنبھے کی کون سی بات ہے‘ میں اس کو استعارہ و مجاز نہیں بلکہ ایک مادی حقیقت سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک اس کے لئے کسی تاویل کی حاجت نہیں‘ اگر تمام حقائق سے آگاہ ہوتے تو تمہیں معلوم ہوتا کہ ایک نبی کے نیچے مارے خوف کے بڑے بڑے تودے لرز اٹھتے ہیں‘ مجازی طور پر نہیں واقعی لرز اٹھتے ہیں۔“ ایمان کی ایسی دولت سے مالا مال اور عشقِ رسول ﷺ کی ایسی سعادت سے مالا مال اقبالؒ کے یومِ ولادت کے جلسے میں نبی کریم ﷺ کی شان میں ہرزہ سرائی کرنے والے کی پردہ پوشی ایک جرم سے کم نہیں‘ وزیر اعظم اللہ‘ اس کے رسول ﷺ اور اقبال کی روح سے اس جرم پر توبہ کریں‘ معافی مانگیں اور اس بد بخت کا نام بتائیں‘ اس پر مقدمہ قائم کریں‘ اسے سزا دلوائیں۔

(ہفت روزہ ندائے ملت لاہور‘ 19 تا 25 نومبر 1998ء)

PDF 447

ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف

بے نظیر فیصلہ

گستاخانِ رسول کی حکومتی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی شرمناک داستان

علامہ ابو ٹیپو خالد الازہری

PDF 448

پاکستان توہین رسالت کا قانون ختم کرے امریکہ

ایک شخص کو اپنی رائے کے اظہار پر موت کی سزا کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں توہین رسالت کے قانون سے ملک میں مذہبی فسادات کا خطرہ ہے

اس پرچم کے سائے تلے

ہم ایک ہیں ! ہم ایک ہیں