جرم توہین رسالت فقہ حنفی کی روشنی میں · مفتی محمد اقبال سعیدی
Jurm aur Toheen-e-Risalat Fiqa Hanfi ki Roshni mein · Iqbal Saeedi
PDF 1

جرم توہین رسالت

فقہ حنفی کی روشنی میں

تصنیف:

مفتی محمد اقبال سعیدی

شیخ الحدیث مدرسہ انوار العلوم ملتان شریف

صُفّہ فاؤنڈیشن

PDF 2

جملہ حقوق محفوظ ہیں

جرم توہین رسالت (فقہ حنفی کی روشنی میں) مفتی محمد اقبال سعیدی عمر حیات قادری 41 صفہ فاؤنڈیشن 1100 35 روپے

آفس فون: 6664563-042 موبائل فون: 4270965-0300

حضرت علامہ مفتی محمد اقبال سعیدی دامت برکاتہم العالیہ

شیخ الحدیث مدرسہ انوار العلوم ملتان شریف

اوچ شریف کی مردم خیز دھرتی اپنی علم دوستی ، روحانی و علمی فیاضی اور تدریس علوم دینیہ کے حوالہ سے بہت بڑا معتبر نام ہے۔ ایک ہزار برس قبل بھی یہاں جامعہ اسلامیہ قائم تھی۔ جس کے سربراہ حضرت سید صفی الدین حقانی کازرونی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ پانچ دریاؤں کے اس سنگم پر محمد بن قاسم رحمۃ اللہ علیہ نے جب اس ریاست کو فتح کیا تو اس کے بعد برصغیر میں اسلامی تشخص اس بابرکت دھرتی کے نام ہو کر رہ گیا، بعد میں حضرت سید جلال الدین سرخپوش بخاری اسی دھرتی کے بہار موسموں کا لطف اٹھانے بخارا سے ہجرت کر کے تشریف آراء ہوئے، اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ آپ کے خانوادہ عالیہ کے جلیل القدر مشائخ میں حضرت جمال درویش خنداں رُو اور حضرت سید احمد کبیر بخاری سہروردی کی خانقاہوں نے فروغ علم میں پوری دنیا میں فیض تقسیم کیا۔ پھر سید احمد کبیر بخاری کے فرزند والا شان سیدنا مخدوم جہانیاں جہانگشت علیہ الرحمہ کے نام نامی سے برصغیر کا کون سا مسلمان ہے جو آپ کی جلیل القدر شخصیت کی جلالت علمی اور قد آور روحانی شخصیت سے واقف نہ ہو۔ پایہ تخت دہلی نے آپ کے علوم و فیوض سے عامۃ المسلمین کو سرفراز کرنے کے لیے آپ کو شیخ الاسلام والمسلمین کا جلیل القدر منصب عطا کیا، اس زمانہ کے شاہانِ دہلی کی سعادت مندی کا یہ حال تھا کہ جب بادشاہ اوچ شریف حاضر ہوتا تو ۵ میل دور پڑاؤ کرتا اور پھر ننگے پاؤں چل کر بارگاہ مخدوم میں حاضر ہوتا۔ اس واقعہ کا ذکر ہم نے جناب مخدوم کی بارگاہ حشمت پناہ کی اظہار جلالت کے لیے نہیں کیا بلکہ شاہانِ زمانہ کی علم دوستی،

PDF 3

نیاز مندی اور خدا خوفی اجاگر کرنے کے لیے کیا ہے۔ بعد میں غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ کے عظیم المرتبت شہزادے سیدنا محمد غوث (بندگی) بغداد شریف سے ہجرت کر کے اوچ شریف ہی کرم بار ہوئے یہیں آپ کے صاحبزادگان والا شان نے علم حاصل کیا۔ اور آپ کے بیٹے سید عبدالقادر جیلانی نے اسلام کی خدمت کی وجہ سے ”ثانی محبوب سبحانی“ کا لقب حاصل کیا، متصوفین اور سالکان طریقت آج بھی بغداد نہ جاسکیں۔ تو محبوب سبحانی (ثانی) کی بارگاہ میں اوچ شریف حاضر ہوا کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں پرلطف بات یہ بھی ہے کہ اوچ شریف ہی میں سیدنا عبدالملک بخاری شبیہہ رسول (ﷺ) تشریف آراء ہیں تو ”ثانی حیدر کرار“ سیدنا جلال الدین سرخپوش بخاری کا مزار بھی مرجع خلائق ہے۔ سادات بخاری ہوں یا گیلانی برصغیر پاک و ہند میں ان سب کا منبع فیض نسب اوچ شریف ہی میں جا کر ملتا ہے۔

اسی علم افزاء دھرتی پر ریاست بہاولپور کے صدرالعلماء حضرت مولانا قادر بخش صاحب پھل رحمۃ اللہ تعالیٰ کی اولاد نے بھی ۲۰۰ برس سے علمی آب و تاب کے موتی لٹائے: اب اسی خانوادہ علمی کے عظیم فرزند استاذ العلماء شیخ الحدیث والتفسیر، شیخ الفقہ حضرت مفتی محمد اقبال سعیدی رضوی ہیں۔ جو بیک وقت ایک بلند فکر فقیہ عظیم المرتبت مفسر قرآن۔ دلائل قاہرہ سے مسلح مناظر اسلام بہت ہی دھیمہ لب ولہجہ کے حامل استاذ الحدیث اور علوم نقلیہ وعقلیہ کے زبردست ماہر ہیں۔ حضرت غزالیِ دوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے مایہ ناز شاگرد اور خلیفہ مجاز ہیں۔ ۳۵ برس سے مسلسل مسند تدریس علوم دینیہ کو رونق بخشی ہوئی ہے۔ غزالیِ دوراں کی وصیت اور آخری خواہش پر مدرسہ انوار العلوم میں مسند حدیث پر حضرت موصوف کے وصال کے سال سے مسلسل اب تک شیخ الحدیث کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ سراج الفقہاء حضرت مولانا سراج احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ، مولانا عبدالکریم خان صاحب امین آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ جیسے جید اساتذۂ فن سے فیض یاب ہوئے مدرسہ انوارالعلوم میں غزالیِ دوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی سے دورہ حدیث مکمل کیا۔ بعدۂ سراج العلماء حضرت سید ابوالبرکات صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ سے دارالعلوم حزب الاحناف میں دوبارہ دورۂ حدیث پڑھا۔ جامعہ نعیمیہ میں بھی کچھ عرصہ فیض یاب ہوئے

حضرت سراج الصوفی آغاز میں حضرت مفتی میں اپنے خصوصی تقرب نقلیہ و عقلیہ کی تکمیل کی صاحب کی زندگی میں ظا اس قدر سادگی شعار نہیں جیتا جاگتا شاہکار ۔ اللہ تعا مخالفین اہلسنت تمام لوگو جواب دینا آپ کا خاصہ

زیر نظر کتاب ” تصنیف ہے جسے شائع کر اہل علم طبقہ میں موجب ا بسر کر رہے ہیں۔ علماء او ہوگا۔

بلاشبہ ایسے جلی تعالیٰ مفتی صاحب کو فیض ان کی دیگر تصانیف کو بھی

PDF 4

کے لیے کیا ہے۔ بعد میں غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ اث (بندگی) بغداد شریف سے ہجرت کر کے اوچ کے صاحبزادگان والا شان نے علم حاصل کیا۔ اور آپ ام کی خدمت کی وجہ سے ”ثانی محبوب سبحانی“ کا لقب ت آج بھی بغداد نہ جاسکیں۔ تو محبوب سبحانی (ثانی) کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں پرلطف بات یہ بھی ہے کہ بخاری شبیہ رسول (ﷺ) تشریف آراء ہیں تو ”ثانی س بخاری کا مزار بھی مرجع خلائق ہے۔ سادات بخاری ان سب کا منبع فیض نسب اوچ شریف ہی میں جا کر ملتا

است بہاولپور کے صدرالعلماء حضرت مولانا قادر بخش لاؤ نے بھی ۲۰۰ برس سے علمی آب و تاب کے موتی عظیم فرزند استاذ العلماء شیخ الحدیث والتفسیر، شیخ الفقہ ہیں ۔ جو بیک وقت ایک بلند فکر فقیہہ عظیم المرتبت مفسر اسلام بہت ہی دھیمہ لب ولہجہ کے حامل استاذ الحدیث ماہر ہیں ۔ حضرت غزالی دوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی خلیفہ مجاز ہیں ۔ ۳۵ برس سے مسلسل مسند تدریس علوم دوراں کی وصیت اور آخری خواہش پر مدرسہ انوار العلوم کے وصال کے سال سے مسلسل اب تک شیخ الحدیث کی سراج الفقہاء حضرت مولانا سراج احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ ، مولانا جی رحمۃ اللہ تعالیٰ جیسے جید اساتذہ فن سے فیض یاب دوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی سے دورہ حدیث مکمل کیا ۔ ابوالبرکات صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ سے دارالعلوم حزب پڑھا ۔ جامعہ نعیمیہ میں بھی کچھ عرصہ فیض یاب ہوئے

حضرت سراج الصوفیہ سید محمد معصوم جیلانی شاہ صاحب نے نوری مسجد ریلوے اسٹیشن کے آغاز میں حضرت مفتی محمد اقبال صاحب کو ایک عرصہ خطیب نوری مسجد کے اعزاز کی صورت میں اپنے خصوصی تقرب اور فیض سے نوازا۔ استاذ العلماء مولانا محمد منظور احمد فیضی سے علوم نقلیہ وعقلیہ کی تکمیل کی ان شیوخ المسلمین کی علمی روحانی اور عملی جھلک مفتی محمد اقبال سعیدی صاحب کی زندگی میں ظاہر ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنا بلند پایہ عالم اور استاذ فنون اس قدر سادگی شعار نہیں دیکھا یہ سنت رسالت مآب ﷺ پر سراپا عمل کی مسلسل کوشش کا جیتا جاگتا شاہکار ۔ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ تادیر سلامت رکھے۔ آمین۔ دشمنانِ اسلام ہوں یا مخالفین اہلسنت تمام لوگوں پر آپ کے علمی رعب و دبدبہ کی ہیبت ظاہر ہے۔ مسکت علمی جواب دینا آپ کا خاصہ ہے۔

زیر نظر کتاب ”جرم توہین رسالت فقہ حنفی کی روشنی میں“ حضرت مفتی صاحب کی تصنیف ہے جسے شائع کرنے کی سعادت صفہ فاؤنڈیشن کو حاصل ہو رہی ہے۔ امید ہے کہ اہل علم طبقہ میں موجب استفادہ ہوگی اور ایسے جلیل القدر عالم دین جو گوشہ نشینی میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ علماء اور عوام اہلسنت کا رابطہ کرنے کا اعزاز بھی صفہ فاؤنڈیشن کو حاصل ہوگا۔

بلاشبہ ایسے جلیل القدر علماء کی اس وقت اہلسنت کو شدید ترین ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ مفتی صاحب کو فیض علم نبوت عام کرنے کی سہولت عطا فرمائے ۔ فاؤنڈیشن انشاء اللہ ان کی دیگر تصانیف کو بھی منظر عام پر لانے کی سعادت حاصل کرتی رہے گی۔

والسلام عمر حیات قادری چیئرمین ”صفہ فاؤنڈیشن“ لاہور پاکستان ۲۵ - جنوری ۲۰۰۴ء

صفحہ 5

الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سیّد المرسلین محمد وعلی سائر الانبیاء والمرسلین اجمعین

اللہ تعالیٰ ہی کے لیے تمام بڑائی ہے جس نے اپنے نبی محمدﷺ کو خاتم النبیین کا منصب جلیل عطا فرمایا اور تمام رسولوں پر ایمان لانا امت محمدیہ پر لازم فرمایا تو ہر ایک رسول کی اہانت و گستاخی مسلمانوں کے لیے باعث ایذاء قرار پائی۔

الحمدللہ کہ پاکستان کے قانون میں گستاخی رسالت کی سزا سزائے موت قرار پائی۔ جب سے یہ قانون پاکستان میں نافذ ہوا۔ اس کا سب سے زیادہ خوف فرقہ مرزائیہ کو ہوا۔ جس کے بانی نے سیدنا عیسیٰ مسیح بن مریم علی نبینا وعلیہ وعلی امہ السلام کے بارے میں اپنی تصنیفات میں غلیظ گالیاں لکھ کر چھاپی تھیں۔ اس لیے انہوں نے دوسرے مذاہب مثلاً عیسائیوں وغیرہم کو اکسایا کہ وہ اس قانون کو ختم کروانے کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ کچھ دوسرے لوگوں کو اکسایا کہ وہ مسلمانوں اور مسلمان کہلانے والے کلمہ گو افراد پر گستاخی رسالت کے مقدمات قائم کریں تاکہ دین سے کم واقفیت رکھنے والے جج اگر غلط فیصلہ کر بیٹھیں تو اس قانون کی بدنامی ہو۔ اسی دوران میں ڈاکٹر محمد اقبال صاحب (المعروف شاعر مشرق) کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب بھی سامنے آ گئے۔ جو علاوہ نسبی شہرت کے ہائی کورٹ یا اس سے اوپر کے جج کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تھے اور

صفحہ 6

پھر میاں نواز شریف صاحب کی مسلم لیگ نے انہیں سینٹ کی رکنیت بھی دلا دی۔ سینٹ کی رکنیت کے دوران جاوید اقبال صاحب نے ایک بیان دیا جو ۸ جولائی ۱۹۹۲ء کے ”روزنامہ نوائے وقت ملتان وغیرہ“ میں شائع ہوا کہ اسلامی قانون میں غیر مسلموں کو توہین رسالت کے ارتکاب پر سزا نہیں دی جاسکتی۔ (یاد رہے کہ پاکستان کے قانون میں مرزائیوں کے دونوں فرقے غیر مسلم قرار دیے جاچکے ہیں اس لیے اس بیان کا تعلق بھی ان سے بنتا معلوم ہوتا ہے)۔

انہوں نے کہا یہ اس لیے کہ فقہ حنفی میں اس سزا کی کوئی گنجائش نہیں اس سلسلے میں انہوں نے بقول اپنے فتاویٰ عالمگیری کے حوالے سے کچھ اردو عبارات پیش کیں اور دعویٰ کیا کہ فقہ حنفی اس پر کوئی سزا نہیں دیتی اور یہ بھی کہا کہ سلاطین اسلام اور سلاطین ہند کا مروجہ قانون بھی ہمیشہ سے اس جرم پر سزا کی نفی میں جاری رہا مگر اپنے اس قول کا کوئی ایک حوالہ بھی پیش نہیں کیا۔

بدقسمتی سے اس سے قبل اسلامی فقہ کے حنفی بلاک کے مخالفین نے بھی بڑی شدت سے یہ پروپیگنڈہ کیا تھا کہ حنفی علماء غیر مسلموں کے لیے توہین رسالت کے جرم کی سزا کے قائل نہیں۔ یہاں تک کہ بعض حنفی علماء جنہوں نے اس موضوع پر تحقیق نہیں کی تھی یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ بات سچ ہے۔ اس لیے فقیر نے اس غلط پروپیگنڈہ کا پردہ چاک کرنے کا فیصلہ کیا۔

ماہنامہ السعید کے موقر مدیر مسئول حضرت صاحبزادہ سیّد حامد سعید کاظمی صاحب نے اشاعت کی حامی بھر لی۔ لیکن بات مجھ تک پہنچتے پہنچتے جولائی ۱۹۹۲ء کا مہینہ قریب بہ اختتام پہنچ چکا تھا۔ اگست کا شمارہ شائع ہونے والا تھا لہٰذا اس ماہنامہ میں مختصر اشتہار دیا گیا کہ اگلے شمارہ میں جواب شروع ہو رہا ہے۔ اس طرح ماہ ستمبر کے شمارہ سے یہ مضمون قسط وار شائع ہونے لگا۔

بندہ نے یہ ثاب سے غیر متعلق ہیں اور یہ بالفرض سلاطین ایسا کرنا ب اور یہ سب کچھ اعتراضات کا بھی جائزہ لیا گ گیا۔ جس کی تفصیل آپ آ اس کتاب کا ط موسیٰ و سیّدنا عیسیٰ علیہما السلا لیے ناقابل برداشت ہے ا اس سلسلے میں کوئی رُو و رعای یاد رہے کہ د ہے کہ اس سزا کو حد کہ میں یہ ثابت کیا گیا ہے ک لفظ میں نہیں۔ نیز اس مقالہ م کہ کچھ تعزیریں وہ ہیں ج تعزیری مقدار کی تعیین قا اختیار نہیں۔ اور یہ سزا ا بیشی نہیں ہوسکتی۔ ی اس مضمون م پر امکانی اعتراض ہ

صفحہ 7

بندہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے حوالے غلط اور بعض اصل مضمون سے غیر متعلق ہیں اور یہ کہ سلاطین اسلام پر بھی ڈاکٹر صاحب نے غلط الزام لگایا اگر بالفرض سلاطین ایسا کرنا بھی چاہتے تو علماء ان کے سامنے ان کے مقابل موجود تھے۔

اور یہ سب کچھ حوالوں سے ثابت کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں بعض امکانی اعتراضات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بعض عیسائی پادریوں کے دور ازکار اندیشوں پر بھی غور کیا گیا۔ جس کی تفصیل آپ آئندہ اوراق میں ملاحظہ فرمائیں گے۔

اس کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ نہ صرف ہمارے آخری نبی ﷺ کو بلکہ سیدنا موسیٰ و سیدنا عیسیٰ علیہما السلام سمیت تمام پہلے نبیوں میں سے کسی کو بھی گالی دینا ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے اور اس قانون کی زد میں آتا ہے۔ ایک مسلمان حاکم ہو یا رعایا اس سلسلے میں کوئی رو و رعایت نہیں کر سکتا۔

یاد رہے کہ دیگر اسلامی فقہوں اور حنفی فقہ میں اختلاف صرف قانون کے نام کا ہے کہ اس سزا کو حد کہیں گے یا تعزیر۔ سزا پر سب متفق ہیں۔ اس کے باوجود اگلے اوراق میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اس سزا کو حد کا نام دینے میں کچھ قانونی سقم ہیں جو تعزیر کے لفظ میں نہیں۔

نیز اس مغالطہ کا بھی ازالہ کیا ہے کہ ہر تعزیر کو حاکم معاف کر سکتا ہے۔ بتایا گیا کہ کچھ تعزیریں وہ ہیں جن میں کمی بیشی یا عفو کا حاکم کو اختیار ہے اور کچھ وہ ہیں جن کی تعزیری مقدار کی تعین نص حدیث سے ثابت ہے۔ ان میں کمی بیشی یا عفو کا حاکم کو کچھ اختیار نہیں۔ اور یہ سزا بالاتفاق فقہاء اسلام نص حدیث سے ثابت ہے لہٰذا اس میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔

اس مضمون کے دوران لا اکراہ فی الدین (دین میں جبر نہیں) سے اس مسئلہ پر امکانی اعتراض سے تعرض نہیں کیا گیا تھا۔ اس لیے کہ یہ اعتراض کسی نے نہیں کیا تھا۔

صفحہ 8

اب اس کے متعلق مختصراً عرض ہے کہ گستاخی رسالت کے ارتکاب پر غیر مسلم کو سزائے موت جرم کی سزا ہے۔ جیسا کہ قتل ناحق کی سزا قتل ہے۔ یہ اکراہ فی الدین نہیں۔ جبر تو اس وقت ہوتا کہ ہم اس کو مجبور کرتے کہ وہ مسلمان ہو جائے جبکہ بشمول حنفی فقہ کسی فقہ اسلامی میں یہ بات نہیں۔ یہاں تک کہ اگر اس کے مسلمان ہونے پر یہ سزا معاف ہو جاتی تو شاید کسی کے ذہن میں یہ وہم پیدا ہوتا کہ سزا کے خوف کو اسلام پر مجبور کرنے کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ مگر ایسا بھی نہیں کیونکہ غیر مسلم گستاخی رسالت کا ارتکاب کرنے کے بعد مسلمان ہو جائے تو بھی سزا معاف نہیں ہوتی۔ یہاں پر دو سوال اور بھی ابھر سکتے ہیں ایک یہ کہ غیر مسلم اقوام سے جنگ سے قبل انہیں یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہو جائیں تو جنگ نہیں کی جائے گی۔ دوسرا یہ کہ ایک مسلمان جب گستاخی رسالت کے سبب کافر ہو جائے تو اس کے لیے دو ہی راستے ہیں۔ قتل یا اس جرم سے توبہ کر کے دوبارہ مسلمان ہونا۔ معترض کی غرض یہ ہے کہ ہر دو امور مذکورہ سے جبر علی الاسلام ثابت ہوتا ہے جو لا اکراہ فی الدین کے خلاف ہے۔ ان کے جواب میں عرض ہے کہ جنگ سے قبل پیغام یہ ہوتا ہے کہ وہ اسلام قبول کر لیں یا اپنے دین پر رہتے ہوئے صلح کر کے ذمی ہو جائیں یا جنگ کریں۔ جب اپنے دین پر رہنے کی بھی اجازت ہے تو اسے جبر کہنا عقل وانصاف کا منہ چڑانا ہے۔

قدوری میں ہے۔ واذا ادخل المسلمون دارالحرب فحاصروا مدینۃ او حصنا دعوھم الی الاسلام فان اجابوھم کفوا عن قتالھم وان امتنعوا دعوھم الی اداء الجزیۃ فان بذلوھا فلھم ما للمسلمین وعلیھم ما علیھم۔

(قدوری ص ۳۹۴ طبع مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی)

جب مسلمان کافروں کے ملک میں جنگ کے لیے داخل ہوں اور کسی شہر یا کسی قلعے کا محاصرہ کر لیں تو اس شہر اور قلعے کے باسیوں کو اسلام کی طرف بلائیں گے اگر وہ اس کو مان لیں تو ان سے جنگ کر دیں تو پھر انہیں جزیہ ادا کر ان کے لیے مسلمانوں کے برابر پر جس قسم کے قوانین لاگو ہوں

مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی)

رہا یہ امر کہ تصریحاً تقاتلونھم او یسلمون دو ہی چیز (۱) جنگ یا (۲) اسلا ملت یعنی دینی ریاست کے مرکز ازیں یہ بھی صرف مشرکین کے ۔

”عرب کے غیر خطرناک علاقے مملکت میں جزیہ والے بھی رہ ر ہوا۔ قرآن نے جبر فی ترک الد الوطن بھی ایک محدود علاقے میں ہے کہ حضرت عمر نے خیبر اور فدک ریاست کے علاقے تیماء اور اری ذمی رہتے ہوئے کئی سال تک ا ہے کہ فوجی اہمیت کے مقامات م سے اٹھا دیا جاتا ہے اور فوج وہا عوام کو فوج کی ملازمت پر مجبو کے لیے جنگ یا اسلام کا راستہ

صفحہ 9

وہ اس کو مان لیں تو ان سے جنگ روک دیں گے۔ اور اگر وہ اسلام کے ماننے سے انکار کر دیں تو پھر انہیں جزیہ ادا کر کے ذمی بننے کی دعوت دیں گے۔ اگر وہ اسے مان لیں تو ان کے لیے مسلمانوں کے برابر حقوق ہوں گے اور جرم اور سزا کے بارے میں مسلمانوں پر جس قسم کے قوانین لاگو ہوں گے وہ ان پر بھی لاگو ہوں گے۔ (قدوری ص ۳۹۴ طبع مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی)

رہا یہ امر کہ تصریحات فقہا کے مطابق اہل عرب کے مشرکین کے لیے تقاتلونهم او يسلمون دو ہی چیزیں رکھی گئی ہیں۔

(۱) جنگ یا (۲) اسلام۔ تو اس کی وجہ ان کو اسلام پر مجبور کرنا نہیں بلکہ مرکز ملت یعنی دینی ریاست کے مرکزی مقام سے مخالف عناصر کی وطنیت ختم کرنا ہے علاوہ ازیں یہ بھی صرف مشرکین کے لیے ہے اہل کتاب کو سوائے مکہ اور مدینہ میں توطن کے ”عرب کے غیر خطرناک علاقے“ میں ذمی رہتے ہوئے سکونت مل سکتی ہے۔ جبکہ باقی مملکت میں جزیہ والے بھی رہ رہے ہیں تو یہ جبر فی الدین نہ ہوا بلکہ جبر فی منع التوطن ہوا۔ قرآن نے جبر فی ترک الوطن کی نہیں بلکہ جبر فی الدین کی نفی کی ہے۔ اور جبر فی الوطن بھی ایک محدود علاقے میں ہے پوری ریاست سے اخراج کی بات نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر نے خیبر اور نواح مدینہ کے یہودیوں کو نکالا تو حجاز سے نکال کر اسلامی ریاست کے علاقے تیماء اور اریحا میں رہنے کی اجازت دے دی۔ جبکہ اس قبل یہودی ذمی رہتے ہوئے کئی سال تک اسلامی ریاست میں بستے رہے اور ایسا تو ہر ملک میں ہوتا ہے کہ فوجی اہمیت کے مقامات حاصل کرنے ہوں تو اپنے عوام کو بغیر کسی جرم کے وہاں سے اٹھا دیا جاتا ہے اور فوج وہاں رہتی ہے تو اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہوتا ہے کہ سویلین عوام کو فوج کی ملازمت پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل عرب کے مشرکین کے لیے جنگ یا اسلام کا راستہ باقی رکھنا اور ذمی بننے کی گنجائش نہ دینا انہیں اسلام لانے

صفحہ ۸۷

پر مجبور کرنے کے لیے نہیں وہ کسی اور شہر یا بستی میں حدود حرم سے باہر چلے جائیں تو پھر ان کے لیے بھی تین راستے ہو جائیں گے۔ جنگ۔ ذمی بنتے ہوئے ٹیکس دینا۔ یا اسلام لانا۔ باقی جو آیت بطور اعتراض اس سلسلہ میں پیش کی گئی ہے وہ مشرکین مکہ سے متعلق نہیں بلکہ اسلام لانے کے بعد مرتد ہونے والوں کے لیے ہے۔ دیکھئے پوری آیت اس طرح ہے قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الیٰ قوم اولی باس شدید تقاتلونهم او یسلمون (الفتح : ۱۶/۲۷) آپ فرمادیں ان دیہاتی مسلمانوں سے جو آپ کے ساتھ اس سفر میں ہمراہ جانے سے پیچھے رہے کہ عنقریب تمہیں ایک شدید جنگجو قوم (سے جنگ) کی طرف بلایا جائے گا۔ تمہیں ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔ (یعنی مسیلمہ کذاب کے حامیوں اور منکرین زکوٰۃ سے جنگ کرنی ہوگی۔)

رہا دوسرا اعتراض کہ ایک مسلمان گستاخی رسالت کا ارتکاب کرے تو اس کے لیے قتل یا توبہ صرف دو امر کی پابندی ہے جو جبر فی الدین ہے تو اس کے جواب میں عرض ہے کہ اولاً ایسے شخص کے بارے میں فقہائے مسالک اسلام کا اختلاف ہے متنازعہ مسئلہ میں تمام امت کو الزام دینا اصول بحث کے خلاف ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حنفیہ کے علاوہ باقی ائمہ کے نزدیک گستاخی رسالت کے مرتکب کے قتل کا قانون کفر کے باعث نہیں بلکہ حق رسول کے باعث ہے اس لیے وہ کہتے ہیں کہ کفر سے توبہ کے باوجود قتل برقرار رہے گا۔ بعض حنفیہ بھی باوجود توبہ اس کے قتل کے قائل ہیں۔ اس لیے ان کے لیے دوسرے راستہ کی گنجائش نہیں دیتے تو یہ جبر فی الدین نہ ہوا ورنہ اسلام میں واپس آنے سے سزا ختم ہو جاتی ہے۔ رہے جمہور فقہاء حنفیہ وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر کفر پہلے کسی اور سبب سے لازم ہوا پھر گستاخی کی تو وہ ایک غیر مسلم کی طرف سے توہین ہے جس کے احکام اس رسالہ میں مفصل بیان ہوں گے۔ اور اگر کفر اسی گستاخی کے سبب لازم ہوا تو اس کی توبہ اور نئے سرے سے اسلام لانا اسے مسلمان بنا دے گا اور مرتد کا اسلام صرف اس طرح ہوتا ہے کہ وہ جس کلمہ کے سبب کافر ہوا۔ اسی کا کفر ہونا مان کر اس سے

برأت کا اظہار کرے اختلاف کے باوجود یہ اپنے معاشرہ کو تخریب سے جب تک وہ ملک مسلمانوں فی الوطن کے ساتھ ملحق نے یہودیوں کو مدینہ سے کے ایک علاقے میں اپنی تاریخ الخلفاء میں واخرج أهل نجران الی کراچی) یعنی حضرت عمر ملک شام میں ٹھہرایا اور نجران کوفہ میں ٹھہرایا۔ (تاریخ بہر حال زیر غور کے گستاخ کا قتل واجب ہے ہے کہ اس کا قتل لازم ہے گستاخی ہے جو صریح گالی ہو شرک کرنا یا یہودی عیسائی سے توبہ بالاتفاق مقبول ہے آخر میں میں کہ اگر کوئی شخص اپنی رضا وہ مرتد ہو جائے تو ہم

صفحہ 11

برأت کا اظہار کرے لہٰذا اس کی توبہ کے بعد قتل ٹل جائے گا۔ بہرحال اس تمام تر اختلاف کے باوجود یہ جبر اہل اسلام پر ان کو اسلام پر قائم رکھنے کے لیے ہے۔ تاکہ اپنے معاشرہ کو تخریب سے محفوظ رکھا جائے۔ لہٰذا وہ شخص اگر دوسرے ملک بھاگ جائے تو جب تک وہ ملک مسلمانوں کی حکومت کے تحت نہ آئے اسے قتل نہ کریں گے تو یہ بھی جبر فی التوطن کے ساتھ ملحق ہوا۔ (مزید تفصیل آگے آتی ہے) دیکھئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو مدینہ سے نکالا تو انہیں کافروں کے ملک میں دھکیلنے کی بجائے عرب ہی کے ایک علاقے میں اپنی مملکت میں رہائش دی۔

تاریخ الخلفاء میں ہے وهو الذی اخرج اليهود من الحجاز الى الشام واخرج أهل نجران الى الكوفة (تاریخ الخلفاء عربی ص ۱۳۷ طبع میر محمد کتب خانہ کراچی)

یعنی حضرت عمر ہی وہ شخصیت ہیں۔ جنہوں نے یہودیوں کو حجاز سے نکال کر ملک شام میں ٹھہرایا اور نجران کے عیسائیوں کو حجاز سے نکال کر عرب ہی کے ایک علاقے کوفہ میں ٹھہرایا۔ (تاریخ الخلفاء عربی ص ۱۳۷ طبع میر محمد کتب خانہ کراچی)

بہرحال زیر غور مسئلہ اس آیت کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ فقہاء کے نزدیک رسول کے گستاخ کا قتل واجب ہے اور یہ فقہا کے دونوں فریق حنفیہ اور غیر حنفیہ کا اجماعی مسئلہ ہے کہ اس کا قتل لازم ہے یاد رہے کہ یہاں انبیاء علیہم السلام کی توہین سے مراد وہ واضح گستاخی ہے جو صریح گالی ہو یا صریحاً نقص و عیب لگانا ہو رہا کفر و ارتداد کا ارتکاب جیسے شرک کرنا یا یہودی عیسائی بننا یہ حرام اور کفر و ارتداد تو ہے مگر توہین رسالت نہیں لہٰذا اس سے توبہ بالاتفاق مقبول ہے۔

آخر میں میں ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ لا اکراہ فی الدین کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی رضامندی سے دین اسلام میں داخل ہو یا وہ خاندانی مسلمان ہو پھر وہ مرتد ہو جائے تو ہم اسے اسلام پر رہنے کے لیے قتل کی سزا کے ذریعہ مجبور نہیں

صفحہ 12

کر سکتے۔ آخر کیوں نہیں؟ قرآن شریف میں لا اکراہ فی الدین فرمایا ہے یعنی دین اسلام کے اندر ( آنے کے لیے) کوئی جبر نہیں ہے۔ لا اکراہ فی الدین میں فرمایا۔ کہ دین اسلام پر (قائم رہنے کے لیے) کوئی جبر نہیں ۔ ہمارے احکام شرع بیان کرنے والے علماء نے ان دونوں مسئلوں کو علیحدہ علیحدہ بیان کیا۔

دیکھئے فقہا نے فرمایا المكره على الاسلام اذا ارتد لا يقتل استحساناً۔ جس آدمی کو اسلام میں دخول پر مجبور کیا گیا وہ جب مرتد ہو گیا تو اس کو استحساناً قتل نہیں کیا جائے گا۔ (عالمگیری جلد دوم ص ۲۹۷)

نیز فرمایا المكره على الكفر لا يحكم بكفره اذا كان قلبه مطمئناً بالایمان بخلاف المكره على الايمان انه يحكم بايمانه (بدائع الصنائع جلد ۷ ص ۱۷۸) یعنی اگر کسی مسلمان کو کفر میں داخل ہونے پر مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن تھا تو اس کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا اس کے برخلاف اگر کسی کو ایمان کے دائرہ میں داخل ہونے پر مجبور کیا گیا اور وہ ایمان لایا تو ہم اسے ایمان دار مان لیں گے۔

(بدائع الصنائع جلد ۷ ص ۱۷۸)

لیکن پھر کیا ہوگا اگر وہ اسلام پر نہ رہے فرماتے ہیں۔ ولواکره علی الاسلام فاسلم ثم رجع يجبر على الاسلام ولا يقتل بل يحبس ولكن لا يقتل۔ یعنی اگر کسی کو اسلام لانے کے لیے مجبور کیا گیا اور وہ مسلمان ہو گیا پھر وہ اسلام سے پھر گیا تو ہم اس پر اسلام کے لیے دباؤ ڈالیں گے لیکن اسے قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے قید کر دیں گے۔ لیکن اسے قتل پھر بھی نہیں کیا جائے گا۔ (یعنی قید میں اس طرح کا سلوک بھی نہیں کیا جائے گا جس سے اس کی موت کا امکان غالب ہو)۔

وكذلك الكافر اذا أسلم وله أولاد صغار حتى حكم باسلامهم تبعا لابيهم فبلغوا كفاراً يجبرون على الاسلام ولا يقتلون (بدائع الصنائع جلد ۷ ص ۱۷۸) اسی طرح کفار جب مسلمان ہوں اور ان کے ساتھ چھوٹے بچے بھی ہوں جن

کو ان کے باپ کے تابع قر کافر بن گئے ایسوں کو اسلام

خلاصہ یہ کہ مسلما جائے گا اگر وہ دل سے مسل ہم اسے مسلمان ہی تسلیم کر ہم اس کے اسلام پر شک ن لیکن اگر وہ کافر ہو جائے تو کر سکتے ہیں اور نہ اسے قت کرنا ہی ہمارے نزدیک غلط اسلام اجازت نہیں دیتا۔ اس ل مسلمان ہو کر کافر ہوا ہے یا ک دین اسلام چھوڑنے کا اور مرت یقین نہیں تھا۔ محض شک تھا او لانے کے لیے بھی مجبور نہیں ک مسلمان ہو کر پھر کافر بن گیا رہا وہ شخص جو بائ دین پر قائم رکھنے کے لیے اذا ارتد المسلم أبداها كشفت إلا ان يك

صفحہ 13

کو ان کے باپ کے تابع قرار دیتے ہوئے مسلمان قرار دے دیا گیا پھر وہ بالغ ہوئے تو کافر بن گئے ایسوں کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا مگر انہیں قتل نہیں کیا جائے گا۔

(بدائع الصنائع جلد ۷ ص ۱۷۸)

خلاصہ یہ کہ مسلمان کو اگر قتل کی دھمکی دے کر کافر بنایا جائے تو اس سے پوچھا جائے گا اگر وہ دل سے مسلمان رہا تو اسی اکراہ پر عمل کا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور ہم اسے مسلمان ہی تسلیم کر لیں گے اسی طرح وہ شخص جس کو کسی نے اسلام پر مجبور کیا تھا ہم اس کے اسلام پر شک نہیں کریں گے۔ (اس لیے کہ شاید وہ دل سے مسلمان ہوا ہو) لیکن اگر وہ کافر ہو جائے تو ہم اسے ہلکی سی سزا یعنی قید تو دے سکتے ہیں لیکن نہ اسے قتل کر سکتے ہیں اور نہ اسے قتل کی دھمکی دے سکتے ہیں۔ اس لیے کہ مسلمان ہونے پر مجبور کرنا ہی ہمارے نزدیک غلط تھا۔ تاہم اس کے زبانی اقرار کے بعد اسے کافر کہنے کی بھی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے جب وہ دوبارہ کافر ہوا تو اس امر میں شک ہو گیا کہ وہ مسلمان ہو کر کافر ہوا ہے یا کافر رہتے ہوئے اس نے کفر کا اظہار کیا ہے۔ چونکہ اس کے دین اسلام چھوڑنے کا اور مرتد بننے کا یقین اس لیے نہیں ہوا کہ اس کے مسلمان بننے کا یقین نہیں تھا۔ محض شک تھا اور شک کی بنا پر ہم اسے قتل نہیں کر سکتے اور کسی کافر کو دین پر لانے کے لیے بھی مجبور نہیں کر سکتے اس لیے قتل نہیں کیا۔ لیکن یہ بھی شک تھا کہ وہ واقعی مسلمان ہو کر پھر کافر بن گیا ہو۔ اس شک کی بنا پر قید کی سزا دی ہے۔

رہا وہ شخص جو راضی خوشی مسلمان ہوا یا وہ مسلمان تھا اور پھر کافر ہو گیا تو اس کو دین پر قائم رکھنے کے لیے قتل کی واقعی دھمکی موجود ہے۔ چنانچہ فقہاء فرماتے ہیں۔

اذا ارتد المسلم عن الاسلام والعياذ بالله عرض عليه الاسلام فان كانت له شبهة أبداها كشفت الا ان العرض على ما قالوا غير واجب بل مستحب كذا فى فتح القدير۔

(عالمگیری جلد ۲ ص ۲۵۳ طبع بلوچستان بکڈپو کوئٹہ )

(فتح القدیر جلد ۵ ص ۳۰۸-۳۰۷ طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )

صفحہ 14

یعنی مسلمان جب عیاذاً باللہ اسلام سے پھر جائے تو اسے اسلام کی دوبارہ دعوت دی جائے گی (اور قوت حاکمہ اس بات کا انتظام کرے گی) کہ اگر اس کا کوئی شبہ ہو جس کو اس نے ظاہر کیا ہو تو اس میں اس کی تسلی کرائی جائے گی۔ تاہم بعض فقہا یہ کہتے ہیں کہ اسلام کی دعوت دینا صرف مستحب ہے ضروری نہیں۔

(عالمگیری جلد ۲ ص ۲۵۳ طبع بلوچستان بکڈپو کوئٹہ)

(فتح القدیر جلد ۵ ص ۳۰۸-۳۰۷ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)

قتل ھذا اذا استمہل فاما اذا لم یستمہل قتل من ساعتہ ولا فرق فی ذلک بین الحر و العبد کذا فی السراج الوھاج

(عالمگیری جلد ۲ ص ۲۵۳ طبع بلوچستان بکڈپو کوئٹہ)

یعنی مرتد کو بشرطیکہ وہ اسلام پر غور کرنے کے لیے مہلت مانگے تو اسے تین دن کی مہلت دی جائے گی اور اگر اس کے بعد مسلمان ہو گیا تو کوئی سزا نہیں ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا اور اگر کسی نے مہلت نہیں مانگی تو اسے اسی وقت قتل کر دیا جائے گا اور اس بارے میں آزاد اور غلام کا کوئی فرق نہیں۔

(عالمگیری جلد ۲ ص ۲۵۳ طبع بلوچستان بکڈپو کوئٹہ)

الحمدللہ آیت لا اکراہ فی الدین کا مطلب بھی واضح ہو گیا۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری اس حقیر کوشش کو قبول فرمائے اور اسے مسلمانوں کے لیے نافع بنائے۔ اور صفہ فاؤنڈیشن کے جملہ اراکین کو جزائے خیر عطا فرمائے جو اس اہم مقالے کو شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

والسلام محمد اقبال سعیدی بقلمہ شیخ الحدیث مدرسہ انوار العلوم، ملتان

صفحہ 15

توہین رسالت کے جرم پر

غیر مسلم کے لیے سزا

ریٹائرڈ جسٹس، سینیٹر جاوید اقبال صاحب نے سرور کونین ﷺ کی شان میں گستاخی کی سزا کے بارے میں جو بیان دیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جاوید اقبال صاحب کی نظر میں توہین رسالت کوئی بہت بڑا اور سنگین جرم نہیں ہے۔ اگرچہ ان کے الفاظ تو مختلف ہیں لیکن جو دلائل انہوں نے پیش کیے ہیں اور اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی کے لیے جو پیرایۂ اظہار منتخب فرمایا ہے اس سے یہ تاثر بہت واضح طور پر ملتا ہے کہ شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی کو جس قدر شدید اور سنگین جرم گردانا گیا ہے یہ حقیقت ان کے خیال میں قرآنی تعلیمات اور گزشتہ ہندی مسلمان حکمرانوں کے تعامل کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی توہین کا مرتکب اگر غیر مسلم ہو تو شریعت اسلامی میں اس غیر مسلم کے لیے کوئی سزا نہیں ہے۔ اور ”فتاویٰ عالمگیری“ کا غلط حوالہ دے کر انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ فقہ حنفی کی اس مشہور کتاب میں بھی ”غیر مسلموں“ کو ”توہین رسالت“ کے جرم کی سزا سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ ان کا خیال ہے قرآن مجید کی آیت کریمہ ”لکم دینکم ولی دین“ کی رو سے بھی ”غیر مسلم“ شریعت کے اس قانون کی زد میں نہیں آتے۔ علاوہ ازیں ان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ مغل بادشاہوں کے دور میں بلکہ اس

صفحہ 16

سے پہلے بھی غیر مسلموں کو اسلامی عقائد اور اصولوں کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا جاتا تھا یعنی شانِ نبوت میں گستاخی کرنے والے کو کوئی سزا نہیں دی جاتی تھی۔

اپنے بیان میں انہوں نے فتاویٰ عالمگیری پر الزام تراشی کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ”غیر مسلموں کو اسلامی ملک میں علانیہ خنزیر فروشی اور خنزیر خوری کی اجازت ہے جبکہ مسلمانوں کے لیے یہ قطعاً حرام ہے۔“ گویا وہ ثابت یہ کرنا چاہتے ہیں کہ اسلامی قوانین غیر مسلموں پر لاگو نہیں ہوتے۔ لیکن جسٹس جاوید اقبال صاحب نے یہ بیان یا تو شریعت اسلامی اور قرآن وسنت سے لاعلمی کی وجہ سے دیا ہے یا پھر اس میں ان کی بدنیتی شامل ہے۔

جناب جاوید اقبال صاحب نے یہ بیان جاری کرتے ہوئے بہت سے پہلوؤں سے دانستہ یا نادانستہ اغماض برتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے لفظ ”غیر مسلم“ استعمال کیا ہے جس میں بہت ابہام ہے۔ شرعی احکامات کا اطلاق کرتے ہوئے غیر مسلموں کی مختلف اقسام کا اعتبار کیا جاتا ہے جس میں ذمی مستامن کے علاوہ حربی مرتد بھی شامل ہیں جن کے بارے میں احکامات مختلف ہوتے ہیں جیسا کہ ہم آگے چل کر تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے چند مخصوص احکامات میں ذمی اور مستامن کے لیے رعایت کی گنجائش رکھی گئی ہے جبکہ حربی اور مرتد کے لیے رعایت کا کوئی پہلو نہیں اگر چہ حربی کفار اور مرتدین کی مملکتوں سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہو سکتا ہے لیکن انہیں مسلم مملکت میں ویزا کے ساتھ رہ کر یا اس میں بغیر ویزا داخل ہو کر قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ بین الاقوامی قانون میں بھی ایک ملک کا باشندہ دوسرے ملک میں خواہ ویزا لے کر ہی جائے تو بھی اسے اس ملک کے قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں۔ بلکہ رعایت تو ایک طرف رہی انہیں عام حالات میں بغیر سبّ رسول کے بھی قتل کیا جائے گا اور توہین و شتم رسالت کا جرم تو ایسا جرم ہے کہ جس سے ذمی اور مستامن تک کو سزا سے تحفظ نہیں دیا گیا۔

اس کے علاوہ جسٹس صاحب بالکل من گھڑت اور خود ساختہ ہیں۔ چو اخذ کیا ہے نہ صرف یہ کہ تفاسیر و احادیث ہیں بلکہ منشائے ایزدی کے بھی خلاف ت

تفصیل اجمال:

مرتد: تفصیل اس ا اسلام کا اقرار کرنے کے بعد کسی کفر ک کیونکہ جب وہ مسلمان ہوا تھا تو اس کرلیا تھا۔ اب مرتد ہونے کے بعد ا عام میں ظلم نہیں کہلاسکتا۔ پھر مرتد کی کے سوا کسی اور چیز کے باعث کافر ہ کرے اور توبہ بھی نہ کرے تو (قتلہ جلد ۳ صفحہ ۳۱۲) (۲) جو شخص سَبَّ صاحبِ درر صاحبِ بزازیہ صاحب نہیں کی جائے گی بلکہ اسے لازماً بط لیے بھی توبہ کو مفید قرار دیا اور علامہ ”صحیح“ قرار دیا۔ تاہم توبہ سے انکا اتفاق ہے۔ (درمختار صفحہ ۳۱۷ تا ۳

غیر مرتد کافر:

رہے وہ لوگ جو پیدا

صفحہ 17

اس کے علاوہ جسٹس صاحب نے فتاوی عالمگیری کے جتنے حوالے دیئے ہیں وہ بالکل من گھڑت اور خود ساختہ ہیں۔ پھر قرآن مجید کی آیت کریمہ سے جو مفہوم انہوں نے اخذ کیا ہے نہ صرف یہ کہ تفاسیر و احادیث اور علمائے امت کے اقوال اس مفہوم کی نفی کرتے ہیں بلکہ منشائے ایزدی کے بھی خلاف ہے۔

تفصیل اجمال:

مرتد: تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ شریعت اسلامی کے مطابق جو شخص اسلام کا اقرار کرنے کے بعد کسی کفر کا ارتکاب کرے مرتد کہلاتا ہے اور مرتد کی سزا قتل ہے کیونکہ جب وہ مسلمان ہوا تھا تو اس نے اسلام کو اس کے تمام احکام و قوانین سمیت قبول کرلیا تھا۔ اب مرتد ہونے کے بعد اس کا تسلیم شدہ قانون اس پر نافذ کیا جائے تو یہ عرف عام میں ظلم نہیں کہلاسکتا۔ پھر مرتد کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) جو سب رسول ﷺ کے ارتکاب کے سوا کسی اور چیز کے باعث کافر ہوا تو اس پر اسلام پیش کریں گے۔ اگر وہ اسلام قبول نہ کرے اور توبہ بھی نہ کرے تو (قتلہ من ساعتہ) اسے حاکم فوراً قتل کرادے گا۔ (درمختار جلد ۳ صفحہ ۳۱۲) (۲) جو شخص سب رسول ﷺ کے سبب مرتد ہوا تو صاحب درمختار‘ صاحب درر‘ صاحب بزازیہ‘ صاحب اشباہ‘ صاحب فتح القدیر کے نزدیک اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی بلکہ اسے لازماً بطور حد قتل کیا جائے گا۔ بعض دوسرے علماء نے اس کے لیے بھی توبہ کو مفید قرار دیا اور علامہ ابن عابدین شامی نے قبول توبہ کے قول کو ”بدلائل“ ”صحیح“ قرار دیا۔ تاہم توبہ سے انکار کے بعد اس کے قتل پر سبھی حنفی علماء کا (غیر حنفیہ کی طرح) اتفاق ہے۔

(درمختار صفحہ ۳۱۷ تا ۳۲۱)

غیر مرتد کافر:

رہے وہ لوگ جو پیدائشی غیر مسلم ہیں اور کلمہ نہیں پڑھتے۔ وہ تین قسم ہیں۔

صفحہ 18

(۱) حربی (۲) مستامن (۳) ذمی

(۱) حربی یہ دارالحرب (یعنی مکمل غیر اسلامی ملکوں) کے غیر مسلم باشندے ہیں۔ وہ اگر ہمارے ملک میں بغیر ویزا کے گھس آئیں تو انہیں کوئی بھی مسلمان قتل کرسکتا ہے کیونکہ ہم ان کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں اور حالت جنگ میں دشمن کے آدمی جہاں ملیں انہیں قتل کیا جاسکتا ہے۔ بحرالرائق جلد ۵ صفحہ ۷۰ (طبع ایچ ایم سعید کراچی) میں ہے: (قوله الجهاد فرض كفاية ابتداءً) مفيد لثلثة احكام الاول كونه فرضا و دليله الاوامر القطعية كقوله تعالى فاقتلوا المشركين. وقاتلوا المشركين كافة. وقاتلوا الذين لايؤمنون بالله ولا باليوم الآخر و تعقب بانها عمومات مخصوصة والمخصوص ظنى الدلالة وبه لا يثبت الفرض واجيب بان خروج الصبى والمجنون منها بالعقل لايصيره ظنيا واما غيرها فنفس النص ابتداء لم يتعلق به لانه مقيد بمن بحيث يحارب كقوله تعالى وقاتلوا المشركين كافة الاية فلم تدخل المرأة واما الاحاديث الواردة فيه فظنية لاتفيد الافتراض. یعنی صاحب کتاب کا یہ ارشاد کہ پہل کر کے جہاد (کفار سے جنگ) کرنا فرض کفایہ ہے اس سے تین احکام کے ثبوت کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ پہلا یہ کہ جہاد فرض ہے اور اس حکم کی دلیل قطعی (واضح یقینی) احکام الہیہ ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کے ارشادات "تو مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کرو" اور "سب مشرکین سے جنگ کرو۔" اور "جنگ کرو ان سے جو نہیں ایمان رکھتے اللہ پر نہ یوم آخر پر" (صاحب بحر فرماتے ہیں) بعض معترضین کی طرف سے ہمارے دلائل کا تعاقب کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ آیات عام مخصوص عنہ البعض کے قبیل سے ہیں جو ظنی الدلالۃ ہوتا ہے اور ظنی سے فرض ہونا ثابت نہیں ہوتا۔

(صاحب بحر نے کہا) اس کا جواب دیا گیا کہ یہ آیات ظنی الدلالۃ (عام مخصوص

عنہ البعض) مجھ کہ وہ دلیل عقل جاتے ہیں تو نص جنگ کیا کرتے ہیں وہ تم تمام سے جنگ ہوئی۔ (بحرالرائق ص تنوير الابص فرض کفایہ ہے (درمخ وان لم يبدء ونا فان قاتلوكم فاقت في الاشهر الحر بالعمومات كاف حيث وجدتموه البعض) ولو عبيد عن الكل والا) زمن ما (الموا الكل من المكل تتوهم ان فرضي الهند بقيام اهل يفرض على الا

صفحہ 19

عنہ البعض) نہیں اس لیے کہ بچے اور پاگل کا ان کے حکم سے باہر نکلنا انہیں ظنی نہیں بنا دیتا کہ وہ دلیل عقل سے باہر نکلے ہیں نہ کہ دلیل نقل سے اور ان کے ماسوا جو لوگ مستثنیٰ سمجھے جاتے ہیں تو نص ابتداء ہی میں ان سے متعلق نہ تھی اس لیے کہ نص مقید ہے ان کے ساتھ جو جنگ کیا کرتے ہیں چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے تمام کے تمام مشرکوں سے جنگ کرو جیسا کہ وہ تم تمام سے جنگ کرتے ہیں تو عورت جو جنگ نہ کیا کرتی ہو آیت کے حکم میں داخل نہ ہوئی۔

(بحر الرائق جلد ۵ صفحہ ۷۰)

تنویر الابصار متن درمختار میں ہے ھو فرض کفایۃ ابتداءً پہل کر کے جہاد کرنا فرض کفایہ ہے ( درمختار شامی جلد ۳ صفحہ ۲۳۹ جدید طبع کوئٹہ ) اس کے نیچے درمختار میں ہے۔

وان لم يبدءونا واما قوله تعالى یعنی خواہ کافر ہم سے پہل کر کے جنگ نہ بھی فان قاتلوكم فاقتلوهم وتحريمه چھیڑیں (تب بھی ان سے جنگ فرض کفایہ فى الاشهر الحرم فمنسوخ ہے) رہا اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر وہ تم سے بالعمومات كاقتلوا المشركين جنگ کریں تو انہیں قتل کرو اور اسی طرح حيث وجدتموهم (ان قام به جنگ کو اشہر حرم میں حرام فرمانا تو یہ عمومی حکم البعض) ولو عبيداً او نساء (سقط دینے والی آیت کریمہ سے منسوخ ہے جیسے عن الكل والا) يقم به احد فى یہ آیت کریمہ کہ قتل کرو مشرکین کو جہاں پاؤ زمن ما (اثموا بتركه) اى اثم انہیں۔ (اور فرض کفایہ سے مراد یہ ہے کہ ) الكل من المكلفين واياك ان اگر بعض مسلمان جہاد کو قائم کر دیں اگرچہ وہ تتوهم ان فرضيته تسقط عن اهل غلام یا عورتیں ہی ہوں تو سب مسلمانوں الهند بقيام اهل الروم مثلاً بل سے فرض اتر گیا اور اگر کسی زمانے میں کوئی يفرض على الاقرب فالاقرب من شخص بھی جہاد قائم نہ کرے تو اس کے چھوڑنے کے سبب تمام مسلمان گنہگار ہوں

صفحہ 20

العدو الى ان تقع الكفاية فلولم تقع الا بكل الناس فرض عينا

(درمختار جلد ۳ صفحہ ۲۴۰/۲۳۹)

گے۔ اور اس وہم سے بچنا کہ تم خیال کرو کہ روم کے مسلمان جہاد کے لیے کھڑے ہوں تو مثلاً اہل ہند کا فرض اتر جاتا ہے بلکہ جہاد ہر جگہ کے دشمنوں کے قریب رہنے والوں پر پھر ان سے قریب والوں پر فرض ہے یہاں تک کہ ضرورت پوری ہو جائے تو اگر بالفرض تمام لوگوں کے بغیر ضرورت پوری نہ ہو تو فرض عین ہو جائے گا۔

خلاصہ یہ کہ کفار کے تمام ملکوں سے جنگ کرنا مسلمانوں پر فرض ہے اس لیے وہ ان سے ہمیشہ حالت جنگ میں ہیں لہٰذا حالت جنگ میں ان کا جو باشندہ ہاتھ لگ جائے تو ظاہر ہے اسے مار دینا کوئی جرم نہیں۔ اسی سے واضح ہو گیا کہ وہاں کا کوئی باشندہ اگر اپنے ملک میں توہین رسول اور سبّ رسول کا اس طرح ارتکاب کرتا ہے کہ اس کی اشاعت ہمارے ممالک میں ہوتی ہے تو بھی جو مسلمان ایسے مردود کو موقع پا کر قتل کرے شریعت اس مسلمان کو اس کی اجازت دیتی ہے اگر چہ وہ مسلمان اسی کافر ملک کا باشندہ ہی ہو۔ چہ جائیکہ ہمارے ملک سے جا کر کوئی مسلمان اس کو قتل کرے وہ تو بطریق اولیٰ جائز ہے البتہ مجبوری کے احکام جدا ہیں لیکن مجبوری کے عذر کے پیش نظر ساری عمر خواب غفلت بھی شرعاً جائز نہیں بلکہ لازم ہے کہ ہر ممکن طریقہ سے ہم اپنی تعداد، ہتھیار اور جنگی صلاحیت میں اضافہ کی کوشش میں رہیں تا کہ دشمنوں کی طاقت کا توڑ کر سکیں۔

(عامہ کتب فقہ حنفیہ)

بہر حال جس حربی کافر کی حفاظت کا ہم نے عہد نہیں کیا یا ہم سے یہ عہد لینے کے بعد وہ دوبارہ دارالحرب میں داخل ہو گیا تو اس کا قتل جائز ہے۔ در مختار میں ہے فان رجع المستامن اليهم ولو بغير داره حل دمه لبطلان امانه اگر مستامن کافر دارالحرب

صفحہ 21

لوٹ گیا اگر چہ یہ دارالحرب اس کا پہلا ملک نہیں تو اس سابق مستامن کا خون حلال ہو گیا اس لیے کہ جو امان اس نے حاصل کی تھی ختم ہو گئی۔

(درمختار شامی جلد ۳ صفحہ ۲۷۵)

مستأمن:

یہ دارالحرب کی قومیت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو بطور سفیر یا کسی اور جائز مقصد سے قلیل مدت کے لیے امان لے کر مسلمانوں کے ملک میں داخل ہوں۔

ذمی کا سا ہے مگر بعض امور میں ذمی سے کم ہے اور بعض میں زیادہ تفصیل اس کی یہ ہے کہ ذمی کو قتل کرنے پر حنفیوں کے نزدیک قصاص لازم ہے خواہ قاتل مسلمان ہی ہو لیکن مستامن کے قتل پر خواہ قاتل مسلمان ہو یا ذمی کافر خون بہا لازم ہے قصاص نہیں جبکہ ایک امر میں مستامن کو ذمی پر فوقیت حاصل ہے وہ یہ کہ ملکی قانون کی اکثر سزائیں اس کو نہیں دی جائیں گی۔ تاہم وہ تمام سزائیں جن میں حق العبد پایا جاتا ہے حتیٰ کہ قصاص وحدود بھی اس پر نافذ ہوں گی ماسوائے قول امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے وہ فرماتے ہیں سوائے شراب کی حد کے وہ تمام سزائیں مستامن پر بھی نافذ ہوں گی جو ذمی پر نافذ ہوتی ہیں۔ ردالمحتار میں ہے الاصل انه يجب على الامام نصرة المستامنين ماداموا فى دارنا فكان حكمهم كاهل الذمة الا انه لا قصاص على مسلم او ذمى بقتل مستامن ويقتص من المستامن بقتل مثله ويستوفيه وارثه ان كان معه۔ قاعدہ یہ ہے کہ مسلم حاکم اعلیٰ پر مستامنوں کی امداد ضروری ہے جب تک وہ ہمارے ملک میں ہوں تو ان کا حکم ذمیوں کی طرح ہو گا (مگر یہ بات ہے کہ مستامن کو ذمی کافر یا مسلمان قتل کرے تو قصاص ضروری نہیں (جبکہ ذمی کو مسلمان قتل کرے تو قصاص ہے) البتہ مستامن مستامن کو قتل کرے تو قصاص لازم ہے اور قصاص کی ادائیگی کا مطالبہ مستامن کا وارث کرے گا اگر وہ اس کے

صفحہ 22

ہمراہ ہو۔ (بحوالہ شرح السیر ردالمحتار جلد ۳ صفحہ ۲۷۳)

اسی میں ہے وذکر ایضا ان المستامن فی دارنا اذا ارتکب ما یوجب عقوبۃ لا یقام علیہ الا ما فیہ حق العبد من قصاص او حد قذف وعند ابی یوسف یقام علیہ کل ذالک الا حد الخمر کاہل الذمۃ (ردالمحتار جلد ۳ صفحہ ۲۷۳)

اور شرح سیر میں یہ بھی ذکر کیا کہ مستامن جب ہمارے ملک میں سزا کے موجب جرم کا مرتکب ہو تو اس پر سزا نافذ نہ کی جائے گی سوائے ان سزاؤں کے جن میں بندوں کا حق پایا جائے۔ قصاص یا حد قذف اور امام ابو یوسف کے نزدیک سوائے حد خمر کے مستامن پر باقی ہر سزا (قصاص حدود تعزیر وغیرہ) نافذ کی جائے گی جیسا کہ اہل ذمہ پر نافذ ہوتی ہے۔

(ردالمحتار جلد ۳ صفحہ ۲۷۳ بحوالہ شرح سیر)

بہر حال ثابت یہ ہوا کہ غیر مسلم مستامن پر حد خمر تو بالاتفاق علماء حنفیہ نافذ نہ ہوگی اور امام ابو یوسف کے نزدیک باقی تمام سزائیں جو ذمیوں پر نافذ ہوتی ہیں مستامن پر بھی نافذ ہوں گی اور امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہا اللہ کے نزدیک محض حقوق اللہ کی سزائیں اگرچہ ذمیوں پر نافذ ہوں مگر مستامن پر نافذ نہ ہوں گی البتہ حد قذف اور قصاص اور دیگر وہ سزائیں جن میں مخلوق کا حق بھی ملحوظ ہو مستامن غیر مسلم پر نافذ ہوں گی اور ظاہر ہے کہ جب ایک عام مسلمان کو تہمت لگانے پر مستامن سزا سے نہیں بچ سکتا کہ یہ حق العبد ہے تو رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے پر کیونکر سزا سے بچ سکتا ہے کہ یہ بھی اس نے حق العبد میں جرم کیا ہے اور کس عبد کے حق میں، وہ عبد جو عبدہ ہے۔

جاوید اقبال کے والد محترم شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال کے مطابق جو انہوں نے قرآن مجید کی روشنی میں بولا ”عبد دیگر عبدہ چیزے دگر“ تو عبدہ جو ہزارہا ”عبد“ سے بہتر ہے اس کا حق بھی تو اتنا ہی اعلیٰ ہے لہذا مذکورہ بالا حوالہ جات (از فقہ حنفیہ) کی روشنی میں وہ

صفحہ 23

اس کی سزا ضرور پائے گا۔ ہرگز بچ نہیں سکے گا۔

ذمی:

یہ وہ غیر مسلم ہیں جن کے علاقہ پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہو گئی اور انہوں نے حکومت اسلامی کو قبول کر لیا اور اسلام کی بالا دستی قبول کرنے کی شرط پر حکومت اسلامی کے زیر نگیں رہنے کا عہد کیا اور پھر اسلامی حکومت نے ان کے تحفظ کا وعدہ کیا اور وہ لوگ اپنے غیر اسلامی دین پر قائم رہتے ہوئے اسلامی ملک کے باشندے بن گئے۔ ان کے لیے کچھ رعایتیں ضرور ہیں مگر اتنا نہیں کہ وہ برملا مسلمانوں کے سامنے اپنی تقریر یا تحریر کے ذریعے ہم مسلمانوں کے پیغمبر کو گالیاں دیتے رہیں۔ یا اپنے لوگوں کے جلسوں میں لاؤڈ اسپیکر پر ایسی بکواس کریں۔ (ہاں اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم محمد ﷺ کو اللہ کا نبی اور آپ کی کتاب کو اللہ کی کتاب نہیں مانتے تو اس پر انہیں کوئی سزا نہیں دی جائے گی کہ معاہدہ ذمہ کا مطلب یہی تو ہے کہ انہیں ان کے کافرانہ عقائد پر قائم رہنے کی پوری آزادی ہے ) اسی طرح انہیں یہ اجازت اور آزادی نہیں کہ مسلمانوں کو اپنے دین کی دعوت دے سکیں۔ اگر وہ اس قسم کے (خلاف معاہدہ) امور کا ارتکاب کریں تو ان کا ذمی ہونے کا معاہدہ متاثر ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بعض امور کی انہیں آزادی نہیں جن کا بیان جاوید اقبال صاحب کے دیگر دعاوی پر نظر کے دوران ہوگا۔

سب رسول کے مرتکب ذمی کے قتل پر

حنفیہ سمیت سب کا اتفاق اور اجماع ہے:

بہر حال دار الاسلام میں آ کر یا یہاں رہ کر کسی بھی قسم کے غیر مسلم کو خواہ وہ حربی مستامن ہو یا ذمی اجازت نہیں ہے کہ وہ برملا نبی کریم ﷺ کو گالیاں دے عیب لگائے یا

صفحہ 24

تنقیص کرے۔ مسلمانوں کے دین کے مطابق ایسے شخص کا قتل مسلمانوں پر ضروری ہے۔ امت کا ایک عالم بھی اس میں اختلاف نہیں رکھتا۔ اہلسنت کے چاروں مجتہدین ابو حنیفہ مالک، شافعی اور احمد بن حنبل کے علاوہ دیگر تمام مجتہدین، اہل سلف، اہلسنت فقہاء، محدثین، مفسرین اور ان کے علاوہ اہلحدیث کہلانے والے ظاہری اور غیر مقلد علماء ان کے علاوہ زیدی شیعہ فقہ اور اثنا عشری شیعہ فقہ کے علماء سب کے سب اس بارے میں متفق ہیں۔ اگر اختلاف ہے تو اس نقطہ پر کہ کوئی ذمی اپنے گھر میں اپنے آدمیوں سے بات کر رہا تھا۔ وہاں سے اچانک کم از کم دو مسلمان گزرے اور انہوں نے سن لیا کہ وہ ذمی شخص سرکار ﷺ کی توہین کے کلمات بول رہا ہے جس سے ان مسلمانوں کو ایذاء پہنچی اور استغاثہ حکومت کے پاس گیا تو کیا اسے قتل کرنا ضروری ہے یا اسے کوئی اور سزا دینا ضروری ہے۔ باقی ائمہ کے نزدیک اس کا قتل ضروری ہے اور حنفیہ کے دو مسلک ہیں۔ کچھ حنفیہ اس کا قتل ضروری سمجھتے ہیں اور کچھ دوسرے سخت سزا تو ضروری سمجھتے ہیں جو قتل تک بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم قتل صرف جائز ہے، ضروری نہیں۔ اس سے قدرے کم سزا بھی ہو سکتی ہے۔ بہر حال بالکل سزا جائز نہ ہونا کسی حنفی عالم کا مسلک نہیں۔

کیا توہین اور سبّ کے ارتکاب

کے بعد ذمی کا ذمہ باقی ہے؟

اس مسئلہ میں ایک اور اختلاف بھی ہے اور وہ یہ کہ ذمی سبّ رسول کے بعد ذمی رہتا ہے یا نہیں؟ حنفیہ اور شافعیہ اسے تب بھی ذمی مانتے ہیں اور بعض دیگر علماء اسے ذمی نہیں مانتے۔

ذمّی ساب ن

قتل سے نج

مگر اس اختلاف فرق یہ ہے کہ اگر وہ شخص م اور بعد ثبوت وہی اسے قت کر سکتے ہیں۔ لیکن حنفیہ ک حکومت کرے گی اور اسے ضرور رکھنا چاہیے جبکہ امام م ہو گیا۔ اسے جو چاہے قتل کرد

حنفیہ کے نزدی

لیکن حنفیہ اسے ا قرار پا جائے گا تو مسلم عوام ک حمایت میں کھڑے ہو گئے تو بات یہ ہے کہ حنفیہ کے نزدی بنے بلکہ صرف اپنے سابقہ کرے تو اسے دوبارہ ذمی ب توبتہ و تعود ذمتہ ذمی قبول کر لی جائے گی اور اس میں یہ بات ثابت ہو گئی کہ

صفحہ 25

ذمی ساب ذمی رہنے کے باوجود

قتل سے نہیں بچ سکتا:

مگر اس اختلاف کا اصل مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا، قتل سب کے نزدیک ہے فرق یہ ہے کہ اگر وہ شخص اب بھی ذمی ہے تو اس کی سزا کا فیصلہ حکومت اسلامیہ کے ذمہ ہے اور بعد ثبوت وہی اسے قتل کرے گی اور اگر وہ حربی بھی ہو گیا تو مسلمان خود بھی اسے قتل کر سکتے ہیں۔ لیکن حنفیہ کے نزدیک وہ باجود سبّ قبل حربی بننے کے بھی ذمی ہے۔ فیصلہ حکومت کرے گی اور اسے یہ سزا ضرور ملے گی، مسلم عوام کو اپنے معاہدہ کی پابندی کا خیال ضرور رکھنا چاہیے جبکہ امام مالک اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک وہ اب ذمی نہیں رہا حربی ہو گیا۔ اسے جو چاہے قتل کر دے۔

حنفیہ کے نزدیک ذمی ماننے کی حکمتیں

لیکن حنفیہ اسے اس لیے ذمی ہونے سے خارج نہیں کرتے کہ اس طرح وہ حربی قرار پا جائے گا تو مسلم عوام کو اس کے قتل کی رخصت مل جائے گی پھر اگر دوسرے ذمی اس کی حمایت میں کھڑے ہو گئے تو ملک میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہو جانے کا خطرہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حنفیہ کے نزدیک ذمی اگر ذمہ توڑ بیٹھے اور دارالحرب نہ جائے اور نہ مسلمان بنے بلکہ صرف اپنے سابقہ قصور سے معافی مانگ کر دوبارہ ذمی بنائے جانے کی درخواست کرے تو اسے دوبارہ ذمی بنا لیا جائے گا۔ ملاحظہ ہو عالمگیری صفحہ ۲۵۳ واذا تاب تقبل توبته و تعود ذمته ذمی جب ذمہ توڑنے والے سبب اور فعل سے توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی اور اس کا ذمی ہونا لوٹ آئے گا۔ فتاویٰ عالمگیری کے اس حوالہ کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو گئی کہ کسی ایسے فعل یا قول کے سبب ذمی کو ذمہ سے خارج کرنے کا فائدہ

صفحہ 26

نہیں (جس کی پاداش میں قتل پر معاہدہ نہ ہوا ہو ) بلکہ نقصان ہے اگر وہ اپنے فعل پر معذرت کرلے تو وہ دوبارہ ذمی بن جائے گا اور ہر طرح کی سزا سے بچ جائے گا جبکہ اسے اپنے فعل کی سزا بھگتنا لازمی ہے۔

حنفیہ کے نزدیک ذمی کی سزا کے حوالے

اب رہا یہ امر کہ حنفیہ کے نزدیک ذمی کو سبّ نبی پر کیا سزا دی جائے گی تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ معاہدہ ذمہ میں حکومت کی طرف سے انہیں وارننگ دے دی گئی تھی کہ اگر انہوں نے سبّ رسول کا ارتکاب کیا تو انہیں قتل کر دیا جائے گا تو بالاتفاق ایسے شخص کو قتل کر دیا جائے گا، جو اس وارننگ پر مطلع اور متفق ہو کہ ذمہ قبول کرنے کے باوجود سبّ نبی کا ارتکاب کرے۔ فتاویٰ خیرالدین رملی سے ”ردالمحتار جلد ۳ صفحہ ۳۰۴ طبع رشید کوئٹہ میں ہے اما اذا شرط انتقض به كما هو ظاهر یعنی جب معاہدہ ذمہ میں یہ شرط قرار پا جائے کہ سبّ نبی سے ذمہ ٹوٹ جائے گا تو ایسی حالت میں ذمہ ٹوٹ گیا۔ (یعنی حسب معاہدہ عوام اور حکام اسے فوراً قتل کر سکتے ہیں) (رد المحتار جلد ۳ صفحہ ۳۰۴) اور اگر معاہدہ کے طور پر ان سے ایسی شرط نہیں ہوئی تو جدید دور میں اسمبلی کے پاس شدہ قانون کو معاہدہ کا درجہ دیا جاسکتا ہے۔

پیشگی قانون کے بغیر ذمی سابّ کا قتل:

اگر قانون ساز اداروں نے ایسا قانون مشتہر نہیں کیا جو معاہدہ کا درجہ پا کر ان کے لیے اس جرم کے ارتکاب پر ذمہ کو ختم کرنے اور قتل کرنے کا اعلان کرتا ہو اور نہ ان سے با قاعدہ معاہدہ میں یہ امر مشروط ٹھہرا تو وہ حنفیہ اور شافعیہ کے نزدیک ذمی تو رہے گا تاہم اس جرم پر اسے قتل کی سزا دینے کے لیے حکومت اسلامیہ پر شرع کی طرف سے کوئی قدغن نہیں

صفحہ 27

حکومت تب بھی قتل کر سکتی ہے۔ ردالمحتار میں فتاویٰ الرملی المحلی سے لائے کہ مذهب الشافعی كمذهبنا على الاصح قال ابن السبکی لاینبغی ان یفهم من عدم الانتقاض انه لایقتل فان ذلک لایلزم ولیس فی مذهبنا ماینفی قتله خصوصاً اذا اظهر ما هو الغایة فی التمرد و عدم الاکتراث والاستخفاف واستعلی علی المسلمین علی وجه صار متمرداً علیهم یعنی اس مسئلہ میں امام شافعی کا مذہب بھی علی الاصح ہمارے حنفی مذہب کی طرح ہے۔ ابن السبکی (شافعی) نے فرمایا عقد ذمہ نہ ٹوٹنے کے مسئلہ سے یہ سمجھنا لائق نہیں کہ (کسی نبی کو سبّ کرنے والے) ذمی کو قتل بھی نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ بیشک (ذمی باقی رہنے سے) یہ امر (اس کو قتل نہ کرنا) لازم نہیں ہوتا (بلکہ قتل کیا جاسکتا ہے)

علامہ خیر الدین حنفی فرماتے ہیں ہمارے حنفی مذہب میں بھی ایسا کوئی قول نہیں جو اس کے قتل کی نفی کرتا ہو۔ بالخصوص جب اس شخص سے (سرکار ﷺ کے بارے میں) انتہائی سرکشی، بے پروائی اور توہین ظاہر ہوتی ہو اور وہ مسلمانوں پر سرکشی کے انداز میں فوقیت ظاہر کرے (تو اسے قتل کیا جاسکتا ہے)

کیا اسلامی ممالک کے غیر

مسلم باشندے ذمی ہیں؟

یہ بہت پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اس کے جواب سے امن وامان کے مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں۔ بہرحال حکومت پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں سے ذمیوں کے ٹکراؤ کو روکنے کے لیے ایک قانون بنائیں جس میں ذمیوں کی حدود اور ذمہ داریوں کا تعین ہو ورنہ اگر غیر مسلموں نے ذمی ہونے سے انکار کیا اور مسلمانوں کو یہ باور کرا دیا کہ غیر مسلم،

صفحہ 28

مسلمانوں کے ملک میں ذمی نہیں بلکہ مسلمانوں پر فوقیت رکھتے ہیں تو مسلمانوں کے غیظ و غضب کا آتش فشاں پھٹ سکتا ہے اور ایسا ہو تو یہ لاوا سب کچھ بہا کر لے جائے گا اور حکمرانوں اور ان کے حامیوں سے جو بھی اس لاوے کا مقابلہ کرے گا ڈھیر بن جائے گا اور اس طرح کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔

ذمی کا علانیہ یا متعدد بار غیر

اعلانیہ سب نبی اور فقہ حنفی:

اگر کوئی ذمی علانیہ نبی کریم ﷺ پر سبّ کرے یا علانیہ نہیں کیا مگر اس سے یہ فعل متعدد بار ثابت ہو تو تمام علماء (بشمول حنفیہ) کے نزدیک اسے قتل کیا جائے گا اور اس بارہ میں عورت کو بھی اس جرم کی صورت میں یہی سزا برداشت کرنی ہوگی۔ در منتقٰی سے ردالمختار میں ہے فلو اعلن بشتمه او اعتاده قتل ولو امراة وبه یفتی الیوم تو اگر رسول اللہ ﷺ کو علانیہ گالی دی یا اس گالی کا (غیر علانیہ) عادی ہو گیا تو قتل کیا جائے خواہ عورت ہی ہو اور اس دور میں اسی امر (سابّہ عورت کے لیے قتل) کا فتویٰ دیا جاتا ہے۔

(ردالمختار جلد ۳ صفحہ ۲۰۴ طبع رشیدیہ)

ذمی کا اظہار سبّ اور حنفیہ کا فتویٰ:

علامہ ابن ہمام حنفی متوفی ۸۶۱ھ فتح القدیر میں ذمی سابّ کی عقوبت کے بارے میں حنفیہ کے مسلک کی وضاحت میں فرماتے ہیں والذی عندی ان سبّه صلی الله علیه وسلم او نسبة مالا ینبغی الی الله تعالیٰ ان کان مما لا یعتقدونه کنسبة الولد الی الله تعالیٰ وتقدمو عن ذلک اذا اظهره یقتل به وینتقض عهده وان لم یظهر ولکن عثر علیه وهو یکتمه فلا۔ میرے نزدیک (فقہاء کی عبارت کا

صفحہ 29

پر فوقیت رکھتے ہیں تو مسلمانوں کے غیظ و یہ لاوا سب کچھ بہا کر لے جائے گا اور ے کا مقابلہ کرے گا ڈھیر بن جائے گا اور

ظہار غیر

حنفی :

کرے یا علانیہ نہیں کیا مگر اس سے یہ فعل ایک اسے قتل کیا جائے گا اور اس بارہ اعت کرنی ہوگی۔ درمنتقی سے ردالمختار ا وبه يفتى اليوم تو اگر رسول الله کیا تو قتل کیا جائے خواہ عورت ہی ہو فتویٰ دیا جاتا ہے۔

(ردالمختار جلد ۳ صفحہ ۲۰۴ طبع رشیدیہ)

سفیہ کا فتویٰ:

میں ذمی ساب کی عقوبت کے بارے والذي عندي ان سبه صلى الله لى ان كان مما لا يعتقدونه كنسبة ما اظهره يقتل به وينتقض عهده لا۔ میرے نزدیک (فقہاء کی عبارت کا

مطلب) یہ ہے کہ نبی ﷺ کو کسی ذمی کا گالی دینا یا کسی نامناسب بات کا اللہ تعالیٰ سے منسوب کرنا اگر ایسے امور کے ساتھ ہو جو ان ذمیوں کے عقیدہ میں داخل نہیں جیسے (غیر عیسائی) کا اللہ تعالیٰ کی جانب اولاد کی نسبت (ثابت) کرنا کہ اللہ کی شان اس سے بلند ہے اور اس کی ذات اس سے پاک ہے تو جب ذمی اس قسم کے کفر ظاہر کرے گا تو اس کی وجہ سے اسے قتل کیا جائے گا اور اس کا عہد ذمہ ٹوٹ جائے گا اور ذمہ باقی نہ رہنے کی بناء پر اسے کوئی بھی قتل کر سکتا ہے اور اگر ایسے کفر اور ایسی گالیوں کو اس نے ظاہر نہیں کیا لیکن کسی طرح اس کے ایسے قول کا پتہ چل گیا جبکہ وہ اس امر کو چھپا رہا ہے تو پھر نہیں (یعنی پھر ذمہ نہیں ٹوٹے گا اور ذمہ ٹوٹنے سے جو اس کا قتل لازم ہوتا ہے وہ لازم نہ ہوگا۔ لیکن سزا دی جائے گی جو قتل تک ہو سکتی ہے۔

(فتح القدیر شرح ہدایہ صفحہ ۳۰۳ جلد ۵ طبع رشیدیہ کوئٹہ )

ذمی کا مخفی طور پر سبّ نبی عليه السلام:

اگر (۱) حکومت اسلامی کے معاہدہ ذمہ اور دستور و قانون میں یہ نہ کہا گیا ہو کہ نبی ﷺ کو سبّ اور گالی دینے کی سزا قتل ہے۔ (۲) اور ذمی نے اس جرم کا ارتکاب نہ علانیہ کیا ہو اور نہ بلا اعلان عادۃً بلکہ ذمی نے اس خباثت کا ارتکاب بظاہر مخفی طور پر مثلاً ایک شخص کے سامنے کیا اور مسلمانوں کے سامنے یہ جرم اس کے اقرار یا معتبر گواہی سے ثابت ہو گیا تو اس کی کیا سزا ہے۔ بعض لوگوں کو یہ مغالطہ ہوا کہ شاید اس جرم کی حنفیوں کے ہاں کوئی سزا نہیں۔ حالانکہ یہ بات بھی صحیح نہیں۔

اظہار اور اخفاء کا فرق:

کرے کہ اس کا ذریعہ اظہار ہر خاص و عام کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہو مثلاً چیخ چیخ کر مجمع عام میں یا مسلمانوں کے محلوں میں کہتا پھرے یا طباعت اور فوٹو اسٹیٹ کرا کے اس کی نشر و

صفحہ 30

اشاعت کرے یا آواز پھیلانے والے آلات (لاؤڈ سپیکر‘ ٹیپ ریکارڈر‘ ریڈیو‘ ٹیلی ویژن‘ ویڈیو گراموفون وغیر ہا) کے ذریعہ سے یہ مقصد حاصل کرے۔ عام ازیں کہ سبّ و تنقیص الوہیت ورسالت کا ذریعہ اظہار اس نے الفاظ کو بنایا ہو یا کارٹون اور اس طرح کی تصاویر وغیر ہا کو جس سے واضح طور پر توہین رسالت سمجھی جارہی ہو تو ایسا شخص بالا علان اظہار سبّ کا مرتکب ہے اور اس کی عقوبت قتل ہے جیسا کہ فتح القدیر سے گزرا۔ اسی طرح وہ ذمی جو اس طرح اعلان تو نہ کرے مگر کم از کم دو معتبر گواہوں کے رو برو اس خباثت کا مرتکب ہو تو اس کی عقوبت بھی قتل ہے جیسا کہ فتح القدیر سے گزرا‘ کیونکہ یہ بھی اعلان کا ادنیٰ درجہ ہے۔ حدیث میں ہے اعلنوا النکاح اور یہ بات کم از کم دو گواہوں سے حاصل ہو جاتی ہے۔ اظہار کے ان دونوں درجوں کے بارے میں اگر چہ بعض علماء نے اس بات سے اختلاف کیا کہ اس کا ذمہ ٹوٹے گا یا نہیں مگر بہر حال جمہور حنفیہ کا اس کے قتل پر اتفاق ہے۔

اخفاء بمنزلہ اظہار

پھر اخفاء کی دو قسمیں ہیں۔ اخفاء بمنزلہ اظہار اور اخفاء محض۔ اخفاء بمنزلہ اظہار یہ ہے کہ مثلاً ذمی نے کسی ایک آدمی کے سامنے سبّ کا ارتکاب کیا اور حاکم کے رو برو انکار کیا اور اس طرح اس نے یکے بعد دیگرے کئی شخصوں کے سامنے ہر ایک کے روبرو سبّ کا ارتکاب کیا اور پھر مکر گیا اور وہ اتنے آدمی تھے کہ ان کے مجموعہ سے حاکم کو یقین ہو گیا کہ وہ ذمی بار بار سب کا مرتکب ہوا ہے اگر چہ چھپا رہا ہے تو اس شخص کو عادتاً سبّ کا مرتکب قرار دے کر قتل کیا جائے گا کہ یہ بھی حکماً اعلان ہے اور جمہور حنفیہ کا اس پر بھی اتفاق ہے اور اسی کو کتب فقہ میں اعتیاد یعنی سبّ وشتم کی عادت بنانے سے تعبیر کیا گیا ورنہ ظاہر ہے جب ایک دفعہ اعلان سے قتل ہوگا تو اعتیاد کے ذکر کی کیا ضرورت تھی اگر وہ بھی بالا علان ہوتا۔

صفحہ 31

اخفاء محض

اخفاء محض کی بھی دو قسمیں ہیں ایک یہ کہ وہ ذمی اپنے دل میں یا بالکل اکیلے کمرے میں جہاں کوئی ٹیپ یا ٹیلی فون وغیرہ نہیں سب کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے بارے میں بحث نہیں کیونکہ قانون میں سزا تو ثبوت کی محتاج ہوتی ہے اور یہاں کوئی ثبوت نہیں۔

اخفاء حکمی:

اخفاء کی دوسری قسم یہ ہے کہ کسی ایک آدمی کے سامنے ایک بار اس جرم کا ارتکاب کیا اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کسی کے سامنے اس جرم کا نہ ارتکاب کیا اور نہ دوسروں کے سامنے اپنے سابق جرم کا اقرار کیا اور ظاہر ہے کہ اسلام دو مردوں کی گواہی مانگتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اکیلا شخص ذاتی دشمنی رکھتا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اکیلا گواہ سچا ہو اور ذمی نے واقعی اس جرم کا ارتکاب کیا ہو۔ ایسی صورت میں بھی عدالت مجبور ہے کہ صرف ایک شخص کو پتہ چلا مگر جرم کے لیے ثبوت کافی فراہم نہیں ہوا۔ رہا یہ امر کہ وہ اکیلا آدمی اس جرم کی سزا دے سکتا ہے تو جواب یہ ہے کہ یہاں دو امر ہیں۔ ایک یہ کہ اگر وہ اسے قتل کرے تو آخرت میں گناہ ہوگا یا نہیں؟ تو جواب یہ ہے کہ گناہ نہ ہوگا جیسا کہ آگے حدیث آئے گی کہ ایک صحابی نے اپنی ذمیہ بیوی کو اس جرم پر مار ڈالا تو سرکار ناراض نہ ہوئے۔ دوسرا امر یہ ہے کہ بصورت ثبوت قتل اس سے قصاص لیا جائے گا یا معاف ہوگا تو اگر سب و شتم پر دو گواہ ہوں تو قتل درست تھا لہٰذا قاتل پر جرم نہیں اور اگر کوئی مدعی نہ ہو یا مدعی وہ خود ہو تو بھی قصاص معاف ہوگا اگر چہ گواہ سب و شتم کے موجود نہ ہوں (کیونکہ قصاص کے لیے اسلام میں رشتہ دار (ولی قتل) کا مطالبہ ضروری ہے) ورنہ ظاہر کے اعتبار سے سزا ہوگی جو اس قاتل کے لیے بمنزلہ شہادت ہے اگر وہ سچا ہے۔

صفحہ 32

اخفاء تبدیل بہ اظہار:

لیکن اگر اس نے کسی ایک شخص کے سامنے سب و شتم کیا مگر اتفاق سے کہیں قریب سے ایک دو آدمی گزرے اور انہوں نے سن لیا اور اس طرح جج اور حاکم کے پاس دو گواہیاں ہوگئیں، اگرچہ ملزم منکر ہے یا اس نے حاکم اور جج کے روبرو اقرار کرلیا خواہ گواہیاں ناکافی تھیں تو اگرچہ وقت ارتکاب جرم بظاہر اخفاء تھا مگر اب مکمل اظہار ہوگا اور اس کا حکم بھی اظہار کی دیگر مذکورہ اقسام کی طرح فتح القدیر کے اس جملہ میں آگیا کہ اظہار کی سزا قتل ہے۔ بہرحال علماء حنفیہ سے ثابت ہوگیا کہ وہ ذمی سے سب رسول کے ثابت ہوجانے پر اسے قتل کی سزا دیتے ہیں خواہ عدالت میں پیش ہونے سے قبل مجرم سے اظہار جرم واقع ہوا ہو یا کمرہ عدالت میں ہی اظہار جرم واقع ہوجائے۔

خلاصہ:

ہمارے اس بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ ذمی پر سب کا جرم ثابت ہوجائے تو اسے قتل کیا جائے گا خواہ اس کی کوئی بھی صورت ہو اعلان کرے یا ارادتاً دو گواہوں کے سامنے مرتکب جرم ہو یا دو گواہوں نے سن لیا یا اس نے عدالت میں گواہی کافی نہ ہونے کے باوجود اقرار کرلیا یا یکے بعد دیگرے مختلف مواقع پر ایک ایک شخص کے روبرو اس جرم کا مرتکب ہوا کہ سب کی گواہی کو ملا کر ثابت ہوجاتا ہے کہ یقیناً وہ عادی مجرم ہے۔ یہ سب اظہار جرم ہے اور وہ اخفاء جرم جس کا کافی ثبوت نہ ہو اس پر عدالت کچھ نہیں کرسکتی۔

(غیر حنفی) علامہ ابن تیمیہ کی

حنفیوں کے حق میں گواہی:

یہی وجہ ہے کہ ابن تیمیہ حنبلی جو درحقیقت غیر مقلدین کے پیشوا ہیں اور بعض

صفحہ 33

مسائل میں انہوں نے اہلسنت کے چاروں فقہی مسلکوں کی بھی مخالفت کر ڈالی ہے لیکن اس مسئلہ میں انہیں بھی حنفیوں کی برات تسلیم کرنا پڑی۔ لکھتے ہیں۔ اما ابو حنيفة واصحابه فقالوا لا ينتقض العهد بالسب ولا يقتل الذمى بذلك لكن يعذر على اظهار ذلك كما يعذر على اظهار المنكرات التى ليس لهم فعلها من اظهار اصواتهم بكتابهم ونحو ذلك وحكاه الطحاوى عن الثورى ومن اصولهم ان مالا قتل فيه عندهم مثل القتل بالمثقل والجماع في غير القبل اذا تكرر فللامام ان يقتل فاعله وكذلک له ان يزيد على الحد المقدر اذا رائى المصلحة في ذلك...... ولهذا افتى اكثرهم بقتل من اكثر من سب النبى صلى الله عليه وسلم من اهل الذمة وان اسلم بعد اخذه وقالوا يقتل سياسة وهذا متوجه على اصولهم (الصارم المسلول صفحہ ۱۰-۱) یعنی ابوحنیفہ اور آپ کے ساتھیوں نے کہا کہ سب کرنے سے ذمی کا معاہدہ ذمہ نہیں ٹوٹے گا اور اس پر ذمی کو (بطور حد) قتل نہ کیا جائے گا۔ تاہم اسے اظہار سب پر سزا دی جائے گی جس طرح ان امور کے اظہار پر ذمی کو سزا دی جائے گی جو افعال منکرات اور برائیوں میں سے ہیں اور انہیں ایسے افعال کے کرنے کی (ہمارے دین میں) اجازت نہیں مثلاً اپنی مذہبی کتاب کو پڑھتے ہوئے اپنی آواز مسلمانوں کے سامنے ظاہر کرنا وغیرہ اور طحاوی سے محکی ہے کہ سفیان ثوری کا قول بھی یہی ہے جو اوپر گزرا اور حنفیہ کے قواعد سے یہ ہے کہ جس جرم پر دوسرے ائمہ کے نزدیک قتل بطور حد یا قصاص لازم ہوتا ہو اور ان کے نزدیک قتل لازم نہ ہوتا ہو جیسے کسی (غیر دھار دار) بھاری چیز کے ذریعہ قتل کرنا یا غیر قبل میں جماع کرنا۔ جب ایسے افعال بار بار واقع ہوں تو حاکم اعلیٰ کو حق حاصل ہے کہ ایسے جرائم کے مرتکبوں کو قتل کر دے۔ اسی طرح اسے یہ حق بھی حاصل ہے کہ تعزیر کو حد مقرر سے (اگر مصلحت دیکھے تو) بڑھا دے...... اسی

صفحہ 34

لیے اکثر حنفیوں نے نبی کریم ﷺ کو گالی بکنے والے ذمی کے قتل کا حکم دیا جو اکثر حضور ﷺ کو گالی دے اگر چہ پکڑے جانے پر مسلمان ہو جائے اور حنفیہ نے کہا (کہ جو ذمی بعد سبّ رسول مسلمان ہو جائے) اسے سیاستا (بطور تعزیر وسزا نہ بطور حد) قتل کیا جائے گا۔ ابن تیمیہ لکھتا ہے یہ سب کلام ان (حنفیہ) کے اصول اجتہاد اور قواعد استنباط کی طرف متوجہ ہے۔ (الصارم المسلول صفحہ ۱۰۔۱ طبع ملتان)

ابن تیمیہ کے کلام سے ثابت ہوا کہ اکثر حنفیوں نے نبی ﷺ کو سبّ کرنے والے ذمی کے قتل کا حکم دیا اگر چہ پکڑے جانے پر توبہ کر کے مسلمان بھی ہو تو حنفیوں کے نزدیک اسے قتل کی معافی نہیں بلکہ ”سیاسۃً“ اور تعزیر کے طور پر قتل کیا جائے اور یہی ہمارا مقصد تھا۔

ابن تیمیہ کا امام ابو حنیفہ پر افتراء:

تاہم ابن تیمیہ کو حنفیہ سے جو عداوت تھی اس نے اکسایا تو ابن تیمیہ نے امام ابو حنیفہ اور آپ کے اصحاب (امام ابو یوسف اور امام محمد وغیرہما) پر بے بنیاد اور جھوٹا الزام لگا دیا کہ وہ کہتے ہیں ذمی سے سبّ نبی ثابت ہو جائے تو اسے قتل کرنا منع ہے جب تک وہ بار بار بالاعلان سبّ نہ کرے اور اس نے کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا۔ حنفیہ کی ساری کتابیں موجود ہیں ان میں کہیں بھی امام یا آپ کے شاگردوں سے یہ الفاظ ثابت نہیں کیے جاسکتے۔ بحیثیت ناقل اس پر حوالہ ضروری تھا کہ صحیح نقل ہوتی اور وہ نہ کر سکا۔ حنفیہ کی کتابیں اس کے سامنے تھیں لہٰذا مجبوراً اسے دو باتیں تسلیم کرنا پڑیں۔ (۱) اظہارِ سبّ (اعلان شتم) پر اگر ایک دفعہ ہو تو حنفی سزا ضرور دیتے ہیں اگر چہ قتل نہیں کرتے اور ہمارا مقصد اس حوالہ سے یہی تھا کیونکہ ہمارے مخاطب کے خیال میں حنفیوں کے نزدیک سبّ رسول کی غیر مسلم کے لیے مطلقاً کوئی سزا نہیں۔ (۲) اگر اکثر اظہارِ سبّ کرے تو اکثر حنفی علماء اس کو تعزیراً قتل کا مستحق

صفحہ 35

جانتے ہیں۔

ابن تیمیہ کا کلام اور اس کا رد بلیغ:

ابن تیمیہ نے صاف صاف یہ کہا کہ امام ابوحنیفہ اور آپ کے شاگرد کہتے ہیں کہ ذمی سبّ رسول کا مرتکب ہو تو سزادی جائے اور یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ اسے قتل نہ کیا جائے اور اس کا ذمہ نہیں ٹوٹے گا۔ اب اس کی عبارت سے دو معنی کا احتمال پیدا ہوتا تھا۔ ایک یہ کہ ذمہ ٹوٹنے کی وجہ سے اس کا قتل لازم نہیں لیکن تعزیر کی وجہ سے اس کا قتل لازم ہے مگر آگے چل کر اس نے جو کچھ لکھا اس سے یہ احتمال رد ہو جاتا ہے وہ لکھتا ہے لکن یعزر علی اظہار ذلک کما یعزر علی اظہار المنکرات التی لیس لھم فعلھا (الصارم صفحہ ۱۰) لیکن سبّ کا اظہار (اعلان) کرنے پر اسے ویسے سزادی جائے گی جیسے دیگر ایسی برائیوں کے ارتکاب پر (جن کی انہیں اجازت نہیں) اس کی سزادی جائے گی۔ (ترجمہ الصارم صفحہ ۱۰)۔ آگے چل کر لکھتا ہے ومن اصولھم ان مالا قتل فیہ عندھم ...... اذا تکرر فللامام ان یقتل فاعلہ (الصارم صفحہ ۱۰) حنفیہ کے قواعد فقہیہ سے ایک یہ ہے کہ ان کے ہاں جس جرم پر قتل لازم نہ ہو جب بار بار واقع ہو تو حاکم کے لیے جائز ہے کہ اس کے فاعل کو قتل کر دے (الصارم صفحہ ۱۰) اس عبارت کو ملانے سے صاف صاف یہ مطلب نکلتا ہے کہ ایک بار ذمی کا اعلان ان کے ہاں مالا قتل فیہ عندھم کے قبیل سے ہے کہ اس پر قتل لازم نہیں اس لیے یہ جرم یعنی با اعلان واظہار سرکار پر سبّ وشتم کرنا بار بار واقع ہو تو پھر حاکم کے لیے جائز ہے کہ اس ذمی کو اس کے اس فعل کی وجہ سے قتل کردے۔

جواب:

ناظرین آپ نے ابن تیمیہ کا کلام ملاحظہ فرمایا۔ جو حنفیہ کے کلام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے ورنہ دراصل ہمارا مذہب یہ ہے کہ

صفحہ 36

نے کہا۔

اسے قتل کیا جائے گا۔

سب کیا کہ ہر بار صرف ایک ایک آدمی کے سامنے سب کیا تو جب ان تمام شخصوں کی گواہی مل جائے تو اس ذمی کا عادی مجرم ہونا معلوم ہو جائے گا جو کہ اپنے جرم کا ثبوت مٹانا چاہتا ہے تو اسے بھی قتل کریں گے اور ہم یہ بھی عرض کریں گے کہ مندرجہ بالا نکات امام ابو حنیفہ اور آپ کے شاگردوں امام ابو یوسف اور جس امام محمد سے ثابت ہیں۔ عند

ایک دفعہ کسی کے سامنے سب کیا اور اس کی گواہی کافی نہ تھی مگر عدالت میں اس الامان ولا بالا نے اقرار کر لیا تو اس کو بھی قتل کرایا جاسکتا ہے مگر یہ سب بالاظہار کا اقرار نہیں کہ صلی الله عليه اظہار کم از کم دو شخصوں کے سامنے ہوتا ہے اس لیے اسے عندالبعض قتل سے کم او القرآن اوالس تعزیر بھی دے سکتے ہیں۔ ٹوٹے گا کہ میں نے

آدمی گزرے انہوں نے سن لیا اور ان کی گواہی ہو گئی تو عندالبعض اسے بھی قتل کیا قتل کرنے) اور جائے گا کہ اخفاء متبدل بہ اظہار ہو گیا۔ اور عندالبعض قتل سے کم تعزیر بھی دے مجید یا نبی ﷺ سکتے ہیں۔

صفحہ 37

مسلمان نے اس پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا ۔ مذکورہ بالا صورت میں ذمی کا قتل جائز اور مسلمان کے لیے موجب اجر ہے لیکن اگر اس کے وارثوں نے مسلمان پر بدلہ کا دعویٰ کیا تو مسلمان کو بدلہ دینا پڑے گا ہاں اگر مسلمان کے پاس اس امر کے گواہ موجود ہیں یا قرینہ بطور ثبوت موجود ہے مثلاً ٹیپ کی کیسٹ ہے یا لوگوں نے مسلمان کا شور سنا کہ وہ کہہ رہا تھا تم نے ہمارے نبی ﷺ کو کیوں گالی دی یا قاتل کا مقتول سے ایسا رشتہ ہے کہ وہ بلا وجہ اسے قتل نہ کر سکتا تھا یا قاتل ہی خود مقتول سے ولی اور وارث والا رشتہ رکھتا تھا تو پھر مقتول کا خون بیکار ضائع ہے جس کا کوئی بدلہ نہیں۔

مندرجہ بالا نکات کا ثبوت حنفی فقہ کی روشنی میں ملاحظہ ہو۔ تنویر الابصار متن الدرالمختار اور حاوی وغیرہ میں ہے لا (ینتقض عهده) بقوله نقضت العهد بخلاف الامان ولا بالاباء عن الجزية وبالزنا بمسلمة وقتل مسلم و سبّ النبى صلى الله عليه وسلم و يؤدّب الذمى و يعاقب على سبّه دين الاسلام او القرآن او النبى صلى الله عليه وسلم۔ یعنی ”ذمی کا معاہدۂ ذمہ یہ کہنے سے نہیں ٹوٹے گا کہ میں نے عہد توڑ دیا۔ بخلاف امان کے (یعنی وہ زبان سے کہہ دینے سے ختم ہو جائے گی) اور (معاہدۂ ذمہ) جزیہ سے انکار اور مسلم عورت سے زنا اور قتل مسلم (مسلمان کو قتل کرنے) اور سبّ نبی ﷺ سے (بھی) نہیں ٹوٹے گا اور ذمی کو دین اسلام یا قرآن مجید یا نبی ﷺ کو سب وشتم کرنے پر سزا دی جائے اور عقاب دیا جائے۔

(الحاوی و تنویر الابصار متن الدرالمختار صفحہ ۳۰۳‘۳۰۴‘۳۰۵)

یہ عبارت ہم نے تنویر الابصار سے نقل کی جو متن ہے اور متون (جب تک کے خلاف پر قرینہ نہ ہو) بیان اقوال امام ابوحنیفہ اور اقوال تلامذۂ ابی حنیفہ کے لیے مختص ہوتی

صفحہ 38

ہیں اور اس عبارت میں یہ لفظ موجود نہیں کہ نبی کریم ﷺ کو سب کرنے والے کو قتل نہیں کیا جاسکتا۔

ثابت ہوا کہ امام صاحب اور آپ کے اصحاب کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ذمی ساب کو قتل نہ کرنے کا حکم دیتے ہیں غلط اور افتراء ہے۔ ہاں اگر ابن تیمیہ صاحب یہ کہتے کہ قتل نہ کرنے کا حکم بھی نہیں دیا اور قتل کرنے کا حکم بھی نہیں دیا تو شاید ان کی بات کا کچھ وزن ہوتا لیکن ہم ثابت کریں گے کہ اسی عبارت کے اس آخری حصہ سے حنفی فقہاء نے یہ سمجھا کہ ذمی کو قتل کیا جا سکتا ہے اور قتل کیا جائے گا اور علمائے حنفیہ اس عبارت سے یہ نہیں سمجھ رہے کہ اسے قتل کرنا امام ابوحنیفہ کے نزدیک جائز نہیں بلکہ ائمہ حنفیہ کی عبارت میں ذمی ساب کے لیے بطور سزا ”عقاب“ جو لفظ اوپر گزرا اس کی تشریح میں فقہاء نے قتل کی سزا سمجھی۔ دیکھئے حاشیہ شامی صفحہ ۳۰۵ جلد ۳ میں اس مقام پر لکھا ہے:۔ اطلقه فشمل تادیبه وعقابه بالقتل اذا اعتاده واعلن به كما يأتى ويدل عليه ما قدمناه انفاً عن حافظ الدین النسفی یعنی کتاب میں ذمی کو ”سب پر تادیب اور عقاب“ کو مطلق رکھا ( کوئی حد تادیب وعقاب کے لیے بیان کرکے اسے مقید نہیں کیا) اس لیے یہ کلمہ اس کو ایسی تادیب اور عقاب کو بھی شامل ہے جو قتل کے ساتھ ہو اور یہ سزائے قتل دو موقع پر ہوگی جبکہ (۱) وہ ذمی ”سب“ کا عادی ہو اور (۲) سب نبی ﷺ کا ( ظاہراً ظہور ) بالاعلان مرتکب ہو جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ اور حافظ الدین نسفی سے ہم نے جو ابھی پہلے بیان کیا وہ بھی ہمارے دعویٰ کی دلیل ہے ( حاشیہ ابن عابدین علی الدر صفحہ ۳۰۵ جلد ۳)

حافظ الدین حنفی نسفی کیا کہتے ہیں طحطاوی علی الدر میں ہے عن الشلبي عن حافظ الدین النسفی اذا طعن الذمى فى دين الاسلام طعناً ظاهراً جاز قتله۔ ذمی جب دین اسلام ( اور اس کی ضروریات ) پر علی الاعلان طعنہ زنی کرے تو اس کا قتل جائز

صفحہ 39

ہوگا۔ (رد المحتار صفحہ ۳۰۵ جلد ۲) اس حوالہ سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کو سب وشتم (جو دین اسلام کی بنیاد پر حملہ ہے) کا جو شخص مرتکب ہو گا اس کی سزا قتل ہے تاہم کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس کی بنیاد تو اس کے عقد ذمہ کے ابطال پر رکھی گئی ہے۔ عقد ذمہ کی بقاء (جو مذہب امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کا ہے) کے باوجود سزائے قتل کیونکر صحیح ہوگی تو میں عرض کروں گا کہ تنویر الابصار اور حاوی وغیرہما اسفار سے گزرا کہ اسے عقاب دیا جائے گا اور شامی نے یہاں صاف لکھا کہ عقاب کا لفظ قتل کی سزا کو شامل ہے اور یہ مراد نہیں لیا کہ قتل تک کوئی سزا دی جاسکتی ہے بلکہ بتایا کہ عادت یا اعلان کی صورت میں قتل کی سزا اور عقاب ہوگا۔ یاد رہے کہ یہاں لفظ اذا اعتادہ واعلن بہ میں اعلن بہ واعتاد نہیں کہا تاکہ پتہ چلے کہ ’واو حرف عطف‘ جو عموماً اتصال کے لیے ہوتا ہے یہاں ’او‘ کے معنی میں ہے جو ’یا‘ کا معنی دیتے ہوئے انفصال کو ظاہر کرتا ہے اسی لیے درمُنتقی میں ظاہر الروایت کے اس جملہ کی تشریح میں کہ ’سبّ النبی ﷺ سے ذمہ نہیں ٹوٹتا‘ لکھا اور علامہ شامی نے بھی مذکورہ بالا عبارت اذا اعتادہ واعلن بہ سے قبل درمنتقی کی اس عبارت کو نقل کر کے برقرار رکھا۔ ای اذا لم یعلن فلوا علن بشتمه او اعتاده قتل ولو امرأة امام ابوحنیفہ کے اس ارشاد کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب اعلان نہ کرے (تو ذمہ نہ ٹوٹے گا) تو اگر اس (ذمی) نے سب وشتم کا اعلان (اظہار) کیا یا (بغیر اعلان) سبّ رسول ﷺ کا عادی ہو گیا ہو تو اس کی سزا قتل ہے چاہے مجرم عورت ہی کیوں نہ ہو۔ صاحب در منتقی نے فرمایا و به یفتى الیوم کہ ان دنوں میں فتویٰ اسی پر ہے (کہ سبّ نبی ﷺ کا جرم عورت بھی کرے تو اسے قتل کیا جائے گا۔) (درمنتقی ردالمختار صفحہ ۳۰۴ جلد ۳)

پہلی تین شقوں کا ثبوت:

الحمد للہ اجلّہ علماء کی تشریح سے یہ ثابت ہو گیا کہ امام صاحب کے قول کا مطلب

صفحہ 40

ہی یہ ہے کہ اگرچہ سب نبی ﷺ کی شکل میں ذمی اسلامی سلطنت کا باشندہ رہے گا تاہم اگر اس کے اعلان سے اس کا جرم ثابت ہو جائے یا بار بار سب کی شکایت اس ذمی سے مسلمانوں کو پیدا ہو اگرچہ کسی موقع پر بھی دو گواہ نہ ہوں تو ان تمام صورتوں میں امام اعظم ابو حنیفہ اور آپ کے اصحاب کے قول پر جسے اصطلاح میں ظاہر الروایہ کہا جاتا ہے ایسے شخص کو قتل کیا جائے گا۔ ہماری پیش کردہ چھ شقوں میں سے تین کا ثبوت تو برملا ہو گیا‘ رہی چوتھی شق کہ ذمی نے خفیہ کہا تھا مگر اب عدالت میں اقرار کر لیا اور اس کا لب ولہجہ اس کی سرکشی کو ظاہر کر رہا ہے اور محسوس ہو رہا ہے کہ وہ اپنے جرم کا گویا اب اعلان کر رہا ہے تو یہ بھی اظہار و اعلان میں داخل ہو گا جس کا حکم معلوم ہو چکا کہ اسے قتل کیا جائے۔ ہاں اگر اس کے اقرار میں ندامت کا پہلو پایا جاتا ہے اور اسی طرح پانچویں شق کہ اس نے تو خفیہ کہا تھا مگر کسی طرح دو گواہوں کو پتہ چل گیا اور معاملہ عدالت میں آ گیا جبکہ ذمی مجرم اب تک اپنے جرم سے انکاری ہے اور اسے مسلسل چھپانے کی کوشش کر رہا ہے تو اس کے بارے میں حنفیہ کا اختلاف ہے۔ جمہور علماء کی ان تشریحات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کو عقاب تو دیا جائے مگر قتل سے کم سزا دی جائے‘ تاہم بعض دیگر محققین علمائے حنفیہ نے فرمایا کہ ذمی کے سب نبی ﷺ کا مرتکب ثابت ہونے پر ہر صورت میں اسے قتل کیا جائے گا۔ ثبوت نیچے ملاحظہ ہو۔

چوتھی‘ پانچویں شق پر قتل کا ثبوت:

علامہ محمود عینی حنفی شارح بخاری اور شارح ہدایہ و کنز نے فرمایا اختیاری فی السب ان یقتل میرا مختار مذہب یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے۔ (عینی درمختار صفحہ ۳۰۵ جلد ۴) یعنی اظہار واعلان یا اعتیاد ثابت ہو یا اخفاء ثابت ہو بہرصورت حکم ایک ہے یعنی قتل کیا جائے (کہ ثبوت اخفاء کے بعد بات ظاہر ہو گئی)۔

صاحب بحر ک

یہاں پر صاحب اختلاف کرتے ہوئے فرمایا جلد ۳) یعنی عینی کے اس قول پر بھی قتل کیا جائے۔ اسی طر نے لکھا کہ ھو بحث مخالف يقتل به وينتقض عهده و بحث ہے جو اہل مذہب (قول

جواب:

صاحب بحر نے ی روایت امام نہیں ہے۔ دوسر روایت امام نہیں۔ بلکہ صاح (ائمہ حنفیہ) کی مخالفت کی ہ صاحب بحر کے ا قول کے بارے میں نہ تو اس کے قول کی تردید ہوتی ہے۔ ا

میرا اختیار یہ ہے ک

وهو يكتمه ف

صفحہ 41

صاحب بحر کے قول کی تنقیح:

یہاں پر صاحب بحر الرائق نے جو علامہ عینی سے متاخر ہیں علامہ عینی سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا لا اصل له في الرواية آہ (بحر الرائق' ردالمحتار صفحہ ۳۰۵ جلد ۳) یعنی عینی کے اس قول کی روایت ائمہ میں کوئی اصل نہیں (کہ اخفاء محض یا اقرار اخفاء پر بھی قتل کیا جائے)۔ اسی طرح علامہ ابن ہمام سے اختلاف کرتے ہوئے بھی صاحب بحر نے لکھا کہ هو بحث خالف فيه اهل المذهب یعنی یہ (ابن ہمام کا کلام کہ اذا اظهره يقتل به وينتقض عهده وان لم يظهره ولكن عثر عليه وهو يكتمه فلا) ایسی بحث ہے جو اہل مذہب (قول امام ابو حنیفہ کے ماننے والوں) کے خلاف ہے۔

جواب:

صاحب بحر نے یہاں دو قول کیے ہیں ایک یہ کہ عینی کے قول کے بارے میں روایت امام نہیں ہے۔ دوسرا قول یہ ہے۔ صاحب فتح القدیر کا قول ان کی اپنی بحث ہے روایت امام نہیں ۔ بلکہ صاحب فتح القدیر علامہ ابن ہمام نے امام اعظم اور ان کے اصحاب (ائمہ حنفیہ ) کی مخالفت کی ہے۔

صاحب بحر کے ان دونوں جملوں میں فرق ہے پہلے جملہ کا مطلب ہے عینی کے قول کے بارے میں نہ تو اس کی تائید میں روایت امام ملی بلکہ روایت امام سے ابن ہمام کے قول کی تردید ہوتی ہے۔ اب عینی اور ابن ہمام رحمہما اللہ کے دونوں قول سامنے رکھیں۔

میرا مختار یہ ہے کہ کسی نبی علیہ السلام کو جو شخص گالی دے اسے قتل کیا جائے۔

وهو يكتمه فلا۔ جب ذمی سبّ نبی کا اظہار کرے اسے قتل کیا جائے۔ اور

صفحہ 42

معاہدۂ ذمّہ ختم ہو جاتا ہے اور اگر سبّ کا اس نے اظہار نہیں کیا وہ تو اسے چھپاتا تھا لیکن کسی طرح اس کے سبّ کرنے کا ہمیں پتہ چل گیا تو اسے قتل نہ کیا جائے۔

دیکھا جائے تو عینی رحمۃ اللہ علیہ کے قول اور ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ کے قول میں بظاہر کوئی فرق نہیں پھر صاحب بحر کے فرق کا کیا مطلب؟ بلکہ بنظرِ غور دیکھیں تو عینی کا قول زیادہ سخت ہے وہاں اظہارِ سبّ واخفاء سبّ کا فرق کیے بغیر قتل کا فتویٰ دیا ہے۔ جبکہ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے اخفاء میں قتل کی نفی کی ہے۔ اندریں حال ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صاحب بحر عینی کی زیادہ تردید کرتے۔ جبکہ عینی کے قول کو انہوں نے صرف بے اصل (غیر ثابت) کہہ کر چھوڑ دیا۔ اور جو اخفاء میں چھوڑ رہے ہیں انہیں مذہب امام کا مخالف بتایا۔

اگر کسی کو صاحب بحر کے ان ہر دو تبصروں اور عینی وابن ہمام دونوں کے اقوال کا فرق سمجھ میں نہیں آتا تو ہمارا خطاب ان سے نہیں۔ تاہم جنہیں یہ فرق سمجھ میں آگیا ان کے لیے عرض ہے کہ یہاں تین فتوے ہیں۔ (۱) اظہار پر قتل یہ عینی اور ابن ہمام دونوں کا قول ہے (۲) اخفاء پر قتل یہ عینی کا قول بنتا ہے ابن ہمام اس کے خلاف عدم قتل کا فتویٰ دیتے ہیں (۳) سبّ سے عہد ذمّہ کا ٹوٹنا۔ یہ علامہ ابن ہمام کا قول ہے علامہ عینی کا قول نہیں۔ اگر صاحب بحر کا قول فتویٰ (۱) کا رد سمجھا جائے تو دونوں کو مخالف مذہب کہنا ہوتا۔ جب ایسا نہیں کیا تو خود صاحب بحر کے اقوال میں تضاد لازم آکر ان کے اقوال بے فائدہ ٹھہریں گے۔ حالانکہ ایسا نہیں تو ثابت ہوا کہ صاحب بحر کا اعتراض اس فتویٰ پر ہرگز نہیں کہ ذمّی اگر بالا علان سبّ کرے تو اسے قتل کیا جائے لہٰذا ہمارا دعویٰ بے غبار ٹھہرا۔

اب اگر فتویٰ (۲) کا رد سمجھا جائے تو اس میں علامہ عینی کا موقف یہ ہے کہ ”چھپا کر سبّ کرنے والے کو بھی قتل کیا جائے ۔“ کیونکہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے جرم اظہار اور جرم اخفاء کا فرق کیے بغیر قتل کا فتویٰ دیا ہے جبکہ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ کا موقف ہے اسے قتل نہ کیا جائے۔ اب اگر مخفی سبّ کرنے پر عدم قتل کے حکم کو امام اعظم صاحب بحر کے اقوال کا مر بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ مطلب ٹھہرے۔ اس لیے ہے کہ اخفاء فی السبّ کی صو کے قول کی تائید میں روایت کوئی فتویٰ ائمہ حنفیہ کا نہیں ہے۔

اب فتویٰ (۳) پ گیا۔ علامہ عینی نے یہ بات نہیں کی جو ابن ہمام کے رو جس کے خلاف امام صاح شروح میں نقل ہوتا چلا آرہا مذہب اور ان کے تابعین بحر کی تائید کرتے ہیں۔

نقض ذمّہ اور

کوئی کہہ سکتا قتل ہو رہا ہے تو ذمہ ٹو ہوا۔

تو عرض ہے کہ

صفحہ 43

جائے۔ اب اگر مخفی سبّ کرنے والے پر قتل کے حکم کو صرف بے ثبوت کہا جائے اور اسی جرم پر عدم قتل کے حکم کو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے ثابت شدہ فتویٰ کے خلاف کہا جائے۔ تو یہ صاحب بحر کے اقوال کا صریحاً تضاد ہوگا اور نہ صرف تضاد بلکہ صاحب بحر کی بات مہمل اور بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ جبکہ عاقل کے کلام کا وہ معنی لیا جاتا ہے جس سے اس کا کلام مفید مطلب ٹھہرے۔ اس لیے ماننا پڑے گا کہ یہاں صاحب بحر کا قول صرف عینی کے خلاف ہے کہ اخفاء فی السب کی صورت میں روایت امام (ظاہر الروایۃ) خاموش ہے۔ یعنی عینی کے قول کی تائید میں روایت امام اگرچہ نہیں پائی گئی تو اس کے خلاف بھی ظاہر الروایۃ میں کوئی فتویٰ ائمہ حنفیہ کا نہیں۔ جبکہ ابن ہمام کا رد تیسرے فتویٰ سے متعلق ہے۔

اب فتویٰ (۳) کی طرف آئیے کہ ذمی اگر سبّ کرے تو اس کا عہد ذمہ ٹوٹ گیا۔ علامہ عینی نے یہ بات نہیں کی اس لیے صاحب بحر نے ان کے رد میں وہ شدت اختیار نہیں کی جو ابن ہمام کے رد میں اختیار کی کیونکہ ابن ہمام رحمۃ اللہ نے نقض ذمہ کا قول کیا تھا جس کے خلاف امام صاحب اور دیگر ائمہ حنفیہ کا قول ظاہر الروایۃ سے فقہ حنفیہ کے متون و شروح میں نقل ہوتا چلا آرہا تھا۔ اس لیے صاحب بحر کو کہنا پڑا کہ ابن ہمام نے یہ کہہ کر ائمہ مذہب اور ان کے تابعین سب اہل مذہب کی مخالفت کی ہے اور ہم بھی اس حد تک صاحب بحر کی تائید کرتے ہیں۔

نقض ذمہ اور محکوم بالقتل کا فرق:

کوئی کہہ سکتا ہے کہ نقض ذمہ کی صورت میں بھی اسے قتل ہونا پڑتا اور اب بھی وہ قتل ہو رہا ہے تو ذمہ ٹوٹنے اور ذمہ نہ ٹوٹنے کا کیا فرق ہوا۔ اور اس فرق سے مجرم کو کیا فائدہ ہوا۔

تو عرض ہے کہ ان دونوں میں واضح فرق ہے (۱) اگر ذمہ ٹوٹ جائے اور وہ کسی

صفحہ 44

کافر ملک میں بھاگ جائے تو ہم اسے واپس نہیں مانگ سکتے کہ مجرم ہمارے ملک سے نکلنے سے قبل ہی ہمارے ملک کی رعیت اور قومیت میں نہ رہا تھا۔ لیکن ذمہ نہ ٹوٹنے کی شکل میں ہم اسے واپس مانگ سکتے ہیں۔ (۲) ذمہ ٹوٹ جانے کے بعد ہم اسے قتل کرنا چاہیں تو موجودہ حالات میں غیر مسلم ممالک کا شور مچانا ہمارے داخلی امور میں مداخلت قرار نہ پائے گا جبکہ ذمہ نہ ٹوٹنے کی شکل میں ان ممالک کا شور مچانا ہمارے داخلی امور میں مداخلت قرار پائے گا۔

فرق کا فائدہ:

رہا یہ امر کہ اس سے مجرم کو کیا فائدہ تو وہ یہ ہے کہ اگر اس کا ذمہ ٹوٹ جائے تو اس کی تمام جائیداد ( حربی غیر مستامن کا مال قرار پا کر ) بحق سرکار ضبط ہو جائے گی۔ اس کے غیر بالغ بچے غلام قرار پا جائیں گے بلکہ اس کی بیوی بھی کنیز بن کر بیت المال کی ملکیت ہو جائے گی۔ لیکن ذمہ نہ ٹوٹنے کی صورت میں صرف گالی دینے والا قتل ہوگا اس کے بچوں اور اس کی بیوی پر کوئی تصرف نہ ہوگا اور اس کا مال اس کے بچوں کی میراث ٹھہرے گا اور ان کو تحفظ دینا مسلمانوں اور حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔ کیا یہ واضح اور مفید فرق نہیں۔

ہماری اس تشریح سے یہ بھی واضح ہو گیا ہو گا کہ حنفی اس مسئلہ میں باقی تینوں ائمہ کے مذہب پر واضح ترجیح رکھتا ہے۔ بہرحال اس بات میں کسی حنفی کو کلام نہیں ہو سکتا کہ اعلان بالسب کے ثبوت پر حنفیہ کے نزدیک مجرم کو قتل کیا جائے گا۔ ہماری اس وضاحت کی مزید تائید ائمہ حنفیہ کے کلام سے آگے آ رہی ہے۔

ظاہر الروایۃ سے قتل کی تصریح:

ہو سکتا ہے کہ کوئی صاحب یہ کہیں کہ ائمہ سے روایت تو صرف عقاب کی ہے لیکن وہ مبہم ہے اس کی تشریح ”قتل بصورت اعلان ( حقیقی یا حکمی )“ سے کرنا بعد والے علماء کی طرف سے ہے۔ ہو سکتا بجز اس جرم پر قتل کا مطلقاً کروں گا کہ سیر صغیر اور سیر ظاہر الروایۃ کہا جاتا ہے یوسف اور امام محمد بھی بالعموم ذکر کیا جاتا ہے۔ آئیے ہم واستدل محمد لبيان اذا اعلنت بشتم بما روى ان عمر بن سمع عصماء بنت مـ الرسول فقتلها ليلاً فـ الله عليه وسلم على ذلـ

(كتاب السير الذخيرة بـ

درمختار کی اس عبا

هذا الاستدلال

المرأة او اعلنت بالشـ

اهل الحرب كما ذكـ

المنهى عن قتله بعقـ

شرح السير الكبير بـ

صفحہ 45

طرف سے ہے۔ ہو سکتا ہے یہ ہمارے ائمہ کی مراد نہ ہو اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ صاحب بحر اس جرم پر قتل کا مطلقاً انکار کرتے ہوں تو ان پر کوئی قباحت لازم نہ آئے گی۔ تو میں عرض کروں گا کہ سیر صغیر اور سیر کبیر یہ دونوں امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کی ان کتابوں سے ہیں جنہیں ظاہر الروایۃ کہا جاتا ہے یعنی اس میں امام ابو حنیفہ کے قول کو محفوظ کیا جاتا ہے اور امام ابو یوسف اور امام محمد بھی بالعموم اسی میں متفق ہوتے ہیں اور اگر متفق نہ ہوں تو ان کا اختلاف ذکر کیا جاتا ہے۔ آئیے ہم کتاب السیر سے قتل ذمی بصورت اعلان کا فتویٰ دکھاتے ہیں۔

واستدل محمد لبيان قتل المرأة یعنی امام محمد نے رسول اللہ ﷺ کو بہ اذا اعلنت بشتم الرسول اعلان و اظہار گالی دینے والی عورت کے قتل بماروى ان عمر بن عدى لما کے بیان پر اس روایت سے استدلال فرمایا سمع عصماء بنت مروان تؤذى کہ عمر بن عدی رضی اللہ عنہ نے جب الرسول فقتلها ليلاً مدحه صلى عصماء بنت مروان سے سنا کہ وہ رسول اللہ الله عليه وسلم على ذلك ﷺ کو ایذاء پہنچا رہی ہے تو اسے رات کے وقت قتل کر دیا تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے عمر بن عدی کی مدح فرمائی۔

(کتاب السیر‘ الذخیرۃ البرھانیہ لابن کمال باشا‘ در مختار ہامش صفحہ ۳۰۶ جلد ۲)

درمختار کی اس عبارت پر علامہ ابن عابدین نے حاشیہ میں فرمایا

هذا الاستدلال من الامام محمد رحمه الله تعالى على جواز قتل المرأة اذا اعلنت بالشتم فهو مخصوص من عموم النهى عن قتل النساء من اهل الحرب كما ذكره فى السير الكبير فيدل على جواز قتل الذمى المنهى عن قتله بعقد الذمة اذا اعلن بالشتم ايضا و استدل لذلك فى شرح السير الكبير بعدة احاديث منها حديث ابى اسحاق الهمدانى قال

صفحہ 46

جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال سمعت امرأة من يهود وهى تشتمک والله يارسول الله انها لمحسنة الى فقتلتها فهدر النبى صلى الله عليه دمها (ردالمحتار صفحہ ۳۰۶ جلد ۳) یعنی مذکورہ بالا حدیث عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ سے یہ استدلال امام حنفیہ جناب امام محمد نے (کتاب السیر میں جو ظاہرالروایۃ سے اور امام ابوحنیفہ کے اقوال کے لیے ہے۔) فرمایا کہ عورت جب رسول اللہ ﷺ کو علی الاعلان سبّ کرے تو اس کے قتل کا جواز ثابت ہوتا ہے تو یہ اہل حرب (کافروں کے ملک) کی عورتوں کو قتل کرنے کی نہی اور رکاوٹ سے مستثنیٰ ہے جیسا کہ انہوں نے سیر کبیر میں ذکر فرمایا تو یہی حدیث ذمی مرد کے قتل پر بھی دلیل ہے جس کے (بوجہ معاہدۂ ذمہ) قتل سے روکا گیا۔ جب وہ سرکار ﷺ کو علانیہ سبّ کرے تو اسے بھی قتل کرنا جائز ہوگا۔ شرح سیر کبیر میں اس امر پر کئی احادیث سے استدلال کیا جن میں سے ایک ابواسحٰق ہمدانی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک (صحابی) مرد رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا۔ عرض کی ایک عورت یہودیوں میں سے ہے اور اللہ کی قسم وہ میری محسنہ ہے۔ میں نے اس سے سنا وہ آپ کو سبّ و شتم بک رہی تھی تو میں نے اسے قتل کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کا خون ھدر (بے معاوضہ رائیگاں) قرار دے دیا۔ (سیر کبیر‘ شرح سیر کبیر‘ ردالمحتار صفحہ ۳۰۶ جلد ۳)

ظاهر الرواية:

سیر کبیر‘ شرح سیر کبیر کے حوالوں سے ثابت ہو گیا کہ ہمارے امام ابوحنیفہ اور دیگر ائمہ حنفیہ کا یہی مذہب ہے کہ ذمی اگر رسول اللہ ﷺ کو سبّ کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور اس کا اعلان (اظہار) اس سے ثابت ہو جائے تو اس کا قتل جائز ہو جاتا ہے۔ اس حوالہ کی روشنی میں معلوم ہو گیا کہ صاحب بحر مخفی رہتے ہوئے اس بات کا انکار نہیں کر سکتے کہ بالاعلان سبّ و شتم کی صورت میں ذمی کا قتل روایات ائمہ حنفیہ سے ثابت ہے لہٰذا ان کا انکار

کسی اور امر پر ہے اور وہ و

انکار عقد ذمہ کے ٹوٹنے اور

الدین بھی الرملی نے فرمایا

لا يلزم من عدم النقض

وقد صرحوا قاطبة بان

ذلک يؤدب وهو يفي

قتله زجراً لغيره اذ يـ

في التعزير الى الـ

موجبه (فتاویٰ خیریہ صـ

جلد ۳)

اسی طر

دور کرنے کـ

ان

الفعل

(فتاویٰ خـ

صفحہ 47

کسی اور امر پر ہے اور وہ وہی ہے جو ان کے کلام کی تشریح میں فقیر نے بیان کیا ہے کہ ان کا انکار عقد ذمہ کے ٹوٹنے اور انتفاء کے ثبوت پر قتل واجب ہونے پر ہے اسی لیے علامہ خیر الدین رملی نے فرمایا۔

لايلزم من عدم النقض عدم القتل وقد صرحوا قاطبة بانه يعزر على ذلك يؤدب وهو يدل على جواز قتله زجراً لغيره اذ يجوز الترقى فى التعزير الى القتل اذا عظم موجبه (فتاویٰ خیریہ، ردالمحتار صفحہ ۳۰۵ جلد ۳)

یعنی (صاحب بحر کے قول کا مطلب ذمی کے قتل سے انکار نہیں کیونکہ) معاہدۂ ذمہ نہ ٹوٹنے سے یہ لازم نہیں آتا اسے قتل نہ کیا جائے اور (جہاں تک روایت کا تعلق ہے تو) تمام فقہاء حنفیہ اور ائمہ حنفیہ نے تصریح فرمائی ہے۔ کہ ذمی سابّ کو تعزیر اور تادیب کی جائے گی اور یہ (صریح ارشاد) دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا قتل جائز ہے تاکہ دوسرے ذمی اس جرم کے ارتکاب سے باز رہیں اس لیے کہ تعزیر میں قتل کے حکم تک ترقی کرنا جائز ہے جبکہ ”موجب تعزیر جرم“ جرم عظیم ہو۔

اسی طرح علامہ ابن ہمام پر صاحب بحر کی تنقید سے جو غلط فہمی پیدا ہو سکتی تھی اسے دور کرنے کے لیے علامہ خیر الدین نے فرمایا

ان مابحثه فى النقض مسلم مخالفته للمذهب واما ما بحثه فى القتل فلا (فتاویٰ خیریہ، ردالمحتار صفحہ ۳۰۵ جلد ۳)

علامہ ابن ہمام نے نقض ذمہ بوجہ سبّ کا جو قول اپنی بحث میں کیا ہم مانتے ہیں کہ وہ مذہب کے مخالف ہے لیکن قتل ذمی پر جو بحث فرمائی تو وہ بحث مذہب حنفیہ کے مخالف نہیں۔

جب ذمہ نہیں ٹوٹتا تو پھر قتل کیونکر جائز ہوگا؟ اس کا جواب دیتے ہوئے علامہ

صفحہ 48

خیر الدین حنفی فرماتے ہیں ۔ ومذهب الشافعى كمذهبنا على الاصح قال ابن السبكى لاينبغى ان يفهم من عدم الانتقاض انه لا يقتل فان ذلك لا يلزم اه وليس فى مذهبنا ما ينفى قتله خصوصاً اذا اظهر ماهو الغاية فى التمرد و عدم الاكتراث والاستخفاف واستعلى على المسلمين على وجه صار متمردا عليهم اه

(فتاوى خير الدين ردالمحتار

صفحه ۳۰۵ جلد ۳)

(اس مسئلہ میں) مذہب شافعی رحمۃ اللہ علیہ علی الاصح ہمارے مذہب کی طرح ہے (چنانچہ) ابن السبکی (شافعی) نے فرمایا نقض ذمہ نہ ہونے سے یہ سمجھنا نامناسب ہے کہ اسے قتل بھی نہ کیا جائے کہ یہ لازم نہیں کہ ذمی کا ذمہ باقی ہو تو اسے (کسی موجب قتل جرم پر بھی) قتل نہ کیا جائے۔ علامہ خیر الدین حنفی نے فرمایا ہمارے مذہب (حقیقت میں اس کے قتل سے انکار کی کوئی روایت نہیں پائی جاتی۔ (تو اسے قتل کیا جائے گا) خصوصاً جبکہ وہ ایسے امور کا اظہار کرے جن سے اس کی انتہائی سرکشی اور (مسلمانوں کی) پروا نہ کرنا اور توہین ظاہر ہوتی ہو اور مسلمانوں پر تمرد اور سرکشی کے انداز میں غلبہ چاہتا ہو۔

الحمد للہ ہماری اس تحریر سے حق واضح ہو گیا اور مختلف عبارات کی تطبیق بھی ہوگئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ذمی اعلان سبّ ایک بار کرے یا کئی بار وہ اعلان کم از کم دو آدمیوں کے سامنے کیا گیا یا دو آدمیوں نے بیک وقت سنا یا یکے بعد دیگرے سن کر قاضی کے روبرو گواہیاں جمع ہوئیں یہ سب اعلان ہی ہیں اور اعلان سبّ نبی پر باتفاق روایات حنفیہ قتل لازم ہوتا ہے۔ علامہ عینی اور ان جیسے دیگر علماء کے نزدیک اس کا ایک آدمی کے سامنے کہنا بھی اعلان ہے کیونکہ اس شخص کے سامنے تو اس نے سبّ کا اظہار کیا۔ یہ اور بات ہے کہ حاکم

صفحہ 49

کے روبرو اس پر جرم ثابت نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اور جب دو آدمی سننے والے بلکہ ایک اور سننے والا مل کر دو گواہ ہو گئے یا اس نے قاضی کے روبرو خود اقرار کر لیا تو اظہار جرم کا ثبوت بھی ہو گیا لہٰذا اب بھی اس کا قتل اظہار پر ہوگا اخفاء پر نہیں۔

چھٹی صورت کا بیان:

ہمارے اس بیان سے چھٹی صورت کا حکم بھی سمجھ میں آ گیا کہ جب ایک آدمی کے سامنے اظہارِ سبّ کیا تو اظہار اور اعلان تو ہو گیا۔ اب وہ آدمی جانتا ہے کہ قاضی کے روبرو تو میں ثابت نہ کر سکوں گا اس لیے اسے قتل کر دیتا ہے تو وہ مسلمان اسے قتل کر کے گنہگار نہیں۔ ہاں اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اس لیے کہ ذمی کے وارثوں نے قاتل کا دعویٰ قبول نہ کیا اور قصاص کا دعویٰ کر دیا تو پھر کیا ہوگا۔

درمختار صفحہ ۱۹۷ جلد ۳ میں ہے

فى المجتبى الاصل ان كل شخص رأى مسلماً يزني ان يحل له قتله و انما يمتنع خوفاً من ان لا يصدق انه زنى

یعنی کتاب ”مجتبیٰ“ میں ہے کہ قاعدہ یہ ہے کہ ہر شخص جو کسی مسلمان کو (مثلاً) زنا کرتے دیکھے تو اس کے لیے جائز ہے کہ اس زانی کو قتل کرے اور وہ فقط اس لیے باز رہے گا کہ ڈر ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ اسے اس بات میں سچا نہ مانا جائے کہ اس مقتول نے زنا کیا تھا۔

(درمختار صفحہ ۱۹۷، جلد ۳)

حاشیہ میں علامہ ابن عابدین نے فرمایا۔ عزاه بعضهم ايضاً الى جامع الفتاوى وحدود البزازية وحاصله انه يحل ديانة لا قضاء فلا يصدقه القاضى الا ببينه والظاهر انه يأتى هنا التفصيل المذكور فى السرقة وهو ما فى البزازية وغيرها ان لم يكن لصاحب الدار بينة فان لم يكن المقتول معروفاً

صفحہ 50

بالشر والسرقة قتل صاحب الدار قصاصاً وان كان متهما به فكذلك قياساً وفى الاستحسان تجب الدية فى ماله لورثة المقتول لان دلالة الحال اورثت شبهة فى القصاص لافى المال (جامع الفتاویٰ بزازیہ ملخصاً رد المحتار صفحہ ۱۹۷ جلد ۳) یعنی بعض علماء نے مذکورہ بالا قاعدہ کو کتاب ”مجتبیٰ“ کے علاوہ جامع الفتاویٰ اور کتاب الحدود بزازیہ سے بھی منسوب کیا اور اس کا حاصل یہ ہے کہ خود سننے والے پر اس مجرم کا قتل ديانة (عند الله فقط) تو جائز ہے قضاءً (قاضی کے روبرو کافی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ) جائز نہیں تو قاضی اس کو سچا قرار نہ دے گا جب تک گواہی نہ ہو علامہ شامی فرماتے ہیں کہ ظاہر یہ ہے کہ چوری کے مسئلہ کی تفصیل یہاں بھی جاری ہو اور وہ بزازیہ وغیرہ میں مذکور ہے کہ (چور کو گھر والے نے مار ڈالا تو ) اگر گھر والے کے پاس اس کی چوری پر گواہی نہ ہو پھر مقتول اگر شرارت اور چوری میں مشہور نہ ہو تو گھر والے کو قصاص میں قتل کیا جائے گا اور مشہور نہ ہو مگر اس پر چوری کی تہمت (بغیر ثبوت کے ) پہلے بھی لگائی گئی ہو تو بھی قیاس کا تقاضا یہی ہے (کہ اسے قصاصاً قتل کیا جائے ) البتہ استحسان کا تقاضا یہ ہے کہ مقتول کے ورثہ کو ادائیگی کے لیے دیت اس کے مال میں واجب ہو کہ دلالت حال نے قصاص میں شبہ پیدا کر دیا مگر دیت میں (اس شبہ کا کوئی اثر) نہیں۔

الحمد لله ثابت ہو گیا کہ ابن تیمیہ نے غلط کہا حنفی ایک دفعہ کے بالاعلان سبّ کو بھی قتل کا سبب ٹھہراتے ہیں یہ نہیں کہ جب تک کئی بار اعلان ثابت نہ ہو اسے قتل نہ کر سکیں اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ قتل بالتعزیر کے لیے صرف تکرار یا مصلحت ہی سبب نہیں بلکہ موجب کا عظیم ہونا بھی قتل کا سبب ہے جیسا کہ علامہ خیر الدین سے گزر چکا ۔ اس لیے کسی طرح بھی سبّ کرے اگر ثابت ہو جائے تو ذمی کافر کو قتل کیا جائے گا ۔ (لہٰذا باقی غیر مسلموں کو تو بطریق اولیٰ قتل کیا جائے گا) ۔ وبالله التوفيق ۔

صفحہ 51

ایک سننے والا آدمی اگر سابّ کو قتل کرے:

شرح السیر والے نے امام محمد کی اتباع میں ایسی حدیث پیش کی جس کی رو سے مجرم نے ایک آدمی کے سامنے حضور ﷺ کو سبّ کیا تھا تو اس ایک کے غصہ میں آ کر قتل کرنے کو بوجہ اعلان قرار دیا گیا۔ جس کا حوالہ گزر چکا۔ شاید کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ جب حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے سبّ سنا اور اسے قتل کر دیا تو پھر آپ کیوں یہ کہتے ہیں کہ ثبوت نہ ہو تو قصاص یا دیت ضروری ہوگی۔ تو میں عرض کروں گا کہ قصاص و دیت تو وارثوں کے مطالبہ پر ہوتے ہیں یہاں اگر قاتل کے سوا کوئی وارث ہوتا تو سامنے آتا، معلوم ہوا یا تو اس کا وارث کوئی اور نہ تھا یا تھے تو قاتل کے ساتھ ایسا رشتہ رکھتے تھے کہ اس پر نالش نہ کی یا سب وارث مسلمان تھے اور ان سب نے مجرم کا قتل درست قرار دیا یا اس کے علاوہ کوئی قرینہ تھا اس لیے قصاص لازم نہ ہوا۔

اعلان بالسبّ اور قاضی کے لیے قتل کا اختیار:

اس حدیث کے ذیل میں شاید کسی کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہو کہ وہ تو اکیلی عورت تھی اس لیے اکیلے آدمی کے سامنے سبّ کیا تو یہ اعلان کیسے ہوا۔ اور اگر اعلان بھی قرار دیا جائے تو اسے حضور ﷺ نے تو قتل نہیں کرایا تھا، پھر امام محمد رحمۃ اللہ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ اعلان کی صورت میں قاضی کو اسے قتل کرنے کا حق حاصل ہے تو میں عرض کروں جیسا کہ پہلے گزرا یہاں اعلان سے مراد صرف کسی خبر کا ڈھنڈورا پیٹنا نہیں بلکہ کسی شخص کے سامنے نبی ﷺ کو گالی دے کر یہ ظاہر کرنا ہے کہ مجرم حضور کو گالی دینے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتا، اور یہ امر ایک شخص کے سامنے گالی دینے سے بھی حاصل ہو جاتا ہے تو اظہار ہوگیا۔ رہا یہ کہ قاضی کے سامنے دو گواہ ضروری ہیں تو اظہار کے لیے نہیں بلکہ اظہار کے ثبوت کے لیے گواہ ضروری ہیں۔ اظہار تو ایک آدمی کے سامنے بھی کافی ہے اور اسی اظہار کو یہاں اعلان

صفحہ 52

کہتے ہیں۔ رہا دوسرا امر تو اس کے بارے میں عرض ہے کہ قابل غور یہ امر ہے کہ جب حضور ﷺ کو قاتل کے اقرار سے یہ پتہ چلا کہ اس شخص نے کسی کو قتل کر دیا ہے تو یہاں دو امر ہیں سرکار نے اسے قتل ہونے کا مستحق سمجھا یا نہیں سمجھا اگر نبی ﷺ مقتول کو قتل کا مستحق نہ سمجھتے تو قاتل سے فرماتے کہ تو نے جرم کیا اسے ڈانٹتے کہ کس سے پوچھ کر ایسا کیا تو گناہ گار ہوا اور برملا فرماتے کہ اے اللہ! میں اس قتل سے بری بیزار ہوں اور ایسا بالکل نہیں ہوا تو ثابت ہوا کہ نبی ﷺ نے اسے قتل کا مستحق سمجھا اور صرف ایک آدمی کے سامنے اس کے سبّ کو اعلان سمجھا اور قاضی صرف اسے قتل کر سکتا ہے جو قتل کا شرعاً مستحق ہو اور شرع سے ثابت ہو گیا کہ اعلان سبّ سے ذمی قتل کا مستحق ہو جاتا ہے لہٰذا ہمارے ائمہ نے فرمایا کہ ذمی اگر سبّ نبی کا اعلان کرے تو اسے قتل کیا جائے گا تو ہمارے ائمہ کا یہ مسئلہ اور استنباط حدیث نبوی کی روشنی میں بالکل صحیح ہے مگر اکثر لوگ ان کے مدارک کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

یہ تعزیر حاکم معاف نہیں کرسکتا:

شاید کسی کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو کہ تینوں ائمہ نے یہ فرمایا کہ ایسے شخص کو جو ذمی ہو کر سبّ رسول ﷺ کا مرتکب ہو بطور حد قتل کیا جائے اور ائمہ حنفیہ نے فرمایا کہ بطور عقاب قتل کیا جائے اور ظاہر ہے اس سے مراد تعزیر ہے اور تعزیر کا نفاذ حاکم کی مرضی پر ہوتا ہے حاکم چاہے تو تعزیر کو مکمل معاف یا ہلکا کر سکتا ہے لہٰذا یہاں بھی حاکم معاف کر سکے گا تو میں عرض کروں گا کہ یہاں ایسا ہرگز نہیں۔

اظہار سبّ رسول ﷺ کے مرتکب ذمی

کو حاکم اعلیٰ معاف نہیں کرسکتا:

بیشک مشہور یہی ہے کہ تعزیر کی مقدار حاکم اعلیٰ تجویز کرے گا اور اسے تعزیر کے مکمل معاف کرنے کا بھی اختیار ہے لیکن فقہ حنفی کے بغور مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امر

صفحہ 53

میں بھی تفصیل ہے۔ اگرچہ تعزیر اسی جرم پر ہوتی ہے جس پر حد مقرر نہ ہو تاہم بعض جرائم کی تعزیرات کی مقدار ہمارے فقہاء نے بیان کر دی ہے ان امور میں حق اللہ بھی حاکم کو معاف کرنے کا حق نہیں چہ جائیکہ وہ حق العبد کی ایسی سزا کو معاف کر سکے۔ فتح القدیر میں ہے۔

لنا ان ماکان منصوصاً علیه من یعنی ہمارا موقف یہ ہے کہ جو تعزیر (ائمہ التعزیر کما فی وطی جاریة سے) منصوص علیہ ہو اس میں تعمیل حکم امراته او جارية مشترکة یجب واجب ہے۔ (فتح القدیر شرح ہدایہ جلد ۵ امتثال الامر فیه صفحہ ۱۱۳ طبع رشیدیہ کوئٹہ)

بعض علماء نے یہ جواب بھی دیا کہ تعزیر حق العبد اور ”حق اللہ خالص“ دو قسموں پر مشتمل ہیں ان افراده التی هی حق العبد اكثر من افراده التی هی حق اللہ۔ یعنی تعزیر کے وہ افراد جو حق العبد ہی ہیں زیادہ ہیں تعزیر کے ان افراد کی تعداد سے جو (محض) حق اللہ ہیں۔ (حاوی ردالمحتار جلد ۳ صفحہ ۲۰۴) درمختار میں ہے فان حقوق العباد ليس للقاضی اسقاطھا (درمختار عربی ہاشمی جلد ۳ صفحہ ۲۰۵) یعنی قاضی (اور حاکم اعلیٰ کو) حقوق العباد (کی تعزیر) ساقط کرنے کا حق نہیں۔

میں عرض کروں گا کہ مذکورہ بالا حوالوں سے ثابت ہو گیا کہ یہ کتابیں بھی ہمارے موقف کی تائید کرتی ہیں تاہم راقم کے نزدیک اس امر کا واضح بیان یہ ہے کہ قابل تعزیر جرائم دو قسم ہیں۔ (۱) وہ کہ ان کے ہم جنس جرائم میں حدود شرعیہ نافذ ہیں۔ (۲) وہ کہ ان کے ہم جنس میں حدود شرعیہ نافذ نہیں۔ جن جرائم کی جنس میں حدود شرعیہ نافذ ہیں ان کی تعزیر میں حاکم اعلیٰ کو سوائے نفاذ کے کوئی چارہ نہیں۔ نہ معاف کر سکتا ہے اور نہ کم کر سکتا ہے گرچہ دوسری مذکورہ بالا قسم میں اسے نفاذ و عدم نفاذ کا اختیار ہے۔

صاحب ہدایہ علامہ مرغینانی حنفی متوفی ۵۹۳ھ لکھتے ہیں:

صفحہ 54

(ومن قذف عبداً اوامة او ام ولدا او كافراً بالزنا عزر) لانه جناية قذف وقد امتنع وجوب الحد لفقد الاحصان فوجب التعزير اوكذا اذا قذف مسلماً بغير الزنا فقال يا فاسق او يا كافر او يا خبيث او يا سارق) لانه اذاه والحق الشين به ولا مدخل للقياس في الحدود فوجب التعزير الا انه يبلغ بالتعزير غايته في الجناية الأولى لانه من جنس ما يجب به الحد وفي الثانية الرأى الى الامام (ہدایہ فی متن فتح القدیر جلد ۵ صفحہ ۱۱۴)

یعنی جس شخص نے زر خرید غلام و کنیز یا ام ولد یا کافر (ذمی) پر زنا کی تہمت لگائی اسے تعزیر دی جائے گی کیونکہ یہ جرم قذف ( کی جنس سے ) ہے اور حد کا وجوب ناممکن ہے اس لیے کہ قرآن مجید میں بیان کردہ شرط (حد مقذوف کا ) ”احصان“ (آزاد مسلمان ہونا ) نہیں پایا جاتا تھا لہٰذا تعزیر واجب ہے اسی طرح اگر کسی نے مسلمان پر زنا کے سوا سے تہمت لگائی کہ اے فاسق اے کافر اے خبیث اے چور کہا (تو اسے بھی تعزیر کی جائے ) کہ اس شخص نے اس مسلمان کو ایذاء پہنچائی اور اس پر عیب لگایا اور حدود (کے ثبوت ) میں قیاس (فقہاء) کو دخل نہیں لہٰذا تعزیر واجب ہوگی۔ ہاں مگر جرم کی پہلی قسم میں تعزیر کو اس کی آخری حد تک پہنچائے گا اس لیے کہ یہ تعزیر اس جرم پر ہے جس کی جنس میں حد واجب ہوتی ہے۔ (لہٰذا حاکم اعلیٰ کو اس میں کمی کا کوئی حق نہیں) اور تعزیر کی دوسری قسم (اس جرم پر کہ اس کی جنس میں حد واجب نہیں ) میں حاکم اعلیٰ کو اختیار ہے کہ وہ اپنی رائے سے کمی کر سکتا ہے ( مکمل معاف اس کو بھی نہیں کر سکتا کہ دونوں لازم اور واجب ہیں۔ (ہدایہ متن فتح القدیر جلد ۵ صفحہ ۱۱۴ طبع کوئٹہ )

علامہ ابن ہ (من قذف عبداً او كافراً بالزنا عزر على قول داؤد ف ابن المسيب في مسلم قال ب المصنف (الا ا غايته الجناية الا قذف غير المح من جنس ما يج الرمي بالزنا (وف اذا قذفه بغير ال (الرأى الى الاما

كفايه ف الاولى وهى ط ما اذا قذف مح میں تعزیر کو مکمل کر

صفحہ 55

علامہ ابن ہمام حنفی متوفی ۸۶۱ ھ فتح القدیر میں اسی کو سالم رکھتے ہوئے لکھتے ہیں:

(من قذف عبداً او امة او ام ولد او کافرا بالزنا عزر) بالاجماع الا على قول داؤد فانه يحدبه وقول ابن المسيب فى الذمية لها ولد مسلم قال يحدبه...... قال المصنف (الا انه يبلغ بالتعزير غايته الجناية الاولى) وهو ما اذا قذف غير المحصن بالزنا ( لانه من جنس ما يجب به الحد) وهو الرمى بالزنا (وفى الثانية) وهو ما اذا قذفه بغير الزنا من المعاصى (الرأى الى الامام)

یعنی جس نے (زرخرید) غلام یا کنیز یا ام ولد یا کسی کافر پر زنا کی تہمت لگائی اسے تعزیر دی جائے گی۔ اس مسئلہ پر اجماع ہے مگر داؤد ظاہری کا قول ہے کہ عبد پر یہ تہمت لگائے تو حد لگائی جائے اور سعید ابن مسیب کا قول ہے کہ ذمیہ پر یہ تہمت لگائی جس کا بیٹا مسلمان ہے تو قاذف کو اس جرم پر ان کے نزدیک حد لگائی جائے گی۔ (آگے چل کر لکھتے ہیں) مصنف (یعنی صاحب ہدایہ نے کہا ہاں مگر پہلی قسم کے جرم میں تعزیر کو انتہا پر پہنچائے گا اور وہ (پہلی قسم سے مصنف کی مراد) یہ ہے کہ زنا کی تہمت غیر محصن کو لگائے کہ یہ جرم حد واجب کرنے والے جرم کی جنس سے ہے جو زنا کی تہمت لگانا ہے اور دوسری قسم میں (اور وہ یہ ہے کہ کسی کو سوائے زنا کسی اور گناہ کی تہمت لگائے) حاکم اعلیٰ کی رائے پر چھوڑا گیا ہے۔

(فتح القدیر جلد ۵ صفحہ ۱۱۴ طبع کوئٹہ)

کفایہ علی الہدایہ میں ہے: قوله الا انه يبلغ بالتعزير غايته في الجناية الاولى وهى ما اذا قذف غير المحصن بالزنا ولم يثبت وفى الثانية وهى ما اذا قذف مسلماً بغير الزنا یعنی صاحب ہدایہ کے اس قول میں کہ پہلی قسم کے جرم میں تعزیر کو مکمل کرنا ہوگا۔ پہلی قسم سے مراد یہ ہے کہ غیر محصن کو کو زنا کی تہمت لگائی اور زنا

صفحہ 56

ثابت نہ ہوا ( تو پہلی قسم کی تعزیر لازم ہوگی جس میں حاکم اعلیٰ کو کمی کرنے کا حق بھی نہیں ) اور دوسری قسم کے جرم سے مراد یہ ہے کہ مسلمان کو زنا کے سوا کسی اور چیز کی تہمت لگائے۔ (کفایہ علی الہدایہ جلد ۵ صفحہ ۱۱۴-۱۱۵) نیز عنایہ جلد صفحہ ۱۱۴ ہدایہ کی عبارت کو برقرار رکھا۔

امام ابو حنیفہ اور آپ کے صاحبین حاکم

کو تعزیر قائم مقام حد کے ساقط کرنے کی

اجازت نہیں دیتے:

ہمارے مذکورہ بالا بیان سے ثابت ہو گیا کہ تعزیر قائم مقام حد کو نہ تو حاکم معاف کر سکتا ہے اور نہ ہی کم کر سکتا ہے اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ متون ظاہر الروایہ (یعنی ”متواتر ثابت ہونے والے“ امام ابو حنیفہ اور ان کے صاحبین کے اقوال) کے بیان کے لیے ہیں اور پھر شروح ان کے بعد اسی منزلہ میں ہیں اور ہدایہ کو مثل متن مانا گیا ہے۔ ثابت ہوا کہ یہی امام ابو حنیفہ اور آپ کے تلامذہ کا بتواتر ثابت ہونے والا قول ہے کہ اگر صاحبین اس میں شامل نہ ہوتے تو ان کے اختلاف کا بیان کیا جاتا۔

تعزیر بالضرب میں زیادہ سے زیادہ حد کا تعین:

چونکہ تعزیر بالضرب مشابہ بالحد میں حاکم اعلیٰ سے مطالبہ تھا کہ وہ کم نہیں کر سکتا اس لیے امام ابو حنیفہ نے اس کی آخری حد متعین کر دی اور وہ یہ کہ ادنیٰ حد سے ایک جزء کم کر دیا۔ ہدایہ میں ہے فابو حنيفة و محمد نظرا الى ادنى الحد وهو حد العبد فى القذف فصرفاه اليه وذلك اربعون سوطاً فنقصا منه سوطاً و ابو يوسف اعتبر اقل الحد فى الاحرار اذا الاصل هو الحرية ثم نقص سوطاً فى رواية عنه وهو قول زفر وهو القياس وفى هذه الرواية نقص خمسة وهو ماثور عن

صفحہ 57

علی۔ یعنی امام ابوحنیفہ اور ان کے شاگرد امام محمد نے تمام حدوں میں کم سے کم حد (بالضرب) کی طرف دیکھا اور وہ عبد کو قذف کی حد جو چالیس کوڑے ہے تو انہوں نے اس سے (ایک جزء یعنی) ایک کوڑا گھٹا کر تعزیر (بالضرب) کی حد (انتالیس کوڑے) مقرر فرمائی۔ اور امام ابو یوسف نے (غلام کی بجائے) آزادی کی کم سے کم حد کا اعتبار کرتے ہوئے اسی کوڑے سے ایک جزء گھٹا دیا کہ اصل حریت ہے پھر وہ جزء ظاہر الروایہ میں (۷۵ یعنی) پانچ کوڑے کم کرنا ہے اور یہی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور غیر ظاہر الروایہ میں (۷۹ یعنی) جزء سے مراد ان کے ہاں بھی ایک کوڑا ہے اور یہی مذہب امام زفر رحمۃ اللہ کا بھی ہے۔ صاحب ہدایہ کے نزدیک قیاس کا تقاضا بھی یہی ہے۔ (ہدایہ مع فتح جلد ۵ صفحہ ۱۵ اطبع کوئٹہ) شاید کسی کو خیال ہو کہ ان اقوال میں تعارض ہے تو میں عرض کروں گا کہ یہ تعارض ہمیں مضر نہیں کہ ہمارے زیر بحث مسئلہ کوڑوں کی گنتی نہیں بلکہ یہ ثابت کرنا ہے کہ حنفی ائمہ کے نزدیک اس ایک نقطہ پر اتفاق ہے کہ تعزیر بالضرب کی زیادہ سے زیادہ حد متعین ہے جس سے گھٹانا حاکم اعلیٰ کے اختیار میں نہیں۔ تو ثابت ہوا کہ تعزیر قائم مقام حد میں امام ابو حنیفہ اور ان کے تلامذہ کے متفق علیہ قول سے حاکم اعلیٰ کو کمی کرنے کا کوئی اختیار نہیں اگر ناگوار نہ ہو تو کچھ اور حوالے ملاحظہ ہوں۔ بدائع الصنائع میں ہے: اما قدر التعزیر فانه ان وجب بجناية ليس من جنسها مايوجب الحد كما اذا قال لغيره يافاسق يا خبيث ياسارق و نحوذلك فالا مام فيه بالخيار ان شاء عزره بالضرب وان شاء بالحبس وان شاء بالكهر والاستخفاف بالكلام...... وان وجب بجنايه في جنسها الحد لكنه لم يجب لفقد شرطه كما اذا قال لصبي او مجنون يا زاني او للمية او ام ولد يا زانية فالتعزير فيه بالضرب ويبلغ اقصى غاياته وذلك تسعة وثلاثون في قول ابي حنيفة عليه الرحمه۔ رہی تعزیر کی

صفحہ 58

مقدار تو تعزیر اگر ایسے جرم کے سبب واجب ہو کہ اس کی جنس سے کوئی جرم موجب حد نہ ہو مثلاً کسی دوسرے کو اے فاسق اے خبیث اے چور اور اس کے مانند کہا تو حاکم اعلیٰ کو اختیار ہے اگر چاہے تو اسے پٹائی کے ذریعے تعزیر دے اگر چاہے تو حبس (قید کرنے) سے اور اگر چاہے تو زبانی ڈانٹ ڈپٹ اور زبانی توہین سے سزا دے...... آگے چل کر لکھا اور اگر تعزیر ایسے جرم کے سبب واجب ہوئی جس کی جنس پر حد لازم ہوتی ہے لیکن کسی شرط کے نہ پائے جانے کے سبب لازم نہیں ہوئی مثلاً کسی بچے یا پاگل کو (بلا ثبوت ) زانی کہہ کر پکارا یا کسی ذمی عورت یا (مسلمان کنیز ) ام ولد کو (بلا ثبوت) زانیہ کہہ کر پکارا تو اس میں پٹائی سے تعزیر ہوگی اور حاکم اسے (حد سے نیچے) آخری انتہاء تک (اس کی مقدار کو پہنچائے گا اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے قول پر وہ آخری حد انتالیس کوڑے ہے۔ (بدائع الصنائع امام کا شانی حنفی متوفی ۵۸۷ھ جلد ۷ صفحہ ۶۴ طبع ایچ ایم سعید کراچی)

صاحب قنیہ کی روایت کا جواب:

علامہ زاہدی نے جو حنفی کہلانے کے باوجود معتزلی العقیدہ تھا اہلسنت سے نہ تھا۔ قنیہ میں مشکل الآثار سے نقل کیا : ان اقامة التعزير الى الامام عندائمتنا الثلاثة والشافعى والعفو اليه ايضاً قال الطحاوى وعندى ان العفو للمجنى عليه لا للامام قال صاحب القنية ولعل ماقالوه فى التعزير الواجب حقاً لله تعالىٰ و ماقاله الطحاوى فيما اذا جنى علیٰ انسان (رد المحتار صفحہ ۲۰۵ جلد ۳ باب التعزیر ) یعنی تعزیر قائم کرنا ہمارے تینوں ائمہ اور امام شافعی کے نزدیک حاکم اعلیٰ کے سپرد ہے اور معافی بھی اسی کے سپرد ہے۔ طحاوی نے فرمایا میرے نزدیک معافی کا اختیار حاکم اعلیٰ کو نہیں بلکہ جس شخص سے زیادتی ہوئی اسے معافی کا اختیار ہے۔ صاحب قنیہ نے کہا ”شاید ائمہ ثلاثہ اور امام شافعی کا قول اس تعزیر کے بارے میں ہے جو حق اللہ میں واجب ہوئی اور جو

طحاوی نے کہا وہ اس ۳ باب التعزیر )

جواب:

اس کے دوسرا یہ کہ ائمہ حنفیہ روایات لاتا ہے۔ الضعيفة (ج) تـ مان رہا پھر یہ روایت

کے مقابل ہے جو ر ضعیف ہوتی ہے او قائم مقام حد میں مـ میں اس روایت کو قـ ظاہر الروایہ کے قابـ

یہ عبارت ملتی تو زاہـ

مشکل ماروی خالص تعزیر کا باب کا ترجمہ یہ ہے ’ائـ

صفحہ 59

طحاوی نے کہا وہ اس جرم میں ہے کہ زیادتی کسی انسان سے کی ہو ۔‘‘ (ردالمختار صفحہ ۲۰۵ جلد ۳ باب التعزیر )

جواب:

اس کے کئی جواب ہیں (۱) یہ روایت زاہدی سے منقول ہے جو سنی نہیں‘ (ب) دوسرا یہ کہ ائمہ حنفیہ سے روایت میں اس کی کتابوں کا فقہاء کے ہاں اعتبار نہیں کہ ضعیف روایات لاتا ہے۔ (ردالمختار جلد ۲ صفحہ ۵۱۰) قد تکرر ان الزاھدی ینقل الروایات الضعيفة (ج) تیسرا یہ کہ وہ خود حق العبد کے بارے میں اس کے ظاہری مطلب کو نہیں مان رہا پھر یہ روایت کیونکر قبول ہوگی۔

(۲) یہ کہ بشرط صحت ثبوت طحاوی کی ائمہ ثلاثہ حنفیہ سے یہ روایت ظاہرالروایہ کے مقابل ہے جو روایت ظاہرالروایہ کے مقابل ہو حنفی فقہاء کے ہاں اصولاً غیرمقبول اور ضعیف ہوتی ہے اور گزشتہ اوراق میں ثابت ہوچکا کہ ظاہرالروایہ کے مطابق حاکم کو تعزیر قائم مقام حد میں معافی تو ایک طرف کمی کا بھی اختیار نہیں۔ پھر یہ کہ خود طحاوی بھی حق العبد میں اس روایت کو نہیں مانتے جبکہ ہمارے زیر بحث مسئلہ بھی حق العبد کی قسم سے ہے تو ہم ظاہرالروایہ کے قائلین کیونکر اسے تسلیم کرلیں۔

(۳) علامہ شامی نے روایت کا بوجھ زاہدی پر ڈال دیا اگر مشکل الآثار میں انہیں یہ عبارت ملتی تو زاہدی کے واسطہ کو درمیان میں نہ لاتے۔

(۴) علامہ طحاوی کی مشکل الآثار کی جلد ثالث صفحہ ۱۶۴ پر باب ہے بیان مشكل ماروی لايجلد فوق عشر جلدات الافی حد من حدوداللہ۔ یہ خالص تعزیر کا باب ہے اس سے پہلا اور پچھلا باب تعزیر سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ عنوان باب کا ترجمہ یہ ہے ’’اس روایت (حدیث) کی مشکل کا بیان کہ ’’اللہ کی حدوں میں سے کسی حد

صفحہ 60

کے سوا دس کوڑوں سے زیادہ نہ مارے جائیں۔

اس ساری بحث میں صرف ایک جگہ علامہ طحاوی رحمۃ اللہ امام اعظم ابو حنیفہ اور امام شافعی رضی اللہ عنہما کا نام اکٹھے لائے ہیں۔ فرماتے ہیں اس حدیث کے بارے میں ایک کہنے والے نے یہ کہا کہ تعزیر میں دس کوڑوں سے نہ بڑھانے کی اس حدیث کو عام علماء امت نے چھوڑ دیا اس لیے کہ کسی نے اس سے اختلاف نہیں کیا کہ حاکم اعلیٰ کو اختیار ہے کہ تعزیر دس کوڑوں سے بڑھا دے۔ اختلاف صرف اس امر میں ہے کہ کتنا بڑھا سکتا ہے تو ان علماء کا ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ انتالیس کوڑے سے نہ بڑھائے اور اس قول کے قائلین میں سے بعض امام ابو حنیفہ (امام) محمد بن الحسن اور (امام) شافعی رحمہم اللہ ہیں اور علماء کا دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ ۷۵ سے نہ بڑھائے اور اس کے قائلین میں سے ایک ابن ابی لیلیٰ ہیں۔ ایک اور گروہ یہ کہتا ہے کہ ۷۹ کوڑوں سے نہ بڑھائے اور اس کے قائلین میں سے (امام) ابو یوسف ہیں کہ ان کا ایک بار کا یہ قول ہے۔ ایک اور گروہ یہ کہتا ہے کہ حاکم اعلیٰ کو اپنی رائے کے مطابق دس سے اضافہ کا حق ہے اور وہ جرم کی شدت کے مطابق بڑی سے بڑی حد (ضرب) کی مقدار تک بڑھا سکتا ہے۔ اس گروہ میں (امام) مالک بن انس شامل ہیں اور امام ابو یوسف بھی اپنے ایک قول کے اعتبار سے ان میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک اور دفعہ کا ان کا قول وہ ہے جو اوپر گزرا۔ ایک اور قول ان کا (امام) ابو حنیفہ کے قول کے مطابق ہے اور اس بیان سے تمام علماء امت کا اس حدیث کو چھوڑنا ثابت ہوتا ہے۔ تو یہ امر ان کے لیے کہاں سے جائز ہو گیا۔ امام طحاوی اس کے جواب میں فرماتے ہیں سب نے نہیں چھوڑا بلکہ (امام) لیث بن سعد کے دو قول ہیں ایک قول میں دس پر بھی اقتصار کیا اور جرم کی شدت اور نرمی کے اعتبار سے دس کوڑوں کی شدت نرمی کے فرق کا قول کیا اور رہے باقی فقہاء تو انہوں نے دیکھا کہ شراب میں سزا دس سے زائد ہے اور تمام صحابہ اور تابعین اسی پر عمل کرتے رہے

صفحہ 61

تو ان علماء نے دس پر انحصار کی حدیث کو منسوخ سمجھا۔

رہا یہ شبہ کہ شرب خمر پر تو سزا بطور حد دی جاتی ہے تو طحاوی اس سے اختلاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت علی سے بسند ثابت ہے کہ فرمایا جو شراب پیئے گا ہم اسے کوڑے لگائیں گے پھر اگر وہ کوڑوں سے مر گیا تو ہم اس کی دیت ادا کریں گے یہ وہ چیز ہے جو ہم نے مقرر کی ہے۔

امام طحاوی یہ ثابت کرتے ہیں کہ خمر کی حد علی التحقیق حد نہیں بلکہ تعزیر ہے جو دس سے یقیناً زائد ہے تو امام ابوحنیفہ اور آپ کے صاحبین اور امام شافعی کا قول صحیح ثابت ہوا کہ حاکم اعلیٰ کو دس کوڑوں سے تعزیر کے بڑھانے کا اختیار حاصل ہے۔

(ترجمہ ملخص از متن مشکل الآثار عربی جلد ۳ صفحہ ۱۶۲ تا ۱۶۸)

امام طحاوی کا کلام بہت لمبا تھا اختصار کی خاطر ہم نے اس کی تلخیص کر کے اس کا ترجمہ یہاں لکھ دیا۔ امام طحاوی کے نقطہ نظر سے اور طرز استدلال سے کسی کو اختلاف ہو تو اور بات ہے لیکن اس امر میں کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا کہ امام طحاوی اس بیان میں تعزیر کی معافی کے اختیار سے یکسر مختلف سمت جا رہے ہیں یعنی دس کی مقرر مقدار سے تعزیر بالضرب بڑھانے کے اختیار کی بحث کر رہے ہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ (۱) زاہدی کو بھول ہو گئی علامہ طحاوی نے مشکل الآثار میں ائمہ حنفیہ اور امام شافعی کا ایسا کوئی قول نہیں لکھا۔ (۲) اور اگر لکھا بھی ہوتا تو متون و شروح فقہیہ میں اس کے خلاف پایا جانا اس کے رد کے لیے کافی تھا کہ ظاہر الروایہ کی روایت فقہی کتب کی نادر روایت پر بھاری ہوتی ہے۔ چہ جائیکہ اس کے خلاف شروح کتب احادیث میں پائی جانے والی روایت ائمہ اس پر ترجیح پائے کہ وہ کتب روایت ائمہ کے لیے موضوع ہی نہیں۔ (فللہ الحجۃ البالغۃ)

صفحہ 62

حق العبد میں عفو کا حق اس شخص کو ھے

جس پر زیادتی یا طعنه زنی کی گئی:

تنویرالابصار میں ہے وهو حق العبد فيجوز فيه الابراء والعفو تعزیر حق العبد ہے لہٰذا اس میں چھوڑ دینا اور معاف کر دینا جائز ہے۔ ردالمحتار میں اس پر لکھا بیان ذالك ان جميع مامر من الفاظ القذف والشتم الموجبة للتعزير منهى عنها شرعا قال تعالى ولا تنابزوا بالالقاب فكان فيها حق الله و حق العبد وغلب حق العبد لحاجته ولذا لو عفا سقط التعزير بخلاف حد القذف فانه بالعكس كما مر وربما تمحض حق العبد كما اذا شتم الصبى رجلا فانه غير مكلف بحق الله یعنی مصنف کے ارشاد کی تشریح یہ ہے کہ جو الفاظ قذف اور شتم کی قسم سے موجب التعزیر گزرے وہ شریعت میں بھی منع ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا برے القاب سے دوسروں کو یاد نہ کیا کرو تو ان میں حق اللہ اور حق العبد دونوں ہو گئے اور حق العبد غالب رہا کہ بندہ کو ضرورت ہے اس لیے اگر حق والا بندہ معاف کر دے تو تعزیر ساقط ہو جائے گی بخلاف ”حد قذف“ کہ وہ اس امر میں برعکس ہے۔ (یعنی بندہ مقدمہ کرنے کے بعد معاف کرے تو معاف نہ ہوگا اور کبھی تعزیر میں محض حق العبد ہوتا ہے مثلاً بچہ نے مرد کو گالی دی تو وہ اللہ تعالیٰ کے حق کا مکلف نہیں تو صرف بندہ کا حق باقی رہا۔ (ردالمحتار جلد ۳ صفحہ ۲۰۴)

اس ساری عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ تعزیر میں بندہ اپنا حق خود معاف کر سکتا ہے نہ کوئی اور ہمارے زیر بحث مسئلہ میں حق رسول اللہ ﷺ کا ہے لہٰذا کوئی مسلمان حاکم یا محکوم اسے ہرگز معاف نہیں کر سکتا۔ یہی مذہب حنفیہ ہے۔

تعزیر بالقتل بھی ھوتی ھے:

شاید کسی کو شبہ ہو کہ تعزیر تو صرف ضرب سے ہوتی ہوگی تو یہ غلط ہے ہم پہلے بھی

صفحہ 63

بیان کر چکے ہیں کہ جس طرح تعزیر بالضرب ہوتی ہے اسی طرح تعزیر بالقتل بھی ہوتی ہے۔ دیکھئے جہاں درمختار میں تعزیر کی مختلف اقسام شمار کیں وہیں تعزیر بالقتل کو بھی شمار کیا۔ لکھتے ہیں ويكون التعزير بالقتل كمن وجد رجلا مع امراة لاتحل له ولوا كرهما فلها قتله ودمه هدر وكذا الغلام ۔ تعزیر قتل کے ذریعہ بھی ہوتی ہے مثلاً کسی نے کوئی مرد ایسی عورت کے ہمراہ پایا جو اس کے لیے حلال نہیں اور (اسی طرح) اگر کسی مرد نے عورت کو ”بالجبر والاکراہ“ مجبور کیا تو عورت اسے قتل کر سکتی ہے اور اس مرد کا خون معاف ہے اور اسی طرح لڑکا (بھی قتل کر سکتا ہے) (وہبانیہ درمختار جلد ۳ صفحہ ۱۹۶-۱۹۷)

ذکر ”جواز تعزیر“ ”نفی وجوب“ کے لیے نہیں:

ہم نے سابقہ جو عبارتیں پیش کی تھیں کہ ذمی ساب رسول ﷺ کا قتل جائز ہے اس سے کسی کو اگر شبہ ہو سکتا تھا کہ شاید حاکم کی مرضی ہے قتل کرے یا نہ کرے تو یہ شبہ ہمارے سابقہ بیان سے دور ہو جانا چاہیے کیونکہ جب حاکم حق العبد میں تعزیر بالضرب میں ایک کوڑے کی کمی بھی نہیں کر سکتا جبکہ وہ تعزیر قائم مقام حد ہو تو ”حق عبد اخص مطلق“ (عبدہ) میں قتل کو کیونکر معاف کر سکتا ہے جبکہ یہاں بھی جرم مشابہ للحد ہے کہ سب رسول ﷺ مسلمان کے لیے بالاتفاق موجب قتل ہے۔ تو بالضرور ذمی کے لیے مشابہ للحد ہوا لیکن حد بالضرب کے اجزاء تھے لہٰذا تعزیر میں کچھ کم کر دیا جبکہ قتل تو اخراج روح کا نام ہے اور اس کے اجزاء ممکن نہیں یا تو قتل پوری طرح موجود ہوگا یا پوری طرح ختم ۔ اور اس باب میں پوری طرح تو تعزیر بالضرب کو بھی ختم نہیں کیا جا سکتا تو تعزیر بالقتل کیسے ختم ہو سکتی ہے لہٰذا پوری طرح قتل باقی رکھا گیا۔ رہا لفظ جواز تو وہ وجوب کے منافی نہیں صفا و مروہ کا طواف حج و عمرہ میں ضروری ہے اور قرآن مجید میں لفظ جواز کے معنی کے لیے لاجناح آتا ہے جو یہاں بھی آیا کہ ان الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح

صفحہ 64

علیہ ان یطوف بھما ”بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں سے ہیں تو حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کا طواف کرے“ جس طرح اس آیت میں لا جناح کہنے سے سعی صفا و مروہ کے وجوب میں فرق نہیں آیا اسی طرح وہاں بھی فقہاء کے یجوز کہنے سے ذمی کے قتل واجب ہونے میں فرق نہیں آتا جیسا کہ اوپر ہم دلائل سے واضح کر چکے کہ حنفیہ ایسی سزائیں واجب اور نا قابل ترمیم سمجھتے ہیں جو قائم مقام حد بالخصوص حق العبد میں ہوں۔

عقوبت و تعزیر کا نام کیوں، حد کا نام کیوں نہیں:

شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ جب ذمی کو قتل کرنا ہی ضروری ہے اور اسے بچنے کا کوئی راستہ نہیں تو پھر اس سزا کو حد ہی کیوں نہ کہہ دیا۔ تو عرض ہے (۱) حد سے بعض علماء (غیر حنفیہ) کے ہاں جرم عند اللہ بھی معاف ہو جاتا ہے (نووی شرح مسلم جلد ۲ صفحہ ۷۳)۔ اس لیے حد کہنا مناسب نہیں بلکہ ہمارے بعض علماء تو ذمی کی تعزیر کو تعزیر بھی نہیں کہتے عقوبت کہتے ہیں کہ تعزیر بھی مسلمانوں کے لیے بقصد تطہیر مشروع ہے ان الحد يطلق على الذمى والتعزير يسمى عقوبة له لان التعزير شرع للتطهير (تاتارخانیہ رد المحتار جلد ۳ صفحہ ۱۹۴) (۲) حنفیوں کے ہاں حد میں مجرم کو شک کا فائدہ دیا جاتا ہے۔ تعزیر میں ایسا نہیں ان الحد يدرأ بالشبهات والتعزير يجب معها (رد المحتار جلد ۳ صفحہ ۱۹۴)

شرط پر قبول ہے کہ وہ مال سرقہ اور قصاص ودیت جو اس کے ذمہ ہے ادا کر دے اور اگر زانی ہے تو اس کی توبہ مطلقاً قبول نہیں کہ زنا کو اس امر میں حق العبد قرار نہیں دیا گیا کہ بعد توبہ اس سے معافی مانگ کر یا مالی معاوضہ ادا کر کے توبہ مکمل ہو جائے۔ (بدائع الصنائع جلد ۷ صفحہ ۹۰) لیکن تعزیر حق العبد کی بھی توبہ سے معاف نہیں ہوتی تو حاکم کیونکر معاف کر سکتا ہے۔ فان حقوق العباد لا يتمكن قاضی کو تعزیر معاف کرنے کا حق

عقوبت ہرگز نہ ٹلے گی۔ شامی جلد السير ان الذمى اذا وجب کتاب السیر سے لیا اس کا مقص تعزیر ساقط نہ ہوگی۔ (القول المـ التعزير لا يجب الا بعد الر ہوتی تو یہ آخری وجہ ہی کافی تھی کہ

خلاصه مبحث:

الحمد للہ ہمارے اس بیان کی رو

حضرت محمد ﷺ مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کرنے والے کو قتل قتل کو حد کہا جائے کا نتیجہ یکساں ہے

کم ایک دفعہ ہے ۔ حکومت وقت

صفحہ 65

فان حقوق العباد لايتمكن القاضى فيها من اسقاط التعزير حقوق العباد میں قاضی کو تعزیر معاف کرنے کا حق نہیں۔ (فتح القدیر جلد ۵ صفحہ ۱۱۳)

عقوبت ہرگز نہ ٹلے گی۔ شامی جلد ۳ صفحہ ۲۱۸ پر ہے: مقتضى ما فى اليتيمة من كتاب السير ان الذمى اذا وجب التعزير فاسلم لم يسقط عنه اليتيمہ کی عبارت جو کتاب السیر سے لایا اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ ذمی پر تعزیر ثابت ہو گیا تھا پھر وہ مسلمان ہو گیا تو تعزیر ساقط نہ ہوگی۔ (اقول لعل ذلك بعد الثبوت عندالامام اوالرفع اليه فان التعزير لايجب الابعد الرفع والله اعلم) ذمی کی عقوبت کو حد نہ کہنے کی اور کوئی وجہ نہ ہوتی تو یہ آخری وجہ ہی کافی تھی کہ اسے حد نہ کہا جائے۔

خلاصه مبحث:

الحمد للہ ہمارے اس بیان کی روشنی میں مندرجہ ذیل امور اچھی طرح واضح ہو گئے کہ:

حضرت محمد ﷺ کو بلکہ اللہ تعالیٰ کے تمام رسولوں میں سے کسی ایک کو سبّ کیا تو مالکیہ شافعیہ اور حنابلہ کی طرح ائمہ حنفیہ کے نزدیک بھی بالاتفاق اس سبّ کرنے والے کو قتل کیا جائے گا۔ اختلاف صرف اصطلاحات کا ہے کہ اس کے قتل کو حد کہا جائے گا یا تعزیر قرار دیا جائے گا جبکہ اس مسئلہ میں دونوں اصطلاحوں کا نتیجہ یکساں ہے۔

کم ایک دفعہ سبّ رسول ﷺ کا اظہار کیا یا بغیر اظہار سبّ کرنا اس کی عادت ہے۔ حکومت وقت اس امر کے ثبوت پر مجرم کو قتل کی سزا دے گی۔

صفحہ 66

سے انکاری ہے جس کی وجہ سے حکومت اسے سزا نہیں دیتی لیکن وہ مسلمان گواہ خود اسے قتل کر دیتا ہے تو اللہ کے ہاں اس مسلمان قاتل پر ذمی کے قتل کا جرم نہ ہوگا۔ پھر اگر مسلمان حکومت اس مسلمان قاتل کو قتل کرے تو اللہ کے ہاں بے قصور ہونے کی وجہ سے اسے شہادت کا رتبہ ملنا چاہیے۔ لیکن مسلمان حکومت مسلمان کے خلاف یہ اقدام اس مقتول کے جائز قانونی وارثوں کے مطالبہ کے بغیر نہیں کر سکتی۔ جب کہ مسلمان، مسلمان کو قتل کرے تو بھی مقتول کے وارثوں کے مطالبہ کے بغیر قصاص نہیں لیا جائے گا۔

نزدیک اس کی سزا کے تعزیر کہلانے کے باوجود حاکم اعلیٰ یا کسی اور کو نہ اسے مکمل معاف کرنے کی اجازت ہے اور نہ اس سزا کے قتل میں جزوی تخفیف اور کمی کا کچھ اختیار۔ حنفیہ کے علاوہ باقی ائمہ جو اسے حد کہتے ہیں وہ بھی اس حکم سے متفق ہیں۔

مستقل طور پر جائز قانونی باشندہ ہے اور نہ عارضی، تو مسلمانوں پر حسب استطاعت ایسے شخص اور اس کے معاونین سے جنگ ضروری ہے۔ خواہ بر ملا جنگ ہو یا چھاپہ مار طریقوں سے۔

مسلمان اگر سب کرے تو کافر مرتد

ہو جائے گا اور مرتد کی سزا قتل ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان اگر سبّ رسول ﷺ کا مرتکب ہو تو بالاتفاق

صفحہ 67

تمام حنفیہ کے نزدیک کافر مرتد ہو جائے گا۔ اور حنفیہ کے ہاں ہر مرتد واجب القتل ہے (ہدایہ عربی طبع قرآن محل جلد دوم صفحہ ۵۹۸-۶۰۰) اس عنوان کے تحت کچھ مباحث ہیں جنہیں اس وقت ذکر اس لیے نہیں کیا جارہا کہ ہمارے مخاطب مسٹر جاوید اقبال اس مسئلہ کا انکار نہیں کر رہے پھر یہ کہ اس مسئلہ پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ جس کی تفصیل ہمارے شیخ غزالی زماں امام اہلسنت سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے رسالہ مبارکہ ”گستاخ رسول کی سزا“ اور ان کے تلمیذ ہمارے استاد سیدی شیخ الحدیث والقرآن علامہ محمد منظور احمد فیضی عم فیضہم کی کتاب مستطاب ”مقام رسول“ میں مذکور ہے۔ انشاء اللہ الکریم اگر موقعہ ملا تو ان مباحث کو علیحدہ تحریر کیا جائے گا۔

مخالفین کے امکانی اعتراضات کا ردّ:

جو لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ مذہب حنفی میں ایسے ذمی پر قتل نہیں جس پر یہ ثابت ہو جائے کہ اس نے نبی ﷺ کو گالی دی۔ ممکن ہے وہ لوگ ”ڈوبتے کو تنکے کا سہارا“ کے مصداق فقہ حنفی کی درج ذیل عبارت سے استشہاد کریں جو بہت سے متون میں لفظوں کی معمولی تقدیم و تاخیر کے ساتھ مذکور ہے من امتنع من الجزیة او قتل مسلماً او سبّ النبی علیہ السلام او زنی بمسلمة لم ینتقض عہدہ یعنی جس ذمی نے جزیہ (قبول کرنے کے بعد) ادا کرنے سے انکار کیا یا کسی مسلمان کو قتل کیا یا اس ذمی نے نبی کریم ﷺ کو گالی دی یا مسلمان عورت سے زنا کیا اس کا عہد ذمہ نہیں ٹوٹتا (قدوری صفحہ ۲۵۵ طبع نور محمد کراچی کنز الدقائق صفحہ ۱۹۳) طبع سعید کمپنی کراچی، تنویر الابصار متن الدر علی ھامش رد المحتار جلد ۳ صفحہ ۳۰۳ طبع رشیدیہ کوئٹہ فتاویٰ عالمگیریہ عربی جلد ۲ صفحہ ۲۵۲ طبع کوئٹہ وغیرہا کتب)

صفحہ 68

جواب:

اس عبارت کا زیر بحث مسئلہ سے تعلق نہیں بلکہ بغور دیکھا جائے تو یہ عبارت بھی ہماری معاون ہے۔

ذمی سبّ نبی ﷺ کا مرتکب ھو تو اسے

قتل کرنے سے یہ عبارت مانع نہیں:

مذکورہ بالا عبارت کا ترجمہ اسی قدر ہے کہ ذمی سبّ نبی ﷺ کا مرتکب ہو تو وہ ذمی ہونے سے باہر نہ نکلے گا جس طرح کہ وہ کسی مسلمان کو عمداً قتل کر ڈالے یا عمداً کسی مسلمان عورت سے زنا کرے یا جزیہ دینے سے (جس کے اپنے ذمہ قبول کرنے پر وہ ذمی بنا) انکار کر دے تو ذمی ہونے سے باہر نہ نکلے گا لیکن اس عبارت کے کسی لفظ کا یہ ترجمہ نہیں کہ سبّ نبی ﷺ کے جرم کے مرتکب کو سزا نہ دی جائے۔

اس عبارت سے ثابت ھے کہ سبّ

نبی ﷺ کی سزا برقرار ھے:

اس مذکورہ بالا عبارت کو بغور دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ تمام کتابوں میں سبّ نبی ﷺ کے جرم کو قتل مومن اور زنا بالمسلمہ کے ساتھ بیان کیا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ اس قتل اور زنا کی سزا سے ذمی کو بچانا مسلمانوں پر ظلم ہے تو جس طرح قتل مومن سے قصاص ثابت ہے اسی طرح سبّ نبی ﷺ سے بھی قتل ثابت رہے گا۔

انصاف فرمائیے:

حنفی مذہب میں اس مسلمان کی سزا جو کسی ذمیہ سے زنا کرے یہ ہے کہ اسے سو کوڑے کی سزا بھگتنی ہوگی تو یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مسلمانوں کے ملک میں ذمی کافر

صفحہ 69

مسلمانوں سے امان لے کر انہیں مسلمانوں کی عورت سے زنا کرے اور پھر یہ جرم ایک نہیں دو نہیں چار گواہوں کی گواہی سے ثابت ہو اور پھر اس ذمی مجرم کو سو کوڑے بھی نہ لگائے جائیں۔ اس طرح تو تمام ذمیوں کو مسلمانوں کی عصمتوں کو پامال کرنے کی چھٹی مل جائے گی۔ سنی حنفی مذہب اس امر کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔

ذمی کے مسلمہ سے زنا پر حد لازم ھے:

تصریحی حوالہ درکار ہے تو لیجئے بحرالرائق وغیرہ میں ہے "(قوله ولا يزنا بمسلمة) بل يقام عليه موجبه وهو الحد وكذا لو نكحها لا ينقض عهده والنكاح باطل ولو اسلم بعده و يعزران وكذا الساعي بينهما" یعنی ذمی کے مسلمہ سے زنا کی وجہ سے اس کا ذمی ہونا باطل نہیں ہوتا۔ (اس لیے اسے اسلامی قوانین سے اس بارہ میں تحفظ حاصل نہ ہوگا) بلکہ زنا کا ”موجب“ جو حد زنا ہے اس پر قائم کی جائے گی۔ (اور اسے سو کوڑے لگائیں گے) اسی طرح اگر ذمی نے کسی مسلمہ سے نکاح کا ڈھونگ رچایا تو وہ نکاح باطل ہو گا اگرچہ وہ بعد میں مسلمان بھی ہو جائے اور ان دونوں کو تعزیر (سزا) دی جائے گی اور اسی طرح ان کے درمیان اس ناجائز نکاح کرانے کی کوشش کرنے والوں کو بھی سزا دی جائے گی (بحرالرائق، ردالمحتار جلد ۳ صفحہ ۳۰)

اب ذمی کے مسلمان کو عمداً قتل کے مسئلہ پر غور کیجئے لیکن اس سے پہلے یہ دیکھئے کہ حنفی مسلمانوں کی طرف سے ذمی کے قاتل کی کیا سزا ہے۔

ذمی کا مسلمان قاتل:

حنفی مذہب وہ واحد مذہب ہے جو یہ کہتا ہے کہ ذمی کو کوئی مسلمان عمداً قتل کرے تو مسلمان کو بطور قصاص قتل کیا جائے گا۔ تمام دنیا کے انصاف پسندوں کو دعوتِ انصاف دیتا ہوں کہ یہ کس قدر ظلم ہوگا کہ مسلمانوں کی حکومت اور اکثریت میں کوئی مسلمان کسی ذمی کو بلا

صفحہ 70

جواز عمداً قتل کرے تو ہم اس مسلمان کو قتل کر دیں لیکن ذمی کافر کسی مسلمان کو مسلمانوں کی اکثریت کے ملک میں بلا جواز عمداً قتل کرے اور پھر آزادی سے گھومتا پھرے، نہیں نہیں۔ ایسا ناممکن ہے بلکہ ذمی کو بھی قتل ہونا پڑے گا۔

ذمی اگر مسلمان کو عمداً قتل کرے تو اس

سے قصاص لیا جائے اور وہ اب بھی ذمی ھے:

حنفی فقہ کی مرکزی کتاب الکافی کی شرح المبسوط للسرخسی طبع مصر جلد ہشتم صفحہ ۸۶ پر اس امر کی تصریح کے بعد کہ ”ذمی اگر کسی مسلمان کو قتل کر دے تو ہمارے نزدیک ذمی ہونے کا معاہدہ نہیں ٹوٹے گا۔“ لکھتے ہیں ولكن من ثبت عليه القتل بالبينة يقتص منه فان لم يعرف القاتل ووجد القتيل في قرية من قراهم ففيه القسامة والدية كما قضى به رسول الله صلى الله عليه وسلم فى القتيل الموجود بخيبر ...... ہاں جس (ذمی) پر گواہوں کے ذریعے قتل ثابت ہو جائے اس سے قصاص لیا جائے گا اور اگر مسلمان کا قاتل بالتعین معلوم نہ ہو اور مسلمان مقتول ان کے کسی قصبہ میں پڑا ملے تو قسامہ اور دیت اس کے بارے میں لازم ہوگی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر میں پائے جانے والے مسلمان مقتول کے بارے میں (یہودیوں پر) قسامہ اور دیت کا فیصلہ فرمایا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ

علیہ السلام کو مسلمان گالی دے تو سزا؟:

یہودی حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کا دم بھرتے ہیں اور عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اتباع کا۔ ان کے ملکوں میں قانون نافذ ہوتا ہے کہ ان مقدسین بارگاہ الٰہی کو گالی دینے والے کو سزائے موت دی جائے گی۔ کیا مسلمانوں کے ملک میں وہ

برداشت کر سکتے ہیں کہ کوئی ان مقـ کے لیے کوئی قانون رکھتے ہیں؟ جی دیتا ہے اور ایسی بات کہتا ہے کہ جسـ توہین ثابت ہو تو ایسے شخص کو خواہ مسلمان کہلاتا ہو تو اسلام سے باہـ پڑھیں گے نہ مسلمانوں کے قبرسـ (الدرالمختار مع ردالمحتار طبع رشیدیہ کو یعنی اللہ کے نبیوں میں سے کسی ایکـ (درمختار ہامشی جلد ۳ صفحہ ۳۱۷)

حضرت عیسیٰ علیـ

اسی پر بس نہیں بلکہ عیسـ کے موافق ہو مگر عرف عام میں وہـ دیتے ہیں۔ اسلامی حنفی فقہ کی کتاـ اليهودى قال لبشر النصرانـ عليهم الصلوة والسلام یعنی (معاذ اللہ) ولد الزنا ہے تو حنفیو سبّ کرنے کی وجہ سے (درمختار ہا

اکیلے آدمی کـ

حنفی مسلمانوں کے فتو

صفحہ 71

برداشت کر سکتے ہیں کہ کوئی ان مقدسین کو گالی دے؟ ہر گز نہیں۔ لیکن کیا مسلمان بھی اس کے لیے کوئی قانون رکھتے ہیں؟ جی ہاں ! اگر کوئی مسلمان کہلانے والا شخص ان حضرات کو گالی دیتا ہے اور ایسی بات کہتا ہے کہ جس سے عرف مسلمین کے مطابق ان میں سے کسی ایک کی توہین ثابت ہو تو ایسے شخص کو خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ہو قتل کر دیا جائے گا۔ اور ایسا شخص اگر مسلمان کہلاتا ہو تو اسلام سے باہر نکل جائے گا قتل ہونے کے بعد مسلمان نہ تو اس کا جنازہ پڑھیں گے نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں گے۔ دیکھئے اسلامی حنفی فقہ کی کتاب (الدر المختار مع رد المحتار طبع رشید کوئٹہ صفحہ ۳۱۷ الکافر بسبّ نبی من الانبياء فانه يقتل یعنی اللہ کے نبیوں میں سے کسی ایک نبی کو گالی دے کر کافر ہونے والے کو قتل کر دیا جائے گا۔

(در مختار ہامش جلد ۳ صفحہ ۳۱۷)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دینے کا حکم:

اسی پر بس نہیں بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کو اگر کوئی ایسی بات کہے جو اس شخص کے عقیدہ کے موافق ہو مگر عرف عام میں وہ بات گالی ہو تو ایسے شخص کو بھی ہم مسلمان قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اسلامی حنفی فقہ کی کتاب درمختار میں معروضات مفتی ابو سعود سے منقول ہے اليهودى قال لبشر النصرانى نبيكم عيسىٰ ولد زنا فانه يقتل بسبّه الانبياء عليهم الصلوة والسلام یعنی ایک یہودی نے بشر نام ایک نصرانی سے کہا تمہارا نبی عیسیٰ (معاذ اللہ ) ولد الزنا ہے تو حنفیوں نے فتویٰ دیا کہ اس یہودی کو قتل کیا جائے تمام نبیوں کو سبّ کرنے کی وجہ سے

(درمختار ہامش جلد ۳ صفحہ ۳۰۶)

اکیلے آدمی کے سامنے گالی:

حنفی مسلمانوں کے فتویٰ کی اس عبارت میں محل غور امور یہ ہیں:

صفحہ 72

گالی دی تو وہ شخص اسلامی مملکت میں اسلامی قانون سے انصاف کا طالب ہوا۔ اس لیے گالی دینے والے کو قتل کرنے کا حکم صادر ہوا۔ ثابت ہوا کہ ایک ذمی کے سامنے کسی نبی کو ایک دفعہ گالی دینا بھی مسلمانوں کے نزدیک گالی دینے والے کا قتل لازم کرتا ہے (اگر وہ اقرار کرلے)۔

نے غیر جانبداری کا اظہار نہیں کیا۔

گالی دے تو اسے قتل کیا جائے۔

اسے رعایت نہیں دی گئی، کیونکہ لفظ ”ولد الزنا“ دنیا بھر کے عرف میں عیب اور گالی ہے اس لیے یہاں عقیدہ کی رعایت کارگر ثابت نہ ہوئی۔.....؟

کسی ایک نبی کو گالی دینا

تمام انبیاء کو گالی دینا ہے:

لکھا اس شخص نے تمام انبیاء علیہم السلام کو گالی دی۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ اہل اسلام کے سامنے کوئی شخص عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے تو انہیں اتنا ہی دکھ پہنچتا ہے جتنا اپنے نبی کو گالی دیئے جانے پر انہیں دکھ پہنچ سکتا تھا۔

عیسائی انصاف کریں:

مذکورہ بالا معروضات کی روشنی میں پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک بلکہ تمام دنیا کے ممالک کے عیسائی انصاف کی نظر سے غور کریں۔ (اگر ان کے سینوں میں انصاف کی

گنجائش ہو ) کہ جب مسلـ مسلمانوں کے نبی کو گالی دے دینے والے کسی مسلمان یا یہو

بعض عیسائی

کو اللہ کا نبی

خصوصاً فرقہ عیسـ کا نبی اور رسول مانتے ہیں ا نہ مانیں تو پھر بھی آپ عیـ ٹھہرتے اگرچہ وہ آپ کـ آپ کی تعظیم کے قانون مـ

ذمہ نہ ٹوٹنے

بہر حال ہمار میں نبی ﷺ کو گالی دینے کے بدستور ذمی رہنے کا فـ مجرم قتل اور زنا کی سزا سے سکتا جس کا بیان فقہ حنفی مـ کر دیا گیا ہے۔

سب رسول کـ

فتویٰ ہے ا

صفحہ 73

گنجائش ہو) کہ جب مسلمان ان کے نبی کے لیے اتنا غصے میں آتے ہیں تو کیا اگر کوئی مسلمانوں کے نبی کو گالی دے تو وہ اسے وہی سزا دینے کے حقدار نہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دینے والے کسی مسلمان یا یہودی کو مسلمانوں کی مملکت میں سزا دی جاتی ہے۔

بعض عیسائی سیدنا حضرت محمد ﷺ

کو اللہ کا نبی مانتے ہیں:

خصوصاً فرقہ عیسویہ اور دیگر وہ یہودی اور عیسائی جو سیدنا حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا نبی اور رسول مانتے ہیں اگرچہ صرف عربوں یا قریش کا نبی ہی مانیں اور خود کو ان کی امت نہ مانیں تو پھر بھی آپ ﷺ اللہ کے نبی ہونے کے باعث کیا ان کے لیے لائق تعظیم نہیں ٹھہرتے اگرچہ وہ آپ ﷺ کی فرمانبرداری اپنے لیے لازم نہ جانیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ آپ کی تعظیم کے قانون میں رکاوٹ ڈالیں۔

ذمہ نہ ٹوٹنے سے قتل سے بچنا لازم نہیں آتا:

بہر حال ہمارے بیان کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو گئی کہ فقہ حنفی کی جس عبارت میں نبی ﷺ کو گالی دینے والے اور مسلمہ سے زنا کرنے والے اور مسلم کو قتل کرنے والے کے بدستور ذمی رہنے کا ذکر ہے وہ خود اشارہ کر رہی ہے کہ ذمی رہنے کے باوجود جس طرح مجرم قتل اور زنا کی سزا سے نہیں بچ سکتا اسی طرح وہ سبِّ رسول ﷺ کی سزا سے بھی نہیں بچ سکتا جس کا بیان فقہ حنفی میں دوسرے مقامات پر تحریر ہے اور گزشتہ صفحات میں اسے ثابت کر دیا گیا ہے۔

سبِّ رسول ﷺ پر قتل کا حکم ائمہ حنفیہ کا

فتویٰ ہے اور دیگر تمام مذاہب کا بھی متفق

صفحہ 74

علیہ قول ہے:

مسلمان حنفی عوام اور علماء کی خدمت میں یہ بات بطور خاص عرض کرنی ہے کہ ذمی کو سب رسول ﷺ پر قتل کرنا ائمہ حنفیہ کا حکم اور فتویٰ ہے بعد کا کوئی عالم حنفی ہوتے ہوئے اسے رد نہیں کر سکتا۔ اسی طرح اگر مسلمان یہ خباثت کرے تو اس کے قتل پر بھی حنفی غیر حنفی سب علماء کا اتفاق ہے۔ جیسا کہ ذمی کے قتل پر اتفاق ہے۔ غیر مقلدین المعروف اہل حدیث علماء کے پیشوا علامہ ابن تیمیہ کا بھی وہی فتویٰ ہے جو چاروں مذاہب کے دیگر علماء کا اثنا عشری شیعوں کے پیشوا علامہ خمینی نے کافروں کے ملک میں بسنے والے رشدی کے لیے اس کے اسی جرم پر قتل کا فتویٰ دیا تھا۔ چہ جائیکہ اسلامی ملک میں کوئی کافر ایسا کرے۔

ایک اور اعتراض کا رد:

ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ حنفی ائمہ نے ہارون الرشید کو یہ فتویٰ دیا کہ نبی کریم ﷺ کو سب کرنے والے شخص کو قتل نہ کیا جائے ”صاحب شفا“ قاضی عیاض نے اس اعتراض کو نقل کر کے رد کر دیا۔ ہم اختصار کے طور پر شفا کی عبارت کا ترجمہ پیش کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔

خلیفہ (بادشاہ) ہارون الرشید نے امام مالک سے دریافت کیا کہ نبی کریم ﷺ کو جس شخص نے گالی دی اس کی کیا سزا ہے۔ اور اس نے امام مالک کے سامنے یہ بھی ذکر کیا کہ فقہاء عراق نے مجھے اس بارے میں اس کو کوڑے لگانے کی سزا کا فتویٰ دیا ہے۔ تو امام مالک غصہ میں آگئے اور کہا کہ اے امیر المومنین اس امت کے لیے کیا بقا ہو گی جب ان کے نبی ﷺ کو گالی دی جائے۔ امام مالک نے فرمایا جس نے نبیوں کو گالی دی اسے قتل کیا جائے۔ اور جو نبی کریم ﷺ کے اصحاب کو گالی دے اسے کوڑے لگائے جائیں۔

کتاب شفاء کے مصنف قاضی ابوالفضل عیاض بن موسیٰ مالکی اس اعتراض کے

صفحہ 75

نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔ اس قصے میں یہ بات اسی طرح آئی ہے۔ جسے امام مالک کے مناقب لکھنے والوں اور آپ کی سوانح حیات کے مؤلفین وغیر ہم متعدد لوگوں نے بیان کیا ہے۔ پھر خود قاضی عیاض مالکی اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”ولا ادری من هؤلاء الفقهاء بالعراق الذين افتوا الرشيد ما ذكرو قد ذكرنا مذهب العراقيين بقتله ولعلهم ممن لم يشهر بعلم او من لا يوثق بفتواه او يميل به هواه او يكون ما قاله يحمل على غير السب فيكون الخلاف هل هو سب او غير سب او يكون رجع و تاب عن سبه فلم يقله لمالك على اصله والا فالاجماع على قتل من سبه كما قدمناه“ معلوم نہیں وہ فقہاء عراق کون ہیں جنہوں نے ہارون الرشید کو وہ فتویٰ دیا جو اس نے ذکر کیا۔ حالانکہ ہم بیان کر چکے کہ عراقیوں (حنفیوں) کا مذہب یہ ہے کہ اس شخص کو قتل کیا جائے ہو سکتا ہے کہ شاید یہ وہ لوگ ہوں جو علمی شہرت نہ پا سکے یا جن کے فتویٰ پر اعتماد نہ کیا جاتا ہو یا اس کی نفسانی خواہش اسے اس طرف جھکا رہی ہو یا جو اس شخص نے کہا ان فقہاء کے ہاں غیر سبّ پر محمول کیا گیا ہو۔ تو پھر اختلاف اس امر میں ہوگا کہ یہ کلام سبّ ہے یا نہیں۔ یا وہ شخص (پہلے مسلمان ہو اور) اپنے سبّ سے رجوع کر کے ( پکڑے جانے سے قبل) توبہ کر چکا ہو۔ تو بادشاہ ہارون الرشید نے امام مالک کے رو برو اصل بات بیان نہ کی ہو۔ ورنہ اس شخص کے قتل پر تو اجماع ہے جس نے آپ ﷺ کو سبّ کیا ہو۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔ (الشفاء بتعریف حقوق مصطفےٰ ﷺ جزو دوم صفحہ ۱۹۴ طبع عبد التواب اکیڈمی ملتان پاکستان)

اگرچہ مصنف شفاء کا جواب کسی تبصرہ کا محتاج نہیں۔ مگر مزید تفصیل کے طور پر عرض کروں گا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر اس حکایت میں تھا تو مالکی علماء اپنے گھر کی خوب واقفیت رکھتے ہیں۔ اس لیے صاحب شفا کا جواب جو مالکی مذہب کے تھے اس بارہ

صفحہ 76

میں حجت ہے۔ اور اسی طرح حنفیوں کے بارے میں ان کا قول ایک ایسے شخص کا قول ہے جو بہت سے فقہی فروع میں ان کا مخالف ہے۔ لیکن اس مسئلہ میں ان کی برات کا اقرار کر رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ حنفیوں پر یہ جھوٹا الزام ہے جس سے ان کی برات کے ان کے مخالفین بھی قائل ہیں۔ میں پھر عرض کروں گا کہ گذشتہ صفحات میں یہ بات کھول کر بیان کردی گئی ہے کہ ائمہ حنفیہ کا یہ مذہب ہے کہ ایسے شخص کو قتل کیا جائے اگر چہ اس نے ایک آدمی کے سامنے ہی اس شناعت کا ارتکاب کیا ہو اور کسی ایک کتاب میں ائمہ حنفیہ سے یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ ایسے شخص کو جو سب نبی ﷺ کا اظہار کرے قتل نہ کیا جائے بلکہ صرف کوڑے مارے جائیں۔ جبکہ اس کے خلاف حنفیہ کا مذہب ان کی اپنی کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ جو نبیوں کو سب کرے تو اسے قتل کیا جائے۔ (درمختار جلد ۳ صفحہ ۳۱۷)

رہا عباسی بادشاہ ہارون الرشید کا قول تو جیسا کہ صاحب شفا نے کہا عراق میں ہزاروں علماء رہتے تھے۔ ہارون نے امام ابو حنیفہ یا آپ کے کسی شاگرد کا نام تو نہیں لیا۔ کہ یہ قول ہم حنفی ائمہ کی طرف ان کی تصریح کے خلاف منسوب کر دیں اور اگر ہارون امام ابو حنیفہ کا نام بھی لیتا تو امام اور آپ کے تلامذہ کی کتب میں اس کے خلاف پایا جاتا اس کے قول کی بے وقعتی کے لیے کافی تھا کہ اہل البیت ادری بما فی البیت ہارون سے نادانستہ خلاف واقع امر کا ظہور ناممکن نہیں۔

اس نے امام محمد کو قاضی مقرر کیا اور اس کے بعد اسی دوران ان کے سامنے اپنا ایک عہد نامہ پیش کیا جس میں ایک مسلمان کے لیے امان کا عہد تحریر کیا تھا جب امام محمد نے فرمایا کہ یہ عہد امان ہے جس کا پورا کرنا ضروری ہے۔ تو امام محمد کو ہارون نے دوات اٹھا کر دے ماری جس سے آپ کا سر چہرہ اور کپڑے خون سے لت پت ہوگئے (اخبار ابی حنیفہ و اصحابہ صفحہ ۱۲۲ تالیف صیمری ۴۳۶ھ طبع بیروت) جب وہ وعدہ کی خلاف ورزی درست سمجھتا

صفحہ 77

ایک اور جداگانہ مستقل جرم ہے۔ ایک حق الرسول ہے اور ایک حق اللہ اور یہ بین اور واضح امر ہے کہ سوائے شرک و کفر کے بعض وہ قصور جو بندوں سے حق اللہ کے بارے واقع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور اختیار سے معاف فرما دیتا ہے لیکن حق الرسول تو کجا عام بندوں کے حقوق بھی جب تک وہ بندہ خود معاف نہ کرے اللہ تعالیٰ معاف نہیں فرماتا تو حق الرسول جو حق العبد ہونے میں تمام دوسرے بندوں کے حقوق سے کہیں بلند و بالا ہے۔ جنہیں اللہ بھی معاف نہیں فرماتا تو کوئی امتی رسول اللہ ﷺ کا حق کیونکر معاف کرسکتا ہے۔

سب رسول ﷺ حق العبد ھے

تو اس کے قصور وار پر قتل کیوں؟

رہا یہ امر کہ سبّ رسول ﷺ حق العبد ہے تو اس کے مرتکب پر قتل کیوں لازم ہوگا جبکہ باقی عباد کو سبّ کرنے پر قتل نہیں تو میں عرض کروں گا کہ رسول اللہ ﷺ دیگر بندوں سے ممتاز ہیں کہ اس پر ایمان لانا ضروری ہے جبکہ اسے سبّ کرنا اس کی تعظیم سے انکار کو متضمن ہے اس لیے ملائکہ کو سبّ کرنے کی طرح کہ وہ بھی مومن بہ عبد کا حق ہے یہ مستقل کفر ہے لیکن ”سبّ رسول“ ”ملائکہ کے سبّ“ سے بھی زیادہ سخت جرم ہے اس لیے اس کے اپنے تفصیلی احکام ہیں۔

خلاصۂ بحث اور امام ابو حنیفہ کا مذہب:

بہر حال ہمارے سابقہ مفصل بیان سے ثابت ہوا کہ ذمی ”سابّ نبی“ کا قتل ائمہ حنیفہ کا قول ہے ظاہر الروایہ کی کتابوں میں جو سبّ نبی کی سزا خواہ وہ ”سابّ“ ذمی ہو یا مسلم ”قتل“ تحریر ہے اور امام محمد کی کتاب السیر میں بھی ذمی کا یہی حکم ان احادیث کی روشنی میں جو ہمارے فقہاء کے نزدیک صحیح ہیں بیان کیا گیا اگر ظاہر الروایہ میں ہمارا موقف نہ بھی ملتا تو

صفحہ 78

امام محمد کا یہ قول بھی اس پر دلیل کافی تھا کہ امام ابو حنیفہ کا مذہب یہی ہے خصوصاً جب اس کے خلاف ان کا قول مذکور نہیں۔ حالانکہ اگر امام ابو حنیفہ کا کوئی قول اس کے خلاف بھی مذکور ہوتا تو بھی امام محمد کا قول امام ابو حنیفہ کا قول قرار پاتا زیادہ سے زیادہ یہ کہ امام ابو حنیفہ کے دو قول ہو جاتے اور ان کے مابین راجح اور مرجوح معمول اور غیر معمول کا فرق دلائل کی روشنی میں نکالنا پڑتا اور اب تو امام محمد کے خلاف امام ابو حنیفہ کا کوئی قول کہیں مذکور نہیں لہذا امام ابو حنیفہ کا بھی یہی قول قرار پاتا ہے۔ دیکھئے ردالمحتار حاشیہ درمختار میں ہے افاد ان اقوال اصحاب الامام غير خارجة عن مذهبه فقد نقلوا عنهم انهم ماقالوا قولا الاو هو مروى عن الامام كما اوضحت ذلك فى شرح منظومتى فى رسم المفتى (ردالمحتار جلد ۳ صفحہ ۴۰۹) اس عبارت کا مفاد یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کے شاگردوں کے اقوال آپ کے مذہب سے باہر نہیں کہ علماء نے آپ کے اصحاب (شاگردوں مثل امام ابو یوسف، امام محمد رحمہما اللہ) سے نقل کیا کہ انہوں نے مسائل دینیہ میں کوئی ایسا قول نہیں کیا جو امام ابو حنیفہ سے روایت نہ ہوا ہو۔ (علامہ شامی فرماتے ہیں) جیسا کہ میں نے رسم المفتی میں مذکور اپنی نظم کی شرح میں واضح طور پر تحریر کیا۔ (ردالمحتار جلد ۳ صفحہ ۴۰۹)

ثابت ہوا کہ امام ابو حنیفہ اور امام محمد کا یہی مذہب ہے جو حنفی کتب میں تحریر ہے اور امام ابو یوسف بھی ظاہر الروایہ میں شریک ہیں علاوہ ازیں امام ابو حنیفہ کے شاگردوں بشمول امام ابو یوسف کسی ایک سے بھی اس کے خلاف کوئی قول کہیں نہیں پایا گیا تو اس امر پر امام ابو حنیفہ اور آپ کے تمام شاگردوں کا اجماع ثابت ہوا۔ لہٰذا اس کے خلاف مشائخ حنفیہ (جو شاگردوں کے شاگرد ہوتے ہیں) کے تمام اقوال اگر ہوں بھی تو ساقط الاعتبار قرار پائے دراصل جن لوگوں نے اس کے خلاف سمجھا انہیں غیر حنفی علماء کی نقل پر اعتماد کی وجہ سے مغالطہ لگا اور غیر حنفی ناقلین پر مقلدانہ اعتماد کر کے اپنے ائمہ کے خلاف لکھنے لگے۔

صفحہ 79

مغالطوں کا پردہ چاک:

الحمد للہ سنیٹر جاوید اقبال صاحب کی مغالطہ آفرینیوں کا پردہ چاک ہو گیا۔

نے ثابت کر دیا کہ یہ الفاظ فقہ حنفی یا غیر حنفی (اہلسنت) کی کسی کتاب میں نہیں بلکہ جاوید صاحب کے ذہن کی پیداوار ہیں۔

فقہ حنفی میں مرتد اور حربی کے لیے بلا امتیاز قتل کا حکم ہے۔ اگر وہ اس جرم میں پکڑے جائیں اور مسلمان بن کر توبہ نہ کر چکے ہوں تو انہیں قتل کر دیا جائے۔ اس طرح ذمی کافر اور مستامن اگر بالاظہار یا بالعادۃ اس جرم کا مرتکب ثابت ہو تو باتفاق حنفیہ اسے قتل کر دیا جائے۔ ہاں اگر کبھی ایک دفعہ بلا اظہار اس سے یہ جرم ثابت ہو تو بعض حنفی علماء اسے سخت ترین سزا کا حکم دیتے ہیں اور بعض دوسرے اس کے قتل کا لیکن ہم نے ثابت کر دیا کہ ائمہ حنفیہ کا مذہب ایسے شخص کا قتل لازم کرتا ہے۔ لہٰذا ان کے متبع کہلانے والوں کا اختلاف مضمحل ہو کر ناقابل اعتبار ٹھہرا۔

سزا نہیں مگر اس کا بھی انہوں نے کوئی حوالہ نہیں دیا۔ اور ہم نے ثابت کر دیا کہ تمام حنفی علماء بلکہ حنفی ائمہ اس کے قتل کا فتویٰ دیتے ہیں جبکہ وہ عادۃً سبّ کا مرتکب پایا جائے۔ یا علی الاعلان۔ یعنی بالاظہار سبّ کا مرتکب ہو اور بعض حنفی علماء بلکہ حنفی ائمہ ایسے ذمی کے بھی قتل کا حکم دیتے ہیں جو ایک دفعہ بغیر اظہار سرکار دو عالم ﷺ کو گالی دے۔ ہاں بعض حنفی علماء ایسے کافر کے لیے جو ذمی ہو اور نہ بالاظہار بلکہ خفیہ نہ بار بار بلکہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دے سخت ترین سزا کا جو

صفحہ 80

قتل سے نیچے ہو حکم دیتے ہیں۔ یادداشت کو تکلیف دینے کی بجائے مزید ایک حوالہ ملاحظہ ہو۔

قال (المقدسي) ولنا ان نؤدب الذمى تعزيراً شديداً بحيث لومات كان دمه هدراً ۔ مقدسی جو قتل کے اس صورت میں قائل نہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حق ہے کہ ہم ذمی کو سخت ترین سزا دیں (کہ اس سے فوراً قتل نہ ہو بلکہ ) وہ سزا اس طرح کی ہو (کہ اس سے قتل مقصود نہ ہوتا ہو ) کہ اگر (بالفرض) اس سے مر جاتا تو اس کا خون رائیگاں جاتا ۔ (ردالمختار جلد ۳ صفحہ ۳۰۵)

علامہ شامی کی مسامحت:

علامہ ابن عابدین شامی سے یہاں مسامحت ہوئی اور انہوں نے مقدسی کی عبارت کے بارے میں کہا ”یہ اعلان بالسب سے مخصوص ہے“ حالانکہ اس عبارت میں قتل کا حکم نہیں بلکہ ایسی سزا کا حکم ہے کہ اس کے دوران مر بھی گیا تو کوئی اس سزا سے مرنے والا نہ سمجھے اور شامی اس سے قبل اسی صفحہ پر لکھتے ہیں۔ یجوز عندنا قتلہ اذا تکرر منہ ذلک ہمارے نزدیک ذمی کا قتل جائز ہے جب اس سے یہ فعل بار بار ہو۔

(ردالمختار جلد ۳ صفحہ ۳۰۵)

آگے چل کر لکھا مثلہ اذا اعلن بہ جب بالاعلان سب کا مرتکب ہو تو اس کا حکم بھی بار بار سب کا ہے۔ (ردالمختار جلد ۳ صفحہ ۳۰۶) ثابت ہوا کہ مقدسی کا فتویٰ بغیر اعلان ایک بار سب کرنے والے کے بارے میں ہے۔

ذمی ساب کو کوئی سزا نہ دینا

کسی عالم کا قول نہیں:

بہر حال مغالطہ کا کہر چھٹ گیا اور ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے

صفحہ 81

والے ذمی کو کسی حنفی یا غیر حنفی مسلمان کے نزدیک بغیر سزا کے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ اس صورت میں عدم قتل کے قائلین کے پاس متون و شروح میں امام اعظم یا ان کے شاگردوں کا کوئی ضعیف قول بھی موجود نہیں اور جس قول کو اس کی دلیل سمجھا گیا اس میں زنا بالمومنہ اور قتل مومن کو ساتھ ملایا گیا لہذا وہ صرف اس کے ذمی ہونے کا بیان کرتا ہے قتل یا عدم قتل کو بیان نہیں کرتا۔ اس کا حکم ہر مسئلہ سے متعلق ابواب میں دیکھا جائے گا اور وہاں سے دیکھیں تو قتل ثابت ہوتا ہے جیسا کہ ہم مفصل بیان کر آئے۔

ذمیوں کیلئے عقیدہ کی آزادی کا تحفظ

رہنے کا مسلمانوں کے ملک میں تحفظ حاصل نہیں۔ ایسا ہرگز نہیں۔ انہیں اس کا مکمل تحفظ حاصل ہے بشرطیکہ وہ مسلمانوں کو مرتد بنانے کی کوشش نہ کریں۔

فتاویٰ عالمگیری کی عبارت کا جواب:

اب جاوید صاحب کے ایک اور دعویٰ کی طرف آتے ہیں کہ فتاویٰ عالمگیری جلد ۲ کلکتہ ایڈیشن صفحہ ۳۴۷‘ ۳۵۷‘ صفحہ ۱۷۴) میں غیر مسلموں کے لیے سزا کا کوئی تصور نہیں، غیر مسلموں کو حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا انکار کرنے پر سزا نہیں دی جاسکتی (نوائے وقت ملتان صفحہ ۴ نمبر ۳۴)

جاوید صاحب نے یہاں دو باتیں کی ہیں پہلی یہ کہ فتاویٰ عالمگیری جلد دوم کے مذکورہ صفحات میں ”غیر مسلموں کے لیے سزا کا کوئی تصور موجود نہیں“ اس جملہ سے پتہ نہیں چلتا کہ وہاں کیا لکھا ہوا ہے جس سے جاوید صاحب سمجھ رہے ہیں کہ غیر مسلم سب رسول ﷺ کرے یا زنا کرے یا قتل کرے تو اسے کچھ سزا نہیں دی جاسکتی ۔ اگر ایسی کوئی عبارت ہوتی تو جاوید صاحب (جو جج رہ چکے ہیں) اس عبارت کا ضرور حوالہ دیتے لیکن ایسی کوئی

صفحہ 82

عبارت نہیں لکھی۔ جس سے ہر ذی فہم پر واضح ہوگا کہ ایسی کوئی عبارت سرے سے موجود نہیں ۔ جبھی تو وہ فرماتے ہیں عالمگیری کے ان صفحات میں غیر مسلموں کے لیے سزا کا تصور موجود نہیں۔ یعنی جاوید صاحب کا استدلال اس طرح نہیں کہ ان صفحات پر لکھا ہے کہ غیر مسلم کے لیے توہین اور سب رسالت کی کوئی سزا نہیں بلکہ ان کا استدلال اس طرح ہے کہ ان صفحات پر نہیں لکھا کہ غیر مسلم کے لیے اس جرم کی کوئی سزا ہے۔ گویا (سابق) جسٹس صاحب نے عدم ذکر کو ذکر عدم سمجھ لیا ہے کیا علم وفضل کے اسی برتے پر جج صاحب کو فخر ہے۔ حضور والا اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کتاب دستور پاکستان کے فلاں صفحہ پر یہ نہیں لکھا ہوا کہ ”ریٹائرڈ جسٹس“ سینیٹر بن سکتا ہے تو بتائیے کیا اس سے یہ ثابت کرنا صحیح ہے کہ دستور میں لکھا ہے کہ ریٹائرڈ جسٹس سینیٹر نہیں بن سکتا۔ ہر ذی فہم کہے گا کہ ہر گز نہیں۔ طوالت ناگوار نہ گزرے تو ایک مثال اور سن لیجئے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ”پیام مشرق“ میں ڈاکٹر صاحب نے کہیں نہیں لکھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ ڈاکٹر صاحب محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتے تو ہر ذی فہم یہی کہے گا کہ اس عقیدہ کے ذکر نہ کرنے سے لازم نہیں آتا کہ وہ اس عقیدہ کے خلاف ہیں ہاں اگر ”پیام مشرق“ میں یا کسی اور کتاب میں وہ لکھتے کہ وہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی اور کو نبی اور پیغمبر مانتے ہیں تو پھر یہ سمجھنا صحیح ہوتا کہ وہ حضور ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔ اگر بات سمجھ میں آ گئی ہو تو میں عرض کروں گا کہ یہ تو آپ نے چند صفحوں کا حوالہ دیا ہے۔ اگر آپ ساری کتاب کے متعلق یہ کہتے کہ اس میں ذمی یا بقول آپ کے (ہر) غیر مسلم کے لیے توہین رسالت ﷺ کی سزا کا کوئی تصور نہیں تو بھی یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ کتاب کے مصنفین یا مغل بادشاہوں بالخصوص عالمگیر اور حنفی مذہب کے تمام علماء توہین رسالت ﷺ کی کوئی سزا نہیں مانتے۔ بہرحال اس کے باوجود ہم نے عربی عالمگیری کے علاوہ اس کا اردو

صفحہ 83

ترجمہ بھی منگوا کر دیکھا کہ شاید آپ کے مفید مطلب کوئی عبارت ہو۔ ہمیں ایسی کوئی عبارت جلد دوم تو ایک طرف جلد اول سے جلد پنجم تک کہیں نظر نہیں آئی۔ جلد سوم مترجم سید امیر علی طبع دارالاشاعت کے صفحہ ۳۳۳ سے کتاب السیر شروع ہے صفحہ ۴۳۵ پر اس کا آٹھواں باب جزیہ کے بارے میں ہے وہ ہم نے سارا پڑھا کہیں اس قسم کی عبارت نہیں ماسوائے اس جملہ کے کہ زنا، قتل اور سبّ رسول ﷺ کے مجرم کے لیے عہد ذمہ نہیں ٹوٹے گا۔ اس عبارت کی مکمل تشریح ہم نے پہلے پوائنٹ کے ذیل میں کردی۔ اور بتا دیا ہے کہ اس عبارت سے ”ذمی ساب الرسول“ سے سزائے قتل کی نفی ثابت نہیں ہوتی۔

فتاویٰ عالمگیری کے متعلق جاوید صاحب

کی دوسری عبارت ایک اور غلط حوالہ:

رہی دوسری بات جس کا ذکر نوائے وقت ملتان صفحہ ۴ نمبر ۲۴ کے حوالہ سے ہم نے نقل کیا تھا جسے جاوید صاحب کے بیان منقولہ نوائے وقت ملتان ۸ جولائی صفحہ ۴ میں عالمگیری کے صفحہ ۱۷۴ سے منسوب کیا ہے ”کہ غیر مسلموں کو سور فروخت کرنے، اس کا گوشت کھانے یا حضرت نبی آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کی پیغمبر خدا کی حیثیت سے انکار کرنے پر سزا نہیں دی جاسکتی ہے۔“

اس کے تفصیلی جواب سے قبل اجمالاً عرض ہے کہ اس طرح کی عبارت بھی کہیں نہیں پائی گئی۔ ہم نے اس حوالہ کو بھی تلاش کیا مگر نہیں ملا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وہ فتاویٰ عالمگیری کی کسی ذیلی کتاب اور باب کا حوالہ دیں تاکہ آسان رہے۔

غیر ذمی کا انکار رسالت:

ہمارے نبی ﷺ کی نبوت کے انکار پر ہر کافر کو تحفظ حاصل نہیں صرف حقیقی اور حکمی ذمی سے تسامح ہے وہ بھی بشرط بیان عقیدہ نہ بطریق سبّ۔ ذمیوں کے لیے جہاں

صفحہ 84

تک حضرت سیدنا محمد ﷺ کی نبوت کے انکار کا مسئلہ ہے اگر یہ عالمگیری میں مل بھی جائے تو اس کا سب کی بحث سے تعلق نہیں۔ ظاہر ہے کہ کافر اسی انکار کی وجہ سے کافر ہیں اس لیے جب انہیں ذمی بنالیا تو پھر اس پر ذمیوں کو سزا کیونکر دی جاسکتی ہے۔ اسلام ذمیوں کے عقائد میں مداخلت نہیں کرتا۔ مستامن (ویزہ پر والے کافر) کے لیے بھی یہ گنجائش غلط نہ ہوگی۔ مگر حربی کافر اور مرتدوں سے تو ہماری لڑائی اس بات پر بھی ہے۔ اس لیے وہ اگر ہاتھ لگیں تو انہیں قتل کرنے میں حرج نہ ہوگا۔ ہم چیلنج سے کہتے ہیں کہ ذمی کی بجائے ہر غیر مسلم کے لیے حضور ﷺ کی نبوت سے انکار پر بلکہ ذمی کے لیے بھی سب رسول ﷺ پر کچھ سزا نہ ہونا اسلام ہی کی کسی مستند کتاب میں نہیں دکھایا جاسکتا خواہ عالمگیری ہو یا کوئی اور معلوم نہیں کہ جاوید صاحب کو ذمی اور غیر مسلم کی اصطلاحات (ٹرمز) کے مابین فرق کا علم نہیں یا پھر وہ جسٹس ہوکر غلط حوالہ دینے کی برائی نہیں جانتے؟ یا اخبار ان پر غلط بیانی کر رہا ہے۔ وگرنہ ہم بیان کر چکے کہ ذمیوں کو بھی صرف اپنے سابقہ عقیدہ پر رہنے کی آزادی ہے۔ لیکن حضور ﷺ کو گالی دینے کی اجازت ہرگز نہیں۔ چہ جائیکہ باقی غیر مسلموں کو سب کی اجازت دی جائے۔

مغل دور اور اس سے پہلے غیر مسلموں

کو توہین رسالت کی سزا:

جاوید اقبال صاحب نے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ ”مغل دور اور اس سے پہلے‘ غیر مسلموں کو بوجہ اسلامی عقیدہ اور اصولوں کی خلاف ورزی کے سزا نہ دی جایا کرتی تھی۔ جاوید صاحب سن لیں اور میں عوام الناس کو بھی متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ مسئلہ رسول اللہ ﷺ کی توہین کا ہے۔ حضور پاک ﷺ کو گالی دینے کا ہے۔ اسلامی عقیدوں کو غیر مسلموں پر ٹھونسنے کا نہیں۔

صفحہ 85

ذمی کا اقرار رسالت محمد ﷺ نہ کرنا:

ہم نہیں کہتے کہ ذمی ساب کا قتل اس لیے ہے کہ وہ سرکار دو عالم ﷺ کو اللہ کا رسول نہیں مانتے بلکہ ہم یہ بھی ان سے مطالبہ نہیں کرتے کہ وہ مانیں کہ حضور ﷺ کو گالی دینا اللہ تعالیٰ کو شدید غضبناک کرنا اور بدترین کفر کا مرتکب ہونا ہے یہ ہمارے عقیدے ہیں جو ہم ان پر ٹھونس نہیں رہے ہم تو یہ کہہ رہے ہیں کہ غیر مستامن حربی کافروں سے ہمارا عقیدوں کا اختلاف ہے جسے ختم کرنے کے لیے ہم ان سے حتی الوسع دائمی جنگ کی حالت میں ہیں۔ حتیٰ لا تکون فتنہ حکم قرآنی سے ہے لیکن مستامن اور ذمی اور ”بالخصوص ذمی“ ہمارے وطن میں رہتے ہیں ہم ان کو تحفظ دیتے ہیں ان کو کوئی مسلمان قتل کرے تو ہم اپنے اس مسلمان بھائی کو قتل کر دیتے ہیں۔ ان کے مال و جان کا تحفظ مسلمانوں کے مال و جان کی طرح مسلم عوام اور حکومت اسلامیہ پر لازم مانتے ہیں ہم اپنا خون دے کر ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے نبی ﷺ کی تعظیم کا اقرار اور اس کا اظہار نہ کریں۔ ہمارے نبی ﷺ کو ان کی تعظیم کی ضرورت بھی نہیں۔ لیکن ہم بجا طور پر اس مطالبہ کا حق رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے نبی ﷺ کی توہین نہ کریں کیا ہم ان کی حفاظت اسی لیے کرتے ہیں اور ان کے خون پر اپنے خون کو اسی لیے نثار کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ہمارے رسول ﷺ کی توہین کرے گالیاں دے اور تمام مسلمانوں کو ایذاء پہنچائے؟ تمام دنیا کے تمدن میں ہمسایوں سے رواداری کا خیال رکھا جاتا ہے یہ کیسی رواداری ہے کہ مسلم اکثریت کے زیر سایہ ملک میں رہتے ہوئے اس مسلم ملک کے وسائل سے متمتع ہونے والا مسلمانوں کا کھا کر نہ صرف تمام مسلمانوں کو بلکہ ان کے پیارے نبی پاک ﷺ کو گالی دے۔ اسے گالی دے جس سے مسلمانوں کو اپنے ماں باپ اور اپنے بچوں سے بھی زیادہ محبت ہے۔

بہر حال اگر اس جملہ سے جاوید صاحب کی مراد ذمیوں اور غیر ذمیوں سے

صفحہ 86

اسلامی مملکت میں بحیثیت اسلامی مملکت ’سبّ رسول‘ کی سزا کی نفی ہے تو انہیں چاہیے تھا وہ اس کا باقاعدہ شرعاً معتبر حوالہ دیتے، لیکن وہ کیسے حوالہ دیتے حوالہ ہوتا تو حوالہ دیتے۔ رہا ذمی کافر کا حضور ﷺ کی رسالت سے انکار کرنا تو یہ اس کا عقیدہ ہے۔ اسی کی وجہ سے اسے ذمی قرار دیا ہے۔ اگر وہ اس عقیدہ سے باز آ جاتا تو مسلمان ہو جاتا اور ذمی نہ رہتا۔ اور ہم یہاں غیر مسلم ذمی کے بارے میں غور کر رہے ہیں جبکہ وہ ایسی بات منہ سے کہے جو کسی نبی پر (عرف عام میں) سبّ سمجھی جائے۔

مغلیہ دور میں سبّ کی سزا:

مزید براں اگر جاوید اقبال صاحب کا مطلب یہ ہے کہ مغل دور اور اس سے قبل کی سیاسی روایت اور رواج یہی ہے اور روایت کا تسلسل اسے قانون کا درجہ دے دیتا ہے تو یہاں دو باتیں ہیں۔

بات زیبا نہیں۔

اسے قانونی جواز عطا کرتی ہے؟ ہو سکتا ہے جدید غیر اسلامی قانون میں کہیں ایسا ہو لیکن اسلام میں ایسا نہیں ورنہ بالتسلسل شرک کے ایسے رواج کے بعد کہ کسی دور میں انسانوں کی اکثریت اس سے نکل نہیں سکی۔ اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ اس کو باطل قرار نہ دیتا اور اسلامی حکومت میں شرک کے انسداد کے قوانین نہ ہوتے۔

بہر حال جاوید صاحب کا مطلب کچھ بھی ہو آئیے ہم دکھاتے ہیں کہ مغلیہ دور میں بھی ذمی ساب کو قتل کیا گیا اور حنفی علماء کے حکم سے ایسا کیا گیا۔

صفحہ 87

ولقتل مما تندری بالشبهات‘ حدود اور قتل شبہات کے باعث ٹل جانے والے امور میں سے ہیں۔ ان قضاۃ سوء اور علماء سوء کی شہ پر ہندوؤں نے بہت فتنہ اٹھایا اور مطلق العنان بادشاہ اکبر نے ہندوؤں کو راضی کرنے کے لیے علامہ عبدالنبی کو معزول کر دیا۔ علامہ عبدالنبی نے ۹۹۱ھ میں وفات پائی ملخصاً ترجمہ (طرب الاماثل عربی صفحہ ۳۸۳-۳۸۴ طبع قدیمی کتب خانہ کراچی)

جہاں تک شک سے حدود دفع ہونے کا تعلق ہے تو اس مضمون کی ابتداء میں واضح ہو چکا کہ حنفیہ کے نزدیک یہ قتل حد نہیں تعزیر ہے جو شبہ سے دفع نہیں ہوتی بہر حال اس واقعہ کے پیش نظر ثابت ہوتا ہے کہ ذمی ساب کی سزا کے بارے میں بحیثیت جرم سبھی علماء متفق تھے کہ اس جرم کی سزا قتل ہے اختلاف اس بناء پر کیا گیا کہ بعض علماء یعنی کچھ ججوں کے نزدیک اس جرم کی سزا میں کوئی شک نہ تھا البتہ مجرم پر جرم کے ثابت ہونے میں ان کے خیال کے مطابق شک حائل تھا وہ مجرم کو شک کا فائدہ دینا چاہتے تھے جبکہ صدر الصدور جو بمنزلہ چیف جسٹس کے تھا اس کے نزدیک شک کی کچھ گنجائش نہ تھی۔ اس لیے وہ قتل پر مصر رہا اور اس طرح وہ شخص قتل کر دیا گیا۔ بہرحال ثابت ہو گیا کہ ذمی ساب نبی کا قتل اکبر بادشاہ کے عہد میں قانوناً نافذ تھا جو دسویں صدی ہجری کا دور ہے اور اس وقت کے ہند کے چوٹی کے علماء میں کسی ایک حنفی عالم کو یہ کہنے کی جرات نہ تھی کہ ثبوت جرم کے بعد اس مجرم کو قتل نہ کیا جائے ہاں بعض لوگ شک و شبہ کی بات کر رہے تھے جو ثبوت کے منافی ہو بھی سہی لیکن ”بعد ثبوت“ سزا کے منافی نہیں لہٰذا اس اختلاف سے ہمارے موقف کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ کہ عہد اکبری کے اوائل میں ذمی ساب سے ثبوت جرم کے بعد اس کی سزائے قتل میں کوئی اختلاف نہ تھا اور یہ سزا عملاً بھی نافذ تھی‘ اکبر بادشاہ کے صدر الصدور چیف جسٹس کو معزول کرنے کی وجہ نہ تو یہ تھی کہ وہ اس جرم کی سزا قتل نہیں سمجھتا تھا اور نہ

صفحہ 88

ہندوؤں کی فقط شورش بلکہ اس کا سبب وہ صدر اور جج تھے جو چیف جسٹس کے عہدہ کے لالچ میں یہ کہتے تھے کہ اس فیصلہ کے لیے کافی ثبوت میسر آئے بغیر فرد جرم عائد کر دی گئی۔

حکام وقضاة سوء کے لیے عبرت:

زندگی کو کسی کے لیے دوام نہیں مولانا عبد النبی بھی گزر گئے اور اکبر بھی لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ اکبر اور اس کے ساتھی علماء نے ہندوؤں کو راضی کرنے کے لیے اگرچہ منافقت پر منافقت برتی اور اسلام کو دبانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا لیکن بہت جلد اکبر کی موت کے بعد جہانگیر کو ”شیخ مجدد کی قیادت میں متحدہ مسلم اکثریت“ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور ہندو اکثریت اور مسلم اقلیت اس کے کچھ کام نہ آسکے اور بالآخر وہ وقت آ گیا کہ مسلم اکثریت کی امنگوں کو تسلیم کرتے ہوئے بادشاہ عالمگیر کو مکمل اسلامی قوانین کا نفاذ کرنا پڑا۔ مغل حکومت خوب پھلتی پھولتی بشرطیکہ ان اسلامی قوانین کو یہ مطلق العنان بادشاہ اپنی ذات پر بھی نافذ کرتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ سلطنت مغلیہ کے ایک بادشاہ نے ہند کے اندر خلاف قانون اسلام کلکتہ نامی شہر کی زمین برطانوی کمپنی کے مستامن حربیوں کو بخش دی اور مسلم ریاست کے اندر کافر ریاست قائم کرنے کی منظوری دے کر مسلمانوں کے لیے بلکہ اپنے خاندان کے اقتدار کے لیے بھی خود اپنے ہاتھوں قبر کھود لی جس کے نتیجہ میں اس کمپنی کے ہاتھوں مکمل سقوط ہند کے ساتھ مغل شہزادوں کے سر بھی یکم اپریل کو اپنے قیدی والد کے دسترخوان پر نظر آئے۔

سور فروخت کرنا اور کھانا:

جاوید صاحب کے بقول عالمگیری صفحہ ۱۷۴ میں درج ہے غیر مسلموں کو سور فروخت کرنے اس کا گوشت کھانے ...... پر سزا نہیں دی جاسکتی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جاوید صاحب نے یہ ایک حوالہ بیان کیا ہے اور مجھے اس پر اعتراض یہ ہے کہ عالمگیری میں نہ تو اس

صفحہ ۸۹

صفحہ پر اور نہ اس سے آگے پیچھے، کہیں بھی یہ حوالہ بلا کم و کاست ان لفظوں سے موجود نہیں۔ جج صاحب جانتے ہوں گے کہ غلط حوالہ اگر وکیل دے تو کتنا جرم ہے ہو سکتا ہے کہ آپ ترجمہ ہی پڑھ سکتے ہوں اور کسی ترجمہ میں کتابت کی غلطی یا مترجم کے سہو قلم سے عبارت بدل گئی ہو۔ بہرحال اصل مسئلہ یہ ہے کہ غیر مسلم نہیں بلکہ صرف ذمی کافر مسلمانوں کے ملک میں جب کسی شہر میں مکمل اکثریت میں ہوں کہ وہاں مسلمان یا تو رہتے نہ ہوں اگر رہتے ہوں تو اتنے تھوڑے ہوں کہ وہ اپنی جامع مسجد یا عید گاہ نہ بنا سکتے ہوں تو ذمیوں کو ایسے قصبہ اور شہر میں سور بیچنے اور خریدنے سے منع نہ کیا جائے گا۔ اس کا کھانا ان کا ذاتی مسئلہ ہے بشرطیکہ یہ ہمراہ سب نہ ہو البتہ مسلمانوں کو ان کے ساتھ سور کی خرید و فروخت کی ممانعت برقرار رہے گی۔ لیکن اگر مسلمانوں کی اکثریت کا شہر ہو یا اس شہر میں مسلمانوں کی جامع مسجد یا عید گاہ بنی ہوئی ہو تو پھر اس شہر یا قصبہ میں ذمیوں کو علانیہ سور خریدنے بیچنے کی ہرگز اجازت نہیں اور جب اسلامی قانون کی مخالفت کی جائے تو جرم پر سزا دینے (تعزیر) کا اختیار اسلام نے حکومت کو دیا ہے جو ایک تسلیم شدہ امر ہے۔ ہمارے اس دعوٰی پر اسی عالمگیری سے حوالہ ملاحظہ ہو فتاویٰ عالمگیری عربی جلد دوم طبع بلوچستان بک ڈپو کوئٹہ اور فتاویٰ عالمگیری ترجمہ سید امیر علی طبع ایچ ایم سعید کراچی جلد سوم ملاحظہ ہو۔

كنيسة ولا بيعة ولا بيت نار لم جدید بیعہ یا کنیسہ یا آتش خانہ بنا دیں جو يكن ولا يبيعوا فى ذلك خمرا قبل صلح کے نہ تھا اور اس میں علانیہ شراب ولا خنزيرا ولا ميتة ولا ذبيحة نہ بیچنے پائیں گے اور نہ سور اور مردار اور مجوس علانية نہ مجوسیوں کا ذبح کیا ہوا جانور۔

(فتاویٰ عالمگیری عربی جلد دوم صفحہ ۲۴۸)

صفحہ 90

(۲) ولو رفعوا اصوتهم بقراءۃ الزبور والانجیل ان كان فيه اظهار الشرك منعوا عن ذلک وان لم يقع بذلک اظهار الشرک لايمنعون و يمنعون عن قراء ة ذلک فى اسواق المسلمين وكذا عن بيع الخمور والخنازير وعن اظهار الخمور والخنازير فى مصر وماكان فى فناء المصر

اور اگر انہوں نے زبور، انجیل پڑھنے میں اپنی آواز بلند کی پس اگر اس میں اظہار شرک ہو تو اس سے منع کیے جائیں گے اور اگر اس سے اظہار شرک واقع نہ ہو تو ممانعت نہ کی جائے گی۔ اور مسلمانوں کے بازاروں میں اس کے پڑھنے سے منع کردیے جائیں گے اور اسی طرح انہیں اسلام کے شہروں اور فنائے شہر میں شراب وسور کے فروخت کرنے اور شراب وسور کو ظاہر کرنے سے منع کیا جائے گا۔

(فتاویٰ عالمگیری عربی صفحہ ۲۵۱ جلد ۲)

(فتاویٰ عالمگیری جلد ۵ صفحہ ۴۴۴ اردو)

(۳) فان كان الذى ادخل الخمر مصرا من امصار المسلمين رجلا من اهل الذمة فان كان جاهلا ردالامام عليه متاعه و اخرجه من المصر واخبره انه ان عاد ادبه ومعنى قوله ان كان جاهلا ان لايعلم انه لاينبغى له ان يفعل ذلک وان كان عالما فالامام لايريق خمره ولايذبح خنازيره

اور اگر شہر ہائے اسلام سے کسی شہر کے اندر شراب لانے والا کوئی ذمی ہو پس اگر یہ شخص جاہل ہو تو امام اس کی متاع اس کو واپس کر کے اس کو شہر سے نکال دے گا اور اس کو آگاہ کر دے گا کہ اگر پھر ایسی حرکت کی تو تجھ کو سزا دوں گا اور جاہل ہونے سے یہ مراد ہے کہ ذمی مذکور یہ نہ جانتا ہو کہ ایسا کام کرنا ٹھیک نہیں۔ اور اگر ذمی مذکور نے جان بوجھ کر ایسا کیا تو

ولكن ان رأی او الحبس فع عالمگیری عربی ص کتاب السیر بیان میں)

ثابت کے شہروں میں ا کو (معاذ اللہ) ”لكم دينك اور مغال ایک قرآنی آیت نکتے پر غور کر (۱) آ

(۲)

صفحہ 91

اور اگر انہوں نے زبور انجیل پڑھنے میں اپنی آواز بلند کی پس اگر اس میں اظہار شرک ہو تو اس سے منع کیے جائیں گے اور اگر اس سے اظہار شرک واقع نہ ہو تو ممانعت نہ کی جائے گی۔ اور مسلمانوں کے بازاروں میں اس کے پڑھنے سے منع کر دیئے جائیں گے اور اسی طرح انہیں اسلام کے شہروں اور فنائے شہر میں شراب و سور کے فروخت کرنے اور شراب و سور کو ظاہر کرنے سے منع کیا جائے گا۔

(فتاوی عالمگیری جلد ۵ صفحہ ۴۴۴ اردو)

اور اگر شہر ہائے اسلام سے کسی شہر کے اندر شراب لانے والا کوئی ذمی ہو پس اگر یہ شخص جاہل ہو تو امام اس کی متاع اس کو واپس کر کے اس کو شہر سے نکال دے گا اور اس کو آگاہ کر دے گا کہ اگر پھر ایسی حرکت کی تو تجھ کو سزا دوں گا اور جاہل ہونے سے یہ مراد ہے کہ ذمی مذکور یہ نہ جانتا ہو کہ ایسا کام کرنا ٹھیک نہیں۔ اور اگر ذمی مذکور نے جان بوجھ کر ایسا کیا تو

ولكن ان رأى ان يؤدبه بالضرب او الحبس فعل ذلك (فتاوى عالمگیری عربی صفحہ ۲۵۲، ۲۵۳، جلد ۲ کتاب السیر باب آٹھواں جزیہ کے بیان میں)

امام موصوف اس کی شراب نہیں بہا دے گا اور ان کے سوروں کو قتل کرے گا لیکن اگر یہ مصلحت معلوم ہو کہ اس کو تادیباً سزا دے کوڑے مارنے یا قید کرنے سے تو ایسا کرے۔

(فتاوی عالمگیری اردو صفحہ ۴۴۵ جلد ۳)

ثابت ہوا کہ فتاویٰ عالمگیری اور فقہ حنفی کے ضابطہ کے مطابق اگر ذمی مسلمانوں کے شہروں میں علانیہ سور کی خرید و فروخت کرے تو سزا کا مستحق ہے اور اگر رسول اللہ ﷺ کو (معاذ اللہ) گالی دے خواہ علانیہ خواہ چھپ کر تو سخت ترین سزا بلکہ قتل کا سزاوار ہے۔

”لکم دینکم ولی دین“ سے جاوید صاحب کے ایک

اور مغالطہ کا رد:

ایک اور نکتہ جو جاوید صاحب نے پیش کیا یہ ہے کہ ”لکم دینکم ولی دین“ کی قرآنی آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر مسلموں کے لیے توہین رسالت پر سزا نہیں۔ اس نکتے پر غور کرنے سے درج ذیل امور سامنے آتے ہیں۔

نہیں۔

اتری وہاں پر مسلمان خود سزائیں بھگت رہے تھے کسی دوسرے کو جب سزا دے نہ سکتے تھے تو معاف کیسے کرتے۔ سمجھانے کے لیے ایک مثال عرض ہے کہ جنگل میں ایک سرکاری ملازم ڈاکوؤں کے درمیان پھنس جائے اور ڈاکوؤں سے کہے

صفحہ 92

کہ جناب میری حکومت تمہیں معاف کرتی ہے کیا یہ مضحکہ خیز بات نہ ہوگی؟

آپ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن مجید ہمیشہ کے لیے بجا ہے ۔ واقعی وہ ہمیشہ کے لیے ہے لیکن یکبارگی نہیں اترا تھوڑا تھوڑا ہو کر اترا ہے۔ اور احکام کا نزول وقت حاجت ہوتا تھا جب یہ آیت اتری تو اس معافی کی حاجت کہاں تھی۔

جب مسلمانوں نے اور آپ ﷺ نے غیر مسلموں کے لیے بقول آپ کے اس آیت کو پڑھ کر کھلی معافی کا اعلان کیا۔ تو کیا اسلام کے پاس حکومت تھی؟ ہرگز نہیں ۔ تو پھر معافی کا کیا مطلب ہوا اور حکمت نزول کیسے پوری ہوئی؟

شاید کوئی یہ سمجھے کہ لکم دینکم کا معنی ہے کہ تمہیں تمہارے دین پر رہنے کی آزادی ہے اور ہمیں ہمارے دین پر رہنے کی آزادی ہے تو میں عرض کروں گا کہ یہ معنی تسلیم کر لیا جائے تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ یہ فرمان بطور معاہدہ ہے جو دونوں طرف سے ہوتا ہے۔

یا بطور فرمان حکومت ہے؟ پھر اگر فرمان حکومت ہے تو قابل نسخ یا دائمی؟ اور ہر کافر کے لیے ہے یا بعض کے لیے؟

اگر آپ کہیں کہ بطور معاہدہ ہے تو مکے کے کافروں نے یہ معاہدہ کب منظور کیا؟ اگر وہ مسلمانوں کو ان کے مذہب کی آزادی دیتے تو مدینہ عالیہ کی طرف ہجرت کی بلکہ اس سے پہلے حبشہ کی جانب ہجرت کی ضرورت کیوں پیش آتی؟ ہجرت اس بات کی دلیل ہے کہ کافروں نے معاہدہ تسلیم نہیں کیا جب معاہدہ نافذ ہی نہ ہوا تو اس سے حجت کیسے پیش کی جارہی ہے۔ اور اگر آپ یہ کہیں کہ یہ فرمان حکومت تھا تو وہاں حکومت اسلامیہ تھی کہاں اگر مکہ میں جہاں یہ آیت نازل ہوئی حکومت اسلامیہ ہوتی تو ہجرت کی ضرورت پیش نہ آتی ۔ ہجرت اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کی مکہ پر قبل ہجرت حکومت قائم نہ تھی۔ پھر بالفرض

صفحہ 93

تسلیم کر لیا جائے کہ حکومت اسلامیہ قائم تھی تو یہ فرمان قابل نسخ تھا یا نا قابل نسخ۔ اگر نا قابل نسخ تھا تو فتح مکہ کے وقت مشرکین کے بتوں سے کعبہ کو کیوں صاف کیا گیا اور کیوں بت توڑے گئے اور اگر قابل نسخ تھا تو منسوخ ہونے کے بعد اس سے حجت لانا کیسے صحیح ہوگا؟ اسی طرح یہ حکم ہر کافر کے لیے تھا تو ”قاتلوا المشرکین کافۃ“ (بغیر کسی استثناء کے تمام مشرکوں سے جنگ کرو) کیوں نازل ہوئی؟ کیا قرآن مجید میں کوئی مسلمان تعارض کا قائل ہو سکتا ہے؟

اور اگر قرآن کا یہ فرمان حکومت کی جانب سے بعض کافروں کے لیے تھا تو ان کی تعیین کس طرح ممکن ہے اور اگر آپ آیت کا مخاطب ذمی کو مراد لیں تو ذمی تو حکومت اسلامیہ کے بغیر ہو نہیں سکتے کیونکہ کچھ ”عہد“ وہ کرتے ہیں جن کی پابندی کرانے کی حکومت ذمہ دار ہوتی ہے اور ایک عہد حکومت کرتی ہے کہ وہ ذمیوں کی جان و مال کو اندرونی اور بیرونی حملہ آوروں سے تحفظ فراہم کرے۔ اور اس وقت اسلامی حکومت سرے سے تھی ہی نہیں تو ذمی بھی نہ تھے تو خطاب بالمعدوم ہوا جو حکمت نزول قرآن کے منافی ہے۔

ثابت ہوا کہ اس آیت کریمہ سے کسی قسم کے کافر کو رسول اللہ ﷺ کی ذات مقدسہ پر سب بکنے اور آپ ﷺ کی توہین کرنے پر عام یا خاص معافی ثابت نہیں ہوتی اور نہ یہ آیت کسی قسم کے کافر سے دائماً یا عارضی طور پر جنگ نہ کرنے کا عہد کرتی ہے۔ یہ سب بلا جواز پروپیگنڈہ اور آیت کی تفسیر سیاق و سباق کے خلاف اپنی طرف سے گھڑنا ہے۔

آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ کافروں نے کہا کہ ہم اور آپ مل کر اپنے اور دوسرے فریق کے معبود دونوں کی عبادت کرنے پر صلح کرلیں۔ تو حکم آیا کہ آپ کہہ دیں کہ میں (توحید پر قائم رہ کر) تمہارے معبودوں کی عبادت کروں۔ یہ ناممکن ہے میں تمہارے معبودوں کی نہ عبادت کرتا ہوں اور نہ کروں گا اور تم (شرک پر قائم رہ کر) اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو (جو بغیر

صفحہ 94

عقیدہ توحید صحیح نہیں ہوتی) تو یہ بھی ناممکن ہے تم میرے معبود کی نہ عبادت کرتے ہو نہ کر سکو گے تمہارا دین شرک ہے۔ یعنی ایک سے زیادہ معبود ماننا اور میرا دین توحید یعنی ایک معبود ماننا ہے یہ جمع نہیں ہو سکتے۔ اس لیے تم اپنے دین پر قائم رہ سکتے ہو اور میں اپنے دین پر قائم رہ سکتا ہوں ہم دونوں میں سے کوئی بیک وقت دونوں دینوں پر قائم نہیں رہ سکتا، پس تمہارا دین تمہارے لیے (یعنی تمہارے ساتھ مخصوص) ہے اور میرا دین میرے لیے (یعنی میرے ساتھ مخصوص) ہے۔

عربی زبان میں گرائمر کے اعتبار سے لکم دینکم کا حرف ”لام“ خصوصیت کے لیے بھی آتا ہے جو یہاں مراد ہو سکتی ہے۔ اور کبھی تبیین و امتیاز کے لیے بھی ہوتا ہے۔ اس لیے یہ معنی بھی مراد ہو سکتا ہے کہ تمہارا دین تمہارے لیے (میرے دین سے جدا گانہ) ہے اور میرا دین میرے لیے (تمہارے دین سے جدا گانہ) ہے یعنی میرا اور تمہارا الگ الگ دین ہے۔

اور ظاہر ہے اگر مسلمان ”سبّ نبی“ جائز کر دیں تو پھر مسلمانوں اور کافروں کے دین کے مابین نہ کچھ امتیاز باقی رہتا ہے اور نہ اس مسئلہ میں مسلمانوں کے لیے ان کے دین میں خصوصیت رہتی ہے۔ ثابت ہوا کہ مذکورہ بالا تفاسیر کی روشنی میں اس سورۃ کی جاوید صاحب کے دعوے سے کوئی موافقت نہیں اور اگر سورہ الکافرون کو مدنی بھی مان لیا جائے تو ترجمہ غیر متعلق ہونے سے قطع نظر وہاں بھی عملی طور پر غیر مسلموں کے لیے ”سبّ رسول“ پر معافی ثابت نہیں ہوتی۔ مدینہ ہی میں مسلمانوں نے جنگ بدر لڑی اور تاریخ کا طالب علم بخوبی جانتا ہے کہ میدان جنگ میں فوجوں کے صف آراء ہونے کے بعد بظاہر مسلمانوں نے جنگ شروع کرنے میں پہل کی تھی اور دو نوجوانوں نے باقاعدہ جنگ شروع ہونے سے قبل بغیر مبارزت کے ابو جہل کو اسی ”سبّ رسول“ کے الزام کے باعث قتل کر دیا تھا۔ اور

صفحہ 95

امت مسلمہ آج تک ان لڑکوں کی ممنون ہے۔ کعب بن اشرف یہودی سے باقی یہود سمیت پہلے اگر چہ معاہدہ ہوچکا تھا مگر وہ حضور ﷺ کو اپنی ناپاک زبان سے ایذاء پہنچاتا تھا۔ سرکار کے حکم سے اسے صحابہ کرام نے موقع پاکر قتل کردیا۔ ایک صحابی کی غیر مسلمہ (کتابیہ) بیوی نے حضور ﷺ کے بارہ میں بکواس کی وہ جس صحابی کے گھر میں تھی اسے قتل کرنے والا وہی اس کا خاوند ہوا۔ اور سزائے قصاص نہ دی گئی۔ اس لیے مجھے آخری بات کے طور پر کہنے دیجئے کہ پورے ذخیرہ قرآن وحدیث میں ایک آیت یا حدیث ایسی دکھادیں جس میں صریحاً یہ لکھا ہو کہ کوئی غیر مسلم یا یہ لکھا ہو کہ کوئی ذمی کافر اگر نبی ﷺ کو گالی دے تو اسے کسی قسم کی کوئی سزا نہیں دی جاسکتی۔ ورنہ ثابت ہوگا کہ جاوید صاحب کے مندرجہ بالا الفاظ دن کو رات اور رات کو دن کہنے کے معنی میں ہیں۔

بہر حال ثابت ہوا کہ آیت ”لکم دینکم ولی دین“ سے غیر مسلم کے لیے ”سبّ رسول“ کی (معاذ اللہ ) رخصت ثابت کرنا بالکل غلط ہے جو کسی علم والے مسلمان کے لیے ممکن نہیں۔

محترم جاوید اقبال صاحب کے اس مضمون کی کیا ضرورت تھی یہ تو جاوید صاحب جانتے ہوں گے لیکن اس ماحول میں کہ یہ چرچا عام ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت توہین رسالت کے اس قانون کو بے اثر بنانا چاہتی ہے جو شرعی عدالت میں ایک مقدمہ کے فیصلہ میں میاں نواز شریف (مسلم لیگی وزیر اعظم) کے دور سے پہلے وجود میں آیا اور اس وقت کی حکومت کے دور میں سپریم کورٹ میں اس فیصلہ کے خلاف اپیل کی گئی جو نواز شریف کے دور میں باقاعدہ سماعت کے لیے سامنے آئی تو اس وقت کے وزیر اعظم اور موجودہ اپوزیشن لیڈر نواز شریف صاحب نے اس اپیل کو واپس لے لیا اور اسی طرح شرعی عدالت کا وہ فیصلہ قانون بن گیا۔ اب اپوزیشن لیڈر کے بنائے ہوئے اسی قانون کو بے اثر بنایا جارہا ہے کہ

صفحہ 96

توہین سننے والوں کی رپورٹ پر پرچہ درج نہیں ہوگا۔ صرف رپٹ درج ہوگی‘ پھر سیشن جج یا کوئی اس طرح کا جج انکوائری کرے گا تو پرچہ درج ہوگا اور اس انکوائری پر جج فوری فیصلہ کی بجائے مقدمہ کی دوبارہ سماعت کرے گا۔ ظاہر ہے اس دوران اسے تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس مقدمہ کی مدعی بھی ریاست نہ ہوگی اور اسی لیے مقدمہ غلط ثابت ہونے پر رپورٹ کرنے والے کو نہ صرف چھ ماہ بلکہ دس سال سزائے قید دی جاسکے گی۔ اس ماحول میں اپوزیشن مکمل خاموش ہے میاں نواز شریف خاموش ہیں اور خود ان کی پارٹی کا سینیٹر علم اور شرع کے نام پر لوگوں کو یہ غلط تاثر دینا چاہتا ہے کہ جب کسی قسم کے غیر مسلم کو توہین رسالت پر اسلامی ملک میں کوئی سزا نہیں دی جاسکتی تو مسلمانوں کو کوئی سزا کیوں ہو اور غیر مسلم ملک کے باشندے رشدی کو تو پھر کچھ کہا ہی نہیں جاسکتا۔

یہ مضمون محض علمی ہے اور مصنف کا سیاست سے ماضی قریب میں کوئی تعلق نہیں رہا اس لیے ہم اس بحث میں نہیں جاتے کہ یہ اتحاد کس بیرونی یا اندرونی طاقت کے اشارہ پر ہے اور اپوزیشن نمائندے سرتاج عزیز کو اس دور میں وزارت خارجہ کمیٹی کی سربراہی کس جذبہ خیر سگالی کے ماتحت ہے۔

ہم اس وقت یہ بھی نہیں کہنا چاہتے کہ نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دور میں سود کو قانونی جواز دینے کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل کس کے اشارہ پر تھی اور سود کو حرام کہنے والے علماء پر اس دور کے وزیروں کا غیظ و غضب (برطرفی سے پہلے اور دوبارہ تقرری کے بعد ) یہ تسلسل جاری رہنا کس کے اشارہ پر تھا؟ ہم یہاں صرف دو باتیں کہیں گے اور وہ یہ کہ نواز شریف نے اپنے دور میں صرف ایک بڑی نیکی کی تھی اور وہ توہین رسالت کے قانون کا استقرار ہے۔ لگتا ہے سود سے محبت کی وجہ سے ”فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ“ والی آیت ان کے پیچھے ہے اور وہ مرنے کے بعد کوئی قابل ذکر نیکی چھوڑ کر نہیں جائیں گے اور

صفحہ 97

ہو سکتا ہے کہ خدا کے مقابلہ میں غیر ملکی طاقتوں کو راضی کرنے کی کوشش کے باوجود وہ برسر اقتدار نہ آسکیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ الیکشن ۹۳ء میں اور اس سے پہلے کے حالات میں کچھ علماء وصوفیا نے نواز شریف (مسلم لیگ) کا ساتھ دیا اور کچھ دوسروں نے پیپلز پارٹی (بینظیر) کا بلاواسطہ یا بالواسطہ ساتھ دیا۔ نتیجتاً عوام نے آزاد کھڑے ہونے والے علماء کو ان کی توقع کے مطابق پذیرائی نہ دی تو دنیا نے کہا اسلام ہار گیا لیکن اب دیکھئے سرکار دوعالم ﷺ کی شان کا مسئلہ ہے تو عوام آگے ہیں اور علماء پیچھے پیچھے۔ اس لیے علماء اور حکومت اور اپوزیشن سمجھ لیں کہ عوام رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں ان میں سے کسی کے ساتھ نہیں۔ ہاں کوئی رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دے تو جہاں اسے کانٹا چبھے گا مسلم عوام وہاں خون بہائیں گے۔

ذمی ساب کے حق میں دیگر ممکنہ طور

پر پیش کیے جانے والے دلائل کا جواب:

سینیٹر جاوید اقبال صاحب کے نکات کا جواب لکھ کر ہم کافی عرصہ سے فارغ ہو گئے۔ ادارہ ”السعید“ کی جانب سے پہلی قسط کے ماہنامہ ”السعید“ کی کاپیاں سینیٹر صاحب کو دستی پہنچائی گئیں اور اس ادارہ کی طرف سے انہیں باقاعدہ پیشکش کی گئی کہ اگر وہ چاہیں تو ماہنامہ ”السعید“ ان کے جواب کو چھاپ دے گا۔ فقیر کے مضمون کی گیارہ قسطیں چھپ چکیں اور ان کا جواب مکمل ہو گیا۔ میرے علم کے مطابق جواب کی کاپیاں ان کے پاس بھیج دی گئیں پھر اس کے بعد تین چار ماہ اور بھی گزر گئے لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب سامنے نہ آیا جس کا جواب دینے کی ضرورت ہوتی۔ بہر حال تکمیلی طور پر اپنی طرف سے اس اضافہ کی ضرورت محسوس ہوئی جو قارئین کے سامنے ہے۔ دراصل مجھے یہ خیال آیا کہ جس طرح سینیٹر جاوید صاحب نے لکم دینکم ولی دین کو سب رسول کے مرتکب

صفحہ 98

ذمی کے لیے سزا کی نفی سمجھا حالانکہ اس آیت کا مذکورہ مضمون سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اسی طرح عین ممکن ہے کہ کوئی صاحب بعض دوسری قرآنی آیات سے بزعم خود مغالطہ کھائیں یا مغالطہ ڈالنے کی کوشش کریں۔

پہلا امکانی اعتراض مع جواب:

اس سلسلے کی پہلی آیت لا اکراہ فی الدین ہے۔ یعنی دین اسلام میں زبردستی منوانا نہیں لیکن قارئین نے آیت مذکورہ کا ترجمہ پڑھ کر ہی اندازہ کر لیا ہو گا کہ اس آیت کا ذمی کو اس مسئلہ میں سزا دینے سے کوئی تعلق نہیں۔ قبل ازیں ہم بیان کر چکے ہیں کہ سبّ رسول کے مرتکب ذمی کے بارے میں اہل اسلام کے دو قابلِ اعتبار مسلک سامنے آئے ہیں۔ (۱) ایک تو یہ کہ یہ سزا ”حد“ ہے جو اس کی توبہ کے باوجود معاف نہ ہوگی۔ (۲) دوسرا یہ کہ یہ سزا ”تعزیر لازم“ ہے جو اس کے اسلام لانے کے باوجود معاف نہ ہوگی۔ یعنی تمام علماء اس پر متفق ہیں کہ حکومت اسلامی نہ تو ذمی سابّ کو اسلام پر مجبور کرے گی اور نہ بعد مقدمہ چلنے کے اس کے از خود مسلمان ہونے پر وہ معافی کا حقدار ہوگا۔ ایسی صورتوں میں اس سزا کی وجہ سے کسی چیز کا منوانا پایا ہی نہیں جاتا۔ گویا یہ سزا مجرم سے کوئی چیز منوانے کے لیے نہیں دی جا رہی بلکہ اس کی گستاخی کا شاخسانہ ہے۔ زبردستی منوانا (اکراہ) تو اس وقت ہوتا جبکہ اسے کہا جاتا کہ وہ اسلام نہ لایا تو ہم اسے قتل کر دیں گے اور یہاں ایسی کوئی بات نہیں۔ ثابت ہوا کہ اس آیت کا سبّ رسول کے مرتکب ذمی کے لیے اہل اسلام کے نزدیک مجوزہ سزا سے کوئی تعلق نہیں۔

دیگر امکانی اعتراضات:

ممکن ہے کہ کوئی شخص مندرجہ ذیل آیات سے استدلال کرلے۔

(۲) ”افانت

یکونوا مؤمنین“

(۳) ”والذین ا

اولیاء الله حفیظ علیہم بوکیل“

(۴) فما ارسلنک

(۵) لست علیہم بـ

(۶) وما انت علیہم

(۷) بسم الله الرحمـ

آیت نمبر

یہ تمام آیا رسول پر قتل اسے زمـ تفصیل اس اجمال کـ گے کہ وہ ایمان لـ

صفحہ 99

یکونوا مؤمنین“ تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔“

(ترجمہ کاظمیہ البیان)

اولیاء اللہ حفیظ علیہم وما انت دوست بنایا اللہ ان (کے اعمال) پر علیہم بوکیل“ نگران ہے اور آپ ان پر مقرر کیے ہوئے نہیں۔“ (ترجمہ کاظمیہ البیان)

بنا کر۔“ (ترجمہ البیان)

(ترجمہ البیان)

فرمانے والے کے نام سے۔“

(ترجمہ کاظمیہ)

آیت نمبر ۲ کا جواب:

یہ تمام آیات بھی زیر بحث مسئلہ میں ہمارے خلاف نہیں اس لیے کہ ذمی کا سب رسول پر قتل اسے زبردستی مومن بنانے کے لیے نہیں جیسا کہ پہلی آیت کے تحت بیان ہو چکا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ آیت نمبر ۲ کا ترجمہ خود واضح ہے کہ کیا آپ لوگوں پر جبر کریں گے کہ وہ ایمان لے آئیں۔ اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ ذمی کافر کی سزا شان رسالت میں

صفحہ 100

گستاخی ثابت ہونے کی صورت میں صرف قتل ہے نہ کہ اسے ایمان پر مجبور کرنا کیونکہ حاکم نہ تو اسے ایمان پر مجبور کر سکتا ہے اور نہ اسے یہ کہہ سکتا ہے کہ تم ایمان لے آؤ تو تمہاری سزا معاف کردوں گا بلکہ اگر وہ مقدمہ پیش ہونے کے بعد خود بھی مسلمان ہو تو بھی حاکم اس کی سزا معاف نہیں کر سکتا کیونکہ اس میں بھی ایک نوع کا اکراہ پایا جاتا ہے۔ یعنی متوقع سزا سے ڈر کر مسلمان ہونا۔

آیت نمبر ۳ کا جواب:

آیت نمبر ۳ یہ بتا رہی ہے کہ کفار کی نگرانی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے یعنی وہی تمہیں سزا و جزا دینے والا ہے آپ ﷺ ان کفار کے نگران اور ان کے لیے سزا کے ذمہ دار نہیں کہ آپ ﷺ انہیں اللہ تعالیٰ کے مخالف بننے پر سزا و جزا دیں بلکہ سزا و جزا اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔ خواہ دنیا میں مسلمانوں سے قتل کرا کر ہو یا بیماریاں اور آفات بھیج کر یا آخرت میں عذاب دے کر یا ان سب کے ذریعے سے۔ اس سلسلہ میں اس کے رسول ﷺ پر طعن نہیں کیا جاسکتا اور یہ تشریح اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں فرمائی ہے کہ ”قاتلوهم يعذبهم الله بايديكم“ ”ان سے لڑو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا۔“ ثابت ہوا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے کافروں کا قتل ہونا قرآنی ارشاد کے مطابق اللہ ہی کا عذاب اور اس کی طرف سے سزا ہے جو کافروں کے لیے اتری۔

خلاصہ یہ کہ اس آیت کا سبّ رسول کے مرتکب ذمی کی سزا کی نفی سے کچھ تعلق نہیں کہ اولاً یہ آیت حربی کافروں کے بارے میں اتری ہے۔ ثانیاً اسے اگر ذمی کافروں کے بارے میں بھی فرض کر لیا جائے تو بھی زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہو گا کہ کافر ذمی ہوں یا غیر ذمی ان کی سزائیں اللہ کے حکم سے ہیں۔ رسول اور مومن تو اللہ کے حکم کے پابند ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کوئی ایسا صریح ارشاد نہیں فرمایا جس کے پیش نظر

صفحہ 101

ہمیشہ کے لیے آپ ﷺ کو سب کرنے والے ذمیوں کو آپ کی طرف سے معافی دی جاسکتی۔ کیونکہ یہ سزا اللہ کی طرف سے مسلمانوں پر ضروری کی گئی ہے اور اس نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ بلکہ یہ امر اپنے ذمہ لیا ہے۔

آیت نمبر ٤ کا جواب:

آیت نمبر ٤ یہ بتا رہی ہے کہ ہم نے اپنے نبی ﷺ کو رسول بنایا ہے کافروں کا محافظ مقرر نہیں فرمایا۔ کہ آپ انہیں اسلام نہ لانے پر سزائیں دیں ورنہ محافظ بنانے والا آپ سے جواب طلبی کرے۔ ظاہر ہے اس آیت سے بھی سب رسول کے مرتکب ذمی کی سزا کی نفی ثابت نہیں ہوتی کیونکہ ذمی کی اس سزا کا مجبور کرنے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ انہیں یہ سزا اسلام نہ لانے پر دی جا رہی ہے۔

آیت نمبر ۵-٦ کا جواب:

ان آیات کا بھی یہی مطلب ہے کہ آپ ﷺ ان پر اس طرح سے مسلط نہیں کہ انہیں ایمان لانے پر مجبور کریں۔ لیکن اس سے یہ سمجھنا صحیح نہیں کہ اگر وہ ذمی بن کر کسی جرم کا ارتکاب کریں قتل مومن یا زنا بالمومنہ کے مرتکب ہوں یا حکومت کی جڑیں کھودیں ملک کے خلاف جاسوسی کریں یا سب رسول کے مرتکب ہوں تو انہیں اسلامی قانون کے مطابق (معاذ اللہ) سزا بھی نہ دی جائے بلکہ قرآن مجید ہی کی آیات سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو بالفعل کافروں پر غلبہ عطا فرماتا ہے۔

(۱) ولكن الله يسلط رسله على من يشاء

”ہاں اللہ اپنے رسولوں کو مسلط فرما دیتا ہے جس پر چاہے۔“

(البیان)

صفحہ 102

اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے۔“ (البیان)

ظاہر ہے جب کافر مغلوب ہوں گے تو ان پر غالب کے احکام بھی نافذ ہوں گے ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس غلبہ کے اعلان اور خوشخبری کا رسولوں اور ان کے ماننے والوں کو کیا فائدہ ہوا۔

آیت نمبر ۷ کا جواب :

آیت نمبر ۷ اور اس کے مثل دیگر آیات جو اللہ تعالیٰ کا بے حد رحم والا ہونا ظاہر کر رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رحم کا مطلب مسلمانوں کے نزدیک یہ ضرور ہے کہ ہر مخلوق کو کسی نہ کسی وقت اس کی کسی طرح رحمت ضرور پہنچتی ہے لیکن مسلمانوں کے نزدیک اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو لوگ دوسروں کو ایذاء پہنچائیں تو اللہ تعالیٰ انہیں سزا نہ دے ورنہ نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ صرف ظالموں کے لیے رحمٰن و رحیم ہے مظلوموں کو اس کی رحمت سے ظالم کے لیے سزا کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ اسی طرح جو لوگ اس کی رحمت سے پیدا ہو کر اس کی نعمتوں پر پل کر ہوش سنبھالتے ہیں پھر اس کے ساتھ دوسروں کو شریک قرار دیتے اور اس کی ذات پاک کو گالیاں دیتے ہیں یا اس کے وجود ہی کا انکار کرتے ہیں وہ سب سے بڑے ظالم ہیں اس لیے اگر انہیں سزا دی جائے تو یہ بھی رحمت کے خلاف نہیں ورنہ رحم عاجزی سمجھا جاتا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رحم سے اس دنیا میں اپنے مخالفوں کو اپنی نعمتوں سے نوازا یہاں تک کہ وہ خود سر ہو گئے اور انہوں نے اس کے رسولوں اور اس پر ایمان لانے والوں کو ایذاء پہنچائی اور ظالموں نے اس کی رحمت کو عاجزی سمجھا تو وہ اللہ کے عذاب عظیم کے مستحق قرار پائے۔

صفحہ 103

خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ رحمٰن و رحیم ہے تو عذاب الیم اور ذو انتقام بھی ہے۔ اگر اس کی رحمت اس کے غضب سے سابق (پہلے) نہ ہوتی تو کسی کافر کو اس دنیا میں بھی اس کی رحمت سے کچھ نہ ملتا۔

خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ رحمٰن و رحیم ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر کوئی ذمی اللہ کے کسی رسول کو گالی دے تو مسلمانوں پر اس کا قتل لازم نہ ہو۔

نبی کریم ﷺ کی رحمت للعالمینی اور

ذمی ساب کی سزا:

اللہ تعالیٰ کے رحمٰن و رحیم ہونے کی مذکورہ بالا تشریح سے اس شبہ کا بھی قلع قمع ہو گیا کہ حضور نبی کریم ﷺ تو رحمت للعالمین ہیں پھر وہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ جو ذمی آپ ﷺ کو (معاذ اللہ) گالی دے قتل کر دیا جائے۔

ظاہر ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کو گالی دینے والوں کو سزا ملنا اللہ کی رحمت کے خلاف نہیں۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والے کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے سزا دلانا بھی حضور کی رحمت کے خلاف نہیں۔ بالخصوص اس وجہ سے بھی یہ ضروری ہے کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ سے اپنی جان اپنے ماں باپ اور اپنی اولاد اور اپنے تمام دوستوں سرداروں اور حاکموں سے بھی زائد محبت رکھتے ہیں جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ کسی شخص نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی ہے تو ان تمام مسلمانوں کو اس بات سے اس قدر ایذاء پہنچتی ہے کہ اس سے زیادہ ایذاء ان کے لیے کوئی نہیں بشرطیکہ وہ حقیقتاً مسلمان ہوں۔ لہٰذا لازم ہوا کہ رحمت للعالمین ﷺ کی مسلمانوں پر رحمت ظاہر ہو اور ان کا حق دلانے کے لیے اس موذی گستاخ رسول کو انتہائی سخت سزا دی جائے ورنہ کافر اسے حضور کی رحمت کی بجائے

صفحہ 104

عاجزی تصور کریں گے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی ”اللہ نے لکھ دیا ہے کہ ضرور میں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔“

ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اور دیگر کسی نبی علیہ السلام کو سبّ کرنے والے ذمی کو سزا نہ ملنا نہ حنفیہ کا مسلک ہے اور نہ اس پر کوئی دلیل، فقیر نے یہ چند حروف ضرورتاً لکھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔ اور اگر اس مضمون کے دوران فقیر سے کوئی فروگذاشت ہوئی ہو تو وہ اپنے کرم سے عفو فرمائے۔

فقط والحمدللہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین سائر اخوانہ الانبیاء والمرسلین وعلی الہ وصحبہ اجمعین

فقیر محمد اقبال محمدی سنی حنفی سعیدی رضوی

PDF 105

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ

يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ

الْاَحْزَاب ۵۶

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا

O

بیشک اللہ اور اُس کے فرشتے

دُرُود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبیؐ) پر

اے ایمان والو ! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

کتبہ : سید خالد ممتاز رضوی

الحمد لله رب العالمين و محمد وعلى سائر

اللہ تعالیٰ ہی کے لیے تمام ح کا منصب جلیل عطا فرمایا اور تمام رسولوں رسول کی اہانت و گستاخی مسلمانوں کے ی الحمدللہ کہ پاکستان کے قانو پائی۔ جب سے یہ قانون پاکستان م مرزائیہ کو ہوا۔ جس کے بانی نے سید بارے میں اپنی تصنیفات میں غلیظ گالی مذاہب مثلاً عیسائیوں وغیرہم کو اکسائ جائیں۔ کچھ دوسرے لوگوں کو اکسایا پر گستاخی رسالت کے مقدمات قائم فیصلہ کر بیٹھیں تو اس قانون کی (المعروف شاعر مشرق) کے فرزند نسبی شہرت کے ہائی کورٹ یا اس

PDF 106

الله

بسم الله الرحمن الرحيم

PDF 107

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ صَدَقَ اللهُ الْعَظِيمُ

جملہ حقوق محفوظ ہیں

نام کتاب ..................... جرم توہین رسالت (فقہ حنفی کی روشنی میں) مصنف ..................... مفتی محمد اقبال سعیدی با اہتمام ..................... عمر حیات قادری سلسلہ اشاعت ..................... 41 ناشر ..................... صفہ فاؤنڈیشن تعداد ..................... 1100 قیمت ..................... 35 روپے

ملنے کا پتہ صفہ فاؤنڈیشن مدینہ مارکیٹ وائی چوک صدر بازار لاہور کینٹ فون: 6664563-042 صفہ فاؤنڈیشن اسماعیل سنٹر 109 چیٹر جی روڈ اردو بازار لاہور فون: 4270965-0300

حضرت علامہ مفتی محمد

شیخ الحدیث مدرسہ

اوچ شریف کی مردم خیز دھرتی دینیہ کے حوالہ سے بہت بڑا معتبر نام ہے تھی۔ جس کے سربراہ حضرت سید صفی الدین کے اس سنگم پر محمد بن قاسم رحمۃ اللہ علیہ برصغیر میں اسلامی تشخص اس بابرکت دھرتی الدین سرخپوش بخاری اسی دھرتی کے بہار تشریف آراء ہوئے، اور پھر یہیں کے ہو مشائخ میں حضرت جمال درویش خنداں خانقاہوں نے فروغ علم میں پوری دنیا میں والا شان سیدنا مخدوم جہانیاں جہانگشت مسلمان ہے جو آپ کی جلیل القدر شخصیت واقف نہ ہو۔ پایۂ تخت دہلی نے آپ کے کے لیے آپ کو شیخ الاسلام والمسلمین کا جلیل کی سعادت مندی کا یہ حال تھا کہ جب کرتا اور پھر ننگے پاؤں چل کر بارگاہ مخدوم مخدوم کی بارگاہِ حشمت پناہ کی اظہار جلالت

PDF 108

جُرْم توہینِ رِسَالَتْ

فقہ حنفی کی رَوشنی میں

تَصْنِيْف:

مفتی مُحَمَّد اِقْبَال سَعِيْدِی

شیخ الحدیث مدرسہ انوار العلوم مُلتان شریف

صُفَّہ فاؤنڈیشن