بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
یہ محکم فرمان ہے میرے محمد مصطفیٰ کا
تحفہ قادیانیت
جلد سوم
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان ☎ 514122
١١١٠٠
بسمہ تعالٰی
ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ
بانی حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری
تحفہ قادیانیت
جلد سوم
مولانا محمد یوسف لدھیانوی
حضوری باغ روڈ ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
☎ 514122
اجمالی فہرست
- حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ۵
چودہ صدیوں کے اکابر کی نظر میں
- مرزا غلام احمد کا مقدمہ اہل عقل و انصاف کی عدالت میں ۲۶۵
- نزول عیسیٰ چند تنقیحات و توضیحات ۴۹۳
- ترجمہ مقدمہ عقیدۃ الاسلام ۶۰۳
- مہدی آخر الزمان اور فرقہ مہدویہ ۶۵۱
پیش لفظ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ کفیٰ وسلامٌ علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی، امابعد:
حضرت اقدس مرشد العلما حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانوی زید مجدہم نے جس موضوع پر قلم اٹھایا رب کائنات نے شرف قبولیت عطا فرماکر اس کو مقبولیت عامہ نصیب فرمائی خصوصاً "عقیدہ ختم نبوت اور ردّ قادیانیت" پر حضرت اقدس کے قلم کی جولانیاں اپنے عروج پر ہوتی ہیں اسی بنا پر آپ کی ان تحریروں کو اکابر علما کرام نے بہت زیادہ پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ یہ تحریریں مختلف رسائل کی شکل میں پھیلی ہوئی تھیں۔ امیر محترم شیخ المشائخ حضرت خواجہ خواجگان مولانا خان محمد زید مجدہم اور امام اہلسنّت حضرت مولانا مفتی احمد الرحمان رحمۃ اللہ علیہ کی خواہش پر ان رسائل کو یکجا کر کے تحفہ قادیانیت کے نام سے ۱۹۹۳ء میں شائع کیا گیا جس کے ۷۲۰ صفحات پر چوبیس اہم موضوع بمشکل سما سکے۔ ۱۹۹۶ء میں تحفہ قادیانیت کی دوسری جلد کے ۴۶۵ صفحات میں صرف ۹ موضوعات کا احاطہ کیا جاسکا۔ الحمد للہ اب تحفہ قادیانیت کی تیسری جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے جس میں حیات و نزول عیسیٰؑ اور ظہور مہدی کے عنوان پر حضرت اقدس کے پانچ اہم ترین رسائل کو جمع کیا گیا ہے۔ یوں تو تمام رسائل اپنی جگہ اہم ہیں مگر "مرزا غلام احمد قادیانی کا مقدمہ عقل و انصاف کی عدالت میں" اپنی مثال آپ ہے، اگر کوئی صاحب عقل و فہم اس کتاب کو تعصب کی عینک اتار کر پڑھے تو قادیانیت کا سارا کچا چٹھا اس کے سامنے آجائے اور وہ بے ساختہ پکار اٹھے کہ قادیانی مذہب باطل اور اسلام دشمنی پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کا سایہ ہم پر سلامت رکھے اور آپ کے فیض کو امت کے لئے نافع بنائے۔
وصلی اللہ علیٰ نبینا محمد و آلہ واصحابہ اجمعین
خاکپائے حضرت اقدس محمد جمیل خان
حضرت عیسیٰ علیہ السّلام
کی
حیات و نزول کا عقیدہ
چودہ صدیوں کے مُجددین و اکابرِ اُمت کی نظر میں
فہرست
مقدمہ ۱۸ امام زین العابدینؒ ۴۰ عہد خداوندی ۱۹ امام جعفر صادقؒ ۴۰ انبیاء کرام علیہم السلام کا اجماع ۲۰ امام مجاہدؒ ۴۱ صحابہ کرامؓ کا اجتماعی عقیدہ ۲۲ امام قتادہؒ ۴۱ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ۲۳ امام ابو مالک غفاریؒ تابعی ۴۲ حضرت علی رضی اللہ عنہ ۲۸ امام محمد بن زید تابعیؒ ۴۳ سولہ صحابہؓ ۲۸ امام ابن جریجؒ ۴۳ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ۲۹ امام ربیع بن انسؒ ۴۳ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ۳۱ امام ضحاکؒ ۴۴ ام المومنین حضرت عائشہؓ ۳۱ حضرت جابرؓ ۳۳ ائمہ اربعہؒ ۴۵ حضرت ابن عباسؓ ۳۳ امام اعظم ابو حنیفہؒ ۴۵ حضرات تابعینؒ ۳۶ امام مالکؒ ۴۶ حضرت سعید بن مسیبؒ ۳۶ امام احمد بن حنبلؒ ۴۶ حضرت طاؤسؒ ۳۶ امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ ۴۷ حضرت حسن بصریؒ ۳۷ تیسری صدی ۴۷ امام محمد بن سیرینؒ ۳۸ امام ابو داؤد طیالسیؒ ۴۸ امام محمد بن الحنفیہؒ ۳۹ امام عبد الرزاقؒ ۴۹ ابو العالیہؒ تابعی ۴۰ امام حمیدیؒ ۴۹ ابو رافع تابعیؒ ۴۰ امام ابو عبید قاسم بن سلامؒ ۵۰
امام ابوبکر بن ابی شیبہؒ ۵۱ امام ابوبکر جصاص رازیؒ ۷۱ امام ابن قتیبہؒ ۵۱ امام خطابیؒ ۷۳ ائمہ محدثینؒ پانچویں صدی امام بخاریؒ ۵۵ امام ثعلبیؒ ۷۴ امام مسلمؒ ۵۵ امام عبدالقاہر بغدادیؒ ۷۵ امام ابوداؤدؒ ۵۶ امام ابونعیم اصفہانیؒ ۷۶ امام نسائیؒ ۵۶ امام ابن حزم ظاہریؒ ۷۷ امام ترمذیؒ ۵۷ امام بیہقیؒ ۸۲ امام ابن ماجہؒ ۵۸ امام ہجویریؒ ۸۴ چوتھی صدی امام سرخسیؒ ۸۴ امام ابن دریدؒ ۵۸ قاضی ابو الولید الباجیؒ ۸۵ امام ابوالحسن اشعریؒ ۶۰ امام ابو محمد جوینیؒ ۸۶ امام ابن ابی حاتم رازیؒ ۶۰ امام حاکمؒ ۸۷ امام ابوبکر آجریؒ ۶۱ امام ابن بطالؒ ۸۸ امام طحاویؒ ۶۲ قاضی عبدالجبار معتزلیؒ ۸۹ امام ابوالحسین الشافعیؒ ۶۳ امام ابو ذرؒ الہروی ۹۲ امام ابو اللیث سمرقندیؒ ۶۳ چھٹی صدی امام ابن ابی زیدؒ ۶۴ امام غزالیؒ ۹۲ امام ابن خزیمہؒ ۶۵ قاضی ابو یعلیٰؒ ۹۳ امام ابو عوانہؒ ۶۵ علامہ زمخشریؒ ۹۴ امام ابن حبانؒ ۷۰ امام نجم الدین نسفیؒ ۹۵ امام ابوالحسن آبریؒ امام ابن الانباریؒ ۹۶
امام بغویؒ ٩٦ ابن العربیؒ ٩٨ امام ابن عطیہ مالکیؒ ٩٨ قاضی عیاض مالکیؒ ٩٩ حضرت پیران پیرؒ ١٠١ امام سہیلیؒ ١٠١ امام ابن الجوزیؒ ١٠٤
ساتویں صدی
امام فخر الدین رازیؒ ١٠٤ امام ابو البقاءؒ ١٠٦ شیخ یاقوت حمویؒ ١٠٧ شیخ ابن عربیؒ ١٠٧ امام عز الدینؒ بن عبد السلام ١١٠ حافظ زین الدینؒ رازی حنفی ١١١ امام قرطبیؒ ١١٣ امام نوویؒ شارح مسلم ١١٣ قاضی بیضاویؒ ١١٦ حافظ ابن ابی جمرہؒ ١١٩ امام ابن النجارؒ ١٢٠ امام ابن الاثیرؒ الجزری ١٢١ امام تور پشتیؒ ١٢١ امام معین الدین چشتیؒ ١٢٤
زین ابن منیرؒ ١٢٤
آٹھویں صدی
امام ابو البرکات نسفیؒ ١٢٦ امام ابن قدامہ المقدسیؒ ١٢٦ شیخ عبد العزیزؒ بخاری ١٢٩ علامہ خازنؒ ١٣٠ حافظ ابن تیمیہؒ ١٣٣ شیخ ولی الدینؒ صاحب مشکوۃ ١٦٢ علامہ طیبیؒ ١٦٢ امام حافظ ابن قیمؒ ١٦٣ سلطان المشائخ نظام الدین اولیاءؒ ١٧٠ امام ابو حیانؒ ١٧١ حافظ ابن کثیرؒ ١٧٤ علامہ کرمانیؒ ١٧٧ علامہ تفتازانیؒ ١٧٨ امام ابن زملکانیؒ الشافعی ١٨٠ شیخ قطب الدینؒ سہروردی ١٨١ امام تقی الدین السبکیؒ ١٨٢ امام حافظ شمس الدین ذہبیؒ ١٨٤ علامہ اتقانیؒ شارح ہدایہ ١٨٦
نویں صدی
شیخ الاسلام الہجوریؒ ١٨٧
شَیْخ مہائمیؒ ۱۸۸ شَیْخ ابن حجر ہیتمیؒ ۲۱۳ شَیْخ ابن تمجیدؒ ۱۸۹ عبدالوہاب شعرانیؒ ۲۱۵ حافظ ابن حجرؒ ۱۹۰ شہاب الدین رملیؒ شافعی ۲۱۹ علامہ عینیؒ ۱۹۳ علامہ شمس الدین شامیؒ ۲۱۹ شَیْخ ابن ہمامؒ حنفی ۱۹۵ حافظ جلال الدین سیوطیؒ ۲۲۰ شَیْخ جلال الدینؒ محلی ۱۹۶ شَیْخ الاسلام زکریا انصاریؒ ۲۲۳ علامہ خیالیؒ ۱۹۶ علامہ کستلیؒ ۲۲۴ امام مجد الدینؒ فیروز آبادی ۱۹۷ امام محمّد طاہر پٹنیؒ ۲۲۵ شَیْخ عبدالکریم جیلیؒ صوفی ۱۹۸ گیارہویں صدی امام ابّیؒ شارح مسلم ۱۹۹ شَیْخ علی ددہؒ صوفی ۲۲۶ علامہ سنوسیؒ شارح مسلم ۲۰۰ شَیْخ ابو المنتہیؒ حنفی ۲۲۶ حافظ نور الدین ہیثمیؒ ۲۰۲ شاہ عبدالحقّؒ محدّث دہلوی ۲۲۷ ابن امیر الحاجؒ ۲۰۲ علامہ خفاجیؒ ۲۲۷ علامہ برہان الدین البقاعیؒ ۲۰۳ مجدّد الف ثانیؒ ۲۲۸ علامہ جامیؒ ۲۰۴ شاہ نور الحقّ بخاری محدّث دہلویؒ ۲۳۰ دسویں صدی ملّا علی قاریؒ ۲۳۱ شَیْخ الاسلام کمال الدینؒ ۲۰۵ علامہ خلخالیؒ ۲۳۵ علامہ جلال الدینؒ دوانی ۲۰۶ علامہ عبدالحکیمؒ سیالکوٹی ۲۳۵ علامہ سمہودیؒ ۲۰۶ علامہ ابو البقاءؒ ۲۳۶ علامہ قسطلانیؒ ۲۰۷ بارہویں صدی شَیْخ زادہؒ شارح بیضاوی ۲۱۱ شَیْخ اسماعیلؒ رومی ۲۳۷ شَیْخ ابو السّعودؒ ۲۱۲ علامہ محمّد مہدی الفاسیؒ ۲۳۹
ملا جیونؒ ۲۳۹ علامہ محمد بن محمد الامیرؒ ۲۵۱ شاہ ولی اللہ دہلویؒ ۲۴۰ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ۲۵۲ علامہ سفارینیؒ ۲۴۱ چودھویں صدی ۲۵۳ شیخ محمد اکرم صابریؒ ۲۴۲ حسنین محمد مخلوفؒ // تیرہویں صدی علامہ انور شاہ کشمیریؒ ۲۵۷ شیخ احمد الدردیر ۲۴۵ علامہ زاہد الکوثریؒ ۲۵۷ سید محمد مرتضیٰ زبیدیؒ ۲۴۶ حکیم الامت اشرف علی تھانویؒ ۲۶۰ شیخ الاسلام بخاری دہلویؒ ۲۴۷ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ۲۶۰ شیخ احمد سلاویؒ ۲۴۸ چودھویں صدی کے دیگر اکابر ۲۶۱ شاہ رفیع الدینؒ ۲۵۰ پندرھویں صدی ۲۶۳ نواب قطب الدین دہلویؒ ۲۵۰ پندرھویں صدی کے مرحوم اکابر شیخ حسن شطی ۲۵۰ پندرھویں صدی کے بقیہ حیات اکابر
مقدمہ
بسم الله الرحمن الرحیم . اَلْحَمْدُ للهِ وسَلامٌ عَلَی عِبَادِہِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى .
اس زمانے میں جہاں اور بہت سے دینی حقائق کا انکار کیا گیا ہے، ان میں قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کا عقیدہ بھی ہے۔ چنانچہ ایک صاحب نے اس عقیدے کے بارے میں چند شبہات لکھ کر بھیجے ہیں، ان شبہات کو پڑھ کر دل میں داعیہ پیدا ہوا کہ اس مسئلہ پر اگر گزشتہ صدیوں کے اکابر کی چند تصریحات جمع کر دی جائیں تو یہ امر اہل انصاف کے لئے مزید اطمینان و یقین کا موجب ہوگا۔ اس لئے حق تعالیٰ شانہ سے نصرت و توفیق اور قبولیت و رضا کی درخواست کے ساتھ اس رسالہ کو شروع کرتا ہوں اور بطور تمہید چند امور اصول موضوعہ کی حیثیت سے عرض کرتا ہوں :
- ١ ...... دین اسلام ان عقائد و عبادات اور اعمال کا نام ہے جو آنحضرت ﷺ
کے مبارک زمانے سے نقل ہوتے ہوئے ہم تک پہنچے ہیں۔ ان میں سے جو امور تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچے ہیں ان کا ثبوت قطعی و یقینی ہے اور ایسے امور ”ضروریات دین“ کہلاتے ہیں ۔
۲ ...... دین کے ان ”متواترات“ میں سے کسی ایک کا انکار پورے دین کے انکار کے مترادف ہے۔ اس لئے کہ پورے دین کے ثبوت کا مدار تواتر پر ہے۔ پس اگر ایک متواتر چیز کو غلط کہا جائے تو اس سے پورے دین کی بنیاد منہدم ہو جاتی ہے اور تواتر کے انکار سے پورے دین کی نفی لازم آتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص قرآن مجید کو ماننے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن چند قرائن اور شبہات کی آڑ میں اس کی کسی ایک آیت کا انکار کر دیتا ہے، تو اس شخص کو پورے قرآن کا منکر تصور کیا جائے گا۔ اس لئے کہ جس تواتر کے ساتھ باقی قرآن کریم ہم تک پہنچا ہے، اسی تواتر کے ساتھ یہ آیت بھی پہنچی ہے، اس لئے اس ایک آیت کا انکار، قرآن مجید کے تواتر کا انکار ہے۔ اسی طرح دین اسلام کے وہ تمام حقائق جو آنحضرت ﷺ سے لے کر آج تک مسلسل اور متواتر نقل ہوتے چلے آئے ہیں، ان میں سے کسی ایک کا انکار کر دینے سے پورے دین کا انکار لازم آتا ہے۔
۳۔ کسی دینی حقیقت کو صرف لفظی طور پر مان لینا کافی نہیں، بلکہ اس کا جو مفہوم آنحضرت ﷺ کے مبارک زمانے سے آج تک تواتر کے ساتھ مراد لیا جاتا رہا ہے اس مفہوم کو تسلیم کرنا بھی شرط اسلام ہے۔ مثلاً ایک شخص یہ کہے کہ میں قرآن کریم کو مانتا ہوں مگر قرآن سے مراد وہ کتاب نہیں، جو مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ بلکہ اس سے اور کچھ مراد ہے، جس کو عام لوگ نہیں سمجھتے، تو یہ شخص باوجودیکہ قرآن کریم کو ماننے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن ایک بچہ بھی سمجھتا ہے کہ یہ شخص قرآن کریم کا منکر ہے، یا مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کو مانتا ہوں، مگر ”محمد رسول اللہ“ سے مراد وہ شخصیت نہیں جو مسلمان سمجھتے ہیں۔ بلکہ ”محمد رسول اللہ“ سے مراد فلاں شخص ہے جو فلاں بستی میں پیدا ہوا، تو یہ شخص اگرچہ لفظی طور پر ”محمد رسول اللہ“ کو ماننے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ قرآن کریم جس شخصیت کو محمد رسول اللہ ﷺ کی حیثیت سے پیش کرتا ہے، اور اہل اسلام جس محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں یہ اس کا منکر ہے۔
الغرض کسی دینی حقیقت کو ماننے کا دعویٰ اس وقت صحیح ہو گا جب اسے اسی مفہوم و معنی میں مانا جائے جو آنحضرت ﷺ سے لے کر آج تک معروف و مسلم چلا آتا ہے اور اگر صرف الفاظ کی حد تک مان لیا جائے‘ مگر معنی و مفہوم بدل دیا جائے تو یہ بھی انکار ہی کی ایک صورت ہے اور اسے اسلام کی اصطلاح میں ”زندقہ“ کہا جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:
"إن المخالف للدين الحق إن لم يعترف به ولم يذعن له، لا ظاهراً ولا باطناً فهو كافر، وإن اعترف بلسانه وقلبه على الكفر فهو المنافق، وإن اعترف به ظاهراً لكنه يفسر بعض ما ثبت من الدين ضرورةً بخلاف ما فسره الصحابة والتابعون واجتمعت عليه الأمة فهو الزنديق".
(مسوی شرح موطأ ص ۱۳ ج۲ مطبوعہ مجتبائی)
ترجمہ : ”جو شخص دین کا مخالف ہے اگر وہ دین کا قائل ہی نہ ہو‘ نہ اسے ظاہراً و باطناً قبول کرے‘ تو یہ کھلا ”کافر“ کہلاتا ہے‘ اور اگر زبان سے تو اقرار کرے لیکن اس کا دل کفر پر جما ہوا ہو تو یہ ”منافق“ کہلاتا ہے‘ اور اگر بظاہر دین کا اقرار کرے مگر دین کی کوئی ایسی بات جو تواتر سے ثابت ہو‘ اس کی تفسیر صحابہ و تابعین اور فقہائے امت کی اجماعی تفسیر کے خلاف کرے تو یہ شخص ”زندیق“ ہے“۔
- ۴- آنحضرت ﷺ سے لے کر آج تک کی ساری امت اس بات کی قائل
رہی ہے کہ قیامت کے بالکل قریب جب کانا دجال نکلے گا تو اس کو قتل کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے‘ جس طرح قیامت کا آنا قطعی و یقینی ہے‘ اسی طرح قیامت کی علامات کبریٰ میں دجال اکبر کا نکلنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا بھی قطعی و یقینی ہے‘ اور صدر اول سے لے کر آج تک اکابر امت اس کو تواتر اور تسلسل کے ساتھ نقل کرتے آئے ہیں۔ اس رسالہ میں اکابر امت کی تصریحات صدی وار نقل کی جا رہی ہیں‘ ان کے مطالعہ کے بعد اس
تواتر کے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔
- ۵۔ خبر متواتر سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ اضطراری و بدیہی ہوتا ہے۔ یعنی جو
خبر تواتر کی حد تک پہنچ جائے آدمی اس کے ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے، اور کسی ذی ہوش اور صاحب عقل کے لئے اس کا انکار ممکن نہیں رہتا۔ اگر کوئی شخص اس کو ذاتی غرض کی وجہ سے تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہو تب بھی اس کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ وہ زبان سے ہزار بار اس کو جھٹلاتا رہے، مگر اس کا ضمیر اندر سے گواہی دے گا کہ میں ایک قطعی و یقینی حقیقت کا انکار کر رہا ہوں۔ روز مرہ مشاہدات میں اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک آدمی کو یہ تو اختیار ہے کہ کسی چیز کی طرف آنکھ اٹھا کر ہی نہ دیکھے لیکن کسی چیز پر نظر ڈالنے کے بعد یہ ممکن نہیں کہ بقائمی بصارت آنکھوں کو اس کے دیکھنے سے باز رکھ سکے، یا دیکھنے کے بعد بھی اس کا انکار کر ڈالے، ٹھیک اسی طرح یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی خبر کے تواتر کی طرف سر اٹھا کر ہی نہ دیکھے اور وہ اپنی چشم بصیرت پر جہالت اور لاعلمی کا پردہ ڈال لے، لیکن یہ ممکن نہیں کہ تواتر کا علم ہو جانے کے باوجود بقائمی عقل و خرد ساری دنیا کو جھوٹا اور ان کی اس متواتر خبر کو غلط فرض کرلے۔
ہمارے زمانے میں جن لوگوں نے نزول عیسیٰ علیہ السلام کی خبر کا انکار کیا ہے ان میں اکثریت ان حضرات کی ہے جنہوں نے اپنی لاعلمی کی بنا پر اس کے تواتر کی طرف نظر اٹھا کر ہی نہیں دیکھا، ورنہ اس خبر متواتر کا انکار ممکن نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نزول عیسیٰ ؑ کے عقیدہ کو وہ لوگ بھی نہیں جھٹلا سکتے جو نزول عیسیٰ ؑ کے منکر ہیں، چنانچہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی لکھتے ہیں: ”مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہموزن نہیں ہوئی۔ تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے“۔
(ازالہ اوہام ص ۵۵۷، روحانی خزائن ص ۴۰۰ ج ۳)
ظاہر ہے کہ جس خبر کو تواتر کا اول درجہ حاصل ہو اور دینی حقائق میں کوئی خبر اس کے ہم پہلو اور ہموزن نہ ہو اس کے انکار کی جرات بحالتِ ایمان اور بقائی ہوش و حواس کون کر سکتا ہے؟
- ۶۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں امت اسلامیہ کا متواتر اور اجماعی عقیدہ
تین حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ دوم یہ کہ وہ آسمان پر زندہ ہیں۔ تیسرے یہ کہ وہ قرب قیامت میں قتلِ دجال کے لئے نازل ہوں گے‘ پھر ان کی وفات ہوگی۔
یہ تینوں باتیں لازم وملزوم ہیں اگر وہ آسمان پر اٹھائے گئے تو یقیناً نازل بھی ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم‘ حدیث نبویؐ اور اکابر امت کی تصریحات میں کبھی بمقتضائے مقام ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کو ذکر کیا گیا ہے اور کبھی ان کے آخری زمانے میں واپس آنے کی خبر دی گئی ۔
- ۷۔ اسلامی لٹریچر ”المسیح“ کے نام سے صرف دو شخصوں کو جانتا ہے ایک
”دجال“ اور دوسرے ”المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ“۔ جو آنحضرت ﷺ سے قبل بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور جن کے بارے میں یہود کو قتل وصلیب کا دعویٰ تھا‘ دجال کو مسیح ضلالت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ”مسیح ہدایت“ کہا جاتا ہے۔ ان دو مسیحوں کے سوا اسلامی لٹریچر کسی تیسرے ”مسیح“ کو نہیں جانتا۔ امام محمد طاہر گجراتی مجمع البحار میں (حرف ”دجل“ کے تحت) لکھتے ہیں :
”سمّی الدجال مسیحاً؛ لأنّ إحدی عینیه ممسوحة، وعیسٰی سمّی به؛ لأنه کان یمسح ذا العاهة، فیبرأ“.
(مجمع البحار ص ۱۵۰ ج ۲ طبع جدید حیدرآباد دکن)
ترجمہ : ”دجال کا نام ”مسیح“ رکھا گیا کیونکہ اس کی ایک آنکھ بالکل ہموار ہوگی‘ اور عیسیٰ علیہ السلام کا نام ”مسیح“ رکھا گیا‘ کیونکہ وہ بیمار پر ہاتھ پھیرتے تھے تو وہ شفایاب ہو جاتا تھا۔“
بعض اکابر فرماتے ہیں ”المسیح“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا لقب ہے اور دجال اس کا غلط ادعا کر کے اپنے اوپر چسپاں کرلے گا۔ گویا کانے دجال کا ایک دجل یہ ہوگا کہ وہ مسیحیت کا جھوٹا دعویٰ کرے گا۔ بہر حال اسلامی لٹریچر میں ”المسیح“ یا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہا گیا ہے یا دجال اعور کو‘ ان دو کے علاوہ کوئی تیسرا شخص نہیں جس کو ”المسیح“ کے لقب سے یاد کیا گیا ہو۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام یا ان کے لقب ”المسیح“ کو کسی دوسرے شخص پر چسپاں کرنے کی اسلامی لٹریچر میں کوئی گنجائش نہیں ہے‘ اور جو شخص ایسا کرتا ہے وہ ایک متواتر لفظ کے متواتر مصداق اور مفہوم کو بدلنا چاہتا ہے‘ اور اسلام کی اصطلاح میں ایسا شخص دین حق کا منکر اور زندیق کہلاتا ہے ۔ جیسا کہ نکتہ سوئم میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کا ارشاد گزر چکا ہے۔
۸ ۔ احادیث نبوی میں مسیح دجال کے نکلنے اور اس کو قتل کرنے کے لئے المسیح بن مریم علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر الگ الگ بھی دی گئی ہے‘ اور دونوں کی یکجا بھی ..... اور یہ دونوں خبریں متواتر ہیں اور لازم وملزوم بھی ..... کیونکہ جب ایک بار یہ اصول طے کر دیا گیا کہ دجال کا قتل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے ہوگا تو نزول عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے دجال کا خروج لازم ہوا ..... یہی وجہ ہے کہ بعض احادیث میں صرف عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو ذکر کیا گیا ہے‘ بعض میں صرف دجال کے خروج کو‘ اور بعض میں ان دونوں کو۔
۹۔ اس رسالہ میں اکابر کی جو نقول پیش کی گئی ہیں وہ صرف نمونہ کے طور پر ہیں‘ ورنہ وہ تمام کتابیں جن میں ابتدائے اسلام سے لے کر ہمارے زمانے تک خروج دجال اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ذکر کیا گیا ہے وہ حد شمار سے خارج ہیں۔
مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے لکھا ہے :
”قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا
اور یہ پیش گوئی بخاری و مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لئے کافی ہے.... یہ خبر مسیح موعود کے آنے کی اس قدر زور کے ساتھ ہر زمانے میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی کہ اس کے تواتر سے انکار کیا جائے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اگر اسلام کی وہ کتابیں جن کی رو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آئی ہے صدی وار مرتب کر کے اکٹھی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزار ہا سے کچھ کم نہ ہوں گی‘‘۔ (شہادۃ القرآن ص ۲‘ روحانی خزائن ص ۲۹۸ ج ۶)
مرزا صاحب کی اس تحریر پر اتنا اضافہ کر لیجئے کہ ان ہزارہا سلسلہ وار کتابوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی جو خبر تواتر کے ساتھ درج کی گئی ہے‘ وہ کسی گمنام ”عیسیٰ بن مریم“ یا ”مسیح موعود“ کے بارے میں نہیں‘ جیسا کہ نمبر ۷ میں عرض کر چکا ہوں‘ بلکہ اسی شخصیت کے بارے میں ہے جن کو ساری دنیا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ ﷺ کے نام سے جانتی ہے۔
اسلامی دنیا کا ایک فرد بھی نہ ان کے علاوہ کسی عیسیٰ بن مریم کو جانتا ہے اور نہ کسی بے نام و نشان ”مسیح موعود“ کو.... اس لئے یہ صدی وار ہزارہا کتابیں مسیح بن مریم علیہ السلام کے آنے کی متواتر خبر دے رہی ہیں ان کا آنا قطعی ویقینی ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی کہ اس کے تواتر سے انکار کیا جائے۔
ان اصول موضوعہ کی روشنی میں اب نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کے بارے میں اکابر کی تصریحات ملاحظہ فرمائیے اور پھر خود انصاف کیجئے کہ کیا اس تواتر کے بعد کسی مسلمان کے لئے اس عقیدہ سے انکار وانحراف کی کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟
اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کو صراط مستقیم پر قائم رکھے..... اور تمام شرور و فتن سے اس کی حفاظت فرمائے۔ (آمین)
محمد یوسف لدھیانوی ۲۴؍ ۴؍ ۱۴۰۳ھ
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله حمد الشاكرين، والصلاة والسلام على سيّد المرسلين وإمام المتقين وخاتم النبيين سيّدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وأتباعه إلى يوم الدين.
قیامت کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے‘ اور قیامت سے پہلے جو بڑے بڑے خلاف عادت امور ظاہر ہوں گے ان کو قیامت کی ”علاماتِ کبریٰ“ کہا جاتا ہے ۔ اللہ ورسول نے قیامت کی جتنی نشانیاں بتائی ہیں وہ سب برحق ہیں‘ ضرور ہو کر رہیں گی۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان ظاہر ہوں گے اور خوب انصاف سے بادشاہی کریں گے۔ ان کے زمانے میں کانا دجال نکلے گا اور دنیا میں بہت فساد مچائے گا۔ اس کو قتل کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور اسے قتل کریں گے ۔
آنحضرت ﷺ نے قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ ؑ کے دوبارہ تشریف لانے کی متواتر احادیث میں خبر دی ہے‘ اور آنحضرت ﷺ کے زمانے سے آج تک تمام اکابر امت بھی متواتر اس کی خبر دیتے رہے ہیں۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دجال کو قتل کرنے کے لئے آسمان سے نازل ہونا آنحضرت ﷺ کے زمانے سے آج تک امت کے درمیان معروف ومسلم چلا آرہا ہے‘ اور اس کو ان قطعی ویقینی عقائد میں شمار کیا گیا ہے‘ جن پر ایمان لانا واجب اور جن کا انکار کرنا کفر ہے ۔
چونکہ غفلت و جہالت کی وجہ سے اس زمانے کے بہت سے لوگ اس عقیدہ
میں شک وشبہ کا اظہار کرتے ہیں ، اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اس مسئلہ میں ابتدائے اسلام سے لیکر ہمارے زمانہ تک کے اکابر کی تصریحات صدی وار جمع کر دی جائیں ، تاکہ مسلمان بھائیوں کے لئے اطمینان وشفا کا موجب ہو۔ اور جو لوگ شک وشبہ میں مبتلا ہیں ان کو بھی حق تعالیٰ انصاف وحق پرستی کی توفیق عطا فرمائے۔
چونکہ تمام عقائد اسلامیہ کا سرچشمہ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کے مقدس ارشادات ہیں اس لئے مناسب ہو گا کہ نزول عیسیٰ ؑ کے عقیدہ کا سلسلہ تواتر خدا تعالیٰ تک پہنچانے کے لئے ہم اس کا آغاز عہد خداوندی سے کریں۔
۱- عہد خداوندی :
الف :۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے دو جگہ حضرت عیسیٰ ؑ کے اپنی طرف اٹھا لینے کی صراحۃً خبر دی ہے۔ ایک سورۂ آل عمران کی آیت ۵۵ میں :
﴿يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ﴾
اور دوسرے سورۂ نساء کی آیت ۱۵۷-۱۵۸ میں :
﴿ وَ مَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ﴾
ان دونوں آیتوں میں باجماع امت حضرت عیسیٰ ؑ کا آسمان پر بہ جسد عنصری اٹھایا جانا مراد ہے ..... اور جیسا کہ تمہید میں عرض کیا جا چکا ہے ، امت کی اجماعی تفسیر کے خلاف تفسیر کرنا ”زندقہ“ ہے۔
ب : قرآن کریم میں دو جگہ حضرت عیسیٰ ؑ کے قرب قیامت میں دوبارہ آنے کی خبر دی گئی ہے۔ اول سورۂ النساء کی آیت ۱۵۹ میں :
﴿ وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا . ﴾
جس کی تفسیر صحیح بخاری ص ۴۹۰ ج ۱ ”باب نزول عیسیٰ بن مریم“ میں حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے کی گئی ہے۔ دوم : سورۃ زخرف کی آیت ۶۱ میں ”وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ ۔“
جس کی تفسیر صحیح ابن حبان میں آنحضرت ﷺ نے یوں فرمائی ہے: قال : «نزول عيسى ابن مريم قبل يوم القيامة»
(موارد الظمآن ص ٤٢٩)
ترجمہ : ”فرمایا : اس سے مراد عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا قیامت سے پہلے“۔
۲۔ انبیاء کرام علیہم السلام کا اجماع :
قیامت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے پر اکابر انبیاء علیہم السلام کا بھی اجماع ہے۔ جس کی اطلاع ہمیں آنحضرت ﷺ نے دی ہے‘ چنانچہ : الف : مسند احمد ج ۱ ص ۳۷۵ ‘ ابن ماجہ ص ۳۰۹ ‘ مستدرک حاکم ج ۴ ص ۵۴۵ ‘ تفسیر ابن جریر ج ۱۷ ص ۷۲ ‘ فتح الباری ج ۱۳ ص ۷۹ اور درمنثور ج ۴ ص ۱۵۲‘ ۳۴۶ میں (بحوالہ ابن ابی شیبہ‘ ابن المنذر‘ ابن مردویہ‘ کتاب البعث للبیہقی) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :
ترجمہ : ”شب معراج میں میری ملاقات حضرت ابراہیم‘ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے ہوئی۔ اس محفل میں یہ گفتگو چلی کہ قیامت کب آئے گی۔ پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا‘ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اس کا علم نہیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کی باری آئی انہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا گیا ۔ تو انہوں نے فرمایا کہ قیامت کب برپا ہوگی ؟ اس کا ٹھیک وقت تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں ۔ البتہ مجھ سے
میرے رب کا ایک عہد ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا تو میں اس کو قتل کرنے کے لئے نازل ہوں گا“۔
اس حدیث کو امام حاکم نے مستدرک میں ”صحیح علیٰ شرط الشیخین“ کہا ہے ۔ امام ذہبی نے تلخیص مستدرک میں اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں امام حاکم کی تصحیح سے اتفاق کیا ہے اور میرے علم میں کوئی ایسا محدث نہیں جس نے اس حدیث پر کوئی جرح و تنقید کی ہو..... اس حدیث سے چند باتیں معلوم ہوئیں :
- ۱ ...... قیامت سے کچھ پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قتل دجال کے
لئے ہوگا۔
- ۲ ...... اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نازل کرنے کا ان سے عہد کر رکھا
ہے۔
- ۳ ...... اکابر انبیا علیہم السلام کا‘ جن میں حضرت ابراہیم‘ حضرت موسیٰ‘
حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور آنحضرت ﷺ جو بطور خاص قابل ذکر ہیں‘ قرب قیامت میں عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے پر اجماع ہے ۔
- ۴ ...... جس عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نزول کا خدا تعالیٰ کی طرف سے
عہد ہے وہ کوئی مجہول شخصیت نہیں‘ بلکہ وہی حضرت عیسیٰ بن مریم روح اللہ علیہ السلام مراد ہیں‘ جن کو ساری دنیا اس نام سے جانتی ہے ۔
- ب : متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا :
«ما من نبي إلا وقد أنذر قومه من الدّجّال وقد أنذر نوح قومه».
(صحیح بخاری ومسلم - مشکوۃ ص٤٧٢)
ترجمہ : ”کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا ہو۔ نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا“۔
گویا جس طرح قیامت کا قائم ہونا تمام انبیا کرام علیہم السلام کا متفق علیہ عقیدہ ہے‘ اسی طرح قیامت سے پہلے دجال کا نکلنا بھی تمام انبیا کرام علیہم السلام کا اجماعی
عقیدہ ہے‘ اور یہ طے شدہ فیصلہ ہے کہ دجال کے قاتل حضرت عیسیٰ ؑ ہوں گے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیا کرام علیہم السلام قیامت سے پہلے عیسیٰ ؑ کے نازل ہونے پر ایمان رکھتے تھے ۔
ج : آنحضرت ﷺ بطور خاص نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھتے تھے‘ جو قرآن کریم کی آیات‘ انبیا کرام کے اجماع اور آنحضرت ﷺ کی متواتر احادیث سے واضح ہے جن کی تعداد ستر سے متجاوز ہے ۔ (تفصیل کے لئے رسالہ ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ اور اس کا ترجمہ : ”نزول مسیح اور علامات قیامت“ ملاحظہ فرمائیے)
یہاں عقیدۂ نبوی کی وضاحت کے لئے آنحضرت ﷺ کا ایک ارشاد گرامی نقل کیا جاتا ہے ۔ صحیح مسلم شریف میں حضرت حذیفہ بن اسید الغفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) کچھ مذاکرہ کر رہے تھے کہ آنحضرت ﷺ تشریف لائے‘ دریافت فرمایا کہ کیا تذکرہ ہو رہا تھا؟ عرض کیا کہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے‘ آپ ﷺ نے فرمایا :
«إنها لن تقوم حتى تروا قبلها عشر آيات فذكر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى ابن مريم عليه السلام» إلخ.
(مشکوۃ ص ۴۷۲)
ترجمہ : ”قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو‘ پھر آپ ﷺ نے ان امور کو ذکر فرمایا‘ دخان‘ دجال اور دابۃ الارض کا نکلنا‘ آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا‘ اور عیسیٰ بن مریم ؑ کا نازل ہونا الخ ۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع :
جس عقیدے پر خدا تعالیٰ کا عہد ہو‘ جس عقیدہ کے تمام انبیا کرام علیہم السلام قائل ہوں‘ اور جس عقیدہ کو آنحضرت ﷺ نے متواتر احادیث میں ارشاد فرمایا ہو‘ ظاہر ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا عقیدہ اس کے خلاف نہیں ہو سکتا ۔ چنانچہ
میرے رسالہ ”نزول عیسیٰؑ چند شبہات کا جواب“ کے نکتہ ہفتم میں تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اسما گرامی درج ہیں جن سے نزول عیسیٰ ؑ کی شہادت منقول ہے ۔ یہاں حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مذہب نقل کرتا ہوں ۔
حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما :
- الف : مسند احمد ج ۳ ص ۳۸۶ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بہ سند صحیح
روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ ابن صیاد نامی ایک یہودی لڑکے کے حالات کی تحقیق کے لئے کئی مرتبہ تشریف لے گئے، حضرات ابوبکر و عمر اور مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت آپ ﷺ کے ہمراہ تھی۔ ابن صیاد کی گفتگو سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :
” ائذن لی فأقتله یا رسول اللہ ! “
ترجمہ : ” یا رسول اللہ ! اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کر دوں“ ۔
آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا :
”إن یکن هو فلست صاحبہ إنما صاحبہ عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلاة والسلام“ ۔
(مسند احمد ص ۳۶۸ ج ۳ ، شرح السنة ص ۸۰ ج ۱۵ ، مشکوة ص ۴۷۹ ،
قال الهیثمی (۸ : ۳) : أخرجه أحمد ، ورجاله رجال الصحيح)
ترجمہ : ”اگر یہ وہی کانا دجال ہے تو اس کے قاتل تم نہیں، اس کے قاتل تو حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں“ ۔
حافظ نور الدین ہیثمی مجمع الزوائد ص ۳ - ۴ ج ۸ میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
” اس حدیث کو امام احمد نے (مسند میں) روایت کیا ہے، اور اس کے تمام راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں“ ۔
اس حدیث صحیح سے آنحضرت ﷺ، حضرت ابوبکر و عمر اور مہاجرین و انصار کا عقیدہ واضح ہو جاتا ہے کہ دجال جب نکلے گا تو حضرت عیسیٰ ؑ کے ہاتھ سے قتل
ہوگا۔
ب : آنحضرت ﷺ کی رحلت کا سانحہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے لئے جس قدر صبر آزما تھا اس کا اندازہ ہم لوگ نہیں کر سکتے ، صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم میں بعض کھڑے کے کھڑے رہ گئے ، وہ بیٹھ نہیں سکے ، بعض جو بیٹھے تھے ان میں اٹھنے کی ہمت نہیں تھی ، بعض کی گویائی جواب دے گئی ، بعض از خود رفتہ ہو گئے ۔ ادھر منافقوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ اگر آپ ﷺ اللہ کے سچے رسول ہوتے تو آپ ﷺ کی وفات کیوں ہوتی ، آپ ﷺ کی وفات کی خبر سن کر اسی ربودگی و بے قراری کی حالت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اعلان فرمایا :
” من قال : إن محمداً مات قتلتُه بسيفی هذا وإنما رفع إلی السماء كما رفع عيسى ابن مريم عليه السلام “ ۔
(ملل ونحل عبد الکریم شہرستانی بر حاشیہ کتاب الفصل فی الملل والأہواء
والنحل لابن حزم ص ۲۱ ج ۱)
ترجمہ : ” جو شخص یہ کہے گا کہ محمد ﷺ فوت ہو گئے ہیں میں اسے اپنی اس تلوار سے قتل کر دوں گا ، آپ ﷺ تو اسی طرح آسمان پر اٹھائے گئے ہیں جس طرح کہ حضرت عیسیٰ ؑ اٹھا لئے گئے تھے “ ۔
اور ابن اسحاق کی روایت کے مطابق حضرت عمر ؓ نے یہ بھی فرمایا :
” إن رجالا من المنافقين يزعمون أن رسول الله ﷺ قد توفى ، وإن رسول الله ﷺ والله ما مات ، ولكنه ذهب إلی ربّه كما ذهب موسى ابن عمران ، فقد غاب عن قومه أربعين ليلة ثم رجع إلی قومه بعد أن قيل : قد مات - والله ليرجعنّ رسول الله ﷺ كما رجع موسى ، فليقطعنّ أيدی رجال وأرجلهم زعموا أن رسول الله ﷺ قد مات “ ۔
(سیرۃ ابن ہشام بر حاشیہ الروض الأنف ج ۲ ص ۳۷۲)
ترجمہ : ” کچھ منافق یہ اڑا رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے ، حالانکہ بخدا آنحضرت ﷺ کی وفات نہیں ہوئی ، بلکہ آپ ﷺ
اسی طرح اپنے رب کی طرف گئے ہیں جس طرح موسیٰ ؑ گئے تھے ، وہ اپنی قوم سے چالیس دن تک غائب رہے ، پھر اپنی قوم کی طرف لوٹ آئے ، جب کہ ان کی وفات کی خبر اڑا دی گئی تھی ، بخدا ! رسول اللہ ﷺ بھی موسیٰ ؑ کی طرح واپس لوٹ آئیں گے اور ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالیں گے جو یہ اڑا رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہو چکے“۔
(سیرۃ ابن ہشام بر حاشیہ الروض الانف ج ۲ ص ۳۷۲)
اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وصال نبوی کو دو واقعات کے ساتھ تشبیہ دی ، ایک حضرت عیسیٰ ؑ کا آسمان پر اٹھایا جانا ، دوسرے حضرت موسیٰ ؑ کا چالیس دن کے لئے کوہ طور پر تشریف لے جانا ، اور تشبیہ اسی چیز کے ساتھ دی جایا کرتی ہے جو معروف و مسلم ہو۔ چونکہ یہ دونوں واقعات قرآن کریم میں مذکور ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے نزدیک بالاتفاق معروف و مسلم تھے اس لئے حضرت عمر ؓ نے ان کو مشبہ بہ کے طور پر پیش کیا۔
حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمر ؓ کی بات سن کر خطبہ دیا جس میں یہ اعلان فرمایا :
”أیہا الناس ! من کان یعبد محمداً فإنّ محمداً قد مات ، ومن کان یعبد اللہ فإنّ اللہ حیّ لا یموت“۔
(حوالہ بالا)
ترجمہ : ”لوگو! جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو بے شک محمد ﷺ وصال فرما چکے ہیں ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ زندہ ہیں ، کبھی نہیں مریں گے“۔
اور اس خطبہ میں حضرت صدیق اکبر ؓ نے متعدد آیات پڑھیں جن میں فرمایا گیا ہے کہ موت نبوت کے منافی نہیں ، اس میں ایک طرف ان منافقین کا رد تھا جو وصال نبوی ﷺ کو نفی نبوت کی دلیل ٹھہرا رہے تھے ، اور دوسری طرف حضرت عمر ؓ کے اس خیال کی اصلاح مقصود تھی کہ آپ ﷺ کی وفات نہیں ہوئی ، حضرت صدیق اکبر ؓ نے اعلان فرمایا کہ آنحضرت ﷺ وفات پا چکے ہیں ، اس لئے اس
موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہ طور پر جانے کی مثال دینا بھی صحیح نہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کی مثال پیش کرنا بھی بے محل ہے ۔ مگر چونکہ یہ دونوں واقعے جن کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشبہ بہ کے طور پر پیش کیا تھا بالکل صحیح اور برحق تھے ۔ اس لئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں واقعات کی نفی نہیں کی ۔ اور نہ مدت العمر کسی صحابی نے ان کو غلط قرار دیا ۔ چنانچہ حدیث و تفسیر اور تاریخ و سیر کے پورے ذخیرے میں کسی ایک صحابی سے ایک روایت بھی اس مضمون کی منقول نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان کی طرف اٹھائے نہیں گئے، یا یہ کہ ان کی وفات ہو چکی ہے ۔ یہ اس امر کی واضح ترین دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مسلم تھا، اور یہ نہ صرف حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا، بلکہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجتماعی عقیدہ تھا ۔
ج :۔ اوپر آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی گزر چکا ہے کہ دجال کے قاتل حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں ۔ ادھر خروج دجال کی حدیث خود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
”عن أبى بكر الصديق رضى الله عنه قال : حدثنا رسول الله ﷺ قال : «الدجّال يخرج من أرض بالمشرق يقال له خراسان يتبعه أقوام كأنّ وجوههم المجان المطرقة»“ ۔
(ترمذی : باب ما جاء من أين يخرج الدّجّال ص٤٦ ج٢)
ترجمہ : ”حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ہمیں بتایا کہ دجال مشرق کی سرزمین سے نکلے گا جس کو خراسان کہا جاتا ہے ۔ اس کی پیرو وہ قومیں ہوں گی جن کے چہرے چپٹے ہوں گے گویا وہ تہ بہ تہ ڈھالیں ہیں“ ۔
اس حدیث سے واضح ہو جاتا ہے کہ دجال کے نکلنے اور عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہو کر اس کو قتل کرنے پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اتفاق تھا ۔
وَ : حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے ”ازالۃ الخفا“ (فارسی ص ۱۶۷ ج ۲ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور) حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے مکاشفات میں حضرت نضلہ بن معاویہ ﷺ کے تین سو صحابہ رضی اللہ عنہم کی معیت میں غزوۂ حلوان کے لئے جانے اور وہاں زریت بن برثملہ حواری عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہونے کا واقعہ لکھا ہے ۔
اس حدیث میں زریت بن برثملہ کا یہ قول نقل کیا ہے :
”أنا زريت بن برثملا وصى العبد الصالح عيسى ابن مريم أسكنني هذا الجبل ودعا لى بطول البقاء إلى حين نزوله من السماء“۔
ترجمہ : ”میں زریت بن برثملا عبد صالح حضرت عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کا وصی ہوں ۔ آپ نے مجھے اس پہاڑ میں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے ۔ اور ان کے آسمان سے نازل ہونے کے وقت تک میرے لئے طول عمری کی دعا فرمائی“ ۔
حضرت عمر ﷺ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے اس قول کی تکذیب نہیں فرمائی ۔ بلکہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی تو آپ ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو چار ہزار مہاجرین و انصار کی معیت میں وہاں جانے کا حکم فرمایا اور زریت بن برثملہ کے نام اپنا سلام بھجوایا ۔ اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ، حضرت سعد بن ابی وقاص اور چار ہزار مہاجرین و انصار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مذہب یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں آسمان سے نازل ہوں گے ۔
ہ : ۔ حافظ ابن کثیرؒ نے ”نهاية البداية والنهایه“ ج ۱ ص ۱۷۵ میں دجال کے بارے میں (بروایت ابوبکر بن ابی شیبہ عن سفیان بن عیینہ عن الزہری ‘ عن سالم عن ابیہ ) حضرت عمر ﷺ کی یہ حدیث نقل کی ہے :
” ولد يهودياً ليقتله ابن مريم بباب لُدّ “ ۔
ترجمہ : ”دجال یہودی پیدا کیا گیا تاکہ عیسیٰ علیہ السلام اسے باب لد
پر قتل کریں“۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ :
امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ : ”يقتله الله تعالى بالشام على عقبة يقال لها : عقبة أفيق لثلاث ساعات يمضين من النهار على يدى عيسى ابن مريم“.
(کنز العمال ص٦١٤ ج١٤ حدیث ۳۹۷۰۹)
ترجمہ : ”اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ہاتھ سے دجال کو کرے گا‘ ملک شام میں‘ تین گھڑی دن چڑھے۔ ایک گھاٹی پر‘ جس کو افیق کی گھاٹی کہا جاتا ہے“۔
سولہ صحابہ رضی اللہ عنہم :
امام ترمذیؒ نے ”باب ماجاء في قتل عیسیٰ بن مریم الدَّجَّالَ“ میں حضرت مجمع بن جاریہ ؓ کی یہ حدیث نقل کی ہے : ”سمعت رسول الله ﷺ يقول : يقتل ابن مريم الدجال بباب لُدّ“.
ترجمہ : ”میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دجال کو باب لد پر قتل کریں گے“۔
اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد امام ترمذیؒ فرماتے ہیں : وفي الباب عن عمران بن حصين ونافع بن عتبة وأبي برزة وحذيفة بن أسيد وأبي هريرة وكيسان وعثمان بن أبي العاص وجابر وأبي أمامة وابن مسعود وعبد الله بن عمرو وسمرة ابن جندب والنواس بن سمعان وعمرو بن عوف وحذيفة ابن اليمان، هذا حديث صحيح.
(ترمذی ص٤٨ ج٢)
”یعنی مجمع بن جاریہ ؓ کی حدیث صحیح ہے اور اس کے علاوہ اس موضوع پر
”کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو باب لد پر قتل کریں گے“، مزید پندرہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے احادیث مروی ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :
صحیح بخاری ج ۱ ص ۴۹۰۔ باب نزول عیسی بن مریم علیہ السلام ، صحیح مسلم ج ۱ ص ۸۷۔ باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد حتى تكون السجدة الواحدة خيراً من الدنيا وما فيها" ، ثم يقول أبو هريرة : "واقرأوا إن شئتم"
ترجمہ : ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے ، پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے ، خنزیر کو قتل کر دیں گے ، جزیہ موقوف کر دیں گے اور مال ودولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا ، حتیٰ کہ ایک سجدہ (اس وقت کے لوگوں کے نزدیک) دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا“۔
اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم اس کی تصدیق قرآن کریم سے چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو : ﴿ وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً ﴾ .
(النساء : ١٥٩)
ترجمہ : ”اور نہیں رہے گا کوئی اہل کتاب میں مگر ایمان لائے گا عیسیٰ علیہ السلام پر عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے اور قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے“۔
حضرات محدثین نے یہاں دو احتمال لکھے ہیں ۔ ایک یہ کہ اس حدیث میں
آیت کی تلاوت بھی آنحضرت ﷺ سے مرفوعاً ہو، دوسرے یہ کہ یہ حضرت ابو ہریرہ ؓ کا اپنا قول ہو، اور طحاوی شریف باب سور الھر میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کے شاگرد رشید امام محمد بن سیرینؒ کا ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ جب ان سے حضرت ابو ہریرہ ؓ کی حدیث کے بارے میں سوال کیا گیا کہ آیا یہ آنحضرت ﷺ سے مروی ہے؟ تو فرمایا:
«كل حديث أبى هريرة عن النبی ﷺ»
ترجمہ : ”حضرت ابو ہریرہ ؓ کی ہر حدیث آنحضرت ﷺ ہی سے ہوتی ہے“۔
بہر حال حضرت ابو ہریرہ ؓ کی اس حدیث سے چند باتیں معلوم ہوئیں:
اول : حضرت عیسیٰ ؑ کے آخری زمانے میں نزول کا مسئلہ قرآن کریم میں ذکر کیا گیا ہے۔
دوئم : آنحضرت ﷺ کے وہ تمام ارشادات جو نزول عیسیٰ ؑ کے بارے میں ہیں وہ قرآن کریم کی ہی شرح و تفسیر ہیں۔
سوئم : جس عیسیٰ ؑ کے نزول کا قرآن کریم اور ارشادات نبویہ میں ذکر ہے اس سے وہی حضرت عیسیٰ بنفس نفیس مراد ہیں، نہ کہ کوئی مبہم و مجہول عیسیٰ یا کوئی مفروض ابن مریم۔
چہارم : حضرت ابو ہریرہ ؓ کا حلقہ درس مسجد نبوی میں ہوتا تھا اور وہ ہزاروں کے مجمع میں علی رؤس الاشہاد حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول پر قرآن کریم اور حدیث نبوی کے حوالے باصرار و تکرار پیش کرتے تھے، مگر کسی صحابی اور کسی تابعی نے ان کو اس پر نہیں ٹوکا، اور یہ ممکن نہیں تھا کہ صدر اول میں کوئی غلط بات نعوذ باللہ مسجد نبوی میں بیٹھ کر علی رؤس الاشہاد قرآن و حدیث کے حوالے سے کہی جائے اور صحابہ و تابعینؒ کی پوری جماعت میں ایک آدمی بھی اسے ٹوکنے والا نہ اٹھے۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت ابو ہریرہ ؓ کے تمام ہمعصر صحابہ و تابعین کا یہی مذہب تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ آخری زمانے میں آسمان سے نازل ہوں گے اور انہوں نے
قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ سے یہی عقیدہ اخذ کیا تھا۔
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ :
درمنثور ج ۵ ص ۲۰۴ میں ابوبکر بن ابی شیبہ کی تخریج سے اور مجمع الزوائد ج ۸ ص ۲۰۶ میں طبرانی کے حوالہ سے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان کی مجلس میں کہا ”صلی اللہ علی محمد خاتم الانبیاء لا نبی بعدہ“ آپؓ نے فرمایا : «حسبك أن تقول خاتم الأنبياء فإنا كنا نحدّث أن عيسى خارج فإن كان خارجاً فقد كان قبله وبعده».
ترجمہ : ”خاتم الانبیاء کہہ دیتے تب بھی کافی تھا، کیونکہ ہم سے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے) بیان کیا گیا تھا کہ عیسیٰؑ تشریف لانے والے ہیں۔ پس جب وہ تشریف لائیں گے تو آپ ﷺ سے پہلے بھی ہوئے اور بعد بھی“۔
حضرت مغیرہؓ کے اس ارشاد سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ حضرت عیسیٰؑ کی تشریف آوری کی خبر صحابہ کرام علیہم الرضوان کو معلوم تھی اور وہ اس پر عقیدہ رکھتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ”لا نبی بعدی“ کا ارشاد نبوی حضرت عیسیٰؑ کی تشریف آوری کے منافی نہیں، کیونکہ ”لا نبی بعدی“ کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت عطا نہیں کیا جائے گا، اور حضرت عیسیٰؑ اگرچہ آپ ﷺ کے بعد تشریف لانے والے ہیں مگر ان کو نبوت آپ ﷺ سے پہلے مل چکی ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا :
- الف : درمنثور ج ۵ ص ۲۰۴ میں حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ
عنہا کا یہ ارشاد نقل کیا ہے : ”قولوا : خاتم النّبيين ولا تقولوا : لا نبی بعدہ“
ترجمہ : ”آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین کہو مگر یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں“۔
امام محمد طاہر گجراتی ”تکملہ مجمع البحار“ میں (مادہ ”زید“ کے تحت) اس کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
وهذا ناظر إلى نزول عيسى۔
(تكملة مجمع البحار ص ٤٦٤ ج ٥)
ترجمہ : ”(حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا) یہ ارشاد نزول عیسیٰ ؑ کے لحاظ سے ہے“۔
گویا ام المومنین رضی اللہ عنہا اس اندیشہ کی روک تھام فرما رہی ہیں کہ ”لانبی بعدہ“ کو غلط معنی پہنا کر کل کو کوئی ملحد حضرت عیسیٰ ؑ کی تشریف آوری کے قطعی عقیدہ کی نفی نہ کرنے لگے۔
ب : مسند احمد ج ۶ ص ۷۵ اور درمنثور ج ۲ ص ۲۴۲ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث خروج دجال کے بارے میں مروی ہے اس میں یہ الفاظ ہیں:
”حتى يأتي فلسطين بباب لُدّ فينزل عيسى عليه السلام فيقتله، ثم يمكث عيسى عليه السلام فى الأرض أربعين سنة إماماً عدلا وحكماً مقسطاً“۔
(در منثور ص ٢٤٢ ج ٢ ، مسند أحمد ص ٧٥ ج ٦)
ترجمہ : ”یہاں تک دجال فلسطین میں باب لُدّ کے پاس پہنچے گا۔ پس عیسیٰ ؑ نازل ہو کر اس کو قتل کریں گے۔ پھر عیسیٰ ؑ زمین میں چالیس برس امام عادل اور حاکم منصف کی حیثیت سے ٹھہریں گے“۔
حافظ نور الدین ہیثمی مجمع الزوائد ج ۷ ص ۳۳۸ میں اس حدیث کو نقل کر کے لکھتے ہیں:
”رجاله رجال الصحيح غير الحضرمي ابن لاحق وهو ثقة“۔
(مجمع الزوائد ص ٣٣٨ ج ٧)
ترجمہ : ”اس حدیث کے تمام راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں
سوائے حضرمی بن لاحق کے‘ اور وہ ثقہ ہیں“۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ :
صحیح مسلم ج ۱ ص ۸۷‘ مسند احمد ج ۳ ص ۳۴۵‘ ۳۸۴‘ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث مروی ہے :
سمعت رسول الله ﷺ يقول: «لا تزال طائفة من أمتي يقاتلون على الحق ظاهرين إلى يوم القيامة قال فينزل عيسى ابن مريم عليه السلام فيقول أميرهم: تعال فصلّ لنا فيقول: لا، إن بعضكم على بعض أمراء، تكرمة الله هذه الأمة».
(مسند أحمد ۳ : ۳۴۵ صحيح مسلم ص ۸۷ ج ۱)
”ترجمہ : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق کی خاطر لڑتی اور قیامت تک غالب رہے گی۔ پس عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے‘ تو مسلمانوں کا امیر (امام مہدی) عرض کرے گا کہ تشریف لایئے ہمیں نماز پڑھایئے ۔ آپ علیہ السلام فرمائیں گے نہیں‘ تم میں سے بعض‘ بعض پر امیر ہیں‘ یہ حق تعالیٰ کی جانب سے اس امت کا اعزاز ہے“۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما :
- الف : مستدرک حاکم ج ۲ ص ۳۰۹‘ اور درمنثور ج ۲ ص ۲۴۱ میں ہے کہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ارشاد خداوندی ﴿وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ ﴿قَبْلَ مَوْتِهِ﴾ سے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا تشریف لانا مراد ہے۔
- ب : تفسیر ابن جریر ج ۶ ص ۱۴‘ اور درمنثور ج ۲ ص ۲۴۱ میں ہے کہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا :
"قبل موت عيسى يعنى أنّه سيدرك أناس من أهل الكتاب حين يبعث عيسى فيؤمنون به" . (ابن جریر ص ۱۴ ج ۶، در منثور ص ۲۴۱ ج ۲) ترجمہ: ﴿قبل موتہ﴾ سے مراد ہے عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے، حق تعالیٰ شانہ کی مراد یہ ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے اس وقت اہل کتاب کے کچھ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کو پائیں گے اور وہ آپ پر ایمان لائیں گے“۔
- ج: در منثور ج ۲ ص ۳۶ میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے
آیت کریمہ ”يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ“ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: "قال: إني رافعك ثم متوفيك في آخر الزمان" .
(در منثور ص ۳۶ ج ۲)
ترجمہ: ”حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تجھے سردست اٹھانے والا ہوں پھر آخری زمانے میں تجھے وفات دینے والا ہوں“۔
- د: تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۵۷۴ میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
نے آیت کریمہ ﴿وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ ایک دوسرے شخص پر ڈال دی گئی۔ "ورفع عيسى من روزنة فى البيت إلى السماء" . ﴿وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ﴾ ترجمہ: ”اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مکان کے روشن دان سے آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا“۔ امام ابن کثیر اس حدیث کو نقل کرکے فرماتے ہیں: ”هذا اسناد صحيح الى ابن عباس“۔
- ہ: مجمع الزوائد ج ۷ ص ۱۰۴ میں بروایت طبرانی اور در منثور ج ۶ ص ۲۰
میں فریابی، سعید بن منصور، مسدد، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور طبرانی کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد نقل کیا ہے کہ انہوں نے آیت
کریمہ ”وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ“ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: خروج عیسی ابن مریم قبل یوم القیامة ۔ ترجمہ : ”آیت کا مطلب یہ ہے کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قیامت کی نشانی ہے“۔
و : درمنثور ج ۲ ص ۳۵۰ میں بروایت ابو الشیخ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ارشاد مروی ہے کہ انہوں نے آیت کریمہ : ﴿اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَ اِنْ تَغْفِرْلَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ .“ کی تفسیر میں فرمایا: ومدّ فی عمرہ حتّی أهبط من السماء إلى الأرض يقتل الدّجّال. ترجمہ : ”اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر طویل کر دی گئی ، حتیٰ کہ وہ آخری زمانے میں آسمان سے زمین پر اتارے جائیں گے تاکہ دجال کو قتل کریں“۔ اس لئے ”ان تعذبهم“ کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو تثلیث پر مرے اور ”ان تغفرلهم“ کا تعلق ان حضرات سے ہے جو آخری زمانے میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کے وقت تثلیث سے تائب ہو کر توحید کے قائل ہو جائیں گے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ان تفسیری ارشادات سے ان کا عقیدہ واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بجسد عنصری آسمان پر اٹھا لیا گیا ، انہیں طویل عمر عطا کی گئی ، آخری زمانے میں وہ دجال کو قتل کرنے کے لئے نازل ہوں گے اس وقت تمام اہل کتاب ایمان لائیں گے ، تب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوگی۔
حضرات تابعینؒ
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد ہم حضرات تابعینؒ کے دور کو لیتے ہیں‘ جو حضرات صحابہ کرام اور بعد کی امت کے درمیان واسطہ ہیں اور جنہوں نے علوم نبوت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ارشادات بعد کی امت تک منتقل کئے ہیں۔ حضرات تابعینؒ میں ایک شخص کا بھی نام نہیں ملتا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کا منکر ہو۔ اس کے برعکس ان حضرات تابعین کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہے جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی‘ ان کی حیات اور قرب قیامت میں ان کے دوبارہ تشریف لانے کا عقیدہ منقول ہے۔ یہاں چند اکابر تابعین کا حوالہ دینا کافی ہوگا۔
حضرت سعید بن مسیبؒ:
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ (م:۹۴ھ) اجلہ تابعین میں سے ہیں‘ پوری امت ان کی جلالت قدر پر متفق ہے‘ علم وفضل کے لحاظ سے ان کو سید التابعین شمار کیا جاتا ہے‘ یہ حضرت ابو ہریرہ کے عزیز داماد تھے‘ اور ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے میں نزول کی تصریح نقل کرتے ہیں۔
(صحیح بخاری ج ۱ ص ۴۹۰‘ صحیح مسلم ج ۱ ص ۸۷)
حضرت طاؤسؒ:
حضرت طاؤس بن کیسان (م:۱۰۶ھ) مشہور تابعی ہیں یہ حضرت ابو ہریرہ‘ ام المومنین عائشہ صدیقہ‘ ابن عباس‘ زید بن ثابت‘ زید بن ارقم اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم اکابر صحابہ کے شاگرد تھے۔ مصنف عبدالرزاق (ص ۴۷۸ ج ۱۱) میں بسند صحیح ان کا ارشاد نقل کیا ہے:
«عشر آيات بين يدى الساعة طلوع الشمس من مغربها والدخان والدجال والدابة ونزول عيسى» إلخ.
ترجمہ : ”قیامت کی علامات (کبریٰ) دس ہیں ۔ آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا، دخان، دجال، دابۃ الارض، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا“ ۔
نیز اسی میں ان کا یہ ارشاد بھی بسند صحیح نقل کیا ہے :
«ينزل عيسى ابن مريم إمامًا هاديًا ومقسطًا عادلا - فإذا نزل كسر الصليب وقتل الخنزير ووضع الجزية وتكون الملّة واحدةً ويوضع الأمن في الأرض».
(مصنف عبد الرزاق ج ۱۱ ص ٤٠٠)
ترجمہ : ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام ہادی اور حاکم منصف کی حیثیت سے نازل ہوں گے، پس جب وہ نازل ہوں گے تو صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کر دیں گے، اور دین صرف ایک ہو جائے گا، اور زمین میں امن کا دور دورہ ہوگا“ ۔
حضرت حسن بصریؒ :
امام حسن بصریؒ (م : ۱۱۰) جن کی شہرۂ آفاق شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ تفسیر ابن جریر ج ۶ ص ۱۴ میں ان کا ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے آیت کریمہ ”وَإِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ “ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ آیت سے مراد ہے اہل کتاب کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لانا :
”والله إنّه الآن لحىّ عند الله، ولكن إذا نزل آمنوا به أجمعون “
(تفسیر ابن کثیر ص ٥٧٦ ج ١)
ترجمہ : ”اللہ تعالیٰ کی قسم وہ اب اللہ تعالیٰ کے پاس زندہ ہیں لیکن جب وہ نازل ہوں گے تب سب اہل کتاب ان پر ایمان لائیں
گے۔“
تفسیر درمنثور ج ۲ ص ۴۱ میں ان کا یہ ارشاد نقل کیا ہے :
إن الله رفع إليه عيسى وهو باعثه قبل يوم القيامة مقاماً يؤمن به البر والفاجر .
(ابن کثیر ۱ :۳۶۶، در منثور ۲ :۳۶، أیضاً ابن کثیر ص ۵۷۶ ج ۱)
ترجمہ : ”بے شک اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کو اپنی طرف آسمان پر اٹھا لیا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ بھیجیں گے۔ تب ان پر تمام نیک و بد ایمان لائیں گے۔“
تفسیر ابن کثیر ص ۳۶۶ ج ۱‘ اور تفسیر درمنثور ص ۳۶ ج ۲ میں حضرت حسن بصریؒ کی روایت سے یہ حدیث نقل کی گئی ہے :
«قال رسول الله ﷺ لليهود إن عيسى لم يمت وإنه راجع إليكم قبل يوم القيامة».
ترجمہ : ”آنحضرت ﷺ نے یہود سے فرمایا۔ کہ عیسیٰ ؑ فوت نہیں ہوئے اور وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف دوبارہ لوٹ کر آئیں گے۔“
امام محمد بن سیرینؒ :
امام محمد بن سیرین بصری (م : ۱۱۰ھ) فرماتے ہیں :
ينزل ابن مريم عليه السلام عليه لأمته وممصرتان، بين الأذان والإقامة، فيقولون له : تقدم، فيقول : بل يصلى بكم إمامكم، أنتم أمراء بعضكم على بعض .
(مصنف عبد الرزاق ص ۳۹۹ ج ۱۱)
ترجمہ : ”حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اذان واقامت کے درمیان نازل ہوں گے، آلات جنگ اور دو زرد چادریں ان کے زیب تن ہوں گی، لوگ کہیں گے کہ آگے ہوکر نماز پڑھایئے، آپ فرمائیں گے نہیں، بلکہ تمہارا امام ہی تمہیں نماز پڑھائے گا تم ایک
دوسرے پر امیر ہو“۔ نیز ان کا ارشاد ہے : ” أنّه المهدی الذی یصلّی وراءه عیسیٰ “ ․
(حوالہٴ بالا)
ترجمہ : ”سچے مہدی وہ ہوں گے جن کی اقتدا میں عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھیں گے“۔
امام سیوطیؒ نے اپنے رسالہ ”العرف الوردی“ میں مصنف ابن ابی شیبہ کے حوالے سے امام محمد بن سیرینؒ کا یہ ارشاد ان الفاظ میں نقل کیا ہے : ” المهدی من هذه الأمة وهو الذی یؤم عیسی ابن مریم علیهما السلام “ ․
(الحاوی للفتاوی ص۳۵۵ ج۲، مطبع قدسی قاهره)
ترجمہ : ”مہدی اسی امت میں ہوں گے اور مہدی وہ ہوں گے جن کی اقتدا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھیں گے“۔
امام محمد بن الحنفیہؒ :
حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فرزند حضرت محمد بن الحنفیہ (م : ۸۰ ھ ” آیت کریمہ : ﴿ وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ․ ﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : لیس من أهل الکتاب أحدٌ إلا أتتهُ الملائکة یضربون وجهه ودبره ثم یقال : یا عدو الله ! إنّ عیسی روح الله وکلمته ، کذبت علی الله وزعمت أنّه الله ، وإن عیسی لم یمت وأنّه رفع إلی السماء وهو نازل قبل أن تقوم الساعة فلا یبقی یهودی ولا نصرانی إلا آمن به “ ․
(در منثور ص۲۴۱ ج۲)
ترجمہ : ”اہل کتاب میں سے جو شخص مرتا ہے فرشتے اس کے منہ اور پشت پر مارتے ہیں ، پھر کہا جاتا ہے کہ او اللہ کے دشمن ! بے شک عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں ، تو نے خدا پر جھوٹ
باندھا اور تو نے یہ عقیدہ جمایا کہ وہ خدا ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں بلکہ وہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور قیامت سے پہلے نازل ہوں گے۔ پس اس وقت کوئی یہودی اور نصرانی ایسا نہیں رہے گا جو ان پر ایمان نہ لائے“۔
(در منثور ص ۲۴۱ ج ۲)
ابو العالیہ تابعیؒ ” :
حضرت ابو العالیہ رفیع بن مہران الریاحی البصریؒ (م: ۹۳ھ) جلیل القدر تابعی ہیں، وہ فرماتے ہیں:
ما ترك عيسى ابن مريم حين رفع إلا مدرعة صوف وخفى راع وحذافة يحذف به الطير.
(در منثور ص ۲۳۹ ج ۲)
ترجمہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب اٹھایا گیا تو ان کے پاس صرف یہ چیزیں تھیں، پشم کی ایک گودڑی، چرواہے کے سے جوتے اور ایک غلیل جس سے پرندوں کا شکار کرتے تھے“۔
(در منثور ص ۲۳۹ ج ۲)
”ابو رافع تابعیؒ “:
حضرت ابو رافع نفیع بن رافع المدنی اکابر تابعین میں سے ہیں، ان سے بھی یہی مضمون منقول ہے۔ (حوالہ بالا)
امام زین العابدینؒ ” امام باقرؒ اور امام جعفر صادقؒ ” :
امام جعفر صادق (م: ۱۴۸ھ) اپنے والد امام محمد باقر (م: ۱۱۴ھ) سے، اور وہ اپنے والد ماجد امام علی بن حسین زین العابدین (م: ۹۴ھ) رضی اللہ عنہم سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں:
«كيف تهلك أمة أنا أولها والمهدى وسطها والمسيح آخرها»۔
(مشکوة ص ۵۸۳)
ترجمہ : ”وہ امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے جس کے شروع میں میں ہوں‘ درمیان میں مہدی ہیں اور آخر میں حضرت مسیح علیہ السلام ہوں گے۔“
امام مجاہدؒ :
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مایہ ناز شاگرد حضرت امام مجاہد بن جبیرؒ (م: ۱۰۳ھ) حق تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
صلبوا رجلا غیر عیسی شبهوه بعیسی یحسبون إیاہ، ورفع الله إلیه عیسی حیًّا۔
(در منثور ج۲ ص۲۳۸ وتفسیر ابن جریر ج۶ ص۱۲)
ترجمہ : ”یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بجائے ایک اور آدمی کو سولی پر لٹکایا‘ جسے لوگ عیسیٰ سمجھ رہے تھے‘ اور اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف زندہ اٹھا لیا“۔
نیز در منثور میں بحوالہ ابن ابی شیبہ‘ عبد بن حمید‘ ابن المنذر و ابن ابی حاتم حضرت مجاہد کا یہ قول نقل کیا ہے :
رفع إدریس کما رفع عیسی ولم یمت.
ترجمہ : ”ادریس علیہ السلام کو بھی عیسیٰ علیہ السلام کی طرح آسمان پر اٹھا لیا گیا اور وہ مرے نہیں“۔
امام قتادہؒ :
حضرت قتادہ بن دعامہؒ (م: ۱۱۷ھ) حق تعالیٰ کے ارشاد: ﴿وَإِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ﴾۔
کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
إِذَا نزل آمنت به الأديان كلها ﴿وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا﴾ أَنّه قد بلّغ رسالة ربّه وأقرّ على نفسه بالعبودية.
(در منثور ص ٢٤١ ج ٢ وتفسیر ابن جریر ص ١٤ ج ٦)
ترجمہ : ”جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو تمام اہل مذاہب ان پر ایمان لے آئیں گے اور آپ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے کہ آپ نے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا‘ اور اپنی بندگی کا اقرار کیا تھا“۔
نیز آیت کریمہ ﴿يٰعِيْسٰى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
هذا من المقدم والمؤخر ، وتقديره إنّى رافعك إلىّ ومتوفّيك یعنى بعد ذلك.
(تفسیر ابن کثیر ص ٣٦٦)
ترجمہ : ”آیت میں تقدیم وتاخیر ہے‘ اور مطلب یہ ہے کہ اے عیسیٰ! سردست میں تجھے اٹھانے والا ہوں‘ پھر اس کے بعد آخری زمانے میں تجھے وفات دوں گا“۔
نیز آیت کریمہ ﴿وَإِنَّه لَعَلَمٌ لِّلسَّاعَةِ﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
نزول عيسى عليه السلام عَلَم للساعة .
(در منثور ص ٢٠ ج ٦)
ترجمہ : ”(قرب قیامت میں) عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قیامت کی نشانی ہے“۔
”امام ابو مالک غفاری تابعیؒ“ :
جلیل القدر تابعی حضرت غزوان ابو مالک الغفاری الکوفی آیت کریمہ ﴿وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِه قَبْلَ مَوْتِه﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
ذلك عند نزول عيسى ابن مريم - لا يبقى أحدٌ من أهل الكتاب إلا آمن به.
(تفسير ابن جرير ص١٤ ج٦)
ترجمہ : ”یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے بعد ہوگا، اس وقت اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں رہے گا جو آپ پر ایمان نہ لائے“۔
امام محمد بن زید تابعیؒ :
امام مالکؒ کے استاذ حضرت محمد بن زید تابعیؒ آیت کریمہ ﴿وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :- إِذا نزل عيسى عليه السلام فقتل الدجال لم يبق يهودى فى الأرض إلا آمن به.
(تفسير ابن جرير ص١٤ ج٦)
ترجمہ : ”جب عیسیٰ علیہ السلام (آخری زمانے میں) نازل ہو کر دجال کو قتل کر دیں گے تو کوئی یہودی زمین پر باقی نہیں رہے گا مگر آپ پر ایمان لے آئے گا“۔
امام ابن جریجؒ :
امام عبد الملک بن عبد العزیز بن جریج المکی (م : ۱۵۰ھ) حق تعالیٰ کے ارشاد ﴿اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : معنی متوفيك قابضك ورافعك إلى السماء من غير موت .
(تفسير قرطبی ج٤ ص١٠٠)
ترجمہ : ”متوفیک کے معنی ہیں کہ تجھے اپنی تحویل میں لیکر آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں بغیر موت کے“۔
امام ربیع بن انسؒ :
امام ربیع بن انس البکری البصری الخراسانی (م : ۱۴۰ھ) آیت کریمہ
﴿ اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ ﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
المراد من التوفى النوم، وكان عيسى قد نام فرفعه الله تعالىٰ نائمًا إلى السماء.
(تفسیر بغوی ج ۲ ص ۱۵۰)
ترجمہ : ”توفی سے مراد نیند ہے اور عیسیٰ علیہ السلام سو رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نیند کی حالت میں آسمان پر اٹھا لیا“۔
امام ضحاکؒ:
امام ابو القاسم ضحاک بن مزاحم الہلالی الخراسانی (م مابعد ۱۰۰ھ) آیت کریمہ ﴿ اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ ﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس میں تقدیم وتاخیر ہے۔ امام قرطبیؒ لکھتے ہیں:
قال جماعة من أهل المعانى منهم الضحاك والفراء فى قوله تعالى : ﴿ إِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ ﴾ على التقديم والتأخير، لأن الواو لا توجب الرتبة، والمعنى إنى رافعك إلى ومطهرك من الذين كفروا، ومتوفيك بعد أن تنزل من السَّمَاءِ.
(تفسیر بغوی ج ۲ ص ۱۵۰ وتفسیر قرطبی ج ۴ ص ۹۹)
ترجمہ : ”اہل معانی کی ایک جماعت بشمول امام ضحاک وامام فراءؒ حق تعالیٰ کے ارشاد : ﴿انی متوفیک و رافعک الی﴾ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ تقدیم وتاخیر پر محمول ہے کیونکہ واؤ ترتیب کو ثابت نہیں کرتی، مطلب یہ کہ میں سردست تجھ کو اپنی طرف آسمان پر اٹھانے والا ہوں، اور ان کافروں کی صحبت سے پاک کرنے والا ہوں، اور جب تم آسمان سے نازل ہوگے اس کے بعد تجھے وفات دوں گا“۔
اور قرطبیؒ نے امام ضحاکؒ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کا
مفصل واقعہ بھی نقل کیا ہے۔
(تفسیر قرطبی ص ۱۰۰ ج ۴)
”ائمہ اربعہ“ :
حضرات تابعینؒ کے بعد امت اسلامیہ کے سب سے بڑے مقتدا ائمہ اربعہ‘ امام ابو حنیفہ‘ امام مالک‘ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل (رحمہم اللہ) ہیں۔ چنانچہ بعد کی پوری امت ان کی جلالت قدر پر متفق ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے نزدیک کسی مسئلہ پر ان چار اکابر کا اتفاق‘ اجماع امت کی دلیل ہے“۔
(عقد الجید ”مترجم“ باب تاکید الاخذ بهذه المذاهب
الاربعة و التشدید فی ترکها والخروج عنها ص ۵۳)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے میں نازل ہونے کا عقیدہ ائمہ اربعہ کی تصریحات سے بھی ثابت ہے۔
امام اعظم ابو حنیفہؒ :
الامام الاعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الکوفیؒ (م ۱۵۰ھ) ”فقہ اکبر“ میں فرماتے ہیں:
وخروج الدجال ويأجوج ومأجوج وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى عليه السلام من السماء وسائر علامات يوم القيامة على ما وردت به الأخبار الصحيحة حق كائن - وَاللّٰهُ يَهْدِي مَنْ يشاء إلى صراط مستقيم.
(شرح فقہ اکبر ملا علی قاری ص ۱۳۶ مطبوعہ مجتبائی ١٣٤٨ھ)
ترجمہ : ”دجال اور یاجوج ماجوج کا نکلنا اور آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا اور عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور دیگر علامات قیامت‘ جیسا کہ احادیث صحیحہ ان میں وارد ہوئی ہیں سب حق ہیں‘ ضرور ہوں گی“
امام مالکؒ :
امام دارالھجرۃ مالک بن انس الاصبحیؒ (م : ۱۷۹ھ) ”العتيبيہ“ میں فرماتے ہیں:
قال مالك : بين الناس قيام يستمعون لإقامة الصلاة فتغشاهم غمامة فإذا عيسى قد نزل.
(شرح مسلم للابى ص ۲۶۶ ج ۱)
ترجمہ : ”دریں اثنا کہ لوگ کھڑے نماز کی اقامت سن رہے ہوں گے اتنے میں ان کو ایک بدلی ڈھانک لے گی، کیا دیکھتے ہیں کہ عیسیٰؑ نازل ہو چکے ہیں۔“
”العتيبہ“ میں امام مالکؒ کا یہ ارشاد بھی منقول ہے:
كان أبو هريرة رضى الله عنه يلقى الفتى الشاب، فيقول : يا ابن أخي ! إنَّك عسى أن تلقى عيسى ابن مريم فاقرأه منّى السلام.
(حوالہ مذکورہ بالا ص ۲۶۵ ج ۱)
ترجمہ : ”حضرت ابو ہریرہؓ کسی نوجوان سے ملتے تو اس سے فرمایا کرتے تھے کہ بھتیجے ! شاید تم عیسیٰ بن مریمؑ سے ملو، تو آپؑ کی خدمت میں میرا سلام کہہ دینا“۔
نیز موطا ص ۲۶۸ میں امام مالکؒ نے ایک باب کا عنوان قائم کیا ہے ۔ ”صفة عيسى بن مريم و الدجّال“ اور اس میں حضرت عیسیٰؑ اور دجال دونوں کے حلیے کی حدیث نقل کی ہے، اور یہ ٹھیک وہی حلیہ ہے جو بوقت خروج دجال کا اور بوقت نزول حضرت عیسیٰؑ کا احادیث طیبہ میں بیان کیا گیا ہے ۔ اس سے واضح ہے کہ امام مالکؒ کا عقیدہ بھی وہی ہے جو پوری امت کا ہے کہ آخری زمانے میں دجال نکلے گا تو اس کو قتل کرنے کے لئے عیسیٰؑ نازل ہوں گے۔
امام احمد بن حنبلؒ :
امام احمد بن محمد بن حنبل الشیبانیؒ (م : ۲۴۱ھ) کی کتاب ”مسند“ چھ ضخیم
جلدوں میں امت کے سامنے موجود ہے، جس میں بہت سی جگہ نزول عیسیٰ ؑ کا عقیدہ درج ہے۔ حوالہ کے لئے مندرجہ ذیل صفحات کی مراجعت کی جائے ۔
جلد اول : ۳۷۵ جلد دوم : ۲۲‘ ۳۹‘ ۶۸‘ ۸۳‘ ۱۲۲‘ ۱۲۶‘ ۱۴۴‘ ۱۵۴‘ ۱۶۶‘ ۲۴۰‘ ۲۷۲‘ ۲۹۰‘ ۲۹۸‘ ۲۹۹‘ ۳۳۶‘ ۳۹۴‘ ۴۰۶‘ ۴۱۱‘ ۴۷۳‘ ۴۸۴‘ ۴۹۴‘ ۵۱۳‘ ۵۳۸‘ ۵۴۰- جلد سوم : ۳۴۵‘ ۴۶۸‘ ۴۸۴‘ ۴۲۰ جلد چہارم : ۱۸۱‘ ۱۸۲‘ ۲۱۶‘ ۲۱۷‘ ۳۹۰‘ ۴۲۹- جلد پنجم : ۱۳‘ ۱۶‘ ۷۸- جلد ششم : ۷۵-
امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ :
امام ابو جعفر الطحاویؒ (م: ۳۶۱ھ) ”العقیدۃ الطحاویہ“ کی تمہید میں لکھتے ہیں :
هذا ذكر بيان عقيدة أهل السنة والجماعة على مذهب فقهاء الملة أبي حنيفة نعمان بن ثابت الكوفى وأبي يوسف يعقوب ابن إبراهيم الأنصارى ومحمد بن الحسن الشيبانى رضوان الله عليهم أجمعين وما يعتقدون من أصول الدين ، ويدينون به لربّ العالمين.
(عقيدة الطحاوى ص ۵)
ترجمہ : ”اس رسالہ میں عقیدۂ اہل سنت والجماعت درج کیا جاتا ہے جو فقہائے ملت‘ امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی‘ امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری‘ (م: ۲۰۸ھ) اور امام محمد بن حسن شیبانی‘ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مذہب کے مطابق ہے‘ اور ان اصول دین کا بیان ہے جن پر یہ حضرات عقیدہ رکھتے تھے اور جن
کے مطابق رب العالمین کی اطاعت و بندگی کرتے تھے“۔ اس تمہید کے بعد انہوں نے جو عقائد درج کئے ہیں ان میں خروج دجال، اور عیسیٰ ؑ کے آسمان سے نازل ہونے کا عقیدہ بھی ہے۔ (ان کی یہ عبارت چوتھی صدی کے ذیل میں آئے گی) امام طحاویؒ کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف فقہائے ملت، ائمہ ثلاثہ کا بلکہ تمام سلف صالحین اہل سنت والجماعت کا بلا اختلاف یہی عقیدہ تھا۔
تیسری صدی
امام ابو داؤد طیالسیؒ :
الامام الحافظ سلیمان بن داؤد بن الجارود ابو داؤد الطیالسی البصری (م : ۱۳۳ ۔ ۲۰۴ھ) نے اپنی مسند میں خروج دجال اور نزول عیسیٰ ؑ کی احادیث متعدد جگہ درج کی ہیں۔ تفصیل کے لئے مندرجہ ذیل صفحات کی طرف مراجعت فرمائیے۔
مسند حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ حدیث نمبر ۴۴۲ ص ۵۸ مسند ابی برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ حدیث نمبر ۹۲۳ ص ۱۲۴ مسند حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ حدیث نمبر ۱۰۶۷ ص ۱۴۳ مسند سفینہ رضی اللہ عنہ مولیٰ رسول اللہ ﷺ حدیث نمبر ۱۱۰۶ ص ۱۵۰ مسند مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ حدیث نمبر ۱۲۲۷ ص ۱۷۰ مسند محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ حدیث نمبر ۱۲۹۵ ص ۱۸۳ مسند اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا حدیث نمبر ۱۶۳۳ ص ۲۲۷ مسند عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حدیث نمبر ۱۸۱۱ ص ۲۴۹ مسند ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث نمبر ۲۳۲۶ ص ۳۰۶ ” ” ” ” حدیث نمبر ۲۴۴۹ ص ۳۰۸
” ” ” ” حدیث نمبر ۲۰۸۳۲ ص ۳۹۷ ” ” ” ” حدیث نمبر ۲۰۸۴۱ ص ۳۹۸ ” ” ” ” حدیث نمبر ۲۰۸۴۹ ص ۳۹۸ ” ” ” ” حدیث نمبر ۲۰۸۷۵ ص ۳۹۹ ” ” ” ” حدیث نمبر ۲۰۸۷۸ ص ۳۹۹ مسند ابن عباس رضی اللہ عنہما حدیث نمبر ۷۱۰ ص ۳۵۳
امام عبد الرزاقؒ :
امام ہمام عبدالرزاق بن ہمام الصنعانی رحمہ اللہ (۱۲۶ھ - ۲۱۱ھ) نے اپنی مشہور کتاب ”المصنف“ میں علامات قیامت کے ضمن میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث کی تخریج کی ہے دیکھئے جلد ۱۱، صفحات ۳۷۷، ۳۷۸، ۳۹۷، ۳۹۸، ۳۹۹ اور جلد ۱۱ صفحہ ۳۹۹ پر ایک مستقل باب ”باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام“ کے عنوان سے قائم کیا ہے اور اس کے تحت سات حدیثیں درج کی ہیں۔
امام حمیدیؒ :
امام بخاریؒ کے استاذ الامام الحافظ ابوبکر عبداللہ بن الزبیر بن عیسیٰ الحمیدی (م : ۲۱۹ھ) نے اپنی مسند میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کی مندرجہ ذیل احادیث تخریج کی ہیں۔
- ۱۔ حضرت ابو سریحہ الغفاری ؓ کی حدیث جس میں آنحضرت ﷺ نے
قیامت کی دس علامتوں میں دجال کا نکلنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا بھی ذکر فرمایا ہے دیکھئے ص ۳۶۲ ج ۲۔
- ۲۔ حضرت مجمع بن جاریہ ؓ کی حدیث جس میں آنحضرت ﷺ نے دجال کا
تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا : ”والذی نفسی بیدہ لیقتلہ ابن مریم بباب لد“۔
(ص ۳۶۰ ج ۲ حدیث نمبر ۸۲۸)
ترجمہ : ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اس کو باب لد میں قتل کریں گے“۔
۳۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث، جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فج الروحا سے حج اور عمرے کا احرام باندھیں گے۔
(ص ۴۲۴ ج ۲، حدیث ۱۰۰۵)
۴۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تم میں امام ہدیٰ اور حاکم منصف کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ الخ
(ص ۴۶۸ ج ۲، حدیث ۱۰۹۸)
امام ابو عبید قاسمؒ بن سلام :
الامام الحافظ الفقیہ اللغوی ابو عبید القاسم بن سلام الھروی (م : ۲۲۴ ھ) نے اپنی کتاب غریب الحدیث میں دجال کے بارے میں یہ حدیث نقل کی ہے :۔
وقال أبو عبيد فى حديثه : إنه سمع رجلا حين فتحت جزيرة العرب أو قال : فتحت مكة ، يقول : أبهوا الخيل فقد وضعت الحرب أوزارها ، فقال رسول الله ﷺ : «لا تزالون يقاتلون الكفار حتى يقاتل بقيتكم الدجَّال»۔
(غريب الحديث ص ١١٤ - ٣)
ترجمہ : ”جب جزیرہ عرب یا مکہ فتح ہوا، تو ایک شخص نے کہا کہ اپنے گھوڑوں کو راحت دو، کیونکہ لڑائی ہتھیار ڈال چکی ہے، اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم ہمیشہ کفار سے جہاد کرتے رہو گے۔ یہاں تک کہ تمہارے بقیہ لوگ (عیسیٰ علیہ السلام کی معیت میں) دجال سے قتال کریں گے“۔
نیز امام ابو عبید رحمہ اللہ نے یاجوج ماجوج کے بارے میں مندرجہ ذیل روایت نقل کی ہے۔
وقال أبو عبيد فى حديث أبى هريرة فى يأجوج ومأجوج : إنه
يسلط عليهم العنف، فيأخذ في رقابهم.
(ص ۲-۳ ج ٤ ط ۱۳۸۵ھ دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن)
ترجمہ : ”یاجوج و ماجوج کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آتا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ ایک جرثومہ ان پر مسلط کر دیں گے جو ان کی گردن میں پھوڑے کی شکل میں نمودار ہوگا“۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ دجال سے قتال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہوگا اور یہ کہ یاجوج و ماجوج کا خروج بھی آپ ہی کے زمانے میں ہوگا۔
امام ابوبکر بن ابی شیبہؒ :
شیخ المحدثین الامام الحافظ ابوبکر عبد اللہ بن ابی شیبہ ابراہیم بن عثمان الواسطی الکوفی (م: ۲۳۵ھ) نے ”مصنف“ (کتاب الفتن) میں بہت سی احادیث ذکر کی ہیں اور ان کے حوالے سے متعدد احادیث درمنثور میں نقل کی گئی ہیں۔ امام قرطبی لکھتے ہیں :
وذكر ابن أبي شيبة بسند صحيح عن ابن عباس رضى الله عنهما لما أراد الله تبارك وتعالى أن يرفع عيسى إلى السماء... إلى قوله: ورفع الله تعالى عيسى إلى السماء عن روزنة كانت في البيت.
(تفسیر قرطبی ص ۱۰۰ ج ٤)
ترجمہ: ”اور امام ابن ابی شیبہ نے بسند صحیح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا ..... پوری حدیث کے آخر میں ہے کہ ۔ اور اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو مکان کے روشن دان سے آسمان کی طرف اٹھالیا“۔
امام ابن قتیبہؒ :
ابو محمد عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ (۲۱۳ - ۲۷۶) اپنی کتاب ”تاویل مختلف
الحديث“، میں لکھتے ہیں:
(قالوا: حديثان متدافعان متناقضان) قالوا: رويتم أن النبي ﷺ قال: «لا نبي بعدي، ولا أمة بعد أمتي، فالحلال ما أحله الله تبارك وتعالى على لسانى إلى يوم القيامة، والحرام ما حرم الله تعالى على لسانى إلى يوم القيامة».
ثم رويتم أن المسيح عليه السلام ينزل فيقتل الخنزير، ويكسر الصليب ويزيد في الحلال.
وعن عائشة رضى الله تعالى عنها أنها كانت تقول : "قولوا لرسول الله ﷺ: خاتم الأنبياء، ولا تقولوا : لا نبي بعده" وهذا متناقض.
وقال أبو محمد: ونحن نقول: إنه ليس في هذا تناقض ولا اختلاف؛ لأن المسيح ﷺ نبي مقدم، رفعه الله تعالى، ثم ينزله في آخر الزمان علمًا للساعة، قال الله تعالى : ﴿وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا﴾ ، وقرأ بعض القراء "وإنه لَعَلَمٌ للساعة".
وإذا نزل المسيح عليه السلام لم ينسخ شيئًا مما أتى به محمد رسول الله ﷺ ولم يتقدم الإمام من أمته، بل يقدمه، ويصلى خلفه، وأما قوله: ويزيد في الحلال، فإن رجلا قال لأبي هريرة: ما يزيد في الحلال إلا النساء، فقال : وذاك، ثم ضحك أبو هريرة.
قال أبو محمد : وليس قوله: يزيد في الحلال أنه يحل لرجل أن يتزوج خمسًا، ولا ستًا، وإنما أراد أن المسيح عليه السلام لم ينكح النساء، حتى رفعه الله تعالى إليه، فإذا أهبطه تزوج امرأة فزاد فيما أحل الله له، أى ازداد منه، فحينئذ لا يبقى أحد من أهل الكتاب إلا علم أنه عبد الله عز وجل وأيقن أنه بشر.
وأما قول عائشة رضى الله عنها : "قولوا لرسول الله ﷺ : خاتم الأنبياء، ولا تقولوا: لا نبى بعده" فإنها تذهب إلى نزول عيسى عليه السلام وليس هذا من قولها ناقضاً لقول رسول الله ﷺ : «لا نبى بعدى» لأنه أراد لا نبى بعده ينسخ ما جئت به، كما كانت الأنبياء ﷺ تبعث بالنسخ، وأرادت هى "ولا تقولوا: إن المسيح لا ينزل بعده".
ترجمہ : معترضین نے کہا کہ دو حدیثیں آپس میں متعارض ہیں، ایک طرف تو تم یہ روایت کرتے ہو کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کے بعد کوئی امت نہیں۔ پس جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے میری زبان سے حلال کر دیا وہ قیامت تک حلال رہے گی، دوسری طرف یہ حدیث بھی روایت کرتے ہو کہ: عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑیں گے اور حلال میں اضافہ کریں گے، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرمایا کرتی تھیں کہ حضور اکرم ﷺ کو خاتم الانبیا کہو مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں، پس یہ تناقض ہے۔
ابو محمد فرماتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں اور نہ ہی کوئی اختلاف ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ ؑ آنحضرت ﷺ سے پہلے کے زمانے کے نبی ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا تھا پھر آخری زمانے میں ان کو قیامت کی نشانی کے طور پر نازل فرمائیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”اور وہ (یعنی عیسیٰ ؑ ) نشانی ہے قیامت کی، پس اس میں ہرگز شک نہ کرو“، اور جب مسیح ؑ نازل ہوں گے تو آنحضرت ﷺ کے دین کی کسی بات کو منسوخ نہیں کریں گے اور (اُتر کر پہلی نماز میں) آپ ﷺ کی امت کے امام سے آگے نہیں ہوں گے، بلکہ اس کے پیچھے نماز پڑھیں
گے ۔
رہا آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد کہ وہ حلال میں اضافہ کریں گے ، تو اس کی تفسیر خود حدیث میں موجود ہے۔ چنانچہ جب حضرت ابو ہریرہ ؓ نے یہ حدیث روایت کی تو ایک شخص نے کہا کہ حلال میں اضافہ عورتوں کے سوا اور کیا کریں گے؟ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے ہنس کر فرمایا ، یہی مطلب ہے ۔
امام ابو محمد بن قتیبہ فرماتے ہیں کہ ارشاد نبوی ﷺ ”حلال میں اضافہ کریں گے“ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی شخص کے لئے اس وقت پانچ یا چھ شادیاں جائز ہوں گی بلکہ مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے رفع آسمانی سے قبل شادی نہیں کی تھی۔ پس جب اللہ تعالیٰ ان کو قرب قیامت میں نازل فرمائیں گے تو ایک عورت سے شادی کریں گے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں ان کے لئے حلال کی ہیں ان میں اس ایک چیز کا اضافہ کر لیں گے۔ (نیز اس کے لئے شیخ محمد طاہر پٹنی صاحب مجمع البحار کا حوالہ دیکھئے) اس وقت تمام اہل کتاب کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں اور انہیں یقین آجائے گا کہ وہ واقعی بشر ہیں۔
رہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ ارشاد کہ ”رسول اللہ ﷺ کو خاتم الانبیا کہو ، مگر یہ نہ کہو آپ کے بعد کوئی نبی نہیں“۔ تو ان کا اشارہ حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کی طرف ہے اور ان کا یہ قول آنحضرت ﷺ کے ارشاد ”لا نبی بعدی کے خلاف نہیں ، کیونکہ اس ارشاد کا یہ مطلب ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو میرے لائے ہوئے دین کی کسی بات کو منسوخ کر دے جب کہ انبیا کرام علیہم السلام آکر بعض احکام کو منسوخ کر دیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ارشاد کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل نہیں ہوں گے“۔
ائمہ محدثین :
ائمہ اربعہ کی طرح صحاح ستہ کے مولفین .... امام بخاری، امام مسلم، امام ابوداؤد، امام نسائی، امام ترمذی اور امام ابن ماجہ رحمہم اللہ .... جن کی کتابیں علم حدیث کا مدار اعظم ہیں ..... بھی اس عقیدہ پر اجماع رکھتے ہیں۔ ذیل میں ان حضرات کی تصریحات ملاحظہ ہوں :
امام بخاریؒ :
الامام الحافظ الحجة امیر المومنین فی الحدیث محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن المغیرہ بن بردزبہ الجعفی البخاریؒ (م : ۲۵۶ھ) کا عقیدہ ان کی کتاب ”الجامع الصحیح“ سے واضح ہے صحیح بخاری کتاب الانبیا میں حضرت عیسیٰؑ کے حالات کے ضمن میں انہوں نے ایک مستقل باب ”باب نزول عیسیٰ علیہ السلام“ کے عنوان سے قائم کیا ہے۔
(ص ۴۹۰ ج ۱)
علامہ کرمانیؒ شارح بخاری فرماتے ہیں :
أى نزوله من السَّمَاءِ إلى الأرض.
ترجمہ : ”یعنی عیسیٰؑ کے آسمان سے زمین پر اترنے کا بیان“۔
امام مسلمؒ :
الامام الحافظ مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری النیسابوری (۲۰۴-۲۶۱ھ) نے صحیح مسلم میں نزول عیسیٰؑ کا عقیدہ ”کتاب الایمان“ میں درج کیا ہے۔ شارح مسلم امام محی الدین نوویؒ (م : ۶۷۶ھ) نے اس کا عنوان یہ قائم کیا ہے :
باب نزولِ عیسى ابن مریم علیہ السّلام حاكماً بشریعة نبیّنا ﷺ وإکرام اللہ ھذہ الأمّة زادھا اللہ شرفاً.
ترجمہ : ”حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کا نازل ہو کر ہمارے نبی ﷺ کی شریعت پر عمل کرنا اور اللہ تعالیٰ کا اس امت مرحومہ کو شرف بخشنا“۔
(ص ۷۸ ج ۱)
اس سے معلوم ہوا کہ نزول عیسیٰ ؑ کا عقیدہ ایمانیات کا جزو ہے اور یہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا بعد از نزول آنحضرت ﷺ کی پیروی کرنا اور امت محمدیہ (علی صاحبھا الصلوۃ و السلام) میں شامل ہونا اس امت کے لئے شرف ومنزلت کا موجب ہے ۔
نیز علاماتِ قیامت کے ضمن میں بھی امام مسلمؒ نے دجال کے خروج اور حضرت عیسیٰ ؑ کے اس کو قتل کرنے کی احادیث ذکر کی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کا خروج اور عیسیٰ ؑ کا آسمان سے نازل ہونا علامات قیامت میں سے ہے ۔
امام ابو داؤدؒ :
امام ابو داؤد سلیمان بن الاشعث السجستانی (م : ۲۷۵ھ) نے اپنی مشہور کتاب ”سنن ابی داؤد“ (ص ۵۹۳۔ ۵۹۴) میں علامات قیامت کے ضمن میں ”خروج الدجال“ کا باب قائم کیا ہے اور اس کے تحت حضرت عیسیٰ ؑ کے نازل ہونے اور دجال کو قتل کرنے کی احادیث ذکر کی ہیں ۔
امام نسائیؒ :
الامام الحافظ احمد بن شعیب بن علی سنان بن بحر بن دینار ابو عبد الرحمٰن النسائی (۲۱۵۔ ۳۰۳ھ) نے سنن مجتبیٰ میں ”باب غزوۃ الھند“ کے زیر عنوان یہ حدیث روایت کی ہے :
عن ثوبان مولى رسول الله ﷺ قال : قال رسول الله ﷺ : «عصابتان من أمتى أحرزهما الله من النار عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسى ابن مريم عليهما السّلام».
(سنن نسائی ص ۶۳ ج ۲)
ترجمہ : ”حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، میری امت کی دو جماعتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے بچالیا۔ ایک وہ جماعت جو ہندوستان کا جہاد کرے گی۔ اور دوسری وہ جماعت جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہوگی“۔
حافظ عماد الدین ابن کثیرؒ حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کی حدیث نقل کر کے لکھتے ہیں:
هذا إسناد صحيح إلى ابن عباس، ورواه النسائى عن أبى كريب عن أبى معاوية بنحوه
(تفسير ابن كثير ص ٥٧٥ ج ١)
ترجمہ : ”اس حدیث کی سند ابن عباس تک صحیح ہے اور اس کو امام نسائی نے بروایت ابو کریب، ابو معاویہ سے بھی ہم معنی الفاظ میں نقل کیا ہے“۔
(البدایہ والنہایہ ص ۹۲ ج ۲)
امام ترمذیؒ :
امام ترمذیؒ (ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورۃ بن موسیٰ) (م: ۲۷۹ھ) نے ”جامع ترمذی“ ابواب الفتن میں ”باب ما جاء فی نزول عیسیٰ علیہ السلام“ کا عنوان قائم کیا ہے۔ (ص ۴۲ ج ۲)
نیز دجال کے بارے میں متعدد ابواب قائم کئے ہیں، ان میں ایک باب کا عنوان ہے ”باب ما جاء فی قتل عیسیٰ بن مریم الدجال“ اور اس کے تحت حضرت مجمع بن جاریہ ؓ کی یہ حدیث نقل کر کے کہ حضرت عیسیٰ ؑ دجال کو باب لدّ پر قتل کریں گے، پندرہ صحابہ کرام کا حوالہ دیا ہے جن سے اس مضمون کی احادیث
مروی ہیں۔
امام ابن ماجہؒ :
امام محمد بن یزید ابن ماجہؒ (م: ۲۷۳ھ) صاحب السنن نے ابواب الفتن میں ایک باب ”فتنة الدجال وخروج عيسى بن مريم عليهما السلام“ کے عنوان سے قائم کیا ہے (ص ۳۰۵) اس کے تحت حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول عن السماء پر متعدد احادیث درج کی ہیں۔
چوتھی صدی
امام ابن دریدؒ :
امام لغت وادب ابوبکر محمد بن حسن بن درید الازدی البصری (م: ۳۲۱ھ) ”جمهرة اللغة“ (ج ۱ ص ۷۶) میں لکھتے ہیں:
ولُدّ موضع بفلسطين وجاء فى الحديث الدجّال يقتله المسيح بباب لُدّ.
ترجمہ : ”اور ’لُد‘ فلسطین میں ایک جگہ کا نام ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ دجال کو حضرت مسیح ؑ باب لُد پر قتل کریں گے“۔
امام ابوالحسن اشعریؒ :
چوتھی صدی کے مجدد امام اہل سنت ابوالحسن علی بن اسماعیل الاشعری (۲۷۰ ھ ۔ ۳۲۴) ”کتاب الابانة“ میں اہل حق کے عقائد ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ونقر بخروج الدجّال كما جاءت به الرواية عن رسول الله ﷺ.
(کتاب الابانة: ص۹)
ترجمہ : ”اور ہم اقرار کرتے ہیں دجال کے خروج کا، جیسا کہ
اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ سے احادیث منقول ہیں“۔ نیز ص ۳۸ پر لکھتے ہیں :
وقال الله عزّ وجلّ لعيسى ابن مريم عليه السلام : ﴿إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ﴾ ، وقال : ﴿وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ﴾، وأجمعت الأمة على أن الله عزّ وجلّ رفع عيسى إلى السماء.
(كتاب الإبانة ص ۳۸)
ترجمہ : ”اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ سے فرمایا کہ ”میں تجھے اپنے قبضے میں لینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں“ اور فرمایا : ”اور انہوں نے عیسیٰ ؑ کو ہرگز قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف اٹھالیا“، اور امت کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کو آسمان پر اٹھالیا“۔
امام اہل سنت کی اس تصریح سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا آسمان پر زندہ اٹھایا جانا امت کا اجماعی عقیدہ ہے ۔ دوم یہ کہ قرآن کریم کی مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں جس رفع الی اللہ کا ذکر ہے اس سے باجماع امت رفع الی السماء مراد ہے ۔
امام اشعری ”اہل ثغر کے نام خط میں تحریر فرماتے ہیں :
الإجماع الثانى والأربعون : وأجمعوا على أن شفاعة النبي ﷺ لأهل الكبائر... وعلى أن الإيمان بما جاء من خبر الإسراء بالنبي ﷺ إلى السموات واجبٌ، وكذلك ما روى من خبر الدجال ونزول عيسى ابن مريم وقتله الدجال وغير ذلك من سائر الآيات التي تواترت الروايات بين يدي الساعة من طلوع الشمس من مغربها وخروج الدابة وغير ذلك مما نقله الثقات.
(رسالة أهل الثغر ص۲۸۸ مطبوعه العلوم والحكم بالمدينة المنورة)
ترجمہ : ”بیالیسواں اجماع : اور اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ اہل کبائر کے لئے آنحضرت ﷺ کی شفاعت برحق ہے نیز اس
پر بھی ان کا اجماع ہے کہ آنحضرت ﷺ کے واقعہ معراج پر ایمان لانا واجب ہے اسی طرح ان احادیث پر ایمان لانا بھی واجب ہے جو خروج دجال‘ نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اور ان کے دجال کو قتل کرنے کے بارے میں آئی ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر علامات قیامت جن میں احادیث متواترہ وارد ہوئی ہیں‘ یعنی آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا‘ دابۃ الارض کا نکلنا اور دیگر علامات جو ثقہ راویوں سے ہم تک نقل کی گئی ہیں‘ ان سب پر ایمان لانا واجب ہے“۔
امام ابن ابی حاتم رازیؒ ” :
امام حافظ ابو محمد عبد الرحمن بن ابی حاتم الرازی (م: ۳۲۷ھ) نے اپنی مشہور کتاب ”علل الحدیث“ میں حضرت ابو ہریرہؓ کی یہ مرفوع حدیث نقل کی ہے:
لیہبطنّ عیسٰی ابن مریم حكماً عدلا وإماماً مقسطاً ولیسلكنّ فج الروحاء حاجاً أو معتمراً ولیسلمنّ علیّ فلأردن علیہ .
(ص۴۱۳ ج۲)
ترجمہ : ”حضرت عیسیٰ ؑ حاکم عادل اور امام منصف کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ فج روحا سے حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر گزریں گے اور (روضہ اطہر پر) مجھے سلام کہیں گے اور میں ان کے سلام کا جواب دوں گا“۔
اور اس کی سند نقل کر کے امام ابو زرعہ رازیؒ ” (م: ۲۶۴ھ) کے حوالے سے کہتے ہیں ”وھذا اصح“ ... ”اور یہ زیادہ صحیح ہے“۔
امام ابوبکر آجریؒ ” :
امام ابوبکر محمد بن الحسین الآجریؒ ” (م: ۳۶۰ھ) اپنی بے نظیر کتاب
”الشريعة“ میں اصول وعقائد اسلامیہ ذکر فرماتے ہیں۔ اس میں ایک مستقل عنوان یہ ہے : ”كتاب التصديق بالدجال وانه خارج في هذه الامة“ (ص ۲۷۲) اور اسی میں ایک باب کا عنوان ہے :
الإيمان بنزول عيسى ابن مريم عليه السلام حكماً عدلا فيقيم الحق ويقتل الدجال .
(ص ۳۸۰)
ترجمہ : ”اس عقیدے پر ایمان لانا کہ حضرت عیسیٰ ؑ حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہو کر دین حق کو قائم کریں گے اور دجال کو قتل کریں گے“۔
اس باب میں آنحضرت ﷺ کی احادیث صحیحہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آثار نقل کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
قال محمد بن الحسين (رحمه الله) : والذين يقاتلون مع عيسى عليه السلام هم أمّة محمد ﷺ والذين يقاتلون عيسى هم اليهود مع الدجّال فيقتل عيسى الدجّال، ويقتل المسلمون اليهود، ثم يموت عيسى عليه السلام ويصلى عليه المسلمون، ويدفن مع النبي ﷺ ومع أبى بكر وعمر رضى الله عنهما.
(ص ۳۸۱)
ترجمہ : ”(مصنف) محمد بن حسین (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ جو لوگ عیسیٰ ؑ کی معیت میں قتال کریں گے یہ محمد ﷺ کی امت ہوگی اور جو لوگ عیسیٰ ؑ کے مقابلہ میں لڑیں گے وہ دجال کی معیت میں یہود ہوں گے، پس حضرت عیسیٰ ؑ دجال کو اور مسلمان یہود کو قتل کریں گے، پھر عیسیٰ ؑ کا انتقال ہوگا تو مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور وہ (روضہ اطہر میں) آنحضرت ﷺ، اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ دفن ہوں گے“۔
امام طحاویؒ :
امام ابوجعفر احمد بن محمد بن سلامہ الطحاوی المصریؒ (م : ۳۲۱ھ)
”عقیدہ طحاوی“ میں فرماتے ہیں : ونؤمن بخروج الدجّال ونزول عيسى ابن مريم عليهما السلام من السماء، وبخروج يأجوج ومأجوج ونؤمن بطلوع الشمس من مغربها وخروج دابة الأرض من موضعها.
(عقيدة طحاوی : ص١٣)
ترجمہ : ”اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ دجال نکلے گا اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور یاجوج وماجوج نکلیں گے اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ آفتاب مغرب سے نکلے گا اور دابۃ الارض اپنی جگہ سے نکلے گا“۔
امام ابو الحسین ”الملطی الشافعی“ :
امام ابو الحسین محمد بن احمد عبدالرحمٰن الملطی العسقلانی الشافعیؒ (م : ٣٧٧ ھ) اپنی کتاب ”التنبيه والرد على اهل الاهواء والبدع“ میں فرماتے ہیں :
قال أبو عاصم : فأنكر جهم أن يكون الله فى السماء دون الأرض، وقد دلّ فى كتابه أنّه فى السماء دون الأرض حين قال لعيسى عليه السلام : ﴿إِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا﴾ ، وقوله : ﴿وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ﴾ .
ترجمہ : ”ابو عاصم کہتے ہیں کہ جہم بن صفوان نے اللہ تعالیٰ کے آسمان میں ہونے کا انکار کیا ہے مگر اللہ نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ وہ آسمان میں ہے زمین میں نہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ سے فرمایا کہ ”میں تجھے اپنے قبضے میں لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ اور تجھے ان کافروں سے پاک کرنے والا ہوں“۔ نیز فرمایا : ”اور یہود نے عیسیٰ ؑ کو ہرگز قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف اٹھالیا“۔
امام ابو اللیث سمرقندیؒ :
امام ابو اللیث نصر بن محمد بن احمد بن ابراہیم السمرقندیؒ (م : ۳۹۳ھ) نے اپنی مشہور کتاب ”تنبیہ الغافلین“ میں ”باب علامة الساعة“ کا عنوان قائم کرکے اس کے ذیل میں خروج دجال اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ درج کیا ہے۔
(دیکھئے ص ۱۹۲‘ ۱۹۴)۔
امام ابن ابی زید القیروانی المالکی :
امام مغرب عبداللہ بن ابی زید عبدالرحمٰن النفزی القیروانی المالکیؒ (م : ۳۸۶ یا ۳۸۹ ھ) اپنی کتاب ”الجامع فی السنن والآداب والمغازی والتاریخ“ میں اجماعی عقائد کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
فما أجمعت عليه الأمة من أمور الديانة ومن السنن التى خلا فها بدعة وضلالة... إلى قوله : والإيمان بما جاء من خبر الإسراء بالنبى ﷺ إلى السماوات على ما صححت الروايات وأنه من آيات ربه الكبرى، وبما ثبت من خروج الدجال ونزول عيسى ابن مريم عليه السلام وقتله إيّاه - وبالآيات التى تكون بين يدى الساعة من طلوع الشمس من مغربها وخروج الدابة وغير ذلك مما صححت الروايات.
(كتاب الجامع للقيروانى ص ١١٤ المطبوعة بمؤسسة الرسالة تونس ١٤١١هـ)
ترجمہ : ”پس وہ اعتقادی امور جن پر امت نے اجماع کیا ہے اور وہ سنن جن کے خلاف عقیدہ رکھنا بدعت وضلالت ہے یہ ہیں... اور آنحضرت ﷺ کے معراج آسمانی پر ایمان رکھنا، جیسا کہ صحیح روایات میں آیا ہے اور یہ کہ آپ ﷺ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ اور اس عقیدہ پر ایمان رکھنا جو (احادیث صحیحہ سے) ثابت ہے۔ یعنی دجال کا خروج، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا
اور دجال کو قتل کرنا، اور ان علامات قیامت پر ایمان رکھنا جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوں گی۔ جیسے آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا اور دابۃ الارض کا نکلنا، اور دیگر علامات قیامت جو احادیث صحیحہ میں وارد ہیں“۔
امام ابن خزیمہؒ :
الامام الحافظ ابوبکر محمد بن اسحاق ابن خزیمہ السلمی (۲۲۳ - ۳۱۱) کتاب التوحید میں فرقہ جہمیہ کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
إن الرب جل وعلا في السماء لا كما قالت الجهمية المعطلة : إنه في أسفل السافلين ... ألم تسمعوا يا طلاب العلم ! قوله تبارك وتعالى لعيسى ابن مريم : ﴿يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ﴾ أليس إنما يرفع الشيء من أسفل إلى أعلى لا من أعلى إلى أسفل ، وقال الله عز وجل : ﴿بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ﴾ ، ومحال أن يهبط الإنسان من ظهر الأرض إلى بطنها أو إلى موضع أخفض منه وأسفل ، فيقال : رفعه الله إليه ؛ لأن الرفعة فى لغة العرب الذين بلغتهم خوطبنا لا تكون إلا من أسفل إلى أعلى وفوق.
(کتاب التوحید ص ۱۱۱-۱۱۰)
ترجمہ : ”بے شک رب جل وعلا آسمان میں ہے ایسا نہیں جیسا کہ جہمیہ معطلہ کہتے ہیں وہ اسفل سافلین میں ہے .... اے طالبین علم کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد نہیں سنا جو عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ ”اے عیسیٰ میں تجھے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں، اپنی طرف اٹھانے والا ہوں“۔ کوئی چیز نیچے سے اوپر کو اٹھائی جاتی ہے نہ کہ اوپر سے نیچے کو اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”بلکہ اٹھا لیا اس (عیسیٰ علیہ السلام ) کو اپنی طرف“ اور محال ہے کہ کوئی شخص زمین کی سطح سے زمین کے پیٹ میں یا بلند جگہ سے نیچے جگہ پر گرے اور یوں کہا جائے کہ اللہ
تعالیٰ نے اسکو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ کیونکہ رفع لغت عرب میں نیچے سے اوپر لے جانے کو کہا جاتا ہے“۔
امام ابو عوانہؒ:
الامام الحافظ ابو عوانہ یعقوب بن اسحاق اسفرائنی (م: ۳۱۶) نے اپنی مسند میں ایک باب کا عنوان یہ قائم کیا ہے:
باب ثواب من آمن بمحمد ﷺ من أهل الكتاب وأن من أدرك منهم محمداً ﷺ أو سمع به فلم يؤمن وبما أرسل به كان من أهل النار وأن عيسى عليه السلام إذا نزل يحكم بكتاب الله وسنة محمد ﷺ ويكون إمامهم من أمة محمد ﷺ.
(ص ۱۰۲ ج ۱)
ترجمہ : ”ان اہل کتاب کے ثواب میں جو محمد ﷺ پر ایمان لائے اور اس کا بیان کہ جس نے بھی آنحضرت ﷺ کا زمانہ پایا آپ ﷺ کا نام سنا اور آپ ﷺ اور آپ کی شریعت پر ایمان نہ لایا وہ اہل نار میں سے ہے ، اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو کتاب اللہ (قرآن مجید) اور محمد ﷺ کی سنت پر عمل کریں گے اور امت محمدیہ میں شامل ہوکر ان کے امام ہوں گے“۔
اور اس کے تحت نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث کی تخریج فرمائی ہے۔
(دیکھئے ص ۱۰۲ تا ص ۱۰۶)
امام ابن حبان:
امیر علاء الدین علی بن بلبان الفارسی (م: ۷۳۹ھ) نے ”الاحسان (جلد ۹) فی ترتیب صحیح ابن حبان کے نام سے صحیح ابن حبان کو مرتب فرمایا تھا جو مطبوع ومتداول ہے ، اس میں ”فتن و حوادث“ کے ذیل میں دجال اعور کے خروج اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی احادیث درج کی ہیں ، ۳۲ عنوانات احادیث خروج دجال کے لئے ہیں اور ۱۲ عنوانات کے تحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں
احادیث شریفہ ذکر کی ہیں، یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق عنوانات ذکر کرتا ہوں:
- (۱) ذكر الأخبار عن قاتل المسيح ووصف الموضع الذى يقتله
فيه.
(الإحسان في ترتيب صحيح ابن حبان ج ٢٨٦ ج ٩)
ترجمہ : ”دجال کا قاتل کون ہوگا؟ اور اسے کس جگہ قتل کریں گے؟“
اس کے ذیل میں حضرت مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ذکر کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام دجال کو ”باب لد“ پر قتل کریں گے۔
(ص ۲۸۶ ج ۹)
- (۲) ذكر قدر مكث الدجال في الأرض عند خروجه من
وثاقه.
(أيضاً)
ترجمہ : ”دجال اپنے خروج کے بعد زمین میں کتنی مدت ٹھہرے گا“۔
اس کے ذیل میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے کہ دجال مشرق کی جانب سے نکلے گا، چالیس دن زمین پر پھرے گا، اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو نازل فرمائیں گے، وہ مسلمانوں کی امامت فرمائیں گے جب رکوع سے سر اٹھائیں گے تو ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کے بعد ان الفاظ میں قنوت نازلہ پڑھیں گے ”قتل اللہ الدجال و اظہر المومنین“ (اللہ تعالیٰ دجال کو قتل کریں گے اور اہل ایمان کو غلبہ عطا فرمائیں گے (ص ۲۸۶ ج ۹)
- (۳) ذكر ذوبان الدجال عند رؤيته عيسى ابن مريم قبل قتله
إياه.
(أيضاً)
ترجمہ : ”دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی پگھلنے لگے گا قبل اس کے آپ اس کو قتل کریں“۔
اس کے ذیل میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے۔ جس میں ذکر
ہے کہ مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان مقابلہ ہو گا‘ ادھر خبر پہنچے گی کہ دجال نکل آیا‘ مسلمان دجال کے مقابلہ کے لئے صفیں درست کر رہے ہوں گے کہ نماز کی اقامت ہو گی اتنے میں حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہو جائیں گے۔ نماز سے فارغ ہو کر دجال کے مقابلہ میں نکلیں گے تو وہ آپ کو دیکھتے ہی نمک کی طرح پگھلنے لگے گا‘ اگر عیسیٰ ؑ اس کو یونہی رہنے دیتے تو خود گھل کر مر جاتا‘ لیکن اللہ تعالیٰ اس کو حضرت عیسیٰ ؑ کے ہاتھ سے قتل کریں گے اور آپ اس کو قتل کرنے کے بعد اپنے نیزے پر لگا ہوا اس کا خون مسلمانوں کو دکھائیں گے (ایضاً ص ۲۸۶)
- (٤) ذكر الأخبار عن وصف الأمر الذى يكون فى الناس بعد
قتل ابن مريم الدجال.
(ص۲۸۷ ج۹)
ترجمہ : ”جب حضرت عیسیٰ ؑ دجال کو قتل کر دیں گے تو اس کے بعد لوگوں کے حالات کیا ہوں گے؟“
اس کے ذیل میں وہ حدیث ذکر کی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ تمام ملتیں اس کے سوا ہلاک ہو جائیں گی‘ اور روئے زمین پر مکمل امن وامان ہو گا یہاں تک شیر اور اونٹ‘ چیتے اور گائیں‘ بھیڑیئے اور بکریاں ایک ساتھ چریں گی بچے سانپوں سے کھیلیں گے‘ ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گے (ص ۲۸۷)
- (٥) ذكر الأخبار عما يفعل عيسى ابن مريم بمن نجاه الله من فتنة
المسيح .
(أيضاً)
ترجمہ : ”جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے فتنۂ دجال سے نجات عطا فرمائی ہو گی حضرت عیسیٰ ؑ ان کیساتھ کیسی شفقت فرمائیں گے؟“
اس کے ذیل میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ قتل دجال کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ ان لوگوں کے پاس تشریف لے جائیں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے دجال کے فتنہ سے محفوظ رکھا اور جنت میں ان کے بلند درجات کی ان کو خوشخبری دیں گے ۔
- (٦) ذكر الأخبار عن رفع التباغض والتحاسد والشحناء عند
نزول عيسى ابن مريم صلوات الله عليه .
(ص۲۸۸ ج۹)
ترجمہ : ”حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کے وقت لوگوں کے دلوں سے باہمی بغض وحسد اور کینہ جاتا رہے گا“۔
اس کے ذیل میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کی حدیث نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ”بخدا! ابن مریم حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کر دیں گے۔ اونٹوں کی زکوٰۃ کے لئے ساعی نہیں بھیجے جائیں گے، لوگوں کے دلوں سے کینہ، حسد اور بغض نکل جائے گا، لوگوں کو مال لینے کے لئے بلایا جائے گا مگر کوئی قبول کرنے کو تیار نہ ہو گا“۔
- (۷) ذکر البیان بأن نزول عیسیٰ ابن مریم من أعلام الساعة .
(أيضاً)
ترجمہ : ”اس عقیدہ کا بیان کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نزول علامات قیامت میں سے ہے“۔
اس میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد خداوندی ”وانہ لعلم للساعة“ کی تفسیر میں فرمایا کہ قیامت سے پہلے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نازل ہونا قیامت کی نشانی ہے ۔
- (۸) ذکر البیان بأن إمام هذه الأمة عند نزول عیسیٰ ابن مریم
یکون منہم دون أن یکون عیسیٰ إمامہم فی ذلک الزمان .
(ص۲۸۹ ج۹)
ترجمہ : ”جب عیسیٰ ؑ نازل ہوں گے تو اس امت کا امام اس امت میں سے ہو گا۔ اس وقت حضرت عیسیٰ ؑ امامت نہیں فرمائیں گے“۔
اس میں حضرت جابر ؓ کی حدیث نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی اور وہ قیامت تک اہل باطل سے ہمیشہ بر سرپیکار اور غالب ومنصور رہیں گے ۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا امیر عرض کرے گا کہ تشریف لائیے ، ہمیں نماز پڑھائیے ، تو
آپ فرمائیں گے نہیں! (یہ نماز تم ہی پڑھاؤ) تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں۔ (میں یہ نماز آپ کے پیچھے پڑھوں گا) یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس امت کا اعزاز ہے (کہ ایک جلیل القدر رسول ﷺ نے نازل ہو کر امت محمدیہ ﷺ کے ایک فرد کی اقتدا میں نماز پڑھی)
(٩) ذكر الأخبار بأن عيسى ابن مريم يحج البيت العتيق بعد قتله الدجال .
(ص ٢٨٩ ج ٩)
ترجمہ : ”حضرت عیسیٰ ؑ دجال کو قتل کرنے کے بعد بیت اللہ کا حج کریں گے“۔
اس میں بروایت ابو ہریرہ ؓ آنحضرت ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔
(١٠) ذكر البيان بأن عيسى ابن مريم إذا نزل يقاتل الناس على الإسلام .
(ص ٢٨٩ ج ٩)
ترجمہ : ”حضرت عیسیٰ بن مریم جب نازل ہوں گے تو لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے“۔
(١١) ذكر الأخبار عن قدر مكث عيسى ابن مريم في الناس بعد قتله الدجال .
(ص ٢٩٠ ج ٩)
ترجمہ : ”حضرت عیسیٰ ؑ دجال کو قتل کرنے کے بعد لوگوں میں کتنی مدت ٹھہریں گے؟“
اس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث نقل کی ہے کہ باب لد پر دجال کو قتل کرنے کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ زمین میں چالیس سال یا چالیس کے قریب ٹھہریں گے۔
- (١٢) ذكر الإخبار وصف اسم المهدى واسم أبيه ضد قول من
زعم أن المهدى عيسى ابن مريم.
(ص ۲۹۱ ج ۹)
ترجمہ: ”امام مہدی اور ان کے والد ماجد کے اسمائے گرامی کا ذکر اس شخص کے قول کے برعکس جو کہتا ہے کہ مہدی عیسیٰ بن مریم علیہما السلام ہیں۔“
اس کے ذیل میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ لوگوں پر حکومت کرے میرے اہل بیت کا ایک شخص، جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا اور اسکے والد کا نام میرے والد کے نام کے موافق ہوگا۔ وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا“۔
ف : یہ امام مہدی ؓ ہوں گے جن کے زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے جیسا کہ اوپر نمبر ۸ میں گزر چکا ہے۔
امام ابوالحسن آبریؒ:
الامام الحافظ ابوالحسن محمد بن حسین بن ابراہیم السجستانی الابری (م : ۳۲۴) ”مناقب الامام الشافعی“ میں حدیث ”لامہدی الاعیسیٰ بن مریم“ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
قد تواترت الأخبار واستفاضت بكثرة رواتها عن المصطفى ﷺ فى المهدى وإنه من أهل بيته وإنه يملك سبع سنين ويملأ الأرض عدلا، وإنه يخرج مع عيسى ابن مريم فيساعده على قتل الدجال بباب لد بأرض فلسطين وإنه يؤم هذه الأمة وعيسى عليه السلام يصلى خلفه فى طول قصة.
(حاشيه ابن ماجه ص ۲۹۲، فتح البارى ص ۴۹۳ ج ٦)
ترجمہ : ”مہدی کے بارے میں آنحضرت ﷺ کی احادیث متواتر ہیں اور راویوں کی کثرت کی وجہ سے مشرق ومغرب میں پھیلی ہوئی ہیں اور یہ کہ وہ اہل بیت میں سے ہوں گے، سات سال
حکومت کریں گے، زمین کو عدل سے بھردیں گے اور یہ کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی معیت میں قتل دجال کے لئے نکلیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو سرزمین فلسطین میں باب لد پر قتل کریں گے اور یہ کہ اس وقت مہدی اس امت کے امام ہوں گے اور عیسیٰ علیہ السلام ان کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے وغیرہ وغیرہ“۔
امام ابوبکر جصاص رازیؒ :
الامام الفقیه المحدث ابوبکر احمد بن علی الجصاص الرازی الحنفی (م : ۳۰۵ تا ۳۷۰ھ) اپنی کتاب الفصول فی الاصول میں تواتر کی بحث میں نصاریٰ کی قتل مسیح کی خبر پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وأيضاً فلو ثبت أن الناقلين لقتله وصلبه قوم لا يجوز على مثلهم التواطئ ولا اختراع الكذب فى خبر عن شىء بعينه لما أوجب خبرهم العلم بأنه هو المسيح لأن أكثر أحوالهم فى ذلك أن يكونوا نقلوا أنهم رأوا شخصاً مقتولاً مصلوباً فهم صادقون فى رؤيتهم لشخص هذه صفته ولوقع لنا العلم بأنهم قد رأوا شخصاً قد قتل وصلب، فأما إنه المسيح أو غير المسيح فلم يكن يقيناً لأن الله تعالى قادر على إحداث شخص مثل المسيح فى صورته وهيئته فى أسرع من لمح البصر وظنه القائلون والذين رأوه مصلوباً بأنه المسيح وتسكن نفوسهم إليه لوجود الشبه، وقد روى أن اليهود لما جاءوا يطلبونه قال لأصحابه : من يختار أن يلقى عليه شبهى فيقتل وله الجنة، فاختار بعضهم ذلك، وإذا كان أصل خبرهم عن ظن لا يقين وعلم اضطرار لم يجز أن يقع لنا العلم بخبرهم وإن كانوا ممن لا يجوز عليهم فعل خبر لا حقيقة له .
(ص ۴۳۱ ج ۱)
ترجمہ : ”نیز اگر فرض کر لیا جائے کہ جن لوگوں نے آپ کے قتل و صلب کی خبر نقل کی ہے وہ اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ ان کا جھوٹ گھڑ لینا یا جھوٹی بات پر متفق ہو جانا صحیح نہیں، تب بھی ان کی خبر سے یہ علم حاصل نہیں ہوتا کہ جو شخص قتل ہوا اور صلیب دیا گیا وہ واقعی مسیح تھا۔ انہوں نے زیادہ سے زیادہ جو بات نقل کی ہے وہ یہ کہ انہوں نے ایک شخص کو مقتول اور مصلوب دیکھا۔ ایک شخص کو اس حالت میں دیکھنے میں وہ سچے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو مقتول و مصلوب ہوتے دیکھا ہو گا۔ لیکن وہ شخص مسیح تھا یا کوئی اور؟ یہ بات یقینی نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ ایک لمحہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی شکل و صورت کسی اور شخص میں پیدا فرمادیں۔ دیکھنے والوں نے یہ سمجھا کہ جس کو قتل کیا گیا اور صلب کیا گیا ہے وہ مسیح ہے، اسی کو انہوں نے نقل کر دیا اور مسیح کی شباہت کی وجہ سے اسی پر دل مطمئن ہو گئے۔
روایت میں آتا ہے کہ یہود جب آپ علیہ السلام کو پکڑنے کے لئے آئے تو آپ علیہ السلام نے اپنے رفقا سے فرمایا کہ تم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس پر میری شباہت ڈال دی جائے پس وہ میری جگہ قتل کیا جائے اور اس کو جنت ملے، پس ایک رفیق نے اس کو قبول کر لیا (اور اس پر آپ کی شباہت ڈال دی گئی اور وہ قتل ہو گیا اور مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا) اور جب ان کی اصل خبر ہی یقین پر مبنی نہیں، بلکہ ظن پر مبنی ہے تو ہمیں ان کی خبر پر کبھی یقین نہیں ہو سکتا اگرچہ وہ اتنی بڑی تعداد میں ہوں کہ ان کا جھوٹی خبر بنالینا ممکن نہ ہو“۔
آگے لکھتے ہیں :
فلما وجدنا القرآن الذی ثبت أنه من عند الله بالشواهد الصادقة قد نطق بأنهم ما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم علمنا أن
الأمر جرى فى أصل الخبر عن قتله وصلبه على إحدى الوجود التي ذكرناها.
(أصول جصاص رازیؒ ص ۴۳۲ ج ۱ مخطوطه جامعة العلوم الإسلامية بنوری ٹاؤن، کراچی)
ترجمہ : ”پس جب ہم نے قرآن کو پایا جس کا منجانب اللہ ہونا دلائل صادقہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ اس نے صاف صاف اعلان کر دیا ہے کہ ”یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا نہ ان کو صلیب (سولی) پر لٹکایا بلکہ ان کو اشتباہ ہوا“، تو ہمیں یقین ہے کہ مسیح کے قتل وصلب کے واقعہ میں ان صورتوں میں سے کوئی صورت پیش آئی جو ہم نے بیان کی ہیں“۔
امام خطابیؒ :
الامام الحافظ ابو سلیمان حمد بن محمد بن ابراہیم بن خطاب الخطابی البستی الشافعی (م : ۳۸۸ھ) معالم السنن ”باب خروج الدجال“ میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کی حدیث ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
وذلك أن عيسى صلوات الله عليه إنما يقتل الخنزير في حكم شريعة نبينا محمد ﷺ لأن نزوله إنما يكون في آخر الزمان وشريعة الإسلام باقية.
(ص ۳۴۷ ج ۴)
ترجمہ : ”اور یہ اس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام جو خنزیر کو قتل کریں گے تو یہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے ماتحت قتل کرنا ہو گا۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول آخری زمانہ میں ہو گا جب کہ شریعت اسلام باقی ہو گی“۔
پانچویں صدی
امام ثعلبیؒ :
امام ابو اسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم الثعلبیؒ (م: ۴۲۷ھ) اپنی معروف کتاب ”قصص الانبیا“ میں حضرت عیسیٰ ؑ کے خصائص ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ومنها رفعه إلى السماء إذ قال الله : ﴿يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ الآية، وقوله تعالى : ﴿بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا﴾ .
(ص۲۵۱)
ترجمہ : ”اور من جملہ ان کے آپ کا آسمان پر اٹھایا جانا ہے، حق تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”یاد کرو جب کہا اللہ تعالیٰ نے اے عیسیٰ بے شک میں تجھے اپنے قبضے میں لینے والا اور اپنی طرف اٹھانے والا اور کافروں سے تجھے پاک کرنے والا ہوں“۔ اور فرمایا : ”بلکہ ان کو اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اور اللہ تعالیٰ بہت ہی زبردست حکمت والے ہیں“۔
اور صفحہ ۲۵۳ پر فرماتے ہیں :
ذكر نزول عيسى عليه السلام من السماء في المرة الثانية في آخر الزمان، قال الله تعالى : ﴿وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا﴾ .
(ص۲۵۳)
ترجمہ : ”آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان سے دوبارہ نازل ہونے کا بیان۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”اور بیشک وہ (عیسیٰ ؑ) نشانی ہے قیامت کی پس تم اس میں ہرگز شک نہ کرو“۔
اس کے بعد احادیث و آثار سے ذکر کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ آخری زمانے میں نازل ہوں گے دجال کو قتل کریں گے اور پھر وفات کے بعد روضہ اطہر میں حضرت عمرؓ کے پہلو میں دفن ہوں گے۔
امام عبدالقاہر بغدادیؒ :”
امام ابو منصور عبدالقاہر بن طاہر التمیمی البغدادیؒ (م: ۴۲۹ھ) اپنی کتاب ”اصول الدین“ میں لکھتے ہیں:
كل من أقرّ بنبوة نبيّنا محمد ﷺ أقرّ بأنه خاتم الأنبياء والرسل وأقرّ بتأبيد شريعته ومنع من نسخها وقال : إن عيسى عليه السلام إذا نزل من السماء ينزل بنصرة شريعة الإسلام ويحيى ما أحياه القرآن، ويميت ما أماته القرآن خلاف فرقة من الخوارج تعرف باليزيدية المنتسبة إلى يزيد بن أنيسة فإنهم زعموا أن الله عز وجل يبعث فى آخر الزمان نبيًّا من العجم، وينزل عليه كتابًا من السماء، ويكون دينه دين الصابئة المذكورة فى القرآن، لا دين الصابئة الذين هم بواسط أو حرّان، وينسخ ذلك الشرع شرع القرآن، وهؤلاء يسألون عن حجة القرآن فإن أنكروها أنكروا نبوة محمد ﷺ ونوظروا فيها لا فى تأبيد شريعته، وإن أقرّوا بالقرآن ففيه أنّ محمدًا ﷺ خاتم النبيين وقد تواترت الأخبار عنه بقوله : «لا نبى بعدى» ، ومن ردّ حجة القرآن والسنة فهو الكافر.
(ص١٦٢-١٦٣)
ترجمہ : ”ہر وہ شخص جو ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا اقرار کرتا ہو وہ یہ بھی اقرار کرے گا کہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء والرسل ہیں‘ اور یہ بھی اقرار کرے گا کہ آپ کی شریعت ہمیشہ رہے گی‘ اور اس کے نسخ کو محال سمجھے گا اور اس بات کا قائل ہوگا کہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو شریعت اسلام کی نصرت کریں گے ، قرآن نے جن چیزوں کو زندہ کیا ہے ان کو زندہ کریں گے ، اور قرآن نے جن چیزوں کو مٹایا ہے وہ ان کو مٹا دیں گے ، لیکن خوارج کا ایک فرقہ جو ”یزیدیہ“ کے نام سے معروف اور یزید بن انیسہ کی طرف منسوب ہے ، وہ کہتا ہے کہ آخری زمانے میں اللہ تعالیٰ عجم سے ایک نبی کھڑا کرے گا اور اس پر آسمان سے کتاب نازل کرے گا اور اس کا دین ان صابیوں کا دین ہو گا جن کا قرآن میں ذکر ہے ، نہ کہ وہ صابی جو واسط یا حران میں پائے جاتے ہیں ، یہ شخص قرآن کی شریعت کو منسوخ کر دے گا۔ ان لوگوں سے دریافت کیا جائے کہ آیا قرآن حجت ہے یا نہیں؟ اگر وہ اس کے منکر ہوں تو نبوت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کے منکر ہوں گے اور ان سے اسی مسئلہ میں گفتگو کی جائے گی ، نہ کہ شریعت کے ہمیشہ رہنے کے مسئلے میں اور اگر وہ قرآن کا اقرار کریں تو اس میں تو یہ لکھا ہے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور آنحضرت ﷺ سے یہ ارشاد نقل متواتر سے منقول ہے کہ ”میرے بعد کوئی نبی نہیں“ اور جو شخص قرآن وسنت کی حجت کو رد کر دے وہ کافر ہے“۔
امام ابو نعیم اصفہانیؒ :
امام حافظ ابو نعیم احمد بن عبداللہ الاصفہانیؒ (۳۳۰۔۴۳۰ھ) نے آنحضرت ﷺ کے معجزات کا دیگر انبیاء کرام علیہم السلام سے موازنہ کرتے ہوئے آپ ﷺ کے معجزات کی وسعت وبرتری ثابت کی ہے۔ اسی ضمن میں ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات سے آنحضرت ﷺ کے معجزات کی فوقیت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
فإن قيل : فإن عيسى عليه السلام رفع إلى السماء ، قلنا : قد عرض على محمد ﷺ البقاء عند وفاته ، فاختار ما عند الله
وخيره على البقاء فى الدنيا، فقبضه الله ورفع روحه إليه، ولو اختار البقاء فى الدنيا لكان كالخضر وإلياس وعيسى عليهم السلام عند الله فى سماواته وفى عالمه فى أرضه؛ لأن عيسى مقيم فى السماء، وإلياس والخضر يجولان فى السموات والأرضين مع أن قوماً من أمة نبينا ﷺ رفعوا كما رفع عيسى عليه السلام .
(دلائل النبوة ص٢٦٦ و٢٦٧)
ترجمہ : ”اگر کہا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو تو آسمان پر (زندہ) اٹھا لیا گیا ہم کہیں گے کہ آنحضرت ﷺ کو وفات کے وقت دنیا میں زندہ رہنے کی پیشکش کی گئی مگر آپ ﷺ نے دنیا میں رہنے کے بجائے حق تعالیٰ کے پاس جانے اور اس کے قرب کو ترجیح دی‘ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو قبض کر لیا اور آپ کی روح کو اٹھا لیا‘ ورنہ اگر آپ ﷺ دنیا میں رہنا پسند کرتے تو آپ ﷺ بھی حضرت خضر‘ حضرت الیاس اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کی طرح اللہ تعالیٰ کے پاس آسمانوں میں اور اس کے جہان میں اور اس کی زمین میں ہوتے‘ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں میں مقیم ہیں اور الیاس وخضر آسمانوں اور زمینوں میں دورہ کرتے رہتے ہیں ۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے تو (اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آنحضرت ﷺ پر برتری ثابت نہیں ہوتی) کیونکہ ہمارے نبی ﷺ کی امت کے بہت سے لوگوں کو بھی عیسیٰ علیہ السلام کی طرح اٹھایا گیا (جو ان کی کرامت اور آپ ﷺ کا معجزہ تھا)“۔
امام ابن حزمؒ ظاہری :
امام ابو محمد علی بن حزم الظاہری (م : ۴۵۶ھ) ”کتاب الفصل فی الملل والاھواء والنحل“ میں فرماتے ہیں:
وقد صح عن رسول الله ﷺ بنقل الكوافّ التي نقلت نبوته وأعلامه وكتابه أنّه أخبر أنه لا نبي بعده إلا ما جاءت الأخبار الصحاح من نزول عيسى عليه السّلام الذي بعث إلى بني إسرائيل وادّعى اليهود قتله وصلبه فوجب الإقرار بهذه الجملة وصح أن وجود النبوة بعده عليه السلام باطل لا يكون البتة .
(ج ۱ ص ۷۷)
ترجمہ : ”وہ پوری کی پوری امت جس نے آنحضرت ﷺ کی نبوت‘ آپ ﷺ کے معجزات اور آپ ﷺ کی کتاب کو نقل کیا ہے اسی نے آپ ﷺ سے یہ بات بھی نقل کی ہے کہ آپ ﷺ نے خبر دی کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں‘ مگر اس سے وہ عقیدہ مستثنیٰ ہے جس کے بارے میں صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا‘ وہی عیسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور جن کے بارے میں یہود کا قتل کرنے اور سولی پر چڑھانے کا دعویٰ ہے۔ پس اس عقیدہ پر ایمان لانا واجب ہے اور یہ بات صحیح ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت ملنا قطعاً باطل ہے‘ ہرگز نہیں ہو سکتا“۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں :
وإنما عندهم أناجيل أربعة متغايرة من تأليف أربعة رجال معروفين ليس منها إنجيل إلا ألّف بعد رفع المسيح عليه السلام بأعوام كثيرة ودهر طويل.
(ج ۲ ص ٥٥)
ترجمہ : ”عیسائیوں کے پاس چار انجیلیں ہیں‘ جو باہم مختلف ہیں اور چار معروف شخصوں کی تالیف ہیں۔ ان میں سے ہر انجیل عیسیٰ علیہ السلام کے اٹھائے جانے کے کئی سال اور زمانہ طویل کے بعد لکھی گئی ہے“۔
ایک اور جگہ مدعیان نبوت پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
هذا مع سماعهم قول الله تعالى : ﴿ولكن رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ﴾، وقول رسول الله ﷺ : «لا نبى بعدى» فكيف يستجيز مسلم أن يثبت بعده عليه السلام نبيًّا فى الأرض حاشا ما استثناه رسول الله ﷺ فى الآثار المستندة الثابتة فى نزول عيسى ابن مريم عليهما السلام فى آخر الزمان.
(ج ٤ ص ١٨٠)
ترجمہ : ”حق تعالیٰ کا ارشاد : ”ولکن رسول الله وخاتم النبيين“ اور آنحضرت ﷺ کا ارشاد ”لانبی بعدی“ سننے کے باوجود یہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں، پس کوئی مسلمان اس بات کو کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد زمین میں کسی نبی کا وجود ثابت کرے۔ سوائے اس کے جس کو خود رسول اللہ ﷺ نے صحیح اور مستند احادیث میں مستثنیٰ کر دیا ہے، اور وہ ہے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا آخری زمانہ میں نازل ہونا“۔
١١- مسألة : نسخ عزّ وجلّ بملته كل ملّة وألزم أهل الأرض جنّهم وإنسهم اتباع شريعته التى بعثه بها، ولا يقبل من أحد سواها، وإنه خاتم النبيين لا نبى بعده، برهان ذلك : قول الله تعالى : ﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ﴾.
. . . عن أنس بن مالك قال رسول الله ﷺ : «إن النبوة والرسالة قد انقطعت فجزع الناس فقال قد بقيت مبشرات وهن جزء من النبوة».
١٢- مسألة : إلا أن عيسى ابن مريم عليه السلام سينزل . . . برهان ذلك : ما حدثنا -إلى قوله- أبو الزبير أنه سمع جابر ابن عبد الله يقول : سمعت النبى ﷺ يقول : لا تزال طائفة من أمتى يقاتلون على الحق ظاهرين إلى يوم القيامة، قال : فينزل
عيسى ابن مريم فيقول أميرهم : تعال صلّ لنا فيقول : لا، إن بعضكم على بعض أمراء تكرمة الله هذه الأمة.
(المحلى ص٩ ج١)
ترجمہ : ”مسئلہ : اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی شریعت کے ذریعہ تمام شریعتوں کو منسوخ کر دیا اور روئے زمین کے تمام انسانوں اور جنوں کو اس شریعت کی پیروی کا پابند کر دیا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو مبعوث فرمایا‘ اور اللہ تعالیٰ کسی سے آنحضرت ﷺ کی شریعت کے سوا قبول نہیں فرمائیں گے ۔ نیز یہ کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں‘ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں‘ اس کی دلیل حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے : ”محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں‘ لیکن اللہ کے رسول ہیں‘ سب نبیوں کے ختم پر ہیں“ ۔
(الاحزاب : ٤٠)
اور حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ”بے شک نبوت ورسالت ختم ہوچکی ہے“ ۔ پس لوگ یہ سن کر گھبرائے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ”تحقیق اچھے خواب باقی رہ گئے ہیں اور یہ نبوت کا ایک جز ہیں“ ۔
- ۱۲۔ مسئلہ : مگر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے ۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ بروایت صحیح مسلم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر لڑتی رہے گی‘ اور یہ لوگ غالب رہیں گے قیامت تک ۔ پس عیسیٰ بن مریم ؑ نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا کہ تشریف لایئے‘ ہمیں نماز پڑھایئے‘ وہ فرمائیں گے‘ نہیں! بے شک تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کا اعزاز ہے“ ۔
وروينا من طريق مسلم نا قتيبة بن سعيد نا ليث -وهو ابن سعد- عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب أنه سمع أبا هريرة
يقول : قال رسول الله ﷺ : «ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم ﷺ حكماً مقسطاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد».
ومن طريق مسلم نا هارون بن عبد الله نا حجاج - هو ابن محمد - [عن ابن جريج] نا أبو الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله يقول : سمعت النبى ﷺ يقول : «لا تزال طائفة من أمتى يقاتلون على الحق ظاهرين إلى يوم القيامة فينزل عيسى ابن مريم ﷺ فيقول أميرهم : تعال صل لنا، فيقول : لا، إن بعضكم على بعض أمراء تكرمة الله هذه الأمة»، فصح أن النبى ﷺ صوب قتل عيسى عليه السلام للخنازير وأخبر أنه بحكم الإسلام ينزل وبه يحكم.
(المحلى لابن حزم ص ٣٩١ ج ٧)
ترجمہ : ”صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ ﷺ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، قریب ہے کہ نازل ہوں تم میں ابن مریم ﷺ حاکم عادل کی حیثیت سے۔ پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے۔ اور جزیہ کو موقوف کر دیں گے اور مال سیلاب کی طرح بہ پڑے گا یہاں تک کہ کوئی اس کو قبول نہیں کرے گا“۔ اور صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ :
”میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر لڑتی رہے گی، اور یہ لوگ غالب رہیں گے قیامت تک پس عیسیٰ بن مریم ﷺ نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا امیر ان سے عرض کریگا کہ تشریف لائیے، ہمیں نماز پڑھائیے۔ پس وہ فرمائیں گے، نہیں! تمہارے بعض بعض پر امیر ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کا اعزاز ہے“۔
پس یہ صحیح ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خنزیر کو قتل کرنے کی تصویب فرمائی اور آنحضرت ﷺ نے خبر دی کہ عیسیٰ علیہ السلام بحکم اسلام نازل ہوں گے اور اسی کے مطابق فیصلہ کریں گے“۔
امام بیہقیؒ:
امام ابوبکر احمد بن حسین البیہقی (م: ۴۵۸ھ) نے اپنے رسالہ ”الاعتقاد علی مذهب السلف اهل السنة و الجماعة“ میں ایک باب اس عنوان سے قائم کیا ہے :
باب الإيمان بما أخبر عنه رسول الله ﷺ في ملائكة الله وكتبه ورسله والبعث بعد الموت والحساب والميزان والجنة والنار وإنهما مخلوقتان معدتان لأهلهما وبما أخبر عنه في حوضه وفي أشراط الساعة قبل قيامها.
(ص ۹۸)
ترجمہ : ”ان باتوں پر ایمان لانے کا بیان جن کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی ہے ، اللہ کے فرشتوں‘ اس کی کتابوں‘ اس کے رسولوں‘ مرنے کے بعد جی اٹھنے‘ حساب‘ میزان‘ جنت اور دوزخ کے بارے میں‘ اور یہ کہ جنت و دوزخ دونوں پیدا ہو چکی ہیں اور جنتیوں اور دوزخیوں کے لئے تیار ہیں ۔ نیز ان باتوں پر ایمان لانا جن کی آپ ﷺ نے خبر دی ہے اپنے حوض کے بارے میں اور قیامت قائم ہونے سے پہلے قیامت کی علامات کے بارے میں“۔
اس باب میں دیگر علامات قیامت کے ساتھ دجال کے نکلنے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہو کر دجال کو قتل کرنے کا عقیدہ بھی ذکر کیا ہے ۔ (ص ۱۰۴) اور ص ۱۰۵ پر فرماتے ہیں:
وقد روينا في كتاب البعث قصة الدجّال ونزول عيسى ابن مريم عليهما السلام وخروج يأجوج ومأجوج وهلاكهم وقيام الساعة من حديث النواس بن سمعان وغيره .
(ص ۱۰۵)
ترجمہ : ”اور ہم ”کتاب البعث“ میں خروج دجال، نزول عیسیٰ ؑ یاجوج وماجوج کے نکلنے اور ان کے ہلاک ہونے اور قیامت کے قائم ہونے کا قصہ نواس بن سمعان ؓ کی حدیث اور دیگر احادیث سے نقل کر چکے ہیں“۔
نیز ”کتاب الاسماء والصفات“ میں امام بیہقی ؒ لکھتے ہیں:
باب قول الله لعيسى عليه السلام : ﴿إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ﴾، قوله تعالى : ﴿بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ﴾ . . . قال رسول الله ﷺ : «كيف أنتم إذا نزل ابن مريم من السماء فيكم وإمامكم منكم»، رواه البخارى فى ”الصحيح“ عن يحيى بن بكير، وأخرجه مسلم عن وجه آخر عن يونس، وإنما أراد نزوله من السماء بعد الرفع إليه.
(ص٤٢٤)
ترجمہ : ”باب حق تعالیٰ کے ارشاد کا عیسیٰ ؑ سے کہ ”میں تجھے قبضہ میں لینے والا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں“ اور حق تعالیٰ کے ارشاد کا : ”بلکہ اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کو اپنی طرف“....... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”(خوشی اور مسرت سے) تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب عیسیٰ ؑ آسمان سے تم میں اتریں گے اور تمہارا امام اس وقت تم میں سے ہوگا“۔ اس حدیث کو امام بخاری ؒ نے ”الجامع الصحیح“ میں یحییٰ بن بکیر سے روایت کیا ہے، اور امام مسلم ؒ نے ایک دوسرے طریق سے یونس سے روایت کیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد میں ارادہ کیا ہے حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان سے اترنے کا، بعد ان کے اٹھائے جانے کے آسمان کی طرف“۔
امام بیہقی ؒ کے ان ارشادات سے واضح ہوا کہ باجماع سلف صالحین اہل سنت والجماعت، ان دونوں آیتوں میں عیسیٰ ؑ کا آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہے اور یہ کہ بارشاد نبوی ﷺ ان کا آخری زمانے میں آسمان سے نازل ہونا علامات قیامت میں
سے ہے اور یہ کہ ان کے رفع ونزول کی تصدیق ایمانیات میں داخل ہے۔
امام ہجویری المعروف بہ داتا گنج بخش :
امام الاصفیا الشیخ ابو الحسن علی بن عثمان الجلابی الہجویری الغزنوی لاہوری مشہور بہ داتا گنج بخش رحمہ اللہ تعالیٰ (م: ۴۶۵) اپنی مشہور تصنیف ”کشف المحجوب“ میں فرماتے ہیں:
”واندر آثار صحیح وارد است کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مرقعہ داشت کہ وے را بر آسمان بردند“۔
(ص ۴۲ شائع کردہ اسلامک بک فاؤنڈیشن ۔ لاہور)۔
ترجمہ : ”آثار صحیحہ میں وارد ہے کہ عیسیٰ بن مریم ؑ ایک گدڑی پہنے ہوئے تھے کہ انکو آسمان پر اٹھا لیا گیا“۔
امام سرخسی :
امام شمس الدین ابوبکر محمد بن احمد السرخسی الحنفی (م : ۴۹۰) (جنہیں پانچویں صدی کے مجددین میں شمار کیا گیا ہے ۱؎) اپنی کتاب ”تمہید الفصول فی الاصول“ میں، جو ”اصول سرخسی“ کے نام سے مشہور ہے۔ لکھتے ہیں:
والثانی : أن النقل المتواتر منهم فی قتل رجل علموه عیسیٰ وصلبه وهذا النقل موجب علم الیقین فیما نقلوه ولکن لم یکن الرجل عیسیٰ وإنما كان مشتبهاً به ، كما قال : ﴿وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ﴾ ، وقد جاء فی الخبر أن عیسیٰ علیہ السلام قال لمن كان معه : من یرید منکم أن یلقیٰ الله شبہی علیہ فیقتل فله الجنة؟ فقال رجل : أنا ، فألقی الله تعالیٰ شبهه علیہ فقتل ورفع عیسیٰ إلی السماء ، (ملخصاً)
(أصول السرخسی ص ٢٨٦ ج ١)
؎۱ عسل مصفیٰ ج ۱ ص ۱۶۴‘ مولفہ مرزا خدا بخش قادیانی
ترجمہ : ”دوم یہ کہ ان (یہود) کی نقل متواتر اس بارے میں ہوئی کہ ایک آدمی جس کو انہوں نے عیسیٰ سمجھا، قتل ہوا اور سولی دیا گیا اور بلاشبہ یہ نقل اتنی بات میں علم یقینی کا موجب ہے، لیکن وہ شخص واقع میں عیسیٰ نہیں تھا، بلکہ اس پر عیسیٰ ؑ کی شباہت ڈال دی گئی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ”ولیکن وہی شکل بن گئی ان کے سامنے“ چنانچہ روایت میں آیا ہے کہ آپ نے اپنے رفقا سے فرمایا : کہ تم میں سے کون چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر میری شباہت ڈال دے اور میری جگہ قتل کیا جائے؟ ایک شخص نے کہا کہ اس خدمت کے لئے میں حاضر ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر آپ کی شباہت ڈال دی پس وہ قتل ہوا، اور عیسیٰ ؑ آسمان پر اٹھالئے گئے“۔
امام قاضی ابو الولید الباجی :
موطا امام مالکؒ ” کے شارح مشہور مالکی امام قاضی ابوالولید سلیمان بن خلف بن سعد الباجی الاندلسی المالکیؒ (۴۰۳ھ - ۴۷۴ھ) ”کتاب المنتقیٰ شرح الموطا“ میں باب ”ما جاء فی صفة عیسیٰ بن مریم علیہما السلام و الدجال“ کے ذیل میں لکھتے ہیں :
وفی ”العتيبة“ عن مالك : بينما الناس كذلك إذ يستمعون الإقامة يريدون الصلاة فتغشاهم غمامة فإذا عيسى ابن مريم قد نزل.
(ص ۲۳۱ ج ۷)
ترجمہ : ”العتیبہ میں امام مالکؒ ” سے نقل کیا ہے کہ دریں اثناء کہ لوگ نماز کی اقامت سن رہے ہوں گے اچانک ان کو ایک بدلی ڈھانک لے گی کیا دیکھتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ نازل ہوچکے ہیں“۔
امام ابو محمد عراقی:
الشیخ الامام العلامہ ابو محمد عثمان بن عبد اللہ بن الحسن الحنفی العراقی (م: ۵۰۰ هـ تقریباً) ”الفرق المفترقة بين اهل الزيغ والزندقه“ میں فرقہ اسحاقیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وأما الإسحاقية فهم طائفة يزعمون أن النبوة لا تنقطع إلى قيام الساعة... نقول: اعتقاد هذه الطائفة لا يخفى فساده على أحدٍ لأن الله تعالى أخبر أن محمدًا ﷺ خاتم النبيين، ولا نبي بعده، وهكذا أخبر رسول الله ﷺ أنه «لا نبي بعدي»، فمن ادعى النبوة بعد نبينا محمد ﷺ لنفسه أو لغيره يكون كافرًا بالقرآن العظيم، وهو أحد الدجّالين الذين أخبر عنهم رسول الله ﷺ بقوله: «لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذّابون قريبًا من ثلاثين كلهم يزعم أنّه رسول الله» في البخاري ومسلم رواه أبو هريرة رضي الله عنه عن رسول الله ﷺ.
ولا يلزم على كلامنا نزول عيسى عليه السلام من السماء وكونه نبيًا؛ لأنا نقول: إن عيسى عليه السلام يكون متابعًا لشريعة نبينا محمد ﷺ ويأخذ بأحكام شريعته ويقتدي في الصلاة بواحد من هذه الأمة.
(ص٣٤)
ترجمہ : ”اور فرقہ اسحاقیہ وہ گروہ ہے جن کا دعویٰ ہے کہ نبوت قیامت تک منقطع نہیں ہوگی .... ہم کہتے ہیں کہ اس طائفہ کے عقیدے کا فساد کسی شخص پر مخفی نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ”محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں“۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے بھی خبر دی ہے کہ ”میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔ پس جو شخص ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد اپنے لئے یا کسی دوسرے کے لئے نبوت کا دعویٰ کرے وہ قرآن کریم کا مکذب اور کافر ہے، اور وہ ان دجالوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں
رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشاد میں خبر دی ہے کہ ”قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس کے قریب جھوٹے مکار دجال کھڑے ہوں گے‘ ان میں کا ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے“۔ (حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں)۔
(صحیح بخاری و مسلم بروایت ابی ہریرہؓ)
اور ہمارے اس کلام پر حضرت عیسیٰ ؑ کے آخری زمانے میں آسمان سے نازل ہونے پر اعتراض لازم نہیں آتا‘ حالانکہ وہ نبی ہیں‘ اس لئے کہ ہم کہتے ہیں کہ (اول تو عیسیٰ ؑ آنحضرت ﷺ سے پہلے کے نبی ہیں‘ بعد کے نہیں‘ علاوہ ازیں وہ) آنحضرت ﷺ کی شریعت کے تابع ہوں گے‘ آپ ﷺ ہی کی شریعت کے احکام اپنائیں گے۔ نماز میں آپ کے امتی کی اقتدا کریں گے“۔
امام حاکمؒ :
الامام الحافظ ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ المعروف بالحاکم النیشابوری الشافعی (م: ۴۰۵ھ) نے ”مستدرک“ میں خروج دجال اور نزولِ عیسیٰ ؑ کی احادیث بڑی تفصیل سے نقل کی ہیں۔ ”کتاب تواریخ المتقدمین من الانبیاء و المرسلین“ میں نزولِ عیسیٰ کا عنوان ان الفاظ سے ہے : هبوط عيسى عليه السلام وقتل الدجّال وإشاعة الإسلام .
(ص ۵۹۵ ج ۲)
ترجمہ : ”عیسیٰ ؑ کا زمین پر اترنا‘ دجال کو قتل کرنا اور اسلام کی اشاعت کرنا“۔
اور اسی کے تحت یہ حدیث نقل کی ہے : إنّ روح الله عيسى ابن مريم نزل فيكم فإذا رأيتموه فاعرفوه... إلى قوله : فيمكث أربعين سنةً ثم يتوفى ويصلّى عليه المسلمون .
(ص ۵۹۵ ج ۲)
ترجمہ : ”حضرت روح اللہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تم میں نازل ہوں گے، جب ان کو دیکھو تو ان کو پہچان لینا (ان کا حلیہ اور کارنامے ذکر کرنے کے بعد حدیث کے آخر میں فرمایا) پس وہ زمین میں چالیس سال ٹھہریں گے پھر ان کا انتقال ہوگا اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔“
اور کتاب الفتن والملاحم میں ”نزول عیسی عليه السلام من السماء“ کے تحت حضرت عثمان بن ابی العاص کی حدیث نقل کی ہے :
فينزل عيسى ابن مريم عليه الصلاة والسلام عند صلاة الفجر إلخ.
(ج ٤ ص ٤٧٨)
ترجمہ : ”پس نازل ہوں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز فجر کے وقت ۔ الخ.
نیز خروج دجال کی جن احادیث میں عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے اور دجال کو قتل کرنے کی صراحت ہے ان کے لئے مستدرک کے مندرجہ ذیل صفحات ملاحظہ کئے جائیں ۔
ص ۳۹۰ ج ۲، ص ۸۲ ج ۴، ص ۴۹۳ ج ۴، ص ۴۹۶ ج ۴، ص ۵۴۳ ج ۴، ص ۵۴۴ ج ۴، ص ۵۴۵ ج ۴، ص ۵۴۶ ج ۴، ص ۵۵۰ ج ۴، ص ۵۹۸ ج ۴۔
امام ابن بطال : صحیح بخاری کے شارح ابوالحسن علی بن خلف بن بطال المغربی المالکیؒ (م : ۴۴۴ ھ) کے حوالہ سے حافظ ابن حجرؒ ”فتح الباری میں لکھتے ہیں :
قال ابن بطال : وإنما قبلناها قبل نزول عيسى للحاجة إلى المال بخلاف زمن عيسى فإنه لا يحتاج فيه إلى المال، فإن المال في زمنه يكثر حتى لا يقبله أحد.
(ج ۲ ص ۳۵۶)
ترجمہ : ”امام ابن بطال فرماتے ہیں کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے جو ہم نے جزیہ قبول کیا تو یہ مال کی ضرورت کی وجہ سے قبول کیا، بخلاف عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے کہ اس میں مال کی احتیاج نہ رہے گی، کیونکہ ان کے زمانے میں مال بہت ہو گا حتیٰ کہ کوئی اسے قبول نہیں کریگا“۔
قاضی عبدالجبار معتزلی :
فرقہ معتزلہ کے امام قاضی عبدالجبار بن احمد الہمدانی (۴۱۵ ' ۳۵۹) نے اپنی کتاب ”تثبیت دلائل النبوۃ“ میں یہود و نصاریٰ کے متفق علیہ عقیدہ کے مقابلہ میں .... کہ حضرت مسیح مقتول و مصلوب ہوئے .... اسلام کے اس عقیدہ کو کہ ان کو آسمان پر اٹھا لیا گیا آنحضرت ﷺ کی نبوت کی عظیم الشان دلیل قرار دیا ہے، اور بہت ہی تفصیل کے ساتھ اس عقیدہ کو رد کیا ہے کہ مسیح علیہ السلام یہود کے ہاتھوں گرفتار ہو کر مصلوب و مقتول ہوئے، یہود و نصاریٰ کے مقابلے میں اسلامی عقیدے کی تشریح کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :
وتأمل إلى إقدامه على أمتين عظيمتين من أهل التحصيل والعقل قد أجمعوا على أمر وسبقوه فى الزمان، وهو أشد الناس حرصاً على تألفهم وإجابتهم واستمالتهم فأكذبهم وردهم، ولو كان مقتولا لتهيب ولم يقدم على ذلك خوفاً من أن يكون الأمر كما قالوا، أو كما ادعوا، فيبين كذبه ويرجع عنه من قد قَبِله؛ لأن الأنبياء يجوز أن يقتلوا ويصلبوا، بل قد قتل قوم منهم، وأيضاً فليس فى قتل المسيح طعن عليه ولا قدح فى أمره، وما به حاجة إلى مخالفتهم فى ذلك، بل قد كان ينبغى أن يكون إلى تصديقهم فى ذلك أحوج، ليكون تشنيعه على النصارى أقوى؛ لأنهم قد اعتقدوا فيه أنه إله ورب، وقد رأوه أسيراً مقهوراً فى يد عدوه
ومصلوباً ومقتولاً، ويزيد شناعته على اليهود لأنهم قد قتلوا نبيًّا آخر مضافاً إلى غيره من الأنبياء الذين قد قتلوهم قبل المسيح ﷺ هذا كله مع الحاجة إليه، وقال: قد ادعوا أنهم قد علموا ذلك وليسوا به عالمين ولا متيقنين، وما معهم فيه إلا الظن، فقال:
﴿وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ﴾، أى ليس ثم يقين ولا سكون نفس، تقول العرب فى خبر المتيقن: قتلته علمًا وقتلته يقينًا، ثم قال: ﴿بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ﴾ أى صانه وعظمه أن تناله يد عدوه بالقتل والصلب.
(تثبيت دلائل النبوة ص ۱۲۳ دار العروبة بيروت لبنان)
ترجمہ: ”غور کرو کہ آنحضرت ﷺ نے دو بڑی امتوں کے خلاف کس طرح اقدام فرمایا‘ حالانکہ وہ دونوں علم وعقل کی دعوے دار تھیں‘ دونوں ایک مراد پر جمع تھیں‘ دونوں آپ ﷺ سے سبقت رکھتی تھیں‘ آپ ﷺ ان کی دلجوئی‘ ان کے قبول کرنے اور انہیں اپنی طرف مائل کرنے کے خواہاں بھی تھے‘ اگر (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کے مسئلہ میں) آپ ﷺ نے ایک بات بھی اپنی طرف سے تراش لی ہوتی تو آپ ﷺ ان لوگوں سے خوف کھاتے اور اس اندیشہ کے پیش نظر کہ شاید واقعی وہی ہو جو یہ بیان کرتے ہیں کہ کہیں خدانخواستہ آپ ﷺ کی غلط بیانی نہ کھل جائے اور حقیقت حال واضح ہونے کے بعد لوگ برگشتہ نہ ہو جائیں‘ آپ ﷺ اس عقیدہ پر کبھی اقدام نہ کرتے‘ کیونکہ نبیوں کا مقتول یا مصلوب ہو جانا ممتنع نہیں بلکہ بہت سے نبی بھی قتل ہوئے ہیں‘ پس اگر
مسیح بھی قتل ہوگئے ہوں تو یہ ان کے حق میں کوئی طعن یا قدح کی بات نہیں تھی، اور پھر آنحضرت ﷺ کو ان لوگوں کی مخالفت کی ضرورت بھی نہیں تھی، بلکہ شاید یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان کی تصدیق کی زیادہ ضرورت تھی۔ تاکہ نصاریٰ پر الزام زیادہ قوی ہو جاتا کہ نصاریٰ ایک ایسی شخصیت کو خدا اور رب مانتے ہیں جسے انہوں نے اپنی آنکھوں سے دشمن کے ہاتھ میں گرفتار مغلوب اور مقتول و مصلوب دیکھا۔ اور اس سے یہود کی برائی اور جنایت میں اضافہ ہو سکتا تھا کہ انہوں نے دیگر نبیوں کے علاوہ حضرت عیسیٰ ؑ کو قتل کیا ہے۔
لیکن آنحضرت ﷺ نے شدت ضرورت کے باوجود یہود و نصاریٰ کے اس عقیدہ میں کہ مسیح ؑ مقتول و مصلوب ہو گئے، موافقت کرنے سے اجتناب فرمایا، اور فرمایا کہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کو مسیح کے قتل و صلب کا علم ہے۔ حالانکہ ان کو نہ اس کا صحیح علم ہے نہ یقین۔ ان کے ہاتھ اگر کچھ ہے تو محض اٹکل کے تیر ہیں۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے : ”اور (یہود ملعون ہوئے) ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے قتل کر دیا مسیح عیسیٰ بن مریم کو جو رسول اللہ تھا، حالانکہ نہ انہوں نے اس کو قتل کیا اور نہ سولی پر لٹکایا بلکہ ان کو اشتباہ ہوا، اور جو لوگ اس کے معاملہ میں اختلاف کر رہے ہیں وہ محض شک میں پڑے ہوئے ہیں، اور ان کو کچھ علم نہیں، سوائے اٹکل پچو کی پیروی کے، اور انہوں نے اس کو ہرگز قتل نہیں کیا“۔ یعنی اس قصہ قتل پر ان کو خود بھی یقین نہیں اور نہ ان کا خمیر اس پر مطمئن ہے۔ پھر فرمایا، ”بلکہ (اصل واقعہ جو ہوا وہ یہ ہے) کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف (آسمان پر) اٹھا لیا“۔ یعنی ان کو دشمنوں سے بچا لیا، اور ان کو ایسی عظمت بخشی کہ دشمنوں کے ہاتھ قتل و صلب کے لئے وہاں نہ پہنچ سکے“۔
علامہ ابو ذر الہرویؒ :
حافظ ابن حجرؒ فتح الباری سے نقل کرتے ہیں : ابو عبد اللہ بن احمد الہروی الانصاری (۳۵۵‘۴۳۵)
وقال أبو ذر الهروى : حدثنا الجوزقى عن بعض المتقدمين : قال معنى قوله : وإمامكم منكم يعنى أنه يحكم بالقرآن لا بالإنجيل .
(فتح البارى ص ۳۵۸ ج ۶)
ترجمہ: ”ہم سے جوزقی نے بیان کیا بعض متقدمین سے کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد ”وامامکم منکم“ کے معنی یہ ہیں کہ عیسیٰ ؑ نازل ہونے کے بعد قرآن کریم کے مطابق فیصلہ کریں گے انجیل کے مطابق نہیں ۔“
چھٹی صدی
امام غزالیؒ :
امام حجۃ الاسلام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد الغزالی الشافعی (۴۵۰ھ - ۵۰۵) ”المستصفى من الاصول“ میں تواتر کی بحث میں لکھتے ہیں :۔
فأما قتل عيسى عليه السلام فقد صدقوا فى أنهم شاهدوا شخصاً يشبه عيسى عليه السلام مقتولا ﴿وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ﴾ .
(ص ۹۰)
ترجمہ : ”رہا نصاریٰ کا عیسیٰ علیہ السلام کے مقتول ہونے کا دعویٰ، تو اتنی بات میں تو وہ سچے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص کو، جو عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ تھا، مقتول دیکھا ”لیکن (وہ عیسیٰ ؑ
نہیں تھے، بلکہ ایک اور شخص تھا جس پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی تھی، اس لئے) ان کو اشتباہ ہو گیا تھا‘‘۔
قاضی ابو یعلیٰؒ :
قاضی ابو یعلیٰؒ (م ۴۵۸) ”طبقات حنابلہ“ میں لکھتے ہیں : والإيمان أن المسيح الدجال خارج مكتوب بين عينيه كافر، والأحاديث التي جاءت فيه، والإيمان بأن ذلك كائن، وأن عيسى ابن مريم عليه السلام ينزل فيقتله بباب لد.
(مناقب إمام أحمد بن حنبل ص ١٧٣ طبقات حنابلة للقاضي أبي يعلى ص ٢٤٣)
ترجمہ : ”اور ایمان لانا اس پر کہ دجال نکلے گا۔ اس کی پیشانی پر کافر لکھا ہو گا۔ اور ان احادیث پر ایمان لانا جو دجال کے بارے میں آئی ہیں، اور اس پر ایمان لانا کہ یہ برحق ہے، ہو کر رہے گا اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، پس اس کو باب لد پر قتل کریں گے۔“۔
قاضی ابو یعلیٰ حنبلیؒ نے طبقات حنابلہ میں امام احمدؒ کے عقائد اپنی اسانید کے ساتھ متفرق طور پر ذکر کئے ہیں نیز حافظ ابو الفرج بن جوزیؒ نے ”مناقب امام احمد بن حنبلؒ“، میں امام احمدؒ کے عقائد پر ایک مستقل باب لکھا ہے، اسی میں امام احمدؒ کا یہ عقیدہ بھی درج کیا ہے : «والدجال خارج في هذه الأمة لا محالة وينزل عيسى ابن مريم إلى الأرض فيقتله بباب لد».
(مناقب إمام أحمد بن حنبل ص ١٦٩ طبقات حنابلة ص ٢٤٤ ج ١)
ترجمہ : ”اور دجال لا محالہ اس امت میں نکلے گا۔ اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام (آسمان سے) زمین پر نازل ہوں گے پس مسیح دجال کو باب لد پر قتل کریں گے“۔
علامہ زمخشری :
معتزلہ کے امام علامہ جار اللہ محمود بن عمر زمخشری (م: ۵۲۸ ھ) ”تفسیر کشاف“ میں آیت کریمہ ”وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللّٰهُ“ کے تحت لکھتے ہیں :
﴿وَمَكَرَ اللّٰهُ﴾ أن رفع عيسى إلى السماء وألقى شبهه على من أراد اغتياله حتى قتل .
(ج ۱ ص ۳۰۶)
ترجمہ : ”اللہ کی تدبیر یہ تھی کہ اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی شباہت اس شخص پر ڈال دی جو آپ کو پکڑنا چاہتا تھا۔ یہاں تک کہ وہی قتل ہو گیا“۔
اور ”وَرَافِعُكَ اِلَیَّ“ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :-
﴿وَرَافِعُكَ اِلَیَّ﴾ إلى سمائى ومقر ملائكتى .
(أيضًا)
ترجمہ : ”اور میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ یعنی اپنے آسمان کی طرف اور اپنے فرشتوں کی قرار گاہ کی طرف“۔
اسی طرح سورۃ النساء کی آیات ۱۵۷‘ ۱۵۸‘ ۱۵۹ کے تحت بھی انہوں نے رفع ونُزول کے عقیدے کی تصریح کی ہے۔ (دیکھئے ”تفسیر کشاف“ ص ۳۹۶‘ ۳۹۷)۔
اور آیت کریمہ :
﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ﴾
کے تحت لکھتے ہیں :
فإن قلت : كيف كان آخر الأنبياء وعيسى ينزل فى آخر الزمان؟ قلت : معنى كونه آخر الأنبياء أنّه لا ينبأ أحدٌ بعده وعيسى ممن نبّئ قبله وحين ينزل ينزل عاملا على شريعة محمد ﷺ مصليًّا إلى قبلته كأنّه بعض أمّته.
ترجمہ : ”اگر کہو کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی کیسے ہوئے حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہوں گے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی‘ اور عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت آپ سے پہلے مل چکی ہے اور جب وہ نازل ہوں گے تو آنحضرت ﷺ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے۔ آپ کے قبلہ کی طرف نماز پڑھیں گے گویا آپ کے امتی کی حیثیت سے آئیں گے“۔
اور آیت کریمہ : ﴿وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ﴾ کے تحت لکھتے ہیں:
﴿وإنه﴾ وإنّ عيسى عليه السلام ﴿لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ﴾ أى شرط من أشراطها تعلم به.
ترجمہ : ”اور بے شک وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام البتہ علم ہے قیامت کا یعنی اس کی علامتوں میں سے ایک علامت ہیں جس سے قیامت کا قریب آلگنا معلوم ہوگا“۔
امام نجم الدین نسفی :
امام نجم الدین ابو حفص عمر بن محمد النسفی الحنفی رحمہ اللہ (۴۶۱ ھ - ۵۳۷ ھ) اپنے رسالہ عقائد میں لکھتے ہیں:۔
وما أخبر به النبى ﷺ من أشراط الساعة من خروج الدجال ودابة الأرض ويأجوج ومأجوج ونزول عيسى عليه السلام من السماء، وطلوع الشمس من مغربها فهو حق .
(شرح عقائد نسفی ص ١٢٤)
ترجمہ : ”اور جن علامات قیامت کی آنحضرت ﷺ نے خبر دی ہے ۔ جیسے دجال‘ دابۃ الارض اور یاجوج و ماجوج کا نکلنا‘ عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا یہ سب حق ہیں“۔
امام ابن الانباریؒ :
امام کمال الدین ابو البرکات عبدالرحمٰن بن محمد الانصاری المعروف بہ ابن الانباری الشافعیؒ (۵۱۳ھ - ۵۷۷ھ) اپنی کتاب ”البیان فی غریب اعراب القرآن“ میں آیت کریمہ : ﴿إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ﴾ کے تحت لکھتے ہیں :
﴿إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ﴾ تقديره إني رافعك إلىّ ومتوفيك، إلا أنه لما كانت الواو لا تدل على الترتيب قدّم وأخّر، وقيل : معنى إنّى متوفّيك قابضك ورافعك إليّ، أى إلى كرامتى .
(ج ۱ ص ۲۰۶)
ترجمہ : ”حق تعالیٰ کا ارشاد : ﴿إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ﴾ اس کی تقدیر یہ ہے کہ ”(سردست) میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور (پھر اپنے وقتِ مقرر پر) تجھے وفات دینے والا ہوں“۔ مگر چونکہ واؤ ترتیب پر دلالت نہیں کرتی اس لئے (ایک خاص نکتۂ بلاغت کی وجہ سے) مقدم و مؤخر کر دیا اور کہا گیا ہے ”انی متوفیک“ کے معنی ہیں کہ ”میں تجھے اپنی تحویل میں لینے والا ہوں۔ اپنی طرف یعنی اپنی کرامت کی جگہ کی طرف اٹھانے والا ہوں“۔
اور سورۂ النسا کی آیت ﴿وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ﴾ کے تحت لکھتے ہیں :
ينزل فى آخر الزمان إلى الأرض، فيكسر الصليب ويقتل الخنزير، ويصلّى خلف المهدى، ويموت ويقبر .
(ج ۱ ص ۲۷۵)
ترجمہ : ”حضرت عیسیٰ ؑ آخری زمانے میں نازل ہوں گے۔ پس صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے اور مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ پھر ان کا انتقال ہو گا اور دفن ہوں گے“۔
امام بغویؒ :
امام محی السنۃ ابو محمد حسین بن مسعود الفراء البغوی الشافعی (م : ۵۱۶ھ) تفسیر
”معالم التنزیل“ میں سورۂ آل عمران کی آیت ﴿وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ﴾ کے تحت لکھتے ہیں:
ومكر الله تعالى خاصة بهم فى هذه الآية هو إلقاء الشبه على صاحبهم الذى أراد قتل عيسى عليه السّلام حتى قتل .
(ص١٤٨ ج٢)
ترجمہ : ”یہود کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی وہ خاص تدبیر جو آیت میں ذکر کی گئی ہے یہ تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ان کے آدمی پر ڈال دی گئی‘ جو آپ کو قتل کرنا چاہتا تھا‘ یہاں تک کہ وہ ہی قتل کر دیا گیا“۔
اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کا واقعہ تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
اور اس سے اگلی آیت ﴿اِذْقَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ﴾ کی توجیہات جو رفع آسمانی سے متفق ہیں نقل کرنے کے بعد اپنی سند سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے میں نازل ہونے کی احادیث ذکر فرمائی ہیں۔ اسی ضمن میں لکھتے ہیں:
وقيل للحسين بن الفضل : هل تجد نزول عيسى فى القرآن؟ قال : نعم ، قوله : ﴿كَهْلا﴾ وهو لم يكتهل فى الدنيا ، وإنما معناه وكَهْلا بعد نزوله من السماء.
(ص١٤٩ ج٢)
ترجمہ : ”حسین بن فضل سے دریافت کیا گیا‘ کیا آپ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ قرآن میں بھی پاتے ہیں‘ فرمایا ہاں! (دیگر آیات کے علاوہ) حق تعالیٰ کا قول ”وکہلا“ بھی اس کی دلیل ہے کیونکہ وہ دنیا میں اس عمر کو نہیں پہنچے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہونے کے بعد کہولت کو پہنچیں گے“۔
امام بغویؒ نے سورۂ النساء کی آیات (۱۵۶ تا ۱۵۸) سورۂ المائدہ کی آیت (۱۱۷) اور سورۂ الزخرف کی آیت (۶۱) کے تحت بھی عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر
اٹھائے جانے اور آخری زمانہ میں آسمان سے نازل ہونے کی تصریحات کی ہیں۔
(دیکھئے جلد سوم صفحہ ۹ تا ۲۳، ۲۸۲۔ جلد ۷ صفحہ ۴۰۷)
امام محی السنہ نے ”مصابیح السنۃ“ میں باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجّال“ - ”باب قصّۃ ابن الصيّاد“ - ”باب نزول عیسیٰ علیہ السلام“ ”باب لا تقوم الساعۃ الا علی الاشرار“ کے تحت نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث درج کی ہیں۔
(دیکھئے ص ۱۳۵ تا ص ۱۴۱ ج ۲)
نیز امام بغوی ؒ نے ”شرح السنۃ“، کتاب الفتن میں ”باب نزول عیسیٰ بن مریم صلوات اللہ علیہ“ کے ذیل میں احادیث نقل کر کے ان کی تصحیح کی ہے۔
(دیکھئے جلد ۱۵ ص ۸۰)
ابن العربی ؒ :
امام محمد بن عبد اللہ ابوبکر ابن العربی المالکی (م: ۵۴۳ھ) شرح ترمذی (ص ۷۶ ج ۹) میں لکھتے ہیں:
وَمَرَدُّ الْاَمْرِ اَنَّ عِيْسٰی ابْنَ مَرْيَمَ يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَهُوَ فِيْهَا حَيٌّ بَيَّنَاهُ فِيْ التَّفْسِيْرِ وَفِيْ كِتَابِ ”سِرَاجِ الْمُرِيْدِيْنَ“۔
ترجمہ : ”مختصر بات یہ ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور وہ آسمان میں زندہ ہیں ، ہم اس مسئلہ کو تفسیر میں اور کتاب سراج المریدین میں بیان کرچکے ہیں“۔
امام ابن عطیہ ؒ :
امام عبد الحق بن غالب بن عبد الرحمن المعروف بہ ابن عطیہ المغربی الغرناطی المالکی (۴۸۱ - ۵۴۱) کے حوالے سے شیخ ابو حیان ”تفسیر ”البحر المحیط“ میں لکھتے ہیں :
قال ابن عطية : وأجمعت الأمة على ما تضمنه الحديث المتواتر من أنّ عیسیٰ عليه السلام فى السماء حيّ وأنّه ينزل فى آخر الزمان.
(ص٤٧٣ ج٢)
ترجمہ : ”امام ابن عطیہؒ فرماتے ہیں کہ امت کا اس عقیدہ پر اجماع ہے جو حدیث متواتر میں وارد ہے کہ عیسیٰ ؑ آسمان میں زندہ ہیں اور یہ کہ وہ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے“۔
قاضی عیاض مالکی :
الامام الحافظ القاضی ابو الفضل عیاض بن موسیٰ الیحصبی المالکی (م: ۵۴۴ ھ) کے حوالہ سے امام نوویؒ ”شرح مسلم میں ”باب ذکر الدجال“ کے تحت فرماتے ہیں :
قال القاضى : هذه الأحاديث التى ذكرها مسلم وغيره فى قصّة الدجال حجّة لمذهب أهل الحق فى صحة وجوده وأنّه شخص بعينه، ابتلى الله به عباده، ... ويقتله عیسیٰ ﷺ ويثبت الله الذين آمنوا هذا مذهب أهل السنة وجميع المحدّثين والفقهاء والنظار.
(ص٣٩٩ ج٢)
ترجمہ : ”قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ یہ احادیث جو امام مسلمؒ اور دیگر حضرات نے دجال کے بارے میں ذکر فرمائی ہیں یہ اہل حق کے مذہب کی دلیل ہے کہ دجال کا وجود قطعی ویقینی ہے، اور یہ کہ وہ ایک معین شخص ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ بندوں کو آزمائیں گے۔۔۔اور دجال کو عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے اور اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدم رکھیں گے۔ یہی اہل سنت، تمام محدثین، فقہا اور متکلمین کا مسلک ہے“۔
نیز امام نوویؒ اسی باب میں قاضی عیاض سے نقل کرتے ہیں :-
قال القاضی رحمہ اللہ تعالیٰ : نزول عیسی ابن مریم علیہ السلام وقتلہ الدجّال حق صحیح عند أہل السنۃ للأحادیث الصحیحۃ فی ذلک، ولیس فی العقل ولا فی الشرع ما یبطلہ فوجب إثباتہ، وأنکر بعض المعتزلۃ والجہمیۃ ومن وافقہم وزعموا أن ہذہ الأحادیث مردودۃ بقولہ تعالیٰ : ﴿خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ﴾، وبقولہ ﷺ : «لا نبی بعدی»، وبإجماع المسلمین أنہ لا نبی بعد نبینا ﷺ وإن شریعتہ مؤبدۃ إلی یوم القیامۃ لا تنسخ.
وہذا استدلال فاسد لأنہ لیس المراد بنزول عیسیٰ علیہ السلام أنہ ینزل نبیاً بشرع ینسخ شرعنا ولا فی ہذہ الأحادیث ولا فی غیرہا شیء من ہذا، بل صحت الأحادیث ہہنا وما سبق فی کتاب الإیمان وغیرہا، إنہ ینزل حکماً مقسطاً یحکم بشرعنا ویحیی من أمور شرعنا ما ہجرہ الناس .
(ص٤٠٣ ج٢)
ترجمہ : ’’قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ عیسیٰؑ کا نازل ہونا اور ان کا دجال کو قتل کرنا‘ اہل سنت کے نزدیک حق اور صحیح ہے کیونکہ اس میں احادیث صحیحہ وارد ہیں۔ اور کوئی عقلی یا نقلی دلیل ایسی نہیں جو اس عقیدے کو باطل کرے۔ پس اس عقیدے کا اقرار واجب ہے‘ اور بعض معتزلہ اور جہمیہ اور ان کے موافقین نے اس کا انکار کیا ہے۔ ان کے زعم میں یہ احادیث مردود ہیں حق تعالیٰ کے ارشاد ﴿خاتم النبیین﴾ اور آنحضرت ﷺ کے ارشاد ”لا نبی بعدی“ کی وجہ سے۔ نیز مسلمانوں کے اس اجماع کے سبب کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا‘ اور یہ کہ آپ کی شریعت قیامت تک رہے گی منسوخ نہ ہوگی۔
اور ان کا یہ استدلال فاسد ہے کیونکہ عیسیٰ ؑ کے نازل ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ نبی کی حیثیت سے نازل ہوں گے‘ اور اپنی شریعت کے ذریعہ ہماری شریعت کو منسوخ کر ڈالیں گے۔ نہ ان
احادیث میں اور نہ کسی اور حدیث میں ایسا کوئی مضمون پایا جاتا ہے ، بلکہ احادیث صحیحہ میں جو یہاں ذکر کی گئی ہیں اور کتاب الایمان وغیرہ میں گزر چکی ہیں یہ آتا ہے کہ وہ حاکم منصف کی حیثیت سے نازل ہوں گے ، ہماری شریعت کا حکم چلائیں گے ہماری شریعت کے ان امور کو زندہ کریں گے جن کو لوگ چھوڑ چکے ہوں گے“۔
حضرت پیران پیر ؒ :
حضرت محبوب سبحانی پیران پیر شاہ عبد القادر جیلانی الحنبلی ؒ (٤٧٠۔ ٥٦١ھ) ”غنیۃ الطالبین“ میں یوم عاشورا کی فضیلت میں فرماتے ہیں :
(ص ٦٧٦)
ورفع عیسیٰ علیہ السلام فی یوم عاشوراء.
ترجمہ : ”اور اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کو عاشورا کے دن“۔
آگے لکھتے ہیں کہ عاشورا کے دن کو دس فضیلتیں ہیں :
(ص ٦٨٢)
والتاسعة : رفع الله عزّ وجل عیسیٰ علیہ السلام إلی السماء فیہ .
ترجمہ : ”نویں فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا عیسیٰ ؑ کو آسمان کی طرف اس دن میں“۔
امام سہیلی :
الامام الفقیہ المحدث ابو القاسم عبد الرحمٰن بن عبد اللہ بن احمد بن ابی الحسن - الخثعمی السہیلی (٥٠٨۔٥٨١ھ) سیرت ابن ہشام کی شرح ”الروض الانف“ میں حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں یہود و نصاریٰ دونوں کے موقف کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
وقد أعطاه الله من الدلائل على الفريقين ما يبطل المقالتين، ودلائل الحدوث تثبت له العبودية وتنفى عنه الربوبية، وخصائص معجزاته تنفى عن أمه الريبة وتثبت له ولها النبوة والصديقية، فكان فى مسيح الهدى من الآيات ما يشاكل حاله ومعناه حكمة من الله، كما جعل فى الصورة الظاهرة من مسيح الضلالة وهو الأعور الدجال ما يشاكل حاله ويُناسب صورته الباطنة على نحو ما شرحنا وبيّنا فى إملاء أمليناه على هذه النكتة فى غير هذا الكتاب، والحمد لله .
(الروض الأنف ص٤٨ ج٢)
ترجمہ : ”اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو فریقین کے مقابلہ میں وہ دلائل عطا فرمائے جو دونوں فریقوں کے قول کی تردید کرتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں دلائل حدوث کا پایا جانا ان کے بندہ ہونے کو ثابت کرتا ہے اور ان سے الوہیت کی نفی کرتا ہے، اور ان کے خصوصی معجزات ان کی والدہ سے یہود کی بدگمانی کو رفع کرتے ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے نبوت اور ان کی والدہ کے لئے صدیقیت کا اثبات کرتے ہیں۔ پس مسیح ہدایت (عیسیٰ علیہ السلام) میں وہ علامات تھیں جو بنا بر حکمت الٰہی انکے حال ومعنی کے مناسب تھیں، جیسا کہ مسیح ضلالت دجال اعور کی ظاہری صورت وہ رکھی گئی جو اس کے حال اور اس کی صورت باطنی کے ہم شکل تھی۔ جیسا کہ ہم بحمد اللہ اس نکتہ کی تشریح دوسری کتاب میں کر چکے ہیں“۔
(ص ۴۸‘ ۴۹ ج ۲)
دوسری جگہ لکھتے ہیں
وكان إرسال المسيح للحواريين بعد ما رفع وصلب الذى شبه به، وجاءت مريم الصديقة والمرأة التى كانت مجنونة فأبرأها المسيح وقعدتا عند الجذع تبكيان، وقد أصاب أمه من الحزن عليه ما لم يعلم علمه إلا الله، فأهبط إليهما، وقال: علام تبكيان، فقالتا: عليك، فقال: إنى لم أقتل ولم أصلب، لكن الله رفعنى
وكَرَمنى وشبه عليهم فى أمرى، أبلغا عنى الحواريين أمرى أن يلقونى فى موضع كذا ليلا فجاء الحواريون ذلك الموضع، فإذا الجبل قد اشتعل نوراً لنزوله به، ثم أمرهم أن يدعوا الناس إلى دينه وعبادة ربهم، فوجههم إلى الأمم التى ذكر ابن إسحاق وغيرهم وكُسى كسوة الملائكة فعرج معهم فصار ملكيّا إنسيّا سمائيّا أرضيّا.
(ص ٣٥٣ ج٢)
ترجمہ : ”اور عیسیٰ علیہ السلام کا حواریوں کو تبلیغ کے لئے بھیجنا اس کے بعد ہوا تھا جب کہ آپ کو آسمان پر اٹھا لیا گیا اور جس شخص پر آپ کی شباہت ڈال دی گئی وہ سولی دیا گیا‘ (اس کا قصہ یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا گیا اور ان کی شباہت کے دوسرے شخص کو سولی دی گئی تو) حضرت مریم صدیقہ اور وہ عورت جو حضرت مسیح علیہ السلام کی دعا سے دیوانگی سے شفایاب ہوئی تھی یہ دونوں آئیں اور صلیب کی لکڑی کے پاس بیٹھ کر رونے لگیں ‘ اور ان کی والدہ ماجدہ کو ایسا غم لاحق ہوا جس کی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے آپ ان دونوں کے پاس آسمان سے اترے اور فرمایا تم کس چیز پر رو رہی ہو؟ انہوں نے کہا آپ پر ‘ آپ نے فرمایا میں نہ قتل ہوا ‘ نہ سولی دیا گیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اٹھا لیا اور مجھے عزت وکرامت عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے میرے معاملہ میں ان پر اشتباہ ڈال دیا۔ تم دونوں حواریوں کو میرا پیغام پہنچا دو کہ فلاں جگہ مجھے رات کے وقت ملیں ‘ چنانچہ حواری اس جگہ پہنچے تو دیکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی وجہ سے پہاڑ نور سے جگمگا رہا ہے پھر آپ نے ان کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں کو آپ کے دین کی اور اللہ کی عبادت کی دعوت دیں ‘ پس آپ نے ان کو ان اقوام کی طرف بھیجا جن کا تذکرہ ابن اسحاق وغیرہ نے کیا ہے ۔ پھر آپ کو فرشتوں کا لباس پہنایا گیا اور آپ فرشتوں کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے۔ پس آپ فرشتہ انسان اور زمین و آسمان کے رہنے والے بن گئے“۔
امام ابن الجوزیؒ :
امام جمال الدین ابو الفرج عبد الرحمٰن بن علی بن محمد بن علی بن عبید اللہ القرشی، التیمی، البکری، البغدادی الحنبلی (۵۱۰ - ۵۹۷) کے حوالے سے صاحب مشکوٰۃ نے یہ حدیث نقل کی ہے۔
عن عبد الله بن عمرو أن رسول الله ﷺ قال: «ينزل عيسى ابن مريم إلى الأرض فيتزوج ويولد له فيمكث خمساً وأربعين سنة ثم يموت فيدفن فى قبرى فأقوم أنا وعيسى ابن مريم من قبر واحد بين أبى بكر وعمر رضى الله عنهما.
(مشكوة المصابيح ص ٤٨٠، وفاء الوفاء ص ٥٥٨ ج ٢)
ترجمہ : ”حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عیسیٰ ؑ (آسمان سے زمین کی طرف) اتریں گے پس نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی، پس ۴۵ برس زمین میں رہیں گے، پھر ان کا انتقال ہو گا، پھر میرے ساتھ میرے روضے میں دفن ہوں گے پس میں اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کے درمیان ایک ہی مقبرہ سے اٹھیں گے۔“
ساتویں صدی
امام فخر الدین رازیؒ :
امام فخر الدین محمد بن عمر الرازی الشافعیؒ (م : ۶۰۶ھ) نے ”تفسیر کبیر“ میں کئی جگہ یہ عقیدہ درج فرمایا ہے۔
سورۂ آل عمران کی آیت ﴿اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ﴾ کے تحت لکھتے ہیں :-
وقد ثبت الدليل أنه حيّ ، وورد الخبر عن النبى ﷺ أنّه سينزل ويقتل الدجال ، ثم إنّه تعالى يتوفاه بعد ذلك .
(ج ٢ ص ٦٨٩)
ترجمہ : ” اور بے شک دلیل سے یہ ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہیں اور آنحضرت ﷺ کی جانب سے یہ خبر دی گئی ہے کہ وہ (قرب قیامت میں ) نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو قبض کریں گے “ ۔
اسی کے ذیل میں مزید لکھتے ہیں :
والوجه السادس : أنّ التوفى أخذ الشيء وافيًا ، ولما علم الله أنّ من الناس من يخطر بباله أن الذى رفعه الله هو روحه لا جسده ، ذكر هذا الكلام ليدل أنه عليه السلام رفع بتمامه إلى السماء بروحه وجسده .
ترجمہ : ”چھٹی وجہ یہ کہ توفی کے معنی ہیں پورا پورا لینا ‘ چونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ علم ہے کہ بعض لوگوں کے دل میں وسوسہ پیدا ہو سکتا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی صرف روح کو اللہ تعالیٰ نے اٹھایا ہو گا جسم کو نہیں ۔ اس لئے یہ کلام ذکر فرمایا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح و جسم سمیت آسمان پر صحیح و سالم اٹھا لئے گئے ہیں “ ۔
سورۂ النساء کی آیت ﴿ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ﴾ کے ذیل میں لکھتے ہیں :-
المسألة الثانية : رفع عيسى عليه السلام إلى السماء ثابت بهذه الآية ونظير هذه الآية قوله فى آل عمران : ﴿ إِنِّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ ﴾ .
(ج ٣ ص ٥٠٤)
ترجمہ : ”دوسرا مسئلہ : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا اس آیت سے ثابت ہوتا ہے ، اور اس آیت کی نظیر سورۂ
آل عمران میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے ”إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ“ اور اس سے اگلی آیت : وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ الخ کے ذیل میں لکھتے ہیں :
قوله : ﴿قَبْلَ مَوْتِه﴾ أي قبل موت عيسى، والمراد أن أهل الكتاب الذين يكونون موجودين فى زمان نزوله لا بد وأن
يؤمنوا به . (تفسير كبير ج ٣ ص ٥٠٥)
ترجمہ : ”قبل موتہ سے مراد عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے، آپ کا مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے جو لوگ آپ ؑ کے زمانہ نزول کے وقت موجود ہوں گے وہ لامحالہ آپ پر ایمان لائیں گے۔“
سورۂ مائدہ کی آیت (۱۲۰) کے ذیل میں فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیْ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :-
والمراد منه وفاة الرفع إلى السماء. (تفسير كبير ج ٣ ص ٧٠٠)
ترجمہ : ”یہاں توفی سے مراد ہے آسمان پر اٹھا لیا جانا“۔
سورۃ الزخرف کی آیت (٦١) وَإِنَّه لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :-
وإن عيسى لعلم للساعة أى شرط من أشراطها تعلم به إلخ . (تفسير كبير ج ٧ ص ٤٥٢)
ترجمہ : ”اور عیسیٰ ؑ قیامت کی نشانی ہیں، یعنی (ان کا نزول) علامات قیامت میں سے ایک علامت ہے جس سے (قرب) قیامت کا علم ہوگا“۔
امام ابو البقاءؒ :
الشيخ الامام ابو البقا عبد الله بن حسين بن عبد الله العکبری (م : ٦١٦ ھ ) ”املاء ما من بہ الرحمن“ (جو اعراب القرآن کے نام سے معروف ہے) میں آیت
”اِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ کے ذیل میں لکھتے ہیں :-
والتقدير رافعك إلىّ ومتوفيك لأنّه رفع إلى السماء ثم يتوفى بعد ذلك.
(ص ۱۳۷)
ترجمہ : ”اصل یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا اور بعد میں وفات دینے والا ہوں۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے پھر اس کے بعد ان کی وفات ہو گی“۔
شیخ یاقوت حمویؒ :
لغت وعربیت کے امام شیخ شہاب الدین ابو عبداللہ یاقوت بن عبداللہ الرومی الحموی (م۶۲۶ھ) ”معجم البُلدان“ میں لکھتے ہیں:
لُدّ: قرية قرب بيت المقدس من نواحى فلسطين ببابها يدرك عيسى ابن مريم الدجّال فيقتله.
(ج ۵ ص ۱۵)
ترجمہ : ”لُدّ : نواحی فلسطین میں بیت المقدس کے قریب ایک بستی ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کا تعاقب کرتے ہوئے اسے لد کے دروازے پر لے جائیں گے اور وہاں اسے قتل کریں گے“۔
شیخ ابن عربیؒ :
رئیس المکاشفین شیخ اکبر محی الدین محمد بن علی الطائی المغربی المالکی (م : ۶۳۸ ھ) نے اپنی کتابوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کی جابجا تصریحات فرمائی ہیں۔
”فتوحات مکیہ“ باب ۳۶۷ میں حدیث معراج کے ذیل میں لکھتے ہیں :
فلمّا دخل إذا بعيسى عليه السلام بجسده وعينه، فإنه لم يمت إلى الآن، بل رفعه الله إلى هذه السماء وأسكنه بها.
(الیواقیت والجواہر ص ۳۴ ج ۲)
ترجمہ : ”پس جب آپ ﷺ اس آسمان میں داخل ہوئے تو عیسیٰ ؑ کو بعینہ اسی جسم کے ساتھ دیکھا کیونکہ وہ اب تک مرے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس آسمان پر اٹھا لیا، اور اس آسمان میں ان کو ٹھہرایا“۔
اور ”فتوحات مکیہ“ کے باب ۳۷۳ میں لکھتے ہیں:
”فإنه لا خلاف أن عيسى عليه السلام نبى ورسول وأنّه لا خلاف أنّه ينزل فى آخر الزمان حكماً مقسطاً عدلاً بشرعنا“ .
(فتوحات مکیة ص ۳ ج ۲)
ترجمہ : ”بے شک عیسیٰ بن مریم نبی و رسول ہیں اور یقیناً اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ آخری زمانہ میں حاکم منصف بن کر نازل ہوں گے، اور ہماری شریعت کے مطابق عدل کی حکومت کریں گے“۔
نیز باب ۳۵۳ میں لکھتے ہیں :
وقد جاء الخبر الصحيح فى عيسى عليه السلام وكان ممن أوحى إليه قبل رسول الله ﷺ أنّه إذا نزل فى آخر الزمان لا يؤمّنا إلا بنا أى بشريعتنا وسنّتنا مع أنّه له الكشف التام إذا نزل زيادةً على الإلهام الذى يكون له كما لخواص هذه الأمّة.
(یواقیت ج ۳ ص ۸۴)
ترجمہ : ”اور صحیح حدیث میں حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جن کی طرف ہمارے رسول اللہ ﷺ سے قبل وحی نازل ہوئی تھی..... آتا ہے کہ جب وہ آخری زمانے میں نازل ہوں گے تو وہ صرف ہماری شریعت وسنت کی پیروی کریں گے، باوجودیکہ جب وہ نازل ہوں گے تو ان کو الہام سے بڑھ کر کشف تام ہوگا“۔
اور شیخ اکبرؒ کی طرف منسوب ”تفسیر ابن عربی“ میں سورۂ آل عمران کی آیت ”اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ“ کی تفسیر میں ہے :
﴿إِنِّي مُتَوَفِّيكَ﴾ أى قابضك إلىَّ من بينهم ﴿وَرَافِعُكَ إِلَيَّ﴾ أى إلى سماء الروح فى جوارى .
(ج ۱ ص ١١٤)
ترجمہ : ”اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ سے فرمایا کہ میں تجھے یہود کے درمیان سے اپنے قبضہ میں لیکر روح کے آسمان کی طرف اپنے جوار میں اٹھانے والا ہوں“۔
آگے لکھتے ہیں کہ یہود نے عیسیٰ ؑ کو پکڑنے کے لئے ایک شخص کو بھیجا، اللہ تعالیٰ نے آپ کی شبیہ اس پر ڈال دی۔ انہوں نے اسے عیسیٰ سمجھ کر قتل کر دیا اور صلیب دی۔
والله رفع عيسى إلى السماء الرابعة .
(ج ۱ ص ١١٥)
ترجمہ : ”اور اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کو چوتھے آسمان پر اٹھا لیا“۔
اسی تفسیر میں سورۃ النساء کی آیت وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ الخ کے ذیل میں ہے :
رفع عيسى عليه السلام اتصال روحه عند المفارقة عن العالم السفلى بالعالم العلوى ... ولما كان مرجعه إلى مقره الأصلى ولم يصل إلى الكمال الحقيقى وجب نزوله فى آخر الزمان بتعلقه ببدن آخر ، وحينئذٍ يعرفه كل أحدٍ فيؤمن به أهل الكتاب أى أهل العلم العارفين بالمبدأ والمعاد كلهم عن آخرهم قبل موت عيسى بالفناء فى الله.
(ج ۱ ص ١٦٥)
ترجمہ : ”عیسیٰ ؑ کے اٹھائے جانے کی وجہ سے ان کی روح عالمِ سفلی سے جدا ہو کر عالمِ علوی سے متصل ہو گئی ...... اور چونکہ ان کو اپنے اصلی مستقر پر واپس آنا تھا اور اس کمال حقیقی تک (جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تجویز فرمایا) ابھی نہیں پہنچے۔ اس لئے آخری زمانہ میں ان کا نزول دوسرے بدن سے متعلق ہو کر واجب ہوا، اس وقت ان کو ہر شخص پہچان لے گا۔ پس اہل کتاب جو مبدا
ومعاد کے عارف ہوں گے سب کے سب ان پر ایمان لائیں گے ان کی موت سے پہلے“۔
فائدہ : یہاں دوسرے بدن سے متعلق ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ عیسیٰ ؑ کی روح بطور تناسخ کسی اور بدن میں حلول کرے گی، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس وقت ان کے بدن پر آثار ملکوتی کا غلبہ ہے ، اور جب ان کا نزول ہو گا تو آثار بشری نمایاں ہوں گے ۔
اسی تفسیر میں سورۃ الزخرف کی آیت (۶۱) ”وَ اِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ “ کے ذیل میں ہے :
أى أن عيسى مما يعلم به القيامة الكبرى وذلك أن نزوله من أشراط الساعة.
(ج۲ ص۲۱۹)
ترجمہ : ”یعنی عیسیٰ ؑ کے ذریعہ قیامت کبریٰ (کے قرب) کا علم ہو گا کیونکہ آپ کا نزول قیامت کی علامات میں سے ہے“۔
امام عز الدین بن عبدالسلام :
سلطان العلماء شیخ الاسلام عز الدین عبدالعزیز بن عبدالسلام المصری الشافعیؒ (م ٦٦٠ھ) اپنی کتاب ”الاشارة الی الایجاز فی بعض انواع المجاز “ میں .... جو عام طور سے ”مجازات القرآن “ کے نام سے معروف ہے سورۂ آل عمران کی آیت ”اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ “ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
أى إنى متوفى نفسك إذا نزلت إلى الأرض فى آخر الزمان، ورافعك إلى سمائى إلخ.
(ص ۱۲۸)
ترجمہ : ”یعنی میں تیری جان قبض کروں گا جب تو آخری زمانے میں زمین پر نازل ہو گا، اور اب تجھ کو اپنے آسمان کی طرف اٹھا لوں گا“۔
اور سورۃ النساء کی آیت ”بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ “ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
أى بل رفعه الله إلى السماء .
(ص ۱۳۶)
ترجمہ : ”یعنی بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا“۔
اس سے اگلی آیت ”وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ“ الخ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
أى وما أحدٌ من أهل الكتاب إلا ليؤمن بعبوديته قبل موت المسيح أو قبل موت الكتابي.
(ص ۱۳۶)
ترجمہ : ”یعنی اہل کتاب میں کوئی فرد نہیں مگر وہ ایمان لائے گا اس کے بندہ ہونے پر مسیح کی موت یا کتابی کی موت سے پہلے“۔
اور سورۃ الزخرف کی آیت ”وَإِنَّه لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ“ کے ذیل میں لکھتے ہیں :
أى وإن نزوله فى آخر الزمان لموجب علم لدنو الساعة أو لاقتراب الساعة .
(ص ۱۹۳)
ترجمہ : ”یعنی آخری زمانے میں عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قرب قیامت کا پتہ دے گا“۔
حافظ زین الدین رازی حنفیؒ :
الامام الحافظ زین الدین محمد بن ابی بکر الرازی الحنفی (م ۶۶۶ ھ) اپنی کتاب ”مسائل الرازی واجوبتھا“ میں (جو قرآن کریم کی آیات سے متعلق قریباً بارہ سو سوال وجواب پر مشتمل ہے) لکھتے ہیں :
فإن قيل : كيف قال : ﴿إِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ﴾ والله تعالى رفعه ولم يتوفَّه، قلنا : لما هدده اليهود بالقتل بشّره الله تعالى بأنّه إنّما يقبض روحه بالوفاة لا بالقتل، والواو لا تفيد الترتيب، فلا يلزم من الآية موته قبل رفعه.
الثاني : أنه فيه تقديمًا وتأخيرًا، أي إني رافعك ومتوفيك،
والثالث : أن معناه قابضك من الأرض تامًا وافيًا في أعضاءك وجسدك لم ينالوا منك شيئًا.
(ص ۳۳)
ترجمہ : ”اگر کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے فرمایا ”انی متوفيك و رافعك الی“ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھا تو لیا ہے ، مگر وفات نہیں دی۔ اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ جب یہود نے آپ کو قتل کی دھمکی دی تو اللہ تعالیٰ نے بشارت دی کہ وہ آپ کی روح بذریعہ طبعی موت کے قبض کرے گا۔ قتل کے ساتھ نہیں۔ اور واؤ ترتیب کا فائدہ نہیں دیتی اس لئے آیت سے ان کا رفع سے پہلے مرنا لازم نہیں آتا۔ دوم یہ کہ آیت میں تقدیم وتاخیر ہے۔ یعنی فی الحال تجھے اٹھانے والا ہوں اور پھر (آخری زمانے میں) وفات دینے والا ہوں۔ سوم یہ کہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ میں تجھے زمین سے اعضا وجسم سمیت پورا پورا قبض کرنے والا ہوں ، یہودی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے“۔
اور سورۃ احزاب کی آیت ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم الخ کے ذیل میں لکھتے ہیں :
فإن قيل : كيف قال تعالى : ﴿وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾ ، وعيسى عليه السلام بعده وهو نبيّ . قلنا : معنى كونه خاتم النبيّين أنه لا يتنبأ أحد بعده، وعيسى ممن نبئ قبله، وحين ينزل ينزل عاملا بشريعة محمد ﷺ مصليًا إلى قبلته كأنّه بعض أمّته .
(ص ۲۸۲)
ترجمہ : ”اگر کہا جائے کہ حق تعالیٰ نے ”وخاتم النبیین“ کیسے فرمایا۔ حالانکہ عیسیٰ ؑ آپ کے بعد ہیں اور وہ نبی ہیں۔ جواب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کو نبوت نہیں ملے گی اور عیسیٰ ؑ کو آپ سے پہلے مل چکی ہے ، اور وہ جب نازل ہوں گے تو آنحضرت ﷺ کی شریعت پر عمل کریں گے ، آپ ﷺ ہی کے قبلہ کی طرف نماز پڑھیں گے۔ گویا آپ ﷺ کی امت کے ایک فرد ہوں گے“۔
امام قرطبی :
امام ابو عبداللہ محمد بن احمد الانصاری القرطبی المالکیؒ (م۶۷۱ھ) اپنی مشہور تفسیر ”الجامع لاحکام القرآن“ میں لکھتے ہیں :
والصحيح أن الله تعالى رفعه إلى السماء من غير وفاة ولا نوم، كما قال الحسن وزيد، وهو اختيار الطبرى، وهو الصحيح عن ابن عباس وقاله الضحاك.
(ص۱۰۰ ج٤)
ترجمہ : ”اور صحیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بغیر وفات اور بغیر نیند کے آسمان کی طرف اٹھالیا۔ جیسا کہ امام حسنؒ اور زیدؒ نے فرمایا ہے اور طبری نے اس کو لیا ہے اور یہی حضرت ابن عباس ؓ سے صحیح ثابت ہوا ہے اور یہی امام ضحاکؒ نے کہا ہے“۔
نیز آیت کریمہ ”وانه لعلم للساعة“ کے ذیل میں ارشادات نبویہ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
قال علماءنا رحمة الله عليهم، فهذا نصّ على أنّه ينزل مجددًا لدين النبي ﷺ للذي درس منه لا بشرع مبتدأ، والتكليف باقٍ على ما بيّناه هنا وفى ”كتاب التذكرة“.
(ج١٦ ص١٠٧)
ترجمہ : ”ہمارے علماء (اہلِ سنت) رحمہم اللہ نے فرمایا کہ یہ ارشادات اس بارے میں نص ہیں کہ عیسیٰ ؑ، آنحضرت ﷺ کے دین کے مجدد کی حیثیت سے نازل ہوں گے، دین کی جو باتیں مٹ گئی ہوں گی ان کو زندہ فرمائیں گے، اپنی الگ شریعت نہیں لائیں گے، لوگ اس وقت بھی دین محمدی کے مکلف ہوں گے۔ جیسا کہ ہم نے یہاں، اور کتاب التذکرہ میں بیان کیا ہے“۔
امام نوویؒ شارح مسلمؒ :
الامام الحافظ محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی الشافعیؒ (۶۳۱ -
امام قرطبی :
امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد الانصاری القرطبی المالکیؒ (م ۶۷۱ ھ ) اپنی مشہور تفسیر ”الجامع لاحکام القرآن“ میں لکھتے ہیں :
والصحيح أن الله تعالى رفعه إلى السماء من غير وفاة ولا نوم، كما قال الحسن وزيد، وهو اختيار الطبري، وهو الصحيح عن ابن عباس وقاله الضحاك.
(ص ۱۰۰ ج ٤)
ترجمہ : ”اور صحیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بغیر وفات اور بغیر نیند کے آسمان کی طرف اٹھا لیا ۔ جیسا کہ امام حسنؒ اور زیدؒ نے فرمایا ہے اور طبری نے اس کو لیا ہے اور یہی حضرت ابن عباس ؓ سے صحیح ثابت ہوا ہے اور یہی امام ضحاکؒ نے کہا ہے“ ۔
نیز آیت کریمہ ”وانه لعلم للساعة“ کے ذیل میں ارشادات نبویہ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
قال علماءنا رحمة الله عليهم، فهذا نصّ على أنّه ينزل مجدّداً لدين النبى ﷺ للذى درس منه لا بشرع مبتدأ، والتكليف باقٍ على ما بيّناه هنا وفى ”كتاب التذكرة“.
(ج ١٦ ص ١٠٧)
ترجمہ : ”ہمارے علماء (اہل سنت) رحمہم اللہ نے فرمایا کہ یہ ارشادات اس بارے میں نص ہیں کہ عیسیٰ ؑ ، آنحضرت ﷺ کے دین کے مجدد کی حیثیت سے نازل ہوں گے ، دین کی جو باتیں مٹ گئی ہوں گی ان کو زندہ فرمائیں گے ، اپنی الگ شریعت نہیں لائیں گے ، لوگ اس وقت بھی دینِ محمدی کے مکلف ہوں گے ۔ جیسا کہ ہم نے یہاں ، اور کتاب التذکرہ میں بیان کیا ہے“ ۔
امام نوویؒ شارح مسلمؒ :
الامام الحافظ محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی الشافعیؒ ( ۶۳۱ ۔
وأما قوله ﷺ : «ويفيض المال» -فهو بفتح الياء، ومعناه يكثر - وتنزل البركات وتكثر الخيرات بسبب العدل وعدم التظالم، وتقيء الأرض أفلاذ كبدها، كما جاء في الحديث الآخر وتقل أيضًا الرغبات لقصر الآمال وعلمهم بقرب القيامة، فإن عيسى ﷺ علمٌ من أعلام الساعة، والله أعلم.
(۱۰ ص ۸۷)
ترجمہ : ” اور آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد کہ اس وقت (عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں) مال بہ پڑے گا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ عدل وانصاف اور رفع مظالم کی وجہ سے مال کی بہتات ہوگی‘ برکتیں نازل ہوں گی‘ خیرات کی کثرت ہوگی‘ زمین اپنے جگر کے ٹکڑے اگل دے گی‘ جیسا کہ دوسری حدیث میں آیا ہے۔ نیز لمبی لمبی امیدوں کے ختم ہو جانے اور قرب قیامت کا علم ہو جانے کے سبب مال سے لوگوں کی رغبتیں کم ہو جائیں گی کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا آنا قیامت کی علامتوں میں سے ہے۔“
اور ”باب ذکر الدجال“ میں لکھتے ہیں : قوله ﷺ : «فيبعث الله عيسى ابن مريم» - أى ينزل من السماء - حاكماً بشرعنا، وقد سبق بيان هذا في كتاب الإيمان. قال القاضي رحمه الله تعالى: نزول عيسى عليه السلام وقتله الدجّال حقّ وصحيحٌ عند أهل السنّة للأحاديث الصحيحة في ذلك، وليس في العقل ولا في الشرع ما يبطله فوجب إثباته .
(ج ۲ ص ٤٠٣)
ترجمہ : ”آنحضرت ﷺ کا ارشاد کہ اللہ تعالیٰ (قتل دجال کیلئے) عیسیٰ بن مریم کو بھیجیں گے‘ یعنی وہ آسمان سے نازل ہوں گے ہماری شرع کیساتھ حاکم بن کر۔ اور اس کابیان کتاب الایمان میں گزر چکا ہے۔ قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ اہل سنت کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا حق اور صحیح ہے‘ بوجہ ان
احادیث صحیحہ کے جو اس بارے میں وارد ہوئی ہیں، اور اس کے خلاف کوئی عقلی یا شرعی دلیل نہیں جو اس کا توڑ کرے۔ اس لئے اس کا اقرار واجب ہے۔“
اور امام نووی ”تہذیب الاسماء والصفات“ میں فرماتے ہیں:
وثبت فى "الصحيحين" : أنّ رسول الله ﷺ قال : ينزل عيسى ابن مريم من السّماء ويقتل الدّجال بباب لُدّ، وأحاديثه في قصّة الدجّال مشهورة في الصحيح - وينزل عيسى حكمًا عدلا كما سبق فى الحديث الصحيح لا رسولا ، وإنّه يصلّى وراء الإمام منّا تكرمة من الله تعالى لهذه الأمة وجاء أنّه يتزوج بعد نزوله ويولد له ويدفن عند النبى ﷺ.
(ص٤٧ ج٢)
ترجمہ : ”اور صحیحین میں ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ ؑ آسمان سے نازل ہوں گے اور باب لُد پر دجال کو قتل کریں گے، اور آنحضرت ﷺ کی احادیث صحاح قصہ دجال میں مشہور ہیں، اور عیسیٰ ؑ حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے جیسا کہ حدیث صحیح میں پہلے گزر چکا ہے، اس امت کے رسول کی حیثیت سے نہیں آئیں گے اور وہ ہمارے امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کا اعزاز ہے، اور یوں آتا ہے کہ وہ نزول کے بعد شادی کریں گے اور ان کے اولاد بھی ہوگی اور نبی کریم ﷺ کے پاس دفن ہوں گے۔“
قاضی بیضاوی :
شیخ الاسلام ناصر الدین ابو سعید عبداللہ بن عمر القاضی البیضاوی الشافعیؒ (م ٦٨٥ھ) اپنی تفسیر ”انوار التنزیل واسرار التاویل“ میں جو تفسیر بیضاوی کے نام سے متداول ہے ..... حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات اور آخری زمانے میں نزول کی
تصریحات متعدد جگہ فرماتے ہیں۔
سورۂ آل عمران کی آیت کریمہ ”وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ“ کے تحت لکھتے ہیں:
﴿وَمَكَرَ اللّٰهُ﴾ حين رفع عيسى عليه الصلاة والسلام وألقى شبهه على من قصد اغتياله حتى قتل.
(ج۱ ص ۵۰۵)
ترجمہ : ”اور اللہ تعالیٰ نے (یہود کے مقابلے میں) تدبیر کی جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا اور ان کی شباہت اس شخص پر ڈال دی جو آپ کو پکڑانا چاہتا تھا یہاں تک کہ وہ قتل ہو گیا“۔
اور سورۃ النساء کی آیت ”وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ“ الخ کے تحت لکھتے ہیں:
وقيل: الضميران لعيسى عليه أفضل الصلاة والسلام، والمعنى أنّه إذا نزل من السماء آمن به أهل الملل جميعًا. روى : «أنه عليه الصلاة والسلام ينزل من السماء حين يخرج الدجّال فيهلكه ولا يبقى أحدٌ من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به حتى تكون الملّة واحدة وهى ملّة الإسلام وتقع الأمنة حتى ترتع الأسود مع الإبل والنمور مع البقر والذئاب مع الغنم وتلعب الصبيان بالحيّات ويلبث فى الأرض أربعين سنة ثم يتوفّى ويصلّى عليه المسلمون».
(مجموعة أنوار التنزيل وأسرار التأويل لباب التأويل فى معانى التنزيل ص ۲۰۳ ج ۲)
ترجمہ : ”اور کہا گیا ہے کہ دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جب وہ آسمان سے نازل ہوں گے تو سب اہل ملل ان پر ایمان لے آئیں گے۔ روایت ہے کہ آپ آسمان سے اس وقت نازل ہوں گے جب دجال نکلے گا، پس اس کو ہلاک کر دیں گے، اور اہل کتاب میں کوئی ایسا نہ رہے گا جو ایمان نہ لائے۔ اس وقت صرف ایک ہی دین رہ جائے گا۔ یعنی دینِ اسلام اور زمین پر امن وامان کا دور دورہ ہو گا۔ یہاں تک کہ شیر
اونٹوں کے ساتھ‘ چیتے گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے۔ بچے سانپوں سے کھیلیں گے ، آپ زمین میں چالیس برس رہیں گے تب آپ کی وفات ہوگی اور مسلمان آپ کی نماز جنازہ پڑھیں گے“۔
اور سورۃ احزاب کی آیت کریمہ ”وَلكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّيْنَ“ کے تحت لکھتے ہیں :
ولا يقدح فيه نزول عيسى عليه السلام بعده لأنه إذا نزل كان على دينه مع أن المراد أنه آخر من نبئ.
(ج ۵ ص ۱۰۳)
ترجمہ : ”اور آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ کا نازل ہونا ختم نبوت میں قادح نہیں، کیونکہ وہ جب نازل ہوں گے تو آپ ﷺ کے دین پر ہوں گے، علاوہ ازیں آیت کا مدعا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری شخص ہیں جن کو نبوت عطا کی گئی ہے اور (عیسیٰ ؑ کو آپ ﷺ سے پہلے نبوت مل چکی تھی)“۔
اور سورۃ الزخرف کی آیت ”و انه لعلم للساعة“ کے تحت لکھتے ہیں :
﴿وَإِنَّه﴾ وإن عيسى ﴿لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ﴾ لأن حدوثه أو نزوله من أشراط الساعة يعلم به دنوها - وفي الحديث : «ينزل عيسى على ثنية من الأرض المقدسة -يقال لها أفيق- وبيده حربة بها يقتل الدجال فيأتى بيت المقدس والناس فى صلاة الصبح» إلخ .
(ج ۵ ص ۴۳۹)
ترجمہ : ”اور بے شک وہ یعنی عیسیٰ ؑ نشانی ہیں قیامت کی۔ کیونکہ ان کا وجود یا ان کا نزول علامت قیامت میں سے ہے جس سے قیامت کا قریب ہونا معلوم ہو گا، اور حدیث میں ہے کہ عیسیٰ ؑ ارض مقدسہ کی ایک گھاٹی پر جس کو افیق کہا جاتا ہے نزول فرمائیں گے۔ ان کے ہاتھ میں ایک نیزہ ہو گا جس سے دجال کو قتل کریں
گے ، پس وہ بیت المقدس میں اس وقت تشریف لائیں گے جبکہ لوگ صبح کی نماز میں کھڑے ہوں گے“۔
حافظ ابن ابی جمرہؒ :
امام حافظ ۔ عارف و محدث ابو محمد عبد اللہ بن ابی جمرہ الاندلسی (۶۹۹ھ) اپنی کتاب ”بہجۃ النفوس“ میں حدیث معراج کے ذیل میں انبیاء کرام علیہم السلام کے درجات و مراتب پر گفتگو کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ ؑ کے دوسرے آسمان میں ہونے کی وجہ اس طرح بیان فرماتے ہیں :
وأمّا عيسى عليه السّلام فإنّما كان فى السماء الثانية لأنّه أقرب الأنبياء إلى النبى ﷺ ولا انمحت شريعة عيسى عليه السّلام إلا بشريعة محمد عليه السّلام ولأنّه ينزل فى آخر الزمان لأمة النبى ﷺ بشريعته و يحكم بها ولهذا قال عليه السّلام : «أنا أولى الناس بعيسى» ، فكان فى السماء الثانية لأجل هذا المعنى .
(بهجة النفوس ص ١٩٥ ج ٣)
ترجمہ : ”اور عیسیٰ ؑ دوسرے آسمان پر اس لئے ہیں کہ وہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی نسبت آنحضرت ﷺ سے اقرب ہیں، اور عیسیٰ ؑ کی شریعت آنحضرت ﷺ کی شریعت سے منسوخ ہوگئی، اور اس لئے کہ وہ آخر زمانہ میں آنحضرت ﷺ کی امت میں آپ کی شریعت پر نازل ہوں گے، اور آپ ہی کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے اسی بنا پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ ”میں سب لوگوں سے عیسیٰ ؑ سے قریب تر ہوں“ اس لئے وہ دوسرے آسمان میں ہیں“۔
”حدیث سوال القبر وفتنته“ کے تحت دجال کی عدم الوہیت کے دلائل دیتے ہوئے لکھتے ہیں :
ثم بعد ذلك ينزل عيسى عليه السلام فيقتله بحربته حتى يرى دمه فى الحربة فلو كان إلها لدفع النقص والهلاك عن نفسه .
(بهجة النفوس ص ۱۲۳ ج ۱)
ترجمہ ”پھر اس کے بعد عیسیٰ ؑ نازل ہوں گے ، پس دجال کو اپنے نیزے سے قتل کریں گے ، یہاں تک کہ دجال کا خون آپ کے نیزے کو لگا ہوا نظر آئے گا ، پس اگر وہ معبود ہوتا تو نقص اور ہلاکت کو اپنی ذات سے دفع کرتا“ ۔
”حديث النهى عن اتباع الفرق الضالة و المحافظة على الدين“ کے تحت لکھتے ہیں :
وقوله عليه السّلام فى نزول عيسى ابن مريم عليه السلام : «وإمامكم منكم» أى أنه يكون على طريق هديى متّبع للكتاب والسنة.
(بهجة النفوس ص ٢٦٥ ج ٤ مطبعة الصديق الخيرية بجوار الأزهر بمصر ١٣٥٣هـ)
ترجمہ : ”اور آنحضرت ﷺ کا حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کے بارے میں ارشاد ہے کہ ”وہ تمہارے امام ہوں گے تم میں شامل ہو کر یعنی وہ میرے طریقہ پر ہوں گے اور کتاب وسنت کی پیروی کریں گے“ ۔
امام ابن النجار ؒ :
الامام الحافظ محب الدين ابو عبداللہ محمد ؒ بن محمود المعروف بابن النجار البغدادي الشافعی ( ۶۴۳ھ) کے حوالے سے علامہ سمہودی ”وفاء الوفا“ میں لکھتے ہیں :
وقال ابن النجار : قال أهل السير : وفى البيت موضع قبر فى السَّهوة الشرقية ، قال سعيد المُسَيِّب : فيه يدفن عيسى ابن مريم .
(ص ۵۵۸ ج ۲-۱)
ترجمہ : ”امام ابن نجار فرماتے ہیں کہ اہل سیر نے کہا ہے کہ روضہ اقدس میں ایک قبر کی جگہ مشرقی حصے میں موجود ہے ۔ حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دفن ہوں گے“۔
امام ابن الاثیر الجزریؒ :
علامہ عزالدین علی بن محمد بن محمد بن عبد الکریم المعروف بابن الاثیر الجزری (۵۵۵ - ۶۳۰ ھ) ”تاریخ الکامل“ میں ”ذکر رفع المسیح الی السماء“ کے عنوان کے تحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کا واقعہ نقل کر کے لکھتے ہیں :
واختلف العلماء في موته قبل رفعه إلى السماء، فقيل : رفع ولم يمت، وقيل : توفاه الله ثلاث ساعات، ثم أحياه ورفعه.
(ص ۱۱۰ و ۱۱۱ ج ۱)
ترجمہ : ”اور آسمان پر اٹھائے جانے سے پہلے ان کی موت میں اختلاف ہے ‘ پس ایک قول یہ ہے کہ بغیر موت کے اٹھائے گئے اور ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین گھڑی ان کو وفات دی پھر زندہ کر کے اٹھا لیا“۔
امام تورپشتیؒ :
الامام الحافظ العارف الزاہد المحدث الفقیہ شہاب الدین ابو عبد اللہ فضل اللہ ابن الامام تاج الدین ابی سعید الحسن بن حسین بن یوسف التورپشتی الحنفیؒ (۶۳۰ ھ) نے اپنے رسالہ ”المعتمد فی المعتقد“ کے دوسرے باب کی دسویں فصل میں علامات قیامت کا ذکر فرمایا ہے‘ جس میں ظہور مہدی ‘ خروج دجال ‘ نزول عیسیٰ بن مریم اور خروج یاجوج وماجوج وغیرہ قیامت کی علامات کبریٰ پر مفصل بحث
فرمائی ہے ۔ اس ضمن میں تحریر فرماتے ہیں :
و ازاں علامات بعضے آنست کہ بنص قرآن ثابت شدہ است ۔ و بعضے دیگر باحادیثے کہ بحد تواتر رسید ۔ ازاں وجہ کہ تواتر در جنس آں ثابت است“۔ (ص ۱۵۴)
ترجمہ : ”ان علامات قیامت میں سے بعض نص قرآن سے ثابت ہیں‘ اور بعض ایسی احادیث سے‘ جو تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی ہیں ۔ بدیں طور کہ تواتر ان کی جنس میں ثابت ہے“۔
اور خروج دجال کے بعد عیسیٰ ؑ کے نزول کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
و بعد از ظہور دجال و افساد وے در زمین نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام از آسمان ۔ و باحادیث درست از رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثابت شدہ است کہ عیسیٰ علیہ السلام در وقت اقتراب ساعت از آسمان فرود آید زندہ‘ و دجال را بکشد و زمین را از خبث و فساد و اتباع وے از اہل شرک‘ خاصہ یہوداں کہ دعویٰ کردہ اند کہ ما عیسیٰ را علیہ السلام بکشتیم و صلب کردیم‘ پاک کند (ص ۱۶۱)
ترجمہ : ”اور دجال کے ظاہر ہونے اور زمین میں اس کے فساد مچانے کے بعد آسمان سے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور صحیح احادیث میں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ عیسیٰ ؑ قرب قیامت میں آسمان سے زندہ نازل ہوں گے‘ اور دجال کو قتل کریں گے اور زمین کو اس کے خبث و فساد سے اور اس کے متبعین اہل شرک خصوصاً یہودیوں کے وجود سے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے عیسیٰ ؑ کو قتل کر دیا اور سولی پر چڑھا دیا ہے پاک کریں گے“۔
اس کے بعد نزول عیسیٰ ؑ کی حکمتیں ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
و حال وصف وے ہم براں نمط کہ رسول علیہ السلام خبر داد عیاناً با اہل قرن نماید ۔ و تاکید حجت بر اہل شرک و طغیان‘ و زیادہ
کردن یقین در دلہائے اہل ایمان ۔ و باید اعتقاد دارند کہ عیسیٰ علیہ السلام چوں بمیان ایں امت آید سبیل وے در احکام شرع سبیل اتباع پیغمبر ما باشد علیہ السلام ۔ زیرا کہ چوں حق تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم را بخلق فرستادہ بر ہمہ خلائق واجب شد کہ شریعت عیسیٰ علیہ السلام بگذارند۔ و بشریعت حضرت محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام انتقال کنند۔ و ہر آنچہ پیش ازاں بود از شرائع فروگذارند، پس معلوم شد کہ رسالت عیسیٰ علیہ السلام بآمدن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحد منتہی رسید ۔ و بعد ازوے پیغمبر دیگر نتواند بود، زیرا کہ حق تعالیٰ وے را خاتم انبیا گفت ۔ و باحادیث درست کہ بحد تواتر رسیدہ از رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درست شد کہ بعد از من ہیچ پیغمبر دیگر نباشد ۔ (ص ۱۶۲، ص ۱۶۳)
ترجمہ : ”اور آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ ؑ کے جو حالات بیان فرمائے ہیں وہ اس دور کے لوگوں کو ان کا کھلی آنکھوں مشاہدہ کرائیں گے، جس سے اہل شرک و طغیان پر حجت قائم ہوگی اور اہل ایمان کے ایمان و یقین میں اضافہ ہوگا، اور مسلمانوں کو یہ عقیدہ رکھنا چاہئے کہ جب عیسیٰ ؑ اس امت میں تشریف لائیں گے تو ہمارے پیغمبر ﷺ کے پیروکاروں کی طرح احکام شرعیہ کی پیروی کریں گے۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیج دیا تو تمام مخلوق پر واجب ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی شریعت کو چھوڑ کر حضرت محمد ﷺ کی شریعت کی طرف منتقل ہو جائیں اور گزشتہ شریعتوں کو ترک کر دیں۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا دور رسالت آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے اپنی آخری حد کو پہنچ گیا، اور آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ حق تعالیٰ نے آپ ﷺ کو خاتم انبیا علیہم السلام فرمایا ہے اور متواتر احادیث میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ ”میرے بعد
کوئی نبی نہیں ہو گا"۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اور ان کے شیخ :
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری (م ۶۳۳ھ) نے اپنے شیخ خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ (م ۶۱۷ھ) کے ملفوظات کا مجموعہ "انیس الارواح" کے نام سے مرتب فرمایا تھا، اس کی مجلس سوم میں شیخ کا ارشاد نقل کیا ہے :
"بعد ازاں فرمود کہ چوں شہرہا ہمہ ازیں سراسر خراب شود محمد بن عبد اللہ بیرون آید‘ از شرق تا غرب عدل وے بگیرد‘ وعیسیٰ علیہ السلام از آسمان فرود آید۔"
(انیس الارواح ص : ۸ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱۳۱۲ھ)
ترجمہ : "اس کے بعد فرمایا کہ جب سارے شہر اس (فتنہ و فساد اور کثرت معاصی) سے یکسر ویران ہو جائیں گے تو حضرت امام مہدی محمد بن عبد اللہ ﷺ کا ظہور ہو گا اور ان کا عدل مشرق سے مغرب تک پھیل جائے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔"۔
زین ابن منیر :
زین الدین علی بن محمد بن منصور الاسکندری (م: ۶۹۵ھ) شارح البخاری‘ حدیث معراج پر گفتگو کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہما السلام کے دوسرے آسمان پر ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : (جیسا کہ شرح مواہب میں ان سے نقل کیا ہے)
وأدقّ من هذا قول ابن المنير : السر في ذلك أن عيسى لم يلقه بعد موته لرفعه حيا صيانة له وذخيرة إلى وقت عوده إلى الأرض قائمًا بشرع المصطفى ، غير مجدد شرعًا ، فهو في حكم الأحياء ،
ومقامه في السماء ليس على معنى السكنى الدائمة، بخلاف غيره من الأنبياء، ويحيى هو المقيم فى السماء أسوة غيره من الأنبياء، واختص مقامه عند عيسى لأنهما ابنا الخالة، وكانا لدتين، وكانت أم يحيى تقول لأم عيسى وهما حاملتان: إنى أجد ما فى بطنى يسجد لما فى بطنك أى سجود تحية، فكان بينهما اتحاد منذ كانا، فلما عرض لعيسى الصعود إلى السماء جعل عند يحيى.
(زرقانی: شرح المواهب ص ۷۱ ج ۶)
ترجمہ :”اس سے زیادہ دقیق قول ابن المنیر ؒ کا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے پاس دوسرے آسمان میں رہنے کی حکمت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ان کی موت کے بعد نہیں ہوئی‘ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا گیا‘ جس سے مقصود ایک تو ان کو دشمنوں کے شر سے بچانا تھا‘ دوسرے زمین پر ان کی دوبارہ واپسی تک ان کو بچا کر رکھنا تھا جب وہ دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے تو آنحضرت ﷺ کی شریعت کو قائم کریں گے۔ کوئی نئی شریعت نہیں لائیں گے لہٰذا وہ زندوں کے حکم میں ہیں‘ اور آسمان پر ان کا ٹھہرنا دیگر انبیا کرام علیہم السلام کی طرح بطور دائمی رہائش کے نہیں۔ دوسرے آسمان پر دیگر انبیا کرام علیہم السلام کی طرح دراصل حضرت یحییٰ علیہ السلام کی رہائش ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس ان کا ٹھہرنا اس واسطے تجویز کیا گیا کہ یہ دونوں خالہ زاد ہیں اور دونوں ہم عمر ہیں‘ ان دونوں کی مائیں جب ان کے ساتھ حاملہ تھیں تو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی والدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدۂ مطہرہ سے کہا کرتی تھیں کہ میرے پیٹ کا بچہ آپ کے پیٹ کے بچے کو بطور سلام سجدہ کرتا ہے‘ پس ان دونوں نبیوں کے درمیان جبھی سے اتحاد چلا آتا ہے‘ پس جب حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کے آسمان پر تشریف لے جانے کا واقعہ پیش آیا تو ان کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کے پاس ٹھہرایا گیا“۔
آٹھویں صدی
امام ابو البرکات نسفیؒ :
امام حافظ الدین ابو البرکات عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی حنفی (م ۷۱۰ ھ) نے تفسیر ”مدارک التنزیل“ میں متعدد جگہ اس عقیدہ کی صراحت فرمائی ہے ۔ آیت کریمہ ”وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰہُ“ کے ذیل میں لکھتے ہیں :
﴿وَمَکَرَ اللّٰہُ﴾ أى جازاهم على مكرهم، بأن رفع عيسى إلى السماء وألقى شبهه على من أراد اغتياله.
ترجمہ : ”حق تعالیٰ نے تدبیر کی ۔ یعنی ان کی تدبیر کا توڑ کیا ۔ بِایں طور کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی شباہت اس شخص پر ڈال دی جو آپ کو اچانک قتل کرنا چاہتا تھا“۔
اور آیت کریمہ ”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم“ کے تحت لکھتے ہیں :
فاجتمعت اليهود على قتله، فأخبره الله بأنه يرفعه إلى السماء ويطهره من صحبة اليهود.
ترجمہ : ”پس یہودی آپ کے قتل پر متفق ہوئے، پس اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اطلاع دی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آسمان کی طرف اٹھا کر یہود کی صحبت سے پاک کر دیں گے“ ۔
اور آیت کریمہ ”و ان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ کے تحت لکھتے ہیں :
أو الضميران لعيسى يعنى وإن منهم أحد إلا ليؤمننّ بعيسى قبل موت عيسى، وهم أهل الكتاب الذين يكونون فى زمان نزوله، روى : أنّه ينزل من السماء فى آخر الزمان، فلا يبقى أحدٌ من أهل الكتاب إلا يؤمن به حتى تكون الملة واحدة وهى ملّة الإسلام.
ترجمہ : ”بہ“ اور ”موتہ“ کی دونوں ضمیریں عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہیں یعنی اہل کتاب میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں رہے گا جو عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے اور یہ وہ اہل کتاب ہیں جو آپ کے نزول کے وقت موجود ہوں گے ۔ مروی ہے کہ آپ ﷺ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے ، پس اہل کتاب میں ایک شخص بھی نہیں رہے گا جو آپ پر ایمان نہ لے آئے ، یہاں تک کہ بس ایک ہی دین رہ جائے گا اور وہ ہے دین اسلام“۔
اور آیت کریمہ ولكن رسول الله وخاتم النبیین “ کے تحت لکھتے ہیں :
أى آخرهم يعنى لا ينبأ أحدٌ بعده، وعيسى عليه السلام ممن نبئ قبله، وحين ينزل ينزل عاملا على شريعة محمد ﷺ كأنّه بعض أمّته.
ترجمہ : ”خاتم النبیین سے مراد ہے آخری نبی۔ یعنی آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی اور عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت آپ ﷺ سے پہلے مل چکی ہے اور جب وہ نازل ہوں گے تو آنحضرت ﷺ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے گویا وہ آپ کی امت کے ایک فرد ہوتے ہیں“۔
اور آیت کریمہ ”و انه لعلم للساعة “ کے تحت لکھتے ہیں :
وإن عيسى يعلم به مجىء الساعة، وقرأ ابن عباس ﴿لعلَمٌ للساعة﴾ وهو العلامة أى وإن نزوله لعلم للساعة.
ترجمہ : ”(آیت کا مطلب یہ ہے کہ) عیسیٰ ؑ (کی تشریف آوری) سے قیامت کے آنے کا علم ہوگا‘ اور ابن عباس ؓ کی قرأت میں عَلَم (بفتح لام) ہے اور عَلَم علامت کو کہتے ہیں یعنی بلاشبہ آپ کا نزول قیامت کی نشانی ہے“۔
اور ”کشف الاسرار شرح المنار“ میں تواتر کی بحث میں لکھتے ہیں :
فعلم أنّه كما لا يتحقق النقل المتواتر فى قتله لا يتحقق فى صلبه، ولأن النقل المتواتر بينهم فى قتل رجل علموه عيسى وصلبه، وهذا النقل يوجب علم اليقين فيما نقلوه، ولكن لم يكن ذلك الرجل عيسى وإنما كان مشتبهاً به كما قال الله تعالى : ﴿وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ﴾.
وروى أن اليهود لما دخلوا عليه قال عيسى عليه السلام لأصحابه : من يريد أن يلقى الله عليه شبهى فيقتل وله الجنة، فألقى الله تعالى شبه عيسى عليه السلام عليه فقتل، ورفع عيسى عليه السلام إلى السماء ولم يُرَ
(كشف الأسرار ص٦ ج٢)
ترجمہ : ”....پس معلوم ہوا کہ نقل متواتر جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ کے قتل میں متحقق نہیں اسی طرح آپ کے سولی دئے جانے کے بارے میں بھی متحقق نہیں۔ نیز یہ کہ ان کے درمیان جو نقل متواتر تھی‘ وہ یہ تھی کہ ایک شخص جس کو وہ عیسیٰ سمجھتے تھے قتل ہوا اور سولی دیا گیا‘ یہ نقل متواتر اتنی بات کا یقینی فائدہ دیتی ہے‘ لیکن واقع میں یہ شخص عیسیٰ نہیں تھا‘ بلکہ ان کے مشابہ تھا‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ”لیکن وہی شکل بن گئی ان کے سامنے“۔
مروی ہے کہ جب یہود نے ہجوم کیا تو حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنے رفقا سے فرمایا کہ تم میں سے کون اس کے لئے تیار ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر میری شباہت ڈال دیں‘ پس وہ میری جگہ قتل ہو جائے اور اس کے لئے جنت ہو۔ ایک شخص اس پر راضی ہو گیا اللہ تعالیٰ
نے آپ کی شباہت اس پر ڈال دی‘ وہ قتل کیا گیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف اٹھا لیا اور وہ نظر نہیں آئے۔“
امام ابن قدامہ المقدسیؒ :
الامام العلامہ شرف الدین ابو العباس احمد بن الحسن بن عبد اللہ بن محمد قدامہ المقدسی الحنبلیؒ (۶۹۳-۷۷۱ھ) اپنی کتاب ”تحقیق البرہان فی رسالۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم الی الجانّ“ میں لکھتے ہیں :
هذا مع إخبار النبی ﷺ بنزول عيسى على المنارة البيضاء شرقی دمشق ، وإنه يكسر الصليب ويقتل الخنزير ويقتل الدجال بباب لُدّ ، فشرع محمد ﷺ لا ينسخ بل هو باقٍ ومستمر ، وعيسى عليه السلام يكون حاكماً بالشريعة المحمدية عند نزوله .
(بحوالہ جواہر البحار للنبهانی ج۳ ص۸۶)
ترجمہ : ”اور یہ اس کے باوجود ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خبر دی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے سفید شرقی منارہ پر اتریں گے ۔ صلیب کو توڑیں گے‘ خنزیر کو قتل کریں گے پس محمد ﷺ کی شریعت منسوخ نہیں ہوگی‘ بلکہ قیامت تک باقی رہے گی اور عیسیٰ علیہ السلام بوقت نزول شریعت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام) کے ساتھ حکم کریں گے“۔
شیخ عبد العزیز بخاریؒ :
شیخ علاؤ الدین عبد العزیز بن احمد بن محمد البخاری الحنفی (م : ۷۳۰ھ) ”کشف الاسرار شرح اصول بزدوی“ میں لکھتے ہیں :
إن التواتر في قتل رجل ظنوه عيسى وصلبه قد وجد ولكن ذلك الرجل لم يكن عيسى ، وإنما كان مشبهاً به كما بين الله تعالى
بقوله : ﴿وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ﴾ ، وقد جاء في الخبر أن عيسى عليه السلام قال لمن كان معه : من يريد منكم أن يلقى الله شبهى عليه فيقتل وله الجنة ، فقال رجل : أنا فألقى الله تعالى شبه عيسى عليه السلام، فقتل الرجل ورفع عيسى عليه السلام إلى السماء.
(كشف الأسرار على البزدوى ص٣٦٦ ج٢)
ترجمہ : ”یہود کا تواتر اس شخص کے قتل وصلب میں، جس کو انہوں نے عیسیٰ سمجھا، بلاشبہ موجود ہے لیکن یہ شخص عیسیٰ نہیں تھا، بلکہ آپ کا ہم شکل بنا دیا گیا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد میں فرمایا ہے : ”ولیکن وہی شکل بن گئی ان کے سامنے“ روایت میں آتا ہے کہ عیسیٰ ؑ نے اپنے رفقا سے فرمایا کہ تم میں سے کون اس بات کے لئے تیار ہے کہ اس پر میری شباہت ڈال دی جائے اور وہ میری جگہ قتل ہو جائے اور اس کے لئے جنت ہو۔ ایک شخص نے کہا میں حاضر ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کی شباہت اس پر ڈال دی، وہ شخص قتل ہوا، اور عیسیٰ ؑ آسمان پر اٹھا لئے گئے“۔
علامہ خازنؒ :
شیخ علاء الدین علی بن محمد بن ابراہیم البغدادی الصوفی الشافعی معروف بہ ”خازن“ (م : ۷۲۵ھ) اپنی تفسیر ”لباب معانی التنزیل“ میں جو تفسیر خازن کے نام سے مشہور ہے .... آیت کریمہ ”انی متوفيك الخ“ کے ذیل میں لکھتے ہیں : وقد ثبت فى الحديث أنّ عيسى سينزل ويقتل الدجال .
(ص ٥٠٦ ج١)
ترجمہ : ”اور حدیث سے ثابت ہے کہ عیسیٰ ؑ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے“۔
اور سورۃ النسا کی آیت ”وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ“ کے ذیل میں لکھتے ہیں :
فأخذ ذلك الرجل وقتل وصلب، ورفع الله عزّ وجلّ إلى السماء .
(ج۲ ص۲۰۱)
ترجمہ : ”وہ شخص جس پر عیسیٰ ؑ کی شباہت ڈال دی گئی تھی پکڑا گیا اور قتل کیا گیا اور سولی دیا گیا اور عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا“۔
اور آیتِ کریمہ ” وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ۔ “ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
وذهب جماعة من أهل التفسير إلى أن الضمير يرجع إلى عيسى عليه السلام وهو رواية عن ابن عباس رضى الله عنه عنهما أيضًا، والمعنى وما من أحد من أهل الكتاب إلا لَيُؤْمِنَن بعيسى قبل موت عيسى وذلك عند نزوله من السماء في آخر الزمان، فلا يبقى أحد من أهل الكتابين إلا آمن بعيسى حتى تكون المِلَّة واحدة، وهى ملة الإسلام.
قال عطاء إذ نزل عيسى إلى الأرض لا يبقى يهودى ولا نصرانى ولا أحد يعبد غير الله إلا آمن بعيسى، وإنه عبد الله وكلمته، ويدل على صحة القول ما روى عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ . . .
ترجمہ : ”اور اہلِ تفسیر کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ قبل موتہ کی ضمیر عیسیٰ ؑ کی طرف لوٹتی ہے اور یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ کتاب میں سے ایک فرد بھی ایسا نہ ہوگا جو عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے اور یہ واقعہ آخری زمانے میں عیسیٰ ؑ کے آسمان سے نازل ہونے کے وقت ہوگا۔ اس وقت جس قدر اہلِ کتاب ہوں گے وہ سب عیسیٰ ؑ پر ایمان لے آئیں گے۔ یہاں
تک کہ ایک ہی ملت رہ جائے گی اور وہ ملت اسلام ہوگی۔ امام عطا فرماتے ہیں کہ جب عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نازل ہوں گے، تب کوئی یہودی، کوئی نصرانی اور کوئی غیر اللہ کا پجاری ایسا نہیں رہے گا جو عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لے آئے اور یہ کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے کلمہ کن سے پیدا ہوئے ہیں۔ اور اس قول کے صحیح ہونے کی دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(یہاں صحیحین کی دو حدیثیں نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں)
ففى هذا الحديث دليل على أن عيسى ينزل فى آخر الزّمان فى هذه الأمّة يحكم بشريعة محمّد ﷺ .
(ج۲ ص۲۰۳ و ۲۰۴)
ترجمہ : ”پس اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں اس امت میں نازل ہوں گے اور شریعت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کے مطابق حکومت کریں گے“۔
اور سورۂ المائدہ کی آیت ”فلما توفیتنی الخ“ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
يعنى فَلَمَّا رفعتنى إلى السّماء، فالمراد به وفاة الرّفع لا الموت .
(ج ص۳۷۷)
ترجمہ : ”یعنی جب آپ نے مجھے آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ پس توفی سے مراد آسمان پر اٹھا کر پورا پورا وصول کرنا ہے۔ موت مراد نہیں“۔
اور سورۂ الاحزاب کی آیت .... ”وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ“ کے تحت لکھتے ہیں:
فإن قلت : قد صحّ أن عيسى عليه السّلام ينزل فى آخر الزّمان بعده، وهو نبى، قلت : إن عيسى ممّن نبّئ قبله وحين ينزل فى آخر الزّمان ينزل عاملا بشريعة محمّد ﷺ ومصلّيا إلى قبلته كأنّه بعض أمّته .
(ج۵ ص۱۲۳)
ترجمہ : ”اگر کہو کہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں آپ ﷺ کے بعد نازل ہوں گے اور وہ نبی ہیں۔ جواب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت آپ ﷺ سے پہلے مل چکی ہے (اس لئے حصول نبوت میں آپ ﷺ ہی آخری نبی ہوئے) اور جب وہ آخری زمانے میں نازل ہوں گے تو محمد ﷺ کی شریعت پر عمل کریں گے، آپ ﷺ کے قبلہ کی طرف منہ کریں گے گویا آپ ہی کی امت کے ایک فرد ہوں گے۔“
اور سورۃ الزخرف کی آیت کریمہ ”و انه لعلم للساعة“ کے تحت لکھتے ہیں
یعنی نزوله من أشراط الساعة يعلم به قربها .
(ج ۵ ص ۴۳۹)
ترجمہ : ”یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانہ میں نازل ہونا قیامت کی علامات میں سے ہے جس سے قیامت کا قریب ہونا معلوم ہوگا“۔
حافظ ابن تیمیہؒ
عیسائیت کے رد میں ”الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح“ شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ کی مشہور کتاب ہے جس میں انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ بڑی صراحت و وضاحت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ یہاں اس کی چند عبارتیں نقل کی جاتی ہیں:
- ○ ”والمسلمون واهل الكتاب متفقون
علی اثبات مسيحين، مسيح هدى من ولد داود، ومسيح ضلال، يقول اهل الكتاب : انه من ولد يوسف، ومتفقون على ان مسيح الهدى سوف ياتى كما ياتى مسيح الضلالة ، لكن
المسلمون والنصارى يقولون : انه ينزل قبل يوم القيامة فيقتل مسيح الضلالة ، ويكسر الصليب ويقتل الخنزير، ولا يبقى دينا الا دين الاسلام، ويومن به اهل الكتاب، اليهود والنصارى ۔ كما قال تعالى : "وان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موته"۔
(سورة النسا ۱۵۹:۴)
والقول الصحيح الذى عليه الجمهور قبل موت المسيح وقال تعالى :"وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها ۔" (سورة الزخرف۔۶۱)
(الجواب الصحيح ۱ / ۳۲۹)
ترجمہ : ”مسلمان اور اہل کتاب دو مسیحوں کے ماننے پر متفق ہیں، ایک ”مسیح ہدایت“ جو نسل داؤد سے ہوں گے اور دوسرا مسیح ضلالت، جس کے بارے میں اہل کتاب کا قول ہے کہ وہ یوسف کی اولاد سے ہوگا۔
مسلمان اور اہل کتاب اس پر بھی متفق ہیں کہ مسیح ہدایت آئندہ آئے گا، جیسا کہ مسیح ضلالت بھی آنے والا ہے۔ لیکن مسلمان اور نصاریٰ اس کے قائل ہیں کہ مسیح ہدایت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام ہیں، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسول بنا کر بھیجا، پھر وہ دوبارہ آئیں گے، لیکن مسلمانوں کا قول یہ ہے کہ وہ قیامت سے پہلے نازل ہوں گے، نازل ہو کر مسیح ضلالت کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، دین اسلام کے سوا کسی
مذہب کو باقی نہیں چھوڑیں گے ، اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ ان پر ایمان لائیں گے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”اور نہیں کوئی اہل کتاب میں مگر ایمان لائے گا ان پر ان کی موت سے پہلے۔“
اور حق تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”اور وہ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا) البتہ نشانی ہے قیامت کی ، پس تم لوگ اس میں شک نہ کرو“۔
نصاریٰ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام ظاہری شکل میں بشر تھے ، مگر باطن میں معاذ اللہ خدا تھے ، ان کے ناسوت میں لاہوت جلوہ آرا تھا ، اور ان کے جسمانی وجود میں خدا حلول کئے ہوئے تھا۔ حافظ ابن تیمیہؒ ان کے اس عقیدہ حلول پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
- O ”والوجہ الثامن : ان ھذا امر لم یدل
علیہ عقل ولا نقل‘ ولا نطق نبی من الانبیاء بان اللہ یحل فی بشر‘ ولا ادعی صادق قط حلول الرب فیہ‘ وانما یدعی الکذابون کالمسیح الدجال الذی یظھر فی آخر الزمان‘ ویدعی الالھیۃ فینزل اللہ تبارک وتعالیٰ عیسی ابن مریم مسیح الھدی فیقتل مسیح الھدی ۔ الذی ادعیت فیہ الالھیۃ بالباطل ۔ المسیح الدجال الذی ادعی الالھیۃ بالباطل‘ ویبین ان البشر لا یحل فیہ رب العالمین“۔
(الجواب الصحیح ۱۶۹٫۲)
ترجمہ : ”آٹھویں وجہ یہ کہ (ناسوت میں لاہوت کا
حلول کرتا) یہ ایک ایسا امر ہے جس پر نہ عقل دلالت کرتی ہے اور نہ نقل، اور انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی نبی نے یہ بات نہیں کہی کہ اللہ تعالیٰ کسی بشر میں حلول کرتا ہے، اور نہ کبھی کسی راست باز آدمی نے اپنے اندر رب کے حلول کا دعویٰ کیا، حلول کا دعویٰ صرف جھوٹے کذاب کرتے ہیں، جیسا کہ مسیح دجال جو آخری زمانہ میں ظاہر ہو گا، اور خدائی کا دعویٰ کرے گا، پس اللہ تبارک وتعالیٰ مسیح ہدایت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو نازل فرمائیں گے، پس مسیح ہدایت .... جن پر الوہیت کی جھوٹی تہمت دھری گئی .... مسیح دجال کو قتل کریں گے، جس نے جھوٹ موٹ خدائی کا دعویٰ کیا ہو گا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیان فرمائیں گے کہ کسی بشر میں رب العالمین کا حلول نہیں ہو سکتا”۔
- O قالوا: وقد جاء فی ھذا الکتاب
الذی جاء بہ ھذا الانسان یقول: ”انما المسیح عیسی ابن مریم رسول اللہ وکلمتہ القاھا الی مریم وروح منہ۔“
وھذا یوافق قولنا : اذ قد شھد انہ انسان مثلنا بالناسوت الذی اخذ من مریم وکلمۃ اللہ وروحہ المتحدۃ فیہ، وحاشا ان تکون کلمۃ اللہ وروحہ الخالقۃ مثلنا نحن المخلوقین، وایضاً قال فی سورۃ النساء : ”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم۔“ فاشار بھذا القول الی اللاھوت الذی ھو
كلمة الله التى لم يدخل عليها الم ولا عرض‘ وقال ايضا : ”يا عيسٰى انى متوفيك ورافعک الى ومطہرک من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوک فوق الذين كفروا الى يوم القيامة“ وقال فى سورة المائدة عن عيسى انہ قال : ”وكنت عليہم شہيدا مادمت فيہم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليہم وانت على كل شى ء شہید“ فعنٰى بموتہ عن موت الناسوت الذى اخذ من مريم العذراء ۔ قال ايضا فى سورة النساء : ”وما قتلوہ يقينا ٭ بل رفعہ الله اليہ ۔“
(سورة النساء ۱۵۷‘۱۵۸)
فاشار بہذا الى اللاهوت الذى هو كلمة الله الخالقة ‘ وعلى هذا القياس نقول : ان المسيح صلب وتالم بناسوتہ ‘ ولم يصلب ولا تالم بلا هوتہ ۔ والجواب من وجوہ : (فذكر وجہ الاول‘ ثم قال :)
الوجہ الثانى : ان يقال ان الله لم يذكر ان المسيح مات ولا قتل‘ وانما قال ”يا عيسٰى انى متوفيك ورافعک الى ومطہرک من الذين كفروا ۔“ وقال المسيح ”فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليہم وانت على كل شىء شہید“
وقال تعالى : ”فبما نقضهم ميثاقهم وكفرهم بايات الله وقتلهم الانبياء بغير حق وقولهم قلوبنا غلف بل طبع الله عليها بكفرهم فلا يومنون الا قليلا☆ وبكفرهم وقولهم على مريم بهتانا عظيما☆ وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى بن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه ما لهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا☆ بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزا حكيما☆ وان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا☆ فبظلم من الذين هادوا حرمنا عليهم طيبات احلت لهم وبصدهم عن سبيل الله كثيرا☆ واخذهم الربا وقد نهوا عنه واكلهم اموال الناس بالباطل“
(سورة النساء ۱۵۵‘۱۶۱)
فذم الله اليهود باشياء منها : ”قولهم على مريم بهتانا عظيما“- حيث زعموا انها بغى‘ ومنها قولهم : ”انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله “
قال تعالى : ”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم“ واضاف هذا القول اليهم‘ وذمهم عليه‘ ولم يذكر النصارى لان الذين تولوا صلب
المصلوب المشبه به هم اليهود، ولم يكن احد من النصارى شاهدا معهم، بل كان الحواريون خائفين غائبين فلم يشهد احد منهم الصلب، وانما شهده اليهود وهم الذين اخبروا الناس انهم صلبوا المسيح، والذين نقلوا ان المسيح صلب من النصارى وغيرهم انما نقلوه عن اولئك اليهود وهم شرط من اعوان الظلمة ، لم يكونوا خلقا كثيرا يمتنع تواطؤهم على الكذب."
قال تعالى : "وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم" فنفى عنه القتل ثم قال : "وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته-"
وهذا عند اكثر العلماء معناه قبل موت المسيح، وقد قيل قبل موت اليهودى وهو ضعيف، كما قيل انه قبل موت محمد صلى الله عليه وسلم وهو اضعف، فانه لو آمن به قبل الموت لنفعه ايمانه به، فانه يقبل توبة العبد ما لم يغرغر.
وان قيل : المراد به الايمان الذى يكون بعد الغرغرة لم يكن فى هذا فائدة، فان كل احد بعد موته يؤمن بالغيب الذى كان يجحده، فلا اختصاص للمسيح به، ولانه قال : قبل موته، ولم يقل بعد موته، ولانه لا فرق بين
ايمانه بالمسيح وبمحمد صلوات الله عليهما وسلامه' واليهودى الذى يموت على اليهودية فيموت كافرا بمحمد والمسيح عليهما الصلاة والسلام' ولانه قال : "وان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موته" وقوله : "ليومنن به" فعل مقسم عليه' وهذا انما يكون فى المستقبل' فدل ذلك على ان هذا الايمان بعد اخبار الله بهذا' ولو اريد قبل موت الكتابى لقال : وان من اهل الكتاب الا من يومن به' لم يقل "ليومنن به".
وايضا فانه قال : ان من اهل الكتاب وهذا يعم اليهود والنصارى' فدل ذلك على ان جميع اهل الكتاب اليهود والنصارى يومنون بالمسيح قبل موت المسيح' وذلك اذا نزل آمنت اليهود والنصارى بانه رسول الله ليس كاذبا كما يقول اليهودى' ولا هو الله كما تقوله النصارى -
والمحافظة على هذا العموم اولى من ان يدعى ان كل كتابى ليومنن به قبل ان يموت الكتابى' فان هذا يستلزم ايمان كل يهودى ونصرانى' وهذا خلاف الواقع ، وهو لما قال : "وان منهم الا ليومنن به قبل موته" ودل على ان المراد بايمانهم قبل ان يموت هو علم انه
اريد بالعموم عموم من كان موجودا حين نزوله اى لا يختلف منهم احد عن الايمان به لا ايمان من كان منهم ميتا .
وهذا كما يقال : انه لا يبقى بلد الا دخله الدجال الا مكة والمدينة اى فى المدائن الموجودة حينئذ، وسبب ايمان اهل الكتاب به حينئذ ظاهر، فانه يظهر لكل احد انه رسول مويد ليس بكذاب ولا هو رب العالمين.
فالله تعالى ذكر ايمانهم به اذا نزل الى الارض فانه تعالى لما ذكر رفعه الى الله بقوله "انى متوفيك ورافعك الى-" وهو ينزل الى الارض قبل يوم القيامة ويموت حينئذ اخبر بايمانهم به قبل موته، كما قال تعالى فى الاية الاخرى : "ان هو الا عبد انعمنا عليه وجعلناه مثلا لبنى اسرائيل☆ولو نشاء لجعلنا منكم ملائكة فى الارض يخلفون☆وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون هذا صراط مستقيم☆ولا يصدنكم الشيطن انه لكم عدو مبين☆ ولما جاء عيسى بالبينات قال قد جئتكم بالحكمة ولابين لكم بعض الذى تختلفون فيه فاتقوا الله واطيعون☆ان الله هو ربى وربكم فاعبدوه هذا صراط مستقيم☆فاختلف الاحزاب من بينهم فويل
الذين ظلموا من عذاب يوم اليم ۔“(سورة الزخرف ۵۹‘۶۵)
فى الصحيحين عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : ”يوشك ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا، واماما مقسطا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير، ويضع الجزية“۔
وقوله تعالى : ”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه ما لهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزا حكيما ۔“ بيان ان الله رفعه حيا وسلمه من القتل، وبين انهم يومنون به قبل ان يموت ۔
وكذلك قوله : ”ومطهرك من الذين كفروا ۔“ ولو مات لم يكن فرق بينه وبين غيره
-
ولفظ التوفى فى لغة العرب معناه : الاستيفاء والقبض، وذلك ثلاثة انواع : احدها : توفى النوم، والثانى : توفى الموت، والثالث : توفى الروح والبدن جميعا، فانه بذلك خرج عن حال اهل الارض الذين يحتاجون الى الاكل والشرب واللباس، ويخرج منهم الغائط والبول، والمسيح عليه السلام توفاه الله وهو فى السماء الثانية الى
ان ينزل الى الارض، ليست حاله كحالة اهل الارض فى الاكل والشرب واللباس والنوم، والغائط والبول، ونحو ذلك“۔
(الجواب الصحيح ص ۲۸۲/ ۸۵ ج ۲)
ترجمہ : ”نصاریٰ نے کہا کہ : حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کتاب لائے ہیں اس میں یہ آیت ہے :
ترجمہ : ”اس کے سوا کچھ نہیں کہ مسیح عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ایک کلمہ ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے مریم تک پہنچایا“۔
اور یہ ہمارے قول کے موافق ہے، کیونکہ قرآن نے گواہی دی کہ وہ ناسوت کے لحاظ سے ہم جیسے انسان تھے، جو مریم سے پیدا ہوئے، اور اللہ کا کلمہ تھے، اور اللہ کی روح تھے جو اس میں متحد تھی، تو یہ توبہ یہ کب ہو سکتا ہے کہ اللہ کا کلمہ اور اس کی روح، جو خالق ہے، ہم لوگوں کی مثل ہو جو مخلوق ہیں؟
نیز سورہ نساء میں فرمایا : ”حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا، اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا، لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا“۔
پس اس سے لاہوت کی طرف اشارہ فرمایا جو کلمۃ اللہ ہے، خالق ہے، علی ھذا القیاس ہم کہتے ہیں کہ مسیح مصلوب و متالم ہوئے اپنے ناسوت کے ساتھ، اور مصلوب و متالم نہیں ہوئے اپنے لاہوت کے ساتھ۔
اور اس کا جواب چند وجوہ سے ہے (پہلی وجہ ذکر
کرنے کے بعد فرماتے ہیں)
دوسری وجہ : یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ ذکر نہیں کیا کہ مسیح علیہ السلام مرگئے ہیں، اور نہ قتل ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ :
”اے عیسیٰ! (کچھ غم نہ کرو) بے شک میں تم کو (اپنے وقت موعود پر طبعی موت سے) وفات دینے والا ہوں (پس جب تمہارے لئے طبعی موت مقدر ہے تو ظاہر ہے کہ ان دشمنوں کے ہاتھوں دار پر جان دینے سے محفوظ رہو گے) اور (فی الحال) میں تم کو اپنے (عالم بالا کی) طرف اٹھائے لیتا ہوں، اور تم کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جو (تمہارے) منکر ہیں“۔
اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
”سو ہم نے یہود کو سزا میں مبتلا کیا ان کی عہد شکنی کی وجہ سے، اور ان کے کفر کی وجہ سے احکام الٰہیہ کے ساتھ، اور ان کے قتل کرنے کی وجہ سے انبیاء کو ناحق، اور ان کے اس مقولہ کی وجہ سے کہ ہمارے قلوب محفوظ ہیں، نہیں! بلکہ ان کے کفر کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب پر بند لگا دیا ہے، سو ان میں ایمان نہیں مگر قدرے قلیل، اور ان کے کفر کی وجہ سے، اور حضرت مریم علیہا السلام پر ان کے بڑا بھاری بہتان دھرنے کی وجہ سے، اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو، جو کہ رسول ہیں اللہ تعالیٰ کے، قتل کر دیا، حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا، اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا۔ لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا، اور جو لوگ
ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ غلط خیال میں ہیں‘ ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں‘ بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے‘ اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا‘ بلکہ ان کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھایا‘ اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست‘ حکمت والے ہیں۔ اور کوئی شخص اہل کتاب میں نہ رہے گا مگر وہ عیسیٰ علیہ السلام کی ان کے مرنے سے پہلے ضرور تصدیق کرے گا‘ اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دیں گے۔ سو یہود کے ان بڑے بڑے جرائم کے سبب ہم نے بہت سی پاکیزہ چیزیں‘ جو ان کے لئے حلال تھیں‘ ان پر حرام کردیں‘ اور بہ سبب اس کے کہ وہ بہت آدمیوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے مانع بن جاتے تھے‘ اور بہ سبب اس کے کہ وہ سود لیا کرتے تھے‘ حالانکہ ان کو اس سے ممانعت کی گئی تھی‘ اور بہ سبب اس کے کہ وہ لوگوں کے مال ناحق طریقہ سے کھا جاتے تھے"۔
(سورۃ النساء: ۱۵۵‘ ۱۶۱)
ان آیات شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے چند جرائم پر یہود کی مذمت فرمائی۔
ازاں جملہ : ان کا حضرت مریم رضی اللہ عنہا پر بھاری بہتان باندھنا۔
ازاں جملہ : ان کا یہ دعویٰ کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو‘ جو اللہ تعالیٰ کے رسول تھے‘ قتل کردیا۔ جس کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : "حالانکہ نہ انہوں نے ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا‘ لیکن ان کو اشتباہ ہوا"۔ اللہ تعالیٰ نے اس دعویٰ کو یہود کی طرف منسوب فرمایا‘ اور
اس پر ان کی مذمت فرمائی۔ یہاں نصاریٰ کا ذکر نہیں فرمایا۔ کیونکہ جس شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اشتباہ میں سولی دی گئی اس کو سولی دینے کا کام یہود نے کیا، نصاریٰ میں سے کوئی شخص ان کے پاس موجود نہیں تھا۔ بلکہ حواری ڈر کے مارے چھپے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک بھی واقعہ صلیب کے موقع پر موجود نہیں تھا۔ صلیب دینے کا کام یہود کر رہے تھے، انہوں نے یہ جھوٹی گپ اڑائی کہ انہوں نے مسیح کو سولی دیدی۔ نصاریٰ میں سے جن لوگوں نے یہ نقل کیا کہ مسیح کو صلیب دی گئی انہوں نے انہی یہودیوں سے نقل کیا، اور صلیب دینے والے ظالموں کے چند کارندے تھے، کوئی زیادہ مخلوق نہیں تھی، ان کے لئے ایک جھوٹ گھڑ کر پھیلا دینا کچھ مشکل نہیں تھا۔
حق تعالیٰ شانہ نے (ان کی تکذیب کرتے ہوئے) فرمایا: ”حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا، اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا، لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا“۔
چنانچہ اس ارشاد میں ان سے (مسیح علیہ السلام سے) قتل کی نفی فرمائی۔ پھر (آخری زمانے میں) ان کے دوبارہ آنے کی خبر دی۔ اور فرمایا :
”اور کوئی شخص اہل کتاب میں نہ رہے گا مگر عیسیٰ علیہ السلام کی ان کے مرنے سے پہلے تصدیق کرے گا“۔
اکثر علماء کے نزدیک ”قبل موتہ“ سے مراد ”قبل موت المسیح“ ہے، یعنی مسیح علیہ السلام پر ان کے مرنے سے
پہلے اہل کتاب میں سے ہر شخص ایمان لائے گا۔ اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ”یہودی کی موت سے پہلے“ ہے، اور یہ قول ضعیف ہے۔ جیسا کہ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد ”حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موت سے پہلے“ ہے۔ یہ قول دوسرے قول سے بھی ضعیف تر ہے، کیونکہ اگر وہ اپنی موت سے پہلے ایمان لاتا تو اس کا ایمان نافع ہوتا، کیونکہ غرغرہ سے پہلے بندے کی توبہ قبول کی جاتی ہے۔
اور اگر یہ کہا جائے کہ مراد اس سے وہ ایمان ہے جو غرغرہ کے بعد ہوتا ہے تو ایسے ایمان میں کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ مرنے کے بعد تو ہر شخص اس غیب پر ایمان لے آتا ہے جس کا وہ انکار کیا کرتا تھا، پس اس میں مسیح علیہ السلام کی کوئی خصوصیت نہ ہوئی۔ اور یہ بات اس لئے بھی غلط ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے ”قبل موتہ“ فرمایا ہے، ”بعد موتہ“ نہیں فرمایا، اور اس وجہ سے بھی یہ غلط ہے کہ اس صورت میں مسیح علیہ السلام پر ایمان لانے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے درمیان کوئی فرق نہیں، اور جو یہودی کہ اپنی یہودیت پر مرتا ہے وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اور حضرت مسیح علیہ السلام دونوں کا منکر ہو کر مرتا ہے۔
نیز حق تعالیٰ شانہ نے فرمایا : ”وان من اہل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ“۔
”لیؤمنن“ وہ فعل ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے، اور یہ مستقبل میں ہو سکتا ہے۔ پس یہ لفظ دلالت کرتا ہے کہ ایمان کا یہ واقعہ آپ کے نزول کے بعد ہوگا، اگر یہ مراد ہوتی کہ ہر کتابی اپنی موت سے پہلے ایمان لاتا ہے تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتے : ”وان من اھل الکتاب الا من یومن بہ“ یعنی ”ہر کتابی ان پر اپنی موت سے پہلے ایمان لاتا ہے“۔ یہ نہ فرماتے کہ ”لیؤمنن بہ“ یعنی ”ایمان لائے گا“۔
نیز حق تعالیٰ شانہ نے فرمایا ”ان من اھل الکتاب“ یہ لفظ یہود و نصاریٰ سب کو شامل ہے، پس یہ ارشاد دلالت کرتا ہے کہ تمام اہل کتاب یہودی بھی اور نصرانی بھی حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لائیں گے حضرت مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے، اور یہ اس وقت ہوگا جب کہ مسیح علیہ السلام دوبارہ نزول فرمائیں گے، اس وقت تمام اہل کتاب یہود و نصاریٰ ایمان لائیں گے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، جھوٹے نہیں جیسا کہ یہود نے کہا، اور خدا بھی نہیں، جیسا کہ نصاریٰ نے کہا۔
اور اس عموم کی محافظت بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ دعویٰ کیا جائے کہ ہر کتابی اپنی موت سے پہلے ان پر ایمان لاتا ہے، کیونکہ یہ ہر یہودی و نصرانی کے ایمان لانے کو مستلزم ہے، اور یہ واقعہ کے خلاف ہے۔
اور جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان میں سے کوئی شخص بھی باقی نہیں رہے گا جو حضرت مسیح علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے ایمان نہ لائے، اور اس ارشاد سے یہ معلوم
ہوا کہ ہر کتابی کا حضرت مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے ایمان لانا مراد ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ اس عموم سے ان لوگوں کا عموم مراد ہے جو ان کے نزول کے وقت موجود ہوں گے، یعنی جس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اس وقت اہل کتاب میں سے کوئی بھی ایمان لانے سے پیچھے نہیں رہے گا۔ ان لوگوں کا ایمان لانا مراد نہیں جو ان میں سے مر چکے تھے۔
اور یہ اسی طرح ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ مکہ اور مدینہ کے سوا کوئی شہر باقی نہیں رہے گا جس میں دجال داخل نہ ہو۔ مراد یہ ہے کہ اس وقت جتنے شہر دنیا میں موجود ہوں گے ان میں دجال داخل ہو گا۔
اور اس وقت اہل کتاب کے ایمان لانے کی وجہ ظاہر ہے، کیونکہ ہر شخص پر یہ بات کھل جائے گی کہ حضرت مسیح علیہ السلام رسول موید ہیں، نہ جھوٹے نبی ہیں، اور نہ رب العالمین ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے اس وقت ایمان لانے کو ذکر فرمایا ہے جب حضرت مسیح علیہ السلام زمین پر نزول فرمائیں گے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد ”انی متوفیک و رافعک الی“ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے اٹھائے جانے کا ذکر فرمایا، اور انہیں قیامت سے پہلے زمین پر نازل ہونا ہے، اور اسوقت ان کی موت واقع ہوگی، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے اہل کتاب کے ان پر ایمان لانے کی خبر دی۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت (سورہ زخرف) میں فرمایا :
”اور بے شک وہ یعنی مسیح علیہ السلام نشانی ہے قیامت کی۔ سو تم لوگ اس میں شک نہ کرو“۔
اور صحیحین میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے :
”قریب ہے کہ ابن مریم تم میں حاکم عادل اور امام منصف کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے‘ اور جزیہ موقوف کردیں گے“۔
اور حق تعالیٰ کا ارشاد :
”حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا‘ لیکن ان کو اشتباہ ہوگیا‘ اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ غلط خیال میں ہیں‘ ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کے‘ اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا‘ بلکہ ان کو خدا نے اپنی طرف اٹھالیا‘ اور اللہ تعالیٰ زبردست‘ حکمت والے ہیں“۔
اس امر کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ آسمان پر اٹھالیا‘ اور ان کو قتل سے صحیح سالم اور محفوظ رکھا‘ اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ اہل کتاب ان پر ان کی موت سے پہلے ایمان لائیں گے۔
اسی طرح حق تعالیٰ کا ارشاد :
”اور تجھے پاک کرنے والا ہوں ان کافروں (کی صحبت)
سے"۔
بھی اس امر کی دلیل ہے کہ (وہ مرے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ اٹھالیا) اور اگر وہ مرگئے ہوتے تو ان کے درمیان اور دوسروں کے درمیان کوئی فرق نہ ہوتا۔
لغت عرب میں لفظ توفی" کے معنی ہیں پورا وصول کرنا اور قبض کرنا۔ اور اس کی تین قسمیں ہیں۔
ایک صورت نیند میں قبض کرنے کی ہے‘ دوسری موت میں قبض کرنے کی‘ اور تیسری روح اور بدن دونوں کو قبضے میں لینے کی...... حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں توفی کی یہی صورت پیش آئی‘ کیونکہ اس قبض روح مع البدن کے ذریعہ وہ اہل زمین کے حال سے نکل گئے‘ جو کھانے پینے اور لباس کے محتاج ہیں‘ اور بول و براز جن سے خارج ہوتا ہے‘ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی روح مع البدن کو قبضے میں لے لیا‘ اور وہ دوسرے آسمان پر ہیں‘ یہاں تک کہ دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے۔ اب ان کی حالت کھانے پینے میں‘ لباس و پوشاک میں‘ نیند میں‘ بول و براز وغیرہ میں اہل زمین کی سی حالت نہیں (بلکہ ان کی حالت آسمان کے فرشتوں کے مشابہ ہے‘ کہ نہ وہ کھانے پینے کے محتاج ہیں‘ اور نہ بول و براز کے)
- ○ ومما ینبغی ان یعرف : ان الکتب
المتقدمة بشرت بالمسیح‘ کما بشرت بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم‘ وکذلک انذرت بالمسیح الدجال ۔
والامم الثلاثة - المسلمون واليهود ، والنصارى ، متفقون على ان الانبياء انذرت بالمسيح الدجال ، وحذرت منه كما قال النبى صلى الله عليه وسلم فى الحديث الصحيح : "ما من نبى الا وقد انذر امته المسيح الدجال ، حتى نوح انذر امته وساقول لكم فيه قولا لم يقله نبى لامته : انه اعور ، وان ربكم ليس باعور ، مكتوب بين عينيه ك ف ر ، يقراه كل مومن قارى وغير قارى " .
والامم الثلاثة متفقون على ان الانبياء بشروا بمسيح من ولد داود -
فالامم الثلاثة متفقون على الاخبار بمسيح هدى من نسل داود ، ومسيح ضلالة ، وهم متفقون على ان مسيح الضلالة لم يات بعد وسياتى ، ومتفقون على ان مسيح الهدى سياتى -
ثم المسلمون والنصارى ، متفقون على ان مسيح الهدى عيسى ابن مريم ، واليهود ينكرون ان يكون هو عيسى بن مريم مع اقرارهم بانه من ولد داود -
قالوا : "لان المسيح المبشر به تومن به الامم كلها " وزعموا ان المسيح ابن مريم انما بعث بدين النصارى ، وهو دين ظاهر البطلان ،
ولهذا اذا خرج المسيح الدجال اتبعوه فيخرج معه سبعون الف مطيلس من يهود اصبهان ۔
ويسلط المسلمون على اليهود، فيقتلونهم حتى يقول الحجر والشجر : "يا مسلم هذا يهودى ورائى، تعال فاقتله" كما ثبت ذلك فى الحديث الصحيح۔
والنصارى يقرون بان المسيح مسيح الهدى بعث، ويقرون بانه سياتى مرة ثانية ، لكن يزعمون ان هذا الاتيان الثانى هو يوم القيامة ليجزى الناس اعمالهم، وهو .... فى زعمهم ..... هو الله، والله الذى هو اللاهوت، ياتى فى ناسوته، كما زعموا انه جاء قبل ذلك۔
واما المسلمون فامنوا بما اخبرت به الانبياء على وجهه ، وهو موافق لما اخبر به خاتم الرسل حيث قال فى الحديث الصحيح "يوشك ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا ، واماما مقسطا ، فيكسر الصليب، ويقتل الخنزير، ويضع الجزية ۔"
واخبر فى الحديث الصحيح انه اذا خرج مسيح الضلالة الاعور الكذاب نزل عيسى بن مريم على المنارة البيضاء شرقى دمشق، بين مهروذتين، واضعا يديه على منكبى ملكين، فاذا
راه الدجال انماع كما ينماع الملح فى الماء فيدركه فيقتله بالحربة عند باب لد الشرقىٰ على بضع عشرة خطوة منه، وهذا تفسير قوله تعالى : ”وان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موته۔“ ای يومن بالمسيح قبل ان يموت ، حين نزوله الى الارض، وحينئذ لا يبقى يهودى ولا نصرانى، ولا يبقى دين الا دين الاسلام، وهذا موجود فى نعته عند اهل الكتاب ۔
ولكن النصارىٰ ظنوا ان ذلك مجيئه بعد قيام القيامة ، وانه هو الله، فغلطوا فى ذلك كما غلطوا فى مجيئه الاول، حيث ظنوا انه هو الله ۔
واليهود انكروا مجيئه الاول، وظنوا ان الذى بشر به ليس هو اياه، وليس هو الذى ياتى آخرا ، وصاروا ينتظرون غيره ، وانما هو بعث اليهم اولا فكذبوه، وسياتيهم ثانيا ، فيومن به كل من على وجه الارض من يهودى ونصرانى، من قبل ان يموت، ويظهر كذب هؤلاء الذين كذبوه، ورموا امه بالفرية ، وقالوا : انه ولد زنا وهؤلاء الذين غلوا فيه وقالوا : انه الله ۔
ولما كان المسيح عليه السلام نازلا
فى امة محمد صلى الله عليه وسلم‘ صار بينه وبين محمد من الاتصال ماليس بينه وبين غير محمد‘ ولهذا قال النبى صلى الله عليه وسلم فى الحديث الصحيح ”ان اولى الناس بابن مريم لانا‘ انه ليس بينى وبينه نبى“۔ وروى ”كيف تهلك امة انا فى اولها‘ وعيسٰى فى آخرها“۔ وهذا مما يظهربه مناسبة اقترانهما فيما رواه اشعياء حيث قال: ”راكب الحمار وراكب الجمل“۔
(الجواب الصحيح ۳۲۲٫۳ وما بعد)
ترجمہ : ”اور یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ پہلی کتابوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے آنے کی بھی خوشخبری دی‘ جیسا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی خوش خبری دی‘ اور اسی طرح مسیح دجال سے بھی ڈرایا۔ پس تینوں امتیں ...... مسلمان‘ یہود اور نصارٰی ..... متفق ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے مسیح دجال سے ڈرایا‘ اور اس سے بچنے کی تلقین فرمائی‘ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث صحیح میں ارشاد فرمایا : ”ہر نبی نے اپنی امت کو مسیح دجال سے ڈرایا‘ یہاں تک کہ حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنی امت کو ڈرایا‘ اور میں تم سے ایک ایسی بات کہتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت سے نہیں فرمائی‘ وہ یہ کہ دجال کانا ہے اور تمہارا رب
کانا نہیں، دجال کی آنکھوں کے درمیان "ک ف ر" لکھا ہوگا، جس کو ہر مومن پڑھا لکھا اور ان پڑھ پڑھے گا"۔ اور تینوں امتیں اس پر بھی متفق ہیں کہ انبیائے گزشتہ نے ایک "مسیح ہدایت" کے آنے کی بشارت دی تھی جو نسل داؤد سے ہوں گے، اور دوسرے مسیح ضلالت کے آنے کی بھی خبر دی، اور یہ تینوں قومیں متفق ہیں کہ مسیح ضلالت ابھی تک نہیں آیا، بلکہ آئندہ آئے گا۔ اور یہ تینوں قومیں اس پر بھی متفق ہیں کہ مسیح ہدایت بھی آئیں گے۔
پھر مسلمان اور نصاریٰ اس پر متفق ہیں کہ مسیح ہدایت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں جو پہلے تشریف لاچکے ہیں وہی دوبارہ آئیں گے، اور یہود اس سے انکار کرتے ہیں کہ مسیح ہدایت حضرت عیسیٰ ابن مریم ہوں، باوجودیکہ وہ اقرار کرتے ہیں کہ آپ نسل داؤد سے ہیں۔
یہود اس کی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ جس مسیح کی بشارت دی گئی تھی اس پر تمام امتیں ایمان لائیں گی (چونکہ حضرت عیسیٰ بن مریم پر سب ایمان نہیں لائے، لہٰذا وہ مسیح نہ ہوئے) ان کا کہنا ہے کہ مسیح بن مریم صرف نصاریٰ کے لئے مبعوث ہوئے، اور یہ دلیل ظاہر البطلان ہے، اور یہی وجہ ہے کہ جب مسیح دجال نکلے گا تو یہودی (سچے مسیح کے دھوکے میں) اس کو مسیح مان لیں گے اور اس کی پیروی کرلیں گے۔ چنانچہ دجال کے ساتھ اصبہان کے یہودیوں میں سے ستر ہزار آدمی نکلیں گے جنہوں نے لمبے چوغے پہن رکھے ہوں گے، اور مسلمانوں کو یہود پر مسلط کردیا جائے گا، پس وہ ان کو قتل
کریں گے، یہاں تک کہ حجر و شجر پکار اٹھیں گے کہ ”اے مسلمان! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، آ! اس کو قتل کر“۔ جیسا کہ یہ حدیث صحیح میں ثابت ہے۔
اور نصاریٰ اقرار کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام مسیح ہدایت تھے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوئے، اور یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ وہ دوبارہ آئیں گے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ دوبارہ آنا قیامت کے دن ہوگا تاکہ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دیں، اور وہ ان کے زعم میں اللہ ہیں، اللہ وہی ہے جو لاہوت ہے، وہ ناسوت میں آئے گا۔
باقی رہے مسلمان! پس وہ ٹھیک اسی طرح ایمان لائے ہیں جیسا کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے مسیح علیہ السلام کی خبر دی تھی، اور وہ موافق ہے اس خبر کے، جو خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح علیہ السلام کے بارے میں دی، چنانچہ حدیث صحیح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
”قریب ہے کہ نازل ہوں گے تم میں ابن مریم حاکم عادل اور امام منصف کی حیثیت سے، پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، اور جزیہ موقوف کردیں گے“۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث صحیح میں خبر دی کہ :
”جب مسیح ضلالت کانا دجال نکلے گا تو حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سفید مینار پر دمشق کی مشرقی جانب نازل ہوں
گے، دو زرد چادریں زیب تن ہوں گی، اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کاندھوں پر رکھے ہوئے ہوں گے، پس جب دجال آپ کو دیکھے گا تو پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے، پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کو جا پکڑیں گے، پس اس کو نیزے کے ساتھ قتل کردیں گے لُد کے شرقی دروازے پر، اس سے دس بیس قدم کے فاصلے پر"۔
اور یہ تفسیر ہے حق تعالیٰ کے اس ارشاد کی :
"اور نہیں رہے گا اہل کتاب میں سے کوئی شخص مگر ایمان لائے گا اس پر اس کی موت سے پہلے"۔
یعنی مسیح علیہ السلام پر ایمان لائیں گے ان کے زمین پر نازل ہونے کے وقت، مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے، اور اس وقت کوئی یہودی اور نصرانی باقی نہیں رہے گا، اور دین اسلام کے سوا کوئی دین باقی نہیں رہے گا۔
اور یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفتیں اہل کتاب کے پاس بھی موجود ہے۔ لیکن نصاریٰ نے گمان کیا کہ مسیح علیہ السلام کا یہ آنا قیامت قائم ہونے کے بعد ہوگا اور یہ کہ وہ (نعوذ باللہ) خود اللہ ہیں، پس انہوں نے اس میں بھی غلطی کھائی جیسا کہ انہوں نے ان کی پہلی آمد میں غلطی کھائی کہ ان کو خدا سمجھ لیا۔
اور یہود نے ان کی پہلی آمد کا انکار کردیا، اور گمان کیا کہ جس مسیح کی بشارت دی گئی تھی، وہ یہ نہیں، اور وہ آخری زمانے میں آئیں گے، اور یہ لوگ کسی اور مسیح کا انتظار کرنے لگے۔ حالانکہ یہ وہی مسیح تھے جو ان کی طرف
پہلے مبعوث کئے گئے، پس انہوں نے مسیح کی تکذیب کی، اور یہی مسیح ان کے پاس دوبارہ آئیں گے۔ پس روئے زمین کے تمام یہودی و نصرانی ان پر ایمان لائیں گے، وہ بھی جو قتل ہوئے یا مر گئے، اس وقت ان تمام لوگوں کا جھوٹ ظاہر ہو جائے گا جنہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی تکذیب کی تھی، اور ان کی والدہ ماجدہ پر بہتان تراشی کی تھی، اور حضرت مسیح علیہ السلام کو ناجائز اولاد کہا تھا۔ اور ان لوگوں کا جھوٹ بھی ظاہر ہو جائے گا جنہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں غلو کیا اور ان کو خدا کہا۔
اور چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں نازل ہونے والے تھے اس لئے ان کے درمیان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وہ تعلق ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کے درمیان نہیں۔ اسی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث صحیح میں فرمایا :
”بے شک ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ جس شخص کو تمام انسانوں سے زیادہ تعلق ہے وہ میں ہوں۔ کیونکہ میرے درمیان اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا“۔
اور ایک روایت میں ہے :
”وہ امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے جس کے اول میں ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام اس کے آخر میں ہیں“۔
اور اسی سے اشعیاء نبی کی پیش گوئی میں ان دونوں کے ملانے کی مناسبت ظاہر ہو جاتی ہے، چنانچہ انہوں نے فرمایا:
”راكب الحمار وراكب الجمل“- ترجمہ : ”درازگوش کا سوار اور اونٹ کا سوار“۔
قلت : وصعود الادمى ببدنه الى السماء قد ثبت فى امر المسيح عيسى بن مريم عليه السلام ، فانه صعد الى السماء ، وسوف ينزل الى الارض۔
وهذا مما يوافق النصارى عليه المسلمين، فانهم يقولون : ان المسيح صعد الى السماء ببدنه وروحه، كما يقوله المسلمون، ويقولون : انه سوف ينزل الى الارض ايضًا، كما يقوله المسلمون، وكما اخبر به النبى صلى الله عليه وسلم فى الاحاديث الصحيحة -
لكن كثيرا من النصارى يقولون : انه صعد بعد ان صلب، وانه قام من القبر۔
وكثيرا من اليهود يقولون : انه صلب، ولم يقم من قبره ۔
واما المسلمون وكثير من النصارى فيقولون : انه لم يصلب، ولكن صعد الى السماء بلا صلب -
والمسلمون ومن وافقهم من النصارى، يقولون : انه ينزل الى الارض قبل القيامة ، وان نزوله من اشراط الساعة كما دل على ذلك
الكتاب والسنة - وكثيرا من النصارى يقولون: ان نزوله هو يوم القيامة ، وانه هو الله الذى يحاسب الخلق -
(الجواب الصحيح ۱۶۹،۴-۱۷۰)
ترجمہ : ”میں کہتا ہوں کہ آدمی کا جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں ثابت ہے‘ چنانچہ وہ آسمان پر تشریف لے گئے‘ اور پھر زمین پر نازل ہوں گے۔
اور یہ ایسی بات ہے جس میں نصاریٰ بھی مسلمانوں کے ساتھ متفق ہیں‘ کیونکہ وہ قائل ہیں کہ مسیح علیہ السلام اپنے بدن اور روح کے ساتھ آسمان پر چلے گئے‘ جیسا کہ مسلمان اس کے قائل ہیں‘ اور وہ اس کے بھی قائل ہیں کہ وہ دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے‘ جیسا کہ مسلمان اس کے قائل ہیں‘ اور جیسا کہ احادیث صحیحہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خبر دی ہے‘ لیکن بہت سے نصاریٰ اس کے قائل ہیں کہ وہ مصلوب ہونے کے بعد آسمان پر چلے گئے‘ اور یہ کہ وہ قبر سے جی اٹھے۔
اور بہت سے یہود اس کے قائل ہیں کہ وہ مصلوب ہوئے اور اپنی قبر سے نہیں اٹھے۔
لیکن اہل اسلام اور بہت سے نصاریٰ اس کے قائل ہیں کہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر نازل ہوں گے‘ اور یہ کہ ان کا نزول علامات قیامت کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
جیسا کہ کتاب وسنت اس پر دلالت کرتے ہیں۔ اور بہت سے نصارٰی اس کے قائل ہیں کہ ان کا نزول ہی قیامت ہے، اور مسیح ہی اللہ ہے جو مخلوق سے حساب لے گا“۔
شیخ ولی الدینؒ صاحب مشکوٰۃ :
شیخ ولی الدین محمد بن عبد اللہ بن محمد الخطیب التبریزیؒ الشافعی نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”مشکوٰۃ المصابیح“ میں (جس کی تالیف سے وہ ۷۳۷ھ میں فارغ ہوئے تھے) علامات قیامت کے ضمن میں ”ذکر دجال“ اور نزول عیسیٰ علیہ السلام“ کا الگ الگ باب باندھا ہے اور ان کے تحت خروج دجال اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث درج کی ہیں
(صفحات ۴۷۲ تا ۴۸۱)۔
علامہ طیبیؒ :
مشکوٰۃ شریف میں ”باب نزول عیسیٰ علیہ السلام“ کے تحت سب سے پہلے حضرت ابو ہریرہؓ کی حدیث صحیح بخاری وصحیح مسلم کے حوالے سے درج کی گئی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے حلفاً نزول عیسیٰ ؑ کی خبر دی ہے، اور اس کی تائید کے لئے حضرت ابو ہریرہؓ نے سورۂ النساء کی آیت ۱۵۹ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به الخ“ تلاوت فرمائی ہے۔
صاحب مشکوٰۃ کے استاد اور مشکوٰۃ شریف کے اولین شارح الشیخ العلامہ شرف الدین حسین بن عبد اللہ بن محمد الطیبی الشافعیؒ (م : ۷۴۳ھ) سے علامہ علی القاری ”مرقاۃ المفاتیح“ میں نقل کرتے ہیں :
قال الطيبي رحمه الله : استدل بالآية على نزول عيسى عليه الصلاة والسلام فى آخر الزمان مصداقاً للحديث.
وتحريره أن الضميرين في (به وقبل موته) لعيسى عليه السلام والمعنى أن من أهل الكتاب أحدٌ إلا ليؤمنن بعيسى قبل موت عيسى، وهم أهل الكتاب الذين يكونون في زمان نزوله فتكون الملة واحدة وهي ملة الإسلام.
(مرقاة ج ۵ ص ۲۲۱)
ترجمہ : ”علامہ طیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث کی تصدیق کے لئے آیت کریمہ سے آخری زمانے میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر استدلال کیا۔ تقریر اس کی یہ ہے کہ ”بہ“ اور ”موتہ“ کی دونوں ضمیریں عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ اہل کتاب میں سے ایک فرد بھی ایسا نہ رہے گا جو عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے اور مراد وہ اہل کتاب ہیں جو ان کے نازل ہونے کے وقت موجود ہوں گے اس وقت ایک ہی ملت باقی رہ جائے گی۔ یعنی دین اسلام“۔
امام حافظ ابن قیمؒ :
الامام الحافظ ابوبکر محمد بن ابی بکر الشہیر بابن قیم الجوزیہ (۶۹۱ - ۷۵۱ ھ) نے اپنی متعدد کتابوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کی تصریح کی ہے۔ اغاثۃ اللھفان من مکائد الشیطان“ میں تحریر فرماتے ہیں :
وراموا قتله وصلبه فصانه الله تعالى من ذلك، ورفعه إليه وطهّره منهم، فأوقعوا القتل والصلب على شبهه، وهم يظنون أنّه رسول الله عيسى صلى الله تعالى عليه وسلم ... فلم يقم لهم بعد ذلك مُلك إلى أن بعث الله تعالى محمداً صلى الله تعالى عليه وآله وسلم فكفروا به وكذبوه، فأتمّ عليهم غضبه، ودمرهم غاية التدمير وألزمهم ذُلا وصغاراً لا يرفع عنهم إلى أن ينزل أخوه
المسيح من السماء، فيستأصل شأفتهم ويطهر الأرض منهم وعبّاد الصليب .
(ص ٣١٤)
ترجمہ : ”اور یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل وصلب کا ارادہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بچا لیا اور اپنی طرف اٹھا لیا اور یہود کی صحبت سے ان کو پاک کر دیا۔ پس یہودیوں نے ایک ایسے شخص کو جو آپ کا ہم شکل تھا قتل کیا اور سولی دی اور وہ یہی سمجھتے تھے کہ یہ اللہ کا رسول عیسیٰ علیہ السلام ہے ۔
چنانچہ اس کے بعد یہودیوں کی سلطنت قائم نہ ہو سکی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو مبعوث فرمایا، یہودیوں نے آپ ﷺ کے ساتھ بھی کفر وتکذیب کا معاملہ کیا، پس اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا غضب پورا کر دیا اور ان کو پوری طرح تباہ و برباد کر دیا اور ان پر ذلت حقارت لازم کر دی، جو ان سے کبھی رفع نہیں ہوگی یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کے بھائی حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے تو ان کی بیخ وبنیاد اکھاڑ دیں گے، اور زمین کو ان سے اور صلیب پرستوں کے وجود سے پاک کر دیں گے“۔
اور ”ھدایۃ الحیاریٰ“ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے قول: ”اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا“۔ (یوحنا ۱۴: ۱۶) کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن قیمؒ لکھتے ہیں :
وأما المسيح فإنما سأله بعد رفعه وصعوده إلى السماء.
(٥٤١)
ترجمہ : ”ولیکن مسیح علیہ السلام نے یہ درخواست آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد ہی کی ہوگی“۔
اس کے بعد مسیح علیہ السلام کے ایک اور قول کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
وتأمل قول المسيح : إنى لست "أدعكم أيتامًا لأنى سآتيكم
عن قريب " ، كيف هو مطابق لقول أخيه محمد بن عبد الله صلوات الله وسلامه عليهما : " ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلا وإماماً مقسطاً فيقتل الخنزير ويكسر الصليب ويضع الجزية " . وأوصى أمته بأن " يقرأه السلام منه من لقيه منهم " . وفي حديث آخر : «كيف تهلك أمةٌ أنا في أولها وعيسى في آخرها» .
(ص٥٤٥)
ترجمہ : ”اور حضرت مسیح کے اس قول پر کہ میں تم کو یتیم نہیں چھوڑوں گا‘ کیونکہ میں عنقریب تمہارے پاس آؤں گا“ ۔ غور کرو کہ یہ قول ان کے بھائی محمد بن عبداللہ صلوات اللہ وسلامہ علیہما کے ارشاد کے کس طرح مطابق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم میں مسیح ابن مریم امام عادل اور حاکم منصف بن کر نازل ہوں گے ‘ پس خنزیر کو قتل کریں گے ‘ صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے نیز آپ ﷺ نے اپنی امت کو وصیت فرمائی کہ ان میں سے جو شخص عیسیٰ ؑ سے ملے وہ ان کو آپ ﷺ کا سلام کہے “ ایک اور حدیث میں ہے کہ ”وہ امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے جس کے شروع میں میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ ؑ ہیں“ ۔ اس کتاب میں حافظ ابن قیمؒ نے ایک عنوان یہ قائم کیا ہے :
اليهود كذبوا مسيح الهدى وينتظرون مسيح الضلال المسيح وأصحابه يقتلونهم شر قتلة.
ترجمہ : ”یہود نے مسیح ہدایت کی تکذیب کی اور وہ مسیح ضلالت (دجال) کے منتظر ہیں ۔ حضرت مسیح اور ان کے رفقا یہود کو بری طرح قتل کریں گے“ ۔
اس کے تحت حافظ ابن قیمؒ لکھتے ہیں کہ یہود نے مسیح ہدایت حضرت عیسیٰ ؑ کی تکذیب کی۔ اس کا عوض ان کو یہ ملا کہ یہ لوگ مسیح ضلالت دجال کا انتظار کر
رہے ہیں، یہی لوگ دجال کا لشکر ہوں گے اور سب سے زیادہ اس کی پیروی کریں گے ۔ دجال کے زمانے میں یہود کو حکومت و شوکت نصیب ہوگی ۔
إلى أن ينزل مسيح الهدى ابن مريم فيقتل منتظرهم ويضع هو وأصحابه فيهم السيوف حتى يختبئ اليهودى وراء الحجر والشجر فيقولان : يا مسلم ! هذا يهودى ورائى ، تعال فاقتله ، فإذا نظف الأرض منهم ومن عباد الصليب... إلى قوله : هكذا أخبر به شعيا في نبوته ، وطابق خبره ما أخبر به النبي ﷺ في الحديث الصحيح في خروج الدجال وقتل المسيح ابن مريم له . (ص٥٨٥)
ترجمہ : ”یہاں تک کہ مسیح ہدایت حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ نازل ہوں گے ، ان کے منتظر کو قتل کریں گے ، اور آپ ؑ اور آپ ؑ کے رفقا یہود کو تلوار کی دھار پر رکھیں گے یہاں تک کہ یہودی حجر و شجر کے پیچھے چھپیں گے ، تو وہ بھی پکار اٹھیں گے کہ اے مسلم ! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے ، آ اس کو قتل کر ۔ پس جب زمین یہود اور پرستاران صلیب سے پاک ہو جائے گی تو زمین میں امن ہو جائے گا .... حضرت شعیا ؑ نے اپنی پیش گوئی میں اس کی خبر دی ہے ، اور ان کی خبر آنحضرت ﷺ کی اس خبر کے مطابق ہے جو دجال کے خروج اور حضرت عیسیٰ ؑ کے اس کو قتل کرنے کے سلسلہ میں حدیث صحیح میں وارد ہے “ ۔
اسی کتاب میں ایک جگہ آنحضرت ﷺ نے حضرت مسیح ؑ کی جو برأت ظاہر فرمائی اس کا تذکرہ کرتے ہوئے امام ابن قیم لکھتے ہیں :
وإنّ ربه تعالى أكرم عبده ورسوله ، ونزهه وصانه أن ينال إخوان القردة منه ما زعمته النصارى أنهم نالوه منه ، بل رفعه الله إليه مؤيداً منصوراً لم يشكه أعداءه بشوكة ، ولا نالته أيديهم
بأذى، فرفعه الله إليه وأسكنه سماءه وسيعيده إلى الأرض، ينتقم به من مسيح الضلال وأتباعه، ثم يكسر به الصليب، ويقتل به الخنزير، ويعلى به الإسلام وينصر به ملة أخيه، وأولى الناس به محمد عليهما أفضل الصلاة والسلام.
(ص ٥٤٥)
ترجمہ : ”اور آنحضرت ﷺ نے یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت مسیح ؑ کی عزت افزائی فرمائی اور ان کو یہود کی اس دستبرد اور ایذا رسانی سے محفوظ رکھا جس کو نصاریٰ (اپنی حماقت سے) تسلیم کر رہے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید ونصرت سے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ ان کے دشمن ان کے کانٹا چبھونے اور اپنے ہاتھوں کسی قسم کی ایذا پہنچانے میں کامیاب نہ ہو سکے، پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور ان کو اپنے آسمان میں ٹھہرایا اور اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو دوبارہ دنیا میں بھیجیں گے، اس آمد سے آپ مسیح ضلالت دجال اور اس کے پیروؤں سے انتقام لیں گے، پھر صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، اور اسلام کو سربلند فرمائیں گے، اور اپنے بھائی اور سب سے زیادہ تعلق رکھنے والی شخصیت حضرت محمد ﷺ کی ملت کی تائید کریں گے“۔
کتاب الروح (ص ۱۷) میں لکھتے ہیں :
وفي قصة الإسراء من حديث عبد الله بن مسعود... فقال عيسى : عهد إليّ فيما دون وجبتها فذكر خروج الدّجّال قال : فاهبط واقتله.
ترجمہ : ”واقعہ معراج میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث میں ہے کہ... عیسیٰ ؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے قرب قیامت کے بارے میں ایک عہد کر رکھا ہے، پھر آپ نے ذکر کیا کہ دجال نکلے گا، تو میں اتر کر اسے قتل کروں گا“۔
قصیدہ نونیہ ص ۱۹۰ میں لکھتے ہیں :
وكذلك أخبر الله عن عيسى روح الله وكلمته أنه رفعه إليه لما أراد اليهود قتله قال تعالى فى سورة آل عمران : ﴿وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوْا﴾ وقال فى سورة النساء : ﴿بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا﴾ وقد روى البخاري ومسلم فى "صحيحيهما" عن أبى هريرة رضى الله عنه قال : قال رسول الله ﷺ : «كيف أنتم إذا نزل ابن مريم من السماء فيكم وإمامكم منكم» والمراد بهذا نزوله من السماء بعد رفعه إلى الله عز وجل.
(شرح القصيدة النونية صـ ١٩٠)
ترجمہ : ”اسی طرح قرآن میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام کو حقیقتاً اپنی طرف اٹھا لیا۔
شرح : اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ روح اللہ وکلمتہ اللہ علیہ السلام کے بارے میں خبر دی ہے کہ جب یہود نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا، چنانچہ سورۂ آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ”اور جب فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ اے عیسیٰ! بے شک میں تجھے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں، اور ان کافروں سے تجھے پاک کرنے والا ہوں“۔
اور سورۃ النساء میں فرمایا : ”بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست ہیں بڑی حکمت والے ہیں“۔
اور صحیح بخاری وصحیح مسلم کی حدیث میں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ”تم لوگ کیسے ہو گے جب کہ حضرت عیسیٰ بن مریم
علیہما السلام تم میں آسمان سے نازل ہوں گے اور وہ تم میں شامل ہو کر تمہارے امام ہوں گے“۔
اور مراد اس سے آسمان سے نازل ہونا ہے بعد اس کے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھالیا گیا ۔“
وإليه قد عرج الرسول حقيقة : وكذا ابن مريم مصعد الأبدان وأن الرسول ﷺ قد عرج إليه ليلة الإسراء عروجاً حقيقةً حتى كان منه قاب قوسين أو أدنى وأن عيسى عليه السلام قد رفعه الله إليه ببدنه كما نطقت بذلك الآيات من سورتي النساء وآل عمران.
(شرح القصيدة النونية ص۳۰۳)
ترجمہ : ”اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف آنحضرت ﷺ کو حقیقتاً معراج ہوئی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ جسمانی طور پر اٹھا لئے گئے“۔
شرح : اور بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کو شب معراج میں اللہ تعالیٰ کی طرف عروج حقیقی نصیب ہوا، یہاں تک کہ دو کمانوں کے فاصلہ تک پہنچے بلکہ اس سے بھی قریب تر۔ بلاشبہ حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بدن سمیت اپنی طرف اٹھا لیا جیسا کہ سورۂ آل عمران اور سورہ النسا کی آیتیں اس پر ناطق ہیں۔
وإليه قد صعد الرسول وقبله : عيسى ابن مريم كاسر الصلبان وإن الرسول ﷺ قد صعد إليه ليلة المعراج حتى كان قاب قوسين أو أدنى ، فكلمه وناجاه وفرض عليه وعلى أمته الصلاة ، وأنه سبحانه قبل ذلك قد رفع إليه عيسى ابن مريم بجسده حياً كما قال تعالى : ﴿يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ﴾ وسينزل قرب قيام الساعة فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية كما ورد الحديث الصحيح بذلك .
(شرح القصيدة النونية ص۳۷۸)
ترجمہ : ”اور اسی کی طرف رسول اللہ ﷺ کو صعود ہوا اور آپ ﷺ سے پہلے حضرت عیسیٰ ابن مریم کو‘ جو صلیبوں کے توڑنے والے ہیں“
شرح : اور رسول اللہ ﷺ نے شب معراج میں اللہ تعالیٰ کی طرف صعود کیا۔ یہاں تک دو کمانوں کا یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ہم کلامی اور مناجات کا شرف بخشا اور آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی امت پر نماز فرض فرمائی۔
اور اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو جسد عنصری کے ساتھ زندہ اٹھا لیا‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”اے عیسیٰ! بے شک تجھے میں قبضہ میں لینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں‘ اور عنقریب قرب قیامت میں نازل ہوں گے پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے“۔
خواجہ سلطان المشائخ نظام الدینؒ اولیاء :
میر خوردؒ سید مبارک علوی کرمانی نے حضرت سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء (۷۲۵ھ) کی زبان مبارک سے خواجہ حکیم سنائیؒ کی مثنوی کے کچھ اشعار نقل کئے ہیں :
خانماں را ہماں بہ گربہ و موش
خانہ کاں از برائے قوت کنند
مور و زنبور و عنکبوت کنند
ہم بداں جاش خانہ پردازند
(سیرالاولیاء اردو ترجمہ اعجاز الحق قدوسی شائع کردہ مرکزی اردو بورڈ لاہور)
ترجمہ : ”وحشی جانوروں کی طرح جنگل اور کہسار کو اختیار کر ، گھر کو بلی اور چوہے کے لئے چھوڑ دے ۔ روزی جمع کرنے کے لئے گھر بنانا چیونٹی ، بھڑ اور مکڑی کا کام ہے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روزی کا سامان چونکہ آسمان سے مہیا کیا گیا ان کا گھر بھی اسی جگہ (آسمان پر) بنا دیا گیا ۔
فائدہ : اس شعر سے ان تین بزرگوں کا عقیدہ معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رہائش آسمان پر ہے :
حکیم سنائی سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیا بدایونیؒ
(م: ۷۲۵)
میر خورد خواجہ سید محمد مبارک علوی کرمانی
(م: ۷۷۰ھ)
امام ابو حیانؒ
امام ابو حیان اثیر الدین محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان الاندلسی الغرناطی المالکی (۶۵۴ ۔ ۷۵۴ھ) اپنی تفسیر ”البحر المحیط“ میں آیت کریمہ ﴿یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ﴾ کے تحت لکھتے ہیں :
وأجمعت الأمة على ما تضمنه الحديث المتواتر من أن عيسى فى السماء حیّ وأنه ينزل فى آخر الزمان.
(البحر المحیط ص ۵۴۵)
ترجمہ : ”اور امت کا حدیث متواتر کے اس مضمون پر اجماع
ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں زندہ ہیں‘ اور یہ کہ وہ آخری زمانے میں نازل ہوں گے“۔
اور اپنی تفسیر ”النہر الماد من البحر میں (جو ”البحر المحیط“ کے حاشیہ پر طبع ہوئی ہے) لکھتے ہیں:
وأجمعت الأمة على أن عيسى حيّ فى السماء ينزل إلى الأرض .
(البحر المحیط ج ۲ ص ۴۷۳)
ترجمہ : ”اور امت کا اس عقیدے پر اجماع ہے کہ عیسیٰ آسمان میں زندہ ہیں اور زمین پر نزول فرمائیں گے“۔
اور آیت کریمہ ”بل رفعہ اللہ الیہ“ کے تحت لکھتے ہیں:
قوله : ﴿بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ﴾ هذا إبطال لما ادعوه من قتله وصلبه وهو حيّ فى السماء الثانية على ما صحّ عن الرسول ﷺ فى حديث المعراج وهو هناك مقيم حتى ينزل الله إلى الأرض لقتل الدجّال وليملأها عدلا كما ملئت جورًا ويحيى فيها أربعين سنة ثم يموت كما تموت البشر.
(البحر المحیط ج ۳ ص ۳۹۱)
ترجمہ : ”حق تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”بلکہ اٹھا لیا اللہ نے اس کو اپنی طرف“۔ یہ یہود کے دعویٰ قتل وصلب کی تردید ہے اور عیسیٰ علیہ السلام دوسرے آسمان میں زندہ ہیں‘ جیسا کہ حدیث معراج میں آنحضرت ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہے۔ وہ وہیں قیام پذیر رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو قتل دجال کے لئے زمین پر نازل کرے گا اور وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے‘ جیسا کہ وہ ظلم سے بھری ہوئی ہوگی‘ اور وہ زمین میں چالیس سال زندہ رہیں گے پھر وفات پائیں گے‘ جیسا کہ انسانوں کو موت آتی ہے“۔
اور سورۂ احزاب کی آیت ختم نبوت کے تحت لکھتے ہیں:
وروى عنه عليه السلام ألفاظ تقتضى نصاً أنّه لا نبي بعده ﷺ والمعنى أنه لا يتنبأ أحد بعده، ولا يرد نزول عيسى آخر الزمان لأنه ممن نبئ قبله وينزل عاملا على شريعة محمد ﷺ مُصَلِّيًا إلى قبلته كأنه بعض أمته.
(البحر المحيط ج ۷ ص ۲۳۶)
ترجمہ : ”اور آنحضرت ﷺ سے ایسے الفاظ مروی ہیں جو اس عقیدہ پر نص قطعی ہیں کہ ”آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں“ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی کو نبوت عطا نہیں کی جائے گی‘ اور عیسیٰ ؑ کا آخری زمانہ میں نازل ہونا اس لئے محل اشکال نہیں کیونکہ ان کو نبوت آنحضرت ﷺ سے پہلے مل چکی ہے اور وہ نازل ہو کر محمد ﷺ کی شریعت پر عمل کریں گے۔ آپ ﷺ ہی کے قبلہ کی طرف رخ کریں گے۔ گویا آپ ﷺ ہی کی امت کے ایک فرد ہوں گے۔“
اور سورۃ الزخرف کی آیت کریمہ ﴿وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ﴾ کے تحت لکھتے ہیں :
والظاهر أنّ الضمير في ﴿وإنه لعِلمٌ للسَّاعةِ﴾ يعود على عيسى إذ الظاهر في الضمائر السابقة أنها عائدة عليه، وقال ابن عباس ومجاهد وقتادة والحسن والسدى والضحاك وابن زيد : أى وإن خروجه لعلم للساعة يدل على قرب قيامها إذ خروجه شرط من أشراطها وهو نزوله من السماء فى آخر الزمان.
(البحر المحيط ج ۸ ص ۳۵)
ترجمہ : ”ظاہر ہے کہ ﴿انہ﴾ کی ضمیر عیسیٰ ؑ کی طرف لوٹتی ہے‘ کیونکہ ظاہری طور پر سابقہ تمام ضمیریں بھی ان ہی کی طرف لوٹتی ہیں۔ اور ابن عباس‘ مجاہد‘ قتادہ‘ حسن بصری‘ سدی‘ ضحاک اور ابن زید فرماتے ہیں کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ ؑ کا آخری زمانہ میں ظاہر ہونا قیامت کی علامت ہے جو قرب قیامت پر دلالت
کرتی ہے کیونکہ آخری زمانے میں ان کا آسمان سے نازل ہونا علامات قیامت میں سے ہے۔“
حافظ ابن کثیرؒ :
امام حافظ عماد الدین ابو الفداء اسماعیل بن الخطیب ابی حفص عمر بن کثیر القرشی الدمشقی الشافعیؒ (م: ۷۷۴ھ) نے اپنی تفسیر میں متعدد جگہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے اور آخری زمانے میں نازل ہونے کی تصریحات بڑی تفصیل سے نقل کی ہیں۔ دیکھئے جلد اول ص ۳۶۵ تا ۳۶۷ اور ص ۵۷۴ تا ۵۸۳۔ آیت کریمہ ﴿وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ﴾ کے تحت لکھتے ہیں:
فلما أحاطوا بمنزله وظنوا أنهم قد ظفروا به نجاه الله تعالى من بينهم ورفعه من روزنة ذلك البيت إلى السماء، وألقى الله شبهه على رجل ممن كان عنده في المنزل، فلما دخل أولئك اعتقدوه في ظلمة الليل عيسى، فأخذوه وأهانوه ووضعوا على رأسه الشوك وكان هذا من مكر الله لهم، فإنه نجى نبيه ورفعه من بين أظهرهم.
(تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۳۶۵)
ترجمہ: ”پس جب انہوں نے آپ کے مکان کا گھیرا ڈال لیا اور گمان کیا کہ آپ کو پکڑنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے درمیان سے نکال لیا اور اس مکان کے روشندان سے آسمان کی طرف اٹھا لیا، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی شباہت مکان میں موجود لوگوں میں سے ایک شخص پر ڈال دی۔ پس جب یہودی مکان میں داخل ہوئے تو رات کی تاریکی میں اسی کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھا، اسے پکڑ لیا، اس کی اہانت کی اور اس کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھا اور یہ اللہ تعالیٰ کی یہودیوں کے مقابلہ میں خفیہ تدبیر تھی کہ اپنے نبی کو ان
سے بچالیا اور اس کو ان کے درمیان سے اٹھالیا‘‘۔ آیت کریمہ ﴿وانہ لعلم للساعة﴾ کے تحت لکھتے ہیں :
بل الصحيح أنه عائد على عيسى عليه الصلاة والسلام فإن السياق في ذكره ثم المراد بذلك نزوله قبل يوم القيامة كما قال تبارك وتعالى : ﴿وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ﴾ أى قبل موت عيسى عليه الصلاة والسلام، ﴿ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا﴾.
ويؤيده هذا المعنى القراءة الأخرى : ” وَإِنَّهُ لَعَلَمٌ لِّلسَّاعَةِ “ أى أمارة ودليل على وقوع الساعة قال مجاهد: ﴿وإنه لعلم للساعة﴾ أى آية للساعة خروج عيسى ابن مريم عليه السلام قبل يوم القيامة ، وهكذا روى عن أبى هريرة وابن عباس وأبى العالية وأبى مالك وعكرمة والحسن وقتادة والضحاك وغيرهم وقد تواترت الأحاديث عن رسول الله ﷺ أنه أخبر بنزول عيسى عليه السلام قبل يوم القيامة إمامًا عادلا وحكمًا مقسطًا.
(ج٤ ص ١٣٣-١٣٢)
ترجمہ : ”بلکہ صحیح یہ ہے کہ ﴿انہ﴾ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے کیونکہ سلسلہ کلام انہی کے تذکرہ میں ہے اور مراد اس سے ان کا قیامت سے پہلے نازل ہونا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے (سورۂ النساء کی آیت ۱۵۹ میں) فرمایا : ”اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا ان پر ان کی موت سے پہلے‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ۔ ”پھر وہ ہوں گے قیامت کے دن ان پر گواہ‘‘۔
اور اس مضمون کی تائید آیت کی دوسری قرات ﴿وانہ لعلم للساعة﴾ سے بھی ہوتی ہے یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی نشانی ہے ۔ امام مجاہد ؒ ﴿وانہ لعلم للساعة﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں
کہ قیامت کی نشانی ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظاہر ہونا قیامت سے پہلے‘ اور حضرت ابو ہریرہ‘ ابن عباس رضی اللہ عنہم‘ ابو العالیہ‘ ابو مالک‘ عکرمہ‘ حسن بصری‘ قتادہ‘ ضحاک اور دیگر حضرات سے بھی اسی طرح کی تفسیر مروی ہے‘ اور رسول اللہ ﷺ سے متواتر احادیث مروی ہیں کہ آپ ﷺ نے قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کے امام عادل اور حاکم منصف کی حیثیت سے نازل ہونے کی خبر دی ہے۔“
اور امام ابن کثیرؒ اپنی تاریخ ”البدایہ والنہایۃ“ میں ”رفع عیسیٰ علیہ السلام الی السماء فی حفظ الرب و بیان کذب الیہود و النصارى فی دعوی الصلب“ کے عنوان کے تحت سورۂ آل عمران اور سورۂ النسا کی آیات نقل کرکے لکھتے ہیں :
فأخبر تعالى أنه رفعه إلى السماء بعد ما توفاه بالنوم على الصحيح المقطوع به ، وخلصه ممن كان أراد أذيته من اليهود .
(ج ۲ ص ۹۱)
ترجمہ : ”پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نیند کی حالت میں عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا‘ اور جو یہود کہ آپ کے درپے ایذا تھے ان سے آپ کو چھڑا لیا“۔
وأخبر تعالى بقوله : ﴿وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ﴾ أى بعد نزوله إلى الأرض في آخر الزمان قبل قيام الساعة، فإنه ينزل ويقتل الخنزير ويكسر الصليب ويضع الجزية ولا يقبل إلا الإسلام كما بيّنا ذلك بما ورد فيه من الأحاديث عند تفسير هذه الآية الكريمة من سورة النساء وكما سنورد ذلك مستقصى فى كتاب الفتن والملاحم عند أخبار المسيح الدجال فنذكر ما ورد فى
نزول المسيح عيسى عليه السلام من السماء لقتل المسيح الدجال الكذاب الداعى إلى الضلال وهذا ذكر ما ورد في الآثار في رفعه إلى السَّماء.
(ج۲ ص۹۲)
ترجمہ : ”اور اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ”نہیں ہو گا کوئی اہل کتاب میں سے مگر ایمان لائے گا عیسیٰ ؑ پر ان کی موت سے پہلے‘‘۔ یعنی قیامت سے پہلے جب وہ زمین پر نازل ہوں گے خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے، جزیہ موقوف کر دیں گے اور صرف اسلام قبول کریں گے۔ جیسا کہ ہم نے (اپنی تفسیر میں) اس آیت کی تفسیر کے تحت وہ احادیث ذکر کی ہیں جو اس سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں اور جیسا کہ عنقریب ہم کتاب الفتن و الملاحم میں اس کو مکمل طور پر ذکر کریں گے، جہاں مسیح دجال سے متعلق حالات آئیں گے، پس ہم وہ احادیث ذکر کریں گے جو مسیح دجال کذاب، جو گمراہی کا داعی ہوگا، کے قتل کرنے کے لئے حق تعالیٰ شانہ کی جانب سے حضرت عیسیٰ ؑ کے نازل ہونے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ یہاں وہ آثار نقل کئے جاتے ہیں۔ جو ان کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے بارے میں منقول ہیں۔ (یہاں تفصیل سے رفع آسمانی کی روایات درج کی ہیں)“۔
حسب وعدہ امام ابن کثیرؒ نے ”نهایة البِدایه“ میں جو ان کی تاریخ کا تکملہ ہے۔ تفصیل سے خروج دجال اور نزول عیسیٰ ؑ کی احادیث ذکر کی ہیں ۔
(ملاحظہ فرمائیے۔ ص ۱۶۰ ج ۱ تا ص ۱۷۶ ج ۱)
علامہ کرمانیؒ :
الامام العلامه شمس الدین محمد بن یوسف بن علی بن سعید الکرمانی الشافعیؒ (۷۱۷ ۔ ۷۸۶ھ) ”الکواکب الدراری فی شرح البخاری“ باب نزول عیسیٰؑ
کے تحت لکھتے ہیں:
أى من السماء إلى الأرض.
(ج۱۴ ص۸۷)
ترجمہ : ”یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے زمین پر نازل ہونے کا بیان“۔
اسی باب کی حدیث ”و امامكم منكم“ کے تحت لکھتے ہیں:
يعنى يحكم بينكم بالقرآن لا بالإنجيل، أو أنه يصير معكم بالجماعة والإمام من هذه الأمة.
(ج۱۴ ص۸۸)
ترجمہ : ”یعنی وہ تمہارے درمیان قرآن کے مطابق فیصلہ کریں گے نہ کہ انجیل کے مطابق‘ یا یہ مطلب ہے کہ وہ تمہاری جماعت میں شامل ہوں گے‘ جبکہ امام اس امت میں سے ہوگا“۔
علامہ تفتازانیؒ:
علامہ سعد الدین مسعود بن عمر التفتازانیؒ (م: ۷۹۱ھ) شرح مقاصد میں ختم نبوت کی بحث میں لکھتے ہیں:
فإن قيل : أليس عيسى عليه السلام حيّاً بعد نبيّنا ﷺ رفع إلى السماء، وسينزل إلى الدنيا، قلنا : بلى، ولكنه على شريعة نبيّنا ﷺ لا يسعه إلا اتباعه على ما قال عليه السلام فى حق موسى عليه السلام : إنّه لو كان حيّاً لما وسعه إلا اتباعى، فيصح أنّه خاتم الأنبياء بمعنى أنه لا يبعث نبى بعده.
(ج۲ ص۱۹۲)
ترجمہ: ”اگر کہا جائے کہ کیا یہ صحیح نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمارے آنحضرت ﷺ کے بعد بھی زندہ ہیں۔ وہ آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں اور آخری زمانہ میں دنیا میں دوبارہ آئیں گے۔ (تو پھر آنحضرت ﷺ خاتم النبیین کیسے رہے؟) ہم کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کا زندہ ہونا اور دوبارہ تشریف لانا صحیح ہے۔ لیکن وہ آنحضرت ﷺ کی شریعت پر ہوں گے۔ آپ ﷺ کی پیروی کے سوا انہیں کوئی گنجائش نہ ہوگی جیسا کہ آپ ﷺ نے موسیٰ علیہ السلام کے حق میں فرمایا کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو ان کو میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا پس آنحضرت ﷺ کا خاتم الانبیا ہونا صحیح ہے۔ بدیں معنی کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا“۔
نیز علامات قیامت کی بحث میں لکھتے ہیں:
ومما يلحق بباب الإمامة بحث خروج المهدي ونزول عيسى ﷺ وهما من أشراط الساعة .
(ج۲ ص۳۰۷)
ترجمہ: ”باب امامت کے ملحقات میں خروج مہدی اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کی بحث بھی ہے اور یہ دونوں علامات قیامت میں سے ہیں“۔
نیز اسی ضمن میں لکھتے ہیں:
هو وإن كان حينئذ من اتباع النبي ﷺ فليس منعزلاً عن النبوة فلا محالة أن يكون أفضل من الإمام.
(ج۲ ص۳۰۸)
ترجمہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت اگرچہ آنحضرت ﷺ کے پیروکار ہوں گے، لیکن نبوت سے معزول نہیں ہوں گے، اس لئے یقیناً وہ امام مہدی سے افضل ہوں گے۔“
شرح عقائد نسفی میں فرماتے ہیں:
ونزول عيسى عليه السلام من السماء عند المنارة البيضاء فى شرقى دمشق... حق إلخ.
(ص١٢٤)
ترجمہ: ”اور عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا دمشق کے مشرق میں سفید منارہ کے پاس حق ہے۔“
نیز اسی کتاب میں مصنف کے قول ”اول الانبيا آدم و أخرهم محمد صلى الله عليه وسلم“ کے تحت لکھتے ہیں:
فإن قيل : قد ورد فی الحديث نزول عيسى عليه السلام بعده، قلنا : نعم، لكنه يتابع محمدًا ﷺ لأن شريعته قد نسخت إلخ .
(ص ۱۰۰)
ترجمہ : ”اگر کہا جائے کہ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ آپ کے بعد عیسیٰ ؑ نازل ہوں گے ۔ ہم کہتے ہیں کہ ہاں! ضرور نازل ہوں گے ۔ مگر وہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کریں گے۔ کیونکہ ان کی شریعت منسوخ ہو چکی ہے“۔
اسی کتاب میں مصنف کے قول ”و افضل البشر بعد نبينا صلى الله عليه وسلم ابوبكر الصديق رضی اللہ عنہ“ کے تحت لکھتے ہیں :
والأحسن أن يقال : بعد الأنبياء، لكنه أراد البعدية الزمانية، وليس بعد نبيّنا ﷺ نبی ومع ذلك لا بد من تخصيص عيسى عليه السلام إلخ .
(ص ۱۰۷)
ترجمہ : ”بہتر یہ تھا کہ ”بعد الانبیا“ کا لفظ کہا جاتا لیکن مصنفؒ نے بعدیت زمانیہ مراد لی ہے، اور ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں، مگر اس کے باوجود عیسیٰ ؑ کی تخصیص لازم ہے (کہ وہ آنحضرت ﷺ کے بعد نازل ہوں گے اور حضرت ابوبکر ؓ سے افضل ہیں)“۔
امام ابن زملکانی الشافعیؒ :
الامام العلامہ کمال الدین محمد بن علی بن عبدالواحد المعروف بابن الزملکانی قاضی حلب (م : ۷۲۷ ھ) اپنی کتاب ”عجالة الراکب فی ذکر اشرف المناقب“ میں لکھتے ہیں :
وذلك لأن النبي ﷺ دعوته عامة بعث إلیٰ الأحمر والأسود والجن والإنس ممن أدركه وجب عليه اتباعه، ألا تریٰ إلیٰ نزول عیسیٰ عليه الصلاة والسّلام علیٰ شريعته ناشراً لدعوته مؤيدًا لملّته مصلّيًا خلف إمام أمته مقاتلا لمظهر مخالفته.
(بحوالہ جواہر البحار للنبهانی ص۱۳۹۶)
ترجمہ : ”اور یہ اس لئے کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت عام ہے، آپ کالے گورے اور جن وانس سب کی طرف مبعوث ہیں، جو شخص بھی آپ کا زمانہ پائے اس پر آپ کی پیروی واجب ہے، کیا تم دیکھتے نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آپ ﷺ کی دعوت کو پھیلائیں گے آپ کی ملت کی تائید کریں گے، نماز میں آپ کی امت کے امام کی اقتدا کریں گے۔ جو لوگ آپ کی مخالفت کا اظہار کرتے ہوں گے ان سے قتال کریں گے۔“
شیخ قطب الدین سہروردیؒ :
الشیخ الامام قطب الدین عبد اللہ بن محمد بن ایمن الاصفہبدی الدمشقی السہروردی (۸۰۷ ھ) ”رسالہ مکیہ“ میں امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الف الف صلوٰۃ و سلام) کے فضائل کے ضمن میں لکھتے ہیں:
”وہم چنیں دید عیسیٰ علیہ السلام فضائل و بزرگی ایں امت را در انجیل ، پس گفت عیسیٰ علیہ السلام اے بار خدایا بگرداں ایشاں را از امت من ، پس گفت خداوند تعالیٰ نہ کنم من کہ ایشاں را از امت تو نگردانم ۔ ایشاں را از امت احمد و محمد مصطفیٰ علیہ السلام ، پس گفت عیسیٰ علیہ السلام اگر نگردانی تو ایشاں را از امت من بگرداں مرا از ایشاں ، پس برداشت عیسیٰ علیہ السلام را خداوند
تعالیٰ سوئے آسماں تا فرود کند عیسیٰ علیہ السلام را سوئے زمین در آخر الزماں‘ تاباشد اندر امت مصطفیٰ ﷺ یعنی عامل شریعت مصطفیٰ بود و یکے از امتیان مصطفےٰ شود‘‘۔
(شرح رسالہ مکیہ تصوف قلمی ص ۴۰۰ و ص ۴۰۱ زیر نمبر ۳۵۶)
ترجمہ : ’’اسی طرح عیسیٰ ؑ نے اس امت کے فضائل انجیل میں دیکھے تو عرض کیا کہ الٰہی اس امت کو میری امت بنا دے ۔ حکم ہوا کہ ان کو تمہاری امت نہ بناؤں گا‘ اس لئے کہ میرے نبی محمد ﷺ کی امت ہے ‘ پس انہوں نے دعا کی کہ مجھ کو اس امت میں داخل کر دے ‘ چنانچہ ان کی یہ دعا قبول ہوگئی کہ حق تعالیٰ نے ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ یہاں تک کہ آخر زمانہ میں ان کو زمین پر اتار کر اس امت میں شامل فرمائے گا‘‘۔
(ارشاد الملوک ص ۱۱۰‘ ۱۱۱)
امام تقی الدین سبکیؒ :
الامام العلامہ تقی الدین علی بن عبدالکافی السبکی الشافعی (م : ۷۵۶ھ) اپنی کتاب ” التعظیم و المنۃ فی تفسیر قولہ تعالیٰ لتومنن بہ ولتنصرنہ “ میں طویل کلام کے بعد لکھتے ہیں :
فإذا عرف ذلك فالنبی ﷺ هو نبی الأنبياء ولهذا أظهر ذلك فی الآخرة جميع الأنبياء تحت لوائه، وفى الدنيا كذلك ليلة الإسراء صلّى بهم، ولو اتفق مجيئه فى زمن آدم ونوح وإبراهيم وموسى وعيسى وجب عليهم وعلى أممهم الإيمان به ونصرته، وبذلك أخذ الله الميثاق عليهم فنبوته عليهم ورسالته إليهم معنى حاصل له... فلو وجد فى عصرهم لزمهم اتباعه بلا شك ولهذا يأتى عيسى فى آخر الزمان على شريعته وهو نبى كريم على حالته لا كما يظن بعض الناس أنه يأتى واحدًا من هذه الأمة نعم هو واحد من هذه
الأمّة لما قلناه من اتباعه للنبي ﷺ وإنما يحكم بشريعته نبيّنا محمد ﷺ بالقرآن والسنة وكل ما فيها من أمرٍ ونهى فهو متعلق به كما يتعلق بسائر الأمة وهو نبي كريم على حاله ولم ينقص منه شيء.
(بحوالہ شرح المواہب ص ۱۶۴ ج ۶ جواہر البحار للنبهانی ص ۳۶۴)
ترجمہ : ’’پس جب یہ معلوم ہوا تو ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ ’’نبی الانبیا‘‘ ہیں ۔ اسی بنا پر اس عظمت کو آخرت میں یوں ظاہر کیا گیا کہ تمام انبیا کرام علیہم السلام آپ ﷺ کے جھنڈے تلے جمع ہوئے ، اسی طرح شب معراج میں بھی اس کا ظہور ہوا کہ آپ ﷺ سب کے امام ہوئے اور اگر آپ کی تشریف آوری حضرت آدم ، حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام کے زمانے میں ہوتی تو ان پر اور ان کی امتوں پر واجب ہوتا کہ آپ ﷺ پر ایمان لائیں اور آپ ﷺ کی نصرت کریں ، اسی کا اللہ تعالیٰ نے ان سے عہد لیا، اس لئے آپ ﷺ کا ان کے لئے نبی ورسول ہونا تو ایک ایسا وصف ہے جو آپ ﷺ کو حاصل ہے ۔
پس اگر آپ ﷺ ان کے زمانہ میں موجود ہوتے تو آپ ﷺ کا اتباع ان پر واجب ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ عیسیٰ ؑ آخری زمانے میں آپ ﷺ کی شریعت پر اتریں گے ، حالانکہ وہ بدستور نبی مکرم ہوں گے ، ایسا نہیں جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ محض اس امت کے ایک فرد بن کر آئیں گے ، بلاشبہ وہ اس امت کے ایک فرد بھی ہوں گے ۔ کیونکہ جیسا کہ ہم نے کہا وہ ہمارے نبی ﷺ کی شریعت کے مطابق قرآن وسنت کے ساتھ حکم کریں گے اور شریعت کے تمام اوامر ونواہی جیسا کہ دیگر افراد امت سے متعلق ہیں ، ان کے متعلق بھی ہوں گے ، اس کے باوجود وہ بدستور نبی مکرم ہوں گے ، ان کی نبوت میں ذرا بھی کمی نہیں آئے گی‘‘۔
امام حافظ شمس الدین ذہبیؒ :
الامام الحافظ شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان بن قایماز الذہبی (۶۷۳ - ۷۴۸ ھ ) تجرید اسماء الصحابہ میں لکھتے ہیں :
عیسی ابن مریم علیه السلام صحابی ونبی فإنه رأی النبی ﷺ لیلة الإسراء وسلّم علیه فهو آخر الصحابة موتًا .
(تجريد أسماء الصحابة صـ ٤٦٢ ج ١ مطبوعة دار المعارف النظامية بحيدرآباد دكن ١٣١٥هـ)
ترجمہ : ”عیسیٰ بن مریم علیہ السلام صحابی بھی ہیں اور نبی بھی، انہوں نے شبِ معراج میں آنحضرت ﷺ کی زیارت کی اور آپ ﷺ کو سلام کیا، پس صحابہ میں سب سے آخر میں ان کی وفات ہوگی“۔
حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ ”الاصابہ فی تمییز الصحابہ“ میں حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوات کو صحابہ میں شمار کرتے ہوئے ان کے حالات لکھتے ہیں :
ذكره الذهبي في " التجريد " مستدركًا على من قبله ، فقال : عیسی ابن مریم رسول الله (صلی الله على نبينا وعليه وسلم) رأی النبی صلى الله عليه وآله وسلم لیلة الإسراء وسلّم عليه ، فهو نبی وصحابی ، وآخر من يموت من الصحابة .
(الإصابة صـ ٥ ج ٣)
ترجمہ : ”امام ذہبیؒ نے تجرید اسمائے صحابہ میں حضرت عیسیٰ (علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) کو بھی ذکر کیا ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں عیسیٰ بن مریم رسول اللہ (صلی اللہ علی نبینا وعلیہ وسلم) نے نبی کریم ﷺ کی شب معراج میں زیارت کی اور آپ ﷺ کو سلام کیا۔ پس وہ نبی بھی ہیں اور صحابی بھی ۔ اور وہ صحابہ میں آخری شخص ہیں جن کا انتقال ہوگا!“
حافظ تاج الدین ابن السبکی ”طبقات الشافعیہ الکبری“ میں حافظ شمس الدین الذہبی کے تذکرہ میں لکھتے ہیں:
قال لي شيخنا الذهبى مرةً : من فى الأمة أفضل من أبى بكر الصديق رضى الله عنه بالإجماع؟ فقلت : يفيدنا الشيخ. فقال : عيسى ابن مريم عليه السلام، فإنه من أمة المصطفى ﷺ، ينزل على باب دمشق، ويأتمّ فى صلاة الصبح بإمامها، ويحكم بهذه الشريعة .
(طبقات الشافعية الكبرى صـ ١١٥ ج٩)
ترجمہ : ”ایک مرتبہ ہمارے شیخ امام ذہبی ؒ نے فرمایا، بتاؤ! امت میں وہ کون شخص ہے جو حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے بالاجماع افضل ہے، میں نے عرض کیا کہ حضرت ارشاد فرمائیں، فرمایا یہ حضرت عیسیٰ بن مریم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں، کیونکہ امت مصطفیٰ ﷺ میں شامل ہیں، باب دمشق پر نازل ہوں گے، نماز فجر میں امام مہدی ؑ کی اقتداء کریں گے اور ہماری شریعت کے مطابق حکم کریں گے۔“
امام تاج الدین سبکی ”طبقات الشافعیہ الوسطیٰ میں امام شمس الدین الذہبیؒ کی تصنیفات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
وله كتاب ”الروع والأوجال فى نبأ المسيح الدجال“ وهو حسن قراءته عليه وانتقى وخرّج، ودخل فى كل باب من أبواب الحديث وخرج .
(طبقات الشافعية الكبرى صـ ١٠٥ ج٩ من الهامش)
ترجمہ : ”امام ذہبی کی ایک کتاب ”الروع والاوجال فی نبأ الدجال“ ہے، عمدہ کتاب ہے میں نے ان کی خدمت میں یہ کتاب پڑھی تھی، اس میں انہوں نے اس موضوع کی احادیث کا انتخاب اور
تخریج کی ہے اور ابواب حدیث کے ہر باب میں داخل ہوئے اور نکلے ہیں“۔
علامہ اتقانیؒ شارح ہدایہ :
الشیخ الامام قوام الدین امیر کاتب بن امیر عمر العمید الفارابی الاتقانی الحنفی (۶۸۵-۷۵۸ھ) کتاب الشامل شرح اصول البزدوی میں تواتر کی بحث میں یہود ونصاریٰ کے عقیدۂ قتل و صلب مسیح پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
والثاني : أنّ النقل المتواتر منهم في قتل رجل علموه عيسى وصلبه، وهذا النقل موجب علم اليقين فيما نقلوه ولكن لم يكن ذلك الرجل عيسى وإنما كان مشبهاً به، كما قال تعالى: ﴿ولكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ﴾ وقد جاء في الخبر أن عيسى صلاة الله عليه قال لمن كان معه: «من يريد منكم أن يلقى الله شبهى عليه فيقتل وله الجنة؟ فقال رجل: أنا فألقى الله شبه عيسى عليه فقتل ورفع عيسى عليه السلام إلى السماء».
(کتاب الشامل شرح أصول الفقه للبزدوی ج ۵ ص ۱۵-۱۴ قلمی)
ترجمہ : ”دوم یہ کہ ان کی نقل متواتر صرف اتنی بات میں ہے کہ ایک شخص جس کو انہوں نے عیسیٰ سمجھا وہ مقتول و مصلوب ہوا۔ بلاشبہ یہ نقل نفس قتل وصلب میں موجب یقین ہے، لیکن یہ شخص عیسیٰ نہیں تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «بلکہ ان کو دھوکا ہوا» اور حدیث میں آتا ہے کہ عیسیٰ ؑ نے اپنے رفقا سے فرمایا کہ تم میں سے کون یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر میری شباہت ڈال دے، وہ میری جگہ قتل ہو جائے اور اس کو جنت ملے ۔ ایک حواری نے کہا کہ میں تیار ہوں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کی شباہت اس پر ڈال دی اور عیسیٰ ؑ کو آسمان پر اٹھا لیا“۔
نویں صدی
شیخ الاسلام البیجوری رحمۃ اللہ علیہ :
شیخ الاسلام برہان الدین ابو اسحاق ابراہیم بن عیسیٰ البیجوریؒ (م: ۸۲۵ ھ) ”جوهرة التوحید“ کی شرح ”تحفة المريد على جوهرة التوحيد“ میں لکھتے ہیں :
قال تعالى : ﴿وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾، ويلزم ختم المرسلين لأنه يلزم من ختم الأعم ختم الأخص من غير عكس، ولا يشكل ذلك بنزول سيدنا عيسى في آخر الزمان لأنه إنما ينزل حاكماً بشريعة نبينا ومتبعا له ، ولا ينافى ذلك أنه حين نزوله يحكم برفع الجزية من أهل الكتاب ولا يقبل منهم إلا الإسلام أو السيف، لأن نبينا أخبرنا بأنها مغياة إلى نزول عيسى فحكمه بذلك إنما هو بشريعة نبينا.
(ص۷۰)
ترجمہ : ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وخاتم النبیین﴾ اور آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے رسولوں کا ختم ہونا بھی لازم آتا ہے، کیونکہ نبی عام ہے اور رسول خاص اور عام کے ختم ہونے سے خاص کا ختم ہونا خود بخود لازم آتا ہے۔ اس کے برعکس خاص کے ختم ہونے سے عام کا ختم ہونا لازم نہیں آتا۔ اور ختم نبوت پر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانہ میں نازل ہونا محل اشکال نہیں، کیونکہ وہ ہمارے نبی ﷺ کی شریعت کے تابع ہوں گے اور اسی کے مطابق حکومت کریں گے، اور یہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد اہل کتاب سے جزیہ اٹھا دیں گے، اور ان سے اسلام یا تلوار کے سوا کوئی چیز قبول نہیں کریں گے، یہ بھی ختم نبوت کے منافی
نہیں ۔ کیونکہ خود آنحضرت ﷺ ہی نے فرما دیا ہے کہ جزیہ کا حکم حضرت عیسیٰ ؑ کے نازل ہونے تک ہے۔ پس عیسیٰ ؑ کا رفع جزیہ کا حکم کرنا بھی آنحضرت ﷺ کی شریعت کے موافق ہو گا“۔
شیخ مہائمی ؒ :
الشیخ الامام العلامہ علی بن احمد بن ابراہیم بن اسماعیل المہائمی الدکنی الہندی الحنفی (م : ۸۳۵ ھ) اپنی تفسیر ﴿تبصیر الرحمٰن وتیسیر المنان﴾ میں آیت کریمہ ”اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰی“ کے تحت لکھتے ہیں :
﴿إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى﴾ إعلاماً له بمكره بالأعداء وتخليصه عن مكرهم ﴿إِنِّي مُتَوَفِّيكَ﴾ أى آخذ بكليتك ﴿وَ﴾ لا أدع لك شهوة طعام ولا شراب فتحتاج إلى مساكنة الأرض لأني ﴿رَافِعُكَ إِلَيَّ﴾ أى إلى سمائى ﴿وَ﴾ إنما أرفعك لأنى ﴿مُطَهِّرُكَ مِنَ﴾ جوار ﴿الَّذِينَ كَفَرُوْا﴾ لئلا يصل إليك من آثارهم شىء۔ اھ
(ص ۱۱۳ ج ۱)
ترجمہ : ”جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو ان کے اعدا کے بارے میں اپنی خفیہ تدبیر اور ان کی سازش سے بچانے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا : اے عیسیٰ میں تجھ کو پورے کا پورا وصول کرنے والا ہوں ۔ اور تیرے لئے کھانے پینے کی خواہش نہیں چھوڑوں گا کہ تو زمین کی رہائش کا محتاج رہے کیونکہ میں تجھ کو اپنی طرف یعنی اپنے آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھ کو اس لئے اٹھانا چاہتا ہوں کیونکہ میں تجھ کو ان کافروں کی ہمسائیگی سے پاک کرنے والا ہوں تاکہ ان کے آثار میں سے کوئی چیز تجھ تک نہ پہنچ سکے“۔
اور سورۃ النسا کی آیت ۱۵۷‘ ۱۵۸ کے تحت لکھتے ہیں :
﴿وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِينًا بَلْ﴾ اليقين إنما هو فى أنه ﴿رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ﴾ لمّا سمع منه ﴿وَ﴾ لا يبعد على الله إذ ﴿كَانَ اللَّهُ عَزِيزًا﴾ لا يغلب
على ما يريد وقد اقتضت الحكمة رفعه فلا بد أن يرفعه لكونه ﴿حَكِيمًا﴾ وهى حفظه لتقوية دين محمّد ﷺ حين انتهاءه إلى غاية الضعف لظهور الدجال فيقتله.
(تبصير الرحمن وتيسير المنان ص ١٧٣ ج ١)
ترجمہ : ’’اور انہوں نے اس کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سنی تو اس کو اپنی طرف اٹھا لیا‘ اور اللہ تعالیٰ کے حق میں عیسیٰ علیہ السلام کا اٹھا لینا کچھ بھی بعید نہیں‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت زبردست ہے‘ کہ کوئی اس کے ارادے پر غالب نہیں آسکتا‘ اور اس کی حکمت کا یہی تقاضا ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا جائے‘ پس ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اٹھا لیتے کیونکہ وہ بڑی حکمت والا بھی ہے‘ اور وہ حکمت تھی عیسیٰ علیہ السلام کو دین محمدی علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کی تائید و تقویت کیلئے محفوظ رکھنا۔ جبکہ ظہور دجال کے سبب دین اسلام انتہائی ضعف کی حالت میں ہوگا اس وقت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے‘‘۔
اور سورۂ الزخرف کی آیت ﴿وانه لعلم للساعة﴾ کے تحت لکھتے ہیں :
﴿وَإِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ﴾ أی من أشراطها ينزل بقربها.
(ص ٢٥٧ ج ٢)
ترجمہ : ’’اور وہ (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) نشانی ہے قیامت کی‘ یعنی علامات قیامت میں سے ہے کہ قرب قیامت میں وہ نازل ہوں گے‘‘۔
شیخ ابن تمجیدؒ :
تفسیر بیضاوی کے محشی شیخ مصطفیٰ بن ابراہیم الشہیر بابن التمجید (٨٢٢ ھ) سورۂ آل عمران کی آیت ﴿انی متوفیک و رافعك﴾ کے تحت لکھتے ہیں :
قوله : أو قابضك ، أو متوفيك نائماً وإنما احتيج في معنى متوفيك إلى ارتكاب هذه الوجوه لما أن توفي عيسى عليه السلام إنما يكون بعد رفعه إلى السماء لقوله : ﴿وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ﴾ إلى قوله : ﴿بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ﴾ .
(حاشيه ابن تمجيد على البيضاوى ج١ ص ٦٢)
ترجمہ : ”اور متوفیک میں ان توجیہات کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ عیسیٰ ؑ کی وفات آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ”اور انہوں نے نہ آپ کو قتل کیا‘ نہ سولی پر چڑھایا‘ بلکہ ان کو اشتباہ ہو گیا.... اور انہوں نے آپ کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف (آسمان پر) اٹھا لیا“۔
اور سورۃ النسا کی آیت ﴿و ان من اهل الكتاب﴾ کے ذیل میں لکھتے ہیں :
وقيل : الضميران لعيسى أى الضمير فى "به" و "موته" لعيسى فيكون المراد بالإيمان المدلول عليه بقوله : ﴿لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ﴾ الإيمان بعيسى بعد نزوله فى آخر الزمان.
(ج١ ص ٤٩٣)
ترجمہ : ”اور کہا گیا ہے کہ ”به“ اور ”موته“ کی دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف راجع ہیں‘ جو ایمان کہ ارشاد خداوندی کا مدلول ہے‘ اس سے مراد یہ ہے کہ اہل کتاب عیسیٰ ؑ پر ان کے آخری زمانے میں نازل ہونے کے بعد ایمان لائیں گے“۔
حافظ ابن حجرؒ :
حافظ الدنیا الامام الحافظ شہاب الدین احمد بن علی بن محمد بن حجر العسقلانی الشافعی (م : ۸۵۲ھ) ”تلخيص الحبير في تخريج احادیث الرافعي الكبير“ میں لکھتے ہیں :
وأما رفع عيسى فاتفق أصحاب الأخبار والتفسير على أنّه رفع ببدنه حيّاً وإنما اختلفوا هل مات قبل أن يرفع أو نام فرفع .
(ج٣ ص ٢١٤)
ترجمہ: ”رہا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا؟ تو تمام اصحاب اخبار و تفسیر اس پر متفق ہیں کہ وہ جسد عنصری کے ساتھ زندہ اٹھائے گئے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ اٹھائے جانے سے پہلے مرے تھے (اور پھر زندہ کر کے اٹھائے گئے) یا نیند کی حالت میں اٹھائے گئے“۔
اور حافظ نے ”الاصابة فی تمییز الصحابة“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شمار کیا ہے۔ کیونکہ وہ قبل از وفات آنحضرت ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے ہیں۔ (ج ۴ ص ۵۲ تا ۵۴)
نیز اسی کتاب میں حضرت خضر علیہ السلام کے ترجمہ میں فرماتے ہیں کہ بعض حضرات نے حدیث ”لا نبی بعدی“ سے ان کی وفات پر استدلال کیا ہے :
هو معترض بعيسى ابن مريم فإنه نبى قطعاً وثبت أنه ينزل إلى الأرض فى آخر الزمان ويحكم بشريعة النبى ﷺ فوجب حمل النفى على إنشاء النبوة لأحد من الناس، لا على وجود نبى كان قد نُبّئ قبل ذلك .
(ج١ ص ٤٣٥)
ترجمہ : ”یہ استدلال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے محل اعتراض ہے‘ کہ وہ قطعاً نبی ہیں‘ اور یہ ثابت ہے کہ وہ آخری زمانے میں زمین پر نزول فرمائیں گے اور آنحضرت ﷺ کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے۔ لہٰذا ”لا نبی بعدی“ کی نفی کو اس معنی پر محمول کرنا واجب ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت حاصل نہیں ہو سکتی۔ جس نبی کو آپ ﷺ سے پہلے نبوت مل چکی اس کا وجود اس حدیث کے منافی نہیں“۔
اور حافظؒ نے فتح الباری میں بھی متعدد جگہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کی تصریحات
فرمائی ہیں۔ کتاب الانبیا باب نزول عیسی علیہ السلام اور کتاب الفتن کی مراجعت کی جائے۔
ارشاد نبوی ”ینزل فیکم ابن مریم حكماً“ کی شرح میں فرماتے ہیں :
أى حاكماً، والمعنى أنّه ينزل حاكماً بهذه الشريعة فإن هذه الشريعة باقية لا تنسخ بل يكون عيسى حاكماً من حكام هذه الأمة.
(ج٦ ص٣٥٦)
ترجمہ : ”حکم سے مراد حاکم ہے‘ اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ ؑ نازل ہو کر اس شریعت کے مطابق حکومت کریں گے۔ کیونکہ یہ شریعت قیامت تک باقی رہے گی‘ منسوخ نہیں ہوگی‘ بلکہ عیسیٰ ؑ اس امت کے حکام میں سے ایک حاکم ہوں گے“۔
اسی حدیث کے تحت لکھتے ہیں :
قال العلماء : الحكمة فى نزول عيسى دون غيره من الأنبياء الردّ على اليهود فى زعمهم أنهم قتلوه فبيّن الله تعالى كذبهم وأنّه الذى يقتلهم. أو نزوله لدنو أجله ليدفن فى الأرض إذ ليس لمخلوق من التراب أن يموت فى غيرها. وقيل : إنّه دعا الله لمّا رأى صفة محمد ﷺ وأمته أن يجعله منهم فاستجاب الله دعاءه، وأبقاه حتى ينزل فى آخر الزمان مجدّداً لأمر الإسلام فيوافق خروج الدجّال فيقتله.
(ج٦ ص٣٥٧)
ترجمہ : ”آخری زمانہ میں صرف حضرت عیسیٰ ؑ ہی کا نزول جو مقدر ہوا علما نے اس کی متعدد حکمتیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ ان یہود پر رد کرنا مقصود ہے جو ان کے قتل کے مدعی تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کا جھوٹ کھول دیا کہ یہود نے حضرت عیسیٰ ؑ کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ خود حضرت عیسیٰ ؑ یہود کو قتل کریں گے۔
دوم یہ کہ (عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے اس لئے) ان کا نزول ان کے اجل کے قریب ہونے کی وجہ سے ہوگا۔ تاکہ زمین میں دفن کئے جائیں کیونکہ جو مٹی سے پیدا ہوا ہے وہ دوسری جگہ نہیں مرسکتا۔
اور بعض نے کہا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے جب آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی امت کی صفت دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کو بھی امت محمدیہ میں شامل کر دے‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو باقی رکھا۔ یہاں تک کہ وہ آخری زمانہ میں نازل ہو کر دین اسلام کے مجدد بنیں گے۔ اس وقت دجال نکلا ہوا ہوگا۔ اس کو قتل کریں گے۔“۔
علامہ عینیؒ:
الامام الحافظ العلامہ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد العینی الحنفیؒ (م: ۸۵۵ ھ) عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ”باب نزول عیسیٰ علیہ السلام“ کے ذیل میں لکھتے ہیں :
اَی ھذا باب بیان نزول عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام یعنی فی آخر الزمان۔
(ج۱۶ ص۳۸)
ترجمہ : ”یعنی یہ باب ہے حضرت عیسیٰ ؑ کے آخری زمانہ میں نازل ہونے کے بیان میں“۔
اس باب میں موصوف نے بڑی تفصیل سے نزول عیسیٰ ؑ کی احادیث ذکر کی ہیں‘ اور نزول عیسیٰ ؑ کی حکمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
فإن قلت : ما الحکمۃ فی نزول عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام والخصوصیۃ بہ، قلت : فیہ وجوہ: الأول : للردّ علی الیہود فی
زعمهم الباطل أنهم قتلوه وصلبوه فبين الله تعالى كذبهم وأنه هو الذي يقتلهم.
الثاني : لأجل دنو أجله ليدفن في الأرض إذ ليس لمخلوق من التراب أن يموت في غير التراب.
الثالث : لأنه دعا الله تعالى لما رأى صفة محمد ﷺ وأمته أن يجعل منهم فاستجاب الله دعاءه وأبقاه حياً حتى ينزل في آخر الزمان ويجدد أمر الإسلام فيوافق خروج الدجال فيقتله.
الرابع : لتكذيب النصارى وإظهار زيغهم في دعواهم الأباطيل وقتله إياهم.
الخامس : أن خصوصيته بالأمور المذكورة لقوله ﷺ : «أنا أولى الناس بابن مريم، ليس بيني وبينه نبي، وهو أقرب إليه من غيره في الزمان، وهو أولى بذلك».
(عمدة القارى ج١٦ ص٣٩)
ترجمہ : ”اگر کہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نازل ہونے میں کیا حکمت ہے اور ان کی خصوصیت کی کیا وجہ ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ اس کی کئی وجوہ ہیں۔
اول : یہ کہ اس سے یہود کے زعم باطل کا رد کرنا مقصود ہے کہ انہوں نے عیسیٰ ؑ کو قتل کر دیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے ان کا جھوٹ کھول دیا اور یہ بتا دیا کہ خود حضرت عیسیٰ ؑ ہی یہود کو قتل کریں گے۔
دوم : یہ کہ (حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا گیا تھا اور) ان کا وقتِ موعود قریب آنے کی وجہ سے ان کو نازل کیا گیا۔ تاکہ زمین میں دفن ہوں، کیونکہ جو مٹی میں سے پیدا ہوا اس کی موت بھی زمین کے سوا دوسری جگہ نہیں ہو سکتی۔
سوم : انہوں نے جب آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی امت کی صفت دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کو بھی اس امت میں
شامل کر دے، پس اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو آسمان پر زندہ رکھا، یہاں تک آخری زمانہ میں نازل ہوں گے، دین اسلام کی تجدید کریں گے، اس وقت دجال نکلا ہوا ہو گا۔ اس کو قتل کریں گے۔
چہارم : ان کا نزول نصاریٰ کی تکذیب، ان کے باطل دعوؤں کی کجی کے اظہار اور ان کے قتل کے لئے ہو گا۔
پنجم : امور مذکورہ میں ان کی خصوصیت کی وجہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”مجھے سب سے زیادہ تعلق عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام سے ہے کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا“۔ پس دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام کی بہ نسبت ان کو قرب زمانی حاصل ہے۔ اس لئے وہ نزول کے زیادہ مستحق تھے“۔
شیخ ابن ہمام حنفیؒ :
الشیخ الامام کمال الدین محمد بن عبد الواحد بن عبد الحمید المعروف بابن الہمام السیواسی الحنفی (۷۹۰ - ۸۶۱ ھ) ”المسایرۃ فی شرح عقائد الاخرۃ“ میں لکھتے ہیں :
وأشراط الساعة ونزول عيسى عليه السلام وخروج يأجوج ومأجوج والدابة وطلوع الشمس من مغربها حق... والله سبحانه نسأله من عظيم جوده وكبير منّه أن يتوفانا على يقين ذلك مسلمين.
ترجمہ : ”اور قیامت کی علامتیں جیسے دجال کا نکلنا، عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا، یاجوج و ماجوج اور دابۃ الارض کا نکلنا اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا حق ہیں.... اور ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بارگاہ میں درخواست کرتے ہیں کہ وہ محض اپنے فضل و احسان سے
ہمیں ان عقائد کے یقین پر اسلام کی حالت میں دنیا سے لے جائے“۔
شیخ جلال الدین محلیؒ:
شیخ جلال الدین بن احمد المحلی الشافعیؒ (۷۹۱ - ۸۶۴ھ) اپنی تفسیر میں سورۂ احزاب کی آیت کریمہ ﴿ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین﴾ کے تحت لکھتے ہیں: وإذا نزل السيّد عيسى يحكم بشريعته.
(تفسیر جلالین مع الصاوی ج۳ ص۲۸۱)
ترجمہ : ”اور جب حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہوں گے تو آپ کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے“۔
اور سورۂ الزخرف کی آیت ﴿وانہ لعلم للساعۃ﴾ کی تفسیر میں لکھتے ہیں : ﴿وَإِنَّهُ﴾ أى عيسى ﴿لعلمٌ للساعة﴾ تعلم بنزوله.
(ج٤ ص٥٦)
ترجمہ : ”اور وہ یعنی عیسیٰ ؑ البتہ نشانی ہیں قیامت کی‘ کہ ان کے نزول سے قیامت کا قرب معلوم ہوگا“۔
علامہ خیالیؒ:
علامہ شمس الدین احمد بن موسیٰ الرومی الخیالی الحنفی (م : ۸۸۶ھ) حاشیہ شرح عقائد میں شارح کے قول ”ومع ذلك لابد من تخصيص عيسى عليه السلام“ کے تحت لکھتے ہیں : فكذا إدريس والخضر والإلياس عليهم السلام، إذ قد ذهب العظماء من العلماء إلى أن أربعة من الأنبياء فى زمرة الأحياء، الخضر والإلياس فى الأرض، وعيسى وإدريس عليهما السلام فى السماء.
(ص۱۴۲)
ترجمہ : ”عیسیٰ علیہ السلام کی طرح حضرات ادریس، خضر اور الیاس علیہم السلام کی تخصیص بھی ہونی چاہئے کیونکہ بڑے بڑے علما اس طرف گئے ہیں کہ چار انبیا زمرۂ احیا میں شامل ہیں۔ خضر اور الیاس زمین میں اور عیسیٰ و ادریس علیہم السلام آسمان میں“۔
اور شارح کے قول ”ولکنه يتابع لمحمد صلى الله عليه وسلم“ کے ذیل میں لکھتے ہیں:
وما روى من أنّ عيسى عليه الصلاة والسّلام يضع الجزية... فوجهه أنّه عليه الصلاة والسّلام بيّن انتهاء شريعة هذا الحكم وقت نزول عيسى عليه الصلاة والسّلام فالانتهاء حينئذٍ من شريعتنا .
(ص ۱۳۸)
ترجمہ : ”اور یہ جو حدیث میں آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جزیہ موقوف کر دیں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خود آنحضرت ﷺ نے فرما دیا ہے کہ جزیہ کی مشروعیت نزول عیسیٰ علیہ السلام کے وقت ختم ہو جائے گی، پس جزیہ کا اس وقت میں ختم ہو جانا بھی ہماری شریعت کا حکم ہو“۔
امام مجد الدین فیروز آبادیؒ :
الامام مجد الدین ابو الطاہر محمد بن یعقوب بن محمد بن ابراہیم فیروز آبادی الشیرازی الشافعی (۷۲۹ - ۸۱۷ھ) ”القاموس المحیط“ میں لکھتے ہیں:
ولُدّ بالضم قرية بفلسطين يقتل عيسى عليه السلام الدجّال عند بابها.
(ج۱ ص۲۳۵)
ترجمہ : ”لُدّ : (لام کے پیش کے ساتھ) فلسطین کی ایک بستی کا نام ہے جس کے دروازے پر عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے“۔
شیخ عبد الکریم صوفیؒ :
الشیخ العارف قطب الدین عبدالکریم بن ابراہیم الجیلانی الشافعی الیمنی (۷۶۷ - ۸۳۲ھ) اپنی کتاب ”الانسان الکامل“ کے باب ۶۱ میں علامات قیامت کبریٰ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
ومن أمارات الساعة الكبرى خروج الدجال وأن تكون له جنة عن يساره ونار عن يمينه، وأنه مكتوب بين عينيه كافر بالله... وأن اللعين لا يزال يدور في أقطار الأرض إلا مكة والمدينة فإنه لا يدخلهما، وإنه يتوجه إلى بيت المقدس فإذا بلغ رملة لدّ وهى قرية قريبة من بيت المقدس بينهما مسيرة يوم وليلة، أنزل الله عيسى عليه السلام على منارة هناك، وفي يده الحربة فإذا رآه اللعين ذاب كما يذوب الملح في الماء، فيضربه بالحربة فيقتله .
(ص ۱۳۷ و ۱۳۸)
ترجمہ : ”قیامت کی علامات کبریٰ میں سے ایک علامت دجال کا نکلنا ہے، اس کے بائیں جانب جنت ہوگی اور دائیں جانب آگ، اور اس کے ماتھے پر ”کافر“ لکھا ہوگا، وہ ملعون ساری زمین میں گھومتا پھرے گا، مگر مکہ و مدینہ میں داخل نہ ہو سکے گا اور بیت المقدس کا رخ کرے گا۔
جب لد کے ٹیلے پر پہنچے گا۔ یہ بیت المقدس کے پاس ایک بستی ہے اس کے اور بیت المقدس کے درمیان ایک دن رات کی مسافت ہے۔ تو اللہ تعالیٰ عیسیٰ ؑ کو نازل کریں گے ان کے ہاتھ میں نیزہ ہوگا۔ آپ کو دیکھ کر دجال پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے، آپ اس کے نیزہ ماریں گے پس اس کو قتل کر دیں گے۔“
امام اُبّیؒ شارح مسلمؒ :
الامام ابو عبداللہ محمد بن خلیفہ الوشتالی الابی المالکی (۸۲۷ھ) صحیح مسلم کی شرح ”اکمال اکمال المعلم“ میں حدیث جبریل کے تحت علامات قیامت کے بارے میں لکھتے ہیں :
(ط) وهی تنقسم إلی معتاد کالمذکورات وکرفع العلم وظهور الجهل ولکثرة الزنا وشرب الخمر، وغیر معتاد کالدجّال ونزول عیسیٰ علیہ السلام وخروج یأجوج ومأجوج والدابة وطلوع الشمس من مغربها.
وقلت : قال ابن رشد : واتفقوا علی أنه لا بد من ظهور هذه الخمسة، واختلفوا فی خمسة أخر، خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزیرة العرب والدخان ونار تخرج من قعر عدن، تروح معهم حیث راحوا وتقیل معهم حیث قالوا، زاد بعضهم وفتح قسطنطینیة وظهور المهدی ویأتی الکلام علی المهدی، إن شاء الله تعالیٰ.
(ج۱ ص۷۰)
ترجمہ : ”امام قرطبی فرماتے ہیں کہ علامات قیامت کی دو قسمیں ہیں ایک معمول وعادت کے مطابق۔ جیسے مذکورہ علامتیں اور جیسے علم کا اٹھ جانا، جہل کا عام ہونا، زنا اور شراب نوشی کی کثرت۔ اور دوسری غیر معمولی اور خلاف عادت ۔ جیسے دجال کا نکلنا، عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا، یاجوج وماجوج کا نکلنا، دابۃ الارض کا ظاہر ہونا، اور مغرب سے آفتاب کا نکلنا۔
ابن رشد فرماتے ہیں کہ ان پانچ علامات کبریٰ کا ظہور متفق علیہ ہے اور پانچ اور ہیں جن میں اختلاف ہے ۔ ایک خسف مشرق میں، ایک مغرب میں، ایک جزیرۃ العرب میں، دخان اور وہ آگ جو عدن سے نکلے گی، لوگ جب چلیں گے تو وہ بھی چلے گی اور جہاں
ٹھہریں گے تو وہ بھی ٹھہر جائے گی‘ اور بعض نے فتح قسطنطنیہ اور ظہور مہدی کا بھی اضافہ کیا ہے ۔ مہدی کے بارے میں کلام انشاء اللہ آگے آئے گا‘‘۔
اور کتاب الفتن باب ذکر الدجال کے تحت لکھتے ہیں :
قلت : أحاديث الباب حجة لأهل السنة فى وجوده وأنه شخص مُعين ابتلى الله سُبحانه به عباده وأقدره على تلك الأشياء التى ذكرها ليميز الله الخبيث من الطيب ثم يبطل الله سبحانه أمره ويقتله عیسیٰ عليه السلام ويثبت الله الذين آمنوا.
(ج٧ ص٢٦٤)
ترجمہ : ’’میں کہتا ہوں کہ احادیث الباب اہل سنت کی دلیل ہیں کہ دجال کا وجود یقینی ہے اور یہ کہ وہ ایک شخص معین ہے جس کے ذریعہ اللہ سبحانہ اپنے بندوں کو آزمائیں گے‘ اور اسے ان چیزوں پر قدرت دیں گے جو آنحضرت ﷺ نے ذکر فرمائی ہیں‘ تاکہ ناپاک اور گندے لوگ پاک لوگوں سے ممیز ہو جائیں‘ پھر اللہ تعالیٰ اس کے قصہ کو نمٹا دیں گے اور دجال کو عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے اور اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدم رکھیں گے‘‘۔
اسی باب میں ارشاد نبوی ”فيبعث الله عیسیٰ ابن مريم“ کے تحت لکھتے ہیں :
(ع) نزوله وقتله الدجّال حقّ عند أهل الحق لكثرة الآثار الصحيحة الواردة بذلك ولم يُرْوَ ما يعارضها.
(ج٧ ص٢٧٦)
ترجمہ : ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا اہل حق کے نزدیک حق ہے‘ کیونکہ اس پر بکثرت احادیث صحیحہ وارد ہیں‘ اور ان کے مقابلے میں کوئی ایک روایت بھی نہیں‘‘۔
علامہ سنوسی شارح مسلم ؒ :
الامام ابو عبد الله محمد بن محمد بن يوسف السنوسى الحسنى (م : ٨٩٥ھ) مکمل اکمال
الاکمال“ شرح مسلم میں حدیث جبریل کے تحت لکھتے ہیں:
(ط) وهى تنقسم إلى معتاد كالمذكورات وكرفع العلم وظهور الجهل وكثرة الزنا وشرب الخمر ، وغير معتاد كالدجال ونزول عيسى عليه السلام وخروج يأجوج ومأجوج والدابة وطلوع الشمس من مغربها ، قال ابن رشد : واتفقوا أنه لا بد من ظهور هذه الخمسة.
(ص ۷۰ ج ۱)
ترجمہ : ”امام قرطبی فرماتے ہیں کہ علامات قیامت کی دو قسمیں ہیں، ایک عادت کے مطابق ۔ جیسے مذکورہ چیزیں اور جیسے علم کا اٹھ جانا، جہل کا عام ہونا، زنا اور شراب خوری کی کثرت ۔ اور دوسری خلاف عادت ۔ جیسے دجال کا خروج، عیسیٰ ؑ کا نازل ہونا، یاجوج وماجوج کا نکلنا، دابتہ الارض کا ظاہر ہونا، آفتاب کا مغرب کی سمت سے نکلنا۔ ابن رشد فرماتے ہیں کہ یہ ان پانچ علامتوں کا ظہور قطعی وضروری ہے“۔
اور باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے تحت لکھتے ہیں :
فإن قلت : بم يعرف الناس أنه عيسى؟ قلت : بصفاته التي تضمنت الأحاديث، وفي ” العتيبة “ : قال مالك : بينما الناس قيام يستمعون لإقامة الصلاة فتغشاهم غمامة فإذا عيسى قد نزل.
(ص ٢٦٦ ج ١)
ترجمہ : ”اگر کہو کہ لوگ کیسے پہچانیں گے کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں؟ میں کہتا ہوں ان کی ان صفات سے پہچانیں گے جو احادیث میں ذکر کی گئی ہیں اور ”العتیبہ“ میں ہے کہ امام مالک نے فرمایا، دریں اثناء کہ لوگ نماز کی اقامت سن رہے ہوں گے ان کو ایک بدلی ڈھانک لے گی۔ اتنے میں یکایک عیسیٰ ؑ نازل ہوچکے ہوں گے“۔
نیز باب ذکر الدجال میں بھی علامہ سنوسی نے وہی عبارتیں لکھی ہیں جو امام
ابیٰ کے حوالے میں نقل ہو چکی ہیں (دیکھئے ص : ۲۶۳، ۲۶۷ ج ۷)
حافظ نور الدین ہیثمیؒ :
الامام الحافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی الشافعی (م : ۸۰۷ھ) نے ”مجمع الزوائد ومنبع الفوائد“ میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کی بہت سی احادیث ذکر کی ہیں : دیکھئے : جلد نمبر : ۷، صفحات نمبر : ۱۰۴، ۲۸۸، ۳۲۸، ۳۳۸، ۳۴۲، ۳۴۴، ۳۴۹۔ جلد نمبر : ۸، صفحات نمبر : ۵۳، ۲۰۵، ۲۰۶۔ حافظ ہیثمیؒ نے علامات قیامت کے ضمن میں ”باب نزول عیسیٰ بن مریم صلی اللہ علی نبینا وعلیہ وسلم“ کے عنوان سے ایک مستقل باب بھی باندھا ہے ۔ (دیکھئے ص ۵، ج ۸) اور کتاب ذکر الانبیا علیہم السلام کے ضمن میں ”باب ذکر المسیح عیسیٰ بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم“ کے عنوان کے تحت بھی نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث ذکر کی ہیں ۔ (دیکھئے ص ۲۰۵، ج ۸)
ابن امیر الحاجؒ :
الامام المفسر شمس الدین محمد بن محمد بن محمد بن حسن الحلبی الحنفی المعروف بابن امیر الحاج (۸۷۹ھ) اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :
وأما شرط العدالة والإسلام كي لا يلزم تواتراً خبر النصارى بقتل المسيح وهو باطل ؛ لقوله تعالى : ﴿وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ﴾ وإجماع المسلمين... وخبرهم آحاد الأصل فإنهم كانوا في ابتداء أمرهم قليلين جدا بحيث لا يمتنع تواطؤهم على الكذب أو لأن المسيح شبه لهم فقتلوه بناء على اعتقادهم أنه هو كما قال تعالى : ﴿وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ﴾ .
(التقرير والتحبير ص ۲۳ ج ۲)
ترجمہ : ”اور خبر متواتر کے ناقلین میں عادل اور مسلمان ہونیکی شرط اس لئے ہے تاکہ نصاریٰ کی اس خبر کا کہ مسیح ؑ قتل کر دیئے گئے تواتر لازم نہ آئے ۔ حالانکہ ان کی یہ خبر باطل ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”اور انہوں نے آپ کو قتل نہیں کیا اور نہ سولی دیا‘‘ نیز مسلمانوں کا بھی اس پر اجماع ہے‘ اور نصاریٰ کی خبر باعتبار اصل کے خبر واحد ہے ۔ کیونکہ وہ ابتدا میں معدودے چند آدمی تھے جن کا جھوٹ پر اتفاق کرلینا بعید از امکان نہیں تھا ۔ یا اس لئے کہ مسیح ؑ کی شخصیت ان کے لئے مشتبہ ہوگئی انہوں نے اس شخص کو عیسیٰ ؑ سمجھ کر ہی قتل کیا مگر وہ درحقیقت عیسیٰ ؑ نہیں تھے‘ بلکہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو اشتباہ ہوگیا تھا“۔
علامہ برہان الدین البقاعیؒ :
الامام المفسر برہان الدین ابوالحسن ابراہیم بن عمر البقاعی (م: ۸۸۵) اپنی تفسیر ”نظم الدرر فی تناسب الآیات والسور“ (۵ - ۴۹۷) میں آیت کریمہ ﴿وان من اهل الكتاب﴾ کے ذیل میں لکھتے ہیں :
ينزل فى آخر الزمان يؤيد الله به دين الإسلام حتى يدخل فيه جميع أهل الملل إشارة إلى أن موسى عليه الصلاة والسلام إن كان قد أيده تعالى بأنبياء كانوا يجددون دينه زمانًا طويلا ، فالنبى الذى نسخ شريعة موسى وهو عيسى عليهما الصلاة والسلام - هو الذى يؤيد الله به هذا النبى العربى فى تجديد شريعته وتمهيد أمره والذب عن دينه ، ويكون من أمته بعد أن كان صاحب شريعة مستقلة واتباع مستكثرة أمر قضاه الله فى الأزل فأمضاه فأبطلوا أيها اليهود وأقصروا.
(نظم الدرر فی تناسب الآیات والسور ص ۴۹۷ ج ۵ ط
مجلس دائرۃ المعارف العثمانیۃ حیدرآباد دکن ۱۳۹۲ھ)
ترجمہ : ”یعنی عیسیٰ ؑ نہیں مریں گے‘ یہاں تک کہ وہ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے ۔ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اسلام کی تائید فرمائیں گے ۔ یہاں تک کہ تمام اہل ملل اسلام میں داخل ہو جائیں گے ۔ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کی تائید اگرچہ بہت سے انبیا کرام علیہم السلام سے کی گئی ہے جو ایک طویل زمانہ تک ان کے دین کی تجدید کرتے رہے ۔ لیکن جس نبی نے موسیٰ ؑ کی شریعت کو منسوخ کیا وہ عیسیٰ ؑ ہیں ۔ اسی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس نبی عربی ﷺ کی تائید فرمائیں گے کہ وہ آپ کی شریعت کی تجدید‘ آپ کے امر کی تمہید اور آپ ﷺ کے دین کا دفاع فرمائیں گے‘ باوجودیکہ وہ مستقل صاحب شریعت تھے اور ان کے بے شمار پیروکار تھے‘ لیکن ان ساری باتوں کے باوجود وہ آپ کی امت میں شامل ہوں گے‘ یہ وہ امر الٰہی ہے جس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے ازل میں کیا تھا۔ چنانچہ اسے پورا کر دکھایا‘ اب تم اے یہودیو! خواہ زیادہ باتیں بناؤ یا کم ۔ جو ہونا تھا ہوچکا“ ۔
علامہ جامیؒ :
علامہ جامیؒ (م ۸۹۸ ھ) عقیدہ جامی میں لکھتے ہیں :
(۲) از پی او رسول دیگر نیست بعد ازو ہیچ کس پیمبر نیست
(۳) چوں در آخر زمان بقول رسول کند از آسمان مسیح نزول
(۴) پیرو دین و شرع او باشد تابع اصل و فرع او باشد
(۵) دین ہمیں شرع و دین او داند ہمہ کس را بدین او خواند
(عقائد جامی فارسی ص ۸)
ترجمہ : ”آنحضرت ﷺ نبیوں اور رسولوں کے خاتم ہیں‘ دوسرے
بمنزلہ جز کے اور آپ ﷺ بمنزلہ کل ہیں
- (۲) آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی دوسرا رسول نہیں اور آپ ﷺ کے
بعد کوئی شخص پیغمبر نہیں۔
- (۳) جب آخری زمانہ میں آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق
حضرت مسیح ؑ آسمان سے نزول فرمائیں گے۔
- (۴) تو آپ ﷺ کے دین و شریعت کے پیرو ہوں گے اور آپ ﷺ
کے اصول و فروع کے تابع ہوں گے
- (۵) آپ ﷺ ہی کے دین و شریعت کو دین جانیں گے، سب لوگوں
کو آپ ﷺ ہی کے دین کی دعوت دیں گے“۔
دسویں صدی
شیخ الاسلام کمال الدین ”صاحب مسامرہ :
شیخ الاسلام کمال الدین محمد بن محمد بن ابی بکر بن علی بن ابی شریف المقدسی الشافعیؒ (۸۲۲ - ۹۰۶ ھ) اپنی کتاب ”المسامرة بشرح المسايرة“ میں لکھتے ہیں:
وأشراط الساعة من خروج الدجال ونزول عيسى ابن مريم عليه الصلاة والسلام من السماء... حق وردت به النصوص الصريحة الصحيحة.
(ص ٣٩٤)
ترجمہ : ”اور قیامت کی علامتیں جیسے دجال کا نکلنا اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آسمان سے نازل ہونا برحق ہیں، ان میں صریح، صحیح نصوص وارد ہوئے ہیں“۔
علامہ جلال الدین دوانیؒ :
علامہ جلال الدین محمد بن اسعد الصدیقی الدوانیؒ (م : ۹۰۸ھ) شرح عقائد عضدیہ میں مصنف کے قول ”لا نبی بعدہ“ کے تحت لکھتے ہیں :
فلم يبق بعده حاجة للخلق إلى بعثة نبى بعده فلذلك ختم به النبوة وأما نزول عيسى عليه السلام ومتابعته لشريعته فهو مما يؤكد كونه خاتم النبيين.
(حاشیہ کلنبوی بر شرح عقائد جلالی ج ۲ ص ۲۷۹)
ترجمہ : ”پس مخلوق کو آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہ رہی، اس لئے نبوت آپ ﷺ پر ختم کر دی گئی۔ رہا عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہو کر آنحضرت ﷺ کی شریعت کی پیروی کرنا تو یہ آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کی تاکید کرتا ہے“۔
علامہ سمہودیؒ :
الامام العلامہ نور الدین ابو الحسن علی بن عبداللہ بن احمد الحسنی السمھودی المدنی الشافعیؒ (م ۸۴۴ - ۹۱۱ھ) ”وفاء الوفاء باخبار دار المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم“ کے چوتھے باب کی اکیسویں فصل میں لکھتے ہیں :
الفصل الحادي والعشرون : فيما روى من الاختلاف فى صفة القبور الشريفة بالحجرة المنيفة وما جاء أنّه بقى بها موضع قبر، وأن عيسى ابن مريم عليه السلام يدفن بها.
(ج ۱-۲ ص ۵۵۰)
ترجمہ : ”اکیسویں فصل ان روایات میں جو حجرۂ مطہرہ میں واقع قبور شریف کے بارے میں مروی ہیں، نیز اس بات کے بیان میں کہ وہاں ایک قبر کی جگہ باقی ہے، اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام وہاں دفن ہوں گے“۔
اس کے ذیل میں انہوں نے اس سلسلہ کی احادیث ذکر فرمائی ہیں۔ نیز
”خلاصة الوفاء باخبار دار المصطفیٰ ص ۲۹۳“ میں بھی انہوں نے یہ احادیث درج کی ہیں۔
علامہ قسطلانیؒ :
الشیخ العلامہ احمد بن محمد بن ابی بکر بن عبدالملک القسطلانی الشافعیؒ (۸۵۱ - ۹۲۳ ھ ) ”ارشاد الساری الٰی شرح صحیح البخاری“ میں ”باب نزول عیسیٰ علیہ السلام“ کے تحت لکھتے ہیں :
باب نزول عيسى عليه من السماء إلى الأرض آخر الزمان .
(ج ۵ ص ۴۱۸)
ترجمہ : ”یعنی زمانے میں عیسیٰ ؑ کے آسمان سے زمین پر نازل ہونے کا بیان“۔
اسی باب میں ” ويضع الجزية “ کے تحت لکھتے ہیں :
وليس عيسى بناسخ لحكم الجزية بل نبينا محمد ﷺ هو المبين للنسخ ؛ بذا فعدم قبولها هو من هذه الشريعة لكنّه مقيد بنزول عيسى .
(ج ۵ ص ۴۱۹)
ترجمہ : ”اور جزیہ کے حکم کو حضرت عیسیٰ منسوخ نہیں کریں گے بلکہ خود آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد میں اس کے منسوخ ہونے کو بیان فرمایا ہے۔ پس جزیہ کا قبول نہ کرنا بھی اسی شریعت کا مسئلہ ہے ۔ لیکن یہ مسئلہ نزول عیسیٰ ؑ کے زمانہ کے ساتھ مقید ہے ۔“
اور ”کتاب الفتن ، باب ذکر الدجال“ کے تحت لکھتے ہیں :
وهو الذي يظهر في آخر الزمان يدّعى الإلهية... ثم يقتله
عيسى عليه السلام وفتنته عظيمة جدّاً تدهش العقول، وتحير الألباب.
(ج ۱۰ ص ۲۰۸)
ترجمہ : ’’دجال وہ شخص ہے جو آخری زمانے میں ظاہر ہوگا، الوہیت کا دعویٰ کرے گا.... پھر عیسٰی علیہ السلام اس کو قتل کریں گے اور اس کا فتنہ بہت ہی عظیم ہو گا جس سے عقلیں مدہوش اور حیرت زدہ ہو جائیں گی‘‘۔
علامہ قسطلانی ’’المواہب اللدنیہ‘‘ میں معجزات نبوی ﷺ کی بحث میں یہ ذکر کرتے ہوئے کہ انبیا سابقین کے معجزات بھی آنحضرت ﷺ کو دیئے گئے ہیں ، لکھتے ہیں :
وأما ما أعطيه عيسى أيضاً عليه الصلاة والسلام من رفعه إلى السماء فقد أعطى نبينا ﷺ ذلك ليلة المعراج وزاد فى الترقى لمزيد الدرجات وسماع المناجاة .
(ج ۱ ص ۳۸۴)
ترجمہ : ’’اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کو آسمان پر اٹھائے جانے کا جو معجزہ دیا گیا تو یہ معجزہ آنحضرت ﷺ کو شب معراج میں دیا گیا ، اور مزید درجات اور سماع مناجات کے لئے آپ کو مزید اوپر لیجایا گیا‘‘۔
نیز اسی کتاب میں خصائص نبوی ﷺ کی بحث میں امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ و السلام) کے خصائص بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
وكل من دخل فى زمان هذه الأمة من الأنبياء بعد نبيّنا كعيسى ﷺ أو قدر دخوله كالخضر فإنه لا يحكم فى العالم إلا بما شرعه محمد ﷺ فى هذه الأمّة فإذا نزل سيدنا عيسى عليه الصلاة والسلام فإنما يحكم بشريعة نبيّنا ﷺ بإلهام أو اطلاع على الروح المحمدى أو بما شاء الله تعالى فيأخذ عنه ما شرع الله له أن يحكم فى أمته فلا يحكم فى شىء من تحريم وتحليل إلا بما كان يحكم به
نبينا ﷺ ولا يحكم بشريعة التي أنزلت عليه في أوان رسالته ودولته فهو عليه الصلاة والسلام تابع لنبينا ﷺ.
(مواهب لدنیه ج۱ ص٤٢٢-٤٢٣)
ترجمہ : ”اور وہ تمام انبیا گزشتہ جو آنحضرت ﷺ کے بعد اس امت کے زمانے میں داخل ہوں جیسے عیسیٰ علیہ السلام ۔ یا ان کا داخل ہونا فرض کیا جائے جیسے خضر علیہ السلام تو وہ دنیا میں صرف وہی حکم کریں گے جو آنحضرت ﷺ نے اس امت میں مشروع فرمایا‘ چنانچہ جب سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نازل ہوں گے تو ہمارے نبی ﷺ کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے‘ خواہ الہام کے ساتھ یا روح محمدی پر اطلاع پا کر‘ یا کسی اور طریقہ سے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہو‘ پس آنحضرت ﷺ سے وہ احکام حاصل کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لئے مقرر فرمائے ہیں ۔ پس کسی چیز کے حلال و حرام قرار دینے میں وہی حکم دیں گے جو آنحضرت ﷺ نے دیا ۔ اور اپنی شریعت کے مطابق حکم نہیں کریں گے جو ان کے دورِ رسالت میں ان پر نازل ہوئی تھی ۔ پس حضرت عیسیٰ ؑ ہمارے نبی ﷺ کے تابع ہوں گے“۔
نیز فرماتے ہیں :
وإن كان خليفة في الأمة المحمدية فهو رسول ونبي كريم على حاله لا كما يظن بعض الناس أنه يأتي واحداً من هذه الأمة نعم هو واحد من هذه الأمة لما ذكر من وجوب اتباعه لنبينا ﷺ والحكم بشريعته.
(مواهب لدنیه ج۱ ص٤٢٣)
ترجمہ : ”اور اگرچہ آپ امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) میں خلیفہ ہو کر آئیں گے‘ لیکن آپ بدستور رسول اور نبی مکرم ہوں گے‘ ایسا نہیں جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں
کہ وہ محض اس امت کے ایک فرد کی حیثیت سے (گویا مسلوب النبوت ہو کر) آئیں گے۔ ہاں! اس میں شک نہیں کہ (رسول اور نبی ہونے کے باوصف) وہ اس امت کے فرد بھی ہوں گے، کیونکہ جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے، ان پر آنحضرت ﷺ کی پیروی اور شریعت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام) پر عمل کرنا واجب ہوگا“۔
اس بحث کے آخر میں لکھتے ہیں :
وليس فى الرسل من يتبعه رسول له كتاب إلا نبينا ﷺ وكفى بهذا شرفا لهذه الأمة المحمدية زادها الله شرفاً .
(مواہب لدنیہ ج ۱ ص ۴۲۳)
ترجمہ : ”اور رسولوں میں کوئی ایسا رسول نہیں جس کی پیروی صاحب کتاب رسول نے کی ہو، سوائے ہمارے نبی ﷺ کے اور یہ اس امت محمدیہ کے لئے .... اللہ تعالیٰ اس کے شرف میں اضافہ کرے ..... کافی شرف ہے“۔
اور حدیث معراج کے فوائد پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
وأما عيسى فإنما كان فى السماء الثانية لأنه أقرب الأنبياء إلى النبي ﷺ ولا انمحت شريعة عيسى عليه الصلاة والسلام إلا بشريعة محمد ﷺ، ولأنه ينزل فى آخر الزمان لأمة محمد ﷺ على شريعته ويحكم بها، ولهذا قال عليه الصلاة والسلام : «أنا أولى الناس بعيسى» ، فكان فى الثانية لأجل هذا المعنى.
(ج ۲ ص ۲۳)
ترجمہ: ”اور عیسیٰ علیہ السلام جو دوسرے آسمان پر تھے تو اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ تمام انبیا علیہم السلام کی بہ نسبت
آنحضرت ﷺ سے اقرب ہیں ۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت آنحضرت ﷺ کی شریعت ہی سے منسوخ ہوئی اور دوسری وجہ یہ کہ وہ آخری زمانہ میں آنحضرت ﷺ کی امت میں نازل ہوکر آپ ﷺ کی شریعت پر ہوں گے ۔ اور اسی کے مطابق حکم کریں گے ۔ اسی بنا پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے سب سے زیادہ قرب عیسیٰ علیہ السلام سے ہے ، تو ان کا دوسرے آسمان میں ہونا اس وجہ سے ہے“ ۔
شیخ زادہ شارح بیضاویؒ :
الشيخ العلامہ محمد بن مصطفیٰ القوجى الحنفى المعروف بہ شیخ زادہؒ (م : ۹۵۰ ھ ) حاشیہ بیضاوی میں سورۃ النساء کی آیت ۱۵۸ کے تحت لکھتے ہیں :
وقوله تعالى : ﴿بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ﴾ قال الحسن البصرى : إلى السماء التى هى محل كرامة الله تعالى ومقرّ ملائكته ولا يجرى فيها حكم أحد سواه ، فكان رفعه إلى ذلك الموضع رفعاً إليه تعالى ، لأنّه رفع عن أن يجرى عليه حكم العباد .
(تکملہ جلد اول ص ۸۲)
ترجمہ : ”اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ’بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف‘ ۔ امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں یعنی آسمان پر اٹھا لیا جو حق تعالیٰ شانہ کی کرامت کا محل اور اس کے فرشتوں کا مستقر ہے ۔ اور جس میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا حکم نہیں چلتا ۔ پس عیسیٰ علیہ السلام کو اس جگہ کی طرف اٹھا لینا اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھا لینا ہے کیونکہ ان کو ایسی جگہ (یعنی زمین) سے اٹھا لیا کہ جہاں ان پر بندوں کا حکم چلے“ ۔
اور ﴿و كان الله عزيزاً حكيماً﴾ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
فعزة الله تعالى عبارة عن كمال قدرته فإن رفع عيسى عليه
الصلاة والسلام إلى السمٰوات وإن كان متعذرا بالنسبة إلى قدرة البشر لكنّه سهل بالنسبة إلى قدرة الله تعالى لا يغلبه أحدٌ.
(حوالہ بالا)
ترجمہ : ”پس اللہ تعالیٰ کا عزیز ہونا عبارت ہے اس کے کمال قدرت سے ۔ چنانچہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آسمانوں کی طرف اٹھا لینا اگرچہ بشری قدرت کے اعتبار سے دشوار ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے اعتبار سے بالکل آسان ہے، اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا“۔
اور ﴿وَ اِنْ مِّنْ اَہْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِہ قَبْلَ مَوْتِہ﴾ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
وإن كان كل واحد من ضمير به وموته لعيسى فلا إشكال لأن أهل الكتاب الذين يكونون موجودين فى زمان نزوله عليه الصلاة والسلام لا بدّ وإن يؤمنوا به .
(حوالہ بالا)
ترجمہ : ”اور ”بہ“ اور ”موتہ“ کی دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف راجع ہوں تو کوئی اشکال ہی نہیں رہتا ۔ کیونکہ جو اہل کتاب آپ کے زمانہ نزول کے وقت موجود ہوں وہ آپ پر ضرور ایمان لائیں گے“ ۔
شیخ ابو السعودؒ :
الشيخ الامام قاضی القضاة ابو السعود محمد بن محمد العمادی الحنفیؒ (۸۹۶ - ۹۵۱ھ) نے اپنی تفسیر ”ارشاد العقل السليم الى مزايا القرآن الكريم“ میں متعدد جگہ اس کی تصریح فرمائی ہے :
آیت کریمہ ﴿ومکرو ومکر اللہ﴾ کے تحت لکھتے ہیں :
﴿وَمَكَرَ اللهُ﴾ بأن رفع عيسى عليه الصلاة والسلام وألقى شبهه على من قصد اغتياله حتى قتل.
(ج۱ ص۲۴۱)
ترجمہ : ”اور (یہودیوں کے مقابلہ میں) اللہ تعالیٰ نے بھی ایک خفیہ تدبیر کی، وہ یہ کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اٹھا لیا۔ اور ان کی شباہت اس شخص پر ڈال دی جو آپ کو پکڑنا چاہتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ قتل کیا گیا“۔
آگے اس واقعہ کی تفصیل کے ضمن میں لکھتے ہیں :
فألقى الله عزّ وجلّ شبه عيسى عليه الصلاة والسلام ورفعه إلى السماء فأخذوا المنافق وهو يقول : أنا دليلكم فلم يلتفتوا إلى قوله و صلبوه .
(ج۱ ص۲۴۱)
”پس اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کی شباہت اس شخص پر ڈال دی اور آپ کو آسمان پر اٹھا لیا، یہود نے اس منافق کو پکڑ لیا وہ ہرچند کہتا رہا کہ میں تو تمہاری رہنمائی کرنے والا ہوں، مگر یہود نے اس کی بات کی طرف التفات ہی نہیں کیا اور اسی کو سولی پر لٹکا دیا“۔
نیز لکھتے ہیں :
قال القرطبی : والصحيح أن الله تعالى رفعه من غير وفاة ولا نوم كما قال الحسن وابن زيد، وهو اختيار الطبري وهو الصحيح عن ابن عباس رضی الله عنهما .
(ج۲ ص۲۴۲)
ترجمہ : ”امام قرطبی فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بغیر وفات اور بغیر نیند کے اٹھا لیا جیسا کہ حسن بصری اور ابن زید تابعی نے فرمایا ہے ۔ اسی کو طبری نے اختیار کیا ہے اور یہی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح روایت ہے“۔
سورۂ احزاب کی آیت ﴿وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾ کے تحت لکھتے ہیں :
ولا يقدح فيه نزول عيسى بعده عليهما السلام لأن معنى كونه خاتم النبيين أنّه لا ينبأ أحد بعده وعيسى ممن نبئ قبله وحين ينزل إنما ينزل عاملا على شريعة محمد ﷺ مصليا إلى قبلته كأنه بعض أمته.
(ج ۳ ص ۲۱۳)
ترجمہ : ”اور آنحضرت ﷺ کی خاتمیت میں عیسیٰ علیہ السلام کا آپ ﷺ کے بعد نازل ہونا قادح نہیں کیونکہ آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص آپ ﷺ کے بعد نبی نہیں بنایا جائے گا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت پہلے مل چکی تھی اور جب وہ نازل ہوں گے تو محمد ﷺ کی شریعت پر عمل کریں گے، آپ ﷺ کے قبلہ کی طرف نماز پڑھیں گے گویا آپ ہی کی امت کے ایک فرد ہوں گے“۔
اور سورۃ الزخرف کی آیت کریمہ ”و انه لعلم للساعة“ کے تحت لکھتے ہیں:
﴿وَإِنَّه﴾ وأن عيسى ﴿لعلم لِلسَّاعَة﴾ أى أنّه بنزوله شرط أشراط الساعة إلخ .
(ج ٤ ص ٤٨)
ترجمہ : ”اور بے شک وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام البتہ نشانی ہے قیامت کی یعنی وہ اپنے نازل ہونے کے سبب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہیں“۔
شیخ ابن حجر ہیثمیؒ :
شیخ احمد بن محمد بن محمد بن علی بن حجر شہاب الدین ابو العباس الہیثمی السعدی الانصاری الشافعیؒ (۹۰۹ - ۹۷۳ھ) امام بوصیریؒ کے قصیدہ ہمزیہ کی شرح میں لکھتے ہیں :
وحكمة أخذ هذا الميثاق على الأنبياء إعلامهم وأممهم بأنّه
المتقدم عليهم وأنه نبيهم ورسولهم وقد ظهر ذلك في الدنيا بكونه أمهم ليلة الإسراء ويظهر في الآخرة بأنهم كلهم تحت لواءه بل وفي آخر الزمان بكون عيسى ينزل حاكماً بشريعة محمد ﷺ دون شريعة نفسه.
(ص۲۸)
ترجمہ : ”آنحضرت ﷺ کے حق میں انبیاء کرام علیہم السلام سے جو عہد لیا گیا اس میں حکمت یہ تھی کہ ان کو اور ان کی امتوں کو آگاہ کر دیا جائے کہ آپ ﷺ سب سے مقدم ہیں، اور سب کے نبی ورسول ہیں اور دنیا میں اس کا ظہور یوں ہوا کہ آپ ﷺ نے شب معراج میں تمام نبیوں کی امامت کی، اور آخرت میں یوں ظہور ہو گا کہ تمام نبی آپ ﷺ کے جھنڈے تلے ہوں گے۔ بلکہ اس کا ظہور آخری زمانہ میں یوں ہو گا کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر اپنی شریعت پر عمل نہیں کریں گے۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے۔“۔
سید عبد الوہاب شعرانیؒ :
امام العارف الربانی سید عبد الوہاب شعرانیؒ (م:۹۷۳) ”کتاب الیواقیت والجواہر“ میں لکھتے ہیں :
المبحث الخامس والستون في بيان أن جميع أشراط الساعة التي أخبرنا بها الشارع حق لا بد أن تقع كلها قبل قيام الساعة. وذلك كخروج المهدي ثم الدجال ثم نزول عيسى وخروج الدابة وطلوع الشمس من مغربها ورفع القرآن وفتح سد يأجوج ومأجوج.
(اليواقيت والجواهر ص ١٤٢ ج٢)
ترجمہ : ”بحث ۶۵: اس بیان میں کہ آنحضرت ﷺ نے جس قدر علامات قیامت بیان فرمائی ہیں وہ سب برحق ہیں۔ قیامت سے قبل
ضرور واقع ہوں گی۔ جیسے حضرت مہدی کا ظاہر ہونا پھر دجال کا نکلنا‘ پھر عیسیٰ ؑ کا نازل ہونا‘ دابۃ الارض کا نکلنا‘ آفتاب کا مغرب کی جانب سے نکلنا‘ قرآن کریم کا اٹھایا جانا اور یاجوج و ماجوج کی دیوار کا کھل جانا‘‘۔
(فإن قيل) فما الدليل على نزول عيسى عليه السلام من القرآن (فالجواب) الدليل على نزوله قوله تعالى : ﴿وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ﴾ أى حين ينزل ويجتمعون عليه ، وأنكرت المعتزلة والفلاسفة واليهود والنصارى عروجه بجسده إلى السماء ، وقال تعالى فى عيسى عليه السلام : ﴿وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ﴾ قرئ لعلم بفتح اللام والعين ، والضمير فى ﴿إنه﴾ راجع إلى عيسى عليه السلام لقوله تعالى : ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا﴾ ، ومعناه أن نزوله علامة القيامة ، وفى الحديث فى صفة الدجال فبينما هم فى الصلاة إذ بعث الله المسيح ابن مريم فنزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين يديه مهرودتان واضعًا كفه على أجنحة ملكين ، والمهروذتان بالذال المعجمة والمهملة معًا حلتان مصبوغتان بالورس فقد ثبت نزوله عليه السلام بالكتاب والسنة وزعمت النصارى أن ناسوته صلب ولاهوته رفع والحق أنه رفع بجسده إلى السماء.
والإيمان بذلك واجب دل تعالى : ﴿بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ﴾ قال أبو طاهر القزوينى : واعلم أن كيفية مكثه فى السماء إلى أن ينزل من غير طعام ولا شراب مما يتقاصر عن دركه العقل ، ولا سبيل لنا إلا أن نؤمن بذلك تسليمًا لسعة قدرة الله تعالى ، وأطال فى ذكر شبه الفلاسفة وغيرهم فى إنكار الرفع (فإن قيل) فما الجواب عن
استغنائه عن الطعام والشراب مدة رفعه فإن الله تعالى قال : ﴿وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ﴾ (فالجواب) أن الطعام إنما جعل قوتاً لمن يعيش فى الأرض لأنه مسلط عليه الهواء الحار والبارد فينحل بدنه فإذا انحل عوضه الله تعالى بالغذاء إجراء لعادته فى هذه الخطة الغبراء، وأما من رفعه الله إلى السماء فإنه يلطفه بقدرته ويغنيه عن الطعام والشراب كما أغنى الملائكة عنهما فيكون حينئذٍ طعامه التسبيح وشرابه التهليل كما قال ﷺ : «إني أبيت عند ربي يطعمنى ويسقينى».
(اليواقيت والجواهر صـ ١٤٦ ج٢)
ترجمہ : اگر کہا جائے کہ قرآن کریم سے نزول عیسیٰ علیہ السلام کی دلیل کیا ہے ؟ جواب : ان کے نزول کی دلیل حق تعالیٰ شانہ کا یہ ارشاد ہے : ”اور کوئی نہیں اہل کتاب میں سے مگر ایمان لائے گا عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے“۔ یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور لوگ ان پر جمع ہوں گے تو تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔ اور معتزلہ اور فلاسفہ اور یہود ونصاریٰ ان کے جسم سمیت آسمان پر جانے کے منکر ہیں۔ نیز حق تعالیٰ شانہ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرماتے ہیں : ”اور بے شک وہ نشانی ہے قیامت کی“۔ اس میں ایک قرات ہے عَلَمٌ بفتح لام کے ساتھ اور ”انہ“ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے : ”اور جب بیان کی گئی ابن مریم کی مثال“ (معلوم ہوا کہ اوپر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر چلا آ رہا ہے، پس یہ ضمیر بھی انہی کی طرف لوٹتی ہے) جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قیامت کی علامت ہے۔
اور حدیث شریف میں دجال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا : ”دریں اثنا کہ لوگ نماز (کی تیاری) میں ہوں گے اتنے میں اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم کو نازل فرمائیں گے ۔ پس وہ دمشق کے شرقی جانب سفید مینارہ کے پاس نازل ہوں گے ۔ دراں حالیکہ دو زرد چادریں پہنے ہوئے ہوں گے، دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہوں گے۔ پس ان کا نزول کتاب وسنت دونوں سے ثابت ہے۔
اور نصاریٰ کا زعم ہے کہ ان کا ناسوت سولی دیا گیا۔ اور لاہوت اٹھا لیا گیا اور حق یہ ہے کہ ان کو جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا گیا‘ اور اس پر ایمان لانا واجب ہے‘ حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے : ”بلکہ اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف“۔
امام ابو طاہر قزوینی فرماتے ہیں : ”اور جاننا چاہئے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا نازل ہونے تک آسمان میں بغیر کھائے پیئے ٹھہرنا ایسی چیز ہے کہ عقل اس کے ادراک سے قاصر ہے ۔ اور ہمارے لئے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ ہم اس پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کی وسعت قدرت کو تسلیم کریں“۔
اور انہوں نے فلاسفہ وغیرہ کے شبہ کو جو وہ انکار رفع کے لئے کرتے ہیں رد کرنے میں طویل کلام کیا ہے ۔
سوال : اگر کہا جائے وہ جب تک آسمان پر ٹھہرے ہوئے ہیں ان کے کھانے پینے سے بے نیاز ہونے کا کیا جواب ہو گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے ان کا (انبیا علیہم السلام کا ) ایسا جسم نہیں بنایا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں“۔
جواب یہ ہے کہ کھانا اس شخص کی روزی بنایا گیا ہے جو زمین پر رہتا ہو‘ کیونکہ اس پر سرد و گرم ہوا مسلط ہے‘ جس سے آدمی کے بدن تحلیل ہوتا رہتا ہے اور اس زمین میں رہنے والوں کے لئے عادت اللہ یوں جاری ہے کہ غذا کے ذریعہ اس کا بدل ما یتحلل مہیا کرتے رہتے
ہیں ۔ لیکن جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا ہو اس کو اپنی قدرت سے لطیف بنا دیتے ہیں اور اسے کھانے پینے سے بے نیاز کر دیتے ہیں، جیسا کہ فرشتوں کو ان چیزوں سے بے نیاز کر رکھا ہے دریں صورت اس کا کھانا تسبیح اور اس کے پینا تہلیل ہو جاتا ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے : ”بے شک میں اپنے رب کے پاس اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ وہ مجھے کھلاتا پلاتا ہے“۔
شہاب الدین رملی شافعیؒ :
الامام العلامہ شہاب الدین ابو العباس احمد بن احمد بن حمزہ الرملی الشافعیؒ (م : ۹۷۱ھ) اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں :
ولهذا يأتی عیسٰی فی آخر الزمان على شریعته ویتعلق به منها من أمر ونهی ما یتعلق بسائر الأمة .
(بحوالہ جواہر البحار للنبهانی ١٤١٧)
ترجمہ : ”اور اسی بنا پر عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں آپ ﷺ کی شریعت پر نازل ہوں گے۔ اور جو امر و نہی ساری امت سے متعلق ہیں وہ ان سے بھی متعلق ہوں گے“۔
علامہ شمس الدین شامیؒ :
حافظ سیوطی کے شاگرد اور ”سیرت شامیہ“ کے مولف الشیخ العلامہ شمس الدین محمد بن یوسف الدمشقیؒ (م : ۹۴۲ ھ) اپنی کتاب ”الآیات العظيمة الباهرة فی معراج سید الدنیا والآخرة“ میں لکھتے ہیں :
ثم تذاكروا أمر الساعة فردّوا أمرهم إلى إبراهيم فقال :
لا علم لى بها فردّوا أمرهم إلى موسى فقال : لا علم لى بها فردّوا أمرهم إلى عيسى فقال : أمّا وجبتها فلا يعلمها إلا الله وفيما عهد إلىّ أنّ الدجال خارج ومعنى قضيبان فإذا رآنى ذاب كما يذوب الرصاص فيهلكه الله تعالى.
(بحواله جواهر البحار للنبهانی ۱۱۸۷)
ترجمہ : ”پھر انبیاء کرام علیہم السلام نے قیامت کے بارے میں مذاکرہ فرمایا (کہ کب آئے گی) پہلے ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا‘ انہوں نے فرمایا : مجھے علم نہیں۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ سے دریافت کیا گیا‘ فرمایا : مجھے اس کا علم نہیں‘ پھر حضرت عیسیٰ ؑ سے رجوع کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ قیامت کے آنے کا ٹھیک وقت تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ البتہ اللہ تعالیٰ کا مجھ سے ایک عہد ہے کہ دجال نکلے گا (اور میں اس کو قتل کرنے کے لئے نازل ہوں گا) اور میرے ہاتھ میں دوشاخی نیزہ ہوگا‘ وہ مجھے دیکھتے ہی ایسے پگھلنے لگے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے پس اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کر دیگا“۔
حافظ جلال الدین سیوطیؒ :
الامام الحافظ عبدالرحمٰن بن کمال الدین بن ابی بکر بن محمد بن سابق الدین جلال الدین السیوطیؒ (۸۴۹ - ۹۱۱ھ) تفسیر جلالین میں سورۂ آل عمران کی آیت ﴿ومكروا ومكر الله﴾ کے تحت لکھتے ہیں :
﴿وَمَكَرَ اللّٰهُ﴾ بهم بأن ألقى شبه عيسى على من قصد قتله فقتلوه ورفع عيسى إلى السماء.
(صاوی ج ۱ ص ۱۵۷)
ترجمہ : ”اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ خفیہ تدبیر کی وہ یہ کہ عیسیٰ ؑ کی شباہت اس شخص پر ڈال دی جو ان کو قتل کرنا چاہتا تھا‘ یہود نے پکڑ کر اسی کو قتل کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کو آسمان پر اٹھا لیا“۔
اس سے اگلی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
﴿إِذْ قَالَ اللّٰهُ يَا عِيسٰى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ﴾ قابضك ﴿وَرَافِعُكَ إِلَيَّ﴾ من الدنيا من غير موت .
(أيضاً)
ترجمہ : ”جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھے اپنی تحویل میں لینے والا ہوں اور تجھے بغیر موت کے دنیا سے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں“۔
اور سورۂ النسا کی آیت ﴿وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم﴾ کے تحت لکھتے ہیں :
﴿وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ﴾ المقتول والمصلوب وصاحبهم بعيسى أى ألقى الله عليه شبهه فظنوه إيَّاه.
(ج١ ص٢٥٧)
ترجمہ : ”اور انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا، نہ سولی دی بلکہ جس کو انہوں نے قتل وصلب کیا وہ انہی کا رفیق تھا، جو ان کے سامنے عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ بنا دیا گیا، یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت اس پر ڈال دی، پس انہوں نے اسی کو عیسیٰ سمجھا“۔
اور سورۂ المائدہ کی آیت ﴿فلما توفیتنی﴾ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
﴿فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى﴾ قَبَضْتَنِى بالرفع إلى السماء.
(ج١ ص٣١٧)
ترجمہ : ”پھر جب آپ نے مجھے آسمان کی طرف اٹھا کر اپنی تحویل میں لے لیا“۔
اور تفسیر درمنثور میں بھی انہوں نے متعدد مقامات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کی احادیث بہت ہی تفصیل سے لکھی ہیں۔ درمنثور کے مندرجہ ذیل صفحات ملاحظہ فرمائیے :
جلد دوم : صفحات ۲۴‘ ۲۵‘ ۲۷‘ ۳۶‘ ۳۹‘ ۴۵‘ ۴۸‘ ۴۹‘ ۳۵۰۔ جلد چہارم : صفحات ۷۴‘ ۳۲۶۔ جلد ششم : صفحات ۲۰‘ ۲۱۔ امام سیوطیؒ کی کتاب ”الحاوی للفتاویٰ جلد دوم“ میں تین مستقل رسالے ہیں جن میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ درج ہے :
- ۱- ”العرف الوردی فی اخبار المہدی“ (ص ۵۷ سے ص ۸۶ تک)
- ۲- الكشف عن مجاوزة هذه الامة الالف“ (ص ۸۶ سے ص ۹۲ تک)
- ۳- ”كتاب الاعلام بحكم عيسى عليه السلام“ (ص ۱۵۵ سے ۱۶۷ تک)
رسالہ ”الاعلام“ میں لکھتے ہیں :
إنه يحكم بشرع نبيّنا ﷺ لا بشرعه نصّ على ذلك العلماء، ووردت به الأحاديث وانعقد عليه الإجماع.
(الحاوی ج ۲ ص ۱۵۵)
ترجمہ : ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو اپنی شریعت پر عمل نہیں کریں گے‘ بلکہ آنحضرت ﷺ کی شریعت پر عمل کریں گے‘ علما نے اس کی تصریح کی ہے‘ احادیث اس میں وارد ہوئی ہیں اور اس پر اجماع منعقد ہو چکا ہے۔“
اسی رسالہ ”الاعلام“ میں امام سیوطی نے ان لوگوں پر جو نزول عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کریں‘ کفر کا فتویٰ دیا ہے۔ ان کے زمانے میں کسی شخص نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آخری زمانہ میں نازل ہوں گے تو ان پر وحی نازل نہیں ہوگی‘ اور دلیل میں حدیث ”لانبی بعدی“ پیش کی‘ امام سیوطیؒ اس حدیث کی شرح کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
ثم يقال لهذا الزاعم : هل أنت آخذ بظاهر الحديث من غير حمل على المعني المذكور؟ فيلزمك أحد أمرين، أما نفى نزول عيسى أو نفى النبوة عنه، وكلاهما كفر.
(الحاوی ج ۲ ص ١٦٦)
ترجمہ : ”پھر اس مدعی سے کہا جائے گا کہ کیا تم اس حدیث کے ظاہر کو لیتے ہو اور جو معنی ہم نے ذکر کیا ہے اس پر محمول نہیں کرتے؟ تو اس صورت میں تم کو دو میں سے ایک بات لازم آئے گی۔ یا نزولِ عیسیٰ ؑ کا انکار کرنا، یا بوقت نزول ان کے نبی ہونے کا انکار کرنا۔ اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں“۔
نیز اسی رسالہ میں ایک اور شخص کا ذکر ہے جس نے اس بات کا انکار کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ جب نازل ہوں گے تو حضرت مہدی کی اقتدا کریں گے، اس منکر نے اس کی وجہ یہ ذکر کی تھی کہ نبی کا مرتبہ اس سے عالی ہے کہ وہ کسی غیر نبی کے پیچھے نماز پڑھے۔ امام سیوطیؒ اس کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وهذا من أعجب العجب، فإن صلاة عيسى عليه السلام خلف المهدى ثابتة في عدة أحاديث صحيحة بأخبار رسول الله وهو الصادق المصدوق الذى لا يخلف خبره.
(الحاوی ج۲ ص۱۶۷)
ترجمہ : ”اور یہ نظریہ بھی عجائبات میں سے ہے کیونکہ عیسیٰ ؑ کا حضرت مہدی ؓ کی اقتدا میں نماز پڑھنا متعدد احادیث صحیحہ میں آنحضرت ﷺ کے خبر دینے سے ثابت ہے، اور آپ وہ صادق و مصدوق ہیں جن کی دی ہوئی خبر میں کبھی تخلف نہیں ہو سکتا۔ صلی اللہ علیہ وسلم“۔
شیخ الاسلام زکریا انصاریؒ :
شیخ الاسلام زین الدین ابو یحییٰ زکریا بن محمد بن زکریا الانصاری الشافعیؒ (۸۲۳ - ۹۲۶ھ) شرح کتاب الروض میں لکھتے ہیں:
(وهو) ﷺ (خاتم النّبيّين) قال تعالى: ﴿وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّينَ﴾ ولا يعارضه ما ثبت من نزول عيسى عليه الصلاة
والسلام آخر الزمان لأنّه لا يأتى بشريعة ناسخة بل مقررة بشريعة نبينا ﷺ عاملا بها.
(بحوالہ جواہر البحار للنبهانی ج ۱ ص ۲۷۳)
ترجمہ : ”اور آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے ”ولیکن آپ ﷺ رسول ہیں اللہ کے اور خاتم کرنے والے نبیوں کے“۔ اور حضرت عیسیٰ ؑ کا آخری زمانہ میں نازل ہونا جو ثابت ہے وہ اس کے معارض نہیں ، کیونکہ وہ شریعت ناسخہ کے ساتھ نہیں آئیں گے ، بلکہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی شریعت کو برقرار رکھتے ہوئے اسی پر عمل کریں گے۔“
علامہ کستلیؒ :
الشیخ مولیٰ مصلح الدین مصطفیٰ الکستلی (م - ۹۰۱ھ) حاشیہ خیالی میں لکھتے ہیں:
قولُه : مع ذلك لا بد من تخصيص عيسى عليه السلام، كأنّه خُصّ عيسى عليه السلام مع وجود غيره من الأنبياء بعد نبينا عليه السلام كما ذكر رحمه الله من العظماء من العلماء على أن أربعة من الأنبياء فى زمرة الأحياء : الخضر ، وإلياس فى الأرض، وعيسى وإدريس فى السماء، أما لأن حياة عيسى عليه السلام ونزوله إلى الأرض واستقراره فوقها مُدَّةً قد ثبت بالأحاديث الصحاح بحيثُ لم يبقَ شبهة ولم يسمع فيه خلافٌ بخلافِ غيره.
(حاشیہ متن العقائد ص ۱۷۷ مطبوعہ سعادت عثمانیہ)
ترجمہ : ”شارح کا قول : ”اس کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تخصیص ضروری ہے“۔ باوجود اس کے کہ عیسیٰ ؑ کے علاوہ دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام بھی ہمارے نبی ﷺ کے بعد
موجود ہیں جیسا کہ علامہ خیالیؒ نے ذکر کیا ہے کہ:
”بعض بڑے علما اس کے قائل ہیں کہ چار نبی زمرۂ احیاء میں شامل ہیں۔ حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہما السلام زمین میں اور حضرت عیسیٰ اور حضرت ادریس علیہما السلام آسمان پر ہیں“۔
لیکن شارح نے حضرت عیسیٰ ؑ کی تخصیص غالباً اس لئے فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا آسمان پر زندہ ہونا اور ان کا زمین پر نازل ہونا اور زمین پر ایک مدت تک ٹھہرنا صحیح احادیث سے اس قطعیت کے ساتھ ثابت ہے کہ اس میں کوئی شائبہ باقی نہیں رہا، اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں سنا گیا، بخلاف دیگر حضرات کے (کہ ان کا زندہ ہونا نہ تو قطعیت سے ثابت ہے اور نہ وہ نزاع واختلاف سے بالا تر ہے)“۔
امام محمد طاہر پٹنیؒ :
امام محمد طاہر پٹنی گجراتی (۹۸۶ھ) : مجمع البحار میں لکھتے ہیں :
فى حديث عيسى أنه يقتل الخنزير ويكسر الصليب و ” يزيد فى الحلال، أى يزيد فى حلال نفسه بأن يتزوج ويولد له، وكان لم يتزوج قبل رفعه إلى السماء فزاد بعد الهبوط فى الحلال فحينئذٍ يؤمن كل أحد من أهل الكتاب لليقين بأنه بشر .
(تكملة مجمع بحار الأنوار ص٤٦٤ ج٥)
ترجمہ : ”حدیث میں ہے کہ ”حضرت عیسیٰ ؑ خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور حلال میں زیادہ کریں گے“ یعنی اپنی ذات سے متعلق حلال میں اضافہ کریں گے، بدیں طور کہ شادی کریں گے اور ان کے اولاد ہوگی، انہوں نے رفع آسمانی سے پہلے شادی نہیں کی تھی، پس نازل ہونے کے بعد حلال میں اضافہ کریں گے، پس
اس وقت اہل کتاب کا ہر فرد ایمان لے آئے گا کیونکہ یقین ہو جائے گا کہ یہ بشر ہیں“۔
گیارہویں صدی
شیخ علی ددہ صوفیؒ :
شیخ مصلح الدین خلوتی کے خلیفہ الامام العارف الشیخ علی ددہ البوسنوی (م : ۱۰۰۷ھ) اپنی کتاب ”خواتم الحکم“ میں سوال نمبر ۷۹ کے تحت لکھتے ہیں :
. وقوله تعالى : ﴿خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ﴾ أى لا نبى بعده أى لا ينبأ أحد بعده وعيسى نبئ قبله.
(بحوالہ جواہر البحار للنبہانی ص١٤٦٤)
ترجمہ : ”اور حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ آپ خاتم النبین ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں، یعنی آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت عطا نہیں کی جائے گی اور عیسیٰ علیہ السلام کو آپ ﷺ سے پہلے نبوت مل چکی ہے“۔
شیخ ابو المنتہیٰ حنفیؒ :
الشیخ العلامہ ابو المنتہی احمد بن محمد المغنیساوی الحنفی (م : ۱۰۹۰ھ) ”شرح فقہ اکبر“ میں حضرت امام اعظمؒ کے قول :
خروج الدجال ويأجوج ومأجوج وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى عليه السلام من السماء وسائر علامات يوم القيامة على ما وردت به الأخبار الصحيحة حق كائن.
ترجمہ : ”اور دجال کا نکلنا، یاجوج وماجوج کا نکلنا، آفتاب کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا اور عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا
اور دیگر علامات قیامت‘ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہوئی ہیں‘ حق ہیں‘ ضرور ہو کر رہیں گی“۔ کی تائید میں ”مصابیح السنۃ“ کے حوالے سے صحیح مسلم کی حدیث ذکر کی ہے جن میں دس علامات قیامت کا ذکر ہے ۔
شاہ عبد الحق محدث دہلویؒ :
الامام العارف المحدث الفقیہ شاہ عبد الحق محدث دہلوی (۹۵۸-۱۰۵۲ھ) اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں ”باب نزول عیسیٰ علیہ السلام“ کے تحت لکھتے ہیں :
بہ تحقیق ثابت شدہ است باحادیث صحیحہ کہ عیسیٰ علیہ السلام فرود می آید از آسمان بر زمین‘ وی باشد تابع دین محمد را صلی اللہ علیہ وسلم و حکم می کنند شریعت آنحضرت الخ (ص: ۵۱ ج ۴)
ترجمہ : ”احادیث صحیحہ سے تحقیق کے ساتھ ثابت ہے کہ عیسیٰ ؑ (آخری زمانہ میں) آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے اور وہ آپ ﷺ کے دین کے تابع ہوں گے اور آنحضرت ﷺ کی شریعت پر عمل کریں گے“۔
علامہ خفاجیؒ :
الشیخ العلامہ احمد بن محمد بن عمر الحنفی المصری شہاب الدین ابو العباس خفاجیؒ (۹۷۹-۱۰۶۹ھ) نے تفسیر بیضاوی کے حاشیہ ”عنایۃ القاضی و کفایۃ الراضی“ میں متعدد مواضع میں اس عقیدہ کی تصریح فرمائی ہے ۔
دیکھئے سورۂ آل عمران کی آیت : ۵۵‘ (ص ۳۰ ج ۲)‘ اور سورۂ النساء کی آیات : ۱۵۷-۱۵۸ (ص ۱۹۸ تا ص ۲۰۰) اور سورۂ مائدہ کی آیت (ص ۳۰۶‘ ج ۳) سورۂ احزاب کی آیت ختم نبوت (ص ۱۷۶‘ ج ۷) سورۂ الزخرف کی آیت و انہ لعلم للساعۃ (ص ۴۴۹‘ جلد ۷)
مجدد الف ثانیؒ:
امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد بن عبدالاحد سرہندی (۹۷۱ - ۱۰۳۴ھ) نے مکتوبات شریفہ میں متعدد جگہ نزول عیسیٰ ؑ کی تصریح کی ہے۔
دفتر اول کے مکتوب نمبر ۳۰۱ میں لکھتے ہیں:
”و خاتم ایں منصب سید البشر است ۔ حضرت عیسیٰ بعد از نزول متابع شریعت خاتم الرسل خواہد بود“۔
ترجمہ : ”منصب نبوت کے خاتم سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نازل ہو کر آنحضرت ﷺ کی شریعت کی پیروی کریں گے“۔
دفتر سوم کے مکتوب نمبر ۶۷ میں لکھتے ہیں :
”حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کہ از آسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود“۔
ترجمہ : اور حضرت عیسیٰ ؑ جب آسمان سے نازل ہوں گے تو خاتم الرسل ﷺ کی پیروی کریں گے“۔
”و حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کہ بعد از نزول متابعت ایں شریعت خواہد نمود اتباع سنت آں سرور علیہ وعلیٰ آلہ الصلوۃ والسلام نیز خواہد کرد کہ نسخ ایں شریعت مجوز نیست.“
(مکتوبات مجدد الف ثانیؒ دفتر دوم مکتوب ۵۵)
ترجمہ : ”اور حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نازل ہونے کے بعد اس شریعت کی پیروی کریں گے، اور آنحضرت ﷺ کی سنت پر چلیں گے کیونکہ اس شریعت کا منسوخ ہونا جائز نہیں“۔
”و خاتم انبیاء محمد رسول اللہ است (صلی اللہ تعالیٰ وسلم علیہ وعلیٰ آلہ وعلیہم اجمعین) و دین او ناسخ ادیان سابق است و کتاب او
بہترین کتب ما تقدم است‘ و شریعت اور ناسخے نخواهد بود بلکہ تا قیام قیامت خواهد ماند‘ و عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کہ نزول خواهد نمود عمل بشریعت او خواهد کرد و بعنوان امّت او خواهد بود‘‘۔
(مکتوبات مجدد الف ثانیؒ دفتر دوم مکتوب ۶۷)
ترجمہ : ’’اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے خاتم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں‘ اور آپ کا دین تمام ادیان سابقہ کا ناسخ ہے اور آپ کی کتاب تمام پہلی کتابوں سے افضل و بہتر ہے‘ اور آپ کی شریعت کبھی منسوخ نہیں ہوگی‘ بلکہ قیامت تک باقی رہے گی‘ اور حضرت عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام جب نزول فرمائیں گے تو آپ کی شریعت پر عمل کریں گے اور آپ ﷺ کی امّت کے عنوان سے تشریف لائیں گے‘‘۔
’’علامات قیامت کہ مخبر صادق علیہ و علیٰ آلہ الصلوات والتسلیمات ازاں خبر دادہ است حق است‘ احتمال تخلف ندارد کہ طلوع آفتاب را جانب مغرب برخلاف عادت و ظہور حضرت مہدی علیہ الرضوان و نزول حضرت روح اللہ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام و خروج دجّال و ظہور یاجوج و ماجوج و خروج دابۃ الارض و دخانے کہ از آسمان پیدا شود و تمام مردم را فرو گیرد و عذاب درد ناک کند مردم از اضطراب گویند اے پروردگار من ایں عذاب را از ما دور کن کہ ما ایمان مے آریم و آخر علامات آتش ست کہ از عدن برخیزد‘‘۔
(مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی دفتر دوم مکتوب ۶۷)
ترجمہ : ’’علامات قیامت‘ جن کی مخبر صادق علیہ و علیٰ الہ الصلوات والتسلیمات نے خبر دی ہے‘ برحق ہیں تخلف کا
احتمال نہیں رکھتیں جیسے خلاف عادت آفتاب کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا، حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظاہر ہونا، حضرت روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا نازل ہونا، دجال کا نکلنا، یاجوج وماجوج کا ظہور ہونا، دابتہ الارض کا نکلنا اور وہ دھواں جو آسمان سے ظاہر ہو گا اور تمام لوگوں کو گھیر لے گا اور دردناک عذاب کریگا اور لوگ پریشانی کے مارے کہیں گے کہ اے پروردگار یہ عذاب ہم سے دور فرما۔ کہ ہم ایمان لاتے ہیں اور آخری علامت آگ ہے جو عدن سے اٹھے گی“
شاہ نور الحق بخاری محدث دہلویؒ :
الشیخ الامام مفتی شاہ نور الحق بن شاہ عبدالحق بخاری محدث دہلوی (۹۸۳ - ١٠٧٣ھ) تیسیر القاری شرح بخاری میں ”باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام“ کے تحت لکھتے ہیں:
”در ذکر نزول عیسیٰ در آخر زماں و ترویج نمودن دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم گفتہ اند، در تخصیص نزول عیسیٰ رفع عقیدہ باطلہ نصاری است کہ میدانستند عیسیٰ را یہود کشتند و بر دار کشیدہ ونیز عیسیٰ اقرب انبیاء ومصدق آنحضرت بود وحیات وی بنص قطعی ثبوت پیوستہ“۔ (ص۴۲۵ ج ۲)
ترجمہ : ”یعنی اس کا بیان کہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہوں گے اور دین محمد ﷺ کی ترویج کریں گے۔ علماء نے کہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی تخصیص اس بناء پر ہوئی کہ اس سے نصاریٰ کے عقیدۂ باطلہ کا رد منظور تھا، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نے قتل کر دیا اور سولی دے دی، نیز اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تمام انبیاء کرام علیہم السلام میں سے
آنحضرت ﷺ سے قریب تر ہیں اور وہ آنحضرت ﷺ کے مصدق ہیں اور ان کا زندہ ہونا نص قطعی سے ثابت ہے“۔
ملا علی قاریؒ:
الشیخ العلامہ سلطان العلما نور الدین علی بن سلطان محمد القاری الہروی الحنفی (م: ۱۰۱۴ھ) نے اپنی کتابوں میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کی تصریح کثرت سے فرمائی ہے۔
شرح فقہ اکبر میں امام اعظم کے قول ”ونزول عیسی بن مریم علیہ السلام من السماء.“ ”اور نازل ہونا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا آسمان سے“ کے تحت لکھتے ہیں:
كما قال الله تعالى : ﴿وَإِنَّهُ﴾ أى عيسى ﴿لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ﴾ علامة القيامة، وقال الله تعالى : ﴿وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ﴾ أى قبل موت عيسى بعد نزوله عند قيام السَّاعة فيصير الملل واحدة وهى ملة الإسلام الحنفية... ويقتدى به ليظهر متابعة نبينا ﷺ كما أشار إلى هذا المعنى صلى الله تعالى عليه وسلم بقوله : ”لو كان موسى حيًّا لما وسعه إلا اتباعى“ وقد بينت وجه ذلك عند قوله تعالى : ﴿وَإِذْ أَخَذَ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ﴾ الآية فى شرح الشفاء وغيره .
وقد ورد أنه يبقى فى الأرض أربعين سنة ثم يموت ويصلى عليه المسلمون ويدفنونه على ما رواه الطيالسى فى ”مسنده“، وروى غيره أنه يدفن بين النبى ﷺ والصديق، وروى أنه يدفن بعد الشيخين فهنيئًا للشيخين حيث اكتنفا بالنبيين... إلخ. (ص١٣٦)
ترجمہ: ”جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کہ ”بیشک وہ یعنی عیسیٰ البتہ نشانی ہے قیامت کی“، یعنی قیامت کی علامت ہے، اور فرمایا، اللہ
تعالیٰ نے ”اور نہیں ہو گا کوئی شخص اہل کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا اس پر اس کی موت سے پہلے“۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے قرب قیامت میں ان کے نازل ہونے کے بعد‘ اس وقت تمام امتیں مٹ جائیں گی اور دین اسلام باقی رہ جائے گا۔
اور عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدی ؑ کی اقتداء کریں گے تاکہ ظاہر ہو جائے کہ وہ ہمارے نبی ﷺ کے تابع ہو کر آئے ہیں‘ جیسا کہ اس مضمون کی طرف آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشاد میں اشارہ فرمایا کہ ”اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا“۔ اور میں نے اس کی وجہ حق تعالیٰ کے ارشاد ﴿واذ اخذ اللہ میثاق النبین لما اتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول﴾ کے تحت شرح الشفاء میں اور دوسری کتابوں میں ذکر کی ہے۔ اور حدیث میں آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زمین میں چالیس سال رہیں گے پھر ان کا انتقال ہو گا‘ اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور ان کو دفن کریں گے جیسا کہ امام ابو داؤد طیالسی نے مسند میں روایت کیا ہے۔ ان کے علاوہ اور دوسرے حضرات کی روایت میں ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے درمیان دفن ہوں گے اور ایک روایت میں یہ ہے کہ وہ شیخین کے بعد دفن ہوں گے۔ پس شیخین کو مبارک کہ وہ دو نبیوں کے درمیان ہیں“۔
اور شرح فقہ اکبر میں دوسری جگہ لکھتے ہیں:
وأما عیسی فقد وجد قبله وإن کان یقع نزوله بعده .
(ص ٧٤)
ترجمہ : ”لیکن عیسیٰ علیہ السلام ! پس ان کا وجود آنحضرت ﷺ سے پہلے کا ہے اگرچہ ان کا نزول آپ ﷺ کے بعد ہو گا“۔
اور قصیدہ بدء الامالی کی شرح ”ضوء المعالی“ میں مصنف کے قول :
”اور عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے پھر بد بخت دجال کو جو فساد برپا کرنے والا ہے ہلاک کریں گے“۔ کے تحت لکھتے ہیں:
وإنما ينزل عيسى حين حاصر الدّجال فى قلعة القدس المهدى واتباعه فينزل عيسى عليه السلام من السماء على المنارة الشرقية فى مسجد الشام ويأتى القدس فيقتله بحربة فى يده أو هو بمجرد رؤية عيسى يذوب كما يذوب الملح فى الماء وقد ثبت هذه الأخبار والآثار عن سيّد الأخيار ، فيجب الإيمان بها .
(ص۲۲)
ترجمہ : ”اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت نازل ہوں گے جبکہ دجال نے حضرت مہدی علیہ السلام اور ان کے لشکر کا قلعہ قدس میں محاصرہ کیا ہوا ہو گا پس عیسیٰ علیہ السلام مسجد شام کے شرقی منارہ پر آسمان سے نازل ہو کر قدس جائیں گے‘ ان کے ہاتھ میں جو نیزہ ہو گا اس سے دجال کو قتل کریں گے اور وہ آپ کو دیکھتے ہی ایسا پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے‘ اور یہ احادیث سید الاخیار ﷺ سے ثابت ہیں اور ابوبکر اسکاف کی کتاب ”فوائد الاخبار“ میں سند کے ساتھ امام مالک سے‘ انہوں نے محمد بن منکدر سے‘ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے دجال کا انکار کیا وہ کافر ہے اور جس نے مہدی کا انکار کیا وہ کافر ہے“۔ یہ حدیث شارح قدسی نے نقل کی ہے۔
نیز اسی رسالہ میں مصنف کے قول:
(ترجمہ : ”اور آپ کی شریعت باقی رہے گی ہر زمانے میں‘ قیامت تک“)۔ کے تحت لکھتے ہیں:
وقوله : فى كل وقت رد لما ينسب إلى الجهمية من انتهاء شريعته ﷺ أو شىء منها بنزول عيسى على نبينا وعليه السلام لما
في "الصحيحين" وغيرهما أن عيسى يضع الجزية ومعناه كما قال المحققون : إنه يبطل تقرير الكفار بالجزية فلا يقبل منهم لرفع السيف عنهم إلا الإسلام لا غير. والجواب أن نبينا ﷺ قد بين أن التقرير بالجزية ينتهى وقت شرعيته بنزول عيسى عليه السلام وأن الحكم في شرعنا بعد نزوله عدم التقرير بها فعمله في ذلك وغيره بشريعتنا لا بغيرها كما نص على ذلك العلماء كالخطابي في "معالم السنن" والنووى في "شرح مسلم" ، ووردت فيه أحاديث ثابتة من غير نزاع، وانعقد عليه الإجماع .
(ص۱۹)
ترجمہ : اور مصنف کے قول، ”وفي كل وقت“ میں اس نظریہ کا رد ہے جو جہميه کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی شریعت یا اس کا کچھ حصہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے سے ختم ہو جائے گا، کیونکہ صحیحین میں آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جزیہ موقوف کر دیں گے، اور اس حدیث کا مطلب جیسا کہ محققین نے فرمایا ہے یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کفار سے جزیہ قبول نہیں کریں گے، پس ان سے اسلام کے سوا کچھ قبول نہیں کریں گے ۔ جواب یہ ہے کہ یہ بات خود ہمارے نبی ﷺ نے فرما دی ہے کہ کفار پر جزیہ لگانے کی مشروعیت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت ختم ہو جائے گی، اور یہ کہ ان کے نازل ہونے کے بعد جزیہ قبول نہ کرنا خود ہماری شریعت ہی کا حکم ہے ۔ ان کا عمل اس مسئلہ میں اور دیگر مسائل میں ہماری شریعت ہی پر ہو گا نہ کہ کسی دوسری شریعت پر، علما نے اس کی تصریح کی ہے جیسا کہ خطابی نے معالم السنن میں اور نووی نے شرح مسلم میں ۔ اور اس میں احادیث بغیر نزاع کے ثابت ہیں اور اس پر اجماع منعقد ہے “۔
علامہ خلخالیؒ :
علامہ حسین بن حسن حنفی خلخالی (م : ۱۰۱۴) حاشیہ شرح عقائد جلد ۱ میں لکھتے ہیں :
وأما نزول عيسى عليه السلام ومتابعته بشريعته فهو مما يؤكد كونه خاتم النبيين لأنه إذا نزل كان على دينه على أن المراد أنه كان آخر كل نبي ولا نبي بعده.
(شرح عقائد جلالی حاشیہ ص۹)
ترجمہ : ”شارح (علامہ جلال الدین دوانیؒ) کا یہ قول کہ : رہا (آخری زمانہ میں) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور ان کا آنحضرت ﷺ کی شریعت کی پیروی کرنا سو یہ آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین (بمعنی آخری نبی) ہونے کی تاکید کرتا ہے“۔ (اس کی نفی نہیں کرتا) کیونکہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو آپ ﷺ کے دین پر ہوں گے، علاوہ ازیں خاتم النبیین سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد آئے اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں پیدا ہو“۔
الشیخ العلامہ مولانا عبد الحکیم سیالکوٹیؒ :
الشیخ علامہ عبد الحکیم سیالکوٹی (م ۹۸۸، ۱۰۶۸ھ) حاشیہ خیالی علی شرح عقائد میں لکھتے ہیں :
إنما اكتفى الشارح بذكر عيسى عليه السلام لأن حياته ونزوله إلى الأرض واستقراره عليها قد ثبت بأحاديث صحيحة بحيث لم يبق فيه شبهة ولم يختلف فيه أحد بخلاف الثلاثة.
(مجموعہ حواشی البہیۃ ص۳۴۰ ج۳)
ترجمہ : ”گویا شارح نے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر کرنے پر اس لئے اکتفا فرمایا کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا
(آسمان پر) اور ان کا زمین پر نازل ہونا اور ان کا زمین پر قیام کرنا احادیث صحیحہ سے اس قطعیت کے ساتھ ثابت ہے کہ اس میں کوئی ذرا سا شبہ بھی باقی نہیں رہا، اور اس میں کسی ایک نے بھی اختلاف نہیں کیا، بخلاف باقی تین حضرات کے (یعنی حضرات الیاس، ادریس اور خضر علیہم السلام کے، کہ ان کی حیات قطعیت سے ثابت نہیں اور اس میں اختلاف بھی ہے)‘‘۔
علامہ ابو البقا :
العلامہ القاضی ابو البقا ایوب بن السید الشریف موسی الحنفی الکفوی (توفی قاضیا بالقدس سنہ ۱۰۹۴ھ) ’’کلیات‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ التوفی‘‘ الإماتة وقبض الروح وعلیه استعمال العامة أو الاستيفاء وأخذ الحق وعلیه استعمال البلغاء، والفعل من الوفاة، توفى ما لم يسم فاعله لأن الإنسان لا يتوفى نفسه فالمتوفى هو الله تعالى أو أحد من الملائكة.
(کلیات ابی البقاء ص ۱۲۹)
ترجمہ : ’’توفی کے معنی ہیں، موت دینا اور روح قبض کر لینا، اور یہ عوام کا استعمال ہے یا اس کے معنی ہیں پورا لے لینا اور حق وصول کرنا اور بلغاء کے یہاں یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوتا ہے، یہ فعل لفظ ’’وفاۃ‘‘ سے ہے ’’تُوفِّی‘‘ بصیغہ مجہول استعمال ہوتا ہے کیونکہ انسان اپنے آپ کو خود قبض نہیں کرتا، پس قبض کرنے والے اللہ تعالیٰ ہیں یا کوئی فرشتہ‘‘۔
’’ عیسی ‘‘ هو ابن مريم بنت عمران خلقه الله بلا أب وهو اسم عبرانى أو سريانى رفع بجسده وكذا إدريس على قول وله ثلاث وثلاثون سنة وسينزل ويقتل الدجال ويتزوج ويولد له ويحج
ويمكث فى الأرض سبع سنين ويدفن عند النبى ﷺ
(كليات أبى البقاء ص ٢٦٥)
ترجمہ: ”حضرت عیسیٰ بن مریم بنت عمران‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو بغیر باپ کے پیدا کیا‘ یہ نام عبرانی یا سریانی ہے‘ حضرت عیسیٰ ؑ کو جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھایا گیا‘ اسی طرح ایک قول کے مطابق حضرت ادریس ؑ کو بھی۔ اس وقت ان کی عمر ۳۳ سال کی تھی (یہ عیسائیوں کا قول ہے، ناقل) وہ دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے‘ شادی کریں گے‘ ان کی اولاد ہوگی‘ زمین میں سات سال رہیں گے اور آنحضرت ﷺ کے روضہ مطہرہ میں دفن کئے جائیں گے۔
بارھویں صدی
شیخ اسماعیل رومیؒ :
بارھویں صدی کے مشہور مفسر شیخ اسماعیل حقی برسوی رومی (م: ۱۱۳۷) نے اپنی تفسیر روح البیان میں متعدد جگہ اس عقیدہ کی تصریحات فرمائی ہیں۔ تفصیل کے لئے ان کی تفسیر کے مندرجہ ذیل صفحات دیکھ لئے جائیں۔ جلد دوم‘ صفحات ۴۰-۴۱-۳۱۷ تا ۳۲۰-۴۶۰-۴۶۶-جلد ۸‘ صفحات ۳۸۴‘ ۳۸۵-
یہاں چند حوالے ملاحظہ ہوں۔
آیت کریمہ ﴿ومكروا ومكر الله﴾ کے تحت لکھتے ہیں:
﴿ومكر الله﴾ بأن رفع عيسى عليه الصلاة والسلام وألقى
شبهه على من قصد اغتياله حتى قتل.
(ص٤٠ ج٣)
ترجمہ : ”اور اللہ تعالیٰ نے ایک تدبیر کی وہ یہ کہ عیسیٰ ؑ کو اٹھا لیا اور جو شخص آپ کو اچانک قتل کرنا چاہتا تھا اس پر آپ کی شباہت ڈال دی یہاں تک کہ وہ قتل ہوا ۔
اور آیت کریمہ ﴿بل رفعه الله اليه﴾ کے تحت لکھتے ہیں :
ردّ وإنكار لقتله وإثباتاً لرفعه، قال الحسن البصري : أى إلى السماء التى هى محل كرامة الله تعالى ومقر ملائكته ولا يجرى فيها حكم أحد سواه فكان رفعه إلى ذلك الموضع رفعا إليه تعالى لأنه رفع أن يجرى عليه حكم العباد.
(ص٣١٨ ج٢ روح البيان)
ترجمہ : ”اس فقرہ میں آپ کے قتل کئے جانے کی تردید ہے اور آپ کے اٹھائے جانے کا اثبات ہے ۔ حسن بصریؒ فرماتے ہیں ”اپنی طرف اٹھانے“ سے مراد ہے آسمان کی طرف اٹھانا جو اللہ تعالیٰ کی کرامت کا محل اور اس کے فرشتوں کا مستقر ہے ، وہاں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا حکم (ظاہری طور پر بھی) نہیں چلتا، پس اس جگہ کی طرف اٹھا لینا اپنی طرف اٹھا لینا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بالا تر مقام پر پہنچا دیا کہ وہاں آپ پر بندوں کا حکم نہ چل سکے“ ۔
اور آیت کریمہ ﴿وكان الله عزيزاً حكيماً﴾ کے تحت لکھتے ہیں :
لا يغالب فيما يريده فعزة الله تعالى عبارة عن كمال قدرته فإن رفع عيسى عليه السلام إلى السموات وإن كان متعذراً بالنسبة إلى قدرة البشر لكنه سهل بالنسبة إلى قدرة الله تعالى لا يغلبه أحد.
(ص٣١٩ ج٣)
ترجمہ : ”اور اللہ تعالیٰ بہت ہی زبردست ہے ، جس بات کا وہ ارادہ کرے کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ پس اللہ تعالیٰ کا عزیز
ہونا اس کی کمال قدرت سے عبارت ہے ، چنانچہ عیسیٰ ؑ کو آسمان پر اٹھا لینا اگرچہ انسانی قدرت کے اعتبار سے مشکل ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے لحاظ سے بالکل آسان ہے اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا“۔
علامہ محمد مہدی الفاسیؒ :
الامام العلامہ شیخ محمد مہدی الفاسی (م ١١٠٩ ھ) شارح دلائل الخیرات آنحضرت ﷺ کے اسم گرامی خاتم الانبیا کی شرح میں لکھتے ہیں :
ولا ينافي ذلك نزول عيسى عليه السلام بعده لأنه إذا نزل كان على دينه مع أن المراد أنه آخر من نبي.
وأما الإجماع فقد أجمعت الأمة على أنه ينزل ويحكم بهذه الشريعة المحمدية وليس ينزل بشريعة مستقلة عند نزوله من السماء وإن كانت النبوة قائمة به وهو متصف لها.
(ص ١١٨)
ترجمہ : ”اور عیسیٰ ؑ کا آپ کے بعد نازل ہونا اس کے منافی نہیں ، کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو آپ ﷺ کے دین پر ہوں گے ، علاوہ ازیں خاتم الانبیا کا مطلب یہ ہے کہ آپ آخری شخص ہیں جن کو نبوت عطا کی گئی ہے ۔
رہا اجماع ! تو پوری امت کا اجماع ہے کہ وہ نازل ہوں گے اور اس شریعت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام) کے مطابق عمل کریں گے ۔ اگرچہ نبوت ان کے ساتھ قائم ہوگی اور وہ اس کے ساتھ متصف ہوں گے“۔
ملا جیونؒ :
شیخ احمد بن ابی سعید المعروف بہ ملا جیون امیٹھویؒ (م : ١١٣٠ ھ) ”تفسیرات
احمدیہ“ میں سورۃ الزخرف کی آیت ﴿وانه لعلم للساعة﴾ کے ذیل میں لکھتے ہیں :
معناه أنه علم للساعة أن يعلم من نزوله دنو الساعة وقرب القيامة.
(ص ٦٥٢)
ترجمہ : ”اس کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے علم کا ذریعہ ہیں یعنی ان کے نزول سے قیامت کا قریب ہونا معلوم ہوگا“۔
اس کے بعد خروج دجال اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کی تفصیل درج کرتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں :
ثم إذا نزل عيسى ابن مريم يتزوج ويولد له عليه السلام ويمكث أربعين سنة، ثم يموت ويدفن فى قبر رسول الله ﷺ فيقوم هو وعيسى ابن مريم وأبو بكر وعمر وبهذا ورد لفظ الحديث.
(ص ٦٥٣)
ترجمہ : ”پھر جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو شادی کریں گے، ان کے اولاد ہوگی، زمین میں چالیس برس رہیں گے، پھر ان کی وفات ہوگی، اور آنحضرت ﷺ کے روضہ مطہرہ میں دفن ہوں گے، پس آنحضرت ﷺ اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اکٹھے اٹھیں گے، اسی کے ساتھ حدیث کا لفظ وارد ہوا ہے“۔
حجۃ الاسلام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ :
حجۃ الاسلام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (۱۱۱۴۔۱۱۷۶ھ) تفہیمات الہیہ میں لکھتے ہیں :
- (۸) وصیت دیگر : در حدیث آمدہ است : من ادرک
منکم عیسی ابن مریم فلیقرأه منی السلام ایں فقیر آرزوئے
تمنا دارد کہ اگر ایام حضرت روح اللہ را دریابد اول کسے کہ تبلیغ اسلام کند من باشم و اگر من آنرا نہ دریافتم ہر کسے کہ از اولاد یا اتباع این فقیر زمان بہجت نشان آنحضرت دریابد حرص تمام کند در تبلیغ سلام تا کتیبہ آخرہ از کتائب محمدیہ ما باشیم والسلام علی من اتبع الہدیٰ .
(تفہیمات الٰہیہ ج ۲ ص ۲۹۸)
ترجمہ : ”ایک اور وصیت : حدیث میں آیا ہے کہ تم میں سے جو شخص حضرت عیسیٰ بن مریم کو پائے وہ ان کو میرا سلام کہے۔ یہ فقیر آرزوئے تمام رکھتا ہے کہ اگر حضرت روح اللہ علیہ السلام کا زمانہ پاوے تو سب سے پہلے ان کو سلام پہنچانے والا میں ہوں گا۔ اور اگر میں ان کو نہ پاؤں تو جو شخص اس فقیر کی اولاد و اتباع میں سے آں حضرت ﷺ کے زمان بہجت نشان کو پاوے تو سلام پہنچانے کی پوری حرص کرے تاکہ لشکران محمدی میں آخری دستہ ہم ہوں، والسلام علی اتبع الہدیٰ“۔
وقد وعدنا أن يخرج في آخر الزمان رجل يكون مفتاحًا للشر وهو الدجال الأكبر فيمحقه عيسى عليه السلام .
(تفہیمات الٰہیہ ج ۱ ص ۸۳)
ترجمہ : ”اور ہم سے وعدہ کیا گیا ہے کہ آخری زمانے میں ایک شخص ہو گا ”جو شر کی کنجی“ ہو گا اور وہ دجال اکبر ہے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کو ہلاک کریں گے“۔
علامہ سفارینیؒ :
الشیخ العلامہ محمد بن احمد السفارینی الاثری الحنبلی (۱۱۱۴ - ۱۱۸۸ھ ) اپنے عقیدہ منظومہ ”الدرة المضیة فی عقد الفرقة المرضیة“ میں فرماتے ہیں:
منها الامام الخاتم الفصیح محمدن المهدی والمسیح
(یعنی قرآن وحدیث کے نصوص میں قیامت کی جو علامات کبریٰ وارد ہوئی ہیں وہ سب برحق ہیں‘ ان میں کوئی بعد نہیں۔ چنانچہ علامات کبریٰ جن میں احادیث متواترہ وارد ہیں ان میں ایک تو امام مہدی رضی اللہ عنہ کا ظہور ہے اور دوسری علامت حضرت مسیح علیہ السلام کا نازل ہونا ہے۔
پھر اس دوسری علامت کی شرح کرتے ہوئے ”الدرة المضیہ لوائح الانوار البہیہ وسواطع الاسرار الاثریہ“ میں لکھتے ہیں:
(و) منها أى مِن علاماتِ الساعة العظمى العلامة الثالثة أن ينزل مِن السماء السيّد (المسيح) عيسى عليه السلام ونزوله ثابتٌ بالكتاب والسنة، وإجماع الأمة...
أما الكتاب فقوله: ﴿وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِه﴾ أى ليؤمنن بعيسى قبل موت عيسى وذلك عند نزوله من السماء فى آخر الزمان.
وأما السنة ففى ”الصحيحين“ وغيرهما عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: «والذي نفسي بید ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية» الحديث.
وفى مسلم عنه: «والله لينزلن ابن مريم حكمًا، عدلا فيكسر الصليب» بنحوه، وأخرج مسلم أيضاً عن جابر ابن عبد الله رضى الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: «لا تزال طائفةٌ من أمتى يقاتلون على الحق ظاهرين إلى يوم القيامة فينزل عيسى ابن مريم فيقول أميرهم تعال صلّ بنا فيقول لا إن بعضكم على بعضٍ أمراء تكرمة الله هذه الأمة».
أما الإجماع فقد اجمعت الامة على نزوله ولم يخالف فيه أحد من أهل الشريعة، وإنما أنكروا ذلك الفلاسفة والملاحدة مما لا يعتد خلافه، وقد انعقد إجماع الأمة على أنه ينزل ويحكم بهذه الشريعة المحمدية وليس ينزل مستقلة عند نزوله من السماء وإن كانت النبوة قائمة به، وهو متصف بها.
(كتاب لوائح الأنوار الإلهية وسواطع الأسرار الأثرية ص ٩٠ ج ، مطبوعه مجلّه
أنصار الإسلامية مصر ١٣٣٢هـ)
ترجمہ : ”اور قیامت کی علامات کبریٰ میں سے تیسری علامت یہ ہے کہ حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہما السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا کتاب وسنت اور اجماع امت سے ثابت ہے ۔
کتاب اللہ سے نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت یہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں : وان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موته (النساء : آیت ۱۵۹) ”اور نہیں ہے اہل کتاب میں سے کوئی، مگر وہ ایمان لائے گا ان پر ان کی موت سے پہلے“ یعنی تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لائیں گے۔ اور یہ آخری زمانے میں اس وقت ہو گا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ اور سنت سے نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت یہ ہے کہ صحیحین اور دیگر کتب حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
”قسم اس ذات کی کہ میری جان اس کے قبضہ میں ہے قریب ہے کہ ابن مریم علیہ السلام تم میں حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو موقوف کردیں گے۔ الحدیث ۔ اور صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر لڑتی رہے گی اور وہ قیامت تک غالب رہیں گے۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا امیر ان سے عرض کریگا کہ ہمیں نماز پڑھائیے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے نہیں! (بلکہ اس نماز کی امامت آپ ہی کرائیں) بیشک تم سے بعض بعض پر امیر ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے امت کا اعزاز ہے (کہ ایک جلیل القدر نبی ان میں سے ایک شخص کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہیں)۔
اور اجماع امت سے نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت یہ ہے کہ پوری امت کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہوں گے اور اس عقیدہ میں اہل شریعت میں سے کسی کا اختلاف نہیں، اس میں صرف فلاسفہ اور ملاحدہ نے اختلاف کیا ہے، جن کے اختلاف کا کوئی اعتبار نہیں۔
اور امت کا اس پر اجماع منعقد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اس شریعت محمدیہ (علی صاحبھا الصلوۃ والسلام) کے مطابق فیصلہ کریں گے اور آسمان سے نازل ہونے کے وقت اپنی الگ شریعت لیکر نازل نہیں ہوں گے، اگرچہ نبوت ان کے ساتھ قائم ہوگی اور وہ بدستور وصف نبوت کے ساتھ موصوف ہوں گے“۔
شیخ محمد اکرم صابریؒ :
بارہویں صدی کے بزرگ شیخ المشائخ مولانا محمد اکرم صابریؒ ۱۱۳۲ھ میں تصنیف شدہ اپنی کتاب ”اقتباس الانوار“ میں لکھتے ہیں : و یک فرقہ بر آں رفتہ اند کہ مہدی آخر الزماں عیسیٰ بن مریم است علیہ السلام، و ایں روایت بہ غایت ضعیف است، زیراکہ اکثر احادیث صحیح و متواتر از حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم ورود یافتہ کہ مہدی
از بنی فاطمہ خواہد بود، و عیسی بن مریم باو اقتدا کردہ نماز خواہد گزارد، و جمیع عارفان صاحب تمکین بریں متفق اند۔ -
(اقتباس الانوار ص ۷۲)
ترجمہ : ”اور کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ مہدی آخر زمان حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں اور یہ روایت نہایت کمزور ہے۔ کیونکہ بہت سی صحیح و متواتر احادیث حضرت رسالت پناہ ﷺ سے وارد ہوئی ہیں کہ امام مہدی اولاد فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہوں گے اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ان کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے، اور تمام عارفان با تمکین اس پر متفق ہیں۔“۔
شیخ احمد الدردیر ؒ :
الامام العارف الشیخ احمد بن محمد بن احمد الدردیر المالکی ؒ (۱۱۲۰ - ۱۲۰۱ ھ) اپنے عقیدہ منظومہ مسمٰی بہ ”الخریدۃ البہیہ“ میں فرماتے ہیں۔
من کل حکم صار کالضروری
ترجمہ : ”اور ان تمام امور پر ایمان لانا واجب ہے جو عام و خاص میں مشہور ہونے کی وجہ سے دین کے بدیہی مسائل بن گئے ہیں“۔
اور اس کی شرح میں ضروریات دین کی مثالیں دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
وکشرائط الساعة الخمسة المتفق علیھا... أولھا خروج المسیح الدجال... وثانیھا نزول المسیح عیسٰی ابن مریم علیہ الصلاة والسلام من السماء وقتلہ الدجال .
(ص ۷۰)
ترجمہ : ”اور مثلاً قیامت کی پانچ متفق علیہ علامتیں ۔ اول مسیح دجال کا نکلنا ۔ دوم حضرت مسیح بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آسمان سے نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا“۔
سید محمد مرتضیٰ زبیدی:
الامام العلامہ محب الدین ابو الفیض السید محمد مرتضیٰ الحسینی الزبیدی (۱۱۴۵- ۱۲۰۵ھ) تاج العروس میں لکھتے ہیں:
(ولُدّ بالضم بفلسطین یقتل عیسیٰ عليه السلام الدجال عند بابه) وهو الذی جزم به أقوام کثیرون ممن ألف فی أحوال الآخرة وشروط الساعة، وادعی قوم أن الوارد فی بعض الأحادیث أنه یقتله عند محاصرته المهدی فی القدس واعتمده القاری فی الناموس، کما قاله شیخنا.
(تاج العروس فصل اللام من باب الدال ص۴۹۳ ج۲)
ترجمہ : ”اور لُدّ (بالضم) فلسطین کے ایک قریہ کا نام، جس کے دروازے کے پاس حضرت عیسیٰ ؑ دجال کو قتل کریں گے“ اور اسی پر جزم کیا ہے، ان بہت سے حضرات نے جنہوں نے احوال آخرت اور علامات قیامت پر کتابیں تالیف فرمائی ہیں، اور بعض حضرات نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض احادیث میں وارد ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ دجال کو اس وقت قتل کریں گے جب کہ اس ملعون نے بیت المقدس میں حضرت مہدی علیہ الرضوان اور ان کے لشکر کا محاصرہ کر رکھا ہوگا۔ حضرت شیخ علی قاری ؒ نے ”الناموس“ میں اسی پر اعتماد کیا ہے، یہ بات ہمارے شیخ نور اللہ مرقدہ نے فرمائی ہے“۔
فائدہ : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اس وقت ہو گا جب کہ دجال لعین کے لشکر نے حضرت مہدی علیہ الرضوان اور ان کے لشکر کا محاصرہ کر رکھا ہوگا۔ حضرت روح اللہ علیہ السلام نازل ہو کر نماز فجر میں شریک ہوں گے اور نماز کے بعد اس کے مقابلہ میں نکلیں گے ۔ دجال آپ کو دیکھتے ہی بھاگ کھڑا ہو گا، آپ اس کا
تعاقب کریں گے ، اور باب لُد پر اس کو جاملیں گے۔
تیرھویں صدی
شیخ الاسلام بخاری دہلویؒ :
شیخ الاسلام فخر الدین بن محب اللہ بن نور اللہ بن نور الحق بن شاہ عبد الحق محدث دہلوی شرح بخاری میں باب نزول عیسیٰ ؑ کے تحت لکھتے ہیں :
”و گفته اند حکمت در نزول عیسیٰ علیہ السلام نہ غیروی از انبیاء رد بر یہودیت کہ می گفتند کہ زعم می کردند کہ کشتند و بر دار کشیدہ اند او را‘ یا برای نزدیک بودن اجل او تا دفن کردہ شود در زمین زیرا چہ نمی سزد، ہیچ آفریدہ از خاک را اینکہ بمیرد در غیر خاک‘ یا بجہت آنکہ دعا کردہ بود خدا را وقتیکہ دید صفت محمد مصطفےٰ و امت او را اینکہ بگرداند عیسیٰ را از ایشاں‘ پس قبول کرد خدائے تعالیٰ دعا او را و باقی داشت اورا تا نزول کند در آخر زمان و تجدید کند امر اسلام را پس‘ اتفاق شود خروج دجال پس بکشد دجال را‘ یا بجہت تکذیب نصاریٰ و اظہار بغی ایشاں در دعوٰی ایشاں اباطیل را یا بجہت اقرب بودن اوست از دیگراں بآنحضرت در زمان“۔
(شرح شیخ الاسلام بر حاشیہ تیسیر القاری ص ۱۷۵ج ۶)
ترجمہ : ”اور علما نے کہا ہے کہ صرف عیسیٰ ؑ کا نزول مقدر ہوا کسی اور نبی کا نہیں‘ اس کی حکمت یہ ہے کہ اس سے ایک تو یہود پر رد کرنا مقصود تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے آپ کو قتل کر
ڈالا اور سولی دے دی۔ یا اس لئے کہ ان کی موت کا وقت قریب آچکا ہوگا اس لئے ان کو نازل کیا جائے گا تاکہ زمین میں دفن کئے جائیں اس لئے ، جو شخص مٹی سے پیدا ہوا اس کی موت بھی زمین پر ہی ہونی چاہئے، یا اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے جب آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت کی صفت ملاحظہ کی تو حق تعالیٰ شانہ سے دعا کی تھی کہ ان کو بھی امت محمدیہ میں شامل کر دے۔ حق تعالیٰ شانہ نے ان کی دعا قبول فرمالی اور ان کو زندہ رکھا یہاں تک کہ وہ آخری زمانہ میں نزول فرمائیں گے اور دین اسلام کی تجدید کریں گے۔ اس وقت دجال نکلا ہوا ہو گا۔ پس اس کو قتل کریں گے۔ یا ان کا نزول نصاریٰ کی تکذیب اور ان کے ظلم وتعدی اور ان کے غلط اور باطل دعوؤں کی تردید کے لئے ہو گا۔ یا اس کی وجہ سے کہ وہ دیگر انبیا کرام علیہم السلام کی بہ نسبت آنحضرت ﷺ سے باعتبار زمانہ کے اقرب ہیں“۔
شیخ احمد سلاویؒ :
الشیخ المحقق العلامہ احمد بن محمد بن ناصر السلاوی اپنے رسالہ ”تعظیم الاتفاق فی آیۃ اخذ المیثاق“ میں لکھتے ہیں :
ولہذا یأتی عیسی علیہ السلام فی آخر الزمان حاکماً بشریعتہ وہو نبی کریم علی حالہ وہو واحد من ہذہ الأمۃ أیضاً بل صحابی لاتباعہ لشرع المصطفی ولاجتماعہ بہ فی لیلۃ الإسراء وہو حی.
(بحوالہ جواہر البحار للنبهاني ص١٤٨٦)
ترجمہ : ”اور اسی بنا پر عیسیٰ ؑ آخری زمانے میں آکر آپ ﷺ کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے، اور وہ بدستور نبی مکرم ہوں گے، اور وہ اس امت کے افراد میں سے ایک فرد بھی ہوں گے، بلکہ وہ صحابی ہوں گے، کیونکہ وہ شریعت مصطفویہ (علی صاحبہا
الصلوۃ و السلام) کی پیروی کریں گے‘ اور اس لئے کہ انہوں نے بحالت حیات شب معراج میں آنحضرت ﷺ سے ملاقات کی ہے“۔ نیز اسی میں آگے چل کر لکھتے ہیں :
لا شك أن عيسى حين نزوله لا تسلب عنه نبوته ولا رسالته بل ينزل متصفا بهما كما كان فى الدنيا قبل رفعه ولكنه يحكم إذا بشريعة المصطفى ﷺ وذلك عين الاتباع قطعاً إذ لو لم يكن متبعا له ما حكم بشرعه فقد جمع بين تمام نبوته ورسالته فى نفسه وبين اتباعه فى الحكم والشرع لنبينا ﷺ كيف وقد عدوه من هذه الأمة بل من الصحابة لملاقاته المصطفى ﷺ ليلة الإسراء وهو حى فثبت له الصحبة وهو نبى على حاله فهو نبى صحابى تابع لشرع نبينا مجتهد ولا محذور.
(حواله بالا ص ۱۴۹)
ترجمہ : ”اس میں شک نہیں کہ عیسیٰ ؑ جب نازل ہوں گے تو ان سے نبوت ورسالت سلب نہیں کی جائے گی‘ بلکہ وہ نازل ہوں گے اور ان دونوں کے ساتھ متصف ہوں گے‘ جیسا کہ اٹھائے جانے سے پہلے دنیا میں ان کے ساتھ متصف تھے‘ لیکن وہ نازل ہو کر شریعت مصطفیٰ ﷺ کے مطابق حکم کریں گے‘ اور یہ قطعاً عین اتباع ہے‘ اس لئے کہ اگر وہ متبع نہ ہوتے تو آپ ﷺ کی شریعت کے مطابق حکم نہ فرماتے۔پس وہ اپنی ذاتی نبوت ورسالت‘ اور آنحضرت ﷺ کے حکم وشریعت کی پیروی‘ ان دونوں باتوں کے جامع ہوں گے۔ اور علما نے حضرت عیسیٰ ؑ کو اس امت میں بلکہ صحابہ میں سے شمار کیا ہے‘ کیونکہ انہوں نے بحالت حیات آنحضرت ﷺ سے شب معراج میں ملاقات کی۔ پس ان کو صحابیت کا شرف بھی حاصل ہے اور وہ بدستور نبی بھی ہیں‘ پس وہ نبی ہیں‘ صحابی ہیں‘ آنحضرت ﷺ کی شریعت کے تابع ہیں اور اس میں مجتہد ہیں“۔
شاہ رفیع الدینؒ :
حضرت مسند الہند شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ (م ۱۲۳۹ھ) نے اپنے فارسی رسالہ ”قیامت نامہ“ میں ظہور مہدی و حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کو آٹھ صفحات میں نہایت بسط و تفصیل سے بیان کیا ہے۔ (دیکھئے ”قیامت نامہ“ فارسی ص ۳ تا ۱۱)
نواب قطب الدین دہلویؒ :
الشیخ الفقیہ المحدث نواب قطب الدین ابن محی الدین الحنفی الدہلوی ( ۱۲۲۴ - ۱۲۸۹ھ ) ”مظاہر حق شرح مشکوۃ“ میں ”باب نزول عیسیٰ علیہ السلام“ کے ذیل میں لکھتے ہیں : ”بالتحقیق ثابت ہوا ہے صحیح حدیثوں سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے آسمان سے زمین پر‘ اور ہوں گے تابع دین محمد ﷺ کے اور حکم کریں گے آنحضرت ﷺ کی شریعت پر“۔
ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں : ”اور ذکر کیا حضرات نے ان دس نشانیوں میں سے نکلنا آفتاب کا جانب غروب ہونے سے چنانچہ بیان اس کا حدیث میں آوے گا‘ اور ذکر کیا آنحضرت ﷺ نے اترنا عیسیٰ بیٹے مریم کا آسمان سے زمین پر“۔ (ص ۳۸۷‘ ج ۴)
شیخ حسن شطیؒ :
الشیخ الامام حسن بن عمر بن معروف الشطی الدمشقی الحنبلی (۱۲۰۵‘ ۱۲۷۴ھ) مختصر لوامع الانوار البہیۃ میں لکھتے ہیں :
العلامة الثالثة : أنه ينزل من السماء السيد المسيح ابن مريم عليه السلام فنزوله ثابت فى الكتاب والسنة وإجماع الأمة. ترجمہ: ”قیامت کی علامت کبریٰ میں سے تیسری علامت یہ ہے کہ حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، پس ان کا نازل ہونا کتاب وسنت اور اجماع امت سے ثابت ہے۔“
علامہ محمد بن محمد الامیرؒ:
الشيخ العلامہ محمد الامیر (م: ۱۲۲۶) شرح جوہرة التوحید کے حاشیہ میں لکھتے ہیں :
(قوله : فلا تبتدأ) احتراز عن عيسى فليس كأنبياء بنى إسرائيل بعد موسى فإنهم ابتدئت نبوتهم بعده وإرسال موسى مقيد بحياته فهم مستقلون وأما عيسى بعد محمد فكأحد المجتهدين بالقرآن لأنذركم به ومن بلغ.
(حاشية الأمير على شرح جوهرة التوحيد ص ۱۱ أزهريه مصر ۱۳۰۹هـ)
ترجمہ : ”مصنف کا قول ”پس نئی نبوت نہیں آئے گی“ یہ احتراز ہے حضرت عیسیٰ ؑ کی تشریف آوری سے، پس حضرت عیسیٰ ؑ کی حیثیت موسیٰ ؑ کے بعد آنے والے انبیاء بنی اسرائیل جیسی نہیں ہوگی، کیونکہ ان کی نبوتوں کی ابتدا موسیٰ ؑ کے بعد ہوئی اور موسیٰ ؑ کی نبوت ان کی حیات تک محدود تھی، پس وہ اپنی نبوت میں مستقل تھے۔ لیکن رہا آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ کا نازل ہونا تو ان کی حیثیت اس امت کے ایک مجتہد کی ہوگی اور آنحضرت ﷺ کی نبوت قیامت تک کیلئے ہے۔“
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ :
حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی (م ۱۲۹۷ھ) قدس سرہ ”آب حیات“ میں لکھتے ہیں :
باقی رہا یہ شبہ کہ اس صورت میں مناسب یہ تھا کہ (دجال) خود حضرت سرور عالم ﷺ کے ہاتھ سے مقتول ہوتا ،کیونکہ اضداد رافع اضداد ہوا کرتے ہیں، سو اس صورت میں ضد مقابل دجال آپ تھے، نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۔
سو اس کا جواب یہ ہے کہ تضاد ایمان وکفر مسلم ہے ،پر اضداد کثیر المراتب میں ہر مرتبہ کیف ما اتفق دوسرے ضد کے ہر ہر مرتبہ کا مضاد نہیں ہوا کرتا ،سو دجال ہر چند مراتب موجودہ کفر میں سب میں بالا ہے ،پر مقابل مرتبہ محمدی ﷺ نہیں ہو سکتا.......ہاں ! حضرت عیسیٰ علیہ السلام البتہ دجال کے لئے مد مقابل ہوں گے ۔
بالجملہ دجال لعین رسول اللہ ﷺ کی نسبت اگرچہ باعتبار کمال ایمان وکفر ضد مقابل ہے ،مگر باعتبار درجہ نبوی ﷺ و درجہ دجالی باہم تضاد نہیں ،بلکہ دجال باعتبار تقابل مرتبہ سافل میں ہے ،کہ ادھر اور انبیا علیہم السلام بھی درجہ نبوی سے فروتر ہیں ،اس لئے بالضرور انبیا بقیہ میں سے کوئی اور نبی اس کے لئے ضد مقابل ہو گا ،سو بدیں نظر کہ اصل ایمان انقیاد و تذلل ہے ،جس کا خلاصہ عبدیت ہے اور اصل کفر ابا وامتناع ہے ،جس کا حاصل تکبر ہے ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مسیح دجال لعین میں تقابل نظر آتا ہے ،اس لئے کہ
- (۱) حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے حق میں فرماتے ہیں : اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہ اور دجال
لعین دعویٰ الوہیت کرے گا
- (۲) ادھر جس قسم کے خوارق مثل احیا موتیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے صادر
ہوئے تھے اسی طرح کے خوارق اس مردود سے ہوں گے ،
- (۳) پھر بدیں ہمہ دعویٰ عبودیت نصاریٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معبود بنا لینا
جمع کرنا ضدین یعنی داعیہ ازالہ منکر و التزام منکر مذکور ہے،
(۴) پھر اس پر ان کا کیا گویا رسول اللہ ﷺ ہی کا کیا ہے اس لئے کہ اقتداء انبیاء سابقین ، سید المرسلین تو معلوم ہی ہو چکا،
(۵) پھر دعویٰ عبودیت حضرت عیسیٰ ؑ اس بات پر شاہد ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بہ نسبت حضرت اقدس سید عالم علیہ الصلوٰۃ والسلام نائب خاص ہیں۔ منصب بشارت آمد آمد سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام پر مامور ہوئے گویا حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کے اتباع کو آپ کے حق میں مقدمتہ الجیش سمجھئے، چنانچہ انجام کار شامل حال امت محمدی ﷺ ہو غنیم اکبر دجال موعود کو قتل کرنا زیادہ تر اس کا شاہد ہے کہ اس لئے کہ وقت اختتام سفر و مقابلہ غنیم و بغاوت سپاہیان مقدمتہ الجیش بھی شریک لشکر ظفر پیکر ہو جاتے ہیں“۔
(آب حیات ملخصاً ص ۱۷۵-۱۸۱- طبع جدید ملتان)
چودھویں صدی
حسنین محمد مخلوف :
دیار مصر کے مفتی شیخ حسنین محمد مخلوف (المتوفی ۱۳۵۵ ھ) اپنی تفسیر ”صفوۃ البیان لمعانی القرآن“ میں حیات و نزول عیسیٰ ؑ کے بارہ میں لکھتے ہیں:
واعلم أن عيسى عليه السلام لم يُقتل ولم يُصلب ، كما قال تعالى : ﴿وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ﴾ وقال : ﴿وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا﴾ ، فاعتقاد النصارى القتل والصلب كفر لا ريب فيه ، وقد أخبر الله تعالى أنه رفع إليه عيسى ، كما قال : ﴿وَرَافِعُكَ إِلَيَّ﴾ وقال : ﴿بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ﴾ فيجب الإيمان به . والجمهور على أنه رفع حيّا من غير موت ولا غفوة بجسده وروحه إلى السماء . والخصوصية له عليه السلام هى فى رفعه
بجسده وبقاءه فيها إلى الأمد المقدّر له .
(صفوة البيان لمعاني القرآن للشيخ حسنين محمد مخلوف صـ٨٢)
﴿وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا﴾ متيقنين أنه هو، بل رفعه الله إلى السماء التي لا حكم فيها إلا لله تعالى، وطهره من الذين كفروا .
١٥٩ - ﴿وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ﴾ أى ما أحدٌ من أهل الكتاب الموجودين عند نزول عيسى عليه السلام آخر الزمان إلا ليؤمننّ بأنه عبدُ الله ورسولُه وكلمتـه، قبـل أن يموت عيسى وتكون الأديان كلُّها دينًا واحدًا، وهو دين الإسـلام الحنيف، دينُ إبراهيم عليـه السـلام، ونزولُ عيسى عليه السلام ثابتٌ فى الصحيحين، وهو من أشراط الساعة .
(صفوة البيان لمعاني القرآن للشيخ حسنين محمد مخلوف صـ٨٢)
١١٧ - ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى﴾ فلما أخذتنى وافيًا بالرفع إلى السماء حيّا، إنجاءً لى مما دبّروه من قتلى، من التوفّى وهو أخذ الشيء وافيًا أى كاملا، وقد جاء التوفّى بهذا المعنى فى قوله تعالى :
﴿يَا عِيسَى إِنِّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾، ولا يصحّ أن يُحمل على الإماتة، لأن إماتة عيسى فى وقت حصار أعداءه له ليس فيها ما يسوّغ الامتنان بها، ورَفْعُه إلى السماء بعد الموت جثّةً هامدةً سُخفٌ من القول، وقد نزّه الله السماء أن تكون قبورًا لِجُثَثِ الموتى، وإن كان الرفع بالروح فقط، فأىّ مزيّة لعيسى فى ذلك على سائر الأنبياء، والسماء مستقرّ أرواحهم الطاهرة، فالحق أنه عليه السلام رفع إلى السماء حيّا بجسده وقد جعله الله وأمه آية، والله على كل شىء قدير .
(صفوة البيان لمعاني القرآن للشيخ حسنين محمد مخلوف صـ١٦٧)
ترجمہ : واضح ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نہ تو قتل کیا گیا اور نہ سولی دی گئی۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے: ”حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی چڑھایا، لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا“ اور فرمایا : ”اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا“ پس نصاریٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کئے جانے اور سولی چڑھائے جانے کا اعتقاد بلاشبہ کفر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھالئے گئے، جیسا کہ فرمایا : ”میں تم کو اپنی طرف اٹھائے لیتا ہوں“۔ اور فرمایا ”بلکہ اللہ نے اپنی طرف اٹھالیا“ پس اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ اور جمہور علماء امت کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نیند اور بے ہوشی کے بغیر جسم اور روح سمیت زندہ آسمان پر اٹھایا گیا ہے، اور ان کی خصوصیت بھی تب ہی ثابت ہوتی ہے کہ انہیں روح مع الجسد آسمان پر اٹھالیا گیا ہو، اور وہ ایک وقت مقررہ تک آسمان پر رہیں“۔
اس سے آگے لکھتے ہیں:
”اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا“۔ یعنی ان کو یہ یقین نہیں تھا کہ یہ شخص جس کو ہم سولی دے رہے ہیں وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو تو آسمان پر اٹھالیا جہاں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کا حکم نہیں چلتا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک کر دیا ان لوگوں کی صحبت سے جنہوں نے کفر کیا۔ ”اور نہیں رہے گا اہل کتاب میں سے ایک شخص بھی مگر ایمان لائے گا ان پر ان کی موت سے پہلے“ جو شخص موجود ہو گا وہ ان پر ضرور ایمان لائے گا اہل کتاب میں سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے، رسول اور اس
کے کلمہ ہیں۔ اس وقت تمام ادیان ختم ہو جائیں گے صرف دین اسلام یعنی ملت ابراہیم باقی رہ جائے گی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا صحیحین کی احادیث سے ثابت ہے اور وہ منجملہ علامات قیامت میں سے ہے۔
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
”پھر جبکہ آپ نے مجھ کو اٹھا لیا“ یعنی جب مجھ کو پورا پورا لے لیا آسمان کی طرف زندہ اٹھا کر ! مجھے قتل کرنے کے جو منصوبے بنا رہے تھے ان سے نجات دینے کے لئے۔
”توفی“ کے معنی ہیں کسی شے کو پورا پورا لے لینا‘ اور ” توفی“ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں :
”اے عیسیٰ علیہ السلام (کچھ غم نہ کرو) بے شک میں تم کو قبضے میں لینے والا ہوں اور (فی الحال) میں تم کو اپنی طرف اٹھائے لیتا ہوں اور تم کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جو منکر ہیں۔“
(یہاں) توفی کو موت دینے کے معنی پر محمول کرنا صحیح نہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے دشمنوں کے محاصرہ میں موت دینا‘ کوئی قابل امتنان امر نہیں‘ اسی طرح اس سے ان کے مردہ جسم کا آسمان پر اٹھایا جانا مراد لینا بھی کم عقلی کی بات ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو اس سے منزہ رکھا ہے کہ وہاں مردوں کی قبریں بنائی جائیں‘ اگر رفع سے محض رفع روح مراد لی جائے تو اس میں دوسرے انبیاء کی نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کیا خصوصیت رہ جاتی ہے جبکہ آسمان تو تمام ارواح مقدسہ کا مستقر ہے‘ پس حق یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجسد عنصری آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کی ماں کو ایک نشان بنایا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہیں۔“
علامہ انور شاہ کشمیریؒ :
محدث العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیری (م ۱۳۵۳ھ) اپنی تالیف ”تحیۃ الاسلام“ میں لکھتے ہیں :
”جاننا چاہئے کہ اس عالم میں بھی آخرت کے کچھ نمونے موجود ہیں ...... اور قرب قیامت کا زمانہ تو خرق عادت کا وقت ہے اور نبوت، دجل وفریب کے مقابلہ اور مقاومت کے لئے ہے، جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ : ”اگر وہ (دجال) میری موجودگی میں آیا تو اس کے مقابلہ کے لئے میں خود موجود ہوں“ اور عیسیٰؑ تو درحقیقت اس باب میں دجال کی بالکل ضد ہیں، پس جب دنیا ہی میں آخرت کے نمونے موجود ہیں تو قیامت کے آنے کو کیوں مستبعد سمجھا جائے؟ اور علامات قیامت کا کیوں انکار کیا جائے؟ اور جب ویسے بھی دنیا میں دجل، سحر، شعبدہ بازی جیسے اعمال بہرحال پائے جاتے ہیں تو ان کے مقابلے میں معجزات حسیہ کا وجود بھی ضروری ہے، کیونکہ سنت اللہ یونہی جاری ہے اور چونکہ دجال، حضرت مسیح علیہ السلام کا نام چرا لے گا (اور خود مسیح بن بیٹھے گا) تو اس کے مقابلہ میں اس کی تردید وتکذیب کی غرض سے مسیح علیہ السلام کا نزول ضروری ہوا، اور چونکہ مسیح علیہ السلام خود من جملہ ارواح کے ہیں اور نمونہ آخرت ہیں اس لئے ان کی حیات کا طویل ہونا بھی (کوئی مستبعد چیز نہیں بلکہ) سنت اللہ ہے۔“
(تحیۃ الاسلام ص ۸)
شیخ زاہد الکوثریؒ :
شیخ الاسلام علامہ شیخ محمد زاہد الکوثری (م ۱۳۷۲ھ) اپنے رسالہ ”نظرة عابرة فی مزاعم من ینکر نزول عیسیٰ علیہ السلام“ میں لکھتے ہیں :
”کتاب اللہ، سنت متواترہ اور اجماع امت عقیدۂ نزول مسیح علیہ
السلام پر متفق ہیں“۔
ص ۳۶ پر کتاب اللہ کی روشنی میں حیات و نزول مسیح علیہ السلام پر طویل بحث کے بعد فرماتے ہیں:
”اور یہ بھی واضح ہوا کہ تنہا قرآنی نصوص ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے اور آخری زمانے میں ان کے نازل ہونے کو قطعی طور پر ثابت کرتے ہیں، کیونکہ ایسے خیالی احتمالات کا کوئی اعتبار نہیں، جو کسی دلیل پر مبنی نہ ہوں، پھر جبکہ قرآنی تصریحات کے ساتھ احادیث متواترہ بھی موجود ہوں اور خلفا عن سلف تمام امت اس عقیدہ کی قائل چلی آتی ہو، اور دورِ قدیم سے لیکر آج تک اس عقیدہ کو کتب عقائد میں درج کیا جاتا رہا ہو تو اس کی قطعیت میں کیا شبہ باقی رہ سکتا ہے؟ فماذا بعد الحق الا الضلال (اب حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا رکھا ہے)“۔
ص ۳۷ پر فرماتے ہیں:
”اور ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ قرآن حکیم کے نصوص قطعیہ رفع ونزول پر دلالت کرتے ہیں، اور ہر زمانے میں ائمہ دین، علمائے امت، بالخصوص مفسرین قرآنی آیات کی یہی مراد سمجھتے چلے آتے ہیں“۔
ص ۳۸ پر فرماتے ہیں:
”پس جو شخص رفع ونزول کا انکار کرتا ہے، وہ ملتِ اسلامیہ سے خارج ہے، کیونکہ وہ ہوائے نفس کی رو میں بہ کر کتاب وسنت کو پشت انداز کرتا ہے، اور ملتِ اسلامیہ کے اس قطعی عقیدہ سے روگردانی کرتا ہے جو کتاب وسنت سے ثابت ہے“۔
ص ۴۰ پر فرماتے ہیں:
”اطراف حدیث پر نظر کرنے کے بعد نزول مسیح کا انکار بیحد خطرناک ہے۔ اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ رفع ونزول کے مسئلہ میں احادیث متواترہ کا وجود قطعی ہے اور بزدویؒ نے ”بحث متواتر“ کے آخر میں تصریح کی ہے کہ میں تصریح کی ہے کہ
”متواتر کا منکر اور مخالف کافر ہے“ ۔ شیخ بزدویؒ نے متواتر کی مثال میں ”قرآن حکیم‘ نماز پنجگانہ‘ تعداد رکعات‘ اور مقادیر زکوٰۃ“ جیسی چیزوں کا ذکر کیا ہے اور کتب حدیث میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر‘ مقادیر زکوٰۃ سے کسی طرح کم نہیں (پھر جب مقادیر زکوٰۃ کا منکر کافر ہے تو نزول عیسیٰ علیہ السلام کا منکر کیوں کافر نہ ہو گا؟)“۔
ص ۴۷ پر فرماتے ہیں : ”نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ صرف کسی ایک مذہب کا عقیدہ نہیں‘ بلکہ یہ ”اجماعی عقیدہ“ ہے‘ کوئی مذہب ایسا نہیں ملے گا جو اس کا قائل نہ ہو‘ چنانچہ فقہ اکبر بروایت حماد‘ فقہ اوسط بروایت ابو مطیع‘ الوصیۃ بروایت ابی یوسف اور عقیدہ طحاوی سے واضح ہے‘ کہ امام ابو حنیفہؒ اور آپ کے تمام متبعین عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا عقیدہ رکھتے ہیں.... نصف امت تو یہی ہوئی..... اسی طرح امام مالکؒ اور تمام مالکیہ‘ اور تمام شافعیہ سب کے سب اس عقیدہ پر متفق ہیں‘ امام احمد بن حنبلؒ نے عقائد اہل سنت کے بیان میں جو چند خطوط اپنے شاگردوں کے نام لکھے تھے ان سب میں یہ عقیدہ مذکور ہے‘ یہ رسائل اہل علم کے یہاں صحیح سندوں سے ثابت اور مناقب احمد لابن جوزی اور طبقات حنابلہ لابی یعلی میں مدون ہیں۔ اسی طرح ظاہریہ بھی نزول عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں‘ چنانچہ ابن حزم کی تصریح‘ کتاب الفصل ص ۲۴۹ ج ۳ میں اور المحلی ص ۱۹ ج ۱‘ ۹۱ ج ۷ میں موجود ہے‘ بلکہ معتزلہ بھی اس کے قائل ہیں جیسا کہ علامہ زمخشری کے کلام سے واضح ہے‘ اسی طرح شیعہ بھی اس کے قائل ہیں۔ اب ایسا مسئلہ جس کی دلیل تمام صحاح‘ تمام سنن اور تمام مسانید میں موجود ہو اور تمام اسلامی فرقے جس کے قائل ہوں اس میں مذہبی تعصب کا گمان کیسے ہو سکتا ہے؟“۔
حکیم الامت اشرف علی تھانویؒ:
حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ (م ١٣٦٢ھ) تفسیر بیان القرآن میں آیت کریمہ ”ومکروا ومکر اللہ“ کے ذیل میں لکھتے ہیں:
” ف : اس آیت میں چند وعدے مذکور ہیں جو اس وقت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائے گئے۔ ایک وقت موعود پر طبعی وفات دینا جس سے مقصود بشارت دینا تھا حفاظت من الاعداء کا یہ وقت موعود اس وقت آوے گا جب قرب قیامت کے زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر تشریف لاویں گے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے۔
دوسرا وعدہ عالم بالا کی طرف فی الحال اٹھالینے کا، چنانچہ یہ وعدہ ساتھ کے ساتھ پورا کیا گیا۔ جس کے ایفاء کی خبر سورہ نساء میں دی گئی ہے۔ (رفعہ اللہ الیہ) اب زندہ آسمان پر موجود ہیں اور اگرچہ پہلا وعدہ پیچھے پورا ہو گا لیکن مذکور پہلے ہے کیونکہ یہ مثل دلیل کے ہے وعدہ دوم کے لئے اور دلیل رتبتاً مقدم ہوتی ہے اور واو چونکہ ترتیب کے لئے موضوع نہیں لہٰذا اس تقدیم و تاخیر میں کوئی اشکال نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔“
شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانیؒ:
شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ (م ١٣٦٩ھ) تفسیر عثمانی میں ”بل رفعہ اللہ الیہ“ کے تحت لکھتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ ان کے قول کی تکذیب فرماتا ہے کہ یہودیوں نے نہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا یہود جو مختلف باتیں اس بارہ میں کہتے ہیں اپنی اپنی اٹکل سے کہتے ہیں اللہ نے ان کو شبہ میں ڈال دیا۔ خبر کسی کو بھی نہیں واقعی بات یہ ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا، اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں پر قادر ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے قصہ یہ ہوا کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح
علیہ السلام کے قتل کا عزم کیا تو پہلے ایک آدمی ان کے گھر میں داخل ہوا حق تعالیٰ نے ان کو تو آسمان پر اٹھا لیا اور اس شخص کی صورت حضرت مسیح علیہ السلام کی صورت کے مشابہ کر دی جب باقی لوگ گھر میں گھسے تو اس کو مسیح سمجھ کر قتل کر دیا پھر خیال آیا تو کہنے لگے کہ اس کا چہرہ تو مسیح کے چہرہ کے مشابہ ہے اور باقی بدن ہمارے ساتھی کا معلوم ہوتا ہے کسی نے کہا کہ یہ مقتول مسیح ہے تو ہمارا آدمی کہاں گیا اور ہمارا آدمی ہے تو مسیح کہاں ہے اب صرف اٹکل سے کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ کہا علم کسی کو بھی نہیں حق یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ ہرگز مقتول نہیں ہوئے بلکہ آسمان پر اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا اور یہود کو شبہ میں ڈال دیا۔
ف : حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ موجود ہیں آسمان پر جب دجال پیدا ہوگا تب اس جہان میں تشریف لا کر اسے قتل کریں گے اور یہود اور نصاریٰ ان پر ایمان لائیں گے کہ بیشک عیسیٰ زندہ ہیں مرے نہ تھے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے حالات اور اعمال کو ظاہر کریں گے کہ یہود نے میری تکذیب اور مخالفت کی اور نصاریٰ نے مجھ کو خدا کا بیٹا کہا۔‘‘
چودھویں صدی میں مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ علما محققین نے نہ صرف حیات و نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی تصریحات فرمائیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی بھرپور تردید بھی کی‘ اس موضوع پر لکھی گئی تمام کتب اور ان کے اقتباسات کا احاطہ مشکل ہے۔ تاہم مناسب ہو گا کہ جن اکابرین نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے ان کی ایک منتخب فہرست پیش کر دی جائے۔
نام تالیف: حضرت مولانا محمد لدھیانویؒ فتاویٰ قادریہ حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانویؒ فتاویٰ قادریہ حضرت مولانا عبدالعزیز لدھیانویؒ فتاویٰ قادریہ
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ م ۱۳۲۳ھ الحل المفہم لصحیح مسلم‘ الکوکب الدری ج ۲ لامع الدراری‘ مولانا محمد علی مونگیریؒ م ۱۳۴۶ھ حقیقت المسیح‘ شہادت آسمانی‘ معیار المسیح شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ م ۱۳۳۹ھ ترجمہ شیخ الہند‘ مولانا احمد رضا خانؒ م ۱۳۴۰ھ الجرز الدیانی علی المرتد القادیانی‘ السوء العقاب علی المسیح الکذاب مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ م ۱۳۸۱ھ ختم نبوت حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ م ۱۳۸۵ھ فیض الباری‘ صدائے ایمان‘ پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ م ۱۳۵۶ھ سیف چشتیائی‘ شمس الہدایہ فی حیات المسیح حضرت مولانا مفتی کفایت اللہؒ م ۱۳۷۲ھ کفایت المفتی جلد اول مولانا سید حسین احمد مدنیؒ م ۱۳۷۷ھ ظہور مہدی مولانا عبد الشکور لکھنویؒ صحیفہ رنگون بر دجال زبوں مولانا احمد علی لاہوریؒ م ۱۳۸۱ھ تفسیر و ترجمہ قرآن‘ مسلمانوں کے مرزائیت سے نفرت کے اسباب اور مرزا کے متضاد اقوال مولانا حفظ الرحمان سیوہارویؒ م ۱۳۸۲ھ فلسفہ ختم نبوت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ م ۱۳۹۴ھ القول المحکم فی نزول ابن مریم‘ حیات عیسیٰ علیہ السلام‘ لطائف الحکم‘ فی اسرار نزول عیسیٰ بن مریم‘ تفسیر معارف القرآن مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ م ۱۳۶۸ھ شہادت مرزا‘ تفسیر ثنائی مولانا مفتی محمد شفیعؒ م ۱۳۹۵ھ ختم نبوت کامل‘ مسیح موعود کی پہچان‘ مولانا محمد یوسف بنوریؒ م ۱۳۹۷ھ مقدمہ عقیدۃ الاسلام مولانا لعل حسین اخترؒ م ۱۳۹۳ھ احتساب قادیانیت (مجموعہ رسائل) میر ابراہیم سیالکوٹیؒ م ۱۳۷۵ھ الخبر الصحیح عن قبر المسیح‘ شہادۃ القرآن حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ م ۱۳۴۷ھ بذل المجہود مولانا محمد حسین بٹالوی خیالی مسیح اور اس کے فرضی حواری سے گفتگو مولانا مرتضیٰ خان میکشؒ م ۱۳۹۷ھ البرز شکن گرز المعروف مرزائی نامہ‘ الہامی افسانے‘
مولانا فقیر محمد جہلمیؒ م ۱۳۶۵ھ ترجمہ تصدیق المسیح حضرت مولانا مفتی محمودؒ م ۱۴۰۰ھ المتنبی القادیانی
پندرھویں صدی
اسی طرح پندرھویں صدی کے اکابر کے بھی صرف نام، سن وفات اور تالیف کا ذکر کیا گیا ہے۔ البتہ وہ اکابر جو بقید حیات ہیں ان کے صرف نام اور تصانیف کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے۔
نام تالیف: حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ م ۱۴۰۱ھ محضر نامہ حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ م ۱۴۰۲ھ الابواب والتراجم لصحیح البخاری حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ م ۱۴۰۳ھ خاتم النبیین مولانا مفتی ولی حسن خان ٹونکیؒ م ۱۴۱۵ھ لاہوری اور قادیانی دونوں کافر ہیں قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ حضرت مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک م ۱۴۰۹ھ ملت اسلامیہ کا موقف مولانا محمد اسحاق سندیلوی م ۱۴۱۶ھ مسئلہ ختم نبوت علم و عقل کی روشنی میں‘ آخری نبی
پندرھویں صدی کے وہ اکابر جو بقید حیات ہیں:
شیخ الاسلام عبد الفتاح ابو غدہ مدظلہ مقدمہ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح اور اس کی تحقیق و تخریج‘ حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی مدظلہ قادیانیت مولانا محمد منظور نعمانی مدظلہ قادیانی کیوں مسلمان نہیں‘ قادیانیت پر غور کرنے کا سیدھا راستہ‘ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ ختم نبوت قرآن و سنت کی روشنی میں حضرت مولانا شیخ محمد علی صابونی مدظلہ صفوۃ التفاسیر‘ مختصر ابن کثیر‘
حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینی مدظلہ درہ زاہدیہ بر فرقہ احمدیہ ، مسلمان قادیانیوں کو کافر کیوں سمجھتے ہیں؟ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین مدظلہ قادیانی کا جواب‘ حضرت مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہ ملت اسلامیہ کا موقف‘
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد و آلہ واصحابہ اجمعین
محمد یوسف لدھیانوی ۲۴/ ۴/ ۱۴۰۱ھ
مرزا غلام احمد قادیانی کا مقدمہ
عقل و انصاف کی عدالت میں
اہم مباحث کی فہرست
مرزا قادیانی کے خلاف استغاثہ
باب اول حیات مسیح علیہ السلام کا ثبوت ، کتاب وسنت ، اجماع ۲۷۲
امت اور مرزا قادیانی کے الہامات سے ۲۷۴
باب دوم : مدعاعلیہ نے اپنا عقیدہ بدل لیا ۲۸۸
باب سوم : مدعاعلیہ کے تبدیلی عقیدہ کی بنیاد ۲۹۰
باب چہارم : سابقہ عقیدہ کے بارے میں مدعاعلیہ کی عذر تراشیاں ۳۰۴
باب پنجم : مدعاعلیہ کی اپنے سابقہ عقیدے کے بارے میں گل افشانیاں ۳۱۹
ایک اور قابل غور نکتہ ۳۲۱
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ۳۲۴
باب ششم : مدعاعلیہ کی گستاخیاں ۳۳۴
مسلمانوں نے نزول مسیح کی حقیقت کو نہیں سمجھا ۳۳۸
سلف صالحین صحابہ و تابعین کو بھی حقیقت معلوم نہیں ۳۴۰
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی حقیقت تک رسائی نہیں ہوئی ۳۴۱
پہلے اللہ تعالیٰ نے بھی نہیں سمجھا ۳۴۲
مرزا کا مقدمہ احکم الحاکمین کی عدالت میں ۳۵۵
علمائے امت کی طرف سے مرزا کو مباہلہ کی دعوت ۳۵۹
مرزا قادیانی کا مباہلہ سے گریز و فرار ۳۶۷
مولانا غزنوی سے حافظ محمد یوسف کا مباہلہ ۳۶۹
حافظ محمد یوسف کے مباہلہ کے نتائج
مرزا قادیانی مباہلہ کے شکنجے میں ۳۸۴
مباہلہ کا انجام ۳۸۷
۲
مقدمہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمدللہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ
مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۱ء تک اس اسلامی عقیدہ کا اظہار کرتا رہا کہ قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، لیکن ۱۸۹۱ء میں اس نے یہ دعویٰ کیا کہ اسے ”خاص الہام“ کے ذریعہ بتایا گیا ہے کہ ”مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہوچکا ہے۔ اور اس کے رنگ میں ہوکر وعدہ کے موافق تُو آیا ہے۔“
(تذکرہ طبع سوم ص ۱۸۳۔ ازالہ اوہام ص ۵۶۱۔ ۵۶۲)
مرزا صاحب نے اس الہام کی بنیاد پر اسلامی عقیدہ سے انحراف کرتے ہوئے مسیح علیہ السلام کے فوت ہوجانے اور اپنے ”مسیح موعود“ ہونے کا اعلان کردیا۔ زیرِ نظر رسالہ میں مرزا صاحب کے اس انحراف کے خلاف اہلِ عقل و فہم کی ”عدالتِ انصاف میں مقدمہ“ دائر کرکے ان سے دیانتدارانہ فیصلہ کی درخواست کی گئی ہے۔
رسالہ ایک ابتدائیہ، چھ ابواب اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔
- ○ ابتدائیہ میں اس مقدمہ کے تمہیدی امور درج ہیں۔
- ○ بابِ اول میں قرآن کریم، حدیث متواتر، اجماع امت اور مدعا علیہ
کے الہامات کے حوالے دیئے گئے ہیں۔ جن کی بنا پر مدعا علیہ اسلامی عقیدہ (حیات و نزول مسیح علیہ السلام) کا اعلان و اظہار کرتا تھا۔
۳
- ○ باب دوم میں مدعا علیہ کے اسلامی عقیدہ سے انحراف کی تفصیل
درج ہے۔
- ○ باب سوم میں مدعا علیہ کے تبدیلیٔ عقیدہ کی الہامی بنیاد پر بحث کی
گئی ہے۔
- ○ باب چہارم میں مدعا علیہ کی ان عذر تراشیوں پر گفتگو کی گئی ہے
جو اس نے اپنے سابقہ عقیدہ پر قائم رہنے کے بارے میں پیش کیں۔
- ○ باب پنجم میں ان گل افشانیوں کا ذکر ہے جو مدعا علیہ نے اپنے
سابقہ اسلامی عقیدہ کے بارے میں کیں۔
- ○ باب ششم میں مدعا علیہ کے دو تعلی آمیز دعووں کا ذکر ہے جن
سے مدعا علیہ کے بارے میں اہل عقل کو صحیح فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔
- ○ خاتمہ میں اس فیصلہ کا حوالہ دیا گیا ہے جو احکم الحاکمین کی عدالت
نے مدعا علیہ کے بارے میں صادر فرمایا۔
اس رسالہ کی تالیف سے مقصود مدعا علیہ کی جماعت کی خیر خواہی ہے‘ کہ اگر توفیق الٰہی دستگیری فرمائے تو یہ حضرات فہم و انصاف سے کام لیں‘ مدعا علیہ کے بارے میں صحیح فیصلہ کر کے آخرت کے عذاب اور قہر الٰہی سے بچ جائیں‘ اور آنحضرت ﷺ کی امت کے ساتھ جنت میں جانے والے بن جائیں۔
مؤلف کو معلوم ہے کہ مذہبی تعصب‘ گروہی عصبیت اور شخصی مفادات‘ دیانت و انصاف کے راستہ میں دیوار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں‘ اور دیانتدارانہ فیصلہ کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں‘ تاہم میں اپنے مخاطب حضرات سے خیر خواہانہ التجا کروں گا کہ عقیدہ کی تصحیح ہر شخص کا اولین فریضہ ہے‘ کل فردائے قیامت میں ہر شخص کو داور محشر کی عدالت میں پیش ہونا ہے‘ وہاں ہر شخص اپنا نامۂ عمل ہاتھ میں لئے حاضر ہوگا‘ نہ اعوان و انصار
۴
مدد کے لئے موجود ہوں گے، نہ چرب زبانی کام دے گی، نہ تاویلات و تسویلات کام آئیں گی۔ ہر شخص کو اپنے عقیدہ و عمل کے بارے میں خود جوابدہی کرنی ہوگی۔ مؤلفِ رسالہ ان تمام حضرات سے، جن میں فہم و انصاف کی کوئی رمق باقی ہے، نہایت خیر خواہی و دل سوزی کے ساتھ درخواست کرتا ہے کہ جو حقائق اس رسالہ میں پیش کئے گئے ہیں، ان پر غور فرما کر آج اپنے عقائد و اعمال کا میزانیہ درست فرمالیں، تاکہ کل داورِ محشر کے سامنے آپ کو شرمندہ نہ ہونا پڑے۔
آخر میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراطِ مستقیم کی ہدایت سے نوازیں، اپنے انعام یافتہ بندوں کی راہ پر مرتے دم تک قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائیں، اور ہر ضلالت و گمراہی سے ہماری حفاظت فرمائیں۔
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ صفوۃ البریۃ سیدنا محمدن النبی الامّی وآلہ وصحبہ اجمعین ۔
۷ / ۱ / ۱۴۱۷ھ محمد یوسف لدھیانوی بروز شنبہ خادم مجلس تحفظ ختم نبوت
۵
ابتدائیہ
بسم الله الرحمن الرحیم الحمد لله وسلام علی عباد الذین اصطفیٰ :اما بعد
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ مسیح موعود ہے، اور اس کے دعوے کی اصل بنیاد حضرت عیسیٰؑ کی حیات و وفات کا مسئلہ ہے، یعنی اگر قرآن وحدیث سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا عقیدہ ثابت ہو تو مرزا صاحب کا دعویٰ غلط ہے اور اگر وفات عیسیٰ کا عقیدہ ثابت ہو تو مرزا صاحب کا دعویٰ زیر بحث آسکتا ہے۔ چنانچہ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
”ایسے شخص کی نسبت، جو مخالف قرآن اور حدیث کوئی اعتقاد رکھتا ہے ولایت کا گمان ہرگز نہیں کرسکتے، بلکہ وہ دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے، اور اگر وہ کوئی نشان بھی دکھاوے تو وہ نشان کرامت متصور نہیں ہوتا، بلکہ اس کو استدراج کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ سب سے پہلے بحث کے لائق وہی امر ہے جس سے یہ ثابت ہوجائے کہ قرآن وحدیث اس دعوے کے مخالف ہیں، اور وہ امر مسیح ابن مریم کی وفات کا مسئلہ ہے، کیونکہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر در حقیقت قرآن حکیم اور احادیث صحیحہ کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ہی ثابت ہوتی ہے تو اس صورت میں پھر اگر یہ عاجز مسیح موعود ہونے کے دعویٰ پر ایک نشان کیا بلکہ لاکھ نشان بھی دکھاوے تب بھی وہ نشان قبول کرنے کے لائق نہیں ہوں گے۔ کیونکہ قرآن ان کی مخالف شہادت دیتا ہے۔ غایت کار وہ استدراج سمجھے جائیں گے، لہٰذا سب سے اول بحث جو ضروری ہے، مسیح بن مریم کی وفات یا حیات کی بحث ہے، جس کا طے ہوجانا ضروری ہے، کیونکہ
۶
مخالف قرآن وحدیث کے نشانوں کا ماننا مومن کا کام نہیں، ہاں ان نادانوں کا کام ہے جو قرآن وحدیث سے کچھ غرض نہیں رکھتے“۔
(اشتہار بمقابلہ مولوی سید نذیر حسین صاحب سرگروہ اہل حدیث
مندرجہ مجموعہ اشتہارات مطبوعہ لندن ص ۲۳۹ ج ۱)
”ہمارے اور ہمارے مخالفین کے صدق و کذب آزمانے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات حیات ہے، اگر حضرت عیسیٰ در حقیقت زندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور سب دلائل ہیچ ہیں، اور اگر وہ درحقیقت قرآن کی رو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالف باطل پر ہیں“۔
(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ۱۷۸ خزائن ص ۲۶۳ ج ۱۷)
مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ دونوں عبارتیں مزید کسی حاشیہ و تشریح کی محتاج نہیں، ان کا صاف صاف مدعا یہ ہے کہ اگر قرآن وحدیث سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہو تو مرزا صاحب کا دعویٰ مسیحیت سرے سے غلط ہے۔ اور اس صورت میں مرزا صاحب کو ولی یا مجدد تو کجا؟ مسلمان بھی تصور نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اسے دائرہ اسلام سے خارج تصور کیا جائے گا، اور اگر وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں لاکھ نشان بھی دکھائے تو اسے مکر و فریب اور استدراج ہی سمجھا جائے گا۔ اور اگر قرآن وحدیث سے یہ ثابت ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ نہیں اور نہ انہیں دوبارہ دنیا میں آنا ہے تو پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ مرزا صاحب کا یا کسی اور مدعی مسیحیت کا دعویٰ کہاں تک صحیح ہے؟ اور اس کے دلائل کیا ہیں؟۔ الغرض مرزا صاحب کا دعویٰ اسی وقت لائق التفات ہوسکتا ہے جبکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں امت اسلامیہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا انتظار نہ رہے۔ لیکن اگر وہی عقیدہ صحیح اور ثابت ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہی
۷
دوبارہ تشریف لائیں گے تو مرزا غلام احمد قادیانی یا کسی اور شخص کے ”مسیح موعود“ بننے کا سوال ہی خارج از بحث ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ کسی دوسرے شخص کو ”مسیح موعود“ مانتے ہیں ان کے بارے میں مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ وہ مومن نہیں بلکہ نادان ہیں جو قرآن اور حدیث سے کوئی غرض نہیں رکھتے۔
مرزا قادیانی کے خلاف استغاثہ
مرزا صاحب کے اس اصول کو تسلیم کرتے ہوئے میں مسلمانوں کی جانب سے مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف اہل عقل و دانش بالخصوص قادیانی برادری کی عدالت انصاف میں استغاثہ کرنا چاہتا ہوں۔ اور ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ انفرادی و اجتماعی غور و فکر کے بعد یہ منصفانہ فیصلہ کریں کہ مرزا غلام احمد صاحب کا یہ دعویٰ کہاں تک صحیح ہے کہ عیسیٰ مرگیا ؟
اثبات دعویٰ کے دو طریقے
تمام دنیا کی عدالتوں میں یہ اصول مسلم اور رائج ہے کہ کسی دعوے کے ثابت کرنے کی دو صورتیں ہیں‘ ایک یہ کہ مدعی اپنے دعوے پر ثقہ گواہ پیش کر کے عدالت کو مطمئن کردے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ مدعا علیہ خود عدالت کے روبرو مدعی کے دعوے کو صحیح تسلیم کرلے۔ یہ دوسری صورت اس اعتبار سے زیادہ مفید اور لائق وثوق ہوتی ہے کہ اس صورت میں گواہوں کی جرح و تعدیل اور واقعات کی تحقیق و تفتیش میں عدالت کا وقت ضائع نہیں ہوتا‘ اور عدالت کو شرح صدر کے ساتھ فیصلہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس لئے میں اپنے دعوے کے ثبوت میں یہی دوسرا طریقہ اختیار کرنا چاہتا ہوں۔
۸
استغاثہ کی کہانی!
مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف مسلمانوں کا استغاثہ یہ ہے کہ ایک شخص بقید حیات زندہ موجود ہے‘ مگر مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کی موت کا غلط افسانہ اڑا کر اس کی مسند و منصب پر خود قبضہ کر لیا ہے‘ جس شخصیت کو مردہ قرار دیکر مدعا علیہ نے اس کی جائیداد اپنے نام منتقل کرانے کا فریب کیا ہے اگر وہ کوئی لاوارث اور گمنام شخصیت ہوتی تو شاید کسی کو مدعا علیہ کی اس جعل سازی اور غلط کارروائی کی جانب التفات نہ ہوتا ‘ مگر ستم ظریفی تو یہ ہے کہ مدعا علیہ نے یہ سینہ زوری ایک ایسی شخصیت کے بارے میں روا رکھی ہے جس کے نام سے دنیا کا بچہ بچہ واقف ہے‘ جس کا ہم نام پوری انسانی تاریخ میں کوئی دوسرا نہیں ہوا‘ اور جس کے کروڑوں نہیں بلکہ اربوں جاں نثار دنیا میں موجود ہیں‘ اور وہ شخصیت ہے سید نا المسیح عیسیٰ بن مریم صلی اللہ علی نبینا و علیہ وسلم۔
مسلمانوں کے پاس حضرت مسیح علیہ السلام کے زندہ موجود ہونے کے تین ثقہ گواہ موجود ہیں :
- ○ اللہ تعالیٰ
- ○ رسول اللہ ﷺ۔
- ○ امت اسلامیہ کے لاکھوں اکابر اولیاء اللہ اور مجددین۔
لیکن ہم عدالت کا وقت بچانے کی خاطر خود اپنی طرف سے شہادت پیش کرنے کے بجائے خود مدعا علیہ کا اقرار عدالت میں پیش کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں اور وہی دوبارہ تشریف لائیں گے۔
۹
باب اول
حیات مسیح علیہ السلام کا ثبوت‘ کتاب و سنت‘
اجماع امت اور مرزا قادیانی کے الہامات سے
اس تمہید کے بعد یہ گزارش ہے کہ ہمارے مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کے دو دور ہیں‘ جب تک اس نے اپنی مسیحیت کا اعلان نہیں کیا تھا اس وقت تک وہ اس بات کا قائل تھا کہ قرآن کریم‘ حدیث نبوی ﷺ اور اجماع امت کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری ثابت ہے۔ نیز اس وقت مدعا علیہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کا الہام بھی ہوا تھا۔ اس دور میں مدعا علیہ نے جو اقراری بیان دئے تھے ان کو حسب ذیل عنوانات کے تحت ملاحظہ فرمائیے :
- ◯ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت قرآن کریم سے۔
- ◯ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت ارشاد نبویؐ سے۔
- ◯ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت اجماع امت سے۔
- ◯ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت مرزا غلام احمد کے الہام سے۔
ان چار مباحث کو چار فصلوں میں ذکر کرتا ہوں :
فصل اول
حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت‘ قرآن کریم سے
مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی پہلی الہامی کتاب ”براہین احمدیہ“ میں لکھتا ہے :
۱۰
”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلھ“۔
”یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے کہ وہ غلبہ حضرت مسیح کے ذریعے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا .......... حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے“۔
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ۴۹۸‘ ۴۹۹)
اس بیان میں مدعا علیہ صاف اقرار کرتا ہے کہ :
- ○ حضرت مسیح علیہ السلام اس دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔
- ○ ان کی آمد سے دین اسلام تمام عالم میں پھیل جائے گا اور ان
کے ذریعہ دین اسلام کو غلبہ کاملہ نصیب ہوگا۔
- ○ مدعا علیہ یہ بھی صاف صاف اقرار کرتا ہے کہ قرآن کی مندرجہ
بالا آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کی پیش گوئی فرمائی ہے۔ اور وہی اس پیش گوئی کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں۔
اور مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی آخری تصنیف چشمہ معرفت میں‘ جو اس کی وفات سے دس دن پہلے شائع ہوئی‘ لکھتا ہے :
”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ “۔
”یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کردے یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ
آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔"
(چشمہ معرفت ص ۸۳ روحانی خزائن ص ۹۱ ج ۲۳)
مدعا علیہ نے اپنی آخری کتاب میں بھی وہی بات لکھی ہے جو سب سے پہلی کتاب میں لکھی تھی کہ اس آیت شریفہ میں جس عالمگیر غلبہ اسلام کی پیش گوئی کی گئی وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں ہوگا۔ مگر یہاں ہمارے مدعا علیہ کی اس تحریر میں دو فرق نظر آتے ہیں۔
اول : یہ کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نام لکھنے سے شرماتا ہے، اور اس کی جگہ ”مسیح موعود“ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ حالانکہ مدعا علیہ سے پہلے ”مسیح موعود“ کی اصطلاح کسی نے استعمال نہیں کی۔
دوم : یہ کہ وہ ۱۳ صدیوں کے تمام بزرگان دین اور اکابر امت کا اجماع نقل کرتا ہے کہ اس آیت میں جو پیش گوئی کی گئی ہے وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں پوری ہوگی۔ اس عبارت سے دو باتیں صاف طور پر ثابت ہو جاتی ہیں۔
- ○ تیرہ صدیوں کے سب اکابر اس پر متفق ہیں کہ آخری زمانے میں
حضرت مسیح علیہ السلام تشریف لائیں گے جن کے ہاتھ سے اسلام تمام آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا، اور اسلام کے سوا تمام مذاہب ختم ہو جائیں گے۔ اور یہ کہ اس آیت شریفہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
- ○ ہمارے مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ سے اسلام کا یہ
عالمگیر غلبہ نہیں ہوا، اس کو مرے ہوئے بھی ایک صدی گزر رہی ہے لیکن غلبہ اسلام کے دور و نزدیک کوئی آثار نہیں۔ بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے کہ جب سے مدعا علیہ نے ”مسیح“ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اسلام کمزور سے
۱۲
کمزور تر ہورہا ہے، اور کفر ترقی پذیر ہے۔ لہٰذا مدعا علیہ کا ”مسیح موعود“ ہونے کا دعویٰ غلط اور جھوٹ ہے۔ اور واقعات کا مشاہدہ گواہی دیتا ہے کہ مدعا علیہ ”مسیح موعود“ نہیں، بلکہ ”مسیح کذاب“ ہے۔
فصل دوم
حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت احادیث نبوی سے!
مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے آثار مرویہ سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ثابت ہے، اس لئے اپنے نبی کے آثار مرویہ کی پیروی کرتے ہوئے وہ بھی ایک زمانے میں یہی عقیدہ رکھتا تھا۔ معزز عدالت، مدعا علیہ کا مندرجہ ذیل بیان بغور ملاحظہ فرمائے :
”میں نے براہین میں جو کچھ مسیح بن مریم کے دوبارہ دنیا میں آنے کا ذکر لکھا ہے وہ ذکر صرف ایک مشہور عقیدہ کے لحاظ سے ہے جس کی طرف آج کل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات جھکے ہوئے ہیں، سو اسی ظاہری اعتقاد کے لحاظ سے میں نے لکھ دیا تھا کہ میں صرف مثیل موعود ہوں اور میری خلافت صرف روحانی خلافت ہے، لیکن جب مسیح آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی طور پر خلافت ہوگی، یہ بیان جو براہین میں درج ہوچکا ہے صرف اس سرسری پیروی کی وجہ سے ہے، جو ملہم کو قبل از انکشاف اصل حقیقت اپنے نبی کے آثار مرویہ کے لحاظ سے لازم ہے“۔
(ازالہ اوہام ص ۸۳ طبع پنجم (روحانی خزائن ص ۱۹۶ ج ۳)
مدعا علیہ کے مندرجہ بالا اقتباس سے چند باتیں معلوم ہوئیں :
۱۳
اول : مسلمانوں کا مشہور عقیدہ یہی چلا آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ بنفس نفیس تشریف لائیں گے۔
دوم : مدعا علیہ اقرار کرتا ہے کہ میں نے براہین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تشریف لانے اور ظاہری و جسمانی خلافت پر فائز ہونے کا عقیدہ درج کیا ہے۔
سوم : جب تک مدعا علیہ پر بذریعہ الہام براہ راست الہامی انکشاف نہیں ہوا تھا تب تک اس کا عقیدہ بھی اپنے نبی کے آثار مرویہ کی "سرسری پیروی" میں یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہی بنفس نفیس تشریف لاکر خلافت پر فائز ہوں گے۔
اس عبارت سے واضح ہے کہ مدعا علیہ جس شخصیت کو اس وقت اپنا نبی سمجھتا تھا، یعنی آنحضرت ﷺ ان کے آثار مرویہ اور احادیث طیبہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات و نزول کا مسئلہ ذکر فرمایا گیا ہے، جس کی پیروی ہر اس شخص پر لازم ہے جو اپنے کو نبی کا امتی مانتا ہو۔ چنانچہ مدعا علیہ بھی جب تک آنحضرت ﷺ کو واجب الاتباع سمجھتا رہا، آپ کے ارشادات کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات و نزول کا معتقد رہا۔
فصل سوم
حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت اجماع امت سے
مدعا علیہ یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ تیرہ صدیوں سے نسلاً بعد نسل اور قرناً بعد قرن مسلمانوں کا یہی عقیدہ چلا آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور کسی زمانہ میں وہ خود دوبارہ تشریف لائیں گے۔ گویا مدعا علیہ مرزا غلام احمد کو اقرار ہے کہ ہمیشہ سے مسلمانوں کا اجماعی اور متواتر
۱۴
عقیدہ یہی رہا ہے جو عقیدہ کہ آج امت اسلامیہ کا ہے۔ معزز عدالت، مدعا علیہ کی حسب ذیل تصریحات بغور ملاحظہ فرمائے :
- ○ "ایک دفعہ ہم دلی میں گئے تھے ہم نے وہاں کے لوگوں
سے کہا کہ تم نے تیرہ سو برس سے یہ نسخہ استعمال کیا کہ حضرت عیسیٰ کو زندہ آسمان پر بٹھایا۔ مگر اب دوسرا نسخہ ہم بتاتے ہیں وہ استعمال کرکے دیکھو اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کو ..... وفات شدہ مان لو۔"
(ملفوظات جلد دہم ص ۳۰۰ مطبوعہ ربوہ)
- ○ "مسیح بن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے آنے کی پیش
گوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے، انجیل بھی اس کی مصدق ہے، اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں، درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دی اور حق شناسی سے کچھ بھی بہرہ اور حصہ نہیں دیا۔"
(ازالہ اوہام ص ۴۲۲ طبع پنجم)
- ○ "مسیح موعود (عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری) کے بارے
میں جو احادیث میں پیش گوئی ہے وہ ایسی نہیں کہ جس کو صرف ائمہ حدیث نے چند روایتوں کی بنا پر لکھا ہو بس۔ بلکہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ پیش گوئی عقیدہ کے طور پر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ و ریشہ میں داخل چلی آتی ہے، گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے اسی قدر اس پیش گوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں، کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کو ابتدا سے یاد کرتے چلے آتے تھے۔"
(شہادت القرآن ص ۸۔ خزائن ص ۳۰۴ ج ۶)
- ○ "اس امر سے کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح
۱۵
موعود (عیسیٰ بن مریم کے دوبارہ آنے) کی کھلی کھلی پیش گوئی موجود ہے بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا"۔
(شہادۃ القرآن ص ۲۔ روحانی خزائن ص ۲۹ ج ۶)
- "یہ خبر مسیح موعود (عیسیٰ علیہ السلام) کے آنے کی اس قدر
زور کے ساتھ ہر ایک زمانہ میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی کہ اس کے تواتر سے انکار کیا جائے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر اسلام کی وہ کتابیں جن کی رو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آئی ہے، صدی وار مرتب کر کے اکٹھی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزارہا سے کچھ کم نہیں ہوں گی"۔
(شہادۃ القرآن ص ۲۔ خزائن ص ۲۹۸ ج ۶)
مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ان تصریحات سے واضح ہوا کہ :
- تیرہ سو سال سے مسلمانوں کا یہی عقیدہ چلا آتا ہے کہ حضرت
عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت سے مرزا غلام احمد کے دعوٰی مسیحیت تک تیرہ صدیاں ہی گزری تھیں۔
- مسلمان اباً عن جدٍ یہی عقیدہ سکھاتے چلے آئے ہیں اور یہ عقیدہ
ہمیشہ سے ان کے رگ و ریشہ میں داخل رہا ہے۔
- مسلمانوں کا یہ عقیدہ ان ارشادات نبویہ پر مبنی ہے جن کو تواتر کا
اول درجہ حاصل ہے۔
- تیرہ صدیوں کے کل مسلمان اور ان کا ہر ہر فرد اس عقیدے کی
صحت کا گواہ رہا ہے۔
- یہ عقیدہ علم عقائد وغیرہ کی ہزارہا اسلامی کتابوں میں صدی وار
م
اشاعت پذیر ہوتا رہا ہے۔
- 〇 ایسے متواتر عقیدہ سے انکار کردینا یا اس میں شک و شبہ کا اظہار
کرنا سب سے بڑھ کر جہالت اور بصیرت دینی اور حق شناسی سے یکسر محرومی کی علامت ہے۔
- 〇 یہاں مدعا علیہ کے الہامی فرزند اور اس کے خلیفہ دوم مرزا کی
شہادت بھی پیش کرنا چاہتا ہوں‘ وہ لکھتے ہیں :
"پچھلی صدیوں میں قریباً سب دنیا کے مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا ہے اور بڑے بڑے بزرگ اس عقیدہ پر فوت ہوئے . . . . . حضرت مسیح موعود (غلام احمد مدعا علیہ) سے پہلے جس قدر اولیاء صلحاء گزرے ان میں ایک بڑا گروہ عام عقیدہ کے ماتحت حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ خیال کرتا تھا۔"
(صرف بڑا گروہ نہیں بلکہ بلا استثناء امت اسلامیہ کے ہر ایک فرد کا یہی عقیدہ رہا ہے۔ ناقل)"
(حقیقۃ النبوت مصنفہ مرزا محمود ص ۱۴۲)
- 〇 نیز اس ضمن میں لاہوری گروپ کے امیر اور مرزا غلام احمد
قادیانی کے پُر جوش مرید مسٹر محمد علی ایم اے کی محمود شہادت بھی ملاحظہ فرمائی جائے :
"بانی فرقہ احمدیہ (مرزا غلام احمد قادیانی) نے پچاس یا اس سے بھی زیادہ کتابیں پبلک میں شائع کی ہیں‘ جن تمام میں یا ان میں سے بہت سی کتابوں میں اس نے جہاد کے قطعاً حرام ہونے اور خونی مہدی کے عقائد کے جھوٹے ہونے پر زور دیا ہے۔ اگر کوئی خاص اصول احمدیہ فرقہ کا سب سے بڑا قرار دیا جاسکتا ہے تو وہ دو متذکرہ بالا خطرناک اصولوں کی‘ جو تیرہ صدیوں سے مسلمانوں میں چلے آتے تھے بیخ کنی کرنا ہے۔"
(ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ شمارہ ۳ ص ۹۰ بابت ماہ مارچ ۱۹۰۴ء)
۱۷
مندرجہ بالا حوالوں میں مدعا علیہ اور اس کے حواریوں کے اعتراف سے ثابت ہوچکا ہے کہ تیرہ سو سال سے ابا عن جد مسلمانوں کا یہی عقیدہ چلا آتا ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور آخری زمانے میں وہی دوبارہ تشریف لائیں گے، لیکن مدعا علیہ تیرہ سو سال بعد امت اسلامیہ کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ ایک متواتر اسلامی عقیدے کو خیر باد کہہ کر ایک نیا نسخہ آزمائے، جو خود مدعا علیہ نے تجویز کیا ہے، یا بقول اس کے اس پر منکشف ہوا ہے۔
یہاں میں معزز عدالت کو اس قانونی نکتہ کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ کیا کسی مسلمان کو اس کا حق حاصل ہے کہ وہ کوئی نیا عقیدہ اختیار کرلے؟ معزز عدالت کو صدیق اکبرؓ کی پہلی تقریر کا یہ فقرہ یاد ہوگا :
"لوگو! میں تو صرف پیروی کرنے والا ہوں نئی بات ایجاد کرنے والا نہیں ہوں"۔
اس اصول کی روشنی میں ایک مسلمان کو سوبار یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی عقیدے کے بارے میں پوری طرح یہ اطمینان کرلے کہ آیا یہ عقیدہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے دور سے چلا آتا ہے؟ یا خیر القرون کے بعد کی پیداوار ہے؟ لیکن جب یہ اطمینان ہوجائے کہ فلاں عقیدہ خیر القرون سے متواتر چلا آتا ہے تو اس کے بعد کسی مسلمان کو اس پر اعتراض کرنے یا اس سے انحراف کرنے کا حق حاصل نہیں، جس شخص کو اسلام کے کسی متواتر عقیدے پر نکتہ چینی کا شوق ہو اس کا فرض ہے کہ مسلمانوں کی صف سے نکل کر غیر مسلموں کی صف میں کھڑا ہوجائے، اس کے بعد بصد شوق اسلام کے متواترات و مسلمات کو ہدف اعتراض بنائے۔
ہمارے مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ منطق ناقابل فہم ہے کہ وہ
۱۸
حیات عیسیٰؑ کے عقیدے کو تیرہ صدیوں سے متواتر بھی تسلیم کرتا ہے اور پھر اسے تبدیل کر کے ایک نیا نسخہ استعمال کرنے کا بھی مشورہ دیتا ہے‘ حالانکہ وہ یہ اصول تسلیم کرتا ہے کہ :
”حدیثوں کا وہ دوسرا حصہ جو تعامل کے سلسلہ میں آگیا اور کروڑ ہا مخلوقات ابتدا سے اس پر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آئی ہے اس کو ظنی اور شکی کیوں کر کہا جائے؟ ایک دنیا کا مسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک‘ اور باپوں سے دادوں تک‘ اور دادوں سے پڑدادوں تک بدیہی طور پر مشہور ہو گیا‘ اور اپنے اصل مبدا تک اس کے آثار اور انوار نظر آگئے اس میں تو ایک ذرہ گنجائش نہیں رہ سکتی‘ اور بغیر اس کے انسان کو کچھ نہیں بن پڑتا کہ ایسے مسلسل عمل در آمد کو اول درجہ کے یقینیات میں سے یقین کرے‘ پھر جب کہ ائمہ حدیث نے اس سلسلہ تعامل کے ساتھ ایک اور سلسلہ قائم کیا‘ اور امور تعاملی کا اسناد راست گو اور متدین راویوں کے ذریعہ آنحضرت ﷺ تک پہنچا دیا تو پھر بھی اس پر جرح کرنا در حقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرت ایمانی اور عقل انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔“
(شہادۃ القرآن ص ۸۔ روحانی خزائن ص ۳۰۴)
آپ مدعا علیہ کی زبان سے سن چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کا آسمان پر زندہ ہونا اور پھر دوبارہ کسی وقت دنیا میں تشریف لانا امت اسلامیہ کا تیرہ سو سال سے متواتر عقیدہ رہا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے متواتر ارشادات میں‘ جن کو تواتر کا اول درجہ حاصل ہے‘ یہی عقیدہ بیان ہوا ہے‘ اور خیر القرون میں یہ عقیدہ وہاں وہاں تک پہنچا ہوا تھا جہاں کہیں ایک مسلمان بھی آباد تھا۔ انصاف فرمائیے کہ اس سے بڑھ کر اس عقیدہ کی حقانیت کا اور کیا ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے ؟
19
اس کے بعد بھی جو شخص اس عقیدے پر زبان طعن دراز کرتا ہے، اسلام کی مسلسل اور متواتر تاریخ کی تکذیب کرتا ہے، اسلام کے متواترات و قطعیات کو، جن کی پشت پر تیرہ سو سالہ امت کا تعامل موجود ہے، جھٹلانے کی جرات کرتا ہے۔ انصاف کیجئے کہ کیا ایسا شخص مسلمان کہلانے کا مستحق ہے؟
بہر حال ہمارے مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ مشورہ کہ : ”تم نے تیرہ سو برس سے یہ نسخہ استعمال کیا کہ حضرت عیسیٰ کو زندہ آسمان پر بٹھایا مگر اب دوسرا نسخہ ہم بتاتے ہیں وہ استعمال کر کے دیکھو اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کو وفات شدہ مان لو“۔
(ملفوظات ص ۳۰۰ ج ۱۰)
کسی مسلمان کے لئے لائق التفات نہیں ہوسکتا، کیونکہ کسی مسلمان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اسلام کے متواتر و مسلسل عقیدہ کو بدل ڈالنے کی جرأت کرے۔ اور جو شخص ایسی جرأت کرے وہ مسلمان نہیں، بلکہ اسلام کا دشمن ہے۔
۲۰
فصل چہارم
حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت مدعا علیہ کے الہام سے
یہاں تک حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت قرآن مجید سے، احادیثِ متواترہ سے، اور امت اسلامیہ کے مسلسل اور غیر منقطع تعامل سے باقرار مدعا علیہ پیش کیا جاچکا ہے۔ اب ذیل میں معزز عدالت کی خدمت میں اس عقیدہ کا ثبوت خود مدعا علیہ، مرزا غلام احمد قادیانی کے الہام سے پیش کرنا چاہتا ہوں:
- اپنی الہامی کتاب براہین احمدیہ میں قرآن کریم کی آیت: ھوالذی
ارسل رسولہ کی ”الہامی تفسیر“ کرتے ہوئے مدعا علیہ لکھتا ہے:
”لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے ..... سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں ابتدا سے اس عاجز کو بھی شریک رکھا ہے، یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے، اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ۴۹۸، ۴۹۹)
یعنی مدعا علیہ کو الہام کے ذریعہ اس آیت کریمہ کی جو تفسیر سمجھائی گئی ہے، اس کے نکات یہ ہیں:
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے دو دور ہیں، پہلا دور رفعِ آسمانی
سے قبل کا، اور دوسرا دور ان کی آمد ثانی کا۔
- پہلے دور میں ان کی حالت غربت و انکساری کی تھی، اور دوسرے دور
میں ان کی آمد شاہانہ جاہ و جلال کے ساتھ ہوگی۔
- مدعا علیہ (مرزا غلام احمد) پر ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کی حالت حضرت
مسیح علیہ السلام کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے۔
۲۱
- چونکہ مدعا علیہ کو حضرت مسیح علیہ السلام سے مشابہت تامہ حاصل ہے
اس لئے مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کی پیش گوئی میں اس کو بھی ابتداء ہی سے شریک کیا گیا ہے۔
- مدعا علیہ کو الہام کے ذریعہ بتایا گیا کہ قرآن مجید کی مندرجہ بالا پیش
گوئی (ھوالذی ارسل رسولہ الآیۃ) کا ظاہری اور جسمانی مصداق حضرت مسیح علیہ السلام ہیں اور روحانی و معنوی طور پر اس کا مورد مدعا علیہ ہے۔ مدعا علیہ کی مندرجہ بالا عبارت میں فاضل عدالت کے لئے جو امر خاص طور پر لائق توجہ ہے‘ وہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیت قطعی الثبوت ہے اور مدعا علیہ نے ”اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے“ کہہ کر اس کی جو الہامی تفسیر کی ہے وہ بھی مدعا علیہ کے نزدیک قطعی ہے کہ یہ آیت حضرت مسیح علیہ السلام کی ظاہری و جسمانی آمد کی پیش گوئی ہے ..... پس قرآن مجید کی آیت اور مدعا علیہ کی الہامی تفسیر دونوں مل کر حضرت مسیح علیہ السلام کی ظاہری اور جسمانی آمد ثانی کو قطعی بنا دیتے ہیں‘ جس کے بعد اس مسئلہ میں (کم از کم مدعا علیہ کو صاحب الہام ماننے والوں کے لئے) کسی قسم کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔
◯
- اسی کتاب میں مدعا علیہ (مرزا غلام احمد قادیانی) اپنا ایک الہام ان الفاظ میں
نقل کرتا ہے :
”عسٰی ربکم ان یرحم علیکم‘ وان عدتم عدنا‘ وجعلنا جھنم للکافرین حصیرا ◯“۔
اور پھر اس کی مندرجہ ذیل تشریح کرتا ہے :
”خدا تعالیٰ کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے جو تم پر رحم کرے‘
۲۲
اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے‘ اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے‘ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ہونے کا اشارہ ہے۔ یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا‘ اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے‘ اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے‘ اور کج اور ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا‘ اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کردے گا۔ اور یہ (مرزا غلام احمد کا) زمانہ‘ اس زمانہ کے لئے (جس میں عیسٰی علیہ السلام تشریف لائیں گے) بطور ارہاص کے واقع ہوا ہے۔ یعنی اس وقت جلالی طور پر خدا تعالٰی اتمام حجت کرے گا‘ اب بجائے اس کے جمالی طور پر یعنی رفق اور احسان سے اتمام حجت کررہا ہے۔"
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ۵۰۵)
نوٹ مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات کا مجموعہ تذکرہ کے نام سے ربوہ سے شائع ہوا ہے اس میں فاضل مرتب نے زیر بحث الہام۔ عسٰی ربکم ان یرحم علیکم إلخ پر حسب ذیل نوٹ لکھا ہے : "حضرت اقدس نے اس الہام کو اربعین نمبر ۲ کے نمبر ۵ پر اور اس کے علاوہ کئی اور مقامات پر بھی بحوالہ براہین احمدیہ ان یرحمکم درج فرمایا ہے‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ علٰی کا لفظ سہو کتابت ہے۔"
(تذکرہ طبع سوم ص ۷۹)
مدعا علیہ کے اس الہام اور اس کی تشریح سے واضح ہوجاتا ہے کہ مدعا علیہ کو قطعی الہام ہوا تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور وہ براہین احمدیہ کے زمانہ میں خود اپنے الہام کی روشنی میں بھی یہی عقیدہ رکھتا تھا۔ ۲۲۳
باب دوم
مدعا علیہ نے اپنا عقیدہ بدل لیا
فاضل عدالت کے روبرو مدعا علیہ‘ مرزا غلام احمد قادیانی کا اقراری بیان گزشتہ سطور میں پیش کیا جاچکا ہے۔ اس کے بعد مدعا علیہ کے گریز و فرار پر بحث کرنے کی حاجت نہیں رہ جاتی‘ کیونکہ یہ اصول بھی تمام عدالتوں میں تسلیم شدہ ہے کہ اقرار کے بعد مدعا علیہ کا انکار معتبر نہیں ہوا کرتا‘ خود مدعا علیہ بھی اس اصول کو تسلیم کرتا ہے کہ :
”جناب من ! اقرار کے بعد کوئی قاضی انکار نہیں سن سکتا۔“
(اعجاز احمدی ص ۳۰)
لہٰذا مدعا علیہ ہزار بار بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آمد ثانی کا انکار کرتا رہے کہ اقرار کے بعد یہ انکار عدالت کی نظر میں لغو اور لایعنی تصور کیا جائے گا۔
تاہم تکمیل بحث کی خاطر میں چاہتا ہوں کہ معزز عدالت کے سامنے مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اسلامی عقیدہ سے انحراف اور گریز و فرار کی داستان بھی پیش کردی جائے‘ تاکہ فاضل عدالت کو اندازہ ہوسکے کہ مدعا علیہ کا گریز و فرار کہاں تک اخلاص و صداقت پر مبنی ہے؟
اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی نے چالیس سال کی عمر میں اپنی الہامی زندگی کا آغاز اپنی پہلی الہامی کتاب براہین احمدیہ سے کیا تھا‘ اور اس میں قرآن مجید کی آیت :ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ الآیۃ کے تحت یہ عقیدہ درج کیا تھا کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف
۲۴
لائیں گے۔“ اور یہ کہ :
- ○ ”___ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار مسیح کی پہلی
زندگی کا نمونہ ہے۔ اور حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معنوی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ۴۹۹)
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۵۰۵ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا عقیدہ اپنے ایک الہام کی تشریح کرتے ہوئے درج کیا۔ پھر براہین احمدیہ کی اشاعت کے دس بارہ برس بعد تک مدعا علیہ اسی عقیدہ پر قائم رہا۔ چنانچہ وہ خود لکھتا ہے :
- ○ ”___ پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے‘ بالکل
اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شد و مد سے براہین احمدیہ میں مسیح موعود قرار دیا ہے‘ اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا‘ اور جب بارہ برس گزر گئے‘ تب وہ وقت آگیا کہ مجھ پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔“
(اعجاز احمدی ص ۷۔ روحانی خزائن ص ۱۱۳ ج ۱۹)
- ○ ”___ میں نے براہین احمدیہ میں یہ اعتقاد ظاہر کیا تھا کہ حضرت
عیسیٰ علیہ السلام پھر واپس آئیں گے‘ مگر یہ بھی میری غلطی تھی جو اس الہام کے مخالف تھی جو براہین احمدیہ میں ہی لکھا گیا تھا‘ کیونکہ اس الہام میں خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ رکھا‘ اور مجھے اس قرآنی پیش گوئی کا مصداق ٹھہرایا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے خاص تھی‘ وہ آیت یہ ہے : ہو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ “۔
(ایام الصلح ص ۱۴۶‘ خزائن ۲۷۲ ج ۱۴)
لیکن دس بارہ سال بعد مدعا علیہ کی زندگی میں ایک نیا تغیر پیدا ہوا اور اس نے اپنی سابقہ تحریرات کو پشت انداز کرتے ہوئے یکایک یہ اعلان کر دیا کہ عیسیٰ
۲۵
علیہ السلام مرچکے ہیں، اور ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ”مسیح موعود“ اور ”عیسیٰ بن مریم“ بنا کر کھڑا کردیا ہے اور قرآن کی جو پیش گوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی سے مخصوص تھی اب اللہ تعالیٰ نے مجھ سے متعلق کردی ہے۔
یہاں سے مدعا علیہ کے اعتقاد کا دوسرا دور شروع ہوتا ہے۔ اس دور کے بارے میں معزز عدالت کو تین تنقیحات کا جائزہ لینا ہوگا۔
- مدعا علیہ نے اپنا عقیدہ کیوں تبدیل کیا اور اس کی بنیاد کیا تھی؟
- مدعا علیہ نے اپنے سابقہ اعتقاد کے بارے میں کیا عذر پیش کئے؟
- دوسرے دور میں مدعا علیہ نے اپنے سابقہ عقیدہ کے بارے میں کن
خیالات کا اظہار کیا؟
ان تین مباحث کو ذیل کے ابواب میں ذکر کیا جاتا ہے۔
باب سوم
مدعا علیہ کے تبدیلی عقیدہ کی بنیاد
اس سوال کا جواب معزز عدالت کو مدعا علیہ کی مندرجہ ذیل تصریحات سے بوضاحت معلوم ہو جائے گا:
- ”یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے یہ
لکھا تھا کہ مسیح بن مریم آسمان سے نازل ہوگا‘ مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔ اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی‘ مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا‘ اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے‘ اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر
۲۶
حمل نہ کرنا چاہا‘ بلکہ اس وحی کی تاویل کی‘ اور اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا‘ اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا۔ لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے۔"
(حقیقت الوحی ص ۱۴۹۔ خزائن ۱۵۳ ج ۲۲)
- ○ "اور مجھے یہ کب خواہش تھی کہ میں مسیح موعود بنتا‘ اور اگر
مجھے یہ خواہش ہوتی تو براہین احمدیہ میں اپنے پہلے اعتقاد کی بنا پر کیوں لکھتا کہ مسیح آسمان سے آئے گا؟ حالانکہ اسی براہین میں خدا نے میرا نام عیسیٰ رکھا ہے‘ پس تم سمجھ سکتے ہو کہ میں نے پہلے اعتقاد کو نہیں چھوڑا تھا جب تک خدا نے روشن نشانوں اور کھلے کھلے الہاموں کے ساتھ نہیں چھڑایا۔"
(تتمہ حقیقت الوحی ص ۴۲۔ خزائن ص ۶۰۲ ج ۲۲)
- ○ "میں بھی تمہاری طرح بشریت کے محدود علم کی وجہ سے یہی
اعتقاد رکھتا تھا کہ عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوگا‘ اور باوجود اس بات کے کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا‘ اور جو قرآن شریف کی آیتیں پیش گوئی کے طور پر حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب تھیں‘ وہ سب میری طرف منسوب کردیں‘ اور یہ بھی فرمایا کہ تمہارے آنے کی خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے‘ مگر پھر بھی میں متنبہ نہ ہوا اور براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میں نے وہی غلط عقیدہ اپنی رائے کے طور پر لکھ دیا اور شائع کردیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔
اور میری آنکھیں اس وقت تک بالکل بند رہیں جب تک کہ خدا نے بار بار کھول کر مجھ کو نہ سمجھایا کہ عیسیٰ بن مریم اسرائیلی تو فوت ہوچکا ہے‘ اور وہ واپس نہیں آئے گا۔ اس زمانہ اور اس امت کے لئے تو ہی عیسیٰ بن مریم ہے۔"
(براہین پنجم ص ۸۵ خزائن ص ۱۱۱ ج ۲۱)
مدعا علیہ کی اس قسم کی تصریحات اس کی کتابوں میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ مگر میں سردست انہی پر اکتفا کرتا ہوں۔ مندرجہ بالا عبارتوں میں مدعا علیہ تسلیم
۲۷
" کرتا ہے کہ :
- اسے براہین احمدیہ کے الہام کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے عیسیٰ بن مریم کہا
تھا‘ اور یہ کہ خدا تعالیٰ نے اسے آگاہ کر دیا تھا کہ وہی مسیح موعود ہے‘ اور خدا رسول نے اسی کے آنے کی خبر دی تھی۔ اور قرآن کریم کی ان تمام آیات کو جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کی پیش گوئی تھی‘ اس کی طرف منسوب کر دیا تھا۔
- مدعا علیہ دس بارہ برس تک اس متواتر الہام کا مطلب سمجھنے سے قاصر
رہا۔ اس لئے اس نے اس متواتر الہام کے ظاہری معنی مراد لینے سے اجتناب کیا۔ اور اپنا عقیدہ وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا۔
- بارہ سال بعد مدعا علیہ کو متواتر الہامات کے ذریعہ انکشاف ہوا کہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں‘ اور ان کی جگہ مدعا علیہ کو مسیح موعود نامزد کر دیا گیا ہے۔
- اس سے یہ بات صاف ہو گئی کہ جب تک مدعا علیہ مرزا غلام احمد
قادیانی کو ...... بقول اس کے ..... متواتر الہامات کے ذریعہ نہیں بتایا گیا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تب تک اس کے سابقہ عقیدے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی‘ یہ تبدیلی اس وقت ہوئی جب مدعا علیہ کو الہام کے ذریعہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات معلوم ہوئی۔ لہٰذا مدعا علیہ کی تبدیلی عقیدہ کی بنیاد اس کا الہام‘ یا الہامی انکشاف ہے۔ اس انکشاف کے بعد مدعا علیہ نے قرآن کریم کی متعدد آیات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا عقیدہ کشید کرنے کی کوشش کی۔ یہ آیات حالانکہ قرآن کریم میں اس وقت بھی موجود تھیں جب مدعا علیہ‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا عقیدہ رقم کر رہا تھا۔ مگر نہ مدعا علیہ کے ذہن نارسا کی رسائی ان سے ”موت مسیح“ تک ہوئی‘ اور نہ پہلے اکابر امت نے ان آیات سے
۲۸
”وفات مسیح“ کا عقیدہ کشید کیا۔
اب میں معزز عدالت کے سامنے مدعا علیہ کی اس ”الہامی بنیاد“ کے بارے میں چند معروضات پیش کرتے ہوئے عدالت سے حق کوشی و انصاف پروری کی درخواست کروں گا۔
اول : گزشتہ سطور میں واضح کیا جاچکا ہے کہ مدعا علیہ نے قرآن کریم کی آیات‘ آنحضرت ﷺ کے آثار مرویہ اور امت اسلامیہ کے تعامل و تواتر کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا عقیدہ براہین احمدیہ میں درج کیا تھا‘ جس پر بارہ سال تک قائم رہا اور اس کی نشر و اشاعت کرتا رہا‘ اب عدالت کو جس نکتہ پر سب سے پہلے غور کرنا ہے وہ یہ ہے کہ جو عقیدہ مدعا علیہ کے بقول قرآن و حدیث اور امت اسلامیہ کے تعاملی تواتر سے ثابت ہو‘ کیا اس کو محض الہام کی بنا پر تبدیل کرنا جائز ہے؟ ہمارا موقف یہ ہے کہ اگر کسی کو ایسا الہام ہو تو خود اس الہام میں تو تاویل کی جاسکتی ہے‘ مگر اس کی بنیاد پر کسی عقیدہ میں تبدیلی پیدا کرنا صحیح نہیں۔ اگر میں اس نکتہ پر اسلامی لٹریچر کے حوالے دوں گا تو بحث طویل ہوجائے گی اس لئے میں اس نکتہ پر بھی مدعا علیہ کا حوالہ پیش کردینا ہی مناسب سمجھتا ہوں۔ موصوف لکھتے ہیں :
”قرآن کریم کی رو سے الہام اور وحی میں دخل شیطان ممکن ہے۔ اور پہلی کتابیں توریت اور انجیل اس دخل کی مصدق ہیں‘ اور اسی بنا پر الہام ولایت یا الہام عامہ مومنین بجز موافقت و مطابقت قرآن کریم کے حجت بھی نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۳۹۔ خزائن ص ۴۴۰ ج ۳)
مدعا علیہ کا یہ الہام کہ عیسیٰ مرگیا ہے‘ چونکہ خود اسی کی سابقہ تصریحات کے مطابق قرآن کریم اور آثار نبویہ کے خلاف ہے۔ اس لئے اس الہام پر اعتماد کرتے ہوئے تبدیلی عقیدہ کی جرأت‘ ایک بے جا جرأت نہیں تو اور کیا ہے؟
۲۹
دوم : آغاز بحث میں مدعا علیہ کا یہ فقرہ نقل کرچکا ہوں کہ :
"ایسے شخص کی نسبت، جو مخالف قرآن و حدیث کوئی اعتقاد رکھتا ہے، ولایت کا گمان ہرگز نہیں کرسکتے، بلکہ وہ دائرہ اسلام سے خارج سمجھنا چاہئے، اور اگر وہ کوئی نشان بھی دکھاوے تو وہ نشان کرامت متصور نہیں ہوتا، بلکہ اس کو استدراج کہا جاتا ہے۔"
عرض کیا جاچکا ہے کہ مدعا علیہ ایک عرصہ تک حیات عیسیٰ کا قائل اور مبلغ و مناد رہا ہے، سوال یہ ہے کہ مدعا علیہ کا پہلا عقیدہ قرآن و حدیث کے خلاف تھا، تو وہ اپنی گزشتہ بالا تصریح کے مطابق باون برس تک دائرہ اسلام سے خارج رہا۔ معزز عدالت کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ ایسا شخص جو باون برس تک دائرہ اسلام سے خارج رہا ہو کیا وہ یکایک الہام کے ذریعہ مسیح موعود بنادیا جاتا ہے؟ اور کیا ایسے شخص کا الہام، حجت شرعی ہونا تو کجا؟ لائق التفات بھی ہوسکتا ہے؟
اور اگر مدعا علیہ کا نیا عقیدہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے۔ جیسا کہ اس کی گزشتہ تصریحات سے یہی عیاں ہوتا ہے، تو وہ اس نئے عقیدے کو اپناکر دائرہ اسلام سے خارج ہوا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسے شخص کو "مسیح موعود" مان لینا عقل و انصاف کی رو سے جائز ہے؟
مختصر یہ کہ مدعا علیہ کے دو متناقض عقیدوں میں سے ایک تو لامحالہ قرآن و حدیث کے خلاف ہوگا۔ اس سے مدعا علیہ کا خود اس کی تصریح کے مطابق خارج از اسلام ہونا لازم آتا ہے اور ایسے شخص کے الہام کو ماننا مدعا علیہ کے بقول "مومن کا کام نہیں، بلکہ ان نادانوں کا کام ہے جو قرآن اور حدیث سے کوئی غرض نہیں رکھتے۔"
(اشتہار بمقابل سید نذیر حسین صاحب مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد اول ص ۲۲۷)
سوم : گزشتہ سطور میں مدعا علیہ کے اقرار سے ثابت کیا جاچکا ہے کہ تیرہ
۳۰
سو سال سے امت کا یہی عقیدہ رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر زندہ ہیں۔ لہٰذا مدعا علیہ کا جدید الہامی عقیدہ امت کے اعتقادی تواتر کے خلاف ہے، اور ایسے شخص کے بارے میں مدعا علیہ کی رائے یہ ہے :
- ” ○ من زاد على هذه الشريعة مثقال ذرة او نقص منها
او کفر بعقيدة اجماعية فعليه لعنة الله والملائكة والناس اجمعین۔“
- ” ○ وہرکہ بمقدار یک ذرہ بریں شریعت زیادہ کرد، یا کم نمود، یا انکار
عقیدہ اجماعیہ کرد پس برو لعنت خدا و لعنت فرشتگان و لعنت ہمہ آدمیاں۔“
(انجام آتھم ص ۱۴۴)
ترجمہ ”اور جو شخص اس شریعت میں ایک ذرہ کا اضافہ کرے، یا اس میں کمی کرے، یا کسی عقیدہ اجماعیہ کا انکار کرے اس پر اللہ کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور تمام آدمیوں کی لعنت۔“
- ” ○ جو شخص اس شریعت اسلام میں سے ایک ذرہ کم کرے یا ایک
ذرہ زیادہ کرے، یا ترک فرائض اور اباحت کی بنیاد ڈالے وہ بے ایمان اور اسلام سے برگشتہ ہے۔ غرض وہ تمام امور جن پر سلف صالحین کا اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا، اور وہ امور جو اہلسنّت کی اجتماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں، ان سب کا ماننا فرض ہے۔ (اور فرض کا منکر بے ایمان اور برگشتہ از اسلام ہی کہلائے گا۔ ناقل)“
(ایام الصلح اردو ص ۸۷، ۹۷)
مدعا علیہ کے ان حوالوں سے معلوم ہوا کہ جو شخص امت کے اجتماعی عقیدہ خصوصاً عقیدہ اہل سنّت کا منکر ہو اس پر خدا کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور سارے انسانوں کی لعنت!۔ ایسا ملعون اور ازلی بدبخت بے ایمان ہے، اسلام سے برگشتہ ہے۔ اب انصاف فرمایا جائے کہ ہمارا مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی خود اپنے اقرار سے ملعون، بے ایمان اور برگشتہ از اسلام ہوا یا نہیں؟
۳۱
چہارم : اوپر مدعا علیہ کے بیانات سے ثابت کیا جاچکا ہے کہ اکابر اولیاء اللہ مجددین امت اور ارباب کشف و الہام‘ حیات عیسیٰؑ کے عقیدہ پر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں‘ اور انہوں نے کتاب و سنت سے یہی عقیدہ اخذ کیا ہے‘ اور مدعا علیہ کا کہنا ہے کہ :
”اور ممکن نہیں کہ ایک گروہ کثیر اہل کشف کا جو تمام اولین اور آخرین کا مجمع ہے‘ وہ سب جھوٹے ہوں اور ان کے تمام استنباط بھی جھوٹے ہوں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ۲۴۰۔ خزائن ص ۲۲۶ ج ۱۷)
اب اگر مدعا علیہ کے الہامی عقیدے کو تسلیم کرلیا جائے تو اس سے ان تمام اہل کشف کا جھوٹا اور ان کے استنباط کا غلط ہونا لازم آتا ہے‘ اور یہ مدعا علیہ کے نزدیک محال ہے‘ اور جس چیز سے محال لازم آتا ہو وہ خود محال ہوتی ہے۔ لہٰذا مدعا علیہ کی یہ الہامی بنیاد خود اس کے اعتراف سے محال ثابت ہوئی۔ اور اس بنیاد پر اس کا مسیح موعود ہونا بھی محال ہوا۔ کیا قادیانی برادری میں کوئی ایک آدمی بھی ایسا ہے‘ جو عقل و انصاف سے کام لے؟ الیس منکم رجل رشید؟
پنجم : اوپر براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۰۵ سے مدعا علیہ کا الہام نقل کیا جاچکا ہے۔ جس میں حضرت عیسیٰؑ کے جلالی طور پر دنیا میں آنے کی پیش گوئی کی گئی تھی‘ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ مدعا علیہ کا نیا الہام کہ ”عیسیٰ مرچکا ہے۔“ اس کے پہلے الہام کے معارض ہے۔ اور تعارض کی صورت میں دو صورتیں ممکن ہیں۔ اول یہ کہ اذا تعارضا تساقطا پر عمل کرتے ہوئے ان دونوں الہاموں کو ساقط الاعتبار قرار دیا جائے۔ دوم یہ کہ ان دونوں میں کسی ایک کو ترجیح دی جائے۔
اب معزز عدالت کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ مدعا علیہ کا پہلا الہام قابل ترجیح
۳۲
ہے جس کی پشت پر مدعا علیہ کی سابقہ تصریحات کے مطابق، قرآن کریم ہے، آثار نبویہ ہیں اور امت کے سلف صالحین کا اجماعی عقیدہ ہے۔ اور جس پر مدعا علیہ خود بھی باون سال تک قائم رہا ہے۔ یا اس کے برعکس وہ الہام قابل ترجیح ہے جس سے مدعا علیہ کی سابقہ تصریحات کی نفی ہوتی ہے، امت اسلامیہ کا متواتر عقیدہ غلط ٹھہرتا ہے، اور خود مدعا علیہ کو طویل مدت تک وادی کفر و ضلالت میں سرگرداں اور ملعون تسلیم کرنا پڑتا ہے؟ الغرض اگر مدعا علیہ کو اپنے الہام پر ایمان ہے اور وہ اس کے نزدیک شرعی حجت ہے تو براہین احمدیہ میں پہلے سے قائم شدہ حجت کو باطل کرنا قطعاً غیر معقول ہے۔
ششم : معزز عدالت کے سامنے روز روشن کی طرح واضح ہوچکا ہے کہ مدعا علیہ کے عقائد میں بھی تناقض رہا ہے، نیز اس کے فہم قرآن میں بھی تناقض ہے، کیونکہ وہ پہلے قرآن کی روشنی میں حیات عیسیٰؑ کا قائل تھا، پھر دور ثانی میں قرآن سے ہی اس نے وفات عیسیٰؑ کا سراغ نکالنا شروع کردیا۔ اسی طرح مدعا علیہ کے الہامات میں بھی تناقض ہے کہ پہلے اسے حیات عیسیٰؑ کا الہام ہوا تھا، جو اس نے براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۸، ۴۹۹ اور ۵۰۵ میں درج کیا، اور پھر اسے بارہ سال بعد وفات عیسیٰؑ کا الہام ہوا۔ گویا مدعا علیہ چار قسم کے تناقضات میں مبتلا رہا ہے۔ ۱ ... عقائد میں تناقض۔ ۲ ... فہم قرآن میں تناقض۔ ۳ ... الہامات میں تناقض۔ ۴ ... عبارات میں تناقض۔
چنانچہ مدعا علیہ خود ہی اپنے تناقض کا اقرار کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ : ”میں نے ان متناقض باتوں کو براہین میں جمع کردیا ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ۸۔ خزائن ص ۱۱۴ ج ۱۹)
جس شخص کے کلام میں تناقض ہو اس کے بارے میں مدعا علیہ کا فتویٰ حسب ذیل ہے :
۳۳
- ◯ ”۔۔۔۔۔۔ کسی بیمار‘ عقل مند اور صاف دل انسان کے کلام میں
ہرگز تناقض نہیں ہوتا‘ ہاں اگر کوئی پاگل یا مجنون یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملادیتا ہو اس کا کلام بے شک متناقض ہوجاتا ہے۔“
(ست بچن ص ۳۰۔ خزائن ص ۱۴۲ ج ۱۰)
- ◯ ”۔۔۔۔۔۔ ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں
سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“
(ست بچن ص ۳۱۔ خزائن ۱۴۳ ج ۱۰)
- ◯ ”۔۔۔۔ پھر تناسخ کا قائل ہونا اسی شخص کا کام ہے جو پرلے
درجہ کا جاہل ہو جو اپنے کلام میں متناقض بیانوں کو جمع کرے اور اس پر اطلاع نہ رکھے۔“
(ست بچن ص ۲۹۔ خزائن ۱۴۱ ج ۱۰)
- ◯ ”۔۔۔۔ ہر ایک کو سوچنا چاہئے کہ اس شخص کی حالت ایک
مخبوط الحواس آدمی کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ۱۸۴۔ خزائن ص ۱۹۱ ج ۲۲)
- ◯ ”۔۔۔ اور جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“
(ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص ۱۱۱۔ خزائن ۲۷۵ ج ۲۱)
پس جب کہ مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی تسلیم کرتا ہے کہ اس کے کلام میں تناقض ہے اور یہ کہ جس شخص کے کلام میں تناقض ہو وہ پاگل‘ مجنون‘ مخبوط الحواس‘ پرلے درجے کا جاہل‘ جھوٹا اور منافق ہوتا ہے تو معزز عدالت کے نزدیک مدعا علیہ اور اس کے الہام کی حیثیت کیا ہونی چاہئے؟ آیا ایسے شخص کے الہام کی بنا پر کسی مسلمہ عقیدہ کو تبدیل کرلینا صحیح ہے؟ اور کیا ایسے شخص کو مسیح موعود ماننا روا ہے؟۔ ع ”منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر“
ہفتم : مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ بیان قبل ازیں عدالت میں پیش کیا جاچکا ہے کہ :
۳۴
"اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان پر سے نازل ہوں گے۔ اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر نہ کرنا چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے۔"
مدعا علیہ اقرار کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام کے ذریعہ اس کو براہین احمدیہ میں عیسیٰ بنادیا گیا تھا مگر اس کے باوجود اس نے اپنا اسلامی عقیدہ تبدیل نہیں کیا‘ بلکہ اپنے الہام میں تاویل کی‘ لیکن بعد کی مسلسل وحی نے مدعا علیہ کو اس بات پر مجبور کردیا کہ وہ اپنے الہام کو ظاہری معنی پر محمول کرکے اپنے تئیں سچ مچ عیسیٰؑ سمجھ لے اور عیسیٰ علیہ السلام کو مرا ہوا فرض کر لے۔ اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ مدعا علیہ کے جس الہام پر اس کے دعویٰ اور تبدیلی عقیدہ کی بنیاد ہے اس میں تاویل ہو سکتی تھی‘ اور کچھ ضروری نہ تھا کہ خواہ مخواہ اسے ظاہری معنی پر ہی محمول کیا جاتا‘ یہی وجہ ہے کہ مدعا علیہ اس تاویل کے سہارے ایک عرصہ تک اپنے سابق اسلامی عقیدہ پر قائم رہا۔ اس کے عقیدہ میں تبدیلی اس وقت واقع ہوئی جب اس نے اپنے الہام کی تاویل کو چھوڑ کر اس کے ظاہری معنی لئے‘ اور اپنے الہام کا یہ مطلب لیا کہ وہی سچ مچ عیسیٰ بن مریم اور مسیح موعود ہے۔ گویا مدعا علیہ کو اپنے الہام کے بارے میں اصرار ہے کہ اس کے ظاہری معنی ہی مراد ہیں۔ لیکن اس کے برعکس مدعا علیہ کو اصرار ہے کہ قرآن و حدیث میں جس "عیسیٰ بن مریم" کے آنے کی پیش گوئی کی گئی اس کے ظاہری معنی مراد نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنفس
۳۵
نفیس آسمان سے نازل ہوں گے‘ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص اس امت میں عیسیٰ علیہ السلام کی خو بو پر پیدا ہوگا گویا وہ بعینہ عیسیٰ ہوگا۔
مدعا علیہ کا یہ نظریہ صحیح ہے یا غلط؟ اس سے یہاں بحث نہیں‘ یہاں معزز عدالت کے لئے لائق توجہ جو امر ہے وہ یہ ہے کہ مدعا علیہ اپنے ”الہام“ کو اصل ٹھہرا کر قرآن و حدیث میں تو تاویل کرتا ہے۔ لیکن قرآن و حدیث کو اصل ٹھہرا کر اپنے الہام میں تاویل کرنے پر آمادہ نہیں۔ گویا اس کا الہام تو ایسی قطعی چیز ہے کہ اس کے ظاہری معنی ہی مراد لینا ضروری ہے‘ اور پھر الہام کو ظاہری معنی کے مطابق بنانے کے لئے قرآن و حدیث کے بے شمار نصوص میں تاویل کرنا لازم ہے‘ لیکن قرآن و حدیث کا درجہ مدعا علیہ کے نزدیک ایسا نہیں کہ انہیں ظاہر پر محمول کرکے وہ اپنے الہامات کی تاویل کرے۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص بارہ برس تک اپنے الہام کا مطلب سمجھنے سے قاصر رہا ہو کیا اس کا الہام اور الہامی فہم اس درجہ لائق اعتماد ہوسکتا ہے کہ اس کو اصل ٹھہرا کر قرآن و حدیث کے ظاہری معنی کو چھوڑ دیا جائے‘ اور تیرہ سو سال کے سلف صالحین کے اجماعی‘ قطعی اور متواتر عقیدے کو خیرباد کہہ کر ایک نیا عقیدہ تراش لیا جائے؟ کیا معزز عدالت کی نظر میں قرآن و حدیث کی اتنی بھی قیمت نہیں جتنی کہ مرزا غلام احمد کے الہام کی ہے؟ اگر معزز عدالت کی نظر میں قرآن و حدیث زیادہ قیمتی ہیں تو وہ مدعا علیہ سے یہ دریافت کرے کہ اسے یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ اپنے الہام کو اصل الاصول قرار دے کر اس کو تو ظاہری معنی پر محمول کرے اور پھر اپنے الہام کی سان پر چڑھا کر قرآن و حدیث کے کس بل نکالے؟
ایک سلیم الفطرت مسلمان کا فرض تو یہ ہونا چاہئے کہ قرآن و حدیث کا وہی مفہوم لے جو تیرہ سو سال سے سلف صالحین نے سمجھا ہے‘ اسی کے مطابق
٣٠٦
اپنا عقیدہ رکھے، اور اگر اس کے خلاف کسی کا الہام ہو تو زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس الہام میں تاویل کرکے اسے قرآن و حدیث کے ظاہری اور مسلمہ و متواتر مفہوم کے مطابق کیا جائے۔ اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو ایسے الہام کو ”کالائے بد بریش خاوند“ کہہ کر رد کردیا جائے۔
اسلامی عقائد کی کتابوں میں یہ اصول درج کیا گیا ہے :
”والنصوص من الکتاب والسنۃ تحمل علی ظواھرھا، مالم یصرف عنھا دلیل قطعی ....... والعدول عنھا ای عن الظواھر الی معانی یدعیھا اہل الباطن الحاد“
(شرح عقائد نسفی ص ۴۶ مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی)
ترجمہ : ”کتاب و سنت کے نصوص کو ان کے ظاہری معنوں پر محمول کیا جائے، الا یہ کہ دلیل قطعی کی رو سے ان کا ظاہری معنوں پر محمول کرنا ممکن نہ ہو ۔۔۔۔۔ اور اہل باطن جن معانی کا دعویٰ کرتے ہیں وہ الحاد و زندقہ ہے۔“
اور خود مدعا علیہ کو بھی یہ اصول مسلم ہے، چنانچہ وہ لکھتا ہے :
”کیونکہ یہ مسلم ہے کہ النصوص یحمل علٰی ظواھرھا۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۳۰۔ خزائن ص ۳۹۰ ج ۳)
لیکن ہمارے مدعا علیہ مرزا غلام احمد کی منطق یہ ہے کہ اس کے الہام کو ظاہری معنی پر (جو اسے بارہ برس تک خود بھی سمجھ نہیں آئے) محمول کرو، اور پھر قرآن و حدیث کے تمام نصوص کے معنی بدل کر اسے الہام کے ظاہری معنی پر منطبق کرو۔ کیا دنیا کی کوئی عدالت مدعا علیہ کی اس ستم ظریفی کو صحیح اور درست تسلیم کرتی ہے؟
ہشتم : مدعا علیہ کہتا ہے کہ اسے معصوم ہونے کا دعویٰ نہیں، چنانچہ لکھتا ہے :
۳۷
”افسوس کہ بٹالوی صاحب نے یہ نہ سمجھا کہ نہ مجھے اور نہ کسی اور انسان کو بعد انبیاء علیہم السلام کے معصوم ہونے کا دعویٰ ہے۔“
(کرامات الصادقین ص ۵۔ خزائن ص ۴۷ ج ۷)
ظاہر ہے کہ غیر معصوم شخص کا الہام کبھی معصوم نہیں ہو سکتا اور غیر معصوم الہام پر تبدیلی عقیدہ کی بنیاد رکھنا صحیح نہیں۔ معزز عدالت مدعا علیہ سے دریافت کرے کہ اس نے غیر معصوم ہونے کے باوجود اپنے الہام کے ظاہری معنی کیوں مراد لئے؟ اور اس ظاہری معنی کی بنیاد پر اسلامی عقیدہ کو کیوں تبدیل کیا؟ اور قرآن و حدیث کو ظواہر کے چھوڑنے کی جرات کیوں کی؟
نہم : مدعا علیہ نے آئینہ کمالات اسلام میں لکھا ہے :
”جو شخص ایسی بات منہ پر لائے جس کی کوئی صحیح اصل شرع میں موجود نہ ہو۔ خواہ وہ ملہم ہو یا مجتہد وہ شیاطین کے ہاتھ میں کھلونا ہے۔“
(ص ۲۱۔ خزائن ص ۳۱ ج ۵)
اوپر عرض کیا جاچکا ہے کہ وفات عیسیٰ کی کوئی اصل صحیح مدعا علیہ کو اس وقت تک نہیں ملی جب تک اس نے اپنے الہام کو اصل بناکر قرآن و حدیث کو اس پر منطبق کرنا شروع نہیں کیا۔ اگر حضرت عیسیٰؑ کے وفات پاجانے کی کوئی اصل صحیح قرآن و حدیث میں موجود ہوتی تو تیرہ سو سال کے اکابر اولیاء اللہ اور ارباب کشف اس سے بے خبر نہ ہوتے، اور خود مدعا علیہ بھی ۵۲ برس کی عمر تک اس سے بے خبر نہ رہتا۔ وفات عیسیٰؑ کی خبر مدعا علیہ کو صرف الہام کے ذریعہ حاصل ہوئی۔ اب معزز عدالت کو فیصلہ کرنا ہے کہ مدعا علیہ کے مندرجہ بالا فتویٰ کے مطابق اسے شیاطین کے ہاتھ کا کھلونا کیوں نہ تصور کیا جائے؟ اور کیوں اس کے الہام کو اصل بناکر قرآن و حدیث کے معانی کو تبدیل کیا جائے۔؟
۳۸
مندرجہ بالا وجوہ کا حاصل یہ ہے کہ مدعا علیہ نے جس الہامی بنیاد پر اپنا عقیدہ تبدیل کیا وہ علم و عقل کی میزان میں کوئی وزن نہیں رکھتی‘ اور نہ اس کی وجہ سے کسی مسلمہ اسلامی عقیدہ کو تبدیل کرنا صحیح ہے‘ بلکہ ایسا شخص منافق‘ ملحد‘ زندیق اور خارج از اسلام قرار پاتا ہے۔ پس ہماری استدعا ہے کہ عدالت از روئے انصاف مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ان القاب کا مستحق قرار دے۔
چونکہ ہمارے پیش کردہ دلائل کا انحصار صرف مدعا علیہ کے مسلمات پر ہے اس لئے مدعا علیہ کے وکلاء اس کی جانب سے کوئی معقول اور اطمینان بخش صفائی پیش نہیں کرسکتے‘ نہ ہمارے دلائل کا کوئی معقول جواب دے سکتے ہیں۔ کیا ہم یہ توقع رکھیں کہ انصاف نام کی کوئی چیز دنیا میں موجود ہے؟
O
٣٩
باب چہارم
سابقہ عقیدہ کے بارے میں مدعا علیہ کی عذر تراشیاں
پہلے معلوم ہو چکا ہے کہ ہمارے مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں ”حیات مسیح“ کا عقیدہ درج کیا تھا۔ لیکن ۱۸۹۱ء میں وہ اپنے اس عقیدہ سے منحرف ہو گیا اور اس کی جگہ یہ عقیدہ تراش لیا کہ مسیح ابن مریم مر گیا ہے اور اس کی جگہ میں مسیح بن کر آیا ہوں۔ اس پر یہ سوال ہوا کہ پھر تو نے پہلے ”حیات مسیح“ کا عقیدہ کیوں لکھا تھا۔ اس کے جواب میں اس نے جو اعذار پیش کئے وہ ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں۔ تاکہ معزز عدالت ان اعذار کو میزان عقل میں تول کر دیکھے کہ مدعا علیہ کے یہ عذر کہاں تک سچائی پر مبنی ہیں؟
پہلا عذر : میں نے رسمی عقیدہ لکھا تھا
مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بار بار لکھا ہے کہ چونکہ عام مسلمانوں کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ دوبارہ تشریف لائیں گے۔ اس لئے میں نے بھی براہین میں رسمی عقیدہ لکھ دیا تھا۔
چنانچہ اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھتا ہے :
”میں نے براہین میں جو کچھ مسیح بن مریم کے دوبارہ آنے کا ذکر لکھا ہے وہ ذکر صرف ایک مشہور عقیدہ کے لحاظ سے ہے جس کی طرف آج کل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات جھکے ہوئے ہیں، سو اسی ظاہری اعتقاد کے لحاظ سے میں نے براہین میں لکھ دیا تھا کہ ..... جب مسیح بن مریم آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی دونوں طور پر خلافت ہو گی۔“
(ازالہ اوہام ص ۱۹۷‘ ۱۹۸۔ خزائن ص ۱۹۶ ج ۳)
۴۰
مدعا علیہ اپنی کتابوں میں بار بار لکھتا ہے کہ میں نے براہین میں رسمی عقیدہ لکھا تھا، لیکن ارباب عقل و انصاف درج ذیل امور پر غور کر کے فیصلہ فرمائیں کہ اس کا یہ عذر اس کی بریت ظاہر کرتا ہے، یا اس کے جرم کو مزید سنگین کر دیتا ہے :
اول : مدعا علیہ نے اپنی کتاب براہین احمدیہ کے بڑے فضائل و مناقب بیان کئے تھے۔ مثلا :
- ○ ” . . . اول اس کتاب میں فائدہ یہ ہے کہ یہ کتاب مہمات
دینیہ کے تحریر کرنے میں ناقص البیان نہیں، بلکہ وہ تمام . . صداقتیں کہ جن پر اصول علم دین کے مشتمل ہیں، اور وہ تمام حقائق عالیہ کہ جن کی ہیئت اجتماعی کا نام اسلام ہے وہ سب اس میں مکتوب اور مرقوم ہیں۔ اور یہ ایسا فائدہ ہے کہ جس سے پڑھنے والوں کو ضروریات دین پر احاطہ ہو جائے گا، اور کسی مغوی یا بہکانے والے کے پنجے میں نہیں آئیں گے، بلکہ دوسروں کو وعظ اور نصیحت اور ہدایت کرنے کے لئے ایک کامل استاذ اور ایک عیار رہبر بن جائیں گے۔“
(براہین احمدیہ ص ۱۳۶)
- ○ ” . . . پانچواں اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ اس کو پڑھنے
سے حقائق اور معارف کلام ربانی کے معلوم ہو جائیں گے . . . . اور وہ تمام کامل صداقتیں جو اس میں دکھائی ہیں وہ سب آیات بینات قرآن شریف سے ہی لی گئی ہیں . . . . پس حقیقت میں یہ کتاب قرآن شریف کے دقائق اور حقائق اور اس کے اسرار عالیہ اور اس کے علوم حکمیہ اور اس کے اعلیٰ فلسفہ کو ظاہر کرنے کے لئے ایک عالی شان تفسیر ہے۔“
(ص ۱۳۷)
- ○ ”اس احقر نے . . . . جناب خاتم الانبیاء ﷺ کو خواب
میں دیکھا اور اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی کہ جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔ آنحضرت ﷺ نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا
۴۱
ہے؟ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے ”قطبی“ رکھا ہے۔ جس نام کی تعبیر اب اشتہاری کتاب (براہین احمدیہ) کی تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے۔ جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپے کا اشتہار دیا گیا ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ۲۴۸)
- ○ براہین احمدیہ کے آخر میں ایک اشتہار ”ہم اور ہماری کتاب“ کے
عنوان سے درج ہے جس میں مدعا علیہ لکھتا ہے :
”یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے ”انی انا ربک“ کی آواز آئی‘ اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی۔ سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً و باطناً حضرت رب العالمین ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ص ۵۶ ج ۱)
مدعا علیہ کے اپنی کتاب براہین احمدیہ کے بارے میں ان بلند بانگ دعووں پر نظر کی جائے اور پھر انصاف کیا جائے اگر یہ کتاب واقعی ان صفات کی حامل تھی تو اس میں غلط‘ اور گمراہ کن عقائد کیسے درج کر دیئے گئے؟ معلوم ہوا کہ مدعا علیہ نے یہ عقیدہ محض رسمی طور پر نہیں لکھا تھا‘ بلکہ قرآن و حدیث کی روشنی میں پورے شرح صدر کے ساتھ لکھا تھا۔
دوم : مدعا علیہ کا یہ عذر اس وجہ سے بھی باطل ہے کہ اس نے بزعم خود یہ کتاب ملہم و مجدد ہونے کی حیثیت سے لکھی تھی‘ جیسا کہ مندرجہ بالا اقتباس سے ظاہر ہے کہ اسے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح اس کو ”انی انا ربک“ کے خطاب وحی سے نوازا گیا‘ جو درحقیقت نبوت کا دعویٰ ہے۔
علاوہ ازیں ایک دوسرے اشتہار میں مدعا علیہ لکھتا ہے :
”کتاب براہین احمدیہ‘ جس کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے
۴۴
ملہم و مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے۔ جس کے ساتھ دس ہزار روپے کا اشتہار ہے، ..... اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ص ۲۳ ج اول مطبوعہ لندن)
اور مدعا علیہ نے اس کتاب میں اپنے بہت سے الہام بھی درج کئے تھے، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے کو ملہم من اللہ سمجھتا تھا، الغرض مدعا علیہ کے دعویٰ کے مطابق وہ براہین احمدیہ کی تالیف کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور اور ملہم من اللہ تھا، اور اس نے مجدد وقت کی حیثیت سے یہ کتاب اصلاح و تجدید دین کے لئے لکھی تھی۔ اور جو شخص ملہم و مجدد ہو اس کے بارے میں مدعا علیہ کی رائے یہ ہے :
- ○ ”... وہ اس قدر طبعاً مرضات الٰہیہ میں فنا ہو جاتا ہے کہ
خدا میں ہو کر بولتا ہے، اور خدا میں ہو کر دیکھتا ہے، اور خدا میں ہو کر سنتا ہے، اور خدا میں ہو کر چلتا ہے، گویا اس کے جبہ میں خدا ہی ہوتا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۲۳۔ خزائن ص ۲۵ ج ۲۲)
- ○ ”... وہ اپنی نفسانی حیات سے مر کر خدا تعالیٰ کی ذات کا مظہر
اتم ہوجاتے ہیں۔ اور ظلی طور پر خدا تعالیٰ ان کے اندر داخل ہوجاتا ہے۔“
(ایضاً ص ۲۴۔ خزائن ص ۲۶)
- ○ ”... خدا ان پر نازل ہوتا ہے، اور خدا کا عرش ان کا دل
ہوجاتا ہے۔“
(ایضاً ص ۵۴۔ خزائن ۵۶)
- ○ ”... خدا کے کلام کے متعلق وہ معارف صحیحہ (ان کو)
سوجھتے ہیں جو دوسروں کو نہیں سوجھ سکتے۔ کیونکہ وہ روح القدس سے مدد پاتے ہیں۔“
(ایضاً ص ۵۰۔ خزائن ص ۷۵)
- ○ ”... اور بباعث نہایت درجہ فنا فی اللہ ہونے کے اس کی
۴۳
زبان ہر وقت خدا کی زبان ہوتی ہے۔ اور اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اور اگرچہ اس کو خاص طور پر الہام بھی نہ ہو تب بھی جو کچھ اس کی زبان پر جاری ہوتا ہے وہ اس کی طرف سے نہیں۔ بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔"
(حقیقۃ الوحی ص ۷۱۔ خزائن ص ۱۸ ج ۲۲)
- O "... اس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ روح
القدس کی قدسیت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلافصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے۔ اور وہ بغیر روح القدس اور اس کی تاثیر قدسیت کے ایک دم بھی اپنے تئیں ناپاکی سے نہیں بچاسکتا۔"
(آئینہ کمالات اسلام ص ۹۳۔ خزائن ۹۳ ج ۵)
اس قسم کے تعلی آمیز دعوے مدعا علیہ کے کلام میں بہت زیادہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب مدعا علیہ ملہم و مجدد تھا۔ اور جب ملہم کی یہ صفات ہیں تو یہ گمراہ کن عقیدہ رسمی طور پر اس نے براہین میں کیسے درج کردیا؟ اب یا تو یہ کہا جائے کہ اس کا ملہمیت و مجددیت کا دعویٰ غلط ہے۔ یا یہ کہا جائے کہ ملہم کی یہ مبالغہ آمیز صفات جو درجہ عصمت سے اٹھاکر اسے درجہ خدائی تک پہنچاتی ہیں، بالکل غلط ہیں۔ یا یہ تسلیم کیا جائے کہ اس نے جو عقیدہ براہین میں لکھا تھا وہ عقیدہ صحیح تھا، من جانب اللہ تھا۔ کیونکہ مدعا علیہ کے بقول :
"اگرچہ خاص طور پر اس کو الہام بھی نہ ہو تب بھی جو کچھ اس کی زبان پر جاری ہوتا ہے وہ اس کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔"
بہر حال اس کا یہ عذر کرنا کہ میں نے یہ عقیدہ رسمی طور پر لکھا تھا قطعاً غلط اور جھوٹ ہے۔ اور اس کے ملہمیت و مجددیت کے دعووں پر پانی پھیر دیتا ہے۔
مدعا علیہ نے اپنی کتاب "اعجاز احمدی" میں اس سلسلہ میں کئی عذر پیش کئے ہیں، اور بڑی دل چسپ باتیں لکھی ہیں، ذیل میں ایک ایک عذر کو نقل
۴۴
کر کے اس کا تجزیہ کرتا ہوں :
دوسرا عذر: کہاں لکھا ہے کہ خدا کی وحی سے بیان کرتا ہوں؟
باب اول میں گزر چکا ہے کہ مدعا علیہ نے براہین احمدیہ میں عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ قرآن کریم، حدیث نبویؐ اور خود اپنے الہامات کے حوالے سے لکھا تھا۔ لیکن ”اعجاز احمدی“ میں لکھتا ہے :
”اس وقت کے نادان مخالف بدبختی کی طرف ہی دوڑتے ہیں اور شقاوت سر پر سوار ہے باز نہیں آتے کیا کیا اعتراض بنا رکھے ہیں مثلاً کہتے ہیں کہ مسیح موعود کا دعویٰ کرنے سے پہلے براہین احمدیہ میں عیسی
”اور مجھے کب اس بات کا دعویٰ ہے کہ میں عالم الغیب ہوں۔“
اولاً ” کیا صرف اسی شخص کا عقیدہ صحیح ہونا چاہئے جو عالم الغیب ہو؟ نہیں! بلکہ ہر مسلمان کا عقیدہ صحیح ہونا چاہئے۔ خصوصاً ” جو شخص مجددیت کا مدعی ہو اس کا عقیدہ صحیح ہونا ضروری ہے، اگر تو مجدد وقت تھا تو تو نے غلط عقیدہ لکھ کر دنیا کو گمراہ کیوں کیا؟
ثانیاً ” : اگرچہ تو نے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا، لیکن تو نے یہ دعویٰ ضرور کیا تھا کہ ظلی طور پر خدا تیرے اندر داخل ہوگیا ہے، اور تیرے جبہ میں خدا ہی ہے۔ اور تجھے ”آواہن“ کا بھی الہام ہوا تھا۔ یعنی ”خدا میرے اندر اتر آیا۔“ اس کے باوجود یہ عذر کرنا کہ میں ”عالم الغیب“ نہیں تھا، کس قدر لائق شرم عذر ہے۔
چوتھا عذر : کمال سادگی
مدعا علیہ نے اپنی سادگی کو بھی عذر قرار دیا ہے۔ وہ لکھتا ہے :
”جب تک خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا کہ تو مسیح موعود ہے اور عیسٰی فوت ہوگیا ہے۔ تب تک میں اسی عقیدہ پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔ اسی وجہ سے کمال سادگی سے میں نے حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی نسبت براہین میں لکھا ہے۔ جب خدا نے مجھ پر اصل حقیقت کھول دی تو میں اس عقیدہ سے باز آگیا۔ میں نے بجز کمال یقین کے جو میرے دل پر محیط ہوگیا اور مجھے نور سے بھر دیا اور اس رسمی عقیدہ کو نہ چھوڑا حالانکہ اسی براہین میں میرا نام عیسٰی رکھا گیا تھا اور مجھے خاتم الخلفاء ٹھہرایا گیا تھا اور میری نسبت کہا گیا تھا کہ تو ہی کسر صلیب کرے گا۔ اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن و حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدٰی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ تاہم یہ
۴۶
الہام جو براہین احمدیہ میں کھلے کھلے طور پر درج تھا خدا کی حکمت عملی نے میری نظر سے پوشیدہ رکھا اور اسی وجہ سے باوجودیکہ میں براہین احمدیہ میں صاف اور روشن طور پر مسیح موعود ٹھہرایا گیا تھا۔ مگر پھر بھی میں نے بوجہ اس ذہول کے جو میرے دل پر ڈالا گیا حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ پس میری کمال سادگی اور ذہول پر یہ دلیل ہے کہ وحی الٰہی مندرجہ براہین احمدیہ تو مجھے مسیح موعود بناتی تھی مگر میں نے اس رسمی عقیدہ کو براہین میں لکھ دیا۔ میں خود تعجب کرتا ہوں کہ میں نے باوجود کھلی کھلی وحی کے جو براہین احمدیہ میں مجھے مسیح موعود بناتی تھی کیونکر اسی کتاب میں یہ رسمی عقیدہ لکھ دیا۔
پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بیخبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شد و مد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے۔ تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔"
(اعجاز احمدی ص ۷۱ تا ۷۲ خزائن ص ۱۱۳ ج ۱۹)
انصاف فرمایا جائے کہ مدعا علیہ مجددیت، ماموریت اور ملہمیت کے بلند بانگ دعوے بھی کرتا ہے، اور ساتھ ہی اپنی غباوت اور سادگی کا بھی اقرار کرتا ہے کہ اسے بارہ برس تک یہی پتہ نہیں چلا کہ خدا نے اسے مسیح موعود بنا دیا ہے۔
اور یہ بھی عجیب ماجرا ہے کہ ایک طرف خدا مدعا علیہ پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ تو حضرت مسیح علیہ السلام کی پیش گوئی میں شامل ہے، یعنی حضرت مسیح علیہ السلام اس پیش گوئی کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں، اور تو روحانی اور معقولی طور پر اس کا مورد ہے۔ اور دوسری طرف وہی خدا مدعا علیہ سے کہتا ہے کہ :
۷۴
” تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ“
یہ ایک ایسا تناقض ہے جو کسی مخبوط الحواس یا منافق ہی کے قلم سے سرزد ہوسکتا ہے۔
پانچواں عذر : خدا کی حکمت عملی
مدعا علیہ کہتا ہے کہ :
”یہ الہام جو براہین احمدیہ میں کھلے کھلے طور پر درج تھا خدا کی حکمت عملی نے میری نظر سے پوشیدہ رکھا ۔۔۔۔۔ یہ خدا کی حکمت عملی میری سچائی کی ایک دلیل تھی اور میری سادگی اور عدم بناوٹ پر ایک نشان تھا ۔۔۔۔۔۔ یہ میری سادگی تھی جو میری سچائی پر ایک عظیم الشان دلیل تھی ۔۔۔۔۔۔ یہ ایک لطیف استدلال ہے جو خدا نے میرے لئے براہین احمدیہ میں پہلے سے تیار کر رکھا ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ۷۔ ۸ ملخصاً)
مدعا علیہ اپنی اس سادگی اور ذھول کو خدا کی ”حکمت عملی“ اور خدا کی طرف سے ایک ”لطیف استدلال“ قرار دیتا ہے۔ یہ بات بالکل صحیح ہے، لیکن یہ اس کی سچائی کی دلیل نہیں، بلکہ اس کے جھوٹ کی دلیل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ علیم و خبیر کو معلوم تھا کہ یہ شخص باغوائے شیطانی آئندہ چل کر ”مسیح موعود“ ہونے کا دعویٰ کرے گا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس پر ذھول کا پردہ ڈال کر اسے تناقض میں مبتلا کردیا، اور خود اس کے قلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ لکھوا دیا۔ تاکہ آئندہ جب وہ ”مسیح موعود“ ہونے کا دعویٰ کرے تو خود اس کو اس کے الفاظ میں ملزم کیا جاسکے :
”صاحب من اقرار کے بعد کوئی قاضی انکار نہیں سن سکتا۔“
(اعجاز احمدی ص ۳۰۔ خزائن ص ۱۴۹ ج ۱۹)
۴۸
ایک اہم لطیفہ
ہمارے مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دو دعوے معرکۃ الآراء ہیں ایک ”مسیح موعود“ ہونے کا دعویٰ۔ اور دوسرا نبوت کا دعویٰ ۔۔۔۔۔ عجیب کرشمہ لطف خداوندی یہ ہے کہ وہ اپنے دونوں دعووں کی جڑ پہلے سے کاٹ چکا تھا۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی سب سے پہلی الہامی کتاب ”براہین احمدیہ“ میں لکھوا دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ دوبارہ دنیا میں نزول اجلال فرمائیں گے، تاکہ اس کے بعد وہ جب بھی اس عقیدے سے انحراف کرے اس کے سامنے اس کا یہ قول پیش کر دیا جائے :
” صاحب من! اقرار کے بعد کوئی قاضی انکار نہیں سن سکتا۔“
اور اس کے دوسرے دعویٰ کو باطل کرنے کے لئے اس کے قلم سے بار بار لکھوا دیا کہ مدعی نبوت ملعون ہے، کاذب ہے، کافر ہے، دائرہ اسلام سے خارج ہے، چنانچہ مدعا علیہ کے چند فقرے ملاحظہ فرمائیے :
- ◯ ”ان پر واضح ہو کہ ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ص ۲۹۷ ج ۲)
- ◯ ”سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلین
کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کاذب و کافر جانتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ص ۲۳۰ ج ۱)
- ◯ ”میں نبوت کا مدعی نہیں، بلکہ ایسے مدعی کو خارج از اسلام سمجھتا
ہوں۔“
(آسمانی فیصلہ ص ۳۔ خزائن ص ۳۱۳ ج ۴)
اور اس کے قلم سے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی لکھوا دیا کہ آنحضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی و رسول کا آنا ممکن ہی نہیں۔ لہٰذا جو شخص رسالت و نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ ایک امر محال کا دعویٰ کرتا
۴۹
ہے ۔ جو سراسر باطل ہے۔ چند فقرے ملاحظہ فرمایئے :
- ○ ”ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جاوے
اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لاویں اور پھر چپ ہو جاویں یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہو گئی تو پھر تھوڑا بہت نازل ہونا برابر ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۷۷ خزائن ص ۴۱۴ ج ۳)
- ○ ”ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے
اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں تصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرئیل بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لئے وحی نبوت کے لانے سے منع کیا گیا ہے یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔“
(ایضاً)
- ○ ”لیکن خدا تعالیٰ ایسی ذلت اور رسوائی اس امت کے لئے اور
ایسی ہتک اور کسر شان اپنے نبی مقبول خاتم الانبیاء کے لئے ہرگز روا نہیں رکھے گا کہ ایک رسول کو بھیج کر جس کے آنے کے ساتھ جبرائیل کا آنا ضروری امر ہے اسلام کا تختہ ہی الٹا دیوے حالانکہ وہ وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول بھیجا نہیں جائے گا۔“
(ایضاً ص ۴۲۶)
- ○ ”رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم
کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے۔ اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع ہے۔“
(ایضاً ص ۴۳۲)
مدعا علیہ کے ان حوالہ جات سے واضح ہے کہ :
- ○ ختم نبوت، اسلام کا قطعی عقیدہ ہے۔ جس کا مفہوم آیت خاتم
۵۰
النبیین کی رو سے یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص منصب نبوت پر فائز نہیں ہو سکتا‘ نہ کسی پر وحی نبوت نازل ہو سکتی ہے۔
- وحی نبوت حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ نازل ہوئی ہے‘ اور
آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام کے وحی نبوت لے کر آنے کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے۔
- آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام کا کسی کے پاس
ایک فقرہ وحی کا لے کر آنا بھی ختم نبوت کے منافی ہے۔
- اللہ تعالیٰ نے آیت خاتم النبیین میں وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت
ﷺ کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام کسی کے پاس وحی نبوت لے کر نہیں آئیں گے۔ اب اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخص کا رسول اور نبی ہونا فرض کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کا جھوٹا ہونا لازم آتا ہے۔
- آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخص کا رسول اور نبی ہونا آنحضرت
ﷺ کی توہین ہے۔
- اور اس سے اسلام کا تختہ الٹ جاتا ہے۔
- کوئی شخص رسول اور نبی نہیں ہو سکتا جب تک جبریل علیہ السلام اس
کے پاس وحی لے کر نہ آئیں۔ اور وحی رسالت قیامت تک بند ہے۔
ان تمام تصریحات کے باوجود مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ دعویٰ جڑ دیا کہ ”ہم نبی اور رسول ہیں“ اور یہ کہ مدعا علیہ کی وحی الٰہی نے اسے ”محمد رسول اللہ“ قرار دیا ہے۔
مدعا علیہ کا خلیفہ دوم اور اس کا فرزند اکبر مرزا محمود احمد بڑی شد و مد سے اپنے ابا کی نبوت کا قائل تھا‘ اور اس کی نبوت کے منکروں کو کافر قرار دیتا تھا‘ اس کو مدعا علیہ کے ان حوالوں سے بڑی پریشانی ہوئی‘ بالآخر اس نے اعلان کر دیا ،
۵۱
کہ اس کے ابا کے یہ حوالے منسوخ ہیں، اور ان سے حجت پکڑنا غلط ہے، چنانچہ مرزا محمود اپنی کتاب ”حقیقۃ النبوۃ“ میں، جو خالص اسی موضوع پر لکھی گئی ہے، طویل بحث کے آخر میں لکھتا ہے :
”اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کا مسئلہ آپ پر ۱۹۰۰ء یا ۱۹۰۱ء میں کھلا ہے، اور چونکہ ایک غلطی کا ازالہ ۱۹۰۱ء میں شائع ہوا ہے، جس میں آپ نے اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے، اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے، پس ایک طرف آپ کی کتابوں سے اس امر کے ثابت ہونے سے کہ ۱۹۰۱ء سے آپ نے نبی کا لفظ بار بار استعمال کیا ہے، اور دوسری طرف حقیقۃ الوحی سے یہ ثابت ہونے سے کہ آپ نے تریاق القلوب کے بعد نبوت کے متعلق عقیدہ میں تبدیلی کی ہے یہ بات ثابت ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے، اب منسوخ ہیں، اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ۱۲۱)
مرزا محمود احمد کی یہ تحریر دنیا کے عجائبات میں شمار کئے جانے کے لائق ہے۔ کیونکہ مرزا محمود یہ تو تسلیم کرتا ہے ....اور بالکل صحیح تسلیم کرتا ہے ....کہ اس کا ابا پہلے اپنی نبوت سے انکار کرتا تھا، مدعی نبوت کو ملعون اور خارج از اسلام قرار دیتا تھا، لیکن بعد میں خود مدعی نبوت بن گیا۔ مرزا محمود کے خیال میں اس تضاد کو دور کرنے کا حل یہی تھا کہ اس کے ابا کی ۱۹۰۱ء سے پہلے کی تمام متعلقہ عبارتوں کو منسوخ کردیا جائے۔ یہ طرفہ تماشا دنیا نے کب دیکھا ہو گا کہ باپ کی عبارتوں کو بیٹا منسوخ کر ڈالتا ہے ؟ بہر حال میں اہل عقل و فہم کی عدالت انصاف سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ غور فرمائے کہ مرزا محمود احمد کی
۵۲
تحریر سے مرزا غلام احمد قادیانی کے مندرجہ بالا تمام اصول کس طرح منسوخ ہو گئے؟ اور قرآن مجید کی آیت خاتم النبیین کس طرح منسوخ ہو گئی؟
اس کے بارے میں خود اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے بیٹے کی خدمت میں اس کے باپ ہی کی تحریر نذر کرتا ہوں:
”اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو! دشمن قرآن نہ بنو! اور خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو! اور اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔“
(آسمانی فیصلہ ص ۲۵۔ خزائن ص ۳۳۵ ج ۴)
الغرض حق تعالیٰ شانہ کی حکمت عملی یہ تھی کہ اس علیم و خبیر کو معلوم تھا کہ یہ شخص (ہمارا مدعا علیہ مرزا قادیانی) دو دعوے کرے گا۔ ایک دعویٰ مسیح موعود ہونے کا۔ اور دوسرا دعویٰ نبوت و رسالت کا۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ نے ان دونوں دعووں کے بارے میں اس کے قلم سے پہلے ہی ایسی تحریریں لکھوا دیں کہ اس کے دعووں کی جڑ کٹ جائے۔ اور اس کا جھوٹا ہونا ہر عام و خاص کے سامنے کھل جائے، ----- ويمكرون ويمكر اللہ واللہ خير الماکرین۔
چھٹا عذر: حیاتِ مسیح کا عقیدہ منسوخ ہو گیا:
ایک عذر خود مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے اشارۃً اور اس کے مذہب کے نمائندوں کی طرف سے صراحتاً یہ پیش کیا جاتا ہے کہ جس طرح پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کیا گیا تھا بعد میں وہ حکم منسوخ ہو گیا، اور بیت اللہ شریف کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا، اسی طرح حیات و نزول مسیح کا عقیدہ بھی منسوخ ہو گیا۔ اور اس کی جگہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود مقرر کر دیا گیا۔
لیکن یہ عذر باطل ہے، اس لئے کہ نسخ احکام میں ہوتا ہے، خبروں میں نسخ نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب کوئی شخص پہلی خبر کے خلاف دوسری خبر دے تو لامحالہ ان دونوں خبروں میں سے ایک خبر واقعہ کے مطابق ہوگی، اور دوسری واقعہ کے خلاف۔ جو خبر واقعہ کے مطابق ہو وہ سچی کہلائے گی۔ اور جو واقعہ کے خلاف ہو وہ جھوٹی ہوگی۔ ہمارے مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے یہ خبر دی کہ : "حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے۔" بعد میں اس کے خلاف یہ خبر دی کہ : "حضرت مسیح علیہ السلام مرگئے ہیں۔ وہ دوبارہ نہیں آئیں گے۔" ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے جو خبر واقعہ کے مطابق ہوگی وہ سچی ہے۔ اور جو واقعہ کے خلاف ہے وہ جھوٹی ہے، اس لئے خبر کو سچی یا جھوٹی تو کہہ سکتے ہیں، مگر وہ ناسخ و منسوخ نہیں ہوسکتی۔ اس لئے جس طرح مرزا محمود احمد کا نبوت کے مسئلہ میں اپنے ابا کی پہلی تحریروں کو منسوخ کہنا غلط ہے، اسی طرح مرزا کی امت کا حیات و نزول مسیح کی خبر کو منسوخ قرار دینا بھی غلط ہے۔
۵۴
باب پنجم
مدعا علیہ کی اپنے سابقہ عقیدہ کے بارے میں گل افشانیاں
مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے باون سالہ عقیدہ کے بارے میں جو جو عذر پیش کئے ان کا نمونہ گزشتہ باب میں سپرد قلم کیا جاچکا ہے۔ اس باب میں ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ مدعا علیہ نے اپنے سابقہ باون سالہ عقیدہ کے بارے میں کیا کیا گل افشانیاں کیں۔
ملاحظہ فرمائیے :
محض گپ
مدعا علیہ لکھتا ہے :
”ہم ثابت کرچکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر جانا محض گپ ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص ۱۰۰۔ خزائن ص ۲۶۲ ج ۲۱)
کسی لغت کی کتاب کو اٹھا کر دیکھ لیجئے ”گپ“ کے معنی ہیں جھوٹ‘ جھوٹی بات۔ گویا مدعا علیہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ براہین احمدیہ میں اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ درج کرکے ”محض گپ“ ہانکی تھی‘ اور پھر ۱۸۹۱ء تک اسی گپ پر اس کا ایمان رہا۔ اہل عقل و فہم انصاف فرمائیں کہ کیا ایسا ”گپ باز“ آدمی مسیح موعود ہو سکتا ہے؟ کیا ایسا شخص مفتری اور کذاب کہلانے کا مستحق نہیں ہے ؟
لطیفہ یہ ہے کہ اس کے بجائے کہ ہم اس کو مفتری اور کذاب کہیں‘
۵۵
اللہ تعالیٰ نے خود مدعا علیہ کے قلم سے لکھوا دیا کہ وہ مفتری اور کذاب ہے، وہ خود بھی، اور اس کے ماننے والے بھی ----- چنانچہ وہ اپنی کتاب ازالہ اوہام میں ”علمائے ہند کی خدمت میں نیاز نامہ“ کے زیر عنوان لکھتا ہے :
” اے برادران دین و علمائے شرع متین! آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہوکر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدائے تعالیٰ سے پاکر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کردیا تھا جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا، میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۱۹۰۔ خزائن ص ۱۹۲ ج ۳)
واضح رہے کہ مدعا علیہ خود بھی اپنے کو ”مسیح موعود“ اور ”ابن مریم“ کہتا ہے اور اس کے ماننے والے بھی اس کے بارے یہی الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ سب مدعا علیہ کے اپنے فتویٰ کی رو سے کم فہم اور مفتری و کذاب ہیں۔
ایک اہم نکتہ
ہمارا مدعا علیہ مرزا قادیانی، ۱۸۹۱ء تک کہتا رہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے، اس کے بعد یہ کہنا شروع کیا کہ وہ مرگئے ہیں، دوبارہ نہیں آئیں گے۔ مسلمان اور قادیانی دونوں فریق اس پر متفق ہیں کہ ان دونوں متضاد خبروں میں ایک سچی تھی اور ایک جھوٹی۔ فرق یہ ہے کہ مسلمان کہتے ہیں کہ مرزا کی پہلی خبر سچی تھی اور دوسری جھوٹی۔ اس کے برعکس قادیانی کہتے ہیں کہ
۵۶
پہلی جھوٹی تھی اور دوسری سچی۔ جھوٹی خبر دینے والا شخص جھوٹا کہلاتا ہے۔ لہٰذا دونوں فریق اس پر متفق ہوئے کہ مرزا جھوٹا تھا
ایک اور قابل غور نکتہ
یہ تو آپ نے ابھی دیکھا کہ دونوں فریق مدعا علیہ کے جھوٹا ہونے پر متفق ہیں۔ آئیے اب یہ دیکھیں کہ دونوں میں کون سا فریق مدعا علیہ کو ”بڑا جھوٹا“ مانتا ہے۔
مسلمان کہتے ہیں کہ ابتداء سے ۱۸۹۱ء تک مدعا علیہ اپنی زندگی کے پچاس برس تک سچ بولتا رہا، آخری سترہ سالوں میں اس نے جھوٹ بولنا شروع کیا۔ اس کے برعکس قادیانیوں کا کہنا یہ ہے کہ مدعا علیہ اپنی زندگی کے پچاس برس تک جھوٹ بکتا رہا اور آخری سترہ سال میں اس نے سچ بولا۔
خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کے نزدیک مدعا علیہ کے سچ کا زمانہ پچاس سال ہے اور جھوٹ کا زمانہ صرف آخری سترہ سال ہے۔ اور قادیانیوں کے نزدیک مدعا علیہ کے جھوٹ کا زمانہ پچاس سال ہے اور اس کے سچ کا زمانہ صرف سترہ سال۔
بتائیے! دونوں میں سے کس فریق کے نزدیک مدعا علیہ ”بڑا جھوٹا“ نکلا؟
ایک اور لائق توجہ نکتہ
مسلمان کہتے ہیں کہ مدعا علیہ قادیانی پچاس سال تک سچ کہتا رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے لیکن پھر شیطان نے اس کو بہکایا اور شیطان کے بہکانے سے یہ کہنے لگا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ نہیں آئیں گے بلکہ میں خود مسیح موعود بن گیا ہوں۔
۵۷
اور قادیانی کہتے ہیں کہ وہ پچاس سال تک جھوٹ بکتا رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے۔ پھر اس کے پچاس سال جھوٹ بکنے کے صلہ میں اللہ تعالیٰ نے اس کو (نعوذ باللہ) مسیح موعود بنادیا۔ یہ بات تو ہر ایک کی عقل میں آسکتی ہے کہ ایک شخص پچاس برس تک صحیح عقیدہ پر رہے اور سچ بولتا رہے۔ لیکن پھر (نعوذ باللہ) اس کا دماغ خراب ہوجائے‘ اور شیطان کے بہکانے سے جھوٹے دعوے کرنے لگے‘ لیکن کیا کسی کی عقل میں یہ بات آسکتی ہے کہ پچاس سال تک جھوٹ بولنے والے کو ”مسیح موعود“ بنادیا جائے؟
ایک اور دلچسپ نکتہ
اوپر معلوم ہوچکا کہ مسلمان اور قادیانی دونوں فریق اس پر متفق ہیں کہ مدعا علیہ جھوٹا تھا۔ ادھر مدعا علیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ مسیح موعود ہے۔ ظاہر ہے کہ جھوٹا آدمی جب مسیح ہونے کا دعویٰ کرے گا تو وہ ”مسیح کذاب“ کہلائے گا‘ لہٰذا دونوں فریق اس پر بھی متفق ہوئے کہ وہ ”مسیح کذاب“ تھا اور اوپر خود مدعا علیہ کا اقرار بھی نقل کیا جاچکا ہے کہ جو شخص مجھ کو مسیح ابن مریم کہے وہ مفتری اور کذاب ہے۔
شرک عظیم
مدعا علیہ اپنی کتاب حقیقۃ الوحی کے عربی ضمیمہ الاستفتاء میں لکھتا ہے :
”فمن سوء الادب ان یقال ان عیسیٰ مامات ان ھو الا شرک عظیم یاکل الحسنات“
(الاستفتاء ص ۳۹۔ خزائن ص ۶۲۰ ج ۲۲)
ترجمہ۔ ”سو منجملہ سوء ادب کے ہے کہ یہ کہا جائے کہ عیسیٰ مرا نہیں‘ یہ تو نرا شرکِ عظیم ہے۔ جو نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔“
۵۸
مدعا علیہ کے اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ وہ ۱۸۹۱ء تک حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے مشرک تھا‘ اور اسی ”عظیم مشرک“ کو اللہ تعالیٰ نے۔ نعوذ باللہ۔ مسیح موعود بنا دیا۔
عیسائی عقیدہ
مدعا علیہ حقیقت الوحی میں لکھتا ہے : ”حضرت عیسیٰ کے دوبارہ آنے کا عقیدہ عیسائیوں نے محض اپنے فائدے کے لئے گھڑا تھا۔“
(حاشیہ حقیقت الوحی ص ۲۹۔ خزائن ص ۳۱ ج ۲۲)
اور الاستفتاء میں لکھتا ہے : ”وان عقيدة حياته قد جاء ت فی المسلمين من الملة النصرانية“۔
(الاستفتاء ۳۹۔ خزائن ص ۶۶۰ ج ۲۲)
ترجمہ : اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ مسلمانوں میں نصرانی مذہب سے آیا ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ مدعا علیہ ۱۸۹۱ء تک عیسائی عقائد رکھتا تھا‘ گویا پکا عیسائی تھا۔ اللہ کی شان ایک مسیحی بعد میں مسیح بن بیٹھا۔
نصوص قطعیہ یقینیہ کے خلاف
مدعا علیہ اپنی کتاب ”حمامتہ البشریٰ“ میں لکھتا ہے : ”اعلم ان وفاة عيسى عليه السلام ثابت بالنصوص القطعية اليقينية “
(ص ۵۶ حاشیہ۔ خزائن ص ۲۵۴ ج ۷)
۵۹
ترجمہ : ”جان لیجئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات نصوص قطعیہ یقینیہ سے ثابت ہے۔“
اس قسم کی تصریحات مدعا علیہ کی کتابوں میں بہت سی جگہ پائی جاتی ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۸۹۱ء تک مدعا علیہ نصوص قطعیہ یقینیہ کے خلاف عقیدہ رکھتا تھا، اور مدعا علیہ کا یہ حوالہ پہلے نقل کرچکا ہوں کہ :
”ایسے شخص کی نسبت، جو مخالف قرآن اور حدیث کوئی اعتقاد رکھتا ہو، ولایت کا گمان ہرگز نہیں کرسکتے۔ بلکہ وہ دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ص ۲۳۹ ج ۱)
معلوم ہوا کہ مدعا علیہ خود اپنے فتویٰ کے مطابق ۱۸۹۱ء تک دائرہ اسلام سے خارج تھا۔ امت مرزائیہ کی خوش قسمتی کہ ایک غیر مسلم کو، جو دائرہ اسلام سے خارج تھا، ان کا مسیح موعود بننے کا شرف حاصل ہوگیا۔
آنحضرت ﷺ کی توہین
مدعا علیہ اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ کے حاشیہ میں لکھتا ہے :
- ○ ”ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ حضرت مسیح کو اتنی بڑی خصوصیت (
آسمان پر زندہ چڑھنے اور اتنی مدت تک زندہ رہنے اور پھر دوبارہ اترنے کی جو دی گئی ہے، اس کے ہر ایک پہلو سے ہمارے نبیؐ کی توہین ہوتی ہے۔“
- ○ ”خدا تعالیٰ نے آنحضرتؐ کے چھپانے کے لئے ایک ایسی ذلیل
جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی، مگر حضرت مسیح کو آسمان پر، جو بہشت کی جگہ اور فرشتوں کی ہمسائیگی کا مکان ہے بلالیا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ۱۹۔ خزائن ص ۲۰۵ ج ۱۷)
۶۰
اس سے معلوم ہوا کہ ۱۸۹۱ء تک مدعا علیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر پہلو سے توہین کرتا رہا۔ بعد میں توہین رسالت کا یہ مرتکب مسیح موعود بن بیٹھا۔ اور مدعا علیہ کا دوسرے فقرہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چھپانے کی جگہ کو
”ذلیل‘ نہایت متعفن‘ تنگ و تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ“ کہنا توہین رسالت کا ایسا شاہکار ہے کہ کبھی کسی راجپال کو اس کی جرأت شاید نہیں ہوئی ہوگی۔
موجب لعنت تحریف
مدعا علیہ لکھتا ہے :
"وكيف يجوز لاحد من المسلمين ان يتكلم بمثل هذا ؟ ويبدل كلام اللہ من تلقاء نفسه‘ ويحرفه عن موضعه‘ من غير سند من اللہ و رسوله‘ اليست لعنة اللہ على المحرفين ؟
ترجمہ :
”اور کسی مسلمان کے لئے یہ کس طرح جائز ہے کہ وہ اس طرح کی بات کرے؟ یا اپنی طرف سے اللہ کے کلام میں کوئی تبدیلی کرے‘ اور اللہ اور اس کے رسول کی سند کے بغیر اسے اپنے محل سے پھیر دے۔ کیا ایسے تحریف کرنے والوں پر اللہ کی لعنت نہیں ہے؟۔“
اس سے معلوم ہوا کہ مدعا علیہ ۵۲ برس تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ رکھ کر خود بھی ملعونوں کے زمرہ میں شامل رہا۔ اور یہی ملعون عقیدہ اس نے اپنی الہامی کتاب براہین احمدیہ میں لکھ کر اس کتاب کو ملعون بنایا۔
۶۱
اسلام تباہ
مدعا علیہ لکھتا ہے :
” مذہب اسلام ایسے باطل عقیدوں سے دن بدن تباہ ہوتا جاتا ہے۔“
مدعا علیہ سے دریافت کیا جائے کہ کیا تو نے اسلام کی تباہی کے لئے یہ باطل عقیدہ براہین میں لکھا تھا؟
اسلام سے تمسخر
”یوں تو قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
لتؤمنن بہ ولتنصرنہ‘
(آل عمران ۸۲) پس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت ﷺ کی امت ہوئے‘ اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امتی بنانے کے کیا معنی ہیں؟ اور کون سی خصوصیت؟ کیا وہ اپنے پہلے ایمان سے برگشتہ ہو گئے تھے جو تمام نبیوں کے ساتھ لائے تھے؟ تا نعوذ باللہ یہ سزا دی گئی کہ زمین پر اتار کر دوبارہ تجدید ایمان کرائی جائے‘ مگر دوسرے نبیوں کے لئے وہی پہلا ایمان کافی رہا۔ کیا ایسی کچی باتیں اسلام سے تمسخر ہے یا نہیں؟“
(ضمیمہ براہین پنجم ص ۱۳۳۔ خزائن ص ۳۰۰ ج ۲۱)
اس حوالہ میں مدعا علیہ تسلیم کرتا ہے کہ :
- O تمام انبیاء کرام علیہم السلام آنحضرت ﷺ کی امت ہیں۔
- O اور یہ مضمون سورۃ آل عمران کی آیت :لتؤمنن بہ ولتنصرنہ
سے ثابت ہے۔
- O اس کے باوجود مدعا علیہ سوال کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
۶۳
کی کیا خصوصیت؟ حالانکہ جب وہ آنحضرت ﷺ کی امت میں شامل ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو کام بھی ان کے سپرد کیا جائے گا وہ بجا لائیں گے۔ اس کے بعد مدعا علیہ کا یہ سوال ایسا ہی بے ڈھنگا ہے جیسے کوئی سوال کرے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو ابو البشر کیوں بنایا گیا؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ کیوں پیدا کیا گیا؟ حضرت خاتم النبیین سید المرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فلاں خصوصیت کیوں عطا کی گئی؟
- اور پھر مدعا علیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تخصیص کی وجہ
خود تراشتا ہے کہ کیا عیسیٰ علیہ السلام پہلے ایمان سے منحرف ہوگئے تھے کہ دوبارہ نازل کرکے ان سے تجدید ایمان کرائی گئی؟ ایسا نکتہ کسی ایسے شخص ہی کو سوجھ سکتا ہے جو خود اپنے فتویٰ کی رو سے کافر ہو۔ کیونکہ یہ فقرہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صریح توہین ہے۔ اور خود مدعا علیہ کا فتویٰ ہے کہ : "اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے۔"
(چشمہ معرفت)
اور اس سے بدتر تحقیر کا ارتکاب مدعا علیہ نے اپنی کتاب "حقیقت الوحی" میں کیا ہے۔ جس میں وہ لکھتا ہے :
"اور یہ تاویل کہ پھر اس کو امتی نبی بنایا جائے اور وہی "نو مسلم" مسیح موعود کہلائے گا۔ یہ طریق اسلام سے بہت بعید ہے۔"
(حقیقت الوحی ص ۳۰۔ خزائن ص ۳۲ ج ۲۲)
- جب مدعا علیہ خود تسلیم کرتا ہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام بنص
قرآن آنحضرت ﷺ کی امت میں پہلے ہی سے شامل ہیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنحضرت ﷺ کی امت میں آپ ﷺ کے دین کی خدمت بجالانا کیوں ممنوع ہوا۔ اور اس پر ان کو تجدید ایمان اور
۶۳
”نو مسلم“ کے طعنے دینا صریح کفر نہیں تو کون سا ایمان ہے؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امتی قرار دینا کفر ہے
اوپر کے اقتباس میں مدعا علیہ کا اعتراف گزر چکا ہے کہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مدعا علیہ لکھتا ہے :
”اور جو شخص امتی کی حقیقت پر نظر غور ڈالے گا وہ بداہت سمجھ لے گا کہ حضرت عیسیٰ کو امتی قرار دینا ایک کفر ہے کیونکہ امتی اس کو کہتے ہیں کہ جو بغیر اتباع آنحضرت ﷺ اور بغیر اتباع قرآن شریف محض ناقص اور گمراہ اور بے دین ہو اور پھر آنحضرت ﷺ کی پیروی اور قرآن شریف کی پیروی سے اس کو ایمان اور کمال نصیب ہو۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا خیال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کرنا کفر ہے۔
(ضمیمہ براہین پنجم ۱۹۲۔ خزائن ص ۳۶۴ ج ۲۱)
مدعا علیہ سے دریافت کیا جائے کہ :
- جب تو نے براہین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا
عقیدہ درج کیا تھا تو تو نے قرآن اور الہام کے حوالے سے کفر درج کیا تھا؟ تیرا دعویٰ تھا کہ تو مجدد وقت ہے۔
- کیا مجددین امت کو کفر کی تعلیم دینے کے لئے آتے ہیں؟
- اللہ تعالیٰ نے جب انبیاء کرام علیہم السلام سے بشمول عیسیٰ علیہ السلام
کے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی نصرت کرنے کا اقرار لیا تھا تو کیا تیرے بقول ان سے کفر کا اقرار لیا تھا؟
- یا اللہ تعالیٰ اور انبیاء کرام علیہم السلام امتی کے یہ معنی نہیں جانتے
تھے؟
۶۴
- اور جب تو نے براہین میں یہ کفر لکھا تھا تو تو اس وقت امتی کے یہ
معنی جانتا تھا یا نہیں؟ جو شیطان نے تجھے بعد میں تلقین کئے ہیں؟
فج اعوج :
مدعا علیہ لکھتا ہے :
” اگر فج اعوج کے زمانہ میں ایسا خیال دلوں میں ہو گیا تھا کہ حضرت عیسیٰ زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں تو وہ قابل سند نہیں ہے۔“
(ضمیمہ براہین پنجم ص ۱۱۹ خزائن ۲۸۲ ج ۲۱)
” افسوس کہ قرونِ ثلٰثہ کے بعد بعض مسلمانوں کے فرقہ کا یہ مذہب ہو گیا تھا کہ گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب سے محفوظ رہ کر آسمان پر زندہ چلے گئے، اور اب تک وہیں زندہ مع جسم عنصری بیٹھے ہیں۔ ان پر موت نہیں آئی“۔
(حقیقت الوحی حاشیہ ص ۵۹۔ خزائن ص ۶۱ ج ۲۲) .
مدعا علیہ سے دریافت کیا جائے کہ :
- اول تو تیرا یہ جھوٹ ہے کہ قرونِ ثلٰثہ کے بعد یہ عقیدہ اختراع کیا
گیا۔ کیونکہ تو خود اقرار کرچکا ہے کہ تیرہ صدیوں کے مسلمانوں کا یہی عقیدہ تھا جیسا کہ پہلے باب میں نقل کیا جاچکا ہے :
(ملفوظات ص ۳ ج ۱۰)
- پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو صحابی ہیں، اور وہ مسجد
نبوی ﷺ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے برملا اس کا اعلان کیا کرتے تھے۔ اور کسی صحابی نے ان کو اس پر نہیں ٹوکا، لیکن تو نے ان کو اس جرم میں جگہ جگہ غبی اور نادان کا خطاب دیا۔
- اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ جن کے بارے میں تو لکھتا ہے :
۶۵
" حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا درجہ جانتے ہو کہ صحابہ میں کس قدر بڑا ہے‘ یہاں تک کہ بعض اوقات ان کی رائے کے موافق قرآن شریف نازل ہو جایا کرتا تھا‘ اور ان کے حق میں یہ حدیث ہے کہ شیطان عمرؓ کے سایہ سے بھاگتا ہے۔ دوسری یہ حدیث ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘ تیسری یہ حدیث ہے کہ پہلی امتوں میں محدث ہوتے رہے ہیں‘ اگر اس امت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمرؓ ہے۔"
(ازالہ اوہام ص ۲۳۵۔ خزائن ۲۱۹ ج ۳)
یہی عمر رضی اللہ عنہ تھے جو تیرے اقرار کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی کا اعلان فرمارہے تھے۔
(تحفہ بغداد ص ۲۸۔ خزائن ۵۸۱ ج ۱۵)
اس لئے کہ انہوں نے حدیث صحیح کے مطابق جب آنحضرت ﷺ سے ابن صیاد کے قتل کی اجازت چاہی تو آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : "ان یکن ھو فلست صاحبہ‘ انما صاحبہ عیسیٰ بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام"
(مسند احمد ۲۶۸:۳۔ مشکل الآثار ۹۷:۴۔ مجمع الزوائد ۸: ۳-۴)
- ○ اور امام ابو حنیفہؒ جن کے بارے میں تو لکھتا ہے :
" امام اعظم کوفی رضی اللہ عنہ اپنی قوت اجتہادی اور اپنے علم اور درایت اور فہم و فراست میں ائمہ ثلاثہ باقیہ سے افضل و اعلیٰ تھے‘ اور ان کی خدا داد قوت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت و عدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے۔ اور ان کی قوت مدرکہ کو قرآن شریف کے سمجھنے میں ایک خاص دستگاہ تھی۔ اور ان کی فطرت کو کلام الٰہی سے ایک خاص مناسبت تھی۔ اور عرفان کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ چکے تھے۔
۲۲
اسی وجہ سے اجتہاد و استنباط میں ان کے لئے وہ درجہ علیا مسلم تھا جس تک پہنچنے سے دوسرے سب لوگ قاصر تھے، سبحان اللہ! اس زیرک اور ربانی امام نے“.......
(ازالہ ص ۵۳۰۔ خزائن ص ۳۸۵ ج ۳)
اپنے رسالہ ”الفقہ الاکبر“ میں فرمایا ہے (اور اسی پر اپنے رسالہ کو ختم فرمایا ہے):
"وخروج الدجال وياجوج وماجوج وطلوع الشمس من مغربها و نزول عيسى عليه السلام من السماء وسائر علامات يوم القيامة على ماوردت به الاخبار الصحيحة حق كائن۔ والله يهدى من يشاء الى صراط مستقيم۔“
(شرح فقہ اکبر: ملا علی قاری ص ۱۳۶ مطبوعہ مجتبائی ۱۳۲۸ھ)
ترجمہ: دجال کا اور یاجوج و ماجوج کا نکلنا، آفتاب کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور دیگر علامات قیامت، جیسا کہ احادیث صحیحہ ان میں وارد ہوئی ہیں، سب برحق ہیں۔ ضرور ہو کر رہیں گی۔ اور اللہ تعالیٰ ہدایت دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں صراط مستقیم کی“۔
- پھر گزشتہ صدیوں کے اکابرین امت و مجددین ملت سب کے سب
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ رکھتے آئے ہیں، کیا تیرے نزدیک یہ سب ”فج اعوج“ تھے؟ اور دورِ قدیم کے فلاسفہ و ملاحدہ اور دورِ حاضر کے نیچری اور ملحد و بے دین جو تجھ سے بھی پہلے مسیح علیہ السلام کے منکر تھے وہ تیرے نزدیک مجددین امت کے مقابلہ میں حق پر ہیں؟
- اور پھر تو نے جب دعوائے ملہمیت و مجددیت کے باوجود براہین میں یہ
۶۷
عقیدہ لکھا تھا تو کیا "فج اعوج" کی تقلید میں لکھا تھا؟ لہٰذا تو "اعوج الاعوج" ٹھہرا تیرا ملہمیت و مجددیت کا دعویٰ باطل ٹھہرا کیسی جرات ہے کہ جو عقیدہ آنحضرت ﷺ سے صحابہ کرام سے، ائمہ دین، مجددین امت سے، علمائے ربانیین سے تواتر و تسلسل کے ساتھ چلا آتا ہے اس کو "فج اعوج" کا عقیدہ کہا جائے؟
اسلام کی موت
مدعا علیہ لکھتا ہے :
"عیسیٰ کی موت اسلام کی زندگی ہے۔ اور عیسیٰ کی زندگی اسلام کی موت ہے۔"
(ضمیمہ براہین پنجم ص ۲۳۱ خزائن ص ۴۰۶ ج ۲۱)
مدعا علیہ کا دعویٰ قطعاً غلط ہے۔ اس لئے کہ سلف صالحین حیات مسیح علیہ السلام کا عقیدہ رکھتے تھے۔ اس کے باوجود اسلام غالب و سربلند تھا۔ اور تمام مذاہب اس کے سامنے سرنگوں تھے، اور جب سے چودھویں صدی کے نافہم ملحدوں سے عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر لٹکائے جانے کا عقیدہ منوالیا اور وفات مسیح کا "نیا نسخہ" تجویز کیا گیا جب سے اسلام مغلوب ہو رہا ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی عقائد کو برحق ماننے میں اسلام کی زندگی ہے۔ اور جن لوگوں نے اسلام کے مسلمہ عقائد سے انحراف کیا ان کے دل میں اسلام کی موت واقع ہو گئی۔
علاوہ ازیں مدعا علیہ سے دریافت کیا جائے کہ کیا تو نے براہین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ درج کر کے اسلام کی موت پر دستخط کئے تھے؟ اور کیا تجھے اسلام کی موت پر دستخط کرنے کے لئے ملہم و مجدد بنایا گیا تھا؟
۶۸
بت پرستی
مدعا علیہ لکھتا ہے :
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں‘ اور ان کا زندہ آسمان پر مع جسم عنصری کے جانا اور پھر کسی وقت مع جسم عنصری کی زمین پر آنا یہ سب ان پر تہمتیں ہیں۔ افسوس! کہ اسلام بت پرستی سے بہت دور تھا‘ لیکن آخر کار اسلام میں بھی بت پرستی کے رنگ میں یہ عقیدہ پیدا ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ کو ایسی خصوصیتیں دی گئیں جو دوسرے نبیوں میں نہیں پائی جاتیں۔ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو اس قسم کی بت پرستی سے رہائی بخشے۔“
(ضمیمہ براہین پنجم ص ۲۳۰۔ خزائن ص ۴۰۶ ج ۲۱)
مدعا علیہ سے دریافت کیا جائے کہ کسی نبی میں ایسی خصوصیت تسلیم کرنا‘ جو دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام میں نہ پائی جاتی ہوں اگر اسی کا نام (نعوذ باللہ) بت پرستی ہے تو آنحضرت ﷺ کے خصائص کو تسلیم کرنا بھی بت پرستی ہوگا۔ (نعوذ باللہ) کیا کوئی صحیح العقل آدمی ایسی بات کہہ سکتا ہے؟
علاوہ ازیں براہین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ درج کر کے تونے خود بت پرستی کا سنگ بنیاد رکھا‘ کیا ایسا بت پرست مشرک‘ ملہم و مجدد ہو سکتا ہے؟
O
میں نے ان بارہ نمبروں میں ارباب عقل و فہم کی عدالت انصاف میں مدعا علیہ کے جو اقتباسات پیش کئے ہیں ان کو عدل و انصاف کی ترازو میں تول کر فیصلہ کیا جائے کہ کیا مدعا علیہ کے یہ سارے فتوے خود اس پر عائد نہیں ہوتے؟ اور کیا ایسا شخص ملہم و مجدد تو کجا؟ معمولی دیانت و امانت کا شخص بھی ہو سکتا ہے؟
۶۹
باب ششم
مدعا علیہ کی دو گستاخیاں
مدعا علیہ نے اسلامی عقیدہ ”نزول مسیح“ کے ساتھ جو گستاخیاں کی ہیں ان کی فہرست طویل ہے، لیکن اس کے چند نمونے باب پنجم میں پیش کئے گئے۔ بزعم خود ”مسیح موعود“ کی مسند پر فائز ہو کر مدعا علیہ نے سیدنا عیسیٰ بن مریم روح اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں جو جگر شگاف گستاخیاں کی ہیں ان پر مستقل رسائل لکھے جاچکے ہیں، اور یہ ناکارہ بھی اپنے رسالہ ”مرزا غلام احمد کے وجوہات کفر“ میں ان کے نمونے نقل کرچکا ہے، یہاں موضوع کی مناسبت سے مدعا علیہ کی دو گستاخیاں نقل کرنا چاہتا ہوں، جن سے مدعا علیہ کی عقل و فہم اور دین و دیانت کے بارے میں فیصلہ کرنا آسان ہوگا۔
پہلی گستاخی
یہود کے نقش قدم پر، قتل مسیح کا دعویٰ
سورہ النساء کے بائیسویں رکوع میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے بڑے بڑے جرائم کی فہرست دی ہے۔ مثلاً عہد شکنی، کفر بآیات اللہ، قتل انبیاء حضرت مریم رضی اللہ عنہا پر بہتان تراشی وغیرہ وغیرہ، اسی ضمن میں ان کا یہ جرم بھی ذکر فرمایا گیا ہے :
"وقولهم انا قتلنا المسيح عیسیٰ ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه
۷۰
لفی شک منہ‘ مالہم بہ من علم الا اتباع الظن‘ وما قتلوہ یقیناO بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیزا حکیما" ۔
(النساء: ۱۵۷)
"ترجمہ :اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو جو کہ رسول ہیں اللہ تعالیٰ کے، قتل کر دیا۔ حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا، لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا، اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ غلط خیال میں ہیں، ان کے پاس اس امر پر کوئی دلیل نہیں، بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے، اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا بلکہ ان کو خدائے تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھالیا اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست حکمت والے ہیں ۔"
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
یعنی یہود کا یہ دعویٰ کہ ہم نے مسیح بن مریم رسول اللہ کو قتل کر دیا، اگرچہ خلاف واقعہ ہے، لیکن ایک نبی کے قتل کا دعویٰ کرنا بھی ان کے کفر و ملعونیت کا موجب ہوا۔ یہود جس نبی (مسیح بن مریم علیہ السلام) کے قتل کا جھوٹا دعویٰ کر کے کافر و ملعون ہوئے عجائبات میں سے ہے کہ ہمارا مدعا علیہ مرزا غلام احمد قادیانی بھی اسی نبی (مسیح بن مریم علیہ السلام) کے قتل کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے، مرزا قادیانی کے ملفوظات میں ہے :
"اصل میں ہمارا وجود دو باتوں کے لئے ہے، ایک تو ایک نبی کو مارنے کے لئے، دوسرا شیطان کو مارنے کے لئے۔" "حضرت عیسیٰ مرچکے ہیں۔۔ مگر شیطان کا مرنا ابھی باقی ہے"۔
(ملفوظات ص ۶۰ ج ۱۰ مطبوعہ لندن)
مدعا علیہ کا ایک مرید قاضی ظہور الدین اکمل اپنے ایک نعتیہ قصیدہ میں،
۷۱
جو اس نے مدعاعلیہ کی مدح میں لکھا تھا، مدعا علیہ کے اس کارنامے کو اس کی نبوت کا معجزہ قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے :
خدا اک قوم کا مارا جہاں میں
(اخبار بدر جلد ۲، نمبر ۴۳۔ مورخہ ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء)
مندرجہ بالا لطیفہ سے چند دلچسپ باتیں معلوم ہوئیں :
- یہود کی حضرت مسیح علیہ السلام سے عداوت اور دشمنی تو معروف
ہے۔ لیکن ہمارے مدعاعلیہ کی ان سے عداوت مندرجہ بالا اقتباس سے عیاں ہے کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کو اور شیطان دونوں کو ایک ہی لائن میں کھڑے کر کے دونوں کے قتل کے درپے ہے۔ معاذ اللہ !
- یہود کو دھوکا ہوا تھا کہ ایک شخص کو حضرت مسیح علیہ السلام کے
اشتباہ میں سولی پر چڑھا کر سمجھ لیا کہ ہم نے مسیح کو قتل کردیا _ ادھر ہمارے مدعاعلیہ کے چند عقل مندوں نے دیوانہ گفت و ابلہ باور کرد" کے مطابق ” مسیح" مان لیا، جس سے مدعاعلیہ کو خیال ہوا کہ اگر مسیح علیہ السلام زندہ ہوتے تو یہ عقلمند مجھے ”مسیح" کیوں مان لیتے؟ لہٰذا اس نے بھی اعلان کردیا کہ میں نے مسیح بن مریم رسول اللہ کو مار دیا۔ (اور مدعا علیہ نے انہیں سری نگر کے محلہ خانیار کی ایک قبر میں دفن بھی کردیا) مگر مدعا علیہ دانشمندوں کا قول بھول گیا جو شاید اسی کے بارے میں کہا گیا تھا :
عیسیٰ نتواں گشت بہ تصدیق خرے چند
(ترجمہ : "اپنا جوہر کسی ”صاحب خبر" کو دکھا! چند گدھوں کے تصدیق کردینے سے عیسیٰ نہیں بن جایا کرتے۔)
۷۲
”خرے چند“ کی تصدیق سے وہ یہ سمجھ بیٹھا کہ شاید وہ سچ مچ عیسیٰ بن گیا ہے‘ اور چونکہ وہ خود عیسیٰ بن گیا ہے لہٰذا فرض کرلینا چاہیے کہ عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں۔ حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام اب بھی زندہ ہیں‘ اور اقوام عالم کی نظر میں مدعا علیہ کا یہ دعویٰ گوزشتر (اونٹ کے پاد) کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔
- جس طرح یہود نے حضرت مسیح علیہ السلام تک رسائی نہ ہونے کے
باوجود فخراً یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ ہم نے مسیح بن مریم رسول اللہ کو قتل کردیا‘ اسی طرح ہمارے مدعا علیہ نے بھی یہود کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بطور فخریہ جھوٹا دعویٰ ہانک دیا کہ ”میرا وجود ایک نبی کو قتل کرنے کے لئے ہے۔ اور حضرت عیسیٰ مرچکے ہیں۔
- اب قرآن مجید کی وہ آیت جو اوپر نقل کرچکا ہوں ہمارے مدعا علیہ کو
سامنے رکھ کر دوبارہ تلاوت فرمائیے‘ اور قرآن کریم کی زبان سے یہود اور ہمارے مدعا علیہ دونوں کے کفر و ملعونیت کا اعلان سماعت فرمائیے۔
O
۷۳
دوسری گستاخی
نزول مسیح کا عقیدہ کسی پر منکشف نہیں ہوا
باب اول میں مدعا علیہ ---- مرزا غلام احمد قادیانی ---- کی تحریروں سے معلوم ہوچکا ہے کہ پہلے کے تمام مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری پر ایمان رکھتے تھے، اور خود مدعا علیہ کا بھی اسی پر ایمان تھا، ۱۸۹۱ء میں جب مدعا علیہ کو ”مسیح موعود“ بنانے کا الہام ہوا تو مدعا علیہ نے ”مسیح موعود“ کی مسند پر قدم رکھتے ہی اعلان کردیا کہ عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں ۔۔۔ اس پر سوال پیدا ہوا کہ تیرہ صدیوں کے اکابر امت، سلف صالحین، ائمہ دین، مجددین کے سامنے قرآن کریم بھی موجود تھا، آنحضرت ﷺ کی احادیث شریفہ کا پورا ذخیرہ بھی ان کے سامنے تھا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے آثار بھی موجود تھے، ان کو یہ بات کیوں نہ سوجھی کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اور ”نزول مسیح“ کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نام پر کوئی دوسرا شخص آئے گا۔ اور وہ ”مسیح موعود“ ہونے کا دعویٰ کرے گا؟
مدعا علیہ نے اس اشکال کا حل یہ نکالا کہ مدعا علیہ سے پہلے کسی پر یہ عقیدہ کھلا ہی نہیں، مدعا علیہ پہلا شخص ہے جس پر اس عقیدے کا راز کھلا، ورنہ اس سے پہلے کسی کو اس کی حقیقت کا علم ہی نہیں تھا۔ ذیل میں مدعا علیہ کی تصریحات ملاحظہ فرمائیے :
مسلمانوں نے نزول مسیح کی حقیقت کو نہیں سمجھا
- ○ والهمت وعلمت من لدنه ان النزول فی اصل
۷۴
مفہومہ حق‘ ولکن ما فہم المسلمون حقیقتہ لان اللہ تعالیٰ اراد اخفائہ‘ فغلب قضاء ہ ومکرہ و ابتلائہ علی الافہام‘ فصرف وجوہہم عن الحقیقۃ الروحانیۃ الی الخیالات الجسمانیۃ‘ فکانوا بہا من القانعین‘ وبقی ہذا الخبر مکتوما مستورا‘ کالحب فی السنبلۃ قرنا بقرن‘ حتی جاء زماننا.... فکشف اللہ الحقیقۃ علینا“۔
(آئینہ کمالات اسلام۔ خزائن ص ۵۵۲ ج ۵)
ترجمہ ”مجھے الہام کیا گیا اور بتایا گیا کہ نزول مسیح اپنے اصل مفہوم میں برحق ہے۔ لیکن مسلمانوں نے اس کی حقیقت کو نہیں سمجھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو پوشیدہ رکھنے کا ارادہ کیا‘ پس اس کی قضاء اس کی خفیہ تدبیر اور اس کا ابتلا فہموں پر غالب آگیا‘ پس اس نے ان کے چہروں کو روحانی حقیقت سے جسمانی خیالات کی طرف پھیر دیا‘ پس وہ اسی پر قانع ہو گئے‘ اور یہ خبر (کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ نازل ہوں گے) قرناً بعد قرن اسی طرح پوشیدہ راز رہا‘ جس طرح خوشے میں دانہ چھپا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارا زمانہ آیا.... پس اللہ تعالیٰ نے اس کی حقیقت ہم پر کھول دی۔“
- O ”اسی طرح مسیح کی حیات کا مسئلہ بھی ایک عجیب سر ہے ...
باوجود اس قدر آشکارا ہونے کے خدا تعالیٰ نے اس کو مخفی کر لیا‘ اور آنے والے موعود کے لئے اس کو مخفی رکھا چنانچہ وہ آیا تو اس نے اس راز کو ظاہر کیا۔“
(ملفوظات ص ۳۴۳ ج ۵)
- O ”یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ وہ جب چاہتا ہے کسی بھید
کو مخفی کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے اسے ظاہر کر دیتا ہے۔ اسی طرح اس نے اس بھید کو اپنے وقت تک مخفی رکھا مگر اب جبکہ آنے والا آگیا اور اس کے ہاتھ میں اس سر کی کلید تھی اس نے اسے کھول کر
۷۵
دکھا دیا“۔
(ملفوظات ص ۳۴۴ ج ۸)
- O "یا اخوان هذا الامر الذی اخفا الله من اعين القرون
الاولٰی‘ وجلّٰی تفاصيله فی وقتنا هذا‘ یخفی مایشاء ویبدی مایشاء“۔
(آئینہ کمالات اسلام۔ خزائن ص ۳۲۶ ج ۵)
ترجمہ۔ ”بھائیو! یہ وہی چیز ہے جس کو اللہ تعالٰی نے پہلی صدیوں کے لوگوں کی آنکھ سے پوشیدہ رکھا‘ اور اس کی تفصیلات ہمارے اس وقت میں ظاہر کردیں۔ وہ جس چیز کو چاہے پوشیدہ رکھے‘ اور جس چیز کو چاہے ظاہر کردے“۔
سلف صالحین صحابہ و تابعین کو بھی حقیقت معلوم نہیں
تھی
- O ”ماکان ایمان الاخیار من الصحابة والتابعین
بنزول المسیح علیه السلام الا اجمالیا“ وكانوا یومنون بالنزول اجمالا“۔
(تحفہ بغداد ص ۷۔ خزائن ص ۸۔ ج ۷)
ترجمہ۔ ”اللہ تعالٰی کے مقبول بندوں صحابہ و تابعین کا ایمان نزول مسیح علیہ السلام پر صرف اجمالی تھا۔ اور وہ اجمالی طور پر نزول پر ایمان رکھتے تھے“۔
- O ”واما السلف الصالح فماتكلموا فی هذه المسئلة
تفصیلا“ بل آمنوا مجملا بان المسیح عیسٰی بن مریم قد توفی کماورد فی القرآن‘ و آمنوا بمجدد یاتی من هذه الامة فی آخر الزمان عند غلبة النصارٰی علٰی وجه الارض اسمه عیسٰی بن مریم“
(حمامة البشریٰ ص ۱۸۔ خزائن ۱۹۸ ج ۷)
۷۶
ترجمہ۔ ”سلف صالحین نے اس مسئلہ میں تفصیلاً گفتگو نہیں کی بلکہ وہ اجمالی ایمان لے آئے کہ عیسیٰ بن مریم کی وفات ہوگئی ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے۔ اور وہ ایک مجدد پر ایمان لائے جو اس امت سے آخری زمانہ میں آئے گا۔ روئے زمین پر نصاریٰ کے غلبہ کے وقت۔ اس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا۔“
آنحضرت ﷺ کو بھی اس کی حقیقت تک
رسائی نہ ہوئی
”اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ‘ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو.... تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۹۱۔ خزائن ص ۴۷۴ ج ۳)
۴۔ خود عیسیٰ علیہ السلام بھی نزول مسیح کی حقیقت کو نہیں
سمجھے
باب اول میں ”ازالہ اوہام“ کے حوالہ سے مدعا علیہ کی یہ تحریر گزر چکی ہے کہ :
- ○ ”مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیش
گوئی ہے۔ جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے، انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۴۲۲۔ خزائن ص ۳۰۰ ج ۳)
گویا مدعا علیہ تسلیم کرتا ہے کہ انجیل میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے دوبارہ تشریف لانے کی پیش گوئی فرمائی ہے جو آنحضرت ﷺ کی
۷۷
اس پیش گوئی کی تصدیق کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے۔ لیکن مدعا علیہ کا دعویٰ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی اپنی پیش گوئی کی حقیقت ظاہر نہیں ہوئی۔ اور انہوں نے بھی اپنے دوبارہ آنے کا مطلب نہیں سمجھا، ملاحظہ فرمائیے :
- ◯ ”بعض وقت نبی کو اجتہاد اور تفہیم الہام میں غلطی ہوجاتی
ہے۔ یہ غلطی اگر احکام دین کے متعلق ہو تو ان کو فوراً متنبہ کردیا جاتا ہے، لیکن دوسرے امور میں ضروری نہیں کہ وہ اطلاع دئے جاویں، پس اس لئے یہ بات ممکن ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے دوبارہ آنے کے بارے میں جو الہامات ہوئے خود انہوں نے بھی اسے حقیقی معنوں پر حمل کرلیا ہو“۔
(ملفوظات ص ۱۰۹ ج ۷)
- ◯ ”یہ امر بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ یسوع کا اناجیل میں یہ
وعدہ کہ وہ خود دوبارہ آئے گا اس کے مثیل کی آمد سے پورا ہوچکا ہے۔ اول تو یہ امر بھی ناممکن نہیں کہ مسیح کو اپنی آمد ثانی کے معنے سمجھنے میں پہلے غلطی لگی ہو اور بجائے روحانی آمد سمجھنے کے اس نے جسمانی آمد اس سے سمجھ لی ہو۔ اجتہاد میں ایسی غلطی اس کے مسیح ہونے کے دعوے کی کسی طرح منافی نہیں اور اس کی مثالیں خود اناجیل میں موجود ہیں اگرچہ وہ غلطی قائم نہیں رہی بلکہ خدا تعالیٰ اس کو بعد میں رفع کردیتا ہے ... .. ایسا ہی ممکن ہے کہ اس نے پہلے آمد ثانی کے معنے غلط سمجھے ہوں، لیکن بعد میں اس خیال کی اصلاح ہوگئی ہو“۔
(ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ۸ بابت ماہ اگست ۱۹۰۴ء ص ۳۸۱)
پہلے اللہ تعالیٰ نے بھی نہیں سمجھا
گزشتہ اقتباسات میں مدعا علیہ نے تیرہ صدیوں کے اکابر امت پر، سلف ۷۸
صالحین صحابہؓ و تابعینؒ پر، آنحضرت ﷺ پر اور خود صاحب واقعہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام پر ”حقیقت ناشناسی“ کا فتویٰ صادر کیا کہ ان میں سے کسی نے ”نزول مسیح“ کی حقیقت کو نہیں سمجھا۔ اور وہ سب کے سب ایک غلط عقیدے پر قائم رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے۔
اس سے زیادہ دل چسپ مدعا علیہ کا یہ دعویٰ ہے کہ نعوذ باللہ پہلے اللہ تعالیٰ کو غلط فہمی رہی، اور اللہ تعالیٰ نے یہ سمجھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت شریفہ ”ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“ (الصف ۱۰) میں مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کی پیش گوئی بھی فرمادی، اور مدعا علیہ کو بھی بتادیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس پیش گوئی کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں۔ جیسا کہ مدعا علیہ کی اس تحریر سے واضح ہے :۔
”لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے۔ اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت مشابہ واقع ہوئی ہے .... سو چونکہ اس عاجز کی حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے۔ اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں ابتداً اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے۔ یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور مصداق ہے، اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے“۔
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ۴۹۸۔ ۴۹۹)
مدعا علیہ کے اس حوالے سے واضح ہے کہ :
- ○ براہین احمدیہ کے زمانہ تک اللہ تعالیٰ کے علم میں یہی تھا کہ حضرت
عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے۔
- ○ اللہ تعالیٰ نے آیت شریفہ میں ان کی دوبارہ آمد کی پیش گوئی بھی مدعا
۷۹
علیہ کے دنیا میں آنے سے ۱۳ سو سال پہلے فرما رکھی تھی۔
- O اللہ تعالیٰ نے مدعا علیہ پر بھی ظاہر کردیا تھا کہ ”حضرت مسیح علیہ
السلام اس آیت شریفہ کی پیش گوئی کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں۔“
- O اللہ تعالیٰ نے مدعا علیہ پر یہ بھی ظاہر کردیا تھا کہ یہ پیش گوئی
بلاشراکت غیرے تیرے حق میں نہیں۔ البتہ تجھ کو (یعنی مدعا علیہ کو) بھی مسیح کی پیش گوئی میں شریک کردیا گیا ہے۔
- O اور اس شراکت کی صورت بھی اللہ تعالیٰ نے بتادی تھی کہ مسیح علیہ
السلام ظاہری اور جسمانی طور پر اس پیش گوئی کو پورا کریں گے‘ اور روحانی اور معنوی طور پر تو اس کا مورد ہے۔
خلاصہ یہ کہ مدعا علیہ جس زمانے میں براہین احمدیہ میں آیت شریفہ اور اپنے الہامات کی روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا عقیدہ رکھتے تھے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کو یہی معلوم تھا کہ یہ پیش گوئی ظاہری اور جسمانی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے اور وہ خود بنفس نفیس نزول اجلال فرمائیں گے۔ لیکن شاید ۱۸۹۱ء سے کچھ دن پہلے اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوا کہ ”اوہو! عیسیٰ علیہ السلام کا تو انتقال ہوچکا ہے‘ وہ ظاہری اور جسمانی طور پر دوبارہ کیسے آسکتے ہیں؟ لہٰذا مدعا علیہ کو فوراً ”الہام خاص“ کے ذریعہ اطلاع دی کہ :
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتقال ہوچکا ہے‘ اور مسیح کا چارج اب بلاشراکت غیرے تیرے سپرد کیا جاتا ہے۔“
۱۸۹۱ء میں مدعا علیہ کو جو ”خاص الہام“ ہوا اس کے الفاظ مدعا علیہ کے بقول یہ تھے :
”اس نے (اللہ تعالیٰ نے) مجھے بھیجا ہے‘ اور میرے پر اپنے خاص
۸۰
الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح بن مریم فوت ہوچکا ہے‘ چنانچہ اس کا الہام یہ ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہوچکا ہے‘ اور اس کے رنگ میں ہوکر وعدہ کے موافق تو آیا ہے‘ وکان امر اللہ مفعولاً“۔“
(تذکرہ طبع سوم ص ۱۸۳۔ بحوالہ ازالہ اوہام ۵۶۱۔ خزائن ص ۴۰۲ ج ۳)
مدعا علیہ کے اس ”خاص الہام“ کا مطلب یہ ہے کہ ۱۸۹۱ء سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو خبر دی تھی وہ بھی نعوذ باللہ غلط فہمی پر مبنی تھی‘ اور مدعا علیہ کو بذریعہ الہامات براہین احمدیہ کے زمانے میں جو کچھ بتایا گیا تھا وہ بھی غلط فہمی پر تھا‘ گویا مرزا محمود کے بقول ”نزول مسیح“ کا مسئلہ اللہ تعالیٰ پر ۱۸۹۱ء میں کھلا‘ جس کی اللہ تعالیٰ نے مدعا علیہ کو ”اپنے خاص الہام“ کے ذریعہ فوراً” اطلاع دی۔
اب اہل عقل و دیانت کی عدالتِ فہم انصاف سے دریافت کرتا ہوں کہ :
- مدعا علیہ کا یہ خاص الہام‘ جو اس کو ۱۸۹۱ء میں ہوا‘ اور جس میں اس
کو ”موت مسیح“ کی اطلاع دی گئی کیا اس کو ”رحمانی الہام“ کہا جائے گا یا شیطانی القاء؟
- اور کیا کسی صاحب عقل و ایمان کے لئے ایسے ”شیطانی الہام“ پر
ایمان لانا جائز ہوگا جس کی رو سے تمام اولیاء اللہ اور اہل کشف و الہام کو‘ سلف صالحین صحابہؓ و تابعینؒ کو‘ آنحضرت ﷺ کو‘ حضرت مسیح علیہ السلام کو‘ بلکہ اس الہام سے پہلے خود حق تعالیٰ شانہ کو ”حقیقت ناشناس“ قرار دیا گیا ہو؟
- اور اہل عقل و فہم یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ مدعا علیہ کا یہ ”خاص
الہام“ جو اس کو ۱۸۹۱ء میں ہوا‘ اگر اس کو بھی نعوذ باللہ ”رحمانی الہام“ قرار دیا جائے تو ”شیطانی الہام“ کس کو کہتے ہیں؟ انصاف! خدارا انصاف!!
۸۱
مدعا علیہ کا بہتان اور تہمت تراشی :
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مدعا علیہ کے جو حوالے اوپر نقل کئے گئے ہیں کہ اکابر امت میں سے کسی کو بھی ”نزول مسیح“ کی حقیقت معلوم نہیں تھی۔ نہ صحابہؓ، تابعینؒ کو‘ نہ آنحضرت ﷺ کو‘ نہ عیسیٰ علیہ السلام کو‘ بلکہ ۱۸۹۱ء کے ”خاص الہام“ سے پہلے (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کو ٹھیک پتہ نہیں تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام خود آئیں گے؟ یا ان کی جگہ مدعا علیہ کو ”مسیح موعود“ بنایا جائے گا؟ مدعا علیہ کے یہ ہولناک دعوے خالص بہتان اور تہمت تراشی ہیں۔ مدعا علیہ کے ان حوالوں کو پڑھ کر ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ پکار اٹھے : سبحٰنک ھذا بھتان عظیم۔
حضرات اہل علم تو اس بہتان کی تردید کے محتاج نہیں۔ تاہم عام مسلمانوں کی خدمت میں چند نکات پیش کرتا ہوں‘ ان کو سامنے رکھ کر ہر شخص آسانی کے ساتھ مدعا علیہ کی بہتان تراشی کا فیصلہ کرسکتا ہے وہ نکات یہ ہیں :
- ○ آنحضرت ﷺ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بالمشافہ ملاقات
اور گفتگو ہوئی ہے‘ شب معراج میں آنحضرت ﷺ نے ان کو بہ چشم خود دیکھا‘ صحابہ کرامؓ سے ان کا حلیہ بیان فرمایا۔ اور ٹھیک اسی حلیہ کے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے نازل ہونے کی صحابہ کرامؓ کو خبر دی۔
- ○ آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وہ تقریر‘ جو
انہوں نے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے مجمع میں فرمائی تھی‘ صحابہ کرامؓ کے سامنے نقل کی۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ :
”میرے ساتھ میرے رب کا عہد ہے کہ آخری زمانے میں دجال نکلے گا تو میں نازل ہوکر اس کو قتل کروں گا۔“
۸۲
- آنحضرت ﷺ نے ان کے زمانہ نزول کی اہم تفصیلات بھی
ارشاد فرمائیں۔
یہ تمام امور احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں‘ اور صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک کے تمام اکابر امت ان پر ایمان رکھتے آئے ہیں۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی ہر بات برحق ہے‘ ہمالیہ اپنی جگہ سے ٹل سکتا ہے‘ مگر یہ ممکن نہیں کہ جو بات آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہو وہ غلط ہوجائے۔ چنانچہ خود مدعا علیہ کو بھی اس کا اقرار ہے کہ :
"اور ممکن نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ میں تخلف ہو۔"
(حقیقۃ الوحی ص ۱۹۳۔ خزائن ص ۲۰۰ ج ۲۲)
اب میں اہل عقل و فہم اور اہل دیانت و انصاف کے سامنے مندرجہ بالا تینوں نکات پر مشتمل احادیث صحیحہ پیش کرتا ہوں :
حدیث اول :
"عن جابر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال عرض علی الانبیاء فاذا موسیٰ علیہ السلام ضرب من الرجال کانہ من رجال شنوۃ‘ ورائیت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام فاذا اقرب من رائیت بہ شبہا عروۃ بن مسعود‘ ورائیت ابراہیم فرائیت اقرب الناس بہ شبہا" صاحبکم‘ یعنی نفسہ ......"
(صحیح ابن حبان (الاحسان) ص ۴۳ ج ۹۔ صحیح مسلم ص ۹۵ ج ۱۔
مسند احمد ص ۳۳۴۔ ج ۳۔ مسند ابو عوانہ ص ۱۳۰ ج ۱۔ مشکوۃ ص ۵۰۸۔
کنز العمال ص ۵۰۶ ج ۱۱۔ رقم ۳۲۳۷۰۔ شرح السنۃ للبغوی ص ۲۲۷ ج ۱۳)
ترجمہ : "حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت
۸۳
ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام میرے سامنے پیش کئے گئے (اور ان سے میرا تعارف کرایا گیا) تو کیا دیکھتا ہوں ، کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام دبلے پتلے طویل القامت آدمی ہیں، کیونکہ قبیلہ شنوہ کے لوگوں میں سے ہیں۔ اور میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو ان تمام لوگوں سے، جن کو میں نے دیکھا ہے، ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت عروہ بن مسعودؓ کو ہے۔ اور میں نے (اپنے جد امجد) حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو میں نے دیکھا کہ ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت تمہارے رفیق یعنی آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کو ہے۔“
حدیث دوم :
عن ابی هريرة ان رسول الله ﷺ قال ليلة اسرى بی وضعت قدمی حيث توضع اقدام الانبياء من بيت المقدس فعرض على عيسى بن مريم قال فاذا اقرب الناس به شبها عروة بن مسعود۔
(مسند احمد ۵۲۸ ج ۲ مجمع الزوائد ۲۶ ج ۱)
ترجمہ : ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شب معراج میں، میں نے وہاں قدم رکھا جہاں بیت المقدس میں انبیاء کرام علیہ السلام کے قدم واقع ہوئے تو حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام میرے سامنے پیش کئے گئے، تو اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ ان کے ساتھ قریب تر مشابہت سب لوگوں سے زیادہ عروہ بن مسعودؓ کو ہے۔“
حدیث سوم :
”عن عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنھما قال قال رسو الله صلی الله عليه وسلم يخرج الدجال في امتی، فیمکث
۸۴
اربعین . . .لا ادرى اربعين يوماً او اربعين شهراً . . . .او اربعين عاماً۔ فيبعث اللہ عیسٰی ابن مریم کانہ عروۃ بن مسعود، فیطلبہ فیھلکہ“۔
(صحیح مسلم ص ۴۰۳ ج ۲)
ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دجال میری امت میں نکلے گا، پس چالیس تک زمین رہے گا۔ مجھے معلوم نہیں کہ آپ نے چالیس دن فرمایا، یا چالیس مہینے، یا چالیس سال ۔۔۔۔پس اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ابن مریم کو بھیجیں گے، گویا وہ عروہ بن مسعود ہیں پس وہ اس کے تعاقب میں نکلیں گے، پس اس کو ہلاک کردیں گے۔“
حدیث چہارم:
عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لقیت لیلة اسری بی إبراہیم و موسٰی و عیسٰی قال فتذاکروا امر الساعة، فردوا امرھم الی إبراہیم، فقال لا علم لی بھا، فردوا الامر الی موسٰی، فقال لاعلم لی بھا، فردوا الامر الی عیسٰی، فقال اما وجبتھا فلایعلمھا الا اللہ تعالیٰ ذالک، وفیما عھدالی ربی عزوجل ان الدجال خارج قال ومعی قضیبان، فاذا رآنی ذاب کما یذوب الرصاص، قال فیھلکہ اللہ (وفی روایة ابن ماجة :قال :فانزل فاقتلہ) ......الی قولہ .......ففیما عھد الی ربی عزوجل ان ذالک اذاکان کذالک فان الساعة کالحامل المتم التی لایدری متی تفجاء ھم بولادھا لیلا او نھارا۔
(ابن ماجہ ص ۳۰۹، مسند احمد ص ۳۷۵ ج ۱، ابن جریر ص ۷۲ ج ۱۷،
مستدرک حاکم ص ۴۸۸، ج ۴، فتح الباری ص ۷۹ ج ۱۳، درمنثور ۳۲۶ ج ۴)
۸۵
ترجمہ : "حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معراج کی رات میری ملاقات حضرت ابراہیم‘ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (اور دیگر انبیاء کرام) علیہم السلام سے ہوئی، مجلس میں قیامت کا تذکرہ آیا (کہ قیامت کب آئے گی؟) سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا، انہوں نے فرمایا مجھے علم نہیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا، انہوں نے بھی فرمایا مجھے علم نہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا کہ قیامت کا ٹھیک وقت تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں۔ اور میرے رب عزوجل کا مجھ سے ایک عہد ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا تو میں نازل ہوکر اس کو قتل کروں گا۔ میرے ہاتھ میں دو شاخیں ہوں گی۔ پس جب وہ مجھے دیکھے گا تو سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا۔ پس اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کردیں گے (آگے یاجوج ماجوج کے خروج اور ان کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا) پس میرے رب کا جو مجھ سے عہد ہے وہ یہ ہے کہ جب یہ ساری باتیں ہوچکیں گی تو قیامت کی مثال پورے دنوں کی حاملہ کی ہوگی جس کے بارے میں کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ کس وقت اچانک اس کے وضع حمل کا وقت آجائے، رات میں یا دن میں۔"
حدیث پنجم :
"عن ابی ھریرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : الانبیاء اخوۃ لعلات‘ امھاتھم شتی و دینھم واحد‘ وانا اولی الناس بعیسی بن مریم‘ لانہ لم یکن بینی و بینہ نبی‘ وانہ نازل واذا رائیتموہ فاعرفوہ‘ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض، علیہ ثوبان ممصران‘ کان راسہ یقطر وان لم یصبہ بلل‘ فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویدعو الناس الی الاسلام، فیھلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا الا
۸۶
الاسلام‘ ویہلک اللّٰہ فی زمانہ المسیح الدجال‘ وتقع الامنۃ علی الارض حتی ترتع الا سود مع الابل والنمارمع البقروالذیاب مع الغنم و تلعب الصبیان بالحیات فلاتضرہم‘ فیمکث اربعین سنۃ ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون۔
(ابن جریر طبری ۶‘ ص ۲۲‘ درمنثور ص ۲۴۲ ج ۲۔ مسند احمد ۴۰۶ ج ۲۔ ابوداؤد ص ۲۳۸ ج ۲۔ مصنف عبدالرزاق ص ۴۰۱ ج ۱۱۔ (باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام۔ صحیح ابن حبان (الاحسان) ص ۲۸۷ ج ۸ (حدیث نمبر ۶۷۷۵)موارد الظمآن ص ۱۶۲ ج ۶۔ (نمبر ۱۹۰۲)۔ حافظ ابن حجرؒ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں ”صحیح بلا تردد“ فتح الباری ص ۴۸۹۔ مرزا محمود احمد نے حقیقت النبوت ص ۱۹۲ میں اور مسٹر علی لاہوری نے النبوت فی الاسلام ص ۹۲ اس کو بطور استدلال نقل کیا ہے۔
ترجمہ : ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انبیاء کرام علاتی بھائی ہیں۔ ان کی شریعتیں تو مختلف ہیں۔ اور دین سب کا ایک ہے۔ اور مجھے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ سب سے زیادہ تعلق ہے۔ کیونکہ ان کے درمیان اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا (اس لئے انہوں نے میرے آنے کی بشارت دی) اور وہ نازل ہوں گے۔ پس ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔ قد میانہ‘ سرخی اور سفیدی ملا ہوا رنگ۔ دو زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوں گے۔ سر سے گویا پانی ٹپک رہا ہوگا‘ گو پانی نہ ڈالا ہو۔ پس وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ موقوف کردیں گے۔ لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں تمام مذاہب کو مٹادیں گے۔ صرف اسلام باقی رہ جائے گا۔ اور ان کے زمانہ میں مسیح دجال کو ہلاک کردیں گے۔ اور روئے زمین پر امن و امان کا دور دورہ ہوگا۔ یہاں تک شیر اونٹوں کے ساتھ چریں گے‘ چیتے گائے
۸۷
بیلوں کے ساتھ، اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے، اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے۔ اور وہ ان کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام چالیس برس رہیں گے۔ پھر ان کی وفات ہوگی۔ اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔"
حدیث ششم :
عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی قولہ " و انہ لعلم للساعۃ" قال نزول عیسیٰ ابن مریم من قبل یوم القیمۃ"۔
(صحیح ابن حبان (الاحسان) ۲۸۸ ص ج ۱۔ موارد الظمآن ص ۲۳۶ ج ۵
مجمع الزوائد ص ۱۰۲ ج ۷)
ترجمہ : "حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد خداوندی "وانہ لعلم للساعۃ" (الزخرف: ۶۱۔) اور وہ (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کے یقین کا ذریعہ ہے) کی تفسیر میں فرمایا کہ "(اس سے مراد ہے) قیامت سے پہلے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا۔"
ان احادیث صحیحہ کے نتائج پر غور فرمائیے :
پہلی اور دوسری حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بچشم خود دیکھا اور ان کا حلیہ شریف حضرات صحابہؓ کے سامنے بیان فرمایا۔ چنانچہ امام ابن حبانؒ نے اپنی کتاب صحیح ابن حبان میں اس حدیث پر یہ عنوان قائم فرمایا ہے :
"ذکر تشبیہ المصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم عیسیٰ بن مریم بعروۃ بن مسعود۔"
یعنی "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو عروہ بن مسعودؓ کے ساتھ تشبیہ دینا۔"
۸۸
چوتھی حدیث میں آنحضرت ﷺ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گفتگو کا بالمشافہ سننا مذکور ہے‘ جو انبیاء علیہم السلام کے مجمع میں انہوں نے فرمائی کہ ”میرے رب کا مجھ سے عہد ہے کہ آخری زمانہ میں دجال نکلے گا تو میں نازل ہو کر اس کو قتل کروں گا۔“ اس تقریر کو آنحضرت ﷺ صحابہ کرامؓ کے سامنے نقل فرماتے ہیں۔ اس حدیث صحیح سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانہ میں نازل ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام سے عہد کر رکھا ہے‘ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام جس پر ایمان رکھتے ہیں‘ اور آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرامؓ جس کی تصدیق فرماتے ہیں۔
پانچویں حدیث میں آنحضرت ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان کارناموں کو ارشاد فرما رہے ہیں جو آسمان سے نازل ہونے کے بعد وہ آنحضرت ﷺ کے خادم کی حیثیت سے انجام دیں گے۔
اور چھٹی حدیث میں آنحضرت ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو علامات قیامت میں شمار کرتے ہوئے اس کو حق تعالیٰ شانہ کے ارشاد کا مصداق قرار دیتے ہیں۔
انصاف فرمائیے کہ مدعا علیہ کا یہ کہنا کہ آنحضرت ﷺ نے بھی ”نزول عیسیٰ کی حقیقت کو نہیں سمجھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی بہتان عظیم ہو سکتا ہے؟
۸۹
مرزا غلام احمد قادیانی کا مقدمہ
احکم الحاکمین کی عدالت میں
آیت مباہلہ :
نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مذہبی گفتگو کی، لیکن اس کے باوجود کہ چند منٹ میں لاجواب ہوگئے تھے، انہوں نے اپنی روش عناد نہیں بدلی۔ سورہ آل عمران کا ابتدائی حصہ ان کے شبہات کے جواب میں نازل ہوا۔
اسی سلسلہ میں آیت شریفہ نازل ہوئی :
"فمن حاجک فیہ من بعد ماجاء ک من العلم فقل تعالوا ندع ابناء نا وابناء کم و نساء نا ونساء کم وانفسنا وانفسکم ثم نبتهل فنجعل لعنت اللہ علی الکاذبین۔"
(آل عمران ۶۱)
ترجمہ : " پس اگر آپ سے عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں کوئی جھگڑا کرے بعد اس کے کہ آپ کے پاس قطعی علم آچکا ہے تو یہ کہہ دیجئے کہ آؤ بلائیں ہم سب مل کر اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور اپنی ذاتوں کو اور تمہاری ذاتوں کو، پھر ہم سب عجز و زاری کے ساتھ حق تعالیٰ سے دعا کریں، پس ڈالیں اللہ کی لعنت جھوٹوں پر۔"
مباہلہ سے عیسائیوں کا گریز اور صلح کی درخواست :
جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد نجران
۹۳
کے نمائندوں کو بلاکر ان کو یہ آیت شریفہ سنائی‘ اور مباہلہ کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا ہمیں مہلت دیجئے تاکہ ہم باہم مشورہ کرلیں۔ چنانچہ آپس میں مشورہ کیا‘ تو ان کے بڑے پادری نے کہا اگر تم نے ان صاحب سے مباہلہ کرلیا تو تمہاری جڑ کٹ جائے گی‘ کیونکہ یہ نبی برحق ہیں۔ اگر تم ان کی پیروی نہیں کرنا چاہتے‘ بلکہ اپنے دین پر قائم رہنے پر مصر ہو تو ان صاحب سے صلح کرلو۔ اگلے دن وہ لوگ حاضر خدمت ہوئے اور کہا کہ ہم آپؐ سے مباہلہ نہیں کرنا چاہتے‘ جو آپؐ تجویز فرمائیں جزیہ دینے کو تیار ہیں۔ چنانچہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اس شرط پر صلح کرلی کہ کپڑوں کا ایک ہزار جوڑا (لنگی اور چادر) صفر میں اور ایک ہزار جوڑا رجب میں پیش کیا کریں گے۔ علاوہ ازیں سالانہ ۳۳ زرہیں‘ ۳۳ اونٹ اور ۳۴ گھوڑے بھی بطور جزیہ ادا کیا کریں گے۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے مباہلہ کرلیتے تو ان کے درختوں پر چڑیا تک بھی باقی نہ بچتی۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ اگر یہ مباہلہ کرلیتے تو ان کی وادی پر آگ برستی۔ (روح المعانی ص ۱۸۸ ج ۳) یہ ہے ایک سچے نبی کا مباہلہ۔
مرزا قادیانی کے دعویٰ پر طوفان :
مرزا غلام احمد قادیانی نے جب اسلامی عقیدہ سے انحراف کرتے ہوئے اپنے ”خاص الہام“ کی بنیاد پر ۱۸۹۱ء میں اعلان کیا کہ ”عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں‘ اور ان کی جگہ مجھے مسیح بنادیا گیا ہے“ تو ملک میں ایک طوفان برپا ہوگیا۔ گھر گھر بحثیں شروع ہوگئیں‘ مناظرے ہوئے‘ مباحثے ہوئے‘ دونوں طرف سے کتب و رسائل شائع کئے گئے‘ اشتہارات چھاپے گئے‘ الغرض ملک میں ایک ہنگامہ رستخیز برپا ہوگیا۔ حد یہ کہ مرزا قادیانی کے چند نیچری مریدوں کے سوا‘ جو سرسید کے زیر اثر پہلے ہی سے ”وفات مسیح“ کا عقیدہ رکھتے تھے‘ اس کے
۹۴
اپنے مرید حیرت و پریشانی کے دریا میں غرق ہوگئے، اس کا کچھ اندازہ مرزا قادیانی کے مرید باصفا نواب سردار محمد علی خاں کے درج ذیل خط سے کیا جاسکتا ہے، جو اس نے مرزا قادیانی کے نام لکھا :
”جب سے کہ دعویٰ مثیل المسیح کی اشاعت ہوئی ہے ہر ایک آدمی ایک عجیب خلجان میں ہو رہا ہے، گو بعض خواص کی یہ حالت ہو کہ کوئی شک پیدا نہ ہوا ہو، بندہ جبھی سے شش و پنج میں ہے، کبھی آپ کا دعویٰ ٹھیک معلوم ہوتا ہے، اور کبھی تذبذب کی حالت ہو جاتی ہے۔ گویا قبض و بسط کی سی کیفیت ہے۔ اب قیل قال بہت ہوچکی۔ اپنی تو اس سے اطمینان نہیں ہوتی۔ کیونکہ مخالف اور موافق باتوں نے دل کی عجب کیفیت کردی ہے۔ بلکہ بعض اوقات اسلام کے سچے ہونے میں شبہ ہوجاتا ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام۔ خزائن ص ۳۲۶۔ ج ۵)
علمائے امت کی طرف سے مرزا کو مباہلہ کی دعوت :
حضرات علمائے کرام نے جب دیکھا کہ بحث مباحثہ سے مرزا قادیانی اور اس کے مریدوں کی اصلاح نہیں ہو رہی، بلکہ ان کی ضد و عناد میں اضافہ ہو رہا ہے تو انہوں نے حق و باطل کے فیصلہ کے لئے مرزا قادیانی کو مباہلہ کا چیلنج کیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عدالت سب سے بڑی عدالت ہے، اور اس کا فیصلہ قطعی فیصلہ ہے، جو لوگ کہ اللہ تعالیٰ کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ خدائی فیصلہ کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔ اس لئے بحث و مباحثہ کے بعد اب آخری صورت یہی رہ جاتی ہے کہ مباہلہ کے ذریعہ یہ قضیہ احکم الحاکمین کی عدالت میں پیش کیا جائے۔
مرزا قادیانی کا مباہلہ سے گریز و فرار :
یہ عجیب بات ہے کہ نجران کے عیسائیوں کو آنحضرت ﷺ نے از
۹۵
خود مباہلہ کی دعوت دی تھی، جس کو انہوں نے قبول نہیں کیا۔ لیکن یہاں معاملہ الٹ ہو رہا تھا کہ علمائے کرام مرزا قادیانی کو مباہلہ کی دعوت دے رہے تھے۔ مباہلہ کے نام سے مرزا قادیانی کی روح کانپتی تھی۔ چنانچہ حضرات علماء کرام نے جب مرزا قادیانی کو مباہلہ کی دعوت دی تو اس نے حیلوں بہانوں سے اس دعوت کو ٹال دیا۔ مرزا قادیانی ازالہ اوہام میں لکھتا ہے :
”ناظرین پر واضح ہو کہ میاں عبدالحق نے مباہلہ کی بھی درخواست کی تھی، لیکن اب تک میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسے اختلافی مسائل میں، جن کی وجہ سے کوئی فریق کافر یا ظالم نہیں ٹھہر سکتا، کیونکر ”مباہلہ“ جائز ہے؟ قرآن کریم سے ظاہر ہے کہ مباہلہ میں دونوں فریق کا اس بات پر یقین چاہئے کہ فریق مخالف میرا کاذب ہے، یعنی عمداً سچائی سے رو گردان ہے، مخطی نہیں ہے۔ تا ہر یک فریق ”لعنة الله علی الکاذبین“ کہہ سکے۔ اب اگر میاں عبدالحق اپنے قصور فہم کی وجہ سے مجھے کاذب خیال کرتے ہیں، لیکن میں انہیں کاذب نہیں کہتا، بلکہ مخطی جانتا ہوں۔ اور مخطی مسلمان پر لعنت جائز نہیں، کیا بجائے ” لعنة الله علی الکاذبین“ یہ کہنا جائز ہے کہ ”لعنة الله علی المخطئین“؟ کوئی مجھے سمجھا دے کہ اگر میں مباہلہ میں فریق مخالف پر لعنت کروں تو کس طرح کروں؟“
(ازالہ اوہام ص ۶۳۷۔ خزائن ص ۴۴۳ ج ۳)
مدعا علیہ نے اس اختلاف کو ”فروعی اختلاف“ قرار دیتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات بہت ہیں :
” اب کیا یہ انسانیت ہے یا ہمدردی اور ترحم میں داخل ہے کہ طریق تصفیہ یہ ٹھہرایا جائے کہ تمام مسلمان، کیا ائمہ اربعہ کے پیرو، اور کیا محدثین کے پیرو، اور کیا متصوفین، ان ادنیٰ ادنیٰ اختلافات کی وجہ سے
۹۶
مباہلہ کے میدان میں آکر ایک دوسرے پر لعنت شروع کردیں۔؟“
(ایضاً ص ۴۲۱۔ خزائن ۵۹۵ ج ۳)
کیا مرزا قادیانی کا مسلمانوں سے فروعی اختلاف تھا :
مرزا قادیانی کا اس اختلاف کو ”فروعی اختلاف“ یا ”اجتہادی خطا“ قرار دے کر مباہلہ سے راہ فرار اختیار کرنا محض سخن سازی اور حیلہ تراشی تھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے ایک قطعی اور متواتر اسلامی عقیدہ سے انحراف کیا تھا‘ اور کتابوں پر کتابیں لکھ کر الحاد و زندقہ کے پھریرے اڑا رہا تھا‘ علمائے اسلام اسے قطعی کفر و ارتداد اور زندقہ و الحاد قرار دے رہے تھے‘ اور علمائے اسلام کی اس کے بارے میں جو رائے تھی اسے خود اپنے قلم سے نقل کرچکا تھا کہ : ” میاں عبدالحق صاحب غزنوی اور مولوی محی الدین لکھو والے اس عاجز کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ہمیں الہام ہوا ہے کہ یہ شخص جہنمی ہے۔ چنانچہ عبدالحق صاحب کے الہام میں تو صریح سیصلیٰ ناراً ذات لھب موجود ہے‘ اور محی الدین صاحب کو یہ الہام ہوا ہے کہ یہ شخص ایسا ملحد اور کافر ہے کہ ہرگز ہدایت پذیر نہیں ہوگا۔ اور ظاہر ہے کہ جس کافر کا مآل کار کفر ہی ہو وہ بھی جہنمی ہی ہوتا ہے۔ غرض ان دونوں صاحبوں نے کہ خدا انہیں بہشت نصیب کرے اس عاجز کی نسبت جہنم اور کفر کا فتویٰ دے دیا‘ اور بڑے زور سے اپنے الہامات کو شائع کردیا۔“
(ازالہ ص ۶۲۷۔ خزائن ۴۳۸ ج ۳)
اور اپنے ۱۲؍ اپریل ۱۸۹۱ء کے اشتہار میں‘ جو مولانا عبدالحق غزنوی کی درخواست مباہلہ کے جواب میں شائع کیا گیا‘ خود تسلیم کرچکا تھا کہ : ” مسنون طریق مباہلہ کا یہ ہے کہ جو شخص مباہلہ کی درخواست کرے اس کے دعوے کی بنا ایسے یقین پر ہو جس یقین کی وجہ سے وہ
۹۷
اپنے فریق مقابل کو قطعی طور پر مفتری اور کاذب خیال کرے۔“
(مجموعہ اشتہارات ص ۲۱۵ ج ۱)
ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کی خود نوشتہ شرط مولانا عبدالحق کی درخواست مباہلہ میں موجود تھی۔ وہ قطعی طور پر مرزا کو کافر و ملحد اور ابولہب کا بروز قرار دے رہے تھے، اس کے باوجود اس کو ”فروعی اختلاف“ کہہ کر مباہلہ سے راہ فرار اختیار کرنا، کیا کسی حق پرست کا شیوہ ہوسکتا ہے؟
قطعی یقینی بات پر مباہلہ کا چیلنج کیا جاسکتا ہے:
مرزا سے عرض کیا گیا کہ آدمی کو اپنے موقف کی سچائی کا سو فیصد یقین ہو تو مباہلہ کرسکتا ہے، دیکھو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، ایک جلیل القدر صحابی ہیں، کسی نے ان سے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فلاں مسئلہ میں یہ فتویٰ دیتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جو شخص چاہے میں اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں کہ سورۃ الطلاق سورۃ البقرہ کے بعد نازل ہوئی ہے۔“
(ابوداؤد ص ۳۱۶ ج ۱)
اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کو اپنے موقف پر سو فیصد یقین ہو تو فروعی مسئلہ میں مباہلہ کی دعوت دے سکتا ہے۔
اس پر مرزا قادیانی نے لکھا:
”یہ نادان کہتے ہیں کہ ابن مسعودؓ نے جو مباہلہ کی درخواست کی تھی اس سے نکلتا ہے کہ مسلمانوں کا باہم مباہلہ جائز ہے، مگر یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ ابن مسعودؓ نے اپنے اس قول سے رجوع نہیں کیا، اور نہ یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ مباہلہ ہوکر مخطیوں پر یہ عذاب نازل ہوا تھا۔ حق بات یہ ہے کہ ابن مسعود ایک معمولی انسان تھا، نبی اور رسول تو نہیں تھا، اس نے جوش میں آکر غلطی کھائی تو کیا اس کی بات کو ان ھو
۹۸
الا وحی یوحیٰ میں داخل کیا جائے؟”
(ازالہ اوہام ص ۵۹۶۔ خزائن ص ۴۲۱ ج ۳)
مرزا کو مباہلہ کی اجازت کا الہام:
دراصل مرزا قادیانی نہ قرآن کو مانتا تھا‘ نہ حدیث کو‘ نہ کسی صحابی کے یا امام کے قول کو‘ اس کے لئے بس ایک چیز حجت تھی اور وہ تھا اس کا اپنا الہام۔ صد شکر علمائے کرام کی یہ مشکل حل ہوئی‘ اور یہ نئی بحث جو چل نکلی تھی کہ آیا مرزا قادیانی کے لئے مباہلہ جائز ہے یا نہیں؟ مرزا کے الہام نے اس بحث میں علماء کرام کے موقف کو صحیح اور برحق قرار دیا اور مرزا قادیانی کے موقف کو غلط ۔۔۔ اس الہامی اجازت کی تقریب یہ ہوئی کہ مرزا کے مرید خاص نواب سردار محمد علی خاں نے اپنے خط میں (جس کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے) مرزا قادیانی کو یہ بھی لکھا :
”اب کوئی عذر اس قسم کا نہیں رہا کہ اب مباہلہ کے لئے مخالفوں کو نہ بلایا جائے‘ کیونکہ جیسا کہ آپ نے مولوی عبدالحق کے جواب میں تحریر فرمایا تھا کہ ”جب تک مباحثہ ہو کر مباہلہ نہ ہو‘ مباہلہ نہیں ہوسکتا‘ کیونکہ یہ اختلاف اجتہادی ہے۔“ لیکن اب یہ بات نہیں رہی‘ بلکہ مخالفت بہت ہوگئی ہے‘ اور حجت قائم ہوچکی‘ اب آپ کو مخالفوں سے مباہلہ کرنا چاہئے اور توجہ کرکے خداوند تعالیٰ سے اس کی اجازت چاہنی چاہئے کہ مباہلہ کیا جاوے۔“ (آئینہ کمالات اسلام۔ خزائن ص ۳۲۶۔ ۳۲۷ ج ۵)
مرزا قادیانی نے نواب صاحب کے تیور بدلے ہوئے دیکھے تو اس کو مباہلہ کی اجازت فوراً مل گئی‘ چنانچہ مذکورہ بالا خط کے جواب میں مرزا قادیانی لکھتا ہے :
”مباہلہ کی نسبت آپ کے خط سے چند روز پہلے مجھے خود بخود اللہ
۹۹
جل شانہ نے اجازت دے دی‘ اور یہ خدا تعالیٰ کے ارادہ سے آپ کا توارد ہے کہ آپ کی طبیعت میں یہ جنبش پیدا ہوئی۔"
(ایضاً ص ۲۳۱)
تعجب ہے کہ مرزا قادیانی کے سامنے قرآن پیش کیا جاتا ہے‘ حدیث پیش کی جاتی ہے‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد پیش کیا جاتا ہے‘ مگر اس کے الہام کو ان چیزوں سے تو ارد نہیں ہوتا۔ لیکن ایک نواب رئیس کا تیز و تند خط آتا ہے کہ ”اب آپ کو مخالفوں سے مباہلہ کرنا چاہئے“ تو خدا تعالیٰ کے ارادہ کا فوراً تو ارد ہوجاتا ہے۔ بہرحال اہل اسلام کو نواب صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہئے انہوں نے مرزا کو ایک خط لکھ کر ارادہ الٰہی کو مباہلہ کی اجازت کے لئے کھینچ لیا‘ علمائے کرام کو اس نئی بحث سے نجات دلائی‘ اور یہ ثابت کردیا کہ مباہلہ کے جواز میں علمائے کرام کا موقف برحق تھا۔ کہنا چاہئے کہ یہ مباہلہ میں علمائے کرام کی پہلی فتح تھی۔
مباہلہ کے لئے قادیانی شرط :
الٰہی اجازت ملنے کے باوجود مرزا قادیانی غیر مشروط مباہلہ کے لئے تیار نہیں ہوا‘ بلکہ ایسی شرطیں لگادیں کہ مخالفین ان پر رضامند نہ ہوں۔ اور گھر بیٹھے اعلان کردیا جائے کہ ہم نے تو مخالفین کو مباہلہ کے لئے بلایا تھا مگر کوئی اس پر تیار ہی نہیں ہوا‘ چنانچہ اشتہار مباہلہ جو ۱۰؍ دسمبر ۱۸۹۲ء کو شائع کیا‘ اس میں لکھا : ،
”ان تمام مولویوں اور مفتیوں کی خدمت میں‘ جو اس عاجز کو جزئی اختلافات کی وجہ سے یا اپنی نافہمی کے باعث کافر ٹھہراتے ہیں‘ عرض کیا جاتا ہے کہ اب میں خدا تعالیٰ سے مامور ہوگیا ہوں کہ تا میں آپ لوگوں سے مباہلہ کرنے کی درخواست کروں‘ اس طرح پر کہ اول آپ کو مجلس مباہلہ میں اپنے عقائد کے دلائل ازروئے قرآن و حدیث کے
۱۰۰
سناؤں، اگر پھر بھی آپ لوگ تکفیر سے باز نہ آویں تو اسی مجلس میں مباہلہ کروں۔ سو میرے پہلے مخاطب میاں نذیر حسین دہلوی ہیں، اگر وہ انکار کریں تو پھر شیخ محمد حسین بٹالوی، اور اگر وہ انکار کریں تو پھر بعد اس کے تمام وہ مولوی صاحبان جو مجھ کو کافر ٹھہراتے اور مسلمانوں میں سرگروہ سمجھے جاتے ہیں۔ اور میں ان تمام بزرگوں کو آج کی تاریخ سے، جو دہم دسمبر ۱۸۹۲ء ہے۔ چار ماہ تک مہلت دیتا ہوں۔ اگر چار ماہ تک ان لوگوں نے مجھ سے بشرائط متذکرہ مباہلہ نہ کیا، اور نہ کافر کہنے سے باز آئے تو پھر اللہ تعالیٰ کی حجت ان پر پوری ہوگی۔"
(آئینہ کمالات اسلام۔ خزائن ۲۶۱۔ ۲۶۲ ج ۵)
ملاحظہ فرمائیے کہ گھر بیٹھے مباہلہ میں اپنی فتح کے شادیانے بجانے کی کیسی اچھی ترکیب ہے۔ سب سے اول تو یہ کہ مباہلہ سے پہلے جناب کے دلائل سنے جائیں، حالانکہ مباہلہ کی ضرورت ہی اس بنا پر پیش آئی کہ جناب قرآن و حدیث میں بے دریغ تحریفات فرماتے ہیں، مباہلہ کی مجلس میں انہی تحریفات کو مکرر سننے کی شرط کون قبول کرے گا؟ پس اگر کسی نے کہہ دیا کہ ہم آپ کی تحریفات سننے کے لئے تیار نہیں تو جناب کی شرط فوت ہو گئی۔ لہٰذا اعلان کر دیا جائے گا کہ ہم نے تو مولویوں کو مباہلہ کی دعوت دی تھی، مگر کوئی مرد میدان ہی نہیں نکلا۔ لہٰذا ہماری فتح ہوئی۔
دوم یہ کہ مباہلہ کے لئے اول فلاں آئے وہ انکار کرے تو فلاں آئے، وہ بھی انکار کرے تو فلاں فلاں آئیں، گویا اگر کوئی دور و نزدیک کا بزرگ کسی عذر کی بنا پر مباہلہ کے لئے نہ آئے تو یہ اسکا انکار شمار ہوگا، اور اشتہار دے دیا جائے گا کہ فلاں نے مباہلہ کے میدان میں آنے سے انکار کر دیا۔ لہٰذا ہم جیت گئے۔
سوم یہ کہ مباہلہ کے لئے جو آئے وہ پہلے سند پیش کرے کہ وہ
۱۰۱
مسلمانوں میں سرگروہ سمجھا جاتا ہے‘ تب میدان مباہلہ میں قدم رکھے‘ یہ شرط بھی اہل علم کی غیرت کے خلاف ہے کہ وہ ثبوت پیش کرتے پھریں کہ فقیر مسلمانوں میں سرگروہ سمجھا جاتا ہے۔
مرزا قادیانی کے مریدوں میں کسی نے اس سے نہیں پوچھا کہ حضور! آپ نے مباہلہ کی جو شرطیں تحریر فرمائی ہیں آیا یہ بھی الہامی ہیں۔ یا حضور نے اپنے اجتہاد سے زیب رقم فرمائی ہیں؟ اور کیا سید الصادقین ﷺ نے بھی اپنے مخالفین کو ایسی شرائط میں جکڑا تھا؟ نہیں! بلکہ آنحضرت ﷺ پر رات کو مباہلہ کی آیت نازل ہوئی اور صبح دم آنحضرت ﷺ نے بغیر کسی شرط کے نصاریٰ نجران کو مباہلہ کی دعوت دی۔
برعکس اس کے قادیانی صاحب ان شرائط کی شعبدہ بازی کے ذریعہ اپنے خوش فہم مریدوں کو اطمینان دلانا چاہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود نے مباہلہ کا اشتہار شائع کیا ہے۔ لیکن کوئی مولوی‘ کوئی مفتی اور کوئی صوفی حضرت کے مقابلہ پر آکر مباہلہ کی جرات نہیں کرتا‘ چنانچہ اشتہار ۲۵ اپریل ۱۸۹۳ء کے آغاز میں قادیانی صاحب لکھتے
ہیں :
”ناظرین کو معلوم ہوگا کہ کچھ تھوڑا عرصہ ہوا کہ غزنوی صاحبوں کی جماعت میں سے‘ جو امرتسر میں رہتے ہیں‘ ایک صاحب عبدالحق نام نے اس عاجز کے مقابلہ پر مباہلہ کے لئے اشتہار دیا تھا‘ مگر چونکہ اس وقت یہ خیال تھا کہ یہ لوگ کلمہ گو اور اہل قبلہ ہیں‘ ان کو لعنتوں کا نشانہ بنانا جائز نہیں‘ اس لئے اس درخواست کو قبول کرنے سے اس وقت تک تامل رہا جب تک کہ ان لوگوں نے کافر ٹھہرانے میں اصرار کیا‘ اور پھر تکفیر کا فتویٰ تیار ہونے کے بعد اس طرف سے بھی مباہلہ کا اشتہار دیا گیا۔ جو کتاب ”آئینہ کمالات اسلام“ کے ساتھ بھی شامل ہے۔ اور ابھی
۱۰۲
تک کوئی شخص مباہلہ کے لئے مقابلہ پر نہیں آیا۔“
(مجموعہ اشتہارات ص ۳۹۵ ج ۱)
کاش! ان کے مریدوں میں کوئی دانش مند ان سے اتنا تو پوچھ لیتا کہ حضرت! عبدالحق غزنوی تو حضور کو کافر ٹھہرانے پر پہلے ہی مصر تھا‘ جیسا کہ اوپر ازالہ اوہام کے حوالہ سے نقل کرچکا ہوں کہ مولانا عبدالحق غزنوی نے مرزا قادیانی کو قطعی کافر و مرتد اور جہنمی قرار دے کر اس سے مباہلہ کا مطالبہ کیا تھا اس کے باوجود مرزا نے اس وقت ان سے مباہلہ کو ناجائز قرار دیا تھا‘ اب ان کے موقف میں کون سی تبدیلی پیدا ہوئی تھی کہ اب مباہلہ جائز ہو گیا؟
دوم یہ کہ مولانا غزنوی تو ۱۸۹۱ء میں مباہلہ کی درخواست بذریعہ اشتہار آپ کے پاس جمع کراچکے تھے اور آپ سوا دو سال بعد ۲۵؍ اپریل ۱۸۹۳ء کو لکھ رہے ہیں کہ ”ابھی تک کوئی شخص مباہلہ کے لئے مقابلہ پر نہیں آیا“ کیا یہ اپنے مریدوں کو دھوکہ دینے کے لئے صریح جھوٹ نہیں؟ کیا مولانا غزنویؒ نے دو سال پہلے کی وہ درخواست واپس لے لی تھی؟ یا آپ نے اس کے منسوخ ہونے کا اعلان فرمادیا تھا؟ آپ دو سال سے اشتہارات کی پتنگ بازی فرمارہے تھے لیکن مولانا غزنوی کے مقابلہ میں میدان مباہلہ میں قدم رکھنے کی آنجناب کو ہمت نہ ہوئی‘ مگر مریدوں پر جھوٹ کا یہ افسون پھونک رہے ہیں کہ ہمارے مقابلہ میں مباہلہ کے لئے کوئی شخص نہیں آتا۔
الغرض قادیانی صاحب کا مقصود مباہلہ کے ذریعہ فیصلہ کرنا نہیں تھا‘ بلکہ اس پتنگ بازی کے ذریعہ مریدوں کے ذہن میں یہ بٹھانا تھا کہ ہمارے ”حضرت مسیح موعود“ کے مقابلہ میں آنے کی کوئی جرات نہیں کرسکتا۔
مولانا غزنوی سے حافظ محمد یوسف کا مباہلہ :
الغرض جو لوگ مرزا قادیانی کے حلقہ بگوش تھے وہ قادیانی کے اس جھوٹ
۱۰۳
کو بھی سچ سمجھتے تھے کہ ہمارے مسیح موعود جری اللہ فی حلل الانبیاء کے مقابلہ میں آنے کی کسی میں بھی تب و تاب نہیں‘ دیکھو ہمارا مسیح میدان میں کھڑا دنیا بھر کے مولویوں‘ مفتیوں‘ صوفیوں اور سجادہ نشینوں کو للکار رہا ہے‘ لیکن حضرت کی صداقت کا ایسا لرزہ سب کے دلوں پر طاری ہے کہ کیا مجال کہ کوئی شخص میدان مباحثہ یا مباہلہ میں قدم رکھے؟ اس سے بڑھ کر حضرت کی صداقت کی کیا دلیل ہو سکتی ہے؟
غالباً حافظ محمد یوسف صاحب‘ جو مرزا قادیانی کے غالی عقیدت مند تھے‘ وہ بھی اسی دام فریب میں مبتلا تھے۔ انہوں نے مرزا صاحب کی عقیدت کے جوش میں ۲؍ شوال ۱۳۱۰ھ کو یکایک مولانا عبدالحق غزنوی سے مباہلہ کر ڈالا۔ اس کی تفصیل مرزا قادیانی نے اپنے اشتہار ۲۵؍ اپریل ۱۸۹۳ء میں (جس کی ابتدائی عبارت ابھی اوپر گزر چکی ہے) حسب ذیل لکھی ہے:
” مجھے اس بات کے سننے سے بہت خوشی ہوئی کہ ہمارے ایک معزز دوست حافظ محمد یوسف صاحب نے ایمانی جواں مردی اور شجاعت کے ساتھ ہم سے پہلے اس (مباہلہ کے) ثواب کو حاصل کیا‘ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حافظ صاحب اتفاقاً ایک مجلس میں بیان کر رہے تھے کہ مرزا صاحب یعنی اس عاجز سے کوئی آمادہ مناظرہ یا مباہلہ نہیں ہوتا‘ اور اسی سلسلہ گفتگو میں حافظ صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ عبدالحق نے جو مباہلہ کے لئے اشتہار دیا تھا‘ اب اگر وہ اپنے تئیں سچا جانتا ہے تو میرے مقابلہ پر آوے‘ میں اس سے مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔ تب عبدالحق جو اسی جگہ کہیں موجود تھا۔ حافظ صاحب کے غیرت دلانے والے لفظوں سے طوعاً و کرہاً مستعد مباہلہ ہو گیا۔ اور حافظ صاحب کا ہاتھ آکر پکڑ لیا کہ میں تم سے اسی وقت مباہلہ کرتا ہوں‘ مگر مباہلہ فقط اس بارہ میں کروں گا کہ میرا یقین ہے کہ مرزا غلام احمد‘ مولوی حکیم نور دین اور مولوی محمد
۱۰۴
احسن یہ تینوں مرتدین اور کذابین اور دجالین ہیں، حافظ صاحب نے فی الفور بلا تامل منظور کیا کہ میں اس بارہ میں مباہلہ کروں گا، کیونکہ میرا یقین ہے کہ یہ تینوں مسلمان ہیں۔ تب اسی بات پر حافظ صاحب نے عبدالحق سے مباہلہ کیا۔ اور گواہان مباہلہ منشی محمد یعقوب اور میاں نبی بخش صاحب اور میاں عبد الہادی صاحب اور میاں عبدالرحمٰن عمر پوری قرار پائے۔"
(مجموعہ اشتہارات ص ۳۹۶ ج ۱)
حافظ محمد یوسف کے مباہلہ کے نتائج:
حافظ صاحب ”اپنے مسیح موعود“ کی محبت کے نشہ میں مخمور اور اس کے افسوں سے مسحور تھے، اس لئے مولانا عبدالحق کی دعوت پر فوراً بلا تامل میدان مباہلہ میں کود گئے، اور مرزا قادیانی نے ان کے مباہلہ پر اظہار مسرت کرکے ان کے اس مباہلہ کو اپنے اشتہار میں شائع کیا اور اس پر اپنی مہر تصدیق ثبت فرمادی۔ گویا اس مباہلہ کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرلی، آئیے اب اس مباہلہ کے نتائج پر غور کریں۔
پہلا نتیجہ: حافظ صاحب مرزائیت سے تائب ہو گئے:
حافظ صاحب اور مولانا عبدالحق کے مباہلہ کا موضوع، جیسا کہ آپ نے مرزا صاحب کی مندرجہ بالا تحریر میں پڑھا، یہ تھا کہ مرزا قادیانی اور اس کے دونوں بڑے چیلے حکیم نور دین اور مولوی محمد احسن مسلمان ہیں یا کافر و مرتد اور دجال و کذاب؟ حافظ صاحب کا یقین و اذعان یہ تھا کہ یہ تینوں مسلمان ہیں۔ اور مولانا کا دعویٰ تھا کہ یہ تینوں کافر و مرتد اور دجال و کذاب ہیں۔
اللہ کی شان! کہ مولانا عبدالحق اس مباہلہ میں اپنے حریف پر غالب آئے۔ اور جس طرح ساحران فرعون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں
۱۰۵
فرعون کا بول بالا کرنے کے لئے آئے تھے، مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حقانیت دیکھ کر ان کے ہاتھ پر تائب ہو گئے۔ اور ”امنا برب العالمین رب موسیٰ و ھارون“ پکار اٹھے۔ اسی طرح اس مباہلہ کے بعد مرزا قادیانی کے نمائندہ حافظ محمد یوسف کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت عطا فرمائی۔ انہوں نے مولانا عبدالحق غزنوی کے ہاتھ پر مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا، اور مرزا قادیانی کو کافر و دجال اور مفتری کہنے لگے، اور جس جوش و خروش کے ساتھ وہ مرزائیت کی تبلیغ کرتے تھے اب مرزا قادیانی کی تردید کرنے لگے۔ یہاں تک مرزا قادیانی کو اربعین نمبر ۳ کا اشتہار ان کے مقابلے میں شائع کرنا پڑا۔
قادیانی جماعت کے لئے آج بھی یہ مباہلہ عبرت کا نشان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مباہلہ میں حافظ محمد یوسف کے مقابلہ میں مولانا عبدالحق کو فتح عطا فرمائی۔ قطعی فیصلہ فرمادیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے دونوں چیلوں حکیم نور دین اور مولوی محمد احسن کے بارے میں مولانا مرحوم کا موقف صحیح تھا۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک واقعی کافر و مرتد اور دجال و کذاب ہیں۔ کیا کسی قادیانی کو اس فیصلہ خداوندی سے عبرت ہوگی؟
دوسرا شاندار نتیجہ: مباہلہ کا نتیجہ نہ ماننے والوں کے بارے میں
مرزا قادیانی کے فتوے
اہل حق کو اپنے موقف پر قطعی یقین و وثوق ہوتا ہے۔ اس لئے جواریوں کی طرح یہ شرطیں لگانے کی ضرورت نہیں کہ اگر مباہلہ کا نتیجہ ہمارے خلاف نکلا تو ہم اپنے موقف سے دستبردار ہو جائیں گے۔ کیونکہ اگر کسی کو اپنے موقف میں ذرا بھی غلطی کا احتمال ہو تو ایسے آدمی کو مباہلہ کے میدان میں قدم ہی نہیں رکھنا چاہئے۔ اس لئے یہ شرط رکھنا ہی
١٠٦
غلط ہے کہ اگر مباہلہ کا اثر میرے خلاف ظاہر ہوا تو اپنے موقف سے دستبردار ہو جاؤں گا۔
مولانا عبدالحق غزنوی نے حافظ محمد یوسف سے جو مباہلہ کیا اس کی بنیاد قطعی یقین و اذعان پر تھی جس میں غلطی کا احتمال ہی نہیں تھا۔ اس لئے اس میں ”اگر مگر“ کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی، اس لئے مباہلہ کے بعد مرزا کے وکیل حافظ محمد یوسف نے کہا کہ :
”اب میں تو اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ اگر اس لعنت اور اس عذاب کی درخواست کا اثر مجھ پر وارد ہوا، اور کوئی ذلت اور رسوائی مجھ کو پیش آگئی تو میں اپنے اس عقیدہ سے رجوع کرلوں گا۔ سو اب تم بھی اس وقت اپنا ارادہ بیان کرو کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے نزدیک کاذب ٹھہرے اور کچھ لعنت اور عذاب کا اثر تم پر وارد ہوگیا تو تم بھی اپنے اس تکفیر کے عقیدہ سے رجوع کروگے یا نہیں؟۔“
اس کا جواب مولانا غزنویؒ کی طرف سے یہ ہونا چاہئے تھا کہ بھائی! تمہیں اپنے عقیدہ میں غلطی کا احتمال ہوگا اس لئے تمہیں مباہلہ کے اثر سے ضرور ڈرنا چاہئے، اور مباہلہ کا اثر وارد ہونے کی صورت میں ضرور اپنے عقیدہ سے توبہ کرنی چاہئے، فقیر کو اپنے عقیدہ پر الحمدللہ ایسا اذعان ہے کہ مجھ پر مباہلہ کا اثر بحمد اللہ وارد ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا تمہارا یہ سوال ہی غلط ہے، لیکن مولانا مرحوم نے اپنے اذعان و یقین کو ان الفاظ میں بیان کیا کہ ”اگر مباہلہ کا اثر مجھ پر وارد ہو تب بھی مرزا کو کافر کہنے سے رجوع نہیں کروں گا۔“
یہ مولانا مرحوم کی لغزش لسانی تھی، جو محض غضباً للہ وغیرۃً للدین ان سے سرزد ہوئی، جیسا کہ آگے مولانا مرحوم کے جواب سے یہ بات واضح ہوگی۔
لیکن مثل مشہور ہے کہ ”فعل الحکیم لایخلو عن الحکمۃ“ اللہ
تعالیٰ نے اپنے ایک مقبول بندے (مولانا عبدالحق مرحوم) سے جو یہ لغزش کرائی شاید اس میں ایک بڑی حکمت کارفرما تھی۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ حافظ محمد یوسف کے مباہلہ سے اسلام اور مرزائیت کے درمیان مقابلہ کا ایک نیا محاذ کھل رہا ہے۔ اور وہ ہے مباہلوں کا محاذ —— اس محاذ پر مرزائیت کو اسلام کے مقابلہ میں پے در پے شکستیں ہونا علم الٰہی میں مقدر ہے‘ ادہر مرزائیوں کی یہ عادت معلوم ہے کہ جب کوئی بات ان کے خلاف ظہور پذیر ہو تو وہ دین و ایمان اور عقل و دانش ہی کے نہیں بلکہ انسانیت کے حدود بھی پھلانگ جاتے ہیں‘ اس لئے حکمت خداوندی کا تقاضا ہوا کہ مولانا مرحوم سے الفاظ کی ذرا سی لغزش کرادی جائے‘ تاکہ مرزا غلام احمد قادیانی ان کے ان الفاظ پر تبصرہ کرنے بیٹھے تو اس کے قلم سے ایسے فقرے لکھوا دیئے جائیں جو ہمیشہ کے لئے اہل حق کے ہاتھ میں مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کے خلاف برہان قاطع کا کام دیں۔ اور اہل حق مرزا غلام احمد قادیانی کے الفاظ کا آئینہ اس کی جماعت کو دکھا کر انہیں اپنا چہرہ پہچاننے کی دعوت دے سکیں۔
لیجئے! اب میں مرزا قادیانی کا تیار کردہ یہ آئینہ ان کی جماعت کے سامنے پیش کرکے دعوت دیتا ہوں کہ وہ اپنا چہرہ پہچانیں‘ اور اگر توفیق الٰہی دستگیری کرے تو مرزائیت سے توبہ کرکے اپنے مکروہ چہرے کی سیاہی کو دور کرنے کی کوشش کریں۔
حافظ محمد یوسف اور مولانا عبدالحق غزنوی کے مباہلہ کا اور مباہلہ کے بعد ان کے مکالمہ کا قصہ اوپر ذکر کر چکا ہوں‘ مرزا قادیانی نے اس پر جو تبصرہ کیا ہے اس کے اقتباسات درج ذیل عنوان کے تحت حرف بحرف نقل کرتا ہوں :
حق و باطل کا معیار :
مولانا مرحوم کا مندرجہ بالا فقرہ نقل کرکے مرزا قادیانی لکھتا ہے :
۱۰۸
”تب حاضرین کو نہایت تعجب ہوا کہ جس مباہلہ کو حق اور باطل کے آزمانے کے لئے اس نے معیار ٹھہرایا تھا اور جو قرآن کریم کی رو سے بھی حق اور باطل میں فرق کرنے کے لئے ایک معیار ہے، کیونکر اور کس قدر جلد اس معیار سے یہ شخص پھر گیا؟“ (مجموعہ اشتہارات ص ۳۹۷ ج ۱)
مرزا قادیانی کی جماعت غور کرے کہ کیا واقعی مباہلہ قرآن کریم کی رو سے حق و باطل کی آزمائش کا معیار ہے؟ اگر آپ حضرات اس کو سچ مچ قرآن کریم کی رو سے حق و باطل کی آزمائش کا معیار مانتے ہیں تو جب اس مباہلہ کا نتیجہ کھلے طور پر سامنے آگیا کہ مولانا عبدالحق غالب ہوئے، اور ان کے حریف مقابل نے مرزائیت سے تائب ہوکر ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا تو صاف صاف کھل گیا کہ مرزا قادیانی مسلمان نہیں، بلکہ کافر و مرتد اور دجال و کذاب ہے۔ اب اگر آپ حضرات کو قرآن کریم پر ایمان ہے تو اس مباہلہ کا نتیجہ سامنے آنے کے بعد آپ کے لئے کیسے جائز ہوا کہ جس شخص کے کافر و مرتد ہونے کا اللہ تعالیٰ فیصلہ دے چکے ہیں آپ اسی کو مسیح موعود اور مہدی معہود مانتے ہیں، اور اس کی جماعت میں شامل رہ کر دوزخ میں چھلانگ لگاتے ہیں؟
ظلم و تعصب، امانت و دیانت سے دور
مرزا صاحب آگے لکھتے ہیں :
”اور زیادہ تر ظلم اور تعصب اس کا اس سے ظاہر ہوا کہ وہ اس بات کے لئے تو تیار ہے کہ فریق مخالف پر مباہلہ کے بعد کسی قسم کا عذاب نازل ہو اور وہ اس کے اس عذاب کو اپنے صادق ہونے کے لئے بطور دلیل اور حجت کے پیش کرے۔ لیکن وہ اگر آپ ہی مورد عذاب ہو جائیں تو پھر مخالف کے لئے اسکے کاذب ہونے کی یہ دلیل اور حجت نہ
۱۰۹
ہو۔ اب خیال کرنا چاہئے کہ یہ قول عبدالحق کا کس قدر امانت اور دیانت اور ایمانداری سے دور ہے۔ گویا مباہلہ کے بعد ہی اس کی اندرونی حالت کا مسخ ہونا کھل گیا۔"
(حوالہ بالا)
مرزا صاحب نے مولانا مرحوم کے جس ظلم و تعصب کی شکایت کی ہے، اور اسے امانت و دیانت اور ایمانداری سے بعید قرار دیا ہے، اور آخر میں دیانت و امانت کو چھوڑ کر ظلم و تعصب کو اپنانے پر ”اندرونی حالت کے مسخ“ ہو جانے کا فتویٰ صادر فرمایا ہے، جب تک مباہلہ کا نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا تب تک آپ مولانا مرحوم کو جو چاہتے کہتے۔ لیکن جب مباہلہ کا نتیجہ کھل کر سامنے آگیا، اور اس سے فیصلہ ہوگیا کہ مرزا قادیانی بلا شک و شبہ کافر و مرتد اور کذاب و دجال ہے تو اس کے بعد قادیانی جماعت سے وابستہ رہنا سراسر ظلم و تعصب ہے یا نہیں؟ اور محض مفاد دنیوی کے لئے دیانت و امانت اور ایمان داری کا خون کرنا ہے یا نہیں؟ اور جب آپ حضرات مباہلہ کا نتیجہ کھل کر سامنے آجانے کے باوجود مرزا قادیانی کی جماعت کو نہیں چھوڑ رہے تو غور فرمائیے کہ آپ کی اندرونی حالت مسخ تو نہیں ہوگئی؟ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ حضرات پر ہدایت کا راستہ کھول دیں، اور آپ حضرات اپنی مسخ شدہ اندرونی حالت کی فکر کریں۔
مسخ شدہ لوگوں کی علامت :
مرزا صاحب مزید لکھتے ہیں :
”یہودی لوگ جو مورد لعنت ہو کر بندر اور سور ہوگئے تھے، ان کی نسبت بھی تو بعض تفسیروں میں یہی لکھا ہے کہ بظاہر وہ انسان ہی تھے لیکن ان کی باطنی حالت بندروں اور سوروں کی طرح ہوگئی تھی، اور حق کے قبول کرنے کی توفیق بکلی ان سے سلب ہوگئی تھی۔ اور مسخ شدہ
۱۱۰
لوگوں کی یہی تو علامت ہے کہ اگر حق کھل بھی جائے تو اس کو قبول نہیں کرسکتے۔“
(ایضاً حوالہ بالا)
مرزا قادیانی کی جماعت کے دانش مندوں سے گزارش کرتا ہوں کہ مرزا صاحب کے اس اقتباس کے آئینہ میں اپنا چہرہ پہچانئے! جب مباہلہ کا نتیجہ سامنے آگیا‘ اور مرزا قادیانی کے کافر و دجال ہونے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا تو اس سے بڑھ کر حق کا کھل کر سامنے آنا کیا ہوسکتا ہے؟ اب اگر اس کے بعد بھی آپ کو اس کے قبول کرنے کی توفیق نہیں ہوتی تو مرزا صاحب کے یہ الفاظ آپ پر پوری طرح چسپاں ہوتے ہیں‘ خدارا اپنی حالت کی اصلاح کیجئے‘ مرزا قادیانی دجال و کذاب کی جماعت سے توبہ کیجئے‘ اور بندروں اور سوروں کے بجائے انسانوں کی صف میں آکر شامل ہوجائیے۔ واللہ الموفق
ملعون اور مسخ شدہ فرعون
مرزا صاحب آگے رقم طراز ہیں : قرآن کریم اسی طرف اشارہ فرما کر کہتا ہے : وقالوا قلوبنا غلف بل لعنہم اللہ بکفرہم فقلیلا ما یومنون۔ (البقرہ: ۸۸) وقولھم قلوبنا غلف بل طبع اللہ علیھا بکفرھم فلا یومنون الا قلیلا"۔ (النساء: ۱۵۵) یعنی کافر کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف میں ہیں، ایسے رقیق اور پتلے دل نہیں کہ حق کا انکشاف دیکھ کر اس کو قبول کریں۔ اللہ جل شانہ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ یہ کچھ خوبی کی بات نہیں بلکہ لعنت کا اثر ہے جو دلوں پر ہے۔ یعنی لعنت جب کسی پر نازل ہوتی ہے اس کے نشانوں میں سے یہ بھی ایک نشان ہے کہ دل سخت ہوجاتا ہے، اور گو کیسا ہی حق کھل جائے، پھر انسان اس حق کو قبول نہیں کرتا۔ سو یہ حافظ صاحب کی اسی وقت ایک کرامت ظاہر ہوئی کہ دشمن نے مسخ شدہ فرعون کی طرح اسی وقت مباہلہ کے بعد ایسی باتیں شروع کردیں۔ گویا اسی وقت لعنت نازل ہوچکی تھی۔"
(حوالہ بالا)
واقعی حافظ صاحب کی یہ کرامت ہے کہ انہوں نے مولانا مرحوم سے یہ سوال جواب کر کے مرزا قادیانی کو اپنی امت کا چہرہ دیکھنے کے لئے ایک آئینہ مہیا کرنے کا موقع دیا، قادیانی حضرات انصاف فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے جو آیات شریفہ کافروں کے بارے میں نقل کی ہیں : بل لعنہم بکفرہم اور بل طبع اللہ علیھا بکفرھم کیا مباہلہ کا کھلا اثر ظاہر ہوجانے کے بعد مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کا اپنے کفر و ارتداد پر اڑے رہنا ان آیات کا مصداق ہیں یا نہیں؟ باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے قطعی فیصلہ کے ذریعہ حق کو کھول کر رکھ دیا کہ مرزا کافر و مرتد ہے، دجال و کذاب ہے، نہ مرزا کو اپنے کفر و ارتداد اور دجل و کذب سے عمر بھر توبہ کی توفیق نصیب ہوئی۔ اور نہ مرزائی
۱۱۲
جماعت کو ----- آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ حافظ صاحب کی کیسی کرامت ظاہر ہوئی کہ مباہلہ کا اثر ظاہر ہوئے پوری صدی گزر چکی ہے مگر یہ لوگ آج تک مسخ شدہ فرعون کی طرح لعنت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں یا اللہ! ان بھائیوں کو توبہ کی توفیق عطا فرما کر ان کو لعنت سے نجات عطا فرما۔
حق سے انحراف کرنے والا ملہم نہیں ہو سکتا :
مرزا صاحب مزید فرماتے ہیں:
”اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ یہ وہی عبدالحق ہے کہ جس نے الہام کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ اب ناظرین ذرا ایک انصاف کی نظر اس کے حال پر ڈالیں کہ یہ شخص سچائی سے دوستی رکھتا ہے یا دشمنی؟ ظاہر ہے کہ ملہم وہ شخص ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ سچائی کے پیاسے اور بھوکے ہوتے ہیں‘ اور جب دیکھتے ہیں کہ سچائی ہمارے ساتھ نہیں بلکہ فریق مخالف کے ساتھ ہے اسی وقت اپنی ضد کو چھوڑ دیتے ہیں‘ اور حق کے قبول کرنے کے لئے ننگ و ناموس بلکہ موت سے بھی نہیں ڈرتے۔“
(حوالہ بالا ص ۳۹۸)
میں اس عبارت سے حرف بحرف اتفاق کرتے ہوئے صرف ”عبدالحق“ کی جگہ ”مرزا غلام احمد قادیانی“ کا نام لکھ دینا کافی سمجھتا ہوں‘ جب حافظ محمد یوسف تائب ہو کر مسلمان ہو گیا تو حق کھل کر واضح ہو گیا۔ اور مرزا اور اس کے چیلوں کا کافر و مرتد ہونا آفتاب نصف النہار سے زیادہ روشن ہو گیا‘ اگر مرزا واقعی ملہم ہوتا تو وہ بھی حق کا پیاسا ہوتا‘ اپنی ضد فوراً ”چھوڑ دیتا“ اور ننگ و ناموس کی پروا نہ کرتا۔ جب فیصلہ خداوندی کا روشن دن طلوع ہو جانے کے بعد بھی مرزا اور مرزائیوں کو توبہ کی توفیق نہ ہوئی تو ثابت ہوا کہ الہام کے سب دعوے جھوٹے تھے۔ قادیانی جماعت میں اگر کوئی صاحب عقل و شعور رکھتے ہیں تو وہ انصاف فرمائیں کہ مرزا کے اپنے فتویٰ کی روشنی میں جو بات کہہ رہا ہوں
۱۱۳۰
وہ صحیح ہے یا غلط؟
خلاصہ یہ کہ حافظ محمد یوسف صاحب کے مباہلہ کا ایک اہم نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا قادیانی کے یہ تمام تیز و تند الفاظ مولانا عبدالحق مرحوم کے بجائے خود مرزا قادیانی اور اس کی جماعت پر لوٹ گئے۔ کاش! مرزائی جماعت کو اب بھی غیرت ہو، اور جس طرح حافظ محمد یوسف مرحوم حق کھل جانے کے بعد مرزائیت سے تائب ہوکر دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے تھے اسی طرح یہ حضرات بھی مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا فتوے پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے ڈریں، اور اس دجال و کذاب کی جماعت کا ساتھ چھوڑ کر اپنی نجات اخروی کی فکر کریں۔
تیسرا نتیجہ :مرزا کے اشتہار کے جواب میں مولانا غزنویؒ کا اشتہار :
حافظ محمد یوسف مرحوم کا مولانا عبدالحق غزنویؒ سے یہ مباہلہ، جو ۲؍ شوال ۱۳۱۰ھ (مطابق ۱۹؍ اپریل ۱۸۹۳ء) کو ہوا تھا، اس کا ایک اہم ترین نتیجہ یہ نکلا کہ خود مرزا قادیانی کو میدان مباہلہ میں نکلنا پڑا۔
تفصیل اس کی یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اس مباہلہ کے ایک ہفتہ بعد یہ ۲۵؍ اپریل ۱۸۹۳ء کا اشتہار شائع کردیا، جس میں مولانا غزنوی کے ایک فقرہ کو لے کر اس پر اپنی فتح کے پھریرے اڑانے شروع کردیئے، مولانا غزنوی مرحوم نے مرزا کے دجل و فریب کا پردہ چاک کرنے کے لئے اس کے جواب میں ۲۶؍ شوال ۱۳۱۰ھ کو ایک اشتہار شائع کیا، جو مرزا قادیانی کے مجموعہ اشتہارات جلد اول کے ص ۴۲۱ تا ص ۴۲۵ کے حاشیہ میں درج ہے، مولانا مرحوم نے اس اشتہار میں قادیانی صاحب کی تعلیوں کا بھی جواب دیا، اس کی مکاریوں کا بھی پردہ چاک کیا، حافظ محمد یوسف مرحوم کے ساتھ اپنے مباہلہ کی تفصیل بھی بیان فرمائی، اور آخر میں مرزا قادیانی کو بنفس خود میدان مباہلہ میں قدم رکھنے کی بھی دعوت دی۔ ذیل میں مولانا مرحوم کا اشتہار نقل کیا جاتا ہے :
”استدعا مباہلہ از مرزا قادیانی بذریعہ اشتہار“
بسم اللہ الرحمن الرحیم
”ایک اشتہار مطبوعہ ۲۵؍ اپریل ۱۸۹۳ء از جانب مرزا بتاریخ ۱۹ شوال ۱۳۱۰ھ میری نظر سے گزرا‘ جس میں اس مباہلہ کا ذکر تھا جو بتاریخ ۳؍ شوال ۱۳۱۰ھ میرے اور حافظ محمد یوسف کے درمیان مرزا اور اس کے چیلوں کے ارتداد کی بابت ہوا تھا۔ نیز اس میں استدعا مباہلہ علمائے اسلام سے تھی۔ صاحب قادیانی کا یہ اشتہار حسب عادت خود پُر از کذب و بہتان و افترا ہے۔
ارے مرزا! جب تجھے کلام اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور چودہ سو برس کے مسلمانوں کو جھٹلاتے ہوئے شرم نہ آئی تو ہم سے کیا شرم؟ اذالم تستحی فاصنع ماشئت (جب تجھے شرم نہ رہے تو جو چاہے کر۔)
ننگ دارد از درون او یزید
(ترجمہ : ”باتیں کرتے ہوئے تو بایزید بسطامیؒ پر طعن کرتا ہے۔ اور اس کے باطن سے یزید بھی عار اور نفرت کرتا ہے۔“)
جو لوگ بہ مضمون سلام علیکم لانبتغی الجاہلین جاہلوں اور یاوہ گویوں کے جھگڑوں سے بچتے اور کنارہ کرتے ہیں‘ اور آیت : خذ العفو وامر بالعرف واعرض عن الجاہلین پر عامل اور گوشہ نشینی اور خلوت گزینی کی طرف مائل ہیں‘ ان سے مباحثہ و مباہلہ کی درخواست ہے‘ اور جو لوگ شاہ سوار میدان ہیں‘ اور بار بار مباہلے اور مباحثے کے اشتہار چھپوا کر‘ اور رجسٹری شدہ خطوط اور دستی خطوط معتبر اشخاص کی وساطت سے پہنچا کر دل و جان سے تیرے لقا کے میدان مباحثہ
۱۱۵
و مباہلہ میں شائق و مشتاق ہیں، ان سے کیوں گریز اور چشم پوشی کرتے ہو؟ اور مصداق کانہم حمر مستنفرۃ فرت من قسورہ بنتے ہو؟
ما بہ تو مشغول، تو با عمرو و زید
اور اگر ان اشتہاروں سے آنکھوں پر پردہ اور گوش باطل نیوش بہرے ہوگئے ہوں تو ناظرین کے ملاحظہ اور اتمام حجت کے لئے پھر ان کا ذکر کردیتے ہیں :
- اول : تین خط مفتی عبداللہ صاحب ٹونکی متضمن استدعائے
مباحثہ۔ خط اول مورخہ ۲۴؍ ستمبر ۱۸۹۱ء، مطبوعہ جعفری پریس لاہور۔ خط دوم ۴؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء مطبوعہ لاہور۔ خط سوم مورخہ ۲۴؍ جنوری ۱۸۹۲ء مطبوعہ لاہور۔
- دوم : ”اشتہار ضروری“ مولوی غلام دستگیر قصوری۔ مورخہ
۲۶؍ مارچ ۱۸۹۱ء مطبوعہ اسلامیہ پریس لاہور۔
- سوئم : ”اعلان عام“ از طرف انجمن اسلامیہ لدھیانہ مورخہ ۲۱
ستمبر ۱۸۹۱ء۔ مطبوعہ انصاری دہلی۔
- چہارم : نوٹس مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مورخہ ۱۵ فروری
۱۸۹۱ء۔ مطبوعہ لاہور۔
- پنجم : نوٹس ”اتمام حجت“ مولوی عبدالمجید مالک مطبع انصاری
مورخہ ۱۳ ربیع الاول ۱۳۰۹ھ
- ششم : اشتہار مولوی صاحب عبدالحق دہلوی مصنف تفسیر حقانی،
مورخہ یکم اکتوبر ۱۸۹۱ء، مطبوعہ انصاری
- ہفتم : اشتہار محمد عبدالحمید، مورخہ ۷؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء۔ مطبوعہ
دہلی۔
۱۱۶
ہشتم: اشتہار مولوی محمد صاحب اور مولوی عبدالعزیز صاحب اور مولوی عبداللہ صاحب مفتیان شہر لدھیانہ۔ مورخہ ۲۹ رمضان المبارک۔ مطبوعہ لدھیانہ۔
نہم: اشتہار مولوی مشتاق احمد صاحب مدرس۔ مورخہ ۲۴ رمضان شریف، مطبوعہ لدھیانہ۔
وغيره مالا يحصيها الا الله (ان کے علاوہ بے شمار اشتہارات و خطوط جن کی تعداد اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں)
اب اتنے اشتہار متفرق علماؤں نے متفرق شہروں میں دیئے، تم نے کس سے بحث کی؟ اور کس جگہ میدان میں حاضر ہوئے؟ پس جب تمہاری مکاری اور دھوکہ دہی عام پر کھل گئی تو پھر تمہارے دام میں وہی شخص آوے گا جو شقی سرمدی ہوگا۔
انه ليس له سلطان على الذين امنوا و على ربهم يتوكلون ⃝ انما سلطانه على الذين يتولونه والذين هم به مشركون ⃝ “
ایک اور ابلہ فریبی و شعبدہ بازی کاریگر کی سنئے۔ ایک اشتہار مورخہ ۳۰ مارچ ۱۸۹۳ء میں خامہ فرسائی کی ہے کہ ”ایک سورۃ کی تفسیر عربی میں لکھتا ہوں، اور ایک جانب مخالف لکھے، اور اس میں ایسے معارف جدیدہ و لطائف غریبہ لکھے جائیں جو کسی دوسری کتاب میں نہ پائے جائیں۔“
ارے مخبوط الحواس! ہم تو اسی سبب سے تجھے ملحد اور ضال اور مضل اور زندیق کہتے ہیں کہ تم وہ معانی قرآن اور حدیث کے کرتے ہو جو آج تک کسی مفسر و محدث متبع سنت نے نہیں کئے۔ پھر اور جو کوئی مسلمان ایسے معانی کرے گا تو وہ بھی آپ کا ہی بھائی ہوگا۔
۱۱۷
نیز اسی اشتہار میں لکھا ہے کہ ”آخر میں ۱۰۰ شعر لطیف بلیغ و فصیح ، عربی میں بطور قصیدہ فریقین بنادیں، پھر دیکھیں کہ کس کا قصیدہ عمدہ و پسندیدہ ہے۔“
قصیدہ و شعر گوئی تو کوئی فضیلت اور بزرگی اور حقانیت و علمیت کا معیار و مدار نہیں۔ تک بندی اور قافیہ سازی ایک ملکہ ہے جو فساق اور فجار اور بے دینوں کو بھی دیا جاتا ہے۔ بلکہ ایک طرح کا نقص ہے۔ اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کو اس سے بچایا۔ وما علمناہ الشعر وما ینبغی لہ ۔ اگر کچھ فضیلت اور حقیت کی بات ہوتی تو اول رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کو دی جاتی، کچھ مردانگی بھی چاہئے۔ خنثوں کی طرح بیہودہ سمع خراشی اور بکواس کیوں کرتے ہو؟
ودعوالشکاری حیلۃ النسوان
شاید اب یہ حیلہ کرو کہ تم سے مباہلہ کا کیا فائدہ؟ کیونکہ تم حافظ محمد یوسف کو کہہ چکے کہ اگر مجھ پر لعنت کا اثر بھی ظاہر ہوا تو بھی میں کافر کافر کہنے سے باز نہیں آؤں گا۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ میں تو مسیح قادیانی کی طرح معصومیت کا دعویٰ نہیں رکھتا ہوں۔ اگر مجھ سے غضباً للہ وغیرۃ لدین اللہ کوئی کلمہ زیادتی یا خلاف ادب نکلا بھی ہو تو میں اس سے ہزار زبان تائب ہوں ۔
جوشش عشق است نے ترک ادب
ہر کہ کرد از جام حق یک جرعہ نوش
نے ادب ماند درو نے عقل و ہوش
حافظ کے مباہلہ کی تفصیل یہ ہے کہ حافظ محمد یوسف جو مرزا کا اول
۱۱۸
درجہ کا ناصر و موید و مددگار ہے‘ اس نے ۴ شوال بوقت شب مجھ سے بار بار درخواست مباہلہ کی۔ آخر الامر اس وقت اس بات پر مباہلہ ہوا کہ مرزا اور نور الدین و محمد احسن امروہی یہ تینوں مرتد اور دجال اور کذاب ہیں‘ چونکہ تاہنوز لعنت کا اثر ظاہراً اس پر نمودار نہیں ہوا۔ لہٰذا پیر جی کو بھی گرمی آگئی‘ اور عام طور پر اشتہار مباہلہ دے دیا۔ ذرا صبر تو کرو! دیکھو! اللہ کیا کرتا ہے۔ وکل شئی عندہ باجل مسمی انه حکیم حمید ۔
مجھ کو دو روز پیشتر محمد یوسف کے مباہلہ سے دکھلایا گیا کہ میں نے ایک شخص سے مباہلہ کی درخواست کی اور یہ شعر سنایا ۔
علاج کے کنمت آخر الدواء الکے
(ترجمہ از ناقل : ”اگر تو بلبل و قمری کی صورت میں نصیحت نہیں پکڑے گا تو میں داغ دے کر تیرا علاج کروں گا۔ کیونکہ مثل مشہور ہے کہ آخری علاج داغ دینا ہے۔“)
اور بھی کچھ دیکھا جس کا بیان اس وقت مناسب نہیں۔ میں خود حیران ہوا کہ یہ کیا بات ہے۔ دو دن بعد یہ مباہلہ درپیش ہوا۔
اب بذریعہ اشتہار ہذا بدستخط خود مطلع کرتا ہوں اور سب جہان کو گواہ کرتا ہوں کہ اگر تمہارے ساتھ مباہلہ کرنے سے مجھ پر لعنت کا اثر صریح طور پر‘ جو عموماً سمجھا جاوے کہ بے شک یہ مباہلہ کا اثر ہوا ہے‘ تو میں فوراً تمہارے کافر کہنے سے تائب ہوجاؤں گا۔ اب حسب اشتہار خود مباہلہ کے واسطے بمقام امرت سر آؤ۔
مباہلہ اس بات پر ہوگا کہ تم اور تمہارے سب اتباع دجالین کذابین ملاحدہ اور زنادقہ باطنیہ ہیں۔
اور میدان مباہلہ عید گاہ ہوگا۔ تاریخ جو تم مقرر کرو۔ اب بھی تم
۱۱۹
بموجب اشتہار خود‘ میرے ساتھ مباہلہ کے واسطے بمقام امرت سر نہ آئے تو پھر اور علماؤں سے درخواست مباہلہ اول درجہ کی بے شرمی اور پرلے سرے کی بے حیائی ہے‘ اور الا لعنت اللہ علی الکاذبین کا مصداق بننا ہے۔ اب ضرور دلیری اور توکل کرکے ہزیمت نہ کرو۔ بلوغ الآمال فی رکوب الاھوال ۔اور اگر ایسے ہی کاغذوں کی گڈیاں اڑانا ہے اور حقیقت اور نتیجہ کچھ نہیں۔ پھر تم پر یہ مسیحیت مبارک ہو۔ اللہ نے تمہاری عمر کو ضائع کیا اور مسلمانوں کی عمر عزیز کا ناحق خون کیوں کرتے ہو ۔
المشتہر
عبدالحق غزنوی۔ از امرت سر (پنجاب) ۲۶ شوال ۱۳۱۰ھ “
(مجموعہ اشتہارات ص ۴۲۲ تا ۴۲۵ ج ۱)
مرزا قادیانی مباہلہ کے شکنجے میں
مولانا غزنوی مرحوم کے مندرجہ بالا اشتہار کے بعد مرزا قادیانی کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ خود مباہلہ کے لئے میدان مباہلہ میں آئے‘ چنانچہ مولانا کے جواب میں مرزا نے ۳۰ شوال ۱۳۱۰ھ کو حسب ذیل اشتہار شائع کیا۔ جس میں مباہلہ کی تاریخ‘ جگہ اور وقت کا اعلان کیا :
اعلان مباہلہ بجواب اشتہار عبد الحق غزنوی
مورخہ ۲۶ شوال ۱۳۱۰ھ
” ایک اشتہار مباہلہ ۲۶ شوال ۱۳۱۰ھ شائع کردہ عبد الحق غزنوی میری نظر سے گزرا۔ سو اس لئے یہ اشتہار شائع کیا جاتا ہے کہ مجھ کو
۱۲۰
اس شخص اور ایسا ہی ہر ایک مکفر سے جو عالم یا مولوی کہلاتا ہے، مباہلہ منظور ہے۔ اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ القدیر میں تیسری یا چوتھی ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ تک امرتسر میں پہنچ جاؤں گا اور تاریخ مباہلہ دہم ذیقعد اور یا بصورت بارش وغیرہ کسی ضروری وجہ سے گیارھویں ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ قرار پائی ہے، جس سے کسی صورت میں تخلف لازم نہیں ہوگا اور مقام مباہلہ عید گاہ جو قریب مسجد خاں بہادر محمد شاہ مرحوم قرار پایا ہے۔ اور چونکہ دن کے پہلے حصے میں قریباً بارہ بجے تک عیسائیوں سے دربارہ حقیقت اسلام اس عاجز کا مباحثہ ہوگا، اس لئے مکفرین، جو مجھ کو کافر ٹھہرا کر مجھ سے مباہلہ کرنا چاہتے ہیں، دو بجے سے شام تک مجھ کو فرصت ہوگی، اس وقت میں بتاریخ دہم ذیقعدہ یا بصورت کسی عذر کے گیاراں ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو مجھ سے مباہلہ کرلیں"۔ اس اشتہار کے آخر میں لکھا:
”یاد رہے کہ ہم بار بار مباہلہ کرنا نہیں چاہتے کہ مباہلہ کوئی ہنسی کھیل نہیں۔ ابھی تمام مکفرین کا فیصلہ ہوجانا چاہیئے۔ پس جو شخص اب ہمارے اشتہار کے شائع ہونے کے بعد گریز کرے گا اور تاریخ مقررہ پر حاضر نہیں ہوگا، آئندہ اس کا کوئی حق نہیں رہے گا کہ پھر کبھی مباہلہ کی درخواست کرے اور پھر ترک حیا میں داخل ہوگا کہ غائبانہ کافر کہتا رہے۔ اتمام حجت کے لئے رجسٹری کرا کر یہ اشتہار بھیجے جاتے ہیں۔ تا اس کے بعد مکفرین کو کوئی عذر باقی نہ رہے۔ اگر بعد اس کے مکفرین نے مباہلہ نہ کیا اور نہ تکفیر سے باز آئے تو ہماری طرف سے ان پر حجت پوری ہوگئی“۔
(مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۴۲۰ ومابعد)
اور مباہلہ کی تاریخ سے ایک دن پہلے ۹ر ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو بروز جمعۃ المبارک درج ذیل اشتہار دیا :
۱۲۱
اس مباہلہ کی اہل اسلام کو اطلاع
جو دہم ذیقعدہ روز شنبہ کو بمقام امرتسر عید گاہ متصل مسجد
خان بہادر حاجی محمد شاہ صاحب مرحوم ہو گا
” اے برادران اہل اسلام! کل دہم ذیقعد روز شنبہ کو بمقام مندرجہ عنوان، میاں عبد الحق غزنوی اور بعض دیگر علماء جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا ہے اس عاجز سے اس بات پر مباہلہ کریں گے کہ وہ لوگ اس عاجز کو کافر اور دجال اور بیدین اور دشمن اللہ جل شانہٗ اور رسول اللہ ﷺ کا سمجھتے ہیں۔ اور اس عاجز کی کتابوں کو مجموعہ کفریات خیال کرتے ہیں۔ اور اس طرف یہ عاجز نہ صرف اپنے تئیں مسلمان جانتا ہے بلکہ اپنے وجود کو اللہ اور رسول کی راہ میں فدا کئے بیٹھا ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کی درخواست پر یہ مباہلہ تاریخ مذکورہ بالا میں قرار پایا ہے۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ مباہلہ کی بد دعا کرنے کے وقت بعض اور مسلمان بھی حاضر ہو جائیں کیونکہ میں یہ دعا کروں گا کہ جس قدر میری تالیفات ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا اور رسول کے فرمودہ کے مخالف نہیں، اور نہ میں کافر ہوں۔ اور اگر میری کتابیں خدا اور رسول کے فرمودہ کے مخالف اور کفر سے بھری ہوئی ہیں تو خدا تعالیٰ وہ لعنت اور عذاب میرے پر نازل کرے جو ابتدائے دنیا سے آج تک کسی کافر بے ایمان پر نہ کی ہو۔ اور آپ لوگ آمین کہیں۔ کیونکہ اگر میں کافر ہوں اور نعوذ باللہ دین اسلام سے مرتد اور بے ایمان ہوں تو نہایت برے عذاب سے میرا مرنا ہی بہتر ہے، اور میں ایسی زندگی سے ہزار دل بیزار ہوں۔ اور اگر ایسا نہیں تو خدا تعالیٰ اپنی طرف سے سچا فیصلہ کر دے گا۔ وہ میرے دل کو بھی دیکھ رہا ہے اور میرے مخالفوں کے دل کو بھی۔ بڑے ثواب کی بات ہو گی اگر آپ صاحبان کل دہم ذیقعدہ کو دو بجے کے وقت عید گاہ میں مباہلہ پر آمین کہنے کے لئے تشریف لائیں۔ والسلام ۱۲۲
خاکسار غلام احمد قادیانی عفی اللہ عنہ ۹ر ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ
(مجموعہ اشتہارات ص ۴۲۶، ۴۲۷ ج ۱)
اسی دن ایک اشتہار ”اتمام حجت“ کے عنوان سے مولانا محمد حسین بٹالوی کے نام بھی جاری کیا، جس میں ان کو اس مباہلہ میں شرکت کی دعوت دی، اور لکھا کہ اگر وہ اس مباہلہ میں شریک نہ ہوئے تو سمجھا جائے گا کہ ”جو پیش گوئی اس کے حق میں کی گئی تھی کہ ”وہ کافر کہنے سے توبہ کرے گا“ پوری ہو گئی۔
(حوالۂ بالا ص ۴۲۸)
مباہلہ کا انجام:
انہی دنوں عیسائیوں سے مرزا قادیانی کا مباحثہ چل رہا تھا، جو ۲۲ مئی سے ۵ر جون ۱۸۹۳ء تک چلتا رہا۔ اور آخری دن مرزا نے ایک الہامی پیش گوئی جڑ دی کہ اس کا حریف ۱۵ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا، اور یہ اقرار لکھ کر دیا کہ :
”میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بہ سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے، روسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی دیا جاوے، ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی .... اب ناحق ہنسنے کی جگہ نہیں، اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو“۔ (مجموعہ اشتہارات ص ۴۳۵ ج ۱)
۱۲۳۳
مرزا کی الہامی پیش گوئی کے مطابق اس کے حریف کو ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء کی تاریخ تک مرنا چاہیے تھا۔ لیکن اللہ کی شان کہ وہ نہیں مرا۔ مرزا کے تحریری اقرار کے مطابق اس کو تمام لوگوں نے، کیا مسلمان اور کیا عیسائی ”تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ اسے لعنتی قرار دیا۔“ اور ذلت و رسوائی کا وہ منظر سامنے آیا، جو نہ کبھی دیکھا، نہ سنا۔
مولانا غزنویؒ کا اشتہار
مولانا غزنویؒ سے مرزا قادیانی کے مباہلہ کو پندرہ مہینے گزر چکے تھے۔ جب مرزا قادیانی کو آتھم کے نہ مرنے پر ایسی ذلت و رسوائی ہوئی کہ باقرار خود ”تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے بڑھ کر لعنتی ٹھہرا“ تو مولانا غزنویؒ نے اس خیال سے کہ شاید مرزا کے دل میں عبرت و نصیحت کی کوئی رمق موجود ہوگی، یا حق پرستی کا کچھ اثر باقی ہوگا، اس کو عبرت دلانے اور مسلمانوں کو اس کی حقیقت سے آگاہ کرنے کے لئے، ۱۴ ربیع الثانی ۱۳۱۲ھ کو ایک اشتہار شائع کیا، جس کا عنوان تھا :
”اثر مباہلہ عبد الحق غزنوی برغلام احمد قادیانی“
اس اشتہار میں مولانا مرحوم نے مرزا قادیانی کی ذلت و رسوائی کو اپنے مباہلہ کا نتیجہ قرار دیا، اور قادیانی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا :
”آپ جو فرماتے تھے کہ مباہلہ کے بعد جو باطل پر ہوگا وہ ذلیل و روسیاہ ہوگا، اب بتائیے کہ ہم دونوں میں باطل پر کون ہے؟ اور ذلیل و روسیاہ کون ہوا؟ آپ نے مولوی عبد الجبار امرتسری کو لکھا تھا کہ میں اپنے الہام پر ایسا ہی ایمان رکھتا ہوں جیسے کتاب اللہ پر، مرگ آتھم کی پیشین گوئی کے جھوٹا نکلنے پر بھی تمہیں اپنے الہام پر وہی ایمان ہے یا کچھ فرق آگیا؟ پنڈتوں جوتشیوں اور برہمنوں کی بھی کوئی نہ کوئی پیشین گوئی صحیح نکل آتی ہے لیکن آپ کو اپنی پیشین گوئیوں میں ہمیشہ ذلت و
۱۴۲
نامرادی کی بھیانک صورت دیکھنی نصیب ہوتی ہے‘ پیشین گوئی کی میعاد گزر چکی‘ آتھم اب پہلے سے زیادہ قوی‘ تندرست اور صحیح المزاج ہے‘ تمہاری یہ ذلت و رسوائی مباہلہ کا اثر نہیں تو اور کیا ہے“۔ اس کے بعد مولوی صاحب نے لکھا :
”اب میں مسلمانوں کو عموماً اور مرزائیوں کو خصوصاً قسم دیتا ہوں کہ میرے اور مرزا کے حال کو دیکھ کر خود ہی اندازہ کرلو کہ مباہلہ کو پندرہ مہینے گزر گئے‘ اب میرے اوپر مباہلہ کی تاثیر پڑی یا مرزا پر؟ میں ہمیشہ بیمار رہتا تھا‘ اب کے سال اللہ کے فضل سے میرے بدن پر پھوڑا پھنسی تک نہیں نکلا‘ اور وہ باطنی نعمتیں اللہ عزوجل نے اس عاجز کو عطا کی ہیں جو نہ بیان کر سکتا ہوں اور نہ مناسب جانتا ہوں کہ ان کا اظہار کروں‘ اور مرزا کا حال تو ظاہر ہے اور اس کے مریدوں کا یہ حال ہے کہ اسماعیل ساکن جنڈیالہ بانی مبانی مباحثہ امرتسر جس نے مرزا کو مباحثہ کے واسطے منتخب کیا تھا اور یوسف خاں سرحدی جو مدت سے مرزا کا مرید تھا اور محمد سعید خالہ زاد بھائی مرزا کی بی بی کا یہ سب عیسائی ہو گئے‘ پیر کا یہ حال اور مریدوں کا یہ کہ دین و دنیا کی رسوائی و ذلت ان پر آن پڑی“۔
(رئیس قادیان ص ۱۹۰ ج ۲)
مرزا کی طرف سے مباہلہ کے نتیجہ پر خاک ڈالنے کی کوشش
مباہلہ کا یہ نتیجہ ایسا واضح اور صاف تھا کہ اس کا انکار آفتاب نصف النہار کا انکار تھا۔ اگر مرزا قادیانی میں عقل و دیانت یا انسانیت و شرافت کی کوئی رمق باقی ہوتی تو وہ اس بے نظیر ذلت و رسوائی کو دیکھ کر سمجھ لیتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر ذلت و رسوائی کی مار پڑی ہے‘ لیکن وہ مسخ ہو چکا تھا۔ اس لئے اس پر خود اپنا قول صادق آیا جس کو پہلے نقل کر چکا ہوں کہ :
”مسخ شدہ لوگوں کی یہی تو علامت ہے کہ اگر حق کھل بھی جائے تو اس کو قبول نہیں کر سکتے۔“
۱۲۵
لوگوں نے عرض کیا کہ حضور! عبدالحق پر تو مباہلہ کا کوئی اثر نہیں ہوا؟
اس پر ارشاد ہوا :
"وہ مباہلہ در حقیقت میری درخواست سے نہیں ہوا تھا، اور نہ میرا اس میں یہ مدعا تھا کہ عبدالحق پر بد دعا کروں، او نہ میں نے بعد مباہلہ کبھی اس بات کی طرف توجہ کی، اس بات کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں نے کبھی عبدالحق پر بد دعا نہیں کی، اور اپنے دل کے جوش کو ہر گز اس طرف توجہ نہیں دی۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۱۶ خزائن ص ۳۰۵ ج ۱۱)
اور مریدوں کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ دیکھو مباہلہ کے بعد ہمیں یہ یہ برکتیں ملی ہیں، جماعت زیادہ ہو گئی، اتنی فتوحات مالی میسر آئیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
مباہلہ کا آخری انجام:
اللہ تعالیٰ علیم و خبیر تھے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ اس مکار کذاب نے " استدراج" کو برکت سمجھ لیا ہے، اس لئے حکمت الٰہی نے فیصلہ کیا کہ "مباہلہ کا انجام" اسی شکل میں ظاہر کیا جائے کہ کسی بڑے سے بڑے ملحد اور دجال کو بھی اس میں تاویل کی گنجائش نہ رہے۔ اس کی صورت اللہ تعالیٰ نے یہ تجویز فرمائی کہ خود مرزا کی زبان سے کہلایا کہ مباہلہ کرنے والوں میں جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں مرجاتا ہے چنانچہ مرزا قادیانی کے ملفوظات میں ہے :
"۲۔ اکتوبر ۱۹۰۷ء (بوقت سیر) ہماری جماعت کے ایک شخص نے کسی غیر احمدی کا سوال پیش کیا کہ آپ نے اپنی تصانیف میں لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوجاتا ہے۔ یہ درست نہیں کیونکہ مسیلمہ کذاب آنحضرت ﷺ کے بعد فوت ہوا تھا۔ ۱۴۶
حضرت اقدس نے فرمایا : یہ کہاں لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مر جاتا ہے ہم نے تو اپنی تصانیف میں ایسا نہیں لکھا۔ لاؤ پیش کرو وہ کونسی کتاب ہے جس میں ہم نے ایسا لکھا ہے۔
صرف جھوٹا نہیں بلکہ جھوٹا مباہلہ کرنے والا
سچے کی زندگی میں ہلاک ہوتا ہے
ہم نے تو یہ لکھا ہوا ہے کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے، مسیلمہ کذاب نے تو مباہلہ کیا ہی نہیں تھا۔ آنحضرت ﷺ نے اتنا فرمایا تھا کہ اگر تو میرے بعد زندہ بھی رہا تو ہلاک کیا جائے گا سو ویسا ہی ظہور میں آیا مسیلمہ کذاب تھوڑے ہی عرصہ بعد قتل کیا گیا اور پیش گوئی پوری ہوئی۔
یہ بات کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مر جاتا ہے یہ بالکل غلط ہے۔
کیا آنحضرت ﷺ کے سب اعداء ان کی زندگی میں ہی ہلاک ہو گئے تھے؟ بلکہ ہزاروں اعداء آپ کی وفات کے بعد زندہ رہے تھے۔
ہاں جھوٹا مباہلہ کرنے والا سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوا کرتا ہے ....
کیا یہ کسی نبی ولی قطب غوث کے زمانہ میں ہوا کہ اس کے سب اعداء مر گئے ہوں؟ بلکہ کافر منافق باقی رہ ہی گئے تھے۔ ہاں اتنی بات صحیح ہے کہ سچے کے ساتھ جو جھوٹے مباہلہ کرتے ہیں تو وہ سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوتے ہیں۔"
(ملفوظات ص ۴۴۰، ۴۴۱ ج ۹)
اور دنیا جانتی ہے کہ مرزا قادیانی ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو وبائی ہیضہ سے ہلاک ہوا، اور حضرت مولانا عبد الحق غزنوی مرحوم پورے نو سال کے بعد ۱۶؍ مئی ۱۹۱۷ء کو اپنے رب کے حضور پہنچے۔
۱۲۷
یہ ہے مباہلہ کا وہ خدائی فیصلہ جس کو ہر عام و خاص پڑھ سکتا ہے کہ اس مباہلہ میں مرزا قادیانی جھوٹا تھا، اور وہ مولانا عبد الحق غزنویؒ ہی کی نظر میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں بھی کافر و مرتد اور دجال و کذاب تھا۔ کیا قادیانی برادری میں کوئی ہے جو مرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے پر ایمان لاکر آتش جہنم سے بچ جائے؟ اگر اللہ تعالیٰ کے اس کھلے فیصلے کے باوجود قادیانیوں کو ہدایت و حق پرستی کی توفیق نہ ہو تو ان کی خدمت میں ان کے ”مسیح موعود“ کا قول بطور تحفہ کے پیش کرتا ہوں :
”دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے۔ مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لئے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۲۱، خزائن ص ۳۰۵ ج ۱۱)
اللہ تعالیٰ ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہدایت نصیب فرمائیں، اور ان کو مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا الفاظ کا مصداق نہ بنائے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد والہ واصحابہ اجمعین
محررہ محمد یوسف لدھیانوی
۱۲۸
نزول عیسیٰ علیہ السّلام
چند تنقیحات و توضیحات
فہرست
خط کا اقتباس بل رفعہ اللہ الیہ ۵۲۸ تنقیح اول ۳۹۹ توفی اور رفع کے معنی ۵۳۲ تنقیح دوم ۴۱۵ رفع کے معنی ۵۳۵ تنقیح سوم ۴۳۵ وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ تنقیح چہارم و پنجم ۴۳۹ قبل موتہ ۵۴۰ تنقیح ششم ۴۷۴ نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث تنقیح ہفتم ۴۷۵ متواتر ہیں ۵۵۰ حافظ ابن حزمؒ ۴۷۶ علامہ تمنا عمادی ۵۵۳ حافظ ابن تیمیہؒ ۴۷۹ صحیح بخاری کی احادیث ۵۶۰ حافظ ابن قیمؒ ۴۸۱ مسیح دجال ۵۷۱ ایک اہم ترین نکتہ ۵۲۳ مہدی آخر الزمان ۵۷۴ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قرب مہدی کا شیعی تصور ۵۷۷ قیامت کی علامت ہے ۴۹۴ عدد ۱۲ کا نکتہ ۵۸۰ انبیاء کرام علیہم السلام کے مجمع میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مدفن ۵۸۲ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تقریر ۵۰۰ نفیس سوال اور لطیف جواب ۵۸۳ امام ابن جریر پر رافضیت کا اتہام ۵۰۳ خاتمہ کلام پر تین باتیں ۵۹۶ تمنا عمادی محدث العصر؟ ۵۱۰ اول : خلاصہ مباحث ۵۹۷ قرآن کریم اور حیات مسیح علیہ السلام دوم : ای الفریقین احق بالامن قد خلت من قبلہ الرسل ۵۱۳ سوم : ایک اہم سوال؟ ۶۰۰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی قطعی و یقینی ہے ۵۱۷
۲
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ‘ اما بعد:
ایک تعلیم یافتہ صاحب نے راقم الحروف کے نام ایک خط میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ پر اظہار خیال کیا‘ ذیل میں ان کے خط کا ابتدائی حصہ نقل کرکے ان کے شبہات کے ازالہ کی کوشش کی گئی ہے‘ اللہ تعالیٰ فہم سلیم نصیب فرمائیں اور صراط مستقیم کی ہدایت سے دستگیری فرمائیں۔ واللہ الموفق لکل خیر وسعادۃ۔
مکرم و محترم جناب خان شہزادہ صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘ مزاج گرامی! ...... میری کتاب ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ (جلد اول) میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کی بحث سے متعلق آنجناب کا طویل گرامی نامہ موصول ہوا‘ آنجناب کے الطاف وعنایات پر تہ دل سے ممنون ہوں۔
آنجناب نے خط کے ابتدائی حصہ میں ان اصول موضوعہ کو قلمبند فرمایا ہے جن پر آپ کی تنقید کی بنیاد ہے۔ اس لئے مناسب ہوگا کہ آج کی صحبت میں آنجناب کی تحریر کے اس ”ابتدائی حصہ“ کو حرفاً حرفاً نقل کرکے آپ کے ان اصول موضوعہ کے بارے میں چند معروضات پیش کروں۔
آنجناب لکھتے ہیں:
”محترم مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب!
۳
السلام علیکم، مجھے میرے ایک بزرگ حاجی محمد یونس چوہدری صاحب نے آپ کی کتاب ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ صفحہ نمبر ۲۴ تا ۲۶۵ کے نقول مطالعہ کیلئے بھیجے ہیں جو نزول عیسیٰؑ کے بارے میں ہیں۔ مولانا صاحب! اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ کو تبلیغ، تعلیم، تبشیر، تنذیر اور دین اسلام کے ہر کام میں قرآنی ہدایات کا پابند کیا ہے۔ آپؐ کی زبان مبارک سے کوئی دینی ارشاد قرآنی تعلیمات کے علاوہ نہ ہوا، اور نہ آپؐ کا کوئی دینی قدم قرآنی احاطے سے کبھی باہر نکلا، مگر بصد ہا افسوس کہ ملاحدہ اور منافقین عجم نے تابعین اور تبع تابعین کے لبادے اوڑھ اوڑھ کر ایسے متعدد عقیدے اور اعمال، دینی حیثیت کے نئے نئے پیدا کرکے ان کو رسولؐ اللہ کی طرف منسوب کرکے ممالک اسلامیہ کے اطراف واکناف میں پھیلائے اور اس کے ماتحت یہ عقیدہ لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنے کی کوشش کہ قرآن کریم سے باہر بھی بعض دینی احکام ہیں۔ عقائد و عبادات کی قسم کے بھی اور اصول اخلاق ومعاملات کی قسم کے بھی۔ اور پھر روایت پرستی کا شوق اس قدر عوام میں بھڑکایا کہ عوام تو درکنار خواص بھی اس متعدی مرض میں مبتلا ہوکر رہ گئے۔ یہاں تک کہ روایت پرستی رفتہ رفتہ مستقل دین بن کر رہ گئی اور قرآن کریم جو اصل دین تھا اس کو روایتوں کا تابع ہوکر رہنا پڑا۔ اس کے بعد یہ سوال بھی کسی کے ذہن میں نہ آیا کہ قرآن کریم ایک مکمل کتاب ہے بھی یا نہیں؟ لہٰذا جس مسئلے کا قرآن میں کوئی تذکرہ نہ ہو وہ عقائد اور ایمانیات کا مسئلہ ہرگز نہیں بن سکتا اور اسی وجہ
۴
سے وہ مدار کفر و ایمان نہیں ہو سکتا۔ نزول مسیح کی تردید میں ہر زمانے میں علماء اسلام نے قلم اٹھایا ہے، اور کوشش کی ہے کہ اس موضوع عقیدہ سے مسلمان نجات پائیں، ان میں ابن حزمؒ اور ابن تیمیہؒ جیسے جید علماء سرفہرست ہیں"۔
اس اقتباس کی تنقیح کی جائے تو آنجناب کا دعویٰ درج ذیل نکات میں پیش کیا جا سکتا ہے:
- ۱۔۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ قرآن کی ہدایت پر عمل پیرا
ہونے کے پابند تھے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی ہدایت و تعلیمات کے احاطے سے باہر کبھی قدم نہیں رکھا، اور نہ قرآن کریم کے علاوہ کبھی کوئی دینی ہدایت جاری فرمائی۔
- ۲۔۔۔۔ قرآن کریم چونکہ بذات خود ایک مکمل کتاب ہے، تمام دینی
ہدایات پر حاوی ہے، لہٰذا ہر دینی مسئلہ کے لئے قرآن کریم ہی سے رجوع کرنا لازم ہے، روایات کی طرف رجوع کرنا قرآن کریم کے "مکمل کتاب" ہونے کی نفی ہے۔
- ۳۔۔۔۔ مندرجہ بالا دونوں اصولوں سے دو باتیں ثابت ہوئیں:
اول یہ کہ جس مسئلہ کا ذکر قرآن میں نہ ہو وہ دین کا مسئلہ نہیں ہو سکتا ہے، نہ اس کو عقیدہ و ایمان کی حیثیت دی جاسکتی ہے، اور نہ اسے مدار کفر و ایمان بنایا جا سکتا ہے۔
دوم یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، دینی مسائل و عقائد کا ماخذ نہیں ہو سکتے، کیونکہ ان کو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی کبھی دینی حیثیت نہیں دی گئی، چہ جائیکہ بعد کے زمانے میں دی جاتی۔
- ۴۔۔۔۔ تابعین اور تبع تابعین کے دور میں منافقوں اور ملحدوں نے
۵
”احادیث“ کے نام سے جھوٹی باتیں خود گھڑ گھڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کردیں اور انہیں اسلامی ممالک کے کونے کونے میں پھیلا دیا۔۔۔۔ رفتہ رفتہ ان جھوٹی روایات کو درجہ تقدس حاصل ہوگیا‘ اور مسلمانوں نے انہی خود تراشیدہ افسانوں کو دین و ایمان بنالیا‘ گویا ”قرآنی دین“ کے مقابلہ میں یہ ”روایاتی دین“ قرآن کے محاذی ایک مستقل دین بن گیا۔۔۔۔ اور یوں منافقوں اور ملحدوں کی برپا کی ہوئی سازشی تحریک کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔
۵۔۔۔۔ یہ سازشی جال جو منافقوں اور ملحدوں نے امت کو قرآن کے اصل اسلام سے منحرف کرنے کے لئے پھیلایا تھا‘ صرف عوام کالانعام ہی اس کا شکار نہیں ہوئے‘ بلکہ خواص بھی اسی سازشی جال کے صید زبوں بن کر رہ گئے۔ یہاں تک کہ ایک شخص بھی ایسا باقی نہ رہا‘ جو منافقوں کے پھیلائے ہوئے روایاتی جال سے باہر رہ گیا ہو‘ ”اس کے بعد یہ سوال ہی کسی کے ذہن میں نہ آیا کہ قرآن کریم ایک مکمل کتاب ہے بھی یا نہیں؟“
۶۔۔۔۔ علمائے اسلام نے ہر زمانے میں ”عقیدہ نزول مسیحؑ“ کی تردید کی اور اس کے خلاف قلمی جہاد کیا۔
۷۔۔۔۔ ان جید علماء میں حافظ ابن حزمؒ اور ابن تیمیہؒ سرفہرست ہیں‘ جنہوں نے ”عقیدہ نزول مسیحؑ“ کو غلط قرار دیا۔
آنجناب کا مقصد و مدعا مندرجہ بالا نکات میں ضبط کرنے کے بعد اب اجازت چاہوں گا کہ ان کے بارے میں اپنی معروضات پیش کروں۔ لیکن پہلے سے وضاحت کردینا چاہتا ہوں کہ میرا مدعا مناظرانہ رد و قدح نہیں‘ بلکہ جس طرح آپ نے بے تکلف اپنا عندیہ پیش کیا ہے‘ چاہتا ہوں کہ میں بھی بے تکلف اپنا عندیہ آپ کی خدمت میں پیش کردوں‘ اگر اس کوتاہ قلم سے کوئی بات صحیح نکل جائے اور عقل خداداد اس کی تائید و توثیق کرے تو قبول کرنے سے عار نہ کی جائے‘ اور اگر کوئی غلط لکھ دوں تو اس کی تصحیح فرماکر ممنون
۶
فرمائیے۔ ان ارید الا الاصلاح ما استطعت - وما توفیقی الا باللہ‘ علیہ توکلت والیہ انیب ۔
تنقیح اول
- ١...... آنجناب کا ارشاد بالکل صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
ساری عمر قرآن کریم کی ہدایات کے پابند رہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم مبارک کبھی قرآن کریم کی ہدایات کے حصار سے باہر نہیں نکلا۔ چنانچہ جب سعد بن ہشام نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیے، تو جواب میں فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ عرض کیا پڑھتا ہوں، فرمایا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا۔
"یا ام المومنین! انبئینی عن خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم ! قالت : الست تقرا القرآن؟ قلت : بلیٰ قالت : فان خلق نبی الله صلى الله عليه وسلم كان القرآن"۔
(صحیح مسلم ص ٢٥٦ ج١)
امام نوویؒ شارح مسلم حضرت ام المومنینؓ کے اس فقرہ کی تشریح میں فرماتے ہیں:
"معناه العمل به والوقوف عند حدوده والتادب بآدابه والاعتبار بامثاله وقصصه و تدبره وحسن تلاوته"۔
ترجمہ: "اس سے مراد ہے قرآن کریم پر عمل کرنا، اس کے حدود کے پاس ٹھہرنا، اس کے آداب کے ساتھ
متادب ہونا‘ اس کی بیان کردہ مثالوں اور قصوں سے عبرت پکڑنا‘ اس میں تدبر کرنا‘ اور بہترین انداز میں اس کی تلاوت کرنا“۔
الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول و فعل‘ ہر حال و قال‘ ہر طور و طریق اور ہر خلق و طرز عمل قرآن کریم کے مطابق تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مقدسہ مکمل طور پر قرآن کریم میں ڈھلی ہوئی تھی‘ اور قرآن کریم گویا عملی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں متشکل تھا۔ اگر آنجناب کی یہی مراد ہے تو یہ ناکارہ آنجناب کی اس رائے سے سو فیصد متفق ہے۔ فنعم الوفاق وحبذ الاتفاق۔
- ۲۔۔۔۔ اسی کے ساتھ یہ حقیقت بھی ناقابل فراموش ہے کہ فہم قرآن کی
دولت میں سبھی لوگ یکساں نہیں‘ قرآن کریم کو مومن بھی پڑھتا ہے اور منافق بھی‘ خوش عقیدہ بھی اور بد عقیدہ بھی‘ ایک عامی بھی اور ایک عالم بھی‘ ایک عام قسم کا عالم بھی اور ایک راسخ فی العلم بھی‘ ایک ایسا شخص بھی جو قرآن فہمی کے لئے اردو انگریزی ترجموں کی بیساکھیوں کا محتاج ہے‘ اور ایک قرآن کریم کی زبان کا ماہر اور لغت عربی کا امام بھی۔۔۔۔مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان سب کا فہم قرآن یکساں ہے۔ ایک مومن بھی قرآن سے بس اتنی ہی بات سمجھتا ہے جتنی کہ ایک بددین منافق‘ اور ایک راسخ فی العلم بھی قرآن کریم کا بس اتنا ہی مطلب سمجھ سکتا ہے جتنا کہ ایک جاہل۔
الغرض فہم قرآن میں لوگوں کے ذہن و ادراک کا مختلف ہونا ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جس کو جھٹلانا اپنی عقل و دانش اور حس و مشاہدہ کو جھٹلانا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ایک کتاب کے پڑھنے میں ایک جماعت شریک ہے۔ استاذ ان کے سامنے کتاب کے مطالب کی تشریح کرتا ہے۔ ذہین طالب علم فوراً سمجھ جاتے ہیں اور بعض غبی اور کند ذہن طالب کئی بار کی تقریر کے بعد
۸
بھی پورا مطلب نہیں سمجھ پاتے۔ جب ایک عام کتاب‘ جو انسانوں ہی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے‘ اس کے سمجھنے میں لوگوں کے ذہن کا اختلاف اس قدر واضح ہے تو کلام رب العالمین کے اشاروں کو سمجھنے میں لوگوں کے ذہنی تفاوت کا کیا عالم ہو گا؟
- ۳۔۔۔۔ قرآن کریم کے فہم و ادراک میں لوگوں کی ذہنی سطح کا مختلف
ہونا‘ اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم کلام الٰہی ہے‘ اور اس کے معانی و مطالب اسی قلب و ذہن میں جلوہ گر ہوتے ہیں جس کا دل نور ایمان سے منور اور کفر و شرک اور بدعات و خواہشات کی ظلمتوں سے پاک ہو‘ ایک کافر اور بدعتی پر قرآن کریم کا فہم حرام ہے۔ اسی طرح قرآن فہمی کے لئے ضروری ہے کہ قلب اپنی نفسانی خواہشات و اغراض سے پاک ہو‘ اور آدمی کا ظاہر و باطن حق تعالیٰ شانہ کے ارشادات کے سامنے سرنگوں ہو‘ اس کے دل میں حق تعالیٰ شانہ کی عظمت اور بندہ کی بے چارگی و بے مائیگی کا سمندر موجزن ہو‘ جو شخص اپنی جبلی عادات‘ اپنی نفسانی خواہشات‘ اپنے مخصوص اغراض کے خول سے باہر نہ نکلا ہو وہ قرآن فہمی کی لذت سے کبھی آشنا نہیں ہو سکتا‘ اسی طرح جس شخص کا قلب کبر و نخوت‘ عجب و خود پسندی اور اخلاق رذیلہ کے حصار میں بند ہو اس کا طائر فہم قرآن کریم کی رفعتوں تک کبھی پرواز نہیں کر سکتا۔۔۔۔ علمائے امت نے قرآن فہمی کے شرائط کو بڑی تفصیل سے قلمبند فرمایا ہے‘ مگر میں نے دو تین باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے‘ یہ امور جو قرآن فہمی سے مانع ہیں ان میں لوگوں کے احوال چونکہ مختلف ہیں اس لئے قرآن کریم کے مطالب عالیہ تک ان کے فہم کی رسائی کا مختلف ہونا بالکل واضح ہے۔
- ۴۔۔۔۔ اور فہم قرآن میں یہ اختلاف تو ہم لوگوں کے اعتبار سے ہے۔
اگر عام افراد امت کا مقابلہ صحابہ کرامؓ سے کیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ عام
۹
لوگوں کے فہم قرآن کو حضرات صحابہ کرامؓ کے فہم سے وہ نسبت بھی نہیں، جو ذرہ کو آفتاب سے ہو سکتی ہے۔
ببیں تفاوت رہ از کجاست تابہ کجا
صحابہ کرامؓ تنزیل قرآن کے عینی شاہد تھے، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے براہ راست اس کا سماع کیا تھا۔ انہیں یہ معلوم تھا کہ فلاں آیت کس موقع پر نازل ہوئی، کس سیاق و سباق میں نازل ہوئی اور اس کے ذریعہ کن لوگوں کے کس عمل کی اصلاح کی گئی۔ پھر ان کے قلوب صافیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان صحبت کی برکت سے رشک آئینہ تھے، اور ان کے لیل و نہار کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ گویا پاکباز فرشتوں کا لشکر زمین پر اتر آیا ہے۔ پھر قرآن کریم خود ان کی زبان اور لغت میں نازل ہوا تھا، انہیں نہ صرف و نحو اور بلاغت کے قواعد سیکھنے کی ضرورت تھی، نہ الفاظ قرآن کریم کے مفہوم و معنی سمجھنے کے لئے قاموس، لسان العرب اور لغات القرآن کھولنے کی ضرورت تھی۔ الغرض ان میں اور ہم میں وہی فرق تھا جو دید و شنید میں ہوتا ہے۔ ان کے لئے فہم القرآن گویا ”دید“ تھا، اور ہمارے سامنے قرآن کے صرف الفاظ و نقوش ہیں اور فہم قرآن کا پورا منظر نظروں سے غائب ہے۔
غور کیا جاسکتا ہے کہ بعد کے لوگوں کا فہم قرآن، صحابہ کرامؓ کے فہم کے ہم سنگ کیونکر ہو سکتا ہے۔
اور پھر صحابہ کرامؓ کی جماعت میں بھی تفاوت موجود تھا، ان میں سے بعض اکابر نہایت عالی فہم تھے، جو صحابہ کرامؓ کے لئے بھی اور بعد کی پوری امت کے لئے بھی فہم قرآن کا مرجع تھے، اور انہیں فہم قرآن میں امامت
۱۰
کبریٰ کا درجہ حاصل تھا، مثلاً حضرات خلفائے راشدین، عبداللہ بن مسعود، ابی بن کعب، عبداللہ بن عباس ترجمان القرآن (رضی اللہ عنہم)۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد تفسیر کے ہر طالب علم کو یاد ہے:
"والله الذی لا اله غیره ما نزلت آیة من کتاب الله الا وانا اعلم فیمن نزلت واین نزلت؟ ولوا علم مکان احدا علم بکتاب الله منی تناله المطایا لا تیته"۔
(الا تقان‘ النوع ۸۰ ثمانون)
ترجمہ: ”اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں! قرآن کریم کی ہر آیت کے بارے میں مجھے معلوم ہے کہ یہ کس کے بارے میں نازل ہوئی اور کہاں نازل ہوئی؟ اور اگر مجھے یہ علم ہو جاتا کہ اس وقت دنیا میں کوئی ایسا شخص بھی موجود ہے جو مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کا علم رکھتا ہے تو میں اس کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتا، بشرطیکہ سواری کا اس تک پہنچنا ممکن ہو“۔
- ۵۔۔۔۔ اور فہمِ قرآن کا آخری درجہ۔۔ جس سے بالاتر کوئی درجہ عالمِ
امکان میں متصور نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے، کیونکہ صاحبِ کلام جل شانہ‘ براہ راست آپؐ کے معلم ہیں، آپؐ نے قرآن کریم کا علم خود حق تعالیٰ شانہ‘ سے حاصل کیا ہے، ادھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی علوِ استعداد کا یہ عالم کہ حق تعالیٰ شانہ‘ نے آپؐ کو تمام عیوب و نقائص سے پاک پیدا فرمایا۔ جیسا کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے عرض کیا:
واجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبراً من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشاء
ترجمہ: ”اور آپؐ سے زیادہ حسین کوئی شخص میری آنکھوں نے نہیں دیکھا۔ اور آپؐ سے زیادہ صاحب جمال کسی ماں نے کوئی بچہ نہیں جنا۔ آپؐ ہر عیب سے پاک اور مبرا پیدا کئے گئے ہیں۔ گویا جیسا آپؐ چاہتے تھے ویسے پیدا کئے گئے“۔
پھر حق تعالیٰ شانہٗ نے پوری کائنات میں سے نبوت و رسالت اور ختم نبوت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب فرمایا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مبارک مرکز ایمان واہل ایمان ہے‘ قلب مبارک تجلیاتِ الٰہیہ سے رشک شعلہ صد طور ہے‘ سینہ مبارک اسرارِ الٰہیہ کا امین اور علوم ربانیہ کا سرچشمہ ہے‘ علوم الاولین والآخرین کا بحر بے کراں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ میں ودیعت ہے‘ وجود مبارک کو دنیا کی آلائشوں‘ نفسانی خواہشوں اور بشری چاہتوں سے پاک وصاف کردیا گیا ہے‘ دل ودماغ اور زبان پر عصمت کا پہرہ بٹھادیا گیا تاکہ غبار بشریت کا کوئی شائبہ بھی دامن رسالت کو آلودہ نہ کرسکے‘ گوش مبارک غیب سے پیام سروش سن رہے ہیں‘ چشمان مبارک جنت ودوزخ‘ قبر وحشر وغیرہ کا مشاہدہ کررہی ہیں‘ آسمان سے فرشتے نازل ہوکر مناجات کی سعادت حاصل کرتے ہیں‘ جبرئیل ومیکائیل وزیر ومشیر ہیں‘ ابوبکرؓ وعمرؓ مصاحب وہمدم ہیں‘ انبیاء کرام علیہم السلام کے قدسی صفات مجمع میں سیادت وقیادت کا تاج فرق اقدس پر سجایا جاتا ہے‘ اور آپ صلی اللہ
۱۲
علیہ وسلم کو امام الانبیاء کے منصب پر فائز کیا جاتا ہے۔ کیا کسی فردِ بشر کے لئے ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی علوِ استعداد، عبدیت و خشیت، حسن و جمال، جاہ و جلال، عزت و رفعت، طہارت و نزاہت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمہ جہتی کمالات کا ادراک کر سکے؟ کلا و رب الکعبۃ۔
۶۔۔۔۔ اور جب یہ معلوم ہوا کہ قرآن کریم کے معلمِ اول خود حق تعالیٰ شانہ ہیں اور متعلمِ اول خود حاملِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے لطیف اشاروں کو جیسا سمجھا، ناممکن تھا کہ کوئی دوسرا ایسا سمجھ سکے، مثلاً:
- O قرآن کریم نے اقامتِ صلوٰۃ کا حکم فرمایا، اور آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے اس کی تشریح اس طرح فرمائی کہ نہ صرف ” اقامت صلوٰۃ“ کا مجسم نمونہ امت کے سامنے آگیا، بلکہ نماز کے شرائط و ارکان، آداب و اوقات، تعدادِ رکعات، فرائض و نوافل اور حضور مع اللہ کی کیفیت وغیرہ کی تفصیلات بھی معلوم ہوگئیں۔ کیا کسی دوسرے کے لئے ممکن ہے کہ قرآن کریم کے مختصر سے اشارہ ”اقیموا الصلوٰۃ“ کی ایسی شرح و تفصیل بیان کر سکے؟
- O قرآن کریم نے مسلمانوں کو ”ایتاءِ زکاۃ“ کا حکم فرمایا، آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکمِ خداوندی کی پوری شرح و تفصیل بیان فرمادی کہ کن کن مالوں پر زکاۃ ہے؟ کتنے وقفہ کے بعد زکاۃ فرض ہے؟ مال کی کتنی مقدار پر زکاۃ فرض ہوتی ہے؟ اور زکاۃ کی مقدار واجب کس مال میں کتنی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اگر حاملِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم بتعلیمِ خداوندی ان امور کی تفصیل بیان نہ فرماتے تو کیا کسی کے لئے ممکن تھا کہ اس حکم کی تشریح منشائے الٰہی کے مطابق کر سکتا؟
- O قرآن کریم نے ”کتب علیکم الصیام“ ۱۸۳ میں مسلمانوں کو روزے رکھنے
کا حکم فرمایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم خداوندی کی ایسی تفصیلات بیان فرمائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کے احاطہ علم وادراک میں ہرگز نہیں آسکتیں تھیں، خواہ وہ کیسا ہی علامہ وفہامہ اور ماہر لسان عرب ہوتا۔
- قرآن کریم نے ”واتموا الحج والعمرة لله“ کا حکم فرمایا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل سے اس حکم خداوندی کی ایسی تشریح فرمائی کہ پوری کتاب الحج تیار ہوگئی۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کے لئے ممکن تھا ان تفصیلات کا ادراک کرسکتا؟
- قرآن کریم نے قیامت کا ذکر کرتے ہوئے ایک مختصر سا اشارہ
فرمایا ”فقد جاء اشراطها“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نور نبوت اور تعلیم الٰہی کی روشنی میں ان چھوٹے بڑے واقعات کو ذکر فرمایا جو قیامت سے قبل رونما ہوں گے، اور جو مسلمانوں میں ”علامات صغریٰ“ اور ”علامات کبریٰ“ کے عنوان سے مشہور و معروف ہیں۔ کیا کسی کے لئے ممکن تھا کہ مستقبل کے ان واقعات کو ٹھیک ٹھیک منشائے الٰہی کے مطابق بیان کردیتا؟
اس ناکارہ نے یہ چند مثالیں عرض کردی ہیں۔ ورنہ اہل نظر جانتے ہیں کہ اسلام کے تمام اصول و فروع کا معدن و منبع قرآن کریم ہی ہے۔ مگر قرآن کریم کے ان اشاروں کو سمجھنے کے لئے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چشم بصیرت، نور نبوت اور وحی خداوندی کے ذریعہ تعلیم درکار ہے، حضرت امام شافعیؒ کا یہ ارشاد بہت سے اکابر نے نقل کیا ہے کہ:
”كل ما حكم به رسول الله صلى الله عليه وسلم فهو مما فهمه من القرآن“۔
(تفسیر ابن کثیر ص ۱۹ ج ۱)
ترجمہ: ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم بھی
۱۴
فرمایا وہ قرآن کریم ہی سے سمجھ کر فرمایا ہے"۔
یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول و فعل اور ہر حکم اور فیصلہ قرآن کریم ہی سے ماخوذ ہے۔
- ۷۔۔۔۔ حق تعالیٰ شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو خود
بلاواسطہ قرآن کریم کی تعلیم دی اور امت کے لئے یہ انتظام فرمایا کہ قرآن کریم کے اولین مخاطب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے، ان کی تعلیم و تربیت کے لئے ہادی اعظم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مرشد و مربی اور معلم و اتالیق مقرر فرمایا، چنانچہ ارشاد ہے:
”لقد من الله علی المؤمنین اذ بعث فیہم رسولا من انفسہم یتلوا علیہم آیتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتب والحکمۃ، وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین"۔
(آل عمران:۱۶۴)
ترجمہ: ”حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر احسان کیا جب کہ ان میں انہی کی جنس سے ایک ایسے پیغمبر کو بھیجا کہ وہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں اور ان لوگوں کی صفائی کرتے رہتے ہیں اور کتاب اور فہم کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں، اور بالیقین یہ لوگ قبل سے صریح غلطی میں تھے"۔ (اس مضمون میں آیات کا ترجمہ حضرت حکیم الامت تھانویؒ سے نقل کیا گیا ہے۔)
یہ مضمون قرآن کریم میں چار جگہ پر آیا ہے، البقرہ:۱۲۹، ۱۵۱، آل عمران:۱۶۴، الجمعہ:۲۔
اس ارشاد خداوندی میں، جسے قرآن کریم میں چار بار دہرایا گیا ہے، ہمارے لئے چند امور بطور خاص توجہ طلب ہیں:
۱۵
اول: آیت شریفہ میں حق تعالیٰ شانہٗ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چار فرائض نبوت ذکر فرمائے ہیں:
- ۱۔ لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرنا۔
- ۲۔ ان کو کتاب اللہ کی تعلیم دینا۔
- ۳۔ حکمت کی تعلیم دینا۔
- ۴۔ اور اخلاق رذیلہ سے ان کا تزکیہ کرنا اور ان کو پاک کرنا۔
دوم: آیت شریفہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو معرض امتنان میں ذکر فرماکر ان فرائض چہارگانہ کا ذکر کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری نہ ہوتی تو امت ان چاروں چیزوں سے محروم رہتی۔ نہ ان کو آیات قرآنی کے الفاظ معلوم ہوتے‘ نہ کتاب الٰہی کے صحیح معنی و مفہوم اور مراد خداوندی کا ان کو علم ہوتا‘ نہ حکمت و دانش کی ان کو خبر ہوتی‘ اور نہ ان کے قلوب و ابدان کا تزکیہ ہوتا‘ یہ ساری چیزیں انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دم قدم سے میسر آئی ہیں۔ فللہ الحمد والمنۃ۔
سوم: آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق جو مطالب سمجھے‘ اور ان کی اپنے قول و عمل سے جو تشریح و تفصیل فرمائی (جس کو اوپر نکتہ ششم میں ذکر کرچکا ہوں) اسی کو آیت شریفہ میں لفظ ”حکمت“ کے ساتھ تعبیر فرمایا ہے۔ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزیں عطا فرمائی گئیں تھیں‘ ایک قرآن‘ دوسری قرآن کریم کی وہ تعلیمات جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو الہام والقا فرمائیں‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کی تعلیم پر مامور فرمایا گیا۔
چہارم: صحابہ کرامؓ‘ جیسا کہ پہلے عرض کرچکا ہوں‘ قرآن کریم کی زبان سے واقف تھے‘ بلکہ کہنا چاہئے کہ قرآن انہی کی زبان میں نازل ہوا تھا‘
۱۶
اس کے باوجود وہ صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے محتاج تھے‘ اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو قرآن کریم کے مطالب کی تشریح و تفصیل تعلیم نہ فرماتے تو وہ اپنی عقل و فہم اور زبان دانی کے زور سے ہرگز ان مطالب تک رسائی حاصل نہ کر سکتے۔ جب صحابہ کرامؓ کا یہ حال ہے تو بعد کے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تعلیمات کے کس قدر محتاج ہوں گے؟ اس کا اندازہ کچھ مشکل نہیں‘ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن فہمی کیلئے اگر صحابہ کرامؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت کے محتاج ہیں تو بعد کی امت فہم قرآن میں صحابہؓ سے بڑھ کر ان تعلیمات نبوت اور حکمت آسمانی کی محتاج ہے جس نے صحابہ کرامؓ کے قلوب کو منور فرمایا۔
پنجم: اور جب یہ ثابت ہوا کہ بعد کی امت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی اسی طرح محتاج ہے‘ جس طرح صحابہ کرامؓ تھے تو لازم ہوا کہ رہتی دنیا تک تعلیمات نبویہؐ بھی محفوظ رہیں‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان علوم نبوت کی بقا کا یہ انتظام فرمایا کہ امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے بقول ہر دور ہر زمانے میں جماعتوں کی جماعتوں کو مختلف شعبوں کی صیانت و حفاظت اور خدمت کے لئے مقرر فرما دیا‘ اور یہ سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے آج تک قرناً بعد قرن اور نسلاً بعد نسل مسلسل چلا آرہا ہے‘ جس میں کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی انقطاع نہیں ہوا۔
- ○ ایک جماعت ان مجاہدوں اور غازیوں کی جنہوں نے میدان کارزار
میں جرأت و بسالت اور مردانگی کے جوہر دکھائے‘ اور اپنی جان پر کھیل کر اسلامی سرحدوں کی حفاظت فرمائی۔
- ○ بعض حضرات نے کتاب اللہ کے الفاظ کی حفاظت و خدمت کو اپنا
وظیفہ زندگی بنا لیا‘ انہوں نے کلام الٰہی کی ترتیل و تجوید‘ حروف کے مخارج و صفات اور ان کے طریقہ ادا کو محفوظ رکھا‘ اپنی پوری زندگی قرآن کریم کی
۱۷
تلاوت و قرأت، ترتیل و تجوید اور اس کی تحفیظ میں صرف فرمادی‘ اور قرآن کریم کے الفاظ کی حفاظت کا ایسا شاندار ریکارڈ قائم کیا جس کی نظیر کسی قوم میں نہیں ملتی۔ یہ حضرات قراء وحفاظ کی جماعت ہے۔
- بعض حضرات نے دینی مسائل کی تنقیح و تخریج کو اپنا مقصد حیات
بنالیا‘ اور انہوں نے شرعی مسائل میں امت کی راہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ یہ حضرات فقہاء اور اہل فتویٰ کی جماعت ہے۔
- بعض حضرات نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور
کلمات طیبات کی حفاظت وصیانت کا فریضہ اپنے ذمہ لے لیا اور ہر حدیث کی تنقیح کر کے صحیح وضعیف اور مقبول و مردود میں اس طرح تمیز کردی کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کر دیا۔ یہ حضرات محدثین کی جماعت ہے۔
- بعض حضرات نے کتاب الہی کی تشریح و تفسیر کا منصب سنبھالا‘ اور
کتاب اللہ کے مطالب امت کے سامنے پیش فرمائے۔ یہ حضرات مفسرین کی جماعت ہے۔
- بعض حضرات نے ملحدین و منافقین اور اہل باطل کے پھیلائے
ہوئے شکوک وشبہات کا تحقیقی والزامی دلائل سے ازالہ کیا‘ اور امت کے لئے ان کانٹوں سے صراط مستقیم کا راستہ صاف کیا۔ یہ حضرات متکلمین کی جماعت ہے۔
- بعض حضرات نے اپنے انفاس طیبات سے امت کے دلوں کو
مزکی و مصفیٰ کیا‘ اور ان کے دلوں کے زنگ دور کر کے ان کو یاد الہی سے معمور کیا۔
سج رہا ہے شاہ خوباں کے لئے دربار دل
یہ حضرات اہل قلوب صوفیا کی جماعت ہے۔
۱۸
- O بعض حضرات نے وعظ وتذکیر اور دعوت و تبلیغ کے ذریعہ سوتے
ہوؤں کو جگایا‘ غافلوں کو ہوشیار کیا‘ ان کی تاثیر وعظ سے امت کا قافلہ رواں دواں رہا۔
الغرض حق تعالیٰ شانہ نے اپنے تکوینی نظام کے ذریعہ دین اور اس کے تمام شعبوں کی حفاظت کا ایسا انتظام فرمایا کہ دین کا چشمہ صافی نہ کبھی گدلا ہوا نہ ہوگا‘ اس طرح اللہ کے بندوں پر اللہ کی حجت پوری ہوئی‘ اور انشاء اللہ جب تک دنیا میں قرآن کریم باقی ہے اس کے یہ خدام بھی تاقیامت قائم و دائم رہیں گے۔ یہ سلسلہ نہ کبھی ایک لمحہ کے لئے منقطع ہوا‘ نہ ہوگا۔
حضرت امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے قصیدہ ”اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم صلی اللہ علیہ وسلم“ کی نویں فصل میں اس مضمون کو نظم کیا گیا ہے جس کا خلاصہ میں نے اوپر ذکر کیا‘ مناسب ہوگا کہ بطور تبرک حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ کے یہ اشعار یہاں نقل کر دیئے جائیں:
عصائب تتلوا مثلہا من عصائب
فمنہم رجال یدفعون عدوہم
بسمر القنا والمرہفات القواضب
ومنہم رجال یغلبون عدوہم
باقویٰ دلیل مفحم للمغاضب
ومنہم رجال بینوا شرع ربنا
وماکان فیہ من حرام وواجب
ومنہم رجال یدرسون کتابہ
بتجوید ترتیل وحفظ مراتب
۱۹
وهم علمونا مابه من غرائب
ومنهم رجال بالحديث تولعوا
وماكان منه من صحيح وذاهب
ومنهم رجال مخلصون لربهم
بانفاسهم خصب البلاد الاجادب
ومنهم رجال يهتدى بعظاتهم
فيام الى دين من الله واصب
على الله رب الناس حسن جزائهم
بما لايوافى عده ذهن حاسب
ترجمہ: ۱۔ اور ہر دور میں اللہ کے دین کی تائید ایسی جماعتوں نے کی کہ ان کے بعد لگاتار ویسی ہی جماعتیں آتی رہیں۔
- ۲...... چنانچہ کچھ حضرات وہ ہیں جو گندم گوں نیزوں
اور کاٹنے والی تیز تلواروں کے ذریعہ دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ یہ مجاہدین کی جماعت ہے۔
- ۳...... کچھ حضرات ایسے ہیں جو اپنے دشمن پر غالب
آتے ہیں اور قوی ترین دلائل کے ذریعہ معاندین کا منہ بند کردیتے ہیں۔ یہ متکلمین اسلام کی جماعت ہے۔
- ۴...... کچھ حضرات وہ ہیں جنہوں نے ہمارے سامنے
ہمارے رب کی شریعت کو بیان فرمایا، اور اس میں جو حرام اور واجب وغیرہ احکام شرعیہ ہیں ان کی شرح و توضیح فرمائی۔
۲۰
یہ حضرات فقہائے امت اور ارباب فتویٰ کی جماعت ہے۔
- ۵...... کچھ حضرات وہ ہیں جو اللہ کی کتاب کی تدریس
میں مشغول ہیں، عمدہ ترتیل اور حفظ مراتب کے ساتھ، یعنی حروف کے مخارج وصفات اور طریقہ ادا کی رعایت کے ساتھ۔ یہ حضرات قراء کی جماعت ہے۔
- ۶...... کچھ حضرات وہ ہیں جنہوں نے اپنے علم سے
کتاب الٰہی کی تفسیر فرمائی، اور قرآن کریم میں جو عجیب وغریب لطائف ونکات ہیں ہمیں ان کی تعلیم دی، یہ حضرات مفسرین ہیں۔
- ۷...... کچھ حضرات حدیث نبویؐ کے عاشق ہیں،
اور انہوں نے صحیح وضعیف احادیث کو چھانٹ کر رکھ دیا، یہ حضرات محدثین کی جماعت ہے۔
- ۸...... کچھ حضرات وہ ہیں جو اپنے رب کی عبادت
میں اخلاص کا اہتمام کرنے والے ہیں، انہی کے دم قدم سے خشک علاقوں میں سرسبزی وشادابی ہے۔ یہ حضرات صوفیا صافیہ کی جماعت ہے۔
- ۹...... اور کچھ حضرات ہیں جن کے وعظ ونصیحت
اور دعوت وتبلیغ سے انسانوں کے گروہ در گروہ اللہ تعالیٰ کے دین حق کی طرف ---- جو قائم ودائم ہے ---- ہدایت پاتے ہیں، یہ حضرات مبلغین وواعظین کی جماعت ہے۔
- ۱۰...... ان سب حضرات کی بہترین جزا اللہ تعالیٰ
نے جو رب الناس ہے اپنے ذمہ لے رکھی ہے، اور قیامت کے دن ان حضرات کو ایسی جزا عطا فرمائیں گے کہ
۲۱
کسی حساب لگانے والے کا ذہن اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔
افسوس ہے کہ آنجناب کی پہلی تنقیح پر گفتگو طویل ہو گئی، ہرچند کہ میں نے قلم کو روک روک کر لکھنے کی کوشش کی، اور ہر نکتہ کے اطراف وجوانب کے پہلوؤں کو قلم انداز کرتا چلا گیا ہوں، اس کے باوجود گفتگو اندازے سے زیادہ طویل ہو گئی، مناسب ہو گا کہ ان معروضات کا خلاصہ عرض کردوں:
- O اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف قرآن ہی نہیں دیا، بلکہ قرآن کریم سے
پہلے صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرمائے، اور ان کے ذریعہ قرآن کریم عطا ہوا۔
- O حق تعالیٰ شانہٗ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو الفاظ قرآن کریم کے
معنی ومفہوم اور مراد خداوندی کی تعلیم بھی فرمائی۔ ثم ان علینا بیانہٗ (القیامہ) ”پھر ہمارے ذمہ رہا اس قرآن کو بیان کرنا بھی“۔
- O حق تعالیٰ شانہٗ نے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم انسانیت بنایا،
اور آپؐ کے ذمہ چار وظائف رسالت مقرر فرمائے: ۱۔ تلاوت آیات، ۲۔ تعلیم کتاب، ۳۔ تعلیم حکمت، ۴۔ امت کا تزکیہ۔
- O آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وظائف نبوت ایسے نفیس طریقہ
سے ادا فرمائے، جس کی کوئی مثال عالم امکان اور تاریخ انسانیت میں نہیں ملتی۔
- O آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو جو تعلیم اپنے قول عمل
سے دی، اسی کا نام سنت وحدیث ہے، اور اس تعلیم نبویؐ کے بغیر قرآن کریم کو مراد خداوندی کے مطابق سمجھنا ناممکن اور محال ہے۔
- O حق تعالیٰ شانہٗ نے اس کا وعدہ فرمایا کہ قرآن کے الفاظ ومعانی
اور مرادات خداوندی کی قیامت تک حفاظت فرمائیں گے۔
۲۲
- وعدہ الٰہی ظہور پذیر ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر
دور اور ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اس دین قیم کی خدمت کے لئے جماعتوں کو کھڑا کر دیا، یہ سلسلہ جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔
- ”کارخانہ حفاظت“، جس کا انتظام حق تعالیٰ شانہٗ نے بقائے دین
کے لئے فرمایا، اس کے نتیجہ میں الحمد للہ ”گلشن محمدیؐ“ سدا بہار ہے، قرآن کریم کا ایک ایک حرف ہی نہیں، اس کا طریقہ ادا اور لب ولہجہ تک محفوظ ہے۔ اور معانی قرآن، جن کی تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باذن الٰہی اپنے قول وفعل سے دی، اس کا بھی پورے کا پورا ریکارڈ آج تک محفوظ ہے، اور انشاء اللہ قیامت تک محفوظ رہے گا۔
تنقیح دوم
آنجناب کا یہ کہنا کہ ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے علاوہ کبھی کوئی دینی بات ارشاد ہی نہیں فرمائی“۔ عجیب و غریب دعویٰ ہے، کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ:
- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ قرآنی احکام کی
اپنے قول و عمل سے تشریح و تکمیل فرمائی۔
- اور یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور
مسعود سے لے کر نماز، روزہ، اور حج وزکوٰۃ کی یہ تفصیلات تواتر کے ساتھ محفوظ چلی آئی ہیں، اور تمام مسلمان نسلاً بعد نسل ان کو مانتے چلے آئے ہیں، مسلمان تو مسلمان کافر تک جانتے ہیں کہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ مسلمانوں کے دین کا جزو ہیں۔
یہ ساری چیزیں قرآن کریم میں صراحتاً مذکور نہیں‘ بلکہ امت اسلامیہ نے ان چیزوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل سے سیکھا ہے‘ اگر یہ ساری چیزیں آپ کے نزدیک قرآن ہی میں داخل ہیں‘ بایں معنی کہ یہ قرآن کریم ہی کے احکام کی شرح و تفسیر ہے تو جزاک اللہ‘ مرحبا‘ کہ آپ نے بھی سنت نبویؐ کے اس ذخیرہ کو قرآن کریم کی شرح و تفسیر قرار دے کر اپنے امتی ہونے کا حق ادا کر دیا‘ کوئی شک نہیں کہ قرآن کریم کلام الٰہی ہے‘ اور ------ جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں ------ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور اعمال و احوال‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مطہرہ اور سنت مبارکہ قرآن کریم کی نہایت مستند شرح ہے‘ اور ایسی شرح جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر بالقائے رحمانی و الہام ربانی نازل ہوئی‘ یہ قرآن کریم کی ایسی حکیمانہ شرح ہے کہ کوئی امتی تو کجا! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام میں اسکی نظیر نہیں ملتی۔ نہ کوئی ایسا بلند مرتبہ شارح عالم امکان میں تھا جسکا قلب حکمت ربانیہ‘ معرفت الہیہ‘ خشیت خداوندی‘ علوم نبوت اور نُورِ ازلی سے اس طرح لبریز ہو اور نہ کلام حکیم کی شرح و تفسیر حکیم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت طیبہ سے بہتر عالم وجود میں آسکتی تھی۔ اسی بنا پر فرمایا ---- اور واللہ العظیم کہ بالکل برحق فرمایا ---- کہ:
"لوکان موسیٰ حیًّا ما وسعہ الا اتباعی"۔
(مشکوٰۃ‘ ص۳۰)
ترجمہ: "اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری پیروی کے بغیر چارہ نہ ہوتا"۔
الغرض قرآن حکیم متن متین ہے اور سنت نبوی (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) اسکی شرح و تفسیر ہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر من جانب اللہ القا ہوتی تھی۔ لہٰذا نہ اس متن متین کو اس شرح تفسیر سے جدا کیا جاسکتا ہے اور نہ یہ شرح اس متن کے بغیر وجود میں آسکتی تھی، اس لئے یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول وعمل قرآن کریم سے باہر نہیں تھا، اور قرآن کریم میں جو کچھ ہے وہ بعینہٖ سنت نبویہؐ کے آئینہ میں منعکس ہے، دونوں کے درمیان اگر فرق ہے تو بس متن اور شرح کا، وہ اجمال ہے اور یہ اس کی شرح و تفصیل ہے، واللہ الموفق۔
۲۔۔۔۔۔ اور اگر آنجناب کا خیال یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۲۳ سالہ دور نبوت میں صرف قرآن کریم پڑھ کر سنایا، اس کے احکام وفرامین کی تفصیل نہیں فرمائی، اس لئے سنت کے نام سے امت کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ بعد کا ساختہ و پرداختہ ہے، اور قرآن کریم کے محاذی اور مقابل ہے، لہٰذا ”قرآن کا اسلام“ اور ہے اور سنت کا اسلام اور ہے ۔۔۔۔ العیاذ باللہ ۔۔۔۔۔ تو یہ سراسر غلط فہمی ہوگی، اور مجھے توقع نہیں کہ آنجناب جیسا فہیم شخص بھی اتنی بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتا ہے۔
۳۔۔۔۔۔ کیونکہ اگر بالفرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت طیبہ کو درمیان میں سے ہٹادیا جائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نور نبوت، اپنی فہم و فراست اور حق تعالیٰ شانہ کے القاء والہام کے ذریعہ شریعت اسلام کی جو تشکیل فرمائی، اس کو ”ایں دفتر بے معنی غرق مئے ناب اولے“ کا مصداق قرار دے کر اس سے دستبرداری اختیار کرلی جائے تو ہمیں پورے دین اسلام کی از سرنو تشکیل کرنا ہوگی، مثلاً ”اقامت صلاۃ“ کے فریضہ کو لیجئے، جس کا بار بار قرآن کریم نے اعلان کیا ہے، ہمیں پوری نماز کا نقشہ قرآن کریم کے حوالے سے (نہ کہ محض اپنی عقل سے) مرتب کرنا ہوگا، اور یہ بتانا ہوگا
۲۵
- کہ : ◯ نماز کے فلاں فلاں اوقات ہیں، اور ہروقت کی ابتداء وانتہاء یہ
ہے۔
- ◯ ہر نماز کی فرض رکعات اتنی ہیں اور زائد از فرض نوافل اتنے
ہیں۔
- ◯ نماز کے اندر شرائط وارکان یہ ہیں، فرائض وواجبات یہ ہیں۔
- ◯ فلاں فلاں کاموں سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، فلاں فلاں افعال سے
مکروہ ہوجاتی ہے۔
- ◯ فلاں فلاں کام نماز میں جائز ہیں، فلاں فلاں ناجائز ہیں۔
- ◯ فلاں اشخاص پر نماز فرض ہے، فلاں فلاں پر نہیں۔
- ◯ نماز کا پورا طریقہ اول سے آخر تک یہ ہے، اس طرح قیام کیا
جائے، اس طرح رکوع و سجود بجالایا جائے، اس طرح نماز کو شروع کیا جائے، اس طرح ختم کیا جائے۔
الغرض صرف ایک حکم ”اقامت صلوٰۃ“ کی تفصیل وتکمیل کے لئے پوری کتاب الصلوٰۃ از سرنو مرتب کرنا ہوگی، اور ہر مسئلہ میں صرف قرآن کا حوالہ دینا لازم ہوگا، اور حوالہ بھی بالکل صحیح اور صاف، جس کے مفہوم میں اختلاف کی گنجائش نہ ہو، اور نہ اسے چیلنج کیا جاسکے۔
اسی طرح کتاب الطہارہ سے کتاب الفرائض تک تمام ابواب فقہیہ کی از سرنو تشکیل کرنا ہوگی، اور ہر بحث کے ہر مسئلہ میں قرآن کریم کی صاف اور صریح آیات کا حوالہ دینا ہوگا۔ پھر اخلاق وعقائد، معاملات ومعاشرت اور آداب زندگی کی بہ تمام و کمال تفصیل مرتب کرنا ہوگی، جس میں ایک ایک عقیدہ، ایک ایک اخلاق، ایک ایک معاملہ اور ایک ایک شرعی ادب کو قرآن کریم کی صریح آیات بینات کے حوالے سے قلمبند کرنا ہوگا، اور جب یہ کام بحسن وخوبی پایہ تکمیل کو پہنچادیا جائے تب کسی کو یہ کہنے کا حق ہوگا کہ یہ تو
۴۶
”قرآن کا اسلام“ ہے، اور مسلمانوں کے ہاتھ میں جو دین ہے وہ ”قرآن کا اسلام“ نہیں ”روایات کا اسلام“ ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا کوئی شخص یہ کارنامہ انجام دے سکتا ہے؟ کلا، ثم کلا۔ یہ شریعت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل سے وجود میں آئی، قرآن کریم اور نبوت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوات والتسلیمات) کا اعجاز ہے اور دعوے سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر کسی شخص کو عمر نوحؑ بھی عطا کردی جائے تب بھی ناممکن ہے کہ وہ اس کام کو کرسکے، خواہ اپنے ساتھ دنیا بھر کے لوگوں کو ملالے، امام المتقین سید المرسلین سرور کون و مکان حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت ربانی کے مطابق اپنے قول و فعل سے قرآن کریم کی جو تشریح فرمائی اور اسلامی شریعت کی جو تشکیل فرمائی واللہ العظیم اس کی نظیر لانا حیطہ امکان سے خارج ہے۔ ولوکان بعضہم لبعض ظہیرا۔ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا....... اور بخدا! کہ صحیح فرمایا :
لا یزیغ عنھا بعدی الا ھالک“۔
(کنزالعمال حدیث نمبر ۱۰۶۲)
ترجمہ : ”میں نے تمہیں روشن شریعت پر چھوڑا ہے، جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے، میرے بعد اس سے انحراف نہیں کرے گا مگر ہلاک ہونے والا“۔
الغرض اگر کسی شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش کردہ ”قرآنی اسلام“ پر اعتماد نہیں، یا کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ امت نے نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ کی تفصیلات کو ازخود گھڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کردیا ہے اس لئے وہ دین اسلام کی ان تمام تفصیلات کو، جو امت کے عملی تواتر سے ہم تک پہنچی ہیں یا جو احادیث صحیحہ و مقبولہ سے ثابت
۲۷
ہیں ”روایات کا اسلام“ سمجھتا ہے اسے لازم ہے کہ صحیح ”قرآنی اسلام“ کا نقشہ پیش کرے، جس میں نہ کسی اختلاف کی گنجائش ہو‘ نہ کسی کے انگلی رکھنے کی‘ جب تک ”قرآنی اسلام“ کی تشکیل کا یہ کارنامہ انجام نہیں دے لیا جاتا ۔۔۔۔۔ اور ناممکن ہے کہ کوئی شخص ایسا کرسکے ۔۔۔۔۔ تب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اور خیر امت کے طبقہ در طبقہ تواتر کے ساتھ نقل کئے ہوئے دین کو ”روایات کا اسلام“ کہہ کر مسترد کردینا کسی عقلمند کا کام نہیں ہوسکتا۔
- ۴۔۔۔۔۔ آنجناب اس نکتہ پر بھی غور فرمائیں کہ قرآن کریم نے سات
جگہ کتاب کے ساتھ حکمت کا ذکر فرمایا ہے:
- O ”ویعلمھم الکتاب والحکمۃ“۔ (البقرہ:۱۲۹) ”اور
وہ نبیؐ سکھائے ان کو کتاب و حکمت“۔
- O ”ویعلمکم الکتاب والحکمۃ“۔ (البقرہ:۱۵۱)
”اور آپؐ تم کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں“۔
- O ”ویعلمھم الکتاب والحکمۃ“۔ (آل عمران:۱۶۴)
”اور آپؐ ان (اہل ایمان) کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں“۔
- O ”ویعلمھم الکتاب والحکمۃ“۔ (الجمعہ:۲)
”اور آپؐ ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں“۔
- O ”واذکروا نعمۃ اللہ علیکم وما انزل علیکم من
الکتاب والحکمۃ یعظکم بہ واتقوا اللہ واعلموا ان اللہ بکل شیٔ علیم“۔ (البقرہ:۲۳۱)
ترجمہ: ”اور حق تعالیٰ کی جو تم پر نعمتیں ہیں ان کو یاد کرو اور (خصوصاً) اس کتاب اور (مضامین) حکمت کو جو
۲۸
اللہ تعالیٰ نے تم پر اس حیثیت سے نازل فرمائی ہیں کہ تم کو ان کے ذریعے سے نصیحت فرماتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں"۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
- O "وانزل الله عليك الكتاب والحكمة وعلمك
مالم تكن تعلم وكان فضل الله عليك عظيماً"۔ (النساء:۱۱۳)
ترجمہ: "اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور علم کی باتیں نازل فرمائیں اور آپ کو وہ باتیں بتلائی ہیں جو آپ نہ جانتے تھے، اور آپ پر اللہ کا بڑا فضل ہے"۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
- O "واذکرن ما یتلیٰ فی بیوتکن من آیات اللہ
والحكمة"۔ (الاحزاب:۳۴)
ترجمہ: "اور تم ان آیات الٰہیہ کو اور اس علم (احکام) کو یاد رکھو جس کا تمہارے گھروں میں چرچا رہتا ہے"۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
پہلی چار آیات شریفہ میں فرمایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اہل ایمان کو کتاب و حکمت کی تعلیم فرماتے ہیں، پانچویں آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنا انعام یاد دلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذریعہ کتاب و حکمت نازل فرمائی ہے۔
چھٹی آیت شریفہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف و فضیلت اور علو مرتبت کا تذکرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب
۲۹
و حکمت نازل فرمائی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ علوم سکھائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے سے معلوم نہیں تھے، اور حق تعالیٰ شانہ کا فضل عظیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شامل حال تھا۔
ساتویں آیت شریفہ میں امہات المومنین رضی اللہ عنہن کو فرمایا کہ ان کے گھروں میں جو آیات اللہ اور حکمت تلاوت کی جاتی ہیں اس کا تذکرہ کیا کریں۔
ان آیات شریفہ پر نظر فہم و انصاف ڈال کر غور فرمائیے کہ ”الکتاب“ تو قرآن مجید ہوا، یہ ”الکتاب“ کے ساتھ ساتھ جو ”الحکمة“ کا تذکرہ بار بار چلا آرہا ہے، یہ کیا چیز ہے؟
اکابر امت نے اس ”حکمت“ کو مختلف تعبیرات میں بیان فرمایا ہے، مفہوم سب کا متقارب ہے، اس کا جامع ترین مفہوم امام شافعیؒ اور دیگر اکابر نے صرف ایک لفظ سے بیان فرمایا ہے، یعنی ”السنہ“۔
ہمارے لئے جو چیز لائق توجہ ہے وہ یہ ہے کہ جب قرآن کریم یہ اعلان کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر الکتاب کے ساتھ ”الحکمہ“ بھی نازل کی گئی اور یہ حکمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل ہی سے معلوم کی جاتی تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم امت کو اس کی تعلیم فرماتے تھے، اور امت کو کتاب و حکمت دونوں کے یاد اور محفوظ رکھنے کا حکم فرمایا گیا۔ تو اس سے بدیہی طور پر ہر شخص یہ سمجھے گا کہ قرآن کریم کے ساتھ یہ ”الحکمہ“ بھی دین کا ایک اہم ترین حصہ ہے، جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا، اور جس کی تعلیم پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مامور فرمایا گیا، اور یہ بات بھی ہر آدمی سمجھتا ہے کہ جب صحابہ کرامؓ بھی تعلیم کتاب و حکمت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محتاج تھے تو بعد کی امت ان سے زیادہ محتاج ہوگی، اور اس بات کو سمجھنے کے لئے بھی کسی دقیق علم و فہم کی
۳۰
ضرورت نہیں کہ امت دین فہمی کے لئے جس چیز کی محتاج ہے اس کا باقی اور محفوظ رہنا لازم بھی ہے، اگر وہ محفوظ ہی نہ رہے تو امت اس سے کیسے مستفید ہوگی، معلوم ہوا کہ کتاب و حکمت دونوں اسلام کا منبع ہیں، دونوں امت کے لئے ضروری ہیں اور دونوں کی حفاظت حق تعالیٰ شانہ کی جانب سے ہوئی ہے تاکہ دین اسلام رہتی دنیا تک ہر شخص پر حجت رہے۔
جب صاحب قرآن الصادق المصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد لوگوں کے سامنے آتا ہے:
"الا انی اوتیت القرآن ومثلہ معه"۔
(مشکواۃ ص ۲۹)
ترجمہ: ”سنو! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اسی کی مثل کے ساتھ“۔
تو بعض لوگ اس ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے ہیں اور مزے لے لے کر اس پر پھبتیاں اڑاتے ہیں، لیکن انصاف کیجئے کہ کیا اس حدیث شریف میں وہی بات نہیں کہی گئی جس کا اعلان خود قرآن کر رہا ہے؟ کیا ان کو کبھی ان آیات شریفہ کی تلاوت کی بھی توفیق نہیں ہوئی:
"وانزل الله علیک الکتاب والحکمة"۔
"وما انزل علیکم من الکتاب والحکمة"۔
"واذکرن ما یتلیٰ فی بیوتکن من آیات الله والحکمة"۔
یہی حکمت جس کے بارے میں قرآن نے اعلان فرمایا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کے ساتھ نازل کی گئی ہے۔
یہی حکمت جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو آگاہ فرمارہے ہیں کہ ان پر کتاب کے ساتھ حکمت نازل کی گئی ہے۔
۳۱
یہی حکمت جس کے مذاکرہ کا مسلمانوں کی ماؤں (امھات المومنینؓ) کو حکم دیا گیا۔
اگر اسی حکمت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بلیغ پیغمبرانہ الفاظ میں یوں تعبیر فرماتے ہیں:
"الا انی اوتیت القرآن ومثلہ معہ"۔
تو انصاف فرمائیے کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیک وہی بات نہیں دہرائی جس کا بار بار اعلان قرآن کریم نے "الکتاب والحکمہ" کے الفاظ میں فرمایا ہے؟
اس صورت میں اس حدیث کا مذاق اڑانا خود قرآن کا مذاق اڑانا نہیں تو اور کیا ہے؟
یہ تو ایک ضمنی بات تھی، میں جو بات عرض کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ جب قرآن کریم کے اعلان کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزیں دی گئیں، ایک قرآن اور دوسری حکمت۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں کی تعلیم پر مامور بھی کیا گیا تو آنجناب کا یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے علاوہ مسلمانوں کو کسی چیز کی تعلیم نہیں دی، نہ قرآن کے علاوہ کوئی دینی بات اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرمائی، کیا یہ دعویٰ خود قرآن کی زبان سے غلط اور باطل نہیں ہو جاتا؟
۵ ...... یہاں یہ ذکر کر دینا بھی ازبس ضروری ہے کہ ’یہ حکمت نبوی‘ جس کو سنت سے تعبیر کرتے ہیں، اور جس کے قرآن کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کئے جانے کا قرآن اعلان کر رہا ہے یہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت نہیں، بلکہ قرآن ہی یہ بھی ثابت کر رہا ہے کہ ہر نبی کو کتاب کے ساتھ حکمت بھی عطا کی گئی، ملاحظہ فرمائیے:
۱۔ "واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما ۴۲
آتيتكم من كتاب وحكمة"۔
(آل عمران:۸۱)
ترجمہ: ”اور جب کہ اللہ تعالیٰ نے عہد لیا انبیاء (علیہم السلام) سے کہ جو کچھ تم کو کتاب اور علم (شریعت) دوں“۔
۲۔ "ويعلمه الكتاب والحكمة والتوراة والانجیل"۔
(آل عمران:۴۸)
ترجمہ: ”اور اللہ تعالیٰ ان کو (عیسیٰ علیہ السلام کو) تعلیم فرمائیں گے کتابیں اور سمجھ کی باتیں اور تورات اور انجیل“۔ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
۳۔ "واذ علمتك الكتاب والحكمة والتوراة والانجیل"۔
(المائدہ:۱۱۰)
ترجمہ: اور جب کہ میں نے تم کو (عیسیٰ علیہ السلام کو) کتابیں اور سمجھ کی باتیں اور توریت اور انجیل تعلیم کیں“ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
ان آیات شریفہ سے واضح ہے کہ ہر نبی کو (اللہ تعالیٰ کی ان سب پر ہزاروں ہزار رحمتیں وبرکتیں ہوں) کتاب کے ساتھ ساتھ حکمت بھی عطا کی گئی‘ لطیفہ یہ ہے کہ نئی کتاب تو ہر نئے نبی کو نہیں دی گئی‘ بلکہ بہت سے انبیاء کرام (علیہم السلام) پہلی کتاب کے پابند تھے‘ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات دی گئی‘ اور ان کے بعد بنی اسرائیل میں ہزاروں نبی آئے‘ جیسا کہ خود قرآن کریم کا ارشاد ہے:
"ولقد آتينا موسى الكتاب وقفينا من بعده بالرسل واتينا عيسى ابن مريم البينت
۳۳
وایدناہ بروح القدس۔
(البقرۃ:۸۷)
ترجمہ: "اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی، اور ان کے بعد یکے بعد دیگرے پیغمبروں کو بھیجتے رہے، اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو واضح دلائل عطا فرمائے، اور ہم نے روح القدس سے تائید دی۔"
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
"انا انزلنا التوراۃ فیہا ہدیٰ ونور یحکم بہا النبیون الذین اسلموا للذین ہادوا والربانیون والاحبار بما استحفظوا من کتاب اللہ وکانوا علیہ شہداء"۔
(المائدہ:۴۴)
ترجمہ: "ہم نے توریت نازل فرمائی، جس میں ہدایت تھی اور وضوح تھا، انبیاء جو کہ اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے اس کے موافق یہود کو حکم دیا کرتے تھے، اور اہل اللہ اور علماء بھی، بوجہ اس کے کہ ان کو اس کتاب کی نگہداشت کا حکم دیا گیا تھا، اور وہ اس کے اقراری ہوگئے تھے۔"
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
یہ انبیا کرام علیہم السلام جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد یہود کی اصلاح و تربیت کے لئے تشریف لاتے رہے ان کی کتاب تو وہی "کتاب موسیٰ" (تورات) تھی، لیکن ظاہر ہے کہ ان پر وحی بھی نازل ہوتی تھی، کیونکہ یہی چیز ایک نبی کو غیر نبی سے ممتاز کرتی ہے۔
بہر حال قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے کہ ہر نبی کو کتاب کے ساتھ حکمت عطا کی گئی، ہر نبی پر کتاب کے علاوہ وحی نازل ہوتی رہی، جو حکمت پر مشتمل
۴۴
تھی، جس کے ذریعہ حضرات انبیا کرام علیہم السلام کتاب الہی کے صحیح منشا کو مراد خداوندی کے مطابق خود سمجھتے تھے اور دوسروں کو سمجھاتے تھے۔ خود عمل فرماتے تھے اور دوسروں سے عمل کرواتے تھے، پس کتاب الہی کا فہم و تفہیم، اس کی تعلیم و تبلیغ اس کی تعمیل و تنفیذ اسی حکمت کی روشنی میں ہوتی تھی جو انبیا کرام علیہم السلام کو وحی الہی کے ذریعہ القا کی جاتی تھی، گویا کتاب اور حکمت نبوی دونوں لازم و ملزوم ہیں، دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔
یہیں سے یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ "حکمت" جو انبیا کرام علیہم السلام کو بذریعہ وحی دی گئی، حضرات اہل علم کی اصطلاح میں اس کو "وحی خفی" کہا جاتا ہے، کتاب کی وحی "وحی جلی" کہلاتی ہے، اور "حکمت کی وحی" وحی خفی کہلاتی ہے، جو لوگ قرآن کی "کتاب و حکمت" کو نہیں سمجھتے، اور جو حقیقت نبوت اور مرتبہ نبوت سے نا آشنا ہیں وہ "وحی جلی" اور "وحی خفی" کے الفاظ کا مذاق اڑانا، تمغہ دانشوری سمجھتے ہیں، لیکن جن لوگوں کو حق تعالیٰ شانہ نے چشم بصیرت عطا فرمائی ہے ان کے لئے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ "وحی جلی" اور "وحی خفی" کی اصطلاح قرآن ہی کے الفاظ "کتاب و حکمت" کے مراتب کی تعیین و تشخیص ہے۔
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے
۶...... کتاب و حکمت کے عطا کئے جانے کے بعد نبیؐ کا ظاہر و باطن اور قلب و قالب رضائے الہی پر ڈھل جاتا ہے، چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:
قل ان صلواتی ونسکی ومحیای ومماتی لله رب العالمينO لا شريك له وبذالک امرت وانا اول المسلمينO -
(الانعام: ۱۶۲۔۱۶۳)
۳۵
ترجمہ: ”آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادات اور میرا جینا اور مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے، جو مالک ہے سارے جہاں کا، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے، اور میں سب ماننے والوں میں پہلا ہوں“۔ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
دوسری جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
”اذ قال لہ ربہ اسلم‘ قال اسلمت لرب العالمین“۔
(البقرۃ:۱۳۱)
ترجمہ: ”جب کہ ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ تم اطاعت اختیار کرو‘ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اطاعت اختیار کی رب العالمین کی“۔ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”ما بال اقوام يتنزهون عن الشیء اصنعہ‘ فو اللہ انی اعلمہم باللہ واشدہم لہ خشیۃ“۔
(متفق علیہ‘ مشکوۃ‘ ص۲۷)
ترجمہ: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی چیز سے پرہیز کرتے ہیں جس کو میں کرتا ہوں، پس اللہ کی قسم! میں ان سب سے زیادہ اللہ کو مانتا ہوں، اور سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں“۔
نبیؐ کا دل وحی الہی سے سراپا نور اور رشک صد شعلہ طور بن جاتا‘ اور یہ نور وحی اس کی روح و قلب میں سرایت کر جاتا ہے تو نبیؐ کا ہر قول و فعل
۳۶
مرضی الٰہی کے سانچے میں ڈھل کر نکلتا ہے، گویا نبیؐ کا قول وفعل خود رضائے الٰہی کا پیمانہ بن جاتا ہے، نبیؐ کو من جانب اللہ ایک شاہراہ اور ایک صراط مستقیم عطا کیا جاتا ہے، جس کو چشم نبوت دیکھتی ہے، مگر دوسروں کے سامنے اس کا ظہور نبیؐ کے قول وفعل اور کردار وگفتار میں ہوتا ہے، اسی کا نام شریعت ہے:
"ولکل جعلنا منکم شرعۃ ومنہاجا"۔
(المائدہ: ۴۸)
ترجمہ: "تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے خاص شریعت اور خاص طریقت تجویز کی تھی"۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
"ثم جعلناک علی شریعۃ من الامر فاتبعہا ولا تتبع اھواء الذین لا یعلمون"۔
(الجاثیہ: ۱۸)
ترجمہ: "پھر ہم نے آپؐ کو دین کے ایک خاص طریقہ پر کردیا، سو آپؐ اسی طریقہ پر چلتے رہئے اور جہلاء کی خواہشوں پر نہ چلئے"۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
قرآن کریم کی ان آیات بینات سے واضح ہے کہ نبیؐ پر نازل کی جانے والی کتاب و حکمت ایک روح ہے جو نبیؐ کے قول وفعل اور اس کی سنت کے قالب میں جلوہ گر ہوتی ہے، وہ برگِ گل ہے تو یہ بوئے گل ہے، کسی نے قرآن وحکمت کا جلال وجمال ظاہری آنکھوں سے دیکھنا ہو تو اسے نبیؐ کے قول وفعل اور اس کی سنت میں جلوہ گر دیکھ لے، زیب النساء المتخلص بہ "مخفی" مرحومہ کے بقول:
۳۷
ہر کہ دیدن میل دارد در سخن بیند مرا
ترجمہ: جس طرح بوئے گل برگ گل میں مخفی ہوتی ہے، اسی طرح میں اپنے سخن میں مخفی ہوں جو شخص مجھے دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو وہ مجھے میرے کلام میں دیکھے۔
چونکہ نبیؐ کی پوری شخصیت سراپا مرضی الٰہی بن جاتی ہے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی کو اہل ایمان کے لئے اسوہ حسنہ (بہترین نمونہ) قرار دیا گیا ہے:
”لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجو اللہ والیوم الاخر وذکر اللہ کثیرا ۔“
(الاحزاب:۲۱)
ترجمہ: ”تم لوگوں کے لئے یعنی ایسے شخص کے لئے جو اللہ سے اور روز آخرت سے ڈرتا ہو، اور کثرت سے ذکر الٰہی کرتا ہو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ایک عمدہ نمونہ موجود تھا“۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و فعل، آپؐ کا اسوہ حسنہ، اور آپؐ کی سنت مطہرہ ہی وہ شریعت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو قائم کیا تھا، اور یہی وہ صراط مستقیم ہے جس پر چلنے کی توفیق ہر نماز کی ہر رکعت میں طلب کی جاتی ہے:
”اھدنا الصراط المستقیم (یا اللہ! ہمیں صراط مستقیم کی ہدایت نصیب فرما)
- ۷....... گزشتہ نکات سے واضح ہوچکا ہے کہ کتاب و حکمت ہر نبیؐ کو دی گئی،
۳۸
جو ہر نبی کے قول وفعل اور اس کی سنت کی شکل میں جلوہ گر ہو کر ان کی امت کے لئے شریعت بنی‘ اسی بناء پر ہر امت کو اپنے نبی کی اطاعت کا حکم دیا گیا:
"وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله" -
(النساء : ۶۴)
ترجمہ: ”اور ہم نے تمام پیغمبروں کو خاص اسی واسطے مبعوث فرمایا ہے کہ بہ حکم خداوندی ان کی اطاعت کی جاوے“۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
چونکہ نبیؐ سراپا طاعت خداوندی ہوتا ہے اس لئے اس کی اطاعت کو عین اطاعت خداوندی قرار دیا گیا:
"ومن يطع الرسول فقد اطاع الله ومن تولى فما ارسلناک علیهم حفیظا" -
(النساء : ۸۰)
ترجمہ: ”جس شخص نے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو شخص روگردانی کرے سو ہم نے آپ کو ان کا نگران کر کے نہیں بھیجا“۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کتاب وحکمت عطا کی گئی‘ اور جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل میں ڈھل کر شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیمات کی شکل اختیار کی‘ اس میں اور پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کو عطا کی جانے والی کتاب وحکمت اور سنت وشریعت میں چند وجہ سے فرق ہے:
- O ایک یہ کہ پہلے انبیاء کرام (علیہم السلام) خاص وقت اور خاص قوم
کی ہدایت ورہنمائی کے لئے تشریف لاتے تھے لامحالہ ان کی کتاب وحکمت بھی
۳۹
اور سنت و شریعت بھی اسی خاص وقت یا قوم کے پیمانے سے محدود تھی، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی آخر الزمان ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ونبوت کسی خاص وقت وقوم اور زمان ومکان کے پیمانے سے محدود نہیں، بلکہ کون ومکان اور زمین وزمان سب کو محیط ہے، تمام آفاق انفس اور تمام زمان ومکان واکوان اس کے وسیع ترین دائرے میں سمٹے ہوئے ہیں، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی کتاب وحکمت اور ایسی سنت وشریعت عطا کی گئی جو تمام آفاق وزمان کو محیط ہو، اور ہر قوم ہر ملک اور ہر زبان ومکان کی ہدایت کے لئے مکتفی ہو، ایسی جامع ہدایت اور شریعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئی۔
- ایک یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری چونکہ تمام
انبیا کرام علیہم السلام کے بعد ہوئی، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی کتاب اور ایسی حکمت عطا کی گئی جو گزشتہ تمام کتابوں اور حکمتوں کی جامع ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب (قرآن مجید) کو تمام کتابوں کی مصدق اور ان کے علوم ومعارف کی محافظ (مہیمن) فرمایا ہے: (المائدہ: ۴۸)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطہرہ گویا تمام انبیا کرام علیہم السلام کی سنتوں کا مجموعہ ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت تمام سابقہ شریعتوں کا عطر۔
اس تنقیح کو انہی معروضات پر ختم کرتے ہوئے آنجناب کے فہم سلیم وعقل مستقیم سے توقع رکھتا ہوں کہ اس کم فہم ہیچمدان نے جو کچھ عرض کیا ہے (اور تمام مطالب کو اپنے فہم ناقص کے مطابق آیات بینات سے مرصع کیا ہے) اگر بنظر فہم وانصاف غور فرمائیں گے تو آنجناب علم ودانش کی روشنی میں خود یہ فیصلہ فرمائیں گے کہ:
- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ۲۳ سالہ دور میں صرف
قرآن کریم پڑھ کر سنانے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ وحی الٰہی اور حکمت ربانی کی ۴۰
روشنی میں اس کی تعلیم بھی فرمائی۔
- ◯ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کے ساتھ ساتھ حکمت
بھی نازل کی گئی‘ اور آپؐ اس کی تعلیم پر بھی مامور تھے۔
- ◯ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قولی و عملی تعلیم سے اسلام کے
اصول و فروع کی تشکیل ہوئی‘ اور جس شریعت پر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قائم فرمایا تھا وہ کامل و مکمل شکل میں جلوہ گر ہوئی۔
- ◯ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی ملت بیضا اور یہی شریعت
غرا ہے جو انسانیت کی شاہراہ اعظم ہے جس کے لئے ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا‘ اور یہی وہ صراط مستقیم ہے جس کی قرآن کریم نے دعوت دی‘ اور آج بھی پوری انسانیت کو جس کی دعوت دے رہا ہے‘ اور قیامت تک دیتا رہے گا۔
”وان ھذا صراطی مستقیماً فاتبعوہ ولا تتبعوا السبل فتفرق بکم عن سبیلہ ذلکم وصکم بہ لعلکم تتقون◯
(الانعام:۱۵۳)
ترجمہ: ”اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے‘ جو کہ مستقیم ہے‘ سو اس راہ پر چلو‘ اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی‘ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے‘ تاکہ تم احتیاط رکھو“۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
اس آیت شریفہ کی تفسیر خود صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمائی:
”وعن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال ۴۱
خط لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم خطا ثم قال هذا سبيل الله‘ ثم خط خطوطا عن يمينه وعن شماله وقال : هذه سبل‘ على كل سبيل منها شيطان يدعو اليه‘ وقرأ صلى الله عليه وسلم : ”وان هذا صراطی مستقیماً فاتبعوہ“ الا یہ۔
(رواہ احمد والنسائی والدارمی‘ مشکوۃ : ص۳۰)
ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک خط کھینچا‘ پھر فرمایا: ”یہ تو اللہ کا راستہ ہے“۔ پھر اس کے دائیں بائیں خطوط کھینچے اور فرمایا: یہ دوسرے راستے ہیں‘ ان میں سے ہر راستے پر ایک شیطان کھڑا لوگوں کو اس کی دعوت دے رہا ہے‘ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت شریفہ تلاوت فرمائی: وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ الایہ‘ (یہ وہی آیت شریفہ ہے جس کا ترجمہ اوپر نقل کیا گیا)“۔
- O حامل قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات‘ آپؐ کے ارشادات
واقوال‘ آپؐ کا عملی اسوہ حسنہ اور آپؐ کی سنت مطہرہ قرآن کریم کے مقابل و محاذی نہیں بلکہ ”برگ گل“ سے مہکنے والی ”بوئے گل“ ہے۔
- O قرآن فہمی کے لئے یا کسی بھی دینی عقیدہ وعمل کے لئے سنت سے
رجوع کرنا قرآن کریم کی جامعیت وکمال کی نفی نہیں‘ بلکہ اس کے جامع ومکمل کتاب ہونے کا اثبات ہے‘ کیونکہ صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی جو تشریحات اپنے قول وعمل سے الہام ربانی اور وحی الہی کی روشنی
۴۲
میں فرمائی ہیں وہ قرآن کریم ہی کے اجمال کی تفصیل، اسی کے مطالب کی تشریح اور اسی کے مقاصد کی تکمیل ہے۔
- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والوں کے لئے آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی و عملی سنت واجب التسلیم بھی ہے اور واجب العمل بھی۔ کیونکہ یہ عقلاً ناممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کتاب الٰہی اپنی زبان مبارک سے پڑھ کر سنائیں اس پر تو ایمان لانا واجب ہو، اور بحکم خداوندی اس کے احکام کی جو تشریح و تکمیل فرمائیں ان کو نہ تو ماننا ضروری ہو اور نہ ان پر عمل کرنا لازم ہو۔
- شریعت محمدیہ (صلی اللہ علی صاحبہا و سلم) جو قرآن کریم اور اس کی
تشریحات نبویہؐ سے تشکیل پاتی ہے، چونکہ قیامت تک کے لئے ہے، لہٰذا ضروری ہوا کہ قیامت تک قرآن کریم بھی محفوظ رہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل سے اس کی جو تشریح و تکمیل فرمائی ہے وہ بھی قیامت تک محفوظ رہے، کہ اس کے بغیر بعد میں آنے والی نسلوں پر ”اللہ کی حجت“ قائم نہیں ہو سکتی تھی۔ وللہ الحجۃ البالغۃ۔
تنقیح سوم
آنجناب تحریر فرماتے ہیں:
”جس مسئلہ کا قرآن میں کوئی تذکرہ نہ ہو وہ عقائد و ایمانیات کا مسئلہ ہرگز نہیں ہو سکتا، اور اسی وجہ سے وہ مدار کفر و ایمان نہیں ہو سکتا“۔
چونکہ یہ فقرہ پہلی دو تنقیحات کا نتیجہ ہے، اس لئے گزشتہ تنقیحات کے
۴۴
ذیل میں جو کچھ لکھ چکا ہوں اس پر غور فرما لینا کافی ہوگا‘ تاہم ”مدار کفر و ایمان“ کی وضاحت کے لئے چند نکات عرض کرتا ہوں‘ واللہ الموفق۔
۱........ آنجناب کے خیال میں مدار کفر و ایمان صرف وہ مسئلہ ہے جو قرآن کریم میں مذکور ہو‘ کہ اس پر ایمان لانا ضروری ہے‘ اور اس کا انکار کفر ہے۔ بخلاف اس کے جو مسئلہ قرآن کریم میں صراحتاً مذکور نہیں‘ نہ اس پر ایمان رکھنا ضروری ہے‘ اور نہ اس کا انکار کر دینا کفر ہے‘ مگر جناب کا یہ خیال صحیح نہیں کیونکہ مدار کفر و ایمان کسی مسئلہ کا قطعی ثبوت ہے‘ پس دین اسلام کی جو باتیں قطعی ثبوت کے ساتھ ہم تک پہنچی ہیں ان کا ماننا شرط ایمان ہے اور ان میں سے کسی کا انکار کر دینا کفر ہے۔
۲........ کسی چیز کا قطعی یقین حاصل ہونے کے عقلاً دو طریقے ہیں:
اول یہ کہ آدمی اپنی آنکھوں سے کسی چیز کو دیکھ لے یا خود اپنے کانوں سے کسی بات کو سن لے تو اس کا قطعی یقین حاصل ہو جاتا ہے۔
دوم یہ کہ خبر متواتر کے ذریعہ ہمیں وہ بات پہنچی ہو‘ یعنی کسی بات کو اس قدر کثیر التعداد لوگوں نے نقل کیا کہ عقل یہ تسلیم نہیں کرتی کہ ان سب لوگوں نے جھوٹ پر اتفاق کر لیا ہوگا‘ مثلاً لندن یا نیویارک کا شہر بہت سے لوگوں نے نہیں دیکھا ہوگا لیکن ان کو بھی ان دونوں شہروں کا اتنا ہی یقین ہے جتنا کہ خود اپنی آنکھ سے دیکھنے والوں کو۔ جب کوئی خبر نقل متواتر کے ذریعے ہم تک پہنچے تو ہمیں اس کا ایسا ہی یقین حاصل ہو جاتا ہے جیسا کہ آنکھوں دیکھی چیز کا‘ اور کانوں سنی بات کا۔
۳........ جن لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بالمشافہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنے ان کے لئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک بات
۴۴
قطعی و یقینی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات کو ماننا شرط ایمان، اور کسی ایک بات کا انکار کرنا کفر ہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ۲۳ سالہ دور نبوت میں ایک واقعہ بھی ایسا پیش نہیں کیا جاسکتا کہ کسی مسلمان نے یہ کہا ہو کہ جو بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے حوالے سے بیان فرمائیں اس پر تو ہم ایمان لاتے ہیں، اور جو بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سے باہر بیان کرتے ہیں ہم اس کو نہیں مانتے۔
- ۴......... جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آئے انہوں نے
نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قرآن کریم کو سنا، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین اسلام کی کوئی بات براہ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کی۔ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا قرآن، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی ایک ایک بات نقل و روایات کے ذریعہ پہنچی، پس بعد والوں کے لئے ان تمام چیزوں کے ثبوت کا مدار نقل و روایت پر ٹھہرا۔
- ۵......... پس دین اسلام کی جو باتیں نقل متواتر کے ذریعہ ہم تک
پہنچیں، وہ ہمارے لئے اتنی ہی قطعی و یقینی ہیں گویا ہم نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان وحی ترجمان سے ان کو سنا ہے، ایسی تمام چیزیں جو نقل متواتر کے ذریعہ ہمیں پہنچی ہیں ان کو ”ضروریات دین“ کہا جاتا ہے۔ ان تمام ”ضروریات دین“ کو ماننا شرط ایمان ہے اور ان میں سے کسی ایک بات کا انکار کر دینا کفر ہے۔
آپ ذرا غور و فکر سے کام لیں گے تو واضح ہوگا کہ خود قرآن کریم کا، اور اس کے ایک ایک حرف کا ماننا اور اس پر ایمان لانا بھی ہمارے لئے اسی
۴۵
وجہ سے ضروری ہے کہ یہ نقل متواتر کے ذریعے سے ہم تک پہنچا ہے‘ اسی طرح دیگر ”ضروریات دین“ جو نقل متواتر کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں‘ اس لئے ان کا ماننا اور ان پر ایمان لانا بھی لازم ہوگا‘ کیونکہ اگر اہل تواتر قرآن کریم کے نقل کرنے میں سچے ہیں تو لا محالہ دیگر ”ضروریات دین“ کے نقل کرنے میں لائق اعتماد ہوں گے۔ اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ ”ضروریات دین“ میں سے کسی ایک بات کے نقل کرنے میں وہ لائق اعتماد نہیں تو ..... نعوذ باللہ .... وہ قرآن کریم کے نقل کرنے میں بھی لائق اعتماد نہیں رہتے۔
- ۶....... تواتر کی چار قسمیں ہیں: تواتر لفظی‘ تواتر معنوی‘ تواتر قدر
مشترک اور تواتر طبقہ عن طبقہ ..... تواتر کی یہ چاروں قسمیں یقین اور قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں‘ اور ان کے ذریعہ حاصل ہونے والی خبر قطعی اور یقینی کہلاتی ہے۔ جیسا کہ آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی چیز‘ اور بحمد اللہ! کہ دین اسلام کا ایک بڑا حصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک قطعی اور متواتر چلا آرہا ہے۔
- ۷....... جو خبر کہ درجہ تواتر کو نہ پہنچی ہو وہ ”خبر واحد“ کہلاتی ہے‘
اور ”خبر واحد“ کی تین قسمیں ہیں:
- ۱- وہ خبر جس کے نقل کرنے والے حفظ و اتقان اور دیانت و امانت کے
لحاظ سے لائق اعتماد ہوں‘ ایسی خبر کو اصطلاحاً ”صحیح“ کہا جاتا ہے (حدیث حسن بھی اسی میں داخل ہے)۔
- ۲- وہ خبر جس کے نقل کرنے والے مندرجہ بالا صفات میں پوری طرح
لائق اعتماد نہ ہوں تاہم ان پر جھوٹ بولنے کی تہمت نہیں‘ ایسی روایت کو ”ضعیف“ کہا جاتا ہے۔
- ۳- وہ خبر جس کے نقل کرنے والوں میں سے کسی پر جھوٹ بولنے کی
۴۶
تہمت ہو، یا اسی نوعیت کی کوئی اور جرح ہو، ایسی روایت کو ”موضوع“ (یعنی من گھڑت) کہا جاتا ہے۔
دین اسلام کی جو باتیں ”صحیح“ نقل و روایت سے ہم تک پہنچی ہیں اگرچہ وہ ایمانیات میں داخل نہیں، اور نہ ان کو مدار کفر و ایمان قرار دیا جاتا ہے، تاہم وہ واجب العمل ہیں۔ گویا یہ نقل موجب قطعیت نہیں، لیکن موجب عمل ہے۔
”ضعیف“ روایات نہ موجب یقین ہیں اور نہ موجب عمل۔ البتہ ان کو قطعی طور پر من گھڑت اور موضوع قرار دینا بھی درست نہیں ہے بلکہ بعض موقعوں پر فضائل اعمال میں بشرائط معروفہ ان پر عمل کی گنجائش ہے۔
۸......... دین اسلام کا بیشتر حصہ اخبار صحیحہ و مقبولہ کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے، اور ”اخبار آحاد“ کا لائق اعتماد ہونا دنیا بھر کی عدالتوں میں اور تمام مہذب معاشروں میں مسلم ہے، جب کہ ان کے نقل کرنے والے لائق اعتماد ہوں، یہاں اس کی وضاحت کے لئے چند مثالیں ذکر کر دینا کافی ہے:
- ○ ایک شخص دوسرے پر ایک لاکھ روپے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس
کے ثبوت میں دو عادل اور ثقہ گواہوں کی شہادت پیش کر دیتا ہے، مدعا علیہ ان گواہوں کی دیانت و امانت پر کوئی جرح نہیں کرتا۔ عدالت ان دو گواہوں کی شہادت پر اعتماد کرتے ہوئے مدعا علیہ کے خلاف ڈگری صادر کر دے گی۔
- ○ کسی مقتول کا وارث کسی شخص پر اس کے قتل کا دعویٰ کرتا ہے، اور
اس دعویٰ کے ثبوت میں دو لائق اعتماد اور ثقہ گواہ پیش کر دیتا ہے، اور وہ چشم دید گواہی دیتے ہیں کہ اس شخص نے ہمارے سامنے اس مقتول کو قتل کیا تھا، مدعا علیہ ان گواہوں کی دیانت و امانت کو چیلنج نہیں کر سکتا، تو عدالت ان دو گواہوں کی شہادت پر مدعا علیہ کے خلاف فیصلہ کر دے گی۔
- ○ ایک شخص کسی خاتون پر دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اس کی بیوی ہے اور
۴۷
اپنے دعویٰ پر نکاح کے دو گواہ پیش کر دیتا ہے‘ وہ خاتون ان گواہوں کی دیانت وامانت پر جرح نہیں کر سکتی تو عدالت اس نکاح کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگی۔
میں نے یہ تین مثالیں ذکر کی ہیں‘ ایک مال سے متعلق ہے‘ دوسری جان سے‘ اور تیسری عزت وناموس سے..... گویا دنیا بھر کی عدالتیں جان ومال اور عزت و آبرو کے معاملات میں ”خبرواحد“ پر اعتماد کرتی ہیں‘ اور دنیا بھر کا نظام عدل ”خبرواحد“ کو لائق اعتماد قرار دینے پر قائم ہے۔
- ۹........ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا جائے
تو معلوم ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ ”خبرواحد“ کو لائق اعتماد اور واجب العمل قرار دیتے تھے۔ اس کی چند مثالیں عرض کرتا ہوں
- O آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شمار صحابہ کرامؓ کو دعوت
اسلام کے لئے بھیجا‘ بہت سے لوگ ان کی دعوت پر مشرف باسلام ہوئے مگر کسی نے یہ نکتہ نہیں اٹھایا کہ اس مبلغ کی خبر ”خبرواحد“ ہے‘ لہٰذا لائق اعتبار نہیں‘ نہ اس کی خبر پر عمل کرنا ضروری ہے۔
- O آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی جگہ صدقات وصول کرنے
کے لئے عاملین کو بھیجا۔ وہ ان علاقوں میں گئے اور صدقات وصول کرکے لائے‘ مگر کسی نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ یہ عامل صاحب فرد واحد ہیں‘ ان کی خبر کا کیا اعتبار؟
- O آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد صحابہ کرامؓ کو حاکم کی حیثیت
سے بھیجا‘ اور ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے حاکموں کو بسرو چشم قبول کیا‘ اور کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ ان صاحب کا یہ کہنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا حاکم ہوں‘ خبرواحد ہے‘ اور خبرواحد لائق اعتماد نہیں۔
۴۸
- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہان عالم اور رئیسان ممالک کے
نام گرامی نامے تحریر فرمائے اور ان کو اپنے معتمد صحابہ کرامؓ کے ہاتھ بھیجا‘ جن لوگوں کے پاس یہ گرامی نامے پہنچے انہوں نے ان پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا‘ مگر کسی کے ذہن میں یہ نکتہ نہیں آیا کہ اس خط کے لانے والا فرد واحد ہے‘ اور ”خبر واحد“ لائقِ اعتبار نہیں۔
ان اجمالی اشارات سے واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ نے خبر واحد کو حجت ملزمہ قرار دیا۔ علاوہ ازیں قرآن کریم بھی ”خبر واحد“ کو حجت قرار دیتا ہے‘ مگر چونکہ بحث غیر ضروری طور پر پھیل رہی ہے‘ اس لئے تفصیل کو چھوڑتا ہوں۔
مندرجہ بالا نکات کا خلاصہ یہ ہے کہ:
- پورے دین کا مدار نقل و روایت پر ہے۔
- دین اسلام کا جو حصہ نقل متواتر سے پہنچا اس کا ثبوت قطعی و یقینی
ہے‘ اس کو ماننا شرط ایمان ہے‘ اور اس میں سے کسی چیز کا انکار کفر ہے۔
- اگر متواترات دین کا اعتبار نہ کیا جائے تو قرآن کریم کا ثبوت بھی
ممکن نہیں۔
- اخبار صحیحہ و مقبولہ کے ذریعہ جو کچھ پہنچا وہ واجب العمل ہے۔
- البتہ اخبار ضعیفہ پر عمل نہیں کیا جاتا‘ نہ اخبار موضوعہ پر۔
اس تمام تفصیل کو نظر انداز کرکے تمام روایات کو ایک ہی ڈنڈے سے ہانکنا اونٹ اور بلی کو ایک ہی زنجیر میں باندھنے کے مترادف ہے‘ ظاہر ہے کہ یہ صحت فکر کے منافی ہے۔
- ۱۰........ آئیے! اب قرآن کریم کی روشنی میں اس پر غور کریں کہ جو
چیز قرآن کریم میں مذکور نہ ہو‘ آیا وہ مدار کفر و ایمان ہو سکتی ہے یا نہیں؟
- قرآن کریم نے بار بار اقامت صلاۃ کا حکم فرمایا ہے‘ مگر یہ تفصیل
ذکر نہیں فرمائی کہ دن میں کتنی نمازیں پڑھی جائیں؟ کن کن وقتوں میں پڑھی جائیں؟ اور ہر نماز کی کتنی رکعتیں پڑھی جائیں؟ یہ تمام چیزیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت متواترہ سے ثابت ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مسعود سے لے کر آج تک ہر دور اور ہر زمانے میں جس طرح امت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب کو نقل کیا ہے، اسی طرح نماز پنج گانہ کو، ان کی تعداد رکعات کو، اور ان کے اوقات وشرائط کو بھی نقل کیا ہے، چونکہ یہ تمام چیزیں نقل متواتر سے ثابت ہیں اس لئے ان کو ماننا شرط ایمان ہے، اور ان کا انکار قطعی کفر ہے، اور یہ ایسا ہی کفر ہے جیسے کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی کتاب کا انکار کرڈالے۔ کیونکہ یہ دونوں چیزیں جس تواتر سے ثابت ہیں اسی تواتر سے نماز پنج گانہ بھی ثابت ہے، اور جو چیزیں تواتر سے ثابت ہوں ان میں سے کسی ایک چیز کا انکار تمام متواترات کا انکار ہے، چنانچہ قرآن کریم نے بھی اس کو کافروں کے جرائم میں نقل کیا ہے، سورہ مدثر میں ارشاد ہے کہ ”جب کافروں سے پوچھا جائے گا کہ تم کو دوزخ میں کس چیز نے داخل کیا؟ وہ جواب دیں گے:
”لم نک من المصلین“۔ ترجمہ: ”ہم نہیں تھے نماز پڑھنے والوں میں“۔
یعنی کفار یہ اقرار کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز مسلمانوں کو تعلیم فرمائی ہم اس کے قائل نہیں تھے، اس سے ثابت ہوا کہ نماز پنج گانہ پر ایمان لانا فرض ہے، اور اس کا انکار کفر ہے کیونکہ اگر اس نماز پر ایمان لانا ضروری نہ ہوتا تو قرآن کریم اس کو کفار کے اقرار کفر میں کیوں نقل کرتا؟
- اسی طرح قرآن کریم نے زکوۃ کا حکم فرمایا، لیکن زکوۃ کا نصاب کیا
۵۰
ہے؟ کن کن مالوں پر زکوۃ ادا کی جائے گی اور مقدار زکوۃ کتنی ہے؟ یہ ساری تفصیلات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائیں۔ جو امت میں تواتر کے ساتھ منقول ہیں۔ اب اگر کوئی شخص اس زکوۃ کا منکر ہو وہ مسلمان نہیں ہو گا، قرآن کریم کا فتویٰ سنئے !
”وويل للمشركين الذين لا يؤتون الزكوة وهم بالاخرة هم كافرون“۔
(حم السجدہ: ۷)
ترجمہ: ”اور ایسے مشرکوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو زکوۃ نہیں دیتے اور وہ آخرت کے منکر ہی رہتے ہیں“۔
- ○ اسی طرح قرآن کریم نے حج کی فرضیت کو ذکر فرمایا، لیکن حج کس
طرح کیا جائے؟ کس طرح احرام باندھا جائے، کس طرح دیگر مناسک ادا کئے جائیں؟ یہ تمام تفصیلات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل سے ارشاد فرمائیں، اور یہ طریقہ حج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر آج تک امت میں متواتر چلا آیا ہے، اگر کوئی شخص حج کے ان متواتر افعال کا منکر ہو وہ مسلمان نہیں ہو گا، چنانچہ قرآن کریم نے فرضیت حج کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
”ومن كفر فان الله غنى عن العلمين“۔
(آل عمران: ۹۷)
ترجمہ: ”اور جو شخص منکر ہو تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے غنی ہیں“۔
معلوم ہوا کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلیم کردہ حج کا منکر ہو وہ کافر ہے۔
ان مثالوں سے واضح ہوا کہ جو شخص متواترات دین کا منکر ہو وہ مسلمان نہیں، خواہ وہ قرآن کریم میں مذکور ہوں یا قرآن کریم سے باہر کی چیز
۵۱
ہوں۔
۱۱۔ ......... اس پر بھی غور فرمائیے کہ قرآن کریم ان چیزوں میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو شرط ایمان قرار دیتا ہے جو قرآن کریم میں مذکور نہیں، چنانچہ سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہے:
”وما کان لمؤمن ولا مؤمنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم‘ ومن یعص اللہ ورسولہ‘ فقد ضل ضلالا مبینا“۔
(الاحزاب: ۳۶)
ترجمہ: ”اور کسی ایماندار مرد اور کسی ایماندار عورت کو گنجائش نہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کسی کام کا حکم دے دیں کہ (پھر) ان (مؤمنین) کو ان کے کسی کام میں کوئی اختیار (باقی) رہے، اور جو شخص اللہ کا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کہنا نہ مانے گا وہ صریح گمراہی میں پڑا“۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
اس آیت شریفہ میں چند امور توجہ طلب ہیں:
- ○ یہ آیت شریفہ ایک خاص واقعہ سے متعلق ہے، وہ یہ کہ آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زیدؓ کا نکاح اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب بنت جحشؓ سے کرنا چاہا، چونکہ حضرت زیدؓ عام لوگوں میں غلام مشہور ہوچکے تھے، اس لئے حضرت زینبؓ اور ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن جحشؓ نے اس رشتہ کی منظوری سے عذر کیا، اس پر یہ آیت شریفہ نازل ہوئی تو یہ حضرات سمع و طاعت بجالائے۔
(بیان القرآن)
- ○ کسی لڑکی کا نکاح کہاں کیا جائے اور کہاں نہ کیا جائے؟ یہ ایک
۵۲
خالص ذاتی اور نجی معاملہ ہے، جو لڑکی اور اس کے اولیا کی رضا پر موقوف ہے، لیکن اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے ایسے ذاتی اور خالص نجی معاملہ میں کوئی حکم صادر فرما دیں تو ان کے حکم کی تعمیل واجب ہو جاتی ہے۔
- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم فرمایا تھا کہ حضرت زینبؓ کا
نکاح حضرت زیدؓ سے کر دیا جائے اس کے بارے میں قرآن کریم کی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی تھی، بلکہ یہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی خفی کے ذریعہ ذاتی طور پر ارشاد فرمایا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ اس کو ”اللہ و رسول کا حکم“ فرما رہے ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے جو حکم بھی صادر ہو وہ ”اللہ و رسول کا حکم“ ہے، اور اہل اسلام پر اس کی تعمیل واجب ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے حکم صادر ہونے کے بعد اس کو قرآن کریم میں ڈھونڈنا، اور اگر وہ قرآن کریم میں نہ ملے تو اس کے ماننے سے انکار کر دینا غیر دانشمندی کا ایسا مظاہرہ ہے، جس کی قرآن کریم اجازت نہیں دیتا۔
- قرآن کریم نے اس حکم کی ابتدا اس عنوان سے فرمائی کہ ”کسی
ایماندار مرد اور کسی ایماندار عورت کے لئے گنجائش نہیں“ اس عنوان سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و فرامین کی تعمیل مقتضائے ایمان ہے اور ان سے انحراف تقاضائے ایمان کے منافی ہے۔
- آخر میں فرمایا کہ ”جو شخص اللہ و رسول کے حکم کی نافرمانی کرے وہ
صریح گمراہی میں جا پڑا“ اگر کوئی شخص اللہ و رسول کے حکم کو واجب التعمیل سمجھنے کے باوجود اس کی نافرمانی کرتا ہے تو یہ عملی گمراہی درجہ فسق میں ہوگی، اور اگر اللہ و رسول کے حکم کو واجب التعمیل ہی نہیں سمجھتا تو صریح گمراہی درجہ کفر میں ہوگی، اور آیت شریفہ میں صریح گمراہی سے یہی مراد ہے۔ واللہ
۵۳
اعلم
- ○ اس آیت شریفہ سے ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے
صریح حکم کو قبول کرنا (خواہ قرآن کریم میں مذکور نہ ہو) ایمان ہے، اور اس سے انحراف کرنا کفر ہے۔
- ۱۲........ سورۃ النساء میں ارشاد ہے:
" من يطع الرسول فقد اطاع اللہ، ومن تولی فما ارسلناک علیہم حفیظا "۔
(النساء:۸۰)
ترجمہ: ”جس شخص نے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا تعالیٰ کی اطاعت کی، اور جو شخص (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت) سے روگردانی کرے سو (آپؐ کچھ غم نہ کیجئے، کیونکہ) ہم نے آپؐ کو ان کا نگران کر کے نہیں بھیجا (کہ آپؐ ان کو کفر نہ کرنے دیں)“۔
(بیان القرآن)
اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بعینہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وحی الٰہی کے ترجمان ہیں، لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا التزام شرط ایمان ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے انحراف کفر ہے، لہٰذا مدار کفر و اسلام یہ نہیں کہ وہ مسئلہ قرآن کریم میں مذکور ہے یا نہیں، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا التزام مدار ایمان اور اس سے انحراف موجب کفر ہے۔
- ۱۳........ قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے
انحراف کرنے والوں کو منافق قرار دیا گیا ہے، چنانچہ سورہ النساء کے نویں رکوع میں ان منافقین کا تذکرہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے
۵۴
سے انحراف کرتے تھے، اسی ضمن میں فرمایا: "واذا قیل لہم تعالوا الی ما انزل اللّٰہ والی الرسول رایت المنافقین یصدون عنک صدودا"۔
(سورہ النساء: ۶۱)
ترجمہ: "اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس حکم کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے اور رسول کی طرف تو آپ منافقین کی یہ حالت دیکھیں گے کہ وہ آپ سے پہلو تہی کرتے ہیں"۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلو تہی کرنے والے منافق ہیں۔
اسی ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا: "وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللّٰہ"۔
(النساء: ۶۴)
ترجمہ: "اور ہم نے تمام پیغمبروں کو خاص اسی واسطے مبعوث فرمایا ہے کہ بحکم خداوندی ان کی اطاعت کی جائے"۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
اس سے ظاہر ہے کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے منحرف ہیں وہ درحقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کے منکر ہیں۔
نیز اسی ضمن میں فرمایا: "فلا وربک لا یؤمنون حتیٰ یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما"۔
(النساء: ۶۵)
۵۵
ترجمہ : ”پھر قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ ایماندار نہ ہوں گے جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جو جھگڑا واقع ہو اس میں یہ لوگ آپ سے فیصلہ کراویں‘ پھر آپ کے فیصلے سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پاویں‘ اور پورا پورا تسلیم کرلیں“۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فیصلے کو دل و جان سے قبول کرلینا شرط ایمان ہے‘ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کو قبول کرنے سے انحراف کرنا کفر و نفاق ہے۔
اسی طرح سورہ توبہ‘ سورہ محمد اور دیگر سورتوں میں منافقین کے کفر و نفاق کو بیان فرمایا گیا ہے‘ جو زبان سے تو توحید و رسالت کا اقرار کرتے تھے‘ لیکن چونکہ ان کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے پہلو تہی اور انحراف کرتے تھے‘ حق تعالیٰ شانہ نے ان کے اس منافقانہ کردار کی بار بار مذمت فرمائی‘
پس ایک مومن کا شیوہ یہ ہے کہ جب اس نے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دل و جان سے اقرار کرلیا تو ہر بات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا بھی التزام کرے‘ بخلاف اس کے کہ جو شخص زبان سے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اقرار تو کرتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ ہمارے ذمہ صرف قرآن کریم کا ماننا لازم ہے‘ اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات کا ماننا ہمارے ذمہ لازم نہیں‘ ایسا شخص منصب رسالت سے نا آشنا ہے‘ اس نے رسول کی حیثیت و مرتبہ ہی کو نہیں سمجھا‘ اور نہ رسول اور امتی کے باہمی ربط و تعلق کو جانا‘ یہ شخص درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت پر ایمان ہی نہیں رکھتا‘ اگر یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتا تو اس کا شمار
۵۶
مسلمانوں کے بجائے منافقین کی صف میں ہوتا۔ O واللہ یقول الحق وهو يهدی السبیل O
تنقیح چہارم و پنجم
آنجناب نے چوتھی اور پانچویں تنقیح کے ذیل میں جو کچھ فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تابعین و تبع تابعین کے دور سے لے کر آج تک امت گمراہ چلی آتی ہے۔ یہ خیال واستدلال درج ذیل نکات پر مبنی ہے:
- ۱....... تابعینؒ و تبع تابعینؒ کے دور میں ملحدوں اور منافقوں نے جھوٹی
روایات گھڑ گھڑ کر انہیں امت میں پھیلایا‘ اور انہیں تقدس کا درجہ عطا کر دیا‘ اور قرآن کے مقابلہ میں جھوٹی روایات پر مبنی ایک نیا دین تصنیف کر ڈالا۔
- ۲....... اور یہ سادہ لوح امت ان منافقوں اور ملحدوں کے پھیلائے
ہوئے سازشی جال کا شکار ہو گئی‘ قرآن کے دین کو چھوڑ کر جھوٹی روایات والے اس دین پر ایمان لے آئی‘ جو منافقوں اور ملحدوں نے تصنیف کیا تھا‘ اور مسلمانوں کی سادہ لوحی اور بے وقوفی کا یہ عالم تھا کہ قرآن کو ان جھوٹی روایات کے تابع بنا دیا گیا۔
- ۳....... وہ دن اور آج کا دن! یہ امت روایات کی پرستار چلی آتی
ہے‘ قرآن کے لائے ہوئے دین کا کہیں نام ونشان نہیں‘ اور جو کچھ مسلمانوں کے پاس موجود ہے وہ خود ساختہ روایات کا اسلام ہے۔
ازراہ کرم! اپنی تحریر کے الفاظ پر دوبارہ ایک نظر ڈال لیجئے‘ اور فرمائیے کہ آپ یہی کہنا چاہتے ہیں یا کچھ اور؟: ۵۷
”مگر بصدہا افسوس کہ ملاحدہ اور منافقین عجم نے تابعین اور تبع تابعین کے لبادے اوڑھ اوڑھ کر ایسے متعدد عقیدے اور اعمال دینی حیثیت کے نئے نئے پیدا کر کے ان کو رسول اللہ کی طرف منسوب کر کے ممالک اسلامیہ کے اطراف و اکناف میں پھیلائے اور اس کے ماتحت یہ عقیدہ لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنے کی کوشش کی کہ قرآن کریم سے باہر بھی بعض دینی احکام ہیں‘ عقائد و عبادات کی قسم کے بھی‘ اور اصول و اخلاق و معاملات کی قسم کے بھی .... اور پھر روایت پرستی کا شوق اس قدر عوام میں بھڑکایا کہ عوام تو درکنار خواص بھی اس متعدی مرض میں مبتلا ہو کر رہ گئے .... یہاں تک کہ روایت پرستی رفتہ رفتہ مستقل دین بن کر رہ گئی‘ اور قرآن کریم جو اصل دین تھا‘ اس کو روایتوں کا تابع ہو کر رہنا پڑا‘ اس کے بعد یہ سوال بھی کسی کے ذہن میں نہ آیا کہ قرآن کریم ایک مکمل کتاب ہے بھی یا نہیں؟“۔
میں بے تکلف عرض کرتا ہوں کہ آنجناب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت مرحومہ کی جو تصویر کشی کی ہے یہ محض فرضی تصویر ہے جو دور حاضر کے ملحدوں کے ذہن کی اختراع ہے‘ یہ محض ایک تخیلاتی افسانہ ہے جس کا حقائق سے کوئی واسطہ نہیں‘ نہ جانے آنجناب نے امت کی یہ تاریخ کس کتاب کی مدد سے مرتب فرمائی ہے؟ اور اس افسانہ تراشی کا ماخذ کیا ہے؟ میں آنجناب کی توجہ چند نکات کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں‘ اور درخواست کرتا ہوں کہ ٹھنڈے دل سے ان پر غور فرمائیں‘ واللہ الموفق لکل خیر و سعادۃ۔
- ۱........ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق تعالیٰ شانہ نے قیامت تک
آنے والی انسانیت کے لئے رسول بنا کر بھیجا‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
۵۸
ذریعہ رہتی دنیا تک انسانوں پر حجت قائم فرمائی۔
جن لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ان پر تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی‘ اور جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دنیا میں آئے ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت اسی صورت میں قائم ہوسکتی تھی جب کہ ان تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی کتاب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات صحیح اور محفوظ حالت میں پہنچیں‘ ورنہ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ خدانخواستہ بعد والوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح دین پہنچا ہی نہیں تو ظاہر ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم نہیں ہوگی۔
اور ہم تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دین‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نقل وروایت کے ذریعہ پہنچی ہیں‘ کیونکہ ہم نے نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی‘ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال واعمال اور احوال کا خود مشاہدہ کیا‘ نہ قرآن کریم کو نازل ہوتے ہوئے دیکھا‘ نہ قرآن کریم کو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا‘ بلکہ یہ ساری چیزیں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل وروایت کے ذریعہ ملی ہیں‘ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نقل کیں‘ ان سے تابعینؒ نے‘ ان سے تبع تابعینؒ نے۔ وعلی ہذا ہر قرن کے حضرات نے ان چیزوں کو بعد کے قرن تک منتقل کیا ہے۔
اور اہل عقل جانتے ہیں کہ کسی روایت کے لائق اعتماد ہونے کا مدار نقل کرنے والوں کی دیانت وامانت پر ہے‘ اگر نقل کرنے والے دیانت وامانت کے لحاظ سے لائق اعتماد ہیں تو ان کی نقل کی ہوئی بات بھی لائق اعتماد قرار پائے گی‘ اور اگر نقل کرنے والے لائق اعتماد نہیں‘ بلکہ بے دین اور
۵۹
بددیانت ہیں تو ان کی نقل کی ہوئی بات کی قیمت ایک کوڑی کے برابر بھی نہیں ہوگی۔
اب آنجناب غور فرمائیں کہ اگر آنجناب کے بقول عجمی منافقوں اور ملحدوں نے تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے زمانے میں جھوٹی روایات گھڑ گھڑ کر ان کو امت میں پھیلادیا‘ اور پوری کی پوری امت اس روایاتی دین کی قائل ہو گئی‘ اور بقول آپ کے:
”عوام تو درکنار؟ خواص بھی اس متعدی مرض میں مبتلا ہو کر رہ گئے‘ یہاں تک کہ روایت پرستی رفتہ رفتہ مستقل دین بن کر رہ گئی‘ اور قرآن جو اصل دین تھا‘ اس کو روایتوں کے تابع ہو کر رہنا پڑا‘ اس کے بعد یہ سوال بھی کسی کے ذہن میں نہ آیا کہ قرآن کریم ایک مکمل کتاب ہے بھی یا نہیں؟“۔
تو ظاہر ہے کہ جو امت قرآن کریم کو چھوڑ کر ملحدوں اور منافقوں کی خود تراشیدہ روایات پر ایمان لاچکی ہو‘ اور جس نے قرآن کریم کے بجائے روایت پرستی کو اپنا دین وایمان بنالیا ہو ایسی امت یکسر گمراہ‘ بے دین بلکہ بددین کہلائے گی‘ اور اس کی حیثیت یہود ونصاریٰ سے بھی بدتر ہوگی‘ ایسی گمراہ اور بے دین امت کے ذریعہ ہمیں جو چیز بھی پہنچے گی وہ کسی طرح بھی لائق اعتماد نہیں ہوگی! آپ ہی فرمائیں کہ اس صورت میں تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے بعد والوں پر اللہ کی حجت کس طرح قائم ہوگی؟
اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ہمارے پاس جو قرآن کریم موجود ہے‘ اور جس پر ایمان رکھنے کا آنجناب کو بھی دعویٰ ہے‘ وہ بھی اسی امت کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے‘ جو بقول آپ کے گمراہ تھی‘ بددین تھی‘ ملحدوں اور منافقوں کی گھڑی ہوئی روایات پر ایمان رکھتی تھی‘ اور جس نے آنجناب کے بقول جھوٹی روایات کا نیا دین گھڑ کر قرآن کو اس کے تابع کردیا تھا۔
۶۰
میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایسی گمراہ قوم کے ذریعہ جو قرآن ہم تک پہنچا وہ آنجناب کے نزدیک کیسے لائق اعتماد ہو سکتا ہے‘ اور اس پر ایمان لانا آپ کے لئے کس طرح ممکن ہے؟
اس نکتہ پر غور کرنے کے بعد آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ امت کے بارے میں جو کچھ آپ نے لکھا ہے وہ صحیح نہیں‘ کیونکہ پوری کی پوری امت کو گمراہ قرار دینے کے بعد ہمارے ہاتھ میں نہ قرآن رہ جاتا ہے‘ نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت‘ نہ دین اسلام کی کوئی اور چیز۔
- ۲........ تمام مسلمانوں کا ایمان ہے کہ قرآن کریم کلام الٰہی ہے‘ جو
حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ پھر حق تعالیٰ شانہ کے درمیان اور ہمارے درمیان چار واسطے ہیں‘ یا یوں کہو کہ ہمارا سلسلہ سند چار واسطوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔
- ◯........ پہلا واسطہ جبرئیل امین علیہ السلام ہیں کہ وہ قرآن کریم کو
لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل ہوئے‘ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
"وانه لتنزيل رب العالمين‘ نزل به الروح الامين‘ على قلبك لتكون من المنذرين‘ بلسان عربی مبین"۔
(الشعرا ۱۹۲ تا ۱۹۴)
ترجمہ:.... "اور یہ قرآن رب العالمین کا بھیجا ہوا ہے‘ اس کو امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے‘ آپ کے قلب پر‘ صاف عربی زبان میں‘ تاکہ آپ (بھی) منجملہ ڈرانے والوں کے ہوں"۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
- ◯........ دوسرا واسطہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی
۶۱
ہے‘ جنہوں نے حضرت جبریل علیہ السلام سے اس قرآن کریم کو اخذ کیا‘ اور امت تک پہنچایا۔
- ◯........تیسرا واسطہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم ہیں
جنہوں نے براہ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس قرآن کو اخذ کیا‘ اور بعد کی امت تک پہنچایا۔
- ◯........چوتھا واسطہ تابعینؒ کے دور سے لے کر آج تک کے
مسلمان ہیں‘ جنہوں نے قرناً بعد قرن اس قرآن کریم کو بعد کی نسلوں تک پہنچایا‘ اس طرح یہ قرآن ہم تک پہنچا۔
اگر ان چار واسطوں کو لائق اعتماد سمجھا جائے تو قرآن کریم کا سلسلہ سند اللہ تعالیٰ تک پہنچے گا‘ اور قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے پر ایمان لانا ممکن ہوگا‘ اور اگر کوئی شخص ان چار واسطوں میں سے کسی ایک پر بھی جرح کرتا ہے تو وہ ایمان بالقرآن کی دولت سے محروم رہے گا‘ چنانچہ:
- ◯........یہود بے بہبود نے پہلے واسطے پر جرح کی‘ اور ایمان
بالقرآن سے محروم رہے‘ چنانچہ قرآن کریم میں ہے:
قلبك باذن الله۔“ (الایۃ)
(البقرۃ:۹۷)
ترجمہ:.... ”آپؐ (ان سے) یہ کہئے کہ جو شخص جبریل سے عداوت رکھے (وہ جانے) سو انہوں نے یہ قرآن آپؐ کے قلب تک پہنچایا ہے خداوندی حکم سے“۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
اس آیت کریمہ کے شان نزول میں نقل کیا ہے کہ:
”بعض یہود نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر ۶۲
کہ جبریل علیہ السلام وحی لاتے ہیں، کہا کہ ان سے تو ہماری عداوت ہے، احکام شاقہ اور واقعات ہائلہ ان ہی کے ہاتھوں آیا کئے ہیں، میکائیل خوب ہیں کہ بارش اور رحمت ان کے متعلق ہے، اگر وہ وحی لایا کرتے تو ہم مان لیتے، حق تعالیٰ اس پر رد فرماتے ہیں"۔
(بیان القرآن از حضرت تھانویؒ)
- O........ مشرکین مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی
پر بداعتمادی کا اظہار کیا، اور ایمان بالقرآن کی دولت سے محروم رہے، جیسا کہ قرآن کریم میں بہت سی جگہ مشرکین مکہ کا قول نقل کیا گیا ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں، بلکہ (نعوذ باللہ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کو تصنیف کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کے اس شبہ کا رد بلیغ کیا گیا ہے، ایک جگہ فرماتے ہیں:
قد نعلم انہ لیحزنک الذی یقولون فانہم لا یکذبونک ولکن الظالمین بآیات اللہ یجحدون"۔
(الانعام: ۳۳)
ترجمہ:.... ”ہم خوب جانتے ہیں کہ آپؐ کو ان (کفار) کے اقوال مغموم کرتے ہیں، سو یہ لوگ آپؐ کو جھوٹا نہیں کہتے، لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا (عمداً) انکار کرتے ہیں"۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
- O........ ایک فرقہ نے اس سلسلہ سند کی تیسری کڑی .... صحابہ کرامؓ
.... کو نعوذ باللہ گمراہ اور مرتد قرار دیا، چونکہ قرآن کریم بعد کی امت تک صحابہ کرامؓ ہی کے ذریعہ سے پہنچا تھا اس لئے یہ لوگ بھی ایمان بالقرآن سے محروم رہے، (اس کی تفصیل میری کتاب ”شیعہ سنی اختلافات اور صراط
۶۳
مستقیم“ میں دیکھ لی جائے)
- 〇........ منکرین حدیث نہ یہود کی طرح جبریل علیہ السلام پر جرح
کرسکتے تھے، نہ مشرکین مکہ کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی شان کو نشانہ بناسکتے تھے، ورنہ کھلے کافر قرار پاتے، نہ عبداللہ بن سبا کی طرح صحابہ کرامؓ کو گمراہ اور منافق و مرتد قرار دے سکتے تھے، ورنہ ان کا شمار بھی عجمی منافقین میں ہوتا، انہوں نے ہوشیاری و چالاکی سے ”عجمی سازش“ کا افسانہ تراشا، اور صحابہ کرامؓ کے بعد کی پوری امت کو گمراہ قرار دے دیا۔ مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ اس کا نتیجہ بھی ”ایمان بالقرآن“ سے محرومی کی شکل میں ظاہر ہوگا، کیونکہ جب قرنِ اول کے بعد کی پوری کی پوری امت گمراہ قرار پائی تو ان کے ذریعہ جو قرآنِ کریم ہم تک پہنچا اس پر ایمان لانا کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ منکرین حدیث نے ”عجمی سازش“ کا جو افسانہ تراشا ہے اس کو عقل وفہم کی ترازو میں تول کر فیصلہ فرمائیں کہ منکرین حدیث کے موقف کو اختیار کرلینے کے بعد قرآنِ کریم پر ایمان لانا عقلاً کیسے ممکن ہے؟ منکرین حدیث کی مثال وہی ہے جو شیخ سعدیؒ نے ایک حکایت کے ضمن میں لکھی ہے:
خداوند بستان نگہ کرد و دید
نہ بامن کہ با نفس خود می کند
ترجمہ:.... ”ایک شخص شاخ پر بیٹھا اس کی جڑ کو کاٹ رہا تھا، باغ کے مالک نے ایک نظر اسے دیکھا، اور کہا کہ اگر یہ شخص برا کر رہا ہے تو میرے ساتھ نہیں، بلکہ خود اپنے ساتھ کر رہا ہے“۔
۶۴
اردو میں ضرب الامثال ہیں۔
”جس برتن ہانڈی میں کھائیں اسی میں چھید کریں“ ”جس رکابی میں کھا‘ اسی میں چھید کر“ ”جس رکابی میں کھانا اسی میں ہگنا موتنا“ ”جس کی گود میں بیٹھنا اسی کی داڑھی کھسوٹنا“
ہمارے زمانے کے منکرین حدیث ان ضرب الامثال کے مصداق ہیں‘ وہ عجمی سازش کا افسانہ تراش کر جس امت کو گمراہ‘ بے ایمان اور ”عجمی سازش کی شکار“ کے خطابات دیتے ہیں اسی امت کے ذریعہ جو قرآن کریم ہم تک پہنچا ہے اس پر ایمان رکھنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں‘ بزعم خود اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں‘ لیکن عقل کے نام پر بے عقلی کا ایسا تماشا دکھاتے ہیں جو بھلے زمانوں میں کسی نے نہیں دیکھا ہوگا۔
عقل کی عدالت میں ان کا مقدمہ پیش کیجئے تو ان کے لئے دو ہی راستے تھے‘ یا تو وہ یہود‘ مشرکین مکہ اور سبائی پارٹی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایمان بالقرآن کے دعویٰ سے دستبردار ہوجاتے‘ اور صاف صاف اعلان کردیتے کہ ہم قرآن کو نہیں مانتے جو روایت پرست گمراہوں کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے‘ لیکن ان میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں‘ وہ قادیانیوں کی طرح اسلام کی جڑوں پر تیشہ بھی چلاتے ہیں‘ مگر اسلام کا مصنوعی لبادہ بھی اتار پھینکنے کے لئے تیار نہیں۔
دوسرا راستہ ان کے لئے یہ تھا کہ قرآن کریم کی سند اپنے سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے‘ اور یہ احتیاط ملحوظ رکھتے کہ درمیان میں کسی ”روایت پرست“ راوی کا نام نہ آنے پائے‘ ان کا سلسلہ سند اس طرح ہونا چاہئے کہ ہم نے یہ قرآن اول سے آخر تک سنا ہے فلاں شخص سے‘ اور وہ منکر حدیث تھا‘ اس نے سنا فلاں شخص سے‘ اور وہ بھی منکر
۶۵
حدیث تھا۔ آخر تک سلسلہ سند اسی طرح چلا جاتا۔ تو ہم سمجھتے کہ یہ لوگ کم سے کم قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن بحالت موجودہ گمراہوں اور روایت پرستوں کے ذریعہ حاصل ہونے والے قرآن پر ایمان رکھنے کا ان کا دعویٰ سراسر جھوٹ ہے، کیونکہ درحقیقت یہ لوگ منکر قرآن ہیں، یہ عقل کی عدالت کا فیصلہ ہے، اور کوئی منکر حدیث اس فیصلہ کو چیلنج نہیں کرسکتا۔
- ۳........ مشہور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے بعد پولس
نامی ایک یہودی نے ان کی تعلیمات کو مسخ کردیا تھا، اور اب نصاریٰ کے ہاتھ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لایا ہوا اصل دین نہیں، بلکہ پولس کا خود تراشیدہ دین ہے۔
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ نے بھی منہاج السنہ میں اس کی تصریح فرمائی ہے، چونکہ آنجناب نے حافظ ابن تیمیہؒ پر اعتماد کا اظہار فرمایا ہے، اس لئے ان کی عبارت کا پیش کردینا مناسب ہوگا، وہ لکھتے ہیں:
"ذکر غیر واحد منہم ان اول من ابتدع الرفض والقول بالنص علی علی وعصمتہ کان منافقا زندیقا، اراد فساد دین الاسلام، واراد ان یصنع بالمسلمین ما صنع بولص بالنصاریٰ، لکن لم یتات لہ ما تاتی لبولص، لضعف دین النصاریٰ وعقلہم، فان المسیح صلی اللہ علیہ وسلم رفع ولم یتبعہ خلق کثیر یعلمون دینہ ویقومون بہ علما وعملا، فلما ابتدع بولص ما ابتدعہ من الغلو فی المسیح اتبعہ علی ذالک طوائف، واحبوا الغلو فی المسیح، ودخلت معہم ملوک، فقام اہل الحق
۶۶
خالفوهم وانكروا عليهم فقتلت الملوك بعضهم، وداهن الملوك بعضهم، وبعضهم اعتزلوا فى الصوامع والديارات ۔ وهذه الامة ولله الحمد لا يزال فيها طائفة ظاهرة على الحق فلا يتمكن ملحد ولا مبتدع من افساده بغلو وانتصار على الحق، ولكن يضل من يتبعه على ضلالة۔
(منهاج السنة ص۲۶۱ ج۳)
ترجمہ:.... ”اور شیعہ جو اہل سنت کے خلاف امام معصوم وغیرہ کے دعوے کرتے ہیں یہ دراصل ایک منافق زندیق کا اختراع ہے، چنانچہ بہت سے اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ سب سے پہلے جس نے رفض ایجاد کیا، اور جو سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت وعصمت کا قائل ہوا وہ ایک منافق زندیق (عبداللہ بن سبا) تھا، جس نے دین اسلام کو بگاڑنا چاہا اور اس نے مسلمانوں سے وہی کھیل کھیلنا چاہا جو پولس نے نصاریٰ سے کھیلا تھا، لیکن اس کے لئے وہ کچھ ممکن نہ ہوا جو پولس کے لئے ممکن ہوا، کیونکہ نصاریٰ میں دین بھی کمزور تھا اور عقل کی بھی کمی تھی، کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام (آسمان پر) اٹھالئے گئے، جب کہ ان کے پیروکار زیادہ نہ تھے جو لوگوں کو ان کے دین کی تعلیم دیتے اور ان کے علم و عمل کو لے کر کھڑے ہوجاتے، لہٰذا جب پولس نے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں غلو اختراع کیا تو اس پر بہت سے گروہ اس کے پیرو ہوگئے، اور وہ مسیح علیہ
۶۷
السلام کے بارے میں غلو کو پسند کرنے لگے، اور ان غالیوں کے ساتھ بادشاہ بھی غلو میں داخل ہو گئے۔ اس وقت کے اہل حق کھڑے ہوئے، انہوں نے ان کی مخالفت کی اور ان کے غلو پر نکیر کی، نتیجہ یہ ہوا کہ ان اہل حق میں سے بعض کو بادشاہوں نے قتل کردیا، بعض نے مداہنت سے کام لیا اور ان کی ہاں میں ہاں ملائی، اور بعض گرجوں اور خلوت خانوں میں گوشہ نشین ہو گئے، اور امت مسلمہ، اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم اور غالب رہی، اس لئے کسی ملحد اور کسی بدعت ایجاد کرنے والے کو یہ قدرت نہ ہوئی کہ امت کو غلو کی راہ پر ڈال دے اور حق پر غلبہ حاصل کرلے۔ ہاں! ایسے ملحد ان لوگوں کو ضرور گمراہ کردیتے ہیں جو ان کی گمراہی میں ان کی پیروی اختیار کرلیں“۔
حافظ ابن تیمیہؒ کی عبارت کا حاصل یہ ہے کہ پولس نے جو سازش دین مسیحی کے خلاف کی تھی، ابن سبا اور اس کی جماعت نے (دور صحابہؓ میں، بلکہ خلفائے راشدینؓ کے دور میں) وہی سازش دین اسلام کے خلاف بھی کرنا چاہی، لیکن بحمد اللہ! یہ سازش ناکام ہوئی، پولس کی سازش کے کامیاب ہونے اور اس امت کے منافقین کے ناکام ہونے کے اسباب مختصراً حسب ذیل تھے:
- ⭕....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے براہ راست فیض یافتہ حضرات
کی تعداد بہت کم تھی، اس لئے ان کی صحیح تعلیمات بہت کم لوگوں کے ذہن نشین ہوئی تھیں، ادھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست فیض یافتہ حضرات کی تعداد لاکھ ڈیڑھ لاکھ سے متجاوز تھی، ان میں بہت سے حضرات ایسے تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طویل صحبت اٹھائی تھی،
۶۸
اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں پوری طرح رنگین تھے، گویا اس آیت شریفہ کے مصداق تھے:
”صبغۃ الله ومن احسن من الله صبغۃ ونحن له عابدون“۔
(۱ بقرہ: ۱۳۸)
ترجمہ:..... ”ہم اس حالت پر رہیں گے جس میں اللہ تعالیٰ نے رنگ دیا ہے، اور کون ہے جس کے رنگ دینے کی حالت اللہ تعالیٰ سے خوب تر ہو؟ اور ہم اسی کی غلامی اختیار کئے ہوئے ہیں“۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
- ◯........ حضرات صحابہ کرامؓ کے فیض یافتہ حضرات (جن کو تابعین
بالاحسان کہا جاتا ہے) ان کی غالب اکثریت صحابہؓ کے ساتھ والہانہ عشق رکھتی تھی، اور انہی کے رنگ میں رنگین تھی، بہت کم لوگ تھے جن کا حضرات صحابہؓ سے رابطہ نہیں تھا۔
- ◯........ منافقین نے اپنی سازش کا دام حضرات صحابہ کرامؓ کے بلکہ
خلافت راشدہ کے دور میں پھیلانا شروع کردیا تھا، ظاہر ہے ان کی یہ سازش نہ حضرات صحابہ کرامؓ پر کارگر ہوسکی تھی، اور نہ حضرات صحابہؓ کے فیض یافتہ تابعینؒ بالاحسان پر۔
اس سازش کا شکار اگر ہوسکتے تھے تو وہ معدودے چند افراد جن کا حضرات صحابہؓ سے اور ان کے فیض یافتہ حضرات سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔
- ◯........ ان سازشی لوگوں کی کوئی حرکت حضرات صحابہ کرامؓ اور
ان کے تابعینؒ تک پہنچتی تو وہ برملا اس کی تردید کردیتے تھے، جیسا کہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسی شکایت ملنے پر ان لوگوں کے خیالات کی برسر منبر تردید فرمائی، اور ان لوگوں پر لعنت فرمائی، بعض کو کیفر
۶۹
کردار تک پہنچایا۔
- ◯........ صحابہؓ کا دور سعادت ۱۱۰ھ تک رہا‘ اور اس وقت تک
اہل باطل اہل حق سے ممتاز ہوچکے تھے‘ اور عام مسلمان ان دونوں فریقوں کو الگ الگ پہچان چکے تھے۔
- ◯........ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین قیامت
تک کے لئے تھا‘ اس لئے اس امت میں اہل حق‘ اہل باطل پر ہمیشہ غالب رہیں گے‘ تاکہ حق کا تواتر قیامت تک کے لئے باقی رہے‘ اور قیامت تک اللہ تعالیٰ کی حجت اس کے بندوں پر قائم رہے۔
- ◯........ اور اللہ تعالیٰ نے حق وباطل کا ایسا معیار بیان فرمادیا جس
پر جانچ کر آج بھی ہر شخص حق وباطل کو الگ الگ پہچان سکتا ہے‘ اور وہ معیار یہ ہے:
”ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الہدیٰ ويتبع غير سبيل المومنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا“۔
(النساء:۱۱۵)
ترجمہ:.... ”اور جو شخص رسول (مقبول صلی اللہ علیہ وسلم) کی مخالفت کرے گا‘ بعد اس کے کہ اس کو امر حق ظاہر ہوچکا تھا‘ اور مسلمانوں کا (دینی) راستہ چھوڑ کر دوسرے رستہ ہولیا تو ہم اس کو (دنیا میں) جو کچھ کرتا ہے کرنے دیں گے‘ اور (آخرت میں) اس کو جہنم میں داخل کریں گے‘ اور وہ بری جگہ ہے جانے کی“۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
الغرض وعدہ خداوندی کے مطابق الحمد للہ ہر دور اور ہر زمانے میں اہل حق کی جماعت غالب ومنصور رہی‘ اور اہل باطل ..... اپنی تمام تر
۷۰
شرارتوں اور ریشہ دوانیوں کے باوجود ..... مقہور و مغلوب رہے‘ اور جن لوگوں نے سبیل المومنین کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اپنایا وہ حق کا کچھ نہیں بگاڑ سکے‘ بلکہ وہ خود جہنم کا ایندھن بن گئے۔ اللہ تعالیٰ کا راستہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم‘ خلفائے راشدین‘ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں واضح اور روشن تھا .... الحمد للہ ثم الحمد للہ .... آج بھی اسی طرح روشن اور تابناک ہے‘ اور قیامت تک رہے گا۔ یہ ملحدین اور منافقین جو اسلام کے بارے میں بدگمانیاں پھیلاتے رہتے ہیں‘ اس آیت کا مصداق ہیں:
متم نورہ ولوکرہ الکفرون‘ ھو الذی ارسل رسولہ
بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ
ولوکرہ المشرکون"۔
(الصف:۸-۹)
ترجمہ: .... "یہ لوگ یوں چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور (یعنی دین اسلام) کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھادیں‘ حالانکہ اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا کر رہے گا‘ گو کافر لوگ کیسے ہی ناخوش ہوں (چنانچہ) وہ اللہ ایسا ہے جس نے (اسی اتمام نور کے لئے) اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ہدایت (کا سامان یعنی قرآن) اور سچا دین (یعنی اسلام) دے کر (دنیا میں) بھیجا ہے‘ تاکہ اس (دین) کو تمام دینوں پر غالب کردے‘ گو مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں"۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
الغرض حافظ ابن تیمیہؒ کے بقول اس امت کے خلاف سازش کرنے والوں کی سازش ناکام رہی‘ اور وہ اپنے چند پیروکاروں کو جہنم کا ایندھن بنا کر دنیا سے چلتے بنے۔
۷۱
لیکن اس کے برعکس آنجناب کی تحریر سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جس طرح پولس نے دین مسیحی کو مسخ کردیا تھا، اس امت کے منافقین نے بھی وہی کھیل کھیلا، اور یہ منافقین وملحدین اپنی اس سازش میں پوری طرح کامیاب ہوئے۔ غالباً یہ بات آنجناب نے کسی سے نقل کی ہوگی۔
میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ جن حضرات کے نزدیک اسلام کی حیثیت بھی دین نصاریٰ کی ہوکر رہ گئی ہے، اور یہاں بھی حق وباطل کے تمام نشانات نعوذ باللہ مٹادئے گئے ہیں تو یہ حضرات اس اسلام کی طرف اپنا انتساب کیوں فرماتے ہیں؟ کیا ان کے لئے مناسب نہ ہوگا؟ کہ کسی غار سے ”قرآن کا اسلام“ برآمد کریں اور بصد شوق اس کی پیروی کریں، موجودہ اسلام، جو ان کے خیال میں مسخ شدہ ہے اس کی طرف انتساب کا تکلف ترک کردیں، جو اسلام تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے اس کو غلط اور جھوٹ بھی کہنا اور پھر اسی غلط اور جھوٹے اسلام کی طرف اپنی نسبت کرکے مسلمان بھی کہلانا بڑی غیر موزوں اور نامناسب بات ہے۔
منع بادہ کردن وہم رنگ مستان زیستن
آنجناب کو یاد ہوگا کہ ایوب خان کے زمانے میں میکگل یونیورسٹی کے تربیت یافتہ ایک شخص ڈاکٹر فضل الرحمن نے ”روایتی اسلام“ کا یہی نظریہ پیش کیا تھا، قدرت کا انتقام دیکھئے کہ اس کا خاتمہ ترک اسلام پر ہوا اور وہ نصرانی ہوکر مرا، جو لوگ اسلام کے بارے میں اس قسم کی خوش فہمی کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کو اس سے عبرت پکڑنی چاہئے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
- ۴......... یہود نصاریٰ کو روز اول ہی سے دین اسلام اور مسلمانوں
کے ساتھ پیدائشی بغض چلا آتا ہے۔ یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام کے خلاف زہر
۷۲
اگلتے رہے، جس سے ان کا مدعا یہ تھا کہ کسی طرح کمزور مسلمانوں کو ورغلانے کی کوشش کی جائے، جیسا کہ قرآن مجید میں کئی جگہ اس کی تصریحات ہیں، ایک جگہ ارشاد ہے:
”ود کثیر من اھل الکتاب لویردونکم من بعد ایمانکم کفارا حسدا من عند انفسھم من بعد ما تبین لھم الحق فاعفوا واصفحوا حتیٰ یاتی اللّٰہ بامرہ، ان اللّٰہ علیٰ کل شئی قدیر“۔
(البقرہ:۱۰۹)
ترجمہ:.... ”ان اہل کتاب (یعنی یہود) میں سے بہتیرے دل سے یہ چاہتے ہیں کہ تم کو تمہارے ایمان لائے پیچھے پھر کافر کرڈالیں محض حسد کی وجہ سے جو کہ خود ان کے دلوں ہی سے (جوش مارتا) ہے، حق واضح ہوئے پیچھے، خیر (اب تو) معاف کرو اور درگزر کرو جب تک (اس معاملہ کے متعلق) حق تعالیٰ اپنا حکم (قانونِ جدید) بھیجیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں“۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
”ولن ترضیٰ عنک الیہود ولا النصاریٰ حتیٰ تتبع ملتھم قل ان ھدی اللّٰہ ھو الھدیٰ ولئن اتبعت اھوائھم بعد الذی جاءک من العلم ما لک من اللّٰہ من ولی ولا نصیر“۔
(البقرہ:۱۲۰)
ترجمہ:.... ”اور کبھی خوش نہ ہوں گے آپ سے یہ یہود اور نہ یہ نصاریٰ جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے پیرو نہ ہو جاویں، آپ کہہ دیجئے کہ حقیقت میں تو ہدایت کا
۷۳
وہی راستہ ہے جس کو خدا نے بتلایا ہے، اور اگر آپ اتباع کرنے لگیں ان کے غلط خیالات کا، علم آچکنے کے بعد، تو آپ کا کوئی خدا سے بچانے والا نہ یار نکلے نہ مددگار"۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
ایک اور جگہ ارشاد ہے: "ودت طائفة من اهل الكتاب لويضلونكم وما يضلون الا انفسهم وما يشعرون"۔
(آل عمران: ۶۹)
ترجمہ:...."دل سے چاہتے ہیں بعضے لوگ اہل کتاب میں سے اس امر کو کہ تم کو گمراہ کردیں، اور وہ کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے مگر خود اپنے آپ کو، اور اس کی اطلاع نہیں رکھتے"۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جہاں وہ اپنی یہودیت ونصرانیت پر قائم رہتے ہوئے اسلام، نبی اسلام اور اہل اسلام کے خلاف زہر افشانی کرتے تھے وہاں نفاق کا لبادہ اوڑھ کر جھوٹی افواہیں پھیلانے کی بھی کوشش کرتے تھے، قرآن کریم میں جابجا ان یہودی منافقین کی ریشہ دوانیوں کا بھی تذکرہ موجود ہے۔
خلافت راشدہ کے دور میں اسلام کا حلقہ بہت وسیع ہوگیا تھا، اس لئے منافقین یہود نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر جھوٹی روایات کو پھیلانے اور صدر اول کے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوششیں کیں، جن کا تذکرہ اوپر حافظ ابن تیمیہؒ کے حوالے سے گزرچکا ہے، لیکن ان کی یہ کوششیں بھی ناکام ہوئیں۔ حضرات اکابر امت نے اسلامی سرحدوں کی پاسبانی کا ایسا فریضہ انجام دیا، اور ان لوگوں کے اس بزدلانہ حملہ کا ایسا توڑ کیا کہ بالآخر یہ لوگ پسپا ہونے پر
۷۴
مجبور ہوئے، اور حضرات محدثین نے ان کی پھیلائی ہوئی جھوٹی روایات کو اس طرح چھانٹ کر الگ کردیا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ نظر آنے لگا۔ اس طرح یہ فتنہ بحمد اللہ! اپنی موت آپ مرگیا۔
دور جدید میں گزشتہ صدی سے مغرب نے اسلام کے خلاف ”استشراق“ کے عنوان سے ایک نیا محاذ کھولا، اور مستشرقین کی کھیپ کی کھیپ اسلام پر ”تحقیقات“ کرنے کے لئے تیار کی گئی، اور انہوں نے اپنے خاص نقطہ نظر سے اسلامی موضوعات پر کتابوں کا ڈھیر لگا دیا، جس کی ایک مثال ”انسائی کلوپیڈیا آف اسلام“ ہے، یہ مستشرقین، اکثر و بیشتر وہی یہود و نصاریٰ ہیں جن کی اسلام سے معاندانہ ذہنیت کی طرف قرآن کریم کے اشارات اوپر ذکر کئے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک شخص جو غیر مسلم بھی ہو اور اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا شدید معاند بھی، وہ جب اسلام پر ”تحقیقات“ کرنے بیٹھے گا تو اس کو اسلام میں وہی کچھ نظر آئے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے معاندین کو نظر آتا تھا، اور وہ اسلام کا ایسا خاکہ مرتب کرے گا جو دیکھنے والوں کو نہایت مکروہ اور بھونڈا نظر آئے، اور دیکھنے والا اس گھناؤنی تصویر کو دیکھتے ہی اسلام سے متنفر ہوجائے، مفکر اسلام جناب مولانا سید ابو الحسن علی ندوی مستشرقین کے اسلام کے عمومی مطالعہ کے باوجود ان کی ایمان سے محرومی کا ماتم کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”مستشرقین عمومی طور پر اہل علم کا وہ بد قسمت اور بے توفیق گروہ ہے جس نے قرآن و حدیث، سیرت نبوی، فقہ اسلامی اور اخلاق و تصوف کے سمندر میں بار بار غوطے لگائے اور بالکل ”خشک دامن“ اور ”تہی دست“ واپس آیا، بلکہ اس سے اس کا عناد، اسلام سے دوری اور حق کے انکار کا جذبہ اور بڑھ گیا“۔
(الفرقان لکھنو جلد ۳۱ شمارہ ۷ ص ۲)
۷۵
مستشرقین کا یہ رویہ خواہ کتنا ہی لائق افسوس ہو، مگر لائق تعجب ذرا بھی نہیں، اس لئے کہ ان مستشرقین کے پیشرو لوگ (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر یہود ونصاریٰ) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اور سیرت نبویؐ کے جمال جہاں آرا کا سر کی آنکھوں سے مشاہدہ کر کے بھی نہ صرف دولت ایمان سے تہی دامن رہے، بلکہ ان کے حسد وعناد میں شدت و حدت پیدا ہوتی چلی گئی، تو ان کے جانشینوں (مستشرقین) کے طرز عمل پر کیا تعجب کیا جائے اور اس کی کیا شکایت کی جائے؟
الغرض مستشرقین، کتاب و سنت اور دیگر علوم اسلامیہ کے بحر نا پیدا کنار میں بارہا غوطے لگانے کے باوجود، جو خشک دامن اور تشنہ لب رہے، اس کی وجہ ان کا اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ موروثی عناد ہے جو انہیں اپنے آباؤ واجداد سے ورثہ میں ملا ہے۔
مستشرقین نے اسلام کے اصول وفروع، نبی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت وسیرت، اور اسلامی تاریخ کے بارے میں جو گوہر افشانیاں کی ہیں، گو انہوں نے بزعم خویش اعلیٰ تحقیقی کام کیا ہے، لیکن اگر ان کے اعتراضات کا بغور تجزیہ کیا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ یہ وہی شراب کہنہ ہے جو بڑی ہوشیاری سے نئی بوتلوں میں بھر دی گئی ہے، اور ان پر حسین لیبل چپکا دیا گیا ہے، ان کے تمام اعتراضات اور نکتہ چینیاں انہی اعتراضات کی صدائے بازگشت ہیں جو ان کے اسلاف یہود ونصاریٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں کرتے رہے ہیں، اور جن کے جوابات قرآن کریم چودہ سو سال پہلے دے چکا ہے۔
لیکن ان مستشرقین کے مشرقی شاگرد، جن کو اصطلاحاً ”مستغربین“ کہنا چاہئے، نہ تو ان مستشرقین کے اصل اغراض واہداف سے واقف تھے، نہ
۷۶
اسلام کے اصول و فروع سے آشنا تھے، نہ مسلمانوں کے عروج و زوال کی تاریخ سے آگاہ تھے، اور نہ ان کو محقق علمائے اسلام کی خدمت میں بیٹھ کر اسلامی علوم کے درس و مطالعہ کا موقع میسر آیا تھا۔ یہ لوگ اسلام اور اسلامی تعلیمات سے یکسر خالی الذہن تھے کہ یکایک انگریزی زبان میں مستشرقین اور ان کے شاگردوں کی تحریروں کے آئینہ میں اسلام، اسلامی علوم اور اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا، اور یہ سمجھ بیٹھے کہ واقعتاً اسلام کی تصویر ایسی ہی بھیانک اور بد نما ہوگی جیسی کہ دشمنوں کے موئے قلم نے تیار کی ہے، نتیجہ یہ کہ یہ لوگ اسلام کی جانب سے ذہنی ارتداد میں مبتلا ہو گئے، مولانا رومیؒ کے بقول:-
طعمہ ہر گرگ دراں شود
(جس چوزے کے ابھی پر نہ نکلے ہوں جب وہ اڑان کی حماقت کرے گا تو ہر پھاڑنے والے بھیڑیے کا نوالہ تر بن کر رہ جائے گا)
حافظ اسلم جیراج پوری ہو یا چوہدری غلام احمد پرویز، ڈاکٹر فضل الرحمٰن ہو یا تمنا عمادی، یا کوئی اور، ان سب میں قدر مشترک یہ ہے کہ اسلام کے بارے میں یہودی و نصرانی مستشرقین اور ان کے شاگرد مستشرقین نے جو کچھ لکھ دیا ہے وہ اسی کو اسلام کی اصل تصویر سمجھتے ہیں، اس لئے نہ ان کو اسلام کی ابدیت پر ایمان ہے، نہ اسلام کو انسانیت کی نجات کا واحد کفیل سمجھتے ہیں، نہ مسلمانوں کے تواتر و تسلسل کو حجت مانتے ہیں، نہ ان کی عقل نارسا میں یہ بات آتی ہے کہ مشرق و مغرب کے تمام اہل اسلام، جن کو کبھی ایک جگہ جمع ہونے کا اتفاق نہیں ہوا، بلکہ وہ ایک دوسرے سے واقف بھی نہیں، وہ غلط عقائد پر کیسے متفق ہو گئے؟ اور کس نے ان کو ان عقائد و اعمال پر جمع کر دیا؟ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں، امت کے مسلسل تواتر و تعامل کا
۷۷
انکار کرنے کے بعد یہ لوگ قرآن کریم کے من جانب اللہ ہونے کا ثبوت نہیں پیش کرسکتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ نہ وہ قرآن کی حقانیت کو مانتے ہیں، اور نہ اس کی ابدیت کے قائل ہیں۔ وہ قرآن کریم کا نام ضرور لیتے ہیں، مگر اس لئے نہیں کہ ان کا قرآن پر ایمان ہے، بلکہ وہ ”قرآن قرآن“ کا نعرہ بلند کرنے پر اس لئے مجبور ہیں کہ قرآن کریم کا انکار کردینے کے بعد ان کے لئے اسلام کے دائرے میں کوئی جگہ نہیں رہتی، بلکہ وہ صریح مرتد اور خارج از اسلام قرار پاتے ہیں۔
اس نمبر میں جو معروضات پیش کی گئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ:
- یہ انگریزی لکھے پڑھے چند لوگ جو ”روایتی اسلام“ اور ”عجمی
سازش“ کی منادی کرتے پھرتے ہیں یہ درحقیقت مغربی مستشرقین کے زلہ ربا ہیں۔
- مستشرقین کی اکثریت یہودی و نصرانی معاندین اسلام پر مشتمل ہے۔
- مستشرقین نے نام نہاد ”تحقیقات“ کے نام پر اسلام اور مسلمانوں
کی جو فرضی تصویر مرتب کی ہے اس کا اصل حقائق سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔
- اس فرضی تصویر کے تیار کرنے سے ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں
کو ان کے دین اور ایمان واذعان سے محروم کردیا جائے۔
- الحمد للہ! ان یہود و نصاریٰ کی یہ سازش بھی اسی طرح ناکام ہوئی
جس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر یہود و نصاریٰ کی سازشیں ناکام ہوئی تھیں، اور جس طرح کہ صدر اول کے منافقوں اور ملحدوں کی سازش ناکام ہوئی۔ دور قدیم کے منافقین وملحدین ہوں، یا دور جدید کے مستشرقین اور ان کے تربیت یافتہ مستغربین، اسلام اور ملت اسلامیہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے، اور نہ آئندہ کچھ بگاڑ سکیں گے۔ قرآن کریم کا یہ اعلان فضا میں
۷۸
ہمیشہ گونجتا رہے گا:
"وقد مکروا مکرهم وعند الله مکرهم وان کان مکرهم لتزول منه الجبال‘ فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله ان الله عزیز ذو انتقام"۔
(ابراہیم: ۴۶-۴۷)
ترجمہ:.... ”ان لوگوں نے (دین حق کو مٹانے میں) اپنی سی بڑی بڑی تدبیریں کیں تھیں، اور ان کی (یہ سب) تدبیریں اللہ کے سامنے تھیں (اس کے علم سے مخفی نہ رہ سکتی تھیں) اور واقعی ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ (عجب نہیں) ان سے پہاڑ بھی (اپنی جگہ سے) ٹل جاویں (مگر پھر بھی حق ہی غالب رہا، اور ان کی ساری تدبیریں گاؤ خورد ہو گئیں) پس اللہ تعالیٰ کو اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرنے والا نہ سمجھنا، بے شک اللہ تعالیٰ بڑا زبردست (اور) پورا بدلہ لینے والا ہے“۔
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
پس وعدہ الٰہی یہ ہے کہ قیامت تک دین اسلام کو غالب و منصور رکھے گا، اور اس کے خلاف سازش کرنے والے اس عزیز ذو انتقام کے قہر کا نشانہ بن کر رہیں گے .... یہود ونصاریٰ تو قہر الٰہی کا نشانہ تھے ہی، ان کے ساتھ وہ لوگ بھی اس قہر الٰہی کی زد میں آئیں گے جو ان یہود ونصاریٰ کی خود تراشیدہ کہانیوں پر ایمان لاکر ملت اسلامیہ کے خلاف زہر اگلتے ہیں، اور اس پر عجمی سازش میں مبتلا ہونے کی تہمت لگاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ امت اسلامیہ کی حفاظت فرمائیں، اور ان کو سلف صالحین کے راستہ پر قائم رکھیں۔
۹
حیات و نزول مسیح علیہ السلام
اکابر امت کی نظر میں
تنقیح ششم
آنجناب تحریر فرماتے ہیں کہ :
"نزول مسیح کی تردید میں ہر زمانے میں علمائے اسلام نے قلم اٹھایا ہے اور کوشش کی ہے کہ اس موضوع عقیدہ سے مسلمان نجات پائیں"۔
اگر "علمائے اسلام" کے لفظ سے آنجناب کی مراد دور قدیم کے ملاحدہ وفلاسفہ اور دور جدید کے نیچری اور ملحد ہیں، تو آنجناب کی یہ بات صحیح ہے کہ ان لوگوں نے اپنی پھونکوں سے "نور خدا" کو بجھانے کی بھرپور کوششیں کیں، اور بحمد اللہ ! ان کی یہ کوششیں ناکام ہوئیں :
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
لیکن میں کہنے کی اجازت چاہوں گا کہ ان ملاحدہ و زنادقہ اور نیچریوں کو "علمائے اسلام" کا نام دینا اسلام اور مسلمانوں کی توہین ہے۔
اور اگر "علمائے اسلام" سے مراد وہ علمائے حقانی اور ائمہ ربانی ہیں جن کے علم و فہم، عقل و بصیرت اور دین و دیانت پر امت نے ہمیشہ اعتماد کیا تو
۸۰
مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ آنجناب کی معلومات صحیح نہیں۔ اس لئے کہ ائمہ اسلام اور اکابرین امت و مجددین ملت میں ایک شخص کا نام بھی پیش نہیں کیا جاسکتا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کا منکر ہو۔ پہلی صدی سے آج تک ائمہ اسلام اس عقیدہ کے تواتر کے ساتھ قائل چلے آئے ہیں کہ قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہو کر دجال اکبر کو قتل کریں گے۔
راقم الحروف نے چند سال پہلے اس موضوع پر ایک رسالہ مرتب کیا تھا جو چھپا ہوا موجود ہے، آنجناب اس کا مطالعہ فرمائیں، اس میں نقول صحیحہ سے ثابت کیا گیا ہے کہ :
- نزول مسیح علیہ السلام کا عقیدہ ایک ایسا امر ہے جس پر اللہ تعالیٰ
نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے عہد لیا ہے۔
- یہ عقیدہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے یہاں بلا نکیر مسلم ہے۔
- اس عقیدہ پر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے، کسی
ایک صحابیؓ سے بھی اس کے خلاف منقول نہیں۔
- ۷۱ تابعینؒ کی نقول صریحہ درج کی ہیں، جن میں حضرت سعید بن
مسیبؒ، امام محمد بن حنفیہؒ، امام حسن بصریؒ، امام محمد بن سیرینؒ، امام زین العابدینؒ، امام باقرؒ، امام جعفر صادقؒ وغیرہ شامل ہیں اور کسی ایک تابعی سے بھی اس کے خلاف ایک حرف منقول نہیں۔
- اسی ضمن میں ائمہ اربعہؒ کا عقیدہ، اکابر مجتہدین کا عقیدہ اور
حدیث کے ائمہ ستہ (امام بخاریؒ، امام مسلمؒ، امام ابو داؤدؒ، امام نسائیؒ، امام ترمذیؒ، اور امام ابن ماجہؒ رحمہم اللہ تعالیٰ) کا عقیدہ درج کیا ہے۔
- چوتھی صدی کے ذیل میں ۱۴ اکابر امت کا عقیدہ درج کیا ہے جن
میں امام اہل سنت ابو الحسن اشعریؒ، امام ابو جعفر طحاویؒ، امام ابو اللیث
۸۱
سمرقندیؒ اور امام خطابیؒ جیسے مشاہیر امت شامل ہیں۔
- پانچویں صدی کے ذیل میں (۱۳) اکابر امت کا عقیدہ درج کیا ہے،
جن میں امام ابن حزمؒ، امام بیہقیؒ، شیخ علی ہجویریؒ (المعروف گنج بخش)، امام حاکمؒ، امام ابن بطالؒ، اور قاضی ابو الولید باجیؒ شامل ہیں۔
- چھٹی صدی کے ذیل میں امام غزالیؒ، علامہ زمخشریؒ، نجم الدین
نسفیؒ، حضرت پیران پیر شاہ عبد القادر جیلانیؒ، حافظ ابن جوزیؒ جیسے گیارہ اکابر کی تصریحات نقل کی ہیں۔
- ساتویں صدی کے ذیل میں ۱۴ اکابر کی تصریحات نقل کی ہیں، جن
میں امام فخر الدین رازیؒ، امام قرطبیؒ، امام نوویؒ، امام تورپشتیؒ، اور خواجہ معین الدین چشتیؒ جیسے مشاہیر شامل ہیں۔
- آٹھویں صدی کے ذیل میں ۱۵ مشاہیر امت کی عبارتیں نقل کی ہیں
جن میں امام ابن قدامہ المقدسیؒ، حافظ ابن کثیرؒ، حافظ ابن قیمؒ، امام تقی الدین السبکیؒ، علامہ طیبیؒ شارح مشکوۃؒ جیسے اکابر شامل ہیں۔
- نویں صدی کے ذیل میں ۱۵ اکابر امت کی تصریحات درج ہیں۔ جن
میں حافظ الدنیا ابن حجر عسقلانیؒ، حافظ بدر الدین عینیؒ، شیخ ابن ہمامؒ صاحب فتح القدیرؒ، اور شیخ مجد الدین فیروز آبادیؒ صاحب قاموس کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔
- دسویں صدی کے ذیل میں حافظ جلال الدین سیوطیؒ، ابن حجر مکیؒ شیخ
الاسلام زکریا انصاریؒ اور علامہ قسطلانیؒ شارح بخاریؒ جیسے ۱۲ اکابر امت کے نام درج کئے ہیں۔
- گیارہویں صدی میں امام ربانی مجدد الف ثانیؒ، شاہ عبد الحق محدث
دہلویؒ، علامہ خفاجیؒ، سلطان العلماء علی القاریؒ اور علامہ عبد الحلیم سیالکوٹیؒ جیسے اکابر کے نام آتے ہیں۔
۸۲
اگر آنجناب کو اسلامی تاریخ کی نابغہ شخصیات سے تعارف ہے تو فرمائیے ان کے مقابلے میں آپ کن لوگوں کو ”علمائے اسلام“ سمجھتے ہیں۔
میرا اصل مقصود پہلی دس صدیوں کے اکابر کی تصریحات نقل کرنا تھا‘ چنانچہ بطور نمونہ صدی وار چند اکابر مشاہیر کی تصریحات نقل کرنے پر اکتفا کیا گیا .... اور ان اکابر کے مقابلہ میں ایک نام بھی ایسا پیش نہیں کیا جاسکتا‘ جس کے علم و فہم اور دین و دیانت پر امت نے اعتماد کیا ہو‘ اور وہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کا منکر ہو۔
اس لئے آنجناب کا یہ کہنا کہ علمائے اسلام ہمیشہ ”عقیدہ نزول مسیح“ کے خلاف جہاد کرتے آئے ہیں نہایت غلط بات ہے‘ ہاں! یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ”علمائے اسلام“ ”عقیدہ نزول مسیح“ کے منکروں کے خلاف ہمیشہ جہاد کرتے آئے ہیں‘ کیونکہ یہ عقیدہ امت اسلامیہ کا قطعی اور متواتر ہے جس کے بارے میں اہل حق کی کبھی دو رائیں نہیں ہوتیں۔
تنقیح ہفتم
آنجناب تحریر فرماتے ہیں :
”ان میں ابن حزمؒ اور ابن تیمیہؒ جیسے جید علماء سرفہرست ہیں‘ جنہوں نے ”نزول مسیح“ کے عقیدہ کی تردید کی“۔
آنجناب کا یہ دعویٰ بھی سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے‘ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ جناب کو ان ”جید علماء“ کی کتابیں دیکھنے کا موقع نہیں ملا‘ اور کسی شخص کی نقل و روایت پر آنجناب نے اعتماد فرمایا ہے۔ ذیل میں حافظ ابن حزمؒ ، حافظ ابن تیمیہؒ اور ان کے نامور شاگرد حافظ ابن قیمؒ کی عبارتیں براہ راست خود ان کی کتابوں سے نقل کرتا ہوں‘ ان حوالوں کو پڑھ کر فیصلہ کیجئے‘ کہ ان
۸۳
بزرگوں کا عقیدہ کیا تھا؟ اور جس شخص نے آپ کو یہ بتایا کہ یہ حضرات ”نزول مسیح“ کے منکر تھے وہ کتنا بڑا دجال و کذاب ہو گا۔ حافظ شیرازی کے بقول : ”چہ دلاور است دزدے کہ بہ کف چراغ دارد“
حافظ ابن حزمؒ
امام ابو محمد علی بن حزم الاندلسی الظاہری (م۴۵۶ھ) ”کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل“ میں فرماتے ہیں :
- ○ ”وقد صح عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم بنقل الکافۃ التی نقلت نبوتہ واعلامہ وکتابہ انہ اخبر انہ لا نبی بعدہ الا ما جاءت الاخبار الصحاح من نزول عیسیٰ علیہ السلام الذی بعث الی بنی اسرائیل وادعی الیہود قتلہ وصلبہ ، فوجب الاقرار بہذہ الجملۃ وصح ان وجود النبوۃ بعدہ علیہ السلام باطل لا یکون البتۃ“۔
(ج ۱ ص ۷۷)
ترجمہ : ”وہ پوری کی پوری امت، جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، آپ کے معجزات اور آپ کی کتاب کو نقل کیا ہے اسی نے آپ سے یہ بات بھی نقل کی ہے کہ آپ نے خبر دی کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں، مگر اس سے وہ عقیدہ مستثنیٰ ہے جس کے بارے میں صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا، وہی عیسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے
۸۴
تھے‘ اور جن کے بارے میں یہود کا قتل کرنے اور سولی پر چڑھانے کا دعویٰ ہے۔ پس اس عقیدہ پر ایمان لانا واجب ہے اور یہ بات صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت ملنا قطعاً باطل ہے ہرگز نہیں ہو سکتا“۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں :
- ○ ”وانما عندهم اناجيل اربعة متغايرة
من تاليف اربعة رجال معروفين ليس منها انجيل الا الف بعد رفع المسيح عليه السلام باعوام كثيرة ود هر طويل“۔
(ج ۲ ص ۵۵)
ترجمہ : ”عیسائیوں کے پاس چار انجیلیں ہیں‘ جو باہم مختلف ہیں اور چار معروف شخصوں (متی‘ مرقس‘ لوقا‘ یوحنا) کی تالیف ہیں۔ ان میں کوئی انجیل نہیں مگر وہ عیسیٰ علیہ السلام کے اٹھائے جانے کے کئی سال اور زمانہ طویل کے بعد لکھی گئی“۔
ایک اور جگہ مدعیان نبوت پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
- ○ ”هذا مع سماعهم قول الله تعالى
”ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ وقول رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نبى بعدى فكيف يستجيز مسلم ان يثبت بعده عليه السلام نبيًا فى الارض حاشا ما استثناه رسول الله صلى الله عليه وسلم فى الاثار المستندة الثابتة فى نزول عيسى بن مريم عليهما السلام فى آخر الزمان“۔
(ج ۴ ص ۱۸۰)
۸۵
ترجمہ : ”حق تعالیٰ کا ارشاد ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”لانبی بعدی“ سننے کے باوجود یہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ پس کوئی مسلمان اس بات کو کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زمین میں کسی نبی کا وجود ثابت کرے۔ سوائے اس کے کہ جس کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح اور مستند احادیث میں مستثنیٰ کر دیا ہے۔ اور وہ ہے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا آخری زمانہ میں نازل ہونا“۔
ایک جگہ اصول تکفیر پر بحث کرتے ہوئے ابن حزمؒ لکھتے ہیں:
- ”واما من قال ان اللہ عز وجل ہو فلان
لانسان بعینہ‘ او ان اللہ یحل فی جسم من اجسام خلقہ ۔ او ان بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیاً غیر عیسیٰ بن مریم فانہ لا یختلف الاثنان فی تکفیرہ لصحة قیام الحجة بکل ہذا علی کل احد“۔
(ص ۲۴۹ ج ۳)
ترجمہ : ”جو شخص یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی ہے‘ یا یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی کے جسم میں حلول کرتا ہے‘ یا یہ کہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے آئے گا تو ایسے شخص کے کافر ہونے کے بارے میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہیں‘ کیونکہ ان تمام امور میں ہر شخص پر حجت قائم ہو چکی ہے“۔
۸۶
ابن حزمؒ کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ جس طرح ختم نبوت کا مسئلہ قطعی اور متواتر ہے‘ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخر زمانہ میں نازل ہونے کا عقیدہ بھی احادیث صحیحہ متواترہ سے ثابت ہے‘ اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جس عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے آنے کی خبر دی گئی اس سے بعینہ وہی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مراد ہیں جن کو ساری دنیا ”رسولا الیٰ بنی اسرائیل“ کی حیثیت سے جانتی ہے‘ اور جن کے قتل و صلب کا یہودیوں کو دعویٰ ہے۔
حافظ ابن تیمیہؒ
عیسائیت کے رد میں ”الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح“ شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ کی مشہور کتاب ہے جس میں انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ بڑی صراحت و وضاحت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ یہاں اس کی چند عبارتیں نقل کی جاتی ہیں:
- O ”والمسلمون واہل الکتاب متفقون
علی اثبات مسیحین‘ مسیح ہدی من ولد داود‘ ومسیح ضلال‘ یقول اہل الکتاب : انہ من ولد یوسف‘ ومتفقون علی ان مسیح الہدی سوف یاتی کما یاتی مسیح الضلالة ‘ لکن المسلمون والنصاریٰ یقولون : انہ ینزل قبل یوم القیامة فیقتل مسیح الضلالة ‘ ویکسر الصلیب ویقتل الخنزیر‘ ولا یبقی دینا الا دین الاسلام‘ ویومن بہ اہل الکتاب‘ الیہود‘ ۸۷
والنصارٰی۔ كما قال تعالیٰ : "وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موتہ"۔
(سورۃ النساء : ۱۵۹)
والقول الصحيح الذى عليه الجمهور قبل موت المسيح وقال تعالیٰ :"وانه لعلم للساعة فلا تمترن بھا۔" (سورۃ الزخرف۔۶۱)
(الجواب الصحيح ۱ : ۳۲۹)
ترجمہ : "مسلمان اور اہل کتاب دو مسیحوں کے ماننے پر متفق ہیں، ایک "مسیح ہدایت" جو نسل داؤد سے ہوں گے اور دوسرا مسیح ضلالت، جس کے بارے میں اہل کتاب کا قول ہے کہ وہ یوسف کی اولاد سے ہوگا۔
مسلمان اور اہل کتاب اس پر بھی متفق ہیں کہ مسیح ہدایت آئندہ آئے گا، جیسا کہ مسیح ضلالت بھی آنے والا ہے۔ لیکن مسلمان اور نصارٰی اس کے قائل ہیں کہ مسیح ہدایت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام ہیں، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسول بنا کر بھیجا، پھر وہ دوبارہ آئیں گے، لیکن مسلمانوں کا قول یہ ہے کہ وہ قیامت سے پہلے نازل ہوں گے، نازل ہو کر مسیح ضلالت کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، دین اسلام کے سوا کسی مذہب کو باقی نہیں چھوڑیں گے، اور اہل کتاب یہود و نصارٰی ان پر ایمان لائیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : "اور نہیں کوئی اہل کتاب میں مگر ایمان لائے گا ان پر ان کی موت سے پہلے۔"
۸۸
اور حق تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”اور وہ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا) البتہ نشانی ہے قیامت کی‘ پس تم لوگ اس میں شک نہ کرو“۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول کا عقیدہ مجددین واکابر امت کی نظر میں صفحہ (۱۳۳) پر ملاحظہ فرمائیں۔
حافظ ابن قیمؒ
حافظ ابن قیمؒ حافظ ابن تیمیہؒ کے مایہ ناز شاگرد ہیں‘ اور اپنے شیخ کے ذوق میں اس قدر ڈوبے ہوئے ہیں کہ بال برابر بھی اپنے شیخ کے مسلک سے انحراف نہیں کرتے‘ اس لئے ذیل میں چند حوالے حافظ ابن قیمؒ کے بھی نقل کئے جاتے ہیں۔
ھدایۃ الحیاری میں حافظ ابن قیمؒ نے بائبل کی پیش گوئی پر‘ جو ”فارقلیط“ اور ”روح الحق“ سے متعلق ہے‘ بہت تفصیل سے گفتگو کی ہے اور اس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے درج ذیل فقروں کی تشریح فرمائی ہے:
”میں نے یہ باتیں تمہارے ساتھ رہ کر تم سے کہیں‘ لیکن ”وہ مددگار“ یعنی روح القدس‘ جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا‘ وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا‘ اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دلائے گا‘ میں تمہیں اطمینان دئے جاتا ہوں“۔
(یوحنا ۱۴ :۲۵۔۲۷)
”اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا‘ کیونکہ ”دنیا کا سردار“ آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں“۔
(یوحنا ۱۴ : ۳۰)
۸۹
”جب وہ مدد گار آئے گا، جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا، یعنی سچائی کا روح جو باپ سے صادر ہوتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا“۔ (یوحنا ۱۵:۲۶)
”میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ ”مددگار“ تمہارے پاس نہ آئے گا، لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا“۔
(یوحنا ۱۶:۷)
”مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے، مگر اب تم انکی برداشت نہیں کرسکتے، لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا، اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا، لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا، اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا، وہ میرا جلال ظاہر کرے گا“۔
(یوحنا ۱۶: ۱۲ تا ۱۴)
اس پیش گوئی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی پر چسپاں کرتے ہوئے آخر میں ابن قیمؒ لکھتے ہیں :
”فمن هذا الذی هو روح الحق الذی لا یتکلم الا بما یوحی الیه؟ ومن هو العاقب للمسیح والشاهد لما جاء به والمصدق له بمجیئه؟ ومن الذی اخبرنا بالحوادث فی الازمنة المستقبلة؟ کخروج الدجال وظهور الدابة وطلوع الشمس من مغربها وخروج یاجوج وماجوج ونزول المسیح بن مریم وظهور ۹۰
النار التی تحشر الناس واضعاف اضعاف ذلک من الغیوب التی قبل یوم القیامۃ والغیوب الواقعۃ من الصراط والمیزان والحساب واخذ الکتب بالایمان والشمائل وتفاصیل ما فی الجنۃ والنار مالم یذکر فی التوریۃ والانجیل غیر محمد صلی اللہ علیہ وسلم“۔
(ہدایۃ الحیاری ص۲۸۰)
ترجمہ : ”پس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا یہ ”روح الحق“ کون ہے جو وحی الہی کے بغیر نہیں بولتا؟ اور وہ کون ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد آنے والا ہوا؟ اور وہ کون ہے جس نے حضرت مسیح علیہ السلام کی لائی ہوئی باتوں کی گواہی دی؟ اور وہ کون ہے جس نے اپنی آمد کے ذریعہ مسیح علیہ السلام کی پیش گوئی کی تصدیق فرمائی؟ اور وہ کون ہے جس نے آئندہ زمانوں میں پیش آنے والے حوادث وواقعات کی خبریں دیں، مثلاً دجال کا نکلنا، دابۃ الارض کا ظاہر ہونا، آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا، یاجوج وماجوج کا نکلنا، مسیح بن مریم کا نازل ہونا، اور اس آگ کا ظاہر ہونا جو لوگوں کو میدان محشر کی طرف جمع کرے گی، ان کے علاوہ اور بہت سے غیب کے واقعات جو قیامت کے دن سے پہلے رونما ہوں گے، اور وہ غیبی حقائق جو قیامت کے دن پیش آئیں گے۔ مثلاً پل صراط، میزان، حساب و کتاب، نامہ اعمال کا دائیں یا بائیں ہاتھ میں دیا جانا، اور جنت و دوزخ کی تفصیلات، جو نہ تو توریت میں مذکور ہیں اور نہ انجیل میں“۔
۹۱
اور اسی پیش گوئی پر بحث کرتے ہوئے آگے لکھتے ہیں :
"وتأمل قول المسيح فی هذه البشارة التی لا ینکرونها ان ارکون العالم سیاتی ولیس لی من الامر شئ کیف هی شاهدة بنبوة محمد والمسیح معاً ؟ فانه لما جاء صار الامر له دون المسیح، فوجب علی العالم کلهم طاعته والانقیاد لامره، وصار الامر له حقیقة ، ولم یبق بایدی النصاری الا دین باطل اضعاف اضعاف حقه، وحقه منسوخ بما بعث الله به محمداً صلی الله علیه وسلم ، فطابق قول المسیح قول اخیه محمد صلی الله علیه وسلم ینزل فیکم ابن مریم حكماً وعدلاً واماماً مقسطاً ، فیحکم بکتاب الله بکم. وقوله فی اللفظ الاخر : یاتیکم بکتاب ربکم فطابق قول الرسولین الکریمین، وبشر الاول بالثانی وصدق الثانی بالاول“۔ (ایضاً ص۲۸۱)
ترجمہ : ”اور اس بشارت میں، جس کا یہ لوگ انکار نہیں کرتے حضرت مسیح علیہ السلام کے اس قول پر غور کرو کہ :
”اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا، کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں“۔
(یوحنا ۳۰:۱۴)
۹۲
دیکھو! یہ بشارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح علیہ السلام دونوں کی نبوت پر کیسی شہادت دے رہی ہے؟ کیونکہ جب ”دنیا کا سردار“ (صلی اللہ علیہ وسلم) آچکا تو سارے حکم احکام حضرت مسیح علیہ السلام کے بجائے اس کے حوالے ہو گئے‘ پس سارے جہان پر اس کی اطاعت اور اس کے فرامین کی تعمیل لازمی ہوئی‘ اور چونکہ تمام معاملات ”دنیا کے سردار“ کے سپرد ہوچکے ہیں لہٰذا نصاریٰ کے ہاتھ میں دینِ باطل کے سوا کچھ نہیں رہا‘ ان کے دین میں حق کے ساتھ ہزار گنا باطل کی آمیزش تو پہلے ہوچکی تھی‘ اور جو تھوڑا بہت حق تھا وہ بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے منسوخ ہوچکا ہے۔
غور کرو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا مندرجہ بالا قول ان کے بھائی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل ارشاد کے ساتھ کس قدر مطابقت رکھتا ہے۔ فرمایا:
”نازل ہوں گے تم میں ابن مریم علیہ السلام‘ حاکم عادل اور امام منصف کی حیثیت سے‘ پس تم میں کتاب اللہ کے ساتھ فیصلہ کریں گے۔“
اور ایک دوسری حدیث میں ہے :
”وہ تمہارے پاس آئیں گے تمہارے رب کی کتاب کے ساتھ“۔
پس ان دونوں مقدس رسولوں کے ارشادات باہم مطابقت رکھتے ہیں۔ پہلے نے دوسرے کی بشارت دی اور
دوسرے نے پہلے کی تصدیق فرمائی“۔ آگے ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
O(فصل) ”وتامل قول المسیح انی لست ادعکم ایتاما لانی ساتیکم عن قریب“ کیف ہو مطابق لقول اخیہ محمد بن عبداللہ صلوات اللہ وسلامہ علیہما ”ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا واماما مقسطا فیقتل الخنزیر ویکسر الصلیب ویضع الجزیۃ“۔ واوصی امتہ بان یقرئہ السلام منہ من لقیہ منہم وفی حدیث آخر : ”کیف تہلک امۃ انا فی اولہا وعیسیٰ فی آخرہا“۔
(ص۱۸۸، ۱۸۹)
ترجمہ : اور حضرت مسیح علیہ السلام کے اس قول پر غور کرو کہ : ”میں تمہیں یتیم نہیں چھوڑوں گا‘ میں تمہارے پاس آؤنگا“۔
(یوحنا ۱۴:۱۸)
ان کا یہ قول ان کے بھائی حضرت محمد بن عبداللہ صلوات اللہ وسلامہ علیہما کے ارشاد کے کس قدر مطابق ہے‘ فرمایا : ”نازل ہوں گے تم میں ابن مریم علیہ السلام حاکم عادل اور امام منصف کی حیثیت سے‘ پس خنزیر کو قتل کریں گے‘ اور صلیب کو توڑ ڈالیں گے‘ اور جزیہ موقوف کردیں گے“
گے۔"
اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو وصیت فرمائی کہ ان میں سے جس شخص کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہو وہ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سلام کہے۔
اور ایک اور حدیث میں فرمایا : ”وہ امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے کہ میں جس کے اول میں ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام اس کے آخر میں ہیں“۔
- ○ ” فالمسلمون واليهود والنصارىٰ
تنتظر مسيحا يجئ فی آخر الزمان‘ فمسيح اليهود هو الدجال ومسيح النصارىٰ لا حقيقة له ‘ فانه عندهم اله وابن اله وخالق ومميت ومحی ‘ فمسيحهم الذی ينتظرونه هو المصلوب المسمر المكلل بالشوك بين اللصوص والمصفوع الذی صفعته اليهود ‘ وهو عندهم رب العالمين وخالق السماوات والارضين۔ ومسيح المسلمين الذی ينتظرونه هو عبدالله ورسوله وروحه وكلمته القاها الى مريم العذراء البتول عيسیٰ بن مريم اخو عبدالله ورسوله محمد بن عبدالله ويظهر دين الله وتوحيده ويقتل اعداءه عباد الصليب الذين اتخذوه وامه الهين من دون الله واعداءه اليهود الذين رموه وامه بالعظائم ‘ فهذا هو الذی ينتظره المسلمون ‘
۹۵
وهو نازل على المنارة الشرقية بدمشق واضعاً ‘ يديه على منكبى ملكين ‘ يراه الناس عيانا بابصارهم نازلا من السماء ‘ فيحكم بكتاب الله وسنة رسوله وينفذ ما اضاعه الظلمة والفجرة والخونة من دين رسول الله صلى الله عليه وسلم ويحيى ما اماتوه ‘ وتعود الملل كلها فى زمانه ملة واحدة وهى ملة محمد وملة ابيهما ابراهيم وملة سائر الانبياء ‘ وهى الاسلام الذى من يبتغى غيره دينا فلن يقبل منه وهو فى الاخرة من الخسرين ‘ وقد حمل رسول الله صلى الله عليه وسلم من ادركه من امته السلام وامره ان يقراه اياه منه ‘ فاخبر عن موضع نزوله باى بلد؟ وباىّ مكان منه ؟ وبحالة وقت نزوله وملبسه الذى عليه ‘ وانه ممصرتان اى ثوبان ‘ واخبر بما يفعل عند نزوله مفصلا حتى كان المسلمين يشاهدونه عيانا قبل ان يروه ‘ وهذا من جملة الغيوب التى اخبر بها فوقعت مطابقة لخبره حذو القذة بالقذة فهذا منتظر المسلمين لا منتظر المغضوب عليهم ولا الضالين ولا منتظر اخوانهم من الروافض المارقين وسوف يعلم المغضوب عليهم اذا جاء منتظر المسلمين انه ليس بابن يوسف النجار ، ولا هو ولد زانية ‘ ولا كان طبيبا حاذقا ۹۶
ماھرا فى صناعته استولى على العقول بصناعته ' ولاکان ساحرا مخرفا ولا مکنوا من صلبه وتسخیره وصفعه وقتله ' بل کانوا اھون على الله من ذلک ' ویعلم الضالون انه ابن البشر وانه عبدالله ورسوله' لیس باله ولا ابن الاله ' وانه بشر بنبوة محمد اخیه اولا وحکم بشریعته ودینه آخرا ' وانه عدو المغضوب علیھم والضالین ' وولى رسول الله واتباعه المومنین ' وماکان اولیاء ه الارجاس الانجاس عبدة الصلبان والصور المدھونة فى الحیطان ' ان اولیاء ه الا الموحدون عباد الرحمن اھل الاسلام والایمان الذین نزھوه وامه عمارما هما به اعداوهما من الشرک والسب للواحد المعبود"
(بداية الحیارىٰ على ھامش نیل الفارق ص۴۳)
O "فبعث الله محمدا صلى الله علیه وسلم بما ازال الشبھة من امره وکشف الغمة وبرا المسیح وامه من افتراء الیھود وبھتھم وکذبھم علیھما ' ونزه رب العالمین خالق المسیح وامه مما افتراه علیه المثلثة عباد الصلیب الذین سبوه اعظم السب ' فانزل المسیح اخاه بالمنزلة التی انزله الله بھا ' وھی اشرف منازله فامن به صدقه وشھدله بانه
۹۷
عبدالله ورسوله وروحه وكلمته القاها الى مريم العذراء البتول الطاهرة الصديقة سيدة نساء العالمين فى زمانها ، وقرر معجزات المسيح وآياته ، واخبر عن ربه تعالى بتخليد من كفر بالمسيح فى النار ، وان ربه تعالى اكرم عبده ورسوله ونزهه وصانه ان ينال اخوان القردة منه ما زعمته النصارى انهم نالوه منه ، بل رفعه اليه مؤيدا منصورا لم يشكه اعداوه فيه بشوكة ، ولا نالته ايديهم باذى ، فرفعه اليه واسكنه سماء ه وسيعيده الى الارض ينتقم به من مسيح الضلال واتباعه ثم يكسر به الصليب ويقتل به الخنزير ويعلى به الاسلام وينصر به ملة اخيه اولى الناس به محمد عليه الصلوة والسلام“
(نيل الفارق ص۱۰۴)
- O ”وقد اختلف فى معنى قوله ”ولكن شبه
لهم“۔ فقال بعض شبه للنصارى اى حصلت لهم الشبهة فى امره وليس لهم علم بانه قتل ولا صلب ، ولكن لما قال اعداوه انهم قتلوه وصلبوه واتفق رفعه من الارض وقعت الشبهة فى امره ، وصدقهم النصارى فى صلبه ، لتتم الشناعة عليهم ، وكيف ماكان فالمسيح صلوات الله وسلامه عليه لم يقتل ولم يصلب يقينا لا شك فيه“۔
۹۸
ترجمہ : "پس مسلمان اور یہود و نصاریٰ ایک مسیح کے منتظر ہیں جو آخری زمانے میں آئے گا، پس یہود کا مسیح تو دجال ہے، اور نصاریٰ کے مسیح کی کوئی حقیقت نہیں، کیونکہ مسیح ان کے نزدیک خدا ہے، خدا کا بیٹا ہے، خالق ہے، وہی زندگی دینے والا ہے، وہی موت دینے والا ہے۔
پس ان کا مسیح جس کے وہ منتظر ہیں، وہ ہے جس کو صلیب دی گئی، جس کے بدن میں میخیں گاڑی گئیں، جس کو کانٹوں کا تاج پہنایا گیا، جس کے منہ پر یہودیوں نے طمانچے مارے، اور جس کو چوروں کے درمیان صلیب پر لٹکایا گیا، اس کے باوجود وہ ان کے نزدیک رب العالمین بھی ہے اور آسمان و زمین کا خالق بھی۔
اور مسلمانوں کے مسیح، جس کے وہ منتظر ہیں، وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، اس کے رسول ہیں، اس کی جانب سے بھیجی ہوئی خاص روح ہیں، اور اس کا کلمہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مریم عذرا بتول کی طرف ڈالا، وہ عیسیٰ بن مریم ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہما وسلم کے بھائی ہیں۔ پس وہ جب آئیں گے تو اللہ کے دین اور اس کی توحید کو سربلند کریں گے، اللہ کے دشمنوں، پرستاران صلیب کو قتل کریں گے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کو اور ان کی والدہ ماجدہ کو خدا بنالیا، نیز اپنے دشمن یہودیوں کو قتل کریں گے، جنہوں نے ان پر اور ان کی والدہ ماجدہ پر بہتان تراشیاں کیں۔
پس یہ مسیح جس کے مسلمان منتظر ہیں”۔ یہی مسیح دمشق
کے شرقی مینار پر اس شان سے نازل ہوں گے کہ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے۔ ان کو لوگ بچشم سر آسمان سے نازل ہوتے ہوئے عیاناً دیکھیں گے۔
پس وہ نازل ہو کر اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق احکام دیں گے۔ ظالموں، فاجروں اور خائنوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا جو حصہ ضائع کردیا ہو گا اسے نافذ کریں گے، اور جس حصہ دین کو ان لوگوں نے مٹا ڈالا تھا اسے دوبارہ زندہ کریں گے، اور ان کے زمانے میں تمام ملتیں ملت واحدہ میں تبدیل ہو جائیں گی، اور یہ ملت ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی، ان کے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی۔ اور یہ ملت دین اسلام ہے کہ جو شخص اس کے سوا کسی اور دین کی پیروی کرے وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے ان لوگوں کو، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پائیں اس کا مکلف فرمایا ہے اور حکم دیا ہے کہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچائیں، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی جگہ بتائی اور یہ کہ کس شہر میں نازل ہوں گے؟ کس جگہ نازل ہوں گے؟ نزول کے وقت ان کی حالت اور ان کا لباس جو ان کے زیب تن ہو گا وہ بھی بیان فرمایا کہ وہ ہلکے زرد رنگ کی دو چادریں ہوں گی، ۱۰۰
اور نازل ہونے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو کچھ کریں گے، اس کو بھی ایسی تفصیل سے بیان فرمایا گویا مسلمان ان کو دیکھنے سے پہلے اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں، اور یہ تمام امور من جملہ غیب کی خبروں کے ہیں، جن کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطلاع دی، پس واقعات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے ٹھیک ٹھیک مطابق رونما ہوئے۔
الغرض یہ ہے وہ مسیح جس کا مسلمان انتظار کرتے ہیں (علیہ الصلوۃ والسلام) یہ مسیح نہ تو مغضوب علیہم (یہود) کا مسیح منتظر ہے، نہ ضالین (نصاریٰ) کا، اور نہ ان کے بھائیوں روافض کا جو اسلام سے نکل گئے ہیں، اور جب مسلمانوں کے مسیح منتظر (علیہ السلام) تشریف لائیں گے تو مغضوب علیہم یہود کو پتہ چل جائے گا کہ یہ یوسف نجار کا بیٹا نہیں، نہ بدکار عورت کا بیٹا ہے، نہ وہ ماہر طبیب تھے جو اپنے فن میں حاذق تھے، اور جس نے اپنی صنعت سے عقلوں کو دہشت زدہ کر دیا تھا، نہ وہ شعبدہ باز جادوگر تھے، نہ یہود کو ان کے پکڑنے اور صلیب پر دینے کی قدرت ہوئی، نہ ان کے منہ پر طمانچے مارنے اور قتل کرنے کی۔ بلکہ یہ لوگ اللہ کی نظر میں اس سے ذلیل تر تھے کہ ان کو ان امور کی قدرت دی جاتی۔ اور گمراہی میں بھٹکنے والے نصاریٰ کو بھی معلوم ہو جائے گا کہ وہ آدم زاد ہیں، اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ نہ وہ خدا ہیں نہ خدا کے بیٹے .... اور یہ کہ انہوں نے پہلے اپنے بھائی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی بشارت دی، اور آخری زمانہ میں آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ١٠١
دین و شریعت کے مطابق احکامات صادر فرمائے، اور یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود و نصاریٰ کے دشمن ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے اہل ایمان کے دوست ہیں۔ ان کے دوست وہ گندے اور ناپاک لوگ نہیں تھے جو صلیبوں کی اور دیواروں میں لگائی ہوئی تصویروں کی پوجا کرتے تھے۔ ان کے دوست صرف اہل توحید ہیں جو رحمان کے بندے اہل اسلام و ایمان ہیں، جنہوں نے ان کو اور ان کی والدہ کو ان کے دشمنوں کی تراشیدہ تہمتوں سے بری قرار دیا، مثلاً شرک کرنا اور معبود واحد کو برا کہنا۔"
ترجمہ : "پس اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان حقائق کے ساتھ مبعوث فرمایا، جن سے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں تمام شبہات زائل ہو گئے اور تاریکی چھٹ گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح علیہ السلام کو اور ان کی والدہ مطہرہ کو یہود کے کذب وافتراء اور بہتان تراشیوں سے بری الذمہ قرار دیا، اور مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ کے خالق رب العالمین کو ان افتراؤں سے منزہ قرار دیا جو ارباب تثلیث صلیب پرستوں نے باندھ رکھے تھے۔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑی گالی دی۔
پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بھائی مسیح علیہ السلام کو اس مرتبہ میں اتارا جس مرتبہ میں ان کو اللہ تعالیٰ نے اتارا تھا، اور یہی ان کا سب سے اشرف مرتبہ ہے، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح علیہ السلام پر ۱۰۲
ایمان لائے، ان کی تصدیق فرمائی، اور ان کے حق میں گواہی دی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، اس کے رسول ہیں، اس کی جانب سے آئی ہوئی خاص روح ہیں، اور اس کے کلمہ (سے پیدا ہونے والے) ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے کنواری مریم بتول، کی طرف ڈالا تھا جو طاہرہ و صدیقہ ہیں، اپنے زمانے کی تمام جہان کی عورتوں کی سیدہ ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات و آیات کی تصدیق فرمائی، اور اپنے رب کی جانب سے خبر دی کہ جن لوگوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت کا انکار کیا وہ ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہیں گے، اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے اپنے بندے اور رسول حضرت مسیح علیہ السلام کو عزت و کرامت عطا فرمائی ہے، اور ان کو اس سے منزہ اور محفوظ رکھا ہے کہ بندروں کے بھائی (یہود) ان کی بے حرمتی کریں، جیسا کہ نصاریٰ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہودیوں نے ان کی تذلیل و اہانت کی، ہرگز نہیں! بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو موید و منصور اپنی طرف اٹھا لیا۔ ان کے دشمن ان کو ایک کانٹا بھی نہیں چبھو سکے، اور نہ اپنے ہاتھوں سے ان کو کوئی ادنیٰ ایذاء پہنچا سکے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا، اور اپنے آسمان میں ان کو ٹھہرایا، اور عنقریب اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زمین پر بھیجیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ دجال مسیح ضلالت اور اس کے پیرووں سے انتقام لیں گے، پھر ان کے ذریعہ صلیب کو توڑ دیں گے، اور خنزیر کو قتل کریں گے، اور ان کے ذریعہ اسلام کو سربلند کریں گے۔ اور ۱۰۳
ان کے ذریعہ ان کے بھائی جو ان کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں، یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین وملت کی تائید ونصرت کریں گے۔"
ترجمہ : "اور حق تعالیٰ کے ارشاد "و لکن شبہ لھم" کے معنی میں اختلاف ہوا ہے۔ پس بعض حضرات نے کہا کہ نصاریٰ کو اشتباہ ہوا۔ یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کے معاملہ میں ان کو اشتباہ ہو گیا، اور ان کو کچھ علم نہیں کہ وہ قتل کئے گئے؟ یا صلیب دئے گئے۔ لیکن چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے دشمنوں نے مشہور کردیا کہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو قتل کردیا، اور سولی پر لٹکادیا، ادھر ان کے زمین سے اٹھائے جانے کا واقعہ ہوا (اور حضرت مسیح علیہ السلام زمین سے غائب ہو گئے) اس لئے ان کے معاملہ میں شبہ پڑ گیا، اور نصاریٰ نے دشمنوں کی اڑائی ہوئی ہوائی کو تسلیم کر لیا کہ یہودیوں نے مسیح علیہ السلام کو دار پر لٹکادیا، تاکہ ان کے حق میں شناعت زیادہ ہو جائے۔
کچھ بھی ہو، یہ بات قطعی ویقینی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو نہ قتل کیا گیا اور نہ سولی دی گئی، اس میں کسی ادنیٰ شک وشبہ کی گنجائش نہیں"۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قرب قیامت کی علامت ہے:
مندرجہ بالا تنقیحات کے بعد آنجناب لکھتے ہیں : "اب میں آپ کی تصنیف کی طرف آتا ہوں۔ صفحہ نمبر ۲۴۷ پر آپ نے سائل کو کچھ یوں جواب دیا ہے : ۱۰۴
”قرآن کریم میں حضرت عیسیٰؑ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ”اور بے شک وہ نشانی ہے قیامت کی، پس تم اس میں ذرا بھی شک مت کرو“۔
محترمی! آپ کا مذکورہ ترجمہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ وہ ایسے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ کو قیامت آنے اور ان کے اعمال کی جواب دہی اللہ تعالیٰ کے حضور میں دینے کا بتایا تو مشرکین مکہ نے قیامت کے آنے سے انکار کردیا۔ اور کہنے لگے کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ ہوں گے اور کیسے قیامت آئے گی؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے آنے کی خبر پر یقین دلانے کے لئے عیسیٰؑ کی پیدائش بطور تمثیل پیش کرنے کے لئے سورہ زخرف کی مذکورہ آیت کا نزول کیا۔ کہ تمہاری عقل اور فہم میں تو یہ بات بھی نہیں آسکتی کہ بغیر باپ کے بھی کوئی بچہ پیدا ہوسکتا ہے؟ جب کہ میں (اللہ) نے عیسیٰؑ کو بغیر باپ کے نطفے سے مریمؑ سے پیدا کردیا۔ اس کو انسان پیدا کیا اور نبوت سے بھی سرفراز کیا۔ لہٰذا ان آیات میں ارشاد الٰہی کی منشا یہ ہے کہ جو اللہ باپ کے بغیر بچہ پیدا کر سکتا ہے اور جس اللہ کا ایک بندہ مٹی کے پتلے میں اللہ ہی کے حکم سے جان ڈال سکتا ہے اور مردوں کو زندہ کر سکتا ہے تو اس قادر مالک کیلئے آخر تم اس بات کو کیوں ناممکن سمجھتے ہو کہ وہ تمہیں اور تمام انسانوں کو مرنے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کرے اور جزاء وسزا کا دن قائم کر کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ اس کے علاوہ مذکورہ آیات میں خطاب مشرکین مکہ کو ہے جب کہ عیسیٰؑ کی
۱۰۵
آمد ثانی تو قیامت کے علم کا ذریعہ صرف ان لوگوں کے لئے بن سکتا ہے جو اس زمانے میں موجود ہوں یا اس کے بعد پیدا ہوں کفار مکہ کیلئے آخر وہ کیسے ذریعہ علم قرار پاسکتا تھا کہ ”تم عیسیٰ کی قرب قیامت کی آمد ثانی میں شک نہ کرو؟“ صحیح ترجمہ اس کا یہ ہے کہ ”تم قیامت کے آنے میں شک نہ کرو“ لیکن ہمارے روایت پرست مولویوں نے اصل ترجمہ چھوڑ کر یہ ترجمہ کیا کہ ”تم عیسیٰ کے آنے میں شک نہ کرو“۔
تنقیح : اس کے بارے میں چند گزارشات پر غور فرمایا جائے :
اول : اس ناکارہ نے آیت شریفہ کا جو ترجمہ کیا ہے‘ اس کی دلیل بھی ساتھ نقل کردی ہے جس پر آنجناب نے غور نہیں فرمایا‘ چنانچہ آیت کا ترجمہ نقل کرنے کے بعد میں نے لکھا :
”بہت سے اکابر صحابہؓ و تابعینؒ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قرب قیامت کی نشانی ہے‘ اور صحیح ابن حبان میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی تفسیر منقول ہے“۔
(موارد الظمآن ص ۴۳۵)
حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں :
”یہ تفسیر حضرت ابو ہریرہؓ‘ ابن عباسؓ‘ ابو العالیہؒ‘ ابو مالکؒ‘ عکرمہؒ‘ حسن بصریؒ‘ قتادہؒ‘ ضحاکؒ‘ اور دیگر حضرات سے مروی ہے‘ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مضمون کی متواتر احادیث وارد ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے قیامت سے قبل تشریف لانے کی خبر دی ہے“۔
(تفسیر ابن کثیر ص ۱۳۲ ج ۴)
۱۰۶
اس اقتباس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ میں نے جو ترجمہ کیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ و تابعینؒ کی تفسیر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات متواترہ کے مطابق ہے‘ اب آپ کو اختیار ہے اس کو ”مبنی بر حقیقت“ کہیں یا ”بے حقیقت“ سمجھیں۔
دوم : آنجناب نے جو لمبا چوڑا شان نزول بیان فرمایا اول تو بے ثبوت‘ آنجناب کی ذہنی کاوش ہے‘ اس سے قطع نظر اس سے میرے ترجمے کی نفی نہیں ہوتی‘ کیونکہ یہ دونوں باتیں اپنی جگہ صحیح ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی قیامت کے برحق ہونے کی دلیل ہے‘ اور ان کا نزول بھی قرب قیامت کی دلیل ہے۔ سید محمود آلوسیؒ لکھتے ہیں :
”ای انه بنزوله شرط من اشراطها‘ او بحدوثه بغیر اب او باحیائه الموتی دلیل علی صحة البعث الذی هو معظم ما ینکره الکفرة من الامور الواقعة فی الساعة وایا ما کان فعلم الساعة مجاز عما تعلم به والتعبیر به للمبالغة“۔
(روح المعانی ص ۹۵ ج ۲۵)
ترجمہ : ”یعنی عیسیٰ علیہ السلام اپنے نزول کی وجہ سے قیامت کی ایک علامت ہیں۔ یا بن باپ پیدا ہونے یا مردوں کو زندہ کرنے کی وجہ سے ”بعث“ کے صحیح ہونے کی دلیل ہیں‘ اور جو امور قیامت کے دن واقع ہونگے ان میں یہی سب سے بڑی چیز ہے‘ جس کے کفار منکر ہیں۔ بہرحال ”قیامت کا علم“ مجاز ہے اس چیز سے جس کے ذریعہ قیامت کا علم ہو اور یہ ”تعبیر“ مبالغہ کے لئے ہے“۔
۱۰۷
الغرض آنجناب کی تقریر سے میرے ذکر کردہ ترجمہ کی نفی نہیں ہوتی، کیونکہ "حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کا نشان ہیں" کا فقرہ ان دونوں باتوں پر حاوی ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے وجود اور اپنی پیدائش کے لحاظ سے صحت قیامت کی دلیل بھی ہیں اور قرب قیامت کی بھی علامت ہیں۔
سوم : آنجناب کا یہ کہنا بڑا ہی عجیب ہے کہ "عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کفار مکہ کے لئے کیسے ذریعہ علم قرار پا سکتی ہے؟" کیونکہ قرآن کریم کا بیان ماننے والوں کے لئے ہے، نہ ماننے والوں کے لئے نہیں، کفار مکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ کی پیدائش کو تسلیم کر لیں تو یہ صحت قیامت کی دلیل ہے، اور ان کے نزول قبل القیامت کو مان لیں تو قرب قیامت کی دلیل ہے، اور اگر نہ مانیں تو ان کے لئے نہ وہ مفید ہے نہ یہ، قرآن کریم تو حقائق کو بیان کرتا ہے، خواہ کوئی مانے، یا نہ مانے۔
چہارم : آنجناب نے روایت پرست مولویوں پر بلاوجہ خفگی کا اظہار فرمایا ہے، کیونکہ جہاں تک مجھے معلوم ہے کسی "مولوی" نے "فلا تمترن بہا" کا یہ ترجمہ نہیں کیا کہ "تم عیسیٰ علیہ السلام کے آنے میں شک نہ کرو" اگر آنجناب کی خوش فہمی نے یہ مفہوم کسی جگہ سے کشید کیا ہو تو اس کی ذمہ داری غریب "مولویوں" پر نہیں، آیت میں تو یہ فرمایا گیا ہے کہ "عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہیں، لہٰذا تم قیامت میں ہرگز شک نہ کرو"۔
انبیاء کرام علیہم السلام کے مجمع میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تقریر
آنجناب لکھتے ہیں :
"پھر اسی آیت کی تفسیر کے اختتام پر صفحہ ۲۳۸ پر آپ نے (راقم الحروف نے) حوالے کچھ یوں دئے ہیں (مسند احمد، ابن ماجہ، مستدرک حاکم، ابن جریر) آپ نے تو ابن جریر کا
۱۰۸
نام سب سے آخر میں لکھا ہے، کاش! آپ یہ جانتے کہ ابن جریر کون صاحب تھے؟“۔
تنقیح : اس سلسلے میں چند گزارشات ہیں :
اول : میں نے یہ حوالے اس حدیث شریف کے دئے تھے جس کا ترجمہ درج ذیل الفاظ میں نقل کیا تھا :
”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ شب معراج میں میری ملاقات حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰ (علیہم الصلوات والتسلیمات) سے ہوئی تو آپس میں قیامت کا تذکرہ ہونے لگا کہ کب آئیگی؟ پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا انہوں نے فرمایا کہ مجھے اس کا علم نہیں، پھر موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، انہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی باری آئی تو انہوں نے فرمایا کہ قیامت کے وقوع کا ٹھیک وقت تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں، البتہ میرے رب کا مجھ سے ایک عہد ہے کہ قیامت سے پہلے جب دجال نکلے گا تو میں اس کو قتل کرنے کے لئے نازل ہوں گا، وہ مجھے دیکھ کر اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اس کو میرے ہاتھ سے ہلاک کردیں گے۔ یہاں تک کہ شجر و حجر بھی پکار اٹھیں گے کہ اے مسلم! میرے پیچھے کافر چھپا ہوا ہے اس کو قتل کردے۔
قتل دجال کے بعد لوگ اپنے اپنے علاقے اور ملک کو لوٹ جائیں گے۔ اس کے کچھ عرصہ کے بعد یاجوج ماجوج
۱۰۹
نکلیں گے، وہ جس چیز پر سے گزریں گے اسے تباہ کر دیں گے، تب لوگ میرے پاس ان کی شکایت کریں گے، پس میں اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں بددعا کروں گا۔ پس اللہ تعالیٰ ان پر یکبارگی موت طاری کردیں گے، یہاں تک کہ زمین ان کی بدبو سے متعفن ہوجائے گی۔ پس اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائیں گے جو ان کے اجسام کو بہا کر سمندر میں ڈال دے گی۔ پس میرے رب کا مجھ سے یہ عہد ہے کہ جب ایسا ہوگا تو قیامت کی مثال پورے دنوں کی حاملہ کی سی ہوگی جس کے بارے میں اس کے مالک نہیں جانتے کہ اچانک دن یا رات میں کسی وقت اس کا وضع حمل ہوجائے"۔
(مسند احمد‘ ابن ماجہ‘ مستدرک حاکم‘ ابن جریر)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس ارشاد سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نقل کیا ہے معلوم ہوا کہ ان کی تشریف آوری بالکل قرب قیامت میں ہوگی"۔
سائل نے مجھ سے پوچھا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کب ہوگی؟ میں نے اس کے جواب میں لکھا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان کی تشریف آوری بالکل قرب قیامت میں ہوگی۔
اگر آنجناب کو اس حدیث کی صحت میں کوئی شک وشبہ تھا تو آپ اس کی تصحیح کا مطالبہ فرماسکتے تھے، اس کے کسی راوی پر جرح کرسکتے تھے، لیکن آنجناب نے نہ تو حدیث نقل کی، نہ اس کی سند پر کوئی جرح فرمائی، نہ مجھ سے اس کی تصحیح کا مطالبہ فرمایا، بلکہ اس کے بجائے یہ کیا کہ جن چار کتابوں کے حوالے میں نے دئے تھے (مسند احمد‘ ابن ماجہ‘ مستدرک حاکم‘ ابن جریر) ان میں سے تین حوالوں کو چھوڑ کر آخری حوالے پر تنقید شروع کردی، اور یہ
۱۱۰ یہ۱، شروع کردی، اور یہ
۱اور یہ
۱۱۰
تنقید بھی حدیث پر نہیں بلکہ خود امام ابن جریرؒ پر۔ میں جناب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا کسی علمی بحث میں گفتگو کا انداز یہی ہونا چاہئے؟ ایک لمحہ کے لئے فرض کر لیجئے کہ امام ابن جریرؒ آپ کے نزدیک ناپسندیدہ شخصیت ہیں، لیکن اس سے میرے مدعا کو کیا نقصان پہنچا؟ امام ابن جریرؒ کی شخصیت کے پسندیدہ یا ناپسندیدہ ہونے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے یا نہ ہونے کی بحث سے کیا تعلق؟ اور امام ابن جریرؒ پر جرح کر کے آپ پہلے تین حوالوں سے کیسے عہدہ برا ہو گئے؟ اگر آنجناب حقائق کا سامنا کرنے کی تب و تاب نہیں رکھتے تھے تو کس نے فرمائش کی تھی کہ آپ ان حقائق کو رد کرنے کے لئے خامہ فرسائی فرمائیں؟
امام ابن جریرؒ پر رافضیت کا اتہام :
آنجناب، الامام الحافظ محمد بن جریرؒ پر اپنے غیظ و غضب کا اظہار فرماتے ہوئے لکھتے ہیں :
”یہی ہے وہ شخصیت جس نے سب سے پہلے قرآن کریم کی تفسیر اور تاریخ اسلام مرتب کی، اس کا پورا نام ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب تھا۔ ۲۲۴ھ میں طبرستان (ایران) میں پیدا ہوا تھا۔ طبرستان کی طرف نسبت سے
۱۱۱
"طبری" کہلائے، علم و فضل میں اپنے وقت کا بے مثال شخص تھا اور مسلمان علما میں آپ کا مقام بہت اونچا تھا۔ لیکن البدایہ والنہایہ جلد ۱۱ صفحہ ۱۴۶ پر اس کو رافضی قرار دیا ہے۔ امام ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ جلد دوم صفحہ نمبر ۷۱۳ پر اس کو شیعہ لکھا ہے۔ میزان الاعتدال جلد سوم صفحہ ۳۵ پر حافظ احمد بن علی سلیمانی کہتے ہیں کہ ابن جریر رافضیوں کیلئے حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔ اگر آپ محدث العصر علامہ تمنا عمادی کی کتاب "امام زہری وامام طبری" کا مطالعہ کرلیں تو آپ کو بہت سے حقائق مل جائیں گے"۔
تنقیح : آنجناب کی اس عبارت سے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یا تو جناب کو ان تین کتابوں کی زیارت ہی کا شرف حاصل نہیں ہوا، بلا تحقیق سنی سنائی بات آگے نقل کردی، اور آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی پروا نہیں کی :
"کفٰی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع"۔
(مشکوۃ ص۲۸)
یا آنجناب ان بزرگوں کا مدعا سمجھنے سے قاصر رہے کہ ان اکابر نے امام ابن جریرؒ پر رافضیت کا اتہام نہیں لگایا بلکہ اس تہمت کی تردید کی ہے، اور ان کی برأت ظاہر فرمائی ہے، ان کتابوں کی اصل عبارت جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں :
البدایہ والنہایہ جلد ۱۱ ص ۱۴۶ کی عبارت یہ ہے:
”وقد كانت وفاته وقت المغرب عشية يوم الاحد ليومين بقيا من شوال من سنة عشر وثلثمائة وقد جاوز الثمانين بخمس او ست سنين، وفى شعر راسه ولحيته سواد كثير“۔
ودفن فى داره لان بعض عوام الحنابلة ورعاعهم منعوا من دفنه نهارا، ونسبوه الى الرفض، ومن الجهلة من رماه بالالحاد ۔ وحاشاه من ذالك كله ۔ بل كان احد ائمة الاسلام علما وعملا بكتاب الله وسنة رسوله، وانما تقلدوا ذلك عن ابى بكر محمد بن داود الفقيه الظاهرى، حيث كان يتكلم فيه، ويرميه بالعظائم وبالرفض، ۔ ولما توفى اجتمع الناس من سائر اقطار بغداد وصلوا عليه بداره ودفن بها، ومكث الناس يترددون الى قبره شهور يصلون عليه“
ترجمہ : ”امام ابن جریرؒ کی وفات اتوار کی شام مغرب کے وقت شوال ۳۱۰ھ کے دو دن رہنے پر ہوئی۔ سن مبارک اسی (۸۰) سال سے پانچ یا چھ سال متجاوز تھا، اس کے باوجود سر اور داڑھی کے بال بیشتر سیاہ تھے، ان کو گھر کے احاطہ میں دفن کیا گیا۔ کیونکہ بعض حنابلہ نے اور ان کے احمق و بے وقوف لوگوں نے ان کو دن کے وقت دفن کرنے سے روک دیا تھا، ان لوگوں نے موصوف پر رفض کی تہمت لگائی، اور بعض جاہلوں نے الحاد کی تہمت دھری، توبہ توبہ! آپ ان
۱۱۳
تہمتوں سے بری ہیں، بلکہ آپ ائمہ اسلام میں سے ایک فرد ہیں، جو کتاب اللہ وسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وعمل کے جامع تھے۔ ان عوام نے اس تہمت تراشی میں ابوبکر محمد بن داؤد فقیہ ظاہری کی تقلید کی، یہ صاحب امام ابن جریرؒ پر تنقید کرتے تھے، گھناؤنے امور اور رفض کی ان پر تہمت لگاتے تھے۔ جب امام کا انتقال ہوا تو لوگ بغداد کے اکناف واطراف سے جمع ہوگئے، ان کی نماز جنازہ پڑھ کر انہیں گھر کے احاطہ میں دفن کردیا، اور لوگ کئی مہینے تک ان کی قبر پر آکر نماز جنازہ پڑھتے رہے“۔
اس عبارت میں صاحب البدایہ والنہایہ انہیں رفض کی تہمت سے پاک اور منزہ قرار دیتے ہیں اور ایسی تہمت لگانے والوں کو جاہل، احمق، مفسد قرار دیتے ہیں، لیکن آنجناب کس خوبصورتی سے فرماتے ہیں کہ ”البدایہ والنہایہ میں اس کو رافضی قرار دیا ہے“۔
- ◯ امام ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں ان کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے :
”الامام العلم الفرد الحافظ ابوجعفر الطبری احد الاعلام وصاحب التصانیف“۔
آگے لکھا ہے :
”قال ابوبکر الخطیب: کان ابن جریر احد الائمۃ ، یحکم بقولہ ، ویرجع الی رایه ، لمعرفتہ وفضلہ ، جمع من العلوم ما لم یشارکہ فیہ احد من اھل عصرہ ، فکان حافظا لکتاب اللہ ، بصیرا بالمعانی ، فقیہا فی احکام القرآن ؛ عالما بالسنن وطرقہا صحیحہا
۱۴۴
وسقیمها، ناسخها ومنسوخها ، عارفا باحوال الصحابة والتابعين الخ“۔ (ص١١٧ ج٢)
ترجمہ : ”ابوبکر الخطیب فرماتے ہیں کہ امام ابن جریر ائمہ اسلام میں سے تھے، ان کے قول پر حکم کیا جاتا تھا اور ان کی رائے کی طرف رجوع کیا جاتا تھا، ان کے علوم ومعارف اور ان کی فضیلت کی وجہ سے۔ انہوں نے اتنے علوم کو جمع کیا تھا جن میں ان کے ہم عصروں میں سے ایک بھی ان کے ساتھ شریک نہیں تھا۔ پس وہ کتاب اللہ کے حافظ تھے، معانی میں بصیرت رکھتے تھے، احکام قرآن میں فقیہ تھے، سنن کے، ان کے طرق کے، ان کے صحیح وسقیم اور ان کے ناسخ ومنسوخ کے عالم تھے، صحابہؓ اور تابعینؒ کے احوال سے واقف تھے“.....“۔
آگے امام ذہبیؒ لکھتے ہیں :
”قال محمد بن علی بن سهل الامام سمعت ابن جریر قال : من قال ان ابابکر وعمر ليس با مامی هدی یقتل“۔ (ص١١٧ ج٢)
ترجمہ : ”امام محمد بن علی بن سہلؒ فرماتے ہیں کہ میں نے امام ابن جریر کی زبان سے خود سنا ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص یہ کہے کہ حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما، امام ہدایت نہیں تھے (وہ واجب القتل ہے) اس کو قتل کیا جائے“۔
کیا آنجناب کے نزدیک امام ذہبیؒ کی مندرجہ بالا تحریر کا یہی مفہوم ہے کہ ”امام ذہبیؒ نے اس کو شیعہ لکھا ہے“؟
اور میزان الاعتدال میں امام ذہبیؒ لکھتے ہیں :
١١٥
”اقذع احمد بن علی السلیمانی الحافظ‘ فقال: کان یضع للروافض‘ کذا قال السلیمانی‘ وھذا رجم بالظن الکاذب‘ بل ابن جریر من کبار ائمۃ الاسلام المعتمدین‘ وما ندعی عصمتہ‘ من الخطا ولا یحل لنا ان نوذیہ‘ بالباطل والھویٰ‘ فان کلام العلماء بعضھم فی بعض ینبغی ان یتانی فیہ‘ ولا سیما فی مثل امام کبیر‘ فلعل السلیمانی اراد الا تی‘ ولوحلفت ان السلیمانی ما اراد الا الا تی بررت‘ والسلیمانی حافظ متقن‘ کان یدری ما یخرج من راسہ‘ فلا اعتقد انہ یطعن فی مثل ھذا الامام بھذا الباطل‘ واللہ اعلم“۔
(ص ۴۹۹ ج ۳)
ترجمہ : ”اور حافظ احمد بن علی سلیمانی نے یہ کہہ کر نہایت گندگی اچھالی ہے کہ ”وہ روافض کے لئے حدیثیں گھڑا کرتے تھے“۔ ہرگز نہیں‘ بلکہ ابن جریر لائق اعتماد اکابر ائمہ اسلام میں سے تھے‘ اور سلیمانی کا یہ قول جھوٹے گمان کے ساتھ اندھیرے میں تیر چلانا ہے‘ اور ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ وہ معصوم عن الخطا تھے۔ اور ہمارے لئے حلال نہیں کہ باطل اور خواہش نفس کے ساتھ ان کو ایذا پہنچائیں‘ کیونکہ علما کی ایک دوسرے پر تنقید اس لائق ہے کہ اس میں تحقیق اور غور و فکر سے کام لیا جائے‘ خصوصاً ایسے بڑے امام کے حق میں۔ شاید کہ سلیمانی نے ان صاحب کا ارادہ کیا ہوگا جن ۱۱۶
کا ذکر آگے آیا ہے (یعنی محمد بن جریر بن رستم ابو جعفر طبری) اور اگر میں حلف اٹھاؤں کہ سلیمانی کی مراد یہی شخص ہے جس کا ذکر آگے آیا ہے تو میں اپنے حلف میں سچا ہوں گا‘ کیونکہ سلیمانی حافظ متقن ہیں‘ وہ جانتے ہیں کہ ان کے سر سے کیا نکل رہا ہے‘ پس میں یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ سلیمانی اتنے بڑے امام پر ایسا باطل اور جھوٹا طعن بھی کر سکتے ہیں"۔
ان تینوں کتابوں کی اصل عبارتیں آپ کے سامنے رکھنے کے بعد میں آنجناب کے بارے میں اس حسن ظن پر مجبور ہوں کہ آنجناب نے ان کتابوں کو بچشم خود ملاحظہ نہیں فرمایا ہوگا‘ بلکہ کسی ایسے کذاب کی نقل پر اعتماد کرلیا ہوگا جو حافظ ذہبیؒ کے بقول ”یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کے سر سے کیا نکل رہا ہے"۔
الغرض البدایہ والنہایہ‘ تذکرۃ الحفاظ اور میزان الاعتدال کے حوالہ سے یہ کہنا کہ حافظ ابن جریر رافضی تھے‘ بالکل ایسا ہی ہوگا‘ جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام (نعوذ باللہ) خدا تھے‘ کیونکہ قرآن میں لکھا ہے ”ان اللہ ھو المسیح بن مریم"۔ قرآن کریم نے کفار ومشرکین کے بہت سے غلط دعووں کو نقل کرکے ان کی تردید کی گئی ہے‘ کون عقلمند ہوگا جو ان اقوال مردودہ کو قرآن کریم ہی کی طرف منسوب کرنے لگے؟ مجھے تعجب ہوتا ہے کہ لوگ بایں فہم ودانش نہ صرف علمی مسائل میں ٹانگ اڑاتے ہیں‘ بلکہ اپنی خوش فہمی کے حوالہ سے تمام اکابر امت کے فہم کو غلط قرار دینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے۔
۱۱۷
تمنا عمادی محدث العصر؟
آنجناب نے اس ناکارہ کے علم میں اضافہ کرنے کے لئے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ :
”اگر آپ محدث العصر علامہ تمنا عمادی کی کتاب ”امام زہری و امام طبری“ کا مطالعہ کرلیں تو آپ کو بہت سے حقائق مل جائیں گے“۔
تنقیح : آنجناب نے امام ابن جریر کو رافضی ثابت کرنے کیلئے البدایہ‘ تذکرۃ الحفاظ اور میزان الاعتدال کے جو حوالے دئے ہیں یہ غالباً محدث العصر علامہ تمنا عمادی“ کے گلشن افکار کی خوشہ چینی ہوگی‘ آنجناب کے پیش کردہ نمونے سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ آپ کے ”محدث العصر علامہ“ نے اس کتاب میں کس قسم کے حقائق رقم فرمائے ہوں گے؟ کیا اس کے بعد بھی مجھے ان کی کتاب ”امام زہری و امام طبری“ کے مطالعہ سے آنکھیں ٹھنڈی کرنے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ لطف یہ کہ ان ”علامہ محدث العصر“ کو کتاب کا نام رکھنا بھی نہیں آیا‘ ایک طرف تو وہ زہری اور طبری پر رافضی ہونے اور رافضیوں کے مطلب کی حدیثیں گھڑنے کی تہمت لگاتے ہیں‘ اور دوسری طرف ان دونوں بزرگوں کو ”امام“ بھی کہتے ہیں‘ العظمۃ للہ۔ جس زمانے میں ایسے ایسے لوگ ”علامہ“ اور ”محدث العصر“ کا خطاب پاتے ہوں اس زمانے کا اور زمانے والوں کا خدا حافظ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد : ”اتخذ الناس روسا جھالا“ کا کیسا درد ناک منظر سامنے آتا ہے؟
قرآن کریم اور حیات مسیح علیہ السلام
آنجناب نے میری کتاب کے صفحہ ۲۴۵ سے میری عبارت کا یہ اقتباس
۱۱۸
نقل کیا ہے :
”حضرت عیسیٰ جس عمر میں آسمان پر اٹھائے گئے تھے اسی عمر میں نازل ہوں گے‘ ان کا آسمان پر قیام ان کی صحت اور عمر پر اثر انداز نہیں۔ جس طرح اہل جنت جنت میں سدا جوان رہیں گے اور وہاں کی آب و ہوا ان کی صحت اور عمر کو متاثر نہیں کرے گی“۔
جیسا کہ اس اقتباس سے ظاہر ہے میرا مدعا ان لوگوں کے استبعاد کو دور کرنا تھا جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتنی مدت تک آسمان پر رہنے کے بعد کیا (نعوذ باللہ) پیر فرتوت نہیں ہوگئے ہوں گے؟ لیکن آنجناب نے میرے اس مقدمہ پر کوئی جرح کرنے کے بجائے اس نکتہ پر قرآن کریم سے دلائل دینا شروع کر دئیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر گئے ہی نہیں‘ بلکہ وہ اپنی طبعی عمر زمین پر گزار کر فوت ہوگئے ہیں‘ یوں تو قرآن کریم کی کوئی آیت بھی لکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوا کہ مسیح علیہ السلام فوت ہوگئے‘ لیکن آنجناب نے جن آیات کو نقل فرمایا ہے میں بالکل نہیں سمجھ سکا کہ ان سے وفات مسیح علیہ السلام کیسے ثابت ہوئی‘ ذیل میں آپ کی ذکر کردہ آیات مع آپ کی تقریر کے نقل کرتا ہوں :
”ويكلم الناس فى المهد وكهلا“۔
”محترمی! اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر مرنے تک اس کی عمر کی تعیین خود کر دی ہے جب کہ آپ نے مندرجہ بالا تاویل پیش کر کے ان آیات کو رد کر دیا ہے ”ويكلم الناس فى المهد وكهلا ومن الصلحين“ ترجمہ : ”اور وہ لوگوں سے گہوارے میں بھی بات کرے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی اور وہ ایک مرد صالح ہوگا“۔
(سورہ آل عمران آیت نمبر ۴۶)
۱۱۹
دوسری جگہ سورۃ المائدہ آیت نمبر ۱۱۰ میں ارشاد الہی ہے : "تکلم الناس فی المہد وکہلا "۔ ترجمہ : ”تو گہوارے میں بھی لوگوں سے بات کرتا تھا اور ادھیڑ عمر کو پہنچ کر بھی لوگوں سے بات کرتا تھا“۔ ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی دنیاوی زندگانی ادھیڑ عمر تک تھی اور اس کے بعد طبعی موت سے وفات پائی تھی“۔
تنقیح : آنجناب ذرا غور فرمائیں کہ اس آیت کے کس لفظ کا یہ مفہوم ہے کہ ”عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر نہیں اٹھایا گیا‘ بلکہ وہ اپنی طبعی عمر گزار کر وفات پاچکے ہیں“۔
اگر آنجناب کو ذرا بھی غور و فکر کی توفیق ہوتی تو آپ سمجھ لیتے کہ ان دونوں آیتوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی کی طرف اشارہ ہے‘ شرح اس کی یہ ہے کہ آیت شریفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں دو خارق عادت باتیں ذکر فرمائی ہیں‘ ایک ان کا گہوارے میں باتیں کرنا‘ دوسرے کہولت کی عمر میں باتیں کرنا۔
گہوارے میں باتیں کرنا تو قرآن کریم میں بھی مذکور ہے‘ اور سب لوگوں کو معلوم بھی ہے کہ جب ان کی والدہ ماجدہ ان کو گود میں اٹھائے قوم کے پاس آئیں‘ اور لوگوں نے ان کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا تو حضرت مریم بتول رضی اللہ عنہا نے اس بچے کی طرف اشارہ کردیا‘ اور جب لوگوں نے یہ کہا کہ ہم گود کے بچے سے کیسے پوچھیں؟ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے طویل تقریر فرمائی‘ جو سورہ مریم کے دوسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے نقل فرمائی ہے‘ پس یہ گہوارے میں باتیں کرنا خارق عادت معجزہ تھا۔
ادھر کہولت کے زمانہ میں باتیں کرنا بھی اللہ تعالیٰ نے اسی کے ساتھ ۱۲۰
ذکر فرمایا، اور کہولت کا زمانہ خواہ تیس برس کی عمر کے بعد لیا جائے یا پچاس برس کی عمر کے بعد۔ بہرحال اس عمر میں بھی باتیں کیا کرتے ہیں، اور اس میں کوئی اعجوبہ نہیں، کہ اس کو ”تکلم فی المہد“ کے ساتھ ملا کر بطور خرق عادت کے ذکر کیا جائے، ہاں! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا اور ہزاروں سالوں کے بعد نازل ہو کر سن کہولت میں لوگوں سے باتیں کرنا واقعی ایک خرق عادت معجزہ ہے، اس لئے ہو نہ ہو اسی نزول کے زمانے کے تکلم کو تکلم فی المہد کے ساتھ ملا کر ذکر کیا گیا ہو، کہ ان کے تکلم کی یہ دونوں حالتیں خارق عادت معجزہ ہیں۔
بہرحال اس آیت شریفہ سے تو بشرط فہم یوں نکلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا، اور وہ نازل ہونے کے بعد بطور خرق عادت لوگوں سے باتیں کریں گے، ایک تو اتنے طویل وقفہ کے بعد باتیں کرنا بذات خود خرق عادت اعجوبہ ہے، پھر اتنی طویل مدت کے بعد ان کا سن کہولت میں رہنا دوسرا خرق عادت معجزہ ہے، یہی وجہ ہے سخن شناسان کلام الٰہی نے اس آیت کی مراد یہ سمجھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہونے کے بعد لوگوں سے باتیں کریں گے، اور ان کا یہ باتیں کرنا خارق عادت معجزہ ہوگا۔
(دیکھئے تفسیر قرطبی ص ۹۰ ج ۴)
بہرحال اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وفات پا جانا تو آپ ثابت نہیں کر سکتے، اس کے برعکس اس آیت سے ان کا زندہ ہونا اور آسمان پر اٹھایا جانا عقلاً و نقلاً ثابت ہے۔
قد خلت من قبلہ الرسل
آنجناب لکھتے ہیں : اسی سورت سے آیت نمبر ۷۵ کو بھی ذہن میں رکھیں : ۱۲۱
"ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل"۔
ترجمہ : ”مسیح ابن مریم اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا، اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے“۔
یعنی وفات پاچکے تھے۔ گویا عیسیٰ علیہ السلام تک جتنے انبیا آچکے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کی وفات پانے کی خبر دیدی اور بالکل اسی طرح سورہ آل عمران آیت نمبر ۱۴۴ حضرت محمد تک کے تمام رسولوں کی وفات پانے کی تصدیق کرتی ہے ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل“ ترجمہ ”محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں“ اسی آیت میں عیسیٰ کی وفات پانے کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے موجود ہے اگر عیسیٰ زندہ ہوتے تو اس کو باقی رسولوں سے مستثنیٰ کردیتے۔“
تنقیح : یہاں بھی جناب نے وفات مسیح علیہ السلام کے ثبوت میں ایک چھوڑ دو آیتیں نقل کردیں، لیکن آیات شریفہ کا مدعا ذہن شریف کے لئے عنقا ہی رہا۔
اگر آنجناب ”روایت پرست مولوی“ کی پھبتی اس کم سواد پر چست نہ کریں تو مجھ سے سنئے!
پہلی آیت شریفہ میں دعوی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام خدا نہیں، بلکہ صرف ایک رسول ہیں، اس دعوی کی دلیل یہ ارشاد فرمائی کہ ”ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں“ اور آپ کی تشریح کے مطابق ”یعنی وفات پاچکے ہیں“
گویا دعویٰ یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام ایک عظیم الشان رسول ہیں۔
۱۲۲
اس دعویٰ کی دلیل کا صغریٰ کبریٰ یہ ہے :
صغریٰ : اور ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں (بقول آپ کے وفات پاچکے ہیں)
کبریٰ : اور جو گزرجائے (بقول آپ کے وفات پاجائے) وہ خدا نہیں ہوتا۔
نتیجہ : لہٰذا ثابت ہوا کہ مسیح علیہ السلام خدا نہیں۔
اب اس پر غور فرمائیے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام خود فوت ہو چکے تھے تو ان کی الوہیت کو باطل کرنے کے لئے پہلے رسولوں کی وفات کا حوالہ دینے کی کیا ضرورت تھی؟ سیدھی سی بات فرمادی جاتی کہ مسیح علیہ السلام مرچکے ہیں، اور جو مرجائے وہ خدا نہیں ہوسکتا، لہٰذا ثابت ہوا کہ وہ خدا نہیں، اس کے بجائے ان کی الوہیت کو باطل کرنے کے لئے پہلے انبیا علیہم السلام کا حوالہ دینا اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں البتہ ان کی موت ممکن ہے، اور جس کی موت ممکن ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا۔
آنجناب اس آیت کو وفات مسیح علیہ السلام کی دلیل میں پیش فرماتے ہیں، حالانکہ آیت میں ایک حرف بھی ایسا نہیں جس سے آنجناب کا مدعا ثابت ہو، اس کے برعکس آیت کا سیاق و سباق اور قرآن کا طرز استدلال خود پکار رہا ہے کہ نزول آیت کے وقت حضرت مسیح علیہ السلام فوت شدہ نہیں تھے، بلکہ زندہ تھے، اس لئے ان کی وفات کے امکان کو ثابت کرنے کے لئے دوسرے رسولوں کا حوالہ دینے کی ضرورت پیش آئی۔
ٹھیک یہی طرز استدلال دوسری آیت شریفہ ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل“ میں اختیار کیا گیا ہے، یہاں بھی دعویٰ یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا نہیں کہ ان کا وفات پاجانا ناممکن ہو، بلکہ صرف ایک رسول ہیں، اور رسول کی وفات ممکن ہے، چنانچہ آپؐ سے پہلے بہت سے
۱۴۳
رسول گزر چکے ہیں ان کی وفات ناممکن نہیں تھی۔ یہاں بھی استدلال میں دوسرے رسولوں کا حوالہ دیا گیا ہے، کیونکہ نزول آیت کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس جہان میں رونق افروز تھے، مگر شیطان نے چونکہ آپؐ کی وفات کی جھوٹی خبر اڑادی، جس کو سن کر صحابہ کرام کے ہوش اڑ گئے، اس لئے انہیں تنبیہ فرمائی گئی کہ یہ خبر آج جھوٹی ہے تو کل سچی بھی ہو سکتی ہے، اس آیت سے بھی وفات مسیح علیہ السلام کا سراغ تو دور و نزدیک کہیں نہ نکلا، نکلا تو یہ نکلا کہ یہ طرز استدلال صرف اسی شخصیت کے بارے میں کیا جاسکتا ہے جو نزول آیت کے وقت زندہ موجود ہو، جو الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمائے گئے ٹھیک وہی الفاظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں استعمال کئے گئے، جس سے اشارات ربانی کے سمجھنے والوں نے یہی سمجھا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی نزول آیت کے وقت زندہ تھے، ورنہ یہ طرز استدلال صحیح نہ ہوتا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی قطعی و یقینی ہے
آنجناب تحریر فرماتے ہیں :
”صفحہ نمبر ۲۷۴ پر آپ کا جواب ہے ”قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کی تصریح ”بل رفعہ اللہ الیہ“ اور ”انی متوفیک ورافعک الی“ میں موجود ہے اور یہ کہنا غلط ہے کہ قرآن کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کی تصریح نہیں کرتا“
محترم مولانا! آپ کے اس جواب سے مجھے اختلاف ہے اور وہ یہ کہ آپ ان آیات کا ترجمہ غلط کر رہے ہیں لہٰذا
۱۴۴
اگر ناگوار خاطر نہ ہو آپ کے اس جواب پر میں تفصیلاً معروضات پیش کروں گا“۔
تنقیح : اس ناکارہ نے اپنے مندرجہ بالا دعویٰ کی دلیل بھی ساتھ ہی ذکر کردی تھی، آنجناب کا فرض تھا کہ اگر آپ کے خیال میں میرا دعویٰ صحیح نہیں تھا تو میری ذکر کردہ دلیل کو توڑ کر دکھاتے، جناب سے یہ تو نہ ہوسکا، بس بے سوچے سمجھے لکھ دیا کہ ”آپ نے ترجمہ غلط کیا ہے“ حالانکہ بندہ خدا! میں نے آیات کا ترجمہ کب کیا تھا جس کو آپ غلط کہہ رہے ہیں؟ بہرحال میں اپنی پوری عبارت لکھ کر اس کی وضاحت بھی مختصراً کئے دیتا ہوں، کیا بعید ہے کہ اگر آپ سمجھنا چاہیں تو اللہ تعالیٰ فہم کو آسان فرمادیں، میں نے لکھا تھا :
”قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کی تصریح ”بل رفعہ اللہ الیہ“ اور ”انی متوفیک ورافعک الی“ میں موجود ہے، چنانچہ تمام ائمہ تفسیر اس پر متفق ہیں کہ ان آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کو ذکر فرمایا ہے، اور رفع جسمانی پر احادیث متواترہ موجود ہیں، قرآن کریم کی آیات کو احادیث متواترہ اور امت کے اجماعی عقیدہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ آیات رفع جسمانی پر قطعی دلالت کرتی ہیں اور یہ کہنا غلط ہے کہ قرآن کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کی تصریح نہیں کرتا“۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ قرآن لفظ و معنی کا نام ہے، یہ تو ہر مسلم و کافر کو مسلم ہے کہ قرآن کریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آج تک قطعی تواتر سے نقل ہوتا چلا آیا ہے، اس لئے اس کا ایک ایک حرف قطعی الثبوت ہے، اب رہا یہ کہ فلاں لفظ کی دلالت اس کے معنی پر قطعی ہے یا نہیں؟ اس کا
۱۲۵
معیار یہ ہے کہ جس طرح الفاظ قرآن کا ثبوت متواتر ہے اسی طرح اگر کسی لفظ کے معنی بھی متواتر ہوں تو یہ متواتر معنی و مفہوم بھی لاریب قطعی ہو گا، اور جس طرح الفاظ قرآن پر ایمان لانا فرض ہے اسی طرح الفاظ قرآن کے متواتر معنی پر ایمان لانا فرض ہوگا، اور ان قطعی معنی و مفہوم کو چھوڑ کر کوئی دوسرا مفہوم گھڑ لینا صحیح نہیں ہو گا۔
مثلاً قرآن کریم میں صلوٰۃ و زکوٰۃ اور حج وصیام کے جو الفاظ آئے ہیں ان کے معنی قطعی تواتر سے ثابت ہیں کہ صلوٰۃ سے مراد یہ ہے، زکوٰۃ کا مفہوم یہ ہے، حج اور صیام کے یہ معنی ہیں، جس طرح قرآن کے ان الفاظ پر ایمان لانا شرط اسلام ہے اسی طرح ان کے اس متواتر مفہوم کو ماننا بھی شرط ایمان ہے، اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں قرآن کریم کے ان الفاظ کے اس مفہوم کو نہیں مانتا تو وہ منکر قرآن تصور کیا جائے گا۔
یا مثلاً قرآن کریم میں ”محمد رسول اللہ والذین معہ“ کا جملہ ہے، جس کا مفہوم ومصداق قطعی تواتر کے ساتھ متعین ہے، اگر کوئی شخص اس کے مصداق کو بدل کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ”محمد رسول اللہ والذین معہ“ سے مراد میں ہوں اور میری جماعت ہے تو وہ متواتر مفہوم کا منکر ہونے کی وجہ سے منکر قرآن شمار کیا جائے گا۔
یا مثلاً قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ”خاتم النبیین“ فرمایا گیا ہے، اور اس کا مفہوم قطعی تواتر سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اگر کوئی شخص اس قطعی متواتر مفہوم کو چھوڑ کر اس کا کوئی اور مفہوم گھڑتا ہے تو وہ بھی آیت خاتم النبیین کا منکر سمجھا جائے گا۔
ٹھیک اسی طرح سمجھئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قرآن کریم کے یہ الفاظ : ”ورافعک الی“ (آل عمران؍۵۵) اور ”بل رفعہ اللہ
۱۴۶
الیہ“ (النساء/۱۵۸) جس طرح قطعی متواتر ہیں اسی طرح ان کا یہ مفہوم بھی قطعی متواتر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بجسد عنصری آسمان پر اٹھا لیا۔ اس کے خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد‘ کسی صحابیؓ ‘کسی تابعیؒ‘ کسی امام مجتہد‘ کسی محدث و مفسر اور کسی مجدد ملت اور عالم ربانی کا کوئی قول پیش نہیں کیا جاسکتا۔ پس چونکہ ان دونوں آیتوں کا یہ مفہوم قطعی تواتر سے ثابت ہے کہ ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی آسمانی کی خبر دی گئی ہے‘ اس لئے ان آیات شریفہ کا یہ مفہوم قطعی و یقینی طور پر مراد خداوندی ہے‘ جو ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے‘ اور جو شخص اس مراد خداوندی کو نہیں مانتا وہ قرآن کریم کا منکر ہے اور اللہ تعالیٰ کی گویا تکذیب کرتا ہے‘ نعوذ باللہ من الغباوۃ والغوایۃ۔
اگر میں خانہ کعبہ میں کھڑا ہو کر یہ حلف اٹھاؤں کہ ان دونوں آیتوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ”رفع الی اللہ“ سے ان کا ”رفع جسمانی الی السما“ مراد ہے تو بحمد اللہ میں اپنے حلف میں سچا ہوں گا‘ اور جس کا جی چاہے میں اس نکتہ پر اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں“۔
اس مختصر سی وضاحت کے بعد آپ کی طویل تقریر کا جواب دینے کی ضرورت نہیں رہ جاتی‘ تاہم اس خیال سے کہ آپ یہ محسوس کریں گے کہ میری تقریر کا جواب نہیں دیا‘ اس لئے آپ کی پوری تقریر حرفا حرفا نقل کرکے اس کے ضروری اجزا پر تبصرہ کرتا جاؤں گا‘ کیا بعید ہے کہ حق تعالیٰ شانہ آپ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمادیں‘ ورنہ قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں یہ تو عرض کر سکوں گا کہ میں نے خیر خواہی کے ساتھ ان کو سمجھانے میں کوئی کسر ۳۷
نہیں چھوڑی تھی، مگر انہوں نے اپنے خیرخواہوں کو اپنا دشمن سمجھا، واللہ الموفق لكل خير وسعادة ۔
آنجناب تحریر فرماتے ہیں :
”یہود قتل اور پھانسی کی سزا سخت ترین دشمن کو دیا کرتے تھے، وہ جس کو گمنامی، رسوائی، ذلت اور بدترین موت مارنا چاہتے اس کو قتل یا پھانسی (صلیب) کی سزا دے کر مارتے۔ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تبلیغ اسلام یہودیوں کو ناگوار گزری تو انہوں نے اس وقت کے بادشاہ پیلاطوس کو شکایت کی کہ یہ نوجوان ایک نیا دین (اسلام) پیش کررہا ہے جس سے ہم مغلوب ہو جائیں گے، لہٰذا بادشاہ وقت کی عدالت نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اپنا سخت ترین دشمن گردانتے ہوئے اس کو قتل اور پھانسی کی سزا سنائی۔ سزا سن کر حضرت عیسٰی ضرور خوفزدہ ہوگئے ہوں گے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو تسلی دیکر فرمایا ”اذ قال اللہ یعیسٰی انی متوفیک“ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”اے عیسٰی تجھے موت میں ہی دوں گا“۔ یہ کون ہوتے ہیں تجھے مارنے والے۔ ”ورافعک الی“ اور میں اپنی طرف سے تجھے رفعت عطا کروں گا“۔ یعنی یہ لوگ (یہود) تجھے رسوائی، گمنامی، اور ذلت کی موت مارنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عیسٰی کو لعنتی موت ماردیں گے لیکن تجھے ان کی ان تمناؤں کی ذرہ برابر بھی فکر نہیں کرنی چاہئے یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ”ومطہرک من الذین کفروا“ اور جنہوں نے تیری دعوت (اسلام) کا انکار کیا ان سے تجھے پاک کردوں گا“۔
۱۲۸
وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ ۔ ”اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک ان لوگوں پر فوقیت دوں گا جنہوں نے تمہاری دعوت کا انکار کیا
ہے“۔ (سورہ آل عمران ۵۵)
تنقیح : آنجناب نے اس آیت شریفہ کی جو تشریح فرمائی ہے اس کا لب لباب یہ ہے کہ یہود عیسیٰ علیہ السلام کو قتل وصلب کے ذریعہ لعنتی موت مارنا چاہتے تھے، اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اندیشہ ہوا کہ میں کہیں لعنتی موت نہ مارا جاؤں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تم فکر مت کرو میں تم کو لعنتی موت سے بچاکر تجھے اپنی طرف رفعت عطا کروں گا، خلاصہ یہ کہ آیت میں ”ورافعک الی“ کی خوش خبری بمقابلہ ”لعنتی موت“ کے ہے، لہٰذا اس کے معنی رفعت عطا کرنے کے ہوئے۔
مگر لعنتی موت کا یہودی مفہوم یہاں مراد لینا چند وجہ سے غلط ہے :
- اول : یہ مفہوم کبھی کسی مفسر قرآن کو نہیں سوجھا، سوائے مرزا غلام
احمد قادیانی کے، معلوم نہیں آنجناب کو مرزا قادیانی سے ذہنی توارد ہوا ہے، یا ان کی ذات شریفہ سے آپ نے استفادہ فرمایا ہے۔
- دوم : قرآن کریم نے قتل اور ”رفع الی اللہ“ کے درمیان مقابلہ
کرکے قتل کی نفی فرمائی ہے، اور رفع الی اللہ کا اثبات فرمایا ہے، جیسا کہ آگے چل کر آپ خود بھی اس کو ذکر کریں گے، لہٰذا لعنتی موت کا یہ افسانہ اگر کسی یہودی کے ذہن میں ہو بھی تو قرآن کریم نے اس کا اعتبار نہیں فرمایا، ایک شخص جو قرآن فہمی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور اکابر سلف کے فرمودات کو بھی پائے استحقار سے ٹھکراتا ہو کس قدر حیرت و تعجب کی بات ہے کہ وہ یہودی تصورات پر تشریح قرآن کریم کی بنیاد رکھے؟
۱۴۹
سوم : یہودیوں کا تصور خواہ کچھ بھی ہو مگر قرآن کریم کسی مقبول بندے کی مظلومانہ شہادت کو اس کی ملعونیت کی علامت ہونا تسلیم نہیں کرتا، بلکہ خود ایسا دعویٰ کرنے والوں کو ملعون قرار دیتا ہے۔ حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا علیہما السلام کو یہود نے کس طرح ظالمانہ انداز سے شہید کیا؟ مگر کیا وہ نعوذ باللہ اس مظلومانہ شہادت کی وجہ سے ملعون ہو گئے؟ نہیں بلکہ ان کے شہید کرنے والوں کو قرآن کریم نے ملعون قرار دیا ”ویقتلون الانبیاء بغیر حق“ لہٰذا اس یہودی تصور پر تفسیر قرآن کی بنیاد رکھنا سراسر غلط ہے۔ ایسا خیال مرزا قادیانی کو سوجھے، جو دین اور عقل دونوں سے منسلخ تھا، تو چنداں تعجب خیز نہیں، لیکن آنجناب ایسے صاحب عقل ایم اے اسلامیات بھی اگر اس کی تقلید کرنے لگیں تو جائے حیرت ہے۔
چہارم : اور اگر ایک لمحہ کے لئے اس ”لعنتی موت“ کے افسانے کو تسلیم بھی کرلیا جائے اور یہ بھی مان لیا جائے کہ ”ورافعک الی“ کے معنی ہیں ”میں تجھے رفعت عطا کروں گا“ تب بھی اس سے ”رفع الی السماء“ کی نفی نہیں ہوتی، کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا بھی تو ان کی بلند مرتبت اور رفعت شان کو دوبالا کرتا ہے، لہٰذا آیت کا ترجمہ بگاڑنے سے بھی آپ کا مدعا عنقا ہی رہا، آپ قرآن کریم کی وہ آیت پیش کیجئے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر تشریف لے جانے کی نفی کرتی ہو، ”ورافعک الی“ اور ”بل رفعہ اللہ الیہ“ کا نیا مفہوم ایجاد کرنے کے باوجود بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رفعت مرتبت ہی ثابت ہوتی ہے، آسمان پر اٹھائے جانے کی نفی نہیں ہوتی۔
پنجم : آنجناب نے ”ورافعک الی“ کا ترجمہ کیا ہے ”اور میں (اپنی طرف سے) تجھے رفعت عطا کروں گا“، آنجناب غور فرمائیں کہ قرآن کریم میں ”الی“ کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ”اپنی طرف اٹھاؤں گا“ اور آنجناب اس کا
۱۴۰
ترجمہ کرتے ہیں کہ ”میں اپنی طرف سے تجھے رفعت عطا کروں گا“ سوال یہ ہے کہ ”الیٰ“ کے معنی ”اپنی طرف سے“ کرنا کس لغت کے مطابق ہے۔؟ ایک ”ایم اے اسلامیات“ تو کجا‘ نحو میر خواں مبتدی طالب علم بھی ایسی غلطی نہیں کرسکتا۔ کیا یہ امر لائق افسوس نہیں کہ ایسی بے پروائی سے قرآن کے مفہوم کو بگاڑا جائے؟
ایک اہم ترین نکتہ :
آنجناب نے ”انی متوفیک“ کا ترجمہ کیا ہے ”تجھے میں موت ہی دوں گا“۔ میں آپ کے اس ترجمہ کو مسلم رکھتا ہوں‘ اس پر کوئی جرح نہیں کرتا‘ لیکن اگر آپ بھی حافظ ذہبیؒ کے بقول ”اس بات کو سمجھتے ہیں جو آپ کے سر سے نکل رہی ہے“ (یہ امام ذہبیؒ کا فقرہ حافظ سلیمانیؒ کے بارے میں نقل کرچکا ہوں) تو یہ تسلیم فرمائیں گے کہ اس آیت شریفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ ”ان کو طبعی موت دیں گے“۔ اب اگر آپ اس کے قائل ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی طبعی موت مرچکے ہیں تو قرآن کریم کی وہ آیت تلاوت فرمائیے جس کا مفہوم یہ ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوچکی ہے۔ انشاء اللہ پورے قرآن کو بار بار پڑھنے کے بعد بھی آپ کوئی ایسی آیت نہیں نکال سکتے جس میں یہ تصریح کی گئی ہو کہ ان کی موت واقع ہوچکی ہے۔
آنجناب اپنے دعوے کو اچھی طرح سمجھ لیں‘ آپ اپنی طویل تقریر کے ذریعہ صرف دو باتیں ثابت کرنا چاہتے ہیں‘ ایک یہ کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر نہیں اٹھایا گیا“۔ دوم یہ کہ ”ان کی طبعی موت واقع ہوچکی ہے“۔ اور یہ ناکارہ آنجناب ہی کی تحریر سے ثابت کررہا ہے کہ آپ ان دونوں دعووں کا ثبوت قرآن سے نہیں دے سکے‘ اور نہ دے سکتے ہیں‘ ابھی ۱۳۱
آپ نے "انی متوفیک" کے ترجمہ میں تسلیم کرلیا کہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے وعدہ کیا گیا ہے کہ "اے عیسیٰ تجھے میں ہی موت دوں گا" لہٰذا اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت نہ ہوئی‘ بلکہ موت دینے کا وعدہ ہی ثابت ہوا‘ اور "ورافعک الیٰ" کا آپ نے ترجمہ کیا ہے "اور میں اپنی طرف (سے) تجھے رفعت عطا کروں گا"۔ اور میں بتاچکا ہوں کہ اس سے ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کی نفی نہیں ہوتی‘ کیونکہ رفع الی السماء خود موجب رفعت ہے‘ نہ کہ اس کی نفی کرنے والا۔ لہٰذا آنجناب کے دونوں دعوے تشنہ ثبوت رہے‘ فرمائیے! کس آیت سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مرگئے ہیں‘ اور یہ کہ ان کو آسمان پر نہیں اٹھایا گیا۔
اس کے بعد آنجناب لکھتے ہیں : "یہ تسلی بالکل اسی طرح ہے جیسی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور اس کے بھائی حضرت ہارونؑ کو فرعون کی طرف دعوت اسلام دینے کیلئے دی تھی۔ ملاحظہ ہو سورۃ طہ آیت نمبر ۴۵۔
"قالا ربنا اننا نخاف ان یفرط علینا او ان یطغیٰ۔
ترجمہ : "پروردگار! ہمیں اندیشہ ہے کہ فرعون ہم پر زیادتی کرے گا یا ہم پر غصہ کرے گا"۔
"قال لا تخافا اننی معکما اسمع واریٰ۔
ترجمہ : "ڈرو مت‘ میں تمہارے ساتھ ہوں‘ سب کچھ سن رہا ہوں‘ اور دیکھ رہا ہوں"۔
اور اسی طرح سورۃ المائدۃ آیت نمبر ۶۷ میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب پیغمبر حضرت محمد کو بھی تسلی دے رہا ہے : ۱۴۴۲
یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالته والله یعصمک من الناس ان الله لا یهدی القوم الکفرینO
ترجمہ : ”اے پیغمبر ﷺ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو‘ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا‘ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے‘ یقین رکھو کہ وہ کافروں کو (تمہارے مقابلہ میں) ہرگز کامیابی نصیب نہیں کرے گا“۔
یعنی لوگوں کے شر سے بالکل نہ ڈرنا کیونکہ پوری انسانیت آپ کا کچھ نقصان نہیں کر سکتی‘ میں (اللہ) آپ کے ساتھ ہوں‘ آپ ﷺ دین اسلام کی تبلیغ کرتے جائیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عیسیٰؑ کو تسلی دی تھی کہ یہود آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے“۔
تنقیح
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس موقع پر تسلی دیئے جانے کا مضمون مسلم‘ مگر اس کو جناب کے مدعا سے کوئی تعلق نہیں اس لئے یہ عبارت محض طول لاطائل ہے۔
آگے آنجناب تحریر فرماتے ہیں : ”ومکروا ومکر الله والله خیر الماکرین۔ ترجمہ : ”پھر بنی اسرائیل نے (مسیحؑ کے خلاف) ۱۴۳
موت کے خفیہ تدبیریں کرنے لگے تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے بھی (مسیحؑ کو بچانے کی) خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر ہے“۔ (سورہ آل عمران، آیت نمبر ۵۴)
اللہ تعالیٰ نے چونکہ عیسیٰؑ کو بتایا تھا کہ ”و مطہرک من الذین کفروا“ یعنی جن لوگوں نے تیرا انکار کیا ہے (ان کی معیت سے اور ان کے گندے ماحول میں ان کے ساتھ رہنے سے) تجھے پاک کردوں گا، لہٰذا سورہ مومنون آیت نمبر ۵۰ میں ارشاد الٰہی ہے :
”وجعلنا ابن مریم وامہ آیۃ وآوینا ھما الی ربوۃ ذات قرار ومعین〇
ترجمہ : ”اور ابن مریمؑ اور اس کی ماںؑ کو ہم نے ایک نشان بنایا اور ان کو ایک سطح مرتفع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے“۔
ربوہ اس بلند زمین کو کہتے ہیں جو ہموار ہو، اور اپنے گرد و پیش کے علاقے سے اونچی ہو۔ ذات قرار سے مراد یہ ہے کہ اس جگہ ضرورت کی سب چیزیں پائی جاتی ہوں اور رہنے والا وہاں بہ فراغت زندگی بسر کرسکتا ہو، اور معین سے مراد بہتا ہوا پانی یا جاری چشمہ۔ اسی آیت کے تحت اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل سے بچا لیا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اس واقعہ کے بعد بارہ سال تک زندہ رہے اور پھر طبعی موت سے وفات پائی“۔
۱۳۴
تنقیح : یہ ”ربوہ“ کا نکتہ بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے دماغ کی ایجاد ہے، اور آنجناب کو قادیانی سے ذہنی توارد ہوا ہے، یا جناب نے اس کے خرمن کی خوشہ چینی کی ہے، مگر یہ سارا مضمون ”ومکروا ومکر اللہ، واللہ خیر الماکرین“ کی آیت شریفہ سے غیر متعلق ہے۔
سورہ المومنون (آیت نمبر ۵۰) میں جو ”ربوۃ ذات قرار و معین“ میں ان کو ٹہرانے کا ذکر ہے یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بعد کا ذکر ہے، چونکہ بادشاہ وقت اور یہودی لوگ ان کے پہلے ہی دشمن تھے، اس لئے ”بیت لحم“ میں جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تو وہ ان کے درپے آزار ہوئے، ان کی والدہ پہلے ان کو مصر لے گئیں، اور پھر ہیرڈوس اول کے مرنے کے بعد انہیں ”ناصرہ“ شہر میں لے آئیں، اسی کی نسبت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ”مسیح ناصری“ یا اہل کتاب کی زبان میں ”یسوع ناصری“ کہا جاتا تھا، الغرض سورۃ المومنون کی آیت شریفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کو جو سرسبز و شاداب جگہ میں ٹہرانے کا ذکر ہے، یہ ان کے بچپن قبل از نبوت کا واقعہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اس میں ماں اور بیٹے دونوں کا ذکر فرمایا گیا ہے، واقعہ صلیب کے بعد سے اس کا جوڑ ملانا قرآن کریم کی ایسی تحریف ہے جو صرف مرزا قادیانی کو سوجھی۔ اگر واقعہ صلیب سے اس کا تعلق ہوتا تو اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتے کہ میں یہود کے مکر سے بچا کر ”تجھ کو اپنی طرف اٹھالوں گا“ بلکہ یہ فرماتے کہ ان کے مکر سے بچا کر تجھ کو اور تیری والدہ کو ”ربوہ“ میں پناہ دوں گا۔ کچھ تو غور فرمائیے کہ حق تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ”میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں“ اس میں دور و نزدیک کی کوئی دلالت اس پر ہے کہ ”تجھے ربوہ میں ٹہراؤں گا“؟
اور آنجناب نے آخر میں جو لکھا کہ ”ایک روایت یہ بھی ہے کہ
۱۳۵
حضرت عیسیٰ اس واقعہ کے بعد بارہ سال تک زندہ رہے‘ اور پھر طبعی موت سے وفات پائی“ اس پر اس کے سوا کیا عرض کروں کہ :
میں کیا کہوں کہ رات مجھے کس کے گھر ملے
کجا یہ ”شورا شوری“ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات مقدسہ اور امت کے اجماع و متواتر عقیدہ اور اسلاف امت کے ارشادات کو بھی آنجناب کی بارگاہ معلی میں باریابی نہیں‘ بلکہ روایت پرستی کہہ کر پائے استحقار سے ٹھکرا دیتے ہیں‘ اور کجا ”یہ بے تمکینی“ کہ ایسی روایت کا ذکر فرماتے ہیں جس کا نہ سر نہ پاؤں‘ نہ کتاب کا حوالہ‘ نہ راوی کا پتہ نشان‘ نہ یہ معلوم کہ یہ بات کس نے کہی؟ کس نے نقل کی؟ مستند ہے؟ یا بے سند؟ کیا آنجناب کی بے بسی و درماندگی کا یہ تماشا لائق صد عبرت نہیں؟
بل رفعہ اللہ الیہ :
آنجناب آگے لکھتے ہیں :
”یہودیوں نے جس شخص کو پھانسی پر چڑھایا وہ اس کو عیسیٰ ابن مریم ہی سمجھ رہے تھے حالانکہ وہ آپؑ کی ذات مقدس نہ تھی بلکہ کوئی اور شخص تھا۔ اس شخص کی مصلوبیت کے بعد انہوں نے یہ خبر پھیلا دی کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو قتل کیا اور اس کو صلیب کی لعنتی موت مارا۔ ملاحظہ ہو سورۃ النساء آیت نمبر ۱۵۷ اور ۱۵۸ :
”وقولهم انا قتلنا المسيح ابن مريم رسول اللہ“
ترجمہ : ”اور انہوں نے کہا کہ ہم نے مسیح بن مریم رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے“۔
۱۴۶
اور یہ بات وہ لوگ فخریہ انداز میں کہا کرتے تھے کہ ہم نے اس کو ذلت اور رسوائی کی موت مارا ہے اور قیامت تک اس کا کوئی نام لیوا نہ ہوگا" تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا :
"وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم"
ترجمہ : "عیسٰی کو انہوں نے نہ تو قتل کیا اور نہ صلیب چڑھایا بلکہ معاملہ ان کے لئے مشتبہ کردیا گیا"۔
"وان الذين اختلفوا فيه لفي شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن"
ترجمہ : "اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں۔ ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے محض گمان ہی کی پیروی ہے"۔
"وما قتلوه يقينا۔" "اور انہوں نے مسیح کو یقیناً قتل نہیں کیا ہے۔" "بل رفعه الله اليه"۔ "بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف سے رفعت عطا کی"۔
یعنی یہودیوں نے عیسٰی کو ذلیل کرنا چاہا تھا مگر اللہ تعالیٰ ان کے برخلاف فیصلہ کر کے عیسٰی کو ان کے چنگل سے بچا کر اس کو بلند درجہ عطا کیا۔ "وكان الله عزيزا حكيما"۔ "اور اللہ تعالیٰ ہی زبردست طاقت رکھنے والا اور حکمت والا ہے"۔ یعنی اللہ تعالیٰ اتنی زیادہ قوت اور حکمت والا ہے کہ بنی اسرائیل کی انتظامی قوت اور اقتدار
۱۳۷
کے باوجود اس نے ”عیسیٰ“ کو ان کے بیچ سے اٹھا کر ” ایک محفوظ اور سرسبز و شاداب جگہ پر پہنچا دیا۔“
تنقیح : آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے بیچ سے اٹھا لیا“۔ اس سے معلوم ہوا کہ آیت میں رفع سے رفع جسمانی مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم کو بنی اسرائیل کے درمیان میں سے اٹھا لیا۔
رہا یہ کہ اٹھا کر کہاں لے گئے؟ اس کا جواب خود قرآن کریم میں موجود ہے، ”بل رفعہ اللہ الیہ“ یعنی اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے درمیان میں سے اٹھا کر اپنی طرف لے گئے، اور ”اپنی طرف لے جانا“ یہی آسمان پر لے جانا ہے، جیسا کہ قرآن کریم کے محاورات اس پر شاہد ہیں، اور وہ جناب کے علم میں بھی ہیں، مثلاً :
الیہ یصعد الکلم الطیب تعرج الملائکۃ والروح الیہ ثم یعرج الیہ
لہٰذا اس کے بعد آنجناب کا یہ لکھنا کہ : ”آسمان پر نہیں اٹھایا بلکہ زمین پر ہی بنی اسرائیل (یہود) سے عیسیٰ کو امن دیدیا جیسا کہ سورہ المومنون کی آیت کے ترجمے میں گزشتہ صفحات میں گزر چکا“۔
نہ صرف قرآنی اصطلاحات کے خلاف ہے، بلکہ خود آپ کے ترجمہ کے اور آپ کے ضمیر و وجدان کی شہادت کے بھی خلاف ہے۔ بار بار غور فرمائیے کہ ”رفع الی اللہ“ کے معنی آپ کی تقریر کے بعد کیا بنتے ہیں، اور سورۃ المومنون کی آیت کے بارے میں عرض کر چکا ہوں کہ وہ پہلے زمانے سے متعلق ۱۳۸
ہے، واقعہ صلیب کے بعد سے متعلق نہیں، اور اس کے بعد آنجناب کا اکابر امت پر یہ کہہ کر برسنا محض آنجناب کی زبردستی ہے :
"ہمارے روایت پرست مولوی چونکہ مفسر اول کے اندھے مقلد ہیں لہٰذا انہوں نے کئی آیات کے ترجمے عجیب وغریب انداز سے کئے ہیں۔"
کیونکہ حضرات مفسرین نے جو تشریحات کی ہیں، یا جو تراجم فرمائے ہیں انہوں نے مراد خداوندی کی ترجمانی کی ہے، ان کا قصور اگر ہے تو صرف یہ ہے کہ انہوں نے دور حاضر کے نیچریوں اور آزاد لوگوں کی طرح قرآن کریم کے الفاظ اپنی خواہش کے مطابق ڈھالنے کی سعی مذموم نہیں فرمائی۔
اور آنجناب اپنی "اول المفسرین کی اندھی تقلید" والی پھبتی پر بہت خوش ہوں گے لیکن آنجناب ان کے حق میں ایسی شہادت زیب رقم فرما گئے جو انشاء اللہ فردائے قیامت میں ان کے لئے نجات کی دستاویز ہوگی، کیونکہ قرآن کریم کے "اول المفسرین" خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صاحب قرآن ہیں، اور الحمد للہ! اس ناکارہ کو بھی اور میرے اکابر کو بھی اور ہر مسلمان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی "اندھی تقلید" پر فخر ہے، کسی آیت شریفہ کی جو تشریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادی ہم بلاشبہ اس پر ایمان لاتے ہیں، خواہ وہ ہماری عقل و فہم سے کتنی ہی بالا تر بات کیوں نہ ہو۔ لہٰذا میں آنجناب سے التجا کرتا ہوں کہ قیامت کے دن اس روسیاہ کے حق میں ضرور شہادت دیجئے کہ یہ اول المفسرین صلی اللہ علیہ وسلم کا اندھا مقلد تھا، اس شہادت سے بڑھ کر میرے لئے کوئی اعزاز نہ ہوگا۔ اور یہ ناکارہ اخلاص کے ساتھ دعا کرتا ہے کہ آنجناب کو بھی اللہ تعالیٰ اول المفسرین صلی اللہ علیہ وسلم کی "اندھی تقلید" کی سعادت نصیب فرمائیں۔
۱۳۹
توفی اور رفع کے معنی :
اس کے بعد آنجناب نے توفی اور رفع کے معانی پر اپنے خیالات زرین زیب رقم فرمائے ہیں‘ چنانچہ ارشاد ہے :
”سردست میں ”توفی“ اور ”رفع“ پر گفتگو کروں گا۔ ہمارے جن مفسرین نے ”انی متوفیک“ میں لفظ ”توفی“ سے عام موت مراد نہیں لیا ہے وہ سراسر غلطی پر ہے۔ ملاحظہ ہو سورۃ النحل کی آیت نمبر ۲۸ : ”الذین تتوفھم الملا ئکۃ ظالمی انفسھم“۔ ”جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے (یعنی کافر) تو جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں“۔ اس آیت میں تو سب نے توفی کا معنی موت ہی کیا ہے۔ اسی سورۃ کی آیت نمبر ۳۲ میں ارشاد ہے : ”الذین تتوفھم الملا ئکۃ طیبین‘ یقولون سلام علیکم ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملونO“ جب نیک لوگوں کی روحیں فرشتے قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں ”سلام ہو تم پر‘ جاؤ جنت میں اپنے نیک اعمال کے بدلے“ اور بھی مختلف مقامات پر لفظ توفی موت ہی کے معنوں میں مستعمل ہے جیسا کہ نماز جنازہ کی دعا میں ”ومن توفیتہ منا فتوفہ علی الایمان“ ”جس کو تو ہم میں سے وفات دے تو اسے ایمان پر وفات دیجیو“۔
اب اگر روایت پرستوں کا ترجمہ کرے تو نماز جنازہ کی دعا کے مذکورہ فقرے کا ترجمہ کچھ یوں گا : ”جس کو تو ہم میں سے آسمان پر چڑھاتے ہو تو اس کو ایمان کے ساتھ چڑھایا
۱۴۰
کرو“۔ لیکن اب بھی اگر آپ اس توفی کا معنی عام موت نہیں کرتے تو میں آپ کو صرف پانچ (۵) امہات المومنین کے اسمائے مبارکہ بمعہ سن متوفی لکھ دیتا ہوں آپ ان کی سن وفات مجھے لکھ کر بھیج دیں۔
- ۱۔ ام المومنین حضرت حفصہؓ متوفی سنہ ۴۵ھ
- ۲۔ ام المومنین حضرت جویریہؓ متوفی سنہ ۵۶ھ
- ۳۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ متوفی سنہ ۵۸ھ
- ۴۔ ام المومنین حضرت ام سلمہؓ متوفی سنہ ۵۹ھ
- ۵۔ ام المومنین حضرت میمونہؓ متوفی سنہ ۶۱”ھ
تنقیح : آپ نے ”یعیسیٰ انی متوفیک“ کا ترجمہ کیا ”اے عیسیٰ تجھے موت میں ہی دوں گا“۔ میں نے آپ کے ترجمہ پر کوئی جرح نہیں کی‘ آپ کے ترجمہ کو مسلم رکھا‘ اس کے باوجود آپ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کو ثابت نہیں کرسکے‘ جیسا کہ پہلے عرض کرچکا ہوں‘ اس کے بعد آپ کا ”انی متوفیک“ کے معنی پر بحث کرنا لغو ولایعنی نہیں تو اور کیا ہے؟ آپ کو اس طول لاطائل کی ضرورت کیا تھی؟ آپ توفی کے معنی موت ہی کے کریں‘ مگر اس سے عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت نہیں ہوتی‘ موت کا وعدہ ثابت ہوتا ہے‘ وہ کون سی آیت ہے جس میں حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں کہا گیا ہو کہ وہ مرچکے ہیں؟
۲...... توفی کا لفظ وفا سے ہے‘ اس کے تمام مشتقات میں پورا کرنے‘ پورا دینے‘ اور پورا لینے کے معنی پائے جاتے ہیں‘ ”توفی کے معنی ”اخذ الشی ء وافیا“ تو تمام اہل لغت نے کئے ہیں اس لئے اگر کسی نے ”متوفیک“ کے معنی
۱۴۱
کئے ہیں ”تجھے پورا پورا وصول کرنے والا ہوں“ ”تجھے پورا پورا اپنے قبضہ و تحویل میں لینے والا ہوں“ تو اس نے کیا جرم کیا ہے کہ آپ اس کا مذاق اڑاتے ہیں؟
۳...... موت‘ توفی کے مجازی معنی ہیں‘ چنانچہ اہل لغت نے اس کی بھی تصریح کی ہے‘ اور یہ درحقیقت بطور کنایہ کے استعمال ہوئے ہیں‘ آپ کے خیال میں اگر یہی مجازی معنی راجح ہیں تو کوئی مضائقہ نہیں‘ یہی وجہ ہے کہ میں نے آپ کے ذکر کردہ ترجمہ پر کوئی جرح نہیں کی‘ لیکن آپ کا یہ اصرار کہ مجازی معنی ہی مراد لئے جائیں‘ حقیقی معنی لینے کی اجازت ہی نہیں بڑی غیر علمی بات ہے‘ کم از کم کسی ایسے عالم سے جو لغت عربی اور اس کے استعمالات سے واقف ہو‘ اس کی توقع نہیں رکھنی چاہئے‘ ہاں! ایک عامی آدمی جو توفی کے موت کے سوا دوسرے معنی جانتا ہی نہیں اس کو البتہ اس کے جہل کی وجہ سے معذور سمجھنا چاہئے۔
۴...... اگر ایک لفظ کے ایک معنی کسی جگہ استعمال کئے جائیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر جگہ اسی معنی کے استعمال پر اصرار کیا جائے؟ اہل لغت نے ”ضرب“ کے معنی پچاس ساٹھ لکھے ہیں‘ وہ شخص بے وقوف کہلائے گا جو ہم سے یہ مطالبہ کرے کہ چونکہ تم نے ضرب کے معنی ”مارنا“ کے کئے ہیں اس لئے ”ضرب اللہ مثلاً“ کا ترجمہ بھی ”اللہ نے مثال ماری“ کرو۔ آپ نے جو مثالیں پیش فرمائی ہیں وہ اسی قاعدے کے تحت آتی ہیں‘ توفی کے معنی مجازاً موت کے بھی آتے ہیں‘ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس لفظ کے دوسرے معنی نہیں۔ (مردے کو متوفی کہتے ہیں‘ یعنی قبض شدہ اور عورت کو متوفاۃ کہا جاتا ہے۔ آپ نے امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے نام لکھ لکھ کر آگے جو متوفی متوفی تحریر فرمایا ہے‘ یہ صحیح نہیں)
۱۴۲
رفع کے معنی :
آگے ارشاد ہے :
”اسی طرح ہمارے مترجمین نے لفظ ”رفع“ کا معنی ”آسمان پر اٹھانا“ کیا ہے جو کہ سراسر غلط ہے، صحیح معنی ہے: رفعت، بلند درجہ، اونچا مقام“۔ ملاحظہ ہو سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۲۵۳ ”منہم من کلم اللہ ورفع بعضہم درجت“۔ ”ان میں کوئی ایسا تھا جس سے اللہ خود ہم کلام ہوا، کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیئے“۔ سورہ الانعام آیت نمبر ۱۶۵ میں ارشاد الٰہی ہے ”وہو الذی جعلکم خلائف الارض ورفع بعضکم فوق بعض درجت“۔ اور وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں زیادہ بلند درجات عطا کئے“۔ ان آیات کے علاوہ سورہ یوسف آیت نمبر ۱۰۰، سورہ رعد آیت نمبر ۲ اور سورہ نازعات میں آیت نمبر ۲۸ میں لفظ ”رفع“ موجود ہے اور ان ہی معنوں میں مستعمل ہے جو میں نے تحریر کئے ہیں۔ ان کے علاوہ قرآن میں پانچ مقامات پر ”رفعنا“ کا لفظ آیا ہوا ہے۔ ملاحظہ ہو سورہ البقرہ آیت نمبر ۶۳ اور ۹۳، سورہ النساء آیت نمبر ۱۵۴، سورہ الزخرف آیت نمبر ۳۲ اور سورہ الشرح آیت نمبر ۴۔ یہ بھی تقریباً ان ہی معنوں میں مستعمل ہے۔ سورہ الرحمٰن میں ارشاد الٰہی ہے۔ آیت نمبر: ۷ ”والسماء رفعہا“ اور آسمان کو بلند کیا“ سورہ الغاشیہ آیت نمبر ۱۸ میں ہے ”والی السماء كيف رفعت“
۱۴۳
اور آسمان (کو نہیں دیکھتے کہ) کس طرح بلند کیا گیا ہے“ اور بھی مختلف مقامات پر یہ لفظ بلند مقام‘ بلند درجات اور بلند شان کے معنوں میں مستعمل ہے اور عین ان ہی معنی میں سورہ آل عمران آیت نمبر ۵۵ میں ”ورافعک الی“ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو تسلی دے رہا ہے کہ میں تمہیں رفعت عطا کر کے تمہاری شان اتنی بلند کروں گا کہ قیامت تک تیرا چرچا رہے گا‘ تم گمنام نہیں ہوگے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ آج اگر دنیا کے تمام مسلمانوں اور عیسائیوں کی تعداد کی دوسرے مذاہب کی تعداد سے موازنہ کیا جائے تو مسلمانوں اور عیسائیوں کی تعداد زیادہ ہوگی اور یہ دونوں مذاہب عیسیٰ کے معتقد ہیں خواہ کوئی کسی حیثیت سے مانتا ہو۔ قرآن کریم کی کسی بھی آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور ہنوز زندہ موجود ہیں‘ اور قرب قیامت میں تشریف لائیں گے“۔
تنقیح : اوپر توفی کے بارے میں جو کچھ عرض کرچکا ہوں اس کو یہاں بھی ملحوظ رکھا جائے‘ ”رفع“ کے معنی اٹھانے کے ہیں‘ جس کو ابتدائی عربی خوان بھی جانتا ہے‘ اگر اس کا تعلق اجسام سے ہو تو رفع جسمانی مراد ہوگا‘ مراتب و درجات سے ہو تو رفع منزلت و درجات مراد ہوگا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو فرمایا ”ورافعک الی“ اور ”بل رفعہ اللہ الیہ“ اس کے بارے میں آپ خود تسلیم کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم نے ان کو یہودیوں کے درمیان میں سے اٹھا کر بلند و بالا مقام میں پہنچا دیا‘ جس سے واضح ہے کہ ان دونوں آیتوں میں رفع کا تعلق حضرت عیسیٰ
۱۴۴
علیہ السلام کی ذات مقدسہ سے ہے، معلوم ہوا کہ رفع جسمانی مراد ہے، اور اس کا صلہ جو ”الی“ اور ”الیہ“ ذکر فرمایا اس کے بارے میں بتا چکا ہوں کہ قرآنی محاورہ میں اس سے ”رفع الی السماء“ مراد ہوتا ہے، لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی تھا، اور یہ آسمان کی طرف ہوا، یہ دونوں باتیں تو خود ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوگئیں، اور یہ بھی بتا چکا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء میں ان کی تعظیم و تشریف بھی بدرجہ کمال پائی جاتی ہے، اس لئے رفع درجات کا مفہوم بھی اس میں داخل ہوگیا۔
علاوہ ازیں سورۃ النساء کی آیت شریفہ میں قتل اور رفع کے درمیان میں تقابل کر کے اول کی نفی اور دوسرے کا اثبات فرمایا ہے، چنانچہ ارشاد ہے: ”وما قتلوہ یقینا ○ بل رفعہ اللہ الیہ“ اور اس تقابل کا مقتضیٰ یہ ہے کہ جس چیز سے نفی قتل کا تعلق ہو اسی چیز سے اثبات رفع کا تعلق ہو، اور سب جانتے ہیں کہ قتل کا تعلق جسم سے ہے، روح سے نہیں، پس رفع الی اللہ کا تعلق بھی ان کے جسم سے ہوگا، صرف روح سے یا درجات سے نہیں، یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صرف روح آسمان پر نہیں اٹھائی گئی بلکہ ان کو زندہ سلامت اٹھالیا گیا۔
اور یہ بھی ذکر کر چکا ہوں کہ تمام امت مسلمہ کے اکابر و اصاغر کا اس پر اتفاق ہے کہ ان دونوں آیات شریفہ ”رافعک الی“ اور ”بل رفعہ اللہ الیہ“ میں رفع جسمانی مراد ہے، گویا قرآن کریم کے الفاظ بھی رفع جسمانی میں نص ہیں، آیت کا سیاق و سباق بھی اسی کا اعلان کر رہا ہے، اور امت کا اجماعی عقیدہ بھی اس کی قطعیّت پر مہر تصدیق ثبت کر رہا ہے، اس کے بعد اس دلالت قطعیہ کے تسلیم کرنے میں کیا عذر رہ جاتا ہے؟
آگے ارشاد ہے :
”البتہ عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق بائبل (BIBLE) ۱۴۵
کے صفحہ نمبر ۱۴۹ میں لکھا ہوا ہے کہ عیسیٰ آسمان پر زندہ موجود ہیں اور وہ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ اس خط کے ساتھ اس صفحے کی نقل منسلک ہے آپ بھی پڑھیئے اور پھر خود فیصلہ کرلیں کہ عقیدہ نزول مسیح میں ہمارے روایت پرست مولوی اور عیسائی ایک برابر ہے یا نہیں؟ مجھے بذات خود ایک دن ایک عیسائی نے کہا تھا کہ ”تم مسلمان لوگ عیسیٰ کو فوت شدہ مانتے ہو جب کہ ہم عیسائی اس کو آسمان پر زندہ موجود مانتے ہیں، آپ کے قرآن کریم میں عیسیٰ کے بارے میں آسمان پر زندہ موجود رہنے اور دوبارہ آسمان سے دنیا میں تشریف لانے کا ذکر کہیں نہیں ہے اس لئے ہم آپ کے قرآن کو نہیں مانتے ہیں جب کہ ہمارے بائبل میں صاف صاف لکھا ہوا ہے کہ عیسیٰ آسمان پر زندہ موجود ہیں اور دنیا میں دوبارہ تشریف لا کر عیسائیت کو عام کردیں گے“۔ ایک اور بائبل میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ”عیسیٰ دنیا میں دوبارہ ۲۰۰۰ء میں تشریف لائیں گے“۔ البتہ بائبل میں مہدی کا ذکر نہیں ہے“
تنقیح : آپ نے بائبل کا جو صفحہ بھیجا ہے، اس کی زحمت کی ضرورت نہیں، یہ حوالہ مجھے پہلے سے معلوم ہے، عیسائیوں کے دونوں فرقوں (کیتھولک اور پروٹسٹنٹ) کے مطبوعہ نسخے میرے پاس موجود ہیں، یہ حوالہ ”عہد جدید“ کی پانچویں کتاب ”رسولوں کے اعمال“ کا ہے، بہرحال آپ نے اچھا کیا کہ عیسائیوں کا عقیدہ بھیج کر مجھے ممنون فرمایا۔
اب توجہ سے میری معروض بھی سن لیجئے! اور داد انصاف دیجئے، عیسائیوں کا یہ عقیدہ نزول قرآن کے وقت ہو گا کہ ”مسیح علیہ السلام کو آسمان
۱۴۶
پر اٹھایا گیا“ اب پورے قرآن کو پڑھیئے! قرآن کریم میں وہ کونسی آیت ہے جس میں عیسائیوں کے اس عقیدہ کی صراحتاً تردید کی ہو؟
یہودیوں کا دعویٰ قرآن کریم نے نقل کیا ”ہم نے مسیح بن مریم رسول اللہ کو قتل کر دیا“ قرآن کریم نے فوراً ان کے غلط دعویٰ کی تردید کی ”وما قتلوہ وما صلبوہ ..... وما قتلوہ یقیناً“ کہ ان کا دعویٰ غلط اور قطعاً غلط ہے‘ انہوں نے ہرگز ان کو قتل نہیں کیا۔
اسی طرح اگر عیسائیوں کا یہ دعویٰ غلط ہوتا کہ ”عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا“ تو قرآن کریم اس کی بھی صریح تردید کرتا کہ ”وما رفع الی السماء بل مات فی الارض“ (کہ ان کو آسمان پر نہیں اٹھایا گیا‘ بلکہ وہ زمین پر مرچکے ہیں) اس کے بجائے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی کا ذکر فرمایا ہے : ”بل رفعہ اللہ الیہ“ (بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے) اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کا بھی وہی عقیدہ ہے جو بقول آپ کے روایت پرست مولویوں کا عقیدہ ہے‘ اگر آپ قرآن کریم کے اس عقیدہ سے متفق نہیں تو اس میں روایت پرست مولویوں کا کیا قصور ہے۔
ایک دفعہ پھر سمجھ لیجئے : عیسائیوں کا عقیدہ ہے ”مسیح کو آسمان پر اٹھایا گیا“ اور قرآن کریم کا عقیدہ ہے کہ ”یہود نے ہرگز ان کو قتل نہیں کیا‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھالیا“۔ بتائیے مسیح علیہ السلام کے اٹھائے جانے کے بارے میں عیسائیوں کے قول اور قرآن کریم کے قول میں کیا فرق ہے؟ اگر عیسائیوں کا یہ نظریہ غلط ہوتا تو قرآن کریم ”بل رفعہ اللہ الیہ“ کے بجائے یہ کہتا کہ ”ما رفع الی السماء“۔ یہ ایک ایسی کھلی بات ہے جو معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔
باقی آپ کے عیسائی دوست کا یہ کہنا کہ ”قرآن عیسیٰ علیہ السلام کے ۱۴۷
رفع ونزول کا کوئی ذکر نہیں کرتا"۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ عیسائی قرآن کریم کو آپ سے زیادہ نہیں سمجھتا، اور اس کا یہ کہنا کہ ”وہ دنیا میں دوبارہ تشریف لاکر عیسائیت کو عام کردیں گے"۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ اپنی کتاب کو آپ سے زیادہ نہیں سمجھتا، کیونکہ بائبل کی رو سے عام عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ ”وہ قیامت کے دن خدا کی حیثیت سے نازل ہوکر دنیا کا انصاف کریں گے"۔ عیسائیوں کا یہ عقیدہ غلط ہے۔
مسلمان قیامت سے پہلے نزول عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں، قیامت کے دن نہیں، اور قیامت کے دن بطور گواہ کے پیش ہوں گے، نہ کہ احکم الحاکمین کی حیثیت سے لوگوں کے اعمال کا بدلہ دیں گے۔
آنجناب نے یہ جو لکھا ہے کہ ”ایک اور بائبل میں لکھا کہ ۲۰۰۰ء میں عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے"۔
میرے علم میں ایسی کوئی انجیل نہیں جس میں یہ لکھا ہو، لوگوں کے قیافے اور اندازے ہوسکتے ہیں، چونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قرب قیامت میں ہوگا، اور قیامت کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں اس لئے ان اندازوں اور قیافوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔
وَ اِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ
آنجناب تحریر فرماتے ہیں:
”صفحہ نمبر ۲۴۲ پر آپ نے سورۃ النساء کی آیت نمبر ۱۵۹ کا ترجمہ مشکوک کیا ہے کہ ”اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے، مگر ضرور ایمان لائے گا اس پر اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن وہ ہوگا ان پر گواہ" لفظی ترجمہ تو آپ نے صحیح کیا ہے لیکن اس آیت میں کون مخاطب ہے؟ اس کی آپ
۱۴۸
نے تشریح غلط کی ہے۔ آیت ملاحظہ ہو : (وان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيدا)
ترجمہ : ”اور اہل کتاب میں سے ان کا ہر فرد اپنی موت سے پہلے اس پر (وما قتلوه وما صلبوہ کے عقیدہ پر) ایمان لے آئے گا اور قیامت کے دن ان (جھوٹے) اہل کتاب کے خلاف سرکاری گواہ ہوگا“۔
یہ ہے اس آیت کا اصل ترجمہ۔ سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۱۲۱ میں ارشاد الہی ہے : ”الذين آتينهم الكتاب يتلونه حق تلاوته اولئك یومنون بہ ۔)
ترجمہ : ”ہم نے جن لوگوں کو کتاب دی ہے اور وہ تلاوت کرنے کی طرح اس کی تلاوت کرتے ہیں‘ وہی لوگ اس علم پر جو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے آیا ہے ایمان لائیں گے“۔ یا یہ کہا جائے کہ ”جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے اور وہ اس کی تلاوت اس طرح کرتے ہیں جیسا کہ تلاوت کا حق ہے تو وہی لوگ اس دی ہوئی کتاب پر ایمان رکھتے ہیں“۔ یعنی جو اپنے آپ کو اہل کتاب کہتے ہیں اگر وہ اپنی کتاب کو اس طرح تلاوت کرتے ہیں جو تلاوت کا حق ہے اور سمجھ بوجھ کر تلاوت کرتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں‘ اس کی آیتوں میں تحریف نہیں کرتے ہیں‘ اپنی خواہش کے مطابق مطلب نہیں نکالتے بلکہ اپنی خواہش کو اپنی کتاب کے احکام کے تابع رکھتے ہیں تو وہی لوگ دراصل اس اللہ کی دی ہوئی کتاب پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس لئے ۱۴۹
در حقیقت اہل کتاب وہی لوگ ہیں۔ صرف اپنے کو یہودی کہہ دینے سے اور حضرت موسیٰؑ اور تورات پر ایمان کا محض زبانی دعویٰ رکھنے سے کوئی شخص صحیح معنوں میں اہل کتاب اور حضرت موسیٰؑ پر ایمان رکھنے والا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح فقط اپنے کو نصاریٰ کہنے اور حضرت عیسیٰؑ اور انجیل پر ایمان کا دعویٰ ظاہر کرنے سے کوئی واقعی اہل کتاب اور حضرت عیسیٰؑ اور انجیل پر ایمان رکھنے والا نہیں ہو سکتا۔ غرض اہل کتاب ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ جس کتاب پر ایمان رکھنے کا مدعی ہو اس کتاب کی تلاوت بھی اسی طرح کیا کرتا ہو جو تلاوت کا حق ہے اور جب تک اس کتاب کی ہدایتوں پر ایمان نہ رکھے اور اس کے مطابق عمل نہ کرے اپنی خواہشوں کو اس کتاب کی تعلیمات کے تابع نہ رکھے۔ ضد اور ہٹ دھرمی سے بچتا نہ رہے، اس وقت تک وہ تلاوت کا حق کبھی بھی ادا نہیں کر سکتا اور جب ایک یہودی تورات کی تلاوت اس طرح کرے گا کہ تلاوت کا حق ادا ہو تو وہ لامحالہ حضرت عیسیٰؑ اور انجیل پر بھی ضرور ایمان لے آئے گا اور پھر اس کو اس پر بھی ایمان لانا پڑے گا کہ ”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم بل رفعہ اللہ علیہ“ اور جب کوئی عیسائی انجیل کی تلاوت اس طرح کرے گا کہ اس کی تلاوت کا حق ادا ہو تو وہ مجبور ہو گا کہ حضرت محمدؐ اور قرآن پر ایمان لے آئے اور حضرت عیسیٰؑ کے سولی دیئے جانے کے غلط عقیدے سے توبہ کرتے ہوئے وہ حضرت عیسیٰؑ کے اللہ یا اللہ کے بیٹے ہونے سے بھی توبہ کرے اور ان کو اللہ کا بندہ اور رسول سمجھنے پر مجبور ہو لہٰذا مذکورہ آیت کا یہی مفہوم ہے کہ جو واقعی اہل
۱۵۰
کتاب ہیں یعنی اپنی کتاب کی تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں اور اپنی کتاب پر واقعی ایمان رکھتے ہیں تو ان کا ایمان ان کو مجبور کرے گا کہ وہ مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰؑ کے قتل وتصلیب کے عقیدے سے توبہ کرلیں اور ان کے قتل نہ کئے جانے اور سولی نہ دیئے جانے پر ایمان لے آئیں اور اس پر ایمان رکھنے لگیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے اگلے انبیاء کو اپنی طرف اٹھالیا یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دی اور انہوں نے وفات پائی۔ ”رفع اللہ الیہ“ تو موت کے معنی میں ایسا مشہور ومعروف ہے کہ اردو میں بھی ہم بولتے ہیں کہ فلانے کو اللہ تعالیٰ نے اٹھالیا۔ یعنی وہ مرگیا۔ ”ویوم القیمۃ یکون علیہم شہیدا“ اور ان سچے اہل کتاب میں کا ہر فرد جو اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰؑ کے قتل نہ کئے جانے اور سولی نہ دیئے جانے پر ایمان لے آئے گا تو وہ قیامت کے دن ان جھوٹے اہل کتاب قتل وصلیب کے دعویداروں کے خلاف شہادت دے گا کہ یہ لوگ جھوٹے تھے، ہم پر تو ہماری موت سے پہلے کتاب اللہ کی تلاوت کی بدولت یہ بات ظاہر ہوچکی تھی اور ہم نے مرنے سے پہلے یہ ایمان لایا تھا کہ حضرت عیسیٰؑ کو نہ تو قتل کیا گیا تھا اور نہ سولی دی گئی تھی“۔
تنقیح : آپ کی اس طویل تقریر کا خلاصہ یہ ہے :
- ۱۔ اہل کتاب سے تمام اہل کتاب مراد نہیں، بلکہ وہی اہل کتاب مراد ہیں جو
اپنی کتاب کی صحیح تلاوت کرتے اور اس کے نتیجے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ جو اہل کتاب مسلمان ہوگئے وہ مراد ہیں۔
۱۵۱
- ۲۔ ”لیؤمن بہ“ میں ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نہیں پھرتی‘ بلکہ اس عقیدہ
کی طرف پھرتی ہے جو اس سے پہلے بیان ہوا‘ یعنی ”یہودیوں نے ان کو (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو) ہرگز قتل نہیں کیا‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا“۔ ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ۔“
- ۳۔ ”قبل موتہ“ کی ضمیر لوٹتی ہے سچے اہل کتاب کی طرف جو مسلمان ہوگئے
تھے‘ اور جو اہل کتاب سے مراد لئے گئے۔
- ۴۔ ”یوم القیامۃ یکون علیہم شہیداً“ میں ”یکون“ کی ضمیر انہی سچے اہل
کتاب کی طرف لوٹتی ہے جو مسلمان ہوگئے تھے اور ”علیہم“ کی ضمیر لوٹتی ہے جھوٹے اہل کتاب کی طرف۔
ان چار مقدمات کو تسلیم کرنے کے بعد آیت کا ترجمہ یہ بنتا ہے :
”اور سچے اہل کتاب کا ہر فرد اپنی موت سے پہلے اس عقیدہ (وما قتلوہ وما صلبوہ) پر ایمان لائے گا‘ اور قیامت کے دن ان (جھوٹے) اہل کتاب کے خلاف سرکاری گواہ ہوگا۔“
اب ایک طرف میرا ترجمہ رکھئے‘ (جس کے بارے میں آپ نے تسلیم کیا ہے کہ ”لفظی ترجمہ تو آپ نے صحیح کیا ہے“۔ ”اس کی آپ نے تشریح غلط کی ہے“۔ حالانکہ میری کتاب اٹھا کر دیکھ لیجئے‘ میں نے تشریح کی ہی نہیں) اور دوسری طرف آپ کا ترجمہ رکھئے‘ جو ان چار مقدمات پر مبنی ہے۔ اور پھر انصاف کیجئے کہ کس کا ترجمہ صحیح ہے؟
اب آپ کے ان چار مقدمات پر گفتگو کرتا ہوں۔
اول : زیر بحث آیت سے پہلے اس رکوع کے شروع سے ”یسالک اہل الکتاب“ (آیت ۱۵۳) سے اہل کتاب کے بارے میں گفتگو شروع کی گئی ہے جو زیر بحث آیت ۱۵۹ کے بعد تک جاری ہے کیا اس آیت کے سیاق و سباق میں کوئی قرینہ ایسا ہے کہ یہاں اہل کتاب کے تمام افراد مراد نہیں۔ بلکہ خاص افراد مراد ہیں؟ قرآن کریم تو اہل کتاب کے ایک ایک فرد کے ایمان لانے کی
۱۵۲
پیش گوئی کرتا ہے، کیا اپنی خواہش اور رائے سے اس کو خاص افراد پر محمول کرنا کلام الہی کو اپنی رائے پر ڈھالنا نہیں؟ متکلم کے وہ الفاظ جو اپنے عموم میں نص قطعی ہوں ان کو خصوص پر محمول کرنا شرعاً وعقلاً ناروا ہے، اس لئے آنجناب نے جو مفہوم آیت کا گھڑا قطعاً مراد الہی کے خلاف ہے۔ اگر آنجناب کے دل میں کلام اللہ کے خلاف مراد ڈھالنے کا ذرا بھی اندیشہ ہے، اور محاسبہ آخرت کا خوف ہے تو اس تحریف مراد الہی سے توبہ لازم ہے۔
میرے محترم! اہل کتاب میں سے جو منصف حضرات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے (جن کا ذکر آپ کی ذکر کردہ آیت ”یتلون حق تلاوتہ“ میں کیا گیا ہے) وہ مسلمان کہلاتے ہیں، ان کے مسلمان ہو جانے کے بعد ان کو اہل کتاب نہیں کہا جاتا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے زیر بحث آیت (النساء۔۱۵۹) میں مسلمانوں کے ایمان لانے کا ذکر نہیں کیا، بلکہ ”اہل کتاب کے ہر فرد“ کے ایمان لانے کا ذکر کیا ہے، اس لئے اس آیت میں ”ان من اہل الکتاب“ کی تفسیر ”اہل کتاب میں سے جو ایمان لائے تھے“ کے ساتھ کرنا کسی طرح درست نہیں۔
دوم : اوپر سے تذکرہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا چلا آرہا ہے، اور ساری ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹ رہی ہیں، ملاحظہ فرمائیے :
”حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ غلط خیال میں ہیں ان کے پاس اس امر پر کوئی دلیل نہیں، بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا بلکہ ان کو خدائے تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا، اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست حکمت والے ہیں“۔
(النساء۔۱۵۷،۱۵۸)
۱۵۴
اس کے بعد آیت ۱۵۹ ہے جس کا آپ نے ترجمہ کیا :
”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیمۃ یکون علیہم شہیدا“۔
عقل سلیم کہتی ہے کہ جس شخصیت کے بارے میں گفتگو چل رہی ہے، جس کی طرف گذشتہ آیتوں کی ساری ضمیریں لوٹ رہی ہیں، یعنی عیسیٰ علیہ السلام، ”لیؤمنن بہ“ میں ”ہ“ ضمیر اسی کی طرف پھرنی چاہئے۔ چنانچہ جمہور مفسرین نے اس کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دیا ہے۔ اگر آنجناب کی بات صحیح ہوتی تو ”لیؤمنن بہ“ کے بجائے ”لیؤمنن بذلک“ فرمایا جاتا، جیسا کہ اوپر آیت ۱۵۷ میں فرمایا گیا ”ما لہم بذلک من علم“۔
یہاں امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور ان کے صاحبزادہ گرامی شاہ عبد القادر محدث دہلویؒ کا ترجمہ نقل کرتا ہوں۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کا ترجمہ ہے :
”و نباشد ہیچ کس از اہل کتاب البتہ ایمان آورد بعیسیٰ پیش از مردن عیسیٰ، و روز قیامت باشد عیسیٰ گواہ بر ایشاں“۔
اور شاہ عبد القادر محدث دہلویؒ کا ترجمہ یہ ہے :
”اور جو فرقہ ہے کتاب والوں میں سو اس پر ایمان لاویں گے اس کی موت سے پہلے، قیامت کے دن ہو گا ان کا بتانے والا“۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اس کے فائدہ میں لکھتے ہیں :
”مترجم گوید : یعنی یہودی کہ حاضر شوند نزول عیسیٰ را، البتہ ایمان آرند“۔
اور شاہ عبد القادرؒ لکھتے ہیں :
”حضرت عیسیٰؑ ابھی زندہ ہیں، جب یہود میں دجال پیدا ہو گا تب اس جہان آکر اس کو ماریں گے، اور یہود ونصاریٰ
۱۵۴
سب ان پر ایمان لائیں گے کہ یہ نہ مرے تھے“۔ الغرض جمہور مفسرین اس پر متفق ہیں کہ ”لیؤمنن بہ“ کی ”ہ“ ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہے، اور ذوق سلیم بھی اسی کو چاہتا ہے۔
سوم : ”قبل موتہ“ کی ضمیر میں دو احتمال ہیں، ایک یہ کہ یہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹائی جائے، تاکہ انتشار ضمائر لازم نہ آئے، اس وقت معنی یہ ہوں گے کہ تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے ایمان لائیں گے، اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ کتابی کی طرف راجع ہو، یہ دونوں احتمال صحیح ہیں، اور ان دونوں کے درمیان تعارض بھی نہیں، مگر پہلا احتمال راجح ہے، جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے فارسی ترجمہ میں اور حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلویؒ کے اردو ترجمہ میں گزرا اور اس احتمال کے راجح ہونے کی وجوہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کے حوالے سے پہلے گزر چکی ہیں۔
لیکن آنجناب نے اس ضمیر کو ”سچے اہل کتاب“ کی طرف راجع کیا ہے، مگر یہ از بس غلط ہے، اس لئے کہ ”لیؤمنن بہ“ مستقبل کا صیغہ ہے اور ”یہ سچے اہل کتاب“ کے بارے میں صادق نہیں آسکتا ہے کیونکہ یہ حضرات تو قرآن کریم کی تصدیق کرتے ہوئے اس عقیدہ پر فی الحال ایمان رکھتے ہیں، جو فی الحال ایمان رکھتا ہو اس کے بارے میں یہ کہنا صحیح نہیں کہ وہ مستقبل میں ایمان لائے گا۔ اگر ”مومن اہل کتاب“ کی طرف یہ ضمیر لوٹتی تو ”لیؤمنن بہ“ کہنے کے بجائے ”یومن بہ“ کہا جاتا نہ کہ ”لیؤمنن بہ“۔ جیسا کہ دوسری جگہ پر فرمایا ہے ”ومن اہل الکتاب من یومن بہ“۔
چہارم : عامہ مفسرین نے ”ویوم القیامة یکون علیہم شہیدا“ میں
۱۵۵
”یکون“ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع کی ہے، یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن اہل کتاب پر گواہ ہوں گے، جیسا کہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام اپنی امتوں پر گواہ ہوں گے۔ لیکن آنجناب نے ”سچے اہل کتاب“ کی طرف اس ضمیر کو راجع کیا ہے، اور یہ خیال نہیں فرمایا کہ ایک ہی چیز کی طرف دو ضمیریں کیسے لوٹ سکتی ہیں، ”یکون“ کی ضمیر بھی ”اہل کتاب“ ہی کی طرف لوٹتی ہے اور ”علیہم“ کی ضمیر بھی ”اہل کتاب“ ہی کی طرف لوٹتی ہے، ایک جگہ ”اہل کتاب“ سے ”سچے اہل کتاب“ مراد ہیں دوسری جگہ عین اسی لفظ سے جھوٹے اہل کتاب مراد ہیں۔ ایسی تشریح کرنا ایک اعجوبہ ہے۔
مندرجہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ ایک آیت کے ترجمہ میں آپ نے چار غلطیاں کی ہیں، اگر ایسی ایک غلطی بھی کی جاتی تو یہ ترجمہ لائق تسلیم نہ ہوتا، چہ جائیکہ ایک ایک لفظ میں غلطی۔ لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ آپ کو ان غلطیوں پر ندامت نہیں، بلکہ فخر ہے، چنانچہ آنجناب فخریہ انداز میں لکھتے ہیں :
”محترمی! قرآن کریم سے افضل کوئی کتاب نہیں ہے اور اس مقدس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے سمجھنے اور نصیحت کے لئے بہت ہی آسان بنادیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ القمر میں آیت نمبر ۱۷، ۲۲، ۳۲ اور ۴۰ پر فرمایا ہے : ”ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدکر“۔ ترجمہ : ”اور ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان بنادیا ہے، کیا ہے کوئی اس سے نصیحت لینے والا؟“۔ کہ اس کو سمجھے اور اس کے مطابق اپنی زندگی سنوار دے۔ لیکن افسوس! کہ ہمارے روایت پرست مولویوں
۱۵۶
نے اس کو ہمارے لئے مشکل بنا دیا ہے، ایک مرتبہ پاکستان میں ایک مولوی سے میں نے پوچھا کہ ”ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین“ سورہ آل عمران آیت نمبر ۵۴ کا کیا مفہوم ہے؟ تو فرمانے لگے ”اس آیت کا مفہوم تو مجھے معلوم نہیں ہے البتہ ایک روایت میں آیا ہے کہ اگر کتے نے کاٹا‘ تو اسی آیت سے دم کرنا“۔ یہ ہیں ہمارے مولوی اور قرآن کا مفہوم۔
اللہ تعالیٰ سے دردمندانہ اور عاجزانہ سوال کرتا ہوں کہ وہ تمام مسلمین اور مسلمات کو اس مقدس اور مکمل کتاب کی فہم سے نواز دے اور ہر عام و خاص کو روایت پرستی کی مرض سے نجات دے کر ان کے دلوں کو قرآن کریم کی نورانی تعلیمات سے منور کرے۔ آمین“۔
تنقیح : میرا بھائی! اللہ تعالیٰ نے بلاشبہ قرآن کریم کو ”ذکر“ کے لئے آسان فرمایا ہے، لیکن قرآن فہمی کا کوئی اصول بھی تو ہونا چاہئے، اس کے کچھ قواعد وضوابط بھی تو ہونے چاہئیں، یا آپ کے خیال میں قرآن کی آیتیں پڑھ پڑھ کر جو دل میں آئے کہتا پھرے، آپ کے نزدیک روا ہے؟
میرا بھائی! قرآن کریم کلام الٰہی ہے، جب ہم کسی مضمون کو قرآن کریم کی طرف منسوب کرتے ہیں تو گویا یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ مراد خداوندی ہے، اب اگر یہ واقعی مراد الٰہی ہے تب تو ٹھیک ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ کی مراد یہ نہ ہو جو ہم قرآن کریم میں ٹھونس رہے ہیں تو ہم مفتری علی اللہ ہوں گے، اور ”من اظلم ممن افترٰی علی اللہ کذبا او کذب بآیاتہ“ کی وعید ہماری طرف متوجہ ہوگی، اس سے ہر مومن کو اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے، جو لوگ ۱۵۷
قرآن کریم کے الفاظ کا صحیح تلفظ نہیں کر سکتے، اور قرآن فہمی کے ضروری قواعد سے بھی واقف نہیں وہ اگر جو جی میں آئے قرآن کریم میں ٹھونسنے کی کوشش کریں، اور ساتھ ہی یہ دعویٰ کریں کہ ان کے سوا قرآن کریم کو چودہ سو سال میں کسی نے سمجھا ہی نہیں تو یہ بڑی جرات کی بات ہوگی، اس سے ڈریں کہ قیامت کے دن آپ کا حشر بھی اس قسم کے لوگوں کی صف میں ہو۔
جس مولوی صاحب نے آپ سے یہ کہا کہ فلاں آیت کا مفہوم تو مجھے معلوم نہیں، البتہ یہ آیت کتے کے کاٹے پر دم کی جاتی ہے، اس نے بہت صحیح کہا، آدمی کو جس آیت کریمہ کا مفہوم معلوم نہ ہو اپنے دل سے گھڑ کر اس کا مفہوم بیان نہیں کرنا چاہئے، کہ یہ افتراء علی اللہ ہے۔
آپ کی دردمندانہ دعا پر میں بھی آمین کہتا ہوں، اور آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی یا ہمچو قسم کے لوگوں نے قرآن کی جو من مانی تاویلات و تحریفات کی ہیں ان سے برحذر رہیں، سلف صالحین کی اقتدا کو لازم پکڑیں، اور قرآن کریم سے ایسا مفہوم اخذ نہ کریں جس سے پوری امت کا گمراہ ہونا لازم آتا ہو۔
نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث متواتر ہیں :
آنجناب لکھتے ہیں :
” صفحہ نمبر ۲۵۲ اور ۲۵۳ پر آپ نے صحیح بخاری، کنز العمال، الاسماء والصفات، تفسیر در منثور، ابوداود اور مسند احمد کے حوالوں سے نزول عیسیٰ کے بارے میں رسول اللہ کی جو احادیث تحریر کی ہیں تو غالباً آپ نے ان احادیث کی اسناد پر کبھی غور نہیں کیا ہے کہ ان احادیث کے راویان کون حضرات تھے؟ اس پر علامہ تمنا عمادی صاحب نے اپنی مایہ ناز کتاب
۱۵۸
”انتظار مہدی و مسیح“ میں فن رجال کی روشنی میں سیر حاصل بحث کی ہے“۔
تنقیح : میں نے جن احادیث کا حوالہ دیا ہے ان کی صحت پوری امت کو مسلم ہے، اور اکابر محدثین نے تصریح کی ہے کہ خروج دجال اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث متواتر ہیں، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک قیامت سے پہلے دجال کے نکلنے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کو ایمانیات میں شمار کیا گیا ہے، جس طرح قیامت پر ایمان رکھنا ایک مسلمان کے لئے شرط اسلام ہے اسی طرح علامات قیامت پر بھی ایمان رکھنا لازم ہے، ہاں! جس شخص کو قیامت پر ایمان نہ ہو وہ علامات قیامت پر بھی ایمان نہیں رکھے گا، الغرض تمام اکابر امت قیامت اور علامات قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ ”فقہ اکبر“ میں فرماتے ہیں :
”وخروج الدجال، وياجوج ماجوج، وطلوع الشمس من مغربها، ونزول عيسى بن مريم عليه السلام من السماء، وسائر علامات يوم القيامة على ما وردت به الاخبار الصحيحة حق كائن -والله يهدي من يشاء الى صراط مستقيم“۔
ترجمہ : دجال کا اور یاجوج ماجوج کا نکلنا، آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا، عیسیٰ بن مریم کا آسمان سے نازل ہونا، اور دیگر علامات قیامت، جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہوئی ہیں، سب برحق ہیں، ضرور ہوکر رہیں گی، ”اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے“۔
۱۵۹
اور امام طحاویؒ (م ۳۲۱ھ) نے ایک مختصر رسالہ عقائد اہل حق پر لکھا تھا جو ”عقیدۃ الطحاوی“ کے نام سے مشہور ہے۔ وہ اپنے رسالے کو ان الفاظ سے شروع کرتے ہیں :
”هذا ذكر بيان عقيدة اهل السنة والجماعة على مذهب فقهاء الملة ابی حنيفة نعمان بن الثابت الكوفي وابى يوسف يعقوب بن ابراهيم الانصاری وابى عبدالله محمد بن الحسن الشيبانى رضوان الله عليهم اجمعين۔ وما يعتقدون من اصول الدين ويدينون به لرب العالمين“۔
(ص ۲)
ترجمہ :” یہ اہل سنت والجماعت کے عقیدہ کا بیان ہے جو فقہائے ملت امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کوفی امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم انصاری اور امام ابو عبداللہ محمد بن حسن شیبانی کے مذہب کے مطابق ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو۔ اور ان اصول دین کو اس رسالہ میں ذکر کیا جائے گا جن کا یہ حضرات عقیدہ رکھتے تھے‘ اور جن کے مطابق وہ رب العالمین کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے تھے“۔
امام طحاویؒ عقیدہ اہل سنت اور مذہب فقہائے ملت کے مطابق خروج دجال اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کے عقیدہ کو ایمانیات میں شمار کرتے ہوئے اس رسالہ میں لکھتے ہیں :
”ونؤمن بخروج الدجال ونزول عيسىٰ بن مريم عليه السلام من السماء وبخروج ياجوج ۱۶۰
و ماجوج ونؤمن بطلوع الشمس من مغربها وخروج دابة الارض من موضعها“۔
(ص ۱۳)
ترجمہ : ” اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ دجال نکلے گا اور عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے، اور یاجوج ماجوج نکلیں گے، اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ آفتاب مغرب سے نکلے گا اور دابۃ الارض اپنی جگہ سے نکلے گا“۔
اسی طرح خروج دجال اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کو ہر صدی کے اکابر اہل سنت عقائد میں درج کرتے آئے ہیں، اگر ان احادیث کی سند صحیح نہ ہوتی تو اکابر اہل سنت ان کو عقائد میں داخل نہ کرتے۔
علامہ تمنا عمادی : آپ نے علامہ تمنا عمادی کی کتاب ”انتظار مہدی ومسیح“ کا ذکر کیا ہے، میں نے یہ کتاب دیکھی ہے، اس کو پڑھ کر مجھے یہ لطیفہ یاد آیا کہ ایک زمانہ میں پنڈت دیانند سرسوتی نے ”ستیارتھ پرکاش“ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی، جس کے آخری باب میں قرآن مجید پر تنقید کی تھی، اس میں پنڈت جی نے بات یہاں سے شروع کی کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہوسکتا، کیوں کہ اس کی ابتداء بسم اللہ شریف سے ہوئی ہے، اگر یہ کتاب خدا کا کلام ہوتا تو خدا کے نام سے اس کی ابتداء کیسے ہوسکتی تھی؟ پنڈت جی کی قرآن مجید پر تنقید اول سے آخر تک اسی قسم کے لطیفوں اور چٹکلوں پر مشتمل تھی، آریہ لوگ تو پنڈت جی کی اس کتاب سے بہت خوش ہوئے کہ واہ! ہمارے پنڈت جی نے کیا موتی پروئے ہیں، مگر مسلمانوں نے ان لچر باتوں کو پنڈت جی کی بد فہمی و بے عقلی کا نشان سمجھا۔
جناب علامہ تمنا عمادی نے بھی ایسی ہی دانشمندی کا مظاہرہ اپنی اس
۱۶۱
کتاب میں فرمایا ہے‘ ان کے عقیدت مند تو بے شک خوش ہوں گے کہ واہ! ہمارے علامہ نے کیسی کتاب لاجواب رقم فرمائی ہے‘ مگر حدیث کے طالب علم جانتے ہیں کہ علامہ تمنا عمادی نے یہ کتاب لکھ کر اپنی علامی کو بٹہ لگایا ہے‘ مولانا رومیؒ کے بقول :
میلش اندر طعنہ پا کان زند
علامہ تمنا عمادی کی تحقیقات کے چند نمونے نقل کرتا ہوں :
- ا۔ نواس بن سمعان صحابی رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیح مسلم میں ہے‘
کبھی کسی کو یہ جرات نہ ہوئی کہ اس حدیث سے جان چھڑانے کے لئے ان کی شخصیت کا انکار کر ڈالے‘ یہ کارنامہ علامہ تمنا عمادی نے انجام دیا کہ حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو فرضی قرار دے دیا‘ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
- ۲۔ سعید بن مسیبؒ المخزومی کے بارے میں حافظ ذہبیؒ لکھتے ہیں :
”الامام العلم ابو محمد القرشی المخزومی عالم اہل المدينة وسيد التابعين فی زمانہ“۔
(سیر اعلام النبلاء‘ ص ۲۱۷ ج ۴)
”الامام شیخ الاسلام فقیہ المدينة ابو محمد المخزومی اجل التابعین“
(تذکرۃ الحفاظ ص ۵۴ ج ۱)
لیکن علامہ تمنا عمادی لکھتے ہیں :
”یہ سنیوں میں سنی اور شیعوں میں شیعہ بنے رہے“۔
(ص ۱۸۰)
۴۲۴
۳۔ امام زہریؒ کے بارے میں علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں : ”الامام العلم حافظ زمانہ“۔
(سیر اعلام النبلاء ج ۵، ۳۲۶)
”الامام الکبیر شیخ الکوفہ“۔
(سیر اعلام النبلاء ۱۶۱ ج ۴)
”اعلم الحفاظ الامام“۔ (تذکرۃ الحفاظ ۱، ۱۰۸) علامہ تمنا عمادی کے نزدیک یہ واضع حدیث تھے۔ (ص ۱۸۱)
۴۔ ابو وائل شقیق بن سلمہؒ کے بارے میں امام ذہبیؒ لکھتے ہیں : ”الامام الکبیر شیخ الکوفہ“۔
(سیر اعلام النبلاء ۱۶۱ ج ۴)
”شیخ الکوفۃ وعالمہا مخضرم جلیل“۔
(تذکرۃ الحفاظ ۶۰ ج ۱)
۵۔ زر بن حبیش کے بارے میں لکھتے ہیں : ”الامام القدوۃ مقری الکوفۃ“۔
(سیر اعلام النبلاء ص ۱۶۶ ج ۴) (تذکرۃ الحفاظ ص ۵۷ ج ۱)
اور تمنا عمادی صاحب ان اکابر کے وجود ہی کے منکر ہیں۔
۶۔ امام عامر بن شراحیل الشعبیؒ امام ابو حنیفہؒ کے استاد ہیں، حضرت ابراہیم النخعی استاذ الاستاذ ہیں اور امام سفیان ثوری امام ابو حنیفہؒ کے ہم عصر ہیں، اسلامی تاریخ میں ان اکابر کے نام آفتاب سے زیادہ روشن ہیں۔ مگر چونکہ کوفی ہیں اس لئے ان کے بارے میں علامہ تمنا عمادی کی رائے یہ ہے : ”اول تو ضروری نہیں کہ جن لوگوں کو محدثین ثقہ سمجھ لیں یا لکھ دیں وہ واقعی ثقہ ہوں بھی، ممکن ہے کہ ان کی ہوشیاریوں سے ان کا راز ائمہ رجال اور مستند محدثین پر نہ ۴۲۳
کھل سکا ہو“۔
(ص ۱۱۰)
- ۷۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :
”یعقوب کی وفات کے وقت اگرچہ ابن راہویہ تیس برس کے تھے، مگر یہ اس وقت غالباً مرو سے نیشا پور بھی نہ آئے ہوں گے“۔
(ص ۱۷۵)
جی ہاں! تیس برس کا دودھ پیتا بچہ مرو سے ستر میل کے فاصلہ پر نیشا پور کہاں جاسکتا ہے؟
- ۸۔ صحیح مسلم ص ۳۹۲ ج ۲ میں حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
”فینزل عیسیٰ بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم فامہم، فاذا راہ عدو اللہ ذاب کما یذوب الملح فی الماء، فلو ترکہ لانذاب حتی یہلک، ولکن یقتلہ اللہ بیدہ، فیریہم دمہ فی حربتہ“۔
ترجمہ :” پس عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہو کر مسلمانوں کی امامت کریں گے۔ جب اللہ کا دشمن (دجال) ان کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔ اگر آپ اس کو چھوڑ دیتے (قتل نہ کرتے) تب بھی وہ پگھل کر ختم ہو جاتا، لیکن اللہ تعالیٰ اس کو آپ کے ہاتھ سے قتل کریں گے، پھر آپ مسلمانوں کو اپنے حربے میں اس کا لگا ہوا خون دکھائیں گے“۔
حدیث کا مضمون صاف ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو دجال ان کو دیکھتے ہی اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح پانی میں نمک تحلیل
۴۱
ہو جاتا ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کو قتل نہ کرتے تو وہ خود ہی پگھل پگھل کر ختم ہو جاتا‘ مگر چونکہ اس کی موت اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے مقدر کردی ہے‘ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ اس کو قتل کرائیں گے۔ مسلمانوں کو اطمینان دلانے کے لئے کہ دجال قتل ہو چکا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے حربے میں لگا ہوا اس کا خون لوگوں کو دکھائیں گے۔
علامہ تمنا عمادی نے حدیث کے آخری فقرہ کا ترجمہ اس طرح کیا ہے: ترجمہ : ”لیکن اس کو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ سے قتل کرلے گا‘ تو مسلمانوں کو اپنے حربے میں اس کا خون دکھائے گا“۔
کسی مبتدی سے پوچھ لیجئے کہ علامہ صاحب کا ترجمہ صحیح ہے؟ بہت سی احادیث میں وارد ہے کہ دجال کو عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے‘ ان احادیث سے قطع نظر بھی کرلیجئے‘ لیکن اسی حدیث کے جو فقرے میں نے نقل کئے ہیں‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا‘ ان کو دیکھتے ہی دجال کا تحلیل ہونے لگنا‘ اس حدیث کے انہی جملوں کو پڑھ کر ہر وہ شخص جو عربی زبان کی شد بد رکھتا ہو آسانی سے سمجھ لے گا کہ علامہ تمنا عمادی کا ترجمہ صحیح نہیں‘ یا تو انہوں نے ترجمہ جان بوجھ کر بگاڑا ہے‘ یا سمجھے ہی نہیں۔
میں نے اپنے اس خیال کا امتحان کرنے کے لئے اپنے چھوٹے لڑکے کو بلایا جو درجہ اولیٰ کا طالب علم ہے‘ میں نے اپنی شرح مسلم سے اس حدیث کا متن نکالا (جو مشکول ہے) بچے سے کہا کہ حدیث کے الفاظ پڑھو‘ چونکہ زبر زیر لگی ہوئی تھی اس لئے اس نے الفاظ صحیح پڑھ لئے‘ میں نے کہا اب ان الفاظ کا ترجمہ کر ”فینزل عیسیٰ بن مریم“ سے اس نے ترجمہ شروع کیا۔ اور جس لغت میں وہ اٹکتا میں اسے بتاتا رہا۔ اب آخر میں امتحانی الفاظ آئے ”ولکن یقتلہ اللہ بیدہ“ میں نے کہا یہ بہت آسان الفاظ ہیں‘ سوچ کر اس جملہ کا ترجمہ خود
۱۶۵
کرو‘ میں نہیں بتاؤں گا‘ اس نے بلا تکلف ترجمہ کیا :
”ولیکن قتل کرے گا اس کو اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ سے“۔
میں نے پوچھا‘ کن کے ہاتھ سے؟ اس نے برجستہ کہا ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے“۔
”پس دکھائیں گے عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کو اس کا خون اپنے حربے میں“۔
میں نے بچے کو تمنا عمادی صاحب کا ترجمہ پڑھ کر سنایا کہ ان صاحب نے تو یہ ترجمہ کیا ہے‘ تو بچے نے کہا ”کیا یہ شخص مسلمان تھا؟“
لیکن علامہ تمنا عمادی اپنے غلط ترجمہ کا الزام حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر دھرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”یہ ہے کہ جس کو حدیث رسول کہا جاتا ہے‘ جس کی تہمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگائی جاتی ہے۔ ”اللہ خود اپنے ہاتھ سے مسیح دجال کو قتل کرے گا‘ اور اپنا خون آلود حربہ مسلمانوں کو دکھائے گا“۔ تاکہ مسلمانوں کو یقین ہو کہ واقعی اللہ ہی نے دجال کو خود قتل کیا ہے۔ معاذ اللہ من تلک الهفوات‘ ما قدروا اللّٰه حق قدرہ۔ سبحان ربک رب العزت عما یصفون“۔
(ص ۲۵۲)
اب فرمائیے! جن ہفوات سے تمنا صاحب پناہ مانگ رہے ہیں وہ ہفوات حدیث رسول میں ہیں‘ یا خود تمنا صاحب کے نہاں خانہ دماغ میں؟ اور جس شخص کو سخن فہمی کا چشم بد دور ایسا سلیقہ ہو ”حدیث رسول“ پر اس کی تنقید ایسی ہی ہو گی جیسی پنڈت جی کی تنقید قرآن پر۔ نعوذ باللہ من الغوایۃ والغباوۃ۔
۱۶۶
ہمچو آں شیرے کہ برخود حملہ کرد
- ۹۔ امام ابن ماجہؒ نے اپنی سنن (ص ۲۹۷۔۲۹۹) میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ
عنہ کی حدیث نقل کی ہے‘ حدیث نقل کرنے کے بعد امام ابن ماجہ فرماتے ہیں:
”قال ابو عبد اللہ سمعت ابا الحسن الطنافسی یقول سمعت عبدالرحمٰن المحاربی یقول ینبغی ان یدفع ھذا الحدیث الی المودب حتی یعلمہ الصبیان فی الکتاب“۔ (ص ۲۹۹
مطلب یہ کہ امام ابن ماجہ اپنے شیخ ابو الحسن طنافسی سے نقل کرتے ہیں کہ ان کے شیخ عبدالرحمٰن المحاربی فرماتے تھے کہ یہ حدیث علامات قیامت کی جامع ہے‘ یہ تو اس لائق ہے کہ مکتب کے استاذ کو دینی چاہئے تاکہ بچوں کو یاد کرائے۔
امام ابن ماجہ کی اس عبارت میں کوئی الجھن ہے نہ کوئی اشکال۔ عام طور سے محدثین حدیث نقل کر کے حدیث کے متعلق کوئی فائدہ اور کوئی نکتہ ارشاد فرمادیا کرتے ہیں‘ امام ترمذیؒ ”قال ابو عیسیٰ“ کہہ کر فوائد حدیث پر بالالتزام کلام فرماتے ہیں‘ اور امام ابو داؤد کا ”قال ابوداؤد“ ان کی کتاب کی گویا جان ہے‘ امام بخاریؒ ”قال ابو عبداللہ“ کہہ کر اور امام نسائی ”قال ابو عبدالرحمٰن“ کہہ کر کہیں کہیں کلام فرماتے ہیں۔ البتہ صحیح مسلم میں (مقدمہ کے علاوہ) بہت کم ”قال مسلم“ آتا ہے‘ اور اسی طرح ابن ماجہ میں بھی ”قال ابو عبداللہ“ کم آیا ہے۔
الغرض امام ابن ماجہ کا ”قال ابو عبداللہ“ کہہ کر کسی حدیثی فائدہ کی طرف اشارہ کردینا محدثین کا جانا پہچانا معمول ہے‘ اس میں حدیث کے طالب
علم
علم کو کبھی اشکال نہیں ہوا۔ لیکن علامہ تمنا عمادی پہلے شخص ہیں جس نے ”قال ابو عبداللہ“ کو دیکھ کر اس پر ہوائی قلعہ تعمیر کر لیا‘ اور ”سر چڑھ کر بولنے والا جادو“ کی سرخی جما کر اس پر تین صفحے کی لغو تقریر جھاڑ دی۔ (ص ۲۹۵۔۲۹۷)
یہ ہے علامہ تمنا عمادی کی احادیث نبویہؐ پر تنقید۔ اسی سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ہمارے علامہ صاحب حدیث کے متن و اسناد کو بس اتنا ہی سمجھتے تھے جتنا کہ پنڈت دیانند سرسوتی نے قرآن مجید کو سمجھا۔ پنڈت جی نے قرآن مجید پر نکتہ چینی کر کے بزعم خود ثابت کر دیا کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہو سکتا‘ اور ہمارے علامہ صاحب نے احادیث شریفہ میں کیڑے نکال کر بزعم خود یہ باور کر لیا کہ احادیث شریفہ کلام رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نہیں ہو سکتا‘ پنڈت جی نے کلام الہی پر حملہ کر کے اسلام کو باطل کرنا چاہا‘ مگر اس کے بجائے اپنی بد عقلی‘ بد فہمی کا منہ بولتا ثبوت فراہم کر گئے۔ اور علامہ تمنا عمادی کلام رسولؐ پر حملہ کر کے اسلامی سرمایہ سے امت کو بدظن کرنا چاہتے ہیں‘ مگر اس کے بجائے خود اپنی علمیت کو داغدار کر گئے‘ جس طرح پنڈت جی کی تنقید سے قرآن کا کچھ نہیں بگڑا اسی طرح علامہ جی کی ان لغو تنقیدات سے حدیث کا کچھ نہیں بگڑا‘ کلام رسولؐ کلام الہی کے خادم کی حیثیت سے زندہ جاوید رہا ہے‘ اور قیامت تک انشاء اللہ رہے گا‘ ولو کرہ الکافرون۔
صحیح بخاری کی احادیث :
آنجناب تحریر فرماتے ہیں :
”صحیح بخاری کی دو احادیث کے بارے میں لکھتا ہوں بخاری شریف میں نزول عیسیٰؑ پر دو احادیث موجود ہیں جس میں سے پہلی حدیث کا راوی اسحق بن محمد بن اسماعیل بن ابی
۴۸
فروہ المدنی الاموی مولیٰ عثمانؓ ہیں۔ ان اسحق کے بارے میں امام ابو داؤدؒ صاحب السنن سے کسی نے پوچھا تو انہوں ان کو ”واھی“ قرار دیا۔ امام نسائی نے اس اسحاق کو ”متروک الحدیث“ قرار دیا ہے۔ امام دار قطنیؒ نے اس اسحاق کو ” ضعیف“ کہا ہے۔ ساجیؒ نے اقرار کیا ہے کہ اس اسحق میں ” ضعف“ ہے۔
(تہذیب التہذیب جلد اول صفحہ ۲۳۸)
صحیح بخاری کی دوسری حدیث کا راوی ابن بکیر ہے جس کا پورا نام یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر المصری ہے۔ یہ ابن بکیر قریش کا آزاد کردہ غلام تھا۔ ابو حاتمؒ نے اس ابن بکیر کے متعلق کہا ہے کہ ان کی حدیث لکھ لی جائے مگر وہ سند حجت نہیں ہے۔ امام نسائیؒ نے اس ابن بکیر کو ”ضعیف“ اور ” لیس بثقۃ“ کہا ہے کہ یہ ثقہ راوی نہیں ہے۔ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ ”لیس بشئی“ یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ خود امام بخاریؒ نے تاریخ صغیر میں لکھا ہے کہ تاریخ میں ابن بکیر نے جو کچھ اہل حجاز سے کہا ہے میں اس کی نفی کرتا ہوں۔ امام مالکؒ اور امام لیث بن سعدؒ سے ابن بکیر ایسی بہت سی حدیثیں روایت کرتے ہیں جو اور کوئی بھی روایت نہیں کرتا۔ صحیح بخاری کے علاوہ دوسرے جن کتب کے حوالے آپ نے دیئے ہیں ان کتب کی نزول عیسیٰ والی احادیث میں بھی ایسے ہی اسحق اور ابن بکیر کی طرح کالے ناگ موجود ہیں، جن پر محققین نے لمبی چوڑی بحث کی ہے۔“
۴۸۹
تنقیح: یہاں چند امور قابل ذکر ہیں :
اول: امام بخاریؒ نے ”نزول عیسیٰ علیہ السلام“ کے باب میں دو حدیثیں ذکر کی ہیں، پہلی حدیث دو جگہ ذکر کی ہے، اول: کتاب البیوع‘ باب قتل الخنزیر“ میں۔ اس کی سند یہ ہے :
”حدثنا قتيبة بن سعيد ثنا الليث عن ابن شهاب عن ابن المسيب الخ“۔
(ص ۲۹۶ ج ۱)
اور دوسری جگہ احادیث الانبیاء ”باب نزول عیسیٰ بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم“ میں۔ اس کی سند یہ ہے :
”حدثنا اسحق انا يعقوب بن ابراهيم ثنا ابى عن صالح عن ابن شهاب‘ الخ“۔
(ص ۴۹۰، ج ۱)
آنجناب کی تنقید صرف دوسری سند سے متعلق ہے، پہلی سند پر آپ کوئی تنقید نہیں کرسکے، اس لئے یہ حدیث آپ کی تنقید کے بعد بھی صحیح رہی۔ فللہ الحمد ولہ الشکر۔
دوم: دوسری سند میں امام بخاریؒ کے شیخ اسحق بن ابراہیم (المعروف بہ ابن راہویہ) ہیں، آنجناب نے ان کو بلاوجہ ”اسحاق بن محمد بن اسماعیل بن ابی فروہ المدنی الاموی مولیٰ عثمان“ قرار دے کر ان کی تضعیف نقل کردی، اور سمجھ لیا کہ حدیث ضعیف ہے۔ یہ بناء الفاسد علی الفاسد ہے، کیونکہ حافظ الدنیا ابن حجرؒ نے فتح الباری میں ان کو اسحاق بن ابراہیم المعروف ”ابن راہویہ“ قرار دیا ہے، اور اس کی دلیل یہ نقل کی ہے :
”وقد اخرج ابو نعيم فى المستخرج هذا الحديث من مسند اسحق بن راهويه وقال .
۱۷۰
اخرجه البخارى عن اسحق“۔
(فتح الباری ص ۴۹۱ ج ۶)
ترجمہ :" ابو نعیم نے ”مستخرج“ میں یہ حدیث مسند اسحاق بن راہویہ سے تخریج کی ہے اور کہا ہے کہ امام بخاریؒ نے یہ حدیث اسحاق بن راہویہ سے روایت کی ہے“۔
پس جب حدیث مسند اسحاق بن راہویہ میں موجود ہے تو امام بخاریؒ کے استاذ کا نام اسحاق بن محمد بن اسماعیل بتانا بے دلیل بلکہ خلاف دلیل ہے، لہٰذا آپ کا یہ اعتراض اس سند پر بھی غلط ٹھہرا، اور الحمد للہ بخاری کی حدیث دونوں سندوں سے صحیح نکلی۔
سوم: امام بخاریؒ نے دوسری حدیث اس سند سے روایت کی ہے :
"حدثنا ابن بكير ثنا الليث عن يونس عن ابن شهاب عن نافع مولیٰ ابی قتادة الانصاری ان ابا هريرة قال الخ"۔
اس پر آپ کا اعتراض یہ ہے کہ ابو حاتمؒ، نسائیؒ، اور یحییٰ بن سعیدؒ نے اس کو ضعیف کہا ہے، خود امام بخاریؒ نے تاریخ صغیر میں لکھا ہے کہ ”ابن بکیرؒ نے جو کچھ اہل حجاز سے کہا ہے میں اس کی نفی کرتا ہوں“۔
اس سلسلہ میں چند امور ملحوظ رکھے جائیں :
- ۱۔۔۔۔۔ راویان حدیث کے بارے میں اگر جرح وتعدیل کا اختلاف ہو تو دیکھنا یہ
ہوگا کہ جرح لائق اعتبار ہے یا نہیں؟ امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ جن راویوں سے احادیث لیتے ہیں وہ ان کے نزدیک ثقہ ہوتے ہیں کیونکہ ان کا التزام ہے کہ وہ صحیح حدیث نقل کریں گے، اس لئے اگر وہ کسی راوی سے حدیث لیتے ہیں تو یہ ان کی طرف سے اس راوی کی توثیق ہے، اور معرفت رجال میں امام
۱۷۱
بخاریؒ اور امام مسلمؒ کا مرتبہ کسی محدث سے کم نہیں، اس لئے کسی دوسرے محدث کی جرح ان پر حجت نہیں، اس لئے شیخ ابو الحسن المقدسی فرماتے تھے کہ جس راوی سے امام بخاریؒ نے حدیث کی تخریج کی ہے ”وہ پل سے پار ہو گیا“۔ یعنی کسی دوسرے کی جرح اس کے مقابلہ میں لائق اعتبار نہیں۔
(مقدمہ فتح الباری فصل ۹ ص ۳۸۴)
- ۲۔ ..... امام بخاریؒ کا جو مقولہ آپ نے تاریخ صغیر سے نقل کیا ہے وہ تاریخ
سے متعلق ہے، چنانچہ حافظؒ نے مقدمہ فتح میں یہ قول اس طرح نقل کیا ہے : "وما روی یحیی بن بکیر عن اہل الحجاز فی التاریخ فانی اتقیہ"۔
(ص ۲۵۲ ج ۱۴)
ترجمہ : "یحییٰ بن بکیر نے اہل حجاز سے جو کچھ نقل کیا ہے میں اس سے بچتا ہوں"۔
آپ نے یہ حوالہ تہذیب التہذیب سے نقل کیا ہے اس میں "اتقیہ" کے بجائے "انفیہ" غلط چھپا ہے (تہذیب التہذیب میں مطبعی اغلاط بہ کثرت ہیں) آپ نے اس کے مطابق ترجمہ کر دیا، اور فی التاریخ کا لفظ اڑا دیا۔ اس حوالہ سے تو ثابت ہوتا ہے کہ امام بخاریؒ کی اپنے مشائخ کی تمام مرویات پر نظر تھی، اور وہ جو کچھ کسی سے لیتے تھے اسے نہایت حزم و احتیاط سے لیتے تھے۔
چنانچہ حافظ ابن حجرؒ ان کے اسی قول پر یہ تعلیق فرماتے ہیں : "فہذا یدلک علی انہ ینتقی حدیث شیوخہ"۔
ترجمہ : "امام بخاریؒ کے اس قول سے تم کو واضح ہوگا کہ وہ اپنے مشائخ کی حدیث کو چن کر لیتے ہیں"۔
الغرض امام بخاریؒ کے اس ارشاد سے تو ان کا مزید تیقظ و اتقان ثابت
۱۷۲
ہوتا ہے، نہ کہ ان کی حدیث کا مجروح ہونا۔
۳...... امام بخاریؒ نے یحییٰ بن بکیر کی روایت کو نقل کر کے آخر میں لکھا ہے ”تابعہ عقیل والاوزاعی“ یعنی ”عقیل اور اوزاعی (یحییٰ بن بکیر کے شیخ الشیخ) نے یونس کی متابعت کی ہے“۔ اور بخاری کے بین السطور حاشیہ میں فتح الباری کے حوالے سے اس متابعت کی سند بھی مذکور ہے۔ گویا امام بخاریؒ نے اس متابعت کو ذکر کر کے یونس تک تین سندیں ذکر فرمائی ہیں۔
جب امام بخاریؒ نے یحییٰ بن بکیر کے علاوہ حدیث کی دو صحیح سندیں مزید ذکر کر دیں تو یحییٰ بن بکیر کی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف قرار دینے کا کیا جواز رہا؟ الغرض یہ حدیث بھی بلاغبار صحیح نکلی، اور آنجناب کا اعتراض غلط ثابت ہوا۔
چہارم : آپ کو نزول عیسیٰ علیہ السلام کی تمام احادیث میں اسحاق اور ابن بکیر جیسے ”کالے ناگ“ نظر آتے ہیں، (نعوذ باللہ) اگر میں صرف ان کتابوں کی اسانید جمع کروں جو ہمارے سامنے موجود ہیں، تو آپ کو نظر آئے گا کہ کتنے بڑے بڑے ائمہ دین کو آپ نے ”کالے ناگ“ کا خطاب دے ڈالا، میں نہیں چاہتا کہ آپ کی جناب میں کوئی گستاخی کا لفظ لکھوں، لیکن آپ تمام ائمہ دین کو ”کالے ناگ“ بتاتے ہیں اس لئے اخلاص اور خیر خواہی کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ مالیخولیا کے مریض کو خواب میں ”کالے ناگ“ نظر آیا کرتے ہیں، خدا نہ کرے آپ تمام اکابر امت کی گستاخی کر کے کہیں ”ایمانی مالیخولیا“ کے مریض نہ ہو جائیں لہٰذا اس گستاخانہ لفظ سے توبہ کیجئے، اپنے ایمان کی فکر کیجئے، اور کسی مصلح ربانی سے رجوع کیجئے۔
میں قبل ازیں امام اعظمؒ کے رسالہ فقہ اکبر کی عبارت نقل کر چکا ہوں، حضرت امامؒ کی ولادت علی اختلاف الاقوال ۶۰، ۷۱ یا ۸۰ھ میں ہوئی، (آخری
۱۷۳
قول زیادہ مشہور ہے) اور بالاتفاق ۱۵۰ھ میں ان کی وفات ہوئی، گویا کم از کم تیس سال انہوں نے صحابہؓ کا زمانہ پایا ہے، (کیونکہ آخری صحابی کا انتقال ۱۱۰ھ میں ہوا) وہ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر احادیث صحیحہ متواترہ کا حوالہ دے کر اس کو اپنے عقائد میں شامل کرتے ہیں، اور اس کے بارے میں ”حق کائن“ فرماتے ہیں۔ اس وقت نہ امام بخاریؒ تھے اور نہ ان کے استاذ۔ مگر یہ عقیدہ اس وقت بھی امت میں متواتر تھا، اسی بناء پر امام الائمہ امام اعظمؒ نے اس کو عقائد اسلامی میں شامل فرمایا، ذرا غور سے کام لیں تو آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک تواتر کے ساتھ ”نزولِ عیسیٰ علیہ السلام“ کا عقیدہ نقل کرنے والے نظر آئیں گے، ان سب کو اگر ”کالے ناگ“ تصور کریں گے تو فرمائیے آپ کا ایمان کدھر جائے گا؟ خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ اگر ایمان کی خیر منانی ہے تو اپنا عقیدہ سلف صالحین صحابہؓ و تابعینؒ کے مطابق رکھئے، ع ”مراد ما نصیحت بود و گفتیم“۔
آنجناب تحریر فرماتے ہیں :
” مولانا صاحب! میں منکر احادیث نہیں ہوں، لیکن مجروح یا مجہول راویوں کی احادیث کو کبھی بھی تسلیم نہیں کر سکتا۔ کسی حدیث کے صحیح وغلط ہونے کا اگر کوئی معیار صحیح ہو سکتا ہے تو وہ ایک ہی معیار ہے یعنی اگر وہ حدیث عقائد و عبادات اور تعلیم اصول اخلاق و معاملات سے متعلق ہے تو اس کا نص قرآنی کے مطابق ہونا ضروری ہے، اور اگر محض دنیاوی کسی ایسی بات سے متعلق ہے جس کا لگاؤ دینی امور سے نہیں تو اگر وہ عقل قرآنی و درایت قرآنیہ کے مطابق ہے جب ہی اس کی نسبت رسول اللہ کی طرف صحیح تسلیم کی جاسکتی ہے، لیکن یہ بھی کوئی ضروری نہیں کہ جو حدیث نص قرآنی کے
۱۴۷
بالکل مطابق ہو اور عقل و درایت قرآنیہ کے بھی خلاف نہ ہو وہ صحیح ہو۔ چنانچہ ائمہ حدیث کی کتب موضوعات میں ایسی بہت سی احادیث ملیں گی جو نہ قرآن کے خلاف ہیں، نہ قرآنی عقل و درایت کے خلاف، مگر محدثین نے ان کو دوسرے اسباب کی بنا پر موضوع قرار دیا ہے ان میں اکثر وہی حدیثیں ہیں جن کے راوی مجروح ہیں یا مجہول۔ اس کو بھی محدثین نے تسلیم کرلیا ہے کہ کسی حدیث کا صحیح الاسناد ہونا اس کی صحت ثابت کرنے کے لئے کوئی قطعی دلیل نہیں، کیونکہ جھوٹی حدیثیں بنانے والے جھوٹے اسناد بھی بناسکتے تھے اور بناتے تھے، من گھڑت احادیث عالی اسناد کے ساتھ محدثین کی کتابوں میں داخل کردیا کرتے تھے۔ اکابر محدثین کے شاگرد بن کر ان کے ساتھ رہ کر ان کے مسودات میں رد وبدل اور کمی وبیشی کے علاوہ مستقل حدیثیں بھی بڑھادیا کرتے تھے۔ اس سے کوئی بھی شخص جس نے فن حدیث سے کسی حد تک بھی واقفیت حاصل کی ہو، انکار نہیں کرسکتا، اسی طرح صرف اس لئے کہ کسی حدیث کے بعض راوی مجروح یا وضاع و کذاب ہیں۔ اگر وہ قرآنی درایت کے مطابق ہے تو اس کو قطعی طور سے موضوع یا غلط نہیں کہا جاسکتا کیونکہ کوئی جھوٹے سے جھوٹا شخص ہر بات جھوٹی ہی نہیں بولتا کبھی وہ کوئی سچی بات بھی ضرور بولتا ہے، اس تمہید کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی بھی حدیث جو موجودہ کتب حدیث میں ہے، چاہے وہ صحاح ستہ ہی میں نہیں بلکہ ساری کتب احادیث کی متفق علیہ کیوں نہ ہو اس وقت تک صحیح نہیں کہی جاسکتی جب تک درایت قرآنیہ اس کی صحت پر مہر تصدیق ثبت نہ ۱۴۵
کردے ۔ اور اتفاق سے نزول عیسیٰ کے بارے میں جتنے بھی احادیث کتب احادیث میں موجود ہیں وہ سارے درایت قرآنیہ کے خلاف ہیں“۔
تنقیح : ۱ آپ منکر حدیث کیوں ہونے لگے، منکر حدیث تو منکر رسول ہے (صلی اللہ علیہ وسلم) اور منکر رسول‘ منکر قرآن ہے۔ خدا نہ کرے کہ آپ منکر حدیث ہو کر منکر رسول‘ اور منکر قرآن ہو جائیں، لیکن یہاں بھی محض اخلاص کے ساتھ ایک نصیحت کرتا ہوں، وہ یہ کہ صحیحین میری اور آپ کی رد و کد سے اونچی ہیں، امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں :
”اما الصحيحان فقد اتفق المحدثون على ان جميع ما فيهما من المتصل المرفوع صحيح بالقطع‘ وانهما متواتران الى مصنفيهما‘ وانه كل من يهون امرهما فهو مبتدع متبع غير سبيل المومنين“۔
(حجۃ اللہ البالغہ ص ۱۳۴ ج۱)
ترجمہ :۔ ” لیکن صحیح بخاری اور صحیح مسلم! پس محدثین اس پر متفق ہیں کہ ان دونوں میں جو مرفوع متصل احادیث ہیں وہ قطعاً صحیح ہیں، اور یہ کہ یہ دونوں کتابیں اپنے مصنفوں تک متواتر ہیں، اور یہ کہ جو شخص ان دونوں کے بارے میں توہین کا مرتکب ہو وہ مبتدع ہے، المومنین کے راستہ کو چھوڑ کر کسی اور راستہ پر چلنے والا ہے“۔
حضرت شاہ صاحبؒ نے اس عبارت میں تین باتیں فرمائی ہیں :
- صحیحین کی احادیث‘ جو مرفوع متصل ہیں‘ قطعی صحیح ہیں۔ ان
۱۷۶
شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
- ◯ صحیحین ان کے جلیل القدر مصنفین سے آج تک متواتر ہیں، یہ
احتمال نہیں کہ کسی نے درمیان میں گڑبڑ کردی ہوگی، یا ایسی چیز ان میں داخل کردی ہوگی جو امام بخاریؒ و مسلمؒ نے نہیں لکھی تھیں۔
چنانچہ اسّی ہزار آدمیوں نے تو براہ راست امام بخاریؒ سے صحیح بخاری کا سماع کیا ہے، اور اس کے بعد یہ تعداد بڑھتی ہی چلی گئی ہے۔ مشرق و مغرب اور جنوب و شمال جہاں بھی جائیے صحیح بخاری کے یہی نسخے ملیں گے، اور صحیح بخاری کی یہ مقبولیت منجانب اللہ ہے۔ کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔
- ◯ جو لوگ صحیحین کی احادیث کی توہین کے مرتکب ہیں وہ شاہ صاحب
کے بقول "تتبع غیر سبیل المومنین" ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
"ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدٰى ويتبع غير سبيل المومنين نوله ما تولٰى ونصله جهنم وساءت مصيرا ◯"
(سورہ النساء۔ ص ۱۱۵)
ترجمہ : " اور جو شخص رسول کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ اس کو امر حق ظاہر ہوچکا تھا اور مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر دوسرے رستے ہولیا تو ہم اس کو جو کچھ وہ کرتا ہے کرنے دیں گے اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے جانے کی"۔
- ۲۔۔۔۔۔ اوپر کے نمبر سے معلوم ہوگیا ہوگا کہ احادیث متواترہ نہ قرآن کے خلاف
ہیں، نہ درایت قرآن کے خلاف ۔ قرآن کریم کی آیات جو عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق ہیں ان پر گفتگو گزر چکی ہے، اور میں عرض کرچکا ہوں کہ قرآن کریم
کی ایک آیت بھی ایسی نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر دلالت کرتی ہو‘ بلکہ قرآن مجید کی آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کی تصریحات موجود ہیں‘ اپنے پاس سے ایک نظریہ تراش کر اسی کو درایت قرآنیہ کا نام دے لینا اور پھر احادیث نبویہ کو اس نام نہاد ”درایت“ کے معیار پر پرکھنا صحیح نہیں۔ ایسی درایت سے ہر مومن کو پناہ مانگنی چاہئے۔
- ۳۔۔ صحیح‘ مقبول‘ ضعیف اور موضوع احادیث کو اکابر محدثینؒ نے چھانٹ کر
اس طرح الگ کردیا ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ الگ کردیا ہے‘ مگر یہ کام بھی میرے اور آپ کے کرنے کا نہیں‘ اکابر محدثینؒ اس سے فارغ ہوچکے ہیں‘ اس کے بعد اس وہم میں مبتلا ہونے کی کوئی گنجائش نہیں جس نے آپ کو پریشان کر رکھا ہے‘ الحمد للہ! ہمارے دین کی ہر ہر چیز اتنی صاف ستھری اور نکھری ہوئی ہے کہ گویا یہ دین آج نازل ہوا ہے‘ دین قیم کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے فوق العادت اسباب پیدا فرمائے جن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
- ۴۔۔ ..... اوپر عرض کرچکا ہوں کہ آج تک نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث کو
کسی امام‘ مجدد اور کسی صحابیؓ و تابعیؒ نے درایت قرآنیہ کے خلاف نہیں سمجھا‘ اگر کچھ لوگ ایسا سمجھتے ہیں تو ان کی درایت ہی نہیں بلکہ ان کا اسلام بھی مشکوک ہے‘ ایسے لوگوں سے دریافت کیجئے کہ ان کی درایت کے صحیح ہونے کا معیار کیا ہے؟ قرآنی معیار تو اوپر نقل کرچکا ہوں کہ جو شخص ”غیر سبیل المومنین“ کا متبع ہو وہ ”نولہ ما تولی و نصلہ جہنم“ کا مصداق ہے‘ ایسے شخص کی درایت جنتی درایت نہیں بلکہ جہنمی درایت ہے۔ ایسی درایت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ!
۱۷۸
مسیح دجال:
آنجناب تحریر فرماتے ہیں :
”صفحہ نمبر ۲۵۳ پر ابو داؤد اور مسند احمد کے حوالے سے آپ نے لکھا ہے ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسیح دجال کو ہلاک کر دیں گے‘ پھر ان کی وفات ہو گی ....الخ“۔
مولانا صاحب! اگر آپ لفظ ”دجال“ کے معنی پر روایت پرستی کی حالت سے نکل کر‘ ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں گے تو ممکن ہے آپ پر یہ حقیقت کھل جائے کہ ” دجال“ والی حدیث وضعی ہے۔ ”دجال“ دجل سے ہے‘ عربی کا لفظ ہے اور معنی ہے فریب‘ جھوٹ۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے ” مسلم“ میں رسولؐ اللہ کی جو مسنون دعائیں مروی ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ :
”واعوذ بک من فتنۃ المسیح الدجال“۔
ترجمہ : ”اے اللہ میں جھوٹے مسیح کے فتنے سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں“۔
گویا جو بھی مسیح ہونے کا دعویٰ کرے گا تو وہ جھوٹا ہو گا اور فتنہ پھیلائے گا‘ لہٰذا میں اس ہر جھوٹے مسیح کے فتنے سے پناہ مانگتا ہوں۔ اس دعا سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قیامت تک کوئی بھی مسیح آئے گا ہی نہیں۔ اور جو آنے کا دعویٰ کرے گا تو وہ صریح جھوٹا ہو گا۔ عیسیٰ کے دوبارہ آنے کا عقیدہ چونکہ نصاریٰ (عیسائیوں) میں پہلے سے موجود تھا اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس باطل عقیدے کی تردید اپنی دعا میں کر دی“۔
۱۷۹
تنقیح : دجال کی حدیث بھی متواتر اور تمام امت کے نزدیک مسلم ہے‘ چنانچہ ”فقہ اکبر“ کے حوالے سے نقل کر چکا ہوں کہ امام ابو حنیفہؒ نے امام ابو داؤدؒ اور امام احمدؒ سے پہلے ان احادیث صحیحہ کو ثبت فرما کر ”حق کائن“ فرمایا ہے‘ اور اول سے آخر تک پوری امت ان صحیح احادیث کے مطابق عقیدہ رکھتی آئی ہے کہ قرب قیامت میں ”الاعور الدجال“ نکلے گا‘ اور اس کو قتل کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ امت اسلامیہ کے اکابر میں ایک نام بھی آپ پیش نہیں کرسکتے جو خروج دجال کا منکر ہو۔
۲۔۔۔۔۔ آپ کی یہ بات صحیح ہے کہ دجال کا لفظ دجل سے نکلا ہے‘ جس کے معنی ہیں جھوٹ‘ فریب۔ ہر وہ شخص جو جھوٹ و فریب کے ذریعہ حقائق کو تبدیل کرے‘ اور تاویلات اور چالاکیوں کے ذریعہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرے‘ اور حق کو باطل اور باطل کو حق باور کرانے کی کوشش کرے وہ دجال ہے۔ لیکن ان تمام دجالوں کا پیر اور استاد آخری زمانے میں ظاہر ہوگا جس کو ”دجال اکبر“ ”دجال اعور“ اور ”المسیح الدجال“ کہا جاتا ہے‘ گویا وہ سراپا دجل ہوگا‘ اور اس میں حق پرستی کی ادنیٰ رمق بھی موجود نہیں ہوگی‘ یہاں تک کہ اس کا کفر اس کی پیشانی سے ظاہر ہوگا‘ اور ہر مومن خواندہ و ناخواندہ اس کی پیشانی پر ”کافر“ کا لفظ پڑھے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دجال سے احادیث متواترہ میں پناہ مانگی ہے‘ اور امت کو اس کی تعلیم فرمائی ہے‘ الحمد للہ! یہ ناکارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و ہدایت کے مطابق ہر نماز میں یہ دعا مانگتا ہے :
”اللہم انی اعوذ بک من عذاب جہنم‘ واعوذ بک من عذاب القبر‘ واعوذ بک من فتنۃ
۱۸۰
المسیح الدجال‘ واعوذ بک من فتنۃ المحیا والممات‘ اللھم انی اعوذ بک من الماثم والمغرم“
اور یہ ناکارہ اپنے احباب کو اس کی تاکید کرتا ہے کہ ہمیشہ التزام کے ساتھ یہ دعا کیا کریں۔
۳:..... آپ کی یہ بات بھی صحیح ہے کہ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح مسیح ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرے وہ دجال ہے‘ لیکن اس سے آخری زمانے میں نکلنے والے ”دجال اکبر“ کی نفی نہیں ہوتی‘ بلکہ تاکید ہوتی ہے‘ کیونکہ وہ بھی مسیح ہونے کا دعویٰ کرے گا‘ اور وہ آخری شخص ہوگا جو مسیح ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر کے خلق خدا کو گمراہ کرے گا۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو ”المسیح“ کا لقب قرآن نے دیا ہے‘ اور ہر مسلمان ان کو اس لقب سے جانتا پہچانتا ہے‘ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ”مسیح“ کا دعویٰ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی‘ نہ وہ اس کا دعویٰ کریں گے۔ کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو ہر مسلمان ان کو پہچان لے گا کہ یہ ”المسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام“ ہیں۔ اس لئے ان کی شخصیت جھوٹے مدعیان مسیحیت میں شامل نہیں‘ بلکہ وہ ان جھوٹوں کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کرنے کے لئے آئیں گے۔ الغرض آپ کا یہ سمجھنا صحیح نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی نفی کرنے کے لئے ہے‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے آنے کی نفی نہیں کی‘ بلکہ تاکید در تاکید کے ساتھ ان کی تشریف آوری کی خبر دی ہے‘ ان کو پہچان لینے کا حکم فرمایا‘ ان کے کارنامے بیان فرمائے ہیں جو وہ نزول کے بعد انجام دیں گے۔ ان کو سلام پہنچانے کا حکم فرمایا ہے۔
۱۸۱
- ۴۔۔۔ اس خیال کی اصلاح پہلے کرچکا ہوں کہ ”چونکہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کے رفع ونزول کے قائل تھے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عقیدہ کی تردید فرمائی“۔ میں بتاچکا ہوں کہ قرآن کریم نے ”بل رفعہ اللہ الیہ“ فرماکر ان کے رفع آسمانی کی تصریح کی ہے‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بھی حدیث پیش نہیں کی جاسکتی جس میں یہ فرمایا ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں آئیں گے۔ بلکہ یہ فرمایا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں‘ وہ دوبارہ تشریف لائیں گے۔
مہدی آخر الزمان:
آنجناب تحریر فرماتے ہیں :
”صفحہ نمبر ۲۵۷ پر آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ : ”آنحضرتؐ کی متواتر احادیث میں وارد ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے نزول کے وقت حضرت مہدیؑ اس امت کے امام ہوں گے اور حضرت عیسیٰؑ ان کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے“۔
محترمی! میری کوشش ہوگی کہ مختصراً اور ٹھوس دلائل سے ”امام مہدی“ پر تبصرہ کروں کیوں کہ عین ممکن ہے کہ آپ کی دینی مصروفیات اتنے طویل خط کو تدبر اور تفکر کے ساتھ پڑھنے کا موقع نہ دیں گی۔ ”مہدی“ عربی زبان میں ہر ہدایت یافتہ کو کہا جاتا ہے یہ کسی مخصوص شخص کا لقب نہیں اور نہ یہ لفظ کسی مخصوص شخص کے لئے قرآن وسنت میں استعمال کیا گیا ہے‘ اگر آپ احادیث صحیحہ پر غور کرلیں تو نبی کریمؐ نے بھی عربیت کے لحاظ سے اسے عام طور پر استعمال فرمایا ہے‘ اور اس کا ثبوت وہ مشہور حدیث نبویؐ ہے جو
۱۸۲
حضرت جریرؓ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریمؐ نے انہیں یمن ذی الخلصہ کو گرانے کے لئے بھیجا جو کعبہ یمانیہ کہلاتا تھا۔ تو حضرت جریرؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا۔ تو آپؐ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا حتیٰ کہ آپؐ کی انگلیوں کے نشان میرے سینے پر نظر آنے لگے اور فرمایا اے اللہ اسے گھوڑے پر ثابت قدم رکھ اور اسے ہادی اور مہدی بنا دے۔
(صحیح بخاری جلد اول صفحہ ۴۲۴)
”اس کے علاوہ سنن کی مشہور حدیث ہے ”میری سنت اور خلفاء راشدین مہدیین کی سنت کو لازم پکڑو“ اس حدیث میں آپؐ نے لفظ مہدی کو جمع کے طور پر استعمال کیا ہے اور خلفاء راشدین کو مہدی قرار دیا ہے۔ چونکہ خلفاء راشدین اور صحابہ کرامؓ سب کے سب ہدایت یافتہ تھے، لہٰذا تمام صحابہ کرامؓ مہدی ہیں، اور پھر امیر معاویہؓ تو ان میں بدرجہ اولیٰ داخل ہیں، کیونکہ ان کے لئے رسولؐ اللہ نے دعا فرمائی تھی ” اے اللہ ! معاویہؓ کو (ہادی اور مہدی) ہدایت یافتہ اور ہدایت کرنے والا بنا دیجئے اور اسؓ کے ذریعے دوسروں کو ہدایت عطا کیجئے“۔
(ترمذی جلد دوم صفحہ ۲۲۷)
”اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور بلحاظ سند یہ حدیث اسی نوعیت کی تمام احادیث سے ہزار درجہ بہتر ہے کیوں کہ اس کے اکثر راوی بخاری کے راوی ہیں اور بقیہ راوی مسلم کے ہیں، اس لحاظ سے یہ شرط مسلم پر صحیح ہے، لہٰذا کیوں نہ تسلیم کیا جائے کہ اگر روئے زمین پر کوئی مہدی ہے تو وہ حضرت امیر معاویہؓ ہیں، اور اگر وہ اس منصب پر فائز
۱۸۳
نہیں ہو سکتے تو ان کے بعد کوئی اور مہدی نہیں، اسی لئے میں اس حدیث کی بناء پر یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ دراصل ہمارے مہدی امیر معاویہؓ ہیں، اور وہ اس دار فانی سے کوچ فرماچکے ہیں، اب کوئی آنے والا مہدی باقی نہیں رہا"۔
تنقیح : آنجناب نے صحیح فرمایا کہ "مہدی" ہدایت یافتہ شخص کو کہتے ہیں، یہ بھی صحیح ہے کہ حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ کے بارے میں "ہادی و مہدی" ہونے کی دعا فرمائی، یہ بھی صحیح ہے کہ حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کو "المہدیین" قرار دے کر ان کی سنت کی اقتدا کرنے کی تاکید فرمائی، یہ بھی صحیح ہے کہ امیر المومنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دعا فرمائی : " اللہم اجعلہ ہادیا مہدیا"۔ (یا اللہ ! ان کو ہادی و مہدی بنا)
یہ تمام امور صحیح ہیں، لیکن آنجناب نے اس سے جو نتیجہ اخذ کیا ہے کہ "آئندہ کوئی ہادی و مہدی نہیں ہوسکتا" یہ غلط ہے، اگر خلفائے راشدینؓ کے ہادی و مہدی ہونے سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہادی و مہدی ہونے کی نفی نہیں ہوتی تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہادی و مہدی ہونے سے آئندہ کسی کے ہادی و مہدی ہونے کی بھی نفی نہیں ہوتی۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو کہ حضرت معاویہؓ کے بعد کوئی ہادی و مہدی نہیں تو آپ کا استدلال صحیح ہے، لیکن میرے علم میں نہیں کہ کسی ایک حدیث میں بھی ایسا مضمون ارشاد فرمایا ہو، اگر ایسی کوئی حدیث آنجناب کے علم میں ہو تو اس کو پیش فرمائیں اور اگر ایسی کوئی حدیث نہیں تو آپ کا یہ استدلال بھی صحیح نہیں، اگر کوئی شخص یہ استدلال کرے کہ "چونکہ خلفائے راشدینؓ کو "مہدی" فرمایا گیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ حضرت معاویہؓ مہدی نہ ہوں" تو کیا آپ کے نزدیک یہ استدلال صحیح ہوگا؟ ہرگز نہیں! پس خوب سمجھ لیجئے کہ اسی طرح آپ
۱۸۴
کا استدلال بھی صحیح نہیں۔ ادہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ آخری زمانہ میں ایک خلیفہ ہوگا جو زمین میں عدل وانصاف قائم کرے گا‘ اس کے زمانہ میں دجال اکبر کا خروج ہوگا‘ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے تو عین نماز کے وقت مسلمانوں کی جماعت میں پہنچیں گے‘ مسلمانوں کا امام درخواست کرے گا ”تقدم یا روح اللہ ! فصل لنا“ لیکن وہ یہ نماز اسی امام کے پیچھے پڑھیں گے‘ اسی کو ”امام مہدی“ کہا جاتا ہے‘ علمائے اہل سنت نے تصریح کی ہے کہ اس خلیفہ عادل کا ظہور قیامت کی علامات صغریٰ اور کبریٰ کے درمیان برزخ ہے‘ کہ اس کے ظہور سے پہلے قیامت کی علامات صغریٰ کا دور تھا‘ اور دجال اکبر کا خروج علامات کبریٰ کا نقطۂ آغاز ہوگا‘ پس ایک مومن کو جس طرح قیامت پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح علامات قیامت پر ایمان لانا ضروری ہے جو صحیح احادیث میں وارد ہوئی ہیں۔ واللہ الموفق۔
مہدی کا شیعی تصور:
آنجناب لکھتے ہیں :
” البتہ شیعہ اثنا عشری حضرت علیؓ سے حضرت امام مہدیؒ تک بارہ اماموں کے معتقد ہیں‘ ان کا عقیدہ بلکہ ایمان ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے رسالت کا سلسلہ جاری فرمایا اسی طرح رسول اکرمؐ کی وفات کی بعد بندوں کی ہدایت ورہنمائی اور سربراہی کے لئے امامت کا سلسلہ قائم فرمایا‘ اور عین بارہویں امام (مہدی) کے آنے پر دنیا کا خاتمہ اور قیامت ہے‘ یہ بارہ امام انبیاء کرامؑ کی طرح اللہ کی حجت اور معصوم
۱۸۵
ہیں، ان کی اطاعت بھی فرض ہے، اور مرتبہ و درجہ میں رسول اکرمؐ اور دوسرے تمام انبیاءؑ سے افضل ہیں، وہ بارہ امام مندرجہ ذیل ہیں :
- ۱۔ امام حضرت علیؑ ولادت ۱۰ سال قبل بعثت، متوفی ۴۰ھ ۔
- ۲۔ امام حضرت حسنؑ ولادت ۴ھ، متوفی ۴۹ھ ۔
- ۳۔ امام حضرت حسینؑ ولادت ۹ھ، متوفی ۶۱ھ ۔
- ۴۔ امام حضرت زین العابدینؑ ولادت ۳۸ھ، متوفی ۹۵ھ ۔
- ۵۔ امام حضرت محمد باقرؑ ولادت ۵۶ھ، متوفی ۱۱۴ھ ۔
- ۶۔ امام حضرت جعفر صادقؑ ولادت ۸۲ھ، متوفی ۱۴۸ھ ۔
- ۷۔ امام حضرت موسیٰ کاظمؑ ولادت ۱۲۸ھ، متوفی ۱۸۳ھ ۔
- ۸۔ امام حضرت علی رضاؑ ولادت ۱۴۸ھ، متوفی ۲۰۳ھ ۔
- ۹۔ امام حضرت محمد تقیؑ ولادت ۱۹۵ھ، متوفی ۲۲۰ھ ۔
- ۱۰۔ امام حضرت ابو الحسن علی نقیؑ ولادت ۲۱۲ھ، متوفی
۲۵۴ھ ۔
- ۱۱۔ امام حضرت حسن عسکریؑ ولادت ۲۳۲ھ، متوفی ۲۶۰ھ ۔
- ۱۲۔ امام حضرت محمد بن حسنؑ ولادت ۲۵۵ھ، متوفی (قرب
قیامت)ھ ۔
یہی بارہویں امام حضرت محمد بن حسنؑ ہیں جس کو شیعہ اثنا عشری امام مہدی کہتے ہیں۔ امام مہدی کے علاوہ ان کو امام عصر اور امام غائب بھی کہا جاتا ہے، ان کے عقیدہ کے مطابق یہی امام ۲۵۵ھ (اب سے ۱۱۶۱ سال پہلے) میں پیدا ہوکر چار یا پانچ سال کی عمر میں معجزانہ طور پر غائب ہوگئے اور اب تک ” سر من رائے“ کے غار میں روپوش ہیں۔ شیعہ کی معتبر کتابوں
۱۸۶
کے مطابق دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کئے ہوئے امام کا رہنا ضروری ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری ہے، مزید لکھتے ہیں کہ بارہویں امام مہدی قیامت تک زندہ رہیں گے، اور قیامت سے پہلے کسی وقت غار سے برآمد اور ظاہر ہوں گے، اور اپنے ساتھ وہ اصلی قرآن جو حضرت علیؓ نے مرتب کیا تھا اور مصحف فاطمہؓ و نیز بندوں کی ہدایت کا وہ سب ذخیرہ جو ان سے پہلے تمام اماموں سے وراثتاً ان کو ملا تھا جیسے الجفر اور الجامعہ وغیرہ، تو وہ سب کچھ غار سے لے کر برآمد ہوں گے۔ اس کے علاوہ مشہور شیعہ عالم ملا باقر مجلسی اپنی کتاب ” حق الیقین“ صفحہ نمبر ۱۳۹ پر رقم طراز ہیں ”جب ہمارے امام قائم (امام مہدی) ظاہر ہوں گے تو عائشہ صدیقہؓ کو زندہ کریں گے اور ان پر حد (حد زنا) جاری کریں گے اور فاطمہؓ کا ان سے انتقام لیں گے“۔ یہی مجلسی صاحب ”حق الیقین“ میں مزید لکھتے ہیں ”جب امام مہدی ظاہر ہوں گے تو وہ کافروں سے پہلے سنیوں اور خاص کر ان کے علماء سے کاروائی شروع کریں گے اور ان سب کو قتل کر کے نیست و نابود کریں گے“۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ آپ کو کون سا مہدی چاہئے یعنی اہل سنت والجماعت والا جو تمام صحابہ کرامؓ اور خلفاء راشدینؓ تھے یا شیعوں کے بارہویں امام محمد بن حسن عسکری؟“۔
تنقیح : اس ناکارہ نے کچھ عرصہ پہلے ”شیعہ سنی اختلافات اور صراط مستقیم“ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جو اپریل ۱۹۹۳ء میں شائع ہوئی، (اب تک اس کے چار ایڈیشن نکل چکے ہیں) اس کتاب کا پہلا باب شیعہ کے عقیدہ امامت پر ہے، جو گیارہ مباحث پر مشتمل ہے، اس کی دسویں بحث، جو خاصی ۱۸۷
طویل ہے، ”امام غائب“ کے بارے میں ہے، اسے ملاحظہ فرما لیجئے، آنجناب کو معلوم ہو جائے گا کہ امام غائب کے بارے میں شیعوں کا نقطہ نظر کیا ہے، اور اہل سنت کی رائے کیا ہے؟ اس کے بعد آپ کے اس طویل اقتباس کے جواب میں کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔
۱۲ کا نکتہ:
آنجناب تحریر فرماتے ہیں :
” ہمارے کئی مفسرین حضرات نے شیعوں کا امام مہدی برحق تسلیم کیا ہے، جس کے ثبوت کے لئے وہ قرآن کے ہر صفحے پر تفسیر کے اختتام پر ”۱۲ منہ“ کی اصطلاح لکھ دیتے ہیں، ملاحظہ ہو شاہ رفیع الدین محدث دہلوی اور فتح محمد خان جالندھری کے مترجم قرآن کریم جس کے ہر صفحے کے حاشیئے پر ہر تشریح (تفسیر) کے اختتام پر ”۱۲ منہ“ لکھا ہوا ملے گا، یہ شیعوں کی خود ساختہ اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے کہ ”ان بارہ اماموں پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں نازل کرے جن میں سے بارہویں امام مہدی ہوں گے“۔ اور عین ممکن ہے کہ ہمارے ان بے چارے روایت پرستوں کو خود ”۱۲ منہ“ کے مفہوم کا پتہ نہ ہو۔ لیکن مجھے تو شکوہ آپ سے ہے کہ اہل سنت والجماعت کے ممتاز عالم دین ہوتے ہوئے آپ بھی شیعوں کے عقائد بے چارے سنیوں (جو واقعی سن ہی ہیں) پر مسلط کر رہے ہیں۔ حالانکہ آپ کو شیعوں کے مسائل اور عقائد سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے ان کا اپنا دین اور آپ کا اپنا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ سے ہرگز ان کے اعمال کا نہیں پوچھے گا، ”ولا تسئلون عما کانوا ۱۸۸
يعملون"۔ (البقرۃ آیت ۱۴۱)
اللہ تعالیٰ سے دعائیں ہیں کہ تمام مسلمین اور مسلمات کو موجودہ قرآن کریم پر متفق کرے اور تمام خرافات وبدعات کو ہم سے دور کرے۔ آمین"۔
تنقیح : ان بے چاروں کو ”۱۲منہ“ کے مفہوم کی خبر ہے‘ اور نہ شیعوں کے بارہ اماموں کی‘ لیکن آپ کی تحریر سے اندازہ ہوا کہ آنجناب کو ”۱۲منہ“ کا مفہوم بھی معلوم نہیں‘ شیعوں کا اپنے بارہ اماموں کے بارہ میں عقیدہ بھی معلوم نہیں۔
”۱۲ منہ“ کی حقیقت تو اتنی ہے کہ جب کسی کا اقتباس نقل کیا جاتا ہے تو اس کے خاتمہ پر ”انتہی“ یا ”آہ“ لکھ دیا جاتا ہے اور کبھی ختم عبارت پر ۱۲ کا ہندسہ لکھ دیا جاتا ہے جو عبارت کی انتہا کو بتاتا ہے۔ یہ حد کو ہندسوں میں لکھنے کی ایک شکل ہے‘ ابجد کے حساب سے ح کے عدد آٹھ بنتے ہیں اور دال کے چار۔ اور آٹھ اور چار کا مجموعہ ۱۲ ہوتا ہے‘ پھر اگر یہ عبارت مصنف کی ہوتی ہے تو اس کو ”منہیہ“ کہا جاتا ہے‘ پس ”منہ“ کا مفہوم ہے ”من المصنف“ ”۔ اس لئے عبارت کے ختم پر ”۱۲منہ“ لکھ دیا جاتا ہے۔ اس اصطلاح میں دور ونزدیک بھی بارہ اماموں کا تصور نہیں‘ یہ تو اس اصطلاح کا مفہوم تھا۔
اور میں نے جو عرض کیا کہ آپ کو اپنے بارہ اماموں کے بارہ میں شیعوں کا عقیدہ بھی معلوم نہیں‘ اس کی شرح یہ ہے کہ شیعہ حضرات اپنے بارہ اماموں کے ساتھ رحمہ اللہ نہیں لکھتے بلکہ ”علیہ السلام“ لکھتے ہیں‘ پس ”۱۲منہ“ میں ” رحمہ اللہ“ کا لفظ تو ان کے عقیدہ کی نفی کرتا ہے‘ نہ کہ ان کے عقیدہ کا اثبات .... ہاں! اگر کسی کے ذہن پر شیعوں کے بارہ اماموں کا اس قدر تسلط ہو کہ جہاں ۱۲ کا عدد نظر پڑا اس نے سمجھا کہ یہ بارہ اماموں کا ذکر ہے‘ وہ البتہ بارہ کے عدد کو اپنی لغت سے ضرور خارج کردے گا‘ لیکن الحمد للہ! ہمارے اکابر کے ذہن پر
۱۸۹
”بارہ امامی“ عقیدہ کا ایسا تسلط نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سالہا سال تک ”۱۲ منہ“ کی اصطلاح پڑھتے رہے لیکن کسی کا ذہن آپ کے ارشاد فرمودہ نکتہ کی طرف منتقل نہیں ہوا۔
آخر میں جو آنجناب نے دعا کی ہے اس پر صمیم قلب سے آمین کہتا ہوں، اللہ تمام مسلمانوں کو سلف صالحین اہل سنت کے عقائد اپنانے کی توفیق دے، اور نئے اور پرانے منافقین کے وسوسوں سے ان کو محفوظ رکھے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مدفن:
آنجناب تحریر فرماتے ہیں :
” صفحہ نمبر ۲۶۴ پر آپ نے سائل کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مدفن کا جواب کچھ یوں دیا ہے ”حجرہ شریفہ میں چوتھی قبر حضرت مہدیؑ کی نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ کی ہوگی“۔
محترمی! میں بذات خود جب سعودی عرب کے سفر پر تھا تو اس بات کا اطمینان کرلیا تھا کہ رسولؐ اللہ کے روضہ مبارک میں چوتھی قبر کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی فریضہ حج کا سفر نصیب کریں تو انشاء اللہ مسجد نبویؐ میں آپ کی تسلی ہو جائے گی کہ واقعی چوتھی قبر کے لئے روضہ رسول میں کوئی جگہ نہیں ہے، اس کے علاوہ آپ بھی میری اس رائے سے اتفاق کریں گے کہ عقائد تو سارے کے سارے قرآن کریم کی محکم آیات میں مذکور ہیں اور قرآن سے باہر کسی خیال کو تو کیا حتیٰ کہ حقیقت کو بھی عقیدے میں داخل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اگر واقعی عیسیٰؑ دوبارہ دنیا میں تشریف لاتے، امام مہدی بھی تشریف لاتے اور دجال کو قتل کرتے تو پھر اتنی اہم اور عقائد پر مبنی باتیں قرآن میں ذکر کیوں نہیں کی
۱۹۰
گئی ہیں۔ یہ ساری باتیں من گھڑت ہیں جو صحابہ کرام کے مبارک دور کے بعد ان کی طرف جھوٹی منسوب کر کے گھڑی گئی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے خرافات سے بچائے۔ آمین“۔
تنقیح: بڑی خوشی کی بات ہے کہ آنجناب کو سعودی عرب جانے کا موقع ملا، لیکن آپ نے یہ نہیں لکھا کہ آپ نے کس طرح اطمینان کرلیا تھا کہ حجرہ شریفہ میں چوتھی قبر کے لئے کوئی جگہ نہیں، یہ ناکارہ بیس پچیس مرتبہ سے زیادہ بارگاہ نبوی (علیٰ صاحبہا الف الف تحیۃ وسلام) میں حاضری دے چکا ہے، اور حق تعالیٰ محض اپنے لطف سے ہر سال دو تین مرتبہ حاضری سے نوازتے رہتے ہیں۔ (فلہ الحمد والشکر) لیکن اس ناکارہ کو تو ایسا اطمینان کسی نے نہیں دلایا، بلکہ کچھ عرصہ پہلے تک تو وہاں تختی آویزاں تھی، جس پر تحریر تھا :
”ہذا موضع قبر عیسیٰ علیہ السلام“۔
اگر آنجناب ان کتابوں کا مطالعہ فرمالیتے جو آثار مدینہ پر لکھی گئی ہیں کم سے کم علامہ سمہودی کی کتاب ”وفاء الوفاء باخبار دار المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم“ ہی دیکھ لیتے تو آنجناب کو ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مدفن کا سراغ مل جاتا۔
رہا یہ کہ ان چیزوں کا ذکر قرآن مجید میں کیوں نہیں ہے؟ میں آنجناب کے اصول موضوعہ کی تنقیحات میں اس کا جواب عرض کرچکا ہوں، از راہ کرم ملاحظہ فرمالیجئے۔
اور آنجناب کا یہ ارشاد کہ ”یہ ساری باتیں صحابہ کرام کے بعد گھڑ کر ان کی طرف منسوب کردی گئی ہیں“ اس کا آسان حل یہ ہے کہ آپ صحابہ کرام سے اس کے خلاف صحیح نقل پیش کردیں۔ لیکن میں آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کہ آپ کسی ایک صحابی کا قول بھی پیش نہیں کرسکتے۔
١٩١
نفیس سوال اور لطیف جواب:
آخر میں آنجناب تحریر فرماتے ہیں :
”مولانا صاحب! اب میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں طالب علم کی تشنگی دور کرنے اور سوال کا جواب دینے کا علمی انداز ناپید ہوتا جارہا ہے اور اس کی جگہ ہر اہل علم کے ہاں کم وبیش پانچ مہروں کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔ کسی طالب علم نے سوال کیا نہیں کہ فوراً کوئی نہ کوئی مہر لگائی گئی۔ مثلاً منکر حدیث‘ وہابی‘ گستاخ رسول‘ قادیانی اور مرتد وغیرہ۔ لیکن اس کے باوجود میں آپ سے اپنے سوال کا قرآن و احادیث صحیحہ کی روشنی میں مدلل جواب کی امید رکھتا ہوں، روایت ہے کہ شب معراج میں رسول کریمؐ نے بیت المقدس میں تمام انبیا کرامؑ کو نماز باجماعت پڑھائی تھی۔ میرا سوال یہ ہے کہ آیا حضرت عیسیٰ ؑ بھی اس نماز میں موجود تھے؟ اگر موجود تھے تو کس حالت میں؟ یعنی بقیہ انبیا کرامؑ کی طرح اس کی بھی صرف روح آئی تھی؟ اگر روح آئی تھی تو پھر تو اس کا جسم مبارک آسمان پر مردہ رہ گیا ہوگا۔ یعنی بغیر روح کے کیسے زندہ رہ گئے؟ یا کہ وہ اصلی حالت میں جسم اور روح سمیت آئے تھے؟۔ لہٰذا اگر وہ مجسم ہو کر آئے تھے تو جب اس نے اللہ تعالیٰ سے امت محمدیہؐ میں شامل ہونے کی دعا مانگی تھی اور امت محمدیہؐ کے ہوتے ہوئے جب وہ مجسم تشریف لائے تھے پیغمبرؐ کے ساتھ نماز بھی بیت المقدس میں ادا کی تو اس وقت جب کہ پیغمبرؐ کو مسلمانوں کی مدد کی اشد ضرورت تھی اور گنتی کے چند نفوس اسلام
۱۹۲
قبول کر چکے تھے وہ بھی مشرکین مکہ کی ایذا رسانیوں سے انتہائی تنگ آچکے تھے حتی کہ پیغمبر اسلام سمیت مدینہ منورہ کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہجرت کی تو پھر اس سخت وقت میں حضرت عیسیٰ نے امت محمدیہ میں شرکت کیوں نہ کی؟ اور واپس آسمان پر کیوں تشریف لے گئے؟ پھر جب واپس گئے تو کس سواری اور کون سے فرشتے کی معیت میں گئے؟ جب کہ پیغمبر اسلام تو حضرت جبرئیلؑ کی معیت میں براق (بازاری تصاویر میں جس کا سر اور چہرہ عورت کا ہے اور بقیہ بدن گھوڑے کا) پر سوار ہو کر تشریف لے گئے تھے پھر عیسیٰ پیغمبر اسلام سے پہلے کیسے بیت المقدس سے رخصت ہوگئے؟ جب کہ عام قاعدہ ہے کہ جب تک کسی تقریب کے مہمان خصوصی رخصت نہ ہوں سامعین حرکت تک نہیں کرتے اور اس تقریب میں تو مہمان خصوصی رسول اللہ ہی تھے، کیونکہ جب رسول اللہ آسمانوں پر پہنچتے ہیں تو وہاں حضرت عیسیٰ کو پہلے سے موجود پاتے ہیں، تو کیا یہ رسول اللہ کی شان مبارک میں گستاخی نہیں ہوئی؟ آپ کے جواب کا مندرجہ ذیل پتہ پر منتظر رہوں گا۔ وما علینا الا البلاغ۔ (اخوک فی الاسلام خان شہزادہ (ایم اے اسلامیات) سلطنت عمان
تنقیح : آپ کا یہ سوال نفیس ہے، اس سے بڑا جی خوش ہوا، اگر واقعی سمجھنا چاہتے ہیں تو اس کا لطیف جواب عرض کرتا ہوں :
- ۱۔ احادیث شریفہ میں اس کی تصریح موجود ہے کہ شب معراج میں بیت
المقدس میں تمام انبیا کرام علیہم السلام نے شرکت فرمائی، اور آنحضرت صلی ۱۹۳
اللہ علیہ وسلم نے ان کی امامت کی‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی شریک محفل تھے‘ اور اس موقع پر دیگر انبیا کرام علیہم السلام کے بشمول آپ نے خطبہ بھی ارشاد فرمایا‘ ان کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ صدارت ارشاد فرمایا‘ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ”نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب صلی اللہ علیہ وسلم“ کی بارہویں فصل واقعہ ہشتم کے ذیل میں ان کو نقل کیا ہے‘ اس کا مطالعہ فرمالیا جائے اور اس ناکارہ کی کتاب ”عہد نبوت کے ماہ وسال“ میں بھی تمام انبیا کرام علیہم السلام کی شرکت کا ذکر ہے۔
- ۲...... جو انبیا کرامؑ دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں ظاہر ہے کہ ان کی ارواح طیبہ
کسی نہ کسی شکل میں متشکل ہوئی ہوں گی‘ خواہ ان کو اجسام مثالیہ دیئے گئے ہوں‘ یا ان کی ارواح طیبہ خود متجسد ہوئی ہوں‘ چنانچہ میری کتاب ”عہد نبوت کے ماہ وسال“ میں یہ سوال نقل کیا ہے کہ انبیا کرام علیہم السلام کی یہ حاضری مع الجسد ہوئی یا بغیر جسد؟
لیکن یہ بحث دیگر انبیا کرام علیہم السلام کے بارے میں ہو سکتی ہے‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نہیں‘ کیونکہ وہ بالاتفاق آسمان پر بجسدہ الشریف زندہ موجود ہیں‘ اس لئے ان کی روح مبارک کو اپنا جسم اصلی چھوڑ کر بدن مثالی اپنانے کی ضرورت نہ تھی‘ بلکہ وہ سراپا روح اللہ ہیں‘ اور وہاں ان پر ملائکہ وارواح کے احکام جاری ہیں۔ الغرض اس اجتماع میں ان کی شرکت بجسدہ الشریف ہوئی تھی‘ جیسا کہ حافظ ذہبیؒ نے ”تجرید اسماء الصحابہ“ میں اس کی تصریح کی ہے‘ اور حافظ تاج الدین السبکیؒ نے ”طبقات الشافعیۃ الکبریٰ“ میں بھی اس کو نقل کیا ہے۔
- ۳...... رہا یہ کہ حضرات انبیا کرام بشمول حضرت عیسیٰ علیہ وعلیہم السلام کس
ذریعہ سے آئے تھے؟ اور کس ذریعہ سے گئے تھے؟ کسی روایت میں اس کی
۱۹۴
تصریح نظر سے نہیں گزری’ یوں بھی عقلمند پھل کھایا کرتے ہیں، پیڑ نہیں گنا کرتے، جب ان کا آنا اور جانا ثابت و محقق ہے تو اس سے کیا مطلب کہ وہ کس ذریعہ سے آئے اور کس طرح واپس گئے؟۔
غواص کو مطلب ہے گہر سے کہ صدف سے؟
- ۴۔ بیت المقدس کا جلسہ برخاست ہوا تو دیگر انبیا کرام علیہم السلام کے ساتھ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی رخصت ہو کر اپنے مستقر پر پہنچ گئے، اور دوسرے آسمان پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا، جیسا کہ احادیث صحیحہ میں مصرح ہے، مہمان خصوصی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے کسی کے رخصت ہونے کا سوال ہی کب پیدا ہوتا تھا؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد کسی کے وہاں ٹھہرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔
- ۵..... رہا یہ سوال کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
کے زیارت و لقا سے مشرف بھی ہو چکے تھے، اور قبولیت دعا کے نتیجہ میں ان کو شرف خادمیت سے بھی مشرف کیا جا چکا تھا تو اس وقت انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی نصرت کیوں نہ کی؟ جب کہ اسلام کو اس وقت نصرت و حمایت کی ازحد ضرورت تھی، اور مسلمان کفار مکہ کی ایذاؤں کا تختہ مشق بنے ہوئے تھے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ وہ تو خادم اور سپاہی کی حیثیت سے ہر وقت آمادہ خدمت تھے، اب یہ مخدوم اور جرنیل کی صوابدید پر منحصر ہے کہ خادم کو کس وقت کس خدمت پر مامور کیا جائے، اور سپاہی کو کس وقت محاذ پر بھیجا جائے، اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کو اس وقت نصرت و حمایت کا حکم ہوتا تو ان کو تعمیل حکم سے کیا عذر ہو سکتا تھا؟ لیکن افسر اعلیٰ کے
۱۹۵
حکم کے بغیر اپنے طور پر کسی اقدام کا ان کے لئے کیا جواز تھا؟
- ۶...... یوں نظر آتا ہے کہ ہر چند کہ وہ وقت مسلمانوں کے لئے بڑا مشکل وقت
تھا‘ اور سطحی نظر سے دیکھئے تو اس وقت اسلام کی نصرت وحمایت کی بڑی ضرورت محسوس ہوتی تھی‘ لیکن حقیقت واقعیہ یہ ہے کہ یہ ساری مشکلات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اصلاح و تربیت اور ریاضت و مجاہدہ کے لئے تھیں‘ ان حضرات کو پوری امت کا معلم و مرشد بنانا تھا‘ اس لئے مجاہدات کی بھٹی میں ڈال کر ان کو کندن بنایا جارہا تھا‘ اور پوری دنیا کی اصلاح و تربیت کی مسند ان مجاہدات کے ذریعہ ان کے لئے بچھائی جارہی تھی۔ اور ایک عالم کی حکمرانی کے لئے ان کو تیار کیا جارہا تھا۔ حضرات صوفیائے کرامؒ کا ارشاد ہے: ”المشاهدة بقدر المجاهدة“ یعنی مجاہدہ جس قدر شدید ہو اسی قدر مشاہدہ لطیف ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب سیدنا یوسف صدیق علی نبینا وعلیہ الصلوات والتسلیمات کو بے کسی و بے بسی کی حالت میں برادران یوسف کنوئیں میں ڈال رہے تھے تو آسمان کے مقرب فرشتے چلا اٹھے کہ الٰہی! تیرے یوسف صدیق کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ فرمایا‘ فکر نہ کرو‘ بھائی‘ ان کو کنوئیں میں نہیں ڈال رہے‘ بلکہ تخت مصر پر بٹھا رہے ہیں۔
الغرض سطحی نظر سے دیکھا جائے تو عقل چلا اٹھتی ہے کہ مکہ‘ جو ہر ایک کے لئے دار الامن ہے‘ اسی مکہ میں محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکباز صحابہؓ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ حکمت الٰہی کہتی ہے کہ کچھ نہیں‘ بس ان کے لئے ”کنتم خیر امة اخرجت للناس“ کا تاج کرامت تیار کیا جارہا ہے۔ پس مکی زندگی میں حضرات صحابہ کرامؓ کو جو اہل مکہ کے جور وستم کا تختہ مشق بنایا جارہا تھا اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان بے چاروں کا کوئی سہارا نہیں تھا‘ کوئی ان کا پرسان حال نہیں تھا‘ کوئی ان کا حامی و ناصر نہیں تھا‘ تاکہ یہ سوال کیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس وقت ان کی مدد کیوں نہ کی؟ نہیں!
۱۹۶
بلکہ جو سب کا سہارا اور سب کا حامی و ناصر ہے اسی نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت ان کو امتحان و آزمائش کی بھٹی میں ڈال رکھا تھا۔ ورنہ ان میں مجسم رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس موجود تھے‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت کا آفتاب عالمتاب نصف النہار پر تھا‘ اس کے سامنے کفر کی تاریکیاں ہباء منثورا تھیں۔
اور پھر اسی جماعت میں حضرات ابو بکر و عمر‘ عثمان و علی (رضوان اللہ علیہم) جیسی ارباب قوت قدسیہ ہستیاں موجود تھیں‘ جن کے کمالات ہمرنگ کمالات انبیا تھے‘ اور سید الملائکہ جبرئیل و میکائیل (علیہما السلام) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کے لئے موجود تھے‘ ملک الجبال (جو فرشتہ پہاڑوں پر مقرر ہے) حاضر خدمت ہو کر عرض پیرا ہوتا تھا کہ اگر حکم ہو تو ان کفار ناہنجار کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس کر رکھ دوں؟
الغرض کونسا سامان ایسا تھا جو مظلوم و مقہور مسلمانوں کی نصرت و حمایت کے لئے مہیا نہیں تھا‘ لیکن یہ ان کی آزمائش و ابتلا کا دور تھا‘ اور کسی کی حمایت کیا معنی؟ خود ان کو حکم تھا کہ ماریں کھاتے جاؤ‘ لیکن ہاتھ نہ اٹھاؤ۔
پھر جب یہ دور ابتلا ختم ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جانثار رفقا سمیت ہجرت الی المدینہ کا حکم ہوا‘ اور ہجرت کے دوسرے سال دفع شر کفار کے لئے جہاد و قتال کا حکم ہوا تب دنیا نے دیکھا کہ صرف آٹھ سال کے قلیل عرصہ میں کفر سرنگوں تھا‘ اور پورے جزیرۃ العرب پر اسلام کا پرچم لہرا رہا تھا‘ اور دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ مشروعیت جہاد کے پہلے سال ”یوم الفرقان“ (جنگ بدر) میں ۳۱۳ نہتوں نے کفر کا بھیجا نکال باہر کیا‘ اور اس امت کے فرعون (ابو جہل) کو واصل جہنم کرنے کے لئے کسی اعجاز موسوی کی ضرورت پیش نہیں آئی‘ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو کمسن جانثاروں نے اس فرعون کے غرور و فرعونیت کو خاک میں ملا دیا‘ اور اسے خاک و خون میں تڑپا دیا‘
۱۹۷
جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رحلت فرما ہوئے تو اسلامی عساکر قیصر و کسریٰ کے دروازے پر دستک دے رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین (رضی اللہ عنہم) جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے جانشین اور خلفائے برحق تھے، کی قوت قدسیہ نے بیس پچیس سال کے قلیل عرصہ میں قیصر و کسریٰ کے تخت الٹ دئیے، اور ”نیل کے ساحل سے لے کر تابحد کاشغر“ اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔ وہ تو کہئے کہ قضا و قدر غالب آئی، اور مفسدین و منافقین کی سازش نے خلیفہ مظلوم حضرت امیر المومنین عثمان (رضی اللہ عنہ وجزاہ اللہ تعالیٰ عن الاسلام والمسلمین) کو جام شہادت پلا کر مسلمانوں کو خانہ جنگی کے الاؤ میں دھکیل دیا۔ وكان امر الله قدرا مقدورا۔ ورنہ اگر ان حضرات کو دس بیس سال اور مل جاتے تو خدا جانے دنیا کا نقشہ کیا ہوتا۔
- ۷ ..... الغرض یہ خیال کہ اس وقت اسلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نصرت
وحمایت کی ضرورت تھی، ایک سطحی خیال ہے۔ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم موجود تھے، ان کی موجودگی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مسیحائی کی قطعاً ضرورت نہیں تھی۔
بعد کی صدیوں میں بھی اسلام اور مسلمانوں پر بڑے بڑے مشکل وقت آئے، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت سے فیض یافتہ ائمہ دین، مجد دین اور علمائے ربانی اس امت میں پیدا ہوتے رہے، جو ان فتنوں کا تدارک کرتے رہے، اور ہر فتنہ کے زہر کا تریاق مہیا کرتے رہے، ہر صدی میں چھوٹے موٹے دجال بھی رونما ہوتے رہے، مگر وعدہ الٰہی :
”يا ايها الذين آمنوا من يرتد منكم عن دينه فسوف ياتى الله بقوم يحبهم ويحبونه اذلة على المومنين اعزة على الكافرين يجاهد ون فى سبيل الله ولا يخافون لومة لائم ذلك فضل ۱۹۸
الله يوتيه من يشاء و الله واسع عليمO
(المائدہ، ۵۳)
ترجمہ :” اے ایمان والو! جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو پیدا کردے گا جن سے اللہ تعالیٰ کو محبت ہوگی‘ اور ان کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہوگی‘ مہربان ہوں گے وہ مسلمانوں پر‘ اور تیز ہوں گے کافروں پر‘ جہاد کرتے ہوں گے اللہ کی راہ میں‘ اور وہ لوگ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے‘ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہیں عطا فرمائیں‘ اور اللہ تعالیٰ بڑے وسعت والے ہیں بڑے علم والے ہیں“۔
(ترجمہ حکیم الامت تھانویؒ)
منصہ شہود پر جلوہ گر ہوتا رہا‘ اور الحمد للہ ان اکابر کی قیادت میں قافلہ امت رواں دواں رہا۔
- ۸..... لیکن جوں جوں زمانے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سعادت
سے بعد ہو رہا ہے‘ اسی نسبت سے تاریکی بڑھ رہی ہے‘ اور روحانیت کمزور اور مضمحل ہوتی جارہی ہے‘ ادھر مسلسل فتنوں کی یورش تاریکیوں میں اضافہ کر رہی ہے‘ اور :
”ظلمات بعضها فوق بعض اذا اخرج يده لم يكد يرها“۔
(النور، ۴۰)
ترجمہ :” اوپر تلے بہت سے اندھیرے ہی اندھیرے ہیں کہ اگر کوئی ایسی حالت میں اپنا ہاتھ نکالے اور دیکھنا چاہے تو دیکھنے کا احتمال بھی نہیں“۔
(ترجمہ حکیم الامت حضرت تھانویؒ)
۱۹۹
کا منظر سامنے آرہا ہے، ادھر نور ہدایت مدھم ہوا جاتا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ کفر و ضلالت کی رات بڑی تیزی سے چھارہی ہے، اور وہ جو حدیث میں آیا ہے :
"وعن ابی ھریرة قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم باد روا بالاعمال فتنا کقطع اللیل المظلم یصبح الرجل مومنا ویمسی کافرا ویمسی مومنا ویصبح کافرا یبیع دینه بعرض من الدنیا ۔ رواہ مسلم"۔
(مشکوة ص ۴۶۲)
ترجمہ :" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے فتنوں کے آنے سے پہلے اعمال میں سبقت کرو جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے، آدمی صبح کو مومن ہو گا اور شام کو کافر، اور شام کو مومن ہو گا اور صبح کو کافر، دنیا کے چند ٹکوں کے بدلے اپنا ایمان بیچ ڈالے گا"۔
کا منظر سامنے آرہا ہے اس ناکارہ نے اپنے بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے تک جس طرح تاریکیوں کے سائے پھیلتے ہوئے دیکھے، اور زمانے کا رنگ دگرگوں ہوتے دیکھا ہے اگر یہی حالت رہی تو
ہمارے شیخ ڈاکٹر عبدالحی عارفی قدس سرہ بڑی بے چینی سے فرماتے تھے :
”میں تو سوچتا ہوں اس نادان نئی نسل کا کیا بنے گا"۔
۲۰۰
الغرض حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اور صبح و شام زمانے کا رنگ بدلتے ہوئے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب ”فتنہ دجال“ کے لئے تیاری ہورہی ہے۔
٩..... اب ایک طرف دنیا سے آثار ہدایت مٹ جانے اور قلوب سے ایمان کے رخصت ہو جانے اور استعداد ایمان کے ضائع ہو جانے کا یہ عالم ہوگا‘ اور دوسری طرف دجال لعین کا فتنہ اس قدر شدید ہوگا کہ ہر نبی نے اس فتنہ سے ڈرایا‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز میں اس سے پناہ مانگتے تھے۔ اس کے فتنہ کی جزئیات احادیث شریفہ میں بہ کثرت ذکر کی گئی ہیں‘ جن کا خلاصہ حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ کے ”قیامت نامہ“ میں درج ہے‘ یہاں اس کے اردو ترجمہ کا ایک اقتباس ذکر کرتا ہوں :
ترجمہ : ”دجال قوم یہود میں سے ہوگا عوام میں اس کا لقب مسیح ہوگا‘ دائیں آنکھ میں پھلی ہوگی‘ گھونگروار بال ہوں گے‘ سواری میں ایک بہت بڑا گدھا ہوگا‘ اولاً اس کا ظہور ملک عراق وشام کے درمیان ہوگا جہاں نبوت ورسالت کا دعویٰ کرتا ہوگا‘ پھر وہاں سے اصفہان چلا جائے گا یہاں اس کے ہمراہ ستر ہزار یہودی ہوں گے‘ یہیں سے خدائی کا دعویٰ کرکے چاروں طرف فساد برپا کرے گا اور زمین کے اکثر مقامات پر گشت کرکے لوگوں سے اپنے تئیں خدا کہلوائے گا‘ لوگوں کی آزمائش کے لئے خداوند کریم اس سے بڑے خرق عادات ظاہر کرائے گا‘ اس کی پیشانی پر لفظ (ک ف ر) لکھا ہوگا جس کی شناخت صرف اہل ایمان کرسکیں گے۔ اس کے ساتھ ایک آگ ہوگی جس کو دوزخ سے تعبیر کرے گا‘ اور ایک باغ جو جنت کے نام سے موسوم ہوگا۔ مخالفین کو آگ میں موافقین کو
۲۰۱
جنت میں ڈالے گا، مگر وہ آگ درحقیقت باغ کے مانند ہو گی اور باغ آگ کی خاصیت رکھتا ہو گا۔ نیز اس کے پاس اشیائے خوردنی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہو گا جس کو چاہے گا دے گا، جب کوئی فرقہ اس کی الوہیت کو تسلیم کرے گا تو اس کے لئے اس کے حکم سے بارش ہو گی، اناج پیدا ہو گا، درخت پھلدار مویشی موٹے تازے اور شیر دار ہو جائیں گے، جو فرقہ اس کی مخالفت کرے گا تو اس سے اشیائے مذکورہ بند کر دے گا، اور اسی قسم کی بہت سی ایذائیں مسلمانوں کو پہنچائے گا، مگر خدا کے فضل سے مسلمانوں کو تسبیح و تہلیل کھانے پینے کا کام دے گی۔ اس کے خروج کے پیشتر دو سال تک قحط رہ چکا ہو گا۔ تیسرے سال دوران قحط ہی میں اس کا ظہور ہو گا۔ زمین کے مدفون خزانے اس کے حکم سے اس کے ہمراہ ہو جائیں گے، بعض آدمیوں سے کہے گا کہ میں تمہارے مردہ ماں باپ کو زندہ کرتا ہوں تا کہ تم اس قدرت کو دیکھ کر میری خدائی کا یقین کرلو، پس شیاطین کو حکم دے گا کہ زمین میں سے ان کے ماں باپ کی ہم شکل ہو کر نکلو چنانچہ وہ ایسا ہی کریں گے۔ اس کیفیت سے بہت سے ممالک پر گزر ہو گا یہاں تک کہ وہ جب سرحد یمن میں پہنچے گا اور بد دین لوگ بکثرت اس کے ساتھ ہو جائیں گے"۔
آپ چاہیں تو ان پیش آمدہ واقعات کو "روایت پرستی" کہہ کر رد کردیجئے، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اگر دجال لعین کا بایں سحر و شعبدہ بازی آنا برحق ہو کہ اس وقت تمام صلحا و اتقیا کی مجموعی روحانی قوت بھی اس کا مقابلہ نہ کرسکے تو فرمائیے اس آڑے اور مشکل وقت میں فتنہ دجال کے استیصال کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا زیادہ موزوں ہو گا یا اس وقت
۲۰۲
موزون تھا جب رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمتہ للعالمینی صحابہ کرام کے سر پر سایہ فگن تھی، اور جب دنیا میں آفتاب رسالت نصف النہار پر تھا ۔ ؟
۹..... آپ کے سوال کا بوضاحت جواب دینے کے بعد اپنی ایک تحریر درج کرتا ہوں جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے نکات کی طرف مختصرا اشارہ کیا گیا ہے :
- ◯ " حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی، (جیسا کہ انجیل
برنباس میں ہے)‘ کہ اللہ تعالیٰ ان کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم بنادے‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی‘ اور اس مشکل وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کی حیثیت سے ان کو نازل فرمایا‘ قتل دجال کی مہم ان کے سپرد فرمائی‘ اور وہ بوجوہ چند اس خدمت کے لئے موزون تر تھے :
- ◯ دجال الوہیت کا دعویٰ کرے گا‘ جب کہ ایک قوم نے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی یہی تہمت دھری تھی‘ اس کی مکافات کے لئے اس مدعی الوہیت کا استیصال ان کے ہاتھ سے موزون تر تھا‘ تاکہ ان کی عبدیت کاملہ کا ظہور ہوجائے جن کا اظہار انہوں نے مہد میں "انی عبداللہ" کہہ کر عہد کیا تھا۔
- ◯ وہ خاتم انبیائے بنی اسرائیل تھے‘ اور انہوں نے آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی بشارت دی تھی‘ اس لئے ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قرب و تعلق سب سے قوی تر تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے "وانا اولی الناس بعیسی ابن مریم‘ فانہ لم یکن بینی وبینہ نبی" میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے‘
- ◯ " المسیح " ان کا خاص لقب ہے، جو ان کی پیدائش سے پہلے
ان کے لئے تجویز کر دیا گیا تھا، دجال لعین ان کے خاص لقب کا مدعی ہوگا، اور خرق عادت شعبدوں کے ذریعہ اپنی ”مسیحیت“ کو ثابت کرنے کی کوشش کرے گا، اس دجل کا پردہ چاک کرنے کے لئے اصل ”المسیح“ کو نازل کیا جائے گا، اور جس طرح اعجاز موسوی کے سامنے ساحران فرعون کا سحر باطل ہو کر رہ گیا، اسی طرح ”المسیح عیسیٰ ابن مریم صلی اللہ علیہ وسلم“ کے سامنے اس جھوٹے مسیح کی ساری اعجوبہ نمائیاں باطل ہو کر رہ جائیں گی، اور وہ آپ کو دیکھتے ہی اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح پانی میں نمک تحلیل ہو جاتا ہے۔
- ○ دجال اعور یہودیوں کا بادشاہ ہوگا، اور یہود حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کی قوم ہے، اس لئے وہ نازل ہو کر اپنی قوم کی کجی کی اصلاح فرمائیں گے، ان میں جو ایمان نہیں لائیں گے ان کو تہ تیغ کریں گے، یہی وجہ ہے کہ وہ جزیہ قبول نہیں کریں گے۔
خلاصہ یہ کہ حضرت روح اللہ صلی اللہ علی نبینا وعلیہ وسلم کا نازل ہونا امت محمدیہ (علی صاحبہا الف الف تحیۃ وسلام) میں شامل ہونے کے لئے بھی ہے، امت کو دجالی فتنہ سے نجات دلانے کے لئے بھی، اپنی قوم کے عقیدہ تثلیث، عقیدہ ابنیت اور عقیدہٴ نجات کی اصلاح کے لئے بھی، اور اپنے معاندین یہود سے انتقام لینے کے لئے بھی، واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم“۔
خاتمہ کلام پر تین باتیں:
اس ناکارہ نے آنجناب کے اٹھائے ہوئے نکات پر اپنے فہم کے مطابق گفتگو کی ہے، اس لئے جناب کا پورا گرامی نامہ بصورت اقتباسات لے لیا
۲۰۴
ہے‘ اس کم فہم نے کوئی ٹھکانے کی بات کہی ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ آنجناب کا کام ہے‘ یا دیگر اہل فہم کا‘ اس لئے فہم و قلم کی یہ امانت آپ کے حوالے کر کے رخصت چاہوں گا‘ البتہ مقطع سخن پر تین باتوں کی اجازت چاہوں گا‘
اول: خلاصہ مباحث : چونکہ گفتگو خاصی طویل ہو گئی ہے‘ اس لئے مناسب ہے کہ خلاصہ مباحث عرض کر دوں :
- ۱۔ اگر گزشتہ صدیوں کی پوری امت کو گمراہ قرار دیا جائے تو ہمارے لئے دین
اسلام کی کسی بات پر بھی اعتماد ممکن نہیں‘ اس لئے روایت پرستی کے بارے میں آنجناب کا نظریہ اصلاح طلب ہے۔
- ۲۔ جن دینی حقائق کو پوری امت مانتی اور نسلاً بعد نسل طبقہ در طبقہ نقل
کرتی چلی آئی ہے وہ ”ضروریات دین“ کہلاتے ہیں‘ یہ چیزیں ہمارے حق میں اسی طرح قطعی ہیں جس طرح ہماری چشم دید چیزیں۔ دین اسلام کی ایسی ” ضروریات“ پر ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اور قرب قیامت میں دجال کا نکلنا اور اس کو قتل کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا دین اسلام کے متواتر عقائد میں شامل ہے۔
- ۳..... ہر فن میں اس کے ماہرین پر اعتماد کیا جاتا ہے‘ لہٰذا جن احادیث شریفہ کو
جہابذہ محدثین نے صحیح قرار دیا ہے‘ ان کو صحیح تسلیم کرنا چاہئے۔
- ۴۔ قرآن کریم کی کسی آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ
السلام فوت ہو چکے ہیں ”انی متوفیک“ کے معنی اگر یہ کئے جائیں کہ ”میں تجھ کو وفات ہی دوں گا“ تب بھی اس سے آئندہ کسی وقت میں وفات دینے کا وعدہ ثابت ہوتا ہے‘ نہ یہ کہ ان کی وفات ہو چکی ہے۔
- ۵..... ”قد خلت من قبلہ الرسل“ دو جگہ آیا ہے۔ ایک جگہ آنحضرت صلی اللہ
۲۰۵
علیہ وسلم کے لئے، اور دوسری جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے، قرآن کریم کا طرز استدلال بتاتا ہے کہ یہ دونوں حضرات نزول آیت کے وقت زندہ تھے۔ لہٰذا یہ آیت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کی دلیل نہیں، بلکہ ان کے زندہ ہونے کو ثابت کرتی ہے۔
۶..... ”بل رفعہ اللہ الیہ“ میں رفع بمقابلہ قتل کے آیا ہے، اور قتل جسم کا ہوتا ہے روح کا نہیں، لہٰذا آیت میں رفع جسمانی مراد ہے، اور ”رفع الی اللہ“ قرآن کے محاورہ میں رفع الی السماء کے لئے استعمال ہوتا ہے، اور چونکہ آیت میں رفع الی اللہ سے رفع جسمانی آسمانی مراد ہونے پر پوری امت متفق ہے، اس لئے قرآن کا یہ مفہوم بھی اسی طرح قطعی ہے جس طرح قرآن کے یہ الفاظ قطعی ہیں، اور چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء میں تعظیم و تشریف اور بلندی درجات کے معنی بھی پوری طرح پائے جاتے ہیں، لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی ان کے رفع روحانی اور رفع درجات کی نفی نہیں کرتا، بلکہ اس کو مستلزم ہے۔
۷..... ”وانہ لعلم للساعۃ“ اور ”وان من اہل الکتاب“ دونوں آیات شریفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول من السماء کی خبر دی گئی ہے۔
۸..... اکابر امت میں ایک فرد بھی ایسا نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کا منکر ہو، حافظ ابن حزمؒ، حافظ ابن تیمیہؒ اور حافظ ابن قیمؒ۔ جن کو آنجناب نے بھی محققین علما تسلیم فرمایا ہے۔ ان کی صریح عبارتیں پیش کی جاچکی ہیں۔
دوم: کس کا عقیدہ صحیح ہے؟
آنجناب کا اور اس ناکارہ کا اس عقیدہ میں اختلاف ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا نہیں؟ اور نازل ہوں گے یا نہیں؟ آپ رفع ونزول ۲۰۶
دونوں کا انکار کرتے ہیں، اور میں دونوں کا قائل ہوں، ہم دونوں کو اپنا اپنا عقیدہ لے کر بارگاہ خداوندی میں پیش ہونا ہے، میرے دعویٰ کے دلائل یہ ہیں :
- ۱..... قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی اللہ (بمقابلہ ما قتلوہ
یقیناً) کی خبر دی ہے، اور پوری امت متفق ہے کہ اس آیت میں رفع الی اللہ کے معنی رفع جسمانی الی السماء ہیں، اور جس طرح پوری امت کے نقل کردہ الفاظ قرآن قطعی ہیں، ان میں غلطی کا وسوسہ بھی نہیں ہو سکتا، اسی طرح پوری امت کا نقل کردہ مفہوم بھی قطعی ہے، اس میں غلطی کا احتمال ممکن نہیں۔
- ۲۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث متواترہ، جن کی صحت پر تمام
محدثین متفق ہیں، ان کے دوبارہ آنے کا اعلان کرتی ہیں۔ کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے۔
- ۳..... امت اسلامیہ کے تمام اکابر کا متفقہ عقیدہ ہے، جس کے خلاف کسی
صحابی، کسی تابعی، اور کسی امام مجتہد کا ایک قول بھی پیش نہیں کیا جاسکتا،
اس کے مقابلہ میں آنجناب کا عقیدہ ہے جس پر آپ قرآن کریم سے ایک آیت بھی پیش نہیں کرسکتے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد بھی پیش نہیں کرسکتے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انتقال کر چکے ہیں، وہ دوبارہ نہیں آئیں گے اور امت اسلامیہ کے ایک بھی لائق اعتماد بزرگ کا قول پیش نہیں کرسکتے۔
ہر نماز کی ہر رکعت میں ”اهدنا الصراط المستقیم“ آپ بھی پڑھتے ہیں اور میں بھی پڑھتا ہوں، اب آپ خود فیصلہ کرلیجئے کہ صراط مستقیم پر کون ہے؟ اور قیامت کے دن ہم دونوں میں سے حق پر کون ہوگا؟ اور بارگاہ الٰہی میں کس عقیدہ کو قبول کیا جائے گا؟
۲۰۷
سوم: ایک اہم سوال:
انبیا کرام علیہم السلام کو حق تعالی شانہ رشد وہدایت کے ساتھ مبعوث فرماتے ہیں، اور وہ حضرات دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دیتے ہیں، جب دعوت الی اللہ کا کام اپنی آخری حد کو پہنچ جاتا ہے، لیکن ان کی قوم ضد وعناد، توہین وتذلیل اور ایذا رسانی کی آخر حد عبور کرلیتی ہے تو انبیا کرام علیہم السلام کو اپنے رفقا سمیت کافروں کی بستی کو چھوڑنے اور وہاں سے ہجرت کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ ہجرت کے بعد یا تو اس بستی کو ہلاک کردیا جاتا ہے، جیسا کہ حضرت نوح، حضرت صالح، حضرت ہود، حضرت ابراہیم، حضرت شعیب، حضرت لوط، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوموں کے ساتھ ہوا۔ (البتہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم چونکہ عذاب کے ابتدائی آثار دیکھ کر ایمان لے آئی تھی اس لئے اس کو ہلاکت سے بچالیا گیا)۔
یا دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ ہجرت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے رفقا کو جہاد کا حکم ہوتا ہے، اور کچھ عرصہ کے بعد وہ فاتحانہ حیثیت سے اس بستی میں داخل ہوتے ہیں، اور بستی کے کفار مغلوب و مقہور ہوجاتے ہیں، بلکہ مطیع و فرمانبردار بن جاتے ہیں جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہی صورت پیش آئی۔
ان دونوں صورتوں کے علاوہ کوئی اور تیسری صورت نہیں، کہ کسی نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ہجرت کا حکم ہو جائے، پھر نہ تو اس کے مخالفین ومعاندین کو ہلاک کیا جائے، اور نہ بذریعہ جہاد ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مغلوب ومقہور کیا جائے۔
آپ اور میں دونوں متفق ہیں کہ یہود جب درپے قتل وایذا ہوئے تو اللہ تعالی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے درمیان میں سے اٹھالیا، گویا یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی قوم کے وطن سے ہجرت تھی۔
۲۰۸
اس نکتہ پر اتفاق کے بعد میرا اور آپ کا اختلاف ہے کہ ہجرت کس مقام کی طرف فرمائی؟ میں کہتا ہوں کہ ہجرت الی السماء ہوئی‘ اور آپ فرماتے ہیں کہ ہجرت الی الربوہ ہوئی‘ پھر ہجرت کے بعد کیا ہوا؟ آپ فرماتے ہیں کہ وہ ہجرت کے بارہ سال بعد انتقال فرما گئے‘ (ایسی کسمپرسی و گمنامی میں ان کا انتقال ہوا کہ نہ کسی کو ان کے انتقال کی کانوں کان خبر ہوئی‘ اور نہ ان کے مدفن کا کسی کو پتہ نشان ملا)۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کیوں بدل دی؟ یا تو ان کی ہجرت کے بعد ان کے دشمنوں (یہود) کو ہلاک کر دیا جاتا‘ جیسا کہ شعیب علیہ السلام اور لوط علیہ السلام وغیرہ دیگر انبیا کرام علیہم السلام کی قوموں کو ہلاک کر دیا گیا‘ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن آج تک دندناتے پھر رہے ہیں‘ یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فاتح کی حیثیت سے واپس لاکر ان کے دشمنوں کو ان کے سامنے زبوں و سرنگون کیا جاتا۔
میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اپنی سنت نہیں بدلی‘ وہ آسمان پر زندہ ہیں‘ (اور جہاں وہ رہائش پذیر ہیں وہاں کا ایک دن ہمارے ایک ہزار سال کے برابر ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے
”وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون“۔( )
اس لئے وہاں کے پیمانہ وقت کے لحاظ سے ان کی ہجرت کو ابھی دو دن بھی پورے نہیں ہوئے) اور جب ان کی ہجرت کی میعاد‘ جو علم الٰہی میں مقرر ہے‘ پوری ہوجائے گی‘ اس وقت یہود اپنے رئیس دجال اکبر کی ماتحتی میں میدان قتال میں صف آرا ہوں گے‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فاتحانہ حیثیت میں دوبارہ لایا جائے گا‘ وہ اپنے دشمنوں کے رئیس دجال کو خود قتل کریں گے‘ اور ان کے دشمن یہود ان کے سامنے مغلوب و مقہور ہوجائیں گے۔ ”ولن
۲۰۹
تجد لسنۃ اللہ تبدیلا" ۔
جیسا کہ اوپر عرض کرچکا ہوں میرا یہ عقیدہ اور یہ موقف قرآن کریم، احادیث صحیحہ متواترہ اور اجماع امت کے مطابق ہے، اگر آنجناب کے نزدیک یہ موقف اور عقیدہ صحیح نہیں تو اس سوال کا جواب آپ کے ذمہ قرض ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اپنی سنت کو کیوں تبدیل فرمایا، کہ ان کی ہجرت کے بعد نہ تو ان کے معاندین کو ہلاک کیا، اور نہ ان کے سامنے مغلوب و مقہور کیا؟
دعا کرتا ہوں کہ حق تعالیٰ مجھے، آپ کو اور تمام مسلمانوں کو عقائد حقہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، اور آخر دم تک صراط مستقیم پر قائم رکھیں۔
ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی للایمان ان آمنوا بربکم فآمنا، ربنا فاغفرلنا ذنوبنا، وکفر عنا سیآتنا وتوفنا مع الابرارO ربنا وآتنا ما وعدتنا علی رسلک ولا تخزنا یوم القیمۃ انک لا تخلف المیعادO وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد ن النبی الامی وآلہ واصحابہ اجمعین ۔
محمد یوسف لدھیانوی
۲۱۰
تَرجَمَةُ
مُقدّمہ عقیدۃُ الإِسْلَام
فہرست
نام و نسب ٦٠٧ عقیدۃ الاسلام اور تحیۃ الاسلام ٦٢٤ ولادت مبارک و نشو و نما ٦٠٨ عقیدۃ الاسلام کا اصل موضوع ٦٢٥ تعلیم ٦٠٨ ضمنی ابحاث ٦٢٩ اعمال و اشغال ٦١٠ مرزا قادیانی کے کفریات ٦٣٠ سفر حج ٦١١ حکمت نزول مسیح علیہ السلام ٦٣٢ ہجرت حجاز کا قصد ٦١١ معجزات، اسباب و علل سے بالا تر ہوتے ہیں ٦٣٣ صدارت دارالعلوم دیوبند ٦١٢ مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کا راز ٦٣٥ ڈابھیل میں جامعہ اسلامیہ کی تاسیس ٦١٣ نزول عیسیٰ علیہ السلام، اجماع امت جامع کمالات ٦١٤ کی روشنی میں ٦٣٦ امام العصر اکابر معاصرین کی نظر میں ٦١٥ عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام سے انکار کیوں ٦٣٦ آپ کی تصنیفات پر ایک نظر ٦١٩ انسانی فہم کی بنیادی کمزوری قادیانیت ایک سازش ٦٢٠ قدرت خداوندی کے مظاہر ٦٤٥ فتنہ قادیانیت کی بیخ کنی میں امام العصر انسانی مصنوعات اور خدائی مخلوقات ٦٤٦ کی خدمات ٦٢٢ انسانی عقل کی بے چارگی ٦٤٧ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ٦٢٢ عقیدہ نزول مسیح کا دیگر عقائد قطعیہ سے مقابلہ ٦٤٨ اکفار الملحدین ٦٢٣ نزول مسیح کی حکمت ٦٤٨ رسالہ شرح خاتم النبیین ٦٢٤ خلاصہ کلام ٦٥٠
٢
پیش لفظ
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى
امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ کی بے نظیر تالیف ”عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام“ مجلس علمی کراچی، کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے جس پر حضرت الشیخ العلامہ مولانا محمد یوسف بنوری مدظلہ کے قلم سے ایک فاضلانہ مقدمہ ہے، جو اپنے قیمتی افادات کے لحاظ سے مستقل مقالے کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ کتاب حال ہی میں مجھے تبصرے کے لئے موصول ہوئی تو جی چاہا کہ قارئین بینات کے لئے اس مقدمہ کا اردو ترجمہ بھی پیش کر دیا جائے۔
یہ مقدمہ تین مباحث پر مشتمل ہے، امام العصر کے اجمالی حالات، عقیدۃ الاسلام کی خصوصیات کا تفصیلی تعارف، اور مسئلہ نزول مسیح علیہ السلام پر محققانہ بحث، واللہ الموفق لكل خير وسعادة.
محمد یوسف لدھیانوی ۱/۸/۱۳۸۷ھ
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله الذی جعل علماء هذه الامة كنجوم السماء فبهم يهتدىٰ في دياجر الكفر وظلمات الالحاد غاية الاهتداء، وبهم زينة هذه البسيطة الغبراء، وبهم يرجم شياطين الانس في كل ليلة ليلاً، والصلوة والسلام على سيد الرسل محمد خاتم الانبياء، الممثل للامة بالمطر، والمبشر بنزول سيدنا عيسىٰ روح الله الاطهر، فيصلح به الامة العوجاء، وعلى آله الاصفياء وصحبه السعداء ما استنار القمر وتجلت ذكاء. اما بعد:
حضرت الاستاذ امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری (نور اللہ مرقدہ) کے مشکلات علوم، دشوار مسائل، اور دقیق حوادث و نوازل کی تحقیق کے سلسلے میں امت پر عظیم احسانات ہیں، ہر علم کے پیچیدہ اور دشوار مسائل کے حل کے لئے آپ کی ذات سرزمین ہند میں اہل علم کا مرجع تھی، علوم نبوت کی تدریس اور کسی بھی موضوع سے متعلق متن وسند اور جرح وتعدیل کے تمام مباحث کی تحقیق میں منفرد طریقہ کے موجد تھے، مذاہب امت کے استحضار وتحقیق میں ”آیة من آیات اللہ“ تھے، اور فقہائے امت کے مختلف فیہ مسائل کی تنقیح میں مجدد تھے۔
اسی طرح اہل بدعت واہل فتن، بالخصوص فتنہ کبریٰ ”قادیانیت و مرزائیت“ کی تردید کے سلسلہ میں امت مسلمہ پر آپ کے احسانات ناقابل فراموش ہیں، اس ”شجرہ خبیثہ“ (فتنہ مرزائیت) کی بیخ کنی کے لئے آپ خود بھی متوجہ ہوئے، علماء کرام پر حفاظت دین کی جو ذمہ داری عائد کی گئی ہے انہیں بھی اس کا احساس دلایا، اس
۴
سلسلہ میں زبان و قلم سے ان کی مدد فرمائی اور اپنے علمی ذخیروں اور قلمی یادداشتوں کے خزانوں کو سب کے لئے وقف عام کر دیا جس کے نتیجے میں آپ کے فاضل تلامذہ نے ”رد مرزائیت“ پر عظیم الشان اردو، عربی کتابیں لکھیں، دراں حالے کہ آپ نہ کسی سے جزا کے طالب تھے نہ شکریئے کے، بلکہ یہ سب کچھ محض رضائے الٰہی کے لئے تھا، آپ کا دروازہ ہر مستفید کے لئے کھلا تھا، اور آپ کے علمی خزانے ہر طالب کے لئے وقف تھے۔ اس ”تاریک فتنہ“ کی مضرت کے احساس سے آپ کا ذکی اور حساس قلب مبارک بیتاب رہتا تھا، اور حریم دین کی حفاظت میں اہل علم کی غفلت کوشی پر آپ کی پاکیزہ روح درد و کرب میں مبتلا رہتی تھی، بسا اوقات آپ پر ان افکار کا اتنا ہجوم ہوتا کہ ساری ساری رات آنکھوں میں کاٹ دیتے، آپ کی تمنا بس یہی تھی کہ کسی طرح حق کا جھنڈا سربلند ہو، اور نشان باطل سرنگوں ہو۔
اس لئے میں چاہتا ہوں کہ قارئین کے لئے امام العصر کی حیات طیبہ کا اجمالی خاکہ پیش کروں، اس کے بعد آپ کی تصنیف ”عقیدۃ الاسلام“ کے خصائص پر قدرے روشنی ڈالوں۔
نام ونسب :
الشیخ الامام محدث کبیر، محقق زمان، امام العصر، محمد انور شاہ بن شیخ معظم شاہ بن شاہ عبدالکبیر۔ آپ کا سلسلہ نسب شیخ مسعود نروری ؒ سے جاملتا ہے، آپ کے اسلاف بغداد سے ملتان آئے، وہاں سے لاہور اور پھر لاہور سے کشمیر منتقل ہوئے اور خطہ کشمیر ان کی اولاد کا وطن مالوف بن گیا، گویا عربی شاعر کی زبان میں :
ترجمہ : ”پس اس نے ڈیرے ڈال دیئے، اور مسلسل سفر سے سکون و قرار پالیا، جیسا کہ وطن کی واپسی سے مسافر کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔“
۵
ولادت مبارکہ اور نشوونما:
آپ کی ولادت ۱۷ شوال المکرم ۱۲۹۲ھ کو بروز ہفتہ بارہ مولا (کشمیر) میں ہوئی، والد ماجد نہایت متقی عالم اور سلسلہ سہروردیہ کے صاحب نسبت شیخ تھے، یہ سلسلہ ان کے خاندان میں پشت در پشت چلا آتا تھا، آپ کی والدہ ماجدہ بھی بڑی نیک بخت اور عبادت گزار خاتون تھیں، آپ نے ان دونوں نیک و نکوکار ہستیوں کی آغوش شفقت میں پرورش پائی، آپ کی صغر سنی میں والد ماجد نماز تہجد کے لئے بیدار ہوتے تو آپ کو اٹھا کر اپنے پہلو میں بٹھالیتے اور خود نماز میں مشغول ہو جاتے۔
یوں بچپن ہی سے آپ پر برکات کا نزول ہوتا اور دعوات صالحہ آپ کا احاطہ کرتیں، ایسے علم وصلاح کے گھرانے میں ایسی خاص نگہداشت، اور عجیب تربیت کی آغوش میں آپ کا نشوونما ہوا۔
تعلیم :
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی، پھر اپنے قصبہ کے دوسرے علماء سے پھر خطۂ کشمیر کے مشاہیر سے، پھر کشمیر سے ملحقہ علاقہ ضلع ہزارہ کی طرف تعلیمی سفر کیا، پھر برصغیر ہند و پاکستان کے سب سے بڑے علمی مرکز ”دارالعلوم دیوبند“ تشریف لے گئے، جو اس وقت کے فاضل ترین علما و اتقیا کا مرکز تھا، جسے بلا مبالغہ ہندوستان کا قرطبہ اور ازہر کہا جا سکتا ہے ۔ وہاں سے ۱۳۱۳ھ میں فارغ التحصیل ہوئے، جبکہ طالب علمی کے زمانہ ہی سے آپ وفور علم، وسعت نظر، بے نظیر حافظہ اور ورع وتقویٰ کے اعتبار سے ”مشار الیہ“ تھے۔
میں نے ۱۳۴۷ھ میں سفر کشمیر کے دوران آپ کے والد ماجد کی زبان مبارک سے آپ کے ابتدائی تعلیمی حالات سنے، انہوں نے فرمایا، کہ مولوی محمد انور قدوری کے سبق میں مجھ سے ایسے سوال کیا کرتے تھے جن کا جواب دینے کے لئے مجھے ہدایہ کے مطالعہ کی ضرورت پیش آتی تھی، پھر میں نے ان کا سبق فلاں عالم کے سپرد کر دیا تو انہوں نے بھی یہ ہی شکایت کی کہ یہ صاحبزادے سوال بہت کرتے ہیں، حالانکہ اوقات درس کے علاوہ آپ بالکل ساکت وصامت رہا کرتے تھے، کھیل کود کی رغبت جو عموماً اس عمر کے بچوں میں پائی
۶
جاتی ہے وہ آپ کے اندر قطعاً نہ تھی‘‘۔
نیز والد ماجد فرماتے تھے، میں ان کو ایک عارف کامل، مستجاب الدعوات بزرگ کی خدمت میں لے گیا انہوں نے دیکھ کر فرمایا، ’’یہ لڑکا اپنے وقت کا سب سے بڑا عالم ہوگا‘‘۔
نیز والد ماجد فرماتے تھے ، ’’ہمارے زمانے کے ایک بہت بڑے عالم نے درسی کتابوں پر مولانا انور شاہؒ کے حواشی، جو کتاب پڑھتے وقت بچپن میں لکھے تھے، دیکھ کر فرمایا تھا: ’’یہ صاحبزادہ غزالی عصر، اور رازی دہر ہوگا‘‘۔
میں نے خود حضرت امام العصرؒ کی زبانِ مبارک سے سنا، فرماتے تھے : ’’میں نے فارسی کی تمام درسی کتابیں، جو اس وقت مروج تھیں، پانچ سال میں پڑھیں، اور علوم عربیہ کی تعلیم میں پانچ سال مشغول رہا‘‘۔ اس لحاظ سے آپ کی طالب علمی کی مدت دس سال سے زائد نہیں ہوتی، آپ کے شاگردِ عزیز اور رفیقِ خاص مولانا مشیت اللہ بجنوری نے مجھے بتلایا کہ حضرت الاستاذ (طالب علمی کے زمانہ میں) صرف جمعہ کی رات کو بستر پر سویا کرتے تھے، ورنہ اس کے علاوہ ہفتے کی باقی راتوں میں مطالعہ کتب میں مصروف رہتے اور جب نیند کا غلبہ ہوتا تو بیٹھے بیٹھے سو جاتے۔
میں نے خود حضرت الاستاذ کی زبان مبارک سے سنا کہ ’’جس سال حضرت الاستاذ شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ کے یہاں میرا بخاری شریف کا درس شروع ہونے والا تھا، اس سال میں نے رمضان المبارک میں پوری عمدۃ القاری شرح بخاری کا مطالعہ کرلیا تھا، اور کتاب شروع ہونے کے بعد بخاری شریف کے ساتھ ساتھ فتح الباری شرح بخاری کا مطالعہ سبقاً سبقاً کیا کرتا تھا، بعض اوقات پوری جلد کا مطالعہ ایک رات میں کرنا ہوتا، اسی سال میں ایک مرتبہ ۱۷ دن بیمار رہا، جس کی وجہ سے شریک درس تو نہ ہوسکا مگر فتح الباری کا مطالعہ جاری رہا، اٹھارویں دن جب سبق میں حاضر ہوا، تو معلوم ہوا کہ حضرت کا درس ابھی تک وہاں نہیں پہنچا ہے جہاں تک میں صحیح بخاری اور فتح الباری کا مطالعہ کر چکا ہوں‘‘۔
نیز فرماتے تھے : ’’میں نے حضرت شیخ الہند ؒ سے ہدایہ اخیرین، صحیح بخاری، سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی پڑھیں، اور حضرت مولانا محمد اسحاق کشمیری ثم مدنی (م: ۱۳۲۲ھ)
۷
سے صحیح مسلم ، سنن نسائی ، اور سنن ابن ماجہ پڑھی ہیں “۔ راقم الحروف (حضرت بنوری) نے آپ کے مآثر علمی اور نقوش زندگی پر ایک مستقل کتاب ”نفحۃ العنبر فی حیاۃ الشیخ الانور“ کے نام سے لکھی ہے ۔ نیز کچھ سوانح زندگی اور درسی خصوصیات کا تذکرہ مقدمہ فیض الباری اور مقدمہ مشکلات القرآن میں کیا ہے ، یہاں چند مختصر اشارات پر قناعت کروں گا۔
اعمال واشغال :
آپ طبعاً گمنامی کو پسند فرماتے تھے ، فطری ذوق یہی تھا کہ کسی سے جان پہچان نہ ہو ، بس ہمہ وقت مصروف مطالعہ رہا کریں ، لیکن قدرت آپ کو کسی بڑے کام کیلئے تیار کر رہی تھی ، سب سے پہلے آپ کے رفیق خاص مولانا امین الدین دہلوی ؒ نے آپ کو دعوت دی کہ دہلی میں ایک دینی مدرسہ کے قیام کے سلسلہ میں آپ میری مدد کریں ۔ چنانچہ آپ نے ان کی دعوت قبول فرمائی اور مدرسہ کی تاسیس میں ان کی امداد فرمائی ، مدرسہ کا نام مدرسہ امینیہ رکھا گیا جو اپنے با اخلاص بانیوں کے خلوص اور للہیت کی برکت سے آج تک دہلی میں علم و ہدایت کی شمع فروزاں ہے ۔ آپ نے خود ازراہ اخلاص و ایثار اس مدرسہ کو سب سے پہلے دس روپے چندہ دیا اور آپ ہی اس کے پہلے صدر مدرس ہوئے ، پھر کچھ عرصہ کے بعد آپ کو وطن مالوف (کشمیر) جانا پڑا ، وہاں بھی برابر عوام کی اصلاح میں مشغول رہے ، وعظ و تذکیر کے ذریعہ اصلاح معاشرت ، تصحیح عقائد اور اصلاح بدعات و رسوم کے سلسلہ میں بڑی محنت برداشت فرمائی ، ایک ایک بستی میں جاتے ، فصیح کشمیری زبان میں وعظ و تلقین فرماتے ، لوگ آپ کے مواعظ حسنہ سے اس قدر متاثر ہوتے کہ وعظ سن کر بے تحاشا روتے اور بد اعمالیوں سے تائب ہوتے ، بالآخر بستی بارہ مولا میں ”فیضِ عام“ کے نام سے ایک دینی مدرسے کی بنیاد ڈالی جس سے وہاں کے بہت سے لوگوں خصوصاً اہل علم کی اصلاح ہوئی۔
۸
سفر حج :
۱۳۲۳ھ میں بغرض حج و زیارت حجاز مقدس کا سفر کیا‘ وہاں چند ماہ قیام رہا‘ کتب خانہ شیخ الاسلام عارف حکمت‘ مکتبہ محمودیہ اور دوسرے کتب خانوں کی بہت سی نایاب اور غیر مطبوعہ کتابوں کا مطالعہ کیا‘ علاوہ ازیں اس سفر میں اس زمانے کے باکمال اہل علم و فضل سے بکثرت ملاقاتیں میسر آئیں‘ اور علمی مذاکرات میں آپ کے وفورِ علم‘ فضل و شرف اور عبقریت کا ظہور ہوا‘ جن حضرات سے آپ کی ملاقاتیں ہوئیں ان میں سلطنت عثمانیہ کے عالم کبیر شیخ حسین بن محمد طرابلسیؒ‘ مصنف رسالہ حمیدیہ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
سفر حرمین سے واپسی :
حرمین شریفین کے انوار وبرکات سے استفادہ کے بعد مراجعت فرمائے وطن ہوئے اور چند سال خطہ کشمیر میں درس وتدریس میں مشغول رہے اور علما کرام کو درس وافتاً سے مستفید فرمایا‘ تین سال تک ماہرین فقہ وقضا کی ”جدید فقہی مسائل“ میں رہنمائی فرمائی اور وہ اختلافی مسائل جو ارباب فتویٰ کے درمیان محل نزاع چلے آرہے تھے ان کے بارے میں فیصلہ کن فتوے دیئے‘ جو بالاتفاق تسلیم کئے گئے اور عجیب بات یہ کہ اس سہ سالہ مدت فتویٰ نویسی میں آپ کو فقہ و فتویٰ کی کسی کتاب کی طرف مراجعت کی ضرورت پیش نہیں آئی‘ (خارق عادت حافظہ کی مدد سے ضخیم فقہی کتب کے حوالے پیش فرماتے‘ جو کتاب سے ملانے کے بعد بالکل صحیح نکلتے‘ بسا اوقات مطبوعہ کتب میں کتابت یا نقل کی اغلاط کی نشاندہی بھی فرماتے)۔ یہ بات میں نے خود حضرت الاستاذؒ کی زبان مبارک سے سنی ہے۔
ہجرت حجاز کا قصد اور دیوبند میں قیام :
پھر دیار حبیب ﷺ کے اشتیاق میں وطن مالوف کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دینے
۹
اور حرمین شریفین کی طرف ہجرت کرنے کا عزم فرمایا اور کشمیر سے حجاز جاتے ہوئے اثنائے سفر میں اپنے شیخ کبیر حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کی زیارت کے لئے دیوبند حاضر ہوئے، حضرت شیخ الہندؒ کو قصد ہجرت کا علم ہوا۔ انہوں نے محسوس فرمایا کہ سرزمین ہند اور مرکز علوم دارالعلوم دیوبند آپ کے علمی فیضان کے زیادہ مستحق ہیں، اور یہ بنجر علاقے آپ کی باران علوم ومعارف کے لئے بیحد تشنہ ہیں، اس لئے حضرت شیخ الہندؒ نے آپ پر زور دیا کہ ہجرت کا ارادہ ترک کر دیں اور دیوبند میں مستقل قیام فرمائیں، چنانچہ آپ سے زاد سفر لے کر کسی دوسرے صاحب کو حج وزیارت کے لئے تیار کر دیا۔ یہ واقعہ بھی میں نے حضرت الاستاذ (نور اللہ مرقدہ) سے سنا۔
صدارت دارالعلوم دیوبند:
حضرت شیخ الہندؒ کے اصرار پر آپ دیوبند کے قیام پر آمادہ ہو گئے اور اسی سال دارالعلوم دیوبند میں استاذ حدیث مقرر ہوئے، اور جب ۱۳۳۲ھ میں حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے خاص نصب العین کے تحت سفر حرمین شریفین کا قصد فرمایا تو اپنی جگہ حضرت الاستاذ (مولانا انور شاہؒ) کو صدر مدرس اور شیخ الحدیث کے منصب پر متعین فرما دیا، آپ صحاح ستہ اور امہات کتب حدیث کی تدریس میں مشغول ہو گئے، اس وقت سرزمین ہند میں آپ ہی کی ذات مسند وقت تھی، ملک کے اطراف واکناف میں آپ کا علمی غلغلہ بلند ہوا، اور آپ کی بارگاہ اہل علم اور طالبان علوم نبوت کا مرجع بن گئی، دارالعلوم میں آپ کا سراپا علمی وجود طریقہ تدریس کی اصلاح وتجدید اور دقیق مسائل کے تجزیہ وتحلیل کا سبب بنا، آپ کے وفور علم، وسعت نظر اور کثرت معلومات کا سمندر ساحل دارالعلوم سے اچھل اچھل کر اطراف واکناف کے ہر تشنہ اور خشک خطے کو سیراب کرنے اور تشنگان علوم نبوت کی پیاس بجھانے لگا، سماحت نفس، کمال اخلاص اور جذبہ فیض رسانی کا یہ حال تھا کہ آپ اپنی قلمی یادداشتیں جو مطالعہ کتب کے دوران مرتب فرما لیا کرتے تھے، اور جو گرانقدر علمی ذخائر اور نفیس خزائن پر
١٠
مشتمل ہوتی تھیں، اور جنہیں عام طور پر اہل علم کے حلقے میں بلا مبالغہ جان سے زیادہ عزیز سمجھا جاتا ہے، مانگنے پر بڑی فیاضی اور کشادہ دلی سے دیدیا کرتے تھے۔
ڈابھیل میں جامعہ اسلامیہ اور مجلس علمی کی تاسیس :
۱۳۴۶ھ میں بعض وجوہ کی بنا پر، جن کے بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں، آپ دارالعلوم دیوبند کی صدارت سے سبکدوش ہو گئے، اور ملک کے ہر گوشہ سے بااخلاص ارادت مندوں کی جانب سے آپ کو اپنے یہاں لیجانے کی دعوت دی گئی، بالآخر آپ قصبہ ڈابھیل ، جو سورت کے قریب بمبئی کے علاقے میں واقع ہے، تشریف لیجانے پر مجبور ہو گئے، وہاں آپ کے وجود مسعود کی برکت سے ایک عظیم الشان دینی مدرسہ ”جامعہ اسلامیہ“ کے نام سے، اور ایک ادارہ نشر واشاعت ”مجلس علمی“ کے نام سے قائم ہوا، موخر الذکر ادارہ مختلف موضوعات پر بڑی بلند پایہ کتابیں شائع کر چکا ہے۔ وہاں آپ کی حیات طیبہ کے شب و روز درس وتدریس، تصنیف و تالیف، تذکیر و تلقین اور وعظ و ارشاد میں گزرتے تھے، چنانچہ آپ کے علوم و معارف کے انوار سے یہ علاقے بھی منور ہوگئے اور علم وعمل اور سنت وحدیث کا رواج عام ہو گیا، علاوہ ازیں آپ کی بدولت حق جل شانہ نے وہاں کے بہت بڑے طبقے کی اصلاح فرمادی۔
آپ پر رقت کا بڑا غلبہ تھا، درس و وعظ کے دوران بے اختیار گریہ طاری ہو جاتا، اور خوب روتے اور رلاتے، اسی طرح حیات مبارکہ کے آخری حصے میں حقائق الہیہ سے شغف بہت بڑھ گیا تھا مجلس درس اور مجلس وعظ کے علاوہ عام مجلسی گفتگو میں بھی حقیقت تجلی، برزخی حالات اور دیگر حقائق کی شرح میں عجیب و غریب علوم و معارف بیان فرماتے تھے، آخر وقت موعود آپہنچا، اور صفر ۱۳۵۲ھ میں بمقام دیوبند رحلت فرمائے عالم جاودانی ہوئے۔ رحمہ اللہ رحمۃ الابرار الصالحین
ورضى عنه وارضاه وجعل الجنة منقلبه ومثواه
جامع کمالات
حق تعالیٰ نے نسبی سیادت اور خاندانی مجد و شرف کے ساتھ آپ میں بہت سے خصائص و کمالات جمع کر دیئے تھے چنانچہ نیک سرشت والدین کے سایہ شفقت میں تربیت پائی ، وادی کشمیر جیسے معتدل ترین خطہ کی پاکیزہ فضا اور صاف ستھری آب و ہوا میں نشو و نما ہوا ، فطرتاً پاک طینت اور ذکی طبیعت نصیب ہوئی ، دعائے بزرگان کی برکات سے فیض یاب ہوئے ، دائمی توفیق شامل حال رہی ، صحت اتنی عمدہ تھی کہ نہ کبھی گرانی کا احساس ہوتا ، نہ تھکاوٹ کا مسلسل انتھک محنت کی عادت ، فوق العادت حافظہ ، عقل سلیم ، فہم مستقیم ، اور اپنے وقت کے ائمہ رشد و ہدایت اور ارباب علم و فضل سے استفادہ کی نعمتیں آپ کو میسر آئیں ۔
مشیت ازلیہ کا فیصلہ یہی تھا کہ آپ علم و عمل ، دین و عبادت ، ورع و تقویٰ ، فقہ و حدیث ، ادب و تاریخ اور کلام و فلسفہ میں اپنے دور کے تمام فضلا سے سبقت لے جائیں ، علمی مشکلات کے حل میں غوطہ زنی ، دقیق مباحث کی تحقیق ، شبانہ روز مطالعہ ، دائمی غور و فکر اور طویل سکوت آپ کا شعار زندگی تھا ، جب کسی غامض اور مشکل مسئلہ کے بارے میں آپ سے دریافت کیا جاتا تو آپ کا حسین چہرہ بجلی کی طرح چمک اٹھتا ، آپ سیل رواں کی طرح بہنے اور موسلا دھار بارش کی طرح برسنے لگتے ، حق تعالیٰ نے ”نورِ تقویٰ“ کے ساتھ جمال خَلق اور کمال خُلق بھی نصیب فرمایا تھا ، چہرہ انور سے انوار کی شعاعیں پھوٹتی تھیں ۔ حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ نے خارق عادت علمی تبحر کے ساتھ ساتھ جمال صورت ، کمال سیرت اور حسن خلق کے تمام ظاہری و باطنی محاسن بھی آپ میں جمع کر دیئے تھے ۔ اس لئے آپ کی شخصیت بیک وقت نور افزائے دیدہ و دل تھی ۔
جہاں تک مجھے معلوم ہے ، آپ کے زمانہ میں آسمان کی نیلی چھت کے نیچے کوئی شخص علم و فضل اور خصال حمیدہ کی جامعیت میں آپ سے فائق نہیں تھا ۔
۱۲
امام العصرؒ اکابر معاصرین کی نظر میں :
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرمایا کرتے تھے :
"میرے نزدیک امت اسلامیہ میں مولانا محمد انور شاہؒ کا وجود اسلام کی حقانیت وصداقت کا زندہ معجزہ ہے۔ اگر دین اسلام میں ذرا بھی کجی یا خامی ہوتی تو مولانا انور شاہؒ کبھی اسلام پر قائم نہ رہتے"۔
حضرت حکیم الامتؒ کا یہ ارشاد سب سے پہلے میں نے امیر شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے سنا بعد ازاں شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد صاحب عثمانیؒ سے ، پھر حضرت مولانا مفتی محمد حسن امرتسریؒ خلیفہ اجل حضرت حکیم الامت تھانویؒ سے ۔
حضرت مولانا حبیب الرحمٰن عثمانی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے فرمایا :
"مولانا محمد انور شاہؒ صاحب سطح زمین پر چلتا پھرتا اور بولتا چالتا زندہ کتب خانہ (۱) ہیں"۔
نیز موصوف نے آپ کے بارے میں درج ذیل القاب تحریر فرمائے :
"شیخ ، ثقہ ، ورع ، تقی ، حافظ حجۃ ، محدث ، علوم عقلیہ ونقلیہ میں بحر بیکراں ، غامض ومبہم مسائل علمیہ میں تحقیق کا علم بلند کرنے والے"۔
حضرت العلامہ مولانا سید سلیمان ندویؒ نے فرمایا :
"مرحوم کی مثال اس سمندر جیسی ہے جس کی اوپر کی سطح ساکن ہو اور اندر کی گہرائیاں گرانقدر موتیوں سے معمور ہوں"۔
شیخ الاسلام حضرت الاستاذ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ شارح مسلم فرماتے ہیں :
(۱) حضرت مولانا سید اصغر حسین صاحب دیوبندی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند فرماتے تھے :
"مجھے جب کسی فقہی مسئلے میں اشکال پیش آتا ہے تو دارالعلوم کے عظیم کتب خانہ میں کتابوں کا تتبع استقراء بالغ کے ساتھ کرتا ہوں ، اگر کسی کتاب میں وہ مسئلہ مل جائے فبہا ، ورنہ مولانا محمد انور شاہ صاحب سے مراجعت کرتا ہوں ، اگر وہ بیان فرما کر کسی کتاب کا حوالہ دیں تو خیر ، لیکن اگر یہ فرما دیں "کہیں نظر سے نہیں گزرا" تو یقین کر لیتا ہوں کہ اب یہ مسئلہ کسی کتاب میں نہیں ملے گا ، اس لئے کتابوں میں اس کی تلاش ، بے سود ہے"۔
(نفحۃ العنبر ص ۱۹۵)
۱۳
”فقید المثیل، عدیم العدیل، بقیۃ السلف، حجة الخلف، بحر مواج، سراج وہاج، (۱) جس کی مثال نہ آنکھوں نے دیکھی اور نہ خود آپ نے اپنی نظیر دیکھی“۔
دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”میں تو کیا چیز ہوں اپنے زمانہ کے بڑے بڑے مبصر ناقدین بھی مرحوم کو ”آیۃ من آیات اللہ“ اور ”حجة اللہ علی العالمین فی زمانہ“ سمجھتے رہے ہیں“۔
حضرت مولانا رحیم اللہ بجنوریؒ تلمیذ رشید حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (نور اللہ مرقدہ) فرماتے ہیں: ”حبر کامل، محقق، مدقق، فخر الاقران و ابناء الزمان“
(۱) لطیفہ عجیبہ: اصل عربی جملہ یوں ہے ”لم تر العیون مثلہ ولم یرہو مثل نفسہ“ یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ جملہ جن جن اکابر کے حق میں کہا گیا، بالکل صحیح ثابت ہوا، چنانچہ :
- سب سے پہلے یہ جملہ شیخ عثمان بن سعید دارمیؒ کے بارے میں ابو الفضل الفرات نے کہا، اور بجا
طور پر ان پر صادق آیا۔
- پھر امام ابو القاسم قشیریؒ (م : ۴۶۵ ھ) کے حق میں کہا گیا، چنانچہ وہ علم ظاہر و باطن، ورع
وتقویٰ اور معارف شرعیہ وحقائق کونیہ کے جامع ترین شخص تھے۔
- پھر حجة الاسلام امام ابو حامد محمد بن محمد غزالیؒ (م : ۵۰۵ ھ) کے حق میں یہ جملہ کہا گیا، بلاشبہ
وہ اپنے دور کی بے نظیر شخصیت تھے۔
- پھر امام موفق الدین ابن قدامہ حنبلی صاحب ”المغنی“ (م : ۶۸۲) کے بارے میں شیخ ابن حاجب
مالکی نے یہ جملہ کہا، اور صحیح کہا۔
- پھر شیخ تقی الدین ابن دقیق العید ؒ (م : ۷۰۶ ھ) کے حق میں امام ابن سید الناسؒ نے یہ جملہ
کہا، اور بقول شاہ عبدالعزیزؒ محدث دہلوی ”عہد صحابہ سے لیکر ان کے دور تک معانی حدیث کے بیان اور استخراج فوائد میں ان جیسا شخص پیدا نہیں ہوا، صرف ایک حدیث سے چار سو فوائد مستنبط فرمائے“۔
- پھر یہی جملہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ حرانی ؒ (م : ۷۲۸ ھ) کے بارے میں کہا گیا، اور بلاشبہ
متعدد کمالات کے اعتبار سے وہ بے نظیر تھے۔
- پھر حافظ شمس الدین ذھبیؒ نے اپنے استاذ محترم حافظ ابو الحجاج مزیؒ (م : ۷۴۲ ھ) کے بارے
میں یہ جملہ کہا، اور واقعی وہ علوم حدیث میں اپنی مثال آپ تھے۔
- پھر حافظ الدنیا شہاب الدین ابن حجر عسقلانیؒ (م : ۸۵۲) کے بارے میں یہی جملہ کہا گیا، اور
بلاشک وہ وسعت اطلاع، معرفت رجال، ملکہ تصنیف، اور شعر وعربیت وغیرہ بہت سے کمالات میں یکتائے زمانہ تھے۔ (ھذا ما لخصتہ من نفحة العنبر ص ۱۹۱، ص ۱۹۳) مترجم
۱۴
امام المناظرین مولانا مرتضیٰ حسن دیوبندیؒ فرماتے ہیں:
”شیخ الاسلام و المسلمین، مجمع بحور الدنیا و الدین“
استاذ کبیر شیخ محمد زاہد کوثریؒ ”تانیب الخطیب“ میں آپ کا تذکرہ ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
”العلامۃ‘ الحبر البحر‘ محمد انور شاہ کشمیریؒ“۔
متکلم عصر‘ شیخ الاسلام مصطفی صبری ترکی نزیل قاہرہ اپنی تالیف ”العلم والعقل والدین“ (ص ۲۷۲ ج ۳) میں لکھتے ہیں:
”میں نے ہندوستان کے عالم کبیر (مولانا) محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی تصنیف مرقاۃ الطارم (علی حدوث العالم) کا مطالعہ کیا (اصل مسئلہ کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں) مجھے یہ دیکھ کر بڑی مسرت ہوئی کہ ہم دونوں کی رائے (اس مسئلہ میں) متفق ہے“۔
شیخ مصطفی صبری جن دنوں مصر جدید میں اپنے دولت خانہ میں مقیم تھے‘ میں نے ان کی خدمت میں مرقاۃ الطارم کا نسخہ پیش کیا‘ مطالعہ کے بعد فرمایا:
”میرا خیال نہیں تھا کہ ہندوستان کی سرزمین میں بھی ایسا محقق پیدا ہوسکتا ہے‘ (صدر شیرازی کی کتاب اسفار اربعہ سامنے رکھی تھی‘ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) میں اس رسالہ مرقاۃ الطارم کو اس کتاب اسفار اربعہ سے بہتر سمجھتا ہوں“۔
میں ۱۳۵۷ھ میں شیخ کوثریؒ کے دولت خانہ العباسیہ‘ (قاہرہ) میں حاضر تھا شیخ کوثری نے اس موقع پر فرمایا:۔
”احادیث نبویہ کے تحت نادر ابحاث کے اٹھانے میں شیخ ابن ھمامؒ کے بعد مولانا محمد انور شاہؒ کشمیری جیسا شخص پیدا نہیں ہوا‘ پھر فرمایا: یہ پانچ چھ صدیوں کا وقفہ کوئی معمولی مدت نہیں ہے“۔
آپ کے استاذ شیخ کبیر حضرت شیخ الہند محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ نے سند اجازت میں لکھا ہے:
۱۵
”قد اعطی فہماً ثاقباً و رأیاً صائباً وطبیعۃ زکیۃ واخلاقاً مرضیۃ۔“
ترجمہ : ”(مولانا) محمد انور شاہ کو فہم ثاقب، رائے صائب، طبیعت زکیہ اور اخلاق مرضیہ عطا کئے گئے ہیں“۔
علامہ، فقیہ، محدث مولانا محمد سجاد بہاریؒ نے آپ کا تذکرہ ان الفاظ سے فرمایا:
”علامہ دہر، فہامہ عصر، فقیہ زماں، محدث دوراں، روایت میں ثقہ، درایت میں حجت، علماء کے شیخ“۔
شیخ حسین بن محمد طرابلسیؒ سے مدینہ منورہ میں آپ کی ملاقات ہوئی تھی، اس وقت آپ جواں عمر تھے، اور ابھی تک آپ کے علم وفضل کا عام چرچا بھی نہیں ہوا تھا، مگر اس وقت بھی شیخ طرابلسی نے آپ کو ”الشیخ الفاضل“ کے خطاب سے یاد کیا تھا۔
الحاصل آپ کے ہم عصر، مشائخ اور طبقہ مشائخ کے اکابر کی جانب سے آپ کے کمالات کا اعتراف ایسے الفاظ سے کیا جانا جن کا کچھ حصہ ہم نے یہاں ذکر کیا ہے، اس امر کی بین دلیل ہے کہ آپ علم وعمل اور فضل وکمال کے جس بلند مرتبہ پر فائز تھے، آپ کے ہمعصر اہل علم وفضل وہاں تک رسائی پانے سے قاصر تھے، آپ کی شخصیت ان چیدہ جہابذہ واساطین امت کی نظیر تھی جن کی مثال صدیوں بعد دیکھنے میں آتی ہے۔
آپ کے بارے میں مختصراً اتنا کہا جاسکتا ہے کہ :
”آپ کی نادر شخصیت میں حق سبحانہ وتعالیٰ نے گوناگوں کمالات جمع کر دیئے تھے، جمال صورت حسن سیرت، پاکیزگی عادات، ورع وزہد، تقویٰ وطہارت، صبر وعزیمت، تربیت صالحہ، حیات طیبہ، جامعیت علوم، روایت و درایت، بصیرت نافذہ، رات دن مطالعہ کا شغف، خارق عادت حافظہ، ہر چیز میں تحقیق وتدقیق کا عشق، سعی مسلسل کی توفیق جس
۱۶
میں نہ تنگ دلی کا نام تھا‘ نہ تھکن کا احساس‘ نہ گرانی طبع کا شائبہ تھا‘ نہ تعب و مشقت کی پروا‘ باکمال اساتذہ سے تلمذ‘ علماء‘ صلحا‘ عرفائے ربانیین سے گہرے روابط‘ یہ تمام امور بیک وقت اسی شخص میں جمع ہو سکتے ہیں جس کے حق میں مشیت ازلیہ کا قطعی فیصلہ ہو کہ اسے امت کا امام اور مقتدیٰ بنایا جائے اور اس کی شان وہی ہو جو عربی شاعر نے بیان کی ہے :
ترجمہ : ”ہر زمانے میں ایک منفرد شخصیت ایسی ہوتی ہے جس کی سبھی اقتداء کرتے ہیں‘ بلاشبہ اس دور میں آپ ہی وہ منفرد شخصیت ہیں۔“
آپ کی تصنیفات پر ایک نظر:
تصنیف و تالیف کا شغل آپ کا طبعی ذوق نہیں تھا‘ عادت مبارکہ یہ تھی کہ مطالعہ کے دوران متفرق افکار اور قیمتی نقول جو نظر سے گزرتے انہیں مختلف یادداشتوں (نوٹ بکوں) میں اشاریے کے طور پر درج فرمالیا کرتے تھے۔ البتہ جب کسی خاص بحث کی تحقیق‘ کسی دینی مسئلہ کی وضاحت‘ کسی علمی نزاع کے حل یا کسی ایسے گوشے کی نقاب کشائی کے لئے جو عام طور سے اہل علم کی نظر سے مخفی ہو‘ آپ کسی خاص موضوع پر تالیف کے لئے مجبور ہی ہو جاتے تو اس کے لئے قلم اٹھاتے تھے‘ آپ کی تمام تصنیفات اسی اصول کے ذیل میں آتی ہیں‘ یہاں اس کی وضاحت کا موقع نہیں‘ میں نے اس کی قدرے وضاحت اپنی عربی تالیف ”نفحة العنبر فی (١)
(١) نفحة العنبر من هدی الشيخ الانور‘ امام العصرؒ کی حیات طیبہ پر شیخ بنوریؒ دامت برکاتہم کی بہترین تالیف ہے جسے ملاحظہ فرما کر شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے مولانا بنوری کو لکھا تھا : ”آپ نے نفحة العنبر لکھ کر حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کی یاد تازہ کر دی اور مشام جان کو معطر کر دیا.... حق یہ ہے کہ آپ نے ان کی بابرکات زندگی کے ١٧ باقی حاشیہ اگلے صفحہ پر
حیاۃ الشیخ الانور“ میں نیز اپنے اردو مقالہ مشمولہ ”حیات انور“ میں کر دی ہے۔
قادیانیت ایک سازش :
مرزا غلام احمد قادیانی نے قصبہ قادیان ضلع گرداسپور (مشرقی پنجاب) میں فتنۂ قادیانیت کی بنیاد ڈالی۔ مرزائے قادیاں نے اپنے دعاوی (۲) میں تدریجی رفتار ملحوظ رکھی، چنانچہ پہلے ”مجددیت“ کا دعویٰ کیا، پھر ”مثیل مسیح“ ہونے کا پھر ”مہدویت“ کا پھر (جب ان دعاوی میں کامیابی نظر آئی تو) ایک قدم اور آگے بڑھایا اور دعویٰ کیا کہ میں وہی ”مسیح موعود“ (۳) ہوں جنہیں آسمان سے نازل ہونا تھا، اس کے بعد ”غیر تشریعی نبی“ ہونے کا دعویٰ کیا، پھر صاحب شریعت رسول ہونے کا دعویٰ کیا، اور اپنی وحی کو ”قرآن کی مثل“ بتلایا، نسخ جہاد اور نسخ حج کا اعلان کیا، برطانوی سامراج کے بارے میں دعویٰ کیا کہ وہ زمانہ میں ”ظل اللہ“ ہے، مرزا صاحب قرآن مجید کی آیات کو بڑی جرات سے اپنی ذات پر منطبق کیا کرتے، باطنیہ اور زنادقہ کی طرح ان کی عجیب و غریب تاویلیں کیا کرتے، اور ٹھیک ”فرقہ بہائیہ“ اور ”بابیہ“ جیسے ملعون فرقوں کے نقش قدم پر چلتے تھے۔
گزشتہ سے پیوستہ جن پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے اور جن خصوصیات کی طرف نہایت بلیغ اور موجز انداز میں اشارے کر دیئے ہیں، میرے نزدیک اس سے آگے کچھ لکھنا ”سواد فی بیاض“ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا، یعنی بسط وتفصیل جس قدر چاہے کر لیجئے، خلاصہ اور مآل پھر یہی رہے گا“۔ یہ کتاب ۱۳۵۵ھ میں ”مجلس علمی“ کے زیر اہتمام چھپی تھی، اب تقریباً نایاب ہے، کاش حضرت مولف کی نظرثانی اور اضافات کے ساتھ اسے دوبارہ شائع کرنے کی کسی صاحب ہمت کو توفیق ہو جائے، (الحمد للہ بعد میں دو بار شائع ہو گئی) مترجم (۲) یہ مرزا صاحب کے دعوؤں کا بہت مجمل تذکرہ ہے، اس موضوع پر ”دعاوی مرزا“ وغیرہ رسائل کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ مترجم (۳) مرزا ”غلام احمد بن چراغ بی بی“ (مرزا صاحب کی والدہ کا نام) کو سچ مچ ”عیسیٰ بن مریم“ بننے کے لئے ”حمل و ولادت“ کا جو نظریہ ایجاد کرنا پڑا اور اس کے لئے جو رکیک تاویلیں کرنا پڑیں، میرا خیال ہے کہ کسی سنجیدہ آدمی کے لئے کسی باوقار محفل میں اس کا تذکرہ بھی آسان نہیں، مترجم۔
۱۸
عوام الناس کو فریب دینے کے لئے مرزا صاحب نے بعض ایسے مسائل میں بحث شروع کی جنہیں ان کے دعوائے نبوت سے کوئی دور کا علاقہ بھی نہیں تھا، چنانچہ دعویٰ کیا کہ ”عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوچکی ہے۔
اور اب وہ آسمان سے نازل نہیں ہوں گے اس مسئلہ سے متعلقہ احادیث صحیحہ متواترہ کی غلط اور مضحکہ خیز تاویلیں کرنا اور آیات قرآنیہ میں کھلی تحریف کرنا ان کا دلچسپ موضوع بن گیا، آیات واحادیث کو نہایت بے محل پڑھتا اور ان کی عجیب و غریب تاویلیں کرتا، اس طرح وہ بہت سے بیہودہ دعوے ہانکتا، فتنہ برپا کرتا اور کفر و الحاد کی وادیوں میں بھٹکتا رہا، میں نے اس کی کچھ تفصیل ”نفحۃ العنبر“ میں ذکر کی ہے، اور حضرت شیخ (مولانا محمد انور شاہ نور اللہ مرقدہ) نے بھی ”عقیدۃ الاسلام“ کے شروع میں خطبۂ کتاب سے پہلے بطور مقدمہ، اس کا ذکر کیا ہے۔
مرزا صاحب کے اتباع واذناب کا ایک مختصر سا ٹولہ وجود میں آگیا تھا، جو حکومت برطانیہ کے ”ظل حمایت“ میں پرورش پاتا رہا۔ اسلامی عقائد میں رخنہ اندازی اور مسلمانوں میں ”مذہبی انارکی“ پھیلانے کے لئے حکومت برطانیہ کو ان کے دعاوی اور خوش فہمیوں سے بہتر اور کیا حربہ ہاتھ آسکتا تھا؟ چنانچہ حکومت نے اس فتنہ کو خوش آمدید کہا، اور متعدد وسائل سے، جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں، اس کی حوصلہ افزائی کی، مختصر یہ کہ فتنۂ قادیانیت، گورنمنٹ برطانیہ کا ساختہ پرداختہ ...... یا خود مرزا صاحب کے الفاظ میں ...... ”خود کاشتہ پودہ“(۱) تھا، جو اسی کے ظل حمایت میں پھلا پھولا اور بتدریج و ترقی کے مراحل طے کرتا رہا۔ اس ملک
(۱) مرزا صاحب نے برٹش گورنمنٹ کے حضور ”خاکسار مرزا غلام احمد“ کی جانب سے جو ”عرضی“ پیش کی تھی اس میں بڑے فخر سے اپنی جماعت کو ”گورنمنٹ برطانیہ کا خود کاشتہ پودا“ کے لقب سے یاد کیا۔ نیز لکھتے ہیں ”اے بابرکت قیصرۂ ہند تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو، خدا کی نگاہیں اس ملک پر ہیں، جس پر تیری نگاہیں ہیں، خدا کی رحمت کا ہاتھ اس رعایا پر ہے، جس پر تیرا ہاتھ ہے تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے تجھے بھیجا ہے۔“ (ستارۂ قیصرہ ص ۹)
۱۹
میں کوئی اسلامی حکومت موجود نہ تھی جو اپنی شرعی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس فتنہ پر کاری ضرب لگاتی اور اسے ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیتی (جیسا کہ اسلامی حکومتوں کے دور میں نبوت کے جھوٹے دعویٰ داروں کے ساتھ یہی ہوتا رہا) ناچار علماء کرام کو اپنی ذمہ داری پورا کرنے کے لئے میدان میں اترنا پڑا‘ چنانچہ ان حضرات نے حق واجب ادا کیا‘ دین اسلام کی حفاظت‘ مسلمانوں کے اسلامی عقائد کی حمایت اور فتنہ قادیانیت کے رد میں زبان و قلم سے جہاد کیا‘ اور مرزائے قادیان کے ایک ایک دعویٰ کی قلعی کھول کر رکھ دی‘ یہاں تک کہ ہر موضوع اور ہر مسئلہ پر کتابوں کا اچھا ذخیرہ وجود میں آگیا۔
فتنہء قادیانیت کی بیخ کنی میں امام العصر کی خدمات :
ہمارے شیخ امام العصر رحمہ اللہ کو اس آفت کبریٰ۔ فتنہ مرزائیت۔ نے بے چین کر رکھا تھا‘ آپ نے اس کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لئے کمر ہمت باندھی۔ خود بھی تقریر و تحریر کے میدان میں کود پڑے اور دوسرے اہل علم کو بھی متوجہ فرمایا اور ان کی ہمت افزائی کی‘ چنانچہ آپ کے علوم کے سیل رواں سے علم کی وادیاں بہنے لگیں۔
آپ نے اپنی تالیفات میں عمدہ ابحاث اور نادر تحقیقات کا بہترین ذخیرہ فراہم کر دیا‘ آیات قرآنیہ کی تشریحات کے ضمن میں عربیت کے عجیب و غریب دقائق و اسرار بیان فرمائے‘ اور ایسی تمام مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کتابوں سے‘ جو عام طور پر اہل علم کی دسترس سے بعید تھیں‘ رد قادیانیت پر احادیث مقدسہ کا ذخیرہ اس قدر حیرت انگیز طریق پر جمع کیا جسے دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔
التصریح بما تواتر فی نزول المسیح :
چنانچہ نزول مسیح علیہ السلام کے سلسلہ کی تمام احادیث ایک رسالہ میں جمع کر
دیں جسے ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ کے نام سے موسوم فرمایا، یہ اپنے موضوع پر جامع ترین کتاب ہے۔
اکفار الملحدین :
اسی طرح ایک کتاب ”اکفار الملحدین“ کے نام سے مسئلہ تکفیر‘ پر لکھی، جس میں ہر فن کی مطبوعہ و غیر مطبوعہ ضخیم کتابوں سے ایک ہزار کے قریب ائمہ دین کی عبارتیں پیش کیں۔ بلاشبہ اس کتاب کی تالیف امت اسلامیہ پر آپ کا عظیم الشان احسان ہے، اس میں آپ نے مدار نجات‘ اور مناط کفر و ایمان‘ کی خوب تحقیق فرمائی اور ان دقیق مسائل کو منقح کیا جن میں مدت دراز سے بڑے بڑے لوگوں کے لئے لغزش کا موقع تھا‘ اور ان دقیق علمی مسائل کی تنقیح کے لئے آپ نے آیات‘ احادیث‘ آثار اور اکابر متقدمین و متاخرین کی عبارات سے دلائل پیش کئے۔ اس کتاب کو مرتب کرنے کے بعد آپ نے اسے اپنے دور کے اکابر امت اور محققین اہل سنت کی خدمت میں تصدیق و تصویب کے لئے پیش کیا، چنانچہ تمام اکابر نے اس کتاب پر تقریظیں لکھیں۔ بیحد تعریف فرمائی اور ان منقح تحقیقات میں آپ سے پورا پورا اتفاق کیا۔ اس سے آپ کا مقصد یہ تھا کہ ”مدار نجات“ اور ”مسئلہ تکفیر“ پر تمام علما کرام کا اتفاق رائے ہو جائے، اس کتاب میں یہ ثابت فرمایا ہے کہ ”ضروریات دین کا انکار کرنا، یا ان میں تاویل کرنا دونوں باتیں موجب کفر ہیں“ محققین علمائے امت کی تقریظات کے بعد یہ کتاب اس موضوع پر ”اجماعی دستاویز“ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اکابر علما سے تقریظ لکھوانے سے آپ کا یہی مقصد تھا، ورنہ حضرت امام العصر کی شخصیت مدح و ثنا سے بالا تر تھی، اور آپ کے ذوق سے یہ بات قطعاً بعید تھی کہ لوگ آپ کی کتاب کی مدح و ثنا میں رطب اللسان ہوں، آپ کے پیش نظر صرف یہی تھا، کہ ”مسئلہ کفر و ایمان“ پر تمام علمائے امت کا اتفاق ہو جائے، ان کی آراء و افکار جمع ہو جائیں اور ان لوگوں کی اصلاح ہو جائے جن کے لئے ان
۲۱
دشوار مسائل میں حق و باطل باہم مشتبہ ہو جاتے ہیں، یہ بات میں محض ظن و تخمین سے نہیں کہتا بلکہ خود حضرت اقدس سے سنکر عرض کر رہا ہوں، قارئین کو یہ تاریخی حقائق ملحوظ رکھنے چاہیں، تاکہ انہیں اس کتاب کی قدر وقیمت کا صحیح اندازہ ہو سکے، بہر حال یہ کتاب اپنے موضوع پر بے حد جامع، مفید اور اہم کتاب ہے جس میں آپ نے ان تمام اشکالات کو صاف کر دیا ہے جن کا حل مدت سے مشکل سمجھا جاتا تھا (۱)۔
رسالہ شرح خاتم النبیین :
ایک فارسی رسالہ آیت ”خاتم النبیین“ کی شرح میں تحریر فرمایا، جو آپ کے بلند پایہ افکار اور ان وہبی تحقیقات پر مشتمل ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو شرح صدر نصیب فرمایا تھا، لیکن یہ رسالہ بہت دقیق اور غامض ہے۔ (الحمد للہ کہ اس رسالہ کے ترجمہ کی ناکارہ مترجم کو توفیق ہوئی، جس پر حضرت بنوریؒ نے وقیع مقدمہ تحریر فرمایا۔ یہ رسالہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کیا)۔
عقیدۃ الاسلام اور تحیۃ الاسلام :
”عقیدۂ حیات مسیح علیہ السلام“ کے موضوع پر ایک نہایت اہم اور قیمتی کتاب تحریر فرمائی، جس کا نام ”عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام“ رکھا، پھر اس پر تعلیقات اور حواشی کا اضافہ فرمایا، اور ”تحیۃ الاسلام“ اس کا نام رکھا۔
اب یہ پانچ کتابیں ہوئیں جو آپ نے رد قادیانیت کے سلسلہ میں تحریر فرمائیں۔ میرے اس مقدمے کا موضوع اسی آخر الذکر کتاب (عقیدۃ الاسلام) اور اس کے حواشی کی اہمیت پر قدرے روشنی ڈالنا ہے۔
(۱) الحمد للہ ! امام العصر نور اللہ مرقدہ کے تلمیذ رشید حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ استاذ حدیث مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی کے قلم سے اس کا اردو ترجمہ بھی ”مجلس علمی“ کراچی کے اہتمام سے شائع ہو چکا ہے۔ مترجم۔
۲۲
عقیدۃ الاسلام کا اصل موضوع:
اس کتاب ”عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام“ کا دوسرا نام حضرت شیخ نے ”حیاۃ المسیح بمتن القرآن والحدیث الصحیح“ بھی تجویز فرمایا تھا‘ اور آپ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ: ”میری اس کتاب کا موضوع قرآن کریم کے دلائل سے حیات مسیح علیہ السلام کو ثابت کرنا ہے‘ احادیث و آثار محض آیات قرآنیہ کی وضاحت کے لئے لائے گئے ہیں‘ تمام احادیث وروایات کو اس میں جمع کرنا مقصود نہیں“۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض اہل علم کا یہ خیال صحیح نہیں کہ آپ نے اس کتاب میں تمام آیات واحادیث کو جمع کر دیا ہے۔۔۔۔ روایات کا استقصاء تو آپ کی دوسری تالیف ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ میں کیا گیا ہے‘ جیسا کہ پہلے بتلایا جا چکا ہے۔ یہاں تو آپ کے پیش نظر صرف ان آیات کریمہ کی تفسیر ہے جن کا حیات مسیح سے تعلق ہے۔
البتہ وسعت نظر اور وفور علم کی بنا پر عادت مبارکہ یہ تھی کہ جب کسی مسئلہ پر بحث فرماتے تو اس مقام سے متعلقہ تمام مواد‘ عمدہ نقول اور نفیس ابحاث کو سمیٹتے چلے جاتے‘ عربیت واسرار عربیت میں تو امام مجتہد تھے‘ اگر آپ کو ”علوم عربیت کا خلیل وسیبویہ“ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا‘ بلکہ آپ کے اس علمی پہلو کو اجاگر کرنے کے لئے شاید یہ صحیح تر اور لطیف تر تعبیر ہو گی‘ جو بہت سے اہل علم وفضل کی نظر سے اوجھل ہے‘ چنانچہ اس کتاب میں علوم بلاغت‘ بدیع اور عربیت کے ان مسائل کو بیان فرمایا ہے جنہیں دیکھ کر آپ کے تبحر‘ ذوق سلیم اور بیان حقائق میں آپ کے ملکۂ راسخہ سے انسان دنگ رہ جاتا ہے‘ میں جب کبھی کسی بھی موضوع پر آپ کی کسی کتاب کا مطالعہ کرتا ہوں تو میری حیرت وتعجب میں اضافہ ہو جاتا ہے‘ اور میں دیر تک سراسیمہ ہو کر اس سوچ میں ڈوب جاتا ہوں‘ کہ زیر بحث مسئلہ سے متعلقہ پورے کے پورے مواد کو آپ نے کیسے سمیٹ لیا‘ اور یہ عجیب وغریب نکات ایسے بعید مقامات سے کس طرح نکال لائے‘ جن کے بارے میں کسی کو وہم وگمان بھی نہیں ہو
۲۳
سکتا تھا کہ وہاں اس موضوع سے متعلقہ کوئی چیز مل سکے گی؟ اس موقع پر جی چاہتا ہے کہ عربی شاعر کا وہی شعر دھراؤں جو امام غزالیؒ پڑھا کرتے تھے :
غزلت لهم غزلاً رقيقا فلم اجد لغزلی نساجاً فكسرت مغزلی
ترجمہ : ”جذبات عشق نے مجھ سے پکار کر کہا ذرا ٹھہرو! منزل محبوب یہی ہے۔ میں نے ان کے لئے ایسا باریک سوت کاتا کہ مجھے اس سوت کے بننے والا نہ ملا‘ پس میں نے اپنا چرخہ توڑ ڈالا“۔
نیز مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپکے حق میں یہ شعر پڑھوں :
ترجمہ : ”اور اگر کوئی کپڑا ۲۹ حرفوں کی بناوٹ سے بنا جائے وہ بھی آپ کی قامت سے کوتاہ ہوگا“۔
جس کسی ناقد بصیر محقق کو آپ کی کسی کتاب کے مطالعہ کا اتفاق ہو گا : وہ مجبور ہو گا کہ وہیں اپنی سواری ٹھہرا دے ‘ اپنا عصا ڈال دے اور یہ کہے :
نیز وہ کہے گا :
ترجمہ : ”کیا شاعروں نے کسی کھنڈر کو چھوڑا ہے (جس پر مرثیہ خوانی نہ کی ہو) یا میں نے منزل محبوب کو وہم و خیال کے بعد پہچانا ہے“۔
محقق کوثری ”مقالات (ص ۳۵۴) میں رقم طراز ہیں :
”مولانا الحبر (علامہ محمد انور شاہ) کشمیری رحمہ اللہ کی کتاب ”عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام“ میں اہل حق کے عقیدہ (حیات عیسیٰ) پر دلائل کتاب اللہ کے ہر پہلو کو بڑی شرح وتفصیل سے واضح کیا گیا ہے ، جو لوگ مزید دلائل معلوم کرنا چاہیں اس کی مراجعت فرمائیں“۔
۲۴
میں نے اس کتاب اور اس کے حواشی کے مآخذ شمار کئے تو صرف ان کتابوں کی تعداد تین سو نکلی جن سے براہ راست عبارتیں نقل کیں یا ان کے صفحات کا حوالہ دیا ہے اور اگر کوئی بحث محض ضمنی طور پر زیر بحث آجاتی ہے ، اس میں بھی کتابوں کے حوالے اس کثرت سے ملیں گے گویا آپ نے پوری عمر صرف اسی مسئلہ کی تحقیق میں صرف فرمائی ہو ، اگر کہیں اناجیل اربعہ ، عہد قدیم و عہد جدید اور ان کے شروح ، حواری وغیرہ سے یا کتب رد و مناظرہ سے نقل کی نوبت آئی ، تو کوئی کتاب ایسی نہیں ملے گی جس کا تذکرہ یہاں نہ آگیا ہو اور کوئی دقیق نکتہ ایسا نہیں رہے گا جسے آپ نے ذکر نہ کر دیا ہو۔
پھر اس سے زیادہ حیران کن امر یہ ہے کہ اگر کسی موضوع سے متعلق کچھ عبارتیں کسی کتاب میں متفرق جگہ بکھری ہوئی ہوں ، اس کے ضخیم مجلدات سے چن چن کر ان کو ایک جگہ جمع کرلیتے ہیں ، اور کسی کے لئے یہ گنجائش نہیں چھوڑتے کہ وہ اس کتاب سے اس مسئلہ پر کوئی مزید نقل پیش کرسکے ، یہ وجدی اور بستانی کی دائرۃ المعارف جیسی ضخیم کتابیں آپ کی نظر میں گویا ایک صفحہ ہے ، آپ نے ان دونوں کا حرفاً حرفاً مطالعہ کیا ، اور کسی موقع پر ان میں موضوع سے متعلق کوئی چیز موجود ہو تو اسے نقل کر دیتے ہیں یا ان کا حوالہ دے جاتے ہیں ، یہ فتح الباری ، فتوحات مکیہ اور اسی قسم کی ہزاروں صفحات پر پھیلی ہوئی ضخیم کتابوں میں موضوع سے متعلقہ کوئی چیز باقی نہیں چھوڑتے ، پھر ایسی کتابوں سے بھی بہترین نقول لے آتے ہیں ، جنہیں بظاہر موضوع سے کوئی تعلق نہیں ۔ حاصل یہ کہ ہر موضوع کے قریب و بعید مالہ وما علیہ کو پوری طرح سمیٹ لیتے ہیں ، یہ فوق العادت تجربہ ، بے مثال مہارت و فطانت ، اور بیدار ذہنی ، پھر یہ صبر آزما بحث و تفتیش ، پھر یہ محیط حافظہ کہ جو چیز ایک دفعہ نظر سے گذر جاتی ہے وہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجاتی ہے ، ان تمام امور سے آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے سبحان اللہ ! حق تعالیٰ فضائل و کمالات عطا کرنے والے ہیں ، جسے چاہیں اپنی رحمت سے نواز دیں ، واللہ ذو الفضل العظیم ۔
۲۵
پھر (بے نفسی کا یہ حال ہے کہ) اگر کسی ہم عصر نے کوئی بات لکھی ہو تو اسے نقل فرماتے ہیں یا اس کا حوالہ دیتے ہیں‘ اور پوری فراخ دلی سے اس کی تعریف فرماتے ہیں۔ اس میں ذرہ بخل و اخفا سے کام نہیں لیتے‘ اگر ان تمام امور کی مثالیں پیش کی جائیں تو بحث طویل ہو جائے گی‘ یوں بھی کتاب ہر صاحب نظر کے سامنے ہے‘ جو بھی فکر صحیح سے غور کرے گا وہ ان معروضات کی تصدیق کرے گا۔ والله یقول الحق وهو يهدي السبيل۔
شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ”حواشی تفسیریہ میں لکھتے ہیں:۔
”.... میں اہل علم کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہمارے مخدوم علامہ فقید النظیر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری (اطال اللہ بقاءہ) نے اپنے رسالہ عقیدۃ الاسلام میں جو علمی لعل و جواہر ودیعت کئے ہیں ان سے متمتع ہونے کی ہمت فرمائیں‘ میری نظر میں ایسی جامع کتاب اس موضوع پر نہیں لکھی گئی“
(حاشیہ ترجمہ قرآن مجید از شیخ الھند)
اور فتح الملہم شرح مسلم میں فرماتے ہیں :
”شیخ علامہ (حضرت مولانا) محمد انور شاہ (رحمہ اللہ) نے اپنی کتاب عقیدۃ الاسلام میں معنی توفی کی تحقیق اور حیات عیسیٰ علیہ السلام سے متعلقہ تمام مباحث کی اس قدر تفصیل فرمائی ہے جس پر اضافہ ممکن نہیں‘ اہل علم اس کی مراجعت کریں“۔
(ص ۳۰۲ ج ۱)
شیخ محقق محمد زاہد کوثریؒ ”اس کتاب کے‘ نیز التصریح بما تواتر فی نزول المسیح کے بے حد مداح تھے۔ میں نے یہ دونوں کتابیں ان کی خدمت میں پیش کی تھیں‘ التصریح ان سے کہیں گم ہو گئی‘ تو قاہرہ سے مجھے خط لکھا میں ان دنوں بمبئی کے علاقے میں قیام پذیر تھا‘ چنانچہ دوبارہ بذریعہ ڈاک ان کی خدمت میں بھیجی گئی۔
شیخ کوثری مقالات (ص ۳۵۵) میں لکھتے ہیں :
”..... مولانا (محمد انور شاہ) محدث کشمیری (نور اللہ مرقدہ) کی کتاب التصریح بما تواتر فی نزول المسیح میں ستر مرفوع احادیث ذکر کی گئی ۲۶
ہیں جن میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کا بیان ہے۔“
نیز مقالات (ص ۳۵۹) میں تحریر فرماتے ہیں:
”اللہ سبحانہ علامہ فقیہ اسلام محدث محجاج شیخ محمد انور کشمیری کو جنت کے بالاخانوں میں بلند مراتب عطا فرمائے اور انہیں حریم دین کی حفاظت کرنے والوں کے شایان شان جزائے خیر عطا فرمائے۔ انہوں نے اپنے پرزور اور قطعی دلائل سے قادیانیت کا قلع قمع کیا اور متعدد زبانوں میں رد قادیانیت پر عمدہ کتابیں لکھ کر ہندوستان کے مداہنت شعار تجدد پسندوں کے شر کو پھیلنے سے روک دیا‘ انہوں نے اپنی کتاب اکفار الملحدین میں ان کی اور ان جیسے لوگوں کی تکفیر کا مسئلہ صاف کر دیا“۔
ضمنی ابحاث:
حضرت امام العصرؒ نے عقیدۃ الاسلام میں مناسبت مقام سے ضمنی طور پر چند نادر بحثیں بھی ذکر فرمائی ہیں، جو بہت اہم تھیں، یا جن کا شمار نہایت پیچیدہ مسائل میں ہوتا تھا۔ مثلاً یاجوج ماجوج کی تعیین، ذی القرنین کی بحث اور سد یاجوج کی تحقیق، یہ ایک عجیب و غریب تاریخی مقالہ ہے جو اس کتاب کے خصائص میں سے ہے یا یہ تحقیق کہ کنایہ حقیقت ہے یا مجاز؟ یہ مسئلہ علم بلاغت کے اہم مسائل میں سے ایک ہے۔ آپ اس کتاب میں فن بلاغت کی چوٹی کی کتابوں، اور اس فن کے بلند پایہ اور آپ ﷺ کی سیادت و خاتمیت کا اعلان..... یا مثلاً دنیا کی حقیقت اور حدوث عالم کی تحقیق، اور یہ تحقیق کہ اس عالم میں علت و معلول کا سلسلہ نہیں، بلکہ سبب و مسبب اور شرط و مشروط کا سلسلہ ہے۔
تمام عالم حق تعالیٰ شانہ کی صنع قدرت کا کرشمہ ہے اور عالم اور صانع عالم کے مابین وہی وسائط ہیں جو فعل اور فاعل کے مابین ہوتے ہیں، یہ تمام اسباب و مسببات حادث اور مخلوق ہیں، وكان الله ولم يكن معه شيئ..... نیز معراج النبی
۲۷
صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک قصیدہ بھی اس کتاب میں شامل ہے جس میں آپ نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ شب اسراء میں دیدار خداوندی سے مشرف ہوئے۔۔۔۔ نیز آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اعمال کی پیشی کا مسئلہ اور یہ تحقیق کہ یہ عرض‘ عرض اجمالی ہے‘ جیسا کہ ملائکہ پر علم اسما اجمالاً القا کیا گیا‘ یہ علم محیط نہیں ...... نیز آپ نے اپنے فارسی رسالہ خاتم النبیین میں آنحضرت ﷺ کے جو خصائص بیان فرمائے تھے‘ عقیدۃ الاسلام میں ان مضامین کا بڑا عمدہ خلاصہ ”تفسیر آیت ختم نبوت“ کے عنوان سے پیش فرما دیا..... الغرض اسی قسم کے دیگر بیشمار عجیب مباحث اور بیش قیمت فوائد پر یہ کتاب مشتمل ہے جن کی تحصیل کے لئے دور دراز کا سفر کیا جاتا تھا۔
مرزا قادیانی کے کفریات
”عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام“ میں اس عقیدہ کا اثبات ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہوں گے‘ امت اسلامیہ کا یہ قطعی عقیدہ ہے‘ جو روز اول سے آج تک مسلم ومتواتر چلا آرہا ہے‘ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کا انکار کیا اور کہا کہ وہ آسمان سے نازل نہیں ہوں گے‘ اسی پر بس نہیں‘ بلکہ اس نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نعوذ باللہ سولی پر لٹکایا گیا (جس سے وہ زندہ اتار لئے گئے‘ ایک حجرہ نما قبر میں ان کو رکھا گیا‘ وہاں ان کا علاج ہوتا رہا‘ بالآخر وہ کشمیر آکر فوت ہو گئے) اور یہ کہ وہ بن باپ پیدا نہیں ہوئے‘ بلکہ یوسف نجار کے بیٹے تھے۔
مرزائے قادیان نے سیدنا مسیح علیہ السلام کے حق میں سب وشتم اور توہین وتذلیل کے ایسے ناشائستہ اور گھناؤنے الفاظ استعمال کئے ہیں جن کے سننے سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور دل وجگر شق ہو جاتے ہیں‘ اس طرح صرف عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق مرزائے قادیان کے کفر والحاد اور زندقہ وارتداد کے متعدد ۲۸
وجوہ جمع ہو گئے ، جن کی علما نے وضاحت کی ہے اور اسے منہ توڑ جواب دیا اس کے دوسرے کفریات مزید برآں رہے ، مثلاً :
- نبوت ورسالت کا دعویٰ ،
- وحی وشریعت کے نزول کا دعویٰ ،
- نصوص شرعیہ قرآن وسنت کی تحریف ،
- ضروریات دین کا انکار ،
- عقیدہ ختم نبوت کا انکار ،
- تمام انبیا و مرسلین سے خود کے افضل ہونے کا دعویٰ ،
- پھر سید المرسلین ﷺ سے بھی برتری کا دعویٰ ،
- اپنے لئے معجزات کا دعویٰ ،
- اپنے معجزات کو تمام انبیاء و مرسلین کے معجزوں سے زیادہ اور فائق بتلانا اور
آیات قرآنیہ کو اپنی ذات پر چسپاں کرنا، وغیرہ وغیرہ ۔
ان صریح کفریات کے ہوتے ہوئے اس کا کفر کسی سے مخفی نہیں رہ سکتا تھا ، لیکن اس نے اپنے کفر و الحاد اور بے ایمانی وبے دینی کے مکروہ چہرہ پر پردہ ڈالنا چاہا اور کم فہم کے نادانوں کو شکار کرنے اور علمائے کرام کی تنقید سے بچنے کے لئے چند علمی مسائل میں بحث چھیڑ دی اور اسلام کے وہ قطعی عقائد جو تیرہ سو سال سے امت محمدیہ میں متواتر و مسلم چلے آرہے تھے ، ان میں طرح طرح کی تاویلیں شروع کیں ، جیسا کہ ہر زمانے میں بے دین ملحدوں کا یہی وطیرہ رہا ہے۔ اس لئے علمائے مجاہدین کے لئے دین کا دفاع اور اسلامی عقائد کی حفاظت ناگزیر ہوئی ، ان علمی حقائق کی بحث وتنقیح کے لئے جو سب سے بڑی شخصیت میدان میں آئی وہ ہمارے شیخ امام العصر مصنف عقیدۃ الاسلام کی گرانقدر ہستی تھی ، آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول کے موضوع پر مستقل کتاب ”عقیدۃ الاسلام“ تحریر فرمائی ، جس میں قرآن حکیم کے دلائل شرعیہ ، احادیث متواترہ اور صحابہ و تابعین ، مفسرین ومحدثین اور فقہا
۲۹
و متکلمین کے اجماع سے نزول عیسیٰ علیہ السلام کو ثابت کیا اور یہ واضح کیا کہ یہ عقیدہ ایسا قطعی ویقینی ہے جس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں، بلکہ یہ عقیدہ ان ضروریات دین میں داخل ہے جن کا منکر اور متأول دونوں کافر ہیں اور یہ کہ حق تعالیٰ شانہ کی قدرت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول جیسے تمام خوارق کو محیط ہے، اور یہ کہ قرب قیامت تو خود ہی خوارق الہیہ کے ظہور کا زمانہ ہے اس لئے اس وقت یہ خرق عادت، معجزہ، ظاہر ہونا بالکل قرین عقل وقیاس ہے۔
حکمت نزول مسیح علیہ السلام :
تحیۃ الاسلام (حاشیہ عقیدۃ الاسلام) میں فرماتے ہیں : ”جاننا چاہئے کہ اس عالم میں بھی آخرت کے کچھ نمونے موجود ہیں ...... اور قرب قیامت کا زمانہ تو خرق عادت کا وقت ہے اور نبوت، دجل وفریب کے مقابلہ اور مقاومت کے لئے ہے، جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ: ”اگر وہ (دجال) میری موجودگی میں آیا تو اس کے مقابلہ کے لئے میں خود موجود ہوں“ اور عیسیٰ علیہ السلام تو درحقیقت اس باب میں دجال کی بالکل ضد ہیں، پس جب دنیا ہی میں آخرت کے نمونے موجود ہیں تو قیامت کے آنے کو کیوں مستبعد سمجھا جائے؟ اور علامات قیامت کا کیوں انکار کیا جائے؟ اور جب ویسے بھی دنیا میں دجل، سحر، شعبدہ بازی جیسے اعمال بہرحال پائے جاتے ہیں تو ان کے مقابلے میں معجزات حسیّہ کا وجود بھی ضروری ہے، کیونکہ سنت اللہ یونہی جاری ہے اور چونکہ دجال، حضرت مسیح علیہ السلام کا نام چرالے گا (اور خود مسیح بن بیٹھے گا) تو اس کے مقابلہ میں اس کی تردید وتکذیب کی غرض سے مسیح علیہ السلام کا نزول ضروری ہوا، اور چونکہ مسیح علیہ السلام خود من جملہ ارواح کے ہیں اور نمونہ آخرت ہیں اس لئے ان کی حیات کا طویل ہونا بھی (کوئی مستبعد چیز نہیں بلکہ) سنت اللہ ہے۔“۔
(تحیۃ الاسلام ص ۸)
۳۰
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ عادت اللہ ہمیشہ سے یوں ہی جاری ہے کہ نبوت کے ذریعہ ہر دور کے لوگوں پر حجت قائم ہوتی رہی ہے، اور انبیا علیہم السلام کے ہاتھوں خوارق الہیہ کا ظہور ہوتا رہا ہے، تاکہ علی رؤس الاشہاد یہ واضح ہو سکے کہ یہ اسباب عادیہ خواہ کتنی ہی حیرت انگیز ترقی کر جائیں لیکن حق تعالیٰ کی قوت قاہرہ بہر صورت ان سب سے بڑھ کر ہے، وہ پورے نظام کائنات پر غالب و قاہر ہے، اس کی قوت قاہرہ، مخلوق کی ہر قوت سے بڑھ کر ہے، اور اس کی قدرت خارقہ ہر قدرت پر غالب و برتر ہے۔
پس جب عہد حاضر کی اس مادیت کو یہ ارتقا میسر ہے جس کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں، اور جب عالم میں قوائے طبعیہ کی تسخیر سے ایسے ایسے عجائبات ظہور پذیر ہو رہے ہیں جن سے فکر و نظر حیران و مبہوت ہے، اور جب دجالیت اور فریب کاری کا عالم یہ ہے کہ مادہ پرست قومیں ان ہی وسائل طبعیہ اور حیرت افزا ترقیات کو، قوت ربانیہ اور خوارق الہیہ کے انکار کا ذریعہ بنا رہی ہیں، تو پھر کیا بعید ہے کہ اس دور ترقی کی انتہا ایسے دجال کی نشاۃ و ظہور پر ہو جو نوامیس الہیہ کا دشمن ہو گا، جو اپنی خدائی منوانے کے لئے عجائبات مادیت کو پیش کریگا، جو اپنے دجل و تلبیس سے ان ہی مادی عجائبات کے بل بوتے پر لوگوں کے دین و ایمان کو برباد کریگا اور جو خالق علیم، قادر حکیم، مالک زمین و آسمان پر ایمان لانے کے بجائے خود اپنی خدائی کے منوانے پر لوگوں کو مجبور کرے گا جیسا کہ احادیث نبویہ میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے------ یقیناً اس وقت (حق تعالیٰ کی قدرت خارقہ اور قوت قاہرہ ظہور پذیر ہوگی) عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور آپ کے دست مبارک پر ایسے معجزات کا ظہور ہو گا جن کا مقابلہ کرنے سے انسانی عقل اور مادی ارتقا عاجز ہوں گے، یوں اللہ تعالیٰ کی حجت ایک بار پھر قائم ہو جائے گی جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے دور اول میں حجتہ اللہ قائم کی تھی اور باذن اللہ مردوں کو زندہ، مادر زاد اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو شفایاب کر کے اس زمانے کے حاذق طبیبوں کو عاجز کر دیا تھا، اسی طرح وہ اپنے
۳۱
دور ثانی میں باذن الہی حجۃ اللہ قائم کریں گے، تاکہ وہ لوگ بھی قدرت الہیہ کے سامنے سپر ڈال دینے پر مجبور ہو جائیں جو مقناطیسی عجائبات، ایٹمی ایجادات، برق و باد کی دل فریبیوں، اور مادیت کی رنگینیوں پر ایمان لا کر اپنا وقت ضائع اور اپنا دین برباد کرتے رہے، اور جن لوگوں نے تسخیر مادہ کے ذریعہ فضاؤں میں اڑنے، تباہ کن آلات کے بنانے اور بحر و بر کو مسخر کرنے ہی کو معراج کمال سمجھ لیا تھا اور ان تمام امور کو بر و بحر میں فساد برپا کرنے کا ذریعہ بنا لیا تھا۔
الغرض قرآن وحدیث کی تصریحات کے موجب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو اتنے طاقتور حسی معجزات دیئے جائیں گے، جن کے مقابلہ میں سائنس کی تمام کرشمہ سازیاں بچوں کا کھیل بن کر رہ جائیں گی، تاکہ اللہ کی حجت ایکبار پھر پوری ہو جائے، اور تمام اقوام عالم اس کے سامنے سپر انداز ہو جائیں۔
معجزات، اسباب وعلل سے بالاتر ہوتے ہیں :
یہ اللہ تعالیٰ کی عجیب حکمت ہے کہ انبیا کرام علیہم السلام کے ہاتھ سے اسباب عادیہ کے بغیر خوارق الہیہ کو ظاہر کیا جاتا ہے، جیسا کہ تمام انبیا کرام علیہم السلام کی تاریخ اس پر شاہد ہے، اور ہر اہل ملت کے نزدیک مسلم ہے۔ مزید برآں یہ کہ ہر نبی کے معجزات میں لطیف اشارہ اس نوع ترقی کی طرف ہوتا ہے جو مادی اسباب و وسائل کے دائرے میں اختراع و ایجاد کے ذریعہ اس امت کو حاصل ہوگی، حضرت شیخ امام العصرؒ نے ضرب الخاتم علی حدوث العالم میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے :
ترجمہ : ”جو امور کہ انبیا علیہم السلام کے ہاتھ سے بغیر واسطۂ اسباب صادر ہوں یہ انبیا کرام علیہم السلام کا خرق عادت معجزہ اور اعجاز نبوت کہلاتے ہیں، اگرچہ در حقیقت یہ ساری کائنات اعجاز ہی اعجاز ہے“۔
ترجمہ : ”اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ معجزات انبیا اس ترقی کی طرف پیش ۳۲
تدریجی ہوتی ہے جو مخلوق کو مدتہائے مدید کے بعد (اسباب کے دائرے میں رہ کر) نصیب ہوگی“۔
آج سائنسی ارتقا کی بدولت جو چیزیں ہمارے گردوپیش میں پھیلی ہوئی ہیں‘ مثلاً برقی مشینیں ہیں‘ کہربائی آلات ہیں‘ ٹیلی فون ہے‘ تار ہے‘ ٹیلی ویژن ہے‘ طیارے ہیں‘ مصنوعی خلائی سیارے ہیں‘ رات دن قوائے طبعیہ کو مسخر کیا جارہا ہے‘ فضاؤں پر کمندیں ڈالی جارہی ہیں‘ سمندروں کے جگر شق کئے جارہے ہیں‘ صحراؤں کے طبعی دفینے تلاش کئے جارہے ہیں۔ ذرہ کا جگر چیر کر ایٹمی توانائی حاصل کی جا رہی ہے اور ہلاکت آفرین ایٹمی ہتھیار ایجاد کئے جارہے ہیں۔ الغرض یہ اور اس قسم کی تمام چیزیں جنہیں آج سائنسی ترقی کا کرشمہ قرار دیا جارہا ہے‘ انبیاء علیہم السلام کے معجزات میں یہ تمام امور آپ کو کامل ترین صورت میں ملیں گے۔ فرق یہ ہے کہ یہاں مادی اسباب و وسائل کا واسطہ ہے‘ اور وہاں بدون توسط اسباب‘ قدرت الٰہیہ کا اعجاز ظاہر ہوتا ہے۔ پھر یہاں برسا برس کی ٹھوکریں کھانے‘ تجربات کرنے اور اربوں کی رقمیں ضائع کرنے کے بعد کسی قدر کامیابی نصیب ہوتی ہے‘ اور وہاں بغیر کسی سابقہ تجربے کے چشم زدن میں قدرت قاہرہ کی اعجاز نمائی ظاہر ہوتی ہے‘ یہاں اس بحث کی مزید تفصیل کی گنجائش نہیں۔
قتل دجال کیلئے مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کا راز:
پھر جاننا چاہئے کہ دجال لعین مسیح ضلالت‘ ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسیح ہدایت‘ ہیں‘ یہود کی یہ بدقسمتی تھی کہ انہوں نے مسیح ہدایت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی تو مخالفت کی اور آپ کے قتل و صلب کی سازش کی‘ (مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی اور انہیں آسمان پر اٹھا لیا) لیکن وہ مسیح ضلالت دجال کی پیروی کریں گے‘ جو خود بھی یہودی ہوگا‘ اس لئے حکمت الٰہیہ کا تقاضا تھا کہ مسیح ہدایت‘ مسیح ضلالت کو قتل کرنے کے لئے نزول فرمائیں اور ان یہود کو بھی قتل کریں جنہوں نے
۳۳۳ کریں جنہوں نے
۳۳
مسیح برحق مسیح بن مریم علیہ السلام کی تو مخالفت اور عداوت کی اور جھوٹے مسیح دجال کی پیروی کرلی، اسی کے ساتھ ساتھ ان عقائد باطلہ کی بھی اصلاح کریں جو عیسائیت میں گھس آئے تھے اور صلیب کو توڑ ڈالیں ۔
اور چونکہ دجال لعین مسیحیت کا لبادہ اوڑھ کر خود مسیح کہلائے گا، الوہیت کا دعویٰ کریگا، خباثت اور ضلالت کی آخری حد پار کر جائے گا، قوائے طبعیہ پر حکمرانی کرے گا، مُردوں کو زندہ کرکے مسیح علیہ السلام کے منصب میں تلبیس کرے گا، علاوہ ازیں شعبدہ بازیوں، جادو کے کرشموں اور حیوانات وجمادات کی تسخیر کے ذریعہ لوگوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالے گا، اس لئے یہ بات بالکل قرین قیاس تھی کہ قتل دجال کے لئے ایک ایسی شخصیت کو لایا جائے جو تسخیری کمالات میں نہایت بلند درجہ پر فائز اور منصب نبوت سے سرفراز ہو، ایسی برگزیدہ شخصیت ہی قتل دجال پر قادر ہو سکتی اور دجالی کرشمہ سازیوں کا مقابلہ کرسکتی تھی، یہ شخصیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہوگی ۔
پھر چونکہ عیسیٰ علیہ السلام روحانیت میں اس قدر بلند مقام رکھتے ہیں کہ انہیں ”روح اللہ“ کے لقب سے مشرف کیا گیا، وہ حق تعالیٰ کے ”کلمہ کن“ سے پیدا ہوئے اور وہ بحکم الٰہی اپنی مسیحائی سے مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے، اس لئے وہ بجاطور پر اس کے مستحق تھے کہ آسمان میں طویل مدت تک زندہ رہ کر نزول اجلال فرمائیں، تاکہ ان کے دست مبارک سے ایسے خوارق الٰہیہ کا ظہور ہو جو ”دجال اکبر“ اور عام دجالوں کے ہاتھ سے ظاہر ہونے والے تمام عجائبات سے بدرجہا فائق ہوں، تاکہ تمام لوگوں پر ”حجت الٰہیہ“ قائم ہو جائے ۔ فللہ الحجة البالغہ-
اس موقعہ پر شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے فتح الملہم (ص ۲۲۹ ج ۱) میں حجتہ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے کلام کی وضاحت کرتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے ، نیز حافظ ابن تیمیہؒ کی کتاب ”الجواب الصحیح“ اور حافظ ابن قیمؒ کی کتاب ”ھدایۃ الحیاریٰ کی منتخب عبارتیں جو حضرت شیخ امام العصرؒ نے عقیدۃ الاسلام میں نقل کی
۴۴
ہیں، ان کا مطالعہ کیا جائے، نیز عقیدۃ الاسلام ”فصل فی الحکمۃ فی نزولہ“ (ص ۱۲ تا ۴۷) کا مطالعہ بھی ضروری ہے (۱)۔
عقیدۂ نزول عیسیٰ علیہ السلام، اجماع امت کی روشنی میں:
خلاصہ کلام یہ کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ وہ اجماعی عقیدہ ہے جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے سے آج تک تمام اہل حق کا اتفاق چلا آیا ہے، راجح تفسیر کے مطابق قرآن عزیز نے اس کی تصریح کی ہے، اور آنحضرت ﷺ نے احادیث متواترہ میں اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے، نزول عیسیٰ علیہ السلام پر احادیث کے متواتر ہونے کی تصریح امام ابو جعفر ابن جریر طبری، ابوالحسن آبری، ابن عطیہ مغربی، ابن رشد الکبیر، قرطبی، ابوحیان، ابن کثیر، ابن حجر وغیرہ ائمہ دین، اور حفاظ حدیث نے کی ہے۔ جیسا کہ شیخ محقق علامہ کوثریؒ نے اپنے رسالہ ”نظرة عابرة فی مزاعم من ینکر نزول عیسیٰ علیہ السلام قبل الآخرۃ“ (ص ۱۰) میں نقل کیا ہے۔
شیخ کوثریؒ اسی رسالہ کے ص ۷ پر فرماتے ہیں: ”ایک طرف تمام صحابہؓ و تابعینؒ، فقہاءؒ ومحدثینؒ اور مفسرینؒ ومتکلمینؒ ہیں، جن کی تائید میں کتاب اللہ، سنت رسول اللہ اور اجماع امت موجود ہے، دوسری طرف یہ متجاہل ہے جس کی تائید میں لے دے کر قادیان کا مرزائے کذاب ہے یا کسی زمانہ میں طرہ کا فلسفی تھا اور بس“۔
ص ۱۹ پر فرماتے ہیں: ”کتاب اللہ، سنت متواترہ اور اجماع امت عقیدۂ نزول مسیح علیہ السلام پر متفق ہیں“۔
ص ۲۶ پر کتاب اللہ کی روشنی میں حیات ونزول مسیح علیہ السلام پر طویل بحث
(۱) اردو دان حضرات، ترجمان السنۃ (جلد ۳ ص ۵۴۱ تا ۵۹۳) مؤلفہ مولانا بدر عالمؒ کا مطالعہ فرمائیں، مولانا بدر عالم صاحبؒ کا یہ مضمون ”نزول عیسیٰ علیہ السلام“ کے نام سے الگ کتابی شکل میں بھی شائع ہو گیا ہے، قابل مطالعہ ہے۔ مترجم
۳۵
کے بعد فرماتے ہیں : ”اور یہ بھی واضح ہوا کہ تنہا قرآنی نصوص ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے اور آخری زمانے میں ان کے نازل ہونے کو قطعی طور پر ثابت کرتے ہیں‘ کیونکہ ایسے خیالی احتمالات کا کوئی اعتبار نہیں‘ جو کسی دلیل پر مبنی نہ ہوں‘ پھر جبکہ قرآنی تصریحات کے ساتھ احادیث متواترہ بھی موجود ہوں اور خلفاً عن سلف تمام امت اس عقیدہ کی قائل چلی آتی ہو‘ اور دور قدیم سے لیکر آج تک اس عقیدہ کو کتب عقائد میں درج کیا جاتا رہا ہو تو اس کی قطعیت میں کیا شبہ باقی رہ سکتا ہے؟ فماذا بعد الحق الا الضلال (اب حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا رکھا ہے)“۔
ص ۳۷ پر فرماتے ہیں : ”اور ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ قرآن حکیم کے نصوص قطعیہ رفع ونزول پر دلالت کرتے ہیں‘ اور ہر زمانے میں ائمہ دین‘ علمائے امت‘ بالخصوص مفسرین قرآنی آیات کی یہی مراد سمجھتے چلے آتے ہیں“۔
ص ۳۸ پر فرماتے ہیں : ”پس جو شخص رفع ونزول کا انکار کرتا ہے‘ وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہے‘ کیونکہ وہ ہوائے نفس کی رو میں بہ کر کتاب وسنت کو پشت انداز کرتا ہے‘ اور ملت اسلامیہ کے اس قطعی عقیدہ سے روگردانی کرتا ہے جو کتاب وسنت سے ثابت ہے“۔
ص ۴۰ پر فرماتے ہیں : ”اطراف حدیث پر نظر کرنے کے بعد نزول مسیح کا انکار بیحد خطرناک ہے۔ اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ رفع ونزول کے مسئلہ میں احادیث متواترہ کا وجود قطعی ہے اور بزدویؒ نے ”بحث متواتر“ کے آخر میں تصریح کی ہے کہ ”متواتر کا منکر اور مخالف کافر ہے“۔ شیخ بزدویؒ نے متواتر کی مثال میں
۳۶
”قرآن حکیم، نماز پنجگانہ، تعداد رکعات، اور مقادیر زکوٰۃ“ جیسی چیزوں کا ذکر کیا ہے اور کتب حدیث میں نزول عیسیٰ ؑ کا ذکر، مقادیر زکوٰۃ سے کسی طرح کم نہیں (پھر جب مقادیر زکوٰۃ کا منکر کافر ہے تو نزول عیسیٰ ؑ کا منکر کیوں کافر نہ ہو گا؟)“۔
ص ۴۷ پر فرماتے ہیں :
”نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ صرف کسی ایک مذہب کا عقیدہ نہیں، بلکہ یہ ”اجماعی عقیدہ“ ہے، کوئی مذہب ایسا نہیں ملے گا جو اس کا قائل نہ ہو، چنانچہ فقہ اکبر بروایت حماد، فقہ اوسط بروایت ابو مطیع، الوصیۃ بروایت ابی یوسف اور عقیدہ طحاوی سے واضح ہے، کہ امام ابو حنیفہؒ اور آپ کے تمام متبعین عیسیٰ ؑ کی تشریف آوری کا عقیدہ رکھتے ہیں.... نصف امت تو یہی ہوئی..... اسی طرح امام مالکؒ اور تمام مالکیہ، اور تمام شافعیہ سب کے سب اس عقیدہ پر متفق ہیں، امام احمد بن حنبلؒ نے عقائد اہل سنت کے بیان میں جو چند خطوط اپنے شاگردوں کے نام لکھے تھے ان سب میں یہ عقیدہ مذکور ہے، یہ رسائل اہل علم کے یہاں صحیح سندوں سے ثابت اور مناقب احمد لابن جوزی اور طبقات حنابلہ لابی یعلیٰ میں مدون ہیں ۔ اسی طرح ظاہریہ بھی نزول عیسیٰ ؑ کے قائل ہیں، چنانچہ ابن حزم کی تصریح، کتاب الفصل ص ۲۴۹ ج ۳ میں اور المحلی ص ۹ ج ۱، ۱۹۱ ج ۷ میں موجود ہے، بلکہ معتزلہ بھی اس کے قائل ہیں جیسا کہ علامہ زمخشری کے کلام سے واضح ہے، اسی طرح شیعہ بھی اس کے قائل ہیں ۔ اب ایسا مسئلہ جس کی دلیل تمام صحاح، تمام سنن اور تمام مسانید میں موجود ہو اور تمام اسلامی فرقے جس کے قائل ہوں اس میں مذہبی تعصب کا گمان کیسے ہو سکتا ہے؟“۔
ص ۴۹ پر فرماتے ہیں :
”مہدی ؑ، دجال اور مسیح ؑ کے بارے میں احادیث کا تواتر
۳۷
ایسی چیز ہے جس میں حدیث کے معمولی طالب علم کے لئے بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں“۔
ص ۵۷ پر فرماتے ہیں :
”صدر اول سے لیکر آج تک کتب عقائد کا مسئلہ رفع ونزول پر متفق ہونا ایسی چیز ہے جو اس عقیدہ پر اجماع کے منعقد ہونے میں ادنیٰ شک و شبہ کی گنجائش نہیں چھوڑتی“۔
حافظ ابن حزم مراتب الاجماع میں لکھتے ہیں :۔
”اجماع، ملت حنیفیہ کے قواعد میں سے ایک عظیم الشان قاعدہ ہے جس کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اس کی پناہ لی جاتی ہے اور اس کے مخالف کی تکفیر کی جاتی ہے“۔
شیخ کوثری ”الاشفاق“ اور ”النظره“ میں فرماتے ہیں :
”اجماع کے حجت شرعیہ ہونے پر تمام فقہائے امت متفق ہیں اور اسے (کتاب وسنت کے بعد) تیسری دلیل شرعی قرار دیتے ہیں، حتیٰ کہ ظاہریہ بھی .... فقہ سے بُعد کے باوجود .... اجماع صحابہ کو حجت مانتے ہیں، بلکہ بہت سے علماء نے یہاں تک تصریح کی ہے کہ مخالف اجماع کافر ہے ..... اور دلائل سے یہ ثابت ہے کہ یہ امت ، من حیث المجموع ، خطا سے محفوظ ہے ، شہداء علی الناس ہے اور خیر امت ہے جو انسانوں (کی خیر وفلاح) کے لئے لائی گئی ہے ، معروف کا حکم کرتی ہے اور منکر سے روکتی ہے ، ان کا پیروکار ، انابت الی اللہ کے راستے پر ہے، ان کا مخالف اہل ایمان کی راہ سے برگشتہ اور تمام علمائے دین کا مخالف ہے،
(چند سطر بعد لکھتے ہیں) جب اہل علم ، اجماع کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد ان ہی حضرات کا اتفاق ہوتا ہے جو مرتبۂ اجتہاد پر فائز ہوں، نیز وہ ورع وتقویٰ سے موصوف ہوں، جو انہیں محارم اللہ سے روک سکے، تاکہ ان کے حق میں ”لوگوں پر گواہ“ کا مفہوم صادق آئے، اس لئے جن
۳۸
لوگوں کا مرتبہ اجتہاد پر فائز ہونا علما کے نزدیک مسلم نہیں ، مسئلہ اجماع میں ان کا کلام قابل التفات نہیں خواہ وہ صالح اور پرہیز گار بھی ہوں“۔
القنطرہ کے ص ۶۰ پر فرماتے ہیں :-
”اجماع کے معنی یہ نہیں کہ ہر مسئلہ کے لئے ایک لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ناموں پر مشتمل کئی کئی رجسٹر مرتب کئے جائیں اور پھر ہر صحابی سے روایت ذکر کی جائے، بلکہ صحت اجماع کے لئے اتنا کافی ہے کہ مجتہدین صحابہ ؓ ، جو تقریباً بیس ہیں ، سے صحیح روایت موجود ہو ، اور ان میں سے کسی کا اختلاف ثابت نہ ہو، بلکہ بعض مقامات پر ایک دو صحابہ رضی اللہ عنہم کی مخالفت بھی صحت اجماع کے لئے مضر نہیں ہوتی، یہی صورت عہد تابعینؒ اور تبع تابعینؒ میں سمجھنی چاہئے“۔
ص ۶۲ - ۶۳ پر فرماتے ہیں :
”نزول عیسیٰ ؑ پر تیس صحابہ کرام کی تصریح اور ان کے آثار موقوفہ علامہ (محمد انور شاہ) کشمیری ؒ کی کتاب ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ میں موجود ہیں اور کسی ایک صحابی سے اس کے خلاف ایک حرف بھی منقول نہیں۔ پس اگر ایسا مسئلہ بھی اجماعی نہیں، تو کہنا چاہئے کہ دنیا میں کوئی اجماعی مسئلہ ہی موجود نہیں“۔
شیخ کوثری ؒ علامہ تفتازانیؒ سے نقل کرتے ہیں کہ :
”نقل کبھی ظنی ہوتی ہے تو اجماع سے قطعی بن جاتی ہے“۔
الغرض نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ قرآن حکیم ، سنت متواترہ اور چودہ سو سالہ امت کے قطعی اجماع کی روشنی میں آفتاب نصف النہار سے زیادہ روشن ہے ، احادیث نبویہ میں نزول عیسیٰ کے مسئلہ پر جس قدر حلفیہ تاکیدات فرمائی گئی ہیں اس کی نظیر کسی دوسرے مسئلے میں نظر نہیں آتی ہے ، ان تمام تاکیدات کا منشا یہ ہے ، کہ یہ مسئلہ عام لوگوں کے لئے محل حیرت و تعجب ، بلکہ بعض نادانوں کے لئے باعث رد و انکار ہوگا ، چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں :
۳۹
لینزلن ابن مریم حكماً عادلاً ، فلیکسرن الصلیب ، ولیقتلن الخنزیر ، ولیضعن الجزیۃ ، ولتترکن القلاص فلا یسعی علیہا ، ولتذہبن الشحناء والتباغض والتحاسد ، ولیدعون الی المال فلا یقبلہ احد .
(صحیح مسلم ص ۸۷ ج ۱- مسند احمد ص ۴۹۰ ج ۲)
ترجمہ : ضرور بالضرور ایسا ہو گا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے، پس وہ ضرور بالضرور صلیب کو توڑ ڈالیں گے، اور ضرور بالضرور خنزیر کو قتل کریں گے، اور ضرور بالضرور جزیہ کو موقوف کر دیں گے، اور ضرور بالضرور (ان کے زمانے میں) جوان اونٹنیوں کو چھوڑ دیا جائے گا، پس ان پر سواری نہ ہوگی، اور ضرور بالضرور لوگوں کے درمیان باہمی کینہ بغض اور حسد جاتا رہے گا اور یقیناً وہ لوگوں کو مال کی طرف بلائیں گے مگر کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔
(حدیث کے ہر فقرہ پر تاکیدات ملاحظہ ہوں) یہ مسند احمد اور صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں، اور صحیح بخاری میں یہ الفاظ ہیں:
"والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم الخ۔"
ترجمہ : اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ضرور بالضرور تم میں عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے"۔ الخ
(صحیح بخاری ص ۴۹۰ ج ۱)
پھر ان حلفی تاکیدات پر بس نہیں، بلکہ احادیث نبویہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام، کنیت، نسب، والدہ کا نام، نانے کا نام، والدہ ماجدہ کے اوصاف، عیسیٰ علیہ السلام کی صورت، سیرت، رنگ، قد و قامت، بالوں کا رنگ، بالوں کی کیفیت، بالوں کا طول وغیرہ وغیرہ سو سے زائد صفات کی تصریح کی گئی ہے، جیسا کہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ اور دوسرے حضرات نے ان تمام اوصاف کو جمع کر دیا ہے۔
ان تمام اوصاف کو سامنے رکھئے تو ہر قسم کے شک وشبہ کی جڑ کٹ جاتی ہے،
ہم
مسئلہ نزول میں ہر قسم کی تاویل و مجاز اور تمثیل کا سد باب ہو جاتا ہے اور اس باب میں کسی کے لئے زیغ و الحاد یا انکار و تحریف کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی ۔ آیت کریمہ ”وانہ لعلم للساعة فلا تمترن بھا“ اپنی تاکیدات بلیغہ میں بالکل حدیث نبوی کے ہمرنگ ہے ، واللہ یقول الحق وهو یھدی السبیل .
عقیدہ نزول مسیح ؑ سے انکار کیوں؟
گزشتہ بیان سے واضح ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا ثبوت ناقابل تردید حقیقت ہے ، قرآن کریم نے اس کی تصریح کی ہے ، احادیث متواترہ قطعیہ نے اس کی شہادت دی ہے ، اور تمام امت محمدیہ نے اس پر اجماعی تصدیق کی مہر ثبت کی ہے ، لہٰذا اس عقیدہ کا انکار یا تو کھلی جہالت اور واضح الحاد ہے ، یا اس کا منشا وہ خیالی و وہمی استبعاد ہے ، جس پر عقل صریح کی کوئی سند نہیں ، یہ استبعاد ، قدرت الٰہیہ کے نشانات اور آیات بینات سے غفلت کا نتیجہ ہے ۔
انسانی فہم کی بنیادی کمزوری :
انسانی فہم کی فطری کم ظرفی اور بنیادی کمزوری یہ ہے کہ جب اس کے سامنے کسی ایسی حقیقت واقعہ کا اظہار کیا جائے جو اس کے ناقص علم ، محدود تجربہ ، ناتمام مشاہدہ ، کمزور حواس اور ضعیف عقل کی گرفت سے بالا تر ہو وہ اسے فوراً ناممکن اور محال کہہ کر اپنے عجز و جہل کو چھپانے کا عادی ہے ، غور فرمائیے ، دورِ جدید کی یہ ایجادات و اختراعات ، جو آج سب کے سامنے ہیں ، کیا حد درجہ حیرت انگیز نہیں ؟ یہ برقی لہریں ، یہ زہریلی گیسیں ، یہ تباہ کن اسلحہ ، یہ ایٹم بم ، یہ ہائیڈروجن بم ، یہ فضائی راکٹ ، یہ مصنوعی چاند ، یہ خلائی سیارے ، یہ فضائی اسٹیشن ، پھر یہ راکٹ جو چاند پر اتارا گیا ، اور اس کے چاند کی سطح سے ٹکرانے کی آواز یہاں زمین پر ریکارڈ کی گئی ، اور یہ راکٹ جو سائنس دانوں کے بقول چاند سے صحیح سالم واپس آیا ، اور یہ عجیب
۴۱
وغریب راکٹ جس میں ”لائکا“ نامی کتیا کو بھیجا گیا اور اس میں ایسے آلات نصب کئے گئے جو کتیا کے دوران خون ، حرکت قلب ، حرارت جسم ، نظام تنفس اور اس کی شریانوں اور پھیپھڑوں کے تمام حالات ریکارڈ کر کے زمین پر بھیجیں ، اور یہ مصنوعی سیارہ جس سے فضائی حالات ، درجہ حرارت اور شمسی شعاعوں کو ریکارڈ کیا گیا ، پھر یہ نصف ”ٹن“ کا ”سپوٹنک“ نامی مصنوعی سیارہ جس نے ۹۶ منٹ میں زمین کے اردگرد ایک دورہ مکمل کیا ، کیا دور جدید کے ان حیرت انگیز انکشافات کو کچھ عرصہ قبل محض وہم و خیال نہیں سمجھا جاتا تھا؟ لیکن آج یہ سب کچھ افسانہ طرازی نہیں ، سامنے کے حقائق ہیں ، اسی طرح نہیں معلوم کتنے حقائق اب تک پردہ اخفا میں ہوں گے ، جنہیں عنقریب منصۂ شہود پر جلوہ گر ہونا ہے۔ کیا ان تمام امور کو قبل از وقت ”محال“ اور ”خلاف عقل“ کہنا عقل سے بے انصافی نہیں؟
اسی طرح علم کیمیا ، فزیالوجی اور فلکیات کے عجیب و غریب انکشافات پر غور کرو ، مثلاً ۱۹۵۷ء میں پہلی مرتبہ ”زہرہ“ سیارے سے لاسلکی رابطہ قائم کیا گیا ، کیا قبل از وقت یہ تمام انکشافات حیرت افزا نہ تھے؟
ان فلکیات کو جانے دیجئے ، ذرا انہی چیزوں پر غور کیجئے جو سب کو ان آنکھوں سے نظر آرہی ہیں ، یہ فضاؤں میں پرواز کرتے ہوئے طیارے ، یہ دریاؤں میں غوطہ زن آبدوزیں ، یہ بحر منجمد میں شگاف ڈالنے والے ایٹمی بحری جہاز ، یہ آواز سے زیادہ تیز رفتار جیٹ طیارے ، اور اسی نوع کی دیگر سیکڑوں ایجادات ، کیا آج سے نصف صدی پہلے یہ محض خیالی چیزیں نہیں تھیں؟ کیا اس وقت کا انسان ان راکٹوں کی برق رفتاری کا تصور بھی کر سکتا تھا جو آج پچیس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مصروف پرواز ہیں؟ کیا پچاس سال پہلے کے انسان کا وہم تسلیم کر سکتا تھا کہ ایسے مصنوعی سیارے بھی وجود میں آئیں گے جن میں نصب کردہ آلات فضائی حالات کو محفوظ کریں گے ، پھر ”لاسلکی“ کے ذریعہ یہ فضائی خبریں سیکڑوں میل دور زمین پر سنی جائیں گی؟ کیا کوئی کہہ سکتا تھا کہ ایسے راڈار بھی ایجاد ہوں گے جو ہزاروں میل سے
۴۴
جیٹ طیاروں کی پرواز اور سمت پرواز کا پتہ بتلایا کریں گے؟ ان فضائیات کو بھی رہنے دیجئے، نائلون وغیرہ کے ان عجیب و غریب کپڑوں کو لیجئے جو معدنی مواد سے تیار کئے جاتے ہیں اور ریشم کی نرمی اور نفاست کو بھی مات کرتے ہیں۔ کیا یہ تمام چیزیں کسی زمانے میں محض خواب و خیال کے درجے میں نہیں تھیں؟ اگر ماضی قریب میں ان امور کو کوئی شخص بیان کرتا تو اسے مراق و جنون اور خرافات و لغویات کا نام نہ دیا جاتا؟ لیکن آج یہ روز مرہ کے استعمال کی چیزیں ہیں جن میں نہ حیرت ہے نہ استعجاب۔
قدرتِ خداوندی کے مظاہر:
اب ایک طرف ان اختراعات و ایجادات کو رکھو جو انسان ضعیف کی مادی عقل نے دریافت کی ہیں اور دوسری طرف حق تعالیٰ کی قدرت و خالقیت، علم و حکمت اور عزت و برتری کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرو کہ حق تعالیٰ کسی انسان (مثلاً عیسیٰ علیہ السلام) کو آسمان پر زندہ اٹھا لینے، وہاں طویل مدت تک زندہ رکھنے اور پھر اسے زمین پر نازل کرنے کا فیصلہ فرمائیں، تو کیا قدرت الٰہیہ کے ان نشانات کو ”ناممکن اور محال“ کہنا صحیح ہو گا؟ نہیں! ہرگز نہیں!! ہاں انہیں عجیب و غریب کہہ سکتے ہو، ”خارق عادت“ کا نام دے سکتے ہو، انسانی عقل و فکر سے بالا تر بتلا سکتے ہو...... بلاشبہ ان کو ایسا ہونا بھی چاہئے کیونکہ یہ انسانی علم و قدرت کا کارنامہ نہیں، بلکہ یہ اس خالق کائنات..... اللہ تعالیٰ...... کی کن فیکونی صنعت ہے، جو علیم بھی ہے اور قدیر بھی، حکیم بھی ہے اور خبیر بھی...... اس لئے صادق و مصدوق رسول امین ﷺ نے جن امور کی اطلاع دی ہے، انہیں ”خرق عادت“ تو چاہے سو بار کہو، لیکن انہیں ”محال“ قطعاً نہیں کہا جاسکتا۔ اسی طرح دیگر وہ حقائق جو دین اسلام نے بتلائے ہیں مثلاً آسمانوں کا وجود، ملائکہ کا وجود، فرشتوں کا ایک لمحہ میں آسمان سے زمین اور زمین سے آسمان پر پہنچ جانا، آنحضرت ﷺ کے اسرا و معراج کا واقعہ، یہ تمام امور
۴۳
اس کائنات میں قدرت الٰہیہ کے عجائبات ہیں، جو قدرت خداوندی کے لحاظ سے نہ محال ہیں نہ مستبعد۔
انسانی مصنوعات اور خدائی مخلوقات کے مابین موازنہ :
ایک طرف ان ایجادات کو رکھو اور دوسری طرف حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت غالبہ کے نشانات کو رکھو، پھر ان میں موازنہ کر کے بتاؤ کہ کیا انسانی ایجادات کی حیثیت نشان ہائے قدرت کے مقابلہ میں ٹھیک وہی نہیں جو عاقل بالغ مردوں اور عورتوں کے حق میں بچوں کے کھلونوں اور بچیوں کی گڑیوں کی ہوا کرتی ہے؟ (۱)۔
عجیب و غریب کھلونے جن پر سائنس دانوں کو ناز ہے، جن کی ایجاد پر مدح و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں، جن کے اعلانات سے مشرق و مغرب کو چونکا دیا جاتا ہے اور جنہیں پسندیدگی، قدردانی بلکہ حیرت و دہشت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، ذرا خیال کرو کہ چاند، سورج اور ستاروں کے مقابلہ میں ان کی کیا حقیقت ہے؟ جو نامعلوم زمانے سے بیشمار اسرار خفیہ پر مشتمل ہونے کے علاوہ ہماری زمین اور فضا کے لئے ایسے ان گنت فوائد بھی رکھتے ہیں جو بالکل واضح اور روشن ہیں، یہ ہے عزیز و علیم کی قدرت کا ادنیٰ کرشمہ۔ پس یہ بلند و بالا فضائی طبقات، یہ دور سے نظر آنے والے بیشمار ستارے اور کائنات میں پھیلے ہوئے قدرت ربانیہ کے یہ نشانات کیا عقلمندوں کے لئے حیرت و تعجب کا کوئی سامان نہیں رکھتے؟
(۱) اور یہ بھی محض تفہیم اور تقریب الی الذہن کے لئے کہا گیا ہے، ورنہ تمام عقلاء کی ذہنی کاوشیں اور اولین و آخرین کی ایجادات، قدرت الٰہیہ کے مقابلہ میں ”تارِ عنکبوت“ کی حیثیت بھی نہیں رکھتیں، آخر جو خدا اپنے ”کن فیکونی“ ارادے سے ایک لمحہ میں سیکڑوں عالم پیدا کر سکتا ہے اس کی قوت سے بیچاری مخلوق کی قوت کا موازنہ ہی کب کیا جا سکتا ہے؟ لیکن اس کا کیا کیجئے کہ آج ”نظیر اور مثال“ کے بغیر لوگ سمجھنے ہی کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔ مترجم
۴۴
انسانی عقل کی بیچارگی :
یہ تو قدرت کے وہ نشانات ہیں، جن تک ہماری عقل و فکر اور علم و مشاہدہ کی رسائی کسی درجہ میں ہو سکتی ہے، اب ان کے مقابلے میں مادہ و کائنات کے ان پوشیدہ اسرار، پھر نفس و روح کے ان عجائبات پر غور کرو جو ابھی تک ہماری سرحد ادراک سے وراء الوراء ہیں اور خدا جانے کتنے حقائق ابھی تک مجہول ہیں ۔ انسانی علم و ادراک کے عجز کا حال یہ ہے کہ یہ زمین جس پر ہم دن رات چلتے پھرتے، بیٹھتے اٹھتے اور اس کی گود میں پرورش پاتے ہیں (۱) ابھی تک اسی کی ماہیت مجہول ہے، نہیں معلوم اس کے باطن اور گہرائی کی طبیعت کیا ہے؟ چنانچہ ماہرین علمائے طبیعیات کو اعتراف ہے کہ وہ کائنات کے بیشمار اسرار کی دریافت سے قاصر ہیں، اور یہ کہ سائنس کی ان ترقیات کے باوجود ہماری معلومات ہنوز عہد طفولیت میں ہیں۔ حضرت شیخ امام العصر اپنے قصیدہ ”ضرب الخاتم علی حدوث العالم“ میں فرماتے ہیں :
ترجمہ : ”کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ آج تک کی سرگردانی کے باوجود یہ معلوم نہیں کر سکے کہ روح اور فکر کے درمیان کیا رابطہ ہے؟“
ترجمہ : ”اسی طرح ”بیالوجی“ سرحیات کے ادراک سے آج تک قاصر ہے، اور اس کے لئے یہ بھید نہیں کھل سکا“۔
ترجمہ : ”پس اسی کا نام ”اعجاز“، اور ”خرق عادت“ ہے، اگرچہ در حقیقت ساری کائنات ہی قدرت کا معجزہ ہے“۔
(۱) بلکہ اسی سے نکلتے اور اسی میں لوٹتے ہیں ۔ ”منها خلقنا كم وفيها نعيدكم ومنها نخرجكم تارة اخرى - مترجم
۴۵
عقیدہ نزول مسیح ؑ کا دیگر عقائد قطعیہ سے مقابلہ :
عقیدہ نزول مسیح ؑ پر حیرت و تعجب کا اظہار کرنے والوں کو دوسرے اسلامی عقائد سے اسے ملا کر دیکھنا چاہئے۔ مثلاً ملت اسلامیہ اور دوسرے تمام اہل ملل اس کے قائل ہیں، کہ ایک دن سارے نظام عالم کو توڑ پھوڑ کر قیامت برپا کر دی جائے گی، مردے قبروں سے اٹھائے جائیں گے، اور تمام اگلے پچھلے اور نیک و بد میدان محشر میں جمع ہوں گے، ظاہر ہے کہ عقیدہ حشر و نشر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول سے کہیں زیادہ حیرت و استبعاد کا محل ہے، اب یہ قطعی عقیدہ جو تمام ادیان سماویہ کے یہاں متفق علیہ عقیدہ ہے اور جس پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا، کیا کوئی شخص اس کے انکار کرنے میں محض اس وجہ سے معذور تصور کیا جاسکتا ہے کہ یہ حشر و نشر اور بعث و حساب کا مسئلہ اس کی عقل نارسا کے لئے محل حیرت و تعجب ہے؟ اگر نہیں، تو عقیدہ نزول مسیح ؑ تو اس قدر عجیب و غریب بھی نہیں، پھر اس پر ایمان لانے میں یہ عذر کیسے چل سکتا ہے؟
نزول مسیح ؑ کی حکمت :
بہر کیف حکمت الٰہیہ کا تقاضا ہے کہ جب یہ مادیت حیرت و دہشت کی حد تک ترقی کر جائے گی، سائنس دان ترقیاتی ایجاد و اختراع کے نقطہ معراج کو پہنچ جائیں گے، ان کے قلوب فخر و غرور سے یہاں تک پھول جائیں گے کہ صانع عالم، خالق حکیم اور عزیز و علیم ہی کا انکار کر بیٹھیں گے اور مسیح لعین کانا دجال ظاہر ہوگا، جو یہودی النسل ہوگا، جس کے ماتھے پر ”کافر“ یا ”ک ۔ ف ۔ ر“ لکھا ہوگا اور اس کے کفر میں کسی مومن کو شک و شبہ نہیں ہوگا، وہ ربوبیت و الوہیت کا دعویٰ کرے گا، اس کے پاس بہت سے طلسم، شعبدے اور طبعی تسخیرات کے فن ہوں گے اور یہ دنیا کفر و ضلالت، ظلم و عدوان اور قساوت و بد تہذیبی سے بھری ہوگی، اس وقت قدرت الٰہیہ اور مشیت ازلیہ خاتم انبیاء بنی اسرائیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت خاتم النبین صلی
۴۶
اللہ علیہ وسلم کے صحابی کی حیثیت سے نازل کرے گی‘ وہ شریعت محمدیہ کو نافذ کریں گے‘ دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے‘ نشانِ کفر مٹا دیں گے‘ صلیب توڑ ڈالیں گے‘ خنزیر کے قتل کا حکم دیں گے‘ ”دجالِ اکبر“ کو قتل کریں گے‘ اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ پر ایسے خارق عادت معجزات ظاہر کریں گے‘ جن سے علمائے طبیعیات دنگ رہ جائیں گے‘ ان معجزات میں نہ مادی وسائل ہوں گے‘ نہ طبعی تدابیر کا استعمال ہو گا۔
پس چونکہ مسیح ضلالت دجال دنیا کو خبث وضلالت اور جوروظلم سے بھر دیگا‘ صنعتی عجائبات سے دہشت پھیلا کر الوہیت کا دعویٰ کرے گا اور کسی کے لئے اس کے مقابلہ کی تاب نہ ہوگی۔ اس لئے مسیح ہدایت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو نازل کیا جائے گا‘ ان کو دیکھتے ہی دجال لعین برف کی طرح پگھلنے لگے گا یہاں تک آپ اسے قتل کر ڈالیں گے‘ دنیا کو عدل وانصاف سے معمور کریں گے‘ ہر قسم کے کفر وخبث سے اسے پاک کر دیں گے‘ کج ملتوں کو سیدھا کر دیں گے اور دین اسلام ہی تمام روئے زمین کا دین ہو گا۔ پس حق تعالیٰ کا ارشاد ”وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بھا“ (اور بیشک عیسیٰ علیہ السلام قیامت کا نشان ہیں‘ پس تم اس پر ہرگز شک نہ کرو) گویا ان ہی معجزات کی طرف اشارہ ہے جو بطور مقدمہ قیامت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر ظاہر ہوں گے‘ پس یہ خوارق الٰہیہ‘ معجزات اور نشانِ قیامت کی کھلی نشانی ہوں گے‘ جس سے لوگوں کو یقین ہو جائے گا کہ قدرت الٰہیہ کے سب سے بڑے خارق عادت واقعہ کے ظہور یعنی اس عالم کی بساط لپیٹ دئیے جانے کا وقت آن پہنچا ہے‘ اس آیتِ کریمہ کے خاتمہ پر یہ ارشاد: ”فاتبعونی ھٰذا صراط مستقیم“ ”پس تم میری پیروی کرو‘ یہی سیدھا راستہ ہے“۔
نہایت بر محل ہے‘ اس میں قبول حق کی دعوت ہے اور اس امر کی وضاحت کہ وحی الٰہی پر ایمان لانا ہی صراط مستقیم ہے‘ اور اس سے انکار کرنا‘ شک ووسوسہ کے غار میں گر جانے کے مترادف ہے‘ اور کجراہی وگمراہی ہے۔
۴۷
خلاصہ کلام:
خلاصہ کلام یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا واقعہ اس عالم کے عجیب واقعات میں سے ہے، جس کی قرآن حکیم نے تصریح کی ہے احادیث نبویہ اس واقعہ پر متواتر ہیں اور عہد صحابہ سے آج تک امت اسلامیہ نسلاً بعد نسل اس اعتقاد پر قائم چلی آتی ہے، پھر یہ واقعہ نہ تو قدرت الٰہیہ کے اعتبار سے ایسا عجیب ہے، نہ عقل صریح کے لحاظ سے محال ہے، نہ موجودہ ترقیاتی ایجادات کی نیرنگیوں کے پیش منظر میں اس پر استبعاد کا کسی کو حق حاصل ہے، اس لئے:
عقیدۂ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا فرض ہے، اس کا انکار کفر ہے، اور اس کی تاویل کرنا زیغ و ضلال اور کفر و الحاد ہے۔
اللہ تعالیٰ امت محمدیہ (علی صاحبہا الف الف تحیۃ وسلام) کو صراط مستقیم کی توفیق بخشیں، اور اسے ہر قسم کے شر و فساد، ضلال و الحاد اور کفر و عناد سے بچائیں۔
اختتامیہ:
میں ان ہی سطور پر مقدمہ عقیدۃ الاسلام کو ختم کرتا ہوں، کتاب (عقیدۃ الاسلام) آپ کے سامنے ہے، اس کے مطالعہ سے حق و صواب کی راہیں کھلیں گی، اور کسی کجرو کے کفر و الحاد کی گنجائش نہ رہے گی۔ اس مقدمہ کا نام ”نزل اہل الاسلام فی نزول عیسیٰ علیہ السلام رکھتا ہوں۔
وصلی اللہ علی صفوۃ البریۃ خاتم النبیین محمد واخوانہ الانبیاء والمرسلین والشہداء والصالحین اجمعین۔
الفقیر الی اللہ تعالیٰ محمد یوسف بن سید محمد زکریا بن سید میر مزمل شاہ بن میر احمد شاہ البنوری الحسینی مدیر مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی نمبر ۵ بروز ہفتہ ذی الحجہ ۷۹ھ
۴۸
مہدی آخر الزماں
اور
فرقہ مہدویہ
SYED WALI MOIN HASHMI P. O. Box 2283 Saudi Arabian Oil Company Dhahran 31311 Saudi Arabia Phone 876-7565 (Work) 899-8109 (Home)
Date:
جناب مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب
السلام علیکم
امید ہے کہ مزاج گرامی بخیریت ہوں گے۔ ایک عرصہ سے خیال تھا آپ کو خط لکھنے کا لیکن عمل کی توفیق آج ہوئی ہے۔ میں بڑے شوق و ذوق سے روزنامہ جنگ میں آپ کا دینی کالم پڑھتا ہوں اور آپ کی اسی سلسلے کی کتاب کی چھ جلدیں بھی میرے پاس ہیں۔
میرے نام اور ملازمت کا تو آپ کو اس لیٹر ہیڈ سے علم ہو گیا۔ مزید اپنا تعارف کرانے کے لئے عرض ہے کہ میں آپ کے ایک شاگرد (خود بقول ان کے) مولانا حافظ محمد اشرف عاطف صاحب سے میری بہت اچھی سلام دعا ہے اور ان سے یہاں ہفتہ وار ایک درس میں ان سے برابر ملاقات ہوتی ہے۔ یہ درس مفتی اشرف صاحب خود دیتے ہیں۔ جی ہاں، حضرت مفتی بھی ہیں۔ امید ہے آپ کو یاد آگئے ہوں گے۔ میں آپ دونوں کا مداح ہوں اور آپ حضرات کے علم سے بہت متاثر بھی۔
میرے دماغ میں ایک مسئلہ بڑے عرصے سے کھلبلی مچائے ہوئے ہے۔ وہ یہ ہے کہ حضرت امام مہدی سے متعلق کیا حقیقت ہے۔ میں نے آپ کی کتاب میں اس سلسلے کے سوال جواب پڑھے ہیں، جو میں اس خط کے ساتھ منسلک کر رہا ہوں تاکہ آپ کو زحمت
۲
نہ ہو تلاش کرنے کی۔ اسی کے ساتھ میں ایک کتاب ”چراغ دین نبوی“ کے ان صفحات کی کاپی بھی روانہ کر رہا ہوں جن میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ امام مہدی آئے اور چلے گئے۔ دونوں کو موازنہ کریں تو مجھ جیسے کم علم انسان کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کس کو درست مانیں؟
آپ نے یقیناً ”فرقہ مہدویہ کے بارے میں سنا اور پڑھا ہوگا۔ ان کے عقیدہ کے مطابق اہل سنت الجماعت کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اور بھی بہت سارے مسائل میں اختلافات ہیں اور سب سے بڑا تو یہی کہ سنی فرقہ کے مطابق امام مہدی کا ظہور ابھی تک ہوا ہی نہیں ہے۔ میں آباؤ اجداد کے توسط سے اسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہوں تاہم میں یہاں باجماعت نماز پڑھتا ہوں کیونکہ نماز میں دونوں فرقوں کی کوئی فرق نہیں ہے لہٰذا میں نہیں سمجھتا کہ مجھے ہر نماز میں ۲۶ نمازوں کا مفت ثواب گنوانا چاہئے۔
آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ان دنوں کسی کو قائل کرنے کے لئے ٹھوس دلائل درکار ہیں لہٰذا ایسا کچھ مواد میرے پاس ہو تو میں اپنے خاندان اور پھر آگے یہ سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مزید اپنے فرقہ والوں کو بتاسکوں کہ حقیقت کیا ہے۔ آپ ملاحظہ کریں گے مذکورہ بالا ”چراغ دین نبوی“ کے صفحات میں امام مہدی کی ولادت کے ثبوت میں قرآنی آیات کا حوالہ ہے۔ مجھے یہ معلوم ہے کہ آپ ایک انتہائی مصروف انسان ہیں تاہم جب بھی آپ چند لمحات نکال سکیں تو ضرور میری مدد فرمائیے۔ آپ کی طرف سے کوئی جواب آئے تو میں اسے کتاب مذکورہ کے مؤلف سے رابطہ کروں گا تاکہ ان کو قائل کیا جاسکے ....... “۔
آپ کا مخلص معین ہاشمی
۳
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی
جناب محترم سید ولی معین ہاشمی صاحب زیدت عنایاتہم۔ بعد از سلام مسنون گزارش ہے کہ آنجناب کا گرامی نامہ موصول ہوا جس میں آپ نے حضرت مہدی آخر الزمان کے بارے میں استفسار فرمایا ہے، اور اس کے ساتھ میری کتاب ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ جلد اول کے فوٹو بھیجے ہیں جن میں امام مہدی کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ نیز فرقہ مہدویہ کی کتاب ”چراغ دین نبوی“ کے فوٹو بھی ارسال فرمائے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ مہدی آخر الزمان سید محمد جونپوری تھے، جو ربیع الاول ۸۴۷ھ میں جونپور میں پیدا ہوئے، اور ۶۳ سال کی عمر پاکر ۹۱۰ھ میں انتقال کر گئے۔
آنجناب دریافت فرماتے ہیں کہ ان دونوں باتوں میں سے کونسی بات صحیح ہے؟ فرقہ مہدویہ کے مطابق مہدی آخر الزمان آئے اور چلے گئے؟ یا ان کو کسی آئندہ زمانہ میں آنا ہے؟
جواباً گزارش ہے کہ فرقہ مہدویہ کو مہدی آخر الزمان کی تعیین میں غلط فہمی ہوئی ہے، سید محمد جونپوری مہدی آخر الزمان نہیں تھے۔ یہ موضوع بہت تفصیل چاہتا ہے، لیکن میں چند واضح باتیں عرض کردیتا ہوں، اگر کوئی عاقل و فہیم حق طلبی کے جذبہ سے ان پر غور کرے گا تو اس پر حقیقت حال عیاں ہوجائے گی، اور اس سے پہلے دو باتیں بطور تمہید عرض کرنا چاہتا ہوں۔
اول : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ میں ایک خلیفۃ المسلمین کے ظہور کی پیشگوئی فرمائی، جس کو ”الامام المہدی“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے، جیسا
کہ ان سے پہلے ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی۔
گزشتہ صدیوں میں بہت سے طالع آزماؤں نے اس پیشگوئی کا مصداق بننے کے لئے مسند مہدویت بچھائی، لیکن چونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کا مصداق نہیں تھے، اس لئے بالآخر بصد ناکامی پردہ عدم میں روپوش ہوگئے، ان مدعیان مہدویت کی ایک مختصر سی فہرست مولانا ابو القاسم رفیق دلاوریؒ کی کتاب ”ائمہ تلبیس“ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
اس قسم کے لوگوں میں کچھ تو عیار تھے، جن کا مقصد دام ہمرنگ زمیں بچھا کر خلق خدا کو گمراہ کرنا تھا، اور کچھ لوگ پہلے بہت نیک تھے، ان کی نیکی و پارسائی کے حوالے سے شیطان نے ان کو دھوکا دیا، اور انہوں نے القائے شیطانی کو الہام رحمانی سمجھ لیا، اور غلط فہمی میں مہدی آخر الزمان ہونے کا دعویٰ کردیا، ان کو مرتے وقت اپنی غلطی معلوم ہوگئی ہوگی، مگر افسوس کہ اصلاح کا وقت گزر چکا تھا۔ بہر حال ایسے لوگ بھی اپنے زہد و تقدس کے فریب میں مبتلا ہوکر بہت سے لوگوں کا ایمان برباد کر کے چلتے بنے۔
ان برخود غلط مدعیان مہدویت و مسیحیت کے دعوؤں کا نتیجہ یہ ہوا کہ امت افتراق و انتشار کا شکار ہوکر رہ گئی۔ کچھ تو ان مدعیوں کی ملمع کاری سے مسحور ہوگئے اور ان کے دعوے کو زر خالص سمجھ کر نقد ایمان ان کے ہاتھ فروخت کر بیٹھے۔ کچھ جدید طبقہ کے لوگوں کو ان جھوٹے مہدیوں کا طرز عمل دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی پر ایمان نہ رہا، وہ ”ظہور مہدی“ کے عقیدہ سے دستبردار ہوگئے، اور انہوں نے اس سلسلہ کی تمام احادیث کو من گھڑت افسانہ قرار دے دیا۔ لیکن امت اسلامیہ کا سواد اعظم (اہل سنت و الجماعت) جن کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ موجود تھی، وہ نہ تو جھوٹے مدعیوں کی ملمع کاریوں پر فریفتہ ہوا، اور نہ چند جھوٹوں کے دعوؤں کی
۵
وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیشگوئی سے منکر ہوا۔
دوم : کسی مدعی مہدویت کے سچ اور جھوٹ کو پرکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث صحیحہ کی کسوٹی پر پیش کر کے دیکھا جائے کہ مہدی آخر الزمان کی علامات اس شخص میں پائی جاتی ہیں یا نہیں؟ اس معیار کو سامنے رکھا جائے تو حق و باطل کا فیصلہ بڑی آسانی سے ہو سکتا ہے۔
مقام شکر ہے کہ فرقہ مہدویہ کے حضرات بھی اس معیار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم کرتے ہیں، چنانچہ جناب کی مرسلہ کتاب ”چراغ دین نبوی“ کے صفحہ ۱۸۷ پر لکھتے ہیں:
”آیات قرآنی کے علاوہ احادیث کے معتبر کتب میں تواتر معنوی کو پہنچی ہوئی حضرت مہدی موعود علیہ السلام کے وجود اور آپ کے پیدا ہونے سے متعلق صدہا صحیح احادیث موجود ہیں۔
چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”مہدی موعود کا پیدا ہونا ضروریات دین سے ہے“ اور ”تا وقتیکہ مہدی پیدا نہ ہو قیامت نہیں آئے گی“۔ اور ”ساری دنیا ختم ہو کے اگر ایک بھی دن باقی رہے گا تو اس دن کو اللہ جل شانہ دراز کرے گا تا آنکہ اس میں ایسے شخص کا ظہور ہو جائے جو میرے اہل بیت سے ہو اور میرا ہمنام ہو اور اس کے ماں باپ کے نام میرے ہی ماں باپ کے نام ہوں۔“
(سنن ابو داؤد)
اور ”کیونکر ہلاک ہو گی میری امت کہ میں اس کے اول ہوں اور عیسیٰؑ اس کے آخر اور مہدی میرے اہل بیت سے اس کے وسط میں۔“
(مشکوٰۃ شریف)
اور ”مہدی خلیفۃ اللہ ہوں گے“ اور ”مہدی موعود کا حکم خدا اور رسول کے حکم کے موافق ہوگا“۔ اور ”مہدی خطا نہیں کریں گے“۔ ”مہدی مجھ سے ہے میرے قدم بقدم چلے گا اور خطا نہ
۶
کرے گا"۔ اور ”مہدی کی ذات معصوم عن الخطا ہوگی وہ کبھی خطا نہیں کریں گے۔“ (مصنف نے اس پیراگراف کی احادیث کے لئے کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا۔ ناقل)
اور ”مہدی دافع ہلاکت ہوں گے“ اور ”تم مہدی سے بیعت کرو گو تم کو ان کے پاس برف پر سے ہو کر گزرنا پڑے“۔
(ابن ماجہ)
” حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے مجیئ کی خبر معجزے کے طور پر فرمائی ہے جو مغیبات سے ہے اور ان امور کا وقوع میں آنا اشد ضروری ہے جن کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیبات کے طور پر فرمایا ہے۔“
(چراغ دین نبوی ص ۱۸۷)
اس عبارت سے چند امور واضح ہو جاتے ہیں :
- ۱۔ حضرت مہدی کے بارے میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں وہ متواتر معنوی
ہیں۔
- ۲۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہور مہدی کی جو پیشگوئی فرمائی وہ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے‘ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی خبر دی۔
- ۳۔ اور وہ تمام امور جن کے ظہور کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی
فرمائی‘ ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق وقوع پذیر ہونا ضروری ہے۔
- ۴۔ اگر کوئی واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبر کے مطابق وقوع
میں نہ آئے تو نعوذباللہ معجزہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم باطل ہو جائے گا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ۔ نعوذباللہ ثم نعوذ باللہ ۔ غلط ٹھہرے گی‘ جو قطعاً محال ہے۔
اس سے واضح ہوا کہ جس طرح اہل سنت کے نزدیک مہدی آخر الزمان کی خبر متواتر ہے اسی طرح حضرات مہدویہ بھی اس کو متواتر مانتے ہیں۔ اور جس طرح
اہل سنت کے نزدیک مہدی آخرالزمان کا ظہور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ہونا ضروری ہے، اسی طرح یہ بات فرقہ مہدویہ کے نزدیک بھی ضروری ہے، اس تمہید کے بعد آئیے غور کریں کہ سید محمد جونپوری پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی صادق آتی ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ کیا موصوف کا ظہور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق تھا یا نہیں؟
چونکہ آپ کی مرسلہ کتاب ”چراغ دین نبوی“ میں فرقہ مہدویہ کے نظریہ کی ترجمانی کی گئی ہے۔ اور اس کی منقولہ بالا عبارت میں حدیث کی تین کتابوں۔ ابوداؤد۔ مشکوٰۃ شریف اور ابن ماجہ۔ کا حوالہ دیا گیا ہے، اس لئے مناسب ہو گا کہ ہم بحث کا دائرہ سمیٹنے کے لئے انہی کتابوں کے حوالہ پر اکتفا کریں۔
مہدی کا نام و نسب:
ابوداؤد شریف میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت سے یہ حدیث ہے: ” حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک بار اپنے صاحب زادے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا یہ نام رکھا تھا۔ اور اس کی پشت سے ایک شخص ظاہر ہوگا، جس کا نام تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہوگا، وہ اخلاق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوگا۔ مگر بدنی ساخت میں نہیں، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔“
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام مہدی کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہو گا اور وہ حضرت حسن بن علی (رضی اللہ عنہ) کی نسل سے ہوں گے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ آیا سید محمد جونپوری کا نسب حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے یا نہیں؟ ”چراغ دین نبوی“ میں سید محمد جونپوری کا نسب نامہ درج ذیل دیا ہے :
”حضرت علیہ السلام کا نسب“ ” حضرت سید محمد مہدی موعود علیہ السلام بن سید عبداللہ
٨
المخاطب سید خان بن سید عثمان بن سید جعفر بن سید موسیٰ بن سید قاسم بن سید نجم الدین بن سید عبداللہ بن سید یوسف بن سید یحییٰ بن سید جلال الدین بن سید نعمت اللہ بن سید اسماعیل بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن ابی عبداللہ الحسین شہید کربلا بن امیر المومنین حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ “
(چراغ دین نبوی ص ۱۸۸-۱۸۹)
اس نسب نامہ سے معلوم ہوا کہ سید محمد جونپوری کا نسب حضرت حسن رضی اللہ عنہ تک نہیں پہنچتا، بلکہ نسب نامہ کے مطابق وہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے چھوٹے بھائی شہید کربلا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تھے۔ اس سے ثابت ہوا کہ چونکہ ان کا نسب پیشگوئی کے مطابق نہیں تھا، لہٰذا وہ مہدی نہیں۔
فائدہ : یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرات شیعہ جس امام غائب کو امام مہدی کہتے ہیں وہ بھی صحیح نہیں، کیونکہ اول تو یہ ایک فرضی شخصیت ہے، جس کا نام لینا بھی شیعہ عقیدہ کے مطابق گناہ تصور کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ان کے والد گرامی کا نام حسن عسکری ذکر کیا جاتا ہے، جبکہ امام مہدی کے والد ماجد کا نام عبداللہ ہوگا، اور اس کا نسب بھی حضرت حسن رضی اللہ عنہ تک نہیں پہنچتا، میں اس بحث کو اپنی کتاب ”شیعہ سنی اختلافات اور صراط مستقیم“ میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں۔ اسی طرح قادیانی صاحبان جو مرزا غلام احمد قادیانی بن غلام مرتضیٰ کو مہدی مانتے ہیں، یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ اول تو مرزا قادیانی کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نہیں تھا۔ دوم :- اس کے والد کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد کے نام پر نہیں تھا۔ سوم : وہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اولاد سے نہیں، بلکہ مغل تھا، یعنی چنگیز خان کے خاندان سے۔
امام مہدی خلیفہ و حکمران ہوں گے :
- ۱- "حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک عرب کا مالک (حکمران) ہو میرے اہل بیت میں سے ایک ایسا شخص، جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔"
(ترمذی ص ۴۶ جلد ۲، ابوداؤد ۲۳۲ جلد ۲، مشکوۃ شریف ۴۷۷،
(امام ترمذی نے اس کو حسن صحیح کہا ہے)
- ۲- ”حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی دوسری روایت میں
ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حکمران ہو گا ایک شخص میرے اہل بیت میں سے جس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا“۔
(حوالہ بالا)
- ۳- ”حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی ایک روایت میں ہے
کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر دنیا کا صرف ایک دن باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو طویل کردیں گے یہاں تک کھڑا کریں گے ایسے شخص کو جو میرے اہل بیت میں سے ہو گا، اس کا نام میرے نام کے اور اس کے والد کا نام میرے والد کے موافق ہوگا۔ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم سے بھری ہوئی ہوگی“۔
(ابوداؤد ص ۲۳۲ جلد ۲، مشکوۃ ص ۴۷۱)
فائدہ : یہ حدیث ”چراغ دین نبوی“ میں بھی نقل کی گئی ہے، مگر اس میں دو غلطیاں ہیں، ایک یہ کہ روایت پوری نقل نہیں کی جس سے حدیث کی مراد واضح ہو جاتی۔ اور دوسرے یہ ”اس کے ماں باپ کے نام میرے ہی ماں باپ کے نام ہوں“ کے الفاظ اپنی طرف سے نقل کر دیئے ہیں، ابو داؤد میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔
- ۴- ”حضرت ابو ہریرہ ؓ سے بھی اسی مضمون کی حدیث
مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے امام مہدی حاکم ہوں گے“۔
(ترمذی جلد ۲ ص ۴۶، امام ترمذی نے اس حدیث کو روایت کر کے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے)
- ۵- فرقہ مہدویہ کی کتاب ”چراغ دین نبوی“ کے حوالہ سے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اوپر گزر چکا ہے کہ ”مہدی خلیفتہ اللہ ہوں گے۔“
- ۶- نیز اسی کتاب میں یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ ”مہدی
موعود کا حکم خدا اور رسول کے حکم کے موافق ہوگا۔“
- ۷- نیز اسی کتاب میں ابن ماجہ کے حوالہ سے یہ حدیث گذر چکی
ہے کہ ”تم مہدی سے بیعت کرو، گو تم کو ان کے پاس برف پر سے ہو کر گزرنا پڑے“۔ لیکن مصنف نے اس حدیث کا یہ آخری فقرہ چھوڑ دیا ”کیونکہ وہ اللہ کے خلیفہ مہدی ہیں“۔
(ابن ماجہ)
ان احادیث میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ حضرت مہدی آخر الزمان مسلمانوں کے خلیفہ ہوں گے، روئے زمین پر ان کی حکومت ہوگی، وہ لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کے فیصلے کریں گے، اور ان کے فیصلے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے موافق ہوں گے۔ الغرض ان احادیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ایسے امام مہدی کے بارے میں ہے جو مسلمانوں کے خلیفہ برحق ہوں گے، ان کے ہاتھ پر بیعت خلافت ہوگی، اور وہ اپنی خلافت کے زمانہ میں اپنے عدل و انصاف سے زمین کو بھر دیں گے، جس طرح کہ ان سے پہلے اللہ کی زمین ظلم و بے انصافی سے بھری ہوئی ہوگی۔
سب جانتے ہیں کہ سید محمد جونپوری کو کبھی کسی ایک بستی کی بھی حکومت نصیب نہیں ہوئی۔ چہ جائیکہ تمام عرب ممالک کے یا پوری دنیا کے خلیفہ ہوتے؟ ثابت ہوا کہ سید محمد جونپوری کا دعویٰ مہدویت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق نہیں تھا، لہٰذا ان کو امام مہدی آخر الزمان ماننا غلط ہے۔
نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ”دنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ ان صفات کا خلیفہ ظاہر نہ ہو“ یا یہ کہ ”اگر دنیا کا صرف ایک دن باقی رہ
جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو دراز کردیں گے یہاں تک ان صفات کا خلیفہ پیدا ہو“۔ اس میں دو باتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ایک یہ کہ ایسی صفات کے خلیفہ (امام مہدی) کا ظہور قیامت سے پہلے ضروری ہے‘ جب تک ایسا خلیفہ ظاہر نہ ہو قیامت نہیں آسکتی۔ دوم یہ کہ اس خلیفہ (امام مہدی) کا ظہور قرب قیامت میں ہوگا‘ جبکہ لوگ یہ سمجھیں گے کہ قیامت کے ظہور میں بس ایک آدھ دن باقی رہ گیا ہے۔
اس سے ایک مرتبہ اور ظاہر ہوا کہ نویں صدی میں مہدی کا دعویٰ کرنے والی شخصیت (سید محمد جونپوری) کا دعویٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق نہیں تھا۔ کیونکہ اس کے دعویٰ کے بعد پوری پانچ صدیاں گزر چکی ہیں‘ اور چھٹی صدی شروع ہے‘ اتنے طویل عرصہ کو کوئی عاقل ان الفاظ سے تعبیر نہیں کرسکتا ہے کہ ”قیامت میں اگر ایک دن بھی باقی ہو“۔ چہ جائیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات ارشاد فرمائیں؟
فائدہ : ان احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا امام مہدی ہونے کا دعویٰ بھی غلط تھا‘ کیونکہ اس کو بھی حکومت نصیب نہیں ہوئی‘ نہ کسی نے اس کے ہاتھ پر بیعت خلافت کی‘ اور اس کو گزرے ہوئے بھی ایک صدی گزر چکی ہے۔ لہٰذا اس کا دعویٰ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق نہ نکلا۔
امام مہدی کے ہاتھ پر بیعت خلافت ہونا:
مشکوٰۃ شریف میں ابوداؤد کے حوالہ سے یہ حدیث نقل کی ہے :
”حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ ایک خلیفہ (بادشاہ) کی موت پر (ان کی جانشینی کے مسئلہ پر) لوگوں میں اختلاف و نزاع واقع ہوگا‘ پس اہل مدینہ میں سے ایک شخص وہاں سے نکل کر مکہ مکرمہ کی طرف بھاگ آئے گا (یہ شخص حضرت مہدی ہوں گے‘ اور اس اختلاف و نزاع
۱۲
سے بچنے کے لئے مکہ مکرمہ آکر روپوش ہو جائیں گے، کیونکہ مکہ مکرمہ دارالامن ہے۔) پس اہل مکہ میں سے کچھ لوگ (ان کو پہچان لیں گے کہ یہی مہدی ہیں اور) ان کے پاس آئیں گے اور ان کو (گھر سے) نکالیں گے، حالانکہ وہ صاحب قبول خلافت پر آمادہ نہیں ہوں گے، پس لوگ ان کو مجبور کرکے حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، (اس طرح حضرت مہدی مسلمانوں کے امام اور خلیفہ بن جائیں گے)“۔
ان کے مقابلہ میں ایک لشکر شام سے بھیجا جائے گا (یہ سفیانی کا بھیجا ہوا لشکر ہوگا، جو کہ اس وقت ملک شام کا بادشاہ ہوگا) پس اس لشکر کو مقام بیدا میں (جو مکہ و مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے) دھنسا دیا جائے گا، (سفیانی کے لشکر کا زمین میں دھنسا دیا جانا خروج مہدی کی علامتوں میں سے ایک اہم ترین علامت ہے۔ جس کے بارے میں بہت سی احادیث وارد ہیں جو قریب تواتر کے ہیں۔)
(کذا فی مظاہر حق ص ۴۴۴ ج ۴)
”پس جب لوگ اس لشکر سفیانی کا دھنس کر ہلاک ہونا دیکھیں اور سنیں گے تو (سب کو یقین ہوجائے گا کہ یہی حضرت امام مہدی ہیں، چنانچہ یہ سن کر) شام کے ابدال اور عراق کے نیک لوگوں کی جماعتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں گی۔
”پھر قریش کا ایک شخص، جس کے ماموں قبیلہ بنو کلب کے لوگ ہوں گے۔ حضرت مہدیؓ کے مقابلہ میں کھڑا ہوگا۔ پس یہ شخص بھی (اپنے ماموؤں کے قبیلہ کی مدد سے) حضرت مہدی اور ان کے لشکر کے مقابلہ میں ایک لشکر بھیجے گا، پس حضرت مہدی اور ان کا لشکر
۱۴۱
ان پر غالب آئیں گے، اور یہ بنو کلب کا فتنہ ہوگا (اور یہ ظہور مہدی کی دوسری علامت ہوگی)“
”اور حضرت مہدی لوگوں میں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق عمل کریں گے، اور اسلام اپنی گردن زمین میں ڈال دے گا (یعنی ثبات و قرار پکڑے گا، جس طرح کہ اونٹ جب بیٹھتا اور آرام و قرار پکڑتا ہے تو اپنی گردن پھیلا دیتا ہے) پس حضرت مہدی سات سال زمین میں (بحیثیت خلیفہ کے) رہیں گے، پھر ان کی وفات ہوگی، اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے“۔
(مشکوٰۃ شریف ص ۴۷۱، ابوداؤد ص ۲۳۳،
جلد ۲، جامع الاصول ص ۲۷ جلد ۱۰)
اس صحیح حدیث میں حضرت امام مہدی کے ظہور کا پورا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ خود انصاف کیجئے کہ کیا سید محمد جونپوری کے حق میں یہ علامات ظاہر ہوئی ہیں؟ یہاں ایک خاص نکتہ لائق توجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مہدی کے ظہور کی علامات اور ان کے زمانہ کے واقعات متواتر احادیث میں بیان فرمائے ہیں، لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ وہ ”انا المہدی“ کا نعرہ لگائیں گے، اور لوگوں کو اپنے ہاتھ پر بیعت کرنے کی دعوت دیں گے، بلکہ اس کے برعکس یہ فرمایا گیا ہے کہ لوگ ان کو بیعت خلافت کے لئے مجبور کریں گے، جبکہ وہ اس سے انکار کریں گے، لیکن اہل بصیرت حضرات ان کی ناگواری و انکار کے باوجود ان کو بیعت خلافت پر مجبور کردیں گے، اس طرح ان کو خلیفہ منتخب کرلیا جائے گا۔ یہی ایک علامت ہے جو سچے مہدی اور جھوٹے دعوے داروں کے درمیان فرق کردیتی ہے۔ حضرت مہدی برحق کو ایک دن بھی مہدی ہونے کا دعویٰ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، جبکہ سید محمد جونپوری سے لے کر غلام احمد قادیانی تک مہدویت کا دعویٰ کرنے والوں کے ہاتھ میں خالی دعوؤں کے سوا کچھ بھی نہیں۔
۱۴
حضرت مہدیؓ نصاری سے جہاد کریں گے:
حضرت امام مہدی کا نصاری کے ساتھ مقابلہ ہوگا، اور حضرت مہدی اور ان کے لشکر کو نصاری پر غلبہ حاصل ہوگا، احادیث میں ان لڑائیوں کی تفصیلات ذکر کی گئی ہیں، جو مشکوۃ شریف کے باب الملاحم میں مذکور ہیں۔ (دیکھئے ص ۴۶۵ تا ص ۴۶۸) ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ :
- ۱- نصاری کے اسی (۸۰) جھنڈے ہوں گے۔ اور ہر جھنڈے کے
نیچے بارہ ہزار کا لشکر ۔ گویا نو لاکھ ساٹھ ہزار۔
- ۲- حضرت مہدی کے لشکر کا ایک تہائی حصہ شکست کھا کر بھاگ
جائے گا۔ جن کی توبہ کبھی قبول نہیں ہوگی۔ ایک تہائی شہید ہو جائیں گے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل الشہداء شمار ہوں گے، اور ایک تہائی فتح پائیں گے، جو آئندہ کبھی کسی فتنہ میں مبتلا نہیں ہوں گے۔
- ۳- پہلے دن مسلمان یہ شرط لگا کر جائیں گے کہ یا تو مرجائیں گے،
یا غالب ہو کر آئیں گے، سارا دن رات تک یہ لڑائی جاری رہے گی، لیکن فریقین میں سے کوئی غالب نہیں ہوگا، اس لئے دونوں فریق اپنی اپنی جگہ واپس آجائیں گے، لیکن فریقین کے علم بردار میدان میں کام آجائیں گے، اگلے دن پھر موت کی شرط لگا کر جائیں گے، سارا دن شام تک لڑائی ہوتی رہے گی، لیکن کوئی غالب نہیں آئے گا۔ پس دونوں فریق اپنی اپنی قیام گاہ میں لوٹ آئیں گے، اور دونوں کے علم بردار میدان میں کھیت رہیں گے — تیسرے دن پھر موت کی شرط لگا کر جائیں گے، لیکن نتیجہ پھر وہی رہے گا۔ ان تین دنوں میں بے شمار لوگ قتل ہوگئے ہوں گے۔ چوتھے دن بقیۃ السیف مسلمان حملہ آور ہوں گے، اور اللہ تعالیٰ نصرانیوں پر شکست ڈال دیں گے۔
۱۵
پس ایسی ہولناک جنگ ہوگی جس کی مثال نہ دیکھی‘ نہ سنی‘ اور اتنے آدمی قتل ہوجائیں گے کہ سو میں سے ایک آدمی زندہ بچے گا۔
(مشکوۃ ص ۴۶۷)
احادیث شریفہ میں حضرت مہدی کے زمانہ میں ہونے والی ”ملحمہ کبریٰ“ (جنگ عظیم) کا جو نقشہ ذکر کیا گیا ہے‘ جس کا خلاصہ میں نے اوپر درج کیا ہے‘ سوال یہ ہے کہ کیا کسی مدعی مہدویت کی قیادت میں مسلمانوں کی نصاریٰ کے مقابلہ میں ایسی ہولناک جنگ ہوئی ہے؟ کیا سید محمد جونپوری نے ملک شام جاکر نصاریٰ کے خلاف لڑائی لڑی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ان کو مہدی آخر الزمان کہنا کیسے صحیح ہوگا؟ اور نصاریٰ کے خلاف حضرت مہدی کی لڑائیوں کا نام سن کر مرزا غلام احمد قادیانی کے بدن پر تو لرزہ طاری ہوجاتا تھا‘ اور وہ حضرت مہدی آخر الزمان کو ”خونی مہدی“ کہہ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا مذاق اڑاتا تھا۔
خروج دجال:
حضرت مہدی‘ نصاریٰ کے خلاف مذکورہ جہاد میں مشغول ہوں گے اور ان کو شکست دیتے ہوئے قسطنطنیہ تک پہنچ جائیں گے‘ اتنے میں خبر آئے گی کہ دجال نکل آیا‘ حضرت مہدی دس شہسواروں کو اس کی تحقیق کے لئے بھیجیں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ :
”میں ان کے نام بھی جانتا ہوں‘ اور ان کے باپوں کے نام بھی اور ان کے گھوڑوں کے رنگ بھی‘ اور وہ اس وقت روئے زمین کے سب سے بہتر شہسوار ہوں گے۔“
(مشکوۃ ص ۴۶۷)
کیا سید محمد جونپوری کے زمانہ میں دجال کے نکلنے کی خبر آئی تھی؟ اور کیا سید موصوف نے قسطنطنیہ کے محاذ سے دس شہسواروں کو دجال کی تحقیق کے لئے بھیجا تھا؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو انصاف فرمائیے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ
١٦
و سلم کی پیشگوئی کے مطابق مہدی آخرالزمان کیسے ہوئے؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور ان کا حضرت مہدی کی اقتدا
میں نماز پڑھنا:
حضرت مہدی خروج دجال کا سن کر اس کے مقابلہ کے لئے ملک شام واپس آجائیں گے‘ دریں اثنا کہ وہ لڑائی کی تیاری کر رہے ہوں گے‘ نماز کا وقت ہو جائے گا‘ نماز کے لئے صفیں درست کی جارہی ہوں گی‘ اتنے میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے‘ اور اس نماز کی امامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حکم سے حضرت مہدی کرائیں گے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس نماز میں حضرت مہدی کی اقتدا کریں گے۔
(مشکوۃ ص ۴۶۶ تا ۴۸۰)
کیا سید محمد جونپوری کے زمانہ میں عین نماز کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوا‘ اور کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی اقتدا میں نماز پڑھی؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی پیشگوئی کے مطابق مہدی آخرالزمان کیسے ہوئے؟
حضرت مہدی کی عمر اور زمانہ خلافت:
حضرت مہدیؓ سے جب بیعت خلافت ہو گی تو ان کی عمر چالیس برس ہو گی۔ چنانچہ حافظ جلال الدین سیوطیؒ نے اپنے رسالہ ”العرف الوردی فی اخبار المہدی“ میں حافظ ابو نعیم کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے:
” حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے درمیان اور رومیوں کے درمیان چار مرتبہ مصالحت ہوگی۔ چوتھی مرتبہ یہ مصالحت رومیوں کے بادشاہ کے اہل میں سے ایک شخص کے ہاتھ پر ہوگی۔ جو سات سال رہے گی‘ (بالآخر وہ بھی ختم ہو جائے گی۔ اور ان کے درمیان اور تمہارے ۱۷
درمیان حالت جنگ پیدا ہو جائے گی۔) ایک شخص نے کہا‘ یا رسول اللہ ! اس وقت لوگوں کا امام کون ہو گا؟ فرمایا‘ مہدی ہوں گے‘ میری اولاد میں سے‘ چالیس سال کے‘ گویا ان کا چہرہ چمکدار ستارہ ہے‘ اور ان کے دائیں رخسار پر سیاہ تل ہے“۔
سات سال ان کی خلافت کا زمانہ ہے‘ جیسا کہ اوپر حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث سے گزر چکا ہے‘ ان کی خلافت کے ساتویں سال میں دجال نکلے گا‘ اور اس کو قتل کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد خلافت ان کے سپرد ہو جائے گی‘ اور حضرت مہدیؓ ان کے وزیر کی حیثیت سے دو سال رہیں گے‘ گویا ان کی کل عمر ۴۹ سال ہو گی۔
اس کے برعکس سید محمد جونپوری کے بارے میں ”چراغ دین نبوی“ وغیرہ کتابوں میں لکھا ہے کہ ان کی عمر ۶۳ برس ہوئی‘ کیونکہ وہ ۸۴۷ھ میں پیدا ہوئے اور ۹۱۰ھ میں ان کی وفات ہوئی۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی عمر بھی اس سے مطابقت نہیں رکھتی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی آخرالزمان کے بارے میں ارشاد فرمائی ہے۔
میں نے یہ چند موٹی موٹی باتیں عرض کر دی ہیں جن کو تھوڑا پڑھا لکھا آدمی بھی باآسانی سمجھ سکتا ہے‘ ان کی روشنی میں ہر انصاف پسند آدمی فیصلہ کر سکتا ہے کہ مہدوی فرقہ کے حضرات کو مہدی آخرالزمان کے پہچاننے میں غلطی لگی ہے‘ جس طرح کہ قادیانیوں نے مرزا غلام احمد آنجہانی کو مہدی معہود اور مہدی آخرالزمان قرار دینے میں غلطی کھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ بطفیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ان تمام بھائیوں کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائیں۔
تکمیل
آخر میں امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ کی شہادت پیش کرتا ہوں‘ وہ مکتوبات شریفہ دفتر دوم کے مکتوب ۶۷ میں لکھتے ہیں:
”علامات قیامت کہ مخبر صادق علیہ وعلیٰ آلہ الصلوات والتسلیمات ازاں خبردادہ است حق ست‘ احتمال تخلف ندارد‘ مثل طلوع آفتاب از جانب مغرب برخلاف عادت‘ و ظہور حضرت مہدی علیہ الرضوان‘ و نزول حضرت روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام‘ و خروج دجال‘ و ظہور یاجوج و ماجوج‘ و خروج دابۃ الارض‘ و دخانے کہ از آسمان پیدا شود و تمام مردم را فرو گیرد و عذاب دردناک کند‘ مردم از اضطراب گویند ”اے پروردگار ما ایں عذاب را از ما دور کن کہ ما ایمان مے آریم“ و آخر علامات آتش ست کہ از عدن خیزد۔
و جماعہ از نادانی گمان کنند شخصے را کہ دعوی مھدویت نموده بود از اہل ہند‘ مہدی موعود بوده است‘ پس بزعم ایناں مہدی گذشته است و فوت شدہ‘ و نشان میدهند کہ قبرش در فره است‘ در احادیث صحاح کہ بحد شہرت بلکہ بحد تواتر معنی رسیدہ اند تکذیب ایں طائفہ است‘ چہ آں سرور علیہ وعلیٰ الہ الصلوۃ والسلام مہدی را علامات فرمودہ است در احادیث کہ در حق آں شخص کہ معتقد ایشانست آں علامات مفقود اند۔
در احادیث نبوی آمدہ است علیہ وعلیٰ الہ الصلوۃ والسلام کہ مہدی موعود بیرون آید وبر سر وے پاره ابر بود کہ دراں ابر فرشتہ باشد کہ ندا کند کہ ایں شخص مہدی ست اور امتابعت کنید۔
و فرمود علیہ وعلیٰ الہ الصلوۃ والسلام کہ تمام زمین را مالک شدند چار کس یا دو کس از مومنان و دو کس از کافران‘ ذوالقرنین و
۱۹
سلیمان از مومنان و نمرود و بخت نصر از کافران، و مالک خواهد شد آن زمین را شخص پنجم از اہل بیت من یعنی مهدی۔
و فرمودہ علیہ وعلیٰ الہ الصلوۃ والسلام دنیا نرود تا آنکہ بعث کند خدائے تعالیٰ مردے را از اہل بیت من کہ نام او موافق نام من بود و نام پدر او موافق نام پدر من باشد، پس پر سازد زمین را بداد و عدل چنانچہ پر شدہ بود بجور و ظلم۔
و در حدیث آمدہ است کہ اصحاب کہف اعوان حضرت مهدی خواهند بود۔ و حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام در زمان وے نزول خواهد کرد، و او موافقت خواهد کرد با حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام در قتال دجال۔ و در زمان ظہور سلطنت او در چهار دہم شہر رمضان کسوف شمس خواهد شد و در اول آن ماه خسوف قمر بر خلاف عادت زمان و برخلاف حساب منجمان۔
بنظر انصاف باید دید کہ ایں علامات دراں شخص میت بودہ است یا نہ؟ و علامات دیگر بسیارست کہ مخبر صادق فرمودہ است علیہ وعلی الہ الصلوۃ والسلام، شیخ ابن حجر رسالہ نوشتہ است در علامات مهدی منتظر کہ بہ دویست علامت میکشد، نہایت جہل ست کہ با وجود وضوح امر مهدی موعود جمعے در ضلالت مانند ھداہم اللہ سبحانہ سواء الصراط“۔
(مکتوبات امام ربانی دفتر دوم مکتوب ۶۷ ص ۱۸۹ تا ۱۹۱ مطبوعہ کراچی)
ترجمہ : ”(عقیدہ ۱۹) اور علامات قیامت جن کی مخبر صادق علیہ وعلیٰ آلہ الصلوات والتسلیمات نے خبر دی ہے سب حق ہیں، ان میں تخلف کا کوئی احتمال نہیں، مثلاً خلاف عادت مغرب کی جانب سے آفتاب کا طلوع ہونا، ظہور حضرت مهدی علیہ الرضوان، نزول حضرت روح اللہ (عیسیٰ) علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام، خروج دجال،
۲۰
ظہور یاجوج ماجوج‘ خروج دابۃ الارض‘ اور ایک دھواں جو آسمان سے اٹھ کر تمام انسانوں کو گھیر لے گا اور لوگوں کو درد ناک عذاب میں مبتلا کر دے گا اس وقت لوگ مضطرب ہو کر (حق تعالیٰ شانہ سے) عرض کریں گے کہ ”اے ہمارے رب اس عذاب کو ہم سے دور فرمادے کہ ہم ایمان لاتے ہیں“........ اور آخری علامت آگ ہے جو عدن سے اٹھے گی۔
ایک گروہ (مہدویہ) اپنی نادانی کی وجہ سے ایک شخص کے متعلق‘ جس نے اہل ہند میں سے ہوتے ہوئے ”مہدی موعود“ ہونے کا دعویٰ کیا تھا یہ گمان کرتا ہے کہ وہ مہدی ہوا ہے۔ لہٰذا ان کے زعم میں وہ مہدی گذر چکا ہے اور فوت ہو چکا‘ اور اس کی قبر کا نشان بتاتے ہیں کہ وہ فرح میں ہے............ (لیکن) وہ صحیح احادیث جو بحد شہرت بلکہ معنی کے لحاظ سے حد تواتر کو پہنچ چکی ہیں‘ وہ اس گروہ (مہدویہ) کی تکذیب کرتی ہیں‘ کیونکہ آں سرور علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام نے جو علامتیں ”مہدی“ کی بیان فرمائی ہیں وہ علامات ان لوگوں کے معتقد فیہ شخص کے حق میں مفقود ہیں‘ احادیث نبوی علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام میں آیا ہے کہ ”مہدی موعود“ جب ظاہر ہوں گے تو ان کے سر پر بادل کا ایک ٹکڑا ہوگا اور اس ابر میں ایک فرشتہ ہوگا جو پکار کر کہے گا کہ یہ شخص مہدی ہے اس کی متابعت کرو‘ اور آپ علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ چار آدمی پوری روئے زمین کے مالک (بادشاہ) ہوئے ہیں‘ ان میں دو مومن اور دو کافر ہیں : ذوالقرنین اور سلیمانؑ مومنوں میں سے تھے‘ اور نمرود اور بخت نصر کافروں میں سے‘ اور اس زمین کا پانچواں مالک میرے اہل بیت میں سے ہوگا یعنی مہدی......... اور آپ علیہ وعلیٰ ۲۱
آلہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک کہ خدائے تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو پیدا نہ فرمالے کہ اس کا نام میرے نام پر اور اس کے والد کا نام بھی میرے والد کے نام کے موافق ہوگا اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح کہ وہ ظلم وجور سے بھری ہوئی تھی‘ اور حدیث میں وارد ہے کہ اصحاب کہف حضرت مہدی کے معاونین میں سے ہوں گے‘ اور حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ان ( مہدی) کے زمانے میں نزول فرمائیں گے‘ اور وہ (مہدی) دجال کے قتل کرنے میں حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی موافقت کریں گے‘ اور ان (مہدی) کی سلطنت کے ظہور کے زمانے میں زمانے کی عادت کے برخلاف اور نجومیوں کے حساب کے بھی برخلاف چودہ ماہ رمضان کو سورج گرہن ہوگا اور اسی ماہ کے شروع میں چاند گرہن ہوگا۔
اب انصاف سے دیکھنا چاہئے کہ یہ علامات جو بیان کی گئیں ہیں اس فوت شدہ شخص (سید محمد جونپوری یا مرزا غلام احمد قادیانی) میں موجود ہیں یا نہیں؟‘ (ان کے علاوہ) اور بھی بہت سی علامات ہیں جو مخبر صادق علیہ وعلیٰ آلہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہیں‘ شیخ ابن حجر نے ”علامات مہدی منتظر“ کے بارے میں ایک رسالہ لکھا ہے جس میں دو سو کے قریب علامات بیان کی گئی ہیں ..........بڑی نادانی اور جہالت کی بات ہے کہ مہدی موعود کا معاملہ اتنا واضح ہونے کے باوجود ایک گروہ گمراہی میں مبتلا ہے۔ اللہ سبحانہٗ ان کو سیدھے راستے کی ہدایت دے
(مکتوبات حضرت مجدد الف ثانیؒ‘ دفتر دوم مکتوب ۶۷ ص ۴۶)
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین
محمد یوسف لدھیانوی ۸؍۸؍۱۴۱۷ھ