تحفظ ناموس رسالت — ماہنامہ نعت · ماہنامہ نعت
Tahafuz Namoos-e-Risalat — Mahana Naat
PDF 1

معیار ہر قیمت پر بانوے سال سے رُوح افزا کا بلند معیار ہی رُوح افزا کی مقبولیت کی اساس ہے رُوح افزا کا ایک گلاس، کیسی گرمی کیسی پیاس

ماہنامہ نعت لاہور

جلد ۱۲ جولائی اگست ۱۹۹۹ شمارہ ۷، ۸

تحفظ ناموس رسالت

ایڈیٹر: راجا رشید محمود مشیر خصوصی: چودھری رفیق احمد باجوہ ڈپٹی ایڈیٹر: شہناز کوثر ایڈووکیٹ اظہر محمود مینجر: خرم محمود

قیمت ۱۵ روپے (عام شمارہ) ۶۰ روپے (اشاعت خصوصی) ۲۰۰ روپے (زر سالانہ) عرب ممالک کے لیے: ۱۰۰ ریال

پرنٹر: حاجی محمد نعیم کھوکھر جیم پرنٹرز۔ لاہور پبلشر: راجا رشید محمود کمپیوٹر کمپوزنگ: نعت کمپوزنگ سنٹر خطاط: مظہر رقم بائنڈر: خلیفہ عبدالمجید بک بائنڈنگ ہاؤس‘ ۳۸۔ اردو بازار۔ لاہور اظہر منزل، مسجد سٹریٹ نمبر ۵ نیو شالامار کالونی، ملتان روڈ فون ۳۷۴۳۸۴۴ - ۴۷ لاہور (پاکستان) پوسٹ کوڈ ۵۴۵۰۰

روح افزا مشروب مشرق ہمدرد

قیمت اشاعت خصوصی: 60 روپے

PDF 2

”نعت“ کے عملۂ ادارت کے اعزازات

شہناز کوثر

ان کی کتاب ”حضور ﷺ کی مکی زندگی کے مسلمان“ پر ۱۲ ربیع الاول ۱۴۲۰ھ (۲۷ جون ۱۹۹۹ء) کو اسلام آباد میں ہونے والی ”قومی سیرت کانفرنس“ میں صدرِ مملکت محمد رفیق تارڑ نے ”صدارتی ایوارڈ“ دیا۔ جو مبلغ تیس ہزار روپے اور سندِ امتیاز پر مشتمل تھا۔

ماہنامہ ”نعت“ کی یہ سینئر ڈپٹی ایڈیٹر اس سے پہلے پانچ صدارتی ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ ان کے علاوہ آج تک کسی مرد یا خاتون کو چھ صدارتی ایوارڈ نہیں ملے۔

اظہر محمود

ﷺ دی جنگی زندگی“ پر صدارتی ایوارڈ ملا۔ اس سے پہلے ۱۹۹۶ء میں اس وقت کے صدر فاروق احمد خاں لغاری انھیں ایک کتاب ”سرکار ﷺ دی سیرت (سال وار)“ پر صدارتی ایوارڈ دے چکے ہیں۔

ﷺ دی جنگی زندگی“ پر ”سیرت ایوارڈ“ ملا۔ انھیں اسنادِ اعزاز کے علاوہ وفاق سے ۱۵ ہزار اور صوبے سے پانچ ہزار روپے بھی ملے۔

راجا رشید محمود

صوبائی سیرت کانفرنس میں نعت کے موضوع پر گرانقدر خدمات انجام دینے پر انھیں بھی ”سیرت ایوارڈ“ دیا گیا۔

تحفّظِ ناموسِ

رائے محمد

PDF 3

” کے عملۂ ادارت کے اعزازات

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کے مسلمان“ پر ۱۲ ربیع الاول کو اسلام آباد میں ہونے والی ”قومی سیرت کانفرنس“ میں صدرِ ”صدارتی ایوارڈ“ دیا۔ جو مبلغ تیس ہزار روپے اور سندِ امتیاز پر کی یہ سینئر ڈپٹی ایڈیٹر اس سے پہلے پانچ صدارتی ایوارڈ حاصل کر آج تک کسی مرد یا خاتون کو چھے صدارتی ایوارڈ نہیں ملے۔

میں صدر رفیق تارڑ سے اظہر محمود کو ان کی پنجابی کتاب ”سرکار “ پر صدارتی ایوارڈ ملا۔ اس سے پہلے ۱۹۹۶ میں اُس وقت کے بھی انھیں ایک کتاب ”سرکار صلی اللہ علیہ وسلم دی سیرت (سال وار)“ ہیں۔

میں ہونے والی ”صوبائی سیرت کانفرنس“ میں انھیں ”سرکار “ پر ”سیرت ایوارڈ“ ملا۔ انھیں اسنادِ اعزاز کے علاوہ وفاق سے ہزار روپے بھی ملے۔

کانفرنس میں نعت کے موضوع پر گرانقدر خدمات انجام دینے پر دیا گیا۔

حکمت

تحفّظ ناموس رسالت

رائے محمد کمال

PDF 4

فہرس

نشیب و فراز صفحہ ۵ تا ۸ یہ اسلام ہے صفحہ ۹ تا ۳۷ عہدِ صحابہؓ کی مثالیں صفحہ ۳۸ تا ۴۷ ”مغزِ قرآن، روحِ ایماں، جانِ دیں“ صفحہ ۴۷ تا ۶۴ گستاخ رسول ﷺ کی شرعی سزا صفحہ ۶۵ تا ۷۰ نقشِ حیات صفحہ ۷۱ تا ۸۱ مرتد و شاتم صفحہ ۸۲ تا ۹۰ ابنِ تیمیہ کی کتب صفحہ ۹۱ تا ۹۵ واقعاتی معجزات صفحہ ۹۵ تا ۱۱۱ فعل بلا قول صفحہ ۱۱۲ تا ۱۲۶ رُشدی کا پسِ منظر صفحہ ۱۲۶ تا ۱۴۷ عہدِ حاضر کا مسلمان صفحہ ۱۴۷ تا ۱۵۸ حکمت و استدلال صفحہ ۱۵۸ تا ۱۷۲ توہینِ رسالت کی پاکستانی کوششیں صفحہ ۱۷۳ اخبارِ نعت صفحہ ۱۷۴ تا ۱۸۰ قومی زُعما کانفرنس کی جھلکیاں صفحہ ۱۸۱ تا ۱۹۰ ناموسِ مصطفیٰ ﷺ (نظم) صفحہ ۱۹۱ خطباتِ سیرت (محبتِ رسول ﷺ کے موضوع پر) — ایک اعلان صفحہ ۱۹۲

صفحہ ۵

فہرست

صفحہ ۵ تا ۸ صفحہ ۹ تا ۳۷ صفحہ ۳۸ تا ۴۷ بنا دیں" صفحہ ۴۷ تا ۶۴ کی شرعی سزا صفحہ ۶۵ تا ۷۰ صفحہ ۷۱ تا ۸۱ صفحہ ۸۲ تا ۹۰ صفحہ ۹۱ تا ۹۵ صفحہ ۹۵ تا ۱۱۱ صفحہ ۱۱۲ تا ۱۴۶ صفحہ ۱۴۷ تا ۱۵۸ صفحہ ۱۵۸ تا ۱۷۲ ستانی کوششیں صفحہ ۱۷۳ صفحہ ۱۷۴ تا ۱۸۰ صفحہ ۱۸۱ تا ۱۹۰ ؐ (نظم) صفحہ ۱۹۱ کے موضوع پر) —— ایک اعلان صفحہ ۱۹۲

نشیب و فراز

اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب اپنے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ (ﷺ) پر نازل فرمائی اور دینِ اسلام کی نعمت آپ ﷺ پر تمام کر دی۔ قرآن مجید فرقانِ حمید وہ مقدس کلام اور دینِ فطرت کا سرچشمۂ نظام ہے، جس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہہ نہیں۔ سورہ الفاتحہ میں مندرجہ ذیل چند دعائیہ گزارشات بھی موجود ہیں:۔ ”(اے اللہ) ہم کو سیدھا راستہ دکھا۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا ہے، نہ ان لوگوں کا جو غضب میں مبتلا ہوئے اور نہ گمراہوں کا“۔

سورہ الکہف میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے (خاص بندے پر یہ) کتاب نازل فرمائی اور اس میں کسی طرح کا الجھاؤ نہ رکھا“۔

خداوندِ قدوس کا صاف حکم موجود ہے کہ قرآن میں ہدایت ہے، ایمان والوں کے لئے۔ اس کا مطلب بھی بالکل واضح ہے کہ قرآنِ پاک سے رُشد کی روشنی صرف انہی نفوس کو حاصل ہو سکتی ہے، جن کے دل و دماغ ایمان کے نور سے معمور ہو چکے ہوں۔ بنی نوعِ انسان سے متعلق کتابِ عظیم کے تمام ضابطے قطعی غیر مبہم اور بیّن ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ لوگ مکمل طور پر خالی الذہن ہو کر قرآنِ حکیم سے رجوع نہیں کرتے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کتابِ ہُدیٰ کے ارشادات کے عین مطابق اپنے عقائد کو ڈھالتے، اعمال کی اصلاح کرتے اور اُخروی نعمتوں کے مستحق ٹھہرتے۔ لیکن اس کے برخلاف کتابِ مبین کو ذاتی افکار کے سانچے میں ڈھال لیتے اور یوں ترجمہ و تفسیر کا بھی خون کر دیتے ہیں۔ سورۃ الفاتحہ کی روشنی میں ہم بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ

صفحہ ۶

سیدھا راستہ وہ ہے جس پر انعام یافتہ لوگ چلتے ہوں‘ اور مغضوب لوگوں کی اقتدا محض گمراہی و تباہی ہے۔ اور سب سے بڑی گمراہی و تباہی یہ ہے کہ قرآنی تعبیرات کو من چاہی شکل میں سمجھا اور سمجھایا جائے۔

خود بدلتے نہیں‘ قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق

جدید دنیائے اسلام میں افکارِ عمیق و لذتِ کردار سے محرومی اور زوالِ تحقیق کے سبب گستاخِ رسول (ﷺ) کی سزا کے بارے میں بھی محکومی و غلامی کے طریق نے فروغ پایا اور اکثر اوقات معذرت خواہانہ انداز اپنایا گیا ہے۔ عقلی و عملی غلاموں کے مسلک میں حکمتِ دین کے تقاضے بھی غلامانہ ہوتے ہیں۔ چونکہ قرآنِ حکیم میں کسی جگہ آدابِ غلامی کا کوئی بیان نہیں آیا‘ لہٰذا خاکبازوں کے حلقے میں اجتہاد اور خالص دینی نقطۂ نظر کے پردے میں بے عملی و بے غیرتی کی تعلیم دی جانے لگی ہے۔ کہیں تنسیخِ جہاد کا فتویٰ صادر کیا گیا اور کہیں یہ شور و غوغا بلند ہوا کہ اسلام میں فقط دفاعی جنگ کا تصوّر ہی موجود ہے۔ اور اب تو برملا یہ کہا جانے لگا کہ دینِ مبین میں رسول (ﷺ) کی توہین کو سرے سے کوئی قابلِ گرفت جرم قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی اس پر کوئی سزا مقرر ہے۔ میرے خیال میں فتنۂ انکارِ ختمِ نبوت کے بعد یہ عالمِ اسلام کے خلاف سب سے خطرناک سازش ہے۔ اور اس کا برموقع تدارک بھی ناگزیر ہے۔ وگرنہ مسلمان ہمیشہ کے لیئے صفحۂ ہستی سے نابود ہو کر رہ جائیں گے۔ یہ ایک پیچ دار اور گہری سازش ہے۔ اس کے مضمرات میں مسلم دنیا کی ازخود ہلاکت کا پورا سامان موجود ہے۔

یا مُردہ ہے یا نزع کی حالت میں گرفتار
جو فلسفہ لکھا نہ گیا خونِ جگر سے
صفحہ ۷

نسلی مسلمانوں میں ایک نومولود طبقہ اِسی فکر کا حامل ہے۔ اِس جدّت گزیدہ گروہ کے افراد بالعموم ایک جیسے دلائل و براہین ڈھونڈ لاتے اور غیور و جسور مسلمانوں کے جذبۂ فدا کاری و جاں سپاری کو دانستہ یا نادانستہ، شعوری یا لاشعوری طور پر اپنا شکار بناتے ہیں۔ ان کا مؤقف مسطور ہے:

”دعوت، مومن کی شخصیت کی کلید ہے۔ یہی وہ شعور ہے جو دوسری قوموں کے ساتھ مسلمانوں کے تعلق کی تشکیل کرتا ہے۔ یہی ان کے تمام خارجی رویّہ کو متعیّن کرتا ہے۔ چونکہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے دعوت کے شعور کو کھو دیا ہے، اس لیے ان کا پورا خارجی رویّہ بگڑ کر رہ گیا ہے۔ وہ اسلام کے نام پر ایسی حرکتیں کرتے ہیں، جن کا اسلام سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

موجودہ زمانہ کے مسلمان نہ صرف یہ کہ دعوت کا کام نہیں کر رہے ہیں، بلکہ وہ مسلسل دعوت کو قتل کرنے میں مشغول ہیں۔ دوسری قوموں کو سیاسی حریف سمجھنا، ان کے مقابلہ میں احتجاجی اور مطالباتی مہم چلانا، ایسے جھگڑے کھڑے کرنا جس کے نتیجہ میں داعی اور مدعو کے درمیان تعلقات خراب ہو جائیں۔ اِسی طرح کی تمام سرگرمیاں دعوت کی فضا کو بگاڑتی ہیں۔ وہ دعوت و نصیحت کی قاتل ہیں۔ مگر ساری دنیا کے مسلمان ہر روز انہی دعوت کُش سرگرمیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ اصاغر تو درکنار، ان کے اکابر بھی یہ سوچ نہیں پاتے کہ ایسا کر کے وہ اپنے خلاف، خدا کے غضب کو بھڑکا رہے ہیں۔

انہی دعوت کُش سرگرمیوں میں سے ایک سرگرمی وہ ہے جو ”شتمِ رسولؐ“ کے خلاف مسلمان ہر جگہ جاری کیئے ہوئے ہیں۔ اور جس کا ایک نمایاں مظاہرہ سلمان رشدی کی کتاب (شیطانی آیات) کی اشاعت کے بعد ۱۹۸۹ء دیکھنے میں آیا ہے۔ اینٹی رشدی ایجی ٹیشن بلاشبہ لغویت کی حد تک غیر اسلامی تھا۔ اس کے باوجود وہ مسلمانوں

صفحہ ۸

کے اصاغر و اکابر کے درمیان اس لئے جاری رہا کہ دعوتی شعور سے محرومی کی بناء پر انہوں نے وہ کسوٹی کھو دی تھی جس پر جانچ کر وہ معلوم کر سکیں کہ ان کی کون سی روش اسلام کے مطابق ہے، اور کون سی روش اسلام کے مطابق نہیں۔

مسلمانوں کے اوپر اپنے عقیدہ کے اعتبار سے لازم ہے کہ وہ داعی اور مدعو کی اصطلاحوں میں سوچیں۔ وہ اپنی انفرادی اور قومی سرگرمیوں کی تشکیل میں دعوت کو اصل معیار بنائیں۔ وہ دعوت کی مصلحت کو تمام مصلحتوں پر مقدم رکھیں۔ وہ ہر نقصان کو گوارا کر لیں، مگر دعوت کا نقصان کسی قیمت پر گوارا نہ کریں۔ اگر مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا تو یقینی طور پر وہ خدا کے یہاں مجرم قرار پائیں گے۔ ـــــ ناگوار باتوں پر مشتعل ہو جانے کی اس فہرست میں سب سے زیادہ نمایاں چیز وہ ہے جس کو ”ناموسِ رسول (ﷺ) پر حملہ“، ”رسول (ﷺ) کی شان میں گستاخی“ جیسے جذباتی الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کا یہ لغو مزاج صرف اس لئے ہے کہ انہوں نے دعوت کا شعور کھو دیا ہے۔ دوسری اقوام کو وہ صرف اپنا قومی رقیب اور دنیوی حریف سمجھتے ہیں۔ اس لئے ہر بات کو وہ فوراً قومی وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ اگر ان کے اندر داعیانہ شعور زندہ ہو تو وہ دوسری اقوام کو اپنا مدعو سمجھیں گے۔ اس کے بعد دوسری اقوام سے انہیں نفرت کے بجائے خیر خواہی پیدا ہو جائے گی۔ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی ناگواریوں پر وہ اسی طرح صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کریں گے جیسا کہ رسول (ﷺ) اور اصحابِ رسول (ﷺ) نے اختیار کیا“۔

مندرجہ بالا تمام گفتگو دراصل داعیانہ مصلحت اور مبلغانہ حکمت کے نام پر ناموسِ رسالت کے اساسی مسئلہ کو پسِ پشت ڈالنے کی ناپاک و مذموم جسارت ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اہل ایمان کے نازک آبگینوں میں موجزن غیرت و حمیت کے عکس کامل کو عمومی جذبہ اور ”مسلمانوں کا لغو مزاج“ تک کہہ دیا گیا ہے۔ اپنے اپنے ظرف، ذوق

اور مقدر کی بات ہے۔ اقبالؒ نے تو کہا تھا‘ ل

مغزِ قرآں، روحِ
ہست حُبِّ رحمت ؐ

یہ اسلام

محبتِ رسول (ﷺ) دین ہے۔ اہانتِ رسول ایک ناقابلِ معافی جرم سیرتِ ہادیٔ عالم ﷺ اور اُسوۂ صحابہؓ اوراق بھی گواہ ہیں کہ غیور و جسور مسلماں ذلت بار ہلاکت میں ارتکابِ گستاخی کرنے وا اتارا۔ مگر اس کے باوجود کچھ نام نہاد مفکر رکھتے اور کہتے ہیں: ”موجودہ دنیا میں ا ہے۔ چنانچہ اس قسم (توہین) کے واقعات کہ پیغمبر اسلام (ﷺ) بہ نفسِ نفیس آپ ﷺ نے جب عربوں کے سا آپ ﷺ کے ساتھ نہایت بُرا سلوک طور پر ستانے کے علاوہ آپ ﷺ جب ہم اس اعتبار سے دورِ اول (عہدِ نبویؐ ہوتا ہے کہ مذکورہ قسم کی گستاخی کرنے طرح کی کارروائی نہیں کی گئی، جو موجودہ ز معترضین کہتے ہیں کہ ـــــــ

صفحہ ۹

میان اس لیے جاری رہا کہ دعوتی شعور سے محرومی کی بناء پر دی تھی جس پر جانچ کر وہ معلوم کر سکیں کہ ان کی کون سی ہے، اور کون سی روش اسلام کے مطابق نہیں۔

پر اپنے عقیدہ کے اعتبار سے لازم ہے کہ وہ داعی اور مدعو کی وہ اپنی انفرادی اور قومی سرگرمیوں کی تشکیل میں دعوت کو دعوت کی مصلحت کو تمام مصلحتوں پر مقدم رکھیں۔ وہ ہر کر دعوت کا نقصان کسی قیمت پر گوارا نہ کریں۔ اگر مسلمانوں طور پر وہ خدا کے یہاں مجرم قرار پائیں گے ــــــ ناگوار باتوں اس فہرست میں سب سے زیادہ نمایاں چیز وہ ہے جس کو پر حملہ“، ”رسول (ﷺ) کی شان میں گستاخی“ جیسے جذباتی ہے۔ مسلمانوں کا یہ لغو مزاج صرف اس لیئے ہے کہ انہوں نے ہے۔ دوسری اقوام کو وہ صرف اپنا قومی رقیب اور دنیوی حریف بات کو وہ فوراً ”قومی وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ اگر ان کے اندر وہ دوسری اقوام کو اپنا مدعو سمجھیں گے۔ اس کے بعد دوسری کے بجائے خیر خواہی پیدا ہو جائے گی۔ دوسروں کی طرف سے پر وہ اسی طرح صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کریں گے جیسا صحابہؓ، رسول (ﷺ) نے اختیار کیا“۔

م گفتگو دراصل داعیانہ مصلحت اور مبلغانہ حکمت کے نام پر سی مسئلہ کو پس پشت ڈالنے کی ناپاک و مذموم جسارت ہے۔ نہ کے نازک آبگینوں میں موجزن غیرت و حمیت کے عکس کامل مسلمانوں کا لغو مزاج“ تک کہہ دیا گیا ہے۔ اپنے اپنے ظرف، ذوق

اور مقدر کی بات ہے۔ اقبالؒ نے تو کہا تھا، اور کیا ہی خوب کہا تھا:

مغز قرآں، روحِ ایماں، جانِ دیں
ہست حُبِّ رحمۃٌ للعالمیں (ﷺ)

یہ اسلام ہے

محبتِ رسول (ﷺ) دین حق کی شرطِ اوّل اور عقیدہ و ایمان کی اساس ہے۔ اہانتِ رسول ایک ناقابلِ معافی جرم اور ناقابلِ تلافی ظلم ہے۔ قرآن و حدیث، سیرتِ ہادئ عالم ﷺ اور اسوۂ صحابہؓ اس پر گواہ ہیں۔ پوری تاریخِ اسلام کے اوراق بھی گواہ ہیں کہ غیور و جسور مسلمانوں نے اپنے آقا و مولا (ﷺ) کی ذاتِ بابرکات میں ارتکابِ گستاخی کرنے والوں کو ہمیشہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر فنا کے گھاٹ اتارا۔ مگر اس کے باوجود کچھ نام نہاد مفکر اور مغرب گزیدہ دانشور ایک عجیب موقف رکھتے اور کہتے ہیں: ”موجودہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو امتحان کی آزادی عطا کی ہے۔ چنانچہ اس قسم (توہین) کے واقعات عین اس وقت سے پیش آ رہے ہیں جب کہ پیغمبر اسلام (ﷺ) بہ نفسِ نفیس دنیا میں موجود تھے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ آپ ﷺ نے جب عربوں کے سامنے اپنی پیغمبرانہ دعوت پیش کی تو انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ نہایت بُرا سلوک کیا۔ انہوں نے آپ ﷺ کو عملی طور پر ستانے کے علاوہ آپ ﷺ پر طرح طرح کے بُرے القاب چسپاں کیئے۔

جب ہم اس اعتبار سے دورِ اول (عہدِ نبوت و خلافتِ راشدہ) کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قسم کی گستاخی کرنے والے غیر مسلموں کے خلاف کبھی بھی اس طرح کی کارروائی نہیں کی گئی، جو موجودہ زمانہ کے مسلمان کیا کر رہے ہیں“۔

معترضین کہتے ہیں کہ ــــــ ”یہ اسلام نہیں“ ــــــ جسے جہاد کہا جا رہا

صفحہ 10

ہے، وہ در حقیقت سرکشی ہے۔ سیرتِ رسول ﷺ اور اُسوۂ صحابہؓ سے بے نیاز ہو کر موجودہ قسم کی اشتعال انگیز کارروائی (تحریکِ گستاخیٔ رسول (ﷺ) کے خلاف غم و غصّہ کا اظہار) اپنے نفس کا اِتّباع ہے نہ کہ خدا اور رسول (ﷺ) کا اِتّباع۔ گستاخِ رسول ﷺ کی سزا کے مخالفین ملّتِ اسلامیہ کو یاد دلاتے ہیں کہ اس قسم کی صورتِ حال میں ہمیں سب سے پہلے قرآن، حدیث اور سیرت کو دیکھ کر معلوم کرنا چاہیے کہ اس طرح کا کوئی معاملہ جب دورِ اول میں پیش آیا تو خود رسولِ پاک (ﷺ) اور آپ ﷺ کے اصحاب نے اس پر کس قسم کا ردّ عمل پیش کیا۔ اور پھر وہ وہی کریں جو رسول (ﷺ) اور اصحابِ رسول ﷺ کے نمونہ سے ثابت ہو رہا ہو۔ بقول ان کے، اس طرح کے معاملات میں ہمیں صرف یہ کرنا چاہئے کہ ایسے لوگوں کے حق میں اصلاح اور ہدایت کی دعا کریں۔ ان سے ملاقات کر کے پُر وقار طریقہ سے ان کی غلط فہمی کو دور کریں۔ سنجیدہ اور علمی انداز میں وضاحتی مضامین لکھ کر اخبارات میں شائع کرائیں۔ یہی واحد کام ہے جو مسلمانوں کو کرنا ہے۔ اس کے سوا مسلمان جو کچھ کر رہے ہیں، وہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والا ہے نہ کہ خدا کی رحمت کو کھینچنے والا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو رحمت بنا کر بھیجا ہے، نہ کہ جلانے اور پھونکنے والا بنا کر۔

روحِ قرآنی کے مطابق، اللہ کے رسول (ﷺ) سے جنگ کرنا ایسا ہے جیسا کہ خود اللہ سے جنگ کرنا۔ بلکہ رسول ﷺ سے جنگ کرنے کو ہی اللہ نے خود اپنے سے جنگ قرار دیا ہے۔ مزید برآں یہ کہ اللہ اور اللہ کے رسول سے جنگ کرنے کا نتیجہ، زمین پر فساد کا بپا ہو جانا ہے۔ کیونکہ اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا قانون نافذ ہو تو خطۂ ارض، امن کا گہوارہ بن جائے۔ فساد تو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حکم خداوندی سے روگردانی و حکم عدولی یا بغاوت کا اظہار کیا جائے گا۔ اس دائرے میں جو جرم بھی آئے، اس اب سوال یہ ہے کہ دنیا میں توہین یا ذریعۂ فساد ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس سے بڑا فتنہ پرور ہے اور اس سنگین جرم سزا دی جائے گی اور وہ سزائے قتل ہے۔ کرنے یا نہ کرنے کا حق حاصل تھا مگر معافی نہیں کر سکتا۔ کئی مواقع پر رسولِ خدا ( موت بتانے کا حکم فرمایا تھا اور اس کی بہت یہ ہے کہ اگر امام القبلتین (ﷺ) کسی ایک مجرم کو کوئی سزا دی ہوتی تو تب بھی واجب التعمیل قانون کے درجہ پر ہوتی۔ چہ اور صفحۂ تاریخ پر متعدّد نظائر موجود ہیں۔ یہ جرم میں اکثر خود رسالت مآب (ﷺ قتل قرار دیا گیا۔

سال بعد سے ہے، جبکہ غزوۂ بدر کی شکل آقائے نامدار (ﷺ) کو اس رزم گاہ بدر سے مدینہ طیبہ لوٹتے ہوئے اس سفر میں گردن مارنے کا حکم فرمایا۔ تعمیل ارشاد میں ک سے اس کا کام تمام کر دیا۔

صفحہ ١١

بلکہ اس دائرے میں جو جرم بھی آئے، اس کی سزا معین ہے اور وہ ”موت“ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ دنیا میں توہین رسول (ﷺ) سے بڑا کوئی اور جرم یا ذریعۂ فساد ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ شاتم نبی، کائنات کا سب سے بڑا فتنہ پرور ہے اور اس سنگین جرم کے ارتکاب کی وجہ سے اسے سنگین ترین سزا دی جائے گی اور وہ سزائے قتل ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کو انہیں معاف کرنے یا نہ کرنے کا حق حاصل تھا مگر معافی کے حق کا استعمال امت میں سے کوئی فرد نہیں کر سکتا۔ کئی مواقع پر رسول خدا (ﷺ) نے گستاخان و شاتمان کو لقمۂ موت بنانے کا حکم فرمایا تھا اور اس کی بہت سی مثالیں موجود و محفوظ ہیں۔ اصول دین یہ ہے کہ اگر امام القبلتین (ﷺ) نے اپنی حیات طیبہ میں اہانت کے مرتکب کسی ایک مجرم کو کوئی سزا دی ہوتی تو تب بھی یہ واحد نظیر، امت مسلمہ کے لئے ایک واجب التعمیل قانون کے درجہ پر ہوتی۔ چہ جائیکہ اس معاملے میں کتب سیر و احادیث اور صفحۂ تاریخ پر متعدّد نظائر موجود ہیں۔ یہ وہ واقعات ہیں جن میں توہین رسالت کے جرم میں اکثر خود رسالت مآب (ﷺ) کی زبان مبارک سے شاتمان کو مستوجب قتل قرار دیا گیا۔

سال بعد سے ہے، جبکہ غزوۂ بدر کی شکل میں حق و باطل کا ابتدائی معرکہ پیش آیا۔ آقائے نامدار (ﷺ) کو اس رزم گاہ اوّل میں شاندار فتح نصیب ہوئی تو میدانِ بدر سے مدینۂ طیبہ لوٹتے ہوئے اس سفر میں وادی صفراء پہنچے تو نضر بن حارث کی گردن مارنے کا حکم فرمایا۔ تعمیل ارشاد میں سیّدنا حضرت علی المرتضیٰ نے ایک ہی وار سے اس کا کام تمام کر دیا۔

صفحہ ۱۴۱

تو اسیرانِ جنگ میں عقبہ بن ابی معیط کو تہہ تیغ کر دیا گیا۔ اسی بدطینت نے ایک بار مکۃ المکرمہ میں سرورِ کائنات فخرِ موجودات (ﷺ) پر حالتِ نماز میں اونٹ کی اوجھ لا کر ڈال دی تھی۔ نیز ایک اور موقع پر آپ ﷺ کی گردن مبارک کے گرد کپڑا کس کر شدید اذیت پہنچائی تھی۔ اسے بھی آقا و مولا (ﷺ) کا اشارہ پا کر حضرت علی المرتضیٰ نے ہی موت کے گھاٹ اتارا۔ اس بارے میں ابنِ خلدون تک یہ خبر لائے ہیں کہ دونوں قیدی نبی کریم رؤف الرحیم (ﷺ) سے نہایت دشمنی رکھتے تھے۔ ان کے ساتھ دیگر قیدیوں کے برعکس انفرادی معاملہ محض اِس لئے کیا گیا کہ یہ تاجدارِ مدینہ (ﷺ) کو مکی زندگی کے دوران اہانت و ایذاء رسانی کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ وگرنہ دوسرے جنگی قیدیوں کے ساتھ جو حُسنِ سلوک روا رکھا گیا، اس کی مثال تاریخ میں ڈھونڈے سے بھی نہیں مل سکتی۔ اس بارے میں بعض مزید معلومات و تفصیلات بھی میسر آتی ہیں۔

"عقبہ بن ابی معیط جب کبھی سفر سے واپس آتا تو دعوتِ عام کرتا جس میں اہلِ مکہ شریک ہوتے۔ یہ اکثر حضور (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ حضور ﷺ کی باتیں سنتا اور انہیں پسند کرتا۔ ایک دفعہ وہ سفر سے واپس آیا تو اس نے حسبِ دستور دعوتِ عام کا اہتمام کیا اور حضور پاک (ﷺ) کو بھی دعوت دی۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا جب تک تو مشرف باسلام نہ ہو، میں تیری دعوت قبول نہیں کروں گا۔ چنانچہ اس نے کلمۂ شہادت پڑھا اور اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔ ابی خلف سے عقبہ کا بڑا یارانہ تھا۔ اس نے سنا تو آ کر کہا۔ "اے عقبہ! سنا ہے تو مرتد ہو گیا ہے"۔ اس نے کہا، ہرگز نہیں۔ میں نے محض ایک غرض کے لئے اسلام کا اظہار کیا ہے۔ ابی کہنے لگا۔ میں تم سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گا، جب تک تو اس کے پاس جا کر ایسی ایسی گستاخیاں نہ کرے۔ عقبہ اپنے یار کو خوش کرنے کے لئے

صفحہ ۱۴

حضور اقدس ﷺ کے پاس گیا اور وہ ساری گستاخیاں کیں‘ جن کی فرمائش اس کے یار نے کی تھی۔ یہاں تک کہ اس نے رخ انور پر تھوک دیا۔ (لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی تھوک کو آگ کا انگارہ بنا کر لوٹایا اور اس کے منہ پر دے مارا‘ جس سے اس کا منہ جل گیا اور مرتے دم تک گالوں پر یہ داغ باقی رہا) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ”جب سرزمین مکہ سے باہر تیری میری ملاقات ہو گی تو تیرا سر تلوار سے اڑا دوں گا۔“ یہ بات اس کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گئی۔ کئی سال بعد جب اہل مکہ بدر کی طرف جانے لگے تو اس نے پہلو تہی کرنا چاہی۔ اور کہا کہ تم کو معلوم ہے کہ اس شخص نے مجھے دھمکی دی تھی اور جو بات ان کے منہ سے نکلتی ہے‘ پوری ہو کر رہتی ہے۔ مجھے یہیں رہنے دو۔ انہوں نے کہا‘ تم بھی عجیب آدمی ہو‘ پہلے تو اس کے غالب آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور اگر بالفرض محال کوئی ایسی صورت پیش آ گئی تو تمہارے پاس تیز رفتار سرخ اونٹ ہے‘ اس پر سوار ہو جانا۔ چنانچہ اسے اپنی بد بختی لے گئی۔ کفر کو شکست ہوئی۔ یہ اپنے اونٹ کو لے کر بھاگا۔ لیکن وادی کے پیچ و خم میں الجھ کر رہ گیا اور گرفتار ہوا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب عقبہ بن ابی معیط قتل کیا جانے لگا تو اس نے پکار کر کہا۔ ”قبیلہ قریش کے لوگو! آج میں تمہارے سامنے قتل کیا جا رہا ہوں اور تم خاموش ہو“۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو اپنے کفر اور رسول اللہ ﷺ پر افتراء پردازی کے باعث قتل ہو رہا ہے“

آئندہ برس یعنی ۳ ہجری میں اہانتِ رسول ﷺ کے چار مجرموں کو یکے بعد دیگرے قتل کیا گیا۔ روایات میں ہے کہ عصماء نامی ایک یہودی شاعرہ‘ جو محبوبِ خدا ﷺ کی ذاتِ بابرکات کو نشانۂ طنز و تضحیک بناتی اور آپ ﷺ کی ارفع و اعلیٰ شانِ مبارک میں ہجویہ اشعار بکا کرتی تھی۔ ایک صحابی عمیرؓ بن عدی (جو نابینا تھے) کے ہاتھوں قتل ہوئی۔ اس پر اظہار مسرت کرتے ہوئے

صفحہ ۱۴

رسول کریم (ﷺ) نے اس صحابی کو بطور تحسین و آفرین ”بصیر اور بینا“ کے القاب و خطاب سے سرفراز فرمایا۔ کتب سیر و تواریخ میں اس واقعہ سے متعلق کئی مزید معلومات بھی مرقوم ہیں۔

تھی۔ اس کا مشغلہ تھا کہ اسلام اور اہل اسلام سے بُرائیاں منسوب کرتی، تمسخر اڑاتی اور مذمت کرتی رہتی۔ رسول اللہ ﷺ کو برابر اذیت پہنچانا اس کا معمول تھا۔ آپ ﷺ نے حضرت عُمیرؓ بن عدیؓ کو اس کے قتل کے لئے بھیجا۔ حضرت عُمیرؓ رات کے وقت عصماء کے گھر پہنچے، جو مدینہ سے باہر تھا۔ اپنی تلوار اس کے سینے پر رکھ کر پشت سے گزار دی اور لوٹ آئے۔

پاک (ﷺ) کی شان میں بے ادبی و گستاخی کا ارتکاب کرتی۔ ہجو و ہرزہ اور سبّ و شتم میں بے باک تھی۔ نابینا صحابی، اپنی اس لونڈی کو منع کرتے، ڈانٹتے اور جھڑکتے کہ حضور آقا و مولا (ﷺ) کے ساتھ خباثتوں سے باز رہے۔ مگر وہ باز نہ آئی۔ ایک روز حسبِ معمول اس نے یاوہ گوئی کی۔ صحابیِ رسول (ﷺ) کی غیرت و حمیت یہ معاملہ برداشت نہ کر سکی۔ انہوں نے چھرا اٹھایا اور اس کے پیٹ میں جھونک دیا۔ صبح بارگاہِ نبوی (ﷺ) میں اس کے قتل کا ذکر ہوا۔ سرورِ ہر جہاں (ﷺ) نے لوگوں کو جمع ہونے کا حکم فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے یہ کام کیا ہے، میں اسے خدا کی قسم دیتا ہوں اور اپنے حق کی جو میرا اس پر ہے وہ کھڑا ہو جائے ۔ (یعنی وہ اقرار کرے کہ میں نے یہ کام کیا ہے) یہ سن کر وہی نابینا صحابی کھڑے ہوئے۔ لوگوں کو پھاندتے اور لڑتے ہوئے آئے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے سامنے آ کر بیٹھ گئے۔ عرض کی یا رسول اللہ (ﷺ) میں اس

لونڈی کا قاتل ہوں، کیونکہ وہ آپ ﷺ اسے منع کرتا لیکن وہ باز نہ آتی۔ میرے اس دو موتیوں جیسے بیٹے ہیں۔ گزشتہ رات اس تو میں نے چھرا اس کے پیٹ پر رکھ دیا اور نے فرمایا۔ ”گواہ رہو کہ اس کا خون رائیگاں ہ

سُنن ابی داؤد اور ترمذی میں ا ہے کہ ایک صحابی نے اپنی لونڈی کو ق رسول (ﷺ) کی شانِ اقدس میں گستاخی ک آپ (ﷺ) نے قرار دیا کہ لونڈی کا خون

یہ امر مسلّمہ ہے کہ جو حد ا دیّت لازم آتی ہے نہ قصاص۔ بلکہ یہ ک ہے کہ شاتم و گستاخ کا خون رائیگاں ہوتا

امام ابنِ تیمیہ مذکورہ حد حدیث، شاتمِ رسول (ﷺ) کے طرح حضرت عمیرؓ بن امیہ نے اپنی ایک لونڈی جو نبی (ﷺ) کی شانِ اقدس میں کرتی تھی۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا کہ اس کا خون رائیگاں

حدیثِ مبارکہ میں ہے: ”جس رسول (ﷺ) کی بے ادب و گستاخ تھی ا کرتی۔ بایں سبب ایک شخص نے اس آپ (ﷺ) نے اس کا خون رائیگاں ق

صفحہ ۱۵

لونڈی کا قاتل ہوں، کیونکہ وہ آپ ﷺ کو اچھا نہ کہتی اور ہجو کرتی تھی۔ میں اسے منع کرتا لیکن وہ باز نہ آتی۔ جھڑکتا تھا پھر بھی نہ مانتی۔ اس کے بطن سے میرے دو موتیوں جیسے بیٹے ہیں۔ گزشتہ رات وہ آپ ﷺ کی تنقیص و ہجو کرنے لگی تو میں نے چھرا اس کے پیٹ پر رکھ دیا۔ یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا۔ ”گواہ رہو کہ اس کا خون رائیگاں گیا“۔

سُنن ابی داؤد اور ترمذی میں یہ روایت حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ ایک صحابی نے اپنی لونڈی کو جس سے اس کی اولاد بھی تھی، نبیٔ اکرم (ﷺ) کی شانِ اقدس میں اہانت کرتے سنا تو اسے ہلاک کر دیا۔ رسول پاک (ﷺ) نے قرار دیا کہ لونڈی کا خون ساقط ہے۔

یہ امر مسلّمہ ہے کہ جو حدّ الٰہی کے قیام میں مارا گیا، اس کے خون پر نہ تو دیت لازم آتی ہے نہ قصاص۔ بلکہ یہ کہ حد کو تعزیر میں بھی نہیں بدلا جا سکتا۔ ظاہر ہے کہ شاتم و گستاخ کا خون رائیگاں ہو گا۔

امام ابن تیمیہ مذکورہ حدیث و واقعہ کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”یہ حدیث، شاتم رسول (ﷺ) کے قتل کے جواز پر نص کا درجہ رکھتی ہے“۔ اسی طرح حضرت عمیرؓ بن امیہ نے اپنی ایک بہن کو قتل کر دیا، جو مشرکہ تھی اور آقائے تا جدار (ﷺ) کی شانِ زیبا و اقدس میں بدزبانی کا ارتکاب کرتی تھی۔ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا کہ اس کا خون ساقط ہے۔

حدیثِ مبارکہ میں ہے: ”حضرت علیؓ راوی ہیں کہ ایک یہودیہ، حضور اکرم (ﷺ) کی بے ادب و گستاخ تھی اور آپ ﷺ کی شان میں طعن اور ہجو کرتی۔ بایں سبب ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹا، یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ رسولؐ اللہ (ﷺ) نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا“۔

صفحہ ۴۱

(ﷺ) کے حکم سے حضرت عاصمؓ بن ثابت نے اس کو تہہ تیغ کر دیا‘ کیونکہ یہ بدکردار و بدگفتار اپنے اشعار کے زور سے رسولِ معظم (ﷺ) کے خلاف لوگوں کے جذبات برانگیختہ کیا کرتا تھا۔ اسی وجہ سے جہنم میں پہنچا دیا گیا۔

تھی۔ یہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف لوگوں کو ورغلاتا‘ ابھارتا اور ایسے شعر پڑھتا تھا‘ جن میں لوگوں کے لیے رسولِ خدا (ﷺ) سے نفرت کی ترغیب ہوتی تھی۔ حضرت سالمؓ بن عمیرؓ کو اس کے قتل کے لیے بھیجا گیا۔ انہوں نے اپنی تلوار اس کے جگر کے نیچے گھونپی اور اسے چیر کر رکھ دیا اور یوں وہ دشمنِ خدا‘ نیست و نابود ہوا۔

مضافات میں اس کے قلعہ کے کسی حد تک اب بھی شاید آثار پائے جاتے ہیں (اس کا قلعہ بڑا مضبوط اور شاندار تھا۔ اپنی دولت و ثروت کے گھمنڈ میں یہ انتہائی مکروہ انداز میں‘ شافعِ محشر ساقیِ کوثر (ﷺ) کے بارے میں بدکلامی کرتا۔ اس کی بدزبانی ناقابلِ برداشت تھی۔ تاجدارِ مدینہ (ﷺ) کے حکمِ خاص کے تحت ایک صحابی حضرت ابو نائلہؓ نے اپنے چند احباب کے ہمراہ قلعہ میں جا کر اس ملیچھ کو موت کی نیند سلا دیا اور یوں اس نامراد دشمن کا خاتمہ ہوا۔ یہ یہودیوں کے ایک مشہور قبیلہ بنو قریظہ کی شاخ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس واقعۂ قتل کو عہدِ رسالت میں شاتمانِ کے تذکرہ کی رعایت سے بوجوہ خاص شہرت حاصل ہوئی ہے۔ اکثر و بیشتر سیرت نگار اور مورخین اس کی تمام جزئیات و تفصیلات بیان میں لائے ہیں۔

بیان کیا جاتا ہے کہ کعب بن اشرف ایک رئیس اور شاعر تھا۔ ہمہ وقت شر انگیزیوں میں مشغول رہتا اور کفارِ مکہ کو جنگ کی ترغیب دیا کرتا تھا۔ شاہِ کون و مکاں‘

نبی آخر الزماں (ﷺ) نے دعا فرمائی۔ محفوظ رکھ۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے ”کون ہے جو کعب بن اشرف کو قتل کرنے اس کے رسول ﷺ کو تکلیف پہنچا کھڑے ہو کر عرض کیا۔ ”یا رسول اللہ (ﷺ) اسے ہلاک کروں“۔ فرمایا۔ ”ہاں“۔ ان کے نے اسے قتل کیا اور اس کا سر کاٹ کر اپنے کر ڈال دیا۔ المفضل نے اپنی کتاب (معانی ا اور ان کے ساتھی شاتمِ مذکور کا سر کاٹ ک لولاک (ﷺ) کی خدمت میں پیش کی

دراصل کعب بن اشرف یہودیو کی ہجو کرتا اور آپ ﷺ کے دشمن شرارت حد سے بڑھ گئی تو ایک دن آپ خدا (ﷺ) کے دشمن کو ٹھکانے ل میں حضرت محمدؓ بن مسلمہ بھی تھے۔ محمدؓ بن اس بات کی اجازت لی کہ اگر سیاست و ﷺ کی کچھ شکایت کرنی پڑے تو دیں۔ آپ ﷺ نے اجازت دے پاس گئے اور کہا: اس نبی (ﷺ) دیا ہے۔ لہٰذا ہمیں کچھ قرض دو“۔ ان نے کہا کہ تم اپنی عورتوں یا بچوں میں س

صفحہ ۱۷

ں ایک شخص ابو عزہ جمحی دکھائی دیا تو خواجہ کائنات عاصم بن ثابت نے اس کو تہ تیغ کر دیا‘ کیونکہ یہ ے رسول معظم (ﷺ) کے خلاف لوگوں ی وجہ سے جہنم میں پہنچا دیا گیا۔ یہودی تھا۔ اس کی عمر ایک سو بیس سال کو پہنچ چکی کے خلاف لوگوں کو ورغلانا‘ ابھارنا اور ایسے شعر اہل خدا (ﷺ) سے نفرت کی ترغیب ہوتی کے قتل کے لئے بھیجا گیا۔ انہوں نے اپنی تلوار اس کر رکھ دیا اور یوں وہ دشمن خدا نیست و نابود ہوا۔ اور یہودی اور فتنہ پرور شخص تھا (مدینہ المنورہ کے عہد تک اب بھی شاید آثار پائے جاتے ہیں (اس کا دولت و ثروت کے گھمنڈ میں یہ انتہائی مکروہ انداز ) کے بارے میں بد کلامی کرتا۔ اس کی بد زبانی (ﷺ) کے حکم خاص کے تحت ایک صحابی شب کے ہمراہ قلعہ میں جا کر اس خبیث کو موت کی نیند کا خاتمہ ہوا۔ یہ یہودیوں کے ایک مشہور قبیلہ بنو تھا۔ اس واقعہ قتل کو عہد رسالت میں شاتمان کے شہرت حاصل ہوئی ہے۔ اکثر و بیشتر سیرت نگار اور تفصیلات بیان میں لائے ہیں۔ بن اشرف ایک رئیس اور شاعر تھا۔ ہمہ وقت شر یونکہ وہ جنگ کی ترغیب دیا کرتا تھا۔ شقاوت و مکاری

نبی آخر الزماں (ﷺ) نے دعا فرمائی۔ ”اے اللہ! ہمیں ابن اشرف کے شر سے محفوظ رکھ۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔ ”کون ہے جو کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لئے تیار ہے؟ اس لئے کہ وہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ چنانچہ حضرت محمد بن مسلمہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا۔ ”یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا آپ پسند فرماتے ہیں کہ میں اسے ہلاک کروں“۔ فرمایا۔ ”ہاں“۔ ان کے ساتھ حارث بن اوس بھی گئے۔ انہوں نے اسے قتل کیا اور اس کا سر کاٹ کر اپنے آقا و مولا (ﷺ) کے قدموں میں لا کر ڈال دیا۔ المفضل نے اپنی کتاب (معانی القرآن) میں درج کیا ہے کہ محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھی‘ شاتم مذکور کا سر کاٹ کر ایک ٹوکری میں رکھ کر لائے اور صاحبِ لولاک (ﷺ) کی خدمت میں پیش کیا تھا۔

دراصل کعب بن اشرف یہودیوں کا سردار تھا‘ جو حضور پرنور (ﷺ) کی ہجو کرتا اور آپ ﷺ کے دشمنوں کو ایذا رسانی پر بھڑکاتا تھا۔ جب اس کی شرارت حد سے بڑھ گئی تو ایک دن آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو رسولِ خدا (ﷺ) کے دشمن کو ٹھکانے لگائے گا“۔ پانچ انصاری کھڑے ہوئے۔ ان میں حضرت محمد بن مسلمہ بھی تھے۔ محمد بن مسلمہ نے آقا و مولا (ﷺ) سے اس بات کی اجازت لی کہ اگر سیاست و حکمت کے طور پر اس کے سامنے آپ ﷺ کی کچھ شکایت کرنی پڑے تو آپ ﷺ پہلے ہی اسے معاف فرما دیں۔ آپ ﷺ نے اجازت دے دی تو وہ اپنے ساتھیوں کو لے کر کعب کے پاس گئے اور کہا: اس نبی (ﷺ) نے ہم پر زکوٰۃ عائد کر کے مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے۔ لہٰذا ہمیں کچھ قرض دو“۔ ان کی شکایت سے وہ بہت خوش ہوا۔ تاہم اس نے کہا کہ تم اپنی عورتوں یا بچوں میں سے کوئی چیز ہمارے پاس رہن کر دو۔ آخر کار

صفحہ ١٩

اس پر معاملہ طے ہوا کہ ہتھیار رہن رکھے جائیں گے۔ دوسرے دن انصار اپنے ہتھیار لے کر گئے۔

رات کا وقت تھا۔ چنانچہ محمد بن مسلمہ اس کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ حضرت ابو نائلہؓ بھی تھے جو کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی بیان کئے جاتے ہیں۔ غرضیکہ مردودِ مذکور نے انہیں اپنے قلعہ میں بلا لیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ ان کی طرف نیچے اترنے لگا تو اس کی بیوی بولی، اس وقت کہاں جاتے ہو؟ میں ایک ایسی آواز سن رہی ہوں کہ گویا اس سے خون ٹپکتا ہے۔ کعب نے کہا، فکر کی کوئی بات نہیں۔ ادھر محمد بن مسلمہ اپنے ساتھیوں سے کہہ رہا تھا کہ میں اس کے سر کے بال پکڑ کر سونگھوں گا۔ جب تم دیکھو کہ میں نے اس کا سر مضبوطی سے اپنی گرفت میں لے لیا ہے تو تم قریب آ کر اسے قتل کر دینا۔ چنانچہ جب یہ گستاخ کپڑا اوڑھے ان کے پاس آیا تو خوشبو مہک رہی تھی۔ محمد بن مسلمہ نے کہا، میں نے آج کے دن کی طرح خوشبو پہلے کبھی محسوس نہیں کی۔ کیا میں یہ سونگھ سکتا ہوں؟ اس نے کہا، ہاں سونگھ لیجیے۔ وہ دھوکے میں آگیا تھا اور جب اپنے سر کی خوشبو سونگھانے کے لئے اس نے سر جھکایا تو محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس کا سر قلم کر دیا“۔

علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں: ”کعب بن اشرف، طے کا ایک یہودی تھا۔ اس کی ماں بنو نضیر سے تھی۔ جس وقت سے آپ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تھے، اسی وقت سے اس کو ایک ذاتی خصومت تھی۔ لیکن واقعہ بدر کے بعد یہ رسول اللہ (ﷺ) کے تصور و فکر سے اور زیادہ جلنے لگا۔ چنانچہ زید بن حارثہ یا (عبداللہ بن رواحہؓ) جب مدینہ میں فتح بدر کی خوشخبری لے کر آئے اور اس نے بھی سنا تو بے ساختہ یہ کہہ اٹھا، ”تف ہو تم پر۔ کیا یہ بات سچی ہے۔ قریش تو عرب کے شرفاء اور عوام کے بادشاہ تھے۔ اگر انہیں محمد ﷺ نے ختم کر دیا ہے تو پھر

زندگی سے موت بہتر ہے۔

جب اس کو اس واقعہ کا یقین ہو گیا تو وہ مکہ کسی کے پاس جا کر اترا (اس کی زوجیت میں عاتکہ تھی)۔ ان لوگوں کو رسول خدا (ﷺ) کی مخا اور مقتولین و مشرکین بدر پر روتا تھا۔ چند دنوں کے اُسید (مکہ میں اس کے میزبان کی اہلیہ) کی نسبت س ازاں مسلمانوں کی عورتوں کا اپنی غزلیات و قصائ تشبیب کرنے لگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ”ک کی گردن مارے؟“۔ محمد بن مسلمہ، ابو نائلہ (کعب نے اور کچھ دوسروں نے عرض کیا، ہم لوگ اس آپ نے ان لوگوں کو اجازت دی اور ان کے حق میں دعائ

تاریخ ابن خلدون میں ”یہود کا مدینہ میں ہے۔ لکھتے ہیں: ”یہودیوں پر اس واقعہ سے خوف سے ڈرنے لگا۔ آپ ﷺ نے بھی بالہام الہٰ دیا، کہ تم لوگ جہاں کہیں یہودیوں پر قابو پاؤ، ان کو

اہل یہود کا تاریخ پس منظر بھی ازحد دلچسپ بعد جب اللہ کے آخری رسول (ﷺ) مد یہاں عملاً ”تسلط یہودیوں کا ہی تھا۔ عرب قبائل تو مدت ہائے دراز کے باہمی کشت و خون کی وجہ سے

اوراق تاریخ بتاتے ہیں کہ خطۂ عرب میں مسیح میں بخت نصر کے زمانہ میں ہوا تھا۔ جب انہو

صفحہ ١٩

ہتھیار رہن رکھے جائیں گے۔ دوسرے دن انصار اپنے - چنانچہ محمد بن مسلمہ اس کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ و کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی بیان کیئے جاتے ہیں۔ میں اپنے قلعہ میں بلا لیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ ان کی کی بیوی بولی‘ اس وقت کہاں جاتے ہو؟ میں ایک ایسی آواز سے خون ٹپکتا ہے۔ کعب نے کہا‘ فکر کی کوئی بات نہیں۔ ساتھیوں سے کہہ رہا تھا کہ میں اس کے سر کے بال پکڑ کر کہ میں نے اس کا سر مضبوطی سے اپنی گرفت میں لے لیا قتل کر دینا۔ چنانچہ جب یہ گستاخ کپڑا اوڑھے ان کے پاس محمد بن مسلمہ نے کہا‘ میں نے آج کے دن کی طرح خوشبو کیا میں یہ سونگھ سکتا ہوں؟ اس نے کہا‘ ہاں سونگھ لیجیئے۔ وہ جب اپنے سر کی خوشبو سونگھانے کے لیئے اس نے سر جھکایا تو ساتھیوں کی مدد سے اس کا سر قلم کر دیا“۔

لکھتے ہیں: ”کعب بن اشرف‘ طے کا ایک یہودی تھا۔ اس جس وقت سے آپ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے ایک ذاتی خصومت تھی۔ لیکن واقعہ بدر کے بعد سے رسولؐ غور و فکر سے اور زیادہ جلنے لگا۔ چنانچہ زیدؓ بن حارثہ یا مدینہ میں فتح بدر کی خوشخبری لے کر آئے اور اس نے بھی ”تف ہو تم پر۔ کیا یہ بات سچی ہے۔ قریش تو عرب کے تھے۔ اگر انہیں محمد ﷺ نے ختم کر دیا ہے تو پھر

زندگی سے موت بہتر ہے۔

جب اس کو اس واقعہ کا یقین ہو گیا تو وہ مکہ چلا آیا۔ اور مطلب بن ابی وداعہ سہمی کے پاس جا کر اترا (اس کی زوجیت میں عاتکہ بنتِ اُسید بن ابی العیص بن امیہ تھی)۔ ان لوگوں کو رسول خدا (ﷺ) کی مخالفت پر ابھارنے لگا۔ اشعار پڑھتا اور مقتولین و مشرکینِ بدر پر روتا تھا۔ چند دنوں کے بعد مدینہ لوٹ آیا۔ پہلے عاتکہ بن اُسید (مکہ میں اس کے میزبان کی اہلیہ) کی نسبت عشقیہ مضامین و اشعار کہے۔ بعد ازاں مسلمانوں کی عورتوں کا اپنی غزلیات و قصائد میں ذکر کرتا اور ان کے ساتھ تشبیب کرنے لگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ”کون شخص ہے جو کعب بن اشرف کی گردن مارے؟“۔ محمد بن مسلمہ ابو نائلہ (کعب کے رضاعی بھائی‘ بنو عبدالاشہل سے) اور کچھ دوسروں نے عرض کیا۔ ہم لوگ اس کو ماریں گے۔ آپ ﷺ نے ان لوگوں کو اجازت دی اور ان کے حق میں دعائے خیر فرمائی۔

تاریخ ابن خلدون میں ”یہودِ مدینہ میں خوف و ہراس“ کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ لکھتے ہیں: ”یہودیوں پر اس واقعہ سے خوف طاری ہو گیا۔ ہر یہودی مسلمانوں سے ڈرنے لگا۔ آپ ﷺ نے بھی بالہامِ الٰہی‘ یہودیوں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا‘ کہ تم لوگ جہاں کہیں یہودیوں پر قابو پاؤ‘ ان کو قتل کر دو“۔

اہلِ یہود کا تاریخی پس منظر بھی از حد دلچسپ اور لائقِ مطالعہ ہے۔ ہجرت کے بعد جب اللہ کے آخری رسول (ﷺ) مدینۃ المنورہ میں جلوہ افروز ہوئے تو یہاں عملاً تسلط یہودیوں کا ہی تھا۔ عرب قبائل میں اوس و خزرج بھی آباد تھے مگر وہ مدت ہائے دراز کے باہمی کشت و خون کی وجہ سے خاصے کمزور ہو چکے تھے۔

اوراقِ تاریخ بتاتے ہیں کہ خطۂ عرب میں یہودیت کا فروغ پانچویں صدی قبل مسیح میں بخت نصر کے زمانہ میں ہوا تھا۔ جب اس نے یہودیوں کو نیست و نابود کرنا چاہا

صفحہ ۲۰

تو یہ یہاں چلے آئے۔ بنو حارث بن کعب، حمیر، کندہ یہودی قبیلے تھے اور یہ کہ خیبر کے لوگ بھی مذہباً یہودیت میں داخل ہو گئے تھے۔ مگر یثرب میں ان سے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ، اہم یہودی قبائل موجود تھے۔ اور حضور اکرم (ﷺ) نے ہجرت کے بعد ان سے ایک معاہدہ طے فرمایا تھا جو ”میثاق مدینہ“ کے نام سے مشہور ہے۔ الغرض یہ کہ بنو قینقاع اور بنو نضیر کو اپنی سازشوں اور وعدہ خلافیوں کے سبب نقل مکانی اختیار کرنا پڑی لیکن غزوۂ الاحزاب (غزوۂ خندق) کے موقع پر قریش مکہ سے ساز باز کی وجہ سے بنو قریظہ کو نقض عہد اور سخت شر کی وجہ سے معافی نہ مل سکی۔

غزوۂ خندق سے فراغت کے بعد رسول اکرم (ﷺ) نے صحابہ کرام کو حکم فرمایا کہ کوئی بھی سوائے بنو قریظہ کے اور کہیں نماز عصر نہ پڑھے۔ ابن اسحاق نے یہ بھی لکھا کہ بعض اصحاب جو کسی ضرورت سے باہر چلے گئے تھے، انہوں نے عشاء کے وقت، حکم نبوی ﷺ کی تعمیل و اطاعت میں بنو قریظہ میں آکر نماز پڑھی تھی۔ اور یہ کہ ان کا پچیس یوم تک محاصرہ کئے رکھا۔ ازاں بعد خود ان کی خواہش پر حضرت سعد بن معاذ کو فیصل مقرر کیا گیا۔ انہوں نے قرار دیا کہ بنو قریظہ کے کل مرد قتل کیئے جائیں۔ آپ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ بے شک تم نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ دیا۔ لہٰذا بنو قریظہ کے جنگجو افراد، بازار مدینہ کی طرف لائے گئے اور خندقیں کھود کر ان کی گردنیں ماری گئیں۔ ان کی تعداد چھ اور سات سو کے درمیان تھی۔

ایک یارِ غار و مددگار، ابو رافع بھی بہت بڑھا ہوا تھا۔ نہایت امیر تاجر تھا۔ اس کی رہائش ایک محل نما گڑھی میں واقع تھی۔ اسے بھی محبوبِ کردگار سید الابرار (ﷺ) کی رضا و ایماء سے ایک صحابی، حضرت عبداللہ نے موت سے ہمکنار کیا۔

ابو رافع عبداللہ بن ابی الحقیق ایک تھا۔ بڑا مالدار اور تونگر تھا۔ یہ تاجدارِ مدینہ ناپاک زبان وا کیا کرتا۔ سازشوں میں مصروف اور کافروں کا معاون ہوتا تھا۔ اہلِ اسلام کی معاونت کی تھی۔ لیکن اس کی گستاخی و بد زبانی

حضرت براء بن عازبؓ روایت ابو رافع یہودی کی طرف انصار کے چند مقرر کیا۔ ابو رافع، رسول اللہ (ﷺ) کے مقابلے میں کفار کو مدد دیتا تھا“۔

حضرت عبداللہ بن عتیک نے رات کو اس کے قلعہ میں جاکر تلوار کی پشت سے باہر نکل گئی، یہاں تک کہ کے قتل کا یقین ہو جانے کے بعد حصار لگائی، جس سے ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی خدمت اقدس میں پہنچایا۔ حضور اقدس ص ﷺ نے ان پر اپنا دست مبارک حالت میں آگئی۔

اس واقعہ کی مزید تفصیلات ساتھیوں کے ہمراہ اس قلعے کے قریب مویشی ہانک لائے تھے۔ عبداللہ بن عتیق

صفحہ ۲۱

رکھا۔

ابو رافع عبداللہ بن ابی الحقیق ایک بدفطرت، بدطینت اور بدخصلت شخص تھا۔ بڑا مالدار اور تونگر تھا۔ یہ تاجدارِ حرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شانِ مبارک میں اپنی ناپاک زبان وا کیا کرتا۔ سازشوں میں مصروف رہتا اور معرکۂ حق و باطل میں مشرکوں اور کافروں کا معاون ہوتا تھا۔ اہل اسلام کے خلاف اس نے قبیلہ بنی غطفان کی بھرپور معاونت کی تھی۔ لیکن اس کی گستاخی و اہانت کا جرم بہت بڑھا ہوا تھا۔

حضرت براء بن عازبؓ روایت کرتے ہیں: ”رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو رافع یہودی کی طرف انصار کے چند آدمی بھیجے۔ عبداللہؓ بن عتیک کو ان کا امیر مقرر کیا۔ ابو رافع، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت پہنچایا کرتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں کفار کو مدد دیتا تھا“۔

حضرت عبداللہ بن عتیکؓ نے آمنہ کے لال (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان پر رات کو اس کے قلعہ میں جاکر تلوار کی نوک اس کے پیٹ میں گھونپ دی، جو اس کی پشت سے باہر نکل گئی، یہاں تک کہ ہڈیوں کے ٹوٹنے کی پٹاخ آواز سنائی دی۔ اس کے قتل کا یقین ہو جانے کے بعد حضرت عبداللہؓ بن عتیک نے قلعہ سے چھلانگ لگائی، جس سے ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ رفقاء نے سرورِ کونین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمتِ ناز میں پہنچایا۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے خوش ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر اپنا دستِ مبارک پھیرا، جس سے ٹوٹی ہوئی ٹانگ اپنی اصل حالت میں آگئی۔

اس واقعہ کی مزید تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں: ”جب عبداللہ بن عتیکؓ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس قلعے کے قریب آئے تو سورج غروب ہو رہا تھا۔ لوگ اپنے مویشی ہانک لائے تھے۔ عبداللہؓ بن عتیک نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم اپنی جگہ

صفحہ ۲۲

بیٹھے رہو‘ میں چلتا ہوں۔ چوکیدار سے کوئی حیلہ بہانہ کرتا ہوں‘ شاید یوں قلعے میں داخل ہو جاؤں۔ وہ آئے اور قلعہ کے دروازے کے قریب بیٹھ گئے۔ گویا رفع حاجت کر رہے ہوں۔ جب لوگ قلعہ میں داخل ہو چکے تو دربان نے انہیں آواز دی۔ بندۂ خدا! اگر قلعے میں داخل ہونا ہے تو جلدی اندر آ جاؤ‘ دروازہ بند ہونے لگا ہے۔ عبداللہ بن عتیک کہتے ہیں کہ میں قلعے میں داخل ہو کر رُوپوش ہو گیا۔ جب سب لوگ اوپر آگئے تو دربان نے دروازہ بند کر کے کنجیاں ایک لوہے کی کیل میں لٹکا دیں۔ میں نے چابیوں تک رسائی حاصل کی اور یوں دروازہ کھول دیا۔ ابو رافع کے پاس رات گئے تک باتیں ہوتی رہیں۔ وہ اپنے بالا خانے میں محوِ استراحت ہو کر حکایات سنا کرتا تھا۔ حسبِ معمول آج جب قصہ گو چلے گئے تو میں نے اس کے بالا خانے کا قصد کیا۔ جب بھی کوئی دروازہ کھولتا‘ اسے اندر سے اس خیال سے بند کر دیتا کہ اگر لوگوں کو میرا پتا بھی چل جائے تو وہ مجھ تک نہ پہنچ سکیں۔ حتیٰ کہ میں اسے قتل کر دوں۔ یوں میں ابو رافع کے پاس پہنچا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے اہل و عیال کے درمیان تاریک کمرے میں سو رہا ہے۔ پتا نہیں چل رہا تھا کہ وہ کس جگہ ہے۔ میں نے آواز دی۔ کہنے لگا کون ہے؟ میں نے اس کی آواز پر آگے بڑھ کر تلوار کی ضرب لگائی۔ در آنحالیکہ میرا دل دھڑک رہا تھا کہ شاید مجھ سے کچھ نہیں ہو سکا اور وار خالی گیا ہے۔ اس اثنا میں اُس نے چیخ و پکار کی۔ میں کمرے سے باہر آیا۔ تھوڑے سے توقف کے بعد پھر اندر آ گیا۔ آواز بدل کر کہا اے ابو رافع! یہ آواز کیسی ہے۔ اس نے کہا‘ تیری ماں تجھے روئے۔ ابھی کوئی آدمی اندر آیا ہے‘ اس نے مجھے اپنی تلوار کا نشانہ بنایا ہے۔ عبداللہ بن عتیک نے بتایا‘ میں نے پھر اسے زور سے تلوار ماری‘ شدید زخمی ہو گیا مگر ہلاک نہ ہو سکا۔ پھر میں نے اس کے پیٹ پر تلوار کی دھار رکھی۔ زور سے اسے دبایا حتیٰ کہ وہ اسے چیرتی ہوئی اس کی پیٹھ تک پہنچ گئی۔ اب مجھے یقین ہو گیا کہ میں نے اسے قتل

کر دیا ہے۔

بعد ازاں ایک ایک دروازہ کھول رات میں یہ خیال کرتے ہوئے کہ زمین گر گیا۔ پنڈلی ٹوٹ گئی۔ عمامے سے باندھ دل میں کہا‘ جب تک اس کے قتل کا صبح جب مرغ نے اذان دی تو منادی ن ابو رافع قتل ہو گیا ہے۔ یہ سن کر میں چلو۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صل ہے“۔

کہ تو میرے ہاتھ سے قتل ہو گا‘ یہ س لہٰذا قریش کے مکہ سے اخراج کے وق نہ جائے۔ ابوسفیان اسے اصرار کر ک اسیرانِ بدر میں شامل تھا۔ جب اس ک لی تاکہ وہ فدیہ ادا کر سکے۔ اس ا (ﷺ) کے روبرو بکواس کی ک اسے خوب دانہ پانی دوں گا کہ ف ﷺ سے جنگ کروں گا تو الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ نہیں بلک تجھے قتل کروں گا۔

روزِ اُحد‘ حضورِ اکرم (ص

صفحہ ۲۳

کر دیا ہے۔

بعد ازاں ایک ایک دروازہ کھول کر سیڑھی تک آیا۔ نیچے اترنے لگا۔ چاندنی رات میں یہ خیال کرتے ہوئے کہ زمین تک پہنچ گیا ہوں، قدم ہوا میں رکھا، سو نیچے گر گیا۔ پنڈلی ٹوٹ گئی۔ عمامے سے باندھ کر چلنے لگا۔ دروازے کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ دل میں کہا، جب تک اس کے قتل کا یقین نہ ہو جائے، رات بھر باہر نہیں نکلوں گا۔ صبح جب مرغ نے اذان دی تو منادی نے دیوار پر کھڑے ہو کر اعلان کیا، اہل حجاز کا تاجر ابو رافع قتل ہو گیا ہے۔ یہ سن کر میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا، انہیں کہا جلدی چلو۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (ﷺ) کو ایذا دینے والے ابو رافع کا خاتمہ کر دیا ہے"۔

کہ تو میرے ہاتھ سے قتل ہو گا، یہ خوف اس کے دل میں یقین کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔ لہٰذا قریش کے مکہ سے اخراج کے وقت، اُحد کی جانب وہ آنا نہیں چاہتا تھا کہ کہیں مارا نہ جائے۔ ابو سفیان اسے اصرار کر کے لایا تھا۔ اس کا قصہ یوں بیان کرتے ہیں کہ وہ اسیرانِ بدر میں شامل تھا۔ جب اس کا فدیہ قبول کیا گیا تو اس نے مکہ جانے کی اجازت پا لی تاکہ وہ فدیہ ادا کر سکے۔ اس کم بخت و مردود ازلی نے لوٹتے وقت حضور آقا (ﷺ) کے روبرو بکواس کی کہ اے محمد (ﷺ)! میرا ایک گھوڑا ہے۔ میں اسے خوب دانہ پانی دوں گا کہ فربہ ہو جائے، پھر اس گھوڑے پر سوار ہو کر آپ ﷺ سے جنگ کروں گا اور آپ ﷺ کو قتل کروں گا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ نہیں بلکہ اس گھوڑے پر سوار ہونے کی حالت ہی میں مَیں تجھے قتل کروں گا۔

روزِ اُحد، حضور اکرم (ﷺ) نے فرمایا کہ ابی خلف سے ہوشیار رہنا کہ

صفحہ ۲۴

یہ ناخلف بے خبری میں پیچھے سے نہ آ جائے۔ اگر کسی کو وہ نظر آئے تو مجھے بتا دیں۔ اچانک جنگ کے آخر میں وہ اپنے گھوڑے پر سوار نمودار ہوا۔ جب اس کی نگاہ، حضور سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پڑی تو اس نے نالائقی کی باتیں کہنی شروع کر دیں۔ اس نے کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ، میرے ہاتھ سے بچ نہ سکیں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں اشارۂ حکم فرمائیے۔ ہم اس پر حملہ کر دیں، اور اسے دوزخ تک پہنچائیں۔ جب یہ ملعون قریب آگیا تو آپ نے حضرت زبیرؓ بن العوام (جو پاس ہی کھڑے تھے) سے نیزہ لیا (ایک روایت میں ہے کہ حارث بن الصمہ سے نیزہ لیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نیزہ بھی اس کا ہی چھینا گیا تھا) اور اس پر پھینک دیا۔ یہ شقی کی گردن پر پڑا۔ اس وقت اس نے اپنے گھوڑے کی لگام پھیری اور اپنی قوم سے جا ملا اور خود کو گھوڑے سے گرا دیا۔ اور گائے بیلوں کی مانند ڈکرانے لگا۔ وہ یونہی چیختا چلاتا رہا۔ پھر وہ ملعون، مشرکوں کے مکۃ المکرمہ پہنچنے سے قبل ہی مَرّ الظہران میں جو مکہ سے ایک منزل پر ہے، واصلِ جہنم ہو گیا۔

فتح مکہ اور گستاخِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

حضور سرکارِ دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے وقت اہل مکہ کو امان دی تھی۔ یہ کوئی عام فتح نہیں بلکہ رب العزت کی طرف سے فتح مبین تھی۔ تاریخ انسانیت میں آٹھویں ہجری کا سال ہمیشہ یادگار و باوقار رہے گا۔ دشمنانِ اسلام پوری طرح بے بس و بے کس اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رحم و کرم پر تھے۔ اس موقع پر حضور خاتم المرسلین رحمتہ للعالمین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابد الاباد تک کے لیئے حُسنِ سلوک کی ایک بے نظیر مثال قائم فرما دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے حضور میں اپنا جھکا ہوا سر اوپر اٹھایا اور فرمایا۔ ”آج تم پر کچھ ملامت نہیں، جاؤ! تم سب آزاد ہو“۔

تاہم ایک جماعت کے لئے خاص جہاں بھی پائے جائیں، قتل کر دیئے جائیں اللہ تعالیٰ کی اجازت سے آج کے دن ح تھی جو اہانت و تحقیر اور تنقیص و تعریض نے اہل ایمان کو ان گستاخوں کا خون مبا ”انہیں قتل کر دو، چاہے کعبہ کے پردوں سرکار اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عکرمہ بن ابو جہل، مقیس بن صبابہ، عب لونڈیاں شامل ہیں۔ دوسری روایت کے تعمیلی ارشاد میں چار مرد قتل کئے گئے گئیں اور دو کو پناہ دے دی گئی۔ سائلوں کا رخ نبی آخر الزماں (صلی اللہ

ابن خطل

فتح مکہ سے پہلے مدینہ م نے وصولئ زکوٰۃ کے لیئے اسے انصاری تھا، اور اس کے ساتھ ا مسلمان سے کہا کہ ایک بکری ذبح اس خزاعی سے کوتاہی سرزد ہوئی جب دیکھا کہ کھانا تیار نہیں ہوا لے کر اہل مکہ (کفار) سے جا م (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین سے

صفحہ ۲۵

تاہم ایک جماعت کے لئے خاص طور پر حکم فرمایا تھا کہ وہ حِلّ و حرم میں جہاں بھی پائے جائیں، قتل کر دیئے جائیں۔ اگرچہ غلاف کعبہ میں لپٹے ہوئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے آج کے دن، حرم بھی میرے لئے حلال ہے۔ یہ وہ جماعت تھی جو اہانت و تحقیر اور تنقیص و تعریض کی مرتکب ہو چکی تھی۔ آپ ﷺ نے اہل ایمان کو ان گستاخوں کا خون مباح قرار دیتے ہوئے بالصراحت ارشاد فرمایا تھا: ”انہیں قتل کر دو، چاہے کعبہ کے پردوں سے ہی چمٹے پاؤ“۔

سرکارِ اقدس (ﷺ) کے خلاف زبان دراز کرنے والے اس گروہ میں عکرمہ بن ابو جہل، مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن خطل، عبداللہ بن السرح اور اس کی دو لونڈیاں شامل ہیں۔ دوسری روایت کے مطابق یہ کل سترہ افراد تھے۔ اور اس موقع پر تعمیل ارشاد میں چار مرد قتل کئے گئے۔ سات نے پناہ مانگ لی اور چار عورتیں مار دی گئیں اور دو کو پناہ دے دی گئی۔ یہ تمام وہ لوگ تھے جن کی یاوہ گوئیوں اور ہرزہ سرائیوں کا رُخ نبیّ آخر الزماں (ﷺ) کی طرف رہا تھا۔

ابن خطل

فتح مکہ سے پہلے مدینہ آکر مسلمان ہو گیا تھا۔ اس کے بعد حضور علیہ السلام نے وصولیٔ زکوٰۃ کے لئے اسے بعض قبائل کی طرف بھیجا۔ اس کے ساتھ ایک انصاری تھا، اور اس کے ساتھ ایک خزانچی مسلمان۔ وہ ایک منزل پر اترا اور خزانچی مسلمان سے کہا کہ ایک بکری ذبح کر کے اس کے لئے کھانا تیار کرے اور وہ خود سو گیا۔ اس خزانچی سے کوتاہی سرزد ہوئی۔ وہ بھی سو گیا اور کھانا تیار نہ کر سکا۔ ابن خطل نے جب دیکھا کہ کھانا تیار نہیں ہوا تو غصے میں آکر خزانچی کو قتل کر دیا اور صدقہ کے جانور لے کر اہل مکہ (کفار) سے جا ملا، اور ان سے کہا کہ تمہارے دین کو میں نے محمد (ﷺ) کے دین سے بہتر پایا۔ اور وہ اپنی باندیوں سے آقائے مدنی

صفحہ ۴۶

(صلی اللہ علیہ وسلم) کی ہجو سنا کرتا۔ جب مکہ فتح ہوا تو اس نے خانہ کعبہ میں پناہ لی اور غلافِ کعبہ سے لپٹ گیا۔ جس وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام طواف فرما رہے تھے تو کسی صحابی نے اسے دیکھ لیا اور عرض کیا 'یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ ابن خطل ہے اور غلافِ کعبہ سے لپٹا ہوا ہے۔ فرمایا۔ جہاں ہو، قتل کر دو۔ لہٰذا اسے ہلاک کر دیا گیا۔ سعید بن حارث نے بروایت ابو عثمان مہدی ابن ابی شیبہ سے نقل کیا ہے کہ اسے ابو برزہ نے قتل کیا تھا۔

چنانچہ حدیث پاک میں مذکور و مسطور ہے: ”عبداللہ بن خطل، کعبہ شریف کے پردوں سے چمٹا ہوا پایا گیا، اسے قتل کرنے کے لیے حضرت سعید بن حارث اور حضرت عمار بن یاسر دوڑے، لیکن حضرت سعید حضرت عمار سے زیادہ نوجوان تھے۔ آپ نے آگے بڑھ کر اسے قتل کر دیا۔ اس سلسلے میں حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے تشریعی اختیارات اور ارشادات سے واضح طور پر ظاہر ہے کہ گستاخ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے کعبہ میں بھی امان نہیں ہے۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا باغی و سرکش ہو، وہ ہر جگہ، ہر وقت اور ہر حالت میں واجب القتل ہے۔

اس واقعہ میں ایک خاص بات یہ ہے کہ نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پورے گروہ کو قتل کرنے کا حکم جاری فرمایا تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ سے قبل اور فتح کے وقت اپنے صحابہ سے ان کے قتل کا عہد بھی لیا تھا۔

کو بہت ایذائیں دیتا تھا۔ اس کو حضرت علی نے فتح کے دن مکہ قتل کیا۔ یہ ایک غلیظ و شقی شاعر تھا، اور دربار رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ہجو بیان کرتا۔ فتح مکہ کے روز جب اس نے اپنا مباح الدم ہونا سنا تو گھر میں بیٹھ گیا اور گھر کا دروازہ بند کر لیا۔ حویرث کو جب معلوم ہوا کہ حضرت علی المرتضیٰ اس کی تلاش میں ہیں تو وہ اپنے گھر سے نکل کر

کسی دوسرے گھر میں چھپنا چاہتا تھا انہوں نے دیکھتے ہی اس کم بخت کو

کردار کو پہنچا۔ کیونکہ یہ بدنہاد ہر میں کوئی کسر باقی نہ اٹھا رکھتا تھا۔

میں پایا تو اسے وہیں ڈھیر کر دیا۔

(صلی اللہ علیہ وسلم) کی ہجو گایا کرتی اور تیسری فرتنا تھی جو موقع سے فائدہ امان حاصل کر کے مسلمان ہو گئیں پر قتل کر دی گئیں۔ اُمّ سعد بھی اسی قماش کی المطلب کی ایک باندی بھی اس میں ہے کہ قتل ہونے والی کنیزوں بن ابی بلتعہ نے قریش کے نام خط مکہ میں آگئی اور فتح مکہ کے دن

سرورِ کونین (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمات (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے اپنے باپ کہتے ہوئے سنا تو مجھ سے برداشت نہ

صفحہ ۲۷

کسی دوسرے گھر میں چھپنا چاہتا تھا کہ ایک کوچے میں حضرت علیؓ کو دکھائی دیا۔ چنانچہ انہوں نے دیکھتے ہی اس کم بخت کی گردن اڑا دی۔

کردار کو پہنچا۔ کیونکہ یہ بدنہاد ہر طرح سے حضور آقا و مولا (ﷺ) کو ایذا دینے میں کوئی کسر باقی نہ اٹھا رکھتا تھا۔

میں پایا تو اسے وہیں ڈھیر کر دیا۔

(ﷺ) کی ہجو گایا کرتی اور دل سے بھی آپ ﷺ کی پکی دشمن تھیں۔ تیسری قرتنا تھی جو موقع سے فائدہ اٹھا کر بھاگ نکلی اور پھر سیّد عالم (ﷺ) کی امان حاصل کر کے مسلمان ہو گئی۔ لیکن مذکورہ بالا دونوں باندیاں اپنے اس جرم کی بناء پر قتل کر دی گئیں۔

اُمّ سعد بھی اسی قماش کی تھی، جو کہ قتل کی سزا سے دوچار ہوئی۔ سارہ بنی المطلب کی ایک باندی بھی اس قبیح فعل کی پاداش میں ماری گئی تھی۔ بعض روایات میں ہے کہ قتل ہونے والی عَمْرو بن ہشام کی باندی تھی۔ اسی عورت کے ہاتھ حاطب بن ابی بلتعہ نے قریش کے نام خط لکھ کر بھیجا تھا۔ اولاً ”یہ مسلمان تھی، پھر مرتد ہو کر مکہ میں آگئی اور فتح مکہ کے دن حضرت علیؓ کی تلوار کے وار سے ہلاک ہوئی۔

سرورِ کونین (ﷺ) کی خدمتِ عالیہ میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ (ﷺ) میں نے اپنے باپ کو آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کے کلمات کہتے ہوئے سنا تو مجھ سے برداشت نہیں ہو سکا اور میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ اس

صفحہ ۲۸

کی یہ بات حضور پاک (ﷺ) کو ناگوار نہ گزری۔

الفاظ کہتا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ”کون ہے میرے اس دشمن کو ٹھکانے لگائے گا؟“۔ تب حضرت خالد بن ولید نے اس کام کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے جا کر اس مردود و گستاخ کو واصلِ فی النار کیا۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ کون اس سے نمٹے گا؟ حضرت زبیرؓ نے عرض کیا۔ ”میں“۔ پھر انہوں نے اس کو ٹھکانے لگا دیا۔

(ﷺ) پر جھوٹ باندھا تو آپ ﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کو بھیجا کہ اس شخص کو قتل کر ڈالیں۔

متفرقات روایات

ﷺ نے اس کے قتل کا حکم صادر فرما دیا تھا۔ تاہم پھر وہ نادم و تائب ہو کر بارگاہِ نُبوت میں حاضر ہوا اور اپنا مشہور قصیدہ ”بانت سعاد“ پیش کیا۔ جس پر معاف فرما دیا گیا۔

ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر اس نے راہِ فرار اختیار کر لیا تھا۔ جب یہ ایک کشتی میں سوار ہوا تو وہ طوفان میں پھنس گئی۔ کشتی والوں نے کہا اب خدائے وحدہٗ لا شریک کو پکارو، اس منجدھار میں وہی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ بتوں پر سے عکرمہ کا اعتماد پہلے ہی متزلزل ہو چکا تھا۔ اور اس کے اندر کی روشنی مالکِ حقیقی کی معرفت کا راستہ دکھا

صفحہ ۲۹

ﷺ) کو ناگوار نہ گزری۔

کہ ایک شخص ہادیٔ عالم (ﷺ) کے لیئے نازیبا و ناروا ﷺ نے فرمایا۔ ”کون ہے میرے اس دشمن کو ٹھکانے خالد بن ولید نے اس کام کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے جا کر اس فی النار کیا۔

کیا ہے کہ ایک شخص نے حضور (ﷺ) کو گالی دی تو فرمایا کہ کون اس سے نمٹے گا؟ حضرت زبیر نے عرض کیا۔ اس کو ٹھکانے لگا دیا۔

ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے حضور مکرم ہادیٔ اعظم باندھا تو آپ ﷺ نے حضرت علی اور حضرت زبیر کو کر ڈالیں۔

حالت کفر میں حضور پاک (ﷺ) کی ہجو کی تو آپ کے قتل کا حکم صادر فرما دیا تھا۔ تاہم پھر وہ نادم و تائب ہو کر بارگاہ اپنا مشہور قصیدہ "بانت سعاد" پیش کیا۔ جس پر معاف فرما دیا

کے قبول اسلام کا ذکر متفرق انداز میں آیا ہے۔ عموماً بیان ہوتا فتح پر اس نے راہ فرار اختیار کر لیا تھا۔ جب یہ ایک کشتی میں میں پھنس گئی۔ کشتی والوں نے کہا، اب خدائے وحدہ لا شریک کو وہی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ بتوں پر سے عکرمہ کا اعتماد پہلے اور اس کے اندر کی روشنی مالکِ حقیقی کی معرفت کا راستہ دکھا

رہی تھی۔ عکرمہ نے کہا’ اللہ کی قسم! اگر دریا میں مجھے اس کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا تو خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی میرا محافظ یا نگہبان نہیں ہے۔ اے میرے پروردگار! میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس بلا سے نجات ملتے ہی تیرے محبوب (ﷺ) کی خدمت ناز میں حاضر ہو کر بیعت کر لوں گا۔ مجھے امید ہے کہ آپ ﷺ ضرور میرے ساتھ رحمت و شفقت اور لطف و کرم کا سلوک فرمائیں گے۔ لہٰذا وہ بارگاہ نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے اور قبول اسلام کر کے سرکارِ اقدس (ﷺ) کے دامنِ کرم میں آگئے۔

پھسلاوے میں آکر واپس تاریکیوں میں لوٹ گیا تھا۔ عرصۂ ایمان میں کاتبِ وحی بھی رہا۔ نہ صرف یہ کہ اس نے ارتداد کو قبول کیا بلکہ سرکارِ رحمت و رافت (ﷺ) کی شانِ نبوت میں زبان بھی دراز کرتا۔ فتح مکہ کے روز اس کا خون بھی مباح قرار دے دیا گیا تھا۔ یہ اہل ایمان کو قرآن سے بدظن کرنے اور قبولِ اسلام کی فضا کو مکدر کرنے کے لیئے کہتا کہ وحی الہی کی کتابت کے وقت میں جیسے چاہتا ویسے ہی تصرف کیا کرتا تھا۔ چنانچہ تائب ہو کر بارگاہِ مصطفوی (ﷺ) میں حاضر ہوا تو متعدد بار بیعت کے ارادہ سے آگے بڑھا لیکن پذیرائی نہ ہوئی۔ اس نے کئی بار کوشش کی مگر اس کے ساتھ مسلسل اعراض برتا گیا۔ حدیث مبارکہ میں اس واقعہ کی تفصیل بالفاظ ذیل مندرج ہے: ”عبداللہ بن سرح، حضرت عثمان بن عفان کے پاس چھپ گیا۔ جب حضور ﷺ نے لوگوں کو بیعت کے لیئے یاد کیا تو حضرت عثمان نے اسے بارگاہِ رسالت میں پیش کر دیا اور عرض کیا، یا رسول اللہ (ﷺ)! اس کی بیعت قبول فرمائیے۔ آپ نے اپنا رُخِ انور اوپر اٹھایا، تین دفعہ عبداللہ کی طرف دیکھا۔ ہر دفعہ بیعت سے انکار کیا۔ آخر تین دفعہ کے بعد اسے بیعت کیا۔ بعد ازاں

صفحہ ۳۰

آپ صحابہ کرامؓ سے مخاطب ہوئے۔ ارشاد فرمایا۔ ”تم میں سے کوئی ایسا معاملہ فہم نہ تھا جو اس کی طرف اٹھ کھڑا ہوتا۔ جب میں نے بیعت سے ہاتھ روک لیا تھا تو اسے قتل کر دیتا“۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا۔ ”یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں آنکھ سے اشارہ کیوں نہ فرمایا“۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ”نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ ظاہر میں چپ رہے اور آنکھ سے اس کے خلاف اشارہ کرے“۔

کی گردن بھی اپنی تلوار سے اڑا دی تھی جو ایک یہودی کے ساتھ اپنے قضیہ پر آقائے مدنی (ﷺ) کے فیصلے پر مطمئن و رضامند نہیں ہوا تھا۔ امیر المؤمنین حضرت عمرؓ کا یہ عمل گستاخ رسول (ﷺ) کے مباح الدم ہونے پر دال ہے۔ بناء بریں اس کی تائید میں آیاتِ قرآنی کا نزول اور سرکارِ اقدس و افضل (ﷺ) کا اس سے ناخوش ہونا بھی ثابت ہے۔ حالانکہ اگر سطحی نگاہ سے دیکھا جائے تو بظاہر منافق کی کوئی گستاخی سامنے نہیں آتی۔ مطلب یہ کہ دربارِ رسالت مآب (ﷺ) میں خاموش بے ادبی و بے حیائی کا ایک انداز بھی واجب القتل ٹھہرا دینے کے لئے کافی ہے۔ آپ نے اس معاملے میں حضور پاک (ﷺ) سے اجازت نہیں لی، اور نہ ہی توبہ و معافی کا کوئی موقع دیا تھا۔ بلکہ صورتِ حال سے آگاہ ہوتے ہی اسے فی الفور موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

عہدِ رسالت مآب (ﷺ) میں وقوع پذیر اس نظیر کا پس منظر یوں قلمبند ہوا ہے : ”بے شک یہ آیات کریمہ (سورۃ النساء : ۶۰-۶۳) اس وقت نازل ہوئیں جب دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر حضورِ اکرم (ﷺ) کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور نبی پاک (ﷺ) نے ان کے درمیان فیصلہ فرمایا تو جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا، اس نے کہا ہمیں اپنا یہ جھگڑا لے کر حضرت عمرؓ کے پاس جانا چاہیے۔ پس

صفحہ ۳۱

وہ دونوں حضرت عمرؓ کے پاس چلے گئے۔ جس نے حضرت عمرؓ کے پاس جانے کا مطالبہ کیا تھا، حضرت عمرؓ نے اس کو قتل کر دیا اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔

سورۃ النساء کی اسی آیہ کے تحت حاشیہ صدر الافاضل میں درج ہے کہ بشر نامی ایک منافق کا کسی یہودی سے جھگڑا تھا۔ یہودی نے کہا، چلو سیّد ہر عالم ﷺ سے معاملہ طے کرا لیں۔ منافق نے خیال کیا کہ حضورِ پاک ﷺ تو بے رو رعایت حق فیصلہ دے دیں گے اور اس کا مطلب حاصل نہ ہو گا۔ اس لیے اس نے باوجود مدعیٰ ایمان ہونے کے کہا کہ کعب بن اشرف یہودی کو پنچ بناؤ۔ یہودی جانتا تھا کہ کعب رشوت خور ہے۔ اس لیے اس نے باوجود ہم مذہب ہونے کے اس کو پنچ تسلیم نہ کیا۔ ناچار منافق کو فیصلہ کے لیے امام الحرمین ﷺ کے حضور آنا پڑا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے جو فیصلہ دیا، وہ یہودی کے موافق ہوا۔ یہاں سے فیصلہ سننے کے بعد منافق پھر یہودی کے دَر پے ہوا اور اسے مجبور کر کے حضرت عمرؓ کے پاس لایا۔ یہودی نے آپ سے عرض کیا کہ میرا اور اس کا معاملہ سیّد الصلوات فخرِ کائنات ﷺ طے فرما چکے ہیں، لیکن یہ حضور ﷺ کے فیصلہ سے راضی نہیں اور آپ سے فیصلہ چاہتا ہے۔ فرمایا، ہاں میں ابھی آکر اس کا فیصلہ کرتا ہوں۔ یہ فرما کر مکان میں تشریف لے گئے اور تلوار لا کر اس کا سر اڑا دیا۔ اور فرمایا جو رسولُ اللہ ﷺ کے فیصلہ سے راضی نہ ہو، میرے پاس اس کا یہی فیصلہ ہے۔

بعض بیان کرتے ہیں کہ محسنِ انسانیت ﷺ سے فیصلہ سننے کے بعد منافق اس مقدمے کو لے کر حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پاس بھی لے گیا تھا اور وہاں سے یہودی کے حق ہی میں فیصلہ صادر ہوا۔ تاہم سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ ساری

صفحہ ۳۲

صورتِ حال سے آگاہ نہ تھے۔ روایت کے مطابق حضرت عمر فاروقؓ نے حقیقتِ حال معلوم ہونے کے بعد منافق سے تصدیق کے لیے پوچھا، کیا واقعی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فیصلہ فرما چکے ہیں؟ اس نے کہا ہاں ایسا ہو چکا ہے۔ چنانچہ راوی کہتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے دونوں سے فرمایا۔ "تم میرے واپس آنے تک یہیں ٹھہرے رہو۔ یہاں تک کہ میں تمہاری طرف نکل آؤں"۔ حضرت عمرؓ گھر تشریف لے گئے، تلوار اٹھائی، چادر اوڑھی اور باہر نکلے۔ اس منافق کی گردن مار دی۔ یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا پڑ گیا۔ ازاں بعد فرمایا: میں اسی طرح فیصلہ کرتا ہوں، اس شخص کے بارے میں، جو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کے فیصلے سے راضی نہ ہو"۔

معروف ہے کہ یہ خبر چہار سُو پھیل گئی۔ حضور نبی کریم (ﷺ) کی خدمتِ عالیہ بھی اس کی اطلاع پہنچی، کہا گیا کہ حضرت عمرؓ نے ایک کلمہ گو کو ناحق ہلاک کر دیا ہے۔ اس موقع پر شہنشاہِ ہر عالم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: "میں گمان نہیں کرتا کہ عمرؓ کسی مومن کے قتل کی جرأت (اقدام) کرے"۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "کیا نہیں دیکھا آپ نے ان کی طرف جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے۔ اس (کتاب) کے ساتھ جو اتاری گئی آپ کی طرف اور جو اتارا گیا آپ سے پہلے (اس کے باوجود) چاہتے ہیں کہ فیصلہ کرانے کے لئے (اپنے مقدمات) طاغوت کے پاس لے جائیں۔ حالانکہ انہیں حکم دیا جا چکا ہے کہ اس کی بات نہ مانیں"۔ (النساء ' ۴:۶۰)

ان آیات و احکام کی شانِ نزول کے متعلق علماءِ تفسیر و حدیث نے یہودی و منافق کا یہ واقعہ ذکر کیا ہے۔ یہاں طاغوت سے مراد وہ فیصل ہے جو احکامِ الٰہی کے خلاف مقدمات نپٹاتا ہو۔ یعنی شیطان کا نمائندہ۔ یہ کعب بن اشرف کی طرف اشارہ ہے۔

الغرض جب اس کے ورثا حضورؐ ختمی مرتبت (ﷺ) کی خدمتِ

صفحہ ۳۳

نہ تھے۔ روایت کے مطابق حضرت عمر فاروق نے حقیقت حال د منافق سے تصدیق کے لئے پوچھا کیا واقعی حضور علیہ الصلوٰۃ لے ہیں؟ اس نے کہا ہاں ایسا ہو چکا ہے۔ چنانچہ راوی کہتا ہے کہ وں سے فرمایا۔ ”تم میرے واپس آنے تک یہیں ٹھہرے رہو۔ تمہاری طرف نکل آؤں“۔ حضرت عمرؓ گھر تشریف لے گئے، تلوار اور باہر نکلے۔ اس منافق کی گردن مار دی۔ یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا پڑ مایا: میں اسی طرح فیصلہ کرتا ہوں، اس شخص کے بارے میں، جو اللہ (ﷺ) کے فیصلے سے راضی نہ ہو“۔ ہے کہ یہ خبر چہار سُو پھیل گئی۔ حضور نبی کریم (ﷺ) کی اس کی اطلاع پہنچی، کہا گیا کہ حضرت عمرؓ نے ایک کلمہ گو کو ناحق

اس موقع پر شہنشاہ ہر عالم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: ”میں گمان کسی مومن کے قتل کی جرأت (اقدام) کرے“۔ ارشاد باری تعالیٰ دیکھا آپ نے ان کی طرف جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے۔ ساتھ جو اتاری گئی آپ کی طرف اور جو اتارا گیا آپ سے پہلے (اس تے ہیں کہ فیصلہ کرانے کے لئے (اپنے مقدمات) طاغوت کے پاس لے انہیں حکم دیا جا چکا ہے کہ اس کی بات نہ مانیں“۔ (النساء: ۶۰‘۶۴)

یات واکملت کی شانِ نزول کے متعلق علماء تفسیر و حدیث نے یہودی قعہ ذکر کیا ہے۔ یہاں طاغوت سے مراد وہ فیصل ہے جو احکامِ الٰہی کے پہنچاتا ہو۔ یعنی شیطان کا نمائندہ۔ یہ کعب بن اشرف کی طرف اشارہ

ں جب اس کے ورثا حضور ختمی مرتبت (ﷺ) کی خدمت

اقدس میں مطالبۂ قصاص لے کر آئے تو یہ آیات نازل ہوئیں: ”پس کیسی ہوگی پہنچے گی۔ انہیں بڑی آفت‘ اس کی وجہ سے جو آگے بھیجے ان کے ہاتھوں نے۔ پھر وہ آئیں گے آپ ﷺ کے پاس‘ قسم کھائیں گے اللہ کی کہ نہیں ارادہ کیا ہم نے مگر بھلائی کا اور اتفاق کرنے کا۔ یہی ہیں وہ کہ جانتا ہے اللہ‘ وہ جو دلوں میں ہے ان کے۔ پس منہ پھیر لو ان سے اور نصیحت کرو انہیں‘ اور کہو ان سے ان کے دل میں پہنچنے والی (مؤثر) بات“۔ (النساء: ۶۳‘۶۴)

مفسرین کے نزدیک فاعرض عنہم کے الفاظ میں اسی طرف اشارہ ہے کہ آپ ﷺ ان کے قصاص کے مطالبہ کو مسترد فرما دیں۔ اس لئے کہ وہ شخص فی الواقع قتل کا مستحق تھا۔ قاضی ثناء اللہ (پانی پتی) ان آیات (۶۰ تا ۶۴) کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ ”آپ ﷺ ان کے عذر اور مطالبہ قصاص کو ہرگز قبول نہ فرماویں‘ کیونکہ وہ شخص مباح الدم تھا“۔ (جو کہ قابل قصاص نہیں ہے)

مختصر یہ کہ سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے اس درست اقدام کی تائید و توثیق میں جبریل امین بارگاہِ نبوی (ﷺ) میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ”بے شک حضرت عمرؓ نے حق و باطل کے مابین امتیاز (فرق) کر دیا ہے“۔ نیز اس تاریخی موقع پر نبیؐ آخر الزماں (ﷺ) نے مسرت کا اظہار فرمایا اور حضرت عمرؓ کو وہ بے مثال لقب عطا فرمایا جو ہمیشہ کے لیے آپ کے نام کا حصہ اور پہچان ہو گیا۔ پس نبیؐ پاک (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: ”اے عمر! آج سے تم فاروق (حق و باطل میں فرق ظاہر کرنے والے) ہو گئے“۔

بیہقی کی روایت کے مطابق حکم بن ابی العاص ایک دفعہ حضور نبیؐ کریم (ﷺ) کی مجلس میں بیٹھا تھا‘ اور جب آپ ﷺ کلام فرماتے تو یہ اپنا منہ بنا کر‘ نتھنے پھلا کر اور منہ کو پھڑکا کر منافقوں سے آنکھ کا اشارہ کرتا‘ جس کا مطلب

صفحہ ۳۴

حضور اکرم (ﷺ) کے کلام کا مذاق اڑانا یا اس کی تکذیب کرنا تھا۔ حضور پُر نور شافع یوم النشور (ﷺ) نے اس کی یہ حرکت دیکھ کر فرمایا کہ تو ایسا ہی ہو جا۔ آپ ﷺ کی بددعا کا اثر یہ ہوا کہ وہ مرتے دم تک ایسا ہی رہا کہ منہ پھڑکایا کرتا تھا۔

یہ دین اسلام کی حقیقی تعبیر اور واقعی چہرہ ہے۔ مگر ان دلائل کے باوجود معترضین و مخالفین غیرت مند مسلمانان عالم کو اکثر و بیشتر یہ پٹی پڑھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر وہ واقعہ ”اسلامی جہاد“ کرنا چاہتے ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ سب سے پہلے قرآن اور احادیث اور سیرت کو دیکھ کر معلوم کریں کہ اس طرح کی صورت حال جب دور اول میں پیش آئی تو خود رسول (ﷺ) اور آپ ﷺ کے اصحاب نے اس معاملہ میں کس قسم کا ردّ عمل پیش کیا۔ بالآخر ان کی تان اس بات پر ٹوٹتی ہے: ”جب ہم اس اعتبار سے دور اول کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قسم کی گستاخی کرنے والے غیر مسلموں کے خلاف کبھی بھی اس طرح کی کاروائی نہیں کی گئی جو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے کی یا کر رہے ہیں ــــ اس کے بجائے جو کچھ کیا گیا، وہ صرف یہ تھا کہ ایسے لوگوں کے حق میں دعائیں کی گئیں۔ اور دلیل کے ذریعہ ان کی بات کی تردید کی گئی۔ اس سے آگے ان کا سارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے اوپر چھوڑ دیا گیا۔

حالانکہ ”شتم رسولؐ کا مسئلہ“ قرآن و حدیث اور فقہ و تاریخ کی روشنی میں اس سے قطعاً مختلف صورت حال رکھتا ہے۔ بلکہ دور اول (اللہ کی سنت) میں اس کی فرضیت و ناگزیریت قرآن مجید کی رو سے ثابت کر دی گئی ہے، جب کہ زیر نگاہ باب میں احادیث مبارکہ کے حوالے اور عمل رسول (ﷺ) کے اجالے سے اس کی واقعیت و اہمیت مسلم ہے۔ یہ نظائر کتب احادیث و سیر میں امر واقعی کے طور پر موجود

صفحہ ۳۴

(ﷺ) کے کلام کا مذاق اڑانا یا اس کی تکذیب کرنا تھا۔ حضور پر نور (ﷺ) نے اس کی یہ حرکت دیکھ کر فرمایا کہ تو ایسا ہی ہو جا۔ بددعا کا اثر یہ ہوا کہ وہ مرتے دم تک ایسا ہی رہا کہ منہ پھڑکایا کرتا

اسلام کی حقیقی تعبیر اور واقعی چہرہ ہے۔ مگر ان دلائل کے باوجود غیرت مند مسلمانانِ عالم کو اکثر و بیشتر یہ پٹی پڑھانے کی کوشش جو واقعی ”اسلامی جہاد“ کرنا چاہتے ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ ان کو احادیث اور سیرت کو دیکھ کر معلوم کریں کہ اس طرح کی صورتحال پیش آئی تو خود رسول (ﷺ) اور آپ کے صحابہ نے اس معاملہ میں کس قسم کا ردّعمل پیش کیا۔ بالآخر ان کی ہوتی ہے: ”جب ہم اس اعتبار سے دورِ اول کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم قسم کی گستاخی کرنے والے غیر مسلموں کے خلاف کبھی بھی اس نہیں کی گئی جو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے کی یا کر رہے ہیں بجائے جو کچھ کیا گیا‘ وہ صرف یہ تھا کہ ایسے لوگوں کے حق میں اور دلیل کے ذریعہ ان کی بات کی تردید کی گئی۔ اس سے آگے ان کا ہی کے اوپر چھوڑ دیا گیا۔

”شتم رسولؐ کا مسئلہ“ قرآن و حدیث اور فقہ و تاریخ کی روشنی میں مختلف صورتحال رکھتا ہے۔ بابِ اول (اللہ کی سنت) میں اس کی ہے جو قرآن مجید کی رو سے ثابت کر دی گئی ہے‘ جب کہ زیرِ نگاہ باب کے حوالے اور عملِ رسول (ﷺ) کے اجالے سے اس کی مسلم ہے۔ یہ بظاہر کتبِ احادیث و سیر میں امرِ واقعی کے طور پر موجود

و محفوظ ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایسے لوگوں کے لئے صرف دعائیں کی گئی ہوں یا پھر دلائل و براہین کی زبان ہی میں ان سے بات کی گئی ہو۔ حرفِ دعا ان کے لئے کاری ہے جو دعوتِ حق کے ادراک و شعور سے فی الواقع عاری ہوں۔ استدلال کا جمال و کمال فقط ان لوگوں کے کام آتا ہے جن کا نام متلاشیانِ حق کی فہرست میں لکھا جا چکا ہو۔ دعا اور دلیل کے ہتھیار تو تلاشِ صداقت کے مسافروں کے لئے ہیں۔ مگر وہ لوگ جو خرمنِ اسلام کو جلانا اور چراغِ مصطفوی ﷺ کو بجھانا چاہتے ہوں۔ وہ لوگ جو دشمنی میں بہت آگے نکل چکے ہیں۔ وہ لوگ جن کے کان سچائی کی آواز سننا ہی نہیں چاہتے۔ وہ لوگ جن کی آنکھیں حقانیت کے نقوش کو دیکھنا پسند نہیں کرتیں۔ وہ لوگ جن کے دماغ سمجھ کر بھی کچھ نہیں سمجھنا چاہتے۔ وہ لوگ جن کے دل‘ حسنِ فطرت کو دیکھ کر مچلنا ہی نہیں جانتے۔ وہ لوگ جو کتمانِ حق کی حدود سے بھی بہت دور جا چکے ہیں۔ وہ لوگ جن کا دستورِ زندگی ہی حق دشمنی اور باطل پروری بن چکا ہو۔ وہ لوگ جن کے جسم اور جان کے امراض ناقابلِ علاج ٹھہر چکے ہیں اور وہ لوگ جن کے بارے میں خداوندِ قدوس کا یہ حکم صادق آتا ہو کہ ان کے دلوں‘ کانوں اور آنکھوں پر مُہر لگا دی گئی ہے۔ ان کو سمجھانا یا نہ سمجھانا برابر ہے۔ ان لوگوں کے سلسلے میں قوتِ دعا اور قوتِ دلیل کیسے اور کیونکر مؤثر ہو سکتی ہے؟ اور وہ لوگ جن کا موذی و متعدی مرض ہر لحاظ سے معاشرے میں حفظانِ صحت کے تقاضوں کا قاتل ہو‘ کیا ایسے اشخاص کا قلع قمع حکمت و مصلحت کے خلاف ہے؟ اسلام دشمنی میں متوارث امراض اس پر مستزاد ہیں۔ انسانی بدن کے کسی حصے میں جب ناسُور پڑ جائے اور کوئی طبیبِ حاذق اسے ناقابلِ اصلاح قرار دے دے تو پھر اس کا ایک یہی علاج باقی رہ جاتا ہے کہ متأثرہ عضو کو کاٹ کر رکھ دیں۔ کسی خبیث الفطرت اور کمینہ خصلت شخص کا جو محسنِ انسانیت (ﷺ) کو سبّ و شتم کا نشانہ بنا کر سلطنتِ اسلام میں انتشار و

صفحہ ۳۶

بدامنی پھیلائے، فرزندان اسلام کا دل دُکھائے اور مزید یہ کہ بنی نوع انسان کو ہلاکت و بربادی کے راستہ پر لگائے، اس کا موت کے سوا اور کیا علاج ہو سکتا ہے؟

قاضی عیاضؒ منافقین کے حوالے سے پیش آنے والے بعض واقعات و احکامات کی تطبیق میں لکھتے ہیں: ”نیز یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ وہ لوگ ابھی نئے نئے (بظاہر) مسلمان ہوئے تھے (لوگوں پر) واضح نہیں تھا کہ ان میں کتنے لوگ کفر کی آلودگیوں سے بالکل پاک ہو چکے ہیں اور کتنے ہنوز ملوث ہیں۔ پھر یہ بھی کہ سارے عرب میں یہ بات مشہور ہو چکی تھی کہ وہ مسلمان ہو گئے ہیں۔ اور بظاہر وہ (منافق / شاتم) حضور اکرم (ﷺ) کے صحابی اور دین اسلام کے اعوان و انصار سمجھے جاتے تھے۔ ایسی صورت میں اگر حضور پاک (ﷺ) ان کے نفاق اور ان باتوں کی وجہ سے جو کبھی کبھار ان سے ظاہر ہوتیں یا اس علم کی بناء پر جو حضور اقدس (ﷺ) کو ان کے دلی خیالات پر واقفیت حاصل ہونے سے ہوتا تھا، انہیں قتل کر دیتے تو لازماً ”اسلام سے نفرت کرنے والوں کو موقع مل جاتا، اور ان کے منہ میں جو آتا کہتے۔ اس سے جاہل لوگ شک میں پڑ جاتے۔ دشمن جھوٹی باتیں بناتا اور بہت سے لوگ اسلام قبول کرنے اور آپ ﷺ کی صحبت اختیار کرنے سے گھبراتے۔ بدگمانی کرنے والا، بدگمانی کرتا اور ظالم دشمن یہ خیال کرتا کہ شاید آپ ﷺ نے انہیں کسی عداوت کی بناء پر یا بدلہ لینے کے لئے قتل کرایا ہے۔ میں نے جو باتیں کی ہیں (اپنی طرف سے نہیں بلکہ) حضرت امام مالکؒ بن انس کی طرف اس قسم کی باتیں منسوب ہیں“۔

غرضیکہ اس باب سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں:

کیا جانا ثابت ہے۔ اور فی الواقع بہت سی نظائر موجود ہیں۔

صفحہ ۳۷

حکمِ خاص سے ٹھکانے لگایا جاتا رہا۔

نے ان کی تحسین فرمائی اور اظہارِ مسرت کیا۔

کرتا ہے کہ اللہ کا حکم قائم کرنے کے لئے باطل کی سازشوں، فتنہ پروریوں اور فتنہ انگیزیوں کو بزورِ طاقت بھی مٹایا جا سکتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات تو ایسا کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اور اس سے غفلت پورے ملی وجود کو ہلاکت سے دوچار کر سکتی ہے۔

لازمی حصہ قرار پاتے ہیں۔

تھی۔ بلکہ ان افراد کو مجرد گستاخیِ رسالت کی پاداش میں فنا کے گھاٹ اتارا گیا۔ وگرنہ نقضِ عہد کا قانون وہاں لاگو ہوتا ہے، جہاں کوئی عہد موجود بھی ہو۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ غزوۂ بدر سے واپسی پر گردن مار دیئے جانے والے متذکرہ قیدیوں سے انفرادی طور پر کوئی عہد نہیں بندھا ہوا تھا۔ اور اگر کوئی عہد ہی موجود نہ ہو تو پاسِ عہد کے کیا معنی؟

انکار ہے۔ نیز یہ کہ اس کو دل پسند معانی پہنانا، کھینچ تان کر اپنی فکرِ خام کے قریب لانا یا مقراضِ باطل سے پیوست کر کے کوئی حسبِ ضرورت خاکہ بنانا، دراصل شرک فی النبوت ہے اور اس جرم کی سزا بجائے خود موت ہے۔

صفحہ ۳۸

عہدِ صحابہؓ کی مثالیں

ناموسِ رسالت ﷺ کا موضوع آبگینے سے نازک اور اساسی ہے۔ دراصل یہ مسئلہ ایمان کا معیار ہے۔ عہدِ صحابہؓ کرام میں بھی ارتکابِ توہینِ رسول ﷺ پر موت کی سزا مقرر تھی۔ منافقین کے ارتکابِ گستاخی کے موقع پر صحابہؓ کرامؓ کا حضورِ پُرنور شفیع یوم النشور احمدِ مجتبیٰ، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے ان کے قتل کی اجازت طلب کرنا اس بات کی ایک دلیل ہے کہ صحابہؓ کرامؓ جانتے تھے کہ شاتمِ رسول ﷺ کی سزا قتل ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ رسالت مآب ﷺ نے اپنے صحابہ کو گستاخانِ شانِ رسالت (ابو رافع یہودی اور کعب بن اشرف وغیرہم) کی گردن مارنے کا حکم دیا تھا، اور اس بناء پر وہ علم رکھتے تھے کہ آقا و مولا ﷺ کی شانِ پاک میں زبان درازی کرنے والا لازمی طور پر ہلاکت کا مستحق ہے۔ دوسرا سبب یہ کہ صحابہؓ کرام جانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض مواقع پر خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر قبولیتِ اسلام کے ساتھ معافی مانگنے والے کی جاں بخشی اپنے ذاتی حق و اختیار سے فرمائی تھی۔ آپ ﷺ کو یہ اختیار و حق حاصل تھا کہ کسی کو معاف فرما دیں جیسا کہ بعض احکامِ شرع کے متعلق سند سے ثابت ہے مثلاً ایک صحابی حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو بردہؓ کو بکری کے ایک بچے کی قربانی کرنے کا حکم دیا اور اجازت مرحمت فرمائی۔ نیز ارشاد فرمایا: ولن تجزی عن احد بعدک تمہارے علاوہ (یہ قربانی) کسی دوسرے پر ہرگز جائز نہیں ہے۔ بناء بریں بعض کا مذہب یہ بھی ہے کہ حلال و حرام اور عذر خواہی کے

قبول و عدم قبول کے امور شرعیہ ، حضور لہٰذا یہ اختیار آپ ﷺ کو تو حاصل منافقین پر حد جاری فرمائیں یا نہ فرمائیں کوئی اور استعمال نہیں کر سکتا۔

حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ پر کسی بات سے ناراض ہوئے تو اس نے مجھے اجازت ہو تو اس کا سر قلم کر دوں۔ و غصہ کو ختم کر دیا ہے۔ پھر آپ نے کہا ۔ ”آپ نے ابھی کیا کہا تھا؟“ کی گردن اڑا دیتا ہوں۔ فرمایا! اگر تم گے؟ میں نے عرض کی کہ ہاں! (ﷺ) کے بعد یہ کسی کے لئے

بعض علماء جن میں ابو داؤد ابو یعلیٰ وغیرہ بھی شامل ہیں ، نے جواز کی سند پکڑی ہے۔ استدلال صدیقؓ کو گالی دی گئی ہے تو آپؓ کی اجازت طلب کی۔ اگر سیدنا وہ ضرور اسے مار دیتے لیکن صدیقؓ یہ کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔

تو وہ واجب القتل ہے۔ نیز

صفحہ ۳۹

قبول و عدم قبول کے امور شرعیہ ، حضور (ﷺ) کے سپرد فرما دیئے گئے تھے۔ لہٰذا یہ اختیار آپ (ﷺ) کو تو حاصل ہے کہ کسی مصلحت یا حکمت کے تحت ان منافقین پر حد جاری فرمائیں یا نہ فرمائیں مگر حضور اقدس (ﷺ) کے علاوہ اسے کوئی اور استعمال نہیں کر سکتا۔

حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکرؓ کے پاس تھا۔ آپ ایک آدمی پر کسی بات سے ناراض ہوئے تو اس نے زیادتی کی۔ میں نے کہا اے خلیفۃ الرسول! مجھے اجازت ہو تو اس کا سر قلم کر دوں۔ انہوں نے کہا: میری بات نے اس کے غضب و غصہ کو ختم کر دیا ہے۔ پھر آپ اٹھے، اندر گئے اور بعد ازاں مجھے بلا بھیجا۔ میں گیا تو کہا۔ ”آپ نے ابھی کیا کہا تھا؟“۔ میں نے عرض کی کہ مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن اڑا دیتا ہوں۔ فرمایا ’اگر میں آپ کو حکم یا اجازت دے دوں تو ایسا کر گزرو گے؟ میں نے عرض کی کہ ہاں۔ آپ نے کہا۔ ”نہیں! قسم بخدا، رسول اللہ (ﷺ) کے بعد یہ کسی کے لیئے جائز نہیں“۔

بعض علماء جن میں ابوداؤد، اسماعیل، اسحاق القاضی، ابوبکر، عبدالعزیز اور قاضی ابو یعلیٰ وغیرہ بھی شامل ہیں، نے اس سے شاتم رسول (ﷺ) کے قتل کے جواز کی سند پکڑی ہے۔ استدلال یہ ہے کہ ابوہریرہ نے جب دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو گالی دی گئی ہے تو آپ کو غصہ آیا۔ انہوں نے آپ سے اس آدمی کے قتل کی اجازت طلب کی۔ اگر سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ انہیں حکم یا اجازت دے دیتے تو وہ ضرور اسے مار دیتے لیکن صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ (ﷺ) کے بعد یہ کسی کے لیئے جائز نہیں ہے۔ اس میں مندرجہ ذیل نکات خاصے غور طلب ہیں:

تو وہ واجب القتل ہے۔ نیز یہ کہ شاتم رسول (ﷺ) کی گردن مار دیا جانا

صفحہ ۴۰

دراصل اطاعت رسول (ﷺ) ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے بعض مواقع پر تعمیل ارشاد خداوندی میں ایسا ہی کیا تھا۔

کی جسارت کرنے والے کو قتل کی سزا نہیں دی جاسکتی۔ اس لئے کہ یہ سزا توہین رسول (ﷺ) کے جرم میں مختص ہے۔

اور لازم ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس حدیث کے عموم سے مسلمان اور کافر دونوں کے لئے قتل کی سزا کے نافذ العمل ہونے کا استدلال کیا جائے گا۔

سزائے قتل کا معاملہ تو حق الیقین کے درجہ تک پہنچا ہوا ہے۔ لیکن بعض صحابہ آپ (ﷺ) کے خلیفہ کے متعلق یاوہ گوئی پر بھی گردن مار دینے کا جذبہ رکھتے تھے۔

پہنچا دینے کا اختیار حاصل تھا مگر آپ کے بعد کسی دوسرے شخص کے لئے یہ روا نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی دشمن و گستاخ پر یہ حد لاگو کر سکے۔

امام ابن تیمیہ نے ”الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول (ﷺ)“ میں لکھا ہے کہ حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ ایک عورت حضور نبی کریم (ﷺ) کو گالی دیا کرتی تھی۔ ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ دیا۔ یہاں تک کہ وہ مر گئی لیکن آقائے نامدار حبیب کردگار (ﷺ) نے ان کا خون رائیگاں فرمایا تو اس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ شاتمان نبی کے لئے اللہ و رسول ﷺ کا یہی فیصلہ ہے۔ نہیں تو قاتل سے باز پرس کی جاتی اور قصاص یا دیت کا اجراء ہوتا۔ لہٰذا یہ حدیث شاتم رسول (ﷺ) کے قتل کے جواز پر نص ہے۔

صفحہ ۴۱

اس واقعاتی حدیث سے یہ نتائج اخذ ہوتے ہیں:

واصل فی النار کیا گیا تو مولائے کائنات (علیہ السلام) نے گویا کہ اس کی تائید فرمادی۔

موقع ملتے ہی وہ اس پر عمل بھی کر گزرے۔

میں قانون کے تقاضے پورے کرتے رہنا لازم نہیں ہے۔ اگر گستاخی کا ٹھوس ثبوت میسّر آجائے تو کوئی بھی مسلمان اس کو ہلاک کر سکتا ہے۔

عدالت گستاخ رسول (ﷺ) کو قرار واقعی سزا دیں گے تو پھر مجرم کو ازخود انجام تک پہنچانے کی بجائے قانون و انتظامیہ کے سپرد کر دینا موزوں ہے۔

حمیتی ہے۔ دینِ فطرت کی رُو سے بے غیرت کا کوئی دین نہیں ہوتا۔ اور یہ اس درجہ کی بے غیرتی ہے کہ سرکارِ اقدس (ﷺ) کی توہین برداشت ہو جانا بے ایمان ہونے کا اعلان ہے۔

سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ کو اپنے زمانۂ خلافت میں اطلاع ملی کہ فلاں والی نے ایک عورت کے دانت اکھڑوا دیئے ہیں‘ کیونکہ اس عورت نے حضور علیہ السلام کی شانِ عالی میں بعض ناروا کلمات بکے تھے۔ اس پر آپ نے فرمایا: ”اب سزا دی جا چکی ہے۔ ورنہ میں حکم دیتا کہ عورت کو قتل کر دیا جائے۔ اس لیے کہ جو رسول اللہ (ﷺ) کی شان مبارک میں ارتکاب گستاخی کرے‘ اس کی سزا قتل ہے“۔ نہ صرف یہ بلکہ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرطِ عقیدت میں کہا تھا:

صفحہ ۴۲

”مجھے محبوب خدا ﷺ خود خدا سے بھی زیادہ محبوب ہیں“۔ وجہ یہ قرار پائی کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت بھی تو آپ کے وسیلۂ جلیلہ سے ہی حاصل ہوئی۔ ورنہ لوگ گمراہی کی وادیوں میں بھٹک رہے ہوتے اور توحید پرستی کی بجائے مظاہر پرستی میں مر کھپ جاتے۔ حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ اس مضمون کو یوں باندھتے ہیں:

معنیٰ حرفم کنی تحقیق اگر
بنگری با دیدۂ صدیق اگر
قوتِ قلب و جگر گردد نبیؐ
از خدا محبوب تر گردد نبیؐ

حضرت سہل بن سعد سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنی عمرو بن عوف کے ہاں‘ ان کے درمیان صلح کرانے کی غرض سے تشریف لے گئے۔ اس اثناء میں نماز کا وقت ہو گیا۔ مؤذن رسولؐ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خدمت میں آ کر عرض کیا کہ کیا آپ نماز پڑھائیں گے اور میں تکبیر کہوں؟ آپ نے جواب دیا‘ ہاں! حضرت ابوبکر صدیقؓ نماز پڑھانے لگے۔ اتنے میں حضور ﷺ تشریف لے آئے اور صحابۂ کرام حالتِ نماز میں تھے۔ آپ ﷺ پر لوگوں کی نگاہ پڑی تو انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیاں‘ بائیں ہاتھ کی پشت پر مارنا شروع کیں تاکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو سرکارِ اقدس ﷺ کی آمد کی خبر ہو جائے۔ ادھر سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ کا نماز میں انہماک دیدنی ہوتا تھا۔ لہٰذا صحابۂ کرامؓ نے تصفیق (ہاتھ پر ہاتھ مار کر آواز پیدا کرنا) میں زیادتی کی تو متوجہ ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنی جگہ ہی ٹھہرے رہو۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور رسول اللہ ﷺ کے اس حکم پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی‘ پھر پیچھے ہٹ کر صف میں مل گئے۔ حضور پاک ﷺ آگے بڑھے‘ نماز پڑھائی اور

صفحہ ۴۲-۴۳

خود خدا سے بھی زیادہ محبوب ہیں“۔ وجہ یہ قرار پائی گئی تو آپ کے وسیلۂ جلیلہ سے ہی حاصل ہوئی۔ ورنہ لوگ بھٹک رہے ہوتے اور توحید پرستی کی بجائے مظاہر پرستی میں مر گئے۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ اس مضمون کو یوں باندھتے ہیں:

عینِ تحقیق اگر قلب و جگر گردد نبیؐ
دیدۂ صدّیقؓ اگر خدا محبوب تر گردد نبیؐ

سعدؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے کی غرض سے تشریف لے گئے۔ اس اثناء میں مؤذن رسولؐ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کی خدمت میں آکر کہا، کیا آپ نماز پڑھائیں گے اور میں تکبیر کہوں؟ آپ نے جواب دیا، ہاں! وہ نماز پڑھانے لگے۔ اتنے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے۔ لوگ جو نماز میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر لوگوں کی نگاہ پڑی تو دائیں ہاتھ کی انگلیاں، بائیں ہاتھ کی پشت پر مارنا شروع کیں تاکہ ابوبکرؓ کو حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کی خبر ہو جائے۔ ادھر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا نماز میں انہماک دیدنی ہوتا تھا۔ لہٰذا صحابہ کرامؓ نے تصفیق (ہاتھ پر مارنے) میں زیادتی کی تو متوجہ ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آتے دکھائی دیئے، آپؐ نے اشارہ کیا ٹھہرے رہو۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس حکم پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر پیچھے ہٹ گئے۔ حضور پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے بڑھے، نماز پڑھائی اور

جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو حضرت ابوبکرؓ سے پوچھا۔ ”اے ابوبکرؓ! تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اپنی جگہ (امامت) پر ثابت قدم رہتا۔ جبکہ میں نے تجھے حکم دیا تھا۔ انہوں نے عرض کیا کہ ابو قحافہ کے بیٹے کو یہ حق نہیں کہ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آگے ہو کر نماز پڑھائے“۔

اس سے مترشح ہے کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے عقیدہ و نظریہ کی رو سے حضور اکرم شفیع معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ادب و احترام نماز میں بھی مقدم ہے۔ یہی سبب ہے کہ انہوں نے آقا و مولا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے باوجود طریق ادب اختیار کیا اور حضور پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی یہ عذر رد نہ فرمایا، بلکہ اسے شرفِ قبولیت بخشا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کا دوران نماز پیچھے ہٹ آنا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب و لحاظ، عبادت سے بھی بڑھ کر اور فوقیت کے درجہ میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ غزوہ بدر میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ایک بیٹے ابو جہل کی قیادت میں تھے۔ ازاں بعد انہیں قبولیتِ اسلام کا شرف حاصل ہوا۔ ایک دن عرض کیا: ”ابا جان! آپ غزوہ بدر میں کئی مرتبہ میری زد میں آئے مگر میں اپنی تلوار کو پیچھے ہٹا لیتا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے یہ سن کر فرمایا: بیٹا! ربّ کعبہ کی قسم! اگر تو ایک مرتبہ بھی میری تلوار کی زد میں آجاتا تو تیری گردن اڑا دیتا۔ اس لئے کہ میرے آقا و مولا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابل کھڑا ہونے سے تیرا میرا کوئی رشتہ باقی نہیں رہ گیا تھا۔

روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے اہل کوفہ کو لکھا کہ کسی شخص کا نام، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام پہ مت رکھو۔ اس کو ابو جعفر طبری نے بیان کیا ہے اور محمد بن سعد سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے بھتیجے، محمد بن زید بن خطاب سے فرمایا کہ میں اس بات کو جائز نہیں سمجھتا کہ تمہاری وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اہانت ہو۔ واللہ! جب تک میں زندہ ہوں، تمہارا نام ”محمد“ نہ پکارنے دوں گا۔ اور ان کا نام

صفحہ ۴۴

”عبداللہ“ رکھ دیا۔ پھر حضرت عمرؓ نے ارادہ کیا کہ اس بات کی عام ممانعت کر دیں کہ عزت و برکت کے لئے ہی سہی، کوئی شخص انبیاء علیہم السلام کے نام پر نام نہ رکھے۔ لیکن بعد میں اس خیال سے اس لیئے باز رہے، چونکہ رسول اللہ (ﷺ) کے وصال کے بعد آپ (ﷺ) کے نام پر نام اور کنیت پر کنیت جائز ہیں۔ مطلب یہ کہ اگر سید کائنات فخر موجودات (ﷺ) نے تبرکاً اور ”سبباً“ اس کی اجازت (بعد از وصال) نہ فرمائی ہوتی تو فاروق اعظمؓ لازمی طور پر اس کا حکماً امتناع فرما دیتے۔

”الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ“ میں ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کے پاس قبیلہ بنی تمیم سے ایک شخص آگیا اور الذاریات والمرسلات والنازعات کے بارے میں سوال کیا یا ان میں سے کسی ایک کے متعلق کچھ پوچھا۔ سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کی بصیرت نے اس کے قلبی مرض کا اندازہ کر لیا کہ یہ آدمی اپنے دل و دماغ میں رسول اللہ (ﷺ) سے بغض و عناد اور عداوت و کدورت رکھتا ہے۔ اسے گستاخی و بے ادبی کی بیماری لاحق ہے۔ لہٰذا آپ نے اسے حکم دیا: ”اپنے سر سے کپڑا ہٹا“ جب اس نے کپڑا ہٹایا تو اس کے سر پر بال موجود تھے۔ آپ نے اس سے فرمایا۔ بخدا! اگر میں تیرے سر کو مونڈا ہوا پاتا تو میں تیرے سر کو قلم کر دیتا، جس میں تیری دونوں آنکھیں دھنسی ہوئی ہیں“۔

در حقیقت حضرت عمر فاروقؓ کے ذہن و شعور میں اپنے آقا و مولا (ﷺ) کی بیان فرمائی ہوئی وہ علامات محفوظ تھیں۔ ان نشانیوں میں سے ایک سر کا منڈا ہوا ہونا بھی تھا۔

روح البیان میں علامہ اسماعیل حقیؒ درج فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کو پتا چلا کہ ایک امام مسجد نماز میں ہمیشہ سورہ عبس کی قراءت کرتا ہے تو آپ نے اسے موت کا ذائقہ چکھا دیا، اس لیئے کہ وہ حضور اقدس (ﷺ) کے مقامات جلیلہ و درجات عالیہ کی تنقیص کے ارادے سے کہ مقتدیوں کے دل میں سے قدر و منز عظمت کا احساس کم ہو۔ یہی سبب ہے کہ واقعہ کی مناسبت سے درج ذیل امور مستن

(ﷺ) کی تنقیص کے ارادہ و نیت جرم اور ناقابل تلافی گناہ ہے کہ اس پر کے حضور اشارہ و کنایہ سے گستاخی بھی کفر

قابل قبول ہو گی، اور نہ ہی الفاظ کے پیچ قرآنی و عمل نبوی ﷺ کے فلسفہ و

حضرت عثمان ذوالنورینؓ کے بار سے سرور کائنات (ﷺ) سے بیع اور مبارک جانا، اور یہ کہ اپنے آقا و مولا گوارا نہیں ہوا تھا۔ باوجود اس کے کہ تھی۔ بات دراصل یوں ہے کہ سیدنا عث (ﷺ) کی نسبت و تعلق ہی سے باقی نہ رہی تھی۔ لہٰذا وفور شوق میں بیع تعلق اور روحانی و وجدانی نسبت ہی تو ب ہے۔

سیدنا حضرت علی المرتضیٰ ؓ تاز

صفحہ ۴۵

عمرؓ نے ارادہ کیا کہ اس بات کی عام ممانعت کر دیں کہ کوئی شخص انبیاء علیہم السلام کے نام پر نام نہ رکھے۔ اس لیے باز رہے، چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے کے نام پر نام اور کنیت پر کنیت جائز ہیں۔ مطلب ذات (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تبرکاً و نسبتاً اس کی اجازت تو فاروق اعظمؓ لازمی طور پر اس کا حکماً امتناع فرما دیتے۔ علی شاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم" میں ہے کہ حضرت عمر نے ایک شخص آ گیا اور الذاریات والمرسلات والنازعات میں سے کسی ایک کے متعلق کچھ پوچھا۔ سیدنا حضرت نے قلبی مرض کا اندازہ کر لیا کہ یہ آدمی اپنے دل و دماغ سے بغض و عناد اور عداوت و کدورت رکھتا ہے۔ اسے ہے۔ لہٰذا آپ نے اسے حکم دیا: ”اپنے سر سے کپڑا ہٹا“ کے سر پر بال موجود تھے۔ آپ نے اس سے فرمایا۔ بخدا! پاتا تو میں تیرے سر کو قلم کر دیتا، جس میں تیری دونوں

عمر فاروقؓ کے ذہن و شعور میں اپنے آقا و مولا ہو گئی وہ علامات محفوظ تھیں۔ ان نشانیوں میں سے ایک

علامہ اسماعیل حقیؒ درج فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کو پتا چلا ہمیشہ سورہ عبس کی قراءت کرتا ہے تو آپ نے اسے اس لیے کہ وہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مقامات جلیلہ و

درجات عالیہ کی تنقیص کے ارادے سے اس کی قرائت کیا کرتا تھا۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ مقتدیوں کے دل میں سے قدر و منزلت جاتی رہے اور قدر و منزلت و رفعت و عظمت کا احساس کم ہو۔ یہی سبب ہے کہ وہ نگاہِ فاروقی میں واجب القتل ٹھہرا۔ اس واقعہ کی مناسبت سے درج ذیل امور مستنبط ہوتے ہیں:

(صلی اللہ علیہ وسلم) کی تنقیص کے ارادہ و نیت سے پڑھی جائے تو ایک ایسا ناقابلِ معافی جرم اور ناقابلِ تلافی گناہ ہے کہ اس پر لازماً ”حد“ جاری ہو گی۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور اشارہ و کنایہ سے گستاخی بھی گردن زدنی ٹھہرا دیتی ہے۔

قابلِ قبول ہو گی، اور نہ ہی الفاظ کے پیچوں میں الجھا جائے گا، بلکہ سادہ طریق سے حکم قرآنی و عمل نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے فلسفہ و روح پہ نظر رکھ کر فیصلہ صادر ہو گا۔

حضرت عثمان ذوالنورینؓ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے جس ہاتھ سے سرورِ کائنات (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بیعت کی تھی، ہمیشہ اس کی تقدیس محفوظ رکھی اور مبارک جانا، اور یہ کہ اپنے آقا و مولا (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بغیر طواف کعبہ بھی انہیں گوارا نہیں ہوا تھا۔ باوجود اس کے کہ کفار مکہ نے انہیں بخوشی اجازت دے دی تھی۔ بات دراصل یوں ہے کہ سیدنا حضرت عثمان غنیؓ نے کعبہ کو بھی حضور پُرنور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نسبت و تعلق ہی سے جانا اور پہچانا ہوا تھا۔ وگرنہ ان پر کوئی پابندی باقی نہ رہی تھی۔ لہٰذا وفور شوق میں بیت اللہ کا طواف فرما لیتے۔ یہ قلبی و جذباتی تعلق اور روحانی و وجدانی نسبت ہی تو ایمان کی حقیقت ہے اور حقیقت میں ایمان ہے۔

سیدنا حضرت علی المرتضیٰؓ ”تاریخ اسلام کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ روشنی کا

صفحہ ۴۶

FC

مینارِ معرفت کی بہار، طریقت و وفا، علم اور حلم اور کردار و عمل کا ایک چراغِ نور۔ ہجرت کی رات شدید ترین خطرے کے باوجود، پورے اطمینانِ قلبی کے ساتھ، رسول اللہ (ﷺ) کے بستر پر لیٹے رہنا انہی کے حصہ میں آیا تھا۔ کہاں کا خوف؟ آج تو وہ عرش نشیں تھے۔ معاہدۂ حدیبیہ (۶ ہجری) کے موقع پر ان کے عرفان و وجدان کا ایک اور منفرد حوالہ سامنے آتا ہے۔ طے پایا تھا کہ معاہدے کا متن حضرت علیؓ تیار کریں گے۔ انہوں نے عبارت کے آغاز میں لکھا کہ یہ معاہدہ محمدٌ رَّسُولُ اللہ (ﷺ) اور اہل مکہ کے مابین ہے۔ اس پر کفار مکہ کی نمائندگی کرتے ہوئے سہیل بن عمرو نے اعتراض کیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ اصل جھگڑا تو یہی ہے۔ جب ہم آپ ﷺ کو اللہ کا رسول مان لیں گے تو پھر کوئی اختلاف باقی نہیں رہ جاتا۔ لہٰذا یہ جملہ کاٹ دیا جائے۔ نبی کریم (ﷺ) نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ محمد رسول اللہ (ﷺ) کی جگہ محمد بن عبداللہ لکھ دیں۔ مگر انہیں اس ارشاد کی تعمیل میں تامل تھا۔ سیّد الثقلین نبی الحرمین (ﷺ) حضرت علیؓ کی جھجک کو فوراً سمجھ گئے کہ ان کا ذوق یہ گوارا نہیں کر رہا۔ آپ ﷺ نے ناراضی و خفگی کا اظہار نہیں فرمایا۔ لیکن چونکہ حکمت خداوندی کے تحت صلح حدیبیہ آگے چل کر فتح مبین ثابت ہونے والی تھی اور اس بات کو آقا و مولا (ﷺ) ہی جانتے تھے۔ لہٰذا رسول پاک (ﷺ) نے معاہدہ کی دستاویز حضرت علیؓ سے لے کر اپنے ہاتھ سے ان الفاظ کو بدل دیا۔

غور طلب امر یہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ جیسے عظیم صحابی اور مزاج شناسِ رسول (ﷺ) نے اپنے آقا و مولا (ﷺ) کا یہ حکم کیوں نہیں مانا؟ اور مولائے انبیا (ﷺ) نے اسے حکم عدولی کیونکر نہ جانا؟ درحقیقت حضرت علیؓ کا بے پایاں عشق، اس کی اجازت نہ دیتا تھا اور محبت و عقیدت کے جذبات و احساسات کو

صفحہ ۴۷

حقیقت و وفا، علم و حلم اور کردار و عمل کا ایک چراغِ نور۔ ہجرت خطرے کے باوجود، پورے اطمینانِ قلبی کے ساتھ، رسولِ اللہ پر لیٹے رہنا انہی کے حصہ میں آیا تھا۔ کہاں کا خوف؟ آج تو وہ حدیبیہ (۶ ہجری) کے موقع پر ان کے عرفان و وجدان کا ایک آتا ہے۔ طے پایا تھا کہ معاہدے کا متن حضرت علیؓ تیار کریں ت کے آغاز میں لکھا کہ یہ معاہدہ محمد رسول اللہ (ﷺ) ہے۔ اس پر کفارِ مکہ کی نمائندگی کرتے ہوئے سہیل بن عمرو نے قف تھا کہ اصل جھگڑا تو یہی ہے۔ جب ہم آپ ﷺ کو گے تو پھر کوئی اختلاف باقی نہیں رہ جاتا۔ لہٰذا یہ جملہ کاٹ دیا (ﷺ) نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ محمد رسول اللہ بن عبداللہ لکھ دیں۔ مگر انہیں اس ارشاد کی تعمیل میں تامل بین (ﷺ) حضرت علیؓ کی جھجک کو فوراً سمجھ گئے کہ ان رہا۔ آپ ﷺ نے ناراضی و خفگی کا اظہار نہیں فرمایا۔ بندی کے تحت صلحِ حدیبیہ آگے چل کر فتحِ مبین ثابت ہونے کو آقا و مولا (ﷺ) ہی جانتے تھے۔ لہٰذا رسولِ پاک دہ کی دستاویز حضرت علیؓ نے لے کر اپنے ہاتھ سے ان الفاظ کو ریہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ جیسے عظیم صحابی اور مزاج شناس نے اپنے آقا و مولا (ﷺ) کا یہ حکم کیوں نہیں مانا؟ اور (ﷺ) نے اسے حکم عدولی کیونکر نہ جانا؟ درحقیقت حضرت علیؓ کا اجازت نہ دیتا تھا اور محبت و عقیدت کے جذبات و احساسات کو

سرکار مدینہ (ﷺ) سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ آپ (ﷺ) نے حضرت علی المرتضیٰ کے قرینہ کی قدر فرمائی۔ اس سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ بارگاہِ نبوی (ﷺ) میں ادب و احترام اور الفت و ارادت کے انداز بالکل نرالے ہیں۔

حضرت خالد بن ولیدؓ نے مالک بن نویرہ کو محض اس لئے قتل کر دیا تھا کہ اس نے حضور اکرم شفیعِ معظم (ﷺ) کو ”تمہارے ساتھی“ کہا تھا۔ یہ بنو تمیم کا سردار تھا۔ اس نے امام الانبیا (ﷺ) کے وصال کے بعد زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا تو حضرت ابو بکر صدیقؓ نے حضرت خالدؓ کو اس کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا کہ میں نماز تو پڑھوں گا، لیکن زکوٰۃ نہیں دوں گا۔ یہ غلط نہیں ہے اس لئے کہ تمہارے ساتھی (رسول اللہ) ایسا ہی کہتے تھے۔ حضرت خالدؓ نے کہا۔ ”کیا رسول اللہ (ﷺ) ساتھی ہیں؟“ اس نے پھر یہی جملہ کہا تو حضرت خالدؓ نے ضرارؓ بن ازور کو حکم دیا اور انہوں نے اس کی گردن مار دی۔

صاحب الشفاء کہتے ہیں کہ ابراہیم بن حسین بن خالد الفقیہ نے حضرت خالدؓ بن ولید کے اس عمل سے یہ دلیل پکڑی ہے کہ اگر کوئی تحقیر کے الفاظ بھی اپنی زبان سے نکالتا ہے تو وہ واجب القتل ہے۔

الغرض یہ گستاخیٔ رسالت ایک فتنہ ہے، سب سے بڑا فتنہ۔ گستاخ درحقیقت وطن، قوم اور دین کا قاتل ہوتا ہے۔ سب سے بڑا قاتل۔ اور فطری تقاضا ہے کہ اس نوع کے نشان تک مٹا کر رکھ دیئے جائیں۔ لہٰذا شاتمِ رسول (ﷺ) کا قتل پوری قوم کا فرض ہے۔۔۔۔۔ فرضِ عین ہے!

”مغزِ قرآں، رُوحِ ایماں، جانِ دیں“
صفحہ ۴۸

موجودہ دور میں ”شتم رسول (ﷺ)“ کا مسئلہ بڑی شدّ و مد کے ساتھ زیر بحث آیا ہے اور یہ علماء کی صف سے نکل کر گویا عوام کا موضوع بن گیا۔ اس کا سب سے بڑا سبب سلمان رشدی کی رسوائے زمانہ کتاب شیطانی آیات (The Statanic Verses) کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ کذب و افتراء پر مبنی یہ ناپاک فتنہ ۱۹۸۸ میں مرحلۂ اشاعت سے گزرا۔ ایک طرف تو مسلمانان عالم اس کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے اور شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ جبکہ دوسری طرف چند بزعم خود دانشور و مبلغ اپنا ہی راگ الاپ رہے تھے۔ ان کے عجمی فلسفے کا نچوڑ یہ تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان نہ صرف یہ کہ دعوت کا کام نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ مسلسل طور پر دعوت کو قتل کرنے میں مشغول ہیں۔ انہی دعوت کُش سرگرمیوں میں سے ایک سرگرمی وہ ہے جو ”شتم رسول (ﷺ)“ کے خلاف مسلمان ہر جگہ جاری کیئے ہوئے ہیں۔ فرزندان اسلام کا اپنے آقا و مولا (ﷺ) کے ساتھ یہ جذباتی تعلق ”ناقابل فہم“ ہے۔ اس موضوع پر ایک صاحب لکھتے ہیں:

”مسلمانوں میں سے جو لوگ سلمان رُشدی کے قتل کی وکالت کر رہے ہیں وہ شتم رسول (ﷺ) کے مسئلہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں گویا کہ یہ کوئی عام اور مطلق حکم ہے۔ یعنی یہ کہ جب بھی کوئی شخص، رسول (ﷺ) پر سبّ و شتم کرے، اس کو فوراً قتل کر دیا جائے۔ از روئے مسئلہ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی تخصیص نہیں۔ اسی طرح اس کا تعلق کسی ایک پیغمبر سے بھی نہیں ہے بلکہ تمام پیغمبروں سے ہے۔ قرآن میں جن پیغمبروں کا ذکر ہے ان میں سے کسی ایک پیغمبر پر سبّ و شتم کرنا فوراً آدمی کو گردن زدنی قرار دے دیتا ہے۔ اگر شتم کے اس مسئلہ کو صحیح مان لیا جائے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ صدیوں سے تمام علماء اور تمام مسلمان حکمران

صفحہ ۴۹

اس معاملہ میں مجرمانہ غلطی کرتے رہے ہیں۔ کیونکہ بار بار سَبّ و شتم کا واقعہ ہونے کے باوجود انہوں نے اس مسئلہ پر عمل نہیں کیا، نہ علماء نے قتل کے فتوے دیے، اور نہ حکمرانوں نے ایسے لوگوں کو قتل کروایا۔ جن علماء اور فقہاء کے یہاں یہ مسئلہ ہے کہ سَبّ و شتم کرنے والا شخص واجب القتل ہے، وہ ان کے نزدیک صرف پیغمبر اسلام (ﷺ) کے لیئے نہیں ہے بلکہ خدا کے تمام پیغمبروں کے لیئے ہے۔ امام ابنِ تیمیہ نے اپنی کتاب میں ایک مستقل باب اس عنوان کے تحت قائم کیا ہے: " فصل فی ان حکم سَبّ سائر الانبیاء کحکم سَبّ نبینا علیہ السلام" اس باب کے تحت ابنِ تیمیہ نے لکھا ہے کہ تمام پیغمبروں کو سَبّ و شتم کرنے کا وہی حکم ہے، جو ہمارے پیغمبر (ﷺ) کو سَبّ و شتم کرنے کا حکم ہے۔ پیغمبروں میں سے جس پیغمبر کو بھی کوئی شخص سَبّ و شتم کرے وہ کافر ہے اور اس کا خون حلال ہے۔ ایک طرف اس مسئلہ کو سامنے رکھیئے۔ دوسری طرف یہ دیکھیئے کہ فقہاء کے یہاں سَبّ و شتم کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ کسی نبی کا اشارہ سے بھی تحقیر کرنا شتم میں داخل ہے۔ ایک مثال اس کو واضح کرتی ہے۔ امام ابو یوسف نے ایک مرتبہ یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (ﷺ) کھانے میں کدّو کو پسند کرتے تھے اور اس کو رغبت سے کھاتے تھے۔ اس پر جماعت میں سے ایک شخص اٹھا اور اونچی آواز سے کہنے لگا کہ مجھے تو کدّو پسند نہیں۔ امام ابو یوسف نے اس کے اس کلام کو شتم قرار دیا اور اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ آخر کار اس شخص نے توبہ کی اور (حنفی مسلک کے مطابق) اس کی معافی ہوئی۔ اب اگر وہی مسئلہ ہو جو بظاہر اوپر کے بیان میں نظر آتا ہے تو علماء اسلام کو چاہیئے تھا کہ ایسے تمام شاتمین کے بارہ میں قتل کا فتویٰ دیں۔ اور پھر عام مسلمانوں سے یا مسلم حکومتوں سے یہ کہیں کہ وہ انہیں فوراً قتل کر دیں۔ مگر حال یا ماضی کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں کیا گیا۔ ایک مثال لیجیئے۔ مرزا غلام

صفحہ ۵۰

احمد قادیانی نے بتکرار حضرت مسیح علیہ السلام کی شان میں واضح گستاخیاں کی ہیں۔ مثلاً اس کا ایک شعر یہ ہے:

ابن مریمؑ کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

رسولؐ پر اس سبّ و شتم کے باوجود مولانا (انور شاہ) کشمیری نے اور نہ دوسرے علماء نے یہ کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو قتل کر دو۔ قادیانی اپنے کھلے ہوئے سبّ و شتم کے باوجود زندہ رہا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت سے مر کے خدا کے یہاں پہنچ گیا“۔

مرقومہ بالا اقتباس میں کئی بنیادی، معلوماتی اور واقعاتی غلطیاں در آئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ شتمِ رسول (ﷺ) پر سزائے موت کو جھٹلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسرا یہ کہ پیغمبروں پر سبّ و شتم کے مسئلہ کی روح اور اس کے تناظر کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں اس میں یہ تاثر دینے کی جسارت کی گئی ہے کہ گویا آغازِ اسلام سے لے کر اس صدی کی ابتدا تک علماءِ دین نے اس امر کا کبھی فتویٰ دیا، اور نہ ہی مسلم حکمرانوں نے اس نوع کا کوئی رویہ اختیار کیا ہے۔ اس پر مستزاد، بین السطور کچھ ایسا تاثر اجاگر کیا گیا ہے کہ جس سے معلوم ہو، تاریخ اسلام میں جیسے معدودے چند علماءِ کرام ہی اس نقطۂ نظر کے حامی رہے ہیں۔ علاوہ ازیں کدّو کے حوالے سے امام ابو یوسفؒ کے ایک فتویٰ کا تذکرہ مسطور ہے، جس میں توبہ کو قبول کر لیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی حتمی طور پر قرار دے دیا گیا کہ ملتِ اسلامیہ کی پوری تاریخ میں اس امر کی کوئی مثال دستیاب نہیں ہو سکتی۔ آخر مُسَیلِمۂ پنجاب مرزا قادیانی کے بارے میں مولانا انور شاہ کشمیری وغیرہم کا ایسا کوئی فتویٰ نہ دینے کو دلیل ٹھہرایا گیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مولانا انور شاہ کشمیری وغیرہم نے اس طرز کا

صفحہ ۵۱

کوئی فتویٰ صادر کیا ہوتا تو کیا معترض و مخالف، گستاخِ رسول ﷺ کی سزائے قتل کے قائل ہو جاتے؟ حالانکہ دین اسلام کے ہر قابل ذکر فقیہ، محدث، فقیہ، مجتہد، مفتی، مفسر، محدث اور محقق و مصنف نے روحِ دین کے بالکل عین مطابق گستاخِ رسالت کی سزا کے طور پر قتل و ہلاکت کو ہی تسلیم و تجویز کیا ہے۔ آئیے، اسلاف و اخلاف کے افکار و کردار کی روشنی میں ”اس جدید گروہ“ کے موقف کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

حضرت علی المرتضیٰؓ سے مروی ہے کہ رسول مکرم شفیع معظم ﷺ نے ارشاد فرمایا:۔ ”جو شخص کسی نبیؐ کو گالی دے اسے قتل کر دو اور جو میرے کسی صحابیؓ کو گالی دے اسے کوڑے مارو“۔

الشفاء کا پورا نصف بتعریفِ حقوق المصطفیٰ ﷺ قلمبند ہوا ہے۔ ابو الفضل قاضی عیاضؒ نے اس میں موضوع سے متعلق ایک قابل قدر اور مدلل و مستند سرمایہ و ذخیرہ جمع فرما دیا ہے۔ لکھتے ہیں:

”ابو بکر بن منذر نے کہا ہے کہ عامہ اہلِ علم کا اس امر پر اجماع ہے کہ جو شخص سرورِ انبیاء ﷺ کو گالی دے اسے قتل کر دینا چاہیے۔ یہ بات حضرت مالکؒ بن انسؒ، لیثؒ، احمد اور اسحاق وغیرہ ہم نے بھی کہی ہے۔ یہی امام شافعیؒ کا مسلک ہے“۔

”حضرت ابو بکر صدیقؓ کے قول کا بھی تقاضا یہی ہے (کہ اسے قتل کر دیا جائے) اور تمام علماء کے نزدیک اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ امام ابو حنیفہؒ اور ان کے ساتھی سفیان ثوریؒ، اہلِ کوفہ اور اوزاعیؒ کا بھی یہی خیال ہے۔ البتہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ عملِ ارتداد ہے (یعنی آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا مرتد کے حکم میں ہے)۔ اسی بنا پر ایسے شخص سے توبہ کرانے اور تکفیر کرنے کے مسئلے

صفحہ ۵۲

میں اختلاف ہے کہ آیا کہ اس کو قتل کرنا حدِّ شرعی ہے یا محض تکفیر کافی ہے۔ البتہ اس معاملے میں ذرا اختلاف نہیں ایسا شخص مباح الدم (جس کا مار ڈالنا جائز ہو) ہے۔ لیکن مشہور بات وہی ہے جو محمد بن سحنون کہتے ہیں کہ تمام علماء امت کا اس امر پر اجماع ہے کہ شاتم النبیؐ یا وہ شخص جو آپ (ﷺ) میں نقص نکالے کافر اور مستوجب وعید و عذاب ہے اور پوری امت کے نزدیک واجب القتل ہے اور جو شخص ایسے شخص کے کافر اور مستحق عذاب ہونے میں کوئی شک کرے وہ خود کافر ہے"۔

"ابو سلیمان خطابی کہتے ہیں کہ میں مسلمان علماء میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو آپ ﷺ کو گالی دینے والے کو قتل کرنے کا قائل نہ ہو"۔ (جب کہ وہ مسلمان ہو۔ اگر کافر ہو تو اس کے لیے علیحدہ بحث ہے)

"ابن القاسم نے عتبہ میں لکھا ہے کہ جو نبی اکرم (ﷺ) کو گالی دے یا آپ ﷺ پر عیب لگائے یا آپ ﷺ میں نقص نکالے‘ اسے قتل کیا جائے اور ساری امت کے نزدیک اس کو قتل کرنے کا حکم اسی طرح ہے جس طرح زندیق کو قتل کرنے کا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور (ﷺ) کی تعظیم و توقیر کو فرض قرار دیا ہے"۔

"مبسوط میں عثمان بن کنانہ سے مروی ہے کہ جو شخص مسلمان ہو کر حضور (ﷺ) کو گالی دے اسے قتل کیا جائے یا زندہ سولی دی جائے۔ اس کی توبہ قبول نہ کی جائے اور حاکم کو اختیار ہے کہ اس کو زندہ سولی دے یا اس کی گردن مار دے"۔

"ابو مصعب اور ابن ابی اویس کی روایت میں ہے کہ ہم نے امام مالکؒ سے سنا ہے۔ وہ فرماتے تھے کہ جو شخص حضور پاک (ﷺ) کو گالی دے یا بُرا کہے یا عیب لگائے یا آپ ﷺ پر کوئی نقص عائد کرے اسے قتل کیا جائے۔ چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے۔ اور امام احمد بن ابراہیم کی کتاب

صفحہ ۵۳

میں ہے، امام مالکؒ نے فرمایا کہ جو شخص حضور (ﷺ) کو یا کسی اور نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلمان"۔

"اصبغ کہتے ہیں کہ ہر صورت میں اسے قتل کیا جائے، چاہے وہ اعلانیہ گالی دے یا خفیہ طور پر، اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے، کیونکہ توبہ کا حال معلوم نہیں"۔

"اشہب نے امام مالکؒ سے اور امام مالکؒ نے وہب سے روایت کی ہے کہ جس شخص نے یہ کہا کہ نبی کریم (ﷺ) کی چادر یا آپ ﷺ کی قمیص کی گھنڈی میلی ہے اور اس سے اس کا ارادہ آپ ﷺ کی تحقیر کا ہو تو اسے قتل کیا جائے"۔

"ابو الحسن قابسی نے اس شخص کے بارے میں جس نے حضور (ﷺ) کے بارے میں یہ کہا کہ آپ ﷺ حمّال (بوجھ ڈھونے والے) تھے۔ سرکارِ اقدس (ﷺ) کی یہ عادتِ مبارکہ تھی کہ آپ بازار سے سودا سلف خریدنے کے بعد خود اٹھا کر لاتے اور کسی کو نہیں پکڑاتے تھے۔ یا یہ کہے کہ آپ ﷺ ابو طالب کے یتیم تھے تو فتویٰ یہ ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے"۔ (کیونکہ وہ ایسا آپ ﷺ کی توہین کے ارادہ و نیت سے کہتا ہے)

"قاضی عبداللہ بن مرابط نے کہا ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ حضور (ﷺ) میدانِ جنگ سے فرار ہو گئے تو اس سے توبہ کرائی جائے۔ اگر وہ توبہ کر لے تو ٹھیک ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔ کیونکہ یہ ایک قسم کا عیب لگانا ہے۔ اور آپ ﷺ اس طرح کے عیوب سے مبرّا ہیں۔ آپ ﷺ کا ہر اقدام بصیرت کی بنیاد پر ہوتا تھا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو معصوم بنایا تھا"۔

"حبیب بن ربیع قروی نے کہا ہے اور یہی امام مالکؒ اور ان کے شاگردوں کا

صفحہ ۵۴

مسلک ہے کہ جو شخص نبی اکرم (ﷺ) میں کسی قسم کا نقص نکالے اسے توبہ کرائے بغیر قتل کر دینا چاہیے"۔

"ایسے ہی میں (قاضی عیاضؒ) کہتا ہوں کہ جو شخص آپ ﷺ کو حقیر جانے یا آپ ﷺ کو بکریوں کے چرانے، سہو و نسیان اور جادو کے حملے یا آپ ﷺ کو زخم لگنے یا آپ ﷺ کے لشکر کی شکست یا دشمنوں کی ایذا رسانی یا آپ ﷺ پر مصائب و شدائد کے نزول یا عورتوں کی طرف آپ ﷺ کے میلان کے حوالے سے آپ ﷺ کو عار دلائے یا ہدف تنقید بنائے تو ان سب باتوں کا حکم یہ ہے کہ جو ان باتوں سے آپ ﷺ میں نقص نکالنے کا ارادہ کرے وہ قتل کیا جائے"۔

ایک دفعہ حاکم کوفہ نے حضرت عمرؒ بن عبدالعزیز سے دریافت کیا کہ کیا میں اس شخص کو قتل کر دوں جو حضرت عمرؓ کو گالی دے؟ تو انہوں نے جواباً لکھا تھا کہ گالی دینے کی بناء پر کسی مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں، البتہ جو کوئی رسول اللہ (ﷺ) کو گالی دے اس کا خون حلال ہے۔

کتب میں مرقوم ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید نے ایک بار حضرت امام مالکؒ سے پوچھا تھا کہ جو شخص فخر الرسل (ﷺ) کو گالی دے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ اور ساتھ ہی انہیں بتلایا کہ بعض عراقی فقہا کا فتویٰ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں، تو امام مالکؒ غصہ ہو گئے اور فرمایا کہ اے خلیفۃ المسلمین! جو امت اپنے نبی کو گالی دے، پھر اس کا کیا ٹھکانا ہے۔ اگر ایسا ہے تو ان عراقی حضرات کا فتویٰ بالکل غلط ہے۔ جو انبیاء علیہم السلام کو گالی دے اسے قتل کرنا چاہیے اور جو نبی اکرم (ﷺ) کے صحابہؓ کو گالی دے اسے کوڑے مارنے چاہئیں۔

ابو الفضل حضرت علامہ قاضی عیاضؒ مزید لکھتے ہیں:

"امام مالکؒ اور اوزاعیؒ نے ثوریؒ، امام ابو حنیفہؒ اور علماء کوفہ کی را (ﷺ) کی شان میں گستاخی کفـ کیا جائے گا گو کہ اس پر کفر کا حکم دریدہ دہنی پر اصرار کرے اور اپنے ہے۔ اس کا قول صریح ہے"۔

توہین و تحقیر کی دو صورتیں

ارادی لاشعوری طور پر۔ یہاں آخر جائے تو نتیجہ یہ برآمد ہو گا کہ بغیر سبب ہے کہ علماء دین اور فقہاء ا دروازہ بند کر دیا ہے۔ اس لئے کہ جائے۔ بات پھر وہی ہے کہ تحقیر لہٰذا توہین و بے حیائی کا ارتکاب کـ

غیر ارادی طور پر توہین ا

میں بغیر قصد و ارادہ کے پیغمبر ﷺ پر بہتان طرازی ہو طرح بھی کلمۂ کفر کہا جائے۔ ( ﷺ کی طرف ایسی بـ ﷺ کی ذات سے ایسی نوع کے تمام افعال اگرچہ بظاہـ نیت گستاخی کی نہ ہو۔ یا اس مـ

صفحہ ۵۵

”امام مالکؒ اور اوزاعیؒ سے شامی علماء نے یہی روایت کی ہے۔ یہی سفیان ثوریؒ امام ابو حنیفہؒ اور علماء کوفہ کی رائے ہے۔ اور ایک دوسرا قول یہ ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخی کفر کی دلیل ہے۔ لہٰذا حدِ شرعی کے تحت اسے قتل کیا جائے گا گو کہ اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔ تاہم اگر وہ اپنی اس گستاخی اور دریدہ دہنی پر اصرار کرے اور اپنے فعل کو برا نہ جانے، نہ اس سے باز رہے تو وہ کافر ہے۔ اس کا قول صریح ہے“۔

توہین و تحقیر کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ پہلی، قصد و ارادہ ہے۔ دوسری، غیر ارادی لاشعوری طور پر۔ یہاں آخر الذکر صورت کا بیان مقصود ہے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو نتیجہ یہ برآمد ہو گا کہ بغیر نیت و ارادہ کے تحقیر و اہانت ہو ہی نہیں سکتی۔ یہی سبب ہے کہ علماءِ دین اور فقہاءِ امت نے قرآنی احکامات کی روشنی میں اس کا بھی دروازہ بند کر دیا ہے۔ اس لئے کہ یہ حسّاس موضوع کہیں بازیچۂ اطفال بن کر نہ رہ جائے۔ بات پھر وہی ہے کہ تحقیر و اہانت ہوتی ہی اس وقت ہے جب ارادہ شامل ہو۔ لہٰذا توہین و بے حیائی کا ارتکاب کرنے والوں سے کسی طور رعایت نہیں برتی جا سکتی۔

غیر ارادی طور پر توہین کے زُمرے میں رویّہ و عمل کی وہ قسم شامل ہے جس میں بغیر قصد و ارادہ کے پیغمبر اعظم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بے حرمتی کی جائے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان طرازی ہو۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات سے متعلق کسی طرح بھی کلمۂ کفر کہا جائے۔ (نعوذ باللہ) تکذیب یا گالی کی راہ اختیار کی جائے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو جائز نہیں ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ایسی باتوں کی نفی کی جائے جن کا پایا جانا ضروری ہے۔ اس نوع کے تمام افعال اگرچہ بقول کسی کے، ”قصداً“ اور ”ارادتاً“ نہ کئے جائیں اور چاہے نیت گستاخی کی نہ ہو۔ یا اس نے ذہنی اضطرار و انتشار یا جہالت و لاعلمی کی وجہ سے

صفحہ ۵۶

کوئی کلمہ کہہ دیا ہو یا لاپرواہی کے سبب ایسا کچھ سرزد ہو گیا ہو یا پھر قصد الکلامی نہ ہونے کی وجہ سے، حافظے کے نقص، دیدہ دلیری یا نشہ کی حالت میں اس طرح کا کوئی کلام صادر ہوا ہو تو ان تمام صورتوں میں وہی حکم ہے جو پہلی قسم کا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ اسے تہہ تیغ کر دیا جائے۔ اس بات میں کسی قسم کی عذر خواہی تسلیم نہیں کی جا سکتی۔

البتہ ایک صورت میں اسے معذور مان لیا جائے گا جب کہ وہ ایسا کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہو۔ بشرطیکہ اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ ثبوت اس کا یہ ہو گا کہ مجبوری و معذوری کی حالت سے باہر آتے ہی اس کی زبان سے اظہار ہو اور عمل گواہ بن جائے۔ تاریخ اسلام میں اس کی ایک نظیر علماء اندلس سے میسر ہے۔ انہوں نے ابن حاتم کے بارے میں فتویٰ دیا تھا، جب کہ اس نے حضور پاک (ﷺ) کے زہد کی نفی کی تھی۔

لیکن حالت مجبوری و معذوری میں بھی ایسا کچھ کہنا غیرت انسانی سے فرو ترین ہے۔ موت برحق ہے اور بہرحال آکر رہے گی۔ اس لیئے اگر کوئی شخص اپنی زبان سے بھی ایمان کی شان برقرار رکھے اور جان پر کھیل جائے تو یہ افضل ترین حوالہ ہے۔ تاہم زندگی میں کوئی مشکل ترین مرحلہ درپیش آ جائے جیسا کہ اندلس میں مسلمانوں کو شامتِ اعمال سے اجتماعی طور پر بھگتنا پڑا تھا، اور اس طرح اگر کوئی شخص دشمنوں کی قید میں ہو اور اس سے بالجبر توہین کروائی گئی تھی یا اس کو ارتداد پر مجبور کر دیا گیا تو اس وقت قتل کا حکم جاری نہیں گا۔ لیکن صرف دشمنوں کے ہاتھ میں قید ہونا کوئی جواز نہیں ہے جیسا کہ محمد بن سحنون کا بھی فتویٰ ہے۔

خاکم بدہن، میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اگر کوئی فرد ایسی پیچیدہ و نازک صورت حال سے دوچار ہو جائے اور پوری نسل کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوں تو اس سے قبل

اسے تبدیلی مذہب یعنی عیسائیت سے یہ تقاضا نہ کیا گیا ہو، مگر ا ایک مسلمان کا تصور مجروح نہ اس بات میں قاضی

”ابو محمد بن ابی زید کے ساتھ گستاخی کرنے میں زہ

”ابو الحسن قبسیؒ نے نشہ کی حالت میں سرکار اقدس بارے میں گمان ہے کہ وہ اند ایسا کرے گا۔ دوسری وجہ یہ ہ نشے کی وجہ سے ساقط نہیں ہو

”امام ابو حنیفہؒ اور ا (ﷺ) سے بیزاری ظا اور اس کا خون حلال ہے۔ البتہ

”امام ابن قاسمؒ (اما کہ حضور (ﷺ) نبی بلکہ یہ آپ ﷺ کے ﷺ کی نبوت یا وجود ک قائم مقام ہے۔ اور ایسے ہی ابن سحنون کا قول ہے کہ جو پوری امت کے نزدیک واجب

صفحہ ۵۷

اسے تبدیلی مذہب یعنی عیسائی یا ہندو وغیرہ ہو جانے کا اعلان کر دینا چاہیے، خواہ اس سے یہ تقاضا نہ کیا گیا ہو، مگر اپنے دل کو ایمان کی حالت پر قائم رکھے۔ یہ اس لیئے کہ ایک مسلمان کا تصور مجروح نہ ہو اور اسلامی انفرادیت کا بانکپن زندہ و تابندہ رہے۔

اس بات میں قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں:

"ابو محمد بن ابی زید سے روایت ہے کہ حضور سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ گستاخی کرنے میں زبان کی لغزش کا عذر نہیں سنا جائے گا"۔

"ابو الحسن قابسیؒ نے ایسے شخص کے بارے میں بھی قتل کا فتویٰ دیا ہے جو نشہ کی حالت میں سرکارِ اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی وغیرہ دے۔ کیونکہ اس شخص کے بارے میں گمان ہے کہ وہ اپنے قلبی اعتقاد کی بناء پر ایسا کر رہا ہے اور ہوش میں بھی وہ ایسا کرے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ایسے شخص کو قتل کرنا حد شرعی ہے اور حدِ شرعی نشے کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتی"۔

"امام ابو حنیفہؒ اور ان کے تلامیذ کا مسلک یہ ہے کہ جو کوئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیزاری ظاہر کرے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جھٹلائے، وہ مرتد ہے۔ اور اس کا خون حلال ہے۔ الا یہ کہ وہ اپنی اس بات سے رجوع کرے"۔

"امام ابن قاسمؒ (امام مالکؒ کے شاگرد) کہتے ہیں کہ جو (نسلی) مسلمان یہ کہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی نہیں تھے یا رسول نہیں تھے یا ان پر قرآن نازل نہیں ہوا بلکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال ہیں تو اس کو قتل کیا جائے اور جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت یا وجود کا انکار کرے حالانکہ وہ خود کو مسلمان کہتا ہو وہ مرتد کے قائم مقام ہے۔ اور ایسے ہی وہ شخص جو اعلانیہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کرے"۔

ابن سحنون کا قول ہے کہ جو شخص رسول پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرے وہ پوری امت کے نزدیک واجب القتل ہے۔ یہی حکم اس کا ہے جو نبی بنے یا یہ کہے کہ

صفحہ ۵۸

اس کی طرف وحی کی جاتی ہے۔

الغرض مشتبہ انداز میں اہانت اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کسی کو تشبیہ دینے کے بارے میں بھی کتبِ فقہ میں احکام موجود ہیں۔ ان دو صورتوں میں جب کہ بات گول مول ہو، مطلب کے معین کرنے میں تردد آئے، بات میں ابہام پایا جائے، اور کھلم کھلا، نبی اکرم (ﷺ) کی ذات مراد نہ ہو تو نیت و ارادہ کے رموز زیر بحث لائے جاسکتے ہیں۔ اور تعزیر یا حد کا فیصلہ حالات و واقعات، دلائل و براہین اور موقع محل کی مناسبت سے لاگو ہوتا ہے۔

مطلب یہ کہ حضور پاک (ﷺ) کی شان ارفع و اعلیٰ میں اشارۃً، کنایۃً، عمداً، قصداً، ادنیٰ گستاخی و بے باکی بھی صریح کفر اور ایک ایسا جرم ہے جسے بطور حد لیا جاتا ہے۔

علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

”حضور (ﷺ) کو گالی دینے والا اگر مسلمان ہو تو وہ کافر ہو جائے گا اور بغیر کسی اختلاف کے اسے قتل کر دیا جائے گا۔ ائمہ اربعہ کا یہی مذہب ہے۔“

امام ابن تیمیہ اپنی کتاب کے آغاز میں اہل علم اور ائمہ مذاہب کے مسلک کا ذکر کرتے اور اس باب میں مزید لکھتے ہیں:

”جس نے بھی شانِ رسالت مآب (ﷺ) میں بے حرمتی کی، بالاتفاق وہ کافر ہے، اور اس کا قتل واجب“۔

ابن المنذر کہتے ہیں کہ تمام اہل علم اس بات پر متفق و متحد ہیں کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کی بارگاہ میں مرتکبِ گستاخی کی حد قتل ہے۔

ابو بکر الفاسی الشافعی کہتے ہیں کہ تمام اہل اسلام کا اجماع ہے کہ حضور رحمت للعالمین (ﷺ) کی شان میں زبان دراز کرنے والے کی حد قتل ہے۔ جس طرح

کہ کسی اور کو گالی دینے والے کی سزا تابعین پر محمول کیا ہے)

امام اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں ہے کہ جس نے اللہ اور اس کے رسول جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے، اس عمل سے کافر ہو جائے گا۔ (اور اس کی حنبل کہتے ہیں، میں نے ا اللہ (ﷺ) کی شانِ اقدس میں ہو یا کافر، اس کا قتل کرنا ضروری اور

عبداللہ اور ابو طالب کی بارے میں زبان درازی کرنے والے جائے گا۔ ان سے کہا گیا کہ اس با بات میں احادیث وارد ہیں۔ ان عورت کو قتل کر دیا تھا۔ اس کا (ﷺ) کے بارے میں زبان د

حصین سے مروی حدیث کریم (ﷺ) کے بارے میں

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ لئے کہ جو نبی کریم (ﷺ) اسلام سے خارج ہے۔ مسلمان کبھی نہیں کرتا۔

صفحہ ۵۹

کہ کسی اور کو گالی دینے والے کی سزا کوڑے ہیں۔ (اس اجماع کو انہوں نے صحابہ اور تابعین پر محمول کیا ہے)

امام اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس بات پر تمام اہل اسلام کا اتفاق و اجماع ہے کہ جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بارے میں زبان درازی کی، جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے، اس میں کسی چیز کا انکار کیا، کسی نبی کو قتل کیا، وہ اپنے عمل سے کافر ہو جائے گا۔ (اور اس کی سزا بالاتفاق قتل ہے)

حنبل کہتے ہیں، میں نے ابو عبداللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں زبان درازی کی یا تنقیص کا مرتکب ہوا مسلمان ہو یا کافر، اس کا قتل کرنا ضروری اور واجب ہو گا۔

عبداللہ اور ابو طالب کی روایت میں ہے، حضور اکرم ﷺ کے بارے میں زبان درازی کرنے والے کے بارے میں سوال کیا گیا تو کہا کہ اسے قتل کیا جائے گا۔ ان سے کہا گیا کہ اس بارے میں احادیث ہیں تو انہوں نے کہا، ہاں۔ اس بات میں احادیث وارد ہیں۔ ان میں سے ایک نابینا کی حدیث ہے جس نے ایک عورت کو قتل کر دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں نے اس عورت کو جناب رسول مقبول ﷺ کے بارے میں زبان دراز کرتے سنا تھا۔

حصین سے مروی حدیث میں ہے کہ عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں، جس نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں زبان درازی کی تو اسے قتل کیا جائے گا۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز فرمایا کرتے تھے، ایسے شخص کو قتل کیا جائے گا، اس لیے کہ جو نبی کریم ﷺ کے بارے میں زبان درازی کرتا ہے، وہ مرتد ہے۔ اسلام سے خارج ہے۔ مسلمان کبھی حضور پاک ﷺ کی شان میں بے ادبی نہیں کرتا۔

صفحہ ۶۰

عبداللہ کہتے ہیں، میں نے اپنے والدِ محترم سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو سرکارِ مدینہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں بے ادبی کرتا ہے، آیا اس کو توبہ کرنے کے لئے کہا جائے گا؟ فرمایا، اس کا قتل واجب ہے اور توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے ایک ایسے آدمی کو تہہ تیغ کر دیا تھا، جس نے نبیٔ آخرُ الزماں (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخی کی تھی اور انہوں نے اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا۔

امام ابن تیمیہ قرآن و حدیث، عملِ صحابہ، علماءِ امت اور قضاء و ملت سے یہی استنباط کرتے اور لکھتے ہیں:

”جو شخص نبیٔ کریم رؤف الرحیم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو گالیاں دے، اسے توبہ کے لیے نہیں کہا جائے گا بلکہ اسے فوراً قتل کر دیا جائے گا۔ جبکہ مرتد کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ امام مالکؒ اور امام احمدؒ کے نزدیک مرتد کو توبہ کرنے کے لئے تین دن کی مہلت دی جائے گی۔ امام شافعیؒ کے نزدیک توبہ کے لئے ملزم کو کہنا مستحب ہے“۔

بناء بریں امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ جو کوئی حقارتاً کہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی چادر مبارک میلی تھی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایسے الفاظ استعمال کرے جس سے تحقیر کا پہلو نکلتا ہو تو وہ بدگویوں میں شمار کیا جائے گا اور اس کے لئے بھی یہ سزا نافذ کی جائے گی۔

بتایا جاتا ہے کہ دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ ایک نے کہا تم اُمّی (ان پڑھ) ہو۔ اس نے کہا اُمّی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے۔ اس پر امام مالکؒ نے اس کے قتل کا فتویٰ صادر فرمایا۔

شفا شریف میں ہے کہ جو شخص ہادیٔ عالم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نعلین مبارک کے لئے بھی تحقیراً کچھ کہہ دے وہ واجب القتل ہے۔

صفحہ ٦١

یں‘ میں نے اپنے والد محترم سے اس آدمی کے بارے میں ﷺ) کی شان میں بے ادبی کرتا ہے‘ آیا اس کو توبہ کرنے رمایا’ اس کا قتل واجب ہے اور توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ ولیدؒ نے ایک ایسے آدمی کو تہہ تیغ کر دیا تھا‘ جس نے نبیؐ آخر شان میں گستاخی کی تھی اور انہوں نے اس سے توبہ کا مطالبہ

قرآن و حدیث‘ عملِ صحابہؓ‘ علماءِ امت اور فقہاء و ملت سے تے ہیں: کریم رؤف الرحیم (ﷺ) کو گالیاں دے‘ اسے توبہ کے بلکہ اسے فوراً قتل کر دیا جائے گا۔ جبکہ مرتد کا معاملہ اس سے اور امام احمدؒ کے نزدیک مرتد کو توبہ کرنے کے لئے تین دن کی م شافعیؒ کے نزدیک توبہ کے لئے ملزم کو کہنا مستحب ہے“۔ م مالکؒ فرماتے ہیں کہ جو کوئی حقارتاً کہے کہ رسول اللہ ر مبارک میلی تھی یا آپ ﷺ کے لئے ایسے الفاظ سے تحقیر کا پہلو نکلتا ہو تو وہ بدگویوں میں شمار کیا جائے گا اور اس ی جائے گی۔

کہ دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ ایک نے کہا تم امیّ (ان ی تو حضور ﷺ بھی تھے۔ اس پر امام مالکؒ نے اس کے یا۔

میں ہے کہ جو شخص ہادیٔ عالم (ﷺ) کی نعلین مبارک کہہ دے وہ واجب القتل ہے۔

امام مالکؒ، ان کے تلامذہ‘ سلفِ صالحین اور جمہور علماء کا یہ متفقہ قول ہے کہ ایسے شخص (شاتم) کو بطور حد کے قتل کیا جائے نہ بطور کفر کے‘ چاہے اس سے توبہ کا اظہار ہی کیوں نہ ہوا ہو‘ ان کے نزدیک کسی ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں کی جاسکتی۔ اپنے قول و فعل سے رجوع بھی اس کے حق میں مفید نہ ہو گا۔ ایسا شخص چاہے پکڑے جانے کے بعد توبہ کرے یا خود بخود توبہ کرتا ہوا آئے حد تو بہرحال اس پر نافذ ہوگی۔ اس لیے کہ توبہ کرنے سے حدود ساقط نہیں ہوا کرتیں۔

شیخ ابو الحسن قابسیؒ فرماتے ہیں کہ اگر شاتم الرسولؐ اپنے سَبّ و شتم کا اقرار کرنے کے بعد توبہ کرے اور توبہ کے اثرات کا ظہور بھی ہو تو تب بھی بوجہ سَبّ و شتم کے‘ اسے ہلاک کیا جائے گا‘ کیونکہ یہ حد شرعی ہے۔

ابو محمد بن ابی زید کا معروف قول بھی یہی ہے۔ تاہم وہ یہ کہتے ہیں کہ توبہ اس کے اور اللہ کے درمیان معاملات کے سلسلے میں مفید ہو سکتی ہے۔

علماءِ اسلام و فقہاءِ امت کے نزدیک حضورِ پُرنور شافعِ یومِ النشور (ﷺ) کے بارے میں بے حرمتی کا معاملہ بڑا سنجیدہ اور بنیادی ہے۔ اس میں اختلاف کا تو تصور بھی روا نہیں رکھا گیا، کیونکہ یہ ہمارے آقا و مولا (ﷺ) کا حق ہے اور یہ آپ ﷺ کی وجہ سے اُمّت کا بھی حق ہے۔ اور حقوق توبہ سے ساقط نہیں ہو سکتے۔ البتہ اگر کوئی زندیق (ملحد / منکرِ خدا) ارتکابِ گستاخی کرے اور پکڑا جائے تو امام مالکؒ اور امام ابو یوسفؒ کا اس مسئلے میں اختلاف ہے۔ ان کا مسلک یہ ہے کہ اگر پکڑے جانے سے قبل زندیق خود بخود آ کر توبہ کرے تو (بعض صورتوں میں) توبہ قبول کر لی جائے گی لیکن اگر وہ گرفتار ہو اور اس کے بعد توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جاسکتی۔ پہلی شکل میں گنجائش اس لئے ہے کہ اس کا خود حاضر ہو کر اقرار کر لینا اس امر کی دلیل ہے کہ اس کے باطن میں جو کجی پیدا ہوئی تھی‘ وہ

PDF 62

درست ہو گئی ہے۔

قاضی ابو محمد بن نصرت‘ شاتم النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی توبہ قبول نہ کیے جانے کے بارے میں ایک بہت ہی جاندار اور شاندار دلیل لاتے ہیں۔ فرماتے ہیں:

”اُس شخص میں اور اُس شخص میں جو اللہ تعالیٰ کو گالی بکتا ہے (جس کی توبہ مشہور قول کے مطابق قبول کی جاتی ہے) یہ فرق ہے کہ نبی اکرم شفیع معظم (صلی اللہ علیہ وسلم) بشر ہیں اور بشر ایسی جنس ہے کہ اسے نقصان لاحق ہو سکتا ہے۔ (اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت و رسالت کے ذریعہ فضیلت بخشی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین اور عظمتِ بشر ہیں) لیکن اللہ تعالیٰ ہر قسم کے نقصان سے بلند و بالا اور ارفع و اعلیٰ ہے۔ اور انسان کی طرح ایسا نہیں ہے کہ اسے کسی سے نقصان پہنچے۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو گالی دینا ارتداد کی طرح نہیں ہے جس میں کہ توبہ قبول کی جاتی ہے‘ کیونکہ ارتداد تو ایک ایسا گناہ ہے جس کا تعلق ایک آدمی کی ذات (مرتد) سے ہے۔ اس میں کسی دوسرے آدمی کا حق شامل نہیں ہے۔ لہٰذا اس کی توبہ قبول کر لی جاتی ہے۔ مگر جس شخص نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شانِ اقدس میں بے حیائی کا مظاہرہ کیا تو اس نے ایک ایسا گناہ کیا جس سے نبی محترم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا حق متعلق ہو گیا (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے یہ پوری امت کا بھی حق ہے) اور وہ اس مرتد کی طرح ہو گیا جو مرتد ہونے کے وقت کسی کو قتل کر ڈالے یا کسی پاک دامن پر زنا کی تہمت لگا دے۔ اب اگر ایسا مرتد توبہ کرے تو کیا اس کی وجہ سے اس کے ذمہ جو قصاص عائد ہوا تھا یا جو قذف کی حد عائد ہوئی تھی‘ وہ ساقط ہو جائے گی؟ اور مسئلہ یہ ہے کہ مرتد اگر توبہ کرے تو اس سے چوری اور زنا کی حد ساقط نہیں ہوتی۔

حضور پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کو گالی دینے والا کفر کی وجہ سے تھوڑا ہی قتل کیا جاتا ہے۔ وہ تو اس لیے قتل کیا جا نقصان پہنچایا۔ اس لیے اس نقصا نہیں کر سکتی۔

غیر مسلم شاتم الرسول (صلی ہو گا۔ حربی غیر مسلم تو ویسے ہی م (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شانِ زیبا میں گس مزید موکد ہو جاتا ہے۔ اور اگر ذمّ ذات و صفات میں بے حرمتی کرے قرار پائے گا۔

امام فخر الدین رازیؒ فرما ”زجاج نے کہا کہ ذمّی کا جائے گا اور اس کو قتل کرنا واجب ہ

امام قرطبیؒ اپنی تفسیر جلد ”ذمّی جب حضور (صلی صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و منزلت کو کم کر

احکاماتِ قرآنی‘ عہدِ رسا مسلمانوں کا عمل و رویّہ اور چودہ معترضین کا یہ قول بڑا احمقانہ ہے کہ قادیانی کے قتل کا فتویٰ نہیں دیا ضروریاتِ دین کا منکر کافر ہے اور کہ انبیاء علیہم السلام کی تعظیم کر

صفحہ ۶۳

ی نصرت، شاتم النبی (ﷺ) کی توبہ قبول نہ کئے جانے ہی جاندار و شاندار دلیل لاتے ہیں۔ فرماتے ہیں:

ں اور اس شخص میں جو اللہ تعالیٰ کو گالی بکتا ہے (جس کی توبہ قبول کی جاتی ہے) یہ فرق ہے کہ نبی اکرم شفیع معظم ر بشر ایسی جنس ہے کہ اسے نقصان لاحق ہو سکتا ہے۔ (اللہ ﷺ کو نبوت و رسالت کے ذریعہ فضیلت بخشی ہے۔ آپ اور عظمتِ بشر ہیں) لیکن اللہ تعالیٰ ہر قسم کے نقصان سے بلند ۔ اور انسان کی طرح ایسا نہیں ہے کہ اسے کسی سے نقصان رہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کو گالی دینا ارتداد کی طرح بہ قبول کی جاتی ہے، کیونکہ ارتداد تو ایک ایسا گناہ ہے جس کا (مرتد) سے ہے۔ اس میں کسی دوسرے آدمی کا حق شامل توبہ قبول کر لی جاتی ہے۔ مگر جس شخص نے حضور اکرم قدس میں بے حیائی کا مظاہرہ کیا تو اس نے ایک ایسا گناہ کیا ﷺ) کا حق متعلق ہو گیا (اور آپ ﷺ کی نسبت حق ہے) اور وہ اس مرتد کی طرح ہو گیا جو مرتد ہونے کے یا کسی پاک دامن پر زنا کی تہمت لگادے۔ اب اگر ایسا مرتد جہ سے اس کے ذمہ جو قصاص عائد ہوا تھا یا جو قذف کی حد و جائے گی؟ اور مسئلہ یہ ہے کہ مرتد اگر توبہ کرے تو اس سے نہیں ہوتی۔

ﷺ) کو گالی دینے والا کفر کی وجہ سے تھوڑا ہی قتل کیا جاتا ہے۔ وہ تو اس لیے قتل کیا جاتا ہے کہ اس نے آپ ﷺ کی حرمت کو نقصان پہنچایا۔ اس لیے اس نقصان کو دور کرنا ضروری ہوا اور توبہ اس سزا کو ساقط نہیں کر سکتی۔

غیر مسلم شاتم الرسول (ﷺ) کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ یا تو حربی ہو گا یا ذمی ہو گا۔ حربی غیر مسلم تو ویسے ہی واجب القتل ٹھہرایا گیا ہے اور اگر وہ حضور پاک (ﷺ) کی شان زیبا میں ارتکاب گستاخی کرتا ہے تو پھر اس کا گردن زدنی ہونا مزید مؤکد ہو جاتا ہے۔ اور اگر غیر مسلم ذمی ہو گا تو شہنشاہِ کونین (ﷺ) کی ذات و صفات میں بے حرمتی کرنے سے اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور وہ واجب القتل قرار پائے گا۔

امام فخر الدین رازیؒ فرماتے ہیں:

”زجاج نے کہا کہ ذمی جب دین اسلام پر طعن کرے گا تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا اور اس کو قتل کرنا واجب ہو جائے گا“۔

امام قرطبیؒ اپنی تفسیر جلد ۸ میں صفحہ ۸۳ پر لکھتے ہیں:

”ذمی جب حضور (ﷺ) کو گالی دے یا کسی بھی طریقے سے آپ ﷺ کی قدر و منزلت کو کم کرے تو اس کو قتل کر دیا جائے گا“۔

احکامات قرآنی، عہد رسالت و خلفائے راشدین کی نظائر، قرون اُولیٰ کے مسلمانوں کا عمل و رویہ اور چودہ صدیوں میں مشاہیر امت کے متواتر فتاویٰ کے بعد معترضین کا یہ قول بڑا احمقانہ ہے کہ اس پر مولانا انور شاہ کشمیری نے مرزا غلام احمد قادیانی کے قتل کا فتویٰ نہیں دیا تھا۔ جب کہ مولانا موصوف کی رائے یہ ہے کہ ضروریات دین کا منکر کافر ہے اور اس میں تاویل کرنے والا بھی کافر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی تعظیم کرنی اور توہین نہ کرنا ضروریات دین سے ہے۔ مزید

صفحہ ۶۴

برآں یہ کہ بارگاہِ انبیاء میں گستاخی کفر ہے، چاہے اس سے قائل کی مراد توہین کی نہ بھی ہو‘ انہی کا ایک فتویٰ ہے:

"کل اُمت کا اس پر اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ کی شان میں ناروا الفاظ کہنے والا کافر ہے اور جو شخص اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے"۔

اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے علاوہ علم و فقہ کے مہر تاباں‘ مہر الملت‘ حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ نے بھی مسیلمۂ پنجاب مرزا قادیانی کے بارے میں قتل کا فتویٰ صادر فرمایا۔ پیر صاحب فرماتے ہیں:

"معراج شریف کی نسبت قادیانی صاحب کا لکھنا کہ اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں گئے تھے، سخت گستاخی اور بے ادبی ہے۔ گو کہ جسم شریف کی کثافت بہ نسبت روح مطہر ہی خیال کی جائے۔ قاضی عیاض، شِفاء میں (اور) قاضی ثناء اللہ مالا بُد میں لکھتے ہیں، جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی نوع کی (صراحۃً "اشارۃً" عمداً "سہواً") بے ادبی کا مرتکب بجناب نبوی ﷺ بلکہ کل انبیاء علیہم السلام کی نسبت، خواہ مسلمان بھی کیوں نہ ہو، واجب القتل ہے"۔

مختصر یہ کہ تاریخ اسلام کے اوراق پر حضور آقا و مولا ﷺ کے ساتھ لامحدود اور غیر مشروط وفاداری کے اَن گنت حوالے تابندہ ہیں۔ کیوں نہ ہو حدیث مبارکہ میں ہے کہ کوئی شخص مومن ہی نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ پوری کائنات سے امام الامم ﷺ کو عزیز تر نہ رکھے۔ اللہ تعالیٰ سے محبت و اطاعت کی ایک ہی تو دلیل ہے اور وہ دلیل آپ ﷺ ہیں۔

صفحہ ۶۵

گستاخِ رسول کی شرعی سزا (ایک فتویٰ)

برصغیر پاک و ہند میں انگریزی اقتدار کے زیر سایہ باقاعدہ سازش کے تحت سرکار مدینہ (ﷺ) کی ذات والا صفات پر حرف گیری کا ایک سلسلہ شروع ہوا تو ۱۹۱۷ء میں جونپور (بھارت) میں ایک واقعہ پیش آیا۔ سکولز کے طلبہ کو انگریزی کا ایک پرچہ حل کرنے کے لئے دیا گیا جس میں ایسی عبارت ترتیب دی گئی تھی، جس کا انگریزی سے عربی ترجمہ کرانا مقصود تھا، اور اس انگریزی عبارت میں توہین رسول (ﷺ) کی گئی تھی۔ اس پر مسلمانان جونپور غم و غصّہ کی تصویر بن گئے۔ مولانا عبدالاوّل مرحوم (جونپوری) نے ۶ رمضان المبارک ۱۳۳۵ھ کو امام اہلسنّت، مولانا احمد رضا خاں سے اس پر استفسار و فتویٰ چاہا۔ اس بارے میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کا نقطۂ نظر فتاویٰ رضویہ۔ جلد ششم میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ شرعی دلائل اور غیرت اسلامی کا ایک شاہکار فتویٰ ہے، اور پوری امّت اسلامیہ کا ترجمان بھی۔ لہٰذا افادیت کے پیش نگاہ بلا کم و کاست نقل کیا جاتا ہے:

ان نام کے مسلمان کہلانے والوں میں جس شخص نے وہ ملعون پرچہ مرتب کیا، وہ کافر مرتد ہے۔ جس جس نے اس پر نظر ثانی کر کے برقرار رکھا وہ کافر مرتد، جس جس کی نگرانی میں تیار ہوا وہ کافر مرتد، طلبہ میں جو کلمہ گو تھے اور انہوں نے اس ملعون عبارت کا ترجمہ کیا، اپنے نبی کی توہین پر راضی ہوئے، یا اسے ہلکا جانا، یا اسے اپنے نمبر گھٹنے، یا پاس نہ ہونے سے آسان سمجھا، وہ سب بھی کافر مرتد، بالغ ہوں، خواہ نابالغ۔

ان چاروں فریق میں سے ہر شخص سے مسلمانوں کو سلام کلام حرام، میل جول حرام، نشست برخاست حرام، بیمار پڑے تو اس کی عیادت کو جانا حرام، مرجائے تو

صفحہ ٦٦

اس کے جنازے میں شرکت حرام‘ اسے غسل دینا حرام‘ کفن دینا حرام‘ اس پر نماز پڑھنا حرام‘ اس کا جنازہ اٹھانا حرام‘ اسے مسلمانوں کے گورستان میں دفن کرنا حرام‘ اسے ثواب پہنچانا حرام‘ بلکہ خود کفر و قاطع اسلام‘ جب ان میں کوئی مرجائے اس کے اعزّہ و اقرباء مسلمین اگر حکم شرع مانیں تو اس کی لاش دفع عفونت کے لیے مُردار کُتّے کی طرح بھنگی چماروں سے ٹھیلے میں اٹھوا کر کسی تنگ گڑھے میں ڈلوا کر‘ اوپر سے آگ پتھر جو چاہیں پھینک پھانک کر پاٹ بھر دیں کہ اس کی بدبو سے ایذا نہ ہو۔ یہ احکام ان سب کے لیے عام ہیں۔

اور جو ان میں نکاح کیے ہوئے ہیں ان سب کی جوروئیں (بیویاں) ان کے نکاحوں سے نکل گئیں‘ اب اگر قربت ہو گی حرام! حرام! حرام! اور زنائے خالص ہو گی‘ اور اس سے جو اولاد ہو گی ولد الزنا ہو گی‘ عورتوں کو شرعاً اختیار ہے کہ عدّت گزر جانے پر جس سے چاہیں نکاح کر لیں‘ ان میں جسے ہدایت ہو اور توبہ کرلے اور اپنے کفر کا اقرار کرتا ہوا پھر مسلمان ہو‘ اس وقت یہ احکام جو اس کی موت سے متعلق تھے‘ منتفی ہوں گے اور وہ ممانعت جو اس سے میل جول کی تھی جب بھی باقی رہیگی۔ یہاں تک کہ اس کے حال سے صدقِ ندامت و خلوصِ توبہ و صحتِ اسلام‘ ظاہر و روشن ہوں۔ مگر عورتیں اس سے بھی نکاح میں واپس نہیں آسکتیں۔ انہیں اب اختیار ہو گا کہ چاہیں تو دوسرے سے نکاح کر لیں‘ یا کسی سے نہ کریں۔ ان پر کوئی جبر نہیں پہنچتا۔

ہاں! ان کی مرضی ہو تو بوجہ اسلام ان سے بھی نکاح کر سکیں گی۔

شفاء شریف صفحہ ۳۲۱

”یعنی اجماع ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے اور اس پر عذاب الہی کی وعید جاری ہے اور جو اس کے کافر و مستحق عذاب

ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے نسیم الریاض جلد چہارم صفحہ شان اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر کافر‘ یہی مذہب ہمارے ائمہ وغیرہ ہم کا ”یعنی جو شخص معاذ اللہ مرتد اسلام لائے تو اس سے جدید نکاح کیا جائے سے جو بچہ ہو گا‘ حرامی ہو گا۔ اور یہ کچھ فائدہ نہ دے گا جب اپنے اس کفر کلمہ پڑھنے سے اس کا کفر نہیں جاتا میں گستاخی کرے‘ دنیا میں بعد توبہ بھی بے ہوشی میں کلمہ گستاخی بکا‘ جب اجماع ہے کہ نبی ﷺ کی شان یا کہ جو اس کے کفر میں شک کرے و فتح القدیر امام محقق علی الاطلاق ”یعنی جس کے دل میں رسو گستاخی کرنے والا بدرجہ اولیٰ کافر ہے گستاخی بکا‘ جب بھی معاف نہ کیا جائے بحر الرائق جلد پنجم صفحہ ۱۳۵ ”یعنی کسی نبی کی شان میں گست

صفحہ ٦٧

تک حرام، اسے غسل دینا حرام، کفن دینا حرام، اس پر نماز پڑھنا حرام، اسے مسلمانوں کے گورستان میں دفن کرنا حرام، یہ خود خارج از اسلام، جب ان میں کوئی مرجائے اس کے حق میں شرع یہ ہے کہ اس کی لاش دفع عفونت کے لیے مردار کتے کی طرح ٹھیلے میں اٹھوا کر کسی تنگ گڑھے میں ڈلوا کر، اوپر سے مٹی پھینک کر پاٹ بھر دیں کہ اس کی بدبو سے ایذا نہ ہو۔ یہ ہیں۔

جو نکاح کیے ہوئے ہیں ان سب کی جوروئیں (بیویاں) ان کے لیے اگر قربت ہو گی حرام! حرام! حرام! اور زنائے خالص ہوگی، بچہ ولد الزنا ہو گا، عورتوں کو شرعاً اختیار ہے کہ عدت گزر کر نکاح کرلیں، ان میں جسے ہدایت ہو اور توبہ کر لے اور سچے دل سے مسلمان ہو، اس وقت یہ احکام جو اس کی موت سے متعلق تھے، سب ساقط، ممانعت جو اس سے میل جول کی تھی جب بھی باقی رہے گی۔ یہاں تک کہ صدق ندامت و خلوص، توبہ و صحت اسلام، ظاہر و روشن ہو، تب بھی نکاح میں واپس نہیں آسکتیں۔ انہیں اب اختیار ہو گا کہ جہاں نکاح کرلیں، یا کسی سے نہ کریں۔ ان پر کوئی جبر نہیں

ہاں تو بعد اسلام ان سے بھی نکاح کر سکیں گی۔

رہا حضور اقدس ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا اس پر قطعی کفر کی وعید جاری ہے اور جو اس کے کافر و مستحق عذاب

ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہو گیا۔

نسیم الریاض جلد چہارم صفحہ ۴۸۱ میں امام ابن حجر مکی سے ہے۔

"یعنی جو یہ ارشاد فرمایا کہ نبی ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر اور جو اس کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر، یہی مذہب ہمارے ائمہ و غیرہم کا ہے۔

"یعنی جو شخص معاذ اللہ مرتد ہو جائے اس کی عورت حرام ہو جاتی ہے، پھر اسلام لائے تو اس سے جدید نکاح کیا جائے، اس سے پہلے کلمہ کفر کے بعد کی صحبت سے جو بچہ ہو گا، حرامی ہو گا۔ اور یہ شخص عادت کے طور پر کلمہ شہادت پڑھتا رہے، کچھ فائدہ نہ دے گا جب اپنے اس کفر سے توبہ نہ کرے کہ عادت کے طور پر مرتد کے کلمہ پڑھنے سے اس کا کفر نہیں جاتا، اور جو رسول اللہ ﷺ یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے، دنیا میں بعد توبہ بھی اسے سزا دی جائے گی۔ یہاں تک کہ اگر نشہ کی بے ہوشی میں کلمہ گستاخی بکا، جب بھی معافی نہ دیں گے، اور تمام علمائے امت کا اجماع ہے کہ نبی ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر ہے اور کافر بھی ایسا کہ جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے"۔

فتح القدیر امام محقق علی الاطلاق جلد چہارم صفحہ ۴۰۷ میں ہے۔

"یعنی جس کے دل میں رسول اللہ ﷺ کا کینہ ہے وہ مرتد ہے، تو گستاخی کرنے والا بدرجہ اولیٰ کافر ہے، اور اگر نشہ بلا اکراہ پیا اور اس حالت میں کلمہ گستاخی بکا، جب بھی معاف نہ کیا جائے گا"۔

بحر الرائق جلد پنجم صفحہ ۱۳۵ میں بعینہ کلمہ مذکور ذکر کر کے صفحہ ۱۳۶ پر فرمایا۔

"یعنی کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے، یہی حکم ہے کہ اسے معافی نہ دیں

صفحہ ۶۸

گے اور بوجہ ثبوت اس کا انکار فائدہ نہ دے گا کہ مرتد کا ارتداد سے مکرنا تو دفع سزا کے لیے ہے، توبہ تو وہاں قرار پاتی ہے جہاں توبہ سنی جائے اور نبی ﷺ، خواہ کسی نبی کی شان میں گستاخی اور کفروں کی طرح نہیں، اس سے یہاں اصلاً معافی نہ دیں گے۔"

درر الحکام علامہ مولی خسرو جلد اول صفحہ ۲۹۹ پر ہے۔

"یعنی اگر کوئی شخص مسلمان کہلا کر حضور اقدس ﷺ یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے، اسے ہرگز معافی نہ دیں گے، اور تمام علمائے امت مرحومہ کا اجماع ہے، اس پر کہ وہ کافر ہے، اور جو اس کے کفر میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے۔

غنیہ ذو الاحکام صفحہ ۳۰۱ میں ہے۔

"یعنی نبی ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی اور کفروں کی طرح نہیں، ہر طرح کے مرتد کو بوجہ توبہ معافی دینے کا حکم ہے، مگر اس کافر مرتد کے لیے اس کی اجازت نہیں"۔

الاشباہ والنظائر قلمی، باب الردۃ

ترجمہ: "یعنی نشہ کی بے ہوشی میں اگر کسی سے کفر کی کوئی بات نکل جائے اسے بوجہ بے ہوشی کافر نہ کہیں گے، نہ سزائے کفر دیں گے مگر نبی ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی وہ کفر ہے کہ نشہ کی بے ہوشی سے بھی صادر ہو تو اسے معافی نہ دیں گے، اور معاذ اللہ ارتداد کا حکم یہ ہے کہ اس کی عورت فوراً اس کے نکاح سے نکل جاتی ہے۔ اگر یہ بعد کو پھر اسلام لائے جب بھی عورت نکاح میں واپس نہ جائے گی اور جب وہ اسی ارتداد پر مرجائے، والعیاذ باللہ تعالیٰ! تو اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنے کی اجازت نہیں، نہ کسی ملت والے مثلاً یہودی یا نصرانی کے

گورستان میں دفن کیا جائے، وہ تو کتے ک کا کفر اصلی کافر کے کفر سے بدتر ہے، ل کہ یہ فلاں قول یا فعل کے سبب مرتد تعرض نہ کریں گے، نہ اس لیے کہ گول مکرنا اس کفر سے توبہ و رجوع سمجھیں انکار سے یہ نتیجہ پیدا ہو گا کہ وہ شخص احکام اس پر حاوی کریں گے کہ اس ک سے باہر، باقی سزا نہ دی جائے گی۔ مگ ہے جس کی سزا سے دنیا میں بوجہ توبہ گستاخی۔ علیہم الصلوٰۃ والسلام

فتاویٰ خیریہ، علامہ خیر الدین ر فرماتے ہیں۔

"جو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اس کا حکم وہی ہے جو مرتدوں کا ہے، کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اسے دنیا امت وہ کافر ہے اور جو اس کے کفر میں

مجمع الانہر، شرح ملتقی الابحر ج

یعنی مسلمان کہلا کر حضور ا کرے، اگرچہ نشہ کی حالت میں تو اس جیسے دہریے، بے دین کی توبہ نہ س کے کفر میں شک لائے گا، وہ بھی کافر

صفحہ ٦٩

انکار فائدہ نہ دے گا کہ مرتد کا ارتداد سے مکرنا تو دفع سزا کے کام آتا ہے جہاں توبہ سنی جائے اور نبی ﷺ خواہ کسی نبی کفروں کی طرح نہیں، اس سے یہاں اصلاً معافی نہ دیں گے۔

در مختار جلد اول صفحہ ۲۹۹ پر ہے۔ جو شخص مسلمان کہلا کر حضور اقدس ﷺ یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے ہرگز معافی نہ دیں گے، اور تمام علمائے امت مرحومہ کا اجماع ہے کہ جو اس کے کفر میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے۔

فتاویٰ قاضی خان صفحہ ۳۰۹ میں ہے۔ کہ نبی ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی اور کفروں کی طرح نہیں، ہر کفر میں توبہ سے معافی دینے کا حکم ہے، مگر اس کافر مرتد کے لیے اس کی گنجائش نہیں۔

فتاویٰ عالمگیری باب الردة غشی یا بے ہوشی میں اگر کسی سے کفر کی کوئی بات نکل جائے تو اسے کافر نہ کہیں گے، نہ سزائے کفر دیں گے مگر نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کفر ہے کہ نشہ کی بے ہوشی سے بھی صادر ہو تو اسے معافی نہ دیں گے۔ اس کے ارتداد کا حکم یہ ہے کہ اس کی عورت فوراً اس کے نکاح سے نکل جائے گی۔ بعد کو پھر اسلام لائے جب بھی عورت نکاح میں واپس نہ آئے گی۔ اس ارتداد پر مرجائے، والعیاذ باللہ تعالیٰ! تو اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں، نہ کسی ملت والے مثلاً یہودی یا نصرانی کے

گورستان میں دفن کیا جائے، وہ تو کتے کی طرح کسی گڑھے میں پھینک دیا جائے، مرتد کا کفر اصلی کافر کے کفر سے بدتر ہے، اور اگر کسی مسلمان پر گواہانِ عادل شہادت دیں کہ یہ فلاں قول یا فعل کے سبب مرتد ہو گیا اور وہ اس سے انکار کرتا ہو تو اس سے تعرض نہ کریں گے، نہ اس لیے کہ گواہانِ عادل کو جھوٹا ٹھہرایا، بلکہ اس لیے کہ اس کا مکرنا اس کفر سے توبہ و رجوع سمجھیں گے، ولہٰذا گواہانِ عادل کی گواہی اور اس کے انکار سے یہ نتیجہ پیدا ہو گا کہ وہ شخص مرتد ہو گیا تھا اور اب توبہ کر لی تو مرتد تائب کے احکام اس پر جاری کریں گے کہ اس کے تمام اعمال حبط ہو گئے اور جورو (بیوی) نکاح سے باہر، باقی سزا نہ دی جائے گی۔ مگر نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کہ یہ وہ کفر ہے جس کی سزا سے دنیا میں بعد توبہ بھی معافی نہیں اور نہ کسی نبی کی شان میں گستاخی۔ علیہم الصلوة والسلام

فتاویٰ خیریہ، علامہ خیر الدین رملی استاد صاحب در مختار جلد اول صفحہ ۹۵ پر فرماتے ہیں۔

”جو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ کریم میں گستاخی کرے وہ مرتد ہے، اس کا حکم وہی ہے جو مرتدوں کا ہے، اس سے وہی برتاؤ کیا جائے گا جو مرتدوں سے کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اسے دنیا میں معافی نہ دیں گے، اور باجماع تمام علمائے امت وہ کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔

مجمع الانہر، شرح ملتقی الابحر جلد اول صفحہ ۶۸ پر ہے یعنی مسلمان کہلا کر حضور اقدس ﷺ یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے، اگرچہ نشہ کی حالت میں تو اس کی توبہ پر بھی دنیا میں اسے معافی نہ دیں گے۔ جیسے دہریے، بے دین کی توبہ نہ سنی جائے گی، اور جو شخص اس گستاخی کرنے والے کے کفر میں شک لائے گا، وہ بھی کافر ہو جائے گا۔

ذخیرة العقبے، علامہ اخی یوسف صفحہ ۲۴۰ پر ہے

صفحہ ۷۰

ترجمہ : ”یعنی بے شک تمام امت مرحومہ کا اجماع ہے کہ حضور انور ﷺ، خواہ کسی نبی کی تنقیص شان کرنے والا کافر ہے، خواہ اسے حلال جان کر اس کا مرتکب ہو، یا حرام جان کر، بہر حال علماء کے نزدیک کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔

تنویر الابصار، شیخ الاسلام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ غزی

”ہر مرتد کی توبہ قبول ہے، مگر کسی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والا ایسا کافر ہے، کہ دنیا میں سزا سے بچانے کے لیے اس کی توبہ بھی قبول نہیں“۔

کتاب الخراج سیدنا امام ابو یوسف ؒ پر ہے

ترجمہ : ”یعنی جو شخص کلمہ گو ہو کر حضور اقدس ﷺ کو بُرا کہے، یا تکذیب کرے، یا کوئی عیب لگائے، یا شان گھٹائے وہ بلاشبہ کافر ہو گیا اور اس کی عورت نکاح سے نکل گئی“۔

اشخاص مذکورین کے کفر و ارتداد میں اصلاً شک نہیں، دوبارہ اسلام و رفع دیگر احکام، ان کی توبہ اگر سچے دل سے ہو، ضرور مقبول ہے۔ ہاں! اس میں اختلاف ہے کہ سلطان اسلام انہیں بوجہ توبہ و اسلام صرف تعزیر دے یا اب بھی سزائے موت دے۔

وہ جو بزازیہ اور اس کے بعد کی بہت کتب معتمدہ میں ہے کہ اس کی توبہ مقبول نہیں اس کے یہی معنی ہیں، اور اس کی بحث بیکار ہے۔ کہاں سلطان اسلام اور کہاں سزائے موت کے احکام، صد ہا خبیث، اخبث، ملعون، انجس ہیں کہ کلمہ گو بلکہ اعلیٰ درجہ کے مسلمان، مفتی، واعظ، مدرّس، شیخ بن کر اللہ و رسول (ﷺ) کی جناب میں منہ بھر بھر کر ملعونات بکتے، لکھتے اور چھاپتے ہیں اور ان سے کوئی ٹوکنے والا نہیں، اور اگر کہے تو نہ صرف ان کے بلکہ بڑے بڑے مہذب بننے والے مسلمانوں کے نزدیک یہ بے تہذیبی و تشدّد ہو۔

صفحہ ۷۱

بے شک تمام امت مرحومہ کا اجماع ہے کہ حضور انور ﷺ کی تنقیص شان کرنے والا کافر ہے، خواہ اسے حلال جان کر توہین کرے، بہرحال علماء کے نزدیک کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔

شیخ الاسلام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ غزی سے منقول ہے، مگر کسی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والا ایسا کافر ہے کہ بچنے کے لیے اس کی توبہ بھی قبول نہیں۔

فتویٰ امام ابو یوسفؒ پر ہے کہ جو شخص کلمہ گو ہو کر حضور اقدس ﷺ کو بُرا کہے، یا آپ کی شان گھٹائے وہ بلاشبہ کافر ہو گیا اور اس کے کفر و ارتداد میں اصلاً شک نہیں، دوبارہ اسلام و رفع دیگر عقوبات سے ہو، ضرور مقبول ہے۔ ہاں! اس میں اختلاف ہے کہ آیا بعد اسلام صرف تعزیر دے یا اب بھی سزائے موت دے۔

اس تفصیل کے بعد کی بحث کتب معتمدہ میں ہے کہ اس کی توبہ قبول ہوتی ہے، اور اس کی بحث بیکار ہے۔ کہاں سلطان اسلام اور کہاں یہ صدہا خبیث، اخبث، ملعون، انجس ہیں کہ کلمہ گو بلکہ نام کے واعظ، مدرّس، شیخ بن کر اللہ و رسول (ﷺ) کی توہین و اہانت بکتے، لکھتے اور چھاپتے ہیں اور ان سے کوئی ٹوکنے والا نہیں، صرف ان کے بلکہ بڑے بڑے مہذب بننے والے مسلمانوں کے مقتدیٰ ہوں۔

نقش حیات

خداوند قدوس کو اپنے محبوب (ﷺ) کی بارگاہ بے کس پناہ میں ذرا سی بے ادبی و بے حرمتی بھی گوارا نہیں ہو سکتی۔ کوئی ایسا لفظ، جس سے نبی آخر الزماں (ﷺ) کی ذات بابرکات میں گستاخی کا ذرا سا شائبہ بھی ذہن میں پیدا ہو سکتا ہو، اس کا استعمال ممنوع و حرام ہے۔ بلکہ وہم تحقیر یا ذو معنی الفاظ، جو کسی طرح سے تنقیص و تعریض پر اشارتاً بھی دلالت کرتے ہوں، انہیں کُھلا کفر قرار دیا گیا ہے۔

قرآن مجید میں حکم خداوندی ہے:

یا ایھا الذین آمنوا لا تقولوا راعنا و قولو انظرنا واسمعوا وللکافرین عذاب الیم O (البقرہ: ۱۰۴)

ترجمہ: (اے ایمان والو! تم ”راعنا“ نہ کہا کرو بلکہ ”انظرنا“ (ہماری طرف نگاہ توجہ فرمائیے) کہا کرو، اور کافروں کے لیئے دردناک عذاب ہے)

گستاخی کا ارتکاب خواہ عمداً ہو یا سہواً، شعوری یا لاشعوری، ارادی ہو یا غیر ارادی طور پر اس کا ہمیشہ کے لیئے خاتمہ فرما دیا گیا۔ کیونکہ دین و ایمان کی بنیاد و اساس نسبت و عظمتِ رسول (ﷺ) پر ہی استوار ہوئی ہے۔ توحید کا پہلا ثبوت بھی آپ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کا تقدس ہے۔ قرآن کی صداقت کا حوالہ بھی آپ ﷺ ہی ہیں۔

تفسیر کبیر (۲۲۴:۳) کے مطابق حضرت سعدؓ بن معاذ نے ایک دن اچانک یہودیوں کو سرکارِ اقدس (ﷺ) کی جناب میں ”راعنا“ کا کلمہ کہتے سنا تو غضب ناک ہو کر ان سے فرمایا تھا: ”اے دشمنانِ خدا! تم پر اللہ کی لعنت ہو۔ اور قسم ہے مجھے اس ذات کی، جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اب اگر تم میں سے کسی نے

صفحہ ۷۲

رسول اللہ (ﷺ) کے لیے یہ کلمہ ادا کیا تو میں اس کی گردن مار دوں گا“۔

فتح القدیر میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے منقول ہے: ”صحابہؓ کرام نے اس آیہ مبارکہ کے نزول کے بعد عہد کیا کہ اگر کسی سے گستاخی کا یہ کلمہ سنا تو اس کی گردن اڑا دیں گے“۔

سورۃ الحشر (۵۹:۳) میں ارشاد ہوتا ہے: ”اور اگر اللہ نے ان (یہودیوں) کے لیے لکھ نہ دی ہوتی جلاوطنی تو دنیا میں ان کو سخت عذاب دیتا اور آخرت میں (تو) ان کے لیئے آگ کا عذاب (تیار ہی) ہے“۔

اگلی آیہ میں دنیا و آخرت میں عذاب کا سبب، اللہ اور اللہ کے رسول (ﷺ) کی مخالفت و دشمنی کو اختیار کرنا بتایا گیا ہے۔

سورہ الانفال (۸:۱۳‘۱۴) میں حکم باری تعالیٰ ہے: ”پس تم ان کی گردن پر مارو اور ان کے پور پور پر۔ بایں سبب کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی مخالفت کی اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی مخالفت (دشمنی) کرتا ہے تو بے شک اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے“۔

یہاں وجہ قتل، مخالفت و دشمنی بتائی گئی ہے۔ اگر کسی بدبخت میں یہ علت پائی جائے تو وہ واجب القتل ٹھہرتا ہے۔ اس رعایت سے مقام غور یہ ہے کہ آقائے مدنی (ﷺ) کی شان میں زبان دراز کرنے اور طعن و استہزاء سے بڑھ کر اذیت کی اور کیا صورت ہو سکتی ہے؟

اگر بنظر غائر دیکھیں تو ایذا کی دو صورتیں ہیں۔ قولاً اور فعلاً۔ بالقول اذیت اور بالفعل اذیت۔ اسی کو بالفاظ دیگر روحانی و جسمانی اذیت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ دلچسپ امر یہ کہ جسمانی اذیت دینے والوں کے لیئے توبہ و معافی کا باب مکمل طور پر وا تھا کہ وہ خلوص نیت کے ساتھ دائرۂ اسلام میں آئیں اور اپنے اپنے حصّہ کی برکات

صفحہ ۷۳

پائیں مگر ذہنی و روحانی اذیت پہنچانے والوں کو مخصوص حالات میں ہی معاف فرمایا گیا۔ مدینہ کی اسلامی حکومت کے قیام کے بعد عموماً ان کی گردن مار دی جاتی رہی۔

بناء بریں جسمانی اذیتوں کا سلسلہ تو رسولِ پاک (ﷺ) کے ظاہراً پردہ فرما جانے کے بعد کسی صورت جاری نہیں رہ سکتا تھا مگر روحانی تکلیف کا معاملہ اب بھی ممکن ہے۔ اور دشمنانِ اسلام کی طرف سے وقتاً فوقتاً اس بارے میں ناپاک جسارتیں بھی ہوئی ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں نے آپ (ﷺ) اور آپ (ﷺ) کے رفقاء کو ہجرت پر مجبور کر دیا تھا‘ فتح مکہ کے وقت ان کو تو عام معافی کا حق دار ٹھہرا دیا گیا۔ مگر جن بدطینت افراد نے افتراء و بہتان باندھے اور گستاخ ٹھہرے‘ ان مردودانِ ازلی کو غلافِ کعبہ سے لپٹ جانے کے باوجود مباح الدم قرار دیا گیا۔

سورہ التوبہ (۸۰:۹) میں ارشاد ہے: ”آپ (ﷺ) ان کے لیئے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں (برابر ہے) اگر آپ (ﷺ) ان کے لیئے ستر بار بخشش طلب فرمائیں تو بھی اللہ ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا‘ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کے ساتھ کفر کیا اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں عطا فرماتا"۔

اس حکم کی شانِ نزول میں رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی نمازِ جنازہ کا ذکر بھی بیان میں آتا ہے۔ جب سرکار رحمتِ للعالمین (ﷺ) نے اس کی مغفرت کے لیئے دعا فرمائی تو ارشاد ہوا کہ اے حبیب (ﷺ) چونکہ اس بدبخت و مردود نے جذبۂ اخلاص کے ساتھ آپ (ﷺ) کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر توبہ و معافی طلب نہیں کی‘ اس لیئے آپ از راہِ رحمت و شفقت ان کے لیئے بخشش و مغفرت کی سفارش کریں یا نہ کریں برابر ہے۔ حتیٰ کہ اگر آپ ستر بار ان بے ادبوں

صفحہ ۷۴

اور گستاخوں کے لیئے ہاتھ اٹھائیں اور دامن پھیلائیں تو میں پھر بھی ان کو نہیں بخشوں گا۔ مطلب یہ کہ آپ ﷺ تو سراپا رحمت ہیں اور جذبہ رحمت سے مجبور بھی‘ کہ آپ ﷺ ان کی تمام تر خباثتوں اور عداوتوں کے ہوتے ہوئے بھی ان کے لیئے شفاعت کے طلبگار و امیدوار ہیں مگر میری محبت یہ گوارا نہیں کر سکتی کہ جو آپ کی شان میں اپنی ناپاک زبان کھولے اس کو معاف کر دوں۔ مزید برآں یہ کہ آپ ﷺ تو ہیں ہی مجسمۂ رحمت و محبت۔ آپ ﷺ کو تو میں نے بھیجا ہی تمام جہانوں کے لیئے رحمت بنا کر ہے۔ کائنات کی ایک ایک چیز کے لیئے رحمت۔ چونکہ یہ آپ ﷺ کے دشمن ہیں لہٰذا میں انہیں کسی طرح بھی معاف نہیں فرماؤں گا۔ خواہ آپ ﷺ ہی ان کی بخشش کے لیئے دعا کیوں نہ کریں۔

قرآن شاہد ہے کہ حضور سرکار ہر عالم (ﷺ) وحی کی صورت میں اپنی طرف سے کچھ نہیں فرماتے۔ آپ ﷺ کی زبانِ مبارک سے وہی ادا ہوتا ہے جو نازل کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس کا ایک مفہوم یہ ہوا کہ مولائے کائنات (جل جلالہ) کا کسی کو معاف فرمانا یا اس سے درگزر کرنا درحقیقت اللہ کا معاف فرمانا اور درگزر کرنا ہے اور اگر آپ ﷺ کسی کو حدّاً ”قتل کروا دیتے یا کوئی اور سزا تجویز فرماتے ہیں تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیئے حکماً ” واضح فرما دیا کہ میرے محبوب و مطلوب رسولِ مقبول (ﷺ) کے گستاخ و بے ادب کے لیئے مغفرت و معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اور یہ بھی مشروط ہے کہ وہ لوگ ، جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا وہ اپنی زندگی میں آپ ﷺ کے پاس نادم ہو کر آئیں اور آپ ﷺ بھی ان کے لیئے معافی طلب فرمائیں تو اللہ بڑا ہی مہربان اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔ سورۃ الاحزاب میں منافقین کو جن کے قلوب میں بیماری (گستاخی و بے ادبی) تھی‘ اور وہ مدینہ المنورہ میں جھوٹی افواہیں اڑایا کرتے‘ تنبیہہ کی

صفحہ ۷۵

گئی کہ اگر تم اپنی ان مذموم حرکتوں سے باز نہ آئے تو جلد ہی تمہیں جلا وطن ہونا پڑے گا اور توہین و تحقیر کے سبب سے تمہارے قتل عام کا حکم بھی صادر فرما دیں گے۔

اس بارے میں یہ بات بہرحال ذہن نشین رہنی چاہئے کہ تنبیہہ و سرزنش کا جواز اسلامی ریاست کے باقاعدہ قیام سے پہلے ہوتا ہے۔ جب دینی حکومت معرض وجود میں آگئی تو گویا یہ حجت مکمل ہو چکی ہے۔ جو لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو چکے ہیں، وہ اسلامی ضابطہ سے انکار و فرار کا حق نہیں رکھتے اور جو دائرۂ اسلام سے باہر ہیں، وہ معاہد قرار پائیں گے یا پھر باغی۔ بغاوت کی شکل میں شہریوں کے جملہ حقوق از خود ساقط ہو جاتے ہیں اور اگر معاہد و ذمی ہوں گے تو پیغمبر اسلام (ﷺ) کی ذات و صفات سے متعلق احترام و لحاظ کے پابند ٹھہرتے ہیں۔ اگر وہ قانونی ذمہ داریاں اور اخلاقی پابندیاں نہیں نبھاتے تو نقض عہد کے دستور میں جکڑ لیے جائیں گے اور ان پر لازماً حد کا نفاذ ہو گا۔ گویا کہ اس قرآنی حکم کے بعد کسی فرد کے لیے بھی معافی کی کوئی گنجائش نہیں رہ گئی ہے۔ اس لیے کہ اب یہاں تنبیہہ بجائے خود ایک موقع ہے۔ لہٰذا کسی کو مزید کوئی موقع فراہم نہیں کیا جا سکتا۔

اس باب میں عہد حاضر کے ایک عالم دین بڑا خوبصورت نکتہ بیان کر گئے ہیں۔ یہ ان دلائل سے ایک ہے جو نومبر ۱۹۸۵ء میں وفاقی شرعی عدالت پاکستان کے روبرو دیئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آیت کریمہ کے ذریعے ممانعت بذات خود ایک موقع ہے۔ بقول ان کے: ”منافقین بظاہر کلمہ پڑھ کر دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے جبکہ یہ اصلاً و نسلاً یہودی تھے۔ دنیوی مفادات کے حصول کے لیے انہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا تھا۔ ان کی شمولیت سے قبل، اسلام میں باقاعدہ جماعت منافقین کا وجود نہ تھا۔ صرف دو ہی طبقے تھے۔ ایک اہل ایمان اور دوسرے کافر و

صفحہ ۷۶

مرتد۔ اہل ایمان میں سے کوئی فرد بشر گستاخی و اہانت کا ارتکاب کرے تو وہ اسی حد کو پہنچے گا۔ بایں وجہ قرآن میں اہانت و گستاخی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے جرم کا حکم وارد ہو چکا ہے۔ گویا اب یہ آیہ مقدسہ بذات خود موقع و تنبیہ (Warning) بن گئی ہے۔ لہٰذا اب اس فعل کا مرتکب قطعی و حتمی طور پر سزا اور تعزیر ہی کا مستحق ہو گا۔

اگر وہ یہ کہے کہ اس بار مجھے معاف فرما دیں۔ یہ میرا پہلا موقع ہے۔ میں اپنے گناہ سے تائب ہوتا ہوں۔ آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ اس طریق سے تو کبھی سزا کی نوبت نہیں آ سکتی۔ ائمہ و فقہاء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ اگر توہین کی نوعیت‘ رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وسلم) سے متعلق نہ ہو تو پھر ”لئن لم ینتہ“ کے تحت توبہ کا موقع دیا جائے گا۔ توبہ کرے تو معاف کر دیا جائے گا‘ وگرنہ قتل۔ لیکن اگر توہین و تنقیص کی نسبت‘ حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف ہو اور یہ عمل‘ اذیتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا باعث ہو تو اس بات کو پہلی سے مستثنیٰ کر کے فقہاء کرام کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں توبہ کا ہرگز موقع نہیں دیا جائے گا‘ بلکہ بطورِ حد قتل کیا جائے گا۔ ایسے بے ادب و گستاخ کی توبہ بھی سرے سے قبول ہی نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ ”یہ اعظم ارتداد“ یہ ارتدادِ عظیم اور بہت بڑا ناقابلِ معافی گناہ (ناقابلِ تلافی جرم) ہے۔ امام شافعیؒ ‘ امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کی اس بات پر تصریح موجود ہے کہ اسے توبہ کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ اور نہ ہی اس کی توبہ مقبول ہو گی۔ گویا وہ پہلی وارننگ کے بعد ہی ارتکابِ جرم کر رہا ہے۔

بناء بریں لفظ صریح میں تاویل کا دعویٰ قطعاً قبول نہیں ہوتا۔ امام شہاب الدین خفاجیؒ قرآن و احادیث‘ عملِ صحابہ‘ اقوالِ ائمہ و علماء اور نظریاتِ فقہاء کے مجموعی مزاج کے بیان میں لکھ گئے ہیں کہ توہینِ رسالت پر حکمِ کفر کا مدار (چونکہ) ظاہری الفاظ پر ہے۔ لہٰذا توہین کرنے والے کے ارادہ و نیت اور اس کے قرائنِ حال کو

نہیں دیکھا جائے گا۔

اس کے کئی اسباب ہیں معافی کی مطلقاً گنجائش نہیں ہوتی۔ اہانت و گستاخی کا دروازہ کبھی بند نـ کر بچ نکلتا کہ میں نے اس امر کا تـ چونکہ خداوندِ کریم کو ہر طرح کی و احترام کے لیئے ضروری قرار دیـ ہو یا غیر ارادی‘ مسلم سے ہو یا کـ نہ ہی کسی قسم کا کوئی حیلہ و عذر و حضور خاتم المرسلین (صلی اللہ علیہ وسلم) نہ ہو پائے۔

فقہ حنفی کی معتبر و مـ مسلمان مرتد ہو‘ اس کی توبہ سے کسی بھی نبی کو گالی دے بـ توبہ مطلقاً قبول نہیں کی جائـ

”احکام اسلام اور مـ زیرِ بحث آیا ہے کہ کیا گستاخـ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی توبہ کی نـ ذہن میں پیدا ہوتے ہیں‘ اس لـ

مرتد ہے اور حدّاً قتل کی سـ

صفحہ ۷۷

نہیں دیکھا جائے گا۔ اس کے کئی اسباب ہیں۔ ایک تو یہ کہ از روئے دین متعین حدود میں عذر و معافی کی مطلقاً گنجائش نہیں ہوتی۔ دوسرا یہ کہ اگر یہ طریق کار روا ٹھہرا دیا جاتا تو پھر اہانت و گستاخی کا دروازہ کبھی بند نہیں ہو سکتا تھا۔ ہر گستاخ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ کہہ کر بچ نکلتا کہ میں نے اس امر کا کوئی ارادہ نہیں کیا اور نہ ہی میری توہین کی نیت تھی۔ چونکہ خداوند کریم کو ہر طرح کی شامت کی بیخ کنی منظور تھی اور کلیتاً اس کے انسداد و اختتام کے لیے ضروری قرار پایا کہ یہ جرم صریح ہو یا غیر صریح، خفی ہو یا جلی، ارادی ہو یا غیر ارادی، مسلم سے ہو یا غیر مسلم سے، نہ تو اس میں تاویل و توجیہ جائز ہے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی حیلہ و عذر۔ بایں وجہ ایسے بدکردار کی سزا حداً تجویز کی گئی تاکہ حضور خاتم المرسلین (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حوالہ سے بے حیائی و بے وفائی کا مرض پیدا ہی نہ ہو پائے۔

فقہ حنفی کی معتبر و مستند کتب میں یہ منشور و دستور بالفاظ ذیل درج ہے: ”جو مسلمان مرتد ہو، اس کی توبہ قبول کی جائے گی، سوائے اس کافر و مرتد کے جو انبیاءؑ میں سے کسی بھی نبی کو گالی دے۔ اس صورت میں وہ حداً قتل کر دیا جائے گا اور اس کی توبہ مطلقاً قبول نہیں کی جائے گی“۔

”احکام اسلام اور تحفظ ناموس رسالت“ کے موضوع میں ایک سوال یہ بھی زیر بحث آیا ہے کہ کیا گستاخ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی توبہ قبول ہے؟ گستاخ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی توبہ کی قبولیت اور عدم قبولیت کے متعلق چند سوالات لازمی طور پر ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، اس سے منظر نامہ کچھ یوں بنتا ہے۔

مرتد ہے اور حداً قتل کی سزا کا مستحق ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا فرد توبہ کی

صفحہ ۷۸

طرف مائل ہو تو کیا اس کے لیے کوئی رعایت ہے یا نہیں؟

پہلے کی توبہ قبول ہوگی یا بعد الاخذ، یعنی گرفتاری اور مقدمہ دائر ہونے کے بعد کی مقبول ہے؟

قبولیت توبہ کا معنیٰ کیا ہے؟ عند اللہ، عند الناس یا عند القانون؟ اور یہ کہ کیا یہ توبہ گناہ کی معافی کے لئے متصوّر ہوگی یا جرم بھی معاف ہو سکتا ہے؟ مرقومہ بالا رسالے کے فاضل مصنف واضح کرتے اور لکھتے ہیں کہ تمام فقہی مذاہب کی آراء، فقہاء کی تصریحات اور اہل علم کی تحقیقات کو سامنے رکھ کر یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ اس مسئلے پر کل تین آراء ہیں اور فی الواقع وہ تین بھی نہیں بلکہ دو ہی بن جاتی ہیں۔ پہلا موقف ہے کہ توبہ مطلقاً "قبول نہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ توبہ "قبل الاخذ" قبول ہے۔ الغرض نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے۔

سرے سے کوئی اختلاف ہی نہیں ہے۔

کے بعد توبہ قطعاً "قبول نہیں ہوگی۔ اور شاتم ہر صورت میں مباح الدم ہے۔

(حنابلہ + شوافع + احناف + مالکی) مقدمہ و گرفتاری ہو جانے پر توبہ قطعاً "قابل اعتبار نہیں رہے گی۔

یوں ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ اگر اندراج مقدمہ و گرفتاری سے قبل توبہ ہو تو بعض شرائط کے تحت معافی مل سکتی ہے۔ لیکن اس مسئلے پر مذاہب اربعہ کے ائمہ و فقہا کی تقسیم کچھ اس نگاہ کے حامی ہیں۔ جبکہ حنفیوں میں شافعیوں میں اکثر پہلے موقف کے حامی جملہ ائمہ و فقہا کے چار حصوں میں تق ہے۔ مطلب یہ کہ مذاہب اربعہ کے گستاخ رسول (ﷺ) لازمی صورت میں قبول نہیں۔ ایک چوتھ ساتھ توبہ قبول کی جاسکتی ہے۔

کتب فقہ میں ان شرائط کی تکمیل کے لیے جزئیاتی تفصیلات میں حداً "قتل کے بعد احکام اسلامی کا فرق صرف اتنا ہے کہ دوسرے مع توبہ کا مفہوم، عند اللہ مقبولیت کا ہے آخرت کی سزا و عقوبت تو مرتفع ہو گی۔ جبکہ موقف ثالث کی رو سے فائدہ حاصل ہو گا کہ سزائے موت ادا کی جائے گی۔ تکفین و تدفین میں جائے گا۔

اس ساری بحث کا خلاصہ ہی بن جاتا ہے۔ بایں وجہ اس پر

صفحہ ۷۹

اربعہ کے ائمہ و فقہا کی تقسیم کچھ اس طرح ہے۔ مالکی و حنبلی مکمل طور پر پہلے نقطۂ نگاہ کے حامی ہیں۔ جبکہ حنفیوں میں چند ایک کے علاوہ غالب اکثریت اور اسی طرح شافعیوں میں اکثر پہلے موقف کے مؤید ہیں۔ گویا کہ من حیث المجموع امت کے جملہ ائمہ و فقہا کے چار حصوں میں سے ایک حصہ بمشکل دوسری رائے کا حامی نظر آتا ہے۔ مطلب یہ کہ مذاہب اربعہ کے ائمہ و فقہا کے تین حصے اس پر باہم متفق ہیں کہ گستاخ رسول (ﷺ) لازمی طور پر واجب القتل ہے۔ اور اس کی توبہ کسی بھی صورت میں قبول نہیں۔ ایک چوتھائی کا خیال ہے کہ مندرجہ ذیل تین شرائط کے ساتھ توبہ قبول کی جاسکتی ہے۔

☆ (i) صحت توبہ ☆ (ii) حسن اسلام ☆ (iii) اصلاح احوال

کتب فقہ میں ان شرائط کی حدود و قیود بالتفصیل درج ہیں۔ اور ائمہ ان کی تکمیل کے لیے جزئیاتی تفصیلات میں گئے ہیں۔ تیسرا موقف یہ ہے کہ بصورتِ توبہ، حداً قتل کے بعد احکامِ اسلامی کا اجراء ہو گا۔ یہ دراصل پہلے مؤقف کی تائید ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دوسرے موقف کے حامیوں کے نزدیک ”قبل الاخذ“ قبولیتِ توبہ کا مفہوم، عند اللہ مقبولیت کا ہے، عند الناس قبولیت مراد نہیں۔ اس کی توبہ سے آخرت کی سزا و عقوبت تو مرتفع ہو جائے گی۔ مگر توبہ سے حدِ قتل قطعاً ساقط نہیں ہو گی۔ جبکہ مؤقفِ ثالث کی رو سے قبل الاخذ عند اللہ قبولیتِ توبہ سے اس شخص کو یہ فائدہ حاصل ہو گا کہ سزائے موت کے بعد اس پر احکامِ اسلام کا اجراء ہو گا۔ نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔ تکفین و تدفین میں بھی اس کے ساتھ مسلمانوں جیسا ہی سلوک کیا جائے گا۔

اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ درحقیقت تیسرا موقف بھی پہلا موقف ہی بن جاتا ہے۔ بایں وجہ اس میں بھی قبولیتِ توبہ کو اسقاطِ قتل کے ساتھ متعلق نہیں

صفحہ ۸۰

کیا گیا بلکہ قبولیت توبہ کا تعلق عند اللہ مقبولیت کے ساتھ خاص ہے۔ اور اس کے وقتِ موت مسلم غیر مسلم ہونے کے ساتھ مختص ہے۔ کیونکہ اسی بناء پر تو فیصلہ کیا جائے گا کہ کیا اس کی نماز جنازہ پڑھائی جائے اور اس کی تکفین و تدفین کی جائے یا نہ کی جائے۔ پہلے اور تیسرے موقعہ میں یہی بات قدرِ مشترک ہے کہ سزائے موت کسی بھی صورت میں مرتفع نہ ہو گی۔ بہر صورت اس کا نفاذ ہو گا۔ سو اس اعتبار سے تیسرا موقف بھی حقیقتاً ”پہلا موقف ہی قرار پاتا ہے“۔

الغرض پہلے موقف کی تائید و توثیق میں ائمہ و فقہا کے لا تعداد اقوال موجود ہیں۔ ان میں امام مالکؒ، امام احمدؒ بن حنبل، قاضی ابو یعلیؒ، ابن تیمیہؒ، امام ابو المواہب العکبریؒ، قاضی الشریف ابو علی بن ابی موسیٰؒ، امام ابو علی بن البناءؒ، امام ابوبکر بن المنذرؒ، امام ابن الہمامؒ، امام برہان الدین محمودؒ، امام ابن عابدین حنفیؒ، امام خیر الدین رملی حنفیؒ، قاضی عیاضؒ، امام ابن نجیم حنفیؒ، امام ابن بزار حنفیؒ، امام حصکفیؒ، امام عثمان بن کنانہ مالکیؒ، امام اصبغ مالکیؒ، شیخ ابوبکر الفاسیؒ، امام عبداللہ بن الحکم فقیہ مصریؒ اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی و غیرہم بطور خاص قابلِ ذکر ہیں۔ امام اصبغ مالکیؒ نے شاتمِ رسول (ﷺ) کے متعلق بالصراحت فرمایا ہے۔ ”گستاخِ رسول (ﷺ) کو بہر صورت قتل کیا جائے گا۔ خواہ وہ گستاخی کو چھپائے یا ظاہر کرے، اس کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ اس کی توبہ قبول کرنے کی کوئی مثال پائی ہی نہیں جاتی۔ مگر حقیقتِ حال یہ ہے کہ بعض ائمہ نے ”قبل الاخذ“ توبہ کی جو صورت بیان کی ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے گستاخِ رسول (ﷺ) کو بھی عام مرتدین کے درجے میں شمار کیا ہے۔ حالانکہ اس میں بعض بنیادی سقم ہیں۔ اگر یہ مسلمانوں میں سے ہو گا تو پھر ارتداد کا دائرہ بجا، لیکن بالفرض وہ غیر مسلموں میں سے ہو تو پھر ارتداد کا حکم کیا معنی؟ ظاہر ہے کہ اس نے تو اسلام قبول ہی نہیں کیا تھا، وہ مرتد

صفحہ ۸۱

تعلق عند اللہ مقبولیت کے ساتھ خاص ہے۔ اور اس کے مسلم ہونے کے ساتھ مختص ہے۔ کیونکہ اسی بناء پر تو فیصلہ کیا جنازہ پڑھائی جائے اور اس کی تکفین و تدفین کی جائے یا نہ کی جائے گی۔ ہر موقعہ میں یہی بات قدرِ مشترک ہے کہ سزائے موت کسی دی ہوگی۔ بہرصورت اس کا نفاذ ہو گا۔ سو اس اعتبار سے تیسرا موقف ہی قرار پاتا ہے“۔ موقف کی تائید و توثیق میں ائمہ و فقہا کے لاتعداد اقوال موجود ہیں، امام احمد بن حنبلؒ، قاضی ابو یعلیٰؒ، ابن تیمیہؒ، امام ابو الشریف ابو علی بن ابی موسیٰؒ، امام ابو علی بن البناءؒ، امام ابوبکر امام برہان الدین محمودؒ، امام ابن عابدین حنفیؒ، امام خیر الدین الرملیؒ، ابن غنم حنفیؒ، امام ابن بزار حنفیؒ، امام حصکفیؒ، امام عثمان زکیؒ، شیخ ابوبکر الفاسیؒ، امام عبداللہ بن الحکم فقیہ مصریؒ اور دیگر نام بطور خاص قابلِ ذکر ہیں۔ امام اصبغ مالکیؒ نے شاتم رسول کے متعلق بصراحت فرمایا ہے۔ ”گستاخ رسول (ﷺ) کو قتل کیا جائے خواہ وہ گستاخی کو چھپائے یا ظاہر کرے، اس کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے کیونکہ اس کی توبہ قبول کرنے کی کوئی مثال پائی ہی نہیں جاتی ہے۔ جبکہ بعض ائمہ نے ”قبل الاخذ“ توبہ کی جو صورت بیان کی ہے کہ انہوں نے گستاخِ رسول (ﷺ) کو بھی عام مرتدوں پر قیاس کیا ہے۔ حالانکہ اس میں بعض بنیادی سقم ہیں۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے لیکن بالفرض وہ غیر مسلموں میں سے ہو ظاہر ہے کہ اس نے تو اسلام قبول ہی نہیں کیا تھا، وہ مرتد

کیونکر گنا جائے گا۔ صاف اور سیدھی بات ہے کہ یہ ایک سنگین ترین ریاستی و انسانی جرم ہے اور اس پر از روئے دین مبین سزائے موت مقرر ہے۔ چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلمان۔ اور اس میں تبدیلی و معافی کا کسی کو حق نہیں دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اندلس میں ایک موقع پر حکومتی مصالح کے تحت مفتیان و قاضیان نے شاتمان و گستاخانِ رسول (ﷺ) کے بارے میں رواداری اور تحمل و درگزر کا رویہ اپنا لیا اور ان کی معذرت و توبہ قبول کر لینے کے فتاویٰ صادر کیے تھے۔ ہوا یہ کہ بدبخت و بدنہاد عیسائی باقاعدہ ایک تحریک کے زیرِ اثر توہین و بے ادبی کا ارتکاب کرتے اور عدالت میں معافی نامہ لکھ دیتے اور احساسِ شرمندگی ظاہر کر کے بچ جاتے تھے۔ دوسرے دن اس کی جگہ ایک اور شاتم نبی (ﷺ) شہر کے چوراہے میں آتا اور اپنی غلیظ زبان سے شانِ رسول مقبول (ﷺ) میں گستاخی کی جسارت کرتا۔ یوں یہ روز مرہ کا معمول ہو گیا تھا اور دھیرے دھیرے اہل اسلام کے قلوب و اذہان بھی اس کے عادی ہوتے چلے گئے۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ وہ خطۂ ارض جس پر قریباً سات صدیوں تک مسلمانوں نے جہانبانی و حکمرانی کا حق ادا کیا، وہاں اب ڈھونڈے سے بھی کوئی مسلمان نہیں ملتا۔ بایں سبب جذبۂ عشقِ رسول ﷺ فرزندانِ اسلام کے لئے نسخۂ کیمیا اور نقشِ زندگی ہے۔ تحفظِ ناموسِ رسالت سے منحرف ہو جانا ان کی موت اور اس میں غیور و جسور ہونا حقیقتاً حیاتِ جاودانہ ہے۔

مُرتد و شاتم

دین اسلام، عقائد و نظریات کی رو سے ایک نظامِ فکر ہے۔ اس کا اپنا مزاج اور ضابطۂ حیات ہے۔ یہ میانہ روی اور اعتدال کا دین ہے۔ اس کے ہر حکم میں

صفحہ ۸۴

حکمت و استدلال پنہاں ہے اور ہر عمل سے دانش و بینش عیاں۔ اسلام کا ایک رہنما اصول یہ بھی ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں، (لا اکراہ فی الدین) کیونکہ ہدایت، گمراہی سے ممیز ہو چکی ہے۔ یہ رضا و رغبت کا معاملہ ہے۔ اسلام میں اس کے لئے تشدد کو قطعی طور پر روا نہیں رکھا گیا۔ ہر فرد کو آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے طبعی رجحان کے موافق کوئی سا دین اپنائے۔ تفکر و تدبر کے تمام دروازے کھلے رکھے گئے ہیں۔ لیکن اسلام اپنے اجتماعیت کے منشور اور فلاح انسانیت کے دستور کا حامل ہونے کی وجہ سے اپنے ماننے والوں کو غیر سنجیدگی کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلامی معاشرے میں ہر شخص محترم ہے۔ اس کی عزت، جان اور مال کی حفاظت کو لازم ٹھہرایا گیا ہے۔

مسلم ریاست میں ایک غیر مسلم کے بنیادی حقوق بھی دیگر شہریوں کی طرح ہیں۔ آزادیٔ فکر و عمل، آزادیٔ مذہب و عقیدہ اور آزادیٔ معاش و پیشہ۔ ضابطۂ قرآنی کے مطابق احکاماتِ الٰہیہ سے عہدِ وفا کو ”ایمان“ کہا گیا ہے اور اس کے برعکس رَوِشِ فکر و طرزِ زندگی کا نام کفر ہے۔ حق، ہر رنگ اور ہر آہنگ میں باطل سے ممتاز اور نکھرا ہوا ہے۔ اب جس کا جی چاہتا ہے ایمان لائے یا کفر اختیار کرے۔ اس باب میں کوئی جور، زیادتی یا استبداد نہیں ہے۔ کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت میں یوں ہوتا تو رُوئے زمین کا فرد فرد ضرور ایمان لاتا۔ یہاں تک کہ حالتِ جنگ میں بھی جبر و اکراہ سے مسلمان بنانے کی اجازت عطا نہیں فرمائی گئی۔ اس لیئے کہ اعماقِ ایمان کا تعلق صریحاً انسان کے قلب و باطن سے ہے۔ یہ یکسر روح کا معاملہ ہے۔ لہٰذا جب تک اطمینانِ دل میسر نہ ہو گا کوئی ایمان کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ اسی لئے غلبۂ اسلام یعنی فتوحات سے متاثر ہو کر ایمان لانے والوں سے کہا گیا تھا کہ تم اپنے آپ کو مومن مت کہو کہ ہنوز، ایمان تمہارے دلوں کے اندر داخل نہیں ہوا۔ تم تو محض مسلمان ہوئے ہو۔ اسی طرح فرمایا گیا کہ اگر کسی مسلمان سے زبردستی اقرارِ کفر کروا لیا جائے در

آنحالیکہ اس کے من کی دنیا، ایمان سے مط نہیں ٹھہراتا۔

قرآن پاک (التوبہ: ۱۱) ”پس اگر ی زکوٰۃ تو تمہارے بھائی ہیں دین میں، اور ہم کے لئے، جو علم رکھتی ہے اور اگر یہ لوگ طعن کریں تمہارے دین پر تو جنگ کرو کفر کوئی قسمیں نہیں ہیں۔ (ایسوں سے جنگ جائیں“۔

اس آیۂ کریمہ کے باب میں مو کی یہ کوڑی لاتے اور بتاتے ہیں کہ یہ مسلموں کے بارے میں ہے جو عہد شکنی ک ہیں۔ بقول ان کے ”یہ وہ اصول ہے، ج ہے۔ یہی صورت سن ۹ ہجری میں کفار م کر دیا کہ ان کے لیئے دو صورتیں ہیں: (i) جزو بن جائیں (ii) یا غیر مسلم رہتے ہو رہیں۔

پھر اگر یہ لوگ اس معاہدے کی سوا چارہ نہ ہو گا کہ ان سے جنگ کی جائے

یہ لوگ نکتہ سنجی کے جوش میں ہوا ہے کہ پس اگر وہ توبہ کر لیں اور قیا بھائی ہیں۔ یہاں اگر کفر سے توبہ مراد لی ج

صفحہ ۸۳

آنحالیکہ اس کے من کی دنیا، ایمان سے مطمئن تھی تو اسلام سے جبری انکار اسے کافر نہیں ٹھہراتا۔

قرآن پاک (التوبہ : ۱۱) ”پس اگر یہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور ادا کریں زکوٰۃ تو تمہارے بھائی ہیں دین میں‘ اور ہم کھول کر بیان کرتے ہیں اپنی آیات اس قوم کے لئے‘ جو علم رکھتی ہے اور اگر یہ لوگ توڑ دیں اپنی قسمیں اپنے معاہدہ کے بعد اور طعن کریں تمہارے دین پر تو جنگ کرو کفر کے پیشواؤں سے۔ بے شک ان لوگوں کی کوئی قسمیں نہیں ہیں۔ (ایسوں سے جنگ کرو) تاکہ یہ لوگ (عہد شکنی سے) باز آ جائیں۔“

اس آیۂ کریمہ کے باب میں موجودہ دور کے بعض اہل قلم بے جا طور پر دور کی یہ کوڑی لاتے اور بتاتے ہیں کہ یہ مرتدین کے بارے میں نہیں بلکہ ان غیر مسلموں کے بارے میں ہے جو عہد شکنی کر کے مملکت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ بقول ان کے ”یہ وہ اصول ہے جس کی تصریح قرآن نے متعدد مقامات پر کی ہے۔ یہی صورت سن ۹ ہجری میں کفار مکہ کے معاملہ میں پیش آئی۔ قرآن نے اعلان کر دیا کہ ان کے لیے دو صورتیں ہیں: (i) یہ لوگ یا تو مسلمان ہو کر مملکت اسلامیہ کا جزو بن جائیں (ii) یا غیر مسلم رہتے ہوئے امن و سلامتی کے معاہدے پر کاربند رہیں۔

پھر اگر یہ لوگ اس معاہدے کی پابندی نہ کریں تو اس صورت میں اس کے سوا چارہ نہ ہو گا کہ ان سے جنگ کی جائے۔

یہ لوگ نکتہ سنجی کے جوش میں بھول جاتے ہیں کہ فان تابوا کا حکم وارد ہوا ہے کہ پس اگر وہ توبہ کرلیں اور قیام صلوٰۃ و زکوٰۃ کے پابند ٹھہریں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔ یہاں اگر کفر سے توبہ مراد لی جائے تو لا اکراہ فی الدین کے فلسفہ کی

صفحہ ۸۴

تکذیب کا تاثر ابھرتا ہے۔ لہٰذا عھدھم کے معنی کفار کا اقرارِ اسلام ہی لیا جا سکتا ہے۔ بات یہ ہے کہ دینِ حق کی قبولیت کے لیئے کفار پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تاہم ایک بار دائرہ اسلام میں داخل ہو جانے کے بعد نکل جانے کو بوجوہ قابلِ گرفت جرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ دروازہ بند کر دینے میں کئی مضمرات ہیں اور اگر یہ کھلا رکھا جاتا تو کئی ناقابلِ تلافی مضرات تھے۔ لیکن ان صفحات میں اس پر مفصل تبصرے کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر ارتداد کا فعل انفرادی نوعیت کا ہو تو تادیبی حکم مختلف ہے لیکن اجتماعی حیثیت میں ہو تو حکمِ تادیب جدا ہے۔

مرتد کی سزا پر بھی اجماعِ امت ہے۔ یہاں تک کہ عہدِ حاضر کا ایک مغرب گزیدہ مسلمان مولانا وحید الدین خاں بھی اس کا قائل معلوم ہوتا ہے۔ تبھی تو انہوں نے لکھا۔ ”مرتدین کا مقابلہ تلوار ہی کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے‘ جیسا کہ خلیفۂ اول ابوبکر صدیقؓ نے کیا۔ مگر سَبّ و شتم کرنے والوں کا مقابلہ یہ ہے کہ ان کے الفاظ کا جواب زیادہ طاقتور الفاظ سے دیا جائے جیسا کہ حسّان بن ثابت انصاریؓ نے کیا اور کامیاب ہوئے۔ اس مثال سے مرتد اور شاتم کے فرق کو سمجھا جاسکتا ہے“۔

میرا نقطۂ نگاہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ میں ان کا اس امر میں تو ہم خیال ہوں کہ ارتداد اور شتم کو ہم معنی قرار دینا بذاتِ خود ایک غلط قیاس ہے لیکن شاتم سے متعلق ان کے بالکل برخلاف رائے رکھتا ہوں۔ راقم الحروف کی یہ کوئی ذاتی رائے ہرگز نہیں۔ واقعی‘ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا سَبّ و شتم ارتداد کے ہم معنی نہیں ہے بلکہ اس سے بہت بڑھ کر ہے۔ موصوف نے یہ بھی بالکل غلط قیاس کیا ہے کہ اس معاملہ میں سب سے عام استدلال یہ ہے کہ حدیث میں یہ حکم آیا ہے کہ جو شخص اپنے دین کو بدل ڈالے اس کو قتل کر دو (من بدل دینہ فاقتلوہ) کہا جاتا ہے کہ چونکہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا سَبّ و شتم ارتداد کے ہم معنی ہے‘ اس لیئے ایسا

صفحہ ۸۵

۔ لہٰذا عھدھم کے معنی کفار کا اقرار اسلام ہی لیا جاسکتا حق کی قبولیت کے لیے کفار پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ں داخل ہو جانے کے بعد نکل جانے کو بوجوہ قلیل گرفت روازہ بند کر دینے میں کئی مضمرات ہیں اور اگر یہ کھلا رکھا ت تھے۔ لیکن ان صفحات میں اس پر مفصل تبصرے کی راد کا فعل انفرادی نوعیت کا ہو تو تادیبی حکم مختلف ہے لیکن تادیب جدا ہے۔

اجماع امت ہے۔ یہاں تک کہ عہدِ حاضر کا ایک مفکر دین خاں بھی اس کا قائل معلوم ہوتا ہے۔ تبھی تو انہوں تلوار ہی کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے‘ جیسا کہ خلیفۂ اول ابوبکر شتم کرنے والوں کا مقابلہ یہ ہے کہ ان کے الفاظ کا جواب ئے جیسا کہ حسان بن ثابت انصاریؓ نے کیا اور کامیاب اور شاتم کے فرق کو سمجھا جاسکتا ہے“۔

سے یکسر مختلف ہے۔ میں ان کا اس امر میں تو ہم خیال ہوں ں قرار دینا بذاتِ خود ایک غلط قیاس ہے لیکن شاتم سے ں رائے رکھتا ہوں۔ راقم الحروف کی یہ کوئی ذاتی رائے ﷺ) کا سَبّ و شتم ارتداد کے ہم معنی نہیں ہے ہے۔ موصوف نے یہ بھی بالکل غلط قیاس کیا ہے کہ اس دلال یہ ہے کہ حدیث میں یہ حکم آیا ہے کہ جو شخص کو قتل کر دو (من بدل دینہ فاقتلوہ ) کہا جاتا ہے ﷺ) کا سَبّ و شتم ارتداد کے ہم معنی ہے‘ اس لیے ایسا

فعل کرنے والا مرتد ہو گیا۔ اور جب وہ مرتد قرار پا گیا تو حدیث کے مطابق وہ اس کا مستحق ہو گیا کہ اس کو قتل کر دیا جائے۔

مرتد‘ لغت میں لوٹ جانے والے کو کہتے ہیں۔ لہٰذا ارتداد کا مطلب ہوا‘ لوٹنا۔ جبکہ اصطلاح فقہ میں اسلام چھوڑ دینے اور دین سے پھر جانے کو ارتداد کہتے ہیں۔ ارتداد کا ایک رکن بد نیتی ہے اور دوسرا رجوع عن الاسلام۔ ”التشریع الجنائی“ میں اول الذکر کے بارے میں باقاعدہ ایک باب باندھا گیا ہے۔ تحریر ہے: ”جرم ارتداد کے وجود کے لئے ضروری ہے کہ مجرم عمداً کلمۂ کفر بکے یا عملِ کفر کا ارتکاب کرے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص نادانی میں کلمۂ کفر کہہ دے یا لاعلمی میں عملِ کفر کا ارتکاب کر دے تو وہ شرعاً مرتد نہیں ہو گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کے کہے ہوئے کلمۂ کفر کو نقل کرے اور خود اس کا معتقد نہ ہو تو وہ بھی مرتد نہ ہو گا۔ یا شدتِ حزن یا شدتِ سرور میں بے ساختہ کوئی کلمۂ کفر نکل جانے سے بھی آدمی مرتد نہیں ہوتا۔ کلمۂ کفر کہنے یا عملِ کفر کا ارتکاب کرنے میں نیت ہونا ضروری ہے۔ یہ مسلک اصحابِ ظواہر کا ہے“۔

امام مالکؒ ‘ امام شافعیؒ اور امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک عمداً فعلِ کفر یا کلمۂ کفر بکنے سے آدمی کافر و مرتد ہو جاتا ہے‘ خواہ اس کی نیت مرتد ہونے کی ہو یا نہ ہو۔ مثلاً عمداً اگر کوئی شخص شریعت کا مذاق اڑائے یا احکامِ شریعت کی تحقیر کرے تو خواہ وہ مرتد ہونے کی نیت نہ کرے‘ مرتد ہو جائے گا۔

حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) کے کسی حکم کی تعمیل یا سنّت کی پیروی نہ کرنا بدنصیبی اور تساہل ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص‘ آپ کے کسی حکم یا سنّت کی تحقیر و اہانت کرے تو یہ بے حیائی‘ ڈھٹائی‘ بے وفائی‘ خُبثِ باطن‘ فتنہ پروری اور بے غیرتی ہے۔ کُھلا کفر اور زندیقی ہے۔

صفحہ ٨٦

ایک مقام (سورہ النحل: ١٠٦) پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”جو شخص اللہ پر ایمان لانے کے بعد کفر کرے مگر یہ کہ وہ مجبور کر دیا گیا ہو۔ (محض زبان سے کلمہ کفر کہا ہو بشرطیکہ) اس کا دل ایمان پر قائم ہو (تو یہ قابل مواخذہ نہیں ہے) مگر جو شخص کھلے دل کے ساتھ کفر کرے تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہو گا اور ان کو بڑے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے گا“۔

حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے: ”رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ جو شخص اپنے دین (اسلام) کو تبدیل کر دے اسے قتل کر دو“۔

ابو داؤد میں حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ کسی ایسے مسلمان کا خون جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، حلال نہیں ہے، مگر تین صورتوں میں۔ ایک تو شادی شدہ زانی، دوسرے قصاص میں اور تیسرے اس شخص کو جو اپنے دین (اسلام) کو ترک کرے اور (مسلمانوں) کی جماعت کو چھوڑ دے۔ مختصر یہ کہ اسلاف و اخلاف کے تمام علماء مرتد کی سزا کے قائل ہیں۔ اکثر اس کے قتل کی طرف گئے ہیں اور یہ ایک طرح سے اجماع کے درجے کو پہنچا ہوا مسئلہ ہے۔ تاہم ائمہ فقہ میں اس سے متعلق بعض اختلافات بھی ہیں۔

ائمہ کے نزدیک مرتد کے قتل میں عورت اور مرد کی کوئی تفریق و تخصیص نہیں ہے لیکن حضرت امام اعظمؒ فرماتے ہیں کہ مرتد عورت کو قتل نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے قید رکھ کر دوبارہ قبول اسلام پر مجبور کیا جائے۔ اور اگر وہ تائب نہ ہو تو اس کو موت تک قید ہی میں رکھا جائے گا۔ امام ابو حنیفہ اس باب میں یہ دلیل لائے ہیں کہ ”حضور پاک (ﷺ) نے حالت جنگ میں بھی کافرہ عورتوں کے قتل سے منع فرمایا ہے تو ارتداد میں بدرجہ اولیٰ ان کا قتل ممنوع ہو گا“۔

صفحہ ۸۷

امام مالکؒ اور زیدی شیعہ بھی مرتد کو توبہ کی دعوت دینا اور ان پر اسلام پیش کرنا واجب سمجھتے ہیں۔ اگر وہ تائب نہیں ہوتا تو امام مالک فرماتے ہیں کہ مرتد کو تین دن اور تین رات کی مہلت دی جائے اور اسے توبہ کرنے کو کہا جائے۔ لیکن اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔ جبکہ امام اعظمؒ کے نزدیک اسلام پیش کرنا اور توبہ کرانا مستحب ہے‘ واجب نہیں‘ کیونکہ مرتد کو تو پہلے ہی اسلام کی دعوت پہنچ چکی ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ مہلت کی مدت کا تعین حاکم کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے۔ اگر اسے امید ہو کہ دو تین دنوں تک مہلت دے دینے سے وہ اسلام کی طرف لوٹ سکتا ہے تو اسے مہلت دے دے‘ اور اگر وہ مرتد کے دوبارہ اسلام قبول کرنے سے ناامید ہو چکا ہو تو اسے بروقت قتل کرا دینے کا مجاز ہے۔ مگر امام صاحب اس بات کے حامی ہیں کہ جو شخص ایک بار پہلے بھی مرتد ہو چکا تھا اور اب پھر دائرۂ اسلام سے نکل گیا ہے تو اسے سخت ترین سزا ملنی چاہئے“۔

رجوع عن الاسلام (ارتداد) تین طریقوں سے ہو سکتا ہے۔

دینِ اسلام کے بنیادی عقائد و نظریات سے منافی یا ان سے متصادم عقائد اختیار کرنے سے بھی آدمی مرتد ہو جاتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود ماننا۔ کسی کو رسول اللہ (ﷺ) کے برابر یا آپ سے افضل جاننا۔ عالم کے قدیم ہونے اور خالق و مخلوق کے اتحاد کا عقیدہ رکھنا‘ نبیِّ آخر الزماں (ﷺ) کے بعد کسی بھی معنیٰ میں کسی کو رسول یا نبی سمجھنا‘ یا قرآن کے منزل من اللہ ہونے سے انکار‘ وغیرہ! وغیرہ!!

یہ تمام عقائد کفریہ اور وجہِ ارتداد ہیں۔ تاہم ارتدادِ اعتقادی میں یہ بات ملحوظ خاطر رکھی جاتی ہے کہ اعتقادات کا عمل اور قول سے بھی ظہور ہو۔ کیونکہ دل و دماغ

صفحہ ۸۸

میں کسی قسم کے وسوسوں کا پیدا ہو جانا قابل مواخذہ و محاسبہ نہیں ہے۔

اس سے مراد وہ اعمال ہیں جن کو شریعت میں صریحاً" حرام قرار دے دیا گیا ہوا ہے۔ مثلاً کسی حرام کام کا اعلانیہ ارتکاب۔ مظاہر فطرت میں سے کسی کو سجدہ۔ قرآن و حدیث کی توہین۔ جان بوجھ کر فخریہ اور اعلانیہ حرام کاری۔ لواطت کو جائز سمجھنا۔ صلوٰۃ و زکوٰۃ سے انکار۔ عمداً" قبلہ کی سمت چھوڑ کر کسی دوسری سمت رخ کر کے نماز پڑھنا۔ آقائے نامدار (ﷺ) کی سنت کو سنت سمجھ کر حقارت و اہانت کرنا‘ وغیرہم۔

یہ بھی ایک مرتد کے اعمال ہیں۔ اس بارے میں علماء و فقہا فرماتے ہیں کہ اگر اس طرح کے امور کا صدور کسی نو مسلم سے ہو یا ایسے علاقے کے باشندے سے ہو جہاں جہالت کا دور دورہ ہو اور غالب گمان ہو کہ شخص مذکورہ حقیقت حال سے بے خبر ہو گا تو اس کی فوراً" تکفیر نہیں کی جائے گی بلکہ شرعی دلائل کے ذریعے اسے مائل اور قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ باوجود اس کے اگر وہ اثر قبول نہیں کرتا‘ یا ایسے اعمال کسی نسلی مسلمان سے صادر ہوں‘ یا پھر وہ ایسی جگہ کا مکین ہو جہاں علم کا چرچا ہو تو تکفیر کا اعلان کر دیا جائے گا اور مرتد کی سزا کے اجراء کے لئے تمام شرعی تقاضے ادا کئے جائیں گے۔

قولاً" کلمۂ کفر پر اصرار و تکرار‘ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت سے انکار‘ اسلام سے براءت کا اظہار‘ نبیؐ آخر الزماں (ﷺ) کے بعد کسی بھی انداز میں کسی کی نبوت و رسالت کا اقرار‘ حشر و نشر کے معاملات سے فرار یا اسی نوع کی کسی تہمت کا اقرار‘ حشر و نشر کے معاملات سے فرار یا اسی نوع کی کوئی تہمت و گفتار سے بھی کفر و ارتداد لازم

آتا ہے۔

ایسی صورت میں تکفیر سے تحقیق کر لیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ کفر سے نکال دے۔ بحر الرائق میں ہے: جن سے کفر کو لازم آتا ہے اور ایک ف مفتی کو چاہیے کہ تکفیر نہ کرے‘ کیو چاہیے۔"

البتہ اگر مفتی یہ محسوس کرے لئے کہا ہے اور عمداً" کفریہ بات زبان س سے کلمہ کفر ادا کر لیا جائے تو وہ کافر و مر کفر زبان سے نکالے تو کافر نہ ہو گا اور ہو جانے سے ارتداد لازم نہیں آتا۔

مرقومہ بالا مباحث کا ماحصل ہوں‘ صف بندی کر رہے ہوں۔ ریاس ان سے بغاوت کے آثار نمودار ہوں تو لوٹ آنے والوں کا معاملہ اللہ کے ہاتھ ارتداد ان کا انفرادی فعل ہو نہ کہ اجتم کہا جاتا رہے گا۔ ان پر دوبارہ اسلام پ حق ہے کہ ان کا اعتذار قبول کرے مولانا وحید الدین خان کی یہ رائے ملا موجود رہے ہیں جنہوں نے اس کے ل

صفحہ ۸۹

آتا ہے۔

ایسی صورت میں تکفیر سے قبل علماء کا یہ فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ پوری تحقیق کر لیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی شخص کفر کا ارادہ نہ کرے اور کلمۂ کفر زبان سے نکال دے۔ بحر الرائق میں ہے: ”اگر کسی مسئلے میں ایسی بہت سی وجہیں ہوں جن سے کفر کو لازم آتا ہے اور ایک وجہ بھی ایسی مل جائے جو تکفیر کے خلاف ہو تو مفتی کو چاہئیے کہ تکفیر نہ کرے، کیونکہ مسلمان کے بارے میں حسن ظن رکھنا چاہئیے“۔

البتہ اگر مفتی یہ محسوس کرے کہ کلمۂ کفر کہنے والے نے مذاق اڑانے کے لیئے کہا ہے اور عمداً کفریہ بات زبان سے ادا کی ہے، تو پھر تکفیر کر دے۔ اگر جبراً کسی سے کلمہ کفر ادا کرایا جائے تو وہ کافر و مرتد نہیں ہو گا۔ اگر بے ہوشی کے عالم میں کلمۂ کفر زبان سے نکالے تو کافر نہ ہو گا اور یہ کہ نشے کی حالت میں بھی کفریہ کلمات صادر ہو جانے سے ارتداد لازم نہیں آتا۔

مرقومہ بالا مباحث کا ماحصل یہ ہے کہ اگر مرتدین جتھہ کی صورت میں ہوں، صف بندی کر رہے ہوں۔ ریاستی ادارے کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوں، یا ان سے بغاوت کے آثار نمودار ہوں تو انہیں تہ تیغ کر دیا جائے گا اور اسلام کی طرف لوٹ آنے والوں کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن اگر مرتدین منتشر ہوں اور ارتداد ان کا انفرادی فعل ہو نہ کہ اجتماعی، تو ان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ توبہ کے لیئے کہا جاتا رہے گا۔ ان پر دوبارہ اسلام پیش کریں اور بعض امکانی صورتوں میں حاکم کو یہ حق ہے کہ ان کا اعتذار قبول کرے، یا تلوار سے دو چار کر دے۔ اس منظر نامہ میں مولانا وحید الدین خان کی یہ رائے ملاحظہ فرمائیے: ”چنانچہ ہر زمانہ میں ایسے محقق علماء موجود رہے ہیں جنہوں نے اس کے خلاف رائے دی۔ سفیان الثوری (۹۷-۱۶۱ھ) کو

صفحہ ۹۰

سید اہل زمانہ فی علوم الدین کہا جاتا ہے۔ مرتد کے بارے میں ان کا قول ہے کہ ” (يستتاب ابدا ولا يقتل) اس سے ہمیشہ توبہ کے لئے کہا جائے گا، اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ یہی حکم شاتم کا بھی ہے، کیوں کہ شاتم کا حکم حدیث ارتداد ہی سے اخذ کیا جاتا ہے“۔

مولانا موصوف نے ابنِ تیمیہ پر بڑی لے دے کی اور ان پر ”دھاندلی“ کا الزام عائد کیا ہے۔ حالانکہ تضاد فکری اور دھاندلی کی حقیقی علامت خود ان میں پائی جاتی ہیں۔ مندرجہ بالا پیرے کا آخری جملہ ایک بار پھر پڑھیے۔ یہ جملہ مذکور کی ذاتی رائے پر مشتمل ہے مگر انہوں نے اسے یوں سجا دیا ہے کہ جیسے یہ حضرت سفیان ثوریؒ کی زبان ہی سے ادا ہوا تھا۔

امر واقعہ یہ ہے کہ آغازِ اسلام سے ہی شتم کو ارتداد سے ایک علیحدہ جرم سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاریخِ اسلام میں آج تک کسی ایک فرد نے بھی شاتم کو صرف اس لیے گردن زدنی قرار نہیں دیا کہ وہ مرتد متصوّر ہوا، بلکہ اس کے برخلاف ارتداد کی شکل میں قتل کی سزا کا ایک سبب شتم بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ارتداد والی حدیث سے دلیل پکڑیں تو پھر صرف گستاخئ رسول (ﷺ) کی وجہ سے مرتد ہو جانے والوں کی گردنیں ماری جاتیں اور کسی غیر مسلم بد زبان و گستاخ کو اس جسارت سے متعلق کبھی سزا نہ دیتے، جبکہ یہاں شواہد اس کے بالکل برعکس ہیں۔

یہ اشتباہ اس وجہ سے پیدا ہوا کہ امام ابو حنیفہؒ سے ایک قول یادگار ہے جس میں انہوں نے شاتم کو مرتد گردانا اور کہا ہے کہ اس سے توبہ کرائی جائے گی۔ اگر وہ توبہ کرے تو خیر ورنہ قتل کر دیا جائے گا۔ حالانکہ احناف کی کتابوں میں امام صاحب ہی کا یہ مستند و معتبر قول بھی درج ہے کہ اسے ضرور قتل کر دیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ الغرض یہ کہ حضرت امام مالکؒ اور حضرت امام احمدؒ اس کے

صفحہ ۹۱

الدین کہا جاتا ہے۔ مرتد کے بارے میں ان کا قول ہے کہ ” يقتل) اس سے ہمیشہ توبہ کے لئے کہا جائے گا، اس کو قتل حکم شاتم کا بھی ہے، کیوں کہ شاتم کا حکم حدیث ارتداد ہی سے ماخوذ ہے۔

نے ابن تیمیہ پر بڑی لے دے کی اور ان پر ”دھاندلی“ کا نکہ تنقیدِ فکری اور دھاندلی کی حقیقی علامات خود ان میں پائی جاتی کا آخری جملہ ایک بار پھر پڑھیے۔ یہ جملہ مذکور کی ذاتی رائے نے اسے یوں سجا دیا ہے کہ جیسے یہ حضرت سفیان ثوریؒ کی ہے کہ آغاز اسلام سے ہی شتم کو ارتداد سے ایک علیحدہ جرم اسلام میں آج تک کسی ایک فرد نے بھی شاتم کو صرف اس میں دیا کہ وہ مرتد متصور ہوا‘ بلکہ اس کے برخلاف ارتداد کی ایک سبب شتم بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ارتداد والی حدیث سے گستاخئ رسول (ﷺ) کی وجہ سے مرتد ہو جانے والوں اور کسی غیر مسلم بد زبان و گستاخ کو اس جسارت سے متعلق عمل شواہد اس کے بالکل برعکس ہیں۔

وجہ سے پیدا ہوا کہ امام ابو حنیفہؒ سے ایک قول یادگار ہے جس مرتد گردانتا اور کہتا ہے کہ اس سے توبہ کرائی جائے گی۔ اگر وہ بھی کر دیا جائے گا۔ حالانکہ احناف کی کتابوں میں امام صاحب ہی کیا درج ہے کہ اسے ضرور قتل کر دیا جائے گا اور اس کی توبہ الغرض یہ کہ حضرت امام مالکؒ اور حضرت امام احمدؒ اس کے

لازمی قتل کے قائل ہیں۔ اور اگر وہ توبہ بھی کرے تو قبول نہیں کی جائے گی۔ مزید برآں یہ کہ تمام ائمہ فقہ ایک ملحد و زندیق تک کی توبہ و معافی کو تسلیم کر لینے کا حکم دیتے ہیں مگر گستاخِ رسول (ﷺ) کے بارے میں فرماتے ہیں اگر کوئی صدقِ دل سے توبہ کرے گا تو اسے شاید اُخروی دنیا میں رعایت حاصل ہو سکے مگر ہم اسے معاف کر دینے کا قطعاً کوئی حق نہیں رکھتے۔ لطف یہ کہ ارتداد میں نیت دیکھی جاتی ہے۔ اور یہ کہ عقائد کا عمل اور قول سے بھی اظہار ہو۔ لیکن شانِ رسالت مآب (ﷺ) میں ادنیٰ سی گستاخی اور وہ الفاظ جو موہمِ تحقیر ہوں ان کا استعمال بھی‘ مجرم ٹھہرا دینے کے لیئے کافی ہے۔ اس میں اچھی بُری نیت کا بھی کوئی دخل نہیں۔ جبھی تو خداوندِ قدوس نے ان الفاظ میں خطاب فرمایا تھا کہ اے ایمان والو! میرے محبوب (ﷺ) کی خدمتِ ناز میں رَاعِنَا کا استعمال نہ کیا کرو بلکہ اُنْظُرْنَا کہا کرو‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال غارت ہو جائیں اور تمہیں معلوم تک بھی نہ ہو۔ کیا اصحابِ اجمعین (رضوان اللہ تعالیٰ) کی نیتوں پر شک کیا جا سکتا ہے؟ کیا ان نفوسِ قدسیہ کے فکر و عقیدہ میں کوئی کجی تھی؟ نہیں‘ ہرگز نہیں۔ لہٰذا اس باب میں کسی کا کوئی عذر قابلِ قبول ہے اور نہ کوئی حیلہ کارگر ہو سکتا ہے۔

”ابن تیمیہ کی کتاب“

امام ابن تیمیہ (۶۶۱-۷۲۸ھ) تاریخِ اسلام کی ایک مشہور شخصیت ہیں۔ ان کا حافظہ غیر معمولی تھا۔ ان کی یادداشت کو اعجوبۂ روزگار تسلیم کیا گیا۔ مخالفین نے بھی ان کے ذہن کو ایک زندہ قاموس کہا ہے۔ امام ذہبی ان کے بارے میں یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ کوئی حدیث جس کو ابن تیمیہ نہ جانتے ہوں‘ وہ حدیث ہی نہیں‘ حافظے کی

صفحہ ۶۲

اسی خصوصیت کا نتیجہ ہے کہ ان کی کتابیں معلومات کا خزانہ ہوتی ہیں۔ اس اقرار کے بعد ایک معترض لکھتا ہے کہ ”ان کی کتابیں معلومات کے اعتبار سے جس معیار کی ہوتی ہیں، وہ تجزیہ اور استدلال کے اعتبار سے اسی اعلیٰ معیار کی نہیں ہوتیں۔ اس کا ایک نمونہ ابن تیمیہ کی موجودہ کتاب (الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول) بھی ہے۔ بلاشبہ زیر بحث موضوع پر معلومات کے اعتبار سے ان کی یہ کتاب منفرد کہی جاسکتی ہے۔ مگر تجزیہ اور استدلال کے اعتبار سے وہ کوئی معیاری کتاب نہیں ۔“

امام ابن تیمیہ کی یہ نمائندہ کتاب، مجلس دائرۃ المعارف (حیدر آباد) سے ۱۳۲۲ھ میں بھی چھپی تھی۔ اس کے چھے صد (۶۰۰) صفحات ہیں۔ معترض ہی کے بقول ”اس کتاب میں شتم رسول کے مسئلہ پر نہایت تفصیلی بحث ہے۔ اس موضوع پر اسلامی کتب خانہ کی غالباً یہ سب سے جامع کتاب ہے“۔

اس کتاب کی تصنیف کا سبب یہ تھا کہ ان کے عہد میں یہ خبر عام ہوئی کہ عساف نصرانی نے پیغمبر اعظم (ﷺ) پر سَبّ و شتم کیا۔ پھر اس کی سزا اور عوام کے غیظ و غضب سے بچنے کے لیئے ایک بدوی کے ہاں پناہ گزیں ہو گیا، جس نے اسے اپنی پناہ میں لے لیا ہے۔ اس پر ابن تیمیہ، شیخ الحدیث زین الدین عبداللہ بن مروان الفاروقی کے ہمراہ دمشق کے نائب السلطنت کے پاس پہنچے اور اس سے حقیقتِ حال بیان کی۔ اس نے یہ ماجرا سن کر گستاخ نصرانی کو حاضر کرنے کا حکم دیا۔ وہ حاضر کیا گیا۔ اس کے ہمراہ وہ بدوی بھی تھا، جس نے اسے اپنی حفاظت میں لے کر لوگوں سے بچا رکھا تھا۔ لوگ اس جسارت پر سخت مشتعل تھے۔ لہٰذا انہوں نے دیکھتے ہی نصرانی اور بدوی پر سنگ باری شروع کر دی۔ حاکمِ دمشق نے ابن تیمیہ اور ان کے شیخ الحدیث کو اس الزام میں دھر لیا کہ انہوں نے لوگوں کو بھڑکا کر انتظامِ حکومت درہم برہم کیا۔ نیز دوسری طرف نصرانی کو براءت کا موقع فراہم کیا گیا۔ جس نے اس دوران اسلام قبول

کر لیا اور یوں معافی کا حق دار ٹھہر گیا۔

اس واقعہ اور اس کے بعد تحریک شتم اور مسلم حکام کی نرمی نتیجتاً یہ قابلِ ذکر کتاب منصہ شہود عالم (ﷺ) کا گستاخ واجب القتل کتاب کے مطابق، ابن تیمیہ کا نظریہ طور پر قتل ہے۔

ابن تیمیہ نے اپنی کتاب میں رسالت (ﷺ) کے کچھ واقعات (ﷺ) کی حرمت و شان میں گستاخی کے مسلک کو دلائل و شواہد سے ثابت اجماع ہے۔ وہ ارتداد اور اس کی سزا میں مرتد کی سزا، قتل ہے، لہٰذا ابن تیمیہ پر حد کے نفاذ کو ناگزیر خیال کرتے ہیں۔

دنیائے اسلام میں شتم رسول موضوع پر واحد کتاب نہیں ہے۔ البتہ میں ایک اہم ماخذ ہے۔ ابو الفضل قاضی بھی حاصل ہے) اس میں موضوع پر

میرے سامنے انجمن اصلاح المسلمین موجود ہے۔ مترجم و محشی، سید محمد متین صد (۵۵۰) صفحات اسی موضوع پر ہیں

صفحہ ٩٣

کر لیا اور یوں معافی کا حق دار ٹھہر گیا۔

اس واقعہ اور اس کے مضمرات سے متاثر ہو کر ابن تیمیہ نے تحریک شتم اور مسلم حکام کی نرم روی و رواداری کے خلاف قلمی جہاد شروع کیا۔ نتیجتاً یہ قابل ذکر کتاب منصۂ شہود پر آئی۔ اس میں انھوں نے لکھا تھا کہ سرکارِ ہر عالم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا گستاخ واجب القتل ہے اور اس کی توبہ قابلِ قبول نہیں۔ اس کتاب کے مطابق، ابن تیمیہ کا نظریہ یہ ہے کہ شتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا لازمی طور پر قتل ہے۔

ابن تیمیہ نے اپنی کتاب میں کئی ایک قرآنی آیات سے استنباط کیا اور زمانۂ رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے کچھ واقعات بھی جمع کیے ہیں۔ انھوں نے آقائے مدنی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حرمت و شان میں گستاخی کے مرتکب کے بارے میں جمہور علماء و فقہا کے مسلک کو دلائل و شواہد سے ثابت کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس پر علمائے اسلام کا اجماع ہے۔ وہ ارتداد اور اس کی سزا کو بھی بطور دلیل لائے ہیں۔ چونکہ دین اسلام میں مرتد کی سزا، قتل ہے، لہٰذا ابن تیمیہ اسے بھی سخت ترین ارتداد گردانتے اور اس پر حد کے نفاذ کو ناگزیر خیال کرتے ہیں۔

دنیائے اسلام میں شتم رسول کی سزا پر یہ کتاب کافی مشہور ہے۔ لیکن اپنے موضوع پر واحد کتاب نہیں ہے۔ الشفاء (بتعریف حقوق المصطفیٰ) بھی اس بارے میں ایک اہم مأخذ ہے۔ ابو الفضل قاضی عیاض (انہیں ابن تیمیہ پر اولیت و فوقیت بھی حاصل ہے) اس میں موضوع سے متعلق ایک عظیم سرمایہ جمع فرما گئے ہیں۔ میرے سامنے انجمن اصلاح المسلمین پنڈی بھٹیاں کا اپریل ۱۹۸۳ میں چھپا ہوا نسخہ موجود ہے۔ مترجم و محشی، سید محمد متین ہاشمی ہیں۔ جلد دوّم کے پورے ساڑھے پانچ صد (۵۵۰) صفحات اسی موضوع پر ہیں۔ علاوہ ان کے، جدید و قدیم جمیع تفاسیر اور

صفحہ ۹۴

رسائل فقہ میں اس کی تائید و توضیح موجود ہے۔ دنیائے اسلام کے علماء فقہا اس رائے پر ہیں کہ شاتم رسول ﷺ کی سزا قتل ہے۔ ابن قیم نے لکھا ہے کہ شتم رسولؐ کا مسئلہ حرمتِ رسول ﷺ کا مسئلہ ہے۔ لہٰذا یہ حقوق العباد کے تحت آتا ہے۔ مختصر یہ کہ تمام مفسرین و محدثین اور علماء و فقہا نے اسے دین و ایمان کا اساسی مسئلہ قرار دیا ہے۔

ابن تیمیہ کی کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے اہم ہونے کے باوجود کوئی حجت ہرگز نہیں ہے، اور رسول پاک ﷺ کے سوا کسی دوسرے کے لیے یہ مقام و مرتبہ مختص بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ابن تیمیہ کی کتاب میں کوئی واقعاتی غلطی، فکری لغزش، استدلالی کمزوری یا کسی دوسری نوع کا کوئی جھول بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بات اہم نہیں کہ ابن تیمیہ نے کہا، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے کیا کہا۔ بالفرض امام ابن تیمیہ اس نظریہ کے مخالفین میں ہوتے (جیسا کہ بعد میں ہوا) تو بھی کچھ فرق نہ پڑتا۔

بیان کیا جاتا ہے کہ اپنی عمر کے آخری حصے میں خود ابن تیمیہ سے شانِ رسالت میں بے احتیاطیاں سرزد ہوئیں۔ ۷۲۶ھ میں اس امر کی شہادتیں سامنے آئیں کہ ابن تیمیہ ”گنبدِ خضرا کی زیارت کی نیت سے اختیار کیے گئے سفر کو شرک کہنے لگے ہیں۔ اس پر حکومتِ وقت نے انھیں پابندِ سلاسل کر کے قلعہ میں قید کر دیا۔ یہاں تک کہ بائیس ذی قعد کی رات ۷۲۸ھ کو قید ہی میں موت نے آلیا۔ ابن تیمیہ کے ایک سوانح نگار اس واقعہ کے باب میں لکھتے ہیں: ”جب یہ ساری روداد مصر پہنچی تو مصر کے اٹھارہ فقیہوں نے ان کے کفر کا فتویٰ دیا، ان سب کے سرکردہ قاضی تقی الدین محمد بن ابی بکر اخنائی مالکی تھے۔ ان کی سب سے بڑی دلیل تھی کہ انبیا اور خاص کر نبی کریم ﷺ کی قبر کی زیارت کے سفر سے روکنا در حقیقت آنحضرت

ﷺ کی تنقیص ہے جو صریح اس سلسلے کی بعض مزید کتب

جائے۔

کے نعلین پاک کے نقش کی توہین کر حیران کن بات یہ ہے کہ سوانح نگار نے نہیں لکھا۔ تاہم ا زندگی کا اختتام جیل میں ہوا تھا لو ﷺ کے آثار و مزار کے

عہد حاضر میں مخالفین و اور اعتراضات وارد ہوئے۔ عموماً اعتراض کا رنگ لئے ہوئے ہے۔ کی بھینٹ چڑھاتے اور عہد رسال مخصوص واقعات کی تعبیر میں کئی ناقابل تردید نکات کو نظر انداز کر کے ﷺ نے ایسے کئی مواقع

صفحہ ۹۵

(ﷺ) کی تنقیص ہے جو صریح طور پر کفر ہے اور کفر کی سزا قتل ہے"۔ اس سلسلے کی بعض مزید کڑیاں مندرجہ ذیل ہیں:

جائے۔

کے نعلین پاک کے نقش کی توہین کرنے کی وجہ سے غیر معمولی سزا سنائی گئی تھی۔

حیران کن بات یہ ہے کہ آخر الذکر واقعہ ابن تیمیہ کے کسی بھی دوسرے سوانح نگار نے نہیں لکھا۔ تاہم اس حقیقت کو قریباً سبھی نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی زندگی کا اختتام جیل میں ہوا تھا اور یہ کہ قید کر دیئے جانے کا حقیقی سبب، سرور انبیا (ﷺ) کے آثار و مزار کے بارے میں توہین آمیز رویہ تھا۔

واقعاتی معجزات

عہد حاضر میں مخالفین و معترضین کی طرف سے کئی ایک سوالات اٹھائے گئے اور اعتراضات وارد ہوئے۔ عموماً ان کے ہر سوال کا انداز غیر علمی اور اعتراض برائے اعتراض کا رنگ لئے ہوئے ہے۔ یہ مغرب گزیدہ دانشور، قرآنی احکامات کو اپنے ذوق کی بھینٹ چڑھاتے اور عہد رسالت مآب (ﷺ) میں پیش آنے والے چند مخصوص واقعات کی تعبیر میں کئی گل کھلاتے ہیں۔ گستاخوں کے انجام سے متعلق ناقابل تردید نظائر کو نظر انداز کر کے ان کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ سید العرب والعجم (ﷺ) نے ایسے کئی مواقع پر مجرموں کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ فرمایا۔

صفحہ ٩٦

آپ ﷺ کا رویہ و سلوک معاف فرما دینے والا ہوا کرتا تھا۔ لہٰذا ہمیں بھی شاتمان رسول (ﷺ) کے لئے ہلاکت کی سزا تجویز کرنے کا کوئی حق یا اختیار حاصل نہیں ہے۔

اس موضوع پر تفصیلی تبصرہ تحریر میں لایا جا چکا ہے۔ محبوب خدا ﷺ کی حیات مقدسہ اور سیرت طیبہ کی روشنی میں اسے ایک اور عنوان سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض علماء کہہ گئے ہیں کہ گالی اور ایذا میں فرق ہے۔ اس رعایت سے چند مشائخ کا یہ خیال بھی ہے کہ وہ جو مال غنیمت تقسیم کرنے کے وقت ایک شخص نے حضور سرور کونین (ﷺ) سے کہا تھا کہ یہ وہ تقسیم ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ آپ ﷺ کو انصاف کا برتاؤ کرنا چاہئے۔ اسے نبیؐ کریم رؤف الرحیم (ﷺ) نے اپنے اوپر تہمت اور طعن کے بجائے اس شخص سے رائے قائم کرنے میں غلطی ہو جانے پر محمول فرمایا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کے قول کو گالی نہیں سمجھا بلکہ یہ خیال فرمایا کہ یہ ایک قسم کی ایذا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے اپنے اخلاق حسنہ کے مطابق صبر کیا اور معاف فرما دیا۔ تاہم قاضی عیاض کے نزدیک جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ نبیؐ برحق ﷺ کے حق میں گالی اور ایذا دونوں کی حیثیت برابر ہے۔

حضور اکرم (ﷺ) کو سخت جانی و مالی ایذائیں پہنچائی گئیں، جادو کیا گیا اور زہر دیا گیا۔ مگر آپ ﷺ نے حکم و حکمت کے تحت صبر کیا، حالانکہ یہ اقدامات بظاہر گالی دینے سے زیادہ سخت نظر آتے ہیں۔ مگر ایک وقت آیا کہ جب آپ ﷺ نے شریر، بے ایمان اور بد زبان لوگوں کو قرار واقعی سزا دی اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر نقض عہد کے مرتکب افراد و قبائل کا تلوار سے فیصلہ فرمایا۔

کتب احادیث میں اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کا ایک قول منقول ہے

صفحہ ۹۷

کہ حضور پاک (ﷺ) نے کبھی اپنے نفس کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ البتہ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی عزت کی ہتک کی تو پھر اس کے لیئے انتقام لیا۔ اگر ایمان کی آنکھ سے دیکھا جائے تو اس قول سے فہم و ادراک کے کئی چراغ روشن ہو جاتے ہیں۔ صاحب الشفاء کے بقول، اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ﷺ نے اس سے انتقام نہیں لیا جس نے آپ ﷺ کو گالی دی یا ایذا پہنچائی یا آپ ﷺ کو جھٹلایا، کیونکہ آپ ﷺ کے ساتھ اس قسم کا سلوک تو در حقیقت تو اللہ تعالیٰ کی حرمت و عزت کی ہتک تھی۔ یہ اس لیے کہ آپ کا سارا مقام و مرتبہ، عزت و عظمت اور وقار و شان تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ لہٰذا اس پر آپ ﷺ نے کسی کو جب سزا دی تو اس کا معنی یہ ہوا کہ اسے دراصل اللہ تعالیٰ کی ہتک کرنے پر ہی سزا دی گئی۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کو ایذا دیتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے“۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایذا کس طرح دی جا سکتی ہے؟ اسی حکمت و فلسفہ کو بیان میں لاتے ہوئے امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ اللہ اور اللہ کے رسول (ﷺ) کی جہت ایک ہے۔ جس نے حضور ﷺ کو ایذا دی، اس نے گویا اللہ کو ایذا دی اور جس نے حضور ﷺ کی اطاعت کی، اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی، کیونکہ امت بلا واسطۂ رسولؐ، اس چیز کو نہیں پہنچ سکتی جو اللہ اور بندوں کے درمیان ہے۔ سوائے رسول اللہ ﷺ کے، امت کے لیئے کوئی سبیل اور واسطہ نہیں ہے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (ﷺ) کو اپنا خلیفہ بنایا اور قائم مقام کیا ہے۔ تمام اوامر و نواہی میں اپنی خبر دینے میں اور بیان میں، اور ان ان امور میں اللہ اور رسول اللہ (ﷺ) کے درمیان فرق کرنا جائز نہیں۔ البتہ

صفحہ ۹۸

اس بارے میں قاضی عیاضؒ نے توضیح فرمائی ہے کہ اگر کسی نے آپ ﷺ کے ساتھ بے ادبی کی‘ یا قولاً فعلاً بد معاملگی کی‘ خواہ جان کے معاملے میں ہو یا مال کے معاملے میں ہو اور ایسا کرنے والے کا مقصود در حقیقت آپ ﷺ کو ایذا پہنچانا نہ تھا۔ بلکہ اس نے اس طرح کے اقدامات اپنی جبلی یا فطری افتاد کی بنا پر کیے۔ مثلاً بدوؤں کی آپ ﷺ سے اپنی جہالت یا فطری اجڈ پن کی وجہ سے بد سلوکی یا ایسا عمل جو بشری فطرت کے تحت ہوا تو آپ نے اس کا انتقام نہیں لیا اور معاف فرما دیا۔

مثلاً ایک بدّو نے آپ ﷺ کی چادر پکڑ کر گھسیٹ لی‘ جس کی وجہ سے آپ ﷺ کی گردن پر داغ ہو گیا۔ یا ایک اعرابی سے گھوڑا خریدا اور اس نے انکار کر دیا۔ اور حضرت خزیمہؓ نے گواہی دی (کہ آپ ﷺ نے اس اعرابی سے گھوڑا خریدا) اور جب آپ ﷺ نے حضرت خزیمہؓ سے دریافت فرمایا کہ تم کیسے گواہی دیتے ہو؟ اس لیے کہ تم تو خرید و فروخت کے وقت موجود نہ تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ چونکہ اللہ کے سچے رسول ہیں‘ اس لیے میں آپ ﷺ کی تصدیق کرتا ہوں۔ حضرت خزیمہؓ کے اس عمل سے آپ ﷺ اتنے خوش ہوئے کہ آپ نے ان کی ایک گواہی کو دو گواہوں کے برابر قرار دے دیا۔ الغرض یہ کہ آپ ﷺ کی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں کفار میں سے کسی کا آپ ﷺ کو جسمانی تکلیف پہنچانا اور دشمنی اختیار کیے رکھنا‘ ایک اور بات تھی۔ اس پر آپ ﷺ کا کسی کو معاف کر دینا علیحدہ مفہوم رکھتا ہے۔ آپ ﷺ کو اس کا پورا پورا حق حاصل تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو اس کا مکمل اختیار حاصل تھا۔ لیکن امت میں سے یہ حق و اختیار کسی کو کسی طرح بھی منتقل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کسی طرح ہو سکتا تھا۔ آپ ﷺ نے اپنے حق اور اختیار کی بنا پر اس یہودی کو بھی معاف فرما دیا تھا۔ جس نے آپ

ﷺ پر جادو کرنے کی کوشش کی نے آپ ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ اور جادو کے علاوہ بعض دیگر جرائم کے آم تحفظِ عزت کے متعلق حضرت ع لیکن انھوں نے دونوں میں قصاص کو ساقط واقعہ میں بنی ہذیل کے کسی شخص نے ا نے پتھر کھینچ مارا، جس سے اس کا سر پھٹ اس کی دیت نہیں ہو سکتی۔ دوسرا واقعہ ہے۔ ایک جگہ پر چلا گیا اور دوسرے ک ایک رات کسی یہودی کو اپنے بھائی کی ب اسے قتل کر کے عریاں لاش راستے پر سامنے یہ مقدمہ پیش کیا تو انھوں نے سلامت رکھے۔ اور یہودی کے خون

علامہ محمد فرید وجدی نے عا ہیں۔ بقول ان کے، نص کے لحاظ سے شرعی حدود مقرر کی گئی ہیں۔ ان کے ع وہ سات حدود یہ ہیں ◯ حدِ ارتداد ◯ ح ◯ حدِ رہزنی ◯ حدِ شراب خوری ◯ ح بنا بریں مساحقہ، لواطت، چ کاری کے لیے بھی سخت سزائیں مق مگر سزاؤں کا تعین مصلحتاً و

صفحہ ٩٩

رض" نے توضیح فرمائی ہے کہ اگر کسی نے آپ ﷺ کے "فعلا" بد معاملی کی، خواہ جان کے معاملے میں ہو یا مال کے رنے والے کا مقصود درحقیقت آپ ﷺ کو ایذا پہنچانا نہ طرح کے اقدامات اپنی جبلی یا فطری افتاد کی بنا پر کیے۔ مثلاً ﷺ سے اپنی جہالت یا فطری اجڈ پن کی وجہ سے بدسلوکی یا ایسا تحت ہوا تو آپ نے اس کا انتقام نہیں لیا اور معاف فرما دیا۔ نے آپ ﷺ کی چادر پکڑ کر گھسیٹ لی، جس کی وجہ کی گردن پر داغ ہو گیا۔ یا ایک اعرابی سے گھوڑا خریدا اور اس رت خزیمہؓ نے گواہی دی (کہ آپ ﷺ نے اس اعرابی ب آپ ﷺ نے حضرت خزیمہؓ سے دریافت فرمایا کہ یا اس لیے کہ تم تو خرید و فروخت کے وقت موجود نہ تھے تو آپ ﷺ چونکہ اللہ کے سچے رسول ہیں، اس لیے میں تصدیق کرتا ہوں۔ حضرت خزیمہؓ کے اس عمل سے آپ ہوئے کہ آپ نے ان کی ایک گواہی کو دو گواہوں کے برابر یہ کہ آپ ﷺ کی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں کفار میں ﷺ کو جسمانی تکلیف پہنچانا اور دشمنی اختیار کیے رکھنا، ایک آپ ﷺ کا کسی کو معاف کر دینا علیحدہ مفہوم رکھتا ہے۔ ں کا پورا پورا حق حاصل تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ مل اختیار حاصل تھا۔ لیکن امت میں سے یہ حق و اختیار کسی کو یں ہوا ہے اور نہ ہی کسی طرح ہو سکتا تھا۔ آپ ﷺ ر کی بنا پر اس یہودی کو بھی معاف فرما دیا تھا۔ جس نے آپ

ﷺ پر جادو کرنے کی کوشش کی اور اس اعرابی سے بھی باز پُرس نہ فرمائی جس نے آپ ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ و اقدام کیا۔ حالانکہ اسلام میں اقدام قتل اور جادو کے علاوہ بعض دیگر جرائم کے ارتکاب پر بھی باقاعدہ سزا مقرر ہے۔

تحفظِ عزت کے متعلق حضرت عمرؓ کے دور میں قتل کے دو واقعات ہوئے۔ لیکن انھوں نے دونوں میں قصاص کو ساقط کر دیا اور قاتل کو کوئی سزا نہیں دی۔ ایک واقعہ میں بنی ہذیل کے کسی شخص نے اپنے میزبان کی بیٹی سے دست درازی کی، اس نے پتھر کھینچ مارا، جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔ آپ نے فیصلہ دیا، یہ قتیل ایسی ہے کہ اس کی دیت نہیں ہو سکتی۔ دوسرا واقعہ یہ ہے کہ دو نوجوان ایک دوسرے کے بھائی بنے۔ ایک جہاد پر چلا گیا اور دوسرے کو اپنے گھر کی دیکھ بھال پر مامور کر دیا۔ اس نے ایک رات کسی یہودی کو اپنے بھائی کی بیوی کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں دیکھا تو اسے قتل کر کے عریاں لاش راستے پر ڈال دی۔ صبح یہودیوں نے حضرت عمرؓ کے سامنے یہ مقدمہ پیش کیا تو انھوں نے نوجوان کا بیان سن کر کہا۔ "اللہ تیرے ہاتھ سلامت رکھے"۔ اور یہودی کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔

علامہ محمد فرید وجدی نے عام حالات میں سات جرائم قابلِ حد تسلیم کیے ہیں۔ بقول ان کے، نص کے لحاظ سے اسلامی شریعت میں فقط سات جرائم پر سات شرعی حدود مقرر کی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر جرائم قاضی کی مرضی پر منحصر ہیں۔ اور وہ سات حدود یہ ہیں ○ حد ارتداد ○ حد بغاوت ○ حد زنا ○ حد قذف ○ حد سرقہ ○ حد رہزنی ○ حد شراب خوری ○ حد قصاص کو علیحدہ بیان میں لایا گیا ہے۔

بنا بریں مساحقہ، لواطت، جادو، جاسوسی، غداری، اور مویشیوں وغیرہ سے حرام کاری کے لیے بھی سخت سزائیں مقرر ہیں اور ان کے علاوہ بعض دیگر جرائم پر نرم و گرم سزاؤں کا تعین مصلحتاً و حکمتاً قاضی کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ

صفحہ ۱۰۰

عصری تقاضوں اور ماحول کی نزاکت و موافقت کے مطابق ان کا اجراء ہو اور مؤثر و مفید رہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی حدود و تعزیراتِ شرعیہ سے متعلق اپنی مشہور کتاب ”حجۃ اللہ البالغہ“ میں لکھتے ہیں۔

”بعض معاصی کے ارتکاب پر شریعت نے حد مقرر کی ہے۔ یہ وہی معاصی ہیں، جن کے ارتکاب میں زمین پر فساد پھیلنا، نظامِ تمدن میں خلل پیدا ہو تا اور مسلم معاشرے کی طمانیت اور سکونِ قلب رخصت ہو جاتا ہے“

دوسری بات یہ ہے کہ وہ معاصی کچھ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ دو چار بار ان کا ارتکاب کرنے سے ان کی لت پڑ جاتی ہے اور پھر ان سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس قسم کے معاصی میں محض آخرت کے عذاب کا خوف دلانا، اور نصیحت کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ ضروری ہے کہ ایسی عبرتناک سزا مقرر کی جائے کہ اس کا مرتکب ساری زندگی معاشرے میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہے۔ اور سوسائٹی کے دیگر افراد کیلئے سامانِ عبرت بنے، اور اس کے انجام کو دیکھ کر بہت کم لوگ اس قسم کے جرم کرنے کی جرأت کریں۔

قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ فتنہ، قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ اسی کے تحت حضرت شاہ ولی اللہ نے حدودِ یزدانیہ کے مندرجہ بالا فلسفے کو جامۂ الفاظ پہنایا ہے۔ دنیا میں سب سے بڑا فتنہ، اور معاشرے کے امن و سکون کو تباہ و برباد کرنے والا کوئی عمل، اللہ کے کسی پیغمبر پر بہتان باندھنے سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ سرکارِ مدینہ ﷺ تمام انبیاء کے سردار اور محبوب کردگار ہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ کی شان میں کوئی ناقص یا کج اشارہ، کنایہ یا بیان، ایک ناقابلِ عفو گناہ اور کائنات کا سب سے بڑا جرم ہے۔ تقاضائے انصاف یہ ہے کہ جتنا گھناؤنا جرم ہو، اسی قدر سخت ترین سزا تجویز کی جائے۔ خداوند کریم نے گستاخوں کو عبرت و ذلت کا نشان بنا ک وآلہ وسلم) نے بھی اس کا اہتمام و انصرام سنت جلیلہ و عظیمہ پر باقاعدگی سے عمل پ اور علمائے کرام اس مسئلے میں متفق القول ہی امت کی شان کچھ یوں ہے۔ کہ اس م بھی حوالہ میسر نہیں آت عجیب یہ ہے کہ اس کے باو سے انکار کرتے ہیں بلکہ عجیب تر یہ ہے کہ اف! اسلام کا المیہ کہ زوالِ ا

ایک مخالف و معترض ن قائلین کے بارے میں طنزاً لکھا ہے ک نے شہد کی مکھی کے ”قتل“ کا م خون پروانے کا ہو گا، مگر امیر حمز کیلئے جو معیار پیش کیا، اسے حریمِ ہی کہہ سکتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

”ابن تیمیہ اور دوسرے (صلی اللہ علیہ وسلم) کا مسئلہ حرمتِ رسول کے معاملہ کو حرمتِ رسول کا معاملہ ہیں۔ مگر یہ ان حضرات کی محض ف واضح دلیل نہ ہو، اس کو حقوق العباد م

صفحہ ۱۰۱

سزا تجویز کی جائے۔ خداوند کریم نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گستاخوں کو عبرت و ذلت کا نشان بنا کر دنیا کو دکھا دیا۔ آمنہ کے لال (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس کا اہتمام و انصرام فرمایا۔ صحابہ کرام اپنے آقا و مولا کی اس سنت جلیلہ و عظیمہ پر باقاعدگی سے عمل پیرا رہے۔ دنیائے اسلام کے تمام فقہاء عظام اور علماء کرام اس مسئلے میں متفق الرائے اور متحد البیان ہیں۔ اس بارے میں اجماع امت کی شان کچھ یوں ہے۔ کہ اس کے خلاف پوری تاریخ اسلامیہ میں ہمیں ایک بھی حوالہ میسر نہیں آتا۔

عجیب یہ ہے کہ اس کے باوجود دور حاضر میں بعض لوگ نہ صرف یہ کہ اس سے انکار کرتے ہیں بلکہ عجیب تر یہ ہے کہ وہ خود کو مسلمان بھی کہلواتے ہیں۔

اف! اسلام کا المیہ کہ زوال کی داستان اب یہاں تک آ پہنچی ہے۔

ایک مخالف و معترض نے شاتمان رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سزائے قتل کے قائلین کے بارے میں طنزاً لکھا ہے کہ یہ استدلال کی وہی قسم ہے جس کے ذریعہ شاعر نے شہد کی مکھی کے ”قتل“ کا جواز نکالا تھا۔ ”مگس کو باغ میں جانے نہ دینا‘ کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا“ مگر امر حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے خود اپنے دلائل و براہین کیلئے جو معیار پیش کیا‘ اسے نرم ترین الفاظ میں ان کا فکری انتشار اور نظری خلفشار ہی کہہ سکتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔

”ابن تیمیہ اور دوسرے لوگ (مثلاً ابن قیم) نے لکھا ہے کہ شتم رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا مسئلہ حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ ہے۔ اس طرح وہ سبّ و شتم کے معاملہ کو حرمت رسول کا معاملہ قرار دے کر اس کو حقوق العباد کے تحت لائے ہیں۔ مگر یہ ان حضرات کی محض ذاتی توجیہ ہے۔ اور جب تک قرآن و حدیث کی واضح دلیل نہ ہو‘ اس کو حقوق العباد‘ بالفاظ دیگر‘ ذاتی حق کے تحت نہیں لایا جا سکتا۔

صفحہ ۱۰۲

حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام (ﷺ) پر حملہ سادہ معنوں میں ان کی ذات پر حملہ نہیں، براہ راست اسلام پر حملہ ہے۔ اس طرح وہ ذاتی حق کے بجائے دینی دفاع کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایک شخص اگر کہے کہ پیغمبر اسلام (ﷺ) عادل نہیں تھے تو یہ آپ ﷺ کے اوپر محض ایک شخصی حملہ نہیں ہوا۔ ایسا حملہ پورے قرآن اور پورے عالم اسلام کو مشتبہ قرار دینے کے ہم معنی ہے۔ شاتم دراصل اپنی شتم کے ذریعہ اسلام کی صداقت پر ایک قسم کا فکری حملہ کرتا ہے۔ اور جو حملہ فکری نوعیت رکھتا ہو، اس کا توڑ جوابی فکری یلغار ہی کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ تلوار کے ذریعہ شاتم کی گردن کاٹ دینے سے اس کا دفعیہ نہیں ہوتا۔“

یہ صاحب آگے چل کر مزید تحریر لکھتے ہیں-

”فکری اور نظریاتی فتنہ کو اس طرح ختم نہیں کیا جاسکتا کہ بندوق ہاتھ میں لی جائے اور متعلقہ شخص کو گولی مار کر اس کا خاتمہ کردیا جائے۔ قاتل کو قتل کرکے قتل کا ازالہ ہوجاتا ہے مگر شاتم کے قتل سے شتم کا ازالہ نہیں ہوتا۔ شتم ایک ایسا مسئلہ ہے جو شاتم کے قتل کے بعد بھی بدستور باقی رہتا ہے۔ اور جب اصل مسئلہ بدستور باقی رہے۔ تو ایک شخص کو قتل کردینے سے کیا حاصل؟“

معترض مذکور نے جن عقلی دلائل کو اپنے موقف کی تائید میں استعمال کرنا چاہا، لطف ہے کہ وہی ان کی تردید و مخالفت میں جاتے ہیں۔ روح اسلام یہ ہے کہ قرآن اور صاحب قرآن (ﷺ) کو جداگانہ حیثیتوں میں نہیں دیکھا جاسکتا۔

پیغمبر حسن و جمال کی ذات ہی اسلام اور قرآن کی صداقت و حقانیت کی سب سے عظیم و معتبر دلیل ہے۔

شاتم اپنی شتم کے ذریعے اسلام کی صداقت پر فکری نوعیت کا حملہ نہیں کرتا بلکہ یہ آپ ﷺ کی ذات و صفات پر حملہ کرتا ہے۔ جو کہ لازمی طور پر ”حقوق

العباد“ کے زمرے میں آئے گا۔ مادی سمجھنے میں شدید ٹھوکر کھائی ہے۔ اور اس صورتوں میں اس کا دفاع ممکن ہے۔ ایک کی صورت میں۔ اسلام یا پیغمبر اسلام (ص کا ہو تو اول الذکر ضابطہ اور اگر اعتراض صفاتی طرز کا ہو تو ثانی الذکر طریقہ برو انداز میں دفاع ممکن ہے؟ فتنہ باز اور بر تلوار کارگر ہے؟

مزید برآں ان کا یہ استدلال ب کا ازالہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ایک بے کسی بدمعاش یا غنڈے کو مار دیا جائے زہریلے اثرات اور بُرے ثمرات ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ یوں جرم کا ازالہ ہو گی یہ ہوا کہ قاتل کو نمونہ عبرت بنا دیں میں معترض کی منطق کو درست تسلی جاسوسی کرنے والے شخص کی اصلاح تراشے جانے چاہئیں۔ کہ وہ اپنے مل اب اسے اسلامی حد کی زد میں لے قانون میں عمومی جرائم پر تعزیر لاگو ہ کا نفاذ عمل میں لایا جاتا ہے۔ اصلاح ہے تو حد۔

صفحہ ۱۰۳

العباد” کے زمرے میں آئے گا۔ مادیت گزیدہ اشخاص نے اکثر اس نازک مسئلہ کو سمجھنے میں شدید ٹھوکر کھائی ہے۔ اور اس کا اہم سبب وجدان و عرفان کا فقدان ہے۔ دو صورتوں میں اس کا دفاع ممکن ہے۔ ایک علمی و فکری محاذ پر‘ جبکہ دوسرا قانون و سزا کی صورت میں۔ اسلام یا پیغمبر اسلام (ﷺ) پر اعتراض‘ تاریخی و تحقیقی نوعیت کا ہو تو اول الذکر ضابطہ اور اگر اعتراض‘ غیر علمی‘ غیر سنجیدہ‘ غیر مہذب اور ذاتی و صفاتی طرز کا ہو تو ثانی الذکر طریقہ بروئے کار لانا ناگزیر ہے۔ بھلا گالی گلوچ کا بھی علمی انداز میں دفاع ممکن ہے؟ فتنہ باز اور بہتان طراز کے لیے کونسی فکری یلغار اور نظری تلوار کارگر ہے؟

مزید برآں ان کا یہ استدلال بھی یکسر غلط ہے کہ قاتل کو قتل کر دینے سے قتل کا ازالہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ایک بے گناہ اور معصوم شخص کی ہلاکت کے بدلے میں کسی بدمعاش یا غنڈے کو مار دیا جائے تو بھی حساب برابر نہیں ہوتا۔ سوسائٹی پر اس کا زہریلے اثرات اور بُرے ثمرات ہمیشہ کیلئے باقی رہتے ہیں۔ قاتل کو سزا دینے کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ یوں جرم کا ازالہ ہو گیا۔ بلکہ اس سے قدرت کا منشا اور فطرت کا تقاضا یہ ہوا کہ قاتل کو نمونۂ عبرت بنا دیں تاکہ آئندہ کیلئے یہ دروازہ بند ہو۔ اگر اس باب میں معترض کی منطق کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر دشمن ملک یا قوم کے لیے جاسوسی کرنے والے شخص کی اصلاح کے لیے کتب و رسائل لکھے اور براہین و دلائل تراشے جانے چاہئیں۔ کہ وہ اپنے ملک و قوم کے خلاف نازک اطلاعات تو بہم پہنچا چکا‘ اب اسے اسلامی حد کی زد میں لے آنے سے کیا حاصل؟ یہی سبب ہے کہ اسلامی قانون میں عمومی جرائم پر تعزیر لاگو ہوتی ہے۔ جبکہ سنگین اور قبیح جرائم پر بطور حد سزا کا نفاذ عمل میں لایا جاتا ہے۔ اصلاح احوال مطلوب ٹھہرے تو تعزیر اور اگر بیخ کنی مقصود ہے تو حد۔

صفحہ ۱۰۴

اس باب میں آج کل یہ جدید گروہ کعب بن الاشرف کے واقعۂ قتل کے پس منظر کو بھی جھٹلانے اور نئی نئی باتیں بنانے لگا ہے۔ ایک صاحب یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ کعب بن الاشرف کو بار بار نقض عہد (غداری) کرنے کی بنا پر قتل کیا گیا۔ کعب بن الاشرف دوسرے تمام مخالفین کی طرح سبّ و شتم کے الفاظ بولتا تھا، مگر اس کے قتل کا سبب اس کا نقض عہد تھا، نہ کہ سادہ طور پر صرف سبّ و شتم۔ طرفہ تماشہ یہ کہ وہ اس تاریخی صداقت اور مسلّمہ حقیقت کو جھٹلاتے ہوئے کوئی حوالہ پیش نہیں کرپاتے۔ دوسرے الفاظ میں ان کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ نقض عہد کے جرم میں حد جاری کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ یہ بار بار ہو، لیکن سبّ و شتم کوئی جرم نہیں۔ ان کے خیال میں شاید اہانت رسول (ﷺ) سے دینی و ملّی مزاج کو نقصان نہیں پہنچتا لیکن وعدہ خلافی سے اس کی بنیادیں ہل کر رہ جاتی ہوں گی۔

اس سلسلے میں بطور مثال ایک واقعہ ضرور قلمبند کیا جاتا رہا ہے۔ اس میں سرور کائنات فخر موجودات (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے نور بصیرت اور علم غیب کا کھلا بیان ہے مگر یار لوگوں نے اسے ”مستقبل پر نظر“ کا نام دے دیا۔ یوں ایک خالص دینی موضوع اور بے مثل و بے مثال علمی فضیلت کو گویا ایک عام پیمانہ سے پرکھنے کی جسارت کی گئی۔ جس صفت و کمال کا تعلق نور نبوت اور جوہر رسالت سے ہے، اسے محض دور اندیشی و پیش بینی سے موسوم کردیا کرتے ہیں۔ اس کی پوری تفصیل پیش خدمت ہے۔

”قدیم مکہ میں جو ممتاز افراد تھے، ان میں سے ایک شخص کا نام سہیل بن عمرو تھا۔ آج سہیل بن عمروؓ کا شمار صحابہؓ میں ہوتا ہے مگر اس سے پہلے وہ رسول اکرم ﷺ کے سخت دشمن تھے۔ وہ بدر کی لڑائی میں مشرکین کی طرف سے شامل ہوئے۔ اس لڑائی میں رسول اللہ (ﷺ) کے مقابلے میں مشرکین کو شکست

صفحہ ۱۰۵

ہوئی۔ ان کے ۷۰ آدمی گرفتار کر کے مدینہ لائے گئے۔ ان میں سے ایک سہیل بن عَمرو بھی تھے۔

سہیل بن عمرو کے اندر زبان آوری کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ وہ خطیب قریش کہے جاتے تھے۔ اپنی اس صلاحیت کو انھوں نے بھرپور طور پر اسلام کے خلاف استعمال کیا۔ وہ شعر اور خطابت کے ذریعہ رسولِ اکرم ﷺ کی ہجو کیا کرتے تھے۔ اور آپ ﷺ کے خلاف اور اسلام کے خلاف لوگوں کو اُکساتے رہتے تھے۔ جب وہ گرفتار ہو کر مدینہ آئے‘ اور ان پر مسلمانوں کو پوری طرح قابو حاصل ہو گیا‘ تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رسولِ اکرم ﷺ سے کہا کہ اے خدا کے رسول ﷺ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں سہیل بن عمرو کے سامنے کے دانت توڑ دوں۔ اس طرح اس کی زبان باہر نکل پڑے گی۔ اور اس کی آواز خراب ہو جائے گی۔ اس کے بعد وہ اس قابل نہ رہے گا کہ آپ ﷺ کے خلاف خطیب بن کر کھڑا ہو سکے۔

بظاہر یہ ایک جائز بات تھی۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس کا مُثلہ نہیں کروں گا۔ اگر میں اس کا مُثلہ کروں تو اللہ میرا مُثلہ کرے گا‘ اگرچہ میں ایک رسول ہوں۔

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مزید ایک بات فرمائی۔ یہ بات بظاہر شخصی ہے مگر وہ ایک عالی انسانی حقیقت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ آئندہ سہیل بن عمرو ایسے مقام پر کھڑے ہوں جہاں تم ان کی مذمت نہ کر سکو۔ (سیرتِ ابن ہشام‘ الجزء الثانی‘ صفحہ ۲۹۳) چنانچہ مُثلہ یا قتل کے بغیر سہیل بن عمرو کو چھوڑ دیا گیا کہ وہ اپنے وطن واپس چلے جائیں۔

سہیل بن عمرو کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ غیر

صفحہ ۱۰۶

معمولی سلوک کیا کہ غزوہ بدر (۲ھ) کے بعد ان پر قابو پانے کے باوجود انہیں رہا کر دیا گیا۔ مگر اب بھی وہ اپنی اسلامی دشمنی سے باز نہ آئے۔ انھوں نے مکہ کے لوگوں کو دوبارہ اکسایا اور تین ہزار کی فوج لے کر مدینہ پر حملہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ اندوہ ناک جنگ پیش آئی جس کو غزوۂ اُحد (۳ھ) کہا جاتا ہے۔

یہی سہیل بن عمرو تھے جنھوں نے معاہدۂ حُدیبیہ (۶ھ) کے موقع پر لفظِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کاغذ سے محو کروایا تھا۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو قریش کی یک طرفہ شرائط پر راضی ہونے کیلیے مجبور کیا تھا۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی مدد فرمائی۔ ۸ھ میں مکہ فتح ہو گیا اس وقت تک سہیل بن عمرو کفر کی حالت میں تھے۔ مگر اب بھی ثابت شدہ جرائم کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کوئی سزا نہیں دی۔ اس کے برعکس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ان کے ساتھ حسنِ اخلاق کی ہدایت فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جو شخص سہیل بن عمرو سے ملے، وہ اس کی طرف تیز نگاہوں سے نہ دیکھے میری جان کی قسم، بلاشبہ سہیل عقل اور شرف والا آدمی ہے۔ اور سہیل جیسا آدمی اسلام سے بے خبر نہیں رہ سکتا"۔

سہیل بن عمرو کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی رعایتیں جاری رہی۔ غزوۂ حوازن کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک سو اونٹ تالیفِ قلب کے طور پر دیے۔ اس عطیہ کے بعد وہ بالکل ڈھے پڑے اور اسلام قبول کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی بن گئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد عرب قبائل میں یہ تاثر پھیل گیا کہ وہ شخص دنیا سے چلا گیا جس کی وجہ سے اسلام کو خدا کی مدد ملتی تھی۔

چنانچہ عرب قبائل کی اکثریت بار جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ اسلام سے پھر جائیں۔ انھوں کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ گئے۔

مذکورہ سہیل بن عمرو ا تھے۔ وہ شاندار خطیب ہونے کے جب انھوں نے مکہ کا یہ حال د اپنی اعلیٰ خطیبانہ صلاحیت استعما کی۔ انھوں نے کہا سن لو، زمین سوا اور کچھ نہیں کیا ہے کہ اس ہمارے خلاف کچھ کرے گا، ہم

سہیل بن عمرو کی گ اسلام سے پھرنے کا جو ارادہ بھی روپوشی سے نکل آئے و آلہ و سلم کے اس قول کا ک جہاں وہ تمہارے نزدیک قابل رسول اللہ صلی اللہ عل پر نہیں رکتی تھی آپ آدمی دیکھتے تھے۔ ایک انسان کا صلی اللہ علیہ وسلم یہ سوچتے تھے کہ

صفحہ ۱۰۷

چنانچہ عرب قبائل کی اکثریت ارتداد کی طرف مائل ہو گئی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات ہوئی تو مکہ کے بیشتر لوگوں نے چاہا کہ اسلام سے پھر جائیں۔ انھوں نے اس کا پورا ارادہ کر لیا۔ مکہ کی فضا اتنی خراب ہوئی کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عامل عتاب بن اُسید روپوش ہو گئے۔

مذکورہ سہیل بن عمرو اس وقت تک اسلامی جماعت کے ایک فرد بن چکے تھے۔ وہ شاندار خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک با رعب شخصیت والے آدمی تھے۔ جب انھوں نے مکہ کا یہ حال دیکھا تو وہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے۔ انھوں نے اپنی اعلیٰ خطیبانہ صلاحیت استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے درمیان ایک پُر زور تقریر کی۔ انھوں نے کہا سن لو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات نے اس کے سوا اور کچھ نہیں کیا ہے کہ اس نے اسلام کی قوت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جو شخص ہمارے خلاف کچھ کرے گا، ہم تلوار سے اس کی گردن مار دیں گے۔

سہیل بن عمرو کی گرج دار تقریر کو سن کر لوگوں نے رجوع کیا۔ انھوں نے اسلام سے پھرنے کا جو ارادہ کیا تھا، اس سے باز آگئے۔ اس کے بعد عتاب بن اُسید بھی روپوشی سے نکل آئے۔ راوی کہتے ہیں کہ یہی مطلب تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس قول کا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ ایک دن ایسے مقام پر کھڑے ہوں جہاں وہ تمہارے نزدیک قابلِ مذمت نہ ہوں بلکہ قابلِ تعریف ہوں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ سُنت بتاتی ہے کہ آپ کی نظر حال پر نہیں رکتی تھی آپ آدمی کے حال سے گزر کر اس کے مستقبل کے امکانات کو دیکھتے تھے۔ ایک انسان کا آج اگر باغیانہ ہے، تو اس کو نظر انداز کر کے آپ ﷺ یہ سوچتے تھے کہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں وہ ہمارا وفادار ہو جائے۔ اور

صفحہ ۱۰۸

پھر اس کی وہ خداداد صلاحیتیں جو اس وقت اسلام کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں‘ وہ اسلام کی تائید میں ہونے لگیں تاریخ بتاتی ہے کہ بیشتر موقعوں پر فی الواقع ایسا ہی ہوا۔

رسول اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سیرت مقدسہ میں سفر طائف بطور خاص قابل ذکر ہے۔ طائف کے سرداروں میں عبد یالیل‘ مسعود اور حبیب جو کہ سگے بھائی تھے‘ اس بات میں ان کی گستاخی و بے ادبی کا معاملہ بھی اوراق تاریخ میں محفوظ ہے۔ مختصراً واقعات یوں ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد کے دور میں طائف کے تمام باشندے اسلام کے دائرے میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد انھوں نے بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے۔ مثلاً ابوعبید مسعود ثقفی انہی اہل طائف کی اولاد تھے۔ وہ اس مسلم فوج کے قائد تھے جس نے حضرت عمر فاروق ؓ کی خلافت میں ایران میں حملہ کیا۔ انھوں نے ہاتھیوں کی فوج کے مقابلے میں غیر معمولی جانبازی دکھا کر ایرانی فوجوں کو اس قدر مرعوب کیا کہ انھوں نے جنگ کا حوصلہ کھو دیا۔

محمد بن قاسم ثقفی ۷۱۱ء (۹۵ھ) میں سندھ کے راستہ سے ہندوستان میں داخل ہوا۔ وہ ایک انتہائی عادل اور باصلاحیت سردار تھا۔ اس نے صرف دو سال کے عرصہ میں سندھ اور پنجاب میں اتنے بڑے پیمانے پر اسلام کی اشاعت کی کہ ایک پورا علاقہ اللہ کے دین کے سایہ میں آ گیا۔ موجودہ پاکستان حقیقت میں محمد بن قاسم کی دین ہے۔

محمد بن القاسم اتنا لائق اور شریف سردار تھا کہ جب وہ ہندوستان سے واپس ہو کر دمشق گیا‘ تو فتوح البلدان کے بیان کے مطابق‘ اہل ہند اس کے لیے روئے اور اس کا مجسمہ بنا کر اس کی تعظیم و تقدیس کی اسلام کا یہ قیمتی مجاہد اسی قبیلہ ثقیف سے تعلق رکھتا تھا۔ جس کی بدترین گستاخی اور ایذاء رسانی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ

وسلم نے یہ کہہ کر معاف کر لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی قبیلہ ثقیف (اہل گستاخی اور ایذاء رسانی کا پوری طرح آپ ﷺ آپ ﷺ کے رحم و سزا دینے کی بجائے اس کا کے سپاہی بن کر اسلام کی حالات بتاتے ہیں والوں کی گستاخی کی سزا دی کھنڈروں کی داستان ہو سرور انبیاء (صلی بھی اسی نوع کا ہے کہ ﷺ نے اس ضبط تحریر میں لائی جاتی ابن اسحاق کہتے ابو القاسم مولیٰ عبداللہ بن اور تلید بن کلاب اللیثی پاس پہنچے‘ وہ اپنا جوتا ہاتھ ان سے کہا کہ آپ اس تھے۔ جب حنین کے وال

صفحہ ۱۰۹

وسلم نے یہ کہہ کر معاف کر دیا تھا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ ان کی اگلی نسل میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی عبادت گزار بنیں گے۔

قبیلہ ثقیف (اہل طائف) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ گستاخی اور ایذاء رسانی کا بدترین فعل کیا تھا۔ مزید برآں یہ کہ ان کو سزا دینے کا معاملہ پوری طرح آپ ﷺ کے ہاتھ میں تھا کیونکہ پہاڑوں کا فرشتہ (ملک الجبال) آپ ﷺ کے حکم کے نفاذ کے لیے آچکا تھا۔ مگر آپ ﷺ نے ان کو سزا دینے کی بجائے اس کو پسند فرمایا کہ ان کی نسلوں سے ایسے افراد نکلیں گے جو اسلام کے سپاہی بن کر اسلام کی تاریخ بنائیں۔

حالات بتاتے ہیں کہ فی الواقعہ ایسا ہی پیش آیا۔ اگر آپ ﷺ طائف والوں کی گستاخی کی سزا دینے کے لیے ملک الجبال کو استعمال کرتے تو طائف آج صرف کھنڈروں کی داستان ہوتا نہ کہ اسلام کے قلعہ کی شاندار تاریخ۔

سرور انبیاء (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا حضرت عکرمہ ؓ سے حسن سلوک بھی اسی نوع کا ہے کہ بدترین دشمن اسلام (ابوجہل) کا بیٹا ہونے کے باوجود آپ ﷺ نے اس سے کیسا شاندار رویہ اختیار فرمایا تھا اسی طرح ایک اور بات عموماً ضبط تحریر میں لائی جاتی ہے:

ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر نے مقسم بن ابوالقاسم مولیٰ عبداللہ بن الحارث بن نوفل کی روایت بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ میں اور تلید بن کلاب اللیثی دونوں نکلے، یہاں تک کہ ہم عبداللہ بن عمرو بن العاص کے پاس پہنچے، وہ اپنا جوتا ہاتھ میں لٹکائے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ ہم نے ان سے کہا کہ آپ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ جب حنین کے دن تمیمی نے آپ ﷺ سے بات کی تھی۔ انھوں نے کہا

صفحہ ۱۱۰

ہاں۔ بنو تمیم کا ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا۔ اس کو ذوالخویصرہ کہا جاتا تھا۔ وہ آپ ﷺ کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اس وقت آپ ﷺ لوگوں کو مالِ غنیمت دے رہے تھے۔ (وہ دیکھتا رہا) یہاں تک کہ اس نے کہا کہ اے محمد ﷺ! میں نے اس کو دیکھ لیا جو آج آپ ﷺ نے کیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ٹھیک ہے، پھر تم نے کیا دیکھا۔ اس نے کہا میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے عدل کیا ہو۔

عبداللہ بن عمرو بن العاص نے بیان کیا کہ یہ سن کر رسول اکرم ﷺ غضب ناک ہو گئے۔ آپ ﷺ نے کہا کہ تیرا برا ہو، اگر میرے پاس عدل نہیں ہو گا تو پھر کس کے پاس عدل ہو گا۔

یہ سن کر حضرت عمر بن الخطاب نے کہا کہ اے خدا کے رسول ﷺ! کیا میں اسے قتل نہ کردوں آپ ﷺ نے کہا کہ نہیں، اس کو چھوڑ دو۔ عنقریب اس کی ایک جماعت ہو گی جو دین میں تعمق کرے گی۔ یہاں تک وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے کہ تیر شکار سے"۔

یہ واضح طور پر سید خیرالانام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زندہ معجزات کی بے بہا شان نمایاں ہے۔ ان واقعات میں آقائے نامدار سیّد الابرار (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے کسی جگہ بھی یہ نہیں فرمایا کہ ان کے مجرموں پر قتل کی سزا لاگو نہیں ہو سکتی۔ اور نہ ہی اشارتاً کسی جگہ نفی فرمائی ہے۔ بلکہ یہ تو اسرارِ نبوت کی بہار اور اعجاز کے راز کا مظہر ہیں۔

ان واقعات و روایات سے تو یہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے تاجدارِ مدینہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی پاک نگاہوں کے سامنے سے غیب کے تمام پردے ہٹا دیے ہوئے تھے۔ گویا کہ آپ ﷺ کو صبح ازل سے لے کر شامِ ابد تک کی ہر

ایک شے پر پوری طرح خبردار کر دیا گیا میں ہی اہل اسلام کے ہاتھوں متعدد مقا میں ایک شریر و فتنہ پرور یہودی قبیلہ ایک ناقابل تردید حصہ ہے۔ خود حضو کرام کے والد، بھائی اور بیٹے جو تیغ ب علیہ و آلہ وسلم) ہمیشہ اسلام کے دفا تیار ہوتے تھے۔ تو پھر جہاد و قتال کا غیور و جسور قوم اس کا تصور بھی کر سکے

عیسائی اور یہودی صدیو تھے۔ یہودیوں کی تاریخ تو ہمیشہ اوراق تاریخ یہ گواہی بھی دیتے اپنی پیاس بجھانے میں کبھی دریغ مسلم کشی میں دو قالب و یک جا شیر و شکر ہو جانا انسانیت کا بہت ب

اسلام کی آمد سے قبل برتری و غلبہ کا اصل سبب یہاں جنگی تھی۔ یہودیوں کا پیشہ ذلیل یثرب ان کے بھاری مقروض ہو

صفحہ 111

ایک شے پر پوری طرح خبردار کر دیا گیا تھا۔ نہیں تو آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہی اہل اسلام کے ہاتھوں متعدد کفار و منافقین اور یہود مارے جاتے۔ مدینہ المنورہ میں ایک شریر و فتنہ پرور یہودی قبیلہ کے تمام جنگجو مردوں کا قتل کیا جانا، تو تاریخ کا ایک ناقابل تردید حصہ ہے۔ خود حضرت عکرمہؓ کے والد، ابو جہل اور بیسوں صحابہؓ کرام کے والد، بھائی اور بیٹے تہ تیغ ہوئے تھے۔ بقول ان کے اگر نبی پاک (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہمیشہ اسلام کے دشمنوں کی آئندہ نسلوں تک کا بھی انتظار کرنے کیلئے تیار ہوتے تھے۔ تو پھر جہاد و قتال کا تمام فلسفہ حکمت منہدم ہو کر رہ جاتا ہے۔ کیا ایک غیور و جسور قوم اس کا تصور بھی کر سکتی ہے؟

فعل بلا قول

عیسائی اور یہودی صدیوں سے دشمنی و قتل و غارت گری نبھاتے چلے آ رہے تھے۔ یہودیوں کی تاریخ تو ہمیشہ سازش، بغاوت اور غلامی سے عبارت رہی ہے۔ مگر اوراق تاریخ یہ گواہی بھی دیتے ہیں کہ موقع ملنے پر عیسائیوں نے بھی ان کے لہو سے اپنی پیاس بجھانے میں کبھی دریغ نہیں کیا تھا۔ لیکن طلوع اسلام کے بعد یہ حق دشمنی و مسلم کشی میں دو قالب و یک جان ہو گئے۔ مسلمانوں کے خلاف ان کا آپس میں یوں شیر و شکر ہو جانا انسانیت کا بہت بڑا المیہ ہے۔

اسلام کی آمد سے قبل یہودی ہر لحاظ سے یثرب پر چھائے ہوئے تھے۔ اس برتری و غلبہ کا اصل سبب یہاں کے دو قبائل اوس و خزرج کے درمیان طویل خانہ جنگی تھی۔ یہودیوں کا پیشہ زرگری، تجارت اور سودی لین دین تھا۔ انجام کار اہل یثرب ان کے بھاری مقروض ہو گئے تھے اور مغلوب و معتوب بھی۔ مذہبی اجارہ داری

PDF 112

کے علاوہ وہ فوجی اعتبار سے بھی قلعوں کے مالک اور مضبوط تھے۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جب ہجرتِ مدینہ اختیار فرمائی تو اس ماحول میں اخوت اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہونے لگی۔ اس چیز نے جہاں عرب معاشرہ کو بہت زیادہ فائدہ پہنچایا۔ وہاں اس سے یہودی مفادات پر بھی کاری ضرب لگی۔ یہیں سے ان کی باقاعدہ اسلام دشمنی کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ مدینہ المنورہ میں بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کی سازشوں سے شروع ہو کر فتح خیبر تک پہنچتا ہے اور پھر حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں ان کی اعلانیہ بغاوت شروع ہوتی ہے جو بظاہر سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت پر اختتام پذیر ہوئی۔

مؤرخ بتاتے ہیں کہ فیروز لؤلؤ یہودی تھا۔ بعض نے اسے عیسائی المذہب بھی لکھا ہے۔ مدینہ المنورہ میں غیر مسلموں کے داخلے پر پابندی کے باوجود وہ ایک خاص طریقہ سے شہر میں داخل ہوتا ہے اور نمازِ فجر کے دوران امیر المؤمنین حضرت عمرؓ کو شہید کر دیتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی اپنے خنجر سے ڈرامائی انداز میں خود کو بھی ختم کر لیتا ہے۔ اس واقعہ میں ایک مشتبہ کردار ہرمزان کا تھا۔ عبداللہ ابن عمرؓ اسے طیش میں آ کر قتل کر دیتے ہیں، اور یوں اس کا پس منظر ہمیشہ کے لئے آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ فیروز لؤلؤ کا پابندی کے باوجود مدینہ شریف میں آنا، حضرت عمرؓ کو چکی بنانے کے بارے میں اشارتاً دھمکی دینا، شہادت سے تین یوم پہلے احبار کعب کا روزانہ آ کر بتانا کہ ان کی زندگی کے کتنے دن باقی رہ گئے ہیں؟ نیز فیروز لؤلؤ کا اپنے تئیں فوراً ختم کر لینا ایک گہری سازش کا ضرور پتا دیتا ہے۔

پھر یمن کے شہر صنعاء میں ایک یہودی خاندان سے عبداللہ بن سبا نامی فرد اٹھتا ہے۔ مسلمانوں کے حلقے میں دھیرے دھیرے یہ عقیدہ پھیلاتا ہے کہ ہر نبی کا کوئی وزیر یا وصی ضرور ہوتا ہے اور یہ کہ امامت، نبوت سے بھی اونچا مقام ہے۔ یہ سیدنا حضرت علی المرتضیٰؓ کی دوستی کا دم بھرتا ہ جاتا ہے۔ اس کی ذہنیت کے بطن سے پ کر اس سبائی گروہ نے بڑے گل کھلائے۔ الدین زنگی کے خوف سے لے کر ترک ہ ہوئی ہیں۔ صلیبی جنگوں کا وہ طویل س بانداز دیگر اب بھی جاری ہے۔ تاریخ ا کے خلاف ایک ہیں، اور اس مشترکہ د

تحریکِ شرارت تو عہدِ رسالت ( تھی۔ مدینہ کے یہودی قبائل آپ ( انتہائی سرگرم رہے۔ ازاں بعد دنیائے والی کرک ریجی نالڈ نے جزیرہ نمائے مدینہ منورہ پر قابض و مسلط ہو کر گ و منہدم کر دے۔ کتبِ تواریخ می آور ہوا تو مسلمان مقابلے کے لیے کو دیکھ کر گھبرا گئی۔ وہ ساحل پر ل مجاہدینِ اسلام نے انہیں پکڑ پکڑ کر کامیاب ہو گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ مسلما (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شانِ اقدس میں ب تھی۔ ۱۱۸۶ء میں غالباً تیسری بار اس کر لیا۔ جب اسے ان لوگوں کی ب

صفحہ ۱۱۳

حضرت علی المرتضیٰؓ کی دوستی کا دم بھرتا اور اس پردے میں دشمنی کے تمام حربے آزما جاتا ہے۔ اس کی ذہنیت کے بطن سے ہی جنگِ جمل و صفین جنم لیتی ہیں۔ آگے چل کر اس سبائی گروہ نے بڑے گل کھلائے ہیں۔ اس پیچ در پیچ سازش کی کڑیاں نور الدین زنگی کے خلاف سے لے کر ترک عثمانیہ سلطان عبدالحمید کے اقدامات تک پھیلی ہوئی ہیں۔ صلیبی جنگوں کا وہ طویل سلسلہ جو آج سے صدیوں پیشتر شروع ہوا تھا، بہ انداز دیگر اب بھی جاری ہے۔ تاریخ نے یہی ثابت کیا ہے کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے خلاف ایک ہیں، اور اس مشترکہ دشمنی کا کوئی اصول یا معیار ہرگز نہیں ہے۔

تحریکِ شماتت تو تیرِ رسالت (ﷺ) کے نمودار ہوتے ہی شروع ہو گئی تھی۔ مدینہ کے یہودی قبائل آپ (ﷺ) کو ایذا دینے اور سَبّ کرنے میں انتہائی سرگرم رہے۔ ازاں بعد دنیائے عیسائیت کی ایک معروف شخصیت، پرنس ارناط والی کرک ایجی نالڈ نے جزیرہ نمائے عرب پر لشکر کشی کا جامع منصوبہ تشکیل دیا تاکہ مدینہ منورہ پر قابض و مسلّط ہو کر گنبدِ خضرا کو شہید اور مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کو مسمار و منہدم کر دے۔ کتبِ تواریخ میں مرقوم ہے کہ جب وہ سمندری راستے سے حملہ آور ہوا تو مسلمان مقابلے کے لیے میدان میں موجود تھے۔ اس کی افواج، اسلامی لشکر کو دیکھ کر گھبرا گئی۔ وہ ساحل پر اپنے جہازوں کو چھوڑ کر پہاڑوں کی جانب بھاگ نکلے۔ مجاہدینِ اسلام نے انہیں پکڑ پکڑ کر تہِ تیغ کیا لیکن ریجی نالڈ بھاگ کر جان بچانے میں کامیاب ہو گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو اذیت پہنچانا اور نورِ مجسم شفیعِ معظم (ﷺ) کی شانِ اقدس میں ارتکابِ گستاخی کرنا اس کی فطرتِ ثانیہ بن چکی تھی۔ ۱۱۸۶ء میں غالباً تیسری بار اس نے مسلم تاجروں کے ایک قافلے کو لوٹا اور گرفتار کر لیا۔ جب اسے ان لوگوں کی رہائی کے لئے کہا گیا تو اس نے طعن آمیز جواب دیتے

صفحہ ۱۱۴

ہوئے کہا کہ تم اپنے نبی پر بڑا ایمان رکھتے ہو، ان سے کہو کہ آکر تمہیں چھڑا لے جائیں۔“ ۔ کہتے ہیں کہ جس وقت سلطان صلاح الدین ایوبی تک ریجی نالڈ کی یہ گستاخانہ بات پہنچی تو انہوں نے قسم کھا کر اعلان کیا کہ اگر خداوند قدوس نے چاہا تو اس مردود ازلی کو میں اپنے ہاتھوں سے ہلاک کروں گا۔

صلیبی لڑائیوں کے دوران ایک مرتبہ ریجی نالڈ مذکور اور اس کے بیٹے قید کر کے مجاہد اسلام سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے لائے گئے تو مرد غازی نے اس کی تمام بداعمالیاں گنوائیں اور کہا کہ اس وقت میں اپنے آقا و مولا احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ (ﷺ) سے مدد چاہتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اس کا سر قلم کر دیا، اور فرمایا کہ ہمارا یہ دستور نہیں ہے کہ لوگوں کو خواہ مخواہ مارتے رہیں۔ یہ تو اپنی حد سے بڑھی ہوئی بداعمالیوں اور سرکار رسالت مآب (ﷺ) کے حضور گستاخی کی پاداش میں قتل ہوا ہے۔

اسلامی اندلس میں عبدالرحمٰن الاوسط ایک انتہائی رحم دل اور روادار حکمران تھا۔ اسی عہد میں بہ تعداد کثیر نصرانی روز بروز حلقہ بگوش اسلام ہو رہے تھے۔ اس پر پادری سیخ پا ہوئے۔ ان کو سخت غصہ آیا اور رنج ہوا۔ لہٰذا امیر عبدالرحمٰن کی رواداری و نرم دلی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے عیسائیوں نے منظم طریق سے شتم رسول (ﷺ) کی تحریک کا آغاز کیا۔ اس بارے میں ایک مشہور مورخ و مبصر ”لین پول“ بالوضاحت لکھتا ہے: ”اندلس میں عیسائیوں کو اپنے مذہبی رسوم آزادی سے ادا کرنے کی جو رعایت حاصل تھیں، یہاں ان کی کج رو فطرت کے باعث متضاد نتیجہ برآمد ہوا۔ اندلسی کلیساؤں کے پادری اپنے گزشتہ مذہبی اقتدار کی بحالی کے خواہاں تھے، لیکن دولت اسلامیہ کی فراخدلانہ و روادارانہ روش سے وہ اپنے پیروکاروں کو برانگیختہ و برافروختہ کرنے کے لیے کوئی فعال کردار ادا نہیں کر پا رہے تھے۔ لہٰذا پادریوں نے

صفحہ ۱۱۵

اس بارے میں طویل سوچ بچار کے بعد ایک نیا فکر و عقیدہ تخلیق کیا۔ اس کا نچوڑ یہ تھا کہ مذہب کی اصل روح اور یسوع مسیح کی حقیقی منشا تکلیفیں اٹھانے میں مضمر ہے۔ لہٰذا ناگزیر ہے کہ اسلامی حکمرانوں کو مشتعل کر کے گوشت و پوست اور انسانی جسم کو اذیت پہنچائی جائے تاکہ تزکیہ روح ہو سکے“۔

اس انسانیت سوز تحریک کا بانی‘ قرطبہ کا ایک راہب ’اولو جینس‘ تھا۔ یہ اپنے راہبانہ طرز زندگی کی وجہ سے اپنے ہم مذہبوں میں نگاہِ عقیدت سے دیکھا جاتا تھا۔ اس کی متواتر کوشش سے چند غالی عیسائیوں اور مسیحی نوجوانوں میں یہ تحریک پنپ اٹھی اور رفتہ رفتہ اس نے خوب زور پکڑا۔ اس عقیدہ کی رو سے طے پایا کہ وہ اپنی روح کو پاک کرنے کے لئے دین اسلام اور پیغمبر اسلام (ﷺ) پر سبّ و شتم کریں۔

اسلامی قانون و حکومت میں شاتم الرسول (ﷺ) کی سزا قتل ہے۔ گویا تصوّر یہ دیا گیا تھا کہ عیسائیت کے پیروکار نوجوان اپنے پیغمبر‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تتبّع میں اپنی جان کو قربان کریں گے اور خداوند یسوع مسیح کے منظورِ نظر ٹھہر جائیں گے۔

بتایا جاتا ہے کہ شاتمِ رسول (ﷺ) کی یہ تحریک امیر عبدالرحمٰن الاوسط کے عہد ۸۵۰ء میں شروع ہوئی اور اس کے فرزند و جانشین امیر محمد بن عبدالرحمٰن کے دور ۸۶۰ء میں اپنے انجام کو پہنچی۔ دونوں باپ بیٹے نے گستاخِ رسول (ﷺ) کی جسارت کرنے والوں کو ہمیشہ موت کے گھاٹ اتارا۔ دس گیارہ سال کے عرصے میں بہت سے شاتمانِ رسول (ﷺ) کو واصل فی النار کیا گیا۔ ہیرلیور مور اور این میری شمل نے تعداد بتائے بغیر ان واقعات کا تذکرہ کیا ہے‘ جبکہ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں شاتمِ رسول (ﷺ) کی پاداش میں ترپن (۵۳) عیسائی افراد کے

صفحہ ۱۱۶

قتل کیے جانے کا ذکر مندرج ہے۔ اسٹیفن لین پول کے بقول ۱۸۵۱ء کے موسم گرما کے صرف دو مہینے سے بھی کم مدت کے اندر گیارہ (۱۱) گستاخانِ نبی (ﷺ) کو ہلاک کیا گیا تھا۔ ان میں مندرجہ ذیل بد بخت بھی موجود ہیں:

یولوجیس: اندلس میں چلائی جانے والی تحریک شاتمِ رسول (ﷺ) کا بانی اور عیسائی پادری تھا۔ جس نے ۸۵۰ میں سرکار مدینہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی سرعام بے ادبی کرنے کی تحریک کا آغاز کیا۔ ۸۵۹ میں بالآخر اس کا سر قلم ہوا اور تب کہیں جا کر اس رسوائے عالم تحریک نے دم توڑا۔

فلورا: یہ قرطبہ کی ایک حسین عیسائی دوشیزہ تھی۔ اس نے گستاخی رسالت کی تحریک میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کا باپ مسلمان اور ماں عیسائی تھی۔ باپ کے وفات پا جانے پر ماں نے عیسائیت کے اصولوں کے مطابق اسے تعلیم دلائی اور متعصبانہ تربیت کی۔ پادری یولوجیس اس کے عشق میں مبتلا تھا۔ فلورا کو جب ۲۴ نومبر ۸۵۱ کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تو اس نے ایک پُر درد مرثیہ بھی کہا۔ میری نامی ایک اور عیسائی لڑکی اس کی ہم مشرب و ہم خیال تھی۔ یہ دونوں، رسول پاک (ﷺ) کی شانِ زیبا میں پے در پے گستاخانہ کلمات بکتی تھیں۔ یہ بھی اپنی انہی بدکاریوں کی وجہ سے جہنم رسید ہوئی۔ یہ آئزک (جس کا آگے ذکر ہوا ہے) کی بہن تھی اور اپنے بھائی کے راستہ پر چل کر انجام کو پہنچی۔

کے حضور بعض بیہودہ کلمات کہے تھے۔ اور از روئے شرع قاضیِ وقت کے حکم سے اپنے منطقی انجام کو پہنچا اور اس کا سر قلم کر دیا گیا۔

دربار میں کاتب کے طور پر نوکری کی۔ ازاں بعد عہد شباب میں ہی دنیا سے کنارہ کش ہو کر حبانوس کی خانقاہ میں گوشہ نشین ہو کے دل میں جوش پیدا ہوا کہ اپنی جان دے اپنے خبیث باطن کا اظہار کیا اور تاجدار انبیا تھی۔ امیر عبدالرحمٰن نے مردود مذکور کی لٹکا دیا جائے اور ایسا طریقہ اختیار کریں کہ اسحاق کو پھانسی دینے کے بعد اس کی لاش یوں کہ سر نیچے اور پاؤں اوپر۔ پھر اس گیا۔ یہ جون ۸۵۱ء کا واقعہ ہے۔

ساتھی تھا، نے ارتکاب گستاخی کیا۔ بتا اور یولوجیس کا شاگرد تھا۔ اسے (ﷺ) کی حرمت و ناموس

راہب (جن میں ایک اسحاق کا میں بھی مقیم رہتا تھا) قاضی کے با اور سانکو وغیرہ سے الفاظ کا اعادہ سبّ و شتم کرنے لگے۔ ان کو بھی گیا۔

نبی کریم رؤف الرحیم (ﷺ) ہو کر آتش دوزخ کا ایندھن بن

صفحہ 117

ہو کر حبانوس کی خانقاہ میں گوشہ نشین ہو گیا۔ متعصب پادریوں کے زیرِ اثر آ کر اس کے دل میں جوش پیدا ہوا کہ اپنی جان دے کر بزرگی حاصل کرے۔ اس نے سرِ عام اپنے خُبثِ باطن کا اظہار کیا اور تاجدارِ مدینہ (ﷺ) کی بارگاہِ ناز میں واہیات بکی تھی۔ امیر عبدالرحمٰن نے مردودِ مذکور کی بابت بطورِ خاص حکم جاری کیا کہ اسے سولی پر لٹکا دیا جائے اور ایسا طریقہ اختیار کریں کہ لوگوں کے لئے عبرت ہو۔ قصہ کوتاہ راہب اسحاق کو پھانسی دینے کے بعد اس کی لاش کئی دن تک لٹکتی رہنے دی گئی اور وہ بھی یوں کہ سر نیچے اور پاؤں اوپر۔ پھر اس ازلی بدبخت کی لاش جلا کر راکھ کو دریا میں بہا دیا گیا۔ یہ جون ۸۵۱ء کا واقعہ ہے۔

سانچو تھا‘ نے ارتکابِ گستاخی کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ امیر عبدالرحمٰن کی فوج میں سپاہی اور یولوجیس کا شاگرد تھا۔ اسے بھی اسلامی دستور کے مطابق پیغمبرِ اسلام (ﷺ) کی حرمت و ناموس میں بکواس کرنے پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

راہب (جن میں ایک اسحاق کا چچا جرمیاس مذکور اور دوسرا حابنوس جو اپنے حجرے میں تنہا مقیم رہتا تھا) قاضی کے پاس آئے اور کہا کہ ہم بھی اپنے دینی بھائیوں اسحاق اور سانکو وغیرہم کے الفاظ کا اعادہ کرتے ہیں اور پیغمبر حسن و جمال (ﷺ) پر سبّ و شتم کرنے لگے۔ ان کو بھی ان کے پیش روؤں کی طرح وادیٔ جہنم میں پہنچا دیا گیا۔

نبی کریم رؤف الرحیم (ﷺ) کی ذات بابرکات سے متعلق بے ادبی کا مرتکب ہو کر آتش دوزخ کا ایندھن بنا۔ اسے قتل کی سزا دی گئی تھی۔

PDF 118

موت مرنے پر اکسا رکھا تھا۔ چنانچہ یہ ملعون و اخبث بھی اپنے مربّی کے قتل کے چار یوم بعد ۲۰۔ جولائی کو حضور سید دوعالم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف زبان دراز کرنے کے باعث قتل کر دیا گیا۔

پاداش میں اسلامی قانون کے تحت ذلت ناک موت سے دوچار ہوا۔

طرح قاضی کی عدالت میں حاضر ہو کر ارادتاً ارتکابِ توہین کیا اور اسے فنا فی النار کیا گیا۔

یہ تھے وہ بدنصیب و خبیث افراد جو آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شانِ اقدس میں گستاخی کے مرتکب ہوئے اور انہیں قتل و مصلوب کر دیا جاتا رہا۔ مسلم مؤرخین نے اس دلآزار باب میں بڑے اختصار سے کام لیا ہے لیکن مسیحی مورخین اسے ہمیشہ بڑھا چڑھا کر بیان کرتے رہے ہیں۔ تاہم لین پول نے بڑی حد تک غیر جانب داری اور انصاف کا مظاہرہ کیا اور لکھا ہے کہ ”ہم اقرار و تسلیم کرتے ہیں کہ مذکورہ مسیحی شہداء راہِ راست سے بھٹکے ہوئے تھے۔ بلاشبہہ انہوں نے اپنی قیمتی جانوں کو مفت ضائع کیا اور جو کچھ کیا فی الواقع بہت بُرا کیا تھا“۔

حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ تحریکِ شاتمتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کج فطرت و خود غرض پادریوں نے شروع کی تھی اور عموماً انہی تک محدود رہی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ زیادہ تر پادری وغیرہم ہی اس جرم میں لقمہ اجل بنے۔ عیسائی اس میں من حیث القوم ملوّث نہ تھے، بلکہ عوامی سطح پر ان کی پذیرائی نہ ہو سکی اور انصاف پرور مسلم حکمرانوں کے سبب سے ہی ان کی ایسی حرکت و سکنات کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا

جاتا رہا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ امیر عبدالر لیے عیسائیوں کی ایک کونسل بٹھانے کا فیصلہ کے مجتہد اعظم کی موجودگی میں یہ فیصلہ ہو شخص اتباع کرے گا، وہ خائن، مجرم اور غا مفتری طبائع نے اس حکم کو درخور اعتنا تحریک کے بانی یولوجیس کی اقتدا میں ”یولوجیس“ سب سے آخر میں امیر محم کے ساتھ ہی شاتمتِ رسول (صلی اللہ ع

یہ بدنام زمانہ تحریک ۸۵۰ء میں شروع ہ میں یولوجیس کو ہلاک کر دیئے جانے کہہ سکتے ہیں کہ حق آیا اور باطل مٹ تحریکِ شاتمتِ رسول (صلی اللہ علیہ و

بعد برصغیر پاک و ہند میں یہ عمل ایک اندلس میں بلاواسطہ توہین رسالت کی احیاء کے نام پر۔ اندلس میں اسلامی ح انجام کو پہنچتے رہے مگر خطہ ہند میں اس مروّجہ قانون کی رو سے فریاد رسی کی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر حملہ آور ہونے والو آریہ سماج تحریک کی بنیاد نے رکھی۔ اسے بعد میں سوامی دیانن مقاصد زہر میں بجھے ہوئے تھے۔ اس

صفحہ ۱۱۹

جاتا رہا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ امیر عبدالرحمٰن نے اس شیطانی تحریک کو ختم کرنے کے لئے عیسائیوں کی ایک کونسل بٹھانے کا فیصلہ کیا۔ جس نے اپنے صدر نشین اور اشبیلہ کے مجتہد اعظم کی موجودگی میں یہ فیصلہ دیا کہ آئندہ اس راستے پر چلنے والوں کی جو شخص اتباع کرے گا، وہ خائن، مجرم اور خارج از مذہب سمجھا جائے گا۔ لیکن مفسد و مفتری طبائع نے اس حکم کو درخور اعتنا نہیں سمجھا تھا اور وہ اپنے سرغنہ اور اس گھٹیا تحریک کے بانی یولوجیس کی اقتدا میں اپنی روش پر ڈٹے رہے۔ اول الذکر ”یولوجیس“ سب سے آخر میں امیر محمد بن عبدالرحمٰن کے عہد میں قتل ہوا اور اس کے ساتھ ہی شتمتِ رسول (ﷺ) کی یہ مکروہ تحریک ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئی۔ یہ بدنام زمانہ تحریک ۸۵۰ء میں شروع ہوئی اور لیور مور کے بیان کے مطابق ۸۵۹ء میں یولوجیس کو ہلاک کر دیئے جانے پر اختتام کو پہنچی۔ قرآنی آہنگ میں اسے یوں کہہ سکتے ہیں کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک باطل مٹ جانے کے لیئے ہے۔

تحریک شتمتِ رسول (ﷺ) کے اس تجربہ کے قریباً ایک ہزار سال بعد برصغیر پاک و ہند میں یہ عمل ایک اور انداز سے دہرایا گیا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اندلس میں بلاواسطہ توہینِ رسالت کی گئی اور ہندوستان میں بالواسطہ یعنی ہندومت کے احیاء کے نام پر۔ اندلس میں اسلامی عدالتوں کے ذریعہ شاتمانِ نبی (ﷺ) اپنے انجام کو پہنچتے رہے مگر خطۂ ہند میں اس وقت مکمل طور پر انگریز کی عملداری تھی۔ لہٰذا مروّجہ قانون کی رو سے فریاد رسی کی توقع عبث تھی اور اس پر مستزاد یہ کہ ناموسِ نبی (ﷺ) پر حملہ آور ہونے والوں کو باقاعدہ فرنگیوں کی اشیرباد حاصل تھی۔

آریہ سماج تحریک کی بنیاد کاٹھیاواڑ (گجرات) کے ایک برہمن ”مول شنکر“ نے رکھی۔ اسے بعد میں سوامی دیانند سرسوتی کہا جانے لگا۔ شخصِ مذکور کے تمام تحریکی مقاصد زہر میں بجھے ہوئے تھے۔ اس کے بطن سے ہی شُدھی اور سنگٹھن دو اور

صفحہ ۱۲۰

تحریکوں نے جنم لیا۔ شُدھی کا مقصد یہ تھا کہ پاک و ہند کے مسلمانوں کو تبلیغ و تحریص سے دوبارہ ہندو بنا کر شدھ (پاک) کیا جائے۔ جہاں یہ ممکن نہ ہو سکے وہاں سنگٹھن کے ذریعہ یعنی بزورِ طاقت تبدیلیٔ مذہب کو یقینی بنا دیں یا پھر ان کو نیست و نابود کر دیا جائے۔ آریہ سماجی دینِ اسلام پر ناروا حملے کرنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے تھے۔ توہینِ رسول (ﷺ) ان کا وتیرہ بن گیا تھا۔ ہر صبح نئے فتنے جگا جاتی اور ہر شام اہانت کا کوئی نہ کوئی اندوہناک باب رقم کرتی۔ یہ ایک طویل داستان ہے۔ اس کا حرف حرف دلخراش اور ایک ایک واقعہ زہرہ گداز ہے۔ آریہ سماجی ہندوؤں کی تحریریں اور تقریریں گالی گلوچ اور سبّ و شتم سے بھری ہوئی تھیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ جب ہندوستان کے طول و عرض میں آریہ سماجیوں نے سرکارِ ہر عالم (ﷺ) کی شان میں یاوہ گوئیوں کا سلسلہ شروع کیا تو مسلمانانِ ہند کی طرف سے کیا ردِّ عمل سامنے آیا۔ ملتِ اسلامیہ کے پیر و جوان زخم شمار کرتے رہے یا فکر و درماں بھی کیا؟ مصلحت کوشی مصلحت پسندی کی روش اختیار کر لی کہ صداقتوں کے امین بنے؟ قلم کس نے پکڑا اور خنجر کس کس کے ہاتھ میں تھا؟ وہ کون خوش قسمت تھے جن کے مقدس لہو کے قطرے پوری قوم کو اس تلخ امتحان میں سرخرو کر گئے؟ سچ تو یہ ہے کہ نذرانہ جان پیش کرنے والوں کا تعلق دبستانِ علم سے نہیں مکتب جنوں سے تھا۔ چراغِ محبت انہی کے سینوں میں روشن ہوتا ہے جو دیوانے ہوں۔ عشق ہر امتحان میں ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ ایمان، عشقِ رسول (ﷺ) ہی کا تو نام ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ گواہ ہے کہ گستاخِ مصطفیٰ (ﷺ) اپنی انگلی اٹھا بھی نہ پاتا کہ شمعِ رسالت کا کوئی نہ کوئی پروانہ اس کو کاٹ کر رکھ دیتا۔ سرفروش مجاہد اپنے خنجروں کی پیاس بجھانے کو آگے بڑھتے رہے۔ یہ اسلامی غیرت اور اپنے آقا و مولا (ﷺ) سے بے پایاں عشق و محبت کی خوبصورت روداد ہے۔

ایک گستاخ ہندو سوامی شردھانند کو دہلی میں نوش فرمایا تھا۔

میں راجپال مردود کا کام تمام کیا جو کہ ایک کے مقام و مرتبہ پر حرف گیری کر کے غازی مذکور ۳۰۔ اکتوبر کی درمیانی رات الاپتے ہوئے تختۂ دار پر جھول گئے تھے۔

عقیدت کا آغاز ۲۰۔ ستمبر ۱۹۳۴ء کو کر جوڈیشل کمشنر کی عدالت میں نتھو رام کی خود ۱۹۔ مارچ ۱۹۳۵ء کی ایک صبح پھانسی (ﷺ) کے قدوم میمنت لزوم جاودانہ !

حُریت نے ایک دہن دراز ہندو پلہورام موت کا مزہ چکھا دیا۔ مقتول مردود اہانت مارچ ۱۹۳۵ء بروز بدھ یہ اکیس سالہ نو جوان نے اپنے ہونٹوں پر درود سلام رسولِ عربی (ﷺ) کی حرمت

صفحہ ۱۲۱

ایک گستاخ ہندو سوامی شردھانند کو دہلی میں کیفرِ کردار تک پہنچایا اور خود جامِ شہادت نوش فرمایا تھا۔

میں راجپال مردود کا کام تمام کیا جو کہ ایک مدت سے سرکارِ رسالت مآب (ﷺ) کے مقام و مرتبہ پر حرف گیری کر کے مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کر رہا تھا۔ غازی مذکور ۳۰۔ اکتوبر کی درمیانی رات میانوالی جیل میں درود و سلام کا ملکوتی نغمہ الاپتے ہوئے تختہ دار پر جھول گئے تھے۔

عقیدت کا آغاز ۲۰۔ ستمبر ۱۹۳۲ کو کراچی سے ہوا تھا۔ جب انہوں نے ایڈیشنل جوڈیشل کمشنر کی عدالت میں نتھو رام کی گندی زبان کو ہمیشہ کے لئے بند کر دیا تھا اور خود ۱۹۔ مارچ ۱۹۳۵ کی ایک صبح پھانسی کے پھندے کو چوم کر اپنے آقا و مولا (ﷺ) کے قدومِ میمنت لزوم سے لپٹ گئے۔ صلۂ شہید کیا ہے؟ تب و تابِ جاودانہ!

حُریت نے ایک دہن دراز ہندو پلہو پلید سنار کو مقبرہ بابا بلھے شاہؒ کے بالکل قریب موت کا مزہ چکھا دیا۔ مقتول مردود اہانتِ رسول (ﷺ) کا مرتکب ہو چکا تھا۔ ۶۔ مارچ ۱۹۳۵ بروز بدھ یہ اکیس سالہ نوجوان آنکھوں میں مقدس چمک، دل میں تصویر جاناں اور اپنے ہونٹوں پر درود سلام کے گلدستے لئے دار و رسن کی رسم نبھا رہا تھا۔ رسولِ عربی (ﷺ) کی حرمت و تقدس کا یہ غیور محافظ قصور میں مدفون ہے۔

صفحہ ۱۴۲

ڈیوٹی نبھانے والا یہ مسلمان سنتری ایک ہندو ڈوگرے سپاہی چرن داس کو جہنم میں جھونک کر عشق و وفا کے امتحان میں کامیاب ٹھہر گیا اور ۱۲ اپریل ۱۹۳۸ کو شہادت سے سرفراز ہوا۔ مدراس ریلوے اسٹیشن سے تین میل دور واقع ایک بڑے قبرستان میں حضرت دستگیر سوامی کے مقبرہ اور مسجد کے درمیان ذرا بائیں جانب سطح زمین سے کافی اونچے چبوترہ پر ان کی آخری آرام گاہ آج بھی ثبوت وفا کے طور پر موجود ہے۔

میں ایک نوجوان عاشقِ رسول (ﷺ) قصور سے آیا اور اس نے غازی و شہید کا مقام و مرتبہ پایا تھا۔ انہوں نے ایک بدقسمت و مردود ازلی چنچل سنگھ کو موت کے گھاٹ اتار کر عاشقانِ مصطفیٰ (ﷺ) میں اپنا نام لکھوایا اور بارگاہِ نبوی (ﷺ) سے انعام پایا تھا۔

(بھارت) کے قصبہ نارنوند میں شہبازِ عشق اپنے شکار پر جھپٹا۔ وٹنری ڈاکٹر رام گوپال اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا۔ ۲۴۔ ستمبر ۱۹۳۷ء بروز جمعتہ المبارک، سرکارِ خیرالانام (ﷺ) کا یہ جانثار بوسۂ نعلینِ پاک سے سرفراز ہوا۔ ڈاکٹر مذکور نے امام الانبیاء (ﷺ) کی حرمت و تقدیس کا تمسخر اڑایا تھا۔

کے اعتبار سے دونوں ترکھان، بلحاظِ عمر نوجوان تھے۔ شمعِ رسالت کے یہ پروانے غازی علم الدین شہیدؒ کے عزیز بھی بتائے جاتے ہیں۔ ۷ مئی ۱۹۳۱ء کی دوپہر گستاخِ رسول ہندو پبلشر بھولا ناتھ سین کو موت سے دوچار کیا اور یوں اپنی وفاؤں کا زریں باب رقم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ ۹۔ مارچ ۱۹۳۲ کو مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے اور کلکتہ میں مدفون ہیں۔

شہیدؒ (بھوپال) غازی غلام محمد شہیدؒ (جبلپو وفا کی کتاب ہی کا ایک حسین باب ہیں اندلس و ہند میں مندرجہ بالا واق اور عوام روز اول ہی سے اس بارے می بالخصوص آواز آج کل عامتہ الناس کو س ”یہ مسئلہ (قتلِ گستاخِ رسول) چ قرآن و حدیث میں کوئی صریح نص موجو عمل سے اس کی تصدیق ملتی ہے۔ مزی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ پوری اسلامی تاری حکم کی خلاف ورزی کرتے رہے ہیں ست فہرست میں نعوذ باللہ خود رسول (ﷺ) ب شامل ہیں“۔

حقیقت یہ ہے کہ اندلس و (ﷺ) کی سزائے موت پر متواف مصدقہ اسلامی مواد کا ایک ذخیرہ موجود ہ سب علماء دین نے شاتمانِ رسول (ﷺ صادر کیے اور جانثارانِ مصطفیٰ ﷺ ک بنایا۔ حزب الاحناف (لاہور) سے مر شیرانوالہ گیٹ اور دیگر مکاتبِ فکر واب ممکن ہے کہ اس وقت بھی شاید ایسا ہ

صفحہ ۱۲۳

شہیدؒ (بھوپال) غازی غلام محمد شہیدؒ (جہلم) اور غازی اللہ دتہ شہیدؒ (کنجاہ / گجرات) بھی وفا کی کتاب ہی کا ایک حسین باب ہیں۔

اندلس و ہند میں مندرجہ بالا واقعات اس امر پر شاہد ہیں کہ مسلم علماء‘ سلاطین اور عوام روز اول ہی سے اس بارے میں کس قدر حساس ہیں۔ اس کے باوجود ایک نامانوس آواز آج کل عامتہ الناس کو الجھا اور چونکا رہی ہے:

”یہ مسئلہ (قتل گستاخ رسول) دین میں ایک ایسا اضافہ ہے جس کے لئے نہ قرآن و حدیث میں کوئی صریح نص موجود ہے اور نہ رسول اللہ (ﷺ) کے عمل سے اس کی تصدیق ملتی ہے۔ مزید یہ کہ اس مسئلہ کو بجنسہ ماننے کی صورت میں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ پوری اسلامی تاریخ میں تمام علماء اور سلاطین مسلسل اس شرعی حکم کی خلاف ورزی کرتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ خلاف ورزی کرنے والوں کی اس لمبی فہرست میں نعوذ باللہ خود رسول (ﷺ) اور اصحاب رسول (ﷺ) بھی شامل ہیں“۔

حقیقت یہ ہے کہ اندلس میں قاضیوں کی عدالت سے گستاخ رسول (ﷺ) کی سزائے موت پر متواتر عمل درآمد ہوتا رہا۔ کیونکہ اس بارے میں مصدقہ اسلامی مواد کا ایک ذخیرہ موجود ہے‘ اور برصغیر پاک و ہند میں انگریزی تسلط کے سبب علماء دین نے شاتمان رسول (ﷺ) کے قتل سے متعلق باقاعدہ فتوے صادر کئے اور جانثاران مصطفیٰ ﷺ نے اپنی جانوں پر کھیل کر اس کا نفوذ یقینی بنایا۔ حزب الاحناف (لاہور) سے موقع بہ موقع ایسے کئی ایک فتاویٰ یادگار ہیں۔ شیرانوالہ گیٹ اور دیگر مکاتب فکر و مسالک کے علماء ان کی تائید میں تھے۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ اس وقت بھی شاید ایسا کوئی ”مرد وجیہ“ موجود ہو‘ جسے غیرت و حمیت کا

صفحہ ۱۲۴

اظہار اور جاں سپاری و فدا کاری کا کردار پسند نہ تھا۔ امرِ صادق یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کی پوری تاریخ میں اس شرعی حکم کی کبھی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ یہ تو دانشِ افرنگی کا غبار ہے کہ عہدِ حاضر میں بعض مسلمان بھی دین کے اس اساسی و مطلق حکم کو بدلنے اور کچلنے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔

اس باب میں کئی نظائر ہاتھ لگتے اور وجہِ بصائر ٹھہرتے ہیں۔

وصولی پر مامور ہو) کے بارے میں قتل کا فتویٰ دیا تھا، جس نے عشر وصول کرتے وقت ایک شخص سے کہا کہ عشر تو پہلے ادا کر دو اس کے بعد شکایت کرنی ہو تو رسول اللہ (ﷺ) سے شکایت کر دینا۔ میں نے اگر عشر طلب کیا ہے تو اس لیئے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے طلب کیا۔ اگر میں جاہل ہوں تو (معاذ اللہ) رسول اللہ (ﷺ) بھی جاہل تھے۔ کیونکہ انہوں نے بھی عشر طلب کیا تھا۔

جس نے ایک مناظرے کے دوران نبی اکرم (ﷺ) کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے رسول اللہ (ﷺ) کو یتیم (حقارتاً) حضرت علیؓ کا خسر کہا تھا، اور اس خیال کا اظہار بھی کیا تھا کہ آپ ﷺ کا زہد اختیاری نہیں بلکہ اضطراری تھا۔ اگر آپ ﷺ کو دنیوی نعمتیں میسر ہوتیں تو آپ ﷺ ان کو استعمال کرتے۔ (مطلب یہ کہ پھر اس طرح کا زہد نہ ہوتا (نعوذ باللہ)

تھا۔ (یہ بہت سے علوم میں ماہر ایک شاعر تھا) اس پر الزام تھا کہ اس نے اپنے بہت سے اشعار میں سرکارِ ہر عالم (ﷺ) اور دیگر انبیاء کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اسے قاضی یحییٰ بن عمر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس وقت عدالت میں دوسرے بہت سے نامور فقہا تھے۔ قاضی نے اس کی پھانسی کا پیٹ میں چھری گھونپ کر ہلاک کر دیا گیا۔

قریش کو برا بھلا کہا۔ یہ رسول اللہ (ﷺ) کی حضور اقدس (ﷺ) کی ذات بابرکات کے سامنے لایا گیا۔ اس نے علماء و فقہاء کو جمع کر اس کے قتل کا فتویٰ صادر کیا۔ اس پر خلیفہ نے کہا کی اہانت ہی کافی تھی۔ اس دشمنِ خدا نے تو رسول لیا ہے۔ چنانچہ اس کا سر قلم کر دیا گیا۔

اسلام کی تمام تر ترقی محض رسولِ پاک (ﷺ) وگرنہ اس میں ہرگز تائیدِ الٰہی یا دین کی حقانیت الدین ایوبی کے حکم سے اس کی سرعام گردن کاٹ

ان مستند تاریخی مثالوں اور حوالوں سے اللہ (ﷺ) کے زمانہ سے لے کر اب تک عرصہ میں بعض استثنائی افراد ضرور قتل کیئے گئے مثلاً نقضِ عہد (غدر اور بغاوت) کا جرم جس اس قسم کے قتل عام کا نہ کبھی کسی عالم نے پر عملدرآمد کیا"۔

آپ خود فیصلہ کیجئے کہ کیا یہ ہے کہ ایسی باتیں اور گستاخیاں

صفحہ ۱۲۵

بہت سے نامور فقہا تھے۔ قاضی نے اس کی پھانسی اور قتل کا حکم دیا۔ چنانچہ اس کے پیٹ میں چھری گھونپ کر ہلاک کر دیا گیا۔

قریش کو برا بھلا کہا۔ یہ رسول اللہ (ﷺ) کی نسبت سے تھا۔ اور اس سلسلے میں حضور اقدس (ﷺ) کی ذات بابرکات کے متعلق بھی ہرزہ سرائی کی۔ وہ ہادی کے سامنے لایا گیا۔ اس نے علماء و فقہاء کو جمع کر کے ان سے فتویٰ چاہا۔ انہوں نے اس کے قتل کا فتویٰ صادر کیا۔ اس پر خلیفہ نے کہا کہ اس کی سزا کے لئے یوں قریش کی اہانت ہی کافی تھی۔ اس دشمن خدا نے تو رسول پاک (ﷺ) کو بھی شامل کر لیا ہے۔ چنانچہ اس کا سر قلم کر دیا گیا۔

اسلام کی تمام تر ترقی محض رسول پاک (ﷺ) کی ذاتی کوششوں کا ثمر ہے۔ وگرنہ اس میں ہرگز تائید الٰہی یا دین کی حقانیت شامل نہ تھی‘ تو اس پر سلطان صلاح الدین ایوبی کے حکم سے اس کی سرعام گردن کاٹ دی گئی تھی۔

ان مستند تاریخی مثالوں اور حوالوں کے باوجود ایک شخص یہ کہتا ہے ”رسول اللہ (ﷺ) کے زمانہ سے لے کر اب تک کبھی اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس عرصہ میں بعض استثنائی افراد ضرور قتل کیے گئے ہیں‘ جن کے ساتھ دوسرے اسباب مثلاً نقضِ عہد (غدر اور بغاوت) کا جرم شامل تھا۔ مگر مجرد لفظی ایذا رسانی کی بنیاد پر اس قسم کے قتلِ عام کا نہ کبھی کسی عالم نے نامزد فتویٰ دیا اور نہ کبھی کسی حاکم نے اس پر عملدرآمد کیا“۔

آپ خود فیصلہ کیجیے کہ کیا اس دعویٰ کی بنیاد مبنی بر صداقت ہے؟ صداقت تو یہ ہے کہ ایسی باتیں اور گھاتیں جھوٹ کا پلندہ اور دجل و فریب کا پھندا ہیں۔ یہ ایک

صفحہ ١٢٦
دام ہمرنگ زمیں ہے جو بظاہر بڑا حسیں ہے۔

رشدی کا پس منظر

عہد حال میں رسول پاک (ﷺ) کی حیات طیبہ اور دین اسلام پر سب سے بڑا حملہ ”شیطانی آیات“ ہے۔ مجہول النسب سلمان رشدی ۱۹۴۷ء میں بمبئی کے ایک مادیت گزیدہ گھرانے میں پیدا ہوا۔ کچھ عرصہ بعد اپنے والدین کے ہمراہ کراچی آگیا تھا۔ لیکن دوبارہ بمبئی چلا گیا۔ اس کے بہت سے رشتہ دار اب بھی پاکستان میں ہیں۔ ان میں جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں وفاقی وزیر میجر جنرل (ریٹائرڈ) شاہد حامد‘ بالخصوص قابل ذکر ہے۔

سلمان رشدی کیمرج یونیورسٹی میں بھی زیر تعلیم رہا اور تاریخ کے مضمون میں ڈگری لی۔ اس کا کہنا ہے کہ میں نے اسلام کا مطالعہ کیمرج میں زمانہ طالب علمی کے دوران کیا اور میں نے اسی وقت ارادہ کر لیا تھا کہ اسلامی تاریخ کو سامنے رکھ کر ایک ناول لکھوں گا، جس کے کردار علامتی ہوں گے۔

ملعون رشدی تمام تر کوششوں کے باوجود اپنے تئیں ادبی حلقوں میں نہ منوا سکا تو اس نے لیڈر رائٹنگ کا پیشہ اختیار کر لیا‘ اور ساتھ ساتھ اخبارات میں بھی لکھنے لگا۔ تاہم اس کے کرائمز‘ مڈ نائٹ چلڈرن اور شیم کو سنسنی خیزی اور بے ہودہ گوئی کے سبب پڑھا گیا۔ فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ مغرب کی اس سے بڑھ کر کیا بدقسمتی ہوگی کہ سلمان رشدی ایسا گنوار‘ برطانیہ کے معروف ناول نگاروں میں سے ایک ہے۔

شیطان رشدی اب اپنی انگریز بیوی، میریانے وگنس (Marianne Wiggins) کے ساتھ لندن میں رہتا ہے اور روپوشی کی زندگی گزار

رہا ہے۔ ۲۶ ستمبر ۱۹۸۸ء کو برطان اس کی ایک بدنام زمانہ کتاب تھی۔ یہ ۵۴۷ صفحات پر مشتمل مردود رشدی نے اس پیغمبر اسلام (ﷺ) کے اس میں سید الشہدا حضرت حمز میں درج کر دیئے گئے ہیں لکھا گیا ہے۔ خاکم بدہن‘ جو کہ ”محمد“ کو بگاڑ کر بنایا گیا ہے خبث باطن کے تحت آپ بھی ان میں سے ایک ہے۔ ”شیطان کی شیطانی سازش ہے۔ چونکہ یہ سا ذرائع ابلاغ ابھی تک اس ک فٹ نے سلمان رشدی کے والے جاہل ہیں۔ اس بارے ”ہمارا لکھنے اور بولنے سازش سمجھتا ہے۔ اس کا ہے، جس نے سلمان رشدی سطحی بات ہے جو سراسر بے مصنف کا ایک انفرادی فعل

صفحہ ۱۲۷

رہا ہے۔ ۲۶ ستمبر ۱۹۸۸ء کو برطانوی پبلشر وائکنگ پریس (Viking Press) نے اس کی ایک بدنام زمانہ کتاب شیطانی آیات (The Satanic Verses) ریلیز کی تھی۔ یہ ۵۴۷ صفحات پر مشتمل ایک ناپاک دفتر ہے۔

مردود رشدی نے اس رسالے کا نام ہی گستاخانہ تجویز کیا۔ وہ دین اسلام اور پیغمبر اسلام (ﷺ) کے خلاف ایک انتہائی بے ہودہ اور فحش قسم کا ناول ہے۔ اس میں سید الشہدا حضرت حمزہؓ اور ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کے نام تو اصل حالت میں درج کر دیئے گئے ہیں جب کہ ناول میں اساسی کردار کو محانڈ (Mahound) لکھا گیا ہے۔ خاکم بدہن‘ جو کہ نبی آخر الزماں (ﷺ) کے نام نامی اسم گرامی ”محمد“ کو بگاڑ کر بنایا گیا ہے۔ قدیم دور میں مستشرقین اور یورپ کے مسیحی علماء نے خبث باطن کے تحت آپ ﷺ کے اسم مبارک کو طرح طرح سے بگاڑا تھا؟ یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔

”شیطان کی شیطانی آیات“ اسلام اور پیروکاران اسلام کے خلاف ایک واضح سازش ہے۔ چونکہ یہ سازش ”بڑی طاقتوں“ کے تخیل کا عملی اظہار تھا‘ اسلیئے مغربی ذرائع ابلاغ ابھی تک اس کی حمایت میں ہیں۔ برطانیہ کی لیبر پارٹی کے ایک لیڈر مائیکل فٹ نے سلمان رشدی کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر اعتراض کرنے والے جاہل ہیں۔ اس بارے میں ایک صاحب رقم طراز ہیں:

”ہمارا لکھنے اور بولنے والا طبقہ عام طور سلمان رشدی کو ”اعداء اسلام“ کی سازش سمجھتا ہے۔ اس کا خیال یہ ہے کہ یہ اسلام کے خلاف اہل مغرب کی سازش ہے‘ جس نے سلمان رشدی کے قصہ کی صورت اختیار کی۔ میرے نزدیک یہ محض سطحی بات ہے جو سراسر بے بنیاد ہے۔ ”حقیقت یہ ہے کہ سلمان رشدی کی کتاب‘ مصنف کا ایک انفرادی فعل ہے نہ کہ مغربی ملکوں کا کوئی اجتماعی منصوبہ۔ موجودہ زمانہ کا

صفحہ ۳۸

نام نہاد مسلم پریس اس بات کو بہت اچھالتا رہا ہے کہ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد امریکہ اور اہل مغرب نے اسلام کو اپنے دشمن کے طور پر دریافت کیا ہے۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے سے پہلے مغرب جس طرح کمیونزم کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے تھا‘ اسی طرح اب اس نے اسلام کو اپنے نشانہ پر رکھ لیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس کو اپنے وجود کیلئے ایک عدوّ درکار تھا‘ اشتراکی عدوّ کے خاتمہ کے بعد اس نے اسلامی عدوّ کو ایجاد کر لیا ہے تاکہ عالمی سطح پر وہ اپنے بقا کی جدوجہد جاری رکھ سکے۔ مغربی تہذیب مقابلہ کے اصول پر قائم ہے‘ اور مقابلہ آرائی کیلئے ایک حریف لازمی طور پر ضروری ہوتا ہے۔ مگر یہ تمام باتیں محض اوہام اور مفروضات کا نتیجہ ہیں۔“

طرفہ تماشہ یہ کہ خود موصوف نے اپنی ایک کتاب کے کئی صفحے یہ ثابت کرنے میں سیاہ کر دیے ہیں کہ اسلام کے خلاف عیسائیوں اور یہودیوں کے یہ ہتھکنڈے بہت پرانے ہیں۔

پروفیسر ہٹی (Philip K. Hitti) پرنسٹن یونیورسٹی میں سامی ادب کے استاد اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کا ایک رسالہ اسلام اور مغرب ۱۹۴۳ء میں امریکہ سے شائع ہوا تھا۔ اپنے موضوع اور اسلوب کے اعتبار سے یہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ رسالہ مذکور کے دو حصے اور ۱۹۰ صفحات ہیں۔ پہلے حصہ کے ابتدائی تین ابواب میں اسلام کا بلحاظ مذہب‘ ریاست اور کلچر تعارف کروایا گیا ہے۔ ”اسلام مغربی لٹریچر“ اس کا چوتھا باب ہے۔ اس کے مطابق دین اسلام کے خلاف اہل مغرب کی بعض سازشی کڑیاں مندرجہ ذیل ہیں:

قرونِ وسطیٰ کے مغربی لٹریچر میں (نعوذ باللہ) پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کو عام طور پر جعل ساز اور نقلی رسول کی حیثیت سے متعارف کرایا جاتا تھا۔ (ان کے

صفحہ ۱۲۹

نزدیک) قرآن ایک بناوٹی کتاب اور اسلام ایک نفس پرستانہ طریق حیات تھا۔ زرتشت، بدھ ازم اور دوسرے کم ترقی یافتہ مذاہب سے کبھی اس طرح نفرت نہیں کی گئی اور نہ تحقیر روا رکھی گئی۔ دراصل وہ قرونِ وسطیٰ کے مغرب کیلئے کوئی خطرہ نہیں تھے۔ اور نہ انہوں نے مقابلہ میں آنے کی کبھی کوشش کی۔ اس لئے یہ بنیادی طور پر خوف، دشمنی اور تعصّب تھا، جس نے اسلام کے بارے میں مغرب کے نقطۂ نظر کو متاثر کیا۔ اسلام کا عقیدہ ایک دشمن عقیدہ تھا۔ اس لئے اگر وہ غلط نہ ہو تو بھی شبہہ کی نگاہ سے دیکھا جانا ضروری تھا۔

قرونِ وسطیٰ اور اس کے بعد کی مسیحیت نے جس تحریری یا زبانی ذریعے سے اسلام کے بارے میں اپنا تصوّر قائم کیا، وہی تھا جو صلیبی جنگوں کے دوران وجود میں آیا یا ان ممالک کی معرفت ملا، جن سے اسلام کی لڑائی پیش آ چکی تھی۔ مسیحی علماء اور پادریوں نے اسی کے ذریعہ سے اسلام کی تصویر بنائی۔ اسلام کی اس یورپی تصویر اور اس کی حقیقی اسلامی تصویر میں کوئی مشابہت محض اتفاقی ہے۔

شام کے مشہور عیسائی عالم، سینٹ جان آف دمشق (۷۴۹ء) کو بازنطینی روایات کا بانی کہا جا سکتا ہے۔ یہ عہدِ جوانی میں بنوامیہ کے دربار میں حاضر ہوا۔ عربی، سریانی اور یونانی زبانیں جانتا تھا۔ اس نے اپنی کتاب میں اسلام کو ایک بت پرستانہ مذہب کے طور پر پیش کیا۔ (نقلِ کفر کفر نباشد، اس نے رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسلمانوں کا بُت کہا) اس کے بیان کی رو سے، حضرت محمد ﷺ نے ایک آرین راہب کی سرپرستی میں بائبل کی مدد سے اپنے اصولِ دین وضع کیے۔ یہ اسلام کے متعلق عیسائیت کے قدیم اور عام تصور کی ایک جھلک ہے۔

بازنطینیوں میں ”تھیوفین“ (Theophane) وہ پہلا شخص ہے، جس نے حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا باقاعدہ ذکر کیا۔ یہ ایک خانقاہ کے بانی

صفحہ ۱۳۰

اور مورخ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ۷۵۸ء تا ۸۱۸ کے عہد سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مشرقی باشندوں کا حکمران اور (نعوذ باللہ) ایک بناوٹی رسول لکھا ہے۔

عبدالمسیح بن اسحاق الکندی مشرق کا ایک عیسائی تھا۔ اسے سپین میں ایک سید زادہ مسلمان مبلغ نے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اس واقعہ نے عرب سے اس عیسائی کو اکسایا کہ وہ عیسائیت کا دفاع کرے اور اسلام پر حملہ آور ہو۔ الکندی مذکور نے رسول عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ایک قاتل وغیرہ کی حیثیت سے پیش کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ قرآن پاک محض مصنوعی مہملات کا مجموعہ ہے اور دین اسلام کو فریب، تشدد اور نفس پرستانہ تعلیمات کی چاٹ دلا کر پھیلایا گیا۔

قرطبہ کے ایک بشپ ایولوگیس (Eulogius) نے اس مواد میں زہر ناک اضافہ کیا۔ بارہویں اور تیرہویں صدی میں صلیبی جنگوں کے ذریعہ اسلام کو مغلوب کرنے کی کوشش جب ناکام ہو گئی تو مسیحی حلقوں میں ایک نیا رجحان ابھرا کہ اسلام کو تبلیغ و تحریص کے ذریعہ تباہ کیا جائے۔ لہٰذا اس کے لئے مشنری تحریک وجود میں آئی۔ اس دور کی سب سے بڑی مشنری تحریک ایک اسپینی تحریک تھی، جو ریمنڈیل نے شروع کی۔ اس کا زمانہ ۱۲۳۵ء - ۱۳۱۵ ہے۔ مگر اس کی مشنری سرگرمیاں بُری طرح ناکام ہو گئیں۔ بالآخر اس نے اسلام پر تابڑ توڑ حملے کرنا شروع کر دیے۔ وہ گلیوں میں نکل کر چلاتا پھرتا تھا کہ عیسائیوں کا عقیدہ صحیح ہے اور مسلمانوں کا غلط۔ تیونس میں ایک مشتعل مجمع نے اس پر حملہ کر دیا اور پتھر مارے، یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو گیا۔

عیسائیت اور اسلام میں زبان کا اجنبی پن پہلی بار اس وقت ٹوٹا جب فرانس میں قرآن پاک کا لاطینی میں ترجمہ کیا گیا۔ غالباً بیرونی زبان میں یہ قرآن کا پہلا ترجمہ ہے اور شاید ۱۱۴۱ میں ہوا۔ اس کے مترجمین میں ایک عرب باشندہ اور تین عیسائی تھے۔ اس ترجمہ قرآن کے ساتھ ایک ضمیمہ بھی طبع کیا گیا تھا۔

اس کے بعد ۱۶۴۹ء میں سیور ڈو ر مدد سے ہی قرآن مجید کو فرانسیسی زبا (صلی اللہ علیہ وسلم) کا قرآن ”Mahammad انگریزی میں ڈھالا اور اچھالا گیا۔ اس ترج الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ان تمام لوگو مذہب (اسلام) کو جاننے کی خواہش مع پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کے رہا۔ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں اس صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی ایک بگڑے ہوئے گئیں۔ یہ فہرست ستر اسی الفاظ کے لگ ایک ایسا ہی نام استعمال کیا تھا۔ دور جد رذیل فطرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسلام جھوٹے افسانوں کو پھیلانے میں انگریز پیچھے نہیں تھے، بلکہ اہل مغرب کو اس غریب کہانیاں تراشتے رہے۔

ایلیزبتھ کے دور ایک نامور نے اس قسم کے زہریلے مواد میں کو یقین دلایا کہ وہ ایک پہاڑی کو بلا جمع ہوئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے

صفحہ ۱۳۱

تھے۔ اس ترجمہ قرآن کے ساتھ ایک ضمیمہ بعنوان۔ ”مسلمانوں کے عقائد کی تردید“ بھی طبع کیا گیا تھا۔

اس کے بعد ۱۶۴۹ء میں سیو رڈوریر (Sieur Duryer) نے اس ترجمہ کی مدد سے ہی قرآن مجید کو فرانسیسی زبان میں منتقل کیا اور ازاں بعد اسے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قرآن ”The Accoran Of Mahammad“ کے نام سے انگریزی میں ڈھالا اور اچھالا گیا۔ اس ترجمے کی اشاعت کا حقیقی مقصد خود مترجم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ان تمام لوگوں کو مطمئن کر دوں جو ترکی کے اس کھوکھلے مذہب (اسلام) کو جاننے کے خواہش مند ہیں۔

پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام مبارک کو بھی کئی طرح سے بگاڑ کر لکھا جاتا رہا۔ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں اس کی اٹھارہ شکلیں بتائی گئی ہیں۔ بناء بریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئی ایک بگڑے ہوئے نام منسوب کر کے پھر ان کی مزید نقلیں تیار کی گئیں۔ یہ فہرست ستراسی الفاظ کے لگ بھگ ہے۔ سیورڈوریر نے سورق کے لیے ایک ایسا ہی نام استعمال کیا تھا۔ دور جدید میں رُشدی مردود نے بھی اسی طرز میں اپنی رذیل فطرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں جھوٹے افسانوں کو پھیلانے میں الیگزنڈر راس‘ مارٹن لوتھر اور جارج سیل بھی کسی سے پیچھے نہیں تھے‘ بلکہ اہل مغرب کو اسلام سے بدظن کرنے کی خاطر نت نئی عجیب و غریب کہانیاں تراشتے رہے۔

ایلیزبتھ کے دور ایک نامور مصنف‘ فرانسس بیکن (Francis Bacon) نے اس قسم کے زہریلے مواد میں اضافہ کیا اور لکھا تھا: ”محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ ایک پہاڑی کو بلائیں گے اور وہ ان کے پاس چلی آئے گی۔ لوگ جمع ہوئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہاڑی کو اپنے پاس آنے کے لئے کہا۔ وہ بار بار

صفحہ ۱۳۲

پکارتے رہے اور جب پہاڑی اپنی جگہ کھڑی رہی تو وہ ذرا بھی نہیں شرمائے۔ بلکہ انہوں نے کہا کہ اگر پہاڑی محمد ﷺ کے پاس نہیں آسکتی تو محمد (ﷺ) پہاڑی تک جاسکتے ہیں“۔

مغربی لٹریچر میں مسلمانوں کی سُنتوں سے دشمنی کا باقاعدہ ایک پس منظر تیار کیا گیا تھا۔ ایسا ہی ایک کبوتر کا مفروضہ تھا۔ اس مروجہ داستان میں بیان کیا جاتا تھا کہ بانیٔ اسلام (ﷺ) نے ایک کبوتر کو تربیت دے رکھی تھی تاکہ وہ ان کے کندھے پر بیٹھا رہے اور کان کے اندر پڑے ہوئے دانے کو چگنے کے لئے کان میں چونچ مارتا رہے۔ اس سے وہ اپنے متبعین کو یہ یقین دلانا چاہتے تھے کہ کبوتر کے ذریعہ سے روح القدس ان کو الہام کر رہا ہے۔ یہ افسانہ اس قدر دہرایا گیا کہ ہم اس کا تذکرہ انگریزی ادب میں شیکسپئر کے ایک کردار کی زبان سے سنتے ہیں۔ مزید برآں یہ کہ شیکسپئر سے بہت پہلے جان لڈگیٹ (John Lydgate) (۱۳۵۱) اس کبوتر کا رنگ بھی جانتا تھا۔ اس کا بیان ہے کہ کبوتر‘ دودھیا سفید رنگ کا تھا۔ یہ جھوٹ اس قدر بولا گیا کہ اٹھارویں صدی میں کبوتروں کے ایک ماہر نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک خاص قسم کے کبوتر کا نام مومت (Maumet) رکھ دیا‘ جو کہ سرکارِ مدینہ (ﷺ) کے لئے عیسائیوں کے بگاڑے ہوئے نام کی ایک شکل تھی۔

جب یورپی باشندوں میں قدرے بیداری و بیزاری آنے لگی اور ان بہتانات کی طبعی عمر پوری ہو گئی تو ایک نیا طریقہ واردات ایجاد و دریافت کر لیا گیا۔ اب کوئی ناہنجار و نابکار اٹھتا‘ اور عوام پر اپنی غیر جانب داری کا تاثر جمانے کے لئے پیش روؤں کے بہت سے الزامات کو جھٹلا دیتا۔ تاہم موقع بہ موقع خُبثِ باطن کا کوئی پوشیدہ مظاہرہ بھی کر جاتا۔ ان میں صلیبی دور کا ایک بشپ‘ ولیم آف ٹرپولی (William of Tripoli) جس کی پیدائش شام میں ہوئی تھی‘ نے ۱۲۷۰ء میں اسی

صفحہ 133

نوع کا ایک رسالہ لکھا تھا۔ ۱۶۷۹ء میں ایک انگلش پادری لانس لاٹ اڈیسن (Lance Lot Adison) اور اس کا ایک ہم عصر ہمفری پرائیڈکس (Hamphrey Prideux) بھی اسی قبیل کے فرد ہیں۔ جوزف وائٹ (White Josef) ولیم میور (Willim Myeor) اور سائن گنکلے کے یہاں بھی قدیم رجحانات کے آثار ملتے ہیں۔ تاہم ایڈورڈ گبن (Edward Gibbon) کا انداز نسبتاً کم جارحانہ تھا۔

والٹیر (Walter) نے بحیثیت مؤرخ کسی حد تک احتیاط کا دامن تھامے رکھا مگر المیہ نگار کے روپ میں وہ تہذیب کے تمام بندھن توڑ اور شائستگی کے تقاضے ہاتھ سے چھوڑ دیتا ہے۔ اس نے اپنے المیہ ناٹک (Tragedy) جس کا تعلق ۱۷۴۲ء سے ہے، میں حقائق کا گلا بے دردی کے ساتھ گھونٹ دیا تھا۔ اس کے علاوہ جرمن شاعر گوئٹے (۱۷۴۹ء-۱۸۳۲ء) نے بھی پیدائشی طور پر سنی سنائی باتوں کو دہرانے کی روایت قائم رکھی۔ اس نے سرکار مدینہ (ﷺ) کی حیات طیبہ پر اپنے مخصوص رنگ میں ایک نظم شروع کی تھی مگر اسے مکمل نہ کر پایا۔ الغرض یہ کہ پیغمبر اسلام (ﷺ) کی سیرت مقدسہ کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی رہی اور دین فطرت کے انسانیت نواز اصولوں سے متعلق مغربی عوام کو متواتر گمراہ رکھنے کے لئے کسی دور میں کسی قسم کی کوئی کسر باقی نہ چھوڑی گئی۔

رُشدی کی جسارت کو مصنف کا انفرادی فعل کہنے والے یہی صاحب ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ”صلیبی جنگوں کے بعد یورپ کی مسیحی اقوام نے متحدہ طور پر یہ کوشش کی کہ وہ آپ (ﷺ) کی تصویر کو بگاڑیں اور آپ (ﷺ) کی تاریخ کو بالکل مسخ کر ڈالیں۔ مگر ہزار برس تک اپنی ساری طاقت خرچ کرنے کے باوجود ان کی کوشش صد فی صد ناکام ہو گئی۔ یہاں تک کہ سائنس کے زیر اثر خود علم انسانی میں

صفحہ ۱۳۴

وہ انقلاب آیا جس نے آپ ﷺ کے معاندین کے پیدا کردہ لٹریچر کو غیر حقیقی قرار دے کر رد کر دیا۔ خود مسیحی طبقہ کی بعد کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی ابتدائی نسلوں کی بات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ ان میں ٹامس کارلائل پیدا ہوا جس نے آپ ﷺ کو تمام پیغمبروں کا ہیرو قرار دیا (۱۸۴۹ء)۔ ان کے درمیان سے مائیکل ہارٹ اٹھا جس نے یہ اعلان کیا کہ محمد ﷺ تاریخ کے واحد سب سے بڑے انسان ہیں“۔

میرے خیال میں اس حوالے سے کارلائل کو ایک نئے سنگ میل کی علامت قرار دیا جا سکتا ہے۔ باطل یورپ کے صنم کدہ تصورات میں سچائی کی یہ ایک مؤثر پہلی آواز تھی۔ وگرنہ ڈاکٹر بہی ہمیں بتاتا ہے کہ عیسائی پادری اور مؤرخ کس طرح امام الانبیا (ﷺ) کی ذاتِ بابرکت کے بارے میں لغو حرکتیں کرتے رہے۔ مگر یہ سلسلہ یہیں ختم ہو کر نہیں رہ جاتا بلکہ ہنوز از دگر مزید آگے چلتا ہے۔ مقامی و بین الاقوامی طور پر یہ سلسلہ باہتمام باقی رکھا گیا۔

ہم دیکھتے ہیں کہ ولیم میور کے طرز پر اب بھی کئی ایک ناول مغربی عزائم کے آئینہ دار ہیں۔ صہیونی منصوبے کی ایک کڑی ”دی مہدی“ (The Mahdi) ہے۔ اس ناول میں امریکہ اور برطانیہ وغیرہ کی مشترکہ سازش سے ایک ایجنٹ ”ابو قدور“ کو مکہ معظمہ میں حج کے موقع پر امام مہدی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

۱۹۷۷ء میں ابھی شاہ ایران اقتدار سے مضبوطی کے ساتھ چمٹا ہوا تھا کہ اچانک مغربی مارکیٹ میں ایک ناول ۷۹ کا بحران (The Crash of 79) منظر عام پر آتا ہے۔ اس میں یہ دکھایا گیا تھا کہ عراق شط العرب پر مکمل قبضہ حاصل کرنے کے لیے اہواز اور ابادان پر حملہ آور ہے۔ سعودی عرب اور دوسری مسلم ریاستیں عراق کی امداد پر کمربستہ ہو گئی ہیں۔ ایران نے عراق پر جوابی حملے کر کے اس کے جنوب

صفحہ ۱۳۵

مشرقی علاقے پر بھی حملے شروع کر دیئے ہیں۔ یہاں تک کہ پورے خلیجی علاقے میں ایٹم بم کے پھٹنے سے زبردست جانی اور مالی تباہی پھیل جاتی ہے۔ اس ناول کی اشاعت کے تین سال بعد خلیج میں ایران و عراق کی واقعتاً جنگ چھڑ گئی تھی۔ اس میں حیران کن امر یہ ہے کہ بہت پہلے ”ڈیلی ٹیلیگراف“ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھ دیا تھا کہ یہ ہے تو ناول ہی، مگر کل کلاں یہ کمر توڑ دینے والی حقیقت کا روپ بھی دھار سکتا ہے۔

بناء بریں ”ایلن ولیئر“ کا ایک ناول مقدس ترین (Holy of Holies) بھی چھپ چکا ہے۔ اسے برطانیہ کی گراناڈا پبلشنگ کمپنی نے شائع کیا۔ اس میں اسلام کو کینسر کا نام دیا گیا ہے۔ جس کے وجود سے کرۂ ارض کو نجات دلانے کے لیئے ایک مہیب آپریشن کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ اس پروگرام میں روس، فرانس، برطانیہ، امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ تنظیموں کے افراد شامل ہوتے ہیں۔ پانچ دیو قامت ہرکولیس جہاز جزیرہ قبرص میں جمع کیئے جاتے ہیں۔ جن میں جوہری بموں کے علاوہ ایک خاص اعلان کا ٹیپ نصب ہے۔ اڑان سے پہلے مشن کے ارکان کو بتایا جاتا ہے کہ وہ ایسے خوش قسمت افراد ہیں، جو مغرب کی تہذیب کے دفاع کی خاطر ایک غیر مہذب، جاہل اور ظالم طاقت ”اسلام“ کو تباہ کرنے جا رہے ہیں۔ اور یہ کہ تاریخ میں وہ مغرب کے ہیرو قرار پائیں گے۔ ناول کے پلاٹ میں ہے کہ پانچوں طیاروں سے خفیہ جوہری بم گرتے ہیں اور قیامت کی سی تباہی آجاتی ہے۔ حرم کعبہ اور مکہ المکرمہ کا پورا شہر فضا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ وہاں موجود تیس لاکھ حجاج میں سے پانچ لاکھ فوری طور پر لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

مسعود کھدر پوش کے ایک خط، مطبوعہ روزنامہ جنگ لاہور سے بھی اہل مغرب کی اس شیطانی جدوجہد اور خطرناک منصوبہ بندی کا لرزہ خیز انکشاف ہوتا ہے،

صفحہ ۱۳۶

وہ لکھتے ہیں: ”میں ۱۹۵۹ء میں امریکہ لیکچر دینے گیا۔ اس کے منتظم ایک یہودی لیکچر کمپنی کے سربراہ مسٹر سکاٹک تھے، جو پاکستان میں چار پانچ ماہ قیام کر چکے تھے۔۔۔۔۔ وہاں کئی یہودیوں نے مجھ سے ملاقاتیں شروع کر دیں، جن میں وہ بار بار یہ کہتے کہ دنیا جنگ کے خوف سے بہت پریشان ہے۔ ان حالات میں کسی ”مہدی“ کی شدید ضرورت ہے۔ پھر کبھی کبھی مجھے سمجھاتے کہ آپ میں ”مہدی“ بننے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔

آخر کار ایک روز تین حضرات میرے پاس نہایت ہی راز داری میں یہ بات کہنے آئے کہ ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ آپ ”مہدی“ بن سکتے ہیں۔ اگر آپ کچھ عرصہ امریکہ میں ٹھہر جائیں تو ہم آپ پر دس لاکھ ڈالر لگا کر آپ کو ”مہدی“ مشہور کر سکتے ہیں۔ پھر آپ کو پاکستان اور ہندوستان کا دورہ کرایا جائے گا، اور آپ کے ماننے والوں کی ایک بڑی تعداد پیدا ہو جائے گی“۔

بعض افراد کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک میں ارباب کلیسا کو کب کا سیاسی اقتدار سے بے دخل کیا جا چکا ہے۔ اب ان کی بنیادیں سیکولرازم پر قائم ہیں۔ لہٰذا کسی مذہبی دماغ کی کارستانیوں کو ارباب حکومت کے سر تھوپنا روا نہیں۔ حالانکہ یہ موقف بھی سراسر غلط اور لاعلمی کے سبب ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ عام طور پر اسلامی ممالک اپنے آئین سمیت ”بنیاد پرست“ ہیں، مگر عملاً ”صد فی صد سیکولر“ جبکہ یورپی دنیا اور بعض دیگر غیر مسلم ممالک بھی سیکولرازم کے مدعی و پرچارک ہونے کے باوجود شدید مذہبی ذہنیت رکھتے ہیں۔ اس کا عملی مظاہرہ بھی ہم برطانوی ہند میں کئی بار دیکھ چکے ہیں۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹروں کی مجلس کے صدر مسٹر مینگلز نے ۱۸۵۷ء میں برصغیر پاک و ہند پر مکمل قابو پا لینے کے فوراً ”بعد انگلینڈ کی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ”قدرت نے ہندوستان کی وسیع سلطنت انگلستان کو اس لئے

صفحہ ۱۳۷

تفویض کی ہے کہ خداوند مسیح کا جھنڈا ہندوستان کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک فاتحانہ لہرائے۔ ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنی قوت صرف کردے تاکہ تمام ہندوستان کو عیسائی بنانے کا کام جاری رکھنے میں کسی وجہ سے کوئی تعویق نہ ہو سکے“۔ اسی دور میں سرولیم میور کی کتاب حیاتِ محمد (Life of Mohammad) منظر عام پر آئی جس کے بارے میں سرسید احمد خاں مرحوم نے ولایت سے مولوی مہدی علی خاں کے نام بھیجے گئے ایک خط میں لکھا تھا: ”ولیم میور کی کتاب کو میں دیکھ رہا ہوں۔ اس نے دل کو جلا دیا اور اس کی ناانصافیاں اور تعصبات دیکھ کر دل کباب ہو گیا“۔

الغرض یہ کہ خطباتِ احمدیہ، اس کے جواب ہی میں شائع ہوئی تھی۔ ہندوستان میں مرزا غلام احمد کا دعویٰ نبوت اور ایران وغیرہ میں بابی تحریک کا آغاز، مغرب کے ارباب اقتدار کی منصوبہ بندی کا ہی آئینہ دار تھا۔ یہ یورپی دنیا کی اسلام دشمنی کا ایک مختصر خاکہ ہے، وگرنہ اس سے متعلق کتابیں بھری پڑی ہیں۔ اس کے باوجود بعض لوگ ان ناقابل تردید حقائق کو محض اوہام اور مفروضات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

”عہدِ حاضر کا مسلمان؟“

ہندوستان میں وحید الدین خاں، ایک مولانا ہوتے ہیں۔ عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کے نام پر ان کے متعدد رسائل طبع ہو چکے ہیں۔ ان کے زیرِ ادارت ایک ماہنامہ بھی نکلتا ہے۔ حضرت سب کچھ ہیں: مفکر، محقق، دانشور اور ادیب۔ اپنے تئیں عقلِ کُل اور اپنی تعبیرات کو ایک طرح سے حرفِ آخر سمجھتے ہیں۔ ان کی

صفحہ ۱۳۸

نگارشات میں اس امر کے واضح اشارے پائے جاتے ہیں کہ پوری تاریخ اسلام میں گویا وہی فرد وحید ہیں، جنہوں نے دین کی اصل روح کو سمجھا۔ کوئی سا دینی موضوع ہو ان کی تان دعوتی، تبلیغی اور تذکیری پہلوؤں پر آکر ٹوٹتی ہے۔ ان کا نظریہ جہاد محض دفاعی اور معذرت خواہانہ ہے۔ حکمت اعراض کے قائل اور خاموشی کی طاقت پر مائل ہیں۔ مصلحت دعوت میں وہ اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ دین بھی مصلحت کا دُم چھلا دکھائی دینے لگتا ہے۔

چند برس پہلے شیطان رُشدی کی کتاب ”شیطانی آیات“ مغربی سازش سے منظر عام پر آئی تو دیکھتے ہی دیکھتے فرزندان اسلام کے غیظ و غضب کا لاوا بہہ نکلا۔ اسلامیوں نے حضور سرورِ کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اپنی والہانہ وابستگی اور بے مثال جذباتی تعلق کی ایک نئی مثال قائم کی تھی۔ چشم فلک نے دیکھا کہ راکھ کے ڈھیر میں اب بھی آگ پوشیدہ ہے۔ ستاروں نے گواہی دی کہ ایک مسلمان لاکھ بدکار ہو لیکن اپنے سرکار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فدا کار و جانثار ہوتا ہے۔ ابلیس کی مجلس شوریٰ میں ایک بار پھر ماتم برپا ہو گیا، کہ ہر سازش اور حربہ کے باوجود ہنوز فاقہ کش کے بدن میں ”روحِ محمد ﷺ“ باقی ہے۔ دراصل یہ جذباتی رشتہ ہی ایمان کا اثاثہ اور قرآن کا خلاصہ ہے۔

سلمان رشدی کے خلاف غم و غصہ پر اظہار ناپسندیدگی کرتے ہوئے وحید الدین خاں نے ۱۹۱ صفحات پر مشتمل ایک پوری کتاب لکھ ماری۔ اس کا نام ہے ”شتم رسولؐ کا مسئلہ“۔ مولانا موصوف کے دعویٰ کے مطابق اسے قرآن و حدیث اور فقہ و تاریخ کی روشنی میں لکھا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس میں یورپی اخبارات، الیکٹرانک میڈیا، انٹرویوز اور اخباری بیانات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ یہ رسالہ ایک طرح سے قرآن و حدیث اور فقہ و تاریخ کی دشمنی کا رنگ لئے ہوئے ہے۔ پوری کتاب

”غلامانہ آزادی“ اور ”آزاد غلامی“ سے دور، غیر سنجیدہ و غیر متعلق آ موضوع پر ان کی تحقیق کا یہی معیا جدت گزیدہ ہے۔ بس ان کے زم ہیں۔ ان کا نسخہ پانچ ابواب پر مش باندھا گیا ہے۔ اس کے قریباً ”آغا ایسے مسلمان بہت تھوڑے ہ (Tax Collector) سمجھے ہو کے ہو چکے ہیں“۔

کس قدر لغو اور باطل کرۂ ارض میں بھلا وہ کون محصل سمجھتا ہو گا۔ اس پر ما سے بھی کوئی تعلق نہیں بنتا۔ ”حضرت نے متعدد کا ایک اور مظاہرہ ایک ذیلی نے تیسرے باب میں متفرقات

مرزا غلام احمد قا (۱۸۲۸-۱۹۰۸)۔ دونوں ہم ع کا تحریری اور تقریری مقابلہ کیا ہے۔

صفحہ ۱۳۹

”غلامانہ آزادی“ اور ”آزاد غلامی“ کا ایک عجیب و غریب درس ہے۔ فکری بالیدگیوں سے دور‘ غیر سنجیدہ و غیر متعلق آراء سے معمور۔ رطب و یابس سے بھرپور۔ ہر موضوع پر ان کی تحقیق کا یہی معیار ہے۔ ان کی جبینِ فکر مغرب آلودہ اور رُخِ قلم جدّت گزیدہ ہے۔ بس ان کے رسائل‘ ائمہ مغرب کے حوالوں سے اجالوں کی آماجگاہ ہیں۔ ان کا نسخہ پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب کا پہلا جزو بلا عنوان (آغازِ کلام) باندھا گیا ہے۔ اس کے قریباً آغاز ہی میں لکھتے ہیں: ”عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں ایسے مسلمان بہت تھوڑے ہوں گے جو پیغمبر اسلام (ﷺ) کو محصل (Tax Collector) سمجھتے ہوں۔ مگر موجودہ زمانہ میں تو بظاہر تمام مسلمان اسی سوچ کے ہو چکے ہیں“۔

کس قدر لغو اور باطل انداز ہے۔ اسے گستاخانہ بے باکی بھی کہا جا سکتا ہے۔ کُرۂ ارض میں بھلا وہ کون مسلمان ہے جو رسولِ اقدس (ﷺ) کو نعوذُ باللہ محصل سمجھتا ہو گا۔ اس پر عامیانہ پن یہ کہ نفسِ مضمون سے اس بات کا کسی طرح سے بھی کوئی تعلق نہیں بنتا۔

”حضرت“ نے متعدد مقامات پر اس طرز کے کئی گُل کھلائے ہیں۔ ان کی حماقت کا ایک اور مظاہرہ ایک ذیلی سرخی ”دونوں یکساں“ کے تحت ملاحظہ فرمائیے‘ جو انہوں نے تیسرے باب میں متفرقات کے ربط سے قائم کی ہے:

”دونوں یکساں“

مرزا غلام احمد قادیانی (۱۸۳۹۔۱۹۰۸ء) اور مولانا ثناء اللہ امرتسری (۱۸۶۸۔۱۹۴۸ء)۔ دونوں ہم عصر تھے۔ اس زمانہ میں جن علماء نے مرزا غلام احمد قادیانی کا تحریری اور تقریری مقابلہ کیا‘ ان میں ایک مشہور نام‘ مولانا ثناء اللہ امرتسری کا بھی ہے۔

صفحہ ۱۴۰

تردید قادیانیت پر مولانا ثناء اللہ امرتسری نے بے شمار چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں۔ ان کے مناظروں اور ان کی تحریروں اور تقریروں سے خود مرزا غلام احمد قادیانی تنگ آگیا۔ اس نے اپریل ۱۹۰۷ء کو ایک تحریر لکھی۔ اس کا عنوان تھا۔ "مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ"۔ اس تحریر میں مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا کہ: "مولوی ثناء اللہ نے مجھے بہت بدنام کیا۔ میرے قلعہ کو گرانا چاہا۔ اس لیئے میں یہ دعا کرتا ہوں کہ ہم دونوں میں جو جھوٹا ہے، وہ سچے کی زندگی میں مرجائے"۔ اس تحریر کے ایک سال بعد ۲۶۔ مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا غلام احمد قادیانی کا انتقال ہو گیا۔ دوسری طرف مولانا ثناء اللہ امرتسری مزید ۴۰ سال تک زندہ رہے اور ۱۵۔ مارچ ۱۹۴۸ء کو سرگودھا (پاکستان) میں وفات پائی۔ اس طرح فیصلہ خداوندی کے تحت ثابت ہو گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ جھوٹا تھا اور مولانا ثناء اللہ امرتسری اس کے مقابلہ میں سچ پر کھڑے ہوئے تھے۔ یہ واقعہ مجھے ۳ جون ۱۹۸۹ کو یاد آیا، جب کہ ریڈیو نے اطلاع دی کہ ایرانی پیشوا آیت اللہ خمینی کا ۸۶ سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ آیت اللہ خمینی نے ۱۵۔ فروری ۱۹۸۹ء کو فرمان جاری کیا تھا کہ سلمان رشدی کو قتل کر دیا جائے۔ اس کے فوراً بعد حکومت ایران نے اپنے خزانے اور اپنے سرکاری ذرائع اس فرمان (یا فتویٰ) کی تعمیل کے لئے وقف کر دیئے۔ اس کے بعد دنیا بھر میں خمینی اور رشدی کا معاملہ سب سے زیادہ سنسنی خیز خبر کی حیثیت سے اخباروں میں چھپتا رہا۔ حکومت ایران نے یہ بھی اعلان کر دیا کہ ایک خفیہ دستہ موت (Death Squad) اس قاتلانہ مشن پر روانہ کیا جا چکا ہے۔ حکومت ایران کے مکمل تعاون اور دنیا بھر میں بے شمار شیعہ اور سُنی مسلمانوں کی بھرپور تائید کے باوجود آیت اللہ خمینی اس میں کامیاب نہ ہو سکے کہ وہ سلمان رشدی کو قتل کرا دیں۔ یہاں تک کہ اپنے فرمان موت کے تقریباً چار مہینہ بعد خود آیت اللہ خمینی موت کا شکار ہو گئے۔

مذکورہ دونوں واقعات میں الذکر واقعہ میں یہ ثابت ہوا تھا کہ مولو قادیانی باطل پر۔ ثانی الذکر واقعہ میں کے دونوں ہی فریق باطل پر ہیں خمینی بھی۔ سلمان رشدی کو نادانی خمینی اس لیئے باطل قرار پاتے ہیں جاری کیا جس کا انہیں خدا حاصل نہیں ہوئی۔ وہ اپنی ساری سلمان رشدی کو ختم کرنے میں کوئی واقعہ وہ ظہور میں نہ لاسکے مرقومہ بالا تحریر میں ہیں۔ یہ اقتباس 'تضاد فکری' اس میں کہی گئی باتوں میں باہم مشکل مقدمات پیش نگاہ آجاتے اللہ امرتسری پہلے فوت ہو جاتے مان لیا جانا چاہیئے تھا؟ ویسے بھی میں امتیاز کرنا کون سی دانائی واقعات و شخصیات کو سچ اور جھو نظریات کی ہے۔ اور نظریہ یہ نبوت سے دلیل طلب کرنا بھی

صفحہ ۱۴۱

مولانا ثناء اللہ امرتسری نے بے شمار چھوٹی بڑی کتابیں اور ان کی تحریروں اور تقریروں سے خود مرزا غلام احمد نے اپریل ۱۹۰۷ء کو ایک تحریر لکھی۔ اس کا عنوان تھا۔ "آخری فیصلہ"۔ اس تحریر میں مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا مجھے بہت بدنام کیا۔ میرے قلعہ کو گرانا چاہا۔ اس لیئے میں دعا میں جو جھوٹا ہے‘ وہ سچے کی زندگی میں مرجائے"۔ اس کے مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا غلام احمد قادیانی کا انتقال ہو گیا۔ ثناء امرتسری مزید ۴۰ سال تک زندہ رہے اور ۱۵۔ مارچ میں وفات پائی۔ اس طرح فیصلہ خداوندی کے تحت ثابت قادیانی کا دعویٰ جھوٹا تھا اور مولانا ثناء اللہ امرتسری اس کے سچے تھے۔ یہ واقعہ مجھے ۳ جون ۱۹۸۹ کو یاد آیا‘ جب کہ ریڈیو کیا کہ آیت اللہ خمینی کا ۸۶ سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ آیت ۱۹۸۹ء کو فرمان جاری کیا تھا کہ سلمان رشدی کو قتل کر دیا حکومت ایران نے اپنے خزانے اور اپنے سرکاری ذرائع اس کے لیئے وقف کر دیئے۔ اس کے بعد دنیا بھر میں خمینی اور کا زیادہ سنسنی خیز خبر کی حیثیت سے اخباروں میں چھپتا رہا۔ اعلان کر دیا کہ ایک خفیہ دستہ موت (Death Squad) کیا جا چکا ہے۔ حکومت ایران کے مکمل تعاون اور دنیا بھر میں مسلمانوں کی بھرپور تائید کے باوجود آیت اللہ خمینی اس میں سلمان رشدی کو قتل کرا دیں۔ یہاں تک کہ اپنے فرمان کے بعد خود آیت اللہ خمینی موت کا شکار ہو گئے۔

مذکورہ دونوں واقعات میں بعض فرق کے ساتھ ایک مشابہت ہے۔ اول الذکر واقعہ میں یہ ثابت ہوا تھا کہ مولانا ثناء اللہ امرتسری حق پر ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی باطل پر۔ ثانی الذکر واقعہ میں کسی قدر فرق کے ساتھ یہ ثابت ہوا ہے کہ اس کے دونوں ہی فریق باطل پر ہیں۔ سلمان رشدی بھی‘ اور اسی کے ساتھ آیت اللہ خمینی بھی۔

سلمان رشدی کو تاریخی حقائق باطل ثابت کر رہے ہیں۔ دوسری طرف آیت اللہ خمینی اس لیئے باطل قرار پاتے ہیں کہ انہوں نے جھوٹے زعم کے تحت ایک ایسا فرمان جاری کیا جس کا انہیں خدا نے حق نہیں دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں خدا کی تائید حاصل نہیں ہوئی۔ وہ اپنی ساری مذہبی‘ سیاسی‘ اقتصادی اور عوامی طاقت کے باوجود سلمان رشدی کو ختم کرنے میں ناکام رہے۔ قتل تو درکنار اقدام قتل کے درجہ کا بھی کوئی واقعہ وہ ظہور میں نہ لاسکے۔ یہاں تک کہ موت نے خود ان کا خاتمہ کر دیا۔

مرقومہ بالا تحریر میں بے علمی‘ کم عقلی اور کج فکری کی بیسیوں باتیں در آئی ہیں۔ یہ اقتباس‘ تضاد فکری کا ایک عجیب گورکھ دھندہ بن کر رہ گیا ہے۔ اول یہ کہ اس میں کہی گئی باتوں میں باہم کوئی مماثلت و مشابہت نہیں۔ دوم یہ کہ اس طرح کئی مشکل مقدّمات پیش نگاہ آجاتے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ خدانخواستہ اگر مولانا ثناء اللہ امرتسری پہلے فوت ہو جاتے تو کیا مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کے دعوؤں میں سچا مان لیا جانا چاہئے تھا؟ ویسے بھی موت میں تقدّم و تاخّر کی بنیاد پر حق و باطل کے بارے میں امتیاز کرنا کون سی دانائی ہے؟ اس سلسلے میں سطحی و اوسط ذہن کے لوگ انھی واقعات و شخصیات کو سچ اور جھوٹ کا معیار ٹھہراتے ہیں۔ اصل قوت اور حقیقی طاقت نظریات کی ہے۔ اور نظریہ یہ ہے کہ نبیؐ آخر الزماں (ﷺ) کے بعد کسی مدعیٰ نبوت سے دلیل طلب کرنا بھی کفر و منافقت ہے۔ "مولانا" کے طرز نگارش و استدلال

صفحہ ۱۴۲

سے کچھ اس قسم کا تاثر ابھرتا ہے کہ جیسے ان کے خیال میں سلمان رشدی کا ابھی تک زندہ رہنا تائید الٰہی سے ہے۔ امام آیت اللہ خمینی اس دور کے فتنۂ عظیم سلمان رشدی کو ختم کرنے میں کسی طرح کامیاب ہو جاتے یا پھر اقدامِ قتل کے درجہ کا کوئی واقعہ ظہور میں لا سکتے تو کیا مولانا موصوف کا نقطۂ نظر اس رائے کے برعکس ہوتا؟ امرِ واقعہ یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ رائے پہلے قائم کی گئی تھی اور مطالعہ بعد میں شروع ہوا۔ انہوں نے ہرگز تحقیق کی کوئی عمارت نہیں اٹھائی بلکہ زندہ حقیقتوں اور روشن عقیدتوں کے گلے پر باطل کی چھری پھیرنا چاہی ہے۔ شاید وہ اسلامی عظمتوں اور تاریخی رفعتوں کو کذب گوئی کے مندر پر بھینٹ چڑھانا چاہتے ہوں۔ یہ گلۂ جفائے وفا نما کی ایک ایسی روداد ہے کہ اگر کسی بت کدے میں بیان ہو تو صنم بھی ”ہری ہری“ کہہ اٹھیں۔ درست ہے کہ تاریخ کے مختلف چوراہوں پر کعبہ کو صنم خانے سے پاسباں میسر آتے رہے ہیں، مگر یہ بھی کچھ غلط نہیں کہ صحنِ حرم میں غدار بھی جنم لیتے رہے ہیں۔ سقوطِ بغداد اور زوالِ میسور کے زخمی اوراق نے اہل زمانہ کو یہ داستانِ غم کئی بار سنائی اور دہرائی ہے۔ وحید الدین خاں بھی اپنے قلم سے وہی کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے بغداد، غیر آباد اور میسور، بے نوا ہوا تھا۔

ان صاحب کی اِس کتاب کو کسی طور بھی ایک علمی و تحقیقی یا کوئی سنجیدہ کوشش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ادھر ادھر سے جو ہاتھ لگا، یہ اینٹ گارے کے طور پر استعمال میں لے آئے ہیں۔ یہ ایک جگہ ریاض کانفرنس کا فیصلہ کے ذیلی عنوان سے لکھتے ہیں: ”۱۴-۱۶ مارچ ۱۹۸۹ء کو ریاض میں تنظیم اسلامی کانفرنس (آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس) کا اجتماع ہوا۔ اس میں ۴۶ مسلم ملکوں کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کے ایجنڈے پر افغانستان کے مسئلہ کے بعد دوسرا سب سے زیادہ حساس مسئلہ، سلمان رشدی کے معاملہ پر اپنا فیصلہ دینا تھا۔ سعودی حکمران شاہ فہد کی تقریر سے اس کا افتتاح ہوا۔ اس م مارچ ۱۹۸۹ء کو مسلم ممالک کے نما اس فیصلہ کے مطابق ” کے اجلاس میں ایران کے واحد سلمان رشدی کے خلاف آیت مسترد کر دیا گیا۔ سفارت کاروں قرار دیا۔

اس فیصلہ سے یہ ظاہر وہ اسلامی حکومت تنہا ہے۔ کہ رشدی نے اگرچہ انتہائی نہیں کہ مذہبی فتویٰ جاری کر پائیں قتل کر دیں۔ سلمان رش اور گولی سے“۔

اس کے بعد حق فرماتے ہیں: ”سلمان رشدی شائع ہوئے، ان میں عام م مسلمانوں کے جذبات کو مجر ثبوت یہ ہے کہ اس سلسلے میں ہندوستانی اور پاکستانی مسلمانو ”اردو خواں“ مسلمان ہیں، جن ملکوں میں جو مظاہرے ہوئے

صفحہ ۱۴۳

تقریر سے اس کا افتتاح ہوا۔ اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں پر چند روزہ بحث کے بعد ۱۶ مارچ ۱۹۸۹ء کو مسلم ممالک کے نمائندوں نے اپنے متفقہ فیصلہ سنایا۔

اس فیصلہ کے مطابق ۴۶ ملکوں کی تنظیم اسلامی کانفرنس کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایران کے واحد اختلاف کے ساتھ ”شیطانی آیات“ کے مصنف سلمان رشدی کے خلاف آیت اللہ روح اللہ خمینی کے موت کے فتوے کو سختی سے مسترد کر دیا گیا۔ سفارت کاروں نے ایرانی فتویٰ کو مسترد کیئے جانے کو انتہائی اہم اقدام قرار دیا۔

اس فیصلہ سے یہ ظاہر ہو گیا کہ رشدی کے قتل کے فیصلہ میں ایران کی نام نہاد اسلامی حکومت تنہا ہے۔ بقیہ تمام مسلم ممالک‘ سرکاری سطح پر یہ رائے رکھتے ہیں کہ رشدی نے اگرچہ انتہائی قابل اعتراض کتاب لکھی ہے‘ اس کے باوجود یہ صحیح نہیں کہ مذہبی فتویٰ جاری کر کے تمام دنیا کے مسلمانوں کو اکسایا جائے کہ اس کو جہاں پائیں قتل کر دیں۔ سلمان رشدی کا جواب ہمیں پر امن ذرائع سے دینا چاہئے نہ کہ بم اور گولی سے“۔

اس کے بعد حضرت مولانا ”ایک مغالطہ“ کے تحت درج ذیل تبصرہ تحریر فرماتے ہیں: ”سلمان رشدی کے بارے میں قتل کی وکالت کرنے والے جو مضامین شائع ہوئے‘ ان میں عام طور پر یہ الفاظ تھے کہ رشدی نے دنیا کے ایک بلین مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ یہ الفاظ بلاشبہ خلافِ واقعہ ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس سلسلے میں جتنے خطوط اور مضامین چھپے ہیں وہ ۹۹ فی صد سے زیادہ ہندوستانی اور پاکستانی مسلمانوں کے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے ”اردو خواں“ مسلمان ہیں‘ جنہوں نے اس معاملہ میں پرشور حصہ لیا۔ حتیٰ کہ بیرونی ملکوں میں جو مظاہرے ہوئے ہیں‘ وہ بھی عملاً وہاں بسنے والے ہندوستانی اور پاکستانی

صفحہ 144

مسلمانوں کی طرف سے تھے۔ ان ملکوں میں عرب ممالک یا دوسرے ملکوں کے جو مسلمان آباد ہیں‘ انہوں نے اس میں عملاً "اتنا کم حصہ لیا ہے کہ وہ تقریباً" نہیں‘ کے برابر ہے۔"

مرقومہ بالا اقتباسات سے جو چند نکات مترشح ہوتے ہیں‘ وہ یہ ہیں:

سے مسترد کر دیا تھا جس کا مطلب ہے کہ فتویٰ غلط اور غیر اسلامی تھا۔

اس رائے کے شدید ترین مخالف ہیں۔ لہٰذا امام خمینی جھوٹے اور دیگر سربراہان حکومت سچے ہیں۔

پاک و ہند کے مسلمانوں کے کسی اور کلمہ گو کو اس سے کوئی سروکار نہیں رہا۔

اور عملی اقدامات سے مکمل طور پر کنارہ کش ہیں۔ یہ تمام شور شرابا "اردو خواں" طبقے کا ہے جو کہ ناجائز اور جہالت کی پیداوار ہے۔

آہ! اس سنگ دل کو کون سمجھائے کہ تمہارے اندر کی بے حسی و بے حمیتی کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ پوری ملتِ اسلامیہ بے غیرت ٹھہری۔ اور یہ کہ جن ممالک کے ارباب حکومت کو تم حق کا معیار اور روشنی کا مینار ٹھہرا رہے ہیں‘ وہ تو باطل کا پلندا اور گھٹا ٹوپ تاریکی کا ستون ہیں۔ بدقسمتی سے دنیائے اسلام کا تقریباً ہر ایک حکمران بے ضمیر و بے غیرت ہے۔ یہ تو اپنے اپنے عوام کے جذبات و احساسات کے ترجمان بھی نہیں ہیں۔ ان کو قرآن کا عرفان کیا حاصل ہو سکتا ہے؟ یہ خداوندِ قدوس کے باغی اور امریکہ کے بندے ہیں۔ رنگین اور سنگین‘ عیاش اور تماش بین۔

مزید برآں یہ کہ حکمرانوں کے رویہ و عمل کو دیا جا سکتا۔ یہ دین اسلام کا اساسی مسئلہ ہے چاہئے۔

"مولانا وحید الدین خاں نے رسالہ اکثر لایعنی‘ بعض بے معنی اور دو ایک باتیں سطور‘ معقولیت پر مبنی ہیں۔ گو یہ پہلو ان کی نزدیک لائقِ توجہ اور قابلِ بیان ہیں۔

زندگی نہیں ۔۔۔۔ اس کتاب کے بارہ میں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ کے ایک قول ہلاک کرو‘ اس کے بارے میں چپ رہ کر اوقات ضروری ہوتا ہے کہ اس کی طرف نہ

خمینی کا قتل کا فتویٰ فروری ۱۹۸۹ء میں شروع ہوا جس کے نتیجہ میں برطانوی حکومت کر دیا۔ اور اس کے اوپر خصوصی پہرہ بٹھا اشاعت کے بعد تقریباً چھے مہینے ایسے گزر آدمی کی طرح تھا اور ہر شخص اس کے ل بیان کے سوا کسی مسلمان نے کچھ نہیں کہا پولیس کے خصوصی پہرے میں چلا گیا“ ت

صفحہ ۱۴۵

مزید برآں یہ کہ حکمرانوں کے رویہ و عمل کو دین کی روح یا اسلام کی فطرت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ دین اسلام کا اساسی مسئلہ ہے اور اس کے لیے دین ہی کو نمونہ ٹھہرایا جانا چاہئے۔

"مولانا وحید الدین خاں نے رسالہ میں کئی جدید و قدیم سوالات اٹھائے ہیں۔ اکثر لایعنی، بعض بے معنی اور دو ایک بامعنی۔ ان کے طویل کلام میں سے صرف چند سطور، معقولیت پر مبنی ہیں۔ گو یہ پہلو ان کی تضادِ فکری کا عکاس ہے، لیکن میرے نزدیک لائقِ توجہ اور قابلِ بیان ہیں۔

زندگی نہیں ..... اس کتاب کے بارہ میں صحیح ترین ردّعمل وہ ہے جس کی راہ نمائی خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ کے ایک قول میں ملتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ باطل کو ہلاک کرو، اس کے بارے میں چپ رہ کر..... باطل کو باطل جانتے ہوئے بھی بعض اوقات ضروری ہوتا ہے کہ اس کی طرف سے خاموشی اختیار کر لی جائے"۔

خمینی کا فتویٰ فروری ۱۹۸۹ء میں لوگوں کے سامنے آیا۔ اس کے بعد وہ شور و غل شروع ہوا جس کے نتیجہ میں برطانوی حکومت نے سلمان رشدی کو خفیہ مقام پر منتقل کر دیا۔ اور اس کے اوپر خصوصی پہرہ بٹھا دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کتاب کی اشاعت کے بعد تقریباً چھے مہینے ایسے گزرے ہیں جب کہ سلمان رشدی ایک عام آدمی کی طرح تھا اور ہر شخص اس کے اوپر قابو پا سکتا تھا۔ مگر اس پوری مدت میں لفظی بیان کے سوا کسی مسلمان نے کچھ نہیں کیا۔ یہاں تک کہ سلمان رشدی روپوش ہو کر پولیس کے خصوصی پہرے میں چلا گیا"۔

صفحہ ۱۴۶

سنجیدہ ہوتے تو یقیناً وہ وہی کرتے جو اس طرح کے مواقع پر دوسرے لوگ ہمیشہ کیا کرتے ہیں۔ اگر وہ فی الواقع سنجیدہ ہوتے تو اخباری اعلان کے بجائے وہ ایسا کرتے کہ ایک یا چند آدمیوں کو نہایت خاموشی کے ساتھ انگلینڈ روانہ کرتے اور اسی کے ساتھ ان کے گھر والوں کو اتنی رقم دے دیتے کہ بحالتِ ضرورت وہ اپنی آئندہ معاش کے لیے مطمئن ہو جائیں۔ مگر آیت اللہ خمینی نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے بجائے وہ اخبار اور ریڈیو پر اپنے قتل کے فرمان کو نشر کرنے لگے۔ گویا ان کی اصل دلچسپی اپنے فرمان قتل کی پبلسٹی سے تھی نہ کہ خود رشدی کے قتل سے"۔

خبر تھی کہ ایران کے شیعہ رہنما آیت اللہ خمینی نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ شیطانی آیات (The Stanic Verses) کے مصنف سلمان رشدی (۴۲ سال) کو قتل کر دیں۔ اسی کے ساتھ ایرانی حکومت نے قتل کرنے والے کے لیئے انعام کا بھی اعلان کیا۔ ٹائمز آف انڈیا (۱۷ فروری ۱۹۸۹) کے مطابق قتل کرنے والا اگر ایرانی ہے تو اس کو دو ملین ڈالر دیئے جائیں گے اور اگر قتل کرنے والا غیر ایرانی ہے تو اس کو ایک ملین ڈالر (1 Million) ملے گا۔ ایران کے خود ساختہ لغت میں اسلام بھی ایرانی اور غیر ایرانی ہو گیا"۔

اس معاملہ کو طول دینے سے مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ توہین عقیدہ کو دہرانا بھی ویسا ہی گناہ ہے جیسے بجائے خود توہین کرنا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کے پیش نظر میرے خیال سے بنیاد پرست مذہبی لوگ بھی رشدی کے ناول اور اس کے قابلِ اعتراض موضوعات کی تشہیر کر کے اسی گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں جس کا ارتکاب رشدی نے کیا ہے"۔

صفحہ ۱۴۷

منقولہ بالا اقتباسات سے وحید الدین خاں کا منتشر الخیال ہونا بھی عیاں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر خمینی صاحب کے فتویٰ یا کسی اور مسلمان کی جدوجہد سے رشدی موت سے دوچار ہو چکا ہوتا یا اب ایسا ہو جائے تو کیا موصوف اسے دینی تقاضوں سے ہم آہنگ مان لیں گے؟

قول بلا فعل واقعی اسلامی مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔ فعل بلا قول بہرطور افضل ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مولانا موصوف نے اپنی کتاب میں یہ دوسری بات اچھی کہی ہے کہ رشدی کے قتل کا اعلان نہیں، سامان ہونا چاہیئے تھا۔ اور یہ امام خمینی کے لیئے ناممکن العمل نہ تھا۔ بایں سبب ان کے فتویٰ کو خود نمائی کے پلڑے میں رکھا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر اپنی روح کے اعتبار سے تو امام آیت اللہ خمینی کا فتویٰ قتل درست، اگرچہ طریق کار کے لحاظ سے غلط تھا۔ دینی فریضہ کی تکمیل پر انعام کا اعلان بجائے خود غیر مستحسن ہوتا لیکن اس پر مستزاد ایرانی اور غیر ایرانی کی تفریق ہے۔

حسن اتفاق سے محترمہ بے نظیر بھٹو کے منقولہ موقف میں معقولیت کا رنگ جھلکتا ہے۔ بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر اس بات کی امید ہو کہ حاکم، حکم شریعت کو نافذ کرے گا تو ضرور بات کو آگے پہنچانا چاہیے لیکن ایسا ممکن دکھائی نہ دے تو پھر اگر کسی نے آقائے نامدار (ﷺ) کی شان میں کوئی گستاخی کا کلمہ کہہ دیا ہے تو اسے پھیلانا اور بار بار دہرانا درست نہیں۔ قصہ کوتاہ اس امر کی کوئی گنجائش نہیں کہ بغیر کسی شرعی غرض کے اسے زبان پر لانا یا دہرانا جائز خیال کیا جائے۔ حارث بن اسد محاسبی (انہوں نے معتزلہ اور دیگر باطل فرقوں کے رد میں بہت زیادہ لکھا) پر امام احمدؒ بن حنبل نے یہ اعتراض کیا تھا کہ ہمیں فرقہ ہائے باطلہ کے خیالات کا اپنی کتاب و رسائل میں ذکر نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس طرح ان کے ناپاک افکار و نظریات ہمارے ذریعہ امت تک پہنچ جاتے ہیں۔

صفحہ ۱۴۸

موصوف نے بعض ایسے سوال بھی اٹھائے ہیں جو بجائے خود جواب ہیں۔ کئی مواقع پر انکار کے پردے میں ان سے اقرار ہو گیا ہے۔ کہیں وہ تردید کرنا چاہتے ہیں مگر تائید ہو گئی ہے۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں:

کے اوپر شرعی سزا کا نفاذ کریں گے‘ تب بھی مسلمانوں کے لیے قانون اپنے ہاتھ میں لینا جائز نہیں۔ ایسے ماحول میں مسلمانوں کے لیے نصیحت اور صبر ہے نہ کہ سزا کا نفاذ۔ یہ اصول مکی دور کے عمل سے ثابت ہے۔ اس وقت مکہ کے لوگ کھلے طور پر شراب پیتے تھے مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ان پر حد جاری کرنے کی کوشش نہیں فرمائی۔ حد کا نفاذ اقتدار ملنے کے بعد کیا گیا"۔

ہے کہ جب بھی کسی کو محسوس ہو کہ فلاں شخص نے پیغمبر کی توہین کی ہے تو وہ فوراً بندوق ہاتھ میں لے اور وہاں پہنچ کر اسے گولی مار دے۔ اسلام میں جرم کا معاملہ ایک عدالتی معاملہ ہے۔ یعنی مجرم کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور عدالتی کارروائی کے بعد اس پر ضروری فیصلہ کا نفاذ کیا جائے گا۔ عدالتی کارروائی کے بغیر اگر کوئی شخص کسی مجرم کو سزا دینے لگے تو یہ ایک سرکش کا فعل ہے نہ کہ اسلام کا فعل"۔

مجروح ہوئے ہیں‘ اور ہم تو اس کو قتل کر کے رہیں گے‘ تو میں کہوں گا کہ ”مسلمانوں کے جذبات کا مجروح ہونا“ اسلام کے قانون جرائم کی کوئی دفعہ نہیں ہے۔ مسلمان اگر اس قسم کی کارروائی کرنا چاہتے ہیں تو وہ اس کو اپنی قومی سرکشی کے نام پر کر سکتے ہیں۔ مگر اسلام کے نام پر اس قسم کا فعل کریں تو انہیں ڈرنا چاہیے کہ ایک مجرم کو سزا دینے کی کوشش میں وہ اپنے آپ کو اللہ کی نظر میں زیادہ بڑا مجرم نہ بنالیں"۔

صفحہ ۱۴۹

(صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایک اعتراض ہے اور جو شخص اسلام اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اعتراض کرے، اس کی زیادہ بڑی سزا یہ ہے کہ اس کی بات کو دلیل کے ذریعے رد کر دیا جائے۔ اس کو گولی مارنا اگر اس کا جسمانی قتل ہے تو اس کے اعتراض کو رد کرنا اس کا ذہنی قتل۔ اور جسمانی قتل کے مقابلہ میں ذہنی قتل بلاشبہ زیادہ سخت ہے، اور زیادہ کارگر بھی"۔

کھانے میں کدو کو پسند کرتے تھے اور اس کو رغبت سے کھاتے تھے۔ اس پر جماعت میں سے ایک شخص اٹھا اور اونچی آواز سے کہنے لگا کہ مجھے تو کدو پسند نہیں۔ امام ابو یوسف نے اس کے اس کلام کو شتم قرار دیا اور اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ آخر کار اس شخص نے توبہ کی اور (حنفی مسلک کے مطابق) اس کی معافی ہوئی"۔

ہے۔ ارتداد ایک شخصی فعل ہے جس طرح قاتل کا قتل کرنا ایک شخصی فعل ہے۔ مرتد صرف یہ کرتا ہے کہ اپنی ذات کو دین سے الگ کر لیتا ہے۔ مگر شتم ایک متعدی فعل ہے۔ کیونکہ شاتم اپنے شتم کے ذریعہ لوگوں پر اثر ڈالتا ہے۔ وہ دوسروں کے اندر دین کے بارہ میں شک ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ شتم، اعتراض اور تنقید اور نکتہ چینی کی نوعیت کا فعل ہے۔ مرتد کو ذاتی سزا دے کر اس کا مسئلہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ مگر شتم کے اثرات کو اس وقت تک ختم کرنا ممکن نہیں جب تک اس کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کو دلیل کے ذریعہ رد نہ کر دیا جائے"۔

الفاظ سے دیا جائے جیسا کہ حسّان بن ثابت انصاریؓ نے کیا اور کامیاب ہوئے۔ اس

صفحہ ۱۵۰

مثال سے مرتد اور شاتم کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔

میں فقہا زیادہ تر صرف رائے نقل کرتے ہیں، وہ اس کے دلائل بیان نہیں کرتے۔ ان مسائل میں فقہاء کا عام طریقہ یہ ہے کہ ابتداء اگر ایک معروف عالم کسی معاملہ میں ایک فتویٰ دے دے، تو بعد کے لوگ کسی مزید تحقیق کے بغیر اس کو نقل کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ دعویٰ کر دیا جاتا ہے کہ اس پر فقہاء و علما کا اجماع ہے۔ حالانکہ یہ زیادہ تر مقلدانہ اتفاق رائے ہوتا ہے نہ کہ حقیقتاً ”علمی اور شرعی تعریف کے مطابق اجماع“۔

شاتم کے بارہ میں یہ کہنا صحیح نہیں کہ اس پر علماءِ امت کا اجماع ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ کہا جائے کہ جمہور علماء نے اس رائے پر اظہار کیا ہے“۔

نے آپ ﷺ کے خلاف بدترین قسم کے جرائم کئے۔ مگر ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ (ﷺ) یہ الفاظ بولیں کہ فلاں شخص کو قتل کر کے اس کو جہنم رسید کرو۔ ایسے الفاظ بولنا گویا اپنے آپ کو خدا کی سیٹ پر بٹھانا ہے“۔

ان حرکتوں سے خود پیغمبر اسلام (ﷺ) کو بدنام کر رہے ہیں۔ اب ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ دونوں میں سے کون زیادہ بڑا مجرم ہے؟“۔

اسلام کی دعوتی تصویر کو بگاڑنے کی کوشش کریں گے، تو ایسی حالت میں اسلام کی دعوتی تصویر کی حفاظت کو ترجیح دی جائے گی اور گستاخ رسول کی سزا کے معاملہ کو اللہ کے حوالہ کر دیا جائے گا۔ اسلام میں س دعوت کا مفاد ہے۔ بقیہ چیزوں کا درجہ اس ک

ساتھ تھے۔ یہ لوگ مخلص مسلمانوں س کے خلاف بے ہودہ باتیں کیا کرتے۔ ح (ﷺ) نے رات کے وقت کچھ لو کہ یہ کون لوگ ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ ی بیٹھ کر آپس میں ہمارے خلاف باتیں کر کے رسول ﷺ، کیا آپ ہمیں ا آپ نے فرمایا کہ مجھے ناپسند ہے کہ لو ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں“۔

نقل کفر کفر نباشد، نبی پاک (صلی الل سلطنت کا بانی سلطان عثمان غازی (۱۲۵۸ فرمان جاری نہیں کیا کہ جو شخص دانت دیا جائے گا۔ شیکسپیئر (۱۵۶۴-۱۶۱۶) ن رسول بتایا ہے۔ شاہ جہاں (۱۵۹ شاہ جہاں سے یہ نہیں کہا کہ فوراً ا وہ وہاں پہنچ کر شیکسپیئر کو قتل کر دیں ا

وقت کے ظالموں نے قتل کیا ہے۔

صفحہ ۱۵۱

کے حوالہ کر دیا جائے گا۔ اسلام میں سب سے زیادہ قابل لحاظ چیز دعوت ہے اور دعوت کا مفاد ہے۔ بقیہ چیزوں کا درجہ اس کے بعد آتا ہے"۔

ساتھ تھے۔ یہ لوگ مخلص مسلمانوں سے الگ ہو کر بیٹھتے اور رسول اللہ (ﷺ) کے خلاف بے ہودہ باتیں کیا کرتے۔ حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ (ﷺ) نے رات کے وقت کچھ لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا کہ جانتے ہو کہ یہ کون لوگ ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ (ﷺ) نے بتایا کہ یہ لوگ بیٹھ کر آپس میں ہمارے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا کہ اے خدا کے رسول (ﷺ)، کیا آپ ہمیں اجازت دیں گے کہ ہم انہیں قتل کر دیں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے ناپسند ہے کہ لوگ یہ چرچا کریں کہ محمد (ﷺ) اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں"۔

نقل کفر کفر نباشد، نبی پاک (ﷺ) کو جہنم میں دکھایا ہے۔ ترکی کی عثمانی سلطنت کا بانی سلطان عثمان غازی (۱۲۵۸ء-۱۳۲۶ء) دانتے کا ہم عصر تھا۔ مگر اس نے یہ فرمان جاری نہیں کیا کہ جو شخص دانتے کا سر کاٹ کر لائے گا اس کو اتنا سنہری سکہ انعام دیا جائے گا۔ شیکسپیئر (۱۵۶۴ء-۱۶۱۶ء) نے اپنے ڈرامے میں پیغمبر اسلام کو نعوذ باللہ جھوٹا رسول بتایا ہے۔ شاہ جہاں (۱۵۹۲ء-۱۶۶۶ء) شیکسپیئر کا معاصر تھا مگر ہندوستان کے علماء نے شاہ جہاں سے یہ نہیں کہا کہ فوراً "ایک یا زیادہ آدمی کو ہتھیار دے کر انگلینڈ بھیجو تاکہ وہ وہاں پہنچ کر شیکسپیئر کو قتل کر دیں، وغیرہ وغیرہ!"

وقت کے ظالموں نے قتل کیا ہے۔ اس تاریخی پس منظر میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ

صفحہ ۱۵۴

مقتول کا رشتہ ان گزرے ہوئے لوگوں کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ وہ اس کو ہیرو بنا دیتے ہیں۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس کے ساتھ بھی وہی کچھ پیش آیا ہے جو اس سے پہلے بے شمار سچے انسانوں کے ساتھ پیش آیا۔ اس طرح مخالفین کے ہاتھوں سے قتل ہونا اس کو ”شہیدانِ حق“ کی فہرست میں شامل کر دیتا ہے۔ یہ کوئی فرضی بات نہیں۔ سلمان رشدی کے اعلانِ قتل کے بعد عملاً یہی بات پیش آئی ہے۔ مثال کے طور پر ٹائمز آف انڈیا (۵۔ مارچ ۱۹۸۹ء) میں ایک مضمون نمایاں طور پر شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہے ”(Consored by Religion)“۔ اس مضمون میں سلمان رشدی کو تاریخ کے ان بڑے بڑے لوگوں کی فہرست میں شمار کیا گیا ہے جن کو ان مخالفین نے قتل کر دیا، یا جن کو مکہ کے لوگوں نے قتل کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً سقراط، مسیح، گلیلیو، مارٹن لوتھر وغیرہ۔ حتیٰ کہ پیغمبر اسلام (ﷺ) جن کو مکہ کے لوگوں نے قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ مشہور سائنس دان گلیلیو کے انجام کا تذکرہ کرتے ہوئے اس مضمون میں یہ الفاظ درج کیے گئے ہیں کہ گلیلیو کو اپنی آخر عمر تک اپنے گھر کے اندر نظر بند کر دیا گیا تھا۔ یہی مقدر رشدی کا آج ایک نئی صورت میں ہو سکتا ہے“۔

کتاب لکھی تھی جس کا نام ”رنگیلا رسول“ تھا۔ برصغیر ہند کے مسلمانوں نے اس کتاب کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ کیونکہ ان کے نزدیک یہ کتاب پیغمبر اسلام کی ”شانِ عظمت کے خلاف توہین آمیز تھی“۔ آخر کار یہ واقعہ پیش آیا کہ دسمبر ۱۹۲۶ء کی آخری تاریخوں میں ایک مسلم نوجوان نے سوامی شردھانند کو قتل کر دیا۔ اس نوجوان کا نام عبدالرشید تھا۔ اس کی بیوہ ماں نے اکلوتے بیٹے کو خوشی خوشی اس کی اجازت دے دی تھی کہ وہ ناموسِ رسول (ﷺ) کی حفاظت کے لیئے قربان ہو جائے۔

لیکن اگر ناموس رسول (ﷺ) حاصل نہیں ہوا۔ کیونکہ اہ درمیان قومی ہیرو کی حیثیت مرقومہ بالا اقتباسات حقائق اور انسانی نفسیات کی کہ بالعموم زندہ حقیقتوں کو اس حصہ میں شامل ہو گئی ”رنگیلا رسول“ مذکور نے راجپال منظر عام پر لایا اور تھا۔ الغرض شردھانند کے مصنف مذکور کے بڑے بڑے لوگوں کی فہر ہے۔ راقم الحروف نے ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ پھولتا ہے لیکن باطل کے ساتھ ہی دفن ہو جایا کرتا جاتی ہیں، لیکن جب ق تک کسی غدار کا مزار بنے تلوار سے قتل کیے گئے محبت کا دم بھرنے والا کوئی ہیرو قرار پا جاتے ہیں۔ ار

صفحہ ۱۵۳

لیکن اگر ناموس رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حفاظت کا طریقہ یہی ہو تو یقیناً یہ مقصد حاصل نہیں ہوا۔ کیونکہ اس قتل کے بعد شردھانند نے اس ملک کی اکثریت کے درمیان قومی ہیرو کی حیثیت اختیار کر لی“۔

مرقومہ بالا اقتباسات و تاثرات میں ظاہراً بڑی دردمندی کے ساتھ تاریخی حقائق اور انسانی نفسیات کی اثر انگیزیاں ضبطِ تحریر میں لائی گئی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ بالعموم زندہ حقیقتوں کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے، اور کئی ایک واقعاتی غلطیاں بھی اس حصہ میں شامل ہو گئی ہیں۔ سوامی شردھانند شُدھی تحریک کا بانی تو تھا لیکن ”رنگیلا رسول“ مذکور نے نہیں لکھی تھی، بلکہ اسے لاہور کا ایک ہندو پبلشر مہاشہ راجپال منظرِ عام پر لایا اور غازی علم الدین شہیدؒ کے ہاتھوں ۱۹۲۹ء میں اپنے انجام کو پہنچا تھا۔ الغرض شردھانند کے قتل سے بالیقیں حقیقی مقصد حاصل ہو گیا تھا۔

مصنف مذکور کہتے ہیں کہ ہلاکت سے دوچار ہو کر رشدی بھی تاریخ کے بڑے بڑے لوگوں کی فہرست میں گنا جائے گا، لہٰذا اسے زندہ رہنے دیا جائے تو اچھا ہے۔ راقم الحروف نے تاریخ کی سرگزشت سے اس کے بالکل برعکس نتیجہ اخذ کیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جب سچائی کے پرستار موت سے گلے ملتے ہیں تو سچ مزید پھلتا پھولتا ہے لیکن باطل کے نمائندے فنا کے گھاٹ اترتے ہیں تو جھوٹ بھی ان کے ساتھ ہی دفن ہو جایا کرتا ہے۔ اگر دشتِ کربلا میں حسینؓ مارا جائے تو صدیاں اداس ہو جاتی ہیں، لیکن جب قاتلانِ حسینؓ کے سر کٹے تو چشمِ فطرت بھی مسکرا دی تھی۔ آج تک کسی غدار کا مزار بنتے نہیں دیکھا گیا۔ سجاح اور مسیلمہ کذاب وغیرہم بھی اسلام کی تلوار سے قتل کیے گئے تھے۔ آئے دن نامی گرامی ڈاکو لٹکا دیئے جاتے ہیں اور ان کی محبت کا دم بھرنے والا کوئی نہیں ملتا۔ پھر ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح مجرم بھی ہیرو قرار پا جاتے ہیں۔ ارسطو اور گیلیلیو کو اگر موت بھی مار نہ سکی تو یہ سچائی کی رعنائی

صفحہ ۱۵۴

تھی۔ مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ جب تک ابو جہل زندہ رہا، فتح مکہ کے اسباب پیدا نہ ہو سکے تھے۔ جھوٹے مدعیان نبوت کا کام حضرت ابو بکر صدیق نے تمام کر دیا تو آج ان کا کوئی نشان بھی باقی نہیں ملتا۔ لیکن ذکری فرقہ کے بانی کو برداشت کیا گیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کو تلوار کا شکار نہیں بنایا گیا تو ایک بہت بڑا فتنہ سر اٹھائے کھڑا ہے اور ہزاروں افراد اپنا دین و ایمان گنوا بیٹھے ہیں۔

دانتے کے بارے میں اگر سلطان عثمان غازی نے کوئی فرمان جاری نہیں کیا تھا اور شیکسپیئر سے متعلق عہد شاہ جہاں میں اگر سزائے قتل کی تحریک نہیں اٹھی تو اس کا یہ مطلب کب ٹھہرا کہ اسلام میں گستاخِ رسولؐ کے لیے موت کی سزا نہیں ہے۔ مزید برآں یہ کہ اس دور میں ذرائع مواصلات معدوم تھے۔ الیکٹرانک میڈیا بھی موجود نہ تھا اور آمد و رفت ایک طرح سے نہ ہونے کے برابر تھی۔ تب شاید اس امر کی خبر تک نہ ہو سکی ہو۔ لیکن اب پوری دنیا گلوبل ولیج ہے۔ فاصلے سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ فی الحقیقت یہ کوئی شرعی، فقہی، تاریخی یا عقلی دلیل نہیں بنتی۔

موصوف، اجماع کی بھی غلط تعریف فرما گئے ہیں۔ فقہاء و علماء کے اتفاق رائے سے مراد یہ ہے کہ کسی دور میں ایک مسئلہ سامنے آتا ہے اور قرآن و سنت کے رہنما اصولوں کی روشنی میں ان میں سے ایک یا بعض کا نقطۂ نگاہ نشر ہوتا ہے لیکن دوسرے حضرات اس کی تحریر و تقریر کے ذریعہ یا خاموش رہ کر تائید کر دیتے ہیں اور اس کے خلاف کوئی رائے نہیں پائی جاتی تو یہ اجماع متصور ہو گا۔ شتم رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر سزائے موت کے بارے میں اجماع امت کی یہ کیفیت ہے کہ پوری تاریخ اسلام میں ماسوائے عہد حاضر کے بعض نام نہاد مسلمانوں کے، ہم کسی ایک مسلمان کو بھی نہیں جانتے جو اس کا قائل نہ ہو۔

مرتدین و شاتمین کا معاملہ ایک دوسرے سے واقعی مختلف ہے۔ لیکن یہ موقف صحیح نہیں کہ سب و شتم کرنے والے حق یہ ہے کہ شتم ارتداد سے بھی زیادہ سخت ہے۔ نیز یہ کہ سب و شتم، اعتراض، تنقید بلکہ بدامنی پھیلانے، فتنہ پیدا کرنے اور فعل ہے۔ ارتداد ایک انفرادی جرم ہے جبکہ توبہ کا موقع فراہم کیا جاتا ہے لیکن شاتم

امام ابو یوسفؒ نے اس مجرم (ﷺ) کی کدو سے رغبت کا فتویٰ صادر نہیں فرمایا تھا بلکہ یہ فرمایا تھا کہ حکم دے دوں گا۔ اس میں ایک اجتہادی دوسرے مقام پر زیر بحث لائی جائے گی۔

یہ بھی درست ہے کہ اسلام میں تاریخ و فقہ میں بعض استثنائی نظائر بھی اکتفا نہیں کی جاتی بلکہ جسمانی قتل، تعزیر

غزوہ تبوک سے واپسی پر نبی کریم مجھے ناپسند ہے کہ لوگ یہ چرچا کریں کہ ہیں، محض ایک مصلحت کے تحت تھا نہیں ہوتا کہ یہ لوگ واجب القتل نہیں کہ ان کے مباح الدم ہونے میں تو کوئی سے مختلف ہے۔ سرکار اقدس (ﷺ) ہیں۔ واضح رہے کہ آپ ﷺ

صفحہ ۱۵۵

مؤقف صحیح نہیں کہ سب و شتم کرنے والوں کا مقابلہ زیادہ طاقتور الفاظ سے کیا جائے۔ حق یہ ہے کہ شتم‘ ارتداد سے بھی زیادہ سخت جرم ہے اور اس پر سزا بھی سخت ترین ہے۔ نیز یہ کہ سب و شتم‘ اعتراض‘ تنقید اور نکتہ چینی کی نوعیت کا فعل نہیں ہے‘ بلکہ بدامنی پھیلانے‘ فتنہ پیدا کرنے اور دشمنی و غارت گری سے بھی بدتر نوعیت کا فعل ہے۔ ارتداد ایک انفرادی جرم ہے جبکہ شتم‘ اجتماعی ظلم، یہی سبب ہے کہ مرتد کو توبہ کا موقع فراہم کیا جاتا ہے لیکن شاتم سے یہ رعایت بھی نہیں برتی جاسکتی۔

امام ابو یوسفؒ نے اس شخص کے بارے میں جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کدو سے رغبت کا بیان سن کر سرعام ناپسندیدگی کا اظہار کیا‘ قتل کا فتویٰ صادر نہیں فرمایا تھا بلکہ یہ فرمایا تھا کہ اگر اس نے توبہ نہ کی تو میں اس کے قتل کا حکم دے دوں گا۔ اس میں ایک انتہائی باریک نکتہ پنہاں ہے۔ اس کی وضاحت دوسرے مقام پر زیر بحث لائی جائے گی۔

یہ بھی درست ہے کہ اسلام میں جرم کا معاملہ ایک عدالتی معاملہ ہے۔ مگر تاریخ و فقہ میں بعض استثنائی نظائر بھی مذکور ہیں نیز ان صورتوں میں صرف ذہنی قتل پر اکتفا نہیں کی جاتی بلکہ جسمانی قتل مقصود و ناگزیر ہوتا ہے۔

غزوۂ تبوک سے واپسی پر نبی کریم رؤف الرحیم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمانا کہ مجھے ناپسند ہے کہ لوگ یہ چرچا کریں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں‘ محض ایک مصلحت کے تحت تھا۔ اس حدیث مبارکہ سے بھی یہ قطعاً عیاں نہیں ہوتا کہ یہ لوگ واجب القتل نہیں ہیں۔ بلکہ بین السطور یہی مفہوم جھلکتا ہے کہ ان کے مباح الدم ہونے میں تو کوئی کلام نہیں مگر فی الحال حکمت دین کا تقاضا اس سے مختلف ہے۔ سرکار اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سلسلے میں با اختیار تھے لیکن ہم پابند ہیں۔ واضح رہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ الفاظ منافقین کے حوالہ سے ارشاد فرمائے

صفحہ ۱۵۶

تھے جو بظاہر اپنے تئیں مسلمان جتلاتے تھے۔ سبب اس کا یہ ہے کہ ان کے نفاق و اہانت کا کوئی شرعی ثبوت مہیا نہ تھا۔ چونکہ نفاق ایک پوشیدہ اور باطنی معاملہ ہے۔ اور بظاہر تو وہ اسلام کے دوست ہی سمجھے جاتے تھے۔ عوام الناس ان کو دین اسلام کے اعوان و انصار اور حضور رحمت للعالمین (ﷺ) کے اصحاب میں شمار کرتے تھے۔ اگر رسول کریم (ﷺ) ایسی صورت میں ان کے پوشیدہ امور اور نفاق کی وجہ سے اس علم کی بناء پر جو آپ ﷺ کو ان کے قلبی خیالات سے متعلق حاصل تھا، انہیں قتل کر دیتے تو لازماً دشمنان اسلام کو موقع مل جاتا اور ان کے منہ میں جو آتا بکتے، جاہل لوگ شبہہ میں پڑ سکتے تھے۔ شیطان جھوٹی باتیں بناتا اور یوں بہت سے قبائل و افراد قبول دین سے رک جاتے کہ شاید آپ ﷺ نے ساتھیوں کو کسی پرانی یا خفیہ عداوت کی وجہ سے قتل کرایا یا شاید کوئی بدلہ لیا ہے۔ حضرت امام مالکؒ یہی موقف رکھتے ہیں۔

آپ ﷺ اگر محض علم نبوت کی بناء پر بغیر کسی ظاہری ثبوت اور شرعی شہادتوں کے، ان پر حد جاری فرماتے تو یہ آپ ﷺ کی سنت سے دور تھا۔ آپ ﷺ کا اسوۂ حسنہ امت کے لئے حجت ہے۔ لہٰذا یوں آگے چل کر غلط روایت پڑنے اور الجھنیں پیدا ہونے کا امکان تھا، جسے رسول خدا (ﷺ) پسند نہ فرما سکتے تھے۔ محمد بن مواز کا قول ہے کہ اگر منافقین کا یہ طرز عمل ظاہر ہوتا تو سالار بدر و حنین (ﷺ) انہیں ضرور قتل کرا دیتے۔ قاضی ابو الحسن قصار نے بھی یہی فرمایا ہے۔ پیارے آقا و مولا (ﷺ) ان میں بعض کے بارے میں یہ علم بھی رکھتے تھے کہ کن کی قسمت یاور کرے گی اور وہ آگے چل کر کب شرف بہ اسلام ہوں گے۔ مستقبل میں دین متین کے حامی ٹھہرنے والوں کی نسبت بھی نرم رویّہ اختیار فرماتے تھے اور یہ آپ کا اعجازِ علم ہے، جو کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتا۔

صفحہ ۱۵۷

مسلمان کہلاتے تھے۔ سبب اس کا یہ ہے کہ ان کے نفاق کا مہیا نہ تھا۔ چونکہ نفاق ایک پوشیدہ اور باطنی معاملہ ہے۔ اور مومن ہی سمجھے جاتے تھے۔ عوام الناس ان کو دین اسلام کے رحمت اللعالمین (ﷺ) کے اصحاب میں شمار کرتے تھے۔ ایسی صورت میں ان کے پوشیدہ امور اور نفاق کی جو آپ ﷺ کو ان کے قلبی خیالات سے متعلق دیتے تو لازماً دشمنان اسلام کو موقع مل جاتا اور ان کے منہ شبہہ میں پڑ سکتے تھے۔ شیطان جھوٹی باتیں بناتا اور یوں نئے دل دین سے رک جاتے کہ شاید آپ ﷺ نے عداوت کی وجہ سے قتل کرایا یا شاید کوئی بدلہ لیا ہے۔ رکھتے ہیں۔

مگر محض علم نبوت کی بناء پر بغیر کسی ظاہری ثبوت اور سزا جاری فرماتے تو یہ آپ ﷺ کی سنت سے دور حسنہ امت کے لیئے حجت ہے۔ لہٰذا یوں آگے چل کر پیدا ہونے کا امکان تھا، جسے رسول خدا (ﷺ) عیاض کا قول ہے کہ اگر منافقین کا یہ طرز عمل ظاہر ہوتا تو تو انہیں ضرور قتل کرا دیتے۔ قاضی ابو الحسن قصار نے قا و مولا (ﷺ) ان میں بعض کے بارے میں یہ حکمت یاور کرے گی اور وہ آگے چل کر کب مشرف بہ دین متین کے حامی ٹھہرنے والوں کی نسبت بھی نرم پ کا اعجاز علم ہے، جو کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتا۔

لہٰذا کوئی دوسرا یہ رعایت برتنے کا بھی مجاز نہیں ہے۔ اسی پس منظر میں رسول پاک (ﷺ) نے ارشاد فرمایا تھا کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ لوگ کہتے پھریں کہ محمد (ﷺ) اپنے اصحاب کو قتل کرتے رہیں۔ نیز فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جن کے قتل سے اللہ تعالیٰ نے مجھے منع فرمایا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان مخصوص لوگوں کے قتل کا عارضی طور پر امتناع اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ وہ اللہ اور اللہ کے رسول (ﷺ) کے نزدیک مباح الدم نہ تھے۔ بلکہ عملاً یہ ایک اثباتی حکم ہے اور ان کے واجب القتل ہونے پر دلیل بھی۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ میں ظاہراً مومنین کا دب جانا، باطناً فتح مبین کا ذریعہ ٹھہر گیا تھا۔ اسی طرح از روئے حکمت خداوندی ان کے اس طرز نفاق پر فی الحال اعراض برتنا مفید تھا۔

آخرش اس باب میں مولانا وحید الدین خان کی طرف سے اٹھائی گئی چند دیگر غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ناگزیر ہے۔ رشدی کو کسی نے بھی اس وجہ سے واجب القتل نہیں ٹھہرایا کہ اس نے "مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ بلکہ وہ اس سبب سے قابل گردن زنی ٹھہرایا گیا ہے کہ اس نے صاحب التاج والمعراج (ﷺ) کی توہین کا ارتکاب کیا جو کہ اسلام میں ناقابل معافی ہے اور اس سے مسلمانوں کے جذبات بھی مجروح ہوئے ہیں۔ مولانا مذکور کا یہ موقف بڑی حد تک صحیح ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کا قانون اپنے ہاتھ میں لینا پسند نہیں فرمایا۔ مگر اس میں بعض مستثنیات ہیں، جن کا بیان دوسرے باب میں آئے گا۔ ان کا یہ نقطۂ نظر بڑا عامیانہ اور غیر منطقیانہ ہے کہ سبّ و شتم اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام اور پیغمبر اسلام (ﷺ) پر اعتراض ہے اور اعتراض کو دلیل سے ہی رد کیا جانا چاہیئے۔ فی الحقیقت اعتراض اور چیز ہے جبکہ لعن طعن دوسری چیز۔ سچ یہ ہے کہ "مولانا" وحید

صفحہ ۱۵۸

الدین خاں اسلامی فکر و نظر کو مطلقاً نہیں سمجھ پائے اور انہوں نے رسالہ میں رطب و یابس کا انبار لگانے کے علاوہ کوئی مفید اور سنجیدہ کام نہیں کیا ہے۔

حکمت و استدلال

آقا ﷺ، عملِ صحابہؓ و تابعین اور فقہ و تاریخ سے ثابت ہے۔ خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، اس کا مقدر بہرحال موت ہے۔

اقدس میں نعوذ باللہ گستاخی و بے حیائی کا مرتکب ہو تو اس کا یہ جرم اتنا بڑا ہے کہ اس کی سزا قتل اور صرف قتل ہے۔ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ اگر کوئی مسلمان ویسے مرتد ہو جائے تو اسے توبہ کا موقع دیا جانا روا ہے۔ بلکہ لازم ہے لیکن سب و شتم سے جو ارتداد پیدا ہوتا ہے، اس میں اگرچہ وہ توبہ ہی کرے، اس کی سزائے قتل ساقط نہ ہو گی۔

بندے کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے۔ لوگوں کے ساتھ اس کا رشتہ عذر و معافی سے منسلک ہوتا ہے۔ اور یہ جرم اس نوعیت کا ہے کہ کوئی بھی شخص معذرت خواہی تسلیم کر لینے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ رسول اکرم ﷺ کا ذاتی حق تھا۔ آپ ﷺ اسے معاف فرما سکتے تھے۔ لیکن کسی امتی کو ہرگز یہ استحقاق حاصل نہیں ہے۔ اگر کسی ایسے مجرم سے توبہ کا صدور ہو اور اس کا عمل بھی گواہی دے تو فقہاء کہتے ہیں کہ اس کی تکفین و تدفین اسلامی طریق پر ہو گی اور تقسیم وراثت کے لیئے بھی قانون اسلامی حرکت میں آئے گا متعلق نیک گمان رکھیں۔ مگر اس سے شرع

اور معاشرتی اہمیت کو بھی زیر بحث لانے ہو جانے سے دیگر لوگوں پر کیا اثرات مر کی وجہ سے پورا معاشرہ یا کوئی خاص علا موقع محل کی مطابقت سے خلیفہ وقت ﷺ اس کے باب میں عدل و ہے۔

شتم رسول ﷺ کے مرتکب سّب النبی کے مجرم کے لیئے توبہ و مع فقہاء نے تو گستاخ رسول ﷺ ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ فتنوں ساتھ معاملہ ہے۔ اس پر کوئی فتویٰ صا

صحابہؓ میں موجود ہیں۔ سیدنا حضرت منکرینِ ختمِ نبوت (مرتدین) کی توبہ رسول) کو معاف نہیں کیا گیا تھا۔ مسعودؓ جب قاضی کوفہ تھے تو انہو ابنِ نواحہ کو اس کی توبہ کے باوجو

صفحہ ۱۵۹

بھی قانون اسلامی حرکت میں آئے گا۔ اور مسلمانوں کو چاہیے کہ اس کی نیت سے متعلق نیک گمان رکھیں۔ مگر اس سے شرعی حد کسی صورت ساقط نہیں ہو سکتی۔

اور معاشرتی اہمیت کو بھی زیر بحث لاتے ہیں۔ اس میں دیکھا جاتا ہے کہ اس کے مرتد ہو جانے سے دیگر لوگوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ اگر اس کے دین سے پھر جانے کی وجہ سے پورا معاشرہ یا کوئی خاص علاقہ متاثر ہوا تو توبہ کا تسلیم کیا جانا یا نہ کیا جانا موقع محل کی مطابقت سے خلیفہ وقت اور قاضی پر منحصر ہے لیکن گستاخ رسول (ﷺ) اس کے باب میں عدلیہ کو بھی رعایت دینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

شتم رسول (ﷺ) کے مرتکب کے لئے اس کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ سَبِّ النبی کے مجرم کے لئے توبہ و معافی کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہے۔ بعض فقہاء نے تو گستاخ رسول (ﷺ) کی توبہ کو عند اللہ بھی ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ نیتوں سے متعلق ہے اور ایک بندے کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے۔ اس پر کوئی فتویٰ یا حتمی حکم نہیں دیا جانا چاہیے۔

صحابہؓ میں موجود ہیں۔ سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ کے عہدِ خلافت میں مانعینِ زکوٰۃ و منکرینِ ختمِ نبوت (مرتدین) کی توبہ و معافی کو تسلیم کر لیا گیا لیکن خاص مرتد (گستاخِ رسول) کو معاف نہیں کیا گیا تھا۔ اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ جب قاضی کوفہ تھے تو انہوں نے دیگر مرتدین کے برعکس ایک شخص عبداللہ ابن نواحہ کو اس کی توبہ کے باوجود سزائے موت دی تھی اور فرمایا کہ یہ گستاخِ رسول

صفحہ ۱۶۰

(ﷺ) کا مرتکب ہوچکا ہے۔

کے لئے سزائے موت سے بچ نکلنے کی کوئی گنجائش نہیں، چونکہ وہ اسلام کے ساتھ اپنے ماضی کے تعلق کی وجہ سے اس جرم کی شدت سے کماحقہ آگاہ تھا۔ راقم الحروف کا اس بارے میں ذاتی نقطہ نگاہ یہ ہے کہ ایک غیر مسلم کے لئے جب وہ ایک آزاد غیر مسلم ریاست کا شہری ہے، اجتہاد کیا جاسکتا ہے۔ اگر وہ از خود تائب ہوکر آجائے یا اپنے آپ کو اسلامی ریاست کی تحویل میں دے دے اور مع ثبوت بتائے کہ میں گمراہ تھا۔ اب حقیقت حال کھل چکی ہے اور میں خلوص نیت کے ساتھ اسلام قبول کرتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اگر یوں اس کے قبول اسلام کی صداقت ظاہر ہو جائے تو شاید اسے معاف کئے جانے کی کوئی گنجائش موجود ہو۔

توبہ و معافی کو قبول کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس قسم کی کسی جسارت سے متاثر نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔ لیکن اس کے برخلاف رسول اللہ (ﷺ) عظمتِ بشر ہیں۔ ان کی ذات اس سے مستثنیٰ نہیں اور یہ کہ آپ (ﷺ) سے بدگمانی اور سبّ و شتم قبول حق کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اور بدامنی و فتنہ پروری کا ایک خطرناک ذریعہ ہے۔ لہٰذا اہانتِ رسول (ﷺ) کے مرتکبین کو بہرطور موت کے گھاٹ ہی اتارا جائے گا۔

لئے ہمیں عُرف سے رجوع کرنا چاہئے۔ اہلِ عرف کے نزدیک جو چیز (کلمہ، اشارہ، حرکت وغیرہم) گستاخی اور عیب شمار ہوگی، انہیں ”سبّ و شتم“ کہا جائے گا۔

اس باب میں قاضی ابوالفضل عیاض اندلسیؒ (صاحب الشفاء) فرما گئے ہیں:

جان لو کہ جو شخص سرکار مدینہ (صل نقص کی نسبت آپ کی ذات، نسب طرف کرے یا آپ ﷺ ک ﷺ کو ناقص کہے یا آپ ص یا آپ ﷺ کی کسی بات پر والا) ہے۔ اس کے بارے میں وہی کہ اسے قتل کر دیا جائے گا"۔

(ﷺ) اور دورِ صحابہ میں گیا، بلکہ نقض عہد کی بناء پر ان ک دھاندلی ہے کیونکہ عمل صحابہؓ سے ی جبکہ رسول پاک (ﷺ) ن بار حکم دیا کہ کون ہے جو میرے ل والا ہے۔ مزید برآں یہ کہ اگر ا طلب ہوتیں اور ان کو معافی دی ج

ان کا جرم یہ تھا کہ وہ حضور پاک ک تھیں۔ اگر ان میں سے کسی کا ب چاہئے تھا، جیسا کہ مطلق ارتداد م مقتول کے ورثاء کو طلب کیا جاتا ا بناء بریں کعب بن اشرف وغیرہم ک

صفحہ ۱۴۱

جان لو کہ جو شخص سرکارِ مدینہ (ﷺ) کو گالی دے‘ یا آپ پر عیب لگائے‘ یا کسی نقص کی نسبت آپ کی ذات‘ نسب‘ دین یا آپ کی عادات میں سے کسی عادت کی طرف کرے یا آپ ﷺ کو بطریقِ گستاخی کسی چیز سے تشبیہ دے یا آپ ﷺ کو ناقص کہے یا آپ ﷺ کی شان کو کم کرے یا آپ ﷺ پر یا آپ ﷺ کی کسی بات پر عیب لگائے تو گویا وہ سابّ النبی (نبی کو گالی دینے والا) ہے۔ اس کے بارے میں وہی حکم ہے جو آپ ﷺ کو گالی دینے والے کا ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے گا“۔

(ﷺ) اور دورِ صحابہ میں مطلق گستاخیِ رسالت کی وجہ سے کسی کو قتل نہیں کیا گیا‘ بلکہ نقضِ عہد کی بناء پر ان کی گردن ماری گئی تھی۔ حالانکہ یہ مکمل طور پر دھاندلی ہے کیونکہ عملِ صحابہؓ سے اس کی کئی نظائر میسر ہیں اور بیان میں آچکی ہیں جبکہ رسولِ پاک (ﷺ) نے جیسا کہ احادیثِ مبارکہ سے بھی ثابت ہے‘ متعدد بار حکم دیا کہ کون ہے جو میرے فلاں دشمن کی خبر لے گا‘ کیونکہ وہ مجھے اذیت دینے والا ہے۔ مزید برآں یہ کہ اگر کسی کو قصاص وغیرہ میں قتل کیا جاتا تو پھر باقاعدہ شہادتیں طلب ہوتیں اور ان کو صفائی وغیرہ کا موقع فراہم کیا جاتا۔

ان کا جرم یہ تھا کہ وہ حضور پاک (ﷺ) کی شان میں اہانت آمیز کلمات کہا کرتی تھیں۔ اگر ان میں سے کسی کا جرمِ ارتداد ہوتا تو ان کو حسبِ دستور توبہ کا موقع ملنا چاہئے تھا‘ جیسا کہ مطلق ارتداد میں دیا جاتا ہے۔ اگر انہیں قصاص میں مارا جا رہا تھا تو مقتول کے ورثاء کو طلب کیا جاتا کہ چاہیں تو معاف کر دیں‘ نہیں تو قتل کر دیا جائے۔ بناء بریں کعب بن اشرف و غیرہم کے قتل کو بھی نقضِ عہد کا سبب گرداننا مطلق لاعلمی

صفحہ ۱۶۴

اور جہالت ہے۔ کیونکہ اس کے ثبوت میں کتب تواریخ اور احادیث موجود ہیں کہ اسے حضور (ﷺ) کی ہجو اور آپ ﷺ کو گالیاں دینے کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔

آیہ مبارکہ سے ہوتی ہے کہ اہانتِ رسول (ﷺ) کی پاداش میں معاہد کو بھی قتل کر سکتے ہیں، کیونکہ آپ ﷺ کی توہین سے ان کا عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ مزید برآں یہ کہ عہدِ رسالت (ﷺ) کی نظائر شاہد ہیں کہ شاتمِ رسول کو دھوکے سے قتل کیا گیا، اور یہ کہ متعدد گستاخانِ رسول کو صحابہ کرامؓ نے رسول اکرم (ﷺ) سے اجازت لیے بغیر ہی فنا کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ محبوب خدا (ﷺ) نے اس پر تحسین و آفرین فرمائی۔ ان کے ورثاء میں سے کسی کے بھی مطالبۂ قصاص کو کبھی درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا۔

کس قدر سخت تھا۔ خفیف گستاخی پر انہوں نے ایک بشر نامی منافق کی گردن اڑا دی تھی۔ شاتم الرسولؐ سے متعلق ان کا نقطۂ نظر اور عمل ایک روشن حوالہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن مطلق مرتد کے بارے میں ان سے متعلق یہ روایت بطورِ خاص قابلِ ذکر ہے: ”محمد بن عبداللہ بن عبدالقاری سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کے پاس ایک آدمی حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی جانب سے آیا۔ حضرت عمرؓ نے لوگوں کے بارے میں پوچھا تو اس نے اس بارے میں بتایا۔ پھر حضرت عمرؓ نے پوچھا، کوئی عجیب واقعہ تو پیش نہیں آیا۔ اس نے کہا کہ پیش آیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ایک آدمی اسلام لانے کے بعد کافر ہو گیا۔ حضرت عمرؓ نے دریافت کیا، تو تم نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ اس نے کہا کہ ہم نے اس کی گردن اڑا دی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تم نے اسے تین دن کے لئے قید و بند توبہ کا مطالبہ کرتے رہتے۔ ممکن تھا پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں اس وقت نہ ہی اسے سن کر راضی ہوا“۔

اور حکومت و ریاست عمل درآم موت کی سزا لاگو کی جاتی ہے۔ عدالت کے روبرو پیش کیا جائے کسی مرتکب کو لقمۂ اجل بنا دے اپنے آقا و مولا (ﷺ) کی ایک فطری امر ہے اور غیرتِ ایما نبوت کی متعدد نظائر اور تاریخ قاتل کوئی ذاتی و دنیوی وجہ عناد کیا جاسکے۔

القتل ہے اور اسلامی ریاست یا غیر مسلم کا امتیاز روا نہیں رکھ صرف نظر کرتی ہے تو وہ خدا و ایک اہم فریضہ سے پہلو تہی ک

صورت میں مسلم حکومت مجرم

صفحہ ۱۴۳

نے اسے تین دن کے لئے قید و بند میں کیوں نہ رکھا کہ ہر روز اسے روٹی کھلاتے اور توبہ کا مطالبہ کرتے رہتے۔ ممکن تھا، وہ توبہ کر لیتا اور اللہ کے دین کی طرف لوٹ آتا۔ پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں اس وقت حاضر نہ تھا اور نہ ہی میں نے اس بات کا حکم دیا اور نہ ہی اسے سن کر راضی ہوا“۔

اور حکومت و ریاست عمل درآمد کو یقینی بناتی ہے۔ دینِ فطرت میں شتم رسول پر موت کی سزا لاگو کی جاتی ہے۔ فقہی تقاضا ہے کہ گستاخ رسول (ﷺ) کو بھی عدالت کے روبرو پیش کیا جائے لیکن اگر کوئی مسلمان اپنے طور پر توہین رسالت کے کسی مرتکب کو لقمۂ اجل بنا دے تو از روئے اسلام اس پر کوئی بار نہ ہو گا۔ کیونکہ اپنے آقا و مولا (ﷺ) کی شان میں بے ادبی پر مشتعل ہو کر انتہائی اقدام اٹھانا ایک فطری امر ہے اور غیرتِ ایمانی پر دلالت کرتا ہے۔ اس مؤقف کی تائید میں زمانۂ نبوت کی متعدد نظائر اور تاریخی شواہد میسر ہیں۔ اس سلسلے میں شرط صرف یہ ہے کہ قاتل کوئی ذاتی و دنیوی وجہ عناد نہ رکھتا ہو اور یہ کہ بعض صورتوں میں جرم ثابت بھی کیا جاسکے۔

القتل ہے اور اسلامی ریاست اس قانون کے نفاذ کی پابند ہے۔ اس باب میں کسی مسلم یا غیر مسلم کا امتیاز روا نہیں رکھا جاسکتا۔ اگر اس سلسلے میں حکومت کسی بھی وجہ سے صرف نظر کرتی ہے تو وہ خداوندِ کریم کی مغضوب و معتوب ٹھہرے گی، کیونکہ اس نے ایک اہم فریضہ سے پہلو تہی کی، اس لیئے کہ یہ اسلام کے قانون کا اساسی ستون ہے۔

صورت میں مسلم حکومت مجرم کو قرار واقعی سزا تک پہنچانے کی مکلف نہیں ٹھہرتی۔

صفحہ ۱۶۴

اس کے لیئے بین الاقوامی قوانین کی رعایت سے یا اخلاقی بنیادوں پر مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ کسی طرح کا دباؤ ڈال سکتے ہیں اور یہ کہ حالات و واقعات کے مطابق کوئی بھی مؤثر قدم اٹھایا جائے گا۔ لیکن اگر خاص پیغمبر اسلام (ﷺ) کی شان میں اہانت کی گئی ہو تو مجرم کو کیفرِ کردار سے دوچار کرنا مسلمانانِ عالم پر من حیث القوم فرض ہو جاتا ہے۔ یہ ایک فرضِ کفایہ ہے۔ اس کی ادائیگی بہرحال لازم ہے۔ یہ اہم ذمہ داری اگر کوئی انفرادی طور پر نبھاتا ہے تو ہم اجتماعی طور پر سرخرو ہو جائیں گے۔ اور بالفرض پوری ملتِ اسلامیہ میں سے اپنا حق کوئی فرد بھی ادا نہیں کرتا تو پھر تمام امتِ مسلمہ مجرم ٹھہرے گی۔

منشا کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا اس تناظر میں ایک ہی ممکنہ صورت باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ کوئی غیرت مند مسلمان اندرون یا بیرونِ ملک سے اٹھے جو اپنے مال و جان کی پروا کیئے بغیر اس کو فنا کے گھاٹ اتار دے اور یہ طریق کار اپنی روح کے اعتبار سے عین اسلام کے مطابق متصوّر ہو گا۔

جائے اور مجرم اہل کتاب میں سے ہو تو اس کا فیصلہ ان کی کتب سماویہ کے مطابق کیا جائے گا۔ بناء بریں مجرم اہل کتاب میں سے نہ ہو یا کوئی بدبخت مسلمان ہو تو سزا کا تعین از رُوئے قانون اسلام ہو گا۔ یاد رہے کہ بائبل میں نہ صرف توہینِ انبیاء کی سزا قتل ہے۔ بلکہ نائبینِ انبیاء کی گستاخی پر بھی قتل کی سزا مقرر ہے۔ استثناء آیات ۸ تا ۱۳۔ کلامِ مقدس، ص ۱۸۳ پر یہ واضح حکم موجود ہے: اگر تیری بستیوں میں کہیں آپس کے خون یا آپس کے دعویٰ یا آپس کی مار پیٹ کی خاطر کوئی جھگڑے کی بات اٹھے اور اس کا فیصلہ کرنا تیرے لیئے نہایت مشکل ہو تو اٹھ کر اس جگہ سے جسے خداوند تیرا خدا

چنے گا اور لاوی کاہنوں اور ان قا کرنا اور وہ تجھ کو فیصلہ کی بات بتا جگہ سے جسے خداوند چنے گا بتا ئیں شریعت کی جو بات وہ تجھ کو ماننا دیں اس کے داہنے بائیں نہ مڑنا کاہن کی بات جو خداوند تیرا خدا قاضی کا کہا نہ مانے تو وہ شخص قتل دینا"۔

تنگ نظری کا طعنہ دینے والے انحراف پر بھی موت کی سزا نافذ میں مسطور ہے کہ جب رومیوں قانون موسوی کو موقوف و منسوخ یسوع مسیح اور تعلیماتِ انجیل سارے یورپ کی سلطنتوں کا قانون اس جرم کی پاداش میں سزائے موت

ہیں۔ اس میں بہت سی بات الزماں (ﷺ) کی جو شخص جاتا تو لادینیت اور گمراہی کو اتنی

صفحہ ۱۶۵

چنے گا اور لاوی کاہنوں اور ان دونوں کے قاضیوں کے پاس پہنچ کر ان سے دریافت کرنا اور وہ تجھ کو فیصلہ کی بات بتائیں گے۔ اور اسی فیصلہ کے مطابق جو وہ تجھ کو اسی جگہ سے جسے خداوند چنے گا بتائیں، عمل کرنا۔ شریعت کی جو بات وہ تجھ کو سکھائیں اسی کے مطابق سب کچھ احتیاط کر کے ماننا شریعت کی جو بات وہ تجھ کو سکھائیں، اسی کے مطابق عمل کرنا اور جو کچھ فتویٰ وہ دیں اس کے داہنے بائیں نہ مڑنا، اور اگر کوئی شخص گستاخی سے پیش آئے اور اس کاہن کی بات جو خداوند تیرے خدا کے حضور خدمت کے لئے کھڑا رہتا ہے یا اس قاضی کا کہا نہ مانے تو وہ شخص مار ڈالا جائے اور تو اسرائیل میں سے ایسی برائی کو دور کر دینا“۔

تنگ نظری کا طعنہ دینے والے ہمارے مسیحی بھائی انجیل مقدس کی تعلیمات سے انحراف پر بھی موت کی سزا دیتے رہے ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا جلد ۱۱ ص ۷۴ میں مسطور ہے کہ جب رومن امپائر کے مقتدر اعلیٰ جسٹینین نے مسیحیت قبول کر لی تو قانون موسوی کو موقوف و منسوخ کر کے بنی اسرائیل کے انبیاء کے بجائے صرف یسوع مسیح اور تعلیمات انجیل کی توہین پر سزائے موت مقرر کی گئی۔ ازاں بعد یہ سارے یورپ کی سلطنتوں کا قانون بن گیا اور سکاٹ لینڈ میں تو اٹھارویں صدی تک اس جرم کی پاداش میں سزائے موت ہی دی جاتی رہی ہے۔

ہیں۔ اس میں بہت سی حکمتیں مضمر اور مصلحتیں پنہاں ہیں۔ اول یہ کہ پیغمبر آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حرمت و تقدیس کے بارے تنقیص پر سزا کو بطور حد نافذ نہ کیا جاتا تو لادینیت اور گمراہی کو فروغ ملتا، جبکہ حد کی سزاؤں میں توبہ و معافی کی مطلقاً کوئی

صفحہ ۱۶۶

گنجائش نہیں رکھی گئی۔ دوم یہ کہ اگر معافی یا توبہ کا دروازہ کھلا رکھا جائے تو پھر کبھی مجرم کو سزا مل ہی نہ پائے۔ کیونکہ وہ ارتکاب گستاخی کے بعد جان بچانے کی خاطر فی الفور معافی کا خواستگار ہوتا اور ایک مذموم سازش کے تحت پھر اس کی جگہ کوئی اور لے لیتا۔ لہٰذا حکمتِ اسلام یہ قرار پائی کہ توہین نبوت پر ایسی سزا نافذ العمل ہو کہ کوئی بدفطرت و کمینہ خصلت گستاخی کی جرأت ہی نہ کر پائے۔ یہی اس سزا کا فلسفہ ہے۔

(ﷺ) کی شان میں بے حرمتی نہ کی جائے بلکہ انہیں یہ کھلا حق دیتے بھی ہیں کہ اگر کوئی بدبخت شخص، خواہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو، ان کے انبیاءؑ کی گستاخی کا مرتکب ہو تو اسے بھی یہ سزا دی جائے۔ نہ صرف یہ بلکہ مسلمان تو اپنے نظریہ و عقیدہ کی رو سے اس پر ازخود کاربند اور پابند ہیں۔

عالم کو دوسروں پر ترجیح دیتی ہو تو یہ گستاخی کے زمرے میں نہیں گنا جائے گا۔ یہ تو اپنے اپنے ذوق و مشرب، فکری و نظری پس منظر اور قلبی لگاؤ کی بات ہے، جس پر کوئی قدغن نہیں لگائی جاسکتی۔ بلکہ سبّ و شتم سے مراد وہ اشارہ، کلمہ یا عمل ہے، جس سے طعن و تعریض یا اہانت و تنقیص کا تأثر یا گمان ابھرتا ہو۔ مطلب یہ کہ ایک کی دوسرے پر فضیلت کا نظریہ و عقیدہ اہانت نہیں ہے۔

سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بدنیتی و بدباطنی اس کا اوّلین محرک ہے۔ بالفرضِ محال اگر اس کے برخلاف ہو تو محض ذہنی ارتداد و اہانت پر دین اسلام میں کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی ہے۔ ذہنی ارتداد و اہانت سے میری مراد وہ طرز گستاخی ہے جو کوئی فرد اپنے تک ہی محدود رکھے اور بذریعہ تحریر و تقریر یا قولاً یا فعلاً اس کا باقاعدہ مرتکب نہ ہو۔ سزا کا نفاذ تبھی ہو گا جب اس کا برملا اعلا لازمی طور پر بدامنی و فتنہ پروری نیز بے راہرو شدید ترین سزاوار کار و ناگزیر ہے۔

نظریات، جذبات و احساسات اور انقلابی رُوح بلکہ یہ اسلامیوں کے عقیدہ و ایمان کی ہے۔ رسولِ عربی (ﷺ خلاصہ، قومی امتیاز و اعزاز، بقا و وفا کا حقیقی رم رواج ہے۔ اس کا ماحصل یہ ہے کہ مسئل روح محمد (ﷺ) جب تک اس قوم پر ترجیح دیتے اور تختہ دار پر بھی ہمیشہ مسکرا بقا عطا کر جاتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ اگر مسلما وقار کی تضحیک و تمسخر پر خاموشی سادھ نقصانات کا اندازہ ہی نہیں لگایا جاسک

شانِ رحمت للعالمینی کے خلاف نہیں ہے۔ رحیم ہے اور رب العالمین بھی مگر اس ظال ٹھہرایا اور ابدی دوزخ کا عذاب تجویز فرما وہ بھی نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ انبیاء عل ہرگز وجہِ عیب نہیں ہے۔

صفحہ ۱۶۷

ہو۔ سزا کا نفاذ تبھی ہو گا جب اس کا برملا اظہار کیا جائے، اور اس جسارت کا مقصد لازمی طور پر بدامنی و فتنہ پروری نیز بے راہروی و گمراہی پر منتج ہوتا ہے۔ جس کے لیے شدید ترین سزا درکار و ناگزیر ہے۔

نظریات، جذبات و احساسات اور انقلابی ردعمل محض جذباتی نوعیت کا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ یہ اسلامیوں کے عقیدہ و ایمان کی اساس ہے۔ ان کا منفرد تشخص ہے۔ رسول عربی (ﷺ) کی امت کا کل اثاثہ، عرفان و ایقان کا خلاصہ، قومی امتیاز و اعزاز، بقا و وفا کا حقیقی راز، مسلسل و مستقل روایت اور ایک زندہ رواج ہے۔ اس کا ماحصل یہ ہے کہ مسلمان قوم غیور و جسور اور زندہ و تابندہ ہے۔ روح محمد (ﷺ) جب تک اس قوم کے بدن میں موجود ہے، یہ موت کو زندگی پر ترجیح دیتے اور تختہ دار پر بھی ہمیشہ مسکراتے رہیں گے۔ ایسے لوگ تو فنا و قضا کو بھی بقا عطا کر جاتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ اگر مسلمان اپنے نبی (ﷺ) کی حرمت و وقار کی تضحیک و تمسخر پر خاموشی سہار لیں تو اس کے زہریلے اثرات اور دائمی نقصانات کا اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔

شان رحمت للعالمینی کے خلاف نہیں ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمٰن اور رحیم ہے اور رب العالمین بھی مگر اس نے دنیا و آخرت میں کفار و مشرکین کو معتوب ٹھہرایا اور ابدی دوزخ کا عذاب تجویز فرمایا ہے تو اگر یہ ان صفات سے متصادم نہیں تو وہ بھی نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ ایسا معاملہ رب العالمین یا رحمت للعالمین کی صفات پر ہرگز وجہ عیب نہیں ہے۔

صفحہ ۱۴۸

در آنے والے سانپوں کو ہلاک کر دے تو اس عمل کو کسی طور پر بھی بے رحمی یا ظلم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح اگر ایک قاتل، اور ڈاکو کی موت میں لاتعداد انسانوں کی زندگی پوشیدہ ہو تو اس میں کیا حرج ہے؟

رسالت ان کی زندگیوں کا محافظ و ضامن ہے۔ ایک تو یہ کہ اس سزا کا نفاذ صرف غیر مسلموں کے خلاف نہیں ہوا کرتا بلکہ بدبخت مسلمان بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اس باب میں رنگ و نسل یا مذہب و وطن کی کوئی تخصیص روا نہیں رکھی گئی ہے۔ دوسرا یہ کہ اس قانون کے ہوتے ہوئے، جبکہ باقاعدہ ایک عدالتی ذریعہ موجود ہو گا تو پھر کوئی کلمہ گو اپنے طور پر کسی شہری کی جان نہیں لے سکے گا۔ کسی قانون کی عدم موجودگی میں تو کوئی شخص ”اپنا قانون“ (قتل) بھی لاگو کر سکتا ہے۔ اس کے برخلاف اگر داد رسی یا قانونی چارہ جوئی کا ایک معقول ذریعہ ہو تو اس کے امکانات بالکل محدود بلکہ مفقود ہو جاتے ہیں۔

کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام کے قانون انصاف اور نظام عدل میں اس کی مطلقاً گنجائش نہیں ہے۔ قاضی / جج کسی کے کہنے پر مجرم کو پکڑ کر یوں ہی قتل کا فیصلہ صادر نہیں کر دیتے۔ مدعی کو گواہ اور ثبوت پیش کرنا ہوتے ہیں، نصاب شہادت پورا نہ ہونے یا شبہات کی موجودگی میں فرمانِ نبوی (ﷺ) کے مطابق حدود ساقط کر دی جاتی ہیں۔ اپنے اثرات کے لحاظ سے کم نوعیت کے جرائم پر قانون تعزیر حرکت میں آتا۔ اگر مدعی جھوٹا ثابت ہو تو از روئے قانون مستوجب سزا ٹھہرے گا۔ بناء بریں ذاتی دشمنی اور انتقام کے تحت تو چوری، ڈاکہ، زنا، قتل، بغاوت اور غداری کے جھوٹے مقدمات بھی درج ہو سکتے اور ہوتے ہیں۔ اس مفروضہ کی بنیاد پر تو لازم آتا ہے کہ تمام مبینہ ج

ہیں کہ قانون تحفظ ناموس رسالت لوگوں کی منافقت شعاری، عناد و میں کسی ایک جگہ بھی اور کسی ملک آزادی نہیں دی گئی ہے۔ آزا شائستگی شرط ہے۔

محض (مسلمان ہو یا غیر مسلمان) کرنے کی کوشش کرے یا جنگ موت کا مستحق ہو گا“۔

مزید برآں یہ کہ قانون کا اقدام بغاوت بھی سزائے م ریاست کے باغی تو مباح الدم عزت و ناموس باغی یا حملہ آور میں تو قانون اس لیے بھی لازم اور دین اسلام کا سارا یہ قانون نے عطا فرمایا ہے۔ گویا کہ خیرات ہے۔ اور اس کی سلامتی عزت و ناموس کا تحفظ یقینی بنا

صفحہ ۱۶۹

پر تو لازم آتا ہے کہ تمام مبینہ جرائم کا قانون اور سزا ختم کر دی جائے۔

ہیں کہ قانون تحفظ ناموس رسالت حریت فکر اور آزادی رائے کا قاتل ہے۔ اسے ان لوگوں کی منافقت شعاری‘ عناد و تضاد اور دوغلا پن ہی کہہ سکتے ہیں‘ کیونکہ پوری دنیا میں کسی ایک جگہ بھی اور کسی ملک کے آئین میں حدود و قیود کے بغیر مطلقاً ”رائے کی آزادی“ نہیں دی گئی ہے۔ آزادی رائے کے لیئے سبّ و شتم ممنوع اور تہذیب و شائستگی شرط ہے۔

شخص (مسلمان ہو یا غیر مسلمان) جو پاکستان کے خلاف جنگ و بغاوت کرے یا جنگ کرنے کی کوشش کرے یا جنگ کرنے میں مدد و اعانت کرے تو ایسا شخص سزائے موت کا مستحق ہو گا“۔

مزید برآں یہ کہ قانون‘ سربراہ مملکت اور سربراہ حکومت کے خلاف کسی فرد کا اقدام بغاوت بھی سزائے موت کو مستوجب ٹھہراتا ہے۔ استدلال یہ ہے کہ آئین و ریاست کے باغی تو مباح الدم ٹھہرے لیکن حضور سرورِ کائنات (ﷺ) کی عزت و ناموس پر باغی یا حملہ آور کو واجب القتل قرار نہ دیا جائے‘ چہ معنی دارد؟ پاکستان میں تو قانون اس لیے بھی لازم ہے کہ وطن عزیز کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور دین اسلام کا سارا یہ قانون و آئین تو فخر موجودات تاجدار کائنات (ﷺ) نے عطا فرمایا ہے۔ گویا کہ مملکت خداداد‘ پاکستان آپ (ﷺ) کا فیض اور خیرات ہے۔ اور اس کی سلامتی و بقا کے لیئے ناگزیر ہے کہ آقا و مولا (ﷺ) کی عزت و ناموس کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

صفحہ ۱۷۰

شہرت و مقبولیت کو نقصان پہنچایا جائے تو داد رسی کے لئے قانون ازالہ حیثیت عرفی موجود اور نافذ العمل ہے۔ ایک عام آدمی کی عزت و حرمت بھی ایک مسلمہ قدر ہے‘ جس کا ازالہ کروڑوں ڈالر میں بھی ہو سکتا ہے تو اس کے مقابلے میں امام الانبیاء (ﷺ) کی شان میں زبان کھولنا تو ایسا جرم ہے کہ جس کا ازالہ ”مال و دولت کی ایک بڑی سے بڑی مقدار سے بھی نہیں ہو سکتا۔ ناموسِ مصطفیٰ (ﷺ) ایک ایسی قدر ہے کہ اس کی سزا صرف اور صرف مجرم و شاتم کا نشان مٹا دینا ہے۔ زندگی اور جان کا نشان۔ ملتِ اسلامیہ کا مزاج یہ ہے کہ وہ اس سلسلے میں پیغمبرانِ خدا کے مابین فرق روا نہیں رکھتے۔ لہٰذا اسلامی قانون میں اللہ کے کسی بھی نبی و رسول (ﷺ) کا گستاخ واجب القتل ہے۔

ہونے والوں کے لئے سزائے موت کا تعین کر رکھا ہے۔ مقصد اس کا یہ ہے کہ اس زہر کا انسداد ہو۔ اس پہ کوئی اعتراض نہیں اٹھاتا۔ اس قانون کو بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ نہیں بنایا گیا۔ در حقیقت یہ قانون انسانی اقدار کے تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے‘ اور درست ہے۔ کیونکہ ہیروئن انسان کے لئے زہر قاتل اور انسانیت کی توہین ہے۔ کیا محسنِ انسانیت (ﷺ) کی حرمت و ناموس کا تحفظ ان تمام اقدار سے بڑھ کر نہیں ہے؟ لہٰذا اس پر کسی کا انگشت اعتراض اٹھانا‘ دراصل کھلی منافقت‘ بد نیتی اور تضاد بیانی کا عکس ہے۔

دفاع اور حفاظتِ خود اختیاری کے پہلو پر اجماع انسانیت ہے اور اسے ایک ناقابل جرح قدر تسلیم کیا جاتا ہے۔ انڈین پینل کوڈ کی دفعہ ۹۶ تا ۱۰۳ بھی ذاتی دفاع کے بارے ہی میں ہے۔ عجیب ہے کہ جسمانی و مادی اعتبار سے تو یہ حق مانا جائے‘ حفاظتِ خود اختیاری‘ یعنی حفاظتِ مال و جان کے لیکن حفاظتِ دین و ایمان کا سامان صرف جائز ہی نہیں بلکہ واجب قرار

واسطہ توہین پر بھی موت کی سزا گنجائش نہیں ہے۔

مولانا وحید الدین خاں صاحب کا یہ (ﷺ) اور دورِ صحابہؓ میں مجرم کو بھی قتل کی سزا نہیں دی

انقلاب (ﷺ) (سیرت پاک میں بقلم خود یہ لکھ چکے ہیں: ”رسول اللہ (ﷺ) آپ نے اپنے فوجی سرداروں کو خود ان سے لڑنے کے لئے آجاتے ان سب لوگوں کی معافی کا اعلان ترین جرائم کئے تھے۔ البتہ آپ جائیں‘ خواہ وہ کعبہ کے پردے کے کی کتابوں میں نام بنام ان کا ذکر کیا

آئندہ سطور میں مولانا کہتے ہیں کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے سترہ مردوں اور عورتوں کے قتل کا

صفحہ ۱۷۱

اختیاری‘ یعنی حفاظت مال و جان کے تحت ایک فرد کا بیسیوں کو ہلاک کر دینا تو جائز ہو لیکن حفاظت دین و ایمان کا سامان کیا جائے تو ناجائز۔ ایمانی و روحانی نقطۂ نگاہ سے یہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ واجب اور قومی فرض ہے۔ فرضِ کفایہ!

واسطہ توہین پر بھی موت کی سزا بطور حد نافذ کی جائے گی۔ اور معافی و توبہ کی مطلقاً گنجائش نہیں ہے۔

مولانا وحید الدین خان صاحب کا یہ موقف سب سے زیادہ حیران کن ہے کہ عہدِ نبوی (ﷺ) اور دورِ صحابہ میں مطلق گستاخیٔ رسول (ﷺ) کی بنیاد پر کسی ایک مجرم کو بھی قتل کی سزا نہیں دی گئی۔ حالانکہ قبل ازیں وہ اپنی ایک کتاب ”پیغمبر انقلاب (ﷺ)“ (سیرتِ پاک کا علمی اور تاریخی مطالعہ : اشاعت اول ۱۹۸۲ء) میں بقلمِ خود یہ لکھ چکے ہیں:

”رسول اللہ (ﷺ) فتح مکہ کے موقع پر جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اپنے فوجی سرداروں کو حکم دیا کہ وہ کسی سے جنگ نہ کریں۔ الا یہ کہ کوئی خود ان سے لڑنے کے لیے آجائے۔ فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ نے عمومی طور پر ان سب لوگوں کی معافی کا اعلان کر دیا‘ جنھوں نے آپ ﷺ کے خلاف سخت ترین جرائم کیے تھے۔ البتہ آپ نے کچھ لوگوں کی بابت فرمایا کہ وہ قتل کر دیئے جائیں‘ خواہ وہ کعبہ کے پردے کے نیچے پائے جائیں۔ ابنِ ہشام وغیرہ نے اپنی سیرت کی کتابوں میں نام بنام ان کا ذکر کیا ہے“۔

آئندہ سطور میں مولانا مذکور نے ان کی تفاصیل بیان کی ہیں۔ اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فتح مکہ کے بعد سترہ مردوں اور عورتوں کے قتل کا حکم دیا تھا۔ ان میں سے ہر شخص متعین اور معلوم

صفحہ ۱۷۲

شخصی جرم کی بنا پر گردن زدنی تھا۔ تاہم ان میں سے جس شخص نے بھی معافی مانگی یا اس کی طرف سے کسی نے معافی کی درخواست کی‘ اس کو آپ ﷺ نے معاف فرما دیا۔ معافی طلب کرنے والوں میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کیا گیا۔ سترہ آدمیوں کا خون مباح کیا گیا تھا۔ ان میں سے گیارہ آدمیوں کو براہ راست یا بالواسطہ معافی طلب کرنے پر معاف کر دیا گیا۔ پانچ آدمی جنہوں نے معافی کی درخواست نہیں کی‘ وہ قتل کر دیئے گئے اور ایک آدمی مکہ سے دور بھاگ گیا اور طبعی موت سے اس کا خاتمہ ہوا۔ مولانا کے بیان کے مطابق عبداللہ بن سعد‘ قریبہ (عبداللہ بن خطل کی باندی)‘ سارہ (عکرمہ بن ابی جہل کی باندی)‘ حرث بن ہشام‘ زُبیر بن امیہ‘ عکرمہ بن ابی جہل‘ ہبار بن الاسود‘ وحشی بن حرب‘ کعب بن زُہیر‘ عبداللہ بن زبعری اور ہند بنت عتبہ (زوجہ ابو سفیان) تو معافی کے حق دار ٹھہرا دیئے گئے تھے۔ ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی‘ جو شاعر تھا اور شعر کہہ کر آپ ﷺ کا اور آپ ﷺ کے مشن کا استہزاء کیا کرتا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ وہ مکہ سے بھاگ کر نجران چلا گیا اور وہیں کفر کی موت مر گیا۔ بناء بریں عبداللہ بن خطل‘ فرتنی‘ حویرث بن نقیذ بن وہب‘ مقیس بن صبابہ اور حارث بن طلاطل کو قتل کیا گیا۔ موصوف نے اپنی کتاب کے باب ”فتح کے بعد“ میں ان کے جرائم کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کو عموماً ”توہین رسالت (ﷺ) کی پاداش میں قتل کی سزا کا مستحق قرار دیا گیا تھا۔ بین السطور انہیں چار و ناچار اس بات کا اقرار کرنا پڑا ہے کہ ان کی سزا کا سبب شتم رسول ہی تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ ۱۹۸۲ میں تو وہ اپنی تحقیقات سے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ گستاخانِ نبی (ﷺ) کو خود رسول اللہ (ﷺ) نے موت کے گھاٹ اتارنے کا حکم دیا۔ جانے اس کے کئی سال بعد انہیں اپنے اس بیان سے کیونکر انحراف کرنا پڑا؟ اور وہ کیا اسباب تھے کہ ان کا زاویہ نگاہ یکسر بدل گیا؟ یہ سوال بجائے خود ایک مکمل جواب ہے۔

صفحہ ۱۷۳

توہین رسالت کی پاکستانی کوششیں

ماہنامہ ”نعت“ گزشتہ کئی برس سے حضور سرور کائنات علیہ السلام والصلوٰۃ کی توہین کا ارتکاب کرنے والے بشیر حسین ناظم اور اقبال احمد فاروقی کا تعاقب کر رہا ہے۔ ان دونوں کا تعلق اہل سنت و جماعت (بریلوی مسلک) سے ہے۔ فیصل آباد میں شلواروں کے کپڑے پر حضور اکرم ﷺ کا اسم گرامی چھپا۔ ساتھ ہی رحمان، حسان، عثمان، عمر کے الفاظ بھی چھپے۔ اس پر پریس کانفرنس ہوئی، شاید طارق عزیز شو میں یہ کپڑا دکھایا بھی گیا۔ لیکن اس کپڑے کے قابل اعتراض نہ ہونے کے بارے میں جن مولویوں نے فتویٰ دیا، ان کا تعلق بریلوی مسلک سے تھا۔ ان میں سے ایک مولوی آج کل جماعت اہل سنت کا بہت بڑا عہدیدار ہے۔

حیدر آباد (سندھ) کے ایک مولوی صاحب کے بارے میں بھی آج کل یہ بحث چل رہی ہے کہ اس نے حضور رسول انام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توہین کی ہے، اس کا تعلق بھی بریلوی مسلک سے ہے۔ جماعت اہل سنت نے اس کی بریت کا فتویٰ بھی دے دیا ہے۔

ایک زمانہ تھا، بریلوی مسلک کے لوگ حضور آقا و مولا علیہ التحیۃ والثناء کی ذرا سی گستاخی بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔ لیکن آج ........

افسوس، صد افسوس

صفحہ ۱۷۴

اخبار نعت

ناموس مصطفیٰ ﷺ ایکشن کمیٹی

ٹاؤن، لاہور) میں کمیٹی کا تنظیمی اجلاس ہوا، جس میں مختلف امور زیر بحث آئے۔

شہاب میں ہوا۔ نذیر احمد غازی ایڈووکیٹ (کنوینر) اور قاسم علوی نے گفتگو کی۔ مدیر نعت نے نظم پڑھی۔

صدارت نذیر احمد غازی نے کی۔ نظامت کے فرائض قاسم علوی نے ادا کیے۔ محمد ثناء اللہ بٹ اور زین الحسن نورانی نے نعت خوانی کی۔ تقریب میں ایسے بیشتر حضرات نے شرکت کی جو ۳۰ مئی ۱۹۹۸ کے فقید المثال جلوس میں شامل تھے۔ لاہور اور بیرون لاہور کے مندوبین نے اظہار خیال کیا۔ ناموس مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ کی شق (۲۹۵۔سی۔ تعزیرات پاکستان) کو غیر مؤثر کرنے کی سازش کو ناکام بنانے کا عہد کیا گیا۔

صاحب صدارت نے عشق رسول ﷺ کے کھوکھلے دعویداروں کے کردار پر نکتہ چینی کی اور ناموس مصطفیٰ ﷺ کی حفاظت کے لیے مثبت کردار ادا کرنے والے اداروں اور افراد کی تحسین کی۔ اجلاس میں دوسرے مقررین کے علاوہ، سانحہ ابوا کے سلسلے میں غیرت مندانہ کردار ادا کرنے والے پیر محمد افضل قادری نے بھی خطاب کیا۔ مدیر نعت نے تحفظ ناموس مصطفیٰ ﷺ کے حوالے سے اپنا تازہ مخمس ۵ پڑھا۔

کے ارکان اور معاونین نے نذیر احمد غازی (ک چوک سے چلتے وقت جلوس کے کارپردازوں تلے داب لیں تو کمیٹی کے وفد نے تعجب کا ا کے عالم میں واپسی اختیار کی۔

انتظامات کے سلسلے میں میٹنگ ہوئی جس ایڈووکیٹ، ارشد اللہ کمال ایڈووکیٹ، ظہور محمد دانیال رضا قادری، محمد الیاس شاہ اور مد گئے۔

کانفرنس“ منعقد ہوئی۔ صدارت محمد اکرم ا ایم اظہر، مولانا محمد اجمل قادری، صاحبزادہ اسماعیل شجاع آبادی، صاحبزادہ طاہر مبین خورشید احمد گیلانی، مولانا محمد قاسم علوی و ناموس رسالت کے تحفظ کی دفعہ ۲۹۵سی کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور کارکنا غیرتی ہے جسے قوم کسی صورت برداشت ن ثناء اللہ بٹ نے مدیر نعت کی نعت پڑھی ج مشترکہ اعلامیہ مدیر نعت راجا رشید محمود ن

صفحہ ۱۷۵

پڑھا۔

کے ارکان اور معاونین نے نذیر احمد غازی (کنوینر) کی قیادت میں شرکت کی۔ جی پی او کے چوک سے چلتے وقت جلوس کے کارپردازوں نے لاؤڈ سپیکر بند کر لیے اور زبانیں دانتوں تلے داب لیں تو کمیٹی کے وفد نے تعجب کا اظہار کیا اور فیروز سنز کے قریب پہنچ کر مایوسی کے عالم میں واپسی اختیار کی۔

انتظامات کے سلسلے میں میٹنگ ہوئی جس میں کنوینر کے علاوہ قاسم علوی، سید نعیم ایڈووکیٹ، ارشاد اللہ کمال ایڈووکیٹ، ظہور اللہ چشتی، مولانا نواز درویش، علامہ ابابیل، محمد دانیال رضا قادری، محمد الماس شاہ اور مدیر نعت شامل ہوئے۔ مختلف امور پر فیصلے کیے گئے۔

کانفرنس“ منعقد ہوئی۔ صدارت محمد اکرم اعوان (امیر تنظیم الاخوان) نے کی۔ جنرل کے ایم اظہر، مولانا محمد اجمل قادری، صاحبزادہ محمد امجد خاں، سید کفیل شاہ بخاری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، صاحبزادہ طاہر مبین، حافظ عبدالرحمان مدنی، واجد علی خاں، سید خورشید احمد گیلانی، مولانا محمد قاسم علوی وغیرہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے قرار دیا کہ ناموس رسالت کے تحفظ کی دفعہ ۲۹۵ سی کو غیر مؤثر کرنے کی سازش کو کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور کارگل (کشمیر) سے پسپائی اختیار کرنا بزدلی اور بے غیرتی ہے جسے قوم کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ تلاوت کلام پاک کے بعد محمد ثناء اللہ بٹ نے مدیر نعت کی نعت پڑھی جو اِسی اشاعت میں الگ شائع کی جا رہی ہے۔ مشترکہ اعلامیہ مدیر نعت راجا رشید محمود نے پڑھا اور رُہنما نے اس پر دستخط کیے۔

صفحہ ۱۷۶

قومی زُعما کانفرنس کی تفصیلی رپورٹ بھی قارئین کے ریکارڈ کے لیے چھاپی جا رہی ہے۔

سے کارگل پر پسپائی اختیار کرنے کے خلاف جلوس نکالا جو مسجد شہدا سے اسمبلی ہال تک گیا۔ جلوس میں تنظیم الاخوان کے رہنماؤں کے علاوہ نذیر احمد غازی نے بھی خطاب کیا۔

چلنے والے مدرسۃ المدینہ اور گنبد خضرا اکیڈمی کا دورہ کیا۔ شاہ شمس قاری کے معاونین نے یونٹ کے باقاعدہ افتتاح کے لیے کنوینر سے وقت مانگا۔ اصولی طور پر بات مان لی گئی، تاریخ بعد میں طے ہو گی۔

متفرقات

ہوئی جس میں مدیر نعت نے نظم پڑھی۔

پاک حسب روایت بعد نماز عصر، جامع مسجد عکس گنبد خضرا، پل نہر، اپر مال میں قائم ہوا۔ مدیر نعت نے گفتگو کی اور اپنا تازہ نعتیہ مخمس سنایا۔ محمد ثناء اللہ بٹ، سجاد حسن اور دیگر حضرات نے نعت خوانی کی۔ ملک الطاف حسین قادری ناظم تقریب تھے۔ اجلاس کے آخر میں عمرے کے لیے قرعہ اندازی کی گئی۔ ناصر حسین انصاری خوش نصیب ثابت ہوئے۔

تصوف سیمینار“ ہوا، جس میں مدیر نعت نے مسدس کی صورت میں حضرت علی ہجویری

صفحہ ۱۷۷

داتا گنج بخشؒ کی منقبت پڑھی۔

منقبت ہوا جس میں مدیر نعت نے پنجابی نعت سنائی۔ ڈاکٹر عصمت اللہ زاہد ناظم مشاعرہ تھے۔ مشاعرے کی روداد ۹ جولائی کے روزنامے ”نوائے وقت“ لاہور میں شائع ہوئی۔

مدیر نعت نے تقریر کی۔ یہ محفل میلاد ۳ جون کو نشر ہوئی۔

اور محفل میلاد ہوئی جس میں غلام محمد، ناصر حسین انصاری اور مدیر نعت کے علاوہ بہت سے لوگ شریک ہوئے۔

کے اشتراک سے صوبائی مقابلہ نعت خوانی ہوا۔ مدیر نعت (منصف اعلیٰ) کے ساتھ الطاف الرحمٰن پاشا اور ماسٹر منظور نے منصفین کے فرائض انجام دیے۔ ٹی وی کے سینئر پروڈیوسر کرامت مغل اور ریڈیو پاکستان کے سینئر پروڈیوسر ذوالفقار کاظم نے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ غازی مونگیری ناظمِ تقریب تھے۔ مدیر نعت نے نتائج کا اعلان کیا۔ یہ تقریب ۱۸ جون کو ریڈیو پر اور ۱۹ جون کو ٹی وی پر پیش کی گئی۔

شرکت کی۔ صدارت عبدالعزیز خالد نے کی۔ مشاعرے کی رپورٹ ۲۵ جون کے روزنامہ ”نوائے وقت“ (جریدہ ادب) میں شائع ہوئی۔

طالبات کا مقابلہ نعت خوانی ہوا۔ جس میں پروفیسر صدیق اکبر، قاری نذیر احمد اور مدیر نعت منصف تھے۔ مدیر نعت نے منصفِ اعلیٰ کے طور پر نتائج کا اعلان بھی کیا اور گفتگو بھی کی۔ ملک الطاف حسین قادری نے نظامت کی۔

کی تفصیلی رپورٹ بھی قارئین کے ریکارڈ کے لیے چھاپی جا

اخوان نے ناموس مصطفیٰ ﷺ ایکشن کمیٹی کے تعاون کرنے کے خلاف جلوس نکالا جو مسجد شہدا سے اسمبلی ہال تک وان کے رہنماؤں کے علاوہ نذیر احمد غازی نے بھی خطاب کیا۔

ے کنیز نے دعوتِ عمرہ کے دفتر اور دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام اور گنبدِ خضرا اکیڈمی کا دورہ کیا۔ شاہ شمس قاریؒ کے معاونین رح کے لیے کنیز سے وقت مانگا۔ اصولی طور پر بات مان لی گئی،

شا جامع مسجد تجلی کعبہ، شادمان چوک میں ”سانحہ ابواء کانفرنس“ نے نظم پڑھی۔

اعظم) کو ایوانِ درود و سلام کے زیرِ اہتمام ۱۰۸ واں حلقہ درودِ ماز عصر، جامع مسجد عکسِ گنبدِ خضرا، پل نہر، اپر مال میں قائم ہوا۔ اپنا تازہ نعتیہ مخمس سنایا۔ محمد ثناء اللہ بٹ، سجاد حسن اور دیگر ب ملک الطاف حسین قادری ناظمِ تقریب تھے۔ اجلاس کے آخر دازی کی گئی۔ ناصر حسین انصاری خوش نصیب ثابت ہوئے۔

یکس“ کے افتتاح کے موقع پر، یکم جون کو صبح ۹ بجے ”سیّد ہجویریؒ میں مدیر نعت نے مسدّس کی صورت میں حضرت علی ہجویری

صفحہ ۱۷۸

میلاد منعقد ہوئی جس میں پروفیسر سعید احمد خاں بھٹی نے تقریر کی۔ مدیر نعت نے اپنا نعتیہ کلام پڑھا۔ مختلف حضرات نے نعت خوانی کی۔

(بسلسلہ یوم آزادی) ہوا۔ مدیر نعت (منصف اعلیٰ) کے ساتھ پروفیسر راؤ ارتضیٰ حسین اشرفی اور پروفیسر نواز زیدی منصفین تھے۔ مدیر نعت نے گفتگو کی اور نتائج کا اعلان کیا۔

(واقع جی او آر‘ نزد شملہ شمس قاری) محفل میلاد ہوئی جس میں نعتیں پڑھی گئیں اور مدیر نعت کی گفتگو ہوئی۔

محمود) کے ساتھ اسلام آباد گئے اور ۲۷ جون (۱۲ ربیع الاول) کو قومی سیرت کانفرنس میں شرکت کی۔ دونوں ڈپٹی ایڈیٹرز نے صدر پاکستان سے صدارتی ایوارڈ لیے۔

چشتی کے ہاں مسلم ٹاؤن میں محفل درود پاک ہوئی اور بعد نماز عصر جامع مسجد عکس گنبد خضرا میں ۱۰۹ واں حلقہ درود پاک قائم ہوا۔ دونوں محفلیں عقیدت و احترام کی فضا میں منعقد ہوئیں۔ مدیر نعت قومی سیرت کانفرنس میں شرکت کی وجہ سے ان محافل میں شرکت کی سعادت سے محروم رہے۔

نعت کے علاوہ ایوان درود و سلام کے محترم کارکن ملک الطاف حسین قادری نے گفتگو کی۔

غازی ایڈووکیٹ شریک ہو مقابلہ کیا۔

والی محفل نعت میں مدیر نع انصاری کی ہمراہی میں شرکت

میں مدیر نعت نے ”محبت تر مقامی نعت خوانوں نے نعتیں

کانفرنس“ میں شرکت کی ا کیے۔

ایصال ثواب کی محفل میں مد

میلاد ہوئی جس میں تنظیم ا قمر علی زیدی نے گفتگو کی۔ م نے اپنا نعتیہ کلام سنایا اور م نعت خوانی کی۔

روایت پہلے خاموشی سے د

صفحہ ۱۷۹

غازی ایڈووکیٹ شریک ہوئے لیکن خاموش رہے۔ مدیر نعت نے نعت پڑھی اور مقابلہ کیا۔

والی محفل نعت میں مدیر نعت نے غلام محمد مدنی، تسنیم الدین احمد اور ناصر حسین انصاری کی ہمراہی میں شرکت کی۔ محفل نعت کا اہتمام مرزا محمد یوسف نے کیا تھا۔

میں مدیر نعت نے ”محبت رسول ﷺ“ کے موضوع پر ڈیڑھ گھنٹہ گفتگو کی۔ مقامی نعت خوانوں نے نعتیں پڑھیں۔

کانفرنس“ میں شرکت کی اور صوبائی وزیر مذہبی امور سے ”سیرت ایوارڈ“ وصول کیے۔

ایصالِ ثواب کی محفل میں مدیر نعت نے گفتگو کی۔

میلاد ہوئی جس میں تنظیم الاخوان پاکستان کے امیر، محمد اکرم اعوان اور پروفیسر ڈاکٹر محمد قمر علی زیدی نے گفتگو کی۔ نثار اکبر آبادی، منظور الحق مخدوم (حافظ آباد) اور مدیر نعت نے اپنا نعتیہ کلام سنایا اور محمد ثناء اللہ بٹ، شہزاد ناگی، محمد عمر بٹ، حکیم فرزند علی نے نعت خوانی کی۔

روایت پہلے خاموشی سے درودِ پاک پڑھا گیا۔ بعد میں محمد ثناء اللہ بٹ، سید محمد رضا

صفحہ ۱۸۰

زیدی اور عبدالسلام اعجاز نے نعت خوانی کی۔ نذیر احمد غازی ایڈووکیٹ نے ”تحفظِ ناموسِ مصطفیٰ ﷺ“ کے موضوع پر اور مدیرِ نعت نے ۲۶ ربیع الاول (یومِ الحزن) کے حوالے سے حضرت ابو طالبؓ کے مناقب کے سلسلے میں گفتگو کی۔ اسی دن مدیرِ نعت کے دوست پروفیسر سیّد سجاد رضوی فوت ہوئے تھے۔ اجلاس میں ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

شریفین کے لیے گروپ ترتیب دے کر ساتھ لے جانے کا کام ۱۹۹۷ء میں شروع کیا تھا۔ اُس سال چار گروپ گئے۔ ۱۹۹۸ء میں پانچ گروپوں کی صورت میں اربابِ محبت نے یہ سعادت حاصل کی۔ ۱۹۹۹ء میں پہلا گروپ ۱۹ جولائی کو غلام محمد مدنی کی رہنمائی میں روانہ ہوا ہے جو ۳۔ اگست کو واپس آئے گا۔ ۲۱ جولائی کو بعدِ نمازِ عصر جامع مسجد عکسِ گنبدِ خضرا میں عازمینِ عمرہ و زیارتِ روضۂ رسولِ کریم ﷺ کے لیے حسبِ روایت ”بریفنگ میٹنگ“ کا اہتمام کیا گیا جس میں مدینۂ طیبہ کے باسی غلام احمد قادری مہمانِ خصوصی تھے۔ حسبِ معمول مدیر نعت نے بریفنگ دی۔

ضروری اعلان

ماہنامہ ”نعت“ اب تک بفضلہِ تعالیٰ باقاعدہ اشاعت رکھتا ہے لیکن ۱۹۹۹ء کے بعض شماروں میں جلد نمبر درست نہیں چھپا۔ رسالہ جنوری ۱۹۸۸ء کو شروع ہوا تھا۔ جنوری ۱۹۹۹ء سے جلد ۱۲ ہی چل رہی ہے۔ ازراہِ کرم قارئینِ محترم درست کرلیں۔

آئندہ شمارہ ستمبر ۱۹۹۹ء محسّناتِ نعت

صفحہ ۱۸۱

"قومی زُعماء کانفرنس کی جھلکیاں"

ناموسِ مصطفیٰ ﷺ کے مسئلے پر غیرت و حمیتِ دینی کا مظاہرہ نہ کرنے والوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔۔۔ نذیر احمد غازی

رہنمائی کے لیے موجود ہے۔ (سید خورشید احمد گیلانی)

(جنرل کے۔ ایم۔ اظہر)

بابری چوک (جین مندر) سے مزنگ چونگی کی طرف رواں دواں غازی علم الدین شہیدؒ روڈ (لٹن روڈ) پر واقع ہمدرد سنٹر کی علی ہجویریؒ سماعت گاہ میں قومی و ملکی قائدین و عمائدین اور ان کے نمائندوں کا بھرپور اجتماع خوشگوار حیرت کا باعث تھا۔ ۲۳۔ جون کو منعقدہ "قومی زُعماء کانفرنس" میں ہر قابلِ ذکر جماعت کے رہنما شریک ہوئے۔

"ناموسِ مصطفیٰ ایکشن کمیٹی" جذبۂ حُبِّ الوطنی سے سرشار اور ملی و دینی درد رکھنے والے باشعور افراد کا ایک منظم و متحرک پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے گزشتہ برس ۳۰۔ مئی ۱۹۹۸ کو قانونِ ناموسِ رسولؐ موسومہ 295 سی اور اس کے ذیلی دفعات کے حق میں داتاؒ دربار سے اسمبلی ہال تک ایک ناقابلِ فراموش جلوس کا اہتمام کیا اور خدا کے حضور لاکھوں افراد نے یہ عہد کیا تھا کہ اگر اس قانون میں کسی قسم کی تبدیلی یا منسوخی کے بارے میں سوچا گیا تو ہم غازی علم الدین شہیدؒ کے راستے کا انتخاب کریں گے۔ تب ان کا دوسرا بڑا مطالبہ یہ تھا کہ بھارت کے جواب میں پاکستان کو بہرحال ایٹمی

صفحہ 181

دھماکہ کر دینا اور اس سلسلے میں کسی طرح کے دباؤ یا مصلحت کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس تاریخی جلوس کا اعلان ہوتے ہی ہر حلقہ سے یہ آواز بلند ہونا شروع ہو گئی۔ اور ابھی اس عظیم الشان اجتماع کے انعقاد میں دو دن باقی تھے کہ مسلمانانِ عالم کے چہرے ایٹمی دھماکہ کی خوشخبری سن کر امیدوں سے تمتما اٹھے۔ بناء بریں حکومت کی طرف سے عاشقانِ رسول ﷺ کا یہ جوش و خروش اور وابستگی و شیفتگی دیکھ کر مذکورہ قانون میں تبدیلی کے بیانات اور اقدامات کا سلسلہ بھی مکمل طور پر روک دیا گیا تھا۔

اب کے حکومتی حلقوں کی طرف سے پھر اس قسم کی باتیں ہونے لگی تھیں‘ اور بعض وزراء مختلف مواقع پر وقتاً فوقتاً عندیہ ظاہر کر رہے تھے کہ قانون ناموسِ رسالت کے تحت ایف۔ آئی۔ آر کے اندراج اور تفتیش کے طریقہ کار میں تبدیلی کا باضابطہ فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ اور یہ کہ وزیر اعظم اس میں ترمیم کا باقاعدہ حکم جاری کر چکے ہیں اور یہ خبر ۱۴ جون ۱۹۹۹ کے صبح کے اخبارات ’جنگ‘ نوائے وقت اور خبریں میں بھی آچکی ہے۔ نواز شریف کابینہ کے ایک وزیر راجہ ظفر الحق نے گوجرانوالہ میں عیسائیوں کے ایک کنونشن میں اس امر کا کھل کر اظہار کیا۔ جس سے پورے ملک میں اضطراب کی ایک لہر دوڑ گئی اور جابجا غم و غصہ کا اظہار ہونے لگا۔ بے چینی کے اس ماحول میں ”ناموسِ مصطفیٰ ایکشن کمیٹی“ نے اپنے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے اس پُروقار اور سنجیدہ کانفرنس کا بروقت اہتمام کیا۔ جس کے داعی و میزبان مشہور قانون دان‘ منجھے ہوئے مقرر‘ معروف دانشور‘ مبلغِ اسلام اور مفکر و مدبّر جناب نذیر احمد غازی ایڈووکیٹ تھے۔ ایجنڈے پر قانونِ ناموسِ رسالت کے علاوہ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال بھی تھی۔ ان دو اہم امور پر قومی زعماء نے کھل کر اظہار خیال کیا اور پوری ملتِ اسلامیہ کو دعوتِ فکر و عمل دی۔

”قومی زعماء کانفرنس“ تنظیم الاخوان کے امیر جناب مولانا محمد اکرم اعوان

صاحب کے زیر صدارت قابل ذکر ہیں: جنرل شاہ صاحب (تحریک تحفظ ختم نبوت)‘ صاحبز محمد اجمل قادری صاحب (جمعیت المشائخ)‘ مولانا پاکستان)‘ جناب واجد علی گیلانی صاحب (ناموسِ پاکستان)‘ محمد اسلم سعید دانشور راجا رشید محمود مولانا محمد نواز درویش‘ کے راہنما اور قرآن و علاوہ ہیں۔ ہال مدعوئین ہوا۔ تلاوتِ قرآن مجید تھے۔ ازاں بعد موقع کی نے زندہ و اسلامی لہجے پر سوز و مستی چھا چکی تھی ہم جان کرتے قومی زعماء کا کنوینر جناب نذیر احمد

صفحہ ۱۸۳

صاحب کے زیر صدارت منعقد ہوئی۔ دیگر شرکاء میں مندرجہ ذیل زعماء بطور خاص قابلِ ذکر ہیں: جنرل کے۔ ایم اظہر صاحب (جمعیتِ علماء پاکستان)، سیّد کفیل بخاری شاہ صاحب (تحریکِ مجلسِ احرارِ اسلام)، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی (عالمی مجلسِ تحفّظِ ختمِ نبوت)، صاحبزادہ محمد امجد خان صاحب (جمعیت علمائے اسلام)، صاحبزادہ میاں محمد اجمل قادری صاحب (جمعیت علمائے اسلام)، صاحبزادہ محمد طاہر مبین صاحب (جمعیت المشائخ)، مولانا حافظ عبد الرحمٰن مدنی (جمعیت اہلحدیث / مجلسِ تحقیقِ اسلامی پاکستان)، جناب واجد علی خان صاحب (تحریکِ انصاف)، صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی صاحب (نامور ادیب و خطیب)، مولانا محمد قاسم علوی صاحب (انجمنِ اساتذۂ پاکستان)، محمد اسلم سعیدی صاحب (مصطفائی تحریک / انجمنِ طلباءِ اسلام)، عظیم دانشور راجا رشید محمود (ناموسِ مصطفیٰ ﷺ ایکشن کمیٹی)، قاری محمد ظہور اللہ چشتی، مولانا محمد نواز درویش، سید محمد الماس رضا شاہ بخاری، محمد دانیال رضا قادری، حلقہ سیفیہ کے راہنما اور قرآن و سنت کی عالمگیر تنظیم دعوتِ اسلامی کے معزز نمائندگان ان کے علاوہ ہیں۔ ہال مدعوئین سے بھرا پڑا تھا۔ مقررہ وقت پر اجلاس کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ تلاوتِ قرآنِ مجید کے لیے قاری محمد رمضان سعیدی صاحب تشریف رکھتے تھے۔ ازاں بعد موقع کی مناسبت سے ملک کے نامور نعت خواں، ثناء اللہ بٹ صاحب نے زندہ و اسلامی لہجے کے شاعر، جناب راجا رشید محمود صاحب کا کلام پڑھا۔ سامعین پر سوز و مستی چھا چکی تھی۔ مقطع میں کچھ ایسی تاثیر تھی کہ مجمع پھڑک کر رہ گیا۔

ہم جان وار سکتے ہیں محمودؔ بے خطر
کرتے ہوئے حفاظتِ ناموسِ مصطفیٰ ﷺ

قومی زعماء کانفرنس کے میزبان اور ناموسِ مصطفیٰ ایکشن کمیٹی کے مرکزی کنوینر جناب نذیر احمد غازی ایڈووکیٹ نے استقبالیہ خطبے میں حسبِ معمول بڑی پُر مغز

صفحہ ۱۸۴

اور جامع گفتگو کی۔ مسئلہ کشمیر اور تحریک گستاخیٔ رسولؐ کے پس منظر و پیش منظر کی حقیقت کھل کر سامنے آرہی تھی۔ انہوں نے بتایا: ”ناموسِ مصطفیٰؐ ایکشن کمیٹی“ نے ملک کی تمام دینی اور دین پسند جماعتوں کو آج کے لئے مدعو کیا تھا۔ بعض رہنما کانفرنس میں اپنی حیثیت کا تعین چاہتے تھے۔ کئی ایک کے نزدیک یہ پروگرام ان کے قد سے نیچے یا اوپر کا ہے۔ الغرض یہ کہ ہمارے مشائخ و علماء جانے کیوں‘ ہر نازک لمحہ میں اپنے قد اور جسم کے ناپ تول کے چکر میں ہی پڑے رہتے ہیں مگر ہمیں تو بہرحال سرکارِ مدینہ (ﷺ) کی ناموس و حرمت کی چوکیداری کرنا ہے۔ جو احباب تشریف لائے ہیں‘ وہ دراصل اپنے آقا و مولا (ﷺ) کی محبت میں آئے اور جو نہیں آئے‘ ان کے لئے شاید وہاں سے منظوری نہ تھی۔ ان میں سے چند وہ لوگ بھی ہیں‘ جنہوں نے بروقت ہمیں فون پر اطلاع کی کہ وہ کسی وجہ سے پروگرام میں نہیں پہنچ پائیں گے۔

انہوں نے اپنے جاندار افتتاحیہ خطاب میں مزید کہا: ”حکومت نے یہود و نصاریٰ کے دباؤ میں آکر یہ طے کر لیا ہے کہ 295 سی میں پرچہ کے اندراج اور طریقۂ تفتیش میں ترمیم و تنسیخ کر کے اسے عملاً غیر مؤثر بنا دیا جائے۔ حکومتی حلقوں کی طرف سے تجویز کیا گیا ہے کہ کسی بھی جگہ توہینِ رسالت کے واقعہ پر ایک کمیٹی تشکیل دیں گے جو اقلیتوں کی جانب سے دو عیسائی نمائندوں‘ دو حکومتی نمائندوں (ڈی سی اور ایس پی) اور دو ٹوڈی مولویوں پر مشتمل ہو گی‘ اور پھر یہ متفقہ طور پر رائے دیں گے کہ گستاخیٔ رسولؐ کا کوئی واقعہ ہوا بھی ہے کہ نہیں؟ اور ایف آئی آر کا اندراج ہونا بھی چاہئیے کہ نہیں؟ اِس طرح اِس قانون کی جو دُرگت بنے گی اور ان اقدامات سے حکومت جو کچھ چاہتی ہے وہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں مگر ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔

حکومت کے دوست نما دشمنوں نے اِس اقدام کی منطق کے طور پر ایک فرسودہ و آلودہ دلیل گھڑی ہے کہ کے کسی فرد کو اس بہانے ہراساں کے مروجہ قانون میں یہ بات شامل موت یا عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ دی جائے گی۔

میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ نے قانون ناموسِ رسالت کی پاسداری خود وزیر اعظم ہیں تو ان کے بیان کی بقا حضور آقا و مولا (ﷺ) کی اور رحمت و توجہ سے ہی وجود میں ایک دن بھی باقی نہیں رہیں گے ران شاء اللہ العزیز‘ اب بھی کسی کی پاکستان اور مسلم لیگ کی قیادت پاؤں پر خود ہی کلہاڑی نہ ماریں۔ کے لیئے ہی یہ شعر کہا تھا:

توحید تو یہ ہے
یہ بندہ دو

کشمیر کی تازہ ترین صورت موضوع ہے۔ کتنی بد قسمتی کی سالہ موقف سے دستبردار ہو افواج ایک عرصہ سے کشمیر میں

صفحہ ۱۸۵

فرسودہ و آلودہ دلیل گھڑی ہے کہ یوں کسی بے گناہ کو سزا نہیں ملے گی اور یہ کہ اقلیت کے کسی فرد کو اس بہانے ذاتی انتقام کا نشانہ بھی نہیں بنایا جا سکے گا۔ حالانکہ پاکستان کے مروجہ قانون میں یہ بات پہلے سے ہی موجود ہے کہ کسی ایسے مقدمہ میں جس پر موت یا عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے، غلط شہادت دینے والے کو بھی موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی۔

میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ بے نظیر حکومت میں خود میاں نواز شریف صاحب نے قانونِ ناموسِ رسالت کی حمایت میں ملک گیر ہڑتال کی کال دی تھی۔ مگر اب وہ خود وزیرِ اعظم ہیں تو ان کے رویے تبدیل کیوں ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس ملک کی بقا، حضور آقا و مولا (ﷺ) سے وفاداری میں مضمر ہے، اور یہ آپ ﷺ کے فیضان اور رحمت و توجہ سے ہی وجود میں آیا تھا۔ پاکستان کے حکمران اس سے غداری کر کے ایک دن بھی باقی نہیں رہیں گے۔ ہم نے اس مقصد کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ان شاء اللہ العزیز، اب بھی کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ میں حکومتِ پاکستان اور مسلم لیگ کی قیادت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی نہ ماریں۔ مولانا محمد علی جوہر نے شاید ان کی غیرت جھنجھوڑنے کے لیے ہی یہ شعر کہا تھا:

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے

کشمیر کی تازہ ترین صورتِ حال اور کارگل کا محاذ بھی ہمارا آج کا ایک خاص موضوع ہے۔ کتنی بدقسمتی ہے کہ ہمارے وزیرِ اعظم کی طرف سے کہا گیا ہم اپنے پچاس سالہ مؤقف سے دستبردار ہونے کے لیے بھی تیار ہیں۔ یہ کیا بے حسی ہے کہ بھارتی افواج ایک عرصہ سے کشمیر کے بارڈر پر ظلم کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں، پوری ہندو قوم

صفحہ ۱۸۶

حالت جنگ میں ہے اور جنگ کے لیے تیار ہے۔ ادھر پاکستانی قوم کو تذبذب میں رکھا اور الجھایا جا رہا ہے۔ جنگی صورتحال کے لیے قوم کو قطعاً تیار نہیں کیا جا رہا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ فرزندان اسلام کے دلوں میں جذبہ شہادت ابھارا جاتا اور مجاہدین سے عملاً اظہار یکجہتی ہوتا لیکن وطن عزیز کی مجموعی فضا اور صورت حال ناقابل برداشت حد تک بگڑی اور الجھی ہوئی ہے۔ حکومتی حلقوں سے متواتر ”سب اچھا ہے“ کی رٹ لگائی جا رہی ہے‘ جو مطلقاً ”اچھا نہیں ہے“۔ 1965 کے مقابلے میں نفسیاتی اعتبار سے اب ہماری پوزیشن صفر ہے۔ درحقیقت ہمیں اب تک اعلان جہاد کر دینا چاہیے تھا۔ وہ جو کہتے ہیں کہ جسے مرنا نہیں آتا اسے جینا نہیں آیا۔ اس وقت رہ رہ کر مجھے ساغر صدیقی مرحوم کا ایک شعر یاد آ رہا ہے جو ملک کی موجودہ صورتحال کی مناسبت سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

وہ وقت بھی دیکھا ہے تاریخ کی گھڑیوں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

آج غزوۂ ہند کا عملی معرکہ درپیش ہے۔ وہ غزوۂ ہند‘ جس کے بارے میں نبی پاک ﷺ کی باقاعدہ دو احادیث مبارکہ موجود ہیں کہ کفار ہند کے خلاف جہاد میں حصہ لینے والے بغیر کسی حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ آخرش میں‘ ایک بات واضح کرتا ہوں کہ بھارت ہمیشہ سے کہتا آ رہا ہے کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے۔ لہٰذا میں کہتا ہوں کہ جب تک ہم بھارت کا انگ انگ توڑ کر نہیں رکھ دیتے‘ کشمیر کبھی آزاد نہیں ہو گا۔

صاحبزادہ خورشید احمد گیلانی نے ناموس مصطفیٰ ایکشن کمیٹی کی مکمل تائید کرتے ہوئے کہا کہ اسی شہر لاہور میں ایک نوجوان غازی علم الدین شہید ؒ کا فکر و عمل ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے۔ یہی جذبۂ عشق رسول ہر اچھے اور سچے

مسلمان کا شیوہ ہے ہے ۔ قانون ناموس رس مغز اور جاندار گفتگو حمایت کا اعلان کرنا پروانے کا حل اک شب میں پاکستان عوام خیال تھا کہ حکومت دیئے جائیں۔ تاکہ شریعت سید عطاء اللہ اظہار خیال کیا اور کہا رہے ہیں۔ غیر مسلم پروگرام بنا رکھا ہے کہ حکمران بھی انہی کا تسل (صلی اللہ علیہ و آلہ ان حکمرانوں کے لیے مملکت جناب محمد ر حکومت میں آنے کے ہاؤس میں قید ہو کر رہ جناب ولی خان صاحب کی خصو

صفحہ ۱۸۷

کے لئے تیار ہے۔ ادھر پاکستانی قوم کو تذبذب میں رکھا تحمل کے لئے قوم کو قطعاً تیار نہیں کیا جا رہا۔ چاہیے تو دلوں میں جذبۂ شہادت ابھارا جاتا اور مجاہدین سے عملاً عزیز کی مجموعی فضا اور صورتِ حال ناقابلِ برداشت حد ، حکومتی حلقوں سے متواتر ”سب اچھا ہے“ کی رٹ لگائی رہا ہے۔ 1965 کے مقابلے میں نفسیاتی اعتبار سے اب وقت ہمیں اب تک اعلانِ جہاد کر دینا چاہیے تھا۔ وہ جو اسے جینا نہیں آیا۔ اس وقت رہ رہ کر مجھے ساغر صدیقی ہے جو ملک کی موجودہ صورتحال کی مناسبت سے انتہائی

دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
کی تھی صدیوں نے سزا پائی

معرکہ درپیش ہے۔ وہ غزوۂ ہند‘ جس کے بارے میں نبی ثِ مبارکہ موجود ہیں کہ کفارِ ہند کے خلاف جہاد میں حصہ ب کے جنت میں جائیں گے۔ آخرش میں‘ ایک بات سے کہتا آرہا ہے کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے۔ لہٰذا میں ت کا انگ انگ توڑ کر نہیں رکھ دیتے‘ کشمیر کبھی آزاد

گیلانی نے ناموسِ مصطفیٰ ایکشن کمیٹی کی مکمل تائید لاہور میں ایک نوجوان غازی علم الدین شہید ؒ کا فکر و موجود ہے۔ یہی جذبۂ عشقِ رسولؐ ہر اچھے اور سچے

مسلمان کا شیوہ ہے۔ یورپ اور اسلام کا انسان کے بارے میں بالکل مختلف نظریہ ہے۔ قانونِ ناموسِ رسولؐ اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے برادرم غازی صاحب نے پُر مغز اور جاندار گفتگو کی ہے‘ میرے جذبات ہو بہو وہی ہیں اور میں ان کی مکمل حمایت کا اعلان کرتا ہوں۔ ہم مسلمانوں کے حسب حال ایک شعر بہت خوب ہے۔

پروانے کا حال اس محفل میں‘ ہے قابلِ رشک اے اہلِ نظر
اک شب میں ہی یہ پیدا بھی ہوا‘ عاشق بھی ہُوا اور مر بھی گیا

پاکستان عوامی تحریک اور پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے نمائندے کا خیال تھا کہ حکومت کو دینی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پسند کے اور محاذ کھول دینے چاہئیں۔ تاکہ ہندو ظالم کی کارگل سے توجہ ہٹ اور بٹ سکے۔ ان کے بعد امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم کے نواسے‘ جناب سیّد کفیل شاہ بخاری نے اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ پاکستان کے اکثر حکمران یہود و نصاریٰ کے ایجنٹ اور دلال رہے ہیں۔ غیر مسلموں اور امریکہ کے بے غیرت حکمرانوں‘ دلالوں اور دُم چھلوں نے پروگرام بنا رکھا ہے کہ وطنِ عزیز سے دینی غیرت کا مکمل جنازہ نکالیں گے۔ موجودہ حکمران بھی انہی کا تسلسل ہیں۔ یہ کنجر سوسائٹی کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے دشمنوں سے دوستی کا دم بھریں گے‘ ہمارے دل میں ان حکمرانوں کے لئے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں صدرِ مملکت جناب محمد رفیق تارڑ کے بارے میں بھی بعض اشارے کئے کہ ان کا کردار بھی حکومت میں آنے کے بعد مردِ مجاہد اور مردِ مومن کا نہیں ہے بلکہ وہ محض پریذیڈنٹ ہاؤس میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔

جناب واجد علی خاں صاحب نے بتایا کہ میں اپنی جماعت کے سربراہ عمران خان صاحب کی خصوصی ہدایت پر اس کانفرنس میں شریک ہوا ہوں۔ قانونِ ناموسِ

صفحہ ۱۸۸

رسالت پر دباؤ اور الجھاؤ کا شکار ہونے والے لعنتی ازلی بدبخت ہیں۔ جب یہ قانون بنا تو راجہ ظفر الحق صاحب، جنرل ضیاء الحق کی ٹیم کے کپتان تھے۔ اب اسی قانون میں ترمیم و تنسیخ کی باتیں کم از کم ان کو تو نہیں کرنی چاہیں۔ بناء بریں میرا خیال ہے کہ حکمران، لیلیٰ اقتدار کے لالچ میں دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو پاکستان کا رائے ونڈ فارم کے علاوہ کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔

جناب مولانا محمد اسمعیل شجاع آبادی نے نہایت نپے تلے الفاظ میں تجزیہ کیا اور کہا کہ ارباب اقتدار، بے نظیر بھٹو ہوں یا میاں نواز شریف، اس مسئلے پر ہم خیال، ہم مزاج، ہم قدم، ہم فکر اور ہم رنگ ہیں۔ یہ لوگ فطرتاً سیکولر ہیں۔ محض زبانی جمع خرچ کی حد تک اپنے سیاسی مفاد کے لئے اسلام کا نام لیتے ہیں ہم نے اس مسئلہ کے لئے 1953ء میں ایک عظیم الشان تحریک چلائی اور بے بہا قربانیاں پیش کی تھیں۔ پھر 1974ء کی تحریک ختم نبوت میں مسلمانوں نے اپنے ایمان کا شاندار مظاہرہ کیا۔ ہم اب بھی اس کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکمران جو کبھی اسلام کا نام لیتے ہوئے نہیں تھکتے تھے، اب گستاخان رسولؐ کے پشت پناہ بنے ہوئے ہیں۔ ان کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے روبرو، کاذب یوسف کے بارے میں کہا کہ اگر اسے رہا کر دیا جائے تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ بناء بریں یہ ریاض احمد گوہر شاہی کے بھی محافظ بن بیٹھے ہیں۔ مزید برآں یہ کہ مرشد مسیح نامی ایک گستاخ رسولؐ اس وقت انجمن احمدیہ لاہوری گروپ کی پناہ میں ہے اور بار بار ہماری توجہ دلانے کے باوجود انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔

صاحبزادہ محمد امجد خان نے کہا آج اسلام آباد میں انہی ہدایات بلکہ احکامات پر عمل ہوتا ہے جو انہیں واشنگٹن سے وصول ہوتے ہیں۔ ہم اس فورم میں کھل کر

صفحہ ۱۸۹

اعلان کر دینا چاہتے ہیں کہ حکومت کے ان اقدامات اور بے حسی کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہر جگہ جنگ لڑیں گے۔

مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب نے کہا کہ قانون C-295 پر وفاقی شرعی عدالت تصدیق و توثیق کر چکی ہے۔ یہ عدلیہ کا فیصلہ اور قانون ہے۔ اس کو چھیڑنا توہین عدالت کے مترادف ہے۔

صاحبزادہ میاں محمد اجمل قادری صاحب نے اپنا نقطہ نظر بیان کیا کہ اس قسم کی باتیں اسلامی قوتوں کے انتشار کے سبب سے ہو رہی ہیں اور حکمرانوں نے اس امر کا حوصلہ پکڑا ہے۔ اگر ہم باہم متحد ہو کر غیر لچکدار موقف اختیار کر لیں تو اسے کوئی مائی کا لال چھیڑنے کی کوشش نہیں کر سکے گا۔ وزیر اعظم نے کشمیر کے بارے میں یہ بیان دے کر کہ ہم اپنے پچاس سالہ موقف سے دستبردار ہونے کے لئے بھی تیار ہیں ٭ دراصل حلف سے غداری کی ہے۔

ناموس مصطفیٰ ایکشن کمیٹی کے سیکرٹری جنرل راجا رشید محمود صاحب نے مشترکہ اعلامیہ پڑھا، جس میں کہا گیا کہ ہم قانون C-295 کے تحت پرچہ کے اندراج اور تفتیشی طریقہ کار میں تبدیلی کے عمل کی مذمت اور بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔ نیز بھرپور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ حکومت مسئلہ کشمیر کے بارے میں جرأت مندانہ موقف اختیار کرے اور دنیا بھر میں گستاخان رسول (ﷺ) خواہ سلمان رشدی ہو یا تسلیمہ نسرین ہر جگہ ہر رنگ میں ان کا تعاقب کیا جائے۔ یہ کوئی عام مسئلہ ہرگز نہیں بلکہ مسلمان قوم کی فنا و بقا کا راز اسی میں ہے۔

جنرل کے ایم اظہر صاحب نے بڑا پر مغز اور ایمان پرور خطاب فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ نظام مصطفیٰ کا نفاذ اور مقام مصطفیٰ (ﷺ) کا تحفظ تو ہمارے دستور و منشور کی بنیاد ہے۔ اس کے لیے ہمیشہ قربانیاں دیتے آئے ہیں اور آئندہ بھی دیتے رہیں گے۔

صفحہ ۱۹۰

میرا خیال ہے کہ قانون 295 سی اقلیتوں کا محافظ ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے عدالتی و قانونی چارہ جوئی کے دروازے کھلے رہتے ہیں اور عوام طیش و غضب میں آکر خود قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے لیتے۔ وگرنہ ہر موقع پر راجپال کو واصل فی النار کر دینے کے لیے علم الدین جنم لیتے رہیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کا مسئلہ کشمیر اور کارگل کے محاذ کے بارے میں رویہ سوفی صد معذرت خواہانہ و منافقانہ ہے۔ انہیں غیر لچکدار، مضبوط اور واضح نقطہ نگاہ اختیار کرنا چاہیے اور اعلان جہاد کے بغیر قوم کے پاس کوئی چارہ کار نہیں ہے انجمن اساتذہ پاکستان کے، مولانا قاسم علوی صاحب نے ایک قرار داد پیش کی جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ جسٹس عارف اقبال بھٹی کے قتل کے مقدمے میں ناجائز ملوث غازی احمد شیر نیازی پر سے جھوٹا مقدمہ خارج کیا جائے۔ اور انہیں باعزت بری کیا جائے۔

صاحب صدارت مولانا محمد اکرم اعوان نے کہا کہ جو ملک حضور ﷺ کے نام پر بنا، اسے تو دنیا بھر میں ناموس مصطفیٰ ﷺ کی حفاظت کا بیڑا اٹھانا چاہیے تھا۔ کتنی شرمناک بات ہے کہ اس ملک میں تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو غیر مؤثر کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا، ہمیں ایسا ملک نہیں چاہیے جہاں گنبد خضرا کے مکین ﷺ کے ناموس کو زک پہنچانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ اعوان صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں ملک کی سالمیت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ناموس مصطفیٰ ﷺ کا تحفظ تو اس ملک کی بقا کا ضامن ہے۔ اگر اس قانون کو بے اثر کرنے کی سازش کامیاب ہو گئی تو ملک باقی نہیں رہے گا۔

صفحہ ۱۹۱

ناموس مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء

دل میں جو ہے محبت ناموس مصطفیٰ ﷺ
قائم کریں گے حجت ناموس مصطفیٰ ﷺ
سرمائے کی طلب ہے نہ جاہ و جلال کی
دل میں اگر ہے دولت ناموس مصطفیٰ ﷺ
ایمان کی اساس یہی اصل دیں یہی
الفت خدا کی الفت ناموس مصطفیٰ ﷺ
اسرار معرفت کھلے اس خوش نصیب پر
جس پر کھلی حقیقت ناموس مصطفیٰ ﷺ
حفظ وطن کو سر بکف سینہ سپر رہیں
یہ بھی تو ہے حفاظت ناموس مصطفیٰ ﷺ
قومی زعیم جتنے ہیں ہیں مجتمع یہاں
اس کا سبب ہے نسبت ناموس مصطفیٰ ﷺ
ہے قوم ان کے فہم و تدبر کی منتظر
جن کو ملی بصیرت ناموس مصطفیٰ ﷺ
ہم جان وار سکتے ہیں محمودؔ بے خطر
کرتے ہوئے حفاظت ناموس مصطفیٰ ﷺ

(مدیر نعت کی یہ نظم قومی زعما کانفرنس منعقدہ ۲۳ جون ۱۹۹۹ء کے آغاز میں نامور نعت خواں محمد ثناء اللہ بٹ نے پڑھی)

PDF 192

ماہنامہ لاہور

نعت

تحفظ ناموس

رسالت صلی اللہ علیہ وسلم